’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
مذہب اور سوسائٹی کا باہمی تعلق
خطبہ نمبر ۱۵
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ اما بعد!
حضرات محترم! گزشتہ سال ہمارے محترم دوست اور بھائی حافظ میاں محمد نعمان صاحب نے ایک ملاقات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ جامعہ فتحیہ تشریف لائیں — جو لاہور کا ایک قدیم دینی ادارہ ہے اور میری ان کے ساتھ ایک پرانی نسبت ہے — تو مشورے سے یہ طے پایا کہ مہینے میں دو مرتبہ حاضری ہو گی اور کسی نہ کسی مسئلے پر گفتگو ہو گی۔ گزشتہ سال یہ ترتیب رہی کہ مہینے میں دو مرتبہ حاضری ہوتی رہی۔ پھر یہ طے پایا کہ متفرق عنوانات پر گفتگو کرنے کی بجائے کسی ایک موضوع پر تفصیل سے بات کی جائے۔ اب ہر ہفتے حاضری ہوتی ہے اور جامعہ فتحیہ کے طلبہ کے چند اسباق کے علاوہ نمازِ عصر کے بعد یہ نشست بھی ہوتی ہے، جس میں ہم گفتگو کر رہے ہیں۔ اس میں انتخاب ہوا کہ احکام القرآن پر بات کی جائے۔ جب احکام القرآن پر گفتگو کا سوچا اور دیکھا کہ احکام القرآن کا دائرہ تو بہت پھیلا ہوا ہے، تو اس میں شعبے متعین کیے، جیسے خاندانی احکام جن کو عائلی قوانین یا شخصی قوانین بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ خاندانی نظام کے حوالے سے چودہ نشستیں ہوئیں، میں نے کوشش کی کہ تمام پہلوؤں پر گفتگو ہو جائے، جو ریکارڈ بھی ہوئیں، لکھی بھی گئیں، مضامین کی شکل میں کمپوز بھی ہو گئی ہیں۔
ان خطبات کو جامعہ فتحیہ کی طرف سے شائع کرنے کا ارادہ ہوا ہے اور جامعہ کے مہتمم حافظ میاں محمد نعمان صاحب نے اس میں خصوصی دلچسپی لی ہے، جبکہ مولانا عبد اللہ مدنی صاحب، ناظم جامعہ میاں محمد عفان صاحب اور دیگر حضرات کی خواہش بھی ہے۔ اس میں الحمد للہ جامعہ فتحیہ کے خطیب مولانا ڈاکٹر سعید عاطف صاحب نے یہ ذمہ داری اٹھائی کہ وہ اسے مکمل تخریج، عنوانات اور تدوین و ترتیب دیں گے۔ اس پر مولانا ڈاکٹر سعید عاطف اور مولانا عبداللہ مدنی کے ساتھ میرا مشورہ ہوا کہ کوئی بات رہتی ہو تو اس کو بیان کر دیا جائے۔
اس سلسلہ میں ہم نے جو باتیں طے کی تھیں اور جن پر تفصیل کے ساتھ بحث ہوئی:
- ایک تو بنیادی مسئلہ تھا کہ سوسائٹی کا مذہب کے ساتھ، دین کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں؟
- انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا دائرہ کیا ہے؟
- خاندان کی بنیاد کیا ہے؟ نکاح و طلاق اور وراثت کیا ہیں؟
- عورتوں کے حقوق کیا ہیں؟ بچوں کے حقوق کیا ہیں؟ یتیموں کے حقوق کیا ہیں؟
- جاہلیت کی اقدار اور روایات کو نبی اکرم ﷺ نے کیسے ختم کیا؟
- آج کے تناظر میں ہمارا تہذیبی تنازع کیا ہے؟ مروجہ عالمی نظام اور ماحول کے ہم سے تقاضے کیا ہیں؟
- خاندانی نظام، پرورش، نکاح و طلاق اور وراثت کے حوالے سے آج کے عالمی ماحول سے ہمیں کیا شکایات ہیں؟
اس پر ہم بات کرتے رہے جو تقریباً چودہ نشستوں میں ہوئی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ احکام القرآن کا جو دائرہ ہے، اس میں جو سوسائٹی کے بڑے بڑے مسئلے ہیں، ان پر بات ہو جائے تو بہتر ہے، کیونکہ قرآن پاک سوسائٹی کے لیے آیا ہے، انبیائے کرام علیہم السلام معاشرے کی اصلاح کے لیے آئے، تو معاشرے میں جو مسائل بھی موجود ہوں گے، قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ یہ مسائل سکھائیں گے؛ یہ تو نہیں کہ صرف عبادات سکھائیں اور مسائل نہ سکھائیں۔
مذہب اور سوسائٹی کا باہمی تعلق
چار پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ امریکی شہر سپرنگ فیلڈ (ورجینیا) میں ایک ادارہ ہے دارالہدیٰ، میں وہاں ایک عرصے تک جاتا رہا اور مقامی لوگوں سے ملتا رہا۔ برطانیہ جاؤں یا کہیں بھی، تو یہی کام کرتا ہوں۔ وہاں پر کچھ لوگ ملنے کے لیے آ گئے، کہنے لگے کہ ہم سرکاری ادارے (State Department) سے آئے ہیں، آپ سے کچھ مسائل پر گفتگو کریں گے۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے، ان سوالات میں سے ایک سوال عرض کروں گا۔
آسمانی تعلیمات، یعنی جو مذہب ہے، یہ سوسائٹی میں واپس آ رہا ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یورپ میں بھی مذہب واپس آ رہا ہے، تین سو سال مار کھانے کے بعد اس کی واپسی ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں تو گیا ہی نہیں تھا، تو واپس کہاں سے آئے گا۔ الحمد للہ یہاں موجود رہا ہے، اب بھی موجود ہے اور موجود رہے گا۔ یہاں سے نکالنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن نکل نہیں رہا۔ مذہب بھی ڈٹا ہوا ہے اور مذہبی لوگ بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ البتہ یورپ مذہب سے نکل کر واپس مذہب کی طرف آ رہا ہے؛ یعنی سوسائٹی سے مذہب بے دخل ہو کر پھر لوٹ رہا ہے۔
انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولوی صاحب! یہ بتائیں کہ معاشرے میں جب مذہب کے واپس آنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تو مذہب کہیں اجتماعی معاملات میں تو دخل نہ دے گا؟ ان کو ڈر تھا کہ کہیں سوسائٹی کے اجتماعی مسائل میں، جیسے خاندانی نظام میں، عدالتی نظام میں، سیاسی نظام میں، تجارتی نظام میں، معاشی نظام میں دخل تو نہ دے گا۔ یہ ان کا سوال تھا۔
میں نے کہا کہ دیکھو بھائی! بات یہ ہے کہ اگر وہ حقیقت میں مذہب ہے پھر تو دخل دے گا۔ آسمانی مذہب کسے کہتے ہیں؟ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور ان پر نازل ہونے والی وحی، یہ مذہب ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام محض فرد کی رہنمائی کے لیے نہیں آئے بلکہ قوم کی رہنمائی کے لیے اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ ’’یا قوم اعبدوا اللہ‘‘، ’’یا بنی اسرائیل‘‘، ’’یا بنی آدم‘‘ جس پیغمبر نے بات کی ’’یا قوم‘‘ کہہ کر کی۔ اگر مذہب ہے تو فرد کی بات بھی کرے گا، قوم کی بات بھی کرے گا اور سوسائٹی کی بات بھی کرے گا۔
تو بہرحال میں نے یہ بات عرض کر دی، کیونکہ یہ ایک مسئلہ ہے کہ مذہب کا سوسائٹی کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں، تو مذہب کا سوسائٹی کے ہر معاملے کے ساتھ تعلق ہے؛ جسے ہم سادہ لفظوں میں یہ کہتے ہیں کہ ہر کام اللہ اور اللہ کے رسول سے پوچھ کر کرو۔ یہ اس کی سادہ تعبیر ہے کہ کوئی کام بھی کرو، اس میں اللہ کی ہدایات اور اس کے رسول ﷺ کے طریقے کو دیکھا کرو۔
اجتماعیت کے چار دائرے
آج میں بتاؤں گا کہ اجتماعی زندگی کے، سماج کے، سوسائٹی کے، معاشرے کے جو مختلف اجتماعی دائرے ہیں، ان کے بارے میں قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ ان کا ایک مختصر اجمالی تعارف ہو جائے۔ مثال کے طور پر ایک دائرہ خاندانی نظام کا یہ بھی تھا کہ قرآن پاک کی ہدایات اس بارے میں کیا ہیں۔ یہ باتیں میں نے عرض کی تھیں، یہ قرآنی تعلیمات کا ایک بڑا دائرہ ہے۔
- ایک دائرہ یہ ہے کہ ریاست کیا ہے؟ حکومت و سیاست کیا ہے؟
- ایک دائرہ ہے تجارت کا، معیشت کا، لین دین کا، معاملات کا، خرید و فروخت کا، حلال و حرام کا۔
- ایک دائرہ ہے عدالت کا، جرائم کو کنٹرول کرنے اور اس کی بیخ کنی کا، جس کو عدالتی اور قانونی دائرہ کہتے ہیں۔
- ایک دائرہ ہے معاشرے کا اور اس کو ٹھیک کرنے کا کہ اس میں کون سی روایات اور اقدار درست ہیں اور کون سی روایات درست نہیں ہیں۔
تو یہ چار بڑے دائرے جو ذکر کیے ہیں: سیاست و حکومت، معیشت و تجارت، عدالت و قانون، معاشرت و سماج؛ ان کے متعلق قرآن پاک کیا رہنمائی کرتا ہے، اس کا اجمالی تعارف پیش کروں گا۔
ریاست و حکومت کا دائرہ
ریاست و حکومت کا ایک دائرہ ہے انسانی سوسائٹی کو کنٹرول کرنا، اس کا نظام چلانا اور سہولتیں فراہم کرنا۔ تو اس کا اصول کیا ہے؟ پہلی بات تو میں یہ عرض کروں گا کہ اللہ رب العزت نے جب انسان کو دنیا میں بھیجا تو سب سے پہلے کس کو بھیجا تھا؟ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت حوا علیہا السلام بھی ساتھ تشریف لائی تھیں۔ یہاں میں کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرد نہیں بھیجا بلکہ خاندان بھیجا تھا۔ انسانی سوسائٹی کا نقطۂ آغاز فرد نہیں ہے بلکہ خاندان ہے:
وبث منہما رجالا کثیرا ونساء (سورۃ النساء: 4، آیت: 1)
(اور دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)
اس دن اللہ پاک نے ایک بات کہہ دی تھی، پوری نسلِ انسانی کے ہمیشہ کے ایجنڈے کے طور پر، اسے میں اسلامی ریاست کی بنیاد کہا کرتا ہوں:
قلنا اہبطوا منہا جمیعا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(ہم نے کہا، اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔)
زمین پر کیا کرنا ہے؟ دو تین باتیں کیں، ایک جگہ فرمایا:
ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 36)
(تمھارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کر دیا گیا) ہے۔)
دنیا میں تمہیں رہنے کی جگہ ملے گی، روٹی کپڑا مکان ملے گا، زندگی کے اسباب و وسائل ملیں گے۔ لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک وقت تک؛ فرمایا کہ مدت بتاؤں گا نہیں لیکن ایک وقت تک، کسی کی ساٹھ سال، کسی کی چالیس سال یا پچاس سال۔ ساتھ فرمایا:
فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمھیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔)
میری طرف سے ہدایات آئیں گی، جو اس کے مطابق چلا وہ خوف اور غم سے نجات پا گیا، وہ واپس اپنے گھر کو جائے گا جہاں سے آیا تھا؛ کہاں سے آیا تھا؟ جنت سے۔
والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ہم فیہا خالدون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 39)
(اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔)
جو ہدایت سے انکار کریں گے، دوسرے راستے پر چلیں گے تو وہ جہنم میں جائیں گے۔ سوسائٹی اور معاشرہ آزاد نہیں ہے بلکہ اس کی ایک بنیاد طے ہے اور وہ ہے:
فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمھیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے۔)
اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں چند حکومتوں اور عہدوں کا ذکر کیا ہے، مثال کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کیا:
یا داوود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض (سورۃ ص: 38، آیت: 26)
(اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔)
ہم نے آپ کو خلافت دی ہے، کس لیے؟ ’’فاحکم بین الناس بالحق‘‘ (لہٰذا آپ لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کریں) کہ آپ نے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خلافتِ ارضی کا ذکر کیا ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں شریعت کے قوانین کے نفاذ کا تسلسل بیان کیا۔ شریعت کے احکام نافذ ہوتے رہے اور لوگ عمل کرتے رہے۔ چند آیات ہیں جو پوری تاریخ بیان کرتی ہیں۔ فرمایا:
انا انزلنا التوراۃ فیہا ہدی ونور (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 44)
(بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔)
پہلی باضابطہ کتاب تورات، کہ اس میں ہدایت بھی تھی اور برکت بھی تھی۔ لیکن لوگ برکت اور نور کی طرف زیادہ جاتے ہیں اور ہدایت کی طرف کم۔ پھر فرمایا کہ:
یحکم بہا النبیون (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 44)
(وہ انبیائے کرام علیہم السلام جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔)
کتاب کا بنیادی مقصد (یحکم بہا النبیون) کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے بعد احبار و رہبان، علماء کرام، مشائخ اور قاضی اس کے مطابق فیصلے کریں گے۔ یہ پوری تفصیل بیان کرنے کے بعد دوسرے مرحلے کا بیان ہے کہ:
وقفینا علیٰ آثارہم بعیسی ابن مریم مصدقاً لما بین یدیہ من التوراۃ واٰتیناہ الانجیل فیہ ہدی ونور (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 46)
(اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی۔)
ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 47)
(اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔)
اور اگلی آیت میں فرمایا:
وانزلنا الیک الکتاب بالحق (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 48)
(اور اے محمد ﷺ! ہم نے آپ پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے۔)
تورات بھی تھی: ’’یحکم بہا النبیون‘‘ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اس کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔ اور انجیل بھی: ’’ولیحکم اہل الانجیل‘‘ اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور قرآن بھی: ’’فاحکم بینہم بما انزل اللہ‘‘ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے۔
شریعت کے نفاذ کی ایک تاریخ ہے، تسلسل ہے۔ باضابطہ تورات تھی، پھر انجیل، زبور کا ذکر تورات کے ساتھ ہی ہے، پھر آخر میں قرآن پاک اتارا:
انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ (سورۃ النساء: 4، آیت: 105)
(بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو سمجھا دیا ہے۔)
اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر قرآن پاک کا یہ کہہ کر ذکر کیا ہے: ’’لتحکم‘‘، ’’ولیحکم‘‘، ’’فاحکم‘‘ (تاکہ تم فیصلہ کرو، چاہیے کہ وہ فیصلہ کریں، لہٰذا تم فیصلہ کرو)۔ تو میں کہا کرتا ہوں کہ یہ ہماری ریاست کی بنیاد ہے اور یہ ہماری ریاست کا قانون ہے، دستور ہے۔
جب اللہ تعالیٰ کسی کو حکومت دیتا ہے — قرآن پاک میں حکمرانوں کے اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں — تو وہ کیا کرتا ہے؟ اللہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:
الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلاۃ واٰتوا الزکاۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر (سورۃ الحج: 22، آیت: 41)
(یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں اور برائی سے روکیں۔)
پھر ایک اور بڑی بات ذکر کی، یہاں سے بعض لوگوں کو مغالطہ بھی ہوا اور آج کے زمانے میں یہ مغالطہ بہت چل رہا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:
وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ولیمکنن لہم دینہم الذی ارتضیٰ لہم (سورۃ النور: 24، آیت: 55)
(تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے۔)
اللہ پاک نے ایمان والوں کے ساتھ، اعمالِ صالحہ کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں تمھیں حکومت دوں گا، زمین کی خلافت دوں گا، کنٹرول دوں گا، زمین کا سارا نظام تمھارے حوالے کروں گا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ حکومت و خلافت وعدہ ہے، یعنی اللہ نے وعدہ کیا ہے؛ جیسے کوئی کہہ دے کہ تم یہ کام کرو میں تمھیں ٹافی دوں گا؛ یہ تو وعدہ ہے، فرض و واجب نہیں۔ میں نے کہا کہ جس پر انعام کا وعدہ ہو تو کیا وہ کام فرض اور واجب سے نکل جاتا ہے؟ بلکہ وہ تو زیادہ اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ میں نے بعض مقامات کا ذکر کیا ہے کہ قرآن پاک نظام کے بڑے بڑے امور کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
(جاری)
ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
بقلم : ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ترجمہ : ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود
امام بخاری اپنی ’’صحیح‘‘ کتاب النکاح «باب: وامہاتکم اللاتی ارضعنکم ویحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب» (حدیث: 5101) میں رضاعتِ نبوی سے متعلق ایک روایت نقل کرتے ہوے لکھتے ہیں:
عن عروۃ بن الزبیر ان زینب بنت ابی سلمۃ اخبرتہ ان ام حبیبۃ بنت ابی سفیان اخبرتہا انہا قالت: یارسول اللہ، انکح اختی بنت ابی سفیان، فقال: او تحبیبن ذلک؟ فقلت: نعم لست لک بمخلیۃ واحب من شارکنی فی خیر اختی، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ان ذلک لایحل لی، قلت: فانا نحدث انک ترید ان تنکح بنت ابی سلمۃ، قال: بنت ام سلمۃ؟ قلت: نعم، فقال: لو انہا لم تکن ربیبتی فی حجری ما حلت لی، انہا لابنۃ اخی من الرضاعۃ ارضعتنی واباسلمۃ ثویبۃ، فلا تعرضن علی بناتکن ولا اخواتکن۔
قال عروۃ: وثویبۃ مولاۃ لابی لہب، کان ابولہب اعتقہا فارضعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلما مات ابو لہب اریہ بعض اہلہ بشرحیبۃ، قال لہ: ما ذا لقیت؟ قال ابولہب: لم الق بعدکم غیر انی سقیت فی ہذہ بعتاقتی ثویبۃ۔
ترجمہ: عروہ بن زبیر فرماتے ہیں، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بتایا کہ انہوں نے عرض کی، اے رسول اللہ! میری بہن سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی کہ تمھاری سوتن تمھاری بہن بنے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی، تب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کے باپ، دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔
عروہ فرماتے ہیں: ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اسے آزاد کر دیا تھا۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کر دیا تھا۔
اشکال و جواب
بعض طلبہ کرام نے اشکال کیا ہے کہ اس خواب کو صحیح بخاری میں ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ بہ ظاہر اس خواب کو یہاں ذکر کرنے کی مناسب وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ اس اشکال کا جواب دینے سے پہلے چار باتیں بطور تمہید عرض کرتا ہوں:
- امام بخاری نے یہ حدیث مذکورہ باب کے علاوہ، کتاب النکاح، باب: وربائبکم اللاتی فی حجورکم من نسائکم اللاتی دخلتم بہن"، اور باب: وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف"، اور باب: عرض الانسان ابنتہ واختہ علی اہل الخیر"، اور کتاب النفقات، باب: المراضع من الموالیات وغیرہ میں ذکر کی ہے۔ یہ پانچ جگہیں ہیں، جہاں حدیث ذکر کی گئی ہے؛ لیکن ان میں صرف پہلی جگہ پر ہی امام بخاری نے اس خواب کا ذکر کیا ہے۔
- صحیح بخاری میں صرف وہی احادیث صحیح و معتمد گردانی جاتی ہیں، جو مرفوع ہوں، جن میں صحت کی تمام کڑی شرائط پائی جاتی ہوں۔ ایسی احادیث امام بخاری ’’حدثنا‘‘ کے لفظ سے شروع کرتے ہیں۔
- کبھی کبھار امام بخاری متابعت اور شاہد کے طور پر احادیث ذکر کرتے ہیں، اس سے ان کا مقصد (صحیح) و معتمد حدیث میں موجود کسی اسنادی معاملے کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے، یا کسی غلطی پر تنبیہ یا علت کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے۔
- کبھی تراجم ابواب میں معلقات ذکر کرتے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے مسائل، آرا و فوائد کا استنباط کیا جا سکے، اگرچہ یہ معلقات امام بخاری کی کڑی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔
ان تمہیدی امور کو ذکر کرنے کے بعد اصل جواب کی طرف آتا ہوں:
- مندرجہ بالا خواب امام بخاری کے نزدیک قابل اعتماد نہیں، صحیح بخاری میں یہ ان کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ قولی، عملی یا تقریری کسی لحاظ سے اس خواب کی نسبت آں حضرت ﷺ کی طرف نہیں کی گئی۔
- امام بخاری نے اپنی کتاب میں کسی ایک جگہ بھی اس خواب کو بطور استشہاد پیش نہیں کیا۔
- یہ خواب، اگر ثابت بھی ہو، حجت و دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کس نے یہ خواب دیکھا ہے؟ اس کا کوئی علم نہیں۔ عروۃ فرماتے ہیں: اریہ بعض اہلہ (ان کے کسی عزیز نے خواب دیکھا) لہذا یہ خواب دیکھنے والا شخص مجہول ہے۔ بعض روایات میں بتایا گیا ہے کہ یہ شخص عباس بن عبد المطلب تھے حالاں کہ وہ تو اس وقت کافر تھے۔
- بہ ظاہر یہ روایت مرسل ہے، انھوں نے بیان کرنے والے کا نام نہیں بتایا۔ حافظ حدیث ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ مرسل خبر ہے۔ عروہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ انھوں نے راوی کی تعیین نہیں کی‘‘۔
- حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: سہیلی، حضرت عباس سے نقل کرتے ہوے لکھتے ہیں: ابو لہب کی وفات کے ایک سال بعد میں نے اسے خواب میں دیکھا۔ اس کی حالت بہت بری تھی۔ کہنے لگا: تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کبھی آرام نہ مل سکا، البتہ ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ عباس کہتے ہیں: یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم ﷺ کی پیدائش پیر کے دن ہوئی تھی، ثویبہ نے ابو لہب کو آپ ﷺ کی ولادت کی بشارت دی اور اس نے اسی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کر دیا۔
میں کہتا ہوں: سہیلی نے اس روایت کا مصدر ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس کی کوئی صحیح یا ضعیف سند نقل کی ہے۔ ضعف کے باوجود یہ حدیث قرآن کریم سے متعارض ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿والذین کفروا لہم نار جہنم لا یقضی علیہم فیموتوا ولا یخفف عنہم من عذابہا﴾ [فاطر: 36]
(جو منکر ہو گئے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان پر قضا آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ہی ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے گا، اس طرح ہم ہر ناشکرے کو سزا دیا کرتے ہیں۔)
﴿وقال الذین فی النار لخزنۃ جہنم ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب قالوٓا اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت قالوا بلی قالوا فادعوا وما دعاؤا الکفرین الا فی ضلل﴾ [غافر: 49-50]
(دوزخی جہنم کے داروغہ سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے عرض کرو کہ وہ ہم سے کسی روز تو عذاب ہلکا کر دیا کرے۔ وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہ آئے تھے، کہیں گے ہاں (آئے تھے)، کہیں گے پس پکارو، اور کافروں کا پکارنا محض بے سود ہوگا۔)
ابولہب بدترین حالت میں تھا اور اس خواب میں اس کے لیے تخفیف عذاب کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر کے نیک اعمال کبھی اسے آخرت میں فائدہ دے دیتے ہیں، لیکن یہ ظاہر قرآن کے مخالف ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہبآء منثورا﴾ [الفرقان: 23]
(اور جو عمل انہوں نے کیے تھے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں اڑتی ہوئی خاک کر دیں گے)
قاضی عیاض کا کہنا ہے: علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ کفار کے لیے ان کے نیک اعمال سود مند ثابت نہیں ہوں گے، نہ ہی نیک اطوار کی بدولت کسی نعمت یا تخفیف عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اگرچہ ان میں بعض کفار کو بعض دیگر کفار سے زیادہ سخت عذاب مل رہا ہوگا۔
سوال: امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ خواب اپنی صحیح میں کیوں ذکر کیا؟ اس سوال کے متعدد جواب ہو سکتے ہیں:
- امام بخاری نے یہ خواب اسی لیے بیان کر دیا کہ بعض راویوں نے حدیث کے ساتھ اس خواب کو بھی بیان کیا تھا؛ لیکن یہ جواب کم زور ہے، خصوصا، جب کہ ہمیں معلوم ہے امام بخاری حدیث میں موجود معلل الفاظ و کلمات حذف کر دیتے ہیں۔ اس کی تفصیل میری کتاب: ’’مدخل رائع الی صحیح البخاری و ما فیہ من اسرار و صنائع‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
- امام بخاری کی روش سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان کے نزدیک خواب کا یہ قصہ معلل ہے، کیوں کہ انھوں نے اس خواب کو متعلقہ باب میں ذکر نہیں کیا۔ امام بخاری اس طریقے سے بھی احادیث کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
- شاید امام بخاری رحمہ اللہ ایک دوسرے نہج سے اس حدیث کی علت کی طرف اشارہ فرمانا چاہتے ہیں۔ اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب نے نبی کریم ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کیا۔ یہ آزادی اس کے عذاب میں تخفیف کا سبب بنی۔ یہ بات ٹھیک نہیں۔ سیرت نگاروں کے نزدیک ثویبہ کو ابولہب نے بعد میں آزاد کیا۔ حافظ حدیث ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: حدیث میں موجود وکان ابولہب اعتقہا فارضعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، سے معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب نے ثویبہ آزاد کر دیا تھا، پھر اس نے آزادی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا، جب کہ سیرت کی کتابوں میں اس کے خلاف لکھا ہے کہ ابولہب نے ثویبہ کو ہجرت سے قبل آزاد کیا تھا۔ ظاہر ہے یہ سب رضاعت کے بہت عرصہ بعد عمل میں آیا۔
ابن سعد ’’الطبقات الکبری ‘‘(۱: ۱۰۸۔۱۰۹) میں لکھتے ہیں: محمد بن عمر واقدی بہت سے اہل علم سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں: آپ ﷺ مکہ میں ثویبہ کے ساتھ بہترین سلوک سے پیش آتے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کی عزت و تکریم کرتیں۔ ثویبہ اس وقت باندی تھیں۔ حضرت خدیجہ نے ابولہب سے انھیں خریدنا چاہا، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے، تو ابولہب نے انھیں آزاد کر دیا۔ آپ ﷺ انھیں عطا و خلعت بھیجتے اور اپنے احسان و کرم سے سرفراز فرماتے، یہاں تک کہ ۷ھ خیبر سے لوٹتے ہوے آپ ﷺ کو ان کی وفات کی خبر ملی۔
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ ’’استیعاب‘ ‘(۱:۱۲) میں ثویبہ کا آں حضرت ﷺ کو دودھ پلانے کا ذکر کرتے ہوے رقم طراز ہیں: ’’آپ ﷺ کے مدینہ ہجرت فرما جانے کے بعد ابو لہب نے ثویبہ کو آزاد کیا‘‘۔ امام ابن اثیر نے ’’اسد الغابہ ‘‘ میں اور حافظ ابن حجر نے ’’الاصابہ ‘‘میں بھی یہی بات لکھی ہے کہ ثویبہ کی آزادی ہجرت کے بعد عمل میں آئی۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الوفاء باحوال المصطفی ‘‘ (۱:۱۷۸،۱۷۹) میں فرماتے ہیں: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بندھن کے بعد ثویبہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوتیں۔ آپ ﷺ اور حضرت خدیجہ دونوں ان کے ساتھ عزت و تکریم سے پیش آتے۔ ثویبہ اس وقت باندی تھیں، بعد میں ابولہب نے انھیں آزاد کیا۔
مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی پیدائش کا ثویبہ کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں۔ ابولہب نے انھیں ہجرت کے بعد آزاد کیا۔ اس وقت تک ابو لہب کی خدا دشمنی عیاں ہو چکی تھی، وہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے کھلم کھلا بیر رکھنے لگا تھا، نبی اکرم ﷺ کو ایذا دیتا، مذاق اڑاتا اور آپ ﷺ سے ہتک آمیز سلوک کرتا، اسی بنا پر اللہ تعالی نے ابولہب کی تباہی سے متعلق ایک مکمل سورت ’’تبت یدا ابی لہب‘‘ نازل فرمائی۔
میرے خیال میں تعلیل حدیث میں امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ اسلوب پوشیدہ اور باریک بینی پر مبنی ہے اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ امام بخاری اپنی کتاب میں ایسے مخفی و دقیق اشارات و استنباطات سے کام لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی
امتِ مسلمہ کے فکری انتشار کا بنیادی سبب: فہمِ اصطلاحات کا مسئلہ
امتِ مسلمہ کے فکری انتشار اور شعوری اضطراب کے بے شمار اسباب میں اولین اور بنیادی سبب شریعتِ مطہرہ کے متعلق اصطلاحات کے معانی و مطالب کی صحیح فہم اور ان کے درمیان پائی جانے والی شرعی ترتیب، توازن اور ربط کا مسئلہ ہے کہ یہی وہ بنیادی ساز و سامان، کنکریٹ اور مٹیریل ہے جس سے امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں صاحبِ شریعت ﷺ نے نظامِ شریعت کی عمارت تعمیر فرمائی تھی۔
گزشتہ چند صدیوں سے — غالباً ساتویں صدی ہجری سے چند انفرادی استثناءات کو چھوڑ کر، جن میں امام ابن تیمیہؒ، ان کے مایہ ناز شاگرد امام ابن قیمؒ، مجدد الف ثانیؒ، اور برصغیر میں اپنے دور کی سب سے بڑی عبقری شخصیت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ شامل ہیں — پہلی دفعہ امتِ مسلمہ اجتماعی طور پر شرعی اصطلاحات کی صحیح اور کامل فہم سے بتدریج دور ہونے لگی۔ اگرچہ اس بات کی چیدہ چیدہ مثالیں پہلے بھی موجود تھیں کہ شرعی اصطلاحات کو شرعی معانی میں استعمال کرنے کے بجائے غیر شرعی معانی کے لیے استعمال کیا گیا، مثلاً مجرد عقلی معانی کے لیے، جیسا کہ خوارج اور معتزلہ وغیرہ نے کیا، یا فلسفیانہ معانی کے لیے جیسا کہ بعض مسلمان فلاسفہ نے کرنا چاہا؛ یا یوں ہوا کہ قدیمی ایرانی، مجوسی، یہودی یا مسیحی اصطلاحات کو شریعت کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی، جیسا کہ روافض اور شیعہ نے کیا، مگر امت کے اجتماعی ذہن نے اسے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن جب مسلمانوں نے امام رازیؒ کی تقلید میں قرآن و سنت کی اصطلاحات کو یونانی فلسفے کا لبادہ اوڑھانا شروع کیا تو نہ صرف ان اصطلاحات کے صحیح شرعی معانی ان کے ذہنوں سے مفقود ہونے لگے، یا اپنے صحیح حجم سے ہٹنے لگے، بلکہ ان کے مابین شرعی ربط، توازن اور ترتیب بھی بدلنے لگی، جو ابتدائی چھ صدیوں تک امت کے اجتماعی شعور کا اٹوٹ، قابلِ فخر اور تعمیری حصہ تھی۔ دسویں صدی ہجری میں یہ بیماری امت کے شعورِ اجتماعی کے مکمل ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، مگر بنیادیں اس وقت ہلیں جب مغربی تہذیب کا سورج طلوع ہوا، جو پاپائیت کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کے کمزور اجتماعی فکر کو بھی اپنی ظاہری چکاچوند میں بہا لے گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آج مختلف مسلم معاشروں میں ایسی بے شمار شرعی اصطلاحات، جو ہمارے علمی ورثے اور نظامِ شریعت کا حصہ ہیں، جا بجا مختلف حوالوں سے ان کا استعمال ہوتا ہے۔ اخبارات میں، ٹی وی میں، مختلف نیٹ ورکوں اور سوشل میڈیا پر، جلسے جلوسوں میں، تعلیمی اداروں، گھروں، محلوں، بیٹھکوں، دوکانوں، مساجد اور خانقاہوں میں، سیاسی، سماجی، مذہبی، لادینی تنظیموں کے ناموں، نعروں اور پروگراموں میں، معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں میں، اور اس طرح کی دیگر سب جگہوں پر کثرت کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں میں مشتے از خروارے کے طور پر ان میں سے چند عام اور اہم اصطلاحات کا تذکرہ کروں گا۔
مثلاً: امت، ملت، شریعت، روحانیت، طریقت، تصوف، خلافت، سعادت، شقاوت، اطاعت، شجاعت، عفت، عدالت، فراست، قناعت، امامت، شہادت، مصلحت، منفعت، عادت، روایت، حریت، وحی، عقیدہ، ایمان، نبوت، ختمِ نبوت، ناموسِ رسالت، عظمتِ اصحابِ رسول، توحید، اسلام، علم، جہالت، تقلید، اجتہاد، صراطِ مستقیم، فحاشی، بد اخلاقی، بے حیائی، زہد، استغنا، تحمل، برداشت وغیرہ وغیرہ اصطلاحات اُن ہزاروں شرعی اصطلاحات میں سے چند ایک ہیں جو شریعت سے متعلقہ لاکھوں امور پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ ہزاروں اصطلاحات باہم مل کر ہی امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کی عمارت کی مکمل تصویر بناتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے:
- شرعی اصطلاحات سے شرعی معانی ہی مراد لیے جائیں، اور شرعی معانی کے لیے شرعی اصطلاحات ہی استعمال کی جائیں۔
- شرعی اصطلاحات کے مابین وہ ربط، توازن اور ترتیب، جو شارع علیہ السلام نے خود قائم فرمائی تھی، اسے بہرصورت برقرار رکھا جائے۔ یعنی ہر شرعی اصطلاح کو اس کا وہی مقام اور نظامِ شریعت میں وہی جگہ دی جائے جس کی وہ شرعی طور پر حقدار ہے۔ نہ کہ ان کے مفاہیم میں افراط و تفریط سے کام لیا جائے، نہ ہی انہیں ان کے اصل مقامات اور مراتب سے گرایا یا بڑھایا جائے۔
لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ انہی اصطلاحات پر غور کر لیں جو ہمارے اردگرد گردش کر رہی ہیں، جس میں سے چند کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا، ہم جنہیں روز سنتے، سناتے ہیں، پڑھتے پڑھاتے ہیں اور مختلف موقعوں پر اکثر استعمال کرتے ہیں، تو آپ جان لیں گے کہ ہمارے ذہنوں میں ان کا مجموعی تصور کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اصطلاحات کا ایک ہجوم ہے جن میں سے اکثر کا حقیقی مفہوم یا تو ذہنوں سے مٹ چکا ہے یا اپنے اصل قد اور حجم سے اس قدر چھوٹا ہو چکا ہے کہ قریب المعدوم ہے۔ اور کچھ ایسی اصطلاحات بھی ہیں جن پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور ان کو ان کے اصل اور فطری سائز سے بہت بڑا کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ آج اکثر اصطلاحاتِ شرعیہ کے ساتھ امتِ مسلمہ کے شعورِ اجتماعی کا یہی رویہ ہے کہ ابتدا میں شرعی اصطلاحات سے غیر شرعی معانی مراد لیے جانے لگے اور غیر شرعی مفاہیم کو شرعی اصطلاحات کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی گئی، جس کی وجہ سے اصطلاحاتِ شرعیہ کے حقیقی مطالب و معانی کے بارے میں افراط و تفریط، حد سے زیادہ کمی یا مبالغہ آمیزی کا رویہ پیدا ہوا۔ اور اس کے منطقی نتیجے کے طور پر ان میں جو ربط، ترتیب اور توازن شارع ﷺ نے قائم فرمایا تھا، بگڑنے لگا۔ یہاں تک کہ مسلم امہ کی عقلِ اجتماعی میں قائم نظامِ شریعت کی عمارت کی حقیقی تصویر بری طرح متاثر ہوئی کہ امت کے شعورِ اجتماعی کے وسیع کینوس پر شریعت کے وہ اجزاء جنہیں بڑا نمایاں یا زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا وہ چھوٹے، دھندلے یا غیر اہم ہو گئے۔ اور چھوٹے، باریک، ہلکے اور لطیف اجزاء نے گہرے یا بڑے ہو کر تمام تصویر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
بالفاظِ صریح تر، وہ وسائل و ذرائع جو مقاصدِ شریعت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں، اسی کم فہمی کی وجہ سے مقاصد بن گئے، اور اصل مقاصدِ شریعت کو بھلا دیا گیا، یا وہ اہم نہیں رہے۔ وہ مجاز، وہ کنائے، وہ استعارے، جو حقائق کو قریب الفہم کرنے میں ممد و معاون تھے، خود حقائق فرض کر لیے گئے، یوں حقائق محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً مجازات میں کھو گئے اور فراموش کر دیے گئے۔ دین کی اساسیات جن پر نظامِ شریعت کی عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی تھی، انہیں محض تزئین و آرائش کی اشیاء سمجھ لیا گیا، اور جو چیزیں حقیقتاً تزئین و آرائش کے لیے ہیں ان کی حفاظت یوں کی جانے لگی جیسے وہ بنیادیں اور اساس ہوں۔
چنانچہ نہ اساسیات باقی بچیں اور نہ عمارت، نہ ہی سامانِ آرائش، حتیٰ کہ وہ منہج، طریقہ ہائے کار اور راستہ جس پر چل کر قافلۂ امت کو منزلِ مقصود تک پہنچنا تھا، فریب کار رہنماؤں کے خود ساختہ مناہج میں کھو کر اہلِ قافلہ پر ایسا ملتبس ہوا کہ نہ سمت ایک رہی، نہ قافلہ متحد رہا اور نہ ہی کہیں اصل منزلِ مقصود کا نشان باقی بچا۔
تلاشِ منزل کے راستوں میں حادثہ عجیب دیکھا ہے
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورتِ اعتبار ہو کر
آج اصطلاحاتِ شرعیہ کا مسئلہ ایسا عقدۂ مشکل ہے کہ جس میں کئی گرہیں ہیں اور کئی سرے ہیں، آپ جب کسی ایک سرے کو کھینچ کر اس عقدے کو حل کرنا چاہیں گے تو گرہیں مزید الجھ کر اس کی مشکل کو اور مشکل کر دیں گی، اور اگر کسی گرہ کو کھولنا چاہیں گے تو نئے سرے نمودار ہوں گے جو اس گورکھ دھندے کی پیچیدگی کو اور بڑھا دیں گے۔ فہمِ مطالب کے لیے مثالیں ناگزیر ہیں اور ہم یہاں دو شرعی اصطلاحات کو بطورِ مثال پیش کریں گے۔ مثلاً: اجتہاد و تقلید شرعی اصطلاحات میں سے ہیں اور ان کے مطالب و معانی کے بارے میں ایسی ہی کنفیوژن اور پیچیدگی پاکستان اور عالمِ اسلام کے بہت سے علمی حلقوں کے طرزِ عمل میں پائی جاتی ہے جو یقیناً ان کے فکری انتشار کی ترجمان ہے۔
اصطلاحِ اجتہاد
بعض حلقے ایسے ہیں جو اجتہاد کا نام سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اجتہاد کے دروازے بند ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ہاں آج کے دور میں اجتہاد کا مطلب ہے کہ آئمہ مجتہدین کے اجتہاد کو رد کر کے تمام امورِ دین میں نئے سرے سے اجتہاد کرنا۔ جب کہ دوسری طرف بعض حلقے ایسے ہیں جو معلوم اسباب کی وجہ سے اجتہاد کے نام پر شریعت کے بنیادی، غیر اجتہادی احکامِ ثابتہ تک کو بدلنا یا منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ اختلاف اور پیچیدگی صرف اجتہاد کی اصطلاح کو اس کے اصل اور صحیح معنوں میں پورے شرعی سیاق و سباق کے ساتھ نہ سمجھنے کی بناء پر پیدا ہوتی ہے۔
اجتہاد ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا ایک متعین شدہ شرعی معنی اور دائرۂ کار ہے جس کے حوالے سے نہ تو اجتہاد کے دروازے قیامت تک بند ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اجتہاد کا مطلب ثابت شدہ احکامِ شرعیہ کو منسوخ، رد یا معطل کرنا ہے۔ بلکہ اجتہاد کا اصل اور شرعی مفہوم — جس پر حدیثِ معاذ بن جبلؓ، صحابہ کرامؓ کی تربیت اور آئمہ مجتہدین کا طرزِ عمل شاہد ہے — یہ ہے کہ ایسے مسائل جن کا حکمِ شرعی قرآن و سنت سے بلاواسطہ یا بالواسطہ اجتہاد معلوم نہ ہو سکے، طے شدہ شرعی اصولوں کے مطابق ان کا حکمِ شرعی معلوم کرنا۔ چنانچہ وہ تمام احکامِ شرعیہ جو فقہائے امت نے قرآن و سنت سے براہِ راست یا اپنے اجتہاد کی روشنی میں معلوم کر لیے ہیں، ان میں نئے سرے سے اجتہاد کرنے کی نہ کوئی وجہ ہے اور نہ ضرورت، کیونکہ فقہائے کرام ماضی کے مسائل پر ہر پہلو سے روشنی ڈال چکے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کی طرح آج بھی امتِ مسلمہ کو بہت سے ایسے جدید مسائل کا سامنا ہے جن کے احکامِ شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امتِ مسلمہ کو ان مسائل میں اغیار کے مخالفِ اسلام اصولوں کی پیروی سے بچایا جا سکے۔
آج معیشت و تجارت کی بہت سے نئی صورتیں سامنے آئی ہیں، سیاست و حکومت کے نئے انداز اور فلسفوں نے عوام کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو شریعتِ اسلامیہ کے طے شدہ اصولوں اور نظریوں کے خلاف تباہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیز موجودہ دور میں خفیہ اور کھلی جنگ کی صورتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے وغیرہ۔ ان مسائل اور ان جیسے بہت سے جدید مسائل میں امت کی راہنمائی کی اشد ضرورت ہے جو صرف اور صرف اجتہاد کی مرہونِ منت ہے؛ چنانچہ آج نہ اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی احکامِ ثابتہ میں اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے۔
اصطلاحِ تقلید
تقریباً اسی قسم کی پیچیدہ صورتحال ’’تقلید‘‘ کی اصطلاح کے معنی و مطلب کے بارے میں ہمارے معاشرے میں ہے، بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ہمارا پورا معاشرہ کسی نہ کسی حوالے سے تقلید کی بندشوں میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ شرعی طور پر تقلید کی دو مختلف سطحیں ہیں: ایک جائز اور دوسری نا جائز۔
۱۔ تقلید کی جائز سطح
تقلید کی جائز سطح یہ ہے کہ شریعت کے کسی حکم یا کسی اجتہاد یا کسی فتوے کے ضمن میں ایک غیر فقیہ اور غیر مجتہد کسی مجتہد کی رائے پر اس لیے عمل کرے کہ خود اجتہاد کا عمل سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس لیے جس شخص کے علم اور تقویٰ پر اس کو اعتماد ہے، اس اعتماد کی وجہ سے اس کی بات کو بغیر دلیل کے قبول کر لے۔ یہ تقلید کا وہ اصل مفہوم ہے جسے شریعت جائز سمجھتی ہے اور شروع دن سے مسلمان اس سطح کی تقلید پر عامل رہے ہیں، صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد مجتہد صحابہؓ کے اجتہاد اور فتوے پر عمل کیا کرتی تھی کیونکہ ان میں ہر شخص صاحبِ اجتہاد نہیں تھا۔ اسی طرح تابعین کی بڑی جماعت بھی دوسرے مجتہد تابعینؒ کے اجتہاد اور فتوے پر عمل کرتی تھی۔
یہاں یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ اس جائز تقلید کا دائرۂ کار اور حدود کیا ہیں اور اس کے مفہوم میں کون سی چیزیں شامل ہیں، کون سی نہیں ہیں۔
اس تقلیدِ شرعی کا دائرہ احکامِ فرعیہ عملیہ تک ہے اور اس کی مشروعیت ایک ضرورت کے تحت ہے۔ وہ ضرورت جہالت اور اجتہاد کی عدمِ استطاعت ہے۔ اس کے مقابلے میں اصل یہ ہے کہ احکامِ شرعیہ کا علم حاصل کیا جائے، تفقہ فی الدین کی استعداد پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، ایسا نظامِ تعلیم تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والے سامنے آئیں، اور ان کی حوصلہ شکنی نہ ہو بلکہ حوصلہ افزائی ہو۔ کیونکہ شریعت میں اصل علم اور استطاعت ہے نہ کہ جہالت اور عدمِ استطاعت۔ یاد رہے کہ یہ تمام چیزیں جائز اور شرعی تقلید کے مفہوم میں شامل ہیں۔
۲۔ تقلید کی ناجائز سطح
تقلید کی دوسری سطح ناجائز تقلید ہے، اور ناجائز تقلید سے مراد یہ ہے کہ ہر علم و فن کے متعلق کسی بھی مؤلف یا مقرر کی بات بلا کسی تحقیق و تنقید کے قبول کر لی جائے۔ یا کسی بھی سیاسی، سماجی، معاشی، روحانی، تربیتی، تبلیغی، اصلاحی یا جہادی تنظیم یا فلسفے کو یہ یقین کیے بغیر قبول کر لیا جائے کہ آیا یہ تنظیم، فلسفہ یا ادارہ مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تعمیر میں معاون بھی ہے یا نہیں، یا کس قدر معاون و فائدہ مند ہے اور کس قدر نقصان دہ۔ یا اس کے مقاصد، پروگرام، مناہج اور طریقۂ کار امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے ان مجموعی مفادات کے موافق ہیں یا مخالف، جنہیں شارع علیہ السلام نے امت اور جمیع انسانیت کے لیے طے کیا ہے۔
دورِ حاضر میں امت کا مجموعی ذہن تقلید کی ان دونوں سطحوں میں امتیاز نہیں کر پا رہا۔ اس کا ایک طبقہ ایسا ہے جو جائز تقلید کی مشروعیت کا تو سرے سے انکاری ہے اور اس کے تذکرے ہی سے بھڑک اٹھتا ہے، مگر عملی طور پر اپنے راہنماؤں، مقرروں اور مؤلفوں کی ہر بات کو بلا کسی تحقیق و تنقید کے قبول کرنے پر ہر وقت آمادہ نظر آتا ہے۔ یعنی ناجائز تقلید پر تو عمل پیرا ہے مگر جائز تقلید کی مشروعیت سے انکاری ہے۔
اس کے مقابلے میں دوسرا طبقہ جو جائز تقلید کی مشروعیت کا تو قائل ہے لیکن اس جائز تقلید کے مفہوم میں افراط و تفریط کا شکار ہے کہ اس نے عملی طور پر تقلید کو احکامِ فرعیہ عملیہ کے دائرے سے نکال کر عقائد، اخلاقیات، اجتماعیات، سیاسیات، تعلیم و تربیت، تزکیہ، تبلیغ، دعوت اور جہاد کے میدانوں تک وسیع کر دیا ہے۔ جو جائز تقلید کے متعین شدہ شرعی مفہوم سے تجاوز ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ طبقہ اپنے تقلیدی مزاج اور عادت کی وجہ سے علم و بصیرت، تحقیق اور صحیح اجتہاد کی حوصلہ افزائی اور امت کو درپیش جدید ضروری مسائل کے حل کے لیے اس کی عملی تربیت و تعلیم کے فروغ کے بجائے مذکورہ دین کے تمام شعبوں میں مقلدانہ رویے کو اپنائے رکھنے پر مصر بھی ہے اور اس کا پرزور داعی بھی۔
ان دونوں طبقوں کی اس کشمکش کی وجہ سے جو فکری خلا پیدا ہوا، اسے مغربی فکر نے پُر کیا اور امت میں ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہوا جو مغرب کی اندھی تقلید میں بری طرح زار و نزار ہے، اور اُس طرف سے جو بھی چیز علم، فن اور تحقیق کے نام سے یا نظام و ادارے کی صورت میں سامنے آتی ہے، اسے یہ طبقہ بلا تنقید و تحقیق یہ جانے بغیر قبول کر رہا ہے کہ وہ شریعت کے مقاصد، اساسيات، اور متفقہ اصول و قواعد کے موافق ہے یا مخالف؟ یا ان سے امتِ مسلمہ اور جمیع انسانیت کے وہ مجموعی مفادات جن کا تحفظ شریعت کا مقصدِ اولین ہے، انہیں فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟
ظلمات بعضہا فوق بعض اذآ اخرج یدہ لم یکد یراہا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور۔ (النور ۴۰)
’’جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہیں (ان پر) اوپر تلے چھائے ہوئے کہ کسی کو اپنا ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا اور حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ پاک نورِ ہدایت سے محروم کر دے اس کے لیے تو کوئی روشنی ہی نہیں۔‘‘
تقلید و اجتہاد کی ان دو مثالوں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے بارے میں امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی کس قدر انتشار، انارکی، بدنظمی، بے ترتیبی اور اضمحلال کا شکار ہے۔ یہی وہ اضطرابی کیفیت ہے جس نے امت کے مجموعی تخیل میں نظامِ شریعت کے چہرے کا حسن ہی نہیں بگاڑا، بلکہ اس کے چہرے کے اعضاء و نقوش میں جو توازن اور تناسب تھا، اسے بھی بدل ڈالا۔ کوئی تو وجہ ہے کہ کل تک جس نظامِ شریعت کے صبیح چہرے کے حسن کی تابش سے ایک عالم منور و مستنیر تھا۔
آج خود مسلمانوں کو وہ تجلیاتِ حسن اور وہ تابش تو درکنار وہ چہرہ ہی نظر نہیں آ رہا۔ روشنیوں کی تلاش میں وہ کبھی کمیونزم کو اپنانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی کیپیٹل ازم کی طرف للچاتے ہیں، اور اگر کبھی بہت جذباتی ہوئے تو اپنے ذہنوں میں باقی نظامِ شریعت کی ادھوری اور دھندلی تصویروں ہی کو پوجنے لگتے ہیں، اور جب یوں بھی بات نہیں بنتی کہ ادھورے پن سے بات بننا ممکن ہی نہیں، تو اپنی کوتاہ فکری کو دور کرنے کی بجائے طرح طرح کے بہانے بنانے لگتے ہیں: قربِ قیامت کا بہانہ، عہدِ نبویؐ سے دوری کا بہانہ، آپس کی نااتفاقی کا رونا، یا امام مہدی کی آمد کا بہانہ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ چیزیں اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافے اور مزید پختگی کا سبب ہیں، نہ کہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر بہانہ سازی کے لیے۔
وجہ وہی ہے جس پر ہم ماقبل سطور میں خامہ فرسائی کر چکے ہیں کہ چند ایک علمی و فکری شخصیات اور حلقوں کو چھوڑ کر امت کا مجموعی ذہن نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے صحیح معانی و مطالب سے واقف ہے، نہ ان کے اصل حجم اور وسعت سے آشنا ہے، اور نہ ہی ان میں موجود ربط، توازن اور ترتیب سے باخبر ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج امت فکری و شعوری انتشار، سیاسی و سماجی بدنظمی، تعلیمی و تربیتی خلا، اور انتظامی و اداریاتی بدحالی کا شکار ہے۔ جس کا عالم یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی درسگاہیں ایسی اہلِ اور قابل قیادت فراہم کرنے سے یکسر قاصر ہیں جو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق امت کی صحیح رہنمائی کر سکے اور مقلدانہ طرزِ عمل کو چھوڑ کر مجتہدانہ کردار ادا کرے۔
محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
تیسری خصوصیت فقہ اسلامی میں ’’جامعیت‘‘ ہے۔ جامعیت سے دو چیزیں مراد ہیں۔ جامعیت سے ایک مراد تو یہ ہے کہ انسانوں کی جتنی ضروریات ہیں، انسانوں کی زندگی میں جتنے پہلو ہیں، ان سب پہلوؤں کو منظم کرنے اور ان سب کے بارے میں رہنمائی کا سامان موجود ہو۔ اگر کوئی نظام کسی ایک پہلو میں رہنمائی دیتا ہے اور بقیہ پہلوؤں کے بارے میں خاموش ہے تو وہ مکمل اور جامع نظام نہیں ہے؛ وہ نہ مکمل ہے نہ جامع ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے انسان کو ایک متکامل اور جامع شخصیت بنایا ہے، اس پوری شخصیت اور اس کے پہلوؤں کے درمیان ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگر ہم آہنگی ختم ہو جائے تو انسان پاگل ہو جائے گا۔ انسان اسی وقت تک ایک عاقل اور Sane انسان ہے جب تک اس کی پوری زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ہم آہنگی موجود ہے۔ اگر جذبات کہیں جا رہے ہوں اور عقل کہیں جا رہی ہو تو انسان متوازن انسان نہیں رہتا۔ ایک لمحے کے لیے جذباتی سٹیبیلیٹی ختم ہو جائے، تو انسان ایک عقل مند انسان نہیں رہتا۔
اس لیے نظام وہ کامیاب ہو سکتا ہے جو انسانی زندگی کے سارے پہلوؤں کو بیک وقت محیط ہو۔ اگر ایک پہلو سے ڈیل کرنے والا نظام ہو، کسی ایک پہلو کے بارے میں بحث کرتا ہو، تو وہ انسانی زندگی کو متکامل کامیابی نہیں دے سکتا، وہ حقیقت سے آشنا ہی نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت سے جزوی طور پر واقف ہو گا، کلی طور پر واقف نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی سو منزلہ عمارت کی چھت پر کھڑے ہو کر دیکھیں، تو اسلام آباد کا پورا لینڈ سکیپ آپ کو کھلا اور صاف نظر آئے گا، پورے حسن سے آپ متمتع ہوں گے، اس لیے کہ بیک وقت پورا لینڈ سکیپ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن اگر آپ کو کوئی پچاس میٹر لمبا پائپ دے دے کہ اس پائپ میں آپ جھانک کے دیکھیں، تو آپ کو بڑا تھوڑا حصہ نظر آئے گا اور بقیہ پہلو — وہ خوبصورت ہوں یا جو بھی ہوں — آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے اور وہ اتنا حصہ آپ کے سامنے رہے گا۔ یہی کیفیت ہے ان نظاموں میں جو شریعت کی رہنمائی سے ہٹ کر لوگوں نے دیے ہیں۔
شریعت نے انسان کو متکامل طور پر سامنے رکھا۔ انسان کی ٹوٹیلٹی، کلیت کو سامنے رکھ کر اس کا حل دیا۔ اس لیے اس کے سارے پہلو ایک دوسرے کے ساتھ متکامل ہیں، کوئی پہلو ایک دوسرے سے متعارض نہیں ہے۔ جب آپ تمام پہلوؤں کو الگ الگ ڈیل کریں گے اور ہر پہلو کے بارے میں ایک الگ انداز سے رہنمائی آئے گی تو یہ رہنمائیاں آپس میں ٹکرائیں گی۔ جب ٹکرائیں گی تو کبھی ایک پہلو کو کوئی آدمی ترجیح دے گا، دوسرا آدمی دوسرے پہلو کو ترجیح دے گا۔
عقل اور نقل (روایت) کی مثال میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کچھ مذاہب نے عقل کو ترجیح دی اور نقل کا دامن چھوٹ گیا، اور کچھ مذاہب نے نقل کا ساتھ دیا اور عقل کا دامن چھوٹ گیا۔ اس پر اجتہاد کے ضمن میں مزید بات ہو گی۔ اس لیے شریعت کی جامعیت کا پہلا مظہر تو یہ ہے۔
دوسرا مظہر یہ ہے کہ انسانوں کے مزاج مختلف ہیں۔ آپ کا مزاج اور ہے، میرا مزاج اور ہے۔ اگر قانون آپ کے مزاج کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو میرے مزاج سے جو مسائل پیدا ہوں گے اس کا جواب کہاں سے آئے گا؟ اگر میرے مزاج کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو آپ کے مسائل کا جواب کہاں سے آئے گا؟ اگر کسی جاہل قوم کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، تو پڑھی لکھی قوم کے مسائل کہاں سے آئیں گے؟ اس طرح سے آپ غور کریں تو آپ کو بیسیوں مثالیں ملیں گی۔
جب تک آسمانی شریعتیں مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ تھیں، اس وقت تک اللہ کی مشیت اور حکمت اس بات کی متقاضی رہی کہ اس خاص قوم کے مزاج، انداز طبیعت اور افتاد طبع کو پیش نظر رکھ کر قانون بنایا جائے۔ تورات کو آپ دیکھیں، جو بنی اسرائیل کو منظم کرنے کے لیے دی گئی، بنی اسرائیل کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اتاری گئی۔ بنی اسرائیل کی تاریخ پڑھیں — قرآن سے بھی تائید ہوتی ہے، تورات سے بھی اور ان کی کتابوں سے بھی تائید ہوتی ہے — کہ انتہائی سرکش قوم تھی۔ قانون کو توڑنا، احکام الہی کی نافرمانی کرنا، انحراف کے راستے ڈھونڈنا، یہ یہودیوں پر ختم تھا۔ اس انحراف کی اتنی مثالیں ان کے اپنے ادب میں اور لٹریچر میں موجود ہیں کہ قرآن پاک سے حوالے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود ان کے اپنے اعتراف کے بموجب انہوں نے پوری زندگی، ہزارہا سال انحراف میں گزارے اور انبیاء علیہم السلام کو تنگ کیا۔ جو قوم یہ فخر کرتی ہو کہ ’’انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم‘‘ ہم نے قتل کیا ہے مسیح علیہ السلام کو۔ جو پیغمبروں کے قتل پر — نعوذ باللہ — اظہار فخر کرتی ہو، اس کی سرکشی کا کیا کہنا!
ایسی سرکش قوم کے لیے جب اللہ تعالی نے قوانین نازل فرمائے، تو وہ سخت قوانین تھے۔ تورات کے قوانین سخت تھے۔ آپ دیکھیں، تورات میں آج بھی بعض احکام میں بڑی سختی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کپڑا ناپاک ہو جائے تو اس کپڑے کو کاٹ دو، گندگی لگ جائے تو اتنے حصے کو کاٹ کر پھینک دو، دھونے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو اتنا رگڑو کہ خون نکل آئے، اس وقت تک پاک نہیں ہو گا۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں جو ایک نافرمان اور سرکش قوم کو منضبط کرنے کے لیے ناگزیر تھیں، یہ احکام ضروری تھے، اس لیے سخت احکام دیے گئے۔
تورات کے احکام پر عمل کرتے ہوئے یہودیوں کو جب ایک زمانہ گزر گیا، تو یہودیوں میں ایک حرفیت پسندی پیدا ہو گئی، ایک Literal انداز پیدا ہو گیا، ایک ظاہر پرستی پیدا ہو گئی کہ قانون کے اصل مقاصد کو نظرانداز کر دیا جائے، قانون کی سپرٹ کو مجروح کر دیا جائے، لیکن اس کی ظاہری ہیئت پر عمل ہوتا رہے، آپ دنیا کو دھوکہ دے سکیں کہ آپ قانون پر عمل کر رہے ہیں۔
اللہ نے حکم دیا تھا کہ ہفتے میں ایک دن صرف عبادت میں گزارو اور کوئی دنیاوی کام نہ کرو۔ یہ بھی اس تربیت کا ایک حصہ تھا جو اللہ تعالی ان کو دینا چاہتے تھے۔ خاص طور پر چونکہ ایسے علاقے میں آباد تھے جہاں سمندر اور دریا بہت کثرت سے ہیں، تو مچھلیوں کا بڑا شوق تھا۔ تو حکم دیا کہ ساتویں دن کچھ کام نہ کرو، شکار بھی نہ کرو۔ اب انہوں نے کیا کیا کہ تمام دریاؤں سے، تالابوں سے چھوٹی چھوٹی نہریں کھودیں، اپنے ہر گھر میں چھوٹے چھوٹے تالاب بنائے اور یہ کوشش کی کہ مچھلی ازخود چلتی ہوئی ان کے تالاب میں آ جائے۔ جب تالاب میں آ جائے تو اس کو بند کر دیا جائے، اور گویا اللہ تعالی کو — نعوذ باللہ — دھوکہ دیا جائے کہ سرکار! ہم نے تو شکار نہیں کیا تھا، مچھلی خود ہی چل کر آ گئی تھی۔ قرآن پاک میں اس کی تفصیل ہے۔ جو قوم اللہ تعالی کو — نعوذ باللہ — دھوکہ دینے کے لیے آمادہ رہتی ہو، اس کی ظاہر پسندی کا کیا ٹھکانا ہو سکتا ہے!
جب سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے، تو آپ نے سب سے زیادہ اس ظاہر پرستی کی تردید فرمائی اور شریعت کے احکام کی اصل روح پر زور دیا۔ عیسائیوں نے یہ کیا کہ جی ٹھیک ہے، آپ فرماتے ہیں کہ روح پر زور دو! ہم ظاہر کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے دنیا سے جاتے ہی یہ فیصلہ کیا کہ احکام تورات آج سے منسوخ، قانون شریعت منسوخ، صرف قانون کی روح کافی ہے۔ روح کیا ہے؟ وہ جو پادری قرار دیں، وہ روح ہے بس! آپ انسانوں سے محبت کریں، یہ روح ہے۔
بھئی، انسانوں سے محبت کیسے کرو؟ اس کے دوست سے محبت اور طرح کی ہو گی، دشمن سے اور طرح کی ہو گی، بے گناہ انسان سے محبت اور طرح کی ہو گی، مجرم سے اور طرح کی ہو گی، قاتل سے اور طرح کی ہو گی، مقتول سے اور طرح کی ہو گی۔ جب تک یہ تفصیلات قانون میں طے نہیں ہوں گی ’’محبت‘‘ تو ایک فضول اور بے معنی سا لفظ ہے۔
آج عیسائی دنیا بھر میں دوہراتے رہتے ہیں کہ ہم انسانیت سے محبت کرتے ہیں۔ بھئی، انسانیت سے آپ محبت کرتے ہیں تو کیسے کرتے ہیں، اس کا طریقہ کیا ہوتا ہے؟ ایک قاتل لایا جائے جس نے دس قتل کیے ہوں — کئی سال پہلے لاہور میں سو بچے قتل کیے تھے ایک آدمی نے، وہ بھی انسانیت کا حصہ تھا — اس سے محبت کریں گے کہ نہیں کریں گے؟ کریں گے تو کیسے کریں گے؟ کیا اس سے، اور ان بچوں سے جو مارے گئے ہیں، یا ان کے ماں باپ سے یکساں طور پر محبت کریں گے؟ دونوں کو گلے لگا کے، چوم کے چھوڑ دیں گے؟ یا ایک کے ساتھ کچھ رویہ ہو گا اور دوسرے کے ساتھ کچھ اور ہو گا؟ یہ بات عیسائیوں نے بھلا دی کہ یہ بھی ضرورت ہے۔
آج سے کچھ سال پہلے مجھے ایک مغربی ملک میں جانے کا اتفاق ہوا، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ عیسائیوں کے ایک اجتماع سے آپ خطاب کریں اور اسلام پر بات کریں۔ میں نے ان سے گفتگو کے دوران یہ کہا کہ آپ دنیا بھر میں جب عیسائیت کا پروپیگنڈا کرتے ہیں، تبلیغ کرتے ہیں — وہ سب پادری تھے جن سے گفتگو ہو رہی تھی — تو آپ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ السلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی تمہارے دائیں گال پر چانٹا مارے تو تم بایاں گال بھی اس کے سامنے کر دو۔ کہا، ہاں بالکل! سب نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ یہ ہماری تعلیم ہے۔
میں نے کہا، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب سے یہ تعلیم آپ نے حضرت مسیحؑ سے منسوب کی ہے — پتا نہیں ان کی ہے کہ نہیں ہے — لیکن جب سے منسوب ہوئی ہے، اس وقت سے لے کر آج تک کوئی ایسا عیسائی آپ مجھے دکھا سکتے ہیں جس کو ایک چانٹا مارا گیا ہو اور اس نے دوسرا گال بھی آگے کر دیا ہو؟ میں آپ کے سامنے ابھی آزما کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ عیسائی کون ہے؟ کیا ایسا ہوا ہے کہ دشمن نے ایک شہر پر قبضہ کیا ہو اور آپ نے دوسرا شہر بھی خالی کر دیا ہو کہ سرکار! دوسرا شہر بھی لے لیں؟ چور نے ایک کمرے میں ڈاکہ ڈالا ہو اور آپ نے دوسرا کمرہ بھی کھول دیا ہو؟ جیب کترے نے ایک جیب کاٹی ہو، آپ نے دوسری بھی آگے کر دی ہو کہ یہ بھی کاٹ لو؟‘‘
جب ایسا کبھی نہیں ہوا، عملاً نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ تمام تر دعووں کے باوجود عمل کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر، کہ انسانیت سے محبت بھی کرو، جو بے گناہ ہو اس سے محبت کرو، جو بیمار ہے اس سے محبت کرو، جو مظلوم ہے اس سے محبت کرو۔ اور جو ظالم ہے اس سے محبت کرو، لیکن اس سے محبت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا ہاتھ روک لو۔ آپؐ نے فرمایا ’’انصر اخاک ظالماً او مظلوما‘‘ کہ تمہارا بھائی ظالم ہو یا مظلوم ہو، دونوں صورتوں میں اس کی مدد کرو۔ صحابہؓ نے فرمایا کہ ’’ہذا المظلوم‘‘ یہ مظلوم تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپؐ نے فرمایا، اس کا ہاتھ پکڑ لو، اس کو ظلم مت کرنے دو۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ عملاً اس تعلیم پر عمل نہیں کر رہے جو آپ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منسوب کر رہے ہیں، آپ اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی۔
گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت جامع ہے اُن احکام کی جو سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت میں ہیں۔ اس میں سخت احکام بھی ہیں، آپؐ کی شریعت میں بھی سخت احکام ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعض شدید احکام بھی دیے تھے، ان میں سے جن شدید احکام کی ضرورت ختم ہو گئی وہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان نہیں فرمائے۔ جن شدید احکام کی ضرورت تھی — اس لیے کہ ایسے منحرف مزاج لوگ ہر زمانے میں ہو سکتے ہیں جیسے یہودی تھے، یہ سرکشی بعد میں بھی کسی قوم میں پیدا ہو سکتی ہے، تو جہاں جہاں ایسی سرکشی کی مثالیں آئیں گی، وہ افراد کی طرف سے آئیں یا گروہوں کی طرف سے — تو سخت احکام قرآن پاک میں موجود ہیں اور وہ دیے جائیں گے۔ جہاں سخت احکام کی ضرورت نہیں رہی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ، جو قانونِ الٰہی یا قانونِ شریعت کا ایک روحانی اور اخلاقی پہلو ہے، جہاں اس کی روح یا اس کے بنیادی اصولوں کا سوال ہے، وہ قرآن پاک نے ہر جگہ بیان کیا ہے۔ آپ قرآن مجید پڑھیں، جہاں کوئی فقہی حکم بیان ہوا ہے، جہاں کوئی قانون بیان ہوا ہے، جہاں کوئی سزا یا جرم بیان ہوا ہے، وہاں یہ کہا گیا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو، یہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل نرم ہو جائیں، یہ اس لیے ہے کہ تم یاد رکھو کہ تمہیں کہاں جانا ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو تورات اور انجیل میں الگ الگ بیان ہوئی تھیں، وہ قرآن پاک کے ہر سلسلۂ مضامین میں یکجا کر دی گئی ہیں۔ یہ قرآن پاک کی جامعیت کی ایک اور مثال ہے۔
اخلاق اور قانون آج کی دنیا میں الگ الگ سمجھے جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں اخلاق اور قانون کو دو چیزیں سمجھا جاتا ہے۔ آج کل کے مغربی علمائے قانون کا اصرار ہے کہ قانون کو Value-Neutral ہونا چاہیے، یعنی کسی اخلاقی قدر کے بارے میں کوئی موقف قانون کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی قانون یہ نہ کہے کہ شراب پینا اچھا ہے کہ برا ہے، یہ قانون کا کام نہیں ہے۔ قانون یہ نہ طے کرے کہ کیا چیز اخلاقی طور پر اچھی ہے اور کیا چیز بری ہے۔ اخلاق اور روحانیات کے بارے میں قانون غیر جانبدار رہے۔ وہ اس کو Amoral concept of law کہتے ہیں کہ لاء کو پازیٹو ہونا چاہیے؛ وہ یہ دیکھے کہ اس وقت حقائق کیا ہیں اور کیا ہو رہا ہے، اس سے آگے قانون کو نہیں جانا چاہیے، قانون کو مفتی یا مذہبی مرشد بن کے نہیں بیٹھنا چاہیے۔
اس لیے انہوں نے قانون کی دنیا سے اخلاق کو نکال باہر کیا، اخلاق کو دیس نکالا دے دیا، روحانیات کو بھی دیس نکالا دے دیا۔ اب قانون کے نام سے جو چیز دنیائے مغرب میں مروج ہے، نہ اس کا اخلاق سے کوئی تعلق ہے، نہ روحانی اقدار سے کوئی تعلق ہے۔ جہاں کسی روحانیت کی بو بھی نظر آتی ہے، وہاں سے وہ آپریشن کر کے اس حصے کو نکال دیتے ہیں، جہاں اخلاق کا جرثومہ کہیں پیدا ہوتا نظر آتا ہے، آپریشن کر کے اس کو دور کر دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قانون کی دنیا ایک غیر اخلاقی دنیا بن گئی، ایک لا اخلاقی دنیا بن گئی، ایک غیر روحانی دنیا بن گئی۔ قانون پر عملدرآمد کے جو داخلی محرکات تھے، قانون پر عملدرآمد کے بارے میں اللہ کے حضور یا آخرت میں جواب دہی کا جو احساس تھا، وہ سارا کا سارا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ صرف ظاہری اور سرکاری یا سیاسی مؤیدات جو ہیں، Sanctions جو ہیں، صرف ان پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک سینکشنز موجود رہتی ہیں، جب تک پولیس کا ڈنڈا، قانون، عدالت، پولیس، فوج سامنے ہے، اس وقت تک لوگ قانون پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ مؤیدات ایک لمحے کے لیے نظروں سے ہٹ جائیں — دو گھنٹے کے لیے بجلی اگر فیل ہو جائے — تو پچھلے سالہا سال کی کسر پوری ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں، لاکھوں واقعات قتل، جرم اور بڑے بڑے تباہ کن جرائم کے پیش آ جاتے ہیں، دو گھنٹے کے لیے بجلی اگر چلی جائے تو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قانون کا تعلق اخلاق اور روحانیات سے توڑ دیا گیا ہے۔
اس کے برعکس آپ دیکھیں — میں زیادہ پرانی مثال نہیں دوں گا، اس طرح کی مثالوں سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صدرِ اسلام میں کوئی فرشتہ قسم کے انسان تھے، ان کی مثالیں آج کل کے گنہگار انسانوں کے لیے کیسے کارآمد ہو سکتی ہیں! (حالانکہ) یہ مثالیں ہر دور میں مسلمانوں میں موجود ہوتی ہیں۔ یہ 1947ء کی مثال ہے، پاکستان بننے کے بعد کی، جن حضرات نے دیکھا، انہوں نے مجھے بتایا، میں نے ان سے سنا ہے براہ راست۔ جب ہندوستان کے بارے میں یہ اطلاع ملی، پاکستان بننے کے بعد، کہ بعض علاقوں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو لوٹا ہے اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے، تو کراچی کے بعض علاقوں میں بعض پرجوش مسلمانوں نے ہندوؤں کی بستی لوٹی اور لوٹ کر ان کے گھر کا سامان اپنے گھر میں اٹھا کر لے آئے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ وہاں تشریف لائے۔ وہ جگہ میں نے دیکھی ہے جہاں وہ آ کر کھڑے ہوئے تھے — جو صاحبان وہاں موجود تھے، ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بتایا — انہوں نے یہ کہا کہ میں چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہوں، چوبیس گھنٹے کے اندر اندر جس شخص نے یہ سامان لیا ہے، وہ لا کر یہاں مسجد میں رکھ دے۔ اور کل شام کو میں ہندوؤں کو بھیجوں گا کہ اپنا اپنا سامان واپس لے جاؤ۔ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو تو میں ہندوؤں کا بیان قبول کر لوں گا بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے، اور میں اس سب علاقے کے لوگوں کو نکال کے پاکستان سے بھگا دوں گا؛ میں ہر شخص کو جو اس بستی میں رہتا ہے، گرفتار کر کے پاکستان سے نکال دوں گا۔ قائد اعظم یہ کہہ کر چلے گئے۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی مسجد قریب تھی۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے لوگوں کا ایک اجتماع بلایا۔ اجتماع بلانے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ نے جو سنا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، یہ شرعاً بھی جائز نہیں ہے، یہ لوگ ہماری امان میں ہیں، ایک اسلامی مملکت کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کا جان و مال ہم محفوظ رکھیں۔ اسلام کا حکم ہے، سیدنا علی ابن ابی طالبؓ کا ارشاد ہے کہ ’’لہم ما لنا وعلیہم ما علینا‘‘ کہ جو ہمارے حقوق و فرائض ہیں وہ ان کے حقوق و فرائض ہیں، جو ہماری ذمہ داریاں ہیں وہ ان کی ذمہ داریاں ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک معاہدہ کیا تھا ایک عیسائی قوم سے، جس میں انہوں نے لکھا تھا ’’لہم ما للمسلمین وعلیہم ما علی المسلمین‘‘ کہ جو مسلمانوں کے حقوق ہیں وہ ان کے حقوق ہوں گے، جو مسلمانوں کے فرائض ہیں وہ ان کے فرائض ہوں گے۔ اور اس معاہدے کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپروو کیا تھا۔
چنانچہ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ سے میں نے سنا اور کئی لوگوں سے سنا، کہ جس شخص نے جو چیز کسی ہندو کے گھر سے اٹھائی تھی، وہ ایک ایک چیز لا کر رکھ دی۔ اور اگلی صبح دس بجے جب ہندو آئے، یا پارسی، جو بھی ہوں گے، انہوں نے اپنی ایک ایک چیز اٹھا کر سرٹیفکیٹ لکھ کر دیا کہ ہماری ہر چیز مل گئی، اب ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ سرٹیفکیٹ قائد اعظم کو پہنچایا گیا تو وہ مطمئن ہو گئے۔
میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر دل میں خوفِ خدا ہو، اگر دل میں یہ احساس ہو کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے، دل میں یہ جذبہ جاگزین ہو کہ اسلام کے اخلاقی اور روحانی تقاضے کیا ہیں، تو پھر انسان ہر دور میں اس پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس کی مثالیں ملتی ہیں، آپ کی اور ہماری زندگی میں ملتی ہیں، ہزاروں مثالیں آپ نے بھی دیکھی ہوں گی، میں نے بھی دیکھی ہیں۔ کسی کی چیز چوری ہوئی، کسی کو ملی، اس نے پہنچا دی۔ لاکھوں روپے کروڑوں روپے کی چیزیں لوگوں نے اصل مالکان کو پہنچا دیں، حالانکہ کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ اس طرح کی مثالیں مسلم معاشروں میں موجود ہیں اور ملتی ہیں۔ یہ جامعیت ہے قانون اور اخلاق کی، قانون اور روحانیات کی، ضمیر اور ظاہری قوتوں کے آپس میں ارتباط اور ہم آہنگی کی۔ یہ شریعتِ اسلامیہ کی وہ بنیادی خصوصیت ہے جس سے دنیا کے اکثر و بیشتر قوانین عاری ہیں۔
اسلامی شریعت کی چوتھی خصوصیت ہے اس کی حرکیت، یعنی Mobility، کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل وسعت پذیر ہے، نئے نئے حقائق نئے نئے واقعات کو اپنے اندر سموتی ہے اور ہر نئے آنے والے مسئلے کا جواب اس کے پاس موجود ہے۔ اس پر زیادہ تفصیلی گفتگو اجتہاد کے باب میں ہو گی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلامی قانون اور شریعت دنیا کا واحد قانون ہے جو چودہ سو پچیس سال سے آج تک ایک تسلسل کے ساتھ انسانوں کی زندگی کے بڑے حصے کو منظم کر رہا ہے۔ جس حصے کو مسلمانوں نے اپنی کوتاہیوں سے چھوڑ دیا، اس پر ہم اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں۔ ہمیں کوشاں ہونا چاہیے کہ اس حصے میں بھی ہم جلد سے جلد شریعت پر عملدرآمد کرنے لگیں، لیکن ہر مسلمان کسی نہ کسی حصے پر عملدرآمد ضرور کرتا ہے۔
یہ تسلسل کسی اور نظامِ قانون کو حاصل نہیں ہے۔ اس تسلسل کی وجہ شریعت کی وہ حرکیت ہے، اسلامی نظامِ قانون کی وہ موبیلیٹی ہے، جس کی وجہ سے یہ ہر حالت میں اور ہر نئی پیش آمدہ صورتحال میں، اُس مسئلے کے بارے میں رہنمائی دے سکتا ہے۔
دنیا کا جو نظامِ قانون بھی ماضی میں انسانوں نے برتا ہے، یا آج برت رہے ہیں، وہ کسی خاص علاقے میں ظاہر ہوا، اس کی پیدائش کسی خاص علاقے یا قوم میں ہوئی۔ جب اپنے علاقے اور قوم تک وہ محدود رہا، اس وقت تک اس میں کچھ نہ کچھ کامیابی نظر آتی رہی۔ جب اس کو اپنے علاقے اور ماحول سے نکل کر دوسروں کے علاقے اور ماحول میں جانے کا موقع ملا، فورًا اس کے اساسات اور کلیات میں تبدیلی آ گئی اور وہ کچھ کا کچھ ہو گیا۔ وہ اپنی اصل سے اتنا مختلف ہو گیا، اپنی اصل سے اتنا بدل گیا کہ بعد والوں کو یہ پہچاننے میں مشکل پیش آئی کہ یہ قانون آیا کہاں سے تھا۔
اس کی مثالیں رومن لاء میں، اس کی مثالیں جدید مغربی قوانین میں، فرانس اور انگلستان کے سول لاء اور کامن لاء میں، آپ کو ہر جگہ ملیں گی۔ جب کوئی نظام قانون اپنے مرکز سے، اپنی جنم بھومی سے نکل کر کہیں اور گیا، وہاں کے رنگ میں اتنا رنگ گیا کہ پھر اپنے ماضی سے تعلق چھوڑنے پر مجبور ہو گیا، یا تو ختم ہو گیا، یا اپنی ماہیت اتنی بدل لی کہ اصل سے تعلق نہیں رہا۔
اسلامی شریعت جزیرۂ عرب سے نکلی، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس کا اصل مرکز اور مصدر ہے، وہیں سے نکلی، صحابہ کرامؓ اس کو دنیا کے ہر گوشے میں لے گئے، تابعینؒ نے اس کو روئے زمین کے چپے چپے پر پھیلا دیا۔ اس پر عملدرآمد دنیا کے ہر علاقے میں ہو رہا ہے، چین اور جاپان میں بھی ہو رہا ہے اور برازیل اور ارجنٹائن میں بھی ہو رہا ہے۔ لیکن برازیل اور ارجنٹائن میں رہنے والے کسی مسلمان سے، جو رمضان میں روزہ رکھتا ہو، آپ پوچھ کے دیکھیں، تو وہ روزہ اور نماز کے انہی احکام پر عمل پیرا ہے جن پر آپ عمل پیرا ہیں؛ نکاح و طلاق کے انہی احکام پر عمل پیرا ہے جن پر آپ عمل پیرا ہے؛ وہ محرمات اور منہیات سے اسی طرح مجتنب ہے جیسے ہم اور آپ مجتنب ہیں؛ وہ شریعت کے فرائض اور واجبات پر اسی طرح عمل پیرا ہے جیسے آپ اور میں عمل پیرا ہیں۔
جزیرۂ عرب کے ریگستانی اور صحرائی ماحول سے نکل کر شام کے انتہائی متمدن ماحول میں اور سپین کے انتہائی متمدن اور مہذب ماحول میں جانے سے اس شریعت کے مزاج اور افتاد اور انداز میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ اس میں اتنا سمو لینے کی صلاحیت موجود تھی کہ وہ ان ساری تبدیلیوں کو اپنے اندر سمو سکتی تھی — اپنے خصائص میں کسی تبدیلی کو راستہ دیے بغیر، اپنے بنیادی اوصاف میں کوئی مصالحت یا کمپرومائز کیے بغیر — وہ لامتناہی حالات اور لامتناہی مسائل کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ صلاحیت دنیا کی کسی اور قوم کے دیے ہوئے نظام میں نہیں پائی جاتی۔ یہ کیسے ممکن ہوا، اس کا میکنزم کیا ہے، اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس پر اجتہاد کے باب میں تفصیل سے بات ہو گی۔
(جاری)
https://youtu.be/pYFb_79RgUI
حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
حنفی اصول اور حنفی فقہ کا باہمی تعلق
ہماری گفتگو رہی ہے حنفی اصولی منہج کے متعلق، اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ہم اس پہلو پر بات کریں گے کہ اس اصولی منہج کا حنفی فقہ کے ساتھ کس طرح کا تعلق ہے۔ کیونکہ کل جو گفتگو ہوئی اس میں، میں نے اس بات پر اپنی رائے واضح کرنے کی کوشش کی کہ متاخرین کی جو کتابیں ہیں اصول پر، اور اسی طرح جو معاصرین کی ہیں، ان کو پڑھ کر محسوس یہ ہوتا ہے کہ فقہ اور اصولِ فقہ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ الگ الگ جزئیے پر الگ الگ تو بحث ہوتی ہے لیکن اصولِ فقہ کی یہ کتابیں پڑھ کر آپ کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حنفی منہج ہے کیا؟ وہ کرتے کیا ہیں؟
اچھا، جب آپ حنفی فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں کہ اس میں کس طرح ان امور کو برتا گیا ہے، ان کی تطبیق کی گئی ہے مختلف مسائل پر، وہاں سے ہمیں کچھ اور نظر آتا ہے۔ جبکہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں جو لکھا ہوتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لیے آج کی گفتگو میں، میں اس پہلو پر خصوصاً آپ کی توجہ چاہتا ہوں کہ حنفی اصول اور حنفی فقہ کا آپس میں کس طرح کا تعلق ہے؟ اور جو حنفی منہج کی چند خصوصیات کل ہم نے ذکر کی ہیں اور کچھ آج بھی ذکر کریں گے، ان کی عملی تطبیق کیسے ہوتی ہے، فقہ کی کتابوں سے ہمیں کیا نظر آتا ہے؟
مناسب ہو گا کہ میں بات وہاں سے شروع کروں جہاں کل ہم نے گفتگو کا اختتام کیا تھا۔ کل کی ساری گفتگو کا نچوڑ آخر میں ہم نے یوں ذکر کیا تھا کہ جو امام محمدؒ کی کتابیں ہیں — ظاہر الروایہ جنہیں ہم کہتے ہیں، باقی بھی، لیکن بالخصوص جو ظاہر الروایہ ہیں — تو ان کو صرف فقہ کی کتابیں نہ سمجھیں کہ اِس کتاب میں یا اُس کتاب میں یہ جزئیہ ذکر کیا گیا ہے یا وہ ذکر کیا گیا ہے، تو اس سے آپ کو اس مسئلے کے متعلق فتویٰ مل گیا ہے اور حنفی مذہب کے مطابق حکمِ شرعی معلوم ہو گیا ہے۔ صرف اتنا نہیں ہے، بلکہ ان کو آپ اصول کی کتابیں سمجھ کر پڑھیے اور اس طرح ان کو دیکھیے کہ امام محمدؒ حنفی مذہب کے اصول آپ کو کس میتھڈ کے ذریعے بتا رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں۔ یہی وہ منہج ہے جس کو اصولِ فقہ کی کتابوں میں فقہاء کرام کا منہج کہا جاتا ہے — طریقۃ الفقہاء — جس میں ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔
اس پر اب میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا — جو کل نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ آج کرنے کی تھی — کہ ٹھیک ہے ہم فروع سے اصول مستخرج infer کرتے ہیں۔ یہ کیس امام محمدؒ نے رکھا ہے مضاربہ کا کہ رب المال اور مضارب کا آپس میں اختلاف ہے۔ مضارب کہتا ہے کہ مجھے تو اس نے پابند نہیں کیا تھا کہ آپ نے صرف اس ایک مخصوص معاملے میں مضاربہ کرنا ہے، اس نے مجھے عام اختیار دیا تھا۔ جبکہ رب المال کہتا ہے کہ نہیں، میں نے اس کو پابند کیا تھا کہ یہ کرنا ہے اور وہ نہیں کرنا ہے، یہاں کرنا ہے اور وہاں نہیں کرنا ہے۔ ثبوت دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ تو اس سے قطع نظر ہم دیکھیں گے کہ عموم کا کون قائل ہے، رب المال ہے یا مضارب؟ جو بندہ عموم کا قائل ہے، اس کی بات مانی جائے گی، کیونکہ یہ مقتضائے عقد کے مطابق ہے۔ عقدِ مضاربہ کا تقاضا عموم کا ہوتا ہے، اِلا یہ کہ اس کو آپ خصوصاً specify کر کے محدود کر دیں۔
تو اس سے کیا معلوم ہوا؟ امام محمدؒ کے جزئیے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ عام اور خاص برابر ہیں۔ کیونکہ اگر وہ برابر نہ ہوتے اور خاص کو عام پر ترجیح ہوتی، تو پھر مقتضائے عقد کی طرف جانے کی ضرورت نہ ہوتی، پھر وہ یہ بتاتے کہ جو خصوص کا قائل ہے اس کی بات مانی جائے گی، چاہے وہ مضارب ہو چاہے رب المال ہو، کیونکہ خاص قطعی ہے اور عام ظنی ہے۔ لیکن اس کے برعکس وہ کہتے ہیں: نہیں، یہ دونوں برابر ہیں، اس لیے ہم ان دونوں کو چھوڑ کر مقتضائے عقد کو دیکھیں گے۔ مقتضائے عقد عموم کے حق میں ہے، تو اس لیے ہم عموم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تو گویا ان کے نزدیک عام اور خاص برابر ہیں، اور خاص چونکہ قطعی ہے، تو معلوم یہ ہوا کہ عام بھی قطعی ہے۔ یوں ہم فرع سے اصل کی طرف چلے گئے، ہم نے اس فرع سے اصل مستخرج کر لیا۔
لیکن اب اس پر میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ فرع ہو یا وہ فرع ہو، جتنی بھی فروع ہیں وہ اصلاً تو کسی اصول پر ہی مبنی تھیں۔ یہ ایسا نہیں کہ الل ٹپ انہوں نے پہلے اصولوں کو جانے بغیر بس اِس معاملے میں یوں فیصلہ دیا، اُس معاملے میں یوں فیصلہ دیا، اِس میں یوں دیا، اور اب ہم اس سے اصول مستخرج کریں گے۔ ایسا ہوتا تو پھر یہ اتنا مستحکم فقہی نظام کھڑا کیسے ہوتا؟ کہ وہ اصول جو یہاں اِس مسئلے میں مضاربہ میں نظر آتا ہے، وہ اُس مسئلے میں وصیت میں بھی نظر آیا — ایک مثال ہم نے وصیت کی ڈسکس کی تھی — اسی طرح وہ مثال ہمیں ایک اور جگہ بھی نظر آتی ہے جہاں ’’عرنیین‘‘ کی مثال ہم نے ذکر کی اور ’’استنزہوا‘‘ کی حدیث آئی۔ اس طرح اور بھی مثالیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ہی اصول ہے جس سے یہاں ’’کتاب المضاربہ‘‘ سے، وہاں ’’کتاب العین والدین‘‘ سے، اور کسی اور کتاب سے مختلف فروع نکالی گئی ہیں۔ الفاظ میں بتائے بغیر، قولاً اس اصل کو آپ کے سامنے رکھے بغیر، کیس کے ذریعے بتا دیا، جزئیے کے ذریعے بتا دیا۔ یہ جزئیہ اِس باب سے، یہ جزئیہ اُس باب سے، وہ جزئیہ اِس باب سے — ان سب کے پیچھے ایک ہی اصول کارفرما ہے۔
تو اس لیے جو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں، وہ غلط فہمی پر مبنی اعتراض ہے۔ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ پہلے تو کوئی اصول تھے ہی نہیں، یہ تو بعد میں — جیسے کل میں نے ذکر کیا — بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کچھ عیسیٰ ابن ابانؒ نے لکھے ہیں جو امام محمدؒ کے شاگرد تھے، کچھ بعد میں امام کرخیؒ نے کیے، پھر کچھ امام جصاصؒ نے کیے، پھر کچھ امام دبوسیؒ نے کیے، پھر کچھ امام سرخسیؒ اور بزدویؒ نے کیے، یہاں آ کر بات پوری ہو گئی۔ نہیں! اصول تو ان فروع میں پہلے ہی سے موجود تھے، تبھی تو یہ اتنا بڑا ذخیرہ وجود میں آیا جو آپس میں ہم آہنگ ہے اور ایک مستحکم نظام ہے۔ لیکن وہ اصول انہوں نے الفاظ میں نہیں بتائے، مجرد اصول کے طور پر نہیں بتائے، بلکہ اس فقہی جزئیے کے روپ میں وہ اصول آپ کے سامنے انہوں نے رکھ دیے۔ تو فروع سے ہم اصول کی طرف گئے، لیکن وہ اصول ان فروع میں پہلے سے موجود تھے۔
دوسری اہم بات یہ ہے — کل کی گفتگو سے بھی معلوم ہوا ہے، اسی کو آگے بڑھاتے ہیں — کہ جو حنفی منہج ہے اصول کا، اس میں یہ جو اصول ہے، یہ محض ذہنی مشق نہیں ہے کہ آپ مجرد حقائق سے ماورا، کسی مخصوص کیس کو ڈسکس کیے بغیر صرف اصول پر بات کریں کہ عام قطعی ہوتا ہے یا ظنی ہوتا ہے؟ صرف تخیل میں اور صرف مجرد حالت میں اس کو حقائق سے الگ کر کے صرف بطور اصول اس پر بات کریں۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے جو متکلمین کا منہج کہلاتا ہے، اس کے اپنے فوائد بھی ہیں؛ لیکن جو حنفی طریقہ ہے، جو فقہاء کا طریقہ ہے، جیسے میں نے بار بار ذکر کیا، وہ یہ ہے کہ فروع سے ہم اصول نکالتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فروع اور اصول آپس میں جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اور اس تک پہنچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اصول سرخسی پڑھیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ مبسوط پڑھیں۔ کیونکہ مبسوط میں وہ جزئیہ بیان کرتے ہوئے، اس کی تحلیل کر کے، اس کا تجزیہ کر کے، وہ آپ کو اصول مستخرج کر کے بتا دیں گے کہ اصل یہ ہے۔ پھر اگلا جزئیہ اسی سے متعلق ہوگا، تھوڑا مختلف ہوگا، وہاں یہ بتائیں گے تھوڑا مختلف کیوں ہے۔ پھر ’’کتاب السیر‘‘ میں مثال کے طور پر وہ مالِ غنیمت کا مسئلہ ڈسکس کرتے ہوئے حقِ شفعہ کی نظیر آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔ اور آخر میں یہ مثال ہم ڈسکس بھی کریں گے، لیکن میں نے صرف نمونے کے طور پر آپ کے سامنے رکھی ہے۔
مبسوط میں وہ مسئلہ یہ ڈسکس کر رہے ہیں، کتاب السیر میں، کہ مجاہدین نے جہاد میں بہت سارا مالِ غنیمت حاصل کیا۔ تو اب اس کی تقسیم وہیں دارالحرب میں دشمن کے علاقے میں ہی کرنی ہے؟ یا اس کو دارالاسلام میں لانا ضروری ہے؟ اور پھر یہ کہ اگر مالِ غنیمت حاصل کر چکنے کے بعد لیکن دارالاسلام میں لانے سے پہلے مجاہد کا انتقال ہو گیا یا وہ شہید ہو گئے، تو اب اس کے جو ورثاء ہیں، ان کو یہ ملے گا کہ نہیں ملے گا؟ مالِ غنیمت حاصل کر چکنے کے بعد لیکن دار الاسلام میں اس کا احراز کرنے سے پہلے، یا احراز کر چکنے کے بعد لیکن مجاہدین میں امیر کی جانب سے وہ مال تقسیم کرنے سے پہلے۔ تو تین مرحلے ہوئے:
- مال حاصل کیا،
- پھر اس کا احراز کیا، دارالاسلام میں محفوظ ہو گیا،
- پھر امام نے اس کو تقسیم کر دیا: یہ آپ کا، یہ آپ کا، یہ آپ کا۔
تو پہلے مرحلے میں وہ کہتے ہیں یہ حقِ ضعیف ہے؛ جیسے ہی مالِ غنیمت حاصل ہو گیا، مجاہدین کا حق تو پیدا ہو گیا ہے، لیکن یہ حقِ ضعیف ہے۔ جب اس کا احراز کیا گیا تو یہ حق اب متعقد ہو گیا ہے، اب یہ مضبوط ہو گیا ہے، قوی ہو گیا ہے۔ تو حقِ ضعیف کی وراثت نہیں ہوتی، حقِ متعقد کی ہوتی ہے۔ لیکن اس مرحلے پر بھی جو مجاہد اور غازی کا حق ہے، وہ مالیت کا ہے، عین اس کا حق نہیں ہے۔ اتنا مال جمع ہوا ہے اور اتنے مجاہدین ہیں، ان کا جتنا حصہ بنتا ہے اس کے مطابق اس مال میں ان کا حصہ ہے؛ لیکن جب امام نے ان حصص کے مطابق وہ مال تقسیم کر دیا کہ یہ آپ کا، یہ آپ کا، تو اب ہر بندے کا حق اس عین کے ساتھ منسلک ہو گیا، حق پورا ہو گیا۔
تو یہاں ’’کتاب السیر‘‘ میں وہ یہ بات کر رہے ہیں۔ اور پھر کہیں گے، جیسے شفعہ کے معاملے میں ہوتا ہے کہ شفیع کا حق ہوتا ہے، مثال کے طور پر آپ کو بتائے بغیر اور آپ سے پوچھے بغیر آپ کے پڑوس میں زمین فروخت ہو گئی، آپ کا حق تو پیدا ہو گیا ہے شفعہ کا، لیکن یہ حقِ ضعیف ہے۔ جب آپ نے مطالبہ کر لیا — طلبِ مواثبت ہے، پھر طلبِ اشہاد ہے، پھر طلبِ خصومت ہے — تو اب آپ کا حق قوی ہو گیا ہے۔ تو اگر پڑوس میں زمین فروخت ہوئی، اپنے حق کا دعویٰ کرنے سے پہلے بندے کا انتقال ہو گیا، تو اس کے ورثاء کے پاس یہ حقِ شفعہ نہیں جاتا؛ لیکن جب طلب کے بعد حق متعقد ہوا تو اس کے بعد اس کا انتقال ہوا، تو اب اس کے ورثاء اس کو جاری کر سکتے ہیں؛ اور پھر جب بیع ہو جاتی ہے تو اس کو قبضہ دے دیا جاتا ہے اور اس کا حق پورا ہو جاتا ہے۔ تو یہاں وہ سیر کا مسئلہ ڈسکس کرتے ہوئے اور اصول واضح کرتے ہوئے بتائیں گے کہ شفعہ کے باب میں بھی یہ اصول کیسے کارفرما ہے۔ بعض اوقات ایک ہی باب کے اندر آگے پیچھے دو مسائل ہوں گے، اور بظاہر وہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی نظر آئیں گے، لیکن اِس میں یہ حکم ہوگا اور اُس میں وہ حکم ہوگا۔ تو وہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہے، وہ حکم یہاں کیوں نہیں ہے؟ اور کبھی بتائیں گے کہ آگے پیچھے دو مسائل ہیں، کیوں دونوں کا حکم ایک ہے؟ حالانکہ یہاں ہمیں بظاہر تو فرق بھی نظر آ رہا ہے، وہ فرق مؤثر کیوں نہیں ہے؟
ہمارے استاد محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کی جو بہت ہی اعلیٰ معیار کی کتاب ہے، جس نے یوں کہیں کہ ہماری زندگی تبدیل کر دی، فقہ اور اصول کا گرویدہ کر دیا، Theories of Islamic Law اس کا نام ہے، ۱۹۹۴ء میں پہلی دفعہ شائع ہوئی تھی، اس میں بار بار وہ امام سرخسیؒ کا ذکر کرتے تھے۔ اس میں کئی جگہ اس طرح کی عبارت بھی آپ کو ملے گی کہ Imam Sarakhsi had a great legal mind ان کا بڑا عظیم قانونی ذہن تھا۔ تو ایک دن وہ کلاس سے نکلے، کسی اور کلاس کو پڑھا رہے تھے، میں ان کے انتظار میں تھا، باہر نکلے تو جاتے ہوئے میں نے راستے میں ان سے پوچھا کہ سر! یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ امام سرخسیؒ کا بڑا عظیم قانونی ذہن تھا، تو یہ قانونی ذہن کیا ہوتا ہے، آپ کی مراد کیا ہے؟ ابھی ہم ایل ایل بی کے تیسرے سال میں تھے، دو ڈھائی سال ابھی رہتے تھے، تو ظاہر ہے ابتدائی دور تھا اور معلوم بھی نہیں تھا کہ قانونی ذہن ہوتا کیا ہے، کام کیسے کرتا ہے۔ تو انہوں نے بہت ساری باتیں کیں، ایک بات اس میں یہ تھی، جو یہاں اس بحث سے متعلق ہے، کہ امام سرخسیؒ کو پڑھتے ہوئے آپ کو معلوم ہوگا کہ
- بظاہر یکساں نظر آنے والے دو کیسز مختلف کیوں ہیں، فروق ان میں کیا ہیں، وہ فرق مؤثر کیوں ہے؟
- صرف یہ نہیں، بلکہ بظاہر دو الگ ابواب کے کیسز ایک ہی اصول کے تحت کیسے کام کرتے ہیں، ایک ہی اصول یہاں بھی اور وہاں بھی کیسے کارفرما ہے؟
- صرف یہی نہیں، بلکہ اِس اصول کا اُس اصول کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ امام سرخسیؒ آپ کو یہ بتاتے ہیں، قانونی ذہن یہ ہوتا ہے، فقہ صرف جزئیات کا علم نہیں۔ اور آپ ’’اصول السرخسی‘‘ میں ہی ابتدا میں دیکھ لیں کہ امام سرخسیؒ نے واضح کیا ہے کہ فقیہ کون ہوتا ہے؟ صرف جزئیات کا علم رکھنا کافی نہیں ہے، وہ تو معلومات ہو گئیں، جو تفقہ نہیں ہے۔ ان جزئیات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ان کے پیچھے اصول کیا کارفرما ہیں؟ اور وہ اصول آپس میں کیسے انٹریکٹ کرتے ہیں؟ تفقہ تو اس کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی کافی نہیں ہے۔ جزئیات کا بھی علم ہو؛ ان کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں، یہ بھی معلوم ہو؛ اور پھر اس پر عمل بھی ہو۔ تو کہتے ہیں یہ وہ فقیہ ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ شیطان کے لیے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے، مشکل ہوتا ہے۔
آج ہمارے سامنے پیشِ نظر جو مسئلہ ہے، جس میں ہم ’’اصول السرخسی‘‘ سے کچھ عبارت پڑھیں گے، کچھ ’’التحریر‘‘ سے پڑھیں گے، کچھ ’’مسلم الثبوت‘‘ سے، تو وہ ہے نصوص کے درمیان تعارض کا مسئلہ۔ آج سے کوئی پندرہ سال پہلے ۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۰ء کے درمیان اس مسئلے پر نیازی صاحب کے ساتھ ہماری بہت طویل بحثیں ہوئیں۔ اُن دنوں جب وہ یونیورسٹی آتے تھے، یا ہم ان کے پاس جاتے تھے، ہماری وہ ڈسکشن جاری رہتی تھی۔ لیکن زیادہ تر بحث ہوئی ہے ای میلز کے ذریعے، میں اور ہمارے چار پانچ اور دوست تھے، ہم نیازی صاحب کے ساتھ اکٹھے چیزیں ڈسکس کرتے تھے۔ تو یوں کہیں کہ ڈھائی تین سو ای میلز پر مختلف چیزوں کا وہ تبادلہ ہوا، آرگومنٹس اور پھر کاؤنٹر آرگومنٹس، سوال در سوال۔ ای میلز پر وہ سارا کچھ ظاہر ہے انگریزی میں تھا، اُن دنوں تو ہم اردو لکھتے بھی نہیں تھے۔ پھر میں نے اس کو ایک تحریر کی صورت دی کہ ان سوالات سے بالآخر ہم کس نتیجے تک پہنچے۔ پھر اس پر کافی بھی ڈسکشن ہوئی۔ نیازی صاحب نے مجھے کہا کہ اب اس کو اردو میں آنا چاہیے۔ پھر میں نے اس کو اردو میں مقالے کی صورت دی جو ’’فکر و نظر‘‘ جنوری-مارچ ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ سافٹ میں بھی دستیاب ہے، لیکن یہ ہارڈ میں بھی میں آپ کو دے دوں گا۔
اس مسئلے کو چننے کی بھی کئی وجوہات تھیں:
- ایک بڑی وجہ جو میرے لیے تھی، جہاں سے وہ ساری ڈسکشن ہماری شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ جو اصولِ فقہ کی نصابی کتب میں ہمیں پڑھایا گیا، وہ یہ پڑھایا گیا کہ جب دو نصوص میں تعارض نظر آتا ہے تو حنفی فقہاء پہلے نسخ کی بات کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ترجیح کی بات کرتے ہیں، پھر جمع کی بات کرتے ہیں؛ یعنی abrogation (نسخ)، پھر preference (ترجیح)، پھر reconciliation (تطبیق/جمع)۔ تو ایک یہ بات بہت انوکھی سی لگتی ہے کہ جب دو نصوص کے درمیان تعارض آپ کو نظر آئے اور آپ فورًا ہی نسخ کی طرف لپکیں! پھر اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ نظر آتی ہے کہ اگر نسخ ثابت نہ ہو تو پھر آپ ترجیح کی طرف جائیں۔ بظاہر تو دونوں پر عمل ہونا چاہیے؛ پہلے بھی آپ نے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کی راہ اختیار کی — ناسخ اور منسوخ میں سے ظاہر ہے ناسخ پر عمل ہوتا ہے — پھر آپ نے ترجیح کی بات کی تو یہاں بھی آپ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو لے رہے ہیں۔ پھر آپ جمع کی طرف جاتے ہیں، یوں کہیں کہ لاچار ہو کر اور مجبور ہو کر کہ اب دونوں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ تفصیلات میں جائے بغیر، مثالیں ڈسکس کیے بغیر، صرف مجرد اصول کی سطح پر بھی یہ اصول عجیب نظر آتا ہے۔
- دوسری میری الجھن یہ تھی کہ جب امام سرخسیؒ کو ہم پڑھتے ہیں مبسوط میں، سیر کبیر میں، کیونکہ یہ دونوں خصوصاً ہم پڑھتے رہتے تھے اور ڈسکس کرتے رہتے تھے، تو وہاں ہمیں یہ طریقہ تو نظر نہیں آتا جو یہاں بتایا جا رہا ہے! امام سرخسیؒ تو ایسے نہیں کرتے، تو یہ اصول کہاں سے آیا ہے؟
یہاں سے بات شروع ہوئی۔ تو ظاہر ہے پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ کیا نصوص کے درمیان تعارض ممکن بھی ہے؟ ظاہر ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شریعت ہمیں دی گئی ہے، تو قرآن و سنت کی نصوص میں تعارض تو پھر ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن جہاں نظر آتا ہے، تو گویا وہ ہماری نظر کا مسئلہ ہے، وہ ہمارا قصورِ فہم ہے، ظاہری تعارض ہے، حقیقتاً تعارض نہیں پایا جاتا۔ وہ تعارض ہمیں نظر آتا ہے لیکن فی نفس الامر وہ تعارض نہیں ہے، ہمیں اس وجہ سے نظر آتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ یہ کیوں ہے اور وہ کیوں ہے؟ وہ سمجھ میں آ جائے تو پھر تعارض نہیں ہوگا۔ یعنی ’’کھاؤ‘‘ اور ’’نہ کھاؤ‘‘ یہ دونوں حکم بیک وقت تو نہیں دیے جا سکتے؛ یا اگر بیک وقت دیے گئے ہیں تو ایک ہی شخص کو نہیں دیے جا سکتے، تو کچھ تو ہو گا اس کے پیچھے۔ تو اس تعارض کو کیسے دور کیا جائے؟
رچرڈ پوزنر (Richard Posner) کو — دیکھیں، پھر اصولِ فقہ میں ہم غیر مسلموں کو اور ان کے قانون دانوں کو بیچ میں لا رہے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے ان سے اصولِ فقہ سیکھنی ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ اسی طرح کے مسائل دیگر نظام ہائے قوانین میں بھی موجود ہیں، اور ان پر غور و فکر کر کے وہ بھی کسی نتیجے تک پہنچے ہوئے ہیں — دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں؟
(جاری)
https://youtu.be/WQOjWH-wy2c
https://youtu.be/DKwbdEHIIcs
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
الحاد کی اقسام : فکری و عملی، نفسیاتی اور معاشرتی تناظر میں
موجودہ دور میں الحاد محض خدا کے وجود کا انکار نہیں رہا، بلکہ ایک منظم فکری و ثقافتی رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے جو انسانی فکر، نفسیات اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔ الحاد کی یہ تحریک مختلف اشکال اور درجات میں ظاہر ہوتی ہے جن کا علمی و حکیمانہ ادراک اور تفریق ضروری ہے تاکہ ہر قسم کا مدلل جواب فراہم کیا جا سکے۔ یہ تحقیقی مقالہ الحاد کی اہم اقسام کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے، جس میں ہر قسم کے اسباب، فکری محرکات اور اسلامی و فلسفیانہ تناظر میں ان کا مدلل جواب شامل ہے۔
الحاد کی قسمیں اور شکلیں
الحاد کو اس کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ہر ایک کے اپنے مخصوص محرکات اور دلائل ہیں۔ الحاد کی مختلف اقسام کا تقابلی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک سادہ فکری مظہر نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے گہرے فکری، نفسیاتی اور معاشرتی عوامل کارفرما ہیں۔ اس کا علاج صرف علمی دلائل سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس میں نفسیاتی ہمدردی، حکیمانہ خطاب، اور مذہب کی حقیقی تعلیمات کو اس کے بدعنوان نمائندوں سے الگ کر کے پیش کرنا بھی شامل ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر قسم کے الحادی اعتراضات کا جامع اور مدلل جواب موجود ہے، جو دلائل کے ساتھ ساتھ دل کے سکون کی بھی راہ دکھاتا ہے.
1- نظریاتی الحاد (Theoretical Atheism)
یہ وہ قسم ہے جو خدا کے وجود کو فلسفیانہ و سائنسی دلائل کی روشنی میں مسترد کرتی ہے۔ اس کے دو سب سے اہم اعتراضات ہیں ایک "شر کا مسئلہ" اور دوسرا "شواہد کی عدم موجودگی" دونوں کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔
(1) شر کا مسئلہ: Problem of Evil
یہ اعتراض قدیم فلسفی ایپی کیورُس سے لے کر جدید ملحدین جیسے جے۔ایل۔ میکن، ولیم رو اور ریچرڈ ڈاکنز کے ہاں پایا جاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اگر خدا عالمِ مطلق، قادرِ مطلق، اور رحیم و مہربان ہے تو دنیا میں شر اور تکلیف کیوں موجود ہے؟ یہ اعتراض خدا کی ان تین صفات کے ساتھ شر کے وجود کو منطقی طور پر ناممکن قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ ایک بہت سطحی اور حقیقت سے کوسوں دور اپروچ ہے۔ کیونکہ دنیا کا نظام ابتلاء و امتحان کے قانون کے تابع ہے جو اختیار و ارادہ کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں تھا، اگرچہ دوسری طرف اختیار و ارادہ کی اس آزادی نے ظلم و عدوان اور شر کی آگ بھڑکائی ہے جو ایک کڑے امتحان کی خوبی شمار ہوتی ہے۔ خالص خیر و منفعت اور عدل و انصاف کے لیے لازمی تھا کہ ارادہ و اختیار کی آزادی حضرتِ انسان سے چھین لی جائے۔ مشہور فلسفی آلوِن پلینٹنگا اس اعتراض کا عقلی دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر خدا نے انسان کو آزاد ارادہ دیا ہے تو اس کے ساتھ شر کا امکان بھی لازمی ہے۔ جبر کے ساتھ انسان روبوٹ ہوگا، نہ کہ اخلاقی ذمہ دار ہستی۔ لہٰذا، خدا اور شر کا وجود منطقی طور پر ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔
- آزمائش کا فلسفہ: قرآن مجید میں واضح ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے: (الملک: 2)۔ شر میں خیر کی ایک پہلو یہ ہے کہ انسان کے روحانی و اخلاقی ارتقاء کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نہ کوئی چیز خالص شر ہے اور نہ کوئی چیز خالص خیر، البتہ آخرت کی چیزیں یا خالص شر ہیں مثلاً جہنم یا خالص خیر ہیں مثلاً جنت۔
- آخرت کا تصور: اسلامی نقطہ نظر میں دنیا عارضی ہے اور مکمل انصاف قیامت میں ہوگا۔ جو ظلم و تکلیف دنیا میں بے جواب نظر آتے ہیں، ان کا مکمل حساب آخرت میں ہوگا۔
(2) خدا کے وجود کے شواہد کی عدم موجودگی
یہ اعتراض سائنس پرست ذہن رکھنے والے ملحدین جیسے رچرڈ ڈاکنز، برٹرینڈ رسل اور سم ہیرس کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا کے وجود کا کوئی مشاہداتی یا تجرباتی ثبوت موجود نہیں۔
اسلامی و فلسفیانہ جواب
سائنس کے دائرہ کار کی حدود
سائنس صرف مادی، قابلِ پیمائش اور مشاہدہ شدہ اشیاء کا مطالعہ کرتی ہے۔ چونکہ خدا غیر مادی اور مکانی و زمانی حدود سے ماورا ہے، اس لیے سائنس کا آلہ اسے جانچنے کے لیے ناکافی ہے۔
کونیاتی دلیل (Cosmological Argument)
ہر موجود شے کا کوئی سبب ہوتا ہے، اس لیے کائنات کا بھی کوئی اول سبب (First Cause) ہونا لازم ہے۔ وہ "بے سبب سبب" ہی خدا ہے۔ اس دلیل کو امام فخر الدین رازی، ابن سینا اور غزالی نے بھی مدلل کیا۔
غایت کی دلیل (Teleological Argument / Fine-Tuning Argument)
کائنات کا نظم و ضبط، فطرت کے قوانین اور زندگی کے لیے موزونیت محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ یہ سب کسی اعلیٰ خالق کی حکمت کی دلیل ہیں۔
2- اگناسٹیسزم (Agnosticism) یا لاادریت
یہ نظریہ دراصل علم کی حد بندی پر مبنی ہے۔ اس کے پیروکار نہ خدا کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی انکار۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانی عقل خدا کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کر سکتی۔ ٹامس ہنری ہکسلے نے 19 ویں صدی میں یہ اصطلاح متعارف کروائی۔ برٹرینڈ رسل کا "Russell's Teapot" کا تصور اسی نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔
اسلامی رد
فطرت کا استدلال
قرآن کے مطابق "فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا" (سورۃ الروم: 30)، یعنی خدا کی معرفت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
عقلی اور نقلی دلائل
اسلامی فلسفہ اور علم الکلام، خدا کے وجود پر قوی عقلی اور منطقی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ امام غزالی نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں شک پر مبنی فلسفے کا مقابلہ وجدان اور تجربے کے ذریعے کیا۔
وحی کی روشنی
قرآن خود کو عقل کے مطابق پیش کرتا ہے، اور دلیل، مثال، مشاہدہ، اور فطرت پر زور دیتا ہے۔
3- ناراض الحاد (Emotional / Reactive Atheism)
ناراض الحاد ایک نفسیاتی ردعمل ہے جو ذاتی صدموں، مذہبی منافقت یا ظلم و ستم کے خلاف پیدا ہوتا ہے۔ یہ علمی دلائل پر نہیں بلکہ جذباتی اضطراب، رنجش یا مایوسی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے اسباب میں مذہبی شخصیات کی بدکرداری، ذاتی المیے، دعا کے "رد ہونے" کا تجربہ، اور مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی شامل ہیں۔ یہ قسم قدیم علم کلام کے عنادیہ گروہ سے مشابہت رکھتی ہے جو ضد کی بنا پر انکار کرتے تھے۔
4- عملی الحاد (Practical Atheism)
یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی میں خدا کے وجود کا رسمی انکار تو نہیں کرتے مگر عملی طور پر اس کی ہدایت کو غیر متعلق سمجھتے ہوئے دنیا پرستی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ نظریہ مغربی معاشروں میں عام ہے جہاں لوگ مذہب کو ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں اور اس کے احکامات کو اپنی روزمرہ کی زندگی سے الگ کر دیتے ہیں۔
5- ثقافتی الحاد (Cultural Atheism)
یہ وہ رویہ ہے جہاں مذہب کو صرف ایک ثقافتی روایت، رسم و رواج، یا خاندانی ورثہ سمجھا جاتا ہے، اس کی حقیقت پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ ان معاشروں میں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب صدیوں سے ایک ثقافتی شناخت کا حصہ رہا ہے، لیکن اس کی روحانی اور فکری بنیادیں ختم ہو چکی ہیں۔
6- منہاجی الحاد (Methodological Atheism)
یہ ایک سائنسی اصول ہے جس میں سائنس دان تحقیق کرتے وقت خدا کو بطور ایک عامل خارج کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل ایک فلسفیانہ مفروضہ ہے نہ کہ سائنسی ثبوت۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس دان ذاتی طور پر ملحد ہیں، بلکہ وہ تحقیق کے دائرہ کار کو صرف مادی اور قابلِ پیمائش مظاہر تک محدود رکھتے ہیں۔ اس کا اسلامی رد یہ ہے کہ علم کا منہج عقل اور وحی دونوں پر مشتمل ہے۔
7- سوشیولوجیکل الحاد (Sociological Atheism)
یہ ان افراد میں پایا جاتا ہے جو ایسے ماحول میں پلے بڑھے جہاں مذہب کا تصور ہی موجود نہیں تھا یا اس کا ذکر شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ ایسے افراد کے لیے خدا کا وجود ایک نیا یا غیر متعلق تصور ہوتا ہے کیونکہ ان کی پرورش بغیر کسی مذہبی بنیاد کے ہوئی ہے۔ قرآنی بنیاد کے طور پر آیت "فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا" (الروم: 30) ان کے اس غیر فطری رویے کی وضاحت کرتی ہے۔
8- مفاداتی الحاد (Opportunistic Atheism)
یہ وہ لوگ ہیں جو سیاسی، سماجی یا شہرت کی خاطر الحاد اختیار کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک منافقانہ رویہ ہے جہاں ایمان کا معیار باطنی یقین کی بجائے دنیاوی مفادات ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کا انکار ایک فائدہ مند قدم ہوتا ہے۔
9- سائنسی الحاد (Scientific Atheism)
یہ نظریہ کہ سائنس اور مشاہدہ ہی علم کا واحد ذریعہ ہیں، اور چونکہ خدا کا وجود سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوتا، لہٰذا وہ موجود نہیں۔
سائنس نے مادہ، کائنات اور مظاہرِ قدرت کے بارے میں حیران کن معلومات فراہم کی ہیں، اور اس میدان میں اس کی خدمات ناقابلِ تردید ہیں۔ لیکن سائنسی الحاد کا سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ وہ ان مشاہدات کی روشنی میں ماورائے فطرت وجود کا انکار کرتا ہے۔ یہ استدلال کہ "چونکہ ہم نے خدا کو دوربین سے نہیں دیکھا، لہٰذا وہ موجود نہیں"، ایک فکری خطا ہے۔
خود سائنس علت و معلول (Cause and Affect) کے قوانین کی محتاج ہے، اور ان قوانین کی موجودگی خود ایک "اولین علت" (First Cause) کے وجود کی دلیل بنتی ہے۔ سائنس کا کام "کیسے" (How) کا جواب دینا ہے، نہ کہ "کیوں" (Why) کا۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں سائنسی الحاد فکری طور پر گمراہ ہو جاتا ہے۔ ایک سائنسدان یہ بتا سکتا ہے کہ بگ بینگ کیسے ہوا، لیکن یہ سوال کہ "اس کے پیچھے کیا تھا؟" اور "اس کا مقصد کیا تھا؟" سائنس کی دسترس سے باہر ہے۔
10- وجودی الحاد (Existential Atheism)
یہ نظریہ کہ انسان اپنی زندگی کا مقصد خود تخلیق کرتا ہے، کیونکہ کسی مافوق الفطرت ہستی نے اسے کوئی مقصد نہیں دیا۔
11- مارکسی الحاد (Marxist Atheism)
یہ نظریہ کہ مذہب عوام کے لیے ایک افیون ہے، اور معاشی طبقاتی کشمکش ہی انسانی تاریخ کی اصل بنیاد ہے۔
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
غزالی کے اصولِ تعبیر
مجازی تعبیر کے لیے غزالی کا منہج
اس مقام پر غزالی کے تفصیلی اصولِ تعبیر کا تعارف مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، ان کا منہجِ تعبیر پانچ درجات پر مشتمل ہے، اور بظاہر وہ وجود کو بھی پانچ مراتب میں تقسیم کرتے ہیں۔ تعبیر کا آغاز پہلے درجے، یعنی سب سے ظاہر معنی سے کیا جانا چاہیے، اور اس سے نچلے درجات کی طرف صرف اسی وقت منتقل ہونا چاہیے جب اس کے لیے قوی اور اطمینان بخش وجوہ موجود ہوں۔ ان پانچ درجات میں درج ذیل شامل ہیں (Bello 1989, 53–57; Al-Ghazālī 2002, 94–100; Griffel 2004; Sands 2006, 56–57; Whittingham 2007, 16–20):
1. وجودِ ذاتی
اس درجے میں اسلامی نصوص کو الفاظ کے ظاہری معنی کے مطابق سمجھا جاتا ہے اور کسی مجازی تعبیر کی طرف نہیں جایا جاتا، کیونکہ جن اشیا کا ذکر ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں موجود ہوتی ہیں، خواہ حواس یا تخیل ان کا ادراک کریں یا نہ کریں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں فی نفسہٖ موجود حقائق کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ غزالی اس کی مثال قرآن میں مذکور سات آسمانوں سے دیتے ہیں (القرآن 20: 25)۔ یہ واضح نہ بھی ہو کہ ان سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے، تب بھی انہیں ان کے ظاہری مفہوم پر قبول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے وجود میں فی نفسہٖ کوئی منطقی تناقض نہیں۔
2. وجودِ حسی
اس درجے میں اشیا کو حسی اور تجربی ادراک کی صورت میں سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے سامنے ایک شخص موجود ہو اور اسے دیکھنے سے ہمارے ذہن میں اس کی ایک تصویر قائم ہو جائے۔ پہلے درجے، یعنی وجودِ ذاتی، کے برخلاف اس دوسرے درجے میں نصوص کے بیانات کو خارجی حقیقت کے بجائے حسی مظہر کے طور پر لیا جاتا ہے۔ غزالی اس کی مثال ایک حدیث سے دیتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت آپ کے سامنے ایک دیوار میں پیش کی گئی جس کی طرف آپ دیکھ رہے تھے (البخاری 6468)۔ غزالی کے مطابق اس بیان کو پہلے درجے کے مطابق، یعنی بالکل ظاہری معنی میں، نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ جنت جیسی عظیم حقیقت ایک محدود دیوار میں سما نہیں سکتی۔ لہٰذا ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیوار میں جنت کی ایک حسی صورت یا تصویر دیکھی ہو۔
3. وجودِ خیالی
اس درجے سے مراد ان اشیا کی ذہنی صورتیں ہیں جنہیں عام حالات میں حواس کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت ان کا کوئی براہِ راست خارجی وجود ہمارے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ اپنے ذہن میں ایک ہاتھی کا تصور کر سکتے ہیں، حالاں کہ حقیقت میں وہ آپ کے سامنے موجود نہ ہو۔ غزالی اس کی مثال ایک حدیث سے دیتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ حضرت یونسؑ کو کسی عمل میں مصروف دیکھتے ہیں (المسلم 166)۔ چونکہ حدیث میں "گویا کہ..." کے الفاظ آئے ہیں، اس لیے غزالی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے حضرت یونسؑ کو حقیقتاً اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، بلکہ یہ منظر آپ کے ذہن یا تخیل میں پیش کیا گیا تھا۔ غزالی اس تعبیر کی معقولیت کے حق میں یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ حضرت یونسؑ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود نہیں تھے۔
4. وجودِ عقلی
اس درجے سے مراد کسی شے کی مادی صورت سے قطع نظر اس کی حقیقت یا معنی کا عقلی ادراک ہے۔ مثلاً قلم کی ایک مخصوص جسمانی شکل ہوتی ہے، لیکن اس کی اصل معنوی حیثیت یہ ہے کہ وہ علم کو ثبت یا محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی نصوصی مثال کے طور پر غزالی ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص جہنم سے نکلے گا، گناہوں کی سزا پا لینے اور پاک ہو جانے کے بعد، اسے جنت میں دنیا سے دس گنا بڑی جگہ عطا کی جائے گی (البخاری 806)۔ غزالی کے مطابق یہاں مراد طول، عرض اور حجم کے اعتبار سے دنیا سے دس گنا بڑی جگہ نہیں، بلکہ قدر و قیمت کا بیان ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے نزدیک جنت سب سے زیادہ مطلوب اور قیمتی چیز ہے، اس لیے اس کی قدر ہر دنیاوی چیز سے کہیں بڑھ کر ہے۔ چنانچہ دنیا سے دس گنا بڑی جنت کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں انسان کو جو کچھ بھی ملے گا، اس کی قدر و قیمت بے حد زیادہ ہوگی۔
5. وجودِ شبہی یا مجازی
یہ آخری درجہ ان صورتوں سے متعلق ہے جہاں کوئی شے نہ تو اپنی ذات میں اسی معنی کے ساتھ خارجی وجود رکھتی ہے اور نہ ہی محض کسی ذہنی یا حسی تصویر کی صورت میں۔ بلکہ یہاں دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی صفت یا خاصیت کی بنیاد پر مشابہت قائم کی جاتی ہے جسے ذہن دونوں میں مشترک طور پر سمجھ سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ تشبیہ چوتھے درجے کی طرح اشیا کی ماہیت یا جوہر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی عارضی صفات اور خواص کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کی مثال کسی بہادر شخص کو "شیر" کہنا ہے (Moosa 1995, 135)۔ بہادری نہ شیر کی لازمی ماہیت ہے اور نہ انسان کی، کیونکہ شیر اور انسان دونوں بزدل بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا بہادری ایک ایسی صفت ہے جو ان دونوں میں پائی جا سکتی ہے، لیکن اس کا پایا جانا ضروری نہیں۔ غزالی اسی نکتے کی وضاحت کے لیے خدا کے غضب کی مثال دیتے ہیں (القرآن 20:81)۔ غزالی کی تعریف کے مطابق انسانی غضب میں انتقام کی خواہش کے باعث خون کا جوش میں آ جانا شامل ہے۔ یہ معنی خدا کے لیے محال ہے، کیونکہ خدا انسان کی مانند نہیں اور اس پر انسانی جذبات و کیفیات کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا (Al-Ghazālī 2008; Al-Ghazālī 2013a; Al-Ghazālī 2015)۔ اسی لیے پہلے بیان کردہ درجات اس قسم کے اوصاف پر منطبق نہیں ہوتے۔ البتہ ہم خدا کے "غضب" کو اس کے نتیجے، مثلاً سزا دینے، کے معنی میں سمجھ سکتے ہیں۔ یوں انسانی زبان اور تصورات کے ذریعے خدا کے بارے میں ایک محدود درجے کی مماثلت قائم کی جاتی ہے، بغیر اس کے کہ خدا اور انسان کے درمیان مکمل مشابہت فرض کر لی جائے۔
غزالی نے یہ درجہ بندی اس لیے وضع کی کہ اصولِ تعبیر میں انتشار اور نسبیت پیدا نہ ہو، یعنی نصوص کی ایسی غلط یا من مانی تعبیر نہ ہونے لگے جس کے لیے کوئی ضابطہ موجود نہ ہو۔ ان کے نزدیک کسی آیت یا حدیث کو سب سے پہلے اس کے ظاہر اور متبادر معنی پر سمجھا جانا چاہیے، پھر اسے اس درجہ بندی کی روشنی میں پرکھا جائے۔
اس عمل کا آغاز سب سے بلند درجے، یعنی وجودِ ذاتی سے ہوتا ہے۔ اگر کسی نص کا ظاہری مفہوم اس درجے میں قابلِ قبول نہ ہو تو پھر دوسرے درجے، یعنی وجودِ حسی، کی طرف جایا جائے۔ مفسر یا شارح اسی طرح بتدریج نچلے درجات کی طرف بڑھتا رہے، یہاں تک کہ کوئی ایسی تعبیر مل جائے جو ان پانچ درجوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ غزالی کے نزدیک اگر کوئی شخص لفظی یا ظاہری معنی سے ہٹ کر مجازی تعبیر کی طرف جانا چاہے اور اس درجہ بندی میں اس کا مطلب وجودِ ذاتی سے نیچے اترتے ہوئے بالآخر وجودِ شبہی یا مجازی تک پہنچنا ہے، تو اس کے لیے اسے ایک قطعی عقلی دلیل یعنی برہان پیش کرنا ہوگا۔ صرف اسی وقت زیادہ مجازی تعبیر اختیار کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے جب ظاہری معنی کو ناممکن یا غیر مربوط سمجھنے کی مضبوط دلیل موجود ہو (Whittingham 2014, 25–27)۔
اگر کوئی شخص مناسب دلیل کے بغیر کسی نچلے درجے کی طرف منتقل ہو تو غزالی کے نزدیک یہ ایک غیر مجاز تعبیری اقدام، یعنی بدعت میں شمار ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص ان تمام ممکنہ درجات ہی کو رد کر دے تو معاملہ کفر تک پہنچ سکتا ہے (Bello 1989, 62)۔
یہاں ایک اور نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ غزالی متعدد تعبیرات کے امکان کا انکار نہیں کرتے۔ کسی نص کی جو تعبیر ان پانچ درجات میں سے جس بلند تر درجے پر قائم ہو جائے، اس سے نچلے درجات اسی نص کے مزید اضافی معانی فراہم کر سکتے ہیں:
غزالی کے نزدیک اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ وحی کے متن کے ایک سے زیادہ معانی ہو سکتے ہیں۔ "اصولِ تعبیر" متن کی سب سے زیادہ معتبر تعبیر متعین کرتا ہے، یعنی وہ تعبیر جو وجود کے ان پانچ درجات میں سے ممکنہ طور پر بلند ترین درجے سے متعلق ہو۔ یہی تعبیر یہ متعین کرتی ہے کہ متعلقہ نص کس نوعیت کی خبری یا توصیفی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ جب یہ بنیادی تعبیر متعین ہو جائے تو اس کے بعد اس سے نچلے تمام درجات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ نچلے درجات متن کے اضافی معانی فراہم کرتے ہیں (Griffel 2009, 113)۔
جب تک بلند ترین درجے پر قائم سب سے معتبر تعبیر مجروح نہ ہو، یہ اضافی تعبیرات ایسے مزید معانی فراہم کر سکتی ہیں جو نص کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰؑ کے اس واقعے کو دیکھیے جب خدا نے ان سے کلام کیا۔ قرآن کی ایک آیت (20:12) میں خدا انہیں حکم دیتا ہے کہ وہ اس وقت پہنے ہوئے اپنے جوتے اتار دیں۔ صوفیا اس آیت کی روحانی تعبیر بھی کر سکتے ہیں۔ مثلاً جوتوں کو دنیا اور آخرت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، اور حضرت موسیٰؑ کو یہ ہدایت دی گئی ہو کہ وہ دونوں سے دل ہٹا کر اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سپرد کر دیں (Griffel 2009, 113)۔
ظاہر ہے کہ ایسی تعبیرات ظنی اور تاویلی نوعیت کی ہیں، اور غزالی بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں (Al-Ghazālī 2002, 108)۔ تاہم چونکہ یہ تعبیر آیت کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی صوفیانہ تعبیرات کے معاملے میں نسبتاً وسعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان حدود کے اندر رہیں جن کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے:
اور شاید ایسی تعبیرات کے بارے میں ان کے حق میں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے جن کا تعلق عقیدے کے بنیادی اصولوں سے نہ ہو... انہیں نہ کافر قرار دیا جانا چاہیے اور نہ بدعتِ غیر مشروع کا مرتکب (Al-Ghazālī 2002, 109)۔
یہی، دراصل، غزالی کا اصولِ تاویل ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ اس طریقۂ تعبیر کو بغیر کسی قید و شرط کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے دو امور خاص طور پر ضروری ہیں: عربی زبان سے واقفیت اور سیاق و سباق کی درست تفہیم:
فہم کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مخاطب کو اس زبان کے عرف اور اسالیب کا پہلے سے علم ہو جس میں کلام کیا گیا ہے۔ پھر اگر کلام اپنے معنی میں قطعی اور واضح ہو تو اسے سمجھنے کے لیے زبان کا جاننا کافی ہے۔ لیکن اگر اس میں متعدد معانی کا احتمال ہو تو کلام کی مراد اس وقت تک صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کوئی قرینہ ساتھ موجود نہ ہو۔ یہ قرینہ کبھی کسی دوسری منقول نص کی صورت میں ہوتا ہے، جیسے خدا کا یہ ارشاد: "فصل کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو"، جہاں "حق" سے مراد پیداوار کا دسواں حصہ ہے۔ اور کبھی یہ عقلی قرینہ ہوتا ہے، جیسے خدا کا یہ ارشاد: "آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے"، یا رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان: "مومن کا دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہے"۔ اسی طرح کبھی قرائن حالات و واقعات سے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً اشاروں، حرکات، علامات، یا کلام سے پہلے اور بعد کے سیاق سے؛ اور اس نوع کے قرائن بے شمار ہیں (Al-Ghazālī 2000b, 185)۔
اس عبارت میں ہم دیکھتے ہیں کہ غزالی مختلف قسم کے قرائن کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ پہلی مثال، یعنی فصل کی کٹائی سے متعلق عبارت، قرآن کی ایک بڑی آیت کا حصہ ہے جس میں مختلف قسم کی زرعی پیداوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ "حق ادا کرنے" کی ہدایت سے مراد یہ ہے کہ خدا اس پیداوار کا ایک حصہ صدقے یا زکوٰۃ کے طور پر نکالنے کا حکم دے رہا ہے، اور غزالی اس مقدار کو دسواں حصہ قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک عقلی قرائن کا تعلق ہے، خدا کے "ہاتھ" اور "انگلیوں" سے متعلق تعبیروں کو ان کے لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ غزالی خدا کے لیے اس نوع کے جسمانی اعضا کے قائل نہیں ہیں؛ ایسی تعبیر انسان نما تصورِ خدا کو لازم کرتی ہے (Al-Ghazālī 2013a, 55–62)۔ اب مناسب ہوگا کہ زبان اور سیاق سے متعلق ان نکات اور باریکیوں کو کچھ مزید تفصیل سے سمجھا جائے۔
کلاسیکی عربی
سب سے اہم شرائط میں شاید کلاسیکی عربی زبان کی تفہیم ہے، یعنی وہ اصل زبان جس میں رسول اللہ ﷺ کے عہد کے عرب گفتگو کرتے تھے:
… یہ طے کرنا کہ کون سا لفظ یا عبارت مجازی تعبیر کی گنجائش رکھتی ہے اور کون سی نہیں، کوئی آسان کام نہیں۔ اس کا فیصلہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو عربی زبان میں مہارت رکھتے ہوں، اس کے بنیادی اسالیب اور ساخت سے اچھی طرح واقف ہوں، اور عربوں کے محاورات، مجازی تعبیرات، بلاغی اسالیب اور تشبیہات کے مختلف طریقوں کا گہرا علم رکھتے ہوں (Al-Ghazālī 2002, 116–117)۔
اس نکتے کی وضاحت کے لیے درج ذیل مثالوں پر غور کیجیے۔ قرآن میں متعدد ایسے قرائن موجود ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی نص کو مجازی یا تمثیلی معنی میں کیسے سمجھا جائے۔ ان میں ایک قسم وہ ہے جس میں تشبیہ کو واضح کرنے والے الفاظ، مثلاً کَ (جیسے) اور مِثْل (مانند) صراحت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں:
اللہ نے انسان کو ٹھیکری کی مانند کھنکھناتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا (القرآن 55:14)۔
جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیتے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جو اپنے لیے گھر بناتی ہے، حالاں کہ سب گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے، کاش وہ جانتے (القرآن 29: 41)۔
بعض دوسری آیات میں تشبیہ کے ایسے صریح الفاظ موجود نہیں ہوتے، لیکن موضوع، سیاق اور مضمون کی بنیاد پر انہیں غیر لفظی معنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ عرفی استعمال سے متعلق درج ذیل مثال پر غور کیجیے:
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو؛ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے (القرآن 40: 1)۔ بَيْنَ يَدَيْ کا لفظی ترجمہ "دو ہاتھوں کے درمیان" ہے، لیکن عربی محاورے میں اس سے مراد "سامنے" یا "آگے بڑھنا/پیش قدمی کرنا" ہوتی ہے (Shafi 2008, 114)۔
غالباً اس محاورے کی اصل تاجروں کے اس طرزِ عمل سے وابستہ ہے کہ لین دین کے وقت وہ اپنے ہاتھ آگے بڑھاتے تھے۔ یہی تصور یہاں اور کئی دوسری آیات میں بھی استعمال ہوا ہے، جہاں خدا انسانوں کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنی غیر اخلاقی خواہشات، مثلاً شہوت، کے تابع ہو کر غلط فیصلے یا نامناسب معاملات کریں؛ اس کے بجائے انہیں خدا کے قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اسی لیے خدا اور اس کے رسول کو معیار اور مرجع کے طور پر ذکر کیا گیا ہے (Mir 1989, 268)۔
ایک اور مثال، جو آگے باب 10 میں خاصی اہم ثابت ہوگی، عربی زبان میں مبالغے کے استعمال سے متعلق ہے۔ آج کی انگریزی / اردو میں ہم کسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے لیے سو، ہزار یا دس لاکھ جیسے اعداد استعمال کرتے ہیں، مثلاً: میں نے گاڑی کو جیسے دس لاکھ مرتبہ دھویا ہے۔ ظاہر ہے، ان اعداد سے ہماری مراد ان کی حقیقی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ ہم صرف بات میں مبالغہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
کلاسیکی عربی میں، اس کے برعکس، مبالغے کے لیے استعمال ہونے والے اعداد عموماً سات کے گرد گھومتے ہیں، مثلاً سات، ستر اور سات سو (Lane 2010, 1297–1298; Omar 2010, 245–246)۔ اس نکتے کو سامنے رکھا جائے تو درج ذیل آیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں.. .(القرآن 2:261)۔
درحقیقت اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا ایسا ہے جیسے اس کے بدلے سات سو گنا اجر حاصل ہو؛ یعنی یہاں زبان میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ زبان اور موضوع کے سیاق کے لحاظ سے ایسے قرائن موجود ہوتے ہیں جو یہ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کسی آیت، یا اس کے کسی حصے، کو لفظی معنی میں لیا جائے یا مجازی معنی میں۔
آخر میں یہ بات بھی مفید ہے کہ بعض اوقات الفاظ کی معنوی وسعت کسی ایک آیت کی متعدد تعبیرات کی گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیکھیے۔ قرآن کی ایک معروف آیت میں ایک ایسے لفظ کی وجہ سے بالکل متضاد آرا سامنے آتی ہیں جو متضاد معانی رکھتا ہے (Al-Ghazālī 1987, 471):
طلاق یافتہ عورتیں تین ماہواری کے ادوار تک انتظار کریں (القرآن 2: 228)۔
یہاں ادوار کے لیے استعمال ہونے والا لفظ قُرُوء ہے، اور یہ دو ایسے معانی رکھ سکتا ہے جو ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ ایک معنی حیض ہے، جس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ طلاق یافتہ عورتیں تین حیض گزرنے تک انتظار کریں۔ دوسرا معنی دو حیضوں کے درمیان کا پاکی کا زمانہ ہے، جس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ تین ایسے ادوار تک انتظار کریں جن میں حیض نہ ہو۔
دونوں تعبیرات لغوی طور پر درست ہیں، اور اسی وجہ سے اسلامی فقہ میں اس مسئلے پر دو مختلف شرعی آرا پائی جاتی ہیں (Kamali 2008, 134)۔ چنانچہ ایک ہی لفظ یا آیت کے متعدد معانی اس وقت قبول کیے جا سکتے ہیں جب زبان خود ان کی گنجائش رکھتی ہو۔ مفسرین اور فقہا جب بعض آیات یا الفاظ میں پائے جانے والے ابہام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے تو وہ زبان کے دائرے اور اس کے قواعد ہی کے اندر رہتے ہوئے ایسا کرتے تھے۔
ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے (Shah 2012, 593) لکھتے ہیں:
[مسلمانوں کی] مجازی تعبیرات زبان کے حوالے سے نہایت متعین اور سخت لسانی قواعد کی پابند تھیں، اور انہیں انہی قواعد کی پاسداری کرنا ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ ان کی مجازی تعبیرات ہر لفظ کے ان محدود اور متعین معانی تک مقید رہتی تھیں جو زبان میں اس کے لیے پہلے سے رائج تھے ۔دوسرے لفظوں میں، تعبیر کا عمل واضح طور پر متعین لسانی حدود کے اندر انجام پاتا تھا۔ اس بنا پر [مسلمانوں] کو زیرِ بحث لفظ کے پہلے سے موجود لغوی معانی میں سے ہی کسی ایک کو مناسب یا مراد معنی کے طور پر اختیار کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح متن سے اپنی مطلوبہ بات ثابت کرنے کے لیے دور از کار مفروضے، خیالی حقائق یا قیاسی امکانات گھڑنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی۔
مزید برآں، یہ تحدید اس بات سے بھی مضبوط ہوتی تھی کہ یہی معانی عربی زبان کے مسلمہ اور معروف مجازی استعمالات میں بھی پائے جاتے تھے۔ اگرچہ ایک ہی عبارت سے متعدد، مگر باہم مربوط، تعبیرات تک پہنچنے کی گنجائش موجود تھی، اور مختلف اہلِ علم کسی عبارت کے چند معروف معانی میں سے مختلف پہلوؤں یا معانی پر زور دے سکتے تھے، لیکن یہ صورت حال آزاد اور بے قید قیاس آرائی سے بہت مختلف تھی۔ یوں من گھڑت، خیالی اور نامعقول تعبیرات کے دروازے بند رہتے تھے۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے عہد کی عربی زبان اور عرب معاشرتی و ثقافتی سیاق، تعبیر و تاویل کے دائرے کو متعین اور محدود کرتے ہیں۔
سیاقی قرائن
آخر میں مجازی تعبیر کے حوالے سے ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ نص کو سیاقی قرائن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ یہ قرائن لسانی بھی ہو سکتے ہیں اور زبان سے باہر کے عوامل، مثلاً تاریخی پس منظر، سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں (Al-Ghazālī 2008)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نصوص کو الگ تھلگ اور ٹکڑوں میں بانٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ زیرِ غور آیات کو ان کے قریبی سیاق میں رکھ کر دیکھنا چاہیے، یعنی یہ بھی دیکھا جائے کہ ان سے فوراً پہلے اور بعد میں کیا بیان ہوا ہے۔ بصورتِ دیگر اصل سیاق نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کہتا ہے: "پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے(القرآن 107: 4)"۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہو سکتی ہے، کیونکہ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن جب اس آیت کو اس کے بعد آنے والی آیات کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا مفہوم فوراً اپنے درست سیاق میں واضح ہو جاتا ہے:
پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں؛ جو محض دکھاوا کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو دینے سے روکتے ہیں (القرآن 107: 4-7)۔
اس کے بعد آنے والی آیات واضح کرتی ہیں کہ وہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں، دکھاوا کرتے ہیں، اور ضرورت مندوں کی مدد سے گریز کرتے ہیں، ممکن ہے اپنی نمازوں کے حقیقی اثر اور قدر کو زائل کر رہے ہوں۔
بعض اوقات قرآن کی ایک دوسرے سے دور واقع آیات کو بھی باہم ملا کر دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ قرآن مختلف مقامات پر بار بار ایک ہی تصورات اور موضوعات کو مختلف انداز سے بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں ذکر ہوا، حضرت آدمؑ کا واقعہ قرآن میں مختلف مقامات پر منتشر انداز سے بیان ہوا ہے۔ لیکن اگر ان میں سے ہر حصے کو بالکل الگ تھلگ اور صرف اپنے مقامی سیاق میں اس طرح پڑھا جائے کہ وہ دوسرے حصوں سے شدید مختلف یا متضاد نظر آنے لگے، تو پھر کہیں نہ کہیں تعبیر میں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے Ali (2000, 5) لکھتے ہیں کہ “قرآن کو ایک مکمل متن کی حیثیت سے پڑھنا چاہیے” تاکہ اس کی مجموعی معنوی ہم آہنگی میں کوئی تضاد پیدا نہ ہو۔ خود قرآن بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر یہ کتاب خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے (Qurʾān 4:82)۔
یہی اصول احادیث کے ذخیرے کے مطالعے پر بھی لاگو ہوتا ہے:
قرآن کے علاوہ دوسرے نصوص کے بارے میں ایسا فیصلہ کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ اس کی اہلیت صرف ان لوگوں کو حاصل ہو سکتی ہے جو تاریخ کی کتابوں، گزشتہ نسلوں کے حالات، حدیث کی کتابوں، راویوں کے احوال و مراتب، اور ان عقائد یا روایات کو نقل کرنے کے پیچھے ان کے مقاصد کا مطالعہ رکھتے ہوں (Al-Ghazālī 2002, 117)۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے منقول اس حدیث کو دیکھیے:
اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی (المسلم 2225-2226)۔
بظاہر یہ حدیث خاصی تشویش پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گھوڑے، عورت اور گھر میں کوئی مشترک وصف نحوست کا ہے۔ آغاز میں موجود شرطیہ انداز، یعنی "اگر..." کسی حد تک قاری کو مطمئن کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ایسی بات کہی ہی کیوں گئی۔ تاہم ہمارے پاس ایک تاریخی روایت موجود ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے اس غلط فہمی کو دور کیا۔ ان سے منقول ہے:
"زمانۂ جاہلیت کے عرب کہا کرتے تھے کہ عورت، گھر اور جانور نحوست کا باعث ہوتے ہیں (quoted from Khan 2010, 70)۔"
چنانچہ کسی بھی موضوع کو اس کے درست سیاق میں سمجھنے کے لیے اس سے متعلق تمام دستیاب اور متعلقہ ماخذ کو سامنے رکھنا نہایت ضروری ہے۔
علمِ کلام اور احادیث
احادیث کی بحث کو دانستہ طور پر باب کے آخر تک مؤخر کیا گیا ہے، اگرچہ پورے باب میں مختلف مقامات پر ان کا ذکر آتا رہا ہے۔ اس کی ایک معقول وجہ ہے۔ اصولِ حدیث بذاتِ خود ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے، اسی لیے یہ دوسرے اسلامی علوم، مثلاً علمِ کلام، فقہ اور تفسیر، کی طرح ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس باب میں ہم نے متعدد مقامات پر متواتر اور آحاد احادیث کے درمیان فرق کیا ہے۔ متواتر سے مراد وہ احادیث ہیں جو اتنے وسیع پیمانے پر منتقل ہوئی ہوں کہ معرفتی اعتبار سے ان کا ثبوت یقینی سمجھا جائے۔ قرآن اور بعض احادیث اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ تاہم احادیث کے ذخیرے کا بڑا حصہ آحاد روایات پر مشتمل ہے، جبکہ متواتر روایات کو تاریخی طور پر الگ سے جانچنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ ان کی روایت اس قدر عام اور وسیع ہوتی ہے۔ اسی بنا پر محدثین نے احادیث کو صرف متواتر اور آحاد کی دوئی میں تقسیم کر کے دیکھنے اور برتنے میں کوئی خاص عملی فائدہ محسوس نہیں کیا (Hansu 2020, 254)۔ آحاد احادیث کے وسیع ذخیرے کو بہتر طور پر جانچنے کے لیے انہوں نے مضبوط اور کمزور احادیث کے درمیان امتیاز کے اصول وضع کیے۔ عام طور پر کسی حدیث کی جانچ کے لیے پانچ بنیادی معیار استعمال کیے جاتے ہیں:
1. اتصالِ سند
2. عدالتِ رواۃ
3. ضبطِ رواۃ
4. عدمِ علت
5. عدمِ شذوذ
اتصالِ سند کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث کی سند بلا انقطاع اپنے اصل مصدر تک پہنچتی ہو، تب ہی وہ قابلِ قبول قرار پاتی ہے۔ مزید یہ کہ سند کے ہر راوی کا اپنے سے پہلے والے راوی سے براہِ راست سماع ثابت ہو۔
اگر سند میں ایک یا ایک سے زیادہ واسطے ساقط ہوں تو اس سے حدیث کی قوت متاثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک صورت مرسل روایت کی ہے، جس میں تابعی رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست روایت بیان کرتا ہے اور درمیان میں صحابی کا واسطہ مذکور نہیں ہوتا۔
دوسرا اصول، یعنی عدالتِ رواۃ، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سلسلۂ سند میں شامل ہر شخص راست گو اور دیانت دار ہو۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی علمی و دینی میراث احادیث کے راویوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہی تھی، اس لیے محدثین اس بات کے تعین میں نہایت محتاط تھے کہ کون شخص اس ذمہ داری کا اہل ہے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایسی کتابیں مرتب کیں جن میں ہر دور اور ہر طبقے کے راویوں کے تفصیلی حالاتِ زندگی اور ان کے کردار سے متعلق معلومات محفوظ کی گئیں۔ ان میں یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ کسی راوی میں نفاق یا کفر جیسی کوئی بات تو نہیں پائی جاتی۔
تیسرا اصول، یعنی ضبطِ رواۃ، کسی حد تک دوسرے اصول سے مشابہ ہے، لیکن اس کا تعلق راوی کے کردار کے بجائے اس کی یادداشت، علمی مہارت اور روایت میں احتیاط سے ہوتا ہے۔ اس ضمن میں راوی کے حافظے، اس کی روایتوں میں پائی جانے والی غلطیوں اور ان کی تعداد کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ جس راوی سے جتنی زیادہ غلطیاں ثابت ہوتیں، اس کا درجہ اتنا ہی کم سمجھا جاتا۔
چوتھا اصول، یعنی عدمِ علت، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تھا کہ حدیث کے متن یا سند میں کوئی ایسی مخفی کمزوری نہ ہو جو اس کی صحت کو متاثر کرے۔ یہ اصول خصوصاً ان روایات کی جانچ میں مفید تھا جو ابتدا میں صحیح سمجھی جاتی تھیں، لیکن بعد کی تحقیق میں ان میں کوئی پوشیدہ نقص سامنے آ جاتا تھا۔
پانچواں اصول، یعنی عدمِ شذوذ، اس بات سے متعلق ہے کہ کسی خاص راوی کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ یا مضمون کا تقابل زیادہ ثقہ راویوں کی روایات سے کیا جائے۔ اگر اس کی روایت زیادہ مضبوط راویوں کی روایات سے مختلف ہو تو اس اختلاف کا جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں اس میں کوئی غلطی یا غیر معمولی انفراد تو موجود نہیں۔
ان پانچ اصولوں کی تفصیل اس سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ہماری موجودہ بحث کے لیے اتنی وضاحت کافی ہے۔
اس جانچ کے منہج کی روشنی میں آحاد احادیث کی صحت کا تعین کرنے کے لیے عموماً تین بڑی قسمیں قائم کی گئیں: صحیح، حسن اور ضعیف۔ متواتر احادیث بہرحال صحیح کے درجے میں شمار ہوتی ہیں۔ محدثین کے نزدیک اس درجہ بندی کا بنیادی مقصد یہ امتیاز قائم کرنا تھا کہ کون سی احادیث اعتقادی یا فقہی استدلال میں قابلِ استعمال ہیں، یعنی صحیح اور حسن کے دائرے میں آتی ہیں، اور کون سی اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد نہیں، یعنی ضعیف ہیں (Brown 2009, 100–103)۔
اس وضاحت کے بعد اب ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ غزالی کے فکری فریم ورک میں احادیث مختلف معرفتی حیثیتیں کس طرح اختیار کرتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، غزالی کے نزدیک اعتقادی طور پر لازمی حجیت صرف ان نصوص کو حاصل ہے جو متواتر ہوں۔ چنانچہ عقیدے کے کسی بنیادی اور لازمی مسئلے کی بنیاد محض آحاد احادیث پر نہیں رکھی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آحاد احادیث کو رد کر دیا جائے؛ مطلب صرف یہ ہے کہ کسی لازمی اعتقادی التزام کی بنیاد تنہا آحاد روایت پر نہیں ہو سکتی۔
لہٰذا جو آحاد احادیث صحیح ہوں، انہیں اصولاً سنجیدگی سے لیا جائے گا، خصوصاً اس صورت میں جب ان کے مضمون کی تائید متواتر ماخذ سے بھی ہوتی ہو (Hansu 2020, 253)۔ اس کی وجہ آحاد احادیث کی معرفتی حیثیت ہے۔ وہ بنیادی اعتقادی مسائل جن کی بنیاد پر ایمان و کفر کا فیصلہ کیا جاتا ہے، صرف قطعی یقین پر قائم ہو سکتے ہیں، اور یہ درجہ متواتر ماخذ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس آحاد احادیث قطعی نہیں ہوتیں؛ زیادہ سے زیادہ وہ صدق کا قوی ظن پیدا کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص کسی آحاد حدیث کو رد بھی کر دے تو محض اس بنا پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا (Al-Ghazālī 2002, 114)۔
اس کے باوجود آحاد احادیث کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ انہیں بحیثیتِ مجموعی رد کیا جا سکتا ہے۔ ان پر اعتراض یا ان سے صرفِ نظر کے لیے مضبوط دلائل درکار ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب معاملہ عقیدے سے متعلق ہو، خصوصاً امورِ غیب میں جس کی بحث باب 4 میں گزر چکی ہے، مثلاً جنت و جہنم کی تفصیلات اور آخرت میں پیش آنے والے واقعات (Jalajel 2009, 23–24)۔
فقہی اعتبار سے بھی آحاد احادیث کو رد کرنا متعدد مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ عبادت سے متعلق بہت سے احکام آحاد احادیث پر قائم ہیں، اور اسلامی فقہ میں انہیں باقاعدہ شرعی دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے (Hansu 2020, 252)۔ اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ غزالی اپنی اصولی تصنیف المستصفى من علم الأصول میں آحاد احادیث کی جانچ کے اصولوں پر تفصیل سے بحث کرتے ہیں۔ اگر کوئی آحاد حدیث مقررہ معیارات پر پوری اترے تو اسے فقہی احکام کے استنباط میں استعمال کیا جا سکتا ہے (Al-Ghazālī 1987, 541–661)۔ چنانچہ فقہی نقطۂ نظر سے غزالی ان آحاد احادیث کو قبول کرتے تھے جو متعلقہ شرائط پر پوری اترتی ہوں، بلکہ وہ ان پر عمل کرنے کے بھی قائل تھے۔
دوسری طرف غزالی کی نسبتاً زیادہ روحانی نوعیت کی تصانیف، مثلاً احیاء علوم الدین، میں ہمیں ضعیف احادیث کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔ بعض مقامات پر انہوں نے بہت ضعیف احادیث بھی نقل کی ہیں، جس پر ان پر تنقید کی گئی ہے (Brown 2009, 112; Palmer 2020, 271)۔ تاہم احیاء نہ خالص فقہی تصنیف ہے اور نہ محض علمِ کلام کی کتاب؛ بلکہ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو یہ سکھانا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین پر کیسے عمل کریں اور اس کے روحانی فوائد و مقاصد کو کس طرح سمجھیں۔ اسی لیے اس میں روحانیت کا نمایاں رنگ موجود ہے (Garden 2013)۔
صوفیانہ علمی روایت میں احادیث قبول کرنے کا معیار نسبتاً نرم رہا ہے (Brown 2009, 184–195)۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوفیا متکلمین یا محدثین کے سخت اصولوں کے مخالف تھے؛ بلکہ وہ ضعیف احادیث کو ایک مخصوص دائرے اور مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے (Palmer 2020, 272)۔ فضائل اور نوافل کی ترغیب دینے والی احادیث، بشرطیکہ ان کا ضعف اس درجے کا نہ ہو کہ ان کے موضوع ہونے کا قوی احتمال پیدا ہو، اور وہ کسی مسلمہ اعتقادی یا فقہی حکم سے متصادم بھی نہ ہوں، صوفی مفکرین کے ہاں نسبتاً آسانی سے قبول کی جاتی تھیں (Brown 2011a)۔ لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں کہ غزالی نے اپنی عظیم تصنیف احیاء علوم الدین میں بعض ضعیف احادیث سے بھی استفادہ کیا۔
ان مشاہدات سے دو نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ اول، غزالی احادیث کی معرفتی حیثیت کو علمی شعبے کے لحاظ سے مختلف سمجھتے ہیں؛ مثلاً علمِ کلام، فقہ اور روحانیت میں حدیث کا کردار ایک جیسا نہیں رہتا۔ دوم، مجموعی طور پر غزالی آحاد احادیث کے ساتھ احتیاط اور احترام کا رویہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ متواتر نصوص کے مقابلے میں ان کی معرفتی حیثیت کمزور ہے۔ اس لیے آحاد احادیث کو رد یا نظر انداز کرنے کے لیے مضبوط دلائل اور شواہد درکار ہوتے ہیں۔ آحاد احادیث کو حتی الامکان برقرار رکھنے کا یہی رجحان باب 10 میں بھی ہماری رہنمائی کرنے والا ایک اہم اصول ہوگا۔
نتیجہ
غزالی کے اصولِ تعبیر سے متعلق ان کے افکار کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد اب ہم اپنی بحث کے اہم نتائج کو سمیٹ سکتے ہیں۔
اول، غزالی واضح طور پر ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی، دونوں کو معرفتی اعتبار سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
دوم، غزالی یہ واضح کرتے ہیں کہ جب عقل اور وحی کے درمیان بظاہر کوئی تعارض پیدا ہو تو متن کو اپنے پہلے سے قائم شدہ مفروضات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کسی نص کی ایک سے زیادہ ممکنہ تعبیرات ہوں اور سب یکساں طور پر قابلِ قبول دکھائی دیتی ہوں تو کسی ایک تعبیر کو حتمی قرار دینے کے بجائے فیصلہ مؤخر کر دینا چاہیے، کیونکہ خدا کی مراد کے بارے میں محض قیاس آرائی آخرت میں جواب دہی کا باعث بن سکتی ہے۔
سوم، اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو غزالی کو اس امر میں کوئی تامل نہیں کہ اس بارے میں سرے سے فیصلہ ہی نہ کیا جائے، یعنی توقف اختیار کیا جائے۔
چہارم، غزالی سائنس اور اسلامی نصوص کے درمیان ممکنہ مناسبت اور باہمی ربط کو تسلیم کرتے ہیں۔ سائنس ان نصوص کے بعض پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں قدرتی مظاہر کا عمومی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ تاہم غزالی قرآن کو سائنسی حقائق کی کتاب بنا دینے کے قائل نہیں۔ سائنس قرآن کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے، لیکن قرآن کی تفہیم کا واحد طریقہ نہیں۔
پنجم، غزالی کے اصولِ تعبیر ان کے اعتقادی تصورات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک نصوص کو اصولاً ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جانا چاہیے، جب تک کہ اس سے ہٹنے کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود نہ ہو۔ وہ تعبیر کے پانچ درجات قائم کرتے ہیں، جن کا آغاز وجودِ ذاتی سے ہوتا ہے اور آخری درجہ وجودِ شبہی یا مجازی ہے۔ اگر کوئی مفسر مناسب دلیل کے بغیر کسی نچلے درجے کی تعبیر اختیار کرے تو یہ اعتقادی انحراف کے زمرے میں آئے گا۔ اور اگر وہ ان تمام ممکنہ تعبیرات ہی کو رد کر دے تو معاملہ کفر تک پہنچ سکتا ہے۔
سائنس کے حوالے سے غزالی کا یہی اصولِ تعبیر انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک طرف معجزات کو تسلیم کریں اور دوسری طرف قرآن میں مذکور قدرتی مظاہر کو بھی ان کے مناسب مفہوم میں سمجھیں۔ یوں ان کا منہجِ تعبیر ان کے مجموعی اعتقادی نقطۂ نظر سے پوری طرح ہم آہنگ رہتا ہے۔
شسشم، عربی زبان اور سیاق و سباق، خواہ وہ لسانی ہو یا تاریخی، سے واقفیت نہایت اہم ہے۔ جب کسی نص کو غیر لفظی یا مجازی معنی میں سمجھنے کی ضرورت پیش آئے تو یہی دونوں عناصر اس بات کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں کہ ایسی تعبیر کی بنیاد کیا ہے۔
آخر میں، احادیث سے متعلق بحث سے یہ بات سامنے آئی کہ غزالی حدیث کو اس علمی دائرے کی معرفتی ضروریات کے مطابق استعمال کرتے ہیں جس میں وہ گفتگو کر رہے ہوں۔ اعتقادی نقطۂ نظر سے، اور اس باب میں ہم نے بنیادی طور پر اسی زاویے کو اختیار کیا ہے، متواتر احادیث معرفتی طور پر یقینی ہوتی ہیں، اسی لیے وہ عقائد کی تشکیل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اس کے برعکس آحاد احادیث، خواہ صحیح ہی کیوں نہ ہوں، اس درجے کی قطعی معرفتی حیثیت نہیں رکھتیں۔ تاہم آحاد احادیث کو محض اس بنا پر رد یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ ایسا کرنے کے لیے مضبوط دلائل درکار ہوتے ہیں۔
باب 10 میں انہی تمام اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان مختلف طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے لوگوں نے نظریۂ ارتقا کو اسلامی نصوص کے ساتھ ہم آہنگ کرنے یا ان میں اس کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر
محترم دوستو اور بزرگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دینِ اسلام اور شریعت کو انتہائی آسان بنایا ہے، لیکن آسان ہونے کے باوجود اس کی اپنی کچھ حدود ہیں، کچھ ضابطے ہیں، کچھ قیود ہیں اور کچھ لیمیٹیشنز ہیں۔ ٹھیک ہے کہ دین بہت ہی آسان ہے، اُس شخص کے لیے جو صاحبِ فطرت ہو، لیکن جس کے دماغ کے اندر ہی روگ ہو اور جو ہر مثبت چیز میں منفی پہلو ڈھونڈتا ہو تو اس کو دین کے اندر بھی خامیاں ہی دِکھتی ہیں کہ دین میں یہ کیوں ہے، یہ کیوں ہے؟ اللہ نے یہ دین دیا ہے تو اللہ کی ذات علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے، اس نے ہمارے لیے اس دین کے اندر جو حدود اور ضابطے بنائے ہیں، وہ میری اور آپ کی آسانی کے لیے ہیں۔
مال ایسی چیز ہے کہ ہر شخص کو اس سے فطری طور پر محبت ہوتی ہے، چھوٹے سے بچے کے سامنے بھی آپ پیسے رکھیں گے تو اس کو بھی فطری محبت ہوتی ہے، مال کو اللہ نے بنایا ہی ایسا ہے۔ اس مال کو خرچ کرنے کے کچھ حدود اور ضابطے ہیں اور عموماً انسان کو تین طریقوں سے اس سے وابستگی رہتی ہے۔ تین چیزیں ہیں اور تینوں الگ الگ ہیں۔ اگر آپ ایک کو دوسری سے، دوسری کو تیسری سے ملائیں گے تو ساری بات خراب ہو جائے گی اور خلطِ مبحث لازم آئے گا۔ لہٰذا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ تین الگ الگ چیزیں کیا ہیں، ان کے کیا فوائد ہیں اور کیا تعلق ہے؟ سب سے پہلی چیز ہے ہبہ۔ دوسری چیز ہے وصیت۔ اور تیسری چیز ہے ورثہ یا میراث۔
- زندگی میں کسی کو کوئی چیز دینا، جائیداد تقسیم کرنا، یہ کہلاتا ہے ہبہ، یہ الگ چیز ہے۔
- وصیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کام کرنا، یہ الگ چیز ہے۔ وصیت کی تعریف میں یہ بات داخل ہے اور اس کے اندر یہ ذکر ہوتا ہے کہ ’’میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد‘‘۔ تو جب اس قسم کے الفاظ بولے جائیں گے تو اس کا تعلق ہبہ اور گفٹ سے نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق بن جائے گا وصیت سے، اور وصیت کا حکم الگ ہے۔
- تیسری چیز ہے میراث یا ورثہ، اس کا تعلق انسان کے مرنے کے بعد سے ہے۔
گویا زندگی میں دو چیزیں ہو گئیں: ہبہ اور وصیت۔ جبکہ تیسری چیز جسے ہم میراث یا ورثہ کہتے ہیں اس کا تعلق مرنے کے بعد سے ہے۔ یہ تینوں چیزیں الگ الگ ہیں۔
(1) ہبہ
سب سے پہلی چیز ہے ہبہ، جسے ہم انگلش میں گفٹ کہتے ہیں، عربی زبان میں عطیہ کہتے ہیں، اردو میں ہدیہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے۔
زندگی میں تقسیمِ جائیداد
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ جو جس چیز کا مالک ہے، وہ اگر کرنا چاہے تو اس کی صوابدید، نہ کرنا چاہے تو اس کی مرضی۔ کوئی اس کے اوپر اعتراض نہیں اٹھا سکتا کیونکہ مال اس کا ہے، پیسے اس کے ہیں، کاروبار اس کا ہے۔ جس کی جو ملکیت ہے، زندگی میں اسی کا تصرف چلے گا۔ لہٰذا بیٹے کا باپ کو یہ کہنا کہ ابو! آپ یہ تقسیم کر دو۔ تو باپ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ’’میں کیوں کر دوں؟ یہ آپ کی چیز تو ہے ہی نہیں، یہ میری چیز ہے، آپ اس کے اندر دخل اندازی کر ہی نہیں سکتے‘‘۔ آپ اپنے ڈومین کے اندر، اپنی ملکیت میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کیا کریں۔
چنانچہ تقسیم کرنا چاہیں تب بھی ٹھیک ہے، نہ کرنا چاہیں تب بھی درست ہے۔ شریعت نے زندگی میں نہ جائیداد کی تقسیم کرنے کا کہا ہے اور نہ منع کیا ہے، یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے۔ ہاں، کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں، کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، کچھ مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں، کچھ منفی پہلو بھی ہوتے ہیں۔
ممکنہ مضمرات
مثال کے طور پر، پہلا نقصان اس بات کا ہے کہ اگر کوئی شخص زندگی میں جائیداد تقسیم کر دے تو وہ خود محتاج ہو جائے گا کہ اس کے پاس کچھ بچا نہیں ہے۔ یا زیادہ دے دیا اور تھوڑا سا رہ گیا، تو زندگی میں ایسا نہ ہو کہ کوئی آسمانی سلطانی آفت آ گئی، کوئی بیماری آ گئی، بڑے ہسپتال میں داخلہ کرانا پڑ گیا، تو اس کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وہ تو تقسیم کر چکا ہے۔ زندگی میں تقسیم کرنے کا یہ نقصان ہے۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ جب دے دے گا تو ملکیت ختم ہو جائے گی، تو اگر کل کو کچھ کاروبار کرنا چاہے، کوئی پلاٹ لینا چاہے، کوئی انویسٹمنٹ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس ہے ہی نہیں، وہ تو تقسیم کر چکا ہے۔
ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہر وقت اس کا ہاتھ تنگ رہے گا۔ وہ یہ سوچتا رہے گا کہ میرے پاس تو ایک کروڑ تھے، میں نے اَسی نوے لاکھ تقسیم کر دیے اور میرے پاس تو اب دس لاکھ ہی ہیں، اس طرح وہ ٹینشن کے اندر جا سکتا ہے، ڈیپریشن کے اندر جا سکتا ہے۔
اسی طریقے سے، جب سب تقسیم کر دے گا تو جو اولاد ہے، ورثاء ہیں، وہ اس میں دلچسپی کم لینے لگیں گے۔ مفادات کی زندگی ہے، مفادات کی دنیا ہے، جب سب دے دے گا تو بچے بھی بولیں گے کہ ہمارا ابا کسی کام کا نہیں ہے، چنانچہ خدمت میں بھی دلچسپی نہیں رہے گی، تو یہ نقصان ہے۔
ممکنہ فوائد
زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کی اولاد جھگڑوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ وہ زندگی میں ہی کہہ دے کہ بھئی! یہ میں نے اپنی ماں کو دے دیا، یہ باپ کو دے دیا، یہ اپنی اِس اولاد کو دے دیا، یہ اپنی اُس بیٹی کو دے دیا، یہ اپنی بیوی کو دے دیا، یہ اپنی بہن کو دے دیا وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کے مرنے کے بعد کچھ ہے ہی نہیں کہ جھگڑا ہو، تو اس کی اولاد کے اندر خوشی رہے گی، امن رہے گا، عافیت رہے گی۔ اسی طریقے سے خود بھی امن میں آ جائے گا کہ میرے مرنے کے بعد میرے بعد والے ورثاء آپس میں امن سے رہیں گے، خوشی سے رہیں گے۔
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنی ہو تو اس کو شریعت میں ہبہ کہتے ہیں، گفٹ کہتے ہیں۔ اس کے اپنے فوائد بھی ہیں اور اس کے اپنے نقصان بھی ہیں۔ ہر شخص اپنے گھر کے ماحول کے اندر خود فیصلہ کر سکتا ہے، دوستوں سے مشورہ کر سکتا ہے کہ بھئی مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں زندگی میں تقسیم کر دوں یا نہیں کروں؟ وہ آپ کے اوپر ہے۔
احکام و ضوابط
اگر تقسیم کرنا پڑ جائے تو اس صورت میں دو چیزوں کی پابندی ضروری ہے ورنہ وہ تقسیم، تقسیم نہیں ہو گی:
قبضہ اور ملکیت
ہبہ کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ ہے کہ جس کو آپ جو چیز دے رہے ہیں، وہ بطور مالک بنا کر دیں، اس کے قبضے اور تصرف کے ساتھ دیں۔ ہماری میمن کمیونٹی کے اندر کتنی دفعہ سننے میں آتا ہے، حاجی صاحب کہتے ہیں کہ بھئی یہ گھر جو ہے میں نے اپنی بیوی کے نام کیا ہوا ہے۔ اور واقعتاً کیا ہوا بھی ہوتا ہے، تاکہ مرنے کے بعد بیوی روڈ پر نہ آ جائے، تو وہ اپنی بیوی کو محفوظ کرنے کے لیے اس کے نام کر دیتا ہے۔ لیکن مرنے کے بعد جب مسئلہ پوچھا تو پتا لگا گھر تو بیوی کا ہے ہی نہیں! قانونی طور پر اور رجسٹریشن کے اندر تو ہے، لیکن شرعی طور پر یہ گھر بیوی کا ہوا ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ گھر صرف اس نے بیوی کے نام پر کیا ہے۔ تو کسی کے نام پر کوئی چیز کر دینے سے وہ چیز اس کی نہیں ہو جاتی، مثال کے طور پر:
- میری جیب میں موبائل ہے اور یہ میں حاجی صاحب کے نام کر دیتا ہوں، لیکن موبائل میری جیب کے اندر ہے، تو میں لاکھ نام کرتا رہوں، لکھت پڑھت بھی کر دوں، سب کچھ کر دوں، لیکن یہ چیز ان کی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ میرے پاس ہے۔ اگر مجھے یہ چیز اُن کو دینی ہے، ہبہ کرنی ہے، اپنی جائیداد تقسیم کرنی ہے، تو باقاعدہ قبضہ اور تصرف (possession) ان کو دینا پڑے گا۔ اگر قبضہ نہیں دیا تو وہ چیز سامنے والے کی نہیں ہوگی۔ جب مرے گا تو وہ اس کے تمام ورثاء کے اندر تقسیم ہو جائے گی، اس کی بیوی کو نہیں ملے گی۔
- گاڑی بیٹے کے نام کی ہوئی ہے کہ میرے جانے کے بعد بیٹے کو تکلیف نہ ہو، لیکن وہ خود چلاتا ہے، گاڑی کی چابی بھی اسی کے پاس ہے، قبضہ بھی اس کا ہے، تصرف بھی وہی کرتا ہے۔ اب جب مرے گا اور مسئلہ پوچھنے کے لیے مفتی صاحب کے پاس آئے گا تو وہ کہیں گے کہ گاڑی آپ کے بچے کی ہوئی ہی نہیں تھی کیونکہ آپ نے قبضہ دیا ہی نہیں تھا، آپ نے تو صرف اس کے نام کی تھی۔
- گھر کے اندر خود رہ رہا ہے، اسے بیوی کے نام کر دے گا تو کیا وہ گھر بیوی کا شرعاً ہو جائے گا؟ نہیں ہوگا! تو کیا کرے؟ اس کا حل یہ ہے کہ اگر دینا ہی ہے بیوی کو، تو گھر سے باہر جا کر اپنے بچوں سے یا ورثاء سے کہہ دے کہ بھئی یہ چابی میری بیوی کی ہے، یہ گھر میرا نہیں ہے، اور چابی اس کو دے دے۔ اب قبضہ و تصرف اُس کا ہے۔ اب گھر کے اندر جس طرح دوسرے بچے رہ رہے ہیں، یہ بھی بس رہ رہا ہے، مالک نہیں ہے۔ اب جب یہ شخص مرے گا تو یہ گھر اس کی بیوی کا قانوناً تو پہلے بھی تھا، لیکن شرعاً بھی یہ اسی بیوی کا ہو گا، اور اس کے ورثاء کے اندر ترکے میں تقسیم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ہبہ کی پہلی شرط کے ساتھ پایا گیا جس کے اندر اس کو باقاعدہ قبضہ اور تصرف دیا گیا تھا۔
لہٰذا پہلا اصول اور ضابطہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا یہ ہے کہ نام کر دینے سے، لکھت پڑھت کر دینے سے، رجسٹریشن کر دینے سے، اور گواہ بنا دینے سے کوئی چیز کسی کی نہیں ہوتی، بلکہ کوئی چیز کسی کی اسی وقت ہو گی جب آپ وہ چیز سامنے والے کے قبضے میں دیں گے۔
برابری اور مساوات
دوسری شرط ہے تمام اولاد کے اندر برابری کرنا۔ یہ شرط اگر نہ پائی جائے تو کام تو ہو جائے گا لیکن گناہ ہو گا۔ ہبہ کے برعکس میراث الگ چیز ہے تو اس کا اصول الگ ہے کہ لڑکے کا حصہ لڑکی کے مقابلے میں ڈبل ہوتا ہے جبکہ بیٹی کو سنگل ملتا ہے۔ لیکن زندگی میں کوئی چیز اگر دینی ہو تو پھر آپ بیٹے کو زیادہ نہیں دے سکتے، پھر تمام اولاد کے اندر برابری کرنا ضروری ہے۔ یہ شرعاً جائز نہیں کہ کسی کو زیادہ دے دیا، کسی کو کم دے دیا، اگر کیا تو آپ گنہگار ہوں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی نعمان بن بشیرؓ آئے اور کہنے لگے: حضور! میں اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام ہدیہ دینا چاہتا ہوں اور میری بیوی کی خواہش یہ ہے کہ آپ اس پر گواہ بن جائیں۔ حضورؐ نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن پوچھا کہ تمہاری اور بھی اولادیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اور بھی اولادیں ہیں۔ حضورؐ فرمایا: ’’اکل ولدک نحلتہ مثل ما نحلت ھذا‘‘ کہ اپنی تمام اولاد کو یہ دیا ہے یا صرف ایک کو دے رہے ہو؟ کہنے لگے: نہیں، میں تو صرف ایک کو دے رہا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’اذا لا اشھد علیٰ جور‘‘ (بخاری و مسلم) یہ تو گناہ ہے اور میں گناہ پر گواہ نہیں بنوں گا۔ یعنی صرف ایک بچے کو کیوں دے رہے ہو، باقی بچے کیا کریں گے؟
جب زندگی میں آپ نے کوئی چیز دینی ہے تو برابری کی سطح پر دینی ہو گی، کسی بچے کو زیادہ، کسی کو کم نہیں دے سکتے، سب کو برابر دینا ہو گا۔ ہاں، کوئی بچی ایسی ہے جو مالی طور پر بہت کمزور ہے، یا کوئی بچہ ایسا ہے جس نے دیگر بچوں کے مقابلے میں آپ کی بہت خدمت کی ہے، تو اس شرط کے ساتھ اس کو زیادہ دے سکتے ہیں کہ آپ کی نیت دیگر ورثاء کو نقصان پہنچانے کی نہ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ کو ایک بیٹا اچھا لگتا ہے تو آپ نے اس کو ایک لاکھ روپے دے دیے، اور دوسرا بچہ اچھا نہیں لگتا تو آپ نے کہا کہ بس چھوڑو اس کو، یعنی آپ نقصان پہنچا رہے ہیں اس بچے کو، تو یہ بھی گناہ کے زمرے میں ہے۔ تھوڑی بہت کمی بیشی، زیادتی اور کمی کر سکتے ہیں، لیکن محروم کسی کو نہیں کر سکتے، یہ شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا برابری کی سطح پر دینا ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنی ہو تو اس کو ہبہ کہتے ہیں۔ یہ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے اور کوئی زبردستی نہیں ہے کیونکہ آپ اپنے مال کے سو فیصد خود مالک ہیں۔ لیکن اگر تقسیم کرنی ہو تو سب سے پہلے اپنے لیے کچھ ریزرو کر لیں، سارا نہ دے دیں، سارا دے دیا تو خود محتاج ہو جائیں گے۔ اپنے والدین کو کچھ دے دیں، اپنی بیوی کو بھی دے دیں جس نے پوری زندگی آپ کا ساتھ دیا ہے، کسی بہن بھائی کو دینا ہے تو آپ آزاد ہیں، اس میں کوئی قانون نہیں ہے کہ اِس کو نہیں دے سکتے اور اُس کو دے سکتے ہیں۔ خیرات (charity) کرنی ہے یا کچھ بھی اور کرنا ہو، آپ اپنے پورے مال کے سو فیصد مالک ہیں، آپ جیسا دینا چاہیں ویسے دے سکتے ہیں۔ اور اس شرط کے ساتھ کہ صرف بطور نام نہ ہو بلکہ مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ ہو۔ یہ ہے زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا، جس کو ہبہ کہا جاتا ہے۔
(2) وصیت
دوسری چیز ہے وصیت۔ ابتدائے اسلام میں وصیت کرنا فرض تھا اور اس پر قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی تھی کہ ایمان والوں کے اوپر وصیت کرنا فرض ہے، لیکن یہ اُس وقت تھا کہ جب میراث کا حکم نہیں آیا تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا مال تقسیم کیسے ہوتا ہے۔ چنانچہ تب وصیت کرنا فرض تھا کہ بھئی آپ مرنے سے پہلے وصیت کریں کہ کس کو کتنا دینا ہے، تو ہر شخص اپنی مرضی سے وصیت کر دیتا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے میراث کا حکم سورۃ النساء کے اندر اتار دیا، اس کے بعد یہ وصیت کے فرض ہونے کا حکم منسوخ ہو گیا۔ ہاں، اگر آپ کے اوپر مالی لین دین ہے، قرضہ لیا ہوا ہے، تو وہ وصیت کرنا آپ پر واجب ہے۔ حج فرض تھا وہ ادا نہیں کیا، روزے رکھنے تھے جو کسی وجہ سے نہیں رکھ سکے، تو اس کا فدیہ دینے کی آپ وصیت کر سکتے ہیں اور وہ وصیت کرنا ضروری ہے۔
زندگی میں اعلانِ تقسیم
وصیت کا مطلب ہے پہلے بتا دینا۔ انسان یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد میرا مال فلاں کو دے دینا، اس کو وصیت کہتے ہیں۔ اور جو پہلی چیز ہبہ تھی، اس میں مرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا، اس کے اندر فی الفور دینا ہوتا ہے، تو ہبہ الگ چیز ہے اور وصیت الگ چیز ہے۔
وارث کے لیے وصیت نہیں
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ وصیت غیر وارث کے لیے ہوتی ہے۔ ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ باپ کہہ رہا ہے: میرے مرنے کے بعد بیٹی کو اتنا دے دینا۔ کیوں بھئی؟ بیٹی کو تو اللہ نے ویسے ہی دے دیا ہے۔ اور ترمذی، سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لا وصیۃ لوارث) کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ذی حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اب وارث کے لیے وصیت نہیں ہے — باپ کا کتنا حق ہے، ماں کو کتنا ملے گا، بیٹی کو کتنا ملے گا، بیٹے کو کتنا ملے گا، شوہر کو کتنا ملے گا، بیوہ کو کتنا ملے گا — اللہ نے سب کو دے دیا ہے، دوبارہ کسی وارث کے لیے وصیت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
لہٰذا اگر کبھی وصیت کرنی ہو تو وہ وصیت غیر وارث کے لیے ہوتی ہے، وارث کے لیے نہیں ہوتی۔ والدین وارث ہیں، دادا دادی ہیں وارث ہیں، اولاد ساری وارث ہوتی ہے، بعض صورتوں میں بہن بھائی وارث ہوتے ہیں، تو جو بھی وارث ہے، اس کے لیے وصیت نہیں ہے۔ اس لیے یہ غلط فہمی دور ہو جائے کہ لوگ جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد میری بیٹی کو اتنا سونا مل جائے۔ بھئی! بیٹی تو وارث ہے، اس کے لیے وصیت کرنا جائز ہی نہیں۔
اگر پھر بھی کسی نے وصیت کر دی تو اس کا حکم الگ ہے۔ وہ یہ کہ اگر تمام ورثاء — اور وہ سارے بالغ ہوں — اس بات پر راضی ہو جائیں کہ بھئی! ہمارے ابا کی خواہش تھی کہ کسی ایک بھائی کو زیادہ مل جائے، یا ہماری امی کو زیادہ مل جائے، اور سب ورثاء خوش دلی سے راضی ہوں، تو اس صورت میں پھر کسی وارث کو بھی اگر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن ایک تہائی مال کے اندر، ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت شرعاً جائز نہیں ہو گی۔
ایک تہائی مال کی حد
وصیت کا دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ وصیت کا نفاذ کُل مال کے ایک تہائی (1/3) کے اندر ہوتی ہے۔ یعنی ایک کروڑ روپے اگر چھوڑ کر گیا تو تقریباً تینتیس لاکھ پر اس کا حکم چل سکتا ہے کہ میرے مال کے ایک تہائی کے اندر مسجد میں دے دینا، ماموں کو دے دینا، میری بہو کو دے دینا وغیرہ وغیرہ، لیکن ایک تہائی سے زیادہ پر اس کا حکم نہیں چل سکتا۔
بخاری اور مسلم کی روایت ہے اور مسند احمد میں بھی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر شدید بیمار ہو گیا اور مجھے لگا میں مر جاؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس عیادت کے لیے آئے، میں نے حضورؐ سے کہا: مجھے اللہ نے بڑا مال دیا ہے اور میری ایک ہی بیٹی ہے، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں۔ حضورؐ نے کہا: نہیں، نہیں۔ انہوں نے پوچھا: اگر دو تہائی خرچ کر دوں؟ حضورؐ نے کہا: نہیں۔ پوچھا: اگر میں آدھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں؟ حضورؐ نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: اگر ایک تہائی خرچ کر دوں؟ تو حضور نے فرمایا: ’’الثلث والثلث کثیر‘‘ ایک تہائی ٹھیک ہے، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں وصیت کا دوسرا ضابطہ اور قانون ہے کہ وصیت جب بھی ہوگی وہ ایک تہائی کے اندر ہوگی۔
ہمارے ہاں بعض لوگوں کہتے ہیں کہ ہمارا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دو۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ’’ان تذر ورثتک اغنیاء خیر من ان تذر ھم عالۃ یتکففون الناس‘‘ (بخاری و مسلم) کہ تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ، یہ نہیں کہ جو کچھ ہے بس سارا اللہ کی راہ میں لگا دو۔ یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے، یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سوٹ کرتا ہے، عام لوگوں کے لیے یہ نہیں ہے۔ عام لوگوں کے لیے یہ ہے کہ اگر بہت دینا ہے تو ایک تہائی دے سکتے ہو بس، اس سے زیادہ نہیں۔ اس لیے حضورؐ نے فرمایا کہ اپنے جانے کے بعد اپنی اولاد اور بیوہ کو مالدار چھوڑ کر جاؤ، یہ بہتر ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جانے کے بعد — تم تو بڑے مالدار تھے لیکن تم نے سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا — اور تمہاری اولاد لوگوں سے بھیک مانگ رہی ہے۔
صرف جائز کاموں میں
اسی طرح جب وصیت ہو تو ذہن میں رہے کہ وہ گناہ کے کام کی وصیت نہ ہو، وصیت جائز کاموں میں ہوتی ہے اور وہ کوئی بھی ہو سکتی ہے: مسجد میں، چیریٹی میں، فاؤنڈیشنز میں، وغیرہ۔
لہٰذا جب بھی وصیت کرنی ہو تو ان ضابطوں کا خیال رکھیں اور لکھت پڑھت کے ساتھ وصیت کر سکتے ہیں۔
(3) میراث
تیسری چیز ہے میراث، جو مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ اصولی طور پر جب مرنے والا چلا گیا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، تو اب اس کا تصرف اپنے مال پر نہیں ہے، لیکن پھر بھی شریعت نے اتنا حق دیا ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی میں کوئی وصیت کر دی ہو تو ایک تہائی تک دے سکتا ہے۔
چند غلط تصورات
عاق کرنے کی حیثیت
لہٰذا اس یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہمارے ہاں جو کوئی باپ اپنی اولاد کو جائیداد سے عاق کر دیتا ہے، تو ایسا کرنے سے کوئی عاق ہوتا ہی نہیں ہے۔ خبروں میں بھی آ جاتا ہے، قانون بھی بنا ہوا ہے، جو کہ خلافِ اسلام اور خلافِ شریعت قانون ہے کہ بچے کو عاق کر دیا، بیوی کو عاق کر دیا، کسی وارث کو عاق کر دیا۔ وراثت کے بارے میں ایک ضابطہ ذہن میں رکھ لیں کہ وراثت حقِ جبری ہے، اختیاری نہیں ہے۔ جبری کا مطلب ہے کہ جیسے ہی بندہ اس دنیا سے گیا، مرتے ہی سارا مال اللہ کی ملکیت میں آ گیا اور اللہ نے اس مال کا اُس کے ورثاء کو مالک بنا دیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فلاں کو نہ ملے، فلاں کو ملے اور اتنا مل جائے، جب آپ مر گئے تو اس کے بعد اپنے مال پر کوئی زور نہیں ہے، سوائے اس کے کہ آپ نے وصیت کر دی ہو، وہ بھی ایک تہائی کے اندر۔ لہٰذا کسی کو جائیداد سے عاق کر دینے سے وہ عاق نہیں ہوتا۔
حق معاف کرنے کی حیثیت
اس سے یہ بھی پتا لگ گیا کہ جب بھائی نے بہن کو حصہ نہیں دیا — دیکھا کہ میت پڑی ہوئی ہے تو بولا کہ بھئی میں تو ابھی ابھی سب تقسیم کرتا ہوں — اب بہن عورت ہے، صنف نازک ہے، کمزور ہے، وہ کہتی ہے: نہیں نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ بھائی نے نعرۂ تکبیر لگا دیا، خوش ہو گیا اور سارا مال ہڑپ کر لیا کہ بہن نے معاف کر دیا ہے۔ اس معاف کر دینے سے بھی معاف نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ ذہن میں رکھ لیں کہ میراث کا حق معاف کر دینے سے معاف نہیں ہوتا۔ بہن سو دفعہ کہہ دے کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، پھر بھی اس کو ملے گا۔ بیٹی سو دفعہ کہہ دے کہ مجھے میرے باپ یا میری ماں کے مال میں سے کچھ نہیں چاہیے، بھائی! آپ بس میرے لیے دعائیں کرنا۔ پھر بھی یہ معاف نہیں ہوگا کیونکہ وراثت حقِ جبری ہے، یہ مل کے رہتا ہے، اختیاری نہیں۔ یہ وراثت کا سب سے اہم اور بڑا ضابطہ ہے۔
حق سے دستبرداری کی حیثیت
اسی طریقے سے زندگی میں اگر کبھی کسی بیٹی نے کہہ دیا کہ ابو! مجھے آپ کے مال میں سے کچھ نہیں چاہیے۔ اور ایک بیٹے نے اس کو محفوظ کر لیا اور مرنے کے بعد بہن کو بولا کہ آپ نے تو خود کہا تھا کہ مال نہیں چاہیے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چاہے زندگی میں سو دفعہ اس نے کہہ دیا ہو، پھر بھی ملے گا، کیونکہ وراثت حقِ جبری ہے، یہ اللہ کا بتایا ہوا ضابطہ ہے، مل کے رہے گا۔
اپنا حق دینے کی جائز صورت
ہاں، ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ بہنوں کو ان کا حق دے دیا جائے اور وہ ان کے قبضہ میں آجائے، پھر کسی بہن کی مرضی ہے کہ وہ سارا بھائی کو دینا چاہے تو دے دے۔ لیکن آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ جب پیسے آ جائیں تو اس کے بعد کوئی کسی کو دے دے۔ اے ٹی ایم کے اندر ہم جاتے ہیں اور کارڈ ڈالتے ہیں کہ بھئی اتنے پیسے نکال لیں، تو اس کے بعد سب سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ کیا پیسے باہر آتے ہیں؟ نہیں! پہلے کارڈ باہر آتا ہے۔ یہ مشین بنانے والے نے بہت سوچ سمجھ کے بنایا ہے اور ان کو پتا ہے کہ اگر پہلے پیسے باہر کر دیے تو پیسہ دیکھ کر تو انسان اوقات بھول جاتا ہے، وہ تو کارڈ لیے بغیر نکل جائے گا، اس لیے پہلے اے ٹی ایم مشین کارڈ باہر نکالتی ہے۔ تو جتنے بھی لوگ کہتے ہیں کہ بہن نے معاف کر دیا، بیٹی نے معاف کر دیا، تو ایک دفعہ ان کو دے کر دیکھو، پھر اگر معاف کر دے تو بتا دینا کہ معاف کیا ہے۔ لہٰذا میراث کے اندر یہ ضابطہ رہنا شرعاً بہت ضروری ہے۔
حق کا تقاضا کرنے کی ضرورت
اپنے حق کا تقاضا کرنا بھی سیکھیں کہ اگر آپ کا کوئی بڑا چلا گیا اور اللہ نے آپ کو اس کی میراث میں سے کچھ دینا ہے، تو بعض لوگ شرماتے ہیں کہ میں بھائی سے کیسے مانگوں؟ حالانکہ اپنے حق کا تقاضا کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اور یہ بھی سن لیں کہ اگر وقت کے اوپر آپ نے اپنے حق کا تقاضا نہیں کیا تو پھر آپ کو زندگی بھر وہ چیز نہیں ملے گی، پھر آپ روتے دھوتے رہیں گے۔ وقت پر کھڑے ہوں کہ مجھے میرا حق چاہیے، بھلے کسی کو برا لگے۔ جب وہ مال ہڑپ کر سکتا ہے اور اس کو برا نہیں لگ رہا، تو آپ کو اپنا حق مانگتے ہوئے کیوں برا لگ رہا ہے؟
لہٰذا گھر جا کر اپنی بیٹیوں کو اور اپنی بہنوں کو ابھی سے ہی مسئلہ سمجھائیں کہ مرنے کے بعد تم نے حق مانگنا ہے، شرمانا نہیں ہے، تمہارا حق کا تقاضا کرنا ہرگز غلط نہیں ہے۔ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ مرنے کے بعد میرا بیٹا کچھ بھی کہہ دے، آپ نے اپنا حق مانگنا ہے، ادب سے مانگنا ہے، شرمانا نہیں ہے اور حق کی پوری وصولی کرنی ہے، وقت پر خاموشی ہو گئی تو پھر زندگی بھر نہیں ملے گا۔
مال کی ملکیت کا ابہام
ہمارے ہاں یہ بات پتا نہیں ہوتی کہ اس مال کا مالک کون ہے۔ جبکہ وراثت چلتی ہے مملوکہ مال میں۔ مرنے کے بعد مسئلہ پوچھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں ہے کہ فرنیچر کس کا ہے، تو پھر مفتی صاحب کیا جواب دیں گے؟ لہٰذا زندگی کے اندر اپنی ملکیت کی چیزوں کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، ہر بندے کو پتا ہونا چاہیے کہ بھئی یہ گاڑی فلاں کی ہے، گھر فلاں کا ہے، فرنیچر فلاں کا ہے، کاروبار فلاں کا ہے، بیٹے کی کاروبار میں حیثیت کیا ہے۔ جب ابہام ہوتا ہے تو مرنے کے بعد وہ مفتی صاحب کو پریشان کرتے ہیں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا، ہم تو ایسے ہی کام کر رہے تھے۔
لہٰذا ہر چیز کا پتا ہونا بہت ضروری ہے کہ کون سی چیز کس کی ہے۔ بعض چیزیں بڑی سستی سی ہوتی ہیں جیسے کپڑے ہیں، پین ہیں، چشمے ہیں، گھڑی وغیرہ معمولی سی ہے، تو اس کے متعلق یہ اصول ہے کہ یا تو سارے ورثاء بیٹھ کر ٹیبل ٹاک کریں کہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دو، اور اگر قیمتی چیزیں ہیں تو ان کی قیمت لگوائی جائے اور سب کو میراث میں تقسیم کیا جائے، یا کوئی وارث یہ کہہ دے کہ والد صاحب کی یا میری والدہ کی یہ ساری چیزیں مجھے دے دو اور میں اس کی رقم جمع کرا دیتا ہوں جو ورثے میں تقسیم ہو جائے۔
تقسیمِ وراثت کی ترتیب
جب کوئی شخص مرتا ہے تو مرنے کے بعد سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کا خرچہ مرحوم کے مال میں سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے لیے شریعت نے بیٹے کو، بیٹی کو، والدین کو مکلف نہیں بنایا ہے۔ مرنے کے بعد اس کے اپنے مال میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچہ نکلے گا۔
اس کے بعد اگر اس نے کوئی قرضہ لیا ہوا ہے تو اس کے ترکے میں سے وہ قرضہ ادا ہوگا۔
قرضے کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی تھی تو وہ ایک تہائی کے اندر نافذ کی جائے گی۔
پھر جو مال بچے گا اُس کی مارکیٹ ویلیو نکال کر تمام ورثاء میں اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
اس میں ایک بات یہ بھی ذہن میں رکھ لیں — جو میں بطور مبالغہ عرض کر رہا ہوں — کہ مرحوم کے دانتوں میں الائچی کا جو دانہ پھنسا ہوا ہو، اس کو بھی میراث میں تقسیم کیا جائے۔ کیونکہ عام طور پر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہمارے والد صاحب کا یہ گھر تھا، اس کو کیسے تقسیم کریں؟ تو بھئی، باقی چیزیں کہاں ہیں؟ کیونکہ جب کوئی شخص مر گیا تو اس کی ملکیت کی ساری چیزیں گھڑی، گاڑی، گھر، جائیداد، کیش وغیرہ سب کو جمع کیا جاتا ہے اور پھر تقسیم کیا جاتا ہے۔ محض کوئی ایک چیز تقسیم والی نہیں ہے، سب چیزوں کی تقسیم ہو گی۔ اس کو میں نے یوں سمجھا دیا کہ الائچی کا دانہ پھنسا ہو تو وہ بھی تقسیم ہوگا، تو جب اتنے مبالغے سے ایک بات کی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز جو مرحوم کی ملکیت میں ہو، وہ تقسیم ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ تین الگ الگ چیزیں ہیں:
- ہبہ — جس کا تعلق زندگی میں کوئی چیز گفٹ کرنے سے ہوتا ہے، اس کے احکام الگ ہیں۔
- وصیت — جس کا مطلب ہے میرے مرنے کے بعد یوں کر دینا، اس کے ضابطے الگ ہیں۔
- میراث اور ورثہ — یہ مرنے کے بعد اُس کا مال ہے اور اس کا ضابطہ الگ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تمام فقہی مسائل سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے (آمین)۔
https://youtu.be/vywK9qblLxM
غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ
دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد مسلمانوں کی طرف سے یہ مسئلہ کثرت سے پوچھا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں غیر مسلم حضرات کو سلام کرنے کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ بالخصوص وہ مسلمان جو مغربی ممالک میں آباد ہیں، جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہیں، انہیں اس مسئلے کا زیادہ سامنا رہتا ہے۔ میں نے اس مسئلے کی وضاحت قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہو سکے۔
اس سلسلے میں بطور خاص یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے فقہائے کرام نے سماجی، معاشرتی، سیاسی، بین الاقوامی اور اہلِ ذمہ غیر مسلموں سے متعلق مسائل پر نہایت دقتِ نظر کے ساتھ گفتگو فرمائی ہے، لیکن، چونکہ یہ فقہی ذخیرہ زیادہ تر اُس عہد میں مرتب ہوا ہے جب مسلمان عروج، غلبہ اور اقتدار کی حالت میں تھے، اس لیے ان کے اجتہاد و استنباط میں ان حالات کی پوری جھلک نمایاں طور پر موجود ہے۔
اب جبکہ وہ حالات باقی نہیں رہے اور دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل چکے ہیں تو ضروری ہے کہ موجودہ حالات کے پس منظر میں بعض مسائل پر ازسرنو غور کیا جائے، خصوصاً ایسے مسائل میں جہاں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو، وہاں ضرورت کے موقع پر جس فقیہ کے قول میں مسلمانوں کیلئے آسانی اور سہولت کا پہلو موجود ہو، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ البتہ اس سلسلے میں سلفِ صالحین کے اجتہادات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے ارشادات، سیرت نبویؐ کے اشارات اور شریعتِ اسلامی کے بنیادی اصول و قواعد کو بھی پیش رکھنا نہایت ضروری ہے۔
بہرحال زیربحث مسئلہ یہ ہے کہ غیر مسلموں سے ملاقات کے وقت انہیں پہلے سلام کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یا غیر مسلم کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟
غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا
اس مسئلے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ جو حضرات عدمِ جواز کے قائل ہیں اور غیر مسلم کو سلام میں پہل کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ اپنے موقف کے ثبوت میں ایک روایت پیش کرتے ہیں جسے متعدد محدثین نے الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔
عن سھیل بن ابی صالح قال خرجت مع ابی الی الشام فجعلوا یمرون بصوامع فیہا نصاری فیسلمون علیہم فقال ابی: لا تبدوہم بالسلام، فان ابا ہریرۃ حدثنا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لاتبدوہم بالسلام فاذا لقیتموہم فی الطریق فاضطر وہم الی اضیق الطریق۔ (ابو داؤد، کتاب الادب باب فی السلام علی اہل الذمۃ: ۳۶۶/۲، رقم الحدیث: ۵۲۰۵) (مسلم، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام ۲۱۳/۲۰)
سھیل بن ابی صالح کہتے ہیں، میں اپنے والد کے ہمراہ ملک شام کی طرف گیا، وہاں لوگ ایسے گرجوں کے پاس سے گزرنے لگے جن میں عیسائی موجود تھے، پس وہ انہیں سلام کرنے لگے، اس پر میرے والد نے کہا: انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل کتاب کو پہلے سلام نہ کرو، بلکہ جب تمہاری ان سے راستے میں ملاقات ہو تو انہیں تنگ راستے کے تنگ حصے میں چلنے پر مجبور کرو۔‘‘
مذکورہ حدیث اور اس مضمون کی دیگر روایات کی بنیاد پر جمہور فقہائے کرام کے نزدیک غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا جائز نہیں ہے۔
البتہ امام نوویؒ اور علامہ ابن قیمؒ نے اس مسئلے میں متعدد صحابہ اور فقہاء، مثلاً: حضرت ابن عباسؓ، ابو امامہؓ، ابن ابی محیریزؒ کے متعلق لکھا ہے کہ یہ حضرات عمومی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کو سلام میں پہل کرنا جائز ہے۔ اسی طرح فقہائے احناف کے نزدیک ضرورت اور حاجت کے موقع پر غیر مسلم کو پہلے سلام کرنا جائز ہے۔ فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:
واما التسلیم علی اہل الذمۃ، فقد اختلفوا فیہ ایضا، قال بعضہم لاباس بہ، و قال بعضہم لا یسلم علیہم، وہذا اذا لم یکن للمسلم حاجۃ الی الذمی، فان کان لہ حاجۃ فلا باس بالسلام علیہ، لان النہی عن السلام لتو قیرہ، ولا توقیر للذمی اذا کان السلام لحاجۃ۔ (والفتاوی التاتارخانیۃ: ۱۸ /۸ / کتاب الکراہیۃ، الفصل الثامن فی السلام والتشمیت، ط، فاروقیہ، لاہور ۱۴۳۱ھ)
اب اس سلسلے میں نکتۃ الغور یہ ہے کہ اسلامی عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور موجودہ حالات میں انہیں اسلام سے متعلق ہر قسم کی بدگمانی سے بچانے اور اسلام سے مانوس اور قریب کرنے سے بڑھ کر کون سی بڑی ضرورت اور حاجت ہو سکتی ہے۔ ہمارے فقہائے کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ: اذا دخل ذمی علی مسلم فقام لہ، ان قام طمعا فی اسلامہ فلا باس بہ وان قام تعظیمالہ من غیر ان ینوی شیئا مماذ کرنا او قام طمعا لغناہ کرہ لہ ذالک۔ (فتاویٰ ہندیہ، ۸ ۳۴/۵، ط: رشیدیہ)
جب کوئی ذمی شخص کسی مسلمان کے پاس آئے اور وہ اس کیلئے کھڑا ہو جائے تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اس ذمی کے اسلام لانے کے طمع میں کھڑا ہوا تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر وہ کسی چیز کی نیت کے بغیر — جن کا ہم نے ذکر کیا — اس کے تعظیم کیلئے کھڑا ہوا، یا اس کی دولت مندی کے باعث کھڑا ہوا، تو یہ اس کیلئے مکروہ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ سلام ایک دعا ہے اور اس کے دعا ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ اور حدیث شریف کے مطابق غیر مسلم کیلئے مغفرت کے علاوہ ہدایت، صحت، تندرستی اور عافیت وغیرہ کی دعا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے پینے کی کوئی چیز طلب کی تو آپ نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حسین و جمیل رکھے۔ چنانچہ مرتے وقت تک اس کے بال سیاہ رہے۔ (مصنف عبد الرزاق۳۸۴،۱۰، اعمل الیوم واللیۃ لابن السنی، ۲۵۳، دار لتقامۃ)
شارح مسلم امام نوویؒ لکھتے ہیں: ’’اعلم انہ لا یجوز ان یدعی لہ بالمغفرۃ وما اشبھہ اللکفار لکن یجوز ان یدعی لہ بالہدایۃ وصحۃ البدن والعافیۃ وشبہ ذلک۔‘‘ (کتاب الاذکار للنووی ۵۰۹، ط: دار ابن حزم)
فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ نصرانی پڑوسی سے مصافحہ کرنے میں بھی شرعاً کوئی مضائقہ اور حرج نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’ولا باس بمصافحۃ المسلم جارہ النصرانی اذا رجع بعد الغیبۃ ویتاذی بترک المصافحۃ۔‘‘ (۳۴۸/۵/ ط: رشیدیہ) اور اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان اپنے عیسائی پڑوسی سے مصافحہ کرے، جب وہ گھر سے باہر رہنے کے بعد واپس لوٹے اور مصافحہ نہ کرنے پر وہ اذیت محسوس کرتا ہو۔
امام ابوحنیفہؒ کے استاذ جلیل القدر تابعی اور فقیہ حضرت ابراہیم نخعیؒ غیر مسلم کو سلام میں پہل کرنے کو جائز قرار دیتے ہے۔ ان کے شاگرد سلیمان الاعمش کا بیان ہے: میں نے اپنے استاذ حضرت ابراہیم نخعیؒ سے پوچھا: مجھے علاج و معالجہ کے سلسلے میں ایک نصرانی طبیب کے پاس جانا پڑتا ہے، کیا میں اس کو پہلے سلام کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ضرورت کے موقع پر انہیں سلام کر سکتے ہو۔ (احکام القرآن ۳ /۵۷۱، سورۃالمجادلۃ، ط: دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
امام جصاصؒ نے سورہ المجادلۃ کی آیت کریمہ: ’’واذا جاؤوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ‘‘ کی تفسیر میں مشہور صحابی حضرت عبد االلہ بن مسعودؓ کا واقعہ ان کے شاگرد، مشہور تابعی حضرت علقمہؒ کے حوالے سے یوں بیان فرمایا ہے:
ایک سفر میں ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہمراہ تھے۔ اس سفر میں ہمارے ساتھ کچھ غیر مسلم دیہاتی بھی تھے۔ حضرت علقمہؒ فرماتے ہیں کہ کچھ دور جا کر ان غیر مسلموں نے ہم سے الگ ہو کر دوسرے راستے کا رخ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر ان غیر مسلموں کو سلام کیا۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا: ’’کیا آپ اس میں کوئی کراہت نہیں سمجھتے؟‘‘ جواب میں حضرت عبدا اللہ بن مسعود ؓنے فرمایا: ’’انہ حق الصحبۃ‘‘ بے شک یہ ساتھ چلنے والے ساتھی کا حق ہے۔ اس واقعے پر علامہ جصاصؒ تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ظاہرہ یدل علی ان عبد اللہ بداہم بالسلام لان الرد لا یکرہ عند احد‘‘ اس کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے انہیں پہلے سلام کیا تھا، کیونکہ غیر مسلم کے سلام کا جواب دینا کسی کے نزدیک بھی مکروہ نہیں ہے۔ (احکام القرآن۳ /۵۷۱، سورۃالمجادلۃ، ط:دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
اور جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے فقہائے احناف نے بھی ضرورت اور حاجت کے موقع پر غیر مسلم کو پہلے سلام کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ مغربی میڈیا اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں لگا ہوا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہو سکتی ہے کہ انہیں سلام کے خوبصورت کلمے کے ذریعے قریب کر کے ان کے شبہات کا ازالہ کیا جائے اور اسلام کے متعلق ان کی ہر قسم کی بدگمانی کو دور کیا جائے۔
غیر مسلم کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا
غیر مسلم ملاقات کے وقت اگر کسی مسلمان کو سلام کرے تو شرعاً ان کے سلام کا جواب دینے کی تاکید ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اہلِ کتاب جب ہمیں ملتے ہیں تو وہ ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کے سلام کا جواب کیسے اور کن الفاظ میں دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگ جواب میں وعلیکم کہہ دیا کرو۔‘‘ (بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اہل الذمۃ بالسلام ۲/ ۲۵ ۹ / رقم الحدیث: ۶۲۵۷)
غیر مسلم کے سلام کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کے مروجہ اور مسنون طریقے کے برعکس صرف ’’وعلیکم‘‘ اور بعض روایات میں واو کے حذف کے ساتھ ’’علیکم‘‘ پر اکتفا کرنے کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ محدثین نے یہ بتائی ہے کہ یہودی جان بوجھ کر بدنیتی کے ساتھ اپنی زبانوں کو لوچ دیتے ہوئے السلام علیکم میں تحریف کر کے ’’السام علیکم‘‘ (تم پر موت واقع) کہا کرتے تھے۔ ان کے اس شاطرانہ طرز سلام کے جواب میں تو ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ’’علیکم السام واللعنہ‘‘ بھی کہا۔ جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نرمی کی تلقین فرمائی اور ان کے جواب میں ’’وعلیکم‘‘ کہنے کا حکم دیا۔ اب اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ آج کل غیر مسلموں میں عموماً بدنیتی اور الفاظ کا ہیر پھیر نہیں پایا جاتا۔ تو اگر وہ واضح الفاظ میں السلام علیکم کہہ دیں، تو کیا ان کے جواب میں و علیکم السلام کہا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں بعض فقہا و محدثین نے قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں: اگر سننے والے کو اس بات کا مکمل یقین ہو جائے کہ غیر مسلم نے اسے ’’السلام علیکم‘‘ ہی کہا ہے نہ کہ ’’السام علیکم‘‘ تو شریعت کے دلائل اور قواعد کا تقاضہ یہی ہے کہ اسے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ ہی کہا جائے؛ کیونکہ یہ بات عدل و انصاف کے باب سے ہے اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او ردوھا‘‘ جب تمہیں سلام کی صورت میں تحفہ دیا جائے تو اس سے اچھے الفاظ میں تحفۂ سلام کا جواب دو یا کم از کم انہیں الفاظ میں جواب دو۔ اس ارشاد الٰہی سے معلوم ہوا کہ فضل مندوب اور عدل واجب ہے۔ (احکام اہل الذمۃ، (۱۴۹ / فصل، ذکر معاملتہم عند اللقاء، دار الحدیث۔ القاھرۃ ۱۴۲۶ھ)
نتیجہ
ان تمام دلائل اور تفصیلات سے معلوم ہوا کہ فی زمانہ غیر مسلموں کو پہلے سلام کرنا جائز ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اب رہے وہ احادیثِ طیبہ جن میں غیر مسلموں کو پہلے سلام نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔ ان احادیث میں بعض محدثین نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ عمومی حکم نہیں تھا، بلکہ ایک خاص واقعے میں خاص حالات کے تحت یہ حکم دیا گیا تھا جو کہ اسی واقعے کے ساتھ خاص تھا۔ اور وہ یہ کہ جب صحابہ کرامؓ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سے فرمایا کہ: بنو قریظہ کے لوگوں کو پہلے سلام نہ کرنا۔
لکن قد قیل ان ہذا کان فی فضیۃ خاصۃ لما ساروا الی بنی قریظۃ قال: لا تبدوہم بالسلام۔ (زاد المعاد ۲/ ۳۸۸ فصل، فی ہدیہ فی السلام علی اہل الکتاب، ط: دار الرسالۃ العالمیۃ)
افواجِ پاکستان کا ترانہ
۶ ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے موقعہ پر پڑھا گیا
سید امین گیلانیؒ
ہر اک ظالم سے پنجہ آزمانا ہم کو آتا ہے
ہر اک مغرور کی گردن جھکانا ہم کو آتا ہے
وہ ہم ہیں جو لگا کر قہقہہ توپوں سے بھڑ جائیں
برستی گولیوں میں مسکرانا ہم کو آتا ہے
وطن کی آبرو پر داغ آنے دیں یہ ناممکن
وطن کی آبرو پر سر کٹانا ہم کو آتا ہے
جہادِ فی سبیل اللہ کا اعلان سنتے ہی
قضا کے ساتھ ہنس کر کھیل جانا ہم کو آتا ہے
خدا والے ہیں ہم، اے بت پرستو جانتے ہو تم
بتوں کو توڑنا، ڈھانا، گرانا ہم کو آتا ہے
عدو کے سر پہ بجلی بن کے گرنا جانتے ہیں ہم
جلانا، خاک کر دینا، مٹانا ہم کو آتا ہے
جہاں لاشیں گریں، بازو اُڑیں، شانوں سے سر اُچھلیں
وہاں بھی تن کے چلنا، دندنانا ہم کو آتا ہے
امیںؔ بزدل نہیں ہم، امن کے خواہاں تو ہیں بے شک
اگر فتنہ کوئی اُبھرے، دبانا ہم کو آتا ہے
(ہفت روزہ ترجمانِ اسلام، لاہور ۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء)
6 ستمبر 1965ء — وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
سلامتی ہی سلامتی کی دعائیں خلقِ خدا کی خاطر
ہماری مٹی پہ حرف آیا تو عہدِ فتحِ مبیں لکھیں گے
خلیلِ آتش نشیں کی میراث کا تسلسل نگاہ میں ہے
سو امتحاں سے گزرنے والوں پہ حرفِ صد آفریں لکھیں گے
6 ستمبر 1965ء پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے کہ جب روایتی دشمن بھارت نے اپنی بزدلی اور مکاری کا سہارا لیتے ہوئے رات کے اندھیرے میں وطنِ عزیز پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کر دی تھی۔ یہ ایسا مشکل وقت تھا کہ جب پاکستان کے پاس اسلحہ بارود کی بھی شدید کمی تھی اور باقی جنگی اسباب بھی بالکل مختصر تعداد میں تھے۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں دشمن دس گنا زیادہ تیاری کے ساتھ آیا۔ اس وقت افواجِ پاکستان اور عوام نے ایسی مثالی رفاقت داری قائم کی کہ آج تک دنیا میں نہ کوئی مثال ملی ہے اور نہ ہی کہیں کوئی مثال ملے گی۔
دشمن نے رات کے اندھیرے میں تقریباً 4 بج کر 5 منٹ پر اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ پاکستان پر اچانک حملہ کیا تھا لیکن اسے یہ قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ سرحدوں کے محافظ، پاکستان کے شیر جوان، جنہوں نے اس وطن کی حفاظت کی قسم کھائی ہے، جاگ بھی رہے ہیں اور ان پر کڑی نظر بھی رکھے ہوئے ہیں۔
دشمن اپنا خواب لے کر آیا تھا کہ ناشتہ لاہور کے جم خانہ میں جا کر کریں گے، شام کو فتح کا جشن مال روڈ پر منائیں گے، لیکن ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا وِرد کرنے والے جوان — جو ہمہ وقت تیار اور کامران رہتے ہیں — انہوں نے دشمن کے خواب چکنا چور کر دیے۔ جو لاہور کو تر نوالہ سمجھ رہے تھے وہ لیفٹیننٹ کرنل تجمل ملک کی 114 بلوچ رجمنٹ کا نوالہ بن گئے تھے اور پھر ہر طرف تباہ حال گاڑیاں اور درجنوں بکھری ہوئی لاشیں دشمن کے خواب غفلت کی گھناؤنی تصویر بنی ہوئی تھیں۔
6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاکستان پر ایک ساتھ لاہور، امرتسر، کھرلا، گجرات، فیروز پور گنڈا سنگھ اور سلیمانکی جیسے متعدد مقامات سے حملہ کیا تھا۔ دشمن کا خیال تھا اتنے سارے مقامات پر پاکستان کیلئے دفاع کرنا ناممکن ہو جائے گا، لیکن اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست میں اس کے ساتھ جو ہونے والا تھا وہ اس کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا۔
لاہور سے بلوچ رجمنٹ نے فوری عمل اس طرح سے کیا کہ گھاس کی بھری ہوئی بیل گاڑی خالی کر کے اس پر ریکوائل لیس رائفل لگا کر دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم وہیں پر روک دیے۔ ادھر سمندری حدود میں جب دشمن نے قدم بڑھانے کی کوشش کی تو پاکستان کی اکلوتی آبدوز نے بمبئی کی بندرگاہ پر ایسی کاری ضرب لگائی تھی کہ 23 ستمبر تک جاری رہنے والی اس جنگ میں پھر دشمن نے پانی کے راستے کوئی ہل چل نہیں کی تھی کیونکہ ایک ہی حملہ میں دشمن کا سارا مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔
دوسری طرف پلک جھپکتے ہی پاک فضائیہ نے دشمن کے پانچ جہاز زمین بوس کر دیئے تھے جس کے نتیجے میں دشمن کے ہوش ٹھکانے پر آ گئے تھے۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں پاکستانی قوم نے ہر لمحہ اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر انکی حوصلہ افزائی کی تھی۔
لاہور شہر میں توپ کے دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں لیکن ہر شخص اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اگلے محاذ پر اپنی فوج کی ہمت بندھانے کیلئے نکل پڑا تھا۔ لوگ اس وقت اپنے ساتھ کھانا اور ہار لے کر جاتے تھے اور جا کر کھانا فوج کو کھلاتے جبکہ ہار توپوں کو پہنا دیتے تھے۔ ہمارے جوان دشمن کے ٹینکوں کے سامنے اپنے پیٹ پر بارود باندھ لیٹ جاتے اور دشمن کے ٹینک اللہ اکبر کی صدا سے اڑا دیتے تھے۔ اس جنگ کے وقت جرائم کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ ہر شخص اپنے ملک و قوم کے وقار کی خاطر لڑ رہا تھا۔ زخمیوں کو اسپتال میں خون کا عطیہ دینے کیلئے لوگ گھنٹوں لائن میں کھڑے رہتے تھے لیکن وہ اپنے فوجی جوانوں کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک دینے کیلئے تیار تھے۔
1965ء کی جنگ میں وطن کے ننھے منے بچوں، بڑے بوڑھوں اور خواتین نے وہ کام کر دکھایا جو اُن کا نہیں تھا۔ ایسے مظاہر چشمِ فلک نے کئی ایک محاذوں پر دیکھے ہوں گے:
- اُس دور کے ایسے تین بچے — اب جہاں بھی ہوں خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ — جو مورچوں میں دشمن سے برسرپیکار محافظینِ وطن کو پانی کی بالٹیاں پہنچایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کی عمر بارہ، دوسرے کی دس، اور تیسرے کی ساڑھے آٹھ برس تھی۔ وہ تینوں سگے بھائی تھے اور والدین نے انہیں دعائیں دے کر یہ کام کرنے کو کہہ دیا تھا۔ سب سے چھوٹا محاذِ جنگ سے قریباً آٹھ میل کے فاصلے پر واقع اپنے گاؤں میں اپنی ماں سے درمیانے سائز کی پانی سے بھری بالٹی یا گھڑا لیتا اور اسے اٹھا کر قریباً آدھا میل تک لے جاتا، جہاں اس سے بڑا بھائی کھیتوں میں کوئی ڈیڑھ میل کا فاصلہ طے کر کے تیسرے سب سے بڑے بھائی تک پہنچاتا، اور پھر تیسرا بھائی اس پانی کو ایک خاص مقام تک پہنچایا کرتا، جہاں سے اس کے وطن کے سپاہی آ کر خود لے جاتے تھے۔ یہ عمل ان بھائیوں نے جنگ کے خاتمے تک سترہ روز تک جاری رکھا۔
- آفرین ہے اس بوڑھے ریڑھی بان پر جو محاذ کے نزدیک ترین ایک سرحدی گاؤں میں اکیلا صرف اس لیے رہتا تھا کہ وہاں سے پانی بھر کر اپنے فوجی جوانوں کی ضرورت پوری کرنے میں دن رات مگن رہے۔
محاورتاً تو یہی کہا جائے گا کہ قوم پشت پر تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ 1965ء کی جنگ پاکستان کی قوم نے فوج کے شانہ بشانہ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے
پاکستان کی عسکری اور دفاعی تاریخ کے روشن باب سے ہر دور کے افرادِ قوم کا آگاہ ہونا ضروری ہے کہ پاکستان کا روایتی دشمن بھارت کس طرح رات کی تاریکی میں پاکستان پر چڑھ دوڑا تھا اور افواجِ پاکستان نے وطنِ عزیز کا دفاع کس جوان مردی کے ساتھ کیا تھا:
- 6 ستمبر کا دن میجر راجہ عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ کی کمان میں غازی نہر کے کنارے دادِ شجاعت دینے والے مجاہدوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ہے، جنہوں نے بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا کر تاریخی کارنامہ سر انجام دیا۔ لاہور کے محاذ پر ارضِ وطن کے مایہ ناز فرزندوں میجر راجہ عزیز بھٹی (نشانِ حیدر) اور میجر شفقت بلوچ (ستارۂ جرأت جو بعد میں کرنل بنے) کی الگ الگ کمان میں صرف دو کمپنیاں تھیں۔ یہ کمپنیاں ایک ایک سو جانثاروں سے بھاری تھیں۔ بھارت نے اس سیکٹر پر توپ خانے کے ساتھ انفنٹری کی بھاری تعداد سے حملہ کیا تھا جبکہ پاکستان کی سرحدوں پر غیر متوقع حملے کو روکنے کیلئے کوئی تیاری نہیں تھی، لیکن ہمارے جوانوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بلاشبہ 6 ستمبر 1965ء ایک ایسا دن تھا جس نے پاکستان کے ایک ایک فرد کو جھنجھوڑ کر جگا دیا تھا۔
- 6 ستمبر کا دن بھارت کے علاقہ کھیم کرن تک اپنے نقوش پا چھوڑنے والے شہیدوں اور غازیوں کے آگے جبینِ نیاز خم کرنے کا ہے۔
- 6 ستمبر کا دن فاضلکا سیکٹر کے سر فروشوں کو عقیدت و محبت کا نذرانہ پیش کرنے کا ہے جن کے نعرۂ تکبیر کی صداؤں سے بھارتیوں کے دل ڈوبتے رہے۔
- 6 ستمبر کا دن چھمب اور جوڑیاں کی پر بیچ وادیوں اور اونچی کھائیوں کے چپے چپے پر بہادری کی داستانیں رقم کرنے والوں کی یاد میں گردنیں خم کرنے کا ہے۔
- 6 ستمبر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ آزادی کی حفاظت دراصل اللہ پر بھروسے، اپنے وطن عزیز سے بے پناہ محبت، اور دفاعِ وطن کیلئے قربانیوں کے جذبے سے ہوتی ہے۔ پاک بھارت کی اس جنگ نے ثابت کیا کہ ہمیشہ ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی جنگیں لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔ پاکستان پر خدا کی رحمت بادِ نسیم کی طرح سایہ فگن ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
آج پاکستان کو اسی 1965ء والے جذبے کی اشد ضرورت ہے، آج بھی پاک فوج کو بطورِ قوم ہماری ضرورت ہے، قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، ملک سے بیرونی عناصر کو نکالنے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر ستمبر 1965ء والے قومی و اجتماعی جذبے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دفاعِ وطن کے تقاضوں کو آج بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
آئیے یومِ دفاع پر ہم سب مِل کر یہ عہد کریں کہ جب بھی پاکستان کو دفاع کی ضرورت پڑے گی تو پاکستان کا بچہ بچہ افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر وطنِ عزیز کا پورا دفاع کرے گا۔ کیونکہ یہ تقاضے آج اس حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسر پیکار ہے۔ پاکستان جو خود اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، اس کی افواج دفاعِ وطن کے لیے اندرونی اور بیرونی سرحدوں پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ ایک محاذ پر اسے بھارت جیسے شاطر اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے تو دوسری جانب اسے بیرونی اور اندرونی خلفشار کا بھی سامنا ہے۔ پاک فوج سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی محاذ پر دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے جو خدانخواستہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہے۔ اس یومِ دفاع پر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو سلامت رکھے اور پاک فوج میں یونہی وطن پر جانثار ہونے کا جذبہ قائم رکھے، آمین یارب العالمین۔
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا
اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
انٹرویو : ذیشان ہاشم
ذیشان ہاشم:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دوستو! پبلک چوائس کے اگلے پروگرام کے ساتھ میں حاضر ہوں۔ آج کا جو ہمارا موضوع ہے وہ اسلام اور شخصی آزادیوں سے متعلق ہے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے ایک پروگرام کے اندر ہم نے لبرل ازم کو ڈسکس کیا تھا اور یہ بھی کہ لبرل ازم سے کیا مراد ہے اور اس کی کیا تشریح ہے؟ اور پاکستان میں ایک لبرل سوسائٹی کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ تو اس پر بہت سارے دستوں کے مثبت ریسپانس آئے۔ اور کچھ دوستوں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان کیونکہ ایک اسلامی ملک ہے، یہاں مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے، تو لبرل ازم یہاں نہیں چل سکتا، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ تو اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ ہم اس ٹاپک پر بات کریں کہ کیا واقعی جو اسلام ہے وہ شخصی آزادیوں کی نفی کرتا ہے؟ یا اسلام بھی شخصی آزادیوں کو سپورٹ کرتا ہے؟
اس سلسلہ میں جو آج میرے مہمان ہیں، کسی تعارف کے محتاج نہیں، عمار خان ناصر صاحب، اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اسلامک اسٹڈیز میں گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں، ایک رسالہ نکالتے ہیں الشریعہ کے نام سے، پاکستان کے مذہبی حلقوں میں کافی معروف نام ہیں، اور آٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔
سب سے پہلے تو میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے ٹائم دیا۔
عمار خان ناصر:
جی، السلام علیکم، میں آپ کا ممنون ہوں کہ مجھے آپ نے دعوت دی، میری عزت افزائی ہے، اب یہ جو ایک سلسلہ آپ نے شروع کیا ہے فکری موضوعات پہ گفتگو کا، اس کا میں بہت قدردان ہوں، اللہ آپ کو بھی، اور جس ادارے سے آپ کر رہے ہیں، اس کو بھی جزائے خیر دے، ایک ضرورت آپ پوری کر رہے ہیں۔
ذیشان ہاشم:
آمین۔ عمار بھائی! میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام شخصی آزادیوں کو سپورٹ کرتا ہے یا اس کی نفی کرتا ہے؟
عمار خان ناصر:
اسلام میں جب کوئی بھی موضوع لیں گے تو دو تین بنیادی چیزیں ہیں جن کے تحت اس کو ہم ڈیفائن کر سکیں گے۔
- سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار اور جواب دہ مخلوق ہے۔ یعنی اس کو دنیا میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اس کو ایک ذمہ داری دی ہے اور اس کے لیے وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔
- اچھا، یہ جوابدہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کے پاس اختیار اور آزادی ہو۔ آزادی اور اختیار کے بغیر، اور کوئی ایک راستہ چننے کے لیے جو اس کو ایک space ملنی چاہیے، اس کے بغیر وہ جواب دہ نہیں ہو سکتا، اس کو ذمہ داری نہیں دی جا سکتی۔
- اور اس کے ساتھ اللہ نے — چونکہ وہ خالق ہے، اس نے انسان کو بنایا ہے — تو اس نے انسان کے لیے ایک صحیح راستہ اپنے نبیوں کے ذریعے سے بتایا ہے، جس میں حدود و قیود بھی شامل ہیں، اس میں پابندیاں بھی اس کو بتائی گئی ہیں کہ ان اخلاقی حدود کی، ان ضابطوں کی اس نے پابندیاں کرنی ہیں۔
تو ان تین چیزوں سے مل کر ایک مجموعی تصور بنے گا۔ اور اصل میں خدا نے انسان کو جو راہنمائی دی ہے شریعت کی صورت میں، اس سے یہ طے ہو گا کہ اللہ کے سامنے انسان کن چیزوں کے لیے جواب دہ ہے؟ اس کے لیے اس کو جو ضروری آزادیاں ملنی چاہئیں، وہ کیا ہیں؟ اور ان آزادیوں پر دنیا میں دوسرے انسان، یا کمیونٹی، یا ریاست، وہ کس حد تک اور کہاں قدغن لگا سکتی ہے؟
تو شخصی آزادی تو بہت اہم تصور ہے، اس لیے کہ دنیا میں انسان ایک کمیونٹی میں، ایک ریاست میں، ایک معاشرے میں جیتا ہے، لیکن یہ اس کے لیے عمل کرنے کا ایک میدان ہے۔ اللہ کے سامنے تو وہ شخصی طور پر جواب دہ ہے، ہر انسان اپنے اپنے لیے جوابدہ ہو گا۔ اس لیے شخصی آزادی انسان کو ملنا، اور شخصی آزادی میں غلطی اور نیک عمل دونوں کی گنجائش اس کو ملنا، یہ بہت ضروری ہے۔ اور اس میں ایک توازن ہو گا کہ کہاں اس کو آپ روک سکتے ہیں، کہاں اس کو قدغن لگا سکتے ہیں۔ اور شریعت میں اور اسلام میں جو قانون بتایا گیا ہے، اس سے اس کا جواز لینا پڑے گا کہ کہاں آپ انسان کو پابند کر سکتے ہیں۔
ذیشان ہاشم:
ٹھیک ہے، عمار بھائی! ہم مغرب میں لبرل ازم کی جو ہسٹری دیکھتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو کلاسیکل لبرل ازم کے لوگ تھے، انہوں نے اپنے مقدمے کا، یا اپنے تھیسس کا بنیادی نکتہ یہ رکھا کہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، اور یہ جو آزادی کا تعلق ہے یہ خدا اور بندے کے درمیان ہے، اور اس میں یہ جو آزادی ہے یہ کسی ریاست نے یا کسی مذہبی ادارے نے یا کسی اور اتھارٹی نے انسان کو نہیں دی، یہ خدا نے دی ہوئی ہے، اور انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کو مل جاتی ہے یہ آزادی۔ تو اس طرح اس تصور کے ساتھ انہوں نے ریاست کی اس اتھارٹی کی نفی کی کہ وہ شخصی آزادیوں پر کوئی قید لگا سکتی ہے، بشرطیکہ کسی ایک شخص کی شخصی آزادی کسی دوسرے شخص کی شخصی آزادی کو چیلنج نہ کرے۔ ورنہ یہ کہا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی دنیا میں موجود نہیں ہے جو خدا کی طرف سے دی گئی اس شخصی آزادی کو چیلنج کر سکے۔ تو اس طرح انہوں نے ایک minimum ریاست، ایک ایسی ریاست کا تصور قائم کیا کہ جو شخصی آزادیوں کا تحفظ کرے گی، نہ کہ شخصی آزادیوں پر قدغن لگائے گی۔
تو اسلام جس ریاست کا تصور پیش کرتا ہے، یا جس ریاست کے تصور کو سپورٹ کرتا ہے، اس کے اندر کیا ایک خلیفہ یا ایک حکمران شخصی آزادیوں پر قید لگا سکتا ہے، اپنی اتھارٹی کے ساتھ؟
عمار خان ناصر:
میں نے پہلے سوال کے جواب میں جو بات عرض کی، وہ ایک بنیاد ہمیں دیتی ہے کہ اس سے ہم اِس سوال کو بھی اور اس کے جواب کو سمجھ سکیں۔ انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے ایک شخصی ذمہ داری کے ساتھ، اور ہر آدمی اپنی شخصی حیثیت میں خدا کو جواب دے گا۔ لیکن اللہ نے انسان کو دنیا میں پیدا کیا ہے ایک معاشرے میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آزادی بالکل مطلق نہیں ہو گی، اس کے ساتھ دوسرے لوگ رہ رہے ہیں، ان کے حقوق بھی وابستہ ہوں گے، ان کی آزادیاں ہیں، ان کو بھی تحفظ دینا پڑے گا۔ اور معاشرے ہی کی تنظیم کو آگے چل کر سیاسی طاقت اور ریاست کی شکل حاصل ہوتی ہے، وہ بھی اسی کے تحت ہو گی۔ یعنی فرد کو آزادی دی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ایک کمیونٹی میں رہنا ہے، ایک معاشرے میں رہنا ہے، اور مل جل کر ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنی ہے، ایک دوسرے کی آزادیوں کا خیال رکھنا ہے، اور اسی مقصد کے لیے ریاست بھی قائم کی جاتی ہے، اسی مقصد کے لیے سیاسی طاقت کا جو ادارہ ہے وہ بھی قائم کیا جاتا ہے۔
تو سیاسی طاقت کا ادارہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جو قانون، جو اخلاقی اصول، جو تصورات فرد کو govern کر رہے ہیں، اس کو گائیڈ کر رہے ہیں، اور افراد کے باہمی تعلقات کو اور معاشرے کو govern کر رہے ہیں، وہی ریاست کو اور اس کے اختیار کو بھی govern کر رہے ہیں۔ یعنی خدا کی دی ہوئی رہنمائی کے تحت اور شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے تحت، افراد کے جب آپس کے تعلقات بنتے ہیں تو ان کو بھی ایک دوسرے پر moral authority حاصل ہو جاتی ہے، اور وہ ایک دوسرے کو restrict کر سکتے ہیں، کمیونیٹیز کر سکتی ہیں۔ تو اسی اصول کے تحت ریاست بھی کر سکتی ہے لیکن وہ ازخود کوئی حیثیت نہیں رکھتی کہ کسی اخلاقی یا قانونی یا شرعی جواز کے بغیر محض طاقت کے زور پر یہ طے کرے کہ اِس کو یہ آزادی دینی ہے اور اُس کو نہیں دینی۔ ایسا نہیں ہے کہ مثلاً فرعون کے بارے میں قرآن نے بیان کیا — چونکہ وہ طاقتور تھا، دیوتا مانا جاتا تھا، اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا، تو اس کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں یہ طے کر دے کہ ہم ان کے بچوں کو قتل کر دیا کریں گے تاکہ کل کو ان کی آبادی بڑھ کر کہیں ہمارے لیے خطرہ نہ بنے۔ تو اس طرح کی سیاسی طاقت کا جو تصور ہے وہ محض انسان کو خدائی اختیار میں شریک کرنے سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے شاید مغربی فکر میں بھی بادشاہت کے متعلق بات کی جاتی تھی کہ اس کو absolute authority حاصل ہے تو اس کے لیے divine right کا حوالہ دینا پڑتا تھا۔
اسلام اس طرح کی کسی سیاسی طاقت کو خدا کی نمائندہ یا خدا کی طرف سے دی ہوئی اتھارٹی کے طور پر نہیں دیکھتا۔ یہ معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، اس کو انجام دینے کے لیے اس میں کچھ اتھارٹیز آپ کو تقسیم کرنی پڑتے ہیں، انہی میں سے ایک دائرے میں ایک درجے میں اتھارٹی آپ سیاسی طاقت کو بھی دے دیتے ہیں، لیکن وہ سوسائٹی کی دی ہوئی ہوتی ہے، اور (وہ سیاسی طاقت) اس کو جوابدہ ہوتی ہے، انہی حدود کے اندر وہ مقید ہوتی ہے، اس سے باہر کوئی اختیار یا اتھارٹی ریاست کو حاصل نہیں ہوتی۔
ذیشان ہاشم:
اچھا، دوسری چیز ہم یہ دیکھتے ہیں، جیسا کہ آپ نے کہا کہ مغرب کے اندر جو بادشاہ ہے، یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی طاقت خدا کی طرف سے عطا شدہ ہے، تو وہ ڈیوائن رائٹس اختیار کرتا تھا۔ ساتھ میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایک چرچ کا ادارہ موجود تھا کہ جو سمجھتا تھا کہ خدا اور بندے کے درمیان وہ بھی ایک تعلق ہے۔ تو جو ویسٹرن لبرل ازم ہے، جو کلاسیکل لبرل ازم ہے، اس نے اس ادارے کی نفی کی کہ خدا اور بندے کے درمیان چرچ نہیں آ سکتا، اور چرچ کوئی ایسی اتھارٹی نہیں رکھ سکتا کہ جو شخصی آزادیوں پر قید لگائے۔
اسی طرح پاکستان کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ایک مذہبی طبقہ موجود ہے کہ جو فتوے کو ایک قانون کا درجہ دیتا ہے۔ اور ایک ریاست کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مقننہ یا قانون ساز اسمبلی ہوتی ہے اور وہ کسی اصول کی بنیاد پر قانون طے کرتی ہے۔ جیسا کہ ۱۹۷۳ء کے اندر مذہب کو بھی ایک اصول کا درجہ دیا گیا ہے اور انسانی حقوق کو بھی ایک اصول کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ گلی محلوں کے اندر فتوے کے ذریعے سے قانون ساز جو ادارے موجود ہیں، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ اتھارٹی، قانون بنانے کی اتھارٹی، کسی مذہبی عالم کے پاس موجود ہے؟ اور وہ جو اتھارٹی موجود ہے، وہ شخصی آزادیوں پر کوئی قید لگا سکتی ہے؟ اگر اس سوال کا میں خلاصہ کروں تو، جو مذہبی طبقہ ہے، جو علماء کا طبقہ ہے، کیا وہ بھی ایک اتھارٹی رکھتا ہے کہ وہ شخصی آزادیوں پر قید لگا سکے شریعت کی بنیاد پہ؟
عمار خان ناصر:
ہمارے کانٹیکسٹ میں یہ ایک بہت ہی اہم اور بنیادی سوال ہے۔ دیکھیں، اسلام میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جو بطور طبقے کے اتھارٹی رکھتا ہو۔ اتھارٹی اگر کسی فرد کو یا کسی ادارے کو یا کسی ایک منصب کو ملتی ہے تو وہ معاشرے کی جو مجموعی ذمہ داریاں ہیں، اور اس کی تنظیم کی ذمہ داریاں ہیں، تو ان کے تحت اخلاقی اور انتظامی اصولوں پر ملتی ہے۔ اب جو دین کا علم ہے، یعنی شریعت کا علم، یہ بنیادی چیز ہے۔ اور علم جس کے پاس ہو اور جس نے وہ علم حاصل کیا ہو، شریعت میں مہارت حاصل کی ہو، اس سے ایک moral authority ایک عالم کو سوسائٹی میں خودبخود ملتی ہے۔ اور اس کی بنیاد پر لوگ اس سے رجوع کرتے ہیں، اس سے رائے لیتے ہیں، اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ حکومتیں بھی علماء سے رائے لے سکتی ہیں، لیتی رہی ہیں اور عمل کرتی ہیں۔ لیکن اس میں کوئی جبر نہیں ہوتا، اس آدمی (عالم) کی کوئی شخصی اتھارٹی نہیں ہوتی، اس کا علم اور مہارت ہوتی ہے جو اصل میں اس کو ایک اخلاقی اور علمی رتبہ دیتی ہے اور اس سے پھر لوگ استفادہ کرتے ہیں۔
یہ تو ہو گئی فطری طور پر پیدا ہونے والی ایک اخلاقی یا علمی اتھارٹی جو لوگوں کو حاصل ہوتی ہے، جیسے مثلاً طب کے معاملے میں کوئی اچھے ڈاکٹرز ہوں گے تو ان کی رائے کو ایک وزن حاصل ہو گا، کوئی انٹرنیشنل لاء کا ادارہ ہے تو اس کے ماہرین کو حاصل ہو گا، تو اسی طرح دین کے اور شریعت کے علماء کو بھی یہ اخلاقی اتھارٹی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن سوسائٹی نے کسی مذہبی طبقے کو یہ اتھارٹی نہیں دی کہ وہ ایک طبقے کی حیثیت سے باقی طبقوں پر حاکم بنے اور ان کے بارے میں فیصلے کرے۔ خاص طور پر جن کی قانونی implications ہوں، قانونی مضمرات ہوں۔ نہ کسی طبقے کو سوسائٹی نے دیا ہے، نہ کسی عالم کو دیا ہے۔ سوسائٹی نے یہ اختیار ریاست کو اور ریاستی ادارے کو دیا ہے۔
اصل میں ہمارے ہاں جو رویہ ہے اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے، جس کو لوگ محسوس نہیں کرتے یا نظرانداز کر دیتے ہیں، اور بگڑ کر اس نے یہ شکل اختیار کر لی ہے۔ اصل میں ہمارے جو pre-modern مسلمان معاشرے ہیں، ان میں ہمارا جو عدالتی نظام ہے قضا کا، وہ علماء کے سپرد ہوتا تھا، اور علماء لوگوں کے کیسز کے فیصلے کرتے تھے، عدالتی فیصلے کرتے تھے۔ اور اسی طرح سوسائٹی میں کوئی عمومی بڑا مسئلہ آ گیا ہے تو حکمران بھی ان سے رائے لیتے تھے، اور عالم کے شخصی وزن کے لحاظ سے یا ان کے رتبے کے لحاظ سے حکمران بھی بڑی اہمیت دیتے تھے ان کی آراء کو، اور اس سے ہٹ کر عموماً فیصلے دینی معاملات میں وہ نہیں کرتے تھے۔
تو اصل میں تاریخ میں ہمیں مثالیں ملتی ہیں کہ بعض بڑے علماء، جن کو قضا کا منصب حاصل ہوتا تھا، اور جن کو ایک طرح سے سوسائٹی نے بھی اور ریاست نے بھی ایک اتھارٹی دی ہوئی تھی کہ وہ قانونی معاملات میں رائے دیں، تو وہ رائے دیا کرتے تھے۔ اب جدید دور میں وہ ختم ہو گیا ہے۔ جدید دور میں قضا کا، عدالت کا، قانون کی تعبیر و تشریح کا ایک الگ میکنزم بن گیا ہے۔ تو جو سمجھدار علماء ہیں، جو معاملہ فہم علماء ہیں، وہ پھر اس طرح کی چیزوں میں دخل نہیں دیتے، وہ ملحوظ رکھتے ہیں کہ اب سوسائٹی نے کیا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے ہاں صرف مذہبی علماء نہیں ہیں، ہمارے ہاں مذہب کے عنوان پر بولنے والے زیادہ لوگ ریلیجئس ایکٹرز ہوتے ہیں، جو اصل میں مذہب کے عنوان سے معاشرے میں اپنی کوئی شناخت بنانا چاہتے ہیں، یا کوئی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس طرح کے کام کرتے ہیں جس کو نہ تو مذہب اور مذہبی علم کوئی جواز دیتا ہے، نہ ہماری سوسائٹی نے دیا ہوا ہے، اور نہ ریاست نے۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے لیکن میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ دینی لحاظ سے، شرعی لحاظ سے اس کا کوئی جواز نہیں۔
(جاری)
https://youtu.be/Dyezox5yAZ4
ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب
وزیرِ داخلہ صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’پاکستان کا سسٹم کولیپس کر گیا ہے، تو اب ہمیں ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے۔‘‘
ناکامی پرکھنے کے اصول
مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات انہوں نے کس بنیاد پر کہی، لیکن اگر بین الاقوامی سطح پر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ کوئی ریاست ناکام ہے یا نہیں، تو اس کا جو کرائٹیریا بنایا گیا ہے، وہ بارہ اصولوں کو مدِنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ میں وہ بارہ اصول ایک ایک کر کے آپ کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں اور پھر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو وزیرِ داخلہ صاحب نے بات کہی، تو اس کا مطلب کیا ہے اور اس سے کس نتیجے پر پہنچنے کی ضرورت ہے؟
1- قانون کا نفاذ
کسی ملک کے لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک مؤثر تھے اور کس حد تک جواب دہ تھے؟ اب اس اصول کا سب سے اچھا جواب وزیرِ داخلہ صاحب خود دے سکتے ہیں۔
2- قومی سوچ کا معیار
کسی ملک کی جو سیاسی، سماجی، مذہبی یا کوئی بھی اور قیادت تھی، تو وہ کتنی زیادہ تقسیم تھی؟ یعنی کسی ملک کے قائدین جو تھے، وہ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر کتنی ترجیح دیتے تھے؟
3- انصاف کی عملداری
کسی ملک میں جتنے بھی گروہ تھے — چاہے وہ ذاتیں تھیں، برادریاں تھیں، یا مذہبی فرقے تھے — تو وہ کیا سمجھتے تھے کہ اس ملک میں ان کے ساتھ انصاف ہو رہا تھا یا ظلم؟
4- معاشی حالت
کسی ملک میں معاشی زوال کتنا ہوا؟ اس کا بالکل سیدھا اور آسان سا اصول یہ ہے کہ وہاں کتنی انفلیشن تھی، کتنی مہنگائی تھی اور کتنی بے روزگاری تھی؟
5- قومی دولت کی تقسیم
کسی ملک میں کتنی غیر مساوی ترقی ہوئی؟ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ ایک طرف دس ارب روپے ایک ہی شہر کی ترقی پر لگائے گئے اور دوسری طرف ایک ارب روپیہ دس شہروں کی ترقی پر لگایا گیا؟
6- علم و ہنر کی قدر
کسی ملک میں ہیومن فلائٹ اور برین ڈرین کتنی ہوئی؟ یعنی کتنے انٹیلی جنسیا اور پروفیشنلز اس ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوئے؟ اب ہمارے حکمران تو یہ کہتے ہیں نہ کہ ’’جی اچھا ہوا ہے، باہر گئے ہیں، وہاں سے پیسے کما کر بھیجیں گے‘‘، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جتنے پیسے کما کر یہاں بھیجیں گے، اس سے کہیں زیادہ کما کر اُس ملک کو دیں گے۔ وہ ملک بیوقوف تو نہیں ہیں جو اُن کو وہاں پر بلا رہے ہیں۔
7- عوامی رائے کا احترام
کسی ملک کے لوگ کیا سمجھتے تھے کہ ان کی جو حکومت تھی، وہ کتنی قانونی تھی؟ کیا وہ کسی اصول کے مطابق بنی تھی، کیا وہ حق رکھتے تھے حکومت بنانے کا، یا کسی دو نمبر طریقے سے اقتدار انہوں نے لے لیا تھا؟
8- سیاسی شعور
کسی ملک کے جو لوگ تھے، ان کے اندر اویئرنس کتنی تھی؟ یعنی ان کے اندر سیاسی شعور کتنا تھا؟ کیا ان کو پتہ تھا کہ انسان کے بنیادی حقوق کیا ہوتے ہیں اور وہ انہیں مل رہے ہیں یا نہیں؟ کیا انہیں پتہ تھا کہ جب کوئی کہتا ہے کہ ناکام ریاست ہو گئی ہے، تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا انہیں سوال پوچھنے کی اجازت تھی؟
9- بنیادی حقوق
کسی ملک کے لوگوں کو بنیادی حقوق کتنے ملے؟
10- آبادی اور وسائل
آبادی میں اضافے کی وجہ سے کسی ملک کے وسائل اور اس کی سروسز کتنے زیادہ دباؤ کا شکار ہوئیں؟
11- شہری استحکام
پہلے تو ہم نے برین ڈرین کی بات کی کہ ملک کو چھوڑ کر باہر کتنے لوگ گئے؟ اب یہاں پر یہ ہے کہ کسی ملک کے اندر کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے والوں کی تعداد کتنی تھی؟ چاہے وہ ہجرت وار آن ٹیرر کی وجہ سے کی گئی، بے روزگاری کی وجہ سے ہو گئی، یا کسی اور ظلم کی وجہ سے ہوئی۔
12- بیرونی مداخلت
لاسٹ بٹ ناٹ دی لیسٹ، کسی ملک کے جو اندرونی معاملات تھے، ان میں جو بیرونی طاقتیں تھیں ان کی انوالومنٹ (دخل اندازی) کتنی زیادہ تھی؟
تو یہ بنیادی طور پر وہ بارہ اصول ہیں۔ اب وہ سیدھی سی بات کہتے ہیں نا کہ ’’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘‘۔ اگر مجھے گاڑی صحیح چلانی نہ آتی ہو تو میں یہ کہوں کہ گاڑی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ خود گاڑی کو صحیح طریقے سے چلانا سیکھوں!
کامیاب بنانے کے اقدامات
اگر ہم گاڑی صحیح طریقے سے چلانا سیکھنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سے یہ بارہ انڈیکیٹرز ختم ہو جائیں، اور ہم یہ نہ کہیں کہ ہمارا سسٹم کولیپس کر گیا ہے، تو اس کا آسان سا طریقہ ہے کہ تین کام کرنے کے ہیں:
1- سیاسی استحکام
آپ ملک کے اندر پولیٹیکل اسٹیبلٹی لائیں — سیاسی استحکام — یعنی جو الیکشن ہو وہ بالکل فری، فیئر اور ٹرانسپیرنٹ ہو۔ لوگوں کو اپنا ووٹ دینے کی آزادی ہو، جس کو انہوں نے ووٹ دیا ہو اسی کی حکومت بنے، اور حکومت جتنے عرصے کے لیے بنی ہے اسے وہ عرصہ پورا کرنے کی مکمل طور پر آزادی ہو۔ اگر آپ سیاسی استحکام لائیں گے تو آٹومیٹکلی آپ کے ملک میں معاشی استحکام بھی آ جائے گا، بصورتِ دیگر کسی صورت میں نہیں آ سکے گا۔
2- قانون کی بالادستی
رُول آف لا (قانون کی بالادستی) جو براہِ راست اُن سے متعلق ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایک طرف دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہ دوست کے ساتھ بھی انصاف ہو۔
3- حقوق کی پاسداری
میرٹ، یعنی جو جس چیز کا حق رکھتا ہے، اس کو وہی ملے۔
تو سیدھی سی بات میں نے آپ کو بتا دی کہ سیاسی استحکام، جس کے ساتھ لازم و ملزوم ہے معاشی استحکام، قانون کی بالادستی، اور میرٹ کی پاسداری۔ اگر یہ تین کام ہم کریں گے تو یہ جو ہمارا سسٹم ہے، اس سسٹم کے ساتھ بھی ہم ایک کامیاب ریاست بن سکتے ہیں۔ اور اگر یہ تین کام ہم نہیں کریں گے، تو دنیا کا جو مرضی سسٹم ہم لے آئیں، وہ سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتا۔
fb.com/reel/1571786577978989
پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
پانچویں ’’یومِ فتح‘‘ کی تقریب سے قائدِ جمعیت کا خطاب
مولانا فضل الرحمٰن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن تبعہم باحسانٍ الیٰ یوم الدین۔
نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیر امارتِ اسلامیہ افغانستان!
افغانستان کے ’’فتحِ مبین‘‘ کے پانچ سال مکمل ہونے پر اِس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک، اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صد بہ صد تائید کرتا ہوں۔ اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے، اس خیر سگالی کا جواب دوہری خیر سگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہو گا، اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہو گا۔
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملّتِ افغاں درآں پیکر دل است
در کشاد او کشادِ آسیا
از فسادِ او فساد آسیا
علامہ اقبالؒ نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد، پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا — مشرق وسطیٰ ہو، وسطی ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبی ایشیا ہو — اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے اُس کا ادراک کرنا ہوگا، اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھتے کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہو گا — ایک مستقبل، ایک وحدت — اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت میں مجتمع کر سکے گا۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہشمند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں۔ اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیشرفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہمسفر بن سکتی ہے۔ اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں، اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں، اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع میں، میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے۔ میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے، افغانستان کے اپنے بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عملدرآمد کے لیے صلاحیت عطا کرے، اور اس کے بیچ میں جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو — جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا — ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا نقشہ پیش کر سکیں، ان شاء اللہ۔ تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
میں بہت شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ میں نے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یکجان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یکجان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
fb.com/share/v/1D35WomXtP
سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی
تنظیمِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے جاری اکیس روزہ ملّی آگاہی مہم کے سلسلہ میں 9 اگست 2026ء کو قرآن آڈیٹوریم لاہور میں ایک سیمینار منعقد ہوا، جس سے مہمان مقررین جناب سراج الحق (سابق امیر جماعتِ اسلامی پاکستان) اور مولانا زاہد الراشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ) کے علاوہ جناب شجاع الدین شیخ (امیر تنظیمِ اسلامی پاکستان)، ڈاکٹر عارف رشید (صدر انجمن خدام القرآن لاہور)، اور جناب رضاء الحق (ناظم نشر و اشاعت تنظیمِ اسلامی) نے بھی خطاب کیا۔ ان تمام خطابات کی ایک جامع رپورٹ حسبِ ترتیب یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
جناب رضاء الحق:
جناب رضاء الحق نے اپنے افتتاحی خطاب میں امتِ مسلمہ کے عروج کے اسباب اور زوال کی وجوہات کا تذکرہ کیا اور مستقبل میں اَحیا کے لیے درکار عملی اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی روشنی میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل اطاعت و فرمانبرداری اور تقویٰ اختیار کرنا، قرآن سے وابستہ ہونا، اور اللہ کے دین کی دعوت و اقامت کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ختمِ نبوت کے بعد امتِ مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے، اور معاشرے میں دین کے قیام کی کوشش کرے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کو مسلمانوں کے عروج کا بہترین نمونہ قرار دیا۔ اس دور میں اسلام کو سیاسی و معاشرتی میدانوں میں نمایاں غلبہ حاصل ہوا۔ بعد کے ادوار میں بعض سیاسی نقائص پیدا ہونے کے باوجود مسلمان طویل عرصے تک عالمی سطح پر طاقتور رہے اور علم، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کرتے رہے۔
خطاب میں خلافتِ عثمانیہ کے دور کو بھی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کی اہم مثال قرار دیا گیا۔ انہوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں جبکہ خلافتِ عثمانیہ سیاسی طور پر کمزور ہو چکی تھی تب بھی نظامِ خلافت کی موجودگی نے بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو سیاسی وزن اور وقار فراہم کر رکھا تھا۔ اور امت کی اجتماعیت کے نتیجے میں دشمن قوتوں کے اندر مسلمانوں کا خوف اور احترام موجود تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے یورپی ممالک میں توہینِ رسالت پر مبنی ایک پروگرام کے خلاف خلافتِ عثمانیہ کے رد عمل کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں اس پروگرام کو ترک کر دیا گیا۔ اور پھر یہودیوں کی طرف سے ارضِ فلسطین میں جگہ کے حصول کے لیے خلافت کو مراعات کی پیشکش کا تذکرہ کیا، جسے سلطان عبد الحمید نے ’’معاہدہ عمریؓ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔
جناب رضاء الحق نے امتِ مسلمہ کے زوال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس کے اسباب میں داخلی کمزوریاں، باہمی تفرقہ، دنیا سے حد درجہ محبت، اور دین سے دوری کے ساتھ ساتھ بیرونی سیاسی و فکری مداخلتیں بھی شامل رہیں۔ ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘ (اٰل عمران ۱۰۳) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو، انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا بنیادی سرچشمہ اتحاد اور اللہ کی ہدایت سے وابستگی میں ہے۔
انہوں نے موجودہ دور میں مسلم دنیا کی سیاسی تقسیم، قومی مفادات کو امت کے وسیع تر مفاد پر ترجیح دینے، معاشی انحصار اور اسلامی اقدار سے دوری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگِ عظیم اول اور دوم کے بعد مسلمانوں کو مختلف قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا، جس کے باعث امت کی اجتماعی قوت کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے سودی معاشی نظام، سیکولر رجحانات، اور تعلیمی و سیاسی نظاموں میں اسلامی اصولوں سے دوری کو بھی امت کے مسائل کا حصہ قرار دیا۔
پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا، آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے اور اسلامی نظام کے قیام سے متعلق متعدد آئینی و تاریخی حوالہ جات موجود ہیں، تاہم عملی طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کی سمت میں مطلوبہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے خاص طور پر سود کے خاتمے، اسلامی اصولوں کے مطابق ریاستی نظام کی تشکیل، اور معاشرے میں دینی اقدار کے فروغ کو اہم قرار دیا۔
موجودہ عالمی حالات بالخصوص فلسطین اور غزہ کے تناظر میں جناب رضاء الحق نے مسلم ممالک کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی اجتماعی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں — غزہ بورڈ آف پیس وغیرہ — کے مقاصد پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے ذریعے وہ کہیں صہیونی طاقتوں اور ان کی ہمنوا قوتوں کو تقویت تو نہیں پہنچا رہے، اور یہ کہ ایسے اقدامات مظلوم مسلمانوں کی مدد اور ظلم کے خاتمے کے لیے کس حد تک مؤثر ہیں؟
خطاب کے اختتامی حصے میں انہوں نے قرآنِ مجید کی آیت ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کےدین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا‘‘ کو مرکزی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کے حالات بدلنے کا راستہ اسی اصول کی طرف واپسی میں ہے جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے ماضی میں عروج حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا آغاز فرد کی اپنی زندگی سے ہونا چاہیے، ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ اختیار میں دین کو نافذ کرنے، اپنے گھر اور معاشرے میں اس کی دعوت دینے، اور اقامتِ دین کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حضرت عیسٰی اور امام مہدی علیہما السلام کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے حالات اور بڑی عالمی تبدیلیاں کب رونما ہوں گی، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تاہم مسلمانوں کی ذمہ داری اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے اور آخرت کے عذاب سے نجات پائے۔
جناب رضاء الحق نے اس دعا کے ساتھ خطاب کا اختتام کیا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تفرقے سے نجات دے، باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرے، دین پر عمل اور اس کی دعوت و اقامت کی جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے، اور مسلم حکمرانوں سمیت پوری امت کو اسلام کی بنیاد پر متحد ہو کر آگے بڑھنے کی صلاحیت اور ہمت عطا کرے۔
ڈاکٹر عارف رشید:
ادارہ انجمن خدام القرآن لاہور کے صدر جناب ڈاکٹر عارف رشید نے اپنے خطاب میں امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت، پاکستان کے قیام کے مقاصد، اور بالخصوص رجوع الی القرآن کی اس تحریک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی جس کا آغاز ان کے والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔
ڈاکٹر عارف رشید نے کہا کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کے پسِ پشت اسلامی نظامِ زندگی کے قیام اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک عادلانہ معاشرے کی تشکیل کا تصور موجود تھا۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ اسی مقصد کی علامت تھا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنی اصل منزل کی طرف پیشرفت کرنے کی بجائے رفتہ رفتہ مختلف سیاسی، معاشی، معاشرتی، اور اخلاقی مسائل کا شکار ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے معاشرے کی موجودہ اخلاقی و تہذیبی صورتحال اسی کی مزید بگڑی ہوئی صورت ہے جس کا تذکرہ ایک صدی قبل علامہ محمد اقبالؒ نے کیا تھا۔
خطاب کا بڑا حصہ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی تحریک کے تاریخی سفر پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ ان کے والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے زمانۂ طالب علمی ہی میں قرآنِ حکیم اور اسلامی نظامِ زندگی سے گہرا تعلق قائم کرلیا تھا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، اس دور میں قرآنی تربیتی پروگراموں، دروس، اور خطابات میں فعال کردار ادا کیا اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی کی رکنیت بھی اختیار کی۔ تاہم جب انہیں محسوس ہوا کہ جماعت میں سیاسی و انتخابی سرگرمیوں کا رنگ غالب آ رہا ہے تو نہ صرف انہوں نے بلکہ بعض دیگر اکابر علماء نے بھی اس سے علیحدگی اختیار کر لی، جن میں مولانا عبد الجبار غازیؒ اور مولانا عبد الجبار حسنؒ بھی شامل تھے، کیونکہ ان کے پیشِ نظر اسلام کے غلبے کے لیے ایک ہمہ گیر دینی جدوجہد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی سے علیحدگی کے باوجود ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے دینی جدوجہد ترک نہیں کی بلکہ کراچی میں قرآن کی دعوت و تعلیم اور دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ساہیوال میں ’’دارالاقامہ‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا، اس ادارے میں قرآن و حدیث اور عربی گرامر کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا، اور مولانا عبدالغفار حسنؒ جیسے جید عالمِ دین بھی اس کام سے وابستہ ہوئے۔
ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ 1966ء میں لاہور کو مرکز بنا کر ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے رجوع الی القرآن کی تحریک کو نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔ بطور میڈیکل ڈاکٹر مصروف طبی زندگی کے باوجود ہفتے کے متعدد ایام مختلف آبادیوں میں دروسِ قرآن کے لیے وقف ہوتے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا ایک مختصر مگر جامع ’’منتخب نصاب‘‘ ان دروسِ قرآنی کی بنیاد ہوا کرتا تھا، جس میں ڈاکٹر اسرار صاحبؒ نے بہت سے اضافے کیے تھے۔ اس ساری جدوجہد کا مقصد عامۃ المسلمین کو ان کی بنیادی دینی ذمہ داریوں، بالخصوص عبادتِ الٰہی، شہادت علی الناس، اور اقامتِ دین کے تقاضوں سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ نصاب لاہور کے مختلف حلقوں میں بارہا پڑھایا گیا اور بعد میں قرآنی دعوت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ انہوں نے مسجدِ شہداء میں ہونے والے ہفتہ وار درسِ قرآن کا بھی ذکر کیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، اور اس اجتماع کی اصل کشش اور تاثیر قرآنِ حکیم ہی کی تھی، کیونکہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیم عطا فرمائے، وہ قرآن کے پیغام کی طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عارف رشید نے بتایا کہ 1966ء سے 1972ء تک ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے تقریباً تنِ تنہا قرآن کی عمومی دعوت کا کام آگے بڑھایا، یہاں تک کہ 1972ء میں انجمن خدام القرآن کا قیام عمل میں آیا۔ یہ تحریک کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل تھا، کیونکہ اب قرآن کی دعوت کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ وجود میں آچکا تھا۔ انجمن کے تحت قرآن اکیڈمی اور بعد ازاں قرآن آڈیٹوریم کی تعمیر ہوئی۔ وقت کے ساتھ کراچی، ملتان، جھنگ، فیصل آباد، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی انجمن خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے نزدیک محض دعوت، تبلیغ، نشر و اشاعت اور دروسِ قرآن کافی نہیں تھے بلکہ ان کے پیشِ نظر اسلام کے غلبے کے لیے ایک منظم جدوجہد بھی تھی، جس کے نتیجے میں 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عارف رشید نے اس امر پر زور دیا کہ انجمن خدام القرآن اور تنظیم اسلامی دو الگ مگر باہم مربوط شعبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، اور قرآن کی دعوت و تعلیم اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد دونوں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے مجموعی مشن کا حصہ تھیں۔
خطاب میں انجمن خدام القرآن کے ابتدائی بانی اراکین کا بھی ذکر کیا گیا۔ ڈاکٹر عارف رشید کے مطابق انجمن کی بنیاد بیس افراد نے رکھی تھی، جن میں سے اٹھارہ اب وفات پاچکے ہیں، جبکہ دو بزرگ تاحال حیات ہیں۔ انہوں نے ان مؤسسین میں اپنے چچاؤں جناب اقتدار احمدؒ اور جناب وقار احمدؒ کا بھی ذکر کیا جو اپنے بھائی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساتھ ان کی جدوجہد میں شریکِ کار رہے۔ ڈاکٹر عارف رشید نے اس موقع پر انجمن کے قیام کے ابتدائی دور کی جدوجہد اور ان افراد کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر عارف رشید نے ’’فیلوشپ سکیم‘‘ کو بھی ایک اہم سنگِ میل قرار دیا، جس کا مقصد ایسے نوجوانوں کی تربیت اور تیاری تھا جو اپنی زندگیاں قرآن کریم کی تعلیم و تعلّم کے لیے وقف کرنے پر آمادہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود، ان کے بھائی عاکف، اور بعض دیگر نوجوان اس پروگرام کے ابتدائی شرکاء میں شامل تھے، جیسا کہ ڈاکٹر عبد السمیع صاحب جو اِس وقت فیصل آباد کی انجمن کے صدر ہیں، اسی طرح خالد محمود صاحب جن کے پاس مکتبہ کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں یہی پروگرام ایک سالہ ’’رجوع الی القرآن کورس‘‘ کی شکل اختیار کر گیا جس کا پہلا سیشن 1983ء میں منعقد ہوا۔ اس کورس کے اب تک درجنوں سیشن مکمل ہوچکے ہیں اور اس کے ذریعے شرکاء کو قرآن کی اصل دعوت، پیغام اور زبان سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے 1984ء میں شروع ہونے والے دورۂ ترجمۂ قرآن کو بھی تحریک کا ایک غیر معمولی سنگِ میل قرار دیا۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے رمضان المبارک میں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا ترجمہ، سیاق و سباق اور تشریحات پیش کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اس طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار بھی کیا لیکن اس پروگرام نے بڑی تعداد میں لوگوں کو قرآنِ حکیم کی طرف متوجہ کیا۔ ڈاکٹر عارف رشید کے مطابق آج تنظیم اسلامی سے وابستہ بہت سے افراد کے قرآن سے تعلق کی بنیاد اسی دورۂ ترجمۂ قرآن اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خطابات میں ملتی ہے۔
انہوں نے قرآن کالج اور قرآن آڈیٹوریم کے قیام کو بھی اسی قرآنی مشن کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ ان اداروں اور پروگراموں کا بنیادی مقصد قرآن کے پیغام کو سمجھنا، سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہے۔ انجمن خدام القرآن کے تحت ایک سالہ کورس کے علاوہ سال بھر مختلف اوقات میں اسلامی تعلیمات اور قرآن فہمی کے متعدد پروگرام بھی جاری رہتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر عارف رشید نے اس امر پر زور دیا کہ قرآن محض گھروں میں رکھنے یا تلاوت کرنے کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، عمل اور زندگی کی تبدیلی کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا مفہوم بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے قوموں کو بلند کرتا اور بعض کو پست کردیتا ہے۔ اس لیے قرآن انسان کے حق میں بھی حجت بن سکتا ہے اور اس کے خلاف بھی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اسے پڑھتا، سمجھتا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے رجوع الی القرآن کی جو تحریک اور اداروں کی صورت میں جو پودا لگایا تھا، اللہ تعالیٰ اسے مزید ثمر آور فرمائے، انجمن خدام القرآن اور تنظیمِ اسلامی کو ان کے مقاصد کے حصول میں برکت دے، اور دونوں ادارے باہمی تعاون کے ساتھ قرآن کے پیغام کو عام کرنے اور اسلامی زندگی کے قیام کی جدوجہد کو مؤثر انداز میں جاری رکھیں۔
جناب سراج الحق:
جناب سراج الحق نے اپنے خطاب کا آغاز اجتماع کے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں جنہوں نے شعوری طور پر قرآن و سنت کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مجلس کے انعقاد پر امیرِ تنظیمِ اسلامی جناب شجاع الدین شیخ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو اجرِ عظیم کا ذریعہ بنائے۔
جناب سراج الحق نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تحریک کا آغاز اِس فکر کے ساتھ کیا تھا کہ دنیا بھر کے انسانوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑا جائے تاکہ وہ اس دنیا بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی۔ اگرچہ ڈاکٹر صاحبؒ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ایسے لوگ مرا نہیں کرتے جو اپنی زندگی اللہ کی راہ میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عراق کے دورے کا مشاہدہ ذکر کیا کہ وہاں لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور شاہ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ جیسی جلیل القدر شخصیات کے مزارات پر جاتے ہیں، لیکن عباسی خلافت کے بادشاہوں کے مزارات کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو لوگ قرآن و سنت کی خاطر زندگی گزارتے ہیں، دنیا انہیں یاد رکھتی ہے اور موت انہیں فنا نہیں کر سکتی۔
جناب سراج الحق نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ ایک سنگین بحران کا شکار ہے کہ اللہ کی بندگی کو مشکل اور غیر اللہ کی بندگی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان اور عالمِ اسلام پر ایک دجالی نظام مسلط ہے۔ انہوں نے معیشت اور کرنسی کی قدر کے حوالے سے عالمی تجارتی اداروں کے تحت مسلم ممالک کی مجبوریوں کا ذکر کیا۔ انہوں کہا کہ ہم ایک ایسے نظام کے تحت رہ رہے ہیں جہاں ہمارے اپنے جسموں پر ہماری مرضی تسلیم نہیں کی جاتی۔ اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قطر جاتے ہوئے چینی ویکسین لگوانے کے باوجود انہیں برطانوی ویکسین لگوانی پڑی، کیونکہ عالمی اداروں کی اجازت کے بغیر کوئی ویکسین تسلیم نہیں کی جاتی۔
انہوں نے لباس اور کلچر پر مغربی اثرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کل ہمارے نوجوانوں میں نامناسب لباس پہننے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ جہاز میں دو نوجوانوں نے مختصر لباس پہنا ہوا تھا تو میں ان سے عرض کیا کہ دوسرے مسلمان — جن کے ساتھ خواتین بھی ہیں — انہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے اور ایسا لباس پہننا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جناب سراج الحق نے کہا کہ عالمی عدالتوں میں اسرائیلی اور بھارتی راہنماؤں کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ بے معنی ہے کیونکہ یہ عدالتیں خود استعمار کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اور تو اور ہمیں اپنی دعاؤں پر بھی اختیار حاصل نہیں ہے، اس سلسلہ میں ایک عرب ملک کا واقعہ سنایا جہاں انہوں نے قرآنی آیات تلاوت کیں تو انہیں مطلع کیا گیا کہ آئندہ ان آیات کی تلاوت نہ کریں۔ اسی طرح اپنی وزارت کے دور کا ایک واقعہ سنایا کہ جب انہوں نے چند قرآنی آیات ترجمہ کے ساتھ تلاوت کیں تو اس کے بعد انہیں اس کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ کسی اور سے ’’آسان آیات‘‘ تلاوت کرنے کے لیے کہا گیا۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم گل سٹون کے اس قول کا حوالہ دیا کہ ’’جب تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں قرآن ہے، وہ کبھی غلام نہیں بن سکتے۔‘‘
جناب سراج الحق نے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد استعمار کی طرف سے مسلم ممالک کو رنگ، نسل، مسلک اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ تاہم اللہ کی سنت ہے کہ ہر دور میں کچھ شخصیات اور تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جو لوگوں کو قرآن کی طرف بلاتی ہیں۔ انہوں نے مصر، یمن، شام، عراق اور پاکستان میں جاری بیداری کی تحریکوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام لوگوں کو مایوس کرنا نہیں بلکہ امید دلانا ہے، اگرچہ عالمِ اسلام مشکلات کا شکار ہے مگر دوسری جانب بیداری کی لہر بھی موجود ہے اور مسلمان غلامی قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
جناب سراج الحق نے بتایا کہ وہ جماعتِ اسلامی کے رکن اس لیے بنے کہ اس کے دستور کی ایک شق یوں ہے: ’’ہم مخلوقِ خدا کو اللہ کی طرف بلائیں گے، نہ کہ کسی امیر یا فرد کی طرف‘‘۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہیں جبکہ ہماری اسلامی تحریکیں — تنظیمِ اسلامی، جماعتِ اسلامی، اخوان المسلمون وغیرہم — اللہ کی طرف بلاتی ہیں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے 1935ء کے پیغام ’’مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ وقت آ گیا ہے جب مشرق سے بیداری کا سورج طلوع ہو رہا ہے:
- افغانستان میں تین سپر پاورز (فرنگی، روسی، امریکی) کو شکست ہوئی۔
- پاکستان نے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن بھارت کو شکست دی۔
- حماس ایک چھوٹی تنظیم ہونے کے باوجود تین سال سے اسرائیل کا مقابلہ کر رہی ہے۔
- ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور اب ٹرمپ کی شکست کی باتیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک نئی دنیا وجود میں آ رہی ہے اور امتِ مسلمہ میں وہ صلاحیت موجود ہے جو دنیا کی قیادت کے لیے ضروری ہے۔
جناب سراج الحق نے انبیاء کرامؑ کی تحریک کو ’’دل کا مرکز‘‘ اور غیر اللہ کی تحریکوں — سیکولرزم، سوشلزم، کمیونزم، سرمایہ داری وغیرہ — کو ’’معدہ کا مرکز‘‘ قرار دیا۔ اور کہا کہ قرآن کا فوکس ہمیشہ دل پر رہا ہے، اگر دل مطمئن ہو تو انسان تنہائی میں بھی پریشان نہیں ہوتا، اور اگر دل مطمئن نہ ہو تو دنیا بھر کا ساز و سامان کسی کام نہیں آتا۔ چنانچہ دل تک بات پہنچانے کا ذریعہ قرآن ہے اور ہمیں گلی گلی، کوچے کوچے، درسگاہوں اور خوابگاہوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ ایک سنیٹر نے سورہ اخلاص پڑھتے ہوئے غلطی کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان قرآن سے کتنے دور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی حدود کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن و سنت کی طرف بلانے والا ایک علمی اور روحانی نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسلامی تہذیب و ثقافت پر ڈٹے رہنے کی تاکید کرتے ہوئے حضرت حذیفہؓ کا واقعہ یاد دلایا جس میں انہوں نے گورنر کے اعتراض پر جواب دیا تھا کہ ’’کیا میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ان بے وقوفوں کے لیے چھوڑ دوں؟‘‘
جناب سراج الحق نے حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدہ کو سراہتے ہوئے توجہ دلائی کہ یہ معاہدہ فلسطین اور غزہ کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف استعمال ہونا چاہیے۔ اور تجویز دی کہ دیگر اسلامی ممالک کو اس میں شامل کرتے ہوئے ایک مشترکہ اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی نظام بنایا جانا چاہیے۔
اپنی گفتگو کے آخر میں جناب سراج الحق نے افغانستان کے مسئلہ پر بات کی۔ متعدد جنگوں اور طویل جدوجہد کے بعد قائم ہونے والی امارتِ اسلامی افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حکومت بھی ناکام ہو گئی تو ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت رنگ، نسل یا علاقائیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے نام پر قائم ہوئی ہے، لہٰذا تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اس حکومت کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت سے اپیل کی کہ افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے، اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ انہوں نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان وغیرہ کے لیے افغانستان ایک گیٹ وے ہے، جو پاکستان کی معیشت اور دفاع کی بہتری کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جناب سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی:
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے تنظیمِ اسلامی پاکستان اور اس کے ذمہ داران کو تسلسل کے ساتھ دینی و ملی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تنظیمِ اسلامی اور اس کے سابق سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ سے دیرینہ تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح کے اجتماعات کو نئی نسل میں دینی و قومی شعور بیدار کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں بنیادی طور پر اس تصور پر زور دیا کہ اسلام کو اپنی پسند کے چند حصوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دین ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ذاتی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں کسی قومی و سیاسی مسئلے پر گفتگو کرنے پر ایک بزرگ نے انہیں مشورہ دیا کہ جمعہ میں سیاسی باتیں نہ کیا کریں بلکہ صرف قرآن حکیم کے حوالے سے بیان کیا کریں۔ مولانا نے جواب میں قرآن مجید ہی سے یہ سوال سامنے رکھا کہ اگر قرآن میں روزے کے احکام بھی موجود ہیں اور اجتماعی معاملات سے متعلق احکام بھی، تو پھر ایک کو ’’دینی‘‘ اور دوسرے کو ’’سیاسی‘‘ قرار دے کر الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ فکر ’’الذین جعل القراٰن عضین‘‘ (الحجر ۹۱) کے مطابق بنی اسرائیل کا طرزِ عمل تھا جنہوں نے آسمانی ہدایات کو تقسیم کر کے رکھ دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام ’’سپیئر پارٹس کی دکان‘‘ نہیں کہ انسان اپنی پسند کے احکام منتخب کر لے اور باقی کو چھوڑ دے، بلکہ اسلام ایک مکمل پیکج ہے اور قرآن مسلمانوں کو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی اصول کو انہوں نے موجودہ دور کے قومی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پر بھی منطبق کیا۔
خطاب کا ایک اہم حصہ عالمی سطح پر مسلمانوں سے کیے جانے والے مطالبات کے تجزیے پر مشتمل تھا۔ مولانا نے کہا کہ آج مسلمان عالمی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ان سے مختلف نوعیت کے مطالبات کیے جاتے ہیں اور ان میں بعض مطالبات ایسے ہیں جن کی مثال عہدِ نبویؐ میں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے ’’ابراہام اکارڈز‘‘ کا ذکر کیا اور پھر سورۃ الکافرون کے حوالے سے کہا کہ مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذہبی معاملات میں سمجھوتے اور درمیانی راستے کی تجویز پیش کی تھی، مگر قرآن نے عقیدۂ توحید پر کسی سودے بازی کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے تلقین کی کہ موجودہ دور میں بھی مسلمانوں کو اپنے بنیادی عقائد اور دینی شناخت کے بارے میں اسی اصولی موقف کو سامنے رکھنا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے ختمِ نبوت کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے مسیلمہ کذاب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شراکت کا دعویٰ اور اس کے ذریعے ایک ’’مشترکہ‘‘ مذہبی حیثیت قائم کرنے کی کوشش کا ذکر کیا۔ آج بھی بعض عالمی مطالبات کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی عقیدے کو تسلیم رکھتے ہوئے دوسرے متنازع دعووں اور تصورات کو بھی اسی سطح پر تسلیم کریں۔ انہوں نے اس کے مقابلے میں ختمِ نبوت کے قطعی اسلامی عقیدے کو بنیادی اصول قرار دیا۔
اسی طرح انہوں نے طائف کے وفد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے خواہشمند لوگوں نے اپنی معاشرتی اور معاشی روایات برقرار رکھنے کی شرائط پیش کی تھیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو شرائط کے ساتھ قبول کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرنے دیا۔ مولانا نے کہا کہ اسلام ایک مکمل پیکیج ہے جس میں عبادات، معاشرت، معیشت اور اخلاق سب شامل ہیں اور کسی ایک حصے کو قبول کرکے دوسرے کو اپنی سہولت کے مطابق چھوڑ دینا اسلامی تصورِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مولانا نے پاکستان کے حوالے سے بھی اسی اصولی رویے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اسلام ایک مکمل دین ہے تو مختلف علاقوں اور طبقات کے لیے اس کے بنیادی احکام اور معیار الگ الگ کیسے ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ طائف کے لوگوں نے مختصر مدت میں یہ بات سمجھ لی تھی کہ اسلام کو اپنی شرائط کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہمارے مسلمان معاشرے کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس بنیادی مسئلے پر اب بھی فکری الجھن کا سامنا ہے۔
پاکستان کے قیام کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ملک کے قیام کے وقت اسلامی تہذیب، مسلم شناخت اور اسلام کے لیے ایک الگ ریاست کے تصور کو بنیادی جواز کے طور پر پیش کیا گیا تھا، پھر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم محض یہ بات دہراتے چلے جائیں گے کہ پاکستان اسلامی نظام اور اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا؟ اس لیے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود قوم مسلسل اس سوال کا سامنا کر رہی ہے کہ ان مقاصد کو عملی شکل کب دی جائے گی؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری نئی نسل میں دینی و ملی اور قومی شعور منتقل کرنا ہے۔ اور صرف عام نوجوان ہی نہیں بلکہ علماء کی نئی نسل کو بھی اپنے ماضی، قومی جدوجہد اور دینی و ملی مسائل کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تنظیمِ اسلامی اور ایسے دیگر اجتماعات کو اس حوالے سے مثبت کاوش قرار دیا جو نئی نسل کو ماضی سے جوڑنے اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر مولانا زاہد الراشدی نے قومی و ملی مسائل پر اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادتیں مختلف مواقع پر کسی قومی مسئلے کے حوالے سے متحد تو ہو جاتی ہیں مگر اکثر یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ قومی اور ملی مسائل پر پیدا ہونے والی یکجہتی کو وقتی اجتماع تک محدود رکھنے کی بجائے مستقل اجتماعی قوت میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اپنی طویل جماعتی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ جب بھی قومی و ملی معاملات میں مختلف حلقے متحد ہو کر کسی اصولی موقف پر کھڑے ہوئے، انہیں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
جناب شجاع الدین شیخ:
امیر تنظیمِ اسلامی جناب شجاع الدین شیخ نے اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرتے ہوئے سیمینار کے باحسن و بخوبی اختتام پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے بارش اور شدید موسم کے باوجود تمام حاضرین، بالخصوص مہمانانِ گرامی جناب سراج الحق کا اسلام آباد سے اور مولانا زاہد الراشدی کا گوجرانوالہ سے سفر کر کے تشریف لانے پر تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے سیمینارز کا بنیادی مقصد دینی شخصیات سے استفادہ، مختلف علمی و فکری زاویوں کو سمجھنا، اور امت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ فہم پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تنظیمِ اسلامی کے تحت 31 جولائی سے 21 اگست تک ’’امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے ملک گیر مہم جاری ہے۔ اس مہم کا مقصد خطباتِ جمعہ، دروسِ قرآن، الیکٹرانک و پرنٹ اور سوشل میڈیا، اور عمومی مظاہروں کے ذریعے امت کو بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے قرآن حکیم میں مذکور ’’اصحابِ سبت‘‘ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں مگر ہماری ذمہ داری اللہ کے حضور — معذرۃً الیٰ ربکم — یہ عرض کرنا ہے کہ ہم نے اپنا فرض پورا کیا۔
جناب شجاع الدین شیخ نے فاضل مقررین کے نکات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب رضا الحق نے امت کی تاریخی تابناکی، 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد زوال، اور دوبارہ عروج حاصل کرنے کے تدریجی مراحل پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر عارف رشید نے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے بانی تنظیمِ اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی کاوشوں کا تذکرہ کیا۔ جناب سراج الحق نے مسلمانوں پر مغربی تہذیبی اثرات، عالمی اداروں کا معاشی تسلط، اور مذہبی معاملات حتٰی کہ دعاؤں پر پابندیوں جیسے غلامانہ رویوں کا ذکر کیا، اور اس صورتحال کے علاج کے طور پر قرآنی دعوت کے فروغ پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں امت کا درد رکھنے والی تمام شخصیات — چاہے وہ علامہ اقبالؒ ہوں، مولانا مودودیؒ ہوں یا ڈاکٹر اسرار احمدؒ — سبھی نے قرآن پاک سے تعلق مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے نزدیک امت کے زوال کے دو بنیادی اسباب تھے: پہلا قرآن کو فراموش کرنا، اور دوسرا باہمی تفرقہ بازی۔ اسی طرح مفتی محمد شفیعؒ نے اپنے رسالے ’’وحدتِ امت‘‘ میں تفصیل سے واضح کیا ہے کہ اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے۔ اگر ہم نے قرآن کو اپنا رہنما اور امام بنایا ہوتا اور فرمانِ الہٰی ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو) پر سچے دل سے عمل کیا ہوتا، تو آج امت یوں فرقہ واریت اور مسلک پرستی کے عفریت میں نہ گھری ہوتی۔ امت کے تمام اکابر علماء نے ہمیشہ قرآن ہی کی طرف رجوع کا راستہ دکھایا ہے۔
امیر تنظیمِ اسلامی نے زور دیا کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے عرب کے صحرا نشینوںؓ کی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا کیا۔ کافروں کو اس کے اثر کا علم تھا، اسی لیے وہ ’’لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ‘‘ (حم السجدۃ ۲۶) شور مچا کر قرآن کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ آج دجالی تہذیب، میڈیا، اور مادہ پرستی کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھا جا رہا ہے۔ مسلمان اگر ظاہری و مادی افکار اور مرعوبیت سے نکل کر قرآن سے حقیقی تعلق جوڑیں تو ان کا ایمان مضبوط ہوگا اور وہ غلامانہ ذہنیت سے آزاد ہو سکیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ستاون مسلم ممالک کے پاس ایٹمی صلاحیت، دفاعی قوت، تیل کی دولت، وسیع تر معاشی وسائل اور عظیم الشان دماغ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود امت زوال پذیر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ نبویؐ پیشگوئی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امت میں ’’وھن‘‘ (دنیا کی محبت اور موت سے نفرت) پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے مسلم ممالک کے اتحاد، عسکری بلاک، اور فلسطین کے حوالے سے OIC کے چارٹر پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جب دنیا اپنے مفادات کے لیے نیٹو اور یورپی یونین بنا سکتی ہے تو کلمۂ توحید پر مبنی یہ امت متحد کیوں نہیں ہو سکتی؟
جناب شجاع الدین شیخ نے کہا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کا اہم ترین حصہ ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی۔ آج لسانیت، تعصبات، اور سیاسی و معاشی بحرانوں نے آزادکشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے خطوں میں سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں وارد خراسان کے خطے — جس میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے کچھ حصے شامل ہیں — کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ غلبۂ اسلام اور نصرتِ الٰہی کے لیے تقویٰ، باطنی صفائی اور دینی کمٹمنٹ شرط ہے کیونکہ معصیت بھری زندگی کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل نہیں ہو سکتی۔
امیر تنظیمِ اسلامی نے درج ذیل نکات پر عملی لائحہ عمل پیش کیا:
- دنیا میں برپا فساد ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، لہٰذا فردًا فردًا اور اجتماعی سطح پر سچی توبہ اور استغفار کی ضرورت ہے۔
- سب سے پہلے ساڑھے پانچ فٹ کے وجود پر شریعت کو نافذ کرتے ہوئے نماز قائم کی جائے؛ جھوٹ، وعدہ خلافی، سود، رشوت، بے پردگی اور وراثت میں بیٹیوں کا حق مارنے جیسے گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
- انفرادی اصلاح کے بعد منظم اجتماعیت اختیار کر کے اقامتِ دین اور اتحادِ امت کی جدوجہد کی جائے اور تمام حکمرانوں کو ان کی شرعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا جائے۔
fb.com/share/v/1PwQt79nvM
سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی
8 اگست 2026ء کو الاحسان ٹی وی کے پروگرام الاحسان اسپیشل میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’’معاہدۂ مکہ‘‘ کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا۔ سینئر صحافی جناب مجیب الرحمٰن شامی، پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے صدر جناب اعجاز الحق، الاحسان ٹی وی کے صدر ڈاکٹر حماد لکھوی، الاحسان ٹی وی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد رفیق، اور سعودی صحافی ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی نے گفتگو میں حصہ لیا، جبکہ میزبانی کے فرائض حافظ شفیق کاشف نے سرانجام دیے۔
شرکائے نشست نے مذکورہ دفاعی معاہدہ کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کرتے ہوئے اس پر اپنے خیالات و تبصرات پیش کیے، مثلاً: کیا یہ محض ایک دفاعی معاہدہ ہے یا عالمِ اسلام کے ایک نئے وسیع تر سیاسی اتحاد کی ابتدا بن سکتا ہے؟ کیا معاہدۂ مکہ عالمِ اسلام کو مشترکہ دفاع اور ایک نئی اسٹریٹجک قوت کی طرف لے جا سکتا ہے؟ کیا اس معاہدہ کو سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے یا اس سے مشرقی وسطیٰ کی روایتی مسلکی کشمکش اجاگر ہو گی؟ بالخصوص مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس تاریخی معاہدے کے پس منظر میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی جارحیت، مسلم ممالک کی دفاعی خود انحصاری، اور مستقبل میں دیگر اسلامی ممالک کی ممکنہ شمولیت جیسے اہم سوالات زیرِ بحث آئے۔ ذیل میں ہم شرکائے نشست کی گفتگو کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔
جناب مجیب الرحمٰن شامی:
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اسے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا عالمِ اسلام میں بالعموم اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں بالخصوص خیرمقدم کیا گیا ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی کے نزدیک خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کے باعث اس معاہدے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اور پورے خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات نے مسلم ممالک کے مشترکہ دفاع کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت ایک اہم پیشرفت ہے اور اس نے اس تعاون کو ایک وسیع تر جہت دے دی ہے۔ مستقبل میں دوسرے مسلم ممالک بھی اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں اور بعید نہیں کہ رفتہ رفتہ یہ تعاون عالمِ اسلام کے ایک وسیع دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر لے۔ تاہم فی الوقت اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو حرمین شریفین کا دفاع ہے، جس میں اب پاکستان کے ساتھ ترکیہ بھی شریکِ ذمہ داری ہو گیا ہے۔
شامی صاحب نے پاکستان کی دفاعی اور سفارتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کر کے اپنی عسکری صلاحیت ثابت کی ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات میں پاکستان کے کردار، نیز سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوششوں نے یہ واضح کیا ہے کہ خطے کے امن و استحکام میں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول پاکستان اس خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت ہے، ترکیہ اپنی مضبوط فوج اور جدید دفاعی پیداوار کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس وسائل، مالی قوت اور عالمِ اسلام میں ایک منفرد مقام موجود ہے۔ ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے شامی صاحب نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمِ اسلام کے اتحاد اور مشترکہ دفاع کے جو خواب مدت سے دیکھے جا رہے تھے، یہ معاہدہ ان خوابوں کی تعبیر کی جانب ایک اہم قدم بن سکتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا مستقبل میں مسلم ممالک نیٹو کی طرز پر کسی دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں، مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ اس حوالے سے دروازے کھلے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ خطے کے دیگر مسلمان ممالک بھی اگر چاہیں تو اس تعاون میں شریک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے ہے۔ البتہ جو قوتیں جارحانہ عزائم رکھتی ہیں، ان کے لیے یہ معاہدہ ایک واضح پیغام اور تنبیہ ضرور ہے۔ مصر، ملائیشیا، قطر اور دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان ممالک کا اپنا فیصلہ ہوگا، تاہم اگر وہ اس اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو انہیں ایک بڑی مشترکہ دفاعی چھتری میسر آ سکتی ہے۔ انہوں نے نیٹو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح یورپ میں کسی ایک رکن پر حملہ پورے اتحاد کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے، اسی طرح عالمِ اسلام میں بھی ایسا نظام ایک نئی قوت پیدا کر سکتا ہے۔
معاہدے کے لیے مکہ مکرمہ کے انتخاب کو بھی شامی صاحب نے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ مسلمانوں کا مرکز ہے، ہر مسلمان کا دل مکہ سے وابستہ ہے اور مکہ ہر مسلمان کے دل میں بستا ہے۔ اس لیے مکہ میں اس نوعیت کے اہم معاہدے کا انعقاد محض ایک انتظامی انتخاب نہیں بلکہ اس کی روحانی، اخلاقی اور سیاسی معنویت بھی ہے۔ جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مسلم ممالک مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون کے اصول پر آگے بڑھتے رہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے، جہاں مسلمان ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ایک دوسرے پر اعتماد کر سکیں گے۔
جناب اعجاز الحق:
پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ جناب اعجاز الحق نے پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے لیے ایک اہم اور دور رس پیشرفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے پس منظر میں ماضی کے دفاعی تعاون، خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات، اور مسلم ممالک کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے زیادہ خود انحصار ہونے کی ضرورت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
اعجاز الحق نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کا باقاعدہ آغاز جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں ہوا تھا جب سعودی عرب کی درخواست پر پاکستان کے سپیشل سروسز گروپ نے وہاں جا کر کارروائی میں حصہ لیا تھا اور اس کے بعد پاکستانی فوج کی ایک بریگیڈ وہاں تعینات کی گئی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ سعودی عرب کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا تو وہاں پاکستانی فوج کی موجودگی بھی بڑھتی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل عاصم منیر سمیت متعدد پاکستانی فوجی افسران سعودی عرب میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مرحلے پر سعودی عرب کی جانب سے تقریباً چالیس اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ فوج تشکیل دینے کا تصور بھی سامنے آیا تھا، جس کے لیے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب بلایا گیا۔ اگرچہ یہ منصوبہ اس وقت عملی شکل اختیار نہ کر سکا، تاہم حالیہ علاقائی حالات نے مسلم ممالک کو ایک بار پھر مشترکہ دفاع کی ضرورت پر غور کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے تناظر میں خلیجی ممالک کی مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق جب یہ صورتحال سامنے آئی کہ بعض عرب ممالک میں موجود امریکی اڈے خود اُن ممالک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، تو عرب ریاستوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ محض کسی بیرونی طاقت پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے دفاع کے لیے خود بھی مؤثر انتظامات کیے جانے چاہئیں۔
اعجاز الحق کے مطابق اس خطے میں پاکستان اور ترکیہ دو ایسی بڑی مسلم عسکری طاقتیں ہیں جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پہلے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور اب ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک ڈیٹرنس یعنی ایسا دفاعی بندوبست ہے جو ممکنہ جارح کو حملے سے پہلے ہی باز رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں مصر، اردن اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کی دیگر ریاستیں بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور مشترکہ خطرات بالآخر مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر آمادہ کریں گے۔
اعجاز الحق نے اس اتحاد کے ممکنہ اثرات کو غزہ کے مسئلے سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم ممالک میں اتنی سیاسی اور دفاعی یکجہتی پیدا ہو جائے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف مؤثر آواز بلند کر سکیں، تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسی شق بھی سامنے آئے جس کے تحت کسی ایک مسلم ملک خصوصاً غزہ پر حملے کو تمام شریک ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ’’ابراہام اکارڈز‘‘ میں شامل مسلم ممالک اس معاہدے کے بعد اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، تو اعجاز الحق نے اسے مشکل قرار دیا کہ امریکہ کی جانب سے بعض مسلم ممالک پر اس حوالے سے دباؤ موجود ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ امریکی مذاکرات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری تعاون کے معاملات میں بھی ابراہام اکارڈز سے متعلق شرائط سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دباؤ کا مؤثر جواب یہی ہے کہ مسلم ممالک باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور ایک دوسرے پر اعتماد پیدا کریں، کیونکہ اگر اسلامی ممالک ایک مشترکہ دفاعی اور سیاسی قوت بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
اعجاز الحق نے دفاعی اتحاد کو صرف عسکری میدان تک محدود رکھنے کی بجائے اسے معاشی اور تجارتی تعاون کی بنیاد بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور تجارت کے فروغ سے ان تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی محنت کشوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے بڑے دفاعی معاہدوں کے مقابلے میں اپنے دفاعی وسائل کا ایک محدود حصہ بھی پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ تعاون میں صَرف کریں تو اس کے زیادہ مفید نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ دفاعی تعاون کے ساتھ افرادی قوت، تجارت اور وسائل کے باہمی تبادلے کا نظام قائم کیا جائے تو اس سے دونوں جانب فائدہ ہوگا۔ خلیجی ممالک کو افرادی قوت کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کے پاس انسانی وسائل کی فراوانی ہے، اس لیے یہ تعاون ایک وسیع تر معاشی شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اعجاز الحق نے پاکستان کو درپیش ممکنہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیوں کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو پاکستان ایک نہایت نازک صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان صلح یا کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس لیے پاکستان کو اس پورے معاملے میں انتہائی احتیاط اور دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’ٹائٹ روپ‘‘ یعنی ایک انتہائی باریک اور حساس توازن پر چلنے سے تعبیر کیا۔
معاہدے کے ناقدین کی جانب سے اسے محض کاغذی معاہدہ قرار دیے جانے کے بارے میں اعجاز الحق نے کہا کہ ناقدین ہر اہم پیشرفت پر سوالات اٹھاتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اس معاہدے کی اصل اہمیت اس پیغام میں ہے جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دنیا کو دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعاون اگر آگے بڑھتا ہے تو او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے دیگر رکن ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور یوں دفاعی تعاون کے بعد تجارت، افرادی قوت اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اعجاز الحق کے نزدیک اس معاہدے کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ آیا یہ صرف ایک دفاعی سمجھوتے تک محدود رہتا ہے؟ یا اس کے نتیجے میں مسلم ممالک کے درمیان ایک وسیع تر تعاون کا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی:
پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی نے کہا کہ اس معاہدے کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ جمعہ کے دن مکہ مکرمہ میں طے پایا؛ چنانچہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدہ کے لیے یہ انتخاب اپنے اندر دفاعی کے ساتھ ساتھ روحانی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے اس کے شرکاء کی دفاعی اور معاشی صلاحیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے:
- ترکیہ دفاعی پیداوار خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی، میزائلوں، اور جدید عسکری صنعت کے اعتبار سے ایک اہم طاقت بن چکا ہے، اور دنیا کی ایک سو بڑی دفاعی کمپنیوں میں ترکیہ کی پانچ کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ حالیہ جنگوں میں ترک ڈرونز نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
- دوسری طرف پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ مضبوط فوج، میزائل ٹیکنالوجی، اور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔
- جبکہ سعودی عرب مالی وسائل، جغرافیائی اہمیت، اور حرمین شریفین کی نسبت سے منفرد مقام رکھتا ہے۔
چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک ان تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
ڈاکٹر حماد لکھوی نے اس معاہدے کو خطے کے بدلتے ہوئے حالات بالخصوص ایران، امریکہ، اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا۔ ان کے خیال میں عرب ممالک نے طویل عرصے تک اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کیا مگر حالیہ حالات نے اس انحصار کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ جب کسی ملک کی سلامتی کسی بیرونی طاقت پر منحصر ہو تو بحران کے وقت اس کی مدد کرنا یا نہ کرنا اسی طاقت کی صوابدید بن جاتا ہے۔ اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مرحلہ عالمِ اسلام کے لیے خود انحصاری کی طرف بڑھنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ماضی میں موجود نظریاتی اور سیاسی فاصلے کے کم ہونے کو بھی ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا بڑھنا، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں تبدیلی، اور پاکستان کا ایران و سعودی عرب کے درمیان توازن پیدا کرنے میں کردار اس بات کی علامت ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مفادات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بالخصوص سعودی قیادت کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف اور بعض اوقات باہم متضاد عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش قابلِ تحسین ہے۔
ڈاکٹر حماد لکھوی کی گفتگو کا ایک مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنی مادی قوت ضرور حاصل کرنی چاہیے لیکن اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت ’’واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ‘‘ (الانفال ۶۰) کو اسی اصول کی بنیاد قرار دیا کہ مسلمان اپنی دفاعی قوت تیار رکھیں تاکہ دشمن جارحیت سے باز رہے۔ تاہم ان کے نزدیک مادی وسائل اس وقت تک کافی نہیں جب تک ایمانی قوت اور اللہ تعالیٰ پر توکل موجود نہ ہو۔ انہوں نے ’’ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم‘‘ (اٰل عمران ۱۶۰) کے مفہوم کی روشنی میں کہا کہ حقیقی کامیابی اللہ کی مدد سے وابستہ ہے۔
ڈاکٹر حماد لکھوی نے اس معاہدے کے سب سے مثبت پہلو کے طور پر اسے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث بھی سامنے آئی تھی، لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ایسے دفاعی اتحاد کا حصہ بننا نہایت اہم تبدیلی ہے جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اجتماعی موقف کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس اتحاد کی اصل برکت اس وقت مزید نمایاں ہو گی جب دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں اور مظلوم مسلمانوں بالخصوص اہلِ غزہ کے دفاع کو بھی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جائے۔
جب ڈاکٹر صاحب کی توجہ ہندوستانی میڈیا کے منفی ردِعمل کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے قرآنِ کریم کے ایک اصول کی طرف توجہ دلائی کہ کسی کی خوشی پر تکلیف اور تکلیف پر خوشی کے رویے سے اس کی دوستی یا دشمنی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاعی صلاحیت صرف معلوم دشمنوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ اُن قوتوں کے خلاف بھی ایک ڈیٹرنس پیدا کرتی ہے جن کے عزائم واضح نہیں ہوتے۔ انہوں نے قرآن کریم کے الفاظ ’’ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ (الانفال ۶۰) کے حوالے سے کہا کہ مضبوط قوت دشمن کو جارحیت سے روکتی ہے۔
تاہم ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے کی اصل آزمائش اس کے بعد شروع ہو گی، کیونکہ محض معاہدہ کر لینا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ عملی طور پر خود انحصاری کی طرف بڑھیں گے یا مستقبل کے حالات میں بھی بیرونی طاقتوں کی طرف دیکھنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے؟ اگر یہ معاہدہ واقعی مسلم ممالک کو غیر ضروری بیرونی انحصار سے نکال کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی طرف لے جاتا ہے تو یہ تاریخ کا ایک انتہائی مبارک موڑ ہوگا، لیکن اگر پرانی انحصاری پالیسیاں برقرار رہیں تو معاہدے کی تاریخی اہمیت محدود ہو جائے گی۔
انہوں نے سعودی عرب کی سفارتکاری کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔ ان کے مطابق ایک کامیاب سفارتکار وہ ہے جو مختلف اور حتٰی کہ مخالف فریقوں کے ساتھ بھی معاملات چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے امریکہ، روس، چین، ترکیہ اور ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو وہ اسی سفارتی بصیرت کی مثال سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں تو مستقبل میں ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی اسی مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم کا حصہ بننے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یوں موجودہ کشیدگی سے بھی ایک مثبت نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات سے نکل کر اجتماعی قوت پیدا کریں۔
عوامی سطح پر اس معاہدے کے فوائد کے سوال پر ڈاکٹر حماد لکھوی نے کہا کہ دفاعی معاہدہ صرف حکمرانوں یا اشرافیہ کا معاملہ نہیں ہوتا۔ جب کسی ملک کی سرحدیں اور دفاع محفوظ ہوتے ہیں تو اس کے اندر رہنے والی پوری قوم اس کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ البتہ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے تبادلے جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جائے تو اس کے براہِ راست معاشی فوائد بھی عام لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب کو نرم ہدف سمجھنے کے تصور کو انہوں نے رد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ مزید یہ کہ حجازِ مقدس کی وجہ سے سعودی عرب کا دفاع محض ایک ریاست کا دفاع نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے جذبات سے وابستہ معاملہ ہے۔ جبکہ سعودی قیادت نے مختلف بحرانوں میں تحمل، حکمتِ عملی اور سفارتکاری سے کام لے کر نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمِ اسلام کو بھی کئی بڑے بحرانوں سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر حماد لکھوی نے کہا کہ ہر شخصیت میں خوبیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ بحران میں پاکستان، سعودی عرب، اور ایران کے حوالے سے جو مثبت سفارتی اور دفاعی کردار ادا کیا گیا ہے، اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی قیادت اور سیکیورٹی فورسز کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان کی قیادت اور ادارے ملک سے باہر اپنے وطن کی نمائندگی کرتے ہیں تو دراصل وہ پاکستان کی عزت اور وقار کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اس معاہدے سے پاکستانی قوم کی قوت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر حماد لکھوی نے معاہدۂ مکہ کو مسلمانوں کے اتحاد اور امن کے احساس کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا۔ کتاب و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کا باہم متحد ہونا اور ظلم کے خلاف اجتماعی موقف اختیار کرنا ایک بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے امن کو ایک بنیادی نعمت قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں، یہاں تک کہ ایک ایسا مضبوط مسلم دفاعی اتحاد وجود میں آئے جو مظلوموں کے تحفظ اور دنیا میں ظلم کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مسلمان صرف ظلم پر افسوس اور آنسو بہانے تک محدود نہ رہیں بلکہ اجتماعی قوت کے ذریعے مظلوموں کے دفاع کے قابل ہو جائیں۔ اسی امید کے ساتھ انہوں نے اس معاہدے کو ایک بڑے تاریخی سفر کی طرف اہم اور مضبوط قدم قرار دیا۔
ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی:
مکہ مکرمہ سے معروف صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی نے گفتگو کے دوران عالمِ اسلام، پاکستان اور مسلم اُمہ کے باہمی تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز سلام اور خیرسگالی کے جذبات سے کیا اور مکہ مکرمہ کی عظمت و حرمت، اسلام اور مسلم اُمہ کے باہمی رشتے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو بھی سراہا۔ گفتگو میں سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کا ذکر بھی آیا، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
ڈاکٹر منصور قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک اور مسلم اُمہ کو باہمی اتحاد، اتفاق اور اخوت کو فروغ دینا چاہیے۔ اسلم کی تعلیمات مسلمانوں کو باہمی محبت، یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں، اس لیے مسلم دنیا کو اپنے مشترکہ مفادات اور دینی رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے۔ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، اور دیگر اسلامی ممالک کو ترقی و استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر منصور نظام الدین قریشی کی گفتگو میں اسلامی اخوت اور مسلم اُمہ کے اتحاد کے ساتھ ساتھ پاک ترک سعودی تعلقات اور عالمِ اسلام کی ترقی و استحکام کے لیے نیک خواہشات نمایاں رہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مسلم ممالک اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق نصیب ہو اور بالخصوص پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک امن، سلامتی اور خوشحالی سے ہمکنار ہوں۔
ڈاکٹر محمد رفیق:
ڈاکٹر محمد رفیق کے نزدیک اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کے تین اہم اور بااثر ممالک اپنے اپنے امتیازات اور قوتوں کو یکجا کر کے ایک مشترکہ قوت بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیشرفت دشمن قوتوں کے لیے تشویش کا باعث، جبکہ مسلمانوں اور دینِ اسلام کے لیے خوشخبری ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پوری امتِ مسلمہ کو بھی اسی طرح ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
ڈاکٹر محمد رفیق نے کہا کہ بعض اوقات تاریخ میں ایسے حالات و واقعات پیش آتے ہیں جو بظاہر ناپسندیدہ محسوس ہوتے ہیں لیکن بعد میں ان کے نتائج مثبت اور دور رس ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ اور اس سے پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال اگر مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کا ذریعہ بن رہی ہے تو یہ ایک مثبت نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پیشرفت کا دائرہ بتدریج وسیع ہوگا اور مزید مسلم ممالک بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو اس اہم اقدام پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور مسلمانوں کو ’’کالجسد الواحد‘‘ ایک جسم کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت کے مختلف ممالک کا باہمی اتفاق ایک بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض معاہدہ کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب اس اتفاق کے عملی ثمرات بھی سامنے آئیں اور یہ اتحاد مستقبل میں مزید مضبوط ہو۔
ڈاکٹر محمد رفیق نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس معاہدے کے بعد بعض حلقوں خصوصاً بھارت میں تشویش اور بے چینی نمایاں ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے باوجود معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مبارک قدم قرار دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اس اتحاد کو استقامت، وسعت اور عملی کامیابی نصیب ہو اور مسلم ممالک باہمی اختلافات سے بلند ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔
آخر میں انہوں نے ذرائع ابلاغ اور دینی و فکری حلقوں کی اس ذمہ داری کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ ایسے مواقع پر عوام تک مثبت، اتحاد پر مبنی، اور امید افزا پیغام پہنچائیں، اور یہ دعا کی جائے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں پوری امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد اور قوت کا ذریعہ بنے۔
https://youtu.be/D4Wc-ibblUg
کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرقدِ محمود
مفکر اسلام، شیخ الحدیث، مفتی اعظم، قائد قافلہ حریت
مولانا مفتی محمود نوّر اللہ مرقدہٗ
پیدائش بمقام پنیالہ ۱۳۳۷ھ / ۱۹۱۹ء
وفات بمقام کراچی سہ شنبہ ۴ ذی الحجہ ۱۴۰۰ھ / ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۰ء
اے کہ در زندگی خویش تو بودی محمود
رحمتِ حق بتو پیوست بود لامحدود
بہر تاریخ مرا ہاتف غیبی گفتہ
حاجی بیت الٰہ رفت بارگاہِ ودود
۲۲ ۴۱۲ ۳۷ ۶۸۰ ۲۲۹ ۲۰
شیخ الحدیث جامعہ عربیہ قاسم العلوم ملتان (۱۹۵۸ء)
ناظمِ اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (۱۹۵۹ء)
ممبر قومی اسمبلی پاکستان (۱۹۶۲ء)
رکن موتمر مجمع البحوت الاسلامیہ مصر (۱۹۶۲ء)
ناظم عمومی کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام (۱۹۶۸ء)
ممبر قومی اسمبلی پاکستان (۱۹۷۰ء)
وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد پاکستان (۱۹۷۲ء)
مہتمم جامعہ عربیہ قاسم العلوم ملتان (۱۹۷۵ء)
رکن رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ (۱۹۷۶ء)
صدر پاکستان قومی اتحاد (۱۹۷۷ء)
مہتمم مدرسہ تعلیمی القرآن عبد الخیل ڈی آئی خان (۱۹۷۸ء)
سرپرست موتمر عالمی فضلاء قدیم دارالعلوم دیوبند (۱۹۸۰ء)
(ہدیہ عقیدت: حاجی محمد یعقوب جالندھری ملتان)
بشکریہ ابنِ امامِ اہلِ سنتؒ
ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
نگار خانہ دل میں آویزاں ایک تصویر
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا علمی مرتبہ اور مقام کچھ اس سطح کا ہے کہ محض ایک ادارے کے حوالے سے ان کا تعارف نہ صرف ان کی شان سے کہیں فروتر ہے بلکہ صرف اس ایک انفرادی حوالے کی نسبت سے ان کا کچھ زیادہ تعارف کرانا ممکن بھی نہیں ہو گا۔ لیکن زیر نظر سطور میں قارئین کو افادیت کا عنصر دو وجوہ سے یقیناً مل سکتا ہے: اولاً یہ کہ ہر احسن تقویم کی طرح ڈاکٹر صاحب کی حیات مستعار بھی رنگوں کی وہ دھنک تھی جس کا ہر رنگ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے رنگ کا بیان مل کر ہی ان کی کتابِ زندگی پر مفصل روشنی ڈال سکتا ہے۔ دھنک کے رنگوں میں سے کوئی رنگ چھوٹ دیا جائے تو رنگوں کی ترتیب و تنظیم متاثر ہو جاتی ہے۔ ثانیاً یہ کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کی زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی اہلِ علم اپنے اپنے انداز میں روشنی ڈال رہے ہیں جس کے باعث امیدِ واثق ہے کہ اگر ان کی زندگی کے سارے نہیں تو زیادہ سے زیادہ گوشوں کو محفوظ کر لیا جائے گا۔ نقد و جرح تاریخ کا حصہ بنے گی اور یوں آپ رحمہ اللہ کی زندگی پر کام کرنے والوں کو مستقبل میں سہولت حاصل رہے گی۔
ممکن ہے، راقم کی طرف سے شریعہ اکیڈمی کا یہ تعارف بعد میں آنے والوں کے لیے قدرے موثر شہادت ثابت ہو کیونکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تاسیس ہی سے راقم اس سے کسی نہ کسی حیثیت سے وابستہ رہا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ راقم شریعہ اکیڈمی کے تحقیقی اور تدریسی عملے کا سب سے پرانا رکن تھا۔ اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جن لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام کیا، ان میں سے راقم کا عرصہ رفاقت بڑے فرق کے ساتھ طویل ترین ہے۔ اس لیے جو معلومات راقم کے پاس ہیں، خوشگوار دعوے کے ساتھ انہیں قارئین کے سامنے پیش کرنے کا اعزاز راقم ہی کو حاصل ہے۔ لیکن نفسِ مضمون پر گفتگو سے قبل دو تمہیدی گزارشات پیش کرنا بڑا ضروری ہے۔
تقسیم سے قبل کے متحدہ ہندوستان کے ایک برطانوی افسر ای ایم فاسٹر نے اپنی ایک کتاب میں ہندوستانی لوگوں کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک سب انسان فرشتے ہیں یا شیطان۔ کوئی درمیانی شکل ان لوگوں کی لغت میں نہیں ہے۔ اسی بات کو تاریخِ اسلام کے تناظر میں لیا جائے تو تراجم میں ہم بے حد غلو کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ یہ غلو عام رجال کے تذکروں تک محدود نہیں بلکہ اس کی حدیں رسول اللہ کی ذات تک جا ملتی ہیں جن کی سیرت کے باب میں لوگ اتنا آگے چلے گئے کہ موضوع احادیث تراشنے سے بھی باز نہیں آئے۔ دیگر اکابر کا حال تو اس سے بھی اگلی منزل پر پڑاؤ ڈالتا نظر آتا ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ راقم کی عقیدت اگر جنون کی حد تک نہیں تو وارفتگی کی حدود میں ضرور داخل ہے اور یہ حقیقت میرے معاصرین سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس لیے راقم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی خاکہ نگاری کرتے ہوئے وہ نہ تو ای ایم فاسٹر کا ہندوستانی تسلسل کہلانا چاہتا ہے اور نہ توازن کا دامن چھوڑ کر اس عقیدت کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ موضوع احادیث تراشتا چلا جائے۔
لہٰذا قارئین یہ سطور پڑھتے وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ پوری صحت کے ساتھ ہے اور اگر بظاہر کہیں اعتدال نہ نظر آئے تو اسے عقیدت پر محمول نہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ موصوف کی شخصیت اس قدر ناقابلِ حصول رفعتوں پر ہے کہ ان کے مثل راقم کو سردست کوئی اور شخص دیکھنے کو نہیں ملا۔ پس قارئین کو اگر کہیں اعتدال سے ماوراء عبارت پڑھنے کو ملے تو اس کی وجہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا اعجاز ہو گا، اسے راقم کی بے اعتدالی نہ سمجھا جائے۔
اس سلسلے کی دوسری قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس مضمون کی حیثیت تاریخی نوعیت کی ہے۔ اسے تحقیق میں استعمال تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بجائے خود کوئی تحقیق نہیں، شہادت ہے۔ یوں یہ بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ضرورت کے حسبِ حال صیغہ واحد متکلم استعمال کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ قارئین ازخود ملاحظہ کر سکیں گے کہ اس عمل میں اپنی شخصیت کا اظہار نہیں ہو گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تاثراتی کوششوں میں اگر یہ صیغہ بے دریغ استعمال نہ کیا جائے تو بقدرِ اشکِ بلبل اس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف ہی کی شخصیت کو اجاگر کیا جائے۔ اس کوشش میں اگر راقم کی شخصیت غیر شعوری طور پر کسی قدر نمایاں ہو گئی ہو تو قارئین یہ ذہن میں رکھیں کہ لوہے کو سنگِ پارس سے مس کر کے سونا بنانے کا خواب تاریخ میں ہر شخص نے دیکھا ہے۔ راقم کوئی فوق البشر مخلوق نہیں ہے کہ وہ سونا بننے کی خواہش نہ کرے بالخصوص کہ جب سنگِ پارس دل کے آئینے میں آویزاں ہو۔
مجھے یہ اجازت اور سہولت حاصل رہی کہ رات کو دو بجے بھی چاہوں تو انہیں فون کر کے، اک ذرا گردن جھکا کر نہاں خانہ دل میں جھانک کر صحبتِ لطف و کرم سے محظوظ ہو سکتا تھا۔ اس اختیار کو میں نے سارے عرصہ رفاقت میں صرف ایک دفعہ استعمال کیا۔ یہ نکتہ بالوضاحت سمجھنے کے لیے ایک واقعہ کافی ہو گا۔
۲۰۰۹ء کے گرما میں آپ قطر سے پاکستان تشریف لائے۔ عین انہی دنوں کراچی سے میرے ایک وکیل دوست ملنے آئے جنہیں اہلِ علم سے ملنے کا ہمیشہ سے اشتیاق رہا۔ اس ملاقات میں انہوں نے فرمائش کی کہ ڈاکٹر غازی صاحب سے ملواؤ۔ فرمائش سنتے ہی میں نے گاڑی کا رخ ڈاکٹر صاحب کے گھر کی طرف کر دیا۔ تپاک سے ملے اور صرف اتنا کہا: "بھئی معاف کیجیے، آنے سے پہلے فون کر لیتے تو آپ ہی کو سہولت ہوتی، مثلاً میں گھر پر نہ ہوتا تو آپ کو زحمت اٹھانا پڑتی"۔ میں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر جو جواب دیا، وہ یوں تھا: "ڈاکٹر صاحب! آپ سے میرا عرصہ رفاقت تین عشروں پر پھیلا ہوا ہے۔ آپ اس سے انکار نہیں کریں گے کہ آپ کے اہل خانہ کے بعد اگر کوئی شخص آپ کا مزاج شناس ہے تو وہ شام صاحب ہے۔ لہٰذا ان دو حقائق کے پیش نظر آپ یہ بات مجھ پر چھوڑ دیں کہ میں آپ کو فون کر کے آؤں یا اس کے بغیر! آپ نہ ملتے تو ہم واپس چلے جاتے"۔ مسکرا کر چپ ہو گئے۔
یہ خالی خولی الفاظ میرے دل کی کیفیت آپ تک نہیں پہنچا سکیں گے۔ ان الفاظ کے اندر تیس سالہ رفاقت کا طنطنہ، لگاوٹ، اپنائیت، احساسِ ملکیت (Possiveness) اور سپردگی (Submission) یہ سب کچھ موجود تھا۔ ان میٹر بینڈ کی نشریات صرف اسی ایک لا سلکی آلے کو موصول ہوتی ہیں جس کے لیے نشر کی گئی ہوں۔ دیگر سامعین اس لذت آشنائی سے محروم رہتے ہیں۔
تمہید
قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا قانونی ڈھانچہ مطلقاً برطانوی نظامِ قانون پر استوار تھا۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے احوالِ شخصیہ اسی انگریزی قانون کے سائے تلے ایک حد تک محفوظ تھے تاہم نظامِ قانون اور قانون کی تعلیم لادینی بنیادوں پر قائم تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دینی حلقے اس امر کی طرف توجہ دلاتے رہے لیکن دیگر اہم ریاستی ترجیحات کے باوصف اس طرف توجہ نہ دی جا سکی۔ برصغیر میں انتقالِ اقتدار پُرامن قانونی طریقے پر ہوا تھا۔ اس لیے لا دینی نظام کو کسی انقلابی انداز میں بدلنا ممکن نہ تھا، لہٰذا اس کام کے لیے بہترین اصلاحی انداز اختیار کیا گیا۔ دیگر طریقے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ شریعہ اکیڈمی بھی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی۔
شریعہ اکیڈمی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پیش نظر انگریزی قانون کے ہر شعبے کو اس طرح متاثر کرنا ہے کہ اس سے نہ تو افراتفری کا تاثر ملے اور نہ کسی انقلابی تبدیلی کے نام پر لادین حلقوں کو چوکنا کیا جائے۔ اب تک شریعہ اکیڈمی نے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ملکی نظام قانون کے ہر شعبے کو بڑی حکمت کے ساتھ اس طرح سہولیات بہم پہنچائی ہیں کہ اسلامی قانون لوگوں کی زندگی میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس حکمت کے پیچھے ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی فکر کام کرتی ہے۔
انگریزی نظامِ قانون کے رجال کار (Personnel) کی ذہنی ساخت میں تبدیلی لانے کے حوالے سے کام دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
موجودہ عدالتی منصفین اور ان کے معاونین کی تربیت اور وکلاء کی تربیت۔ یہ وہ دو زمرے ہیں جن کی مناسب انداز میں تربیت سے پورا معاشرہ عدل و انصاف نعمتوں سے بہرہ مند ہو سکتا ہے۔ اسلامی نظامِ قانون کی ایک ندرت یہ بھی ہے کہ اس کا بڑا حصہ لوگ اپنی زندگی میں بغیر کسی تقنین (Codification) کے اپنے اوپر خود نافذ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دینی رہنماؤں سے رجوع کرتے ہیں جو بدقسمتی سے معاصر تقنین سے واقف نہیں ہوتے۔ مفتیان کرام کی تربیت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سلسلے میں شریعہ اکیڈمی نے ڈاکٹر صاحب موصوف کی نگرانی میں جو کچھ کیا وہ آپ آئیندہ سطور میں پڑھیں گے۔
قانونی نظام کے رجال کار نظامِ تعلیم کی پیداوار ہوا کرتے ہیں۔ نظامِ تعلیم جن فکری بنیادی پر قائم ہوتا ہے اس کے لیے ہر عہد میں وہ نت نئے تحریری وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے مختصر عرصہ حیات میں اکیڈمی اتنی مطبوعات شائع کر چکی ہے کہ ملک کا کوئی دوسرا سرکاری ادارہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان مطبوعات میں تراث کے تراجم سے لے کر جدید قانونی موضوعات تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اکیڈمی کی بیشتر کتب قانون کی تعلیم دینے والے اداروں کی ہر سطح کی نہ صرف ضرورت پوری کرتی ہیں بلکہ وہ بتدریج ان کتب کی جگہ بھی لے رہی ہیں جو تقسیم سے قبل تحریر کی گئی تھیں۔
تر بیت کا کام لوگوں کو کیمپس میں بلا کر ہو سکتا ہے، یا لوگوں کی دہلیز پر انہیں ان کی ضرورت کے حسبِ حال تربیت دی جا سکتی ہے۔ اکیڈمی کی کتابیں نظامِ تعلیم کو بہتر بنا رہی ہیں اور بتدریج ایک نئے نظامِ تعلیم کی داغ بیل ڈال رہی ہیں۔ پھر بھی اکیڈمی کو اطمینان نہیں ہے۔ ایک موقع پر سوچا گیا کہ قانون سے متعلق ہزاروں لاکھوں لوگ نہ تو اکیڈمی میں آ کر کچھ سیکھ سکتے ہیں، نہ اکیڈمی ان کے پاس جا سکتی ہے۔ ادھر یہ لوگ کسی نہ کسی انداز میں معاشرے کا وہ قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں لوگوں کے امور ہوا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کی عمر سے ماوراء ہو چکے ہوں، اکیڈمی میں آ کر مختصر المیعاد کورسوں میں شریک ہونے سے قاصر ہوں، اپنے شہروں میں وسائل ہونے کے باوجود وہ وقت نہ نکال سکتے ہوں، ایسے افراد میں اسلامی قانون عام کرنے کے لیے اکیڈمی نے مختصر حجم کے چھوٹے چھوٹے کتابچے شائع کر رکھے ہیں جنہیں وہ رات کو ایک نشست میں پڑھ کر کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انہی کتابچوں کی مدد سے اکیڈمی نے مراسلاتی کورس شروع کر رکھے ہیں۔
اپنی رنگا رنگ مصروفیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غازی صاحب نے شریعہ اکیڈمی کو جس طرح اپنا خونِ جگر دیا، اس کا ثمرہ تین شکلوں میں ہمارے سامنے ہے۔ آئیندہ سطور میں آپ اکیڈمی کی ان کوششوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے جو درج ذیل شعبوں میں منقسم ہیں: شعبہ تربیت؛ شعبہ مراسلاتی کورس؛ اور شعبہ مطبوعات۔
شریعہ اکیڈمی کی تاسیس
بین الاقوامی یونیورسٹی ۱۹۸۰ء میں قائم ہوئی تو اس وقت اس کے سامنے بنیادی مقصد اسلامی قانون سے متعلق ماہرین تیار کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی میں تدریس کے لیے شریعہ فیکلٹی قائم ہوئی۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال سامنے آیا کہ شریعت سے نابلد موجودہ عدالتی افسران اور ان کے متعلقین کی علمی سطح کیسے بلند کی جائے۔ اس کا جواب اسی اسلامی یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف ٹریننگ اِن شریعہ اینڈ لیگل پروفیشن قائم کرنے کی صورت میں آیا۔ یہ ادارہ ۱۹۸۱ء میں قائم ہوا اور آگے چل کر یہی ادارہ شریعہ اکیڈمی کہلایا۔ لیکن ۱۹۸۱ء میں جب ادارہ قائم ہوا تو اس کا مقصدِ وحید عدالتی افسران، ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے افسران، پولیس کے شعبہ پراسیکیوشن کے افسران، ڈی ایس پی لیگل اور مسلح افواج کے تینوں شعبوں کی جج ایڈوکیٹ جنرل برانچ کے افسران کو سولہ ہفتوں پر محیط اسلامی قانون کا کورس کرانا تھا۔
مارچ ۱۹۸۵ء میں اسلامی یونیورسٹی کا درجہ بلند کر کے اسے بین الاقوامی کر دیا گیا۔ اس وقت یونیورسٹی میں تدریسی شعبوں کے ساتھ کچھ اضافے ہوئے۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ۱۹۸۱ء میں یونیورسٹی کے قیام سے قبل، وزارتِ مذہبی امور کا ایک ماتحت ادارہ تھا جسے اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ ملحق کر دیا گیا۔ دعوہ اکیڈمی کے نام سے ایک نیا ادارہ ۱۹۸۵ء میں یونیورسٹی کے اندر قائم ہوا جس کا ابتدائی نام اکیڈمی فار دعوۃ اینڈ ٹریننگ آف امام تھا۔ ۱۹۸۷ء میں اسے دعوۃ اکیڈمی سے بدل دیا گیا۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس کا الحاق بھی یونیورسٹی کے ساتھ رہا اور ۱۹۸۱ء میں قائم انسٹیٹیوٹ آف ٹریننگ اِن شریعہ اینڈ لیگل پروفیشن کی قلب ماہیت شریعہ اکیڈمی کی صورت میں ہوئی۔ ۱۹۸۷ء میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے دعوہ اکیڈمی کی سربراہی قبول کی۔ اس وقت شریعہ اکیڈمی میں پورے سال میں عدالتی افسران کے لیے وہی سولہ ہفتوں کا ایک کورس ہوا کرتا تھا۔ راقم اس عرصے میں دعوہ اکیڈمی میں لیکچرار کی حیثیت میں کام کر رہا تھا۔
دعوہ اکیڈمی میں راقم نے اپنی تقرری کے ساتھ ہی علومِ اسلامیہ کی اشاعت خط و کتابت کورس کے ذریعے کرنے کی طرف توجہ کی۔ شاہ فیصل مسجد کے خطباتِ جمعہ کی بنیاد پر مراسلاتی کورس کو آپ کی راہنمائی اور تعاون سے میں نے یہ سلسلہ چار مزید کورسوں تک پھیلا دیا جو اَب تک جاری ہے۔ مجھے شدت سے احساس تھا کہ متعدد قانونی زاویوں سے اسلام کا تعارف قانونی حلقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ نظری باتیں تو بہت کر لیتے ہیں لیکن اسلامی قانون کی فنی باریکیوں کا علم بہت کم ہوتا ہے۔ اس سوچ کے باعث میں نے وکلا کے ایک مراسلاتی کورس کی زبانی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بلا تامل منظور کر کے ہدایت کی کہ اس کا تفصیلی خاکہ تیار کر کے متعلقہ ادارے کے سامنے رکھا جائے۔ یہ خاکہ تیار ہوا، اس کی منظوری اسی طرح ہو گئی جیسے راقم نے خاکہ تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد یہ مراسلاتی کورس لکھنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ سارا مواد میں نے لکھنا تھا۔
شریعہ اکیڈمی کا نیا جنم
راقم کو یہ کہنے لکھنے میں ذرا تامل یا ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ اپنے قیام سن ۱۹۸۱ء سے ۲۸ جنوری ۱۹۹۲ء کو جناب ڈاکٹر غازی صاحب کے شریعہ اکیڈمی کا سربراہ بننے تک اس اکیڈمی کا مطلب ہر کسی کے نزدیک ایک ہی تھا: ججوں کی تربیت والا کورس۔ اکیڈمی میں اپنا منصب سنبھالتے ہی موصوف نے مجھے "مشورے" کے لیے بلایا۔ قارئین مشورے کو واوین میں دیکھ کر یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ شاید کوئی چبھتا ہوا حکم ہوا ہوگا۔ ایسے نہیں ہے۔ ان کے دیگر رفقا بھی شہادت دیں گے کہ موصوف حکم دینے کے عادی نہیں تھے۔ انداز البتہ یکسر الگ ہوا کرتا تھا۔ کوئی بات کہنا ہوتی تو اس کی عبارت یوں ہوتی "ذرا کبھی وقت نکال کر آج کل میں تشریف لائیے، کچھ مشورہ کرنا ہے۔ کوئی جلدی تو نہیں ہے بس اپنی سہولت کے مطابق ایک فون ضرور کر لیجیے تاکہ آپ کو زحمت نہ ہو"۔ ملاقات ہونے پر انہیں جو کہنا ہوتا، اتنے دلنشین انداز میں کہتے کہ سامع نے اختلاف کرنا ہوتا تو بھی متامل رہتا۔
اس زمانے میں غیر ملکی طلباء بڑی کثرت سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا کرتے تھے۔ بعض طلباء کے مطلوبہ تدریسی سالوں میں سے ایک یا دو سال کم ہوتے تھے۔ ایسے تمام غیر ملکی طلبا کو یونیورسٹی واپس نہیں بھیجتی تھی بلکہ دعوہ اکیڈمی کے زیر انتظام ایک دعوہ اسٹڈیز سنٹر ہوا کرتا تھا جہاں یہ تمام طلبا ایک یا دو سال میں مطلوبہ کمی پوری کر کے یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہو جاتے تھے۔ راقم اس سینٹر کا پرنسپل تھا۔ مشورے کے لیے پیش ہوا تو آپ نے پہلے تو میرے "کارہاے نمایاں" کی ہلکی سی توصیف فرمائی۔ پھر فرمایا، دیکھیں آپ نے وکلا کے لیے ایک مراسلاتی کورس کا خاکہ تیار کیا تھا، آپ کی موجودہ ذمہ داری کے ساتھ اسے روبہ عمل لانا ممکن نظر نہیں آتا۔ پھر یہ کہ وکلا کے لیے ہونے کے باعث اس کورس کا اجرا شریعہ اکیڈمی سے زیادہ مفید ہے۔ لہٰذا اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ شریعہ اکیڈمی میں بیٹھا کر کریں اور وہیں بیٹھ کر اس کورس کا مواد لکھیں۔
شریعہ اکیڈمی کے تحقیقی و تدریسی عملے میں راقم اور مراسلاتی کورس برائے وکلا پہلا اضافہ تھا۔
اڑیل گھوڑا اور "چابک دست" سوار
شریعہ اکیڈمی میں منعقدہ پہلا اجلاس راقم کو کل کی بات کی طرح خوب یاد ہے۔ اکیڈمی میں، جیسا کہ پہلے عرض کیا، سولہ ہفتے کا صرف ایک کورس ہوا کرتا تھا۔ باقی سارا سال ملازمین کا ایک پورا غول اس کورس کی "تیاری" میں لگا رہتا تھا۔ اس پہلے اجلاس میں آپ کی پہلی "تجویز" یہ تھی کہ ججوں والا کورس سال میں ایک کی بجائے دو دفعہ ہوا کرے۔ دوسری تجویز قانون دانوں کے لیے مراسلاتی کورس شروع کرنے کے بارے میں تھی۔ تیسری تجویز کتابوں کی باقاعدہ اشاعت کے متعلق تھی۔ ادھر انتظامی عملے کے فہم ہی سے بالا تھا کہ اس "انتہائی اہم کورس" کے ہوتے ہوئے وکلا کے مراسلاتی کورس کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ اور اکیڈمی کے "علمی" امور سے یہ کتابوں کی اشاعت کا کیا تعلق ہے؟ لیکن مجال ہے کہ آنجناب کے ماتھے پر کوئی شکن نظر آئی ہو۔ تمام مزاحمت کو بڑے دل نشیں پیرائے میں لیا، کوئی حکم صادر نہیں کیا، بڑے فرق کے ساتھ اپنے سے نچلے منصب کے کوتاہ فکر افسران کو قائل کر کے آئیندہ کا لائحہ عمل سب کے ذہن میں جاگزیں کرایا۔
اگر ان سطور کا مقصد محض ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی ستائش ہوتا تو اللہ معاف کرے یہ کوئی علمی مشق نہیں، تملق ہے۔ بے مقصد کام سے اللہ ہم سب کو بچائے۔ اس طرح کے کام کسی محبوس ریا کے لیے اپنے ممدوح کی زندگی میں تو سود مند ہو سکتے ہیں، وفات کے بعد حقِ نمک ادا کرنا خاصہ دشوار کام ہوتا ہے۔ راقم اس کوچے میں اجنبی ہے۔ تو پھر سطورِ گزشتہ کی علت غائی؟ محض لکھنے کی حد تک تو یہ سطور کچھ عقیدت کے جنون میں لکھی گئی ہیں کہ یہی ان کا محرکِ اول تھا۔ لیکن قارئین محسوس کریں گے کہ اس تحریر میں ان کی قوتِ شامعہ کو تشویق کی مہک بھی محسوس ہو گی۔ نیکی اور نیکوکار کا تذکرہ شجرِ طیبہ کی آب یاری نہیں تو کیا ہے۔ کیوں برائی کے تذکرے تک سے منع کر دیا گیا ہے؟
ڈاکٹر غازی صاحب کے ان محاسن کے بیان کا ایک بڑا مقصد یہ بھی پیش نظر رہا کہ شاید کسی ایک دل میں یہ شوق پیدا ہو کہ وہ بھی وہی نیک نامی کمائے جو ڈاکٹر غازی کا اثاثہ تھی۔ اگر یہ بات ہے تو پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ ذرا یہ بھی تو پتہ چلے کہ آخر اتنی متاع ثمینہ ڈاکٹر صاحب موصوف کیسے سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔ میں جب غور کرتا ہوں کہ ان کی زندگی کے اس دفتری پہلو کو چند الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کروں تو پہلی مشکل یہ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ ان کی دفتری زندگی، عملی زندگی، علمی زندگی، خانگی زندگی، غرض یہ کہ زندگی کے ہر زاویے کا رنگ ایک ہی نظر آتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد کے رفقا کا جائزہ لیں تو تھوڑے غور سے آپ دیکھیں گے کہ کم و بیش ہر شخص کی شخصیت لاتعداد گرہوں میں منقسم ہے۔ دفتری زندگی میں کامیاب شخص اڑوس پڑوس کے لیے شاید راندہ درگاہ ہو۔ اڑوس پڑوس کی آنکھ کا تارا ممکن ہے، اہلِ خانہ کو نظر انداز کرتا ہو۔ انتظامی صلاحیتوں سے مالامال شخص کا علمی پہلو کمزور ہو سکتا ہے، علیٰ ہذا القیاس۔ ڈاکٹر غازی صاحب کی زندگی اس کے بالکل برعکس یکساں رفتار کے ساتھ، ماحول منڈی سے یکسر بے نیاز اور دنیا سے بے رغبتی میں ڈوبی اور افق سے بھی اس پار کہیں دور، ستاروں کی دنیا سے بھی آگے مآل پر ٹکی نظر آتی ہے۔ ہر شخص کو اللہ کریم نے دو ہی آنکھیں دی ہیں۔ کچھ تحریروں اور فنون میں اہلِ علم ایک تیسری آنکھ بھی بیان کرتے ہیں۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں لیکن ساحر لدھیانوی کے بقول "لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے"۔
میں اس تیسری آنکھ سے ڈاکٹر غازی صاحب سے اپنی تیس سالہ رفاقت کو دیکھوں تو ان کی وہی تیسری آنکھ دور بہت دور، اور اس سے بھی دور، پتہ نہیں کتنی دور خالقِ کائنات کی تلاش اور اس کے قرب کے لیے بے چین بھٹکتی نظر آتی ہے۔ لیکن باقی دیدہ بینا سے کام لوں تو اپنے ممدوح کا اثات البیت تین قیمتی برتنوں پر مشتمل نظر آتا ہے: یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبتِ فاتح عالم۔ ہفت زبان ہونے کے باوجود موصوف کی اپنی ذاتی غیر مطبوعہ لغت میں تلاش کے باوجود مجھے "دل آزاری" نام کا لفظ نہ مل سکا۔ تیس سالہ رفاقت میں صرف دو دفعہ — اپنی لاتعداد کوتاہیوں اور بداعمالیوں کے باوجود — جو سب سے "درشت" جملہ سننے کو ملا، یادش بخیر! اب کس سے سنوں؟ کہاں سے سنوں؟ وہ حلاوت آفرینی، وہ شیرینی اور وہ انگبیں وش لہجہ!: "بھئی آپ مہمل باتیں نہ کیا کریں"۔ کسی دفتری فروگزاشت کی جزا نہ تھی۔ ایک علمی مچیٹا ہم دونوں کے مابین شروع ہوا۔ کہاں رانی بھوج اور کہاں گنگوتیلی! لیکن اکابر کے ساتھ مچیٹے کے دنگل میں، میں اسی وقت لنگوٹ کس کر کودتا ہوں جب مجھے اپنی رائے کے کلی طور پر درست ہونے کا یقین ہو۔ میں تھوڑی ہی دیر میں حوالوں کے پرے کے پرے اٹھا لایا۔ بالآخر تو مان گئے لیکن اپنے خاص شعبے — دستور — میں انہیں میری اختلافی مداخلت قدرے ناگوار گزری۔ تیس سالہ رفاقت کے پکوان میں یہ جملہ — بھئی آپ مہمل باتیں نہ کیا کریں — اب تتیہ مرچ لگتا ہے۔ ذرا اپنے کھانوں میں سے مرچ نفی کر کے کھا کر تو دیکھیں۔
شعبہ مطبوعات: جامعہ کے اندر جامعہ
ڈاکٹر غازی صاحب کے عہد میں شریعہ اکیڈمی کی ۱۰۰ سے کچھ کم کتب چھپ چکی تھیں۔ ان کے بعد آنے والے اصحاب نے اکیڈمی کے امور بطریق احسن چلائے۔ لیکن ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے جانے کے بعد بھی اپنے رفقا کے دل پر قبضہ جمائے رکھا۔ دفتری نظام میں جانے والے کو اچھے الفاظ میں یاد رکھنے کی روایت ہمارے ہاں بہت کم رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو روایتی اعتبار سے بعد میں آنے والے بھی اپنے فہم اور صلاحیتوں کے ساتھ اکیڈمی کے اشاعتی کام میں اپنا حصہ بحسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ لیکن ان سب اصحاب کا موازنہ جب میں ڈاکٹر غازی صاحب سے کرتا ہوں تو اس دوڑ میں ڈاکٹر صاحب ان تمام لوگوں سے بہت ہی آگے نظر آتے ہیں۔ اندازہ کیجئے، صفر سے کام کا آغاز اور رجال کار ندارد! خامہ ہائے بگوش کو تو چھوڑیں کہ ادھر ادھر سے بھی کام چلا لیا جاتا ہے، یہاں تو طباعتی ناک نقشہ ہی مفقود! طرفہ تماشہ یہ کہ شریعہ اکیڈمی میں ایک گھنٹے کی تشریف آوری! رخشِ امور علمی کی رکاب میں پا تو ہاتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی باگ پر، سمندِ وزارت کی شہواری، بحرِ عدلِ عظمیٰ کی شناوری، نیشنل سیکورٹی کونسل میں جرنیلوں کی ہم جلیسی اور کتابوں کی اشاعت؟ ایک سال اور گزار لیتے تو سنچری مکمل ہو جاتی۔ وہ انسان تھا یا سلیمان علیہ السلام کا جن؟
ذیل میں ان کتب کی فہرست ہے جو آپ کے عہدِ گراں مایہ میں شریعہ اکیڈمی سے شائع ہوئیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس قدیم و جدید کو ہم آغوش کرنے کو جو اسلامی یونیورسٹی بصد ناز و ادا آئی تھی (جی ہاں اب صیغہ ماضی ہی سے کام چلانا پڑے گا۔ مصطفےٰ زیدی نے یقیناً اسی بارے میں کہا تھا، "وہ داستان تھی کسی اور شاہزادے کی") وہ قدیم و جدید تو ایک مکمل جامعہ کی شکل میں پہلے سے موجود تھا۔
اتنا طویل عرصہ رفاقت کے باوجود میرے لیے یہ طے کرنا خاصا دشوار کام ہے کہ شعبہ ہائے خط و کتابت کورس، مطبوعات، تحقیق اور تربیت میں سے آپ کس شعبے کو فوقیت دیا کرتے۔ مرحوم کی زندگی میں اس قدر توازن اور اعتدال تھا کہ میں یہ کہنے پر — کوئی فیصلہ نہ کرنے کے باعث — مجبور ہوں کہ آپ تمام امور کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔ ۱۹۹۹ء میں آپ کو کہیں سے سن گن ملی کہ لاہور کے ادارہ معارفِ اسلامی میں چھ مطبوعات ترجمہ شدہ شکل میں پڑی ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ادارہ انہیں طبع نہیں کر پا رہا۔ ذرا تاخیر کیے بغیر آپ نے راقم سمیت تین اصحاب کی ایک کمیٹی کو معارفِ اسلامی بھیجنے کا حکم دیا۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۹ ء کو ہم تینوں افراد لاہور گئے اور مذکورہ چھ کتب خرید کر لے آئے اور تھوڑے ہی عرصے میں ان میں سے دو کتب چھپ کر شائع ہو گئیں جو یہ ہیں: احکام القران از جصاص اور سبل السلام از صنعانی۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کوئی کتاب ان کے پاس چھپنے کے لیے آئی ہو تو انہوں نے کسی تامل یا ردوکد کا مظاہرہ کیا ہو۔ تعجب تو اس پر ہے کہ آخری دور تک سو سے کچھ ہی کم اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ان تمام مطبوعہ کتب کا آپ ایک ایک صفحہ پڑھ کر منظوری دیا کرتے تھے۔ اہمیت کی حامل کتب کے صفحات تک سے باخبر ہوتے تھے۔ کہیں کسی موقع پر بریفنگ وغیرہ دینا ہوتی تو متعلقہ افسران اپنے شعبہ کے متعلق اتنے باخبر نہیں ہوتے تھے جتنا آپ کو علم ہوتا۔ کتابوں کا تعارف کراتے وقت درجنوں کتب کے صفحات تک زبانی بتا دیتے۔
مناسب تحقیقی و تدریسی عملہ نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر غازی صاحب کے سارے عہد میں مطبوعات کا شعبہ الگ سے نہیں تھا۔ طباعت کا تمام کام انتظامی افسران کے پاس تھا۔ یہ کام مختلف اسالیب سے سرانجام دیا جاتا تھا۔ مثلاً ۵-۱۹۹۴ میں مطالعہ اسلامی قانون کے اسباق کی طباعت کا کام درپیش تھا تو ذاتی دلچسپی ہونے کی وجہ سے عملًا یہ سارا کام راقم نے خود کرایا۔ انتظامی افسران نے خوب معاونت کی۔ اس کے بعد بھی اس کام کے لیے طویل عرصے تک کوئی شخص مقرر نہ ہوا بلکہ کئی افراد مل کر کتابیں طبع کراتے رہے۔ آخری سالوں میں ایک صاحب انگریزی مطبوعات کے ایڈیٹر رکھے گئے۔ بڑی اچھی انگریزی اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک لیکن بعض بے اعتدالیوں کا شکار تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد بلا اطلاع غائب ہوگئے۔ یہ لکھ دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ من جملہ دیگر اصحاب اور باسثنائے راقم کے، موصوف ڈاکٹر غازی سے بھی ایک موٹی رقم بطور قرض لے کر غائب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے انتظامی افسران کے توسط سے قانونی طریقے سے ان کا سراغ لگانے کی ہلکی سے کوشش کی لیکن پھر سکوت اختیار کر لیا۔
مطبوعات
احکام القرآن: امام ابوبکر احمد بن علی الرازی الجصاص (م۳۷۰ھ) کی شہرہ آفاق اور مستند فقہی تفسیر احکام القرآن کا پہلا عام فہم اردو ترجمہ، مترجم مولانا عبد القیوم (فیصل آبادی) ۶ جلدیں، صفحات: ۴۲۱۲
تفسیر قرطبی: امام محمد بن احمد القرطبی المالکی (م۶۷۱ھ) کی مقبولِ عام اور جامع فقہی تفسیر الجامع لاحکام القرآن کا پہلا سلیس اردو ترجمہ، مترجم ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین جلد اوّل، صفحات: ۶۸۸۔ یہ منصوبہ شروع تو ڈاکٹر غازی صاحب نے کرایا لیکن زیر نظر کتاب ان کے بعد شائع ہوئی۔
سُبل السلام: دورِ متوسط کے عظیم محدث حافظ ابن حجر العسقلانی (م۸۵۲ھ) کے مرتب کردہ فقہی احکام پر مشتمل مجموعہ احادیث بلوغ المرام منادلّۃ الاحکام کی مقبول و معروف شرح سُبل السلام از امام محمد بن اسماعیل الصنعانی یمنی (م ۱۱۸۲ھ) کا اردو ترجمہ مترجمین مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، جلد اول، دوم، مولانا عبدالقیوم (فیصل آبادی)، جلد سوم، چہارم، ۴ جلدیں، صفحات: ۲۴۶۰
اسلامی نظریۂ ضرورت: مغربی نظریۂ اباحیت، مفاسد اور تجدّد پسندی کے سیاق و سباق میں اسلامی نظریۂ ضرورت اور متعلقہ مباحث پر ایک تحقیقی تصنیف ڈاکٹر عبد المالک عرفانی مرحوم، صفحات: ۲۷۸
عقد الجید: اجتہاد و تقلید کے موضوع پر شاہ ولی اللہ، محدث دہلوی (م۱۱۷۶ھ) کی فاضلانہ تصنیف عقد الجید فی أحکام الاجتہاد والتقلید کا اردو ترجمہ مترجم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صفحات: ۱۸۶
اسلامی قانون میں تحدیدِ مدت اور قبضہ کے تصورات: مؤلف ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی، صفحات: ۱۹۲
اسلام میں قانونِ ٹارٹ کا تصور: مؤلف ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، صفحات: ۸۰
عاقلہ کا تصور، فقہِ اسلامی میں: قصاص و دیت کے مقدمات میں مجرم کی برادری کی ذمہ داریوں کے بارے میں مصر کے نامور فقیہ اور قانون دان ڈاکٹر عوض محمد عوض کی علمی تحریر کا اردو ترجمہ مترجم ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی، صفحات: ۸۸
اسلامی قانون میں شبہ کا تصور: سنتِ رسولؐ نیز صحابہ کرامؓ کے عمل کی روشنی میں ’شبہ‘ کے مختلف پہلوؤں پر مصر کے نامور فقیہ استاد محمد ابو زہرہ کی ایک تحقیقی تالیف الجریمۃ والعقوبۃ فی الفقہ الاسلامی کے ایک باب کا اردو ترجمہ۔ مترجم ڈاکٹر احمد حسن، صفحات: ۸۲
قواعدِ کلّیہ اور ان کا آغاز و ارتقاء: فقہاء کے اجتہادی عمل کو سمجھنے کے لیے رہنما اصولوں اور ضابطوں کے آغاز و ارتقاء پر ایک ابتدائی کتاب۔ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، صفحات: ۵۸
فقہِ اسلامی کا تاسیسی پس منظر: فقہِ اسلامی کا عمومی تعارف اور تشکیلی دور کا مختصر جائزہ۔ مؤلف ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی، صفحات: ۴۸
ہدایہ: فقہ حنفی کی مستند کتاب ہدایۃ، امام علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی (م۵۹۳ھ) کا سلیس اردو ترجمہ، جلد اوّل، مترجمین: مولانا محمد مالک کاندھلوی، ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صفحات: ۶۵۶
خطبات بہاول پور (۲) اسلام کا قانون بین الممالک: اس کتاب میں عالمانہ اور مدلل انداز سے اسلام کے تصورِ قانون بین الممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم اور عامۃ الناس کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تالیف ڈاکٹر محمود احمد غازی، صفحات: ۵۴۰
علمِ اصولِ فقہ - ایک تعارف: اسلامی قانون کے مختلف پہلوؤں سے قانون دان طبقوں کی آگاہی کے لیے ایک رہنما کتاب، مقالہ نگار: ڈاکٹر محمود احمد غازی، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ڈاکٹر ساجدہ محمد حسین بٹ اور مفتی محمد مجاہد، ترتیب و تدوین: ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، جلد اوّل، صفحات: ۶۰۰، جلد دوم، صفحات: ۵۰۰، جلد سوم، صفحات: ۵۲۰، مکمل سیٹ، صفحات: ۱۷۲۰۔ یہ سارا کام الگ الگ اسباق میں تو آپ کے دور میں چھپا تھا، کتابی شکل بعد میں آئی۔
مراسلاتی کورس اسلامی قانون کے اسباق: پہلے ۲۱ اسباق کے مؤلف ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، ۲۲ واں سبق مؤلف ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب اور ۲۳واں اور ۲۴واں سبق ڈاکٹر محمد احمد غازی صاحب کی تالیف ہیں۔ ۲۴ اسباق کا مکمل سیٹ، صفحات: ۹۴۴
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ اوّل-قرآن، ۴۲ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ دوم-سنت، ۴۴ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ سوم-اجماع، ۴۰ صفحات
اسلامی قانون کے مآخذ: مأخذ چہارم-قیاس، ۴۰ صفحات
اجتہاد: ایک تعارف، ۴۰ صفحات
اسلام میں قانون سازی کا تصور اور طریقِ کار، ۴۲ صفحات
دینی مسائل میں اختلافات، اسباب اور ان کا حل، ۴۲ صفحات
اسلام کا قانونِ نکاح و طلاق، ۴۴ صفحات
اسلام کا قانون وراثت و وصیت، ۴۴ صفحات
اسلام میں عورت کی استثنائی حیثیت اور اس کی وجوہ، ۳۸ صفحات
اسلام کا تصورِ ملکیت و مال، ۴۰ صفحات
اسلام کا تصورِ معاہدہ، ۳۶ صفحات
اسلام میں شراکتی کاروبار کا تصور، ۴۰ صفحات
مزارعت اور مساقات، ۳۶ صفحات
اسلام کا نظامِ محاصل، ۴۰ صفحات
اسلام کا نظامِ مصارف، ۳۶ صفحات
اسلام میں عدل و قضا کا تصور، ۴۰ صفحات
اسلام کا نظامِ احتساب، ۳۴ صفحات
اسلامی نظامِ عدل و قضا میں شہادت کا تصور، ۴۰ صفحات
اسلام کا تصورِ جرم و سزا، ۴۴ صفحات
اسلام کا فوجداری قانون، ۳۶ صفحات
اسلام کا دستوری قانون، ۴۰ صفحات
اسلام کا قانون بین الممالک، ۳۴ صفحات
اسلام میں ربا کی حرمت اور بلاسود بینک کاری، ۳۲ صفحات
اختصاصی مراسلاتی کورس، کل صفحات: ۹۴۴
مطالعہ قانون اسلامی و اصول فقہ: یہ سارے اسباق آپ کے عہد میں تیار تو ہو چکے تھے، ان کی طباعت بعد میں ہوئی۔
علم اصول فقہ: ایک تعارف-۱ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۸ صفحات
علم اصول فقہ: ایک تعارف-۲ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۴ صفحات
قرآن مؤلف ڈاکٹر ساجدہ محمد حسین بٹ، ۵۲ صفحات
سنت مؤلف ڈاکٹر محمد سعد صدیقی، ۴۶ صفحات
سنت کی حجیت کا جائزہ مؤلف ڈاکٹر محمد سعد صدیقی، ۵۲ صفحات
اجماع مؤلف ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ۵۲ صفحات
قیاس مؤلف مفتی محمد مجاہد، ۴۸ صفحات
شرائع سابقہ و اقوالِ صحابہؓ و استصلاح مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۸ صفحات
استحسان و استصحاب و استدلال مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۲ صفحات
عرف اور سدِّذرائع مؤلف ڈاکٹر منیر احمد مغل، ۵۶ صفحات
حکم شرعی-۱ (حکم تکلیفی) مؤلف ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ۳۲ صفحات
حکم شرعی-۲ (حکم وضعی) مؤلف ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ۵۴ صفحات
خاص مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۸ صفحات
عام، مشترک، حقیقت و مجاز، صریح و کنایہ مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۶۲ صفحات
دلالات مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۸ صفحات
اسلام کا نظریہ اجتہاد مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۵۶ صفحات
مناہج و اسالیب اجتہاد مؤلف پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ۵۶ صفحات
تقنین مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۵۶ صفحات
پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے کا عمل مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۴۸ صفحات
فقہ حنفی و فقہ مالکی مؤلف ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ۵۶ صفحات
فقہ شافعی و فقہ حنبلی مؤلف ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، ۴۰ صفحات
فقہ جعفری و فقہ ظاہری مؤلف ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں، ۸۰ صفحات
قواعد کلیہ-۱ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۸ صفحات
قواعد کلیہ-۲ مؤلف ڈاکٹر محمود احمد غازی، ۶۴ صفحات
المدخل للفقہ المصرفی (عربی): اسلام میں بینک کاری کے موضوع پر ایک قابلِ قدر کاوش، مؤلفین: ڈاکٹر محمد طاہر منصوری، ڈاکٹر عبدالحی ابڑو، صفحات: ۲۴۲
An Introduction to the Study of Islamic Law: Dr Hussain Hamid Hassan p.51 2
Islamic Law of Contract and Business Transactions: Dr Muhammad Tahir Mansoori p.368
Status of Treaties in Islam: Jamshid A. Hamid p.168
The Islamic Law of Evidence: Dr Anwarullah p.102
The Criminal Law of Islam: Prof. Dr Anwarullah p.28 8
Alahkam Al-Sultaniyah: (A monograph on Administrative & Constitutional Law of Islam) by Dr Khalid M. Ishaq Advocate p.72
State and Legislation in Islam: Dr Mahmood Ahmed Ghazi p.206
Ideological Foundations of Pakistan:Professor Sharif al Mujahid p.32 4
The Objectives Resolution and its Impact on the Administration of Justice in Pakistan: Justice (R) Dr Nasim Hasan Shah p.2 8
Ijtihad and Islamisation of Laws in Pakistan: Justice (R) Muhammad Afzal Cheema p.2 8
Islamisation of Law in Pakistan: Justice (R) Dr Nasim Hasan Shah p.40
The Sanusiyyah Movement in North Africa: Dr Mahmood Ahmad Ghazi pp.344
Protection of Muslim Family Laws
Some Recommendations for the Legislature and Judiciary
Mufti Taqi Usmani
All praise is due to Allah, who brought this world into existence. And peace and blessings be upon His final Prophet, who raised the banner of truth in this world.
The rulings concerning marriage, divorce, bequests, and inheritance hold a degree of sanctity in every religion and community that is almost equal to that of acts of worship. That is why the Qur'an and Sunnah have elaborated upon these rulings in greater detail than any other legal matter, because these laws pertain to the family system, which is the cornerstone of any civilization—and upon this foundation, the edifice of a society is built.
When the British established their rule over the Indian subcontinent, they enforced their own laws in all matters. However, they retained the aforementioned laws as "Muslim Personal Law" and directed the courts to adjudicate such matters according to Hanafi or Ja'fari jurisprudence. Accordingly, in undivided India, courts remained bound by this directive. They would either rely on the fatwas of respected muftis or refer to books written on these subjects for interpretation and exposition of the Shariah. Although some court decisions contained errors, on the whole, the Muslim Personal Law remained largely preserved.
During this period, Hakim al-Ummat, Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanvi (may Allah have mercy on him), observed that under Hanafi jurisprudence, certain women who were victims of oppression at the hands of their husbands, or who could not obtain separation due to their husbands' mental incapacity or disappearance, faced practical difficulties. Therefore, after consulting with the scholars of India, he issued a fatwa allowing such women to seek annulment of marriage under Maliki jurisprudence. Subsequently, this fatwa led to the enactment of the "Dissolution of Muslim Marriages Act," which was passed by the legislature and became a formal law. The merit of this law was that the oppressed wife's marriage would be annulled, and she would still retain her right to dower (mahr).
Pakistan's constitution has also acknowledged the importance of personal laws (Muslim Personal Law). In almost every matter, the right of all schools of thought (makatib-e-fikr) has been recognized, allowing them to continue to act according to their respective schools of thought in matters of marriage, divorce, and inheritance. All of Pakistan's constitutions, and ultimately the 1973 Constitution—which remains in force to this day—contains Article 227, which requires all laws to be brought into conformity with the Qur'an and Sunnah. This article also stipulates that in respect of the personal law of Muslims belonging to different schools of thought, the law applicable shall be that which is in accordance with the creed of that particular school.
Furthermore, Article 228 of the Constitution establishes an "Islamic Ideological Council" to recommend ways of bringing existing laws into conformity with Islamic principles. This council is composed of persons who are well-versed in the Qur'an and Sunnah and who represent various schools of thought, and whose role is to assist Parliament in legislation.
Article 203 established the Federal Shariat Court and a "Shariat Appellate Bench" of the Supreme Court for the purpose of determining whether a law is repugnant to the Qur'an and Sunnah. These bodies are empowered to hear, on a wide scale, the viewpoints of the government and the general Muslim public, and then render a considered and balanced verdict on the matter.
Even this authority is restricted by the condition that it cannot deliver any decision regarding Muslim Personal Law that is contrary to the tenets of any school of thought (maktab-e-fikr) of the Muslims. The Supreme Court's Shariat Appellate Bench interpreted this as follows:
"A law which a particular sect of the Muslims considers as its personal law based on its own interpretation of Holy Qur'ān and Sunnah is excluded from being scrutinised by the Federal Shariat Court under Article 203-D of the Constitution, as it would fall within the meaning of 'Muslim Personal Law'."
In other words, regarding marriage, divorce, and inheritance, every school of thought has its own personal law. Adherents of one school cannot be bound to follow the personal law of another school. For example, followers of the Shia school of thought cannot be forced to accept the rulings of the Sunni school, nor can Sunnis be forced to adhere to Shia jurisprudence.
This ruling was issued by the Shariat Appellate Bench, of which the author of these lines was also a member (see: Dr. Mahmood-ur-Rahman Faisal vs. Government of Pakistan, PLD 1994 Supreme Court, p. 207).
From this detailed explanation, it becomes clear that although our Constitution is unequivocal about bringing all laws into conformity with the Qur'an and Sunnah, it is particularly sensitive and protective regarding Personal Law.
Despite all these facts, it is regrettable that for some time now, our legislature and judiciary have exhibited an attitude of extreme negligence, specifically concerning Muslim Personal Law. When enacting any law regarding marriage, divorce, or inheritance, neither is it considered necessary to consult the Islamic Ideological Council, nor is any effort made to understand the positions of those who possess knowledge of the Qur'an and Sunnah. As a consequence of this approach, the Sindh government and the federal government declared marriage under the age of 18 years as illegal and imposed penalties for it. Furthermore, a single bench of the Islamabad High Court labeled such marriage as "zina bil-jabr" (rape by coercion) (PLD 2022 Islamabad, p. 228), without clarifying whether the marriage would remain valid after imposition of the penalty. This law has thus become mired in further ambiguity and uncertainty.
Similarly, the judiciary has been issuing one decision after another in such matters—concerning marriage, divorce, khul', dower, and so forth—where rulings are being given based merely on personal understanding, independent of the Qur'an and Sunnah, and often contrary to the clear injunctions of the Shariah. It is a matter of deep regret that the understanding underlying these judgments is largely influenced by Western propaganda, which has already shaken the family system in the West. Before delivering such decisions, the necessity of hearing representatives from the various schools of thought on the relevant subject has also not been considered. In this manner, we have regressed in the matter of Muslim Personal Law, even falling behind the rights that Muslims enjoyed under British rule.
In our view, this conduct of the legislature and the judiciary is contrary to the overall scheme and the fundamental spirit of our Constitution, which safeguards Muslim Personal Law at every step.
We are submitting these recommendations with profound pain, heartfelt sincerity, and deep concern to the legislature and judiciary. Instead of making progress in implementing Islamic laws, the tendency to dismantle those laws that the Constitution itself has protected is pushing us backward from an Islamic perspective. For God's sake, abandon this approach, and wherever guidance from the Qur'an and Sunnah is required, refer these matters to the constitutional bodies—the Islamic Ideological Council, the Federal Shariat Court, and the Shariat Appellate Bench. And before taking any step on such issues, consult the scholars of all schools of thought at length.
In this matter, we also appeal to political parties and the legal community to remain vigilant in such cases. With the counsel of respected scholars, they should present the correct Shariah position before the legislature and judiciary in such cases.
It would be better to resolve this matter within the constitutional framework and to address it before it becomes a source of public protest and discord.
(Monthly Al-Balagh, Karachi – September 2026)
۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
ناشر : حافظ مجددی
ضمیمے
ضمیمہ اول
فہرست اول:
اس فہرست میں حسبِ ذیل مضامین کا اضافہ کیا جائے:
(۱) ’’مملکت کے رہنما اصول کے مطابق تعلیمی پالیسی کا تعین، توافق اور رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کا قیام۔‘‘
(۲) ’’رہنما اصول کے مطابق مملکت کی بنیادی آئیڈیالوجی اور نصب العین کا تحفظ۔‘‘
فہرست اول و سوم:
ان دونوں فہرستوں میں نمبر ۳ اپنی موجودہ صورت میں سخت قابلِ اعتراض ہے۔ احتیاطی نظربندی کے اختیارات اب تک جس طریقے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں وہ سیفٹی ایکٹ اور اس قسم کے دوسرے قوانین کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اور یہ قوانین نہ صرف شریعت کے خلاف ہیں بلکہ عقلِ عام اور انصاف کے عالمگیر تصورات کے بھی خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ خود وہ لوگ جنہیں آج ان اختیارات پر اصرار ہے، اپنی بے اختیاری کے زمانے میں دوسروں پر شدت کے ساتھ یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ ان کے خلاف سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ان دونوں فہرستوں کے نمبر ۳ میں ’’احتیاطی نظربندی‘‘ کے بعد حسبِ ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے:
’’بشرطیکہ جس شخص کو اس غرض کے لیے نظربند کیا جائے اسے پندرہ دن کے اندر اندر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کو صفائی کا پورا موقعہ دیا جائے۔ اور مدتِ نظربندی کی تعیین کا اختیار عدالت کو حاصل ہو گا۔‘‘
ضمیمہ دوم
اس ضمیمہ میں مسلم نشستوں کے عنوان کے کالم میں پنجاب کے بالمقابل ۸۸ کی جگہ ۸۷ کا عدد درج کیا جائے اور ایک نئے کالم کا اضافہ کیا جائے جس کا عنوان ’’قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستیں‘‘ ہو۔ اس کالم میں پنجاب کے بالمقابل ایک کا عدد درج کیا جائے۔
نیز ضمیمہ دوم کی تشریحات میں حسبِ ذیل پانچویں دفعہ کا اضافہ کیا جائے:
’’پنجاب میں قادیانیوں کی ایک نشست پُر کرنے کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کے قادیانی بھی ووٹ دینے اور مذکورہ نشست پر رکن منتخب ہو سکنے کے مستحق ہوں گے۔‘‘
قادیانی کی تشریح یوں کی جائے:
’’قادیانی سے مراد وہ شخص ہو گا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتا ہو۔‘‘
یہ ایک انتہائی ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بنا پر دستور بنائے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی ہے وہاں اس قادیانی مسئلہ نے کس قدر نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کر کے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہو گیا۔
جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑی افسوسناک ہو گی کہ وہ جب [تک] پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد و عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آراء بھی ہیں اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا (جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔
علاوہ بریں بنیادی حقوق کی جو رپورٹ ۱۹۵۰ء میں پیش کی گئی تھی اور بسرعت منظور بھی کر لی گئی تھی اس کے پیراگراف ۳ کا یہ حصہ بھی حذف ہونا چاہیے:
’’ماسوا اس صورت کے جب کہ ریاست کی سلامتی کو کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو یا کوئی نازک ہنگامی حالت رونما ہو جائے۔‘‘
مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ استثنائی فقرہ ہیبئس کارپس (Habeas Corpus) کے حق کو بعض صورتوں میں معطل کر دیتا ہے، در آں حالیکہ اسلامی شریعت کسی حالت میں بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی مسلم یا ذمی شہری کو ملک کی سب سے اونچی عدالتِ انصاف کے پاس حبسِ بے جا کے خلاف دادرسی کے لیے جانے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔
اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس
(۱) حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندوی — صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر تعلیماتِ اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان
(۲) حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور
(۳) حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد صاحب — صدر مرکزی جمعیۃ علماء پاکستان
(۴) حضرت مولانا داؤد غزنوی — صدر جمعیت اہلِ حدیث مغربی پاکستان
(۵) حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام
(۶) حضرت مولانا احمد علی صاحب — امیر انجمن خدام الدین لاہور
(۷) حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی — امیر جماعت اسلامی پاکستان
(۸) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان و سرپرست دارالعلوم کراچی ۱
(۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی — وزیر معارف ریاست قلات
(۱۰) حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی — صدر جمعیۃ علماء پاکستان سندھ
(۱۱) حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی — شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
(۱۲) حضرت مولانا خیر محمد صاحب — مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان
(۱۳) حضرت مولانا حاجی محمد امین صاحب — خلیفہ حاجی ترنگ زئی پشاور (سرحد)
(۱۴) حضرت مولانا اطہر علی صاحب — صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان
(۱۵) حضرت مولانا ابو جعفر محمد صالح صاحب — پیر سیرسینہ شریف و نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و امیر جمعیت حزب اللہ مشرقی پاکستان۔
(۱۶) حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب — ناظم جمعیۃ اہلِ حدیث پاکستان
(۱۷) حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب — جامعہ دینیہ دارالہدیٰ ٹھیٹھری خیر پور میرس سندھ
(۱۸) حضرت مولانا محمد صادق صاحب — مہتمم مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی
(۱۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب فرید پوری — پرنسپل جامعہ قرآنیہ ڈھاکہ
(۲۰) حضرت مولانا مفتی محمد صاحبداد صاحب — کراچی
(۲۱) حضرت مولانا پیر محمد ہاشم جان صاحب مجددی سرہندی — ٹنڈو سائن داد حیدر آباد
(۲۲) حضرت مولانا راغب احسن صاحب ایم اے — نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان
(۲۳) حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب — نائب صدر جمعیۃ المدرسین سرسینہ شریف مشرقی پاکستان
(۲۴) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی — نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر جمعیت اہلِ حدیث پاکستان
(۲۵) حضرت مولانا حافظ کفایت حسین صاحب مجتہد — ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان
(۲۶) حضرت مولانا مفتی جعفر حسین صاحب مجتہد — رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان
(۲۷) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری — شیخ التفسیر دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار سندھ
(۲۸) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری — صدر مجلس احرار اسلام پاکستان
(۲۹) حضرت مولانا امین الحسنات صاحب — پیر مانکی شریف، نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام
(۳۰) جناب قاضی عبد الصمد صاحب سربازی — قاضی قلات بلوچستان
(۳۱) جناب مولانا احتشام الحق صاحب — مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار و خطیب جامعہ مسجد جیکب لائن کراچی
(۳۲) جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری — سیکرٹری تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان
(۳۳) جناب مولانا دین محمد صاحب — نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان
(نوٹ): اس اجتماع میں حضرت مولانا حماد اللہ صاحب بوجہ علالت، حضرت مولانا بدر عالم صاحب بوجہہ ہجرت مدینہ منورہ، اور پروفیسر مولانا عبد الخالق صاحب رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان بعض نجی مصروفیات کے باعث شرکت نہ فرما سکے۔
ضمیمہ: ’’قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب‘‘
ہمارے نزدیک دفعہ نمبر ۴ کے الفاظ حسبِ ذیل ہوں:
’’ایسی صورت میں جب کہ مجلس مقننہ میں کتاب و سنت کی تعبیر و تعریف پر اعتراض ہو تو ضروری ہوگا کہ یہ سوال ماہرینِ قوانینِ اسلامی (علماء پاکستان) کے بورڈ کے پاس بھیجا جائے۔ یہ بورڈ اپنا جو فیصلہ صادر کرے مجلس مقننہ اس کی پابند ہو گی۔‘‘
اسی طرح دفعہ نمبر ۵ کی شق (۱) میں تشکیلِ بورڈ کے متعلق ہماری ترمیم یہ ہے:
’’حکومتِ پاکستان علماء کی ان مذہبی جماعتوں سے — جو مرکزی اور صوبہ جاتی حیثیت سے قیامِ پاکستان کے بعد سے کام کر رہی ہیں اور جن کا نظام اس وقت تک باقاعدہ قائم ہے — ان سے علماء پاکستان کے نام طلب کرے اور امیر مملکت ان کا اعلان کر دے۔ ماہرینِ قوانینِ اسلامی سے مراد علماء دین ہی ہوں تو انہیں ایسا باوقار و با اختیار ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ ناطق ہو۔ ہمیں علماء کے اجتماع کی اس تجویز سے کہ — کتاب و سنت کی تعبیر کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ساتھ علماء منسلک ہوں — بحالتِ موجودہ اختلاف ہے۔ اس لیے علماء کا محض کتاب و سنت کی تعبیر و معانی بتانے کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ منسلک ہونا بے کار و بے معنی ہے۔ البتہ مسلمانوں کے اہم مسائلِ دینی کے تصفیہ کے لیے اگر علماء بحیثیت جج یعنی ’’قاضی‘‘ مقرر کیے جائیں (جن کی ضرورت نزاکتِ حالات کے باعث لازمی ہے) تو موزوں ہو سکتا ہے۔‘‘
مولانا ابوالحسنات قادری
مولانا محمد عبد الحامد القادری البدایونی
مفتی محمد صاحب داد
https://iili.io/CzlUADG.jpg
(مکمل)
The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi
Principally, this issue concerns all minorities—that in an Islamic state, appointing a non-Muslim to any key policy-making position is not permissible. The reason is that the policies of an Islamic state are grounded in the Qur’an and Sunnah, and it is not obligatory for non-Muslims to acquire knowledge of these sources. Moreover, involving a non-Muslim in the policy-making process against their own faith and beliefs would violate their religious freedom and amount to religious coercion. Therefore, Islam exempts them from any duty that would require them to act against their own religion and beliefs in favour of another faith. This is precisely why, in Pakistan, religious circles have persistently demanded that the appointment of non-Muslims to key positions in the country be prohibited.
The same applies to the military and defence. In an Islamic state, matters of war, defence, and the armed forces are tied to the Islamic obligation of Jihad; indeed, the motto of the Pakistani military is "Jihad fi Sabilillah" (struggle in the path of Allah). It is self-evident that the religious duty of Jihad fi Sabilillah applies only to Muslims. If a non-Muslim were enlisted for this purpose, it would mean compelling them to act against their own beliefs—something Islam does not tolerate. That is why Islam exempts all non-Muslim citizens of an Islamic state from military duties in exchange for a modest tax, ensuring the protection of their lives and property. This tax, in Islamic legal terminology, is called "Jizya."
However, setting aside this principled stance and position, Pakistan has, throughout its history, accepted non-Muslim officers in many key positions, including within the military. Despite voicing their principled objections, the esteemed religious scholars have never personally targeted any non-Muslim civil or military officer in their campaigns or demands. The case of the Qadianis (Ahmadiyyas), however, is distinct. Since the very creation of Pakistan, there has been a movement and struggle to ensure that no Qadiani is tolerated in any significant position in the country. In this regard, the first major target of religious criticism was Foreign Minister Chaudhry Zafarullah Khan, who was openly Qadiani—indeed, a propagandist for Qadianism. Consequently, during the famous Khatm-e-Nabuwwat (Finality of Prophethood) movement of 1953, the demands of religious circles included not only the declaration of Qadianis as a non-Muslim minority but also the removal of Chaudhry Zafarullah Khan from the Ministry of Foreign Affairs.
There are many reasons behind the deep sensitivity of Muslims toward Qadianis, such as:
- Firstly, Mirza Ghulam Ahmad Qadiani not only claimed prophethood and falsely pretended to receive new revelation and prophethood, but he also made such grave blasphemous remarks about the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) and other revered prophets (peace be upon them) that no Muslim, knowing these facts, can accept a Qadiani as their superior officer.
- Secondly, the Qadianis did not accept the partition of united India or the establishment of Pakistan. The prophecy of their third caliph, Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, remains on record, stating that Pakistan would come to an end and a united India (Akhand Bharat) would be re-established. Given this testament or prophecy, the Qadianis' commitment and loyalty to the integrity and existence of Pakistan become highly questionable.
- Thirdly, on numerous important occasions, the conduct of Qadiani officers has been recorded in national history—they have consistently prioritised foreign loyalties and instructions over national interests. It is beyond doubt that the role of Qadianis, both in Pakistan and even before its creation, has been that of facilitators for colonial powers.
- Fourthly, the Qadianis have expressly refused to accept the unanimous decisions of Pakistan's Supreme Court, Federal Shariat Court, and elected Parliament, which, in line with the joint fatwa of all religious circles in the Islamic world, declared them a non-Muslim minority. The Qadiani community remains the only group that openly deviates from accepting the Constitution of Pakistan.
There are other reasons as well why the people of Pakistan, particularly religious circles, are highly sensitive about Qadianis. They rightly believe that the presence of any Qadiani in a key civil or military position not only offends the religious sentiments of Pakistani Muslims but also disregards the requirements of national integrity and sovereignty. Especially in the current regional and global situation, the country simply cannot afford such risks and threats.
الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
آج کا معاشرہ جس اخلاقی بگاڑ اور فتنہ و فساد کی زد میں ہے، اس میں ایک مومن کے لیے اپنے دین پر قائم رہنا ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس ماحول میں صرف نظریاتی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ صالح عناصر کی اجتماعیت اور اہل اللہ کی صحبت کی ضرورت ہے جو انسان میں دینی حُرمت اور بیداری پیدا کرے۔ انبیاء کرامؑ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کی تزکیہ اور کردار سازی تھا، اور یہی فریضہ آج کے علماء و مشائخ پر عائد ہوتا ہے۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد اسی روایت اور منہج کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ امت کا تعلق اپنے اسلاف اور اہل اللہ کے ساتھ مضبوط رہے۔ الشریعہ کے سالانہ اجتماع کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب ہوتے ہیں۔ اس سال یہ دینی، فکری اور اصلاحی نقشبندی اجتماع 16 اگست بروز اتوار الشریعہ اکادمی کوروٹانہ کیمپس گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب سمیت جلیل القدر علماء کرام اور مشائخ عظام، جن میں مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبدالواحد رسول نگری، مولانا فضل الہادی، قاری سعید احمد اور قاری ارشد محمود صفدر شامل تھے، نے بالخصوص شرکت کی۔
تقریب کا آغاز حافظ عبدالحنان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ حافظ ابوذر فاروقی، قاری ارشد محمود صفدر نے اپنے مخصوص انداز میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو ایمانی جلا بخشی۔ اس دوران اسٹیج کو مولانا پیر ریاض چشتی صاحب، مولانا امجد محمود معاویہ، مفتی نعمان، مولانا رضوان عامر اور پیر احسان اللہ قاسمی صاحب جیسی معزز شخصیات نے زینت بخشی۔ نعتیہ کلام کے بعد مولانا حبیب اللہ فاروقی کی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے 'عظمتِ قرآن' کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
اجتماع میں علماء، مشائخ، طلبہ، دینی و سیاسی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مختلف مقررین نے اپنے اپنے انداز میں اجتماع کے مقاصد، دینی مدارس اور خانقاہوں کی ضرورت، اولیاء اللہ کی صفات، فتنوں سے حفاظت اور اصلاحِ باطن کے موضوعات پر گفتگو فرمائی۔
حضرت مولانا شاہ نواز فاروقی کا خطاب
اجتماع میں معروف خطیب مولانا شاہنواز فاروقی صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے دین کے تین بنیادی دائروں شریعت، طریقت اور جہاد و سیاست کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ شریعت سے مراد علومِ نبوت، طریقت سے تہذیب و اخلاقِ نبوت، جبکہ جہاد و سیاست سے نظامِ نبوت کی حفاظت اور اقامت کا میدان مراد ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ امت میں مختلف طبقات نے ان شعبوں کی حفاظت اور ترویج میں اپنا کردار ادا کیا۔ علماء نے علومِ نبوت یعنی شریعت کی حفاظت کی، مشائخ و صوفیاء نے تہذیب و اخلاق اور تزکیۂ نفس کے میدان کو سنبھالا، جبکہ مجاہدین اور سیاسی زعمائے امت نے نظامِ نبوت، جہاد اور اجتماعی زندگی کے میدان اور ملک کے ایوانوں میں خدمات انجام دیں۔
مولانا فاروقی نے اس تقسیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مدارسِ دینیہ علومِ نبوت کی چھاؤنیاں ہیں، خانقاہیں تہذیب و اخلاق اور تصوف کے مراکز ہیں، جبکہ معسکرات، اجتماعات اور ایوانِ اقتدار و سیاست وہ میدان ہیں جہاں مجاہدین اور سیاسی زعمائے امت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بعض شخصیات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تینوں جہتوں میں نمایاں خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے گوجرانوالہ کے امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مثال پیش کی کہ انہوں نے علم، اصلاح اور اجتماعی رہنمائی تینوں میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی تسلسل میں انہوں نے حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک طرف شریعت کے محافظ اور جامعہ نصرت العلوم کے مدرس و مربی ہیں، دوسری طرف متعدد دینی مدارس کی سرپرستی اور نگرانی سے وابستہ ہیں، خانقاہی اور اصلاحی حلقوں میں بھی ان کی تاثیر مسلم ہے اور سیاست و اجتماعی میدان میں بھی عالمی اہلِ سیاست ان کی رہنمائی اور تربیت سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض شخصیات کو ایسی جامعیت عطا فرمائی ہوتی ہے کہ وہ مختلف دینی جہتوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہیں۔
مولانا شاہنواز فاروقی نے دینی مدارس اور خانقاہوں کے مزاج کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مدارس میں علم مقصودی حیثیت رکھتا ہے جبکہ تربیت ضمنی طور پر جاری رہتی ہے۔ وہاں امتحان علم کا ہوتا ہے، تاہم علم کے ساتھ عمل کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس خانقاہوں میں عمل اور اصلاحِ باطن کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور علم اس عمل کی رہنمائی کے لیے تابع حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امت کی دینی تشکیل کے لیے علم اور عمل دونوں ناگزیر ہیں اور مدارس و خانقاہیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
مولانا شاہنواز فاروقی نے قرآنِ کریم کی روشنی میں اولیاء اللہ کا تعارف کراتے ہوئے ان کی صفات اور ان کے روحانی مقام پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ انہوں نے خوف اور حزن کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوف مستقبل کے اندیشوں کو کہتے ہیں، جبکہ حزن ماضی کی پریشانیوں اور غموں سے متعلق ہے۔ اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی قلبی اطمینان اور اعتماد کی کیفیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کے اندیشوں اور ماضی کے غموں سے محفوظ رہتے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو تقدیر پر اعتماد اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا میں لوگ جن چیزوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں، اولیاء اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کی وجہ سے ان سے بے خوف رہتے ہیں، جبکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں امن و اطمینان عطا فرمائے گا۔ ان کی اس گفتگو کو حاضرین نے نہایت غور اور توجہ سے سنا۔
کلامِ سلمانؒ بزبان قاری ارشد محمود صفدر
ان کے بعد جناب حضرت قاری ارشد محمود صفدر صاحب کو دعوت دی گئی، جو شاعری، نظم اور نعتیہ ادب کی دنیا میں ایک معروف نام ہیں۔ انہوں نے حضرت سید سلمان گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کلام پیش کیا جس پر مجمع کی کیفیت رقت آمیز ہوگئی اور متعدد حاضرین اشکبار نظر آئے۔
حضرت مولانا عبدالواحد رسول نگری کا خطاب
ان کے بعد حضرت مولانا عبدالواحد رسول نگری دامت برکاتہم العالیہ نے گزشتہ سال کے نقشبندی اجتماع کے دوران کیے گئے اپنے خطاب کے تسلسل میں ان روحانی محافل کے مقاصد اور فوائد بیان فرمائے۔ انہوں نے فرمایا کہ ان اجتماعات کے اہم ترین اور عام فوائد میں سے ایک فتنوں سے حفاظت ہے۔ انسان جب اہلِ اللہ کی صحبت، ذکر اور اصلاحی ماحول سے وابستہ ہوتا ہے تو بہت سے فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
انہوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت گنگوہیؒ کے تعلقِ بیعت کا ایک ایمان افروز واقعہ بھی بیان کیا۔ واقعے کے مطابق حضرت گنگوہیؒ نے بیعت کے بعد ایک طویل عرصے تک حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو خط نہیں لکھا۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے دریافت فرمایا کہ بیعت کے بعد آپ نے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت گنگوہیؒ نے جواب میں بیعت کے تین اثرات بیان کیے۔ پہلا یہ کہ نصوص میں تعارض محسوس نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ شریعت طبیعت بن گئی ہے، اور تیسرا یہ کہ مدح کرنے والے کی تعریف اور مذمت کرنے والے کی مذمت دونوں بے اثر ہو گئی ہیں۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے پہلے جواب کے بارے میں فرمایا: الحمدللہ، علم مکمل ہوگیا۔ دوسرے کے بارے میں فرمایا: الحمدللہ، عمل مکمل ہوگیا۔ اور تیسرے کے بارے میں فرمایا: اخلاص مکمل ہوگیا۔
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالواحد رسول نگری نے واضح کیا کہ حقیقی روحانی تربیت علم، عمل اور اخلاص تینوں کی تکمیل کا نام ہے۔
مولانا عبدالواحد رسول نگری نے جامعہ نصرت العلوم کو اہلِ حق کے علمی ترجمان کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی علمی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک علمی مسئلے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے گزشتہ سال ایک استفتاء کیا تھا عبارات اکابر کے حوالے سے دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور اور خیر المدارس سے جوابات حاصل ہوئے۔ تینوں جوابات میں قدرِ مشترک یہ تھا کہ متعلقہ مسئلے میں صحیح رہنمائی کے لیے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی کتاب «عباراتِ اکابر» کی طرف رجوع کیا جائے۔
انہوں نے اس موقع پر اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ بعض لوگ اپنے علمی و روحانی مرکز سے کٹ جاتے ہیں اور پھر یہی مرکز سے دوری فتنوں کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ایک ایسے عالم کا واقعہ بھی بیان کیا جو جامعہ نصرت العلوم کے فاضل تھے اور انہوں نے ایک بڑی علمی شخصیت کی ایک عبارت کو غیر اسلامی قرار دے کر لوگوں سے اس کے خلاف کفر کے فتوے لگوانے کی کوشش کی۔ اس واقعے سے انہوں نے سامعین کو متنبہ کیا کہ اکابر کی علمی روایت، اصولی منہج اور مستند اہلِ علم کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر رائے قائم کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔
حافظ علی حمزہ کا پیش کردہ نعتیہ کلام
اس کے بعد سرگودھا سے تشریف لائے ہوئے نوجوان حافظ علی حمزہ نے نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے اور محفل کا روحانی ماحول مزید پُرکیف ہوگیا۔
حضرت مولانا حافظ محمد یوسف کا خطاب
بعد ازاں جامعہ نصرت العلوم کے فاضل، مدرسہ ابو ایوب انصاری کے مہتمم حضرت مولانا حافظ محمد یوسف دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت دلنشین خطاب فرمایا۔ انہوں نے حضرت شیخ سے متعلق بعض خوابوں کا ذکر کیا اور انہیں مبشرات کے ضمن میں بیان کرتے ہوئے خوابوں کی شرعی حیثیت، ان کے آداب اور ان سے متعلق درست طرزِ فکر پر جامع رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ خواب خوش خبری یا بشارت کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، تاہم دینی احکام اور عقائد کی بنیاد محض خوابوں پر نہیں رکھی جا سکتی۔
حضرت خواجہ خلیل احمد کی آمد
اسی دوران اجتماع کے مہمانِ خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم العالیہ، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اور مرکزی نائب امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان، تشریف لے آئے۔ ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
بعد ازاں حضرت مولانا مفتی طاہر مسعود صاحب، مہتمم جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ وہ حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب کے خلیفہ بھی ہیں۔ مفتی طاہر مسعود صاحب نے سلسلۂ نقشبندیہ کی اہمیت اور اس کے تربیتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ساتھ اپنے تعلقات اور ان کی علمی و تربیتی خصوصیات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے تربیتِ باطن، تعلق باللہ، صحبتِ صالحین اور شیخ و مربی کے ساتھ تعلق کی اہمیت کو نہایت جامع اور دلنشین انداز میں بیان کیا۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی کا اظہارِ تشکر
اس کے بعد حضرت استاد محترم مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء، مشائخ، مقررین، نعت خواں حضرات اور شرکائے اجتماع کا شکریہ ادا کیا اور اجتماع کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے۔
مولانا عزیز الرحمٰن شاہد کی اقتداء میں نماز
اس دوران نمازِ عصر کا اعلان ہوا، اذان دی گئی اور نمازِ عصر مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد کی اقتداء میں ادا کی گئی۔
حضرت خواجہ خلیل احمد کا حلقۂ ذکر
نماز کے بعد حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب نے حلقۂ ذکر قائم فرمایا، جس میں ختمِ خواجگان کا اہتمام ہوا۔ ذکر و دعا کی اس روح پرور مجلس کے بعد متعدد حضرات نے حضرت سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آخر میں دعا فرمائی گئی اور اس کے ساتھ یہ بابرکت پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
سالانہ نقشبندی اجتماع کے شرکاء
انتظامیہ کی طرف سے ان تمام حضرات کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا گیا جو اجتماع میں شریک ہوئے، لیکن وقت کی قلت اور پروگرام کی مصروفیات کے باعث ان سے تفصیلی ملاقات یا استفادہ ممکن نہ ہو سکا۔ اجتماع میں گوجرانوالہ اور گرد و نواح کی متعدد معروف علمی، دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں خطیب آلِ محمد حضرت مولانا ریاض انور گجراتی، مولانا انظر صاحب، قاری سمیع الحق (ناظمِ مالیات جمعیت علماء اسلام)، مولانا عارف شامی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)، قاضی مراد اللہ خان (جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ)، جناب بابر رضوان باجوہ (امیر جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ)، مولانا جواد محمود قاسمی، پیر محمد ریاض چشتی، پروفیسر ضیاء اللہ، حضرت مفتی جمیل احمد گجر، مولانا یحییٰ طاہر، مولانا عثمان رمضان، مولانا مفتی جمیل خان صاحب، مولانا مفتی عبید اللہ انور، مولانا خرم شہزاد، مولانا نصر الدین خان عمر اور دیگر متعدد علماء و زعماء شامل تھے۔
اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، شبان ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، جمعیت علماء اسلام، مرکزی علماء کونسل پاکستان، پاکستان شریعت کونسل، جمعیت اہل سنت حنفی دیوبندی گوجرانوالہ، اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان اور دیگر دینی و سماجی حلقوں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔
شہر کے مختلف متحرک دینی و علمی کرداروں کے ساتھ الشریعہ اکیڈمی کے نمائندگان، ادارۃ النعمان کے مفتی نعمان احمد، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے جگر گوشہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد، جامعہ نصرت العلوم کے استاد مولانا نعمت اللّٰہ بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ دور دور سے کثیر تعداد میں طلبہ، علماء اور عام مسلمانوں نے شرکت کی۔
یہ نقشبندی اجتماع محض ایک رسمی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ علم و عمل، شریعت و طریقت، ذکر و فکر، اصلاحِ باطن اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی ایک جامع مجلس تھی۔ مقررین نے مختلف زاویوں سے یہ پیغام دیا کہ امت کی دینی و روحانی زندگی کے لیے علم بھی ضروری ہے، عمل بھی؛ شریعت بھی ضروری ہے، تزکیہ و تربیت بھی؛ اور فرد کی اصلاح کے ساتھ اجتماعی زندگی کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ ذکر، فکر، بیانات، نعتیہ کلام، حلقۂ ذکر، ختمِ خواجگان اور بیعت کے روحانی ماحول نے اجتماع کو ایک یادگار کیفیت عطا کی۔ اختتامی دعا کے بعد شرکاء علم و عمل کے موتی سمیٹتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔