’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
مغربی معاشرے کو در پیش مسائل
خطبہ نمبر ۱۱
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علیٰ سید الرسل و خاتم النبیین و علیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین، اما بعد۔
حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
ہم تسلسل کے ساتھ خاندانی نظام کے حوالے سے قرآن پاک، سنتِ رسولؐ اور اپنی روایات اور اقدار کے دائرے میں مختلف مسائل پر بات کرتے آرہے ہیں۔ ہمارے خاندانی نظام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات اور خطرات درپیش ہیں، ان کا تذکرہ چل رہا ہے۔ اور یہ کہ مغرب اپنا خاندانی نظام ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اس کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں مغرب کے خاندانی نظام کو بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ ہے کیا۔ اس موضوع کے دو پہلوؤں پر بات کروں گا: ایک یہ کہ مغرب کا خاندانی نظام کیا ہے، کن مسائل اور مشکلات سے دو چار ہے؟ اور دوسرا یہ کہ ہمارا خاندانی نظام آج کے عالمی تناظر میں کن مشکلات اور مسائل سے دو چار ہے۔ ایک پر آج گفتگو ہوگی۔
مغرب میں خاندانی نظام کے بگاڑ کی ابتدا
مغرب کا خاندانی نظام ایسے ہی تھا جیسے ہمارا ہے بلکہ وہ بعض اقدار میں ہم سے زیادہ سخت تھے۔ انقلابِ فرانس سے پہلے جب مغرب نے زندگی کے اجتماعی معاملات میں مذہب کی بالادستی اور رہنمائی کو ترک کر دیا اور کہا کہ: ہم اپنے مسائل خود حل کریں گے؛ بائبل سے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، اور خدا سے رہنمائی لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں رہی، اب وہ زمانہ گذر گیا، ہم خود اپنے مسائل حل کریں گے۔ تو مذہب کو اپنی معاشرت اور اجتماعیت سے نکالنے کے سبب مغرب کا خاندانی نظام آہستہ آہستہ بکھرنا شروع ہو گیا۔
ظاہر بات ہے کہ اگر کسی بھی سسٹم کا جو بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے وہ اگر باقی نہ رہے تو نظم باقی نہیں رہتا۔ اگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہو تو نظام چلتا ہے۔ کسی بھی ادارے کا کسی بھی سسٹم کا بنیادی اسٹرکچر جو ہوتا ہے وہ اگر توڑ دیا جائے تو دوبارہ نظام کو چلانا اور فعال (Active) کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب مغرب اس مشکل سے دو چار ہے۔ خاندانی نظام، نکاح، طلاق، وراثت اور فیملی، ان حوالوں سے مغرب آج خود شکایت کر رہا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر گیا ہے اور ہم اپنی خاندانی روایات اور خاندانی نظام سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ آج دنیا کے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور میں اس پر تین حوالوں سے بات کروں گا۔
مغربی خاندانی نظام پر مغربی دانشوروں کا تبصرہ
مغرب کے جو دانشور ہیں وہ پریشان ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر کر رہ گیا ہے۔ جن تین مغربی دانشوروں کی میں مثالیں عرض کر رہا ہوں یہ موجودہ دور کے زندہ افراد ہیں جنھوں نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے۔
پہلا تبصرہ
ایک تو روس کے سابق وزیر اعظم گورباچوف جو بڑے دانشوروں میں سے ہیں انھوں نے اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔ ان کی ایک کتاب ہے پرسٹرائیکا (Perestroika) انگلش میں ہے، اس کا ترجمہ بھی آگیا ہے، میں نے پڑھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر گیا ہے، رشتے قائم نہیں رہے۔ جو خاندان کا ڈھانچہ ہوتا تھا وہ بکھر گیا ہے۔ میاں بیوی اور بچے، وہ بھی بلوغت سے پہلے ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ یہ مغرب کا خاندانی نظام ہے، اگلے رشتوں کا خیر تصور ہی نہیں ہے کہ ساس کون ہوتی ہے، سسر کون ہوتا ہے، چچا کون ہوتا ہے، خالہ کیا ہوتی ہے۔ ماموں زاد اور پھوپھی زاد تو دور کی بات رہی۔ مغرب کے خاندانی نظام کا جو ڈھانچہ اِس وقت میاں بیوی اور بچے ہیں وہ بھی بلوغت سے پہلے پہلے۔ بچہ بالغ ہوا تو وہ خاندان سے الگ ہو گیا، اس کا خاندانی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ آزاد ہے۔ لڑکا بھی آزاد ہے اور لڑکی بھی آزاد ہے اور باقی رشتے تو ویسے ہی بکھر گئے۔ سارے آپس میں کزن (Cousin) کہہ کر گزارا کر لیتے ہیں، ان کو رشتوں کے نام تک یاد نہیں ہوتے۔ خالہ کا بیٹا کیا ہوتا ہے، ماموں کا بیٹا کیا ہوتا ہے۔ کزن اور انکل یہ دو لفظ ہیں، یا آنٹی یہ دو تین نام ہیں جن میں سارے رشتے سمیٹ لیتے ہیں۔ بقیہ رشتے نہ یاد ہیں نہ ان سے تعلق رہا ہے۔
گورباچوف نے اپنی کتاب پرسٹرائیکا میں اس کے اسباب پر بات کی ہے کہ اس کی وجہ کیا بنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ بنا کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم — یہ دو بڑی جنگیں ہیں جو یورپ میں لڑی گئی ہیں۔ جرمنی، برطانیہ، اٹلی، فرانس اور روس، یہ زیادہ تر اس کا حصہ رہے ہیں۔ کچھ جنگیں ہمارے ہاں بھی لڑی ہیں لیکن زیادہ تر اُدھر ہی لڑی گئیں ہیں، اُن جنگوں میں لاکھوں افراد قتل ہوئے — وہ لکھتے ہیں کہ اس سے سماج میں ایک دم غیر فطری طور پر لاکھوں افراد کا خلا پیدا ہو گیا۔ چند سالوں میں لاکھوں افراد قتل ہو گئے۔ سوسائٹی کا یہ حال ہو گیا کہ دفتر اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے نہیں مل رہے تھے۔ نہ مزدور، نہ دفتری کلرک اور نہ نظام چلانے والے مل رہے تھے۔ اکثر لوگ اس جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کے خلا کو پر کرنے کے لیے کہ ہماری فیکٹریاں خالی نہ ہوں اور ہمارے دفاتر خالی نہ ہوں، ہم نے عورت کو ورغلایا اور اس کو گھروں سے باہر نکالا کہ تم بھی ملازمت کرو، ڈیوٹی دو، دفتر میں، فیکٹری میں — منیجر تو خیر کم ہی بنیں، زیادہ تر سیکرٹری ہوتی ہیں، سیکرٹری یا نرس — تو ان کو کام پر لگا دیا۔ ہماری اصل ضرورت یہ تھی کہ افرادی قوت کا خلا کسی نہ کسی طرح پر ہو جائے کیونکہ اس جنگ کے بعد دفتر خالی ہو گئے تھے، فیکٹریاں خالی ہو گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’عورت کو باہر نکالو‘‘ کے نعرہ سے ہم اس کو ورغلا کر لے آئے کہ ملازمت اور مزدوری یہ سب تمھارا حق ہے۔ ہم عورت کو دفتر میں، فیکٹری میں اور اپنے نظام میں لے گئے۔ افرادی قوت کا خلا تو پر ہو گیا لیکن اس الٹ ترتیب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے گھر خالی ہو گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ اب ہم عورت کو گھر واپس لے کر جانا چاہ رہے ہیں لیکن گھر سے نکلی عورت اب گھر واپس کیوں جائے گی؟ اب اس کو باہر کا چسکا پڑ گیا ہے، ملازمت کا اور ظاہری نمود و نمائش کا۔ گورباچوف کہتے ہیں کہ اب ہم راستے تلاش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عورت گھر واپس چلی جائے، اپنے گھر کو سنبھالے، اپنے بچے سنبھالے، اپنے گھر کا نظام کنٹرول کرے۔ اب ہم مختلف انداز سے کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں واپسی کے راستے نہیں مل رہے اور عورت کا اب یہ حال ہے کہ وہ گھر کے ادارے کو سنبھالنے سے انکاری ہو گئی ہے۔
اس پر میں ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا کرتا ہوں کہ دیکھیں، سچی بات ہے، اس حدیث کا ترجمہ اس وقت سمجھ میں آتا ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:
ناقصات العقل والدین (صحیح بخاری، باب الزکاۃ علی الاقارب، حدیث نمبر: 1462)
(عقل اور دین کی ناقص)
عورت بڑی ذہین اور سمجھدار ہوتی ہے لیکن تمام تر سمجھداری کے باوجود اس مقام پر مار کھا گئی ہے۔ مرد نے اس کے ساتھ کیا ہاتھ کیا؟ عورت کی ساری ڈیوٹیاں اس سے کروائیں اور مزید یہ کہ اپنی ڈیوٹیاں بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیں۔ عورت کے ساتھ اتنا بڑا المیہ ہوا اور اتنا بڑا فراڈ ہوا ہے۔ عورت کی ڈیوٹیاں عورت کے ساتھ رہیں، وہ خود ہی کرے، بچہ بھی اس نے جننا ہے، پالنا بھی اس نے ہے، دودھ بھی اس نے پلانا ہے، سارے کام کاج عورت نے ہی کرنے ہیں۔ ملازمت، ڈیوٹیاں اور کما کر لانا یہ مرد کے ذمہ میں تھا، وہ بھی اُس کے کھاتے میں ڈال دیا کہ ہمارے ساتھ کماؤ بھی۔ میں نے ایک خاتون سے پوچھا بی بی یہ بات بتاؤ کہ یہ ملازمت کرنا اور کما کر لانا، یہ فرائض ہیں یا حقوق ہیں، اپنے فرائض حقوق کے نام سے تمھارے کھاتے میں ڈال کر کہہ دیا کہ تمھیں برابر کے حقوق دے دیے۔ ڈیوٹی برابر کی ہے، حقوق کہاں دیے ہیں؟ یہ بہت بڑا فراڈ ہوا ہے۔ وہ خاتون کوئی معقول جواب نہ دے پائی۔
گورباچوف کہتے ہیں کہ ہم نے عورت کو دفتر اور کارخانے میں بلا کر یہ خلا تو پر کر لیا لیکن ہمارے گھر خالی ہو گئے۔ حالت یہ کہ اب گھر کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔ بچوں کو سکول والے سنبھالتے ہیں، بڑے ہو کر ویسے ہی بچے الگ ہو جاتے ہیں۔ والدین فطری انداز سے گھر میں بچوں کو سنبھالیں، ان کی تربیت کریں، ان کی ذہن سازی کریں اور ان کو پالیں پوسیں، یہ تصور ہی مغرب میں ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ بلوغت سے پہلے بچے کو سکول نے سنبھالنا ہے اور بلوغت کے بعد بچے نے اپنے آپ کو خود سنبھالنا ہے، ماں باپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
یہ جو میں نے بات کہی ہے، یہ مغرب کے خاندانی نظام میں بہت بڑا مسئلہ ہے کہ رشتوں کا تقدس نہیں رہا بلکہ رشتوں کا وجود ہی ختم ہو گیا ہے۔ خاندان سمٹتے سمٹتے میاں بیوی اور بچوں تک آ گیا ہے۔ سارے رشتے ختم ہو گئے ہیں، اب رشتوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہیں ملتے ہی نہیں ہیں۔ یہ مغرب کا بڑا مسئلہ ہے۔
دوسرا تبصرہ
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جان میجر، ابھی زندہ ہیں، میں ان کے زمانے میں بہت مرتبہ برطانیہ گیا ہوں۔ انھوں نے اپنے دور میں ایک منظم مہم چلائی تھی اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ کمپین (Campaign) یہ تھی کہ ’’اپنی بنیادوں کی طرف واپس جاؤ‘‘ (Back to Basics)، ہم اپنی بنیادیں توڑ کر خراب ہو گئے ہیں، واپس چلیں اپنی بنیادوں کی طرف۔ انھوں نے الیکشن لڑا ہی اس بات پر تھا اور اپنے دور میں یہ پالیسی متعارف کروائی تھی، جو اَب آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی ہے، کہ جو عورت گھر میں رہنے کو ترجیح دے اور ملازمت پر بچوں کی پرورش کو ترجیح دے، اس کو سوسائٹی میں ترجیح دی جائے گی۔ اب بھی یہ مقصد ہے کہ کسی طرح عورت گھر واپس آ جائے، عورت گھر سنبھالے، بچے سنبھالے اور ان کا معاشرہ مزید بکھرنے سے بچ جائے۔
تیسرا تبصرہ
اس کے بعد امریکہ کا حوالہ دوں گا۔ ہیلری کلنٹن دنیا کی سمجھدار خواتین میں سے ہیں، خاتونِ اول بھی رہی ہیں، وزیر خارجہ بھی رہیں ہیں اور صدر بنتی بنتی رہ گئیں ہیں۔ دنیا کی بڑی قابل احترام شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک بات کہی ہے، 1995ء کی بات ہے، اس وقت خاتونِ اول تھیں، اسلام آباد میں آکر باتیں کیں۔ یہاں انھوں نے دل کی باتیں کی ہیں اور کبھی کبھی وہ ایسا کر لیتی ہیں، ان کے کئی ریمارکس پر میں نے کالم بھی لکھے ہیں۔ انھوں نے 1995ء میں خاتونِ اول کے طور پر پاکستان کا دورہ کیا۔ اسلام آباد تشریف لائیں اور گرلز کالج کا دورہ کیا۔ وہاں سوال و جواب کی نشست ہوئی، باتوں باتوں میں ہیلری کلنٹن نے ایک طالبہ سے پوچھا، جو ایف اے کی طالبہ تھی: ’’پاکستان میں سکول، کالج اور یونیورسٹی میں لڑکی کو تعلیمی طور پر کیا مشکل پیش آتی ہے؟‘‘ یعنی بطور لڑکی کے تعلیمی طور پر بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اس طالبہ نے کہا، ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لائبریریاں اور لیبارٹریاں نہیں ہیں۔ تعلیم کے معیار کے مطابق ریسرچ کے لیے لائبریریاں اور تجربے کے لیے لیبارٹریاں نہیں ہیں، یہ ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔ پھر اس طالبہ نے ہیلری سے پوچھا کہ آپ کے یہاں لڑکی کی تعلیم کا بڑا مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں کالج کی لڑکی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ کالج تک پہنچتے پہنچتے اس کی گود میں (ناجائز) بچہ ہوتا ہے جس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا۔ مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس کو پالے یا پڑھائی کرے؟
اس مشکل کا حل مغرب نے یہ نکالا کہ اسقاطِ حمل کی عالم گیر مہم چلائی کہ حمل گرا دو۔ یہ بہت بڑا خاندانی مسئلہ ہے کہ بعد میں ایک عرصہ مصیبت برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ بچہ ضائع کر دو۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ مسلسل کوشش میں ہے کہ پوری دنیا میں اسقاطِ حمل کو نہ صرف جائز قرار دیا جائے بلکہ اسے عورت کا حق سمجھا جائے۔
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی جان کا خطرہ ہو، اور بچے میں جان پڑ جائے ماں کے پیٹ میں، تو صرف ایک صورت میں اسقاطِ حمل جائز ہے، کہ عورت کی جان نہ بچتی ہو، یعنی عورت کے مرنے کا خطرہ ہو۔ وگرنہ جائز نہیں ہے۔
یہ بہت سے ملکوں میں جائز ہے، بہت سے ملکوں میں پابندی ہے۔ اقوام متحدہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہر صورت میں عورت کے لیے اسقاطِ حمل کو جائز حق تسلیم کیا جائے، کسی قسم کی کوئی پابندی نہ ہو۔ اس کے لیے کانفرنسیں ہوئی ہیں، قاہرہ میں اور دوسری جگہوں میں، اور ہم سے بھی مطالبہ ہے کہ تم بھی ایسا کرو۔ یہ مسئلہ مغرب میں بھی ہے اور ہندوستان میں بھی ہے، جو الگ حوالے سے ہے کہ بچہ پیدا ہونے والا ہو تو الٹراساؤنڈ (Ultrasound) کے ذریعے جنس معلوم کر کے بچی کی صورت میں حمل گرا دیا جاتا ہے۔ وہاں کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے باقاعدہ ایک کانفرنس میں مسلمان علماء سے کہا تھا: ’’ہندوؤں کو سمجھاؤ کہ لڑکی بھی اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔‘‘
اسقاطِ حمل کا مغرب نے یہ حل نکالا ہے۔ یہ میں آپ کو مغرب کا مزاج بتا رہا ہوں۔ اہلِ مغرب نے زنا پر پابندی نہیں لگائی بلکہ اس کے نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مغرب کا عمومی مزاج ہے اور ہمیں بھی مختلف پہلوؤں سے یہ مزاج سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال اور بھی ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا، یہ 1924ء یا 1925ء کی بات ہے، امریکہ میں شراب قابلِ جرم تھی، اس پر سزا مقرر تھی اور اس پر جرمانہ اور قید تھی۔ پولیس کو اختیار دیا گیا تھا کہ جو شراب پیے اس کو پکڑو۔ لیکن تین چار سال کے بعد اس قانون کو واپس لینا پڑا کہ کوئی مانتا ہی نہیں تھا، یہ نشہ عام ہو گیا ہے، سوسائٹی عادی ہو گئی ہے۔ قانون نافذ ہوا، سزائیں ہوئیں لیکن لوگ مانتے ہی نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم پئیں گے۔ بجائے اس کے کہ شراب کی نحوست اور اس کی لعنت سے لوگوں کو چھڑانے کے لیے سختی کی جائے، لیکن ایسا نہیں کیا بلکہ الٹا شراب کو جائز قرار دے دیا۔ اسی کانگریس نے شراب کو جائز قرار دیا جس نے پہلے حرام یا ناجائز قرار دیا تھا۔
ایک اور بات کرتا ہوں، شراب کے ساتھ نشہ پورا نہ ہوتا ہو تو اس کے ساتھ دوسری چیزیں بھنگ، چرس، ہیروئن، افیون جیسے نشے ہیں۔ اس کی مختلف ملکوں میں پابندی ہے لیکن 1996ء میں لندن میں سول سوسائٹی کے سینکڑوں منتخب نمائندے، ڈاکٹرز، وکیل صاحبان اکٹھے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ جب لوگ نشہ کرتے ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے۔ یہ مطالبہ روزنامہ جنگ، لندن (13 جنوری 1996ء) نے شائع کیا کہ جب لوگ پیتے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے، آپ لوگوں کو اجازت دیں۔ یہ میں آپ حضرات کو مغرب کا مزاج بتا رہا ہوں۔
تو ہیلری کلنٹن سے جب سوال ہوا تو اس نے کہا کہ ہمارے ہاں کالج کی لڑکی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کالج پہنچتی ہے تو اس کی گود میں بچہ ہوتا ہے جس کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا۔ اب اس کو مشکل یہ ہوتی ہے کہ اب وہ اس بچے کو پالے یا خود پڑھے۔ ہمارے کالج کی لڑکی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے۔ یہ میں مغرب کی خاندانی مشکلات بتا رہا ہوں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے مغرب کو پریشان کر رکھا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ لیکن اب پریشانی کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ جب مصیبت عام ہو جاتی ہے تو ہلکی ہو جاتی ہے۔ مغرب کا فلسفہ یہی ہے، جب کہ برائی جوں کی توں موجود ہے۔
احکامِ الٰہیہ کے بارے میں مغربی مذہبی حلقوں کا مزاج
مغرب کے مذہبی حلقوں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ وہاں رواج یہ ہے کہ بغیر شادی کے دو سال، چار سال، چھ سال اکٹھے رہتے ہیں، اگر ہم آہنگی (Understanding) ہو جائے تو شادی کر لو وگرنہ شادی نہ کرو تو بھی ٹھیک ہے۔ برطانیہ کا سب سے بڑا چرچ جو پورے انگلینڈ کا چرچ (Church of England) ہے، آج سے بیس سال پہلے (1995ء میں) انھوں نے اپنی شاخوں کے نام ایک اعلامیہ (Circular) جاری کیا کہ ’’ہم نے ایک زمانے میں یہ سرکلر جاری کیا تھا کہ بغیر شادی کے جو جوڑے اکٹھے رہتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں، بغیر شادی کے اکٹھے رہنا جرم ہے، گناہ ہے، اس لیے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے، چرچ کے صاحبان اس کو عام کریں اور معاشرے کو بتائیں۔ لیکن چونکہ اب بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والوں کی تعداد ساٹھ فیصد ہو گئی ہے اور سوسائٹی نے اس بات کو قبول کر لیا ہے، اس لیے اب ہماری ہدایت یہ ہو گی کہ آئندہ اس بات کو گناہ نہ سمجھا جائے۔‘‘ یعنی چرچ نے برائی کو ختم کرنے کی بجائے اس سے سمجھوتہ کر لیا۔
مغربی دنیا میں شادی کا تصور
میں نے عرض کیا کہ مغرب میں خاندان کے بکھرنے کے اسباب کیا ہیں۔ ایک بنیادی سبب عرض کروں گا، اس سے پہلے سمجھیں کہ شادی کیا چیز ہے۔ مغرب نے یہ تصور کر لیا ہے کہ شادی انسان کی شخصی ضرورت ہے۔ سماجی فلسفہ کی ہلکی سی فلسفیانہ بات چھیڑ نے لگا ہوں۔ مغرب نے اس کو فرد کی ضرورت سمجھ لیا ہے کہ شادی، نکاح، جنسی تعلق، یہ فرد کی ضرورت ہے۔ چونکہ اس کو شخصی ضرورت قرار دیا گیا ہے اس لیے ان کو یہ اعتراض ہے کہ وہ شادی کریں یا نہ کریں، کسی دوسرے فریق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں رضامندی کی ساری صورتیں جائز ہیں کیونکہ یہ شخصی ضرورت ہے۔ گویا کہ یہ شخصی معاہدہ (Contract) ہے۔ یہ بھی راضی ہے، وہ بھی راضی ہے، اب دونوں اکٹھے رہ لیں۔ اس لیے سب صورتیں جائز ہیں۔
ہم جنس پرستی (Homosexuality) بھی جائز ہے۔ مغرب کو صرف ایک اشکال ہے کہ کسی دوسرے فریق کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دو فرد باہمی رضامندی سے جس طریقے سے اپنی خواہش پوری کر لیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اب تک شادی کی تعریف یہ ہوتی آئی ہے کہ مرد اور عورت اکٹھے زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیں اور معاہدہ کر لیں۔ اب یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ مرد اور عورت کہنا ضروری نہیں ہے، دو فرد کہہ لیں۔ اقوام متحدہ میں باقاعدہ تجویز پیش ہو چکی ہے اور اس پر بحث جاری ہے کہ مرد اور عورت کہنے کی بجائے دو فرد (یعنی ہم جنس پرستی) کہہ لیں کہ دو فرد آپس میں جنسی خواہش پوری کرنے کا معاہدہ کر لیں۔ اب ان کے ہاں یہ شادی ہو گئی ہے۔ اس چیز کا جواز نکالنے کے لیے مرد اور عورت کہنے کی بجائے دو فرد کہہ رہے ہیں۔ سرے سے شادی کی تعریف ہی تبدیل ہو رہی ہے۔
اسلام میں شادی کا تصور
دراصل مغرب مغالطے کا شکار ہو گیا کہ یہ شادی فرد کی ضرورت ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں بھئی! یہ سوسائٹی کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ سوسائٹی کا آغاز ہی جوڑے سے ہوا۔
وبث منہما رجالا کثیرا ونسآء۔ (سورۃ النساء: 4، آیت 1)
(اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)
آسمانوں سے جوڑا اترا اور اس سے ہم نے سوسائٹی کو پھیلا دیا۔ سوسائٹی کا بنیادی یونٹ فرد نہیں جوڑا ہے۔ یہ ایک بڑا جھگڑا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ بنیادی یونٹ فیملی ہے: ’’وبث منہما رجالا کثیرا ونسآء‘‘۔ قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ اس کو صرف انسان کی ضروریات میں نہیں بلکہ اس کو فرائض میں بھی شمار کرتے ہیں۔ اب یہ کہ دو فرد اکٹھے رہ کر اپنی خواہش پوری کر لیں، یہ غلط ہے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے شادی کو انبیاء علیہم السلام اور اپنی سنت قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، باب ما جاء فی فضل النکاح، حدیث نمبر: 1846)
جناب خاتم النبیین ﷺ کے چند صحابہ کرامؓ نے آپس میں مشورہ کیا اور طے کیا (طویل روایت ہے، خلاصہ ذکر کر دیتا ہوں) ان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک روایت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، طے یہ کیا کہ جناب خاتم النبیین ﷺ کے گھر کے اندر کی مصروفیات معلوم کرنی چاہئیں تاکہ ہم پیروی کریں، اس لیے کہ جناب خاتم النبیین ﷺ زندگی گھر کے اندر بھی اُسوہ ہیں اور باہر بھی اُسوہ ہے۔ گھر کے اندر کے حضور ﷺ کے معمولات کیا ہیں؟ یہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے معلوم ہوں گے۔ تین چار صحابہ کرامؓ تھے، جا کر دروازہ کھٹکھٹایا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا، پوچھا کہ حضور ﷺ کے گھر میں معمولات کیا ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہی جو عام شوہر کے معمولات گھر میں ہوتے ہیں۔ عبادت بھی کرتے ہیں، آرام بھی فرما لیتے ہیں، ہمارے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں بھی کرتے ہیں، گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔ عام انسان کے گھر کے معمولات جو ہوتے ہیں، یہاں بھی وہی ہیں۔
ان صحابہ کرامؓ نے جب تین چار ازواج مطہراتؓ سے حالات معلوم کیے تو حدیث کے الفاظ یہ ہیں ’’کانھم تقالوھا‘‘ انھوں نے حضور ﷺ کے گھر کے معمولات کو اپنے تصور سے بہت کم پایا۔ ہم نے تو سمجھا شاید گھر جاتے ہیں اور پھر مصلے پر کھڑے رہتے ہوں گے اور سجدے میں رہتے ہوں گے۔ حضورؐ تو ازواج مطہراتؓ کو بھی وقت دیتے ہیں اور گھر کے کام کاج، بکریوں کا دودھ دوہنا، جوتے کو گانٹھ لینا، صفائی وغیرہ بھی کرتے ہیں اور رات کو عبادت بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ تو معصوم ہیں، پیغمبر ہیں، ان کو ضرورت نہیں ہے۔ ہم آپس میں عہد کرتے ہیں: ایک نے کہا کہ میں ساری زندگی روزے رکھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی رات کو عبادت کروں گا اور آرام نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی شادی نہیں کروں گا۔ یہ آپس میں عہد کیے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ کو پتہ چلا تو آپؐ نے بلوا لیا۔ اپنی طرف سے یہ خوش تھے کہ ہم نے آپس میں اچھا معاہدہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے متعلق یہ چند باتیں سنیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ٹھیک ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ڈانٹا اور فرمایا:
اما واللہ انی لاخشاکم للہ واتقاکم لہ۔
(میں تم سب زیادہ خدا کا خوف رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں۔)
یہ تم نے کیا دین کا تصور لے لیا ہے؟ میں نے شادیاں بھی کی ہیں، بیویوں کے پاس بھی بیٹھتا ہوں، بچے بھی ہیں۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے فرمایا:
واتزوج النساء، فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔ (صحیح بخاری، باب الترغیب فی النکاح، حدیث نمبر: 5063)
(میں نکاح کرتا ہوں، پس جو میری سنت سے اعراض کرے تو وہ مجھ میں سے نہیں۔)
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ اور یہ دینی مقاصد میں سے ہے۔ بلکہ بخاری شریف کی ایک اور بڑی دلچسپ روایت ہے کہ جس میں بتایا ہے کہ خاندانی نظام کیا ہے۔ امام بخاریؒ نے متعدد مقامات میں یہ روایت مختلف انداز سے بیان کی ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ میدان کے آدمی تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ گوشہ نشین تھے اور حدیث کے بڑے راوی تھے۔ دونوں باپ بیٹے کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ایک اچھے خاندان کی عورت سے میرا نکاح کر دیا اور میرے والد اپنی بہو سے میرا حال پوچھتے رہتے تھے۔ وہ جواب دیتی کہ وہ اچھا نیک آدمی ہے مگر جب سے میں آئی ہوں میرے بچھونے پر قدم بھی نہیں رکھا اور نہ میرے قریب آئے۔ جب کچھ وقت گذر گیا تو میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا، اسے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ مجھے آپ ﷺ کے پاس بھیجا گیا۔ آپؐ نے پوچھا: تم روزے کس طرح رکھتے ہو؟ میں نے کہا، مسلسل۔ پھر فرمایا: قرآن کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں کہا، ہر رات۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
صم فی کل شھر ثلاثۃ، واقرإ القرآن فی کل شھر۔ (صحیح بخاری، باب فی کم یقرأ القرآن، حدیث نمبر: 5052)
(ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ایک ماہ میں قرآن مجید ختم کیا کرو۔)
میں نے عرض کیا، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپؐ نے فرمایا، ایک ہفتہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: دو دن افطار کیا کرو اور ایک دن روزہ رکھا کرو۔ عرض کیا، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ فرمایا:
صم افضل الصوم صوم داود صیام یوم و افطار یوم، واقرأ فی کل سبع لیال مرۃ۔
(اچھا، داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھا کرو جو سب سے افضل ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، اور قرآن سات روز میں ختم کیا کرو۔)
مگر بڑھاپے میں عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ کاش میں حضور ﷺ کی رخصت منظور کر لیتا کیونکہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں اور مجھ میں ویسی طاقت نہیں رہی۔ بڑھاپے میں اپنے کسی گھر والے کو دن میں ساتواں حصہ قرآن سنا دیا کرتے تھے تاکہ اس کا پڑھنا رات میں آسان ہو جائے۔ اور جب بہت کمزور ہو جاتے اور طاقت حاصل کرنا چاہتے تو کئی روز تک روزہ نہ رکھتے، پھر شمار کر کے اتنے روزے رکھ لیتے کہ کہیں کوئی باقی نہ رہ جائے، جس کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے عہد کیا تھا۔
صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ ساری حد بندی کر کے فرمایا:
فان لجسدک علیک حقا، وان لعینک علیک حقا، وان لزوجک علیک حقا، وان لزورک علیک حقا۔ (صحیح بخاری، باب حق الجسم فی الصوم، حدیث نمبر: 1975)
(تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔)
انسانوں کے بھی حقوق ہیں اس کا بھی خیال کیا کرو۔ خاتم النبیین ﷺ نے رہبانیت کے اس انداز سے انھیں روک دیا۔ شادی دینی تقاضوں میں سے ہے، اس کے کچھ حقوق اور فرائض ہیں۔ یہ ذمہ داریاں ہیں جو ایک فرد نے ادا کرنی ہیں۔ یہ شادی کے بارے میں اسلام کا تصور ہے۔ اس لیے وہ شادی قابلِ قبول ہو گی جو سوسائٹی کو ایک اچھا خاندان فراہم کرے۔ قرآن کریم نے اس لیے یہ شرطیں لگائی ہیں، ارشاد ہے:
و احل لکم ما ورآء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین۔ (سورۃ النساء: 4، آیت 24)
(ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انھیں اپنے نکاح میں لانا چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔)
دوسری آیت میں ہے:
محصنین غیر مسافحین ولا متخذی اخدان۔ (سورۃ المائدہ 5، آیت 5)
(نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔)
تو قرآن کریم نے یہ چار شرطیں لگائی ہیں:
- پہلی شرط: ’’ان تبتغوا باموالکم‘‘۔ میں اس کا اپنے الفاظ میں ترجمہ کرتا ہوں کہ عورت سے تعلق قائم کرنا ہے تو تمام تر مالی ذمہ داریاں قبول کرنی ہوگی۔
- دوسری شرط: ’’محصنین‘‘ اور عورتوں کے بارے میں کہا ’’المحصنات‘‘ جو حصن سے ہے، اس کا معنی ہے قلعہ۔ مطلب یہ ہے ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی قبول کرو گے۔ قلعہ یعنی مکان بناؤ گے، گھریلو زندگی میں بنیادی سہولت کے لیے علیحدہ رہائش بھی ہونی چاہیے۔
- تیسری شرط: ’’غیر مسافحین‘‘ کہ نکاح صرف خواہش پوری کرنے کے لیے نہ ہو۔ ہاں، وہ بھی ساتھ آجاتی ہے۔
- چوتھی شرط: ’’ولا متخذی اخدان‘‘ کہ نکاح کا معاملہ پوشیدہ نہ ہو۔ نہ گرل فرینڈ، نہ بوائے فرینڈ ہوں، نکاح ہو تو اعلانیہ ہو، سب کو پتہ ہو کہ یہ میاں بیوی ہیں۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ہے، اسی لیے گواہ ہیں، اس لیے ولیمہ رکھا گیا ہے۔
اہلِ مغرب کا نکاح کے بارے میں مغالطہ
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ مغرب کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ یہ فرد کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دو افراد جیسے چاہیں اپنی ضرورت پوری کریں، اس میں تمھیں کیا تکلیف ہے؟ اور ہم کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ نکاح سوسائٹی کی ضرورت ہے، معاشرے کی ضرورت ہے۔ اگر فرد کے کسی عمل سے سوسائٹی کو نقصان پہنچتا ہو تو یہ ناجائز ہے۔ اس لیے کہ خاندان کا وجود متاثر نہ ہو، رشتے متاثر نہ ہوں، صلہ رحمی متاثر نہ ہو، آپس کے تعلقات برقرار رہیں، خاندان بکھرنے نہ پائے۔
مغرب میں خاندانی نظام کے بکھرنے کے دو سبب ہیں:
- ایک یہ کہ مغرب نے اس کو فرد کی ضرورت سمجھا ہے، اسلام کہتا ہے، نہیں یہ سوسائٹی اور معاشرے کی ضرورت ہے۔
- دوسری بات کہ مغرب میں رشتے پیدا کرنے والے اسباب معدوم (ختم) ہو گئے ہیں۔
ہمیں کھلے طور پر کہنا پڑتا ہے کہ وہاں زنا کو عام کیا گیا جس سے رشتے معدوم ہو گئے۔ مغربی معاشرے میں اکثر لوگوں کو باپ کا پتا نہیں، اس لیے ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اگر باپ کا پتہ نہیں تو ماں کا نام لکھا کرو۔ اب جب باپ کا پتہ نہ ہو تو دادا کہاں سے آئے گا؟ چچا کہاں سے آئے گا؟ باقی رشتے کہاں سے آئیں گے؟ یہ سارے رشتے اس وقت وجود میں آئیں گے جب میاں بیوی بااعتماد طریقے سے آپس میں تعلق رکھیں۔ لیکن اگر میاں بیوی کا تعلق ’’کیف ما اتفق‘‘ (جیسے ان کی مرضی ہو، فیصلہ کریں) ہوگا تو پھر یہ رشتے کہاں سے آئیں گے؟
مغرب نے آسمانی تعلیمات سے انحراف کیا جس کی وجہ سے ان کا سارا خاندانی نظام بکھر گیا، درہم برہم ہو گیا اور آج سارا مغرب سر پکڑ کے پریشان کھڑا ہے کہ ہمارا خاندان کدھر گیا، رشتے کدھر گئے؟ ان کے دانشور اس کا حل سوچ رہے ہیں۔ اب وہ تو پریشان کھڑے ہیں، کیا ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم بھی پریشان ہوں؟ ہم بھی مغرب کی تقلید میں ان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں اور اپنے خاندانی سسٹم کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے خاندانی نظام کو کیا مشکلات درپیش ہیں اس پر اگلی نشست میں گفتگو ہو گی، ان شاء اللہ، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی
2۔ مشکلات القرآن کی انواع کی جامع درجہ بندی
جس طرح ہم نے پہلے ذکر کیا کہ مشکلات القرآن کی کتب میں تمام دستیاب انواع کا صحیح طرح سے ذکر نہیں کیا گیا، تو اِس مقالے میں خاص طور سے میں نے یہ کیا کہ مشکلات القرآن کی جو بنیادی کتب ہیں، جیسے ابن قتیبہؒ کی، حمد بن منصور کی، یا دیگر، ان میں جو انواع ذکر ہیں اس کا بھی ایک نقشہ میں نے مقالے میں دیا ہے، کہ انہوں نے اِن اِن انواع کا ذکر کیا ہے۔ تاکہ ان انواع کا بھی ذکر سامنے آجائے، پھر جب میں اس میں اپنی انواع شامل کروں تو تقابل سے قاری سمجھ سکے کہ واقعی کون کون سی انواع ان میں ذکر نہیں کی گئی تھیں۔
اب میں نے جو اس پر کام کیا ہے تو اولاً مشکلات القرآن کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کیا ہے، اور یہ صرف میں نے نہیں تقسیم کیا، مشکلات القرآن کی کتابوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- ایک ہے ’’مشکل علوم القرآن‘‘ یعنی علوم القرآن کے وہ مباحث جو بڑے پیچیدہ قسم کے مباحث ہیں، جن سے بڑے اشکالات پھوٹتے ہیں۔
- اور دوسری ہے ’’مشکل القرآن والتفسیر‘‘ یعنی جو براہ راست قرآن پاک کی آیات سے متعلق اشکالات ہیں، وہ گویا کہ اس میں آگئے ہیں۔
(1) مشکل علوم القرآن
اس سے مراد وہ مباحث ہیں جن کا تعلق علوم القرآن کے ساتھ ہے اور ان میں کوئی تاریخی، فکری یا استنادی مشکلات ہیں، یعنی اشکالات ہیں یا اشتباہات ہیں۔ میری نظر میں یہ کل سات ایسی انواع ہیں یا سات ایسی قسمیں ہیں جو بہت ہی زیادہ خاص قسم کے موضوعات ہیں علوم القرآن میں، اور اس پر بہت زیادہ لے دے ہوتی ہے، بہت زیادہ استنادیہ یا اور حوالے سے اس میں مسائل ہوتے ہیں۔ مثلًاً:
1) مشکل جمع القرآن وتدوینہ
قرآن پاک کی جمع و تدوین آپ سمجھتے ہیں، علوم القرآن کی انتہائی پیچیدہ اور بعض حوالوں سے انتہائی اہم بحث ہے۔
2) مشکل اثر السنۃ النبویۃ فی التفسیر
سنت اور تفسیر کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا حدیث کی وجہ سے قرآن پاک کی کس آیت میں اضافہ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے، نسخ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ نسخ القرآن بالسنۃ، نسخ السنۃ بالقرآن، یہ علوم القرآن کے اہم ترین مباحث ہیں۔
3) مشکل الترجمہ
قرآن پاک کے ترجمے کے حوالے سے ہم برصغیر والے، دیوبندی اور بریلوی حضرات کی جتنی بھی بحثیں ہوئیں وہ مشکل الترجمہ سے متعلق ہیں کہ ترجمہ کے کون سے اصول ہیں، وغیرہ۔
4) مشکل دلالۃ القرآنیہ قطعیاً و ظنیاً
یعنی جو قرآن پاک کی اپنی آیات پر دلالت ہیں، وہ قطعی ہیں یا ظنی ہیں؟ بڑی اہم بحث ہے۔
5) مشکل الاحرف السبعۃ
احرفِ سبعہ کیا ہے۔
6) مشکل اختلاف المفسرین
یعنی جو مفسرین کے اختلافات ہیں، جس میں کسی آیت کے حوالے سے پانچ پانچ اقوال، دس دس اقوال مل جاتے ہیں، تو اس کو ہم کیسے sum up کریں گے اور اس میں کیا کیا اصول ہو سکتے ہیں کہ ان انواع سے یا ان اختلافات سے ایک درمیانی راہ نکالی جائے۔
7) مشکل حفاظۃ القرآن و عدم التحریف
کیا قرآن میں تحریف ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔ خاص طور پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے تناظر میں یہ بحث کی جاتی ہے۔ اہلِ تشیع کی کتابوں میں ایسی روایات ہیں جن سے لگتا ہے کہ قرآن پاک میں کچھ نہ کچھ چیزیں رہ گئی ہیں۔ پھر وہ ہماری کتابیں اٹھاتے ہیں کہ آپ کی کتابوں میں بھی یہ چیزیں ہیں۔ تو گویا کہ قرآن پاک کی حفاظت اور اس میں تحریف نہ ہونا، اور جو اس کے برخلاف روایات ہیں ان کی توجیہ، یہ علوم القرآن کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں۔
تو یہ سات انواع علوم القرآن کی ایسی ہیں جن کو ہم ’’مشکل علوم القرآن‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ گویا کہ یہ پہلا دائرہ ہے اور اس کے اندر سات انواع ہیں۔
(2) مشکل القرآن والتفسیر
اب اس کے بعد ہے ’’مشکل القرآن والتفسیر‘‘ کہ وہ انواع جن کا تعلق براہ راست قرآنی آیات کی تفسیر و تاویل سے ہے۔ جیسا کہ کچھ مثالیں ہم نے اس سے پہلے دورِ رسالت میں بیان کی تھیں۔ تو یہ میں نے نو عنوانات میں تقسیم کی ہیں:
1) مشکل التعارض والاختلاف
اس میں پہلی نوع ہے ’’مشکل التعارض والاختلاف‘‘۔ یہ مشکلات القرآن کی سب سے اساسی نوع ہے۔ اسی لیے بعض اہلِ علم کے ہاں مشکل القرآن سے مراد ہی تعارض ہے، تعارض کو حل کرنا ہے۔ تو اِس میں چھ قسم کے تعارض آتے ہیں:
’’مشکل التعارض بین الآیات‘‘ — آیات کا آپس میں تعارض۔
’’مشکل التعارض بین القراءات المختلفۃ‘‘ — دو قراءتوں کا آپس میں تعارض۔
’’مشکل التعارض بین الآیات والسنۃ النبویۃ‘‘ — حدیث اور آیت میں تعارض۔
’’مشکل التعارض بین الآیات والحس والعادۃ‘‘ — آیات اور جو حس اور عادت ہے، اس میں تعارض۔
’’مشکل التعارض بین الآیات والعلوم الجدیدۃ‘‘ — یہ معاشرے میں جتنے بھی علوم رائج ہوتے ہیں، جیسے فلسفہ، سائنس، یا دیگر علوم، اس علم کی کوئی بات قرآن سے ٹکراتی ہو، تو یہ بھی مشکل التعارض میں آتا ہے۔
’’مشکل التعارض مع مسلمات الشرع‘‘، یا ’’مع قواعد الشرع‘‘ — یعنی قرآن پاک کی کوئی آیت کسی مسلّم چیز سے ٹکراتی ہو۔
تو اِس پہلے نوع، تعارض کے تحت میں نے چھ انواع بمع امثلہ کے ذکر کی ہیں۔
2) مشکل القراءت
دوسری قسم ہے ’’مشکل القراءۃ‘‘۔ اس میں دو انواع خاص طور پر آتی ہیں:
’’مشکل علل القراءۃ‘‘ — اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی کسی قراءت کی توجیہ میں کوئی اشکال ہو۔ اور جو لوگ علمِ قراءت سے ہیں، وہ زیادہ سمجھتے ہیں۔ مثلاً اس کی مثال ہے کہ جہاں آتا ہے ’’ربنا اَرِنا‘‘ تو بعض قراء نے اسے ’’اَرْنا‘‘ پڑھا ہے را کے سکون کے ساتھ۔ تو اس میں ایک صَرفی اشکال ہوتا ہے کہ یہ کیسی قراءت ہے، یہ کون سا صیغہ ہے۔ تو گویا کہ اس قراءت کی توجیہ اور اس کی تاویل میں کوئی نہ کوئی اشکال ہو۔
’’مشکل الرسم وکتابۃ القراءۃ‘‘ — آپ کو پتہ ہے کہ قرآن پاک کا ایک محدّد رسم ہے جس کو ہم رسمِ عثمانی کہتے ہیں، تو بعض قراءتوں کا جو رسم ہے، وہ رسمِ عثمانی کے خلاف ہے، تو اس میں بھی پھر ظاہر ہے کہ اشکال ہو گا کہ یہ رسمِ عثمانی کے خلاف کیسے ہے؟ یعنی انہی قراء میں ہے، جو قراءتِ متواترہ ہے، اس میں بعض ایسی جگہیں ہیں۔
3) مشکل اللغۃ
اس کے بعد تیسری نوع ہے ’’مشکل اللغۃ‘‘۔ یہ سب سے عمومی قسم ہے۔ اس سے مراد ہے کہ وہ تمام قرآنی آیات جن میں کسی نہ کسی حوالے سے لغوی اشکال و مشکل موجود ہے۔ اور اس میں تقریباً پندرہ قسم کی لغوی مشکلات کا میں نے ذکر کیا ہے:
’’مشکل الاعراب و مخالفۃ القواعد‘‘ — قرآن پاک کی کوئی آیت عربی گرامر کے خلاف لگتی ہو، اس میں اشکال ہو۔
’’مشکل غرابۃ اللفظ‘‘ — قرآن پاک میں کوئی غریب لفظ ہو، یعنی اس میں فصاحت کے حوالے سے اشکال ہو کہ یہ لفظ غریب ہے۔
’’مشکل غرابۃ المعنی‘‘ — وہ ایسے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ وہ معنی غریب ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ’’غریب القرآن‘‘ بڑی مشہور قسم ہے۔
’’مشکل الایجاز والاختصار‘‘ — قرآن پاک کی بعض آیات میں ایجاز اتنا زیادہ ہے کہ اس میں اشکال یا توجیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
’’مشکل المجاز والکنایۃ‘‘ — قرآن پاک کے بعض مجازات اور کنایات۔ جیسے ابھی پیچھے آیا تھا ’’الخیط الابیض والخیط الاسود‘‘ تو قرآن پاک کے مجازات بھی حل کرنے ہیں۔ اور ابن قتیبہؒ نے اس پر بڑی زبردست بحثیں کی ہیں اور بہت سارے مجازاتِ قرآنیہ کو حل کیا ہے۔ یعنی ’’مشکل اللغۃ‘‘ میں ابن قتیبہؒ کی کتاب بڑی بہترین ہے۔
’’مشکل التقدیم والتاخیر‘‘ — قرآن پاک کی بعض آیات میں تقدیم اور تاخیر ایسی ہوئی ہے کہ وہ اشکال پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی مشہور مثال سورۃ الکہف کے شروع میں ہے ’’الحمد للہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا، قیما‘‘۔ اب ’’قیما‘‘ آپ سمجھتے ہیں کہ پچھلی آیت کی ’’الکتاب‘‘ ہی کی کوئی صفت ہے یا اسی سے متعلق ہے، لیکن یہ بالکل اگلی آیت میں ذکر ہے۔ اس طرح سے تقدیم و تاخیر سے قرآن پاک کی بعض آیات میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔
’’مشکل الالتفات‘‘ — التفات آپ سمجھتے ہیں کہ کسی جگہ غائب کی ضمیر، پھر غائب سے فوراً حاضر کی ضمیر، پھر حاضر سے فوراً متکلم کی ضمیر۔
’’مشکل الاضمار‘‘ — اس سے مراد ہے کہ کسی جگہ ضمیر لانا تھا لیکن نہیں لے کر آئے۔ اور اس میں پھر اظہار، کسی جگہ اس میں ظاہر لانا تھا لیکن نہیں لے کر آئے۔
’’مشکل التکرار‘‘ — قرآن پاک کی آیات میں اور مباحث میں تکرار ہے، تو یہ تکرار کیوں ہوا ہے۔
’’مشکل حروف المعانی‘‘ — قرآن پاک میں جو حروف استعمال ہوئے ہیں، جو حروفِ معانی ہیں، جیسے اِن ہے، واؤ ہے، فا ہے، با ہے۔ تو ان حروفِ معانی نے بھی کچھ جگہوں پر اشکالات پیدا کر دیے ہیں اور تابعین کے دور سے ہی یہ چیز شروع ہوگئی تھی۔ جیسے ’’اِن‘‘ کے حوالے سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نافیہ ہے یا شرطیہ ہے؟ چنانچہ یہ حروفِ معانی کی مشکلات میں آئے گا۔
’’مشکل حروف المقطعات‘‘ — آپ سمجھتے ہیں کہ حروفِ مقطعات پر بحث دورِ تابعین سے ہے اور ابھی تک جاری ہے کہ ان کا معنی کیا ہے اور ان کے نزول کا کیا مقصد ہے۔
’’مشکل المترادفات‘‘ — قرآن پاک نے بہت سارے مترادف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ کسی جگہ ایک لفظ ہے، بعض جگہ دوسرا مترادف لے کر آئے ہیں۔ تو کیا یہ ترادف صرف تفنن فی الکلام ہے یا اس میں بھی کچھ نہ کچھ پیغام ہے۔ تو یہ بھی ایک اشکال ہے۔
’’مشکل الحذف والزیادۃ‘‘ — کسی جگہ قرآن پاک کوئی چیز حذف کرتا ہے تو اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔ یا کوئی اضافہ ہوتا ہے جیسے ’’وما اللہ بغافل عما تعملون‘‘ اب با زائد ہے تو کیوں زائد ہے؟ ’’وکفیٰ باللہ شہیدا‘‘ یہاں بھی با زائد ہے تو کیوں زائد ہے؟
’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘ — جس کا پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے کہ الفاظِ معربات، یعنی غیر عربی زبان کے الفاظ ہیں، وہ قرآن پاک میں ہیں یا نہیں؟
تو اس طرح سے ’’مشکل اللغۃ‘‘ کی کیٹیگری میں یہ پندرہ قسم کی انواع آتی ہیں۔
4) مشکل التاویل
اس کے بعد نوعِ رابع ہے ’’مشکل التاویل‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قرآنی آیات کا جو ظاہری معنی ہے اس میں اشکال ہو۔ جس کی وجہ سے اس ظاہری معنی میں تاویل کرنے کی ضرورت ہو۔ اور اس کا ایک ایسا مرادی معنی متعین کرنے کی ضرورت ہو جس سے وہ اشکال ختم ہو جائے۔ تو اس میں سات قسم کی مشکلات آتی ہیں:
’’مشکل عصمۃ الانبیاء‘‘ — قرآن پاک کی بعض آیات آپ جانتے ہیں کہ عصمتِ انبیاءؑ کے خلاف ہیں۔ اب اس کا ہم ظاہری معنی نہیں لے سکتے۔ ’’وعصیٰ آدم ربہ فغویٰ‘‘ جیسی آیات میں۔
’’مشکل اقسام القرآن‘‘ — اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی قسمیں کیوں کھاتے ہیں اور ان قسموں سے مقصد کیا ہے؟ تو ظاہر ہے کہ وہاں قسم کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے کہ قسم تو صرف اللہ کی کھائی جاتی ہے، پھر اس کی اور تاویلات کرنی پڑتی ہیں۔
’’مشکل المخالفۃ للکتب السماویۃ‘‘ — قرآن پاک کے بعض جو بنی اسرائیل کے واقعات یا تفصیلات ہیں وہ تورات اور انجیل یا کتبِ سماویہ کے بھی خلاف ہیں۔ جیسے خاص طور پر اس کی مشہور مثال ہے کہ ہامان کا ذکر تورات میں نہیں ہے تو قرآن نے اس شخصیت کو کہاں سے لیا ہے؟ جو بنی اسرائیل کی تاریخ ہے اس میں فرعون کے کسی بڑے وزیر کا نام ہامان نہیں ہے۔
’’مشکل المبہمات القرآنیۃ‘‘ — قرآن میں بہت سارے مبہمات کا ذکر ہے تو اس کی تاویل۔
’’مشکل سبب النزول‘‘ — قرآن پاک کی بعض آیات کا سببِ نزول اس میں اشکال پیدا کرتا ہے۔
’’مشکل النسخ‘‘ — قرآن پاک کی بعض آیات کیا منسوخ ہیں یا نہیں ہیں؟
’’مشکل الامثال القرآنیہ‘‘ — قرآن پاک کی بعض مثالیں سمجھنا۔ پہلے پارے میں آتا ہے ’’او کصیب من السمآء فیہ ظلمات و رعد و برق‘‘۔ اب ان مثالوں کی توجیہ اور تطبیق۔ یہ کون سی مثال ہے: کیا یہ مثال تفصیلی ہے؟ مشبہ کیا ہے؟ مشبہ بہ کیا ہے؟ یہ سب اِس میں آتا ہے۔
5) مشکل الدلالۃ
نوعِ خامس ہے ’’مشکل الدلالۃ‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قرآن نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اپنے معنی پر دلالت کے حوالے سے اس میں کوئی اشکال آتا ہے۔ جیسے:
’’مشکل سیاق الآیۃ‘‘ — جو آیت کا سیاق و سباق ہوتا ہے وہ اشکال پیدا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی دلالت واضح نہیں ہوتی۔
’’مشکل الخصوص والعموم‘‘ — قرآن پاک کی آیت عام ہے یا خاص ہے؟ اگر خاص ہے تو پھر اس میں عموم کیسے پیدا کرنا ہے؟ عام ہے تو اس میں خصوص ہے یا نہیں؟
’’مشکل القید والشرط‘‘ — جیسے پیچھے آیا تھا قصر کے حوالے سے کہ اس میں قید ملحوظ ہے یا نہیں؟
’’مشکل مفہوم المخالفۃ‘‘ — کیا مفہومِ مخالفت مراد ہے یا نہیں ہے؟ آپ سمجھتے ہیں کہ کسی خاص چیز کو ذکر کیا گیا تو اس کا مخالف مفہوم بھی ملحوظ ہے یا نہیں، یعنی اس میں نفی والا حکم ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
’’مشکل موقع الآیۃ‘‘ — اس سے مراد ہے آیت کے ذکر کرنے کی جگہ۔ عام طور پر اس کی مثالیں دی جاتی ہیں جب کسی مدنی سورت میں کوئی مکی آیت ہو، یا کسی مکی صورت میں کوئی مدنی آیت ہو، تو اس سے ’’مشکل موقع الآیۃ‘‘ پیدا ہو جاتی ہے۔
’’مشکل الربط والمناسبۃ‘‘
’’مشکل اسالیب القرآن‘‘ — قرآن کے اسالیب، مثلاً قرآن جب کسی چیز میں زور پیدا کرتا ہے تو کیا اسلوب ہے، یا کسی اور معاملے میں کیا اسلوب ہے۔ تو اِن اسالیب القرآن کو سمجھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ مختلف قسم کے اسالیب پر مولانا فراہیؒ کا ایک مستقل رسالہ بھی ہے۔
یہ ساری چیزیں دلالت پہ براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ یعنی ان چیزوں سے قرآنی الفاظ کی دلالت میں گویا کہ فرق پڑ جاتا ہے تو اس لیے یہ ’’مشکل الدلالۃ‘‘ میں آتی ہیں۔
6) مشکل المتشابہ
اسی طرح نوعِ سادس ہے ’’مشکل المتشابہ‘‘۔ یہ بڑی مشہور قسم ہے مشکلات القرآن کی۔ اس میں دو انواع آتی ہیں:
’’مشکل المتشابہ اللفظی‘‘ — جو قرآن پاک کی بعض آیات لفظی مشابہے ہیں، جسے حفاظ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، جیسے مثلاً پہلے پارے میں ’’فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السمآء‘‘ (البقرۃ ۵۹) اور ۹ویں پارے میں ’’فارسلنا علیہم رجزا من السمآء‘‘ (الاعراف ۱۶۲)۔ اُدھر انزلنا ہے، اِدھر ارسلنا ہے۔
’’مشکل المتشابہ المعنوی‘‘ — آپ یوں سمجھ لیں کہ یہ جو صفاتِ الٰہیہ کی آیات ہیں، صفاتِ الٰہیہ کی بحث کو متشابہ معنوی کہتے ہیں۔
7) مشکل التاریخیۃ وقصص القرآنیۃ
اس کے بعد نوع سابع ہے ’’مشکل التاریخیۃ وقصص القرآنیۃ‘‘۔ اس سے مراد وہ مشکلات ہیں جو قصصِ قرآنیہ کے فہم و تفاصیل سے متعلق ہیں۔ اس میں دو امور آتے ہیں:
’’مشکل الجغرافیۃ القرآنیۃ‘‘ — جیسے قرآن پاک نے جودی پہاڑ کا ذکر کیا، قرآن پاک نے سدِ مارب کا ذکر کیا۔ اور اسی طرح قرآن پاک نے کافی علاقوں کے نام لیے ہیں، تو وہ کونسے ہیں؟ جیسے ذوالقرنین کے واقعہ میں ہے کہ وہ شمال کی طرف چلا، پھر وہ مغرب کی طرف چلا، تو شمال اور مغرب سے کیا مراد ہے؟
’’مشکل تعیین الشخصیۃ القرآنی‘‘ — وہی جو پہلے ذکر ہوا ہے کہ کسی شخصیتِ قرآنی کی تعیین ہے، تو اس نوع میں یہ آتا ہے۔
8، 9) مشکل الاسرائیلیات والموضوعات
اس کے بعد ہے نوعِ ثامن، آخری نوع ہے ’’مشکل الاسرائیلیات والموضوعات‘‘۔ تفسیر میں اسرائیلی روایات کا دخل مشکل القرآن کے اہم انواع میں سے ہے۔ اس میں دو امور آتے ہیں:
’’مشکل الاسرائیلیات‘‘ — اس سے مراد ہے کہ اسرائیلی روایات اور موضوع روایات سے بھی بسا اوقات قرآن کی کسی آیت میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ سورۃ ص میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ ہے، یا حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ ہے، اس میں اسرائیلی روایات سے کتنے زیادہ اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔
’’مشکل الموضوعات‘‘ — امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مشہور مقولہ ہے کہ تفسیر میں بہت سارے موضوعات ہیں۔
یوں کل نو (۹) انواع اور اس کی ذیلی اقسام کی صورت میں انچاس (۴۹) کے قریب اقسام بمع اس کی قرآنی امثلہ مقالے میں ذکر کی گئی ہیں۔ میں نے یہاں مثالیں اس لیے ذکر نہیں کیں کہ پریزنٹیشن بہت لمبی ہو جائے گی، تو بہرحال اصل مقالے میں مثالیں بھی موجود ہیں، قرآن پاک کی ان آیات کو پیش کیا گیا ہے جس میں وہ مشکل موجود ہے، جس میں وہ اشکال موجود ہے۔
3۔ دورِ جدید میں مشکلات القرآن کی انواع اور مستقبل کے چیلنجز
اس بحث میں موجودہ دور میں مشکلات القرآن کے مباحث و انواع کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بحث کو پھر دو بنیادی اقسام میں ذکر کیا گیا ہے:
- دورِ حاضر کے مشکلات القرآن
- مستقبل کے ممکنہ مشکلات القرآن
یہ تقسیم دراصل میں نے اس لیے کی کہ پچھلی صدی میں جو قرآنی موضوعات پر بہت زیادہ مواد آ چکا ہے، اسے میں نے دورِ حاضر کی مشکلات میں شمار کر لیا ہے۔ اور کچھ ایسے جدید موضوعات جن پر ابھی اتنا زیادہ مواد نہیں ہے، اس کو میں نے مستقبل کے ممکنہ مشکلات القرآن میں شامل کیا ہے۔ ان کی میں انواع کا ذکر کرتا ہوں۔
(1) دورِ حاضر کی مشکلات القرآن
1) مشکلات علوم القرآن
اس میں اگر آپ دیکھیں تو پہلا وہی ہے ’’فرع اول: مشکلات علوم القرآن‘‘:
- تدوینِ قرآن اور معاصر نظریات:
آپ سمجھتے ہیں کہ تدوینِ قرآن کے حوالے سے کتنے معاصر نظریات پیدا ہو گئے ہیں، جس میں تمنا عمادی کا نظریہ ہے اور مکتبِ فراہی کا نظریہ ہے، اور بہت سارے نظریات ہیں۔ - نظریہ عدمِ تحریف اور عصری مباحث:
اہلِ تشیع کے جو معاصر علماء ہیں انہوں نے اس بحث کو بہت زیادہ اٹھایا ہے کہ قرآن پاک میں کیا تحریف ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔ اور اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے تراث میں جو تحریف پر مبنی روایات ہیں اس کا کیا جواب ہے۔ تو ایک بڑا بہترین اس پر مکتبہ تیار ہو چکا ہے۔ - قراءاتِ قرآنیہ اور مسلم مفکرین:
دورِ حاضر میں قراءت کے حوالے سے ایک پورا مکتبِ فکر وجود میں آیا ہے جو قراءات کو مانتے ہی نہیں۔ تو یہ جو پورا لٹریچر ہے وہ اسی میں آجاتا ہے۔ - تفسیر میں احادیث و روایات سے استفادہ اور معاصر نظریات:
اس میں خاص طور سے مکتبِ فراہی ہے، یا سر سیّد احمد خان صاحب کا مکتب ہے، یا اسی طرح منکرینِ حدیث کا مکتب ہے۔ تو یہ مختلف قسم کے ہمیں ورژنز نظر آتے ہیں۔ میں بہت ہی اشاروں میں بات کر رہا ہوں، امید ہے آپ سمجھ رہے ہوں گے۔ - جدید تفسیری رجحانات میں انحراف کا عنصر:
یہ جتنے بھی جدید تفسیری رجحانات ہیں، جیسے سائنسی تفسیر ہے، یا موضوعی تفسیر ہے مکتبِ فراہی کی، یا اسی طرح ربط اور مناسبتیہ نظام کی تفسیر ہے۔ گویا کہ اس میں جدید قسم کے بہت سارے رجحانات آئے ہیں، تو ان میں چند مقامات پر انحرافات بھی ہوئے ہیں، وہ بھی مشکلات علوم القرآن میں آتے ہیں۔
2) مشکلات القرآن والتفسیر
اس کے بعد ہے ’’فرع دوم: مشکلات القرآن والتفسیر‘‘:
- ترجمہ قرآن اور عصری مباحث:
جدید دور میں یہ اس کے اندر پہلی چیز ہے۔ اور یہ ہماری اس پچھلی صدی کا سب سے اہم موضوع ہے بریلوی اور دیوبندی علماء کا۔ ویسے میرے سپروائزر صاحب نے یہ بحث میرے سے نکلوا دی۔ اب پتہ نہیں کیوں نکلوائی تھی۔ دراصل اس میں چونکہ بریلوی اور دیوبندی کا محاکمہ پیش کیا گیا تھا، تو اس لیے میرے سپروائزر صاحب نے فرمایا کہ اس میں چیکنگ کے حوالے سے کچھ مسائل آئیں گے۔ ظاہر ہم کسی بریلوی کو بھیجیں گے یا کسی دیوبندی کو بھیجیں گے۔ ورنہ وہ بحث میں نے لکھی تو ہے، اور اس میں دیوبندی اور بریلوی ترجمے میں جو اختلافات ہیں، اس کو میں نے اصولی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً اس میں بنیادی اختلاف جسے کہہ سکتے ہیں ’’واستغفر لذنبک‘‘ نبی علیہ السلام کو فرمایا کہ آپ اپنے گناہوں کے لیے مغفرت مانگیں۔ اب اس کا ترجمہ کیسے کرنا ہے؟ تو دیوبندی حضرات اس کو اس مفہوم میں لیتے ہیں کہ ترجمہ لغوی الفاظ کے مطابق کرنا ہے اور پھر تفسیر میں اس کی تاویل کرنی ہے۔ لیکن بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ براہ راست ترجمہ ہی ایسا کرنا ہے جس طرح آپ نے تاویل کرنی ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ امت کے گناہوں کے لیے معافی مانگیں۔ تو یہ گویا کہ ایک اصولی قسم کی چیز ہے۔ تو ’’ترجمہ قرآن اور عصری مباحث‘‘ میں اس طرح کی بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ - تفسیر میں مسلکی رجحانات کے اثرات:
مسلک کے حوالے سے آپ سمجھتے ہیں کہ جو ہمارے مسالک کی تفاسیر لکھی گئیں، جیسے مثلاً ’’ما اہل بہ لغیر اللہ‘‘ میں کیا شامل ہے اور کیا شامل نہیں ہے؟ اسی طرح جو ہمارا مماتی مکتبِ فکر ہے اشاعت التوحید والوں کا، انہوں نے قرآن پاک کی کچھ آیات کا کس طرح بدعات اور شرک اور باقی فرقوں پر اطلاق کیا۔ تو یہ پوری بحث ہے۔ - تفسیر پر عقلیت و جدیدت کے اثرات:
اس نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ - الفاظِ قرآن کی قطعیت کی بحث اور تفسیر پر اس کے اثرات:
خاص طور پر دورِ جدید میں غامدی مکتبِ فکر نے اس کو بہت اٹھایا، مکتبِ فراہی نے اس کو اٹھایا، مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے خاص طور پر تدبر القرآن کے مقدمے میں اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ قرآن پاک اپنے الفاظ پہ بالکل قطعی ہے اور یہ خالص عربی زبان ہے اور یہ ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ تو یہ سب اسی بحث کے تحت ہے۔ - تفسیر پر استشراقی اثرات:
خاص طور پر ہمارے جو جدید مفسرین ہیں، جیسے سر سیّد صاحب ہیں، یا عالمِ عرب میں مفتی محمد عبدہ صاحب ہیں، اسی طرح رشید رضا مصری صاحب ہیں، تو یہ سب گویا کہ اس میں آجاتے ہیں۔
(2) مستقبل کی ممکنہ مشکلات القرآن
جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ دورِ حاضر میں بھی ہیں لیکن ان پر کماحقہ لٹریچر ابھی تیار نہیں ہوا، یا ابھی تیاری کے مراحل میں ہے، تو اس لیے میں نے انہیں مستقبل کی ممکنہ مشکلات القرآن میں شامل کیا ہے۔
1) تفسیرِ قرآن اور ما بعد جدیدیت کا چیلنج
ما بعد جدیدیت آپ سمجھتے ہیں جس میں الفاظ اور ان کے اپنے معنی پر دلالت سے بحث ہوتی ہے، براہ راست لسانی نقطۂ نظر سے، کہ الفاظ متعین معنی پر دلالت کرتے ہیں یا قاری اس سے جیسا مرضی مفہوم نکالے۔
2) تفسیر قرآن اور فیمنزم کا چیلنج
قرآن پاک کی بہت ساری آیات جو خاص طور پر خواتین کے بارے میں ہیں، تو جدید فیمنزم اسے عورتوں کے خلاف یا عورتوں کے حقوق کے خلاف سمجھتی ہے۔ جیسے ’’ان کیدکن عظیم‘‘ قرآن پاک میں آیا ہے کہ عورتوں کی چال بہت بڑی ہے۔ اب وہ اس میں کہتے ہیں کہ عورتوں کی جنس کی تحقیر کی گئی ہے۔ تو اِس طرح سے آیات ہیں جن کے متعلق فیمنزم نے مباحث پیدا کر دیے ہیں۔
3) تفسیر قرآن اور الحادِ جدید کا چیلنج
جو جدید الحاد ہے، خاص طور پر جو دیسی ملحدین ہیں، انہوں نے قرآن پاک میں بہت سارے مباحث پیدا کر دیے ہیں۔ ’دیسی‘ سے پاک و ہند کے ملحدین مراد ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کے حوالے سے — جیسے قرآن کی مثال لانا ممکن نہیں ہے — تو انہوں نے قرآن جیسی آیات بنا لیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے مثال بنا لی ہے۔ تو اس طرح کے مباحث انہوں نے پیدا کر دیے ہیں۔
4) سائنسی ارتقاء اور آیاتِ کونیہ
دیکھیں، ایک تو قرآن کی سائنسی تفسیر ہے، لیکن ظاہر ہے کہ سائنس بھی تو ارتقاء میں ہے، تو پھر جو آیاتِ کونیہ ہیں، جو زمین و آسمان اور جتنی بھی کون اور کائنات کی چیزیں ہیں تو ان سے متعلق جب سائنسی ارتقاء ہوتا ہے تو اس میں پھر اشکالات وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔
5) نظریہ ارتقاء اور قرآنی بیانات
آپ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقاء پچھلی دو تین صدیوں کا سائنس کا بہترین قسم کا نظریہ ہے۔ اب قرآن تو کہتا ہے کہ انسان کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی۔ تو اس طرح کے مباحث اس میں آتے ہیں۔
6) اعجازِ قرآن کی جہات میں غلو اور مشکل القرآن پر اس کے اثرات
دیکھیں، قرآن پاک معجزہ ہے۔ کس حوالے سے معجزہ ہے؟ اس کی بہت ساری جہات ہیں۔ اس میں خاص طور پر ایک ہے اعجازِ عددی، جس میں قرآن پاک میں اعداد کا ایک بڑا منظم سسٹم ہے، لیکن بعض لوگ اس اعجازِ عددی کو نہیں مانتے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن بہرحال اس نے بھی مشکل القرآن کے کچھ مباحث پیدا کیے ہیں۔
7) آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور قرآنی آیات کے مماثل ادب کی تخلیق
اسی طرح ایک بڑی اہم چیز مصنوعی ذہانت ہے۔ اب اے آئی ظاہر ہے کہ ہر چیز میں ماہر ہے، اور میں نے اِس مقالے میں اے آئی سے یہ پوچھا ہے اور اس کی میں نے وہ عبارتیں ذکر کر دی ہیں کہ آپ قرآن جیسی کوئی آیت بنا کے دکھاؤ۔ اب اس کا کیا جواب ہے اور اس جواب پر کیا تبصرہ ہے، وہ مقالے میں ہے۔ یہاں بات لمبی ہو جائے گی، لیکن بہرحال اگر مستقبل میں اے آئی اتنی پاورفل ہو جائے جو قرآن جیسا ادب تخلیق کر دے تو ہم کیا کریں گے؟ اس حوالے سے ظاہر ہے ایک مسئلہ تو بنے گا۔
8) آثارِ قدیمہ کی دریافت اور قرآنی بیانات
آپ کو پتہ ہے کہ بہت سارے آثار بعد میں دریافت ہوتے ہیں، تو ان سے قرآنی بیانات کی تطبیق ہوتی ہے، توافق ہوتا ہے، اختلاف ہوتا ہے۔
یہ تو ہو گیا دورِ جدید۔ اب ہم مقالے کے دیگر عمومی مباحث پر نظر ڈالیں گے کہ اِن مباحث کے علاوہ اور کیا مباحث ہیں۔
https://youtu.be/VhTHNQFwSLI
محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
(۱) فقہِ اسلامی: علومِ اسلامیہ کا گلِ سرِ سبد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
سب سے پہلے میں ادارۂ الہدیٰ کا شکرگزار ہوں، جن کے تعاون سے ایک مرتبہ پھر اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سے پہلے آپ میں سے بہت سے خواتین کو قرآن مجید اور حدیث پاک پر دو پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا ہوگا۔ قرآن مجید اور حدیثِ رسول کے بعد یہ اس سلسلے کا تیسرا پروگرام ہے، جس میں فقہِ اسلامی پر ان شاء اللہ بارہ خطبات پیش کیے جائیں گے۔
ان خطبات کا مقصد فقہِ اسلامی کا احاطہ کرنا نہیں ہے، اس لیے کہ بارہ خطبات تو کیا، بارہ سال میں بھی کوئی فقہِ اسلامی کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا بحرِ ناپیدا کنار ہے، جس کی وسعتوں کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو اس دریا کے شناور ہیں۔ ان خطبات کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان خواتین کو، جنہوں نے قرآن مجید کو اپنی زندگی کا بنیادی موضوع قرار دیا ہے، جو قرآن مجید کے درس و تدریس میں مصروف ہیں، فقہِ اسلامی سے اس طرح متعارف کرا دیا جائے کہ وہ فقہِ اسلامی کی ہمہ گیریت، گہرائی، گیرائی اور بنیادی خصوصیات سے واقف ہو جائیں۔
اس عنوان میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے خطبے کا عنوان ہے: ’’فقہِ اسلامی: علومِ اسلامیہ کا گلِ سرِ سبد‘‘۔ اگر اسلامی علوم و فنون کو ایک گلدستے سے تشبیہ دی جائے تو اس گلدستے کا سب سے نمایاں پھول فقہِ اسلامی ہے۔
فقہِ اسلامی پر بات کرنے سے پہلے ایک غلط فہمی اپنے ذہن سے ہمیشہ کے لیے نکال دیجیے۔ یہ غلط فہمی بعض اوقات کم فہمی سے، بعض اوقات کسی منفی تاثر کے نتیجے میں، بعض اوقات کم علم اور کم فہم لوگوں سے گفتگو کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ فقہِ اسلامی قرآن مجید اور حدیثِ رسول سے الگ کوئی چیز ہے۔ قرآن مجید اور فقہِ اسلامی، قرآن مجید اور حدیث و سنت، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں، ایک ہی چیز کو سمجھنے کے مختلف انداز ہیں۔ اللہ کی شریعت ہمارے پاس قرآن مجید اور سنت کی شکل میں آئی ہے۔ اللہ کی اس شریعت کو جب انسان اپنے روزمرہ معاملات پر منطبق کرے گا، اس منطبق کرنے کے لیے روزمرہ کے معاملات پر احکامِ شریعت کا اطلاق کرے گا، اسی عمل کا نام فقہ ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ رسول کی نصوص کو روزمرہ پیش آنے والے واقعات اور حقائق پر منطبق کرنا، اور اس کے تفصیلی احکام کو مرتب کرنا، اور مرتب کر کے زندگی کو اس کے مطابق سنوارنا، اس پورے عمل کا نام فقہ ہے۔ یہ عمل ایک لمحے، ایک ثانیے کے لیے بھی قرآن مجید اور سنت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید اور سنت اس پورے عمل کی روح ہے، اس روح کے ظاہری عوامل یا مظاہر، فقہ کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
فقہِ اسلامی جس شکل میں آج ہمارے پاس موجود ہے، اس شکل میں اس کی تیاری اور ترتیب میں انسانی تاریخ کے بہترین دماغوں نے حصہ لیا ہے۔ انسانی تاریخ میں جو بہترین دماغ ہوئے ہیں، ان کا فقہِ اسلامی کی ترتیب، تنظیم اور توسیع میں اتنا غیر معمولی حصہ ہے کہ دنیا کی کسی اور قوم کی تاریخ میں، کسی اور تہذیب و تمدن میں، نہ اس گہرائی کی مثال ملتی ہے، نہ اس وسعت کی مثال ملتی ہے، اور نہ اس حکیمانہ ترتیب کی مثال ملتی ہے جو فقہِ اسلامی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
بعض لوگ فقہ کا ترجمہ ’’اسلامی قانون‘‘ یا ’’اسلامک لاء‘‘ کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے ممکن ہے یہ ترجمہ درست ہو، ایک عام درسی یا تفہیمی ضرورت کے لیے اس ترجمے کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن فقہِ اسلامی کے متخصصین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہ کا ترجمہ اسلامی قانون یا اسلامک لاء نہیں ہے۔ انگریزی زبان میں جس چیز کو لاء کہتے ہیں، یا اردو میں جس شعبۂ علم کے لیے قانون کا لفظ استعمال ہوتا ہے، وہ فقہِ اسلامی کے مقابلے میں بہت محدود، انتہائی سطحی اور انتہائی ہلکی چیز ہے۔ فقہِ اسلامی کا دائرہ قانون اور لاء کے مقابلے میں بڑا وسیع، انتہائی جامع اور انتہائی گہرائی پر مبنی ہے۔ اس لیے عارضی طور پر اپنی فہم کے خاطر یا ایک غیر متخصص کو سمجھانے کے خاطر فقہِ اسلامی کا ترجمہ اسلامک لاء یا اسلامی قانون کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ترجمہ نامکمل ہے۔
فقہِ اسلامی پر بات کرنے سے پہلے یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ہم فقہِ اسلامی کا ایک بہت عمومی اور ابتدائی تقابل دنیا کے دوسرے قوانین کے ساتھ کریں۔ کسی شاعر نے کہا تھا: ’’وبضدہا تتبین الاشیاء‘‘۔ چیزیں نہایت واضح اور نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہیں اگر ان کی ضد سے اس کا مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ روشنی کی حقیقت سمجھ میں آ سکتی ہے اگر تاریکی کا علم ہو، علم کا مفہوم معلوم ہو سکتا ہے اگر جہالت کا پتہ ہو، عقل و فہم کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے اگر بد عقلی اور سفاہت کا اندازہ ہو۔ اس لیے فقہِ اسلامی کی عظمت کا اندازہ کیا جا سکے گا اگر ایک سرسری نظر دنیا کے دوسرے قوانین پر بھی ڈال لی جائے۔
آج فقہِ اسلامی کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین نظام ہائے قوانین میں ہوتا ہے۔ فقہِ اسلامی جس دور میں مرتب ہو رہی تھی، جن دنوں فقہاء اسلام اور ائمۂ مجتہدین، محدثین و مفسرین، قرآن و سنت پر غور کر کے قرآن و سنت کے احکام کو مرتب کر رہے تھے، اس دور میں دنیا میں چار بڑے بڑے قوانین موجود تھے۔
قدیم ترین قانون جو آج ہمارے سامنے ہے، جس کی دستاویز آج دنیا کی ہر بڑی زبان میں موجود ہے، وہ حمورابی کا قانون ہے۔ حمورابی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام سے تقریباً دو ہزار سال پہلے تھا۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس کو دنیائے اسلام نمرود کے نام سے جانتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ السلام کا معاصر تھا۔ اس نے قانون کا ایک مجموعہ مرتب کرایا تھا جو کئی سو دفعات پر مشتمل ہے۔ یہ فرمانروا کم و بیش پینتالیس سال حکمران رہا، اس نے دنیا کا ایک قدیم ترین مجموعہ جو کئی سو دفعات پر مشتمل تھا، ایک بڑی سنگی لوح (پتھر کا کتبہ) پر کندہ کرایا تھا۔ یہ لوح جو اس کے زمانے میں لکھی گئی تھی، 1901ء میں دستیاب ہوئی۔ اس کے بارے میں دنیا کے آرکیالوجی (آثار) کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین قانون ہے۔
اگر اس قانون کا سرسری جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی حاصل نہ ہو تو وہ کس انداز کا قانون مرتب کرتا ہے۔ یہ بات کہ اس کا مرتب کرنے والا بت پرست اور مشرک تھا، اس قانون کے آغاز سے بھی ظاہر ہے اور انتہا سے بھی ظاہر ہے۔ قانون کا آغاز بھی دیوتاؤں کے نام اپیلوں اور مناجاتوں سے ہوتا ہے اور قانون کی انتہا بھی دیوتاؤں اور بتوں سے اپیلوں کے نام پر ہوتی ہے۔ جگہ جگہ اس قانون میں قانون کے مخالفین پر لعنت کی گئی ہے۔ جو احکام دیے گئے ہیں، ان کا اندازہ آپ اس سے کر لیں کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ جھوٹے گواہ کی سزا موت ہے، غلط فیصلہ کرنے والے جج کو برطرف کر دیا جائے، جرمانہ بھی کیا جائے۔ اور جو زیادہ دلچسپ مثال ہے کہ اگر کسی شخص کی دیوار گر جائے، کسی کے مکان کی، دکان کی، اور اس کے نتیجے میں کوئی شخص مر جائے، تو جس نے وہ دیوار بنائی تھی اس کو سزائے موت دی جائے گی۔ اگر مالک کا بچہ مر جائے تو بنانے والے کے بچے کو مار دیا جائے۔ (یعنی) ایک ٹھیکیدار نے مکان بنایا، اس مکان کی دیوار گر گئی، جو اس میں رہتا تھا اس کا بچہ مر گیا، تو اب سزا یہ نہیں ہے کہ بنانے والے کو جرمانہ کیا جائے یا بنانے والے معمار سے پوچھا جائے (بلکہ) سزا یہ ہے کہ بنانے والے معمار کے بچے کو پکڑ کر سزائے موت دے دی جائے۔
یہ قانون ہے جو دنیا کا قدیم ترین قانون کہلاتا ہے۔ اس نے آبادی کے تین طبقے قرار دیے ہیں۔ آبادی متساوی انسانوں پر مشتمل نہیں تھی، بلکہ اس آبادی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: ایک طبقۂ حکام یعنی اشرافیہ کا طبقہ، ایک عامۃ الناس کا طبقہ، ایک غلاموں کا طبقہ۔
لیکن ان احکام کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس قانون میں بعض ایسی مثالیں موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب یہ قانون مرتب کیا جا رہا تھا تو وہاں بعض آسمانی شریعتوں کے بقایاجات بھی موجود تھے۔ ان آسمانی شریعتوں کے بقایاجات حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت کے بقایاجات تھے، وہ حضرت ادریس علیہ السلام کی شریعت کے تھے، یا کسی اور قدیم تر پیغمبر کے تھے، ہم نہیں جانتے، لیکن بعض مثالیں ایسی موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض آسمانی کتابیں وہاں موجود تھیں جن کے اثرات اس قانون میں پائے جاتے ہیں۔ طلاق کے بعض احکام، سزاؤں کے بعض احکام، تورات اور قرآن مجید سے ہم آہنگ اور ملتے جلتے معلوم ہوتے ہیں۔
حمورابی قانون کے علاوہ دنیا کا دوسرا قدیم قانون یہودی قانون ہے، ہندوؤں کا منوشاستر ہے، اور دنیائے مغرب کا وہ قانون جس پر دنیائے مغرب کو آج بھی ناز ہے، رومن لاء ہے۔
رومن لاء وہ قانون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بچپن کے زمانے میں مرتب کیا گیا، غالباً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کو چند سال ہوئے ہوں گے، اس وقت روما میں ایک فرمانروا جس کا نام جسٹینین تھا، اس نے یہ احکام مرتب کرائے تھے۔ ان احکام کے مجموعے کو رومن لاء کہا جاتا ہے۔ رومن لاء پوری سلطنتِ روما میں رائج رہا، ان علاقوں میں بھی رائج رہا جہاں سلطنتِ روما کے اثرات تھے۔ سلطنتِ روما کے اثرات جن (علاقوں) میں تھے اور جن علاقوں میں (یہ قوانین) رائج تھے، وہ ایک طویل گفتگو کا موضوع ہے۔ لیکن سلطنتِ روما کے اس قانون کی اہمیت فقہِ اسلامی کے طلبہ کے لیے ایک اعتبار سے یوں پیدا ہو جاتی ہے کہ بہت سے مغربی مستشرقین نے آج سے کم و بیش ڈیڑھ سو، پونے دو سو سال پہلے یہ دعویٰ کیا کہ فقہِ اسلامی قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔ جب انہوں نے فقہِ اسلامی کے ذخائر کا مطالعہ کیا اور یہ دیکھا کہ اتنا وسیع و عریض، اتنا منظم، اتنا گہرا، اتنا عمیق اور اتنا سائنٹیفک قانون مسلمانوں کے پاس موجود رہا ہے، تو ان کے دل نے یہ گوارہ نہیں کیا، ان کے ذہن نے یہ بات قبول نہیں کی کہ مسلمانوں کی اس عظمت کا اعتراف کریں اور مسلمانوں کے اس کارنامے کو تسلیم کریں۔ انہوں نے یہ بے بنیاد دعویٰ شروع کر دیا کہ اسلام کا قانون، قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔
ان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید یا تائید کرنے کے لیے فقہاء اسلام نے قانونِ روما کا مطالعہ شروع کیا۔ گزشتہ صدی میں، بیسویں صدی میں، بڑی تعداد میں علماء اسلام نے رومن لاء کا مطالعہ کیا اور تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ رومن لاء کا اسلامی قانون پر ذرہ برابر اثر نہیں ہے۔ وہ تمام شواہد اور دعاوی جو رومن لاء کے اثرات کے بارے میں کیے جاتے رہے، وہ سب کے سب بے بنیاد تھے اور غلط تھے۔ رومن لاء کے بنیادی مضامین، رومن لاء کے تفصیلی احکام، رومن لاء کے بنیادی تصورات، یہ سب کے سب فقہِ اسلامی کی ترتیب، مضامین اور بنیادی تصورات سے ہر اعتبار سے متعارض ہیں۔
فقہِ اسلامی کے بنیادی مضامین کیا ہیں، ان پر آگے چل کر گفتگو ہوگی، لیکن رومن لاء کے بنیادی مضامین تین تھے: اس قانون میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اشخاص (Persons) کا قانون کیا ہے۔ پھر وہ یہ بتاتے ہیں کہ چیزوں (Things) کا قانون کیا ہے یعنی پراپرٹی کا قانون کیا ہے۔ پھر وہ اعمال (Actions) کا قانون بناتے ہیں۔ افراد، اَشیا اور اعمال، ان تین شعبوں میں انہوں نے رومن لاء کو تقسیم کیا ہے۔ آپ فقہِ اسلامی کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، قدیم یا جدید، وہ امام شافعیؒ کا کتاب الاُم ہو، یا امام ابویوسفؒ (مالکؒ) کی مؤطا ہو، یا آج کے کسی فقیہ کی کتاب ہو، آپ کو فقہِ اسلامی کی کوئی کتاب ان تین عنوانات میں مرتب نظر نہیں آئے گی۔ اس لیے یہ بنیاد ہی غلط ہے، ابتدا ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہِ اسلامی کا سارا آغاز و ارتقا صرف قرآن و سنت کی روشنی میں اور فقہاء اسلام کی اجتہادی بصیرت کی روشنی میں ہوا، اس کا کوئی تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ رومن لاء سے نہیں رہا۔
رومن لاء کے مآخذ و مصادر (یعنی بادشاہوں کا دیا ہوا مدون قانون، مجسٹریٹوں کے دیے ہوئے فیصلے، اور بادشاہوں کے مقرر کیے ہوئے ماہرینِ قانون کے فیصلے اور مشورے — فقہِ اسلامی میں اِن میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ نہ فقہِ اسلامی کسی بادشاہ کا دیا ہوا قانون ہے، نہ فقہِ اسلامی کسی مجسٹریٹ کے دیے ہوئے ضابطے ہیں، نہ فقہِ اسلامی بادشاہوں کے مقرر کیے ہوئے کسی مشیر کے مشورے ہیں۔ کسی بادشاہ یا کسی حکمران کا فقہِ اسلامی کے کسی حکم کی ترتیب و تدوین میں کوئی حصہ نہیں رہا۔ اس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ اس لیے فقہِ اسلامی کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں یہ فرض بھی کیا جا سکے کہ وہ قانونِ روما سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ماخوذ تھی۔ بعض احکام ایسے ہیں جو اسلام کے تصورِ عدل کے خلاف ہیں۔ نہ صرف اسلام کے تصورِ عدل کے خلاف ہیں بلکہ آج دنیا کا کوئی نظام اس تصور کو قبول نہیں کرتا، خود روما میں وہ تصورات آج ناقابلِ قبول ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں لکھا ہوا ہے کہ اگر مقروض شخص قرض ادا نہ کر سکے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ بڑی رقم ہو تو قتل کر دیا جائے، اور اگر قرض کی رقم تھوڑی ہو تو مقروض کو قرض دار کا غلام بنا دیا جائے۔ یہ بات آج یا ماضی میں دنیا کا کوئی انصاف پسند انسان قبول نہیں کر سکتا تھا۔
اس کے باوجود جب 19ویں صدی میں مغربی محققین نے یہ بات دیکھی کہ فقہِ اسلامی دنیا کی تاریخ کا سب سے منظم، سب سے مرتب اور سب سے وسیع نظامِ قانون ہے، تو انہوں نے یہ دعویٰ شروع کر دیا کہ یہ رومن لاء سے ماخوذ ہے۔ 1875ء سے پہلے کے سالوں میں بعض اور لوگوں نے یہ دعوے کیے اور ان دعووں کی بنیاد پر کتابیں لکھ دی گئیں، مضامین لکھ دیے گئے، اور مسلمانوں میں کمزور ایمان رکھنے والے بعض لوگوں کو، یا شریعت کا علم نہ رکھنے والے بعض مغربی قانون دانوں کو یہ بات ذہن نشین کرا دی گئی کہ فقہِ اسلامی کا سارا ذخیرہ قانونِ روما سے ماخوذ ہے۔
اگر آپ نے اسلام کی تاریخ میں یونانیوں کے علوم و فنون کے ترجمے کی تاریخ پڑھی ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ مسلمانوں نے یونانیوں کے علوم و فنون کی بہت سی کتابیں ترجمہ کیں۔ افلاطون اور ارسطو کی کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں۔ سقراط اور بقراط اور حکیم جالینوس کی کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ منطق، فلسفہ، طب پر ہزاروں کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قانون یا دستور پر کوئی ایک کتاب بھی دنیا کی کسی بھی زبان سے عربی میں ترجمہ ہوئی ہو۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر گیارہویں بارہویں صدی ہجری تک ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ قانون کی کوئی کتاب عربی میں ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہو۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اسلام کا قانون اور فقہ اتنا مرتب و منظم تھا کہ مسلمانوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اس ضرورت کا احساس نہیں کیا کہ ان کو کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے جو قانون کے میدان سے تعلق رکھتی ہو اور دنیا کی کسی قوم کے پاس موجود ہو۔
یہی حال دنیا کے اور قدیم قوانین کا ہے۔ ہندوؤں نے تو کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مسلمانوں نے کوئی چیز ان سے لی ہے۔ یہودیوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ (بدھوں) کے پاس تو سرے سے کوئی قانون ہی نہیں تھا، انہوں نے اخلاق کو کافی سمجھا۔ اس لیے ان مثالوں کے بعد ہم یہ یقین سے تسلیم کر سکتے ہیں کہ فقہِ اسلامی تمام تر سو فیصد قرآن پاک اور سنتِ رسول کے اصولوں پر قائم ہے۔ فقہاء اسلام کو جو اجتہادی بصیرت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی، یہ اس پر مبنی ہے۔ اور اس کا تمام تر ارتقا فقہاء اسلام، مفسرین قرآن اور شارحینِ حدیث کا مرہونِ منت ہے۔
مسلمانوں کا جن اقوام سے قریبی رابطہ رہا، مثلاً یہودی اور عیسائی، ان کے بھی کسی قانونی تصور نے فقہِ اسلامی پر اثر انداز ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ عیسائیوں کے ہاں تو سرے سے قانون ہی نہیں تھا، عیسائیت کے آغاز میں قانونِ تورات کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ لیکن یہودیوں کے ہاں ایک مرتب قانون تھا، لکھا ہوا بھی تھا، اس پر کتابیں بھی موجود تھیں، اور خود مدینہ منورہ میں یہودیوں کا مِدراس یعنی درسگاہ موجود تھی جہاں یہودی قانون کی تعلیم دی جاتی تھی۔ لیکن نہ یہودیوں نے اس کا دعویٰ کیا، نہ مسلمانوں کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ یہودیوں سے ان کے قانون کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب ناگزیر ہے، جس سے فقہِ اسلامی کی بنیادی اساس کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا جو ضابطہ مرتب کیا جائے — وہ کسی ایک شعبے کو منظم کرتا ہو یا ایک سے زائد شعبے کو منظم کرتا ہو — اس کی اساس اور بنیاد کیا ہو؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی اساس عقلِ انسانی کو ہونا چاہیے۔ انسان اپنی عقل سے یہ فیصلہ کرے کہ انسانوں کی زندگی کو کیسے منظم کیا جائے۔ اسلام اور دیگر آسمانی شریعتوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ چیز صرف وحی الٰہی کی بنیاد پر مرتب کی جا سکتی ہے۔ نہ انسانوں میں کوئی چیز عقل کی بنیاد پر قدرِ مشترک ہے، نہ کوئی انسان اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی مصلحتوں سے ماورا ہو سکتا ہے، نہ کوئی انسان اپنے خاص ماحول سے آزاد ہو کر مجرد اخلاق کی بنیاد پر یا مجرد عقل کی بنیاد پر کوئی چیز طے کر سکتا ہے۔ اس لیے جب بھی انسانوں کی عقل کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، اس میں ذاتی مفاد اور ذاتی مصلحت کا دَر آنا ناگزیر ہے۔ یہ صرف وحی الٰہی ہے جو تمام انسانوں کے مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہے ؎
وحی حق بینندہ سودِ ہمہ
در نگاہش سود و بہبودِ ہمہ
علامہ (محمد اقبال) نے فرمایا کہ صرف وحئ حق ہے جو ہر انسان کی فلاح و بہبود اور کامیابی کا خیال رکھتی ہے، اس کی نگاہ میں ہر انسان کی فلاح و بہبود برابر ہے۔ اس کے مقابلے میں جب عقلِ انسانی کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، تو یا تو وہ اس کا فیصلہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کرے گی، یا قیاس کی بنیاد پر کرے گی۔ تجربہ اور قیاس کے علاوہ کوئی ذریعہ عقلِ انسان کے پاس نہیں ہے کہ وہ انسانوں کے لیے کوئی نظام وضع کر سکے۔ تجربہ ہر انسان کا محدود ہوتا ہے۔ کسی انسان کا تجربہ اتنا لامتناہی نہیں ہے کہ آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر چینیوں کے لیے نظام وضع کر دیں، کوئی چینی بیجنگ میں بیٹھ کر ہمارے لیے نظام وضع کر دے، کوئی شخص آج سے پانچ سو سال پہلے بیٹھ کر چھ سو سال بعد آنے والوں کے لیے نظام وضع کر دے۔ کسی انسان کا تجربہ لامتناہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک انتہائی محدود تجربے کی روشنی میں لامحدود انسانوں کے لامحدود معاملات کے لیے نظام وضع کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہی حال قیاس کا ہے کہ انسان کسی دیکھی ہوئی چیز پر اَن دیکھی چیز کو قیاس کرتا ہے۔ ایک چیز آپ نے دیکھی، اس پر اَن دیکھی چیز کو قیاس کر کے ایک نتیجہ معلوم کر لیا۔ جو چیز آپ نے دیکھی ہے وہ انتہائی محدود ہے، دو یا چار پانچ چیزیں دیکھی ہیں، اس پر ہزاروں چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
پھر اگر یہ عقل فرد کی ہے، فرد کی عقل پر بھروسہ کر کے جن لوگوں نے معاملات چلائے، ان کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔ اگر ایک سے زائد افراد کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، دنیا کا تجربہ ہمارے سامنے ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ جس طبقے سے ان کا تعلق ہوگا، اس طبقے کے مفاد کو وہ پیش نظر رکھیں گے؛ اور جس طبقے سے تعلق نہیں ہوگا، اس طبقے کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ ہم سب کا تعلق پڑھنے پڑھانے کے معاملات سے ہے، اگر اساتذہ اور طلبہ کو ملک کا نظام بنانے کی اجازت دے دی جائے تو سارا مفاد اساتذہ اور طلبہ کا ہوگا۔ اور مزدوروں، کسانوں، سرمایہ داروں، کارخانہ داروں، ملازمین، سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا۔ ملازمین کو یہ حق دیا جائے تو بقیہ سب کا مفاد مجروح ہو جائے گا، اُن کا مفاد پورا ہو جائے گا۔
اس لیے اللہ کی شریعت نے یہ طے کیا کہ انسانی زندگی کے نظام میں جو جو چیزیں ضروری ہیں، ان کی وہ بنیادی اساسات اور ان کے وہ بنیادی احکام وحی الٰہی کے ذریعے طے کر دیے جائیں۔ جہاں انسانی عقل کے بھٹکنے کا امکان ہے، جہاں انسانی عقل سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی خاص طبقے یا فرد کے مفاد کو پیش نظر رکھے گی، وحی الٰہی نے وہ بنیادی تصورات فراہم کر دیے۔ اچھائی اور برائی کا معیار طے کر دیا کہ کیا چیز اچھی ہے اور کیا چیز بری ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ طے ہو جائے تو پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان حدود کے اندر انسانی عقل کو اجازت ہے کہ وہ جتنی تفصیلات چاہے طے کر لے۔ وہ تفصیلات جو کسی فرد یا گروہ کی عقل طے کرے گی، اگر قرآن و سنت کے ان بنیادی احکام کے مطابق ہیں تو قابلِ قبول ہیں، ان بنیادی احکام سے متعارض ہیں تو ناقابلِ قبول ہیں۔ ان بنیادی احکام کے اندر اگر ایک سے زائد آرا ہیں، اور اس ڈھانچے میں ایک سے زائد آرا کی گنجائش ہے، تو ایک سے زائد آرا بھی قابلِ قبول ہیں۔
آپ میں سے جن کو حدیث پر خطبات سننے کا موقع ملا ہوگا، میں نے اس میں یہ مثالیں دی تھیں کہ کس طرح ایک حدیث کا ایک سے زائد مفہوم فقہاء نے، صحابہ کرام نے، تابعین نے سمجھا؛ اور وہ ایک سے زائد مفاہیم سارے کے سارے بیک وقت درست قرار پائے۔ قرآن پاک کی ایک آیت کو ایک سے زائد انداز میں صحابہ کرامؓ نے کیسے سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مفاہیم کو کیسے درست قرار دیا۔ جہاں ایک مفہوم ہی درست تھا، حضورؐ نے اس کی نشاندہی فرما دی۔ جہاں ایک سے زائد تعبیرات کی گنجائش تھی، آپؐ نے ایک سے زائد تعبیرات کی اجازت دی۔ لیکن ان حدود کے اندر، اس چوکھٹے کے اندر جو قرآن پاک اور سنتِ رسول میں موجود ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی زندگی کے تمام بنیادی مسائل کا جواب دیتا ہے۔ یہ چوکٹھا انسانوں کی بنیادی حکمتوں اور مصلحتوں کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا کمزور سے کمزور انسان کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی اخلاق کی نگہداشت کرتا ہے۔ یہ چوکٹھا زندگی کے تسلسل کا ضامن ہے۔ یہ چوکٹھا انسانی زندگی کو ماضی سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے اندر اندر انسانی عقل جتنا سوچ سکے اس کو سوچنے کی اجازت ہے۔ انسانی عقل جو مسائل تجویز کر سکے، جو حل تجویز کر سکے، وہ کر سکتی ہے۔
لیکن اگر یہ بنیادی رہنمائی جو قرآن مجید اور سنت نے دے دی، یہ موجود نہ ہو، تو وہ ہوتا ہے جو آج مغرب میں ہو رہا ہے۔ مغرب میں یہ طے کیا گیا کہ فلاں جماعت کے ارکان — جن کی تعداد دو سو یا تین سو یا ہزار یا دو ہزار ہے — ان کی عقل زندگی کے معاملات کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ان انسانوں کی عقل نے جو فیصلے کیے، وہ آج میں آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ میری حیا اس کی اجازت نہیں دیتی کہ میں وہ مثالیں دوں جو انسانوں نے ہماری اسی دنیا میں، 20ویں اور 21ویں صدی میں انسانوں کے بارے میں فیصلے کیے۔ تازہ ترین فیصلہ سن لیجیے۔ ترکی، جو برادر مسلم ملک ہے، جس کا ایک حصہ یورپ میں ہے اور تقریباً تین چوتھائی سے زائد حصہ ایشیا میں ہے، اس ایک چوتھائی سے کم حصے کی وجہ سے وہ یورپین یونین کا ممبر بننا چاہتے ہیں اور کم و بیش پچاس سال سے کوشاں ہیں کہ ان کو یورپین یونین کی ممبرشپ عطا فرما دی جائے۔ ان کی قیادت نے — اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے — ہر وہ کام کیا جو یورپینز نے ان سے مطالبہ کیا کہ آپ یہ کریں۔ تازہ ترین، جب ان کا معاملہ بالکل طے کرنے کے قریب ہوا، فیصلہ ہونے لگا کہ وہ یورپین کونسل کے ممبر ہو جائیں، تو انہوں نے اعتراض کیا کہ پچھلے دنوں آپ کی پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ پیش ہوا ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ بدکاری کو ترکی میں جرم قرار دے دیا جائے، یہ یورپین تصورات کے خلاف ہے، ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جس طرح سے چاہے اپنی عزت و اخلاق کا سامان کرے، سودا کر لے، لہٰذا یہ پابندی لگانا جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے وہ قانون واپس لے لیا۔ افسوس کی بات ہے، ہمارے لحاظ سے دکھ کی بات ہے، لیکن یہ فیصلے ہیں جو انسانی عقل کی بنیاد پر ہوتے ہیں، جن کا اخلاق، روحانیت، کردار، کسی چیز سے کوئی تعلق نہیں۔
اگر ایک مرتبہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ زندگی کے بنیادی مسائل کا جواب دینے کا حق انسانی عقل کو ہے، وحی الٰہی کو نہیں ہے، تو پھر انسانی زندگی کے لیے کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ایک لاکھ انسان ہوں گے تو وہ ایک لاکھ عقلی مشورے دیں گے، جہاں ایک ارب انسان ہوں گے تو وہ ایک ارب حل تجویز کریں گے، اور انسانیت کسی ایک حل تک نہیں پہنچ سکے گی۔ آج دنیا میں جو لاتعداد مسائل پیدا ہو رہے ہیں، آئے دن انسانوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کچھ انسانوں کا یہ حق تسلیم کر لیا کہ ان کی عقل دنیا کے معاملات کا فیصلہ کرے۔ اب جس کے پاس ڈنڈا ہے اس کی عقل بھی سب سے زیادہ ہے، جس کی جیب میں پیسہ ہے اس کی عقل بھی سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیجیے کہ دنیا میں جن قوموں کے پاس قوت اور طاقت ہے، ان کا نظام بھی دنیا میں زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔ جن اقوام کے پاس وسائل زیادہ ہیں اور قوت کی وجہ سے انہوں نے وسائل پر بھی قبضہ کیا ہے، ان کا نظام دنیا میں چل رہا ہے اور لوگ ماننے پر مجبور ہیں۔
ہمارے ترک بھائیوں کے دلوں میں کیا ہے؟ یقینا وہی ہوگا جو میرے اور آپ کے دل میں ہے۔ لیکن وہ اس مجبوری کی وجہ سے ان کی شرائط ماننے پر مجبور ہیں، جن کے پاس پیسہ بھی ہے، جن کے پاس قوت بھی ہے، جن کے پیسے اور قوت کی وجہ سے ان کی تنظیم میں ہر شخص شامل ہونا چاہتا ہے۔ یہ وہ کمزوریاں ہیں جو دنیا کے قوانین میں اور نظاموں میں پائی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی پائی جاتی رہیں گی۔
اس کے مقابلے میں اسلامی شریعت نے جو نظام دیا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے ایک راستہ متعین کر دیا ہے کہ انسان کو کس راستے پر جانا ہے۔ اس راستے کے بنیادی حدود اور نشاناتِ منزل اللہ کی شریعت نے طے کر دیے ہیں۔ اللہ کی شریعت نے یہ بتا دیا ہے کہ اس راستے پر جاؤ گے تو کامیاب رہو گے، اس کے علاوہ کسی اور راستے پر چلو گے تو کامیاب نہیں رہو گے۔ اگر آپ کو کسی جنگل میں سفر کرنا ہو، کسی ریگستان اور صحرا میں سفر کرنا ہو، اور یہ بھی نہ پتہ چلے کہ مشرق کدھر ہے اور مغرب کدھر ہے، منزل کدھر ہے اور لامنزل کدھر ہے، اور کوئی شخص آپ کے لیے جگہ جگہ نشان لگا کر راستہ متعین کر دے، تو آپ کے لیے منزل پر پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ اب یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ ٹھہرتے ہوئے سفر کریں، آپ کے اختیار میں ہے کہ اونٹ پر سفر کریں یا گھوڑے پر کریں، موٹر گاڑی پر کریں یا بائیسکل پر کریں، راستے میں ٹھہرتے ہوئے جائیں یا مسلسل جائیں، راستے میں زادِ راہ کیا رکھیں، کھانا اچھا رکھیں یا معمولی رکھیں۔ یہ سب تفصیلات آپ کو طے کرنے کا اختیار ہے۔ یہ ساری تفصیلات آپ اپنے حالات کے لحاظ سے طے کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر راستہ ہی متعین نہ ہو تو کوئی کہے گا کہ دائیں چلو، کوئی کہے گا کہ بائیں چلو، کوئی کہے گا کہ جہاں سے آ رہے ہو وہاں واپس جاؤ، تو آپ بنی اسرائیل کے میدانِ تیہ کی طرح اس میں سرگرداں اور سرگشتہ رہیں گی اور منزل تک نہیں پہنچ سکیں گی۔
اس لیے رب العالمین کی شریعت نے رحمت للعالمین کے ذریعے جو پیغام بھیجا، جو پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے، وہ یہ ہے کہ اس جنگل میں، اس بیابان میں، راستے کی نشاندہی کر دی کہ راستہ یہ ہے۔ یہ راستہ، جس کے دونوں اطراف نشاناتِ منزل لگے ہوئے ہیں، جو منزل مقصود تک پہنچا دینے کا ضامن ہے، اس راستے کو عربی زبان میں شریعت کہتے ہیں۔ شریعت ایک جامع اصطلاح ہے جس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی۔ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، وہ سب کا سب شریعت ہے۔ پورا قرآن مجید، پوری سنت، یہ شریعت ہے۔ اس شریعت میں انسان کی اس زندگی اور اُخروی زندگی کی کامیابیوں کے لیے جن جن ہدایات اور رہنمائی کی ضرورت ہے، وہ ساری ہدایات اور رہنمائی کے سامان اس میں موجود ہیں۔ عربی زبان میں شریعت اس راستے کو کہتے ہیں جس پر چل کر آپ پانی کے ذخیرے تک پہنچ سکیں۔ اگر آپ کا قیام کسی گاؤں یا دیہات میں ہو اور آپ کے گھر میں پانی کا بندوبست مستقل طور پر نہ ہو، تو آپ کو صبح شام پانی لینے کے لیے کسی کنویں یا نہر یا چشمے پر جانا پڑے گا۔ اس چشمے یا کنویں پر گاؤں کے سب لوگ جا رہے ہوں گے۔ اس مسلسل جانے سے لوگوں کے چلنے سے ایک راستہ بن جائے گا۔ وہ راستہ انتہائی مختصر ہوگا۔ کوئی شخص جو پانی لینے کے لیے جائے گا، وہ لمبا چکر لگا کر پانی کے کنویں تک نہیں جائے گا، بلکہ مختصر ترین راستے سے جائے گا۔ تو وہ راستہ سیدھا بھی ہوگا، مختصر بھی ہوگا، بہت کشادہ بھی ہوگا، بہت ہموار بھی ہوگا، اور وہاں بہت کثرت سے لوگ جا رہے ہوں گے، اور وہاں جانا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ پانی کے ذخیرے تک پہنچ جائیں۔ کسی اور راستے سے جائیں گے تو راستہ بھٹکنے کا امکان ہے، گاؤں کی کسی اور گلی میں نکل جائیں گے، کسی اور رخ پر نکل جائیں گے، لیکن اس راستے پر چل پڑیں تو آپ یقینی طور پر پانی کے ذخیرے تک پہنچ جائیں گے۔ اس راستے کو عربی زبان میں شریعت کہتے ہیں۔
قرآن مجید نے بتایا ہے: ’’وجعلنا من المآء کل شیء حی‘‘ (الانبیاء ۳۰) ہم نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ گویا زندگی کے ماخذ اور مصدر تک جو راستہ لے جائے، وہ راستہ عربی زبان میں شریعت کہلاتا ہے۔ یہ راستہ جو زندگی کے ماخذ اور مصدر تک لے جاتا ہے، یہ ہمیشہ مختصر ترین ہوتا ہے، سیدھا ہوتا ہے، صاف اور ہموار ہوتا ہے، کشادہ ہوتا ہے، اور منزل تک پہنچانے کا یقینی ذریعہ ہوتا ہے۔ باقی کوئی ذریعہ یقینی نہیں۔ یہ خصوصیات شریعت میں پائی جاتی ہیں، لغوی مفہوم میں۔ قرآن مجید نے یہ بھی بتایا کہ ’’وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان‘‘ (العنکبوت ۶۴) کہ آخرت کی زندگی ہی در حقیقت حقیقی زندگی ہے۔ اُس زندگی میں کامیابی تک جو راستہ پہنچا دے، وہ اصطلاح میں شریعت کہلاتا ہے۔ یہ راستہ بھی انتہائی واضح ہے، یہ راستہ بھی انتہائی سیدھا ہے، یہ راستہ بھی انتہائی ہموار ہے، یہ راستہ بھی مشکلات سے پاک ہے، یہ راستہ بھی رکاوٹوں اور دقتوں سے صاف ہے، یہ راستہ بھی منزل تک پہنچنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ اس لیے عربی زبان میں قرآن مجید نے شریعت کے لفظ کو اختیار کیا کہ وہ اس مفہوم کو پورے طور پر ادا کر دیتا ہے، جو شریعت کے لفظ سے اللہ تعالیٰ انسانوں کے ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔ شریعت کی شکل میں جو راستہ دیا گیا ہے، یہ اس زندگی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ یہ راستہ انتہائی مختصر ہے، سیدھا ہے، کشادہ ہے، ہموار ہے اور منزل پر پہنچا دینے کا واحد ذریعہ ہے۔
https://youtu.be/rmxuGx0Mnd8
حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
اب آئیے اصولِ فقہ کے دو مناہج کی طرف، جو ہمیں عام طور پر نصابی کتب میں بتائے جاتے ہیں:
کہا جاتا ہے کہ ایک متکلمین کا منہج ہے، جس میں ہم اصول سے فروع کی طرف جاتے ہیں۔ اصول بیان کرتے ہیں، عام قطعی ہے یا ظنی ہے؟ ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ کریں گے یا نہیں کریں گے؟ امر وجوب کے لیے ہے یا نہیں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اصول سے جاتے ہیں فروع کی طرف۔
کہتے ہیں ایک منہج فقہاء کا ہے، جس میں ہم فروع سے جاتے ہیں اصول کی طرف۔ جس میں ہم کتاب الاصل سے کوئی جزئیہ ذکر کر کے بتاتے ہیں، مثال کے طور پر امام محمدؒ نے لکھا ہے کتاب المضاربہ میں کہ اگر مضارب اور رب المال کا اختلاف ہو جائے اور مضارب کہے کہ اس نے تو مجھے عام اختیار دیا تھا، اور رب المال کہتا ہے کہ نہیں، میں نے تو specify کیا ہوا تھا، مخصوص حکم دیا تھا، اور دونوں کے پاس کوئی بینہ (گواہ) نہ ہو، تو امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ بات اس کی مانی جائے گی جو عموم کا قائل ہے، چاہے وہ مضارب ہو چاہے رب المال ہو۔ ہم اس کو نہیں دیکھیں گے کہ مضارب کون ہے، رب المال کون ہے، ہم اس کو دیکھیں گے کہ عموم کا قائل کون ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مضاربہ کا جو عقد ہے، اس کا مقتضا اس کا تقاضہ کیا ہے؟ اس کا تقاضہ عموم ہے جب تک اس کی تخصیص نہ کی جائے۔
مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے مضارب سے کہا کہ یہ پیسے لو اور اس سے مضاربہ کرو اور جو منافع ہوا تو وہ ہم دونوں آپس میں تقسیم کر لیں گے، نقصان کا میں ذمہ دار ہوں۔ یہ مضاربہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا اسے کہ ٹماٹر کی خرید و فروخت کرنی ہے یا پیاز کی۔ کراچی میں کرنی ہے یا لاہور میں۔ کوئی تعیین نہیں کی۔ مضاربہ صحیح ہے نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مضاربہ کا عقد ہے اس کا مقتضا عموم کا ہے۔ اگر اس کا مقتضا عموم کا نہ ہوتا تو یہ مضاربہ صحیح نہ ہوتا۔ اچھا، تو اب جب عموم اور خصوص کے قائلین جو ہیں، نہ عموم کے قائل کے پاس کوئی ثبوت ہے اور نہ خصوص کے قائل کے پاس کوئی ثبوت ہے، تو ہم کہتے ہیں عقد کے مقتضا پر فیصلہ کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے نزدیک عموم اور خصوص برابر کی قوت رکھتے ہیں، تب ہی تو ہم عقد کی طرف گئے، ورنہ اگر ہمارے نزدیک خاص عام سے زیادہ قوت رکھتا، تو پھر تو ہم کہتے کہ خصوص کی بات مانی جائے گی، عموم کی نہیں مانی جائے گی۔
تو اس جزئیے سے کیا معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک عموم اور خصوص برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ہم تو جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں کہ خاص قطعی ہوتا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ عام تو قطعی ہے ہمارے نزدیک۔ تو ’’عام قطعی ہے‘‘ اس اصول تک ہم پہنچے اِس جزئیے سے، یعنی فروع سے ہم اصول کی طرف گئے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اس کی مزید تفصیل اگلے سیشن میں کریں گے۔
یہ کہا تو جاتا ہے لیکن بعد میں سارا منہج ہی ایک ہو گیا۔ نہ صرف منہج بلکہ نظریہ بھی ایک ہو گیا۔ اسی لیے تو آپ آج اصولِ فقہ کی کوئی بھی کتاب اٹھائیں، وہبہ زحیلی نے لکھی ہو، عبد الکریم زیدان نے لکھی ہو، حسین احمد حسان نے لکھی ہو، کسی نے بھی لکھی ہو، تو آپ کو اس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی سب کچھ مکس نظر آئے گا۔ اور کہا جائے گا یہ حکمِ تکلیفی کی مثال کے طور پر ان تینوں کے نزدیک پانچ قسمیں ہیں، ان کے نزدیک سات ہیں۔ خبر واحد سے تخصیص ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟ یہ یہ کہتے ہیں، وہ وہ کہتے ہیں۔ قرآن کا نسخ سنت سے ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ متواتر اور غیر متواتر۔ اِن کا موقف یہ ہے، اُن کا موقف وہ ہے۔
اچھا، یہ صرف اِس دور میں لکھی گئی کتابوں کی بات نہیں ہے، دورِ متاخرین میں جو کتابیں ہیں وہ بھی اٹھا کر دیکھ لیں، مسلم الثبوت سے کچھ چیزیں کل پڑھیں گے، ان شاء اللہ۔ بلکہ ذرا پیچھے جائیے تو ابن الہمام کے ہاں بھی، ان کی کتاب کا نام یہی ہے: التحریر فی اصول الفقہ الجامع بین اصطلاحی الحنفیہ والشافعیہ۔ یہ کیسے ہوا؟ اور کیا یہ ممکن ہے؟
اور کچھ المیہ اُن کا بھی ہے جن کو اصولِ فقہ انگریزی کی کتابوں سے پڑھنے کا موقع ملا، کیونکہ انگریزوں کے دور میں پچھلی سے پچھلی صدی میں جو کچھ لکھا گیا اور پچھلی صدی میں جاری رہا، وہ چاہے انگریزی میں لکھا گیا ہو، چاہے فرانسیسی میں لکھا گیا ہو، یا کسی اور یورپی زبان میں، حتیٰ کہ جو اِس دور میں عربی میں بھی چیزیں لکھی گئیں، اس میں اس طرح کی بحثیں آپ کو نظر آتی ہیں۔ ایک تو انگریزی کی کتابوں میں حنفی، شافعی، مالکی وغیرہ کو سیکٹ کہا جاتا ہے، کہ یہ فرقے ہیں۔ پھر فرقوں سے تو چونکہ تنفر بھی پایا جاتا ہے، تو اس سے اس کے لیے میدان ہموار کیا جاتا ہے کہ فرقوں سے ماورا ہو کر فرقوں سے بالاتر ہو کر خالص قرآن و سنت پر مبنی منہج چاہیے۔ اور پھر چونکہ ان کو فرقے کہا جاتا ہے، اور چونکہ دورِ متاخرین سے لے کر پھر آگے یہاں تک آپ کو اصولِ فقہ کی کتابوں میں سب کچھ نظر آتا ہے، بلکہ متن اِس مذہب کے ماننے والے کا ہوتا ہے تو شرح اُس مذہب کے ماننے والے کی ہوتی ہے، اور حاشیہ اِس مذہب کے ماننے والے کا ہوتا ہے۔ تو پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ جو اختلافات ہیں یہ تو بس جزوی قسم کے اختلافات ہیں، بس ایک ہی نوعیت کی چیزیں ہیں، درمیان میں کہیں یہ کہیں وہ۔ تو اس کے نتیجے میں ایک تو تلفیق کی راہ لوگوں کے لیے آسان ہو جاتی ہے، ہموار ہو جاتی ہے، تفصیلات میں جائے بغیر، بس ٹھیک ہے، یہاں ہم اِس کے قائل ہو جائیں گے، وہاں ہم ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ میں حنفی موقف کو چھوڑ کر شافعی لے لیں گے، یہ سوچے بغیر کہ بھئی، وہ تو اسی بحث سے نکلا ہوا ایک نتیجہ ہے، اور جب آپ اِس میں اِس کے قائل ہیں تو اُس میں اُس کے قائل کیسے ہو سکتے ہیں؟
اور میرے نزدیک اس کا جو سب سے نقصان دہ اثر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اصولِ فقہ اور فقہ کا آپس میں جو تعلق ہے، وہ منقطع ہو گیا ہے۔ اصولِ فقہ آپ دورِ متاخرین کی کتابوں سے پڑھتے اور پڑھاتے آ رہے ہیں۔ اس میں نظری بحثیں تو آپ کو بہت ساری ملیں گی اور اس میں فقہی جزئیات کی مثالیں بھی ملیں گی، لیکن اصولِ فقہ کو فقہ کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے، یہ کام مشکل ہی ہے کہ اِن کتابوں سے سمجھ میں آئے۔ اور نہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جو اتنی ساری فقہ وجود میں آئی ہے، یہ اس اصولِ فقہ سے کیسے وجود میں آئی ہے۔
بلکہ جوزف شاخٹ، جرمنی کا جو بڑا مشہور مستشرق گزرا ہے اور اس نے اسلامی قانون اور اصول پر بہت ساری چیزیں لکھی بھی ہیں، اور یورپ میں اور امریکہ میں حتیٰ کہ پاکستان میں ہر جگہ اس کے متاثرین بہت زیادہ پائے جاتے ہیں، کچھ مانتے ہیں، کچھ نہیں مانتے، کچھ کو پتہ ہے، کچھ کو نہیں، لیکن اثرات جوزف شاخٹ کے بہت زیادہ ہیں۔ اس کا ایک بڑا دلچسپ دعویٰ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ جو فقہ ہے جس کو آج ہم جانتے ہیں، وہ کہتا ہے یہ فقہ ۱۳۲ ہجری میں وجود میں آ چکی تھی۔ بنی امیہ کی حکومت جب ختم ہوئی ۱۳۲ھ میں، بنو عباس کی آئی، وہ کہتے ہیں اس وقت تک یہ فقہ وجود میں آ چکی تھی۔ اچھا، ہمارے لوگ اس سے بڑا لطف بھی اٹھاتے ہیں، حظ بھی اٹھاتے ہیں کہ دیکھیں فقہ کی عظمت کی ایک دلیل ہمیں مل گئی، ۱۳۲ھ میں، عہدِ رسالت سے اتنا قرب بھی ہوا، فقہ وجود میں آ چکی تھی جو اَب ہمارے سامنے ہے۔
یہی صاحب اسی کتاب میں امام شافعی رحمہ اللہ کو اصول الفقہ کا ماسٹر آرکیٹیکٹ کہتے ہیں۔ یہ الفاظ ہیں ان کے، امام شافعی ماسٹر آرکیٹیکٹ آف اصول الفقہ ہیں۔ امام شافعی کی پیدائش کب ہوئی ہے؟ ۱۵۰ھ میں۔ ان کی پیدائش سے اٹھارہ سال پہلے فقہ وجود میں آ چکی تھی۔ اصولِ فقہ کے خالق اس کے بعد پیدا ہوئے۔ گویا فقہ اور اصول کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔
جو حنفی اصولی پیراڈائم ہے، اصولی منہج ہے، اور اس کو جس طرح ہم نے اپنے استاذ محترم نیازی صاحب سے سیکھا ہے، اس کی رو سے ہر فقہی مذہب ایک مستحکم اور مستقل اصولی نظام ہے۔ فرقہ نہیں ہے، اصولی نظام (سسٹم آف انٹرپریٹیشن) ہے۔ اندرونی طور پر ہم آہنگ (انٹرنلی کوہیرنٹ) ہے۔ اس لیے جتنے مذاہب ہیں، یوں کہیں اتنے ہی اصولی نظام ہیں۔ شافعی مذہب ایک مستقل شافعی اصولی نظریہ ہے، شافعی اصولی نظام ہے۔ حنفی مذہب ایک مستقل اصولی نظام رکھتا ہے۔ مالکی مذہب ایک مستقل اصولی نظام ہے۔ اسی طرح دیگر مذاہب بھی۔
یہ سوال میں پھر اٹھا رہا ہوں کہ یہ نظریہ بنا کیسے؟ دیکھیں، اس طرح پیش کیا جاتا ہے اور کسی حد تک یہ تاریخ درست بھی ہے کہ ہر مذہب کے اصولوں کی تدوین تو الگ الگ ہوتی رہی۔ اِس مذہب میں یہ آئے، اُس مذہب میں وہ آئے۔ یہاں مثال کے طور پر امام کرخی ہیں، امام جصاص ہیں، پھر آگے امام دبوسی ہیں، پھر امام سرخسی ہیں، امام بزدوی ہیں۔ اسی طرح شافعی مذہب میں یہ ہیں، مالکی میں وہ ہیں۔ پھر بعض اوقات آپ کو مذاہب کے اندر بھی متعدد آراء نظر آتی ہیں۔
عام کی بحث میں ہم خصوصاً اس کو دیکھیں گے کہ یہ جو بعض ناقدین آج کل کہتے ہیں کہ: جس کو حنفی مذہب کہا جاتا ہے کہ عام قطعی ہے، تو یہ تو عیسیٰ بن ابان کی رائے ہے جو امام محمد کے شاگرد تھے، اور امام ابوحنیفہ سے تو اصول مروی ہی نہیں ہے۔ اور یہ اصولوں کے استنباط میں بعض لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ یا چلیں ایک رائے یہ بھی ہے۔ لیکن ایک رائے وہ بھی ہے جو امام سمرقندی سے روایت ہے۔ بلکہ ایک صاحب نے تو اس پر پورا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اب اسی سے خوشہ چینی کر کے ہمارے ہاں بھی لوگ اِدھر اُدھر کچھ چیزیں لکھ رہے ہیں کہ یہ عراقی منہج ہے، یہ سمرقندی منہج ہے۔ اور پہلی تین صدیوں میں سارے کا سارا عراقی جو منہج ہے وہ غالب رہا۔ چوتھی صدی ہجری میں سمرقندی منہج امام ماتریدی کے زیراثر سمرقند اور ماوراء النہر میں رائج ہوا۔ تو پانچویں صدی ہجری میں جاتے جاتے دونوں مل گئے اور ایک حنفی مذہب بن گیا۔ اس پر اگلی نشست میں بات کریں گے کہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں ہے۔ لیکن چلیں، پانچویں صدی ہجری تک جاتے جاتے بالآخر حنفی مذہب بن گیا، اسی طرح شافعی مذہب بن گیا، اسی طرح اور مذہب بن گئے۔
اب جب مذہب بن گیا، اور اب ہمیں معلوم ہے کہ ان کے نزدیک عام قطعی ہے، ان کے نزدیک ظنی ہے۔ اچھا، اُن کے نزدیک کیا پوزیشن ہے؟ ظنی ہے تو چلیں اُن کو اِدھر کر لیں۔ اِن کے نزدیک ’’حمل المطلق علی المقید‘‘ نہیں ہو سکتا، اور اِن کے نزدیک ہو سکتا ہے۔ اچھا، ان کے نزدیک؟ ان کے نزدیک ہو سکتی ہے اس لیے ان کو اِدھر کر لیں۔ بھئی، پہلے وہ اُدھر تھے، اب میں ان کو اِدھر کیسے کر لوں؟ چلیں مرحلہ بہ مرحلہ جاتے ہیں۔ یہاں وہ اُن کے ساتھ ہیں، یہاں وہ اِن کے ساتھ ہیں۔ یہاں وہ اِن کے ساتھ ہیں، یہاں وہ اُن کے ساتھ ہیں۔ چلیں، اس معاملے میں یہ تینوں ایک طرف ہیں، اس معاملے میں یہ ایک اس طرف ہیں، اس معاملے میں یہ دو اس طرف ہیں۔
یہ کوششیں شروع ہوئیں جس کو ’’تقریب بین المذاہب‘‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک پہلو تسہیل کا بھی تھا، تقریب کے علاوہ، کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو کیا اب اِدھر حنفی کا پورا پڑھے، اُدھر شافعی کا پورا پڑھے؟ یہ ساری چیزیں ایک ہی جگہ مل جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے اس دوران میں انسان ایک دوسرے سے اخذ و استفادہ تو کرتے رہتے ہیں، تو وہ بھی ہوا۔
تو اس دور کے بعد، آپ یوں کہیں کہ پانچویں صدی ہجری کے بعد جو اصولِ فقہ پر لکھی گئی کتابیں ہیں، تو ان میں آپ کو تسہیل کے فوائد بھی نظر آتے ہیں، اخذ و استفادے کے آثار بھی نظر آتے ہیں، تقریب کی وجہ سے کچھ اچھا اچھا بھی آپ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے نتیجے میں اصولِ فقہ اور فقہ کا تعلق آپس میں منقطع ہو گیا۔ اصل جو آپ کا نظام ہے، وہ کہاں گیا؟ وہ تو پانچویں صدی ہجری کی کتابوں تک محدود رہ گیا۔ موجودہ نصابی کتب سے وہ معلوم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی متاخرین کی کتابوں سے اسے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
اصل منہج کی بازیافت کیسے کرنی ہے؟
اس کے لیے پہلا کام یہ کرنا ہے کہ ’’تقریب بین المذاہب‘‘ سے پہلے کی دنیا کی طرف واپس جانا ہے۔ یعنی میں یہ نہیں چاہتا کہ حنفی، شافعی، مالکی آپس میں لڑ پڑیں، لیکن اصولی منہج کو سمجھنا ہے تو یہ جو بعد میں مکس اَچار ہم نے بنا دیا ہے، اس سے پہلے جو اصل پوزیشن تھی، اُس دنیا میں جائیں اور اُس دور میں لکھی گئی کتابیں دیکھ لیجیے۔
پانچویں صدی ہجری اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ سارے یہ مانتے ہیں کہ یہاں تک آتے آتے پورا حنفی نظام بھی ہمارے سامنے آ گیا، یہ بھی آ گیا، وہ بھی آ گیا۔ اور آپ کو بڑے بڑے اساطین اس دور میں نظر آتے ہیں ہر مذہب میں۔ یوں کہیں کہ علمی لحاظ سے، ہماری علمی تاریخ میں ہم اس مقام تک پہنچے اور یہاں تک فقہ اور اصول آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
تو اس ساری بحث کی روشنی میں اس سیشن کے اختتام پر جو میں آپ کے سامنے نتیجہ رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جو ظاہر الروایہ ہے، اس کو بطورِ فقہ ہی نہیں، بطورِ اصول بھی پڑھائیے۔ کیسے؟ اگلی نشست میں ہم ان شاء اللہ اس پر بات کریں گے۔ لیکن میری تھیسس سٹیٹمنٹ (بنیادی موقف) یہ ہے کہ جو ظاہر الروایہ ہے، یہ صرف ہماری فقہ کی کتب نہیں ہیں بلکہ یہ ہماری اصول کی کتب ہیں۔ اور اسی وجہ سے تو ہمارے فقہاء ان کو مسائل الاصول کہتے ہیں۔ کیسے؟ یہ ہم اگلی نشست میں دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔
حنفی مسائل ہمیں آج بھی الگ نظر آتے ہیں، شافعی مسائل آج بھی الگ نظر آتے ہیں، اور باقی بھی، لیکن اصولِ فقہ کی کوئی بھی کتاب اٹھائیں تو حنفی، شافعی، مالکی سب اکٹھے نظر آتے ہیں۔ الگ الگ جزئیہ میں ان کا اختلاف نظر آئے گا لیکن آپ کو عمومی طور پر وہ ایک ہی لائن میں جا رہے ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے، ظاہر ہے سارے جو مناہج ہیں وہ شریعت کو سمجھنے کے لیے ہیں۔ اور اس میں جیسے امام شاطبی نے اپنی کتاب کا نام بھی الموافقات رکھا، تو موافقات تو فی اصول الشریعہ بہت کچھ ہیں۔ لیکن یہی بات جو یہاں پائی جاتی ہے اور وہاں بھی پائی جاتی ہے، وہ اِس نظام میں کیسے ہے اور اُس نظام میں کیسے ہے؟ اس سے بہت بڑا فرق واقع ہوتا ہے۔ یعنی بظاہر تو آپ کو یہ بات اور وہ بات ایک نظر آتی ہے — اور وہ ہے بھی ایک بات — لیکن یہ بات اِس نظام میں یہاں رکھی ہوئی ہے، اور اُس نظام میں وہاں رکھی ہوئی ہے، دونوں کا اپنے اپنے اصولوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس سے ایک الگ دنیا بن جاتی ہے، اسی وجہ سے تو پھر نتائج میں اختلاف ہوتا ہے۔
سوالات اور تعلیقات
سوال:
جیسے ہم اصولِ فقہ پہ غور کریں تو عام خاص وغیرہ، یہ جتنی مباحث ہیں، ان کا تعلق ہمیں عربی سے نظر آتا ہے، یہ گویا عربی کو سمجھنے کے لیے یہ سارے مباحث کے نام رکھے گئے ہیں، ڈیفائن کیے گئے ہیں، تو ان میں تو سب مل نہیں جائیں گے؟ ان میں کیسے جدا؟
جواب:
دیکھیں، شاید سوال میں پوری طرح نہیں سمجھا، لیکن جو میں سمجھا ہوں اس کی روشنی میں بتا دیتا ہوں۔ ایک تو یہ بات بھی پوری درست نہیں ہے، بڑی حد تک درست ہے، لیکن یہ سارے اصول صرف عربی سمجھنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ قرآن و سنت ظاہر ہے عربی میں ہیں، آثارِ صحابہؓ عربی میں ہیں، بنیادی مسئلہ تو یہ ہے کہ متن کو کیسے سمجھا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سارے اصول ہیں جو اس لیے ہوتے ہیں کہ اِس کا اُس کے ساتھ تعلق کیا ہے، اور جب یہ دونوں بھی ہوں تو اُس تیسرے کے ساتھ ان کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ تو وہ تو ساری عقلی استدلال کی بحث ہے۔ اور اس میں ہم اِس کو کیوں ترجیح دیتے ہیں اور وہ اُس کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
استصحاب الحال کو لے لیجیے کہ ہم بھی مانتے ہیں، وہ بھی مانتے ہیں، لیکن ہم صرف دفع کے لیے مانتے ہیں، وہ استحقاق کے لیے بھی مانتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مثال کے طور پر مفقود الخبر (لاپتہ شخص) ہے، اب اس کو زندہ فرض کیا جائے یا مردہ؟ تو اگر آپ اس کو استحقاق کے لیے بھی مانتے ہیں اور دفع کے لیے بھی مانتے ہیں، اس کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے، تو اب اس مفقود الخبر کو اس کا وارث مانا جائے گا، کیونکہ وہ زندہ ہے جب تک اس کی موت کا ثبوت نہ ملے۔ لیکن حنفی کہیں گے کہ نہیں، دفع کے لیے تو ہم اسے مانتے ہیں، کیونکہ ’’ابقاء ما کان علیٰ ما کان‘‘ ہے، تو جو تھا اس کو ہم جاری رکھیں گے، لیکن جو نہیں تھا اس کو کیسے مانیں؟ یعنی اس وقت تو یہ وارث نہیں تھا، اب اس کے لیے نیا حق پیدا کیا جا رہا ہے، اس کے لیے تو اس کی زندگی کا ثبوت چاہیے۔ تو یہ صرف لفظ یا لغت کا مسئلہ نہیں ہے۔
سوال:
سر، قانون کے متعلق ایک سوال تھا کہ قانون اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ اور اگر انصاف قانون کے تحت ہی آتا ہے، تو اگر کوئی قانون کسی کے ساتھ ناانصافی کرے، تو کیا اس قانون کو ماننا اور اس کی پیروی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟
جواب:
یہ بہت اچھا سوال کیا آپ نے اور یہ تو وہی مسئلہ ہے جس کی وضاحت کے لیے ہم نے اصولِ قانون میں دو مختلف مذاہب کا ذکر کیا: ایک وضعیت پسندوں (پازیٹوسٹ) کا اور ایک فطرت پسندوں (نیچرلسٹ) کا۔
وضعیت پسندوں کا تو یہ کہنا ہے کہ انصاف، عدل، اچھائی، برائی اور اس طرح کی اور خوبصورت اصطلاحات، ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بس قانون، قانون ہے۔ اس کو جوں کا توں ماننا لازم ہے۔ بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ کو یہ فائدہ ہو، وہ فائدہ ہو، لیکن قانون اور اخلاق کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق نہیں ہے۔ انصاف کا جہاں تک تعلق ہے، وہ کہتے ہیں ہم لیگل جسٹس کے قائل ہیں۔ لیگل جسٹس اسے کہا جاتا ہے کہ justice in accordance with law۔ قانون میں جو کچھ ہے ہم نے وہ آپ کو دینا ہے اور وہی انصاف ہے۔ افلاطون کی جو تعریف ہے عدل کی، to give everyone his due، ہر کسی کو اس کا حق دیا جائے، لیکن everyone's due کہاں سے معلوم ہوگا؟ پازیٹوسٹ کہتے ہیں وہ قانون سے معلوم ہوگا۔ ہر کسی کو اس کا حق دیں، تو ہر کسی کا کتنا حق ہے؟ یہ ہمیں قانون بتائے گا۔ تو وضعیت پسندوں کے نزدیک جو قانون نے دیا ہے وہ انصاف ہے۔
فطرت پسندوں کے نزدیک البتہ انصاف ایک الگ تصور ہے، ایک آئیڈیل ہے۔ وہ قانونِ فطرت سے معلوم ہوتا ہے، انسان کے دل میں بھی اس کی بنیادیں ودیعت کی گئی ہیں۔ تو عقل و فطرت کے اصول استعمال کرتے ہوئے ہر بندہ عدل اور ناانصافی کا کچھ نہ کچھ تصور رکھتا ہے، اس کی بنا پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ قانون عادلانہ ہے، یہ ظالمانہ ہے۔ تو جو قانون غیرعادلانہ ہے اس کو تو فطرت پسند قانون ہی نہیں مانتے۔
ہمارے نزدیک کیا پوزیشن ہو سکتی ہے؟ اب دیکھیں، قانون سے ہماری مراد کیا ہے؟ اگر ہماری مراد شریعت ہے تو ہم تو کہیں گے کہ شریعت نے جو دیا وہ انصاف ہے۔ اس لیے جب مجھ سے کوئی سوال پوچھتا ہے وراثت کے مسئلے میں، مثال کے طور پر، کہ عورت کا اتنا کیوں ہے اور مرد کا اتنا کیوں ہے؟ میں کہتا ہوں، مجھے کیا معلوم، اللہ نے دیا ہے تو بس دیا ہے، اور جو دیا ہے صحیح دیا ہے، بالکل یہی ہونا چاہیے، یہی انصاف ہے، کیونکہ اللہ عادل ہے اور اس کا جو نظام ہے وہ حق پر مبنی ہے۔ اس میں بہت ساری حکمتیں میں تلاش کر کے آپ کو بتا سکتا ہوں، کیونکہ انسان کو اللہ نے جو عقل دی ہوئی ہے، اس کو آپ چاہیں تو اُس طرف استعمال کریں، چاہیں تو اِس طرف استعمال کریں، لیکن حکمت کی بحث الگ ہے۔ جہاں تک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بالکل منصفانہ قانون ہے، کیونکہ شریعت ہے، کیونکہ اللہ کا قانون ہے۔
لیکن وضعی قانون کے متعلق تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ لازماً منصفانہ ہے کیونکہ وہ قانون ہے۔ نہیں! انسانی قانون ہے، اس میں کمی بیشی غلطی سب کچھ ہو سکتی ہے۔
آپ کے سوال کا اگلا حصہ یہ تھا کہ اگر غیر منصفانہ قانون ہے، ظالمانہ قانون ہے، تو کیا اس کی پابندی لازم ہے یا نہیں؟ اب یہاں سے مسئلہ دیگر مسائل کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پہلو اس کا یہ ہے کہ ’’لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘ یا ’’فی معصیۃ اللہ عزوجل‘‘، جیسے مسند احمد کی روایت ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے۔ تو کیا یہاں ’’لا طاعۃ‘‘ سے مراد صرف یہ ہے کہ میں نہیں مانوں گا، یا اس سے آگے بڑھ کر میں اسے بدلنے کی بھی کوشش کروں گا؟ اب وہ جو بدلنے کی کوشش کروں گا، کیا وہ انفرادی سطح پر ہوگی یا اس کے لیے اجتماعی کوشش ہوگی؟ کیا پھر وہ صرف پرامن ذرائع سے ہوگی یا مزاحمت کے لیے مسلح جدوجہد بھی کی جائے گی؟ وہاں سے بات خروج کے جواز و عدم جواز اور شرائط کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے ساتھ اور بھی بہت سارے مسائل منسلک ہو جاتے ہیں۔
اس کا ایک پہلو اور بھی ہے، جیسے کچھ دیر پہلے میں نے ذکر کیا کہ کیا قضاء صرف ظاہراً نافذ ہوتی ہے یا باطناً بھی؟ فقہاء بعض امور میں اس کو ظاہراً نافذ مانتے ہیں، بعض میں باطناً بھی نافذ مانتے ہیں۔ اس کی تفصیلی وجوہات ہیں، تفصیلی دلائل ہیں۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے ایک خاتون اور ایک مرد کا تنازعہ تھا۔ وہ کہتا تھا یہ میری بیوی ہے، یہ کہتی تھی کہ نہیں ہوں۔ گواہ پیش ہوئے، گواہ کا تزکیہ بھی ہوا اور وہ عادل ثابت ہوئے، اور ان کی گواہی پر آپ نے مرد کے حق میں فیصلہ دیا۔ تو خاتون نے کہا کہ اس کے ساتھ بھیجنا ہی ہے تو نکاح پڑھوائیے۔ تو آپؓ نے کہا ’’شاھداک زوّجاک‘‘۔ امام سرخسی کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اب میں نکاح کیسے پڑھاؤں، فیصلہ تو ہو چکا ہے، فیصلے کے مطابق تم اس کی بیوی ہو۔ تو وہ ظاہراً ہی نہیں، باطناً بھی نافذ ہے۔
اور اس کا ایک پہلو وہ بھی ہے، جو میں نے سقراط کی مثال ذکر کی، پتہ نہیں آپ لوگوں کے ذہن میں وہ مثال آئی یا نہیں؟ اور نہیں آئی تو میں پوچھوں گا کہ کیوں نہیں آئی؟ کہ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام نے جب اس بندے کو مکا مارا اور وہ مر گیا، اور پھر دور سے ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ ’’ان الملأ یاتمرون بک لیقتلوک‘‘ اور آپؑ وہاں سے نکلے۔ تو ان کو نکلنا چاہیے تھا یا نہیں نکلنا چاہیے تھا؟ ظاہر ہے وہ نبی ہیں۔ ہم تو کہیں گے کہ ان کو نکلنا چاہیے تھا، لیکن آپ سوچیے کہ کیوں؟
سوال:
السلام علیکم سر، پہلے تو آپ کو کراچی میں خوش آمدید۔ اچھا سر، آپ کا ایک مقالہ ہے جس میں آپ اسلامی نظریاتی کونسل … کہ اس کا کوئی مربوط موقف نہیں ہے … کیا ہمارے پاس فقہ کا کوئی ایسا نظام ہے جو حنفی اصولوں پر قائم ہو؟ کیونکہ فقہ حنفی کا واحد مظہر جو ہمارے پاس بہت نمایاں ہے، وہ تب ہوتا ہے جب پاکستان میں رمضان کا چاند دیکھا جاتا ہے کہ حنفی فقہ کے مطابق سحری اور افطاری کا وقت یہ ہے، اور فقہ جعفریہ کے مطابق یہ ہے۔ اس کے علاوہ کہیں ہم اس کا مظہر نہیں دیکھتے۔ تو اس بارے میں کیا ہونا چاہیے؟ جیسا کہ غامدی صاحب کی ڈاکٹرائن ہے کہ یہ سب بے کار (ریڈنڈنٹ) ہے۔ تو سر ہمیں ان سب مکاتب فکر کے حوالے سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہیے؟
جواب:
شکریہ ثناء۔ بہت اچھا سوال ہے۔ دیکھیں، آپ نے جو میرے مقالے کا ذکر کیا ہے، تو میں دوستوں کو بتاؤں کہ یہ دراصل اس مقالے کا حوالہ دے رہی ہیں جس میں میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اصولِ فقہ معلوم کرنے کی کوشش کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئی اصولِ فقہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو کونسل کی کمپوزیشن بدلتی رہتی ہے، آج یہ ممبرز ہیں، کل وہ ہیں، پھر وہ ہیں۔ ایک تو یہ وجہ ہے۔ پھر یہ کہ جو کونسل کے ممبرز ہیں، تو ظاہر ہے کوئی اس مکتبِ فکر سے ہے، کوئی اس مکتبِ فکر سے ہے، اور ہر بندے کو اپنے مخصوص اپروچ (نظریے) کے مطابق رائے دینے کا حق بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، چونکہ ہم نے اس ادارے کو کام سونپا ہے، تو اس ادارے کو کچھ اصول اور کچھ قواعد اور کچھ ضوابط تو اپنے سامنے رکھنے چاہئیں۔ یہ کیا ہوا کہ اگر شیرانی صاحب چیئرمین ہوں تو ہلکا پھلکا ’’تشدد‘‘ اخبارات کی زینت بنے گا، اور اگر خالد مسعود صاحب چیئرمین ہوں تو پورے حدود قوانین کو لپیٹ دیا جائے گا، بالخصوص جب غامدی صاحب بھی ان کے ساتھ ممبر ہوں؟ تو اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ ہے۔
دوسرا یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل ہو، وفاقی شرعی عدالت ہو، یا کوئی اور اس طرح کا اجتماعی ادارہ ہو، اصل میں اُن کا کام اس دائرے میں ہے جس میں بڑی حد تک یوں کہیں کہ مذاہب کا اختلاف مدہم ہو جاتا ہے۔ دیکھیں، تین دائرے اگر میں بتاؤں:
- اگر آپ متن کے بالکل قریب ہیں، جو پہلا دائرہ ہے اجتہاد کا، کہ نص کا جو مفہوم ہے وہ متعین کرنا ہے، اس کی لٹرل انٹرپریٹیشن کرنی ہے، وہاں کافی ساری بحث پائی جاتی ہے۔
- پھر دوسرا دائرہ اس کے بعد یہ ہے کہ نص سے میرے نزدیک یہ دس رولز معلوم ہوئے، ان کے نزدیک یہ بارہ رولز معلوم ہوئے۔ اب ان میں کون سے وہ ہیں جن کی ہم علت کی بنیاد پر آگے توسیع کر سکتے ہیں، اور کن کی نہیں کر سکتے۔ اس مسئلے پر اختلاف ہے۔ پھر معلوم ہوا، چلیے، یہ یہ علتیں ہو گئیں۔ یہ دوسرا دائرہ ہے، یہاں اختلاف اس پہلے دائرے کی بنسبت تھوڑا کم ہو جاتا ہے۔
- پھر یہاں دلالات سے یہ سارا کچھ معلوم ہوا، علت سے یہ سارا کچھ معلوم ہوا۔ اب اتنا ڈیٹا میرے پاس بھی آ گیا، اتنا ڈیٹا ان کے پاس بھی آ گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر اب شریعت کا عمومی مزاج اور مقاصد الشریعۃ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نئے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ جو مسائل اس دائرے میں تھے وہ بھی ہو چکے، اور جو اس دائرے میں تھے وہ بھی ہو چکے۔ اب جو وسیع دائرہ ہے یعنی شریعت کے عمومی اصولوں اور مقاصد کی روشنی میں نئے مسائل کا حل، تو اس میں بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو اصل میں توجہ ان مسائل کی طرف ہونی چاہیے۔ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے بعد ہم نے مقاصد کی توپوں کا رخ ان احکام کی طرف کر دیا ہے اور اب ہم مقاصد کی روشنی میں نصوص کی تعبیرِ نو کی باتیں کرتے ہیں۔ بھئی، مقاصد تو نکلے ہی ان نصوص سے ہیں۔ فرینکنسٹائن بن گئے ہیں یہ مقاصد ہمارے لیے۔ (فرینکنسٹائن: جب ایجاد اپنے موجد کے خلاف ہو جائے)
پاکستان میں البتہ، ایک تو آئین کا آرٹیکل 227 ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی قانون اسلامی حکم سے متضاد نہیں بنایا جائے گا۔ اس میں ایک وضاحت 1981ء یا 1982ء میں شامل کی گئی ہے، اس میں یہ لکھا ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر کرتے ہوئے ہر فرقہ (سیکٹ کا لفظ وہاں آئین میں ڈالا ہوا ہے) کا جو مخصوص نقطہ نظر یا تصور ہے قرآن و سنت کا، وہی ان کے لیے مانا جائے گا۔ یعنی سیکٹس کہیں یا سکولز آف لاء (مکاتب فکر) کہیں، جو اُن کا اندرونی نظام ہے اسے آئینی تحفظ دے دیا گیا ہے۔ اسی لیے تو شرعی عدالت میں کوئی اس بنا پر پٹیشن نہیں لا سکتا کہ مثال کے طور پر نکاحِ متعہ جائز ہے یا ناجائز ہے، اسی طرح دیگر مسائل بھی ہیں۔
فیملی لاء کے معاملات میں تو انگریزوں کے دور میں جو قانون بنا تھا، پھر 1962ء میں اس کا جو آخری ورژن ہم نے نافذ کیا تھا جو اب تک نافذ ہے — ’’مسلم پرسنل لا شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1962ء — اس میں کہا گیا ہے کہ نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وقف اور ایک لمبی فہرست ہے، ان مسائل میں سبجیکٹ ٹو لیجسلیشن (قانون سے مشروط) — جبکہ لیجسلیشن تو ہے ہی نہیں — تو یہ سبجیکٹ ٹو لیجسلیشن والی فہرست تو یوں کہیں کہ بیکار (ریڈنڈنٹ) ہے کیونکہ بہت کم ہوئی ہے۔ تو ان مسائل میں Shariah is the rule of the decision، اب اس کو آئین کے آرٹیکل 227 کی وضاحت کے ساتھ شامل کریں تو ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل کیس ہے 1993ء کا، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، اس میں انہوں نے کہا کہ یہ جو مختلف مذاہب کا مخصوص پرسنل لاء ہے this is beyond the scope of the authority of the state، الفاظ اس طرح کے نہیں ہیں لیکن مفہوم یہ ہے کہ اس میں تو شریعت کورٹ بھی مداخلت نہیں کر سکتی۔
انگریزوں کے دور میں پریوی کونسل تک کیسز جاتے تھے، اور وہ اگر حنفی فریق ہیں تو ہدایہ اور ہندیہ کو دیکھ کر فیصلہ کرتے تھے، ان کے ترجمے دیکھ کر، کبھی کبھی غلط سلط ترجمہ پڑھ کر، کبھی اسے غلط سمجھ کر، لیکن کوشش کرتے تھے۔ اور اگر اثنا عشری ہے تو مثال کے طور پر شرائع الاسلام دیکھ کر کریں گے۔ اور اگر ایک حنفی ہے اور ایک شافعی ہے تو مدعا علیہ (ڈیفنڈنٹ) کے مذہب کو دیکھیں گے۔
لیکن ہم نے یہاں پھر یہ سلسلہ شروع کیا کہ ہم براہِ راست قرآن و سنت سے استدلال کریں گے۔ تو جب ہم نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم مذاہب کو چھوڑ کر براہِ راست قرآن و سنت سے استدلال کریں گے، تو وہاں سے مسائل پیدا ہوئے۔ اچھا، عملاً اب بھی عدالتیں کرتی کیا ہیں؟ کہتی تو ہیں کہ ہم براہِ راست قرآن و سنت کی انٹرپریٹیشن (تعبیر) کریں گے، عملاً کرتی یہ ہیں کہ بس کبھی فلاں کو اور کبھی فلاں کو شرعی مشیر یا عدالتی معاون (یورس کنسلٹ یا ایمیکس) بنا کر اس سے پوچھا کہ قرآن کیا کہتا ہے، سنت کیا کہتی ہے، فقہاء کیا کہتے ہیں، پھر اس میں سے کوئی رائے چن لی۔ تو عملاً اس طرح کرتے ہیں۔
حتیٰ کہ جو آپ کا قانونِ قصاص و دیت ہے، اس میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ یہ حنفی فقہ پر مبنی ہے یا یہ حنفی فقہ کے مطابق ہے، لیکن وہ سارا دراصل حنفی فقہ سے ماخوذ ہے اور اس میں کہیں کہیں انہوں نے ڈنڈی ماری ہے، باقی بنیادی طور پر وہ حنفی قانون ہے۔ اور سب سے بڑا ظلم وہاں کیا ہے جہاں دیت کا سارا قانون تو دیا ہوا ہے جبکہ عاقلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ (عاقلہ: بیت المال، برادری، اجتماعی فنڈ)۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیت کی رقم کے لیے اس سال جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق کوئی اکیاسی لاکھ روپے سے اوپر ہے۔ اب مثال کے طور پر کوئی بندہ ایکسیڈنٹ میں غلطی سے مارا گیا ہے تو اس نے اکیاسی لاکھ دینا ہے۔ اگر دو بندے مارے گئے ہیں تو اکیاسی لاکھ کو دو سے ضرب دیں، تین مارے گئے ہیں تو تین سے ضرب دیں۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ بندہ باقی سزا بھگت چکا ہے لیکن دیت ادا نہ کرنے کی بنا پر وہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ تو عاقلہ نہیں ہے۔ اسی طرح اور چیزیں ہیں۔ میں نے اس میں سپریم کورٹ کی کچھ معاونت کی تھی لیکن خیر وہ ایک الگ کہانی ہے۔
اسی طرح ایک قانون ہے ہمارے پاس Enforcement of the Shariah Act 1991، اس کا سیکشن 2 یہ کہتا ہے کہ شریعت کی تعریف یہ ہے: Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah (اسلامی احکام جیسا کہ وہ قرآن و سنت میں دیے گئے ہیں)۔ سیکشن 4 یہ کہتا ہے کہ تمام قوانین کی تعبیر و تشریح قرآن و سنت کے مطابق کریں گے۔ اور قرآن و سنت کے مطابق جب ہم قوانین کی تعبیر و تشریح کریں گے تو ان مآخذ کو دیکھ کر کریں گے۔ تو وہاں صحابہ کرامؓ کے اقوال اور اس کے ساتھ کچھ اس طرح کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ opinions of the eminent/recognized jurists تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گنجائش تو بہت زیادہ ہے، چاہے صراحتاً حنفی فقہ یا شافعی فقہ کا نام نہ ذکر کیا گیا ہو، لیکن ججز کے پاس جو اتھارٹی چاہیے وہ تو موجود ہے، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتے یا نہیں کر سکتے، وہ الگ بات ہے۔
اس لیے ہم تو کوشش کرتے ہیں، اپنے طلباء کے ذریعے بھی، اور جہاں تک ججز کی ٹریننگ وغیرہ ہم کر سکتے تھے اور ہم نے کی، تو اس میں تو ہم نے ان کو مسلسل یہی بات یاد دلائی ہے۔ الحمدللہ ایک نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جب 2023ء میں Supreme Court (Practice and Procedure) Act, 2023 کے متعلق سپریم کورٹ میں مقدمہ تھا، تو اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے چیف جسٹس کی حیثیت سے جو فیصلہ لکھا، اس میں صراحت کے ساتھ یہ کہا کہ تمام قوانین اور آئین کی ایسی تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ ایک سوال اس میں یہ تھا کہ کیا اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ دیا جانا چاہیے کیونکہ قرآن و سنت کے مطابق شرعی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے۔ تو اس لیے اگر دو تعبیریں ممکن ہیں تو ہم وہ تعبیر لیں گے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو، آئین کی بھی اور قانون کی بھی۔ اس فیصلے کے ساتھ نو دیگر ججز نے دستخط کیے، دس ججز کا اس پہ اتفاق تھا۔ پانچ ججز نے جو الگ رائے لکھی، اس میں دیگر چیزوں پر اختلاف کیا، اس اصول پر اختلاف نہیں کیا۔ تو یوں کہیں کہ اس فیصلے کو تو اب فل کورٹ کے فیصلے کی حیثیت حاصل ہے۔ اب بھی اگر ہم اسے استعمال نہیں کر سکتے تو یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے۔
https://youtu.be/Lku2jpF9zeU
https://youtu.be/OYuXJdZqmJo
اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ
اسلامی روایت میں محض عقلی بنیادوں پر کلام کا مزاج معتزلہ سے شروع ہوتا ہے اور معتزلہ کی تاریخ واصل بن عطا سے شروع ہوتی ہے جو اس مکتب فکر کے بانی اور امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے امام حسن بصری سے کچھ عقلی سوالات کیے اور انہوں نے اس طرح کے سوالات سے منع کر دیا کیوں کہ یہ پہلی صدر ہجری کے اواخر اور دوسری صدی ہجری کے اوائل کا زمانہ تھا۔ اور اسلام کے اس دور میں قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے عقلی، فلسفیانہ یا جاہلانہ گفت و شنید پر گرفت کی جاتی تھی تاکہ اسلامی عقائد و نظریات میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔ بہر حال! واصل بن عطا جواب نہ ملنے پر بھرم ہو کر امام حسن بصری کی محفل سے الگ ہو گئے اور حسن بصری نے ان کے بارے میں کہا "اعتزل عنا" یعنی ہم سے الگ ہو گیا۔ چنانچہ واصل بن عطا کے افکار و نظریات سے اتفاق کرنے والے لوگ ان سے ملتے گئے اور ان کا حلقہ کافی بڑھ گیا۔ پہلے پہل ان کے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور بحث و مباحثے ہوتے رہتے تھے۔ چونکہ عیسائی برادری کسی حد تک یونانی فلسفے خاص طور پر ارسطی منطق سے واقفیت رکھتی تھی اس لیے وہ اپنے موقف کی تائید میں اور معتزلہ کو چت کرنے کے لیے یونانی فلسفے اور منطق سے خوب خدمت لیتے۔ ان میں بطور خاص یوحنا الدمشقی وغیرہ کا نام آتا ہے۔
ان کے اس طریقہ کار کا معتزلہ نے توڑ یہ نکالا کہ یونانی فلسفہ اور منطق سیکھی جائے اور ان کے رد کے لیے استعمال کی جائے۔ اس طرح فلسفہ و منطق سے استخدام کا سلسلہ شروع تو ہوا لیکن کچھ ہی عرصے میں معتزلہ اس کے رنگ میں اتنے رنگ گئے کہ انہوں نے اسلامی عقائد و نظریات کی توجیہات بھی خالص عقلی بنیادوں پر کرنا شروع کر دیں۔ اور اس اسلوب و کلام کو "علم الکلام" کا نام دے کر نہ صرف یہ کہا کہ یہ تمام اسلامی علوم کا رئیس ہے کیوں کہ اس میں اسلامی عقائد و نظریات پر بحث ہوتی ہے بلکہ یہ اسلامی عقائد و نظریات کو جاننے اور سمجھنے کا جدید طریقہ اور اور عین اسلام ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا اثر و رسوخ اتنا بڑھا کہ خلیفہ وقت مامون الرشید ان سے متاثر ہوا اور اس نے قیصر روم کو خط لکھ کر ان سے ارسطو کی فلسفیانہ کتب منگوا لیں اور حنین بن اسحاق، ثابت بن قرہ، ابن البطریق اور قسطا بن لوقا جیسے عیسائی ماہرین فلسفہ سے یونانی فلسفے کا عربی میں ترجمہ کرا ڈالا۔
ریاستی سطح پر اس کام کی پشت پناہی کا اثر یہ ہوا کہ معتزلہ کو خوب تقویت ملی اور اس کے بعد انہوں نے اسلامی عقائد و نظریات کی توجیہات میں جو اسلوب اختیار کیا وہ کچھ یوں تھا کہ:
- عقل کو نقل پر ترجیح دی جائے۔
- کوئی بھی عقیدہ یا نظریہ تب تک قبول نہ کیا جائے جب تک اس میں بحث و مباحثہ کر کے اسے عقلی بنیادوں پر ثابت نہ کر لیا جائے۔
- ہر اس نظریہ یا عقیدہ کی نفی کی جائے گی جو عقلی بنیادوں پر سمجھنے میں شرک، یا تعدد آلہہ وغیرہ کو مستلزم ہو۔
چنانچہ ان کا یہ طریقہ کار ایک مکمل فکری و علمی راہ اختیار کر کے علم الکلام کے نام سے شہرت پا گیا۔ ان کے اس طریقہ کار کی وجہ سے کئی اسلامی عقائد و نظریات میں فلسفہ و منطق داخل ہو گئے اور کئی بنیادی عقائد جیسے "صفات الٰہیہ، تقدیر" وغیرہ کی نفی ہونے لگی اور کئی لوگ اس راہ ضالہ پر گامزن ہونے لگے۔
چنانچہ ان کی تردید اور اسلامی عقائد و نظریات کی درست تشریحات و تعبیرات کے لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس میدان میں اترے اور انہوں نے صرف روایت کی راہ اختیار کی اور معتزلہ کی بنیادوں پر خوب روائیتی دلائل کے گولے برسائے۔ امام احمد کے بعد امام ابوالحسن علی اشعری سامنے آئے اور انہوں نے علم الکلام، فلسفہ اور منطق وغیرہ میں کمانڈ حاصل کر کے معتزلہ کا رد شروع کیا اور انہوں نے نہ صرف روایت کی راہ اختیار کی بلکہ روایت و درایت کے امتزاج پر مبنی راستہ اختیار کیا۔ انہی کے زمانہ میں ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ نے بھی اسی امتزاج کے ساتھ زور آزمائی کی۔ اور انہوں نے امام اشعری ہی کے منہج کو اختیار کیا لیکن جن چیزوں میں انہیں ذرا سی افراط نما جھلک دکھائی دی انہیں وہ اعتدال پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔
ان مکاتب فکر کے باہم تصادم یا پھر کہہ لیں کے ان تمام کے عروج کا اصل زمانہ پہلی صدی ہجری کے اواخر سے لے کر چوتھی صدی ہجری کے آغاز تک کی تین صدیوں پر محیط رہا۔ امام احمد کی راہ اختیار کرنے والے محدثین یا حنبلی کہلائے، اشعری فکر کو اپنانے والے اشعری کہلائے، جبکہ ماتریدی اعتدالی راہ اختیار کرنے والے ماتریدی کہلائے۔ اور عقائد کی دنیا میں معتزلہ کے مد مقابل اہل سنت کے یہ تین گروہ متعارف ہوئے اور ان کا سلسلہ اب تک چلا آرہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعد کے زمانوں میں ان کے اپنے باہمی اختلافات کی بھی خوب گرم بازاری رہی جو کہ بذاتِ خود ایک طویل بحث کا متقاضی ہے۔
لیکن اب بھی ایک خلا کو پُر کرنا کسی حد تک باقی تھا۔ وہ یہ کہ علم الکلام میں معتزلہ نے جو عقلی راہ اختیار کی تھی اس کے مد مقابل حنبلی، اشعری اور ماتریدی مکاتب فکر نے خوب جم کر کام کیا اور صرف روایت یا پھر روایت و درایت کے اس امتزاج پر مبنی جو راہ اختیار کی وہ کسی طرح بھی ناقابلِ فراموش اور قابلِ تحسین تھی۔ لیکن اب بھی یہ کام کسی حد تک باقی تھا کہ جو فلسفیانہ افکار اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور اسلامی علمی روایت میں انہیں کسی حد تک مقبولیت حاصل ہو چکی ہے، ان پر کلام کیا جائے اور عقائد کو بحیثیت عقائد اور فلسفہ کو بحیثیت فلسفہ دیکھا جائے۔ اور جہاں ضرورت پڑے وہاں اسی قدیم یونانی فلسفیانہ افکار کی توجیہ وحی کی روشنی میں کی جائے۔ اس کام کا بیڑا امام ابو یوسف یعقوب الکندی نے اٹھایا اور الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد اور دیگر گئی شخصیات نے ان کے کام کو نہ صرف علمی و فکری طور پر سراہا بلکہ آگے بڑھانے میں بھی خوب مدد دی۔ اور اس طرح ان کی فکر "فلسفہ اسلام" کے عنوان سے متعارف ہوئی۔
یہ بات اس مقام پر ناقابلِ فراموش ہے کہ ان فلاسفۂ اسلام نے فلسفیانہ ابحاث بطور عقیدے کے اختیار نہیں کی تھیں۔ بلکہ انہوں نے بنیادی عقائد کے طور پر اہل سنت والجماعت ہی کے عقائد کو اختیار کیا لیکن اسلام میں داخل شدہ فلسفیانہ ابحاث کو فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ہی دیکھتے ہوئے وحی و شریعت کی روشنی میں ان کی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن متاخرین معتزلہ کو یہاں یہ مغالطہ ہوا کہ انہوں نے سمجھا فلاسفۂ اسلام یہ توجیہات اعتقادی بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ چنانچہ قاضی عبدالجبار اور ابو علی جبائی وغیرہ متاخرین فلاسفہ نے ان کا رد کرنا شروع کر دیا۔ پھر امام ابو حامد الغزالی اٹھے اور انہوں نے ایک طرف تو "الاقتصاد فی الاعتقاد" وغیرہ لکھ کر ان متاخرین معتزلہ کی خوب خبر لی لیکن دوسری طرف مقاصد الفلاسفہ اور پھر تہافۃ الفلاسفہ لکھ کر فلاسفہ اسلام سے بھی خوب زور آزمائی کی۔ اور ابن رشد نے بھی تہافۃ التہافہ لکھ کر اپنا دفاعی سسٹم مضبوط کیا۔ اور اس طرح اسلامی روایت میں فلسفیانہ و تشریعی بنیادوں کے امتزاج پر مبنی ایک عمارت کھڑی ہو گئی جو یورپ کے نشاۃِ ثانیہ تک تو خوب شان و شوکت سے قائم رہی لیکن پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں یورپ کے نشاۃ ثانیہ اور جدید مغربی فلسفہ کے متعارف ہونے سے اس عمارت کی جانب کئی فکری یلغاروں کا رخ ہوا جس سے یہ کافی حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے۔
فلسفہ اسلام کے اس طویل دورانیہ میں مختلف ادوار میں ہونے والی تجدید کا جائزہ لینے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فلسفے کا آغاز آٹھویں صدی میں اُس وقت ہوا جب عباسی خلافت نے بغداد کو علمی اور فلسفیانہ مرکز کے طور پر ترقی دی۔ اس دور میں فلسفہ یونان اور ایران کی قدیم حکمتوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، اور اس سے فلسفیانہ سوچ کو ایک نیا رخ ملا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے دسویں صدی عیسوی تک شمار ہوتا ہے اور اس دور کے بڑے فلاسفہ میں الکندی، الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد کا نام سر فہرست ہے۔ انہوں نے یونانی فلسفے کو وحی کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی۔
اس کے بعد پندرہویں صدی عیسوی تک اسلامی فلسفے کا دوسرا دور شمار ہو گا جس میں اسلامی فلسفے نے تصوف، منطق، اور علم کے دیگر مختلف شعبوں میں ترقی کی، اور اس دور کے بڑے فلاسفہ میں امام غزالی، ابن طفیل، ابن العربی، جلال الدین رومی، شہاب الدین سہروردی، اور خواجہ زادہ وغیرہ نے اہم کام کیا۔
اس کے بعد تیسرا اور تجدیدی دور شروع ہوا جسے "اسلامی فلسفہ کا نشاۃِ ثانیہ" بھی کہا جا سکتا ہے، یہ سولہویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں اسلامی دنیا میں فلسفے کی اہمیت کم ہونے لگی، لیکن اسے جدید اصطلاحات و تعبیرات اور فنون کے ساتھ کچھ شخصیات نے آگے بڑھانے کی کوشش ضرور کی۔ اس دور کے بڑے فلاسفہ میں ملاصدرا، محمد عبدہ، جبکہ ہندوستان میں شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ وغیرہ کا نام نمایاں ہے۔
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
جدید الحاد کا مطالعہ جغرافیائی اور فکری تناظر میں گہرائی کا متقاضی ہے۔ مغربی دنیا میں الحاد کی وجوہات اپنی تاریخی بنیادیں رکھتی ہیں، جبکہ اسلامی دنیا میں یہ مسئلہ بالکل مختلف سیاسی، سماجی، اور مذہبی محرکات کا نتیجہ ہے۔ اکثر اہلِ علم کا تجزیہ یہی ہے کہ مغرب میں الحاد کا جنم تاریخی طور پر عیسائیت کی شکست، جدید فلسفیانہ افکار، اور سوشل سائنسز کی کھوکھ سے ہوا، جن کا گہرا تجزیہ ضروری ہے۔ یہ تجزیہ نہ صرف اس تحریک کی بنیادوں کو سمجھنے میں معاون ہوگا، بلکہ اسلامی دنیا میں اس کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی فراہم کرے گا۔
1۔ مغربی الحاد کی فکری اساسیات اور اس کے اسباب
جدیدیت و مابعد جدیدیت کے فلسفیانہ تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے، مغربی الحاد کے تین بڑے محرکات کا تفصیلی جائزہ حسب ذیل ہے:
(1) جدیدیت: عیسائیت کی شکست اور عقل پرستی کا عروج
جدیدیت (Modernism) دراصل 17ویں اور 18ویں صدی کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے خلاف پیدا ہونے والی نظریاتی اور سماجی تحریکوں کا مجموعہ ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کلیسا کا استبداد عروج پر تھا اور وہ یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے خود ساختہ امتزاج سے ہٹ کر کسی بھی آزاد علمی آواز کو دبا رہا تھا۔ بنیادی محرکات اس طرح ہیں:
کلیسا اور سائنس کا تصادم
کلیسا کے لرزہ خیز مظالم اور سائنسی حقائق کی بے رحمی سے تردید (جس کی بہترین مثال سائنسدانوں کو زندہ جلانا ہے) نے پورے یورپ کو کلیسا سے متنفر کر دیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر 19ویں صدی کے مؤرخین جان ولیم ڈریپر اور اینڈریو ڈکسن وائٹ نے "تصادم کا تھیسس" (Conflict Thesis) پیش کیا، اور مذہب کو سائنسی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
"تاریک زمانہ" کا تصور
شدید رد عمل کی بنا پر اس تحریک نے پورے عہدِ وسطیٰ کو "تاریک دور" (Dark Ages) قرار دیا، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مذہبی حکمرانی لازماً پسماندگی لاتی ہے۔ یہ نظریہ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ اسی دوران اندلس کی اسلامی تہذیب میں حریتِ فکر، تجرباتی سائنس اور انسانیات (Humanism) کی جدید تحریکوں نے یورپ کو متاثر کیا تھا۔
عقلیت (Rationalism) کی بالادستی
جدیدیت کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن، رینے ڈیکارٹ، اور تھامس ہابس جیسے مفکرین کے افکار میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کائنات عقل، تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے قابل دریافت (Deterministic) ہے، اور یہ کہ حقائق کی دریافت کے لیے کسی الٰہی سرچشمہ (Metaphysics) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈیکارٹ کا مشہور اعلان "I think therefore I am" (میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں) دراصل خودمختار فرد (Autonomous Individual) کو معنی اور سچائی کا واحد سرچشمہ قرار دیتا ہے، جو جدیدیت کی بنیاد ہے۔
سیاسی محاذ پر جدیدیت نے حریت انسانی، جمہوریت، اور قومی ریاستوں کا تصور عام کیا، جبکہ معاشی محاذ پر سرمایہ دارانہ معیشت اور افادیت (Utilitarianism) پر مبنی اخلاقیات کو فروغ دیا، جس سے پرانے جنسی اخلاقیات اور روایتی خاندان کا ادارہ چیلنج ہوا۔ یہ تمام عوامل تدریجی طور پر یورپ کا رخ ایک مکمل اور وسیع مادیت کی طرف پھیر گئے، جس نے الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔
(2) فلسفیانہ علوم کی غلبہ پسندی اور مذہبی بیانیے کی شکست
مغربی دنیا میں الحاد کے پھیلنے کا دوسرا بڑا سبب علومِ فلسفہ سے حد سے زیادہ اعتناء اور وسیع پیمانے پر فلسفیانہ افکار کی بازگشت ہے۔ کلیسا سے آزادی حاصل کرتے ہی علمی سیلاب آیا، جس میں خاص طور پر اندلس کے "مکتب ابن رشد" کا فلسفیانہ لٹریچر مغربی دنیا میں پھیلا۔ فلسفے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ حاضر و محسوس کا گرویدہ اور غائب و مستور سے بیگانہ کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے بڑے فلاسفہ کے افکار میں بھی اس "الحادی جراثیم" کے اثرات پائے جاتے تھے، جس کی شدید فکری مزاحمت امام غزالیؒ نے اپنی معرکہ آراء کتاب "تہافت الفلاسفہ" کے ذریعے کی۔ امام غزالیؒ نے خالص عقلی طریقوں سے معلوم ہونے والے حقائق کی اضافیت (Relativity) ثابت کی اور دکھایا کہ حسیات اور عقل انسانی دونوں دھوکہ کا باعث ہو سکتے ہیں، لہٰذا حتمی سچائی صرف وحی الٰہی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔
جدید الحاد کا فلسفہ پر ایمان اسی وقت متزلزل ہوگا جب کوئی "غزالی وقت" جدید مغربی فلسفہ کی "نارسائی" پر مرکوز ہو کر اس کے داخلی تضادات کو بے نقاب کرے گا۔ اسلامی روایت میں ماتریدی مکتب عقل و نقل کے حسین امتزاج کے حوالے سے بہترین مثال ہے، جو نہ تو کلیسا کی طرح عقل پر مکمل پابندی لگاتا ہے اور نہ ہی جدید ذہن کی طرح اساسیات مذہب کو تشکیک کی بھٹی سے گزارتا ہے۔
(3) مابعد جدیدیت (Postmodernism) اور آفاقی سچائی کا انکار
جدید الحاد کا تیسرا اور نہایت تیزی سے مقبول ہوتا سبب فلسفہ مابعد جدیدیت (Postmodernism) ہے، جو جدیدیت کے فکری استبداد کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔ جدیدیت کا غرور تھا کہ وہ اپنے بل بوتے پر حقیقت کو تلاش کر لے گا، جبکہ مابعد جدیدیت اس کے برعکس ڈھٹائی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ "حقیقت، سچ، اور اقدار وغیرہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے، ایسا کچھ ہے ہی نہیں"۔
بنیادی نکات اور اثرات
- مابعد جدیدیت کی تعریف فلسفی لیوٹارڈ کے الفاظ میں "عظیم بیانات پر عدم یقین" ہے۔ یہ تمام آفاقی دعووں جیسے جمہوریت، ترقی، آزادی، مذہب، اور خدا کے وجود کو دیو مالائی داستانیں یا "خود ساختہ سچائیاں" قرار دیتی ہے، اور ان سب کی ردِ تشکیل (Deconstruction) کا مطالبہ کرتی ہے۔
- مابعد جدیدیت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں کسی آفاقی سچائی یا حقیقت مطلقہ کا وجود نہیں ہے۔ سچائی اور خیر کا تعلق محض انفرادی پسند و ناپسند اور مقامی احوال سے ہے۔ یہ نظریہ مذہبی عقائد کو اس لیے رد کرتا ہے کہ وہ اٹل حقائق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
- مابعد جدیدیت نے افکار، نظریات، اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی نہایت کم کر دی ہے، جس سے یہ دور "عدم نظریہ کا عہد" (Age of No Ideology) بن گیا ہے۔ انسان کی بحث و گفت گو کا سارا زور عملی مسائل (Pragmatic Issues) اور جذبات و احساسات پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس فلسفے کے تحت وحدت ادیان کا نظریہ فروغ پاتا ہے، جہاں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی دعویٰ حتمی نہیں ہے۔
- قدروں کی اضافیت کے نتیجے میں خاندانی نظام، ازدواجی وفاداری، اور جنسی اخلاقیات مکمل طور پر چیلنج ہوئے ہیں۔ شادی مرد اور عورت کے درمیان ہی نہیں، بلکہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ سب ذاتی پسند اور ذوق کی بات ہے۔ مابعد جدیدیت کا حاصل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی مرضی اور پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور سوسائٹی کو کسی بھی ضابطہ بندی کا حق نہیں ہے۔
علمی محاکمہ
مابعد جدیدیت کا یہ دعویٰ کہ "دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے" خود ایک نہایت غیر منطقی دعویٰ ہے، کیونکہ یہ بات بذات خود ایک "عظیم بیان" اور "آفاقی سچائی" کا دعویٰ ہے۔ اگر اس بیان کو سچ مان لیا جائے تو اس کی زد سب سے پہلے خود اسی بیان پر پڑے گی اور وہ جھوٹا قرار پائے گا۔ یہ فلسفہ اپنے ہی اصولوں کے ذریعے اپنی ہی بنیادوں کو ڈھاتا ہے۔ اس منطقی تضاد کے علاوہ، اس کے عملی اثرات بھی بھیانک ہیں، کیونکہ سچائی کی اضافیت کو مان لینے کے بعد کسی بھی عالمی برائی (جیسے نازی ازم یا کسی شخص کا دوسروں کی جیب کاٹنا) کو کسی بھی آفاقی اخلاقی قدر کی بنیاد پر غلط قرار دینا ممکن نہیں رہتا۔
2۔ اسلامی نقطۂ نظر اور ماورائے جدیدیت
اسلام کا نقطۂ نظر اس پوری بحث میں نہایت معتدل، متوازن اور عقل کو اپیل کرنے والا ہے۔ یہ نہ تو جدیدیت کی طرح عقل کو حتمی اور قطعی مقام دیتا ہے اور نہ ہی مابعد جدیدیت (Transmodernity) کی طرح ہر آفاقی سچائی کا کلیتاً انکار کرتا ہے۔
حتمی حقائق کا سرچشمہ
اسلام کے نزدیک وحی الٰہی (قرآن و سنت) سے منصوص حقائق حتمی اور قطعی (Absolute Truth) ہیں، جبکہ انسانی عقل، تجربہ، اور مشاہدہ سے اخذ کردہ حقائق خواہ وہ سائنسی ہوں یا سیاسی، اضافی (Relative) ہیں اور غلطی کا امکان رکھتے ہیں۔
غیر منصوص احکام اور اجتہاد
اسلام وحی الٰہی کی صورت میں بنیادی اصولوں اور سمت کو آفاقی حیثیت دیتا ہے، لیکن ان آفاقی اصولوں کی روشنی میں مخصوص وقت، مقام اور احوال کے لیے اجتہاد کے ذریعے تغیرات کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، اور غیر منصوص احکام میں 'عرف' (Cultural Consensus) کا لحاظ رکھتا ہے۔
ماورائے جدیدیت (Transmodernity)
ضیاء الدین سردار جیسے مفکرین نے اسلام کو پوسٹ ماڈرن ازم کے مقابلہ میں ماورائے جدیدیت کی حیثیت میں پیش کیا ہے۔ اسلامی سماج ابدی قدروں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ماقبل جدید (Premodern) نہیں، اور چونکہ یہ قدریں نئے زمانے کا ساتھ دینے اور نئے ضابطوں کی تشکیل کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے وہ صرف جدید یا پس جدید بھی نہیں ہیں۔ اسلام بیک وقت دائمی و آفاقی اور تغیر پذیر اصولوں کو جمع کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم، ماڈرن ازم کا ایک منفی رد عمل اور فکری مایوسی کا مظہر ہے۔ یہ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہو جانے کے بعد دراصل "لا الٰہ" (کوئی معبود نہیں) کا اعلان ہے۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کا لازمی اور منطقی انجام "الا اللہ" (مگر اللہ ہی) کا اعلان ہونا چاہیے، جو انسان کو ایک حتمی، سچی، اور عقل کو اپیل کرنے والی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
غزالی کا اخلاقی فریم ورک
پچھلے حصے میں ہم نے ارتقائی اخلاقیات کا ایک مختصر جائزہ لیا۔ اب یہ جاننے کے لیے کہ آیا غزالی کے فکری فریم ورک میں ارتقائی مسئلہ شر (POE) یا ارتقائی مسئلہ اخلاق (POM) واقعی کوئی اشکال پیدا کرتے ہیں یا نہیں، سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اخلاقیات کے بارے میں غزالی کے اپنے بنیادی تصورات کیا ہیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے ہم یہ جائزہ لیں گے کہ غزالی اخلاقی خیر کو کس طرح سمجھتے ہیں، اور پھر ان کے نظریات پر کیے جانے والے بعض ممکنہ اعتراضات کا تجزیہ کریں گے۔
ابتدا ہی میں یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کے قائل ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک کسی عمل کی اخلاقی حیثیت بالآخر خدا کے حکم سے متعین ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ اخلاقی مواد کے بارے میں فطری/پیدائشی علم کے قائل نہیں ہیں؛ یعنی انسان پیدائشی طور پر مخصوص اخلاقی احکام کا علم لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ ان دونوں مواقف سے متعلق مستقل کلامی اعتراضات اور بحثیں موجود ہیں، جن کا ذکر متعلقہ علمی لٹریچر میں بآسانی مل جاتا ہے۔ تاہم اس باب کا مقصد ان تمام دلائل کا تفصیلی تنقیدی جائزہ لینا نہیں ہے۔
جیسا کہ اس کتاب کے آغاز ہی میں واضح کر دیا گیا تھا، یہاں غزالی کے بیان کردہ اشعری تصورات کو اس لیے اختیار کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں نظریہ ارتقا کے ساتھ تقابلی طور پر رکھ کر دیکھا جا سکے۔ ان تصورات سے اتفاق یا اختلاف اس کتاب کا اصل موضوع نہیں ہے۔ البتہ جہاں اس باب کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہوگا، وہاں بعض مقامات پر غزالی کے موقف کے حق میں توضیحی دفاع بھی پیش کیا جائے گا، تاکہ بحث کی نوعیت زیادہ صاف اور منظم ہو سکے۔
غزالی کے نزدیک خیر کا مفہوم
غزالی خیر کی تعریف بڑی حد تک غایت پسندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، کسی چیز کا اچھا ہونا اس کے انجام، مقصد یا غایت سے وابستہ ہے۔ وہ خیر کی تین اقسام میں فرق کرتے ہیں۔ خیر کی پہلی قسم کو، سہولت کے لیے، خیر اوّل (G1) کہہ لیتے ہیں۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جو فاعل کے اپنے مقصد سے متعلق ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص آج کام کرنے کا ارادہ اس لیے رکھتا ہے کہ اسے اجرت ملے، اور پھر وہ واقعی کام کر کے وہ اجرت حاصل کر لیتا ہے، تو اس اعتبار سے یہ ایک اچھا عمل شمار ہوگا۔ اسی تعریف کے ضمن میں غزالی یہ بھی کہتے ہیں کہ کبھی یہ مقصد فاعل کے اپنے اندر سے نہیں آتا بلکہ باہر سے اس پر عائد کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک افسر اپنے ملازم سے یہ چاہے کہ وہ ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی کام کرے تاکہ کوئی مقررہ کام وقت پر مکمل ہو سکے، تو افسر کے مقصد کے لحاظ سے ملازم کا ایسا کرنا اچھا سمجھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں، خیر اوّل ایک نسبتی اور تعلقی تصور ہے؛ یعنی اس کا اچھا ہونا کسی خاص مقصد اور کسی خاص نسبت کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ غزالی لکھتے ہیں:
اگر کوئی عمل ایک شخص کے مقصد کے مطابق ہو مگر دوسرے کے مقصد کے مطابق نہ ہو، تو پہلے شخص کے حق میں اسے "اچھا" کہا جائے گا اور دوسرے کے حق میں "برا"۔ اس لیے کہ "اچھا" اور "برا" جیسے الفاظ دراصل موافقت اور مخالفت کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں، اور موافقت و مخالفت تعلقی امور ہیں جو افراد کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔ بلکہ یہ ایک ہی شخص کے مختلف احوال کے لحاظ سے بھی بدل سکتے ہیں، اور ایک ہی حالت کے ساتھ وابستہ مختلف مقاصد کے اعتبار سے بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی عمل ایک پہلو سے کسی شخص کے موافق ہو اور دوسرے پہلو سے اس کے مخالف؛ اس لیے وہی عمل ایک اعتبار سے اس کے لیے اچھا اور دوسرے اعتبار سے برا ہو جائے گا۔ مثلاً ایک بے دین شخص کسی دوسرے کی بیوی سے زنا کو اچھا سمجھ سکتا ہے اور اسے اپنے لیے کامیابی اور نعمت خیال کر سکتا ہے۔ لیکن وہی شخص اس آدمی کے عمل کو برا کہے گا جو اس کا راز ظاہر کر دے، اور اسے "بدگو" یا "عیب جو" کہے گا جس نے برا کام کیا ہے۔ اس کے برعکس، ایک دیندار شخص اسی راز ظاہر کرنے والے کو "نیک آدمی" کہے گا جس نے اچھا کام کیا ہے۔ اس طرح ہر شخص "اچھا" اور "برا" کے الفاظ اپنے مقصد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بادشاہ کو قتل کر دیا جائے تو اس کے تمام دشمن قاتل کے فعل کو اچھا سمجھیں گے، جبکہ اس کے تمام حامی اسے برا قرار دیں گے (Al-Ghazālī 2013, 161)۔
اسی ذیل میں غزالی خیر کی دوسری تعریف بھی پیش کرتے ہیں، جسے ہم خیر دوم (G2) کہہ سکتے ہیں۔ یہ تعریف اپنی نوعیت میں پہلی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن اس کا تعلق اخروی مقاصد سے ہے؛ یعنی جنت کے اجر، نجات اور آخرت کی کامیابی سے (Al-Ghazālī 2013, 161–162)۔ تاہم خیر اوّل اور خیر دوم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ خیر دوم کی بنیاد صرف وحی پر ہے، اسے محض عقل کے ذریعے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ خیر اوّل کو عقلِ انسانی وحی کے بغیر بھی کسی حد تک پہچان سکتی ہے، لیکن خیر دوم اس وقت تک مکمل طور پر نامعلوم رہتا ہے جب تک وحی نہ آ جائے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کے درمیان کسی قسم کا اشتراک یا مماثلت ممکن نہیں۔ وحی کے بغیر بھی کوئی شخص بہت سے ایسے کام کر سکتا ہے جو بعد میں وحی کے احکام سے ہم آہنگ ثابت ہوں؛ مثلاً پڑوسی کی مدد کرنا۔ لیکن کسی عمل کی اخلاقی قدر کو جو چیز بدل دیتی ہے وہ اس عمل کے ساتھ وابستہ مقصد اور نیت ہے۔ یہ بات اسلام کی عمومی اخلاقی تفہیم سے بھی ہم آہنگ ہے، خصوصاً اس معروف حدیث سے جس میں کہا گیا ہے کہ اعمال کی قدر و قیمت ان کے پیچھے موجود نیتوں کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے۔
اب جب کہ ہم خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان فرق واضح کر چکے ہیں، تو آئیے خیر اوّل پر قدرے مزید غور کرتے ہیں۔ غزالی کے نظریہ حکمِ الٰہی کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ خیر اوّل کے دائرے میں اچھائی کی یہ قدریں ابتدا میں پیدا کیسے ہوتی ہیں؟ آخر کوئی نہ کوئی چیز تو ایسی ہوگی جو لوگوں کو کسی عمل کے وقوع سے پہلے ہی یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ یہ عمل اچھا ہے یا برا۔ انسانی نفسیات کے بارے میں غزالی کے تصورات نہایت دل چسپ ہیں، لیکن یہاں ہمارے مقصد کے لیے صرف تین نکات اہم ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک انسان کے علمی ڈھانچے کے دو اجزا ہیں۔ دونوں الگ الگ چیزیں فراہم کرتے ہیں، مگر مل کر کام کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ علم ہے جو بدیہی یا پیشینی نوعیت کا ہے، یعنی ایسے خود واضح اصول جو نفس میں ودیعت ہیں؛ مثلاً قانونِ عدمِ تناقض۔ دوسری طرف وہ اکتسابی علم ہے جو تجربے کے بعد حاصل ہوتا ہے (Umaruddin 2010, 111)۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک اخلاقی اصول بدیہی یا فطری اصول نہیں ہیں، بلکہ اکتسابی ہیں (Griffel 2012, 29)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اخلاقیات کے کسی پیدائشی تصور کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جب اخلاقی اصول اکتسابی ہیں، تو پھر انسان بالآخر جن چیزوں کو اچھا یا برا سمجھنے لگتا ہے، وہ دو انسانی تجربات سے اخذ ہوتی ہیں۔ یہ دونوں تجربات ایک دوسرے سے قابلِ لحاظ حد تک الگ ہیں، مگر عموماً ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ پہلا تجربہ خیالات کی تعمیم سے متعلق ہے، اور دوسرا طبعی میلان یا پسند و ناپسند سے۔ فاعل بار بار پیش آنے والے واقعات، سماجی تربیت، ثقافتی یا دینی تعلیم، ذاتی مشاہدات، معاشرتی افراد کے ساتھ تجربات، یا اپنی فطری ساخت اور ذاتی رجحانات کی بنا پر آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جاتا ہے کہ کسی خاص عمل کو اچھا یا برا سمجھے (Hourani 1985, 159)۔ مثلاً ایک ماں اگر بچے کو آگ سے کھیلنے پر بار بار ڈانٹے، تو بچے کے ذہن میں یہ تاثر قائم ہو سکتا ہے کہ آگ بری چیز ہے۔ اسی طرح جب بچہ دیکھتا ہے کہ لڑائی جھگڑا زخمی ہونے یا تکلیف اٹھانے کا باعث بنتا ہے، تو وہ اسے برا سمجھنے لگتا ہے۔ یا پھر بعض جذباتی محرکات، جیسے دل کی نرمی، انسان کو اس نتیجے تک پہنچا سکتے ہیں کہ جانوروں کو مارنا برا ہے۔ غزالی کے نزدیک اس طرح کے تجربات بالآخر خیر و شر کے بارے میں فرد کی سمجھ کو، خیر اوّل کی مذکورہ تعریف کے مطابق، ایک مستحکم شکل دے دیتے ہیں۔ غزالی لکھتے ہیں:
اس سب کی اصل یہ ہے کہ انسان اوائلِ عمر ہی سے بعض چیزوں کو پسند یا ناپسند کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے، اور اسی مرحلے میں وہ کچھ خاص اخلاقی عادات و اوصاف بھی حاصل کر لیتا ہے(Al-Ghazālī 2013, 166)۔
مجموعی طور پر یہ تصورات غزالی کو اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ معروضی یا آفاقی اخلاقیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں؛ یعنی کوئی عمل اپنی ذات میں، مطلق طور پر، نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا۔ غزالی اپنے موقف کے حق میں کئی دلائل دیتے ہیں، مگر یہاں چند اہم دلائل کا ذکر کافی ہوگا۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ اخلاقیات آفاقیت کے معیار پر پوری نہیں اترتیں (Hourani 1985, 155)۔ انسان جن اصولوں کو آفاقی اخلاقی قواعد سمجھ بیٹھتا ہے، وہ درحقیقت ناقص استقرائی نتائج ہوتے ہیں۔ انسان چند جزوی مثالوں کو بذاتِ خود اخلاقی وجودی اکائیاں سمجھ لیتا ہے، اور پھر غلطی سے انہیں آفاقی اخلاقی اصول قرار دے دیتا ہے۔ غزالی جھوٹ کی مثال کے ذریعے اس نکتے کو واضح کرتے ہیں، اگرچہ یہی بات کسی بھی اصول کو آفاقی بنانے کے معاملے میں صادق آ سکتی ہے، خواہ وہ اصول اچھائی سے متعلق ہو یا برائی سے۔ غزالی لکھتے ہیں (Al-Ghazālī 2013, 164):
مثلاً کوئی شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ جھوٹ ہر حال میں مطلقاً برا ہے، اور اس کی برائی صرف اس بنا پر ہے کہ وہ جھوٹ ہے، نہ کہ کسی اضافی پہلو کی وجہ سے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ بعض مخصوص حالات میں کتنے ہی مفید امور جھوٹ پر موقوف ہو سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ایسے حالات پیش بھی آ جائیں، تب بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے جھوٹ کو اچھا سمجھنے سے گریز کرے، کیونکہ وہ جھوٹ کو برا سمجھنے کا پوری طرح عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی طبیعت اوائلِ عمر ہی سے تربیت اور اچھی پرورش کے نتیجے میں جھوٹ سے متنفر ہو جاتی ہے؛ اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جھوٹ اپنی ذات میں برا ہے اور اسے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ یقیناً ایک خاص شرط کے تحت برا ہوتا ہے، اور یہ شرط شاذ و نادر صورتوں کے سوا عموماً جھوٹ کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے اس شرط سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً جھوٹ کی برائی اور اس سے اس کی مطلق نفرت اس کی طبیعت میں راسخ ہو جاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، غزالی امرِ مطلق کے اس تصور کو قبول نہیں کریں گے جسے امانوئیل کانٹ نے تشکیل دیا تھا (Abdullah 1992)۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ہمیں خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان تصادم بھی دکھائی دیتا ہے۔ فرض کیجیے کوئی شخص یہ آفاقی اخلاقی اصول اختیار کرتا ہے کہ جھوٹ کبھی نہیں بولنا چاہیے۔ لیکن اگرچہ اسلامی فکر میں جھوٹ عموماً جائز نہیں، اسلامی نصوص بعض مخصوص حالات میں جھوٹ کی اجازت دیتی ہیں؛ مثلاً لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے، یا جنگ سے بچنے کے لیے۔ اسی طرح شراب پینے یا خنزیر کا گوشت کھانے کے مسئلے کو دیکھیے۔ خیر اوّل کے دائرے میں یہ چیزیں بالکل عام استعمال کی اشیا سمجھی جا سکتی ہیں۔ تاہم اسلامی نصوص ان دونوں کو سختی سے ممنوع قرار دیتی ہیں، البتہ بعض استثنائی صورتوں کی اجازت بھی دیتی ہیں؛ مثلاً زندگی اور موت کی ایسی حالت میں جب انسان کے پاس ان کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ اس لیے عمومی احکام بھی وحی سے متعین ہوتے ہیں اور ان کے استثنائی احوال بھی۔ ان میں سے کوئی بھی، اس بات پر منحصر ہے کہ تقابل کس چیز سے کیا جا رہا ہے، خیر اوّل سے متصادم ہو سکتا ہے (Al-Ghazālī 2016, 34)۔
دوسری بات، جو پچھلے نکتے ہی سے گہرا تعلق رکھتی ہے، یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک اخلاقیات ایسی چیز نہیں جسے شک و شبہ سے بالاتر قرار دیا جا سکے (Hourani 1985, 155; Griffel 2012, 29)۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اخلاقیات بڑی حد تک بیرونی طور پر فراہم ہونے والے سماجی حالات اور شخصی مزاج و افتادِ طبع پر منحصر ہوتی ہیں؛ اسی وجہ سے یہ ایک حد تک موضوعی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک بدل سکتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص معاشرے سے بالکل الگ پیدا ہو اور اسی طرح پرورش پائے، تو خیر و شر کے بارے میں اس کی سمجھ کسی حد تک مختلف ہوگی۔ ممکن ہے وہ بعض اخلاقی مواقف کو قطعی اور حتمی نہ سمجھے، حالاں کہ مخصوص سماجی ماحول میں انہی مواقف کو یقینی اور غیر مشتبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے پر حورانی یہ نکتہ بیان کرتے ہیں (Hourani 1985, 155):
اگر آپ مکمل طور پر عاقل وجود کی حیثیت سے پیدا ہوں، لیکن آپ کو نہ معاشرے کا کوئی تجربہ ہو اور نہ کسی قسم کی تعلیم و تربیت ملی ہو؛ آپ کے پاس صرف حسی تجربات اور ذہنی تصاویر ہوں، تو آپ اس طرح کے مقدمات پر شک کر سکیں گے، مثلاً یہ کہ ’کسی انسان کو قتل کرنا برا ہے‘، یا کم از کم ان کے بارے میں تردد کا شکار ہوں گے۔ لیکن آپ اس بات میں شک نہیں کر سکیں گے کہ ’نفی اور اثبات ایک ہی چیز کے بارے میں بیک وقت درست نہیں ہو سکتے‘، یا یہ کہ ’دو، ایک سے بڑا ہے‘۔
طبعی میلانات کی ایک اور مثال پر غور کیجیے۔ افراد جذباتی، ثقافتی اور حیاتیاتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ساخت رکھتے ہیں، اسی لیے ان کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ممکن ہے ایک شخص دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نرم دل ہو۔ ایسی صورت میں وہ اس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ جانوروں کو قتل کرنا برا ہے، کیونکہ وہ جانور کے ساتھ ہمدردی محسوس کرتا ہے (Hourani 1985, 155; Al-Ghazālī 2013, 166)۔
یہ بھی ایک ایسی مثال ہے جہاں خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔ غزالی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلامی نصوص خوراک کے لیے جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت دیتی ہیں، حالاں کہ یہ اجازت اس شخص کے موقف سے متصادم ہو سکتی ہے جو خیر اوّل کے دائرے میں اسے برا سمجھتا ہو۔
دوسرے لفظوں میں، ان دونوں مثالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اخلاقیات منطقی بدیہیات کی طرح ضروری اور غیر مشتبہ نہیں ہوتیں۔ جیکسن اشاعرہ کے اخلاقی موقف کا خلاصہ نہایت مناسب انداز میں یوں بیان کرتے ہیں (Jackson 2014, 84):
اشاعرہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ: (1) وحی سے پہلے انسان کسی بھی اخلاقی حکم کا پابند نہیں تھا؛ (2) وحی کے احکام سے باہر اخلاقیات کا کوئی قابلِ اعتماد اور معروضی معیار موجود نہیں تھا؛ اور (3) وحی کے دائرے میں بھی انسانی اعمال کی اخلاقی حیثیت خود اعمال کی کسی داخلی صفت یا انسانی نفس کی کسی فطری کیفیت سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اسے متعین کرنے والی چیز خطابِ الٰہی ہے۔
آخر میں خیر کی تیسری تعریف آتی ہے، جسے ہم خیر سوم (G3) کہیں گے۔ اس سے مراد خدا کے افعال ہیں (Al-Ghazālī 2013, 162):
خدا کا فعل، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اچھا ہے، اگرچہ خدا کسی حاجت کا محتاج نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے کسی فعل کے نتیجے میں نہ تو خدا پر کوئی اثر یا نقصان مترتب ہوتا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کی ملامت لازم آتی ہے؛ کیونکہ وہ اپنی بادشاہی میں خود فاعلِ مختار ہے، ایسی بادشاہی جس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔
چونکہ غزالی کے ہاں خیر کا عمومی تصور مضبوط طور پر غایت پسندی پر قائم ہے، یعنی کوئی چیز اپنے مقصد کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے، اس لیے ان کے فریم ورک میں خدا ایک غیر محدود ہستی ہے۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ خدا میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں پائی جاتی۔ اسے نہ کسی چیز کی حاجت ہے، نہ وہ کسی چیز کا محتاج ہے؛ اس لیے اس کے لیے نہ کوئی ضرورت ہے نہ کوئی غرض و غایت۔ دوسرے لفظوں میں، خدا کے افعال کو کسی غایت کے تابع نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی بنا پر خدا افعال انجام دیتا ہے مگر کسی مقصد کے تحت نہیں، کیونکہ اسے کچھ کرنے کے لیے کسی سبب یا غرض کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مزید یہ کہ خدا پر خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے معانی میں خیر کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ حاکمِ مطلق اور وجودی اعتبار سے مستقل و بے نیاز ہے۔ اگر وہ کوئی کام نہ کرے تو اسے کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا، اور اگر وہ کوئی کام کرے تو اس کے نتیجے میں اس کے لیے کوئی منفی انجام یا ضرر منتظر نہیں ہوتا۔ اسی لیے خدا ہمیشہ خیر ہے، خواہ وہ جو بھی کرنے کا انتخاب کرے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کی خیریت ایک غیر متغیر حقیقت ہے، خواہ وہ جو حکم دے اور جو ظاہر کرے (Yaqub 2012)۔ غزالی کے نزدیک یہ ایک غیر محدود ہستی کا لازمی نتیجہ ہے، اور خدا ایسی ہی ہستی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ G1 وہ عمل جو فاعل کے مقصد سے متعلق ہو؛ G2 وہ عمل جس کے نتیجے میں فاعل کو اخروی اجر اور نجات حاصل ہو؛ اور G3 خدا کا فعل، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
ممکنہ اعتراضات
اس مقام پر ایک ناقد دو اعتراضات اٹھا سکتا ہے۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ خود قرآن میں ایسے مقاصد کا ذکر موجود ہے جو خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دو آیات دیکھیے:
ہم نے آسمانوں اور زمین کو، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا (القرآن، سورہ 44، آیت 38)۔
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں (القرآن، سورہ 51، آیت 56)۔
دوسرا اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ غزالی نے جب خدا کے بارے میں خیر کی تعریف کی ہے تو وہ دراصل بے معنی اور خالی از مفہوم محسوس ہوتی ہے۔ یہ تعریف خیر کو اس انداز میں واضح نہیں کرتی جس طرح ہم عام طور پر وجدانی سطح پر خیر کو سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں اعتراضات کے جواب میں غزالی کیا کہیں گے؟ آئیے ان اعتراضات کو بالترتیب دیکھتے ہیں۔
پہلے اعتراض کے سلسلے میں ضروری ہے کہ ان آیات میں غایت یا مقصد کے محل کو احتیاط سے سمجھا جائے۔ پہلی آیت میں مقصد کا بیان صریح نہیں بلکہ ضمنی ہے، مگر یہ قاری کو زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے، اور یوں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہے۔ اس کے برعکس دوسری آیت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ انسان کا مقصد خدا کی عبادت ہے۔
بظاہر یہ آیات غزالی کے موقف پر اعتراض معلوم ہو سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اعتراض زیادہ مضبوط نہیں۔ یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: ایک چیز ہے کسی مقصد کے لیے مخلوق کو پیدا کرنا، یعنی غرض؛ اور دوسری چیز ہے مخلوق کے لیے کوئی مقصد مقرر کرنا، یعنی مقصد۔ پہلی صورت میں مقصد خالق کے لیے سببِ تخلیق بنتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں مقصد خود مخلوق کے لیے متعین کیا جاتا ہے۔
اس کی وضاحت ایک مثال سے کی جا سکتی ہے۔ فرض کیجیے ایک کھیل بنانے والا شخص ایک بورڈ گیم اس غرض سے بناتا ہے کہ وہ اس سے پیسہ کمائے۔ یہ اس کھیل کو بنانے میں خالق یا بنانے والے کی غرض ہوئی۔ لیکن جو لوگ اس کھیل کو کھیلتے ہیں، ان کا مقصد کھیل جیتنا ہوتا ہے۔ چنانچہ کھیل کے اندر کھلاڑیوں کا مقصد وہی نہیں جو کھیل بنانے والے کا مقصد تھا۔
اسی طرح خدا نے دنیا کو پیدا کیا، لیکن فرق یہ ہے کہ خدا کے بارے میں کوئی داخلی غرض یا حاجت نہیں مانی جا سکتی۔ یعنی خدا کے اندر کوئی ذاتی غایت نہیں پائی جاتی۔ وہ غیر محدود ہستی ہے؛ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں، اس لیے اس کے افعال کے لیے کسی سبب یا غرض کی ضرورت بھی نہیں۔ البتہ خدا نے دنیا کو اس مقصد کے ساتھ پیدا کیا کہ اس کے باشندے آخرت میں نجات حاصل کریں، اور اس نے اپنے اخلاقی احکام کے ذریعے یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ نجات کیسے ممکن ہے؛ یعنی جیسے وہ مناسب سمجھے، ویسے حکم دے۔ اسے ہم خارجی غایت کہہ سکتے ہیں۔ اوپر مذکور آیات اسی دوسری قسم کے مقصد سے بحث کرتی ہیں، یعنی مخلوق کے لیے مقرر کردہ مقصد سے، نہ کہ خالق کے اندر کسی غرض یا حاجت سے۔ اس لیے یہ اعتراض غزالی کے موقف کو باطل نہیں کرتا۔
جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے، ہمیں دوبارہ اس کلامی تصورِ کائنات کی طرف لوٹنا ہوگا جسے غزالی اختیار کرتے ہیں۔ اشعری فکری نظام میں بنیادی اصل خدا کی قدرتِ مطلقہ ہے۔ خدا مطلق طور پر آزاد فاعل ہے اور کامل حاکمیت رکھتا ہے؛ اس لیے اس کی حاکمیت ہر قسم کے اقداری یا اخلاقی اعتبارات پر مقدم ہے۔ اشعری فریم ورک میں کوئی بھی ایسی بات جو خدا کی قدرت کو محدود کرتی ہو، فوراً محلِ اشکال بن جاتی ہے۔
چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ خدا ایسے ظالمانہ احکام نہیں دے سکتا، مثلاً بے گناہوں کے قتل کا حکم، تو غزالی اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ اعتراض ایک کمزور انسانی زاویہ نظر پر قائم ہے۔ خدا کی تنزیہ اس نوعیت کی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں کسی اخلاقی فریضے کا پابند نہیں؛ اس لیے وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے (also see Farahat 2019, 27–65)۔
پس غزالی دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا انسانی خیر و شر کی خانہ بندیوں سے ماورا ہے (Campanini 2019, 62–63)۔ اس بات کو سمجھنے کا ایک طریقہ کمپیوٹر گیم بنانے والے شخص اور اس کے بنائے ہوئے کھیلوں کی مثال سے ہے۔ ایک ڈیزائنر ایسا کھیل بنا سکتا ہے جس میں کوئی خاص عمل اچھا شمار ہو۔ لیکن وہی ڈیزائنر اسی کھیل کی ایک دوسری صورت بھی بنا سکتا ہے جس میں بعینہٖ وہی عمل برا قرار پائے۔ دونوں کھیلوں کا "اخلاقی فریم ورک" ایسی چیز نہیں جس کے تابع خود کمپیوٹر ڈیزائنر ہو۔ وہ کھیل کے ان مقاصد کے مطابق، جنہیں اس نے خود متعین کیا ہے، جو فریم ورک مناسب سمجھتا ہے مقرر کر دیتا ہے؛ لیکن وہ خود نہ اس فریم ورک کا پابند ہوتا ہے اور نہ اس کے ذریعے محدود۔ اس لیے کسی بھی کھیل کے داخلی فریم ورک کی بنیاد پر خود ڈیزائنر کو اچھا یا برا کہنا درست نہیں ہوگا۔
ونٹرز اشاعرہ، اور اسی بنا پر غزالی، کے موقف کا خلاصہ نہایت مناسب انداز میں یوں بیان کرتے ہیں (Winters 2017, 242):
خدا انسانی معنوں میں "اخلاقی طور پر اچھا" نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی عادت اور درست طور پر حکمت کے مطابق فعل انجام دیتا ہے۔ الٰہی افعال انسانی افعال کی مانند نہیں، کم از کم اس وجہ سے بھی کہ وہ اطاعت و نافرمانی کی اقداری قدروں سے تشکیل نہیں پاتے۔ اس نتیجے کے مطابق، قدرتِ الٰہی میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ خدا ایسی تکلیف مسلط کرے جو انسانی پیمانوں کے مطابق یقیناً غیر منصفانہ یا ناقابلِ برداشت محسوس ہو، لیکن اس سے حکمتِ الٰہی کا اصول مجروح نہیں ہوتا۔
یقیناً خدا کی یہ تفہیم مسیحی تصورِ خدا سے بہت مختلف ہے، جس میں خدا کو سراسر محبت کرنے والی ہستی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلامی تاریخ کے بعض مکاتبِ فکر، مثلاً معتزلہ، اس معاملے میں مسیحی تصورِ کائنات سے کسی حد تک مشابہت رکھتے ہیں، لیکن یہ وہ موقف نہیں جسے غزالی، یا اشاعرہ، نے اختیار کیا ہو (Farfur 2010; Campanini 2019, 61–62)۔
خلاصہ یہ کہ دوسرے اعتراض کا جواب سادہ طور پر یہ ہے کہ خدا انسانی اقداری فریم ورک کے تحت نہیں آتا؛ یعنی وہ اقداری اعتبار سے انسانی خانہ بندیوں سے ماورا ہے۔
غزالی کے اخلاقی تصورات کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ تفصیل سے گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن اس باب کے مقاصد کے لیے اتنی بحث کافی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے (Malik 2021)۔ اب جب کہ یہاں بنیادی تصور واضح ہو چکا ہے، ہم اس طرف متوجہ ہو سکتے ہیں کہ غزالی ارتقائی مسئلہ شر (POE) اور ارتقائی مسئلہ اخلاق (POM) سے کس طرح معاملہ کریں گے۔
غزالی، مسئلۂ شر، اور معروضی اخلاقیات کا مسئلہ
مسئلۂ شر
پچھلے حصے سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کی ایک صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس نظریے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ اخلاقیات کا حتمی معیار صرف خدا مقرر کرتا ہے، اور یہ معیار وحی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خیر و شر دراصل خدا کے مقرر کردہ احکام ہیں؛ چنانچہ خدا خود اپنے اخلاقی احکام کے تابع نہیں ہو سکتا۔ غزالی کا اصل نکتہ یہ ہے کہ خدا ایک ایسی منفرد ہستی ہے جسے کسی بھی اخلاقی فریم ورک کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔ وہ خیر و شر کے ان نسبتی تصورات سے ماورا ہے۔ مزید یہ کہ اشعری فکری نظام میں خدا اس شرط کا پابند نہیں کہ اسے لازماً ہمہ گیر خیر خواہی یا کمالِ احسان کے معیار پر سمجھا جائے۔ درحقیقت غزالی نہایت صراحت سے کہتے ہیں کہ خدا کسی اخلاقی اعتبار کا پابند نہیں، بلکہ وہ اس بارے میں مطلق طور پر آزاد ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے (Al-Ghazālī 2013, 157):
ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کوئی تکلیف/ذمہ داری عائد نہ کرے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری عائد کرے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انہیں، ان کی کسی خطا کے بغیر اور کسی تلافی کے بغیر، تکلیف میں مبتلا کرے۔ اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ ان کی بھلائی کا لحاظ رکھے؛ نہ اس پر یہ لازم ہے کہ اطاعت پر ثواب دے اور نافرمانی پر سزا دے۔ نیز کسی شخص پر کوئی چیز محض عقل کی بنا پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ صرف وحی کی بنا پر لازم ہوتی ہے۔۔۔
اسی بنا پر شر اور تکلیف خدا کی تخلیق کے مظاہر ہیں۔ یہ حقیقی ہیں، اور خدا کے حکم و ارادے کے تحت وجود رکھتے ہیں (Jalajel 2010)۔ خود قرآن بھی واضح کرتا ہے کہ یہ زندگی آزمائش کے طور پر بنائی گئی ہے، جہاں مخلوق کو ابتلا، آزمائش اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا؛ یعنی تکلیف اس دنیاوی نظام کا حصہ ہے۔ قرآن میں ایسے واقعات اور بیانات بھی موجود ہیں جو بظاہر ہمارے اخلاقی وجدانات سے متصادم محسوس ہو سکتے ہیں؛ مثلاً القرآن، سورہ 2، آیت 155۔
ان الٰہی ہدایات کے علاوہ انسان خدا کے پورے منصوبے سے واقف نہیں۔ مجموعی طور پر یہ نکات واضح کرتے ہیں کہ اشعری فکر شر یا تکلیف کو حقیقتاً کوئی کلامی مسئلہ نہیں سمجھتی۔ اگر نظریہ ارتقا تاریخِ حیات میں جانوروں کی مسلسل اور بے شمار تکالیف کی وجہ سے مسئلہ شر (POE) کو مزید شدید بھی کر دے، تب بھی اشعری فریم ورک میں یہ کوئی کلامی اشکال پیدا نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے مسئلہ شر کے بارے میں اشعری موقف کو ضدِ تھیوڈسی کہا جاتا ہے؛ یعنی ایسا موقف جو شر اور تکلیف کے معاملے میں خدا کو انسانی اخلاقی پیمانوں پر بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا (Winter 2017, 43)۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ خدا شر کو واقع ہونے دیتا ہے، بلکہ غزالی کے فریم ورک میں خدا درحقیقت شر کا خالق ہے۔ غزالی کا نظریہ عادت/کسبی سببیت یا اوکیشنلزم، جس کا ذکر چھٹے باب میں آ چکا ہے، جب ان کے نظریہ حکمِ الٰہی کے ساتھ ملتا ہے تو یہ نتیجہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ چونکہ خدا ہر چیز کا واحد حقیقی سبب ہے، اس لیے وہ ان تمام چیزوں کا بھی خالق ہے جن میں تکلیف اور شر پائے جاتے ہیں۔ غزالی کو اس نتیجے سے کوئی تردد نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات خدا کی قدرتِ مطلقہ کو ہر اعتبار سے محفوظ رکھنا ہے۔
معروضی اخلاقیات کا مسئلہ
غزالی کے فریم ورک کے حوالے سے معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کے بارے میں دو باتیں ذکر کرنا ضروری ہیں۔
پہلی بات ان مفکرین کے پس منظر میں موجود فطرت پسندانہ مفروضے سے متعلق ہے جن کا ہم نے پہلے جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض مفکرین بظاہر یہ فرض کرتے ہیں کہ اخلاقیات ارتقائی دباؤ کے تابع ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ہر چیز کی توجیہ فطری اسباب ہی کے ذریعے کی جانی چاہیے (Kitcher 2006; Flanagan et al. 2008)۔ لیکن جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا، اور ہیوم اور مور کی مغالطہ آمیز بحثوں کو سامنے رکھتے ہوئے، ممکن ہے کہ فطری دنیا اور اخلاقی دنیا وجودی اعتبار سے دو مختلف دائروں سے تعلق رکھتی ہوں۔ اس صورت میں فطرت سے اخلاقیات کو اخذ کرنا، یا اخلاقیات کی بنیاد فطرت میں تلاش کرنا، مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو اخلاقیات فطرت سے سببی طور پر آزاد بھی ہو سکتی ہے؛ یعنی زندگی کی تاریخ کو جتنی بار بھی دوبارہ چلایا جائے، اخلاقیات اپنی جگہ تبدیل نہ ہوں۔ اس صورت میں اخلاقیات معروضی رہے گی اور تاریخِ حیات سے آزاد ہوگی۔ لیکن اخلاقی دنیا اور فطری دنیا کے باہمی تعلق کی بحث کو فی الحال ایک طرف بھی رکھ دیا جائے، تب بھی چھٹے باب میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ غزالی فلسفیانہ فطرت پسندی کو قبول نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ اس باب میں پہلے ہونے والی بحث کی روشنی میں غزالی کے نزدیک حتمی خیر و شر مکمل طور پر وحی سے آتے ہیں، اور وحی اپنی اصل کے اعتبار سے مافوق الفطرت ہے، یعنی خدا کی طرف سے ہے۔ اس لیے غزالی اخلاقی احکام اور اقداری ہدایات کے لیے فطرت کی طرف رجوع نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک اخلاقیات بالآخر اسی چیز کا نام ہے جسے خدا خیر یا شر قرار دے۔ اس بنا پر اخلاقیات کی اصل فطری نہیں بلکہ فطرت سے ماورا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کو معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کو اس کی اصل صورت میں قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ چونکہ وہ خدا کو مکمل طور پر آزاد فاعل سمجھتے ہیں، اس لیے خدا جس چیز کو چاہے اخلاقی طور پر اچھا یا برا قرار دے سکتا ہے۔ چنانچہ اگر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات موضوعی ہے، تو غزالی کے فریم ورک میں یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ غزالی اور وہ مفکرین جنہیں اخلاقی عدمِ حقیقت پسند کہا جاتا ہے، ایک نکتے پر متفق ہیں کہ ان کے نزدیک معروضی اخلاقیات موجود نہیں۔ البتہ فرق ان کی وجودی بنیادوں میں ہے۔ غزالی خدا پرستی کی بنیاد پر اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی تک پہنچتے ہیں، جبکہ ولسن، اسٹریٹ، روز اور جوئس جیسے مفکرین فطرت پسندی کی بنیاد پر اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی اختیار کرتے ہیں۔ گویا یہ سب ایک ہی نتیجے تک پہنچتے ہیں، مگر ان کی مابعد الطبیعیاتی بنیادیں مختلف ہیں۔
مختصر یہ کہ غزالی کے فکری نظام میں فطری دنیا اور اخلاقی دنیا کے درمیان کوئی سببی تعلق نہیں، بلکہ دونوں مکمل طور پر خدا کے فیصلے اور ارادے کے تابع ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ارتقا واقع ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسئلہ شر (POE) کی طرح، معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) بھی اشعری فریم ورک میں کوئی حقیقی اشکال پیدا نہیں کرتا۔
نتیجہ
اس باب میں کوشش کی گئی ہے کہ بحث کے اخلاقی پہلو کا جائزہ لیا جائے۔ مسئلۂ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) دو بنیادی مسائل ہیں جو نظریہ ارتقا کے تناظر میں سائنس اور مذہب کی بحثوں میں اٹھائے جاتے ہیں۔ ان دونوں مسائل کو غزالی کے فکری فریم ورک کی روشنی میں دیکھا گیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ غزالی کے ہاں یہ حقیقی اشکال پیدا نہیں کرتے۔
مسئلہ شر اسی وقت مسئلہ بنتا ہے جب خدا کے بارے میں یہ اصرار کیا جائے کہ وہ لازماً ہر اعتبار سے سراسر خیر خواہ، یا ہمہ گیر خیر کا حامل ہے۔ لیکن جیسا کہ اس باب میں واضح کیا گیا، خدا کا یہ تصور اشعری فکری نظام میں سخت معنوں میں موجود نہیں۔ خدا ہر قسم کی اقداری خانہ بندیوں سے ماورا ہے؛ اس لیے اچھائی اور برائی کے الفاظ اس پر اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے انسانی اعمال پر ہوتے ہیں۔ اس بنا پر شر اس لیے موجود ہے کہ خدا اسے چاہتا ہے۔
جہاں تک معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا تعلق ہے، چونکہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کے قائل ہیں، اس لیے ان کے نزدیک اخلاقیات بالآخر اسی چیز کا نام ہے جسے خدا چاہے۔ چنانچہ کوئی چیز اپنی ذات میں اخلاقی طور پر اچھی یا بری نہیں ہوتی، سوائے اس کے جس کا حکم خدا وحی کے ذریعے دے۔ اس اعتبار سے معروضی اخلاقیات کا ختم ہو جانا غزالی کے فریم ورک کا ایک فطری نتیجہ ہے۔
رہا اخلاقی مواد کے فطری یا پیدائشی ہونے کا نظریہ، تو غزالی یہ نہیں مانتے کہ انسان پیدائشی طور پر اخلاقی اصول اپنے اندر لے کر آتا ہے۔ ان کے نزدیک اخلاقی اصول تجربات، ماحول اور تربیت کے ذریعے اختیار کیے اور سیکھے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر بعض مفکرین، جن کا اوپر جائزہ لیا گیا، یہ کہتے ہیں کہ اخلاقی اصولوں میں آفاقیت نہیں پائی جاتی، تب بھی غزالی کے فریم ورک میں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اخلاقی مواد کے پیدائشی ہونے کا نظریہ اس شخص کے لیے اہم ہو سکتا ہے جو معروضی اخلاقیات پر یقین رکھتا ہو، اور ممکن ہے کہ وہ اسے معروضی اخلاقیات کے حق میں ایک تجربی دلیل کے طور پر استعمال کرے۔ لیکن اشاعرہ کے اختیار کردہ مجموعی تناظر، یعنی نظریۂ عادت/اوکیشنلزم اور نظریۂ حکمِ الٰہی کو سامنے رکھا جائے، تو یہ سوال کہ انسان اخلاقی اصولوں کو پیدائشی طور پر رکھتا ہے یا بعد میں سیکھتا ہے، کم از کم غزالی کے فریم ورک میں غیر متعلق ہو جاتا ہے۔
ان نکات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ غزالی کی ماورائے اخلاقیات اور اخلاقی نفسیات نظریۂ ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔
(جاری)
حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
’’شہیدہ‘‘ کے لقب سے ملقب عہدِ نبوی کی ایک خاتون معالج
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی
تمہید
تاریخ کے روشن صفحات میں، عہدِ نبوی کی جن خواتین کا تذکرہ جلی حرفوں میں ملتا ہے، ان میں ایک نمایاں نام ’’حضرت ام ورقہ‘‘ رضی اللہ عنہا کا ہے، جن کو ابونعیم اصفہانی نے
الشہیدۃ القارئۃ، ام ورقۃ الانصاریۃ، کانت تؤم المؤمنات المہاجرات، ویزورہا النبی ﷺ فی الاحایین والاوقات (حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء: ۲؍۶۳)
’’شہیدہ قاریہ، ام ورقہ انصاریہ، مہاجر خواتین کی امامت کرتی تھی، نبی کریم ﷺ مختلف اوقات میں ان کے یہاں آیا کرتے تھے۔‘‘
کے الفاظ سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ ان خوش نصیب خواتین میں ہیں، جن کے یہاں نبی کریم ﷺ زیارت کے لئے جایا کرتے تھے؛ بلکہ اس سے بڑھ کر خوش نصیبی ان کی یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے انھیں ’’شہیدہ‘‘ کا لقب عطا کیا تھا؛ چنانچہ جب ان کے یہاں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: انطلقوا بنا نزور الشہیدۃ (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳) ’’شہیدہ کی زیارت کے لئے ہمارے ساتھ چلو‘‘۔ یہ وہ پہلی خاتون ہیں، جن کے گھر میں اذان دی گئی۔ یہ وہ پہلی خاتون ہیں، جنھوں نے خواتین کی امامت کی۔ انھیں یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے انھیں ہی ’’شہیدہ‘‘ کا لقب عطا کیا گیا۔
نام و نسب
یہ اپنی کنیت ’’ام ورقہ‘‘ سے مشہور ہیں، نسب اس طرح ہے: ام ورقۃ بنت عبداللہ بن الحارث بن عویمر بن نوفل الانصاریۃ۔ انھیں ’’ام ورقہ بنت نوفل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نوفل ان کے پردادا کا نام ہے، انھیں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۲، نمبر شمار: ۱۲۴۳۶، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۶، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ص: ۹۶۸، نمبر شمار: ۳۵۸۹)۔ بعض کتب میں ’’عویمر‘‘ کی جگہ ’’عویم‘‘ نقل کیا گیا ہے (الاستبصار فی نسب الانصار، ص: ۳۵۸)۔
اسلام
حضرت ام ورقہؓ انصار کی ان خواتین میں سے تھیں، جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر اسلام قبول کیا تھا، پھر جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت سے بھی بہرہ مند ہوئیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: اسلمت وبایعت (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳) اسلام لانے کے بعد دینی تعلیم کے حصول میں لگ گئیں۔ چنانچہ انھوں نے قرآن کو پڑھنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور اسے یاد بھی کر لیا۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: وکانت قد قرات القرآن (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۵)۔
حفظِ قرآن کے بعد انھوں نے ’’جمع قرآن‘‘ کی طرف توجہ دی اور کھال و ہڈی وغیرہ میں لکھ لیا کرتی تھیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: وکانت قد جمعت القرآن (طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳)۔ ’’روزنامہ عمان‘‘ کے ایک مضمون میں ہے:
ثم انصرفت الی جمع آیات القرآن وکتابتہا علی العظم والجلد والرقائق، واصبح بیتہا فیہا بعد مرجعا لابی بکر الصدیق فی جمع القرآن من البیوت، ومن صدور الحفظۃ (مضمون: ام ورقۃ… الشہیدۃ، شائع شدہ: ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۲ء)
’’پھر وہ آیات قرآن کو جمع کرنے اور ہڈی، کھال اور جھلی پر انھیں لکھنے میں لگ گئی، پھر بعد میں ان کا گھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لئے گھروں اور حافظوں سے قرآن جمع کرنے کا مرکز بن گیا‘‘۔
غزوات میں شرکت اور طبابت
سن دو ہجری میں جب قریش مکہ سے مقابلہ کے لئے بدر کی طرف جانے کا اعلان ہوا تو حضرت ام ورقہؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کناں ہوئیں: ’’مجھے اپنے ساتھ نکلنے کی اجازت دیں؛ تا کہ میں مریضوں کی تیمارداری کر سکوں، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی مجھے شہادت نصیب کر دے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اپنے گھر میں رہو، اللہ تعالی شہادت نصیب کرے گا، راوی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے انھیں ’’شہیدہ‘‘ کہا جاتا تھا‘‘ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۷؍۳۹۶، نمبر شمار: ۷۶۲۶، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۲)، اس عبارت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
۱- انھوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی اجازت چاہی تھی؛ لیکن اجازت نہیں دی گئی۔
۲- علاج و معالجہ سے بھی انھیں شغف تھا۔
وفات
حضرت ام ورقہؓ شہادت کی آرزومند تھیں اور اس کے لئے غزوۂ بدر میں شرکت کی اجازت چاہی تھی؛ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے یہ فرمایا: تم گھر میں ہی رہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شہادت لکھ دیا ہے۔ زبانِ نبوت صادق آئی اور گھر میں ہی انھیں شہادت کی موت نصیب ہوئی، جس کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ: ان کے یہاں ایک غلام اور باندی تھی، جن کو انھوں نے مدبر بنا دیا تھا، یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ تم لوگ میری موت کے بعد آزاد ہو، ان دونوں نے آزادی کی عجلت کے چکر میں حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں ان کو چادر سے گلا گھونٹ کر شہید کر دیا۔ جب حضرت عمرؓ کو یہ معلوم ہوا تو ان دونوں کو گرفتار کروا کر انھیں سولی دیدی۔
اتنی بات تو کئی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کی خلافت میں پیش آیا؛ لیکن سن کی تعیین نہیں کی گئی ہے (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ص: ۹۶۸، نمبر شمار: ۳۵۸۹ طبقات ابن سعد: ۱۰؍۴۲۴، نمبر شمار: ۵۴۵۳ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۵۵۳، نمبر شمار: ۱۲۴۳۶)؛ البتہ ’’روزنامہ عمان‘‘ کے ایک مضمون میں سن عیسوی کی صراحت کی گئی ہے، اس میں لکھا ہے:
توفیت ام ورقۃ سنۃ ستمائۃ واربع واربعین فی عہد الخلیفۃ الثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ، ودفنت فی المدینۃ المنورۃ۔ (مضمون: ام ورقۃ۔۔۔ الشہیدۃ، شائع شدہ: ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۲ء)
’’ام ورقہ کی وفات خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے عہد میں سن چھ سو چھیالیس (عیسوی) میں ہوئی اور مدینہ منورہ میں تدفین عمل میں آئی۔‘‘
جب کہ ایک دوسرے عربک پورٹل (الجماعہ) میں یوں لکھا ہے:
لم یعرف بالتحدید عام ولادتہا ولا عام وفاتہا؛ ولکن المتفق علیہ ہو انہا توفیت فی خلافۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، مما یجعلنا نستنتج انہا عاشت فی حیاۃ الرسول ﷺ، وعاصرت خلافۃ ابی بکر الصدیق، وبعض من خلافۃ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، وانہا استشہدت حوالی عام ۲۲للہجرۃ۔ (عنوان: اضاءۃ علی سیرۃ صحابیۃ جلیلۃ۔۔۔ ام ورقۃ بنت نوفل الانصاریۃ الشہیدۃ للفاطمۃ العزوزی، تاریخ اشاعت: ۴؍ جنوری ۲۰۲۲ء)
’’تعیین کے ساتھ نہ تو ان کی تاریخ وفات معلوم ہے اور نہ ہی تاریخ ولادت؛ لیکن یہ متفق علیہ بات ہے کہ ان کی وفات حضرت عمرؓ کی خلافت میں ہوئی، اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں باحیات رہیں، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت اور حضرت عمر بن خطابؓ کے عہد کے چند سالوں تک بقید حیات رہیں اور تقریبا بائیس ہجری میں ان کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔‘‘
رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ الآملۃ بالشہادۃ التی کانت قدوۃ للنساء المسلمات فی حسن تعمقہا فی الدین وتعلیمہ للنساء ورضی عنہا وجمعنا بہا تحت لواء سیدالمرسلین مع الصحابۃ والابرار والصالحین، آمین!
اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ
محمد سراج اسرار
باب سوم: عہدِ رسالت و اشاعتِ اسلام (مدنی زندگی)
ہجرتِ مدینہ
جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو مدینہ ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا تو حضورؐ نے فرمایا: صبر کریں، مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: مجھے ہمراہی کا شرف نصیب ہو گا؟ آپؐ فرمایا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے چار ماہ انتظار کیا اور دو اونٹ خرید کر تیار رکھے۔
بعض سیرت نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ایک خواب دیکھا کہ چاند آسمان سے اتر کر مکہ میں وارد ہوا۔ انہوں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ چاند نبی کریمؐ ہیں، ستارے صحابہؓ ہیں، اور چاند کا حضرت عائشہؓ کے گھر میں قیام یہ بتاتا ہے کہ وہ حضورؓ کی زوجہ بنیں گی۔
کفارِ مکہ نے دارالندوہ میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی۔ ابوجہل نے مشورہ دیا کہ ہر قبیلے کا ایک بہادر اٹھ کھڑا ہو اور سب مل کر ایک ہی حملے میں حضورؐ کو قتل کر دیں۔ یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرمؐ کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا۔
دوپہر کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر تشریف لائے اور انہیں ہمراہی کا شرف عطا فرمایا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے سامانِ سفر تیار کیا۔ انہوں نے اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے، ایک سے توشہ دان باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ’’ذات النطاقین‘‘ (دو پٹکے والی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضورؐ نے عبد اللہ بن اریقط کو راہنمائی کے لیے رکھا، حضرت عامر بن فہیرہؓ کو بکریاں چرانے پر مقرر کیا، اور حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ کو کفار کی جاسوسی کے لیے مقرر کیا۔
کفارِ مکہ نے اپنے منصوبہ کے مطابق حضورؐ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا تاکہ رات کو آپؐ پر حملہ کریں۔ اس وقت گھر میں حضرت علیؓ موجود تھے۔ نبی کریمؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جائیں اور میرے جانے کے بعد لوگوں کی امانتیں واپس کر کے مدینہ آ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپؐ سورہ یٰس کی آیات پڑھتے ہوئے گھر سے باہر تشریف لے گئے اور اللہ کے حکم سے وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکے۔ بعد میں کسی نے کفار کو بتایا کہ محمد تو یہاں سے جا چکے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا تو حضرت علیؓ بستر پر تھے۔ اس طرح کفار ناکام اور شرمندہ ہو گئے اور آخرکار حضرت علیؓ کو بھی چھوڑ دیا گیا۔
غارِ ثور کے بارے میں مختلف روایات میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غار کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں حضورؐ کے پاؤں زخمی ہو گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ غار کے اندر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے کپڑوں کے ٹکڑے کر کے تمام سوراخ بند کیے۔ ایک سوراخ کے لیے کپڑا نہ بچا تو انہوں نے اپنی ایڑی رکھ دی۔ اسی سوراخ میں سے ایک سانپ نے ان کے پاؤں میں کاٹا، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے درد کے باوجود پاؤں نہ ہٹائے تاکہ حضورؐ کے آرام میں خلل نہ آئے۔ حضورؐ نے زخم پر اپنا لعابِ دہن لگایا جس سے فوراً درد کم ہو گیا۔ بعض روایات کے مطابق غار کے دہانے پر عنکبوت نے جالا تان دیا اور کبوتروں نے گھونسلا بنا کر انڈے دیے۔ ایک کھوجی نے پاؤں کے نشانات کے ذریعے مشرکینِ مکہ کو غار کے قریب لے آیا، لیکن جب انہوں نے کبوتر کا انڈا اور مکڑی کا جالا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ غار تو بہت پرانا ہے، اس کے اندر کوئی نہیں گیا ہو گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر انہوں نے ہمارے قدموں کی طرف دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لیں گے۔ حضورؐ نے فرمایا: ابوبکر! ان دو شخصوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟
تین دن کے قیام کے بعد وہ غار سے باہر نکلے۔ راستے میں ان کا تعاقب کرنے والے سراقہ بن مالک کے گھوڑے کے پاؤں حضورؐ کی دعا سے زمین میں گڑ گئے۔ سراقہ نے امان نامہ طلب کیا اور خود بھی واپس لوٹ گیا اور اس طرف آنے والے دوسرے لوگوں کو بھی واپس کرتا رہا۔ بعض روایات کے مطابق بریدہ اسلمیؓ سواروں کے ایک جتھے کو لے کر گرفتاری کے لیے آیا لیکن مسلمان ہو گیا۔
آٹھ روز کے سفر کے بعد حضورؐ قبا پہنچے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ کے پیچھے آ کر چادر سے سایہ کیا۔ قبا میں آپؐ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو اسلام کی پہلی مسجد تھی۔ جمعہ کے روز حضورؐ قبا سے روانہ ہوئے۔ بنی سالم بن عوف کے محلے میں پہلی بار مدینہ میں نمازِ جمعہ ادا فرمائی۔ حضورؐ کی اونٹنی جہاں بیٹھی وہ جگہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان کے قریب تھی۔ حضورؐ نے کئی ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہاں قیام فرمایا۔ جہاں حضورؐ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہ زمین دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی۔ حضورؐ نے یہ زمین خرید لی۔ جبکہ بعض روایات کے مطابق قیمت حضرت ابوبکرؓ صدیق نے ادا کی۔ اس زمین میں چند درخت، کھنڈر اور مشرکوں کی قبریں تھیں۔ حضورؐ نے انہیں صاف کرایا اور خود اپنے دستِ مبارک سے مسجد کی بنیاد ڈالی۔ حضرت ابوبکرؓ بھی مسجد کی تعمیر میں پیش پیش رہے اور اپنی کمر پر پتھر رکھ کر لاتے تھے۔ مسجد کے ایک کنارے پر کھجور کی ٹہنیوں سے بنے چھت والا چبوترا تھا جس کا نام صفہ تھا۔ جن صحابہؓ کے پاس گھر نہیں تھا، وہ وہاں رہتے تھے اور اصحابِ صفہ کہلاتے تھے۔
حضورؐ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافعؓ کو مکہ روانہ فرمایا کہ وہ آپ کے اہل و عیال کو مدینہ لے آئیں۔ حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ بھی انہی لوگوں کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کے اہل و عیال کو لے آئے۔ جب مہاجرین مدینہ میں آئے تو یہاں کی ہوا انہیں موافق نہ آئی اور اکثر بیمار ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ صدیق کو اتنا شدید بخار ہوا کہ زندگی کی امید نہ رہی۔ حضرت عائشہؓ نے حضورؐ سے شکایت کی تو حضورؐ نے دعا فرمائی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ کی وبائی کیفیت دور فرما دی اور مہاجرین کو وہاں سکون حاصل ہو گیا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دینی بھائی حضرت خارجہ بن زید بن ابی زہیر انصاریؓ بنے۔ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھر لے جا کر اپنا سارا سامان ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کپڑے کی تجارت شروع کر دی اور جلد ہی مالی طور پر خودمختار ہو گئے۔
غزوات اور صلح حدیبیہ
رمضان ۲ ہجری میں غزوۂ بدر کا عظیم معرکہ پیش آیا۔ اس غزوہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورؐ کے ساتھ بھرپور شرکت کی۔ جب حضورؐ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ہم اپنی جانیں راہِ حق میں قربان کر دیں گے۔ لڑائی کے دوران حضرت ابوبکرؓ ننگی تلوار لے کر حضورؐ کے سائبان کے پاس ڈٹے رہے اور حضرت سعد بن معاذؓ کے ساتھ مل کر اس کی حفاظت کرتے رہے۔ جب حضورؐ نے ہاتھ پھیلا کر دعا مانگی اور آپؐ کے کندھوں سے چادر گر گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے چادر اٹھا کر آپؐ کے کندھے پر ڈالی اور عرض کیا: حضور! اب بس کیجیے، اللہ ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی اور قریش کے ستر قیدی گرفتار ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے سفارش کی کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ حضورؐ نے ان کی رائے قبول فرمائی۔ چنانچہ بعد ازاں کچھ قیدی فدیہ لے کر اور کچھ قیدی تعلیم دینے کے عوض رہا کیے گئے۔
شوال ۳ ہجری میں غزوہ احد پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو فتح ہو رہی تھی، لیکن تیر اندازوں کے درہ چھوڑ دینے سے شکست ہو گئی۔ اس نازک مرحلے میں جب کفار نے حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ جیسے صحابہؓ نے جانثاری کا ثبوت دیا۔ جب حضورؐ زخمی ہو گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو سہارا دے کر پہاڑ پر ایک محفوظ مقام تک پہنچایا۔ جب ابوسفیان نے پکارا کہ کیا محمد، ابوبکر اور عمر زندہ ہیں؟ تو حضرت عمر فاروقؓ نے جواب دیا۔ اس جنگ میں حضورؐ کی پیشانی مبارک پر ایک کڑی پیوست ہو گئی، جسے حضرت ابو عبیدہ بن ابی جراحؓ نے اپنے دانتوں سے نکالا، جس سے ان کے دانت ٹوٹ گئے۔
ذوالقعدہ ۵ ہجری میں غزوہ احزاب پیش آیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر شہر کے گرد خندق کھودی گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی خندق کی کھدائی میں شب و روز مشغول رہے۔ ایک مرتبہ جب حضورؐ تھک کر سو گئے تو حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے گرد پہرہ دیتے رہے۔ اس غزوہ میں حضرت ابوبکرؓ کے ماتحت ایک دستہ خندق کے ایک حصے کی حفاظت پر مامور تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اس جگہ ایک مسجد بنی جو مسجد صدیق کے نام سے مشہور ہوئی۔
ذوالقعدہ ۶ ہجری میں نبی کریم عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے۔ قریش نے آپؐ کو بیت اللہ کی زیارت نہ کرنے دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا: آپؐ تو بیت اللہ کی زیارت کے لیے نکلے ہیں، نہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہ کسی سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں، اگر کسی نے ہمیں روکا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ جب قریش کے سفیر عروہ بن مسعود نے کہا کہ لوگ حضورؐ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، تو حضرت ابوبکرؓ غصے میں آ کر بولے: بد معاش! کیا ہم لوگ محمدؐ کو چھوڑ کر بھاگ سکتے ہیں؟ جب حضرت عثمان بن عفانؓ کے شہید ہونے کی افواہ پھیلی تو حضورؐ نے ’’بیعتِ رضوان‘‘ لی، جس میں حضرت ابوبکرؓ بھی شامل تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ صلح نامے پر حضورؐ کے بعد سب سے پہلے دستخط کرنے والے حضرت ابوبکرؓ تھے۔
محرم ۷ ہجری میں غزوہ خیبر پیش آیا۔ قلعہ قموص کی مہم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کیا گیا، انہوں نے بہت شجاعت دکھائی لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عَلم عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔
رمضان ۸ ہجری میں فتحِ مکہ کا عظیم تاریخی واقعہ پیش آیا۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ آپؐ کی دائیں جانب تھے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ کے والد ابو قحافہ، جو نابینا تھے، حضورؐ کی خدمت میں لائے گئے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔
شوال ۸ ہجری میں طائف کے محاصرہ کے دوران حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ تیر سے زخمی ہوئے، یہ زخم بعد میں پھٹ پڑا اور ان کی شہادت کا سبب بنا۔
شوال ۹ ہجری میں غزوہ حنین پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا اور بہت سے مسلمان پسپا ہو گئے۔ جو چند لوگ حضورؐ کے گرد رہ گئے ان میں حضرت ابوبکرؓ بھی شامل تھے۔ حضورؐ کے چچا حضرت عباسؓ کے پکارنے پر مسلمان پلٹ پڑے اور انہوں نے دشمن کو شکست دی۔
رجب ۹ ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا۔ یہ سخت گرمی اور قحط کا زمانہ تھا۔ حضورؐ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے گھر کا سارا مال و اسباب لا کر بارگاہِ رسالت میں پیش کر دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنا آدھا مال پیش کیا، اور جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ سب کچھ لے آئے ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ وہ کبھی ان سے بازی نہیں لے سکتے۔ حضورؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو سب سے بڑا عَلم عطا فرمایا۔
سریے اور اہم مہمات
شعبان ۷ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بنو کلاب کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا گیا۔ مقابلہ ہوا جس میں دشمن کے چند آدمی قتل ہوئے اور کچھ گرفتار ہوئے۔
جمادی الثانی ۸ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو حضرت عمرو بن العاصؓ کی مدد کے لیے روانہ کیا گیا۔ مخالف جنگجوؤں نے خود کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا تاکہ جم کر لڑ سکیں، اس لیے یہ مہم ذات السلاسل (زنجیروں والی) کے نام سے مشہور ہوئی۔ البتہ وہ مسلمانوں کے پرزور حملے کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔
رجب ۸ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کی سرکردگی میں ایک مہم پر روانہ کیا گیا۔ راستے میں رسد ختم ہو گئی تو مجاہدین کو درختوں کے سوکھے پتوں پر گزارا کرنا پڑا، اس لیے یہ معرکہ ’’سریۃ الخبط‘‘ کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔
امارتِ حج
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد حج کا موسم آیا تو حضورؐ نے تین سو مسلمانوں کا قافلہ حج کے لیے بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مقرر فرمایا۔ ادھر سورہ توبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں مشرکوں کے لیے جزیرہ نما عرب میں کوئی جگہ نہ ہونے کا اعلان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰیؓ کو یہ آیات دے کر مکہ روانہ فرمایا تاکہ وہ حج کے دنوں میں لوگوں کو سنائیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حج کے تمام مناسک ادا کیے اور حضرت علیؓ نے سورہ توبہ کی آیات کی تلاوت فرمائی۔
وفاتِ رسولِ کریمؐ
ربیع الاول ۱۱ ہجری میں جب حضورؐ کا مرض شدید ہو گیا تو آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ ابوبکرؓ غمگین آدمی ہیں، لیکن حضورؐ نے پھر بھی انہی کو حکم دیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ ایک دن جب آپؐ کو کچھ افاقہ ہوا تو آپؐ مسجد میں تشریف لائے۔ حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے، آپؐ نے انہیں اپنی جگہ پر قائم رکھا اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔ ۱۲ ربیع الاول کو دوپہر کے وقت حضورؐ کا وصال ہوا۔ وفات سے تھوڑی دیر قبل آپؐ نے فرمایا: نماز اور لونڈی و غلاموں کا خیال رکھنا۔ پھر تین مرتبہ فرمایا: اب کوئی نہیں، بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔ وصال کی خبر سن کر صحابہؓ پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے تلوار کھینچ لی اور کہنے لگے: اگر کسی نے کہا کہ محمدؐ کا انتقال ہو گیا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ جب مدینہ پہنچے تو سیدھے حضرت عائشہؓ کے حجرے میں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخِ انور سے چادر ہٹا کر آپؐ پر جھکے اور بوسہ دیا۔ پھر مسجد میں آ کر آپ نے خطاب کیا: اے لوگو! جو شخص محمدؐ کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمدؐ کا وصال ہو گیا۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا، تو اللہ زندہ ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اور محمد تو ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے، تو کیا اگر وہ انتقال فرما جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
حضورؐ کی وصیت کے مطابق اہلِ بیت نے انہیں غسل دیا۔ کفن تین سوتی کپڑوں کا بنایا گیا۔ نماز جنازہ کے لیے لوگ گروہ در گروہ آتے رہے۔ دفن کے بارے میں اختلاف ہوا تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اپنی وفات کے بعد اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی وفات ہوئی ہو۔ چنانچہ اسی جگہ (حجرہ عائشہؓ) میں آپ کی قبر تیار کی گئی۔
باب چہارم: عہدِ خلافت
بیعتِ خلافت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد انصار حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو گئے۔ انصار اپنے اندر سے امیر منتخب کرنے پر غور کر رہے تھے۔ جب یہ اطلاع حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو ہوئی تو یہ دونوں بزرگ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے ہمراہ سقیفہ روانہ ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انصار سے خطاب کیا: ہم سابقین اولین میں ہیں، رسول اللہ کے ساتھ مکہ میں رہے، کفار کے ہاتھوں ایذائیں اٹھائیں، پھر انہی کے ہمراہ ہجرت کی۔ ہم امراء ہیں اور تم وزراء ہو۔ حضرت حباب بن منذرؓ نے کہا: مناسب یہ ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے۔ حضرت بشیر بن سعدؓ نے کہا: رسول اللہ قریش سے تھے اور ان کی قوم امارت و خلافت کی زیادہ مستحق ہے، کیا تم نے نہیں سنا کہ حضرت محمدؐ نے فرمایا: تمام امام قریش سے ہوں گے؟ اس کے بعد گفتگو کا رخ بدل گیا اور حاضرین کی اکثریت حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی طرف مائل ہو گئی۔ حضرت بشیر بن سعدؓ نے اٹھ کر سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ نے بیعت کی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے صحابہؓ کی کثیر تعداد نے بیعت کر لی۔
بیعت سقیفہ کے دوسرے دن حضرت ابوبکرؓ مسجد میں آئے اور منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے بیعت عام لی۔ پھر کھڑے ہو کر حمد و نعت کے بعد حاضرین سے مخاطب ہوئے: اے لوگو! میں تمہارا حاکم بنا دیا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں ٹھیک رہوں تو میری مدد کرو، اور اگر بری راہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اس کا حق اسے نہ دلا دوں۔ اور قوی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق واپس نہ لے لوں۔ تم میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں، اور جب نافرمانی کرنے لگوں تو میری اطاعت نہ کرو۔
حضرت ابو سفیانؓ نے حضرت علیؓ سے بیعت کے متعلق کہا تو انہوں نے سختی سے جواب دیا۔ بعد میں حضرت علیؓ خود حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے سقیفہ میں میری عدمِ موجودگی میں بیعت کیوں لی؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ وہ نزاع رفع کرنے گئے تھے اور حاضرین نے خود بیعت کر لی۔ چنانچہ بالآخر حضرت علیؓ نے بھی حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کو قبول فرمایا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
لشکرِ اسامہؓ کی روانگی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے کچھ روز پہلے رومیوں سے انتقام لینے کے لیے ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر فرمایا تھا۔ اس لشکر میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسے بڑے صحابہ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ارتداد کا رجحان پھیل گیا تو بعض صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ لشکرِ اسامہؓ کی روانگی ملتوی کر دی جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے یہ مشورہ قبول نہ کیا اور فرمایا: میں اس جھنڈے کو نہیں کھول سکتا جسے رسول اکرم نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے باندھا ہو۔ اور جب بعض صحابہؓ نے کہا کہ اسامہؓ نوعمر ہے، تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: جسے خدا کے رسول نے سردار بنایا ہو، مجھے اسے معزول کرنے کا کیا حق ہے؟ یکم ربیع الثانی ۱۱ ہجری کو لشکر روانہ ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ خود پیدل حضرت اسامہؓ کے گھوڑے کے ساتھ کچھ دور تک چلے۔ حضرت اسامہؓ سے جدا ہوتے وقت حضرت ابوبکرؓ نے انہیں نصیحتیں فرمائیں: دیکھو! خیانت نہ کرنا۔ دھوکا نہ دینا۔ مال نہ چھپانا۔ کسی کے اعضا کو نہ کاٹنا۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا۔ کھجور کے درختوں کو نہ جلانا۔ پھل والے درختوں کو نہ کاٹنا۔ تمہارا گزر ایک قوم پر ہو گا جو دنیا کو چھوڑ کر اپنی خانقاہوں میں بیٹھی ہو گی، تم اس سے تعرض نہ کرنا۔ لشکرِ اسامہ چالیس روز بعد مالِ غنیمت اور فتح کی خوشخبری لے کر واپس لوٹا۔ اس مہم سے منافقین اور مرتدین کو یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی، جس کی وجہ سے بہت سے قبائل دائرہ اسلام میں لوٹ آئے۔
فتنہ ارتداد
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عرب میں ارتداد کی وبا پھیل گئی جس کی چند بڑی وجوہات تھیں: عرب برسوں سے مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے، اسلام نے انہیں ملا کر ایک ملت بنا دیا لیکن وہ اس نظام کو اپنی آزادی کی زنجیر سمجھنے لگے۔ زکوٰۃ کو ایک بوجھ سمجھا گیا اور اس سے دستبردار ہونے کی کوشش کی جانے لگی۔ شراب اور زنا پر اسلام نے کڑی پابندیاں لگا دیں جو انہیں گراں گزریں۔ دور دراز علاقوں کے لوگ حضورؐ کی صحبت سے فیضیاب نہیں ہوئے تھے۔ حضورؐ کی کامیابی کو دیکھ کر عرب میں جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہو گئے۔
قبیلہ عبس و ذیبان نے ذی القصہ میں پڑاؤ ڈال کر مدینہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا اور انہیں شکست دے دی۔
حضرت ابوبکرؓ نے پوری فوج کو گیارہ دستوں میں تقسیم کیا، ہر دستے کا ایک الگ سردار مقرر کیا اور اسے جھنڈا دیا۔ ان سرداروں میں حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ اور دیگر شامل تھے۔ روانگی سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نے مرتدین کو عام پیغام بھیجا کہ وہ فتنہ سے باز آ جائیں اور اسلامی برادری میں دوبارہ داخل ہو جائیں۔
طلیحہ نے بنی اسد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ ان کے مقابلے پر گئے۔ حضرت عدی بن حاتمؓ نے اپنی قوم کو سمجھا بجھا کر طلیحہ سے الگ کر دیا۔ طلیحہ شام کی طرف فرار ہو گیا، بعد میں اس نے توبہ کی اور دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
مسیلمہ نے حضورؐ کے مرض الوفات کے دوران نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو اس کے مقابلے پر روانہ کیا۔ سخت جنگ کے بعد مسیلمہ اپنے ایک باغ میں چھپ گیا۔ حضرت براء بن مالکؓ نے باغ میں گھس کر دروازے کھول دیے اور مسیلمہ قتل کر دیا گیا۔
یمن میں اسود عسنی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ شہر بن باذان کی بیوی نے فوج ابناء کے سرداروں کی مدد سے رات کے وقت اسود کو قتل کر دیا۔ یہ فتح اسی رات ہوئی جب مدینہ میں حضورؐ کا وصال ہوا۔
مالک بن نویرہ نے زکوٰۃ روک دی اور مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ روایات کے مطابق بعض مسلمانوں نے اعتراض کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے واقعہ کی تشریح میں غلطی ہونے کی بنا پر قصاص نہ لیا اور خود مالک کا خون بہا ادا کر دیا۔
تدوینِ قرآن و حدیث
جنگِ یمامہ کے موقع پر حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ جنگوں میں بے شمار حفاظ شہید ہو رہے ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قرآن مجید کے ایک بڑے حصے کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں فرمایا کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے جو نبی کریم نے اپنی زندگی میں نہیں کیا۔ لیکن پھر اللہ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی اور ان کی رائے بھی حضرت عمر فاروقؓ والی ہو گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا اور فرمایا: تم نوجوان ہو، حضورؐ کے کاتبِ وحی ہو، اور حضورؐ کو قرآن سنایا کرتے تھے، اس لیے تم قرآن کریم جمع کرو۔ حضرت زیدؓ نے کھجور کے پتوں، کپڑے کے ٹکڑوں، پتھر کے ٹکڑوں اور صحابہؓ کی یادداشتوں سے قرآن مجید کو اکٹھا کیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے وصال تک یہ صحیفے ان کے پاس محفوظ رہے۔
بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ کی مستند پانچ سو احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا اور یہ مجموعہ اپنی بیٹی حضرت عائشہؓ کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے اس مجموعے کو نہایت احتیاط سے تیار کیا۔ روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے یہ نسخہ حضرت عائشہؓ کو دیا تو اس رات ان کے ہاں قیام کیا، اور تمام رات اس خوف سے کروٹیں بدلتے رہے کہ کہیں کسی حدیث کی تحریر میں کوئی کوتاہی نہ رہ گئی ہو۔
فتوحاتِ عراق و شام
محرم ۱۲ ہجری میں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو عراق روانہ کیا۔ ان کے ہمراہ دس ہزار فوج تھی۔ انہوں نے حیرہ پہنچ کر شرفاء حیرہ سے کہا: ہم کلمۃ اللہ کی غرض سے آئے ہیں، تم لوگ اسلام قبول کر لو یا مطیعِ اسلام ہو کر جزیہ دو، ورنہ میدان جنگ میں آؤ۔ شرفاء حیرہ نے اسلام کی اطاعت قبول کر کے نوے ہزار درہم جزیہ پر صلح کر لی۔
شاہ فارس کی جانب سے صوبہ کا گورنر ہرمز نامی ایک دلیر جنگجو تھا۔ اس نے اپنی فوج کو زنجیروں سے گھیر دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ہرمز کو مقابلے کے لیے للکار کر قتل کر دیا۔ اس جنگ کو ذات السلاسل کہا جاتا ہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے شام کی فتوحات کی بنیاد رکھی اور مختلف لشکر شام روانہ کیے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کے دور میں یرموک کی فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔
خلافت کا نظم و نسق
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عہدِ خلافت اس آیت کی عملی تفسیر تھا: ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ کہ ان کے تمام کام باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔ جب کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو وہ اکابر انصار و مہاجرین سے مشورہ کرتے تھے۔ ان ممتاز اصحاب میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبی بن کعبؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ شامل تھے۔
آمدنی کے ذرائع میں زکوٰۃ، عشر، خراج، جزیہ، فے اور غنیمت شامل تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے بیت المال کا نظم قائم کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ وفات کے بعد جب حضرت عمر فاروقؓ نے اس کا جائزہ لیا تو صرف ایک دینار برآمد ہوا۔ بیت المال کے نگران کے مطابق کل دو لاکھ دینار آیا تھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ اسے فوراً ضروری مدوں پر خرچ کر دیتے یا لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
عسکری نظام کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ نے لشکر کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور ہر دستے کو الگ الگ پرچم عطا فرمایا۔ انہوں نے فوج کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ امرائے فوج کو ہدایت کی کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کریں، راہبوں سے تعرض نہ کریں، کلیساؤں کو نہ چھیڑیں، لاشوں کا مثلہ نہ کریں، اور اسیرانِ جنگ سے اچھا سلوک کریں۔
خیبر فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود سے صلح کا معاہدہ کیا، جس میں دیگر تفصیلات کے علاوہ یہ بھی شامل تھا کہ ان کے مال، جان، زمین اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی اور ان کے کسی مذہبی پیشوا کو اس کے عہدے سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اس معاہدے کو برقرار رکھا اور اس کی توثیق فرمائی۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے حیرہ فتح کیا تو وہاں کے مسیحیوں سے ایک معاہدہ کیا جس میں یہ شرائط بھی شامل تھیں: ان کی خانقاہیں اور گرجے برقرار رکھے جائیں گے۔ ان کا ایسا کوئی قلعہ نہیں گرایا جائے گا جس میں وہ دشمنوں سے حفاظت کے لیے داخل ہوتے ہیں۔ وہ نمازوں کے اوقات کے علاوہ کسی وقت بھی اپنا ناقوس بجا سکیں گے اور اپنے تہوار کے دن صلیب نکال سکیں گے۔ جو عیسائی کمانے کے قابل نہ ہو اُس کا جزیہ معاف ہو گا اور اس کے اہل و عیال کی کفالت بیت المال سے کی جائے گی۔
جب بحرین سے مالِ غنیمت آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان کیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو تو وہ آئے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ نے عرض کیا کہ حضورؐ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب فلاں جگہ سے مال آئے گا تو انہیں تین بار دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر دیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں اسی طرح عطا فرمایا۔
باب پنجم: وفات و میراث
علالت و وفات
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے صدمے نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔
بعض روایات میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس ایک شخص نے خزیرہ (قیمہ جس میں دلیہ پڑا ہو) بھیجا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ اور حارث بن کلدہ دونوں کھانے میں شریک تھے۔ حارث نے کہا: اے خلیفہ رسول اللہ! ہاتھ روک لیجیے، اس میں زہر ہے اور یہ وہ زہر ہے جس کا اثر ایک سال میں نمایاں ہوتا ہے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ایک سال کے اندر میں اور آپ ایک ہی دن مر جائیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہاتھ کھینچ لیا، لیکن زہر اپنا کام کر چکا تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے ۷ جمادی الثانی کو غسل فرمایا، اس دن سردی تھی جس سے انہیں بخار ہو گیا اور وہ پندرہ روز تک علیل رہے۔ علالت کے دوران لوگ عیادت کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے خلیفہ رسول اللہ! اجازت ہو تو ہم آپ کے لیے طبیب لائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: مجھے طبیب نے دیکھ لیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: طبیب نے کیا کہا؟" فرمایا: کہتا ہے: ’’انی فعال لما يريد‘‘۔
جب حضرت ابوبکرؓ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو انہوں نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کو بلا کر پوچھا: تم عمر فاروقؓ کو کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ پھر حضرت عثمانؓ سے بھی یہی بات دریافت کی۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ہم لوگوں میں ان کا مثل موجود نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت اسید بن حضیرؓ، حضرت سعید بن زید اور دوسرے انصار و مہاجرین سے بھی مشورہ کیا۔ حضرت اسیدؓ نے کہا: اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ کے بعد عمرؓ ہی وہ شخص ہے جو اللہ کی رضا کو اپنی رضا سمجھتے ہیں۔ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی اچھا ہے اور کارِ خلافت کے لیے ان سے زیادہ قوی اور مستعد کوئی دوسرا نہیں۔
حضرت ابوبکرؑ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ یہ وصیت نامہ لکھیں: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وصیت نامہ ہے جو ابوبکر بن ابی قحافہ نے اپنے آخر عہد میں دنیا سے جاتے وقت لکھایا ہے۔ لوگو! میں نے اپنے بعد تم پر عمر بن خطابؓ کو خلیفہ مقرر کیا ہے، ان کے احکام کو سننا اور ان کی تعمیل کرنا۔ میں حتی المقدور خدا اور اس کے رسول اور دینِ اسلام کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ انصاف سے کام لیں گے۔ میں نے تمہارے لیے نیکی اور بھلائی کا قصد کیا ہے، مجھے غیب کا علم نہیں ہے۔
پھر انہوں نے اس وصیت کو سر بمہر کر کے حضرت عثمانؓ کے حوالے کر دیا۔ لوگوں نے برضا و رغبت حضرت عمرؓ سے بیعت کر لی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے: اے اللہ! یہ جو کچھ میں نے کیا ہے اس سے میرا مقصود مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ میں نے ان میں جو سب سے بہتر تھا اسے ان کا والی بنایا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اپنے بندوں کا مالک و مختار ہے۔ ان میں صلاحیت پیدا کرنا اور عمرؓ کو خلفاء راشدین میں شامل کرنا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ان کے والد نزع کی حالت میں تھے تو میری کی زبان سے نکلا: آج آپ کو سخت مرض لا حق ہو گیا ہے، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: یہ مت کہو، بلکہ یہ کہو کہ سکرات موت آنا ضروری ہے، یہی وہ حالت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ رسول اکرمؐ کی وفات کس روز ہوئی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: سوموار کے دن۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میں آج رات ہی انتقال کروں گا۔ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ہجری کو ۶۳ سال کی عمر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہو گیا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں کھجور کا ایک درخت ہبہ فرما دیا تھا جس سے سالانہ ۲۰۰ وسق (۱۲۰۰ صاع) کھجوریں آتی تھیں۔ انتقال سے قبل انہوں نے فرمایا: اے بیٹی! میں تم کو تمام لوگوں میں سے زیادہ آسودہ حال دیکھنا پسند کرتا تھا۔ میں نے جو تمہیں نخل دیا تھا، اب تک تم نے اس سے نفع اٹھایا، لیکن میرے مرنے کے بعد وہ تمہاری بہنوں اور بھائیوں پر تقسیم ہو جائے گا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: ابا جان! آپ نے میری بہن صرف ایک اسماءؓ چھوڑی ہے، تو دوسری بہن کون سی ہے؟ آپؓ نے فرمایا: تمہاری سوتیلی ماں حبیبہ بنت خارجہؓ کے پیٹ میں ایک لڑکی ہے، تم اس کی بھی وصیت کرنا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد حضرت ام کلثوم بنت ابی بکرؓ پیدا ہوئیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ان کے والد کو مرض میں زیادہ تکلیف ہوئی تو انہوں نے اپنے دو کپڑوں کے بارے میں فرمایا: میرے یہ دو کپڑے ہیں، مجھے غسل دے کر انہی دو استعمال شدہ کپڑوں میں کفنا دینا، کیونکہ مردے کے مقابلے میں زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
تکفین و تدفین و تعزیت
حضرت ابوبکرؓ کی وصیت کے مطابق ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے انہیں غسل دیا اور حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ نے مدد کی۔ حضرت ابوبکرؓ کو انہی کے دو مستعملہ کپڑوں میں کفنایا گیا۔ نماز جنازہ حضرت عمر فاروقؓ نے ان کی قبر اور منبر کے درمیان میں پڑھائی۔ حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں رات ہی کے وقت دفن کیا گیا۔ ان کا سر رسول اللہ کے شانہ مبارک کے متوازی رکھا گیا اور ان کی قبر کی لمبائی روضہ اطہر کے برابر رکھی گئی۔
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی خبر پھیلی تو حضرت علی المرتضٰی تعالیٰ عنہ رو پڑے اور ان کے مکان پر آ کر فرمانے لگے: اے ابوبکرؓ! اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ واللہ! آپ تمام امت میں سب سے پہلے ایمان لائے اور ایمان کو اپنا شیوہ بنایا۔ آپ سب سے زیادہ صاحبِ یقین، سب سے زیادہ غنی، اور سب سے زیادہ دین کی حفاظت و نگہداشت کرنے والے، سب سے بڑھ کر اسلام کے حامی اور مخلوق کے خیر خواہ تھے۔ آپ خُلق، فضل اور ہدایت میں رسول اللہ سے سب سے زیادہ قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ آپ نے رسول اللہ کی اس وقت تصدیق کی جب دوسروں نے تکذیب کی، اور اُس وقت آپؐ کی غم خواری کی جب دوسروں نے بخل کیا۔ جب لوگ نصرت و حمایت سے رکے ہوئے تھے، آپ کھڑے ہو کر رسول اللہ کی مدد کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی کتاب میں صدیق فرمایا (والذی جآء بالصدق وصدق بہ)۔ آپ اسلام کی پشت و پناہ اور کافروں کو بھگانے والے تھے۔ نہ آپ کی حجت کبھی کمزور ہوئی اور نہ آپ کی بصیرت ناتواں ہوئی۔ آپ کے نفس نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ آپ پہاڑ کی مانند ثابت قدم تھے؛ نہ تند ہوائیں آپ کو اکھاڑ سکیں اور نہ ہلا سکیں۔ رسول اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ آپ ضعیف البدن، قوی الایمان اور منکسر المزاج ہیں۔ اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ، زمین پر بزرگ، اور مومنوں میں سب سے بڑے تھے۔ نہ آپ کے سامنے کسی کو طمع ہو سکتی تھی اور نہ خواہش۔ کمزور آپ کے نزدیک قوی تھا اور قوی کمزور، یہاں تک کہ آپ کمزور کا حق دلا دیتے اور طاقتور سے حق لے لیتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات پر حضرت خفاف بن ندبہ السلمیؓ نے نہایت درد بھرے انداز میں کہا کہ انسان آخرکار یہ حقیقت جان لیتا ہے کہ دنیا میں کسی کو ہمیشہ باقی نہیں رہنا۔ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں کی ہر نعمت عارضی ہے۔ حکومت، اقتدار اور عزت بھی دراصل ایک امانت ہیں جو ایک دن واپس لے لی جاتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں بہت کوششیں اور آرزوئیں کرتا ہے، لیکن موت ہر وقت اس کے تعاقب میں رہتی ہے۔ کبھی بڑھاپا انسان کو ختم کر دیتا ہے، کبھی بیماری اور کبھی کوئی اور سبب، مگر انجام سب کا ایک ہی ہے۔ لوگ بیماریوں کا شکوہ کرتے ہیں، حالانکہ اصل حقیقت موت کا آ جانا ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ پھر وہ حضرت ابوبکرؓ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ رحمت و برکت کے بادل تھے، جو سوکھی زمین پر بارش بن کر برستے اور لوگوں کو زندگی بخشتے تھے۔ ان کی ذات کمزوروں کے لیے سہارا، محتاجوں کے لیے آسرا اور مسلمانوں کے لیے امن و سکون کا ذریعہ تھی۔ حضرت خفافؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نیکی، تقویٰ، اخلاص اور اعلیٰ کردار میں کوئی شخص حضرت ابوبکرؓ کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا، خواہ وہ کتنا ہی باعزت اور بلند مرتبہ کیوں نہ ہو۔ جو شخص ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے زمانے جیسی پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اسے بھی ویسی ہی محنت، دیانت اور نیک عملی اختیار کرنا ہو گی جیسی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زندگی کا وصف تھی۔
اختتامیہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدتِ خلافت صرف سوا دو برس تھی، لیکن اس قلیل مدت میں انہوں نے وہ عظیم کارنامے سر انجام دیے کہ انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے:
- عرب بھر میں پھیلے ہوئے فتنہ ارتداد کو انہوں نے اپنی قوت ایمانی اور عزم و ہمت سے کچل کر رکھ دیا۔
- مسیلمہ کذاب، طلیحہ، اسود عسنی جیسے جھوٹے نبیوں کو انہوں نے نیست و نابود کر دیا۔
- قرآن مجید کو پہلی مرتبہ کتابی شکل دینے کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔
- عراق اور شام کی فتوحات کی بنیاد انہوں نے رکھی، جسے ان کے جانشینوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
- انہوں نے نوزائیدہ خلافتِ اسلامیہ کو اتنی مستحکم بنیادوں پر قائم کیا کہ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے ایک شاندار عمارت تعمیر کر دی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے لشکرِ اسامہ کو روانہ کیا، جس سے منافقین و مرتدین کو یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کی قوتِ ایمانی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اہلِ سنت کے نزدیک حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ امتِ مسلمہ کی افضل ترین شخصیت شمار ہوتے ہیں۔
غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس بات کی اجازت اور تعلیم دی ہے کہ وہ غیر مسلم اہلِ ذمہ سے سماجی مراسم و تعلقات بنا کر حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں، اور اپنے عمدہ اخلاق و کردار سے ان کے دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کریں۔
غیر مسلم کی دعوت قبول کرنا
شادی بیاہ کی تقریبات اور خوشی کے دیگر مواقع کی دعوتیں معاشرت کا ایک لازمی جزو ہیں، اور ان میں شرکت سماجی و تمدنی مراسم اور تعلقات کا ایک حصہ ہے۔ اسلام نے وسعت ظرفی اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے کھلے دل سے غیر مسلموں کی دعوت قبول کرنے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اہل کتاب کے کھانے کو حلال اور جائز ہونے کے لئے بارے میں فرمایا ہے: وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لہم (سورۃ المائدۃ: ۵) اور ان لوگوں کا کھانا جنہیں کتاب دی گئی ہے تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔
خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقع پر غیر مسلموں کی دعوت قبول فرمائی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور چربی کھانے کی دعوت دی تو آپ نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ (مسند احمد: ۳/۲۱۰، حدیث: ۱۳۲۳۳) اسی طرح روایات سے ثابت ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر ایک یہودی خاتون نے آپ کی دعوت کی۔ اس خاتون نے کھانے میں زہر ملایا تھا۔ آپ نے لقمہ لیتے ہی اسے تھوک دیا، اس کے باوجود اس کا اثر آپ پر ہوا، جبکہ آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کا اسی زہر کے اثر سے انتقال ہو گیا۔ (بخاری: ۲/۶۱۰، کتاب المغازی، باب الشاۃ التی سمت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بخیبر)
قرآن و سنت کے ان دلائل کی بنیاد پر فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ غیر مسلم کی دعوت قبول کرنا جائز ہے۔ ولا باس بالذہاب الی ضیافۃ اہل الذمۃ (ہندیۃ:۵ ۵/۳۴۷۳۴۷، ط: رشیدیۃ کوئٹہ) اہل ذمہ کی ضیافت کی جانے میں کوئی حرج نہیں۔
غیر مسلم کی مہمان نوازی
اسلام نے تمدنی اور معاشرتی تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے اس بات کی تعلیم و ترغیب دی ہے کہ کوئی شناسا، یا اجنبی اسی طرح قریبی یا بعید شخص بطور مہمان آ جائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی مقدور بھر خاطر تواضع کی جائے، بلکہ اس کے مقام و مرتبے کے مطابق اس کا احترام و اکرام بھی کیا جائے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیکرم ضیفہ (وسلم: ۱/۵۰، کتاب الایمان، باب اکرام الضیف) جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
اس حدیث میں لفظ ضیف (مہمان) عام ہے، جو مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو شامل ہے۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں غیر مسلم بھی قیام کرتے اور آپ کی مہمان نوازی سے مستفید ہوتے تھے۔ ابو البصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب وہ کافر تھے تو مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان ٹھہرے، اور رات کو گھر کی سب بکریوں کا دودھ پی گئے، اور تمام اہلِ بیت رسول رات بھر بھوکے رہے۔ (سیرت النبی: ۲/۲۱۷)
علاوہ ازیں غیر مسلموں کے جو بیرونی وفود بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوتے، آپ بذات خود ان کی میزبانی فرماتے۔ چنانچہ جب حبشہ کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ میں آیا تو آپ ان کی مہمان نوازی کی خدمت بنفس نفیس فرمانے لگے۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ خدمت ہم سرانجام دیتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہم کانوا لاصحابنا مکرمین وانی احب ان اکافئہم، یہ لوگ ہمارے (حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے) ساتھیوں کا اکرام کیا کرتے تھے، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کچھ بدلہ چکا دوں۔ (سیرہ النبی، باب الہجرۃ الی ارض الحبشۃ: ۲/۳۱، دار المعرفۃ بیروت)
غیر مسلم کی عیادت
سماجی تعلقات، روایات اور اخلاقیات کے تقاضوں میں سے ایک تقاضہ یہ ہے کہ اردگرد آڑوس پڑوس میں اور متعلقین و احباب میں سے کوئی آدمی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت اور خبرگیری کی جائے۔ اسلام نے مریض کی عیادت کی ترغیب دی ہے اور اسے بہت بڑا کار ثواب قرار دیا ہے۔ ان تعلیمات میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس نفیس غیر مسلموں کی عیادت فرمائی ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی لڑکا، جو آپ کی خدمت کیا کرتا تھا، بیمار ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے قریب بیٹھے۔ قریب بیٹھ کر آپ کو اندازہ ہوا کہ یہ لڑکا اس مرض سے نہیں بچ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑے سے بڑے مخالف اور دشمن کے بارے میں بھی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کسی طرح ایمان لے آئے اور یوں آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائے۔
اپنے اس خادم کے بارے میں یہ خواہش کیوں نہ ہوتی۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ بیٹا اب تو اسلام قبول کر لو۔‘‘ اس نے مشورہ کی نگاہوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ باپ نے اس سے کہا: ’’اطع ابا القاسم‘‘ تم ابو القاسم کی بات مان لو، چنانچہ وہ اسلام لے آیا۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی۔ حضور اکرم ﷺ کو اس کے کلمہ پڑھ لینے سے بہت خوشی ہوئی۔ باہر نکلے تو آپ کی زبان پر اللہ تعالی کی حمد و ثنا جاری تھی اور فرمارہے تھے: ’’الحمد للہ الذی انقذہ بی من النار‘‘ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے میری وجہ سے اس لڑ کے کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرمائی۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات، رقم الحدیث: ۱۳۵۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ سے استدلال کرتے ہوئے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ غیر مسلموں کی عیادت و تعزیت جائز بلکہ مستحسن ہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ولا باس بعیادۃ الیہودی والنصرانی لانہ نوع بر فی حقھم وما نھینا عن ذلک۔ (کتاب الکراہیۃ: ج، ۴، ص، ۴۷۲) اور کوئی حرج نہیں یہودی اور عیسائی کی عیادت میں کیونکہ یہ ان کے حق میں ایک طرح نیکی یا حسن سلوک ہے اور ہمیں اس سے منع نہیں کیا گیا ہے۔
غیر مسلم کی تعزیت
معاشرتی زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اپنے دوست یا پڑوسی کو کوئی خوشی یا غم لاحق ہو تو ان کی خوشی یا دکھ درد میں دوسرا پڑوسی شریک ہو جائے، ہر ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ اخلاق کا نمونہ پیش کرے، اگر ان کے گھر موت واقع ہو جائے یا وہ کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہو جائیں تو ان کے گھر جا کر ان کی تعزیت کرے، تسلی دے، اور ہمدردی کا اظہار کرے، بوقت ضرورت ان کا تعاون اور خبر گیری کرے۔ یہ ہر ایک پڑوسی اور دوست کے ساتھ ہونا چاہیے۔ مسلمان ہو یا غیر مسلم، ایسا کرنا عین اسلامی منشا اور مزاج کے موافق ہے۔
غیر مسلم سے تعزیت کا نہ صرف یہ کہ جواز ہے، بلکہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی یہودی یا مجوسی کے بچہ کا انتقال ہو جائے تو اس کے مسلمان پڑوسی کو اس کی تعزیت کرنی چاہیے اور کہنا چاہئیے کہ اللہ تعالی آپ کو اس کا اچھا جانشین عطا فرمائے اور آپ کے حالات کو بہتر بنائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار: ج،۵،ص، ۳۴۱) (کتاب الخراج: ۲۱۶)
غیر مسلم کے موت پر ’’انا للہ‘‘ پڑھنا
’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کے الفاظ میں دعا و استغفار کا پہلو نہیں ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم سب اللہ ہی کیلئے ہیں، اور اللہ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔ البتہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ کلمہ مصیبت و بلاء کے موقع پر پڑھنے کا ہے، اس لئے کافر کی موت پر اس کے پڑھنے میں تامل ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس موقع پر خاموشی اختیار کی جائے، اور اپنی آخرت کو یاد کیا جائے۔
غیر مسلم کے جنازے میں شرکت
مسلمانوں کو غیر مسلموں کے جنازے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے، البتہ جیسے کہ میں نے عرض کیا ان کے مکان پر جا کر ان کی دلجوئی کے لئے تعزیت جائز ہے، اور جس طرح غیر مسلم کے جنازے میں شرکت کرنا درست نہیں ہے اسی طرح اس کے آخری رسومات میں بھی شرکت کرنا ممنوع ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ولا تصل علیٰ احد منہم مات ابدا ولا تقم علیٰ قبرہ (سورۃ توبہ: ۲۱)۔ اس آیت کریمہ میں غیر مسلموں کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبر پر کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ قبر پر کھڑا ہونا آخری رسوم میں شرکت کرنا ہے جس سے صراحتاً منع کیا گیا ہے۔
غیر مسلم کیلئے ایصال ثواب کرنا
غیر مسلم کیلئے قرآن کریم پڑھ کر ایصال ثواب کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ یہ بڑی جسارت کی بات اور قرآن پاک کے ساتھ مذاق ہے۔ انسانی تعلقات اور رواداری اپنی جگہ ہے۔ لیکن کفر و اسلام کا واضح فرق جو قرآن کریم نے جگہ جگہ بتا دیا ہے، واضح طور پر سامنے رہنا چاہیے اور اس میں کسی مداہنت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفرو اللمشرکین ولوکانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انھم اصحاب الجحیم۔ (سورہ تو بہ (۱۱۳)
غیر مسلم کی تدفین و تکفین
اگر کوئی غیر مسلم مر جائے اور اس کا کوئی رشتہ دار اس کا ہم مذہب موجود ہو تو بہتر ہے کہ اس کی لاش اسی کے لیے چھوڑ دی جائے، تاکہ وہ جس طرح چاہے اسے کفن دفن وغیرہ کرے، اور اگر اس کا کوئی رشتہ دار اس کے مذہب کا نہ ہو تو اس کے مسلمان رشتہ دار کیلئے اس کو غسل دینے، کفنانے اور دفن کرنے کی گنجائش ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھا سکتا ہے۔
بدایہ میں ہے: واذامات الکا فرولہ مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ، بذلک امر علی رضی اللہ عنہ فی حق ابیہ ابی طالب (باب الجنائز، فصل فی الصلاۃ علی المیت: ۱- ۹۱-ط۔ دار احیاء التراث العربی)
غیر مسلموں سے مساجد وغیرہ کی تعمیر میں چندہ لینا
اگر غیر مسلم حضرات مساجد یا مسلمانوں کے دیگر مذہبی و دینی اداروں میں تعاون پیش کریں تو چند شرائط کے ساتھ قبول کرنا جائز ہے۔
۱۔ وہ شخص اپنے عقیدہ کے مطابق اسے قربت سمجھتا ہوں۔
۲۔ اس کے قبول کرنے میں غیر مسلم کی تولیت اور دخل اندازی کا خوف نہ ہو۔
۳۔ مسلمان اپنے دینی معاملات میں مداہنت سے کام نہ لیں۔
۴۔ وہ غیر مسلم اس تعاون کے ذریعے مسلمانوں پر احسان نہ جتلائے۔
۵۔ اس کے بدل میں اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی تہواروں میں تعاون کا طلب گار نہ ہو۔
۶۔ ان کا تعاون کرنا مساجد ومدارس کے مصالح کے خلاف نہ ہو۔
وفی الشامیۃ، ان شرط وقف الذمی ان یکون قربۃ عند ناو عندہم کالوقف علی الفقراء او علی مسجد - (۴/۳۴۱ / دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
غیر مسلم کی عبادت گاہوں میں چندہ دینا
غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر اور مذہبی تقریبات میں تعاون کرنا اور چندہ دینا جائز نہیں ہے۔ ایسا کرنا تعاون علی الاثم والمعصیت ہے۔ البتہ عام فلاحی کاموں کے سلسلے میں چندہ دینا یا اگر غیر مسلم خود غریب ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنا جائز، بلکہ مستحسن ہے۔
فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یاسین ظفر
میزبان:
جو طلبہ مدارس سے فارغ ہوتے ہیں، فراغت کے بعد ہر طالب علم امام، خطیب، مصنف یا علمی کام کرنے والا کوئی مدرس نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر نہیں ہوتے۔ لیکن الحمدللہ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم وہ خود، دین کا ایک فہم اور علم اس کے پاس، اس کے سینے میں اللہ نے رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ کچھ لوگ اس کو بھی بڑی ناشکری یا حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ ’’اِن کو آتا کیا ہے؟ مدرسے میں پڑھا ہے۔‘‘ تو بہرحال، اپنے اندر علم کا ایک سمندر ان کے پاس ہے، وہ کم از کم اور کچھ نہ سہی، اپنی ذات کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی صحیح عبودیت میں لگا سکتے ہیں۔ پھر وہ اپنے خاندان میں بھی کام کرتے ہیں۔
استاذ جی! ایسے طلبہ کے لیے آپ کی کیا نصیحت ہے کہ مدارس سے فراغت کے بعد ان کو کس طرف توجہ کرنی چاہیے؟ اس لیے کہ وہ کسی مسجد یا ادارے کے ساتھ اس طرح منسلک نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے اندر امامت، خطابت یا تدریس کی خوبیاں اس طرح سے نہیں پائی جاتیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو بالکل ہی کاروبار کی طرف چلے جاتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کی علمی کمزوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ تو کوئی ایسا درمیانی راستہ ایسے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے آپ بتائیے کہ وہ کیا کریں؟
مولانا پروفیسر محمد یاسین ظفر:
پہلی بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی دینی تعلیمی ادارے قائم ہیں، ان کا بنیادی مقصد ایسے رجالِ کار تیار کرنا ہے جو دین کی دعوت دیں۔ ہمارے مدارس کا اولین مقصد اور نصب العین یہی ہے کہ ہم دین کی ترویج کریں، اس کی تبلیغ کا کام کریں اور لوگوں تک دین صحیح پہنچائیں۔ یہ کام ہے ہمارا۔ ہمارے پاس جو بھی لوگ آتے ہیں، ان پر مدرسہ جو خرچ کرتا ہے وہ لوگوں کا دیا ہوا ہی ہوتا ہے۔ اور لوگ اس نیت سے ہی دیتے ہیں کہ ایسے لوگ آپ تیار کریں جو دین کی خدمت کر سکیں۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہے۔ اس لیے وہ لوگ جو پڑھتے ہیں، انہیں اپنے دورانِ تعلیم یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو میں طلبہ سے کہوں گا، اگر کوئی ایسا نہیں کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کی بہت بڑی کوتاہی ہے، اس نے حق ادا نہیں کیا ہے اور وہ اللہ کا بندہ اپنا وقت ضائع کر کے چلا گیا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کم از کم اسے اپنے اندر یہ مہارت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو بیان کر سکے۔ اگر بالفرض وہ بات نہیں کر سکتا ہے، یعنی گفتگو نہیں کر سکتا ہے، شرماتا ہے، یا اس میں کوئی اور کمی ہے، یا زبان میں کوئی مسئلہ ہے، تو بھئی! پھر ایک بہت اچھا طریقہ یہ ہے کہ وہ تصنیف کی طرف آئے۔ آخر اس نے دین پڑھا ہے، جو کچھ اس کے دل و دماغ میں ہے، جو ایک فکر پیدا ہوئی ہے، سوچ پیدا ہوئی ہے، وہ اس سوچ کو کاغذ پر منتقل کرے۔ مضمون نویسی کرے، مختلف مضامین لکھے: اخلاقیات پر، معاملات پر، ادب پر، حدیث کی شروحات پر، یا جو لوگوں کو روزمرہ کے درپیش مسائل ہیں اُن پر۔ بے شمار میدان ہیں۔ وہ کتابوں کے خلاصے کر سکتا ہے، کوئی بڑی کتاب ہے جو لوگ نہیں پڑھ سکتے، اس کا خلاصہ وہ لکھ سکتا ہے تاکہ اس کا نچوڑ لوگوں کے سامنے آئے۔ یعنی وہ تحریر کا کام کر لے، اور یہ تو وہ بیٹھ کر کر سکتا ہے اور اس میں (گفتگو والی مشکل) کچھ نہیں ہے۔ اگر وہ اس میں بھی کمزور ہے تب بھی کچھ وقت کے بعد بہتری آ سکتی ہے، کسی سے وہ رہنمائی لے لے۔
باقی میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو لوگ کاروبار میں بھی چلے جاتے ہیں، میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ کاروبار کے ساتھ ساتھ جمعہ بھی پڑھاتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ بڑی خودداری اور ذمہ داری کے ساتھ پڑھاتے ہیں، انہیں کسی سے کوئی لالچ نہیں ہوتا۔ وہ کسی نہ کسی مسجد میں بلامعاوضہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔
ویسے میں نے یہ دیکھا ہے کہ دینی مدرسے میں پڑھ کر انسان، خواہ وہ کتنا ہی کمزور لڑکا کیوں نہ ہو، اتنا کمزور نہیں ہوتا کہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ یعنی اس وقت پرائیویٹ اسکولوں میں ہمارے بچے بڑی اچھی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ یہ اردو بہت اچھی پڑھاتے ہیں، معاشرتی علوم پڑھا سکتے ہیں، یہ عربی پڑھا سکتے ہیں، اسلامیات پڑھا سکتے ہیں۔ اور خاص طور پر بچوں کو کنٹرول بھی کر سکتے ہیں، ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے۔
میرے تجربے میں ہے، ایک بچہ میرے پاس پڑھا تھا، میں یہ بات تحدیثِ نعمت کے طور پر بھی اور اپنے سننے والے ناظرین کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مدارس میں جو تعلیم و تربیت کا مرحلہ ہے، ہم بچوں کو اپاہج نہیں کرتے۔ ہمارے اوپر یہ الزام ہے کہ یہ بے روزگاروں کی جماعتیں فارغ کرتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ الحمدللہ! آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ جامعہ سلفیہ کا کوئی فارغ التحصیل لڑکا کہیں ایسے فضول پھرتا ہو اور اسے ملازمت نہ ملی ہو، یا وہ یہ شکوہ کرے کہ جی میں بیکار ہوں۔ جس سے بھی پوچھا ہے، وہ کہتا ہے جی ایک مسجد میں خطیب ہوں، ایک میں امام ہوں، فلاں کالج یا فلاں اسکول میں پڑھا رہا ہوں، اور دو چار ٹیوشنیں بھی وہ پڑھاتا ہے جسے وہ بونس کے طور پر لیتا ہے۔ تو ماشاءاللہ، جب ان سے پوچھتے ہیں کہ دیہاڑی یا ماہانہ؟ وہ الحمدللہ ایسی رقم بتاتا ہے کہ ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ وہ بڑے مزے میں ہے۔
جس کی میں مثال دینے جا رہا ہوں، وہ بچہ میرے پاس سے فارغ ہوا، جسمانی طور پر بھی وہ کمزور تھا اور علمی طور پر بھی وہ کمزور تھا۔ جاتے ہوئے مجھے کہہ گیا کہ یہ میرے گھر کا نمبر ہے — اس وقت موبائل نہیں ہوتے تھے — تو یہ گھر کا نمبر ہے، اگر کہیں کوئی موقع آئے تو مجھے خدمت کا موقع دے دیں۔ کچھ دن گزرے تو مجھے کہیں سے فون آیا کہ ہمیں ضرورت ہے۔ میرے ذہن میں وہی آیا تو میں نے کہا چلو اس کو بھیج دیتے ہیں، جب تک کوئی اچھا نہیں ملتا۔ اس کو میں نے بھیج دیا۔ وہ وہاں گیا اور جا کر میرے حوالے سے اس نے بات کی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ آ جائیں۔ اللہ ان لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اس کی ان کمزوریوں کے باوجود اس کو یہ موقع دے دیا۔ اسے احساس تھا کہ میں کئی لحاظ سے کمزور ہوں، لیکن اس نے محنت کی۔ آپ دیکھیں، دنوں میں اس نے پورے محلے کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ وہ امامت کے ساتھ وہاں بچوں کو صرف ناظرہ پڑھاتا تھا۔ ایسا کنٹرول اس نے کیا اور ایسا اس نے پڑھایا کہ جن کی تعداد بیس سے نہیں بڑھتی تھی وہ سو تک چلی گئی۔ اچھا، وہ بچے جن سے گھر والے تنگ تھے کہ یہ پڑھتے نہیں ہیں، اِس نے اُن کو سیدھا کر دیا، ان کو قرآن حکیم پڑھا دیا، دعائیں سکھا دیں۔ وہ بچے گھر جا کر والدین کے پیچھے ہوئے کہ آپ کو دعائیں نہیں آتیں، مجھے آتی ہیں، مجھ سے سنو اور آپ بھی سیکھو۔
حتیٰ کہ جب وہ خود مجھے ملا تو اس کی حالت بدلی ہوئی تھی، لباس بڑا اچھا تھا، یعنی ایک عرصے کے بعد جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اس کا نام لے کر کہا کہ یار! یہ کیا ہو گیا ہے، آپ میں تو انقلاب آ گیا ہے۔ وہ رونے لگا اور کہنے لگا، سر جی! اللہ نے میری بڑی مدد کی ہے اور ایسا ایسا ہوا ہے۔ پھر اس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں ایک ایسا بچہ تھا جو کسی ایسی خاتون کا بیٹا تھا جس کا انگلش میڈیم اسکول ہے، اور وہ بچہ قابو نہیں آ رہا تھا، وہ خاتون بھی تنگ تھی۔ اور جب میں نے اس کو پڑھا دیا اور وہ بچہ بالکل ٹھیک ہو گیا، تو وہ کہنے لگی میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ ٹیچر کون ہے جس نے ایسے بگڑے ہوئے بچے کو ٹھیک کر دیا ہے۔ جب اس نے بلایا اور میں ملا تو وہ حیران رہ گئی — کیونکہ میں نے بتایا نا کہ جسمانی طور پر بھی اس میں کچھ کمزوری تھی — اس نے پوچھا کہ آپ کیا پڑھے ہوئے ہو؟ اس نے بتایا کہ یہ یہ۔ اس نے کہا، اچھا، آپ میرے اسکول میں اسلامیات پڑھائیں، انگلش میڈیم اسکول میں۔ یعنی مسجد کی تنخواہ الگ سے، اسکول کی تنخواہ اس سے زیادہ تھی جو اس نے اس کو آفر کی، لیکن ساتھ یہ کہا کہ بی اے کر لیں۔ اس نے بی اے بھی کر لیا۔
اچھا، آپ حیران ہوں گے کہ اس کی حسنِ کارکردگی اور محبوبیت کا یہ عالم ہے کہ اسی محلے سے اسے رشتہ ملا (میزبان: سبحان اللہ) اسے بیٹی ملی، اس نے نکاح کیا، شادی کی، پھر اسی محلے میں اس نے اپنا گھر بنا لیا۔ یعنی وہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ ایک ایسا بچہ جس کے بارے میں مجھے بھی بدگمانی تھی کہ پتہ نہیں یہ کیا کرے گا، اس نے میرے لیے ایک روشن مثال چھوڑی۔ آج میں کئی جگہ اس کی یہ مثال دیتا ہوں کہ یہ مت سوچیں! کیونکہ مدرسے کا پڑھا ہوا آدمی کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو، اس میں کم از کم یہ صلاحیت ہوتی ہے، اسے موقع ملنا چاہیے۔
https://youtu.be/d3SStTDNtXU
زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
ترجمہ : عمرانہ بنت نعمت اللہ
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی؟"
کیا آپ نے روسی بحری بیڑے، چینی فوجی جمعاؤ، میڈیا کی تیاریوں، امریکی خبردار کرنے، اور جرمن مشاورت کی خبریں سنی ہیں؟ کیا آپ کا دل لرز اٹھا؟ کیا وسوسوں کا شور آپ کے دل کو پیس رہا ہے؟ کیا خوفناک تصویروں کا سیلاب آپ کو ہلاک کیے دے رہا ہے؟ آپ نے کتنی بار سوچا کہ دنیا کے اس جلتے ہوئے خطے سے بھاگ جاؤں؟ آپ کا کیا قصور — کیونکہ ہر طرف سے آنے والی خبروں اور معلومات کے اس سیلاب میں یہی چاہت چھپی ہوئی ہے کہ آپ اسی اضطراب میں مبتلا ہو جائیں۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ یہ مضمون خاص آپ کے لیے لکھوں۔
کیا میں آپ سے گزارش کر سکتا ہوں کہ ذرا پوری طرح سکون سے بیٹھ جائیں؟
جان لیجیے، اے محترم! کہ یہ چکی جس کروٹ بھی چلے — وہ صرف اس لیے چلتی ہے کہ آپ کا سر آپ کے مالک کی دہلیز پر جھک جائے۔ مصیبت پر صبر کرتے ہوئے، نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے، گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے، فرمانبردار اور محتاج بن کر — اس کی رضا اور جنت کی امید لیے۔ دنیا کے تمام اتار چڑھاؤ اور اس کے دنوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے — آپ کے اندر کی بندگی کو آزمانا۔ چاہے آپ امیر ہوں یا غریب، تندرست ہوں یا بیمار، دنیا کے کسی پرامن کونے میں ہوں یا کسی جلتے ہوئے خطے میں — سوال بدلتے ہیں، مگر امتحان ایک ہی ہے۔ بندگی کا امتحان۔ اپنے فرض ادا کرنے کا امتحان۔ وہ کرنے کا امتحان جو آپ پر لازم ہے۔ خوشحالی میں اور تنگی میں، فائدے میں اور نقصان میں، عافیت میں اور مصیبت میں — جہاں تک ہو سکے اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان۔
کل کیا آئے گا، یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں — لیکن جو بھی آئے، اس میں آپ کیا کرتے ہیں، یہی اصل بات ہے۔ جسے اللہ نے بندگی کا حق ادا کرنے کی توفیق دے دی — بس وہی جیتا، وہی سرخرو ہوا۔ خواہ میدان میں اپنے خون میں ڈوبا پڑا ہو، یا گھر میں چین کی نیند سوتے ہوئے آنکھیں موند لی ہوں — جب دنیا سے خود جی بھر گیا تب گیا۔
یہ بات یاد رکھیں — مجھے امید ہے کہ اگر آپ نے اسے سمجھ لیا تو یہ آپ کو اس لمبی امید سے بچائے گی جو طاعت سے غافل کر دیتی ہے اور آخرت سے پھیر دیتی ہے۔ کیونکہ لمبی امید خیر اور شر دونوں میں یکساں آتی ہے۔ اور وہ بنیادی اصول جو آنکھ اور ناک کی طرح واضح ہونا چاہیے:
- کہ اس امت کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے مگر اسے جڑ سے اکھاڑا نہیں جا سکتا۔
- کہ اللہ کے ہر فیصلے کا انجام بھلا ہی ہوتا ہے۔
- کہ اللہ نے ہمارے نبی ﷺ کی دعا کے صدقے ہمارے لیے یہ طے فرما دیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا — نہ انہیں جڑ سے مٹایا جائے گا، نہ انہیں چھوڑ دینے والے انہیں نقصان پہنچا سکیں گے۔
- کہ کوئی امت اپنی مقررہ مدت اور رزق پورا کیے بغیر نہیں مرتی۔
- کہ یہ تمام ثابت اصول اللہ نے کائنات میں جاری کر دیے ہیں، اور انہیں نتیجہ خیز بنانے والے اعمال کا ہمیں شریعت میں حکم دیا ہے۔
اللہ نے ہمیں عمل کا حکم دیا ہے — سُستی اور ڈھیلے پن کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر قیامت بھی آ جائے اور آپ کے ہاتھ میں نیکی کا کوئی پودا ہو تو اسے اپنی جگہ لگا دیں — نہ عاجز بنیں، نہ کاہل — اور یہ سوچ کر نہ بیٹھ جائیں کہ زندگی تو ابھی شروع ہی کہاں ہوئی۔
"’اور جنت کی ایک لمحے کی خوشی دنیا کے ہر غم اور ہر تکلیف کو بھلا دے گی۔"
کچھ اسلامی تحریکوں نے ایک ایسا راستہ اپنایا جو بظاہر اچھا تھا — مگر اس کے نتائج بہت برے نکلے۔ کچھ نے یہ راستہ سچی نیت سے اپنایا، اور کچھ نے اپنے ساتھیوں کے ذہنوں کو الجھائے رکھنے کے لیے۔ یہ راستہ تھا اپنے پیروکاروں کے دل و دماغ کو روزانہ کی خبروں کے سیلاب کے حوالے کر دینا — کبھی "حالات سمجھنے" کے نام پر، کبھی "مسلمانوں کے درد میں شریک ہونے" کے نام پر۔ اس غلط چناؤ کے تین بنیادی نقصانات نکلے:
- پہلا: لوگوں کا وقت اور توانائی ان چیزوں میں ضائع ہونے لگی جن پر نہ ان کا کوئی بس تھا، نہ کوئی اثر۔
- دوسرا: دل کمزور پڑ گئے، روحیں ٹوٹ گئیں، اور بے بسی کا وہ زہریلا احساس اندر اتر گیا جو آدمی کو بالکل ناکارہ بنا دیتا ہے — نہ کچھ کرنے کی ہمت رہتی ہے، نہ کسی چیز میں فائدہ نظر آتا ہے۔
- تیسرا: جس نے اپنا دل ان خبروں سے بھر لیا، وہ خود کو تجزیہ کار اور ماہر سمجھنے لگا — بغیر علم کے بولنے لگا، بلکہ خبروں کے چند ٹکڑے ہاتھ میں آئے تو اپنے آپ کو سب سے بڑا جاننے والا سمجھ بیٹھا۔
طاقتور قومیں، یا وہ قومیں جو اپنی طاقت کی بنیاد رکھنا چاہتی ہیں، ایسا نہیں کرتیں۔ وہ اپنے افراد، صلاحیتوں اور ہنرمندوں کو سوچ سمجھ کر بانٹتی ہیں — ہر شخص کو وہیں لگاتی ہیں جہاں اس کی ضرورت ہے اور جہاں وہ اپنی قوم کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اور جو چیز اس کے اپنے کام سے باہر ہو، اس پر وہ اتنی ہی توجہ دیتا ہے جتنی سے اس کے اصل کام میں کوئی کمی نہ آئے۔
ہاں، ہمت والا آدمی یا تو آخرت کا طالب ہوتا ہے یا دنیا کا — اور دونوں میں سے کوئی فکر و پریشانی سے خالی نہیں۔ لیکن جس نے دنیا کی فکر سے اللہ کی پناہ مانگی، آخرت کو اپنا سب سے بڑا مقصد بنایا، اللہ سے مدد مانگی، ہمت نہ ہاری اور اس پر بھروسہ کیا — وہی سچا خوش نصیب ہے۔ اس کی خوش نصیبی یہ نہیں کہ اسے کوئی فکر نہیں، بلکہ اس کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کی فکر آخرت کے لیے ہے — پھر وہ اپنی یہ فکر اللہ کے سامنے رکھتا ہے، اسی پر توکل کرتا ہے، اسی سے مدد مانگتا ہے۔ اس راہ میں جو تکلیف ہے وہ طلب کا درد ہے — اور دنیا میں کوئی بھی اس سے خالی نہیں — اور آخرت کا اجر اسی کے بقدر ملے گا۔
اور اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرنا بھی ایک بوجھ ہے جو آدمی اٹھاتا ہے۔ مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے کو تھامے رکھتی ہیں۔ اور مومنوں کی آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی کی مثال ایک جسم جیسی ہے — جب ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے چین اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اور یہ جو مشہور بات کہی جاتی ہے کہ "جو مسلمانوں کے معاملات کی فکر نہ کرے وہ ان میں سے نہیں" — یہ حدیث سخت ضعیف اور ناقابل قبول ہے، رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔ لیکن اوپر بیان کی گئی دونوں صحیح احادیث اس مفہوم کے لیے کافی ہیں۔ مسلمانوں کی فکر کرنا ایمان کی ایک پکی شاخ ہے۔
مگر اس "فکر" سے آپ ﷺ کی مراد یہ نہیں تھی کہ دنیا کے کونے کونے سے مسلمانوں کی خبریں اکٹھی کرتے پھرو۔ بلکہ اس فکر کا اصل مرکز وہ ذمہ داریاں ہیں جو آپ کے سامنے ہیں اور جن پر آپ واقعی اثر ڈال سکتے ہیں: والدین کے ساتھ نیکی، رشتہ داروں سے تعلق، بیوہ اور مسکین کی مدد، غریب اور مسافر پر صدقہ، علم سکھانا، لوگوں کو فائدہ پہنچانا — یہ سب مسلمانوں کی فکر کرنا ہے۔ جس نے یہ سب چھوڑ دیا اور سمجھا کہ چینلوں پر خبریں دیکھنا، آنکھیں نچوڑ کر رونا، پھر اپنے سامنے موجود فرائض سے منہ پھیر لینا کافی ہے — تو وہ گنہگار ہے اور اپنی عمر برباد کر رہا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دونوں کا حق ادا کر پاتے ہیں، اور ہم نے اپنے جاننے والوں کے احوال دیکھے تو پایا کہ اکثر نے اپنی عمر جلا ڈالی، اور کئی نے تو اپنے گھر والوں کو بھی ضائع کر دیا۔
وہ سمجھتا ہے کہ جب تک مسلمانوں کی بڑی بڑی تباہیوں کی خبریں دیکھ رہا ہے تو کسی بڑے کام میں لگا ہوا ہے — حالانکہ وہ بالکل خالی ہاتھ ہے۔ اس ساری خبر بینی سے اسے بس اتنا ملتا ہے جتنا دل میں تکلیف محسوس ہوتی ہے — اور بس۔ اس کے بعد وہ ویسے کا ویسا بیٹھا رہتا ہے، کچھ کیا نہیں، کوئی ایسا عمل نہیں جو اس کی ترازو کو بھاری کرے۔
"انہوں نے دنیا بدلنے کا نہیں سوچا — ان کی پوری کوشش بس یہ تھی کہ افریقی قبائل کے اسکولوں کے بچوں تک پنسلیں پہنچا سکیں۔"
اس سوچ پر مجھے یقین آئے کتنا عرصہ ہو گیا؟ شاید دس سال۔ ان دس سالوں میں میں نے یہ سیکھا کہ بس اتنی خبر کافی ہے جتنی میرے کام کے لیے ضروری ہو — اور ساتھ ہی وہ خبریں مجھے بٹھا بھی نہ دیں، میری ہمت نہ توڑیں، میری عمر نہ جلائیں۔ اور کوئی مسلمان اس بات پر قابلِ ملامت نہیں کہ اس نے اپنے لیے وہ راستہ چنا جو اس کے دل کو بچائے اور دنیا و آخرت میں کام آنے والی چیزوں کو حاصل کرنے میں اس کی مدد کرے۔ انسان کی اصل خوشی، زندگی کی مایوسیوں سے نکلنے کی کنجی، اور حقیقی عمل کا راز — یہ سب چھپا ہوا ہے چھوٹی چھوٹی، مگر مسلسل اور منظم کامیابیوں میں۔ وہ تبدیلیاں جو زیادہ لوگوں کو نظر نہیں آتیں — مگر جن کے لیے یہ کام کیا گیا، ان کے لیے یہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔
اور ایک اور خوبصورت اقتباس یاد آتا ہے: یہ سب جو تم کر رہے ہو، سمندر میں بس ایک قطرہ ہے — شاید، مگر جناب، سمندر بھی تو قطروں ہی سے بنا ہے۔ یہ چھوٹا سا پودا دنیا نہیں بدلے گا — مگر آپ کو اسے لگانے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے قیامت ہی کیوں نہ آ جائے۔ کیونکہ یہ پودا آپ کی نیکیوں کی ترازو میں ملے گا اور اسے بھاری کرے گا — اور یہی اصل بات ہے۔ آپ کا اسی فیصد وقت، محنت، توجہ، کام اور سوچ — اس دائرے میں لگنی چاہیے جہاں آپ واقعی اثر ڈال سکتے ہیں، جہاں آپ خود اپنے ہاتھوں سے کچھ بدل سکتے ہیں۔ یہ کم از کم ہے۔ اور جو حالات و واقعات آپ کے بس میں نہیں، جن کا رخ آپ نہیں موڑ سکتے — ان پر بہت کم وقت لگائیں۔ جو ہو سکے کریں — دعا، حوصلہ افزائی، یا مالی مدد — پھر فوراً اپنے اصل کام کی طرف لوٹ آئیں۔ ورنہ — عمر یونہی گزر جائے گی، کچھ ہاتھ نہ آئے گا، اور بس یہی رہ جائے گا کہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہ وہم دیتے رہیں کہ بڑے فکرمند اور مصروف ہیں۔
"جو کام تمہارے ذمے نہیں لگایا گیا اسے اپنے سر نہ لو، اور جو تمہارے ذمے ہے اسے ضائع نہ کرو۔"
یہی اصلاح کی بنیاد ہے اور اس کی چوٹی — کہ آدمی اپنی عمر صرف اسی کام میں لگائے جو وہ اچھا کرتا ہے، جسے وہ نکھار سکتا ہے اور جس میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ اطمینان سے اپنے اندر جھانکیں، اپنی صلاحیتیں اور خوبیاں تلاش کریں، انہیں نکھاریں اور انہی کے ذریعے دوسروں کی بھلائی کریں۔ پوری قوم کی طاقت ہر فرد کی طاقت سے بنتی ہے — جب ہر فرد اپنا کردار پوری طرح ادا نہ کرے تو کسی قوم سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ مؤثر اور فعال بنے گی۔ اور ہر فرد کا اپنا کردار ادا کرنے کا مطلب کئی چیزیں ہیں:
- پہلی: جو کام وہ اچھا جانتا ہے اسے پوری محنت اور لگن سے کرے۔
- دوسری: خود کو مسلسل بہتر بناتا رہے — سوچ کے اعتبار سے بھی، اور اپنے ہنر اور کام کو نکھارنے کے اعتبار سے بھی۔
- تیسری: اپنے کام میں اپنی اخلاقی اور دینی اقدار کو بنیاد بنائے، اور فیصلے انہی کی روشنی میں کرے۔
- چوتھی: نیکی کے دروازے اور دین کی خدمت کے راستے بہت ہیں — جو کام تم اچھا نہیں جانتے، یا جو تمہاری طاقت سے باہر ہے، یا جو کوئی اور پہلے سے کر رہا ہے — اسے چھوڑ کر وہی کرو جو تم اچھا کر سکتے ہو۔
- پانچویں: تمہاری فکر کا دائرہ تمہارے اثر کے دائرے سے بڑا نہ ہو۔ مسلمانوں کے مسائل کی فکر کرو — مگر اس فکر میں اپنی کم سے کم توانائی لگاؤ، اور باقی سب ان کاموں میں لگا دو جہاں تم واقعی کوئی فرق ڈال سکتے ہو۔
ہر اس مسئلے کا بوجھ اٹھانے پر تمہیں اجر ملے گا جو تم نے دل میں محسوس کیا — مگر جہاں تم کچھ کر سکتے تھے اور نہیں کیا، وہاں سوال بھی ہوگا۔ اور بغیر عمل کی خالی فکر کا اجر، کوتاہی کا گناہ کھا جاتا ہے۔ آخر کس کام آئی یہ فکر، یہ الجھن، یہ بے چینی — جبکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے، تمہارے گھر کے پاس، تمہاری پہنچ میں — نیکی کے دروازے کھلے پڑے ہیں، ایمان کی شاخیں کسی کی منتظر ہیں!
زندگی کا منصوبہ — یہ وہ سب سے بہترین چیز ہے جو انسان کو اس دنیا کے مشکل سفر میں سنبھالے رکھتی ہے۔ یہ منصوبہ ریل کی پٹریوں جیسا ہے — انجن کتنا بھی تھکے، رکے، یا بھٹکنے کی کوشش کرے — پٹری اسے کھینچتی رہتی ہے، تھامے رکھتی ہے، اور دوبارہ چلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ منصوبہ بند اور مقفل نہیں — اسے ہمیشہ بدلا اور بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا بنیادی خاکہ یہ ہے: اللہ کی بندگی کرنا، آسانی میں بھی اور مشکل میں بھی، خوشی میں بھی اور ناگواری میں بھی اس کے حکم پر چلنا۔ پھر اس منصوبے کے شعبے آتے ہیں — اپنی ذات سے شروع ہو کر پورے معاشرے تک پھیلے ہوئے، زندگی کے ہر پہلو کو سمیٹے ہوئے۔ ہر شعبے میں قریبی اور دور کے ہدف ہوتے ہیں۔
ان اہداف کو طے کرتے وقت اپنی ذاتی صلاحیتوں، اپنے موقعوں، اور اپنے ماحول و معاشرے کو ضرور سامنے رکھیں۔ اور ان سب میں علم کا کردار سب سے اہم ہے — علم انسان کی زندگی کے لیے ایسا ہے جیسے فضا — زندگی کا کوئی مرحلہ اور منصوبے کا کوئی حصہ اس کے بغیر سانس نہیں لے سکتا۔ یہ اس منصوبے کی خوراک بھی ہے اور اسے آگے بڑھانے کا ذریعہ بھی۔
اب ان روزمرہ کی الجھنوں کو چھوڑنا ہوگا جو آپ کو کھائے جا رہی ہیں، آپ کے دن کاٹے جا رہی ہیں — اور آپ ان میں ڈوبے ہیں مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا! آپ اس طرح اپنے آپ کو اور اپنی عمر کو جلا رہے ہیں۔ اللہ سے مدد مانگیں اور لکھنا شروع کریں — خوب لکھیں: میں کون ہوں؟ میری صلاحیتیں کیا ہیں؟ میرے حالات کیا ہیں؟ میں کیا اچھا کر سکتا ہوں؟ مجھ میں کیا کمی ہے؟ میرے آس پاس کے لوگوں کو کس چیز کی ضرورت ہے جو میں پوری کر سکتا ہوں؟ اور میں کیسا بنوں کہ جب موت آئے اور اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالوں تو کہہ سکوں: اچھا کیا، جو کر سکتا تھا کر دیا؟
سفر کا آغاز یہیں سے ہے۔
’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
تشکیلِ قومیت اور نوعیتِ دستور
عرض مرتب : ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
پیش گفتار : ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن
عرض مرتب
اسلامی نظریاتی کونسل میں ابتدائے ملازمت کے بعد دستور اور دستوری اداروں کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور پھر اللہ تعالیٰ نے کچھ لکھنے کی بھی توفیق ارزانی فرمائی۔ ’اسلامی نظریاتی کونسل: ادارہ جاتی پس منظر اور کارکردگی، ’ادارہ اسلامی تعمیرِ نو ۱۹۴۷ء‘، ’حکومتی استفسارات اور کونسل کے جوابات'، 'اسلامی نظریاتی کونسل کے فکری رحجانات کا ارتقاء: حکومتی خطابات کی روشنی میں‘ اسی عنایت کا ثمر ہیں۔ پھر کچھ مزید کام ’۱۹۴۸ء کے دستوری خاکے‘، ’قراردادِ مقاصد کے مباحث کے ترجمہ اور موضوعاتی تدوین'، اور 'بورڈ آف تعلیمات اسلامیہ ۱۹۴۹ء کی سفارشات اور عوامی آرا‘ پر کرنے کی بھی توفیق ملی جن کی حتمی تدوین اور اشاعت باقی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران دستوری نشانات کی جستجو پیدا ہوئی تو قدیم مجلات میں کچھ مواد میسر آگیا اور پھر کچھ سرکاری دستاویزات اور نوٹیفکیشن بھی مل گئے۔ ان کی بنا پر مطالعۂ دستوریات پاکستان کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ ہوا۔ یہ کتاب اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس سلسلے میں ارادہ ہے کہ صرف بنیادی مآخذ پر انحصار کیا جائے گا، ثانوی مصادر صرف تائید کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
کتاب کا محور ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد کی دستوری فکری کاوشیں ہیں۔ اس کا نام ’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘ (تشکیلِ قومیت اور نوعیتِ دستور) رکھا گیا ہے۔ ان فکری مباحث کی تحریک اگرچہ مسلم لیگ صوبجات متحدہ (یوپی) سے شروع ہوئی مگر اس وقت تک آل انڈیا مسلم لیگ صوبائی لیگوں کو مرکز کی پالیسی کی پابند بنا چکی تھی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اقدامات مقرر ہو چکے تھے۔ تحریک کی ابتدا یوں ہوئی کہ قانونِ حکومتِ ہند ۱۹۳۵ء کے تحت ہونے والے صوبائی انتخابات میں زیادہ تر کانگریس کی اکثریتی حکومتیں بن گئیں اور ان کی مدتِ حکومت میں مسلمانوں کو اپنے تعلیمی اور ثقافتی نقصان کا احساس ہوا۔ ۱۹۳۸ء میں مسلم لیگ اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی طرف سے ان نقصانات کا اندازہ لگانے اور مناسب نظام تجویز کرنے کے لیے پیرپور کمیٹی اور نواب کمال یار جنگ کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے ایسا نظامِ تعلیم تجویز کیا گیا جس میں ان کے دین، تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کو مد نظر رکھا گیا۔ اسی دوران مسلمانوں کے لیے الگ مسلم ملک یا کئی ممالک کی فیڈریشن بنانے کی تحریک واضح ہوتی چلی گئی اور قائدین کی تقریر و تحریر میں قرآن و سنت اور اصولِ اسلامی کے مطابق مسلم حکومت قائم کرنا روزمرہ کے مباحث کا موضوع بن گیا۔
۱۹۴۰ء میں قراردادِ لاہور کے بعد یوپی مسلم لیگ کے صدر گرامی قدر نے جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ ہم ’اسلام کا نظامِ حکومت‘ اور ’اسلام کا نظامِ اقتصاد‘ ایسے محققین سے مرتب کرانا چاہتے ہیں جن میں روایتی علوم کے ماہرین بھی شامل ہوں اور معاصر محققین بھی۔ اس تجویز پر مولانا عبد الماجد دریابادی نے، جو خود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم۔اے فلسفے کے طالب علم رہے تھے، ایک کمیٹی تجویز کر دی جس میں علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مودودی، ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور دیگر اہلِ علم کے نام شامل تھے۔
- ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے، جو کہ حیدر آباد دکن میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر تھے، اس کمیٹی کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کی۔ ان کا موقف تھا کہ یہ کام کرنے کے لیے مغربی دستوری ڈھانچے کا ماہر ہونا اور مغربی دستوری اصطلاحات سے واقف ہونا ضروری ہے اور پھر علمِ دین میں اس قدر مہارت بھی ہو کہ اس دستوری ڈھانچے میں اسلامی تعلیمات اور ہدایات کی سلیقے سے تدوین کی جا سکے۔
- مولانا مودودی نے کمیٹی کے ساتھ کام کرنے سے تو انکار نہیں کیا، البتہ دستور کی تدوین کو چھوڑ کر معاشرے کی اصلاح پر کام کرنے اور حکومتِ الٰہیہ کے قیام کو نصب العین بنانے کا مشورہ دیا۔
- مولانا عبد الماجد دریابادی اور دیگر علما کا موقف یہ تھا کہ موجودہ حالات اور موجودہ تحریک کے اندر ہی اسلامی دستور مرتب کیا جائے، جس میں دستوری ڈھانچہ بھی اسلامی ہو اور اصطلاحات بھی۔
ان تینوں مواقف پر علمی بحث شروع ہوئی جس کی رودادیں ’ہفت روزہ صدق‘، ماہنامہ 'ترجمان القرآن' اور ماہنامہ 'معارف اعظم گڑھ‘ میں شائع ہوتی رہیں۔ اسی دوران مسلم لیگ یوپی (صوبجات متحدہ) کے صدر نواب محمد اسماعیل خاں نے ایک کمیٹی خود تجویز کی جس کا پہلا اجلاس ۴، ۵ جنوری ۱۹۴۱ء کو دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ میں ہوا اور اس مسودے پر کام شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب اس کمیٹی کے اجلاس سے پہلے پیش آنے والی فکری بحثوں پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے کی دوسری کتاب ان شاء اللہ مسلم لیگ کی قائم کردہ کمیٹی ’’مجلس نظامِ اسلامی‘‘ کے تحت دستوری خاکوں کی تیاری اور مسودے کی تدوین پر مشتمل ہو گی جو امید ہے جلد ہی طبع ہو جائے گی کیوں کہ ہم نے یہ دونوں حصے تیار کرنے اور ڈمی بنانے کے بعد حجم مناسب کرنے کے لیے الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
زیر نظر کتاب کل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کے شروع میں ممتاز محققین و ماہرینِ دستوریات کی تقریظات شامل کی گئی ہیں۔ پھر 'حکایتِ واقعہ' کے نام سے ایک تمہید بھی شامل کی گئی ہے، جس میں برصغیر میں مسلمانوں کے نظامِ حکومت اور نظامِ قانون سے لے کر برطانوی راج کے تحت ہونے والی دستوری کاوشوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، اور کتاب کے آخر میں شاہد کے طور پر منتخب مآخذ کے متعلقہ صفحات کی عکسی نقول لگا دی گئی ہیں۔
کتاب کا پہلا باب ’مسلم قومیت کی تشکیل‘ کے بارے میں ہے، جس میں مسلمانوں کو ایک قومیت کی شکل میں مسلم لیگ کے تحت جمع کرنے کی کاوشوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں 'قراردادِ پاکستان اور آل انڈیا مسلم لیگ کا تصورِ دستور' قائدینِ لیگ کے افکار کی روشنی میں متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں ’اسلامی نظامِ حکومت کی تدوین: تجویز اور نوعیت‘ کی بحث ہے۔
چوتھے باب کا عنوان 'مغربی دستوری ڈھانچے پر مبنی اسلامی دستور‘ ہے، پانچویں باب کا ’معاشرے کی اصلاح اور حکومتِ الٰہیہ کی تیاری‘ اور چھٹے کا ’روایتی اسلامی ڈھانچے پر مبنی اسلامی دستور‘ ہے۔ ان تینوں ابواب میں نوعیتِ دستور کے بارے میں تینوں مواقف پر مشتمل منتخب تحریرات شامل کی گئی ہیں۔
ساتواں باب دستورِ اسلامی کی تدوین پر عوامی تاثرات پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف مجلات میں شائع ہونے والی ان منتخب آرا اور تبصروں کو شامل کیا گیا ہے جو عام قارئین نے اسلامی دستور کی تدوین کی خبر پر اپنے تاثرات کی صورت میں بھجوائیں، یا جس رائے کا اظہار کسی نے دستور کی نوعیت کے بارے میں شروع ہونے والی بحث کے تین مواقف میں سے کسی ایک موقف کی تائید میں کیا۔ کچھ قارئین ایسے بھی تھے جنہوں نے مزید اہلِ علم کی نشاندہی کی جو اس کام میں مدد دے سکتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا تصور اگرچہ اس کتاب کے دوسرے باب میں مختلف شواہد کے ساتھ درج کیا گیا، جس سے مختلف دستوری ابواب کی نوعیت متعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس باب میں کچھ دلچسپ اقتباسات ایسے درج کیے گئے ہیں جن میں مسلم لیگ کے رہنماؤں نے دستور کے اسلامی ہونے کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے ایران اور ترکی دساتیر کی طرح دستور نہ بنانے کی وضاحت کی، اور کچھ قارئین نے ان کے اس دعوے پر بھی تبصرے کیے۔ اس باب میں تحریکِ پاکستان کے اس ابتدائی مرحلے پر تدوینِ دستور میں عوامی دلچسپی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
آٹھویں باب میں نوعیتِ دستور کی بحث میں حصہ لینے والے سر کردہ محققین کا تفصیلی تعارف کرایا گیا ہے۔ بعض بڑے بڑے کاموں کو عموماً محض اس وجہ سے قابلِ توجہ نہیں سمجھا جاتا کہ کام کرنے والوں کے قد کاٹھ کا اندازہ نہیں ہوتا۔ نوعیتِ دستور کی بحث اس قدر اہم ہے کہ مارچ ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد کے متعلق اسمبلی مباحث بھی اس سے بھرے نظر آتے ہیں۔ اس لیے امید ہے یہ باب ہمیں روزِ اول سے اس بحث کی اہمیت سمجھنے میں مدد دے گا اور پاکستان کے دستوری سفر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بہتر نتیجے پر پہنچنے کے لیے رہنمائی کرے گا۔
میں ان تمام بزرگوں اور احباب کا ممنون ہوں جنھوں نے اس کتاب کی تالیف میں میری سرپرستی فرمائی یا کسی طرح اس کی تدوین میں مدد کی۔ استاد الاساتذہ ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب ’آپ بڑے کھوجی ہیں‘ کہہ کر ہمیشہ ہمت بڑھاتے ہیں۔ عالی قدر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب ’سیکرٹری صاحب آپ کام کے لیے وقت کب نکالتے ہیں‘ کہہ کر سینہ چوڑا کر دیا کرتے ہیں۔ اس دوران اگر کبھی ہمارا کھوج کامیاب نہ ہوتا تو برادر گرامی قدر ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن ساداتی توجہات کے ساتھ مشکل الحصول مواد کہیں نہ کہیں سے نکال لاتے رہے۔ گرامی قدر بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے قلم مناسب الفاظ تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ انھوں نے پورا مسودہ پڑھ کر اپنی رائے عنایت فرمائی اور تسلسل کے ساتھ اصلاح کی تجاویز دیتے رہے۔ ان کے ساتھ طویل تبادلۂ خیالات کے دوران علمِ دستوریات (Constitutional Law) اور علمِ سیاست (Political Science) پر بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے ان کی کتاب میں دلچسپی اور توجہ نے تو متاثر کیا ہی تھا، ان کے اندازِ تخاطب نے زیادہ متاثر کیا۔ انہوں نے طویل پیغاماتی تبادلۂ خیالات کے دوران کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنی بات دلائل سے کی اور اگر پھر بھی میں نے اپنی کوئی رائے دہرائی تو انہوں نے دوسرے انداز سے اس پر دلائل دیے۔ ظفر اللہ صاحب کی تقریظ سے بھی یقیناً کتاب کے درجۂ اعتبار میں اضافہ ہوا۔ میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل سے مسلسل تبادلۂ خیالات ہوتا رہا اور رہنمائی ملتی رہی۔ میرے محسن پروفیسر ڈاکٹر یوسف فاروقی صاحب نے شریعہ اکیڈمی والی محبت جاری رکھی اور وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص انداز میں 'مسودے کا کام کہاں تک پہنچا ہے' کی صدا لگا کر ہمت بڑھاتے رہے۔ میرے مخلص دوست پروفیسر ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں نے اس کتاب کو پڑھ کر مفید علمی اور فنی تجاویز سے نوازا۔ آئی پی ایس سے ہمارے نوجوان محقق ساتھی ’نوفل شاہ رخ‘ نے مسودہ پڑھنے کے بعد Marvelous کا نعرہ لگایا اور جذباتی تاثرات کا اظہار کر کے اس کا انگریزی ترجمہ کرنے اور اشاعت کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں ان سب مہربانوں کا ممنون ہوں۔
میرے دفتر کے ساتھی نصیب شاہ حسن زئی، احسان الحق، محمد زوہیب، نائلہ تبسم، عادل لطیف میرے دست و بازو بنے رہے۔ اور لقمان آصف شیروانی کو اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے، اس قدر واقفِ رموز ہو گیا تھا کہ آدھی بات سن کر پورا کام کر کے لے آتا۔ شاہد نعیم اور عبد العدنان کا بھی شکریہ، ان سب نے اپنی اپنی بساط کے کر مطابق میرے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔
ہمارے مخلص و مہربان دوست حافظ صفوان محمد چوہان نے املا کی اصلاح اور کتاب کی فنی تدوین میں بہت مدد کی۔ اسی دوران انھوں نے مولانا اسحاق صدیقی سندیلوی کی زیارت، ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کے لیکچرز (خطباتِ بہاول پور) میں حاضری، اور اپنے نام دونوں حضرات کے مراسلوں کا بتایا اور کئی سال پہلے مولانا سندیلوی کی کتاب کے مطالعہ کا ذکر کیا تو اِس سے ان کی اِس کتاب میں دلچسپی کا راز کھلا۔ میں ان کی اس توجہ فرمائی پر ممنون ہوں۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ یہ کتاب ایسے وقت میں تکمیل کو پہنچ رہی ہے جب قوم دستورِ پاکستان ۱۹۷۳ء کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ’گولڈن جوبلی‘ کی تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس موقع پر سب سے پہلی دستوری کاوش پر یہ کتاب مرتب ہو جانا میرے لیے محض اللہ کا فضل اور بہت بڑا اعزاز ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب میں درج دستوری فکری مباحث سے، وطنیت پر مبنی قومی ریاستوں کے دور میں، دینِ اسلام پر مبنی قومی ریاست کے دستور کی تیاری کے لیے ایک سنجیدہ مطالعاتی سلسلہ شروع ہوا، جس نے روایتی اسلامی نظامِ سیاست اور جدید نظامِ سیاست میں ایک پل کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کے دستوری مطالعات میں مسلمانانِ پاک و ہند کے ثقافتی، فکری، فقہی اور مکتبی تنوع کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر کئی مطالعات عمل میں لائے گئے جن سے ایک وقیع اسلامی دستوری ادب وجود میں آیا۔ اس مرحلے پر اس کتاب کی اشاعت جہاں مطالعۂ دستوریاتِ پاکستان کے ابتدائی تصورات کو عام قاری تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی، وہیں موجودہ دستور کے مآخذ و مصادر کے تعین میں بھی مددگار ہو گی۔ اللہ کریم اپنی عنایت سے اس عاجزانہ عمل کو قبول فرمائے اور اسے علمِ نافع کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین۔
اس موقع پر معزز و محترم قارئین سے درخواست ہے کہ یہ کتاب مطالعۂ دستوریاتِ پاکستان کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس کا اور اس کے بعد اس سلسلے کی ہر کڑی کا مطالعہ اس کی ترتیبِ زمانی کو ذہن میں رکھ کر کیا جائے۔ اب تک کے خاکے کے مطابق اس سلسلے کی کئی کتب قیامِ پاکستان سے قبل دستوری کاوشوں پر مشتمل ہوں گی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد کتب اس خاکے کا حصہ ہیں۔ ان سب سے زمانی ارتقا کے مطابق گزر کر ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے دستور ۱۹۵۶ء کے اندراجات کے اصل مآخذ اور اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں، غور و فکر، ٹیم ورک، اجتماعی دانش اور حالات و زمانے کی رعایت کا احوال معلوم ہو سکے گا۔ ان تمام کتب میں عموماً اصل مآخذ کا مطالعہ ہی پیشِ نظر ہے اور اس سلسلے کا مقصد مناظرانہ نہیں طالب علمانہ ہے تاکہ تعمیرِ پاکستان کے سلسلے میں قومی قائدین کی جدوجہد کا مطالعہ کر کے مملکتِ خداداد کی قدر و قیمت کا درس تازہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اکرام الحق
اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان، اسلام آباد
۱۱ شعبان المعظم ۱۴۴۴ھ / مطابق ۳ مارچ ۲۰۲۳ء، بروز جمعہ
پیش گفتار
قیامِ پاکستان تاریخ کا، خصوصاً اِس خطے کی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ یہ ملک ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، جس کے لیے باضابطہ جمہوری جدوجہد کی گئی۔ اس جدوجہد کا مقصد اور اس کا نظریاتی پہلو امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ چوں کہ یہ پوری تحریک چند مقاصد کے تحت کھڑی ہوئی، اس لیے اس کی کامیابی سے قبل ہی اس کے قائدین اور رہنماؤں کے ہاں اس کے مابعد ناگزیر اقدامات پر غور و خوض شروع ہو گیا۔ یہ بات یقیناً قائدینِ تحریکِ پاکستان کی صداقت کے لیے گھر کی گواہی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاندانہ اسلوب میں اٹھایا جانے والا یہ سوال ازخود غیر متعلق ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلامی ریاست کے قیام کا نعرہ کوئی سیاسی نعرہ تھا، جس کے پیچھے سچائی موجود نہیں تھی۔ یہ دستاویز بتاتی ہے کہ ۱۹۴۰ء سے ہی، جب کہ ہندوؤں اور انگریزوں کو تو کیا، خود مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اس تحریک کی کامیابی کا یقین نہیں تھا، مسلمان رہنماؤں نے نئی ریاست کے دستور کے اسلامی خدوخال پر نہایت سنجیدہ غور و خوض شروع کر دیا تھا۔
یہ کتاب ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد کی جانے والی دستوری اور فکری کاوشوں کا دستاویزی اور تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس ریکارڈ کی بازیابی، اور ہم جیسے طلبہ کے لیے اس کی مدوّن صورت میں دستیابی دراصل تاریخ کا قرض تھا۔ کسی اور ملک کا قصہ ہوتا تو یہ قرض عرصہ پہلے وہ ریاست خود ادا کر چکی ہوتی، لیکن ہمارے ہاں چونکہ بہت سی ریاستی ذمہ داریوں میں انفرادی شرکت اور ریاست کا ہاتھ بٹانے کی روایت نہایت پختہ ہے، اس لیے یہ سعادت بھی ہمارے فاضل اور بزرگ مہربان جناب مولانا ڈاکٹر اکرام الحق یاسین کے حصے میں آئی ہے، جنھوں نے پاکستان میں دستور سازی اور قوانین سازی کے اسلامیانے کے عمل اور اس کی تاریخ پر پے در پے متعدد حوالہ جاتی کتب مرتب کر کے اس موضوع کا علمی اختصاص اپنے نام کر لیا ہے۔
اس کتاب کی اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ اس موضوع کو پھیلاتی بھی ہے اور خود ہی سمیٹتی بھی ہے۔ اس کا اصل موضوع تو قراردادِ پاکستان کے بعد مجوزہ ریاست کے لیے دستوری اور فکری کاوش ہے، مگر اس میں تنوع اس قدر ہے کہ مسلم لیگ کے قیام کا مقصد، ہندوستانی دستور کی تشکیل، مسلم قومیت کی تشکیل اور اس کے ثمرات، نظامِ تعلیم کی تعمیرِ نو، مسلم لیگ کا تصورِ دستور، اس ضمن میں سامنے آنے والی تجاویز اور بحثیں، پھر اس ساری کاوش میں شریک علما کا تعارف وغیرہ، دستور سے متعلقہ بہت سے اہم مباحث کے حوالے اس کتاب میں آگئے ہیں۔
اس کتاب کے مباحث اصل مصادر اور دستاویزات کی روشنی میں درج کیے گئے ہیں، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس مقصد کے لیے کس قدر لائبریریوں کو کھنگالا گیا ہو گا، اور ان صفحات کو جوڑنے میں کتنے شب و روز صَرف ہوئے ہوں گے۔
یہ مباحث پاکستان میں دستوری مسائل اور مباحث سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے تو اپنی جگہ پر نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں موجود مسلم مفکرین کے لیے بھی اس میں سیکھنے کا بہت کچھ سامان موجود ہے کہ اس عنوان پر ہونے والی بحثوں میں بہت سے ایسے نظریاتی اور فکری سوالات پر بات کی گئی ہے، جو مسلم اذہان میں ہمیشہ موجود رہے ہیں، اور جن پر غور و فکر کی روایت کم و بیش اتنی ہی قدیم ہے، جتنی خود اسلام کی تاریخ۔
دیکھا جائے تو یہ کاوش کسی ایک فرد کی کاوش محسوس نہیں ہوتی، یہ تو کسی ادارے کا کام معلوم ہوتا ہے اور در حقیقت یہ ایک فرضِ کفایہ ہے، جو ہمارے دستوری اداروں کی جانب سے ڈاکٹر صاحب نے ادا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک تاریخ ہے، جو مرتب ہو گئی ہے، اب اس امر کی ضرورت ہے کہ اس تاریخ کو ہر ہر فرد تک پہنچایا جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ دستاویز ایک ایسے موقع پر منظرِ عام پر آرہی ہے جب قوم پاکستان کے متفقہ دستور کی نصف صدی مکمل ہونے پر جشن کے اہتمام میں مصروف ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ اس موضوع کو ہماری جامعات کے نصاب کا حصہ بنایا جائے، پاکستان کی دستوری تاریخ اور قوانین کے اسلامیانے کے عمل کو ایک خاص موضوع قرار دے کر کم از کم ایم ایس کی سطح پر متعارف کرایا جائے۔ نیز اس موضوع کو بنیاد بنا کر اس پر ڈاکومنٹریز تیار کی جائیں، اور دستوری تاریخ پر مبنی ایسے کسی میوزیم کی بنیاد رکھی جائے جو نسلِ نو کو ان کے رجحان کے مطابق پون صدی پر پھیلے اس عمل کی تاریخ سے روشناس کرا سکے۔ ڈاکٹر صاحب اپنا کام کر چکے، اب یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے کو آگے بڑھائیں۔
ہم اس خالص علمی اور تحقیقی کاوش پر ڈاکٹر صاحب کو تبریک و تحسین پیش کرتے ہیں اور بہ حیثیت پاکستانی قوم ان کے شکر گزار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ان کے سیال قلم کو مزید سیال بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین، و من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین۔
ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن
۲۱ رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ / ۱۲ اپریل ۲۰۲۳ء
www.nbf.org.pk
books@nbf.org.pk
0519261125
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل
مشاہد حسین سید:
دی لاسٹ اسپیکر فار دِس ڈسکشن آن نیشنل انٹیگریشن (اسٹوڈنٹ کنونشن اسلام آباد 2006ء)، سید عدنان کاکاخیل صاحب۔ سیٹ نمبر 93۔ جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، بنوری ٹاؤن، کراچی سے تعلق ہے ان کا۔
سید عدنان کاکاخیل:
میرے ساتھیوں نے کل بھی اس موضوع کے اوپر بہت اچھی باتیں کیں۔ آج کوشش کروں گا انہی باتوں کی روشنی میں اس کو بالکل مختصر انداز میں پیش کروں۔
ملک کی نظریاتی اساس کے متعلق شکوک و شبہات
اس میں دو رائیں نہیں ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا بحران نظریاتی یکجہتی، فکری وحدت اور اتحاد و اتفاق سے محرومی ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ محرومی اٹھاون سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کیوں ہے! اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو بنیادی پلیٹ فارم دیا گیا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ اس پر کنفیوژنز پیدا کر دی گئیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ابھی تک پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا؟ قائد کا وژن کیا تھا؟ کیا یہ چیزیں بہت کلیئر نہیں ہیں؟ اور کیا اس سوال کا جواب میں یا آپ دے سکتے ہیں، یا وہ نسل دے سکتی ہے جس نے تخلیقِ پاکستان کے خاکے میں اپنے خون سے رنگ بھرا تھا؟ یہ ان کی روحوں کے ساتھ مذاق ہے، یہ ان کی قربانیوں کا مذاق ہے کہ جی آپ تو کٹ مرے، ہمیں سمجھ ہی نہ آیا کہ آپ کا مسئلہ کیا تھا۔
امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے محرکات
ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ امن و امان کی دگرگوں صورتحال ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کو بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ اسلام ذمہ دار ہے۔ حالانکہ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سب سے زیادہ اسلام امن و امان کے اوپر زور دیتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی دعا تو ذرا دیکھیے، معیشت کی بات بعد میں کرتے ہیں، اکانومی کی بات بعد میں کرتے ہیں، پہلے امن کی بات کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’رب اجعل ھذا بلدا اٰمنا‘‘ الٰہی میری اس بستی کو امن کا گہوارا بنا دے۔ پھر فرماتے ہیں: ’’وارزق اہلہ من الثمرات‘‘ اس میں رہنے والوں کی معیشت بھی ٹھیک کر دیجیے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی جب اپنے انعامات گنواتے ہیں تو فرماتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو کہ ’’واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا‘‘ ہم نے آپ کو ایک ایسی جگہ بسایا جس کو بار بار آنے کی جگہ اور امن کا گہوارہ بنایا۔
یہ تو بات بالکل واضح ہے۔ مسئلہ یہ ہے، ہمارا امن و امان تباہ کیوں ہوا؟ ہمارا نوجوان کس طرح دہشت گردوں کا آلہ بنا؟ اور ہم روز بروز لاقانونیت کی دلدل میں کیوں دھنسے جا رہے ہیں؟ جناب صدر! نوٹ کرنے کی بات ہے کہ یہ سبق اس کو کسی مذہب نے نہیں سکھایا، یہ سبق اس کو کسی دین نے نہیں بتایا۔ یہ طبقاتی تفریق، استحصالی نظام، ٹیلنٹ کی بے قدری، تعلیمی ڈھانچے کا کھوکھلاپن، بے انتہا کرپشن، اور اختیارات کا ناجائز استعمال وہ خوفناک مسائل ہیں جو نوجوان کو اس طرف لے کر گئے ہیں۔ آپ یہ مسائل حل کر دیجیے، پھر دیکھیے یہ نوجوان دہشت گرد ہے یا امن پسند ہے۔
جمہوری روایات کے فقدان کا سبب
ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ، جو اس وقت بہت اہمیت کا حامل ہے، جمہوری روایات کا فقدان ہے۔ ہم ابھی تک حقیقی جمہوری کلچر اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے ماحول کو پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹوٹتی بنتی اسمبلیوں، انتخابی دھاندلیوں، اور جنابِ صدر! اہم قومی مسائل میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کی روایات نے عوام کا اعتماد موجودہ پولیٹیکل سسٹم سے اٹھا دیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے اس پڑوسی ملک سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں سے مشاہد صاحب تشریف لائے ہیں اور آپ عنقریب جانے والے ہیں، ان کی اور ہماری تاریخِ آزادی ایک ہی ہے، ہمیں اور ان کو ایک جتنا وقت ملا ہے، مگر انہوں نے اپنے ہاں جمہوری اقدار کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ حکومت کتنی ہی ناکام ثابت کیوں نہ ہوجائے، کوئی بھی افتاد ٹوٹ پڑے، یہ نہیں ہو سکتا کہ فوج بیرکوں سے نکلے اور اقتدار میں آ کر بیٹھ جائے۔ جنابِ صدر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اس ہال میں لگی ہوئی قائد کی تصویر آپ سے پوچھ رہی ہے، آگے آپ کھڑے ہوئے ہیں، کہ جنرل! تم تو سرحدوں کے رکھوالے ہو، تم کو ایوانِ اقتدار کی راہ کس نے دکھائی ہے؟
ایلیٹ کلاس اور قرضوں کی معیشت
اور جناب اعلیٰ، ہمارا چوتھا سب سے بڑا مسئلہ ایلیٹ کلاس اکانومی ہے۔ آپ کے اعداد و شمار کے جادوگر کہہ رہے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، قرضے کم ہو گئے ہیں، کشکول ٹوٹ گئی ہے۔ آپ بار بار کہتے ہیں، پہلے ہم مانگنے جاتے تھے، اب ہم دینے جاتے ہیں۔ اور عوام حیران ہے کہ خدایا کیا ماجرا ہے!
- معیشت ترقی کر رہی ہے، غریب کا چولہا بجھ رہا ہے۔
- زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
- روپے کی قیمت ڈی ویلیو ہوتے ہوتے کہاں آ کھڑی ہوئی ہے۔
مضر تفریحی سرگرمیوں کی سرکاری ترویج
اور اس کے بعد ایک اور بات جنابِ صدر! آپ نے کہا کہ بسنت منانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اسلام تفریح سے ہرگز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مگر خدارا محروموں لاچاروں کی آرزوؤں کے مزار پر دھماچوکڑی نہ مچائی جائے۔ ایک عجیب تاثر ہے، ٹھیک ہے لوگ انفرادی طور پر پتنگ اڑائیں، کوئی اس کو حرام نہیں کہتا، مگر جب ایک غریب دیکھتا ہے کہ میرے پیٹ میں روٹی نہیں، میرا صدر پتنگ بازی کر رہا ہے، تو وہ یوں سمجھتا ہے کہ ہمارے درمیان کوئی گیپ ہے۔ بالکل اس طرح لگتا ہے ایک گھر کے اندر میت پڑی ہو، اور آپ دوسرے گھر کے اندر ڈرم بجائیں کہ میں تو آزاد ہوں، غم تو تمہارا ہے، میرا نہیں ہے۔ تو کوئی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا، کوئی بھی مذہب کہے گا کہ نہیں، اس کا احساس کیجیے، اس کی اشک شوئی کریں، اس کو سینے سے لگائیے۔
ناقابلِ قبول حکومتی لب و لہجہ
اس کے علاوہ جنابِ صدر، ایک بہت اہم بات جو ہم محسوس کرتے ہیں کہ بعض مسائل آپ کے لہجے کی کرختگی کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ آپ بلوچستان کے عوام سے کہتے ہیں، تمہیں ہم وہاں سے ہٹ کریں گے تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا ہم نے تمہیں کہاں سے ہٹ کیا ہے۔ آپ قوم کے بڑے ہیں۔ آپ کو بالکل قوم سے اس انداز میں گفتگو کرنی چاہیے جس طرح آپ اپنے بیٹے بلال سے گفتگو کرتے ہیں۔
جناب صدر، وردی کی بات میری بہن نے کی ہے۔ وردی کی بات تو — آپ نے خود چودہ کروڑ عوام سے کہا تھا میں ۳۱ دسمبر کو اتار دوں گا، پھر قوم کے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں آپ وعدے سے مکر گئے۔
مشاہد حسین سید:
تھینک یو جی۔ شکریہ، مہربانی، تھینک یو، آپ کا ٹائم ہو گیا اووَر جی۔
جنرل پرویز مشرف:
تھینک یو۔ تھینک یو ویری مچ۔ یہ بنوری ٹاؤن سے آئے ہوئے مہمان کی باتوں سے ایک بات کا ثبوت ضرور ہو گیا کہ یہاں انڈیپنڈنس آف ویوز، ٹرانسپیرنسی — کوئی یہ سلیکشن ایسی نہیں ہوئی ہوئی ہے کہ کوئی نہ بات کر سکے۔
https://youtu.be/6FKqFEOs8ns
تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
صحیح بخاری کی ایک مشہور روایت میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ کے حجرے میں تشریف لائے اور ایک کپڑے پر تصاویر دیکھیں تو ناراضی کا اظہار فرمایا۔ کپڑے کو ہٹا دینے کا حکم دیا اور دو باتیں فرمائیں۔ ایک یہ کہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم نے جو تصویریں بنائی ہیں، ان کو زندہ کر کے دکھاو۔ دوسری یہ کہ جس گھر میں تصویریں ہوں، وہاں فرشتے نہیں آتے۔(صحیح بخاری 1963)
یہ روایت سیدہ سے ان کے بھتیجے قاسم بن محمد نے نقل کی ہے۔ تاہم بخاری کے مختلف مقامات پر اس واقعے کی دو مختلف تصویریں ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جس کپڑے پر آپ نے تصویر دیکھی، وہ تکیہ تھا جو سیدہ نے آپ کے لیے بنایا تھا۔ اس تصویر واقعہ کی رو سے جب باتصویر تکیے کو ہٹا دینے کی ہدایت کی گئی تو وہ کپڑا گھر میں موجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم دوسری روایت کے مطابق ابتداء آپ نے جس کپڑے پر تصویر دیکھی، وہ ایک پردہ تھا۔ آپ کے اظہار ناراضی پر سیدہ نے پردہ اتار کر اس کو تکیے کا غلاف بنا دیا اور اس پر پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگایا کرتے تھے۔
اگر دوسری تصویر واقعہ درست ہو (جو کئی طرق سے قاسم بن محمد سے مروی ہے) تو پھر ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے پر تصویر دیکھ کر یہ فرمایا کہ اس کے بنانے والے کو عذاب دیا جائے گا اور یہ کہ اس کے ہوتے ہوئے فرشتے گھر میں نہیں آئیں گے تو سیدہ عائشہ نے اسی باتصویر کپڑے کا تکیہ کیوں بنا لیا جبکہ تصویر بعینہ موجود تھی؟ مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس تکیے کو استعمال فرمانے لگے، حالانکہ مذکورہ دونوں باتوں کی رو سے وہ کپڑا کسی بھی صورت میں گھر میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
سیدہ کے بیان کردہ اسی واقعے کو جب ہم کتب حدیث میں مروی دیگر روایات میں دیکھتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ قاسم بن محمد کے علاوہ کم سے کم تین معروف راویوں نے یہی واقعہ سیدہ سے روایت کیا ہے اور ان تینوں میں صورت واقعہ اس سے بہت مختلف ہے جو قاسم کی روایت میں بیان ہوئی ہے۔
۱۔ سعد بن ہشام انصاری نے سیدہ سے یہ واقعہ یوں نقل کیا ہے کہ ہمارے حجرے میں لٹکے ہوئے ایک پردے پر پرندے کی تصویر تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو یہاں سے ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں تو اس کو دیکھ کر مجھے دنیا یاد آتی ہے۔(صحیح مسلم 3934)
۲۔ سیدہ کے بھانجے عروہ بن زبیر واقعہ یوں نقل کرتے ہیں کہ سیدہ نے ایک بچھونا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ وہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا اور کہا کہ وہ اس کا ایک چھوٹا سا خیمہ (حجرے کے اندر) بنانا چاہتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ نہیں بلکہ اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(مسند احمد23668)
۳۔ سیدہ کی بھتیجی اسماء بنت عبد الرحمن کی روایت کے مطابق واقعہ یوں ہے کہ ایک سفر سے واپسی پر آپ نے ایک باتصویر پردہ لٹکا دیکھا تو فرمایا کہ عائشہ، تم دیواروں کو کپڑے پہناتی ہو؟ چنانچہ سیدہ نے اس کو اتار کر تکیہ بنا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھا کرتے تھے۔(مسند احمد24908)
۴۔ مذکورہ رواۃ کے علاوہ خود قاسم بن محمد کی روایت کے ایک طریق میں بھی واقعے کی یہی تصویر ملتی ہے جو امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ اس کے مطابق گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے یہاں سے ہٹا دو۔(مسنداحمد 24908)
۵۔ سیدہ عائشہ کی اپنی روایات کے علاوہ اس واقعے کا ذکر حضرت انسؓ کی ایک روایت میں بھی ہوا ہے اور وہاں بھی صرف اتنا ذکر ہے کہ گھر میں ایک باتصویر پردہ لٹکا ہوا تھا تو حضور نے سیدہ سے کہا کہ اس کی تصویریں نماز میں مجھے متوجہ کرتی رہتی ہیں، اس لیے اسے یہاں سے ہٹا دو۔(صحیح مسلم 3938)
ان تمام طرق میں جزوی تفصیلات کے فرق کے ساتھ قدر مشترک یہ ہے کہ باتصویر پردے کی ناپسندیدگی کی وجہ آرائش اور دنیاداری بتائی گئی ہے۔ کسی میں بھی تصویر سازوں کے عذاب یا فرشتوں کے گھر میں نہ آنے کا ذکر نہیں ہے۔
یہ بات کہ اس واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باتصویر کپڑے پر ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے وہ بات ارشاد فرمائی ہو جس کا قاسم بن محمد کی روایت میں ذکر ہے (یعنی تصویر بنانے والے کو عذاب اور فرشتوں کا گھر میں نہ آنا)، نہ صرف عقلی طور پر بے محل ہے، کیونکہ اس صورت میں اسی کپڑے کو تکیے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی، بلکہ واقعے کے دیگر تمام طرق سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے جس کی مختصر وضاحت عرض کی گئی۔ تاہم اس ضمن میں ایک فیصلہ کن وضاحت اتفاق سے خود سیدہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے جس کا متن یہاں درج کیا گیا ہے۔
’’اس روایت کے مطابق زید بن خالد جہنی نے ابو طلحہ انصاری سے یہ حدیث سنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا تصاویر ہوں، وہاں فرشتے نہیں آتے۔ زید بن خالد یہ سن کر تصدیق کے لیے سیدہ عائشہؓ کے پاس گئے اور پوچھا کہ ابو طلحہ مجھے یہ بات بتا رہے ہیں، کیا آپ نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ جواب میں سیدہ کہتی ہیں کہ نہیں، میں نے ایسا کچھ نہیں سنا، البتہ میں وہ واقعہ تمھیں سنا دیتی ہوں جو میں نے دیکھا۔ ایک دفعہ آپ کسی غزوے پر تشریف لے گئے۔ آپ کی غیر موجودگی میں، میں نے ایک بچھونا لے کر اسے دروازے پر لٹکا دیا۔ جب آپ واپس تشریف لائے تو مجھے آپ کے چہرے میں ناپسندیدگی دکھائی دی۔ آپ نے کھینچ کر اسے اتار دیا اور فرمایا کہ اللہ نے ہمیں گارے اور پتھر کو کپڑے پہنانے کی ہدایت نہیں کی۔ سیدہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہم نے اس کپڑے سے تکیے کے دو غلاف بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر لی تو اس پر آپ نے کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔’’(صحیح مسلم 2106)
سیدہ کی یہ تصریح کہ انھوں نے اس واقعے میں تصویر کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے زیادہ کچھ نہیں سنا، اس بات کی کم وبیش یقینی دلیل بن جاتی ہے کہ قاسم بن محمد کی روایت میں راویوں سے کچھ غلطی ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دیگر مواقع پر خاص تصاویر سے متعلق جو بات ارشاد فرمائی تھی کہ ان کے بنانے والوں کو عذاب دیا جائے گا (جو کتب حدیث میں متعدد صحابہ سے مروی ہے)، راویوں نے مضمون کی مناسبت دیکھتے ہوئے غلط فہمی سے اسے سیدہ عائشہ کے واقعے میں بھی درج کر دیا ہے جس سے واقعے میں ایک تضاد پیدا ہو گیا ہے اور ایک بالکل بے جوڑ سی بات بن گئی ہے۔
درست بات یہی لگتی ہے کہ آپ نے اس واقعے میں صرف دنیاوی زیبائش وآرائش کے پہلو سے یا نماز میں خلل انداز ہونے کے پہلو سے باتصویر پردے کو نمایاں طور پر لٹکانے کو ناپسند کیا، البتہ اس بات کو گوارا فرمایا کہ تکیے یا بچھونے کے طور پر ایسا کپڑا استعمال کر لیا جائے۔ جن احادیث میں مصوروں کے عذاب کا ذکر ہے، وہ الگ موقع کی ہیں اور ان میں فی نفسہ تصویر نگاری کو حرام نہیں بتایا گیا، بلکہ کسی خاص پس منظر میں ایسی تصویر سازی پر وعید بیان کی گئی ہے جس کے ساتھ کوئی غلط تصور یا عقیدہ وابستہ ہو۔
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم
The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
In the present age, one of the greatest forms of struggle is the battle of ideas and communication. In every era, people have used the means available to them to spread their message, explain their beliefs, and convince others of their cause. Today, these means are called social media and mass communication platforms. The tools may have become modern, fast, and highly advanced, but the fundamental purpose remains the same: to convey one’s message, shape public opinion, and create an atmosphere in support of one’s mission.
This reality is not new. Even during the time of the Holy Prophet Muhammad (PBUH), communication and public influence played a vital role. History shows that after the Battle of Ahzab, when various Arab tribes united and marched against Madinah, the Muslims faced an extremely difficult situation. The Qur’an itself vividly describes that tense atmosphere, where fear surrounded the believers from all directions. Yet despite their strength and alliances, the attacking forces failed, and Allah returned them unsuccessful and frustrated.
After this major confrontation ended, the Prophet (PBUH) addressed his companions in Masjid an-Nabawi and made two important observations:
First, the Prophet (PBUH) explained that the military power of Quraysh had now weakened. The battles of Badr, Uhud, and Ahzab had broken their momentum, and they would no longer dare to launch large-scale attacks against the Muslims. From that point onward, the initiative would remain with the Muslims.
Second, the Prophet (PBUH) explained that when nations fail on the battlefield, they turn to another weapon: language and propaganda. This is part of human nature. When swords fail, words begin their work. He warned the companions that the opponents of Islam would now wage a war of speeches, poetry, public campaigns, and slander. They would travel to gatherings and marketplaces, spread propaganda, and try to turn people against Islam and the Muslims.
The Prophet (PBUH) then asked who would take responsibility for this battle of words. Four companions stepped forward: three poets — Hazrat Hassan bin Sabit, Hazrat Ka‘b bin Malik, and Hazrat Abdullah bin Rawahah, along with the eloquent speaker Hazrat Sabit bin Qais (may Allah be pleased with them all). Under the guidance and encouragement of the Prophet (PBUH), they defended Islam through speech and poetry. Their mission was to present the teachings and beauty of Islam, introduce people to the noble character of the Prophet (PBUH), answer false accusations, counter hostile propaganda, and clarify the truth with wisdom and eloquence.
One remarkable example comes from the occasion of Umrat-ul-Qaza. The Muslims had previously been prevented from performing Umrah at occasion of Hudaybiyyah, but according to the peace agreement, they returned the following year. Around fifteen hundred companions entered Makkah with the Prophet (PBUH) in the state of Ihram. Hazrat Abdullah bin Rawahah (RA) was leading the Prophet’s camel while saying passionate lines filled with courage and resolve. As the companions recited the Talbiyah, he chanted powerful lines that reflected strength and determination in front of Quraysh.
Hazrat Umar (RA), noticing this near the Ka‘bah, signaled to him to stop. But the Prophet (PBUH) intervened and told Umar (RA) to let him continue. The Prophet (PBUH) then made a profound statement: that these words were striking the hearts of the enemy more deeply than arrows. This showed that communication itself can become a battlefield, and words can carry immense power in defending truth and strengthening morale.
In that era, the main tools of influence were public speaking, poetry, marketplaces, and cultural fairs. The Prophet (PBUH) himself attended famous gatherings like the fair of Ukaz, where people from different tribes gathered for trade, poetry, and debate. Amid all the activities, he consistently presented the message of Islam. This demonstrates that using the means and language of one’s time to spread truth is not only permissible but essential.
Even today, Islam, the Muslim Ummah, and the teachings of the Quran and Sunnah face an onslaught from all sides. There are objections, slanders, insults, and a barrage of propaganda coming from every direction. There is a global storm surrounding Islam, the Holy Quran, the noble personality of the Holy Prophet (PBUH), Muslims, religious people, and Islamic centers. To answer this and establish our own front is the greatest need of today — but through strategy, wisdom, logic, and reasoning. It is my firm belief that if we can correctly present the teachings of the Quran and Sunnah in today’s style and modern language, and counter the opponents' objections, slanders, and propaganda with technique and wisdom, it would be a major Jihad, a monumental battle, and the ultimate need of our time. May Allah Almighty grant Islam, Muslims, and the Muslim Ummah the ability to serve well in this field, just as in other fields.
فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی
۱۷ محرم الحرام ۱۴۴۷ھ / ۱۳ جولائی ۲۰۲۵م کو یہ غم انگیز خبر ملی کہ عالم ربانی، بزرگ قائد، باحمیت مصنف و مؤرخ، مخدوم و مکرم مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوری اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کے چھوٹے صاحب زادے اور دینی ملی کاموں میں ان کے جانشین، برادر محترم مولانا سعود الحسن صدیقی ندوی نے ایک دن پہلے ہی اطلاع دی تھی کہ والد گرامی سخت علیل ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں۔ اس اطلاع کے بعد ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا، لیکن اللہ تعالی کو انھیں اپنے پاس بلانا تھا اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سچ یہ ہے کہ ان کی وفات ملت اسلامیہ ہندیہ اور خاص طور پر مسلمانان غازی پور کے لیے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ جیسا کہ حضرت ابودردائؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وموت العالم مصیبۃ لا تجبر، وثلمۃ لا تسد، وہو نجم طمس، موت قبیلۃ أیسر من موت عالم۔ (رواہ الطبرانی والبزار و أبو یعلی وابن عساکر)
(عالم کی موت ایک ایسی مصیبت ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں، ایک ایسی دراڑ ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتی، وہ ایک ستارہ ہے جو بجھ گیا، ایک قبیلے کی موت عالم کی موت سے آسان ہے۔)
مولانا عزیز الحسن صدیقی حقیقی معنوں میں ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے متعلق لکھنے یا بولنے کے متعدد پہلو ہو سکتے ہیں۔ تصنیفی خدمات، سماجی خدمات، ملی خدمات، تربیتی خدمات، صحافتی خدمات۔ اس طرح کے متعدد مرکزی عناوین کے تحت کافی تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد اہل علم نے ان گوشوں پر اپنے اپنے انداز سے لکھا بھی ہے۔ لیکن مولانا کے ادنی عقیدت مند اور واقف کار کی حیثیت سے میں نے انھیں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی فکری وراثت کے ایک حقیقی وارث کی حیثیت سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے امتیازی پہلو بھی ہے اور ان کی شخصیت کی وجہ انفرادیت بھی۔
مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوری کو دیوبند کے ابتدائی بزرگوں کی محبت و عقیدت ورثے میں ملی تھی۔ ان کے والد محترم مولانا ابوالحسن صدیقی غازی پوری دارالعلوم دیوبند کے سند یافتہ تھے۔ مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کے ہم سبق تھے۔ مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمٰن عثمانی اور شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی ان کے خصوصی استاد و مربی تھے۔ مفتی اعظم سے اصلاحی تعلق بھی تھا۔ اس لحاظ سے ان کے صاحب زادے مفکر ملت مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی ان کے دوستوں میں تھے۔ مولانا ابوالحسن صدیقی نے دیوبند سے جاری ہونے والے مناہج اصلاح میں سے وہ منہج اختیار کیا تھا جو مسند درس یا مسند خانقاہ پر اکتفا کرنا نہیں سکھاتا تھا۔ بلکہ اس منہج میں سماجی مسائل اور یک گونہ سیاسی سرگرمی کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ منہج شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے ذریعے رائج ہوا۔ اس کو سمجھنے کے لیے مولانا عبیداللہ سندھی کی ذاتی ڈائری، مولانا حسین احمد مدنی کی نقش حیات اور مولانا سید محمد میاں کی اسیر مالٹا کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ غرض یہ کہ مولانا ابوالحسن صدیقی پوری طرح اس نظریے کہ حامی تھے جو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی سے شروع ہوا اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ذریعے عروج کو پہنچا۔ خود مولانا عزیز الحسن صدیقی نے لکھا ہے:
والد صاحب مرحوم صرف مدرسہ دینیہ کے مہتمم ہی نہ تھے بلکہ تحریک آزادی کے سرگرم سپاہی اور جمعیت علماء ہند کے فداکار بھی تھے۔ انڈین نیشنل کانگریس سے بھی وابستہ تھے۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلا کرتے تھے۔ (1)
اپنے والد گرامی سے مسلم قومیت اور ہندوستانی وطنیت کا جذبہ گھٹی میں پی کر مولانا عزیز الحسن صدیقی نے ہوش سنبھالا تو گھر میں آزادی اور مسلم علماء و قائدین کا تذکرہ بھی پایا۔ اس سلسلے کے کئی مزے دار واقعات انھوں نے اپنی آپ بیتی میں بیان کیے ہیں۔ ۱۹۲۸م سے ۱۹۶۸م تک مولانا ابوالحسن صدیقی نے غازی پور میں رہ کر ملک و ملت کی خدمت انجام دی۔ مولانا ابوالحسن صدیقی کی عملی زندگی کے آغاز کے چار سال بعد ۱۹۳۲م میں مولانا عزیز الحسن صدیقی کی پیدائش ہوئی۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا اپنے والد گرامی کی دینی و ملی جدوجہد کے ساتھ پروان چڑھے۔ جب ان کے والد محترم اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو وہ پوری طرح میدان میں آگئے۔ یوں وہ اپنے والد کی زندگی میں ہی سرگرم جدوجہد کا حصہ بن چکے تھے۔ مولانا نے اپنے متعلق بہت واضح انداز میں لکھا ہے:
دینی عقائد میں تو ہم اول درجے کے مقلد ہیں، مگر سیاسی اور ملی معاملات میں اپنی راہ خود متعین کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں میں کبھی نہیں رہے جو بلا سوچے سمجھے دریا میں تنکے کی طرح بہتے چلے جائیں۔ جہاں تک علمائے حق اور ان کی تحریک سے تعلق و محبت کا سوال ہے تو وہ ہمارے رگ و ریشے میں پیوست اور خون میں شامل ہے۔
روزے کہ پارہ پارہ شود استخوان من
ماند ہنوز در دل ریشم ہوائے تو
آج میں جس جگہ کھڑا ہوں وہاں مجھے پکڑ کر کوئی نہیں لایا میں خود آیا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ دین وملت کی خدمت کے جتنے بھی راستے ہیں وہ مدرسوں ہی سے ہو کر گزرتے ہیں، رجال کار یہیں ملتے ہیں۔ آج ہمارے اداروں اور جماعتوں میں جو نقائص نظر آتے ہیں، اس کا سبب بھی یہی ہے کہ فی زمانہ مدارس نے اچھا پروڈکشن دینا بند کر دیا ہے۔ یہ تنہا میں نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ سب اس بات پر متفق ہیں۔
میری پرورش و پرداخت جس ماحول میں ہوئی تھی، اس میں اگر تعلیم و تعلم کی ہما ہمی تھی تو سیاست کی گرم بازاری بھی، دینی جلسوں کے ساتھ طوق و سلاسل کی جھنکاریں بھی سنائی دیتی تھیں، کبھی مسلمان ناراض ہوتے تو گالیوں اور پتھروں سے نوازتے اور خوش ہوتے تو ہاتھ چومتے، لیکن ہم صلہ و ستائش کی تمنا سے نکل گئے ہیں اور اس بات کی ذرا پروا نہیں کرتے کہ کون خوش ہے؟ کون نا خوش ہے؟
ہم نے اپنے ادارے کو علماء کی فکر و نظر کا آئینہ دار بنایا اور اس کو کبھی نفع و ضرر اور ضرب تقسیم کے اصولوں پر نہیں چلایا۔ چندے حاصل کرنے کے لیے کبھی اصولوں کا سودا نہیں کیا۔ ہمارا ادارہ ہمیشہ ملی تحریکات سے جڑا رہا۔ سیاست کو کبھی شجر ممنوعہ نہیں سمجھا اور جو لوگ اس سے کنارہ کش ہیں ان کو برا بھلا بھی نہیں کہا۔ آزادی کے بعد ہمارے اکابر نے ہرگز یہ نہیں کہا تھا کہ مسلمان سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں، البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ مسلمان مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم اختیار کریں۔ مگر ہوا یہ کہ ان کے مقلدین دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ دامن جھاڑ کر مدرسے میں جا بیٹھا، دوسرا بس دور سے قصر سیاست کے طواف کرتا رہا۔ اب ایک گروہ کا اور اضافہ ہوگیا ہے جو مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی تنظیم کے قیام کی بات کرنے لگا ہے، حالاں کہ اس کی مضرتیں ظاہر ہو چکی ہیں۔
سیاست سے کنارہ کشی اور دوسرے لفظوں میں حقائق سے چشم پوشی اور آرام طلبی ہی کی وجہ سے آج علماء و مدارس نشانۂ ستم ہیں۔(2)
آگے چل کر مولانا عزیز الحسن صدیقی اور ان کے ساتھ کئی غیر معمولی شخصیات کو جمعیت علمائے ہند سے نکال دیا گیا۔ اگر مولانا صرف تنظیم کے آدمی ہوتے تو وہ بکھر جاتے یا اپنے موقف سے دست برداری اختیار کر کے معافی تلافی کرتے اور کسی بھی صورت میں تنظیم سے جڑے رہنے کی کوشش کرتے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بزرگوں سے جہد و عمل کا جو عہد باندھا تھا وہ کسی تنظیمی حد بندی کا محتاج نہ تھا۔ وہ اپنے عہد کو بہ سہولت نبھانے کے لیے تنظیم سے وابستہ ہوئے تھے۔ لیکن تنظیم سے وابستگی کو ایفائے عہد کی شرط کبھی نہیں بنایا تھا۔ اس لیے ان کے ساتھ تنظیم سے نکالے گئے بہت سے لوگ تقریبا ختم ہوگئے، لیکن مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری استقامت اور پوری افادیت کے ساتھ ملت کے لیے وقف رہے۔ قربان جائیے ان کی استقامت، ذہنی وسعت اور کشادہ ظرفی پر۔ جمعیت سے نکالے جانے کے بڑے واقعے کو انھوں نے ’’ایک فضول بحث‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس کے بعد نہایت متانت اور توازن کے ساتھ لکھا ہے:
’’ہمارے نزدیک اب یہ ایک فضول سی بحث ہے کہ ہم جمعیۃ سے نکل گئے یا نکالے گئے؟ یقینا ہم جمعیۃ کے اندر نہیں ہیں مگر وہ اب تک ہمارے اندر موجود ہے اور یہ وہ نسبت ہے جو ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ شیخ الاسلام اور مجاہد ملت کی محبت اور ان کا اسوہ و طریق بھلا کون ہم سے چھین سکتا ہے؟ بے شک ایک موقع ایسا آیا جب غلط فہمی کی بناء پر ہمارے خلاف ’’ڈسپلینری ایکشن‘‘ لیا گیا، جب کہ ہم نے جماعت کے خلاف نہ سازش کی تھی، نہ علم بغاوت بلند کیا تھا، بلکہ صرف یہ بات اٹھائی تھی کہ حکومت اور عوام کے بیچ علماء کی آواز کیوں کمزور پڑتی جا رہی ہے؟ ہم نے اس وقت یہ سوال اٹھایا تھا غازی پور کے ایک مختصر سے اجتماع میں، جس میں کوئی غیر نہیں تھا، مگر اس کو دیکھا گیا ایسی عینک سے جس میں صرف ایک ہی رنگ نظر آتا ہے اور وہ ہوتا ہے اختلاف کا رنگ۔ فی الاصل کچھ دن پہلے ہم نے قیام امارت سے اختلاف کیا تھا اور ہم ہی کیا؟ جماعت کے بہت سے حضرات نے کیا تھا۔ اس موضوع پر جمعیۃ ہی کے حلقے سے ایک کتاب بھی چھپ چکی تھی، جس میں اسی موقف کی وکالت کی گئی تھی جو ہم نے اختیار کر رکھا تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ حضرت مولانا اسعد مدنی کی غیر موجودگی میں (ممدوح ان دنوں غیر ملکوں کے دورہ پر تھے) امارت کا مسئلہ طے کر دینے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اس کے لیے جو اجتماع طلب کیا گیا تھا وہ محض رسمی تھا۔ اعلان بہر حال ہونا طے تھا۔ ہم سے یہ غلطی ضرور سرزد ہوئی کہ ہم نے اس تجویز کی مخالفت کی۔‘‘ (3)
یہ بات الگ ہے کہ اس معاملے میں مولانا کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کی عقیدت و جدوجہد کے مرکز میں ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انھوں نے لکھا ہے:
۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کی وہ مشاورتی میٹنگ جو چند اہل جنوں نے شوکت منزل غازی پور میں بلائی تھی، اس کے دعوت نامے میں یہی کہا گیا تھا کہ ’’ملک میں سیاست اور ایوان حکومت میں علماء کی ایک آواز تھی، ان کی رائے اور جدوجہد کی قدر کی جاتی تھی لیکن ۱۹۴۷ء سے ۱۹۸۷ء تک کے چالیس برسوں میں تدریجا وہ آواز ختم (بے اثر) ہو گئی۔‘‘ ہم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔ ضرورت تھی اس پر دھیان دینے کی، اس لے کو آگے بڑھانے کی، ملنے اور ملانے کی اور جوڑنے کی، مگر ہمارے دل کے درد کو محسوس کیا گیا، نہ ہمارے جذبات کی قدر کی گئی، ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے، ہمارا نہ دل بدلا ہے نہ دل بدلا ہے، نہ روش بدلی ہے، نہ ڈگر بدلی ہے، اپنے ہی بزرگوں کی مخالفت کر کے ہم اپنا نقصان کیوں کریں گے؟ اعتراف کرنا چاہیے کہ نوا کی تلخی نے کچھ تو فائدہ پہنچایا ہی ہے۔ (4)
مولانا عزیز الحسن صدیقی کے اس اعلان کے بعد کہ ان کا نہ دل بدلا ہے اور نہ دل، یہ بات پوری طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ فکر شیخ الہند کی سب سے نمائندہ تنظیم سے ان کی علاحدگی تنظیمی اور ظاہری تھی۔ ذہنی، قلبی یا منہجی نہ تھی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے شہر اور اپنے مدرسے کو میدان عمل قرار دیا اور پوری زندگی اسی کے لیے وقف کر دی۔
آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کا پر زور اظہار ضروری ہے کہ مولانا عزیز الحسن صدیقی نے غازی پور کو میدان عمل بنا کر زمانے کے لحاظ سے اپنا بڑا نقصان کیا تھا۔ وہ چاہتے تو بہت آسانی سے دہلی یا لکھنؤ کو اپنا مرکز بنا سکتے تھے۔ ان کی باوقار شخصیت ایک قومی شخصیت بن چکی تھی۔ لوگ ان کے مزاج اور طریقۂ کار سے بھی واقف تھے۔ اس لیے وہ بہ آسانی کسی بھی بڑی تنظیم یا ادارے میں معزز مقام حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ غازی پور میں رہے اور وہیں بیٹھ کر پوری آزادی، یکسوئی اور توازن کے ساتھ ملک و ملت کی اصلاح و تعمیر کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ ان کی آواز پورے ملک میں سنی گئی اور ان کو ہر حلقے میں ملت کے ایک نہایت سنجیدہ اور باوقار قائد کی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا۔ مولانا کی زندگی کے اس پہلو میں ہم سب کے لیے بڑا سبق ہے۔
بات چل رہی تھی مولانا عزیز الحسن صدیقی کے منہج شیخ الہند اختیار کرنے کی۔ غور کیا جائے تو شیخ الہند کی مابعد مالٹا جدوجہد کے دو حصے ہیں۔ ایک ہندو مسلم اتحاد پر زور اور سیاسی وزن پیدا کرنے کی کوشش۔ دوسرے مسلمانوں کی اندرونی اصلاح اور انھیں حقیقی مسلمان بنانے کی فکر۔ مالٹا سے واپس آنے کے بعد شیخ الہند کی زندگی کے یہی دو محور تھے۔ جب انھوں نے محسوس کر لیا کہ انگریز بوریا بسترا باندھنے کی تیاری کر رہا ہے تو انھوں نے اسے جلد از جلد ملک سے نکالنے اور اس کے جانے کے بعد پرامن ہندستان کی تعمیر کرنے کے لیے ہندو مسلم اتحاد بلکہ مسلم و غیر مسلم اتحاد کی کوشش شروع کی۔ انھوں نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا:
اس لیے ہندستان کی آبادی کے یہ دونوں بلکہ سکھوں کی جنگ آزما قوم ملا کر تینوں عنصر اگر صلح و آشتی سے رہیں گے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی چوتھی قوم خواہ وہ کتنی ہی بڑی طاقت ور ہو، ان اقوام کے اجتماعی نصب العین کو محض اپنے جبر و استبداد سے شکست کر سکے گی۔ ہاں یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ ان اقوام کی باہمی مصالحت اور آشتی کو اگر آپ پائے دار اور خوش گوار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی حدود کو خوب اچھی طرح دل نشین کر لیجیے اور وہ حدود بھی یہی ہیں کہ خدا کی باندھی ہوئی حدود میں ان سے کوئی رخنہ نہ پڑے۔ جس کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس صلح و آشتی کی تقریب سے فریقین کے مذہبی امور میں سے کسی ادنی امر کو بھی ہاتھ نہ لگایا جائے اور دنیوی معاملات میں ہرگز کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے کسی فریق کی ایذا رسانی اور دل آزاری متصور ہو۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک بہت جگہ عمل اس کے خلاف ہو رہا ہے۔ مذہبی معاملات میں تو بہت لوگ اتفاق ظاہر کرنے کے لیے اپنے مذہب کی حد سے گزر جاتے ہیں لیکن محکموں اور ابواب معاش میں ایک دوسرے کی ایذا رسانی کے درپے رہتا ہے۔ میں اس وقت جمہور سے خطاب نہیں کر رہا ہوں بلکہ میری گزارش دونوں قوموں کے زعما (لیڈروں) سے ہے کہ ان کو جلسوں میں ہاتھ اٹھانے والوں کی کثرت اور ریزولیشنوں کی زبانی تائید سے دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ یہ طریقہ سطحی لوگوں کا ہے، ان کو ہندو مسلمان کے نجی معاملات اور سرکاری محکموں میں متعصبانہ رقابتوں کا اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر فرض کرو ہندو مسلمان کے برتن سے پانی نہ پیے یا مسلمان ہندو کی ارتھی کو کندھا نہ دے تو یہ ان دونوں کے لیے مہلک نہیں۔ البتہ دونوں کی وہ حریفانہ جنگ آزمائی اور ایک دوسرے کو ضرر پہنچانے اور نیچا دکھانے کی وہ کوششیں جو انگریزوں کی نظروں میں دونوں قوموں کا اعتبار ساقط کرتی ہیں، اتفاق کے حق میں سم قاتل ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ حضرات میرے اس مختصر مشورے کو سرسری نہ سمجھ کر ان باتوں کا عملی انسداد کریں گے۔ (5)
دوسری طرف مسلمانوں کے حالات سدھارنے کے لیے شیخ الہند نے قرآن سے وابستگی اور انتشار کے خاتمے کو بنیادی ضرورت قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں مفتی محمد شفیع عثمانی کا یہ بیان ہماری رہنمائی کرتا ہے:
شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب قدس اللہ سرہ مالٹے کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند میں تشریف لائے تو علماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے ایک اہم بات ارشاد فرمائی۔
جو لوگ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے واقف ہیں وہ اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ان کی یہ قید و بند عام سیاسی لیڈروں کی قید نہ تھی۔ جنگ آزادی میں اس درویش کی ساری تحریکات صرف رضائے حق سبحانہ و تعالی کے لیے امت کی صلاح و فلاح کے گرد گھومتی تھیں، مسافرت اور انتہائی بے کسی کے عالم میں گرفتاری کے وقت جملہ جو ان کی زبان مبارک پر آیا تھا، ان کے عزم اور مقاصد کا پتہ دیتا ہے۔ فرمایا:
الحمد اللہ بمصیبتے گرفتارم نہ بمعصیتے
جیل کی تنہائی میں ایک روز بہت مغموم دیکھ کر بعض رفقاء نے کچھ تسلی کے الفاظ کہنا چاہے تو فرمایا: ’’اس تکلیف کا کیا غم ہے جو ایک دن ختم ہو جانے والی ہے، غم اس کا ہے کہ یہ تکلیف و محنت اللہ تعالی کے نزدیک قبول ہے یا نہیں۔‘‘
مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعد عشاء دارالعلوم میں تشریف فرما تھے۔ علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا۔ اس وقت فرمایا کہ ’’ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔‘‘ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے اسی سال علماء کو درس دینے کے بعد آخر عمر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں؟ فرمایا کہ ’’ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے ان کے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی، اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی بستی میں قائم کیے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔ (6)
بالکل اسی منہج پر چلتے ہوئے مولانا عزیز الحسن صدیقی نے غیر مسلموں سے روابط کی بحالی اور امت کی اندرونی اصلاح کو اپنا مشن بنایا۔ اس سلسلے کے نہ جانے کتنے واقعات ان کی آپ بیتی اور تذکیر کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں۔ نمونے کے طور پر دو تین واقعات ملاحظہ کیجیے۔
انڈین نیشنل کانگریس سے وابستگی کو ہمارے بزرگوں نے اس لیے اختیار کیا تھا کہ ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ ملک کی آزادی اور تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ فیصلہ درست بھی تھا۔ مولانا عزیزالحسن صدیقی دور آخر کے ان بزرگوں میں تھے جنھوں نے دور اول کے بزرگوں کو اس معاملے میں اپنا مقتدی بنایا تھا۔ اس سلسلے میں ان کا نظریہ اپنے بزرگوں کی طرح بالکل واضح تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
۱۹۶۰ سے ۱۹۷۷ تک میں ضلع کانگریس کمیٹی کا سرگرم ممبر رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کانگریس میں نیا خون داخل کیا جارہا تھا۔ ۱۹۶۹ میں جب کانگریس تقسیم ہوئی تو نجلنگ اپا صدر تھے، جو بعد میں سنڈی کیٹ کے صدر بنائے گئے اور سنڈی کیٹ پر اندرا کا قبضہ و اقتدار قائم رہا۔ ہم نے سوچا کہ شاید بوڑھی کانگریس میں نیا خون داخل ہو تو جوان ہو جائے، اس لیے ہم پرانے ساتھیوں اور دوستوں کو لے کر اس میں داخل ہوگئے۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اودھیش نرائن سنگھ دل سے چاہتے تھے کہ پرانے نیشنلسٹ مسلمانوں کو تنظیم میں جگہ ملے، مگر سیاسی فیصلوں کے وقت ہائی کمان کی پرانی روش اور فرقہ واریت کے مقابلے میں نرم پالیسی ہماری بے اطمینانی کا سبب بنتی گئی اور ہم آہستہ آہستہ کانگریس سے دور ہوتے چلے گئے اور سرگرم ممبری کا طوق بھی گلے سے اتار پھینکا۔ (7)
غیرمسلموں کے ساتھ مولانا عزیز الحسن صدیقی کا رابطہ نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ بے باکانہ بھی تھا اور تعقلانہ بھی۔ چنانچہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سخت فرقہ وارانہ ماحول میں ہندؤں کو رواداری کا سبق یاد دلانے کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
غازی پور میں غیرمسلموں کے ایک اجتماع میں خادم نے کہا تھا: کوئی بتائے کہ ہندو بھائیوں کے نزدیک ہندستان کے دو مقدس ترین مندروں (بنارس کے وشوناتھ مندر اور جنوبی ہند کے سوم ناتھ مندر) میں کیا کبھی کسی نے کسی ہندو عورت کو اپنے لال کو پجاری سے دم کراتے دیکھا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے اور شام کے جھٹ پٹے میں ایک ہندو عورت اپنے جگر کے ٹکڑے کو لے کر گاؤں کی سفالہ پوش مسجد کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی آستھا مسجد میں ہے اور جب تک یہ آستھا باقی ہے، عزیز ہندستان سے رخت سفر نہیں باندھ سکتا۔ (8)
غیرمسلموں کے ساتھ مولانا عزیز الحسن صدیقی کے روابط صرف نظریاتی یا صرف اعلی سطحی نہ تھے، بلکہ وہ ان کے ساتھ زمینی روابط رکھنے کی بھی پوری کوشش کرتے تھے۔ اس ذیل میں مولانا کے ذریعے ڈاکٹر وبھوتی نرائن رائے (سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس، یوپی) کو دیے گئے ایوارڈ کا تذکرہ بھی کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود خالص زمینی رابطے کی مثال دیکھنی ہو تو یہ واقعہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مولانا نے لکھا ہے:
شیرپور غازی پور کا ایک مشہور گاؤں ہے۔ اس گاؤں میں ہندؤں کی ایک بڑی ذات بھومی ہار بستی ہے۔ گاؤں کے کنارے ہریجن بھی آباد ہیں۔ دوسری بستیوں اور علاقوں کی طرح یہاں کے ہریجن بھی بھومی ہاروں کی خدمت میں لگے رہتے تھے، مگر اب یہ لوگ سر اٹھا کر چلنا چاہتے ہیں، جو بڑی ذات والوں کو پسند نہیں۔ ۱۹۷۵م میں کسی بات پر دونوں برادریوں میں جھگڑا ہوگیا اور یہ جھگڑا اتنا بڑھا کہ بھومی ہاروں نے ہریجنوں کی بستی کو جلا ڈالا اور اپنی ہی جھونپڑیوں میں کئی ہریجن جل کر راکھ ہوگئے۔
یہ ایک خالص انسانی مسئلہ تھا، اس لیے ہم اور ہاشمی صاحب وہاں گئے۔ ہم نے دونوں برادریوں کے سرداروں اور عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ ہم پہلے بھومی ہاروں سے ملے۔ وہ سمجھے کہ ہم ان کے حمایتی بن کے آئے ہیں۔ فورا ہی ایک خوش پوشاک اور دراز قد رائے صاحب نمودار ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں ایک خط تھا، جو کلکتہ سے آیا تھا۔ ہم نے خط پڑھا، خط انگریزی زبان میں تھا اور کمسار کے کسی مسلمان نے بھیجا تھا۔ خط میں شیرپور کے بھومی ہاروں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ہمارا اور تمھارا خون ایک ہے۔ اس لیے ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ ہم نے خط پڑھ کر لوٹا دیا اور اس کے بعد ہریجنوں سے ملنے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ہریجنوں کی پوری بستی جل چکی ہے اور وہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ شاید ہم پہلے مسلمان تھے جو ان سے ملنے گئے تھے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہم نے انھیں اطمینان دلایا، زمین پر جس طرح وہ اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ان کی بپتا سنی، ڈھارس دی، پھر کلکٹر دیوی دیال سے ملے۔ دیوی دیال چوں کہ ہریجن برادری سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے وہ بھی مجرم تھے۔ بے چارے شیرپور نہیں جا سکے تھے۔ ہم نے ان کو بھی ڈھارس دی۔ اخبارات میں ان کی حمایت میں مضامین چھپوائے۔
صورت حال یہ تھی کہ بابو جگ جیون رام جو اس وقت ہریجنوں کے مسیحا تھے اور کانگریس ہائی کمان سے تعلق رکھتے تھے، دیوی دیال کا ٹرانسفر کرانا چاہتے تھے۔ میں نے وزیر اعلی بہوگنا جی سے کہا کہ دیوی دیال کو غازی پور سے مت ہٹائیے۔ بہوگنا جی نے جواب دیا: جب تک یہ چمار (خود کو کہا) کرسی پر بیٹھا ہے، غازی پور کے چمار کلکٹر کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد دیوی دیال کو غازی پور سے چلتا کر دیا گیا۔ ایک دن میں دیوی دیال کے چیمبر میں بیٹھا ہوا تھا کہ بریلی کے کمشنر سے فون پر دیوی دیال کی بات شروع ہو گئی، گفتگو سے فارغ ہو کر دیوی دیال نے کہا: میں خوش ہوں کہ ایک مسلمان کمشنر کی ماتحتی میں جا رہا ہوں۔ (9)
اوپر پیش کی گئی تینوں مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مولانا عزیز الحسن صدیقی اپنے بزرگوں کے راستے پر چلتے ہوئے مسلم غیرمسلم تعلقات کو ملک کی بقا کے لیے لازمی سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کسی ایک نوعیت کے تعلق پر اکتفا کرنے کو درست نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ہر نوعیت اور ہر سطح کے تعلقات قائم کرنے کے علم بردار تھے۔ ان تعلقات کے ذریعے وہ سماجی خدمات اور سیاسی وزن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ منقسم ہندستان میں باوقار انداز میں زندگی گزارنے کا یہ وہ نسخہ تھا، جو انھوں نے براہ راست اپنے بزرگوں سے حاصل کیا تھا اور ان کے بزرگوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی سے۔
ہندو مسلم تعلقات کے بعد ہم مسلمانوں کے دینی و ملی شعور کی بے داری کی طرف آتے ہیں۔ مولانا عزیز الحسن صدیقی جانتے تھے کہ آزاد ہندستان میں ہمارے مسائل کی جڑ ہمارے اپنے ہی آنگن میں ہے۔ اسے دوسرے کے آنگن میں تلاش کرنا بے وقوفی ہوگی۔ اسی لیے وہ اپنی تحریروں، تقریروں اور مجلسوں میں مسلمانوں کو ہمیشہ ایمان راسخ، اخلاق فاضلہ، بلند ہمتی، علم کے حصول اور عمل صالح کی تلقین کرتے تھے۔ وہ سستی، غفلت، کاہلی اور بے شعوری کے سخت مخالف تھے۔ فضول خرچی خصوصا شادیوں میں اسراف پر سخت تنقید کرتے تھے۔ بے مقصد کانفرنسوں اور رسمی اجتماعات کو وقت کا ضیاع قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک امت کی اصل ضرورت عملی جدوجہد اور میدانی خدمت تھی، نہ کہ نعرے اور دعوے۔
مجھے ۲۰۱۵م میں مولانا عزیز الحسن صدیقی کی دہلی تشریف آوری کے موقعے پر ان کا انٹرویو لینے کا موقع ملا تھا۔ کافی بات چیت کے بعد میں نے مولانا سے امت کے لیے عمومی پیغام جاننا چاہا تو انھوں نے فرمایا تھا:
پیغام بس یہی ہے کہ آپ سچے مسلمان کا کردار ادا کریں۔ انسانیت کے خادم بنیں۔ انسانوں کے لیے نفع بخش بنیں۔ سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنائیں۔ سماجی خدمات انجام دیں۔ پیام انسانیت کے مشن کو اختیار کریں۔ موجودہ دور میں اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انسانیت کو اور ملک کو ہماری سخت ضرورت ہے۔ ایک اہم بات یہ کہ ہم خود اپنے ناقد بنیں۔ اپنے تمام معاملات پر سخت تنقیدی نگاہ ڈالیں، کڑا محاسبہ کریں اور پھر ہر میدان میں منظم ہو کر آگے بڑھنا شروع کریں۔ اگر ہم ایسا کرنے لگے تو ان شاء اللہ ہمارے تمام مسائل بہ خوبی حل ہونے لگیں گے۔ ہمیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ سرکاری مراعات کی بھیک نہیں مانگنی پڑے گی۔ مثال کے طور پر ایک مسلم انگریزی روز نامہ ہماری بہت اہم ضرورت ہے۔ لیکن احساس اور نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے ہم آج تک اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ اردو کو عام کریں۔ اپنے بچوں کو چاہے کسی بھی اسکول میں پڑھائیں، لیکن ان کے لیے کم از کم اتنی اردو سیکھنے کا انتظام ضرور کریں کہ وہ اردو لکھ پڑھ سکیں۔ ہندستان میں اردو کا تحفظ اسلامی تشخص کے تحفظ جیسا ہے۔ اس لیے اس طرف سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ (10)
اپنی آپ بیتی میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
ہمارے مدرسوں کی شان دار عمارتیں دیکھ کر فرقہ پرست بوکھلا گئے ہیں، اس لیے ہم کہیں گے کہ اب مدرسوں کی عمارتیں کم خرچ والی بنائی جائیں، مگر رفاہی کام بڑے پیمانے پر ہوں۔ شفا خانے اور اسکول زیادہ کھولے جائیں۔ برادران وطن نفع کی طرف خوب لپکتے ہیں، جب ان کو فائدہ نظر آئے گا تو بدل جائیں گے اور فرقہ پرست ٹرٹراتے رہ جائیں گے۔ (11)
خلاصۂ کلام یہ کہ مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری قائدین ملت کے اس کاروان کے آخری مسافروں میں تھے، جس نے جنگ آزادی کے دور میں اور حصولِ آزادی کے بعد پورے عزم و استقلال کے ساتھ ہندستان میں رہنا پسند کیا۔ یہاں باوقار زندگی گزارنے کا خواب دیکھا۔ اس خواب کو تعبیر کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی۔ پھر پوری زندگی اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے گزار دی۔ ہم نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا زمانہ نہیں پایا۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، سیدالامت مولانا سید محمد میاں دیوبندی اور اس صف اور منہج کے دوسرے علماء کو نہیں دیکھا، لیکن ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے عزیز ملت مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری کو دیکھا ہے۔ ان کی صحبتیں اٹھائی ہیں۔ ان کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے مولانا عزیزالحسن صدیقی غازی پوری کی شکل میں ایک ایسی شخصیت کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی ہیں، جسے عہد حاضر میں فکرِ شیخ الہند کا آخری حقیقی وارث و امین بھی کہا جا سکتا ہے۔
حواشی
(1) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 14
(2) حوالۂ سابق، ص 195, 196
(3) حوالۂ سابق، ص 203
(4) حوالۂ سابق، ص 168
(5) نقش حیات، سید حسین احمد مدنی، مکتبہ شیخ الاسلام، دیوبند، 2007، ج 2، ص 322, 323
(6) وحدت امت، محمد شفیع عثمانی، مرکزی انجمن خدام القرآن، لاہور، 1997، ص 39, 40
(7) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 162
(8) حوالۂ سابق، ص 241
(9) حوالۂ سابق، ص 170, 171
(10) ماہ نامہ المؤمنات، لکھنؤ، شمارہ: دسمبر 2015
(11) ہماں خاکم کہ ہستم، عزیزالحسن صدیقی، مکتبہ حسن، غازی پور، 2017، ص 25
مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی
مجاہد ختم نبوت مولانا اللہ وسایا
وہ سفید براق شلوار قمیص میں ملبوس سفید ہی ٹوپی اوڑھے چارپائی پر دراز تھے۔ ہم نے کمرے کے دروازے سے السلام علیکم کہا، آواز سنتے ہی انہوں نے ہماری طرف نظریں گھمائیں، ہمیں دیکھتے ہی بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ خندہ رو ہو کر فرمانے لگے: حضرت تشریف لائیے!
ان کے ساتھ ہماری شناسائی آج کی نہیں عرصہ کی ہے، اسی طویل محبت کا سہارا لے کر میں نے عرض کیا: جناب! آپ میرا نام بھول گئے، میرا نام حضرت نہیں، صرف محمد طاہر ہے۔ ماہنامہ التجوید کا مدیر ہوں۔ میرے جملے سنتے ہی چہرے پر بشاشت دوڑ گئی، تبسم سے چہرہ کھل گیا، کمرے کے اندر آنے کا حکم دیا اور کہنے لگے: آپ ہمارے بزرگوں سے قریبی تعلق رکھنے والے ہیں، آپ بھی ہمارے بزرگ ہیں، ہم اپنے بزرگوں کو کب بھولنے والے ہیں، ہمارے اکابر کے تعلق کے حوالے سے آپ ہمارے بھی بزرگ ہی نہیں ہمارے مربی ہیں۔
میں نے عرض کیا آپ کی محبت اور عزت افزائی اور تکریم پر شکرگزار ہوں۔ اسی دم اپنے خادم کو پکارے: انس! جلدی سے کرسی لاؤ۔ آپ نے بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ میں نے تعمیل کی لیکن میرے بیٹھنے تک وہ خود کھڑے ہی رہے۔ یہ ان کی تواضع کا انداز، ان کی عظمت اور اعلیٰ اخلاق کی دلیل تھی جو ان کو اپنے اکابر بزرگوں سے ورثہ میں ودیعت ہوا تھا۔
میں نے عرض کیا: مولانا آپ کا وقت بہت قیمتی ہے اور دنیا خود متاعِ قلیل ہے۔ اگر اجازت ہو تو اس متاعِ قلیل سے کچھ اپنا حصہ بانٹ لوں۔ اس سوال پر آنکھیں جھکا لیں، جو ان کی تواضع اور انکسار کا پتہ دے رہی تھیں۔ میں نے سوالیہ انداز اختیار کیا۔ مولانا اجازت ہو تو کچھ سوالات ذاتی زندگی کے حوالے سے پوچھ لوں۔ فرمانے لگے: تعارف نامے تو بڑے بڑے نامی گرامی اور مشاہیر کے ہوتے ہیں، میں تو حقیر فقیر سا انسان ہوں۔ بہرحال جو آپ پوچھیں گے، یادداشت کے مطابق عرض کروں گا۔ اس طرح سوال جواب کی نشست جمی۔
سوال: مولانا آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟
جواب: میری پیدائش دسمبر 1945ء کی ہے۔ گویا تشکیلِ پاکستان سے ڈیڑھ سال قبل۔ ہمارا خاندان لوکل ہے، ہم تشکیلِ پاکستان سے قبل ہی یہاں آباد تھے۔ اس طرح میں پاکستان سے ڈیڑھ برس بڑا ہوں۔ ہماری بستی اور موضع کا نام گرواں ہے۔ میری پیدائش اسی گاؤں میں ہوئی۔ ہماری برادری کا نام بھی گرواں ہی ہے۔ یہی ہمارا وطن اصلی ہے۔ یہ بستی، مبارک پور کے قریب ہے۔ ضلع بہاولپور لگتا ہے۔
سوال: بہاولپور کے حوالے سے کچھ تفصیل بتلائیں گے؟
جواب: بہاولپور بہت بڑی ریاست تھی، یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔ بعض لوگ اسے پس ماندہ کہتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں۔ بہاولپور تعلیمی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ علاقہ تھا اور ہے۔ عباسی خاندان بڑا علم دوست خاندان تھا۔ تقریباً ایک صدی پہلے یہاں پر جامعہ عباسیہ کے نام سے بہت عظیم درس گاہ قائم کئی گئی تھی، علم کے متوالے لوگ اس درس گاہ میں حصولِ علم کے لیے رخ کرتے تھے۔ اس درس گاہ نے بڑے مشاہیر اہلِ علم پیدا کیے۔ آج بھی جامعہ عباسیہ بہاولپور کا ایک نام ہے۔
سوال: آپ کے زمانے میں جامعہ عباسیہ کے شیخ الجامعہ کون تھے؟
جواب: اس وقت مولانا غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ تھے۔ ان کے نام کی تختی جامعہ کے صدر دروازے پر نصب ہے۔ اسی کو آج اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کہا جاتا ہے جو پاکستان کی اہم یونیورسٹی ہے۔ اس علاقہ بہاولپور میں اور بھی چھوٹے چھوٹے دینی مدارس موجود تھے۔ پورے علاقے کا اجتماعی مزاج دینی تھا۔ نواب آف بہاولپور دوسرے تعلیمی اداروں کی بھی مالی امداد کرتے تھے۔ جب پنجاب یونیورسٹی قائم ہوئی تو اس کی پرانی عمارت کی تعمیر کے لیے نواب آف بہاولپور نے کثیر مالی تعاون کیا۔ نواب صاحب کے نام کی تختی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی دیوار پر لگی ہوئی ہے جو اُن کی علم دوستی کی علامت ہے۔ تشکیلِ پاکستان کے وقت نواب آف بہاولپور بہت خوش تھے۔ انہوں نے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا۔ تشکیل کے وقت پاکستان کی مالی حالت کمزور تھی۔ نواب صاحب نے قائد اعظم کے ساتھ تعاون کیا اور کچھ عرصہ کے لیے پاکستان کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ریاست بہاولپور کے خزانہ عامرہ سے ادا کیں۔
سوال: مولانا آپ کا وطن اصلی کون سا ہے؟
جواب: میں نے عرض کیا ہے کہ میری پیدائش موضع گرواں میں ہوئی جو ہمارا جدی پشتی گاؤں ہے۔ میرا بچپن بھی اسی گاؤں میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے قریب دوسرے گاؤں بستی فقیراں کے مدرسہ رفیق العلماء میں حاصل کی، جو جامعہ عباسیہ کے تحت تھا، پھر موضع ڈتہ بلوچ کے سکول اور مدرسہ میں پڑھتا رہا۔ یہاں ایک اچھا بڑا مدرسہ تھا، میں نے اس مدرسہ میں موقوف علیہ تک کتابیں پڑھیں۔
سوال: آپ کے استاد کون تھے؟
جواب: میرے استاد کا نام مولانا حافظ اللہ بخش تھا جو جامعہ عباسیہ بہاولپور سے فارغ تھے۔
سوال: کیا اس مدرسہ میں صرف دینی تعلیم دی جاتی تھی؟
جواب: مدرسہ رفیق العلماء بستی ڈتہ بلوچ میں دینی تعلیم کے علاوہ عصری تعلیم کا بندوبست بھی تھا۔ مولانا حافظ اللہ بخش فارغ وقت میں درسِ نظامی پڑھاتے تھے۔
سوال: کیا آپ نے جامعہ عباسیہ کے ان مدارس کے علاوہ کسی اور درس گاہ سے بھی استفادہ کیا؟
جواب: جامعہ عباسیہ کے علاوہ میں نے قاسم العلوم ملتان میں داخلہ لیا اور وہاں سے دوبارہ مشکوٰۃ المصابیح پڑھی۔
سوال: آپ نے موقوف علیہ تک پڑھنے کے بعد دورہ حدیث کہاں سے کیا؟
جواب: دورہ حدیث کے لیے میں نے مخزن العلوم خانپور میں داخلہ لیا۔ یہاں پر مجھے مولانا عبداللہ درخواستی کی صحبت ملی جو بہت بڑے محدث تھے، مجھے ان کی خدمت میں رہ کر دورہ حدیث کی تکمیل کی سعادت حاصل ہوئی۔
سوال: مولانا محمد عبداللہ کے ساتھ درخواستی کا لاحقہ کس وجہ سے ہے؟
جواب: درخواست، خان پور کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔ مولانا عبداللہ اسی موضع کے رہنے والے تھے۔ اسی نسبت سے ان کو درخواستی کہا جاتا ہے۔ جیسے مجید لاہوری، گاماں پہلوان امرتسری وغیرہ کہا جاتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان، لاہور)
حضرت مولانا اللہ وسایا کے اعزاز میں تقریب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سیلیبریشن مارکی جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں 13 مئی 2026ء بروز بدھ بوقت 2 بجے تقریب تحسین کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب تھے۔
تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری امیر حمزہ صاحب کو حاصل ہوئی اور نعتیہ کلام معروف ثنا خوان جناب قاری ارشد محمود صفدر، گوجرانوالہ کی پہچان ننھے منے نعت خوان جناب محمد عمر شہباز اور حافظ محمد زین نے پیش کیا۔
تقریب کی غرض و غایت راقم نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب نے احتساب و محاسبہ قادیانیت کی 100جلدیں ترتیب دے کر امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے، آج ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے۔
مفکر ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے احتساب و محاسبہ قادیانیت پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ مولانا ہدایت اللہ جالندھری نے کہا احتساب قادیانیت 21 جلدیں مطالعہ مکمل کرنے کے بعد رات کو خواب میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور میں نے یہ منظر دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں، تکیے کے ساتھ احتساب قادیانیت کی کچھ جلدیں رکھی ہوئی ہیں۔ میں نے بعد از سلام عرض کی، یا رسول اللہ! یہ کتابیں آپ کے پاس کس لیے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "میں رات کو تھوڑا سا ان کو دیکھتا ہوں"۔
رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا مفتی عبد الواجد صاحب نے سپاس نامہ پیش کیا۔ ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ مولانا فضل الہادی صاحب نے عربی منظوم کلام کی صورت میں مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم کے اس عظیم کارنامہ کو سراہا۔ حضرت مولانا جواد قاسمی صاحب مسئول وفاق المدارس گوجرانوالہ نے وفاق المدارس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اللہ وسایا صاحب کی اس عظیم کاوش پر منعقدہ یہ تقریب بڑی اہمیت کی حامل ہے، عام طور پر شخصیات کے دنیا سے جانے کے بعد اس طرح کی تقاریب ہوا کرتی ہیں۔ مولانا کے بارے ان کی حیات میں ہی اس تقریب کا انعقاد قابل تحسین ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے امیر حضرت مولانا محمد اشرف مجددی صاحب نے صدارتی خطبہ پڑھتے ہوئے ابتدائے اسلام سے آج تک کے محافظین ختم نبوت کا تذکرہ یوں کیا جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔ نیز مولانا کی تصنیفی، تالیفی، تحقیقاتی خدمات کو سراہا جس سے حاضرین مجلس بہت محظوظ ہوئے۔
مولانا محمود الرشید قدوسی ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ اور مولانا قاری محمد یوسف عثمانی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ نے حضرت مولانا کو اعزازی و یادگاری شیلڈ پیش کی۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کی طرف سے حضرت مولانا کو سوٹ، رومال، دستار بطور ہدیہ پیش کیے گئے۔ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ (راقم) نے گوجرانوالہ و دیگر اضلاع سے شرکت کرنے والے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔
آخری خطاب مہمان خصوصی حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا ہوا۔ حضرت نے احتسابِ قادیانیت محاسبہ قادیانیت کے جمع و تدوین کے 36 سالہ سفر پر سیر حاصل گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہے کہ 100 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مکمل ہوا۔ اس میں ہر وہ کتاب، رسالہ، مضمون شامل ہے جو تقریبا پچھلے 125 سالوں میں رد قادیانیت پر لکھا گیا۔ دنیا بھر کی لائبریریوں اور ذاتی کتب خانوں سے مواد اکٹھا کیا گیا اور بالآخر 36 سالوں میں 1600 سے زائد کتابوں کو 55 ہزار سے زائد صفحات پر محفوظ کیا گیا۔ اس انسائیکلوپیڈیا کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں بیسیوں ایسی کتابیں اور رسائل شامل ہیں جو ناپید ہو چکے تھے اور بعض ایسی کتب بھی شامل ہیں جو مسودہ کی صورت میسر آئیں لیکن کبھی بھی چھپ کر منظر عام پر نا آ سکیں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے مولانا محمد اشرف مجددی صاحب (امیر)، قاری محمد یوسف عثمانی صاحب (ناظم اعلیٰ)، مولانا محمد الرشید قدوسی (ناظم)، سید احمد حسین زید (ناظم نشرواشاعت)، مفتی عبد الواجد غزالی (ناظم مالیات)، مولانا محمد عمر حیات (خطیب مرکز ختم نبوت گوجرانوالہ) کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی اور ان کی جملہ مساعی پر تحسین فرمائی۔ مولانا کا بیان تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہا۔
تقریب کا اختتام امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گجرانوالہ کی دعا پر ہوا، بعد ازاں حاضرین کو تناول ماحضر پیش کیا گیا۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر
مولانا فضل الرحمٰن کیلئے دعا
مولانا فضل الرحمٰن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔
مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات، دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد ان کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ علمائے حق کی صف میں ایک ایسا خلا واقع ہو گیا ہے جو تادیر باقی رہے گا۔ دور اندیشی الفاظ میں ڈھل کر متنبہ کر رہی تھی کہ ایک ایسی دینی تعبیر مسلم معاشروں میں سرایت کر چکی جو ہمارے اجتماعی وجود اور شعور کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ تعبیر مسلم علما اور عوام کی تکفیر کرتی اور ان کو مباح الدم قرار دیتی ہے۔ جرأت اس لہجے سے نمایاں تھی جو باطل کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
اقتدار کی سیاست کے ساتھ، مولانا نے مذہب کے سماجی کردار کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس وقت ان کا یہی کردار میرے پیشِ نظر ہے۔ انہیں ایک طرف اپنے مسلک کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف مذہبی تنوع اور مذہب کو درپیش چیلنجوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ ان پر مستزاد عالمی سیاست کی الجھنیں ہیں۔ ہماری مذہبی قیادت میں شاید ہی کوئی ہو جو ان کی طرح اس سیاست کو سمجھتا اور تاریخ کا شعور رکھتا ہو۔ ان پہلوؤں کا ادراک رکھتے ہوئے معاشرے میں مذہب کی نمائندگی کرنا آسان نہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ مولانا نے پاکستان کو بارہا انتشار سے بچایا، بالخصوص جب فرقہ واریت کا عفریت ہمارے وجود سے لپٹ گیا یا تشدد اور انتہا پسندی نے معاشرے کو فساد سے بھر دیا۔ یہ واقعات زیادہ پرانے نہیں۔ میں نے اور میرے بعد آنے والی نسل نے ان کو بچشمِ سر دیکھا ہے۔ یہ واقعات ہم پر بیتے ہیں۔
1990ء کی دہائی میں بطورِ خاص اور اس کے بعد بھی، شیعہ سنی تنازع ہمارے سماجی امن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی امام بارگاہ۔ جذبات تھے کہ قابو میں نہ آتے تھے۔ علما قتل ہو رہے تھے اور عوام بھی۔ اس فضا میں جب ایک دِیا سلائی دکھانے سے کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک سکتی تھی، جھنگ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ پانچ علما کو شہید کر دیا گیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا، بالخصوص جمعیت کے لیے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت جمعیت کے کارکنوں کے جذبات کیا ہوں گے۔ اعلان ہوا کہ نمازِ جمعہ کے بعد راجہ بازار راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ ہو گا، جس سے مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ میں نے جمعہ کی نماز ’دارالعلوم تعلیم القرآن’ میں پڑھی، جو شہر میں دیوبندی مسلک کا سب سے معتبر ادارہ اور راجہ بازار میں واقع ہے۔ یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی یادگار ہے۔ مسجد میں اندازہ ہو گیا کہ اس احتجاج کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ کارکن توقع کر رہے تھے کہ قائد ایک خاص مسلک کے خلاف اعلانِ جہاد کر سکتے ہیں۔
مولانا جلسے میں تشریف لائے اور ان کی تقریر نے جذبات کی آگ پر پانی ڈال دیا۔ وہ اجتماع جو اس واقعے کو جھنگ کی خاص فضا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہا تھا، اسے مولانا نے بتایا کہ اس واقعے کا تعلق شیعہ سنی اختلاف سے نہیں ہے۔ حاضرین کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پھیل گئی لیکن مولانا کی تقریر نے اس فساد کے سامنے بند باندھ دیا جو ملک بھر میں پھیل سکتا تھا۔ انہوں نے غم و غصے کا رخ بدل دیا اور اپنے ہم مسلکوں کو پیغام دیا کہ یہ شیعوں اور سنیوں کو لڑانے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ میں ان دنوں ایک نوجوان طالب علم تھا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج جب بال سفید ہو رہے ہیں، میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ مولانا کی فراست نے پاکستان کو فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والے فساد سے کیسے محفوظ رکھا جس کے مسلح علمبردار ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔
لاہور کا واقعہ بھی سب کو یاد ہو گا جب داتا دربار میں بم دھماکہ ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں۔ کچھ شرپسندوں نے اسے دیوبندی بریلوی جھگڑے میں بدلنا چاہا۔ مولانا اس وقت بھی سامنے آئے اور یہ اعلان کیا کہ سید علی ہجویریؒ ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دیوبندی ان کے مزار کو ہدف بنائے۔ پھر حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ وہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے ایرانی سفارتخانے گئے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات کے اس غلبے میں، یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مولانا کو معلوم تھا کہ انہیں اپنوں کی تنقید کا بھی ہدف بننا پڑے گا۔ اس کے باوصف انہوں نے وہی کیا جو مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں تھا۔
سب سے بڑا معرکہ انہوں نے جہاد کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کے خلاف لڑا۔ یہ تحریکیں مسلکِ دیوبند کو اپنا یرغمال بنا لیتیں اگر مولانا آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکتے۔ برصغیر میں علمائے دیوبند نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کیا ہے، یہ تلوار کے ساتھ تھا اور قلم سے بھی۔ انگریزوں کے اقتدار اور ان کے ساتھ تعاون کے خلاف فتوے بھی دیے گئے۔ کچھ گروہوں نے اس روایت کو مسلم حکمرانوں اور عوام کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہا جب افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا یا طالبان نے مسلح اقدام کیا۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے غیر ملکی استعمار اور مسلم اقتدار کے ساتھ، پاکستان اور افغانستان کے حالات کے فرق کو بھی نظر انداز کیا اور پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز کہا۔ یہ چونکہ اپنا تعلق دیوبند کی روایت سے جوڑتے تھے، اس لیے اس کے سب سے زیادہ اثرات بھی اس مسلک کے وابستگان پر مرتب ہوئے۔ مولانا کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہو گیا اور انہوں نے اس کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مولانا نے یہ خطرہ مول لیا۔ ان پر کم از کم تین قاتلانہ حملے ہوئے۔ اگر ان کی گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جان کا بچنا مشکل تھا۔ ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا۔ وہ جس خطے میں رہتے ہیں وہاں اس انتہا پسندانہ تعبیرِ دین کو ماننے والوں کا غلبہ ہے، مولانا جن کو للکار رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر مولانا کی تقریر جس جرأت مندی سے عبارت ہے، کوئی مصلحت پسند دنیادار اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ان کی بہادری کی تحسین کے ساتھ، مجھے اس خطاب سے پریشانی بھی ہوئی۔ میں مولانا محمد ادریس کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھ چکا کہ ایسے علما کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا ہے جو انسانی جان کی حرمت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قتل کے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسی سخت وعید سنائی ہے۔
ہم جب کسی فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مجموعی شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حکم کُل پر لگایا جاتا ہے، جزو پر نہیں۔ عصمت کا باب نبوت کے ساتھ بند ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن سمیت سب شخصیات کا معاملہ یہی ہے۔ مولانا نے سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جو کردار فی الجملہ ادا کیا ہے، اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا سمیت ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو معاشرے میں امن کے لیے کام کرتا اور انسانوں کو فساد سے بچانا چاہتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)
مولانا ادریسؒ کی شہادت کی اصل وجہ
KPK کے اندر ایک مرتبہ پھر ایک بہت بڑے جید عالمِ دین اور شیخ الحدیث مولانا ادریس کو شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کس وجہ سے؟
میرے بھائیو! معاشرے میں نفرت کے الاؤ کو دہکایا جا رہا ہے۔ جو بندہ حالتِ جنگ میں فوج کی حمایت کر دے، یا اداروں کے ساتھ کھڑا ہونے کی بات کر دے، اس کے اوپر ’’یزید کے پیروکار، بے ایمان، فراڈیے، بوٹ پالشیے‘‘ — ایک پارٹی مسلسل معاشرے میں اس نفرت کی آگ کو بھڑکا رہی ہے۔ شیخ صاحبؒ نے بھی اسی قسم کا بیان حالتِ جنگ میں دیا۔ اور جب بھی ملک حالتِ جنگ میں ہو، آپ کے فوج کے ساتھ لاکھ اختلاف ہوں، لاکھ اختلاف ہوں — پاکستان میں فوج کے ساتھ عوامی اور سیاسی جماعتوں کا یہ اختلاف تو ہے نا کہ آپ سیاست میں مداخلت نہ کریں — لیکن جب حالتِ جنگ ہو تو اس وقت فوج کے خلاف ہرزہ سرائی دشمنوں کو محفوظ کرنے والی ہوتی ہے۔ شیخ صاحبؒ نے یہی چند باتیں کہہ دیں:
’’یہ وہ ملک ہے جو اللہ کے نام پہ بنا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو بہت بڑی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ پاکستان میں، میں پاک بات ہی کروں گا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت اور بالخصوص ہمارے جو فیلڈ مارشل صاحب ہیں، حافظ صاحب، میں بالکل پاک بات کروں گا، یہ ان کی کوشش اور ان کی برکت سے یہ جنگ ختم ہوئی، الحمد للہ، پاکستان کا ایک نام بن گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑا نام پوری دنیا میں۔ اور پوری دنیا میں جہاں جہاں ہمارے لوگ کام کر رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ آج ہمارا پاسپورٹ آسمانوں کو چھو رہا ہے، لوگ قدر کر رہے ہیں، عزت کر رہے ہیں پاکستان کی، کیونکہ پاکستان کے سبب خلیج کی بہت بڑی جنگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رک گئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے۔
اور یہ جو بنا پھرتا ہے ٹرمپ … اس کو اللہ غرق کرے، یہ سارا مسئلہ اس نے کھڑا کیا … اسی نے سب کے گھروں میں آگ جلا دی ہے۔ تو شکر ہے کہ یہ آج پاکستان کا محتاج بن گیا ہے۔ آج بھی وہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان کے وزیر اعظم اور پاکستان کے فیلڈ مارشل صاحب کا نام لے کر کہ ان کی برکت سے یہ جنگ ختم ہوئی۔ اور بات مزید آگے بڑھ رہی ہے کہ وہ خود پاکستان اپنے وفود بھیج رہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان آجائیں … تاکہ اس سے پاکستان کا امیج اور نام مزید بن جائے گا۔
بات یہ ہے کہ آج ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ ہمارا ملک جتنا بلند ہو گا اس سے آپ کا بھی فائدہ ہے، ہمارا بھی فائدہ ہے، سب کا فائدہ ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو عزت دے، مزید عزت دے۔ جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں امن کے لیے — اور امن تو بہت اچھی چیز ہے، امن نہیں ہے تو تباہی ہے — جتنی کوششیں ہوئی ہیں اور مسلمان ممالک میں جو امن آیا، بد امنی ختم ہوئی، پاکستان کی کوششوں کی برکت سے ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ مزید ترقی دے، مزید کامیابی دے۔ یہ دعا ہم اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں کہ تمام ملکوں میں اللہ تعالیٰ امن لے آئے۔
ایک سوال یہاں کرتا ہوں، یہ ملک بہت بڑی قربانی کے بعد وجود میں آیا، اللہ تعالیٰ اسے مزید ترقی دے، اس ملک کے کونے کونے کو، گلی گلی کو، محلے محلے کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ کی روشنی سے منور کرے، آمین۔‘‘
پورا سوشل میڈیا KPK کا اُن کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ آپ یہاں سے اندازہ کیجیے کہ کوئی عالمِ دین آرمی چیف سے مل لے — میں اپنی بات کرتا ہوں، آرمی چیف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، آپ سوشل میڈیا اٹھا لیں: ’’یہ یزید کے ہاتھ پہ بیعت کر دی، یہ علماء بک گئے‘‘ — ہمارے ملک کی فوج ہے، ہمارے ملک کے افسر ہیں، ہم اُن کو کسی بات میں کوئی مشاورت دے دیں، یا کوئی یہاں پہ بات کر دیں تو بکاؤ ہو گئے؟ نوکر ہو گئے؟
اور پھر دوسری ایک پارٹی ہے پاکستان کے اندر: ’’جی پاکستان پورے کا پورا یہودی ایجنٹ ہے، وہ اس وجہ سے کہ سعودیہ کا ساتھی ہے، سعودیہ اسرائیل کا ساتھی ہے‘‘۔
یہ معاشرے میں نفرتوں کے الاؤ بھڑکا کر شیخ صاحبؒ کے خلاف دو دن پروپیگنڈا ہوا، شیخ صاحبؒ کو شہید کر دیا گیا اس کے بعد۔ میں یہ سمجھتا ہوں، شیخ صاحبؒ کو شہید کرنے والے — حقیقت میں اس پارٹی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں تو نفرت پھیلائی ہے لیکن حقیقت میں یہ قاتل نہیں ہوں گے، نہیں کہہ رہے، لیکن یہ علماء سے نفرت کی آگ اور الاؤ تو بھڑکا رہے ہیں۔ جس عالمِ دین کو نفرت کی بنیاد کے اوپر اور اس پاکستان سے محبت کی بنیاد پہ شہید کیا گیا، اس کے جنازے کے اندر اتنے لوگ شامل تھے، اتنے لوگ شامل تھے کہ گنتی میں نہیں آ رہے تھے۔
گزشتہ دو سالوں کے اندر چھ سے زائد اہلِ حدیث علماء — یہ تو دیوبند مسلک سے تھے، شیخ الحدیثؒ تھے — مولانا عزت اللہؒ، مولانا رحمت عیسٰیؒ۔ مولانا فریدی صاحبؒ کو پچھلے ماہ میں شہید کیا گیا۔ کون لوگ شہید کرتے ہیں؟ وطن دشمن، پاکستان دشمن، جن کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ ’’یہ علماء مرتد ہو گئے ہیں۔ یہ جو فوج ہے یہ پاک فوج نہیں ہے یہ ناپاک فوج ہے، یہ مرتد ہیں، ان کا خون مباح ہے، ان کو قتل کر دو، شہید کر دو‘‘۔
معاشرے میں دو فکریں ہیں جو اصل میں ایک ہی فکر ہے، خارجی، لیکن دو ناموں سے چل رہی ہیں: ایک خارجیت اور ایک رافضیت کے نام سے۔ جو صحابہؓ کی تقدیس کا جھنڈا اٹھائے اس کو مار دو۔ جو اسلام اور وطن اور پاکستان کے دفاع کی بات کرے اس کو مار دو۔ خارجیت کے نام کے اوپر، رافضیت کے نام کے اوپر۔
علماء کو مسلسل شہید کیا جا رہا ہے، آپ حیران رہ جائیں گے کہ کس تسلسل سے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کو ۱۹۸۷ء میں پاکستان کے پہلے بم بلاسٹ میں شہید کیا گیا۔ کہاں ہیں قاتل؟ پکڑے گئے؟ ایک ٹک ٹاکر کا قاتل چوبیس گھنٹے میں پکڑا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نا پکڑیں۔ پکڑیں! لیکن علمائے دین کے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے آپ نے کبھی بھی اُس طرح کی تیزی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایک فوجی اہلکار، ایک پولیس اہلکار وطن کے لیے جان قربان کر دے تو سرکاری اعزازات کے ساتھ اس کو دفن کیا جاتا ہے۔ دفن کیا جانا چاہیے۔ لیکن وہ عالمِ دین جو اسلام اور پاکستان اور صحابہؓ کا دفاع کرتے ہوئے دنیا سے چلا جائے وہ قانون اور آئین کا محافظ نہیں؟ کبھی آپ نے اس کو بھی سرکاری اعزاز سے نوازا ہے؟ کیا اِن علماء کا حق نہیں ہے کہ ان کی بھی ویسے ہی قدر کی جائے جیسے آپ اپنے اہلکاروں کی کرتے ہیں؟
روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین
روداد اجلاس منعقدہ ۴ مئی بمقام آسٹریلیا مسجد
ملی مجلس شرعی کے علماء کرام کا اجلاس صدر مجلس مولانا زاہد الراشدی صاحب کی صدارت میں ہوا۔ ایجنڈے کے نکات پر گفتگو کا خلاصہ اور فیصلے درج ذیل ہیں:
۱۔ اسلام کے عائلی نظام کے خلاف عدالتی فیصلے اور حکومتی قانون سازی
راقم نے موضوع کا تعارف کرایا۔ حافظ عبد الغفار روپڑی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا رضاء الحق اور دیگر علماء کرام نے اس خیال کا اظہار کیا کہ پچھلے کچھ عرصے سے اسلام کے عائلی نظام کے خلاف قانون سازی اور اعلیٰ عدالتوں کے غیر شرعی فیصلوں میں تیزی آگئی ہے۔ ججوں اور وکلاء کی اسلامی قانون میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔ دینی عناصر کو اس رویے کے خلاف چوکسی دکھانا ہوگی۔ فیصلہ کیا گیا کہ مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس موضوع پر ایک مبسوط رپورٹ تیار کرے جو حکومتی اور قانون ساز اداروں اور اعلی عدالتوں کو بھجوائی جائے:
ا۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی
۲۔ مفتی شمس الدین ایڈوکیٹ / سیدہ عظمیٰ گیلانی ایڈوکیٹ
۳۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
۴۔ مولانا رضاء الحق
۵۔ ڈاکٹر محمد امین (کنوییز)
۲۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے عورتوں کے دودھ بنک کی منظوری
راقم کے بعد مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب نے اس موضوع پر روشنی ڈالی۔ علماء کرام کی اکثریتی رائے یہ تھی کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے نظریاتی کونسل نے جس طرح فون پر سرسری رائے لے کر عجلت میں اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، وہ غیر مناسب ہے اور شرعی لحاظ سے بھی صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں ایک بات تو یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم پاکستانی مسلمان ہر وہ کام کریں جو مغرب میں یہود و نصاری کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا مسلم معاشرہ مغربی معاشروں سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں دودھ بنگ کی کوئی خاص ضرورت نہیں اور اس بنک کے قیام سے اسلام کے رضاعت، مصاہرت اور عفت کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے، لہٰذا اسلامی نظریاتی کونسل کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ علماء کرام اور دینی جماعتوں کو بھی کونسل کے اس فیصلے کو رد کرنا چاہیے۔
۳۔ ایران کی حمایت کے حوالے سے مسلکی اختلافات
اس موضوع پر صدر مجلس، حافظ عبد الغفار روپڑی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا رضاء الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا غضنفر عزیز اور دوسرے علماء کرام نے اظہار خیال کیا۔ اس پر سب کا اتفاق تھا کہ پاکستان کے عوام حملہ آور یہود و نصاریٰ کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے ایرانی بھائیوں کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے فریقین کے درمیان مصالحت کو بھی سراہا گیا اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے اہلِ تشیع بھی اس سلسلے میں اعتدال اور رواداری سے کام لیں گے۔
۴۔ قرآن حکیم کا متفقہ ترجمہ
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان اور حافظ ڈاکٹر حسن مدنی نے اس سلسلے میں حکومتِ پنجاب کے قرآن بورڈ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ مولانا رضاء الحق نے ’علم فاؤنڈیشن‘ کے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان وضاحتوں سے یہ پتا چلا کہ جس ترجمے کو متفقہ ترجمہ کہا جا رہا ہے اُس میں کئی جگہوں پر ترامیم ہو چکی ہیں لیکن ان کی کسی مرکزی اتھارٹی سے منظوری نہیں لی گئی۔ نیز جب مرکزی وزارتِ تعلیم نے متفقہ ترجمہ منظور کیا تھا تو اس وقت اس میں اختلافی حواشی موجود نہ تھے جنہیں اب لوگوں نے شائع کر دیا ہے اور ان پر مقتدر علماء کرام کی پچھلی تقاریظ بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ ان سب امور نے مل کر فکری خلفشار کی صورت اختیار کر لی ہے۔ سوال یہ تھا کہ ملی مجلس شرعی اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ چونکہ کئی سینئر علماء نمازِ ظہر کے بعد جا چکے تھے اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ اس معاملے کو اگلی نشست تک مؤخر کر دیا جائے۔
۵۔ بلاسفیمی بزنس / توہینِ رسالت قانون
راقم نے واضح کیا کہ اس موضوع پر مجلس کی نشست مؤرخہ ۳۱ جولائی ۲۰۲۵ء میں ایک تحقیقی کمیٹی حافظ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب کی کنوینرشپ میں قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے جب اپنی رپورٹ دی تو اس پر صدر مجلس، جنرل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور دیگر کا خیال تھا کہ اس کمیٹی نے سارے مقدسات کو شامل کر لیا ہے اور زیادہ تر اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیسز تک محدود رہی ہے جبکہ موضوع کا تقاضا یہ تھا کہ صرف توہینِ رسالت کے موضوع پر ترکیز کی جاتی۔ معاملے کو اس کے کلی تناظر میں دیکھا جاتا کہ اس کا بینی فشری [مستفید] کون ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے یا ہیں؟ پرانی کمیٹی کے ارکان نے بھی اپنی پوزیشن کی وضاحت کی۔ بحث و مناقشے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک نئی کمیٹی بنائی جائے جو وسیع تر تناظر میں اس قضیے کا جائزہ لے اور پرانی کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے رکھے:
ا۔ مولانا غضنفر عزیز
۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
۳۔ مولانا ڈاکٹر عمران انور نظامی
۴۔ ڈاکٹر محمد امین (کنوینر)
صدر مجلس کی دعا سے نشست کا اختتام ہوا۔
فہرست شرکاء اجلاس
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ)
۲۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد امین (صدر تحریک رجوع الی القرآن، لاہور)
۳۔ حافظ عبد الغفار روپڑی (مہتمم جامعہ اہلِ حدیث، لاہور)
۴۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی (مہتمم جامعہ اسلامیہ، کامونکی)
۵۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (مشیر امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، لاہور)
۶۔ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان (چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ، لاہور)
۷۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (مہتمم جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور)
۸۔ مولانا غضنفر عزیز (استاد جامعہ اشرفیہ، لاہور)
۹۔ مولانا عبد الودود (امیر جمعیت علماء اسلام، لاہور)
۱۰۔ حافظ محمد نعمان حامد (صدر لجنۃ العلماء، لاہور)
۱۱۔ حافظ ڈاکٹر محمد سلیم (مدیر جامعہ عثمانیہ، لاہور)
۱۲۔ مفتی شمس الدین ایڈوکیٹ (عالمی مجلس مفتیان کرام، کالاشاہ کاکو)
۱۳۔ مولانا رضاء الحق (ناظم نشر و اشاعت، تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
۱۴۔ مولانا عبد الرؤف (تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
۱۵۔ پیر محمد زبیر جمیل (جامع مسجد امن باغبانپورہ، لاہور)
۱۶۔ قاری اعجاز احمد (جامع مسجد عمر فاروق، لاہور)
۱۷۔ مولانا محمد عبد اللہ (آسٹریلیا مسجد، لاہور)
۱۸۔ قاری محمد عثمان رمضان (پاکستان شریعت کونسل، لاہور)
۱۹۔ حافظ مبشر اقبال (جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور)
۲۰۔ مولانا محمد نواز (جامع ابوبکر، لاہور)
روداد اجلاس بلاسفیمی بزنس کمیٹی منعقدہ ۱۳ مئی بمقام منصورہ
۱۔ کمیٹی کے تین ارکان (ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر محمد امین، مولانا غضنفر عزیز) موجود تھے۔ مولانا ڈاکٹر عمران نظامی صاحب نے کسی عذر کی وجہ سے آنے سے معذرت کی۔
۲۔ کمیٹی کے ارکان نے بحث و مناقشہ کے بعد طے کیا کہ:
i۔ ہم سب اس پر متفق ہیں کہ توہینِ رسالت سارے مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، لہٰذا پاکستان جیسے مسلم معاشرے میں کسی کو قطعاً اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ اسے برداشت کیا جا سکتا ہے کہ کوئی نبی کریم ﷺ کی اہانت کرے۔ خدانخواستہ اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے تو اسے قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔
ii۔ یہ کہ دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں میں ان کیسوں میں تاخیر کی جا رہی ہے جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کیسوں کو جلدی نمٹایا جائے اور مجرموں کو کڑی سزائیں فوراً دی جائیں۔
iii۔ مولانا غضنفر عزیز صاحب کے ذمے لگایا گیا کہ وہ اُن لوگوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کریں جن پر الزام ہے کہ وہ بلاسفیمی بزنس میں مصروف ہیں۔ جب وہ ایسے ثبوت اکٹھے کر لیں تو ان پر غور کے لیے کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا تاکہ فراہم کردہ مواد کی بناء پر کوئی رائے قائم کی جا سکے۔
روداد اجلاس عائلی قانون کمیٹی منعقدہ ۱۶ مئی بمقام جامعہ لاہور الاسلامیہ
۱۔ راقم نے تجویز پیش کی کہ ایک مبسوط رپورٹ تیار کی جائے جس کے تین حصے ہوں۔ پہلے حصے میں اسلام کے عائلی قوانین کی اساسات اور برصغیر میں اس پر عمل کا ذکر ہو۔ دوسرے حصے میں پاکستان میں جتنے عائلی قوانین خلافِ شرع بنے ہیں اور جتنے عدالتی فیصلے غیر اسلامی ہوئے ہیں اُن کا ذکر ہو۔ اور تیسرے حصے میں وکلاء حضرات ان مشکلات اور پروسیجرز کا بتائیں جن کے ذریعے یا جن کے غلط استعمال سے عدالتوں میں غیر اسلامی فیصلے ہوتے ہیں۔
۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے کہا کہ ضخیم رپورٹ کو بہت کم لوگ پڑھیں گے اور وہ ایک علمی کتاب بن کر رہ جائے گی اس لیے رپورٹ مختصر ہونی چاہیے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر حسن مدنی صاحب، مفتی شمس الدین ایڈووکیٹ صاحب اور محترمہ سیدہ عظمیٰ گیلانی صاحبہ ایڈووکیٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
۳۔ بحث و مناقشے کے بعد اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب، سیدہ عظمیٰ گیلانی صاحبہ اور مفتی شمس الدین صاحب پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو ایک مختصر لیکن جامع رپورٹ تیار کرے۔ فائنل رپورٹ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب مرتب کریں گے۔ اس رپورٹ کی مجلس سے منظوری کے بعد اسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز، قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان، سپیکر اور چیئرمین سینٹ اور دیگر حکومتی و دینی حلقوں کو بھیجا جائے گا۔
مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ
امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں عرب لیگ اور او آئی سی کی خاموشی
از قلم: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ — صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
جمعیت اہلِ سنت والجماعت حنفی دیوبندی (رجسٹرڈ) گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام ۳ اپریل ۲۰۲۶ء کو جامعہ قاسمیہ ملہی چوک میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ جمعیت کے سرپرستِ اعلیٰ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنے خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ نے نہ صرف بیت المقدس کے تقدس اور اس کی آزادی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نازک صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے طبقاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے پر گامزن ہے جبکہ ایران ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کے قیام کے لیے کوشاں ہے، اور دونوں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں عرب لیگ اور او آئی سی کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے، جنہیں فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، بصورتِ دیگر تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
امریکہ ایران جنگ بندی کا خیرمقدم
جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی (رجسٹرڈ) گوجرانوالہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا زاہد الراشدی نے جمعیت کے سرکردہ راہنماؤں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک جنگی صورتحال میں پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فوری طور پر ایران امریکہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے احسن کردار کو سراہا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے حالیہ جنگ بندی مزید مستحکم حالات پیدا کرنے کے لیے معاون ثابت ہو گی۔ امید ہے کہ عرب لیگ اور او آئی سی پاکستان کے کامیاب اور مؤثر کردار کو قابل تقلید سمجھتے ہوئے اپنی بیداری ظاہر کرتے ہوئے امت مسلمہ کی وحدت اور تمام اسلامی ممالک کے مشترکہ مفادات اور اہداف کے حوالے سے عملی اقدامات کریں گے۔ اجلاس میں مولانا قاری محمد ریاض چشتی، مولانا جواد محمود قاسمی، حاجی بابر رضوان باجوہ، مفتی نعمان احمد، مولانا امجد محمود معاویہ، حافظ عبد الجبار شریک تھے۔
اتحادِ علماء و حفاظ کنونشن سے خطاب
روزنامہ نیو دن، لاہور — ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ء
شکرگڑھ (تحصیل رپورٹر) وہ خبر نہ نشر کی جائے جس سے معاشرے میں فساد پھیلے۔ خبر کا درست ہونا ہی کافی نہیں۔ مذہبی سکالر مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ روز جامعہ خالد بن ولید نورکوٹ میں ’’اتحادِ علماء و حفاظ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا بے لگام گھوڑا بن چکا ہے۔ کوئی خبر بلاتحقیق نہ نشر کی جائے۔ خبر کا درست و صحیح ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس خبر کے معاشرے پر ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔ اگر خبر کے نشر ہونے سے انتشار و فساد پھیلے تو اس سے پرہیز کریں۔ اتحاد کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڑ ہی میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام ضرور آئیں۔ اس موقع پر قرآن مجید حفظ کرنے والے بچوں کی دستار بندی بھی کی گئی۔ شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اس کو یاد رکھنے کی فضیلت و اہمیت بھی بیان کی۔ کنونشن میں خطیب اہل سنت مولانا عاصم شاد نے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد کے عنوان پر گفتگو کی۔ کنونشن میں علماء و حفاظ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
فہمِ قرآن اسلامک سنٹر کی تقریب سے خطاب
روزنامہ نیشنل یوتھ — ۲۸ اپریل ۲۰۲۶ء
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) دنیا کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ اس وقت دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل قرآن و سنت میں ہے اور جو مسائل آئندہ پیش آنے والے ہیں ان کا حل بھی قرآن سے ہی ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا زاہد الراشدی نے فہمِ قرآن اسلامک سنٹر (شہزاد ٹاؤن، گوجرانوالہ) میں مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کی نئی تصنیف ’’دروس القرآن: سورہ یس مع سفر حرمین شریفین‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عالمی سیاست اور اُمّتِ مسلمہ: ایک فکری و تجزیاتی محاضرہ — ایک نظر میں
ازقلم: مولانا فضل الرحمٰن افضل
ہمارے ادارے جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن نارتھ کراچی) کے لیے یہ ایک سعادت اور اعزاز کی بات تھی کہ مفکرِ اسلام، حضرت اقدس مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہوئی۔ حضرت والا زید مجدہم ہر سال ہمارے ادارے جامعہ انوار القرآن میں تشریف لاتے ہیں اور کئی اہم موضوعات پر محاضرات ارشاد فرماتے ہیں۔ اِس سال (۳۰ اپریل ۲۰۲۶ء) بھی حسبِ ترتیب تشریف آوری ہوئی اور آپ نے نہایت اہم اور عصرِ حاضر سے متعلق موضوع "عالمی سیاست اور امتِ مسلمہ" پر ایک بصیرت افروز محاضرہ ارشاد فرمایا، جسے اساتذہ کرام، طلبہ اور باہر سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی نے نہایت توجہ اور شوق سے سنا اور بہت زیادہ فائدہ محسوس کیا۔ اِس موقع پر ادارے کے نائب مہتمم حضرت مولانا رشید احمد درخواستی صاحب مدظلہم اور ناظمِ اعلیٰ حضرت مفتی حبیب احمد درخواستی مدظلہم بھی تشریف فرما تھے۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہم نے اپنے خطاب کے آغاز میں خلافت کے تصور کو واضح کرتے ہوئے اس کی تعریف، تکییف (حقیقت و نوعیت) اور تاریخی ارتقاء پر مدلل گفتگو فرمائی۔ آپ نے خلافتِ راشدہ کے روشن نمونے کو بیان کیا اور بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والی ملوکیت اور دیگر طرزِ حکمرانی کا تقابلی جائزہ پیش کیا، جس سے سامعین کو اسلامی نظامِ حکومت کی اصل روح کو سمجھنے میں مدد ملی۔ بعد ازاں حضرت نے موجودہ عالمی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اور اس کے اثرات کا تجزیہ کیا۔ خصوصاً اسرائیل کے “گریٹر اسرائیل” نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی سیاست میں امتِ مسلمہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت مولانا نے نہایت اہم اور بنیادی نکات پیش کیے۔ آپ کے مطابق مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے دو امور ناگزیر ہیں:
- اول: ریاستی سطح پر چند اسلامی ممالک میں دستوراً اور عملاً شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ ہو، تاکہ ایک حقیقی اسلامی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
- دوم: اسلامی ممالک کا ایک متحدہ پلیٹ فارم قائم ہو، جہاں سے اجتماعی طور پر امت کے مسائل پر مؤثر آواز بلند کی جا سکے۔
اسی تسلسل میں حضرت نے سیاستِ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پر ایک جامع مگر مختصر نظر ڈالی اور یہ واضح فرمایا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سیاست عدل، حکمت اور انسانیت کی فلاح پر مبنی تھی، جو آج کے دور میں بھی مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔
محاضرہ کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں حاضرین نے اپنے اشکالات پیش کیے اور حضرت مولانا نے نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ ان کے جوابات عنایت فرمائے۔ آخر میں مجمع کی درخواست پر حضرت نے حدیثِ مسلسل بالاولیۃ پڑھ کر اس کی اجازت مرحمت فرمائی، جس سے محفل کو ایک روحانی اور علمی حسنِ اختتام حاصل ہوا۔ یہ محاضرہ یقیناً طلبہ و اساتذہ کے لیے فکری رہنمائی اور بیداری کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مدظلہم کی عمر میں برکتیں عطا فرمائے اور اُن کی جملہ دینی خدمات قبول فرمائے۔
حضرت مولانا ادریسؒ کی شہادت پر جمعیت اہلِ سنت کی تعزیتی نشست
از قلم: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
پریس ریلیز (۷ مئی ۲۰۲۶ء) جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کی طرف سے مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے حوالے سے تعزیتی نشست کا انعقاد جامعہ مدینۃ العلم میں جمعیت کے صدر مولانا قاری محمد ریاض کی صدارت میں ہوا۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ علامہ زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں اس المناک سانحہ کی بھرپور مذمت کی۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پہ گہرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پے در پے علماء کی ٹارگٹ کلنگ اور جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیوخ اساتذہ کو نشانہ بنایا جانا قابلِ تشویش ہے، اس پہ حکومت وقت کو بروقت سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے کارروائی عمل میں لانا ہو گی۔ ہماری دینی قیادت اس حوالے سے جو بھی لائحہ عمل طے کریں گے ہم اپنی سطح پر اس پہ عملدرآمد کریں گے۔ تعزیتی نشست میں شہید مولانا محمد ادریس کی علمی، دینی، تدریسی اور ملی خدمات کو سراہتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی بلندئ درجات اور مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ نشست میں حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا پیر جی مشتاق، مولانا فضل الہادی، حافظ عبد الجبار، حافظ محمد عثمان اور دیگر علماء کرام اور طلباء کی نمایاں تعداد نے شرکت کی۔
معرکۂ حق یومِ تشکر کی تقریب
رپورٹ: مولانا فضل اللہ راشدی
۱۱ مئی ۲۰۲۶ء بروز سوموار جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور میں ’’یومِ تشکر (بنیان مرصوص)‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں علمائے کرام، طلبۂ عظام اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس بابرکت اجتماع کے مہمان خصوصی جانشین امام اہل سنت مولانا علامہ زاہد الراشدی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ’’بنیان مرصوص‘‘ کے قرآنی تصور کو اجاگر کیا اور فرمایا کہ امتِ مسلمہ کی حقیقی قوت اس کے باہمی اتحاد، فکری ہم آہنگی اور دینی وابستگی میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جب قوم اپنے نظریے، عقیدے اور مقصدِ حیات کے گرد سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو جاتی ہے تو کوئی بیرونی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ شکرگزاری کا تقاضا صرف زبانی کلمات تک محدود نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار دینِ اسلام کے تقاضوں پر کاربند رہنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور وطنِ عزیز کے استحکام کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے میں مضمر ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں گزشتہ برس پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے روایتی دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی مگر الحمد للہ ہماری بہادر افواج اور قومی اداروں نے بروقت اور مؤثر جواب دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس جرأت مندانہ ردعمل نے نہ صرف دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا بلکہ دنیا پر بھی یہ حقیقت واضح کر دی کہ پاکستان دفاعی اور عسکری لحاظ سے ایک مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔
مزید انہوں نے نظریۂ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ قیامِ پاکستان کا بنیادی محرک یہی تھا کہ مسلمان اپنی جداگانہ دینی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہماری قومی شناخت ہندو معاشرے سے یکسر مختلف ہے، اور یہی وہ بنیادی جواز تھا جس کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا گیا۔ لہٰذا اسلام اور پاکستان کی حفاظت، بقا اور سلامتی درحقیقت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور اس کے لیے ہر سطح پر قربانی دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دفاعِ پاکستان اور سیرتِ نبویؐ کے اسباق
رپورٹ: مولانا حافظ فضل الہادی — امیر پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر
امیر مرکزیہ پاکستان شریعت کونسل، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بروز منگل (۱۲ مئی ۲۰۲۶ء) نمازِ عصر کے بعد درس میں فرمایا کہ گزشتہ سال انہی دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان پر مسلط کی گئی جارحیت کے موقع پر پاکستانی افواج نے جس جرأت، حکمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ بظاہر دشمن وسائل اور طاقت میں برتر دکھائی دیتا تھا، لیکن ایمان، عزم اور قربانی کے جذبے نے پاکستانی قوم اور افواج کو سرخرو کیا۔ آج بھی اس کامیاب دفاع کے اثرات موجود ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و وقار نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ جنگیں صرف اسلحہ اور تعداد سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے، دیانت اور مضبوط قیادت سے جیتی جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ہجرتِ نبوی ﷺ کا ایمان افروز واقعہ بیان کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو قریش نے آپ ﷺ کی گرفتاری پر بڑے انعامات مقرر کر رکھے تھے۔ راستے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ تو انہوں نے حکمت کے ساتھ جواب دیا: “رجل یھدینی السبيل” یعنی “یہ شخص مجھے راستہ دکھا رہا ہے۔” مولانا نے فرمایا کہ انہی خطرناک حالات میں سراقہ بن مالک انعام کی لالچ میں رسول اللہ ﷺ کے تعاقب میں نکلا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ناکام کر دیا۔ آخرکار اس نے امان طلب کی تو نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ یہ عظیم پیش گوئی بھی فرمائی کہ ایک دن اس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ اس وقت بظاہر حالات ایسے نہ تھے کہ کوئی اس پیش گوئی کا تصور بھی کر سکتا، مگر یہی ایمان اور حوصلے کی قوت تھی جس نے بعد میں دنیا کی عظیم سلطنتوں کو مسلمانوں کے سامنے جھکا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے خزانے مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مبارکباد وصول فرما رہے تھے، لیکن ساتھ ہی کسی چیز کی تلاش اور فکر میں بھی تھے۔ تین دن گزر گئے۔ پھر ایک سپاہی حاضر ہوا اور عرض کیا کہ راستے میں بیمار ہو جانے کی وجہ سے ایک بستی میں رکنا پڑا، اس لیے تاخیر ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے کسریٰ کے کنگن پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی امانت ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کنگن ہاتھ میں لیے، آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا کہ جس قوم کے سپاہی اتنے دیانت دار ہوں کہ اتنا بڑا خزانہ بھی امانت کے ساتھ پہنچا دیں، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ اس پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جب حکمران دیانت دار ہوں تو رعایا اور سپاہی بھی دیانت دار ہوتے ہیں۔ بعد ازاں حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعی کسریٰ کے کنگن پہنائے گئے اور یوں رسول اکرم ﷺ کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے کہا کہ آج پاکستان کو بھی اسی ایمان، حوصلے، اتحاد اور دیانت کی ضرورت ہے۔ اگر قوم اپنے نظریے پر قائم رہے، افواج باحوصلہ ہوں اور قیادت دیانت دار ہو تو کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہماری افواج کے حوصلے بلند رکھے، وطنِ عزیز کو امن و استحکام عطا فرمائے اور ہمیں اجتماعی دیانت اور اخلاص کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین۔
قادیانی کے لیے ستارۂ امتیاز
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر — ۱۷ مئی ۲۰۲۶ء
استاذ جی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں پوچھا گیا کہ ایک شہری کے طور پر نبیل احمد قادیانی کو ستارۂ امتیاز ملنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بات شہری کی نہیں ہے، بات آئین کی پاسداری کی ہے۔ کوئی ایسا شہری جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کر کے اس کے خلاف سرگرم عمل ہے تو اس کو ریاست کی طرف سے کوئی تمغہ آخر کیسے دیا جا سکتا ہے؟ قادیانی گروہ بحیثیت اجتماعی ملک کی دستوری رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ دستور پاکستان، عدالت عظمیٰ، پارلیمنٹ اور قوم کے اجتماعی فیصلوں کو قبول کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر سطح پر اس کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں۔ اس لیے کسی بھی قادیانی کو کوئی بھی تمغہ ریاست کی طرف سے دیے جانے کا مطلب قادیانیوں کے موقف کی تائید اور سہولت کاری ہے۔ اور ایسا کر کے انہیں دستور سے بغاوت پر شہہ دی جا رہی ہے۔ اس لیے تمام محب وطن حلقوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے اور حکومت کو یہ تمغہ فی الفور واپس لینا چاہیے۔
صدر مرکزی جامع مسجد الحاج ظفر علی ڈار کی وفات
منجانب: عبد القادر عثمان — دفتر مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ
آج ۱۹ مئی ۲۰۲۶ء تبلیغی جماعت کے پرانے بزرگ اور مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی مجلس منتظمہ کے صدر الحاج ظفر علی ڈار صاحب انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز عصر کے بعد رخسانہ مسجد سٹی ہاؤسنگ میں ان کی نماز جنازہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا خورشید احمد صاحب نے پڑھائی جس میں علماء کرام اور سرکردہ شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی نے حافظ شاہد میر، عبد القادر عثمان، حافظ عثمان غنی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اس سے قبل مرحوم کی رہائشگاہ پر ان کے بیٹوں جناب عمر ڈار، عثمان ڈار اور دیگر اہلِ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے فرمایا: گزشتہ نصف صدی سے میرا اُن سے تعلق چلا آ رہا تھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ دعوت و تبلیغ اور مسجد و مدرسہ کے ماحول میں محنت کرتے ہوئے دیکھا۔ اللہ پاک ان کی حسنات کو قبول فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
بین الاقوامی معاہدات پر دستخط کا معاملہ
منجانب: مولانا حافظ عامر حبیب — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر
پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا زاہد الراشدی نے آج ایک مجلس میں کہا کہ ۱۹۴۸ء میں جن مسلمان حکومتوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کیے تھے ان کے بارے میں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اگر انہوں نے چارٹر پڑھا اور سمجھ لیا تھا تو اسلام کے شرعی احکام اور ویٹو پاورز کے دائرہ سے مسلم امہ کو باہر رکھنے کے بارے میں اپنے ان تحفظات کا اظہار کیے بغیر دستخط کیسے کر دیے تھے؟ جن کا ذکر نصف صدی گزر جانے کے بعد ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکیہ کے صدر اردگان کو کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ پر دستخط کرانے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے حواری جو حربے استعمال کر رہے ہیں اور جبر، دباؤ، لالچ اور خوف کا بے دریغ استعمال کر کے مسلم حکومتوں کو اس معاہدہ کے دائرہ میں آنے پر مجبور کر رہے ہیں، اس سے ساری بات سمجھ میں آ گئی ہے اور معلوم ہو رہا ہے کہ انسانی حقوق کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی معاہدات پر دستخط کے لیے بھی اسی قسم کی صورتحال بنائی گئی ہو گی جس کے باعث مسلم حکومتوں کے لیے ان معاہدات میں شامل ہونے کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہا تھا۔ البتہ اس وقت نشر و اشاعت کے ذرائع بہت محدود تھے جو آج اس قدر پھیل چکے ہیں کہ کسی بھی سطح کی کسی بات کو خفیہ رکھنا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے آج اس کھیل کے سارے کھلاڑی نظر آ رہے ہیں اور معاملہ ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے ’’روبوٹ کنٹرول‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہی اب ہمارے پاس آخری سہارا رہ گیا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اس خوفناک اور ہمہ گیر سازش کا شکار ہونے سے بچا لیں، آمین یا رب العالمین۔