’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
اسلام میں صلہ رحمی کا تصور
خطبہ نمبر ۱۰
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ احکام القرآن کے حوالے سے ہماری گفتگو مسلسل چل رہی ہے۔ قرآن پاک نے جن احکام پر اہمیت کے ساتھ زور دیا ہے اُن میں باہمی رشتہ داریاں بھی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جوڑ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے ایک صلہ رحمی ہے۔ صلہ رحمی کا لفظی معنی ہے رشتے جوڑنا یعنی رشتوں کا جوڑ قائم رکھنا۔ جب کہ رشتوں کو توڑ دینا قطع رحمی ہے۔ قرآن پاک نے دونوں طرح کی اصطلاح میں اسے بیان کیا ہے، صلہ رحمی کی بھی اور قطع رحمی کی بھی۔ صلہ رحمی، رشتوں کو جوڑ کر رکھنا۔ اور قطع رحمی، رشتوں کو توڑ کر پامال کرنا۔
فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (سورۃ محمد: 47، آیت: 22)
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)
صلہ رحمی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ حسنہ
رشتے کو قائم رکھنا، اخلاقِ حسنہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ عظیمہ میں صلہ رحمی بہت بڑی صفتِ حسنہ ہے۔ خاتم النبیین ﷺ رشتوں کا بڑا خیال رکھتے تھے، رشتوں کا احترام کرتے تھے اور رشتوں کو یاد بھی رکھتے تھے۔ بہت سی روایات ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کا اس بارے میں اسوہ کیا تھا۔ یہ اسوہ رشتوں کو باقی رکھنے کے حوالے سے بھی ہے اور رشتوں کو یاد رکھنے کے حوالے سے بھی۔
ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہجرت سے پہلے مکہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ جو جناب خاتم النبیین ﷺ کی سب سے طویل مدت تک ساتھ دینے والی اہلیہ تھیں۔ پچیس سال کی مدت تک حضور ﷺ کے ساتھ کسی اور بیوی کا وقت نہیں گزرا۔ جوانی کے زمانہ میں حضور ﷺ سے پچیس سال کی عمر میں شادی ہوئی ہے، اور حضورؐ پچاس سال کے تھے جب حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ جس سال جناب ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضور ﷺ کو دوہرا صدمہ پیش آیا۔ گیارہ نبوی کی بات ہے۔
- ایک طرف اہلیہ محترمہ، غم خوار، جنھوں نے حضورؐ پر اپنا سب کچھ لٹایا، اپنی ہر چیز قربان کر دی۔
- دوسری طرف حضورؐ کے چچا ابو طالب ہیں جنھوں نے حضورؐ کا ساتھ دیا، حضورؐ کی پشت پناہی کی۔
جس سال یہ دونوں فوت ہوئے تو حضورؐ نے اسے غم کا سال (عام الحزن) کہا کہ یہ میرے لیے غم کا سال ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ یہ سال فلاں چیز کا، یہ سال فلاں چیز کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا، یہ میرے لیے غم کا سال ہے کہ مجھے یکے بعد دیگرے دو بڑے صدمے پیش آئے۔ مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بیویاں دیں، بڑی با وقار تھیں اور حضورؐ کی بڑی چہیتیاں تھیں، لیکن حضور ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ ان کی بہن حضرت ہالہ رضی اللہ عنہا جب بھی آتیں تو حضورؐ ان کا استقبال کرتے تھے کہ خدیجہؓ کی بہن آئی ہیں۔ اور ہمیشہ اُن کا ذکر محبت سے کرتے۔
حضرت ابن عمرؓ کا اتباعِ سنت اور صلہ رحمی کا اہتمام
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ محدثین و مؤرخین ذکر فرماتے ہیں۔ انھوں نے حضور ﷺ کے ساتھ ایک حج کیا تھا۔ پھر معمول رہا کہ حج چھوڑا نہیں، ہر سال حج پر جاتے تھے۔ کئی دفعہ عزیزوں نے روکا بھی کہ حضرت آپ نابینا ہو گئے ہیں، نہ جائیں۔ حجاج کے زمانے میں لڑائی ہو رہی تھی، پھر بھی نہیں رکے، کہتے تھے کہ میں جاؤں گا۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حجاج بن یوسف کی شدید جنگ تھی، حجاج نے مکہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ بیٹوں نے کہا، ابا جان جنگ ہو رہی ہے، پتہ نہیں آپ کو اندر جانیں دیں یا نہ جانیں دیں، چھوڑیں، اس سال حج نہ کریں، آپ کے لیے اب یہ کون سا فرض ہے؟ کہنے لگے حضور ﷺ بھی ایک مرتبہ عمرہ کے لیے گئے تھے تو لوگوں نے روک دیا تھا، جو حضورؐ نے کیا تھا میں بھی وہی کروں گا۔ یہ ہے تعلقات اور رشتے قائم رکھنا اور ان کا احترام کرنا۔ یہ واقعہ رشتے اور تعلقات قائم رکھنے کی چھوٹی سی مثال تھی۔
[اذ اصنع کما صنع رسول اللہ، صحیح بخاری، باب طواف القارن، حدیث نمبر: 1640]
ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کر کے واپس مدینہ جا رہے تھے، راستے میں ایک بدوی (دیہاتی) شخص ملا، دعا سلام ہوئی۔ اس نے کہا، حضرت آپ کو یاد ہوگا میں آپ کے گھر آیا کرتا تھا، میرے والد آپ کے والد کے دوست تھے۔ میرے والد آپ کے والد کے پاس آیا کرتے تو میں بھی آیا کرتا تھا، بچہ تھا، اگر آپ کو یاد ہو، میں ان کا بیٹا ہوں۔ فرمایا، ہاں یاد آ گیا، میں نے آپ کو دیکھا ہے۔ کچھ دیر ساتھ رہے۔ جب رخصت ہونے لگے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو سواری کے لیے خچر دیا اور کچھ نقد پیسے بھی دیے۔ ہدیے کے طور پر کھجوریں اور کپڑے وغیرہ بھی دیے اور بڑے احترام کے ساتھ ان کو رخصت کیا۔ بعد میں ساتھیوں نے کہا، حضرت وہ سیدھا سادہ سا دیہاتی آدمی تھا، دس بارہ درہم بھی کافی تھے، آپ نے اتنا تکلف کیا، چند کھجوریں ہی کافی تھیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک جملہ فرمایا کہ تم نے سنا نہیں کہ اس کا والد میرے والد کا دوست ہے، اس لیے وہ تعلق مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں اس کی خدمت کروں۔ یہ ہے تعلقات اور رشتوں کو نبھانا اور رشتوں کو قائم رکھنا اور ان کا احترام کرنا۔ (صحیح مسلم، باب صلۃ اصدقاء الاب والام، حدیث نمبر: 11)
مرنے کے بعد والد کے چار حقوق
ایک صاحب آئے، یا رسول اللہ ﷺ! میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ زندگی میں تو ان کا حق ہوتا ہے ادب کرنا، احترام کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ یہ ماں باپ کا حق ہوتا ہے۔ کیا فوت ہونے کے بعد بھی باپ کا کوئی حق مجھ پر ہے؟ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا چار حق ہیں (سنن ابی داؤد، باب فی بر الوالدین، حدیث نمبر: 5142):
پہلا حق
ان کے لیے مغفرت کی دعا اور کچھ نہ کچھ ایصالِ ثواب کرتے رہنا۔ جب بھی موقع ملے دعا کرو، ایصال ثواب کرو۔ ویسے بھی اس سے ہٹ کر اولاد جو خیر کے کام کرتی ہے، ماں باپ کی تربیت ہے تو سب کا ثواب ماں باپ کو پہنچتا ہے، وہ نام نہیں لے گا تب بھی ماں باپ کے حق میں ثواب ہوگا۔ یہ اصول ہے، خودبخود ثواب پہنچے گا۔ لیکن اس سے ہٹ کر ان کا حق ہے کہ نام لے کر ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے، ایصال ثواب کرے۔ جس نے بھی کسی کو نیکی کی تعلیم دی ہو، اس کے بعد اگر وہ اس پر عمل کرتا ہے تو خودکار طریقے سے اس کا ثواب اس تعلیم دینے والے کو ملتا ہے جس نے نیک تعلیم دی ہوتی ہے۔
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا ایک علمی نکتہ
اس پر ایک دلچسپ بات ذہن میں آئی ہے، عرض کر دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں ہر زمانے میں آپس میں مناظرے اور مقابلے کے کچھ عنوانات ہوتے ہیں، اس وقت بھی ہیں۔ یہ عنوانات مختلف ہیں، پاکستان میں اور ہیں، ترکی میں اور ہیں، مصر میں اور ہیں۔ کسی نہ کسی مسئلے پر ہم آپس میں بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ اور کوئی حرج کی بات نہیں ہے اگر صرف بحث و مباحثہ کی حد تک ہو، لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ علمی گفتگو اور فکری مباحثے بہت فائدے کی چیزیں ہیں اگر ان میں بے جا بحث نہ کی جائے، تعصب نہ اختیار کریں، گروپ بندی نہ ہو، جھگڑا نہ کریں، تو بہت کام کی چیزیں ہیں۔
آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے، ایک اختلافی مسئلہ ہمارے ہاں یہ تھا کہ کوئی اُمتی اعمال میں نبی ﷺ سے بڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ جو بات کرتے تھے گنتی کے حوالے سے، وہ کہتے تھے بڑھ سکتا ہے۔ اور جو بحث کرتے تھے قدر اور قیمت کے حوالے سے، وہ کہتے تھے کہ نہیں بڑھ سکتا۔
- گنتی کے اعتبار سے تو تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن کیفیت کے حوالے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ کا زور اِدھر تھا کہ گنتی بڑھ سکتی ہے۔ خاتم النبیین ﷺ نے حج فرض ہونے کے بعد ایک حج کیا ہے۔ میں نے خود کئی حج کرنے والے لوگ دیکھے ہیں، ایک نے تو پینتالیس حج کیے تھے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے روزے فرض ہونے کے بعد نو سال روزے رکھے ہیں۔ یہاں کئی افراد ایسے بیٹھے ہوں گے جنھوں نے تیس سال چالیس سال مسلسل روزے رکھے ہوں گے۔ گنتی والے کہتے تھے نو، نو ہی ہوتا ہے، تیس سے بڑھ نہیں سکتا۔ اس طرح پانچ، پانچ ہے دس سے بڑھ نہیں سکتا، تو گنتی میں امتی آگے بڑھ سکتا ہے۔
- جن کا یہ دعویٰ تھا کہ فضیلت اور کیفیت کے اعتبار سے نہیں بڑھ سکتے، وہ یہ کہتے تھے کہ سارے امتیوں کی نمازیں ایک طرف اور نبی ﷺ کی دو رکعتیں ایک طرف۔
اب یہ بحث چل رہی تھی اور یہ صرف اندازے و قیافے چل رہے تھے۔ ہمارے ہاں جو بات ہوتی ہے، پیچھے دیکھیں تو اتنی سی بات نکلتی ہے، جب کہ ہم ٹھیک ٹھاک میدان گرم کر چکے ہوتے ہیں۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے فرمایا کہ گنتی میں بھی نہیں بڑھ سکتے۔ کوئی امتی اعمال میں گنتی کے اعتبار سے بھی پیغمبر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لوگوں نے کہا، حضرت آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ حساب و کتاب کی بات ہے، اس میں عقیدت کی بات تو نہیں ہے، دو اور دو چار ہی ہوتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ گنتی میں بھی نہیں بڑھ سکتا۔ پوچھا، کیسے؟ انھوں نے کہا، میری بات سنو! امت کو سارے اعمال کی تلقین کس نے کی ہے؟ کس کے کہنے پر نمازیں پڑھ رہے ہیں؟ کس کے کہنے پر روزے رکھتے ہیں؟ جو کام کرتے ہیں، پہلے ثواب کس کے کھاتے میں جاتا ہے؟ جناب خاتم النبیین ﷺ کے پاس۔ ثواب شمار کرو، ہے کوئی کیلکولیٹر؟ ایک امتی کی نہیں سارے امتیوں کی ساری نمازیں مل کر بھی گنتی میں حضور ﷺ سے نہیں بڑھ سکتیں۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ماں باپ، استاد، یا شیخ کو خود ثواب پہنچتا ہے۔ جو آدمی بھی نیکی کا عمل کرتا ہے سب سے پہلے اس کے کھاتے میں جاتا ہے جس نے یہ عمل سکھایا ہے۔ لیکن نام لے کر، یاد کر کے، متعین کر کے کہ یا اللہ میرے ماں باپ کو اس کا ثواب پہنچا، یہ بھی ان کا حق ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، پہلا حق یہ ہے کہ ایصالِ ثواب کرتے رہو اور دعائے مغفرت کرتے رہو۔
دوسرا حق
فرمایا، اگر اس نے کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں کر پایا۔ کسی ادارے کے ساتھ کوئی خیر کے کام کی نیت کی اور وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں کر سکا۔ تو فرمایا کہ اگر توفیق ہے تو اس وعدہ کو پورا کر دو۔
تیسرا حق
جو میرے موضوع سے متعلق ہے۔ فرمایا، باپ کی وجہ سے جو رشتے داریاں تھیں وہ ٹوٹنے نہ پائیں۔ کچھ رشتے باپ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ رشتے ماں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ ایک تیسرا کھاتہ ہے بیوی کی طرف سے، اور ایک چوتھا کھاتہ ہے رضاعت کا۔ اسلام نے رشتے قائم ہونے کے یہ چار کھاتے قائم رکھے ہیں۔ ہاں، ایک رشتہ توڑ دیا تھا، جاہلیت کا منہ بولا رشتہ: یہ میرا بھائی ہے، یہ میرا باپ ہے۔ فرمایا کہ منہ سے کہنے سے کوئی کچھ نہیں بنتا۔ رشتوں کے چار دائرے قرآن پاک نے بیان کیے ہیں: (1) ماں کے حوالے سے (2) باپ کے حوالے سے (3) بیوی کے حوالے سے (4) دودھ، یعنی رضاعت کے حوالے سے۔
جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا کہ باپ کی وجہ سے جو رشتے تھے وہ ٹوٹنے نہ پائیں۔ دادا دادی اور ان کے رشتے دار یعنی باپ کی وجہ سے جو رشتے تھے اُن رشتوں کو قائم رکھنا ہے۔ ہمارے ہاں پنجابی کا محاورہ ہے ’’پِڑ پَڑا تو ساک گیا‘‘ (جھگڑا ہوا تو رشتہ ختم)۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ ایک روایت میں آتا ہے، جناب خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’علموا من انسابکم‘‘ (سنن ترمذی، باب ما جآء فی تعلیم النسب، حدیث نمبر: 1979)
(اپنے نسب اور رشتے یاد رکھو اور اس کو سیکھو۔)
اسی پر ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ کے خلاف جب شاعروں نے ایک طوفان بپا کر دیا تھا، کوئی یہ لکھ رہا ہے، کوئی وہ لکھ رہا ہے، بہت سے لوگ لکھ رہے تھے۔ احزاب کی جنگ کے بعد عرب کے قریشی شعراء نے طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا تھا، اسلام کے خلاف اشعار لکھ رہے ہیں، ذاتِ نبوت کے خلاف ہَجو لکھ رہے ہیں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے مسجد نبوی میں مجمع عام سے اعلان فرمایا کہ اس کا جواب کون دے گا کہ جو ہمارے خلاف لکھ رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں؟ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، کہنے لگے، یا رسول اللہ ﷺ! میں حاضر ہوں۔ انھوں نے زبان باہر نکالی، ہاتھ سے پکڑی اور کہا، یا رسول اللہ! جو آپ کے خلاف بولتے ہیں میں ان قریشیوں کو اس زبان کے ساتھ چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اے حسان! میں بھی قریشی ہوں۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا، آپؐ کو درمیان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال نکالتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا، حسان! اس طرح کرو پہلے میرے ساتھ بیٹھو، ان کے ساتھ میری رشتے داریاں اچھی طرح معلوم کر لو، ایسا نہ ہو کہ انجانے میں تم کوئی بات کہو اور میں بھی اس میں شامل ہو جاؤں۔ (صحیح مسلم، باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 157)
اس حوالے سے میں عرض کیا کرتا ہوں، حضور ﷺ کی ذات بابرکات کا معاملہ بڑا نازک معاملہ ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ تم قریشیوں کی مذمت کر رہے ہو اور تمھاری زبان سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس میں، میں بھی شامل ہو جاؤں، یہ درست نہیں۔ اہلِ علم کے پاس بیٹھ کر میری رشتہ داریوں کی تصدیق کرو۔ نسب اور رشتہ داریوں کو معلوم کرنا، یہ بھی تقاضوں میں سے ہے۔
چوتھا حق
چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ باپ کی وجہ سے جو تعلقات تھے وہ تعلقات ختم نہ ہوں۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کیا تھا وہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ میرے باپ کا دوست تھا اور میرے باپ کا ساتھی تھا۔ تعلقات اور رشتے دونوں کو جناب خاتم النبیین ﷺ نے ان کی موت کے بعد بھی یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اس کو سماجی ضرورت کے طور پر بھی بیان کیا ہے۔ صلہ رحمی: رشتوں کا قائم رہنا، جوڑنا۔ قرآن پاک نے جہاں بھی صلہ رحمی اور قطع رحمی کا ذکر فرمایا ہے، وہاں یہ بھی فرمایا ہے:
فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (سورۃ محمد: 47، آیت: 22)
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)
الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض اولئک ھم الخاسرون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 27)
(وہ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔)
اور بھی جہاں قرآن پاک نے صلہ رحمی اور قطع رحمی کا ذکر کیا ہے وہاں فساد فی الارض کا بھی ذکر کیا ہے۔ اگر میرا باپ کے رشتے داروں سے تعلق نہیں ہے تو زمین میں فساد کیسے آگیا؟ آدمی کا تعلق آپس میں نہیں ہے تو فساد فی الارض کیسے آیا؟ قرآن پاک کا اصول ہے:
و یقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض۔
(اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔)
فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم۔
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)
دو معنی ہیں اس کے: (1) اگر تم دین کی تعلیمات سے اعراض کرو گے، رشتے قائم نہیں رکھو گے تو نتیجتاً زمین میں فساد پھیلے گا۔ (2) دوسرا معنی یہ کہ حکمرانی تمھارے ہاتھ میں آجائے اور تم والی بن جاؤ اور رشتوں کا جوڑنا تمھارے بس میں نہ رہے اور رشتے ٹوٹتے رہیں تو زمین میں فساد آجائے گا۔ آگے فرمایا:
اولئک الذین لعنھم اللہ (سورۃ محمد: 47، آیت: 23)
(یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔)
قرآن پاک ہمیں یہ بات سمجھا رہا ہے کہ انسانیت کی بنیاد جوڑ پر ہے، انفرادیت پر نہیں ہے۔ آج بھی ہمارا مغرب سے اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں سوسائٹی کا آغاز فرد سے ہے۔ ہم کہتے ہیں فیملی سے ہے اور صلہ رحمی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جوڑ سے معاشرہ ہے فرد سے نہیں۔ کیونکہ سوسائٹی کا آغاز جوڑے سے ہوا تھا فرد سے نہیں۔ علامہ اقبال نے اس کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
وبث منہما رجالاً کثیرا ونسآء (سورۃ النساء: 4، آیت: 1)
(اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)
صلہ رحمی کے مختلف درجات
سوسائٹی کا مدار فرد نہیں بلکہ خاندان پر ہے۔ قرآن پاک نے اس کے درجات بیان فرمائے ہیں۔ جوڑ کو قائم رکھنا اور رشتوں کو قائم رکھنا اور رشتوں پر سوسائٹی کی بنیاد رکھنا، یہ قرآن پاک کا تقاضا ہے۔
واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا و بالوالدین احسانا و بذی القربیٰ (سورۃ النساء: 4، آیت: 36)
(اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں سے بھی)
قرآن پاک کہتا ہے کہ اللہ کی فرماں برداری کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور دوسرا نمبر کس کا ہے؟ یعنی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ والدین کا ذکر کر دیا۔ اور ماں باپ کے بعد اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر ذوی القربی یعنی قریبی رشتے داریوں کا ذکر کیا۔ پہلا دائرہ: ماں باپ۔ دوسرا دائرہ: ذوی القربیٰ۔ تیسرا دائرہ: ہمارے ہاں وراثت لینے اور دینے میں ترتیب کیا ہے، کتنے درجے ہیں؟ (1) ذوی الفروض (2) عصبات (3) ذوی الارحام (4) موالی۔ وراثت میں چار درجے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وراثت کے حق دار بھی اسی ترتیب سے ہیں، اگر کوئی مصیبت میں پھنس گیا ہے تو اس کی کفالت کے ذمہ دار بھی یہی درجے ہیں۔
[الغرم بالغنم۔ (جتنا فائدہ ہے اتنی ذمہ داری ہے) مجلۃ الاحکام العدلیۃ، نور محمد، کارخانہ تجارتِ کتب، کراتشی، ج 1، ص 26]
فقہاء کا اصول ہے کہ جس کو حصہ ملتا ہے اس پر ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اشارہ کر دیتا ہوں کہ ایک آدمی لاوارث ہو گیا اور بزرگ یا معذور ہو گیا ہے، تو فقہاء اس کو کسی فلاحی سنٹر (Old Home) کے حوالے نہیں کرتے بلکہ اس کا ذمہ ان لوگوں پر ہے جو مرنے کی صورت میں اس کے وارث بنیں گے۔ یہ ذمہ داریاں طے کی ہیں درجہ بدرجہ، اگر یہ ذمہ دار نہ ہو تو وہ ہو گا۔ اس کی دیکھ بھال، رہن سہن، اس کا کھانا، اس کی ضروریات، یہ جو ذمہ داریاں طے کی ہیں محض اخلاقاً نہیں بلکہ قانوناً ہیں، دیانتاً نہیں بلکہ قضاءً ہیں۔ فقہاء کی ترتیب کے مطابق پہلی ذمہ داری ذوی الفروض پر، پھر عصبات پر، پھر ذوی الارحام پر، پھر ذوالقربیٰ پر۔ جس ترتیب سے وارث ہیں، اس ترتیب سے ذمہ داری بھی ان کی ہے۔
واٰت ذا القربیٰ حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا (سورۃ بنی اسرائیل: 17، آیت: 26)
(اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق))۔
وفی اموالہم حق للسائل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔)
یہ بھی فرمایا کہ یہ حق ہے، یہ احسان نہیں ہے ’’واٰت ذا القربیٰ حقہ‘‘۔
ایک چوتھا درجہ بھی قرآن پاک نے بیان کیا۔ ہم ایسے مغرب کے پیچھے لگے ہیں کہ ہر چیز بھلا دی ہے۔ ہم نے وہ رشتے دار جن سے میل جول ہے یا جن سے نئی رشتہ داری قائم ہو گئی ہو، باقی ہمارے تصور میں بھی نہیں ہوتا کہ کوئی اور بھی رشتہ دار ہیں۔ ہمارا المیہ یہی ہے۔ چوتھا درجہ جو میں بیان کر رہا ہوں وہ ہے پڑوس کا درجہ۔ کتنا اہم درجہ ہے۔ خاتم النبیین ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے بارے میں اتنی بار وحی لے کر آئے کہ مجھے لگا کہ شاید اس کو وارث بنا دیں گے۔ (صحیح بخاری، باب الوصاۃ بالجار، حدیث نمبر: 6014)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! پڑوسی کے بارے میں قرآن بہت کچھ کہتا ہے:
والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب (سورۃ النساء: 4، آیت: 36)
(اور قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ (دینے) والے شخص)
قرآن پاک نے تین درجے بیان کیے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ رشتے جوڑ کر رکھو، رشتوں کا احترام کرو اور ان کو قائم رکھو، ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہو۔
مغرب میں خاندانی نظام کا فقدان اور اس کے برے اثرات
آج یہ المیہ درپیش ہے کہ ہم جن کے پیچھے چل رہے ہیں وہ خود سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ ہمارے رشتے گئے کہاں؟ ہمارا آئیڈیل آج کل مغرب بنا ہوا ہے۔ آج ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہاں رشتے ہی ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ سب سے بڑا رشتہ باپ اور اولاد کا ہوتا ہے، لیکن آج مغرب مجبور ہو گیا کہ اگر باپ کا پتہ نہیں ہے تو ماں کا نام لکھ لو۔ میں کہا کرتا ہوں باپ کا پتہ ہوگا تو دادا اور چاچا کا پتہ ہوگا۔ ہمارا آئیڈیل آج کون سا سسٹم ہے کہ ماں باپ بوڑھے ہو گئے ہیں تو اولڈ ہوم (Old Home) میں چھوڑ آؤ؟ میں نے یورپ میں دیکھا ہے اولڈ ہوم کا نظام، جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، ایک دو نہیں ہیں۔
ایک واقعہ عرض کرتا ہوں 1993ء کی بات ہے ہم برطانیہ کے ایک اولڈ ہوم میں گئے۔ ایک بڑی بلڈنگ تھی، وہاں کچھ بوڑھے تھے، زندگی کی جو سہولیات دی جا سکتی ہیں وہ دیتے ہیں۔ ایک بوڑھی ستر سال کے قریب تھی، میں نے اس سے بات کی کہ کتنے عرصے سے یہاں رہ رہی ہو؟ کہنے لگی، نو سال سے۔ میں نے پوچھا، خوش ہو؟ کہنے لگی، نہیں۔ میں نے کہا، کیوں، سہولیات تو سب ہیں، خوش کیوں نہیں ہو؟ کہنے لگی، میں سارا سال گزارتی ہوں کرسمس کے انتظار میں کہ میرا بیٹا آئے گا، مجھ سے ملے گا، ہیلو مام! میں اس کو دیکھ کر اگلے سال تک پھر اس کا انتظار کروں گی۔ سال کے بعد آتا ہے ہیلو ہائے کر کے چلا جاتا ہے۔ میرا بیٹا اس شہر میں رہتا ہے، سارا سال اس کے چہرے کا انتظار رہتا ہے۔
افسوس ہے کہ آج کل ہمارے آئیڈیل یہی لوگ ہیں۔ قرآن کریم کیا کہتا ہے، جناب خاتم النبیین ﷺ کیا فرماتے ہیں، اس کا احساس نہیں ہے۔ اسلام نے معاشرت کی بنیاد فردیت پر نہیں بلکہ جوڑ پر رکھی۔ پڑوسی کے حقوق پر اور آپس کے تعلقات پر رکھی۔ امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن دنیا کی بڑی خاتون سیاستدان ہیں، صدر بنتے بنتے رہ گئیں۔ ایک مرتبہ اسلام آباد میں کہا کہ مجھے مسلمانوں کے فیملی سسٹم پر رشک آتا ہے۔ اور جنگ اخبار نے یہ رپورٹ دی کہ مجھے مشرق کے فیملی سسٹم پر رشک آتا ہے، یہاں لڑکی جب جوان ہوتی ہے تو اس کے گرد چچا، ماموں اور اس کی پوری فیملی کا حصار ہوتا ہے، جو لڑکی کی جوانی کی حفاظت کرتے ہیں۔ (روزنامہ جنگ، 28 مارچ 1995ء)
یہی بات میں یاد دلانا چاہتا تھا کہ مغرب سر پکڑ کر بیٹھا ہے کہ ہمارا خاندان کہاں گیا؟ آج بھی انسانی سوسائٹی کو جوڑ کی، امن کی، تعلق کی، اور حقیقی رشتوں کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں قرآن پاک میں ملیں گی اور جناب خاتم النبیین ﷺ کی تعلیمات میں ملیں گی۔ ان شاء اللہ العزیز وہ وقت آئے گا کہ دنیا فطرت کی طرف واپس لوٹے گی۔ اور لوٹ رہی ہے، اللہ کرے ہمارا بھی اس میں حصہ ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی
بحثِ دوم: اس مقالے کے خصوصی مباحث
یہ تو پہلی بحث تھی کہ اِس موضوع کو کیوں منتخب کیا گیا۔ دوسری بحث یہ ہے کہ اس مقالے کے خصوصی مباحث، یعنی اس مقالے میں وہ کون سی باتیں ہیں جن کو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ مقالہ نگار کی ریسرچ ہے، یعنی جن کی ترتیب و تدوین کو مقالہ نگار کی دریافت کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح پی ایچ ڈی میں ایک ایسا گوشہ ہوتا ہے جس میں پی ایچ ڈی سکالر اپنی ریسرچ پیش کرتا ہے۔ تو اِس مقالے میں وہ کون سی چیزیں ہیں جو ایک پی ایچ ڈی سکالر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کی ریسرچ ہے۔ تو اس کا ہم ذکر کریں گے۔
- اس میں پہلی چیز دورِ رسالتؐ و دورِ صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور اس کا ارتقاء۔ یہ جو مشکلات القرآن کی کتب پیچھے ذکر ہوئی ہیں اس میں بھی دورِ رسالتؐ اور دورِ صحابہؓ کی جو مشکلات القرآن ہیں اُن کی کچھ چیزوں کا ذکر ہے، لیکن اُس کو ایک تو انواع کی شکل میں، یا اسی طرح اس میں پھر ارتقاء اگلے دور میں کیسے آیا؟ تو اِس مقالے میں ایک تو اس چیز کا ذکر کیا گیا ہے۔
- دوسری چیز، جو سب سے اہم چیز ہے اس مقالے کی، کہ مشکلات القرآن کی انواع کی جامع درجہ بندی۔ تقریباً میں نے اس مقالے میں مشکلات القرآن کو نو (۹) بڑے بڑے دائروں میں تقسیم کیا۔ پھر نو دائروں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر ہر ایک کی ذیلی اقسام بنائیں۔ تو ذیلی اقسام سمیت یہ تقریباً اُنچاس (۴۹) انواع بن گئیں، یعنی آپ کہہ سکتے ہیں پچاس کے قریب۔ تو ایک نوع اور بھی مل جائے گی جب آپ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کروں گا، تو ہو سکتا ہے پچاس بن جائیں۔ تو گویا کہ اُنچاس انواع کا اس میں ذکر ہے۔ میں نے جو عبد اللہ بن حمد المنصور کی کتاب کا ذکر کیا، جو عرب دنیا میں بڑی جامع کتاب سمجھی جاتی ہے کہ اس میں مشکلات القرآن کی پندرہ انواع کا ذکر ہے۔ لیکن اِِس کتاب میں، میں نے پچاس کے قریب یعنی اُنچاس انواع کا ذکر کیا ہے، وہ بھی کیف متفق نہیں، ان کو اپنے اپنے دائروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے مشکل اللغہ، یا اسی طرح یوں سمجھ لیں مشکل التاویل، مشکل الدلالۃ، جس کا آگے ہم ذکر کریں گے، اور ان کی مثالیں بھی اس میں ذکر کی ہیں۔
- اور تیسری چیز اس میں دورِ جدید میں جو مشکلات القرآن کی انواع ہیں، اور جو مستقبل کے چیلنجز پیش ہو سکتے ہیں، تو اس کا بھی اس میں گویا کہ ذکر کیا ہے۔
دورِ رسالتؐ و صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور ارتقاء
اب اس کے بعد جو پہلی بحث ہے کہ دورِ رسالت اور دورِ صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور اس کا ارتقاء۔
دورِ رسالتؐ و صحابہؓ
دیکھیں، اگر ہم علمِ مشکلات القرآن کے ارتقائی جائزے کو لے لیں تو دورِ رسالتؐ میں ہمیں مشکلات القرآن کی بہت ساری انواع نظر آتی ہیں۔ لیکن وہ انواع اس طرح سے نظر نہیں آتیں کہ اس میں کوئی عنوان ہو گا اور اس کے نیچے نوع ہو گی۔ اس کا ذکر دراصل ہمیں تراث میں صحابہ کرامؓ کے تفسیری سوالات کی شکل میں نظر آتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جو براہ راست سوالات کیے ہیں، ان سوالات کی بنیاد پر ہمیں خودبخود انواع بنتی نظر آ رہی ہیں کہ اس میں یہ نوع ہے، اس میں یہ نوع ہے۔ تو تقریباً کوئی بارہ کے قریب انواع ہمیں نظر آتی ہیں دورِ رسالتؐ میں۔ آپ اندازہ کریں نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں بھی اگر بارہ انواع ہیں، تو بعد کے ادوار میں اور کتنی انواع اس میں بن سکتی ہیں۔ جب اُس دور میں، جب بہت ہی فتنوں کا زمانہ نہیں تھا، اور نئی تہذیبیں، نئے علوم، اسلامی علوم میں داخل نہیں ہوئے تھے، اور بالکل ایک خالص عربی اسلامی معاشرہ تھا، اس میں بھی قرآن پاک کو سمجھنے کے حوالے سے بارہ قسم کے اشکالات، یا بارہ قسم کی انواع اس دور میں تھیں۔ تو اس سے آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس علم کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔
مشکل اللغۃ
اب سب سے پہلی چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ ہے ’’مشکل اللغۃ‘‘۔ حالانکہ وہ خالص عرب تھے لیکن انہیں بھی لغت کے حوالے سے مسائل ہو جاتے تھے۔ جیسے کہ صحابہ کرامؓ کے بعض سوالات جو ہیں، وہ قرآنی تعبیرات کی لغوی اور مرادی تحقیق سے متعلق ہیں، جنہیں ہم مشکل اللغۃ کی کیٹیگری میں رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً اس کے لیے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ مشہور حدیث ہے جو بخاری شریف میں آپ سب ما شاء اللہ جانتے ہیں، کہ انہوں نے، جب یہ آیت اتری ’’حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود‘‘۔ اور اب خیطِ ابیض اور خیطِ اسود، انہوں نے اس کو دھاگہ ہی سمجھ لیا اور اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے رکھ لیے۔ حالانکہ ’’الخیط الابیض‘‘ اور ’’الخیط الاسود‘‘ سے مراد دھاگہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک تعبیر تھی، یہ ایک استعارہ تھا، رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کے لیے۔
لما نزلت ھذہ الآیۃ وکلوا واشربوا حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود عمدت الی عقالین، احدھما اسود، والآخر ابیض، فجعلت انظر الیھما، فلا یتبین لی الابیض من الاسود، فلما اصبحت غدوت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فاخبرتہ بالذی صنعت، فقال: ان وسادک لعریض انما ذلک بیاض النھار وسواد اللیل
اب ایک خالص عرب جو زبان دان ہے، اس کو بھی قرآن پاک کی بعض لغوی تعبیرات میں مسئلہ ہو رہا ہے۔ تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک کی لغوی تعبیرات کتنی دقیق ہیں۔ اور اس کو سمجھنے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو گویا کہ مشکل اللغۃ کی کیٹیگری میں یہ چیز آتی ہے۔ اور بہت ساری بھی اس حوالے سے ظاہر ہے آپ کو حدیثیں مل جائیں گی، لیکن مثال کے طور پر یہ ہے۔
مشکل التعارض مع الحدیث
دوسری چیز ہمیں اس دور میں نظر آتی ہے، وہ ہے ’’مشکل التعارض مع الحدیث‘‘، کہ قرآن پاک کی آیتیں، براہ راست نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باتوں سے ٹکراتی ہوئی صحابہؓ کو نظر آئیں۔ تو گویا کہ یہ ایک مشکلات القرآن کی نوع ہے۔ بخاری شریف میں وہ مشہور حدیث ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی، جب نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان کیا ’’من حوسب یوم القیامۃ، عذب‘‘۔
عن عائشۃ، قالت: ان النبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من حوسب یوم القیامۃ، عذب‘‘ فقلت: الیس قد قال اللہ عز و جل: {فسوف یحاسب حسابا یسیرا}؟ فقال: لیس ذاک الحساب، انما ذاک العرض، لٰکن من نوقش الحساب یوم القیامۃ یہلک۔
تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ حدیث براہ راست قرآن کی ایک آیت سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تو انہوں نے فورًا سوال کر لیا کہ ’’الیس قد قال اللہ عز و جل، فسوف یحاسب حسابا یسیرا؟‘‘ کہ ایمان والوں کا، نیک لوگوں کا آسان حساب لیا جائے گا۔ اِدھر آپؐ فرماتے ہیں، جس کا بھی حساب لیا گیا وہ جہنم میں جائے گا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ تو آپؐ کا فرمان اور جو آیت ہے وہ آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ تو دیکھیں، مشکل التعارض مع الحدیث، گویا کہ اس سے وہ نوع بنتی ہے۔
مشکل التعارض مع الحس
اسی طرح تیسری نوع ہے ’’مشکل التعارض مع الحس‘‘۔ حس اور عادت، یا جس کو آپ نیچر بھی کہہ سکتے ہیں، اس کے ساتھ بھی ہمیں کچھ نوع نظر آتی ہے، کہ صحابہ کرامؓ کو کسی آیت کا مفہوم حس اور عادت کے خلاف لگا، تو انہوں نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے براہ راست سوال کیا۔ جیسے مثلاً اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن پاک میں آتا ہے ’’الذین یحشرون علیٰ وجوہہم‘‘ کہ جس دن اُن کو اپنے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا، یعنی وہ چہروں کے بل چلیں گے، تو اس وقت ایک آدمی نے نبی علیہ السلام سے سوال کیا کہ کافر چہرے کے بل کیسے چلے گا، کیسے اٹھایا جائے گا؟ تو نبی علیہ السلام نے جواب دیا کہ جو اللہ اسے پاؤں پر چلانے پر قادر ہے تو آخرت میں چہرے پر بھی چلانے پر قادر ہے۔
ان رجلا قال: یا نبی اللہ، کیف یحشر الکافر علی وجھہ یوم القیامۃ؟ قال: (الیس الذی امشاہ علی الرجلین فی الدنیا قادرا علی ان یمشیہ علی وجہہ یوم القیامۃ)۔ قال قتادۃ: بلی و عزۃ ربنا۔
تو اب گویا کہ جو قرآن پاک کی یہ آیت ہے ’’یحشرون علیٰ وجوہھم‘‘ انہیں یہ حس اور عادت، جو عادتِ عام ہے، اس کے خلاف لگی کہ عام طور پر تو انسان پاؤں پر چلتے ہیں، چہرے کے بل یا سر کے بل چلنا انتہائی مشکل ہے، تو کیسے وہ چلیں گے اور تسلسل کے ساتھ چلیں گے؟ تو گویا کہ یہ آیت ’’مشکل التعارض مع الحس‘‘ کی مثال ہے۔
مشکل الابہام
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل الابہام‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ صحابہ کرامؓ کے بعض سوالات ایسے تھے، جو کسی مبہم مقام یا شخصیت کی تعیین کے بارے میں وہ سوال کرتے تھے، کہ قرآن پاک نے کسی چیز کو مبہم رکھا ہے، تو اس کا سوال۔ جیسے وہ مشہور حدیث ہے کہ وہ دو آدمی لڑ رہے تھے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کا ذکر ہوا ہے: ’’الذی اُسس علی التقویٰ‘‘ کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ تو وہ دونوں لڑ رہے تھے، کسی نے کہا وہ مسجدِ قبا ہے، اور کسی نے کہا وہ نبی علیہ السلام کی مسجدِ نبوی ہے۔
عن ابی سعید الخدری انہ قال: ≪تماری رجلان فی المسجد الذی اسس علی التقویٰ من اول یوم≫، فقال رجل: ھو مسجد قباء، وقال الآخر: ھو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ھو مسجدی ھذا۔
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میری مسجد ہے۔ اب یہ مشکل الابہام کی کیٹیگری سے ہے کہ قرآن پاک نے جن مقامات یا شخصیات کا نام نہیں لیا، ان کو متعین نہیں کیا، تو اس میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سی شخصیات یا مقامات ہیں۔ تو اس کا نبی علیہ السلام نے اس میں جواب دیا۔ تو مشکل الابہام میں گویا کہ یہ آتا ہے۔
مشکل التعارض مع عمومات الشریعہ
اسی طرح ہے ’’مشکل التعارض مع عمومات الشریعہ‘‘ کہ قرآن پاک کے بعض سوالات ایسے تھے، جو عمومی قواعد ہیں شریعت کے، اُن کے خلاف وہ لگے۔ کیسے؟ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترمذی شریف میں آتا ہے کہ ’’فمنھم شقی وسعید‘‘ کہ کچھ نیک بخت ہوں گے اور کچھ بدبخت ہوں گے، اور نیک بختوں کا یہ انجام ہے، بدبختوں کا یہ انجام ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے۔ تو حضرت عمرؓ کو سوال (اشکال) ہو گیا کہ پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ اب دیکھیں، جو عمل کرنے کی ترغیب ہے، جو ایک عمومی قرآن پاک کا یا اسلام کا حکم ہے، اس کو ہم عموماتِ شریعہ میں دیکھ سکتے ہیں کہ نیک اعمال کرو ’’وعملوا الصالحات‘‘۔
عن عمر بن الخطاب قال: لما نزلت ھذہ الآیۃ: {فمنھم شقی وسعید} سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقلت: یا نبی اللہ، فعلی ما نعمل؟ علی شیء قد فرغ منہ او علی شیء لم یفرغ منہ؟ قال: بل علی شیء قد فرغ منہ وجرت بہ الاقلام یا عمر، ولکن کل میسر لما خلق لہ۔
تو حضرت عمرؓ کو یہ والی آیت اُن عمومات کے خلاف لگی۔ اس لیے انہوں نے سوال کیا کہ پھر عمل کرنے کی ترغیب یا عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ تو گویا کہ ان کو یہ آیت عموماتِ شریعہ سے متعارض لگی، جس پر انہوں نے سوال کر لیا۔
مشکل المغیبات
اسی طرح ہے ’’مشکل المغیبات‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قیامت کے بعض مراحل کے بارے میں بعض حضرات کو اشکال پیدا ہو گیا۔ اس میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے کہ قرآن پاک کی جو یہ آیت ہے ’’یوم تبدل الارض غیر الارض‘‘ کہ جس دن زمین کو کسی اور زمین کے ساتھ تبدیل کیا جائے گا۔
قلت عائشۃ ھذہ الآیۃ: {یوم تبدل الارض غیر الارض} قالت: یا رسول اللہ، فاین یکون الناس؟ قال: علی الصراط۔
تو اس وقت حضرت عائشہؓ کو یہ اشکال ہوا کہ پھر لوگ کہاں ہوں گے؟ جب زمین کی تبدیلی کا عمل ہو گا تو پھر لوگ کہاں ہوں گے؟ تو اس وقت آپؐ نے فرمایا ’’علی الصراط‘‘ کہ لوگ پلِ صراط پر ہوں گے۔ تو اب یہاں دیکھیں کہ جو قیامت کے مراحل ہیں ان میں سے کسی مرحلے کے بارے میں کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی، انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا۔
مشکل المراد
اس طرح ایک ہے ’’مشکل المراد‘‘۔ اس سے مراد وہ آیتیں ہیں جن کا لغوی مفہوم تو واضح ہے لیکن اس کا مصداق اور اس کی تعبیر، یعنی اس سے اللہ کی کیا مراد ہے، اس میں صحابہ کرامؓ کو اشتباہ پیدا ہوا۔ تو اس کی مثال یہ ہے، فرمایا: ’’لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا‘‘ کہ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں۔ لغوی معنی واضح ہے۔
عن رجل من اھل مصر قال: ≪سالت≫ ابا الدرداء عن قول اللہ تعالیٰ: {لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا} فقال: ما سالنی عنھا احد غیرک الا رجل واحد منذ سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما سالنی عنھا احد غیرک منذ انزلت، ھی الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ۔
لیکن اس سے مراد کیا ہے، دنیا کی زندگی میں؟ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آیتیں جن کا لغوی مفہوم تو واضح ہے لیکن اس لغوی مفہوم کا مصداق کیا ہے؟ تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ کو اشکال پیدا ہو گیا، جس طرح حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ سوال ہے۔
مشکل الخصوصیۃ
اس کے بعد اگلی قسم ہے ’’مشکل الخصوصیۃ‘‘۔ یہ بھی بڑی اہم قسم ہے، کہ وہ آیتیں جو کسی خاص شخص کے بارے میں نازل ہوئیں۔ تو صحابہ کرامؓ کو سوال پیدا ہو گیا کہ یہ حکم اسی شخص کے ساتھ خاص ہے، یا یہ حکم عام ہے؟ جیسے اس کی مثال حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے کہ وہ جو ایک آدمی سے گناہ ہوا تھا تو اس پر ان کو سوال پیدا ہو گیا کہ کیا یہ اسی شخص کے بارے میں ہے یا ہر شخص کے بارے میں ہے؟
عن عبد اللہ قال: ≪جاء رجل≫ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: انی عالجت امراۃ فی اقصی المدینۃ، وانی اصبت منھا ما دون ان امسھا، وانا ھذا فاقض فی ما شئت، فقال لہ عمر: لقد سترک اللہ، لو سترت علی نفسک، فلم یرد علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئا، فانطلق الرجل، فاتبعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجلا فدعاہ، فتلا علیہ: {واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذلک ذکری للذاکرین} الی آخر الآیۃ، فقال رجل من القوم: ھذا لہ خاصۃ؟ قال: لا، بل للناس کافۃ۰
تو ’’مشکل الخصوصیۃ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی یہ جو آیت ہے، یہ خاص اسی شخص کے بارے میں ہے جس کے بارے میں نازل ہوئی؟ یا اس کا حکم عام ہے، ہر مسلمان کے بارے میں ہے؟ اس نوع میں یہ چیز سامنے آتی ہے۔
مشکل التاویل
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل التاویل‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی کوئی آیت ہے، اس کا ایک جو مجموعی مفہوم ہے، اس مفہوم سے کوئی اشکال پیدا ہو جائے۔ پھر اس کی کسی نہ کسی تاویل کی ضرورت ہو، کسی نہ کسی توجیہ کی ضرورت ہو۔ جیسے مثلاً قرآن پاک کی آیت ہے ’’من یعمل سوءا یجز بہ‘‘ کہ جس نے بھی کوئی بھی تھوڑا سا بھی برا عمل کیا، اُس کا بدلہ اسے دیا جائے گا۔ ’’سوءًا‘‘ نکرہ ہے، آپ جانتے ہیں۔
عن ابی ھریرۃ قال: ≪لما نزل≫ {من یعمل سوءا یجز بہ} شق ذلک علی المسلمین، فشکوا ذلک الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: قاربوا وسددوا، وفی کل ما یصیب المؤمن کفارۃ، حتی الشوکۃ یشاکھا او النکبۃ ینکبھا۔
تو اس پر صحابہ کرامؓ بڑے پریشان ہو گئے کہ تھوڑی بہت کمی بیشی تو ہر ایک سے ہوتی ہے، تو کیا ہر ہر عمل پہ ہمیں بدلہ دیا جائے گا، یعنی ہمیں سزا دی جائے گی؟ تو اس پر پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا کہ آپ لوگ سیدھے رہنے کی کوشش کریں کیونکہ مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ بھی دراصل اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ تو یہاں اب دیکھیں کہ توجیہ کر دی گئی آیت میں، کہ ’’یجز بہ‘‘ سے مراد صرف اُخروی سزا نہیں ہے، بلکہ جو دنیاوی مصیبتیں ہیں وہ بھی ’’یجز بہ‘‘ کے اندر شامل ہیں۔ تو اس آیت میں ایک ایسی تاویل کر دی گئی جس نے اُس اشکال کو ختم کر دیا کہ نہیں، یہ جو ہم پر مصیبتیں آتی ہیں تھوڑی بہت، مثلاً کوئی بیمار وغیرہ ہو گیا، تو یہ چیزیں بھی دراصل اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر گناہ کا ’’یجز بہ‘‘ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ تو اس آیت میں گویا کہ تاویل کر کے اس اشکال کو ختم کر دیا گیا۔
مشکل القید والاطلاق
اسی طرح ہے ’’مشکل القید والاطلاق‘‘ کہ کسی آیت میں کوئی قید ہے، تو کیا وہ آیت اس قید کی صورت میں لاگو ہے، یا اس قید کے بغیر بھی لاگو ہے؟ اس کی بڑی مشہور مثال ہے، آپ سب لوگ جانتے ہیں، کہ جب سفر کی آیت اتری ’’ان تقصروا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم‘‘ اگر تمہیں ڈر ہو۔ ’’ان خفتم‘‘ اس میں قید لگائی گئی ہے کہ قصر کب کرنا ہے، اگر تمہیں ڈر ہو۔ دیکھیں، یہاں اس کو ڈر کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ تو گویا کہ جب امن ہو گا کیا اس کی نماز قصر نہیں ہو گی؟ تو اس پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے۔
عن یعلی بن امیۃ قال: ≪قلت≫: لعمر بن الخطاب انما قال اللہ: {ان تقصروا من الصلاۃ ان خفتم ان یفتنکم} وقد امن الناس، فقال عمر: عجبت مما عجبت منہ، فذکرت ذلک لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: صدقۃ تصدق اللہ بھا علیکم، فاقبلوا صدقتہ۔
’’مشکل القید والاطلاق‘‘ کہ قرآن پاک کی آیات میں بہت ساری قیودات ہیں، تو کیا وہ احکامات اُن قیودات کے ساتھ مقید ہیں، یا وہ قیودات لَغو ہیں؟ یہ مطلب ہے اس نوع کا۔
مشکل التعارض مع قواعد الشرع
اب اس کے بعد اگلی قسم ہے ’’مشکل التعارض مع قواعد الشرع‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض سوالات ایسے ہیں، وہ آیتیں جن کا ظاہری مفہوم شریعت کے کسی مسلّمہ اصول سے ٹکراتا ہو۔ مثلاً ایک آیت ہے ’’یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ کہ اے ایمان والو، آپ بس اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، اگر تم ہدایت پر ہو، تو گمراہ لوگوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔
عن ابی امیۃ الشعبانی قال: اتیت ابا ثعلبۃ الخشنی، فقالت لہ: کیف تصنع بھذہ الآیۃ؟ قال: ایۃ آیۃ؟ قلت: قولہ تعالیٰ: {یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم} قال: اما واللہ لقد سالت عنھا خبیرا، سالت عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: بل ائتمروا بالمعروف وتناھوا عن المنکر، حتی اذا رایت شحا مطاعا، وھو متبعا، ودنیا مؤثرۃ، واعجاب کل ذی رای برایہ، فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوام، فان من ورائکم ایاما الصبر فیھن مثل القبض علی الجمر، للعامل فیھن مثل اجر خمسین رجلا یعملون مثل عملکم۔
اب یہ آیت شریعت کے ایک مسلّمہ قاعدے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کیا ہے کہ بھئی صرف خود نیکی نہیں کرنی بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دینی ہے، ان کو بھی نیکی کی طرف بلانا ہے۔ اب یہ جو آیت ہے یہ اس قاعدۂ شریعت کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ تو صحابہ کرامؓ کو سوال پیدا ہو گیا۔
مشکل الشخصیۃ التاریخیۃ
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل الشخصیۃ التاریخیۃ‘‘ کہ قرآن پاک میں جو تاریخی شخصیات کا ذکر ہے، یا زمانۂ ماضی کا ذکر ہے، تو اس کے متعلق کوئی سوال ہو، جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک حدیث ہے کہ ایک آدمی نے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ سبا کوئی آدمی ہے یا عورت ہے یا کسی زمین کا نام ہے؟ قومِ سبا کا ذکر آ رہا ہے نا۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ آدمی ہے اور اس کی دس اولادیں ہیں، یمن میں اتنے رہتے تھے، شام میں اتنے رہتے تھے۔ تو اس تاریخی شخصیت کے حوالے سے جو اشکال پیدا ہوا تھا کہ یہ کیا ہے، یہ مرد ہے یا عورت ہے یا انسانوں میں سے ہے ہی نہیں یا کسی جگہ کا نام ہے؟ تو اس کا حدیث میں ذکر کر دیا گیا ہے۔
عن ابن عباس، یقول: ان رجلا سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن سبا، ما ھو: ارجل ام امرۃ ام ارض؟ فقال: بل ھو رجل ولد عشرۃ، فسکن الیمن منھم ستۃ، وبالشام منھم اربعۃ، فاما الیمانیون: فمذ حج وکندۃ والازد والاشعریون وانمار وحمیر، عربا کلھا، واما الشامیۃ: فلخم وجذام وعاملۃ وغسان۔
اب دیکھیں کہ یہ جو صحابہ کرامؓ کے سوالات ہیں، یہ سارے کے سارے براہ راست مشکلات القرآن سے متعلق ہیں۔ یعنی انہیں قرآن پاک کی کسی آیت میں اشکال پیدا ہو گیا تو انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا۔ تو یہ ہیں دورِ رسالتؐ میں اور دورِ صحابہؓ میں مشکلات القرآن کی انواع۔
دورِ تابعین
اس کے بعد اگر ہم دیکھیں تو دورِ تابعین میں ایک تو یہی انواع چل رہی تھیں جو دورِ رسالتؐ میں تھیں، لیکن کچھ انواع کا اضافہ ہو گیا۔
مشکل الالفاظ المعربۃ
جیسے ایک بڑی دلچسپ قسم کا اضافہ ہو گیا ’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘۔ آپ سمجھتے ہیں کہ کیا قرآن پاک میں کوئی معرب لفظ ہے یا نہیں؟ یعنی ایسا لفظ جو کسی اور زبان سے قرآن پاک میں آیا ہو۔ جیسے ’’قرطاس‘‘ لفظ ہے، ’’سرادق‘‘ لفظ ہے، ’’استبرق‘‘ لفظ ہے، تو اس طرح کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے بارے میں بحث چلتی ہے کہ یہ کسی اور زبان کے ہیں یا یہ عربی زبان کے ہیں۔ تو دورِ تابعین میں یہ چیز شروع ہو گئی کیونکہ جب تک نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام حیات تھے تو اسلام تو اسی جزیرۂ عرب میں تھا، تو دورِ تابعین میں اسلام جب پھیل گیا اور دیگر زبانوں والے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے تو انہیں کچھ الفاظ ایسے لگے کہ یہ عربی زبان کے نہیں ہیں، یہ عجمی زبانوں سے آئے ہیں۔ تو اس طرح ایک نئی قسم کا اضافہ ہو گیا ’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘ کا۔
مشکل الصفات الالٰہیۃ
اس کے بعد اسی دور میں ہی ’’مشکل الصفات الالٰہیہ‘‘ کا بھی اضافہ ہو گیا، جس کے ظاہری مفہوم میں کسی بشر کے ساتھ اس کی مشابہت سامنے آتی ہے، مثلاً اللہ کا ہاتھ ہے، پنڈلی ہے، اللہ کا چہرہ۔ تو اس دور میں ان انواع کا اضافہ ہوا۔
دوسرا، تابعین کے دور میں ہمیں ایک اور چیز نظر آتی ہے کہ تابعین کے دور میں مشکلات القرآن کو حل کرنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ یعنی کسی آیت میں جو اشکال ہوتا تھا تو اس میں ایسی تاویل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ اس میں کوئی اشکال ہی نہ ہو۔ تو ایک اس چیز کا بھی اضافہ ہو گیا تابعین کے دور میں۔ جیسے خاص طور پر ہمیں جو چیز بہت زیادہ نظر آتی ہے تابعین کے دور میں، وہ یہ ہے کہ جو خلافِ عادت آیات ہیں، ان کی تاویل اور توجیہ۔ یعنی یہ صرف دورِ جدید میں نہیں ہو رہی، تابعین کے دور میں بھی ہو رہی ہے۔
دیکھیں، قرآن پاک میں کئی مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی شکلیں مسخ کی گئیں، انہیں بندر اور خنزیر بنایا گیا۔ تو کیا وہ حقیقت میں بندر یا خنزیر بن گئے؟ تو حضرت امام مجاہدؒ ان آیات کی توجیہ کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں، نہیں، اُن کے دل بندروں والے بن گئے، اُن کے دل خنازیر والے بن گئے، حقیقت میں وہ بندر نہیں بنے تھے۔ امام مجاہدؒ اس کی تعبیر و تاویل اس طرح کرتے ہیں، آپ تفسیر طبری وغیرہ میں دیکھ لیں۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو چار پرندوں والا واقعہ ہے، کیا ان چار پرندوں کو ذبح کیا گیا، کیا واقعی ان کا گوشت الگ الگ پہاڑ پہ رکھا گیا، پھر کیا واقعی بلانے سے وہ پرندے آ گئے؟ امام مجاہدؒ کہتے ہیں کہ یہ محض تمثیل ہے، حقیقت میں ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں۔ اب دیکھیں کہ جو خلافِ عادت آیات تھیں یعنی جن میں ایک معجزے کا تصور ہو سکتا تھا، انہوں نے ان کی تاویل شروع کر دی۔
اسی طرح قرآنی ابہامات کو بھی دور کرنے کی تابعین کے دور میں بڑی کوششیں شروع ہوئیں۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام نے کونسا درخت کھایا تھا؟ شجرِ ممنوعہ کے حوالے سے تابعین کے بہت سارے اقوال ہیں۔ یا اسی طرح جو اُن چار پرندوں کا ذکر ہے ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں، وہ کونسے چار پرندے ہیں؟ کوئی کہتا ہے فلاں فلاں پرندہ ہے، کوئی کہتا ہے فلاں فلاں پرندہ ہے، تو گویا کہ اس میں پرندوں کے نام ذکر ہیں۔ تو یہ چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں۔
اسی طرح جو مسلّماتِ شریعت سے متصادم آیات ہیں ان کی بھی تاویل اور توجیہ ہمیں تابعین کے دور میں نظر آتی ہے۔ جیسے حضرت لوط علیہ السلام نے جو قومِ لوط کو کہا ’’ھؤلاء بناتی‘‘ کہ یہ میری بیٹیاں ہیں، ان کو لے لیں، ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔ اب ظاہر ہے کہ بیٹیوں کی کیسی دعوت دے رہے ہیں، تو اس کی وہ تاویل کرتے ہیں کہ نکاح کے طور پر تم ان کو لے لو۔ گویا کہ اس کی توجیہ کر دی۔ تو اس طرح کی ہمیں تابعین کے دور میں یہ چیز نظر آتی ہے۔
اسی طرح اگر ہم تابعین کے دور میں دیکھیں تو آیاتِ متعارضہ کو بھی حل کرنے کی کوششیں ہوئیں کہ کونسی آیت کس آیت سے ٹکرا رہی ہے، اور اس کی تو آپ کو تفسیر طبری میں، الدر المنشور میں بہت ساری مثالیں مل جائیں گی۔
تو اگر ہم اب تابعین کے دور کا تھوڑا سا تجزیہ کریں تو ایک دو باتیں بڑی اہم ہیں:
- پہلی بات یہ ہے کہ خلافِ عادت آیات کی تاویل کی گئی ہے۔ جیسے مسخِ بنی اسرائیل ہو گیا، نزولِ مائدہ ہو گیا کہ وہ جو دستر خوان کا نزول ہوا بنی اسرائیل پر۔ تو دیکھیں کہ عام طور پر تو ہم ان آیات کو معجزہ پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن بعض تابعین اسے معجزہ پر محمول نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس میں ہی تاویل کر لیتے تھے، جس سے وہ آیت خلافِ عادت سے ہٹ کر، معجزہ سے ہٹ کر ایک عام سی آیت بن جاتی تھی۔ یعنی اس میں کوئی ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا جو خرقِ عادت ہو۔ تو اس طرح کی خاص طور پر ہمیں تابعین کے دور میں بہت زیادہ توجیہ نظر آتی ہے، اور وہ بھی زیادہ امام مجاہدؒ کے ہاں۔
- اسی طرح تابعین کے پورے دور سے ایک چیز سامنے آتی ہے کہ مشکلات القرآن کوئی ایسا محدّد علم نہیں ہے کہ اس کی صرف چند انواع ہیں، دس ہوں، پندرہ ہوں، یا اٹھارہ ہوں، ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک اضافی امر ہے۔ یعنی جب بھی حالات بدلیں گے، عقول بدلیں گی، علوم نئے نئے آئیں گے، تو قرآن پاک کی آیات میں اشکالات کا اضافہ ہوتا جائے گا اور نئی نئی انواع وجود میں آتی جائیں گی۔ تو گویا کہ مشکلات القرآن، یعنی قرآن پاک کی کسی آیت میں کسی وجہ سے اشکال پیدا ہو گیا، جیسے جیسے وجوہات زمانوں میں پیدا ہوتی جائیں گی تو اشکالات پیدا ہوتے جائیں گے۔ تو تابعین کے دور سے ہمیں ایک یہ چیز بھی نظر آتی ہے۔
یہ تو ہو گئی پہلی چیز جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ دورِ رسالتؐ و صحابہؓ اور دورِ تابعینؒ میں مشکلات القرآن کا ارتقاء اور اس کی انواع۔
https://youtu.be/VhTHNQFwSLI
(جاری)
سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
پانچواں محور
سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار
اس محور کے موضوعات درج ذیل ہیں:
- محققین کی دلچسپی کے اہم موضوعات
- طلبہ و محققین کیلئے تحقیق کو آسان بنانے کی تجاویز
- تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دینے والی نمایاں تفاسیر
سوال 1: محققین کی دلچسپی کے اہم موضوعات
تفسیرِ سلف پر آپ کے کام اور اس سے آپ کی قربت کی وجہ سے، وہ کون سے اہم تحقیقی موضوعات ہیں جن کی طرف آپ محققین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میں ان اہم موضوعات کو درج ذیل نکات میں مختصرا بیان کرنا چاہوں گا:
- تفسیر میں سلف کے درمیان اختلافات کا عملی اور تطبیقی مطالعہ کرنا۔
- تفسیر میں سلف کے درمیان تقابلی مطالعات پر توجہ دینا، خصوصاً اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان — مثلاً یہ دیکھنا کہ تابعین نے صحابہؓ کی تفسیر پر کیا اضافے کیے، وغیرہ۔
- امام طبری کی تفسیر میں ان کے سماعی روایات کے مآخذ کا مطالعہ، جو تفسیرِ سلف میں ان علاقوں کو اجاگر کرنے میں مددگار ہیں جن پر ابھی تحقیق نہیں ہوئی — جیسے ان کی تفسیر کے ذریعے تفسیری صحیفوں کا پتہ لگانا، وغیرہ۔
- مسند تفاسیر کی روشنی میں قدیم تفسیری صحیفوں کو یکجا کرنا اور ان کا باقاعدہ علمی مطالعہ۔
- سلف کی استعمال کردہ اصطلاحات کی باقاعدہ تحقیق۔
- جن مفسرین پر جرح و تعدیل کی گئی ہے ان کے تفسیری اجتہادات کو ان کی مرویات (روایت شدہ حدیثوں) سے الگ کر کے جمع کرنا، کیونکہ ان کے اجتہادات اہم اور قابلِ قبول ہیں — جیسے کلبی (وفات: 146ھ) — اسی طرح بعض قدیم مطبوعہ تفاسیر جیسے مقاتل بن سلیمان (وفات 150ھ) کی تفسیر کی ازسرنو تحقیق کی ضرورت ہے۔
- سلف کے ہاں علومِ قرآن کے مباحث کا استقرائی اور تجزیاتی انداز میں تفصیلی مطالعہ کرنا۔
سوال 2: طلبہ و محققین کیلئے تحقیق کو آسان بنانے کی تجاویز
بلاشبہ، تفسیر سلف کو وسیع توجہ اور ایسی علمی خدمات کی ضرورت ہے جو اسے طلبہ و محققین کیلئے کے قریب لائیں اور اس کے مواد کو ان کے لیے آسان فہم بنا دیں۔ تو آپ کی نظر میں اس سلسلے میں سب سے اہم تجاویز اور منصوبے کیا ہو سکتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
تفسیرِ سلف کی خدمت کے لیے کچھ تجاویز اور منصوبے درج ذیل ہیں:
1۔ بذریعہ میڈیا محنت:
تفسیر سلف کو عام لوگوں اور محققین کے قریب لانے کے لیے میڈیا اور دیگر ذرائع کا استعمال کرنا۔
2۔ موسوعہ برائے مناہج المفسرین:
ایک علمی موسوعہ تیار کی جائے جس میں ائمہ کرام کی تفسیر کے اسناد کے ساتھ تعامل اور طریقہ کار کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔
3۔ موسوعہ برائے اسرائیلیات:
ایک جامع علمی موسوعہ جس میں اسرائیلیات اور مفسرین کا ان روایات کے ساتھ تعامل کا طریقہ بتایا جائے۔
4۔ موسوعہ آثار السلف:
ایک موسوعہ تیار کی جائے جس میں سلف کے سورتوں اور آیات سے متعلق اقوال جمع کیے جائیں۔
5۔ موسوعہ استنباطات السلف:
ایک جامع موسوعہ تیار کیا جائے جس میں سلف کے استنباطات کو اکٹھا کیا جائے۔
6۔ حصر و ترتیب معانی تفسیر:
سلف کی جانب سے بیان کردہ معانی تفسیریہ کو ایک جگہ جمع کر کے ایک منظم علمی متن ترتیب دیا جائے۔
سوال 3: تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دینے والی نمایاں تفاسیر
کچھ تفاسیر ایسی ہیں جنہوں نے تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دی ہے، اور یقیناً ان تفاسیر کی خدمت کرنا خود تفسیرِ سلف کی عظیم خدمت ہے۔ آپ کے خیال میں کون سی تفاسیر سب سے نمایاں ہیں؟ اور ان کی خدمت کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
تفسیرِ سلف پر مشتمل نمایاں تصنیفات درج ذیل ہیں:
- جامع البیان للطبری (وفات 310 ہجری)
- النکت والعیون للماوردی (وفات 450 ہجری)
- المحرر الوجیز لابن عطیۃ الغرناطی (وفات 542 ہجری)
- مفاتیح الغیب للرازی (وفات 606 ہجری)
- التفسیر المجموع لابن تیمیۃ (وفات 728 ہجری)
- التفسیر المجموع لابن القیم (وفات 751 ہجری)
- تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر (وفات 774 ہجری)
آخر میں ان تفاسیر سے متعلق کچھ ہدایات عرض کیے دیتا ہوں تاکہ تفسیرِ سلف کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جا سکے:
- ان کتابوں کے مصادر و مآخذ کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔
- یہ دیکھا جائے کہ مفسرین نے صحابہ و تابعین کے اقوال کی کیا شرح و توجیہ بیان کی۔
- تفسیر کی کتابوں میں دی گئی عملی اطلاقات کے ذریعے اصولِ تفسیر کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
- مفسرین نے صحابہؓ کے اقوال کو کس طرح مختلف انداز اور اقسام میں استعمال کیا، اس پر غور کیا جائے۔
یہ ہدایات کتبِ معانی القرآن پر بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ کتابیں براہ راست تفسیرِ سلف پر مشتمل نہیں ہیں، لیکن ان میں ایسے کئی فوائد موجود ہیں جو تفسیرِ سلف کی خدمت کے لیے قیمتی ہیں، بشرطیکہ ان فوائد کو جمع کر کے منظم مطالعہ کیا جائے۔
(مکمل)
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
بائیبل اور قرآن کی روشنی میں
ڈاکٹر محمد سعد سلیم
نوٹ: اِس مضمون میں بیان کردہ احادیث کی تعبیر پہلی بار ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے۔ بعد میں بائبل کے مزید صحائف کے مطالعے سے — بالخصوص حضرت ہوسیع اور حضرت حزقی ایل علیہما السلام کے صحائف سے — معلوم ہوا کہ اُن کی علامات اور احادیث کی علامات میں گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِن احادیث کی تعبیر کو اِن نئی مناسبتوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ (محمد سعد سلیم)
دجال کی ہلاکت کے بعد کے واقعات
دجّال کے تفصیلی بیان کے برعکس، نبی عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کا ذکر صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں وضاحت سے نہیں کیا گیا۔ تاہم، کئی احادیث میں دجّال کی موت کے بعد کے دور کا ذکر آتا ہے — جو اِس مضمون میں دسمبر 1991ء کے واقعے، یعنی سوویت یونین کے خاتمے، کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
سات سال بغیر عداوت کے — امریکہ کی بلا چیلنج برتری (1991ء- 1998ء)
احادیث میں دجّال کی ہلاکت کے بعد سات سال تک عداوت سے پاک زمانے کا ذکر آتا ہے1 — جو 1991ء سے 1998ء کے عرصے سے مطابقت رکھتا ہے، یعنی سوویت یونین کے زوال کے بعد وہ دور جب امریکہ اپنی یک قطبی (monopolar) بالادستی کے عروج پر کھڑا تھا، فوجی طاقت اور نظریاتی اثر و رسوخ میں بے مثال۔
تاہم، اِس عرصے کے اختتام تک کثیر قطبی (multipolar) دنیا کے مطالبات بڑھنے لگے۔ 1998ء کے روسی مالیاتی بحران کے بعد جب پریماکوف (Primakov) روس کے وزیرِاعظم بنے، تو اُنہوں نے کھلے عام ایک متوازن عالمی نظام کی وکالت شروع کی۔ چین نے، زو رونگجی (Zhu Rongji) کی قیادت میں، ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد بڑے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا، جس نے چین کے عروج کی بنیاد رکھی۔ اِس دوران القاعدہ کے 1998ء میں اعلانِ جہاد نے مغربی برتری کے خلاف ایک نیا، غیر متوازن چیلنج کا اشارہ دیا۔ اِس طرح یہ سکون اُس وقت ختم ہوا جب طاقت اور مزاحمت کے نئے مراکز اُبھرے، جو امریکہ کے بے مقابلہ دور کے اختتام اور ایک زیادہ پُرآشوب دنیا کے آغاز کی علامت بنے۔
شام سے آنے والی خوشگوار ہوا اور یمن سے آنے والی نرم ہوا — مغربی مالیاتی نظام اور چینی صنعت کاری (1998ء–تا حال)
احادیث کے مطابق، دجّال کے قتل کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ شام2 کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا۔ ایک اور حدیث میں یمن کی طرف سے ریشم جیسی نرم ہوا کا ذکر ہے۔3 یہ ہوائیں اُن سب ایمان داروں کی روحیں نکال لیں گی جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان یا نیکی ہوگی، اور زمین پر صرف اشرار رہ جائیں گے۔4
دجّال کی ہلاکت — یعنی سوویت یونین کا زوال — دسمبر 1991ء میں واقع ہوئی۔ اِس کے سات سال بعد کا زمانہ 1990ء کی دہائی کے اواخر سے شروع ہوتا ہے، اور اِن دو ہواؤں کی تعبیر اُسی دور کے واقعات میں یوں ملتی ہے:
شام کی ٹھنڈی ہوا
نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں شام بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیرِ اثر تھا، چنانچہ اِس سمت سے آنے والی ہوا کو مغربی عیسائی دنیا سے اٹھنے والے اثر کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اواخر سے مغرب، خاص کر امریکہ اور برطانیہ، نے ایک ایسا معاشی نمونہ اپنایا جس میں دولت اشیاء کی پیداوار (industrial production)سے کم اور مالیاتی انجینئرنگ (financial engineering)، خدمات(services)، اور املاکِ دانش(intellectual property) سے زیادہ ہونے لگا۔ اِس کا نتیجہ راحت اور آسائش کا ایک طویل موسم رہا — آسان دستیاب قرض، بڑھتی ہوئی اثاثوں کی قیمتیں، اور ڈیجیٹل انقلاب (digital revolution)جس نے نئےطریقوں کے ذریعے پیداوار کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔ نتیجتاً، خوشحالی کا ایک گہرا احساس روزمرہ زندگی پر چھا گیا — بالکل اُسی طرح جیسے عرب کے تپتے ہوئے صحرا میں ایک ٹھنڈی ہوا راحت پہنچاتی ہے۔
یمن کی ریشم سے نرم ہوا
نبیِ اکرم ﷺ کے زمانے میں معروف دنیا میں، یمن ایک عظیم جنوبی تجارتی مرکز تھا جہاں سے ہندوستانی کپڑے اور مصالحے، افریقی لوبان، اور مشرقی ریشم عرب دنیا تک پہنچتے تھے — یہ عالمی تجارت کا ایک کثیر جہتی سنگم تھا۔ آج یہ رُخ چین کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو نہ صرف دنیا کا بنیادی پیداواری مرکز ہے بلکہ وہ مقام بھی ہے جہاں ایشیا کی بڑی مقدار میں پیداوار جمع ہو کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ سبسڈی، کرنسی کنٹرول، ٹیکنالوجی منتقلی کی شرائط، اور ایسے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے جس کا مقابلہ کوئی آزاد معیشت نہیں کر سکتی، چین بتدریج دنیا کی فیکٹری بن گیا۔مغربی صارفین کے لیے اِس کا فوری اثر سستی اشیاء کی غیر معمولی فراوانی کی صورت میں ظاہر ہوا، جس نے مہنگائی کو قابو میں رکھا، گھریلو بجٹ میں کشادگی پیدا کی، اور کھپت کے تسلسل کو برقرار رکھا — ایک ایسی نرمی، جو ریشم کی مانند، خاموشی سے روزمرہ زندگی پر چھا گئی۔
روحوں کا قبض ہونا — امریکہ اور دیگر اقوام کے طرزِ عمل میں اخلاقی یقین کا زوال
ایک حدیث میں ایسے وقت کا ذکر ہے جب زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان یا خیر ہو، مگر یہ کہ ایک نرم اور ٹھنڈی ہوا اُس کی روح قبض کر لے گی۔ اگر کوئی پہاڑ کے اندر گہرائی میں بھی پناہ لے تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ کر اُس کی روح لے لے گی۔5
"ایمان یا خیر رکھنے والوں کی روحوں کے اٹھا لیے جانے" کا مطلب ریاستوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اخلاقی یقین — یعنی وہ اندرونی روح جو انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتی ہے — خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ چونکہ احادیث میں اِس رویے کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے واقعات سے ہے، اِس لیے اِس کا اصل مخاطَب امریکہ ہے — وہی ملک جس نے دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علامتی کردار ادا کیا، اور 1945ء کے اُس عالمی نظام کا معمار بنا جس میں اقوام کی خود مختاری، انسانی حقوق، اور بین الاقوامی معاملات کو قوانین کے تحت طے کرنے کا انتظام موجود تھا۔ 1990ء کی دہائی کے اواخر میں اُس کے اِس علامتی کردار کا اختتام ہوا۔ دیگر اقوام پر اِس حدیث کا اطلاق ضمنی طور پر ہوتا ہے، کیونکہ جب 1945ء کے بعد قائم ہونے والے نظام کا معمار خود ہی اُس نظام کو ادھیڑنے لگے، تو دوسرے ممالک کی جانب سے اُس کی خلاف ورزی کوئی انہونی بات نہیں رہتی۔
سرد جنگ کے بعد کا آرام دہ دور اِسی تبدیلی کا پسِ منظر بنا۔ بظاہر اثاثوں کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، قرض آسانی سے دستیاب تھا، اور سستی اشیاء فراواں تھیں؛ مگر اِس خوشنما سطح کے نیچے مغربی دنیا کے کئی حصوں میں تنخواہیں جمود کا شکار تھیں، اور صنعتی ڈھانچہ کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ ڈیجیٹل انقلاب نے بڑی امیدیں پیدا کیں، مگر حقیقی پیداواری بنیاد میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ لا سکا؛ اُلٹا دولت اوپر کی طرف منتقل ہوتی گئی، اور محنت کش طبقے پر دباؤ مزید بڑھتا گیا۔ مثال کے طور پر، ٹیکسی ڈرائیور اپنی مراعات کھو کر Uber کے کنٹریکٹر بن گئے، اور کم آمدنی پر کام کرنے لگے؛ اور Amazon جیسے اداروں نے حقیقی پیداوار میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ کیے بغیر چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچایا، اور کھپت کو بے حد پھیلا دیا۔
عالمی سطح پر بھی وہ باہمی انحصار، جسے کبھی امن کی ضمانت سمجھا جاتا تھا — جیسے مغربی کھپت جو چینی بچت سے چلتی تھی، یورپ کی توانائی جو روسی گیس پر منحصر تھی، اور جدید صنعت جو تائیوان کے چِپس اور اور چینی پروسیسنگ پر انحصار کرنے والی اہم معدنیات پر کھڑی تھی — آہستہ آہستہ مغرب کی کمزوری کا سبب بنتا گیا۔ انحصار اگرچہ دونوں طرف سے تھا، مگر اِس کی نوعیت غیر متوازن تھی: مغرب کا انحصار فیکٹریوں، کانوں، اور پائپ لائنوں پر تھا — یعنی ایسے طبعی ڈھانچوں پر جن کا متبادل بنانے میں برسوں، بلکہ عشرے درکار ہوتے ہیں۔ جبکہ چین اور روس کا انحصار خریداروں اور منڈیوں پر تھا، جنہیں نسبتاً جلد بدلا جا سکتا تھا۔ یوں جب مغرب کی روس اور چین کے ساتھ کشیدگی بڑھی، تو دباؤ کی زد میں وہ فریق زیادہ آیا جس کا انحصار سست اور ناقابلِ تبدیل عناصر پر تھا۔
اِس کے نتیجے میں قوم پرستی کو فروغ ملا، اور عالمگیریت کے خلاف جذبات پیدا ہوئے — مگر اِن جذبات میں صرف شکایت تھی، کوئی متبادل نظریہ نہیں۔ اور جب کسی قوم کے پاس تعمیری نظریہ نہ ہو، تو معاہدے بوجھ لگنے لگتے ہیں، طویل مدتی سوچ ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے، اور فوری فائدہ ہی واحد کسوٹی بن جاتا ہے۔یوں وہ نرم اور ٹھنڈی ہوا آئی، اور خاموشی سے اقوام کی — خصوصاً امریکہ کی — "روح" اپنے ساتھ لے گئی، یعنی وہ اخلاقی یقین جو کبھی اُن کے طرزِ عمل کو حرکت دیتا تھا۔ پیچھے صرف خام جبلتیں رہ گئیں، جو اخلاقی لگام سے آزاد تھیں۔
پرندوں کی طرح ہلکے، درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے، اور بتوں کی عبادت کرنے والے — امریکی پالیسیوں کی ناپائیداری، توسیعی عزائم اور قوم پرستی
حدیث میں بیان ہے کہ جب شام کی ٹھنڈی ہوا مؤمنوں کی روحیں سمیٹ لے گی، تو زمین پر صرف اشرار باقی رہ جائیں گے — "جو پرندوں کی طرح ہلکے اور درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے ہوں گے۔" وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے، نہ برائی کو قابلِ اعتراض سمجھیں گے۔ پھر شیطان اُن کے درمیان ظاہر ہوگا اور اُنہیں بتوں کی عبادت کا حکم دے گا، حالانکہ وہ مادی آسائش اور خوشحالی کی زندگی گزاریں گے — تو صور پھونک دیا جائے گا۔6
یہ روایت دجّال کی شکست کے بعد کے زمانے کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ اِس لیے اِس کا اطلاق زیادہ مخصوص طور پر امریکہ پر ہوتا ہے۔
یہ حالات کچھ عرصے سے پروان چڑھ رہے تھے؛ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وہ خاص طور پر نمایاں ہو گئے۔ حدیث کے اجزا کو درجِ ذیل انداز میں سمجھا جا سکتا ہے:
پرندوں کی مانند ہلکے — پالیسیوں کی ناپائیداری
'ہلکا پن' ایسے رویّے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی مضبوط بنیاد سے وابستہ نہ ہو، اور جس میں بدلتے ہوئے فائدے کے ساتھ فوراً سمت تبدیل کرنے کی آمادگی ہو—جیسے پرندے ہوا کے ساتھ رخ بدل لیتے ہیں۔ اِسی نوعیت کی ایک نہایت مماثل تمثیل کتابِ ہوسیع میں بھی ملتی ہے، جہاں نبی ہوسیعؑ شمالی مملکتِ اسرائیل کو ایک ایسی "کبوتری جو آسانی سے فریب کھا جاتی ہے اور بے سمجھ ہے" سے تشبیہ دیتے ہیں—ایک ایسی قوم جو ایک لمحے مصر کو پکارتی ہے اور اگلے ہی لمحے اسور (آشور) کی طرف رخ کر لیتی ہے، بغیر وفاداری یا دوراندیشی کے اتحاد بدلتی رہتی ہے۔7 دونوں متون میں پرندے کی یہ علامت کمزوری کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ایک طاقتور قوم کے بے قاعدہ اور غیر مستقل طرزِ عمل کو ظاہر کرتی ہے، جو اپنی قوت کو کسی عہد و پیمان کی پابندی کے بغیر استعمال کرتی ہے اور فوری فائدے کی بنیاد پر شراکت داروں کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ یہ طرزِ عمل پالیسی اور اتحادوں میں تیز اور اچانک تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں طویل المدتی وعدے پہلی ہی قیمت یا نقصان کے اشارے پر پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اِس نوعیت کے اچانک موڑ خصوصاً ٹرمپ کے دور میں نمایاں طور پر دیکھے گئے۔
درندوں کے خواب — توسیعی محرک
حدیث میں "درندے" اُن قوتوں کی علامت ہیں جو غلبہ اور وسائل کے حصول کی خواہش سے محرک ہوں۔ موجودہ صورت میں اِس رجحان کی جھلک اُن بار بار دہرائی جانے والی تجاویز میں دیکھی جا سکتی ہے جن میں امریکہ کے گرین لینڈ، بلکہ حتیٰ کہ کینیڈا کو بھی اپنے اندر شامل کرنے کے امکانات زیرِ بحث آئے، اور وینزویلا کے تیل کے گرد اختیار کی گئی جارحانہ سفارتی و معاشی حکمتِ عملی میں۔ یہ صورتِ حال اثر و رسوخ کو پھیلانے اور وسائل کو یقینی بنانے کی خواہش کی نشان دہی کرتی ہے۔
نہ نیکی کو پہچاننا، نہ برائی کو قابلِ اعتراض سمجھنا
ماضی کی دہائیوں میں امریکہ عموماً اپنے اقدامات کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون جیسے اصولوں کے حوالے سے پیش کرتا تھا، چاہے عملی اطلاق منتخب ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ ماحول میں یہ زبان کمزور پڑ گئی۔ تعلقات زیادہ کھلے طور پر مفاد، دباؤ اور مصلحت کے پیمانوں میں بیان ہونے لگے؛ اتحادیوں کی حمایت یا ترک کرنا مشترکہ اقدار سے کم اور فوری افادیت سے زیادہ وابستہ دکھائی دیا۔ اگرچہ یہ تبدیلی ٹرمپ سے شروع نہیں ہوئی، مگر اُن کے دور میں غیر معمولی حد تک صراحت کے ساتھ سامنے آئی۔
شیطان کا ظہور — ایک خودپسند رہنما کی علامت
شیطان کی اصل فطرت تکبر اور خود پسندی پر مبنی ہے؛ اُس نے حضرت آدمؑ کے سامنے سجدہ کرنے سے غرور کے باعث انکار کیا۔ حدیث اِس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسا رہنما اُبھرے گا جو اِسی تکبر، خود پرستی، اور عظمت کے خمار میں مبتلا ہوگا — جو شیطان کی طرح اپنی بڑائی کا اِظہار بے شرمی سے کرے گا۔
بتوں کی عبادت کا حکم، جب کہ وہ خوشحال ہوں گے— قوم پرستی کی ترویج
چونکہ یہاں بات قوموں اور سلطنتوں کی ہو رہی ہے، اِس لیے "بت پرستی" سے مراد کسی پتھر کے بت کی پوجا نہیں، بلکہ اُس خودساختہ مثالی شبیہ کی عبادت ہے جو ایک قوم اپنے بارے میں بنا لیتی ہے — ایک کامل، طاقتور اور پاکیزہ قوم کی شبیہ۔ جب کوئی قوم اپنے آپ کو ہی مقدس ماننے لگتی ہے، تو اُس کے اپنے مفادات سب سے بڑی نیکی بن جاتے ہیں۔ اخلاقی یا آفاقی اصول اُس کے سامنے ثانوی ہو جاتے ہیں۔ کتابِ مکاشفہ میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جنہیں "اُس درندے کی عبادت کا کہا گیا جو سمندر سے اُبھرا۔"8 یہ تصویر رومی سلطنت کی علامت تھی — ایک ایسی قوم جو اپنی طاقت اور جاہ و جلال کی پوجا کرتی تھی۔ اِسی طرح امریکہ کے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران قوم پرستی کو اِس طرح پیش کیا جیسے یہ قوموں کی نجات کا راستہ ہو۔9 امریکہ میں قوم پرستی کے اِس رجحان کا اظہار "Make America Great Again" جیسے نعروں کے ساتھ ہوا، حالانکہ امریکہ اب بھی دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند ملک ہے—یعنی وہی مادی خوشحالی اور اخلاقی زوال، جس کی پیش گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔
حدیث کے مطابق قیامت اِن واقعات کے بعد برپا ہوگی، اگرچہ دونوں کے درمیانی وقفے کی وضاحت نہیں کی گئی۔
گدھوں جیسا ہیجان — امریکہ کا کھلے عام موقع پرستانہ طرزِ عمل، گویا وقت ختم ہو رہا ہو
ایک اور حدیث میں بیان ہے کہ جب مومنوں کی روحیں قبض کر لی جائیں گی، تو زمین پر صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے—وہ جو “گدھوں جیسے ہیجان کے ساتھ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں گے”— اور اُنہی پر قیامت قائم ہوگی۔10
علامت کی تشریح
نبوی زبان میں اقوام کا "زنا" ایسے طرزِ عمل کی علامت ہے جو فوری فائدے کی خواہش سے چلایا جائے، جس میں نہ دور رس نتائج کا لحاظ ہو اور نہ عہد و پیمان کی پابندی — بالکل اُس جنگلی گدھے کی طرح جو ضبط اور رہنمائی کے بغیر محض جبلّت کے زور پر بھٹکتا پھرتا ہے۔ یہاں "ہوس" سے مراد جنسی خواہش نہیں، بلکہ وہ فوری اور بے قابو داعیہ ہے جو قوم کو اُس چیز کے پیچھے دوڑا دے جو اُس لمحے دلکش یا نفع بخش دکھائی دے، خواہ وہی چیز آخرکار تباہی کا سبب بنے۔
اِس علامت کی نمایاں مثال بنی اسرائیل کے انبیاء کے صحائف میں ملتی ہے۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں حضرت ہوسیع علیہ السلام نے شمالی مملکتِ اسرائیل کو ایک جنگلی گدھی سے تشبیہ دی جو تنہا آوارہ پھرتی ہے، اور فرمایا کہ اُس نے "عاشقوں کو اجرت دی"۔ یعنی مملکتِ اسرائیل نے اپنی سلامتی کی خاطر اللہ تعالیٰ سے باندھے گئے اپنے عہد کی وفاداری کا سودا کر لیا، اور اُس کے بدلے طاقتور اقوام — خصوصاً اشوریہ اور مصر — کی خوشنودی خرید لی۔11 تاہم حدیث میں گدھے کی علامت ایک اور رُخ سے آئی ہے۔ کتابِ ہوسیع کے گدھے میں کسی طاقتور ساتھی سے ضدی لگاؤ ہے؛ حدیث کے گدھوں میں کسی ایک ساتھی سے کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ صرف ہیجان ہے — بے ترتیب، کھلم کھلا، جیسے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہو۔
یہی دوسرا رویہ اکیسویں صدی کے امریکہ میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، خصوصاً ٹرمپ کے دورِ حکومت میں۔ اِس کے پیچھے ایک بنیادی محرک کارفرما معلوم ہوتا ہے: عالمی برتری کے زوال کا احساس، اور یہ تشویش کہ چین پر سپلائی چین کا انحصار مزید گہرا ہونے، چین کے پلڑے کے بھاری ہونے، اور پاکستان، بھارت، ترکی، سعودی عرب، اسرائیل اور برازیل جیسی علاقائی طاقتوں کے خود مختار کردار ابھرنے سے پہلے ہی، ہر میدان میں بیک وقت فوری اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مفادات سمیٹ لیے جائیں۔ اِن علاقائی طاقتوں کا اُبھار جزوی طور پر چینی صنعتی ڈھانچے کا مرہونِ منت ہے، جس کے پیمانے اور قیمتوں نے ایسی جدید ٹیکنالوجیز — ڈرون، مواصلات، قابلِ تجدید توانائی، اسلحہ — کو اِن ریاستوں کی دسترس میں لا کر رکھ دیا ہے، جو پہلے صرف مغربی سرپرستی یا کئی دہائیوں کی اپنی تحقیق کے ذریعے ہی ممکن تھیں۔
مثالیں
گرین لینڈ کو ضم کرنے کا بار بار مطالبہ — فوجی طاقت کے استعمال کو بھی رد نہ کرتے ہوئے — کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے کی تجاویز، اور کیوبا کے بارے میں کھلا اعلان کہ "مجھے اُسے لے لینے کا شرف ملے گا" — یہ کسی مطمئن طاقت کے بیانات نہیں، بلکہ اُس کے ہیں جو اپنا دائرہ سکڑتا دیکھ کر قریبی زمینوں پر قبضے کو رسمی شکل دینا چاہتی ہے۔
بین الاقوامی قانون سے انحراف بھی اِسی تسلسل میں دکھائی دیا: ستمبر 2025ء سے کیریبین میں کشتیوں پر حملے، اور جنوری 2026ء میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی — اِس احساس پر کہ وینزویلا کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ گہرا ہو رہا ہے۔
اِسی طرح تجارتی میدان میں ٹیرف (tariff) پالیسی میں اچانک اعلانات، تیزی سے اضافے، جوابی اقدامات کے بعد مزید شدت، پھر منڈیوں کے ردِعمل پر جزوی واپسی، اور بعض صورتوں میں دوبارہ نفاذ — یہ سب ایک ایسی حکمتِ عملی کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو طویل المدت استحکام کے بجائے فوری دباؤ اور فوری فائدے کو ترجیح دیتی ہے، حتیٰ کہ World Trade Organisation کے اُن قواعد سے انحراف بھی قابلِ قبول سمجھا گیا جن کی تشکیل میں امریکہ نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
اِس کی ایک اور مثال 28 فروری 2026ء کا واقعہ ہے، جب عمان میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کیے، اور مہم کے پہلے ہی دن ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں ایسے پسِ منظر میں ہوئیں جہاں سفارتی ذرائع ناکام ہو رہے تھے، ایران کو اِس قدر کمزور سمجھا جا رہا تھا کہ وہ کوئی مؤثر جوابی کارروائی نہیں کر سکے گا — ایک ایسا اندازہ جو بعد میں غلط ثابت ہوا — اور امریکہ کے علاقائی اثر و رسوخ کا پورا ڈھانچہ نمایاں طور پر بکھرتا جا رہا تھا۔ یہ حقیقت کہ کسی سربراہِ مملکت پر حملہ ایک قابلِ عمل آپشن بن چکا تھا — اور وہ بھی اُس وقت جب مذاکرات ابھی جاری تھے — بذاتِ خود نہایت معنی خیز ہے: ایک ایسا اقدام جو کبھی بین الاقوامی نظام کی ساخت کے تحت خارج از امکان سمجھا جاتا تھا، اب اُسی نظام کے اندر قابلِ قبول ہو چکا تھا — جو کسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کی نہیں، بلکہ اُن کرداروں کے اُس مضطرب طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اُن کے پاس راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔
تنبیہ
یہ ہیجان محض امریکہ کے اندرونی بگاڑ کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس پورے عالمی نظام کے ٹوٹنے کی علامت ہے جسے خود امریکہ نے 1945ء کے بعد قائم کیا تھا۔ قدیم اسرائیل کے ساتھ اِس کی مماثلت نہایت واضح ہے: جس طرح شمالی مملکتِ اسرائیل خدا کے ساتھ اپنے عہد کی سچائی کا دعویٰ برقرار رکھتی رہی، حالانکہ وہ کھلے عام اُس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہی تھی، اِسی طرح آج امریکہ بھی اُس نظام کی اتھارٹی کا سہارا لیتا ہے جسے اُس نے خود تعمیر کیا — اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، نیٹو اور عالمی تجارتی تنظیم — جبکہ اُس کے اصولوں کو علانیہ توڑ بھی رہا ہے۔ مگر نتائج کے پیمانے پر یہ مماثلت ختم ہو جاتی ہے۔ اُس وقت ایک ہی قوم نے قیمت چکائی: یہودیوں کے بارہ میں سے دس قبائل جلاوطنی میں بکھر گئے اور بحیثیتِ قوم گم ہو گئے، صرف ایک یاد بن کر رہ گئے۔ مگر جو نظام آج ٹوٹ رہا ہے، اُس کے اثرات کسی ایک قوم تک محدود نہیں — اور حدیث بظاہر خبردار کرتی ہے کہ قیامت اِسی طرح کے ہیجان کے دوران قائم ہو گی۔
حوالہ جات
- مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
- مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
- مسلم، رقم ۱۱۷۔
- مسلم، رقم ۲۹۳۷۔
- مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
- مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
- ہوسیع 7: 11۔
- مکاشفہ 13: 14-15۔
- Donald Trump, "Trump pitches nationalism in UN speech," YouTube video, 3:29, posted by McClatchy Washington Bureau, September 24, 2019, https://www.youtube.com/watch?v=CBlChsxkeak
- مسلم، رقم ۲۹۳۷۔
- ہوسیع 8:8-10۔
فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
فقہِ اسلامی کا تعارف
ناظرین! آداب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
نظامت فاصلاتی تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس تعلیمی پروگرام میں، میں ڈاکٹر محمد فہیم اختر آپ سب طالبات اور طالب علموں کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج کا ہمارا یہ تعلیمی پروگرام جس موضوع پر ہے، وہ ہے ’’فقہِ اسلامی: ایک تعارف‘‘ (Islamic Jurisprudence: An Introduction)۔ آج کے اس پروگرام میں ہم آپ سے جن چیزوں پر گفتگو کریں گے وہ تین باتوں سے متعلق ہوں گی:
- سب سے پہلے آپ کو ہم یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی، یا اسلامک جورِسپروڈنس، اس کا مطلب اور مفہوم کیا ہے۔
- پھر آپ کو ہم یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی کی انسان کی زندگی میں کیا اہمیت اور ضرورت ہے۔
- تیسرے نمبر پر ہم آپ کو اس میں یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی، جس کو ہم اسلامی قانون بھی کہتے ہیں، اس کے سورسز اور اس کے مصادر کیا ہیں۔
1۔ فقہِ اسلامی کا مطلب اور مفہوم
ناظرین! فقہِ اسلامی، اس میں دو الفاظ ہیں۔ ایک ’’فقہ‘‘ کا لفظ ہے اور ایک ’’اسلامی‘‘ کا لفظ ہے۔ فقہ کا لفظ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور فقہِ اسلامی کو اگر ہم انگریزی میں کہیں تو Islamic Jurisprudence کہہ سکتے ہیں۔ ہم اس کو آسان زبان میں اور سمجھانے کے لیے اسلامی قانون Islamic Law بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں جو باتیں ہوں گی ان کا تعلق انسان کی زندگی سے ہو گا کہ کن کاموں کو انسان کو کرنا چاہیے اور کن کاموں کو نہیں کرنا چاہیے۔ لفظِ فقہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہوتا ہے فہم اور سمجھ۔ قرآن میں اور حدیث میں کئی جگہوں پر اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔ اور اس کا ایک معنی یہ ہوتا ہے کہ بہت ہی باریکی کے ساتھ کسی چیز کے مطلب کو اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔
آج جو ہمارے سامنے فقہِ اسلامی ہے، اس کا اگر ڈیفینیشن ہم دیں، اصطلاحی تعریف کریں، تو وہ یوں بنتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے جو اسلامی قانون کے ماہرین احکام بیان کرتے ہیں، ان احکام کا مجموعہ فقہِ اسلامی کہلاتا ہے۔ انسانی اعمال اور افعال سے متعلق شریعت کے فروعی احکام ’فقہِ اسلامی‘ ہیں۔ شریعت کا معنی وہ تمام امور اور احکام جو اللہ نے مشروع یعنی مقرر فرمائے ہیں۔ تو فقہِ اسلامی یا اسلامی قانون اللہ کے دیے ہوئے وہ سارے احکام ہیں جو انسان کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ فقہ کو انسانی زندگی کے لیے شریعت کا ’عملی قانون‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ہے فقہِ اسلامی۔
2۔ فقہِ اسلامی کی اہمیت اور ضرورت
انسانی کی زندگی میں جو کچھ بھی، اس کی زندگی کے کسی بھی گوشے اور پہلو سے تعلق رکھنے والی باتیں ہوں، اس کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک، اس کی انفرادی زندگی سے لے کر سماج کی زندگی تک، اس کے کاروبار، اس کی خانگی زندگی، اس کے لوگوں کے ساتھ معاملات، اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا بچپن، اس کی جوانی، اس کا بڑھاپا، اور اس کی پرسنل لائف ہو یا سوسائٹی کی لائف ہو، ان سب کے بارے میں انسان کے سامنے کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کو وہ do's and don'ts کہتا ہے۔ کیا کام وہ کر سکتا ہے اور کیا کام وہ نہیں کر سکتا۔ قرآن میں یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان سب باتوں کا تعلق انسان کی زندگی سے ہے۔ انسان کچھ کام کر سکتا ہے، کچھ کام نہیں کر سکتا ہے۔ کھانے پینے میں کچھ چیزیں جائز ہیں، کچھ چیزیں جائز نہیں ہیں۔ معاملات میں کچھ چیزیں درست ہیں، کچھ چیزیں درست نہیں ہیں۔
یہ ساری چیزیں جو انسان کو کرنی ہیں، یا نہیں کرنی ہیں، یہ سب باتیں جس ٹاپک اور موضوع کے تحت آتی ہیں، ان کو کہتے ہیں فقہِ اسلامی، یا اسلامی قانون۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی فقہ کا تعلق انسان کی زندگی سے بڑا گہرا ہے۔ اور زندگی کے ہر لمحے اور ہر گوشے سے اس کا تعلق ہے۔ یعنی فقہِ اسلامی دو تین باتیں بہت صاف بتاتی ہے:
- پہلی بات یہ بتاتی ہے کہ انسان کی زندگی میں کیا چیزیں درست ہیں اور کیا چیزیں درست نہیں ہیں۔ کیا وہ کر سکتا ہے، کیا وہ نہیں کر سکتا ہے۔
- دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے کن باتوں کو حلال قرار دیا ہے، جائز بتایا ہے، درست کہا ہے۔ اور کن باتوں سے منع کیا ہے، ان کو درست قرار نہیں دیا گیا ہے اور ان سے روکا گیا ہے۔
- انسان کو اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان فقہِ اسلامی کی روشنی میں اپنی زندگی گزارتا ہے تو گویا وہ اپنے خدا، اپنے مالک، اپنے پربھو کی باتوں پر چل رہا ہوتا ہے اور اس کی منع کی ہوئی باتوں سے وہ رک رہا ہوتا ہے۔
تو اسلامی قانون گویا وہ ایک ترازو ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کیا چیز درست ہے اور کیا چیز درست نہیں ہے۔ اور اس کی زندگی کی راہ اور اس کی زندگی کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی قانون کا پوری زندگی کے ساتھ تعلق ہے، اسلامی فقہ انسان کی زندگی کے ہر معاملے سے تعلق رکھتی ہے، اور اسلامی فقہ انسان کی زندگی کے بچپن بلکہ اس سے پہلے پیدائش کے وقت سے لے کر کے اس کی موت اور وفات تک ہی نہیں بلکہ اس کے بعد اس کی دولت، اس کا مال، اور اس کی میراث سے متعلق جو باتیں ہوتی ہیں، ان سب کے بارے میں فقہِ اسلامی گفتگو کرتی ہے۔
اسی لیے فقہِ اسلامی کی جو کتابیں ہیں، اگر ان کو ہم اٹھائیں اور آپ ان کو دیکھیں، تو اس میں جو چیپٹرز ملتے ہیں، ابواب ملتے ہیں، ان میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ انسان کی زندگی کے شروع سے لے کر اخیر تک، کاروبار کی بھی باتیں ملتی ہیں، اس کی عبادات کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے پہناوے کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے کھانے پینے کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے لوگوں کے ساتھ رویے اور معاملات کے بارے میں باتیں ملتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ملکوں کی حکومت کا جو نظام ہوتا ہے، دو ملکوں کے باہمی روابط ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ انسانی زندگی میں مصیبتیں پیش آتی ہیں، خوشیاں پیش آتی ہیں، بین الاقوامی روابط اور تعلقات ہوتے ہیں، جنگ اور صلح کے معاملات ہوتے ہیں، معاہدے ہوتے ہیں، گویا جتنی چیزیں انسان کی زندگی میں ہو سکتی ہیں ان سب کے بارے میں اسلامی فقہ میں گفتگو ہوتی ہے۔
عزیزو! اس سے آپ کو دو باتیں معلوم ہوئی ہوں گی:
- پہلی بات یہ معلوم ہوئی ہو گی کہ اسلامی فقہ کا انسان کی زندگی سے بڑا گہرا ربط ہے۔
- اور دوسری بات آپ کو یہ معلوم ہوئی ہو گی کہ یہ بڑا comprehensive ہے، بڑا وسیع اور ہمہ گیر ہے، اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں فقہِ اسلامی کے اندر باتیں نہ ملتی ہوں۔
3۔ فقہِ اسلامی کے مصادر
اب ہم اس کے تیسرے حصے پر آتے ہیں۔ دیکھیے، فقہِ اسلامی کے اندر دو طرح کے احکام ہوتے ہیں۔ کچھ احکام وہ ہوتے ہیں جن کو قرآن کے اندر بہت صاف لفظوں میں بیان کر دیا گیا ہے۔ جیسے کہا گیا ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں، نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، اور جھوٹ نہ بولیں، دھوکہ نہ دیں، کسی کا مال نہ ہڑپیں، کسی کو برا بھلا نہ کہیں۔ کچھ باتوں سے منع کیا گیا ہے، کھانے پینے میں کہا گیا ہے آپ ہر چیز کھا پی سکتے ہیں لیکن شراب آپ نہیں پی سکتے، وہ حرام ہے، اور فلاں فلاں جو نقصان پہنچانے والی چیزیں ہیں وہ نہیں کھا سکتے۔ تو کچھ باتیں قرآن کے اندر صاف لفظوں میں بیان کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح کچھ باتیں حدیث کے اندر بیان کر دی گئی ہیں۔
لیکن ان دونوں کی روشنی میں جو نئے مسائل پیش آتے رہتے ہیں ان کے بارے میں اسلامی قانون کے ماہرین بیٹھ کر غور کرتے ہیں، جس کو اجتہاد کہتے ہیں، غور کرنا۔ اور غور کر کے وہ نئے نئے مسائل: میڈیکل انشورنس کا مسئلہ نیا آگیا، آرگن ٹرانسپلانٹیشن کا مسئلہ نیا آ گیا، کاروبار کے نئے نئے طریقے آ گئے، ای بزنس کے طریقے آ گئے ہیں، ان کے بارے میں قرآن اور حدیث میں صاف لفظوں میں نہیں ملے گا۔ لیکن قرآن و حدیث کے اصولوں کی روشنی میں، اس کی بتائی ہوئی ہدایات کی روشنی میں، ایک فریم ورک کی روشنی میں جو علماء اور ماہرینِ قانون غور کرتے ہیں، جس کو اجتہاد کہتے ہیں، اس سے بھی احکام derive کیے جاتے ہیں اور نکالے جاتے ہیں۔ جن فقہاء کرام نے احکامِ شریعت کے استنباط کا عظیم الشان کام انجام دیا وہ ’مجتہدین‘ کہلاتے ہیں، اور حکم کا استنباط ’اجتہاد‘ کہلاتا ہے۔
تو یہ دونوں طرح کے احکام، جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں وہ، اور اجتہاد کے ذریعے اسلامی قانون کے ماہرین نے جو احکام بیان کیے ہیں وہ، ان دونوں کو ملا کر جو احکام کا مجموعہ بنتا ہے، جو کتابیں بنتی ہیں، ان کو کہتے ہیں اسلامی قوانین کا مجموعہ۔ تو یہ جو قوانین بن رہے ہیں، یہ کیسے بنائے جائیں گے؟ ان کے سورسز اور مصادر کیا ہوں گے؟ یہ ہماری گفتگو کا تیسرا حصہ ہے، ہم اس کے بارے میں آپ کو تھوڑا بتانا چاہیں گے۔
اسلامی قانون کے، یا اسلامی فقہ کے مصادر کیا ہیں؟ کہا گیا ہے کہ اس کے چار مصادر ہیں:
- قرآن کریم
- حدیث (سنتِ رسولؐ)
- اجماع
- قیاس
یہ چار وہ مصادر ہیں، سورسز ہیں، جن کی روشنی میں اسلامی قانون کے احکام طے کیے جاتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ تھوڑا سا تعارف کراتے ہیں۔
1۔ قرآن کریم
سب سے سے پہلے قرآن کریم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ رب العالمین کی یہ وہ کتاب ہے جس کو اللہ نے ایک ایک لفظ کے ساتھ اپنے آخری رسول کے اوپر اتارا تھا۔ اور آج وہ ہمارے سامنے پوری کتاب جس طرح آئی تھی اسی طرح موجود ہے اور تیس پاروں کی شکل میں ہمارے سامنے ایک سو چودہ سورتوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم کے اندر پانچ طرح کے علوم بیان کیے گئے ہیں۔ یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے جو ٹاپکس ہیں، سبجیکٹس ہیں، وہ پانچ بنتے ہیں:
- اس میں پچھلی قوموں کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ بنو اسرائیل کے، یا دوسرے علاقوں میں جو انسانی آبادی تھی، ان کے بارے میں اللہ نے بیان کیا ہے۔
- دوسرا ان احسانات اور انعامات کا ذکر ہے جو اللہ نے اپنے بندوں پر کیے ہیں۔ اس کائنات کے مالک نے، خدا نے جو انسانوں پر اپنے احسانات کیے ہیں: کائنات کو بنایا ہے، بارش ہے، آسمان ہے، سورج کی روشنی ہے، چاند کی روشنی ہے، زمین کے خزانے ہیں، ان سب کے بارے میں قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو یہ سب چیزیں دی ہیں۔
- تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان اس دنیا سے جائے گا، ہر ایک کی موت ہوتی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں، جانے کے بعد اگلی زندگی میں کیا اس کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ اس دنیاوی زندگی کے بعد آنے والی دائمی زندگی یعنی آخرت اور اس کی جزا و سزا کا بیان ہے۔
- چوتھی بات یہ بتائی گئی ہے کہ ایک اللہ کو مانو، اس کی عبادت کرو، اس کی پوجا کرو۔ کیوں اس کی پوجا کرنا، اس کی عبادت کرنا ضروری ہے؟ اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔ اللہ کی وحدانیت، اس کی ربوبیت اور اسلام کی صداقت کو سمجھانے کی تفصیلات کا ذکر ہے۔
- اور پانچواں جو ٹاپک ہے اس کا، وہ اسلامی احکام سے متعلق ہے۔ do's and don'ts کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا ہے۔ اس طرح کی تقریباً پانچ سو آیتیں قرآن کریم کے اندر ہیں جن سے احکام معلوم ہوتے ہیں۔
تو نئے مسائل کو معلوم کرنے کے لیے بھی اسلامی فقہ کا جو سورس بنتا ہے، وہ فرسٹ سورس قرآن کریم ہے۔
2۔ حدیث / سنتِ رسولؐ
سیکنڈ سورس، حدیث شریف یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ سنت قرآن کے احکام کی تائید و تاکید کرتی ہے۔ سنت کے ذریعہ قرآن کی شرح ہوتی ہے۔ سنت کے ذریعے کچھ ایسے احکام دیے گئے ہیں جن سے قرآن خاموش ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جو آخری نبی تھے، ان کے سینے پہ قرآن اتارا گیا تھا اور ان کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ قرآن کریم کی آیتوں کی تشریح کریں اور بتائیں۔ چنانچہ حدیث میں تشریح کی گئی ہے، ایکسپلینیشن دیا گیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ نماز پڑھو۔ نماز پڑھنے کا تفصیلی طریقہ اور اس کی ہیئت کیا ہو گی، وہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
حدیث میں کچھ نئے احکام بھی دیے گئے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے، اس کو بھی ذہن میں آپ کو رکھنا ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ احکام حدیث میں دیے گئے ہیں، اور یہ حکم بھی قرآن کریم میں دیا گیا ہے: ’’ومآ اٰتاکم الرسول فخذوہ‘‘ کہ رسول تم کو جو کچھ دیتے ہیں اس کو لے لو۔ تو حدیث دوسرا سورس ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قانون کس روشنی میں بنایا جائے گا۔
3۔ اجماع
تیسرا سورس جو ہے وہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کا مطلب ہوتا ہے consensus (اتفاق)، یعنی جو اسلامی قانون کے ماہرین ہیں، جن کو مجتہدین کہتے ہیں، اجتہاد کرنے والے لوگ، یہ لوگ بیٹھ کر قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے کسی نئے مسئلے کے بارے میں حکم طے کرتے ہیں۔ اجماع کا لغوی معنی اتفاق ہے۔ جب کسی مسئلے میں وضاحت کے ساتھ قرآن یا حدیث کے اندر حکم موجود نہ ہو اور اس زمانے کے تمام مجتہدین اس مسئلہ میں ایک حکم پر متفق ہو جائیں تو مجتہدین کا یہ اتفاق اس حکم کے لیے دلیلِ قطعی بن جاتا ہے۔ ان سب کا اگر اتفاق ہو گیا ہے ایک حکم پر (مثلاً) انسان اپنا خون کسی کو عطیہ کر سکتا ہے، یا انسان کے پاس گردہ ہے، کسی خاص ضرورت میں بغیر کچھ پیسہ لیے ہوئے اپنے کسی رشتہ دار کو عطیہ کر سکتا ہے، اگر ایسے حکم پر سارے مجتہدین کا اتفاق ہو گیا تو یہ اجماع ایک سورس ہے۔ a source for Islamic jurisprudence۔ اجماع ایک شرعی ماخذ اور دلیل ہے۔ اس کے حجت ہونے پر قرآن کی متعدد آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث دلیل ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ پوری امتِ مسلمہ گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی ہے۔
4۔ قیاس
قیاس کا مطلب ہوتا ہے ایک اندازہ لگانا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر ایک چیز درست ہے تو اس طرح کی جتنی چیزیں آئیں گی وہ سب درست مانی جائیں گی۔ مثال کے طور پر شراب پینے سے منع کیا گیا ہے۔ تو شراب ایک خاص قسم کا مشروب ہوتا ہے، لیکن شراب پینے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ وہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے اور نشہ پیدا کرتا ہے۔ تو نشہ پیدا کرنے والی جتنی نئی چیزیں آتی جائیں گی، قیاس کر کے، اندازہ لگا کے کہ چونکہ نشہ حرام ہے، تو جتنی نشہ پیدا کرنے والی چیزیں ہیں وہ سب کی سب حرام ہوں گی۔ اس کو قیاس کہتے ہیں۔ قیاس کے ذریعے بہت سے احکام معلوم کیے گئے ہیں۔ قیاس چوتھا سورس ہے اور اس کے ذریعے احکام معلوم ہوتے ہیں۔
قیاس کا لغوی معنی ہے اندازہ کرنا۔ اصطلاح میں قیاس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے بارے میں شریعت میں حکم بیان ہوا ہے، تو اس حکم کی جو علّت ہے، وہ جن جن نئے مسائل میں پائی جائے وہاں بھی وہی حکم جاری کیا جائے۔ یہ چوتھا شرعی ماخذ ہے۔ لیکن اس کا وجود اجماع سے پہلے ہوا ہے۔ کیونکہ قیاس کا ضابطہ خود قرآن کی آیات اور احادیث میں کارفرما ہے۔ اور عہدِ رسالت میں ہی متعدد مسائل میں صحابہ کرامؓ نے قیاس سے کام لیا۔
تو یہ چار وہ سورسز ہیں اسلامی قانون کے (۱) قرآن کریم (۲) سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (۳) اجماع (۴) اور قیاس۔ ان چاروں سورسز کے ذریعے نئے مسائل کے احکام معلوم کیے جاتے ہیں۔
خلاصہ
ناظرین! آج کے سبق میں آپ نے یہ بات جانی کہ فقہِ اسلامی کا مفہوم ہے سمجھ پیدا کرنا۔ اور فقہِ اسلامی کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے جو احکام زندگی کے نکالے گئے ہیں ان کا مجموعہ ’فقہِ اسلامی‘ ہے۔ آپ نے یہ بات جانی کہ فقہِ اسلامی کا انسان کی زندگی سے گہرا تعلق ہے اور یہ اہم ترین ضرورت ہے انسان کی۔ اور آپ نے اسی طرح یہ بھی جانا کہ فقہِ اسلامی کے سورسز (مصادر) چار ہوتے ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان چاروں کی روشنی میں نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی چلتا جا رہا ہے۔
مجھے اندازہ ہے کہ آپ نے اس موضوع کو سمجھا ہو گا، اس سے فائدہ اٹھایا ہو گا۔ آپ اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہیں تو میں آپ کو چند کتابوں کے نام بتاتا ہوں:
- ’’فقہِ اسلامی: تعارف اور تاریخ‘‘ — پروفیسر اختر الواسع ، ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
- ’’فقہِ اسلامی: تدوین و تعارف‘‘ — مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
- ’’فقہِ اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘ — مولانا تقی امینی
- ’’تاریخِ فقہِ اسلامی‘‘ — اردو ترجمہ: مولانا عبد السلام ندوی
آج کے سبق میں بس اتنا ہی ہے، مجھے اجازت دیجیے، ان شاء اللہ پھر کسی اور سبق میں اور پروگرام میں آپ سے ملیں گے ایک نئے موضوع کے ساتھ، تب تک کے لیے خدا حافظ۔
https://youtu.be/d3T0i7FoR7U
فقہِ اسلامی کی تاریخ
ناظرین! آداب، میں ڈاکٹر محمد فہیم اختر، نظامت فاصلاتی تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس تعلیمی پروگرام میں ایک بار پھر آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج کا ہمارا یہ تعلیمی سبق جس موضوع پر ہے وہ کچھ یوں ہے: فقہِ اسلامی کی تاریخ (History of Islamic Jurisprudence) … آج ہماری گفتگو اس موضوع پر ہو گی جس سے ہم اس موضوع کے مختلف حصوں کو نمایاں کر سکیں۔
- ہم سب سے پہلے گفتگو کریں گے فقہِ اسلامی کے پہلے دور پر، جو ہمارا فرسٹ فیز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرامؓ کی زندگی۔ یہ دور تقریباً ہجری سن کے اعتبار سے ۱۰۰ برس تک کا زمانہ ہے۔ یہ پہلا دور ہو گا۔
- پھر ہماری گفتگو دوسرے دور پر ہو گی اور وہ دور مجتہدین اور تابعین کا زمانہ ہے۔ اور یہ تقریباً ۳۵۰ ہجری تک کا زمانہ آتا ہے، چوتھی صدی کا نصف اول تک۔
- اس کے بعد تیسرا دور جس پر ہم گفتگو کریں گے وہ ہوگا فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ اور تقلید کا زمانہ۔ یہ کافی لمبا زمانہ ہے اور تقریباً ۲۰ویں صدی عیسوی کے نصف تک آتا ہے۔ یعنی ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء کے تک کا زمانہ آجاتا ہے۔ ۱۹ویں صدی کے بعد پچیس یا پچاس سال مزید۔
- اور آخری دور پر گفتگو ہو گی جو ہمارا موجودہ زمانہ ہے اور آج تک چل رہا ہے۔
1۔ نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ
دیکھیے، فقہِ اسلامی کا جب آغاز ہوا، تو یہ وہی وقت ہے جس وقت اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ چونکہ قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول بنائے جانے کے ساتھ ہی یہ بات لوگوں کو معلوم ہونے لگ گئی تھی کہ کیا کام کرنے ہیں اور کیا کام نہیں کرنے ہیں۔ اس کا بالکل دوسرا نام فقہِ اسلامی ہے، یا اسلامی قانون ہے۔ گویا اسلام کے آغاز کے ساتھ ہی فقہِ اسلامی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور یہ دور پورا چلتا ہے، اس کو ہم نے فارمیشن پیریڈ یا formation age کا نام دیا ہے، تشکیلی زمانہ ہے، فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑتی ہے اس زمانے میں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، جو نبوت کی پوری تئیس برس کی زندگی ہے، اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تیار کیا تھا، ان کی تربیت کی تھی، ان کو نہ صرف یہ احکام بتائے تھے بلکہ ان کو اس قابل بنایا تھا کہ وہ نئے مسائل میں نئے احکام مستنبط کر سکیں، نکال سکیں اور بنا سکیں۔ تو حضورؐ کا زمانہ اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ دونوں کو ملا کر وہ عرصہ بنتا ہے کہ جس کو ہم نے تشکیلی زمانہ کہا ہے۔ جس میں فقہِ اسلامی کی اساس رکھی جاتی ہے اور پوری اس کی بنیاد تیار ہو جاتی ہے۔ یہ زمانہ ۱۰۰ ہجری تک اس لیے ہے کہ اس کے بعد کچھ ہی زمانے تک کچھ صحابہؓ رہ پائے ہیں، ۱۱۰ ہجری کے آس پاس سارے صحابہ کرامؓ گزر گئے ہیں۔ تو حدیث شریف کے اندر صحابہ کرامؓ کی بات ماننے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شارح تھے، احکام بتایا کرتے تھے، اللہ کی طرف سے بھی، اپنی جانب سے بھی۔
تو اسی زمانے میں فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑی ہے اور دو کام اس زمانے میں ہوئے ہیں:
- ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتا دیا کہ کیا کام کرنے ہیں اور کیا نہیں کرنے ہیں۔ وہ پوری تفصیل قرآن کے اندر موجود ہے، حدیث شریف کے اندر موجود ہے۔ وہ دونوں کتابیں آج ہمارے سامنے دستیاب ہیں۔
- دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اسی دور میں وہ کچھ اصول اور ہدایات دے دیے گئے ہیں، ایک فریم ورک دیا گیا ہے، ایک دائرہ دیا گیا ہے کہ نئے مسائل کے بارے ان اصولوں کی روشنی میں غور کر کے نئے مسائل معلوم کیے جائیں۔
مثال کے طور پر اسلام نے کہیں یہ نہیں بتایا کہ لباس کیا پہنا جائے۔ کرتا پاجامہ ہونا چاہیے، پینٹ شرٹ ہونا چاہیے، جبہ قبہ ہونا چاہیے، یہاں تک کہ خواتین کا برقعہ ہونا چاہیے، یا فلاں ڈیزائن ہونا چاہیے، ایسی کوئی بات قرآن یا حدیث کے اندر نہیں ہے۔ چونکہ قرآن و حدیث کو یہ بتانا تھا کہ رہتی دنیا تک ہر علاقے کے لوگ ان احکام پر عمل کر سکیں، تو یہاں پر اصولی بات بیان کی گئی کہ لباس ڈھیلا ڈھالا ہو، لباس سے جسم ڈھک جائے، لباس اتنا باریک نہ ہو کہ لباس پہننے کے باوجود جسم نظر آ رہے ہوں۔ یہ اصولی بنیادی باتیں بتا دی گئیں۔ ان کی روشنی میں لباس کا ڈیزائن کیا ہو، لباس کا انداز کیا ہو، اس کو چھوڑ دیا گیا لوگوں کے اوپر۔
اس طرح دوسرا کام یہ کیا گیا اُس زمانے میں کہ کچھ اصول دے دیے گئے۔ کاروبار کے حوالے سے بتا دیا گیا کہ کسی کو دھوکہ نہ دو، معاملہ صاف ستھرا کرو، وعدے کی پابندی کرو، اور دوسرے کا مال حرام طریقے سے نہ لو۔ اب وہ کاروبار کمپیوٹر کے ذریعے ہو، یا کاروباری سامان سامنے رکھ کر بیچا جائے، یا کاروبار ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہو، سب چیزوں کی اجازت ہو سکتی ہے۔ تو یہ دوسرا کام کیا گیا اس دور میں کہ احکام کے کچھ اصول دے دیے گئے اور ان کی روشنی میں احکام مستنبط کرنے کا طریقہ بتا دیا گیا۔
اور ساتھ ہی اس کی تربیت بھی دی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو اپنے زمانے میں اجتہاد کرایا۔ ایک مشہور مثال میں آپ طلبہ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ایک مشہور صحابی ہیں جو اسلامی قانون کے حوالے سے بھی بہت بڑا نام رکھتے ہیں، ان کا نام ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں یمن کا گورنر (عامل) بھی بنایا تھا اور وہاں کا جج (قاضی) بھی بنایا تھا۔ بھیجنے سے پہلے ان کی تربیت کی اور تربیت کے بعد ان کا امتحان لیا۔ ان سے پوچھا کہ اے معاذ، تم وہاں جا رہے ہو گورنر اور قاضی بن کے، تمہارے سامنے مسائل آئیں گے، مقدمے آئیں گے، کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے تربیت حاصل کر رکھی تھی، اس کی روشنی میں جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول، میں قرآن کی روشنی میں غور کروں گا اور حکم بیان کروں گا اور دیکھوں گا کہ قرآن میں اس مسئلے کا کیا جواب ہے۔ حضورؐ نے پوچھا کہ اگر قرآن میں اس کا جواب نہیں ملا تو؟ معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ پھر میں حدیث کو دیکھوں گا۔ حضورؐ نے پوچھا کہ اگر تم کو میری حدیث کے اندر بھی اس سوال کا جواب نہیں ملے تو؟ معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ پھر میں اپنی عقل سے غور کروں گا اور بھرپور محنت کر کے غور کر کے معلوم کرنے کی کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہو سکتا ہے۔ حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معاذ بن جبلؓ کی پشت تھپتھپائی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کو ایک اچھی بات سمجھ میں آئی، جس طریقے پر ان کو تربیت دی گئی تھی، اس کے امتحان میں وہ کامیاب نکلے۔
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
- پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ اس بات کا امکان تھا کہ ایسے مسائل پیش آئیں جن کا جواب براہ راست قرآن اور حدیث کے اندر نہ ہو۔
- اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایسی صورتحال میں انسان کو اپنی عقل سے غور کرنا ہو گا اور غور کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی سے رہنمائی حاصل کرنی پڑے گی۔
تو یہ پہلا زمانہ تھا جس میں فقہِ اسلامی کے احکام بھی معلوم ہو گئے، اور فقہِ اسلامی میں نئے مسائل معلوم کرنے کے طریقے بھی سکھا دیے گئے، تربیت دی گئی، اور اس کے اصول اور ضابطے بھی بتا دیے گئے۔
2۔ تابعین اور مجتہدین کا زمانہ
طلبہ کرام، اب ہم دوسرے دور پر آتے ہیں، دوسرا دور جو ہمارا تابعین اور مجتہدین کا زمانہ ہے۔ دیکھیے، تابعین کہتے ہیں ان لوگوں کو جو دوسرے کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ صحابہ کرامؓ کے جو لوگ شاگرد تھے، اُن کو تابعین کہا گیا، اس لیے کہ صحابہؓ کے راستے پر چلنے والے تھے۔ اور مجتہدین کا مطلب ہوتا ہے اجتہاد کرنے والے۔ اجتہاد کا مطلب ہوتا ہے غور کرنا۔ ابھی آپ نے یہ بات سنی کہ معاذ بن جبلؓ کو اجتہاد کا طریقہ سکھایا گیا تھا۔ انہوں نے خود جواب دیا تھا کہ میں غور کروں گا، اجتہاد کروں گا۔ تو جن لوگوں نے اجتہاد کیا وہ مجتہدین کہلائے۔
صحابہ کرامؓ کے زمانے کے بعد کا جو زمانہ ہے، جس کو ہم نے ۱۰۰ ہجری کے بعد سے لے کر ۳۵۰ ہجری تک کا زمانہ لیا ہے، تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ اس زمانے میں بڑے پیمانے پر اجتہاد ہوا۔ اور یہ فطری بات تھی۔ چونکہ اسلامی مملکت کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا، نئی نئی قوموں سے مسلمانوں کے روابط اور تعلقات بن رہے تھے، نئے علاقے فتح ہو رہے تھے، تو بڑے سوالات آ رہے تھے: کاروبار کے، معاملات کے، شادی بیاہ کے، اور زندگی گزارنے کے۔ ان سب نئے سوالات کے بارے میں جواب دینا تھا۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے یکسو کر لیا، dedicated کر لیا، انہوں نے فقہِ اسلامی کے قوانین مرتب کیے اور وہ لوگ مجتہدین کہلائے۔
عزیز طلبہ، اس بات کو ذرا آپ ذہن میں بٹھائیں کہ یہ جو ہمارا دوسرا دور ہے، جس کو تابعین اور مجتہدین کا زمانہ کہا گیا ہے، اسی دور میں الگ الگ انداز سے جو مجتہدین نے اجتہاد کیے ان میں رائیوں (opinions) کا فرق پڑا۔ اور رائیوں کا یہ اختلاف خود حضورؐ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ میں بھی ہوا تھا۔ اور اس بات کو ضرور یاد رکھیے گا کہ صحابہ کرامؓ کے رائیوں کے اختلاف کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح قرار دیا تھا، اس کو valid (درست) مانا تھا، اس کو آپ نے discard (مسترد) نہیں کیا تھا۔
ایک موقع پر حضورؐ نے صحابہ کرامؓ سے کہا کہ یہاں سے نکل کر، بنو قریظہ کا جو فلاں محلہ ہے، وہاں جاؤ اور عصر کی نماز وہیں پڑھنا۔ صحابہ کرامؓ نکلے، راستے میں عصر کی نماز کا وقت ختم ہونے لگ گیا۔ آپس میں ان کا difference of opinion (رائے کا اختلاف) ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں رک کر عصر کی نماز پڑھ لینی چاہیے ورنہ نماز قضا ہو جائے گی۔ کچھ دوسروں نے کہا کہ نہیں، حضورؐ نے کہا ہے کہ نماز وہاں پہنچ کر پڑھنی ہے، بنو قریظہ کے محلے میں، تو ہم وہاں جا کر پڑھیں گے۔ ایک گروہ نے راستے میں نماز پڑھی آخری وقت میں۔ ایک گروہ نے وہاں پہنچ کر نماز پڑھی تو ان کی نماز قضا ہو گئی۔ دونوں نے ایک ہی حکم پر عمل کیا لیکن دونوں کے عمل کرنے کے طریقے الگ ہو گئے۔ جب ان دونوں گروہوں نے حضورؐ کو اپنے اس واقعے کی اطلاع دی تو حضورؐ نے فرمایا کہ تم نے بھی صحیح کیا اور تم نے بھی صحیح کیا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں، میں نے صرف ایک مثال آپ کو بتائی ہے، جس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ رائے کا اختلاف درست تھا اور حضورؐ نے اس کو مانا تھا۔
یہی چیز مجتہدین کے زمانے میں ہوئی، اور انہوں نے جو اجتہاد کیا تو اس میں ان کی رائیوں میں فرق پڑا۔ یہی رائیوں کا فرق مسلک بنے اور فقہی مسالک وجود میں آئے۔ اس لیے اس دور میں فقہ کے میدان میں جو کام ہوئے ہیں، ان میں ایک تو اجتہاد کا کام بڑے پیمانے پر ہوا، اور دوسرا فقہی مسالک وجود میں آئے۔ میں اپنے طلبہ کو ایک بات بتانا چاہوں گا کہ جو فقہی مسالک وجود میں آئے اس زمانے میں، وہ صرف چار نہیں تھے:
- یہ امام مالکؒ کا مسلک بھی تھا — فقہِ مالکی
- امام احمد بن حنبلؒ کا تھا — فقہِ حنبلی
- امام شافعیؒ کا تھا — فقہِ شافعی
- امام ابوحنیفہؒ کے نام پہ تھا — فقہِ حنفی
- امام اوزاعیؒ کے نام پہ تھا — فقہِ اوزاعی
- امام طبریؒ کے نام پہ تھا — فقہِ طبری
- امام لیث بن سعدؒ کے نام پہ تھا — فقہِ لیث
- امام شریحؒ کے نام پہ تھا
- ابنِ ابی لیلیؒ کے نام پہ تھا
- امام داؤد ظاہریؒ کے نام پہ تھا
- امام جعفر صادقؒ کے نام پہ تھا — فقہِ جعفری
- امام زید بن علیؒ کے نام پہ تھا — فقہِ زیدی
اور آج بھی یہ فقہِ زیدیہ اور فقہِ جعفریہ موجود ہے۔ تو اس طرح فقہی مسالک بہت سے بنے تھے۔ اتفاق ہے کہ کچھ مسالک باقی رہ گئے، کچھ مسالک باقی نہیں رہے۔ اور دوسری بات آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ فقہی مسالک کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ سب بالکل آپس میں الگ الگ ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک تھے۔ ان سب کے اندر سارے مسائل میں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں میں فرق تھا۔ مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ سینے پر باندھیں گے یا نیچے باندھیں گے۔ یہ چھوٹا سا فرق تھا اور دونوں درست تھے۔ ورنہ نماز کس طرح پڑھی جائے گی، ہر مسلک میں ایک ہی تھا۔ تو اس دور میں جو کام ہوئے ہیں اُن میں یہ فقہی مسالک بھی وجود میں آئے اور وہ آگے بڑھے۔ اور کچھ مسالک باقی رہے اور کچھ مسالک نہیں رہے اور ختم ہو گئے۔
3۔ تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ
عزیز طلبہ، اب ہم اپنے موضوع کے تیسرے حصے پر آتے ہیں۔ یہ فقہِ اسلامی کا تیسرا دور ہے۔ اور یہ دور مجتہدین کا زمانہ ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور کافی لمبا عرصہ چلتا ہے۔ اس کو ہم نے نام دیا ہے ’’تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ‘‘۔
دیکھیے، دو الفاظ کا استعمال یہاں پر ہو رہا ہے۔ ایک ہے ’’تقلید کا زمانہ‘‘۔ تقلید کہتے ہیں دوسروں کی بات ماننا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر آدمی اسلامی قانون کا ماہر نہیں ہو سکتا۔ تو جو لوگ کسی سبجیکٹ کے ایکسپرٹ نہیں ہوتے، وہ سبجیکٹ کے ایکسپرٹ سے معلوم کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کے اندر ہوتا ہے۔ جو لوگ قانون کے ماہرین نہیں ہیں، قانون کے میدان میں وہ قانون کے ماہرین کی بات مانیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ یعنی مجتہدین کی بات مانیں گے۔ تو جو لوگ دوسروں کی بات مان کر عمل کرتے ہیں اس کو تقلید کہا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی فطری بات ہے۔
اس زمانے میں یہ ہوا کہ، اس سے پہلے نئے مسائل جو بہت سارے پیش آ رہے تھے اور اجتہاد کے ذریعے ان کے احکام بتائے گئے تھے، اب زندگی کی رفتار تھوڑی تھم سی گئی تھی اور ایک سکون سا آگیا تھا، اور بہت سارے مسائل میں اجتہاد ہو چکا تھا، تب اجتہاد کی ضرورت کم رہ گئی تھی۔ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے‘‘، نئے مسائل پیش نہیں آ رہے تھے، اجتہاد کی ضرورت گھٹتی گئی تو فطری طور پر مجتہدین بھی گھٹ گئے۔ تب اس زمانے میں تقلید زیادہ ہونے لگ گئی۔ اس لیے ہم نے اس کا نام تقلید کا زمانہ رکھا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجتہدین نہیں ہوئے، اس دور میں بھی مجتہدین ہوئے ہیں: ابن تیمیہؒ ہوئے ہیں، ابن قیمؒ ہوئے ہیں، اور بہت سے مجتہدین بعد میں ہوئے ہیں، لیکن کم رہے ہیں پہلے کے مقابلے میں۔
دیکھیے، مجتہدین نے جو مسائل مستنبط کیے تھے، نئے مسائل بتائے تھے، ان سب مسائل کو کتابوں کی شکل میں لکھا گیا اور ہر مسلک میں الگ الگ لوگوں نے لکھا۔ خود اُس پچھلے دور میں بھی کتابیں لکھی گئی تھیں لیکن کم کتابیں تھیں۔ اِس دور میں فقہ کی کتابیں بہت لکھی گئی ہیں اور نئے نئے انداز سے کتابیں لکھی گئیں۔ نصاب کی ضرورت کو سامنے رکھ کر کتابیں لکھی گئیں، ان کی شروحات لکھی گئیں۔ نئے مسائل جو اس زمانے میں پیش آئے ان کے فتاویٰ لکھے گئے، وہ فتاویٰ کی کتابیں کہلائیں۔ تو ہر مسلک میں، خاص طور سے چار سنیوں کے مسالک (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)، اور فقہِ جعفریہ اور فقہِ زیدیہ جو اِس زمانے میں رائج ہیں، ان چھ فقہی مسالک کے بارے میں اور ان کے علاوہ کے بارے میں بھی بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ آپ اس بات کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر کسی لائبریری میں آپ جا کر دیکھیں تو فقہ کے سیکشن میں اتنی کتابیں آپ کو ملیں گی کہ جو بلامبالغہ سینکڑوں نہیں ہزاروں میں کتابیں ہیں۔ الگ الگ انداز سے کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کی شروحات لکھی گئی ہیں۔ اور تمام نئے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔
تو یہ پورا دور فقہی کتابوں کا ہے اور اہم ترین کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اور اس دور میں فقہِ اسلامی کا ایک عظیم الشان ذخیرہ اور عظیم لائبریری تیار ہو گئی ہے۔
4۔ موجودہ زمانہ
اب ہم آتے ہیں آخری دور پر۔ ہمارا جو فقہِ اسلامی کی تاریخ کا آخری دور ہے، ہماری اِس تقسیم کے لحاظ سے، وہ موجودہ زمانہ ہے۔ جس کو ہم نے ۱۹۲۵ء کے بعد سے لیا ہے۔ میں اپنے طلبہ کو یہ بات بتانا چاہوں گا کہ فقہِ اسلامی کی تاریخ کی یہ تقسیم جو کی گئی ہے، یہ ایک تقسیم ہے، اس کے علاوہ اور بھی تقسیمیں کی گئی ہیں: پوری فقہِ اسلامی کی تاریخ کو چھ ادوار کے اندر بھی بانٹا گیا ہے، اس کو آٹھ زمانوں کے اندر بھی بانٹا گیا ہے، ہم نے یہاں پر آسانی کے لیے آپ کے سامنے چار دوروں میں بانٹا ہے۔ یہ جو ہمارا آخری دور ہے، تقریباً ساری تقسیموں کے اندر یہ دور آتا ہے۔ یہ دور جس کو ہم نے modern age اور موجودہ زمانہ کہا ہے۔
دیکھیے، ہوتا یہ ہے کہ جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی آتی ہے۔ تبدیلی کچھ پہلے سے آنے لگ گئی تھی، صنعتی انقلاب کے نتیجے میں، نئے نئے ایجادات کے نتیجے میں، پھر سے سوالات آنے لگ گئے تھے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارا موجودہ زمانہ فقہِ اسلامی کے دوسرے دور کے متشابہ ہے۔ دوسرے دور میں یہ ہوا تھا کہ نئے مسائل کثرت سے پیش آئے تھے۔ اسی لیے مجتہدین نے بڑے پیمانے پہ اجتہاد کیے تھے۔ درمیان کا تیسرا زمانہ وہ تھا جس میں اجتہاد کم ہو گیا۔ نئے مسائل کم تھے، اس لیے مجتہدین بھی گھٹ گئے تھے۔ یہ دور جو ہمارا موجودہ زمانہ ہے، اس میں آپ دیکھیں کہ تقریباً روزانہ نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ میں اگر آپ کو بعض مسائل کی مثال دوں، دیکھیں:
- آج کے زمانے میں سوال یہ تک پیدا ہو گیا ہے کہ کیا ایک خاتون اپنے رحم کو، اپنی کوہ کو کرائے پر دے سکتی ہے؟ surrogate mother یا surrogacy کا سوال بنا ہوا ہے۔
- انسان کا اگر انتقال ہوتا ہے اور وہ یہ وصیت کرنا چاہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے اعضا کسی کو عطیہ کر دیے جائیں، یہ سوال آ گیا ہے آج۔
- کاروبار کے کیا کیا طریقے آ گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے کتنے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تو یہ زمانہ ایسا ہے جس میں پھر سے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں اور ان سوالات کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کا کام پھر شروع ہوا ہے۔ اور یہ پچھلے اسی زمانے سے، جب سے میں عرض کر رہا ہوں، بیسویں صدی کے نصف آخر سے بڑے پیمانے پر اجتہاد ہو رہا ہے۔ البتہ اِس زمانے میں جو اجتہاد ہو رہا ہے وہ انفرادی اجتہاد کی جگہ اجتماعی اجتہاد ہو رہا ہے۔ اجتماعی اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ایسے انسٹیٹیوشنز بنائے گئے ہیں، ادارے قائم کیے گئے ہیں، جہاں اسلامی قانون کے ماہرین، سبجیکٹس کے ایکسپرٹس، یہ لوگ بیٹھیں اور اجتہاد کریں۔ وجہ یہ ہے کہ آج علوم کا بڑا پھیلاؤ ہو گیا ہے۔ نئے نئے علوم، ان کی شاخیں۔ ایک آدمی کے لیے بڑا مشکل ہے کہ وہ زبان و ادب کا بھی ماہر ہو، قانون کا بھی ماہر ہو، عربی زبان کا بھی ماہر ہو، قرآن و حدیث کا بھی ماہر ہو، اور مثال کے طور پر اگر میڈیکل سائنس کا مسئلہ ہے تو اس کا بھی ماہر ہو، اگر کامرس کا اور بزنس کا مسئلہ ہے تو اس کا بھی ایکسپرٹ ہو۔ ایک آدمی نہیں ہو سکتا۔ تو مختلف ماہرین کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں پر سارے لوگ بیٹھیں اور غور کریں، اور ہر ایک دوسروں سے تعاون کر رہا ہو۔
اس طرح آج جو ادارے قائم ہوئے ہیں وہ اجتماعی اجتہاد کے ادارے کہلاتے ہیں۔ ایسے ادارے بہت سے قائم ہوئے ہیں اور پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں بیسیوں ادارے قائم ہو گئے ہیں۔ ہمارے ملک کے اندر قائم ہوئے ہیں۔ یہاں کا سب سے مشہور فقہی ادارہ جس میں اجتماعی اجتہاد ہوتا ہے، وہ اسلامک فقہ اکیڈمی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ’’مجمع الفقہ الاسلامی الدولی‘‘ (انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی) قائم ہے۔ اسی طرح ایک رابطہ عالم اسلامی کے ماتحت ’’المجمع الفقہ الاسلامی‘‘ ہے۔ یورپ کے اندر ’’یورپین افتاء کونسل‘‘ ہے جو یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے ایشوز پر اجتماعی اجتہاد کرتی ہے۔ شمالی امریکہ کے اندر ایک ’’فقہ اکیڈمی فار نارتھ امریکہ‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ اور اسی طرح مختلف ملکوں میں ہیں۔ ہمارے ملک میں اس فقہ اکیڈمی کے علاوہ اور بھی کئی ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس طرح اجتماعی اجتہاد کے بہت سے ادارے بنے ہیں اور یہ لوگ اجتماعی غور و فکر کر رہے ہیں اور اجتہاد کر رہے ہیں۔ اور ان کے فیصلے بھی کتابی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ گویا ان اجتماعی اجتہاد کے اداروں کے ذریعے آج کے نئے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ یہ بڑا کام اِس زمانے میں ہو رہا ہے۔
اِس زمانے میں ایک کام اور ہو رہا ہے، وہ یہ کہ جو فقہی مسالک الگ الگ بن گئے تھے، آج کے نئے سوالات کی روشنی میں ایک فقہی مسلک کے اندر رہ کر ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنا بڑا مشکل ہو رہا ہے۔ تو سارے فقہی مسالک پھر سے قریب آ گئے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اجتماعی اجتہاد کے ان اداروں میں اور ان کے سیمیناروں میں ہر مسلک کے لوگ موجود ہوتے ہیں، جو دستیاب ہوں۔ اور سب مل کر رائے دیتے ہیں، اور ان کی رائے بھی کسی مسلک کے دائرے میں نہیں ہوتی ہے بلکہ براہ راست قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوتی ہے۔ ہاں، وہ مسلکی کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تیسرا کام جو اِس زمانے میں بڑا اہم ہو رہا ہے، وہ یہ کہ ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں جن کو نئے اسلوب میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر انسائیکلوپیڈیا کتابیں آ رہی ہیں فقہ کی۔ کویت سے فقہی انسائیکلوپیڈیا کے نام سے ۴۵ جلدوں میں کتاب آئی ہے ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘۔ اور اس میں حروفِ تہجی کی ترتیب سے کوئی سا بھی فقہ کا مسئلہ ہو اس کو آپ ڈھونڈ سکتے ہیں۔ خود ہمارے ہندوستان میں ایک ’’قاموس الفقہ‘‘ کتاب لکھی گئی ہے جس کے مصنف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ہیں۔ اس میں آپ حروفِ تہجی، الف لے لیں، با لے لیں، دال لے لیں، سین لے لیں، شین لے لیں، جس حرف سے آپ کو جو مسئلہ ڈھونڈنا ہو وہ ڈھونڈ سکتے ہیں اور وہ اس کتاب میں مل جاتا ہے۔
تو اس طرح نئے نئے اسلوب میں کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ قانون سازی کے انداز میں کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ اور نئے نئے موضوعات پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ تو اِس زمانے میں فقہِ اسلامی کے اندر پھر سے ایک boom آیا ہے، اجتہاد بڑے پیمانے پر ہونے لگ گیا ہے، اجتماعی اجتہاد ہونے لگ گیا ہے، اور نئی نئی کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ یہ آج کے موجودہ زمانے کی فقہِ اسلامی کی تاریخ کی خصوصیات تھیں۔
خلاصہ
طلبہ و طالبات! آج کے سبق میں آپ نے یہ دیکھا کہ ہم نے فقہِ اسلامی کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ اور ہم نے یہ بتایا کہ فقہِ اسلامی کا جو ڈویلپمنٹ ہوا ہے اور ارتقا ہوا ہے، یہ چار ادوار سے گزرا ہے۔ اور اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا جس وقت اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ یعنی قرآن کریم کے نازل ہونے کے ساتھ ہی فقہِ اسلامی کا آغاز ہوتا ہے۔
- پہلا دور وہ تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ تھا۔ اور یہ دور پورے ایک سو سال پر محیط ہے، ایک سو سال کا زمانہ ہے، اس میں فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑی ہے، اور فقہِ اسلامی میں دو کام ہوئے ہیں: (۱) ایک تو احکام بتا دیے گئے ہیں، بنیادی احکام۔ (۲) اور دوسرا، کچھ اصول اور ضابطے بتائے گئے ہیں۔
- دوسرا دور ہمارا تابعین اور مجتہدین کا زمانہ تھا۔ تابعین، جو صحابہ کرامؓ کے شاگرد تھے۔ مجتہدین، جنہوں نے اجتہاد کیا۔ اور اس زمانے میں بڑے پیمانے پر اجتہاد ہوا اور فقہی مسالک وجود میں آئے۔ اور اُس زمانے کے عالمِ اسلام کے تقریباً ہر بڑے شہر میں بڑے بڑے مجتہد موجود تھے۔ اور ہزاروں مسائل کا استنباط کیا گیا، احکام معلوم کیے گئے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کے جوابات بتائے گئے۔ یہ دوسرا دور تھا۔
- تیسرے دور کے بارے میں ہم نے بتایا، جو چوتھی صدی ہجری کے نصف سے شروع ہوتا ہے اور بیسویں صدی عیسوی کے پہلے نصف تک رہتا ہے، لمبا زمانہ ہے، اس زمانے کا نام ہم نے ’’تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف و تالیف کا زمانہ‘‘ رکھا ہے۔ اس میں تقلید زیادہ ہوتی رہی ہے یعنی فقہی مسالک کے اندر لوگ اپنے اپنے مسلک کے مطابق عمل کرتے رہے ہیں۔ اور کتابیں بڑے پیمانے پر لکھی گئی ہیں۔ اور عالمِ اسلام میں تقریباً ہر جگہ فقہِ اسلامی کا بہت بڑا ذخیرہ اور بہت بڑی لائبریری تیار ہو گئی ہے۔ یہ لمبا زمانہ رہا، اس میں تھوڑا بہت اجتہاد بھی ہوا، اور نئے نئے انداز سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔
- اس کے بعد جو آخری زمانہ ہے، جس کے بارے میں آپ کو ہم نے بتایا کہ یہ موجودہ زمانہ ہے، جو بیسیوں صدی کے نصف کے آخر سے شروع ہوتا ہے اور چل رہا ہے۔ اِس زمانے میں نئے مسائل کی کثرت ہوئی، زندگی کے ہر میدان کے بارے میں بہت زیادہ نئے مسائل پیش آئے، اس لیے اجتہاد بھی بڑے پیمانے پر پھر سے ہوا۔ اور یہ اجتہاد انفرادی کی جگہ اجتماعی اجتہاد ہوا۔ اور اس دور میں نئے انداز سے فقہ کی کتابیں بھی لکھی گئیں اور فقہی مسالک آپس میں قریب بھی ہوئے اور ان میں جو دوریاں تھیں وہ ختم ہو گئیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ طلبہ و طالبات نے آج کے سبق کو سمجھا ہو گا اور اس سے آپ کو فقہِ اسلامی کے بارے میں، اس کی تاریخ اور ڈیویلپمنٹ اور ارتقا کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا ہو گا۔ پھر بھی اگر آپ اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہیں تو میں ریکمنڈ کروں گا کہ آپ ضرور مطالعہ کریں، تو چند کتابیں آپ کو بتائی جاتی ہیں، آپ انہیں نوٹ کر لیں:
- ’’فقہِ اسلامی: تعارف اور تاریخ‘‘ — پروفیسر اختر الواسع ، ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
- ’’فقہِ اسلامی: تدوین و تعارف‘‘ — مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
- ’’فقہِ اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘ — مولانا تقی امینی
- ’’تاریخِ فقہِ اسلامی‘‘ — اردو ترجمہ: مولانا عبد السلام ندوی
https://youtu.be/LqH5z1xYwXE
حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، وعلیٰ کل من قام بدعوتہ واستمسک بسنتہ وجاہد جہادہ الی یوم الدین۔
سب سے پہلے تو میں عزت مآب جناب ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی صاحب کا خصوصی طور پہ شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنہوں نے مجھے آپ اہلِ علم کے ساتھ یہاں گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ اور ڈاکٹر صاحب بڑی محبت کرتے ہیں، انہوں نے اس محبت کا اظہار یہاں جن الفاظ میں کیا، سچی بات یہ ہے کہ میں خود کو ان کا مستحق نہیں سمجھتا۔ اللہ مجھے ان کے حسنِ ظن پر پورا اترنے کی توفیق دے۔ اور یہاں بالخصوص جس موضوع پر انہوں نے مجھے بات کرنے کے لیے بلایا ہے، ان کی توقعات تو بہت زیادہ ہیں، اور آپ لوگوں کی دلچسپی بھی مجھے معلوم ہو رہی ہے، مجھے اپنی کمزوری کا بھی علم ہے اور اس موضوع کا جو حق ہے شاید وہ میں نہ ادا کر پاؤں، لیکن میں اپنی سی کوشش کروں گا کہ حنفی اصولی منہج کو جس طرح میں نے اپنے اساتذہ سے سیکھا ہے اور پھر اس کو برتنے کی کوشش کی ہے، اس کے کچھ بنیادی خدوخال میں آپ کے سامنے واضح کر سکوں۔
عام طور پہ مجھ سے پوچھا جاتا ہے، اور ابھی جب ایئرپورٹ سے ہم آ رہے تھے اِدھر ’’سٹی آف نالج‘‘ کی طرف، تو جو میزبان تھے ہمارے دوست، انہوں نے بھی پوچھا کہ: اصول الفقہ میں آپ نے تخصص کیسے کیا، کہاں سے کیا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر میں ان کو کہوں کہ میں نے یونیورسٹی میں پڑھا ہے اصولِ فقہ، میں نے کسی مدرسے میں نہیں پڑھا، میں نے درسِ نظامی نہیں کیا، تو پتہ نہیں ان کو اچھا لگے گا یا برا لگے گا۔ حالانکہ وہ بہت اچھے آدمی ہیں جنہوں نے مجھے ریسو کیا ہے اور جنہوں نے بڑی مہمان نوازی بھی کی۔ پھر میں نے کہا، ظاہر ہے بتانا تو ہے، تو میں نے بتا دیا کہ میں نے تو درسِ نظامی نہیں کیا اور نہ ہی میں نے دینی مدارس میں علماء سے اس طرح باقاعدہ استفادہ کیا ہے، لیکن یہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے میں نے ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء، پھر اس کے بعد ایل ایل ایم، پھر پی ایچ ڈی کی۔ اور وہاں بہت اچھے اساتذہ ملے، تو جو کچھ ہے ان اساتذہ کی برکت ہے۔ اور میں ابھی کچھ ذکر چند اساتذہ کا ضرور کرنا چاہوں گا، کیونکہ جس موضوع پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں، اس سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔
میں خود اپنے اس سفر کا بھی تھوڑا آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ میں خود کن مراحل سے گزرا ہوں یہاں تک پہنچتے ہوئے۔ جب مثال کے طور پر اسلامی یونیورسٹی میں ہم نے داخلہ لیا اور شروع میں اصولِ قانون کے مباحث پڑھنے کا موقع ملا، jurisprudence جس کو کہا جاتا ہے، بہت اچھے استاد تھے ہمارے، اب بھی ہیں، اللہ انہیں سلامت رکھے، ڈاکٹر محمد منیر صاحب۔ انٹرنیشنل لاء میں ان کی بڑی مہارت تھی اور دلچسپی تھی، اور اس کے علاوہ اصولِ قانون میں، جورس پروڈنس میں۔ ان کے ساتھ جو موضوعات کلاس میں اور کلاس سے باہر بھی ڈسکس ہوتے تھے، تو ان کی وجہ سے خود میری اور میرے بہت سارے دیگر دوستوں کی بھی دلچسپی انٹرنیشنل لاء میں بھی ہوئی، جورس پروڈنس میں بھی ہوئی۔ پھر کچھ ہی عرصے میں ہم نے اصولِ فقہ کے کورس پڑھنے شروع کیے، تو اس میں افغانستان سے ہمارے استاد تھے، اللہ انہیں سلامت رکھے، ڈاکٹر فضل الرحمٰن، اور انہوں نے مدینہ منورہ سے اصولِ بزدوی میں پی ایچ ڈی کی تھی، تو وہ بہت اعلیٰ پائے کے اصولی تھے اور تین کورسز انہوں سے ہم نے اصولِ فقہ کے پڑھے۔ یہ ایل ایل بی کی میں بات کروں، پھر ایل ایل ایم میں کچھ مصری اساتذہ بھی تھے، پھر پی ایچ ڈی میں مزید اساتذہ آئے۔
اب جو ابتدا میں ہمارا اصولِ فقہ کے ساتھ تعلق بنا، تو جو سوالات ادھر اصولِ قانون میں پہلے سے ہمارے ذہن میں تھے، ظاہر ہے ہم انہی سوالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اصولِ فقہ پڑھ رہے تھے، تو کچھ سوالات کے جوابات مل رہے تھے، کچھ کے نہیں مل رہے تھے۔ اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں مجھ سے اور شاید آپ کے بھی بعض لوگوں کے ذہن میں ہو کہ قانون اور اصولِ فقہ کا آپس میں کس طرح آپ تعلق قائم کرتے ہیں؟ بلکہ ایک دفعہ ہمارے ایک محترم ناقد تھے تو انہوں نے میرا نام لے کر کہا کہ وہ تو فقہ کو قانونی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں نے کہا: یار، فقہ قانون ہے ہی، تو اس کو قانون کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو کیسے دیکھیں گے؟ صرف تبرک کے لیے تو فقہ نہیں پڑھیں گے نا؟ تبرک یقیناً اس سے لیا جا سکتا ہے، لیکن اصل تو وہ قانون ہے۔
بہرحال، وہ جو ہمارے ذہن میں اصولِ قانون کی رو سے سوالات تھے، وہ جب ہم ادھر اصولِ فقہ کی کلاس میں ڈسکس کرتے تھے، ہمارے استاد محترم ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب کو اچھے لگتے تھے، وہ اس میں بہت ہماری رہنمائی کرتے تھے، کہیں ہم الجھ جاتے تھے، پھر خیر بات آگے بڑھتی تھی۔ پھر ایک مرحلہ آیا، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور استاد محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کے سامنے بیٹھنے کا موقع ملا، اور وہاں سے بس یوں کہیں کہ ہماری دنیا ہی تبدیل ہو گئی، کیونکہ اب وہ شخصیت آ گئی جن کو اللہ تعالیٰ نے فقہ میں بھی، اصولِ فقہ میں بھی، قانون میں بھی، اصولِ قانون میں بھی عجیب طرح کا رسوخ عطا کیا ہے۔ اور ان کے ساتھ جو ہماری گفتگو ہوتی تھی، ایل ایل بی میں بھی، پھر ایل ایل ایم میں، تو وہ لیکچر کی صورت میں نہیں ہوتی تھی، وہ سوال و جواب کی صورت میں ہوتی تھی اور آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ پہلی دفعہ میں نے ان سے جو سوال کیا تھا، ابھی میں ان کی کلاس میں اسٹوڈنٹ کے طور پر بیٹھا نہیں تھا، کوریڈور میں باہر ان کو پکڑ کر میں نے ان سے ایک سوال کیا تھا، وہ ۱۹۹۷ء میں کیا تھا، یعنی تقریبا اٹھائیس سال ہو گئے ہیں، اور آج بھی صبح میں نے ان سے کچھ سوالات کیے تھے یہاں آنے سے پہلے۔ وہ جواب نہیں دیتے، جب آپ ان سے سوال کرتے ہیں تو وہ آپ پر ایک اور سوال کر لیتے ہیں، پھر ایک اور کرتے ہیں، اور ہوتے ہوتے آپ خود اس جواب تک پہنچ جاتے ہیں۔
بعد میں خیر کافی مرحلے آئے اور ہمیں پھر معلوم ہوا کہ بعینہ یہ طریقہ تو امام ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کرتے تھے۔ اور اگر امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الاصل میں دیکھیں تو کئی ابواب، کئی کتب اس کے اندر ایسی ہیں جن میں ساری بحث سوال و جواب کی صورت میں ہے: ’’قلت‘‘، ’’قال‘‘، ’’قلت لما‘‘، ’’قال لان‘‘، ’’قلت فان‘‘، ’’قال فا‘‘۔ تو اس کے جواب میں پھر میں کہوں گا کیوں؟ تو وہ کہیں گے اس لیے۔
خیر، پھر بات مزید آگے بڑھتی گئی۔ پھر معلوم ہوا کہ اس کو تو socratic method کہتے ہیں، سقراط کا طریقہ، کیونکہ سقراط کا جو طریقہ افلاطون نے اپنے مکالمات میں نقل کیا ہے، تو وہ بھی سوال و جواب کی صورت میں ہے۔ وہ لوگوں سے سوال کرتا تھا:
’’آپ یہ کیوں کہتے ہیں؟‘‘
وہ: ’’اس لیے‘‘۔
’’اچھا، اگر یہ ہے تو پھر یہ کیوں؟‘‘
تو وہ اس کا جواب کچھ اور دیتے تھے۔
پھر وہ اس میں کہتے ہیں: ’’نہیں، آپ نے تو ابھی یہ کہا تھا، تو کیا یہ بات اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے، یا آپ یہاں تناقض میں تو مبتلا نہیں ہو رہے؟ اچھا، پھر اگر آپ یہ کہتے ہیں تو اس کا تو ایک لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے۔‘‘
’’اچھا، ہاں، اس پر تو میں نے نہیں سوچا تھا۔‘‘
تو اب سوچیے، کیا اب آپ اپنی اس پوزیشن پر قائم ہیں یا اب اپنی رائے میں آپ کچھ تبدیلی لا رہے ہیں؟
سقراط تو اس طرح کرتا تھا اور لوگ اس وجہ سے زچ ہوتے تھے کہ یہ بندہ تو ہمیں تنگ کرتا ہے اور ہر بات پر سوال اٹھاتا ہے اور basics (بنیادوں) تک جاتا ہے۔ آج تک نیازی صاحب ہمیں یہ بتاتے رہتے ہیں کہ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تفصیلات میں گئے ہوتے ہیں، حالانکہ جو بنیادیں ہیں وہ ان کے لیے واضح نہیں ہوتیں۔ تو وہ ہمیشہ بالکل بنیادی سوال کرتے ہیں اور وہاں سے پھر بات آگے بڑھاتے ہیں۔ تو یہ میں نے مختصراً ذکر کیا کہ میرا اس موضوع کے ساتھ تعلق کہاں سے اور کیسے بنا۔
ایک اس میں اور واقعے کا میں اضافہ کروں تو پھر موضوع کی طرف جاتے ہیں۔ اکثر لوگ نیازی صاحب سے بھی پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کا فقہ اور اصول کے ساتھ تعلق کیسے بنا؟ کیونکہ وہ تو بنیادی طور پر ایک بہت ہی اعلیٰ پائے کے قانون دان تھے، بہت اعلیٰ درجے کے وکیل تھے اور ۱۹۷۰ء کی دہائی میں لاکھوں میں کھیلتے تھے، تو سب کو چھوڑ چھاڑ کر آپ اسلامی قانون کی طرف کیسے آئے؟ لمبی کہانی ہے، لیکن اس میں سے میں ایک جزو آگے سامنے نقل کرتا ہوں، انہوں نے خود جو ذکر کیا ہے ہمیں۔ کہتے ہیں: جب اسلامی یونیورسٹی (ابھی اسلامی یونیورسٹی تو نہیں تھی، خیر) قائداعظم یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ بنانے کا اعلان کیا گیا اور اس میں ایل ایل ایم شریعہ میں داخلے آفر کیے گئے، تو میں نے کہا بہت کما لیا ہے، ذرا اب اسلامی قانون بھی ہم پڑھ لیں۔ تو اگلے دن ٹیسٹ تھا اور مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا، اسلامی قانون کا تو میں نے کچھ پڑھا ہی نہیں تھا، سوائے اس ایک آدھ کورس کے جو ایل ایل بی میں ہوتا ہے۔ تو راولپنڈی میں راجہ بازار میں جو بڑا مشہور مدرسہ ہے مولانا غلام اللہ خان صاحب کا، تو وہاں سامنے کتابوں کی دکان تھی، میں وہاں گیا اور اس بندے سے پوچھا کہ یار اسلامی قانون کی کوئی کتاب مجھے دیں۔ اس نے ایک دو سوالات کیے، پھر انہیں ’’ہدایہ‘‘ کا متن کے ساتھ اردو ترجمہ دیا۔ اب ان کو یاد نہیں تھا کن کا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مجھے اس نے دیا۔
کہتے ہیں میں گھر لے آیا، میں نے پڑھنا شروع کیا، عربی تو آتی نہیں تھی، لیکن میں نے عربی عبارت پڑھنے کی کوشش کی اور اس کو اردو کے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ دو تین صفحے میں نے بڑی مشکل سے پڑھے لیکن اس کے بعد اس کے ساتھ میرا تعلق بن گیا۔ اب میں پڑھتا جاؤں، پڑھتا جاؤں۔ کہتے ہیں اب اچانک میرے ذہن میں آ گیا کہ یہ تو ایک کیس ہے، پھر اس کیس میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی، اگر یوں ہو جائے، پھر اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی، اگر یوں ہو جائے۔ اس طریقے کے تو وہ عادی تھے، وہ خود کرتے یہی تھے۔ کہتے ہیں مجھے مزہ آنے لگا اور اب میں خود اگلا جزیہ پڑھنے سے پہلے سوچنے لگا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ یہ سوال ہوا، اس کا یہ جواب ہوا، اب اس پر اگلا سوال کیا ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں وہ سوال وہی ہوتا تھا جو میرے ذہن میں آیا، پھر میں اس کا جواب پڑھے بغیر خود جواب بنانے کی کوشش کرتا تھا، کبھی صحیح، کبھی غلط۔ ہوتے ہوتے ساری رات گزر گئی اور میں اس کتاب میں لگا رہا۔ تو اگلے دن جب رِٹن ٹیسٹ تھا، ملک بھر سے لوگ اس میں آئے تھے، کہتے ہیں باقی جو قانون کے سوالات تھے وہ تو ظاہر ہے انہوں نے کرنے ہی تھے، لیکن جو ہدایہ کا متن اس میں دیا گیا تھا کہ اس کا ترجمہ اور تشریح کریں، کہتے ہیں وہ وہی عبارت تھی جس پہ میں رات غور کر رہا تھا۔ تو کہتے ہیں میں نے اس پہ لکھا انگریزی میں ٹھیک ٹھاک، جو لکھنا تھا۔
اور پھر ان کو آگے اللہ تعالیٰ نے وہاں موقع بھی دیا، پھر انہوں نے وہاں سے ایل ایل ایم کیا اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ اور ابھی دو تین ہفتے پہلے انہوں نے ہمیں اطلاع دی کہ ہدایہ کا جو ترجمہ ہے انگریزی میں، جو کئی سالوں سے وہ کر رہے تھے، وہ پورا ہو گیا ہے، چوتھی جلد اس کی آ گئی ہے الحمداللہ۔ حالانکہ آج کل وہ بہت ضعیف بھی ہو چکے ہیں اور صاحبِ فراش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور لمبی عمر عطا کرے، کیونکہ وہ مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تو ہدایہ کی چوتھی جلد کا ترجمہ وہ کہتے ہیں پورا ہو گیا ہے اور پریس میں چلا گیا ہے۔ انگلینڈ سے شائع ہوتا ہے، تین جلدیں پہلے آ چکی ہیں، چوتھی بھی آ گئی۔ تو نیازی صاحب نے یہاں case method کا ذکر کیا، یہ لفظ یاد رکھیے گا، اس کی طرف ہم آئیں گے۔
اب جس راستے سے میں گیا ہوں، میں چاہتا ہوں میں اسی راستے سے آپ کو اپنے ساتھ آگے لے چلوں۔ تو جو ہم شروع کریں گے، وہ اصولِ قانون کے چند مباحث سے شروع کریں گے۔ جورس پروڈنس میں جو سوالات قائم کیے جاتے ہیں، وہ عام طور پر کیا ہوتے ہیں؟
- ظاہر ہے بہت سارے سوالات ہوتے ہیں لیکن جو بنیادی سوال ہوتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ ’’قانون ہے کیا، قانون کسے کہتے ہیں؟‘‘ ?what is law۔
- اسی طرح ظاہر ہے ’’قانون کیا ہے‘‘ کے علاوہ بھی بہت سارے سوالات ہوتے ہیں کہ چلیں قانون یہ ہے یا وہ ہے، جو بھی ہے، یہ اخذ کہاں سے کیا جاتا ہے؟
- پھر نہ صرف یہ کہ اخذ کہاں سے کیا جاتا ہے بلکہ کون اخذ کرتا ہے؟ یعنی کیا قانون اخذ کرنے والے کے لیے بھی کچھ شرائط ہوتی ہیں، کچھ اس میں اہلیت ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ کون کر سکتا ہے یا کسے کرنا چاہیے؟
- کیسے اخذ کرتا ہے؟ یہ بھی ایک سوال ہوتا ہے۔ لیکن یہ سوال کہ وضع کون کرتا ہے، قانون کہاں سے آتا ہے، یہ اس کا ماخذ ہے، لیکن یہ قانون بنایا کس نے ہے؟
- اور اس کی پابندی کیوں کی جائے؟
مکالماتِ افلاطون میں ایک بڑا مشہور مکالمہ ہے سقراط کا اپنے شاگردوں کے ساتھ۔ بالخصوص ایک شاگرد کا نام ہے کریٹو، اس کے ساتھ۔ اس مکالمے کا نام بھی افلاطون نے رکھا ہے ’’کریٹو‘‘ کے نام سے۔ وہ بہت دلچسپ مکالمہ ہے۔ کریٹو میں منظر یہ ہے کہ سقراط کو، جیسے آپ جانتے ہیں، وہاں کی جیوری نے عدالت نے سزائے موت سنا دی تھی، اب اس کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے اور یوں کہیں کہ اگلی صبح اس کو زہر کا پیالہ پینا ہے۔ رات کا وقت ہے، وہ اپنے قید خانے میں سویا ہوا ہے آرام سے۔ اس کا شاگرد کریٹو وہاں تک پہنچتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ صبح اس کو سزائے موت ملنی ہے، یہ آرام سے سو رہا ہے۔ خیر، جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو پوچھتا ہے کریٹو سے: تم کب آئے؟ اس نے کہا: میں کافی دیر ہوئی، لیکن آپ سو رہے تھے تو میں نے آپ کو زحمت نہیں دی۔ پوچھا: اچھا، کیسے آئے ہو؟ کہتا ہے: بس میں نے جو محافظین ہیں ان سے بات کی ہوئی ہے اور آپ کو یہاں سے نکالنے کا ہم نے پورا بندوبست کیا ہوا ہے۔ اور یہاں سے ہم نکل کر فلاں جزیرے کی طرف یا فلاں شہر کی طرف جائیں گے اور آپ کو ہم بچا لیں گے۔ سقراط اس سے کہتا ہے: نہیں، پہلے مجھے اس پر قائل کرو کہ مجھے یہاں سے نکلنا چاہیے۔ وہ کہتا ہے: آپ کے بچے ہیں، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں، وغیرہ۔ کہا: یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے: یہ جو آپ کے خلاف فیصلہ تھا، یہ غلط تھا۔ تو سقراط اس سے پوچھتا ہے: اچھا، پھر مجھے اس پر قائل کرو کہ اگر عدالت کا فیصلہ میرے خلاف آئے اور میرے خیال کے مطابق وہ فیصلہ غلط ہو، تو مجھے اسے نہیں ماننا چاہیے، مجھے اس کی خلاف ورزی کرنی چاہیے۔ اخلاقی طور پر مجھے کیا کرنا چاہیے؟ تم مجھے اس پر قائل کرو۔
یہاں سے اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جو قانون یا جو فیصلہ آپ کی نظر میں غلط ہو، کیا آپ پر اس کی پابندی کرنا لازم ہے یا آپ اس کو توڑ سکتے ہیں؟ بہت خوبصورت مکالمہ ہے، ضرور پڑھیے، انگریزی ترجمہ بہت اچھا دستیاب ہے۔ وہاں سے جو بحث نکلتی ہے، وہ ہمارے ہاں اصولِ فقہ میں بھی پائی جاتی ہے، فقہ میں بھی پائی جاتی ہے اور اس لحاظ سے بھی فقہاء نے اس پہ گفتگو کی ہوئی ہے کہ قاضی کا جو حکم ہوتا ہے وہ ظاہراً صرف نافذ ہوتا ہے یا باطناً بھی نافذ ہوتا ہے؟ وغیرہ۔ تو بہرحال، یہ اور اس طرح کے اور سوالات ہوتے ہیں جو اصولِ قانون میں زیر بحث آتے ہیں۔ اب ان سوالات کے جواب کے لیے تو بہت سارے نظریات پیش کیے گئے ہیں، ابتدا سے آج تک بہت سارے ہیں، لیکن ہم یہاں مختصراً چند نظریات کا ذکر کریں گے۔
ایک نظریہ اُن کا ہے جن کو legal positivists (وضعیت پسند) کہا جاتا ہے۔ جن کا کہنا یہ ہے کہ قانون کا ماخذ ریاست ہے، حکومت ہے۔ ریاست یا حکومت قانون بناتی ہے اور اس کی پابندی ہم سب پر لازم ہوتی ہے۔ پازیٹوسٹس میں بھی پھر بہت سارے لوگ ہیں لیکن یہاں میں خصوصاً دو بندوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک جان آسٹن کا، برطانیہ سے اس کا تعلق تھا، انیسویں صدی عیسوی کا ہے۔ اور اس کا نظریہ بڑا مشہور ہے کہ اس موضوع پر بحث کے لیے وہ ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے، آسان الفاظ میں، کہ قانون اصل میں ایک بالاتر قوت کی جانب سے کمتر مقام پر کھڑے انسانوں کے لیے آیا ہوا اَمر ہے، جس کی پابندی لازم ہے، اور جس کی خلاف ورزی کرنے پر سزا ملتی ہے۔ (law is the command of the sovereign backed by sanction)۔ ’’سوورین‘‘ وہ شخص جو اقتدارِ اعلیٰ کا حامل ہے، جو حاکم ہے۔ حاکم کی جانب سے کمانڈ آیا ہے، اَمر آیا ہے۔ یہ کمانڈ پازیٹو بھی ہو سکتا ہے، نیگیٹو بھی ہو سکتا ہے، یعنی امر اور نہی دونوں اس میں شامل ہیں، Do(s) اور Don't(s) دونوں شامل ہیں، کرو، نہ کرو۔ اور اس کی خلاف ورزی پر سینکشن ہوتی ہے پھر، اس کے پیچھے قوتِ نافذہ ہے۔ اس تصور کے مطابق قانون کے پیچھے قوتِ نافذہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے آج کل بھی جو لوگ اکثر پوچھا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون جو ہے یہ قانون ہے یا نہیں، کہ بھئی اس کے پیچھے قوتِ نافذہ کہاں ہے؟ ان کے ذہن میں اصل میں جان آسٹن کا نظریہ ہے، جن کے نزدیک قانون صرف وہ ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے، اور اگر اس کی خلاف ورزی پر سزا نہ ہو، تو وہ قانون نہیں ہے۔
ایک اور مشہور پازیٹوسٹ ہیں ایچ ایل اے ہارٹ، جو بیسویں صدی میں آکسفورڈ میں جورس پروڈنس کے پروفیسر تھے، اس نے آسٹن کے نظریے پر اچھی خاصی تنقید کی۔ اس نے کہا، قانون صرف اوامر یا نواہی تک محدود نہیں ہے، کئی قوانین ایسے ہیں جن کی خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں ہوتی۔ بلکہ قانون صرف حکم دینے کے لیے نہیں ہوتا، صرف آپ پر کوئی چیز لازم کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ بہت سارے قوانین ہوتے ہیں جو آپ کو حقوق دیتے ہیں، اتھارٹی، اختیار آپ کو دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے ذکر کیا ہے وصیت کا۔ انگریزوں کے ہاں وصیت کا حق قانون کے تحت ہے اور اس کی ایک مثال آگے ہم الگ سے ذکر بھی کریں گے۔ تو ہارٹ پوچھتا ہے، وصیت آپ نہ کریں تو آپ کو کیا سزا ملے گی؟ یعنی دنیا میں کیا سزا ملے گی؟ ظاہر ہے موت کے بعد تو آپ کو دنیا میں سزا نہیں ملنے والی۔ تو اگر آپ نے وصیت نہیں کی تو کیا سزا ہے؟ اسی طرح، آپ کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، بعض ممالک میں ووٹ نہ ڈالنے پر بھی سزا ہے۔ بہرحال، ہارٹ کا کہنا یہ ہے کہ قانون صرف اوامر اور نواہی تک محدود نہیں۔ قانون صرف فرائض ہی نہیں دیتا، حقوق بھی دیتا ہے۔
پازیٹوسٹس کا تو یہ کہنا ہے کہ قانون کا ماخذ ریاست اور حکومت ہے۔ ریاست کی مرضی ہے جس طرح کا بھی قانون بنائے۔ پھر ان کے اندر مختلف قسم کے نظریات موجود ہیں، لیکن اس اصول پر ان کا اتفاق ہے کہ قانون وہ ہے جو انسانوں کے معاشرے کے لیے انسانوں نے، ان کی حکومت نے بنایا ہے۔
اور دوسرا نظریہ جن کو ہم naturalist (فطرت پسند) کہتے ہیں۔ نیچرلسٹس کا کہنا ہے کہ ریاستی قانون سے بالاتر ایک اور قانون پایا جاتا ہے، اس کو وہ قانونِ فطرت کا نام دیتے ہیں، جو وضعی قانون سے بالاتر حیثیت رکھتا ہے۔ اور وضعی قانون، جو انسان کا بنایا ہوا قانون ہے، ریاست کا بنایا ہوا قانون ہے، وہ تب جائز ہوگا جب وہ اُس بالاتر قانون کے مطابق ہو، اس سے ہم آہنگ ہو، اس سے متصادم نہ ہو۔ پازیٹوسٹس تو صرف ریاست کے بنائے ہوئے قانون کو قانون کہتے ہیں، جبکہ نیچرلسٹس کہتے ہیں کہ اصل قانون یہ نہیں، اصل اس سے بالاتر قانونِ فطرت ہے، اور یہ جو وضعی قانون ہے یہ تب جائز ہوگا جب یہ اس بالاتر قانون کے مطابق ہو، اس سے ہم آہنگ ہو۔
یہ بالاتر قانون کہاں پایا جاتا ہے؟ اب نیچرلسٹس میں کچھ وہ ہیں جن کو ریلیجئس نیچرلسٹس کہا جاتا ہے، جن کا خیال یہ ہے کہ یہ جو قانونِ فطرت ہے، یہ خدائی قانون کا حصہ ہے، یہ خدا نے دیا ہے، انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس طرح کی تراکیب پائی جاتی ہے۔ اور اگر بہت پیچھے جائیے تو معتزلہ کا جو حسن و قبح کے متعلق تصور تھا، اس کو اس کے ساتھ ریلیٹ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ساری بحث وہاں سے آئی ہے اور وہیں سے جڑی ہوئی ہے۔
ایک مشہور برطانوی پادری تھا، آرچ بشپ آف کینٹربری، اس نے یہ کہا تھا کہ خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے جو بندوبست کیا ہوا ہے، اس کے دو حصے ہیں: کچھ وہ ہیں جو انسان اپنی عقل سے دریافت کر سکتا ہے کہ یہ ٹھیک ہیں یا غلط ہیں، تو خدا نے اس کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا، وہ اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہیں اور وہ عقل کے ذریعے دریافت کر سکتا ہے، اگر چاہے تو۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو عقل سے نہیں معلوم کی جا سکتیں، تو وہ سکرپچرز کے ذریعے، صحیفوں کے ذریعے، انبیاء کے ذریعے ریویل کی گئیں، وحی کی گئیں۔ یہ میں جاوید غامدی صاحب کے کسی مقالے سے یا کسی … سے اقتباس نہیں نقل کر رہا، اگرچہ بات یہی ہے جو وہ بھی کہتے ہیں۔ یہ نیچرلسٹ موقف ہے، ٹھیک ہے نا؟ اس طرح ہم اس کو ریلیٹ کرتے ہیں اپنی بحثوں کے ساتھ، کہ خدا نے دو طرح کا بندوبست کیا ہوا ہے: جو چیزیں عقل سے معلوم ہو سکتی تھیں وہ عقل پر چھوڑ دی ہیں۔ اور جو نہیں معلوم ہو سکتی تھیں تو وہ انبیاء کے ذریعے بتا دی ہیں۔ تو جیسے انبیاء کے ذریعے بتائی گئی چیزیں، دیے گئے احکام ہم پر لازم ہیں، تو ایسے ہی عقل و فطرت کے ذریعے ہم جس حکم تک پہنچیں، وہ خدا کا حکم ہے اور اس حیثیت سے ہم پر لازم ہے اس کا ماننا۔
مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ’’تدبر قرآن‘‘ میں اس طرح کی بات لکھی ہے۔ ’’فاتوھن من حیث امرکم اللہ‘‘ جو سورہ بقرہ کی آیت ہے، اس کی تاویل میں وہ بتاتے ہیں کہ یہ جو بدیہیاتِ فطرت ہیں، یہ الفاظ ہیں ان کے، بدیہاتِ فطرت، یہ شریعت کا واضح تر حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں شریعت نے کبھی یہ حکم نہیں دیا کہ نوالہ منہ میں ڈالو لیکن انسان جانتا ہے کہ منہ میں ڈالنا ہے، ناک میں نہیں ڈالنا۔ تو کہتے ہیں اگر وہ ناک میں ڈالے گا تو یہ شریعت کے واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرے گا۔ تو گویا جن چیزوں کو وہ بدیہیاتِ فطرت کہتے ہیں، وہ ان کے نزدیک شریعت کا حصہ ہیں، بلکہ واضح تر حصہ ہیں۔ غامدی صاحب نے ان سے تھوڑی مختلف رائے یہاں اختیار کی ہوئی ہے۔ پہلے وہ اسی کے قائل تھے، بعد میں ہوتے ہوتے وہ اس کے قائل ہو گئے ہیں کہ احادیث مبارکہ میں — اخبارِ آحاد کو چونکہ وہ کچھ اور حیثیت دیتے ہیں — تو اس حیثیت میں وہ بتاتے ہیں کہ اس میں جو آپ کو اضافی احکام نظر آتے ہیں، یہ اصل میں بیانِ فطرت ہیں۔ اچھا، بیانِ فطرت یا جو بھی نام آپ اس کو دیں، چلیں نام میں جھگڑا نہیں کریں گے، لیکن یہ بتائیں یہ شریعت کا حصہ ہیں یا نہیں؟ غامدی صاحب شریعت اور فطرت کو دو الگ دائروں میں رکھتے ہیں۔ ان کے استاد مولانا اصلاحی تو کہتے تھے کہ یہ جو بدیہیاتِ فطرت ہیں، یہ شریعت کا واضح تر حصہ ہیں۔ جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں یہ بیانِ فطرت ہے، یہ شریعت نہیں ہے۔ اس کے نتائج پھر بہت دور تک جاتے ہیں لیکن ہم اس طرف نہیں جائیں گے۔
نیچرلسٹس میں ایک موقف یہ ہے، جن کا کہنا ہے کہ جو قانونِ فطرت ہے، وہ خدائی قانون کا حصہ ہے، اس وجہ سے اس کا ماننا لازم ہے۔ اس وجہ سے جو ریاستی قانون ہے، انسانی قانون ہے، اس کے ساتھ اس کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں مغرب میں بتدریج مذہب کو تو پیچھے دھکیل دیا گیا، نیچرل لاء بھی قانونِ فطرت بھی بتدریج سیکولرائز کر دیا گیا۔ اور اب جو نیچرلسٹس ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو اس کو مذہب سے نہیں جوڑتے، اس کو خدا کے قانون سے نہیں جوڑتے، اور اس وجہ سے پھر ان کے اندر اور مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
بنیادی مسئلہ اب یہ ہے کہ اگر آپ ان دونوں نظریات، وضعیت پسندی اور فطرت پسندی، کا آپس میں موازنہ کریں تو جو اصل ان کا اختلاف ہے وہ اس بات پر ہے کہ کیا قانون اخلاقیات کا پابند ہوتا ہے یا نہیں؟ ہونا چاہیے یا نہیں؟ جو پازیٹوسٹس ہیں ان کا کہنا ہے کہ قانون اور اخلاق کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق نہیں ہے۔ آپ کے نزدیک کوئی قانون بہت ہی برا قانون ہوگا اخلاقی نقطہ نظر سے، لیکن اگر وہ قانون ہے تو وہ قانون ہے۔ نیچرلسٹس کہتے ہیں اگر وہ غیر اخلاقی ہے، immoral ہے، unnatural ہے، خلافِ فطرت ہے، تو وہ سرے سے قانون ہی نہیں ہے۔ البتہ جیسے میں نے کہا کہ جو خود کو فطرت پسند کہتے ہیں، نیچرلسٹس، وہ تو خود اب لامذہبی ہو گئے ہیں، لادینی ہو گئے ہیں۔ تو پہلے تو اخلاقیات کا ماخذ مذہب تھا، اب اخلاقیات کا ماخذ بھی عقل ہو گئی ہے۔ تو اب یوں کہیں کہ جو پازیٹوسٹس ہیں اور جو نیچرلسٹس ہیں، ان کے درمیان جو اختلاف تھا وہ بہت کم رہ گیا ہے۔
اصولی اختلاف اب بھی موجود ہے۔ اصولی اختلاف اس بات پر ہے کہ ریاست کے وضع کردہ قانون پر بالاتر کوئی چیز ہے یا نہیں ہے؟ نیچرلسٹ کہتے ہیں، ہاں ہے۔ پازیٹوسٹ کہتے ہیں، نہیں ہے۔ نیچرلسٹ کہتے ہیں اخلاقیات ہیں، لیکن ان اخلاقیات کا ماخذ ان کے نزدیک اب وحی کے بجائے عقل ہے۔
اچھا، اس کا ایک عملی نتیجہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ایک مثال کے ذریعے۔ آپ جانتے ہیں دوسری جنگِ عظیم جب ہوئی اور اس میں دونوں جانب سے بہت وحشت کا مظاہرہ کیا گیا، لاکھوں لوگ مارے گئے۔ پھر ظاہر ہے جو فاتح تھے اُن کے خلاف تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا، لیکن جو مفتوحین تھے اُن کو سزا دی جا سکتی تھی کہ آپ نے بہت بڑے جرائم کیے ہیں۔ تو نورمبرگ (جرمنی) میں ایک عدالت قائم کی گئی۔ اسی طرح ٹوکیو (جاپان) میں عدالت قائم کی گئی۔ یہاں جاپانیوں کے خلاف، وہاں جرمنوں کے خلاف کہ آپ نے جنگ کے دوران بہت سارے غیر اخلاقی، غیر قانونی کام کیے ہیں، جرائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ خود جرمنی کے اندر بھی ملکی سطح پر قومی سطح پر اس طرح کی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ تو ان میں کچھ مقدمات اِس نوعیت کے تھے کہ جب ہٹلر جرمنی میں برسرِ اقتدار تھا تو اس نے پوری ریاست کو جکڑا ہوا تھا۔ اور کوئی شخص ہٹلر کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتا تھا، ہر بندہ دوسرے کے خلاف جاسوس تھا۔ جیسے ہمارے ہاں بھی اب لوگ کہتے ہیں: جو فلاں جگہ ڈرون گرایا گیا ہے یہ اُنہوں نے کیا۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے نہیں کیا، اِنہوں نے کیا۔ وہ کہتے ہیں: نہیں، یہ اصل میں جنہوں نے کیا ہے اُنہوں نے اپنی پرانی دشمنی نکالی ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس نے مخبری کی تھی اُس نے اپنی پرانی دشمنی نکالی ہے۔ تو اس طرح کی حرکتیں جرمنی میں بھی ہوتی تھیں۔
اب مثال کے طور پر کوئی فوجی ہے اور محاذ پر کافی لڑا ہے اور تھکا ہارا چھٹیاں گزارنے کے لیے بالآخر اسے موقع ملا، گھر آ گیا ہے۔ گھر میں اور کسی کے سامنے نہ سہی، اپنی بیوی کے سامنے تو ہٹلر کو گالی دے سکتا ہے۔ اور اس نے دی۔ اگلے دن گسٹاپو (خفیہ نازی پولیس) والے پہنچے اور پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔ اس طرح کے اور بہت سارے مقدمات ہیں۔ تو ایسے مقدمات کو ’’گرج نازی کیسز‘‘ (grudge nazi cases) کہا جاتا ہے، یعنی وہ جو نازی انفارمرز تھے، نازیوں کے جو مخبر تھے، ظاہر ہے وہ دل میں کسی اور کے خلاف گرڈج رکھتے تھے، کینہ رکھتے تھے، اس بنیاد پر بہت سارے لوگوں کو سزائیں ہوئیں۔
اب ان لوگوں کے خلاف مقدمات شروع ہوئے، یہ جو انفارمز وغیرہ تھے، اسی طرح جو حکومتی اہلکار تھے۔ ان کی جانب سے دفاع پیش کیا گیا۔ دیکھیں، یہ بظاہر جو صرف نظری بحثیں معلوم ہوتی ہیں، عملی طور پر پھر یہ کیسے کام آتی ہیں۔ ان انفارمرز کی جانب سے اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے جو عذر پیش کیا گیا، وہ یہ کہ ہم پر مقدمہ آپ نہیں چلا سکتے کیونکہ ہم نے تو ملکی قانون کی پابندی کی تھی، ملک کے قانون کی رو سے ہم پر لازم تھا کہ ہم یہ کرتے۔ اب پازیٹوسٹ اور نیچرلسٹ کی جو بحث ہے، اس کے نقطہ نظر سے اس سوال پر غور کیجیے۔
جو ابھی میں نے مشہور پازیٹوسٹ کا نام لیا، ہارٹ، اور ایک مشہور نیچرلسٹ تھا لون فلر، ان کے درمیان باقاعدہ تحریری مناظرہ ہوا ہے۔ مناظرے صرف ہمارے علماء ہی نہیں کرتے، انگریز اور یورپینز اور امریکنز بھی کرتے ہیں، تحریری بھی کرتے ہیں۔ اس کو ’’ہارٹ فلر ڈیبیٹ‘‘ کہتے ہیں، ہارٹ اور فلر کا مناظرہ۔ اور وہ ’’ہارورڈ لاء ریویو‘‘ میں شائع ہوا۔ ہارورڈ لا ریویو کو یوں کہیں کہ قانون کی دنیا کا سب سے معتبر مجلہ سمجھا جاتا ہے۔
اس میں ظاہر ہے ہارٹ کا تو موقف یہی تھا کہ قانون کی پابندی لازم ہے۔ اور جو فلر کا موقف تھا وہ یہ تھا کہ یہ تو سرے سے قانون ہی غلط تھا، ان کو اس کی پابندی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اُس قانون کی جو نیچرل لاء کے خلاف تھا، بالاتر قانون کے خلاف تھا۔ غیر تحریری سہی لیکن وہ بالاتر ہے۔ اب کریں تو کیا کریں؟ فلر کا تو یہ کہنا تھا کہ جنہوں نے اس قانون پر عمل کرتے ہوئے ہٹلر کا ساتھ دیا، ان کو سزا دی جائے، کیونکہ انہوں نے اس قانون کی پابندی کی جو قانون ہی نہیں تھا۔
ہارٹ کا یہ کہنا تھا کہ نہیں۔ اب اس کا اصولی موقف تو یہ ہے نا کہ قانون کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے، قانون اچھا ہے یا برا ہے، قانون ہے۔ اس نے اس کا حل کیا دیا؟ اس نے اس کا حل یہ دیا کہ آج، گویا ۱۹۴۵ء/۱۹۴۶ء میں، ایک قانون منظور کریں، اس میں لکھیں کہ ہٹلر کے ان قوانین کی پابندی ناجائز ہے۔ اور اس قانون کو ۱۹۳۲ء سے مؤثر بہ ماضی کر دیں، جب ہٹلر برسرِ اقتدار آیا۔ اسے retrospective effect دیں۔ یعنی ۱۹۴۵ء/۱۹۴۶ء میں قانون منظور کریں اور ۱۹۳۲ء سے اس کو نافذ العمل قرار دیں۔
یہ بات خود ایک برا کام ہے، غیر اخلاقی کام ہے کہ جس وقت آپ ایک کام کر رہے ہوں، قانون نے اس وقت اسے جرم نہیں کہا، اس کے کئی سالوں بعد اس کو جرم قرار دیا، اب آپ کو کیسے سزا دی جا سکتی ہے؟ لیکن ہارٹ کا جواب تو بڑا [سیدھا سا ہے کہ] قانون ہے نا، اس کا اخلاق سے کیا تعلق؟ قانون تو قانون ہے۔ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘۔ تو یہ بحثیں ہیں جو ہمارے ہاں بھی مختلف طریقوں سے سامنے آتی ہیں۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پہنچ گئے ہیں کیونکہ ہمارے سامنے وہ سوال آ گیا ہے کہ جہاں بظاہر قانون خاموش ہو، وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ اب مثال کے طور پر غامدی صاحب فرمایا کرتے ہیں لوگوں سے کہ یہاں شریعت خاموش ہے، یہاں تک تو شریعت نے چار، پانچ، چھ، سات احکام دیے ہیں، اس سے آگے کیا کرنا ہے؟ اس سے آگے عقل و فطرت کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں۔ اور اجتہاد کی تعریف ہی انہوں نے یہ مقرر کی ہے کہ جہاں شریعت خاموش ہے تو وہاں آپ عقل و فطرت کی رہنمائی میں فیصلہ کریں۔ ہمارے ہاں ظاہر ہے اجتہاد اسے نہیں کہتے۔ لیکن جہاں بظاہر قانون خاموش ہوتا ہے، وہاں کیا کیا جاتا ہے؟
پازیٹوسٹس کا یہ کہنا ہے کہ وہاں جج قانون وضع کرتا ہے۔ جج کے سامنے ایک مقدمہ آیا ہے، قانون میں مثال کے طور پر چوری کی یہ تعریف ہے، ڈکیتی کی یہ تعریف ہے، لیکن اس نے جس طرح سے مال اٹھایا ہے، وہ نہ اِس تعریف میں آتا ہے اور نہ اِس تعریف میں آتا ہے۔ اب یہاں کیا کریں؟ یہاں خلا پایا جاتا ہے قانون میں۔ تو پازیٹوسٹس کہتے ہیں وہاں جج اپنی ڈسکریشن (اختیار) استعمال کرتے ہیں۔ جو اُس کی حس ہے عدل و انصاف کی، اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ قانون وضع کرتا ہے اس خلا کو پورا کرنے کے لیے، وہ فیصلہ سناتا ہے تو اس فیصلے سے قانون بن جاتا ہے۔
اس پر یہ سوال اپنی جگہ اٹھتا ہے، جو ابھی کچھ دیر پہلے میں نے کیا کہ اگر اس نے قانون وضع کیا تو آج کے بعد اسے نافذ ہونا چاہیے، جبکہ اس کے سامنے مقدمہ تو پہلے سے آیا ہوا ہے، اس پر اس کا اطلاق کیسے ہوگا؟ لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ تو اخلاقی سوال ہے نا، قانون اور اخلاق کے تعلق کے تو ہم قائل ہی نہیں ہیں۔ تو پازیٹوسٹس کیا کہتے ہیں؟ جہاں قانون خاموش ہو، وہاں جج بطورِ نائب قانون ساز، قانون وضع کرتا ہے۔
نیچرلسٹس کہتے ہیں کہ نہیں، قانون تو موجود ہے، وضعی قانون نہ سہی، قانونِ فطرت تو سب کچھ پر محیط ہے، اس میں تو کوئی خلا نہیں ہے۔ تو جج اسے دریافت کرتا ہے اور اس کا اطلاق کرتا ہے۔ اور چونکہ وہ پہلے سے موجود ہے تو اس پر یہ سوال بھی نہیں اٹھتا کہ آپ اسے مؤثر بماضی کیسے کر رہے ہیں، وہ تو پہلے ہی سے موجود ہے۔
اچھا، الفاظ کے گورکھ دھندے سے نکلیں تو دونوں اصل میں ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ جج اپنی مرضی کرتا ہے۔ گویا یہاں آپ یوں کہیں کہ پازیٹوزم اور نیچرلزم کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔ یہ اصولی فرق تو ہے دونوں کے موقف میں کہ ایک کے نزدیک جج قانون وضع کرتا ہے اور دوسرے کے نزدیک دریافت کرتا ہے، لیکن کرتا اپنی مرضی ہے۔ یہ دو نظریے ہوئے۔ ہمارے ہاں بھی آپ نے اجتہاد کی بحث میں، اصولِ فقہ میں یہ بحث یقیناً دیکھی ہوگی کہ مجتہد کیا کرتا ہے؟ ظاہر ہے شارع تو اللہ ہے۔ مجتہد کو ہم شارع تو نہیں مانتے، وہ تو مُظہر ہوتا ہے، قانون پہلے سے موجود ہے، اسے ظاہر کر دیتا ہے۔۔ تقریباً یہی بحث آپ کو وہاں نظر آئے گی۔
دیکھیں، یہ میں آپ کے سامنے ڈاٹس رکھ رہا ہوں، ان کو پھر ملائیں گے، آپ اس میں بے فکر رہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ خود آپ کے ذہن میں تصور بنتا جائے، پھر ڈاٹس ملا لیں گے، ان شاء اللہ۔
اب ایک تیسرا نظریہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ امریکی ماہرِ قانون، قانونی فلسفی تھے رونالڈ ڈورکن، دس گیارہ سال پہلے ان کا انتقال ہوا۔ یہ بھی آکسفورڈ میں جورس پروڈنس کے پروفیسر تھے۔ ایچ ایل اے ہارٹ کے اسٹوڈنٹ بھی تھے اور ان کے شدید ناقد بھی تھے۔ اور ہارٹ کے بعد یہ آکسفورڈ میں پروفیسر ہوئے جورس پروڈنس کے۔ اچھا، ان کا کام اور ان کے جو اصول ہیں، وہ حنفی اصولی منہج کے بہت قریب ہیں اور آپ کو بہت مماثلت اور بہت مشابہت بھی نظر آئے گی زاویۂ نظر میں۔ ظاہر ہے یہ غیر مسلم ہے، اور یہ بھی ہمیں نہیں پتہ کہ اس نے حنفی فقہ یا اصولِ فقہ کی کوئی کتاب کبھی پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ بتاتے بھی تو نہیں ہیں نا یہ لوگ۔ لیکن اس کے کام میں وہ اثر نظر آتا ہے، اپروچ کے لحاظ سے، زاویۂ نظر کے لحاظ سے۔ دو باتیں بالخصوص اس کی بہت اہم ہیں:
ایک، اس کا جو اصولِ قانون کے مباحث میں سب سے اہم اضافہ مانا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں قانون خاموش ہو وہاں جج نہ قانون وضع کرتا ہے، نہ خیالی قانونِ فطرت سے کوئی چیز دریافت کر کے لاتا ہے۔ جج کرتا کیا ہے؟ وہ قانون کے عمومی اصول معلوم کر کے، جنرل پرنسپلز آف لاء ڈِسکوَر کر کے، ان کا اطلاق کرتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح نوٹ کیجیے، یہ ہماری ساری بحث کا یوں کہیں کہ نچوڑ ہے کہ جج کیا کرتا ہے؟ وہ اپنی مرضی نہیں کرتا، نہ ہی وہ قانون وضع کرتا ہے، نہ کسی خیالی قانونِ فطرت سے کوئی چیز دریافت کر کے یہاں اس کا اطلاق کرتا ہے۔ بلکہ جو قانون اس کے سامنے موجود ہے، اس میں بعض جزئیات کا تو خصوصی حکم موجود ہے، بعض جزئیات کا خصوصی حکم موجود نہیں ہے، لیکن قانون کے عمومی اصول موجود ہیں جن سے قانون کا عمومی جو ارادہ ہے وہ ہمیں معلوم ہوتا ہے، تو ان کا اطلاق وہ یہاں کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں ابھی ذکر کروں گا۔
اچھا، دوسرا اس کا جو بڑا کنٹریبیوشن سمجھا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی قانونی مسئلے میں، کسی بھی متنازعہ امر میں، صحیح رائے صرف ایک ہوتی ہے۔ اس کو right answer thesis کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ بحث پائی جاتی ہے کہ مجتہدین کے اختلاف میں کیا سارے مصیب ہوتے ہیں، یا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے، کبھی صواب تک پہنچتا ہے؟ صحیح نتیجے تک پہنچے تو دوہرا اجر ہے، غلطی ہوئی لیکن اس نے اجتہاد کیا تھا، بھرپور کوشش کی تھی، تو ایک اجر تو اس کو ملے گا۔ حنفی پوزیشن تو یہی ہے نا کہ جو اختلافی امور ہیں، اجتہادی امور ہیں، ان میں بھی حق ایک ہے۔ اب ظاہر ہے اس حق کا اصل علم ایک تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن ہم اپنی کوشش سے جس نتیجے تک پہنچتے ہیں تو ہم …… خطا کے احتمال کے ساتھ۔ ظاہر ہے یہ فروع میں ہے۔ اور پھر عقیدے کی بحث اور ہو جاتی ہے۔
یہ دونوں باتیں دیکھیں: یہ حنفی زاویۂ نظر کے قریب کیا بلکہ اسی کے ارکان ہیں کہ حق ایک رائے ہوتی ہے، اور اس کے علاوہ یہ کہ جہاں قانون بظاہر آپ کو خاموش نظر آتا ہے، وہاں بھی قانون خاموش نہیں ہے۔ یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں دلیلی …… نہیں ہے، لیکن عمومی اصول تو موجود ہیں اور ان کا اطلاق یہاں ہوگا۔
اس کی ایک مثال میں دیتا ہوں، پھر ہم اصولِ فقہ کی طرف آتے ہیں۔ یہ مثال جو ابھی آپ کے سامنے آ رہی ہے، یہ ۱۸۸۰ء کا نیویارک کی ایک عدالت کا بڑا مشہور مقدمہ ہے، قانون کے طلبہ جانتے ہیں۔ میں صرف مختصر اس کی وضاحت کرتا ہوں کہ اس میں تھا کیا۔ اور مسئلہ ہمارے فقہی طلبہ کے لیے بھی سمجھنا بہت آسان ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایک دادا نے اپنے پوتے کے حق میں وصیت کی۔ اب ظاہر ہے ان پر اسلامی قانونِ وراثت کا تو اطلاق نہیں ہوتا تھا، نہ ان کے ہاں وراثت و وصیت کے یہ اصول تھے۔ سادہ اصول یہ تھا، جو وصیت کا قانون ہے ان کے ہاں، کہ کوئی بھی شخص اپنی پراپرٹی اپنی مرضی سے کسی کو بھی دے سکتا ہے، اس کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔ تو دادا نے پوتے کے حق میں وصیت کی تھی۔ پوتے نے خود کو خوش قسمت سمجھا، لیکن پھر ہوا یہ کہ دادا فوت نہیں ہو رہے تھے، تو اس نے ذرا جلدی کی اور دادا کو قتل کر دیا۔ اچھا، پھر اس کو فوجداری قانون کے تحت، جرم و سزا کے قانون کے تحت جو سزا ملنی تھی وہ تو ملی، لیکن اب اس مقدمے میں عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ جو دادا نے اس کے لیے وصیت کی تھی، جائیداد اس کے نام کرنے کی، وہ جائیداد اسے منتقل ہوگی یا نہیں ہو گی؟
تو یہاں تین جج تھے۔ ایک جج اہلِ ظاہر میں تھا، ظاہری جج تھا، اس نے کہا کہ قانون کے متن میں صرف یہ لکھا ہے کہ اگر الف نے ب کے حق میں وصیت کی تو وہ نافذ کر دو۔ اس میں یہ نہیں لکھا کہ اگر قتل کر دے تب نافذ نہ کرو۔ تو ہم اپنی جانب سے کیوں اس کا اضافہ کریں؟ قانون نے تو کہا ہے کہ اِس نے اُس کے حق میں وصیت کی، تو بس دے دو، یہ نہیں کہا کہ قتل کر دے تو پھر نہ دو۔
لیکن دو ججز اہلِ رائے میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نے یہ بھی تو نہیں کہا کہ قتل کر دے تب بھی دو۔ جس وقت قانون بنایا جا رہا تھا، قانون بنانے والوں کے سامنے یہ سوال تھا ہی نہیں کہ قتل کر دے تو کیا کریں گے؟ تو اِن دو ججوں نے کہا کہ actual intention of the law makers (قانون سازوں کا اصل ارادہ) تو ہمیں پتہ نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل میں تو یہ سوال ان کے سامنے آیا ہی نہیں تھا۔ لیکن ہم یہ assume (فرض) کریں گے کہ اگر یہ سوال ان کے سامنے ہوتا تو وہ کیا جواب دیتے، وہ اس قانون میں کیا لکھتے؟ کیا وہ لکھتے کہ قتل کر دے تب بھی دو؟ یہ اسی طرح کی بات ہے نا جیسے ہمارے فقہاء کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اگر آج ہوتے تو وہ وہی کرتے جو اَب ہم کر رہے ہیں۔
اچھا، یہ اپنی مرضی سے یعنی صرف خیال کی بنیاد پر نہیں کہا جاتا، بلکہ اس کے لیے ان ججوں نے مختلف دیگر قوانین کی مثالیں دیں کہ فلاں معاملے میں ایک بندے نے جرم کیا تھا (قتل کا نہیں تھا، وصیت کا معاملہ نہیں تھا، الگ مسئلہ تھا) لیکن جرم کیا تھا، تو اس قانون میں لکھا ہوا ہے کہ اس جرم کی وجہ سے اس کو جو فائنانشل بینیفٹ (مالی فائدہ) ملنے والا تھا، اب یہ نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے جرم کیا ہے، تو جرم کی وجہ سے اس کو مالی فائدہ نہ پہنچے۔ فلاں معاملے میں بھی ایک اور مختلف کیس تھا، لیکن اس نے یہ کیا ہے۔ تین چار اس طرح کی مثالیں دینے کے بعد انہوں نے ایک عمومی اصول بتایا۔ وہ حسِ عدل کی بات نہیں، بلکہ تین چار دیگر قوانین کا اور نظائر کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے قانون کا عمومی مزاج کیسے معلوم کیا؟ یہ کہہ کر کہ قانون کا کہنا یہ ہے، جو اس نے تین چار مختلف جزئیات میں خصوصاً بھی بتایا ہے، اس سے ہمیں قانون کا عمومی مزاج معلوم ہوتا ہے، ارادہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جہاں کوئی شخص کوئی جرم کرے گا، قانون اس کو اس جرم سے فائدہ اٹھانے نہیں دے گا، no one shall be allowed to get benefit from his own wrong، اپنی ہی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا موقع قانون اسے نہیں دے گا۔ اس لیے یہ شخص اپنے ہی جرم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔
یہ جو نظریہ ہے ڈورکن کا کہ جہاں قانون بظاہر خاموش ہوتا ہے وہاں اس خلا کو کیسے پر کیا جاتا ہے؟ قانون کی جزئیات اور نظائر پر نظر ڈالنے کے بعد اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہم قانون کے عمومی اصول استعمال کرتے ہیں۔ جج یہ کرتے ہیں۔ یہ ان دو نظریات سے مختلف نظریہ ہے۔
ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
الشریعہ کی اشاعت کے ابتدائی سالوں (غالباً ۹۳ء یا ۹۴ء) میں بزرگوار محترم جناب قاضی محمد رویس خان ایوبی صاحب کے عربی مقالہ ’’الحصانۃ القضائیۃ فی الاسلام‘‘ کے اردو ترجمے کی متعدد اقساط انھی کے قلم سے ’’عدالتی تحفظات اسلام کی نظر میں‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوئیں۔ اس میں انھوں نے بعض مسائل میں فقہی اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے دیگر مکاتب فکر کے ساتھ فقہ جعفریہ کے نقطہ نظر کا بھی حوالہ دیا۔ یہ دور سپاہ صحابہ کے عروج کا دور تھا اور حساسیت حد سے بڑھی ہوئی۔ چنانچہ اعتراض اٹھا اور شاید خود مصنف تک بھی پہنچا، لیکن بات زیادہ بڑھی نہیں، کیونکہ اس وقت خود حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ بقیدِ حیات تھے اور الشریعہ کے مستقل قاری بھی، لیکن پاسبانانِ مسلک کی نظرِ عنایت اس جانب متوجہ نہیں تھی۔
خیر، قاضی صاحب کے مقالے سے ایک طالب علمانہ تاثر میں نے بھی یہ لیا کہ فقہ جعفری بھی دوسرے مستند فقہی مکاتب فکر کی طرح ایک فقہی مکتب ہے جس کے یقیناً اپنے مخصوص اصولِ استنباط ہوں گے اور فقہی ذخیرہ بھی۔ اور یہ کہ اعتقادیات میں جتنا بھی سنگین اختلاف ہو، کم سے کم فقہیات کے دائرے میں کوئی خاص ایسا اختلاف فقہ جعفری اور باقی مکاتب فقہ میں نہیں جسے کفر و اسلام کا اختلاف کہا جا سکے۔ اس کے بعد بھی مختلف حوالوں سے اس معاملے پر غور کرنے کا موقع ملا تو یہی تاثر پختہ ہوا۔ خاص طور پر بہت حساسیت رکھنے والے فقہی اختلافات کی نوعیت پر غور کرنے سے بھی یہی واضح ہوا کہ اس طرح کے ’’سنگین‘‘ اختلافات خود اہلِ سنت کے فقہی مکاتب فکر کے مابین بھی پائے جاتے ہیں۔ فقہ جعفری اس باب میں کوئی خاص انفراد و امتیاز نہیں رکھتی۔
غور و فکر کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ روایتِ حدیث کے باب میں محدثینِ اہلِ سنت نے غالی روافض کی روایت کو، بالخصوص ایسی روایات جن سے بظاہر ان کے مخصوص نظریات کی تائید کا پہلو نکلتا ہے، بالعموم قبول نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ غالی روافض کذب و افترا کے عادی ہیں اور اپنے مذہب کی تائید کے لیے اس کو عین کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ اس پہلو سے یہ سوال بہرحال ذہن میں پیدا ہوتا رہا کہ فقہیات میں امام باقر اور امام جعفر صادق رحمہما اللہ اور بعد کے ائمہ اہلِ بیت کے اقوال کی روایت و حفاظت کا کوئی اہتمام اہلِ سنت کی علمی روایت میں نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے جو بھی ذخیرہ میسر ہے، وہ اہلِ تشیع علماء ہی کی کاوشوں کا مرہونِ منت ہے، تو اس صورت حال میں ان اقوال کی نسبت کے معاملے میں کس حد تک شیعی ذخیرے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ مجھے بذاتِ خود کبھی اس پر کوئی باقاعدہ تحقیق کا موقع نہیں ملا، البتہ ’’حدود و تعزیرات‘‘ کی تسوید کے دوران بعض مسائل کی تحقیق کے لیے طوسی کی ’’تہذیب الاحکام‘‘ کی مراجعت کا موقع ملا تو میں نے ایک عمومی نظر اس زاویے سے بھی کتاب کے مختلف ابواب پر ڈالی کہ ائمہ اہلِ بیت سے منسوب اقوال میں ’’وضع‘‘ کا پہلو کس حد تک نظر آتا ہے۔ اس طائرانہ جائزے سے بھی اسی تاثر کو تقویت ملی کہ فروعی فقہی مسائل میں وضع کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ کہ فقہیات کے باب میں اس ذخیرے پر بآسانی اعتماد اور اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
کچھ سال قبل جامعہ الکوثر اسلام آباد کے استاذ مفتی امجد عباس صاحب نے ایک ملاقات میں والد گرامی کو ایک کتاب کا ہدیہ پیش کیا جو شام کے ایک سنی محقق الشیخ امین بن صالح ہران الحداء کی تصنیف کردہ ہے اور اس پر شام ہی کے پانچ جید سنی علماء کی تقریظات بھی درج ہیں۔ کتاب کا عنوان ہے ’’فقہ الآل بین دعوی الاہمال وتہمۃ الانتحال‘‘ اور ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب سوریا کے دارالایمان للطباعۃ والنشر کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنوان سے واضح ہے، مصنف نے اس کتاب میں ائمہ بیت کے فقہی اجتہادات کے حوالے سے طرفین کے موقف کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اہلِ تشیع کو یہ شکایت ہے کہ اہلِ سنت کے فقہی ذخیرے میں ائمہ اہلِ بیت کے اجتہادات کا ذکر نہیں کیا گیا اور اس ذخیرے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سنی علماء (جن میں امام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ) سرِفہرست ہیں، یہ رائے رکھتے ہیں کہ فقہ جعفری کے عنوان سے فروعات و مسائل کا ذخیرہ مستند نہیں اور اسے گھڑ کر ائمہ اہلِ بیت سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
مصنف نے ان دونوں دعووں کی تحقیق کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تمام ابوابِ فقہ میں سے امہات مسائل منتخب کر کے ان سے متعلق پہلے ائمہ اہلِ بیت سے مروی ان روایات کی نشان دہی کی گئی ہے جو سُنی مآخذ میں نقل ہوئے ہیں۔ اس کے بعد فقہ جعفری کی کتب کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امام جعفر صادق و دیگر ائمہ کا فتویٰ بھی اسی قول کے مطابق ہے جو سنی مآخذ میں سیدنا علی یا اہلِ بیت کے دیگر ائمہ سے مروی ہیں۔ اس طریقہ تحقیق کے تحت مصنف کل ایک ہزار اڑتالیس (۱۰۴۸) امہات مسائل کا جائزہ لیا ہے اور تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے نو سو نواسی (۹۸۹) مسائل میں سنی مآخذ میں ائمہ اہلِ بیت کا جو مسلک منقول ہے، بعینہ وہی موقف فقہ جعفری کی کتب میں بھی نقل کیا گیا ہے، جبکہ اکیاون (۵۱) مسائل میں دونوں مآخذ کا باہم اختلاف ہے، یعنی شیعہ مآخذ میں جو موقف نقل کیا گیا ہے، سنی مآخذ میں ائمہ اہلِ بیت کا فتویٰ اس سے مختلف مروی ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ مسائل میں طرفین کے مآخذ کا جزوی اتفاق اور جزوی اختلاف ہے۔
اس تحقیق سے مصنف نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نہ تو اہلِ تشیع کا یہ الزام درست ہے کہ سنی ذخیرۂ روایات میں ائمہ اہلِ بیت کے فقہی اجتہادات کو نظر انداز کیا گیا ہے، اور نہ سنی علماء کی یہ بدگمانی مبنی بر تحقیق ہے کہ فقہ جعفری کا زیادہ تر ذخیرہ غلط نسبت پر مبنی اور ناقابلِ اعتماد ہے۔
مجھے مصنف کے یہ نتائج تحقیق درست اور وزنی معلوم ہوتے ہیں، البتہ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ سنی مآخذ میں ائمہ اہلِ بیت کے اقوال کا شاید اسی، نوے فی صد حصہ سیدنا علی اور سیدنا عبد اللہ بن عباس یعنی فقہائے صحابہ تک محدود ہے۔ بعد کے ائمہ، خاص طور پر امام محمد باقر، امام جعفر صادق، امام زید بن علی رحمہم اللہ کے فقہی اجتہادات سنی فقہی روایت میں زیادہ بار نہیں پا سکے، خاص طور پر ان ائمہ کو ’’فقہ جعفری‘‘ کے عنوان سے ایک خاص مذہبی عصبیت میسر آ جانے کے بعد قابلِ فہم وجوہ سے اس ذخیرے سے عدمِ اعتنا کا رویہ غالب آتا چلا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر
فتنۂ جدیدیت اور اس کے مضمرات
عمار خان یاسر نے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا کہ الحاد کے بعد دوسرا بڑا فتنہ کون سا ہے جس کی طرف علماء کی مناسب توجہ نہیں ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ ردِّ الحاد سے بھی بڑی چیز ’’جدیدیت‘‘ (Modernity) ہے۔ جدیدیت انسان کو بظاہر اسلام سے خارج نہیں کرتی، لیکن شریعت سے دور کر دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ الحاد کی طرف بھی چلا جاتا ہے، یا پھر نام کا مسلمان رہ جاتا ہے، جو اپنی مرضی سے نماز پڑھے، رمضان میں روزہ رکھے یا نہ رکھے لیکن عید ضرور منائے۔ ایسا شخص تہذیبی مسلمان (Cultural Muslim) بن کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے جدیدیت کی مختلف شاخوں کا ذکر کیا:
- لبرلزم (Liberalism)
- فیمینزم (Feminism)
- ٹرانس جینڈرزم (Transgenderism)
- سیکولرزم (Secularism)
انہوں نے بتایا کہ جدیدیت کا فتنہ بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی شناخت ملحد کے طور پر نہیں کراتے، بلکہ سیکولرسٹ، فیمنسٹ یا ٹرانس جینڈر رائٹس ایکٹوسٹ کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے وضاحت کی کہ اس فتنہ کو سمجھنے کے لیے ان تمام افکار کا اصلی زبان میں مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض قرآن و حدیث کی آیات پیش کرنے سے سامنے والے پر اثر نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ عقلی بنیادوں پر ان افکار کا رد کیا جائے۔ اگر آپ عقلی دلائل سے کام لیں گے تو ممکن ہے کہ سامنے والا جدیدیت سے نکل آئے۔ انہوں نے بتایا کہ جدیدیت سکولی تعلیم اور یونیورسٹی کے نظام کے ذریعے بہت آسانی سے پھیل رہا ہے، اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے موزوں حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
ردِ الحاد پر دو سالہ تخصص
عمار خان یاسر نے ذکر کیا کہ مفتی شمائل ندوی صاحب نے ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب کے پاس دو سالہ تخصص کا کورس کیا تھا۔ اور استفسار کیا کہ یہ تخصص کیا ہے اور شائقین اس میں کیسے شرکت کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے بتایا کہ مفتی شمائل صاحب کے تعارف کے بعد ان کے پاس اس کورس کے حوالے سے بے شمار پیغامات اور ای میلز آئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کورس انہوں نے 2021ء میں کرونا کے لاک ڈاؤن کے دورانیے میں شروع کیا تھا اور 2023ء میں مکمل کیا۔ کورس مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اسے تحریری شکل دینے کا کام شروع کیا۔ یہ کام اب پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے اور اپریل کے دوران ان شاءاللہ چھ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ یہ پہلے ہندوستان میں جاری کیا جائے گا اور پھر پاکستان میں بھی جلد اسے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
عمار خان یاسر کی فرمائش پر ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کورس کا مختصر تعارف پیش کیا:
- مغربی تہذیب کا تعارف: مغربی تہذیب کی تاریخ، اس کے بانیان اور اس کی ترویج میں کردار ادا کرنے والے اہم شخصیات کا تعارف۔
- علمیات (Epistemology): ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں اور کس کا نقطۂ نظر درست ہے۔
- تھیالوجی (Theology): خدا کے وجود پر دلائل، صفاتِ الٰہیہ اور تقدیر کا مسئلہ۔
- ڈارون کا نظریۂ ارتقاء (Darwinian Evolution): اردو زبان میں اب تک کی سب سے تفصیلی بحث۔
- ٹرانس جینڈرزم، فیمینزم اور سیکولرزم: ان جدید نظریات پر تفصیلی ابواب۔
- قرآن و سنت پر اعتراضات: قرآنیات، سیرت اور سنت پر کیے جانے والے اعتراضات کے مدلل جوابات۔
ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ فی الحال یہ کورس دوبارہ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، البتہ رمضان المبارک کے بعد اگر کوئی ہفتہ وار پروگرام شروع ہوتا ہے تو اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔
عمار خان یاسر نے پاکستانی سامعین کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی اس کورس کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے انکشاف کیا کہ پچھلی کلاس میں پاکستان سے بھی کافی لوگوں نے اس کورس سے استفادہ کیا تھا۔ اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پندرہ بیس افراد ایسے موجود ہیں جو اس میدان میں مفتی شمائل ندوی صاحب کے لیول کے ہیں، انہیں صرف موقع نہیں ملا، ورنہ وہ بھی کسی جاوید اختر سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جاوید اختر صاحب کا مثبت کردار
عمار خان یاسر نے انجینئر محمد علی مرزا صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا کہ پاکستان میں جاوید اختر جیسا شخص کیسے ڈھونڈا جائے اور پُرامن مباحثے کا ماحول کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سلسلے میں جاوید اختر کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ جاوید اختر نے خود مباحثے کی راہ ہموار کی، میڈیا سے رابطہ کیا، اور کانسٹیٹیوشن کلب (دہلی) میں ہونے والے اس مباحثے کا تمام انتظام انہوں نے خود کیا۔ ان کی طرف سے مشورہ تھا کہ مباحثہ کسی مذہب کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ تمام مذاہب کی ترجمانی کرتے ہوئے خدا کے وجود کو ثابت کیا جائے۔ اسی وجہ سے پوری مباحثے میں صرف God یا Creator کا لفظ استعمال ہوا، اللہ کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مباحثے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا جیسا نہیں بلکہ جاوید اختر جیسا حوصلہ چاہیے۔ پاکستان میں پرویز ہود بھائی جیسے ملحد موجود ہیں۔ اگر قیصر احمد راجہ اور پرویز ہود بھائی کے درمیان کوئی باوقار مباحثہ ہو جائے، جس میں عزت و احترام برقرار رہے، تو اس سے اس سلسلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے یاد دلایا کہ عالمِ اسلام میں مباحثوں کی بھرپور روایت رہی ہے۔ معتزلہ، اشاعرہ اور باطنیہ (جیسا کہ آج کے ملحدین ہیں) کے درمیان مباحثے ہوتے رہے ہیں۔ امام غزالیؒ نے باطنیہ سے مناظرے کیے۔ اس لیے اس کلچر کو زندہ کرنا ضروری ہے۔
رینڈ کارپوریشن اور ہمارے متجددین
عمار خان یاسر نے انجینئر محمد علی مرزا کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی ایک ویڈیو کا ذکر کیا، جس میں رینڈ کارپوریشن کا تذکرہ تھا، اور رینڈ کارپوریشن کے تعارف اور اس سلسلے کی تفصیلات طلب کیں۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے وضاحت کی کہ رینڈ کارپوریشن ایک ریسرچ سینٹر ہے جو امریکی وفاقی حکومت اور پینٹاگان کے لیے ریسرچ پیپرز تیار کرتا ہے، جن کی بنیاد پر پالیسیاں بنتی ہیں۔ 2003ء اور 2007ء میں رینڈ کارپوریشن نے رپورٹس تیار کیں کہ مسلمانوں میں انتہاپسندی (Radicalization) کو کیسے ختم کیا جائے۔ اس وقت ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ (War on Terror) کے نام پر مغرب اس جنگ کی قیادت کر رہا تھا۔ ان رپورٹس میں تجویز دی گئی کہ ایسے افراد کو فروغ دیا جائے جو روایتی اسلام، فقہاء اور محدثین کے خلاف بات کریں۔ ان کے نزدیک اگر مسلمان براہ راست انجینئروں، ڈاکٹروں اور سائنسدانوں سے اسلام حاصل کریں گے تو انتہاپسندی ختم ہو گی۔
ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انجینئر محمد علی مرزا کو رینڈ کارپوریشن سے پیسے ملتے ہیں یا وہ ان کے پے رول پر ہیں۔ نہ انہوں نے ایسا کہا اور نہ ہی قیصر احمد راجہ صاحب نے ایسا کہا ہو گا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ وہ جانے انجانے میں رینڈ کارپوریشن کی سفارشات پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ انہوں نے الزام لگایا کہ انجینئر صاحب نے توہین آمیز الفاظ استعمال کر کے نوجوانوں کو علماء اور روایتی اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی ہے۔
عمار خان یاسر نے سوال کیا کہ کیا انجینئر محمد علی مرزا کی کوششیں نوجوانوں کو الحاد کی طرف لے جا رہی ہیں؟ یعنی پہلے علماء سے بیزاری، پھر مذہب سے بیزاری، اور آخر میں الحاد؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ ان کے پاس ابھی تک ایسا کوئی کیس نہیں آیا کہ انجینئر صاحب سے متاثر ہو کر کوئی ملحد ہوا ہو۔ البتہ یہ ایک عام پیٹرن ہے کہ جب کوئی روایت سے کٹتا ہے، علماء سے دور ہوتا ہے، اور مذہب کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو مناسب علمی قابلیت (Tools) نہ ہونے کی وجہ سے وہ پھنس جاتا ہے اور بعض اوقات مذہب ہی کا انکار کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غامدی صاحب کے ماننے والے اور منکرینِ حدیث یعنی پرویزی بڑی تعداد میں الحاد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے سوالوں کے جوابات اس ڈسکورس میں نہیں ملے۔
عمار خان یاسر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں یہی آیا ہے کہ غامدی صاحب ہوں، انجینئر محمد علی مرزا ہوں یا اس طرح کے دیگر افراد، وہ سب رینڈ کارپوریشن کی انہی سفارشات کا حصہ لگتے ہیں کہ روایتی علماء سے کاٹ کر انجینئروں، ڈاکٹروں اور سائنسدانوں سے دین سیکھنے کی طرف امت کو لگایا جائے۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔
فرقہ واریت کے اسباب اور سدباب
عمار خان یاسر نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ انجینئر محمد علی مرزا اور ان جیسے دیگر حضرات فرقہ واریت کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے خود ایک نیا فرقہ کیوں بنا رہے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر ایک واضح مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت پاکستانی معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔ تمام سنجیدہ علماء کو مل بیٹھ کر اس کے حل پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے علاج کی دو صورتیں بتائیں:
- غلط علاج، کہ موجودہ زخم (فرقہ واریت) کو بھلانے کے لیے دوسری جگہ نیا زخم کر دیا جائے تاکہ درد تقسیم ہو جائے۔
- صحیح علاج، کہ زخم کی باقاعدہ دوا اور پٹی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ انجینئر صاحب نے پہلا طریقہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے علماء کو گالیاں دے کر، ان کی پرانی کتابیں نکال کر، اور ایک کے فتوے دوسرے کے خلاف استعمال کر کے فرقہ واریت کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا، حالانکہ حقیقت میں اس سے مسئلہ مزید بڑھا ہے۔ پھر انہوں نے کتاب ’’المہند علی المفند‘‘ کا حوالہ دیا کہ انجینئر صاحب نے کس طرح اسے دیوبند کی نمائندہ کتاب ظاہر کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کی۔
عمار خان یاسر نے اس کتاب کے حوالے سے اہم سوال کیا کہ انجینئر صاحب کی زیادہ تر گیم تو اسی کتاب پر کھڑی ہے۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے انکشاف کیا کہ خود انہوں نے، جو دیوبند میں پلے بڑھے اور دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی، کبھی ’’المہند علی المفند‘‘ نہیں پڑھی۔ انہوں نے اسے پہلی بار انجینئر صاحب کے حوالے سے سنا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کتاب دراصل ان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے جو علمائے دیوبند سے پوچھے گئے تھے۔ اس میں فروعی اور اصولی دونوں طرح کے مسائل ہیں۔ کتاب کے سرورق پر ’’یعنی عقائد علمائے دیوبند‘‘ لکھا ہونا ناشر کی کاروباری حکمتِ عملی ہے، یہ کوئی باضابطہ اور مستند کتاب نہیں۔ اس میں صرف موقف درج ہے، دلائل نہیں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے علمائے دیوبند کے مسلکی مزاج کو سمجھنے کے لیے حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کی کتاب ’’علماء دیوبند کا دینی رخ اور ان کا مسلکی مزاج‘‘ پڑھنے کی سفارش کی، جو اردو، عربی اور انگریزی میں موجود ہے۔
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ پاکستان میں بہت سے علماء انجینئر صاحب کے اعتراضات کے جواب میں ’’المہند‘‘ کا دفاع کیوں کرتے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ’’المہند‘‘ میں لکھی ہر بات غلط ہے۔ انہوں نے ایک مثال دی: ’’کیا عرشِ الٰہی افضل ہے یا رسول اللہ ﷺ کے جسمِ اطہر سے مس ہونے والی زمین؟‘‘ یہ مسئلہ دراصل قاضی عیاض مالکیؒ اور امام جلال الدین سیوطیؒ نے اٹھایا تھا۔ یہ ایک ذوقی مسئلہ ہے، نہ کہ بنیادی عقیدہ۔ علمائے دیوبند نے اس ذوق کو قبول کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا جسمِ مبارک عرش سے افضل ہے، کیونکہ عرش بھی تو اللہ کی مخلوق ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ اللہ کی سب سے افضل مخلوق ہیں۔ اگر کوئی دلیل کی بنیاد پر اس سے اختلاف کرے تو کوئی حرج نہیں۔ اس بنیاد پر کسی کو اہل سنت سے خارج یا داخل نہیں کیا جا سکتا۔
عمار خان یاسر نے تبصرہ کیا کہ اس ایک نکتے سے انجینئر صاحب کی آدھی عمارت زمین بوس ہو گئی، جنہوں نے اس مسئلے پر بڑے بڑے لیکچرز دیے اور تقی عثمانی صاحب جیسے علماء سے بھی رابطہ کیا۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کا مقدر ہی زمین بوس ہونا ہے۔
اسلامی تعلیمات پر مبنی نظامِ تعلیم کی ضرورت
عمار خان یاسر نے اگلا سوال کیا کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوان، جو دینی ذوق رکھتے ہیں، وہ جدید تقاضوں کے مطابق دعوت کا کام کیسے کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سوال کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نظام مسلمانوں کے کنٹرول میں ہے، وہاں ایک ایسا تعلیمی نظام رائج کرنا ضروری ہے جس کی بنیاد اسلام ہو۔ انہوں نے اسلامی علمیات (Islamic Epistemology) کے تین ذرائع بیان کیے:
- حواس خمسہ (Five Senses): مشاہدہ
- عقل (Reasoning): استدلال
- وحی (Revelation): قرآن و سنت
انہوں نے بتایا کہ مغربی نظامِ تعلیم صرف پہلے ذریعہ (حواس) پر کھڑا ہے۔ جو چیز قابلِ مشاہدہ نہیں، اسے وہ قبول نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں قدیم تہذیبوں کو صرف اس وقت پڑھایا جاتا ہے جب تحریری ثبوت ملے۔ لیکن قرآن میں انبیاء علیہم السلام کے قصے موجود ہیں، جو حقیقی اور سچے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تجویز دی کہ ہمیں چاہیے کہ تاریخ کی کتابوں کا پہلا باب حضرت آدم علیہ السلام کے قصے سے شروع ہو۔ طوفانِ نوح کو بطور حقیقتِ واقعہ پڑھایا جائے، نہ کہ محض افسانہ۔ میسوپوٹیمیا، مصری اور چینی تہذیبوں کے ساتھ انبیاء کے قصے بھی پڑھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نظامِ تعلیم کی بنیاد حواس کے ساتھ ساتھ وحی بھی ہو گی، تو یونیورسٹیوں میں ملحدوں کی تعداد انگلیوں پر گننے کے قابل رہ جائے گی۔
عمار خان یاسر نے مفتی شمائل ندوی صاحب کے ایک بیان کا حوالہ دیا، جس پر پاکستان میں بڑی بحث چھڑ گئی تھی، اس بیان میں انہوں نے پاکستان کے اسلامی نظام پر سوال اٹھایا تھا، جس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی کسی گفتگو کا ایک کلپ بھی وائرل ہوا تھا کہ آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا، اگر اس پر عمل نہیں ہو رہا تو یہ بدعملی ہے، لیکن یہ کہنا کہ نظام اسلامی نہیں، درست نہیں۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ شمائل ندوی صاحب کے بیان کی تشریح انہی کے ذمے ہے۔ تاہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظریاتی اعتبار سے پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب جیسے ممالک اسلامی ہیں، عملی اعتبار سے کمی بیشی ہو سکتی ہے، ایسی حکومتیں آ سکتی ہیں جو اسلامی نظریات کی تطبیق میں رکاوٹ بنیں، لیکن محض اس لیے یہ کہہ دینا کہ نظریاتی اعتبار سے بھی اسلامی ملک نہیں رہا، زیادتی ہے۔
برہان اکیڈمی کے زیر ترتیب نصابِ تعلیم
عمار خان یاسر نے اگلا سوال نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے دور میں سکول جانے والے بچوں کی تربیت کیسے کی جائے کہ ان کی بنیاد اتنی مضبوط ہو کہ وہ الحاد، لبرلزم، سیکولرزم اور ٹرانس جینڈرزم جیسے فتنوں کو پہچان سکیں اور فوراً ’’ریڈ فلیگ‘‘ محسوس کریں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر اپنے عملی تجربے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں برہان اکیڈمی کے نام سے ایک اسکول قائم ہے، جہاں وہ پری سکول سے لے بارہویں جماعت تک ایک ایسا نصاب مرتب کر رہے ہیں جو خالص اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، لیکن ساتھ ہی اعلیٰ ترین معیار کا حامل بھی ہے۔ انہوں نے ایک مثال دی کہ انگلش لینگویج آرٹس میں عام طور پر مغربی کہانیاں اور ناول پڑھائے جاتے ہیں جن میں کفر و شرک کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’کنگ آرتھر‘‘ نامی ناول جو دنیا بھر کے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے، ایک افسانوی کردار ہے جس نے صلیبی جنگوں میں عربوں کو شکست دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس ناول کو تبدیل کر کے طارق بن زیاد کی داستان شامل کی ہے۔ طارق بن زیاد بھی یورپ میں تھے، لیکن وہ ایک حقیقی تاریخی کردار ہیں۔ ان کی کہانی سے بچے انگریزی تو سیکھیں گے ہی، ساتھ میں شجاعت اور بہادری جیسی اسلامی اقدار بھی اپنائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس نصاب کی چار بڑے شعبے ہیں:
- انگلش لینگویج آرٹس
- میتھمیٹکس
- سائنس
- سوشل سٹڈیز
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ کیا یہ نصاب عوام کے لیے دستیاب ہوگا، جیسا کہ پہلے والے چھ جلدی کورس کا ذکر کیا گیا تھا؟
ڈاکٹر صاحب نے انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2028ء/ 2029ء تک یہ مکمل نصاب تیار ہو جائے گا اور دوسرے ممالک کے اسکول بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ البتہ مقامی تاریخ کے لیے انہیں اپنے ملک کی کتابیں شامل کرنی ہوں گی۔
مسلم شناخت کو درپیش خطرات
عمار خان یاسر نے آخری سوال میں موجودہ صورتحال کا ذکر کیا کہ پوری دنیا میں اہلِ کفر متحد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کی شناخت کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک عالمِ دین کو کیسا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے نوجوان علماء کو ایک اہم نصیحت کی کہ پہلے کام مکمل کر لیں، پھر اس کا اعلان کریں، اس میں برکت ہوتی ہے۔ آج کل نوجوان علماء کا مسئلہ یہ ہے کہ کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی شہرت ہو جاتی ہے، جس سے وہ نامکمل رہ جاتا ہے اور اپنوں اور غیروں کی نظریں لگ جاتی ہیں۔
مسلم شناخت کے تحفظ کے سوال پر انہوں نے بنیادی نکتہ بیان کیا کہ ہماری شناخت ہمارے معاشرے سے بنتی ہے، اور معاشرہ تعلیم کی بنیاد پر بنتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 99 فیصد مسلمان بچے اس نظامِ تعلیم کے پروردہ ہیں جو لارڈ میکالے نے 1830ء میں ڈیزائن کیا تھا۔ جب یہ بچے بڑے ہو کر معاشرے کی تشکیل کریں گے تو وہ معاشرہ کس طرح اسلامی شناخت دے سکتا ہے؟ صرف ایک فیصد مدرسوں میں پڑھنے والے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
پھر ڈاکٹر صاحب نے افغانستان کی مثال دی کہ وہاں کے حالات کو سمجھنے کے لیے حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی کتاب ’’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘‘ پڑھنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ندویؒ نے 1940ء کی دہائی میں افغانستان کا سفر کیا تو وہاں برقعہ اور پردہ عام تھا۔ 1960ء کی دہائی میں جب دوبارہ گئے تو کابل میں بے حیائی عام تھی، خواتین اسکرٹس پہنتی تھیں۔ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک گوری خاتون نے کابل میں تعلیمی ادارے قائم کیے، اور جب خواتین نے وہاں تعلیم حاصل کی تو ان کا سوچنے کا انداز بدل گیا، لائف سٹائل بدل گیا، اور پورا معاشرہ بدل گیا۔
ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کہا کہ افغانستان کے موجودہ حکمران اسی تجربے سے سبق سیکھ کر احتیاط سے قدم اٹھا رہے ہیں۔ وہ تعلیم کے خلاف نہیں، بلکہ ایسا نظامِ تعلیم مرتب کرنا چاہتے ہیں جو افغان اور اسلامی اقدار کو محفوظ رکھے۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ تہذیبی تحفظ اور شناخت کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب نظامِ تعلیم ہمارے کنٹرول میں ہو۔ اور موجودہ صورتحال میں مسلم ممالک میں نظامِ تعلیم مسلمانوں کے کنٹرول میں نہیں ہے، جس کی وجہ سے شناخت کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظم
عمار خان یاسر نے گفتگو کا رخ بچوں کی تربیت کی طرف موڑتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے بیٹے کا ذکر کیا، جس کی تقریر کی ویڈیو انہوں نے دیکھی تھی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ والدین اپنی اولاد خصوصاً بچیوں کی تربیت کیسے کریں کہ وہ شناخت کے بحران (Identity Crisis) کا شکار نہ ہوں، باوجود اس کے کہ انہیں مجبوراً سکولوں میں بھیجنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر ایک بنیادی نکتہ بیان کیا کہ والدین اور اولاد کے درمیان رشتے کی مضبوطی اور بے تکلفی سب سے اہم ہے۔ انہوں نے پچھلی نسلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ معاشرے میں ’’ادب کی دیوار‘‘ حائل رہتی تھی، جس کی وجہ سے بچے والدین سے بے تکلف نہیں ہو پاتے تھے۔ آج کی نسل میں بے تکلفی زیادہ ہے، جسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا کہ جب ان کا بیٹا چار پانچ سال کا تھا، تب سے وہ اس کے ساتھ مختلف سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر کھانے کی میز پر وہ پوچھتے ہیں کہ تم سے سکول میں کسی نے یہ سوال تو نہیں کیا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اس طرح بچے کا ذہن ان سوالات کے لیے تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں ان کے بیٹے نے پوچھا کہ فلاں نبی کا ذکر قرآن میں کیوں آیا، ان کے کارنامے کیا ہیں؟ اس طرح کے سوالات سے بچے کا ذہن علمی طور پر پروان چڑھتا ہے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کہا کہ بچے کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ وہ کوئی بھی سوال اپنے والدین سے پوچھ سکتا ہے اور والدین ناراض نہیں ہوں گے بلکہ دلائل اور علمی انداز سے اسے مطمئن کریں گے۔
عمار خان یاسر نے اس نکتے پر زور دیا کہ اس کے لیے تو والدین کا خود علمی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ آج کل بہت سے والدین بچوں کے سوالات ٹالنے کے لیے بہانے بنا کر نکل جاتے ہیں۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسی لیے پورے معاشرے کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ ماں کی گود کو پہلا مدرسہ کہا گیا ہے تو اس مدرسہ کوالیفائیڈ ہونا چاہیے، جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔
اختتامیہ
عمار خان یاسر نے گفتگو کے اختتام پر دو درخواستوں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا: (۱) آٹھ سال کا طویل وقفہ دوبارہ نہ آئے، اور سال میں دو چار بار گفتگو ہوتی رہے۔ (۲) ڈاکٹر الواجدی صاحب کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی، ہر طبقے کے لوگ ان کے لیے بے تاب ہیں۔ وہ تشریف لائیں تو ان کے سیمینارز منعقد کیے جائیں گے اور پاکستان کے عوام انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے دونوں درخواستوں پر مثبت جواب دیا کہ ان شاء اللہ یہ آٹھ سال والا وقفہ نہیں آئے گا، اور پاکستان آمد کے حوالے سے انہوں نے بھرپور آمادگی ظاہر کی۔
آخر میں عمار خان یاسر نے ڈاکٹر صاحب کی دعا کے ساتھ گفتگو کا اختتام کیا: ’’جزاکم اللہ خیراً مفتی صاحب! بہت شکریہ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سلامت رکھیں، اور ہم دوبارہ سے پھر لوگوں کے سوالات لے کے یہاں بیٹھیں گے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا: ‘‘وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘
https://youtu.be/l1az2Pofkgk
(مکمل)
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
"فلسفے کی آمیزش نے علمِ کلام کو قرآنی استدلال کے فطری منہج سے دور کر دیا ہے" یہ حقیقت کے بالکل برعکس تبصرہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ علم الکلام قرآن کے عقلی و استدلالی منہج کو منظم کر کے، مخالفین کو انہی کے میدان میں شکست دینے کا ایک دفاعی عمل ہے۔ ملاحدہ و معتزلہ کے مفروضات کی تردید کے لیے امام غزالی نے جو عمومی طرزِ استدلال اختیار کیا اسے "داخلی تنقید" (Internal Criticism) کا منہج کہا جاتا ہے۔ اس کے مدمقابل نقد کا دوسرا عمومی طریقہ ”خارجی تنقید" (External Criticism) کہلاتا ہے۔
- خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ہم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلائے گا۔
- داخلی نقد کا مطلب کسی نظرئیے کو خود اس کے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ہے:
- فریقِ مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا،
- یہ ثابت کرنا کہ ان کے طے شدہ مقدمات سے لازماً ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
- مفروضات کی لَغویت ثابت کرنا وغیرہ۔
چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosophers) میں ردِ اعتزال و فلسفہ کیلئے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ہتھیار استعمال کیا۔ امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے منظم انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا تھا۔ امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذہبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مذہب اور الحاد کے علمی تناظر — مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریقہ کار — میں بنیادی نوعیت کا فرق ہوتا ہے، لہٰذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اس پر داخلی تنقید کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذہبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف مذہب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمِ کلام کے تمام عقائد قرآن و حدیث کے ذریعے ثابت نہیں کئے جاتے، بلکہ متکلمین کے ہاں علم الکلام کے مستمدات کا ایک نظام و ترتیب مقرر ہے۔ اللہ کی ذات و صفات کا اثبات بذریعہ عقل، نبوت کا اثبات بذریعہ معجزات، اور دیگر تمام عقائد کا اثبات بذریعہ نبوی سمعیات کیا جاتا ہے۔ یہ ترتیب "دور" (Circular Reasoning) کے فکری نقص سے محفوظ ہے۔ یہ تین محکم مراحل پر قائم ہے:
- پہلا مرحلہ اشیاء کی حقائق کے اثبات اور حدوثِ عالم (کائنات کے حادث ہونے) کے عقلی مقدمات سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ہر حادث کا ایک مُحدِث (خالق) ضروری ہے، اور یوں اللہ کی ذات، وجود اور صفات کا اثبات خالص عقل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
- دوسرا مرحلہ تب آتا ہے جب خدا کا وجود مسلّم ہو جائے۔ اب، کسی انسان کے صدقِ نبوت (رسالت کی سچائی) کا اثبات، اُس قادرِ مطلق کی طرف سے ظاہر ہونے والے معجزے کے ذریعے ہوتا ہے، جس سے نبوت کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
- تیسرا مرحلہ نبوت کے اثبات کے بعد آتا ہے، جہاں وہ تمام غیبی امور اور تفصیلی احکامات جو صرف وحی سے معلوم ہوئے ہیں، یعنی سمعیات (جیسے جنت، جہنم، قبر، میزان، اور امامت کے مسائل)، ایک صادق نبی کی خبر کی وجہ سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ متکلمین یہ واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ سمعیات کا علم عقل سے نہیں ہو سکتا، لیکن عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ ان کا انکار عقلی طور پر محال نہیں ہے۔ یوں، علم الکلام عقل کو بنیاد بنا کر اس پر نقل (وحی) کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ علمائے کلام کو یونانی فلسفہ اور اس کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والے اعتزال کو منطقی جواب دینے کے لیے مجبوراً فلسفیانہ منہج اپنانا پڑا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قرآن کا فکری منہج اور اندازِ استدلال علم الکلام کی بنیاد نہ بن سکا۔ بلکہ متکلمین نے اپنے دلائل کو قرآنی منہج پر ہی استوار کیا۔ امام فخر الدین الرازی رحمہ اللہ کی تفسیر مفاتیح الغیب اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ قرآن نے اپنے استدلال میں عقل و منطق کی جو گہرائی دکھائی ہے، متکلمین نے قرآنی اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے لیے اُسی قرآنی طرزِ استدلال کی پیروی کی ہے۔ مثلاً:
1۔ دلیلِ حدوث (صفتِ تخلیق سے اثباتِ توحید)
Argument from Contingency (Proof of Divine Unity through Creation)
پہلی وحی (سورۃ العلق) میں رب کا تعارف صفتِ تخلیق سے کرانا، علم الکلام کی مرکزی دلیل، یعنی دلیلِ حدوث کی سب سے فطری اور قوی قرآنی اساس ہے۔ آیت میں انسان کو "علق" (جمے ہوئے خون) سے تخلیق کیے جانے کا ذکر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان خود عدم سے وجود میں آیا ہے، یعنی وہ حادث (Contingent) ہے اور مسلسل تغیر کا شکار ہے۔ چونکہ کوئی بھی حادث اور محتاج وجود خودبخود ظاہر نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ عقلی طور پر لازمی ہے کہ اس حادث سلسلے کو شروع کرنے والا کوئی قدیم (Eternal)، قادرِ مطلق اور واجب الوجود (جس کا وجود ضروری ہو) خالق ہو، جو خود کسی کا محتاج نہ ہو۔ قرآن نے اسی غیر محتاج ہستی کو "رب" کہا۔ یوں، صفتِ تخلیق کے ذریعے انسان کو اس کے اپنے وجود کے مشاہدے سے توحیدِ باری تعالیٰ کی طرف رہنمائی ملی اور علم الکلام کی بنیادی دلیل کو سادہ ترین شکل میں پیش کیا گیا۔ "علق" کی تبدیلی اور عارضی حالت میں رہنے پر زور دیا گیا ہے، جو تغیُّر (Change) اور محدودیت (Finitude) کو واضح کرتی ہے۔ تغیُّر اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ چیز حادث ہے اور اسے کسی قدیم (جو تغیر سے پاک ہو) کی ضرورت ہے۔
2۔ دلیلِ ربوبیت اور نظمِ کائنات (توحیدِ عبادت کی عقلی بنیاد)
Argument from Divine Lordship and Cosmic Order (Rational Basis for Exclusive Worship)
سورۃ البقرہ کی آیت 21 میں کہا گیا ہے کہ: "اے لوگو! اُس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو بنایا۔" یہ ایک مضبوط دلیل ہے جو یوں کام کرتی ہے:
- پہلے، یہ یاد دلایا گیا کہ ہم سب 'حادث' ہیں، یعنی ہم اچانک 'نہ ہونے' سے 'ہونے' میں آئے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ عبادت کا حق صرف اسی کو ہے جو ہمیشہ سے ہے اور کسی کا محتاج نہیں۔ یہ دلیلِ حدوث (Argument from Contingency) کی قرآنی بنیاد ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ چونکہ ہم "حادث" (وجود میں آنے والے) ہیں، لہٰذا عبادت کا حق صرف قدیم اور واجب الوجود خالق کا ہے۔
- دوسرے مرحلے پر، دلیل کو بڑا کرتے ہوئے آسمان، زمین، بارش اور پھلوں جیسی عظیم نعمتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ دنیا میں ایک مکمل نظام چل رہا ہے، جو کسی دانشمند اور مہربان ہستی کی کاریگری ہے۔ یہ دلیلِ نظم و عنایت (Argument from Design and Provision) ہے۔ یہ کائنات کے منظم، فائدہ مند اور حکیمانہ نظام کو خالق کی ربوبیت کا ثبوت بناتی ہے۔
- ان سب ثبوتوں کے بعد، قرآن نے ایک صاف نتیجہ نکال دیا: "جب تم یہ سب جانتے ہو، تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔" اس طرح، قرآن نے عبادت کو اندھے بھروسے کی بجائے صحیح عقل اور مشاہدے کی بنیاد پر ثابت کیا، اور یہی طریقہ علم الکلام کی اصل بنیاد ہے۔ یہ دلیلِ ربوبیت کا منطقی اور عقلی نتیجہ ہے، جس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جس ہستی نے یہ عظیم تخلیق کی، کوئی اور اس کا شریک نہیں ہو سکتا۔ علم الکلام کی یہ ترتیب، جس میں پہلے خالق کی ربوبیت (عقلی طور پر) ثابت کی جاتی ہے، اور پھر توحید و عبادت کا حکم دیا جاتا ہے، امام رازیؒ جیسے متکلمین کی تفاسیر (مفاتیح الغیب) میں نمایاں طور پر موجود ہے، جو قرآنی استدلال کو منظم کرتی ہے۔
3۔ دلیلِ ربوبیتِ عامہ (کائناتی نظم، اختیارِ مطلق، اور زمان و مکان کی وسعت)
Argument from Universal Lordship (Cosmic Governance, Absolute Authority, and Transcendence over Space and Time)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے اللہ کے رب ہونے کا تعارف یوں کرایا کہ میرا رب زندگی اور موت دیتا ہے۔ جواباً، نمرود نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ بھی یہ طاقت رکھتا ہے، یہ کہہ کر کہ وہ قیدیوں کو مار یا چھوڑ سکتا ہے۔ چونکہ نمرود نے یہ دعویٰ صرف اپنے محدود بادشاہی اختیارات کی بنیاد پر کیا تھا، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانی دائرہ اختیار سے باہر کی ایک آفاقی نشانی رب ہونے کی دلیل میں پیش کی: "یعنی سورج جیسی بڑی مخلوق کو ایک مخصوص نظم کا برسوں سے پابند رکھنا"۔ آپ نے نمرود کو چیلنج کیا: "میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔" یہ دلیل ثابت کرتی ہے کہ سورج ہر روز ایک ہی سمت (مشرق سے) نکلنے پر مجبور (اضطرار) ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ کسی طاقتور قانون کا پابند ہے۔ جب نمرود سورج کی سادہ سی حرکت بدلنے سے بھی عاجز ہو گیا، تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ کائنات کا مؤثرِ حقیقی کوئی اور ہے جو مکمل اختیار اور ارادہ رکھتا ہے، اور نمرود صرف ایک کمزور اور عاجز مخلوق ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مکالمہ اللہ کے مالکیتِ مطلقہ (Absolute Ownership & Authority) اور ربوبیتِ عامہ (Universal Lordship) اور انسانوں کے محدود اختیار کے فرق کو ثابت کرنے کا ایک نہایت بلیغ اور عام فہم طریقہ ہے۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا مکالمہ بہت دلچسپ انداز میں سورۃ الشعراء کی آیات 23 تا 28 میں بیان ہوا ہے، جو ربوبیتِ عامہ (یعنی عالمگیر پروردگاری) کے تین نمونے پیش کرتا ہے:
(الف) زمانِ عام (ربُّ الاوّلین والآخرین)
فرعون نے کہا: "یہ ربُّ العالمین کیا ہے؟" موسٰیٰؑ نے فرمایا: "وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آبا و اجداد کا رب ہے جو گزر چکے ہیں۔" یعنی ربوبیت کسی زمانے یا نسل تک محدود نہیں۔
(ب) مکانِ عام (ربُّ الارض والسماوات)
موسٰیٰؑ نے کہا: "وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔" یعنی ربوبیت ملکِ مصر تو کیا خطہ ارضی تک محدود نہیں بلکہ آسمانوں پر محیط ہے اور وہ سب سے وراء الوراء ہے۔
ایک ہی سوال کے دو ہوش ربا جواب سننے پر فرعون فرطِ غضب و حیرت سے اپنے حواشیین پر پھٹ پڑا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر دیوانگی کا الزام لگایا۔ فرعون کہنے لگا: "یقیناً یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، یہ تو دیوانہ ہے۔" اس نے اپنے اردگرد والوں سے کہا: "کیا تم سنتے نہیں ہو؟" فرعون کی حیرت کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو مصر کی بہتی نہروں کی محدود بادشاہت کی بنا پر سب سے بڑا رب ہونے کا دعویدار تھا اس لیے اپنے زعم و خیال سے بہت بلند بادشاہت کا سننا کب گوارا ہو سکتا تھا۔
(ج) جہاتِ عامہ (ربُّ المشارق والمغارب)
فرعون کی فرسٹریشن کو خاطر میں لائے بغیر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی وسعتوں کے ذکر میں مشارق و مغارب کو برابر کر دیا۔ موسٰیٰؑ نے کہا: "اگر تم عقل رکھتے ہو تو مشرق اور مغرب کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔" یہ مکالمہ توحیدِ ربوبیت کی اساسی دلیل ہے جو بتاتا ہے کہ حقیقی رب وہ ہے جس کی بادشاہت کائنات کے ہر ذرے، ہر لمحے اور ہر سمت پر ہو۔
4۔ دلیلِ افول (نقص، تغیر اور وجوبِ وجود کا اثبات)
Argument from Decline (Proof from Imperfection, Change, and the Necessity of a Necessary Being)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استدلال سورۃ الانعام کی آیات میں بیان ہوا ہے۔ آپ نے ایک ستارہ دیکھا، کہا: "کیا یہ میرا رب ہے؟" پھر جب وہ غائب ہو گیا، تو فرمایا: "میں غائب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔ یہی عمل چاند اور سورج کے ساتھ دہرایا گیا، اور سب کے غروب ہونے پر آپؑ نے فرمایا: "اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی گمراہوں میں سے ہو جاتا۔" دلیل کا محور یہ ہے کہ ظاہر ہونے کے بعد غائب ہونا (افول) اور طلوع ہونے کے بعد غروب ہونا خدائی کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رُشدِ ابراہیمی میں کیا بلاغت و حکمت رکھی، جس نے دقیق کلامی دلائل کو افول (زوال/غروب) کے ایک سادہ نکتے میں سمیٹ لیا۔ مثلاً:
(الف) دلیلِ نقص (Deficiency)
جو چیز کمال (Perfection) سے نقص (Deficiency) کی طرف جاتی ہو، یا ثبات (Permanence) سے زوال (Decay) کی طرف، وہ رب کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو چیز خود زائل ہو جاتی ہے یا غروب ہو جاتی ہے، وہ دوسرے کو وجود و بقا کیسے دے سکتی ہے؟
(ب) دلیلِ حُدوث و تغیُر (Temporality and Change)
سیدنا ابراہیمؑ کا استدلال افول کے پیچھے کارفرما حرکت اور زمان و مکان کو ثابت کرتا ہے۔ افول: غروب ہونا ایک حرکت ہے۔ حرکت تغیر ہے: جو چیز حرکت کرے، وہ تغیر پذیر ہے۔ تغیر حدوث ہے: جو چیز تغیر پذیر ہو اور کسی حال سے دوسرے حال میں داخل ہو، وہ ازلی نہیں ہو سکتی، جبکہ خدائی سنبھالنے کے لئے ازلی ہونا لازم ہے۔ دلیلِ حدوث دو بدیہی (Self-Evident) مقدمات پر قائم ہے: پہلا یہ کہ کائنات حادث (پیدا کردہ) ہے، کیونکہ علتوں کا لامتناہی تسلسل عقل کے نزدیک محال ہے اور یہ تسلسل لازماً ایک نقطۂ آغاز پر رکنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ہر حادث کے لیے مُحدِث (خالق) ضروری ہے، کیونکہ کوئی چیز عدم (Nothingness) سے خودبخود وجود میں نہیں آ سکتی، اور نہ ہی عدم کوئی فعل کر سکتا ہے۔ یہ دونوں مقدمات بالآخر ضدین کے جمع یا ارتفاع کے محال ہونے کے فطری قضیے کی بنیاد پر ایک ایسی ہستی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں جو خود اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو، جسے واجب الوجود کہتے ہیں۔ یہ ذات اپنے وجود میں کسی اور کی معلول نہیں، بلکہ وہ تمام حادثات کی فاعلِ مختار اور علتِ تام ہے۔
(ج) دلیلِ وجوبِ وجود (Necessity of Existence)
حضرت ابراہیمؑ نے ثابت کیا کہ خدا صرف وہ ہو سکتا ہے جو سپیس اور ٹائم کی قید سے باہر ہو، زمان و مکان کی پیدائش سے پہلے موجود ہو، زمان و مکان کے قوانین اور ہر دم تغیر پذیر أحوال کا اُس کے وجود پر کوئی اثر نہ ہو۔ اِسی کو علم کلام میں واجب الوجود کہتے ہیں۔ اس نکتے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ بے ہودہ قسم کے سوالات بہت شہرت پا چکے ہیں: جیسے "خدا زمین و آسمان سے پہلے کہاں تھا؟، خدا کو کس نے بنایا؟ وغیرہ وغیرہ"۔ خدا کو کسی مکان یا زمان میں دیکھنے کا یہ اصرار دراصل اُس کو سپیس اور ٹائم کی حدود میں قید کرنے کا مطالبہ ہے، جو واجب الوجود کو حادث بنا کر خدا بننے کے قابل نہ چھوڑے گا۔ کیونکہ ایسا خدا خود اپنی تخلیق (زمان و مکان) میں محدود و مقیَّد بن کر رہ جائے گا۔ خدا کا مکان معلوم کرنے یا بنانے کا سوال دراصل یہ کہنا ہے کہ خدا نے خود کو مکان کیوں نہیں دیا اور تخلیق کیوں نہیں کیا؟ اگر ایسا کر سکتا ہے تو مقید و مخلوق ہے اور اگر نہیں کرسکتا تو عاجز و بے بس۔یہ سوال بعینہ اُس سوال کی طرح ہے کہ "کیا اللہ اپنی قدرت سے باہر کی چیز نہیں بنا سکتا؟" بھی بے ہودہ ہے، کیونکہ قدرت کا تعلق صرف ممکنات سے ہے، اور محال (جس کا کوئی وجود نہیں) کو وجود نہ دینا عجز نہیں، بلکہ کمالِ قدرت ہے۔ ایسے سوالات دراصل ایک فکری مغالطے سے جنم لیتے ہیں کہ حسی مشاہدے کے بعد ہی کسی چیز کے وجود کو مانا جا سکتا ہے، حالانکہ سائنسی طور پر بے شمار ناقابل مشاہدہ موجودات (جیسے غیر مرئی شعاعیں) دریافت ہو چکی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جو چیز نظر نہ آتی ہو، ضروری نہیں کہ وہ موجود بھی نہ ہو، البتہ نظر آنے کے لئے کسی بھی چیز کا موجود ہونا ضروری ہے۔
(جاری)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی
اخلاقیات اور نظریہ ارتقا
تعارف
باب شسشم میں ہم نے ابو حامد الغزالی کے نظریہ اتفاقیت پسندی (Occasionalist) پر مبنی فریم ورک کی تشکیل و توضیح کی۔ اس کے بعد اسی فریم ورک کو اتفاق (chance)، فطریت (naturalism) اور علت و افادیت (efficiency) جیسے مسائل کے جائزے کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ اس بحث کا حاصل یہ نکلا کہ اتفاق فی نفسہٖ کوئی مسئلہ نہیں، الا یہ کہ اسے اپنے قوی مفہوم (OC2) میں لیا جائے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا (بلکہ عمومی طور پر سائنسی نظریات) کو اگر فلسفیانہ فطریت (philosophical naturalism) کے تحت سمجھا جائے تو غزالی کے فریم ورک میں اس کی گنجائش نہیں، لیکن اگر اسے منہجی فطریت (methodological naturalism) کے دائرے میں تعبیر کیا جائے تو اس پر کوئی بنیادی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح یہ بھی واضح کیا گیا کہ اشعری الٰہیات میں "افادیت" یا "غایتِ کارکردگی" (efficiency) کا سوال سرے سے خدا کے بارے میں قابلِ اطلاق نہیں۔
باب ہفتم میں اشعریت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ دکھایا گیا کہ "ڈیزائن" (design) کا تصور بھی اشعری الٰہیاتی تناظر میں کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکھتا۔ خدا کی تمام مخلوقات کا مدار امکان (contingency) پر ہے۔ لہٰذا اگر نظریہ ارتقا کو اس بنیاد پر رد کیا جائے کہ اس میں ڈیزائن کا تصور کمزور یا غیر متعلق معلوم ہوتا ہے، اور اس بنا پر اسے خدا کے لیے غیر موافق سمجھا جائے، تو اشعری فریم ورک میں یہ اعتراض محلِّ نظر نہیں رہتا۔
زیرِ نظر باب میں ہم اس بحث کے اخلاقی پہلو کا جائزہ لیں گے۔ اس باب میں استعمال ہونے والی اختصارات کی تفصیل آخر میں ملحق نوٹ میں دی گئی ہے۔
باب اول اور چہارم میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ بعض مفکرین کے نزدیک نظریہ ارتقا کے اخلاقی مضمرات مسئلہ پیدا کرتے ہیں اور یہ خدا کی کامل خیرخواہی کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس باب میں اخلاقیات سے متعلق دو بنیادی مسائل زیرِ بحث آئیں گے: (1) مسئلہ شر (Problem of Evil: POE) اور (2) معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (Problem of Objective Morality: POM)۔
مسئلہ شر عمومی طور پر تمام الٰہیاتی مکاتبِ فکر کے لیے ایک معروف اور اہم بحث ہے۔ اس ضمن میں ایک بنیادی تقسیم"اخلاقی شر" (moral evil) اور "طبعی شر" (natural evil) کے درمیان کی جاتی ہے۔ پہلی قسم سے مراد وہ برائیاں ہیں جو اخلاقی عاملین کے ارادی افعال کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہیں، جیسے ایک انسان کا دوسرے انسان کو محض تفریح یا ذاتی غرض کے لیے قتل کرنا۔ دوسری قسم سے مراد وہ فطری واقعات ہیں جو موت اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں، جیسے زلزلے یا مہلک وبائیں جن سے بڑی تعداد میں انسان ہلاک ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق انسانی اختیار کا ہے۔ اخلاقی شر انسان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جب کہ طبعی شر اس کے اختیار سے باہر ہوتا ہے۔
اس امتیاز کے بعد مسئلہ شر اور اس کا خدا پر ایمان سے تعلق عموماً اس معروف استدلال سے واضح کیا جاتا ہے جو ایپی کیورس کی طرف منسوب ہے۔ ملاحظہ ہو:
اگر خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر قادر نہیں، تو وہ قادرِ مطلق نہیں؛ اگر وہ قادر ہے مگر روکنا نہیں چاہتا، تو وہ خیرخواہ نہیں؛ اور اگر وہ نہ صرف قادر ہے بلکہ روکنا بھی چاہتا ہے، تو پھر شر کہاں سے آیا؟ (quoted in Hickson 2013, 6)
بالفاظِ دیگر، سوال یہ ہے کہ ایک ایسے خدا کو، جو قادرِ مطلق، عالمِ مطلق اور کامل خیرخواہ ہے، اس کائنات میں موجود وسیع پیمانے پر شر کے پس منظر میں کس طرح سمجھا جائے؟ ان اوصاف اور مشاہدہ شدہ شر کے درمیان تطبیق ایک مشکل مسئلہ ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مسئلہ شر کا وجود نظریہ ارتقا کے سچ یا جھوٹ ہونے سے قطع نظر برقرار رہتا ہے۔ تاہم، نظریہ ارتقا اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے شدید تر بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں حیات کے ایک ایسے منظم نظام سے آگاہ کرتا ہے جسے بظاہر فطری طور پر سفاک سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں حیوانات کو غیر ضروری تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یوں یہ طبعی شر کی ایک ایسی صورت ہے جو حیاتیاتی قوانین کے اندرونی ڈھانچے میں پیوست نظر آتی ہے۔
جیسا کہ باب اول میں ذکر ہوا، حیات کے آغاز (تقریباً 3.5 ارب سال قبل) سے لے کر اب تک موجود ہونے والی تمام انواع میں سے تقریباً 99 فیصد معدوم ہو چکی ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کے دوران بے شمار جاندار تکلیف اور موت سے دوچار ہوئے (Murray 2008; Francescotti 2013)۔ یوجی ناگاساوا (2018، ص 153–154) اس صورتِ حال کو"نظامی شر" (systemic evil) کا مسئلہ قرار دیتے ہیں:
مسئلہ شر کی روایتی بحث عموماً ایسے مخصوص واقعات پر مرکوز ہوتی ہے جنہیں شر قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً ہولوکاسٹ، روانڈا نسل کشی، یا جنوب مشرقی ایشیا میں آنے والا باکسنگ ڈے سونامی، یا پھر ایسے واقعات کی عمومی اقسام، جیسے جنگیں، قتل، عصمت دری، زلزلے اور سیلاب وغیرہ۔ تاہم زیرِ بحث مسئلہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ نہ صرف مخصوص واقعات یا ان کی اقسام شر ہیں، بلکہ وہ پورا حیاتیاتی نظام بھی، جس پر فطرت کی بنیاد قائم ہے، بنیادی طور پر شر پر مبنی ہے۔ اسی لیے اسے "نظامی شر کا مسئلہ" (problem of systemic evil) کہا جاتا ہے۔ نظامی شر کا یہ مسئلہ روایتی مسئلہ شر کے مقابلے میں زیادہ شدید اور وزنی ہے، کیونکہ یہ صرف مخصوص واقعات یا ان کی اقسام تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سطح، یعنی خود فطرت کے نظام کو ہدفِ بحث بناتا ہے، جسے بذاتِ خود شر قرار دیا جا رہا ہے۔
یوجی ناگاساوا واضح طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ نظریہ ارتقا مسئلہ شر (POE) کو مزید شدت بخشتا ہے۔ ان نکات کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک کامل خیرخواہ خدا اس صورتِ حال کو کیوں کر وقوع پذیر ہونے دیتا ہے؟
اسی طرح معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) اخلاقی اصولوں کی معروضیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ہمارے اعتقادات اور ہماری اعتقادی صلاحیتیں ارتقائی عمل کے تابع ہیں، تو یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر حیات کی کہانی دوبارہ دہرائی جائے تو ہم ایک بالکل مختلف اخلاقی نظام کے حامل ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد نہایت غیر مستحکم ہو جاتی ہے، اور یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فی نفسہٖ کوئی شے بذاتِ خود نہ اچھی ہے اور نہ بری۔
ہم محض اس لیے کسی چیز کو اچھا یا برا سمجھتے ہیں کہ ارتقائی تاریخ کے دباؤ جو سراسر امکانی نوعیت کے حامل ہیں، نے ہمیں اس پر آمادہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے ہاں "اچھائی" اور "برائی" کا تصور اتفاقی عوامل کے رحم و کرم پر ہے، اور یوں معروضی اخلاقیات کا وجود محلِّ نظر ہو جاتا ہے۔
اس باب کا مقصد ان مسائل کا جائزہ ابو حامد الغزالی کے اخلاقی فریم ورک کی روشنی میں لینا ہے۔ اس غرض سے ضروری ہے کہ اس بحث کو چار نمایاں حصوں میں تقسیم کیا جائے، جو اس باب کی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔
پہلا حصہ ان بنیادی اصطلاحات کی وضاحت پر مشتمل ہوگا جو آئندہ بحث کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ دوسرا حصہ اس سائنسی اور فلسفیانہ ارتقا کا جائزہ لے گا جو "ارتقائی اخلاقیات" (evolutionary ethics) کے نام سے معروف شعبے میں سامنے آیا ہے۔ اس ضمنی بحث کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ارتقا اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کو مزید واضح کرے گی اور مسئلہ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کے پس منظر میں موجود باریکیوں کو سامنے لائے گی۔ مزید برآں، اس میدان میں بعض تصوری امتیازات ابو حامد الغزالی کے افکار کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرنے میں مدد دیں گے اور یہ واضح کریں گے کہ وہ کن پہلوؤں سے ان مباحث سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں۔
تیسرا حصہ ابو حامد الغزالی کے اخلاقی فریم ورک اور اس سے متعلق نکات کی تفصیل پیش کرے گا، جب کہ چوتھا اور آخری حصہ مسئلہ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا جائزہ الغزالی کے تناظر میں لے گا۔
اصطلاحات
نظریہ ارتقا اور اخلاقیات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے چند بنیادی امتیازات کو پیشِ نظر رکھنا مفید ہوتا ہے (Fitzpatrick 2016): توصیفی ارتقائی اخلاقیات (Descriptive Evolutionary Ethics: DEE)، معیاری ارتقائی اخلاقیات (Normative Evolutionary Ethics: NEE)، اور ارتقائی مابعد الاخلاقیات (Evolutionary Metaethics: EM)۔ ذیل میں ہم ان میں سے ہر ایک کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔
توصیفی ارتقائی اخلاقیات
چونکہ نظریہ ارتقا ہماری حیاتیاتی تاریخ اور تنوع کی توضیح کے لیے غالب بیانیہ بن چکا ہے، اس لیے یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ سائنس دانوں نے اس کے دائرے میں مختلف خصوصیات، بشمول اخلاقیات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) دراصل حیاتیاتی جانداروں کا ایک تجرباتی مطالعہ ہے جس میں ان کے اخلاقی رویّوں اور صلاحیتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت درج ذیل سوالات زیرِ بحث آتے ہیں:
اخلاقی فیصلہ سازی کی صلاحیت کیا ہے؟ انواع میں یہ صلاحیت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ افراد کسی مخصوص صورتِ حال میں کس نوع کے اخلاقی فیصلے کرتے ہیں؟ کیا اخلاقی فیصلے صرف کسی خاص حیاتیاتی وجود تک محدود ہوتے ہیں یا پوری نوع پر ان کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟ مختصراً، توصیفی ارتقائی اخلاقیات ارتقائی تناظر میں اخلاقیات کی صرف بیانی (descriptive) توضیح پیش کرتی ہے۔
معیاری ارتقائی اخلاقیات
معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) بسا اوقات توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) کے مقابلے میں زیادہ متنازع سمجھی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ نظریہ ارتقا کو اخلاقی احکام کی توضیح، توجیہ یا عقلی بنیاد فراہم کرنے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، NEE اس سوال پر غور کرتا ہے کہ آیا ارتقا کے اصول یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج اس امر کا تعین کر سکتے ہیں کہ کون سے افعال اخلاقی طور پر جائز یا ناجائز ہیں، اور اس طرح ہمیں کس طرزِ زندگی کو اختیار کرنا چاہیے۔ مثلاً: کیا نظریہ ارتقا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض انواع دوسری کے مقابلے میں زیادہ قیمتی یا معزز ہیں؟ کیا خوراک کے لیے قتل کرنا برا ہے؟ کیا اجتماعی تحفظ کو ترجیح دی جائے یا فرد کی سلامتی کو؟
مختصراً، معیاری ارتقائی اخلاقیات اس امر کی تحقیق کرتی ہے کہ آیا ارتقا ہمیں ایسا کوئی اخلاقی ذخیرہ فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنی اخلاقی تشکیل اور رویّوں کو منظم کر سکیں۔
ارتقائی مابعد الاخلاقیات
ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM) اپنی نوعیت کے اعتبار سے معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) جتنی بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ متنازع بحث ہے، کیونکہ اس کے مضمرات اخلاقی حقیقت پسندی اور عدمِ حقیقت پسندی جیسے بنیادی مباحث سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ شعبہ اس سوال کو زیرِ غور لاتا ہے کہ آیا نظریہ ارتقا اخلاقی معروضیت کو باطل کر دیتا ہے یا نہیں۔ بعض مفکرین، جیسا کہ آگے واضح بھی ہو جائے گا، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کو نسبتی (relative) بنا دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ بحث ایک حساس اور متنازع موضوع بن گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہ میدان ہمیں اس سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا اخلاقیات فطرت پر منحصر ہے یا نہیں۔ اگر اخلاقیات ارتقائی عوامل پر موقوف ہے، تو لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات کسی نہ کسی درجے میں عالمِ طبیعی (natural world) پر علّی (causal) طور پر منحصر ہے۔ قبل ازیں جس معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا ذکر ہوا، اس کا تعلق بھی اسی دائرہ بحث سے ہے۔
اس باب میں ان تینوں مباحث سے متعلق تصورات مختلف مقامات پر سامنے آتے رہیں گے۔ سہولت کے لیے قاری کو صرف یہ امتیازات ذہن میں رکھنے چاہییں:
- چیزیں فی الواقع کیسی ہیں، یعنی توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE)؛
- چیزیں کیسی ہونی چاہییں،یعنی معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE)؛ اور
- ہمارے اخلاقی شعور کی بنیاد کیا ہے، یعنی ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM)۔
ارتقا اور اخلاقیات
نظریہ ارتقا اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کے دو بنیادی پہلو ہیں: ایک سائنسی جہت اور دوسری فلسفیانہ تعبیر۔ ہم اپنی بحث کا آغاز اس سوال سے کریں گے کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔
ارتقائی اخلاقیات کی سائنسی جہت
ارتقائی تناظر میں اخلاقیات کے تجربی مطالعے نے بعض نہایت دلچسپ نتائج پیش کیے ہیں۔ جیسا کہ باب اول میں بیان ہوا، نظریہ ارتقا بنیادی طور پر جینز (genes) کے تحفظ سے متعلق ہے۔ یہ ایک طرح کی خود غرض محرک قوت (selfish driving force) ہے، یعنی جین کے فعلی (functional) نقطہ نظر سے، نہ کہ اس معنی میں کہ جینز کے اندر واقعی کوئی نیت یا ارادہ پایا جاتا ہے۔ نظری طور پر اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم حیاتیاتی دنیا کے ہر گوشے میں خالص خود غرض رویّوں (egoistic behaviours) کا غلبہ دیکھتے۔ تاہم، مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ انسانوں میں (اکثر مواقع پر) باہمی تعاون کے رویّوں کے علاوہ ہم حیوانات میں بھی اشتراک اور تعاون کے مظاہر دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہد کی مکھیوں کو لیجیے۔ جب کوئی شکاری چھتے پر حملہ کرتا ہے تو مکھیاں اس پر ڈنک مارتی ہیں، مگر اس عمل کی قیمت اپنی جان کی صورت میں چکاتی ہیں، یعنی ڈنک مارنے کے بعد مکھی مر جاتی ہے (James 2011, 27)۔ یہ رویہ بظاہر ایثار سے مشابہ ہے، یعنی دوسروں کے لیے اپنی جان قربان کرنا، جو ہمارے فہمِ اخلاق میں ایک قابلِ قدر صفت سمجھی جاتی ہے (کم از کم بادی النظر میں)۔
حیوانی دنیا میں اس نوعیت کی مزید مثالیں بھی ملتی ہیں، مگر فی الحال یہی مثال کافی ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ایک ایسے ارتقائی نظام کے اندر، جہاں خود غرضی کو غالب ہونا چاہیے تھا، وہاں حیوانات میں ایثار اور تعاون جیسے رویّوں کا پیدا ہونا بظاہر تعجب خیز معلوم ہوتا ہے، کم از کم ابتدائی نظر میں۔ تاہم سائنس دانوں نے اس امر کی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب کیسے شروع ہوا۔ چونکہ نظریہ ارتقا بنیادی طور پر جینز (genes) کے گرد گھومنے والا بیانیہ ہے، اس لیے یہ بعید از قیاس نہیں کہ بعض سائنس دانوں نے اخلاقیات کی جڑ بھی جینز ہی کو قرار دیا ہے ((Wilson 1995; Dawkins 2006)۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ توضیح کس طرح پیش کی جاتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اخلاقیات کا آغاز انواع کے اندر اور ان کے مابین کسی نہ کسی نوع کی تدریجی تعاون پر مبنی حکمتِ عملیوں سے ہوا۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جینز خود "باشعور" ہستیاں نہیں ہیں تو پھر جینز سے تعاون تک کا سفر کیسے طے ہوتا ہے؟
اس کی وضاحت کے لیے باب اول میں بیان کردہ اس فرق کو یاد رکھنا مفید ہوگا جو ایک فرد کے جینیاتی سانچے (genotype) اور خود اس فرد کی ظاہری و فعلی صورت (phenotype) کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جین کے نقطہ نظر سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ تولیدی تسلسل کے ذریعے اگلی نسل تک منتقل ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہمیت فرد کی بقا کو نہیں، بلکہ ان بنیادی جینز کو حاصل ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔
چونکہ یہ جینز نہ صرف فرد میں بلکہ اس کے خاندانی افراد میں بھی موجود ہوتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ اہم نہیں رہتا کہ کون سا فرد باقی رہتا ہے، جب تک کہ خاندانی دائرے میں جینز کی بقا برقرار رہے۔ اسی تناظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ فرد اپنے خاندانی افراد کو پہچانے اور ان کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ جینز کی بقا افراد کی انفرادی بقا سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ اسی طرزِ عمل کی توضیح کے لیے ایک سادہ قاعدہ بھی پیش کیا گیا ہے جسے ولیم ڈی ہیملٹن کا"ہیملٹن اصول" کہا جاتا ہے (Hamilton 1964)۔
C < R × B
یہ مساوات بظاہر نہایت سادہ ہے۔ یہاں C اس عمل کی لاگت (cost) کو ظاہر کرتا ہے جو کسی قریبی فرد کے لیے انجام دیا جاتا ہے، R سے مراد فریقین کے درمیان جینیاتی قرابت ہے (مثلاً والدین کے لیے 0.5، دادا/نواسا کے لیے 0.25 وغیرہ)، جبکہ B اس (حیاتیاتی) فائدے کی نمائندگی کرتا ہے جو اس عمل کے نتیجے میں وصول کنندہ کو حاصل ہوتا ہے۔ اس اصول کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک جینیاتی قرابت (R) اور فائدہ (B) کا حاصل ضرب اس عمل کی لاگت (C) سے زیادہ ہو، تب تک یہ عمل تولیدی کامیابی کے اعتبار سے سودمند شمار ہوگا۔ اسی نوع کے تعاون کو شمولی فٹنس (inclusive fitness) یا قرابتی انتخاب (kin selection) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر ہم شہد کی مکھی کی مثال کی طرف رجوع کریں تو اس کی وضاحت اب ارتقائی تناظر میں زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ جب مکھی کسی شکاری کو ڈنک مارتی ہے اور اس کے نتیجے میں خود ہلاک ہو جاتی ہے، تو یہ ظاہری نقصان فیصلہ کن نہیں رہتا، کیونکہ اس کا یہ عمل اس کے خاندان کے جینیاتی ذخیرے (gene pool) کے تحفظ میں معاون ہوتا ہے۔ یوں مرنے والی مکھی اپنے خاندان کے دیگر افراد میں موجود جینز کے لیے بقا کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ تاہم ایک اہم سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ وہ تعاون جو خاندانی دائرے سے باہر ظاہر ہوتا ہے، اس کی توجیہ نظریہ ارتقا کس طرح پیش کرتا ہے؟
غیر خاندانی افراد کے مابین تعاون کی وضاحت کو عموماً باہمی تعاون (reciprocity) یا باہمی ایثار (reciprocal altruism) کہا جاتا ہے (Trivers 1971; Trivers 2002)۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ ایک طرح کی لے دے (tit-for-tat) کی دنیا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے کچھ کریں گے تو وہ بھی کسی موقع پر آپ کے لیے کچھ کرے گا۔
یہ اصول بنیادی طور پر قرابتی انتخاب ہی کی توسیع ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں جاندار محض اپنے جینیاتی رشتہ داروں ہی کی نہیں بلکہ غیر خاندانی افراد، حتیٰ کہ بعض اوقات دوسری انواع کے افراد کی بھی مدد کرتا ہے۔ اس صورت میں براہِ راست جینیاتی فائدے کے بجائے یہ باہمی تعاون بالواسطہ طور پر بقا میں مدد دیتا ہے، مثلاً خوراک، پناہ گاہ اور دیگر وسائل کے حصول کے ذریعے۔ اس طرزِ عمل میں یہ توقع شامل ہوتی ہے کہ ایک وقت میں وسائل کی صورت میں اٹھایا گیا خرچ مستقبل میں کسی نہ کسی مرحلے پر واپس مل جائے گا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ویمپائر چمگادڑیں (vampire bats) ہیں۔ انہیں دو سے تین دن کے اندر خوراک حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ ہلاک ہو سکتی ہیں۔ چونکہ یہ خون پر گزارہ کرتی ہیں اور بغیر خوراک کے ان کی بقا کا عرصہ محدود ہوتا ہے، اس لیے مشاہدہ کیا گیا ہے کہ یہ چمگادڑیں غیر خاندانی افراد کے ساتھ بھی اُگلا ہوا خون (regurgitated blood) بانٹتی ہیں (James 2011, 41; Carter and Wilkinson 2013)۔ یہ طرزِ عمل بقا کے ایک مؤثر نظام کے طور پر سامنے آتا ہے، خصوصاً اس وقت جب قریبی رشتہ داروں کے مقابلے میں غیر خاندانی افراد کی تعداد زیادہ ہو۔ اس نوع کے تبادلے دیگر کئی سیاق و سباق میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جو غیر قرابتی افراد کے درمیان تعاون کے لیے ایک تجربی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یقیناً اس طرزِ تعاون کی اپنی حدود ہیں۔ باہمی تعاون (reciprocity) کو ایک مؤثر بقا کے طریقہ کار کے طور پر کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے تعاملات کثرت سے وقوع پذیر ہوں اور ان میں کسی نہ کسی درجے کا ایسا نظام موجود ہو جو دھوکہ دینے والوں کو چھانٹ کر باہر کر دے (James 2011, 66–86)۔ تعامل کی تکرار اس لیے اہم ہے کہ ایک یا دو مرتبہ کا تبادلہ طویل المدت فائدے کی بنیاد فراہم نہیں کرتا، جب کہ مسلسل روابط پائیدار تعاون کو جنم دیتے ہیں۔
جہاں تک دھوکہ دہی کا تعلق ہے، اسے سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ویمپائر چمگادڑوں ہی کو لیجیے: اگر کوئی چمگادڑ بار بار دوسروں سے خون حاصل کرتی رہے لیکن خود کبھی کسی کو واپس نہ دے، تو بظاہر اسے بغیر کسی لاگت کے فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ تاہم، گروہ کے دیگر افراد بالآخر اس بات کو سمجھ لیں گے کہ اس کے ساتھ تبادلہ کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ رہا۔ یہ ادراک رفتہ رفتہ اس بات کا باعث بنے گا کہ ایسی چمگادڑ کو آئندہ کسی تبادلے سے خارج کر دیا جائے، جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بالآخر ہلاک ہو جائے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ باہمی تعاون غیر قرابتی تعاون کی ایک معقول توضیح فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ تعامل کی تکرار اور دھوکہ دہی کی روک تھام کا نظام برقرار رہے۔
قرابتی انتخاب اور باہمی تعاون، یہ دونوں نظریات دراصل حیاتیاتی ایثار (biological altruism) کی مثالیں ہیں۔ یہ اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ حیاتیاتی نقطہ نظر سے ایثار کس طرح اور کن اسباب کی بنا پر پیدا ہوتا ہے، جہاں بنیادی محرک ارتقائی فٹنس ہوتا ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ نظریات اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ تعاون کا آغاز کیسے ہوا، ایک اہم سوال بدستور باقی رہتا ہے: کیا یہ واقعی اخلاقی رویّے ہیں؟ بالخصوص، کیا انہیں حقیقی معنوں میں ایثار کہا جا سکتا ہے؟
ویمپائر چمگادڑ کی مثال کو دوبارہ دیکھیے۔ اگر ایک چمگادڑ اس امید پر خون فراہم کرتی ہے کہ مستقبل میں اسے بھی مدد ملے گی، تو کیا اسے واقعی ایثار کہا جا سکتا ہے؟ بظاہر ایسا نہیں، کیونکہ کسی فعل کا محض ظاہری طور پر مددگار ہونا اسے اخلاقی فعل ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مثال کے طور پر ایک چور وقتی طور پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر اس کا مقصد آخرکار اپنے شکار کو قیمتی شے سے محروم کرنا ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظاہری اچھا رویہ لازماً اخلاقی فعل کی ضمانت نہیں دیتا۔
یہ بحث ہمیں اس قدیم سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ اخلاقی فعل ہے کیا؟ فلاسفہ اور متکلمین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دیا ہے، مثلاً فضیلت پر مبنی اخلاقیات یا قطعی اصولی احکام وغیرہ، اور ارتقائی تناظر میں بھی اس پر بحث ہوئی ہے، مثلاً (Clark 2014)۔ یہاں اس پیچیدہ اور دل چسپ میدان کی تفصیل میں جانا مقصود نہیں۔
اس باب کے لیے اتنا واضح کرنا کافی ہے کہ حیاتیاتی ایثار کو عموماً نفسیاتی ایثار (psychological altruism) کے مقابلے میں رکھا جاتا ہے۔ نفسیاتی ایثار سے مراد وہ طرزِ عمل ہے جس میں کسی دوسرے کی مدد خالصتاً اس نیت سے کی جائے کہ اسے فائدہ پہنچے، بغیر کسی ذاتی منفعت کی توقع کے۔ دوسرے لفظوں میں، حقیقی ایثار ایک شعوری فیصلہ ہے جس میں انسان اپنے نقصان پر بھی دوسرے کی مدد کرتا ہے، بغیر کسی بدلے کی امید کے۔
اس تعریف کی روشنی میں نہ تو قرابتی انتخاب اور نہ ہی باہمی تعاون مکمل طور پر حقیقی ایثار کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حیوانات کی ایک بڑی تعداد درحقیقت ایثار پر مبنی اخلاقی رویّوں کی حامل نہیں (Okasha 2020):
اگر "حقیقی" ایثار سے مراد ایسا ایثار لیا جائے جو شعوری نیت کے ساتھ دوسروں کی مدد کے لیے انجام دیا جائے، تو پھر بیشتر جاندار نہ تو "حقیقی" ایثار کے قابل ہیں اور نہ ہی "حقیقی" خود غرضی کے۔ مثال کے طور پر چیونٹیاں اور دیمک غالباً شعوری ارادوں کی حامل نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کا رویّہ نہ تو اس نیت سے انجام دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی منفعت کو فروغ دیں اور نہ ہی اس ارادے سے کہ دوسروں کے مفاد کو بڑھائیں۔ اس بنا پر یہ دعویٰ کہ اوپر بیان کردہ ارتقائی نظریات یہ ثابت کرتے ہیں کہ فطرت میں موجود ایثار محض ظاہری ہے، زیادہ معنی خیز نہیں رہتا۔ "حقیقی" ایثار اور محض ظاہری ایثار کے درمیان جو فرق قائم کیا جاتا ہے، وہ بیشتر حیوانی انواع پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔
اس عدمِ مطابقت کے پیشِ نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی ایثار (psychological altruism) کی توضیح کس طرح کی جائے؟ مزید اہم یہ کہ انسان نے بالآخر اخلاقی شعور یا صلاحیت کیسے حاصل کی؟ یہیں سے قیاسی توضیحات کا آغاز ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا، قرابتی انتخاب اور باہمی تعاون کے تحت انواع اس لیے تعاون کرتی ہیں کہ ان کے اندر جینز کے تحفظ کے لیے ایک غیر تنقیدی رویّاتی محرک کارفرما ہوتا ہے۔ یوں یہ معاملہ اس بات سے متعلق نہیں کہ وہ اپنے عمل کو "درست" سمجھتی ہیں، بلکہ محض اس لیے کہ ایسا رویّہ ان کی بقا میں مدد دیتا ہے، خواہ انہیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ تاہم، اس نوع کی ابتدائی بنیادوں کے باوجود یہ امکان باقی رہتا ہے کہ بعض افراد خود غرضی اختیار کرتے ہوئے گروہ کے فوائد سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کسی مرحلے پر ایسا کچھ ضرور ہوا جس نے افراد، خصوصاً انسان کے ابتدائی، نسبتاً زیادہ ادراکی صلاحیت رکھنے والے اسلاف کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ شعوری اور سنجیدہ انداز میں یہ سوچیں کہ اگر کوئی عمل باہمی تعاون کے نظام کے خلاف ہو تو وہ "غلط" ہے۔
ایسا ایک داخلی تناؤ پیدا ہوا ہوگا جو فرد کو حدود کی خلاف ورزی اور اس کے ممکنہ نتائج، مثلاً گروہ سے اخراج کا شعور دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اخلاقیات نے گروہی اصولوں اور روایات کے ساتھ وابستگی کو زیادہ مضبوط بنانے کا کام کیا۔ یوں ارتقائی سفر کے کسی مرحلے پر سماجی و اخلاقی دباؤ اور اصول ایک منظم اخلاقی ڈھانچے کی صورت میں نمودار ہوئے، شاید ایک ارتقائی تطبیق کے طور پر، جس نے باہمی تعاون پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ جیسا کہ جیمز (2011, 59) کے الفاظ میں: "تعاون محض ایک پسندیدہ چیز نہیں، بلکہ یہ ایسی شے ہے جسے ہم لازمی سمجھتے ہیں۔"
فطری اخلاقیات
اس مقام پر فطری اخلاقیات (moral nativism/innatism) کی بحث متعارف کرانا مناسب ہوگا۔ اس سے مراد یہ نظریہ ہے کہ انسان بعض اخلاقی صلاحیتوں، تصورات یا اصولوں کے ساتھ فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ یقیناً یہ سوال کہ آیا انسان کے اندر اس نوع کے بنیادی عناصر موجود ہیں یا نہیں، نظریہ ارتقا سے بہت پہلے سے زیرِ بحث رہا ہے (Samet and Zaitchik 2017; Samet 2019)۔ تاہم، نظریہ ارتقا اس بحث کو ایک نیا تناظر فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم بحیثیتِ انسان ارتقائی عمل کی پیداوار ہیں، تو لازماً ہماری ادراکی ساختیں بھی کسی نہ کسی درجے میں اسی عمل کے زیرِ اثر تشکیل پائی ہوں گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اخلاقی ادراک کی کوئی منظم توضیح اس انداز میں پیش کر سکتے ہیں جسے ارتقائی تناظر میں شناخت اور مزید ترقی دی جا سکے؟
اس سوال کے جواب میں صلاحیتی فطریت (capacity nativism) اور مضمونی فطریت (content nativism) کے درمیان امتیاز مفید ثابت ہوتا ہے (Sripada 2008a, 321; Sripada 2008b, 362–363)۔
صلاحیتی فطریت سے مراد یہ تصور ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی فطری ادراکی ساخت موجود ہوتی ہے جو اسے اخلاقی فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کسی اخلاقی حکم تک پہنچنے کے لیے فرد کو چند مراحل سے گزرنا پڑتا ہے: وہ کسی عمل کو دیکھتا ہے، یہ تعین کرتا ہے کہ یہ کسی ارادی فاعل کا عمل ہے نہ کہ کسی بے جان شے کا، جیسے درختوں کا ہوا میں ہلنا، پھر فرد اس کا اخلاقی جائزہ لیتا ہے۔ چنانچہ کسی اخلاقی اصول کے اختیار اور اطلاق سے پہلے یہ ضروری ہے کہ فرد کے پاس اعمال، رویّوں اور اپنے اندر کے ارادہ کو پہچاننے اور سمجھنے کی بنیادی صلاحیت موجود ہو۔ ان پیشگی شرائط کے بغیر کوئی بھی اخلاقی قدر بندی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس، مضمونی فطریت وہ موقف ہے جس کے مطابق بعض اخلاقی اصول، مثلاً ممانعت اور اجازت، جیسے "قتل غلط ہے" یا "ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے"، انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔
اگرچہ صلاحیتی فطریت کے پسِ پشت کارفرما میکانزم اور ارتقائی عمل کی تفصیلات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں (Dwyer 2008; Harman 2008; Prinz 2008; Tiberius 2008), Sripada (2008b, 363)) کے مطابق اخلاقی شعور رکھنے والے انسان کے لیے اس کی اہمیت اور ناگزیریت پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مضمونی فطریت (content nativism) کے بارے میں مفکرین کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے (Mikhail 2008; Prinz 2008; Sripada 2008b)۔ اس بنیادی اختلاف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے آفاقی اخلاقی اصولوں کے حق میں ٹھوس تجربی شواہد دستیاب نہیں جو زمان و مکان کی تمام تہذیبوں میں یکساں طور پر پائے جائیں۔
مثال کے طور پر "اصولِ ضرر" کو دیکھ لیں، جس کے مطابق دوسروں کو نقصان پہنچانا غلط ہے، اور جسے عموماً ایک آفاقی اخلاقی اصول سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بعض مفکرین اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تاریخی اور عالمی تناظر میں "نقصان" کی نوعیت، اس کی حدود اور اس کے درجات میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ پرنز (2008, 373) لکھتے ہیں:
کیا ضرر کے خلاف کوئی آفاقی ممانعت موجود ہے؟ اس کے شواہد نہایت کمزور ہیں۔ تشدد، جنگ، گھریلو بدسلوکی، جسمانی سزا، جارحانہ کھیل، تکلیف دہ رسومِ ابتداء، اور لڑائی جھگڑا، یہ سب عام ہیں۔ جس طرح ضرر کی ممانعت پائی جاتی ہے، اسی طرح اس کی برداشت بھی عام ہے۔ مزید برآں، اس امر میں ثقافتی تنوع بہت وسیع ہے کہ کس کو اور کن حالات میں نقصان پہنچانا جائز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اپنے جغرافیائی دائرے کے اندر بھی مختلف ذیلی ثقافتیں اس بات پر اختلاف رکھتی ہیں کہ آیا سزائے موت، بچوں کی پٹائی، یا پُرتشدد کھیل جائز ہیں یا نہیں۔ عالمی سطح پر اس حوالے سے ہر انتہا کی مثالیں ملتی ہیں۔
اگر "اصولِ ضرر" جیسے ایک بنیادی تصور کے اطلاق اور اس کے دائرہ کار بارے اس قدر وسیع تنوع اور اختلاف پایا جاتا ہے، تو اس کی توجیہ کیسے کی جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مضمونی فطریت کے ناقدین سامنے آتے ہیں۔ ان کے نزدیک اخلاقی اصولوں کو انسان کی فطرت میں جینیاتی طور پر پیوست ماننے کے بجائے انہیں خارجی عوامل، خصوصاً سماجی اداروں کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ "اصولِ ضرر" جیسے تصورات کو سماجی استحکام کے لیے وضع کیے گئے ثقافتی معیارات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو بسا اوقات "اخلاقی احساسات سے براہِ راست تقویت نہیں پاتے (Prinz 2008, 375)۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض اخلاقی اصولوں کا اختیار محض یا براہِ راست جینیاتی محرکات کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ جزوی یا کلی طور پر غیر جینیاتی ذرائع، مثلاً ادارہ جاتی ثقافتوں سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔
اب تک کی گئی بحث کو احتیاط اور تنقیدی نگاہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے، کیونکہ ارتقائی نفسیات اور اس سے متعلق شعبہ یعنی مذہب کی ادراکی سائنس، ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اس بنا پر بعض اوقات ایسے دعوے سامنے آ جاتے ہیں جو نہ صرف دستیاب شواہد سے آگے بڑھ جاتے ہیں بلکہ خود ان علوم کی حدود سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ فلاسفہ، متکلمین اور سائنس دانوں کے درمیان اس بات پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ارتقائی نفسیات واقعی سائنسی طور پر قابلِ اعتماد بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں، اور اگر رکھتی ہے تو کس حد تک(Rose and Rose 2000; Scher and Rauscher 2003; Smith 2020)۔ تاہم، ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود، یہ مباحث ہمیں کم از کم ایک فکری سمت ضرور فراہم کرتے ہیں، جس کی مدد سے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ اخلاقیات کو ارتقائی تناظر میں کس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ارتقا، معیاریّت اور اخلاقی حقیقت پسندی
گزشتہ حصے میں ہم نے ایک ممکنہ منظرنامے کا جائزہ لیا تھا جس کے تحت تاریخِ حیات میں اخلاقی شعور کے ابھرنے کی توضیح کی جا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہاں ہماری بحث توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) کے دائرے میں تھی۔ تاہم ارتقائی اخلاقیات کی بحث یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بعض مفکرین نے ارتقائی بیانیے کو اختیار کرتے ہوئے یہ کوشش بھی کی ہے کہ اس کی مدد سے سماجی اور سیاسی پروگراموں کے جواز کو واضح کیا جائے، یعنی معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) کے دائرے میں استدلال پیش کیا جائے۔ اس کی معروف مثال ہربرٹ اسپینسر کی ہے، جو بیسویں صدی کے اوائل میں سوشل ڈارونزم (Social Darwinism) کے فروغ میں ایک اہم کردار کے حامل تھے (Peters and Hewlett 2003, 52–55; Ruse 2008, 203–204)۔ انہوں نے “survival of the fittest” (اصلح کی بقا) کی اصطلاح وضع کی تاکہ ارتقا کے جوہر کو بیان کیا جا سکے، اور پھر انہی اصولوں کو سماجی حرکیات پر منطبق کیا (Ruse 2008, 110; James 2011, 118–119)۔ اسپینسر کے نزدیک کمزور افراد کو ختم ہو جانے دینا چاہیے تاکہ زیادہ مضبوط اور ترقی یافتہ افراد کو پنپنے کا موقع ملے۔ چنانچہ ان کے خیال میں کسی معاشرے کو چاہیے کہ وہ اپنے کمزور افراد، مثلاً خصوصی ضروریات کے حامل افراد یا عمر رسیدہ خاندان کے افراد کو فطری طور پر ختم ہو جانے دے، تاکہ مضبوط افراد کی ترقی کی راہ ہموار ہو:
یہ لوگ اگرچہ نیک نیت ہیں مگر گہری سوچ سے عاری ہیں جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ فطرت کے نظام کے تحت معاشرہ خودبخود اپنے کمزور، ناسمجھ، سست اور غیر قابلِ اعتماد افراد کو بتدریج باہر کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ایسی مداخلت کی حمایت کرتے ہیں جو نہ صرف اس فطری تطہیری عمل کو روک دیتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ میں مزید اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ یہ مداخلت ایک طرف لاپرواہ اور نااہل افراد کو مستقل سہارا دے کر ان کی افزائش کو فروغ دیتی ہے، اور دوسری طرف اہل اور دور اندیش افراد کے لیے خاندان کی کفالت کو زیادہ مشکل بنا کر ان کی افزائش کی حوصلہ شکنی کرتی ہے (Spencer 1851, 151)۔
دوسرے لفظوں میں اسپینسر کے نزدیک مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ فطرت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے، جہاں بالآخر زیادہ موافق اور مضبوط افراد ہی باقی رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔ تاہم اس نوع کا بیانیہ عملاً یوجینکس (Eugenics)، نسل پرستی اور نوآبادیاتی نظریات جیسے مسئلہ خیز رجحانات کے جواز کے لیے استعمال ہوا (Peters and Hewlett 2003, 55–58)۔ اس کے برعکس، بعض مفکرین جیسے جولیان ہکسلے نے اس بات سے اختلاف کیا کہ نظریہ ارتقا سے یہی اخلاقی نتیجہ اخذ کیا جائے۔ ان کے نزدیک اگرچہ انسان ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے، لیکن وہ اپنے فطری محرکات سے بالاتر ہو کر اخلاقی فیصلے کر سکتا ہے (Huxley 2009)۔ ان کے الفاظ میں "فطرت میں مجھے کسی اخلاقی مقصد کا سراغ نہیں ملتا؛ یہ محض انسانی تخلیق ہے اور قابلِ قدر تخلیق ہے۔"
مزید برآں، سنہری اصول کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، کمزور طبقات کو نظر انداز کرنے کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی دلیل فراہم کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر بیماروں، محتاجوں اور عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کو ایک لازمی اخلاقی ذمہ داری قرار دیا جاتا ہے (Mizzoni 2009; Beck 2017)۔ حتیٰ کہ ڈارون خود بھی اس موقف کے حامی تھے، وہ لکھتے ہیں:
اخلاقی حس شاید انسان اور ادنیٰ حیوانات کے درمیان سب سے نمایاں اور اعلیٰ امتیاز فراہم کرتی ہے؛ تاہم اس موضوع پر مزید کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں حال ہی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کر چکا ہوں کہ سماجی جبلّتیں جو انسان کی اخلاقی ساخت کا بنیادی اصول ہیں، فعال عقلی صلاحیتوں اور عادت کے اثرات کے ساتھ مل کر فطری طور پر اس سنہری اصول تک پہنچاتی ہیں:'جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں، ویسا ہی تم بھی ان کے ساتھ کرو' اور یہی اصول اخلاقیات کی بنیاد ہے (2009, 106)۔
مذکورہ بالا وجدانی اخلاقی تناؤ کے علاوہ ارتقا کو اخلاقیات کے میدان میں منطبق کرنے سے متعلق دو بنیادی فلسفیانہ مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ ان میں پہلا ڈیوڈ ہیوم (2007) کا معروف “is–ought gap” ہے۔ ہیوم کے مطابق ہم محض اس بنیاد پر کہ ہم کسی شے کا مشاہدہ کرتے ہیں (یعنی"ہے" (is) کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، یعنی "چاہیے" (ought)((the is; James 2011, 132–142)۔ مثال کے طور پر ایک جین، ایک فوسل، بندروں کا ایک گروہ اور ایک ابتدائی انسانی معاشرہ لیجیے، اور فرض کیجیے کہ آپ بطور سائنس دان ان سب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہیوم کے نزدیک آپ جتنا بھی ان کا مشاہدہ کریں، ان سے کوئی اخلاقی حکم یا اصول اخذ نہیں کر سکتے۔ جینز اور فوسلز اپنے ساتھ کوئی اخلاقی ہدایات نہیں لاتے، اور نہ ہی محض دور سے حیوانات یا انسانی معاشروں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
ایسے مطالعے سے زیادہ سے زیادہ جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ ایک توصیفی بیان ہے۔ چنانچہ بظاہر فطری دنیا اور اخلاقی دنیا دو مختلف نوعیت کے دائروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہیوم کے مطابق یہ مفروضہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی سیدھا اور لازماً اخذ کیا جا سکنے والا ربط موجود ہے، یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
اس سے قریب تر دوسرا مسئلہ جی ای مور کی معروف “naturalistic fallacy” ہے۔ اس مغالطے کے مطابق ہم "اچھا" اور "برا" جیسے اخلاقی تصورات کو فطری خصوصیات، مثلاً لذت یا تکلیف کے ساتھ خلط ملط نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ دونوں بنیادی طور پر مختلف نوعیت کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں(James 2011, 143–149)۔
اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے شطرنج کی مثال لیجیے۔ اس کھیل میں دونوں کھلاڑی اپنی چالوں کے ذریعے جیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا جو چال اس مقصد کو آگے بڑھائے، اسے "اچھی" چال کہا جائے گا۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہی چال اخلاقی اعتبار سے بھی "اچھی" ہے۔ شطرنج کی "اچھی چال" اور اخلاقی "اچھائی" دو بالکل مختلف معانی رکھتے ہیں، اس لیے ان کو ایک دوسرے کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح مور کے مطابق اخلاقی خصوصیات کو فطری خصوصیات کے ساتھ یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت ڈیوڈ ہیوم اور مور، دونوں کے مؤقف کی بنیاد یہی ہے کہ اخلاقیات کو نہ تو فطرت تک محدود کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے محض فطری اصطلاحات میں مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ماہرینِ اخلاق کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے کہ کس حد تک توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) سے معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) اخذ کی جا سکتی ہے (James 2011, 150–160)۔
اگرچہ سوشل ڈارونزم اب خاصی حد تک اپنی مقبولیت کھو چکا ہے، تاہم بعض مفکرین نے اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ نظریہ ارتقا کا اثر ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM) پر بھی پڑتا ہے۔ ارتقائی اخلاقیات کی بحث کو نئی زندگی اس وقت ملی جب ایڈورڈ اوسبورن ولسن نے 1975 میں اپنی معروف کتاب Sociobiology: The New Synthesis شائع کی۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:
حیاتیات کا ماہر، جو فعلیات (physiology) اور ارتقائی تاریخ کے سوالات سے سروکار رکھتا ہے، اس بات کا ادراک کرتا ہے کہ خود آگہی (self-knowledge) دراصل دماغ کے ہائپوتھیلمس (hypothalamus) اور لمبک نظام (limbic system) میں موجود جذباتی مراکز کے زیرِ اثر محدود اور متشکل ہوتی ہے۔ یہی مراکز ہماری شعوری دنیا کو مختلف جذبات، مثلاً نفرت، محبت، احساسِ جرم، خوف وغیرہ سے معمور کرتے ہیں، جن سے اخلاقی فلسفی "اچھائی" اور "برائی" کے معیارات اخذ کرنے کی کوشش میں رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد لازماً یہ سوال اٹھتا ہے کہ خود ہائپوتھیلمس اور لمبک نظام کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ طبیعی انتخاب (natural selection) کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے۔ یہ سادہ حیاتیاتی بیان ہمیں اس امر پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اخلاقیات اور اخلاقی فلسفے کی توضیح انہی بنیادوں پر، اور اس کی تمام گہرائیوں میں، تلاش کریں (Wilson 1975, 1)۔
ایڈورڈ اوسبورن ولسن اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ وہ سماجیات کی بنیاد کو حیاتیاتی اصطلاحات میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، فرد اور معاشرے کی اخلاقی ساخت کو ارتقائی عمل ہی میں پیوست سمجھنا چاہیے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ ارتقا نے ہمیں اخلاقی فیصلے کرنے کی ایک صلاحیت عطا کی ہے، لیکن یہ صلاحیتیں اور ان کے ساتھ وابستہ اخلاقی تصورات، درحقیقت تاریخی ارتقائی دباؤ کا محض نتیجہ (by-product) ہیں۔ چنانچہ اگر حیات کی کہانی کو دوبارہ چلایا جائے، اور انسان دوبارہ وجود میں آئے، تو بعید نہیں کہ وہ بالکل مختلف اخلاقی صلاحیتیں اور اچھائی و برائی کے مختلف تصورات اختیار کرے۔ اسی نوع کا استدلال مائیکل روس، شیرن اسٹریٹ، اور رچرڈ جوائس نے بھی پیش کیا ہے، اگرچہ تفصیلات میں کچھ اختلاف کے ساتھ۔
اس طرزِ استدلال کا نتیجہ نہایت واضح ہے: نظریہ ارتقا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معروضی اخلاقیات جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔ اس بنا پر ولسن، روس، اسٹریٹ اور جوائس کو اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کا قائل قرار دیا جاتا ہے۔ سوشل ڈارونزم کے ساتھ اس مؤقف کا فرق واضح ہونا چاہیے۔ مزید لکھتے ہیں:
روایتی سوشل ڈارونسٹوں کے برخلاف، معاصر ارتقائی ماہرین اخلاقی ارتقا کے بیانیے کو کسی اخلاقی نظام کے جواز کے لیے نہیں بلکہ اس کی نفی کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ یوں "نئی لہر" (new wave) کے ارتقائی ماہرین اخلاق نے سوشل ڈارونزم کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق انسانی ارتقا کی کہانی بالآخر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی معروضی اخلاقی فرائض سرے سے موجود ہی نہیں ہیں(James 2011, 159)۔
چنانچہ جہاں سوشل ڈارونزم نے ارتقا کو انسانی معاشروں کے بعض سماجی و سیاسی نظموں کے جواز کے لیے استعمال کیا، وہیں اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کے حامل مفکرین اسی ارتقائی بیانیے کو اخلاقیات کی پوری عمارت کو چیلنج کرنے کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ تاہم، اس موقف کو بغیر چیلنج کے قبول نہیں کیا گیا۔ ڈیوڈ ہیوم کا “is–ought” اشکال اور جی ای مور کا “naturalistic fallacy” اب بھی مابعد الاخلاقیات (EM) کی بحث میں اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں اس بنیادی سوال کو چیلنج کرتے ہیں کہ آیا اخلاقی حقائق کو فطری حقائق سے اخذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقی حقائق اپنی ایک مستقل خود مختاری (autonomy) رکھتے ہوں۔
اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ریاضی کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ریاضی کے بارے میں متعدد فلسفیانہ تعبیرات موجود ہیں (Horsten 2019)، جن میں ایک معروف موقف اوستین لینبو کے بیان کردہ ریاضیاتی افلاطونیت (mathematical platonism) کا ہے (Linnebo 2018)۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، چاہے کائنات موجود ہو یا نہ ہو، یا اس کی ترتیب ہماری موجودہ کائنات سے بالکل مختلف ہو، ریاضیاتی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر 1+1=2 ہر حال میں درست رہے گا، خواہ کائنات ہو یا نہ ہو، یا اس کی ساخت مختلف ہو۔
اگر یہ بات درست ہو تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ریاضی کو محض فطری دنیا تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ امکان بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اخلاقیات کو بھی فطرت تک محدود نہ کیا جا سکے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اخلاقی حقیقت پسندی کا تصور تاریخِ فلسفہ اور علمِ کلام میں ارتقا سے ہٹ کر بھی زیرِ بحث رہا ہے (Sayre-McCord 2020)۔ تاہم ارتقائی نظریے کے ممکنہ مابعد الطبیعیاتی مضمرات کے باعث اس بحث کو ایک نئے تناظر میں ازسرِ نو زندہ کر دیا گیا ہے۔
ہم یہاں ارتقائی اخلاقیات کے اس جائزے کو ختم کرتے ہیں۔ اس پوری بحث سے جو بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ارتقائی اخلاقیات کے دائرے میں مختلف اور باہم متنوع فکری رجحانات پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، ایک پہلو یہ ہے کہ نظریہ ارتقا اس امر کی کسی حد تک وضاحت فراہم کرتا ہے کہ اخلاقی شعور رکھنے والی ہستیاں کیسے وجود میں آئیں (توصیفی ارتقائی اخلاقیاتDEE)۔ دوسری طرف بعض مفکرین نے اسی ارتقائی بیانیے کو پورے کے پورے اخلاقی اور سیاسی نظاموں کے جواز کے لیے استعمال کیا، جیسا کہ سوشل ڈارونزم کی مثال میں دیکھا جا سکتا ہے) معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE۔ مزید برآں، بعض مفکرین، خصوصاً اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کے قائل، یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کو مکمل طور پر ارتقائی دباؤ کا تابع بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی اور نسبیت (EM) کا تصور سامنے آتا ہے۔
(جاری)
عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی
حضرت عمر بن خطابؓ
قتلِ خطا کا واقعہ اور قاتل کی ضمانت
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دربار لگا ہے، ایک شخص کو پکڑ کر لوگ لے آتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، کیا ماجرا ہے بھئی؟ اس نے کہا جی واقعی میں ان کے باپ کا قاتل ہوں، لیکن میں نے قصداً قتل نہیں کیا۔ ہوا یہ کہ میں ایک مسافر ہوں، جا رہا تھا، راستے کے اندر سبز چراگاہ تھی، میرا اونٹ بھوکا تھا، اس چراگاہ میں داخل ہو گیا۔ اس کے بوڑھے باپ نے پتھر اٹھایا اور میرے اونٹ کو مارا، اس کی آنکھ نکل گئی۔ مجھے بڑا غصہ آیا، میں نے وہی پتھر اٹھا کر اس کے باپ کو دے مارا، لیکن وہ ایسے ٹھکانے پہ لگا کہ اس کا باپ فوراً فوت ہو گیا۔ میرا قصد اور ارادہ نہیں تھا لیکن بہرحال میں اس بات کا اقراری ہوں کہ میں نے اس کے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ آپ جو حکم سنائیں، میں اس کو قبول کروں گا۔ لیکن میں ایک مہلت مانگتا ہوں کہ میرے دوست میرے بھائی کی کوئی رقم میرے ذمے ہے، میرے پاس اس نے امانت رکھی ہوئی ہے، اور وہ مجھے ہی پتہ ہے کہ میں نے کہاں چھپا کے رکھی ہوئی ہے۔ اگر آپ فیصلہ کر دیتے ہیں اور میری گردن کاٹ دی جاتی ہے تو وہ امانت جو میں نے رکھی ہوئی ہے سنبھال کر کے، میرے علاوہ کوئی جانتا بھی نہیں ہے، تو وہ اس تک کون پہنچائے گا۔ اگر آپ مجھے تین دن کی مہلت دے دیں تو میں جا کر اس کی امانت اس کو واپس کر کے پھر واپس آؤں گا۔ پھر یہ پھندا پھانسی کا میں اپنے گلے میں ڈلوانے کے لیے تیار ہوں گا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص تیری ضمانت دے دے تو ہم تجھے چھٹی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا، پورے مدینے میں اس کا کوئی شناسائی نہیں تھا، واقف ہی نہیں تھا، وہ ایک اجنبی شخص تھا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ کھڑے ہو گئے، کہا، حضرت عمرؓ! میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ ضمانت دے دی گئی۔ وہ چلا گیا۔
تیسرے دن وعدے کا جو وقت تھا، لوگ جمع ہو گئے، دربار لگ گیا، ابھی تک آنے والا نہیں آیا۔ لوگوں نے کہا، ابوذر! تو نے غلطی کی ہے، ایک اجنبی کی ضمانت دی، اور ابھی تک وہ نہیں آیا۔ اور میاں صاحبؒ فرماتے ہیں “اِک وار جو پھاہیوں اُڈ جاندے، اوہ فیر کدی نہیں پھسدے نے”۔ ظاہر ہے وہ چلا گیا، واپس تو نہیں پلٹ کے آئے گا، اسے پتہ ہے کہ آگے سیدھی سیدھی میری موت ہے۔ تو تم نے یہ کیا غلطی کی؟ خیر آپؓ نے فرمایا کہ اگر وہ نہ آیا تو یہ پھانسی کا پھندا میرے گلے میں ڈال دینا، لیکن بہرحال میں نے اس کی ضمانت دی ہے۔ کچھ عرصہ بیتا کہ دور سے گرد و غبار اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ جب صورت واضح ہوئی تو وہی شخص تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں کھڑا ہو کر کہنے لگا، حضرت! کسی وجہ سے تاخیر سے پہنچا ہوں، معذرت چاہتا ہوں، اب جو حکم ہے پورا کیجیے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پھانسی کے احکامات جاری کر چکے تھے۔ آپؓ نے فرمایا کہ ابوذرؓ! یہ بتا کہ تو نے اس کی ضمانت کیسے دی جب تو اسے جانتا نہیں تھا؟ تو سنو، حضرت ابوذر غفاریؓ نے کیا کہا۔ کہا، ایک اجنبی میرے محمدؐ کے مدینے میں پناہ مانگ رہا تھا اور اس نے چاروں سمت دیکھا اور کوئی شخص نہیں تھا جو اس کو امان دیتا اور اس کی ضمانت دیتا۔ تو میں نے اس لیے ضمانت دے دی کہ نہ بھی آیا تو اپنی جان چلی جائے گی، کل کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ محمدؐ کے مدینے میں کسی نے ضمانت مانگی تھی، پورے شہر میں کوئی ضمانت دینے والا نہیں تھا۔
اُس کو کہا کہ انہوں نے تو ضمانت دے دی، میاں، اب تو بتا کہ تو چلا گیا تھا، تجھے جانتا کوئی نہیں تھا، نہ پلٹ کے آتا تو تجھے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، تو نے یہ دوبارہ موت کے منہ میں کیوں اپنا سر رکھا ہے؟ تو اس نے کہا، میں نے کہا کہ ایک اجنبی کی ضمانت ایک ایسے شخص نے دی ہے جو مجھے جانتا بھی نہیں ہے۔ اور اگر میں نہ گیا تو لوگ قیامت تک اجنبیوں پر بھروسہ نہیں کریں گے کہ اجنبی یوں سلوک کیا کرتے ہیں۔
تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پھانسی کے احکام جاری کیے، تو جن کے باپ کو قتل کیا تھا وہ بیٹے کھڑے ہو گئے۔ کہنے لگے، تاریخ کی کالک ہم اپنے منہ پر ملیں گے؟ ہم بھی اپنے باپ کے قاتل کو معاف کر دیتے ہیں۔
قومِ رسولِ ہاشمیؐ اور اقوامِ مغرب
یہ ہماری تاریخ ہے، یہ ہماری کہانی ہے۔ لیکن آج ہم کس جگہ پہ کھڑے ہیں اور کیا ہماری صورتحال ہے، نہ ہمارا کردار رہا اور نہ کوئی ہمارا تشخص رہا۔ آج ہم نے اپنا تشخص بھی مٹا کے رکھ دیا، اپنی طرزِ زندگی بھی بدل دی، نہ ہماری باطن کی وہ روشنی رہی، نہ ظاہری وہ صورتیں رہیں کہ ہم پہچانے جائیں کہ حضورؐ کے غلام ہیں۔ بلکہ آج بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ اقبالؒ نے کیا کہا تھا ؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
حضرت عمرؓ نکلے یروشلم میں۔ ایک اونٹ ہے، ایک غلام ہے، کبھی وہ سوار ہوتا ہے کبھی آپؓ، باری مقرر کی ہے۔ جب قریب پہنچے یروشلم کے تو عمرؓ کی باری نکیل پکڑنے کی تھی اور غلام کی باری اوپر سوار ہونے کی آگئی۔ غلام نے کہا، آقا، میں مرضی سے اپنی باری چھوڑتا ہوں، آپ آجائیں، دشمنوں کے مفتوحہ علاقے میں آ رہے ہیں، تازہ تازہ علاقہ فتح ہوا ہے، اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہو۔ عمرؓ نے کہا، اسلام کی شان و شوکت ایسے ظاہر نہیں ہوتی ہے، اپنی باری پہ تم بیٹھو گے، اپنی باری پہ میں بیٹھوں گا۔
لوگ منتظر کھڑے ہیں، دور سے جب دیکھا تو کہا، اس کی ہیبت سے کانپتے تھے ہم! یہ تو کوئی حبشی لگتا ہے، رنگ کالا ہے، ہونٹ موٹے ہیں، اس سے تو زیادہ حسین اس کا غلام ہے جو آگے آگے چل رہا ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا، دھوکہ کھا رہے ہو، ہمارا آقا وہ نہیں ہے جو اونٹنی کے اوپر سوار ہے، ہمارا آقا وہ ہے جو لگام تھامے آگے آگے چل رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگے بڑھ کر، جابیہ کے مقام پہ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے استقبال کیا۔ تو حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آگے بڑھ کے حضرت ابو عبیدہؓ کے دونوں کندھوں پہ ہاتھ رکھا۔ اور سنو، حضرت عمرؓ نے کیا کہا۔ کہا:
لا الٰہ الا اللہ انا کنا اذل قوم فاعزنا اللہ بالاسلام۔
کہا کہ لا الٰہ الا اللہ، اے ابو عبیدہ بن الجراحؓ، ہم ایک ذلیل قوم تھے اور اللہ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے عزت عطا کی ہے۔ اور میں تمہیں ایک تاریخ ساز بات کہنے لگا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب تک ہم اس عزت والے اسلام کے دامن کو تھامے رہیں گے ہماری عزت قائم رہے گی۔ اور جب اسلام کے علاوہ کسی اور جگہ سے عزت ڈھونڈیں گے تو رسوا کر کے رکھ دیے جائیں گے۔ یہ ہے وہ خلاصہ جو حضرت عمرؓ نے امتوں کے عروج و زوال کا بیان کیا ہے۔ اس امت کو جو خیرات ملی ہے تخت و تاج کی، وہ پینٹاگون سے نہیں ملی، وہ واشنگٹن سے نہیں ملی، وہ وائیٹ ہاؤس سے نہیں ملی، وہ محمد عربیؐ کے جوڑوں کا صدقہ ملی ہے۔ اس لیے جب ہم نے اسلام سے انحراف کیا۔ پاکستان حاصل کیا گیا تھا:
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ۔
ہم نے اس نعرے کو ہی چھوڑ دیا ہوا ہے۔ ہم نے انحراف کر دیا ہے۔ آج ہماری نظریں مغرب کی طرف لگی ہیں کہ تخت و تاج اُس سے نصیب ہوتے ہیں۔ اور دنیا کے اوپر ہم رسوا ہو کہ رہ گئے ہیں۔ ہماری پستی، ہماری زبوں حالی، ہماری ذلت کا سبب یہ ہے کہ جس جگہ سے ہمیں عزت ملی تھی ہم نے وہ مرکز ہی چھوڑ دیا ہے۔ اس مرکزِ حیات کو، اس مرکزِ زندگی کو، اس مرکزِ عزت کو ہم نے چھوڑ دیا ہے اور دنیا کے اوپر ہم رسوا ہو رہے ہیں۔
اونٹوں کی قطار اور شرق و غرب کی حکمرانی
انہی حضرت عمرؓ کی کہانی ہے، وادی طحامہ سے گزر رہے تھے کہ بچوں کی طرح بلک بلک کے رونے لگے۔ کہا، عمر! جوان آدمی ہو اور بچوں کی طرح بلک کے رو رہے ہو؟ کہا، تم نہیں جانتے، مجھے بچپن کی کہانی یاد آگئی۔ کہا، کیا کہانی ہے؟ کہا، یہی ارضِ تہامہ تھی، میرے باپ خطاب نے مجھے پانچ اونٹ دیے تھے، کہا انہیں لائن میں کھڑا کرو سیدھا۔ میں آگے والا سیدھا کرتا تھا، پیچھے والا ٹیڑھا ہو جاتا۔ پیچھے والا سیدھا کرتا، آگے والا ٹیڑھا ہو جاتا۔ میرے باپ خطاب نے مجھے بڑا مارا۔ کہا، ایک عرب کے بیٹے ہو کر تم نے پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کہا، ایک زمانے عمر پہ وہ تھا کہ اس سے پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے تھے، اور آج شرق سے لے کر غرب تک تئیس لاکھ مربع میل کی حکمرانی اور انسان بھی لائن میں کھڑے ہیں۔ یہ محمد عربیؐ کے جوڑوں کا صدقہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ عمر سے تو پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے تھے۔
تو یہ عزتیں، یہ تخت و تاج، یہ حکومتیں ہمیں حضورؐ کی دہلیز سے ملی ہیں۔ جب ہم نے اس دہلیز کو چھوڑ دیا تو دنیا کے اوپر رسوا ہو گئے اور ذلیل کر کے رکھ دیے گئے۔ ہماری اخلاقی پستی اور زبوں حالی نے ہم کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ دامنِ رسالت مآبؐ کو چھوڑ دیا ہے، پھر رسوائیاں مقدر نہیں ہوں گی تو کیا ہوں گی؟ آئیے! ابھی بھی موقع ہے، توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ رب سے بھی معافی مانگ لیں، گنبدِ خضرا کے مکین کے حضورؐ بھی ہاتھ جوڑ کے کہیں:
چھوڑ کے آپؐ کا دامنِ رحمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
کھو دی اپنی قدر و قیمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
دیکھ ہماری آنکھ مچولی، اپنے سینے اپنی گولی
بھول گئے ہم درسِ اخوت، آقا ہم سے بھول ہوئی
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے ہیں، تیرے در پہ آئے ہوئے ہیں
کھول دے اپنا بابِ رحمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
قومی دولت کی پاسداری
عبد اللہ بن عمرؓ اور عبید اللہ بن عمرؓ بصرہ سے گزر رہے تھے ایک جنگ سے واپسی پر، تو حاکمِ بصرہ نے آپ کو کچھ پیسے دیے کہ یہ مالِ غنیمت میں جا کے جمع کروا دینا۔ اور پھر خود ہی مشورہ دیا کہ عراق کے اندر فلاں فلاں چیز بہت سستی مل جاتی ہے اور حجاز میں ان چیزوں کی قیمت زیادہ ہے۔ تو اگر آپ ایسا کر لیں کہ یہ ان پیسوں سے خرید لیں اور جا کر مدینۃ المنورہ میں فروخت کر دیں تو جو زائد پیسے آپ کمائیں گے وہ آپ کے ہوئے، اور یہی اشرفیاں جو میں نے دی ہیں آپ کو، اتنی اشرفیاں بیت المال میں جمع کروا دینا۔ تم نے محنت کی ہو گی، تجارت کی ہو گی تو جتنے بچیں گے تو وہ آپ کے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، بہت اچھا۔ وہاں سے مال خرید لیا، مدینۃ المنورہ میں آ کے بیچ دیا۔ جتنی اشرفیاں انہوں نے وہاں سے دی تھیں بیت المال کے لیے، اتنی بیت المال میں جمع کروا دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا، بیٹوں کو بلایا۔ کہا کہ سنا ہے تم نے کوئی کمائی کی ہے۔ کہا، جی ہم نے تو تجارت کی اور جو مال لیا تھا اتنا مال ہی بیت المال میں جمع کروایا ہے۔ کہا، تم نے بیت المال کے پیسوں پر کمائی کی ہے، وہ پیسے بھی تمہیں بیت المال میں جمع کروانے پڑیں گے۔ یہ عمر ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
مالِ غنیمت میں بہت ساری چادریں آتی ہیں جو سب کو تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ خطبہ جمعہ دینے کے لیے آئے تو ایک شخص کھڑا ہو گیا۔ عمر! خطبہ بعد میں سنیں گے، پہلے یہ بتائیں کہ یہ جو تم نے قمیص پہنی ہے، یہ کہاں سے آئی ہے؟ مالِ غنیمت کے اندر جو چادریں آئی ہیں، سب کے حصے میں ایک ایک چادر آئی ہے، آپ دراز قد ہیں، ایک چادر سے قمیص نہیں سل سکتی، تو آپ کی قمیص کہاں سے آئی؟ پہلے اس سوال کا جواب دے دیجیے، پھر خطبہ سنیں گے۔ اللہ اکبر۔ آپؓ کے بیٹے کھڑے ہوتے ہیں، کہا، ایک چادر سے میرے باپ کی قمیص نہیں بنتی تھی، میں نے اپنے حصے کی چادر بھی اپنے باپ کو پیش کی ہے۔ اس نے کہا، اب سناؤ اور ہم سنتے ہیں۔ یہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی ذاتی زندگی۔
رومی شہنشاہ کی بیوی سلام بھیجتی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ کو۔ تو وہ ایک دینار ادھار لے کر اس کا عطر خریدتی ہیں اور شیشیوں میں ڈال کر اُن کو بھیجتی ہیں، کہ چلو ایک رواداری کا اچھا ثبوت فراہم کیا جائے۔ تو وہ واپسی پر انہی شیشیوں کے اندر قیمتی موتی بھر کے بھیجتی ہیں، جواہرات بھر کر بھیجتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، لاؤ یہ سارے جواہرات، سب کو فروخت کرتے ہیں۔ ایک دینار اس کو دیتے ہیں، باقی بیت المال میں جمع کر دیتے ہیں۔
مسلم حکمرانوں کا اندازِ معاشرت
تو جب اپنی زندگی اتنی محتاط ہو گی، اتنی خوبصورت ہو گی، تو پھر کس طرح کوئی گورنر زیادتی کر سکتا ہے۔ تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا طرزِ زندگی اور اندازِ معاشرت اتنا سادہ اور اتنا خوبصورت رکھا کہ اس کے مطابق تمام گورنروں کو ڈھالنے کی تلقین کی۔ آپ جب بھی کسی شخص کا بطور گورنر تعین کرتے تو اس کو یہ نصیحتیں کرتے:
- ترکی گھوڑے پہ سوار نہیں ہوں گے،
- باریک کپڑا نہیں پہنیں گے،
- اَن چھنے آٹے کی روٹی کھائیں گے،
- مکان کا دروازہ نہیں لگائیں گے،
- کوئی حاجب نہیں رکھیں گے، چوکیدار نہیں رکھیں گے، بواب نہیں رکھیں گے، جو تمہارے تم پہنچنا چاہے ڈائریکٹ پہنچ جائے۔
اللہ اکبر۔ اور پھر جب کسی کو متعین کیا جاتا، اس کی جائیدادیں لکھ لی جاتی تھیں کہ اس کے پاس کتنی جائیداد ہے۔ وہ حساب اپنے پاس رکھتے۔ جب وہ معزول ہوتا یا اس کا وقت ختم ہوتا تو آپؓ دیکھتے کہ اب اس کے پاس جائیداد کتنی ہے۔ اگر وہ جو پہلے آپ نے اپنے پاس ریکارڈ رکھا ہوتا، اس سے جائیداد اس کی زیادہ ہوتی تو حضرت عمرؓ بقیہ جائیداد بیت المال میں جمع کرتے۔ اللہ اکبر۔ اور یہ کیسے تھا؟ گورنر بول نہیں سکتا تھا، اس لیے کہ حضرت عمرؓ کی اپنی بود و باش بھی اسی طرح کی تھی، اپنا طرزِ زندگی بھی اسی طرح کا تھا۔
عیاض بن غنمؓ کے بارے میں یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ موٹے کپڑے نہیں، باریک کپڑے پہنتا ہے۔ اس نے گھر کے دروازے پر بواب بھی رکھا ہوا ہے، چوکیدار بھی رکھا ہوا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد بن مسلمہؓ کو بھیجتے ہیں۔ محمد بن مسلمہؓ جاتے ہیں اور جا کے تحقیق کرتے ہیں تو ایسا ہی پاتے ہیں۔ تو ان کو وہیں گرفتار کر کے لے آتے ہیں۔ اور حضرت عمرؓ کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے۔ چھڑی اس کے ہاتھ میں دے کر فرماتے ہیں، جاؤ تم بکریاں چرایا کرو، تم گورنری کے لائق نہیں ہو۔ ایک گورنر کو بکریاں چرانے پہ لگا دیتے ہیں، اس لیے کہ تم نے ان اصولوں سے، ان ضابطوں سے انحراف کیا ہے، جو ایک سلطنت کے ذمہ دار کے لیے لازم اور ضروری ہیں۔ دورِ موجود کے حکمرانوں کو، چاہے وہ عرب کے حکمران ہوں، چاہے وہ عجم کے حکمران ہوں، اگر وہ اسلام کا نام لیتے ہیں تو انہیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہو گا کہ ہم کھڑے کہاں ہیں۔
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ
نظامِ حکومت میں اصلاحات
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جو کہ اُموی خاندان کے چشم و چراغ تھے لیکن ان کا مزاج سب سے ہٹ کے تھا، انوکھا اور نرالا تھا۔ سلیمانؒ نے ساری زندگی تخت و تاج کی بسر کرنے کے بعد سوچا کہ میں ان کو اپنا نائب بناؤں۔ تو خیر، جب ان کا انتقال ہوا تو لوگ دمشق کی جامع مسجد میں جمع ہوئے اور وصیت نامہ پڑھا گیا۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کھڑے ہوئے، فرمایا کہ لوگو! نہ تو میری منشا تھی کہ مجھے خلیفہ بنایا جائے اور نہ مجھے اس بات کا علم تھا۔ یہ میری منشا اور آپ لوگوں کی مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔ میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں۔ آپ جس کو چاہیں اپنا خلیفہ مقرر کر لیں۔ تو لوگوں نے کہا، آپ ہی ہمارے امیر ہیں، آپ ہی ہمارے خلیفہ ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ جب تک اللہ کی اطاعت کرتا رہوں، تب تک تمہارا خلیفہ رہوں گا۔
اور پھر آپ نے حکم نامہ جاری کیا کہ میری جتنی جائیداد ہے ساری بیت المال میں جمع کروائی جائے۔ اور جتنے بھی اُموی شہزادے تھے ان کی جائیدادیں، جو انہوں نے لوگوں کی ضبط کی ہوئی تھیں، سب کو بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ مسجد سے باہر نکلے تو آپ کے لیے شاہی سواری لائی گئی۔ فرمایا، میرا خچر کافی ہے میرے لیے۔
گھریلو زندگی میں انقلاب
گھر پہنچے، تو اپنی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک سے کہا، جو بادشاہ کی بیٹی ہے، بادشاہ کی پوتی ہے، اور چار بادشاہوں کی بہن ہے، ناز و نعم میں پلی ہوئی ہے، کہا کہ میرے ساتھ تم رہنا چاہو تو تمہیں اپنے سارے زیورات، زر و جواہر، سارا مال بیت المال میں جمع کروانا ہو گا اور فقیرانہ زندگی بسر کرنا ہو گی۔ اب اس پاکباز خاتون نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ میں فقیری کی زندگی کو ترجیح دیتی ہوں۔ اب حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے صرف دو سال پانچ ماہ اور کچھ دن حکومت کی، اور تین براعظموں پر سلطنتِ اسلامیہ پھیلی ہوئی تھی، اور آپ روتے تھے کہ ان لوگوں کا حق بھی میرے اوپر بلا مطالبہ ہے جو دنیا کے کسی خطے کے اوپر اِس سلطنت کی حدود میں بستے ہیں۔
عید کا موقع آیا، عیدگاہ میں جب لوگ ایک دوسرے کو مل رہے تھے تو امیر المومنین کے بیٹوں کے کپڑے خستہ تھے، پرانے تھے، پیوند لگے ہوئے تھے۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تمہیں شرم تو آ رہی ہو گی کہ امیر المومنین کے بیٹے ہو کر تمہیں ڈھنگ کا لباس بھی دستیاب نہیں ہے۔ تو آپ کا ایک بیٹا عبد الملک بن عمر بن عبد العزیزؒ، جو آپ کی زندگی میں انتقال کر گیا تھا، اس نے کہا، ہمیں اس بات پہ فخر ہے کہ ہمارے باپ نے خیانت نہیں کی ہے، ہمارا باپ دیانت دار ہے۔
جب گھر آتے ہیں تو آپ کی بیٹیاں آپ کو عید مبارک کہتی ہیں، آپ سے ملتی ہیں، لیکن منہ پہ کپڑا دھرا ہوا ہے۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ بولتے ہیں کہ بیٹی آپ نے چہرے کے اوپر کپڑا کیوں رکھا ہوا ہے؟ تو وہ کہتی ہے ہم نے کچے پیاز سے آج کھانا کھایا ہے تو اس لیے ہم نے کپڑا رکھا ہے کہ آپ کو اس کی بو محسوس نہ کریں۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ رو پڑتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کس باپ کا جی نہیں چاہتا کہ میری اولاد آسودہ ہو، لیکن میں آخرت سے ڈرتا ہوں۔
اصلاحات کے ثمرات و نتائج
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دو سال پانچ ماہ اور چند دنوں کے اندر ایسا عدل پھیلتا ہے کہ لوگ کہتے تھے ہمیں لگتا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ترازو گاڑ دیا گیا ہے، ہر شے پوری پوری تولی جا رہی ہے۔ اور اتنی خوشحالی آتی ہے، اتنی خوشحالی آتی ہے کہ لوگ زکوٰۃ کے پیسے لے کے نکلتے ہیں مگر کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا۔
ایک علاقے کے لوگ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو خط لکھتے ہیں کہ حضرت، زکوٰۃ کا کیا کریں؟ فرمایا، غریبوں کو دیں۔ کہا، کوئی غریب رہا ہی نہیں۔ کہا کہ اچھا، آپ اس طرح کریں کہ جن کی شادیاں نہیں ہوئیں، ان کا مہر ادا کر کے ان کی شادیاں کروا دیں۔ تو وہ جواب میں لکھتا ہے، یہ بھی ہو چکا ہے۔ تو کہا، لوگوں کو قرضہ دے دیں۔ کہا، کسی کو قرضے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو پھر فرماتے ہیں، اچھا، غیر مسلموں کو قرضہ دیں تاکہ وہ کھیتی باڑی کر کے زراعت کے کام کو بڑھائیں۔
یہ عمر بن عبد العزیزؒ کا دور ہے۔ عدل پھیلا، نور پھیلا، روشنی پھیلی۔ شہزادگی کی زندگی سے ایک دم اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے کُٹیا کے اندر محدود کر دیا۔ اللہ اکبر۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ مسلمانوں کے نامور خلیفہ ہیں اور ان کو ان کے عدل، ان کے انصاف، ان کی سادگی اور ان کی زندگی کے اس خوبصورت طرز کی وجہ سے عمرِ ثانی کہا جاتا ہے۔
https://youtu.be/sW8bGmKu9gk
اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ
محمد سراج اسرار
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
باب اول: شخصیت و کردار
نام و نسب
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اسلامی نام عبد اللہ، کنیت ابوبکر اور القاب صدیق اور عتیق تھے۔ والد کا نام عثمان (کنیت ابو قحافہ) اور والدہ کا نام سلمیٰ (کنیت ام الخیر) تھا۔ ان کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے تھا۔ عہدِ جاہلیت میں ان کا نام عبد الکعبہ تھا۔ روایت ہے کہ ان کے والدین کے لڑکے زندہ نہ رہتے تھے، چنانچہ انہوں نے نذر مانی کہ اگر لڑکا ہوا اور زندہ رہا تو اس کا نام عبد الکعبہ رکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا۔ آپ کے والد اور والدہ دونوں کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سلسلۂ نسب ساتویں پشت میں مل جاتا ہے، کیونکہ آپ کے والدین آپس میں عم زاد تھے۔ والد کی جانب سے: ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب۔ اور والدہ کی جانب سے: ام الخیر سلمی بنت صخر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب
کنیت و لقب
عربی میں ’’بکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ چونکہ آپ کو اونٹوں کی دیکھ بھال اور علاج میں خاص دلچسپی تھی، اس لیے لوگوں نے آپ کو ’’ابوبکر‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ نیز ’’ابو‘‘ کے معنی والا کے ہیں اور ’’بکر‘‘ کے معنی اولیت کے ہیں، یعنی اولیت والے۔ چونکہ آپ ایمان، ہجرت اور دیگر امور میں اول تھے، اس لیے آپ کو یہ کنیت دی گئی۔ واقعہ معراج کے بعد جب قریش نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکرؓ نے بلا تامل تصدیق کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس تصدیق کی وجہ سے انہیں ’’صدیق‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ بیشتر محدثین کے خیال میں ’’عتیق‘‘ (آزاد) آپ کا لقب تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ نے ابوبکرؓ کو آگ سے آزاد کر دیا ہے‘‘ چنانچہ اس کے بعد وہ عتیق کے لقب سے مشہور ہوئے۔
حلیہ مبارک
حضرت ابوبکر صدیقؓ موزوں قد کے دبلے پتلے آدمی تھے۔ ان کا رنگ گندمی تھا (گورے رنگ کی روایت بھی موجود ہے)۔ رخساروں پر کم گوشت تھا اور چہرے کی ہڈیاں نمایاں تھیں۔ پیشانی بلند اور کشادہ تھی جو عرق آلود رہتی تھی۔ آنکھیں اندر کی جانب گہری تھیں اور بال گھنگریالے تھے۔ ان کی انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت نہیں تھا، اور پنڈلیوں اور رانوں پر بھی بہت کم گوشت تھا۔ کمر میں ذرا خم تھا، یعنی قدرے جھک کر چلتے تھے۔ بالوں میں مہندی اور کسم/کثم کا خضاب لگاتے تھے۔ آواز پرسوز تھی اور بہت کم گو تھے۔ انداز گفتگو بہت سنجیدہ تھا۔ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھے معلوم ہوتے تھے۔
لباس و غذا
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا لباس نہایت سادہ اور معمولی ہوتا تھا۔ غذا بھی بہت سادہ تھی۔ مالی طور پر خوشحال تھے لیکن جو کچھ کماتے بے دریغ راہِ حق میں خرچ کر ڈالتے تھے۔ خلافت کے بعد ان کی سادگی میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ وفات سے قبل انہوں نے ام المؤمنین عائشہؓ سے فرمایا: جب سے خلافت کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا ہے، میں نہایت معمولی غذا اور موٹے جھوٹے کپڑے پر قانع رہا ہوں۔ اس وقت میرے پاس ایک حبشی غلام، ایک اونٹ اور ایک پرانی چادر کے سوا بیت المال کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ ایک سادہ انگوٹھی پہنتے تھے جس پر یہ عبارت کندہ تھی: ’’نعم القادر اللہ‘‘۔
ذریعہ معاش اور ملکیت
حضرت ابوبکر صدیقؓ شروع ہی سے کپڑوں کے ایک کامیاب اور خوشحال تاجر تھے اور اندرون و بیرون ملک (شام اور یمن وغیرہ) سفر کرتے رہتے تھے۔ اپنی خوش معاملگی اور دیانتداری کی وجہ سے وہ قریش کے تمام تاجروں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ قبولِ اسلام کے بعد بھی تجارت ہی ان کا ذریعہ معاش رہی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر اور بحرین میں ایک ایک جاگیر عطا فرمائی۔ تین ہجری میں بنو نضیر کے جلا وطن ہونے کے بعد نبی کریمؐ نے انہیں بئر حجر (پانی کا کنواں) عنایت فرمایا۔ خلیفہ بننے کے بعد جب تجارت کے لیے بازار جانے لگے تو حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کے پاس لے جا کر ان کے لیے اتنا وظیفہ مقرر کروایا جو ایک اوسط درجہ کے مہاجر کی ضروریات زندگی کو کفایت کر سکے۔
ازواج
- ام بکر: قبیلہ بنو کلب سے تھیں، انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو طلاق دے دی گئی۔
- قتیلہ بن عبد العزی: انہوں نے بھی اسلام قبول نہیں کیا، ان کے بطن سے عبداللہؓ اور اسماءؓ پیدا ہوئے۔
- ام رومانؓ: جلیل القدر صحابیہ، انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے ہاں عائشہؓ اور عبدالرحمٰنؓ پیدا ہوئے۔
- اسماء بنت عمیسؓ: پہلے حضرت جعفر طیارؓ سے نکاح ہوا، پھر حضرت ابوبکرؓ سے، پھر حضرت علی المرتضٰیٰؓ سے۔
- حبیبہ بن خارجہؓ: مواخاتی بھائی حضرت خارجہ انصاریؓ کی بیٹی تھیں۔ ان کے بطن سے امِ کلثومؓ پیدا ہوئیں۔
اولاد
- عبد اللہؓ: سب سے بڑے بیٹے۔ غزوہ طائف میں زخمی ہوئے، بعد میں اسی زخم سے شہید ہو گئے۔
- عبد الرحمٰنؓ: دوسرے بیٹے۔ صلح حدیبیہ کے زمانے میں مسلمان ہوئے۔ ماہر تیر انداز تھے۔
- محمدؓ: سب سے چھوٹے بیٹے۔ حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت میں مصر کے گورنر بنے۔ شہید ہوئے۔
- اسماءؓ: سب سے بڑی صاحبزادی۔ حضرت زبیر بن عوامؓ کے نکاح میں تھیں۔
- عائشہؓ: دوسری صاحبزادی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
- ام کلثومؓ: سب سے چھوٹی صاحبزادی۔ والد کے وصال کے بعد پیدا ہوئیں۔
عادات و خصائل
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دعوتِ حق کے آغاز پر سب سے آگے بڑھ کر لبیک کہا۔ واقعہ معراج کی صبح جب کفار نے مذاق اڑایا تو انہوں نے بلا تامل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ سفرِ ہجرت میں انہیں حضورؐ کی رفاقت کا شرف ملا اور ’’ثانی الثنین‘‘ کے لقب سے نوازے گئے۔ وہ ہمیشہ دھیمی آواز میں گفتگو کرتے اور بار بار کہتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ جب وہ کفار کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے تو ہوش آیا تو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضورؐ ان کی والدہ کے لیے دعا فرمائیں۔ حضورؐ کی دعا سے ان کی والدہ اسی وقت مشرف باسلام ہو گئیں۔ فتح مکہ کے دن وہ اپنے والد ابو قحافہ کو حضورؐ کی خدمت میں لائے، جہاں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اپنی بیویوں سے بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ تمام بیویوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرتے اور ان کے حقوق پورا کرنے میں عدل کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔ کبھی حضورؐ کے ساتھ اور کبھی تنہا مریضوں کی عیادت کے لیے جاتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ جب بیمار ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ وہ اکثر غمزدہ خاندانوں میں تعزیت کے لیے جاتے تھے۔ حضورؐ کے وصال کے بعد بھی وہ ام ایمنؓ کے پاس تعزیت کے لیے گئے۔ ایک موقع پر حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا: بھلا بخل سے زیادہ برا کوئی مرض ہو سکتا ہے؟
ایک بار حضرت حسن بن علیؓ کو کندھے پر سوار کر کے بار بار فرماتے رہے: میرا باپ فدا ہو، یہ حسنِ نبی کے مشابہ ہے، علیؓ کے مشابہ نہیں ہے۔ حضرت علیؓ یہ سن کر مسکراتے رہے۔ انتہائی خود دار تھے، دوسروں کے کام کر دیتے تھے لیکن اپنا کام کسی دوسرے سے لینے سے اجتناب کرتے تھے۔ لوگوں نے پوچھا تو فرمایا: میرے حبیبؐ کا مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ ان کے مزاج میں بے حد نظافت تھی۔ ہجرت کے سفر میں جب ایک چرواہے سے دودھ مانگا تو پہلے بکری کے تھن صاف کرنے اور پھر ہاتھ صاف کرنے کا کہا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اندر کسی قسم کے تعصب کا شائبہ تک نہ تھا۔ وفات سے قبل اپنا جانشین نامزد کرتے وقت اپنے قبیلے کو نظر انداز کر کے حضرت عمر فاروقؓ کو نامزد کیا۔ وہ اپنی اولاد سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جب بیٹی اسماءؓ کے حالات دیکھے تو ایک خادم بھیج دیا۔ بچے ان سے اس قدر مانوس تھے کہ جب وہ محلے میں داخل ہوتے تو بابا بابا کہہ کر دوڑتے آتے اور لپٹ جاتے۔راستے میں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے بچے کہیں مل جاتے تو انہیں گود میں اٹھا لیتے۔ جب حضرت فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو ان کی عیادت کے لیے گئے اور اپنی زوجہ حضرت اسماءؓ کو ان کی تیمارداری کی ہدایت کی۔
خدا کا خوف ان پر اس قدر طاری تھا کہ وہ ہر وقت محاسبۂ آخرت کے خوف سے لرزاں رہتے تھے۔ کبھی کسی سرسبز درخت کی طرف دیکھتے تو فرماتے: کاش میں درخت ہوتا۔ جب ابن دغنہ نے پناہ واپس لینے کی دھمکی دی تو انہوں نے بے دھڑک جواب دیا: تم اپنی پناہ مبارک ہو، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب حضرت ابوذر غفاریؓ مکہ آئے تو حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا مہمان بننے دیں۔ رات کو حضورؐ خود حضرت ابوذرؓ کو لے کر حضرت ابوبکرؓ کے گھر تشریف لائے۔ اپنی بکریاں خود چراتے اور ضرورت پڑنے پر اہل محلہ کی بکریوں کا دودھ دوہ دیتے تھے۔ خلافت کے بعد ایک لڑکی نے کہا: آپ اب ہماری بکریاں کیوں دوہیں گے؟ فرمایا کہ یہ منصب مجھے اس سے نہ روک سکے گا۔ حضرت صدیق اکبرؓ لوگوں کو اپنے گرد بلاوجہ اکٹھا نہیں ہونے دیتے تھے۔ سقیفہ بنو ساعدہ میں جب خلافت کا مسئلہ آیا تو انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کا نام پیش کیا۔
حضرت ابوبکرؓ نے اپنا تمام مال راہِ حق میں وقف کر دیا تھا۔ قبولِ اسلام کے وقت ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے، جو انہوں نے راہِ خدا میں صَرف کر دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرؓ کے مال سے زیادہ کسی کے مال نے مجھے نفع نہیں پہنچایا۔ جسمانی طور پر کمزور دکھائی دینے والے حضرت ابوبکرؓ کے سینے میں فولاد کا دل تھا۔ قوتِ ایمانی نے انہیں عرب کا مضبوط ترین انسان بنا دیا تھا۔ انہیں کمال درجے کی بصیرت اور حقیقت شناسی عطا تھی۔ انتظامی اور فوجی عہدوں کے لیے ان کا انتخاب ان کی مردم شناسی کا بڑا ثبوت تھا۔
اہم ارشادات
مختلف روایات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بے شمار ارشادات و اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چند اہم ارشادات یہ ہیں: جس پر نصیحت اثر نہ کرے، اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے، مگر گناہ سے بچنا واجب تر ہے۔ بوڑھا توبہ کرے تو خوب ہے، اور اگر جوان توبہ کرے تو خوب تر ہے۔ جوان کا گناہ اگرچہ برا ہے، لیکن بوڑھے کا گناہ بدتر ہے۔ نماز کو سجدہ سہو، روزہ کو صدقہ فطر، حج کو فدیہ، اور ایمان کو جہاد پورا کرتا ہے۔ ہر عمل کا اس کے وقت کے ساتھ بجا لانا ضروری ہے۔ اللہ اس وقت تک نفل قبول نہیں کرتا جب تک تم فرض ادا نہ کرو۔ اللہ کے خوف سے روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو۔ عقل مند کی پہچان کم گوئی ہے۔ مصیبت کی جڑ انسان کی گفتگو ہے۔ شریف جب علم پڑھتا ہے تو متواضع ہو جاتا ہے۔ فقیر کے سامنے عاجزی اور ادب سے صدقہ پیش کر، کیونکہ خوش دلی سے صدقہ دینا قبولیت کی علامت ہے۔ امیروں کا تکبر کرنا برا ہے، لیکن غریبوں اور محتاجوں کا تکبر کرنا بدتر ہے۔ عام لوگ عبادت میں سستی کریں تو بری بات ہے، لیکن اگر علماء اور طلبہ عبادت میں سستی کریں تو یہ اور بھی زیادہ برا ہے۔ مردوں کا شرم کرنا اچھا ہے، لیکن عورتوں کا شرم کرنا بہت اچھا ہے۔ غریب اگر تواضع کرے تو اچھا ہے، لیکن امیروں کا تواضع کرنا بہت اچھا ہے۔ زبان کو شکوہ و شکایت سے روکو، خوشی کی زندگی عطا ہو گی۔ بروں کی ہم نشینی سے تنہائی بدرجہا بہتر ہے۔ کسی مسلمان کو حقیر نہ جانو۔ چھوٹا سا مسلمان بھی خدا کے نزدیک بڑا ہے۔
باہم قطع تعلق مت کرو، بغض نہ کرو، حسد نہ کرو۔ آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ، جیسا کہ تمہیں حکم ہے۔ ہر چیز کا ثواب ایک اندازہ ہے، لیکن صبر کا ثواب بے اندازہ ہے۔ جو شخص دعوتِ توحید کی ابتدا میں فوت ہو گیا، وہ بہت خوش نصیب تھا۔ دولت آرزو کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ بالوں کو خضاب لگا کر جوانی حاصل نہیں ہوتی۔ دوائیں کھا کر صحت مند نہیں بنا جا سکتا۔ تو دنیا کا سامان جمع کرنے میں مشغول ہے اور دنیا تجھے اپنے سے جدا کرنے میں سرگرم ہے۔ اگر میرا ایک پاؤں جنت میں ہو اور دوسرا باہر، تب بھی میں اپنے آپ کو اللہ کے غضب سے محفوظ تصور نہیں کرتا۔ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کے عجائبات کبھی ختم ہونے والے نہیں اور نہ اس کی روشنی کبھی ماند پڑے گی۔ اپنی رفتار تیز سے تیز کر دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایک تیز رفتار تعاقب کرنے والا لگا ہوا ہے۔ اس دن پر رویا کرو جو تیری عمر سے گزر گیا اور اس میں نیکی نہیں کی۔ جو امر پیش آتا ہے وہ نزدیک ہے، لیکن موت اس سے بھی نزدیک تر ہے۔ موت پر دلیر رہو، تمہیں زندگی بخشی جائے گی۔ہر کام کرتے وقت اللہ کو حاضر و ناظر جانو، اس سے ڈرو اور شرم کرو۔ کفار سے جہاد کرنا جہادِ اصغر ہے اور نفس سے جہاد کرنا جہادِ اکبر ہے۔ جو قوم جہاد کو چھوڑ دیتی ہے، اللہ اسے ذلیل کر دیتا ہے۔
مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ قبولیت اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ جس قوم میں بری باتیں عام ہو جاتی ہیں، اللہ اسے مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ عمل بغیر علم کے سقیم (ناقص) ہے اور علم بغیر عمل کے عقیم (بے فائدہ)۔ جاہ و عزت سے بھاگو، عزت تمہارے پیچھے پھرے گی۔ ہم نے بزرگی تقویٰ میں، بے نیازی یقین میں، اور عزت تواضع میں دیکھی۔ مومن کو اتنا کافی ہے کہ اللہ سے ڈرتا رہے۔ میں نیک کام کروں تو میری اعانت کرو، میں برا کام کروں تو مجھے درست کرو۔ اخلاص یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ چاہے۔
فضائل و مناقب
سورہ توبہ میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے فرمانے لگے: غم نہ کریں، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ اس آیت میں حضورؐ کے ساتھ دوسرے حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ سورہ اللیل میں ارشاد ہے: ’’ اس پر کسی کا احسان نہ تھا کہ بدلہ چکایا جا رہا ہو، یہ فعل تو بس اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا‘‘۔ یہ آیت حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے حضرت بلالؓ کو آزاد کیا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ابوبکرؓ اور عمرؓ سے زیادہ افضل، متقی اور عدل و انصاف والا کوئی نہیں۔ اگر ابوبکرؓ نہ ہوتے تو اسلام جاتا رہتا۔ انبیا کو چھوڑ کر ابوبکرؓ سے بہتر کسی انسان پر سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب۔ ابوبکرؓ غار میں بھی میرے ساتھی تھے اور حوضِ کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوں گے۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ابوبکرؓ مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ مہکدار تھے۔ حضرت علی المرتضٰیؓ نے فرمایا: نبی کریمؐ کے بعد سب سے افضل ابوبکرؓ ہیں، پھر عمرؓ۔
باب دوم: عہدِ جاہلیت و قبولِ اسلام (مکی زندگی)
قبل از اسلام حالات
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ کفر و شرک کا دور تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ان کی عمر چار سال تھی تو ان کے والد ابو قحافہ انہیں بت خانہ لے گئے اور ایک بڑے بت کو سجدہ کرنے کو کہا۔ ننھے ابوبکر نے بت سے کھانا اور کپڑا مانگا اور پھر اسے پتھر مار کر گرا دیا۔ اس واقعے کے بعد کسی نے انہیں بت پرستی پر مجبور نہیں کیا اور ان کا دامن شرک سے پاک رہا۔
عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ ان چند افراد میں سے تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ انہوں نے لڑنے کا طریقہ، ہتھیاروں کا استعمال، شعر گوئی اور تجارت میں مہارت حاصل کی۔ دولت کے باوجود وہ عیش و عشرت اور شراب خوری سے ہمیشہ دور رہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جاہلیت میں ہی شراب کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کبھی شراب کیوں نہیں پی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بدن سے بو آئے اور ان کی اخلاقیات خراب ہوں۔
جوان ہو کر انہوں نے کپڑے کی تجارت شروع کی اور جلد ہی مکہ کے کامیاب تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تجارت کے سلسلے میں حضورؐ کے ساتھ شام کی طرف گئے، جہاں ایک راہب نے انہیں بتایا کہ ان کے ساتھی محمد بن عبد اللہ نبی ہیں۔ یہ بات ان کے دل میں بیٹھ گئی اور اسی دن سے انہوں نے حضورؐ کی صحبت اختیار کر لی۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ نے خواب دیکھا کہ چاند آسمان سے نیچے اتر کر مکہ میں وارد ہوا اور پورا شہر اس نور سے منور ہو گیا۔ تعبیر بتانے والے نے کہا کہ وہ اس نبی کی پیروی کریں گے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور ان کے پیروؤں میں سب سے افضل ہوں گے۔ ایک دوسرے سفر میں جب وہ شام گئے تو ایک راہب نے ان کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ تمہاری قوم میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث ہوں گے، تم ان کی زندگی میں ان کے وزیر اور وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہو گے۔
قبولِ اسلام اور ما بعد
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایمان لانے کے بارے میں متعدد واقعات ملتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق بعثت سے بیس سال پہلے انہوں نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر ایک راہب نے یہ بتائی کہ مکہ میں ایک پیغمبر ظاہر ہوں گے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے قبول کر لیا اور آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ کے مطابق امام اعظم ابوحنیفہؒ کی رائے ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قبول کیا، عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ الکبرٰیؓ نے، اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی المرتضٰیؓ نے۔ اس لحاظ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ اول المسلمین کہلائے۔ حضرت علی المرتضٰیؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کو چار باتوں میں فوقیت حاصل تھی: اسلام کا اعلان کرنے میں، ہجرت میں پہل کرنے میں، غار میں حضورؐ کے ساتھ ہونے میں، اور علانیہ نماز پڑھنے میں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ مسلمان ہونے کے بعد اپنے پرانے رفیقوں اور دوستوں کو ہدایت کی راہ اپنانے کی ترغیب دیتے۔ وہ واضح دلائل کے ساتھ حضورؐ کی نبوت کی صداقت پیش کرتے۔ ان کی کوششوں سے درج ذیل حضراتِ صحابہؓ مشرف باسلام ہوئے: عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف، ابوعبیدہ ابن جراح، عثمان بن مظعون، ارقم بن ابو الارقم، ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
اعلانِ نبوت کے چوتھے سال جب علانیہ دعوتِ اسلام کا حکم نازل ہوا تو مشرکینِ قریش نے مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم ڈھانا شروع کر دیے۔ حضرت ابوبکرؓ نے بے دریغ مال خرچ کر کے متعدد مظلوم غلاموں اور لونڈیوں کو ان کے سنگدل آقاؤں سے خرید کر آزاد کروایا، جن میں یہ شامل تھے: بلال ابن رباح جو کہ امیہ بن خلف کے غلام تھے، ام عبیس، عامر بن فہیرہ،۔ نہدیہ اور ان کی بیٹی، ابو فکیہ یسار، لبینہ، زنیرہ الرومیہ اور دیگر (رضی اللہ عنہم)۔ جب مشرکین نے کہا کہ ضرور بلالؓ کا کوئی احسان ابوبکرؓ پر ہو گا جس کا بدلہ وہ ادا کر رہے ہیں، تو اللہ نے سورہ اللیل کی آیت نازل فرمائی: اس پر کسی کا احسان نہ تھا کہ بدلہ چکایا جا رہا ہو، یہ فعل تو بس اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے۔
ابتدائے اسلام میں حضرت ابوبکرؓ بار بار حضورؐ سے برملا اظہارِ ایمان کرنے کا اصرار کرتے رہے۔ بالآخر رسول اکرم نے انہیں اجازت دے دی تو انہوں نے کھڑے ہو کر اسلام کی دعوت پر مبنی ایک فصیح خطبہ پڑھا جس پر مشرکین ان پر اور دیگر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور بری طرح مارنے لگے۔ عتبہ بن ربیعہ نے اتنا مارا کہ خون کی کثرت سے ان کی ناک چہرے پر پہچانی نہیں جا رہی تھی۔ جب قبیلہ بنو تمیم کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ مدد کو پہنچے اور انہیں گھر لے گئے۔ جب ہوش آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے پہلا جملہ یہ کہا: ’’رسول اکرم کا کیا ہوا؟ وہ کیسے ہیں؟‘‘ جب انہیں معلوم ہوا کہ حضورؐ بالکل صحیح ہیں تو فرمایا: ’’میں نے اللہ سے عہد کر لیا ہے کہ جب تک محمدؐ کی خدمت میں حاضر نہ ہو جاؤں، نہ کچھ کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا۔‘‘ بالآخر وہ حضورؐ کی خدمت میں لائے گئے، آپؐ نے انہیں دیکھتے ہی جھک کر بوسہ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ میری ماں ہے، آپ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیں۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ان کی والدہ مشرف باسلام ہو گئیں۔
جب مسلمانوں پر اہلِ مکہ کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے بھی حبشہ کا قصد کیا۔ برک الغماد کے مقام پر پہنچے تو قبیلہ قارہ کے سردار مالک بن دغنہ راستے میں ملے، انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو واپس آنے پر آمادہ کیا اور اپنی پناہ میں لے لیا۔ کفار نے اس شرط پر اتفاق کیا کہ وہ اپنے گھر میں چھپ کر قرآن پڑھیں گے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے گھر کے باہر صحن میں ایک مسجد بنا لی اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے لگے۔ کفار نے ابن دغنہ سے شکایت کی۔ ابن دغنہ نے کہا کہ آپ گھر میں قرآن پڑھیں ورنہ میں پناہ واپس لیتا ہوں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ تم اپنی پناہ سے الگ ہو جاؤ، مجھے اللہ کی پناہ کافی ہے۔
جب نبی کریم نے واقعہ معراج بیان فرمایا تو کفار نے تکذیب کی۔ ابوجہل حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اپنے ساتھی کو دیکھیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ سے پوچھا: کیا آپ نے فرمایا ہے کہ رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا، میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں، اگر آپ فرمائیں کہ ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل گئے تو بھی میں تصدیق کرتا ہوں۔ اس موقع پر وہ ’’صدیق‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔
نبوت کے آٹھویں سال سورہ روم نازل ہوئی جس میں پیشگوئی کی گئی کہ رومی چند سالوں میں غالب آ جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ابی بن خلف کے ساتھ شرط لگائی کہ اگر مقررہ مدت میں رومیوں کو غلبہ حاصل ہوا تو وہ اونٹ وصول کریں گے، ورنہ اونٹ دیں گے۔ بعد میں حضورؐ کے مشورے سے مدت اور اونٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی۔ جب رومیوں کی فتح کی خبر آئی تو شرط کے مطابق اونٹ لیے گئے۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی وفات کے بعد حضورؐ پریشان رہنے لگے۔ خویلہ بنت حکیمؓ نے خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو حضورؐ نے حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ اور سودہ بنت زمعہؓ کا نام لیا۔ خویلہؓ جب حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئیں اور حضرت عائشہؓ کا رشتہ مانگا تو حضرت ابوبکرؓ کے ذہن میں یہ تھا کہ وہ حضورؐ کے ساتھ عقدِ اخوت میں منسلک ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ یہ اخوتِ اسلامی ہے، نسبی یا رضاعی نہیں۔ نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال تھی۔ رخصتی ہجرت کے پہلے سال ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی۔
حضرت ابوبکرؓ کو نماز اور ذکرِ الٰہی سے بے حد شغف تھا۔ وہ اس انہماک سے نماز پڑھتے اور تلاوت کرتے کہ قریش کے بیوی بچے متاثر ہو کر ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ اس سے قریش کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان کے متعلقین اپنے آبائی دین سے منحرف نہ ہو جائیں۔ چنانچہ وہ انہیں نماز پڑھنے سے روکتے اور اذیت پہنچاتے۔ صحیح بخاری میں ہے، ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر بل دینا شروع کر دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ آ پہنچے اور انہوں نے دھکا دے کر عقبہ کو پیچھے ہٹا دیا۔ مشرکین نے حضرت ابوبکرؓ کو مار مار کر لہولہان کر دیا۔ حضرت علی المرتضٰیؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لڑائی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نرغے سے نکال لیا۔
(جاری)
قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد
سید اکرام الحسن: السلام علیکم سر۔ میرا نام سید اکرام الحسن، میں آئی پی ایس کے ساتھ یوتھ کی ٹریننگ میں شامل ہوں۔ سر میرا سوال یہ ہے کہ ۱۹۹۵ء میں جب میں نے گورنمنٹ جوائن کی تو میں [مشن] لے کر چلا تھا کہ میں صادق اور امین رہوں گا اور اسی کو فروغ دوں گا، لیکن پندرہ سال تک کوشش کرتا رہا، اس صداقت اور امانت سے … گورننس کا مسئلہ ہے، لوگوں کا مسئلہ ہے، ویلیو سسٹم کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہی ایک چیز ہے جو ہماری گورننس کو ٹھیک کر سکتی ہے کہ ہم اپنے لیول پہ صادق اور امین ہو جائیں۔ my question is how to sell it, thanks
پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے میرے عزیز، پہلی بات تو یہ ہے کہ صادق و امین ہونا کوئی آپشن نہیں ہے۔ یہ ہمارے اچھا انسان ہونے کا لازمی [حصہ] ہے۔ آپ مجھے بتائیے کہ اگر آپ کسی کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں تو کیا آپ یہ توقع نہیں کرتے کہ جو معاملہ آپ کر رہے ہیں یہ معاملہ فیئر رہے، یہ دھوکہ نہیں ہے۔ آپ کسی کو قرض دیتے ہیں، کسی سے قرض لیتے ہیں، جس مقام پر آپ کام کر رہے ہیں آپ کا وقت آپ کس طرح آپ استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی صادق اور امین ہونا تو انسان کا شرف ہے اور انسان کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو خلا ہے ہماری زندگی میں۔ مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے اس کے اندر۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی صادق اور امین تھے۔ اور ان کا صدق اور امین اس معیار کا تھا کہ جس کی بنا پر، جنہوں نے ان کا انکار کیا انہوں نے بھی کہا کہ صادق آپ ہی ہیں، اور امانتیں انہی کے پاس رکھیں۔ اور ان کی دیانت کا بھی یہ حال تھا کہ جب ہجرت کی تو آخری کام یہ کیا کہ جو امانتیں ان کے پاس تھیں وہ حضرت کرم اللہ وجہہ کے سپرد کیں کہ یہ فلاں فلاں کی امانت ہے ان کو واپس کر دیں۔ یہ تو معیار ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ صداقت اور امانت جو ہے، ایک بات اور بھی کہہ دوں، یعنی صداقت اور امانت جو ہے وہ محض [سیاست ہی] کے لیے نہیں ہے، یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان، باپ بیٹے کے درمیان، آقا اور غلام کے درمیان، ملازم کے درمیان، یعنی ہر جگہ ہے یہ۔
سر آئیور جیننگ بڑا مشہور مصنف ہے اور اتھارٹی ہے پولیٹیکل سائنس کے اوپر، تو اس کی جو کتاب ہے Cabinet Government، تو اس میں اس نے یہ کہا ہے کہ برطانوی نظام میں ایک منسٹر کے لیے عالم اور ماہر ہونا ضروری نہیں ہے، وہ اہلِ علم اور ماہرین سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اس کے لیے integrity ضروری ہے۔ اب یہ انٹیگریٹی کیا ہے؟ صداقت اور امانت ہے۔ اور اگر انٹیگریٹی نہیں ہے تو پھر وہ لیڈرشپ کے لائق نہیں۔ تو یہ دراصل ایک عالمی ضرورت ہے۔ ہماری بھی ضرورت ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ sell (محض کہنے سے) نہیں ہوتی۔ یہ اپنے جذبے سے کی جاتی ہے، اور اس کے بعد پھر اچھی مثالوں سے، اس کے بعد پھر رولز اینڈ ریگولیشنز فریم ورک سے، اداروں سے، احتساب سے، قانون کی تنفیذ سے، یہ سب چیزیں مل کر کے اس کے اندر اپنا اپنا رول ادا کرتی ہیں۔ اور ہمارا معاملہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اس وقت نظریاتی انتشار ہے، اخلاقی بگاڑ ہے، institutional collapse (ادارہ جاتی زوال) ہے، احتساب کا نظام نہیں ہے، تو ان سب کی وجہ سے یہ چیزیں ہیں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں، کوشش جاری رکھیے، اپنی مثال بہتر قائم کیجیے، اور آپ دیکھیں کہ ان شاء اللہ اس کے اثرات رونما ہوں گے۔
میں صرف ایک مثال آپ کو دیتا ہوں کہ جب (1978ء میں) پلاننگ کمیشن کا چارج میں نے سنبھالا تو آنے کے بعد میں نے یہ دیکھا کہ یہی سب معاملات ہوتے ہیں۔ تو پہلا کام میں نے یہ کیا کہ میں نے کہا کہ آپ ہر اہم فیصلے کے لیے پراسیس بنائیں، رولز بنائیں۔ ان رولز کے تحت جس کی جو بھی ذمہ داری ہو، یا جو بھی اس کو فائدہ پہنچتا ہو وہ پہنچنا چاہیے۔ جہاں ضابطوں سے آپ ہٹیں اور جواز تلاش کریں، وہاں آپ میرے پاس آئیں۔ اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ ان ضابطوں کی تنفیذ میں سب سے پہلا جو بینیفشری تھا وہ ایک قادیانی تھا۔ میرے پاس سیکرٹری آیا تو میں نے کہا کہ آپ کو میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا، اس لیے کہ وہ قادیانی ہو، کرسچئن ہو، مسلمان ہو، وہ ہمارے دفتر میں ملازم ہے، اس کا حق ہے۔ اور اگر ان رولز کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے، اس نے جاپان جانا ہے، اس کو جاپان بھیجا گیا۔ تو ایک مرتبہ اگر آپ یہ مثال قائم کرنی شروع کر دیں تو اس سے ان شاء اللہ پھر حالات بدلتے ہیں۔ تو یہ چیز sell نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ ہے کہ خود کرنا، مثال قائم کرنا، اور وہ نظام بنانا جس سے کہ یہ جاری رہ سکے۔
عمار محبوب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ عمار محبوب نام ہے۔ میرا سوال یہ تھا کہ دو قومی نظریہ کے حوالے سے آپ نے بات کی، قومیت کا تصور جو ہے، اس کو تھوڑا سا سمجھنا چاہیں گے کہ ہم اس میں بیلنس کیسے رکھ سکتے ہیں؟ خود اقبال نے بھی اس پہ کافی نقد کیا ہے، ’’تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘، وہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہو گا۔ اس کے علاوہ خود مولانا نے بھی اسلامی ریاست کی بنیاد جو بتائی ہے اس میں ساورنٹی کے بعد جو دوسرا نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قومیت کا خاتمہ۔ تو ہم بحیثیت، مطلب جو آج یومِ پاکستان ہم لوگ منا رہے ہیں، تو ایک پاکستانیت کا نعرہ ہے، ایک ایرانی کا نعرہ ہے، ایک افغانی کا نعرہ ہے، تو اگر اس نعرے کو ہم پروان چڑھاتے ہیں، تو ایک امت کا تصور، تو اس میں توازن کیسے ہو سکتا ہے؟
پروفیسر خورشید احمد: بہت اہم سوال ہے آپ کا بیٹے۔ جزاک اللہ خیر۔ دیکھیے، مولانا مودودیؒ ہوں، اقبالؒ ہوں، یا اور دوسرے مفکرین ہوں، انہوں نے جو بات کہی وہ یہ ہے کہ اگر قومیت کی بنیاد territory (علاقہ) پر ہو، جس کے معنی یہ ہیں کہ my country right or wrong، یہ اسلام کی بنیادوں سے ٹکراتا ہے اور اس بنیاد پر بننے والی قومیت فساد کا ذریعہ ہے، اس سے خیر رونما نہیں ہو گا۔ اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تناظر میں لیکن اسی بات کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ہو سکتی۔ عربوں میں ایک محاورہ تھا کہ ’’میرا بھائی درست ہو یا نادرست، مجھے اپنے بھائی کا ساتھ دینا ہے، اپنے قبیلے کا ساتھ دینا ہے، چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر ہو‘‘۔ تو حضورؐ نے بھی ایک مرتبہ یہ کہا کہ اپنے بھائی کا ساتھ دو خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر۔ تو صحابہؓ چونک گئے۔ ان کی تربیت ایسی تھی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا اسلام کے اندر۔ تو انہوں نے پوچھا، حضور! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو حکمت سامنے آئی کہ حضورؐ نے ایسا کیوں کہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ حق پر ہے تو ساتھ دے کر، اگر ناحق پر ہے تو وہاں سے روک کر۔
تو یہ ہے وہ قومیت کا تصور جس کو ہم نے ضرب لگائی ہے۔ لیکن آپ کی بات بہت صحیح ہے کہ territories چاہیے ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی territory کا مسئلہ ہے۔ تو پھر ان کے درمیان مطابقت کیسے ہو؟ اور احادیث میں بھی یہ آتا ہے کہ اپنے وطن سے، اپنی پیدائش کی زمین سے ایک انس اور تعلق جو ہے وہ فطری چیز ہے۔ اور مکہ اور بیت اللہ تو خیر ایسا تھا کہ اس کے لیے انسان تڑپے ہی۔ لیکن چونکہ وہ وطن بھی تھا تو اس لیے مدینے میں بھی صحابہؓ اور حضورؐ شوق سے اس کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کو reconcile (مطابقت) کیسے کیا جائے؟ یہ بات آپ کی بہت صحیح ہے۔ تو اسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام یہ کہتا ہے کہ قومیت کی بنیاد تو نظریے پر ہے اور اس میں اسلام کو اپنا دین ماننے والے ایک امت ہیں، خواہ ان کی زبان کوئی بھی ہو، ان کی نسل کوئی بھی ہو، ان کا وطن کوئی بھی ہو، وہ کہیں پر بھی رہ رہے ہوں، ان کا رنگ کیسا ہی ہو۔ اور اس کی بھی بنیادی وجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ کا خلیفہ ہے، تو جس بنیاد پر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد اور زندگی کی روش طے کرنی چاہیے، وہ وہ ہونی چاہیے جو ہر ایک کے لیے ممکن ہو۔ رنگ آپ اپنا نہیں بدل سکتے۔ زبان شاید بدل سکیں لیکن پھر بھی فرق رہتا ہے۔ نسل میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، خون جو ہے وہ اپنا خون ہی ہے۔ زمین بدل سکتی ہے آپ کی، ہجرت کر سکتے ہیں۔ اسلام نے عقیدے کو رکھا تاکہ ہر نسل، ہر مقام، ہر زبان کے بولنے والوں کے لیے یہ راستہ/آسان ہو اور سب اس میں آسکیں اور سب اس میں آن کر کے ایک بن جائیں۔
لیکن خوبی اس کی یہ تھی کہ اس نے سب کو ایک بنانے کے بعد ورائٹی کو ختم نہیں کیا، تنوع کو ختم نہیں کیا، زبان کی نفی نہیں کی، نسل کی نفی نہیں کی، رنگ کی نفی نہیں کی، بلکہ یہ کہا گیا کہ یہ سب ہم نے اس لیے بنایا ’’لتعارفوا‘‘۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ تمہارے سامنے زندگی گزارنے اور فیصلے کرنے کا جو معیار ہے، وہ اخلاق اور اصول ہونا چاہیے: ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘ (الحجرات ۱۳)۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ تمہاری اصل ایک ہی ہے۔ اختلاف جو ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ تو اختلاف کو تسلیم کرنا، اختلاف کو برداشت کرنا، لیکن اختلاف کو ایک نظام کے تحت لے آنا۔ تو جب ہم تصورِ قومیت دیتے ہیں تو اس سے باقی لوگوں کی نفی نہیں کرتے۔ ہم ان کو صرف cut to size کہ انہیں کسی جگہ ہونا چاہیے۔
اب اس تناظر میں وطن کا بھی ایک حق ہے اور وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے۔ اور میثاقِ مدینہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے وہ ماڈل بھی رکھ دیا کہ جس میں ایک سے زیادہ قومیں، ایک سے زیادہ قسم کے لوگ مل کر کے ایک ریاست بنا سکیں۔ اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو 88 اس کی شقیں ہیں، جن میں سے 44 کا تعلق مسلمان امت سے ہے اور 44 کا تعلق دوسرے قبائل سے ہے۔ اور ان میں بڑی وضاحت سے یہ موجود ہے کہ تمہاری شناخت، تمہارا مذہب، تمہاری روایات، ان کو تحفظ حاصل ہے، لیکن اس پورے نظام کا جو سربراہ ہو گا وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، وہ آخری اتھارٹی ہوں گے، اور سیاسی بالادستی اور فیصلہ کن حیثیت انہیں حاصل ہو گی۔
تو آپ دیکھیے کہ ایک فریم ورک بنا دیا جس کے اندر ان سب کو قبول کر لیا۔ اور یہی ہماری پوری تاریخ ہے کہ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، اللہ کو نہ ماننے والے، سب موجود رہے ہیں۔ ان کو ان کے حقوق دیے گئے، ان کے لیے ایک space دی گئی۔ اور اسی کی مناسبت سے ان کی ذمہ داریاں بھی۔ اور عالمی سطح پر بھی یہ ایک misformulation (تشریح) ہے کہ ہمارے فقہاء نے انٹرنیشنل لاء میں صرف دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کی ہے۔ بلاشبہ دارالحرب اور دارالاسلام ایک بنیادی تقسیم ہے۔ اور اگر کسی ملک سے آپ برسرجنگ ہیں تو آپ برسرِ جنگ ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ دو اور کیٹیگریز بھی بڑی وضاحت سے ہمارے انٹرنیشنل لاء کے اندر ہیں:
- دارالامن، کہ جن سے آپ جنگ نہیں کر رہے، وہ غیر مسلم ہیں۔
- اور درالعہد، کہ وہ غیر مسلم جن سے آپ کا کوئی معاہدہ ہو، کوئی آپ کی انڈرسٹینڈنگ ہو، تو اس میں آپ کی انڈرسٹینڈنگ اور جو معاہدہ ہو جائے اس فریم ورک میں کام کیا جاتا ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے اس بات کے اوپر کہ حبشہ میں عیسائیوں کی اکثریت رہی اور حکومت رہی لیکن مسلمانوں نے کبھی اس پہ حملہ نہیں کیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ فریم ورک ہے۔
تو اس کی روشنی میں آج کے دور میں آج کے حالات کے مطابق، ہمیں اس کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہماری نظریاتی اساس اسلامی قومیت ہے، لیکن جس ریاست میں ہیں، جس کی physical sovereignty (جغرافیائی خودمختاری) میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ قومیں اگر ہیں، تو ان قوموں کا بھی اتنا ہی حق ہے، اپنے وجود کا، اپنے تحفظ کا، ان کے ہیومن رائٹس، قانون کے سامنے ان کی برابری، اور مشترک قومی مفاد میں مل کر کے کام کرنا۔ تو یہ ہے وہ ماڈل۔ تو اسی کو سامنے رکھ کر کے علماء نے 1951ء میں جو اسلامی ریاست کے 22 اصول مرتب کیے۔ ان کو آپ پڑھیں۔ یہ پہلی کوشش ہے دورِ حاضر میں کہ جس میں مسلمان علماء نے یہ بتایا کہ آج کے دور میں ہم کس طرح اس نظریے کو ایک physical territory (جغرافیائی حدود / ریاست) کے اندر قبول کریں گے۔ اور اسی کی روشنی میں پھر ’’قراردادِ مقاصد‘‘ پاس ہوئی اور پاکستان کا دستور بنا۔ تو پاکستان کا دستور ہم لوگوں کو فریم ورک دیتا ہے جس کے اندر سب کے لیے رہنے کا پورا پورا امکان موجود ہے۔ اور ہمارے لیے بھی نہ صرف رہنے کا بلکہ یہ سہولت دینے کا کہ ہم اکثریت کو اسلامی زندگی کا فروغ کر سکیں۔ لیکن کسی پر مسلط کرنا یا کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھنا، یہ بہرحال …
اور اس کے باوجود بھی یہ خواہش ہماری رہے گی کہ مسلمان ممالک آپس میں ملیں اور قریب آئیں۔ اور پاکستان کے دستور میں بھی آرٹیکل 41 اس اصول کو پیش کرتا ہے کہ تمام مسلمان ملکوں سے ہمارے خاص تعلقات ہوں گے۔ اور زیادہ سے زیادہ اسلامی اتحاد اور اسلامی تعاون کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ اقبالؒ نے ری کنسٹرکشن میں بڑے خوبصورتی سے اس بات کو لیا اور یہ کہا ہے کہ آئیڈیل چاہے خلافت ہو (ایک حکومت) لیکن موجودہ دور میں what I foresee is, a common wealth of muslim states۔ او آئی سی (oic) تک لے جانے کا ہمارا خواب جو تھا وہ بھی اسی کا ایک حصہ رہا ہے کہ شاید یہ اس کے لیے ایک stepping stone (ذریعہ) بن سکے۔ تو جدید ریاست کو سامنے رکھتے ہوئے، یعنی ریاست کا ایک نظریاتی وجود، اس کے اندر اکثریت کو اپنے دین کے مطابق اپنا راستہ نکالنے کا، لیکن باقی سب کا اپنے تشخص کی حفاظت اور اس کے مطابق آگے بڑھنا۔
اور یہ بھی میں آپ کو بتا دوں کہ اسلامی تاریخ میں، یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ گو پہلی لہر جو ہے مصر تک، وہ اسلامائزیشن اور عربنائزیشن ساتھ ساتھ تھے، لیکن ایران اور اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ زبان، مقامی کلچر، مقامی روایات، ان سب کو باقی رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا۔ اور کوئی مثال ایسی نہیں ملتی ہے کہ علاقائی زبانوں کو دبایا گیا ہو، حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔ یا علاقائی لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیے گئے ہوں، یا ان کو شمولیت کے مواقع نہ دیے گئے ہوں۔ خلافتِ عثمانیہ میں کم از کم سات پرائم منسٹر ایسے ہیں جو بوسنیا ہرزیگوینا علاقے کے تھے۔ یعنیاحساسِ شمولیت سب کو ملتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان کو خودمختاری بھی ملتی ہے۔ اور بالعموم جو والی بنائے جاتے تھے، گورنر بنائے جاتے تھے، وہ باہر سے نہیں بھیجے جاتے تھے بلکہ وہیں سے بنائے جاتے تھے۔ تو دوسری طرف ایک اتحاد اور اس اتحاد کے فریم ورک میں pluralism (تنوع/اجتماعیت) اور دوسروں کے coexist (بقائے باہمی) کے مواقع فراہم کرنا۔ یہ ہے ہمارا فریم ورک۔
ندیم صاحب: سر ایک سوال خواتین کی جانب سے آیا ہے کہ ہماری معاشیات کی پاکستان کی موجودہ جو صورتحال ہے، وہ کس طرح سے …؟
پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے، میرا خیال یہ ہے کہ یہ ساڑھے تین سال، پچھلے پانچ سال سے تو نسبتاً بہتر رہے، لیکن جو انہوں نے اپنے منشور میں وعدے کیے تھے، اور جو امکانات تھے، بدقسمتی سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اور بڑے جو مسائل ہیں اور جنہیں یہ ایڈریس نہیں کر سکے صحیح، اس میں سب سے اہم انرجی کا مسئلہ ہے۔ ان کا وعدہ تھا کہ ہم ایک منسٹری بنائیں گے انرجی کی، اور تمام شعبے جو اس سے متعلق ہیں، واٹر، پاور، ان سب کو ایک جگہ لائیں گے۔ اور یہ بہت ضروری تھا لیکن نہیں کیا۔ اسی طرح split ہے، پانچ پانچ ڈیپارٹمنٹ ہینڈل کر رہے ہیں۔ پھر غلط پراجیکٹس، کرپشن، مناسب نگرانی کا نہ ہونا، نتیجہ یہ ہے کہ جو بحران آپ کو تین سال میں قابو کرنا تھا اسے آپ پانچ سال میں بھی کرتے مجھے نظر نہیں آ رہے۔ اور اس کی وجہ سے پوری معیشت اور عام زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ ملک میں مالیاتی پھیلاؤ اور حقیقی پیداوار (یعنی حقیقی معیشت کی نمو) کے درمیان نہایت نازک تعلق ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ تعلق منقطع ہو چکا ہے۔ ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ہمارے ہاں مالیاتی پھیلاؤ تو ہوا ہے، آپ اپنے سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو وہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے لیکن برآمدات کا جائزہ لیں تو وہ مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے؛ یہاں تک کہ برآمدات اب درآمدات کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد رہ گئی ہیں۔ مزید یہ کہ زراعت اور صنعت، ان کے جو بنیادی پیداواری شعبے ہیں، وہ نہیں ابھر پا رہے ہیں۔ تو یہ بنیادی مسائل ہیں۔
اسی طریقے سے قرض، اندرونی بھی اور بیرونی بھی، یہ آسان راستہ لے کر آپ وقت گزار رہے ہیں لیکن اپنا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں … تو اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی غیر متوازن اور ناقص حکمت عملی ہے۔ بحیثیت مجموعی معمولی بہتری ہے، یا قرضوں کا جتنا اندراج ہو رہا تھا اس میں کمی کے باوجود معیشت نہ میری نگاہ میں نہ خود انحصاری کی طرف گئی ہے اور نہ نمایاں نمو کی طرف جا رہی ہے۔ اس پہلو سے میں حالات سے خاصا غیر مطمئن ہوں۔ اور میرا خیال یہ ہے اس معاملے میں آئی پی ایس نے جو سیمینارز کیے ہیں، اور خاص طور پر جو ان کے بجٹس پر کامنٹس ہیں، ان کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ مثبت اور منفی کیا ہے، اور منفی کا پلہ خاصا بھاری ہے۔
https://youtu.be/edQgfHeyTp8
(مکمل)
نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی
سوال:
السلام علیکم ڈاکٹر صاحب! میرا نام طلحہ ہے، میرا آپ سے یہ سوال ہے، جس طرح ابھی نظریے پر ہماری بات ہو رہی تھی اور جب تحریکِ پاکستان چلی تھی تو اُس وقت، یہ جو ابھی آپ نے ذکر کیا ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ لا اللہ‘‘ یہ نعرہ بلند ہوا اور اِسی پر ہم نے اپنا ملک حاصل کیا۔ تو نظریۂ پاکستان اور نظریۂ اسلام میں کوئی فرق ہے یا دونوں ایک ہی چیزیں ہیں، اس میں حقیقت کیا ہے؟
جواب:
کافی سارا جواب تو پچھلے سوال میں آ چکا ہے۔ نظریۂ پاکستان، نظریۂ اسلام، دونوں ایک ہی چیزوں کا نام ہے، یا دو قومی نظریہ۔ میں پھر دہرا دیتا ہوں: نظریۂ پاکستان، نظریۂ اسلام اور دو قومی نظریہ، ایک ہی ہے۔
جس طرح نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آفر کی گئی تھی کہ آپ ایسا کر لیں کہ ایک سال ہم آپ کے رب کی بندگی کر لیتے ہیں، ایک سال آپ ہمارے بتوں کی پوجا کر لیں، تاکہ معاملات مفاہمت سے چلائے جا سکیں۔ نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت اللہ کے حکم کے مطابق اعلان فرمایا: ’’قل یا ایھا الکافرون…‘‘ اور یہ واحد آیت ہے جس میں اللہ کے نبی کو حکم ہوا کہ آپ ان کو پکاریں کہ اے کافرو! اور اس میں واضح کر دیا گیا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔
یہ بالکل ایسے ہے کہ دودھ کے ایک ٹب میں اگر ایک قطرہ غلاظت کا پڑ جائے تو سارا ٹب ناپاک ہو جاتا ہے۔ اسلامی نظریہ پاکیزگی کا نام ہے۔ کفر اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اور اسی لیے جو نظریہ نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا وہی نظریہ علامہ اقبال نے اور ہمارے بزرگوں نے، اولیاء نے پیش کیا۔ اور یہی تھا کہ جس طرح کفر اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے، اُس دور میں کفر مشرکین کی صورت میں تھا، منافقین کی صورت میں تھا، اور برصغیر میں کفر جو ہے وہ ہندوؤں کی صورت میں تھا۔
کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو ایک ہندو نے کہا کہ کیا ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے؟ تو قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک گلاس پانی کا منگوایا اور آدھا پیا اور اُسے کہا آپ یہ پی لیں۔ اس نے کہا جی میں تو نہیں پی سکتا۔ تو قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا، آپ میرا جوٹھا پینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ہم دونوں ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟
بہرحال دو قومی نظریہ، نظریۂ پاکستان اور نظریۂ اسلام، یہ تینوں ایک ہی نقطۂ نظر کے نام ہیں کہ:
- اللہ وحدہٗ لا شریک ہے،
- رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلمین ہیں،
- اور اللہ کا جو دیا ہوا نظام ہے، مسلمان اس نظام کا نائب ہوتا ہے، اس نظام کا مالک نہیں ہوتا، اس نے اس نظام کا نفاذ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس نظام کے سامنے رکاوٹیں ڈالنی ہوتی ہیں۔
https://youtu.be/Suwo78u1wL0
مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
مسلمانوں کا قبلۂ اول
مسجدِ اقصیٰ اور سرزمینِ بیت المقدس سے مسلمانوں کا بہت گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ بیت المقدس کی یہ بابرکت اور مقدس سرزمین مسلمانوں کے لیے عقیدتوں کا مرکز رہی ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کی رو سے زمین کا یہ بقعہ ان بے شمار انبیائے کرامؑ کا قبلہ ہے جو نبی کریم ﷺ سے پہلے رہے۔ خود نبی کریم ﷺ کا پہلا قبلہ یہی ہے۔ خانہ کعبہ سے پہلے آپؐ اسی طرف اپنا روئے مبارک کر کے اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کرتے تھے۔ نماز کا حکم نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ ماہ تک رخ کر کے نماز پڑھی۔ یعنی ایک سال اور پانچ ماہ تک بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ رہا۔
جیسا کہ سیدنا برا بن عازبؓ بیان کرتے ہیں، مفہوم: ''ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھیں، پھر ہمارا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا (صحیح مسلم، صحیح البخاری)۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی، مفہوم: ''ہم آپ (ﷺ) کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، لہٰذا ہم آپ (ﷺ) کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جو آپ کو پسند ہے۔ سو اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام (کعبہ) کی طرف پھیر لیجیے، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی رہو، نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو (سورۃ البقرۃ)۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ بن گیا، لہٰذا بیت المقدس مسلمانوں کا اولین قبلہ شمار ہوتا ہے۔
ارضِ مقدس کی فضیلت
حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا بیت المقدس میں نماز افضل ہے یا مسجد نبویؐ میں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''میری اس مسجد میں ایک نماز وہاں کی چار نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔'' (صحیح الترغیب)۔ چوں کہ مسجد نبویؐ میں ایک نماز کا ثواب 1000 نمازوں کے برابر ہے، لہٰذا مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب 250 نمازوں کے ثواب کے برابر ہُوا۔
سیدنا ابُوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ''مسجد الحرام، مسجد نبویؐ اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مقام کی طرف ثواب اور برکت کی نیت سے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔'' (رواہ البخاری و مسلم)
سیدنا ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد اقصیٰ کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''اور مسجد اقصیٰ نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے۔ حشر نشر کی سرزمین ہے، اور عن قریب لوگوں پر ایک وقت آئے گا جب ایک کوڑے کے برابر جگہ یا آدمی کی کمان کے برابر جگہ، جہاں سے وہ بیت المقدس کو دیکھ سکتا ہو، اس کے لیے ساری دنیا کی چیزوں سے بہتر اور محبوب ہوگی۔'' (صحیح الترغیب)
بیت المقدس شہر کے رہنے والے کو مجاہد فی سبیل اللہ کے برابر کا ثواب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے غالب رہے گا اور اپنے دشمنوں کو مقہور کرتا رہے گا، دشمن کی شیرازہ بندی اسے کوئی گزند نہ پہنچا سکے گی الّا یہ کہ بہ طور آزمائش اسے تھوڑی بہت گزند پہنچ جائے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال پر قائم و دائم ہوں گے۔'' صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ لوگ کہاں کے ہوں گے؟ نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: ''یہ لوگ بیت المقدس کے باشندے ہوں گے یا بیت المقدس کے اطراف و اکناف میں ہوں گے۔'' (السلسلۃ الصحیحۃ)
بیت المقدس اس لحاظ سے بھی بابرکت اور مبارک خطہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارضِ شام کا نام لے کر برکت کی خصوصی دعا کی ہے، بیت المقدس ارضِ شام کا ہی علاقہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا، مفہوم: ''اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما۔'' (البخاری)
مذکورہ بالا تمام احادیث کا تعلق مختلف دینی عبادات اور اس کے ثواب سے ہے، اور ان ساری عبادتوں کا تعلق بیت المقدس سے جڑا ہوا ہے، معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا بیت المقدس سے عبادت اور بندگی کا ایک مضبوط تعلق اور رشتہ ہے جو قیامت تک کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جب تک کائنات میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے، عبادت کا یہ رشتہ بھی قائم و دائم رہے گا۔
القدس کی فتح اور معاہدۂ عمریہؓ
جب حضرت ابوعبیدہ عامر بن الجراحؓ کی قیادت میں اسلامی فوج نے بیت المقدس کو فتح کر لیا تو خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطابؓ بیت المقدس شہر میں داخل ہوئے۔ عمائدین روم نے بیت المقدس آمد پر سیدنا عمر فاروقؓ کا استقبال کیا اور بغیر کسی مزاحمت کے بیت المقدس کی چابیاں آپ کے حوالے کر دیں۔ جب سیدنا عمر بن خطابؓ بیت المقدس پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کے باشندوں سے ایک معاہدہ کیا، جو عہدِ عمریہ کے نام سے تاریخِ اسلام میں مشہور ہے۔ (فتوح البلدان)
فتح بیت المقدس اور معاہدہ عمریہ طے پانے تک بیت المقدس میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کوئی تعلقات موجود نہیں تھے۔ معاہدہ عمری تاریخ میں سب سے صاف واضح اور مشہور دستاویز ہے (تاریخ طبری)۔ مسلمانوں نے اس شہر پر فتحِ عمری سے لے کر 1967ء عیسوی تک حکومت کی، درمیان میں ایک وقت آیا تھا کہ جب بیت المقدس 88 سال کے عرصے تک یہودیوں کے قبضے میں رہا، پھر صلاح الدین ایوبیؒ نے سنہ 583 ہجری میں یہود کے جبر و تسلط سے آزاد کرا لیا۔
عربوں اور مسلمانوں کے دورِ حکومت میں اسلام کی برکت سے بیت المقدس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے عدل و انصاف کی فراہمی، امن و امان کی بحالی اور استحکام، اور شہریوں کی جان و مال کی سلامتی اور تحفظ ممکن ہوا۔ امتِ مسلمہ کا فریضہ ایک طرف اس عظیم مسجد اور اس علاقے کے یہ فضائل اور مراتب ہیں، جس کا حق یہ تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے آخری اور افضل امت کا اعزاز پانے والی امتِ مسلمہ اس مقدس مسجد کی قدر کرتی، اس بابرکت مسجد کو دینی شعائر سے آباد رکھتی اور ہر قسم کے کفر اور یہودی تسلط سے پاک رکھتی لیکن آج اسی ارضِ مقدس کے مسلمان سخت آزمائشوں کا شکار ہیں، انہیں وہاں ہر قسم کے تکلیف دِہ حالات کا سامنا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی پکار!
یہودی ظالم انہیں ہر طرح کے ہتھیاروں سے روند رہے ہیں، بچوں کو قتل کر رہے ہیں، گھروں کو مسمار کر رہے ہیں، مسجد اقصی کی حرمت پامال کی جا رہی ہے، ارضِ مقدس کے مسلمان صہیونی درندگی کی زد میں ہیں، وہ بچوں، جوانوں، خواتین کا قتلِ عام کر رہے ہیں، ہر طرف بارود کی بارش ہے۔ یہ سب حالات تمام مسلمان راہ نماؤں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی اختلافات اور ملکی مفادات سے بالاتر ہو کر متفق و متحد ہو جائیں، اور ان مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے غم اور ان کے درد کو محسوس کریں اور جہاد کا پختہ عزم اور اعلان کریں تاکہ ان کفار کی جارحیت کا منہ موڑ جواب دیا جائے۔
اگر ہم سچے مسلمان بن کر ایک جسم کی مانند ہو جائیں جیسا اللہ کے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے‘‘۔ ’’امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے‘‘۔ تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر ’’ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں‘‘۔
یا اللہ! مسجد اقصیٰ کو ظالموں، سرکشوں اور غاصبوں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک فرما، فلسطینی مسلمانوں کے ضعف اور کمزوری کو ختم فرما، انہیں قوت عطا فرما، ان کے دشمنوں کی تدبیروں کو ناکام فرما۔ آمین
القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان
خط کا متن
Dated: 25 March 2026
Ref: PRM/OIC/0326-02A
To
The Secretary-General
Organization of Islamic Cooperation
Excellency,
I write to urgently draw your attention to the ongoing restrictions on Muslim access to Al-Aqsa Mosque in Al-Quds Al-Sharif, particularly the denial of the opportunity to offer prayers during the sacred periods of Ramadan and Eid this year. These developments call for immediate action in light of the OIC's Charter-based commitments and its longstanding resolutions on Palestine and Jerusalem.
Demolishing the Al-Aqsa Mosque is the declared objective of the Zionist regime, which has already committed genocide in Gaza and which is now posing an existential threat to the whole of the Palestinian people.
The Charter of OIC 2008 places the question of Palestine and Al-Quds at the very heart of the OIC's objectives:
- Article 1(8) expressly mandates support for the Palestinian people in restoring their legitimate rights, including the establishment of a sovereign State with Al-Quds Al-Sharif as its capital. This necessarily encompasses the protection of Islamic holy sites, foremost among them Al-Aqsa Mosque.
- Furthermore, Article 1(7) obliges Member States collectively to support the restoration of sovereignty and territorial integrity of occupied territories, while the broader framework of the Charter underscores the duty to safeguard Islamic values and holy places.
- Article 21 establishes the Al-Quds Committee specifically to monitor and ensure implementation of resolutions concerning the city, reflecting the centrality of this issue within the institutional structure of the OIC.
Consistent with these provisions, numerous OIC summit declarations and Council of Foreign Ministers resolutions have repeatedly affirmed that Al-Aqsa Mosque is an exclusively Muslim holy site and have rejected any measures that restrict Muslim access or attempt to alter its status. These positions align with international law, which recognizes East Jerusalem as occupied territory and imposes clear obligations on the occupying power to respect freedom of worship.
The prevention of Muslims from offering prayers at Al-Aqsa Mosque during Ramadan and Eid represents not only a violation of international legal norms but also a direct affront to the objectives and principles of the OIC Charter. It undermines the collective commitment of the Ummah to safeguard its holy sites and protect the religious rights of Palestinians.
Furthermore, these unilateral actions represent a clear threat to international peace and security and warrant the invocation of Article 39 of the UN Charter to determine the existence of a threat to peace and to secure compliance with international law.
In light of these considerations, it is respectfully urged that the OIC, under your leadership, take immediate and effective steps to:
- Reaffirm, in the strongest terms, the exclusively Muslim character of Al-Aqsa Mosque;
- Demand the immediate removal of all restrictions preventing Muslims from accessing the Al-Aqsa Mosque for worship;
- Activate the mechanisms of the Al-Quds Committee to address the present situation with urgency;
- Mobilize coordinated diplomatic efforts among Member States to ensure compliance with international law;
- Advocate for the protection of the sanctity of Al-Aqsa Mosque and the uninterrupted exercise of religious rites therein.
The continued inaction in the face of such violations risks eroding the credibility of collective commitments and deepening the sense of grievance across the Muslim world. The present moment calls for principled, decisive and unified action consistent with the Charter of the OIC.
I trust that Your Excellency will treat this matter with the urgency and seriousness it demands.
Respectfully,
Senator (R) Mushtaq Ahmad Khan
Chairman - Pakistan Rights Movement
CC:
The Ministry of Foreign Affairs, Government of Pakistan
Chairman, Senate Committee on Foreign Affairs
The Delegation of the European Union to Pakistan All Excellences, Ambassadors of OIC Member States
The National Commission for Human Rights (NCHR)
اردو ترجمہ
تاریخ: 25 مارچ 2026ء
حوالہ: PRM/OIC/0326-02A
بخدمت سیکرٹری جنرل اسلامی تعاون تنظیم
عالی جناب،
میں آپ کی توجہ اقصیٰ مسجد، القدس الشریف میں مسلمانوں کی رسائی پر جاری پابندیوں، خاص طور پر اس سال رمضان اور عید کے مقدس ایام میں نماز کی ادائیگی کے موقع سے محرومی کی طرف فوری طور پر مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ یہ پیشرفت اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر پر مبنی وعدوں اور فلسطین و یروشلم سے متعلق اس کی طویل عرصے سے موجود قراردادوں کے تناظر میں فوری کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔
مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنا صیہونی حکومت کا اعلان کردہ مقصد ہے، جس نے غزہ میں پہلے ہی نسل کشی کی ہے اور اب وہ پوری فلسطینی قوم کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر 2008ء کی رو سے مسئلہ فلسطین اور القدس کو تنظیم کے مقاصد میں مرکزی حیثیت حاصل ہے:
- آرٹیکل 1(8) واضح طور پر فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کی بحالی میں مدد فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک خودمختار ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔ اس میں لازمی طور پر اسلامی مقدس مقامات کا تحفظ شامل ہے، جن میں مسجد اقصیٰ سرفہرست ہے۔
- مزید برآں، آرٹیکل 1(7) رکن ممالک کو اجتماعی طور پر مقبوضہ علاقوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بحالی میں مدد کا پابند کرتا ہے، جبکہ چارٹر کا وسیع تر فریم ورک اسلامی اقدار اور مقدس مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔
- آرٹیکل 21 خاص طور پر اس شہر سے متعلق قراردادوں کے نفاذ اور نگرانی کے لیے ’القدس کمیٹی‘ قائم کرتا ہے، جس سے اسلامی تعاون تنظیم کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اس مسئلے کی مرکزیت معلوم ہوتی ہے۔
ان دفعات کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے متعدد سربراہی اجلاسوں کے اعلامیوں اور وزرائے خارجہ کی کونسل کی قراردادوں نے بارہا اس بات کی توثیق کی ہے کہ مسجد اقصیٰ خالصتاً مسلمانوں کا مقدس مقام ہے، اور انہوں نے ان تمام اقدامات کو مسترد کیا ہے جو مسلمانوں کی رسائی کو محدود کرتے ہیں یا اس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ موقف بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے، جو مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ قرار دیتا ہے اور مقبوضہ طاقت پر عبادت کی آزادی کا احترام کرنے کے واضح فرائض عائد کرتا ہے۔
رمضان اور عید کے دوران مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے روکنا نہ صرف بین الاقوامی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی بھی براہ راست توہین ہے۔ یہ اقدام امت کے اپنے مقدس مقامات کے تحفظ اور فلسطینیوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے اجتماعی عزم کو کمزور کرتا ہے۔
مزید برآں، یہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 39 پر عملدرآمد کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ امن کو لاحق خطرے کے وجود کا تعین کیا جا سکے اور بین الاقوامی قانون کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان حقائق کے پیش نظر، آپ سے احترام کے ساتھ گزارش کی جاتی ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم آپ کی قیادت میں فوری اور مؤثر اقدامات کرے:
- خصوصی طور پر مسجد اقصیٰ کی مُسلم حیثیت کو پُرزور الفاظ میں دہرایا جائے؛
- مسلمانوں کو عبادت کے لیے مسجد اقصیٰ میں رسائی سے روکنے والی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے؛
- موجودہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ’القدس کمیٹی‘ کی سرگرمیاں فعال کی جائیں؛
- بین الاقوامی قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مربوط سفارتی کوششوں کو متحرک کیا جائے؛
- مسجد اقصیٰ کی حرمت اور وہاں بلا روک ٹوک مذہبی رسومات کی ادائیگی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی جائے۔
ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف مسلسل بے عملی سے اجتماعی وعدوں کی ساکھ کو نقصان پہنچنے اور پوری مسلم دنیا میں محرومی کے احساس کے گہرا ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ وقت اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر کے مطابق اصولی، فیصلہ کن، اور متحدہ کارروائی کا تقاضا کرتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ عالی جناب اس معاملے کی حساسیت کے مطابق اس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دیں گے۔
بااحترام،
سینیٹر (ر) مشتاق احمد خان
چیئرمین، پاکستان رائٹس موومنٹ
بذریعہ نقل:
وزارت خارجہ، حکومتِ پاکستان
چیئرمین، سینیٹ کمیٹی برائے خارجہ امور
یورپی یونین کا پاکستان ڈیلیگیشن
تمام عالی مقام سفراء، رکن ممالک اسلامی تعاون تنظیم
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR)
ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو چالیس دن سے زیادہ ہو گئے تو خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور پندرہ دن کی جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر نے سات اپریل کو کیا۔ ایران کا ایک سپر پاور اور خطہ کی سب سے بڑی فضائی قوت اسرائیل کے تباہ کن حملوں کے باوجود survive (بچاؤ) کر جانا ہی اس کی فتح کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ایران اس طرح ایک بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔ مگر امریکہ کے پاس بھی اس جنگ بندی کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا کیونکہ اس اعلان سے چند گھنٹوں قبل ہی سات اپریل 2026ء کو سلامتی کونسل میں اس کو ایک بڑی سفارتی شکست مل چکی تھی جب بحرین نے ایران کے خلاف یہ رزولیوشن پیش کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کیا جائے، تو چین اور روس نے دونوں نے اس کو یہ کہتے ہوئے ویٹو کر دیا کہ اس جنگ میں جارح ایران نہیں ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل ہیں، اور رزولیوشن میں ایران پر ان کے حملہ کی نہ مذمت موجود ہے اور نہ ہی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپ کے سارے بڑے ممالک اس جنگ کے خلاف ہیں۔ دنیا کے دو نیوکلیر ممالک واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوئے جس سے امریکہ کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سے قبل امریکہ بار بار دھمکیاں اور گالیاں دے رہا تھا اور اس کا صدر ٹرمپ اس سلسلہ میں ساری حدیں پار کر چکا تھا، جو زبان وہ استعمال کر رہا تھا اس پر دنیا حیران تھی۔ اس کا صلیبی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کہتا ہے کہ: "We negotiate with bombs" ہم بمباری کرتے ہیں اور ساتھ ہی مذاکرات بھی۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ ایران کو زیادہ سے زیادہ تباہ و برباد کر کے اس جنگ سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا اور ایران کے ازلی دشمن اسرائیل کے لیے تھوڑے سے مالی نقصان کے ساتھ یہ گھاٹے کا سودا نہیں، کیونکہ اسرائیل کا جانی نقصان تو بظاہر بہت ہی معمولی ہے اور مالی نقصانات کی تلافی امریکہ اور پورا مغرب شوق سے کر دیں گے کہ وہ ان کا پالتو بچہ ہے۔ اِس لیے اس کا ہر حال میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ہاں، اس جنگ میں ایران اور امریکہ اور خلیج کے ممالک تینوں losers ہیں کہ تینوں خسارہ میں رہے۔ جانی نقصان تو امریکہ کا بھی کچھ نہیں ہے لیکن اس کی سپر پاور ہونے کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ اس کو ایک ایسے ملک نے چیلنج کر دیا ہے جو چالیس سال سے اقتصادی پابندیوں کی مار جھیل رہا ہے۔
بظاہر ایران اخلاقی اور اسٹریٹیجیکلی جیت گیا ہے مگر یہ فتح بڑی ہی مہنگی پڑی ہے۔ یہ اس کے لیے Pyrrhic وکٹری (مہنگی جیت) ہے جس میں فاتح جیت کر بھی نہیں جیتتا۔ اُس کا عسکری ڈھانچہ تباہ، سول فیسیلٹیز برباد، نیوی، فضائیہ، اسکول، پولیس اسٹیشن، سول ادارے، بجلی گھر، اسپتال اور پل سب تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ایک لاکھ کے قریب مکانات تباہ ہوئے ہیں اور ان کو بنانے میں برسوں لگیں گے۔ ساتھ ہی ہزاروں معصوم جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کی کھلی دہشت گردی تھی اور ایران پر زبردستی مسلط کی گئی تھی جس کا نہ کوئی جواز تھا نہ ایران نے اس کے لیے اکسایا تھا۔ اس لیے مجبوراً اس کو لڑنا پڑی۔ جس کے لیے اس کی جرأت و استقامت کو سلام ہے۔
امریکہ کو اخلاقی شکست بھی ہوئی اور معاشی نقصان بھی پہنچا جو بہت زیادہ نہیں ہے۔ اصل میں تو اُس کا سپر پاور کا غرور و استکبار کا بت پاش پاش ہوا۔ آنے والے چند مہینوں میں امید ہے کہ اِس فرعونِ زمانہ ٹرمپ کو شخصی طور پر اس کی سزا مل کر رہے گی کہ اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن میں اس کی ہار پکی ہو گی۔ پھر اُس کا Impeachment (مواخذہ) بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خلیجی عرب ملکوں نے اپنے لیے ترقی کا جو مغربی ماڈل چنا تھا وہ بری طرح کرش ہو گیا ہے۔ ان کی بہت زیادہ معاشی تباہی ہو گئی ہے اور اب پہلی جیسی صورت حال کو واپس لانا ان کے بس میں نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مستقل خطرہ سے دوچار رہیں گے۔ اپنا دفاع بیرونی خطروں سے وہ کر نہیں سکتے۔ امریکہ پر بھروسہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسرائیل ان ممالک میں توسیع کے خواب دیکھتا ہے، اور ایران کو وہ اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔ البتہ سعودی عرب اور قطر اس صورتحال میں پاکستان کے مزید قریب آ رہے ہیں جو ایک اچھی علامت ہے۔
البتہ اس جنگ کے اصل مجرم اور بین الاقوامی دہشت گرد نتن یاہو کو اس جنگ سے ابھی تو بہت فائدہ ہو گیا ہے۔ 80 فیصد اسرائیلی اس کے پیچھے کھڑے ہیں، گرچہ دبی دبی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔ اکتوبر میں وہاں انتخابات ہونے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ پھر جیت جائے گا۔ اور اس کا گریٹر اسرائیل کا جو منصوبہ ہے اب اس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ کیونکہ کئی عرب ممالک اس جنگ میں اس کا ساتھ دے رہے تھے اور ایران کو کمزور کر کے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے تھے۔
اگرچہ یہ پہلو بھی اس جنگ سے اسرائیلی عوام کے سامنے آیا کہ دنیا میں کوئی تو ہے جو 9.97 ملین اسرائیلیوں کو چالیس دن رات تک برابر راتوں کو آٹھ آٹھ بار اٹھ اٹھ کر بنکروں میں چھپنے اور پناہ لینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان دنوں میں ان کی زندگی اجیرن تھی پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن تھا، بازار، اسکول بند، کاروبار ٹھپ۔ ایسا ان کے ساتھ پہلی بار ہوا ہے اور دوسروں کو عذاب دیتے رہنے والوں نے خود پہلی بار جنگ کا عذاب چکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام نے بھی اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ گرچہ رپورٹیں آ رہی ہیں کہ جنگ باز اور دہشت گرد نتن یاہو اور اس کا خاص ٹولہ اس سے خوش نہیں ہوا۔ اور وہ صہیونی لابی کو کام میں لا کر امریکہ و ایران کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو بائی پاس کر کے FTA (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کے تحت براہِ اسرائیل ایک نئی پائپ لائن بچھانے کی بات کر رہے ہیں جس میں انڈیا بھی شامل ہو گا اور اس راستہ سے وہ اپنا تیل و گیس انڈیا اور یورپ دونوں کو بھیج سکیں گے۔ اس طرح بھاری پیسہ خرچ کر کے یہ لوگ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے چھٹکارا پا لیں گے۔ پھر ایران کی دنیا کے لیے اسٹریٹیجک اہمیت خود ہی ختم ہو جائے گی۔ تاہم ابھی اس منصوبہ کو بروئے کار آنے میں خاصا وقت لگے گا تب تک ایران کی یہ حیثیت برقرار رہے گی۔
اس میں شک نہیں کہ ٹرمپ مزاجاً ایک غیر متوازن، طاقت کے نشہ میں چور اور نرگسی مزاج شہنشاہ ہے، مگر ایران کے حوالہ سے اُس کا ذہن پوری طور پر اپنے صہیونی آقاؤں کے زیر اثر ہے اور پوری طرح کلیئر ہے کہ وہ ایران کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کو خطرہ ایران کی ملائیت یا مذہبی جذباتیت سے نہیں بلکہ اُس امکان سے ہے جو ایران میں بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔ کیونکہ ایران ساری اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنے علم، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس مقام پر تھا کہ وہ ایک نئی دنیا تخلیق کر سکتا تھا۔ اِسی امکان کے خاتمہ کے لیے دہشت گرد نتن یاہو برسوں سے واشنگٹن کے چکر لگا رہا تھا اور تیس برسوں سے مسلسل امریکی صدور کو قائل کرنے کی کوششیں کرتا رہا تھا۔ اور بالآخر وہ ٹرمپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایران میں ایک بڑا امکان ہے جو مغرب کے لیے چیلنج ہے، اس کو ختم کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز بند کرنے سے امریکہ پریشر میں آ جائے گا۔ اس کی بلا سے۔ وہ اس جنگ کے پہلے ہی دن سے ایران کو تباہ کرنے کے لیے میدان میں آیا تھا اور وہی کام وہ کرتا رہا۔ اور یقینی ہے کہ اس جنگ کے خاتمہ تک وہ ایران کو پچاس سال پیچھے دھکیل چکا ہو گا۔
ایران کا انٹیلی جینٹسیا بھی اس بات کو سمجھ رہا ہے۔ چنانچہ ایران کے سابق وزیر خارجہ، سفیر اور اب تہران یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جواد ظریف نے تین اپریل کو مشہورِ عالم امریکی جریدہ فارن افیئرز میں ایک کالم لکھا ہے۔ "A Deal Tehran Could Take: How Iran Should End the War" جس کا لب لباب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ امریکہ پر بھروسہ کر کے جنگ کو کسی بھی حال میں نہیں روکنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران اپنے نیوکلیر پروگرام پر سمجھوتہ کر لے اور امریکہ فوراً جارحیت بند کر دے تو جنگ بندی کی ایک صورت نکل سکتی ہے۔ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جو تباہی مچا رہے ہیں وہ ملک کے حال و مستقبل کے لیے زبردست خطرہ ہے۔ تقریباً اسی طرح کی بات معروف امریکی کالم نگار ٹامس فرائڈمین نے بھی اپنے کالم میں کہی ہے۔
اس جنگ کا اصل فائدہ اسرائیل کو ملنے جا رہا ہے۔ وہی اس جنگ کے بعد خطہ میں سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر خطے کے لوگوں نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیے۔ کیونکہ عربوں کے ڈھلمل، غلامانہ اور ڈرے سہمے رویے نے امریکہ و اسرائیل کو ان کی طرف سے یقین دلا دیا ہے کہ ان تلوں میں اب تیل نہیں ہے۔ چار اپریل کو ٹرمپ نے امریکی عوام کے نام اپنے خطاب میں ان سارے عرب حکمرانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیسیز اور اڈے سب ان کو استعمال کرنے دیے تھے۔ خود امریکی وزیر جنگ نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا کہ ہم خلیج کے ممالک میں موجود اپنے اڈے مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے ایران نے ان کو اپنا جائز ہدف مانا تھا۔ صرف اپنے عوام کو بے وقوف بنانے اور عام مسلمانوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے یہ حکمران مسلسل جھوٹے بیانات دے رہے تھے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جبکہ ایران یہ کہتا ہے کہ امریکی طیاروں کی ری فیولنگ کویت، بحرین اور سعودی عرب میں ہو رہی تھی۔ امریکی فوجی بڑے پیمانے پر متحدہ عرب امارات میں سول ڈریس میں ان کے ہوٹلوں کے اندر موجود تھے اور وہاں سے کارروائیاں کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے بارے میں وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ اور دوسرے امریکی جرائد میں مسلسل ایسی رپورٹیں آتی رہیں کہ امارات وغیرہ کا اس پر زور ہے کہ امریکہ ایران کو زخمی چھوڑ کر اس جنگ سے نہ نکلے بلکہ پوری طرح ایران کو تباہ کرے۔ کیونکہ زخمی ایران ان کے لیے زیادہ خطرناک بن جائے گا۔ اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ رپورٹیں خود پینٹاگان کی وار اسٹریٹیجی کا حصہ ہوں اور فیک ہوں، تاہم اتنا ہی امکان ان کی صداقت کا بھی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات مسلسل اسرائیل کے کیمپ میں کھڑا ہے جس کی وہ کوئی تردید بھی نہیں کرتا۔ تاہم ہمارا خیال ہے کہ خلیج کی ریاستوں پر ایران کے حملوں کو جواز دے بھی دیا جائے تب بھی ایران کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ آخری تجزیہ میں اس سے امریکہ اور اسرائیل کا تو کچھ نہیں بگڑا، سارا نقصان تو مسلمانوں کے ہی حصہ میں آیا اور یہی تو دشمن چاہتا ہے۔ یعنی ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنا غصہ غلط جگہ نکالا اور اپنے پڑوس میں صرف اپنے لیے کانٹے بو لیے! اور بالواسطہ اسرائیل ہی کا مفاد پورا کیا!
اب بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ بعض خلیجی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے اور زیادہ قریب آئیں گے۔ جس طرح برصغیر میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ امریکہ نے عرب ملکوں کو ایران کے آگے کھلے میدان میں تنہا چھوڑ دیا ہے اور اس کا سارا فوکس اسرائیل کے تحفظ پر رہا تو قوی امکان ہے کہ اب عرب اس بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ لیکن عرب میڈیا کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا نہیں۔ وہاں امریکہ اور اسرائیل خطہ میں ان کی خطرناک پالیسیاں سرے سے زیر بحث ہی نہیں، وہاں تو صرف اور صرف ایران اور عجم و عرب کے مابین مسلکی تنازعہ اور اس تنازعہ کی تاریخی بنیادیں اور انقلاب کے بعد ایران کی عرب مخالف پالیسیاں ہی مباحثہ کا موضوع ہیں۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اب عرب اور زیادہ امریکہ پر بھروسہ کریں گے۔ جبکہ ذہنی طور پر وہ ایران سے اور دور ہوں گے۔ چونکہ وہ ایران کو بڑا اور فوری خطرہ اپنے لیے سمجھتے ہیں اور اسرائیل کو نہیں سمجھ رہے ہیں، اس لیے اسرائیل کے لیے گریٹر اسرائیل کا راستہ مزید آسان ہوا ہے۔ اس جنگ سے بظاہر اس کو کوئی خاص دھچکہ نہیں پہنچا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ لانگ ٹرم میں اب اسرائیل کو امریکہ اور یورپ سے وہ سپورٹ نہیں ملے گی جو اب تک ملتی آئی ہے کیونکہ وہاں رائے عامہ اب صہیونی مغربی میڈیا کی محتاج نہیں رہ گئی ہے۔ اور نئی جنریشن کے خیالات اسرائیل کے بارے میں تبدیل ہوئے ہیں۔ اِس بڑے شر سے یہی ایک خیر برآمد ہونے کی توقع ہے جس کو materialize ہونے (قدم جمانے) میں ابھی دیر لگے گی۔
خدا شرے برانگیزد کہ خیرِ ما دراں باشد
ایران نے بڑے زبردست نقصانات اٹھا کر جس دلیری سے قربانیاں دی ہیں اور استقامت دکھائی ہے اُس سے یہ تو یقینی ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل ایسا Misadventure (ناکام مہم) کرنے میں سو بار سوچیں گے۔ ایران اس جنگ میں سروائیو کر گیا، یہی اس کی حقیقی جیت ہے۔ اس سے آگے چل کر خطہ میں اس کی پکڑ بھی مضبوط ہو گی۔ اسی طرح جنوبی لبنان تو تباہ ہوا مگر حزب اللہ دوبارہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔ اب ایران کو اپنی ری بلڈنگ کے ساتھ ہی ساری توجہ خطہ کے ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنانے پر کرنی ہو گی۔ چنانچہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خلیج کے تمام ملکوں کے علاوہ برادر اسلامی ملکوں کے نام ایک خط لکھا ہے جس کو سات اپریل 2026ء کو الجزیرہ نے شائع کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے یہی یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران تمام برادر ملکوں سے دوستانہ روابط چاہتا ہے۔
جبکہ اسرائیل اور امریکہ کا اصل منصوبہ گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھنا ہے، جس کی راستہ کی رکاوٹ ایران ہے، اسی کو وہ دور کرنا چاہتے ہیں۔ اب برادر عرب ملکوں پر ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ہم لوگ مل جل کر اپنے خطہ کو مضبوط اور پُر امن بنائیں۔ امریکہ اور اسرائیل یہاں کبھی امن و استقرار نہیں آنے دیں گے۔ لیکن عربوں نے ابھی ابھی ایران کی جس جارحیت کا سامنا کیا ہے اس کے بعد ایسا لگتا نہیں ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔
اس جنگ سے روس نے زبردست کمائی کی ہے کہ وہ مسلسل یورپ کو اپنا تیل اور گیس بیچتا رہا۔ اسی طرح چین نے بڑی خاموشی سے ایران کے ساتھ مل کر امریکہ کی معاشی قبر کھودنے کا پروگرام بھی بنا لیا ہے جس کے لانگ ٹرم میں پوری دنیا میں زبردست اثرات ہونے والے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ چین مدتوں سے De-dollarization (ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے) کے خواب دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کی ساری چودھراہٹ دنیا کی معیشت میں ڈالر کی حکمرانی کے بل پر قائم ہے۔ اگر ڈالر کی ویلیو ختم یا کم کر دی جائے تو وہ اپنی اوقات میں آ جائے گا، کیونکہ کہنے کو تو وہ دنیا کی اب بھی سب سے بڑی معیشت اور عسکری سپر پاور ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مقروض ملک بھی امریکہ ہی ہے جس کے بیرونی قرضے ٹریلینوں میں ہیں۔ وہ تو عربوں کے پیسے لوٹ کھسوٹ کر وہ اپنا بوجھ کم کرتا رہتا ہے اور اس جنگ کے اخراجات بھی وہ عربوں سے لینے کا اشارہ دے چکا ہے۔
اب ایران نے ایک بڑا بولڈ قدم یہ اٹھا دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جو ٹول ٹیکس اس نے وصول کیا وہ ڈالر میں نہیں بلکہ یوان میں کیا۔ یوان چین کا سکہ ہے اور اگر اس نے عالمی معیشت میں ڈالر کی جگہ لے لی یا اس کے برابر کا اعتبار حاصل کر لیا تو امریکہ کے زوال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ٹرمپ تاجرانہ ذہنیت کا آدمی ہے اور وہ چین کے اِس کھیل کو سمجھتا ہے، جس کا حصہ ایران بھی بن گیا ہے، اس لیے وہ ایران سے اتنی نفرت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔
اب سات اپریل کو اس جنگ میں یہ نیا موڑ آیا ہے کہ 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے بعد، جس میں ٹرمپ نے نیوکلیر حملہ اور پوری ایرانی تہذیب کو ایک ہی رات میں ختم کرنے کی دھمکی دی تھی، اور ترکی بہ ترکی ایران نے بھی خلیج کے ملکوں اور اسرائیل پر شدید حملوں کا عندیہ دیا تھا، اب فریقین کے درمیان پندرہ دن کی عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ اس شرط پر کہ امریکہ بھی ایران پر اپنے حملے روک دے گا اور اسرائیل بھی، اور ایران پندرہ دن کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔
اس جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ چین نے ایران کو اس کے لیے راضی کیا۔ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر تینوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ وزیر خارجہ بیجنگ گئے وہاں ایرانی فریق سے معاملات طے پائے۔ اور وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مسلسل ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سے رابطے کیے۔ یہاں پاکستانی سفارت کاری قابل تحسین ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کو اس مخمصہ سے نکالا اور اب ساری دنیا میں ان کی تحسین بھی ہو رہی ہے۔ سوائے انڈیا کے، جس غریب کا حال ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ جیسا ہے، جس کو پاکستان نے پہلے عسکری محاذ پر اور اب سفارت کے محاذ پر بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اسلام آباد میں ہو گیا اور توقع ہے کہ مزید راؤنڈ بھی جلد ہی ہوں گے جس میں فی الحال ٹرمپ کے بعض عاجلانہ اقدامات سے تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ شرقِ اوسط میں امن و استقرار کی جو امید کی کرن نمودار ہوئی ہے وہ پوری ہو۔ البتہ اسرائیل نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جبکہ پاک وزیراعظم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ جنگ بندی لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل ہے۔ یاد رہے کہ لبنان کے جنوب میں کوئی دس کلومیٹر کا علاقہ لیتانی ندی تک اسرائیلی فوج نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں اس کی حزب اللہ سے دو بدو جنگ ہو رہی ہے۔ اس علاقہ میں اسرائیلی بمباری سے زبردست تباہی مچی ہے جس کی طرف ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے دنیا کی توجہ نہیں جا سکی ہے۔
ایرانی مزاحمت جو بہت calculated (نپی تلی) اور strategic (منصوبہ بند) تھی اور جس نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ خود جارح قوتوں کو اس کی طرف سے ایسی جرأت رندانہ اور بے مثال مزاحمت کی توقع نہ تھی اسی لیے شروع میں امریکی انتظامیہ بار بار حیرت کا اظہار کر رہی تھی کہ یہ ایرانی پندرہ ہزار sorties (بمبار جہازوں کی پروازوں) کی مار جھیلنے کے باوجود سر نِگوں کیوں نہیں ہوتے، ہار کیوں نہیں مانتے! بالآخر ٹرمپ اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ اب اس کو امریکہ میں جنگ کی بڑھتی مخالفت اور نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں جیتنے کے لیے اس جنگ سے باہر نکلنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے پاکستان کی بہترین اور تیز تر سفارت کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کا تماشہ بھی اسلام آباد میں لگا لیا۔ اب دوبارہ پاکستان میں مذاکرات کی ٹیبل سجنے والی ہے جس میں ابھی ایران تذبذب کا شکار ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہاں سول اور فوجی قیادتوں میں اس حوالہ سے اختلافات ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹرمپ نے خود بھی پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی اثناء میں پاکستان نے اپنی ڈپلومیسی سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کر لیا تھا اور وہ کھل بھی گئی تھی مگر چونکہ صہیونی لابی کے مضبوط حصار میں گھرے ٹرمپ کو اپنے عوام کو جیت کا چورن بھی بیچنا ہے اس لیے ایران پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے خود آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی نیز ایران کے ایک جہاز کو قبضہ میں لے لیا اور اپنی دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔ اس لیے جواب میں ایران نے بھی دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ جس کے بعد فی الحال امریکہ اور پاکستان دونوں کے درمیان مذاکرات کے سلسلہ میں تعطل بنا ہوا ہے، اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع کر دی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔
ترکی، سعودی، قطر، مصر اور پاکستان کے درمیان بہت ممکن ہے کہ کوئی مشترکہ دفاعی سمجھوتہ ہو جائے جس کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان کا بڑا رول ہو جائے گا۔ جو انڈیا اور اسرائیل کے لیے بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔ اگر پاکستان خطہ میں مثبت اور فعال رول ادا کرتا ہے تو اس سے خطہ میں استحکام آئے گا۔ عرب خلیجی ریاستوں کو ایران و اسرائیل دونوں کے خطرہ سے اطمینان ہو گا۔ اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتے قدموں پر روک لگے گی۔ پاکستان کے اس وقت امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، ایران اور عرب ملکوں کے ساتھ بھی۔ اس لیے اسرائیل غالباً پاکستان کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو مختصر سا تصادم ہوا تھا جس میں انڈیا کی شکست اور سبکی ہوئی تھی اُس نے پاکستان کا قد پوری دنیا میں بہت بلند کر دیا۔ اُس کے ہاں معیشت کے مسائل ہیں اور بلوچ علیحدگی پسندی اور طالبان کی دہشت گردی نے اس کے مسائل میں ہوش ربا اضافہ کیا ہوا ہے۔ تاہم اگر وہ ان چیزوں پر قابو پا لے تو جنوبی ایشیا کے علاوہ شرق اوسط میں بھی اس کا دبدبہ قائم ہو جائے گا۔
یہ تو بہرحال واضح ہے کہ جنگ کے بعد کی دنیا وہ نہیں ہو گی جو اس سے پہلے تھی۔ پہلے کی دنیا یک قطبی تھی اب وہ کثیر قطبی ہو گی۔ امریکہ میں مقیم انڈین اسکالر اسلم عبداللہ کہتے ہیں کہ: ’’یہ تمام عوامل ایک نئی عالمی ترتیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ طویل عرصہ تک دنیا ایک غالب طاقت کے زیر اثر رہی مگر اب حالات بدل رہے ہیں: مشرق وسطیٰ مرکزی میدان بن سکتا ہے۔ امریکہ سب سے زیادہ فوجی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ یورپ محتاط رہے گا۔ روس لچک دکھائے گا۔ چین معاشی اثر بڑھائے گا۔ نئی طاقتیں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں گی۔ نتیجتاً ایک کثیر قطبی دنیا ابھر سکتی ہے جہاں طاقت کئی مراکز میں تقسیم ہو گی۔‘‘ (ماہنامہ افکارِ ملی نئی دہلی اپریل 2026ء)
مستقل جنگ بندی سے ایران کو اپنی تعمیر نو میں مدد ملے گی اور پھر ایران و پاکستان وغیرہ مل کر امریکہ کو اس بات پر بھی قائل کر سکتے ہیں کہ اِس خطہ میں دیرپا امن فلسطینی مسئلہ کو حل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ غزہ کی تعمیر نو ہو اور ایک مستقل فلسطینی ریاست کا قیام اُس کے بعد ہی خطہ میں امن و استحکام آ سکتا ہے۔ فی الحال ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کو اس کے لیے محنت کرنی ہو گی اور کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر امریکہ اور ایران دونوں فریقوں کو میز پر بٹھانا ہے۔ پاکستان اپنے پتے بڑی دانائی اور زیرکی سے کھیل رہا ہے۔ ایرانی قیادت کو بھی جوش کے بجائے ہوش اور دانشمندی سے اپنی مزاحمت جاری رکھنی ہے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر بھی فتح حاصل کر سکا تو خطہ میں ایک نیا سیاسی سیٹ اپ قائم ہو جائے گا۔ جس میں خلیج کے ملکوں، ایران اور پاکستان سب کی اپنی جگہ ہو گی۔ اور صہیونی سامراج کے قیام کا منصوبہ بکھر جائے گا۔
اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ ایران بھی پاکستان کی مدد سے خلیج کے ملکوں سے مفاہمت اور خیر سگالی کی فضا بحال کرنے کے لیے بھرپور سفارتی مہم کا آغاز کرے۔ اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے اپنے فائدے ثابت کرے اور ان کے شکوک و شبہات دور کرے۔ یقیناً اس میں اسرائیل ایک spoiler (انتشاری) کا کردار ادا کر رہا ہے مگر اس کی اسپائلرنگ کو ختم کرنا ہو گا۔ تاریخ میں مصر کے بعد پہلی بار اسرائیل کی جارحیت کے سامنے کوئی ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے، اس کے مثبت اثرات ان شاء اللہ خطہ کے مستقبل پر دیرپا ہوں گے، بشرطیکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے جال میں مزید پھنسنے سے بچا لیا جائے۔
Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
As far as true friendship is concerned, no disbeliever can be a true friend to a Muslim. This is because the ultimate aim of Islam is to eradicate disbelief and oppression from the world and establish a divine system of justice and fairness. Regardless of its form, disbelief is fundamentally opposed to Islam. Therefore, if the true purpose behind the creation of Pakistan was indeed to implement and enforce Islamic justice, then any disbelieving power would be utterly foolish to claim sincere friendship with Pakistan.
This is precisely why Allah Almighty has forbidden believers from forming deep and unconditional alliances (موالات) with disbelievers in the Quran. The Holy Prophet (peace be upon him) declared that "الکفر ملۃ واحدۃ" – meaning, all disbelievers are united as one community when it comes to opposing Islam. However, cooperation based on mutual interests is possible with any disbelieving nation. The Prophet himself entered into treaties with the polytheists of Makkah, the Jews of Madinah, and other tribes, and he fulfilled those agreements faithfully.
On this basis, we must consider:
- Among these three powers, with which country do we share the greatest convergence of interests?
- What has been the outcome of past friendships and treaties with these nations, both for us and for other Muslim countries?
- Which of these nations is relatively more likely to demonstrate loyalty and reliability?
Not long ago, we relied on America and its bloc to counter Indian aggression on military and diplomatic fronts, and to secure a just resolution of the Kashmir issue. But experience shows that this American friendship failed the test of loyalty on both military and diplomatic fronts. The result is clear: despite military alliances with the US, Pakistan was dismembered, and the Kashmir issue remains unresolved to this day.
On the other hand, to please America, we antagonized Russia from the very beginning. The consequence of this ill will was the creation of Bangladesh. However, even if we had not angered Russia and had instead pursued friendship and agreements with them, given how Russia treated the Arabs, we likely would not have gained much benefit either.
The core issue is that we – and many other nations – made a fundamental mistake by aligning ourselves with two superpowers. The interests of major powers are vast, while ours are limited. Where a clash occurs between the interests of a superpower and its smaller ally, the superpower will naturally not abandon its own interests. The disloyalty of America towards Pakistan and Turkey, and Russia's neglect towards the Arabs, are rooted in this very reality.
Now, what are our interests? We need military and diplomatic assistance against our rivals – India, Greece, and Israel – and we need financial and technical cooperation for development projects at home. In contrast, the interests of major powers are far broader. Logically, unless both sides share interests at the same level, equal friendship becomes difficult, and often impossible. Therefore, neither we nor any other Muslim country should expect sincere friendship from either the US or Russia.
As for China, the question is somewhat different. China has its own interests tied to us, which it cannot easily abandon. For instance, the entire Islamic world shares an interest with China in organizing the Third World, free from the dominance and influence of the two superpowers. Furthermore, curbing growing Russian and Indian aggression in the subcontinent is a shared interest for both China and Pakistan. Thus, China's friendship may prove more durable for us than others. However, based on past experiences, we must remember that placing absolute trust in any power is never beneficial for us – especially China. China cannot fill the void left by America and Russia in the Third World. Its own development and strength might suffice for itself, but practically, it may not be as effective for others.
So, instead of relying on others, why not adopt the path of organizing the Islamic world ourselves and pooling its resources? What resources are we lacking? If we dedicate our resources toward military and industrial development, would we still need the support of any superpower?
The true path to honor, dignity, progress, and greatness for us is to abandon the practice of relying on major powers altogether, consolidate our own resources, organize the Islamic world, and while benefiting from China's technical strength, set our ultimate destination as making the Muslim Ummah itself a leading force among superpowers. May Allah Almighty grant us the ability to think and decide rightly.
سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
شعور کی عمر کو پہنچ کر عصرِ حاضر کے جن بڑے اسلامی مفکرین سے واقفیت ہوئی اور ان کو پڑھا ان میں سید محمد نقیب العطاس بھی تھے۔ جن کا خاندان عرب تھا جو حضرموت سے ہجرت کر کے ملائیشیا میں آباد ہوا تھا۔ سید محمد نقیب العطاس نے عصرِ حاضر میں اسلامی تعلیم کے احیاء، سیکولرزم اور سیکولرائزیشن اور اسلامائزیشن آف نالج وغیرہ موضوعات پر کام کیا۔ انہوں نے مغرب میں تعلیم بھی پائی اور وہاں قیام بھی کیا۔ پھر علمی و نظری کام کرنے کے لیے ملائیشیا میں ایک ادارہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن (ISTAC) قائم کیا جو آج عالمی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا کوالالمپور کا ایک سینٹر ہے۔ ان کا ایک خاص کنٹریبیوشن اسلامائزیشن آف نالج کا تصور پیش کرنا تھا جس کو مزید منقح کر کے پیش کرنے اور اس پر علمی و تحقیقی کام کرنے کا سہرا فلسطینی عرب مفکر اسماعیل راجی الفاروقی شہید اور ان کے رفقاء کو جاتا ہے، جنہوں نے واشنگٹن میں بیٹھ کر المعہد العالمی للفکر الاسلامی قائم کیا۔
راقم نے مدرسہ ڈسکورسز سے وابستگی کے دور میں عطاس کی کتاب "سیکولرزم اینڈ اسلام" اصل انگریزی میں پڑھی تھی۔ جس کی تقریب یہ ہوئی کہ ہمارے بزرگ دوست ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی (علی گڑھ) نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا جس کا اجراء برج کورس (اے ایم یو علی گڑھ) میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت ہمیں خیال ہوا کہ ترجمہ کے بجائے کیوں نہ اس کی اصل کو پڑھا جائے چنانچہ انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے اس کی پی ڈی ایف کاپی مل گئی جس کو ہم نے پھر بالاستیعاب پڑھ لیا۔ 8 مارچ 2026ء انہیں نقیب العطاس کی رحلت 94 سال کی عمر میں ہو گئی۔ اردو قارئین ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ان کے اوپر ایک صحافی نافع وافی نے ایک مضمون لکھا ہے (جو قنطرہ ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ اس تحریر میں ان کے مضمون سے خاص استفادہ کیا گیا ہے اور وکی پیڈیا سے بعض جگہوں پر اضافے بھی کیے گئے ہیں)۔
سید محمد نقیب العطاس (1 محرم 1350ھ / 5 ستمبر 1931ء – 8 مارچ 2026ء) ایک ممتاز ملائیشیائی اسلامی فلسفی اور مفکر تھے۔ انہیں تحریکِ (اسلامائزیشن آف نالج) کا عالمی بانی سمجھا جاتا ہے اور وہ معاصر اسلامی فکر کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مضبوط اسلامی علمی روایت اور جدید مغربی فلسفے کو ایک دقیق تحلیلی منہج کے ساتھ جمع کیا، جس کے باعث وہ فلسفہ، تاریخ، ادب، تعلیم اور علومِ شرعیہ کے میدان میں ملائیشیا کے اندر سات دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک بنیادی حوالہ بنے رہے۔
ولادت اور ابتدائی زندگی
نقیب العطاس ایک خوشحال مسلم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کی جڑیں جنوبی یمن کے حضرموت سے ملتی ہیں۔ یہ خاندان علمی، روحانی اور صوفیانہ اثر و رسوخ کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیا میں معروف تھا۔ انہوں نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جو برطانوی استعمار اور ابھرتی ہوئی آزادی کی تحریکوں سے متاثر تھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی عربی، ملائی اور انگریزی زبانیں سیکھ لیں، جس سے ان میں مشرق و مغرب کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت پیدا ہوئی۔
خاندان اور تعلیمی سفر
سید نقیب العطاس تین بھائیوں میں منجھلے تھے۔ ان کی اہلیہ کا نام لطیفہ العطاس تھا اور ان کے چار بچے ہوئے۔ ان کی پیدائش بوگور جاوا ڈچ ایسٹ اسٹیٹ میں ہوئی تھی۔ وکی پیڈیا کے مطابق انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم جامعہ ازہر، قاہرہ میں حاصل کی تھی جہاں انہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ جیسے علوم کے مبادی پڑھے تھے۔ کیونکہ ان کے والد علی العطاس ایک دینی عالم تھے اور قرآن و فقہ کی تعلیم دیتے تھے، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے ان میں علومِ اسلامیہ سے گہری وابستگی پیدا ہوگئی۔ البتہ نافع وافی کے مضمون میں ان کی ازہر میں تعلیم کے متعلق کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
پانچ سال کی عمر میں انہیں ملائیشیا کی ریاست جوہر بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے روایتی اسلامی مدارس میں تعلیم حاصل کی اور نو برس کی عمر سے پہلے ہی قرآن مجید مکمل حفظ کر لیا۔ ان کی تربیت حفظِ قرآن کی حضرمی روایت کے تحت ہوئی، جو حفظ اور فہم دونوں کو یکجا کرتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ مصر گئے ہوں گے اگر مصر جانا ثابت ہو اور کچھ دنوں ازہر سے استفادہ کیا ہوگا۔ اور وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ ملیشیائی رجمنٹ میں بھرتی ہوئے ہوں گے اور پھر آگے کی زندگی کی شروعات ہوئی ہوگی۔
جیسا کہ گذرا کہ سیکنڈری تعلیم مکمل کرتے ہی انہوں نے ملائیشین آرمی جوائن کر لی تھی۔ جس کی طرف سے انہیں مزید ملٹری تعلیم کے لیے انگلینڈ کی سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈمی بھیجا گیا، وہاں وہ (1952ء-1955ء) تک رہے۔ اس دوران ہی انہیں اسپین، شمالی افریقہ اور جزیرہ سسلی جانے کا اتفاق ہوا جہاں کے آرکیٹیکچر اور تاریخی فنِ تعمیر میں موجود ثروت مند مسلم میراث نے ان کو بہت متاثر کیا۔ اور واپس آنے کے بعد انہوں نے ملٹری سے استعفا دے دیا اور فوج سے جامعہ کا رخ کر لیا۔ چنانچہ مزید تعلیمی سفر میں انہوں نے سنگاپور کی یونیورسٹی آف ملائیشیا سے (1957ء-1959ء) بی اے کیا۔ پھر ان کو مونٹریال کینیڈا کونسل فیلوشپ کے تحت مشہورِ عالم یونیورسٹی میک گل میں داخلہ مل گیا۔ جہاں سے (1962ء) انہوں نے اسلامی فلسفہ میں ایم اے کیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان کے مشہور ترین اسکالر فضل الرحمٰن نے بھی میک گل میں پڑھا تھا۔ یاد رہے کہ مغربی دنیا میں فضل الرحمٰن اسلام پر سب سے بڑا حوالہ سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے مذہب کو تاریخیت کی اساس پر سمجھا تھا، محمد کاظم صاحب نے ان کی کئی کتابوں کے کامیاب اردو تراجم کیے ہیں۔ بعد ازاں محمد نقیب العطاس نے اورینٹل اسٹڈیز یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی۔ جس میں کیمبرج کے مشہور مستشرق سر اے جے آربری اور مارٹن لنگس ان کے مقالے کے نگران بنے۔ مؤخر الذکر بعد میں مسلمان ہو گئے اور اپنا اسلامی نام ابوبکر رکھا جن کی سیرتِ طیبہ نیز مغربی تہذیب کی تنقید میں تصانیف ہیں۔
1931ء میں جاوا میں حضرمی عرب نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے العطاس نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں ملائی دنیا کی ثقافتی اور دینی روایات موجود تھیں، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا ابھی نوآبادیاتی دور کے اثرات سے گزر رہا تھا۔ جیسا کہ اوپر گزرا، نوجوانوں میں شمالی افریقہ اور اسپین کے سفر—جہاں اسلامی تہذیب کے آثار ابھی بھی عمارتوں، کتب خانوں اور تاریخی یادداشت میں موجود تھے— نے ان کی سمت بدل دی، اور وہ فوجی زندگی سے علمی میدان کی طرف آ گئے۔ انہوں نے فوج چھوڑ کر اسلامی فکری تاریخ کے مطالعے کو اپنا مقصد بنایا۔ اور اسی کے تحت لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں انہوں نے سولہویں صدی کے جزیرہ سماٹرا کے صوفی مفکر شیخ حمزہ فنصوری پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ یہ موضوع اسلامی روحانیت کے فلسفیانہ پہلوؤں، خصوصاً مابعد الطبیعی صوفیانہ روایت سے ان کی ابتدائی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
سید محمد نقیب العطاس ملائی زبان کے بھی ماہر تھے چنانچہ ملائی ادب و نقد سے متعلق بہت سے مباحث پر بھی انہوں نے خوب لکھا ہے لیکن چونکہ اردو قارئین کو اس سے دلچسپی نہیں ہوگی اس لیے سردست ہم اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس گفتگو کو صرف اسلام، اسلامی فلسفہ علم وغیرہ میں ان کے کنٹریبیوشن تک محدود رکھیں گے۔ نیز ملائیشیا میں جو اسلامی متصوفانہ روایت رہی ہے اس کا بھی وہ گہرائی سے مطالعہ کرتے رہے اور اس سے شدید متاثر ہوئے۔ ان کی بعد کی زندگی کو تصوف نے ایک خاص رخ دیا۔
تعلیمی خدمات
1965ء میں العطاس ملائیشیا واپس آئے اور کوالالمپور میں واقع یونیورسٹی آف ملایا کے شعبۂ مطالعاتِ ملایا کے تحت ڈویژن آف لٹریچر کے سربراہ مقرر ہوئے۔ وہ 1968ء سے 1970ء تک فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین رہے، جہاں انہوں نے بنیادی نوعیت کی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس کے بعد وہ نئی قائم شدہ نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا میں منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے پہلے شعبۂ زبان و ادبِ ملایا کے سربراہ اور پھر فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ذریعۂ تعلیم کے طور پر ملائی یا ملے زبان کے استعمال کی بھرپور وکالت کی۔ 1973ء میں انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا میں انسٹی ٹیوٹ آف ملایا لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر (IBKKM) کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر بھی رہے۔
انہوں نے 1987ء میں کوالالمپور میں "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن" (ISTAC) کی بنیاد رکھی، جو اسلامی فکر کی تجدید کا ایک مرکزی ادارہ بنا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1970ء میں نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا اور 1973ء میں انسٹی ٹیوٹ آف دی ملے ورلڈ اینڈ سویلائزیشن کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔ ان کے گہرے فکری اثرات کے باعث انہیں "علامہ" اور "شاہی پروفیسر" کے القابات سے نوازا گیا۔
فکری خدمات اور علوم کو اسلامیانے کی تحریک
سید محمد نقیب العطاس کو "علوم کو اسلامیانے" کے تصور کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت انہوں نے ایسا تعلیمی نظام پیش کیا جو دینی اور دنیاوی علوم کو ایک مربوط شکل میں جمع کرتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ سیکولرزم کا شکار ہو یا اندھی مغربی تقلید میں مبتلا ہو۔
تصانیف
ویسے تو نقیب العطاس نے 27 کتابیں لکھیں لیکن ان کی نمایاں کتب میں درج ذیل شامل ہیں:
- Islam and Secularism
- Historical Fact and Fiction
- The Concept of Education in Islam: A Framework for an Islamic Philosophy of Education
- Prolegomena to the Metaphysics of Islam
- Islam: The Covenants Fulfilled
اردو میں ان کا ترجمہ یوں ہوگا:
- اسلام اور سیکولرزم (1978ء)
- اسلام میں تصورِ علم اور اس کے فلسفۂ تعلیم کی اساسات
- اسلامی مابعد الطبیعات کے مقدمات
- اسلام: عہدِ الٰہی کی تکمیل
- ان کے علاوہ ایک کتاب "اسلام اور رواداری" کے موضوع پر بھی ہے۔
سید محمد نقیب العطاس کے افکار نے عالمی سطح پر مسلم مفکرین جیسے اسماعیل راجی الفاروقی اور سید حسین نصر کو متاثر کیا۔ مغرب میں مقیم حسین نصر موجودہ زمانہ میں اسلامی فلسفیانہ روایت کے سرگرم نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ نقیب العطاس نے خاص طور پر "فقدانِ ذات" کے مسئلے کو اجاگر کیا، جو ان کے نزدیک مسلم معاشروں میں سیکولر اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوا، اور اس کے حل کے طور پر اسلامی بنیادوں پر علم کی از سرِ نو تشکیل کی دعوت دی۔
علمی مناصب اور اثرات
سید محمد نقیب العطاس نے کئی اہم علمی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں:
- ISTAC کے ڈائریکٹر
- مختلف ملائیشیائی اور بین الاقوامی جامعات میں پروفیسر
- جامعہ ملک سعود (ریاض) میں تدریس
- انہوں نے ملائیشیا، انڈونیشیا اور پاکستان کی فکری تحریکوں پر بھی گہرا اثر ڈالا، اور ایک پوری نسل کی فکری تربیت کی۔
وفات
سید محمد نقیب العطاس 8 مارچ 2026ء کو کوالالمپور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں ملائیشیا اور عالمِ اسلام کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ انہیں ایک ایسے مفکر کے طور پر یاد کیا گیا جس نے اسلامی تشخص کو سیکولرزم اور فکری استعمار سے بچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شیخ الازہر اور ملائیشیا کے بادشاہ نے بھی ان کی وفات پر تعزیتی بیانات جاری کیے۔
فکری ورثہ
سید محمد نقیب العطاس کا علمی و فکری ورثہ آج بھی ان کے اداروں، کتب اور شاگردوں کے ذریعے زندہ ہے۔ وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے روایت اور جدت کو یکجا کیا اور اسلامی دنیا میں تعلیم اور تہذیب کے مباحث کو نئی جہت دی۔ ملائیشیائی فلسفی اور ہمہ جہت عالم یعنی سید محمد نقیب العطاس مغربی فکری غلبے کے تاحیات ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے کام نے پوری مسلم دنیا میں جدیدیت اور تعلیم سے متعلق مباحث کو گہرائی سے متاثر کیا۔
العطاس کے نزدیک اسلامی مابعد الطبیعیات ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام ہے جو حقیقتِ مطلقہ کی ماہیت کو اثباتی انداز میں منکشف کرتا ہے، اور عقل و تجربے کو انسانی شعور کی مافوقِ عقلی اور ماورائے حسی سطحوں کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔ وہ اس تصور کو فلسفیانہ تصوف کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ العطاس کے مطابق اسلامی روایت میں دو مکاتبِ فکر حقیقت کی ماہیت سے بحث کرتے ہیں: ایک اساس پسند (Essentialist) اور دوسرا وجود پسند (Existentialist) ہے۔ پہلا گروہ فلاسفہ اور متکلمین پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا صوفیہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اساس پسند یا ماہیت پسند "ماہیت" (یعنی کسی شے کی حقیقتِ نوعیہ یا جوہر) سے وابستہ رہتے ہیں، جبکہ وجود پسند "وجود" (یعنی حقیقتِ وجود) کو بنیاد بناتے ہیں، جو براہِ راست وجدانی اور حضوری تجربہ ہے، نہ کہ محض عقلی تجزیے یا استدلالی فکر پر مبنی۔
وہ کہتے ہیں کہ اساس پسندی نے بلاشبہ فلسفیانہ اور سائنسی غور و فکر کو اشیاء اور ان کی ماہیات میں اس قدر مشغول کر دیا ہے کہ خود وجود کو نظر انداز کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں فطرت کا مطالعہ بذاتِ خود ایک مقصد بن کر رہ گیا ہے۔ العطاس کے نزدیک خارج میں، یعنی ذہن سے باہر کی حقیقت میں، اصل "حقیقت" اشیاء کا وجود ہے، جبکہ جس چیز کو تصوراتی طور پر "ماہیت" (یا جوہریت) کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت وجود کے عوارض میں سے ہے۔
مزید برآں بیسویں صدی کے دوران یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ مسلم معاشرے جدیدیت کا سامنا کیسے کریں: کیا وہ مغربی فکری سانچوں کو اختیار کریں یا اپنی فکری روایت کو ازسرِ نو دریافت کریں؟ بہت کم مفکرین نے اس سوال کو اس فکری گہرائی اور استقامت کے ساتھ کھنگالا، جس طرح سید محمد نقیب العطاس نے کیا۔ ایک فلسفی، مؤرخ، ماہرِ لسانیات اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے العطاس کو جدید اسلام کے آخری حقیقی ماہرِ السنہ و ہمہ جہت اہلِ علم (Polyglot) میں شمار کیا گیا ہے۔
العطاس نے اپنی پوری زندگی اپنے عہد کے غالب فکری رجحان کو چیلنج کرنے میں گزاری۔ ان کی تحریروں کا مرکز ایک مستقل سوال تھا: یعنی یہ کہ وہ اسلامی تہذیب، جو کبھی فلسفہ اور سائنس کے روشن ترین گہواروں میں سے تھی، آخر کیسے فکری طور پر جدید مغرب کے تابع ہو گئی؟ ان کے نزدیک مسلم دنیا کو درپیش بحران بنیادی طور پر سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ علمیات (epistemology) کا بحران ہے۔ ان کے خیال میں اداروں یا معاشروں کی اصلاح سے پہلے علم کی بنیادوں کو ازسرِ نو تشکیل دینا ضروری ہے۔ العطاس محض مغربی فکر کے ناقد نہیں تھے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ ایک ایسے فکری منصوبے کے معمار تھے جس کا مقصد مسلم فکر کو اس کے اپنے اصل راستے پر واپس لانا تھا۔
ملائیشیا واپسی پر وہ جلد ہی ابھرتے ہوئے جامعاتی نظام میں ایک مضبوط علمی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی بنیادی دلچسپی جدید دور میں مسلم معاشروں کی فکری تشکیل تھی۔ ان کے مطابق مسلم دنیا کی جامعات زیادہ تر یورپی ماڈل پر قائم ہوئیں، جنہوں نے نہ صرف تعلیمی ڈھانچے بلکہ فکری مفروضات بھی درآمد کیے۔ اگرچہ ان اداروں نے انجینئر، منتظمین اور سائنس دان پیدا کیے، مگر العطاس کے نزدیک انہوں نے مسلمانوں کے تصورِ علم کو بھی بدل دیا، جو ایک طرح کی فکری بے اساسی و بے سمتی (dislocation) تھی۔
العطاس کی فکر مغربی تصورِ علم پر تنقید کے گرد گھومتی ہے، جو علم کو محض معلومات کے انبار یا تجرباتی حقائق پر عبور تک محدود کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک علم کا ایک اخلاقی اور مابعد الطبیعی پہلو بھی ہے: یعنی ذہن کو حقیقت، معنی اور بالآخر الوہی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا۔ انہوں نے اس گہرے ادراک کو "معرفت" (Gnosis) کے تصور سے جوڑا، جو ایسا علم ہے جو صرف عقل ہی نہیں بلکہ روحانی بصیرت کو بھی شامل کرتا ہے۔ یہ علم نہ صرف تجربے یا منطق سے حاصل ہوتا ہے بلکہ انسان کی اخلاقی و روحانی تربیت بھی اس کے لیے ضروری ہے۔
ادب کا تصور
یہی بات انہیں ایک اور بنیادی تصورِ ادب تک لے گئی: "ادب" عام طور پر جسے آداب یا اخلاق کہا جاتا ہے۔ مگر العطاس کے نزدیک اس کا مفہوم کہیں زیادہ گہرا تھا۔ ادب سے مراد انسانی نفس کی درست ترتیب، ایک فکری و اخلاقی نظم ہے جو ہر علم کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ ادب کے بغیر علم منتشر ہو جاتا ہے اور حق کے بجائے طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کو محض فنی تربیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی معروف کتاب "اسلام میں تصورِ تعلیم" میں انہوں نے لکھا کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو "کامل انسان" بنانا ہے۔ علم کا مقصد انسان کو کائنات اور معاشرے میں موجود الٰہی نظم کو پہچاننے کے قابل بنانا ہے۔
علوم کی اسلامائزیشن
العطاس کے مطابق اسی ہمہ گیر تصورِ علم کے زوال نے مسلم دنیا کے فکری بحران کو جنم دیا۔ تعلیمی نظاموں نے مغربی علمی سانچوں کو اختیار تو کر لیا، مگر ان میں پوشیدہ مابعد الطبیعی مفروضات کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا۔
یہی تشخیص ان کے مشہور اور معرکہ الآراء "اسلامائزیشن آف نالج" (علوم کو اسلامیانا) کی بنیاد بنی، جو بیسویں صدی کے آخر میں مسلم فکری حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ ان کے نزدیک اسلامائزیشن کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جدید علوم پر اسلامی لیبل لگا دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب علم کی بنیادوں کی ازسرِ نو فلسفیانہ تشکیل تھا۔ اس عمل کا پہلا مرحلہ "ڈی ویسٹرنائزیشن" (مغربیت زدگی سے نجات) تھا — یعنی جدید علمی ڈھانچوں میں موجود سیکولر مفروضات کی نشاندہی اور ان کا اخراج۔ ان کے مطابق مغربی علم ایک مخصوص تاریخی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں مذہب کو فلسفہ، زبان اور معاشرے سے بتدریج الگ کر دیا گیا ہے۔
اپنی کتاب "اسلام اور سیکولرزم" میں انہوں نے سیکولر فکر کی جڑوں کا سراغ عیسائی اور یونانی-رومی تہذیب میں لگایا۔ ان کے مطابق سیکولرائزیشن انسانی ترقی کا لازمی مرحلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی عمل ہے، جس میں تقدیسی عنصر کو عوامی زندگی اور فکری تحقیق سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علم اپنی مابعد الطبیعی بنیادوں سے کٹ کر محض دنیا کو منظم کرنے کا آلہ بن گیا، نہ کہ اس کے معنی کو سمجھنے کا ذریعہ۔ اس کے برعکس العطاس نے تجرباتی علم، وحی اور مابعد الطبیعی بصیرت کے امتزاج کی تجویز پیش کی۔ ان کے نزدیک حقیقی اسلامائزیشن عقل یا سائنس کی نفی نہیں بلکہ انہیں توحید کے اصول کے تحت ایک وسیع تر تناظر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے اسلامی مابعد الطبیعیات کی طرف اشارہ کیا "جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقت دوام اور تغیر دونوں پر مشتمل ہے؛ بیرونی دنیا کے بنیادی اور مستقل پہلو مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں"۔ (اسلام اور سیکولرزم صفحہ 82)
اعلیٰ تعلیم کا ایک متبادل ماڈل
1987ء میں محمد نقیب العطاس نے کوالالمپور میں "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن (ISTAC)" قائم کر کے اپنے تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی روایت کے اس تصورِ علم کو زندہ کرنا تھا جس میں دینیات، فلسفہ، زبان اور سائنسی علوم ایک وحدت میں شامل ہوں۔ ابتدا میں یہ ادارہ دنیا بھر کے مسلم علماء و مفکرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا، مگر سیاسی تبدیلیوں اور علمی رقابتوں نے اس کی خودمختاری کو متاثر کیا۔ اور بالآخر اس کا ابتدائی وژن کمزور پڑ گیا۔ تاہم العطاس کا فکری اثر کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رہا۔ ان کے ہم عصر مسلم مفکرین میں اسماعیل راجی الفاروقی شہید، محمد عابد الجابری اور فضل الرحمٰن شامل تھے، جنہوں نے مسلم دنیا کے بحران کی مختلف تشریحات پیش کیں۔ بلکہ یہ نزاع بھی سامنے آئی کہ اسلامائزیشن کا تصور پہلے الفاروقی نے پیش کیا یا یہ العطاس کا تصور تھا جس کو الفاروقی نے سرقہ کر لیا تھا۔ اس نزاع سے قطع نظر ان چاروں مفکرین کے کام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ جہاں راجی الفاروقی نے جدید علوم کی اسلامائزیشن کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کام کیا، وہیں عابد الجابری اور فضل الرحمٰن نے عقل اور تجربے کی روایت کو زندہ کرنے پر زور دیا۔ اس کے برعکس العطاس نے اصل مسئلہ علم کی مابعد الطبیعی بنیادوں سے کٹ جانا قرار دیا۔
ان کے نزدیک مسئلے کا حل نہ مکمل طور پر جدیدیت کو رد کرنا تھا اور نہ ہی اسے اندھا دھند قبول کرنا، بلکہ اسلامی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے جدید علم سے دوبارہ تعلق قائم کرنا تھا۔ ان کا یقین تھا کہ علم اور کردار کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی تہذیب جو بامعنی علم پیدا کرنا چاہتی ہے، اسے ایسے انسان پیدا کرنے ہوں گے جو نظم، انکسار اور اخلاقی وضاحت کے حامل ہوں۔ العطاس کے مطابق تعلیم کا اصل مقصد معلومات کا حصول نہیں بلکہ ایسے انسان کی تشکیل ہے جو حقیقت کو پہچان سکے۔ وہ کہتے ہیں:
''جب علم کے حصول میں کوئی حقیقی مقصد نہ ہو تو وہ حق سے انحراف کا باعث بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ایسے علم کی صحت و اعتباریت خود مشکوک ہو جاتی ہے۔'' (اسلام اور سیکولرزم صفحہ 36)
سید محمد نقیب العطاس بہت فلسفیانہ اسلوب میں لکھتے ہیں اور ان کی تحریروں کو سمجھنے کے لیے فلسفہ، کلام اور تصوف تینوں کا اچھا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ان تینوں عناصر کے اختلاط نے ان کے فکر اور نظام کو خاصا پیچیدہ اور دقیق بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین بہت کم ہیں اور اردو دنیا میں تو خال خال لوگ ہی ان کو جان سکے۔ کیونکہ ان کی بہت کم تحریروں اور کتابوں کو اردو میں منتقل کیا جا سکا ہے۔
سید نقیب العطاس نے مغرب کو گہرائی سے سمجھا ہے۔ ان کی تحریروں کے پڑھنے سے مغرب کی حرکیات و ڈائنامکس سمجھ میں آتی ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ جس طرح ان کا گہرا مطالعۂ غرب ہے اسی طرح کی سنجیدہ کوششیں پاکستان میں بھی جامعہ کراچی سے وابستہ بعض اسکالروں نے کی ہیں جن کو پاکستان میں روایت پسند طبقہ کہا جاتا ہے۔ یہ طبقہ عموماً علماء کا بھی شدید ناقد ہے اور متجدد یا تجدیدی فکر کے لوگوں کا تو ہے ہی۔ ان اسکالروں میں بعض حضرات کی تحریریں پڑھنے کا راقم کو اتفاق ہوا ہے جن میں فلسفی و صوفی متکلم احمد جاوید صاحب کے علاوہ جاوید اکبر انصاری، دین محمد جوہر اور خالد جامعی وغیرہ صاحبان ہیں۔ گرچہ بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ مغربی افکار کی تنقید میں یہ حضرات انتہائی حد تک چلے جاتے ہیں اور عقلِ عام اور کامن سینس سے بھی پرے ہو کر نری دعوے بازی اور چاند ماری کر رہے ہیں۔
یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ نوے کی دہائی میں اسلامائزیشن آف نالج کی تحریک نے پوری مسلم دنیا میں ایک غلغلہ پیدا کیا تھا۔ سعودی عرب کے بعض اداروں کی فنڈنگ سے اس تحریک نے دنیا کے مختلف خطوں میں، مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں میں اس سلسلہ میں بہت سی کانفرنسیں، سیمینار اور مذاکرات کیے۔ بہت سے پروجیکٹ لانچ کیے، بہت ساری کتابیں لکھی گئیں، متعلقہ موضوعات پر تراجم کیے گئے۔ تاہم یہ تحریک مسلم دنیا میں سائنس کے سلسلہ میں کوئی مثبت اور فعال حرکت پیدا نہیں کر سکی۔ کسی بھی مسلم ملک میں اس کے متوقع اثرات نہیں دیکھے گئے۔ اس لحاظ سے اس تحریک و نظریہ کا تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جس کی جانب اس تحریک کے ایک فعال رکن ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی مرحوم نے اپنے ایک مقالہ میں توجہ دلائی تھی۔
حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم
جناب عثمان عمر ہاشمیؒ کی نماز جنازہ آج ادا کی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد حاجی یوسف علی صاحبؒ تو شاید میری پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے، لیکن عثمان ہاشمی صاحب کو بچپن سے ہی والد گرامی کے بہت قریبی حلقہ احباب میں دیکھا۔ حاجی یوسف علی صاحب کھیالی کے علاقے میں وسیع اراضی کے مالک تھے جو رفتہ رفتہ ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئی۔ بہت سی اراضی مساجد اور دینی اداروں کے لیے وقف کی جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ ہاشمی کالونی کنگنی والا میں مدرسہ ختم نبوت اور اسی گلی میں الشریعہ اکادمی کی جگہ انھی کے خاندان کی وقف کردہ ہے۔
ہاشمی صاحب اپنے وسائل کے مطابق مخیر بھی تھے، اور انسانی بساط کی حد تک بے لوثی کے ساتھ خادمانہ مزاج بھی پایا تھا، جو ایک بہت ہی نادر امتزاج ہے۔ عموماً اصحاب وسائل حضرات دینی حلقوں میں متحرک ہوتے ہیں تو فطری طور پر پر اداروں اور تنظیموں میں نمایاں حیثیت کے بھی خواہاں ہوتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کے ہاں یہ چیز نہ ہونے کے برابر تھی۔ شخصی تعلق بھی علماء و مشاہیر کے ساتھ ساتھ عام سادہ کارکنوں کے ساتھ یکساں مخلصانہ تھا اور جماعتی و تنظیمی سرگرمیوں میں بھی بے غرضانہ متحرک رہتے تھے۔
۱۹۹۸ یا ۱۹۹۹ میں کسی وقت وہ جامع مسجد تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں والد گرامی نے ذکر کیا کہ کسی جگہ پر الشریعہ اکادمی کا چھوٹا سا سیٹ اپ قائم کرنے کا ارادہ ہے، لیکن ایسی جگہ کی تلاش ہے جو کسی نے ادارے کے لیے وقف کی ہو، اور قریب کوئی ایسا پلاٹ مل جائے جو ہم ذاتی رہائش کے لیے خرید لیں۔ ہاشمی صاحب نے اسی وقت کہا کہ اٹھیں اور والد گرامی کو موٹر سائیکل پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں اس جگہ لے گئے جہاں ان کی خاندانی زمینیں تھیں۔ اس وقت یہاں چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے اور بیچ میں ایک چھوٹی سے کچی مسجد بنی ہوئی تھی جو ہاشمی خاندان کی وقف کردہ جگہ پر قائم تھی۔ ہاشمی صاحب نے کہا کہ یہ جگہ ادارے کے لیے وقف ہے اور یہاں اردگرد ساری ہماری اپنی زمین ہے، آپ ذاتی رہائش کے لیے جو بھی پلاٹ منتخب کرنا چاہیں، وہ آپ کا ہے۔
یوں اکادمی کے زیر اہتمام مسجد اور دینی ادارے کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ ذاتی رہائش کے لیے جو پلاٹ خریدا گیا، اس کی قیمت اس وقت تقریباً پونے تین لاکھ روپے تھی، لیکن یکمشت ادائیگی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے والد گرامی نے سال میں کبھی پندرہ کبھی بیس ہزار ادا کر کے آٹھ دس سال میں ادائیگی مکمل کی اور کہیں ۲۰۰۹ء میں جا کر ہم تعمیر کا سلسلہ شروع کرنے کے قابل ہوئے۔ تعمیر کے لیے اپنا خاص مستری بھی ہاشمی صاحب نے فراہم کیا اور ساتھ ساتھ کام کی نگرانی کرتے رہے۔ جب پہلی منزل کی چھت ڈالی گئی تو وہ اس طرح خوش اور مسرور تھے جیسے ان کے اپنے مکان کی چھت ڈالی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کا بہترین صلہ اور ان سب لوگوں کی طرف سے اجر جزیل عطا فرمائے جو ان کی زندگی میں ان کے جذبہ خیر سے مستفید ہوتے رہے۔ آمین
حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کی وفات
نہایت افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت استادِ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب کے دیرینہ رفیق، گوجرانوالہ کے بزرگ رہنما، اور الشریعہ اکادمی کی مجلسِ انتظامیہ کے فعال رکن مخدوم مکرم جناب عثمان عمر ہاشمی صاحب رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ ہاشمی صاحب مرحوم ایک طویل عرصے تک گوجرانوالہ کی مساجد، مدارس اور دینی تحریکات کے معاملات میں نہایت سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ پیش پیش رہے۔
الشریعہ اکادمی کا ’’ہاشمی کالونی، کنگنی والا کیمپس‘‘ ہاشمی خاندان ہی کی علم دوستی اور دینی جذبے کا مرہونِ منت ہے، جو ان کے خاندان نے اکادمی کے مقاصد کے لیے وقف فرمایا۔ ان کی وفات سے گوجرانوالہ ایک مخلص سماجی و دینی رہنما اور حضرت استادِ گرامی ایک باوفا دوست سے محروم ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام سیاسی، سماجی، دینی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما کر مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اعلانِ جنازہ
جمعیت علماء اسلام گوجرانولہ کے بزرگ رہنما اور جمعیت اہلِ سنت کے سرپرست جناب عثمان عمر ہاشمی صاحب رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔نمازِ جنازہ بتاریخ 13 اپریل صبح 10 بجے پیپلز کالونی گوجرانواالہ قبرستان میں ادا کی جائے گی۔
مولانا زاہد الراشدی کا خراجِ عقیدت
گزشتہ روز مغرب کی نماز کے بعد الشریعہ اکادمی (کنگنی والا، گوجرانوالہ) میں اساتذہ و طلبہ کی ایک تقریب میں مولانا زاہد الراشدی نے جمعیۃ اہلِ سنت گوجرانوالہ کے سرپرست حاجی عثمان عمر ہاشمی مرحوم کی دینی و ملی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیالی گوجرانوالہ کا ہاشمی خاندان ہمیشہ دینی کاموں میں پیش پیش رہا ہے۔
حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب کے والد گرامی حاجی یوسف علی قریشی رحمہما اللہ تعالیٰ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فداکار ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے پوری زندگی مجلس احرار اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام کے ایک سرگرم رہنما کے طور پر گزاری ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ ہاشمی کالونی (کنگنی والا) میں مسجد ختم نبوت اور الشریعہ اکادمی دونوں اسی خاندان کی وقف کردہ زمین پر قائم ہیں اور وہ ہمیشہ ان اداروں کی معاونت میں پیش پیش رہے ہیں۔ حاجی عثمان عمر ہاشمی اپنے والد گرامی کی روایات و حسنات کے امین رہے اور شہر میں مساجد و مدارس کے کاموں میں آخر دم تک معاونت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ان کے ساتھ رفاقت ساٹھ سال کے لگ بھگ عرصہ سے چلی آ رہی ہے اور انہوں نے دینی، مسلکی اور جماعتی کاموں میں ہمیشہ بے لوث تعاون کیا ہے۔ آج ہم ایک باوفا دوست، بزرگ راہنما اور سرگرم دینی کارکن سے محروم ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اس سے قبل صبح دس بجے پیپلز کالونی کے قبرستان میں ان کی نماز جنازہ ان کے فرزند حاجی یاور عثمان ہاشمی صاحب نے پڑھائی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر، مولانا عامر حبیب اور الشریعہ اکادمی کے دیگر احباب بھی شریک ہوئے۔
ہاشمی صاحب مرحوم کی یاد میں ایک نشست
جمعیت اہل السنہ والجماعہ حنفی دیوبندی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام الشریعہ اکادمی (ہاشمی کالونی کیمپس) میں بزرگ راہنما حاجی عثمان عمر ہاشمی رحمہ اللہ کی دینی اور مسلکی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ہاشمی صاحبؒ کے بیٹے محترم یاور عثمان ہاشمی نے کی۔
مولانا مفتی نعمان احمد، مولانا جواد محمود قاسمی اور مولانا امجد محمود معاویہ نے جمعیت اہل السنہ والجماعہ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے سرپرست حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحبؒ کی دینی، تحریکی، مسلکی اور مساجد و مدارس کی جملہ خدمات کے حوالے سے زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ الشریعہ اکادمی کے بارے میں ہاشمی صاحب مرحوم کی خدمات اور سرپرستی کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید نے مختلف اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی نے اپنی طویل المدت رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے ہاشمی صاحب کی مختلف دینی امور اور شعبہ جات میں جملہ خدمات اور سرپرستی اور ہر سطح کے قابل قدر تعاون کو سراہتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
تقریب میں مولانا قاری محمد ریاض، شیخ محمد امتیاز، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا مفتی عثمان جتوئی، مولانا حافظ فضل الہادی، مولانا حافظ عامر حبیب، مولانا محمد اسامہ قاسم، مولانا طبیب الرحمان، قاری عباس فاروقی، حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، مولانا نور حسین عارف، ظہور احمد فاروقی، عمر شکیل، قاری محمد اکمل، یحیٰی زکریا، حسین احمد مدنی اور دیگر نے شرکت کی۔