’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۹)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
طلاق کا اسلامی تصور
خطبہ نمبر ۸
خطبہ مسنونہ کے بعد:
حضرات علمائے کرام محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
نکاح کیا ہے؟ نکاح کا جاہلی تصور کیا تھا اور اسلامی تصور کیا ہے؟ اور جناب خاتم النبیین ﷺ کے دورِ مبارک میں خاندانی نظام میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟ چند نشستوں میں اس موضوع پر تھوڑی تھوڑی گفتگو ہوئی۔ خاندانی نظام میں نکاح کے بعد ایک بنیادی مسئلہ طلاق کا ہے۔ طلاق یعنی نکاح کے بندھن کو ختم کرنا۔ نکاح رشتہ جوڑنے کو کہتے ہیں۔ مرد اور عورت کا نکاح ہوا، اب اس کو ختم کرنے کا طریقہ، جائز یا ناجائز، کیسے ہوگا، کیسے نہیں ہوگا، کب ہوگا، کب نہیں ہوگا؟ یہ مسائل ہیں طلاق کے۔ طلاق کا سادہ مفہوم ہے نکاح کے تعلق کو ختم کرنا۔ طلاق کے حوالے سے گفتگو چار حصوں میں تقسیم کرتا ہوں:
- پہلا دائرہ یہ کہ ہندومت میں طلاق کا تصور کیا ہے اور اسلام میں طلاق کا تصور کیا ہے اور اس کا استعمال کیسے ہے؟ جناب نبی کریم ﷺ نے اس کی کیا حدود متعین کی ہیں؟ کس بات کی اجازت ہے اور کس بات کی اجازت نہیں ہے۔ ایک دائرہ تو یہ ہوگا۔
- دوسرا دائرہ یہ ہوگا کہ طلاق کے احکام میں اصولی طور پر تمام فقہاء متفق ہیں، اور ہمارے ہاں داخلی فقہ کا اختلاف آج بھی بعض امور میں پایا جاتا ہے۔
- تیسرا دائرہ یہ ہوگا کہ اس وقت دنیا پر حکمرانی اقوام متحدہ، اس کے انسانی حقوق کے چارٹر کی اور اس کے فلسفے کی ہے۔ طلاق کے بارے میں اُن کا تصور کیا ہے اور وہ ہم سے کن تبدیلیوں کا مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں اور کیا کشمکش ہے؟
- چوتھا دائرہ یہ ہوگا کہ ان ساری باتوں سے ہٹ کر معاشرتی طور پر طلاق کے بارے کیا طرزِعمل ہے، کیا غلطیاں ہیں، ہم کیا کرتے ہیں اور کیا کرنا چاہیے؟
طلاق کو سمجھنے کے لیے یہ چار دائرے ہیں۔
ہندو مذہب میں طلاق کا تصور نہیں
جناب خاتم النبیین ﷺ سے پہلے جو بڑے مذاہب تھے بالخصوص ہندو اور عیسائی، یہ طلاق کے قائل نہیں تھے۔ ہندو مذہب میں طلاق کا تصور نہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو جوڑا بن گیا وہ آسمانوں میں بن گیا، اس کو دنیا کی کوئی طاقت ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتی۔ ان کی یہ مذہبی بنیاد ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ہاں اس معاملے میں بڑی شدت ہے، اگرچہ باقی سب مذہبی احکام کو چھوڑ چھاڑ گئے ہیں، لیکن جب زندگی میں ایک دفعہ میاں بیوی بن گئے تو وہ ختم نہیں ہو سکتے۔ نہ طلاق کا تصور ہے اور نہ خاوند کی وفات کے بعد عورت کے لیے نکاح کا تصور ہے۔ زندگی میں بھی نہ کوئی طلاق دے سکتا ہے نہ لے سکتا ہے۔ اگر خاوند فوت ہو گیا اور بیوی زندہ ہے تو نیا نکاح نہیں کر سکتی، زندگی بھر اس نے سوگ میں رہنا ہے۔ بلکہ ان کے ہاں روایت یہ ہے کہ خاوند کے فوت ہونے کے بعد بھی وہ خاوند کی بیوی ہی ہے، موت تک وہ بیوی کے طور پر سوگ میں ہی زندگی گزارے گی، اسی گھر میں رہے گی، نہ اچھے کپڑے پہن سکتی ہے، نہ زیب و زینت اختیار کر سکتی ہے، اور نہ کسی اچھے پروگرام میں شریک ہو سکتی ہے۔ اس کو خاوند کے گھر میں ایک بیوہ کے طور پر ایک عام عورت کی طرح زندگی گزارنا ہے۔
اس لیے وہاں یہ بات بہتر سمجھی جاتی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے مرنے کے بعد اس کے گھر میں باقی زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس کے لیے متبادل یہ ہے کہ وہ خاوند کی جلتی ہوئی چتا پر چھلانگ لگا کر خود بھی جل جائے۔ اس کو ’’ستی‘‘ ہونا کہتے ہیں اور ہندومت میں اس کو بہت بڑی ’’شہیدہ‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ بہت عظیم عورت سمجھی جاتی ہے جو خاوند کے ساتھ جل کر راکھ ہو جائے۔ ہندوستان آزاد ہونے کے بعد قانوناً اس روایت پر پابندی لگ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود دور دراز علاقوں سے وقتاً فوقتاً ستی ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ پرانے رواج کے مطابق، پرانے مذہب کے اصول کے مطابق وہ عورت ستی ہو جاتی ہے، کہتی ہے میں اپنے خاوند کے ساتھ رہوں گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کو باقی زندگی خاوند کے گھر میں بیٹھ کر سوگ کی حالت میں گزارنا ہوتی ہے اور اس کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
برصغیر کے مسلمانوں میں ہندو اثرات اور شاہ اسماعیل شہید کی اصلاحی تحریک
ہم بھی ہندوؤں کے زیر اثر رہے ہیں، اثرات تو ہوتے ہی ہیں، ہمارے ہاں بھی کسی درجہ میں بیوہ کے نکاح کو عیب سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش کو اس درجے کی خوشخبری نہیں سمجھا جاتا جس طرح بیٹے کی پیدائش کو سمجھا جاتا ہے، یہ سب ہندوؤں کا اثر ہے۔ شاہ اسماعیل شہید کی جو اصلاحی تحریک تھی اس میں یہ بھی تھا کہ بیواؤں کا نکاح کرو، سلام و جواب کو عام کرو۔ اس کا تذکرہ آپ کو اس اصلاحی تحریک میں ملے گا۔ اس تحریک کا اُس وقت کے مسلم معاشرے پر بہت اثر ہوا اور نکاحِ بیوگان کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی‘‘، ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ از غلام رسول مہر۔ ’’جب ایمان کی بہار آئی‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی)
بہرحال ہندوؤں کے ہاں مذہبی طور پر طلاق کا تصور نہیں تھا۔ اور کیتھولک عیسائیوں میں بھی ایسا ہی تھا، جو عورت بدکاری میں پکڑی جاتی تھی تو اس صورت میں اس کو طلاق ہو جاتی تھی ورنہ طلاق کا حق نہیں تھا۔
اسلام میں طلاق کا تصور
اسلام نے آکر عورت کے طلاق کا حق بحال کیا۔ یہ حق یہودی مذہب میں تھا۔ عیسائی مذہب اور ہندو مذہب میں یہ حق نہیں تھا۔ اسلام نے طلاق کا یہ حق بحال کیا، البتہ پہلی بات یہ تھی کہ یہ جائز تو ہے مگر طلاق حلال چیزوں میں سے مبغوض (ناپسندیدہ) ترین چیز ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
ابغض الحلال الی اللہ تعالی الطلاق۔ (سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الطلاق، حدیث نمبر: 2178)
(اللہ کے ہاں حلال چیزوں میں مبغوض (ناپسندیدہ) چیز طلاق ہے۔)
جیسے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے، اپنی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دینا چاہتے تھے، آپ ﷺ نے بار بار کہا:
اتق اللہ، وامسک علیک زوجک۔ (صحیح بخاری، باب وکان عرشہ علی الماء، حدیث نمبر: 7420)
(اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔)
اسلام نے آکر عورت کو خلع کا حق دیا اور مرد کو طلاق کا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مرد کو براہ راست طلاق کا حق دیا اور عورت کو براہ راست نہیں بلکہ عدالتی عمل کے ذریعہ دیا۔ اگر خاوند ظلم کر رہا ہے اور طلاق دینے کو تیار نہیں ہے تو اس کی متبادل اتھارٹی بصورت عدالت موجود ہے۔ قاضی بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور ثالث اور حَکم بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
زمانۂ جاہلیت میں ایک رسم یہ بھی تھی کہ مرد عورت کو طلاق دیتا، پھر رجوع کرتا، کچھ عرصہ بعد پھر طلاق دیتا تھا، پھر رجوع کرتا تھا، یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ اسلام نے آکر اس ظالمانہ فعل کو ختم کر دیا اور طلاق کی حد متعین کر دی کہ طلاق کی تعداد تین تک ہے، تیسری طلاق آخری ہے، اس کے بعد بیوی اس کی نہ رہے گی۔ قرآن کریم میں ہے:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 229)
(طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہیے، اس کے بعد (شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں): یا تو قاعدے کے مطابق (بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کر لے)، یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے۔)
طلاق کے بارے میں فقہاء کا اختلاف اور اس کا اصول
طلاق کے حوالے سے بنیادی مسائل میں سارے فقہائے امت متفق ہیں کہ (۱) ایک طلاق رجعی ہے، (۲) ایک بائن ہے، (۳) ایک مغلظہ ہے۔ اگر رجعی یا بائن ہو جائے تو رجوع یا تجدیدِ نکاح کا حق ہے۔ اور اگر طلاق مغلظہ ہو تو پھر
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 230)
(پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دے دے تو وہ (مطلقہ عورت) اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔)
جس میں ہمارا، شوافع اور مالکیہ کا داخلی اختلاف ہے۔ ظاہر بات ہے شوافع کا اپنا موقف ہے، احناف کا فقہی اصولوں پر مبنی اپنا موقف ہے، اس میں جزوی اختلاف بن گیا۔ ہمارے ہاں ایک مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں تو ہوں گی یا نہیں؟ یہ اختلاف اب بھی چلا آ رہا ہے۔
اس میں ہمارا اصول یہ ہے، جمہور علماء کے ہاں، کہ جس ملک میں جس فقہ کی اکثریت ہو اسی فقہ پر فتویٰ ہوگا۔ جیسے پاکستان میں فقہ حنفی ہے تو احناف کے مسلک پر فتویٰ ہوگا۔ سعودیہ میں حنبلی فقہ ہے۔ الجزائر مالکیہ کا ہے۔ مصر میں قانونی مذہب شافعی ہے۔ مغرب (مراکش وغیرہ) میں اکثریت مالکیہ کی ہے۔ مشرق میں اکثریت حنفیہ کی ہے۔ جہاں جو بھی مذہب ہو اسی کی جزئیات پر عمل ہوگا۔ اگر مالکیہ اپنے مذہب پر عمل کریں تو ہمیں اعتراض نہیں۔ اگر ہم اپنے مذہب پر عمل کریں تو نہ مالکیہ کو اعتراض ہے، نہ شافعیہ کو، نہ حنبلیہ کو۔ میرے خیال میں کسی کو ہونا بھی نہیں چاہیے۔ یہ ہمارے داخلی اور فروعی اختلافات ہیں۔ ہمارا اصل اختلاف اہلِ مغرب سے ہے۔
طلاق کے بارے میں ہمارا اور مغرب کا جھگڑا
اس وقت طلاق کے بارے میں ہمارا جھگڑا پورے مغرب سے ہے اور پوری شدت کے ساتھ ہے۔ مغرب کے ساتھ اس قضیے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کو سمجھنا ہوگا۔ بین الاقوامی معاہدات میں ہم پر اکثر جبر ہوتا ہے۔ مثلاً یورپی یونین کا ایک اپنا تجارتی دائرہ ہے، ان کے بزنس کا معیار ہے، بہت اچھے طریقے سے تجارت کرتے ہیں۔ ہم اس میں شریک ہونا چاہتے ہیں، یعنی ان کا تجارتی ممبر بننا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی شرائط اور مطالبات ہیں: (۱) تمہارے ملک میں سزائے موت کیوں ہے، اسے ختم کرو۔ (۲) قادیانیوں کی تکفیر کا مسئلہ ختم کرو۔ (۳) تحفظِ ناموس رسالت کا قانون ختم کرو۔ تب ہم تمھیں تجارت کی مراعات میں شریک کریں گے، ان مراعات کے دائرے میں آنے کی اور وہاں تک رسائی کی اجازت دیں گے۔
انہی مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ طلاق کا حق مرد کو ہے تو عورت کو بھی مساوی حق ملنا چاہیے۔ ہم پر خاندانی نظام میں سب سے زیادہ اس بات کا پریشر ڈالا جاتا ہے کہ طلاق کا حق مرد کو ہے تو طلاق کا حق عورت کو بھی ملنا چاہیے۔ 1962ء میں ایوب خان کے دور میں نکاح کے فارم میں ’’تفویضِ طلاق‘‘ کا خانہ لکھ دیا گیا۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ نکاح کے وقت کسی کو پتہ نہیں، نہ خاوند کو، نہ بیوی کو، اور نہ نکاح پڑھانے والے کو۔
شریعتِ مطہرہ میں اصولی طور طلاق کا حق مرد کو حاصل ہے، عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ مرد کی طرف سے اجازت ملے بغیر اپنے اوپر طلاق واقع کرے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
انما الطلاق لمن اخذ بالساق۔ (سنن ابن ماجہ، باب طلاق العبد، حدیث نمبر: 2072)
(طلاق کا اختیار پنڈلی لینے والے (یعنی شوہر) کے پاس ہے۔)
بعض مواقع پر عورت مجبور ہوتی ہے، ایسی صورت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق نہ دے کر بیوی کو تنگ کرے، اس لیے شریعت نے اس طرح کے ممکنہ خدشات سے بچنے کے لیے اس بات کی اجازت دی ہے کہ شوہر اپنی بیوی یا کسی اور کو طلاق کا حق دے اور وہ بوقتِ ضرورت اسے استعمال کرے۔ اسے ’’تفویضِ طلاق‘‘ کہا جاتا ہے۔ فقہ حنفی میں اس کی گنجائش ہے …
اس معاملہ میں بڑے لطیفے ہوتے رہے۔ ایک نکاح میں نے پڑھایا، نکاح رجسٹرار تفویضِ طلاق کا خانہ پُر کرنے لگا اور طلاق کا حق دینے لگا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا کہ یہ سوال خاوند سے ہے، اسے پوچھے بغیر تم اپنے طور پر ہاں یا ناں نہیں لکھ سکتے۔ ایک محترم خاتون تھی، اس نے کسی اور سے شادی کی تو خاوند نے کہا کہ یہ میری بیوی ہے، تو عورت نے جواب دیا کہ میں نے تفویضِ طلاق اختیار کی، تو خاوند کورٹ میں گیا اور کیس کیا۔ عدالت نے نکاح فارم منگوایا، ڈسٹرکٹ ریکارڈ سے کہ اگر اس میں تفویضِ طلاق کے خانہ میں ہاں لکھا ہوا ہے یا نہیں، فیصلہ اس پر ہوگا۔ جب دیکھا تو فارم میں ہاں لکھا ہوا تھا۔
یہ تفویضِ طلاق کا مسئلہ ہے۔ 1962ء کے بعد سے آج تک 55 سال ہو گئے، 99 فیصد لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے۔ میں مغرب سے کہتا ہوں کہ 55 سال ہو گئے ہیں ابھی تک پاکستانی سوسائٹی نے اس کو قبول نہیں کیا۔ الحمد للہ آج بھی ہماری سوسائٹی مجموعی طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں چلتی ہے، مسلمان جتنا بھی بے عمل بے دین ہو گا لیکن تین چیزیں قرآن و سنت کے روشنی میں کرے گا: نکاح، طلاق، جنازہ۔ تو ہم سے یہ مطالبہ تھا، ہم نے درمیان کا راستہ اس وجہ سے اختیار کیا۔
اب ہماری عدالتوں میں طلاق اور خلع کے بارے میں کشمکش ہے۔ عدالتوں نے یہ فیصلے شروع کر دیے کہ خلع عورت کا حقِ طلاق ہے۔ مرد کے حق میں طلاق کو ’’طلاق‘‘ کہتے ہے اور عورت کے حق میں طلاق کو ’’خلع‘‘ کہتے ہیں۔ خلع عورت کے حق میں طلاق کے مساوی ہے۔ اگر آپ کو فیملی کورٹ میں جانے کا موقعہ ملے تو فیملی کورٹ میں کچھ عرصے سے بطور پالیسی کے یہ چلا آرہا ہے کہ عورت خلع کا مقدمہ کرے، فیصلہ 90 دن میں ہوگا اور عورت کے حق میں ہوگا۔ جج پابند ہے کہ نوے دن کے اندر فیصلہ کرے اور عورت کے حق میں کرے۔ خلع عورت کے حق میں عملاً طلاق کا مساوی حق قرار دیا گیا ہے۔
ایک واقعہ پچھلے دورِ حکومت کا ہے، ایک جسٹس صاحب کی سربراہی میں کمیشن کی طرف سے طلاق و نکاح کے قانون میں تبدیلی تجویز کی گئی۔ خلع کا طریقہ کار یہ ہے کہ جو عورت خلع لینا چاہتی ہے تو پہلے خاوند کو خلع کا نوٹس دے کہ میں تمھارے ساتھ نہیں رہوں گی، اور اس کی کاپی فیملی کورٹ میں بھیجے۔ فیملی کورٹ جب درخواست کی سماعت کرے گی، درخواست کی سماعت کے ساتھ یہ قبول کرنا پڑے گا کہ ہم دونوں آپس میں میاں بیوی نہیں ہیں۔ یہ سارا کس لیے ہے؟ اس لیے کہ مغرب کا ہم سے مطالبہ ہے عورت کو مساوی طلاق کا حق دو۔ ہم نے پہلے تفویضِ طلاق کے عنوان سے بات کی، اب ہم خلع کو مساوی طلاق کا حق قرار دیتے ہیں۔ مغرب کے ساتھ ہمارا طلاق کے حوالے سے یہ جھگڑا ہے اور مغرب ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عورت اور مرد کی مساوات کا ایک پہلو یہ ہے کہ عورت کو بھی طلاق کا مساوی حق دو، جیسا مرد کو طلاق کا حق ہے۔ اس اعتبار سے ہمارا مغرب کو یہ جواب ہے کہ تم نے تو ایسا کر کے اپنے فیملی سسٹم کو غرق کر دیا، اب ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ آج بھی مغربی دانش کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا خاندانی نظام بکھر گیا ہے۔ اس پر مغربی دانشوروں میں سے دو کے حوالوں سے بات کروں گا۔
مغربی دانشوروں کا اعترافِ حقیقت
آپ نے روس کے سابق صدر گورباچوف کا نام سنا ہو گا، پرانے دوستوں کو یاد ہوگا، بڑے دانشوروں میں سے ہیں، انھوں نے ایک کتاب لکھی، پرسٹرائیکا (Perestroika)، اس میں فیملی سسٹم پر بحث کی اور اس میں یہ لکھا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ پہلی جنگِ عظیم میں قتلِ عام ہوا، بہت قتل و غارت ہوئی، لاکھوں لوگ قتل ہوئے، ہماری فیکٹریاں خالی ہوئیں، دفتر خالی ہوئے اور افرادی قوت کم ہوئی۔ دوسری جنگِ عظیم کا میدان بھی مغرب تھا اور یہ مسائل بھی وہاں پیدا ہوئے۔ گورباچوف کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے دفتروں اور فیکٹریوں کی افرادی قوت پوری کرنے کے لیے عورت کو ورغلا کر گھر سے باہر نکالا اور دفتروں اور فیکٹریوں کے خلا کو وقتی طور پر پُر کر لیا۔ لیکن اب کوئی راستہ نہیں کہ عورت گھر میں واپس لائی جائے۔
میرے مغربی دانشوروں سے تین سوال ہوتے ہیں: اگر مرد اور عورت کے قوانین و احکام میں فرق نہیں ہونا چاہیے تو پہلے دیکھا جائے کہ مرد اور عورت کی جسمانی ساخت ایک ہے؟ فطری فرائض نیچرل ڈیوٹیز (Naturel Duties) ایک ہیں؟ نفسیات ایک طرح کی ہیں؟ اگر ان تینوں معاملات میں مساوات نہیں ہے تو احکام و قوانین میں مساوات کیسے ہو سکتی ہے۔
دوسری گواہی سابق امریکی خاتونِ اول ہیلری کلنٹن کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں الیکشن ہارنے کے بعد سات دن صدمے کے سبب گھر سے نہیں نکل سکی۔ یہ عورت کے نفسیاتی فرق کا اظہار ہے۔ جب ان ساری چیزوں میں مرد اور عورت کا واضح فرق ہے تو پھر احکام میں فرق کیوں نہیں ہوگا؟
طلاق کے معاملے میں ایک غفلت
ہمارے ہاں طلاق کے بارے میں میاں بیوی کا جھگڑا چلتا ہے۔ لیکن ہمارے طلاق کے مسائل سے نہ میاں بیوی واقف، نہ طلاق لکھنے والا واقف، نہ فیصلہ کرنے والا واقف۔ اندھا دھند طلاق کا استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر رواج یہ ہے طلاق دیتے وقت عرضی نویس کے پاس جاتے ہیں، وہ چند رٹے رٹائے کلمات لگا کر لکھتے ہیں: طلاق، طلاق، طلاق۔ پھر اس کو سنا کر انگوٹھا لگوا کر دستخط کروا دیتا ہے، واپسی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ نے جنرل ضیاء الحق کو کہا کہ تھوڑی سی عرضی نویسوں کی تربیت کریں کہ وہ تین طلاق ایسے نہ دلوایا کریں بلکہ ان کو پہلے سمجھائیں کہ تین طلاق دینا جرم ہے، ان کی سزا مقرر کریں۔ یہ ہمارے سرکردہ علماء نے حکومت کو باقاعدہ لکھ کر دیا تھا۔ اس انداز سے ازدواجی تعلق کو یکلخت ختم کرنا، ہمارا بہت بڑا معاشرتی مسئلہ ہے، اس پر حکومت اور قانونی حلقوں کو توجہ دینی چاہیے۔
ہماری ذہنی اُلجھن
اسلام نے نکاح و طلاق اور خاندانی زندگی کے حوالے سے خاوند اور عورت کے لیے واضح قوانین و احکام دیے ہیں اور ان کے حقوق و اختیارات اور ذمہ داریوں کے درمیان ایسا توازن قائم کر دیا ہے کہ بلاوجہ طلاق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن ہماری اصل الجھن یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے احکام و قوانین کو مغرب کے فلسفہ و ثقافت اور اپنے علاقائی کلچر اور قبائلی روایات کے ساتھ گڈمڈ کر کے ایک ایسا کلچرل ملغوبہ بنا لیا ہے، جس کے پیدا کردہ مسائل کا حل نہ اسلام کے پاس ہے، نہ مغرب کی ثقافت ان کا سامنا کر سکتی ہے، اور نہ ہی علاقائی کلچر اُن مسائل کے حل کی ہمت رکھتا ہے۔
اسلام کا نام تو ہمیں صرف وہاں یاد آتا ہے جہاں مشکلات و مسائل کو ہماری مرضی کے مطابق حل کرنے کے لیے اسلام کے کسی قانون سے ہمیں فائدہ ہوتا ہو، حالانکہ اسلام کی راہنمائی ہمیں صرف اس صورت میں حقیقی فائدہ دے سکتی ہے جب ہم ’’ادخلوا فی السلم کافۃ‘‘ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 208) (اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ) کے ارشادِ ربانی کے مطابق پورے کے پورے اسلامی سسٹم کو اختیار کریں، اور اس کے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ اپنی مشکلات کے حل کا راستہ تلاش کریں۔ مگر ہم اسلام کی خوبیوں کو دوسری ثقافتوں اور نظاموں کے فریم ورک میں فٹ کر کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں اور ہم بہتری کی بجائے ابتری کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
برسوں قبل ایک صاحب کی بیان کردہ مثال میرے ذہن سے ابھی تک چپکی ہوئی ہے کہ کسی ملکۂ حسن کی ناک یقیناً خوبصورت ناک کہلاتی ہے، لیکن صرف اُس وقت تک جب تک وہ اسی چہرے کا حصہ ہو۔ اگر اسے الگ کر کے کسی دوسرے چہرے پر فٹ کر دیا جائے تو وہ اس چہرے کو خوبصورتی بخشنے کی بجائے اپنی خوبصورتی سے بھی محروم ہو جائے گی۔ اس لیے ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی خوبصورت ناک کو دوسرے چہروں پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے تہذیبی افراتفری اور ثقافتی خلفشار کے سوا ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔
طلاق کے اسلامی تصور کے حوالے سے یہ کچھ متفرق باتیں تھیں، اور مغرب کے ساتھ تہذیبی و فکری تصادم کے حوالے سے جو ہم نے مختصرًا بیان کیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۳)
اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
تیسرا محور
اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار
اس محور میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی جائے گی:
- اصولِ تفسیر میں تفسیرِ سلف کی حیثیت و مقام
- تفسیرِ سلف سے اصول و قواعد کے استنباط میں کمزوریاں: اسباب و وجوہات
- سلف کے تفسیری ذخیرے سے اصول کی استخراج کے لیے اہم تجاویز
سوال 1: اصولِ تفسیر میں تفسیرِ سلف کی حیثیت و مقام
علومِ قرآن پر عصری تحقیقی کاوشوں میں اصولِ تفسیر کی تدوین ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ آپ کی نظر میں اصولِ تفسیر کی تشکیل و ترتیب میں سلف کی تفاسیر کا کیا کردار ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
بلاشبہ کسی بھی علم کی صحیح بنیاد قائم کرنے کے لیے لازم ہے کہ اس کا آغاز اس علم کی عملی تطبیقات سے کیا جائے، کیونکہ عملی پہلو سے رابطہ کے بغیر صرف نظریاتی پہلو پر انحصار کرنا، لازماً ایسے تصورات اور بنیادیں پیدا کرتا ہے جو حقیقت کے برعکس اور غلط ہوتی ہیں، اور جتنا یہ نظریات عملی تطبیقات سے دور ہوں، اتنا ہی وہ حقیقت سے زیادہ دور ہو جاتی ہیں۔
یہ امر مسلّم ہے کہ سلف کی تفسیر علمِ تفسیر کا قطبِ رحی اور مرکز اور محور ہے، جس کے گرد اس علم کی تمام تر گردش ہوتی ہے۔ اور یہی علمِ تفسیر کی اہم بنیاد ہے۔ محقق جتنا سلف کی تفسیر کے اس بنیادی سرمائے سے دور ہوگا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب کو سمجھنے میں اتنا ہی زیادہ لغزش کا شکار ہوگا، اور جتنا وہ اس سرمائے سے گہری وابستگی رکھے اور اس سے قریب ہوگا، اتنی ہی اللہ کی کتاب کے بارے میں اس کی فہم زیادہ راسخ، درست اور صحیح ہوگی۔
چونکہ اصولِ تفسیر وہ قواعد و ضوابط ہیں جو علمِ تفسیر کو منظم و مرتب کرتے ہیں، اس لیے سلف کی تفسیر لازماً اصولِ تفسیر کی تشکیل و ترتیب اور اس کے مسائل کی تنظیم میں ایک بنیادی ستون ہے۔ اصولِ تفسیر پر لکھی جانے والی تصانیف سلف کی تفسیر کے اس بنیادی سرمائے سے جتنی دور ہوں گی، اتنی ہی کمزور اور علمِ تفسیر سے اتنی ہی بیگانہ ہوں گی، اور ان میں سلف کی تفسیر کا اثر جتنا گہرا ہوگا، وہ اتنی ہی اس علم کی تعریف و تاسیس میں زیادہ مستند اور معتبر ہوں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ اصولِ تفسیر پر لکھی جانے والی اکثر تصانیف میں سلف کی تفسیر کسی فعال اور بنیادی عنصر کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی، بلکہ سلف کی تفسیر ان سے یکسر غائب رہی، جس کی وجہ سے یہ تصانیف کمزور ہو گئیں اور اس علم کے لیے ایک اجنبی مواد بن کر رہ گئیں۔ یہی بات ایک ممتاز تحقیقی مطالعے میں ثابت کی گئی ہے، جس نے اصولِ تفسیر میں معاصر تالیف کی حقیقی کیفیت کو عیاں کیا ہے، اور وہ ہے: "اصول التفسیر فی المؤلفات؛ دراسۃ وصفیۃ موازنۃ بین المؤلفات المسماۃ باصول التفسیر"، جو مرکز تفسیر کی اشاعات میں سے ہے، اور تین محققین خلیل محمود الیمانی، محمود حمد السید، اور باسل عمر مصطفیٰ نے اسے مرتب کیا ہے۔
اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک محقق نے اسی نوعیت کے موضوع پر اپنا مقالۂ ڈاکٹریٹ رجسٹر کرایا، اور مجھ سے مشورہ لینا چاہا تو جب میں نے اس سے مباحث کے طریقۂ کار پر گفتگو کی، تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اصولِ تفسیر کی ایک کتاب اٹھائی، اس کے موضوعات کی فہرست نکالی، انہی مضامین کو بنیاد بنا کر تحقیق کی پوری منصوبہ بندی بنا لی۔ پھر سلف کی تفسیر کا مطالعہ شروع کیا اور ان کا مواد لے کر اس نے انہی عنوانات پر اسے ترتیب دیا جو اس نے اس کتاب سے اخذ کیے تھے۔ غرض یہ کہ اس نے خوب محنت کے بعد وہی کام کیا جو پہلے سے موجود تھا، اس کے باوجود اسے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری اعلیٰ ترین امتیاز کے ساتھ مل گئی۔ افسوس کہ آج بہت سی علمی تحقیقات کا یہی حال ہے، اور اللہ کے سوا کس سے فریاد کریں۔
سوال 2: تفسیرِ سلف سے اصول و قواعد کے استنباط میں کمزوریاں: اسباب و وجوہات
جیسا آپ نے کہا کہ تفسیر السلف اصولِ تفسیر کی بنیاد میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مطالعات، جو سلف کی تفسیر سے اصول اور قواعد کو اخذ کرنے اور انہیں مدون کرنے کا کام کر رہے ہیں، اکثر کیوں کمزور نظر آتے ہیں، ان کی کمزوری کی نمایاں ترین وجوہات کیا ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
اگر میں یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ حالیہ دور میں قرآنی مطالعات اپنی کثرت اور تالیف و تصنیف کے لحاظ سے ایسے نقطے پر پہنچ چکے ہیں جہاں یہ کسی سابقہ دور میں نہیں پہنچے تھے، لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر مطالعات شدید کمزوری کا شکار ہیں، خواہ اصولِ تفسیر کا معاملہ ہو یا قرآنی علوم کی دیگر شاخوں کا۔ یہ ایک حقیقت ہے جو اصلاحِ احوال کی متقاضی ہے، نہ کہ محض اعتراض اور تردید کی۔
سلف کی تفسیر سے اصول و قواعد کے استخراج اور ان کی تدوین کے کام میں لگے ہوئے مطالعات کی کمزوری کی اہم ترین وجوہات یہ ہیں:
- بعض معاصرین کا سلف کی تفسیر کی اہمیت کو نا دینا — جیسے کہ اس کے اسناد کی کمزوری پر اعتراض اٹھانا — یہ سمجھے بغیر کہ ائمہ کرام نے اس سے کیسے استفادہ کیا اور کیا طریقہ اپنایا۔ اسی طرح وہ سلف کی تفسیر میں شامل اسرائیلی روایات کے بارے میں شدید احتیاط کی تلقین کرتے ہیں، مگر خود سلف کا ان سے استفادے کا طریقہ کار زیر غور نہیں لاتے۔
- اصولِ تفسیر میں تالیف کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تحقیق اصولِ تفسیر میں عموماً — اصول کو عملی تفسیر سے اخذ کرنے کی بجائے — قرآنی علوم اور ان کے نظریاتی مباحث کے دائرے میں گھومتی رہتی ہے؛ اسی لیے ظاہر بات ہے کہ رجحان نہ صرف سلف کی تفسیر سے بلکہ تفسیر اور اس کے تطبیقات سے بھی ہٹ جاتا ہے۔
- صرف نقل و تقلید پر انحصار، بغیر تنقیدی یا تحلیلی سوچ کے۔ اور اکثر تصانیف میں جامع مطالعاتی، تجزیاتی اور تنقیدی نقطۂ نظر کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر میں نے جامعہ ازہر — جو کہ قدیم ترین اور اہم ترین جامعہ ہے — میں نصابی کتب کے طور پر پڑھائی جانے والی علومِ قرآن کی اکثر تصانیف کو جمع کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ سب ایک ہی دائرے میں گھومتی ہیں، اور ان کا دارومدار زیادہ تر شیخ محمود ابو دقیقہ رحمہ اللہ کی ایک تحریر پر ہے، البتہ انداز بیان میں معمولی فرق اور کچھ غیر اہم اضافے ملتے ہیں۔
سوال 3: سلف کے تفسیری ذخیرے سے اصول کی استخراج کے لیے اہم تجاویز
سلف کے تفسیری ذخیرہ میں تحقیق کو فعال بنانے کے لیے، خاص طور پر اصولِ تفسیر کی تشکیل کے حوالے سے، آپ کی نظر میں اہم ترین تجاویز کیا ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
اولاً: محققین کے ہاں سلف کی تفسیر کے مقام و مرتبے کو بلند کرنا، اور انہیں اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا۔ تمام دستیاب ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے، جیسے علمی کانفرنسوں، سیمیناروں اور تحقیقی ورکشاپس کا انعقاد۔
ثانیاً: عملی و تطبیقی پہلو پر مبنی مہارتی نشستوں کا اہتمام۔
ثالثاً: سنجیدہ علمی منصوبوں اور مباحثاتی حلقوں کا قیام، تاکہ سلف کی تفسیر کے گرد اٹھائے جانے والے اشکالات کا حل نکالا جا سکے، جو اس کی اہمیت کو کم کرنے اور بہت سے محققین کا اس میں تحقیق سے رخ موڑنے کی بنیادی وجہ رہے ہیں۔
رابعاً: قرآنی مطالعات میں محققین کی رہنمائی کے لیے علمی نشستوں کا انعقاد، تاکہ انہیں اہم تحقیقی سمتوں کی طرف متوجہ کیا جائے، مؤثر علمی تحقیق کے طریقوں سے آشنا کیا جائے، اور سنجیدہ موضوعات ان کے سامنے مطالعے کے لیے پیش کیے جائیں۔
خامساً: اصولِ تفسیر اور اس کے قواعد کی خود اپنی سمت کی اصلاح پر توجہ دینا، اور اس سلسلے میں بعض مطالعات کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کا بغور مطالعہ اور ان پر تامل ضروری ہے، جیسے مرکز تفسیر سے شائع ہونے والے اصول اور قواعد سے متعلق دو مطالعات۔ یہ کام اپنے ثمرات تب ہی دے سکتا ہے جب اسے حقیقی ادارہ جاتی کوششوں کے ذریعے انجام دیا جائے۔
سادساً: سلف کی تفسیر تک رسائی اور اس سے استفادے کے امکانات کو وسیع کرنا، اور اس مقصد کے حصول کے لیے معاون اقدامات اور علمی و تحقیقی منصوبے تشکیل دینا۔
آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)
مولانا طلحہ نعمت ندوی
آثار السنن کا رد
آثار السنن کے منظر عام پر آنے کے بعد اہلِ حدیث حلقہ کی طرف سے اس کا جواب بھی لکھا گیا، چنانچہ جب انہوں نے اپنی چند تحقیقات تبیان التحقیق کے نام سے شائع کی تو اس کے جواب میں مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری نے اعلام اہل الزمن لکھی۔ پھر جب آثار السنن مکمل شائع ہو گئی تو علمائے اہل حدیث کی طرف سے اس کا جواب لکھنے کی طرف توجہ کی گئی۔ اس وقت اس حلقہ میں علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی شخصیت سب معروف تھی، وہ علامہ نیموی کے ہم رشتہ بھی تھے اور قریب الوطن بھی، اس لئے اکثر علمائے اہل حدیث نے انہیں کو خط لکھ کر اس کا جواب لکھنے کی طرف توجہ دلائی لیکن، القول الحسن میں مولانا عبدالرشید فوقانی نے اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے،27 مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے لکھا ہے کہ اس کے لئے علامہ شمس الحق کے گھر پر علمائے اہل حدیث کی ایک مجلس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں مشورہ ہوا کہ کس کو یہ کام سپرد کیا جائے، لیکن مولانا فوقانی نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اس لئے اغلب یہ ہے کہ خطوط ہی آئے ہوں گے، اس وقت علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری علامہ شمس الحق ڈیانوی کے وطن میں تھے، اور شاید مولانا شمس الحق شرح ابوداود میں مشغول ہوں گے اور کچھ قرابت کا لحاظ بھی پیش نظر ہوگا اس لئے انہوں نے یہ کام مولانا مبارکپوری کو سونپ دیا۔ چنانچہ انہوں نے چند سال کی کوشش کے بعد ابکار المنن فی تنقید آثار السنن کے نام سے اس کا جواب لکھ کر شائع کیا۔ یہ جواب علامہ نیموی کی وفات کے بعد ۱۳۳۷ھ (تقریباً ۱۹۱۸ء) میں شائع ہوئی۔ اس میں ابتدائی تمہید کے بعد کتاب کا جواب شروع کر دیا گیا ہے، مزید کوئی مقدمہ نہیں ہے، بعد میں یہ کتاب عالم عربی میں بھی نئی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی۔
اس کے جواب میں حضرت نیموی کے فرزند گرامی مولانا فوقانی نے القول الحسن کی الرد علی ابکار المنن وتائید آثار السنن کے نام سے لکھا، یہ کتاب ان کی تصریح کے مطابق ۱۹۳۳ء (۱۳۵۲ھ) میں مکمل ہو گئی تھی لیکن شائع ہوئی ۱۹۶۳ء (۱۳۸۲ھ) میں۔ اس کا ناشر نامی پریس لکھنؤ ہے۔ مزید تفصیل آثار السنن پر کام کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
آثار السنن کا ایک اور جواب علمائے اہل حدیث کی طرف سے دیا گیا۔ معروف اہل حدیث عالم حافظ زبیر علی زئی نے انوارالسنن فی تحقیق آثار السنن کے نام سے اس کا جواب لکھا ہے جو شائع ہو چکا ہے۔
مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق حافظ محمد پنجابی، مولانا عبدالسمیع مبارک پوری اور مولانا چراغ گل نے حضرت نیموی کے تحقیقات کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن مولانا نے اس کی تفصیل نہیں لکھی ہے نہ مآخذ کا حوالہ دیا ہے۔28
آثارالسنن پر علمی کام، ترجمے اور تکملے
آثار السنن پر جو علمی کام ہوے ہیں ذیل میں اس کی تفصیل درج کی جا رہی ہے، اس سے اس کتاب کی مقبولیت اندازہ ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبہ بہار میں ان کی وطنی نسبت کے علاوہ اس پر کام اور شرح و توضیح کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ اس صوبہ کے سرکاری مدارس (مدرسہ ایجوکیشن بورڈ بہار) کے نصاب میں شامل تھی۔ اور یہی وجہ پاکستان میں اس پر خصوصی توجہ کی ہے۔
۱۔ مولانا محمد سعید سمستی پوری کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اس کا ایک اہم ایڈیشن جو غالباً عالم عربی سے شائع ہونے والا اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع ہوا۔ اس کو چند سال ہوئے ہیں۔
۲۔ اس کا ایک عمدہ ایڈیشن دارالمعراج مکتبۃ المدینہ کراچی پاکستان سے شائع ہوا ہے جس پر ایک شامی عالم ابی امجد احمد رضا العطاری الشامی کا حاشیہ بھی ہے جو انوار السنن کے نام سے ہے۔
۳۔ ایک تحقیقی ایڈیشن مجلس الدعوۃ والتحقیق جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے شائع ہوا ہے۔
۴۔ المعتصر من آثار السنن واعلاء السنن۔
یہ مولانا عارف جمیل قاسمی مدیر مجلہ الداعی عربی دارالعلوم دیوبند کا کام ہے جو چند سال قبل مکتبہ علمیہ دیوبند سے شائع ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے ان دونوں کتابوں کا اختصار بھی کیا ہے اور روایات کی تخریج بھی کی ہے۔
۵۔ مولانا محمود اشرف کی تحقیق سے شائع شدہ ایڈیشن، شاید یہی طباعت تحقیق آثار السنن للفاضل الذکی محمد اشرف کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
۶۔ حقائق السنن از مولانا عبدالحق حقانی۔
۷۔ ایک ایڈیشن مولانا ذوالفقار علی کی تحقیق سے مکتبۃ البشری کراچی سے ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا ہے۔
۸۔ متن مع اردو ترجمہ از محمد اشرف فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجراں والہ، مکتبہ حسینیہ، گوجرانوالہ۔
۹۔ درس آثار السنن اردو شرح از مولانا مفتی فیضان الرحمٰن کمال استاد جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، مبشر پبلشرز، کراچی۔
۱۰۔ توضیح السنن شرح اردو آثار السنن از مولانا عبدالقیوم حقانی، دو جلدیں۔ نوشہرہ، پاکستان۔
۱۱۔ تسہیل الآثار فی حل آثار السنن از مولانا سیف الرحمٰن۔
۱۲۔ اشاعت مع حواشی از مولانا فیض احمد ملتانی۔ مکتبہ حقانیہ، ملتان۔
۱۳۔ انوارالسنن ترجمہ و شرح اردو مولانا عبد المصطفیٰ محمد مجاہد قادری، لاہور۔
۱۴۔ ترجمہ و تشریح از حافظ محمد افضال نقشبندی۔
۱۵۔ آثار السنن مع توجیہ المتن الی حل آثارالسنن از مولانا محمد اقبال قاسمی، مکتبہ طلحہ، بنگلور۔
۱۶۔ القول الاحسن فی شرح آثار السنن اردو ترجمہ از مولانا حفیظ الرحمٰن رمضان پوری پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ، متوفی ۱۴۲۰ھ۔ ناشر کتاب منزل سبزی باغ پٹنہ۔ یہ کتاب چھوٹے سائز کے دو جلدوں میں ہے، زیادہ ترجمہ اردو ترجمہ ہے، کہیں کہیں توضیح بھی ہے۔ طلبہ کی درسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی تھی۔
۱۷۔ توضیح السنن شرح آثار السنن از مولانا سید رضا کریم استھانوی پرنسل مدرسہ محمدیہ استھاواں، بہارشریف، متوفی ۱۳۳۵ھ۔ یہ شرح چھپ نہیں سکی اور اب محفوظ بھی نہیں لیکن راقم کی نظر سے اس کا کچھ حصہ گذرا تھا، راقم نے اس کا نام سنا تھا تو خیال تھا کہ کوئی درسی انداز کی معمولی شرح ہوگی لیکن دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ شارح نے محنت کی ہے اور شارحینِ حدیث کے اقوال بھی نقل کئے ہیں، اور اس کو مجموعی طور پر مولانا حفیظ الرحمٰن رمضان پوری کی شرح سے بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس شرح کے سلسلہ میں خود شارح کا ایک چھوٹا سا مکتوب بھی نظر سے گذرا ہے، مکتوب الیہ کا نام معلوم نہیں ہو سکا، اس میں لکھا تھا کہ میں نے طلبہ کے لئے سہل انداز میں آثارالسنن کی شرح لکھی ہے، اس کی اشاعت کی ضرورت ہے۔ یہ کتاب شارح نے حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی خدمت میں نظر ثانی کے لئے پیش کی تھی اور ان کی تصویب بھی حاصل کی تھی۔ افسوس کہ یہ کتاب ضائع ہو گئی لیکن اس کا ایک حصہ باقی ہے۔
۱۸۔ آثار السنن کا ایک اردو ترجمہ مولانا نور الہدیٰ شمسی (م فروری ۲۰۰۰ استاد پٹنہ مسلم ہائی اسکول ساکن یکہتہ مدھوبنی) کے قلم سے ہے جس کی تفصیل معلوم نہیں۔29
۱۹۔ تفہیم السنن، یہ علمی شرح امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب ناظم اور معروف اہل قلم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی ہے، لیکن مکمل کتاب کی شرح نہیں ہے، اس کا پہلا ایڈیشن تقریباً دو دہائی قبل حاجی پور (بہار) سے شائع ہوا تھا، اب مولانا نے نظر ثانی کے بعد اس کا دوسرا ایڈیشن متعدد اہلِ علم کے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا ہے، لیکن تکمیل کا موقع اب تک نہیں مل سکا ہے۔ مولانا کسی سے شاید اس کا عربی ترجمہ بھی کروا رہے ہیں۔
۲۰۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر جو جامع حواشی تحریر فرمائے تھے، اس کا ذکر اوپر آچکا ہے، گرچہ وہ شاید کوئی باضابطہ تصنیفی کام نہیں تھا، لیکن اس کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے، اس کا عکس تو بہت پہلے شائع ہوگیا تھا اور الاتحاف لمذھب الاحناف کے نام سے اب انٹرنٹ پر اور پی ڈی ایف میں ہر جگہ دستیاب ہے لیکن اس کی ترتیب و تدوین اب تک نہیں ہو سکی ہے، کئی اہلِ علم کے متعلق سنا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ علامہ عبد الفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ کام ان کے شاگردوں اور علمی وابستگان پر قرض ہے۔
۲۱۔ حضرت نیموی کے فرزند گرامی مولانا عبدالرشید فوقانی کی القول الاحسن فی الرد علی ابکار المنن وفی تائید آثار السنن کو بھی اس پر علمی کام کے ذیل میں ہی شمار کرنا چاہئے، گرچہ بہ باضابطہ اس کی شرح نہیں ہے۔ یہ کتاب مطبع نامی لکھنؤ سے ذی قعدہ ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۹۶۳ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں متن میں قال ابن النیموی کہہ کر معترض کے ہر قول کا جواب دیا گیا ہے، اور حاشیہ میں بعض جگہ ان سے متعلق جو مباحث تھے اس کی تائید میں حضرت نیموی کی اردو اور عربی عبارتیں درج کی گئی ہیں۔ اس کے اخیر میں عمدۃ العناقید اور اس سے پہلے مصنف کے قلم سے عربی میں دو صفحات میں حضرت نیموی کے حالات ہیں۔ اصل کتاب ۱۴۸ صفحات میں ہے۔ ان اعتراضات اور اس پر جوابات کی تفصیل اور اس کا محاکمہ اس مختصر مضمون میں مشکل ہے، نیز یہ ضروری بھی نہیں کسی ایک کے محاکمہ سے دوسرا مطمئن ہو جائے۔
فارسی ترجمے
ترجمہ و شرح آثار السنن، مترجم فیض محمد بلوچ، سنہ طباعت ۱۳۹۴ ہرات، افغانستان۔ خواجہ ابوعبداللہ انصاری فاؤنڈیشن۔
انوارالسنن ترجمہ وتوضیح آثار السنن، مترجم محمد امیر حسین بر۔ زاہدان، ایران۔
اس کتاب کا ایک تکملہ بنام ایثارالسنن مع حاشیہ افکار الحسن مولانا عتیق الرحمٰن صاحب قاسمی چندرسین پوری دربھنگوی نے کیا تھا جو شاید نامکمل ہی رہ گیا۔30
حواشی
- دیکھئے القول الحسن محولہ بالا
- تفہیم السنن، ص ۹۳
- یکہتہ واطراف، از مولانا منور سلطان ندوی، ۲۰۱۲ یکہتہ (دربھنگہ)
- حیاتِ قطب الہند مولانا احسن منوروی از مولانا اخترامام عادل قاسمی، ص ۸۲۴ سمستی پور
(مکمل)
وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
خدا کے وجود پر یقین انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کے مطابق اِسی فطرت پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں بھیجے جانے سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا جسے 'میثاق الست' کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وجودِ باری تعالیٰ پر یقین انسان کی فطری زندگی کے لئے ضروری ہے، یہ یقین تحتِ شعور میں راسخ ہے اور فطرت مسخ نہ ہو تو معمولی تامل یا یادداشت سے رہنمائی دیتی ہے۔ یہ فطری ایمان ہی عقیدہ بنتا ہے، اور اس پر اعتقاد ایمان کہلاتا ہے۔ انسان کی یہ جبلت اُس وقت کھل کر ظاہر ہوتی ہے جب سخت مصیبت میں ہر انسان، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، کائنات سے ماورا ایک قوت کی پناہ چاہتا ہے۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ خدا کے موجود ہونے کی دلیل ہمارے اندر (نفس میں) موجود ہے۔
کائنات اور فطرت میں پایا جانے والا غیر معمولی نظم و ضبط، نفاست اور جچا تلا ڈیزائن (کائناتی سطح پر کہکشاؤں سے لے کر کوانٹم سطح پر ایٹموں تک) ایک عظیم ذہین خالق/ڈیزائنر کی موجودگی کا لازمی ثبوت ہے۔ اس کے لازمی نتائج یہ بھی ہیں کہ؛
- بگ بینگ کا واقعہ ایک منصوبہ کے تحت وقوع پذیر ہوا، نہ کہ محض ایک بے قابو دھماکہ، کیونکہ اس کے نتیجے میں گچھے بنے نہ کہ ٹکڑے، اور قوانینِ طبیعیات حیرت انگیز توازن کے ساتھ وجود میں آئے۔
- کائنات کے پھیلنے کی رفتار اور طبیعی قوانین کے پیمانے اس قدر نپے تلے ہیں کہ ذرہ برابر فرق بھی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ ایک منصوبہ بندی کی طرف اشارہ ہے۔
- قرآن انسان کے اپنے وجود (نفس) میں خدا کی نشانیاں تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو اس کی سب سے بڑی دلیل ہے: (الذاريات: 21)
- کائنات کا نظم و ضبط اور مخلوقات کا تنوع (Design and Variety) ایک عظیم خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
- کائنات کی تخلیق میں غیر معمولی توازن اور نفاست (جیسے کائنات کی رفتار اور قوانینِ طبیعیات کے پیمانے) ایک ذہین ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جیسے کوانٹم تجربات میں ذرات کا مشاہدہ کیے جانے پر رویہ بدلنا کسی باخبر (Omniscient) طاقت کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
- قرآن آسمان و زمین کے ایک اکائی سے جدا ہونے کو غور و فکر کا موضوع بناتا ہے: (الانبیاء: 30)
- ہر چیز میں جوڑے (ازواج) اور رنگوں کا اختلاف تخلیقی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglement) وہ مظہر ہے کہ دو الیکٹران جوڑے میں پیدا ہوں تو وہ ہمیشہ کے لیے آپس میں الجھ جاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے درمیان کتنا بھی فاصلہ ہو۔ ایک میں تبدیلی فوری طور پر دوسرے میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انفارمیشن روشنی کی رفتار سے بھی تیز سفر کر رہی ہے۔
- بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں ایک غیر مرئی طاقت موجود ہے جو مادہ پر فوری طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح 'ڈبل سلٹ' تجربات میں ذرات جب اپنا مشاہدہ کیے جانے کا 'احساس' کرتے ہیں تو اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ ایک طاقت میں علم اور ذہانت کی موجودگی کا ثبوت ہے جو تمام آزاد الیکٹران کو مربوط کرتی ہے۔
- کوانٹم طبیعیات کو ایک 'کائناتی کوڈ' سمجھا جاتا ہے جو ہر چیز کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ کوانٹم لیول پر یہ کائناتی رابطہ (جو زمان و مکان سے ماورا ہے) دعا کے ذریعے خدا سے روحانی رابطہ قائم ہونے کی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے، کیونکہ خدا ہر جگہ اور ہر چیز سے رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کائنات اور اس کے قوانین کی تخلیق اور اس میں نفوذ پزیر ایک شعور واحد کا تصور یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کے اس عقیدہ کی تائید کرتا ہے کہ خدا ہر وقت موجود ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
وہ فلاسفہ، جو سائنسی بنیاد پر خدا کا انکار نہیں کر سکتے، بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ محسوس ظواہر کے پس پردہ کوئی نامعلوم اور ناممکن العلم قوت (شہود کے پردہ میں غیب) ضرور پنہاں ہے۔ عدم ایک خیالِ خام (Absence is a Mere Idea) ہے: روشنی موجود ہے، جبکہ تاریکی صرف روشنی کی غیر موجودگی کا نام ہے، ایک خیال ہے۔ حرارت (ہیٹ) موجود ہے، جبکہ سردی حرارت کی غیر موجودگی ہے، ایک خیال ہے۔ آواز موجود ہے، جبکہ خاموشی صرف آواز کی غیر موجودگی ہے۔ نتیجہ: اگر خدا کا وجود ایک حقیقت ہے، تو خدا کا انکار یا عدم وجود صرف ایک خام خیال ہے۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی بھیگا ہوا شخص یہ کہے کہ اس نے کبھی پانی نہیں دیکھا۔ جو لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے، وہ دراصل دنیا داری کی مصروفیت میں اپنی ذات پر غور و فکر نہیں کرتے۔
انسان کی کمزوری، ناتوانی اور عارضی وجود ہی خدا کے کمال، ابدیت اور قدرتِ مطلق کی منطقی دلیل ہیں۔ ہر مخلوق کا وجود کاملیت میں درجات رکھتا ہے، اور اس کاملیت کے پیمانے کی ایک انتہائی حد کا ہونا لازم ہے، جو اپنی تعریف کے لحاظ سے خدا ہے۔ یہ دلیل یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عارضی دنیا کے نقائص (کمزوری، محکومیت، ناتوانی) ہی خدا کے کمالات (قدرت، حاکمیت، خالقیت) کی گواہی دیتے ہیں۔
مذہب کی جڑ دل میں ہے اور مذہب کی بنیاد اعتقادات اور جذبات پر ہے (امید و بیم، محبت و نفرت، حیرت و تعظیم)، جب تک یہ جذبات انسانی خمیر میں شامل ہیں، مذہب انسانی وجود کا جزو ہے۔ پروفیسر ٹنڈل کا دعویٰ ہے کہ کوئی ملحدانہ استدلال انسان کے دل سے مذہب کو خارج نہیں کر سکتا، کیونکہ مذہب وجدان اور ذاتی تجربہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کی جگہ فطرتِ انسانی کی گہرائی میں ہے۔
انسانوں میں پایا جانے والا فطری اخلاقی شعور اور ضمیر ایک بالاتر اخلاقی قانون ساز (خدا) کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ کانٹ کے مطابق انسان میں فطری اخلاقی میلانات ہیں، اور اخلاقیات صرف اخلاقی اچھائی کے ایک اعلیٰ تر منبع سے آ سکتی ہے۔ لہٰذا، خدا موجود ہے۔ دنیا میں ظالم اور مظلوم دونوں ہیں؛ ایک منصف خدا سے یہ توقع جائز ہے کہ مکمل انصاف صرف آخرت میں ہی ممکن ہے۔ اس طرح آخرت کی زندگی پر ایمان ذاتِ باری تعالیٰ پر ایمان کا منطقی نتیجہ ہے۔
جب موجودہ مادی دنیا میں بے بسی اور ناانصافی غالب آتی ہے، تو انسان تسکین اور ڈھارس کے لیے ایک عالمِ غیب پر یقین کرتا ہے جہاں مکمل انصاف اور حقیقی جزا و سزا ہو گی۔ یہ ایمان بالغیب ہی مذہب کی اصل جان ہے اور بنی اسرائیل کی معزولی کی جو تاریخ قرآن نے ذکر کی ہے، اُس میں نمایاں وجہ یہی تھی کہ انہوں نے بار بار حس اور مشاہدہ میں آنے والے خدا کا مطالبہ کیا، جو غیب پر یقین کے منافی تھا ۔ اس کے برعکس قرآن سے ہدایت لینے والے متقین کی پہلی صفت ایمان بالغیب قرار پائی۔
خدا کے وجود کی سب سے طاقتور دلیل نہ صرف عقلی استدلال میں پنہاں ہے، بلکہ انسانی زندگی کے عملی اور وجدانی تجربے میں بھی راسخ ہے۔ روزمرہ مشاہدات، جیسے کہ نیکوکار کی ناکامی اور بدکار کی خوشحالی، یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کا نظام صرف مادی اور عقلی قوانین کے تحت کارفرما نہیں ہے۔ یہی تضادات اور علم و تدبیر کی بے بسی انسان کو ایک غیبی قوت کا اقرار کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس پر ہر تدبیر غالب ہے، جیسا کہ قرآنی بیان (سورۃ الفتح: 10) میں ظاہر ہوتا ہے۔
عصرِ حاضر کے مغربی فلسفہ میں خدا کے وجود کا ایک ثبوت مذہبی تجربہ ہے، جسے حواس کے ذریعے حاصل ہونے والے عام دنیاوی تجربات کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے:
- مقدس ہستی کا شعور، جس میں خوف اور احترام شامل ہو۔
- مخلوق ہونے کے ناطے مطلق انحصار کا احساس۔
- الٰہی (Divine) ذات و صفات کے ساتھ تعلق کا احساس۔
- خدا کا براہ راست احساس یا ایک ایسی حقیقت کا سامنا جو "مکمل طور پر دوسری" (Wholly Other) ہے۔
- اس حاضری (ادراک) سے تبدیل ہونے کی طاقت کا احساس۔
امام غزالیؒ شریعت، طریقت، حقیقت اور بالآخر معرفت کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر فرد جو ہدایت کا مخصوص راستہ (زہد، عبادت، سچائی، تنہائی، دعا) اختیار کرتا ہے، وہ بالآخر خدا کے وجود پر اسی یقین کی منزل (وحدانیت اور اسلام) پر پہنچتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دعائیں قبول کرنے والا ایک ہی مخاطب (خدا) موجود ہو۔ حضرت محمد ﷺ کا معراج کا سفر ایک منفرد روحانی تجربہ ہے، جسے قرآن (17:1) میں "قدرت کی نشانیاں دکھانے" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جدید الحاد کا مطالعہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عہدِ نبوی میں فکری گمراہی کی غالب نوعیت کا تجزیہ نہ کیا جائے۔ یہ تقابلی جائزہ واضح کرتا ہے کہ ماضی اور حال کے "الحاد" کی نوعیت میں کیا بنیادی فرق ہے اور قرآنی دعوت کا اصل مرکز کیا رہا۔ عہدِ نبوی میں "الحاد" (خدا کے وجود کا مکمل انکار) ایک عام رجحان نہیں تھا۔ قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی دعوت کا مرکز ایسے لوگ تھے جو اللہ کے وجود کے قائل تھے مگر اس کی ذات میں شریک ٹھہراتے تھے، نہ کہ وہ جو خدا کا مکمل انکار کرتے تھے۔ فکری گمراہی کا مرکز دراصل شرک اور کفر تھا۔ اس وقت کے انسانوں کی فطرت میں کسی نہ کسی مافوق الفطرت ہستی پر ایمان کا رجحان موجود تھا۔ قدیم تہذیبوں کا یہ ماننا تھا کہ کائنات کو کسی قوت نے بنایا ہے، لیکن وہ اس قوت کو ایک خدا کی بجائے کئی دیوی دیوتاؤں یا بتوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس وقت کے غیر مسلموں کا غالب عقیدہ شرک اور کفر کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو تو تسلیم کرتے تھے (بطورِ خالقِ کائنات)، لیکن اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے ان بتوں اور دیوتاؤں کو وسیلہ (شفاعت) سمجھتے تھے تاکہ وہ اللہ تک ان کی رسائی ممکن بنا سکیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ان کے اس عقیدے کو بیان کیا گیا ہے:
"اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔" (یونس: 18)
قرآن مجید میں اس طرزِ عمل کی عکاسی متعدد مقامات پر ہوتی ہے، جہاں مشرکین کو توحید کی طرف لانے کے لیے دعوتِ فکر دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو بیدار کرنے کے لیے کائنات میں موجود نشانیوں (آیات) کو بنیاد بنا کر فرمایا ہے:
"بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں ان عقل والوں کے لیے یقیناً نشانیاں ہیں جو کھڑے، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں…" (آل عمران: 190-191)۔
"اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور تمہاری اپنی ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟" (الذاریات: 20-21)۔
ان تمام آیات کا مقصد یہ ہے کہ انسان کائنات کی نشانیوں (آیات) پر غور کر کے فطرت کی شہادت کے مطابق ایک خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت کو پہچان لے۔ البتہ قرآن مجید میں ایک مقام پر ایسے لوگوں کا بھی ذکر ملتا ہے جن کا نظریہ موجودہ الحاد سے کچھ مشابہت رکھتا تھا:
"اور انہوں نے کہا کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہی ہے، ہم زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ ہی مارتا ہے، حالانکہ انہیں اس بارے کچھ علم نہیں ہے، وہ صرف ظن و تخمین سے کام لیتے ہیں۔" (الجاثیہ: 24)
قرآن نے ان کا بھی براہِ راست جواب دیا اور انہیں ظن و تخمین کی بجائے اللہ کی نشانیوں پر فکر و تدبر سے حاصل ہونے والے علم کی طرف دعوت دی۔
قرآن اور سائنسی حقائق
ڈاکٹر عرفان شہزاد
قرآن مجید کو سائنس کی کتاب سمجھنا یا اس سے سائنسی معلومات کشید کرنے کی کوشش کرنا اس کے مقصدِ نزول سے انحراف ہے۔ قرآن دین کی کتاب ہے، جس کا بنیادی ہدف انسان کو اس کے خالق سے روشناس کرانا، بندگی کی دعوت دینا اور آخرت میں اعمال کی جواب دہی پر متنبہ کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ انسان کے مشاہدے اور فہم میں آنے والی حقیقتوں کو بنیاد بنا کر استدلال کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں مظاہرِ فطرت پر غور و فکر کی دعوت سائنسی تحقیق کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے وجود اور کائنات میں بکھری نشانیوں کے ذریعے ایک قادر و حکیم خالق اور روزِ جزا کی حقیقت کو پہچان سکے۔
قرآن کا اسلوب سائنسی نہیں بلکہ ادبی اور محاوراتی ہے۔ وہ اسی زبان میں بات کرتا ہے جس میں انسان اپنے مشاہدات کو بیان کرتا ہے۔ اسی لیے سورج کے غروب ہونے کو کسی مقام پر ڈوبتے ہوئے بیان کرنا یا انسانی تخلیق کے بعض پہلوؤں کو شائستہ استعارات میں بیان کرنا کوئی سائنسی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ادبی کلام کا اسلوب ہے۔ جنسی اور جسمانی امور کے بیان میں قرآن وہی تہذیبی اسالیب اختیار کرتا ہے جو باوقار زبان کا حصہ ہوتے ہیں۔ صُلب اور ترائب جیسے الفاظ بھی اسی ادبی اور محاوراتی روایت کے تحت محل بیان میں آئے ہیں۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن کے بعض بیانات اپنی لفظی جامعیت کے باعث بعد کی سائنسی دریافتوں کے مصداق بن سکتے ہیں، مگر یہ اُن کا اصل مدعا نہیں۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قرآن کے مقصد اور اسلوب کو نظرانداز کر کے اسے جدید سائنس کی عینک سے پڑھا جاتا ہے، جس سے کبھی بے جا اعتراضات اور کبھی غیر ضروری خوش گمانیاں جنم لیتی ہیں۔
قرآن کے بیانات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اُن میں کوئی بات خلاف واقعہ نہیں پائی گئی۔ الفاظ کا انتخاب اس قدر محتاط اور چست ہے کہ سائنسی علم کی بنیاد پر اُن میں کوئی خلل ثابت نہیں کیا جا سکا۔ مثال کے طور پر سورۂ لقمان میں بارش اور رحمِ مادر سے متعلق علم کا ذکر انسانی علم کی نفی کے طور پر نہیں بلکہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ قطعی اور کامل علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اصل مدعا قیامت کے انکار پر انسانی رویے کی کمزوری کو نمایاں کرنا ہے، نہ کہ سائنسی امکانات کو رد کرنا۔
اسی طرح جنین کی تخلیق کے مراحل کے بیان میں حروفِ عطف کے استعمال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کہیں ترتیب وار مراحل بیان کرتا ہے اور کہیں ساتھ ساتھ ہونے والے عمل کو، جسے نظرانداز کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ قرآن سائنسی حقائق کے خلاف بات کر رہا ہے، حالاں کہ متن کی باریک رعایت سے یہ اعتراض خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔
کائنات میں جوڑوں کی تخلیق، چھ دنوں میں کائنات کی پیدائش، شہابیوں کا ذکر، یا زمین و آسمان کی تخلیق کی ترتیب جیسے معاملات میں بھی قرآن کوئی سائنسی نظریہ پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے مخاطبین کے فہم کی سطح پر بات کر کے آخرت اور توحید کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ’’ایام‘‘ کا مفہوم ادوار ہے، اور خدا کے دن انسانی دنوں کے پیمانے پر محدود نہیں۔
بعض مقامات پر قرآن کا بیان اس قدر جامع ہے کہ جدید سائنس کی بعض دریافتیں اس کے ضمن میں سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے زندگی کی ابتدا کا پانی سے تعلق، فضا کا محفوظ چھت ہونا، یا پہاڑوں کا زمین کے توازن میں کردار۔ ان مقامات پر قرآن کا اصل مدعا خدا کی قدرت کا اظہار ہے، اگرچہ سائنسی حقائق اُن کے ممکنہ مصادیق بن جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ قرآن میں کچھ ایسی باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جو نزول کے وقت انسانی علم سے ماورا تھیں اور بعد میں معلوم ہوئیں، جیسے کائنات کا ابتدائی گیساتی مرحلہ یا میٹھے پانی میں موتیوں کی موجودگی۔ کچھ امور ایسے بھی ہیں جو اب تک انسانی علم میں نہیں آئے، مثلاً متعدد کائناتوں کا وجود یا جنّات کی حقیقت۔ ان معاملات میں علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ نہ قطعی اثبات کا دعویٰ کیا جائے اور نہ انکار میں عجلت کی جائے۔
اس کے برعکس بعض جدید دعوے محض خوش گمانیاں ہیں، جیسے یہ کہنا کہ قرآن نے جنین، آبی چکر، بگ بینگ، کائنات کے پھیلاؤ یا فرعون کی ممی کی پیشگی سائنسی خبر دی ہے۔ ان سب مثالوں میں قرآن کے سیاق، اسلوب اور مخاطبین کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ متن پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں سائنسی انکشافات بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ خدا کی قدرت، ربوبیت اور آخرت کی یاد دہانی کرانا اصل ہدف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن نہ سائنس کی تردید کرتا ہے اور نہ اس کا نعم البدل بنتا ہے۔ وہ انسان کو اُس کے محدود علم کا احساس دلا کر ایک بڑے، بامعنی اور با مقصد کائناتی نظام کی طرف متوجہ کرتا ہے، تاکہ وہ خالق کو پہچانے، اپنی ذمہ داری سمجھے اور اس دنیا کو آخرت کے تناظر میں دیکھے۔
نمازِ تہجد — تشکر و عبودِیت کی مظہر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز تہجد کے لیے حاضری دینا ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان دنیا میں بڑے بڑے مرتبے حاصل کر لیتا ہے۔ رات کی تنہائی میں بندہ راحت اور آرام کو چھوڑ کر سردی اور گرمی کی شدت برداشت کر کے وضو کر کے جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندوں کو اپنے قرب و لطف سے مالامال فرما دیتا ہے۔ فرائض کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز تہجد ہے۔
فضیلتِ نمازِ تہجد قرآنِ مجید کی روشنی میں
تہجد کی فضیلت میں قرآن پاک میں کئی مقامات پر اس کی نماز کی اہمیت و فضلیت بیان ہوئی ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’(رحمان کے بندے وہ ہیں) جو راتیں اِس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور (کبھی) قیام میں۔‘‘ (سورۃ الفرقان: 64)
ایک جگہ ارشاد ہے: ’’بھلا (کیا ایسا شخص اُس کے برابر ہو سکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار سے رحمت کا امید وار ہے؟ کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں؟‘‘ (سورۃ الزمر: 9)
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دِن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہو جاؤ۔‘‘ (سورۃ طہ: 130)
ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’بے شک رات کے وقت اٹھنا ہی ایسا عمل ہے جو جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔‘‘ (سورۃ المزمل: 6)
ایک جگہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں: ’’اے پیغمبر! تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے)۔ (سورۃ المزمل: 20)
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو جو تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے، امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں مقامِ محمود تک پہنچائے گا۔‘‘ (بنی اسرائیل: 79)
فضیلتِ نمازِ تہجد احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین مبارکہ میں بھی تہجد کی نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل اور مختلف قسم کی ترغیبات وارد ہوئی ہیں:
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا، تاکہ دیکھوں (کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں یا نہیں؟)۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھ کر کہا کہ: یہ چہرہ جھوٹے شخص کا نہیں ہو سکتا۔ وہاں پہنچ کر جو سب سے پہلا ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا، وہ یہ تھا کہ لوگو! آپس میں سلام کا رواج ڈالو اور (غرباء کو) کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت جب سب لوگ سوتے ہوں (تہجد کی) نماز پڑھا کرو، تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (قیام اللیل)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا روزہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات (تہجد) کی نماز ہے۔ (صحیح مسلم: کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کے وقت آدمی اپنی بیوی کو جگائے اور دونوں دو رکعتیں پڑھیں یا ایک دو رکعت پڑھے تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں اور ذکر کرنے والیوں میں سے لکھ دیئے جاتے ہیں۔ (سنن ابوداؤد: کتاب التطوع، باب قیام اللیل، وصححہ الالبانی فی صحیح سنن ابی داؤد: 1309)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی گدی پر جب وہ سوتا ہے تو شیطان تین گرہیں لگا دیتا ہے، ہر گرہ پر یہ کہتا ہے کہ تیرے لئے رات بہت لمبی ہے، پس خوب ہو۔ اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لیتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ نماز بھی پڑھ لیتا ہے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وہ ہشاش بشاش اور پاکیزہ نفس ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ خبیث النفس اور سست ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری: کتاب التہجد باب عقد الشیطان علی قافیۃ الراس اذا لم یصل باللیل، صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں (جو آبگینوں کے بنے ہوئے معلوم ہوتے ہیں) ان کے اندر کی سب چیزیں باہر سے نظر آتی ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ کن لوگوں کے لیے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح سے بات کریں، اور (غربا) کو کھانا کھلائیں اور ہمیشہ روزے رکھیں اور ایسے وقت میں رات کو تہجد پڑھیں جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ (ترمذی، ابن ابی شیبہ)
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: تم رات کے جاگنے کو لازم پکڑو، کیوں کہ یہ تم سے پہلے صالحین اور نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کا ذریعہ ہے اور گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے اور حسد سے دور کرنے والی چیز ہے۔ (قیام اللیل)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: تین قسم کے آدمیوں سے حق تعالیٰ شانہ بہت خوش ہوتے ہیں: ایک اس آدمی سے جو رات کو (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑا ہو، دوسرے اس قوم سے جو نماز میں صف بندی کرے، اور تیسرے اس قوم سے جو جہاد میں صف بنائے (تاکہ کفار سے مقابلہ کرے)۔ (قیام اللیل)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جبکہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ تو وہ فرماتا ہے: کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے مجھ سے استغفار کرنے والا تاکہ میں اس کی مغفرت کروں۔ (یہ وقت نمازِ تہجد کا ہی ہوتا ہے جس وقت باری تعالیٰ یہ صدا لگاتا ہے)۔
نمازِ تہجد کی نیت کا طریقہ
نماز تہجد کی ہو یا کوئی بھی، اس کی نیت کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے، بس دل میں یہ نیت کافی ہے کہ میں تہجد کی نماز ادا کر رہا ہوں۔ اگر الفاظ ادا کرنے ہوں تو تہجد کی نیت اس طرح کرے: ’’نویت ان اصلِی رکعتی صلاِۃ التہجدِ سنۃ النبِیِ ﷺ‘‘۔ یا اپنی زبان میں یوں نیت کرے کہ ’’میں دو رکعت تہجد کی نماز پڑھ رہا ہوں‘‘ اللہ اکبر۔ نیز اگر رات کو صرف نفل نماز کی نیت سے نماز پڑھے گا تب بھی تہجد کی نماز ہو جائے گی۔
نمازِ تہجد کا وقت
تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے پہلے پہلے تک رہتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آدھی رات گزرنے کے بعد تہجد کی نماز پڑھی جائے۔ ویسے عشاء کی نماز کے بعد سے صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے کسی بھی وقت تہجد کی نماز پڑھنے سے تہجد کی نماز ہو جائے گی۔ نیز تہجد کے لیے سونا شرط نہیں ہے، البتہ رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں: لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے، اور یہ لفظ دو متضاد معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی۔ …… اسی رات کی نماز کو اصطلاحِ شرع میں نمازِ تہجد کہا جاتا ہے، اور عموماً اس کا مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نمازِ تہجد ہے۔ لیکن تفسیر مظہری میں ہے کہ مفہوم اس آیت (ومن اللیل فتہجد بہ) کا اتنا ہے کہ رات کے کچھ حصہ میں نماز کے لیے سونے کو ترک کر دو، اور یہ مفہوم جس طرح کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نماز پڑھنے پر صادق آتا ہے، اسی طرح شروع ہی میں نماز کے لیے نیند کو مؤخر کر کے نماز پڑھنے پر بھی صادق ہے، اس لیے نمازِ تہجد کے لیے پہلے نیند ہونے کی شرط قرآن کا مدلول نہیں۔ پھر بعض روایاتِ حدیث سے بھی تہجد کے اسی عام معنی پر استدلال کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے حضرت حسن بصری سے نمازِ تہجد کی جو تعریف نقل کی ہے وہ بھی اسی عموم پر شاہد ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: حسن بصری فرماتے ہیں کہ نمازِ تہجد ہر اس نماز پر صادق ہے جو عشاء کے بعد پڑھی جائے البتہ تعامل کی وجہ سے اس کو کچھ نیند کے بعد پر محمول کیا جائے گا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ نمازِ تہجد کے اصل مفہوم میں بعد النوم ہونا شرط نہیں، اور الفاظِ قرآن میں بھی یہ شرط موجود نہیں، لیکن عموماً تعامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا یہی رہا ہے کہ نماز آخر رات میں بیدار ہو کر پڑھتے تھے اس لیے اس کی افضل صورت یہی ہو گی۔
نمازِ تہجد کی رکعات
اکثر و بیشتر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ تہجد آٹھ رکعات تھیں، اسی وجہ سے فقہاء حنفیہ نے فرمایا ہے کہ تہجد میں افضل آٹھ رکعات ہیں؛ تاہم اگر کوئی شخص محض دو یا چار رکعات تہجد ادا کرتا ہے تو یہ بھی درست ہے اور ایسا شخص تہجد پڑھنے والا شمار ہوگا۔
باقی تہجد نفل نماز ہے، اور نفل نماز دو دو رکعت ہے، یعنی جفت عدد میں ہی ادا کی جاتی ہے، نفل نماز طاق عدد میں ادا نہیں کی جاتی، بعض احادیث میں اس کی ممانعت منقول ہے۔ ہاں جس شخص کا معمول تہجد کی نماز ادا کرنے کا ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ نمازِ وتر عشاء کے متصل بعد نہ پڑھے، بلکہ تہجد کے آخر میں نمازِ وتر ادا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا کہ نمازِ تہجد کے آخر میں وتر ادا فرماتے تھے، اس لیے بہت سی روایات میں طاق عدد کا ذکر ملتا ہے، درحقیقت وہ طاق عدد نمازِ تہجد کا نہیں، بلکہ تہجد مع وِتر کا ہے۔
اہتمامِ نمازِ تہجد کے لیے تدابیر
جو شخص اس سعادت سے بہرہ مند ہونا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ عشاء کی نماز کے بعد دیگر مشاغل میں اپنے آپ کو مصروف نہ رکھے۔ عشاء کے بعد کوئی میٹنگ نہ رکھے، کسی سے ملنے نہ جائے، دیر تک مطالعہ نہ کرے، کسی کو رات دیر گئے مدعو نہ کرے، اِلّا یہ کہ کوئی شدید حاجت اور ضرورت ہو، یا کسی اضطراری صورتحال سے دوچار ہونا پڑے۔ عام دنوں اور عام حالات میں اپنے ان معمولات پر سختی سے عمل کرے، ورنہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہو جائے گا۔ نمازِ تہجد کے اہتمام کے لیے ضروری ہے کہ نمازِ تہجد کی اہمیت اور فضیلت کا علم اور احساس ہو۔
اہتمام تہجد کی ایک اور اہم تدبیر یہ بھی ہے کہ بندہ اپنی موت کو یاد کرتا رہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کر لو تو شام کا انتظار نہ کرو (نہ جانے کب موت آجائے)۔ اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے کچھ حاصل کر لو۔(صحیح بخاری حدیث: 6415)۔ مومن کو چاہیے کہ سونے سے پہلے سونے کے مسنون اذکار پڑھ لے۔ بالخصوص آیت الکرسی پڑھ لے تاکہ شیطان کے شر سے محفوظ ہو جائے اور جلد سو کر جلد بیدار ہو جائے۔
اہتمامِ تہجد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ رات میں زیادہ کھا کر نہ سوئے اور دوپہر کے بعد تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ ضرور کر لے۔ یہ قیلولہ نمازِ تہجد کے لیے اٹھنے میں نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا تدبیروں کو اختیار کرنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ انسان نمازِ تہجد کا باقاعدگی سے اہتمام کر سکے گا۔
شب بیداری اور سحر خیزی ہمیشہ صالحین کا شعار رہا ہے۔ علامہ اقبالؒ بطور تحدیثِ نعمت اپنی سحر خیزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازِ تہجد پڑھنے کی توفیق عطا فرما کر مستقل اس پر عمل پیرا فرما دے۔ آمین یارب العالمین۔
روزہ کی اہمیت اور فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
مفتی نصیر احمد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرۃ)۔
عزیزانِ محترم، رمضان المبارک کے مہینے کے اندر جو سب سے بڑی عبادت ہے، رمضان کے مہینے کے ساتھ جس کا بہت گہرا تعلق ہے، وہ ہے روزہ۔ یعنی ظاہر سی بات ہے رمضان کے اندر جتنی بھی عبادات ایک مسلمان ادا کرتا ہے ان بڑی بڑی عبادات میں سے جو ایک بہت بڑی عبادت ہے، وہ ہے روزہ۔ عزیزانِ محترم، قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ’’یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم‘‘ اے ایمان والو! تمہارے اوپر رمضان کے روزے فرض کیے گئے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ اسی طرح اس آیت سے اگلی آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ’’فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ‘‘ کہ تم میں سے جو بھی بندہ یہ رمضان کا مہینہ پا لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔
عزیزانِ محترم، ایک مشہور حدیث ہے، آپ حضرات نے سنی ہو گی کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اسلام کے جو ارکان ہیں، جن چیزوں پر اسلام کی بیس اور بنیاد ہے، وہ پانچ چیزیں ہیں۔ اس کے اندر سب سے پہلے کلمۂ توحید ہے، دوسرے نمبر پر نماز ہے، اور تیسرے نمبر پر زکوٰۃ ہے، اور چوتھے نمبر پر رمضان کے روزے، اور پانچویں نمبر پر حج بیت اللہ ہے۔ تو دیکھیں، یہ جو روزہ ہے، یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے، یعنی بیس ہے۔ اسلام کی جو بنیاد ہے، جو ڈھانچہ ہے، وہ اس پہ کھڑا ہے۔ رمضان کے روزے اس کا ایک رکن ہے۔ اور چونکہ قرآن مجید سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے باقاعدہ اسے فرض قرار دیا ہے۔ اور رمضان کی جو عبادات ہیں، جو رمضان کی برکتیں ہیں، اور رمضان کے مہینے کا جو ایک مسلمان کی زندگی کے ساتھ تعلق ہے، تو اس کے اندر سب سے بنیادی چیز روزہ ہے۔ باقی عبادتیں بھی ہیں لیکن سب سے بنیادی عبادت جو ہے وہ روزہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں روزہ رکھتا ہے۔ جو مکلف ہو، جو عاقل ہو، صحت مند ہو، جو روزہ رکھ سکتا ہے، تو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ وہ اس مہینے کا روزہ رکھے۔
عزیزانِ محترم، جہاں ایک طرف تو روزہ فرض ہے، لیکن دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں، اور احادیث کے اندر اگر ہم دیکھیں تو اس کی بہت بڑی فضیلتیں بھی ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے جہاں ایک روزہ فرض کیا گیا ہے وہاں پر اس روزے کے بدلے اس کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا ایک نقد فائدہ یہ ہے کہ ’’لعلکم تتقون‘‘۔ روزے کی وجہ سے انسان پرہیز گار بن جاتا ہے، وہ اپنے رب سے ڈرتا ہے، وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے، اس کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔
نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی احادیثِ مبارکہ اگر ہم دیکھیں تو روزہ دار کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات کا ذکر ہے۔ حدیثِ قدسی ہے، مسلم شریف کی حدیث ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابنِ آدم کا جو ہر نیک عمل ہے، کوئی بھی عمل انسان کرے، ابن آدم نماز پڑھے، زکوٰۃ دے، کوئی بھی نیک عمل کرے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا ثواب کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، دس گنا، بلکہ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ سوائے روزے کے۔ فرمایا، وہ صرف میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو روزہ ہے اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے ثواب کی لمٹ نہیں بتائی، فرمایا کہ اس کا ثواب اَن لمیٹڈ ہے، کوئی اس کی حد نہیں ہے، غیر محدود ثواب ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا بدلہ میں دوں گا۔ اب وہ کیا بدلہ ہے، وہ کس قسم کے انعامات ہیں، کس قسم کا روزہ دار کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا بدلہ رکھا ہے، تو اللہ فرماتے ہیں کہ وہ میں دوں گا۔ اور پھر اسی حدیث کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس بندے نے میری وجہ سے اپنی شہوت کو چھوڑ دیا، میری وجہ سے کھانے پینے کو چھوڑ دیا، فرمایا کہ اس کا بدلہ میں دوں گا۔
اسی طرح ایک اور حدیث ہے، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روزے دار کے لیے دو خوشخبریاں ہیں۔ فرمایا کہ ایک خوشخبری تو جب وہ افطار کرتا ہے اس وقت اس کو ایک روحانی خوشی ملتی ہے، سکون ملتا ہے، ظاہر ہے روزہ رکھنے والا اس خوشی کو محسوس کرتا ہے۔ فرمایا کہ دوسری خوشی، جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا، جب وہ اپنے رب کے پاس جائے گا اور اپنے رب سے ملے گا، تو فرمایا کہ اس وقت اس کو ایک خوشی محسوس ہو گی، اور اس وقت روزہ دار خوش ہو جائے گا جب اللہ اس کو انعامات دے گا اور اس کا جو بدلہ ہے وہ دے گا۔
اسی طرح مشہور حدیث ہے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’من صام رمضان ايمانا واحتسابا‘‘ جو بھی مسلمان رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں، اور فرمایا کہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے، یعنی یہ کسی ریاکاری کے لیے نہ رکھے، لوگوں کو دکھانے کے لیے نہ رکھے، بلکہ صرف اور صرف اس لیے رکھے کہ میرا اللہ خوش ہو جائے، اللہ کا حکم ہے، ثواب کی نیت سے، تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’غفر لہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ جتنے بھی اس نے گناہ کیے پچھلے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ صغیرہ گناہ ہیں۔ جو کبیرہ گناہ ہیں، ان کے لیے ظاہر سی بات ہے یہ ضروری ہے کہ انسان توبہ کرے۔
عزیزانِ محترم، اسی طرح نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک اور حدیث ہے، آپ اندازہ کیجیے کہ روزہ کتنی فضیلت والا عمل ہے، کتنا بابرکت عمل ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ روزے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے جو ایک بو جاتی ہے، معدے کے خالی ہونے کی وجہ سے، فرمایا کہ اس کے منہ سے جانے والی یہ بو — عام لوگ آپ دیکھتے ہیں اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ اگر کسی کے سامنے اس حالت میں آپ بیٹھیں — لیکن فرمایا کہ یہی بو اللہ تبارک و تعالیٰ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یعنی یہ اُس کو ایک پروٹوکول دیا جا رہا ہے، روزہ دار کو، کہ اس کا یہ جو عمل ہے، اللہ کے نزدیک یہ کتنا ثواب والا عمل اور کتنا پسندیدہ عمل ہے۔
اسی طرح روزہ دار کے لیے انعامات کا ذکر جہاں احادیث میں آتا ہے، اس میں ایک بہت بڑا اس کے لیے جو ایک انعام ہے وہ یہ ہے کہ جنت کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دروازے بنائے، تو ان میں سے ایک دروازہ خاص روزے داروں کے لیے ہے، جس کا نام بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’ریان‘‘ رکھا ہے۔ ریان اس دروازے کا نام ہے، اور قیامت کے دن صرف روزہ داروں کو پکارا جائے گا کہ جو روزہ دار ہے وہ آ جائے اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ روزہ دار کے علاوہ کوئی بھی بندہ اس دروازے سے نہیں داخل ہو سکے گا۔ اور جتنے بھی روزے دار ہیں جب وہ اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے، تو فرمایا کہ پھر یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، اور کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔
عزیزانِ محترم، آپ اندازہ کیجیے کہ یہ جو رمضان کے ماہِ مبارک کے اندر ایک عمل ہے، روزہ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کو کتنا بابرکت بنایا، اور اس کے بدلے کس قدر ثواب کا وعدہ فرمایا روزہ دار کے لیے کہ انسان کا جو تصور ہے وہ اسے اپنے دائرے میں نہیں لا سکتا۔
لہٰذا بحیثیتِ مسلمان، ہر مسلمان جو مکلف ہو، مکلف کا مطلب یہ ہے کہ عاقل ہو، بالغ ہو، صحت مند ہو، روزہ رکھ سکتا ہو، اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس موقعے کو اپنے لیے اللہ کی طرف سے ایک انعام سمجھ لے، اور اگر اللہ نے اس کو یہ موقع زندگی میں عطا کیا ہے اور اس کی زندگی میں رمضان آ رہا ہے، صحت اور عافیت کے ساتھ، تو وہ اس کو اپنے لیے ایک موقع سمجھے، اپنے لیے غنیمت سمجھ کے اس ماہِ مبارک کے روزے رکھے۔ اور روزہ رکھتے وقت اس کی نیت خالص اور خالص ثواب کی ہونی چاہیے، ریاکاری وغیرہ کی نیت نہیں ہونی چاہیے، تو ان شاء اللہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے امید ہے، جو بندہ اس نیت کے ساتھ یہ روزے رکھے گا، جتنے بھی انعامات ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ ان انعامات میں سے اسے ضرور حصہ عطا فرمائے گا، دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
https://www.facebook.com
زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور حساب کا طریقہ
مولانا محمد الیاس گھمن
اہمیت و فضیلت
اسلام کے بنیادی ارکان پانچ ہیں: زبان سے کلمہ پڑھنا ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ‘‘، نماز کی پابندی کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، استطاعت اور طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا۔ تو زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے تیسرا اہم ترین رکن ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں ہرگز غفلت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کا مطالبہ جو فرماتے ہیں، اللہ اکبر، مال دیا بھی اللہ نے ہے، فورًا نہیں مانگا، آپ کے پاس پورا سال پڑا ہوا ہے تو پھر مطالبہ کیا ہے۔ پھر سارا، آدھا، چوتھا حصہ نہیں مانگا۔ چالیسواں حصہ، سو میں سے اڑھائی روپے۔ پھر جو لیا ہے، اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اللہ کی رحمت، اللہ کا کرم، اللہ کا فضل تو دیکھیں۔
زکوٰۃ کو بوجھ نہ سمجھیں، بس زکوٰۃ ادا کرنی ہے، دل نہ مانے تب بھی کرنی ہے، شیطان ہزار بار بہکائے تب بھی کرنی ہے۔ ہاں، لیکن زکوٰۃ کے مسائل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کہیں زکوٰۃ کی ادائیگی میں غفلت ہو، یہ بھی جرم ہے، اور زکوٰۃ ادا کرتے وقت شریعت کے مطابق ادا نہ کی تو بھی نقصان اور خسارہ ہے۔
ایک بات تو یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ کس مال پر ہے، زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ سونا یا چاندی، نقدی پیسے، مالِ تجارت۔ یہ بنیاد ہے اِس دور میں جو عام طور پر لوگوں کے سامنے چیزیں پیش آ رہی ہیں۔ سونا ساڑھے سات تولہ ہونا چاہیے، جس کی مقدار 87.5 گرام ہے۔ چاندی ساڑھے باون تولہ، 612.36 گرام ہے۔ یا تو اتنا سونا یا چاندی ہو۔ یا ان میں سے کسی ایک کے برابر پیسے ہوں۔ یا ان میں سے کسی ایک کے برابر مالِ تجارت ہو۔ یا کچھ چاندی ہے، کچھ سونا ہے، کچھ پیسے ہیں، کچھ مالِ تجارت ہے۔ یا کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، کچھ نقدی مال ہے۔ یا کچھ نقدی مال ہے، کچھ مالِ تجارت ہے۔ یعنی سب کا تھوڑا تھوڑا ہے، تین کا تھوڑا تھوڑا ہے، دو کا تھوڑا تھوڑا ہے، یا صرف ایک ہے۔ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے پیسوں کے برابر ہو جائے تو یہ زکوٰۃ کا نصاب ہے۔
نمبر دو، اس مال پر پورا سال گزرے۔ پورا سال گزرے کا معنی؟ یعنی اتنا مال پورا سال آپ کی ملکیت میں رہے؟ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اگر ہمارے پاس دس لاکھ ہے، تو پورا دس لاکھ ہمارے پاس رہے۔ یہ معنی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے، جس دن اتنے پیسے آپ کے پاس آ گئے، جن کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے پیسوں کے برابر ہے، وہ تاریخ نوٹ کر لیں چاند کے حساب سے۔ محرم، صفر وغیرہ۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین فرما لیں، چاند کے حساب سے وہ تاریخ رکھ لیں۔ آئندہ سال پھر جو وہی تاریخ ہے، اس دن دیکھیں کہ آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں۔
مثلاً ایک بندے کے پاس دو رمضان کو آئے ہیں ایک لاکھ۔ اب آئندہ سال کا دو رمضان، اب دیکھے کہ اس کے پاس پیسے کتنے ہیں؟ تین لاکھ ہے، تو زکوٰۃ تین لاکھ پر ہو گی۔ اِس وقت پچاس ہزار ہے، زکوٰۃ پچاس ہزار پر ہو گی۔ درمیان میں کتنے زیادہ ہوئے، کتنے کم ہوئے، اِس کا اعتبار نہیں ہو گا۔
اپنی آسانی کے لیے کوئی ایک تاریخ متعین کر لیں۔ بسا اوقات بندے کو یاد نہیں ہوتا کس تاریخ کو میرے پاس اتنے پیسے آئے ہیں۔ تو چاند کے حساب سے کوئی ایک تاریخ ذہن میں رکھ لیں۔ عام طور پر لوگ رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ اس میں اجر زیادہ ملتا ہے۔ کوئی حرج نہیں، رمضان کی تاریخ متعین کر لیں۔ لیکن یہ بھی ذہن نشین فرما لیں، بسا اوقات ہم نے رمضان کی تاریخ رکھی ہے، اور کوئی ایمرجنسی مستحق ایسا آگیا ہے، جو رمضان سے پہلے ہے یا بعد میں ہے، تو اس کو ادا کریں۔ اِس کی انتظار نہ کریں کہ رمضان آئے گا تو اجر زیادہ ملے گا۔ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا، یہ رمضان کے اجر سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا ذرا خیال فرما لیں۔
بہرحال، (۱) نصاب پورا ہو۔ (۲) سال گزرے۔ (۳) جس پر زکوٰۃ فرض ہے، مسلمان ہو، کافر پر زکوٰۃ نہیں۔ (۴) عقل مند ہو، بے وقوف پر نہیں ہے۔ (۵) بالغ ہو، نابالغ کے مال پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ باقی میں نے بتا دیا کہ صاحبِ نصاب بھی ہو اور مال بھی ہو۔ تو یہ پانچ شرطیں موجود ہوں تو بندے پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔
سونا اور چاندی کے لیے ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں۔ سونا اور چاندی کسی بھی شکل میں ہو: ڈلی ہے، سکہ ہے، عورت کے استعمال کا زیور ہے، بیٹی کو نکاح کے لیے دینے کے لیے گھر میں رکھا ہوا ہے، ماں اپنی بیٹی کو زیور دے کر بھیجتی ہے، وہ ہے۔ کسی بھی شکل میں سونا اور چاندی موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ ہوتی ہے۔ یہ ذہن سے بالکل نکال دیں کہ زکوٰۃ تو اس پر نہیں ہے جو استعمال کا ہے۔ نا، استعمال کے سونے پر بھی ہے۔ جو عورت نے کنگن پہنے ہیں، عورت نے انگوٹھی پہنی ہے، عورت نے گلے میں کوئی ہار یا کچھ بھی چیز ڈالی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہماری ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کو بطور خاص یہ بات سمجھنا ضروری ہے، اگر اس میں سے زکوٰۃ ادا نہ کی، یہ جہنم کا ایندھن ہے۔ ہماری کئی بہنیں کہتی ہیں، میں کیسے ادا کروں، میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ تو زیور بیچ دو، مت رکھو اپنے پاس۔ جب آپ نے پہنا ہے تو زکوٰۃ دینی ہے۔ آخرت کا معاملہ سخت ہے، دنیا کا معاملہ بہت نرم ہے۔ زیور نہ پہنا تو کیا ہو گا؟ سونا نہ پہنا تو کیا ہو گا؟ کچھ نکال دیا تو کیا ہو گا؟ بہرحال زیور پہننے کا شوق پورا کرنا ہے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ میں تو ایک بات ویسے اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو سمجھانے کے لیے کہتا ہوں، دیکھیں، دنیا میں لوگ حرام شوق پورے کریں تو پیسے لگتے ہیں، حلال شوق پورے کریں تب بھی پیسے لگتے ہیں، تو جب تم نے زیور کا شوق پورا کرنا ہے تو اس پر خرچ کرنے میں کیا حرج ہے؟ کوئی حرج نہیں ہے، اپنا شوق بھی پورا کرو، جو حق ہے شریعت کا اس کو ادا بھی کرو۔ بہرحال زکوٰۃ کی ادائیگی کا بہت زیادہ اہتمام فرمائیں۔
https://youtu.be/cMsy1llTLXI
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟
زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہے:
1. مسلمان ہو
جو مسلمان ہو۔ کافر پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ مسلمان پر فرض ہے، اس لیے کہ اس نے کلمہ پڑھ کے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ میں تمام احکامِ شریعت پر عمل کروں گا۔
2. بالغ ہو
یہ شخص بالغ ہو۔ نابالغ احکام کا مکلف نہیں ہے۔
3. عاقل ہو
یہ شخص عاقل ہو۔ یعنی اس کے اندر عقل ہو، بے وقوف نہ ہو، پاگل نہ ہو۔ بے وقوف اور پاگل پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
4. صاحبِ نصاب ہو
یہ شخص صاحبِ نصاب ہو۔ نصاب سے مراد کیا ہے؟ نصاب کہتے ہیں:
- ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام چاندی ہو،
- یا ساڑھے سات تولہ یعنی 87.5 گرام اِس کے پاس سونا ہو۔
- یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر اس کے پاس پیسے ہوں۔
- اور اگر کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو تو دیکھا جائے گا کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہے تو پھر بھی اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ہیں، کچھ چاندی ہے، قیمت ملائی جائے۔
- کچھ پیسے نقد ہیں، کچھ سونا ہے، تب بھی ملایا جائے۔
- کچھ پیسے ہیں، کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، تینوں کو ملایا جائے۔
تو دیکھا جائے کہ ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی 612.36 گرام کے برابر اگر اس کے پاس پیسے موجود ہیں تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
5. پورا سال گزرے
پھر اس کے اوپر سال بھی گزرے۔ یعنی زکوٰۃ فرض تب ہو گی جب یہ پیسے پورا سال اس کے پاس رہیں۔ یہ نہیں کہ اتنے پیسے آئے تو زکوٰۃ فوراً فرض ہو گئی۔ نہیں، سال گزرے۔ جس دن اتنے پیسوں کا مالک ہوا، آئندہ سال اِسی روز، قمری مہینوں کے حساب سے، اسی تاریخ کو اس کے اوپر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہو گی۔
بسا اوقات بندے کو یاد نہیں رہتا کس تاریخ کو میرے پاس اتنے پیسے آئے، تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ قمری یعنی چاند کے حساب سے محرم، صفر، ربیع الاول، یہ جو مہینے ہیں، اس حساب سے کوئی ایک تاریخ متعین کر لے کہ اس تاریخ کو میں زکوٰۃ ادا کیا کروں گا۔ آئندہ سال جب وہ تاریخ آ جائے تو زکوٰۃ اس دن جتنے پیسے اس کی مِلک میں موجود ہیں، اس کے اوپر زکوٰۃ فرض ہو گی، زکوٰۃ ادا کرے گا۔ درمیان میں اگر کچھ پیسے کم ہو جائیں، یا زیادہ ہو جائیں، اس کا اعتبار نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سال کے درمیان اگر نصاب سے بھی کچھ کم ہو جائیں، اور جو تاریخ اس نے متعین کی ہے یہ تاریخ، اور آئندہ سال اس تاریخ کو پیسے مکمل ہیں، تو زکوٰۃ ادا کرنی اس کے ذمے فرض ہے۔
تو یہ نصاب ہے ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی 612.36 گرام، یا ساڑھے سات تولہ سونا یعنی 87.5 گرام، یا اس کے برابر پیسے۔ جس کے پاس اتنی مقدار پیسوں کی موجود ہو، اس شخص کو صاحبِ نصاب کہتے ہیں۔ جب زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہو گی: (۱) مسلمان ہو، (۲) بالغ ہو، (۳) عاقل ہو، (۴) صاحبِ نصاب ہو، (۵) اس کے پیسے پر سال گزرا ہو۔
6. قابلِ زکوٰۃ مال ہو
اور یہ مال: سونا، چاندی، یا نقدی ہوں۔ یا یہ مال سامانِ تجارت ہو۔ اگر تجارت کا سامان نہیں ہے، ذاتی مکان ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ ذاتی گاڑی ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ باقی چیزوں کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آجائے گی۔ تو یہ بنیادی چیزیں ہیں جس کو سمجھنا ضروری ہے، اگر یہ شرائط پائی جائیں تو زکوٰۃ فرض ہو گی، اور اگر ان میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی گئی تو زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔
https://youtu.be/Y37LOLvZx7Q
زکوٰۃ کے مستحقین کون ہیں؟
تیسری بات یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ کا مصرف کون ہیں، مستحقِ زکوٰۃ کون ہیں؟ زکوٰۃ کس کو آپ نے ادا کرنی ہے؟ یہ جو مستحقینِ زکوٰۃ اور مصارفِ زکوٰۃ ہیں، قرآن کریم میں آٹھ بیان کیے گئے ہیں:
1. فقیر
اس سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
2. مسکین
یہ وہ شخص ہے کہ جس کے پاس کچھ ہو لیکن ضرورت سے کم ہو۔
3. عامل، عاملین
عامل سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کو اسلامی حکومت نے زکوٰۃ وصول کرنے پر متعین اور مقرر کیا ہو۔
4. مؤلفۃ القلوب
نو مسلم، جن کی دلجوئی کی خاطر زکوٰۃ کا مال دیا جاتا ہو۔ یہ مصرف اب ختم ہو چکا ہے۔ اِس لیے یہ اُس وقت کی بات ہے جب اسلام کا ابتدائی زمانہ ہے، ابھی اسلام دنیا پہ غالب نہیں ہوا، لوگ اسلام میں آ رہے ہیں، اُن کی دلجوئی کی خاطر حکم تھا۔ اب مؤلفۃ القلوب والا حکم نہیں، یعنی کسی نومسلم کو، جو صاحبِ استطاعت ہو، صاحبِ حیثیت ہو، صاحبِ نصاب ہو، اس کی دلجوئی اور تالیفِ قلب کے لیے اب زکوٰۃ دینا چاہیں تو زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتے۔
5. غارمین
غارمین سے مراد وہ مقروض کہ جس کے سارے اثاثہ جات جمع کیے جائیں تو اس کا قرض ادا نہ ہو۔ یا ان کے اثاثہ جات جمع کر کے قرض ادا کر دیا جائے تو باقی اتنا مال بچے کہ جو نصاب کے برابر نہ ہو، نصاب سے کم ہو۔
6. فک رقبۃ
جسے قرآن کہتا ہے فی الرقاب۔ یعنی غلام کو آزاد کرانے کے لیے اس کی مالی مدد زکوٰۃ سے کرنا، تاکہ وہ پیسے دے کر آزاد ہو جائے۔
7. فی سبیل اللہ
وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہو۔ فی سبیل اللہ کا بہترین اور اول اور پہلا مصداق تو مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ لیکن وہ لوگ جو دین حاصل کرنے کے لیے اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں، دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں، کوئی دینی خدمات سرانجام دینے کے لیے نکلتے ہیں، ان کو بھی فی سبیل اللہ کی بنیاد پر زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
8. وابن السبیل
مسافر، یعنی ایسا شخص کہ جس کے پاس اپنے گھر، اپنے وطن میں اتنے پیسے موجود ہیں کہ جو نصاب کے برابر ہیں۔ یعنی اپنے وطن میں صاحبِ نصاب ہے، لیکن دورانِ سفر اس کے پاس اب پیسے نہیں، نصاب سے کم پیسے ہیں، اور اس کو ضرورت ہے۔ تو ایسے شخص کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں کہ اپنے سفر میں ضرورت پوری کرے۔
یہ مصارفِ زکوٰۃ سمجھنا بہت اہم ہے۔ ہم بسا اوقات زکوٰۃ ایسے شخص کو دیتے ہیں جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوتا، تو ہماری زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ مثلاً کسی عورت کے پاس ایک انگوٹھی موجود ہے جو فروخت کی جائے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر اس کے پیسے بن جاتے ہیں، تو اُس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اگر کسی شخص کے گھر میں اتنا قیمتی ٹی وی، یا کوئی اور ایسی خرافات والی چیز موجود ہے، جس کی مالیت دیگر پیسے ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر بن جائے، اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ کسی عورت نے یا کسی آدمی نے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا ہے، اس کو رخصت کرنے کے لیے اس نے اتنا مال جمع کیا ہوا ہے کہ جس کی مجموعی مقدار ساڑھے باون تولہ چاندی پیسوں کے برابر ہے، آپ اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اس لیے اس کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے کہ زکوٰۃ ہم نے کس کو دینی ہے۔ زکوٰۃ کا مصرف ہو، زکوٰۃ کا مستحق ہو، وگرنہ زکوٰۃ ادا کی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ تو مصارفِ زکوٰۃ ذہن نشین فرما لیں۔
https://youtu.be/IabOYXUfUPQ
زیورات پر زکوٰۃ
چوتھی بات یہ سمجھیں کہ زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح مالِ تجارت پر ضروری ہے، زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح سونا اور چاندی مرد کے پاس ہو اُس پر ضروری ہے، خاتون کے پاس ہو اُس پر ضروری ہے، اسی طرح اگر کسی خاتون کے پاس زیور ہو اور وہ: ساڑھے باون تولہ چاندی ہو۔ یا ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ یا کچھ سونا ہے اور کچھ چاندی کے زیور ہیں، دونوں کی قیمت کو ملائیں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ یا کسی کے پاس سونا ہے اور کچھ پیسے ہیں، اب سونے کو بیچیں، وہ پیسے، اور جو پیسے موجود ہیں، ان دونوں کو جمع کریں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔
مجھے بتائیں ایسی کون سی خاتون دنیا میں ہو گی کہ جس کے پاس صرف زیور ہو، باقی ایک روپیہ بھی نہ ہو، ایک درہم نہ ہو، ایک دینار نہ ہو، ایک ڈالر نہ ہو، ایک پاؤنڈ نہ ہو، کوئی اس کے پاس اور کرنسی میں پیسے موجود نہ ہوں۔ کوئی ایسی عورت نہیں ملے گی۔ اس لیے خواتین اس مسئلے کو بطور خاص سمجھیں کہ زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ کا واسطہ دے کر میں عرض کرتا ہوں، اس مسئلے کو سمجھیں۔ زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں تو زیور رکھیں، زکوٰۃ نہیں ادا کر سکتیں تو زیور فروخت کر دیں، اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں، کسی کام میں استعمال کے اندر لے آئیں، جہنم کا ایندھن نہ بنے۔
میں اس پر ایک حدیث پیش کرتا ہوں، دلائل تو اور بھی ہیں۔ میں ان مجالس میں مسائل کی وضاحت کر رہا ہوں، تفصیلی دلائل پیش نہیں کر رہا۔ سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ، یہ روایت موجود ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، ایک صحابیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، ’’ومعہا ابنۃ لہا‘‘۔ اور وہ بیٹی ’’وفی ید ابنتہا مسکتان غلیظتان من ذہب‘‘ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ’’اتعطین زکوٰۃ ہذا؟‘‘ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے کہا ’’لا‘‘، اللہ کے رسول! میں تو ادا نہیں کرتی۔ فرمایا، ’’ایسرک ان یسورک اللہ بہما یوم القیامۃ سوارین من نار؟‘‘ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ان دو کنگنوں کے بدلے میں اس بیٹی کو جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنا دیے جائیں۔ اس عورت نے فورًا ان کو نکالا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ’’فخلعتہما الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ اور کہا، اللہ کے رسول! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے، قبول فرما لیجیے۔
تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنبیہ فرمائیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیور پر زکوٰۃ کی بات فرمائیں، ہم کون ہوتے ہیں گنجائش دینے والے؟ ہم کون ہوتے ہیں اپنی طرف سے گنجائش پیدا کرنے والے؟
ہاں، یہ بات بھی ذہن نشین فرما لیں، مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ چاندی کی زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ماشہ تک اجازت ہے، مستحب یا بہتر یہ بھی نہیں۔ اگر مرد کے پاس بھی سونے کی انگوٹھی یا کوئی اور سونے کا زیور موجود ہو۔ بعض مردوں کو بھی شوق ہوتا ہے، وہ کنگن پہنتے ہیں۔ بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے، انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ اس مرد پر بھی اس زیور پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ عورت تو پہنتی ہے، اس کو اچھا لگتا ہے، زیب و زینت اس کی شان کے لائق ہے، لیکن مرد اگر زیور پہننے کا جرم کرتا ہو، یہ ذہن نشین فرما لیں کہ اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ تو میں جو بات سمجھانا چاہ رہا تھا وہ یہ کہ زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، اس میں کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
https://youtu.be/o6NEIvxnd-U
پراپرٹی پر زکوٰۃ
پانچویں بات پراپرٹی کے متعلق ذرا سمجھ لیں کہ کس پراپرٹی پر زکوٰۃ دینی ہے، کس پراپرٹی پر زکوٰۃ نہیں دینی، کس پر زکوٰۃ فرض ہے، کس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
اگر کسی شخص نے زمین خریدی زراعت کے لیے، اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کسی شخص نے زمین خریدی اپنا مکان بنانے کے لیے، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے مکان خریدا رہنے کے لیے، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے مکان خریدا کہ اس مکان کو میں آگے کرائے پر دوں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے دکان خریدی کہ میں اس دکان میں سامان رکھ کر خود تجارت کروں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ کسی شخص نے دکان خریدی اس نیت سے کہ میں اس دکان کو کرائے پر دوں گا، اس پر بھی زکوٰۃ نہیں۔
زکوٰۃ اس وقت آئے گی جب آدمی زمین خریدے بیچنے کی نیت سے اور پھر وہ نیت برقرار بھی رہے۔ مکان خریدے بیچنے کی نیت سے اور وہ نیت برقرار بھی رہے۔ دکان خریدی ہو بیچنے کی نیت سے، پھر وہ نیت برقرار بھی رہے۔ کیا مطلب؟ اگر زمین خریدی ہے بیچنے کی نیت سے، بعد میں نیت تبدیل ہو گئی اور یہ نیت کر لی کہ زمین پر ہم اپنا باغ لگائیں گے، زراعت کریں گے، ذاتی استعمال میں رکھیں گے۔ مکان خریدا تھا فروخت کرنے کے لیے، نیت بدل گئی کہ میں اس میں اپنے بیٹے کو رکھوں گا، اپنی بیٹی کو دوں گا، یا میں اس کو اپنے استعمال میں رکھوں گا، اب بھی زکوٰۃ نہیں ہو گی۔ اگر دکان خریدی ہے بیچنے کے لیے، نیت تبدیل ہو گئی کہ میں اس کو فروخت نہیں کروں گا، اس کو کرائے پر دوں گا، میں فروخت نہیں کروں گا بلکہ اس دکان پر سامان رکھ کر خود تجارت کروں گا، اب بھی اس کے پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔
ہاں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں، اگر کسی شخص نے زمین خریدی، وہ زمین کرائے پہ دی۔ یعنی ایک شخص زمین لیتا ہے، کسی کو کرائے پہ دیتا ہے، وہ بندہ اس زمین میں کارخانہ لگا دیتا ہے اور زمین کا اِس کو کرایہ دیتا ہے۔ اسی طرح کسی شخص نے دکان خریدی اور دکان کرائے پہ دی، یا دکان بنائی اور کرائے پہ دے دی، مکان بنایا اور کرائے پر دے دیا۔ زمین کرائے پہ دی، مکان کرائے پہ دیا، دکان کرائے پہ دی، کسی کے پاس اپنی ذاتی بس ہے وہ کسی کو کرائے پہ دی، اپنی ذاتی کار ہے وہ کرائے پہ دی۔ یہ [پراپرٹی] مالِ تجارت نہیں، اس پر زکوٰۃ نہیں۔
ہاں، اس کا جو ماہانہ کرایہ وصول ہو گا، یا جو سالانہ کرایہ وصول ہو گا، یا جو بھی ترتیب ہو کرائے کی، تو وہ کرایہ اس کے پاس پیسہ ہو گا۔ وہ جو تاریخ اس نے اپنی متعین کی ہے زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے، اس وقت اگر یہ پیسہ موجود ہو گا تو دوسرے سرمایہ کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اور مجموعہ جو سرمایہ کا ہو گا اس پر زکوٰۃ آجائے گی۔ اور اگر پہلے خرچ ہو گیا اور سال کے آخر تک نہ بچا، تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
تو خلاصہ کیا ہے، کوئی اپنی رہائش کے لیے، استعمال کے لیے جائیداد خریدے، زکوٰۃ نہیں ہے۔ اگر جائیداد خریدے اور کرائے پر دے تو اس جائیداد پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ [البتہ] وہ کرایہ ایسے ہے جیسے اور پیسے آپ کے پاس ہیں، یہ بھی آپ کے پاس پیسہ ہے۔ اس پیسے کا حساب کریں اور باقی نصاب کے ساتھ جمع کر لیں۔ تو اس بات کو ذہن نشین فرما لیں، آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کس پراپرٹی پر زکوٰۃ فرض ہے اور کس پراپرٹی پر زکوٰۃ فرض نہیں، تو اس مسئلے کو اچھی طرح ذہن نشین فرما لیں۔
https://youtu.be/YwTnc6kjk4Q
زکوٰۃ کے حساب کا آسان طریقہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
زکوٰۃ کا نہایت آسان طریقے سے حساب کرنے کا طریقہ، یعنی ایک ایسا آسان سا طریقہ کہ جس سے آپ گھر بیٹھے زکوٰۃ کا حساب کر سکیں، بار بار آپ کو پوچھنا نہ پڑے، دائیں بائیں رابطہ نہ کرنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے ایک فارم تیار کیا ہے جس کا نام ہے ’’زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مددگار فارم‘‘۔ اس فارم میں بنیادی طور پر آپ دو چیزیں سمجھ لیں:
- قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔ یعنی وہ اموال، وہ پراپرٹی اور وہ چیزیں جن سے آپ نے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔
- مالیاتی ذمہ داریاں۔ یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال میں سے کم کرنی ہیں، اور پھر بقیہ اموال سے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔
نمبر ۱: قابلِ زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات
- سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر اِن کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کر لیں۔
- گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔
- بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔
- غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔
- پرائز بانڈ۔
- مستقبل کے کسی منصوبے، حج، بچوں کی شادی وغیرہ کے لیے جمع شدہ رقم۔
- تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔
- جو قرض دوسروں سے (واپس) لینا ہے۔
- کمیٹی یعنی BC کی جو رقم جمع کرا چکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔
- کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی نہ ملی ہو، ابھی تک موصول نہیں ہوئی، لیکن ایڈوانس میں مثلاً کار کے پیسے آپ نے دے دیے، لیکن کار ابھی تک آپ کو ملی نہیں ہے۔
- سرمایہ کاری، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔
- شیئرز، سیونگ سرٹیفکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ، یا کسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔
- مالِ تجارت، یعنی دوکان، گودام، یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت موجود ہے اس کی موجودہ قیمت۔
- خام مال جو فیکٹری، دوکان یا گودام میں موجود ہے، اس کی موجودہ قیمت۔
- فروخت شدہ مال کے بدلے میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت، اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔
- فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دوکان کی موجودہ قیمت۔ یعنی فروخت کی نیت سے پلاٹ خریدا ہو، یا گھر خریدا ہو، یا دوکان خریدی ہو، ان کی موجودہ مالیت۔
یہ جو تمام سولہ اشیاء ہم نے ذکر کی ہیں، آپ ان سولہ اشیاء کی کل مالیت کا حساب کر کے ٹوٹل کر لیں۔ اور اس کو A کا نام دے دیں۔
نمبر ۲: مالیاتی ذمہ داریاں
یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہیں، ذرا وہ بھی دیکھ لیں۔
- قرض جو ادا کرنا ہے، یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔
- ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی جو رقم ادا کرنی ہے۔
- بیوی کا حق مہر جو ابھی تک ادا نہیں کیا، اور ادا کرنا ہے۔
- پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی یعنی BC کی جو بقیہ قسطیں ادا کرنی ہیں۔
- آپ کے ملازمین کی تنخواہیں، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہیں۔
- ٹیکس، دوکان، مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔ اس تاریخ تک جو ادا کرنے ہوں، اس تاریخ کے بعد نہیں۔
- گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔
اب ان تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اس کو بھی ٹوٹل کریں اور اسے B کا نام دے دیں۔
زکوٰۃ کے حساب کا طریقہ
اب یہ بات سمجھیں، آپ کے سامنے دو چیزیں آ گئیں۔
- وہ تمام اموال اور اثاثہ جات جو قابلِ زکوٰۃ ہیں۔
- وہ مالیاتی ذمہ داریاں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں۔
تو پہلی تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگائیں، اسے A کا نام دیں۔ اور دوسری تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اسے B کا نام دیں۔ اب A میں سے B کو تفریق کر دیں۔ جو جواب آئے، اس کو پھر 40 پر تقسیم کریں۔ اب جو جواب آئے، وہ آپ کے ذمے واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔
مثال کے طور پہ
- A کی مقدار 20 لاکھ ہے۔ یعنی جو اثاثے آپ کے پاس موجود ہیں، سونا ہے، چاندی ہے، کچھ اور تجارت کا چھوٹا موٹا سامان ہے، کچھ نقدی مال بھی ہے۔
- اور B کی مقدار 2 لاکھ ہے۔ مثلاً 25 ہزار بیوی کا حق مہر دینا ہے۔ آپ نے 5 ہزار ٹیکس دینا ہے اِس تاریخ تک۔ 10 ہزار مکان کا کرایہ دینا ہے۔ اور ایسی چیزیں مثال کے طور پہ میں عرض کر رہا ہوں، اس کی مقدار 2 لاکھ ہے۔
20 لاکھ میں سے 2 لاکھ کو منفی کریں، مائنس کریں، تو جواب آئے گا 18 لاکھ۔ اس 18 لاکھ کو 40 پر تقسیم کریں، تو جواب آئے گا 45 ہزار۔ اب 45 ہزار روپے آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی کل رقم واجب الادا ہے۔ یہ پینتالیس ہزار اکٹھی بھی دے سکتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دے سکتے ہیں۔
تو یہ زکوٰۃ کا حساب لگانے کا بہت آسان طریقہ ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ باقی یہ بات پھر ذہن نشین فرما لیں، خواتین کے ذاتی استعمال کے زیور پر زکوٰۃ ہے۔ اور استعمال کی گاڑیاں، گھر، دیگر سامان، اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اہتمام کے ساتھ زکوٰۃ کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اپنی بارگاہِ عالی میں اس کو قبول بھی فرمائے۔
https://youtu.be/_zfPe-exeTI
حرمین شریفین میں وِتر کی نماز امام کی اقتداء میں پڑھنے کا حکم
مفتی سید انور شاہ
حرمین شریفین میں وتر کی نماز ائمہ حرمین کی اقتداء میں پڑھنے کا مسئلہ معرکۃ الآراء مسائل میں سے ہے، کیونکہ احناف کے یہاں تین وتر ایک سلام کے ساتھ ہے، جبکہ اِس وقت ائمہ حرمین شریفین حنبلی مذہب کے موافق دو سلاموں کے ساتھ تین وتر پڑھاتے ہیں۔ اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام (یعنی شافعی، حنبلی اور مالکی) کی اقتداء میں وتر پڑھنے سے ہے۔
مخالف فی الفروع امام کی اقتداء کے متعلق دو اقوال
اس سلسلے میں فقہائے احناف کے بنیادی طور پر دو قول مشہور ہیں:
پہلا قول: اقتداء کی مشروط اجازت
پہلا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں حنفی کا وتر پڑھنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ امام دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرے۔ فقہائے احناف میں سے بہت سے حضرات نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے، ماضی قریب کے بعض سلف صالحین نے اسی قول کے مطابق فتویٰ بھی دیا ہے۔
چنانچہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحبؒ نے امداد الاحکام میں اسی قول کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، جلد ۱، ص ۵۹)
مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ نے بھی فتاویٰ رحیمیہ میں اسی کے موافق فتویٰ دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: صحیح قول یہ ہے کہ اگر شافعی امام وتر دو سلام سے ادا کرے تو حنفی مقتدی اس کی اقتداء نہ کرے، اسی میں احتیاط ہے۔ (۶، ۴۱۵)
جامعہ دار العلوم کراچی سے بھی حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے زمانے میں انہی کی تصدیق سے اس قول کے مطابق فتویٰ جاری ہوا۔
دوسرا قول: اقتداء کی مطلقاً اجازت
دوسرا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں وتر کی نماز پڑھنا مطلقاً جائز ہے اگرچہ امام دو رکعت پر سلام پھیر دے۔ یہ قول علامہ ابوبکر جصاص رازیؒ کا ہے۔ فقہائے حنفیہ میں ابوبکر جصاص رازیؒ بڑے پایہ کے فقیہ ہیں، امام کرخی کے شاگرد ہیں اور دو واسطوں سے امام محمؒد کے تلامذہ میں سے ہیں۔ اسی قول کو علامہ ابن الہمامؒ کے استاد علامہ سراج الدینؒ نے بھی اختیار فرمایا ہے اور خود علامہ محقق ابن الہمامؒ بھی اس قول کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ نیز علمائے احناف کی ایک معتد بہ جماعت کی رائے بھی یہی ہے۔ مثلاً فقیہ ابوجعفر الہند وانیؒ اور علامہ ابن دہبانؒ کی یہی رائے ہے۔
علامہ عبد الحی لکھنویؒ نے اس قول پر فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا: محققین نے مخالف فی الفروع امام کی اقتداء میں حنفی کی نماز مطلقاً جائز ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ (مجموعۃ الفتاویٰ، ۱، ۳۲۸، کتاب الصلوٰۃ، ط: ایم ایچ سعید)
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی صاحبؒ نے بھی مخالف فی الفروع امام کی اقتداء کو مطلقاً جائز قرار دیا ہے اور فرمایا کہ: محققین کے نزدیک حنفی کا شافعی المذہب کی اقتداء یا شافعی کا حنفی امام کی اقتداء جائز ہے۔ (عزیز الفتاویٰ، ۱ ،۲۳۹، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ۳، ۱۴۳)
مندرجہ ذیل وجوہات اور دلائل کی بنیاد پر اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں پیچھے عرض کر چکا ہوں کہ اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام کی اقتداء سے ہے۔
امام کے مذہب کا لحاظ یا مقتدی کے؟
اب اس سلسلے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ مقتدی کے مذہب کی رعایت کا خیال رکھنا ضروری ہے یا امام کے مذہب کی رعایت کا اعتبار ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک صحتِ نماز کے لئے مقتدی کے مذہب کا اعتبار کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا مخالف فی الفروع کی صورت میں
- اگر نماز میں امام صاحب کسی ایسے عمل کا ارتکاب کریں جو مقتدی کے مذہب کے مطابق مفسدِ صلوٰۃ ہو، تو ایسے امام کے پیچھے اس مقتدی کی نماز اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
- تاہم بعض محقق علماء کے نزدیک مقتدی کے بجائے امام کے مسلک کا اعتبار ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اگر امام کی نماز اس کے مسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی امام کے تابع ہو کر درست ہو جائے گی۔ فقیہ ابوجعفر الہندوانیؒ، محقق العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت شیخ الہندؒ وغیرہ حضرات اسی کے قائل ہیں کہ اگر امام کے اپنے مذہب کے مطابق اس کی نماز صحیح ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔
چنانچہ علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
قلت: وہذا بناء علی ان العبرۃ لرای المقتدی وہو الاصح، وقیل لرای الامام وعلیہ جماعۃ۔ (کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، قبیل مطلب: الاقتداء بشافعی، ص: ۲۶۱، ج: ۲، ط: رشیدیہ)
[میں کہتا ہوں: اس (پچھلے مسئلے) کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اعتبار مقتدی کی رائے کا ہوگا اور یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے، جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ اعتبار امام کی رائے کا ہوگا اور فقہاء کی ایک جماعت اسی طرف گئی ہے۔]
اس مسئلے کی مکمل تفصیل علامہ شامیؒ نے باب الوتر والنوافل میں بیان فرمائی ہے۔ بقدر ضرورت اختصار کے ساتھ علامہ شامیؒ کی عبارت نقل کی جاتی ہے:
ثم قال: ظاہر الہدایۃ ان الاعتبار لاعتقاد المقتدی ولا اعتبار لاعتقاد الامام، حتی لو اقتدی بشافعی رآہ مس امراۃ ولم یتوضا فالاکثر علی الجواز وہو الاصح کما فی الفتح وغیرہ، وقال الہندوانی وجماعۃ: لا یجوز … ومقتضاہ ان المعتبر رای الامام فقط۔ (کتاب الصلوٰۃ، باب الوتر والنوافل، قبیل مطلب: الاقتداء بشافعی، ص: ۲۶۱، ج: ۲، ط: رشیدیہ)
[پھر انہوں نے کہا: کتاب "الہدایہ" کا ظاہری موقف یہ ہے کہ اعتبار مقتدی کے عقیدے (اور مسلک) کا ہوگا، امام کے عقیدے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسے شافعی امام کے پیچھے نماز پڑھی جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ اس نے عورت کو چھوا ہے اور وضو نہیں کیا، تو اکثر علماء کے نزدیک یہ اقتدا جائز ہے اور یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے جیسا کہ "فتح القدیر" وغیرہ میں مذکور ہے۔ جبکہ امام ہندوانی اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے، اور ان کے قول کا تقاضا یہ ہے کہ صرف امام کی رائے کا اعتبار کیا جائے۔]
علامہ ابن الہمامؒ کے مطابق:
وفی فتح القدیر: قلنا المقتدی یری جوازہا والمعتبر فی حقہ رای نفسہ لا وغیرہ، وقول ابی بکر الرازی ان اقتداء الحنفی بمن یسلم علی راس الرکعتین فی الوتر یجوز ویصلی معہ بقیتہ لان امامہ لم یخرجہ بسلامہ عندہ لانہ مجتہد فیہ، کما لو اقتدی بامام قد رعف یقتضی صحۃ الاقتداء وان علم منہ ما یزعم بہ فساد صلاتہ بعد کون الفصل مجتہدا فیہ۔ وقیل اذا سلم الامام علی راس الرکعتین قام المقتدی فاتم منفردا، وکان شیخنا سراج الدین یعتقد قول الرازی، وانکر مرۃ ان یکون فساد الصلاۃ بذلک مرویا عن المتقدمین حتی ذکرتہ بمسالۃ الجامع فی الذین تحروا فی اللیلۃ المظلمۃ وصلی کل الی جہۃ مقتدین باحدہم، فان جواب المسالۃ ان من علم منہم بحال امامہ فسدت لاعتقاد امامہ علی الخطا وما ذکر فی الارشاد لا یجوز الاقتداء فی الوتر باجماع اصحابنا لانہ اقتداء المفترض بالمتنفل (باب صلوٰۃ الوتر، ج: ۱، ص: ۴۳۷)۔ وکذا فی حاشیۃ ابن عابدین، باب الوتر والنوافل، ج: ۲، ص: ۸)۔
[فتح القدیر میں ہے کہ: ہم کہتے ہیں کہ مقتدی (اس صورت کو) جائز سمجھتا ہے، اور مقتدی کے حق میں خود اس کی اپنی رائے کا اعتبار ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کی رائے کا۔ امام ابوبکر رازی کا قول ہے کہ: اگر کوئی حنفی ایسے امام کے پیچھے وتر پڑھے جو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیتا ہو، تو یہ جائز ہے؛ وہ مقتدی امام کے ساتھ باقی نماز بھی پڑھے کیونکہ مقتدی کے نزدیک امام کا یہ سلام اسے نماز سے نکالنے والا نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ (یہ بالکل ایسا ہی ہے) جیسے کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جس کی نکسیر پھوٹ گئی ہو، یہ اقتدا کے صحیح ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اگرچہ مقتدی کو امام کی ایسی حالت کا علم ہو جسے وہ نماز فاسد کرنے والی سمجھتا ہو، بشرطیکہ وہ اختلاف اجتہاد والا مسئلہ ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ: جب امام دو رکعتوں پر سلام پھیر دے تو مقتدی کھڑا ہو کر اپنی بقیہ نماز اکیلے پوری کرے۔ ہمارے استاد سراج الدین امام رازی کے قول کے قائل تھے، انہوں نے ایک دفعہ اس بات کا انکار کیا کہ اس صورت میں نماز کا فاسد ہونا متقدمین (پرانے فقہاء) سے مروی ہے۔ چنانچہ میں نے انہیں "الجامع" کا وہ مسئلہ یاد دلایا کہ جن لوگوں نے اندھیری رات میں قبلہ رخ کا اندازہ لگایا اور ہر ایک نے الگ سمت رخ کر کے ایک امام کی اقتدا کر لی، تو اس مسئلے کا جواب یہ ہے کہ جس مقتدی کو اپنے امام کے حال کا علم ہو گیا (کہ امام کی سمت غلط ہے) اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ اس کا یہ ماننا ہے کہ اس کا امام غلطی پر ہے۔ جبکہ "الارشاد" میں یہ ذکر ہے کہ: ہمارے (حنفی) اصحاب کے اتفاق کے مطابق وتر میں (ایسی) اقتدا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک فرض پڑھنے والے کی نفل پڑھنے والے کے پیچھے اقتدا کرنا ہے۔]
حضرت مولانا محقق علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس موقف کی تائید میں حضرات صحابہ کرامؓ کا معمول نقل فرمایا ہے:
قلت: ہذہ المسالۃ مجتہد فیہا، والاقتداء فی جنس ہذہ المسائل یجوز من واحد لآخر کما فی الرد المختار، عند تعدید الواجبات، فصرح فی ضمنہ: ان المتابعۃ تصح عندنا فی الاجتہادات کلہا، واوضحہ الشافعی رحمہ اللہ تعالی، ونقلہ الحافظ ابن تیمیۃ عن الائمۃ الاربعۃ۔ فان قلت: کیف الاقتداء مع قلت: فہذا باب عندنا وسیع، فیتبع الامام فی رفع الیدین والتامین ایضا لو اتفق الاقتداء بشافعی، وقد قدمنا الکلام فیہ مبسوطا، ویدل علیہ ان الخلیفۃ ہارون الرشید افتصد مرۃ فقام الی الصلوۃ ولم یتوضا، فاقتدی بہ ابویوسفؒ وما ذلک الا لکون الاقتداء جائزا۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب کما اقام النبیﷺ، ۲، ۵۳۲)
[میں (شاہ صاحب) کہتا ہوں: یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اور اس قسم کے تمام مسائل میں ایک مسلک والے کی دوسرے کے پیچھے اقتدا جائز ہے جیسا کہ "رد المحتار" (فتاویٰ شامی) میں واجبات کی فہرست کے بیان میں صراحت کی گئی ہے۔ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ: ہمارے نزدیک تمام اجتہادی مسائل میں (دوسرے امام کی) پیروی صحیح ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے چاروں ائمہ سے نقل کیا ہے۔ اگر تم یہ سوال کرو کہ (اختلافِ رائے کے باوجود) اقتدا کیسے درست ہے؟ تو میں کہوں گا: ہمارے ہاں یہ معاملہ بہت وسیع ہے، چنانچہ اگر کسی شافعی امام کے پیچھے اقتدا کی صورت پیش آ جائے تو مقتدی رفع یدین اور (اونچی) آمین کہنے میں بھی امام کی پیروی کرے گا۔ ہم اس پر تفصیلی کلام پہلے کر چکے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار پچھنے لگوائے (حجامہ کرایا) اور پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ان کے پیچھے اقتدا کی؛ اور یہ عمل اسی لیے تھا کیونکہ اقتدا جائز تھی۔]
فیض الباری میں ہی ایک اور مقام پر علامہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے اس مسئلے میں اجماع نقل کرتے ہوئے درمختار میں ذکر موقف پر رد بھی کیا گیا ہے:
واعلم ان ابن مسعود کان یصلی خلف عثمان اربعا، لصحۃ الاقتداء فی المسائل المجتہد فیہا، کما مر مبحثہ فی الطہارۃ۔ ونقل الحافظ ابن تیمیۃ الاجماع علی صحۃ اقتداء حنفی بشافعی، وکذلک کل صاحب مذہب بصاحب مذہب آخر، وصرح ان ہذا ہو مذہب الامام ابی حنیفۃ۔ ومع ذلک نجد فی «الدر المختار» خلافہ، فذہب الی انہ لا یصح۔ قلت: کیف مع ان الدین واحد، والنبی واحد، والقبلۃ واحدۃ، فبعید کل البعد ان لا یصح اقتداء حنفی بشافعی فی امر الصلاۃ التی ہی من اہم مہمات الدین۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب التلبیۃ والتکبیر، ج ۳، ص ۲۴۲)
[اور جان لیجیے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (سفر میں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے چار رکعات پڑھا کرتے تھے، کیونکہ اجتہادی مسائل میں اقتدا صحیح ہوتی ہے، جیسا کہ اس کا تذکرہ طہارت کے باب میں گزر چکا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حنفی کی اقتدا شافعی کے پیچھے صحیح ہے، اور اسی طرح ہر مسلک والے کی اقتدا دوسرے مسلک والے کے پیچھے درست ہے، اور انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اپنا مذہب ہے۔ اس سب کے باوجود ہمیں "الدر المختار" میں اس کے خلاف بات ملتی ہے، جس میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ایسی اقتدا صحیح نہیں۔ میں (شاہ صاحب) کہتا ہوں: یہ کیسے ممکن ہے؟ جبکہ دین ایک ہے، نبی ایک ہیں اور قبلہ بھی ایک ہے، تو یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے کہ نماز جیسے اہم ترین دینی معاملے میں ایک حنفی کی اقتدا شافعی کے پیچھے صحیح نہ ہو۔]
اسی طرح ایک اور مقام پر مذکورہ صورت میں اقتداء کے جواز کو محقق قرار دیتے ہوئے سلف صالحین کے عمل کا حوالہ بھی دیا ہے، نیز شیخ الہند محمود الحسنؒ کے حوالے سے بھی یہی رائے نقل فرمائی ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے:
قلت: والذی تحقق عندی انہ صحیح مطلقا سواء کان الامام محتاطا ام لا، وسواء شاہد منہ تلک الامور ام لا، فانی لا اجد من السلف احدا اذا دخل فی المسجد انہ تفقد احوال الامام او تساءل عنہ بید انہم کانوا یقتدون وینصرفون الی بیوتہم بلا سؤال ولا جواب۔ وفی «فتاوی الحافظ ابن تیمیۃ»: ان ہارون الرشید افتصد مرۃ ثم قام لیصلی، وکان ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی موجودا ہناک، فاقتدی بہ مع علم الناقض عندہ۔ فان قلت: کیف الاقتداء مع تیقن الامام علی عدم الطہارۃ عندہ؟ قلت: انما یتوجہ السؤال اذا کان الامام علی امر باطل قطعا، وہذہ المسالۃ مجتہد فیہا، امکن فیہا ان یکون الحق الی الامام، وامکن ان یکون فی جانب آخر، ولذا لا یسعک ان تحکم علی صلاۃ الآخرین انہا باطلۃ عند اللہ تعالی، ولکن یبذل الجہد ویتحری الصواب لینال الثواب بقدر الاجتہاد …… قلت: الفرق ظاہر ونظیر الشیخ ابن الہمام رحمہ اللہ تعالی، وکذا سکوت شیخہ فی غیر محلہ، فان معاملۃ القبلۃ قطعیۃ یمکن فصلہا بالرجوع الی الحس بخلاف النواقض، فانہ لا سبیل فیہا الی الفصل بعد اختلاف السلف فیہا اختلافا کثیرا، فلو علم المقتدی امامہ علی خطا فی مسالۃ التحری ینبغی ان لا تصح صلاتہ، بخلاف الاجتہادیات التی لا تزال الانظار تدور فیہا الی الابد، ووجہ الفساد فی المسالۃ المذکورۃ لیس ما فہمہ الشیخ من مخالفۃ اعتقادہ لامامہ، بل ہو ترک المتابعۃ لہ، وہی من الواجبات۔ وکان مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ تعالی یذہب الی مذہب الجصاص ویستعین بمسالۃ قضاء القاضی فی العقود والفسوخ، فانہ ینفذ ظاہرا او باطنا مع شرائطہا المذکورۃ فی الفقہ۔ (فیض الباری علی صحیح البخاری، باب مسح الید بالتراب، ج: ۱، ص: ۴۵۷)
[میں (علامہ انور شاہ کشمیری) کہتا ہوں: میرے نزدیک جو بات تحقیق سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ (اختلافی مسائل میں دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے) اقتدا مطلقاً صحیح ہے، خواہ امام (مقتدی کے مسلک کی) احتیاط کر رہا ہو یا نہ ہو، اور خواہ مقتدی نے امام سے ان امور (نواقضِ وضو وغیرہ) کا مشاہدہ کیا ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ مجھے سلف صالحین میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملا کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوئے ہوں تو انہوں نے امام کے حالات کی تفتیش کی ہو یا اس کے بارے میں سوالات کیے ہوں، بلکہ وہ بلا سوال و جواب اقتدا کرتے تھے اور نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ فتاویٰ حافظ ابن تیمیہ میں ہے کہ: ہارون الرشید نے ایک بار پچھنے لگوائے (حجامہ کروایا) اور پھر (وضو کیے بغیر) نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ وہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ موجود تھے، تو انہوں نے ہارون الرشید کے پیچھے اقتدا کر لی، باوجود یہ کہ امام ابو یوسف کے نزدیک (خون نکلنے سے) وضو ٹوٹ چکا تھا۔ اگر تم یہ کہو کہ: جب مقتدی کو یقین ہو کہ اس کے نظریے کے مطابق امام باوضو نہیں ہے، تو اقتدا کیسے درست ہو سکتی ہے؟ تو میں کہوں گا: یہ سوال تب پیدا ہوتا جب امام کا فعل یقینی طور پر باطل ہوتا، جبکہ یہ مسئلہ تو "مجتہد فیہ" (اجتہادی) ہے، جس میں یہ امکان ہے کہ حق امام کی جانب ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ دوسری جانب ہو۔ اسی لیے آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ دوسروں کی نماز کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اللہ کے ہاں باطل ہے، بلکہ (ایسے مسائل میں) کوشش یہی ہونی چاہیے کہ درستی کو تلاش کیا جائے تاکہ اجتہاد کے مطابق ثواب مل سکے۔ میں کہتا ہوں کہ: (قبلہ اور وضو کے مسئلے میں) فرق واضح ہے، اور شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے جو مثال دی ہے اور ان کے شیخ کا اس پر خاموش رہنا، وہ درست نہیں۔ کیونکہ قبلہ کا معاملہ قطعی (حسی) ہے جسے دیکھ کر حل کیا جا سکتا ہے، برخلاف نواقضِ وضو کے، کیونکہ ان میں سلف کے درمیان بہت زیادہ اختلاف رہا ہے اور اسے حتمی طور پر طے کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ پس اگر مقتدی کو قبلہ کے لیے اندازہ لگانے (تحری) کے مسئلے میں امام کی غلطی کا یقین ہو جائے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہونی چاہیے، لیکن ان اجتہادی مسائل کا معاملہ الگ ہے جن میں آراء کا اختلاف ہمیشہ رہے گا۔ مذکورہ مسئلے میں نماز کے فاسد ہونے کی وجہ وہ نہیں جو شیخ (ابن الہمام) نے سمجھی کہ مقتدی کا عقیدہ امام کے خلاف ہے، بلکہ اصل وجہ امام کی "متابعت" (پیروی) کا ترک کرنا ہے، جو کہ واجبات میں سے ہے۔ ہمارے استاد مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ (امام ابوبکر) جصاص کے مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے اور اس سلسلے میں قاضی کے اس فیصلے سے دلیل لیتے تھے جو وہ نکاح اور طلاق (عقود و فسوخ) کے معاملات میں کرتا ہے، کیونکہ قاضی کا فیصلہ ظاہری اور باطنی طور پر نافذ ہو جاتا ہے (اگر اس کی فقہی شرائط پوری ہوں)۔]
بہرحال یہ قول اگرچہ غیر مشہور ہے اور اکثر فقہائے کرام نے اس کو نہیں لیا ہے، مگر ضرورت کے وقت غیر مشہور قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اس لئے کہ اتنے بڑے مجمع میں حنفی شخص کیلئے الگ سے وتر پڑھنا مشکل ہے۔ اور شریک نہ ہو کر بیٹھے رہنا یہ بڑے مجمع کی مخالفت اور حرمین کی جماعت سے علیحدگی ہے، اور درمیان صف سے نکلنا جماعت مسلمین میں اختلاف کی ایک ظاہری کی شکل کا پیدا ہونا ہے جو کہ درست نہیں۔ اسی طرح وتر کی جماعت کے دوران صف میں کھڑا ہو کر الگ سے اپنی وتر پڑھنا اور زیادہ برا ہے۔ لہٰذا حرمین شریفین میں جماعت کی فضیلت حاصل کرنے اور مجمع کی مخالفت سے بچنے کے لئے، نیز عدمِ اقتداء کی صورت میں بعض دیگر محظورات سے بچنے کے لئے اس دوسرے قول پر عمل کرتے ہوئے ائمہ حرمین کی اقتداء میں وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، یعنی نمازِ وتر ادا ہو جائے گی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ حرمین شریفین کی جماعت کو چھوڑ کر تنہا وتر کی نماز ادا کرنا یا حرم سے باہر وتر کی جماعت کرانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔
اجتہادی مسائل کی حیثیت
یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، اور اجتہادی مسائل میں جانبِ مخالف کو باطلِ محض نہیں کہا جا سکتا۔ یعنی اجتہادی مسائل میں کوئی بھی دوسرے کو قطعی طور پر غلط اور غیر صحیح نہیں کہہ سکتا۔ مسائلِ اجتہادیہ کے اختلافات حق و باطل کے سطح کے نہیں ہوتے، بلکہ صواب و احتمالِ خطا کے دائرے کے ہوتے ہیں، یعنی جو موقف ہم نے اختیار کیا ہے وہ صواب ہے، جبکہ جانبِ مخالف کا موقف خطا پر مبنی ہے مگر اُس میں صواب کا احتمال بھی موجود ہے۔ ضرورت کے موقع پر ایسے مسائل میں توسع اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لہٰذا اس پہلو کی رو سے بھی ائمہ حرمین کی اقتداء میں فصل کے ساتھ وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، خاص کر جب اس کی بنیاد بھی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی صحیح حدیث ہے اور اس پر بہت سارے اہلِ علم صحابہؓ و تابعینؒ کا عمل رہا ہے۔
نیز مذکورہ مسئلے کے متعلق اس حدیث سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ”الامام ضامن“ یعنی جب امام کی نماز اس کے مسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی درست ہو جائے گی۔ حنفیہ نے اس اصول کو اقتداء کے سارے مسائل میں لیا ہے۔ لہٰذا اس مسئلے میں بھی اس اصول کو لیا جا سکتا ہے۔
قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۲)
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب
پروفیسر خورشید احمد
اس پس منظر میں آئیے، جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان پر تھوڑا سا غور و فکر کریں۔ بلاشبہ آج یہ ایک اتفاق ہے کہ میری یومِ پیدائش بھی یہی ہے۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ مارچ کی اہمیت ہماری تاریخ میں کم از کم تین پہلوؤں سے ہے۔
- پہلی، تئیس اور چوبیس مارچ ۱۹۴۰ء جب قراردادِ پاکستان پیش ہوئی، سیر حاصل بحث ہوئی، اور اسے قبول کیا گیا۔ اور قراردادیں تو پیش بھی ہوتی ہیں، قبول بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ قراردادیں جو تاریخ کے رخ کو موڑ دیں، وہ بہت کم ہوتی ہیں۔ تو اس پہلو سے مارچ، اور یہ تئیس مارچ، اور قراردادِ پاکستان کا منظور ہونا، اور اس کی روشنی میں ہمیشہ اس کو منایا جانا، اور تاریخ کی جو تبدیلی ہوئی، یہ بہت بڑی چیز ہے اور اس کو ہم آج سیلیبریٹ کر رہے ہیں۔
- دوسری چیز پھر، الحمد للہ، یہ بھی ہے کہ قراردادِ پاکستان جس قسم کا پاکستان بنانا چاہتی تھی، اس کا واضح ترین اظہار قراردادِ مقاصد میں، جو ۹ مارچ ۱۹۴۹ء کو پیش ہوئی اور ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور ہوئی، پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں، اس اسمبلی میں جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں سب سے آگے تھی، اور جسے پوری تحریک نے یہ کام سونپا تھا کہ ملک کا مستقبل، اس کا آئندہ کا نظام، اس کا دستور، اس کی منزل متعین کرے گی، اس نے پاس کی۔
- اور پھر تیسری چیز یہ ہے کہ اس کی روشنی میں ۱۹۵۶ء کا جو دستور بنا، اس دستور کا نفاذ بھی ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو ہوا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ ایوب خان نے اکتوبر ۱۹۵۸ء میں اس دستور کو منسوخ کر دیا۔ لیکن ۱۹۵۶ء کا دستور آج بھی pacesetter ہے۔ اور بعد کے جتنے دساتیر بھی بنے ہیں، وہ اس سے ہٹ نہیں سکے، ہٹائے جانے کی ہر کوشش کے باوجود۔
اس کی میں ذرا سی وضاحت کر دوں اگر تاریخ آپ کے سامنے نہیں ہے تو۔ ایوب نے جب دستور کو منسوخ کیا تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اب پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گا، اسلامی ریاست نہیں ہو گی۔ بلکہ سکندر مرزا نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ سب لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھا کر بحیرۂ عرب میں ڈال دو۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ تو یہیں رہے، لیکن سکندر مرزا کو ایک ماہ کے اندر ہی اسی ملک سے جانا پڑ گیا۔
پھر ایوب نے ۱۹۶۲ء میں جو I, Muhammad Ayub Khan, Field Martial Ayub Khan کے نام سے یہ دستور دیا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اس کا نام ’’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘‘ کی بجائے ’’ری پبلک آف پاکستان‘‘ تھا۔ اور اس میں سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے جو دینی پہلو تھے وہ نکال دیے گئے تھے۔ اور ۱۹۵۶ء کے دستور میں جو یہ فقرہ تھا کہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گی، یہ نکال دیا گیا تھا۔ ۱۹۶۲ء میں اس نے یہ دستور نافذ کیا ہے۔ اس کے تین مہینے میں نئی اسمبلی بنی ہے۔ اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی ڈیبیٹ ہوئی ہے بڑی، وہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ پہ ہوئی ہے۔ اور اس پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں اس اسمبلی نے لڑ کر کے یہ شق قانون کا حصہ بنائی کہ پاکستان کی ہر پولیٹیکل پارٹی کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھے اور اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔ بڑی اس پر بحث ہوئی۔ سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
اور واضح رہے کہ اس وقت جسٹس منیر لاء منسٹر تھے۔ اور یہ پائیلٹ کر رہے تھے اس لاء کو۔ اور شرمناک بات ہے، ہمارے جوڈیشری کا اتنا اونچا …، اس شخص نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھا ہے کہ اسلامک آئیڈیالوجی اور پاکستان آئیڈیالوجی کا لفظ جو ہے یہ جنرل ضیاء الحق نے انٹروڈیوس کیا۔ اور اس کے بعد سے جو لبرل لیفٹسٹ لابی ہے، یہ بکواس کرتی ہے۔ آپ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی کی کارروائی نکال کے پڑھ لیں، میں نے اسے کوٹ کیا ہے اپنی حالیہ تقاریر کے اندر، کہ اس شخص نے پہلے اَپوز کیا اسلامک آئیڈیالوجی کے لفظ کو وہاں پر۔ وہ اس قانون کا حصہ ہے۔ اور پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ نہیں، ہم یہ رکھیں گے۔ تو اس نے یہ کہا کہ میں بہت دکھی ہوں لیکن بہرحال میں نے غور کیا ہے اور آپ اگر اصرار کرتے ہیں تو ہم اس کو شامل کر لیتے ہیں۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔
پھر اس کے بعد جب ۱۹۶۲ء کے دستور پر ایمنڈمنٹ آئی ہے تو پہلی ایمنڈمنٹ یہ تھی کہ پاکستان کا نام ’’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘‘ بحال کریں۔ قراردادِ مقاصد کو، ان الفاظ کے ساتھ جس میں وہ پاس ہوئی تھی، بحال کیا گیا۔ اور دستور کی یہ شق کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو گی، یہ بحال کی گئی۔ یہ تینوں چیزیں ۱۹۶۴ء میں، جبکہ ہم جیل میں تھے، اس وقت اسمبلی نے منظور کیں۔ تو فرار کی پوری پوری کوششیں ہوئیں۔ ۱۹۵۶ء کا کانسٹیٹیوشن آج بھی ……
پھر یہی چیز آپ کو ۱۹۷۳ء کے کانسٹیٹیوشن میں ملے گی۔ اس کا پہلا ڈرافٹ جو آیا ہے، اس میں اس کو سوشلسٹ ری پبلک آف پاکستان قرار دیا گیا۔ اس کا آرٹیکل ۳ یہ تھا کہ state would be a socialist state۔ پیپلز پارٹی میجارٹی میں تھی، لیکن اس زمانے کی اسمبلی کے لوگوں نے جس ہمت سے، اور عوام نے جو تائید اُن کی کی، اس پوری جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ دستور ان تمام شقوں کو لایا جو ۱۹۵۶ء کے دستور میں تھیں، اس سے بہتر شکل میں لایا، اور consensus کی شکل میں لایا۔ اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور بنیادی طور پر ایک اسلامی دستور ہے، ایک جمہوری دستور ہے، ایک فلاحی دستور ہے، اور ایک فیڈرل دستور ہے۔ یہ چاروں خوبیاں ہیں اس کے اندر۔
تو مارچ کی یہ اہمیت ہے۔ اس پہلو سے ہم آج اس کو منا رہے ہیں۔ لیکن میں ایک دو نکتے اور بھی آپ سے اس ضمن میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ مارچ ۱۹۴۰ء کی جو قرارداد ہے، اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کی حقیقت کو مِس ریپریزنٹ کیا جاتا ہے۔
دیکھیے، بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے ایک نظریاتی امت تھے۔ ہماری امت کی بنیاد رنگ پر نہیں ہے، نسل پر نہیں ہے، زبان پر نہیں ہے، زمین پر نہیں ہے، مفادات پر نہیں ہے، حتیٰ کہ مشترک تاریخ پر نہیں ہے۔ اس کی بنیاد عقیدے کے اوپر ہے۔ اس کی بنیاد ہے ایمان پر۔ اس کی بنیاد نظریے کے اوپر ہے۔ اس کی بنیاد قرآن و سنت سے ہماری وفاداری کے اوپر ہے۔ تو یہ ہماری شناخت ہے۔ پہلے دن سے آج تک۔ عملاً deviations ہوئے ہیں، کمزوریاں دکھائی ہیں ہم نے، ups and downs ہوئے ہیں، اس سے انکار نہیں ہے۔ اور حقائق کے بارے میں کبھی بھی ہمیں صَرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے، انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن حقائق کی تعبیر، ان کی تفہیم، اور ان کی روشنی میں آئندہ کی تشکیل اور تعمیر، یہ الگ چیز ہے۔ لیکن حقائق، حقائق ہیں۔
جب برصغیر میں پہلا مسلمان آیا ہے، اور وہ محمد بن قاسم نہیں تھے۔ وہ دورِ رسالت مآبؐ میں صحابہ کرامؓ تشریف لائے تھے۔ سندھ میں بھی آئے ہیں، مالابار میں بھی آئے ہیں۔ اس کے بعد پھر محمد بن قاسم، اس سے ایک اسلامی دور قائم ہوا، اسلامی حکمرانی قائم ہوئی، بلاشبہ ایک بڑا اہم ڈویلپمنٹ تھا۔ پھر نارتھ (افغانستان) سے مسلمان آئے اور اس کے بعد پھر مسلمانوں کا دورِ اقتدار شروع ہوا۔ آپ یہ دیکھیے، اس پورے دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے اسلام دوسروں پر تھوپا ہو۔ زبردستی کنورژن کا کوئی واقعہ ہمیں نہیں ملتا۔ اورنگزیب کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ صریح تاریخی جھوٹ ہے، جن کی تردید خود انڈیا کے محققین نے کی اور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تشخص، اپنی اجتماعی زندگی، اپنے انسٹیٹیوشنز قائم کیے، اور غیر مسلموں کو بھی پورا پورا موقع دیا کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق، اپنی روایات کے مطابق کام کریں۔ حتیٰ کہ ان کے کاسٹ سسٹم کو بھی زبردستی نہیں ختم کیا۔ دعوت و تبلیغ سے اس میں دراڑیں پڑیں اور لوگ اس سے نکل کر کے آئے ہیں۔ لیکن کوئی واقعہ جبر کا اور ظلم کا اور قوت کے استعمال کا نہیں ملتا۔
جہاں تک میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، مسلمانوں کے پورے دور میں ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور اور کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی۔ ٹھیک ہے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں کی فوج میں ہندو جرنیل اور ہندو سپاہی بھی رہے ہیں۔ ایڈمنسٹریشن میں بھی دونوں نے شرکت کی ہے، کبھی کم کبھی زیادہ۔ لیکن عوامی سطح پر ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ یہ پہلی مرتبہ نائنٹینتھ سنچری کے آخری کوارٹر میں ہوا ہے۔ اس وقت سے یہ فتنہ، برطانیہ کے دور میں، آپس میں لڑانے کے لیے یہ کیا گیا۔ پھر اس کی مثالیں آپ کو بعد میں ملتی ہیں۔ تو یہ جبر ہم نے کبھی نہیں کیا۔ لیکن اپنا جو جداگانہ تشخص ہے، اور اس سلسلے کی جو اہم ترین اویڈنس ہے، وہ میرے خیال میں البیرونی کا سفرنامہ ہے۔ جس میں ساری دنیا کا اُس نے سفر کیا ہے، جب وہ ہندوستان آیا ہے، ہندوستان کے بارے میں اس نے بتایا ہے کہ یہاں کا کلچر کیا ہے، ہندو کیسے ہیں، بدھ کیسے ہیں، مسلمان کیسے ہیں، اور کس طرح یہ کمیونیٹیز coexist کرتی ہیں لیکن بحیثیت self contained autonomus communities کے۔ تو یہ ہماری تاریخ ہے۔
اور اس کے اندر پھر اقتدار میں جو لوگ رہے ہیں، ان میں اچھے بادشاہ بھی رہے ہیں، برے بھی رہے ہیں۔ وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام کا احترام کیا ہے، اسلامی قوانین کو ترویج دی ہے۔ اور وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام سے انحراف کیا ہے اور بدلنے کی کوشش کی ہے، حتیٰ کہ ’’دینِ الٰہی‘‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ پوری تاریخ ہے۔ لیکن وہ جداگانہ تشخص ایک رئیلٹی ہے۔ تو مسلمانوں کا ایک نظریاتی قوم ہونا، یہ کوئی ڈِسکوَر نہیں ہوا ۱۹۴۰ء میں۔ صرف یہ اُس حقیقت کا اِدراک، اور اس ادراک کی روشنی میں سیاسی نقشہ کیا ہو، یہ ہے ایشو۔ وہ بھی کیوں ہوا؟ تاریخ یہ بتاتی ہے ہم کو کہ بیرونی کسی قوت نے آکر کے جب بھی کسی ملک پر قبضہ کیا ہے، جب وہ وہاں سے گیا ہے، تو اُس سے ماقبل جو حکمران تھا، وہ ریسٹور ہو گئے۔ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ حال میں بھی ہوا۔ یعنی جب لیبیا پر اٹلی کا راج ختم ہوا ہے، تو جو اس سے پہلے شاہ سنوسی تھا، اس کو وہاں پر لا کر کے سربراہ بنایا گیا۔ سپین میں ابھی بیسویں صدی کے دوسرے بلکہ تیسرے کوارٹر میں جب فرانکو کا دور ختم ہوا ہے تو جو سپین کا بادشاہ تھا فرانکو کے آنے سے پہلے، اسے دوبارہ اقتدار دیا گیا۔ یہ تاریخ کی ایک روایت رہی ہے۔
تو مسلمان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انگریز جب جائے گا، تو ہم سے اقتدار چھینا گیا ہے، ہم اقتدار میں آئیں گے۔ اور لبریشن کی جنگ میں مسلمان پیش پیش تھے، خواہ وہ ۱۹۵۷ء کا واقعہ ہو، اس سے پہلے مجاہدین کی جدوجہد ہو، اس کے بعد کے واقعات ہوں، لیکن پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں پر یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ اب جو جمہوریت کا دور ہے، یہ گنتی کا معاملہ ہے۔ اور اس میں جس کی تعداد زیادہ ہو گی وہ ڈومینیٹ کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میونسپل ریفارم کی جو تحریک ہے ہندوستان میں، وہ 1890sء میں شروع ہو گئی تھی۔ سرسید پہلے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس کا شعور کیا اور انہوں نے یہ کہا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سیاسی مستقبل کی جو تشکیل ہے وہ ازسرِنو کرنی پڑے گی۔ ورنہ مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہم غالب آجائیں گے۔
پھر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے جب تحریکِ خلافت، جو میری نگاہ میں پہلی عوامی تحریک ہے — اس سے پہلے جو ریزسٹنس تھی، وہ محدود تھی، علمی تھی، یا تلوار کی بنیاد پر تھی، لیکن یہ کہ وہ محدود تھی — یہ عوامی تھی، جس میں کئی لاکھ افراد جیلوں میں گئے ہیں، جس میں ہزاروں افراد ہجرت کر کے افغانستان اور روس گئے ہیں۔ یہ عوامی تحریک تھی۔ اور اس میں ان کا خیال یہ تھا، کہ لیڈ مسلمان کر رہے تھے اس کو۔ تو ہندوؤں نے محسوس کیا کہ اگر یہ عوامی تحریک کوئی آزادی کی تحریک بن جاتی ہے، اور مسلمان لیڈ کرتے ہیں، تو سیاسی نقشہ بالکل مختلف ہو گا۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے کانگریس نے ایک ایگریسِو ہندو نیشنلسٹ اپروچ اختیار کی۔ اور مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہمیں اقتدار ملے گا۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ نہیں ملے گا تو پھر ان کی سٹریٹیجی بدلی۔ بدلی سٹریٹیجی جو ہے ،اس کا سب سے بڑا علمبردار مسلم لیگ تھی۔
مسلم لیگ ڈھاکہ میں ۱۹۰۶ء میں قائم ہوئی ہے۔ اور بنیادی مقصد اس کا یہ تھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ۔ مسلمانوں کو ان کی ثقافت، ان کے دین، ان کی تعلیم، ان کی معاشرت، ان کی روایات، ان کے حقوق سیاسی، انہیں بچانے کی کوشش۔ ۱۹۰۶ء سے لے کر کے ۱۹۲۸ء، ۱۹۲۹ء تک، بائی اینڈ لارج، مسلم لیگ محض مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کرتی رہی۔ اور اس میں جو ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے اہم، وہ ہے ۱۹۱۴ء، لکھنؤ کا پیکٹ، جس میں چودہ نکات قائد اعظم کے آئے، جس میں ایک کلیئر پکچر ہے کہ مسلمان اپنے وجود کے لیے کیا چاہ رہے ہیں۔
اس کی پہلی بنیاد تھی سیپریٹ الیکٹوریٹ، کہ مسلمان ہی اپنے نمائندے منتخب کریں، ورنہ مسلمانوں کی سائزیبل پوزیشن کے باوجود، ہندو ڈومیننس کی وجہ سے، مسلمان سیاسی اعتبار سے ریپریزنٹیٹوز نہیں لا سکیں گے اپنے۔ تو سیپریٹ الیکٹوریٹ مسلمانوں کے جداگانہ وجود کے تحفظ کے لیے سیاسی زینے کے طور پر اختیار کیا گیا۔ پھر انہوں نے weightage مانگا۔ یعنی اگر ہم آبادی کا بیس یا پچیس فیصد ہیں، لیکن ہمیں ویٹ تھوڑا زیادہ چاہیے تاکہ ہم اپنی بات کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔ اس کی انہوں نے ایک قیمت بھی ادا کی کہ ہندوؤں کو ویٹیج دیا اُن علاقوں میں جہاں مسلمان میجارٹی میں تھے۔ لیکن مسلم سیاسی وزن کو بڑھانے کے لیے یہ چیز کی گئی۔ پھر ہیومن رائٹس مسلمانوں کے، پھر ان کی سیاسی ایکٹیویٹی، پھر تعلیم، پھر روایات، ان کے معاشرتی معاملات۔ تو یہ مختلف رائٹس ہیں جن کے لیے اس پورے زمانے میں کوششیں ہوتی رہیں۔ اور اگر ہندو تعصب اور جو اُن کے عزائم تھے … وہ راستہ اختیار نہ کرتے تو لازماً مسلمان coexistence کا ہی راستہ اختیار کرتے۔ لیکن یہ سکیم فیل ہو گئی۔
سائمن کمیشن کی رپورٹ جو ہے ۱۹۲۸ء کی، اور اس کو جس طریقے سے نہرو نے استعمال کیا، اور جس طرح یہ کلیئر ہو گیا کہ اب ہندو ڈومینیشن سیاسی اعتبار سے، یہ مستقبل ہو گا ہندوستان کا۔ تو یہ وہ موقع ہے جب کہ مسلمان ہل گئے اور انہوں نے پھر ایک نئی حکمتِ عملی وضع کی۔ انفرادی طور پر یہ بات کہ مسلمان جہاں میجارٹی میں ہیں ان کو وہاں اقتدار ملے، اور جہاں ہندو میجارٹی میں ہیں وہاں ان کو اقتدار ملے، یہ سب سے پہلے عبد الحلیم شرر نے ۱۸۸۸ء، ۱۸۸۹ء کے وقت لکھا ہے اس کو۔ ریکارڈ موجود ہے۔ عبد الحلیم شرر سے لے کر کے ڈاکٹر لطیف تک تقریباً ایک سو ستر افراد ہیں جنہوں نے کھل کر کے، یا اشارتاً، یا سیاسی زبان میں، یا علمی زبان میں، یا طنز و مزاح کی زبان میں، تقسیم کی بات کی۔ لیکن ان میں فیصلہ کن چیز ہے ۱۹۳۰ء کا علامہ اقبال کا لیکچر۔ اور اس میں علامہ اقبال نے اپنی سوچ کو بڑے ہی، بڑی قوت کے ساتھ، دلیل کے ساتھ، دردمندی کے ساتھ، اور سیاسی سائیٹڈنیس کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جو میری نگاہ میں، خود قراردادِ پاکستان ۱۹۴۰ء کو سمجھنے کے لیے key جو ہے، وہ ۱۹۳۰ء کا اقبال کا خطبہ ہے۔ اسے اگر آپ کریٹیکلی پڑھیں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اقبال نے آغاز کیا ہے اس کا ایک بڑے لطیف انداز میں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے اپنی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو مدعو کر لیا ہے کہ جو اسلام کو محض ایک ماضی کا قصہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسلام کو مستقبل کی امید اور مستقبل کا نظام سمجھتا ہے۔ اور جو خدا میں believe کرتا ہے، اور جو سمجھتا ہے خدا نے جو ہدایت دی ہے اسی میں ہماری destiny ہے۔ بلکہ یہاں تک اس نے اس میں کہا ہے کہ
If I have learned any lesson from history, it is, it is not the Muslims wo have saved Islam, it is islam who has saved the Muslims throught their history.
پھر اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ اسلام ہے کیا۔ اور اس نے کہا ہے کہ اسلام محض ایک مورل پرنسپل نہیں ہے، بلاشبہ مورل بیسز ہے، سپرچوئل ہے، لیکن اسلام کا اصل کنٹریبیوشن یہ ہے کہ اس نے مورل سسٹم کو، مورل ویلیوز کو، مورل پرنسپلز کو، سوشل لائف اور سوشل فریم ورک کے لیے بنیاد بنایا ہے۔ اور اگر آپ یہ سوشل اور یہ پولیٹیکل اور یہ اکنامک اس سے نکال دیں تو پھر اسلام میں اور باقی مذاہب میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ کلیئرلی اس نے اس خطبے کے اندر …… بلڈ کیا ہے۔ پھر کہا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہو، اور اسلام ہمارے پولیٹیکل مستقبل کو متاثر کرے، اس کی تشکیل کرے، اس کی صورت گری کرے۔ اس دعوے کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ موجودہ حالات کے اندر یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب، جہاں مسلمان میجارٹی میں ہیں وہاں انہیں اقتدار حاصل ہو، اور جہاں غیر مسلم میجارٹی میں ہیں وہاں انہیں اقتدار حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے۔
تو اس نے کلیئر لی یہ تین باتیں اس خطبے کے اندر کہی ہیں۔ آپ دیکھیے کہ پھر قائد اعظم نے آہستہ آہستہ اسی کو قبول کیا۔ قائد اعظم پہلے ہندو مسلم یونٹی کے نقیب تھے۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ نہیں مسلمانوں کا مفاد اس میں نہیں ہے، ان کا بھی ٹرانزیشن جو ہے وہ ۱۹۲۹ء سے شروع ہوتا ہے ۱۹۳۶ء تک۔ ۱۹۳۶ء میں وہ مطمئن ہو گئے ہیں کہ ہاں مسلمانوں کے لیے سیپریٹ سٹیٹ ہونا ضروری ہے …… پھر ۱۹۳۷ء کے انتخابات ہیں اور اس کے بعد کانگریس کی گورنمنٹس ہیں، ان کی زیادتیاں ہیں، جس نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی اس کے اوپر۔ تو یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں جو قرارداد ہے وہ قرارداد صرف دو باتیں کہہ رہی ہے، تین باتیں کہہ رہی ہے:
پہلی بات یہ کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا اپنا نظام ہے، اور اس حیثیت سے ان کے لیے سیاسی مستقبل بھارت یا ہندوؤں کے ساتھ مل کر چلنے میں نہیں ہے، اپنا راستہ الگ نکالنے میں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان پر مبنی ایسی سٹیٹس بنا دی جائیں، اور یہاں لفظ پلورل استعمال ہوا ہے states — سٹیٹ نہیں،سٹیٹس — سٹیٹس بنا دی جائیں۔ اور گمان غالب یہ ہے کہ یہ تقریباً پانچ ڈرافٹس تھے جن میں سے اس کو آخری شکل دی گئی ہے۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ اصل مقصد ایک ہی سٹیٹ تھا، لیکن شروع میں کنفیوژن تھا، یا کم از کم کلیریٹی نہیں تھی کہ آیا دو گروپ ہوں گے یا ایک ہی گروپ ہو گا۔ لیکن دونوں امکانات اس کے اندر موجود تھے۔
اور تیسری بات یہ کہ جہاں مسلمانوں کو اقتدار ہو گا، وہاں پر جو غیر مسلم ہوں گے، ان کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔
یہ تین باتیں اس کے اندر آئی ہیں۔ اور ایک اور نکتے کی طرف آپ کو متوجہ کروں جس کی طرف لوگ بالعموم غور نہیں کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ اجلاس شروع ہوا ہے ۲۲ کو، ۲۳ کو قرارداد پیش ہوئی ہے، ۲۴ کو منظور ہوئی ہے۔ لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے چند ہی ہفتے کے بعد باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ — قراردادِ لاہور کہتے تھے پہلے اس کو، قراردادِ پاکستان نہیں کہا گیا اُس وقت — یہ ۲۳ مارچ کی شمار کی جائے، چوبیس نہیں۔ اور آج تک وہی چل رہا ہے۔ تو کیوں؟
جہاں تک میں نے غور کیا ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ اصل چیز قرارداد کے الفاظ اور اس کی منظوری نہیں، بلکہ اصل چیز وہ جوہری ٹرننگ پوائنٹ ہے جو اس قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اب تک ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے فریم ورک میں ایک ہندوستان میں رہنے کو تیار تھے۔ اب ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ ایک فیڈریشن نہیں چلے گی، دو ممالک ہونے چاہئیں۔ تو یہ قرارداد پیش ہوئی ہے ۲۳ کو، چاہے منظور ۲۴ کو ہوئی، لیکن چونکہ مسئلہ قرارداد کے الفاظ کا نہیں ہے، بلکہ اس تاریخی تبدیلی کا ہے جس کی یہ نشانی ہے، اس لیے ۲۳ مارچ سے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے الفاظ کو بعد میں ریوائز کیا گیا۔ قائد اعظم نے چند مہینے کے اندر اندر وضاحت کی کہ نہیں، ایک ہی سٹیٹ ہمارے سامنے … اور پھر سب سے اہم ڈاکومنٹ جو ہے؛
- پہلا ڈاکومنٹ ۱۹۳۰ء کا خطبہ اقبال کا۔
- دوسرا یہ قرارداد اور اس قرارداد کی تائید میں کی جانے والی تقریریں۔ اور یہاں آپ کو یاد دلاؤں کہ سب سے اہم تقریر قائد اعظم کی ہے، لیکن اس کے علاوہ فضل الحق، خلیق الزمان، قاضی عیسیٰ، بیگم محمد علی، اور ایک یا دو افراد اور ہیں، ان کی تقاریر بھی ہیں۔ اور سب نے یہی نکتے کہے جو میں آپ کو بتا کر لایا ہوں۔
- اس کے بعد پھر تیسری اہم قرارداد، سنگِ میل جسے میں کہتا ہوں، وہ ہے اپریل ۱۹۴۶ء کی وہ قرارداد جو مسلم لیگ کے الیکٹڈ ممبرز آف دی پارلیمنٹ، جس میں مرکزی اور صوبائی دونوں اسمبلیاں شامل تھیں، ان کی کانفرنس ہوئی ہے، اور اس میں انہوں نے پھر ایک ریاست، اس کا ریشنیل، اس کا کانسیپٹ، یہ واضح کیا۔ یہ قرارداد سہروردی نے پیش کی تھی۔ پہلے والی قرارداد فضل حق نے پیش کی تھی۔ متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ میں اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا، اس لیے کہ ہمارے سکول کے اندر ہی، بلڈنگ میں، یہ جلسہ ہوا تھا۔ اور اس میں کچھ لوگوں نے اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ اور اس قرارداد سے پہلے ایک حلف نامہ، جس کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے کہ ’’ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین‘‘ (الانعام ۱۶۲) اور اس پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس قرارداد اور پاکستان کے قیام کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اس کے وفادار رہیں گے۔ ہر لجسلیٹر نے اس پہ سائن کیے۔ تو یہ تیسرا سنگِ میل ہے۔
- اور پھر چوتھا سنگِ میل ہے قرارددِ مقاصد۔ اور اس کا بھی آپ تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی، اور فیڈرل، ان چار بنیادوں کے اوپر ریاست کی تصویر دی گئی ہے۔
معاف کیجیے، بات ایسی تھی کہ میں بہت تفصیل میں چلا گیا۔ یہاں میں ایک بات اور کی وضاحت کر دوں۔ اور وہ یہ کہ دو قومی نظریے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز ہے۔ میں نے وضاحت کر دی کہ نہیں، یہ پہلے دن سے ہے۔ اور میری نگاہ میں دو قومی نظریے کی بنیاد جو ہے وہ اسلام کا یہ تصور ہے کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک ہے اللہ کو الٰہ مان کر اس کی عبادت کا راستہ۔ اور دوسرا ہے اِس سے ہٹ کر کے کوئی راستہ، خواہ وہ مذہبی اعلان پر ہو، یا سیکولر کے نام پر ہو، یا الحاد کے نام پر ہو، یا اشتراکیت کے نام پر، یا کسی بھی نام پر ہو۔ اور اس کی تلقین ہمیں سورہ فاتحہ میں دن میں پانچ بار کرائی جاتی ہے کہ ’’اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم، غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘۔ یہ دو سٹریمز ہیں تاریخ کی، اب ہر ایک سٹریم کے اندر پھر بہت … ہیں، لیکن یہ دو میجر سٹریمز ہیں۔
دوسری بات جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دو قومی نظریہ ضمانت ہے اس بات کی کہ اسلام سے ہٹ کر کے بھی جو نظام ہو گا اسے بھی باقی رہنے کا حق ہے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے، اللہ نے انسان کو یہاں پیدا کیا ہے ایک مقصد سے، وہ مقصد اس کی آزمائش ہے۔ آزمائش یہ ہے کہ اسے عقل دی گئی ہے، تقویٰ دیا گیا ہے، اور ساتھ ساتھ اسے اختیار اور فجور بھی دیا گیا ہے۔ ’’الھمھا فجورھا وتقواھا‘‘۔(الشمس ۸) یہ صلاحیت دے دی گئی ہے اس کو، عقل دے دی گئی ہے۔ اب اسے چوز کرنا ہے، خیر اور شر، اسلام اور غیر اسلام، حلال اور حرام، اللہ کی عبادت اور طاغوت کی عبادت کے درمیان۔ لیکن جو چوائس بھی وہ کر لے، اس پر اسے حق ہے قائم رہنے کا۔ اور کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ زبردستی اس کے اوپر اپنی بات تھوپے۔ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کا یہ معنیٰ ہے۔ اور ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کا جو کانٹیکسٹ ہے سورہ بقرہ میں، وہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ پہلے آیۃ الکرسی، جس میں اللہ کا، دین کا تصور آگیا، اس کی کرسی، اس کا اقتدار۔ اس کے بعد کہا گیا کہ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘۔ لیکن ساتھ ہی کہا گیا ’’قد تبین الرشد من الغی، فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن با اللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لا انفصام لھا‘‘ (البقرۃ ۲۵۶) تو دلیل کیا ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی؟ دلیل یہ ہے کہ حقیقت، اور کیا غلط ہے، واضح کر دیا گیا ہے۔ خیر اور شر ایک دوسرے سے واضح کر دیا گیا ہے۔ حق اور باطل کو نمایاں کر دیا گیا ہے۔ اب یہ چوائس تمہاری ہے۔ اب قوت کے ذریعے سے نہیں۔ لیکن جو اللہ کا راستہ اختیار کرے گا وہ ظلمات سے نور میں آئے گا۔ اور جو طاغوت کی بندگی کرے گا وہ نور سے ظلمات کی طرف جائے گا۔ لیکن یہ دونوں موجود رہیں گے۔
تو دو قومی نظریے کا معنی صرف یہی نہیں ہے کہ ہماری بنیاد ایک خاص اصول پر ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس بنیاد سے ہٹ کر کے جو قومیں بنیں گی، انہیں بھی وجود کا، انہیں بھی اپنی ترقی کا، اپنے نظریے کے مطابق رہنے کا حق ہے۔ تو یہ گارنٹی ہے pluralism کے لیے۔ اور اسی سے پھر میں یہ نکالتا ہوں کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی نظریہ اگر پاکستان کی بنیاد آپ بناتے ہیں تو پھر کیا اور مسلمان ملکوں کی نہیں ہے؟ بلاشبہ ہے۔ لیکن یہ ان کی چوائس ہے۔ وہ اسے قبول کر لیں، سر آنکھوں پر ہے۔ خود مسلمان بھی اگر اس پر عمل نہ کریں تو اس سے دو قومی نظریے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم قوت سے مسلط نہیں کریں گے ان کے اوپر۔ لیکن مسلمانوں کی حقیقی urge یہی ہے۔ اور آج بھی جو Pew اور Gallup کے سرویز آئے ہیں، ان میں آپ دیکھیں گے کہ مسلمان ممالک میں تو ستر سے اٹھانوے بلکہ ننانوے فیصد تک یہ کہتے ہیں کہ شریعت کو ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہونا چاہیے۔ نائنٹی نائن پرسنٹ تک۔ اور باقی ممالک میں بھی جہاں جہاں مسلمان ہیں، وہاں بھی ان کی ایک (معقول تعداد) بیس پرسنٹ سے لے کر چالیس بتالیس تک یہ کہتی ہے کہ شریعت کو بنیاد ہونا چاہیے۔ تو محض یہ کہنا کہ فلانا ملک نہیں کر رہا ہے، اس سے دو قومی نظریے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور میں یہ بھی کہہ دوں کہ دو قومی نظریے کی جو سٹریٹیجی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں، جہاں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے مستقبل کو خود طے کر سکتے ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے مطابق اپنی زندگی قائم کریں اور نظامِ حکومت اس کا بنائیں۔ جہاں وہ مینارٹی میں ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح آپشن یہ ہے کہ وہاں پیس فُلی رہیں، وہاں کے قانون کا بھی احترام کریں۔ لیکن اپنے نظریے ، اپنی کمیونٹی، اپنی معاشرت، اپنی روایات کو جس حد تک، اپنی شناخت کی جس حد تک حفاظت کر سکتے ہیں، حفاظت کریں، اسے تحلیل نہ ہونے دیں، اس کے لیے جدوجہد کریں۔ اور دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں تاکہ آج کی اقلیت کل کی اکثریت بن سکے، لیکن دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے۔ اور جہاں مسلمان کسی ایسے نظام میں ہیں کہ جو ظالمانہ جابرانہ نظام ہے، وہاں بھی آپ ریزسٹ کر سکتے ہیں، لیکن ان اخلاقی حدود کے اندر جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے فراہم کی ہیں۔ اسی لیے اسلامی تاریخ کے اندر، اسلامی قانون کے اندر just war اور justice in war ان دونوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جہاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ اور جہاد اُن آداب، اُن قیود، اُن اصولوں، اُن ضابطوں کے مطابق ہو، جو اللہ اور رسول نے طے کیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر کے قوت کا استعمال جائز نہیں ہے، وہ دہشت گردی ہے۔
تو دو قومی نظریہ ایک ابدی اصول ہے، اور اس کے یہ ڈفرنٹ ماڈلز ہیں۔ تو جب مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ ہمیں اقتدار حاصل ہے، وہاں انہوں نے اسلام قائم کیا، دوسروں پر جبر کیے بغیر۔ اور جہاں یہ ممکن نہیں تھا، وہاں انہوں نے کوشش کی کہ جہاں ہمیں اکثریت حاصل ہے، کم از کم وہاں ہم اپنے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ اور جہاں ہمیں اکثریت حاصل نہیں ہے، وہاں ہم وہاں کے حالات کے مطابق اپنے تشخص کی حفاظت کی کوشش کریں، اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کریں، اور ان مشترکات میں، جس میں کہ دوسرے بھی شریک ہیں، ہم مل کر کے آگے بڑھیں۔ ’’تعالوا الیٰ کلمۃ سوآء بیننا و بینکم‘‘ (اٰل عمران ۶۴) ۔ تو یہ ہے وہ فریم ورک۔
آج کا جو پہلا سوال تھا آپ کا، صرف میں اس کو ٹچ کر سکا ہوں، آگے میں نہیں بڑھ سکا ہوں۔ لیکن محض، یعنی مراد یہ ہے کہ، امیر خسرو کی طرح بات کو نمٹانے کے لیے کہہ دوں کہ جہاں تک اسلامی دنیا کا تعلق ہے، میرا خیال یہ ہے کہ ہم اس وقت بلاشبہ ایک بڑی آزمائش اور بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ اور اللہ کے انعامات ہمارے اوپر بیسویں صدی میں بے پناہ ہوئے ہیں، لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلمان نیم آزاد ملک تھے۔ باقی ساری اسلامی دنیا مغربی اقوام کی غلامی میں تھی۔ اور تقریباً یہ دو سو سال کا تاریک دور تھا۔ لیکن اس صدی میں ہم اس سے نکلے، آج مسلمانوں کی ستاون آزاد ریاستیں ہیں۔
https://youtu.be/edQgfHeyTp8
(جاری)
ہمارا تعلیمی نظام اور استعماری دور کے اثرات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
استعماری دور میں ہماری جو تہذیبی تشکیلات انقطاع کا شکار ہوئیں، ان میں ایک بہت اہم تشکیل اہل علم کے انفرادی تدریسی حلقے تھے۔ دار العلوم دیوبند کے بانیوں کے ذہن میں شاید ابتداءً ایسا ہی کوئی تصور تھا، لیکن جلد ہی یہ جدید مدرسے میں ڈھل گیا جس کا انداز ایک بڑی فیکٹری کا سا ہوتا ہے جس میں کام کی تقسیم کے لیے مختلف سسٹم بنا کر بڑے پیمانے پر پیداوار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ مذہبی علم اور مذہبی اخلاق وکردار سے جڑے ہوئے ہمارے بیشتر مسائل کی بنیاد میں مدرسے کے ادارے کا یہی تاریخی تحول ہے۔
خوش قسمتی سے یہ تصور بالکل فراموش نہیں ہو گیا۔ اب بھی محدود سطح پر اس کے نمونے موجود ہیں۔ ہمارے بعض نمایاں اہل علم مثلاً مولانا مودودی نے کسی مدرسے سے تحصیل علم کے بجائے اسی طریقے سے دینی علوم کی مہارت حاصل کی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے بھی اسی انداز سے گنتی کے سہی، کچھ اہل علم تیار کیے۔ غامدی صاحب کے تلامذہ کی پہلی نسل بھی بڑی حد تک اسی طریقے سے فیض یاب ہوئی ہے۔ اہل تشیع کی روایت میں تو اس کو ایک باقاعدہ نظام کے طور پر زندہ رکھا گیا ہے۔ قم اور نجف کے حوزے اور درس خارج کا نظام اس کی عمدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ہمارے ہاں بعض مدارس میں بھی افتاء کی سطح پر کہیں کہیں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
ایسا نہیں کہ یہ کوئی ازکار رفتہ طریقہ ہے۔ مغربی جامعات میں بھی پی ایچ ڈی اسکالرز اسی طریقے کے تحت کسی ایک پروفیسر کے ساتھ کئی سال کے لیے وابستہ ہو کر علم وتحقیق کی تربیت بہم پہنچاتے ہیں۔ یہ ہمارے ہاں کے پی ایچ ڈی جیسا نہیں ہوتا جس میں سپروائزر کو اسکالر کے تتبع میں رہنا پڑتا ہے کہ وہ ملاقات کر کے سیکھ نہیں سکتا تو کچھ سکھا ہی دے۔ اگر ہم نئی سماجی تشکیلات کی بات کر رہے ہیں تو یہ چیز ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہیے کہ بڑے اہل علم کے لیے اس طرح کے انفرادی حلقوں کے نظام کو موثر انداز میں بحال کیا جائے۔ اس کی مختلف شکلیں ممکن ہیں جو قابل عمل ہیں۔ صرف اس کی اہمیت کو سمجھنے اور پیش رفت کے لیے ارادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام معاشرے کے دین دار اہل ثروت بھی کر سکتے ہیں، حکومتی وسائل میں بھی اس کام کے لیے تخصیص کی جا سکتی ہے اور خود مدارس کو جتنے وسیع وسائل اب دستیاب ہیں جن کا رخ زیادہ تر mass production کی طرف ہے، ان سے بھی اس کا بندوبست بآسانی کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر شرعی ہے
ملی مجلس شرعی کے علماء و مفتیان کا مؤقف
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی
سپریم کورٹ کا ۱۴ فروری ۲۰۲۶ء کا ایک فیصلہ سامنے آیا ہے جسے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے سنا اور فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن صاحب نے لکھا۔ فاضل ججز نے مدعی کو ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ قرار دے کر بچے کے نان و نفقے کا فیصلہ دیا ہے۔
ملی مجلسِ شرعی — جو مختلف دینی مکاتبِ فکر کی ایک علمی مجلس ہے — کے مفتیان و علماء کرام مفتی شاہد عبید صاحب (چیف مفتی جامعہ اشرفیہ)، مفتی محمد کریم خان (مفتی و پی ایچ ڈی ڈاکٹر و چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ)، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی)، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی (درس نظامی و پی ایچ ڈی سکالر)، ڈاکٹر محمد امین (ایم فل فقہ و اصول فقہ سعودی عرب و پی ایچ ڈی اسلامی قانون) نے اس فیصلے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے اس طرح کا ایک فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی دیا تھا اور اس پر بھی ہم نے یہی تبصرہ کیا تھا کہ جب عدالت ایک شخص کو ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ تسلیم کر رہی ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے زانی تسلیم کر رہی ہے۔
اس صورت میں شریعت اور پاکستان کے حدود لاز کے تحت اس شخص کو 100 کوڑوں اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں رجم کی سزا دی جانی چاہیے۔ اس شخص نے زنا کر کے معاشرے میں جو فساد پھیلایا اور ایک بے گناہ خاتون اور اس کے خاندان کو زندہ درگور کر دیا (زنا بالجبر کی صورت میں۔ اور اس کیس میں تو اس شخص نے بیوی کی بھتیجی کے ساتھ زنا کیا جس کے ساتھ نکاح حرام تھا، لہٰذا یہ زیادہ شفیع ہے)، تو اس کو تو آپ کوئی سزا نہیں دیتے اور نہ اس کے اس قبیح جرم کا ذکر کرتے ہیں، لیکن آپ کو بچے کے نان و نفقہ کی بہت فکر ہے (جسے ماں بھی پال سکتی ہے، نانا بھی، اور حکومت بھی اس میں مدد کر سکتی ہے)، کیونکہ مغرب کے انسانی حقوق کے چارٹر اور دیگر قوانین میں بچے کے حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن وہاں زنا جرم نہیں ہے۔
علماء کرام نے کہا کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ اس نام کی وہاں کوئی اصطلاح ہے۔ وہاں یا تو صحیح نکاح کی بات ہے یا نکاح کی عدمِ موجودگی میں زنا (خواہ وہ بالرضا ہو یا بالجبر) کی سزا کا ذکر ہے۔ ہمارے معزز جج صاحبان چونکہ مغربی قانون کے ماہر ہیں اس لیے وہ ’’بائیولوجیکل فادر‘‘ کو اصلی باپ کی جگہ سمجھ کے اسے بچے کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ قرآن و سنت، عربی زبان، اور فقہ و اصولِ فقہ میں عدمِ مہارت کی وجہ سے وہ فیصلے مغربی قانون کی روشنی میں کرتے ہیں، نہ کہ اسلامی احکام کے مطابق۔
پاکستان کے دینی عناصر کو چاہیے کہ اگر حکومت کی توجہ اس طرف نہیں ہے تو وہ اس طرح کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور قانون کے ساتھ شریعت کی تعلیم کا بھی ملک میں انتظام کریں اور موجود وکلاء اور ججز کی اسلامی شریعت میں ٹریننگ کا بھی اہتمام کریں تاکہ عدلیہ فیصلے اسلامی تعلیمات کے مطابق کر سکے۔
ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری جنرل)
۲۳ فروری ۲۰۲۶ء
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
گفتگو و نظرثانی : ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
انٹرویو : رفیق اعظم بادشاہ
رفیق اعظم بادشاہ:
آپ نے کچھ عرصے پہلے ذکر کیا تھا، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اگر کوئی شریعت ایپلیٹ بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دیتا ہے، تو وہ فیصلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں آپ ہی کی ایک اور تحریر پڑھ رہا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس میں یہ فرق آیا ہے کہ اتنے مہینوں تک اگر اس کیس کے اوپر کوئی سنوائی نہیں ہوتی تو وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی رہنمائی دیں کہ عائلی قوانین کے متعلق فیصلہ جو شریعت ایپلیٹ بینچ میں ابھی تک معلق ہے، کیا اس پر بھی 26ویں ترمیم کی اس شق کا اطلاق ہوگا، یا یہ مقدمہ پرانا ہے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے متعلق آئین کی دفعہ 203 ڈی، ذیلی دفعہ 2 میں جنرل ضیاء الحق نے 1984ء میں ایک شرط کا اضافہ کیا ۔ وفاقی شرعی عدالت بھی انھوں نے 1980ء میں بنائی، پھر اس شرط کا اضافہ بھی انھوں نے کیا کہ شریعت کورٹ کا فیصلہ تب نافذ ہوگا جب سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بینچ اس کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں کا فیصلہ کر لے، یعنی تب تک یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔
یہ دنیا میں شاید واحد مثال ہے۔ پاکستان میں تو بالکل واحد ہے، لیکن میرے علم کے مطابق دنیا میں کسی بھی عدالت کے فیصلے کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا کہ وہ فیصلہ کر لے اور اس کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل جائے تو نچلی عدالت کا فیصلہ ازخود معطل ہو جائے۔ اگر اعلی عدالت، جو سپریم کورٹ کا بینچ ہے، اس فیصلے کو معطل کر دے، تو وہ الگ بات ہے؛ لیکن صرف اپیل دائر کرنے پر ہی وہ معطل ہو جائے، تو یہ حیران کن بات ہے۔
سودی قوانین کے خلاف اپیلیں دیکھ لیں۔ شریعت کورٹ نے 2022ء میں پھر فیصلہ دے دیا۔ اس کے خلاف حکومت نے بھی اپیلیں کیں اور یونائیٹڈ بینک اور دیگر بینکوں نے بھی کیں، کچھ افراد نے بھی کیں۔ اب جو اپیلیں بعد میں حکومت نے واپس لے لیں، تو اس کے بعد بھی ایک اپیل بھی موجود ہے تو وہ فیصلہ معطل ہے۔
جب 26ویں ترمیم کا غلغلہ اٹھا تو میں نے اس پر لکھا بھی، اور کچھ دوستوں کے ذریعے جہاں تک میں بات پہنچا سکتا تھا وہاں بات پہنچائی بھی، کہ یہ جو شق ہے اس کو حذف کروائیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے بھی کوئی دو سال پہلے سینٹ میں اس شق کے خاتمے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا تھا، لیکن آئین میں ترمیم کا بل ایک فرد کی جانب سے آئے اس کا منظور کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کو تو کمیٹی کی سطح پر ہی انھوں نے روک دیا، ختم کر دیا۔ اب جب یہ 26ویں ترمیم کا مرحلہ آیا تو میں نے اس پر لکھا بھی، اور علماء کرام کی خدمت میں بھی پیش کیا، دیگر دوستوں کو بھی پہنچایا، کہ یہ شق ختم کروائیں۔
ترمیم کی جو آخری صورت ہوئی، اس میں یہ شق ختم تو نہیں ہوئی لیکن اس میں کچھ باتوں کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔ ایک یہ کہا گیا کہ جب شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ میں اپیل دائر ہو جائے، تو اس کا فیصلہ 12 مہینوں میں، یعنی ایک سال میں، کرنا ضروری ہے ۔ اگر ایک سال میں اس کا فیصلہ ہوا تو ٹھیک، ورنہ شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ یہ بہت اچھی بات ہوئی۔ چلیں کچھ پیشرفت تو ہوئی کہ اب ایک سال بعد ہی سہی، شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہوگا، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے معطل کر دے۔ ٹھیک ہے، اگر ایپلیٹ بینچ اس کو معطل کرنا چاہے تو وہ اس کا اختیار ہے، اس پر مجھے اعتراض نہیں ہے، کیونکہ اب سٹے دینے کے لیے ہی سہی عدالت کم از کم ایک دفعہ تو بیٹھے گی۔ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے سن کر ہی سٹے دے گی نا، ایسے تو نہیں دے گی۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے ڈنڈی یہ ماری ہے کہ اس کا اطلاق 26ویں ترمیم کے بعد دائر ہونے والی اپیلوں پر ہوگا ۔ پہلے سے دائر شدہ اپیلیں بدستور معلق رہیں گی۔
ہم نے اس پہ کام کیا تھا۔ شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف شریعت ایپلیٹ بینچ میں 1989ء میں دائر کی گئی اپیلیں بھی موجود ہیں، یعنی 35 سال پرانی اپیلیں۔ اسی طرح عائلی قوانین کا فیصلہ دسمبر 1999ء میں آیا، 25 سال سے بھی وہ معلق ہیں۔ اسی طرح سودی قوانین والی اپیلیں ہیں۔ یہ ساری اپیلیں معلق رہیں گی اور ان پر دیے گئے فیصلے بھی معلق رہیں گے۔ 26ویں ترمیم کا اطلاق ان اپیلوں پر ہوگا جو اس ترمیم کے بعد دائر ہوں گی۔ اب اگر شریعت کورٹ کوئی فیصلہ دے، اس کے خلاف اپیل آئے، اور 12 مہینوں میں شریعت ایپلیٹ بینچ اس کا فیصلہ نہ دے تو شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے معطل کر دے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
جب آپ سپریم کورٹ میں تھے تو قاضی صاحب نے بڑا زبردستی کر کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے کچھ مقدمات لگوائے۔ کوئی بندہ جیل میں تھا، فریقین کی صلح ہو گئی تھی ، اور اس کے باوجود بھی وہ پانچ سال جیل میں پڑا رہا۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
قاضی صاحبنے جب چیف جسٹس کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں، تو ابتدا سے ہی ان کی خواہش تھی کہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں سالہا سال سے معلق اپیلوں کا فیصلہ ہو۔ ابتدا میں مسئلہ یہ تھا کہ بینچ بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پہلے یہ اختیار چیف جسٹس کے پاس ہوتا تھا لیکن سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء) نے اس کے لیے کمیٹی بنائی۔ اس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں پر ابھی فیصلہ ہونا تھا۔
استاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی ان دنوں شریعت ایپلیٹ بینچ کے عالم رکن تھے۔ انھوں نے شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا مقدمات پر اپنا ایک تفصیلی نوٹ لکھا تھا۔ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہوا اور طے پایا کہ بنچ کی تشکیل اور اس کے سامنے مقدمات لگانے کا کام کمیٹی کرے گی، تو قاضی صاحب مجھے کہا کہ آپ غزالی صاحب کے اس نوٹ کی روشنی میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے سامنے معلق مقدمات کے بارے میں بریف تیار کر لیں۔ وہ تمام فائلیں ہم نے منگوائیں، پھر ڈاکٹر غزالی صاحب مرحوم کے مشورے سے اور ان کی رہنمائی میں میں نے اس پر کام کیا اور ہم نے ایک پوری فہرست ہم تیار کی کہ کُل ملا کر یہ کوئی 100 کے لگ بھگ مقدمات ہیں، لیکن ان میں مشترک سوال والے مقدمات کو ہم نے اکٹھا کیا، تو ان کی تعداد 30 تک آگئی۔ اگر ان 30 مقدمات کو سنا جائے، یہ سارے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے اس کے بعد اچانک ڈاکٹر غزالی صاحب کا انتقال ہوا (اللہ مغفرت فرمائے۔ رفیق) اور اس کے بعد نئے عالم رکن کی تعیناتی میں بھی وقت لگا۔ بالآخر جون میں استاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کی بطور عالم رکن تعیناتی ہو گئی ۔
جیسے میں نے عرض کیا، 15 جولائی سے کورٹ کی چھٹیاں ہوگئیں ، لیکن قاضی صاحب نے کہا کہ چونکہ وہ خود چھٹی نہیں کر رہے اور اسلام آباد میں وہ اور چند دیگر جج موجود ہیں، نیز شریعت ایپلیٹ بینچ کے دونوں ارکان بھی اب موجود ہیں، ڈاکٹر خالد مسعود صاحب پہلے سے تھے اور اب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب بھی ہو گئے، تو ہم یہ مقدمات سن سکتے ہیں۔ تاہم جب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تو اس میں باقی دو جج صاحبان کا خیال کچھ اور تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ مقدمات گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سنے جائیں۔ کافی بحث مباحثے کے بعد بالآخر یہ مان لیا گیا کہ چلیں ایک ہفتہ یہ سن لیں۔ یوں پھر ایک ہفتے کے لیے اگست میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے مقدمات سنے گئے۔ قاضی صاحب نے خود اس بینچ کی کی سربراہی کی، دو جج صاحبان اور دو عالم ارکان ان کے ساتھ ہوئے۔
شریعت ایپلیٹ بینچ میں دو طرح کی اپیلیں آتی ہیں: ایک تو حدود قوانین میں اگر شریعت کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے، تو اس کے خلاف اپیل آ جاتی ہے؛ اور دوسرا، اگر کسی قانون کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے، اس پر شریعت کورٹ کا فیصلہ آگیا، تو اس کے خلاف اپیلیں آجاتی ہیں۔ ہم نے دونوں طرح کے مقدمات لگائے۔ قدیم ترین اپیل جو کسی قانون کے خلاف تھی وہ 1989ء کی تھی بیگم رشیدہ پٹیل کیس کے نام سے۔ حدود قوانین میں یہ کہا گیا تھا کہ خواتین کی گواہی پر حد کی سزا نہیں دی جائے گی۔ بیگم رشیدہ پٹیل نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ شریعت کورٹ نے حدود قوانین کی ان شقوں کو برقرار رکھا تھا۔ بیگم رشیدہ پٹیل نے اس کے خلاف اپیل کی تھی۔ اس دوران میں ان کا انتقال ہو چکا ہے لیکن اپیلیں موجود ہیں۔ اسی طرح اس کیس میں زنا بالجبر کے متعلق شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ زنا کے بجاے حرابہ کی قسم ہے۔ اس کے خلاف بھی اپیلیں آئی تھیں۔ ہم نے چار دن ایسے مقدمات لگائے، پیر سے جمعرات تک۔ ان میں کورٹ فیس ایکٹ کے متعلق بھی اپیل تھی، 1992ء سے معلق تھی ۔ ظاہر ہے کہ ایسی اپیلوں کا فیصلہ ایک سماعت میں نہیں ہو سکتا۔ آپ نے دوسروں کو بھی سننا ہوتا ہے۔ تو نوٹس جاری کیے گئے۔ اس کے بعد اس کی سماعت کی نوبت نہیں آئی۔
البتہ جو دوسری قسم کی اپیلیں تھیں، فوجداری اپیلیں ، تو ان میں سے بھی روزانہ تین تین یا چار چار اپیلیں لگائی جاتی تھیں، ان کے فیصلے سنائے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ تھا جس میں فریقین کے درمیان صلح بھی ہو گئی تھی، ماتحت عدالت نے وہ صلح قبول بھی کر لی تھی، لیکن وہ صلح نامہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں پیش کرنا تھا کیونکہ مقدمہ یہاں زیر التوا تھا۔ یہاں شریعت ایپلیٹ بینچ ہے نہیں تو کہاں پیش کریں؟ تو 2019ء سے وہ بندہ جیل میں صرف اس وجہ سے پڑا رہا کہ شریعت ایپلیٹ بینچ نہیں ہے۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بھی سب کے سامنے برملا اعتراف بھی کیا کہ یہ ہماری جانب سے کوتاہی ہے، اس پر معذرت کی، پھر فیصلے میں بھی لکھا کہ یہ جو پانچ سال اس نے جیل میں گزارے ہیں یہ ہمارا قصور ہے، تو ان سے معذرت بھی کی۔ تو اس طرح کے مسائل ہمارے بہت سارے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم پہ رحم کرے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اچھا سر آپ کے خیال میں 26ویں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی؟ اور اسی طرح اس ترمیم میں سود کے حوالے سے بھی جو وقت دیا گیا ہے تو کیا وہ بھی حقیقت پر مبنی ہے؟ کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کا بھی ایک فیصلہ اس حوالے سے موجود ہے۔ ان دونوں باتوں میں آپس میں کیا فرق ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ زیادہ اہم بات تھی، یا اس ترمیم میں سود کے حوالے سے جو ٹائمنگ دی گئی وہ زیادہ اہم ہے؟ اور اسی طریقے سے کیا اس ترمیم میں اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے بھی کوئی بات کی گئی ہے؟ اس حوالے سے اگر آپ رہنمائی فراہم کریں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
26ویں ترمیم میں بہت ساری چیزیں ہیں، جیسے آپ نے ذکر کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کی بات ابھی ہم نے کی کہ اس کے فیصلے تو معلق رہتے تھے۔ اب اس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ 12 مہینے تک معلق رہیں گے۔ بارہ مہینے میں اگر ان کا فیصلہ نہیں ہوا تو وہ نافذ رہیں گے الا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ ان کے خلاف سٹے دے دے۔ البتہ اس کا اطلاق آئندہ اپیلوں پر ہوگا، پچھلی اپیلوں پر نہیں ہوگا۔ سودی قوانین سے متعلق اپیلیں چونکہ جو 26ویں ترمیم سے پہلے کی ہیں، تو وہ معلق ہی رہیں گی، اور شریعت کورٹ کا فیصلہ معلق رہے گا جب تک شریعت ایپلیٹ بینچ ان کا فیصلہ نہ کرے۔ تو اس فیصلے میں بھی ویسے جو پانچ سال کا ٹائم دیا گیا ہے، جو 2027ء تک ہے، اس لحاظ سے بھی یکم جنوری 2028ء کی تاریخ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
تاہم یہ یکم جنوری 2028ء والی بات پالیسی کے اصولوں والے باب میں لکھی گئی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پالیسی کے اصولوں والے باب کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ محض اقوالِ زریں ہیں کیونکہ اس باب میں جو اصول متعین کیے گئے ہیں اگر ان کی خلاف ورزی پر کوئی انتظامی حکم جاری کیا جاتا ہے، یا کوئی قانون سازی کی جاتی ہے، تو آپ اس کو عدالت کے ذریعے نہیں روک سکتے، یا اس کے خلاف عدالت میں نہیں جا سکتے۔ مثال کے طور پر اگر سود کے خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028ء کی تاریخ رکھی گئی ہے لیکن اگر حکومت اس کے خلاف جاتی ہے تو آپ حکومت کے اس اقدام کو عدالت میں نہیں چیلنج کر سکتے۔
لیکن یہ آدھی بات ہے، پالیسی کے اصولوں کی اپنی اہمیت بہرحال ہے کیونکہ اس باب میں یہ طے کیا گیا ہے کہ تمام حکومتی اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں پر گامزن رہیں، اور ان کے متعلق صدر اور گورنر پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ رپورٹیں بھی مرتب کرائیں کہ وفاق میں اور صوبے میں ان اصولوں پر کیا کام ہوا ہے اور کیسے جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عدالت میں نہ سہی لیکن پارلیمان میں، صوبائی اسمبلی میں، اور دیگر فورمز پر اس ضمن میں کوشش کی جا سکتی ہے، کی جانی چاہیے۔ بہرحال ریاست نے اپنے لیے ایک ہدف مقرر کر لیا ہے، اس حد تک یہ بات خوش آئند ہے، ہدف کے لیے ٹائم مقرر کر لیا، یہ بھی خوش آئند ہے، لیکن اس پر اب آرام سے بیٹھ نہیں جانا چاہیے، اب اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے، جاگتے رہنا چاہیے اور جگاتے رہنا چاہیے، اور مختلف جو فورم ہیں عدالت کے ماسوا، تو ان پر بات کرنی چاہئیں۔
عدالت کا فورم شریعت ایپلیٹ بینچ کی صورت میں موجود ہے، تو اس ضمن میں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپیلیں سنی جائیں۔ 26ویں ترمیم میں آئینی مقدمات کے لیے آئینی بینچ بنا دیا گیا ہے۔ میری رائے یہ تھی، اور یہ میں نے کئی علماء کرام تک اور دیگر دوستوں تک بھی پہنچائی، کہ جو شریعت کورٹ سے دو طرح کی اپیلیں آتی ہیں: (1) فوجداری اپیلیں (2) اور قوانین کے اسلامی احکام سے تصادم والی اپیلیں۔ تو فوجداری اپیلیں تو چلیں عام شریعت ایپلیٹ بینچ میں جائیں، لیکن قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں، گویا قانون جائز ہے یا ناجائز، یہ تو آئینی سوال ہے، اس لیے اس کو آئینی بینچ میں جانا چاہیے۔ اس لیے آئینی بینچ میں عالم جج کا ہونا ضروری ہے، یہ میری تجویز تھی۔ مزید یہ کہ چونکہ اسلام ہمارا دین ہے اور ہمارا آئین اسلامی ہے تو اس لیے بھی آئینی بینچ میں کسی عالم جج کا ہونا ضروری ہے تاکہ آئین اور قانون کی تعبیر و تشریح اسلامی اصولوں پر کی جا سکے۔ یہ باتیں بہرحال 26ویں ترمیم میں شامل نہیں ہیں۔ اگر آئندہ کوئی کوشش کی جاتی ہے 27ویں ترمیم کی تو اس مرحلے پر دیکھا جائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا آپ نے پوچھا تو اس کے حوالے سے دو اہم باتیں اس میں آگئی ہیں: ایک تو اسلامی نظریاتی کونسل کی جو سفارش یا رپورٹ پارلیمان میں جاتی ہے ، تو پارلیمان ان رپورٹوں کو دیکھتی نہیں ہے، حالانکہ آئین کی رو سے یہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان رپورٹوں پر، ان سفارشات پر غور کرے، اور ان کی روشنی میں قوانین میں تبدیلی کرے جہاں ضروری ہو، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اب انھوں نے اس میں شق شامل کر لی ہے کہ جب رپورٹ دے دی جائے تو ایک سال کے اندر اس کو زیر بحث لانا ضروری ہوگا۔ لیکن پھر سوال وہی ہوگا کہ اگر ایک سال میں زیربحث نہیں لایا گیا تو کیا ہوگا؟ تو وہاں پھر خلا ہے۔
دوسرا اہم کام یہ کیا گیا ہے کہ بعض اوقات پارلیمان کا کوئی ایوان، سینٹ، قومی اسمبلی، یا صوبائی اسمبلی، اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینے کے لیے سوال بھیج دیتی ہے کہ فلاں قانون، فلاں شق، شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ہے، آپ اس پر ہماری رہنمائی کریں۔ ایسی رہنمائی جب اسلامی نظریاتی کونسل ان کے پوچھنے پر دے تو کونسل کی رائے پر غور ان کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ ایسی رائے پوچھنے کے لیے پہلے کم از کم 40 فیصد ارکان کا ووٹ چاہیے تھا، اب اس کو ایک چوتھائی کر دیا گیا ہے، یعنی 25 فیصد۔ تو اب اگر صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینٹ کے صرف 25 فیصد ارکان قرارداد لے آئیں کہ یہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھنا چاہیے، تو اب وہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھا جائے گا، اور اگر وہ رائے دے تو اس رائے پر غور کرنا لازم ہوگا۔ یہ میرے نزدیک ایک اہم قدم ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اس کا مطلب کہ سیاستدان جو ہیں وہ اب یہ بہانہ نہیں بنا سکتے کہ ہم اپوزیشن میں ہیں اور ہم تھوڑے ہیں۔ پچیس فیصد ہی چاہیے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بالکل ۔۔۔ اچھا، یہ جو آپ نے سیاستدان کی بات کی، تو صرف چار امور ایسے ہیں جن میں سیاسی پارٹی کے منتخب اراکین اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتے: (1) وزیراعظم کا انتخاب کا مسئلہ ہو (2) یا عدمِ اعتماد کا ہو (3) یا بجٹ کا ہو (4) یا آئین میں ترمیم کا ہو، ان چار امور کے علاوہ باقی سارے امور میں وہ آزاد ہیں اور وہ ان میں اپنی پارٹی لائن کے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں ۔ اگر آپ کے پاس مثال کے طور پر بیس فیصد ارکان ہیں، تو آپ باقی پارٹیوں سے بھی، حتی کہ سرکاری پارٹیوں سے بھی چند افراد ملا کر پچیس فیصد کر سکتے ہیں، تو یہ ایک اچھا راستہ کھل گیا ہے (بالکل زبردست ایک اچھا راستہ کھل گیا ہے۔ رفیق) یعنی راستہ تو پہلے ہی سے موجود تھا لیکن ذرا مشکل تھا، پہلے آپ چالیس فیصد ارکان پورے کرتے، اب پچیس فیصد کرنے ہوں گے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
اچھا ایک مختصر سوال، کیا عدلیہ کو ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا اب بھی ایسا ہوتا ہے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
سیاست کی تعریف بھی متعین کرنی ہو گی، تو اس کے بعد اس سوال کا جواب آسان ہو جائے گا۔ اگر سیاست کا مطلب منہ زور گھوڑے کو لگام دینا ہے، جس سے سائس کا لفظ بھی نکلا ہے، تو سیاست تو پوری زندگی پر حاوی ہے، تو وہ عدالت پر بھی حاوی ہے۔ اور سیاست کا اگر کوئی مخصوص مفہوم ہے تو اس میں بھی یہ بات کہی جاتی رہی ہے، اور میں نے بھی کئی دفعہ لکھی ہے، بطور قانون کے طالب علم کے بھی میں کہا کرتا ہوں کہ دو طرح کے قوانین ایسے ہیں: (1) ایک بین الاقوامی قانون (2) اور ایک آئینی امور یعنی دستوری قانون، جن میں آپ قانون اور سیاست کو الگ نہیں کر سکتے۔ بس صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس میں سیاست کا عنصر کچھ زیادہ نہ آ جائے۔ تھوڑی بہت سیاست بین الاقوامی قانون میں بھی ہمیشہ ہوتی ہے، اور تھوڑی بہت سیاست دستوری قانون میں بھی ہمیشہ ہوتی ہے۔ بس ججوں کو فیصلہ آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اسی کا انھوں نے حلف اٹھایا ہوا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے اور آئین کو برقرار رکھیں گے، اس کا دفاع کریں گے، اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ ان پر لازم ہے۔ باقی ناقدین تو کہتے رہیں گے اور کسی حد تک اس تنقید میں وزن بھی ہوگا کہ یہاں سیاست زیادہ تھی، قانون کم تھا، وہاں قانون زیادہ تھا سیاست کم تھی، یہ سلسلہ تو جاری رہے گا۔
رفیق اعظم بادشاہ:
سر، موضوعات تو بہت زیادہ ہیں اور آپ سے سوالات بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن وقت کی تنگی کے باعث آج ہم اس کو ختم کرتے ہیں، اس وعدے کے ساتھ کہ مستقبل میں آپ ہمیں اپنے علم سے استفادہ کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
ان شاء اللہ میری بھرپور کوشش ہو گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے اور مزید بھی اس پر ہم ان شاء اللہ، جو مجھ سے ہو سکتا ہے، میں ضرور کروں۔
رفیق اعظم بادشاہ:
بہت شکریہ سر۔
https://youtu.be/PXcGGfZugQo
سپریم کورٹ میں تعیناتی کا پہلا دن تھا اور بہت ہی مصروف دن تھا کیونکہ قاضی صاحب نے پہلے دن ہی فل کورٹ کا اجلاس بلایا اور پھر اسی دن فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق درخواستوں کی سماعت شروع کی جو رات تک جاری رہی اور پی ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔
اس مصروفیت کے دوران میں جب کچھ دیر کےلیے دفتر آیا، تو سپریم کورٹ کے عملے کے کچھ سینیئر افراد آئے ہوئے تھے جو مجھ سے پوچھنا چاہ رہے تھے کہ میں سرکاری گاڑی لوں گا یا اپنی گاڑی استعمال کروں گا؟ اور سرکاری ڈرائیور لوں گا یا خود گاڑی چلاؤں گا؟ میں نے پوچھا کہ قانون کیا کہتا ہے کہ سرکاری گاڑی کون لے سکتا ہے اور کن شرائط پر؟ انھوں نے مختصر جواب دیا کہ سرکاری گاڑی تو سب افسران لے سکتے ہیں اور وہی معمول کے شرائط ہیں۔ میں نے کہا کہ گاڑی کے استعمال کے متعلق رولز مجھے دیں اور اگر کوئی پالیسی ہو، تو وہ بھی دیں۔ میں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو بتاسکوں گا کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ یہ بات ان کےلیے تھوڑی حیران کن تھی، لیکن انھوں نے مذکورہ رولز اور پالیسی دینے کا وعدہ کیا۔
اگلے دن مجھے میرے پرسنل اسسٹنٹ نے رولز اور پالیسی کی نقول دے دیں، لیکن مجھے اس دن بھی مطالعے کا موقع نہیں مل سکا کیونکہ اس دن بھی سماعت شام تک جاری رہی اور اس دوران میں قاضی صاحب نے جیوڈیشل اکیڈمی کے علاوہ ان جامعات کے متعلق کام سونپ دیا جن کے بورڈ کے وہ رکن تھے (قائد اعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی)۔ اگلے چند دن بھی موقع نہیں مل سکا کیونکہ جیوڈیشل کمیشن اور سپریم جیوڈیشل کونسل کا اجلاسوں کی تیاری بھی شروع ہوگئی اور ہفتے کے اختتام سے قبل قائد اعظم یونیورسٹی کے بورڈ کا اجلاس بھی بلایا گیا۔
ویک اینڈ پر مجھےموقع ملا اور میں نے پڑھا، تو معلوم ہوا کہ کئی برسوں سے سرکاری پالیسی یہ ہے کہ سرکاری افسران سرکاری گاڑی نہ لیں اور اس کی جگہ ان کو تنخواہ میں اضافی رقم دی جائے (اسے "مونیٹائزیشن" کہتے ہیں، یعنی سرکاری گاڑی کے استعمال کا حق چھوڑ کر اس کے عوض میں رقم لینا)۔ پالیسی میں اسے لازمی قرار دیا گیا تھا، یعنی سرکاری افسران کو یہ اختیار دیا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ چاہیں تو یہ لیں، چاہیں تو وہ لیں، بلکہ ان پر لازم کیا گیا تھا کہ وہ سرکاری گاڑی نہ لیں اور اس کی جگہ یہ رقم لیں۔ اس کو لازم کرنے کا سبب یہ ذکر کیا گیا تھا کہ سڑکوں پر سرکاری گاڑیاں کم سے کم نظر آنی چاہئیں۔
کئی سالوں سے رائج اس پالیسی کے باوجود سڑکوں پر سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی تھی۔ میں نے متعلقہ افسران کو بلا کر ان سے کہا کہ یہ پالیسی تو لازمی ہے، تو آپ کیسے رہے تھے کہ میں سرکاری گاڑی لے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں، یہ لازمی تو ہے لیکن آپ چاہیں تو لے سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر لازمی ہے، تو پھر چاہیں تو لے سکتے ہیں کا کیا مطلب ہوا؟ انھوں نے کہا کہ کئی دیگر افسران نے بھی لی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے؟ تو معلوم ہوا کہ چیف جسٹس کو رولز میں تخفیف کا اختیار ہے، اس لیے بعض مخصوص حالات میں وہ تخفیف کرکے کسی کو سرکاری گاڑی لینے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اچھا تو مجھے بھی آپ یہی تجویز کررہے تھے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں، اگر آپ سرکاری گاڑی لینا چاہتے ہیں تو ہم چیف جسٹس کو ایک نوٹ "پٹ اپ" کریں گے اور وہ اجازت دیں، تو آپ گاڑی لے سکیں گے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اپنے لیے کوئی خصوصی اجازت نہیں لوں گا، میری اپنی گاڑی ٹھیک ہے۔
ویسے بھی قاضی صاحب کے ساتھ کام کرنے میں تو دن اور رات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا اور بہت کم ایسا ہوا کہ میں رات 8 بجے سے پہلے گھر پہنچا ہوں، بعض اوقات 10 اور 11 بھی بج جاتے، چھٹی کا بھی کوئی تصور نہیں تھا اور بعض اوقات اتوار کے دن بھی ہم کام کرتے تھے۔ ایسے میں اگر کہیں رات گئے یا چھٹی کے دن کسی نے سرکاری گاڑی استعمال کرتے ہوئے دیکھا، تو یہ سوچے بغیر اور معلوم کیے بغیر کہ رات کے وقت یا چھٹی کے دن سرکاری کام سے دفتر یا سرکاری کام ختم کرکے گھر جایا جاسکتا ہے، ایک اچھا خاصا سکینڈل بنایا جائے گا، اور شریعت کا حکم ہے کہ "مواضعِ تہمت" سے بچا جائے، یعنی ان جگہوں اور ان کاموں سے گریز کیا جائے جن سے خواہ مخواہ لوگوں کو بدگمانی ہوتی ہے۔
اس لیے میں نے سرکاری گاڑی لینے سے انکار کیا اور بعد میں اگر کسی وقت میری گاڑی دستیاب نہ ہوتی، یا ورکشاپ میں ہوتی، اور مجھے جلدی میں سرکاری گاڑی لینے کی ضرورت پڑتی، تو باقاعدہ فارم بھر کر گاڑی لی اور اس کے استعمال کے عوض میں تنخواہ سے کٹوتی کروائی۔
البتہ ڈرائیور میں نے سرکاری لیا کیونکہ ایک تو میں ڈرائیونگ کی زحمت سے بچنا چاہتا تھا اور دوسرے عموماً صبح دفتر جاتے ہوئے راستے میں قاضی صاحب کے ساتھ فون پر بات چیت ہوتی یا پیغامات کا تبادلہ ہوتا یا وہ مجھے کچھ کام سونپتے یا میں انھیں ایسی اطلاع دیتا جو عدالت میں جانے سے قبل ضروری ہوتی۔ نیز بے انتہا دفتری مصروفیت کی وجہ سے گاڑی کا خیال رکھنا اور وقتاً فوقتاً ورکشاپ لے جانا بھی میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ سرکاری ڈرائیور لینے کی اجازت رولز اور پالیسی میں تھی اور اس کے عوض پالیسی کے مطابق میری تنخواہ میں کچھ حصہ کٹ جاتا تھا۔
یہ تفصیلات خود نمائی کےلیے نہیں، بلکہ اس لیے ذکر کیں کہ ایک تو سرکاری گاڑی کے استعمال کے متعلق لوگوں کو کچھ بنیادی باتوں کا علم ہوجائے، دوسرے یہ بھی معلوم ہو کہ ہمارے افسران کیسے خود بھی رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نئے آنے والوں کو بھی اس کی لت لگاتے ہیں، اور تیسرے یہ بھی واضح ہو کہ "دفتری اوقات کے بعد" سرکاری گاڑی کا استعمال ہمیشہ ناجائز نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات سرکاری کام کےلیے ہی اس کی واقعی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
facebook.com/share/p/1Ca9cwxE5v
(مکمل)
ذاتی دفاع اور اس کے نتائج
عرفان احمد خان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم۔ عرفان خان آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ آج جس موضوع پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں وہ ہے Self Defense اور اس کے Consequences (ذاتی دفاع اور اس کے نتائج)۔
سب سے پہلے تو یہ بات آپ سمجھ لیں کہ ذاتی دفاع ہوتا کیا ہے۔ ذاتی دفاع یہ ہوتا ہے کہ آپ پُر امن ہیں، آپ پر کسی نے غیر قانونی طور پر بلا وجہ بلا اشتعال حملہ کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے آپ اپنا دفاع کرتے ہیں، اس کو ذاتی دفاع کہتے ہیں۔ یہ تو موٹی سی ڈیفینیشن ہے سیلف ڈیفنس کی۔ اب قانون کی کتابوں میں، عملی زندگی میں، اور عدالتوں میں اِس کو کس تناظر میں لیا جاتا ہے اور اعلیٰ عدالتوں نے اس کی ڈیفینیشن کس حد تک ریفائن کی ہے، اس کو سمجھنے کے لیے دو تین چیزیں آپ نے ذہن میں رکھنی ہیں۔
اس کے لیے میں آپ کو ایک مثال دے دیتا ہوں کہ ایک شخص ڈنڈے کے ساتھ آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے، للکارتا ہوا کہ میں اس کو نہیں چھوڑوں گا، اور آپ اپنا دفاع کرنے کے لیے پستول نکال کر اس پر فائر کر کے اس کو مار دیتے ہیں۔ یہ سیلف ڈیفنس نہیں کہلاتا۔ ذاتی دفاع کو متناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک شخص آپ کو گالی نکالے اور آپ اس کا دانت توڑ دیں۔ ایک شخص خالی ہاتھ آپ کو صرف للکارے اور آپ اس کی ٹانگ توڑ دیں۔ سیلف ڈیفنس میں بیلنس ہونا چاہیے، اور بیلنس ان حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک شخص آپ پر ڈنڈے سے حملہ آور ہوتا ہے اور آپ اپنے ذاتی دفاع میں ڈنڈے سے ہی اس کو جواب دیتے ہیں، یا پاس پڑی ہوئی کسی ایسی ہی چیز سے (جو تیز دھار نہ ہو) آپ اس کو جواب دیتے ہیں، یہ سیلف ڈیفنس کہلاتا ہے۔
اب اس حوالے سے طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے تو آپ نے اس کو روکنے کی کوشش کرنی ہے۔ عدالت میں آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ میں نے پہلے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رکا نہیں۔ کیونکہ وہ رک نہیں رہا تھا، اگر میں اپنا دفاع نہ کرتا تو جو ضرب اُس کو لگی ہے وہ ضرب اس سے زیادہ سنگین نوعیت سے مجھے لگ سکتی تھی۔ اگر آپ یہ ثابت کر دیتے ہیں تو پھر آپ کا ذاتی دفاع تسلیم ہو گا اور آپ ایک معصوم شہری تصور ہوں گے، آپ مجرم نہیں قرار پائیں گے۔ آپ کے اوپر لگا الزام عدالت ختم کر دے گی کہ اِس شخص نے ہر لحاظ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حملہ آور، جو زخمی یا مقتول ہوا تھا، جس انداز سے وہ حملہ آور ہوا تھا، اس میں اس طریقے سے اس کو روکنے کی کوشش کی گئی، جب وہ نہیں رکا تو پھر ذاتی دفاع کی خاطر اِس نے یہ اقدام کیا، اگر وہ یہ اقدام نہ کرتا تو جو ضرب زخمی کو یا مقتول کو لگی ہے وہ اِس کو لگ سکتی تھی۔ چنانچہ سیلف ڈیفنس میں آپ نے یہ چیزیں بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت کرنی ہیں۔
اب ایک سوال جو مجھے آیا ہے کہ سیلف ڈیفنس (کے مقدمہ) میں جو حملہ آور ہے اُس کو کس حد تک فائدہ ہو سکتا ہے، یا کس حد تک نقصان ہو سکتا ہے؟
- نقصان تو اس حد تک ہو سکتا ہے کہ دوسرا بندہ اگر اپنا ذاتی دفاع ثابت کر گیا کہ ’’حملہ آور یہ ہے اور میں نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے اس کو روکا‘‘، تو نقصان حملہ آور کا ہے کہ اس کو اپنی لگی ہوئی چوٹ کا کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ یہی تصور ہو گا کہ یہ چوٹ تمہارے اقدام کی وجہ سے تمہیں لگی ہے۔
- فائدہ تب ہو گا جب حملہ آور یہ ثابت کر دے کہ ’’میں نے حملہ نہیں کیا، حملہ اُس نے ہی کیا ہے، اگر میں نے حملہ کیا ہوتا تو اس کو بھی کوئی چوٹ آتی، اُس کو کوئی چوٹ نہیں آئی، چوٹیں ساری مجھے آئی ہیں‘‘۔ یا مقتول کے جو گواہان ہیں، وہ یہ ثابت کر دیں کہ ’’جناب اس کو تو خراش تک نہیں آئی اور مقتول مر گیا ہے‘‘، تو پھر اس کا فائدہ مقتول پارٹی کو ہو گا، اور جو قاتل پارٹی ہو گی اس کو سزا ملے گی۔
امید کرتا ہوں کہ سیلف ڈیفنس (ذاتی دفاع) کے حوالے سے جو میرے پاس معلومات تھیں وہ بتا دی ہیں۔
ٹرمپ کی غزہ مجلسِ امن — کیا عالمی نظام بکھر رہا ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
سوئٹزرلینڈ میں برف سے ڈھکے چھوٹے سے قصبے ڈاؤس میں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کا میلہ لگتا ہے۔ جہاں بنیادی طور پر دنیا بھر سے کوئی دو ڈھائی ہزار معاشی ماہرین، بڑے صحافی، سیاست داں اور مفکرین جمع ہوتے ہیں۔ ان کو اور ان کے ذریعہ ساری دنیا کو امریکی ماہرین معیشت، صنعت کار، تاجر اور بینکار اور سیاسی لیڈران اپنے اکیڈمک بیانوں، انٹرویوز، اور نرم معاشی تجزیوں سے خوبصورت انداز میں اپنا نیا بیانیہ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان کو ٹھنڈے ٹھنڈے امریکی معاشی غلامی کا پاٹھ پڑھاتے ہیں۔ ڈاؤس میں ہونے والے مباحثوں کی گرچہ کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی مگر عملاً دنیا کو رُول ڈاؤس میں بننے اور ڈیولپ ہونے والی امریکی معاشی پالیسیاں ہی کرتی ہیں۔
جنگ عظیم دوم کے بعد کی دنیا کو بڑے پانچ فاتحین نے اپنے منطقہائے اثر کے لحاظ سے باہم بانٹ لیا تھا۔ اور اقوام متحدہ کی صورت میں ایک جعلی نظام قائم کر دیا تھا جس کے تحت ساری دنیا کو چلایا جا رہا تھا۔ یو این او کا ادارہ انہی پانچ بڑوں کی اجارہ داری میں چل رہا تھا۔ مگر اب بدلے ہوئے حالات میں فرانس اور برطانیہ تیزی سے اپنا رُول کھو رہے ہیں۔ چین اور روس چونکہ امریکہ بہادر کے لیے چیلنج بن رہے ہیں اس لیے اب امریکہ کو ان دونوں ممالک کی خودسری راس نہیں آ رہی ہے۔ وہ ان کے ساتھ سودے بازی کی کوششیں برابر کر رہا ہے جس میں ابھی کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ دوسری طرف اسے اقوام متحدہ کا وجود بھی کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اس لیے وہ یو این او کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یو این او نے ہمیشہ ہی اس کے مفادات پورے کیے ہیں، اور جب نہیں کیے تو امریکہ نے اسے بائی پاس کرنے میں ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں لگائی۔ اس نے عراق، لیبیا، اور افغانستان پر یک طرفہ حملے کرکے ان کو برباد کر دیا۔ اسی طرح روس بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں رہا اور اس نے بھی مختلف بہانوں سے یو این کو بائی پاس کرکے یک طرفہ اقدام کیے۔ مثلاً شام پر بمباری اور اس کے بعد یوکرین پر حملہ۔
اب امریکہ بہادر ٹرمپ کی نرگسی قیادت میں یو این کی بساط لپیٹ دینا چاہتا ہے۔ وہ ناٹو سے نکل چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے 60 سے زیادہ ذیلی اداروں سے نکل گیا ہے۔ اسرائیلی دہشت گرد وزیر اعظم بنجامین نتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دینے والے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس پر اس نے پابندی لگا دی۔ اور اب ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جس سے یو این او کی نفی ہوتی ہو۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس جن کی مدتِ عہدہ اب ختم ہو رہی ہے اور جو فلسطین کے حق میں اپنی کمزور سی آواز بلند کرتے رہے ہیں، ان کو سزا دینے کے لیے ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بالکل کالعدم کرنے کے لیے ایک نئی مجلسِ امن کا اعلان کیا، جس کو بظاہر غزہ امن بورڈ کا نام دیا ہے اور جس میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف سربراہانِ مملکت کو دعوت دی ہے۔ اس نئے پلیٹ فارم کا باضابطہ اعلان انہوں نے ڈاؤس میں کیا اور اس کے مسودے پر دستخط کیے۔ اس کی رکنیت کے لیے اربوں ڈالر کی فیس رکھ دی۔ اس میں اب تک صرف 14 ممالک شریک ہوئے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر تو ٹرمپ کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے گئے ہیں اور بعض عرب اور مسلم ممالک نے اس لیے شرکت کی ہامی بھر لی ہے کہ ان بے چاروں کو فلسطینیوں کی اسرائیل کے ہاتھوں بے محابا خوں ریزی کو روکنے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں سوجھا۔ کیونکہ اور طریقوں میں ہمت اور شجاعت کی ضرورت ہے جو فی زمانہ ان غریبوں میں عنقا ہو چکی ہے۔
؏ حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
ہر ملک میں ایک ڈیپ اسٹیٹ ہوتی ہے۔ ڈیپ اسٹیٹ سے مراد ریاست کے اندر موجود ایسے بااثر اور جڑ پکڑے ہوئے عناصر یا طاقت کے مراکز کا مبینہ نیٹ ورک ہے جو فوج، خفیہ اداروں، بیوروکریسی، عدلیہ یا معاشی اشرافیہ پر مشتمل ہو سکتا ہے، اور جو اس بات کا حامل سمجھا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی منتخب حکومت کے برسرِ اقتدار ہونے سے قطعِ نظر قومی پالیسی پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے پائیدار اور پسِ پردہ طاقت کے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنے تزویراتی مفادات اور ادارہ جاتی تسلسل کو ترجیح دیتا ہے اور بعض اوقات عوام کے سامنے جواب دہ سیاسی قیادت کے فیصلوں کی مزاحمت کرتا یا انہیں اپنی سمت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض سیاق و سباق میں امریکہ جیسے ممالک میں یہ اصطلاح سیاسی مباحث میں نسبتاً وسیع، اور کبھی تجزیاتی تو کبھی سازشی انداز میں بروئے کار لائی جاتی ہے، جہاں اس سے مراد غیر منتخب عناصر کا نظامِ حکمرانی پر دیرپا اثر و کنٹرول لیا جاتا ہے۔
تاہم امریکہ کو اس معاملہ میں ایک استثنا حاصل ہے، وہ یہ ہے اس کی ڈیپ اسٹیٹ اندر اور باہر دونوں جگہ ہے۔ بیرون میں اسرائیل ہی امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ ہے جس کو نظر انداز کرنا کسی بھی امریکی صدر کے لیے ممکن نہیں ہوتا، چاہے وہ رپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ۔ اور اندرون میں وہ طاقتور صیہونی لابی جو امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) وغیرہ گروپوں کے ذریعہ کام کرتی ہے جس کے ممبران سینکڑوں صیہونی بلینائرز ہیں جو کروڑوں ڈالرز کا چندہ دونوں پارٹیوں میں صدارتی امیدواران کو دیتے ہیں اور ان کے ذریعہ اسرائیل کے مفادات پورے کراتے ہیں۔
شرقِ اوسط میں اسرائیل کو چیلنج دینے والی کسی بھی ریاست کا ناطقہ بند کرنا اس لابی کا پرانا کھیل رہا ہے۔ فی الحال ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا صرف اور صرف اسرائیل کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔ ایران پر 16 قسم کی شدید اقتصادی پابندیاں امریکہ نے لگا رکھی ہیں جن کی وجہ سے ایرانی معیشت برباد ہو چکی ہے۔ یورپی منافقت بھی کھل کر سامنے آگئی جب یورپی یونین نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، اور وہ بھی اس وقت جب امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ حالانکہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ختم ہو چکا ہے۔ وہ کبھی بھی امریکہ یا یورپ کے لیے ڈائرکٹ خطرہ نہیں تھا۔ روس اور چین ابھی بظاہر خاموش ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کی نفی سے ان کے بھی مفادات پورے ہوتے ہوں۔ مگر ایران پر حملے سے ان کے معاشی مفادات بھی خطرے میں پڑیں گے اس لیے ان کو کھل کر سامنے آنا چاہیے۔ اگرچہ وہ دونوں براہ راست امریکہ سے تصادم کبھی مول نہیں لیتے، مگر ایران کو انہوں نے نہ بچایا اور وینیزویلا کی طرح واویلا کرکے رہ گئے تو کل امریکہ ان کو براہ راست اٹیک کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ کیونکہ نرگسی مزاج ٹرمپ دنیا میں اپنا کوئی حریف نہیں دیکھنا چاہتے۔
بہرکیف اب آتے ہیں اس موضوع پر کہ ٹرمپ اپنے اس امن بورڈ سے کیا کرنے والے ہیں؟
غزہ امن بورڈ: امید یا حقیقت؟ ایک تجزیہ
حماس نے ایک ایک کرکے سبھی زندہ یا مردہ اسرائیلی یرغمالی اسرائیل کو سونپ دیے۔ اس کے بعد غزہ کے لوگوں کو اور باقی سبھی دنیا کو بے صبری سے انتظار تھا کہ کب جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ اسرائیل مسلسل لیت و لعل سے کام لیتا آرہا تھا، لمبی مدت گزرنے کے بعد اب جا کر امریکی صدر نے اس سلسلہ میں نئی پیش رفت کی ہے اور غزہ امن بورڈ کی تشکیل کی ہے۔ ڈاؤس ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی سیاست میں یہ نیا تصور سامنے آیا ہے جسے "غزہ امن بورڈ" (Board of Peace) کہا جاتا ہے، جسے مغربی دنیا کی قیادت میں غزہ کی پٹی کی جنگ بندی، امن برقرار رکھنے، سیکیورٹی اور انتظامی امور کے لیے ایک بین الاقوامی عارضی ادارہ کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں ہم اس پر سرسری سی روشنی ڈالتے ہیں تاکہ قارئین آسانی سے سمجھ سکیں کہ یہ بورڈ کیا ہے، کیسے قائم ہوا، اس کے مقاصد کیا ہیں، اس کے فائدے و نقصانات کیا ہو سکتے ہیں، اور اسے درپیش اہم سیاسی و عملی چیلنج کیا ہیں۔
۱۔ امن بورڈ کا پس منظر اور قیام
ویسے تو غزہ امن بورڈ کا تصور اِس سال کے وسط میں سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے 20 نکاتی امن منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا حصہ یہ تھا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے، جس کی نگرانی ایک عالمی ادارہ یعنی "Board of Peace" کرے گا۔
اس پلان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 کے تحت منظور بھی کیا، جس میں بورڈ آف پیس کو غزہ کے عارضی انتظام و انصرام کے لیے قانونی طور پر تسلیم شدہ ادارہ قرار دیا گیا۔ اس قرارداد کے تحت بین الاقوامی امن فورس (ISF) کو بھی عارضی طور پر غزہ کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
بورڈ آف پیس کا مینڈیٹ فی الحال دو سال کے لیے طے کیا گیا ہے، جس کی مدت قرارداد میں درج ہے۔ یہ ادارہ غزہ کی تعمیر نو، امدادی انتظامات، سیکیورٹی ڈھانچے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
۲۔ ارکان اور قیادت میں کون شامل ہے؟
امن بورڈ کے ابتدائی ارکان میں بعض عالمی سیاسی رہنما، سابق سربراہانِ مملکت، بین الاقوامی شخصیات اور دیگر فیصلے ساز شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ، امریکی نمائندے، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، اور دیگر بین الاقوامی شخصیات کا نام سامنے آیا ہے۔ اور اس امن بورڈ کی صدارت صدر ٹرمپ بذات خود کریں گے۔ اور ویٹو کے تمام اختیارات بھی انہوں نے اپنے ہی پاس رکھے ہیں۔ اس کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں فلسطینی نمائندگی بالکل نہیں ہے۔ ابتدائی فہرست میں عملی طور پر کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں دکھائی دیتا۔ جبکہ بورڈ دنیا بھر کے لیڈروں پر مشتمل ہے، صرف یہی نہیں بلکہ غزہ کے قاتلوں کو بھی اس میں جگہ دے دی گئی ہے۔
۳۔ بورڈ کے اہداف و مقاصد
کیا امن بورڈ صرف غزہ کو سیکیورٹی دینا چاہتا ہے؟ مبینہ طور پر اس کے مقاصد درج ذیل بڑے نکات پر مبنی ہیں:
جنگ بندی کا نفاذ
غزہ میں خونی تصادم کے بعد مستقل جنگ بندی کو برقرار رکھنا، تاکہ مزید خونریزی نہ ہو۔ اس شق کے تحت بہت سے امریکی فوجی غزہ میں تعینات ہیں مگر وہ اسرائیل کے غزہ والوں پر روز روز کے حملوں سے بالکل صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں، تو ابھی سے ظاہر ہے کہ وہ غزہ کو کیسی سیکیورٹی دیں گے؟
سیکیورٹی اور امن فورس
بین الاقوامی سیکیورٹی فورس ISF کے تحت غزہ میں امن اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا، بشمول عسکریت پسندوں کی غیر مسلح کاری۔ یعنی حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا۔ اس کے لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ کچھ مسلم ممالک اپنی فوج بھیج کر یہ کام کریں۔ مگر اسرائیل اس کے لیے ترکی اور پاکستانی فوج کو نامنظور کر چکا ہے۔ البتہ انڈونیشیا نے اپنے کچھ فوجی بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ زبانی یہ ممالک کہہ رہے ہیں کہ وہ حماس سے اسلحہ لینا جیسا کوئی کام نہیں کریں گے، مگر جب ایک بار آپ ٹریپ میں آگئے تو اس کے نتائج سے کیسے بچ پائیں گے؟
انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا
تبدیلی کے دوران نئی ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی کو انتظامی امور سونپنا، اور بعد میں اصلاح و ترمیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کو بتدریج اس کا نظم سونپنا۔ جبکہ اسرائیل اس شق کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔
تعمیر نو اور معیشت
بنیادی سہولیات جیسے پانی، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے بین الاقوامی فنڈز اور منصوبے ترتیب دینا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اصل پیسہ ثروت مند عرب ملکوں سعودی عرب اور یو اے ای و قطر وغیرہ سے لیا جائے گا۔ مگر اس کی کیا ضمانت ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرکے یہ ممالک تعمیرِ نو کریں اور اسرائیل پھر بمباری کرکے اس کو برباد نہ کر دے؟
۴۔ مثبت دعوے اور حکومتی موقف
بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے، جیسے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر اور اردن وغیرہ۔ پاکستان نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ اس کا مقصد پائیدار امن، انسانی امداد اور غزہ کی تعمیر نو ہے، نہ کہ کسی سیاسی مفاد کو تقویت دینا۔ پاکستانی حکومتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کی مدد، امن و استحکام اور انسانی بنیادوں پر اقدامات ہے، اور اس سے علاقے میں مستقل جنگ بندی کا نفاذ ممکن ہوگا۔ بظاہر پاکستان کا خیال ہے کہ وہ حماس یا دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے کام میں تعاون نہیں کرے گا۔ لیکن اگر اس کی فوج ایک بار وہاں جاتی ہے تو کیا اس کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ امریکی احکامات کی خلاف ورزی کرے؟
۵۔ تنقید اور خدشات
امن بورڈ کے بارے میں بعض اہم تنقیدیں نہایت اہم اور قابلِ غور ہیں:
فلسطینی نمائندگی کا فقدان
غزہ کے عوام خود اپنے اداروں اور قیادت کو منتخب کرنے کے مختار نہیں رکھے گئے، اور عالمی بورڈ میں ان کی حقیقی شمولیت مشکل محسوس ہوتی ہے۔
خود مختاری اور مستقبل کی سیاست
اگر بورڈ سیکیورٹی، انتظام اور فنڈنگ کنٹرول کرے، تو سوال اٹھتا ہے کہ فلسطینیوں کی اصلی خود مختاری، سیاسی آزادی اور دو ریاستی حل کہاں سے آئے گا؟ یہ خدشہ بہت سے حلقوں میں واضح ہے۔ اور اسرائیل اس پر بضد ہے کہ حماس تو حماس، غزہ کی آبادکاری میں فلسطینی مقتدرہ کا بھی کوئی رُول نہیں ہو گا۔
غیر واضح مدت اور شرائط
دو سال کی مدت کے بعد کیا ہوگا؟ فلسطینی اتھارٹی کا مؤثر انتظام کب شروع ہوگا؟ یہ واضح نہیں ہے اور اس پر سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔
مقامی حمایت کا مسئلہ
جو بورڈ قائم کیا جا رہا ہے کیا اس کو غزہ کے عوام قبول کر لیں گے؟ یہ ایک سوال ہے، کیونکہ مقامی مزاحمتی قوتوں اور عام عوام کی توقعات مختلف ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ تعمیرِ نو کا مطلب کیا ہے؟ دنیا کے لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ اہل غزہ کو ہی تعمیرِ نو کے بعد اس میں آباد کیا جائے گا، مگر بعض تبصرہ نگار کہہ رہے ہیں کہ امریکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں کہ وہ غزہ کے ساحل پر بیچز بنائیں، تفریح گاہیں قائم کریں، ریستوراں بنائیں، ہوٹل تعمیر کریں اور ایک جدید ریویرا وہاں ابھر کر آجائے۔ ظاہر ہے کہ اس سب میں لٹے پٹے فلسطینیوں کے لیے جگہ کہاں ہو گی؟
۶۔ مجموعی انداز اور مستقبل کیا ہے؟
غزہ امن بورڈ ایک عالمی فریم ورک کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کا مقصد یہ دکھایا جا رہا ہے کہ غزہ کو امن و استحکام کی راہ پر لایا جائے۔ تاہم، اب تک جو خاکہ سامنے آیا ہے وہ زیادہ تر انتظامی، سیکیورٹی اور تکنیکی کردار تک محدود نظر آتا ہے، غزہ کی حقیقی سیاسی آزادی یا خود مختاری کے سوالات ابھی بھی حل طلب ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ امن بورڈ ایک عبوری انتظامی ادارہ کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، جس میں فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، مقامی نمائندگی، سیاسی حل اور دیرپا امن کے حقیقی عوامل کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھی حل طلب اور تشنۂ جواب ہیں۔
غزہ امن بورڈ کے مقاصد بظاہر بڑے بتائے گئے ہیں: امن، انسانی امداد، تعمیر نو اور سیکیورٹی کا قیام۔ مگر عملی طور پر اس کے اثرات، مقبولیت، اور مستقل سیاسی حل کے بغیر یہ منصوبہ شاید صرف ایک عارضی انتظامی ڈھانچہ ثابت ہو، نہ کہ حقیقی امن و آزادی کا ذریعہ۔ چنانچہ فلسطینی اسکالر محسن محمد صالح اس امن بورڈ کے خطہ میں پڑنے والے کئی سیاسی سیناریوز کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خلاصہ کرتے ہیں:
"بہرحال، امن کونسل کے اپنے وجود کے اندر ہی ناکامی کے کئی بیج موجود ہیں اور یہ ایک نئی طاقت کی کشمکش کے لیے میدان ہموار کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو فلسطینی آزادی کی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، مگر اس بار مختلف ذرائع اور طریقوں کے ساتھ۔ یوں یہ ادارہ دراصل ایک 'بحران کے انتظام' کی کونسل کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ اور درمیانی مدت میں اس کے بکھر جانے کا خدشہ برابر رہے گا۔ کسی زور دار یا ڈرامائی انہدام کے ذریعے نہیں بلکہ بتدریج زوال، اندرونی کھوکھلے پن سے، اور اس لیے بھی کہ ایسے کسی بھی بورڈ کا دراصل کوئی جواز ہے ہی نہیں"۔
غزہ امن بورڈ میں اسرائیل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے یعنی جو غزہ کا قاتل ہے جس نے اس کو تباہ و برباد کیا اب وہی اس کی باز آبادکاری کرے گا! چہ معنی دارد؟ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ غزہ امن بورڈ میں امریکہ کی چھتری تلے اسرائیل اپنے مقاصد پورے کرے گا۔ وہ حماس کا خاتمہ کروائے گا، غزہ کو اسلحہ سے خالی کرائے گا، اور مزاحمت کی کسی بھی ممکنہ شکل کا خاتمہ کرے گا۔ اسی طرح اس کی کوشش ہوگی کہ غزہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا انخلاء کروا لیا جائے جس کے لیے اس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے جو صومالیہ سے کٹ کر الگ ملک بننا چاہتا ہے، اور اس کو ابھی نہ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے نہ عرب لیگ نے اور نہ او آئی سی نے۔ صاف ظاہر ہے کہ صومالی لینڈ کے لیڈروں کو بھاری مالی مدد اور عالمی طور پر تسلیم کر لیے جانے کی رشوت اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے دی گئی ہے، اور اس کو رام کیا جا رہا ہے کہ وہ چند لاکھ غزہ والوں کو قبول کر لے اور ان کے لیے الگ بستیاں بسا دے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی سرکاری موقف یہی ہے کہ اس مجلس امن کو کام کا موقع دیا جائے اور اس کا ساتھ دیا جائے تاکہ جتنا بھی تعمیر نو ممکن ہو وہ ہو سکے۔ جبکہ اسرائیل پوری کوشش کرے گا کہ تعمیرِ نو کے پورے عمل پر اس کا کنٹرول رہے اور وہ اس میں اڑچنیں ڈالتا رہے گا تاکہ یہ بورڈ اپنے تمام مبینہ مقاصد حاصل نہ کر سکے بلکہ اس کے پس پردہ اسرائیلی مقاصد پورے ہوں۔
فی الحال اسرائیل نے مغربی کنارہ اور غزہ کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا ہے اور فلسطینی وجود کے ٹکڑے کر دیے ہیں اور اس پر نہ امریکہ کچھ کہہ رہا ہے اور نہ عرب و اسلامی ممالک نے کوئی اعتراض کیا ہے۔ فلسطینی اپنی کمزوری کے باعث کسی پوزیشن میں نہیں۔ آئندہ چل کر اسرائیل کی پوری کوشش ہوگی کہ یہ سیٹلمنٹ جوں کا توں برقرار رہے اور وہ مغربی کنارہ (جس کو اسرائیلی جوڈیا سمیرا کہتے ہیں) کو پورا ہڑپ کر جائے۔ اس کی پارلیمان پہلے ہی مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بل پاس کر چکی ہے۔ سردست تو اس نے غزہ کے بھی نصف حصہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے، وہاں پیلی پٹیاں (خط اصفر) قائم کر دی ہیں اور وہ اپنے فوجیوں کو وہاں سے پیچھے ہٹانے کو حماس سے اسلحہ لے لینے سے مشروط کرتا ہے جو کہ مزاحمتی تنظیموں کو قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ فریقین کے درمیان نزاع کی بہت بڑی وجہ بننے والی ہے۔
5 فروری 2026ء کو ترکی صدر رجب طیب اردگان سعودی عرب کا دورہ کرنے کے بعد مصر پہنچے۔ اور انہوں نے صدر سیسی سے ملاقات میں اسرائیل کی مذمت کی کہ شرم الشیخ میں امریکی سرپرستی میں جو جنگ بندی ہوئی تھی اس کی خلاف ورزی اسرائیل روز کرتا ہے اور لگاتار نہتے فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے اور اس نے اب تک 500 لوگ شہید کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب یہ سب اپنے بیانات میں اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں۔ یہی لوگ معاہدے کے ضامن ہیں تو یہ اسرائیل کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ سکتے؟ یہی ملین ڈالر کا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
غزہ امن بورڈ کا ڈاؤس میں اعلان کرتے ہوئے اور اس کے مسودہ پر دستخط کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کا ایک بار بھی نام نہیں لیا بلکہ امید ظاہر کی کہ اس بورڈ کا دائرہ کار صرف شرق اوسط نہیں ہوگا بلکہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اس کو آزمایا جا سکے گا۔ مبصرین نے ان کے اس بیان سے یہ اٹکلیں لگائی ہیں کہ اس سے غالباً ان کی مراد یہ ہے کہ یہ نئی مجلس جس کی قیادت خود ٹرمپ کر رہے ہیں، خاموشی سے اقوام متحدہ کی جگہ لے لے گی اور امریکہ کی سپریم اتھارٹی دنیا بھر میں ڈائرکٹ قائم ہو جائے گی۔ اس طرح یہ ایک نئے امریکی عالمی نظام کا پیش خیمہ ہو گی جس میں موجودہ پانچ بڑوں کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہو گی جن کو سلامتی کونسل میں فی الحال ویٹو پاور حاصل ہے۔ 19 فروری کو ٹرمپ کے اس غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس سے کچھ خاص نہیں نکلا۔
- اس پیس بورڈ کو عالمی میڈیا ٹرمپ کا بورڈ کہتا ہے کیونکہ یہ انہیں کا انیشیٹو ہے اور ان کے بعد خود امریکہ میں کوئی اس کو Take up کرنے والا نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ تو صدر رہیں گے نہیں۔
- جو ممالک اس میں شامل ہوئے ہیں کوسوو، بولیویا، ہنگری وغیرہ ان میں امریکہ کے علاوہ کوئی بھی عالمی اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔
- یورپ کے تمام بڑے ممالک نے اس سے دوری اختیار کی ہے کیونکہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ذریعہ اقوام متحدہ کو By pass کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
- 8 مسلم اور عرب ممالک بشمول پاکستان کے جو اس میں شامل ہوئے ہیں ان کے سامنے کوئی واضح مقصد نہیں۔ وہ ٹرمپ کے جال میں پھنس چکے ہیں اور مستقبل میں اپنے اس اقدام کے نکل سکنے والے خطرناک مضمرات کے بارے میں اندازہ نہیں رکھتے۔ اسرائیل خود ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر ٹرمپ نے انہیں اس کے ساتھ ایک میز پر بٹھا دیا ہے۔ یوں انہوں نے خود ہی گویا اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم سے بری کر دیا ہے۔ اب ان میں سے کسی کی جرات ہو گی کہ وہ اس سے دو ریاستی حل کی بات کرے۔
- اس طرح ٹرمپ کا یہ بورڈ فوری طور پر اسرائیل کے مقاصد پورے کر رہا ہے۔ اسی سے حوصلہ پا کر تو اس نے مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کر لینے کا یک طرفہ فیصلہ اقوام متحدہ کی بے شمار قراردادوں کے خلاف جا کر لے لیا ہے جس کو عرب ممالک نے زبانی تو مسترد کر دیا ہے مگر عملاً کیا وہ اس وقوعہ کو روک سکیں گے؟ اس میں بہت شک ہے!
Islam`s Teachings for Peaceful Coexistence
Beyond Conflict and Self-Interest
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(Written for the International Conference on the Strategic Capabilities of Islamic Teachings in Achieving Peaceful Coexistence, organized by the Faculty of Theology and Islamic Studies at the University of Tehran on June 26, 2019.)
All praise is for Allah, Lord of all worlds, and blessings and peace be upon the leader of all messengers, his family, his companions, and all those who follow him.
First of all, I want to sincerely thank the Faculty of Theology and Islamic Studies at the University of Tehran and its dean, Sheikh Dr. Mustafa Zulfiqar Talab, for giving me the honor of taking part in this respected gathering of scholars and thinkers. I'm grateful for this chance to learn from the insights of leading Islamic scholars and intellectuals. May Allah reward him greatly and make our coming together here a source of goodness and blessing for human society, the Islamic world, and the Muslim Ummah. Ameen.
Right now, we've come together to think about and discuss a specific question: Which aspects of Islamic teachings should the Muslim Ummah focus on more to build a peaceful and harmonious social life? What strategies, values, and traditions need to be highlighted? And what approach should academic and intellectual circles, especially universities, take to make this happen? When we talk about peaceful coexistence and a society built on security, this isn't just a need for the Muslim Ummah—it's always been a need for all of humanity. As long as people live on this earth, this need will remain. But different nations and different times have had their own philosophies and ways of achieving it. Today, these very differences and the diversity of approaches actually get in the way of creating overall peace and security in human society. It's in this environment that we have to find our own path to peace and security, and figure out ways to escape the current swamp of conflict and instability. This is, of course, part of the natural and religious duty of scholars and intellectuals.
The word "Islam" itself comes from "silm," which means peace and security. It's about being at peace oneself and also creating conditions for others to live in peace. And that's just not possible without setting up some basic principles, rules, and shared ethics and values. Islam shows us the natural way to achieve this: humanity should turn to the One who created us and provides everything we need for life. We need to accept the guidance He sent through His holy prophets, peace be upon them all. Allah pointed this out when He sent Adam and Eve (peace be upon them) down to earth, saying: "When guidance comes to you from Me, then whoever follows My guidance will have no fear, nor will they grieve."
On the other hand, nations, groups, and classes that didn't accept following divine teachings tried to build peace and security using only human reason and desires. They decided that human society knows its own interests best. So, whatever society agrees upon based on its collective thinking and needs—that becomes their path to peace and security. The Quran describes this attitude: "They follow nothing but assumptions and what their own selves desire, even though guidance has come to them from their Lord."
Today, this same intellectual and civilizational struggle continues to involve all of humanity, and its scope keeps getting wider. That's why our primary responsibility is to turn humanity's attention back to Islamic teachings, back to the fact that "guidance has come to them from their Lord." We need to make people aware of this truth: if human society insists on deciding everything for itself, the endless variety of personal desires and conflicting interests among individuals, classes, nations, and countries will never let it reach any real agreement. It will never escape from mutual conflict and struggle. It's essential, therefore, for humanity to turn to a higher Power to sort out its affairs—and that Power is Allah, whose guidance is available to us through the teachings of the prophets, peace be upon them, especially through the teachings of Prophet Muhammad (peace be upon him).
Having stated this basic principle, and to keep things from getting too long, I'd like to put forward a few observations in the form of suggestions for this respected conference to consider. If these points are included in our discussions, I'll feel that I've truly been able to make some contribution to this process.
- First, it's the responsibility of thinkers, intellectuals, and educational institutions to create awareness about the vast network of international agreements that currently surrounds and affects nations worldwide. I believe major institutions need to expand their research and study to carefully examine these international agreements and their impact—on humanity as a whole and specifically on the Islamic world.
- Second, where international agreements contain things that aren't fully acceptable to the Muslim community and Muslim countries, it's our responsibility to discuss these matters in international forums and institutions, and to properly communicate the Muslim Ummah's position to them.
- Third, we need to work on developing a shared code of conduct to keep mutual conflicts and disagreements within the Muslim Ummah and among Muslim countries at a manageable, tolerable level. Serious, collective effort is needed to promote greater unity and solidarity as much as possible.
- Fourth, it's also part of our responsibility to speak up for Muslims—and for other groups too—who are suffering under the pressure and oppression of global colonialism and tyrannical powers. We need to take steps to reduce this oppression and pressure.
- Fifth, the Islamic world should raise its voice effectively to help Muslims in Kashmir, Palestine, Jordan, and other oppressed regions gain freedom from cruelty and violence, and to protect their national and religious rights.
- Sixth, we need to urge international bodies of the Muslim Ummah, especially the OIC (Organization of Islamic Cooperation), to find ways for dialogue and discussion—both among ourselves and with dominant nations and powers—in light of the real-world conditions, problems, and challenges facing the Islamic world.
- Seventh, universities and religious institutions should make it a priority to highlight and promote the social and communal teachings of Islam as much as possible.
I hope the respected participants of this conference will take the trouble to consider and discuss these points I've raised. May Allah grant success to this conference, reward the organizers greatly, and make our gathering here a source of better guidance and lasting goodness and blessing for the entire Islamic world. Ameen, O Lord of all worlds.
جسٹس خلیل الرحمٰن کا انتقال
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
جسٹس خلیل الرحمٰن کی یاد میں
ابھی ابھی معلوم ہوا کہ جسٹس خلیل الرحمٰن سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور ریٹائرڈ جسٹس سپریم کورٹ آج اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ پاکستان کے متشرع ججز میں تھے اور اہلِ حدیث فکر سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ اپنی فکر سے مخلص ہونے کی وجہ سے اپنے دائرہ کار میں فکری وابستگی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی وفات پر مجھے یاد آیا کہ یوں تو میری بہت سی نگارشات شائع ہوئی ہیں تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنے تحقیقی نتائجِ فکر کو پیش کرنا اس ملک میں شہادت گہ رستخیز میں قدم رکھنا ہے۔
ایک کتاب لکھنے کا تجربہ کیا تھا "حدود آرڈیننس، کتاب و سنت کی روشنی میں"، صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی، اسمبلی میں طوفان کھڑا ہو گیا کہ طفیل ہاشمی نے اسلام کے خلاف کتاب لکھ دی ہے، اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسمبلی کی کاروائی ملتوی کر دی گئی، بحث کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ ہم نے تمام ممبران کو ایک خط لکھا کہ آپ کی خدمت میں کتاب پیش ہے، پڑھ کر تبصرہ فرمائیں تو ہمیں اپنے افکار پر نظرثانی کا موقع ملے گا۔ مقررہ تاریخ پر جن ممبران نے پڑھی تھی انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمیں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی۔ لیکن جن سیاسی جماعتوں یا شخصیات کا ساری زندگی کا خدمتِ دین کا اثاثہ وہی قوانین تھے، ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی تھی.
اسلامک یونیورسٹی میں سہ روزہ کانفرنس رکھی گئی جس کا آغاز جسٹس خلیل الرحمان نے میرے خلاف خطبہ سے کیا، لیکن شرکاء کو میں پہلے سے کتاب بھجوا چکا تھا اور وہ نہ صرف پڑھ کر بلکہ اکثر حضرات میری تائید میں مقالہ لکھ کر لائے تھے۔ پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر ہاشمی کی کتاب سے معلوم ہوا کہ قانون میں کچھ غلطیاں ہیں، ہم ان کے تعاون سے اصلاح کریں گے۔ محترمہ سمیحہ راحیل قاضی نے خوبصورت گفتگو کی کہ ہم اسلام کے سپاہی ہیں اور قانونی باریکیوں سے ناواقف، ہمیں جیسا بتایا جائے گا ہم جدوجہد کریں گے، البتہ جسٹس صاحب نے آخری تقریر بھی بھر پور انداز میں میرے خلاف فرمائی اور اپنے سکالرز کو انگیخت کیا کہ خلافِ اسلام کوششوں کے مقابلے میں نکل آئیں۔
مولانا حنیف جالندھری، جناب حافظ حمد اللہ اور کئی مجہول الاسم سپیکر شام کو ٹی وی پروگرام میں کتاب دکھا دکھا کر مجھے برا بھلا کہہ کر اپنی شہرت کا چراغ جلانے کی کوشش کرتے۔ حنیف جالندھری کو ایک دن سنجیدہ پروگرام کرنا تھا، مجھے فون کیا، کتاب منگوائی اور اس کے بعد وہی باتیں کرنے لگ گئے جو میری کتاب میں لکھی تھیں، کوئی پوچھے اب تک پڑھے بغیر جو بولتے رہے کس حساب میں تھا؟
اس کے بعد میرے بڑے بھائی نے مجھے نصیحت کی کہ جو لکھنا چاہو لکھ رکھو اور وصیت کر جانا کہ میرے مرنے کے بعد چھاپا جائے۔ اب بھی میرے پاس لکھا ہوا بہت کچھ ہے لیکن بعد میں میری زیادہ توجہ ایسے سکالرز کی جماعت تیار کرنے پر رہی جو اتنی تعداد میں ہو جائے کہ میری طرح اس کے لیے بات کرنا مشکل نہ ہو۔ مثلاً سنت کے جس تصور نے قرآن کو زندگی سے بے دخل کر دیا ہے اس پر کچھ کام ہو چکے ہیں اور کچھ ہو رہے ہیں۔ اسلامی بنکاری کی حقیقی تصویر اور اس کے متبادلات پر چند چیزیں آگئی ہیں اور کچھ آجائیں گی، تلفیق پر جو ریسرچ آئی ہے اس کے بعد خروج عن المذہب کو ارتداد کے ہم پلہ سمجھنے والے کہاں جائیں گے۔
آج بہت سی گزری ہوئی باتیں یادداشت کو کچوکے دے رہی ہیں تاہم میرا حسن ظن ہے کہ جسٹس صاحب نے جو کہا اور کیا نیک نیت سے کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، آمین۔
جسٹس خلیل الرحمان خان بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے
اسلامی یونیورسٹی کے سابق ریکٹر جسٹس خلیل الرحمان خان بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔
میں جب اکتوبر 2005ء میں پہلی بار اسلامی یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کے سامنے قانون کے لیکچرر کے لیے انٹرویو دینے کے لیے پیش ہوا، تو مرحوم اس وقت ریکٹر تھے اور سلیکشن بورڈ کی سربراہی کر رہے تھے۔ استاذ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ اس وقت صدرِ جامعہ تھے۔ استاذِ گرامی پروفیسر عمران احسن خان نیازی (اللہ تعالیٰ انھیں صحت و عافیت اور برکتوں کے ساتھ لمبی زندگی دے) بھی سلیکشن بورڈ میں بیٹھے تھے۔ جسٹس خلیل الرحمان صاحب کے ساتھ بحث کا میرے لیے وہ پہلا موقع تھا۔ بعد میں بھی ان سے استفادے کے کئی مواقع ملے۔
اسلامی یونیورسٹی کے لیے عموماً اور فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے لیے وہ ایک سنہرا دور تھا جب سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ریکٹر تھے، ایک بڑے صاحبِ علم صدرِ جامعہ تھے، مایہ ناز فقہاء اور قانون دان فیکلٹی کا حصہ تھے اور استاذِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر جیسی متحرک شخصیت کو ڈپٹی ڈین کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔
جسٹس خلیل الرحمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بھی دی کہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں بیٹھ کر انھوں نے 1999ء میں ربا کے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو سودی قوانین کے ختم کرنے کا حکم دیا۔ پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ متفقہ تھا، لیکن تین ججوں نے الگ الگ فیصلے لکھے: ایک فیصلہ جسٹس وجیہ الدین احمد نے لکھا اور جسٹس منیر اے شیخ نے ان سے اتفاق کیا؛ دوسرا فیصلہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے لکھا؛ تیسرے فیصلے پر استاذ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی اور جسٹس خلیل الرحمان نے کام کیا، لیکن فیصلہ سنانے سے قبل ڈاکٹر غازی صاحب بنچ سے الگ ہوچکے تھے، اس لیے اس پر صرف جسٹس خلیل الرحمان کا نام ہی آیا۔
بعد میں جنرل مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے اپنی وفاداری کا حلف لیا، تو جن ججوں نے یہ حلف نہیں اٹھایا ان میں جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس خلیل الرحمان بھی شامل تھے۔
تاریخی دلچسپی اور عبرت کے لیے یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ 2002ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے سود کے متعلق اپنا 1999ء والا فیصلہ ختم کر کے سارا مقدمہ واپس وفاقی شرعی عدالت میں بھیج دیا تو اس وقت ان پانچ ججوں میں، جنھوں نے 1999ء میں یہ مقدمہ سنا تھا، صرف جسٹس منیر اے شیخ ہی اس بنچ میں باقی رہ گئے تھے (کیونکہ غازی صاحب پہلے ہی الگ ہوچکے تھے اور تقی عثمانی صاحب کو بھی بعد میں مشرف نے نیا کنٹریکٹ نہیں دیا، نیز جسٹس وجیہ الدین اور جسٹس خلیل الرحمان نے مشرف کی وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا)۔ تو جسٹس منیر اے شیخ کے ساتھ 2 علماء اور 2 ججوں (جن میں چیف جسٹس شیخ ریاض احمد بھی شامل تھے) کو شامل کر کے یہ کارنامہ ان سے کروایا گیا۔ عبرت کا مقام یہ ہے کہ سودی قوانین کے خلاف فیصلہ لکھنے کی توفیق تو ان صاحب کو حاصل نہیں ہو سکی تھی، گو جسٹس وجیہ الدین کے فیصلے پر تائیدی دستخط انھوں نے کر لیے تھے، لیکن اب جب سودی قوانین کو بچانے کی باری آئی، تو یہ صاحب اس کے بچانے والوں میں شامل ہوگئے تھے! ان کے متعلق اور بھی افسوسناک باتیں معلوم ہیں لیکن وہ کسی اور وقت سہی۔
اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی دعا ہر وقت مانگنی چاہیے۔ اللھم اغفر لنا وارحمنا وعافنا واعف عنا۔
آہ! سید سلمان گیلانی
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آہ! سید سلمان گیلانی
مجھے ابھی یہ دکھ بھری خبر ملی کہ سید سلمان گیلانی صاحب اب ہم میں نہیں رہے اور ان کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ سید سلمان گیلانی صاحب سے میری بہت ہی گہری دوستی تھی، بہت اچھا تعلق تھا، بہت محبت کا تعلق تھا۔ ان کے ساتھ ہمارا تعلق بہت گہرا اُس وقت ہوا جب ہم نے پندرہ دن اکٹھے سفر کیا اور یوکے (برطانیہ) کے تقریباً تمام شہروں میں ہم ایک فنڈ ریزنگ مشن پہ گئے، جب پاکستان سیلاب آیا ہوا تھا اور ہم ’’الخدمت‘‘ کے ساتھ، جس میں بھائی عبد الشکور صاحب ہمارے ساتھ تھے، اور سلمان گیلانی صاحب تھے اور میں تھا۔ اور ہم لندن میں گئے، ہم بریڈفورڈ میں گئے، ہم اُدھر برمنگھم میں گئے، ہم مانچسٹر میں گئے، اولڈھم میں گئے، ہم گلاسگو میں گئے، ہم نیو کاسل اَپان ٹائن گئے۔ اور وہاں بہت سارے سیشن ہوئے جس میں سید گیلانی صاحب نے اپنی مزاحیہ شاعری اور اس کے علاوہ انہوں نے جو اپنی دوسری گفتگو ہے وہ کی۔
اچھا، لوگ تو ان کو ایک مزاحیہ شاعر کے طور پر جانتے ہیں صرف، لیکن میں چونکہ پندرہ دن ان کے ساتھ رہا، اکٹھے ہم [رہے]، تو میں نے ان کے اندر جو سب سے بڑا وَصف پایا، وہ بہت بہت گہرے عاشقِ رسولؐ تھے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر آتے ہی ان آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ اور جو اُن کا نعتیہ کلام ہے؛ ان کا جو مزاحیہ شاعرانہ کلام ہے، ان کا نعتیہ کلام اُس سے بہت بلند ہے، معیار کے لحاظ سے، جذبات اور احساسات کے لحاظ سے، اور ان کے عقیدے کی پختگی کے لحاظ سے۔
اور ویسے وہ اپنی اس عمر میں بیماری کے باوجود بہت ہی خوش مزاج، بہت ہی tolerant طبیعت کے، اور بہت ہی بنیادی طور پر ایک مضبوط دیندار آدمی تھے۔ ابھی بہت سخت بیمار ہوئے تھے کچھ ماہ پہلے، میری اس وقت فون سے تفصیل سے بات ہوئی تھی، تو وہ بھی مزے لے لے کے اپنے آئی سی یو کے قصے سنا رہے تھے سارے۔ اور وہ وقت جو اُن کا آئی سی یو میں گزرا، وہ سب کچھ سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں جلدی بالکل ٹھیک ہو کے آپ سے ملنے کے لیے آؤں گا۔ میرے گھر میں وہ متعدد بار تشریف لا چکے ہیں۔ اور ابھی مجھے خبر ملی کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔
اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے، بہت بڑے انسان تھے، بہت اچھے انسان تھے، اور اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ میں ان کو بہت miss کروں گا اور وہ ہمیشہ میری دعاؤں میں شامل رہیں گے۔ اور ان کی پوری فیملی جو ہے، ان کی ہمشیرہ یہاں بہاولپور میں رہتی ہیں، ان کی فیملی کو میری طرف سے تعزیت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ صبر دے۔ ویسے ایک طرح کا ہمارا قومی نقصان ہے اُن کا اس دنیا سے جانا۔
الحاج سید سلمان گیلانی بھی رخصت ہو گئے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ دینی مجالس، ادبی محفلوں اور مشاعروں میں رونقِ محفل ہوا کرتے تھے اور ان صفات نے انہیں باذوق دینی حلقوں میں محبوبیت سے موصوف کر رکھا تھا۔
میری ان کے ساتھ زندگی بھر فکری، مسلکی اور تحریکی رفاقت رہی جس کی یادیں تادیر جذبات و احساسات کی تاروں کو حرکت دیتی رہیں گی۔ میرے دونوں بیٹوں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر سلّمہ اور حافظ ناصر الدین خان عامر سلّمہ کا حفظِ قرآن مکمل ہونے کی تقریب میں وہ شریک ہوئے اور اپنے تازہ کلام سے دونوں محفلوں کو رونق بخشی۔
وہ کافی عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے مگر ان کی محفلیں اِس دور میں بھی آباد رہیں اور دوستوں کو شادکام کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات و مساعی کو قبولیت سے نوازیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کے خاندان اور سب دیگر متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
تمام مکاتبِ فکر کے اتحاد اور مشترکہ اعلامیہ پر تہنیت اور تجاویز
اظہر بختیار خلجی
تنظیمِ اسلامی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اظہر بختیار خلجی کی جانب سے
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
سب سے پہلے تو ہم آپ تمام اکابرینِ امت و منتظمینِ اجلاس کو مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنے اور بروقت ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر تہنیت و مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اجلاس میں تنظیمِ اسلامی کو شرکت کی دعوت اور امیرِ تنظیم کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنے پر آپ کے شکرگزار ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کی کاوشوں کا تسلسل جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ
مذکورہ بالا اجلاس میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ کی جانب سے درج ذیل ایجنڈہ:
- 18 سال سے کم عمر نکاح (Child Marriage) پر پابندی کا قانون
- ٹرانسجینڈر ایکٹ
- اعلیٰ عہدیداران کے لئے عدالتی کارروائی سے استثناء
- دستور کی معینہ مدت میں سود کے خاتمے کے راستے میں رکاوٹیں
ان پر چند تجاویز بطور نکات ریکارڈ و اعادہ کے لئے ذیل میں تحریر کی جا رہی ہیں۔ ایجنڈہ نکات کی اہمیت اور ان کے حوالے سے عملی اقدامات کی ضرورت پر دو رائے نہیں ہیں اور اس ضمن میں ہماری مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا تعاون ہر موقع و تقاضہ پر دستیاب رہے گا۔ ان شاء اللہ
- مجلس اتحادِ امت کے تحت ایک مستقل مشاورتی مجلس قائم کی جائے اور اس میں موجودہ یا مستقبل میں قومی سطح پر غیر اسلامی اقدامات کے حوالے سے مشترکہ قانونی اقدامات پر غور اور فیصلے کئے جا سکیں۔
- مجلس اتحادِ امت میں شریک تمام دینی شخصیات و ادارے/جماعتیں باہمی مشاورت سے مشترکہ مؤقف قائم کریں، البتہ الگ الگ تشخص و حیثیت کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کریں تاکہ ایک سے زائد / متعدد فریق / تعدادِ فریقین اور ان کی دینی و مذہبی حیثیت اثر انداز ہو سکے۔
- سوشل میڈیا پر شعائرِ اسلام، ناموسِ رسالت و قرآن وغیرہ کی گستاخی کی روک تھام کے حوالے سے ایک مشترکہ اصولی مؤقف اختیار کرنے اور آواز بلند کرنے کے ساتھ قانونی اقدامات اور ان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔
- اس کے علاوہ ان امور کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں عوامی/سوشل میڈیا مہمات کی شکل دی جائے تاکہ عوامی دباؤ بھی قائم کیا جا سکے۔
علاوہ ازیں ایک اہم معاملہ جس کی جانب ہم آپ اکابرین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، وہ یہ کہ دورانِ اجلاس باجماعت نمازِ عشاء کا نہ تو وقفہ ہوا اور نہ ہی کوئی باضابطہ اعلان و اہتمام ہو سکا، جو کہ ایک مسلّمہ دینی شعار اور یکجہتی و اتحادِ امت کی علامت اور باہمی یگانگت کا مظہر ہوتی ہے اور خصوصاً ایسے مواقع پر اس اجتماعی عمل سے عوام الناس میں ایک مثبت تاثر بھی جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام ، اخوکم فی الدین
ناظم رابطہ، قانونی و انتظامی امور
22 جنوری 2026ء
مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ
مساجد کا مؤثر نظام
تحریر: احسان احمد حسینی
25 جنوری اسلام آباد میں منعقدہ ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام میں استاذ المکرم مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کی گفتگو نے اس حقیقت کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں واضح کیا کہ: "مغرب کے ہاں سماج کی بنیاد فرد پر ہے، جبکہ ہمارے ہاں اجتماعیت اور فیملی سسٹم پر ہے "۔ یہی فرق ہماری مسجد کو بھی متعین کرتا ہے۔ مسجد ہمارے معاشرے میں صرف عبادت گاہ نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کا مرکز ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ تاریخی لمحہ، جب آپ ﷺ پر پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ طاری ہوئی، اور انہوں نے حضور ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ ان اوصافِ حمیدہ میں حضور ﷺ کو سماجی ورکر ثابت کیا گیا ہے: "رشتہ جوڑنے والے، کمزور کا سہارا بنے والے، مظلوم کی مدد کرنے والے"۔ یعنی دین کا آغاز ہی سماج سے جڑا ہوا ہے، صرف محراب و منبر تک محدود نہیں۔
علامہ صاحب نے نہایت درد کے ساتھ یہ نکتہ اٹھایا کہ مسجد کے تین کام تھے: (1) عبادت گاہ (2) خدمت گاہ یعنی رفاہی اور سماجی خدمت (3) تربیت گاہ یعنی لوگوں کے چھوٹے موٹے جھگڑوں کے فیصلے۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پہلا کام تو ہو رہا ہے، لیکن دوسرے اور تیسرے کام مسجد سے تقریباً نکل چکے ہیں، حالانکہ حضور ﷺ کے زمانے میں یہی مسجد ان سب کاموں کا مرکز تھی۔
اور پھر علامہ زاہد الراشدی صاحب نے ایک نہایت دور رس بات فرمائی: “اگر مسجد میں ایک اور کام بھی دوبارہ زندہ ہو جائے تو ہم نئی نسل میں دین کو باقی رکھ سکتے ہیں”۔ اور وہ ہے: پرائمری تک کی تعلیم مسجد میں دینا۔ یہ کوئی نئی تجویز نہیں بلکہ مسجد کے اصل کردار کی بحالی ہے۔ جب بچہ مسجد میں سیکھے گا، مسجد سے مانوس ہو گا، تو دین اس کے لیے اجنبی نہیں رہے گا بلکہ اس کی فطرت کا حصہ بن جائے گا۔
یہی ہے موثر نظام مساجد: عبادت بھی، خدمت بھی، عدل بھی، اور تعلیم بھی۔ اگر مسجد یہ چاروں کردار ادا کرنے لگے، تو مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں رہے گی بلکہ امت کی تربیت گاہ بن جائے گی۔
علامہ زاہد الراشدی صاحب کی یہ گفتگو دراصل علماء، خطباء اور منتظمین مساجد کے لیے ایک خاموش سوال ہے: کیا ہم مسجد کو پھر سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے والی مسجد بنانے کے لیے تیار ہیں؟
استاذ مکرم کی اسی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے موثر نظام مساجد کے تحت ایک ماڈل مسجد بنانے کا آغاز کیا ہے جس میں انسانوں کی بہتری کے لیے 30 شعبہ جات قائم کرنے کا ہدف ہے۔ فی الوقت 3 شعبہ جات کا آغاز کیا گیا ہے۔ آپ اس ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیں تو ہمارے شعبہ جات کی تفصیلی گائیڈ کے حصول کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
— 03274036003پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حلال و حرام آگہی کے حوالے سے تقریب
منجانب: حافظ شاہد الرحمان میر — شریک سفر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حلال و حرام آگہی کے حوالے سے 4 فروری 2026ء کو منعقدہ ایک تقریب سے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی کے خطاب کا خلاصہ۔
اسلامی احکام و قوانین میں عقائد و عبادات اور فرائض و واجبات کے ساتھ حلال و حرام کے مسائل کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے اور قرآن و سنت میں انہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ ان پر صحیح طریقے سے عمل کر کے نافرمانی اور گناہ سے بچ سکے، مگر ہمارے ہاں عام طور پر اس کا معمول و ماحول نہیں ہے اور ہم سب کو بالخصوص دینی حلقوں اور علماء کرام کو اس کی طرف سنجیدہ توجہ دینی چاہئے۔ حلال آگاہی کونسل پاکستان اس عظیم مقصد کے لئے محترم محمد آفاق شمسی کی سربراہی میں ملک بھر میں مصروف عمل ہے اور مشاورت کے دائرے میں مجھے بھی ان کے کام میں شرکت کی سعادت حاصل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس کے بارے میں مناسب ماحول اور کام دیکھ کر خوشی ہوئی ہے اور اسی خوشی کے اظہار کے لئے آج کی اس نشست میں حاضر ہوا ہوں۔ ملک بھر کے دینی مدارس و مراکز سے گذارش ہے کہ اس اہم اور ضروری کام میں دلچسپی لیں اور شرکت تعاون کے ساتھ اس کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی کوشش کریں اللہ پاک ہم سب کو اس کار خیر میں اپنا اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مرکز العرفان باہتر موڑ ٹیکسلا میں ایک پروقار علمی تقریب
رپورٹ: ملک محمد شاہد آف حسن ابدال — 10 فروری 2026ء
گزشتہ روز ملک کے معروف مذہبی سکالر اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ کی مرکز العرفان، خانقاہ نقشبندیہ باہتر موڑ میں تشریف آوری نہایت بابرکت اور یادگار رہی۔ اس بابرکت موقع پر پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم کے بڑے صاحبزادے، مولانا محمد فضیل الحسینی کے درسِ نظامی کی تکمیل کے سلسلے میں ایک پُروقار، علمی اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس عظیم الشان علمی و دینی مجلس میں علاقہ بھر سے اکابر علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام، بریلوی مکتبہ فکر، اہلِ حدیث اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے جید علماء اور رہنما بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے، جس کی بدولت یہ مجلس بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور اتحادِ امت کی ایک خوبصورت مثال بن گئی۔ موجودہ حالات میں جب نفرت اور انتشار کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس طرح کی مجالس بلاشبہ اُمتِ مسلمہ کے لیے امید اور یکجہتی کا پیغام ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ نے علماء کے باہمی اتحاد، علمی تسلسل اور دینی ذمہ داریوں پر نہایت بصیرت افروز خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان سے قبل ملک کے معروف عالم دین مولانا ابو محمد صاحب نے بھی اپنے خطاب میں علمِ دین کی اہمیت اور اسلاف کی علمی روایات کو اجاگر کیا۔ آخر میں پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا دلی شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے بہترین ناشتے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اسی بابرکت موقع پر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ہر ملاقات فکری، نظریاتی اور تاریخی اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ ان کی مجالس میں اکابر علماء کرام کا تذکرہ، دینی تحریکوں کی تاریخ اور ملت کے نشیب و فراز لازماً زیرِ بحث آتے ہیں۔ چونکہ وہ خود اکابرینِ امت کے ساتھ مختلف دینی، اصلاحی اور فکری تحریکوں میں عملی جدوجہد کا حصہ رہے ہیں، اس لیے ان کی گفتگو علم، تجربے اور بصیرت کا ایک قیمتی خزانہ ہوتی ہے۔
اس نشست میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہم سبق حضرت مولانا غلام نبی صاحب بھی موجود تھے، جو پیرِ طریقت حضرت مولانا پیر احسان الحق الحسینی دامت برکاتہم کے چچا جان ہیں۔ اسی طرح ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والی بزرگ اور اکابرین کے رفیقِ کار شخصیت محترم صلاح الدین صاحب کی موجودگی نے اس مجلس کی وقار اور افادیت کو مزید بڑھا دیا۔ مزید برآں، واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا شعیب نسیم صاحب بھی اس نشست میں شریک تھے، جنہوں نے نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت کے لیے ’’شیخ الہند اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک قابلِ قدر علمی ادارہ قائم کر رکھا ہے، جہاں کالج اور یونیورسٹی کے تقریباً چالیس سے پچاس طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ایسے ادارے اور ایسی کاوشیں یقیناً مستقبل کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ ان اکابر اور اہلِ علم حضرات کے ساتھ بیٹھ کر مجھ جیسے کم علم کو بھی بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے اور اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا موقع ملا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام اکابر علماء کرام کا سایہ ہمارے سروں پر دراز فرمائے اور ہمیں ان کے علم، اخلاص اور فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
رمضان المبارک میں امن و امان
رمضان المبارک کے دوران مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات کی حفاظت کے لیے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے: مولانا زاہدالراشدی
مساجد کے منتظمین کو سیکیورٹی کے لیے اسلحہ لائسنس کے اجراء میں سہولت فراہم کی جائے: مولانا پیر ریاض احمد چشتی، مولانا جواد محمود قاسمی
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر — 12 فروری 2026ء) مولانا امجد محمود معاویہ سیکرٹری اطلاعات کے مطابق جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا اہم مشاورتی اجلاس مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مجلس عاملہ کے اراکین اور برادر جماعتوں کے ذمہ داران احباب نے شرکت کی، اجلاس میں ترلائی اسلام آباد کے تخریبی دہشت گردانہ کاروائی پہ بھرپور مذمت کی گئی، ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا، رمضان المبارک میں مساجد ومدارس کی سیکیورٹی اور نمازیوں کی حفاظت کیلئے سلامتی کے اداروں کو بھر پور لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیئے تاکہ کسی بھی شرپسند عناصر کو اپنے ناپاک عزائم کو مکمل کرنے کی جرأت نہ ہو، اجلاس میں سندھ اسمبلی میں شراب کی اجازت سے متعلق امور پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی گئی، رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر مساجد و مدارس کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دیں، اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس و دیگر ادارے سے مطالبہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات کی حفاظت کے لیے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے اور مساجد کے منتظمین کو سیکیورٹی کے لیے اسلحہ لائسنس کے اجراء میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے طور پر بھی حفاظتی انتظامات کر سکیں اور نمازیوں کو پرامن ماحول میسر آ سکے۔ اجلاس میں جمعیت اہلِسنت والجماعت حنفی دیوبندی کی مجلس عاملہ اور مجلس شوری کے اراکین نے شرکت کی، جن میں مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا پیر ریاض احمد چشتی، مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی مراد اللہ، مولانا مفتی محمد اسلم طارق، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا قاری ریاض احمد، مولانا عبید اللہ حیدری، مولانا مجاہد حنیف، مولانا نعمان بابر، مولانا معظم، مولانا طارق بلالی، مولانا ظہور احمد فاروقی، سید حفیظ الرحمٰن شاہ، مفتی محمد شاکر، قاری محمد طاہر، مولانا محمد یحیٰی، قاری محمد لئیق عاصم، صحافی حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، حافظ شاہد میر، مولانا فضل اللہ راشدی اور دیگر سرکردہ علماء و ذمہ داران شامل تھے۔ اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، اتحادِ امت اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی دینی اقدار کے تحفظ اور قومی یکجہتی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی،
کیپشن فوٹو: گوجرانوالہ:جمعیت اہلسنت والجماعت حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا اہم مشاورتی اجلاس سے مولانا زاہدالراشدی، مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا پیر ریاض احمد چشتی ، مولانا عبدالواحد رسولنگری، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی مراد اللہ، مولانا مفتی محمد اسلم طارق، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا قاری ریاض احمد، مولانا عبید اللہ حیدری ،مولانا مجاہد حنیف،مولانا نعمان بابر، مولانا معظم، مولانا طارق بلالی ،مولانا ظہور احمد فاروقی ،سیدحفیظ الرحمن شاہ،مفتی محمد شاکر،قاری محمد طاہر،مولانا محمد یحیی ،قاری محمد لئیق عاصم ،صحافی حافظ عبدالجبار،عبدالقادر عثمان حافظ شاہد میر،مولانا فضل اللہ راشدی اور دیگرسرکردہ علما ء و ذمہ داران نے خطاب کیا۔
حماس كو غير مسلح کرنے کی بات مظلوم قوموں سے آزادی کی جنگ کا حق چھیننے کے مترادف ہے
جاری کردہ: حافظ نصر الدین خان عمر
میڈیا سیل پاکستان شریعت کونسل (ہفتہ 21 فروری 2026ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات مظلوم قوموں سے آزادی کی جنگ کا حق چھیننے کے مترادف ہے اور اس سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ مکمل ہو گا جو اقوام متحدہ کے فلسطین کے بارے میں دو ریاستی حل کی بھی نفی ہے۔ تاریخ کی اس سب سے بڑی نا انصافی میں مسلم حکومتوں کو فلسطینیوں کے خلاف فریق نہیں بننا چاہیے۔
آج ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند پر فرنگی استعمار کے قبضہ کے بعد آزادی کی جو مسلح جنگیں لڑی گئیں ان میں نواب سراج الدولہؒ، سلطان ٹیپو شہیدؒ، شہدائے بالاکوٹؒ، بنگال کے حاجی شریعت اللہؒ، تیتو میر شہیدؒ، سندھ کے پیر پگاڑا شہیدؒ، پنجاب کے سردار احمد خان کھرلؒ، سرحد کے حاجی صاحب ترنگ زئیؒ، فقیر ایپی شہیدؒ اور 1857ء کی جنگ آزادی ہماری قومی اور ملی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اور انہی مجاہدوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ فرنگی استعمار کو جنوبی ایشیا سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہونا پڑا اور پاکستان کے نام سے اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حماس بھی اسی نہج پر چل رہی ہے اور اسرائیلی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمیں اس عظیم جدوجہد کی نفی کرنے اور حماس کو غیر مسلح کر کے اسرائیلی قبضہ کو مزید مستحکم کرنے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جائز اور قانونی حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بلاشبہ دہشت گردی ہے مگر ناجائز اور قابض حکومتوں سے جنگ لڑنا مظلوم قوموں کا حق ہے جسے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور سراج الدولہؒ، سلطان ٹیپو شہیدؒ، شہدائے بالاکوٹؒ، پیر پگاڑا شہیدؒ، رائے احمد خان کھرلؒ، اور فقیر ایپی شہیدؒ کے نام لیواؤں کو اس کا حصہ بن کر خود اپنے ان محسنین کی قربانیوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ امریکی صدر ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی تبدیلیاں لانے کا پروگرام رکھتے ہیں جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔
پاک افغان جنگ اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر — 27 فروری 2026ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے دوران افغانستان کے ساتھ جنگ کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ اور بیرونی مداخلت کی روک تھام مسلح افواج کی ذمہ داری ہے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ بیرونی مداخلت بھارت کی طرف سے ہو، افغانستان کی طرف سے ہو، یا ایران کی طرف سے ہو، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ملکی سرحدات کے تحفظ کے لیے اپنی افواج کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ دو مسلمان گروہوں میں جنگ ہو رہی ہو تو باقی مسلمانوں کو خاموش تماشائی نہیں بن جانا چاہیے بلکہ درمیان میں آ کر جنگ بند کرانی چاہیے اور دونوں میں صلح کرانی چاہیے۔ اس لیے مسلم حکمرانوں اور خاص طور پر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھ کر یہ جنگ رکوائیں اور دونوں کی باہمی شکایات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
جبکہ اس سلسلہ میں تیسری بات وہ اپنے حکمرانوں سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں اور ملک و قوم کو اس میں الجھانے کی بجائے اپنا ایجنڈا قومی بنیادوں پر خود طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب تک قومی خودمختاری کے حوالہ سے اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے اور عالمی سازشوں سے ملک و قوم کو بچانے کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، اس قسم کے بحرانوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔
جناب آیت اللہ خامنہ ای
ٹویٹ: یکم مارچ 2026ء
بالآخر وہی ہوا جس کی امریکی اسرائیلی گٹھ جوڑ سے توقع تھی کہ ان کی کاروائیوں کے خلاف جرأت مندانہ مزاحمت کی قیادت کرتے ہوئے ایرانی رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اپنی جان نچھاور کر دی، اللہ پاک امت کو درپیش تاریخ کے اس سنگین ترین بحران سے نمٹنے کے لیے مسلم حکمرانوں کو حمیت اور ہدایت دیں۔
الشریعہ اکادمی اور معارفِ اسلامیہ اکادمی میں دورہ تفسیر القرآن الکریم
مولانا محمد اسامہ قاسم
دورہ احکام القرآن کی تقریبِ اعزاز و تکمیل
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ایک ممتاز علمی و تحقیقی اور تربیتی ادارہ ہے جو روایتی دینی علوم اور جدید عصری افکار کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ علماء کرام اور فضلاءِ مدارس کو جدید دور کے چیلنجز، بین الاقوامی قوانین، سماجیات اور قرآن و حدیث کے محاضرات جیسے موضوعات سے روشناس کرانا ہے۔ اکادمی کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں قدیم صالح اور جدید نافع کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جہاں طلبہ کو نہ صرف قرآن و سنت کی گہرائی فراہم کی جاتی ہے بلکہ انہیں عصرِ حاضر کے فکری و سیاسی تغیرات کو سمجھنے کے قابل بھی بنایا جاتا ہے۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام 21 ایام پر مشتمل "دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی" اور ایک سالہ "تخصص فی الدعوہ والارشاد" کی اختتامی نشست 15 فروری بروز اتوار منعقد ہوئی۔ الشریعہ اکادمی میں دورہ تفسیر و احکام القرآن کے علمی دورہ جات کا سلسلہ گزشتہ پندرہ سالوں سے جاری ہے، جو درحقیقت امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ذوقِ تفسیر کا تسلسل ہے۔ حضرت امامِ اہلِ سنتؒ نے 1943ء میں گکھڑ کی جامع مسجد سے جس درسِ قرآن کا آغاز کیا تھا، وہ پچپن برس تک جاری رہا۔ آپؒ نے اپنے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور امام الموحدین حضرت مولانا حسین علیؒ کے اسلوب پر چالیس ہزار سے زائد تلامذہ کو علومِ قرآن سے بہرہ ور کیا۔ الشریعہ اکادمی آج بھی اسی مشن کو جدید تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی
دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی میں امامِ اہلِ سنتؒ کے تلامذہ نے ہی اسباق پڑھائے۔ قرآن کریم کے مختلف موضوعات اور پاروں کا درس حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد یوسف، مولانا مفتی منصور احمد، مولانا ڈاکٹر وقار، میں مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ فراز، مولانا مفتی عبید الرحمٰن، مفتی محمد عثمان اور مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب نے دیا۔ شرکاء کی فکری تربیت کے لیے ملک بھر سے ماہرینِ فن نے محاضرات کے درج ذیل اہم علمی و فکری موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی: احکامِ قرآن اور مروجہ بین الاقوامی معاہدات، انسانی حقوق کے اسلامی احکام اور مغربی فلسفہ حقوق کا تقابلی جائزہ، عصرِ حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں، اصولِ ترجمہ و تفسیر، تاریخِ تفسیر، مختلف مناہجِ تفسیر، ممتاز عربی و اردو تفاسیر کا تعارف، مشکلات القرآن، جغرافیہ قرآنی و قصص القرآن، علوم القرآن کی کتب کا تعارف، اختلافِ قراءت کے تفسیری اثرات، قرآن اور مستشرقین، عالمِ اسلام کی دینی تحریکات، علم المیراث، علم القوافی و العروض، اصولِ تحقیق۔
التخصص فی الدعوہ والارشاد
التخصص فی الدعوہ والارشاد (آن لائن و فزیکل) کا ایک سالہ پروگرام علومِ اسلامیہ کے اساتذہ اور فضلاء کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ جدید الحادی فتنوں اور مغربی فکر کا علمی سطح پر تعاقب کر سکیں۔ مرکزی مضامین میں حجۃ اللہ البالغہ (سماجیات و سیاسات)، تقابلِ ادیانِ معاصرہ، اسلام کا نظامِ معیشت و سیاست، اور جدید مغربی فکر و فلسفہ کا فہم، دعوت دین کے نبوی اسلوب، اصول تحقیق اور اس کی عملی مشق شامل ہیں۔ ہفتے میں تین دن باقاعدہ کلاسز ہوئیں، جبکہ بقیہ ایام میں مطالعاتی ورک اور منتخب کتب کا جائزہ لیا گیا۔ تخصص کے اختتام پر تمام شرکاء سے ایک تحقیقی مقالہ لکھوایا گیا تاکہ ان کی تحریری صلاحیتوں کو صیقل کیا جا سکے۔
تقریبِ اعزاز و تکمیل
15 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبِ اعزاز و تکمیل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مہمانانِ گرامی کی رسمی تقاریر کے بجائے براہِ راست ان شرکاء کو موقع دیا گیا جنہوں نے یہ علمی مراحل طے کیے۔ تخصص اور دورہ احکام کے شرکاء نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ الشریعہ اکادمی نے انہیں روایتی علوم کو جدید اسلوب میں سمجھنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ ان کے نزدیک بین الاقوامی مذاہب سے مکالمے کا طریقہ اور الحاد کے رد جیسے موضوعات آج کے دور کی اشد ضرورت ہیں۔
آخر میں حضرت استادِ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے تمام شرکاء، اساتذہ اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تخصص اور دورہ مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اکادمی اسی طرح علومِ دینیہ کے شائقین کی پیاس بجھاتی رہے گی۔ تقریب کا اختتام مولانا پیر احسان الحق قاسمی صاحب کی دعا کے ساتھ ہوا، جس کے بعد شرکاء میں اسناد کی تقسیم عمل میں آئی۔ ان شاء اللہ عید کے بعد تخصص فی الدعوۃ و الارشاد کے داخلوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔
الشریعہ اکادمی کا شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد: تعارف و اہداف
امام ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "من لم یعرف أحوال زمانہ فھو جاھل" (دعوۃ الحق ـ مجلۃ شھریۃ، صفر ۱۴۳۴ھ) اور اسی تائید میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے "شرح عقود رسم المفتی" میں لکھا ہے "من جھل بأھل زمانہ فھو جاھل" (شرح عقود ص ۹۸) امام غزالی رحمہ اللہ اپنے دور میں "اعتزال، فلسفہ اور الحاد" کے فتنے کے سامنے مجمعِ روایت و درایت کے وہ بحر بے کراں تھے جنہیں وقت کی ضال و مضل طاقتیں اپنے تمام تر وسائل صرف کر کے بھی عبور نہ کر سکیں۔ ان کے اس بحر کے عمق کا راز علوم اسلامیہ میں پختگی اور وقت کے شرور و فتن پر عبور رکھنا تھا اور یہی مزاج ہمیں امام احمد بن حنبل اور امام ابن تیمیہ رحمہمااللہ میں بھی ملتا ہے۔ اسی مزاج کو ذرا تطبیقی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو امام ابو منصور ماتریدی، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور امام شاہ اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ میں یہ مزاج یکجا نظر آتا ہے۔ اور ان حضرات کے روایت و درایت اور روحانیت کے منابع ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ امت مسلمہ میں مقبول ترین شخصیات ہیں بلکہ کئی مغربی یونیورسٹیوں میں ان شخصیات اور ان کے علمی و عملی مزاج پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔ چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ کے مطالعہ میں مذکورہ شخصیات اور ان جیسے کئی دیگر دعاۃ و مبلغین اسلام، جن کی دعوتِ حق کئی غیر مسلموں کے لیے مشعل راہ اور مسلمانوں کے لیے مرجع بنی، ان سب میں نقطہ اشتراک روایت و درایت اور روحانیت پر عبور اور وقت کے شرور و فتن سے مکمل واقفیت ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں اسی مزاج کے رجال کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
دورِ حاضر میں مغربی فکر و تہذیب اور استشراقی تحریکات سمیت جدت پسند و تشکیکی اذہان اپنے تمام تر نظریاتی، سیاسی، اقتصادی اور فکری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اطرافِ عالم میں ہلہ بول رہے ہیں۔ دوسری جانب مدارس دینیہ میں قدیم علومِ اسلامیہ کی وراثت کے تحفظ کا پورا پورا حق ادا کیا جا رہا ہے لیکن وہیں اس بات کی کمی بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ مدارس دینیہ کے فضلاء دورِ حاضر کے فتنوں سے یا تو بالکل واقف ہی نہیں یا پھر تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں مگر کما حقہ اس میدان میں کام کرنے کی صلاحیت سبھی نہیں رکھتے۔ جبکہ اسلام کے نامور دعاۃ و مبلغین کے اقوال و اعمال اور ان کے علمی و عملی مزاج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی دور میں اسلام کی دعوت و ترویج کے لیے ضروری ہے کہ داعی قدیم علوم اسلامیہ پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں اور فتن سے پوری طرح واقف ہو۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے "الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ" نے اپنے تعلیمی و فکری منصوبوں میں مفکر اسلام علامہ زاہد الراشدی مدظلہ العالی کی سرپرستی میں علوم اسلامیہ کے فضلاء و فاضلات کے لیے تین سال قبل یک سالہ "تخصص فی الدعوۃ والارشاد" کے شعبہ کا اضافہ کیا تھا۔ گزشتہ 15 فروری کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اس کے شرکاء کی دستاربندی اور تقسیم اسناد کے موقع پر تیسرا سیزن تکمیل کو پہنچا۔
فضلاء و فاضلات کی مصروفیات اور تعلیمی و تدریسی مشاغل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا اہتمام آن سائیٹ و آن لائن دونوں طریقے سے کیا گیا ہے تاکہ گوجرانوالہ اور گرد و نواح کے طلباء "مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ" میں حاضر ہو کر براہ راست اسباق پڑھ سکیں جبکہ متعلقہ شہر کے علاوہ درون و بیرون ملک کے طلباء آن لائن شرکت کر کے استفادہ کر سکیں۔ تین سالہ دورانیہ میں اس شعبے سے سند فراغت پانے والے حضرات و خواتین کی تعداد تقریباً سوا سو سے متجاوز ہو چکی ہے۔ نہ صرف ملک کے چاروں صوبوں سے بلکہ کئی دیگر ممالک افغانستان، انڈیا، کوریا، کینیڈا، کشمیر، متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔
اس شعبے کے تعارفی پہلو پر اگر بات کی جائے تو اس میں شامل ہونے کی اہلیت کم از کم علوم اسلامیہ کا فاضل یا فاضلہ ہونا یا پھر کسی یونیورسٹی یا گریجویٹ کالج سے ایم اے یا بی ایس اسلامیات کا ڈگری ہولڈر ہونا چاہیے۔
اس ایک سالہ کورس کو غیر روایتی طریقے سے ایم فل کے طرز پر شروع کیا گیا ہے اور اس کے ایک سالہ دورانیہ کو تین سمسٹروں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا سمسٹر "المدخل الی الدعوۃ والارشاد" کے عنوان سے صرف دو ماہ پر مشتمل ہوتا ہے جس کی کلاسیں شوال کے پہلے عشرے سے شروع ہو کر ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور اس سمسٹر میں مختلف علوم اسلامیہ کے تعارف و تاریخ اور ارتقاء پر لیکچرز دیے جاتے ہیں تاکہ تخصص میں شامل ہونے والے خواتین و حضرات ایک بار سابقہ پڑھے ہوئے علوم اسلامیہ کا تعارفی مطالعہ کر لیں۔
اس تمہیدی سمسٹر کے بعد کورس ورک دو سمسٹروں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ایک سمسٹر کا دورانیہ ساڑھے تین ماہ ہوتا ہے۔ تمہیدی سمسٹر کے اختتام پر شرکاء سے تعارفی لیکچروں پر مشتمل پریزنٹیشن لی جاتی ہے جبکہ کورس ورک کے ہر سمسٹر کے بعد ہر کورس کا پچاس نمبروں کا پیپر لیا جاتا ہے۔ یوں دو سمسٹروں کی تکمیل پر ہر کورس کا سو نمبروں پر مشتمل امتحان ہو چکا ہوتا ہے۔ پہلے سمسٹر میں کورس ورک کے دیگر کورسز کے ساتھ ساتھ "اصول تحقیق و مقالہ نگاری کی عملی مشق" کا کورس بھی پڑھایا جاتا ہے۔ دوسرا سمسٹر شروع ہوتے ہی شرکاء سے عنوانات کا انتخاب کرا کر ان سے پچاس سے ساٹھ صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ لکھوانے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ ہر کورس کا لیکچرار اپنے کورس سے متعلق موضوع منتخب کرنے والے طلباء و طالبات کا سپر وائزر ہوتا ہے اور مقالہ کی تکمیل تک مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ رواں سال میں جن موضوعات پر مقالات لکھوائے گئے وہ درج ذیل ہیں:
- سیرت النبی میں انسانی حقوق کے نظریاتی و عملی پہلو، ایک تجزیاتی مطالعہ
- سورہ حم سجدہ کی روشنی میں دعوتی اسالیب و اصول کا تجزیاتی مطالعہ
- دور جدید میں دعوتی میدانوں کے چیلنجز اور ان کے تدارک کے لیے علماء کی ذمہ داریاں
- مقاصد شریعت کی روشنی میں درس قرآن کے مناہج
- جدید تحریک نسواں کا تعارفی و تجزیاتی مطالعہ
- اسلام کے تصور حجاب پر مغربی اعتراضات کا تفہیمی و تنقیدی مطالعہ
- علم الدعوۃ والجدل ایک تعارفی مطالعہ
- دعوت دین میں جدید میڈیا کا کردار اور اس کا مثبت استعمال
شعبہ تخصص کے کورس ورک میں شامل کورسز درج ذیل ہیں:
- شرعی احکام و قوانین سماجی تناظر میں (حجۃ اللہ البالغہ سے منتخبات)
- معاصر مذاہب و افکار کا تعارفی و تقابلی مطالعہ
- علم الدعوۃ والجدل کا تجزیاتی و تطبیقی مطالعہ (دعوت دین کا نبوی اسلوب اور جدید تقاضے وغیرہ)
- اسلام کا نظام حکومت و سیاست مع بین الاقوامی معاہدات و سیاسات
- جدید مغربی فکر و فلسفہ کا تفہیمی و تنقیدی مطالعہ
ان پانچ بنیادی کورسز کے ساتھ پانچ ذیلی کورسز بھی شامل ہیں جو حسب ضرورت طلباء و طالبات کو پڑھائے جاتے ہیں۔ اور وہ درج ذیل ہیں:
- اصول تحقیق اور مقالہ نگاری کی عملی مشق
- سیرت و تاریخ کی علمی و فکری تفہیم
- اسلام کا نظام معیشت و تجارت اور اسلامک بینکنگ کا تعارف
- تحریک استشراق اور اس کے اثرات
- نظریاتی جنگ کے اصول
ہر کورس کا لیکچرار اپنے تجربے اور علمی ذوق کے مطابق دو سمسٹروں میں اپنے کورس کو پڑھاتا ہے اور کورس کی مناسبت سے اہم کتب، جرائد اور تحریرات کا مطالعہ بھی کراتا ہے۔
ان شاءاللہ! اسی جذبے اور مساعی کے ساتھ اس شعبے کو آئندہ سالوں میں ایم فل کے لیول پر متعارف کرنا اور اس کی تعلیم دینا منتظمین کا ہدف ہے۔
امامِ اہلِ سنتؒ کے مرکز میں سالانہ دورۂ تفسیر القرآن کے احیاء کی مختصر روداد
قرآنِ کریم ہر زمانے میں رشد و ہدایت اور دعوت و ارشاد کا سب سے مؤثر اور ہمہ گیر ذریعہ رہا ہے۔ فرد کی اصلاح و تربیت سے لے کر معاشرے کی فلاح و بہبود اور نظام کی درستی تک، یہ کتابِ الٰہی ایک ایسا جامع اور ہمہ جہت تصور پیش کرتی ہے جو نہ صرف دیگر افکار و تہذیبی تصورات سے ممتاز ہے بلکہ موجودہ عالمی منظرنامے میں بآسانی قابلِ عمل اور امنِ عالم کی بقا کا واحد حل بھی ہے۔
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللّٰہ علیہ نے، جو حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی جد و جہد کے حقیقی وارث ، ولی اللّٰہی فکر کے سچے ترجمان ، اسلام کے جامع تصور اور امت کے اجتماعی مفاد کے بے باک علمبردار تھے ، قید و بند کی صعوبتوں میں امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر گہرے غور و فکر کے بعد جو نتیجہ اخذ فرمایا، وہ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی تباہی کے دو بنیادی اسباب ہیں: قرآن سے دوری اور باہمی اختلاف۔ چنانچہ آپ نے عزم کیا کہ قرآنِ کریم کو لفظاً و معنیً عام کیا جائے، بچوں کے لیے مکاتبِ قرآنی قائم ہوں اور بڑوں کے لیے عوامی دروسِ قرآن کا اہتمام ہو، تاکہ امت دوبارہ کتابِ الٰہی سے وابستہ ہو سکے۔
اسی فکری تسلسل کی ایک روشن کڑی قرآنی مکاتب اور دروسِ قرآن کے اُن سلسلوں کا قیام ہے جن کا انتساب اس خطے میں بالخصوص حضرت امامِ اہلسنت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ہے۔
حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کی حیاتِ ستودہ صفات قرآنی علوم کی علمی و عوامی حلقوں میں اشاعت اور ملت کی فکری و اخلاقی تربیت سے عبارت ہے۔ آپ کی دینی و ملی خدمات میں ایک نمایاں اور وقیع خدمت سالانہ دورۂ تفسیر القرآن کا آغاز تھا، جو آپ کی حیاتِ مبارکہ میں تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ شعبان المعظم کے آغاز سے لے کر رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تک معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ میں یہ مبارک سلسلہ قائم رہتا۔ صبح کے اوقات درسِ تفسیر کے لیے مختص ہوتے اور بعد از ظہر مختلف علماء و مشائخ اپنے علمی و تربیتی بیانات سے طلبہ کے قلوب و اذہان کو تازگی بخشتے۔ ملک بھر سے تشنگانِ علومِ قرآن اس چشمۂ ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لیے حاضر ہوتے۔
تقریباً 2005 تک یہ سلسلہ مرکز میں تسلسل کے ساتھ جاری رہا، تاہم 2006 میں ادارے کی مخدوش عمارت کے پیشِ نظر یہ سالانہ دورۂ تفسیر ، مدرسہ تعلیم القرآن باگڑیاں نو میں منتقل ہوگیا، جہاں حضرت الشیخ مولانا محمد نعیم بٹ صاحب دامت برکاتہم کے زیرِ انتظام یہ روایت بحمد اللہ تاحال برقرار ہے۔ پہلے اس دورۂ تفسیر القرآن کی تدریس کی خدمت حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے تلمیذِ رشید ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا داؤد صاحب دامت فیوضھم سر انجام دے رہے تھے ، اب آپ کی علالت کے بعد ، مولانا عبیداللہ صاحب ، مولانا سیف اللہ صاحب اور مولانا شیخ محمد نعیم بٹ صاحب کے زیرِ تدریس یہ مبارک سلسلہ جاری و ساری ہے۔
تاہم ، حضرت مولانا داؤد صاحب دامت فیوضھم (اللّٰہ تعالیٰ حضرت کو کامل صحت و تندرستی عطاء فرمائے اور پھر سے درس و ارشاد کی مجالس کی رونق بناۓ) کی علالت کے بعد ، خانوادۂ حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلقین و متوسلین کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہونے لگا کہ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے براہِ راست تلامذہ کے ذریعے (جیسا کہ مولانا داؤد صاحب کی وجہ سے یہ روایت قائم تھی) دوبارہ اس مبارک تسلسل کا اجراء کیا جاۓ ۔ یہ بھی طے ہوا کہ دوبارہ یہ سلسلہ اپنے اصل مرکز، معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ، میں شروع ہو اور یہاں ایک بار پھر درسِ قرآن کی رونقیں بحال ہوں۔ ایک عرصے تک یہ خواہش خیال کی صورت رہی، پھر عزم میں ڈھلی، اور امسال اس عزم نے عملی شکل اختیار کرلی۔ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نورِ چشم ، حضرت الاستاذ قاری حماد الزہراوی صاحب دامت فیوضہم نے 4 شعبان المعظم سے 25 شعبان المعظم تک مختصر دورانیے کے دورۂ تفسیر القرآن کا اعلان فرما دیا۔
ابتدا میں رجوعِ خلق کے بارے میں اندازے محتاط تھے۔ بعض احباب کا خیال تھا کہ اگر بیس پچیس طلبہ بھی جمع ہو جائیں تو اسے بہترین آغاز سمجھا جائے گا۔ طویل تعطل اور قرب و جوار میں جاری دیگر دروس کی موجودگی کے باعث یہ اندازہ غیر فطری بھی نہ تھا ، لیکن داخلوں کے آغاز کے ساتھ ہی صورت حال توقعات سے مختلف دکھائی دینے لگی۔ ملک کے طول و عرض سے فضلاءِ کرام، طلبۂ عظام اور عوام الناس کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مجموعی طور پر مرد و خواتین کی تعداد تقریباً ایک سو پچیس رہی۔ ملک کے چاروں صوبوں سندھ ، پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بھرپور حاضری رہی۔ گکھڑ، گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی مقامی آبادی کے علاوہ نوشہرہ، بھکر، سکھر، بہاولپور، ملتان، مظفرگڑھ، راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان، شانگلہ، دیر، مردان، بٹگرام، ہنگو، کوہاٹ، بنوں، چترال، لکی مروت، باجوڑ ، کوئٹہ ، گلگلت بلتستان اور آزاد کشمیر تک کے شرکاء اس احیائے نو کے گواہ بنے۔
مقامی خواتین کے لیے باپردہ شرکت کا علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔
درسِ تفسیر کی ذمہ داری حضرت امامِ اہلسنت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے براہِ راست شاگرد، شیخ التفسیر حضرت مولانا مفتی عبد القیوم حسن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت محنت، استقامت اور اخلاص سے ادا کی۔ جانشینِ امامِ اہلسنت، شیخ الحدیث و التفسیر حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی گاہے بگاہے تشریف لاکر علمی و فکری گفتگو سے شرکاءِ دورہ کو مستفید فرماتے رہے ، آپ نے حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں دینی رہنمائی کی ضرورتوں کو اجاگر کیا اور فکری جد و جہد کے میادین کے حوالے سے ، اسلام کا خاندانی نظام ، اسلام کا سیاسی نظام اور انسانی حقوق اور عالمِ اسلام جیسے وقیع اور عصرِ حاضر سے مطابقت رکھنے والے متعدد عنوانات پر جامع رہنمائی فرمائی۔ اختتامی درس بھی آپ ہی نے ارشاد فرمایا ۔ علاوہ ازیں مدیرِ ادارہ صاحبزادہ حضرت الاستاذ قاری حماد الزہراوی صاحب ، استاذ العلماء صاحبزادہ حضرت مولانا عزیز الرحمن شاہد صاحب اور مقررِ دلپذیر صاحبزادہ حضرت مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب بھی وقتاً فوقتاً شریک ہو کر علمی و فکری رہنمائی فرماتے رہے۔
مغرب سے عشاء تک کا وقت عمومی طور پر درسِ تفسیر کے لیے ہی مخصوص رہا، اگرچہ بعض ایام میں اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ فکری و تربیتی دروس اور دوسرا طلباءِ کرام کی مشقِ خطابت کے لیے مختص کیا گیا، تاہم وقت کی قلت کے باعث یہ سلسلہ تسلسل سے جاری نہ رہ سکا۔
ایک چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ مختصر دورانیے کے باوجود یہ احیاء محض ایک روایتی سالانہ دورہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کی بازیافت اور ایک روایت کی دریافت ہے۔ حاضری کی حوصلہ افزا تعداد اور مختلف علاقوں سے شرکت اس امر کی علامت ہے کہ قرآنی دروس کی طلب اور ضرورت آج بھی زندہ ہے۔
امید واثق ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ برسوں میں زیادہ بہتر نظم، وسیع تر دورانیے اور مزید کثیر حاضری کے ساتھ دورۂ تفسیر کا یہ مبارک سلسلہ عوام و خواص کے لیے زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر فائدے کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالیٰ دینِ متین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اسے ہم سب کے لیے خیر و برکت کا دائمی ذریعہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔