الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

قرآن و سنت

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘مفتی شاد محمد شاد 
امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی 

کلام و الٰہیات

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 

سیرت و تاریخ

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)محمد سراج اسرار 
سیاست نامہ از نظام الملک طوسیڈاکٹر محمد اکرم ندوی 

دین و حکمت

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہمفتی سید انور شاہ 
استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کارمولانا عبد المتین 

ریاست و نظم

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)ڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
اسلام اور شخصی آزادی (۲)ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi 

آراء و افکار

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیقمولانا صدیق احمد فاروق 
نفاذِ شریعت یا سیکولرزمحسنین خالد 

دستور و قانون

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولادپروفیسر محبوب پوپاتیا 
Our Constitutional History & Context of the Proposed 28th AmendmentMufti Munib ur Rehman 

ملت و عالَم

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تکڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟خالد محمود عباسی 
Some Points for the Iranian Leadership`s ConsiderationAbu Ammar Zahid-ur-Rashdi 

خبر و نظر

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوالمولانا حافظ خرم شہزاد 
مولانا راشدی کے بیانات و خطاباتادارہ 

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

تجارت و معیشت کا دائرہ

معیشت کا معنی ہے لین دین، ایک دوسرے کے ساتھ مال و اسباب کا تعاون، افراد کی سطح پر تجارت، قومی سطح پر معیشت؛ اور ارتقا کے ساتھ بالآخر قومی اقتصادی پالیسی بنتی ہے۔ قرآن پاک اس بارے میں بیان کرتا ہے اور اس پر اصولی ہدایات قرآن پاک نے دی ہیں۔ لین دین اور تجارت میں اللہ تعالیٰ نے اہم بات حلال و حرام کی فرمائی ہے۔ سب سے بنیادی چیز حلال و حرام کی حدود سے آشنائی ہے۔ سورۃ الانعام کا بیشتر حصہ حلال و حرام پر ہے۔ حلال و حرام کا فلسفہ بھی بیان کیا ہے، حلال و حرام کے احکام بھی بیان کیے ہیں، اور حلال و حرام قرار دینے کی اتھارٹی بھی بیان فرمائی ہے۔ اس مسئلے کو اللہ تعالیٰ نے کس درجے پر رکھا ہے، یہ بھی دیکھ لیں۔

جاہلیت کے زمانے میں لوگوں نے حلال و حرام کے اپنے ضابطے بنا رکھے تھے اور اسی کے مطابق اپنے معاملات کو چلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سآئبۃ ولا وصیلۃ ولا حام (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 103)
(اللہ نے کسی جانور کو نہ بحیرہ بنانا طے کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حامی۔)

یہ تم نے اپنے طور پر حرام کر رکھے ہیں، میں نے حرام نہیں کیے۔ یہودیوں نے اونٹ کو حرام کیا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نہیں کیا۔ اس کی دلچسپ تفصیل ہے کہ یہودیوں نے اونٹ کو حرام سمجھ رکھا تھا، اب بھی یہودیوں میں اونٹ حرام سمجھا جاتا ہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام بیمار ہوئے، بیماری شدت کی تھی، ایسے میں نذر مان لی کہ یا اللہ! شفا دے دے، جو چیز سب سے زیادہ شوق سے کھاتا ہوں وہ چھوڑ دوں گا۔ اللہ نے شفا دی۔ تو وہ سب سے زیادہ شوق سے اونٹ کا گوشت کھاتے تھے، وہ انہوں نے چھوڑ دیا۔ انہوں نے چھوڑا اپنی قسم کی وجہ سے، اور امت نے چھوڑا اُن کی وجہ سے۔

یہاں مفسرین بڑی حکمت کی بات لکھتے ہیں کہ ایک چیز کے بارے میں ہمارے پیغمبر ﷺ نے بھی قسم اٹھائی تھی کہ نہیں کھاؤں گا، تو بڑے پیارے انداز میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک (سورۃ التحریم: 66، آیت: 1)
(جو چیزیں اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہیں، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہیں؟)
قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (سورۃ التحریم: 66، آیت: 2)
(اللہ نے فرض کیا ہے کہ آپ ﷺ قسم کو توڑیں اور شہد کھائیں اور کفارہ دیں)

کیوں؟ اسی لیے کہ یہود نے تو اب تک اونٹ چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپؐ کو شہد کھانا پڑے گا، آپؐ نے نہ کھایا تو امت بھی چھوڑ دے گی۔ میں بات یہ عرض کر رہا تھا:

کل الطعام کان حل لبنی اسرآئیل الا ما حرم اسرآئیل علیٰ نفسہ (سورۃ آل عمران: 3، آیت: 93)
(تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لیے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے (بھی) حلال تھیں، سوائے اس چیز کے جو اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے تو اپنے لیے حرام قرار دیا تھا، تم نے خواہ مخواہ اپنے لیے حرام کر لیا! یہ اللہ تعالیٰ نے اتھارٹی بیان کی کہ حلال و حرام کرنا میرا کام ہے، تم نے اپنی طرف سے خود کیوں حرام کر رکھا ہے۔

عیسائیوں نے ترکِ دنیا کو مذہب بنا لیا تھا؛ شادی نہیں کرنی، جنگلوں میں چلے جانا ہے، سوسائٹی چھوڑ دینی ہے۔ اللہ نے فرمایا:

ورہبانیۃنِ ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم (سورۃ الحدید: 57، آیت: 27)
(اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔)

ہم نے نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی کیا تھا، ہم نے تم پر مقرر نہیں کیا تھا۔ یہ حلال و حرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بیان کیا ہے۔

حلّت اور حُرمت کی بنیاد

آج عالمی سوسائٹی سے ہمارا ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ آج کی سوسائٹی کہتی ہے کہ جس چیز کو حالات، معاشرہ، رجحانِ عام قبول کرے وہ جائز ہے، اور جس کو مارکیٹ قبول نہ کرے وہ جائز نہیں ہے۔ یہ آج کے حلال و حرام کا فلسفہ ہے۔ یہ فرضی بات نہیں کر رہا، حقیقی بات ہے۔ آج سے 80 سال پہلے کی بات ہے کہ امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا کہ شراب جرم ہے، شراب منع ہے، اور اس کی سزا مقرر کی۔ لیکن چار پانچ سال تک دیکھا کہ لوگ اسے قبول نہیں کر رہے، تو کانگریس نے یہ کہہ کر اسے درست قرار دے دیا کہ سوسائٹی اس پابندی کو قبول نہیں کر رہی اس لیے اب یہ جرم نہیں رہی۔

یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ سو سال نہیں گزرے کہ شراب کو جرم قرار دیا، اس قانون کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں بھی ہوئیں، لیکن بات آگے تک نہیں چلی۔ وہ شراب جو امریکا کے قانون میں 80 سال پہلے قابلِ سزا جرم تھی، اب وہ ان کے حقوق میں داخل ہے۔ یہ آج کا فلسفہ ہے کہ سوسائٹی فیصلہ کرتی ہے کہ حلال و حرام کیا ہے، جس کو زمانہ قبول کرے وہ جائز ہے اور جس کو قبول نہ کرے وہ جائز نہیں ہے۔

ایک اور واقعہ عرض کرتا ہوں کہ مغربی دنیا میں عام طور پر شادی اور نکاح کو تکلّف سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیماری بہت پھیل گئی ہے کہ چار پانچ سال بغیر شادی کے اکٹھے رہو، اس کے بعد اگر باہمی ہم آہنگی (Understanding) ہو جائے تو شادی کر لو، وگرنہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سے کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے کہ چرچ آف انگلینڈ، جو انگلینڈ کا بہت بڑا چرچ ہے، اس نے سرکلر جاری کیا۔ اس میں چرچ آف انگلینڈ اپنی شاخوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ایک زمانے میں ہم نے یہ بات کی تھی کہ بغیر شادی کے مرد اور عورت کا اکٹھے رہنا گناہ ہے، تاکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جائے، لیکن اب اس کا تناسب 50 فیصد سے بڑھ گیا ہے، اس لیے اب گناہ نہیں رہا، جرم نہیں رہا، اس لیے ہم اپنا سرکلر واپس لیتے ہیں۔

یہ مغرب کی مذہبی قیادت کا حال ہے کہ وہ مذہبی معاملات تک میں یوٹرن لے لیتے ہیں، تو سیاسی حلقوں کی کیا کیفیت ہو گی؟ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ حلال و حرام کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ آپؐ نے اس چیز کو کیسے حرام کر دیا جس کو میں نے حلال کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بنیادی چیز بیان کی کہ حلال و حرام جو میں نے کر دیا تو بس کر دیا، کھانے پینے میں بھی، تجارت میں بھی اور باقی تمام معاملات میں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے اس کو قیامت تک کوئی حلال نہیں کر سکتا، اور جس چیز کو حلال کیا ہے کوئی اس کو حرام نہیں کر سکتا۔ اجتہادی مسائل کا دائرہ الگ ہے، لیکن صریح حلال اور حرام، جیسے اللہ نے خنزیر کو صریح حرام کہا ہے، اب کوئی اتھارٹی دنیا میں اس کو حلال نہیں کر سکتی۔ شراب کو حرام کہا: ’’رجس من عمل الشیطان‘‘ (ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔ سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 90)۔ زنا کو حرام کہا، اس کو کوئی حلال نہیں کر سکتا۔ قرآن پاک نے فہرست بیان کی ہے۔ اللہ رب العزت نے ایک مقام پر تجارت کے جزوی احکام بیان کیے ہیں:

یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تداینتم بدین الیٰ اجل مسمًی فاکتبوہ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 282)
(اے ایمان والو! جب تم کسی معین میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔)

’’فرہان مقبوضۃ‘‘ لکھ کر گواہ بناؤ۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک نے تجارت کے احکام بھی بیان کیے ہیں، حلال و حرام کے ضابطے بھی بیان کیے ہیں، حدود متعین کی ہیں، قوانین بیان کیے ہیں، اتھارٹی واضح کی ہے، اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس کی بہت تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔

دولت گردش کا تقاضا کرتی ہے

نظام اسباب سے چلتا ہے، تو ضروری بات ہے کہ اگر اسباب نہ ہوں تو ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ دولت کی حیثیت معاشرے میں ایسے ہی ہے جیسے جسم کے اندر خون کی۔ اگر خون گردش کرتا رہے تو جسم کا نظام چلتا ہے، اگر خون کی گردش بند ہو جائے یا خون کو نکال دیا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ انسان کے جسم میں خون حرکت کرتا ہے اور دل اس کو پمپ کرتا ہے، خون ناخن تک بھی پہنچتا ہے، بالوں تک بھی، لیکن اپنی اپنی ضرورت کے مطابق۔ جسم کے جب ایک حصے میں خون نہ پہنچے تو وہاں فالج ہو جاتا ہے، اور اگر پہنچ کر واپس نہ آئے تو وہاں پیپ، پھوڑے، پھنسی وغیرہ بن جاتے ہیں۔ خون کی گردش ضروری ہے؛ رکنا بھی ٹھیک نہیں اور روکنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔

سوسائٹی میں دولت کی مثال ایسی ہی ہے؛ کہیں زیادہ جا کر رک گئی، نیچے نہیں آ رہی، تو وہاں نتیجتاً‌ عیاشی آئے گی، نمود و نمائش ہوگی اور تعیش ہوگا۔ اور جہاں ضرورت کے مطابق نہیں پہنچ رہی، وہاں فقر ہوگا۔ اور جناب خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد ہے:

کاد الفقر ان یکون کفرا (شعب الایمان، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، حدیث نمبر: 6188)
(اور فقر کفر تک بھی پہنچا دیتا ہے۔)

بھوکا آدمی کیا نہیں کرے گا! روٹی کھانے کے لیے تو گردشِ دولت ضروری ہے، جیسے جسم میں خون کی گردش ضروری ہے اسی طرح معاشرے میں دولت کی گردش بھی ضروری ہے، اور یہ اصول قرآن پاک نے بیان کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (سورۃ الحشر: 59، آیت: 7)
(تاکہ وہ مال صرف انھیں کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تقسیم کا نظام اس لیے دیا کہ وراثت بھی تقسیم کرو، زمین بھی تقسیم کرو، مالِ غنیمت بھی تقسیم کرو، تاکہ دولت گردش میں رہے؛ کہ گردش اوپر کے طبقات میں ہی نہ ہو بلکہ اوپر سے نیچے بھی آئے۔ میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ سود کے نظام میں دولت گردش کرتی ہے نیچے سے اوپر، زکوٰۃ کے نظام میں دولت گردش کرتی ہے اوپر سے نیچے۔ سود کیا ہے؟ کہ ساری دولت نیچے سے سمیٹ کر اوپر لے جاتا ہے، اور زکوٰۃ اوپر سے نیچے لے کر آتی ہے:

وفی اموالہم حق للسائل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔)

قرآن نے اصول کیا بیان کیا؟

کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (سورۃ الحشر: 59، آیت 7)

دولت معاشرے کی ضرورت ہے، لیکن گردش میں رہے تب، رکی ہوئی دولت بدبو پیدا کرتی ہے، اس کو قرآن نے متفرق مقامات پر بیان کیا ہے:

واذآ اردنآ ان نہلک قریۃ امرنا مترفیہا ففسقوا فیہا فحق علیہا القول فدمرناہا تدمیرا (سورۃ الاسراء: 17، آیت: 16)
(جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں تو ان پر حجت پوری ہو جاتی ہے، چنانچہ ہم انھیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔)

یہ بات سمجھنے کے لیے کہ گردش کیا ہوتی ہے، مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر تھے (حضور ﷺ کے زمانے میں بھی وہی تھے)۔ محصولات جو سال آنے کے بعد وصول ہوتے تھے، خرچ ہو جاتے تھے۔ جس طرح بجٹ ہوتا ہے کہ صدقہ ہے، زکوٰۃ ہے، عشر ہے، جزیہ ہے، خراج ہے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ سال کا حساب جب وصول ہوا تو صوبے کے اخراجات پورے کرنے کے بعد تیسرا حصہ بچ گیا، یعنی صوبائی آمدنی کا تیسرا حصہ صوبے کی ضروریات سے بچ گیا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے وہ مرکز میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا اور ڈانٹا (کتاب الاموال میں خط موجود ہے) کہ اللہ کے بندے! تم عالم ہو، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ زکوٰۃ کا اصول کیا ہے؟

تؤخذ من اغنیائہم وترد علیٰ فقرائہم (صحیح بخاری، باب وجوب الزکوٰۃ، حدیث نمبر: 1395)
(اموال ان کے امرا سے وصول کر کے ان کے فقرا پر خرچ کیے جائیں۔)

تو عجیب صورت حال ہے کہ صوبہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مرکز کو بھیج رہا ہے اور مرکز ناراض ہو رہا ہے کہ کیوں بھیجا ہے؟ اگر ہم ہوتے تو کہتے ٹھیک ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یمن کے فقیروں کا جو حق ہے تم نے ہمیں کیوں بھیجا؟

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: امیر المؤمنین! میں آپؓ کی بات سمجھتا ہوں، میرے صوبے میں کوئی ضرورت اور مصرف نہیں ہے کہ جہاں خرچ کروں؛ تمام مصارف میں سال کا بجٹ پورا ہونے کے بعد جو زائد ہے وہ آپ کو بھیجا ہے، میرے پاس مصرف ہی کوئی نہیں ہے کہ میں کہاں خرچ کروں۔

[ان عمرو بن شعیب اخبرہ ان معاذ بن جبل سورۃ لم یزل بالجند، … فبعث الیہ معاذ بثلث صدقۃ الناس، فانکر ذلک عمر، وقال: لم ابعثک جابیا ولا آخذ جزیۃ، ولکن بعثتک لتاخذ من اغنیاء الناس فتردھا علی فقرآءھم (کتاب الاموال، ابو عبید القاسم، باب قسم الصدقۃ فی بلدہ، حدیث نمبر: 1912)]

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اصول بیان کیا ہے کہ دولت گردش میں رہنی چاہیے، جمع نہیں ہونی چاہیے؛ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے خون جسم میں جم جاتا ہے۔ اگر دولت گردش میں ہے تو خون کی طرح سوسائٹی کی زندگی کا ذریعہ بنے گی، اگر رک گئی ہے تو یہ خون کی طرح جم جائے گی اور فالج اور پھوڑے پیدا کرے گی، سوسائٹی کو تباہ کرے گی۔ قرآن پاک نے ایک اور مزے کی بات کی ہے:

و فی اموالہم حق للسآئل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہے۔)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو دولت میں تمھیں دیتا ہوں وہ ساری تمھاری نہیں ہوتی بلکہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے؛ جیسے کوئی آدمی مجھے پیسے بھیجے کہ مولوی صاحب! یہ پیسے ہیں، اس میں اتنے آپ کے ہیں اور اتنے فلاں کے ہیں، اور میں کہوں کہ سب میرے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سائل کا حق بھی ہے اور محروم کا حق بھی ہے۔ مفسرین بڑی دلچسپ بحث کرتے ہیں کہ سائل کیا ہے اور محروم کیا ہے؟ سائل وہ جو اپنی ضرورت کا اظہار کرے، اور محروم وہ ہے جو ضرورت مند تو ہے لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا:

تعرفہم بسیماہم لا یسالون الناس الحافا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 273)
(تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو، (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔)

جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہتے ہیں، انگریزی میں وائٹ کالر (White collar) کہتے ہیں کہ جناب اندر تو انتڑیاں بلک رہی ہیں اور باہر سے ایسے نظر آتے ہیں کہ یہ ضرورت مند نہیں ہیں۔ جو اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کرتا، پس اس کا بھی تمھارے مال میں حق ہے۔

یہاں مفسرین ایک سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک آدمی ظاہر ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ ضرورت مند ہے، تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا اور ہم اس کو کیسے دیں گے؟ مفسرین اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ آپ معاشرے میں خود تلاش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ رشتہ داروں کو دینے کا ثواب زیادہ ہے، اسی طرح پڑوسیوں کو دینے کا ثواب زیادہ ہے؛ کیونکہ آدمی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حالات سے واقف ہوتا ہے، اس لیے صلہ رحمی کا ثواب زیادہ ہے۔

تو سیاست اور ریاست کے باب میں قرآن پاک نے جو موٹی موٹی اور اصولی ہدایات دی ہیں، ان میں سے چند کا ذکر کیا ہے۔ معیشت میں تجارت کے حوالے سے بھی سود کو حرام کیا ہے قرآن پاک نے، اور خاتم النبیین ﷺ نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ ایک مغالطہ ہوا تھا جو آج تک چلا آ رہا ہے: ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ کہ جناب سود بھی تو بزنس کی صورت ہے، اگر چیزوں کا لین دین کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے تو پیسوں کا کیوں نہیں؟ یہ مسئلہ جو آج کی بڑی عدالتوں میں زیربحث ہے، اُس زمانے میں بھی یہ مسئلہ زیر بحث تھا؛ یہ سوال کس نے کیا تھا؟ مشرکینِ مکہ کے موقف کو اللہ نے بیان کیا:

انما البیع مثل الربوٰا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 275)
(بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں! بیع اور چیز ہے، ربا اور چیز ہے:

واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 275)
(حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیع حلال ہے اور سود حرام ہے۔ دونوں بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن ایک حلال ہے اور دوسرا حرام ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے:

واللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 216)
(اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔)

ایک حلال ہے اور دوسرا حرام ہے۔ دیکھنے میں ایک جیسا ہونا حلال و حرام ہونے کی بنیاد نہیں۔ قرآن پاک نے ایک اور خوبصورت بات کی ہے کہ تم کہتے ہو کہ سود سے رقم بڑھتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ گھٹتی ہے۔ تم کہتے ہو کہ سود میں 100 سے 110 روپے ہو گئے اور زکوٰۃ میں 100 سے ساڑھے 97 ہو گئے ہیں؛ سود میں رقم زیادہ ہوتی ہے اور زکوٰۃ میں رقم کم ہوئی۔ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں:

یمحق اللہ الربوٰا ویربی الصدقات (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 276)

سود سے رقم گھٹتی ہے اور صدقہ سے بڑھتی ہے۔ جبکہ دیکھنے میں الٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمھیں دیکھنے میں یہ نظر آتا ہے کہ تمھاری نظر گنتی پر ہوتی ہے، گنتی اصل نہیں ہے، ویلیو (Value) اصل ہے۔ 1970ء میں میری شادی ہوئی، اس وقت 170 روپے تولہ سونا میں نے خریدا، اور آج کتنا ہے؟ اور یہ بتائیں کہ وہ سو بہتر تھا یا آج کا ہزار بہتر ہے؟ گنتی میں آج کا دس ہزار بھی اس زمانے کے سو کے برابر نہیں ہے۔ قدر میں وہ زیادہ ہے اور گنتی میں یہ زیادہ ہے۔ ایک اور ذاتی مثال دیتا ہوں کہ 1960ء میں گکھڑ میں حضرت والد محترم نے دس مرلہ زمین خرید کر مکان بنایا۔ رجسٹری کروانے میں خود وزیر آباد گیا تھا۔ دس مرلے کی قیمت رجسٹری سمیت گیارہ سو ستر روپے ادا کی تھی۔ اب میں نے پوچھا کہ وہاں مرلے کی کیا قیمت ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ چار لاکھ روپے مرلہ ہے۔ گنتی میں چار لاکھ، ویلیو میں 100 بھی نہیں ہے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ویلیو دیکھا کرو، گنتی نہ دیکھا کرو۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پانچ ہزار کا نوٹ میری جیب میں ہے لیکن ویلیو میرے کنٹرول میں نہیں ہے، یہ کل دس ہزار کا بھی ہو سکتا ہے اور ایک سو کا بھی ہو سکتا ہے۔

فلاحی ریاست کا تصور اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

تجارت اور معیشت کے حوالے سے ایک اور بات قرآن پاک نے بیان کی ہے، مختصرً‌ا عرض کر دیتا ہوں، یہ بتانے کے لیے کہ ہر شعبۂ زندگی میں قرآن اور خاتم النبیین ﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ میں دو چار باتیں عرض کر دیتا ہوں۔

آج کا بڑا مسئلہ ہے رفاہی ریاست (Welfare State)، کہ ریاست اپنے رہنے والے تمام افراد کی ضروریات کی ذمہ داری اٹھائے؛ جو بے روزگار ہے اس کو روزگار فراہم کرے، جس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کو وظیفہ دے، جس کے پاس مکان نہیں ہے اس کو مکان دے؛ اس کو ویلفیئر سٹیٹ کہتے ہیں۔ آج کے دور میں برطانیہ ایک آئیڈیل ویلفیئر سٹیٹ سمجھی جاتی ہے۔

ایک واقعہ عرض کروں گا تاکہ آپ کو بات سمجھ میں آ جائے۔ میرا ایک بھانجا برطانیہ کے شہر برنلی میں ہے، اس نے مسلمانوں کے تعاون سے چرچ خرید کر اس کی جگہ مدرسہ بنایا۔ کچھ عرصہ ہوا میں وہاں گیا تو اس نے بتایا کہ ماموں! اس سال سردیوں میں سردی زیادہ پڑی ہے تو بلدیہ کی طرف سے ہر گھر میں بیس بیس پاؤنڈ کا چیک ڈاک کے ذریعے سے آیا ہے کہ اس سال سردی زیادہ پڑی ہے اور آپ کی گیس زیادہ استعمال ہوئی ہو گی، تو آپ کے گیس کے بل میں ہماری طرف سے یہ تعاون ہے۔ بیس پاؤنڈ بڑی رقم ہوتی ہے، آپ حساب لگا لیں ڈیڑھ سو کا پاؤنڈ ہے۔

برطانیہ کا سسٹم اس وقت سب سے اچھا ہے۔ ہمارے وزیر آباد کے ایم این اے ہیں جسٹس افتخار چیمہ، ریٹائرڈ جسٹس ہیں، ایک دفعہ بتانے لگے کہ ہم کیمبرج میں پڑھتے تھے، پاکستان بننے کے بعد کی بات ہے کہ میں لاء (Law) کی ڈگری کے لیے گیا ہوا تھا، پتہ چلا کہ یہاں ایک سمجھدار آدمی ہے، ہم اسے ملنے چلے گئے۔ تعارف کروایا کہ ہم پاکستانی ہیں، وہ بڑا خوش ہوا کہ تم نے اچھا کیا کہ ملنے آ گئے، میں ایک بات تمھارے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ تمھیں معلوم ہے کہ برطانیہ کا جو سوشل بینیفٹ سسٹم ہے (جس کی ایک جھلک میں نے آپ کو بتائی ہے) یہ کس نے ڈیزائن کیا؟ کہنے لگا کہ میں نے ڈیزائن کیا تھا، پارلیمنٹ نے جو کمیٹی بنائی تھی کہ لوگوں کی ضروریات ریاست کی طرف سے پوری کی جائیں، اس کے لیے ایک سسٹم طے کرو، میں اس سسٹم کو ترتیب دینے والی کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ یہ سسٹم ہماری کمیٹی کا بنایا ہوا ہے۔ تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں نے یہ کہاں سے لیا تھا؟ تمھارے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا تھا، میں نے ان کا سسٹم پڑھا تھا، اس کو بنیاد بنا کر ہم نے یہ سارا سسٹم بنایا تھا۔

آج ناروے کے سسٹم کو بڑا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ ناروے میں بچے کو پیدا ہوتے ہی وظیفہ دیتے ہیں، اس کے سمجھدار ہونے تک ہر ہفتے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ناروے میں اس الاؤنس کا نام ہی ’’عمر الاؤنس‘‘ ہے کیونکہ یہ لیا ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہے۔

بخاری شریف کو سسٹم کے تناظر میں سمجھیں

میں طلبہ سے عرض کیا کرتا ہوں کہ اگر بخاری شریف کو سسٹم کے طور پر پڑھیں تو کسی حوالے سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے، بشرطیکہ پڑھانے والے سسٹم کے طور پر پڑھائیں۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب کوئی فوت ہو جاتا اور جنازہ لایا جاتا، تو حضور ﷺ سوال کرتے کہ اس کے ذمے قرضہ تو نہیں؟ اگر لوگ کہتے کہ یا رسول اللہ! نہیں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر کہتے کہ یا رسول اللہ! اس پر قرضہ ہے، تو آپؐ پوچھتے کہ کتنا ہے؟ اگر تو اس کے ترکے میں اتنی گنجائش ہے کہ اس سے قرضہ ادا کیا جا سکتا ہے، تب بھی آپؐ جنازہ پڑھا دیتے۔ اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ اس کے ترکے میں اتنی گنجائش نہیں ہے، تو آپؐ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، فرماتے: ’’صلوا علیٰ صاحبکم‘‘ (اپنے بھائی کا جنازہ پڑھو۔ صحیح بخاری، باب قول النبی ﷺ: من ترک کلا او ضیاعا فالی، حدیث نمبر: 5371)؛ میں واپس جا رہا ہوں۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک صاحب کا جنازہ آیا، ان کے ذمے قرض تھا اور ترکے سے ادائیگی کا انتظام نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’صلوا علیٰ صاحبکم‘‘۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ موجود تھے، کہنے لگے، یا رسول اللہ! یہ ہمارا بھائی ہے، آپؐ اس کا جنازہ پڑھا دیں، جو اس کے ذمے قرض ہوگا وہ میں ادا کروں گا، اس کو اس سعادت سے محروم نہ کریں۔ حضور ﷺ نے جنازہ پڑھایا اور اس موقع پر فرمایا:

فمن توفی من المؤمنین فترک دینا فعلی قضاؤہ، ومن ترک مالا فلورثتہ (صحیح بخاری، باب من تکفل عن میت دینا، حدیث نمبر: 2298)
(مسلمانوں میں سے جو آدمی فوت ہو گیا اور اس نے قرض چھوڑا تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔)

میں تاریخ کا طالب علم ہوں، ’’فالی‘‘ (میری طرف) کے الفاظ تو ملتے ہیں، بہت سے لوگوں نے دوسرے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سر لی ہیں، لیکن ’’فعلی‘‘ (میرے ذمے) کے الفاظ کہ میرے ذمے ہوں گے، تاریخ میں پہلی مرتبہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔

معیشت اور اقتصادیات کے باب میں پالیسی کے حوالے سے بنیادی بات قرآن پاک نے اور حضور ﷺ نے کی ہے۔ دولت کو معاشرے میں گردش کرتے رہنا چاہیے، یہ اصول حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ تجارت میں حلال اور حرام کا فرق، یہ اصول بھی حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ حلال اور حرام کرنا اللہ کا کام ہے، یہ اصول بھی حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے، یہ اصول بھی بیان کیا ہے۔

(جاری)

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘

مفتی شاد محمد شاد

علامہ آلوسیؒ کا تعارف

آلوس، یہ بغداد سے کچھ فاصلے پر دریائے فرات کے وسط میں واقع ایک جزیرے کا نام ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ ہلاکو خان نے جب بغداد پر حملہ کیا تھا تو بغداد سے ایک خاندان نے ہجرت کر کے اس جزیرے میں جا کر پناہ لی تھی اور بعد میں یہ خاندان اسی جزیرے کی نسبت سے مشہور ہو گیا اور خاندانِ آلوسی کہلایا جانے لگا۔ اسی خاندان کے اندر ایک عبقری شخصیت اور خاتم المفسرین نے جنم لیا جنہیں دنیا علامہ آلوسیؒ کے لقب سے جانتی ہے۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ ۱۲۱۷ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے اور آپ ۲۵ ذوالقعدہ جمعہ کے دن ۱۲۷۰ھ کو اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنے دور کے بڑے بڑے علماء سے اکتسابِ فیض کیا اور آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو علم سے بے حد لگاؤ تھا اور آپ ہر وقت اس بات کی حرص میں لگے رہتے تھے کہ کسی بھی طرح اپنے علم میں اضافہ کیا جائے۔ آپ کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ آپ عموماً‌ ان اشعار کا ورد کیا کرتے تھے:

سھری لتنقیح العلوم الذلی
من وصل غانیۃ وطیب عناق
والذ من نقر الفتاۃ لدفھا
نقری لالقی الرمل عن اوراقی
وتمایلی طربا لحل عویصۃ
فی الدرس اشھی من مدامۃ ساق

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے راتوں کو جاگنا مجھے اس سے زیادہ لذیذ ہے بنسبت اس کے کہ پاکیزہ اور حسین دوشیزہ سے میری ملاقات ہو۔ اور دوسرے شعر کا مفہوم ہے کہ اپنے اوراق سے ریت ہٹانے کے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے، وہ آواز مجھے نوجوان لڑکی کے ڈھول بجانے کی آواز سے زیادہ لذیذ ہے۔ اور تیسرے شعر کا مطلب یہ ہے کہ کسی مشکل مسئلے کے حل کے وقت خوشی سے جھوم اٹھنا، یہ مجھے ساقی کی شراب سے زیادہ لذیذ ہے۔

علم کے ساتھ اسی شغف اور لگاؤ کا نتیجہ تھا کہ بہت کم عمری میں ہی آپ تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے اس وقت تدریس کا آغاز کیا تھا جب آپ کی عمر محض تیرہ برس تھی اور پھر آگے چل کر ۱۲۴۸ھ میں آپ کو مفتی احناف کا عہدہ دیا گیا، جو اس زمانے میں صرف اور صرف اس شہر یا اس علاقے کے بڑے علماء کو دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے گھر کے اندر ہی تدریس کا آغاز کیا اور دنیا بھر سے اہل علم اور طلبہ آپ سے فیضیاب ہونے کے لیے آتے تھے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ طلبہ کو اپنے گھر کے بالا خانوں میں رہائش دیتے تھے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔

آپ کی نثر نویسی اور قوتِ تعبیر کافی مشہور تھی۔ آپ عربی ادب میں کافی مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کا حافظہ انتہائی قوی تھا اور آپ بلا کے ذہین تھے۔ آپ کے بارے میں کتابوں میں ایک جملہ آتا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ’’ما استودعت ذہنی شیئا فخاننی ولا دعوت فکری لمعضلۃ الا واجابنی‘‘ (مناہج المفسرین ۲۸۲/۱) یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اپنے ذہن میں کوئی بات رکھی ہو اور پھر وہ مجھے بھول گئی ہو، اور ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ میں نے کوئی مشکل مسئلہ اپنے ذہن کے سپرد کیا ہو اور اس نے مجھے جواب نہ دیا ہو۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو مختلف ادیان اور ملل پر کافی عبور حاصل تھا، اسی طرح آپ کو اصول اور فروع پر مجتہدانہ بصیرت حاصل تھی، بلکہ اس سے بڑھ کر تاریخ سے بھی آپ کافی واقفیت رکھتے تھے۔

علامہ آلوسیؒ کی تصانیف

آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں، جن میں آپ کی سب سے مشہور کتاب تفسیر ’’روح المعانی‘‘ ہے، جس پر آج ہم ان شاء اللہ تفصیل سے بات کریں گے۔ اس کے علاوہ آپ نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں ’’حاشیۃ القطر‘‘ ہے جو ’’قطر الندیٰ‘‘ پر انہوں نے حاشیہ لکھا تھا، ’’شرح السلّم‘‘، ’’الاجوبۃ العراقیۃ‘‘، ’’درۃ الغواص فی اوہام الخواص‘‘ یہ بھی ایک کتاب کا نام ہے جو آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے لکھی ہے، اسی طرح ’’النفحات القدسیۃ فی المباحث الامامیۃ‘‘ اور ’’الفوائد السنیۃ‘‘ وغیرہ، اس طرح کی کتابیں آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ تاہم آپ کے اکثر خطوط اور کتابیں آج کل ناپید ہیں۔

تفسیر روح المعانی کا تعارف

علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی دیگر کتابیں بھی کافی اہم ہیں لیکن جو شہرت اور مقبولیت اِس کتاب کو حاصل ہے وہ ان کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں ہوئی۔ اسی کتاب نے آپ کو شہرت کے اوجِ ثریا تک پہنچایا تھا۔ اس کتاب کا آپ جب پس منظر بیان کرتے ہیں تو ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ مجھے کتاب اللہ میں غور و فکر اور تدبر کا بچپن سے ہی شوق تھا اور میں نے بچپن سے ہی اس میں غور و فکر کرنا شروع کر دیا تھا، اور اس کے سربستہ راز کھولنے کی کوششیں میں نے اسی وقت سے شروع کر دی تھیں جبکہ میرے زمانے کے اور میرے ہم عمر لوگ کھیل کود میں مشغول رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کے سربستہ راز مجھ پر کھلنے لگے، نئے نئے دقائق میرے ذہن میں آنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے ایسے علوم، نکات، اسرار اور رموز عطا کر دیے جو مجھے تفسیر کی دیگر کتابوں میں نہیں ملتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے بہت جلد درسِ قرآن کا آغاز کر دیا تھا۔

آپ لکھتے ہیں کہ میں ان نکات، علوم اور اسرار کو لکھنے کی تمنا رکھتا تھا لیکن ہمیشہ متردد رہتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ سن ۱۲۵۲ھ میں جب آپ کی عمر چونتیس سال تھی، تو کہتے ہیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا اور اس خواب میں اللہ تعالیٰ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ آسمان اور زمین کو طول اور عرض میں جوڑ کر ملا دو۔ تو کہتے ہیں کہ میں نے ایک ہاتھ بلند کر کے آسمانوں تک پہنچایا اور دوسرا ہاتھ میں نے ماءِ مستقر تک جا کے پہنچا دیا اور اسی دوران میں نیند سے جاگ گیا۔ کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اس تعبیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھے بعض کتابوں میں یہ ملا کہ اس سے تفسیر لکھنے کی طرف اشارہ ہے، اور یوں انہوں نے اس تفسیر کا آغاز سن ۱۲۵۲ھ میں چونتیس سال کی عمر میں کر دیا۔ سن ۱۲۵۲ھ میں اس کتاب کے آغاز سے لے کر آپ نے اس کتاب کی تکمیل ۱۲۶۷ھ میں کی، اور اس تفسیر کے لکھنے پر تقریباً‌ چودہ سے پندرہ سال کا عرصہ لگا۔

آپ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ تفسیر مکمل کی تو میں نے اس کا نام ابھی نہیں رکھا تھا، پھر میں نے اپنی یہ تفسیر وزیر اعظم علی رضا پاشا کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کتاب کا نام مکمل یوں رکھا: ’’روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی‘‘۔ اس تفسیر کی خاطر آپ نے سن ۱۲۶۳ھ میں عہدہ افتاء سے بھی علیحدگی اختیار کر لی اور پھر ہمہ وقت اسی تفسیر کے لکھنے اور تدوین میں مشغول ہو گئے۔

آپ کے بارے میں آتا ہے کہ اس زمانے میں آپ نے اپنے نظام الاوقات کو یوں تقسیم کیا تھا کہ دن کے وقت آپ تدریس و تالیف وغیرہ میں لگے رہتے تھے، شام کے اوقات میں آپ اپنے متعلقین اور مہمانوں سے ملاقات کرتے تھے، رات کے آخری پہر آپ اٹھ کر تفسیر لکھتے تھے، اور پھر صبح اٹھ کر آپ اس تفسیر کے مسودے کو کاتب کے حوالے کرتے تھے جس کو آپ نے باقاعدہ تنخواہ پر رکھا تھا۔ وہ پھر اس مسودے کو صاف کر کے اور اس کی تنقیح کر کے دوبارہ ایک اچھی اور درست شکل میں ایک جگہ لکھ لیتا تھا۔

تفسیر روح المعانی کا مقام و مرتبہ

تفسیر ’’روح المعانی‘‘ کا مقام اور مرتبہ بہت بلند ہے۔ اہلِ علم نے اس تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے اور اس کے بارے میں یہ آتا ہے کہ چونکہ آپ اکثر مفسرین کے بعد آئے ہیں، اس لیے آپ کی تفسیر پچھلی تمام تفاسیر اور ان کتابوں کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ اس تفسیر میں آپ نے جہاں روایت اور تفسیر بالمنقول کی طرف توجہ دی ہے، وہاں آپ نے درایت اور تفسیرِ عقلی پر بھی بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف آرا کے درمیان مقارنہ کیا ہے، وجوہِ ترجیح بیان کی ہیں، اور ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس تفسیر میں آپ نے بلاغت کے بہت ہی عمدہ نکات لکھے ہیں۔

اس کے علاوہ اہلِ علم نے اس کتاب کی بہت ساری خصوصیات بیان کی ہیں۔ علامہ بنوری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ چار تفاسیر ایسی ہیں کہ اگر کوئی انسان ان چار تفاسیر کا مطالعہ کر لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’تفسیر کبیر‘‘ ہے، دوسری ’’تفسیر ابن کثیر‘‘ ہے، تیسری ’’تفسیر ابی السعود‘‘ ہے اور چوتھی ’’تفسیر روح المعانی‘‘۔ اور حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنی کتاب ’’علوم القرآن‘‘ کے اندر ان چار تفاسیر کے ساتھ ایک اور تفسیر ’’تفسیر قرطبی‘‘ کو بھی شامل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو آدمی ان پانچ تفاسیر کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے لیے دیگر تفاسیر کے مطالعے کی ضرورت نہیں ہو گی اور یہ تفاسیر اس کو دیگر تمام تفاسیر سے بے نیاز کر دیں گی۔

علامہ آلوسیؒ نے اپنی اس تفسیر کے اندر نحو، صَرف، بلاغت، فلسفہ، ہیئت، فقہی آرا اور عقائد سے متعلق بہت سارے مباحث پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جن پر آگے ہم ہر عنوان پر الگ الگ بات کریں گے، لیکن اتنی بات اس کے بارے میں آتی ہے کہ یہ اپنے موضوع پر ایک جامع اور کافی شافی تفسیر ہے، اسی لیے بہت سارے اہلِ علم زیادہ تر اسی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں۔

جن تفاسیر سے علامہ آلوسیؒ نے استفادہ کیا

علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اپنے سے پہلی بہت ساری تفاسیر سے استفادہ کیا۔ مثلاً‌ ’’تفسیر ابن عطیہ‘‘ ہے، ’’تفسیر ابی حیان‘‘ ہے، ’’تفسیر کبیر‘‘ ہے، ’’تفسیر کشاف‘‘ ہے، ’’تفسیر ابی السعود‘‘ ہے، یہ ان نمایاں تفاسیر میں سے ہیں۔ اور مؤسسۃ الرسالۃ سے جو ’’روح المعانی‘‘ کا نسخہ چھپا ہے اُس کے مقدمے میں بہت زیادہ تفصیلات لکھی گئی ہیں کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کن کن تفاسیر سے اور کن کن دیگر کتب سے استفادہ کیا ہے، تو وہاں آپ کو پوری تفصیل مل جائے گی، اس کے مقدمے میں کافی اہم تفصیلات موجود ہیں۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ اپنی اسی تفسیر کے اندر ’’قال القاضی‘‘ جب کہتے ہیں تو اس سے عموماً‌ یا تو قاضی بیضاوی رحمہ اللہ مراد ہوتے ہیں یا قاضی عیاضؒ یا عبدالجبار المعتزلی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جب آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے امام ابو السعودؒ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جب آپ ’’الشیخ الاکبر‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے علامہ ابن عربی رحمہ اللہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور جب آپ ’’قال الامام‘‘ کہتے ہیں تو امام رازیؒ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یہاں ایک اور نکتہ بھی ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ پچھلی تمام تفاسیر سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی آرا نقل کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی رائے علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی نظر میں کمزور ہو تو اس پر سخت گرفت بھی کرتے ہیں۔ مثلاً‌ اگر آپ علامہ آلوسیؒ کی تفسیر پڑھیں گے تو آپ کو جگہ جگہ صاحبِ کشاف، امام ابو السعود، اور ان پر گرفت نظر آئے گی، بلکہ امام رازی رحمہ اللہ پر تو انہوں نے بہت سارے مقامات پر اور خصوصاً‌ فقہی مسائل میں بہت سخت گرفت کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نقد اور رد سے بھی کافی کام لیا ہے، اور پھر جو رائے ان کے ہاں راجح ہوتی ہے، اس کی وجہِ ترجیح بیان کر کے اس کو ترجیح بھی دیتے ہیں۔

علامہ آلوسیؒ کا منہج و اسلوب

اگر ہم بات کریں علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی تفسیر کے اندر اسلوب اور منہج پر، تو اس کو آپ خلاصے اور خاکے کے طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں کہ علامہ آلوسیؒ جب کسی سورۃ کے شروع میں آتے ہیں تو سب سے پہلے اس سورۃ کے مبادیات کو ذکر کرتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر اس سورۃ کا نام، اس سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے کی تفصیل، اگر اس میں اختلاف ہے تو اس اختلاف کی تفصیلات، اس سورۃ کا شانِ نزول، اس سورۃ کے فضائل پر وارد ہونے والی اگر کوئی احادیث ہیں تو ان کو بیان کرتے ہیں، اس سورۃ کا پچھلی سورۃ کے ساتھ ربط اور تعلق کیا ہے، اس طرح کے مبادیات کو ذکر کرنے کے بعد پھر آپ تفسیر کا آغاز کرتے ہیں۔

جب آیات کی تفسیر آپ شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے عموماً‌ اس کے لغوی اور نحوی یا صَرفی مباحث بیان کرتے ہیں جن میں کبھی کبھی آپ بہت تفصیل میں چلے جاتے ہیں، جس پر آگے ہم بات کریں گے۔ پھر اس کے بعد اس آیت یا آیات سے متعلق اہلِ علم اور مفسرین کی آرا نقل کرتے ہیں، اور اگر ان آرا میں سے کوئی رائے ان کے نزدیک کمزور ہو تو اس پر رد بھی کرتے ہیں۔ پھر اسی طرح آگے چلتے چلتے ان آیات کے اندر اگر کوئی فقہی بات یا فقہی مسئلہ ہو تو اس سے متعلق تمام اہلِ علم کی آرا اور پھر اس کے اندر کسی ایک رائے کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح چلتے چلتے پھر آپ فلسفہ، علمِ ہیئت، ریاضیات اور طبیعیات کے مباحث ذکر کرتے ہیں، فرقِ ضالہ اور مبتدعہ پر سخت رد اور نقد کرتے ہیں، مختلف قراءات کو بھی بیان کرتے ہیں، اور پھر آخر میں جا کر ایک عنوان باندھ کر تفسیرِ اشاری پر بھی بات کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے منہج کا ایک خاکہ ہے۔

مخالفینِ اہلِ سنت پر نقد

علامہ آلوسی رحمہ اللہ عقیدتاً‌ سنی تھے، اس لیے وہ مخالفینِ اہلِ سنت پر جگہ جگہ نقد بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر روافض، خوارج اور معتزلہ کی آرا اور ان کے نظریات و استدلالات پر کافی مقامات پر نقد کرتے ہوئے ان پر رد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ الجمعہ کی جو آیت ہے: ’’واذا راوا تجارۃً‌ او لہوان انفضوا الیہا‘‘، اس آیت سے بعض روافض نے صحابہؓ پر طعن کرنے کے لیے یہ استدلال کیا کہ صحابہؓ نے کیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ دیا اور چلے گئے، یہ بے ادبی ہے۔ ایک قسم کا طعن و تشنیع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تو علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اس پر کافی سخت نقد کیا ہے۔

سب سے پہلے تو وہ یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کبارِ صحابہؓ کا عمل نہیں تھا، بلکہ بعض (عام) صحابہؓ کا عمل تھا، دوسری بات یہ کہ یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے اور ابتدائے اسلام میں اس وقت اس طرح کے آداب سے صحابہؓ آشنا نہیں تھے، اور تیسرا پوائنٹ یہ ہے کہ یہ قحط کا زمانہ تھا اور سخت ضرورت کا موقع تھا  اسی لیے صحابہؓ ان اشیا کی خریداری کی طرف چلے گئے تاکہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں، اور یہ واقعہ ہوا بھی صرف ایک ہی بار ہے۔ جن روایات میں اس واقعے کے بار بار ہونے کا ذکر ہے، جیسے شعب الایمان کے اندر آتا ہے، تو اس پر انہوں نے کافی رد اور نقد کیا ہے۔ ان تمام مجموعۂ نکات کو بیان کر کے انہوں نے روافض کے اس استدلال کو توڑ دیا ہے۔

اسی طرح سورۃ البقرۃ کی جو آیت ہے: ’’ویمدہم فی طغیانہم یعمہون‘‘ (البقرۃ ۱۵) اس سے معتزلہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ طغیان کی نسبت اللہ کی طرف کرنا درست نہیں ہے، طغیان کی نسبت بندوں کی طرف کریں گے اور بندے خود اپنے افعال کے خالق ہیں۔ تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے معتزلہ کی اس رائے پر سخت نقد کیا ہے اور اس نکتے کی وضاحت کی ہے کہ خالقِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی طرف اس بات کی نسبت کرنا غلط نہیں ہے۔ درحقیقت کاسب کی طرف جو نسبت کی جاتی ہے اصل خرابی اس کے اندر ہے، اور بندہ کاسب ہے، خالق نہیں ہے۔ تو وہاں انہوں نے معتزلہ پر رد کر کے اس نکتے کی کافی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ اس طرح آپ کو جگہ جگہ ان کی ایسی آرا اور مباحث دیکھنے کو ملیں گے۔

علامہ آلوسیؒ اور فقہی مسائل

علامہ آلوسی رحمہ اللہ مسلکاً‌ حنفی تھے یا شافعی؟ اس بارے میں علامہ محمد حسین الذہبی اپنی کتاب ’’التفسیر والمفسرون‘‘ کے اندر لکھتے ہیں کہ آپ شافعی تھے لیکن آپ نے اکثر مسائل میں حنفیہ کی تقلید کی ہے۔ لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، دو وجوہات سے:

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے اندر جب آپ بسم اللہ کی تفسیر کرتے ہیں تو وہاں کچھ عبارات ایسی ملتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے شافعی مسلک کی طرف مائل تھے لیکن بعد میں آپ نے شافعی مسلک کو چھوڑا اور حنفی مسلک کو اختیار کر لیا تھا، یہ ایک وجہ ہے۔

دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ عموماً‌ جب وہ اپنی تفسیر کے اندر اہلِ علم کی آرا کو نقل کرتے ہیں، تو وہ حنفیہ کی رائے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں: ’’وعندنا وعند اصحابنا وعند ساداتنا الحنفیۃ‘‘، تو اس طرح کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حنفی ہی تھے۔ بطورِ مثال آپ ان مقامات کو دیکھ سکتے ہیں کہ کفارہ یمین کے اندر جب یہ بحث آتی ہے کہ ’’تحریر رقبۃ‘‘ کے اندر مومنہ کی قید ہے یا نہیں، وہ جو اصولِ فقہ کی مشہور بحث ہے ’’حمل المطلق علی المقید‘‘، تو حنفیہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرتے اور شافعیہ محمول کرتے ہیں، تو وہاں علامہ آلوسی رحمہ اللہ جب حنفیہ کی رائے ذکر کرتے ہیں تو وہ ’’وعندنا لایحمل‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اور اسی کو آگے جا کر بطور ضابطہ جب ذکر کرتے ہیں تو وہاں پر بھی وہ ’’وعند اصحابنا‘‘ کے الفاظ ذکر کرتے ہیں۔

اسی طرح جو آیت ہے: ’’ثلاثۃ قروء‘‘ جس میں حنفیہ اور شافعیہ کا مشہور اختلاف ہے کہ ’’قروء‘‘ سے کیا مراد ہے، حیض ہے یا طُہر؟ تو وہاں جب وہ حنفیہ کی رائے ذکر کرتے ہیں تو یوں الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ ’’وذھب ساداتنا الحنفیۃ‘‘۔

ان تمام تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ حنفی تھے، لیکن ان سب کے باوجود آپ میں تعصب کا دور دور شائبہ نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ حنفی ہونے کے باوجود بھی بسا اوقات قوتِ دلیل کی بنیاد پر کسی اور امام کی رائے کو بھی ترجیح دیتے تھے۔ مثال کے طور پر اسی قروء کے مسئلے کو لے لیجیے، مسئلہ قروء کے اندر آپ نے تمام دلائل اور تفصیلات کو ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا ہے کہ میری رائے میں شافعیہ کی رائے زیادہ راجح ہے کہ قروء سے مراد حیض نہیں بلکہ طُہر ہے۔ اسی طرح دیگر بھی کئی مقامات پر آپ نے قوتِ دلیل کی بنیاد پر، جو علامہ آلوسیؒ کے ہاں زیادہ مضبوط رائے ہوتی تھی، اسی کو ترجیح دی ہے۔

علامہ آلوسیؒ اور نحوی و لغوی مباحث

اگر اس ٹاپک کو دیکھا جائے تو اس پر ایک الگ تھیسز لکھا جا سکتا ہے، کیونکہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے تقریباً‌ ہر آیت میں — شاید ہی کوئی آیت ایسی ہو جو آپ سے مِس ہوئی ہو کہ جہاں آپ نے نحوی اور صَرفی مباحث کو ذکر نہ کیا ہو۔ اور بسا اوقات نہیں بلکہ اکثر آپ نحوی مباحث ذکر کرتے کرتے بہت دور تک چلے جاتے ہیں اور ہلکی سی مناسبت سے نحوی مباحث، تراکیب، مختلف اعراب، اور نحویین و صَرفیین کی مختلف آرا و دلائل پر کافی تفصیل کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔ اگر اس پر کوئی مقالہ لکھنا چاہے کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کس کس طرح نحوی اور صَرفی مباحث کو ڈسکس کیا ہے اور انہوں نے اس سلسلہ میں کیا منہج اختیار کیا ہے، تو اس پر الگ سے ایک مستقل مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔

علمِ ہیئت اور علامہ آلوسیؒ

علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں علمِ ہیئت، ریاضیات، فلسفہ اور طبیعیات کے مباحث کو بھی ذکر کیا ہے۔ فلاسفہ کے مختلف اقوال اور آرا کو نقل کرتے ہیں، جو آرا اور اقوال اسلامی علوم اور شرعی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں ان کو تو بیان کرتے ہیں، اور جو شرعی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں ان کو نقل کر کے ان پر کافی سخت گرفت کر کے ان پر نقد و رد بھی کرتے ہیں۔ نیز اپنے زمانے کی تحقیقات پر کافی اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے لیے بطورِ مثال آپ سورۃ یس کی اس آیت کو دیکھ سکتے ہیں جہاں اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ’’والشمس تجری لمستقر لہا‘‘، ’’وکل فی فلک یسبحون‘‘، اور اسی طرح سورۃ الطلاق کے اندر جو آیت آتی ہے: ’’اللہ الذی خلق سبع سماوات ومن الارض مثلہن‘‘۔ بطور مثال اگر آپ ان آیات کے ذیل میں فلاسفہ، ریاضیات اور طبیعیات کی جو آرا و تفصیلات نقل کی گئی ہیں اور ان پر جس طرح بحث کی گئی ہے، اسے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے کتنی مضبوطی سے اس طرح کے مباحث کو ذکر کیا ہے۔

علامہ آلوسیؒ اور اسرائیلی روایات

جیسے ہم اس سے پہلے تفسیر قرطبی کی ویڈیو میں بیان کر چکے ہیں کہ اسرائیلیات کا مطلب ہوتا ہے وہ روایات جو ہم تک اہلِ کتاب کے واسطے سے پہنچی ہوں۔ ہمارے ہاں اکثر اہلِ علم اسرائیلی روایات کے بارے میں جو راجح رائے رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیلی روایات تین قسم کی ہوتی ہیں:

۱۔ قابلِ قبول

ایک وہ روایات ہیں جن کا صِدق اور درست ہونا خارجی دلائل سے ثابت ہو چکا ہو، مثلاً‌ قرآن مجید سے یا احادیث سے، تو ایسی اسرائیلی روایات معتبر ہیں کیونکہ وہ تو ہماری شریعت کا ایک حصہ بن گئیں۔

۲۔ ناقابلِ قبول

دوسری قسم کی اسرائیلی روایات وہ ہیں جن کا کِذب اور غلط ہونا خارجی قرائن سے ثابت ہو چکا ہو — قرآن سے، حدیث سے — تو ایسی روایات کا انکار اور رد کرنا ضروری ہے اور وہ ناقابلِ اعتبار ہیں۔

۳۔ مسکوت

تیسری قسم کی اسرائیلی روایات وہ ہیں جن کے صِدق اور کِذب کے بارے میں قرآن و حدیث ساکت اور خاموش ہیں۔ اسی طرح کی روایات کے بارے میں سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے کہ ’’لا تصدقوہم ولا تکذبوہم‘‘ کہ نہ ہم ان کی تصدیق کریں گے اور نہ ہم ان کی تکذیب کریں گے۔ کعب الاحبار کی جو اسرائیلی روایات ہیں وہ اکثر اسی تیسری قسم کی ہیں۔

علامہ آلوسیؒ نے جو منہج اختیار کیا ہے اسرائیلی روایات کے سلسلے میں، وہ کافی سخت اور احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ آلوسیؒ سے پہلے جتنی تفاسیر تھیں ان کے اندر اسرائیلی روایات کی بھرمار تھی، لیکن علامہ آلوسیؒ نے اسرائیلی روایات پر جگہ جگہ سخت نقد بھی کیا ہے اور عموماً‌ صرف پہلی قسم کی روایات پر اکتفا کیا ہے۔ جہاں دوسری اور تیسری قسم کی روایات ہیں، اُن کو یا تو بیان ہی نہیں کیا، اور اگر بیان کیا ہے تو ان کو رد کر کے وضاحت کر دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ایک ہلکی سی کمزوری اسرائیلی روایات سے متعلق یہ بھی ہے کہ کچھ روایات — جو تیسری قسم کی روایات ہیں — انہوں نے بیان کی ہیں جو کچھ غیر ضروری بھی ہیں، اور پھر ان کے بارے میں کوئی وضاحت بھی نہیں کی، آپ نے ایسے ہی ان روایات کو چھوڑ دیا ہے۔ اس کے لیے آپ بطور مثال سورۃ القصص کی آیت نمبر ۲۸ سے متعلق جو اسرائیلی روایات ہیں ان کو اگر دیکھیں گے تو وہاں معلوم ہو جائے گا کہ وہاں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کوئی زیادہ وضاحت نہیں کی اور آگے چلے گئے۔ تاہم مجموعی طور پر آپ نے اسرائیلی روایات کے بارے میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے، بلکہ بسا اوقات تو آپ اس طرح کی روایات کو ذکر کر کے ان کے بارے میں بہت ہی سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ المائدہ کی وہ جو مشہور آیت ہے ’’ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرآئیل‘‘ (المائدۃ ۱۲) اس کے تحت مفسرین عوج بن عنق کا جو واقعہ نقل کرتے ہیں، تو علامہ رحمہ اللہ نے اس قصے کے بارے میں فرمایا ہے ’’ھذیان لا اصل لہ‘‘، اس طرح انہوں نے بہت سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔

علامہ آلوسیؒ اور تفسیرِ اشاری

تفسیرِ اشاری کو تفسیرِ صوفی یا تفسیرِ باطنی بھی کہتے ہیں، اور اس سے مراد وہ تفسیر ہے جو آیات کا باطنی مفہوم ہوتا ہے، یعنی آیات کے ظاہری مفہوم سے ہٹ کر باطنی مفہوم اور ان آیات سے متعلق کوئی ایسا نکتہ جو ہر کسی کے سامنے نہ آ سکے، اس طرح کی تفسیر کو تفسیرِ اشاری کہتے ہیں۔ تفسیرِ اشاری کے قابلِ قبول ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اہلِ علم کی آرا مختلف ہیں، تاہم جو راجح قول ہے وہ یہی ہے کہ جن صوفیاء نے یا جن اہلِ علم نے اس طرح کی تفسیرِ اشاری کو بیان کیا ہے اور انہوں نے آیت کے ظاہری مفہوم کا انکار نہیں کیا، بلکہ ان کی رائے یہ ہو کہ آیت کا ظاہری مفہوم بھی اصل ہے لیکن اس آیت کے اندر یہ نکتہ بھی آ سکتا ہے، تو وہ تفسیر قابلِ قبول ہے اور اس کو رد کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب آیت کے ظاہری مفہوم کو بھی قبول کیا جا رہا ہے لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے مزید رازوں کو نکالا جا رہا ہے تو اس میں ایسی کوئی خامی نہیں اور یہ قابلِ قبول ہے۔

خود علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے بھی اس کو قبول کیا ہے۔ مثال کے طور پر اللہ رب العزت ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’قاتلوا الذین یلونکم من الکفار‘‘ (التوبۃ ۱۲۳)، تو اس کی جب تفسیرِ اشاری بعض اہلِ علم بیان کرتے ہیں تو وہ یہاں کفار کی بجائے نفس لیتے ہیں کہ بھئی ’’قاتلوا النفس‘‘ کہ نفس کے ساتھ قتال کرو کیونکہ وہ انسان کے ساتھ متصل ہے۔ تو علامہ آلوسیؒ نے وہاں یہ نکتہ لکھا ہے کہ اس طرح کی آیت کا ظاہری مفہوم تو مراد ہے ہی، لیکن اس طرح کی آیات کے اندر اس طرح کے باطنی اور خفیہ معانی و مفاہیم بھی آ سکتے ہیں، اور یہ تفسیرِ اشاری کہلاتی ہے۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے خود بھی بعض مقامات پر، بلکہ اکثر جگہوں میں آیات کی تفسیر اور دیگر مباحث کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں باقاعدہ اس پر ایک الگ عنوان باندھا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے: ’’من باب الاشارۃ فی الآیات‘‘ اور اس کے تحت انہوں نے تفسیرِ اشاری کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ اہلِ علم نے تفسیر ’’روح المعانی‘‘ کو تفسیرِ اشاری میں شمار کیا ہے، لیکن یہ رائے درست نہیں ہے۔ تفسیر ’’روح المعانی‘‘ صرف تفسیرِ اشاری نہیں ہے، تفسیرِ اشاری ایک ضمنی بحث ہے جو علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کی ہے۔ صرف اس ضمنی بحث کی بنیاد پر پوری تفسیر کو تفسیرِ اشاری قرار دینا درست نہیں ہے۔

علامہ آلوسیؒ اور احادیث

یہ کافی اہم موضوع ہے۔ علامہ آلوسیؒ کے بارے میں آتا ہے اور مطالعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی تفسیر میں صرف درایت سے کام نہیں لیا بلکہ آپ نے تفسیر بالماثور اور روایت کی طرف بھی کافی بھرپور توجہ دی ہے۔ اور آپ نے اس سلسلہ میں بہت ساری احادیث کو نقل کیا ہے جن میں صحیح اور حسن احادیث بھی موجود ہیں، اور جہاں کہیں ضعیف احادیث سے استدلال کیا ہے یا ان کو ذکر کیا ہے تو ان کے ضعف کے بارے میں وضاحت بھی کی ہے۔ تاہم بعض مقامات پر علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے ضعیف حدیث کو ذکر کر کے اس حوالے سے کوئی خاص وضاحت نہیں کی۔ مثال کے طور پر سورۃ التوبہ کی آیت ۷۵ کے تحت انہوں نے ثعلبہ بن حاطب کو اس آیت کا شانِ نزول قرار دیا اور اس سلسلہ میں ایک ضعیف حدیث نقل کی ہے لیکن اس حدیث کے حوالے سے انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ اسی طرح بعض اور مقامات پر بھی آپ کو کچھ ضعیف احادیث ملیں گی جن میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ بلکہ بعض اہلِ علم نے تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ آپ نے موضوع احادیث بھی بعض جگہ ذکر کی ہیں۔

اس سلسلہ میں، جیسے میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ’’مؤسسۃ الرسالۃ‘‘ کا جو ایڈیشن ہے اس تفسیر روح المعانی کا، تو انہوں نے حاشیے کے اندر اس طرح کی احادیث کی تخریج کر کے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے عموماً‌ علامہ سیوطیؒ کی ’’الدر المنثور‘‘ سے احادیث کو نقل کیا ہے۔ تاہم اگر اس ایڈیشن کو مدنظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو انسان کو صحیح اور ضعیف یا موضوع احادیث کا علم ہو جاتا ہے۔

روح المعانی کی بہترین طباعت

اس کتاب کا سب سے عمدہ اور معیاری ایڈیشن جو پہلے چھپا تھا وہ دارِ احیاء التراث العربی سے چھپا تھا، اور علامہ محمد حسین الذہبی جو ’’التفسیر والمفسرون‘‘ کے مصنف ہیں، ان کا ایک مقالہ بھی اس کے شروع میں تھا، اور علامہ محمد فاضل کا مقالہ بھی، یہ دو کافی عمدہ مقالے اس کے شروع میں موجود ہیں جو تفسیر روح المعانی کے منہج اور تعارف پر ہیں۔ لیکن آج کل جو اس کا سب سے عمدہ اور اچھا نسخہ ہے وہ مؤسسۃ الرسالۃ کا نسخہ ہے، اور اس نسخے کی جو دیگر خصوصیات ہیں ان میں سے 

یہ اباحثین کا ایک مجموعہ تھا جنہوں نے یہ کام کیا ہے، تو اِس نسخے کو لے کر اگر انسان مطالعہ کرے — لیکن جہاں جہاں اباحثین نے علامہ آلوسیؒ پر نقد کیا ہے وہ جگہ قابلِ غور ہے، اس جگہ انسان کو صحیح غور و فکر کر کے فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا اباحثین نے جو نقد کیا ہے وہ ٹھیک ہے، یا علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی رائے ٹھیک ہے۔ تو وہاں پھر انسان کو مزید مطالعہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تو یہ تھی الحمد للہ ہماری آج کی ویڈیو، علامہ آلوسیؒ اور ان کی تفسیر روح المعانی کے بارے میں، آگے جا کر ان شاء اللہ ہم مزید کچھ دیگر کتابوں پر اس طرح کی تفصیلی ویڈیوز بنانے کی کوشش کریں گے۔

https://youtu.be/fCas12uWijs

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)

مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

امت کا فکری اتحاد کیسے ممکن ہے؟

امتِ مسلمہ کے عقلی و فکری انتشار کے اِس بنیادی سبب کو جاننے کے بعد — جو سبب ہی نہیں، سببِ اسباب ہے — اب ہمارے سامنے اصل مسئلہ اور ہدف یہ ہے کہ اس سبب کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟ تاکہ امت کا فکری اتحاد دوبارہ لوٹ آئے۔ امت کے سامنے نظامِ شریعت کی صحیح، اصل، کامل اور روشن تصویر کیسے پیش کی جائے؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی ایک ایک اصطلاح کو اس کے پورے سیاق و سباق میں؛ صحیح اور اصل معنی و مفہوم کا لحاظ رکھتے ہوئے؛ پورے حجم، وسعت اور دائرۂ کار کے ساتھ پیش کیا جائے؛ اور ان کے مابین وہ ربط، ترتیب اور توازن قائم رکھا جائے جو شریعت کو مطلوب ہے۔ اور جس کے بغیر نظامِ شریعت کی اصلی تصویر کو اس کی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ دیکھنا ممکن نہیں، جب کہ ان اصطلاحات کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔

بظاہر یہ ایک نہایت مشکل اور بہت ہی کٹھن ہدف ہے جسے پانے کے لیے ہزاروں افراد، سینکڑوں اداروں اور بے انتہا وقت کی ضرورت ہے، لیکن اگر نظامِ شریعت کے بارے میں چند اصول ذہن میں رکھے جائیں تو یہ کام آسان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، ہم آئندہ سطور میں نظامِ شریعت کے بارے میں وہ بنیادی اصول ذکر کریں گے جن سے اس مشکل ہدف کا حصول بہت آسان ہو سکتا ہے

یاد رکھیے! نظامِ شریعت ایک بے حد وسیع، جامع، عالمگیر اور ایسا حرکی نظام ہے جو نہ صرف ۱۴۳۳ سال سے جاری ہے بلکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ اس نظام سے وابستہ امور طبعی طور پر نہ صرف بے شمار ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ ان بے شمار امور کو تعبیر کرنے کے لیے ہزاروں شرعی اصطلاحات کا استعمال ہوتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تمام امور جو نظامِ شریعت سے وابستہ ہو رہے ہیں یا ہوتے رہے ہیں، جن کا تعلق اس کائنات اور انسانی زندگی سے ہے، کیا ان کی نظامِ شریعت سے وابستگی بلا کسی ترتیب اور درجہ بندی کے ہوتی ہے؟ کیا نظامِ شریعت سے وابستگی کے وقت اس میں کوئی درجہ بندی اور کلاسیفیکیشن نہیں ہوتی؟ نظامِ شریعت سے وابستہ تمام امور — چاہے وہ پہلے سے وابستہ ہوں یا آئندہ وابستہ ہوں گے — ان میں نہایت اعلیٰ پیمانے کی تنظیم، درجہ بندی اور کلاسیفیکیشن ہوتی ہے۔ اگر اس درجہ بندی کو ملحوظ رکھا جائے تو نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے فہم کا مسئلہ پیدا ہو جو ان امورِ شرعیہ کو تعبیر کرتی ہیں؛ نہ کبھی ان کے مابین موجود درجہ، توازن اور ترتیب خراب ہو؛ اور نہ ہی امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی نظامِ شریعت اور اس کے ساتھ وابستہ کسی بھی امر اور اصطلاح کے بارے میں انتشار اور اضطراب کا شکار ہو۔

مقاصدِ شریعت

نظامِ شریعت سے وابستہ بے شمار امور میں سے کچھ متعین امور ایسے ہیں جو مقاصدِ شریعت کہلاتے ہیں، اور باقی تمام امورِ شرعیہ انہی چند مقاصد کی تکمیل کی خاطر شروع کیے گئے ہیں۔ نظامِ شریعت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے انہی کا سمجھنا ضروری ہے کہ یہی نظامِ شریعت کا وہ پہلا سرا ہے جسے پکڑ کر چلا جائے تو نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کی ڈور الجھتی ہے اور نہ امورِ شرعیہ کی!

چنانچہ امام الحرمین علامہ عبد الملک الجوینیؒ، امام شاطبیؒ، امام غزالیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور دیگر ایسے ائمہ اسلام، جن کی نظر نظامِ شریعت کی جزئیات ہی پر نہیں بلکہ کلیات پر بھی نہایت ہی گہری تھی اور وہ اس کے ہر کوچے کے محرمِ اسرار تھے، انہوں نے مقاصدِ شریعت کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت کے تمام امور و احکام چند مقاصد کے حصول کے لیے مشروع کیے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ صالح اور بہترین فرد کی تشکیل

شریعت کا پہلا مقصد صالح، نیک اور بہترین افراد کی تشکیل ہے۔ چنانچہ شریعت کے بہت سے احکام صالح اور بہترین افراد کی تعمیر و تشکیل سے متعلق ہیں۔

۲۔ صالح اور بہترین خاندان کی تشکیل

بہترین فرد کی تشکیل کا مقصد بہترین خاندان کی تشکیل ہے۔ چنانچہ شریعت کے بے شمار احکام و امور اس مقصد سے وابستہ ہیں۔

۳۔ صالح، نیک اور بہترین معاشرے کی تشکیل

شریعت کا تیسرا مقصد صالح اور بہترین معاشرے کی تشکیل ہے جو کہ بہترین خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ اور شریعت کے بے شمار احکام اس کے متعلق ہیں۔

۴۔ صالح اور بہترین امت کی تشکیل

بہترین معاشرے کی تشکیل کا مقصد اور شریعت کا چوتھا مقصد صالح اور بہترین امت کی تشکیل ہے۔ اور شریعت کے بے شمار امور و احکام اس مقصد کے ساتھ وابستہ ہیں۔

پھر امتِ مسلمہ کی تشکیل کا مقصد پوری انسانیت کے مشترکہ مفادات کا تحفظ ہے۔ اور بشمول امتِ مسلمہ پوری انسانیت کے مشترکہ مفادات کا تحفظ درج ذیل پانچ چیزوں کے تحفظ میں ہے:

(۱) دین کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام دین کے تحفظ کے بارے میں ہیں۔

(۲) انسانی جان کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام انسانی جان کے تحفظ کے متعلق ہیں۔

(۳) انسانی عقل کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام انسانی عقل کے تحفظ سے وابستہ ہیں۔

(۴) انسانی نسل کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام نسلِ انسانی کے تحفظ کے بارے میں ہیں۔

(۵) انسانی مال کا تحفظ

شریعت کے بہت سے احکام اس مقصد سے وابستہ ہیں۔

چنانچہ یہ کل ۹ بڑے مقاصدِ شریعت ہیں: (۱) صالح اور بہترین فرد کی تشکیل، (۲) صالح اور بہترین خاندان کی تشکیل، (۳) صالح اور بہترین معاشرے کی تشکیل، (۴) صالح اور بہترین امت کی تشکیل، (۵) دینِ اسلام کا تحفظ، (۶) انسانی جان کا تحفظ، (۷) انسانی عقل کا تحفظ، (۸) انسانی نسل کا تحفظ، (۹) انسانی مال و دولت کا تحفظ۔

اور ان سب مقاصد کا بھی ایک بڑا اور عظیم مقصد ہے، وہ ہے: اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول۔ اور یہی شریعت کی غایۃ الغایات ہے جو ان مقاصدِ شریعت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، اور یہی عبادت کا وہ آفاقی مفہوم ہے جس کے لیے تمام انسانیت کو پیدا کیا گیا۔

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ (الذاریات ۵۶)
’’اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔‘‘

امورِ شریعت کے درمیان درجہ بندی

شریعتِ مطہرہ کے متعلق تمام امور مذکورہ بالا مقاصدِ شریعت سے وابستہ ہیں، اور قیامت تک انہی مقاصد کے ماتحت نئے امور شریعت اور نظامِ شریعت کا حصہ بنتے رہیں گے۔ لیکن شریعت سے وابستہ یہ امور یکساں مقام و مرتبے اور ایک ہی سطح کے نہیں ہیں، بلکہ ان تمام امورِ شرعیہ کی تین مختلف سطحیں ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ ضروریاتِ دین

نظامِ شریعت سے متعلقہ امور و احکام کی پہلی سطح ان امور کی ہے جن کے سرانجام دیے بغیر مقاصدِ شریعت کا حصول بالکل ناممکن ہے کہ ان کی حیثیت بنیاد اور اساس کی سی ہے جس پر پورے نظامِ شریعت کی بِنا ہے۔ شرعی اصطلاح میں ایسے امور و احکام کو ’’ضروریات‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہر وہ احکام اور امورِ شرعیہ جو ضروریات اور اساسیات کہلاتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو تمام مقاصدِ شرعیہ کے لیے بلاواسطہ اساسيات اور ضروریات کا درجہ رکھتے ہیں، مثلاً:

(۱) عقائد و ایمانیات

ایمان باللہ یعنی توحید، ایمان بالرسل، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب السماویہ، ایمان بالآخرۃ، ایمان بالقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالیٰ۔

(۲) عبادات

نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ۔

(۳) اخلاقیات

اخلاقی اوصاف علم، عدل، حریت، وحدت، مساوات، توازن، اعتدال، عفت، شجاعت، فراست وغیرہ۔

(۴) اعمال

ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے جو مذکورہ بالا عقائد، عبادات، اخلاقیات کی طرح تمام مقاصدِ شرعیہ کے حصول کے لیے بلاواسطہ ضروری ہے۔ بلکہ نظامِ شریعت یعنی دین کے متعلق تمام امور و احکام — چاہے ان کی سطح یا حیثیت کوئی بھی ہو — ان پر عملدرآمد کے لیے لازمی ہے۔ وہ اہم ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے؛ کیونکہ جہاد ہی اپنے وسیع تر معانی میں اسلام کی عملی تطبیق؛ نظامِ شریعت کی عملی تعبیر؛ اور مقاصدِ شریعت کے حصول کا واحد منہج، میتھڈ، اور طریقۂ کار ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کچھ اعمالِ شرعیہ ایسے بھی ہیں جو مقاصدِ شریعت میں سے کسی ایک مقصد کے لیے تو بلاواسطہ اساس، بنیاد اور ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن باقی مقاصد کے لیے اس مقصد کے واسطے سے اساس ہیں، کیونکہ تمام مقاصدِ شرعیہ کا آپس میں گہرا رابطہ اور توازن ہے۔ مثلاً:

یہ تمام ضروریات جنہیں عام طور پر ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے، جو اپنی انتہائی اہمیت کے سبب بجائے خود مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں، ان میں بھی انتہائی اعلیٰ درجے کا ربط، ترتیب اور توازن ہے۔ یہ تمام امورِ شریعت جو ضروریاتِ دین کہلاتے ہیں، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، ان میں سے کسی ایک کے بغیر دوسرے بھی قائم نہیں رہ سکتے۔

چنانچہ صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل اس بارے میں شاہد ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کو قبرِ مبارک میں اتارنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ ادارۂ خلافت کو قائم کریں؛ اور جب منکرینِ زکوٰۃ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، حالانکہ وہ باقی ضروریاتِ دین پر عمل پیرا تھے، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ، جو صاحبِ پیغمبرؐ اور محرمِ اسرارِ شریعت تھے، انہوں نے ان منکرین کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور اس کی دلیل یہ دی کہ منکرین نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شریعت کے ان بنیادی اور ضروری امور کو یکساں اہمیت حاصل ہے، مسلمان کسی ایک سے بھی صَرفِ نظر نہیں کر سکتے۔

اور یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان تمام ضروریاتِ دین میں جو فطری ربط، ترتیب، توازن اور تعلق ہے — جس کی وجہ سے یہ تمام ضروری امور ایک دوسرے کو نہ صرف سہارا دیتے ہیں اور مضبوط کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرتے ہیں — اگر وہ ختم ہو جائے یا ضائع ہو جائے تو نظامِ شریعت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمان نہ تو ضروریاتِ دین میں یہ توازن، ترتیب اور ربط برقرار رکھ پا رہے ہیں اور نہ ہی ترجیحات کا تعین کر رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ دین کی کسی ایک اساس یا بنیاد کو مٹتا ہوا دیکھتے ہیں تو پوری شدت اور جذبات کے ساتھ اسے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے ہیں؛ اور اکثر اوقات وفورِ جذبات، یا کم علمی، یا جماعتی و گروہی تعصبات، یا وسائل کی کمی کی وجہ سے باقی ضروریات اور اساسیات سے صَرفِ نظر کر لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دو میں سے ایک خرابی کم از کم ضرور لازم آتی ہے:

یقیناً یہ تو ممکن نہیں کہ ہر مسلمان یا ہر جماعت تمام ضروریاتِ دین کے قیام، بقا اور حفاظت کے لیے یکساں جدوجہد کر سکے، کیونکہ اس میں معروضی حالات، صلاحیتوں اور ذوق کا بے حد دخل ہے۔ حتیٰ کہ تمام صحابہ کرامؓ بھی تمام امورِ دینیہ میں مہارت نہیں رکھتے تھے، لیکن وہ تمام امورِ دینیہ پر نظر ضرور رکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ دین کے کس امر کی کتنی اہمیت ہے؟ اس لیے وہ تمام امورِ دینیہ میں سے نہ کسی کو مٹنے دیتے تھے اور نہ ہی ان کے مابین ربط، توازن اور ترتیب کو ٹوٹنے دیتے تھے۔ یہ ان کی عقلِ اجتماعی کی علمی و فکری اور احساس کی سطح تھی۔

کیا علم اور احساس کی اس سطح کو بحال کرنا آج ناممکن ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اپنے پورے طمطراق کے باوجود اس بات سے قاصر ہیں کہ وہ اس علمی سطح کو بحال کر سکیں؟ کیا ہماری سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں اپنے کارکنوں کو یہ تربیت نہیں دے سکتیں کہ جہاں وہ اپنے مشنز، مقاصد اور پروگراموں کے لیے جدوجہد کریں — جو کسی نہ کسی دینی ضرورت سے وابستہ ہیں — وہاں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں جوش و جذبے کی شدت؛ یا کم علمی، بے توجہی یا نادانی کی بنا پر؛ یا جماعتی و گروہی تعصب کی وجہ سے؛ یا اسی قسم کے دوسرے اسباب کی بنا پر دین کی کوئی دوسری اساس تو متاثر نہیں ہو رہی، یا خدانخواستہ دین کی کوئی دوسری ضرورت مٹ ہی تو نہیں گئی؟

آج امتِ مسلمہ کو جو حقیقی اور اصل قیادت کے فقدان کا سامنا ہے، اس کے اسباب بھی ہمیں یہیں تلاش کرنے چاہئیں۔

۲۔ حاجاتِ دین

احکام اور امورِ شرعیہ کی دوسری سطح ان امور اور احکام کی ہے جنہیں سرانجام دیے بغیر اگرچہ مقاصدِ شرعیہ کا حصول ناممکن تو نہیں، البتہ انتہائی مشکل ضرور ہے۔ ایسے امور اور احکام کو اصطلاح میں ’’حاجاتِ دین‘‘ کہا جاتا ہے اور ایسے امور اکثر طور پر ضروریاتِ دین سے متعلق ہوتے ہیں۔ 

مثلاً: نماز قائم کرنا ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس کے مفہوم میں اس کی تمام شرائط، ارکان اور واجبات شامل ہیں؛ لیکن اگر سنن و نوافل کو ادا نہ کیا جائے اور لوگ مجموعی طور پر ان میں کوتاہی کرنے لگیں تو نماز کو قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، بلکہ اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ چنانچہ یہ سنن و نوافل حاجاتِ دین میں سے ہیں۔ اسی طرح دین کی ہر ضرورت کے متعلق بہت سے ایسے احکام و امور ہیں جو ان کے لیے حاجات کے درجے میں آتے ہیں۔ 

چنانچہ حاجاتِ دین کا دائرہ ضروریاتِ دین سے زیادہ وسیع ہے۔ لیکن یہ جاننا کہ وہ کون سے امور ہیں جو دین کی کسی ضرورت کے لیے حاجات کا کردار ادا کرتے ہیں، اسی وقت ممکن ہے جب اس ضرورتِ دین کو درج ذیل امور کے ساتھ اچھی طرح سمجھا جائے گا: اس کی شرائط، ارکان، خصائص، صفات، نتائج، مقاصد، معنی و مطلب کی حدود، مقاصدِ شرعیہ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، اس ضرورتِ دین کو ادا کرنے کا شرعی منہج اور طریقۂ کار، اس ضرورت کی شرعی علت اور سبب، اور باقی ضروریاتِ دین کے ساتھ اس کے تعلق اور واسطے کی نوعیت۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں کسی بھی ضرورتِ دین کے مفہوم میں داخل ہیں، اور اس کے لیے عام مثال نماز کی ہے جو کہ اپنی انتہائی اہمیت کی وجہ سے بجائے خود مقصد کا درجہ رکھتی ہے۔ جب تک نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، خصائص، صفات، اثرات، مقاصد، معانی و مطلب کی وسعت و حدود، مقاصدِ شریعت کے ساتھ اس کے تعلق کی کیفیت، دوسری ضروریاتِ دین کے ساتھ اس کے صلے کی نوعیت، اس کے حکم کی وجوہات، یعنی اس کے علل و اسباب اور اس کو ادا کرنے کے منہج اور طریقۂ کار کا علم نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ جاننا مشکل ہے کہ اس کی حاجات کون کون سی ہیں، کیونکہ یہ تمام چیزیں نماز کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور نماز ہی پر تمام ضروریاتِ دین کو قیاس کرنا چاہیے کہ اگر ان میں بھی یہ تمام چیزیں ملحوظ ہوں گی تو ان کی حاجات کا علم ہوگا۔ یہاں مزید تفصیل کا موقع نہیں ہے۔

۳۔ تحسینیات و تکمیلیاتِ دین

احکام و امورِ شرعیہ کی تیسری سطح ایسے امور اور احکام کی ہے، جنہیں ادا کیے بغیر نہ تو مقاصدِ شرعیہ کا حصول ناممکن ہے اور نہ ہی مشکل، بلکہ ان پر عمل کرنے سے ضروریاتِ دین اور حاجاتِ دین پر عمل پیرا ہونا آسان ہو جاتا ہے، اور خودکار طریقے سے ان کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ ایسے امور کو شرعی اصطلاح میں ’’تحسینیات یا تکمیلیاتِ دین‘‘ کہا جاتا ہے۔

فطری بات ہے کہ جو شخص نمازِ تہجد کا غیر معمولی اہتمام کرتا ہو اور اسے بہتر طریقے سے ادا کرنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہو، اس کی فرض نمازوں اور ان سے متعلقہ سنن و نوافل کا کیا حال ہوگا؟ یقیناً ان کا اہتمام تو وہ اور بھی بہتر طریقے سے کرے گا۔

تحسینیات کا دائرہ احکامِ شریعت کا سب سے وسیع دائرہ ہے، اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں؛ ایک شخص اپنی نمازوں میں جس قدر چاہے عاجزی، بندگی، ذلت و انکساری، پاکیزگی و طہارت کا اہتمام کر سکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس میدان میں بھی وہ تمام باتیں ملحوظ رہنی چاہئیں جن کا ذکر ہم سطورِ بالا میں کر چکے ہیں کہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ کسی شرعی حکم کی تحسین و تکمیل میں باقی ضروریاتِ دین ہی کو فراموش کر دیا جائے!

جماعتِ صحابہ کرامؓ کی راتیں اگر مصلے پر گزرا کرتی تھیں تو دن دینِ حق کی سربلندی کی خاطر جدوجہد میں گزرتا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ اگر ایک رات میں تمام قرآن دو رکعات میں پڑھ لیا کرتے تھے تو ان کا یہ عمل دین کے تمام مقاصد، ضروریات اور حاجات کی تکمیل و تحسین میں مدد و معاون تھا، نہ کہ ان سے غافل کر دینے کا سبب۔ افسوس کہ ہمیں آج ان کے اعمال کی روایات تو یاد ہیں، مگر ان کے اعمال میں جو حقیقت اور جامعیت تھی وہ یاد نہیں!

(جاری)

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

الحاد اور ملحدین: تاریخی تعارف اور اسلامی قرونِ وسطیٰ کی معرکہ آرائی

تمہید

انسان ازل سے اپنے وجود، کائنات، اور اپنے خالق کے بارے میں گہرے سوالات کرتا رہا ہے۔ یہ سوالات کبھی حیرت و استعجاب کا باعث بنتے ہیں تو کبھی یقین و ایمان کا، لیکن بعض اوقات یہ شکوک و شبہات کی جانب بھی لے جاتے ہیں۔ انہی شکوک و شبہات سے ایک ایسا فکری رجحان جنم لیتا ہے جو خالقِ کائنات اور مابعد الطبیعاتی حقائق سے انکار کرتا ہے، جسے الحاد کہا جاتا ہے۔

الحاد کا مفہوم و تعریف

الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ "ل-ح-د" ہے، جس کے معنی انحراف اور ٹیڑھے پن کے ہیں۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے، مثلاً "یلحدون فی اسمآئہ" (الاعراف: 180)، یعنی "وہ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں"۔ اصطلاحاً، الحاد سے مراد وہ عقیدہ ہے جس میں انسان خدا، آخرت، وحی اور روحانی حقائق کا انکار کرتا ہے۔

الحاد: ایک فکری اور تہذیبی چیلنج

الحاد (Atheism) محض خدا کے وجود کا انکار نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل فکری اور تہذیبی نظریہ ہے جو خالق، وحی، آخرت اور مذہبی اقدار کے انکار پر مبنی ہے۔ الحاد ایک دائمی فکری چیلنج ہے جس کا مقابلہ ہر دور میں مسلمان مفکرین نے علم، منطق، اور ایمان کے ہتھیاروں سے کیا ہے۔ ان مفکرین کے کام کو سمجھے بغیر عصرِ حاضر کے الحاد کا مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جو آج بھی جاری ہے۔

موجودہ دور میں الحاد نے سائنسی اور عقلی بنیادوں پر خود کو منوانے کی کوشش کی ہے، جس کا مقابلہ دینی اور علمی حلقوں کے لیے نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ ہر دور میں الحاد کی نئی شکل کا مسلم مفکرین نے مقابلہ کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام ادوار کے فکری تسلسل کو جوڑ کر یہ ثابت کیا جائے کہ الحاد کوئی نئی چیز نہیں، بلکہ یہ ایک فکری ارتقاء کا نتیجہ ہے۔

الحاد کا تاریخی پس منظر

الحاد کا آغاز قدیم یونان میں سقراط سے پہلے کے فلاسفہ (Pre-Socratics) اور اپیکورس جیسے فلاسفہ کی فکر میں ملتا ہے۔ تاہم، اس کو حقیقی فروغ اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی (Enlightenment) کی تحریک سے ملا۔ اس تحریک کے فکری رہنماؤں نے چرچ کی مطلق العنانیت اور مذہبی جبر کے خلاف ایک فکری بغاوت برپا کی اور مذہب کو انسانی غلامی، جہالت اور پسماندگی کی علامت بنا کر پیش کیا۔ فرائیڈ، مارکس، اور نیتشے جیسے مفکرین نے الحاد کو ایک فلسفیانہ اور نفسیاتی بنیاد فراہم کی۔ چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقا بھی الحادی سوچ کو تقویت دینے کا ایک بڑا ذریعہ بنا، اگرچہ ڈارون خود ملحد نہیں تھا۔ بہرحال الحاد کی پہلی گونج پانچویں صدی قبلِ مسیح میں قدیم یونانی فلسفے میں سنائی دی، جہاں فلسفے نے روایت کی زنجیروں کو توڑ کر عقل کو اپنا رہنما بنایا۔ اس دور میں مذہبی عقائد پر سوالات اٹھنے لگے۔

سوفسطائیہ (Sophists)

یہ فلسفہ کے ذریعے الحاد کی بنیاد رکھنے والے وہ پہلے فلسفی تھے جو مطلق سچائی کے وجود سے انکار کرتے تھے۔ اگرچہ حصر و صراحت سے الحاد کا دعویٰ نہیں کیا لیکن ان کے نظریات الحاد تک پہنچانے والے تھے۔ ان کے نظریات کی بنیاد شک، جدل اور نسبتیت (Relativism) پر تھی۔ اور یوں اُن کے تین فرقے بن گئے۔

1- عندیہ

نسبتیت (Relativism) کا نظریہ پیش کرنے والے یہ وہ لوگ تھے جو مطلق اخلاقیات اور سچائی کا انکار کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہر شخص کی رائے ہی اس کے لیے سچائی ہے۔ پروٹاگورس (Protagoras)، جو نسبتیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، کا مشہور قول ہے: "انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے۔" پروٹاگورس کا زمانہ 490 سے 420 قبل مسیح کا ہے۔ اس نظریہ کے علمبردار آج بھی زور و شور سے یہ نعرہ لگاتے ہیں:

Nothing is good or bad, but thinking makes it so.

2- عنادیہ

یہ وہ جدلی (لڑاکا) گروہ تھا جو کسی بھی بات کی صداقت کو دلائل سے ثابت کرنے کے بجائے بحث و جدل کے ذریعے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

3- لاادریہ

یہ وہ وہمی لوگ تھے جو بشمولِ خدا ہر حقیقت کے وجود کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ خدا ہے یا نہیں، کیونکہ اس کے وجود کے بارے میں ہمارے پاس کوئی یقینی علم نہیں۔

اپیکورس (Epicurus)

سوفسطائیہ کے بعد اپیکورس (Epicurus) آیا۔ اس کا زمانہ 341 سے 270 قبل مسیح کا ہے۔ یہ وہ پہلے واضح مادہ پرست (Materialist) فلاسفہ میں سے تھے۔ جن کے نزدیک کائنات محض ایٹموں کا ایک اتفاقی مجموعہ ہے اور خدا کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ نظریہ بعد میں دہریوں (Atheists) کی بنیاد بنا۔

قدیم یونانی فلسفہ، جس کی بنیاد عقل اور منطق پر رکھی گئی، ہی سے الحاد نے سر اٹھایا۔ تاہم، اُس الحاد کی نوعیت آج کے الحاد سے بہت مختلف تھی۔ اس دور میں خدا کے وجود سے انکار نہیں تھا، بلکہ دیوتاؤں کی روایتی تصورات پر سوالات اٹھائے گئے۔

سقراط اور ارسطو: فکری مغالطہ اور حقیقت

یہ ایک فکری مغالطہ ہے کہ سقراط (470-399 قبل مسیح) اور ارسطو (384-322 قبل مسیح) کا تعلق الحاد سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فلاسفہ نے یونانی دیوتاؤں کے روایتی کثیرالجہتی (Polytheistic) تصور کو چیلنج کیا، لیکن انہوں نے خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔

سقراط کے نظریات

سقراط نے اپنے دور کے مشرکانہ عقائد اور دیوتاؤں پر سوال اٹھائے۔ وہ ایک ایسے واحد اور اعلیٰ خدا کا قائل تھا جو کائنات کا خالق اور اخلاقیات کا سرچشمہ ہے۔ سقراط کا خیال تھا کہ خدا کی خوشنودی کا بہترین طریقہ سچائی اور نیکی کے راستے پر چلنا ہے، نہ کہ دیوتاؤں کو قربانیاں دینا۔ اسی "الحاد" کے جھوٹے الزام میں کہ وہ شہر کے دیوتاؤں کو نہیں مانتا اور نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے، اسے سزائے موت دی گئی۔ اس نے زہر کا پیالہ پی کر اپنی شہادت کے ذریعے اس جھوٹے الزام کو رد کیا۔

ارسطو کے نظریات

ارسطو بھی ملحد نہیں تھا۔ اس نے اپنی کتاب "میٹا فزکس" میں "پہلے محرک" (Prime Mover) کا نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق، کائنات میں ہر حرکت کی کوئی نہ کوئی وجہ (Cause) ہے، اور یہ سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جو خود بے حرکت ہو، لیکن کائنات میں ہر چیز کو حرکت میں لانے والی ہو۔ یہ پہلا محرک ہی خدا ہے۔ ارسطو کا خدا ایک غیر شخصی ہستی تھا، جو کائنات میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا، لیکن اس نے کبھی اس کے وجود سے انکار نہیں کیا۔

کیا ان کے دور کے لوگوں نے ان کے دلائل کو تسلیم کیا؟ نہیں، ان کے خیالات کو سب نے تسلیم نہیں کیا۔ سقراط کو اس کے نظریات کی وجہ سے سزائے موت ملی۔ اس کے بعد بھی، اس کی فکر پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔ ارسطو کے نظریات پر بھی بعد کے فلاسفہ نے شدید تنقید کی اور ان کے درمیان صدیوں تک علمی بحثیں جاری رہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی بحث یہ تھی کہ کیا ارسطو کا "پہلا محرک" ایک شخصی خدا ہے یا صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے۔

سقراط اور ارسطو کے بعد اپیکورس کی فکر میں الحادی رجحانات

سقراط اور ارسطو کے بعد کے دور (341-270 قبل مسیح) میں الحادی رجحانات زیادہ واضح ہوئے۔ اپیکورس یونان کے سب سے زیادہ واضح مادہ پرست (Materialist) فلاسفہ میں سے تھا۔ اس کے فلسفے کو اپیکورینزم (Epicureanism) کہا جاتا ہے۔ اس کے اہم نظریات یہ تھے:

کائنات کی مادی بنیاد

اپیکورس کا کہنا تھا کہ کائنات صرف ایٹموں (Atoms) اور خالی جگہ سے مل کر بنی ہے۔ خدا یا کسی روحانی حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔

خدا کا غیر فعال تصور

اپیکورس نے خدا کے وجود کا مکمل انکار تو نہیں کیا، لیکن اس نے کہا کہ اگر خدا ہیں بھی، تو وہ انسانوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ وہ صرف کمال اور لذت کی حالت میں رہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا "عملی الحاد" تھا، جہاں خدا کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔

زندگی کا مقصد

اس کے نزدیک زندگی کا واحد مقصد "لذت" (Pleasure) کا حصول تھا، لیکن یہ لذت جسمانی لذت نہیں بلکہ ذہنی سکون اور پریشانیوں سے نجات تھی۔

اپیکورس کے نظریات نے بعد میں آنے والے دہریوں (Atheists) کو ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کی۔ اس کی فکر نے قدیم روم میں بھی اپنا اثر دکھایا اور یہیں سے یہ نظریات جدید دور تک منتقل ہوئے۔ امام غزالیؒ جیسے مسلم مفکرین نے جب یونانی فلسفہ کا مطالعہ کیا تو انہوں نے بھی اپیکورس کے اس مادہ پرستانہ نظریے کا رد کیا۔ خلاصہ یہ کہ سقراط اور ارسطو خود ملحد نہیں تھے بلکہ ان پر الحاد کا الزام لگایا گیا۔ ان کے بعد، اپیکورس نے ایک واضح مادہ پرستانہ فلسفہ پیش کیا، جس نے خدا کے وجود یا اس کے کردار کو غیر اہم بنا دیا۔ ان تمام نظریات کا رد بعد میں آنے والے مسلم فلاسفہ اور متکلمین نے مدلل اور علمی انداز میں کیا۔

اسلامی قرونِ وسطیٰ: عقل اور نقل کی معرکہ آرائی

جب یونانی فلسفہ مسلم دنیا میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ ہی یہ شکوک و شبہات بھی آئے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم مفکرین نے ایک عظیم علمی تحریک کو جنم دیا جسے "علمِ کلام" اور "اسلامی فلسفہ" کہا جاتا ہے۔

ابنِ سینا (980-1037 عیسوی)

ابنِ سینا نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الشفاء" میں واجب الوجود کا فلسفہ پیش کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کائنات میں ہر چیز ممکن الوجود ہے، یعنی اس کا وجود کسی بیرونی قوت کا مرہونِ منت ہے۔ لہٰذا تمام ممکنات کا وجود ایک ایسی ہستی کے بغیر ناممکن ہے جو خود واجب الوجود ہو، یعنی جس کا وجود ضروری ہو۔ ابنِ سینا کا یہ فلسفہ یونانی مادہ پرستی کے خلاف ایک مضبوط دلیل بن گیا۔ (حوالہ: ابن سینا، "الشفاء"، کتاب الإلهيات، فصل 2)

امام غزالیؒ (1058-1111 عیسوی)

امام غزالیؒ نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" (فلاسفہ کی بے اعتدالیاں) میں فلسفہ کے 20 نظریات کو دلائل سے باطل ثابت کیا، جن میں سے تین کو انہوں نے کفر قرار دیا۔ ان میں سب سے اہم عالم کی ازلیت کا نظریہ تھا۔ غزالیؒ نے اس نظریے کا رد کرتے ہوئے فرمایا:

"اگر فلاسفہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عالم قدیم (ازلی) ہے، تو یہ دراصل کسی خالق کے وجود کا انکار ہے، کیونکہ خالق کے بغیر کسی بھی چیز کا خود بخود وجود میں آنا ناممکن ہے۔" (حوالہ: امام غزالیؒ، "تہافۃ الفلاسفہ"، مسئلہ اولیٰ، صفحہ 28)

انہوں نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے فلسفے کے علم کو گہرائی سے پرکھا اور اس کے بعد ہی اس کی خامیوں کو بے نقاب کیا۔

امام غزالیؒ (1058-1111 عیسوی) کو براہ راست "الحاد" کا سامنا فلسفیوں اور ان کے پیروکاروں کی شکل میں تھا۔ یہ فلسفی، جنہیں حکماء کہا جاتا تھا (جیسے ابن سینا اور فارابی)، اگرچہ خود کو مسلمان کہتے تھے، لیکن ان کے بہت سے نظریات اسلامی عقائد سے متصادم تھے۔ امام غزالیؒ نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" (فلاسفہ کی بے اعتدالیاں) میں ان کے 20 اہم نظریات کو چیلنج کیا، جن میں سے تین کو انہوں نے کفر قرار دیا:

عالم کی ازلیت

فلاسفہ کا یہ نظریہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے اور اس کا کوئی آغاز نہیں، جو کہ اسلامی عقیدہ "خلقِ کائنات" کے خلاف تھا۔

خدا کا علمِ جزئیات

فلاسفہ کا یہ خیال کہ خدا کو کائنات میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کا علم نہیں ہوتا، جو کہ خدا کی صفتِ عالم الغیب کے خلاف تھا۔

جسمانی حشر کا انکار

ان کا یہ نظریہ کہ قیامت کے دن صرف روحوں کا حشر ہوگا، جسموں کا نہیں، جو کہ قرآنی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھا۔

غزالیؒ نے ثابت کیا کہ یہ فلاسفہ دراصل منطق کے نام پر دہریوں (Atheists) جیسے خیالات کو فروغ دے رہے تھے، جو نہ صرف اسلامی عقائد کو کمزور کر رہے تھے بلکہ نوجوانوں میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے تھے۔ ان کا کام ایک طرح سے علمی الحاد (Intellectual Atheism) کے خلاف ایک مضبوط دفاع تھا۔

امام فخرالدین رازیؒ (1149-1210 عیسوی)

امام رازیؒ نے اپنی کتاب "تفسیر کبیر" اور "المطالب العالیہ" میں فلسفیوں اور دہریوں کے اعتراضات کا تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے اپنی تفسیر میں جہاں بھی آیات کا تعلق علمِ کلام سے بنتا تھا، وہاں فلسفیانہ دلائل سے ان کی وضاحت کی۔ ان کا ایک مشہور قول ہے:

"ہم خدا کے وجود پر نہ صرف عقلی دلائل سے استدلال کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے مشاہدے اور تجربے کو بھی دلیل بناتے ہیں، کیونکہ اس کائنات میں موجود ہر ذرہ اپنے وجود سے اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔" (حوالہ: فخرالدین رازی، "تفسیر کبیر"، سورۃ البقرة کی تفسیر)

امام فخرالدین رازیؒ کو بھی اپنے دور کے الحادی رجحانات کا سامنا تھا۔ ان کے دور میں بھی حکماء کے فلسفیانہ نظریات کا غلبہ تھا، اور وہ ان کا جواب دینے میں سب سے آگے تھے۔

متشابہات کی تاویل

امام رازیؒ کا سب سے بڑا کام قرآن کی تفسیر "تفسیر کبیر" میں ہے، جہاں انہوں نے قرآن کی آیات کو فلسفیانہ اور عقلی دلائل سے واضح کیا اور الحادی اشکالات کا جواب دیا۔

خدا کے وجود پر دلائل

انہوں نے خدا کے وجود پر فلسفیانہ اور عقلی دلائل کی ایک بڑی تعداد پیش کی اور فلاسفہ کے ان نظریات کو رد کیا جو خدا کی صفاتِ کاملہ کو محدود کرتے تھے۔

اپنے دور کے دہریوں کا مقابلہ

امام رازیؒ نے اپنے دور کے ان لوگوں کا بھی مقابلہ کیا جو خدا کے وجود سے انکار کرتے تھے اور کائنات کو محض اتفاقی یا مادی قوتوں کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتب میں ان کے دلائل کا تفصیلی تجزیہ کیا اور ان کا مدلل جواب دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک اور فلسفی ابوبکر محمد بن زکریا رازی (865-925 عیسوی) بھی تھا، جسے بعض لوگ دہریوں میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن جس امام رازی کی بات یہاں ہو رہی ہے (فخرالدین رازی) وہ ایک عظیم متکلم تھے اور انہوں نے دہریت اور الحاد کے خلاف علمی جنگ لڑی۔

خلاصہ یہ ہے کہ امام غزالیؒ اور امام رازیؒ نے اگرچہ جدید دور کے " الحاد" کا براہ راست سامنا نہیں کیا، لیکن وہ اس کے فکری پیشروؤں یعنی دہریوں، شک پرستوں اور ان فلسفیوں کا سامنا کر رہے تھے جن کے نظریات اسلامی عقائد کو کمزور کر رہے تھے۔ ان کی علمی کاوشوں نے ایک ایسا علمی نظام مدون کیا جو آج بھی الحاد کے جواب میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : محمد یونس قاسمی

اسلامی نصوص میں تخلیقیت یا ارتقا؟

تمہید

اس کتاب کے تیسرے حصے میں ہم نے دیکھا کہ غزالی کی فکر ان مابعد الطبیعیاتی اعتراضات سے کس طرح نمٹ سکتی ہے جنہیں بعض لوگ نظریۂ ارتقا کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم یہ دیکھیں گے کہ باب 9 میں زیرِ بحث آنے والے غزالی کے اصولِ تعبیر کو باب 4 میں جائزہ لی گئی آرا اور تجاویز کی جانچ کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس باب میں یہ مفروضہ اختیار کیا گیا ہے کہ غیر انسانی ارتقا فی نفسہٖ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ نباتات اور حیوانات کے بارے میں قرآن و حدیث میں نصوص ضرور موجود ہیں، لیکن جیسا کہ ابواب 3 اور 4 میں واضح کیا گیا، وہ اس قدر مبہم ہیں کہ ان سے اس مسئلے پر کوئی واضح موقف اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اصل بحث انسانی ارتقا ہی کے گرد گھومتی ہے۔

چنانچہ یہاں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ باب 9 میں بیان کردہ غزالی کے اصولِ تعبیر کو بنیاد بنا کر یہ دیکھا جائے کہ اسلامی نصوص میں انسانی ارتقا کو قبول یا رد کرنے کے موجودہ طریقوں سے غزالی کا منہج کہاں اور کس حد تک اتفاق یا اختلاف کر سکتا ہے۔ جہاں مناسب ہوگا، ہر مفکر کے دلائل کے ساتھ ساتھ اس کے منہج کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تاہم باقاعدہ تنقیدی جائزہ شروع کرنے سے پہلے باب 9 میں بیان کیے گئے اصولوں کا مختصر خلاصہ مفید ہوگا:

اصول 1: تمام تعبیرات کلاسیکی عربی زبان کے قواعد اور استعمالات سے ہم آہنگ ہونی چاہییں۔

اصول 2: تعبیر کرتے ہوئے موضوعاتی اور تاریخی سیاق و سباق اور متعلقہ قرائن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اصول 3: مجازی تعبیر صرف اسی صورت میں اختیار کی جا سکتی ہے جب وہ غزالی کے قانونِ تاویل کے مطابق ہو۔

اصول 4: آحاد احادیث کو ان اعتقادی مسائل میں معتبر نصوصی ماخذ کے طور پر برقرار رکھا جائے گا جو لازمی اور قطعی عقیدے کا حصہ نہیں بنتے، بشرطیکہ وہ مضبوط، یعنی صحیح ہوں اور ان کے خلاف اسی درجے یا اس سے زیادہ معرفتی قوت کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔

اصول 5: اگر ایک سے زیادہ آرا باہم قابلِ جمع ہوں تو ان سب کے امکان کو تسلیم کیا جائے، معرفتی تواضع اختیار کی جائے، اور بلا دلیل کسی ایک رائے کو دوسری پر مسلط نہ کیا جائے؛ بلکہ معنی کے حتمی تعین کو خدا کے سپرد کر دیا جائے۔

اصول 6: جہاں متعدد آرا باہم قابلِ جمع ہوں، وہاں اس مسئلے کو لازمی عقیدے کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اصول 7: اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو ان کی طرف سے کوئی مثبت یا منفی موقف منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

آئندہ بحث میں جہاں کسی دلیل یا تنقید سے ان اصولوں میں سے کوئی اصول خاص طور پر متعلق ہوگا، وہاں بطور حوالہ اس کا ذکر کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ زیرِ بحث مسئلے میں متعلقہ اصول کس طرح کارفرما ہوتا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی نص کی تعبیر میں ایک ہی وقت میں متعدد اصول شامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہاں حوالہ صرف اس اصول کا دیا جائے گا جو کسی خاص دلیل یا تنقید میں بنیادی حیثیت رکھتا ہو۔

یہ باب چھ حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے حصے میں ہم غزالی کے اصولِ تعبیر اور اسلام و ارتقا میں تطبیق کی بعض جدید کوششوں کے درمیان منہجی فرق کو نمایاں کریں گے۔ بالخصوص ندال گیسوم (Nidhal Guessoum) کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ تقابل باب 6 کی اس بحث کے مماثل ہوگا، جہاں ہم نے دیکھا تھا کہ Divine Action Project (DAP) اور اشعری نقطۂ نظر کے درمیان بنیادی الٰہیاتی اختلافات موجود ہیں، اور اشعری زاویے سے اول الذکر میں سائنس پرستی (scientism) کا رجحان پایا جاتا ہے۔ گیسوم کے منہج میں سائنس اور نصوص کا تعلق یک طرفہ ہے، یعنی سائنس ہی مکمل طور پر یہ طے کرتی ہے کہ کیا چیز قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، غزالی اس طریقۂ کار کو اس میں موجود سائنس پرستانہ رجحان کی وجہ سے مسئلہ خیز سمجھتے۔

دوسرے اور تیسرے حصے میں بالترتیب انسانی ارتقا کی تعبیرات پر کیے جانے والے تین اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا، اور پھر اسلامی نصوص کو انسانی ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تین کوششوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

چوتھے حصے میں جانرتاسلمان Caner Taslaman کی تجویز کا داؤد سلمان جلاجل David Solomon Jalajel کے موقف سے تقابل کیا جائے گا۔ چونکہ دونوں ہی کسی نہ کسی درجے میں فیصلہ معطل رکھنے کا موقف اختیار کرتے ہیں تاسلمان اسے اعتقادی لاادریت کہتے ہیں، جبکہ جلاجل اسے توقف سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا مفید ہوگا کہ اس اصول کے اطلاق میں ان دونوں کے اختلافات غزالی کے اصولِ تعبیر کی روشنی میں کس حد تک قابلِ قبول قرار پاتے ہیں۔آخری سے پہلے حصے میں احادیث سے متعلق بحث کا جائزہ لیا جائے گا۔

آخری حصے میں یاسر قاضی اور نذیر خان کے پیش کردہ انسانی استثنائیت (human exceptionalism) کے موقف اور داؤد سلمان جلاجل کی آدمؑ کی استثنائیت (Adamic exceptionalism) کا جائزہ لیا جائے گا۔ جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ غزالی کا اصولِ تعبیر تخلیقیت (creationism)، انسانی استثنائیت اور آدمؑ کی استثنائیت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، لیکن عدمِ استثنا کے موقف (no exceptions stance) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غزالی اپنے مابعد الطبیعیاتی نظام اور اصولِ تعبیر، دونوں میں معجزات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔

اگرچہ اس باب کا بنیادی موضوع اصولِ تعبیر ہے، تاہم گزشتہ ابواب میں زیرِ بحث آنے والے بعض مابعد الطبیعیاتی مباحث سے بھی استفادہ کیا جائے گا، تاکہ یہاں پیش کی جانے والی مختلف آرا اور تجاویز کا زیادہ جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

تعبیری سائنس پرستی

باب 9 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ غزالی اسلامی نصوص کی تعبیر کے لیے ایک ایسا منہج اختیار کرتے ہیں جس میں ابتدا نص کے ظاہری معنی سے کی جاتی ہے، اور اس سے ہٹ کر کسی زیادہ مجازی تعبیر کی طرف صرف اسی وقت جایا جا سکتا ہے جب اس کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود ہو۔

تاہم بعض مناہج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام تعبیرات کو سائنسی بیانیے کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ چنانچہ اگر کوئی قرآنی آیت یا حدیث بظاہر سائنس سے ہم آہنگ نہ ہو تو اس کی ایسی نئی تعبیر کی جانی چاہیے جو اسے سائنسی طور پر قابلِ قبول بنا دے۔ اس طرزِ فکر کے دو نمایاں حامی ندال گیسوم (Nidhal Guessoum) اور رعنا دجانی (Rana Dajani) ہیں، جن کا ذکر باب 4 میں پہلے بھی آ چکا ہے۔

گیسوم کو نصوص کی لفظی تعبیر پر مبنی رویے سے خاصا سنجیدہ اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک "تخلیقیت ایک ایسی مذہبی تحریک ہے جو نصوص کی لفظی تعبیر پر قائم ہے" (Guessoum 2010, 828)۔ اس مسئلے کے حل کے طور پر وہ تجویز کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو نصوص کے متعدد اور تہہ دار معانی کی گنجائش تسلیم کرنی چاہیے، یعنی تعبیر میں تنوع کو قبول کرنا چاہیے (Guessoum 2008, 425)۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پورے مسئلے کا حل ان کے نزدیک بظاہر یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ یہ ثابت ہو جائے کہ نظریۂ ارتقا واقعی درست ہے تو اس سے متصادم تمام نصوص کو مجازی قرار دے دیا جائے (Guessoum 2010)۔ ان کا پورا منہج عدمِ تعارض کے اصول (no-conflict principle) پر قائم ہے، جسے انہوں نے ابن رشد سے اخذ کیا ہے۔ اس اصول کے مطابق یہ بات بدیہی ہے کہ سائنس اور نصوص کے درمیان حقیقی تعارض نہیں ہو سکتا۔

رعنا دجانی بھی کسی حد تک اسی نوع کا طریقۂ کار اختیار کرتی ہیں۔ جیسا کہ باب 4 میں ذکر ہوا، ان کا موقف بظاہر یہ ہے کہ چونکہ نظریۂ ارتقا درست ہے، اس لیے حضرت آدمؑ کی تخلیق کا بیان محض ایک استعارہ یا مجاز ہے۔ تاہم چونکہ گیسوم نے اس موضوع پر کہیں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے، اس لیے یہاں ہماری توجہ صرف انہی کے منہج پر مرکوز رہے گی۔ اس طریقۂ کار میں تین امور ایسے ہیں جن کی نشان دہی ضروری ہے۔

اول، یہ درست ہے کہ تخلیقیت پسندوں کے ہاں نصوص کی لفظی تعبیر کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان کے لیے تخلیقیت کو اختیار کرنے کی واحد یہی وجہ ہے۔ جیسا کہ ابواب 1 اور 4 میں واضح کیا گیا، بعض مسلم تخلیقیت پسند نظریۂ ارتقا کو ملحدانہ یا مادیت پسند نظریہ سمجھتے ہیں (Jalajel 2009, 162–163; Howard 2011, 6–7)۔ اس لیے یہ احتیاط ضروری ہے کہ تخلیقیت کی پوری ذمہ داری محض لفظی تعبیر کے رجحان پر نہ ڈال دی جائے، کیونکہ یہ رجحان کبھی ذریعہ ہو سکتا ہے اور کبھی نتیجہ۔

دوسرے لفظوں میں، ممکن ہے کہ بعض مسلم تخلیقیت پسند غیر نصوصی وجوہ کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو رد کریں اور پھر اپنے موقف کی تائید کے لیے نصوص کی لفظی تعبیر سے استدلال کریں؛ اس صورت میں لفظی تعبیر ایک ذریعہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ نصوص کی لفظی تعبیر ہی کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو رد کریں؛ اس صورت میں لفظی تعبیر ان کے موقف کا اصل سبب یا نتیجہ ہوگی۔ اس فرق کی نشان دہی اس لیے ضروری ہے تاکہ اس بحث میں لفظیت کے کردار اور اس کی مختلف صورتوں کو زیادہ باریکی سے سمجھا جا سکے۔

دوم، جس طرح گیسوم لفظیت کے مسئلے کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کرتے ہیں، اسی طرح وہ تعددِ تعبیر کی ضرورت پر بھی کچھ زیادہ زور دیتے ہیں۔ مسلم مفکرین نے ہمیشہ اس صورت میں متعدد معقول تعبیرات کی گنجائش تسلیم کی ہے جہاں زبان اور سیاق اس کی اجازت دیتے ہوں۔ باب 9 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ غزالی خود قیامت کے دن اعمال کے تولے جانے کی مثال میں دو ممکنہ تعبیرات کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح لفظ "قُرُوء" کی مثال بھی سامنے آ چکی ہے، جس سے فقہ میں دو بالکل مختلف نتائج اخذ ہوئے۔

سوم، مجازی تعبیر اختیار کرنے میں بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ اہل علم نے ضرورت کے مواقع پر ہمیشہ ایسی تعبیرات اختیار کی ہیں۔ جیسا کہ باب 9 میں ہم نے دیکھا، غزالی کے منہج میں بھی متعدد غیر لفظی تعبیرات کی واضح گنجائش موجود ہے۔ اس اعتبار سے گیسوم اور غزالی کے اصولِ تعبیر میں قابلِ ذکر اشتراک پایا جاتا ہے۔

تاہم اس اشتراک کی حدود دونوں کے مختلف الٰہیاتی فریم ورک کی وجہ سے خاصی محدود ہو جاتی ہیں۔گیسوم اور غزالی کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ گیسوم خدا اور عالمِ فطرت کے باہمی تعلق کو مختلف انداز میں سمجھنے کی وجہ سے معجزات کو قبول نہیں کرتے۔ خودگیسوم بھی اس بنیادی اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں:

غزالی کی مشہور مثال میں آپ روئی کو آگ میں ڈالتے ہیں، لیکن اگر خدا اسی لمحے یہ فیصلہ کرے تو وہ جل بھی نہیں سکتی۔ میرے خیال میں یہی تفہیم کا بنیادی فرق ہے؛ یہ واقعی ایک نہایت سنجیدہ اور بنیادی الٰہیاتی مسئلہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم یہ کیسے سمجھتے اور تصور کرتے ہیں کہ خدا کا دنیا کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس نے دنیا کو کیسے پیدا کیا، اس کے نزدیک اس تخلیق کا مقصد کیا ہے، اور ہمارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے (Bigliardi 2014, 176)۔

واضح رہے کہ گیسوم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا قوانینِ فطرت میں مداخلت کرنے پر قادر ہے، لیکن ان کے نزدیک خدا کا ایسا کرنا معقول نہیں ہوگا:

اس کا قادرِ مطلق ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ لہٰذا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا ایسا کر نہیں سکتا؛ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ خدا نے قوانین اس لیے قائم کیے ہیں تاکہ چیزیں ایک منظم طریقے سے کام کریں۔ ورنہ قوانین قائم کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے، اگر پھر وقتاً فوقتاً اپنی مرضی سے ان کے خلاف عمل کیا جائے؟ کائنات منظم اور ہم آہنگ ہے، اور خود قرآن بھی اس بات پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس خدا گویا یہ کہہ رہا ہے: ’میں قادرِ مطلق ہوں، لیکن قادرِ مطلق ہوتے ہوئے بھی میں نے ایسے قوانین قائم کیے ہیں جن کے مطابق تخلیق کا عمل جاری رہتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی قوانین کی پیروی کرو، نظم و ترتیب اختیار کرو اور اس نظم کی پابندی کرو‘ (Bigliardi 2014, 175)۔

اسی فکری فریم ورک کی بنیاد پر گیسوم یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کوئی معجزہ پیش نہیں کیا۔ اگر واقعی ایسا ہو تو اس سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ نصوص میں مذکور معجزاتی واقعات کو حقیقی تاریخی واقعات کے بجائے اخلاقی اسباق کے طور پر سمجھا جائے:

میرا کہنا یہ ہے کہ خود اسلامی روایت کے اندر بھی ایک بڑی روایت ایسی موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ کے لیے معجزات کو بنیاد نہیں بناتی۔ اب اگر آخری اور سب سے عظیم نبی نے معجزات نہیں دکھائے تو آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ماضی میں لازماً طبعی معجزات واقع ہوئے ہوں گے؟ ممکن ہے لوگوں نے کچھ دیکھا ہو یا انہیں کسی چیز کا یقین ہو گیا ہو؛ ممکن ہے جن واقعات کو معجزات کہا جاتا ہے وہ حقیقت میں اسی طرح پیش نہ آئے ہوں؛ ممکن ہے قرآن میں بیان کردہ قصوں کو لفظی معنی میں نہ لیا جائے؛ ممکن ہے تاریخی طور پر وہ بالکل اسی انداز میں پیش نہ آئے ہوں، بلکہ انہیں محض کوئی اخلاقی سبق، خدا اور انسان کے تعلق، یا ظلم و ناانصافی کے بارے میں کوئی تصور واضح کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہو... غالباً ہم سرے سے طبعی معجزات کی بات ہی نہیں کر رہے؛ یہ محض ایسی تمثیلات ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ خدا مداخلت کر سکتا ہے، مدد کر سکتا ہے، وغیرہ (Bigliardi 2014, 174)۔

دوسرے لفظوں میں گیسوم کے نزدیک معجزات دراصل غیر معمولی طور پر خوش گوار اتفاقات ہیں:

قرآن کو کس طرح پڑھا جائے، انبیا کے قصوں کو کیسے سمجھا جائے، خدا کے قائم کردہ نظم کا کیا مفہوم ہے، خدا اور فطرت کے قوانین کیا ہیں، وغیرہ، ان تمام تصورات کو یکجا کیا جائے تو میرے نزدیک یہ سب اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ معجزہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ معجزات دراصل نہایت خوش گوار واقعات، عنایتِ الٰہی یا اتفاقات ہوتے ہیں (Bigliardi 2014, 175)۔

تاہم، اگرچہ گیسوم کے نزدیک خدا طبیعی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا، وہ یہ امکان تسلیم کرتے ہیں کہ خدا انسانی روح کے ساتھ تعامل کرتا ہے:

میرا موجودہ موقف یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ روح کے ذریعے تعامل کرتا ہے، یعنی اس ذہنی و روحانی تعلق کے ذریعے جو ہمارا اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے، نہ کہ کسی طبعی طریقۂ کار کے ذریعے (Bigliardi 2014, 176)۔

غزالی کے نقطۂ نظر سے گیسوم کا یہ اصولِ تعبیر اسی مقام پر کھڑا نظر آئے گا جہاں باب 6 میں زیرِ بحث آنے والا Divine Action Project (DAP) تھا۔ DAP کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ شرکا ایسے الٰہیاتی ماڈل کس حد تک تشکیل دے سکتے ہیں جو ایک طرف سائنسی تصورات کو محفوظ رکھیں اور دوسری طرف خدا کی خود مختاری کے لیے بھی گنجائش پیدا کریں۔ وہاں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزالی DAP کی مقرر کردہ حدود کو ایک قسم کی سائنس پرستی (scientism) سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ خدا کی قدرت اور فعل کو ضرورت سے زیادہ محدود کر دیتی ہیں۔ اشعری فکری فریم ورک میں خدا قوانینِ فطرت یا سائنس کا پابند نہیں ہے۔

گیسوم کے اس مخصوص دعوے کے جواب میں کہ خدا کا پہلے ایک منظم کائنات بنانا اور پھر اس کے قوانین میں خلل ڈالنا غیر معقول ہوگا، غزالی غالباً سادہ طور پر یہ کہیں گے کہ خدا کے اپنے اسباب اور حکمتیں ہیں۔ ہمیں خدا کے ہر فعل اور اس کے پسِ پشت تمام حکمتوں کا معرفتی احاطہ حاصل نہیں۔ لہٰذا انسانی فکری سانچوں کی بنیاد پر یہ متعین کرنا کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں، دراصل خدا پر انسانی حدود عائد کرنا ہے، اور جیسا کہ باب 6 میں واضح کیا گیا، اشعری اس طرزِ فکر کو قبول نہیں کرتے۔

یہ الٰہیاتی اختلافات لازماً اصولِ تعبیر تک بھی منتقل ہوتے ہیں اور پھر دونوں کے نتائج میں نمایاں فرق پیدا کرتے ہیں۔ معجزات کے واقعات کو دونوں مفکرین جس طرح پڑھتے ہیں، وہ اس فرق کی ایک واضح مثال ہے۔ گیسوم معجزاتی واقعات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول نہیں کرتے، یا انہیں نہایت نادر، مگر طبیعی قوانین کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس غزالی کو ایسے واقعات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول کرنے میں کوئی مشکل نہیں، خواہ وہ موجودہ سائنسی تصورات سے مطابقت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔

اس باب میں آگے چل کر مزید واضح ہوگا کہ گیسوم اسلامی نصوص کو سائنس کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے اختیار کردہ اصولِ تعبیر کو استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر نصوص میں کوئی ایسی بات موجود ہو جو سائنسی طور پر ممکن نہ سمجھی جائے تو اس کی تعبیر اس انداز میں کی جائے گی کہ سائنسی تصور محفوظ رہے۔ دوسرے لفظوں میں، جب سائنس اور نصوص کا باہمی سامنا ہوتا ہے تو گیسوم کے ہاں تعلق کا رخ بظاہر یک طرفہ ہے: سائنس سے نصوص کی طرف۔ اس کے برعکس غزالی کے منہج میں یہ تعلق دو طرفہ ہے، جہاں سائنس اور نصوص، دونوں کا یکساں طور پر تجزیہ، بحث اور باہمی تطبیق کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ کوئی نئی بحث نہیں، بلکہ اس کی ایک تاریخی نظیر بھی موجود ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں یاسر قاضی اور نذیر خان کے بیان کردہ انسانی استثنائیت (human exceptionalism) کے جائزے میں، اور پھر باب 9 میں ذکر ہوا، غزالی کو ابن سینا کے افکار سے بھی ایسی وجوہ کی بنا پر اختلاف تھا۔

ابن سینا ایک ایسے مابعد الطبیعیاتی نظریے کے قائل تھے جسے نظریۂ فیضان (emanationism) کہا جاتا ہے، جس میں تخلیق ایک لازمی صدور کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اس فریم ورک میں خدا نے کائنات اور اس کے اجزا کو اپنے آزاد ارادے سے پیدا نہیں کیا، بلکہ تخلیق ایک لازمی نتیجے کے طور پر صادر ہوتی ہے۔ اس فکری نظام میں معجزات کے لیے گنجائش نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ابن سینا نصوص میں مذکور معجزاتی واقعات کو لفظی معنی میں لینے کے بجائے علامتی یا مجازی طور پر سمجھنے کی طرف جاتے ہیں (Al-Ghazālī 2000a; Richardson 2020)۔ غزالی کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک کی رو سے ابن سینا کا یہ طرزِ فکر ان کے موقف سے بالکل متصادم تھا۔

گیسوم نظریۂ فیضان کے قائل نہیں، لیکن وہ ایک ایسے مضبوط سائنسی فریم ورک سے بندھے ہوئے ہیں جو انہیں کسی ایسے مفہوم کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں دیتا جو سائنسی طور پر ممکن نہ ہو۔ اسی لیے تخلیقیت پر مبنی کسی بھی تعبیر کو قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے برعکس غزالی کے نقطۂ نظر سے تخلیقیت اور ارتقا، دونوں اصولی طور پر ممکن ہیں۔ اس باب میں آگے بڑھنے کے ساتھ یہ اختلافات مزید نمایاں ہوتے جائیں گے۔

انسانی ارتقا کے خلاف پیش کیے گئے اعتراضات

باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ انسانی ارتقا کی تعبیرات کے خلاف تین بنیادی اعتراضات پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور پھر وہ آسمانی جنت سے زمین پر اترے؛ بعض اہلِ فکر کے نزدیک یہ تصور انسانی ارتقا کے ساتھ کسی بھی قسم کی تطبیق کو سرے سے ناممکن بنا دیتا ہے۔ دوسرا اعتراض انسان کی فضیلت اور تکریم سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں نے قرآن کی ان آیات سے استدلال کیا ہے جن میں انسان کو مکرم یا صاحبِ فضیلت قرار دیا گیا ہے، اور اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آ سکتا۔ اس استدلال کے پس منظر میں بظاہر یہ تصور کارفرما ہے کہ حیوانات، انسان کے مقابلے میں، "کم تر درجے" کے حامل ہیں، اس لیے انسان کا حیوانی سلسلۂ حیات سے حیاتیاتی تعلق اس کی تکریم کے منافی ہوگا۔ تیسرا اعتراض حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "ہاتھوں" کے ذکر سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں نے اس تعبیر سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق ایک معجزاتی اور غیر معمولی واقعہ تھی۔ اب ہم ان تینوں اعتراضات کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔

آسمانی جنت یا زمینی باغ؟

باب 4 میں یہ ذکر ہوا تھا کہ جس جنت سے حضرت آدمؑ اترے، اسے عموماً آخرت کی دائمی جنت سمجھا جاتا ہے۔ سید حسین نصر، نوح میم کیلر، یاسر قاضی اور نذیر خان ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اسی استدلال کو انسانی ارتقا کے رد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس خاص نکتے کے بارے میں دو باتیں کہی جا سکتی ہیں۔

اول، خود اسلامی نصوص اس مسئلے میں پوری طرح واضح دکھائی نہیں دیتیں، اور مفسرین کے درمیان بھی اس بارے میں اختلاف رہا ہے۔ کلاسیکی مفسرین نے اس بات پر بحث کی کہ حضرت آدمؑ جس جنت سے اترے، وہ آسمانی جنت تھی یا زمین پر کوئی باغ۔

کلاسیکی مفسر ابن کثیر کے مطابق اکثریت نے آسمانی جنت کے موقف کو اختیار کیا، جبکہ ایک اقلیت زمینی باغ کی قائل تھی (2018, 350–359)۔ باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ کیلر آسمانی جنت کی تعبیر کو گویا اس مسئلے کا حتمی اور مسلمہ موقف بنا کر پیش کرتے ہیں، حالاں کہ صورتِ حال ایسی معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر خود ابن کثیر کسی ایک موقف کو قطعی طور پر اختیار نہیں کرتے، جس سے ممکن ہے یہ اشارہ ملتا ہو کہ انہوں نے اس مسئلے میں توقف اختیار کیا۔

اسی طرح ابن عاشور جیسے معروف مفسر بھی دونوں آرا کا ذکر کرتے ہیں، اگرچہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانی جنت کی تعبیر زیادہ معروف اور غالب رہی ہے (1984, 428–431)۔ تاہم ان کے نزدیک یہ آرا یقین کے بجائے ظن و احتمال پر قائم ہیں، اور اس مسئلے میں کسی خاص موقف کو اختیار کرنا عقیدے پر اثر انداز نہیں ہوتا؛ یعنی یہ ایسا مسئلہ نہیں جو اعتقادی طور پر لازم ہو۔

اسلامی علمی تاریخ کے ممتاز مفسر الرازی بھی بالآخر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس مسئلے کے دلائل باہم متعارض ہیں اور کسی قطعی نتیجے تک نہیں پہنچاتے؛ یعنی آسمانی جنت اور زمینی باغ، دونوں کے حق میں قابلِ لحاظ دلائل موجود ہیں (2000, 1)۔

چونکہ ہم غزالی کے اصولِ تعبیر کو یہاں اعتقادی زاویے سے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اگر اسلامی نصوص کسی مسئلے میں غیر واضح یا مبہم ہوں تو اسے لازمی عقیدے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس اعتبار سے غزالی، ابن عاشور اور الرازی کے موقف سے اتفاق کرتے دکھائی دیں گے (اصول 6)۔ مزید یہ کہ چونکہ اس مسئلے میں ایک سے زیادہ قابلِ قبول تعبیرات موجود ہیں، اس لیے بلا ضرورت کسی ایک موقف کو حتمی قرار نہیں دینا چاہیے۔ غزالی کے اصولِ معرفتی تواضع کے مطابق، جب ایک سے زیادہ قابلِ عمل تعبیرات موجود ہوں تو فیصلہ مؤخر کرنا بالکل درست ہے، جیسا کہ بظاہر ابن کثیر نے کیا (اصول5)۔ چنانچہ صرف آسمانی جنت کی تعبیر اختیار کر کے اسے ایک قطعی اور حتمی موقف سمجھ لینا انسانی ارتقا کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ زمینی باغ کی تعبیر کے حق میں بھی ایک قابلِ ذکر علمی روایت موجود ہے۔

دوم، اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ حضرت آدمؑ جس جنت سے اترے وہ واقعی آسمانی جنت تھی، تب بھی اس سے براہِ راست یہ لازم نہیں آتا کہ انسانی ارتقا باطل ہے۔ منطقی طور پر یہ امکان موجود ہے کہ حضرت آدمؑ آسمانی جنت سے زمین پر آئے ہوں اور پھر زمین پر ارتقائی عمل کے ذریعے دوبارہ وجود میں لائے گئے ہوں۔ لہٰذا آسمانی جنت کی تعبیر بذاتِ خود انسانی ارتقا کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ اس مضبوط نتیجے تک پہنچنے کے لیے کسی مزید نصوصی یا اصولی قید کی ضرورت ہوگی۔ جیسا کہ باب 3 میں تجویز کیا گیا تھا، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کے درمیان مماثلت بیان کرنے والی آیت ایسی قید فراہم کر سکتی ہے۔ اس لیے صرف جنت کی نوعیت سے متعلق بحث انسانی ارتقا کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

انسان کی فضیلت

انسانی ارتقا کے خلاف دوسرا استدلال انسان کی قدرومنزلت اور فضیلت پر مبنی ہے، جس میں قرآن میں بیان ہونے والی انسان کی فضیلت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ انسان ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ رمضان البوطی ان اہلِ علم میں شامل ہیں جو اس طرزِ استدلال کو اختیار کرتے ہیں۔ بلاشبہ قرآن میں چند ایسی آیات موجود ہیں جن میں انسان کو بلند مقام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عموماً درج ذیل آیات پیش کی جاتی ہیں:

آیت 1: ہم نے انسان کو بہترین حالت میں پیدا کیا... (التین، 4)
آیت 2: ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی، انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں نمایاں فضیلت دی۔ (الاسراء، 70)

سوال یہ ہے کہ کیا یہ آیات انسانی ارتقا کی نفی کے لیے کافی ہیں؟ بظاہر ایسا نہیں ہے۔ جب ان دونوں آیات کو ان کے بعد آنے والی آیات کے ساتھ موضوعاتی سیاق میں پڑھا جائے تو ان کا مفہوم زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ تین کی پہلی آیت اور اس کے بعد آنے والی آیات کو دیکھیے:

ہم نے انسان کو بہترین حالت میں پیدا کیا، پھر اسے پست ترین درجے تک لوٹا دیا، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے۔ (التین، 4–6)

اسی طرح سورہ الاسراء کی آیت 70 کو اس کے بعد آنے والی آیت کے ساتھ دیکھیے:

ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی، انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں نمایاں فضیلت دی۔ اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے؛ پھر جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ اسے [خوشی سے] پڑھیں گے، اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الاسراء، 70–71)

جب دونوں مقامات کو ان کے موضوعاتی سیاق میں پڑھا جائے تو فوراً یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان کو عطا کی گئی عزت و فضیلت کا تعلق خدا پر ایمان لانے، نیک اعمال اختیار کرنے، برے اعمال سے اجتناب کرنے اور اپنے آزاد ارادے سے خدا کے احکام کی پیروی کرنے سے ہے (اصول2)۔

اگر قرآن کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایسی آیات بھی ملتی ہیں جن میں انسان کی منفی صفات بیان ہوئی ہیں، مثلاً اسے جلد باز (الانبياء، 36)، بخیل (الاسراء، 100)، حریص (المعارج، 19) اور کمزور (النساء، 28) قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے صرف مثبت صفات کو پیش کرنا اور منفی صفات کو نظر انداز کر دینا ایک یک طرفہ استدلال معلوم ہوتا ہے (اصول2)۔ تو پھر انسان کی ان مثبت صفات کو منفی صفات کے ساتھ کیسے سمجھا جائے؟

پہلے نکتے کی طرح یہاں بھی جواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں انسان کی عزت و فضیلت اس صلاحیت کی بنا پر ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرکے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا کرے، اپنی منفی صفات اور پست خواہشات کے خلاف جدوجہد کرے اور روحانی بلندی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

غزالی اس نکتے کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں:

اگر انسان روحانی سعادت کی کیمیا کو اپنی جان کی حقیقت پر استعمال کرے تو وہ حیوانوں کے درجے سے بلند ہو کر فرشتوں کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ دنیا اور دنیاوی خواہشات کی طرف متوجہ ہو جائے تو کل ایک کتا یا خنزیر بھی اس سے بہتر ہوگا... پس جب انسان اپنی صلاحیت کو پہچان لے تو اسے اپنی کمزوریوں، پستی اور بے بسی کا بھی ادراک کرنا چاہیے۔ اسی طرح خود شناسی، معرفتِ خدا کی کنجیوں میں سے ایک بن جاتی ہے (Al-Ghazālī 2008, 34)۔

چنانچہ اپنی روحانی استعداد کے اعتبار سے انسان ایک صاحبِ فضیلت ہستی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک نہایت پست مخلوق بن جانے کا امکان بھی رکھتا ہے۔ اس طرح قرآن میں انسان کے بارے میں بیان کردہ مثبت اور منفی صفات کے درمیان ایک مناسب توازن قائم ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً، ان آیات میں سے کوئی بھی حقیقتاً نظریۂ ارتقا سے متصادم دکھائی نہیں دیتی۔ انسان ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آنے کے باوجود خدا کے احکام کی پیروی کر کے اپنا بلند مقام برقرار رکھ سکتا ہے۔

دلچسپ، بلکہ کسی قدر متناقض بات یہ ہے کہ انہی آیات اور ان جیسی دوسری آیات کو بعض لوگوں نے انسانی ارتقا کے حق میں بھی استعمال کیا ہے۔ باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ رعنا دجانی سورہ التین کی پہلی آیت کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتی ہیں:

سورہ التین [آیت 1] میں اللہ بیان کرتا ہے کہ انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے ماحول کے لیے موزوں ہو۔ میرے نزدیک یہ نظریۂ ارتقا کی تائید کرتا ہے، اور یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کسی مسئلے سے متعلق سائنسی علم کی کمی کی وجہ سے مفسرین مذہبی نصوص کے الفاظ کے معنی کی غلط تعبیر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے لفظ أحْسَن سے بھی قرآن میں ارتقائی تعبیر کے حق میں استدلال کیا ہے۔ تاہم یہ استدلال بظاہر کمزور اور ضرورت سے زیادہ کشیدہ معلوم ہوتا ہے۔ لغات میں أحْسَن کے اشتقاقی معانی میں حسن، خوب صورت ہونا یا بننا، بہتر کرنا، آراستہ کرنا، نیکی، احسان، عنایت، درست عمل کرنا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا، پسند کرنا اور قدر کرنا شامل ہیں (Badawi and Haleem 2008, 209)۔

لہٰذا دجانی کا یہ مفہوم کہ أحْسَن سے مراد "ماحول کے لیے سب سے زیادہ موزوں" ہونا ہے، لغوی اعتبار سے کوئی بہت مضبوط تعبیر نہیں۔ البتہ ایک کمزور درجے میں اسے "درست انداز میں عمل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا" یا "کامل انداز میں پیدا کیا گیا" جیسے معانی سے جوڑا جا سکتا ہے، جو کسی حد تک نظریۂ ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں(اصول1)۔

لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ یہ ہے کہ دجانی نے اس آیت کو اس کے موضوعاتی سیاق سے الگ کر کے پڑھا ہے۔ بعد میں آنے والا استثنا، "سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے"، واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہاں بات انسان کی جسمانی ساخت کے بارے میں نہیں ہو رہی۔ اس لیے اس آیت کو کھینچ تان کر ارتقائی تعبیر کے حق میں استعمال کرنا اصل مفہوم سے دور چلا جاتا ہے(اصول2)۔

چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں حضرت آدمؑ اور نوعِ انسانی کو خصوصی طور پر بلند مقام دیے جانے کا ذکر ہونے کے باوجود، کوئی قرآنی آیت انسانی ارتقا کی واضح تردید نہیں کرتی۔ بلکہ موضوعاتی سیاق میں دیکھنے پر یہ آیات اس مسئلے کے بارے میں غیر جانب دار رہتی ہیں۔

خدا کے ہاتھ

انسانی ارتقا کے خلاف پیش کیے جانے والے آخری دلائل میں سے ایک حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر ہے:

اے ابلیس! تجھے اس شخص کے سامنے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا؟ کیا تو نے تکبر کیا، یا تو اپنے آپ کو بہت بلند سمجھنے والوں میں سے ہے؟ (ص، 75)

کیلر انسانی ارتقا کے خلاف استدلال کرتے ہوئے اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ سمجھنا درست نہیں کہ خدا کے ہاتھ یا ہاتھوں کا ذکر صرف حضرت آدمؑ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں ذکر ہوا، ایک اور آیت میں مویشیوں کے بارے میں خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ہے:

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں؟ (يس، 71)

ایک اور مقام پر بیعت کے حوالے سے خدا کے "ہاتھ" کا ذکر واحد کے صیغے میں کیا گیا ہے:

جو لوگ آپ [نبی ﷺ] سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں؛ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے... (الفتح، 10)

اس بنا پر اگر حضرت آدمؑ کی خصوصی تخلیق کا دعویٰ محض خدا کے "ہاتھ" یا "ہاتھوں" کے ذکر پر قائم کیا جائے تو یہ استدلال اپنی قوت کھو دیتا ہے۔

البتہ کیلرکے موقف میں یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "دو ہاتھوں" کا ذکر تثنیہ کے صیغے میں صرف حضرت آدمؑ کے لیے آیا ہے۔ آیت کے سیاق میں یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت آدمؑ کسی اعتبار سے خصوصی حیثیت رکھتے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے ابلیس کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

غزالی ان آیات کو لفظی معنی میں نہیں لیتے جن میں خدا کے لیے انسانی اوصاف کا تاثر پیدا ہوتا ہو۔ خدا مخلوق سے منزہ ہے اور اس کے لیے "ہاتھ" جیسے جسمانی اعضا کا تصور نہیں کیا جا سکتا (Shah 2012, 399–654; Kars 2019)۔ اس لیے اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ غزالی اس آیت کا مطلب یہ سمجھتے کہ خدا نے واقعی حضرت آدمؑ کو اپنے دو جسمانی ہاتھوں سے پیدا کیا۔ زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ وہ اسے حضرت آدمؑ کی تخلیق کی خصوصی اہمیت کی طرف اشارہ سمجھتے۔

تاہم اگر اس تعبیر میں کسی نوع کی انفرادیت یا خصوصیت تسلیم بھی کر لی جائے، تب بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ انسانی ارتقا سے کس طرح متصادم ہے (اصول1،2)۔

جہاں تک معلوم ہوتا ہے، حضرت آدمؑ اور انسان کی اس خصوصی حیثیت کی بنیاد عموماً روح کو قرار دیا گیا ہے، جو انہیں دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے (e.g. see Chittick 1989; Al-Ghazālī 2008; Coppens 2018)۔ خود کیلر بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس تعلق اور معرفت کا محل ذہن نہیں، بلکہ انسان کے اندر موجود ایک لطیف قوت ہے جسے کبھی قلب اور کبھی روح کہا جاتا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس قوت کی خصوصی تخلیق کا ذکر اوپر قرآن کے ان الفاظ کے ضمن میں ہو چکا ہے: ’اور میں نے اس میں اپنی روح میں سے پھونک دی۔‘ اہلِ سلوک کے نزدیک یہ لطیف جسم علم، شعور اور ادراک رکھتا ہے، اور جب یہ پوری طرح بیدار ہو جائے تو مخلوقی کائنات کی کثافت سے اوپر اٹھ کر اللہ کی معرفت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد اسی نکتے کو انسانی ارتقا کے تناظر میں حضرت آدمؑ کی تخلیق اور خدا کے "ہاتھوں" کے ذکر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تصور معقول ہے کہ جنس ہومو کے کسی ترقی یافتہ فرد کو منتخب کیا گیا ہو، پھر اس میں روح پھونکی گئی ہو اور وہ حضرت آدمؑ بن گیا ہو (Ahmad 2013, 45–46)۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ جب خدا حضرت آدمؑ کو اپنے "دو ہاتھوں" سے پیدا کرنے کا ذکر کرتا ہے تو ممکن ہے اس سے اسی مرحلے کی طرف اشارہ ہو جب حضرت آدمؑ کے جسمانی قالب میں روح پھونکی گئی۔ ایسی تعبیر نظریۂ ارتقا کے ساتھ بہ آسانی ہم آہنگ ہو سکتی ہے (Ahmad 2013, 47)۔

اس امکان کو سامنے رکھتے ہوئے صرف اس آیت پر انحصار کرنا، جس میں خدا کے "دو ہاتھوں" کا ذکر ہے، انسانی ارتقا کی نفی کے لیے لازماً کوئی مضبوط دلیل نہیں بنتا (اصول 5 اور 6)۔

آخر میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ: اس آیت کو انسانی ارتقا کے خلاف دلیل بنانے کے لیے پہلے یہ فرض کرنا ہوگا کہ ’خدا کے ہاتھ' فطری حیاتیاتی نشوونما میں کارفرما نہیں ہوتے، لیکن یہ مفروضہ بھی بذاتِ خود واضح نہیں ہے‘ (Majid 2015, 100)۔ دوسرے لفظوں میں، آیت میں حضرت آدمؑ کی طرف جس خصوصی توجہ کی نشان دہی ہوتی ہے، وہ ان کی تخلیق کے حیاتیاتی پہلو کی نفی نہیں کرتی۔

غزالی کے مابعد الطبیعیاتی تصور کی روشنی میں یہ نکتہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر نظریۂ عادت درست ہے تو کیا خدا ہر موجود کو براہِ راست قائم اور برقرار نہیں رکھتا؟ اور کیا یہ براہِ راست الٰہی فعل ارتقائی عمل کو بھی شامل نہیں کر سکتا؟ ان تمام وجوہ کی بنا پر خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر اس بات کو واضح اور قطعی طور پر ثابت نہیں کرتا کہ انسانی ارتقا کو رد کر دیا جائے۔

عدمِ استثنا کے موقف کے دلائل

اس موقف کو بنیادی طور پر تین طریقوں سے پیش کیا جاتا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے واقعے کو غیر لفظی یا مجازی طور پر پڑھا جائے۔ دوسرا طریقہ بشر اور انسان کے درمیان امتیاز سے استدلال کرتا ہے۔ تیسرا طریقہ ان آیات میں ارتقا کے مفہوم کو تلاش کرتا ہے جو بذاتِ خود، یا دوسری آیات کے ساتھ ملا کر، ارتقا کے حق میں کسی تعبیر کی گنجائش پیدا کرتی ہیں۔ اب ہم ان تینوں طریقوں کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔

حضرت آدمؑ کی تخلیق کی مجازی تعبیر

جیسا کہ باب 4 میں ہم نے دیکھا، رعنا دجانی اور علامہ محمد اقبال حضرت آدمؑ کی تخلیق کے واقعے کو غیر لفظی انداز میں سمجھتے ہیں۔ دجانی کے نزدیک حضرت آدمؑ کی تخلیق کا بیان ایک استعارہ ہے، اور اس تمثیلی کہانی کا مقصد اخلاقی اسباق پہنچانا ہے:

قرآن میں حضرت آدمؑ کا واقعہ، اور اسی طرح دوسری کہانیاں بھی، لفظی طور پر نہیں لی جانی چاہییں۔ یہ ایسی تمثیلات ہیں جن سے سبق سیکھنا مقصود ہے۔ انسانی ارتقا کا عمل تدریجی تھا اور اس کا تعلق انسانی گروہوں سے تھا جو اپنے سابقہ اجداد سے ارتقا پذیر ہوئے۔ (Dajani 2016,146)

محمد اقبال یہ تجویز کرتے ہیں کہ آدم ایک تاریخی فرد سے زیادہ نوعِ انسانی کی علامت ہیں:

درحقیقت ان آیات میں جن میں انسان کی ایک زندہ مخلوق کی حیثیت سے ابتدا کا ذکر ہے، قرآن آدم کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ بشر یا انسان کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ آدم کا لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب انسان کو زمین پر خدا کے نائب کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کا مقصود اس بات سے بھی مزید واضح ہوتا ہے کہ بائبل کے بیان میں آنے والے شخصی نام، آدم اور حوا یہاں حذف کر دیے گئے ہیں۔ لفظ آدم برقرار ضرور رکھا گیا ہے، لیکن اسے کسی معین انسانی فرد کے نام کے بجائے زیادہ تر ایک تصور کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔(Iqbal 2012, 66)

دونوں کا موقف یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کا ذکر کرنے والی آیات کو لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ باب 9 میں بیان کیے گئے غزالی کے پانچ درجاتی اصولِ تعبیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو وہ دونوں کے طریقۂ کار سے اختلاف کرتے۔

دجانی، اور غالباً اقبال بھی، ان آیات کو غیر لفظی طور پر اس لیے پڑھتے ہیں کہ ان کے نزدیک نظریۂ ارتقا اس بیانیے سے متصادم ہے۔ ان کے منہج میں سائنس ایک نہایت نمایاں اور فعال عامل دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس غزالی کا منہج سائنسی معیارات کا اس درجے میں پابند نہیں۔

اس کی وجہ یہ نہیں کہ غزالی سائنس مخالف یا غیر سائنسی تھے۔ جیسا کہ باب 9 میں ہم نے دیکھا، غزالی سائنس دانوں کی اس علمی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ان قدرتی مظاہر کی نہایت دقیق اور تفصیلی توضیح کر سکتے ہیں جن کا قرآن میں صرف اجمالی طور پر ذکر آیا ہے۔ غزالی کا اصولِ تعبیر ان کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک، یعنی occasionalism، کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس میں معجزات حقیقی اور ممکن واقعات ہیں۔ اسی لیے غزالی معجزاتی واقعات کو غیر لفظی معنی میں لینے پر مجبور نہیں ہوتے۔

اگرچہ دجانی اور اقبال کا فریم ورک ابن سینا کے فریم ورک جیسا نہیں، لیکن سائنس کو اس بات کا معیار بنا دینا کہ مابعد الطبیعیاتی اور تعبیری طور پر کیا ممکن ہے اور کیا نہیں، وہی نوعیت کے سوالات پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ گیسوم کے بارے میں اوپر کہا گیا، غزالی کے فریم ورک سے دیکھیں تو اس طرزِ عمل کو تعبیری سائنس پرستی (hermeneutic scientism) کی ایک صورت سمجھا جا سکتا ہے۔

ان منہجی اختلافات کے علاوہ، اس طریقۂ کار میں اپنی داخلی بنیادوں پر بھی چند مسائل موجود ہیں۔

اول، متن میں ایسا کوئی سیاقی قرینہ موجود نہیں جو یہ بتاتا ہو کہ یہاں مجازی یا تمثیلی معنی مراد ہیں، خواہ واقعات کے حوالے سے ہو، مثلاً حضرت آدمؑ اور حوا کا جنت سے اترنا یا وہ کرداروں کے حوالے سے، مثلاً آدمؑ، حوا اور شیطان (اصول1 اور 2)۔

دوم، قرآن کو مجموعی طور پر دیکھنے سے بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا، حتیٰ کہ ضمنی طور پر بھی نہیں، کہ حضرت آدمؑ کو غیر لفظی طور پر سمجھا جائے، کیونکہ ان کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ایک دوسرے کی تائید کرتا ہوا سامنے آتا ہے (اصول 2)۔ درج ذیل آیات پر غور کیجیے:

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے؛ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ نافرمانوں میں سے تھا۔ اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس باغ میں رہو، اور جہاں سے چاہو فراخی کے ساتھ کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (البقرۃ،34، 35)
[اے نبی!] انہیں آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ سچائی کے ساتھ سنائیے، جب دونوں نے قربانی پیش کی، تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔ ایک نے کہا: میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ دوسرے نے کہا: اللہ تو صرف متقیوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ (المائدۃ، 27)
بے شک اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا۔ (آل عمران، 33، 34)

سورہ البقرہ کی آیت 34، 35 میں خدا فرشتوں کو حضرت آدمؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے، اور سب سجدہ کرتے ہیں سوائے شیطان کے۔ پھر خدا حضرت آدمؑ سے براہِ راست خطاب کرتا ہے اور انہیں اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہنے کا حکم دیتا ہے۔ المائدہ کی آیت 27 میں میں حضرت آدمؑ کے دو مخصوص بیٹوں، یعنی قابیل اور ہابیل، کا ذکر ہے۔ آل عمران کی آیات 33، 34 میں حضرت آدمؑ کا ذکر حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ان منتخب ہستیوں کے طور پر کیا گیا ہے جنہیں خدا نے ایک مربوط سلسلۂ نسب میں برگزیدہ کیا۔

خدا کا حضرت آدمؑ سے خطاب کرنا، ان کی بیوی اور ان کے بیٹوں کا ذکر، اور ان تمام امور کی قرآن اور احادیث میں متعدد مقامات پر تائید، اس قدر واضح اور کثرت سے موجود ہے کہ انہیں محض ایک ہی قلمی جنبش سے استعارہ قرار دینا آسان نہیں۔

یقیناً یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ صرف اس بنا پر یہ لازم نہیں آتا کہ ان سب کی مجازی تعبیر سرے سے ناممکن ہو، خواہ مجموعی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن درج ذیل دو اعتراضات اس استدلال کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

ایک اعتراض آل عمران کی مذکورہ آیت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ آیت ان متعدد مقامات میں سے ایک ہے جہاں حضرت آدمؑ کا ذکر دوسرے معروف انبیا کے ساتھ آیا ہے۔ اگر دجانی یا اقبال کی تعبیر کو پورے قرآن میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اگر آدم محض استعارہ یا علامت ہیں تو نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھی اسی طرح استعارہ یا علامت سمجھنا چاہیے، جیسا کہ باب 4 میں مولانا محمد شہاب الدین ندوی کے استدلال کے ضمن میں ذکر ہوا تھا۔

اسی طرح وہ آیت بھی موجود ہے جس میں حضرت آدمؑ کو حضرت عیسیٰؑ سے تشبیہ دی گئی ہے (آل عمران، 59)، اور وہ بھی یہی نوعیت کا اشکال پیدا کرتی ہے۔

یہ آیات مجموعی طور پر اس موقف کو برقرار رکھنا بہت مشکل بنا دیتی ہیں کہ حضرت آدمؑ محض ایک استعارہ یا علامت تھے، کیونکہ اس سے قرآن میں مذکور دوسرے انبیا کے واقعات کی تاریخی صداقت بھی زیرِ سوال آ سکتی ہے۔

اگر اس اصول کو مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا جائے تو، چونکہ نوحؑ اور ابراہیمؑ کا ذکر حضرت آدمؑ کے ساتھ ایک ہی آیت میں ہوا ہے، انہیں بھی استعارہ یا علامت قرار دینا پڑے گا؛ پھر جہاں ان کا ذکر الگ سے آئے، وہاں بھی انہیں تاریخی افراد کے بجائے محض استعارہ سمجھنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ یہی مسئلہ ان دوسرے انبیا کے بارے میں بھی پیدا ہوگا جن کا ذکر حضرت آدمؑ کے ساتھ یا اس نوع کے سیاق میں آیا ہے۔

اس سے متعدد اعتقادی مسائل جنم لیں گے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کا ایک بڑا حصہ فرضی حکایات پر مشتمل ہے، جبکہ خود قرآن ایسا تاثر نہیں دیتا (الأنعام، 25؛ النساء، 164؛ ہود، 120؛ الکہف، 13؛ طٰہٰ، 99؛ غافر، 78)۔

چنانچہ اگر حضرت آدمؑ کو استعارہ یا علامت قرار دینے کے اس اصول کو مستقل طور پر نافذ کیا جائے تو اس کے دور رس نتائج کے باعث پورے قرآنی بیانیے کے افسانوی اور غیر مربوط بن جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے (اصول2)۔

ایک اور مسئلہ من مانے پن (arbitrariness) کا ہے، اور یہ گزشتہ اعتراض سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تیسرے اعتراض کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض مقامات پر حضرت آدمؑ کو بطور استعارہ یا علامت پڑھا جائے، جبکہ دوسرے مقامات پر انہیں ایک حقیقی تاریخی شخصیت سمجھا جائے۔ اس طرح یہ اعتراض ختم ہو سکتا ہے کہ پورا قرآن فرضی حکایات کی کتاب بن جاتا ہے۔

لیکن جب تک ایسا کوئی واضح اصولِ تعبیر فراہم نہ کیا جائے جس کی بنیاد پر یہ متعین ہو سکے کہ حضرت آدمؑ کا ذکر کہاں مجازی ہے اور کہاں لفظی، ایسی تعبیر حد سے زیادہ من مانی بن جاتی ہے۔

مثلاً آل عمران کی وہ آیت دوبارہ دیکھیں، جس میں حضرت آدمؑ کا ذکر حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ آیا ہے۔ اگر دجانی یا اقبال اپنی تعبیر میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیں تو انہیں آیت کے پہلے حصے کو مجازی یا علامتی، اور دوسرے حصے کو لفظی سمجھنا پڑے گا۔ لیکن کسی غیر من مانے اصول کے بغیر یہ امتیاز کیسے قائم کیا جائے گا؟ واضح اور یکساں اصولِ تعبیر کے بغیر ان کا منہج بے ضابطہ اور من مانا قرار پائے گا (اصول 2 اور 3)۔

خصوصاً دجانی کا طریقۂ کار خاصا مبہم دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ یہ اصرار کرتی ہیں کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں، لیکن دوسری طرف وہ بعض الفاظ اور آیات میں ارتقا سے موافق معانی تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جیسا کہ ان کے ہاں لفظ أحْسَن کی تعبیر میں ہم نے دیکھا۔ اس سے ان کا طریقۂ کار غیر واضح اور غیر یکساں معلوم ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ غزالی کے فریم ورک میں حضرت آدمؑ کے واقعے کی مجازی تعبیر ممکن ہے۔ مثلاً اسے نوعِ انسانی کے لیے توبہ کی قوت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ درخت سے کھانے کے بعد حضرت آدمؑ نے معافی مانگی اور خدا نے انہیں معاف کر دیا (الأعراف، 23)۔

لیکن ایسی مجازی تعبیر کو لفظی اور ظاہری تعبیر کے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا، اس کے بدل کے طور پر نہیں۔ جیسا کہ باب 10 میں ذکر ہوا، غزالی مجازی تعبیرات کا انکار نہیں کرتے، بشرطیکہ وہ ظاہری معنی کے ساتھ ہم آہنگ طور پر پڑھی جائیں (اصول 3)۔

غزالی کے نزدیک مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوگا جب کسی بالکل معقول اور معتبر ظاہری تعبیر کو واضح دلیل کے بغیر ترک کر کے اس کی جگہ زیادہ مجازی تعبیر اختیار کر لی جائے۔

(جاری)

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)

آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ

محمد سراج اسرار

باب پنجم: خلافت کا نظم و نسق

مشاورت پر مبنی فیصلہ سازی

اسلام میں باقاعدہ اور منظم حکومت کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک سے ہوا۔ انہوں نے نہ صرف اسلامی سلطنت کو وسعت دی بلکہ حکومت کا جامع اور مضبوط نظام بھی قائم کیا۔ یہ نظام اس طرح سے جمہوری اصولوں پر مبنی تھا کہ اس میں تمام اہم ملکی و قومی امور مجلسِ شوریٰ میں بحث و مباحثے کے بعد اتفاقِ رائے سے طے پاتے تھے۔ اس مجلس میں حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت اُبی بن کعبؓ، اور حضرت زید بن ثابتؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ شامل ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ اہم قومی مواقع کے لیے ایک مجلس ہوتی تھی جس میں قبائلی سردار شریک ہوتے تھے، اور ایک مجلس ایسی بھی ہوتی تھی جس کے لیے باقاعدہ منادی کروائی جاتی تھی اور اس پر لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوتے اور پھر پیش آمدہ امور پر ان سے رائے لی جاتی۔

فلاح و بہبود، عدل و انصاف اور مالیاتی احتیاط

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہر شہری کو آزادئ اظہار، مطالبۂ حقوق، اور خلیفہ کے اقدامات پر سوال اٹھانے کا مکمل حق حاصل تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں عوام کی فلاح و بہبود، نظم و نسق اور خبر رساں نظام کے لیے بے مثال متفرق انتظامات قائم کیے۔ ۱۸ ہجری کے شدید قحط کے دوران بیت المال کے تمام وسائل اور صوبوں سے غلہ منگوا کر قحط زدگان میں منظم طریقے سے تقسیم کیا گیا، لاوارث بچوں اور معذوروں کی پرورش کا بندوبست ہوا، اور ملکی خدمات انجام دینے والوں کے لیے وظائف مقرر کیے گئے۔ حکومت کو ملکی حالات سے باخبر رکھنے کے لیے ہر علاقے میں پرچہ نویس اور واقعہ نگار تعینات تھے، جن کی کارکردگی اور چست خبر رسانی کی بدولت تمام اندرونی و بیرونی واقعات کی خبر بلا تاخیر خلافت تک پہنچتی تھی۔

فاروقی خلافت کا سب سے نمایاں وصف بلا امتیاز عدل و انصاف کی فراہمی تھا۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دیوانِ عدل میں شاہ و گدا، شریف و رزیل اور مسلم و غیر مسلم سب کے لیے ایک ہی قانون نافذ تھا۔ انہوں نے گورنر کے بیٹے کو عام شہری کے ہاتھوں قصاص دلوایا اور جاہ و جلال والے امیروں کو بھی مساوی جواب دہ بنایا، جبکہ وظائف کی تقسیم میں بھی ذاتی تعلقات کے بجائے استحقاق اور قدر و منزلت کو ترجیح دی۔ غیر مسلم رعایا (ذمیوں) کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا، مفلس غیر مسلموں کے جزیہ معاف کر کے ان کے لیے بیت المال سے وظائف جاری کیے گئے۔ جن گروہوں کو حکمتِ عملی یا معاہدی تدابیر کے باعث جلا وطن کیا گیا ان کی املاک کی انہیں کہیں زیادہ قیمت ادا کی گئی، مثلاً‌ نجران کے عیسائیوں کو حضرت عمرؓ نے ان کی اپنی درخواست اور علاقے کی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر جاگیروں کا متبادل اور املاک کی فراخدلانہ قیمت دے کر منتقل کیا تھا۔

امیر المؤمنین خود کو بیت المال اور عوام کا محافظ سمجھتے تھے اور ان کا موقف تھا کہ خلیفہ کی حیثیت یتیم کے مال کے نگران جیسی ہے (انی انزلت نفسی من ہذا المال بمنزلۃ والی الیتیم، ان استغنیت استعففت، وان احتجت استقرضت، فاذا ایسرت قضیت)۔ وہ بیت المال کی حفاظت میں سخت محتاط تھے، حتیٰ کہ قرابت داری کے ناتے سے اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو مال دینے سے انکار کر دیا، اور اپنے علاج کے لیے مسجد میں عوام کی اجازت کے بعد بیت المال سے شہد حاصل کیا۔ ان کے عہد میں مرد و خواتین کو بلا جھجھک خلیفہ پر اعتراض کی آزادی تھی، جسے انہوں نے ہمیشہ سراہا اور قبول کیا۔

صوبائی تقسیم، محکموں کا قیام اور عہدیداروں کا انتخاب

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی سلطنت کو بڑے صوبوں (مکہ، مدینہ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین، خراسان، آذربائیجان، فارس) میں تقسیم کیا اور انتظامی امور کے لیے مستقل محکمے قائم کیے۔ ہر صوبے میں گورنر (والی)، میر منشی (کاتب)، ملٹری سیکرٹری (کاتب دیوان)، کلکٹر (صاحب الخراج)، پولیس افسر (صاحب الاحداث)، افسرِ خزانہ (صاحب بیت المال) اور قاضی (مجسٹریٹ/جج) جیسے اہم عہدیدار تعینات کیے جاتے تھے۔ ان بڑے اور ذمہ دار عہدیداروں کا انتخاب عموماً مجلسِ شوریٰ کے مشورے اور اتفاقِ رائے سے نہایت شفاف طریقے سے کیا جاتا تھا تاکہ بہترین اور راست باز افراد کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔

عُمال و حُکام کا احتساب

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حُکام اور عُمال کی نگرانی کا سخت اور منظم نظام رکھتے تھے۔ مقرر ہوتے وقت ہر عامل سے صریح عہد لیا جاتا تھا کہ وہ عیش و عشرت (مثلاً باریک لباس، چھنا آٹا، قیمتی سواری، دربان) سے پرہیز کرے گا اور عوام کے لیے اپنا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔ تمام عُمال کے اثاثوں کا ریکارڈ رکھا جاتا اور غیر معمولی اضافے پر ان کا آدھا مال بیت المال میں جمع کر لیا جاتا تھا۔ موسمِ حج میں تمام شہریوں کو عمال کے خلاف شکایات درج کرانے کا عام موقع دیا جاتا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کی ڈیوڑھی (درخواست گزاروں کے لیے رکاوٹ بننے پر) جلا دینے کا حکم دیا گیا۔ مصر کے حاکم عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو فاخرہ لباس اور دربان رکھنے پر سادہ لباس میں بکریاں چرانے کی اصلاحی مشقت پر لگایا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کسی کو حد سے زیادہ انعام و اکرام دیا تو اس پر انہیں معزول کیا گیا۔ مظلوم شہریوں کو عُمال سے بدلہ کا پورا حق دیا جاتا، جس کی رعایت صرف مدعی کی باہمی رضامندی ہی سے ممکن ہوتی۔

عدالتی نظام، پولیس اور دیگر محکمے

اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں اور محکمۂ قضا قائم کیا گیا۔ قاضیوں (جیسے قاضی شریح اور سلمان رضی اللہ عنہما) کی معقول ماہانہ تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ قانونی و شرعی مسائل کے حل کے لیے جلیل القدر صحابہ (مثلاً حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم) پر مشتمل افتاء کا باقاعدہ شعبہ قائم کیا۔ امن و امان کی بحالی، ناپ تول کی نگرانی، شاہراہوں پر تجاوزات کی روک تھام، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور عوامی مفاد کی حفاظت کے لیے پولیس (احداث) کا محکمہ قائم کیا گیا۔ عرب کی تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ اور دیگر اضلاع میں جیل خانے قائم کیے اور سنگین یا متواتر جرائم پر جلاوطنی کی سزا کا آغاز کیا۔

مالیات اور ہجری تقویم

مجلسِ شوریٰ کی منظوری سے مدینہ منورہ میں مرکزی بیت المال اور صوبوں میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں، جہاں جداگانہ مالیاتی افسران تعینات کیے گئے۔ اضلاع میں سالانہ مصارف کے بعد بچنے والی رقم اختتامِ سال پر مرکزی بیت المال منتقل کر دی جاتی، جہاں سے لاکھوں باشندوں کے وظائف و تنخواہیں ادا کی جاتیں۔ مالیاتی حساب کتاب اور امورِ حکومت کو تاریخ وار منظم کرنے کے لیے ۱۶ھ میں باقاعدہ ’’سنہ ہجری‘‘ کا اِجرا کیا۔

معاشرتی و اخلاقی نگرانی

حُکام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کی اخلاقی و مذہبی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاشرے سے فخر و غرور اور آقائیت کا خاتمہ کیا، غلاموں کو مالکوں کے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا، اور لوگوں کو تعظیم کے نام پر شخصیت پرستی سے روکا، حتیٰ کہ اکابر صحابہؓ کو بھی تابعین کی غیر ضروری تعظیم پر متنبہ کیا۔ ہجو گوئی، عشقیہ اشعار میں خواتین کے نام لینے اور رندی و آوارگی وغیرہ پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ شراب نوشی کی سزا چالیس سے بڑھا کر اَسی کوڑے کر دی۔ غیر مسلم اقوام کے پرتعیش طرزِ زندگی اور لباس کی تقلید سے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا۔ افسران کو تنبیہ کی کہ عیش پرستی ان کی سادگی اور عزم و ثبات کو ختم نہ کر دے۔ عُمال کو ہدایت تھی کہ مسلمانوں کو جسمانی سزائیں دے کر تذلیل نہ کریں، تاکہ ان میں مساوات اور عزتِ نفس قائم رہے۔

معاشی نظام اور زراعتی نظم و نسق

شام اور ایران کی فتح کے بعد مفتوحہ اراضی کی تقسیم کا مسئلہ سامنے آیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام (خصوصاً حضرت علی، حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم) کی تائید اور مجلسِ عام کے فیصلے سے زمینیں فاتحین میں تقسیم کرنے کے بجائے حکومت کی ملکیت اور مقامی باشندوں کے قبضہ میں رہنے دیں۔ عراق، شام اور مصر میں اراضی کی پیمائش کرا کر زراعت کا بندوبست کیا اور علاقائی حالات کے مطابق خراج اور عشر کے باقاعدہ قوانین و شرحیں مقرر کیں۔ غیر ممالک سے آنے والے تجارتی مال پر دس فیصد چنگی (ٹیکس) عائد کی اور پہلی بار تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ قائم کی۔ تمام مفتوحہ علاقوں میں باقاعدہ مردم شماری کروائی گئی۔

سماجی ترقی اور تعمیرات

سلطنتِ اسلامیہ کی وسعت کے ساتھ ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں تعمیراتی کام نہایت منضبط اور وسیع پیمانے پر جاری رہا۔ مسافروں، تاجروں اور زائرین کی سہولت کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تمام منازل پر چوکیاں، سرائیں اور چشمے قائم کیے گئے۔ سڑکیں، پل، مسافر خانے اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔ ہر صوبے میں سرکاری دفاتر اور بیت المال کی مضبوط عمارتیں تیار کرائی گئیں۔ کوفہ کا بیت المال ایک مجوسی معمار روزبہ نے خسروانِ فارس کی عمارت کے مواد سے تعمیر کیا۔ زراعت کی بہتری اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کئی اہم نہریں کھدوائی گئیں، مثلاً بصرہ کے لیے نہرِ ابی موسٰیؓ، کوفہ میں نہرِ سعدؓ، اور سب سے بڑی اور اہم نہرِ امیر المؤمنینؓ جس کے ذریعے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملا دیا گیا۔

فوجی نظام اور تربیتی اصول

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کو ایک باقاعدہ، منظم اور پیشہ ورانہ ادارے میں تبدیل کیا۔ تمام قبائل کی مردم شماری کر کے فوجیوں، ان کی آل اولاد اور نوزائیدہ بچوں کے لیے بھی وظائف مقرر کیے گئے۔ سپاہیوں کے لیے تیر اندازی، گھڑ سواری، پیراکی اور ننگے پاؤں چلنے کی سخت تربیت لازمی کی گئی۔ عیش پرستی، نرم لباس اور زراعت و تجارت جیسے دیگر مشاغل اختیار کرنے پر پابندی لگائی گئی تاکہ فوجی روح برقرار رہے۔ ہر چار ماہ بعد مجاہدین کو اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی۔ سفر اور کوچ کے دوران صحت اور موسم کا خاص خیال رکھا جاتا۔ مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق اور حمص سمیت اہم مقامات کو مرکزی چھاؤنیاں بنایا گیا۔ ہر فوج کے ساتھ خزانچی، طبیب، جراح، مترجم اور خبر رساں لازمی ہوتے۔ مقامی ذمیوں، عیسائیوں اور ایرانیوں کی خدمات جاسوسی اور جنگی معاونت کے لیے حاصل کی گئیں، چنانچہ کئی ایرانی و رومی جنگ کے دوران مسلمان ہو کر اسلامی فوج کا حصہ بنے۔

قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم و ترویج

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے اصرار پر قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا گیا۔ اپنے عہد میں اسے باقاعدہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا، معلمین و حفاظ کی تنخواہیں مقرر کیں، اور اکابر صحابہ (مثلاً حضرت عبادہ بن الصامت اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما) کو تعلیمِ قرآن کے لیے شام و دیگر بلاد میں بھیجا۔

اشاعتِ حدیث کے لیے جلیل القدر صحابہؓ کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا، تاہم روایتِ حدیث میں سخت احتساب اور چھان بین کا اصول قائم کیا تاکہ کوئی غلط بات منسوب نہ ہو سکے اور لوگوں کی توجہ قرآن سے نہ ہٹے۔

فقہی مسائل کے حل کے لیے صحابہ کرامؓ کی کونسل میں مباحثے کرائے جاتے تھے۔ اضلاع میں فقہاء و معلمات کی تقرری کی گئی اور پہلی بار ان کی مستقل تنخواہیں مقرر کی گئیں۔

اشاعتِ اسلام اور تبلیغ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام کو تلوار کے بجائے بہترین اخلاق، اعلیٰ کردار اور حسنِ تدبیر سے پھیلایا۔ انہوں نے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی روشنی میں اپنے غیر مسلم غلام تک پر کبھی اسلام قبول کرنے کا دباؤ نہیں ڈالا۔ عُمال کو ہدایت تھی کہ فتح سے پہلے دشمن کے سامنے اسلام کے محاسن پیش کریں۔ مسلمانوں اور فاتحین کی سادگی و اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر متعدد رومی و ایرانی امرا، رؤسا اور فوجیں برضا و رغبت دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔

مساجد اور حج کے لیے انتظام

۱۷ھ میں مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کی عمارتوں میں نمایاں توسیع کی گئی۔ کعبہ مشرفہ کے لیے مصر کا اعلیٰ کپڑا قباطی غلاف کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ تمام مفتوحہ شہروں میں کثرت سے مسجدیں تعمیر کروائیں، وہاں امام و مؤذن مقرر کیے اور مسجدوں میں روشنی اور فرش کا باقاعدہ انتظام کیا۔ مسجدِ نبوی کے باہر بات چیت اور اشعار گوئی کے لیے چبوترا بنوایا تاکہ مسجد کے احترام میں خلل نہ پڑے۔ حجاجِ کرام کے لیے مناسکِ حج اور سفری سہولیات کا پورا انتظام کیا گیا اور ہر سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود حج پر جا کر ذاتی طور پر نگرانی فرماتے۔

نئے شہروں کی آباد کاری

عربوں کی نقل مکانی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر متعدد عظیم الشان شہر آباد کیے گئے:

بصرہ ۱۴ھ میں عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں آباد ہوا، جو بعد میں اسلامی دنیا کا بڑا علمی و عسکری مرکز بنا۔

کوفہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہؓ کے بھیجے گئے نقشے کے مطابق آباد کیا، جہاں چالیس ہزار آبادی کے لیے کشادہ سڑکیں اور ایک بڑی جامع مسجد تعمیر کی گئی، جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’رأس الاسلام‘‘ فرماتے تھے۔

فسطاط حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خیمہ (فسطاط) والے میدان میں بسایا، جو جلد ہی مصر کا صدر مقام اور عظیم تجارتی و علمی مرکز بنا۔

موصل کو ہرثمہ بن عرفجہ رضی اللہ عنہ نے ایک گاؤں سے عظیم شہر میں ڈھالا، جبکہ جیزہ (مصر) کو ساحلی دفاعی قلعے کے گرد نوآبادی کی شکل دی گئی۔

باب ششسم: شخصی اوصاف و کمالات

علمی فصاحت اور اجتہادی بصیرت

اسلام سے قبل عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس دور میں بھی پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کی تحریروں، خطبات اور فرامین سے بلاغت، قوتِ تحریر اور برجستگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ عربی شعر و ادب اور تنقید کا بہترین ذوق رکھتے تھے اور علم الانساب کے ماہر تھے، اس کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ پہنچ کر عبرانی زبان سے بھی واقفیت حاصل کی تھی۔

بارگاہِ نبوی کی قربت کی بدولت حضرت عمرؓ کو شرعی احکام اور معارف پر گہری دسترس حاصل تھی۔ فطرتاً نہایت طباع اور صائب الرائے تھے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ کئی اہم امور مثلاً اذان کی صورت، پردے کے احکام، اور مقامِ ابراہیمؑ کو مصلٰی بنانے میں نزولِ وحی آپ کی رائے کے موافق ہوا۔ حضرت عمرؓ نے قرآنِ مجید کے فہم و استدلال میں مجتہدانہ بصیرت دکھائی اور آئندہ نسلوں کے لیے استنباطِ مسائل اور اجتہاد کی روشن شاہراہ قائم کی۔ روایتِ حدیث میں انتہائی محتاط تھے تاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی غلط قول کی نسبت نہ ہو جائے، اور اسی محتاط رویے نے آگے چل کر فقہِ اسلامی اور تدوینِ احکام کی مضبوط بنیاد رکھی۔

خشیتِ الٰہی اور فکرِ آخرت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دل ہر لمحہ خوفِ خدا میں لرزاں اور فکرِ آخرت میں ترساں رہتا تھا۔ ان کی تمام تر اخلاقی عظمت کا سرچشمہ یہی خشیتِ الٰہی تھی۔ راتوں کو عبادات میں زارو قطار روتے اور جب قرآنِ مجید کی آیاتِ عذاب یا قیامت و حشر کا ذکر پڑھتے تو ان پر رقّت طاری ہو جاتی۔ قیامت میں حساب و کتاب کے سخت مواخذے کا خیال ہر وقت ان کے پیشِ نظر رہتا تھا، اور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر بالفرض آسمان سے ندا آئے کہ ایک شخص کے سوا تمام انسان جنتی ہیں، تب بھی مجھے اپنے محاسبے کا خوف قائم رہے گا۔

حبِ رسولؐ اور اتباعِ سنت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تہذیبِ نفس اور اتباعِ رسولؐ کا مجسم نمونہ تھی۔ بارگاہِ رسالت سے کامل محبت آپ کا سرمایۂ حیات تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بھی عہدِ مبارک کی یاد آتی تو بے تاب ہو کر رو پڑتے۔ نبی کریمؐ کے قرابت داروں، ازواجِ مطہرات اور عزیزوں کا بے حد احترام کرتے اور ان کے وظائف و اکرام کو دیگر تمام لوگوں پر ترجیح دیتے۔ اپنی ذاتی خورد و نوش، لباس اور نشست و برخاست میں اتباعِ سنتؐ ہی مطمحِ نظر رہتی۔ روم و ایران کی عظیم سلطنتیں فتح ہونے اور بیت المال کے وسیع وسائل کے باوجود وہی فقر و فاقہ اور سادگی اختیار رکھی جو عہدِ نبوی میں دیکھی تھی۔ شعائرِ اسلام کی تعظیم اور دیگر بہت سے معاملات میں تبدیلئ حالات کے باوجود سنتِ نبوی کے متابع رہتے۔

زہد و قناعت اور بے نیازی

دنیا طلبی اور حرص و ہوس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو طبعی نفرت تھی۔ پیوند لگے کپڑے، پھٹی ہوئی جوتیاں اور سادہ خوراک حضرت عمرؓ کی زاہدانہ زندگی کی گواہی دیتے تھے۔ قیصر و کسریٰ کے سفیروں اور غیر ملکی وفود سے اسی سادہ حال میں ملتے تھے۔ خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود بیت المال سے صرف اتنا معمولی وظیفہ لیتے تھے جو محض زندہ رہنے کے لیے کافی ہو، اور اکثر فرماتے کہ مسلمانوں کے مال میں میرا حق اتنا ہی ہے جتنا کسی یتیم کے مال میں اس کے ولی کا ہوتا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور اولاد کے لیے بیت المال کی ایک پائی بھی ناجائز استعمال نہیں ہونے دیتے تھے اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے قرابت داروں پر سختی سے نگرانی فرماتے تھے۔

تواضع اور انکساری

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ آپ کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے تھے، لیکن ذاتی زندگی میں آپ انتہا درجے کے متواضع تھے۔ آپ کندھے پر مشک اٹھا کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے، مجاہدین کے گھروں کا سودا سلف لا دیتے، اور مسجد کے فرشِ خاک پر سو جاتے۔ سفرِ شام کے موقع پر جب افسران نے اعلیٰ لباس اور سواری پیش کی تو ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ خدا نے ہمیں جو عزت دی ہے وہ صرف اسلام کی بدولت ہے۔ حضرت عمرؓ مسلمانوں کی سیادت کو خدمت گزاری سے تعبیر فرماتے تھے۔

للّٰہیت، رحم دلی اور عفو و درگزر

اگرچہ ملکی انتظامات اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے حضرت عمرؓ رویہ نہایت سخت تھا لیکن ذاتیات میں دل موم کی طرح نرم اور رحم دلی سے لبریز تھا۔ ذمیوں اور غیر مسلم رعایا کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت منصفانہ اور شفقت آمیز تھا۔ غریبوں، یتیموں اور مسافروں کے لیے لنگر خانے اور وظائف قائم کیے۔ قحط کے ایام میں آپ کی بے قراری اور فلاحی تگ و دو تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ بدتمیزی کرنے والے کو قرآنی ہدایت کے مطابق معاف فرما دیتے اور ذاتی انا کو درمیان میں نہیں آنے دیتے تھے۔

حضرت عمرؓ نے تمام عربی غلاموں کو آزاد کرا دیا اور یہ قانون بنا دیا کہ اہلِ عرب کبھی کسی کے غلام نہیں ہو سکتے۔ چونکہ عام غلاموں کا آزاد کرانا بہت مشکل تھا، اس لیے ان کے لیے بہت سی مراعات قائم کیں۔ مجاہدین کی تنخواہیں مقرر ہوئیں تو آقا کے ساتھ غلام کی تنخواہ بھی مقرر ہوئی۔ اکثر غلاموں کو بلا کر ساتھ کھانا کھلاتے۔ ایک شخص نے دعوت کی تو اِس وجہ سے ناراض ہو کر اُٹھ گئے کہ اس نے دسترخوان پر اپنے غلام کو نہیں بٹھایا تھا۔ غلاموں کو اپنے ساتھ کھانا نہ کھلانے پر وعید سنایا کرتے۔ غلاموں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے جدا ہو جاتے تھے، حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے رشتہ داروں سے جدا نہ کیا جائے۔

خلقِ خدا کی خدمت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ خلقِ خدا کی نفع رسانی اور خاموش خدمت میں گزرا۔ راتوں کو گشت فرما کر مدینہ کی آبادی اور مسافروں کا حال معلوم کرنا، بھوکے بچوں کے لیے بیت المال سے اپنی پشت پر آٹا اور سامانِ خوراک اٹھا کر لانا، مصیبت میں مبتلا بدوی خاتون کی امداد کے لیے اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جانا، اور رات کی تاریکی میں غیر محسوس طریقے سے شہر کے نابینا اور معذور افراد کے گھروں کی صفائی اور خدمت کرنا حضرت عمرؓ کا روزمرہ کا معمول تھا۔

الغرض خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں، مال اور وقت اللہ کی رضا اور اس کی مخلوق کی فلاح کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

ترجمہ : ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

ابو علی الحسن بن علی بن اسحاق طوسی کا تعلق پانچویں صدی ہجری سے تھا۔ آپ نظام الملک کے لقب سے مشہور اور سلجوقی حکومت میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ اسلام کی سیاسی تاریخ میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مقام آپ کو محض شاہ الب ارسلان اور بعد میں اس کے فرزند ملک شاہ کی قربت اور وزارت سے حاصل نہیں ہوا، بلکہ آپ کے قالب میں ایسی صفات جمع ہو گئی تھیں، جو نادر ہی کسی سرکاری عہدے دار میں موجود ہوتی ہیں؛ لوگوں کے حالات کا علم، انتظامی امور کا گہرا تجربہ، دینی، ادبی، سیاسی تراث سے تعلق اور حوادث و واقعات فہمی کی قدرت، یہ سب خصوصیات آپ کو شانِ امتیاز عطا کرتی ہیں۔ آپ ہر واقعے کو الگ سے نیا حادثہ شمار کرنے کی بجاے اسے حکومتوں اور قوموں میں بار بار پیش آنے والے واقعات سے جوڑ کر دیکھنے کے عادی تھے۔

مختصر حالات

نظام الملک طوس کے نواح میں سنہ ۴۰۸ھ/۱۰۱۸ء کو پیدا ہوے، خراسان میں پلے بڑھے، پھر انتظامی اداروں سے وابستہ رہ کر ترقی کرتے ہوے سلجوقی حکم رانوں کے قریب ہو گئے۔ پہلے الب ارسلان، بعد ازاں اس کے بیٹے ملک شاہ کے وزیر مقرر ہوے۔ وزارت کی کرسی پر تیس سال تک براجمان رہے۔ یہ طویل مدت ہے، جس میں کثرت سے چہرے اور وفاداریاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آپ کے کارہاے نمایاں میں سلجوقی فرمان روائی کے ادارہ جاتی انتظام کی بنا، حکومتی معاملات کی تنظیم و ترتیب اور علم و علما سے تعلق و نگہ داشت، شامل ہیں۔ اسلامی دنیا کے بڑے شہروں میں مدارس قائم کرنے کے حوالے سے آپ شہرت رکھتے تھے، جن میں سر فہرست بغداد کا مدرسہ نظامیہ آتا ہے۔

انتقال افسوس ناک حالت میں ہوا کہ ۴۸۵ھ/۱۰۹۲ء میں شہید کردیے گئے۔ یہ وہ وقت تھا، جس میں سلجوقی حکومت خود اضطراب و تقسیم کے مرحلے سے دوچار تھی۔ یوں آپ نے سلطنت کی نمائندگی اس دور میں کی جب شاہی طمطراق عروج پر تھا اور آخری عمر میں حکومت کی جڑوں میں ضعف سرایت کرتے ہوے بھی دیکھا۔ کتاب ’’سیاست نامہ ‘‘ کو اس طویل تجربے سے الگ کر کے سمجھنا آسان نہیں؛ کیوں کہ یہ کتاب صرف نظری افکار پر مشتمل نہیں، جسے کسی فلسفی نے حکومتی ایوانوں سے دور بیٹھ کر لکھا ہو، بلکہ اس میں ایک ایسے وزیر کا تجربہ ہے جس نے حکومت کو اندر سے دیکھا، بادشاہ، اس کے خواص، والیانِ شہر، حکمران، لشکر، خزانے، علما و قاضیان کو پرکھا۔ ان سب سے پہلے سلطنت سے جڑے ہوے انسان کی فطرت کو پہچانا؛ اسی لیے، صدیاں گزرنے کے باوجود، اس کتاب میں آج بھی قابلِ عمل تجربات کی حرارت بھرپور انداز میں موجود ہے۔ یہ کتاب صرف عقلی موشگافیوں کا مجموعہ نہیں۔

سیاست نامہ، فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’کتابِ سیاست‘‘ کے ہیں۔ یہ کتاب ’’سیر الملوک‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اسلامی و فارسی تہذیب میں بادشاہوں کے لیے نصائح پر جو ادب تخلیق ہوا ہے، ان میں اس تالیف کا شمار مشہور کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ سلطان ملک شاہ کے عہد میں لکھی گئی۔ انھوں نے ارکانِ حکومت سے ایسی کتاب لکھنے کا کہا جس میں مملکت کی اصلاح اور نظم و نسق سے متعلق مفید باتیں ذکر کی گئی ہوں، اسی کے نتیجے میں ’’نظام الملک‘‘ کے قلم سے لکھی گئی جامع کتاب وجود میں آئی، جس میں سیاسی حکمت، انتظامی تجربات، اخلاقی نصیحتیں اور تاریخی حکایات موجود ہیں۔ مولف کا مقصد بادشاہ کو صرف اس بات کی تعلیم دینا نہیں کہ حکم نامے کیسے جاری کیے جاتے ہیں؟ بلکہ یہ سکھانا مقصود ہے کہ حکومت کس انداز سے کی جاے؟ لوگوں کے معاملات کس طریقے سے دیکھے جائیں؟ ارکانِ حکومت کا انتخاب کیسے کرے؟ ان کی نگرانی کا طریقہ کار کیا ہے؟ ظلم پھیل کر حکومت کی جڑوں کو کہیں کھوکھلا نہ کر دے، اس سے پہلے ہی ظلم کا سدباب کیسے کیا جاے؟

عدل پروری کی اہمیت

یہیں سے عدل پروری کی اہمیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ اسی محور کے گرد کتاب کے اکثر مضامین گردش کرتے ہیں۔ ’’نظام الملک‘‘ بادشاہت کو محض حصولِ طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھتے، جسے استعمال میں لا کر بادشاہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک بادشاہت ایک ذمے داری ہے اور رعایا حاکم کے لیے حصولِ طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے پاس (خدا) کی امانت ہے۔ انصاف ان کے نزدیک مجالس وعظ میں کہے جانے والا خوب صورت کلام نہیں، بلکہ سیاسی زندگی کو بہتر بنانے کا ایک نظام ہے۔ بادشاہ کے عدل کرنے سے رعایا میں اطمینان پھیلتا ہے، والیانِ حکومت کے فرائض میں نظم و ترتیب نشوونما پاتی ہے، محصول جمع کرنے میں باقاعدگی پیدا ہوتی ہے، حکومت کا خزانہ بھر جاتا ہے، لوگ اپنے مال و جان کی امان پاتے ہیں اور حکومت کے لیے طاقت کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ اسے مسلسل زور، زبردستی سے کام نہیں لینا پڑتا؛ لیکن جب ظلم پھیلتا ہے تو دلوں میں اٹھنے والی خوف کی لہر طاقت کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات حکومت میں در آنے والی کم زوری کا نشان ثابت ہوتی ہے۔

یہاں نظام الملک کے فکری منہاج میں ایک دقیق سیاسی نکتہ سامنے آتا ہے: بعض اوقات بہ ظاہر حکومت مضبوط نظر آتی ہے؛ لیکن در حقیقت وہ کم زوری کی طرف گام زن ہوتی ہے۔ دیکھنے میں لشکر کی تعداد بہت ہوتی ہے، خزانے بھرے ہوتے ہیں، ریاستیں سر بہ تسلیم خم ہوتی ہیں اور بادشاہ کی آواز میں طاقت ہوتی ہے، جب کہ اندرونِ خانہ حکومت کی دیوار میں انتظامی بدعنوانی کی شکل میں ایسی دراڑ پڑ چکی ہوتی ہے، جو لوگوں کو وقت گزرنے کے بعد نظر آتی ہے۔ جب منصب کمائی کا ذریعہ بن جاے، قرابت دار کو باصلاحیت پر ترجیح دی جاے، فرمان بردار چاپلوس کو خیرخواہ امانت دار پر فوقیت دی جاے تو انتظامی بدعنوانی کا آغاز ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے نظام الملک ارکان حکومت کی تقرری میں نہایت باریک بین نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ بادشاہ اکیلا تمام حکومت نہیں چلا سکتا، اسے حکومت چلانے کے لیے رجالِ کار کی ضرورت ہے۔ اس کے معاونین میں نیکی ہو گی تو ملک کا بڑا حصہ بہتری کی طرف گامزن ہوگا، اور اگر یہی لوگ بگڑ گئے تو طاقت اور عظیم لشکر بادشاہ کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔

سب سے خوب صورت بات

مولف سیاست نامہ قواعد ذکر کرنے کے ساتھ تاریخ سے شواہد بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ بادشاہوں، امرا اور وزرا کی حکایات لکھ کر ان سے ایسے عبرت خیز نتائج اخذ کرتے ہیں، جنھیں آپ بادشاہ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تاریخ ماضی کی کتاب نہیں، جسے لوگ تسلی یا گزرے زمانے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، بلکہ تاریخ آئینۂ سیاست ہے۔ اس میں حکمران انصاف و ظلم، یقین و تردد، رجال کار کے حسنِ انتخاب اور سوے انتخاب کے نتائج کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مولف بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوے اکثر کہتے ہیں: دیکھو، فلاں بادشاہ نے جب ناقابلِ اعتبار آدمی پر بھروسا کیا تو اس کا انجام کیا ہوا؟ دیکھو، رعایا کی دیکھ بھال میں غفلت کی بنا پر فلاں بادشاہ کی سلطنت کیسے زوال کا شکار ہوئی؟ دیکھو، انصاف نے فلاں ملک کو کیسے دوام بخشا؟ اور کیسے ظلم نے فلانی مملکت کی عمارت زمین بوس کر دی؟

اس اندازِ بیان نے ’’سیاست نامہ‘‘ کو خاص رنگ عطا کیا ہے۔ مولف اس کتاب میں فلسفی کی زبان سے سیاست پر بات نہیں کرتے، جسے مکمل عقلی عمارت کھڑی کرنے کی فکر رہتی ہے، بلکہ اس تحریر میں ایسے شخص کی زبان بولتی ہے، جس نے لوگوں کو آسمان پر کمند ڈالتے، پھر گرتے دیکھا، اقتدار کے لالچی افراد کا مشاہدہ کیا، نیز کیسے فردِ واحد اختیار ملنے پر تمام ادارے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے؟ کیسے امانت دار انسان مملکت کو شدید اضطرابی کیفیت سے نکال کر قدرے توازن و اعتدال کی طرف لے آتا ہے؟

اسی بنا پر نظام الملک حکومتی کارندوں کی نگرانی کو بہت اہتمام سے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے کہ بادشاہ، والیانِ حکومت اور سرکاری ملازمین پر اعتماد کر کے ملکی احوال جاننے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ بادشاہ اور رعایا کے درمیان حکومتی کارندوں کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے اور ہر ایک کسی بھی معاملے میں حقیقت چھپا کر بیان کر سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہی چیز سامنے رکھی جاے جو بادشاہ کو پسند ہے۔ جو حکمران اپنی من چاہی چیزوں کو دیکھنا اور سننا پسند کرتا ہے، وہ لوگوں کی حقیقی دنیا کی بجاے مصنوعی دنیا کا حکمران ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے نظام الملک شہروں کے احوال، ملازمین کی نگرانی، رعایا کے حالات کی خبر، شکایات سننے اور ظلم کے ازالے کی طرف خاص طور سے دھیان دیتے ہیں۔

دین و سیاست کا باہمی تعلق

اس سب کے باوجود ان کی نظر دینی معاملات سے دور نہیں رہی۔ نظام الملک سنی تھے اور علما و تعلیمی اداروں سے شدید لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک حکومتی استحکام محض طاقت کے بل بوتے پر ممکن نہیں۔ سیاسی طاقت کے ساتھ ایسی اخلاقی اقدار کی بھی ضرورت رہتی ہے، جس سے حکومت جبر کے بغیر قانونی دوام حاصل کر سکے۔ اس لیے مدارس نظامیہ کا قیام ان کے عام منصوبے میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک تعلیم ثقافتی عیاشی کا نام نہیں، بلکہ تعلیم کے ذریعے حکومت و معاشرے کی تشکیل اور علما، قضات و فقہا تیار کیے جاتے ہیں۔ نظامِ حکومت کا ایک حصہ انھی کی بدولت قائم رہتا ہے۔

’’سیاست نامہ‘‘ دین و سیاست کے درمیان تعلق کو سادہ یا مثالی شکل میں بیان نہیں کرتی۔ یہ کتاب ایسے دور میں لکھی گئی، جس میں اضطراب تھا، شدید مذہبی و سیاسی جنگیں برپا تھیں، اسی لیے عصرِ حاضر کے محقق کو یہ کتاب اس دور کے سیاسی منظر نامے کو سامنے رکھ کر پڑھنی چاہیے۔ مولف حکمرانی کے کن عام اصولوں کی طرف رہ نمائی کر رہے ہیں؟ اور کیا بات اپنے دور کی خانہ جنگیوں اور سیاسی خدشات سے متاثر ہو کر کہ رہے ہیں؟ ان دونوں باتوں میں فرق کرنا چاہیے۔ اس تنقیدی مطالعے سے کتاب کی قدروقیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ اس اندازِ مطالعہ سے ہمیں سمجھ آتا ہے کہ یہ کتاب: تاریخی و فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، اور حالاتِ زمانہ کی ضروریات سے بے خبر رہ کر نہیں، بلکہ میدانِ سیاست کے شہ سوار کے قلم سے وجود میں آئی ہے۔

بادشاہ کے بارے میں نظام الملک کا موقف قاری کی توجہ کھینچ لیتا ہے۔ کتاب میں اگرچہ زور آور بادشاہ اور مرکزِ قوت کا دفاع کیا گیا ہے؛ اس کے باوجود نظام الملک سلطانِ وقت کو نصیحت سے ماورا نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک بادشاہ کو امانت دار ناصح کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؛ کیوں کہ اقتدار کی عظمت اکثر عیب پوشی کا کام دیتی ہے، کارندوں کی کثرت حقیقت چھپا دیتی ہے، تخت کا خوف لوگوں کو مناسب بات کہنے کی بجاے، بادشاہ کی من پسند بات کرنے پر مجبور کرتا ہے؛ اس لیے ’’سیاست نامہ‘‘ میں نصیحت کو صرف (معاشرتی) خوبی نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے سیاسی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ جس حکمران کو حقائق کی خبریں دینے والا کوئی نہیں ملتا، ایسا حکمران غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے اور کسی شخص میں اسے راہ دکھلانے کی جرأت نہیں ہوتی۔

بادشاہت کا قیام کیسے ممکن ہے؟

اس مضمون کو سامنے رکھتے ہوے ہم پوری کتاب کو ایک عظیم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کے طور پر پڑھ سکتے ہیں: بادشاہت کس طرح قائم رہ سکتی ہے؟ نظام الملک کے نزدیک صرف طاقت اس سوال کا جواب نہیں۔ لشکر ضروری ہے، مال ضروری ہے، سلطنت ضروری ہے، لیکن یہ سب کافی نہیں بلکہ میزانِ عدل کا قیام ناگزیر ہے، جس سے حاکم و محکوم کا رابطہ بحال رہے؛ ادارہ جاتی انتظام کے بغیر چارہ نہیں، اسی سے بادشاہ کا فرمان ریاستوں اور (ماتحت) علاقوں تک پہنچتا ہے؛ امانت دار ملازم، جو اپنے کام کو تجارت نہ بناے، کا وجود لازمی ہے؛ اطاعت گزار منظم لشکر کا ہونا ضروری ہے؛ اخلاق و اقدار میں ممد و معاون علم کے بغیر گزارا نہیں؛ اسی طرح حاکم کے لیے نصیحت بھی لازمی امر ہے تاکہ حکمران اپنی عظمت کا اسیر ہو کر نہ رہ جاے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر سیاست نامہ کی افادیت دورِ حاضر میں بھی باقی رہتی ہے۔ ایسا متن، جس میں اٹھاے گئے سوالات سے بعد کے زمانوں میں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے؛ نہ کہ ایسا سیاسی قانون، جسے پانچویں صدی ہجری سے اٹھا کر اکیسویں صدی میں نافذ کیا جانا ممکن ہو۔

ملازم کا بگاڑ، حکومتی کارندوں کا غلط انتخاب، معاشرتی حقائق سے حکمران کی بے خبری، ذاتی مصلحت کے لیے طاقت کا استعمال، کم زور نگرانی اور طاقت و عدل میں امتزاج کی حاجت، یہ سب ایسے مسائل ہیں جو سلجوقی فرمان روائی کے خاتمے سے ختم نہیں ہو گئے، آج بھی ان کی ضرورت ہے۔

نظام الملک کی حقیقی عظمت اس میں نہیں کہ انھوں نے مثالی حکومت کا نقشہ پیش کیا۔ انھوں نے وہی لکھا جو اُن کے بس میں تھا۔ وہ اپنے زمانے کے انسان تھے اور سرکاری ملازم۔ ان کی عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ انھوں نے بڑی حد تک حقیقت پسندی کا ثبوت دیا۔ ان کے نزدیک حکومت کی مثال جان دار کی سی ہے۔ ایسی حکومت باقی نہیں رہ سکتی جس کا دل مضبوط اور اعضا صحت مند نہ رہیں، حکومت کا خزانہ بڑھ جاے اور لوگوں کا مال خطرے میں ہو، سلطنت کی شان بڑھتی جاے اور عدل عنقا ہو جاے۔ نظام الملک کی سیاسی صورت گری میں ادارہ جاتی اصلاح کی طرف دعوت ہے لیکن اس کے ساتھ حکومت کی ہیبت باقی رہتی ہے، بادشاہ کو رعایا کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، لیکن اس کی طاقت پر حرف نہیں آنے دیا۔ شاید اسی وصف کی بنا پر ’’سیاست نامہ‘‘ کا نام باقی ہے اور اسے اسلامی و فارسی تراث کی مشہور کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے بادشاہ کے ایک وزیر نے لکھا، اور ایسے شخص کے قلم سے یہ کتاب وجود میں آئی جس نے اقتدار کو پرکھا، اس کے خطرات کو پہچانا اور حکومتوں کے عروج و زوال کے اسباب سے واقفیت حاصل کی۔ آج کا قاری جدید دور کی حکومتوں کی مشکلات کا حل شدہ جواب اس کتاب میں ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ قدیم حکمت کے موتی تلاش کرے، جو آج بھی لائقِ فکر و نظر ہیں: بادشاہت کو محض تلوار نہیں بچا سکتی اور حکومت صرف بادشاہ نہیں چلا سکتا۔ سلطنت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو اس سے خوف کھائیں، بلکہ خیرخواہ ناصح کی ضرورت ہے۔

انصاف — جسے حکمران اپنے لیے قید سمجھ رہا ہے — حقیقت میں اس کے لیے ایسا قلعہ ہے، جس سے حکومت گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ

مفتی سید انور شاہ

جزیرۃ العرب کیا ہے؟

جزیرۃ العرب Arabian Peninsula مشرق وسطی کا ایک بڑا جزیرہ نما ہے جو تین اطراف سے سمندروں سے گھرا ہے: مغرب میں بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ، جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور شمال مشرق میں خلیج عمان، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس ہے، جبکہ شمال میں اس کی سرحدیں صحرا اور پہاڑوں سے ملتی ہیں، اور یہ خطہ سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین جیسے ممالک پر مشتمل ہے، جس کا سب سے بڑا حصہ سعودی عرب میں ہے۔ جزیرہ نما عرب درج ذیل اہم ممالک پر مشتمل ہیں:

یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے۔ اس کا بیشتر حصہ صحرائی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر یہیں پائے جاتے ہیں۔ مشرق وسطی کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ عالمی تیل کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مذہبی، تاریخی اور سیاسی اعتبار سے بھی یہ علاقہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ذیل میں دیا گیا جزیرہ نما عرب کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں، جس سے جزیرۂ عرب کی حدود کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی رہائش

اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں (اہل الذمہ) کو مسلمان شہریوں کی طرح قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک بھر میں جہاں چاہیں آئیں جائیں، سفر کریں، گھومیں پھریں۔ دوران سفر ان کے جان و مال کا تحفظ اور ہر طرح سے بچاؤ اور سلامتی کو یقینی بنانا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اسلامی ریاست کے شہری ہونے کے ناطے ان کا حق ہے کہ ملک کے جس شہر، دیہات اور علاقے میں آباد ہونا چاہیں، گھر بنانا چاہیے، مستقل رہائش و سکونت اختیار کرنا چاہیے تو یہ ان کا قانونی حق ہے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی۔ قرآن مجید نے کسی کو اس کے گھر سے نکالنا یا شرعی جواز کے بغیر جلا وطن کرنا حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی بدعہدیوں اور جرائم کی تفصیل کے ضمن میں ارشاد الٰہی ہے:

وتخرجون فریقا منکم من دیارہم تظاہرون علیہم بالاثم والعدوان وان یاتوکم اساری تفادوہم وہو محرم علیکم اخراجہم۔ (البقرۃ: ۸۵)
اور تم اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے گھروں / وطن سے نکال بھی دیتے ہو۔ (اور) ان کے مقابلہ میں گناہ و ظلم کے ساتھ (ان کے مخالفین کی بھی) مدد کرتے ہو۔ اور اگر وہ تمہارے تک قیدی بن کر پہنچ جاتے ہیں تو تم انہیں فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو حالانکہ ان کا (وطن سے) نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔

علامہ کاسانی ؒنے مسلمانوں کے آباد کردہ شہروں میں غیر مسلم شہریوں کی کھلے عام سکونت کے حوالے سے لکھا ہے:

ویترکون ان یسکنوا فی امصار المسلمین یبیعون ویشترون، لان عقد الذمۃ شرع لیکون وسیلۃ لہم الی الاسلام، وتمکینہم من المقام فی امصار المسلمین ابلغ الی ہذا المقصود، وفیہ ایضا منفعۃ المسلمین بالبیع والشراء فیمکنون من ذلک۔ (بدائع الصنائع)
’’اور انہیں مسلمانوں کے شہروں میں سکونت اختیار کرنے اور خرید و فروخت کی اجازت دی جائے گی، کیونکہ عقد ذمہ کو دراصل اسی لیے مشروع کیا گیا ہے کہ یہ ان کے قبول اسلام کا ذریعہ و وسیلہ بنے، اور انہیں مسلمانوں کے شہروں میں ان کی سکونت ممکن بنانے سے یہ مقصد بہت اچھی طرح حاصل ہوتا ہے، دوسرے ان کی خرید و فروخت اور کاروبار میں مسلمانوں کے لیے بھی مالی منفعت ہے، لہذا شہروں میں انہیں اقامت و سکونت کی اجازت دی جائے گی۔‘‘

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت

البتہ اس عام اجازت سے ایک استثناء ہے اور وہ یہ کہ انہیں جزیرۃ العرب اور حجاز کے مخصوص و محدود علاقے میں (جس کی حد بندی کی تفصیل اوپر مذکور ہے) مستقل رہائش و سکونت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ خود پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور پیغمبر ﷺ کا ہر حکم اور ہر بات ازروئے قرآن وحی الہی ہوتی ہے۔ اور اسلامی ریاست کے دستور کی ساری بنیاد ہی اسی بات پر ہے کہ قرآن و سنت یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی بلاتامل و تردد اور غیر مشروط طور پر تعمیل کی جائے۔ دوسرے، ریاست کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مخصوص عقائد، نظریات اور اپنی پالیسی کے مطابق ملک کے داخلی قوانین و ضوابط وضع کرے اور انہیں اپنی حدود مملکت کے اندر نافذ کرے۔ جس پر کسی دوسرے کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ عالمی منشور انسانی حقوق کے آرٹیکل 29 کی دفعہ نمبر 2 میں یہ درج ہے:

’’اپنے حقوق اور آزادیوں کے سلسلے میں ہر شخص صرف قانون کی عائد کردہ ان پابندیوں کے دائرہ میں رہے گا، جن کا مقصد دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔ ‘‘(صلاح الدین، بنیادی حقوق 91)

بہر کیف! زیر بحث مسئلے میں حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ

لاخرجن الیہود والنصاری من جزیرۃ العرب حتی لا ادع الا مسلما (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اجلاء الیھود من الحجاز، رقم الحدیث: ۴۵۹۴)
’’میں ضرور یہود و نصاری کو جزیرۂ العرب سے نکال دوں گا یہاں تک کہ وہاں سوائے مسلمانوں کے کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

اسی طرح متعدد محدثین نے الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے واسطے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں آپ ﷺ کی یہ وصیت نقل کی ہے کہ:

اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۱۶۸)
’’مشرکین اور ایک روایت کے مطابق یہود و نصاری کو جزیرۂ العرب سے نکال دینا۔‘‘

ایک حدیث میں آپ ﷺ نے مذکورہ وصیت یا ارشاد کی حکمت یوں بیان فرمائی:

لا یجتمع دینان فی جزیرۃ العرب (ابن قیم الجوزیہ، احکام اہل الذمۃ، ۱/۱۴۲)
’’جزیرۂ العرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے:

لا یبقین دینان بجزیرۃ العرب (امام مالک، موطا، کتاب الجامع، باب ما جاء فی اجلاء الیہود من المدینۃ، ص: ۲۹۸)
’’جزیرۂ العرب میں دو دین اکٹھے باقی نہیں رہ سکتے۔‘‘

امام محمد بن حسنؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے اس ارشاد کے مدنظر حضرت عمرؓ نے جزیرۂ العرب سے یہود کو نکال دیا (اور انہیں دوسرے علاقوں میں آباد کیا)۔ (امام محمد، موطا، کتاب السیر، باب نزول اہل الذمۃ والہدنۃ وما یکرہ من ذلک، مکتبہ دار الفکر، بیروت، ص: ۳۲–۳۳)

جبکہ ایک دوسری حدیث میں اس مسئلے کی وضاحت یوں بیان فرمائی گئی ہے:

لا تصلح قبلتان فی ارض واحدۃ ولیس علی المسلمین جزیۃ (ابو داود، سنن، کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب فی اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۰۳۱۔ جامع الترمذی، الکوفۃ، باب ما جاء ولیس علی المسلمین جزیۃ، ۱/۲۵۵)
’’دو اہل قبلہ کا ایک ہی جگہ پر اکٹھا رہنا صحیح نہیں، اور مسلمانوں پر کوئی جزیہ نہیں ہے۔‘‘

اسلامی حکومت کی اسی پالیسی کی رو سے اور یہودیوں کی عہد شکنی کے باعث نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے مشہور یہودی قبائل بنو نضیر اور بنو قریظہ کو پہلے تین مرتبہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔

جب انہوں نے تینوں مرتبہ دعوتِ اسلام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اجلاء الیہود من الحجاز، رقم: ۴۵۹۱، ابو داؤد، کتاب الخرج والفئی، والامارہ، باب فی اخرج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۰۰۳)

مذکورہ بالا تمام احادیث میں جزیرۃ العرب یا حجاز کے اندر صرف مستقل سکونت سے ممانعت ہے۔ نہ کہ تجارت یا کسی دوسری غرض سے آمدورفت سے بھی۔

فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہیں کہ غیر مسلموں کے لیے تجارت کی غرض سے حجاز میں داخل ہونا جائز ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسائی تاجر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ تک تجارت کرتے تھے۔ (ابن قیم، احکام اہل الذمہ، ۱/۱۴۲)

بعض حضرات نے کہا ہے کہ ان کی مدت قیام زیادہ سے زیادہ چار دن جائز ہے۔ تاہم اگر کوئی غیر مسلم آدمی حجاز میں بیمار ہو جائے تو اس کو اس سے زیادہ عرصہ قیام کرنا بھی جائز ہے کیونکہ مریض کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تکلیف کا باعث ہے اور جو آدمی اس کی تیمارداری پر مامور ہو اس کے لیے بھی مریض کے ساتھ زیادہ عرصہ تک رہنا جائز ہے کیونکہ مریض کا اس کے بغیر رہنا مشکل ہے۔ اسی طرح حجاز میں کسی آدمی پر اس کا دین ہو اور مدیون آدمی ٹال مٹول کر رہا ہو تو دین کی وصولی تک غیر مسلم آدمی کا حجاز میں قیام جائز ہوگا۔ (المغنی ۸/۵۳۰)

ویٹی کن سٹی میں غیر کیتھولک کو رہائش کی اجازت نہیں

حضور اکرم ﷺ کی مذکورہ بالا وصیت ’’اخرجوا الیہود والنصاریٰ من جزیرۃ العرب‘‘ (جزیرۃ العرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال دینا) اصولی طور پر یہ داخلی قانون سازی کی ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اس ضمن میں مذکورہ بالا حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’چونکہ یہ علاقہ اب اسلام کا مرکز قرار دے دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسلام کا روحانی دارالحکومت ہوگا، لہذا اب یہاں صرف اور صرف نظریۂ اسلام کو رہنے کی اجازت ہوگی اور باقی نظریات و مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے اب صرف دو پرامن راستے ہیں۔ یا تو اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کر لیں یا پھر جزیرۂ عرب سے نکل کر کسی اور جگہ جا کر آباد ہو جائیں۔ ان اسباب کی بنا پر یہ حکم دیا گیا کہ آئندہ جزیرۂ عرب میں کوئی غیر اسلامی نظریاتی طاقت موجود نہ ہو، بلکہ یہاں خالص اسلامی عقیدہ کی پاسداری اور حکمرانی ہونا چاہیے۔ اس لیے یہاں غیر مسلموں کے آباد ہونے کو روکا گیا۔ یہ خیال نہ فرمائیے کہ ایسا کسی تعصب یا غیر مسلموں سے نفرت کی بنیاد پر کیا گیا۔ دنیا کے کئی نظاموں میں آج بھی اس طرح کا تصور موجود ہے۔ اگر آپ روم تشریف لے گئے ہوں تو آپ نے وہاں شہر روما کا ایک بہت بڑا اور مشہور تاریخی محلہ ضرور دیکھا ہوگا جو “ویٹی کن” کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں رومن کیتھولک عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں پاپائے اعظم رہتا ہے۔ وہاں غیر کیتھولک کو جائیداد خریدنے اور مستقل آباد ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ اس کو اپنے دین کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی موجود ہیں، ماضی میں بھی موجود تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔ اسی نوعیت کی مثال یہ ہے کہ جزیرۂ عرب میں غیر مسلموں کو مستقل طور پر آباد ہونے سے سرکار دو عالم ﷺ نے روکا ہے۔ یہ ایک داخلی قانون سازی کی مثال ہے جس کے بین الاقوامی تضمنات ہیں۔‘‘ (اسلام کا قانون بین الممالک: ۷۸--۸۸)

زیر بحث مسئلہ کی یوں بھی وضاحت کی جا سکتی ہے کہ ہر ملک بلکہ کئی شہروں میں بھی بعض علاقے ایسے ہوتے ہیں، جہاں ہر شہری کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مثلاً‌ فوجی چھاؤنیوں کے مخصوص علاقوں میں صرف فوجی اہلکاروں یا ملکی دفاع سے متعلق افراد کو ہی داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ اسی طرح اسلام اگرچہ پوری دنیا کے لیے آفاقی مذہب کا درجہ رکھتا ہے تاہم حجاز اور جزیرۂ عرب کا مخصوص علاقہ اس کے نزدیک "اسلامی چھاؤنی" کا درجہ رکھتا ہے۔ اب جس طرح ایک عام شہری کا یہ اعتراض بے وزن ہے کہ اسے فوجی چھاؤنی کے اندر داخلے کی اجازت کیوں نہیں، اسی طرح غیر مسلموں کا یہ اعتراض بھی غیر منطقی اور بے معنی ہوگا کہ انہیں جزیرۂ عرب میں سکونت کی اجازت کیوں نہیں۔ اس علاقے میں صرف انہی لوگوں کو رہنے کی اجازت ہے جو اسلام کے سپاہی یعنی مسلمان ہیں۔

جزیرۂ عرب میں غیر مسلموں کو مستقل سکونت کی اجازت نہ ہونے کے معاملے کو اس پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے ملک میں جانا چاہتا ہے تو اس ملک کے ویزا کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین اور ضابطے ہوتے ہیں جن کی ویزا لگوانے والے کو پابندی کرنی پڑتی ہے۔ ورنہ ویزا جاری نہیں کیا جاتا۔ جو ممالک ویزا کے اجرا میں انتہائی احتیاط اور چھان پھٹک کا مظاہرہ کرتے ہیں ان میں امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک شامل ہیں۔ جب تک کوئی مسافر اس ملک کے تمام قوانین اور ضابطوں پر عمل درآمد کے اقرار نامے پر دستخط نہیں کرتا، اسے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح جزیرۂ عرب میں مستقل داخلے کے ویزا کی اولین شرط یہ ہے کہ وہ آدمی کلمہ گو یعنی کم از کم زبان سے اس بات کا اقرار کرتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

جزیرہ عرب پر نازل آفت

یہ الفاظ کاغذ پر نہیں، دل کے زخموں سے ٹپک رہے ہیں۔ قلم اٹھاتے ہوئے ہاتھ لرز رہا ہے اور روح کرب کی آگ میں جل رہی ہے کہ جس سرزمین کے بارے میں خاتم النبیین ﷺ کی آخری وصیت یہ تھی کہ اسے یہود و نصاری کی آلودگی سے پاک رکھا جائے، آج وہی مقدس خطہ اغیار کے قدموں تلے روندے جانے کے قریب ہے۔ اس وقت جزیرہ عرب کے چاروں طرف (یعنی تقریباً‌ تمام خلیجی ممالک میں) یہود و نصاریٰ نے اپنے فوجی اڈے بنائے ہوئے ہیں۔ امت مسلمہ کے عدم اتفاق و اتحاد، مسلم حکمرانوں کی غفلت، بے تدبیری، عاقبت نااندیشی اور دنیا کی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جزیرہ عرب پر ایسی آفت آن پڑی ہے کہ اس کا احساس ہی نہیں، زمین کا یہ اہم خطہ جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کرہ ارض کے قلب میں واقع ہے۔ دنیا کے اہم بحری راستے اس کے گرد واقع ہیں۔ اس پر جو قابض وہ ساری دنیا کے سمندری حمل و نقل کے اہم ترین ذرائع پر قابض سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت اس جزیرے نما پر امریکی فوجوں نے ایسی یلغار کر رکھی ہے۔ جیسی اس سے پہلے تاریخ میں کسی نے نہیں کی۔

اس مقدس سر زمین پر وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس کے سمندروں کو اپنے بحری بیڑوں سے آلودہ کر رہے ہیں۔ اس کی فضاؤں میں پوری آزادی سے منڈلا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی اور مصیبت نہیں جو اس امت کو پیش آئی ہو۔ وہ یہودی اور عیسائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کے زمانے میں یہاں سے جلاوطن کر دیے گئے تھے آج یہاں پر حاکمانہ قبضہ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہماری شامت اعمال اور بدقسمتی ہے کہ دنیا کی اس شہ رگ کے مالک ہونے کے باوجود اس پر خود مختار تسلط برقرار رکھنے اور اسے مسلمانان عالم کی فلاح و ترقی کے لیے استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ اس میں غیروں کی مکاری و عیاری سے بڑھ کر اپنوں کی دین سے دوری، دنیا سے محبت، بے تدبیری، ناعاقبت اندیشی اور جنت کی نعمتوں سے دل لگانے کے بجائے دنیا کی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کا دخل ہے۔ بلکہ میں اس سے بڑھ کر کہتا ہوں کہ ہمارے مسلمان حکمرانوں کے دل زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی ساری صلاحیتیں اور منصوبے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے طاقتیں اپنے مسلمان بھائی کا گلا دبانے کے لیے وقف ہے۔ مگر مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اب بھی وقت ہے جو ہوا اس سے توبہ کر لیں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کریں۔

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار

مولانا عبد المتین

انسان اپنی محدود عقل، ناقص فہم اور مختصر تجربہ اور مشاہدے کے ساتھ زندگی کے پیچیدہ راستوں میں قدم رکھتا ہے۔ کبھی اسے کسی فیصلے میں خیر نظر آتی ہے مگر انجام نقصان دہ نکلتا ہے، اور کبھی کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اسی میں بھلائی پوشیدہ تھی۔ انسان کا علم محدود جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل ہے، وہ ماضی، حال اور مستقبل کا جاننے والا، ظاہر و باطن کا واقف اور خیر و شر کے تمام پہلوؤں سے باخبر ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے:

وعسیٰ ان تکرہوا شیئا وہو خیر لکم وعسیٰ ان تحبوا شیئا وہو شر لکم واللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورۃ البقرۃ: 216)
"ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں نقصان دہ ہو، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"

یہ آیت انسان کی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ کو واضح کرتی ہے۔ اسی لیے شریعت نے بڑے فیصلوں میں دو عظیم سنتیں عطا فرمائیں: استشارہ (مشورہ) اور استخارہ (اللہ سے خیر طلب کرنا)۔ ایک کا تعلق اسبابِ ظاہری اور زمینی دنیا سے ہے اور دوسرے کا تعلق رب کریم کی بارگاہ اور آسمانی دنیا سے ہے۔

استشارہ

"استشارہ" کا مطلب ہے اہلِ علم، اہلِ تجربہ اور مخلص لوگوں سے مشورہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وامرہم شوری بینہم (سورۃ الشوریٰ: 38)
"اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔"

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو بھی حکم دیا گیا:

وشاورہم فی الامر (سورۃ آل عمران: 159)
"اور معاملات میں ان (صحابہ) سے مشورہ کیجیے۔"

حالانکہ آپ ﷺ وحی کے سائے میں تھے، اس کے باوجود مشورہ فرماتے تھے تاکہ امت کو تعلیم ملے کہ اجتماعی اور اہم معاملات میں رائے لینا کوئی عیب کی بات نہیں ہے بلکہ ہماری انفرادی اور معاشرتی ضرورت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں مشورے کی اہمیت

نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی مشورے کے عملی نمونوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثلاً‌ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ علیہ السلام کا حضرت ام سلمہؓ سے مشورہ لینا۔ چنانچہ سن 6 ہجری میں جب مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو کفارِ مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ طویل گفت و شنید کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے مطابق مسلمانوں کو اسی سال واپس جانا تھا۔ صحابۂ کرامؓ جذباتی کیفیت میں تھے، وہ عمرہ کی امید سے آئے تھے، اس لیے واپسی ان پر گراں گزر رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ احرام کھول دیں اور قربانی کر لیں، مگر غم اور اور جذبات کی کیفیت سے صحابہؓ خاموش رہے، نبی کریم ﷺ اپنے خیمے میں تشریف لائے اور اپنی زوجۂ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ سے اس حوالے سے مشورہ فرمایا کہ کیا کیا جائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: "یا رسول اللہ! آپ خود باہر جا کر قربانی فرما دیں اور سر منڈوا لیں، صحابہؓ آپ کو دیکھ کر خود آپ کی اتباع کر لیں گے۔" رسول اللہ ﷺ نے اسی مشورے پر عمل فرمایا اور دیکھتے ہی دیکھتے صحابہؓ نے بھی یہی عمل دہرایا جس سے فوری طور پر معاملہ آسان ہوگیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الشروط)

اس واقعے سے معلوم ہوا کہ

کن لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے؟

ہر شخص مشورے کے قابل نہیں ہوتا۔ شریعت نے مشاورت کے کچھ اصول سمجھائے ہیں:

اہلِ علم و تجربہ سے مشورہ کرنا

یعنی جس شعبے کا مسئلہ ہو، اسی کے ماہر سے مشورہ کیا جائے مثلاً‌:

دورِ حاضر کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ہر شعبے میں مشورہ دینے لگتا ہے۔ جب انجینیئر شریعت سمجھائے، عالم کاروبار کے گر بتائے، ڈاکٹر فنکار اور یوٹیوبر بن جائے، تو یہ سب مشورے کے اہل نہیں ہیں بلکہ انسانی نظام زندگی کو ہی متاثر کر دیتے ہیں۔

مشورہ دینے والے کا امانت دار اور خیرخواہ ہونا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

المستشار مؤتمن (جامع الترمذی، حدیث: 2822)
"جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔"

یعنی مشورہ دینے والے پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: خلوص اور ہمدردی کے ساتھ درست مشورہ دینا، اور مشورہ کو راز رکھنا۔ اگر کوئی شخص رشتے، کاروبار یا کسی بھی حساس معاملہ کے بارے میں پوچھے تو حقیقت چھپانا درست نہیں، جو علم میں ہے بتانا چاہیے، جو علم میں نہیں ہے تب بھی واضح کر دینا چاہیے، ٹال مٹول سے کام لینا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ علماء یہاں تک بتاتے ہیں کہ مشورے کے دوران غیبت کرنا بھی جائز ہے، مثلاً‌ کوئی کسی سے کاروبار یا رشتہ کرنا چاہ رہا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ فراڈ ہے یا شرابی ہے تو اس بات کو مشورے میں رازدار انداز سے بیان کر دینا غیبت نہیں ہے بلکہ خیر خواہی ہے، اور اس بات کو دوستی یاری یا بلا وجہ اچھا بننے کے چکر میں چھپا دینا خیانت ہے کیونکہ مشورہ امانت ہے اور امانت میں رازداری اور دیانت داری دونوں کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مشورہ حکم ہوتا ہے؟

نہیں، مشورہ حکم نہیں ہوتا بلکہ مشورہ مشورہ ہی ہوتا ہے، جس پر عمل کرنا نہ کرنا مشورہ لینے والے کی اپنی مرضی ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کی بات لازمی مان لے، کیونکہ آپ نے فقط خیر خواہی میں مشورہ دیا ہے اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، آپ نے جج بن کر آرڈر نہیں دیا کہ آپ کا حکم ہر حال میں نافذ کیا جائے۔

حضرت بریرہؓ کا استفسار اور حضورؐ کا حکیمانہ ردعمل

حضرت بریرہؓ کے شوہر مغیثؓ اپنی اہلیہ سے شدید محبت کرتے تھے مگر بریرہؓ ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہؓ سے فرمایا: "اگر تم اپنے شوہر کے پاس واپس چلی جاؤ تو بہتر ہے۔" حضرت بریرہؓ نے عرض کیا: "اتامرنی یا رسول اللہ؟" "یا رسول اللہ! کیا یہ حکم ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "انما انا شافع" "نہیں، میں تو صرف سفارش/مشورہ دے رہا ہوں۔" اس پر حضرت بریرہؓ نے عرض کیا: "لا حاجۃ لی فیہ" "پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔" (صحیح البخاری) نبی کریم ﷺ یہ جواب سن کر ناراض نہیں ہوئے، کیونکہ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ یہ بالغ لڑکی ہے اور بالغ لڑکی کس کے ساتھ رہنا پسند کرے، نہ کرے، یہ اس کی اپنی زندگی اور مرضی کا فیصلہ ہوا کرتا ہے، اس پر کوئی بھی شخص یہاں تک کہ اس کے والدین بھی زبردستی نہیں کر سکتے۔

یہاں سے معلوم ہوا:

مشورہ کی اہلیت جانچنے کا عجیب تجربہ

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی مجلس میں سب سے مشورہ لیا جائے اور آخر میں پتہ چلے کہ سب کی ایک ہی رائے ہے تو مفتی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے دو مطلب نکل سکتے ہیں:

  1. ایک تو یہ کہ مجلس میں موجود تمام افراد نااہل اور نالائق ہیں، ان میں رائے دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔
  2. دوسرا یہ کہ اگر وہ اہلیت رکھتے ہیں تو پھر سب کے سب خائن ہیں اور خیانت کر رہے ہیں اور کسی کے جبر، خوف، بزدلی یا ڈر کی وجہ سے اپنی رائے پیش نہیں کر رہے۔ (مجالس مفتی اعظمؒ)

اسی لیے فرمایا کہ مشورہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے اس کے لیے بہت سی صفات کا حامل ہونا ضروری ہے جن میں بہادری، اہلیت و قابلیت، تجربہ کاری، خیر خواہی، امانت داری، صاف گوئی اور رازداری جیسی اہم صفات شامل ہیں۔

استخارہ

"استخارہ" عربی لفظ    "خیر" سے نکلا ہے جس کا آسان مطلب ہے: "اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنا"۔ استخارہ میں انسان اپنے علم، طاقت، اختیار اور تدبیر کی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے کہ "اے اللہ! میرے لیے جو بہتر ہو وہی مقدر فرما۔" کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرے لیے دین دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بہتر کیا ہے، میرا علم، تجربہ، طاقت، اختیار، سوچ سب محدود ہیں، یہ سب مجھے حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے، اسی لیے میں اپنی محتاجی کا اظہار زمین والوں سے مشورہ کر کے اور آسمان والے سے استخارہ کی صورت میں کر رہا ہوں۔

استخارہ کی اہمیت

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں:

کان رسول اللہ ﷺ یعلمنا الاستخارۃ فی الامور کلہا کما یعلمنا السورۃ من القرآن (صحیح البخاری، حدیث: 1166)
"رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔"

استخارہ کا مسنون طریقہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اذا ہم احدکم بالامر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ (صحیح البخاری)
"جب تم میں سے کوئی کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نماز (نفل) پڑھے۔"

پھر یہ دعا پڑھے:

اللہم انی استخیرک بعلمک، واستقدرک بقدرتک، واسالک من فضلک العظیم، فانک تقدر ولا اقدر، وتعلم ولا اعلم، وانت علام الغیوب، اللہم ان کنت تعلم ان ہذا الامر (یہاں اپنے کام کا نام لے) خیر لی فی دینی، ومعاشی، وعاقبۃ امری او قال: عاجل امری وآجلہ فاقدرہ لی، ویسرہ لی، ثم بارک لی فیہ، وان کنت تعلم ان ہذا الامر شر لی فی دینی، ومعاشی، وعاقبۃ امری او قال: عاجل امری وآجلہ فاصرفہ عنی، واصرفنی عنہ، واقدر لی الخیر حیث کان، ثم ارضنی بہ۔ (صحیح بخاری)
"اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے طاقت چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اپنے کام کا نام لے) میرے دین، میری دنیا (معاش)، اور میرے انجام کے اعتبار سے — یا فرمایا: میرے موجودہ اور آئندہ معاملے کے لحاظ سے — میرے لیے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر فرما، اسے میرے لیے آسان فرما، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری دنیا (معاش)، اور میرے انجام کے اعتبار سے — یا فرمایا: میرے موجودہ اور آئندہ معاملے کے لحاظ سے — میرے لیے برا ہے، تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔"

دو رکعت نفل نماز (سوائے مکروہ اوقات کے) پڑھ کر سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا مانگی جائے۔ جس کام کے لیے استخارہ کرنا ہو، دعا میں "ہذا الامر" کے مقام پر اس کام یا شخص کا نام لے یا تصور کرے۔

استخارہ کا مقصد اور نتیجہ

استخارہ کوئی جادوئی یا عملیات قسم کا عمل نہیں ہے بلکہ استخارہ میں تو انسان اپنی عاجزی کا اعتراف کرتا ہے، اللہ کے علم پر اعتماد کرتا ہے، اللہ سے خیر مانگتا ہے، شر سے حفاظت طلب کرتا ہے اور بس دعا مانگتا ہے۔

کیا استخارہ کے بعد خواب یا نشانی آنا ضروری ہے؟ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کیونکہ استخارہ کے لیے خواب آنا شرط نہیں بلکہ معاملات کا آسان ہو جانا، دل کا مطمئن ہو جانا، اللہ کی طرف سے رہنمائی کا مل جانا، غلطیوں اور دھوکہ سے محفوظ رہنا، حالات و واقعات کا شعور پیدا ہونا، صحیح غلط کی صلاحیت اور پہچان کا پیدا ہونا، اور پھر اسباب کا انتظام ہو جانا وغیرہ، یہ استخارہ کا مقصد ہے۔ استخارہ ایک دعا ہے اور دعا مانگ کر خواب کا انتظار کرنا اور لال کالے پیلے رنگوں کا انتظار کرنا، یہ سب فریب ہے۔

اگر ایک مرتبہ استخارہ کرنے سے اطمینان نہ ہو تو دوبارہ بھی استخارہ کیا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات مرتبہ تک کیا جا سکتا ہے اور اس طرح ایک دن میں ایک سے زائد مرتبہ بھی ہو سکتا ہے اور الگ الگ دنوں میں بھی ہو سکتا ہے۔

دوسروں سے استخارہ نکلوانے کی رسم

استخارہ ایک دعا ہے اور دعا اپنے لیے جو خود کی جا سکتی ہے وہ کوئی دوسرا آپ کے لیے نہیں کر سکتا۔ جو آہ، تڑپ، دلسوزی، خشوع، گریہ اور درد ہم خود کر سکتے ہیں، کوئی اور ہمارے لیے ایسا جذبہ نہیں بنا سکتا۔ بقول اقبالؒ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی
پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

خاص طور پر جو لوگ پیسے لے کر استخارہ نکلوانے کا دھندا کرتے ہیں، ایسے لوگ جو خود بھی دین فروش ہیں اور ان کا شکار عموماً‌ دین سے نابلد اور جاہل عوام ہوتی ہے اور پھر بعد میں پورے مذہبی طبقے کو ان حرکتوں کے طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

استخارہ کی مختصر سی دعا

بعض اوقات ضرورت اور ایمرجنسی کے موقع پر یہ مختصر سی دعا بھی استخارہ کے لیے لیٹے بیٹھے چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

اللہم خِر لی واختر لی۔ (سنن الترمذى)
"اے اللہ! میرے لیے خیر کا فیصلہ فرما اور میرے لیے بہترین انتخاب کر دے۔"

استخارہ اور استشارہ کا باہمی تعلق

بعض لوگ صرف استخارہ کرتے ہیں مگر مشورہ نہیں لیتے، اور بعض صرف لوگوں سے پوچھتے ہیں مگر اللہ سے رجوع نہیں کرتے جبکہ سنت یہ ہے کہ: پہلے استشارہ، پھر استخارہ، پھر توکل علی اللہ، پھر بیڑا پار ان شاء اللہ۔ اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ جو لوگ ان دو اعمال کے بعد کوئی نیا قدم اٹھاتے ہیں تو وہ کبھی بھی پچھتاوے، دھوکے اور شرمندگی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اللہ ان کی ضرور مدد کرتا ہے، اور یہ اعمال کر کے آپ اپنی کھلی آنکھوں سے تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔

خلاصہ اس طرح ہے کہ اہل لوگوں سے مشورہ کرنا، اللہ سے خیر طلب کرنا، پھر اعتماد کے ساتھ قدم اٹھانا۔ زندگی کے راستے ہمیشہ واضح نہیں ہوتے۔ کبھی رشتے، کبھی تعلیم، کبھی کاروبار، کبھی رہائش، کبھی ملازمت اور کبھی زندگی کے بڑے فیصلے انسان کو شک اور تذبذب میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی عقل پر غرور نہ کرے بلکہ اہلِ خیر سے مشورہ لے، اللہ سے استخارہ کرے اور بالآخر نتائج اللہ کے سپرد کر دے، کیونکہ "واللہ یعلم وانتم لا تعلمون" "اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔" اور پھر اللہ تمہیں کبھی گرنے نہیں دے گا ان شاء اللہ۔

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے؟ کوئی شخص حق حکمرانی نہ رکھتا ہو اور وہ حکومت پر قابض ہو جائے، یا حکمران بننے کے بعد کوئی شخص لازمی صفاتِ اہلیت میں کوئی صفت عارضی یا مستقل طور پر کھو بیٹھا، تو اس کے تسلط کی کیا حیثیت ہے اور مسلمانوں کو اسے ہٹانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ کیا اس مقصد کے لیے مسلح جدوجہد کی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کن شرائط کے تحت؟ اور اگر نہیں تو پھر اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر متعلقہ قانونی سوالات پر مسلمانوں کے ہاں ہر دور میں آرا کا تنوع رہا ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مستشرقین نے اس معاملے میں یک رخا پن اختیار کیا ہے؟ کیا اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ مابعد استعمار دور کے کئی نامی گرامی مسلمان اہلِ علم نے مستشرقین کے اس یک رخے پن کو خود بھی قبول کر لیا ہے؟ ہاں، کچھ ایسے بھی اہلِ علم ہیں جنھوں نے اسے قبول نہیں کیا لیکن ان میں کئی ایسے ہیں جو ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو کر دوسری انتہا پر چلے گئے۔

ہم پہلے مستشرقین کے عمومی نظریے کے بنیادی نکات واضح کریں گے۔ اس کے بعد دکھائیں گے کہ اس نظریے میں بعض دیگر مصنفین نے جزوی ترمیم کیسے کی؟ پھر ہم دکھائیں گے کہ اس ضمن میں مسلمان اہلِ علم کا عمومی رویہ کیا رہا ہے؟

ہملٹن گِب (م1971ء) کا نظریہ

گِب کا کام بعد کے مستشرقین اور مسلمان اہلِ علم کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔ یہ نظریہ چند نکات کی صورت میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے:

  1. ابتدا میں مسلمانوں نے حکمران (امام) کے لیے بہت کڑی شرائط رکھیں اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کا ایک ہی امام ہونا چاہیے جسے فاسق ہو جانے کی صورت میں مسلمان معزول کر سکتے ہیں۔
  2. بعد میں جب خوارج نے مسلسل کئی بغاوتیں کیں تو ان کے اثرات کو دیکھ کر فقہاء اس پر مجبور ہوگئے کہ حکمران کی معزولی کے حق کی نفی کریں۔
  3. پانچویں صدی ہجری تک، جب ایک طرف آلِ بُوَیہ اور دوسری طرف فاطمیین نے غلبہ پا لیا تھا، ابو الحسن الماوردی (م450ھ) نے عباسی خلافت کے تحفظ کے لیے یہ نظریہ اختیار کیا کہ متغلب سلاطین کا اقتدار اس شرط پر جائز ہوگا کہ وہ بغداد کے خلیفہ کی اطاعت کا اصولی اقرار کریں اور وہاں سے سند حاصل کریں۔ یوں ماوردی نے عام مسلمانوں کے لیے ان متغلبین کی اطاعت کو ایک قانونی اور اخلاقی فریضہ بنا دیا۔
  4. ابو حامد الغزالی (م505ھ) کے وقت تک بغداد پر بھی سلجوق سلاطین کا غلبہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ غزالی کو سلاجقہ کے دنیوی اور خلیفہ کے مذہبی اقتدار کے درمیان تطبیق کا مسئلہ درپیش ہوا۔
  5. ابن جماعہ (م733ھ) کے وقت تک عباسی خلافت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور خود ابن جماعہ نے مملوک حکمرانوں کے تحت قاضی کے طور پر کام کیا۔ چنانچہ ابن جماعہ نے حکمرانی کے حق کو غلبہ اور شوکت کے ساتھ مشروط کیا اور قرار دیا کہ جس شخص کے پاس شوکت ہو اس کی حکمرانی جائز ہے۔ بہ الفاظِ دیگر انھوں نے اقتدار پر قبضے کو ہی قانونی جواز کے طور پر تسلیم کیا۔

گِب کا کہنا ہے کہ بعد کے فقہاء نے بالعموم ابن جماعہ کے موقف کو ہی اختیار کیا ہے۔

گِب کے نظریے کی تفصیل کے لیے اس کا مضمون بعنوان "Constitutional Organization" دیکھیے جو مجید خدوری اور ہربرٹ لیبزنے کی مدون کردہ کتاب Origin and Development of Islamic Law (1955) میں شامل ہے۔

بعض مغربی سکالرز اور مسلمان اہلِ علم نے گِب کے نظریے کو بنیادی طور پر قبول کرنے کے بعد اس میں بعض جزوی ترامیم بھی کی ہیں۔

مثال کے طور پر حنہ میخائل نے اپنی کتاب Politics and Revelation: Mawardi and After میں، جس کا عربی ترجمہ بھی الماوردی و مابعدہ کے عنوان سے دستیاب ہے، گِب کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فقہاء خاموش اطاعت (quietism) کی تبلیغ کرنے اور غاصب و ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کا درس دینے لگے۔ تاہم وہ بتاتے ہیں کہ ابوحیان الاندلسی (م754ھ) نے ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی بات کی۔ میخائل اسے ایک استثنا کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے "صدا بہ صحرا" (a voice in the wilderness) قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر فضل الرحمان نے اپنے مضمون “The Law of Rebellion in Islam” میں قرار دیا کہ اگرچہ ابتدا میں کچھ "تحریکی رجحانات" (activist tendencies) پائی جاتی تھیں لیکن مرجئہ کے سکون آور عقیدے نے ان رجحانات کو ختم کر دیا اور فقہاء نے بالعموم ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کی۔ وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ اسلامی قانون میں "بغاوت کا قانون" سرے سے موجود ہی نہیں!

ایک اور مشہور اور اہم مغربی مصنف برنارڈ لوئیس اپنی کتاب The Political Language of Islam میں قرار دیتے ہیں کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں میں دونوں رجحانات — ظالم حکمران کی اطاعت اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا — رہے؛ تاہم بعد میں مسلمان اس کے قائل ہوگئے کہ حکمران کی اطاعت لازم ہے، خواہ وہ ظالم ہو یا عادل، اور آخر کار اطاعت ہی کا اصول رائج ہوگیا۔

اس نظریے میں کئی مسائل ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نظریے کے قائلین نے صرف ان فقہاء کو منتخب کیا ہے جو ان کے زعم کے مطابق یہ نظریہ رکھتے تھے اور دوسرے فقہاء کو، جو یہ نظریہ نہیں رکھتے تھے، یا تو سرے سے نظرانداز کیا ہے یا ان کے موقف کو استثنا قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ گِب نے جن فقہاء کو چنا وہ سارے کے سارے شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کا اموی اور عباسی خلفاء کے ساتھ کیا معاملہ رہا؟ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ تاہم ان کے موقف کو اس ساری بحث میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اگرچہ قانونی اور آئینی مسئلے پر ہو رہی ہے لیکن اس میں قانون اور آئین کے اصولوں کی توضیح کے لیے اصل مآخذ کی حیثیت رکھنے والی کتب، فقہ اور فقہِ اکبر، کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔

تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن فقہاء کی آرا کو اس نظریے کے لیے چنا گیا ہے، ان کی آرا لیتے وقت اس بنیادی قانونی فرق کو نظرانداز کیا گیا ہے جو قانونی اور آئینی مباحث میں بے حد اہمیت کا حامل ہے؛ اور وہ ہے امرِ واقعہ (de facto) اور امر قانونی (de jure) میں فرق۔ مثال کے طور پر امام غزالی اگر متغلب کے، یا اس شخص کے جو امامت کی شرائط پوری نہیں کرتا، حکم کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ اسے as a matter of fact مانتے ہیں یا as a matter of law؟

نوٹ: یہاں تک کی تحقیق بنیادی طور پر راقم کی اہلیہ ڈاکٹر سعدیہ تبسم صاحبہ کے پی ایچ ڈی مقالے "Legal Status and Consequences of Rebellion in Islamic and Modern International Law: A Comparative Study" سے ماخوذ ہے۔

(جاری)

fb.com/share/p/19qk1mvRGD

fb.com/share/p/1DVkNFkXoB

اسلام اور شخصی آزادی (۲)

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

انٹرویو : ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم:

اچھا، اس کے علاوہ عمار بھائی! ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جدید ریاستوں کے اندر جو قانون ہے اس کا ایک مقصد ہے، وہ یہ کہ وہ شہری آزادیوں کا تحفظ کرے گا۔ تو قانون بنیادی طور پر کسی مقدمے پر یا کسی بنیادی اصول پر مبنی ہوتا ہے، کسی مفروضے پر اس کا انحصار ہوتا ہے، تو وہ مفروضہ جو ہے وہ شخصی آزادیوں کا تحفظ ہے۔ اسی طرح قانون کے متوازی ایک چیز ہمارے معاشرے میں چلتی ہے جس کو ہم شریعت کہتے ہیں، مسلمان جتنا قانون کی اتباع کرتے ہیں ویسے ہی ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ شریعت کی اتباع کریں، چاہے وہ ریاستی پیمانے پر ہو یا نجی پیمانے پر ہو، لیکن شریعت کے نام سے ایک قانون موجود ہے، جس کو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایک قانون ہے، تو یہ جو شریعت ہے، یہ کس مفروضے پر قائم ہے اور اس کا کیا مقصد ہے بنیادی طور پر؟

عمار خان ناصر:

دیکھیں، شریعت کے جو بنیادی مقاصد ہیں وہ قانون سے مختلف نہیں ہیں۔ یعنی ہماری جو روایت ہے علمِ فقہ کی، اس میں شریعت کی، یا فقہ جو شریعت سے اخذ ہوتی ہے اس کی تعریف ہی یہ ہے کہ ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ انسان کو یہ بتا دیا جائے کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ان ذمہ داریوں اور حقوق کی وضاحت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی ایک تو اپنے واجبات ادا کرے، جو ظاہر ہے کسی دوسرے کے حقوق ہوں گے؛ اور اپنے جو حقوق ہیں ان کو جانے اور ان کا دعویٰ کر سکے؛ کوئی اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے۔ شریعت بھی بنیادی طور پر اسی مقصد کے لیے ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو جانیں اور اپنی ذمہ داریوں کو جانیں۔ جو ذمہ داریاں ان کی خدا سے متعلق ہیں، اپنے ساتھی انسانوں سے متعلق ہیں، بلکہ اردگرد کے ماحول کے جانداروں اور جو بے جان ماحول اور چیزیں ہیں ان سے متعلق بھی اس کی ذمہ داریاں ہیں، تو چونکہ وہ ایک ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، تو اس کو شریعت اخلاقی پیمانوں پر، اخلاقی اصولوں پر اور خدا کے حکم کی رو سے بیان کر دیتی ہے کہ یہ ہے جس کے اندر انسانوں کو رہنا ہے۔ اب ان حقوق کو آپ کسی معاشرے میں یا کسی معاشرتی سیٹ ایپ میں کیسے یقینی بنائیں؟ یہ اصل میں پھر انسانوں کی محنت، اجتہاد اور کاوش کا میدان ہے۔ خدا نے حقوق تو بتا دیے کہ یہ یہ فلاں کے حقوق ہیں، لیکن آپ نے معاشرے میں ان کے اوپر عمل کیسے کرنا ہے، اس کے لیے زمین کیسے ہموار کرنی ہے، جو رکاوٹیں ہیں ان کو کیسے دور کرنا ہے؟ آپ کو بہت سی اس کی ذیلی قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔ 

اس طرح قانون اگر شریعت کے ان بنیادی مقاصد اور ان حدود کو ملحوظ رکھے تو قانون اور شریعت کا آپس میں تضاد نہیں ہے، قانون اصل میں شریعت ہی کی تائید/تکمیل کرتا ہے اور اسی کے مقاصد کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ یعنی اسی شرط کے ساتھ کہ شریعت کے جو مقاصد ہیں انسانی معاشرے کے حوالے سے، ان کو ملحوظ رکھے اور انہی کو آگے بڑھانے کے لیے کوشش کرے۔

ذیشان ہاشم:

تو پوری گفتگو جو اب تک ہم نے کی، اس گفتگو کا نتیجہ اگر میں نکالوں، وہ یہ ہے کہ آپ نے بتایا کہ جو مذہب ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک تعلق موجود ہے، دوسرا یہ کہ اللہ نے انسان کو کچھ ذمہ داریاں دی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کی آزادی دی ہے جو کہ شخصی آزادی ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ حساب لیں گے۔ آپ نے یہ بتایا کہ ریاست کی ذمہ داری جو ہے وہ بھی انہی ذمہ داریوں (سے متعلق ہے) یعنی اسلام ریاست کو کوئی علیحدہ سے اتھارٹی نہیں قبول کرتا بلکہ اس کو بھی سماجی بندوبست کے سپرد کر دیتا ہے۔ اسی طرح آپ نے شریعت کی بھی ذمہ داری بتائی جو کہ ویسی ہی ہے جیسا کہ جدید ریاست میں قانون کی ہے کہ انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس پورے کے پورے مقدمے/دعوے کو اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو مجھے کہیں بھی کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی کہ جو لبرل ازم سے متصادم ہو۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

عمار خان ناصر:

یہ تو اصل میں لبرل ازم کو دیکھنا ہو گا کہ اس کے مفروضات کیا ہیں اور وہ خدا اور بندے کے تعلق کو کیسے دیکھتا ہے؟ اگر لبرل ازم اس تعلق کو مانتا ہے کہ ہاں انسان خدا کو بھی جواب دہ ہے اور خدا کی طرف سے بھی انسان کو کچھ حدود، ضابطے، کچھ پابندیاں اور حقوق بتائے گئے ہیں جن کا انسان مکلف ہے، اور اس کے تحت جب سوسائٹی کو ہم آرگنائز کریں گے اور اس میں ذمہ داریوں کی تقسیم کریں گے تو ریاست کا کردار اس میں محدود ہو گا۔  اگر لبرل ازم یہی ہے تو پھر میرا خیال ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ 

اصل میں ہمارا ہاں انڈرسٹینڈنگ یہ ہے — وہ ہے یا نہیں، آپ بتا سکتے ہیں — کہ لبرل ازم انسان کو ہر چیز سے آزاد سمجھتا ہے جس میں اس کے لیے خدا کا حکم بھی کوئی معنی نہیں رکھتا، جس میں اس کے لیے سوسائٹی کی جو مسلّمہ اخلاقیات ہیں وہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ تو ظاہر ہے لبرل ازم کا یہ جو تصور ہے، جو شریعت کو کوئی وزن نہیں دیتا، یا معاشرتی اخلاقیات اور معاشرتی اساسیتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، تو وہاں پر تو ضرور سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔  لیکن اگر یہ انڈرسٹینڈنگ ہے جو آپ نے بیان کی ہے، یعنی ریاست کے اختیار کی تحدید کرنا، اس کو معاشرے کے سامنے جوابدہ قرار دینا، اور اصل میں اس کی طاقت یا اتھارٹی کو معاشرے ہی سے ماخوذ سمجھنا، اگر لبرل ازم صرف یہ ہے تو میرے خیال میں یہ بالکل ٹھیک بات ہے، اس پر اسلام کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔

ذیشان ہاشم: 

دیکھیں، اس سلسلہ میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ جو کلاسیکل لبرل ازم ہے، وہ جو بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہے وہ اسی سے ہی اخذ کردہ ہے کہ خدا نے انسان کو مکمل آزادیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، تو یہاں کلاسیکل لبرل ازم تو آزادیوں کو خدا سے منسوب کرتا ہے۔ لیکن جب وہ آگے بڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرا دائرہ کار سیاسی، سماجی اور معیشت تک محدود ہے۔ اور اس دائرہ کار کے اندر میں اس مقدمے کو مانتا ہوں کہ ایک شخص چاہے وہ جس مذہب سے بھی ہے اور جن اخلاقی اصولوں پر عمل کر رہا ہے وہاں وہ اس کا شخصی دائرہ کار ہے، وہ خود کو جوابدہ سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا، وہ اس کا شخصی دائرہ کار ہے؛ لیکن سیاست، معیشت اور سماج کے اندر اس کی شخصی آزادیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائے گا اور نہ وہ کسی کی شخصی آزادیوں پر قید لگائے گا۔ تو وہ اپنا جو بنیادی مقدمہ ہے وہ خدا سے اخذ کرنے کے بعد سیاست، سماج اور معیشت تک محدود کر لیتا ہے، اور جوابدہی کی کوئی حتمی بات کرنے سے وہ انکاری ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا دائرہ کار نہیں ہے۔ 

عمار خان ناصر: 

یہاں پھر مسئلہ پیدا ہو گا کیونکہ جو شریعت ہے وہ تو اپنے ہر ماننے والے کو — شریعت کا مخاطب ہی اس کا ماننے والا ہے، جو اس کو مانتا نہیں وہ اس کا مخاطب ہی نہیں — تو وہ اپنے ماننے والوں کو مختلف حیثیتوں میں اور مختلف حالات میں الگ ذمہ داریوں کا (مکلف ٹھہراتی ہے)۔ اگر کوئی مسلمان کہیں ایک فرد کی حیثیت سے ہے تو اس دائرے میں اس کو مخاطب بنائے گی، اگر مسلمانوں کی کہیں کمیونٹی ہے تو اس کی ذمہ داریوں کی نوعیت اور ہو گی، اگر کہیں پر مسلمان ایک polity کی شکل میں ہیں تو پھر شریعت ان کو اجتماعی زندگی، سیاست اور معیشت سے متعلق کچھ ذمہ داریاں دے گی اور وہاں پر مسلمان پابند ہوں گے۔ یعنی اپنے اسی ایمان کی رو سے، اگر انہوں نے ایمان نہ قبول کیا ہوتا تو ٹھیک ہے جیسے اور دنیا کے دوسرے معاشرے ہیں جو اپنی انڈرسٹینڈنگ کے مطابق معاملات طے کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ ایمان لا چکے ہیں اور شریعت کی پابندی قبول کی ہے، وہ جب ایک سیاسی نظم کی شکل اختیار کریں گے تو وہاں پر پھر وہ پابند ہوں گے کہ وہ شریعت کی حدود میں ہی اپنے فیصلے کریں۔ تو یہاں پر پھر میرا خیال ہے کہ لبرل ازم میں اور شریعت میں ایک طرح کا تخالف پیدا ہو گا جس میں مسلمان شریعت کو ترجیح دیں گے۔  

ذیشان ہاشم:

مطلب یہ کہ جب انفرادی ذمہ داریوں تک بات آتی ہے تو پھر کوئی تصادم یا اختلاف نہیں آتا، لیکن جب اجتماعی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تو پھر اس میں اختلاف آ سکتا ہے (بعض بعض چیزوں میں۔ عمار ناصر)۔  بعض چیزوں میں۔ اچھا، ایک اسلامی معاشرے کے اندر مسلمان ایک اجتماعی نظم قائم کرتے ہیں — جیسے سیاسی نظم — تو اس نظم کے اندر جو سیاسی، سماجی یا معاشی حقوق ہوں گے، وہ مسلمان کے اور غیر مسلم کے مساوی ہوں گے یا ان میں فرق ہو گا؟ 

عمار خان ناصر: 

یہ بہت ہی اہم سوال ہے اور یہاں پر میں اپنی کوئی انڈرسٹینڈنگ بیان کرنے کی بجائے صرف یہ واضح کروں تو زیادہ بہتر ہو گا کہ کلاسیکل اسلام میں جو اسلامی سیاست کے بنیادی مفروضات تھے اور ان کے تحت جو ایک سسٹم بنایا گیا تھا، اور ماڈرن اسلام کی جو انڈرسٹینڈنگ ہے اور جن مفروضات پہ وہ بات کرتا ہے، اس میں کافی فرق ہے۔ جو کلاسیکل اسلام ہے اس میں غیر مسلموں کے لیے — جو کہ مسلمان معاشرے میں رہ رہے ہوں — ان کے مذہبی قوانین، جان و مال، پراپرٹی، اور ان کے جو مذہبی واجبات ہیں، ان کے تحفظ کی بات مانی گئی ہے بلکہ اس کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن چونکہ بنیادی طور پر جو مسلمان حکومتیں ہیں وہ سلطنت کے اصول پر قائم ہوئی تھیں اور فتوحات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھیں، وہ جدید یعنی جمہوری اصولوں پر قائم نہیں ہوئی تھیں، تو اس تناظر میں فاتح اور مفتوح کا جو ایک امتیاز اور فرق ہے وہ ہمیں کلاسیکل اسلامی قانون میں بھی بعینہ اسی طرح ملتا ہے کہ جس میں جو غیر مسلم آبادیاں ہیں وہ سیاسی لحاظ سے حکومت سازی میں اور فیصلہ سازی میں شریک نہیں ہیں۔ جبکہ معاشرتی جو حقوق ہیں ان میں فقہاء کے درمیان بہت سی چیزوں میں اختلاف ہے، بہت سے فقہاء ان کو جان کے تحفظ کے حق وغیرہ میں مسلمانوں کے برابر ٹھہراتے ہیں، کچھ دوسرے فقہاء ہیں جو کچھ فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔ 

یعنی کلاسیکل اسلام میں وہ شکل نہیں ہے جو آج کی جمہوری ریاستوں میں ہے۔ لیکن جیسے ہی دنیا میں تبدیلی آئی ہے ، سلطنتیں ختم ہوئی ہیں، جمہوریت کا اصول متعارف ہوا ہے، قومی ریاستوں کا تصور آیا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ — چونکہ میں خاص اس شعبے میں اسلامی فکر کا طالب علم ہوں — تو ہمارے اہلِ علم نے بڑی وسعت کے ساتھ اس کو محسوس کیا ہے کہ جو جمہوریت کا تصور ہے اور اس میں مساوی شہریت کا جو اصول ہے، اس کو اگر ہم قبول کریں تو یہ اسلام کے کسی بنیادی مطالبے کے یا اس کی بتائی ہوئی حدود کے خلاف نہیں ہو گا۔ تو یہ ایک بڑا غیر معمولی اجتہادی نقطۂ نظر ہمارے اہلِ علم نے اختیار کیا ہے۔ دوسرا انہوں نے جمہوریت کو بھی قبول کیا، اس میں غیر مسلموں کی جو مساوی شہریت ہے اس کو قبول کیا، ان کے بارے میں جو کچھ امتیازی قوانین قدیم سلطنتوں میں قائم کیے جاتے تھے تاکہ امتیاز رہے کہ ہم حاکم ہیں اور یہ محکوم ہیں، ہم مسلمان ہیں اور یہ غیر مسلم ہیں، تو جدید قومی ریاستوں بشمول پاکستان، ان میں علماء نے اس طرح کا کوئی اصرار نہیں کیا اور اس کو قبول کیا ہے۔ تو میرے خیال میں یہ دو ہمارے سامنے تصویریں ہونی چاہئیں جو تاریخی حالات کے فرق سے پیدا ہوئی ہیں۔ 

(جاری)

https://youtu.be/Dyezox5yAZ4

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)

Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

Every year on the seventh of September, "Yaum-e-Khatm-e-Nubuwwat" (Day of the Finality of Prophethood) is observed across the country. On this occasion, gatherings are held, processions are taken out, the historic decision of Parliament regarding Qadianis on 7 September 1974 is recalled, and while paying tribute to the leaders and segments who made that decision, the demands and requirements of the Khatm-e-Nubuwwat movement are reiterated.
When Mirza Ghulam Ahmad Qadiani, in the environment of British domination after the 1857 War of Independence, proclaimed prophethood, then:
  1. The very first task was that of the scholars of Islam, which they performed excellently — that is, the leading scholars of all schools of thought, under the leadership of Allama Syed Muhammad Anwar Shah Kashmiri (RA), Hazrat Pir Mehr Ali Shah Golravi (RA), Hazrat Maulana Sanaullah Amritsari (RA), and Maulana Mazhar Ali Azhar (RA), declared Mirza Ghulam Ahmad Qadiani and his followers outside the fold of Islam due to the claim of new prophethood and new revelation and other blasphemous beliefs, and declared them a new religion and community separate from the Muslim Ummah. And the entire Muslim Ummah agreed upon this decision of the scholars.
  2. In the second stage, from the side of those possessing modern thought, knowledge, and education, the Thinker of Pakistan, Allama Muhammad Iqbal (RA), announced the same position, declaring it the agreed-upon stance and belief of both the old and new classes, and demanded from the then British government that instead of counting Qadianis alongside Muslims, they should be given the status of a separate and non-Muslim community.
  3. The third stage was to determine the political and social status of Qadianis settled in Pakistan after the establishment of Pakistan. On this, the leading scholars of all schools of thought once again gathered, and Maulana Syed Abul Hasanat Qadri (RA), Amir e Shariat Syed Ataullah Shah Bukhari (RA), Maulana Syed Abul A'la Maududi (RA), Maulana Syed Muhammad Daud Ghaznavi (RA), Maulana Ahmad Ali Lahori (RA), Maulana Mufti Jafar Hussain (RA), and other leading scholars jointly demanded from the government that instead of counting Qadianis alongside Muslims in Pakistan, they should be given the status of a separate and non-Muslim minority in the constitution and law. On this, a countrywide movement was launched in 1953, thousands of people drank the cup of martyrdom, and thousands went to prisons — among whom, besides scholars and religious workers, the business community, the legal community, leaders of political parties, and other segments were also included. This gave the demand the status of a national demand and requirement. This movement continued continuously, and in 1974, Parliament, through unanimously passed constitutional amendments, included Qadianis in the list of non-Muslim minorities.
During this period, cases regarding this issue continued to come under discussion in courts at every level, and ultimately the Supreme Court of Pakistan also affixed its seal of confirmation on Qadianis being a non-Muslim minority. Apparently, this movement reached its logical conclusion, but Qadianis refused to accept this decision and:
  1. On the one hand, they boycotted every stage of implementation of this decision within the country — for example, they refused to count themselves as non-Muslims in the census, and besides this, they also boycotted the elections for the seats reserved for Qadianis in the national and provincial assemblies, which continues to this day, and there is a continuous obstruction in the implementation of these decisions of Parliament and the Supreme Court.
  2. While on the other hand, Qadianis turned to international institutions and, declaring the decisions and laws made regarding Qadianism in Pakistan to be a violation of international human rights agreements, beat the drum of their victimhood and deprivation. On this, many international forums and lobbies came out in their support, and this debate continues to this day in various international institutions and forums, and its scope is continually expanding.
Consequently, that scholarly, legal, and political struggle — which had been ongoing for a century within the region in public gatherings, elected institutions, courts, and forums, after this decision — became a subject of international institutions, international agreements, and intervention by external forces in Pakistan's internal affairs. Today's situation is that in scholarly debates, public gatherings, legal and constitutional institutions, and the political environment, on the front of scholars, religious and political parties, forums of the legal and business communities, and public opinion, this decision holds the status of an agreed-upon national position, and demands are being made for its implementation — but in international institutions and circles, there is no environment to confront the ongoing proceedings against this decision, due to which external pressure is continually increasing.
As a worker of the Khatm-e-Nubuwwat movement, my respectful request has been going out to all circles that leaving this front empty for Qadianis is not right. The decision to declare Qadianis a non-Muslim minority is a national decision, and defending it is our national duty. And we did do so on one occasion — that when this issue was presented in the Supreme Court of South Africa, the Government of Pakistan sent a delegation to it, which included leading scholars who presented Pakistan's position in the Supreme Court of South Africa, as a result of which the court's decision came in favor of Muslims. Besides this, I do not recall that any official delegation from Pakistan went to any international forum on this issue and took the trouble to present Pakistan's position.
Along with this, the law for the protection of the sanctity of Prophethood (PBUH) and the death penalty for the blasphemer of the Prophet (PBUH) is also under discussion in international institutions in the same way, and there is a continuous demand being made to the Government of Pakistan to abolish both these laws, and rather external pressure is increasing for this. In this background, I want to submit that regarding both these laws — the protection of Khatm-e-Nubuwwat and the protection of the sanctity of Prophethood — we should participate in the discussion taking place in international institutions in the same way as we appeared in the Supreme Court of South Africa and succeeded in clarifying our position and obtaining a correct decision. For this, there are four stages and circles in my mind that are worthy of attention from all of us:
  1. The first circle is that this issue is one of the consensus belief and position of the Muslim Ummah, therefore the representative body of Muslim governments, the "Organisation of Islamic Cooperation" (OIC), should come forward and pursue this case. If it is not prepared for this, then it is the responsibility of the "Rabita Alam-e-Islami" (Muslim World League), as it is a recognized international institution of Muslims and it was the first at the global level to announce Qadianis as a non-Muslim minority, therefore this case should be taken in hand by the "Rabita Alam-e-Islami." While besides this, there is also an international organization of Muslims under the title "Motamar Alam-e-Islami" (World Muslim Congress); if it also declares this case as its own case, then it can do so.
  2. In the second stage, since both the laws concerning Qadianism and the sanctity of Prophethood (PBUH) are enforced in Pakistan and it is on their basis that the campaign is run, therefore the Government of Pakistan should itself become a party in these cases. In the era when respected Sahibzada Noor-ul-Haq Qadri was Federal Minister for Religious Affairs, we appeared before him with a delegation of the Pakistan Shariat Council and formally requested that, regarding Khatm-e-Nubuwwat and the sanctity of Prophethood, in the discussions and disputes taking place in international institutions, Pakistan is discussed as a state, therefore the Government of Pakistan should come forward in defense of its country and constitution, and a permanent department of the Federal Ministry of Religious Affairs should be established which, with the assistance of leading scholars and legal experts, defends the country in these cases.
  3. In the third stage, it is the responsibility of the religious parties working under the title of protection of Khatm-e-Nubuwwat and protection of the sanctity of Prophethood that if no one else is serious about participating in these cases, then they should, by forming some organization of their own, individually or jointly, pursue Qadiani activities in international institutions and forums regarding both these laws; and arrange to present their position themselves in these institutions.
  4. While in the fourth stage, Pakistanis residing in Western countries, especially America and Europe, should form NGOs within the scope of the environment and facilities there. If NGOs of Western countries can work in our countries, why can't our NGOs work there? Therefore, Muslims living there, especially Pakistanis, should, in an organized manner, arrange for the defense and protection of their belief regarding the protection of Khatm-e-Nubuwwat and the protection of the sanctity of Prophethood and other religious matters — this would be the greatest requirement of the time and a religious and national service. May Allah Almighty grant us the ability to do so, Ameen Ya Rabb-ul-Alameen.
https://zahidrashdi.org/5897

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق

مولانا صدیق احمد فاروق

کسی مفکر کی شخصیت اور اس کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے عمومی رجحان یہ دیکھا گیا ہے کہ روایت کے ساتھ اس کے رد و قبول کا رویہ جانچا جاتا ہے۔ اس کے فکر کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ مفکر کے مجموعی فکری نظام کے ساتھ دیکھنے کی بجائے روایتی و غیر روایتی حیثیت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان علمی رویہ ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے کی بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے مفکر کی شخصیت و فکر اور خدمات کا درست تجزیہ ممکن ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیوں کہ جزوی مظاہر کے توسط سے شخصیت اور فکر کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا داخلی ربط، فکری پس منظر اور مجموعی نظامِ فکر پسِ پشت چلا جاتا ہے اور اس کے فکر سے متعلق پیشگی ایک تصور قائم کر لینے سے بسا اوقات ایسے اہم پہلو بھی مخفی رہتے ہیں جو اس کے مجموعی فکری نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ نتیجتاً‌ مفکر کی حقیقی اور متوازن تصویر نہیں آ پاتی۔

مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کے فکر و نظریے پر نقد و جرح کے سلسلے میں سامنے آنے والے مواد میں اگر مکمل نہیں تو اسی عمومی رجحان کی ایک جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ مولانا سندھی ایک تو حضرت شیخ الہند کی درس گاہ سے فیض یاب تھے، جن کی اپنی سوچ عالم گیر تھی، اس پر مستزاد یہ کہ بر اعظم ہند و پاک کی آزادی کے لیے مولانا سندھی دنیا پھرے تھے۔ مختلف سیاسی نظاموں کا مطالعہ و مشاہدہ کیا تھا۔ یہی مطالعہ و مشاہدہ بجائے خود سوچ میں وسعت پیدا کرنے کا سبب ہے۔

مولانا نے اپنے ذوق و تحقیق کے مطابق بعض سیاسی و علمی مسائل سے متعلق غیر روایتی طرزِ فکر اپنایا، جس پر حسبِ روایت نقد و جرح کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سلسلے میں معارف اعظم گڑھ کے ستمبر ۱۹۴۴ء کے شمارے میں شائع ہونے والا "دل آزار نقد" بھی شامل ہے۔ لیکن مولانا کے افکار پر یہ نقد نہ مقدمہ تھا اور نہ آج مولانا کی وفات کے ۸۲ برس بعد ان کے نظریات پر ہونے والی تنقید تتمہ ہے۔ مسلم دنیا کے دیگر مفکرین کے افکار پر ہونے والے نقد کی طرح مولانا کے افکار پر بھی جرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کہ اسی اختلافی روایت سے فکر کے مخفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔

مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کے بعض سیاسی افکار و نظریات کے علاوہ املائی افاداتِ قرآن سے منظرِ عام پر آنے والے افکار پر سب سے زیادہ تنقید کی گئی۔ ممکن ہے جن عبارتوں سے ظاہر ہونے والے خیالات پر تنقید ہو رہی ہے ان میں کچھ مولانا کے اپنے خیالات بھی ہوں۔ مگر قرآنیات سے متعلق کسی بھی کتاب کو من کل الوجوہ مولانا کے خیالات کا ترجمان قرار دینا نہایت مشکل ہے۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم نے یہی حقیقت واضح الفاظ میں بیان کی ہے:

"قرآنیات کے دائرے میں مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کی تصنیفات و امالی میں یہ بات بہت اہم ہے اور اس کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ اس باب میں اردو، سندھی اور عربی میں جو کچھ ہے ان میں "خلاصۃ القرآن" کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں جو مولانا مرحوم نے اپنے قلم سے تالیف و تصنیف فرمائی ہو، یہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تفسیرِ قرآن میں ان کے افادات کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا، یہ تمام کوششیں بھی ایک درجے کی نہیں ہیں۔“1

مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مرحوم نے بھی یہی حقیقت لکھی ہے:

"بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جن کی نسبت ان کی طرف کرنے میں ان کے تلامذہ نے غلطی کی ہے، اس کی ذمہ داری حضرت مولانا پر نہیں، بلکہ ان کے ناقلین پر ہے جنھوں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے۔"2

زیر نظر مضمون میں مولانا کے افکار کا دفاع کرنا مقصود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کے تلامذہ اور معتقدین نے اس قدر کام کیا ہے کہ آج مولانا کے افکار پر لکھنے والے انہی مواد کو تڑکا لگا کر نئے قالب میں پیش کرتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآنیات سے متعلق ایک ایسے مقالے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے مولانا سندھی کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے مگر درحقیقت یہ مقالہ مولانا کا نہیں ہے بلکہ مولانا کے ایک شاگرد انیس احمد صاحب کا ہے۔ 

یہ مقالہ ہے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" جو الگ سے دارالکتاب اردو بازار لاہور سے کتابی صورت میں بھی ۷۱ صفحات میں چھپ چکا ہے اور مولانا کے اردو امالی تفسیری افادات تفسیر المقام المحمود جلد اول میں بھی شامل ہے جو ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہمارے سامنے دارالکتاب اردو بازار لاہور کا جو نسخہ ہے اس پر مولانا سعید الرحمٰن علوی کا ۱۲ صفحات پر مشتمل "حرفے چند" اور مخدوم مکرم پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کا "مولانا سندھی کا فہمِ قرآن" کے عنوان سے ۱۶ صفحات پر مشتمل مبسوط مقدمہ نما مضمون بھی شامل ہے۔ اس مضمون میں پروفیسر امجد علی شاکر صاحب لکھتے ہیں:

"امام سندھی نے ۱۹۱۴ء میں راولپنڈی میں آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس میں خطبہ صدارت پڑھا، جس کا موضوع فہم القرآن ہے۔ یہ خطبہ صدارت ’قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور اب سے سہ بارہ شائع ہو رہا ہے۔"3

مولانا سندھی نے "فہم القرآن" کے نام سے خطبہ صدارت پڑھا ہوگا لیکن وہ کوئی الگ خطبہ ہوگا۔ جس مقالہ کی تقدیم کے طور پر پروفیسر امجد علی شاکر صاحب نے مولانا سندھی کا فہمِ قرآن کے عنوان سے مضمون لکھا ہے اور جسے شاکر صاحب "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے" قرار دے رہیں، یہ انیس احمد صاحب مقالہ تعلیم قرآن ہے۔

یقیناً‌ مولانا سندھی کے علوم و افکار پر مذکورہ دونوں صاحبان حوالہ ہیں۔ لیکن ایک مقالہ جو غلطی یا غفلت سے مسلسل مولانا سندھی کے نام سے شائع ہو رہا ہے اس کا حقیقی رخ دونوں صاحبان سے مخفی رہا ہے۔ خود براعظم پاک و ہند کی تاریخ کے محقق اور مولانا سندھی مرحوم کے معتقد ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم کو بھی مغالطہ ہوا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

"میں اس اعتراف سے باز نہیں رہ سکتا کہ میرے ایک عزیز و مخلص نے فریب کھایا اور ایک مرحوم دوست اور کرم فرما کی عدمِ توجہ سے ایک فاسد خیال یا فریب ایک تاریخی فتنہ بن گیا۔ میں اپنے آپ کو بھی اس سے کیوں کر بری کر سکتا ہوں کہ گذشتہ ۱۶، ۱۷ سال سے یہ مولانا سندھی سے غلط منسوب رسالہ میرے پاس موجود تھا اور میں نے اس پر غور ہی نہ کیا کہ یہ رسالہ مولانا سندھی کا ہے بھی کہ نہیں؟"4

۱۹۱۳ء میں مولانا سندھی مرحوم کے نظارۃ المعارف القرآنیہ دہلی دور کے شاگرد انیس احمد نے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ آگرہ میں قرآن کریم سے متعلق ایک مقالہ پڑھا، جسے ۱۹۱۴ء میں "کلیدِ قرآن" کے نام سے شائع کیا گیا اور ۱۹۱۴ء میں آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ راول پنڈی میں انھوں نے قرآنی علوم ہی سے متعلق دوسرا مقالہ پیش کیا جسے ۱۹۱۵ء میں "تعلیمِ قرآن" کے نام سے شائع کیا گیا۔ کانفرنس کی جس نشست میں یہ مقالہ پیش کیا جا رہا تھا اس میں مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم موجود تھے، انیس احمد کا یہی مقالہ "تعلیمِ قرآن" ہے جسے مسلسل مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کے عنوان سے چھاپا جا رہا ہے۔

ہمارے سامنے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ ۲۷, ۲۸, ۲۹ دسمبر ۱۹۱۴ء راولپنڈی کی روداد پر مشتمل رپورٹ موجود ہے جو ۵۳۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس اجلاس کی چھٹی نشست میں انیس احمد نے "تعلیمِ قرآن" کے عنوان سے مقالہ پیش کیا، جو اسی رپورٹ میں شامل ہے۔5

یہی مقالہ ہے جو مولانا سندھی کے نام سے الگ کتابی شکل میں بھی چھپ چکا ہے اور مولانا کے تفسیری افادات "تفسیر المقام المحمود" میں بھی شامل ہے۔ انیس احمد کا یہی مقالہ مطبع انسٹیٹیوٹ علی گڑھ سے الگ کتابی صورت میں ۷۴ صفحات میں شائع ہوا ہے۔ ہم نے دار الکتاب سے شائع شدہ "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" اور مکی دارالکتب لاہور سے شائع شدہ تفسیر المقام المحمود میں شامل "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کو آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس کے روداد پر مشتمل رپورٹ میں شامل "تعلیمِ قرآن" کے ساتھ دیکھا تو دونوں میں فرق صرف عناوین کا تھا۔ اول الذکر میں عناوین موجود ہیں، جب کہ اصل مقالہ یعنی آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس کی رپورٹ میں شامل "تعلیمِ قرآن" عناوین کے بغیر اول تا آخر مکمل تحریر ہے۔ باقی مکمل مقالہ وہی ہے جو تعلیمِ قرآن کے نام سے انیس احمد نے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس میں پڑھا تھا اور جو مولانا سندھی کے نام سے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کے عنوان سے چھپ رہا ہے۔

اس تاریخی مقالے سے متعلق اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی اور انیس احمد کا مقالہ مسلسل مولانا سندھی کے نام سے کیسے شائع کیا جانے لگا؟ جس کا علم نہ مولانا سعید الرحمٰن علوی صاحب کو اور نہ پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کو ہوا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم کی توضیح سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی غلطی، جسے اگر قصدً‌ا کیا جائے تو علمی خیانت تصور کی جائے گی، غفلت اور تحقیقی پہلو نظر انداز کرنے سے ہوا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم لکھتے ہیں:

"یہ خطبہ تقریباً ۱۹۶۰ء میں مولانا نور الحق علوی کے ایک شاگرد مولوی عبدالرحمٰن کو ۲۵ سال پرانی ایک کاپی میں قلمی لکھا ہوا نظر آیا، حال آں کہ یہ خطبہ انیس احمد صاحب کا تھا، معاً یہ خیالِ فاسد بھی ان کے ذہن میں سما گیا کہ یہ خطبہ مولانا سندھی کا ہے، انھوں نے فورً‌ا اسے نقل کیا اور اس کی ایک نقل اپنے استاد گرامی مولانا نور الحق کی خدمت میں پیش کر دی اور دوسری تبرک بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لی۔ پھر انھیں خیال آیا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ اسے چھاپ کر اس کے فیضان کو عام کر دیا جائے۔ چنانچہ قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے کے عنوان سے اسے چھاپ کر شایع کر دیا گیا۔ اس پر مزید ۳۰ برس گزر گئے کہ اچانک محمد صادق کاشمیری مرحوم کے خلف محترم کو اچانک یہ خطبہ ہاتھ لگا۔ انھوں نے کسی وجہ سے اس کی اشاعت کو مفید جانا اور گرامی قدر مولانا سعید الرحمٰن علوی کے 'حرفے چند' کے ساتھ اسے شائع کر دیا۔"6

نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ مقالہ مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے شائع ہوتا آ رہا ہے۔ ہماری نظر سے ایسی کوئی تحریر نہیں گزری جس میں کسی صاحبِ علم نے اس کے مندرجات پر تنقید کی ہو۔ تاہم ایک سنجیدہ اور غور و فکر کرنے والا ذہن اس سوال پر ضرور متوجہ ہوگا کہ اگر ایک ایسا مقالہ، جس سے مولانا سندھی کا کوئی تعلق ہی نہیں، نصف صدی سے زائد عرصے تک مکمل طور پر انہی کی طرف منسوب ہو کر شائع ہوتا رہا ہے، تو یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مولانا کے نام سے منسوب دیگر افکار و نظریات میں بھی کچھ ایسے ہوں جن سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو اور ناقدین انہی منسوب کردہ افکار کو بنیاد بنا کر مولانا سندھی کے فکر پر نقد و جرح کرتے رہے ہوں۔

انیس احمد کی دونوں کتب کا ذکر ریشمی رومال سازش کیس کے استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۱۸ اور ۱۹ میں آیا ہے:

پیراگراف نمبر ۱۸: عبید اللہ نے قرآن کی جو خاص تشریح و تفسیر بنائی وہ جہاد کی فرضیت کے بارہ میں تھی، بتایا کہ اس موضوع پر عبید اللہ کی تعلیمات کو انیس احمد نے تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن نام کی دو کتابوں میں ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۵ء میں تعین و صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
پیراگراف نمبر ۱۹: ان دونوں کتابوں میں مختصراً ہندوستانی مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ ان کی موجودہ حالتِ محکومی کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایک بڑے مذہبی فریضہ جہاد کو نظر انداز کر دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شروع کے متبعین نے اس فریضہ پر عمل کر کے دنیاوی اقتدار اور مذہبی سر بلندی حاصل کی تھی۔ کم از کم ان میں سے ایک کتاب عبید اللہ کی ہدایت پر احمد علی کی مدد سے اس وقت لکھی گئی جب کہ انیس احمد اور احمد علی دونوں نظارہ سے تنخواہ پاتے تھے، ایک اہم بات یہ ہے کہ قانون کے مطابق ان کتابوں کے نسخے حکومت کو پیش کیے بغیر ہی ان کی تقسیم شروع کر دی گئی۔7

اس کے بعد استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۷۷ میں مطبوعات کے ذریعہ انقلابی پروپیگنڈا مہم چلانے اور اشتعال انگیز لٹریچر کے ذریعے ہندوستان میں انقلاب کا راستہ صاف کرنے کے سلسلے میں سب سے پہلے انیس احمد کی دونوں کتب "تعلیمِ قرآن" اور "کلیدِ قرآن" کا تذکرہ کیا گیا ہے:

"انیس احمد کی تحریر کردہ اردو کتابوں تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن میں صاف الفاظ میں مسلمانانِ ہند کو تلقین کی گئی ہے کہ ان پر اس وقت بھی جہاد اتنا ہی فرض ہے جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کے پیروؤں پر فرض تھا۔"8

تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن کے علاوہ خود انیس احمد کا بھی ریشمی رومال سازش کیس میں تذکرہ موجود ہے۔ استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۱ میں برٹش گورنمنٹ کے خلاف اندرون و بیرون ملک سازش کرنے والے ۵۹ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ جن سے محکمہ خفیہ نے بیانات لے کر قلم بند کیے تھے ان افراد میں انیس احمد کا نام بھی ہے۔9 ان ۵۹ افراد میں سے محکمہ خفیہ نے صرف ۱۴ افراد کے بیانات لیے، جن میں انیس احمد بھی شامل ہے۔ لیکن انیس احمد کو مولانا محمد میاں نے قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"مولوی انیس احمد بی اے وہ عجیب انسان تھا جو نظارة المعارف کا متعلم رہا پھر مولانا سندھی اور حضرت شیخ الہند کا حاضر باش رہا لیکن قابلِ اعتماد کبھی نہیں ہوا۔ مشکوک اور مشتبہ رہا۔ اس کا بیان پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ قابلِ اعتماد نہیں تھا بلکہ مزاج میں اعتدال بھی نہیں تھا۔ جیسے ہی حضرت شیخ الہند ہندوستان سے روانہ ہوئے اُس نے علی گڑھ میں ملازمت کے لیے درخواست دے دی چنانچہ اس کو ایک سو روپیہ کی فیلو شپ مل گئی جیسا کہ خود اس نے اپنے ۲۵ نومبر ۱۹۱۶ء کے بیان میں ظاہر کیا ہے، اس کے بعد علی گڑھ کالج کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہو گئے۔"10

انیس احمد ۱۹۰۹ء میں حضرت شیخ الہند اور صاحب زادہ آفتاب احمد خاں کے درمیان اس معاہدے کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند آئے تھے جس کے تحت علی گڑھ سے کچھ طلبہ دارالعلوم اور دارالعلوم سے کچھ طلبہ علی گڑھ جا کر ایک جگہ منتخب نصاب کے تحت پڑھنے والے تھے۔ لیکن ۱۹۱۳ء میں جب مولانا سندھی کو دارالعلوم دیوبند سے نکال دیا گیا تو ان کے ساتھ انیس احمد کو بھی نکال دیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں انیس احمد کے ساتھ قاضی ضیاء الدین اور خواجہ عبد الحی فاروقی بھی تھے۔

انیس احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت شیخ الہند کی گرفتاری میں ان کا خاص حصہ تھا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری رقم طراز ہیں:

"حضرت شیخ الہند کی گرفتاری میں ان کا (انیس احمد کا) خاص حصہ تھا لیکن ان کی خدمات کا دائرہ وسیع اور مدت طویل ہے اور پھر وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان کے والد گرامی خان بہادر ادریس ان کے باپ ان کے مربی اور علی گڑھ کالج سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے کارنامے عظیم تھے لیکن وقت کوتہ و داستان طویل ہے اور میں معذرت خواہ ہوں۔"11

انیس احمد اور ان کے والد ادریس احمد کی برٹش گورنمنٹ کے لیے خدمات کے بارے میں ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری نے طویل مضمون لکھا ہے، اس مضمون میں مولانا ظفر علی خاں مرحوم کی ایک ہجویہ نظم بھی نقل کی ہے۔ جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ملاحظہ ہو ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری کا مضمون "داڑھی ہے تو کیا غم ہے۔"12


حوالہ جات

  1. مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۶۳
  2. مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم و افکار مطبوعہ ادارہ نشر و اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم گوجراں والہ صفحہ ۱۳
  3. قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ مطبوعہ دار الکتاب غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور صفحہ ۳۱
  4. مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۷۵
  5. رپورٹ متعلق اجلاس بست و ہشتم آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشن کانفرنس بمقام راولپنڈی مطبوعہ انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ صفحہ ۱۹۱
  6. مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۷۵
  7. تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۶۷, ۲۶۸
  8. تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۹۹
  9. تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۵۳
  10. تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۱۴۸
  11. شیخ الہند مولانا محمود حسن بیسویں صدی کے عظیم قومی راہنما مطبوعہ جمعیت پبلی کیشنز صفحہ ۲۲۸/ ۲۲۹
  12. شیخ الہند مولانا محمود حسن بیسویں صدی کے عظیم قومی راہنما جمعیت پبلی کیشنز صفحہ ۷۴۶

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم

حسنین خالد

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں، اسلام ہمارا دین ہے اور شریعت اس دین پر چلنے کا راستہ ہے۔ "اسلامی شریعت" وہ راستہ ہے جس کی بنا پر اسلام تاحیات قابلِ عمل اور قابلِ تقلید دین بنا ہے۔ جس پر عمل پیرا ہونے کے سبب انسانیت اپنے رب کی رحمت کے آغوش میں آجاتی ہے۔ جسے ہمارے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے خدا کی خوشنودی کا ذریعہ بتایا ہے۔ جو امنِ عالم کی واحد اساس ہے۔ جس میں خدا کے ماننے اور نہ ماننے والے دونوں کی بھلائی ہے۔ جو مبنی بر اعتدال اور مبنی بر فطرت راستہ ہے، اور یہی قرآن و سنت کا راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شریعت کے راستے پر چلنے اور اس کو نافذ کرنے والوں کو جنت کی خوشخبریاں سنائیں گئیں ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں شریعت پر چلنے اور اس کو عملاً‌ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (۳۱۰ھ) نے تابعی قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ کی روایت پر شریعت کی تعریف کچھ یوں نقل کی ہے:

والشریعۃ الفرائض والحدود والامر والنہی۔(۱)
"شریعت فرائض، حدود اور امر و نہی کا نام ہے۔"

فرائض، حدود، اوامر اور نواہی کا علم ہمیں صرف قرآن اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی مل سکتا ہے، تو معلوم ہوا کہ شریعت قرآن و سنت کا نام ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۷۲۸ھ) نے اس کی یوں تعریف کی ہے کہ:

والشریعۃ انما ہی کتاب اللہ وسنۃ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم وما کان علیہ سلف الامۃ فی العقائد والاحوال والعبادات والاعمال والسیاسیات والاحکام۔(۲)
"اور شریعت یقیناً‌ وہ کتاب اللہ اور سنت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس پر امت کے سلف صالحین تھے، عقائد، احوال، عبادات، اعمال، سیاسیات اور احکام میں۔"

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ (۱۹۷۹ء) بھی اسی رنگ میں فرماتے ہیں کہ:

"شریعت سے مراد زندگی کا پورا نظام ہے، جو عقائد و ایمانیات سے شروع ہوتا ہے اور عبادات و اخلاقیات پر آتا ہے۔ (۳)"

اس مضمون کو مرتب کرنے کا خیال جس سبب سے آیا وہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان صاحب (م۲۰۲۱ء) نے شریعت کے حوالے سے کچھ عجیب سا تصور پیش کیا ہے۔ ان کے موقف کو دیکھنے کے بعد اس مسئلے کو حقائق کی روشنی میں لے آنے کا ارادہ بنا۔

مولانا وحید الدین خان صاحب نے نفاذِ شریعت کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہم ان کی ذاتی رائے پر محمول کرتے ہیں، اسے عمومی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے اگر اجتہادی الگ وزنی موقف پیش کیا ہوتا تو بہت مفید ہوتا، لیکن انھوں نے مسلم امہ کو مغرب کے پاؤں میں ڈالنے کے لیے ایک غلامانہ اور سراسر خلافِ اسلام موقف اختیار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

"موجودہ زمانے میں انقلاب پسند مسلمانوں کا ایک عمومی نعرہ وہ ہے جس کو شریعتِ محمدی کا نفاذ کہا جاتا ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ اس کی تائید قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اس کے برحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں آیا ہو (شریعت محمدی کو نافذ کرو) اور جب قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں نہ ہو تو اس کی بنیاد پر سیاست چلانا بلاشبہہ ایک مبتدعانہ سیاست ہے، وہ کوئی اسلامی کام نہیں۔ نفاذِ شریعت کا تصور کوئی سادہ تصور نہیں، یہ اسلام کے اندر ایک بہت بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس تصور نے اسلام کو بزور نفاذ کا موضوع بنا دیا ہے حالانکہ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اختیارانہ پیروی کا نام ہے۔ "نفاذِ شریعت" ایک خوبصورت لفظ ہے، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ تخریب کاری ہے، اور صرف تخریب کاری۔"(۴)

مذکورہ بالا موقف میں انہوں نے جن ترش الفاظ سے اپنی تعبیر کو جامہ پہنا دیا ہے، یقین مانیں" الولاء والبراء" کے تحت سب کو یہ بہت بھاری گزرا ہوگا۔ اگرچہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا ابتدائی موقف شریعت اور نفاذِ شریعت کے حوالے سے اس طرح نہیں تھا بلکہ وہ اس حوالے سے بڑا معتدل اور مثبت موقف رکھتے تھے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ جدید موقف ان کی ذاتی رائے ہی ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ ان کے بارے میں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے وہ "تعبیر کی غلطی" میں اپنا ابتدائی موقف یوں بیان کرتے ہیں:

"اگر امتِ مسلمہ آزاد اور بااختیار حیثیت کی حامل ہو تو اس کا فرض ہے کہ اپنے میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے انھیں اس بات کا اختیار دے کہ وہ لوگوں کے اوپر شریعت کے احکام کو باضابطہ نافذ کریں۔"(۵)

لیکن مولانا وحید الدین خان صاحب کا جو "قولِ جدید" نفاذِ شریعت کے بارے میں ہے وہ سراسر غلط فہمی پر اس لیے مبنی ہے کہ اپنے دعوے پر انہوں نے ایک آیت یا ایک حدیث بھی پیش نہیں کی اور امتِ مسلمہ کے اجماعی موقف پر انہوں نے امر کے صیغے میں دلیل مانگی ہے۔ انھوں نے اپنے دعوے میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر نفاذِ شریعت دینی امر ہوتا تو اس طرح کا حکم قرآن میں موجود ہوتا کہ "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کو نافذ کرو " لیکن اس طرح قرآن مجید میں نہیں ہے تو اس وجہ سے یہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ ہم ان شاء اللہ قرآن مجید میں موجود، مولانا کے مطلوب الفاظ سے بہترین آیتیں پیش کریں گے۔ لیکن مولانا وحید الدین خان صاحب جو دعویٰ کر رہے ہے ان کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے کونسی آیت ہے؟ کوئی آیت نہیں بلکہ صرف ان کا اخباری تجزیہ ہے۔ اسی لیے ان کے پاس اپنے دعوے پر کسی آیت کا نہ ہونا ان کے اپنے خود ساختہ تاثرات کی تردید کا واضح ثبوت ہے۔

نفاذِ شریعت کو "خود ساختہ" نعرہ کہنا تو سرے سے مسلمانہ اور نہ عالمانہ انداز ہے بلکہ اسلام کے غلبے کے تصور کو غلامی کے افکار میں تبدیل کرنے کی آخری حد تک کوشش ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث میں کوئی ایسا بیان نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ "شریعت محمدی کو نافذ کرو"۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ قرآن میں اس طرح کے الفاظ موجود ہوں جو آپ چاہ رہے ہیں اور قرآن آپ کی مرضی سے نازل ہو جاتا، بلکہ اس سے زیادہ تاکیدی اور زجر دینے والے الفاظ قرآن نے ذکر کیے ہیں۔

﴿ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون، فاسقون، ظالمون،﴾ (سورہ المائدہ: ۴۴، ۴۵، ۴۷)

تین آیات ہیں جس میں دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح بیان ہوئی ہے کہ یہ "قرآن جو کہ شریعت ہے" اس پر فیصلہ نہ کرنے والے، اس کے مطابق نظامِ حیات کو نہ چلانے والے اسی قرآن کے مطابق کافر ہیں، فاسق ہیں اور ظالم ہیں۔ ان صریح فتووں سے خود کو بچانے کے لیے ہم مسلمانوں پر یہ حجت قائم ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کے اسلامی ریاست میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو، جس کے قائم نہ کرنے پر ہم سے سوال ہوگا۔ اسی طرح مزید صریح انداز میں قرآن کے یہ آیتیں ہیں:

﴿وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومہیمنا علیہ فاحکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم عما جاءک من الحق لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہا جا﴾ (سورہ المائدہ: ۴۸)
"‏اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے نازل کی آپ پر حق کتاب، جو تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے ما قبل آسمانی کتب کی (اور ان کے حقیقی پیغام کا) نگہبان اور نگران ہے۔ پس ان کے بیج فیصلہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق کریں۔ جب کہ آپ کے پاس حق آپہنچا ہے تو آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (اس لیے کہ) ہم نے آپ میں سے ہر ایک کے لیے شریعت اور طریقہ عمل مقرر کیا ہے۔"
﴿وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم﴾ ‎(المائدہ: ۴۹)
"اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اور ان کے درمیان اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی تعبداری نہ کرو۔"

ان آیات اور اس طرح کی باقی درجنوں آیات کا منشاء یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی گزارنے کے لیے جو شریعت اور منہاج عطا کی ہے یہ صرف آپ کو نہیں بلکہ آپ سے ما قبل انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ان کے زمانے کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے روڈ میپ کے طور پر وحی کی صورت میں عطاء کیا تھا۔ اب ان سے یہی مطالبہ ہے کہ آپ اس قانون اور روڈ میپ قرآن پر چلیں اور اسے نافذ کریں اور لوگوں کی خواہشات کی تابعداری سے دور رہیں، جسے آج کی جدید اصطلاحات میں "سیکولرزم" اور "لبرلزم" کہا جاتا ہے۔ نبی علیہ السلام کو اس بات کا امر کیا گیا ہے کہ آپ معاشرے میں "ما انزل اللہ" یعنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین پر فیصلہ کریں جسے قرآن نے ‎﴿وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم﴾ (المائدہ: ۴۹) سے تعبیر کیا ہے۔ اگر پھر بھی یہ لوگ باز نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں اور نافرمانی کے سبب سزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون اور حکومت کے بجائے دوسرے نظاموں کی طرف رجوع کرنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں قدیم اور ہمارے زمانے میں جدید جاہلیت شمار ہوتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ‎ ﴿افحکم الجاہلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون﴾ (المائدہ: ۵۰)

اب ان آیات کریمہ کے بعد ہم مولانا وحید الدین خان صاحب کا شریعتِ اسلامیہ کے بارے میں ہفوات کو کیا نام دیں؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ:

﴿فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فی ما شجر بینہم﴾ (سورہ نساء: ۶۵)
"تیرے رب کی قسم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے تنازعات کے فیصلوں میں حکم نہ بنا لیں۔"

اور اسی طرح فرماتے ہیں:

﴿ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ﴾ (سورہ شوریٰ: ۱۳)
"یہ کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

اور فرمایا:

﴿ان الحکم الا للہ﴾ (سورہ الانعام: ۵۷)
"یہ کہ حکم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ہو گا۔"

مزید فرمایا:

﴿ولا یشرک فی حکمہ احدا﴾ (سورہ کہف: ۲۶)
"اور وہ اپنے حکومت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہیں بناتا۔"

اس طرح مولانا کی دوسری بات یہ ہے کہ نفاذِ شریعت کوئی "سادہ تصور نہیں ہے" تو یہ حقیقت ہے کہ یہ سادہ تصور نہیں ہے بلکہ بہت ہی اہم فریضہ ہے، لیکن یہ بات کہ "یہ اسلام کے اندر ایک بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہیں" تو یہ مکمل طور پر غلط اور مبنی بر فساد موقف ہیں، اس لیے کہ بڑی برائی کے ہم معنی نفاذِ شریعت نہیں بلکہ سیکولرزم اور مغربی جمہوریت ہے جس کو آپ بعینہٖ اسلام سمجھتے ہیں اور اس کی تبلیغ کے پوری عمر داعی رہے۔ اس مؤقف کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں مغربی جمہوریت اور مغربی سیکولرزم کے نظریات قابلِ تحسین اور قابلِ عمل ہیں جبکہ نفاذِ شریعت کا تصور تخریب کاری ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آئیے دیکھیے مولانا وحید الدین خان صاحب سیکولرزم کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ اپنی تصنیف مسائل اجتہاد میں لکھتے ہیں:

"حقیقت یہ ہے کہ سیکولرازم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرازم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔"(۶)

ان کے ہاں سیکولرزم عملی تدبیر ہے جبکہ ہمارے ہاں نفاذِ شریعت عملی تدبیر ہے۔ اب بتائیں کہ نفاذِ شریعت دین میں بڑی برائی داخل کرنے کے مانند ہے، جس کے نفاذ پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے؛ یا سیکولرزم جس کا اردو میں معنی ہی لادینیت ہے؟ اور اس اصطلاح کے مذکورہ معنی ایجاد کرنے والے کے ساتھ پوری امتِ مسلمہ کا بھی اتفاق ہے۔

اسلام نے شریعت کو کبھی بھی بزور نفاذ کا موضوع نہیں بنایا۔ لیکن جو ریاست اسلام کے نام پر ایک اسلامی نظریہ کے تحت بنی ہو، یا پہلے سے ایک خودمختار ریاست ہو، تو اس میں شریعت کا نفاذ نماز کی فرضیت کی طرح لازم ہے کہ وہاں شریعت پر عمل ہو، وگرنہ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ ایک نہ ایک روز ضرور باز پرسی کے لیے حاضر ہو جائیں گے اور دنیا میں ان کی زندگی ذلت سے بھری ہو گی۔ یہ "نفاذِ شریعت دین میں تخریب کاری" نہیں ہے بلکہ دین کی اشاعت، حفاظت، دنیا کے لیے امن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ کے زندگیوں میں ہماری لیے رکھا گیا اسوہ حسنہ ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے "تنقیحات" میں یہ الفاظ بہت خوب لکھے ہیں کہ:

’" یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ہے، نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے، ہوا کے رخ پر اڑنے والے خس و خاشاک، اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے۔ یہ ان بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں، جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں، جو صبغۃ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔"(۷)

ہمارے سارے جذبات مولانا وحید الدین خان صاحب کے موقف کے خلاف اس وجہ سے ہیں کہ اس میں شریعت کے تصور کی توہین، استہزاء اور تحقیر کی گئی ہے۔ عصرِ حاضر کے مشہور عرب عالم شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ شریعت کو حقیر سمجھنے والوں کے بارے میں کہتے ہیں:

"جو بندہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھے، یا اس سوچ اور عقیدے کی بنا پر وہ مخلوق کے لیے کوئی اور راستہ بہتر اور فائدہ مند سمجھے تو وہ کافر ہے۔ اور یہی کفر اسے دین سے خارج کرتا ہے۔ ان میں سے لوگوں کا وہ طبقہ بھی شامل ہے جو انسانوں کے لیے اسلامی قانون سازی کے بجائے ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو شریعت کے متصادم ہو اور چاہتا ہو کہ لوگ اس قانون پر چلیں۔ یہ لوگ غیر شرعی قانون سازی اسی بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شریعت سے زیادہ مفید اور (جدید) دور کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔ یہ بات ہم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ انسانی مزاج اس وقت کسی دوسری طرف رخ موڑتا ہے جب اسے پہلے سے دوسرا کوئی اور راستہ زیادہ بہتر نظر آجائے یا ابتدائی موقف میں انہیں کوئی خرابی اور کمی محسوس ہو۔" (۸)

مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے اس موقف میں شریعت اور اس کے نفاذ پر تضحیک آمیز کلمات سے مسلم نسلِ نو کے اذہان کو غلامی کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کے پاؤں میں دھکیلنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ صرف دھکیلنا نہیں ہے بلکہ اسلام سے اس کی روح کو نکالنے کے مترادف ہے۔ اگر نفاذِ شریعت سے طاغوتی کارندے خوف زدہ ہوں اور وہ اس طرح موقف اختیار کریں تو پھر بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن ہمارے اپنے کیوں تاویلات کے ذریعے اسے خلط ملط کر کے کئی لوگوں کے ذہنوں کو مشکوک بنا کر ان کے ساتھ کھیل کھیلتے ہیں؟ اس طرح کی باتیں اور موقف اختیار کرنا صرف ایک گلی کے گُلّی ڈنڈے کا تماشا ہے، حقیقت کے رو سے اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ (م۲۰۱۰ء) کی رائے ملاحظہ کریں، جب ان سے نفاذِ شریعت کی درج بالا نوع کے مسئلے پر سوال ہوا تو اس پر انہوں نے کیا فرمایا:

"سوال: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ اسلام کا لازمی تقاضا نہیں ہے۔ بلکہ ماضی قریب کے بعض اہلِ علم نے اسے مطالبے کی شکل دے دی ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اصلاً‌ ایک مذہبی رویے کا نام ہے، وہ رویہ صرف اخلاق اور عبادات، اور زیادہ سے زیادہ عائلی امور تک محدود رہنا چاہئے۔ جب اس مذہبی دائرے کو پھیلا کر اجتماعیت کے دائرے میں لایا جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے مغربی دنیا نے مذہب اور ریاست کے درمیان تفریق کر کے اس مشکل سے نجات حاصل کر لی ہے۔ اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: میری بلکہ اسلام کے تمام مستند شارحین اور جید ترین اہلِ علم کی قطعی رائے یہ ہے کہ دین و دنیا کی تفریق کا موجودہ مغربی تصور غلط ہے، یہ تصور شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ شریعت پہلے دن سے ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوت کا آغاز فرمایا تھا، جب ابھی صحابہ کرامؓ کی تعداد تین چار سے زیادہ نہیں تھی، اس وقت آپ مکہ مکرمہ کی محفلوں میں یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! میں جس کلمہ کی دعوت دے رہا ہوں اسے قبول کر لو، اگر تم ایسا کر لو گے تو عرب و عجم تمہارے زیر نگیں ہو جائیں گے۔ ("تخضع لکم بہا العرب وتدین لکم بہا العجم" عرب تمہارے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور عجم تمہاری قیادت کا سکہ تسلیم کر لیں گے)۔گویا عرب و عجم کے لئے قائدانہ کردار تو اسلام کی تعلیمات کا پہلے دن سے ایک حصہ تھا…" (۹)

اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب جس طرح اسلام سے شریعت کے نفاذ کو دھکیل دھکیل کر باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس شریعت کے نفاذ پر تو پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے۔ اور ساتھ ہی دوسری جانب اس شریعت کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کرنے والے بھی اس کی حقیقت کے معترف ہیں کہ شریعتِ محمدی صرف چند رسوم اور چند مخصوص عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ ہمارے لیے مغربی پیشواؤں کی آراء اور اقوال اسلام میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن یہ محض اس لیے کہ مولانا مسلمان ہو کر بھی اس شریعت اور اس کے نفاذ کو خلافِ اسلام قرار دے رہے ہیں اور اغیار بغیر ایمان اور اسلام دشمنی کے باوجود تحقیق کی بنا پر اسے قابلِ تقلید مان رہے ہیں۔

مولانا وحید الدین خان صاحب نے جن مغرب نوازوں سے یہ موقف اخذ کیا ہے (یہ دعویٰ ہم محض اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ یہ موقف ان کی کتاب "تعبیر کی غلطی" میں نہیں ہے، بلکہ وہاں اس کی تائید ہے، جس کا حوالہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔) ان کے اسلام کے تصورِ نفاذِ شریعت سے کیا مراد ہے؟ ان میں بھی بعض حضرات نے حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی ہے، شیخ ابراہیم القطان اپنی کتاب "اسلامی شریعت کی آفاقیت" میں شریعت کی حقیقی قدر و قیمت کے بارے میں مغربی دانشوروں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

"مغرب کے علمائے قانون اسلامی شریعت کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی بعض قانونی کانفرنسوں اور اجتماعات میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اسلامی شریعت قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تقابلی قانون کی ایسی ایک کانفرنس اگست ۱۹۳۸ء میں "دی ہیگ" کے مقام پر منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں جو قراردادیں منظور کی گئیں ان میں کہا گیا کہ:
۱۔ اسلامی شریعت قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
۲- اسلامی شریعت ایک زندہ قانون ہے جس میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
۳- اسلامی شریعت کا اپنا ایک مقام ہے، اور یہ کسی دوسرے قانون سے ماخوذ نہیں۔"(۱۰)

یہ صرف اس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ یہ ان کے کسی ایک اسکالر کا موقف نہیں ہے بلکہ ان کی اجتماعی کانفرنس کا فیصلہ ہے۔

اب آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ نفاذِ شریعت کی شرعی اور اجماعی حیثیت کو چھوڑ کر غلامانہ ذہنیت اور نقطہ نظر رکھنے والے حضرات کا سیکولرزم یعنی لا دینیت میں فلاح ڈھونڈنا اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے آمین۔

حوالہ جات

۱۔ تفسیر ابن جریر طبری جلد 21 سورہ الجاثیۃ صفحہ: 85، (مرکز البحوث والدراسات العربیہ و الاسلامیہ قاہرہ طبع 2001ء)

۲۔ مجموع الفتاویٰ (طبع ریاض 1382 ھ صفحہ 308 جلد 19)

۳۔ تفہیمات جلد 5، صفحہ: 17، (اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور، اشاعت جنوری 2017ء)

۴۔ الرسالہ، (گڈ ورڈ بک نیو دہلی، اکتوبر 2009ء)

۵۔ تعبیر کی غلطی صفحہ: 315 (گڈ ورڈ بک نیو دہلی اشاعت 2017 ء)

۶۔ مسائل اجتہاد، صفحہ: 119۔20 (گڈ ورڈ بک نیو دہلی اشاعت 2003 ء)

۷۔ تنقیحات، صفحہ: 191، (اسلامک پبلیکیشنز اشاعت دسمبر 2011ء)

۸۔ مجموعہ فتاویٰ و رسائل فضیلۃ الشیخ صالح بن عثیمین، (جلد 2 صفحہ: 143، الطبعۃ الاخیرۃ 1443 ھ)

۹۔ عصر حاضر اور شریعت اسلامی، صفحہ 2۔ 27 (انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد،طبع دوم 2015ء)

۱۰۔ اسلامی شریعت کی آفاقیت، صفحہ: 19 (شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ادارہ تحقیقات اسلامی پریس اسلام آباد، اشاعت: مئی 1997ء)

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد

پروفیسر محبوب پوپاتیا

قائد اعظم محمد علی جناح 1910ء میں ممبئی سے مسلمانوں کے لیے مخصوص نشست پر امپیریل لیجسلیٹو کونسل (شاہی قانون ساز کونسل) کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 1911ء میں "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ بل" (قانونِ توثیقِ وقفِ مسلمانان) پیش کر کے اور کچھ ترمیمات کے بعد 1913ء میں اسے منظور کروا کر اپنے اوپر کیے گئے اعتماد کو درست ثابت کیا۔ یہ قائد اعظم کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی جس کا مقصد اس 'محرومی اور شدید مشکل' کو دور کرنا تھا جو پریوی کونسل کے ایک فیصلے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ بھارت میں قانونِ وقف سے متعلق "ابوالفتح محمد اسحاق اور دیگر بنام رستم جی دھیر چودھری اور دیگر" کے مقدمے میں دیا گیا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ ایکٹ 1913ء" کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو جاننا ضروری ہے جس میں اسے اپنایا گیا تھا۔

اسلامی قانون میں 'وقف' کی حیثیت انگریزی قانون کے 'ٹرسٹ' جیسی ہی ہے۔ لغوی اعتبار سے لفظ 'وقف' کے معنی 'روکنا'، 'قید کرنا'، 'ممانعت کرنا'، کسی چیز کو ساکن کر دینا یا اسے حرکت کرنے کی اجازت نہ دینا ہیں۔ قانونی طور پر وقف سے مراد کسی مسلمان کی طرف سے اپنی کسی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو مستقل طور پر اس مقصد کے لیے وقف کرنا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا منافع یا پیداوار غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود، یا اسلام میں جائز اور نیک سمجھے جانے والے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کی جا سکے۔ وہ شخص جو جائیداد وقف کرتا ہے یعنی وقف کا بانی، اسے 'واقف' کہا جاتا ہے۔ واقف کا بالغ اور عاقل ہونا ضروری ہے۔ وہ وقف کے انتظامات سنبھالنے کی ذمہ داری خود بھی لے سکتا ہے یا اس کی دیکھ بھال کے لیے 'متولی' مقرر کر سکتا ہے۔ جہاں تک وقف سے فائدہ اٹھانے والوں (مستفیدین) کا تعلق ہے، تو وہ افراد بھی ہو سکتے ہیں اور عوامی فلاحی ادارے بھی۔

مسلم دورِ حکومت میں ہندوستان کے اندر وقف کا ادارہ بہت مقبول ہوا۔ بہت سے مسلم حکمرانوں اور صاحبِ ثروت مسلمانوں نے مساجد، مدارس، یتیم خانوں، غریب خانوں اور اس جیسے دیگر اداروں کی دیکھ بھال کے لیے اوقاف قائم کیے۔ کئی امیر مسلمانوں نے وہ وقف بھی قائم کیے جسے 'وقفِ اولاد' یا 'وقف علی الاولاد' کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر خاندانی وقف ہوتے تھے جن کا مقصد امیر مسلمانوں کی اولاد کی معاشی خوشحالی کو یقینی بنانا تھا، اور اس سے جائیداد فروخت ہونے سے محفوظ رہ کر خاندان کے اندر ہی رہتی تھی۔ ان اوقاف کو ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل تھا۔

جب انگریز برسرِ اقتدار آئے تو انہوں نے بڑی تعداد میں اوقاف کو ضبط کر لیا۔ شاید کچھ معاملات میں اس کی وجوہات سیاسی تھیں، لیکن انگریزوں نے مایوسی کے ساتھ یہ بھی دیکھا کہ کئی مقامات پر متولی بدعنوان طریقوں میں ملوث تھے۔ 1863ء میں انگریزوں نے اوقاف کے انتظام و انعام کو منظم کرنے کے لیے "ریلیجئس اینڈومنٹ ایکٹ" (مذہبی اوقاف ایکٹ) نافذ کیا اور مسلمانوں کو وہ اوقاف واپس کر دیے جو پہلے ضبط کیے گئے تھے۔ تاہم، اس سے مختلف اوقاف کے طریقہ کار اور انتظام کے بارے میں تنازعات ختم نہیں ہوئے، خصوصاً 'وقفِ اولاد' کے اصل مقصد کے بارے میں، کیونکہ کچھ لوگ اسے غریبوں کے فائدے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے امیر مسلم خاندانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور فروغ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

1873ء میں بمبئی ہائی کورٹ نے وقفِ اولاد کے جواز کے خلاف ایک فیصلہ دیا، لیکن اسی عدالت نے 1882ء اور 1883ء کے فیصلوں میں اپنے پچھلے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ ہندوستان کی دیگر ہائی کورٹوں نے بھی کچھ متضاد فیصلے دیے جس سے قانونِ وقف کے بارے میں کافی ابہام پیدا ہو گیا۔ "ابوالفتح محمد اسحاق بنام رستم جی" کے مشہور مقدمے میں یہ معاملہ لندن میں پریوی کونسل تک پہنچ گیا، جس نے 1894ء میں یہ فیصلہ دیا کہ جب تک خیرات کے لیے کوئی ٹھوس اور بڑی رقم یا جائیداد وقف نہ کی جائے، وقف محض ایک دھوکا (مبہم) ہے اور اس وجہ سے باطل ہے۔ کونسل نے یہ بھی کہا کہ خیرات کا یہ مقصد بہت زیادہ دور کا (یعنی مستقبلِ بعید کا) نہیں ہونا چاہیے۔

ہندوستان کی مسلم کمیونٹی نے پریوی کونسل کے اس فیصلے کو محمدی قانون (اسلامی قانون) میں مداخلت قرار دیا۔ پریوی کونسل کے فیصلے سے بھی پہلے، سر سید احمد خان 1879ء میں (یعنی بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد) ایک مسودہ قانون پر کام کر رہے تھے، جسے وہ امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ سر سید احمد خان کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں کیونکہ اس معاملے پر ان کے خیالات کچھ حد تک متنازع تھے، اور اس سے پہلے کہ وہ اس بل پر اتفاقِ رائے پیدا کر پاتے، حالات نے ان کی کوششوں کا رخ بدل دیا۔

1894ء میں پریوی کونسل کے فیصلے کے بعد، علماء، اسکالرز اور سیاسی رہنماؤں سمیت زیادہ سے زیادہ مسلمانوں نے اس معاملے کو اٹھایا۔ سید امیر علی، سید حسین بلگرامی اور مولانا شبلی نعمانی نے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں کیں۔ "انجمنِ وقف علی الاولاد" کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی جس کے سیکریٹری مولانا شبلی نعمانی تھے۔ دسمبر 1906ء میں انڈین نیشنل کانگریس نے ایک قرارداد منظور کی جس میں حکومت سے ایک کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو یہ انکوائری کرے کہ کہیں پریوی کونسل نے اپنے فیصلے میں غلطی تو نہیں کی۔ قائد اعظم، جنہوں نے اسی سال کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی، نے پارٹی کے اس اقدام کو سراہا۔

دسمبر 1906ء کے آخر میں آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے قیام کے بعد پریوی کونسل کے اس فیصلے پر مسلمانوں کی تشویش کو اجاگر کرنے کے لیے کئی قراردادیں منظور کیں، جس نے کئی خاندانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ مسلم لیگ نے برطانوی ہند حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پریوی کونسل کے فیصلے کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لیے ضروری قانون سازی کرے۔ نومبر 1908ء میں اس مسئلے پر بحث کے لیے لکھنؤ میں علماء کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ فقہی اختلافات کے باوجود علماء نے وقفِ اولاد کے تصور کی حمایت کی۔

بہت سے مسلمانوں کی نظریں قائد اعظم محمد علی جناح پر لگی ہوئی تھیں۔ سید امیر علی اور قائد اعظم وقفِ اولاد کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ایک مناسب بل کا مسودہ تیار کرنے کے سلسلے میں رابطے میں تھے۔ 17 مارچ 1911ء کو قائد اعظم نے امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ بل" متعارف کرایا۔ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریوی کونسل کے 1894ء کے فیصلے نے ایک مسلمان کے اپنے خاندان، بچوں اور نسلوں کے لیے ٹرسٹ بنانے کے اختیار کے سلسلے میں "مسلمانوں کے قانون کو مفلوج" کر دیا ہے۔ پریوی کونسل کے فیصلے کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے قائد اعظم نے تبصرہ کیا:

"… وہ کہتے ہیں کہ خیرات کے لیے کوئی ٹھوس وقف ہونا چاہیے۔ خیرات کے لیے ٹھوس وقف سے کیا مراد ہے؟ اس کی کسی بھی طرح وضاحت نہیں کی گئی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ خیرات کے لیے وہ ٹھوس وقف کسی مدت کے لیے ہونا چاہیے اور غالباً بہت زیادہ دور کا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ وقت یا مدت کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے۔ اس لیے اس نے ہمارے قانون میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک مسلمان جو اس نوعیت کا وقف — یعنی وقفِ اولاد — کرنا چاہتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ دستاویز کے تحت خیرات کا وقت کب آئے گا۔ وہ نہیں جانتا کہ کسی بھی عدالتِ انصاف کی نظر میں خیرات کے لیے ٹھوس وقف کسے سمجھا جائے گا۔" [1]

قائد اعظم نے وضاحت کی کہ بنیادی نکتہ جس پر مسلمانوں کو تشویش تھی، وہ پریوی کونسل کا یہ موقف تھا کہ جب تک خیرات کے لیے کوئی ٹھوس وقف نہ ہو، وہ وقف فرضی (illusory) ہوگا اور اس لیے باطل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پریوی کونسل کا فیصلہ "مسلمانوں کے قانون کے حقیقی اصولوں کے مطابق نہیں تھا" اور پریوی کونسل کی طرف سے مسلم قانون کی تشریح "اسلامی فقہ کے بنیادی اصولوں کے منافی تھی"۔ [2]

انہوں نے مزید کہا کہ پریوی کونسل کے فیصلے کے نتیجے میں ہندوستان کے تمام حصوں میں قدیم اوقاف سمیت تمام اوقاف کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور اس نے مسلمانوں کو اپنے خاندان اور بچوں کے حق میں کوئی بندوبست کرنے سے روک دیا ہے۔ مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ مسلم قانون کے بارے میں پریوی کونسل کی تشریح درست نہیں تھی، قائد اعظم نے واضح کیا کہ ان کے بل کا مقصد صرف اس مسلم قانون کو بحال کرنا ہے جو پریوی کونسل کے فیصلے سے متاثر ہوا تھا۔ اس کا مقصد وقف کے عمومی قانون کی تعریف کرنا نہیں تھا۔

قائد اعظم نے امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں جو "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ بل" متعارف کرایا تھا، اس کی دفعہ 3 (سیکشن 3) میں درج تھا:

'اس ایکٹ کی شقوں کے تابع، مسلم عقیدے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو نابالغ نہ ہو اور عاقل ہو، درج ذیل مقاصد کے لیے وقف قائم کرنا قانونی ہوگا:
(الف) اپنے خاندان، بچوں اور اولاد کی مکمل یا جزوی کفالت اور دیکھ بھال کے لیے، اور
(ب) جہاں واقف حنفی مسلمان ہو، وہاں اپنی زندگی کے دوران اپنی ذات کی کفالت اور دیکھ بھال کے لیے، یا وقف کردہ جائیداد کے کرایوں اور منافع سے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے — بشرطیکہ ایسے معاملات میں حتمی فائدہ (ultimate reversion) واضح طور پر یا ضمناً غریبوں، یا مستقل نوعیت کے کسی دوسرے مذہبی، نیک یا خیراتی مقصد کے لیے مخصوص ہو۔' [5]

بل میں وقف نامے کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی شقیں شامل تھیں تاکہ اس کی صداقت کو یقینی بنایا جا سکے، دھوکا دہی کو روکا جا سکے اور قرض خواہاں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، کیونکہ ہائی کورٹس اور پریوی کونسل کے فیصلوں میں اس نکتے پر بہت زور دیا گیا تھا۔ 

اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا جس نے اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور تقریباً دو سال میں اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دی۔ اپریل 1913ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے قائد اعظم نے بل کے خلاف اٹھائے گئے کچھ اعتراضات کے جوابات دیے۔ 

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ یہ بل پبلک پالیسی (عوامی حکمتِ عملی) کے مطابق نہیں ہے، قائد اعظم نے کہا کہ چونکہ یہ بل مسلمانوں پر محمدی قانون نافذ کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے، اس لیے پبلک پالیسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ [6] 

قرض خواہوں کے خلاف دھوکا دہی کو روکنے والی شقوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی نے محتاط غور و خوض کے بعد یہ پایا کہ مسلمانوں پر لاگو ہونے والے پرسنل لا (شخصی قانون) کی خلاف ورزی کیے بغیر ان شقوں کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہے، اور اسی لیے سلیکٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر رجسٹریشن کی شقوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محمدی قانون کی دیگر شقیں وقف کے قیام کے وقت قرض خواہوں کے ساتھ دھوکا دہی کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں، اور مزید کہا کہ رجسٹریشن ایکٹ پہلے ہی یہ طے کرتا ہے کہ جو بھی وقف تحریری طور پر کیا جائے، اس کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ [7]

قائد اعظم نے تسلیم کیا کہ زبانی وقف کسی حد تک قرض خواہ کے مفاد کو متاثر کر سکتا ہے لیکن انہوں نے انتہائی اہم بات کہی: 'اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مسلمان کا قانون (شریعت) ہے اور آپ مسلم قانون پر حاوی نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ مسلمان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ وقف صرف تحریری طور پر کرے اور کسی دوسرے طریقے سے نہ کرے، تو آپ اس حد تک مسلم قانون پر حاوی ہو رہے ہیں، اور اس لیے میں، کم از کم، کوئی ایسی شق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں جو کسی بھی طرح مسلمانوں کے پرسنل لا کو منسوخ یا متاثر کرتی ہو'۔ [8]

جہاں تک دفعہ 3 کے اس حصے پر اعتراض کا تعلق تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ واقف خود بھی اپنے قائم کردہ وقف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو قائد اعظم نے واضح کیا کہ ایک حنفی مسلمان کو اپنی کفالت، دیکھ بھال یا قرضوں کی ادائیگی کے لیے وقف قائم کرنے کی اجازت ہے۔ قانونی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: 

'… پریوی کونسل کا فیصلہ یہ تھا کہ اگر آپ خیرات کے عمل کو ایک خاص مدت کے لیے مؤخر کرتے ہیں اور اگر خیرات کا مقصد بہت مستقبلِ بعید میں دینا مقصود ہو تو وہ وقف باطل ہے۔ اس لیے، اگر کوئی حنفی مسلمان اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے وقف کرتا ہے، اور اگر یہ شق شامل نہیں کی جاتی، تو پریوی کونسل کا فیصلہ برقرار رہے گا اور آپ کو وقف کو منسوخ کرانے کے لیے صرف اسے کسی عدالت میں لے جانے کی ضرورت ہوگی۔' [9]

قائد اعظم نے اصرار کیا کہ اگر وقف ضمانت (security) دینے کے بعد قائم کیا گیا ہو تو محفوظ قرض خواہ (secured creditors) اس سے متاثر نہیں ہو سکتے۔ غیر محفوظ قرض خواہوں (unsecured creditors) کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر واقف کا ارادہ اپنے قرض خواہوں کو دھوکا دینے، نقصان پہنچانے یا تاخیر کا شکار کرنے کا ہو، تو محمدی قانون کے تحت عدالتِ انصاف کے ذریعے اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ [10]

سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات پر بل کی دفعہ 3 میں معمولی ترمیم کی گئی اور وقف نامے کی رجسٹریشن سے متعلق دفعات کو خارج کر دیا گیا۔ بل کے حتمی متن میں، دفعہ 4 میں بیان کیا گیا:

"کوئی بھی ایسا وقف صرف اس وجہ سے باطل نہیں سمجھا جائے گا کہ اس میں غریبوں یا مستقل نوعیت کے دیگر مذہبی، نیک یا خیراتی مقصد کے لیے مخصوص کیا گیا فائدہ، وقف کرنے والے شخص کے خاندان، بچوں یا اولاد کے خاتمے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔" [11]

اس شق نے عملی طور پر وقفِ اولاد کی مدت کے حوالے سے پریوی کونسل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ بل اپریل 1913ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کی طرف سے باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا اور گورنر جنرل کی منظوری کے بعد یہ "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ ایکٹ، 1913ء" بن گیا۔ قائد اعظم نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی تھی۔


حواشی / حوالہ جات

  1. ایم رفیق افضل (ایڈیٹر)، سلیکٹڈ اسپیچز اینڈ اسٹیٹمنٹس آف دی قائد اعظم محمد علی جناح (لاہور: یونیورسٹی آف پنجاب، 1973ء)، صفحہ 5۔ قائد اعظم کی اس تقریر کے مکمل متن کے لیے جو انہوں نے بل پیش کرتے وقت کی تھی، دیکھیے صفحات 1 تا 11۔
  2. ایضاً۔
  3. ایضاً۔
  4. ایضاً، صفحہ 9۔
  5. دیکھیے "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ بل، 1911ء"، منقول از شریف المجاہد، قائد اعظم جناح: اسٹڈیز ان انٹرپریٹیشن (دہلی: بی آر پبلشنگ کارپوریشن، 1985ء)، صفحات 453 تا 458۔
  6. ایم رفیق افضل (ایڈیٹر)، ایضاً، صفحہ 20۔ سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے وقت قائد اعظم کی تقریر کے مکمل متن کے لیے دیکھیے صفحات 20 تا 25۔
  7. ایضاً، صفحہ 21۔
  8. ایضاً۔
  9. ایضاً۔
  10. ایضاً، صفحہ 24۔
  11. دیکھیے "مسلمان وقف ویلیڈیٹنگ ایکٹ، 1913ء"، منقول از شریف المجاہد، ایضاً، صفحات 459 تا 460۔
https://journal.psc.edu.pk
https://unisetca.ipower.com

Our Constitutional History & Context of the Proposed 28th Amendment

Mufti Munib ur Rehman

Pakistan's constitutional history is not particularly glorious. After 14 August 1947, Pakistan continued to be governed under the Government of India Act 1935 with minor amendments, and the founder of Pakistan, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, was appointed Pakistan's first Governor-General. Elections for Pakistan's first Constituent Assembly were held in July 1947. These representatives were not directly elected; rather, members of the assemblies of East Bengal, West Punjab, Sindh, the Frontier, and Balochistan indirectly elected 69 individuals. The inaugural session of the first Constituent Assembly was held on 10 August 1947 in Karachi at the Sindh Assembly building under the chairmanship of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah. This Assembly functioned from 1947 to 1954.
Elections for the second Constituent Assembly, comprising three hundred members, were held on 21 June 1955, and in this Assembly a constitution based on the principle of equal representation between West and East Pakistan was approved on 29 February 1956. Under it, West Pakistan was made a single unit and given the status of a province, but elections could not be held under this constitution.
On 7 October 1958, the Commander-in-Chief of the Army, General Muhammad Ayub Khan, imposed martial law and, becoming President and Chief Martial Law Administrator, took control of the country. Then on 14 February 1960, Field Marshal Muhammad Ayub Khan got his presidency confirmed through a referendum. After that, on 1 March 1962, a constitution based on the system of Basic Democracies was approved, and on 8 June martial law was lifted and this constitution was fully enforced; this constitution was based on a presidential system. Under the 1962 constitution, the second election was held on 2 January 1965, and defeating the Madar-e-Millat Mohtarma Fatima Jinnah, Field Marshal Muhammad Ayub Khan was elected President of Pakistan.
On 25 March 1969, President Ayub Khan, in negation of his own constitution, instead of handing over power to the Speaker of the National Assembly, handed it over to Commander-in-Chief General Agha Muhammad Yahya Khan, who, becoming President of Pakistan and Chief Martial Law Administrator, seized power. Then General Yahya Khan announced a legal framework on 30 March 1970 on the principle of one person, one vote, and drew up a program for elections to a Constituent Assembly comprising 313 members. In it, 169 and 144 seats were allocated for East and West Pakistan respectively. In June 1970, elections were announced, but due to floods in East Pakistan these elections were postponed. Then on 7 December 1970 elections for the National Assembly and on 17 December for the provincial assemblies were held. Sheikh Mujibur Rahman's Awami League won 167 of the 169 seats in East Pakistan; besides this, only Nurul Amin on the PDP ticket and independent candidate Raja Tridiv Roy were able to win. While in West Pakistan, the Peoples Party received a heavy majority in Sindh and Punjab, and including women's seats, their members numbered approximately 85. General Yahya Khan, contrary to democratic traditions, did not transfer power to Sheikh Mujibur Rahman; then a rebellion began there, and ultimately on 16 December 1971 the Fall of Dhaka occurred, and as a result Bangladesh came into existence.
Then General Yahya Khan, compelled by circumstances, transferred power to Mr. Zulfikar Ali Bhutto, and he became the first civilian Chief Martial Law Administrator and President. Later, on 17 April 1972, the late Zulfikar Ali Bhutto enforced an interim constitution and, ending martial law, himself assumed the office of President of Pakistan. After that, on 10 April 1973, a consensus constitution based on a parliamentary system was approved. On this constitution, besides Nawab Khair Bakhsh Marri and Dr. Abdul Hayee Baloch from Balochistan and Nizamuddin Haider and Noor Muhammad Hashimi from Punjab, the confirming signatures of all members of the National Assembly are recorded.
Since then, in the 53 years up to now, 27 amendments have been made to this constitution, although in the American constitution only 27 amendments have been made over a period of two and a half centuries. Circles close to the establishment from time to time keep giving the 'good news' that behind the scenes preparations for the twenty-eighth amendment to the constitution have begun, and one of its objectives is also to alter the NFC Award and make it balanced, and by reducing the provinces' share from the central pool of revenues and increasing the federation's share, so that the federation's financial position may improve somewhat, because its financial responsibilities include defense, installment payments on internal and external loans along with interest, protection of internal security, as well as dealing with separatism and terrorist activities, while in the current situation heavy expenditures are falling on the federation. In short, on the strength of the arguments the federation has a strong case, but what is at stake here are the (provinces') interests.
The Eighteenth Amendment is disliked by the establishment because under it fifty-seven and a half percent of total federal revenues goes to the provinces and the federation's hands are tied. Apart from installments on internal and external loans including interest and defense, running the federal structure is practically impossible without further and further borrowing, because the federation also has to make payments for Gilgit-Baltistan, Azad Kashmir, and the merged tribal districts in Khyber Pakhtunkhwa.
So through the proposed Twenty-Eighth Amendment, a restructuring of the NFC Award is desired. It is also desired that funds be transferred directly from the federation to new administrative units so that the provinces' monopoly may end. In short, the transfer of political and administrative power, financial resources, and authority to the lower level—that is, deconcentration of power—is desired. In the planners' view, this will strengthen the federation and give the people governance that is accessible down to the lower level. This Pandora's box has been opened; certainly behind the scenes its preparation must have been underway for a long time, however, to strengthen the case, statistics have also been compiled and their first glimpse has also been shown.
A constitution provides a framework of rights and duties for a nation to remain united. This constitution is a covenant for a nation to remain united within the bounds of constitution and law. Nowadays it is interpreted as a Social Contract. It is very difficult to bring the country's different provinces, nationalities, and classes together on one covenant, therefore in the eyes of sensitive, conscientious, and constitution- and law-abiding individuals, protection of the constitution is essential, because day after day cutting and slashing it and deleting from and adding to it causes difficulties, and then a time comes when the constitution becomes a child's plaything.
In our history the constitution has repeatedly been abrogated and suspended: first in 1958, second in 1969, third in 1977, and fourth in 1999. The judiciary's assistance was also included in this, and it was named the doctrine of necessity.
  • General Yahya Khan's unconstitutional actions were given protection in the 1973 constitution.
  • General Muhammad Zia-ul-Haq was given the power to amend the constitution by the Supreme Court under the leadership of the then Chief Justice Anwarul Haq. Using that power, he made amendments to the constitution, and then the non-party National Assembly elected in 1985, through the Eighth Constitutional Amendment, confirmed his unconstitutional actions.
  • Similarly, General Pervez Musharraf, becoming Chief Executive, seized power. He was given the power by the Supreme Court under the leadership of Justice Irshad Hasan Khan to remain ruler for three years and to amend the constitution. General Musharraf's unconstitutional actions were once again validated by the elected parliament of 2002 through the Seventeenth Constitutional Amendment.
Such legal drafts are interpreted as an Indemnity Bill. So every unconstitutional action had to be given protection by every incoming assembly or parliament compelled by circumstances, because their own survival was also linked to it.
(Daily Dunya — 12 September 2026)

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک

سعودی حوثی کشمکش کا تاریخی پس منظر

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

یمن تاریخی جزیرۂ عرب کا ایک اہم علاقہ ہے جو آج سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ تاریخ میں یمن جزیرہ ٔ عرب کا سب سے زیادہ متمدن و مہذب خطہ رہا ہے۔ یہاں کبھی قوم سبا آباد تھی جس کا اور جس کی ملکہ کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے۔ اس زمانہ میں یہ خطہ نہایت سرسبز و شاداب تھا۔ بعد میں یہاں عذاب الہٰی آیا اور سد مآرب کے ٹوٹ جانے سے یہ قوم تتر بتر ہونے پر مجبور ہوئی۔ مدینہ النبی ﷺ (یثرب) کے دونوں بڑے قبیلے اوس و خزرج کے اجداد یمن سے ہی اٹھ کر آئے تھے اور قحطانی نسل کے عرب تھے۔ اسی طرح قرآن مجید میں قومِ تبع کا ذکر بھی کئی مقامات پر آیا ہے، مثلاً‌ سورہ دخان 44:37، سورہ ق 50:14 اور سورہ ص 38:12۔ تبع ملوک سے مراد قدیم یمن کے حمیری بادشاہ ہیں۔ تبع کسی ایک بادشاہ کا ذاتی نام نہیں بلکہ حمیر کے بادشاہوں کا ایک شاہی لقب تھا، جیسے مصر کے بادشاہوں کے لیے ’’فرعون‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہ بادشاہ جنوبی عرب، خصوصاً‌ یمن میں حکومت کرتے تھے۔

قابلِ ذکر ہے کہ حدیث میں نام لے کر یمنیوں کی تعریف و توصیف فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’الایمان یمان والحکمۃ یمانیۃ‘‘۔ یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے‘‘۔ محدثین نے اس حدیث کے مفہوم کی مختلف توضیحات کی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس سے اہلِ یمن کے ایمان کی کیفیت، ان کی نرمی قلب، خشوع اور حق کو قبول کرنے کی آمادگی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض شارحین نے اسے یمن کے لوگوں کی مخصوص فضیلت کے طور پر بیان کیا ہے۔ بعض روایات میں ’’أتاکم أہل الیمن، ہم أرق أفئدۃ وألین قلوبا‘‘ بھی آیا ہے، یعنی یمن کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں، ان کے دل زیادہ نرم اور طبیعتیں زیادہ رقیق ہیں۔

اسلامی تاریخ میں یمن ہمیشہ علم و فن کا مرکز رہا۔ یہ خطہ مختلف اسلامی حکومتوں کے زیر نگین رہا۔ پھر یہاں زیدی شیعہ حضرات کی امامت قائم ہو گئی۔ زیدی اپنے عقائد اور فقہ میں اہلِ سنت کے بہت قریب مانے جاتے رہے ہیں۔ ماضی قریب میں امام شوکانی جیسے بڑے محدث اور عالم کا تعلق ایک زیدی خاندان سے ہی تھا۔ ان کے علاوہ یہاں کے اور بھی علماء و محدثین اور ادباء مشہور ہیں۔ ماضی قریب میں یمن سے کئی علماء و ادباء ہجرت کر کے ہندوستان بھی آئے اور یہاں انہوں نے مختلف مقامات پر درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ان میں علامہ خلیل عرب یمنی مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے استاد رہے ہیں۔

یمن کی مذہبی صورت حال

یمن کی آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے، تاہم ملک میں مذہبی اعتبار سے دو بڑے رجحانات پائے جاتے ہیں: زیدی شیعہ اور سنی مسلمان۔ زیدی شیعہ بالخصوص شمالی یمن میں، جبکہ سنی مسلمان زیادہ تر ملک کے وسطی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔ زیدی مکتب فکر تاریخی طور پر یمن کی مذہبی اور سیاسی زندگی میں نمایاں رہا ہے اور صدیوں تک پورے یمن میں (اور کبھی صرف شمالی یمن میں) زیدی ائمہ کی حکومت قائم رہی۔ زیدی لوگ اپنے عقائد اور فقہ میں اہلِ سنت خصوصاً‌ حنفی مسلک سے قریب ہیں۔ وہ خلفاء ثلاثہ (حضرات ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم) کو مانتے ہیں، کسی صحابی پر سب و شتم نہیں کرتے، لیکن سب صحابہ پر حضرت علی ؓ کو فضیلت دیتے ہیں یعنی تفضیلی ہیں۔ اسی طرح امامت کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کا حق سمجھتے ہیں۔ اور امام کے لیے ظلم کے خلاف جہاد و قیام (خروج) کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اپنے کلامی مشرب میں یہ معتزلی ہیں۔ زیدیوں کا کلچر، ثقافت، فکر اور بود باش سب دوسرے عربوں سے بہت مختلف رہا ہے۔

سنی مسلمانوں میں شافعی فقہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، جبکہ بعض علاقوں میں سلفی رجحانات بھی موجود ہیں۔ یمن کے مذہبی منظر نامے میں صوفی روایات بھی پائی جاتی ہیں، خصوصاً‌ جنوبی علاقوں میں۔ یمن میں اخوان المسلمون بھی موجود ہے مگر مصر کی طرح کسی باقاعدہ اور الگ سیاسی جماعت کی صورت میں نہیں، بلکہ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر ایک وسیع اسلامی و سیاسی دھارے کے اندر جاری ہیں۔ اس کی فکری جڑیں یمن میں 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں تک پہنچتی ہیں، جبکہ بعد کے عشروں میں اس نے قبائلی اور دوسرے مذہبی حلقوں کے ساتھ مل کر اپنا اثر بڑھایا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کمیونزم کا مقابلہ کرنے کے لیے جو مذہبی دعوتی جماعتیں منظم ہوئیں ان میں سب سے نمایاں اخوان المسلمون کی یمنی شاخ تھی۔ ان کے قائد شیخ عبد المجید الزندانی تھے۔ اخوانیوں نے کمیونزم کے رجحانات کا مقابلہ کیا اور یمن کے اتحاد کے لیے بھی کام کیا۔ اخوان والے حوثیوں کے مقابلہ میں سلفی اور شافعی سنی مسلمانوں کے نمائندے ہیں اور اپنے سیاسی رجحانات میں وہ یہاں سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔

1990ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد التجمع الیمنی للاصلاح (حزب الاصلاح) قائم ہوئی۔ یہ جماعت صرف اخوان المسلمون پر مشتمل نہیں تھی بلکہ اس میں قبائلی رہنما، مذہبی علماء، کاروباری طبقات، سلفی عناصر اور اخوان سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ اسی لیے اسے اخوان کی محض یمنی شاخ کے بجائے ایک وسیع سیاسی اتحاد قرار دینا بجا ہو گا۔ اگرچہ اس کی قیادت میں اخوانی عناصر کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ابتدائی دور میں اصلاح پارٹی نے صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا اور 1993ء کے انتخابات میں 301 میں سے 62 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم 1997ء کے بعد یہ عملاً‌ اپوزیشن میں چلی گئی۔ 2011ء کی عرب بہار کے دوران اصلاح نے صدر صالح کے خلاف سیاسی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

حوثیوں کے عروج کے بعد اصلاح پارٹی اور حوثی تحریک ایک دوسرے کے بڑے سیاسی مخالف بن گئے۔ 2014ء میں حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد اصلاح پارٹی کو شدید سیاسی و تنظیمی نقصان پہنچا، اور اس کے متعدد رہنما و کارکن جنوبی علاقوں یا بیرون ملک منتقل ہوئے۔ موجودہ یمنی سیاسی منظر نامے میں بھی حزب الاصلاح ایک اہم سنی اسلام پسند سیاسی قوت ہے، خصوصاً‌ مأرب میں، اور وہ حوثیوں کے مخالف دھڑوں میں شامل ہے۔

مالی و معاشی وسائل

یمن کے اہم قدرتی وسائل میں خام تیل اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ اگرچہ یمن خلیج کی دوسری بڑی تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کے مقابلے میں ایک بڑا توانائی پیدا کنندہ ملک نہیں، لیکن تیل اور گیس تاریخی طور پر اس کی حکومت کی آمدنی اور برآمدات کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ البتہ دہائیوں سے جاری داخلی جنگ، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور سلامتی کے مسائل نے تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ یمن کی معیشت میں زراعت، ماہی گیری، بندرگاہی تجارت، بیرون ملک مقیم یمنیوں کی ترسیلات زر اور محدود معدنی وسائل بھی اہم ہیں۔

یمن کی تزویراتی اہمیت

یمن کی جغرافیائی اہمیت کا سب سے بڑا سبب باب المندب آبنائے ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر عرب سے ملاتی ہے۔ یہ راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم حصہ ہے۔ 2023ء میں تقریباً‌ 8.6 ملین بیرل یومیہ خام تیل، گاڑھے کیے ہوئے کیمیائی مادے اور پٹرولیم مصنوعات باب المندب سے گزریں؛ تاہم 2024ء اور 2025ء میں بحیرۂ احمر کی سلامتی کی صورت حال کے باعث اس آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی۔

اس محل وقوع کی وجہ سے یمن کا اثر اس کی اپنی معاشی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ باب المندب بند ہونے کی صورت میں بحری جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے راس امید نیک (Cape of Good Hope) کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر کا وقت اور مال برداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ گویا یمن کی اصل مالی طاقت اس کے تیل کے ذخائر سے کہیں زیادہ اس کے بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن کے سنگم پر واقع ہونے میں مضمر ہے۔ یعنی یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ یمن ایک نسبتاً‌ کمزور معیشت رکھنے کے باوجود اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

معاشی اعتبار سے یمن کی موجودہ حالت انتہائی پتلی ہو چکی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2025ء میں ملک کے حقیقی GDP میں 1.5 فیصد کمی ہوئی اور 2026ء میں بھی 0.5 فیصد کمی ہو جانے کا خدشہ ہے۔ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، محدود سرکاری آمدنی، مہنگائی، کرنسی کی کمزوری، بیرونی امداد میں کمی اور معاشی اداروں کی تقسیم نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ 2015ء کے بعد حقیقی فی کس GDP میں تقریباً‌ 58 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ اس معاشی بحران کا سب سے شدید اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026ء میں 22 ملین سے زیادہ افراد کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً‌ 18.3 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دو ملین سے زائد کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

موجودہ بحران کا تاریخی پس منظر

یمن کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے اس کی سیاسی، نظریاتی اور مذہبی تاریخ کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ بیسویں صدی کے بیشتر دورانیہ میں یمن عملاً‌ دو الگ ریاستوں میں تقسیم رہا: شمالی یمن اور جنوبی یمن۔ شمال میں 1962ء تک زیدی امامت کا نظام قائم تھا، جس کے خاتمے کے بعد یمن عرب جمہوریہ قائم ہوئی؛ جبکہ جنوبی یمن نے 1967ء میں برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کر کے ایک مارکسی/سوشلسٹ ریاست کی شکل اختیار کر لی تھی۔ جنوبی یمن عرب دنیا کی ان ریاستوں میں شامل ہو گیا جنہوں نے مارکسزم کو سرکاری طور پر اپنا لیا تھا اور سوویت بلاک سے قریبی تعلقات رکھے۔ سوویت روس کے زوال کا اثر یمن پر بھی پڑا اور جنوب کے مارکسی انحطاط پذیر ہوئے اور 22 مئی 1990ء کو شمالی و جنوبی یمن متحد ہو کر موجودہ جمہوریہ یمن بنے۔ تاہم دونوں علاقوں کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ 1994ء میں جنوبی یمن کی علیحدگی کی کوشش کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوئی، جس میں شمالی افواج غالب آئیں۔ اس کے بعد بھی جنوبی علیحدگی پسند تحریکیں موجود رہیں اور آج بھی بعض جنوبی قوتیں دوبارہ آزاد جنوبی ریاست کا مطالبہ کرتی ہیں۔ برسوں تک یمن کے یہ دونوں علاقے باہم متصادم رہے۔

ایک زمانہ میں مصر اور سعودی عرب دونوں میں عالمِ اسلام کا رہنما بننے کی کشاکش چل رہی تھی جس کی وجہ سے مصری صدر جمال عبدالناصر نے اپنی ستر ہزار فوج یمن میں داخل کر کے اس مملکت کو مصری اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش بھی کی تھی۔ چنانچہ ستمبر 1962ء میں جب یمن کے امام محمد البدر کی حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوری حکومت قائم کی گئی تو جمال عبدالناصر نے نئی یمن عرب جمہوریہ کی حمایت میں مصری فوج یمن میں بھیجی جبکہ سعودی عرب نے موروثی امامی نظام کی بحالی کے لیے امام البدر کے حامیوں کی مدد کی۔ اس کشمکش میں جمال ناصر کو ناکامی ہوئی اور یمن میں اقتدار کی کشمکش اور زیادہ بڑھ گئی۔

بعد میں دونوں علیحدہ حکومتیں ختم کر کے موجودہ جمہوریہ یمن کی تشکیل تو ہو گئی مگر علی عبداللہ صالح کی نئی حکومت بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں لا سکی۔ علی عبداللہ صالح بھی زیدی تھے مگر ان کی حکومت کرپٹ تھی اور سعودی عرب کے زیر اثر تھی جس کی وجہ سے اس کے خلاف عام بغاوت پھیل گئی۔ علی عبداللہ صالح فرار ہو گئے۔ 2011ء میں علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد یمن میں سیاسی انتقالِ اقتدار شروع تو ہوا مگر یہ عمل کامیاب نہ ہو سکا۔ اور شمال کے حوثی زیدی باغیوں نے، جو اپنے آپ کو انصار اللہ کہتے ہیں، 2014ء میں صنعاء پر قبضہ کر لیا اور رفتہ رفتہ ملک کے بڑے حصے پر اپنا اثر قائم کر لیا، مگر ان کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ جبکہ جائز حکومت چھوٹے سے حصہ پر برقرار رہی جس کو سعودی عرب وغیرہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس کی قیادت صدر عبد ربہ منصور ہادی کر رہے ہیں اور عدن ان کا صدر مقام ہے۔ انہوں نے حوثیوں کے خلاف 2015ء میں بیرونی فوجی مدد طلب کی۔ اس کے بعد 26 مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ملکوں کے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جو آج تک کامیاب نہیں ہوئی البتہ اس مداخلت سے یمن کا بحران اور زیادہ سنگین ہوتا گیا۔

سیاسی عدمِ استحکام اور معاشی ابتری

یمن دہائیوں سے سیاسی انتشار، مسلح کشمکش اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ موجودہ سیاسی کشمکش نے مذہبی شناخت کو بھی سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ ملک عملاً‌ مختلف طاقتوں اور انتظامی ڈھانچوں میں منقسم ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی ریاستی اداروں، مالیاتی نظام اور حکومتی انتظام میں زبردست کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔ حوثی تحریک کے زیر کنٹرول علاقوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان سیاسی و معاشی تقسیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ علاقائی کشیدگی خصوصاً‌ بحیرۂ احمر کی صورت حال نے بھی یمن کے بحران کو اور تیز کیا ہے۔ یمن کا بحران صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ ایک شدید انسانی مسئلہ بھی ہے۔ طویل جنگ نے معیشت، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کو تباہ کر ڈالا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو خوراک، صحت اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

سعودی حوثی تنازعہ کا تناظر

حوثی تحریک شمالی یمن میں زیدی شیعہ برادری کے درمیان ایک مذہبی و سیاسی تحریک کے طور پر ابھری۔ ان کے قائد شیخ بدرالدین حسینی الحوثی تھے جو ہمدان کی ایک شاخ حوث سے تعلق رکھتے تھے اور شہر سعدہ کے رہنے والے تھے۔ حوثی بیانیہ کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ جنگِ عظیم اول کے بعد جب سعودی عرب کی تشکیل ہوئی تو یمن کے تین بڑے شہر العسیر، نجران اور جیزان یمن سے کاٹ کر سعودی عرب میں جبرً‌ا شامل کر دیے گئے۔ ان تینوں میں آج بھی زیدی کثیر تعداد میں ہیں اور ان کی ثقافت زیدی ہے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں پٹرول بھی پایا جاتا ہے۔ اس طرح شیخ بدر الدین حوثی کے اندر سعودی عرب کی وہابی فکر اور نئی حکومت کی تشکیل میں یمنی علاقوں کی شمولیت سے سخت ناراضگی پیدا ہوئی جس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے شباب المؤمنین نام کی ایک تنظیم کھڑی کی، ان کے بیٹے حسین بدر الدین حوثی نے اسی کو انصار اللہ کا نام دیا، جبکہ آج انہی کے پوتے شیخ عبدالمالک حوثی اس تحریک کے سربراہ ہیں۔ اب اس تحریک کے اہداف میں اسرائیل کی مزاحمت، فلسطینیوں کا تعاون اور عرب ممالک خاص کر سعودی عرب (جن کو وہ امریکی استعمار کا پٹھو سمجھتے ہیں) کے خلاف قیام (خروج) کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا نشانہ موجودہ یمنی حکومت کو بنایا۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ حوثی یا انصار اللہ یمن کی ایک مسلح سیاسی و مذہبی تحریک ہے، جس کی جڑیں شمالی یمن کے زیدی شیعہ معاشرے میں ہیں۔ یہ تحریک 1980ء کی دہائی کے اواخر میں مذہبی و ثقافتی بیداری کی تحریک کے طور پر ابھری، جبکہ 2000ء کی دہائی میں اس نے مسلح جدوجہد اختیار کر لی۔

2023ء کے بعد حوثی تحریک عالمی سطح پر خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوئی جب اس نے غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں بحیرۂ احمر سے گزر کر اسرائیل کو جانے والے بعض تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔ انہوں نے اس کا سبب غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کو قرار دیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان پر اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ نے کئی بار شدید فضائی حملے کیے اور ان کے سپہ سالار کو بھی شہید کر دیا۔ بعد میں امریکہ سے ایک معاہدہ کے نتیجہ میں ان کے خلاف بمباری روکی گئی۔ اس کے نتیجے میں بحیرۂ احمر اور باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ عالمی سیاست اور تجارت کا ایک اہم محاذ بن گئی۔ یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کا تنازع محض مذہبی یا فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے بلکہ  اس کے پیچھے یمن کی داخلی سیاسی کشمکش، اقتدار کی جدوجہد، علاقائی طاقتوں کی رقابت اور سعودی عرب کے سرحدی و سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔

سعودی عرب کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسا مسلح گروہ مضبوط ہو گیا ہے جسے وہ ایران کے قریب سمجھتا ہے۔ ایران نے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور دیگر فوجی معاونت فراہم کی ہے۔ ماہرین حوثیوں کو ایران کا محض ایک تابع یا روایتی ’’پراکسی‘‘ سمجھنے کے بجائے ایک نسبتاً‌ خودمختار یمنی تحریک بھی قرار دیتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حوثیوں کی تحریک ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اشاروں پر کام کر رہی ہے۔ حوثیوں کا موقف موجودہ قومی یمنی حکومت، سعودی مداخلت کے خلاف جدوجہد اور اپنے سیاسی و علاقائی مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ اس طرح ایک مقامی یمنی خانہ جنگی علاقائی طاقتوں کی کشمکش میں تبدیل ہو گئی ہے۔

2022ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی کے بعد تشدد میں نمایاں کمی آئی مگر کوئی جامع سیاسی معاہدہ نہ ہو سکا۔ یمن عملاً‌ مختلف طاقتوں کے زیر اثر علاقوں میں تقسیم ہے۔ حوثی تحریک صنعاء اور ملک کے بڑے شمالی و مغربی حصے پر قابض ہے، جبکہ حکومت اور دیگر مقامی قوتیں جنوبی و مشرقی علاقوں میں مختلف پوزیشنوں میں موجود ہیں۔ عمان کی وساطت سے 13 تا 19 ستمبر 2023ء کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات اور سفارتی کوششوں نے جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کی تھی لیکن علاقائی کشیدگی خصوصاً‌ بحیرۂ احمر میں حملوں اور اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے اثرات نے یمنی بحران کو ایک بار پھر وسیع تر علاقائی کشمکش کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 

حالیہ بڑھتی ہوئی سعودی حوثی کشمکش اس وقت پیدا ہوئی جب تہران سے سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازہ میں شرکت کے لیے گئے حوثی وفد کی واپسی کے وقت غالباً‌ امریکی اشارہ پر سعودی عرب نے اچانک صنعا کے ائرپورٹ پر بمباری کر دی۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے بھی سعودی عرب پر شدید حملے کیے اور بعض میزائل مکہ کے قریب بھی گرے۔ جس میں ایک امکان یہ ہے کہ یہ حوثیوں نے کیا ہے، جبکہ یہ بھی قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یہ اسرائیل کا فالس فلیگ آپریشن بھی ہو سکتا ہے جس کا ہدف حوثیوں کو بدنام کرنے کے ساتھ ہی ان پر بڑے حملے کروانا ہو۔ اس حادثے کے بعد پاکستان نے اپنا دفاعی نظام وہاں نصب کر دیا ہے اور اس کی فوج حرمین کی حفاظت کے لیے پہنچ گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری یمنی افواج نے اب حوثیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

مختصرً‌ا یہ کہ یمن کا تنازعہ داخلی اقتدار کی جنگ، سعودی عرب کی سرحدی سلامتی، اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی رقابت کا مجموعہ ہے۔ اسے صرف ’’سنی شیعہ جنگ‘‘ کہنا اس پیچیدہ مسئلے کو بہت زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ یعنی یمن کا سیاسی بحران اور معاشی زوال ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی تقسیم اور مسلسل عدم تحفظ نے معیشت اور ریاستی اداروں کو کمزور کیا ہے، جبکہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور انسانی بحران نے سیاسی استحکام کی راہ مزید دشوار بنا دی ہے۔ مستقل سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی استحکام اور معاشی بحالی کے بغیر اس بحران سے نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پائیدار حل

یمن کا مستقل حل اس میں ہے کہ:

  1. فوجی فتح سے زیادہ ایک ایسے جامع سیاسی سمجھوتہ ہو جس میں اقتدار کی تقسیم، اقتصادی بحالی، سرحدی سلامتی اور مختلف یمنی گروہوں کی سیاسی شرکت جیسے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ اس کے بغیر جنگ کی شدت کم ہونے کے باوجود یمن میں ایک مستحکم اور متحد ریاست کا قیام مشکل رہے گا۔ 
  2. حوثیوں اور سعودی عرب میں مذاکرات ہوں اور ایران بھی مثبت موقف اپنائے، تبھی کسی مثبت نتیجہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب، عرب ممالک، یا پاک ترکی و سعودی اتحاد کے لیے اس تحریک کو عسکری طور پر کچل دینا مشکل ہے، اس کے لیے انہیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ہی ضرورت ہے۔

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟

خالد محمود عباسی

جناب خالد محمود عباسی کی ایک گفتگو کی تدوین قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہے، لنک آخر میں مہیا کیا گیا ہے۔ (ادارہ)

چین کی نظریاتی ساخت اور مسلم دنیا سے ممکنہ تعلق

چین کے ساتھ مسلم دنیا کے اتحاد کی صورت میں نظریاتی کشمکش کا سوال بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں چین اور مسلم دنیا کے درمیان کوئی مضبوط اتحاد قائم ہوتا ہے تو یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ چین کی اپنی نظریاتی ساخت کیا ہے اور اسلامی دنیا کے ساتھ اس کا دیرپا تعلق کس بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے؟ چین کے بارے میں ہمارے ہاں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہاں کوئی مذہبی یا واضح آئیڈیالوجی موجود نہیں، نیز مذہبی حلقوں میں یہ تصور بھی ملتا ہے کہ بعد کے مرحلے میں چین ہی کو ممکنہ طور پر یاجوج و ماجوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔ تاہم چین کو سمجھنے کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جو عموماً ہمارے مباحث میں نمایاں نہیں ہوتے۔

جدید چین کے پیچھے روایتی معاشرہ

بیجنگ اور چین کے بڑے شہروں کو دیکھا جائے تو وہاں جدید سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی بہت نمایاں ہے، لیکن اس سے پورے چینی معاشرے کی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ عام دیہی چینی معاشرہ آج بھی اپنی روایات اور فطری طرزِ زندگی سے بہت حد تک جڑا ہوا ہے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ تمام چینی لوگ ہر قسم کے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں۔ انسانی فطرت بنیادی طور پر مشترک ہے اور کسی بھی معاشرے کے چند مخصوص معمولات کو پوری قوم کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح چین نے اپنی روایتی طب کو بھی ختم نہیں کیا بلکہ ہربل اور روایتی چینی علاج آج بھی وہاں رائج ہے اور بعض صورتوں میں یہ ایک مہنگا اور اعلیٰ سطح کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں طبِ یونانی بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے لیکن چین نے اپنی قدیم طبی روایات کو جدید معاشرے کے ساتھ جوڑ کر برقرار رکھا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدیدیت اختیار کرنے کے باوجود چینی معاشرہ اپنی تہذیبی روایت سے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔

چین کی تاریخی محرومی اور موجودہ طاقت

چین کی موجودہ طاقت کو سمجھنے کے لیے اس کی جدید تاریخ پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک زمانے میں چین دنیا کے ساتھ نسبتاً سادہ اور روایتی انداز میں تجارت کرتا تھا۔ برطانیہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوئی جب برطانوی تاجروں نے چین میں افیون کی تجارت کو فروغ دینا شروع کیا۔ چینی حکومت نے اس پر اعتراض کیا کہ وہ دنیا کو مصالحہ جات، ادویات اور دوسری اشیا فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے معاشرے میں ایک تباہ کن نشہ پھیلایا جا رہا ہے۔ جب چین نے افیون کے خلاف کارروائی کی تو برطانیہ نے فوجی طاقت استعمال کی۔ اس کے بعد چین افیون کی جنگوں، بیرونی دباؤ اور مختلف طاقتوں کی مداخلت کا شکار ہوتا چلا گیا۔ بعد میں جاپان بھی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا۔ یوں ایک طویل عرصے تک بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا شکار چین ایک کمزور ملک کے طور پر آگے بڑھتا رہا۔ لیکن بالآخر اس نے دوبارہ اپنے اندر کی قوت کو مجتمع کیا اور ایک بڑی عالمی طاقت بن کر سامنے آیا۔ چین کی موجودہ ترقی کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے نسبتاً مختصر تاریخی عرصے، بالخصوص گزشتہ تقریباً ستر برسوں میں، غیر معمولی معاشی اور صنعتی ترقی حاصل کی۔ اس ترقی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین کے اندر پہلے سے موجود صلاحیت کتنی بڑی تھی اور ایک طویل عرصے تک وہ صلاحیت کس طرح دبی رہی۔

چین اور اسلام: ایک نظرانداز شدہ تاریخی پہلو

چین کے حوالے سے ایک اہم پہلو قابلِ غور ہے جو عام گفتگو میں کم سامنے آتا ہے، اور وہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی ہے۔ چین میں ایسی مساجد کے بارے میں روایات اور دعوے موجود ہیں جنہیں ابتدائی اسلامی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق عہدِ نبویؐ میں صحابہ کرامؓ یا ابتدائی مسلمان چین تک پہنچے اور وہاں اسلام کا تعارف ہوا۔ اگر ان روایات کو تاریخی تحقیق کے دائرے میں دیکھا جائے تو کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چین اور عالمِ اسلام کے درمیان تعلقات کوئی جدید واقعہ نہیں ہے بلکہ ان کی جڑیں قدیم تجارتی اور تہذیبی روابط میں پیوست ہیں۔ برصغیر میں بھی اسلام کی آمد کو صرف محمد بن قاسمؒ کی آمد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ محمد بن قاسمؒ کا سندھ میں داخلہ ۹۳ ہجری کا واقعہ ہے، جبکہ عرب تاجروں کے ذریعے جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں تک اسلام کے پہنچنے کی روایات اس سے پہلے کی ہیں۔ اسی وسیع تر تاریخی تناظر میں چین کے ساتھ ابتدائی مسلم روابط کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

سنکیانگ اور بقیہ چین کے مسلمانوں کا فرق

چین میں اسلام کے بارے میں موجود منفی تاثر کا ایک بڑا حصہ سنکیانگ کے مسئلے سے وابستہ ہے۔ سنکیانگ کو ایک ایسے خطے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جہاں نسلی، سیاسی اور علیحدگی پسند تنازعات نے ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان شدید کشیدگی پیدا کی ہے۔ وہاں کی بڑی مسلم آبادی، خصوصاً ترک النسل گروہ، اپنی الگ تہذیبی اور تاریخی شناخت رکھتی ہے اور ایک عرصے سے چینی ریاست کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے سنکیانگ میں چینی حکومت کا رویہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال کو پورے چین کے مسلمانوں کے عمومی حالات کا مکمل نمائندہ سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ چین کے دوسرے علاقوں میں بھی مسلمان آباد ہیں، مساجد موجود ہیں اور مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں۔ البتہ سنکیانگ کی مثال ایسے ہے جیسے ہمارے ہاں قبائلی علاقے ہیں کہ جہاں ہر وقت کسی نہ کسی حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس لیے چین اور اسلام کے تعلق پر گفتگو کرتے وقت سنکیانگ کے مسئلے اور چین کے باقی مسلم معاشرے کے حالات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

احیائے اسلام کے لیے نئی توانائی کے امکانات

ہر بڑی آئیڈیالوجی کو زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئی نسلوں اور نئی اقوام کی شمولیت درکار ہوتی ہے۔ اسلام بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر مستقبل میں اسلام دنیا میں زیادہ اثرانداز ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس میں شامل ہونے والے صرف وہی معاشرے ہوں جو آج مسلم دنیا کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ آج کا ہندو، چینی، یا کسی اور تہذیب سے تعلق رکھنے والا انسان بھی مستقبل میں اسلام کو سمجھنے اور قبول کرنے کی طرف آ سکتا ہے۔ کسی قوم کے موجودہ سیاسی یا نظریاتی موقف اور اس کے اندر موجود انسانی و اجتماعی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ مثلاً کسی معاشرے میں بڑی اجتماعی قوت، نظم، قربانی یا اجتماعی عزم موجود ہو تو اس قوت کو کسی اور نظریاتی سمت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کسی قوم کی موجودہ آئیڈیالوجی سے اختلاف کے باوجود اس کے اندر موجود اجتماعی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ چین کے بارے میں بھی یہی امکان زیرِ غور آ سکتا ہے کہ موجودہ چین اپنی موجودہ نظریاتی ساخت سے آگے بڑھ کر مستقبل میں کسی بڑی فکری تبدیلی سے گزرے۔

چین اور مسلم دنیا کے باہمی مفاد کا ممکنہ رشتہ

چین کی موجودہ ترقی نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا ہے جس میں معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، ریاستی نظم اور عالمی تجارت کو ایک خاص انداز میں یکجا کیا گیا ہے۔ دنیا کی بعض بڑی معاشی طاقتیں اور استعماری تاریخ رکھنے والے سرمایہ دار خصوصاً‌ یہودی چین کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں اور وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چین مسلم دنیا کو ٹیکنالوجی، صنعت اور معاشی ترقی کے میدان میں مدد فراہم کر سکتا ہے تو کیا مسلم دنیا چین کو کسی دوسرے میدان مثلاً فکری اور نظریاتی سطح پر کچھ دے سکتی ہے؟ 

اس تصور کے مطابق مسلمانوں کی طرف سے چین کے ساتھ تعلق صرف معاشی مفاد تک محدود نہ ہو بلکہ اسے ایک فکری مکالمے کی شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ چین کو عالمی طاقتوں کی کشمکش، نوآبادیاتی تاریخ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کو سمجھنے میں مدد دی جائے؛ جبکہ چین مسلم دنیا کی ترقی، ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت میں معاون بنے۔ ایسی صورت میں ایک امکان یہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ چین مستقبل میں مسلمانوں کا بڑا حامی بن جائے یا اسلام کے ساتھ کسی مضبوط فکری و تہذیبی تعلق کی طرف بڑھے۔ تاہم اس کے برعکس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ یہ دونوں امکانات بیک وقت زیرِ غور رہ سکتے ہیں۔

عالمی طاقتوں کے ممکنہ اتحاد اور چین کا کردار

اگر مستقبل میں دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بلاکس میں تقسیم ہوتی ہے تو چین کی پوزیشن خاص اہمیت اختیار کرے گی۔ ایک ممکنہ منظرنامے میں چین روسی بلاک کے ساتھ قدرتی طور پر جڑ سکتا ہے، جبکہ ایران بھی اس سمت میں ایک اہم فریق ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کے مختلف سنی ممالک کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کی ایک الگ گنجائش موجود ہے۔ اگر مسلم دنیا چین کے ساتھ محض معاشی شراکت کے بجائے طویل المدت تہذیبی اور فکری تعلق قائم کرنے کی کوشش کرے تو چین کے مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دور رس امکان یہ بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے کہ چین میں کبھی ایسی بڑی فکری تبدیلی رونما ہو جس کے نتیجے میں اس کی ایک بڑی آبادی اسلام سے وابستہ ہو جائے۔ 

https://youtu.be/gUWgh4fiPo4

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration

Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

During the United Nations General Assembly session in New York, reports of meetings between Pakistan's Prime Minister Mian Shehbaz Sharif and other members of his team with Iranian President Masoud Pezeshkian and other leaders are being discussed in the international environment, which holds great significance in the current situation in the Middle East and could have far-reaching consequences.
The Middle East at present is not witnessing a four-sided war but, in the context of apparently and behind-the-scenes active forces and lobbies, it can also be interpreted as an eight-sided global conflict that appears to be a precursor to a new world war. The interests of global powers—America, Europe, Russia, and China—in the Middle East are well established, while regionally too, four parties are visible in this war:
  1. Israel, which has been struggling for a Greater Israel for the past eighty years, and its current exertions appear to be leading it toward a final round in which it is not letting any opportunity go to waste.
  2. Iran, which since its religious revolution (1979) has been continuously engaged in advancing expansionist ambitions in the region on a Sunni-Shia basis, and the progress it has made in this regard so far cannot be termed slow by any means.
  3. Arab countries, despite themselves being the battlefield, are not only devoid of mutual unity and reconciliation but also show no common agenda, preparation for it, or any level of activity.
  4. Turkey is also not outside this conflict, while its recent tensions with Israel are giving some indication of future conditions.
I have had the opportunity over the past half century to visit Iran, Saudi Arabia, Turkey, Egypt, and the United Arab Emirates, and as a journalist, I have also been fulfilling my passion for assessing situations and writing something. In this connection, dozens of my articles and reports have been published in newspapers, which can be viewed on my website zahidrashdi.org, while a collection of them has been published by Al-Sharia Academy Gujranwala in a book of over four hundred and fifty pages titled "Sunni Shia Kashmakash" (Sunni-Shia Conflict), which can be obtained by contacting alsharia.org/contact.
Nevertheless, keeping in view the current situation and future possibilities, I feel like putting forward a few points to the Iranian leadership with utmost sincerity: "Perhaps my words may settle in your heart":
  1. Regarding the ongoing proxy war in the Middle East, the Iranian leadership should clarify that it has no expansionist-style interest in matters outside Iran and that it respects the internal sovereignty and unity of neighbouring countries.
  2. The state borders of Arab countries, especially Saudi Arabia, are respectable in its eyes, and the ambitions being attributed to the Iranian leadership regarding the Haramain Sharifain (the Two Holy Mosques) are not correct.
  3. It is prepared to hold serious talks to create an atmosphere of mutual harmony with the Organisation of Islamic Cooperation (OIC) at the level of the Islamic world and with Arab rulers at the regional level in the war against Israel, and it recognises an atmosphere of mutual trust as a regional necessity.
  4. While Iran's war with America and Israel and the blockade of maritime routes during it have affected the world economy, Pakistan has also not remained safe from its effects, and its fragile national economy is facing further difficulties. In this situation, as a neighbour, whatever room for manoeuvre can be created will certainly be given attention.
We hope that these matters must have been discussed in the meetings between the Pakistani leadership and the Iranian leadership in New York, but for them, some serious progress should also be visible to the public opinion of the Muslim world, especially the Pakistani people, because we too are certainly being affected by the consequences of this conflict, and it is our right to be aware of future possibilities and to be prepared for them.
https://zahidrashdi.org/5909

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال

مولانا حافظ خرم شہزاد

کراچی کے چند دردِ دل اور علوم قرآنی کی ترویج و اشاعت کا جذبہ رکھنے والے احباب نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن نوراللہ مرقدہ کی اس فکر کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا عزم کیا جس میں حضرت شیخ الہند امت مسلمہ کے زوال کے دو اسباب بیان فرماتے ہیں: اول آپس کے اختلافات اور دوم قرآن سے دوری۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امت کو متحد کیا جائے اور قرآنی تعلیمات کو عام کیا جائے۔

اسی جذبے کے تحت انہوں نے "المدنی اسلامک اکیڈمی پاکستان" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:

لہٰذا دس ستمبر 2026ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب دارالعلوم کورنگی، کراچی کی عظیم الشان مسجد میں اس حوالہ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

تقریب کے مہمانانِ گرامی شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، مفکر اسلام حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب تھے۔

مذکورہ اکیڈمی کے ذمہ داران نے جب اپنے عزم و ارادے اور تقریب سے استاذِ گرامی حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں اپنی کارگزاری پیش کی تو حضرت نے ان کو راقم کا نمبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں بھی اپنی مشاورت میں شریک رکھیں۔ یہ استادِ گرامی کا بڑا پن ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں پر اس طرح شفقت و محبت فرما کر عزت افزائی فرماتے ہیں۔ فجزاھم اللہ تعالیٰ۔

المدنی اسلامک اکیڈمی کراچی، پاکستان کے سینئر ممبر جناب محمد سلیم عمر صاحب نے اس سلسلہ میں راقم سے متعدد مرتبہ فون پر بات کی اور اپنے نیک عزائم سے آگاہ فرماتے رہے۔ ایک دن انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ ہم دس ستمبر کو دارالعلوم کراچی میں افتتاحی تقریب منعقد کر رہے ہیں جس کے مہمانانِ خصوصی میں حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب بھی ہیں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے بھی دعوت نامہ سینڈ کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ آپ نے بہر صورت اس تقریب میں حاضر ہونا ہے۔ تقریب سے چند دن پہلے استادِ محترم حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ میرا سفر کراچی طے تھا مگر کسی عذر کی وجہ سے اب سفر کینسل ہوگیا ہے۔ خیر راقم اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق سفر پر روانہ ہوا اور کراچی پہنچ کر اپنے میزبان اور رفیق برادرم مولانا سعیدالرحمٰن قرنی کے ہمراہ اس بابرکت تقریب میں دارالعلوم کورنگی روانہ ہوا۔

تقریب کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا۔ اکیڈمی کے ذمہ داران نے اغراض و مقاصد اور اپنے نیک عزائم اور اعراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ مولانا مفتی زبیر اشرف عثمانی اور مفتی عمران اشرف عثمانی کے خطابات کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے انتہائی مختصر اور جامع خطاب فرمایا۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے دردِ دل اور قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کے حوالہ سے حضرت کے جذبات اور خدمات کو بیان فرمایا۔ انہوں نے فرمایا کہ آج ہر عالم دین کو درسِ قرآن کے حلقے اور مکاتب قائم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے دینی مدارس کے کردار اور خدمات پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ آج قرآن کریم کے جو حفاظ ہمیں نظر آتے ہیں یہ کسی یونیورسٹی یا کالج سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ دینی مدارس اور مکاتب کا ہی فیض ہے۔ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ دینی مدارس کیا کر رہے ہیں؟ تو عرض یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ حفاظ، علماء اور مفتیان کو معاشرے کی دینی ضرورت کے لیے مہیا کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے المدنی اسلامک اکیڈمی کے ذمہ داران کے اس جذبے اور کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ان شاء اللہ اس محنت کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی دعاء خیر سے تقریب کا اختتام ہوا۔ تقریب میں شہر کے مقتدر علماء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں ہر امام مسجد کو حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا "آسان ترجمہ قرآن" کے پانچ پانچ نسخے مساجد میں رکھنے کے لیے پیش کیے گئے۔

تقریب کے بعد تمام شرکاء کے لیے ضیافت کا پر تکلف انتظام تھا۔

اپنے فکر و عزم اور نظم کے اعتبار سے ایک مثالی تقریب تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ المدنی اسلامک اکیڈمی کے احباب کو اس تقریب کے انعقاد پر جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش و محنت کو قبول فرما کر اس کے دوررس نتائج سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات

ادارہ

یومِ آزادی پر کرنے کے چار کام

مولانا حافظ عامر حبیب — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر

۱۳ اگست ۲۰۲۶ء کو مرکز اقصیٰ میں ’’یومِ آزادی‘‘ کے حوالے سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام منعقدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ’’یومِ آزادی‘‘ پر ہم سب کے ذمے چار کام کرنے ضروری ہیں:

  1. ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمیں برطانوی حکومت کے اقتدار و تسلط سے آزادی ملی تھی اور اسی دن پاکستان کے نام سے ایک نئی مسلم ریاست وجود میں آئی تھی۔ یہ دو بڑی نعمتیں ہیں، ان پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں ان دو عظیم نعمتوں سے نوازا۔
  2. آزادی اور قیامِ پاکستان کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے قائدین اور کارکنوں کی عظیم محنت، آزادی میں جانیں نچھاور کرنے والے شہداء، اور جیلیں کاٹنے والے کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے اور ان سب کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  3. تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد سے ہماری آج کی نسل بے خبر ہے، انہیں ان سے آگاہ کرتے ہوئے ان مقاصد کے حصول کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ بالخصوص آزادی و خودمختاری کے ساتھ ساتھ مسلم تہذیب کے تحفظ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے نوجوان پود کی ذہن سازی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  4. ہم اب تک آزادی اور پاکستان کے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ اس میں ہماری کوتاہیاں اور غفلت کارفرما ہیں۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس کرتے ہوئے ہر شخص، طبقہ اور ادارے کو اپنا احتساب کرنا چاہیے اور اس یومِ آزادی کو یومِ احتساب کے طور پر منانا چاہیے۔

کانفرنس کی صدارت جناب قاری محمد یعقوب شیخ نے کی اور اس سے مولانا خالد حسن مجددی، مولانا حافظ عمران عریف، ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی اور دیگر زعماء نے خطاب کیا۔

اعترافِ خدمات شیلڈ

مولانا حافظ امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب

۲۲ اگست ۲۰۲۶ء: جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کی طرف سے منعقد کردہ ختمِ نبوت کانفرنس کے موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کو تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے عظیم الشان خدمات پر جمعیۃ کے مرکزی ترجمان جناب محمد اسلم غوری اور دیگر رفقاء نے ’’اعترافِ خدمات شیلڈ‘‘ پیش کی۔

بعد ازاں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ترجمان حافظ غضنفر عزیز صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ شیلڈ علماء کرام اور کارکنان کی طرف سے مولانا زاہد الراشدی کی خدمات کا ادنیٰ سا اعتراف ہے، حقیقت یہ ہے کہ مولانا زاہد الراشدی کی خدمات کا اصل اعزاز انہیں بارگاہِ رب العزت سے ملے گا، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ عاطفت ہمارے اور تمام اہلِ حق کے سروں پر قائم و دائم رکھے،آمین‘‘۔

دستور کی فکر کیجیے!

حافظ شاہد رحمان میر — سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ

بارہ ربیع الاول (۲۶ اگست ۲۰۲۶ء) کو چناب نگر میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مجھ سے پہلے مقررین نے تحفظِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے قوانین کے بارے میں سیکولر حلقوں کے جس مطالبہ کی مذمت کی ہے میں بھی اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس سے اگلی بات بھی کرنا چاہوں گا کہ دستور کی فکر کیجیے! میں اس کے اردگرد خطرات کا دائرہ تنگ ہوتا دیکھ رہا ہوں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں چار اہم باتیں ایسی ہیں جو اس دستور کی نظریاتی اور اسلامی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں اور اسی وجہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کے ساتھ ساتھ ملک کے بعض لا دین عناصر بھی دستور کے خلاف متحرک ہیں:

  1. دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
  2. نظام و قانون میں قرآن و سنت کی بالادستی کا اعلان کیا گیا ہے۔
  3. عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، اور
  4. حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کو جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

دستورِ پاکستان کی یہ چاروں باتیں ملکی اور بین الاقوامی لابیوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں اور اس کی بنیاد پر دستورِ پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُنے جا رہے ہیں۔ یہ چاروں باتیں ہمارے عقیدہ و ایمان کا حصہ ہیں اور دستورِ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص اور شناخت کا اظہار ہیں۔ اس لیے دستور کا تحفظ اور اس کے خلاف سازشوں کا ادراک اور مقابلہ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے جس کے لیے تمام محب وطن دینی و سیاسی جماعتوں اور حلقوں کو بیدار اور متحرک رہنا چاہیے۔

جامعہ محمدی شریف چنیوٹ میں پاکستان شریعت کونسل کی تقریب

مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

بارہ ربیع الاول (۲۶ اگست ۲۰۲۶ء) کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا۔

مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی نے جامعہ محمدی شریف کے بزرگوں حضرت مولانا محمد ذاکر اور حضرت مولانا محمد نافع رحمہما اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے بزرگوں میں سے تھے اور خاص طور پر حضرت مولانا محمد ذاکرؒ نے ۱۹۷۳ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے دستور کی تشکیل و تدوین میں جو کردار ادا کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی اپنے ان بزرگوں کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور جامعہ محمدی شریف کی تدریسی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک لائبریری کا قیام اور عوام کو کتاب تک رسائی کا موقع فراہم کرنا آج کی اہم ترین علمی، فکری اور دینی ضرورت ہے کیونکہ ’’موبائل‘‘ نے کتاب کے ساتھ نئی نسل کا رشتہ بہت کمزور کر دیا ہے جو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہماری عمومی حالت یہ ہو گئی ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا ترجمہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کا حوالہ، یا کوئی فقہی مسئلہ بھی اب ’’گوگل‘‘ سے پوچھا جاتا ہے اور اصل مآخذ دیکھے بغیر اس کی بنیاد پر فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے جو ہمارے علمی ذخیرے اور مآخذ سے نہ صرف نئی نسل بلکہ نوجوان علماء کرام کا رشتہ بھی ختم کرتی جا رہی ہے۔ چنانچہ اِس دور میں لائبریری کا قیام اور عوام کو اس تک رسائی کا موقع فراہم کرنا بہت بڑی علمی اور دینی خدمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس سلسلہ میں یہ حوالہ دیا کرتا ہوں کہ سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب و محفوظ کر کے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے قرآن کریم کو مسجد نبویؐ کے ایک ستون کے ساتھ جگہ بنا کر وہاں رکھوا دیا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت، سورۃ، یا ترتیب کے بارے میں کسی کو کوئی اشکال یا شبہ ہو تو وہ اسے دیکھ کر درست کر لے۔ یہ مصحف شریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت تک کم و بیش بارہ سال اسی ستون پر ’’اوپن نسخہ‘‘ کے طور پر موجود رہا اور لوگ مسلسل آ کر اپنے نسخوں کو اس کے مطابق درست کرتے رہے۔ یہ ستون ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کہلاتا تھا اور اس کی جگہ بننے والا ستون آج بھی مسجد نبوی میں ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ کتاب کو عوامی استفادہ کے لیے اوپن جگہ پر رکھوانے کا یہ کام حضرت صدیق اکبرؓ نے کیا تھا اور یہی ہمارے ہاں پبلک لائبریری کا نقطۂ آغاز ہے۔

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر جو پہلی عوامی دعوت دی تھی اس میں سب سے پہلے اپنے بارے میں پوچھا تھا کہ میرے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ سب نے بیک آواز کہا تھا کہ ’’ما جربنا عليك الا صدقا‘‘ (صحیح بخاری ۴۷۷۰) ہم نے آپ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پیش فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کا نقطۂ آغاز بھی سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور رسول اکرمؐ کے تعارف سے دین کی دعوت شروع ہوتی ہے۔ اس لیے ہماری آج کی ضرورت بھی یہ ہے کہ ہم دین اور دینی معلومات سے بے خبر آج کی انسانی آبادی اور خاص طور پر اپنی نئی نسل کو قرآن کریم اور سیرتِ نبویؐ سے متعارف اور مانوس کرنے کی کوشش کریں اور مباحث میں الجھانے کی بجائے بریفنگ کے انداز میں (۱) قرآن کریم (۲) سیرت و سنتِ رسولؐ اور (۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معاشرت اور سوسائٹی سے متعارف کرائیں۔ یہی آج کے دور میں دین کی دعوت اور دین کی طرف رجوع کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

جامعہ محمدی شریف کے مہتمم حضرت صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے، جو پاکستان شریعت کونسل ضلع چنیوٹ کے سرپرست ہیں، مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہم اس مشن کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ محنت کرتے رہیں گے۔

اس نشست میں جامعہ محمدی شریف کے معزز اساتذہ اور علاقہ کے سرکردہ دینی حضرات کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے راہنما مولانا حافظ محمد عمیر چنیوٹی، مولانا بدر عالم چنیوٹی، مولانا ابوبکر چنیوٹی، ڈاکٹر محمد عارف، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، حافظ احمد فدا، حافظ طلحہ نذیر، حافظ شاہد الرحمٰن میر اور دیگر حضرات نے بھی شرکت کی۔

اسلامی نظریاتی شناخت پاکستان کی اساس ہے

مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ

۲۹ اگست ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی آج اسلام آباد جاتے ہوئے وزیر آباد رکے اور کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد کی بیمار پرسی اور ان کے لیے دعائے صحت کی، جو چند روز سے صاحبِ فراش ہیں۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد رحمان میر اور عبد القادر عثمان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر احباب سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دستور کی پاسداری اور عملداری کے اہتمام کے ساتھ ساتھ قومی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو بریک لگانا ہماری سب سے بڑی قومی ضرورت ہے جس کے لیے دینی اور سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کے ساتھ بھرپور جدوجہد کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت ہی پاکستان کی اساس اور ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتا اور کمپرومائز نہیں کی جا سکتا۔

جامع مسجد محلہ شاہ شریف ڈسکہ میں پروقار علمی و دینی نشست

مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ

یکم ستمبر ۲۰۲۶ء: جامع مسجد محلہ شاہ شریف، ڈسکہ میں ایک اہم اور پروقار علمی و دینی نشست منعقد ہوئی، جس میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی گراں قدر دینی، علمی، فکری، دعوتی اور تحریکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی جانب سے مہتمم حضرت مولانا طیب خان ثاقب صاحب نے حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کو اعترافِ خدماتِ دین کے طور پر خصوصی شیلڈ پیش کی۔

اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ اور امیرِ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے بھی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کی طویل اور گراں قدر خدماتِ دین، علمی و فکری جدوجہد اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار کے اعتراف میں خصوصی شیلڈ پیش کی گئی اور انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنی زندگی کو دینِ اسلام کی سربلندی، علومِ دینیہ کی ترویج، اسلامی فکر کی حفاظت، عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کی فکری و علمی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کی علمی بصیرت، قلمی خدمات اور مسلسل دینی جدوجہد اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔

اس اہم نشست میں مولانا ایوب خان ثاقب صاحب، امیرِ دوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت؛ مولانا ارشد محمود خان صاحب، جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ؛ مولانا شہباز شوکت صاحب؛ مولانا مفتی راشد ڈسکوی صاحب سمیت دیگر علماء کرام نے شرکت کی اور حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کی علمی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ یہ پروقار نشست جامع مسجد محلہ شاہ شریف، ڈسکہ میں منعقد ہوئی، جہاں علماء کرام کی موجودگی میں حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنا ایک یادگار اور قابلِ قدر موقع ثابت ہوا۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی تمام دینی، علمی اور فکری خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، صحت و عافیت کے ساتھ مزید خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے علم و فکر سے امتِ مسلمہ کو ہمیشہ مستفید فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ختم نبوت کانفرنس حافظ آباد میں شرکت

مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

۳ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز جمعرات ’’حنیف محمد اسٹیڈیم‘‘ حافظ آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ تحفظِ ختمِ نبوت کا مسئلہ ڈیڑھ سو سال پرانا نہیں بلکہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہو چکا تھا جب مسیلمہ کذاب نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خط لکھ کر آپؐ کی نبوت میں شرکت کی بات کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسترد کرتے ہوئے اس وقت جو جواب دیا آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی امت اسی موقف پر قائم و دائم ہے۔

علامہ زاہد الراشدی صاحب نے دوسری بات یہ فرمائی کہ قادیانیوں کے پاس دو ہی راستے ہیں: (۱) یا تو توبہ تائب ہو کر واپس اسلام کی راہ پر آجائیں (۲) یا پھر امت کے اجماعی موقف اور قومی اسمبلی اور عدلیہ کے متفقہ فیصلے کو قبول کر لیں، اس کے علاوہ ان کے پاس تیسرا کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے فرمایا کہ امت مسلمہ نے ماضی میں بھی اس عقیدے پر کوئی لچک نہیں دکھائی اور آئندہ بھی اپنے موقف پر کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ لہٰذا جب بھی لچک کی بات ہو گی تو قادیانیوں کی طرف سے ہی ہو گی، مسلمانوں کی طرف سے نہیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے زیر اہتمام ریلی

مولانا حافظ عامر حبیب — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر

آج یومِ ختم نبوت (۷ ستمبر ۲۰۲۶ء) کے موقع پر جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختمِ نبوت ریلی نکالی گئی جس میں علماء کرام، تاجر راہنماؤں اور دیگر طبقات کے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی شیخوپورہ موڑ سے شروع ہو کر گوندلانوالہ چوک تک پہنچی اور وہاں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عمر حیات، مولانا عارف شامی، میاں فضل الرحمان چغتائی، مولانا جمیل احمد گجر اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے ساتھ اپنی مسلسل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تکمیل تک جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا۔

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کا تحفظ اور دستور کی پاسداری و عملداری ہم سب کی قومی و دینی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دینی و سیاسی قیادتوں پر زور دیا کہ دستور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور متحد ہو کر انہیں ناکام بنا دیں۔

نئے صوبوں کا قیام — ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘

مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ

۱۱ ستمبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی سے ایک مجلس میں سوال ہوا کہ نئے صوبوں کے قیام کی مہم کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ضلع گوجرانوالہ کو تقسیم کر کے وزیر آباد کو الگ ضلع بنائے دو سال کے لگ بھگ عرصہ ہو گیا ہے مگر ابھی تک مکمل نہیں کر پائے اور ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ خدا جانے ہمارے یہ ہوائی منصوبہ ساز پورے ملک کو گومگو کے اس گرداب میں دھکیلنے کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟

عقیدہ اور نظریہ کا فرق

مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

۱۶ ستمبر ۲۰۲۶ء: استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے ایک مجلس میں عقیدہ اور نظریہ کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ہمارے ایک فاضل عزیز نے یزید کے بارے میں ایک مضمون میں اظہار خیال کیا اور اس کا عنوان رکھا ’’عقیدۂ فسقِ یزید‘‘۔ مجھے تعجب ہوا کہ یزید کے فاسق ہونے یا نہ ہونے کا تعلق تاریخی روایات سے ہے کہ جس کے نزدیک یزید کے فاسق و فاجر ہونے کے بارے میں تاریخی روایات درست ہیں وہ اسے فاسق کہے گا اور جن کے نزدیک وہ روایات معتبر نہیں ہیں وہ نہیں کہے گا، جیسا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’فسقِ یزید‘‘ کا مدار تاریخ پر ہے۔ میں نے اس طرف توجہ دلائی تو فاضل عزیز نے اسے بدل کر ’’نظریہ فسقِ یزید‘‘ کر دیا۔

یہ بات ہمارے عمومی مزاج کا حصہ بن گئی ہے کہ ہم جس طرح فقہی احکام میں جائز و ناجائز، خطا و صواب اور اولیٰ و غیر اولیٰ کے دائروں میں فرق کرنا بھول گئے ہیں اسی طرح عقیدہ اور نظریہ کے درمیان فرق بھی ہمارے نزدیک غیر ضروری ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ عقیدہ کا ثبوت نصِ قطعی و صریح سے ہوتا ہے جبکہ استنباط و استدلال سے ثابت کی جانے والی بات نظریہ کہلاتی ہے، جس کی وضاحت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں یوں کی ہے کہ جو بات قرآن کریم اور سنتِ ثابتہ سے صریحاً‌ ثابت ہوتی ہے اور جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کسی اجماعی موقف کا اظہار ہے وہ تو عقائد میں ہے اور اہلِ سنت کا دائرہ استدلال یہی ہے لیکن جو بات استنباط و استدلال کے ذریعے ثابت کی جائے وہ تعبیر و تشریح کے دائرے میں آتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اصل عقیدہ کو مانتے ہوئے تعبیر و تشریح میں الگ رائے رکھنے والوں کو اہلِ سنت کے دائرے سے باہر قرار نہیں دیتے۔

اسی طرح کی ایک بات کم و بیش دو تین عشرے قبل مجھے برطانیہ میں پیش آئی کہ شام سے تعلق رکھنے والے ایک سنی عالم الشیخ عمر بکری محمد شام کی علوی حکومت کے مظالم کا شکار ہو کر برطانیہ میں قیام پذیر تھے، ہمارے دوستوں میں سے تھے، انتہائی پرجوش اور متحرک راہنماؤں میں سے تھے، ان کے بارے میں مجھے کسی نے بتایا کہ وہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول پر یقین نہیں رکھتے۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا بھی قائل ہوں اور ان کی دنیا میں دوبارہ تشریف آوری کو بھی مانتا ہوں مگر اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سمجھتا ہوں جو یقیناً‌ پوری ہو گی البتہ اسے عقائد کے دائرہ میں شمار نہیں کرتا۔

اس سے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ وہ حیات و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکر نہیں ہیں مگر اس کے لیے تعبیر الگ اختیار کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ الگ تعبیر بھی تکلف ہی ہے مگر اس بنیاد پر ان کو منکرین میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔ یہ بات اس لیے عرض کی ہے کہ نظریہ اور تعبیر و تشریح کا دائرہ عقیدہ سے مختلف ہوتا ہے، ہمیں کسی کے بارے میں کوئی موقف طے کرتے ہوئے اس کا بھی خیال کرنا چاہیے۔

حرمِ مکہ کی حدود میں حوثیوں کا حملہ

مولانا حافظ فضل الہادی سواتی — نائب خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

۱۸ ستمبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حرمِ مکہ کی حدود میں حوثیوں کے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حرمین شریفین پر کسی بھی طرف سے کوئی بھی حملہ اسلام دشمنی کا بدترین اظہار ہے جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور امتِ مسلمہ متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے مکہ اتحاد کی طرف سے بروقت ردعمل کے اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی حکومتوں کو یقین دلایا کہ امتِ مسلمہ حرمین شریفین کے تحفظ و دفاع کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

امیر جمعیت پنجاب مولانا محمد امجد خان کی آمد

عبد القادر عثمان — ناظم دفتر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ء: جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے نو منتخب امیر مولانا محمد امجد خان گزشتہ شب گجرات سے لاہور واپس جاتے ہوئے گوجرانوالہ میں تھوڑی دیر رکے اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کی۔ مولانا راشدی نے انہیں جمعیت علمائے اسلام کا صوبائی امیر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ انتخاب بہت موزوں اور بروقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد امجد خان اپنے عظیم والد محترم حضرت مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی روایات کے امین ہیں اور ان کی قیادت میں پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام ملی و قومی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کرے گی۔ دونوں راہنماؤں نے اس موقع پر ملکی صورتحال پر بھی مشورہ کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ اس وقت دستور کی بالادستی اور عملداری قوم کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے لیے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کے ساتھ متحرک ہونا چاہیے۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا قاضی مراد اللہ خان اور دیگر راہنماؤں حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا زاہد اللہ، عبد القادر عثمان اور پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولانا حافظ امجد محمود معاویہ بھی موجود تھے۔