’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
اسلامی تہذیب اور معاشرت کے تحفظ کے تقاضے
خطبہ نمبر ۱۳
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علیٰ سید الرسل وخاتم النبیین و علیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ اما بعد!
ہماری آج کی گفتگو کا عنوان ہے، اسلامی تہذیب کیا ہے؟ معاشرت کسے کہتے ہیں؟ اس کے تحفظ کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے؟ خطرات کیا ہیں؟ تحفظ کیا ہے؟ تحفظ کی ضرورت کیا ہے؟
معاشرت انسانوں کا خاصہ ہے
معاشرت، یعنی اکٹھے رہنا، مل جل کر رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز انسانوں کو عطا کیا ہے کہ مل جل کر سوسائٹی کی شکل میں رہتے ہیں۔ کوئی سوسائٹی، کوئی تمدن، کوئی بڑا شہر، کوئی بڑی آبادی جانوروں کی منظم نہیں ہے۔ جانوروں میں ایک حد تک بچے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں، پھر الگ ہو جاتے ہیں۔ نہ شیروں کی کوئی سوسائٹی ہوتی ہے، نہ ہاتھیوں کی۔ سوسائٹی، اجتماعیت، شہریت اور تمدن، یہ اللہ پاک نے انسان کے امتیازات میں رکھا ہے۔ انسان کی یہ خصوصیت ہے کہ دنیا میں انسانوں کے آباد شہر آپ دیکھیں گے، ہاتھیوں کے آباد شہر آپ نہیں دیکھیں گے۔ معاشرت، شہریت، تمدن، یہ انسان کا خاصہ ہے۔ انسان مدنی الطبع ہے، وہ فطرتاً شہریت اور اجتماعیت پسند ہے۔ اگر اس کو اکیلا چھوڑ دیا جائے تو بور ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر تقاضا اٹھتا ہے کہ گپ شپ کریں، اکٹھے کھانا کھائیں، گھومیں پھریں۔ یہ انسان کی فطرت ہے اور انسان کا خاصہ ہے۔
چھوٹی سی بستی سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک، یا ایک ڈیرے پر پانچ سات گھر آباد ہیں، یہ ایک مدنیت ہے۔ کراچی جیسے شہر میں کروڑوں لوگ آباد ہیں، یہ ایک مدنیت ہے۔ مدنیت کا آغاز ایک ڈیرے سے ہوتا ہے اور اس کی انتہا کراچی، نیویارک، ٹوکیو جیسے بڑے بڑے شہروں تک پھیلی ہوتی ہے۔ مل جل کر رہنا، اس کے طور طریقے، اس کے آداب، یہ معاشرت کہلاتے ہیں، اس کو سماج کہتے ہیں، اس کو سوسائٹی کہتے ہیں۔ مل جل کر کیسے رہنا ہے؟ ایک دوسرے کے کام کیسے آنا ہے؟ ایک دوسرے کا لحاظ کیسے کرنا ہے؟ ایک دوسرے کی مدد کیسے کرنی ہے؟ ایک دوسرے سے فائدہ کیسے اٹھانا ہے؟ یہ ہے مدنیت، یہ ہے تمدن، یہ ہے معاشرت۔ اور یہ دنیا کی ہر قوم میں ہے، ہر مذہب میں ہے۔ خدا کے ماننے والوں میں بھی ہے اور نہ ماننے والوں میں بھی ہے۔ اللہ کے رسول پر ایمان رکھنے والوں میں بھی ہے اور اللہ کے رسول پر ایمان نہ رکھنے والوں میں بھی ہے۔ یہ مدنیت ہے، یہ شہریت ہے، اپنے اپنے طور طریقے ہیں۔ تو معاشرت نام ہے آپس میں اکٹھے رہنے کے طور طریقے کا۔
تہذیب کی تعریف
تہذیب کیا ہوتی ہے؟ ان طور طریقوں کو اچھے طریقے سے منظم کیا جانا۔ تہذیب کا لفظی معنی ہے سنوارنا، درست کرنا، کانٹ چھانٹ کرنا۔ آپس میں مل جل کر رہنے کے طور طریقوں کو اچھے انداز سے سنوار کر پیش کیا جائے، اس کو تہذیب کہتے ہیں۔ انسانی سماج میں مختلف پہلوؤں سے خودبخود چھانٹی ہوتی رہتی ہے۔ انسانی زندگی میں تجربات ہوتے ہیں، معاملات ہوتے ہیں۔ ایک معاملہ ہوتا ہے، پھر اس سے بہتر معاملہ ہوتا ہے، پھر اس سے بہتر۔ جو کام سوسائٹی کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے وہ باقی رہتا ہے اور جو نقصان دہ ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کو تہذیب کہتے ہیں۔ مسلسل چھانٹی ہوتی چلی جاتی ہے، جو کوئی بات انسانی سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے، اچھے انسان اس سے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں کہ یہ بات نقصان دہ ہے، اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ معاشرت کہتے ہیں مل جل کر رہنے کے طور طریقوں کو، اور تہذیب کہتے ہیں ان میں بہتری پیدا کرنے کو۔
اسلامی اور غیر اسلامی تہذیب میں فرق
اسلامی تہذیب کا معنی کیا ہے؟ دنیا کی متعارف تہذیبوں میں تہذیب بھی سب میں ہے، معاشرت بھی سب میں ہے، تمدن بھی سب میں ہے۔ لیکن اسلامی تہذیب کیا ہے؟ یہ طور طریقے اور ان کی بہتری اگر آسمانی تعلیمات کے دائرے میں ہو تو اسلامی ہے۔ اور اگر اپنی مرضی سے آزادانہ ہو، اپنی خواہشات سے خود آپس میں طے کر لیں، وہ تہذیب تو ہے لیکن اسلامی نہیں۔
ایک ہم سوچتے ہیں کہ یہ بات ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور یہ بات ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک یہ ہے کہ پیدا کرنے والے اللہ نے جو قواعد اور ضوابط دیے ہیں، یعنی تمام لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے دائرے میں رہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کہتے ہیں کہ یہ بات تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور یہ بات تمھارے لیے نقصان دہ ہے، اس دائرے میں رہیں تو اسلامی ہے، اس دائرے سے باہر رہیں تو اپنی مرضی کی تہذیب ہے، اسلامی ہرگز نہیں۔
قرآن کریم نے اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے جس طرح عقائد اور عبادات کی تعلیم دی ہے، آپس میں اکٹھے رہنے کے طور طریقوں کی تعلیم بھی دی ہے۔ بھائیوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے؟ میاں بیوی نے آپس میں کیسے رہنا ہے؟ ماں باپ اور اولاد نے آپس میں کیسے رہنا ہے؟ پڑوسیوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے؟ معاشرے کے بڑے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟ چھوٹے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟ یہ ساری باتیں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتائی ہیں۔ دنیا کا کوئی معاملہ ادھورا نہیں چھوڑا۔ ایسی بات نہیں ہے کہ سوسائٹی کو، سماج کو کوئی مسئلہ پیش آئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات میں اس کا کوئی طریقہ نہ ملے، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
بخاری شریف کی جامعیت
بخاری شریف حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے، اس کا نام ہے ’’الجامع الصحیح‘‘۔ جامع کا معنی ہم کرتے ہیں کہ حدیث سے متعلقہ علوم کی جامع۔ اس میں تفسیر ہے، حدیث ہے، فقہ ہے، تاریخ ہے، آداب ہیں، اخلاقیات ہیں۔ لیکن ایک معنی میں یہ بتاؤں گا کہ بخاری شریف کے جامع ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مثال کے طور پر اس وقت دنیا میں انسانی سوسائٹی تقریباً سات ارب سے زیادہ انسانوں پر مشتمل ہے۔ کوئی دو چار دانشور دوست آپس میں بیٹھ کر مشورہ کریں، سوچیں، اس پر مطالعہ (Study) کریں کہ اس وقت جتنی بھی انسانی سوسائٹی ہے، اس کے بڑے بڑے مسائل کیا ہیں؟ اس کی زندگی کے بڑے بڑے شعبے کیا ہیں؟ تجارت ہے، زراعت ہے، ملازمت ہے، جنگ ہے، صلح ہے، امن ہے، لڑائی ہے۔ دو تین سو شعبوں کی ایک فہرست بنے گی کہ انسانی سوسائٹی میں یہ مسئلہ در پیش ہے، یہ الجھن ہے، یہ رکاوٹ ہے۔ انسانی زندگی کے مشکلات کا یہ دائرہ ہے، وہ دائرہ ہے۔ ان معاملات کی جو فہرست بنے، اس کا تقابل کریں بخاری شریف کی فہرست کے ساتھ، اور پھر دیکھیں کہ کوئی مسئلہ ایسا تو نہیں رہ گیا جو بخاری شریف میں نہیں ہے؟ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا باقی رہ گیا ہو جس کا تذکرہ یا اشارہ صحیح بخاری کی اس فہرست میں نہیں ہے۔
میں ایک بات عرض کر کے آگے چلوں گا، یہ بات میں تحدی (Challenge) کے طور پر کہا کرتا ہوں کہ دنیا کے مسائل، انسانی زندگی کے مشکلات کے شعبے اور دائرے پوری محنت کے ساتھ مرتب کریں اور بخاری شریف کی فہرست کے ساتھ تقابل کر لیں۔ یہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے زندگی کے سب مسائل بتائے ہیں کہ یہ کیسے ہے، کیوں ہے؟ کیسے رہنا ہے، کیا کرنا ہے۔ زندگی کے مسائل، آپس میں رہنے کے طور طریقے، قرآن پاک اور سنت نے مکمل طور پر رہنمائی کی ہے۔ سارے شعبوں میں بنیادی رہنمائی اور ہدایات دی ہیں۔ اس لیے آپس میں رہنے سہنے کے، میل جول کے جو طریقے اسلام نے بتائے ہیں، جناب خاتم النبیین ﷺ نے بتائے ہیں، یہ اسلامی تہذیب ہے۔
مثال کے طور پر اولاد اور ماں باپ کا رشتہ بڑا ہے، اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ ان کو آپس میں کیسے رہنا ہے؟ ایک طریقہ یہ ہے کہ اولاد جوان ہو گئی، اولاد فارغ ماں باپ سے، ماں باپ فارغ اولاد سے۔ آپ مغرب میں چلے جائیں، وہاں اولاد جوان ہو گئی ہے، لڑکا ہو یا لڑکی، ماں باپ ان سے فارغ، یہ ماں باپ سے فارغ۔ وہ اپنا کام کریں، یہ اپنا کام کریں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا، نہیں، تمھارے ماں باپ فارغ نہیں ہوئے، بالغ ہونے تک تم ان کی ذمہ داری میں تھے، اور تمھارے بالغ ہونے کے بعد وہ بزرگ والدین تمھاری ذمہ داری میں ہیں۔ تمھیں یہ حق نہیں کہ تم ان کو اولڈ ہوم (Old Home) میں جا کر چھوڑ آؤ، سوسائٹی کے حوالے کر دو، گورنمنٹ کے حوالے کر دو کہ ماں باپ بوڑھے ہو گئے ہیں، مجھ سے سنبھالے نہیں جاتے۔ یہ اسلامی تہذیب اور بے خدا تہذیب کا فرق ہے۔
تہذیب کسے کہتے ہیں؟ آج ہماری تہذیب کیا ہے کہ اولاد بالغ ہوئی، ماں باپ اپنا کام کریں، یہ اپنا کام کریں، آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہیں آ رہا ہو تو کسی مغربی اولڈ ہوم کا وزٹ کریں، میں نے ان کے وزٹ کیے ہیں، آپ کسی بھی اولڈ ہوم کا وزٹ کریں اور دیکھیں کہ اولاد اور ماں باپ کا کیا تعلق باقی رہ گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ بالغ ہونے تک تم ان کی ذمہ داری میں تھے اور بالغ ہونے کے بعد بھی تم ان کی ذمہ داری میں ہو۔ پھر ان کے بوڑھے ہونے پر وہ تمھاری ذمہ داری میں ہیں، خدمت بھی کرو گے، اطاعت بھی کرو گے، سنبھالو گے بھی، ادب بھی کرو گے، سختیاں بھی برداشت کرو گے، اگر سخت بات کہہ دیں تو اُف تک نہیں کرو گے۔
فلا تقل لہما اف (سورۃ الاسراء: 17، آیت: 23)
(انھیں اف تک نہ کہو)
ان کو اُف تک مت کہو، سخت کلام کی تو گنجائش ہی نہیں۔ یہ رہن سہن کے طریقے کی ایک مثال میں نے عرض کی ہے، بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ آپس میں رہنے سہنے کے جو معاملات ہیں، ان میں قرآن و سنت نے جو رہنمائی کی ہے وہ اسلامی تہذیب کہلاتی ہے۔ اور ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ انسانی سوسائٹی کے لیے وہی مفید اور فائدہ مند ہے۔ اس سے ہٹ کر اپنے جو طور طریقے ایجاد کریں گے، وہ ان کے اپنے طریقے ہوں گے اور ان طریقوں کا نفع نقصان ان کے اپنے کھاتے میں ہوگا۔
اعمال کے استحکام کی بنیاد عقیدے پر ہے
دیکھیں، آپس میں رہنے سہنے کے طور طریقے، روایات، اقدار، تہذیب، جس کی بنیاد عقیدے پر ہو گی وہ مستحکم ہوگا۔ اور جس کی بنیاد خواہشات پر ہو گی وہ کمزور ہو گا۔ انسان کا عقیدہ انسان کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عقیدہ انسان کے اعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔ عقیدہ اگر مضبوط ہے تو اعمال بھی مضبوط ہوں گے۔ اگر اعمال کے پیچھے عقیدہ نہیں ہے تو وہ کمزور سا مکڑی کا جالا ہوگا۔ آج کچھ، کل کچھ، پرسوں کچھ۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کے طریقوں میں اگر اس کی بنیاد عقیدے پر ہو گی تو اس میں استحکام ہوگا۔ اور اب تو ساری طرف گھوم گھما کر مغربی تہذیب کے دانشور بھی اس طرف آ گئے ہیں کہ پہلی معاشرتی اقدار پر واپس چلو، ہم نے بہت جھک مار لی ہے، کوئی مسئلہ ہم سے حل نہیں ہو پا رہا۔ عقیدہ اس یقین کو کہتے ہیں جو انسان کے اعمال پر، اخلاق پر، اقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں، اگر کوئی ایک سنجیدہ بندہ اٹھ کر یہ کہہ دے کہ سانپ آ گیا ہے، ہم میں سے کسی نے دیکھا نہیں ہے، تو ہمارا رد عمل (Reaction) کیا ہوگا؟ آپ میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہوگا آرام سے؟ پہلے بھاگے گا، پھر دیکھے گا کہ کدھر ہے؟ انسان کے جسم کا دل اور دماغ، یہ دو کنٹرول ہیں۔ دل میں اگر یقین ہے کہ یہ بات ٹھیک کہہ رہا ہے، فوراً دیکھے بغیر دوڑ لگائے گا۔ یہ بھاگنے کا فیصلہ کس نے کیا؟ دل نے۔ دل کس طرف گیا ہے؟ یقین پر۔ انسان کی ساری حرکات کی بنیاد کس پر ہوتی ہیں؟ دماغ سوچتا ہے، دل فیصلہ کرتا ہے، پھر انسان اس کے مطابق کام کرتا ہے، کسی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہوتی، ہاتھ اپنا کام کرتا ہے، پاؤں اپنا کام کرتا ہے، زبان اپنا کام کرتی ہے، سانس اپنا کام کرتا ہے اور بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ دل کے یقین پر۔
یہود و نصاریٰ کی بدعملی کی وجہ بدعقیدگی ہے
میں اس کی مثال عقائد کی دنیا میں سے دوں گا۔ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے:
نحن ابنآء اللہ واحباؤہ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 18)
(ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔)
کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں، انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، وی آئی پی ہیں، ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ خاتم النبیین ﷺ نے ان سے پوچھا کہ قیامت کے بارے میں کیا تصور ہے؟ کہنے لگے، ہمیں پتہ ہے قیامت آئے گی، ہم جہنم میں جائیں گے لیکن چند دن کے لیے، پھر واپس آ جائیں گے، ہماری چھٹی اور خلاصی ہو جائے گی، کیونکہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، اس لیے جنت ہماری ہے۔ (صحیح بخاری، باب ما یذکر فی سم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: 5777)
عیسائیوں کا عقیدہ کیا ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے بقول سولی چڑھ گئے تھے۔ یہ کفارے کا عقیدہ کہلاتا ہے۔ ہمارے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت نہیں آئی بلکہ آپ زندہ ہیں، آسمانوں پر ہیں، ان شاء اللہ قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق وہ سولی پر چڑھ گئے تھے، ان کو موت آگئی، وہ فوت ہو گئے، تین دن قبر میں رہے، پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے۔ اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پھانسی نسلِ انسانی کے گناہوں کے کفارے میں قبول کی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قربانی دی، خود موت قبول کر لی اور نسلِ انسانی کے گناہوں کا کفارہ دے دیا۔ اور جو آدمی یہ صلیب گلے میں لٹکائے گا اور یہ عقیدہ رکھے گا تو وہ گویا کفارے کی فہرست میں آگیا۔ اور جو کفارے کی فہرست میں آ گیا وہ جنت میں جائے گا اور جو باہر ہے وہ جہنم میں جائے گا۔ میں اس پر عرض کیا کرتا ہوں کہ یار بڑے عجیب لوگ ہو! گناہ تم کرو، سزا تمھارے پیغمبر بھگتیں، عجیب فلسفہ ہے۔
اس کا نتیجہ کیا ہے؟
- ایک شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ میں تو برتر ہوں، میں نے تو جنت میں جانا ہی ہے، مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسا انسان کسی جرم سے باز رہے گا؟ اپنے مفاد کو حاصل کرنے کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے سے رکے گا؟
- ایک آدمی کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرا کفارہ دے گئے ہیں، میری ساری سزاؤں کو بھگت گئے ہیں۔ اُس کو جرم سے باز رکھنے کا کوئی اور ذریعہ ہوگا؟
- اسلام نے کہا کہ نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے۔ ایمان اور اعمالِ صالح پر نجات ہو گی۔
ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات (سورۃ العصر: 103، آیت: 2 و 3)
(انسان در حقیقت بڑے گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔)
لیس بامانیکم ولآ امانی اہل الکتاب من یعمل سوءًا یجز بہ (سورۃ النساء: 4، آیت: 123)
(نہ تمھاری تمنائیں (جنت میں جانے کے لیے) کافی ہیں، نہ اہلِ کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی برا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا۔)
خاتم النبیین ﷺ تشریف فرما تھے، یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک زمانے تک یہودی اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے۔ اس وقت جب یہ مشترکہ سوسائٹی تھی، اکٹھے بیٹھتے تھے، شادی اور غمی کی مجلس اکٹھی ہوتی تھی، محلے داری، قبیلے داری، شہر داری ہوتی تھی۔ ایک جگہ مجلس لگی ہوئی تھی، ایک یہودی نے دعویٰ کیا کہ ہم سارے کے سارے جنتی ہیں اس لیے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، نبیوں کا خاندان ہیں۔
کوئی شک نہیں ہے، بنی اسرائیل انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ آج بھی اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو نسل کی بنیاد پر ہے۔ آج بھی یہودی مذہب دنیا کا واحد مذہب ہے جو نسل کی بنیاد پر ہے۔ ان میں یہ تفاخر ہے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ بلکہ قرآن پاک میں یہ ہے ’’نحن ابنآء اللہ‘‘ کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اس لیے ہم تو سیدھے جنت میں جائیں گے۔
مجلس میں ایک انصاری صحابیؓ بیٹھے تھے، ان کو غصہ آیا کہ اچھا! تم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہو، سیدھے جنت میں جاؤ گے؟ تو ہم انبیاء علیہم السلام کے سردار کے ساتھی ہیں، ہمیں کون روکے گا، ہم سیدھے جنت میں جائیں گے۔ تقابل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ آیت نازل فرمائی کہ نہ تمھاری آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، فیصلے ہوں گے اعمال پر، جس نے کوئی برا کام کیا تو اسے بھگتنا ہوگا۔ ایمان اور اعمالِ صالحہ پر فیصلے ہوں گے۔
میں یہ بات عرض کیا کرتا ہوں کہ قانون اور عدل کی دنیا میں، معاشرے میں امن قائم رکھنے کے لیے، جرائم روکنے کے لیے، اور معاشرے میں اصلاح کا ماحول قائم رکھنے کے لیے، ان تینوں میں سے کون سا عقیدہ فائدہ مند ہے:
- ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، اس لیے ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔
- ہمارے گناہوں کا کفارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دے گئے ہیں، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔
- یہ فیصلے ایمان اور اعمال کی بنیاد پر ہوں گے۔
سوسائٹی میں امن کے قیام کے لیے اور جرائم کو روکنے کے لیے ان تینوں میں سے کون سا عقیدہ فائدہ مند ہے؟ عقیدہ معیار ہے۔ قرآن پاک نے سب سے زیادہ زور جس بات پر دیا ہے وہ عقیدہ ہے، اور عقیدے کے بعد اعمالِ صالحہ پر معیارِ نجات ہے۔
اسلامی تہذیب کی بنیاد عقیدہ اور حسنِ معاشرت پر ہے
پھر جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اور عبادات کے بعد سب سے بہترین اعمال اخلاقِ حسنہ ہیں۔
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب: بیان مکارم الاخلاق، حدیث نمبر: 20782)
(مجھے اچھے اخلاق کو پورا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔)
اسلامی تہذیب کی بنیاد عقیدے پر ہے، عبادات اور اخلاقِ حسنہ پر ہے۔ اخلاقِ حسنہ کا حکم ہے اور یہ ایمان کی علامت ہے، اسی سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:
انما بعثت معلما (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علیٰ طلب العلم، حدیث نمبر: 229)
(مجھے انسانیت کا معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔)
آپؐ نے فرمایا، میں اخلاقِ حسنہ رکھتا ہوں۔ حسنِ سلوک، ایک دوسرے کا لحاظ، جناب خاتم النبیین ﷺ نے عمل کر کے بتایا کہ اس طرح کرنا ہے۔ دنیا کی کوئی شخصیت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ اخلاقِ حسنہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا لحاظ کرنا، ایک دوسرے کی ضروریات اور مجبوریوں کا خیال کرنا۔ چھوٹی سی مثال عرض کرتا ہوں۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے ہدایت کی کہ گھر میں کوئی اچھی چیز پکاؤ تو تھوڑی زیادہ پکاؤ تاکہ نزدیک کے پڑوس میں دے سکو، شوربہ زیادہ کرو، اور اردگرد تقسیم کرو تاکہ وہ بھی تمھارے ساتھ شریک ہوں۔
[عن ابی ذر، قال: قال رسول اللہ ﷺ: یا ابا ذر اذا طبخت مرقۃ، فاکثر ماءھا، وتعاھد جیرانک۔ صحیح مسلم، باب الوصیۃ بالجار والاحسان الیہ، حدیث نمبر: 142]
اگر تم گھر میں اچھی چیز لاؤ، کھانے کے لیے کوئی پھل لاؤ تو چھلکے دروازے سے باہر نہ پھینکو، کیونکہ پڑوس کے بچے دیکھیں گے، وہ جا کر والدین سے مانگیں گے، وہ بیچارے کیسے لا کر دیں گے اگر ان کی لانے کی پوزیشن نہیں ہے۔ پہلے تو تعلیم یہ دی کہ کوئی اچھی چیز ہو تو ساتھ پڑوس میں تقسیم کرو۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! پڑوس کی حد کیا ہے، پڑوس کا دائرہ کیا ہے؟ فرمایا: دس گھر اِدھر، دس گھر اُدھر (چاروں طرف دس دس گھر)۔ چالیس گھر، یہ پڑوس کی حد ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! ان میں سے کس گھر کو زیادہ ترجیح ہے؟ فرمایا: جو دروازہ تمھارے دروازے کے ساتھ ہے۔ (صحیح بخاری، باب: ای الجوار اقرب؟، حدیث نمبر: 2259) جناب خاتم النبیین ﷺ نے یہاں بہت تلقین فرمائی۔
پڑوس کی حد ایک اور حوالے سے بھی ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی:
لا صلاۃ لجار المسجد الا فی المسجد (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب ما جاء من التشدید فی ترک الجماعۃ، حدیث نمبر: 4942)
(مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہو سکتی ہے۔)
اگر کوئی عذر نہ ہو تو مسجد کا پڑوسی مسجد میں ہی نماز پڑھے۔ کسی نے پوچھا کہ مسجد کے پڑوسی کی حد کیا ہے؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: جہاں تک مسجد کی اذان کی آواز جاتی ہے، اسے مسجد کا پڑوس کہتے ہیں۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب ما جاء من التشدید فی ترک الجماعۃ، حدیث نمبر: 4349)
میں سوچا کرتا ہوں کہ ہمارا تو ایک گھر پتہ نہیں کتنی مسجدوں کا پڑوس ہوتا ہے، چھ چھ، سات سات مسجدوں کا پڑوس ہوتا ہے۔ یہاں آپ حضرات کو ایک عمومی (General) بات کر رہا ہوں۔ خاتم النبیین ﷺ نے آپس کے معاملات اور اخلاق کی تعلیم یہاں تک دی کہ کھانا وغیرہ تقسیم کرو، اگر تقسیم نہیں کر سکتے تو چھپا کر کھاؤ تاکہ پڑوسی کے بچے ماں باپ کو تنگ نہ کریں۔ معلوم ہوا کہ اخلاقِ حسنہ ایمان کی اور تہذیب کی بھی بنیاد ہے۔ اللہ کی عبادت اور بندگی، فرائض اور واجبات بھی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:
اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا (سنن ابی داؤد، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان، حدیث نمبر: 4682)
(کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔)
اس ارشاد میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے حسنِ معاشرت کی بنیاد بیان فرمائی ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا آپس کے حقوق ہیں۔ یہ ماں باپ ہیں، ان کا یہ حق ہے۔ یہ اولاد ہے، ان کا یہ حق ہے۔ میں اس لیے یہ کہتا ہوں کہ باہمی حقوق کی جتنی گہرائی اور جتنی تفصیل جناب خاتم النبیین ﷺ نے بیان فرمائی ہے اور اسلام نے بیان کی ہے، اس کی دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔
اسلام نے ہر چیز کے حقوق مقرر کیے ہیں
صرف پڑوسی ہی نہیں، راستے اور جانوروں تک کا حق متعین کیا ہے۔ مثلاً راستے کا حق کیا ہے؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: راستوں میں نہ بیٹھو، یہ گزرگاہ ہے۔ وہاں نہ بیٹھو، اس سے لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارا گزارہ نہیں ہوتا، گھروں میں جگہ نہیں ہوتی، دوست ملنے آ جائیں تو گلی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چھوٹا سا گھر ہے، اس میں بٹھانے کی جگہ نہیں ہوتی، مجبور ہیں، گلی میں کھڑے ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر مجبورًا کھڑا ہونا پڑے تو:
فاعطوا الطریق حقہ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6229)
(راستے کا حق ادا کرو۔)
عرض کیا:
وما حق الطریق یا رسول اللہ؟
(اے اللہ کے رسول ﷺ! راستے کا حق کیا ہے؟)
آپ ﷺ نے چند باتیں ارشاد فرمائیں:
- (غض البصر) راستے میں کھڑے ہو تو تانک جھانک نہ کرو کہ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے، نظر جھکا کر رکھو۔
- (و رد السلام) کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دو۔
- (واھدوا السبیل) کوئی راستہ بھولا ہوا ہے تو اس کو راستہ بتاؤ۔
- (و کف الاذیٰ) راستہ روکو نہیں، لوگوں کا راستہ تنگ نہ کرو۔
جناب خاتم النبیین ﷺ نے نہ صرف راستے کا حق بتایا ہے بلکہ جانور تک کا حق بتایا ہے۔ جی ہاں، جانور کا بھی حق ہے۔ جس جانور سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں اس کا بھی، اور جو جانور ویسے ہی گھروں میں رہتے ہیں ان کا بھی۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: میں نے جہنم میں ایک عورت کو اس لیے جلتے دیکھا ہے کہ اس نے گھر میں ایک بلی پال رکھی تھی لیکن وہ اس کا خیال نہیں رکھتی تھی۔ کبھی گھر سے باہر جاتی تو دروازہ بند کر کے چلی جاتی۔ بلی اندر بند ہے۔ نہ اندر خوراک ہے، نہ باہر آ سکتی ہے۔ اس طرح ایک روز بلی اندر مر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بلی کے اس طرح مرنے پر اس عورت کو جہنم میں ڈال دیا۔ (صحیح بخاری، باب حدیث الغار، حدیث نمبر: 3482) اسلام نے تو یہاں تک جانوروں کا حق بتایا ہے۔
اسلام میں باہمی حقوق کی اہمیت
باہمی حق کے حوالے سے حضور ﷺ کا مزاج اور حساسیت کیا تھی؟ بہت سے واقعات ہیں، ایک واقعہ عرض کروں گا۔ آپ ﷺ تشریف فرما تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجلس لگی ہے، سب بیٹھے ہیں۔ دائیں طرف ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا ہے (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما)، چچا زاد بھائی بھی ہے، بارہ تیرہ سال کی عمر کا نوجوان ہے۔ بائیں طرف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کسی نے خاتم النبیین ﷺ کو مشروب پیش کیا، پانی تھا یا دودھ، کوئی پینے کی چیز تھی۔ حضور ﷺ نے نوش فرمایا، دو چار گھونٹ بچ گئے، اب وہ کسی کو دینے ہیں۔ حضور ﷺ اپنے بتائے ہوئے ضابطے کے مطابق کہ حق دائیں والے کا بنتا ہے، اور دائیں طرف لڑکا بیٹھا ہے، جبکہ حضور ﷺ بائیں طرف دینا چاہ رہے ہیں کیونکہ وہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہیں، جی چاہ رہا ہے کہ وہاں دیں۔ مشروب کے دو گھونٹ ہیں۔ پوچھا: عبداللہ! اگر اجازت ہو تو ادھر دے دوں؟ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ کے تبرک پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں، جلال سے فرمایا: (فتلہ فی یدہ) لو پکڑو۔ یعنی آپؐ نے اجازت مانگی، اجازت نہ ملنے پر غصہ بھی آیا، لیکن دیا اُسی کو ہے جس کا حق ہے۔ (صحیح بخاری، باب: ھل یستاذن الرجل من عن یمینہ فی الشرب، حدیث نمبر: 5620)
جناب خاتم النبیین ﷺ باہمی حقوق کے حوالے سے کتنے حساس تھے! باہمی حقوق کی تعلیم دی ہے، تلقین بھی فرمائی ہے اور عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ مجال ہے کہ کوئی بات اِدھر سے اُدھر ہو جائے۔ قرآن کریم نے اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے اسلامی معاشرت، اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن کی بنیاد عقیدے کو، اللہ کی عبادت اور بندگی کو، اعمال صالحہ کو، اخلاق حسنہ کو، باہمی حقوق کی پاسداری کو اور اجتماعیت کو بنایا ہے۔
اسلامی تہذیب میں اجتماعی مصلحتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے
اسلامی تہذیب کی بنیاد اجتماعیت پر ہے کہ اجتماعی فائدہ یا نقصان کس میں ہے؟ ایک دو مثالیں دوں گا۔ ان دو مسائل میں دنیا کو بڑا مغالطہ ہے۔ ایک سود کے مسئلے پر، قرآن پاک نے اس کو حرام قرار دیا ہے (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 275)۔ لوگوں کو پریشانی ہے کہ جب دو آدمی لین دین پر راضی ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے؟ ایک خوشی سے دے رہا ہے، دوسرا لے رہا ہے۔ سود ہو یا جوا، حرام کے دائرے میں ہیں۔ لیکن آج کی دنیا کہتی ہے کہ دونوں فریق راضی ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے؟ یہی بات سود پر کی جاتی ہے، یہی بات زنا پر کی جاتی ہے۔ تم مولوی لوگ خواہ مخواہ فتوے دے رہے ہو کہ حرام ہے، حرام ہے!
اسلام کہتا ہے کہ کسی معاملے میں صرف معاملہ کرنے والے فریقوں کا راضی ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس معاملے کے سوسائٹی پر اثرات بھی دیکھنے پڑیں گے۔ دو آدمیوں کے معاملے کا اگر سوسائٹی پر غلط اثر پڑتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔ صرف دو افراد کی بات نہیں ہے، یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اجتماعی طور پر سوسائٹی کو فائدہ ہے یا نقصان؟ اور جس بنیاد پر آج کے فلسفے نے سود کو جائز قرار دیا تھا کہ دو آدمی اگر رضامندی سے آپس میں لین دین کر لیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، عالمی دانش اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ برملا کہہ رہی ہے کہ سود نے انسانی سوسائٹی کو معاشی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
سود کیا ہے اور سود کے اثرات کیا ہیں؟ ہمارے ایک دوست ڈاکٹر فرحان نظامی آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، قابل اور دانشور آدمی ہیں، لکھنؤ کے ہیں۔ انھوں نے اپنا قصہ سنایا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک یونیورسٹی سے دعوت آئی کہ آپ لیکچر دیں اس بات پر کہ سود کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے دعوت قبول کر لی۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کروں؟ عام طریقہ کار تو یہ ہے کہ سود کے بارے میں قرآن مجید کی دو تین آیتیں اور حدیثیں بطور دلائل پیش کر دوں گا کہ قرآن یہ کہتا ہے، حدیث یہ کہتی ہے۔ لیکن اس پر میں نے سوچا کہ میں مسلمانوں سے مخاطب نہیں ہوں، غیر مسلموں سے مخاطب ہوں، تو ان سے بات عقلِ عام (Common Sense) میں کرنی ہوگی۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم مخاطب اور لوگوں سے ہوتے ہیں اور دلائل اپنے پیش کرتے ہیں۔ یہ تو ہمارے دلائل ہیں، دنیا کے سامنے تو عقلِ عام میں بات کرنی ہوتی ہے۔ علماء کرام تشریف فرما ہیں، اس لیے یہ بات عرض کر رہا ہوں۔
وہ کہتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کام تو اپنا کر لوں گا لیکن سننے والوں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ میرے ذہن میں ایک بات آئی، میں نے سوچا کہ سود نے مجموعی طور پر دنیا کو نقصان پہنچایا یا فائدہ؟ معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ آج کی جدید ترین جو تحقیق ہے، میں نے اس پر اسٹڈی کی۔ اس بات پر آج معیشت کے دانشور متفق ہیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت، کہ سود نے نقصان پہنچایا ہے، معاشی تفاوت پیدا کیا ہے، طبقات پیدا کیے ہیں، بُعد پیدا کیا ہے، نفرت پیدا کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے آج کی جدید معاشی تحقیقات کی روشنی میں بتایا کہ سود نے ممالک، قوموں اور گروہوں کے درمیان معاشی تفاوت پیدا کیا ہے اور معاشیات میں عدمِ مساوات پیدا کی ہے، زیادتی کو فروغ دیا ہے۔ ساری تحقیق سامنے لا کر آخر میں، میں نے کہا کہ آج کی دنیا تحقیق اور ریسرچ کے بعد جس نتیجے پر پہنچی ہے، قرآن نے چودہ سو سال پہلے ایک جملے میں کہا تھا:
یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 276)
(اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔)
سود میں بے برکتی ہے اور صدقات میں برکت ہے۔ سود میں رقم بڑھتی ہے لیکن قدر (Value) گھٹتی ہے، اور صدقات میں بظاہر رقم گھٹتی ہے لیکن قدر بڑھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میرا مقالہ اتنا پسند کیا گیا کہ بہت سی یونیورسٹیوں سے مجھے دعوت آئی کہ جناب ہمارے ہاں بھی لیکچر دیں۔
تو میں نے یہ بات عرض کی کہ سود کے جواز کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ دو آدمی جب آپس میں راضی ہیں، لینے والا بھی اور دینے والا بھی، تو مولوی صاحب کو کیا اعتراض ہے؟ ہم نے کہا کہ نہیں، صرف دو آدمیوں کا راضی ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس معاملے کا سوسائٹی پر کیا اثر ہے، اس کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر دو آدمیوں کا ایسا معاملہ سوسائٹی پر منفی اثر ڈالتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔ یہی مسئلہ زنا کا ہے کہ اس طرح خاندان تباہ ہو جائے گا، رشتے ختم ہو جائیں گے، فیملی بکھر جائے گی، حلال و حرام کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ یہ محض دو آدمیوں کی رضا کی بات نہیں، بلکہ سوسائٹی کا مسئلہ ہے، اس سے اخلاقی فساد برپا ہوتا ہے۔
اس لیے میں نے عرض کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اور تمدن کی جو بنیادیں ہیں، دنیا اُن پر واپس آ رہی ہے اور سوچ رہی ہے۔ اس پر حوالہ عرض کروں گا کہ تہذیب، تمدن، سماج، معاشرت، انسانی میل جول، سماج کا ارتقا، آج دنیا اس پر واپس آنے پر مجبور ہے۔ اُس وقت جب عالمی سطح پر ایک کھلبلی کا ماحول تھا، آج سے چودہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے، پاپائے روم نے ایک کمیٹی بنائی ماہرین معیشت کی کہ موجودہ معاشی بحران پر غور کرو اور دیکھو کہ اس بحران سے کیسے نکلنا ہے۔ انھوں نے رپورٹ دی کہ یہ ساری کارستانی سود کی ہے، دنیا میں معیشت کا جتنا بحران ہے، اس کی بنیادی وجہ سود ہے۔ اس لیے جب تک موجودہ معاشی بنیادوں سے واپس آ کر معیشت کے وہ اصول نہیں اپنائیں گے جو قرآن بیان کرتا ہے، تب تک دنیا کے معاشی نظام میں کوئی بہتری کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔
آج بھی دنیا میں انسانی تمدن اور انسانی سوسائٹی کی بہتری و ارتقا، اس کی ترقی و فوائد اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے قرآن پاک کی تعلیمات سب سے بہتر بنیاد ہیں۔ اور ہمیں دنیا کو بتانا چاہیے کہ آج دنیا کو قرآن پاک کی تعلیمات اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کو سیرت طیبہ سے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسلامی بنیادوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ریسرچ، محنت، ابلاغ، دعوت و تبلیغ، سارے ذرائع اختیار کرنے ہوں گے۔ یہ سب ہماری دعوتی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی
بحثِ سوم: مقالے کے دیگر عمومی مباحث
اب ہم اگر مقالے کے دیگر عمومی مباحث پر نظر ڈالیں تو اس میں ایک تو جو ’’مشکل القرآن‘‘ کی اصطلاح ہے، اس پر میں نے علماء علوم القرآن کی مختلف آراء کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اسلامی علوم میں ’’مشکل‘‘ کی اصطلاح کا ایک جائزہ لیا گیا ہے۔ دیکھیں، مشکل کی اصطلاح ہمارے اسلامی علوم میں صرف تفسیر میں نہیں ہے، حدیث میں بھی ہے، اصولِ فقہ میں بھی ہے، حتیٰ کہ نحو میں بھی ہے اور علم الکلام میں بھی ہے۔ تو ان سب کا قرآنی مشکل کے ساتھ تقابل ذکر کیا گیا ہے اور اس اصطلاح کا مفہوم پیش کیا گیا ہے۔
دوسری صدی ہجری سے لے کر پندرہویں صدی ہجری تک مشکل القرآن کے موضوع پر لکھی گئی کتب کا صدی بہ صدی تعارف اور ان کے مخطوط اور مطبوع کی تعیین اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس کا بڑا حصہ میں نے الرحیلی صاحب کی کتاب سے لیا ہے، لیکن میرے اپنے بھی اس میں اضافات ہیں۔
اس کے بعد چودہ صدیوں کے مواد کی درجہ بندی ہے۔ یہ چیز اس میں ایسی ہے کہ جو چودہ صدیوں کی کتب ہیں، میں نے ان کی اس طرح سے درجہ بندی کی ہے کہ کس صدی میں مشکل القرآن کی کس نئی نوع کا اضافہ ہوا۔ چند صفحات اس پر بھی لکھے گئے ہیں۔
اسی طرح ایک فصل میں مشکل القرآن کو حل کرنے کے اصول و ضوابط بھی لکھے ہیں۔ تقریباً دس اصول لکھنے کی کوشش کی ہے کہ مشکل القرآن میں کسی بھی آیت کے متعلق کوئی اشکال ہو تو اس کو کیسے حل کیا جاتا ہے۔
قدیم و جدید کتب کی روشنی میں مشکل القرآن کے موضوع پر ایک نظر۔ اس کے تحت علوم القرآن کی کل سترہ قدیم و جدید کتب میں مشکل القرآن کے مبحث و امثلہ کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ خود مشکل القرآن کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں سے بارہ قدیم و جدید مصادر کے منہج و مباحث کا ایک تعارفی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس باب کا عنوان ہی یہ ہے کہ مشکل القرآن کے مصادر کا ایک مطالعہ، یعنی مشکل القرآن کا موضوع علوم القرآن کی کتابوں میں کیسے آیا ہے، اور خود مشکلات القرآن کی کتابوں میں کیسے آیا ہے، اس پر میں نے ان تمام کتابوں سے امثلہ لی ہیں اور ان کا تعارف کرایا ہے۔
یہ ہو گیا تمت بالخیر۔ میں نے کافی تیزی میں تعارف کرایا ہے اور بہت ساری تفصیلات چھوڑ دی ہیں تاکہ صرف خلاصہ ہی سامنے آجائے۔ اللہ کرے کہ آپ لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہو۔ تو اب اگر کوئی سوال ہے تو وہ پوچھا جا سکتا ہے۔
سوالات
(1) سید شہزاد علی:
السلام علیکم جی، میرا نام سید شہزاد علی ہے، قصور سے بات کر رہا ہوں، طالب علم ہوں۔ ما شاء اللہ آپ نے بڑا اچھا اور علمی انداز میں اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی [کاوشوں] کو قبول کرے۔ اچھا، دو تین سوالات آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ایک ہی مرتبہ جواب دے دیجیے گا۔
- ابھی آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اشکالات پیدا ہوئے اور مشکلات القرآن تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جوابات دے دیے۔ جب ہمارے سامنے جوابات آ جاتے ہیں تو پھر وہ مشکلات تو نہیں رہ گئیں، یعنی وہ تو حل ہو گیا۔ پھر آپ نے کہا کہ اصحابؓ کے دور میں اور اس کے بعد بھی اس کو بطور مشکل [ذکر کیا گیا]۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توجیہ، وضاحت اور تفسیر کر دی تو اس کو مشکلات القرآن میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ ایک میرا نقطہ نظر ہے۔
- …… حدیث ہے کہ کسی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو فرمایا کہ یہ آپ لوگوں کے لیے نہیں ہے، آنے والا زمانہ اس کی تشریح کرے گا۔ تو ابھی ہمارا تو بطور مسلمان کے یہ تاثر ہے کہ آنے والے زمانے میں، چاہے وہ سائنس کا ہو چاہے ایجادات کا ہو، تو اشکالات دور ہوں گے، نہ کہ علم کے ساتھ اشکالات پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور بڑھیں گے، جیسا کہ آپ نے ہمارے سامنے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
- کیا آپ نے اپنے اس مقالہ میں ان اشکالات کو بیان کر کے اس کا حل بھی پیش کیا ہے، جو ہمارے مفسرین نے دیا ہے؟ یا صرف ان کی نشاندہی کی ہے؟ بہت شکریہ جی۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جزاکم اللہ، بڑے اچھے سوالات ہیں۔
- جو آپ نے پہلا سوال کیا ہے کہ دورِ نبوت میں تو ان اشکالات کو حل کر لیا گیا۔ ظاہر ہے وہ اشکالات ایک آیت کے متعلق حل ہو گئے لیکن وہ بطور نوع اور کیٹیگری کے تو باقی ہیں۔ مثلاً مشکل اللغۃ میں ایک آیت کے متعلق صحابہؓ کا اشکال پیدا ہو گیا، تو صحابہؓ نے اس کا جواب نبی علیہ السلام سے حاصل کیا اور اس آیت سے متعلق اشکال حل ہو گیا، لیکن وہ بطور نوع کے تو اب بھی باقی ہے، تو اس وجہ سے اس کو ذکر کیا گیا ہے۔
- اور دوسرا جو آپ نے کہا کہ جو آگے والا زمانہ ہے وہ آیتوں کو واضح کرے گا، نہ کہ اشکال پیدا کرے گا۔ تو دیکھیں کہ جو آگے والا زمانہ ہے وہ اشکال پیدا کرے گا تو اس کی وضاحت ہو گی۔ یعنی پہلے اشکالات ہوں تو پھر چیز واضح ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس طرح سے ہو گا۔
- اور جو تیسری بات آپ نے ذکر کی کہ کیا اس کو میں نے حل بھی کیا ہے؟ یہ مجھ سے پی ایچ ڈی کے [انٹریو] میں بھی پوچھا گیا تھا، تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں، یہ میرے مقالے کا موضوع نہیں ہے کہ ان مشکلات کو حل بھی کیا جائے، میرے مقالے کا موضوع صرف مشکلات القرآن کا تعارف ہے۔ تو اس لیے پھر مجھ سے انہوں نے [کہا کہ] یہ مقالہ تو پڑھ کے لگتا ہے کہ قرآن میں اشکالات ہی اشکالات ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ریسرچ کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے جس سے نہیں نکل سکتے ……
(2) ایک سامع:
مولانا صاحب! میرا ایک سادہ سا سوال ہے کہ جتنے بھی مشکلات القرآن کی انواع کا آپ نے ذکر کیا، ظاہر ہے کہ قرآن کی تفسیر میں بھی یہ زیربحث آتے ہیں۔ جب کوئی مفسر بیٹھ کر قرآن کی تفسیر کرے گا تو جب آیات میں کوئی اشکال پیش آئے گا تو تفسیر کے تحت بھی اسے ذکر کرے گا۔ اب مشکلات القرآن کی الگ سے کتاب لکھنا، الگ سے اسے مدون کرنا، اس کی کیا اہمیت ہے، اگر وہ پہلے ہی تفسیر القرآن میں زیر بحث ہے؟ تو اسے ذرا سمجھائیں۔
جواب:
ما شاء اللہ اچھا سوال ہے آپ کا۔ دیکھیں، ایک تو قرآن پاک کی تمام تفاسیر میں ان اشکالات پر بحث نہیں ہے، کسی کسی تفسیر میں بحث ہے، اور اس میں بھی کسی آیت سے متعلق ہے، کسی آیت سے متعلق نہیں ہے۔ ایک تو یہ بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ظاہر ہے جب ہم الگ سے کوئی کتاب لکھتے ہیں تو اس میں اس علم کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً مفسرین کسی فقہی آیت سے متعلق احکامات ذکر کرتے ہیں، لیکن آپ دیکھیں کہ ہمارے اصول فقہ میں …… یا جو قرآنی احکامی آیات ہیں اس کا الگ ذکر ہے۔ یا اسی طرح مثلاً حدیث کی کتابوں میں کتاب التفسیر کا الگ ذکر ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ جو چیز تفسیر میں آجائے تو الگ سے اس موضوع پر نہیں لکھا جا سکتا۔ تو ہر علم کا اپنا بھی ایک خاص دائرہ ہوتا ہے، تو اس علم کے اندر بھی اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ علوم القرآن کی ایک نوع ہے مشکلات القرآن، لہٰذا اس کو پھر الگ سے لکھا جا سکتا ہے۔ گویا کہ جو تفسیر میں آئی ہے وہ تو تفسیر کے تناظر میں آئی ہے، لیکن یہاں ہم نے اس پر اصولی بحث کی ہے۔ جبکہ مفسرین تو اصولی بحث نہیں کرتے، وہ صرف یہ کہیں گے کہ اس آیت کا یہ اشکال ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ لیکن اس علم کے اصول کیا ہیں، اس کے ضوابط کیا ہیں، اس کی انواع کیا ہیں، وہ تو تفاسیر میں اس طرح سے نہیں ملے گا۔ وہاں حل ہے، لیکن اصولی بحث یہاں کی گئی ہے۔
(3) محمد حذیفہ نواز:
اس حوالے سے مفید کتابوں کا اگر آپ کچھ تعارف کرا سکیں، شاید کرایا بھی ہو، میں ساری گفتگو میں شریک نہیں تھا …
جواب:
… ظاہر ہے میں تو کہوں گا کہ میری کتاب ہی اچھی ہے۔ لیکن مشکلات القرآن کے کس پہلو سے آپ دیکھنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں، اگر تو اس پہلو سے ہے کہ جن میں آیتوں کی مشکلات کو حل کیا گیا ہو، تو اس کے لیے ظاہر ہے آپ کو مختلف تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ پھر اگر لغوی اشکالات ہیں تو پھر لغوی تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ فلسفے اور اس جیسے اشکالات ہوں تو پھر فلسفی تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ اس کو اس لحاظ سے آپ دیکھیں۔
اور اگر آپ نے مشکلات القرآن کے موضوع پر کتابیں دیکھنی ہیں، اس کے مصادر دیکھنے ہیں، تو اس میں آپ کو ابن قتیبہؒ کی کتاب، یا مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب، یا عز الدینؒ کی کتاب ’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘ ہے۔ ان میں آپ کو مشکلات القرآن کی بہت ساری مثالیں مل سکتی ہیں۔ اردو میں آپ دیکھیں تو مستقل ایک کتاب لکھی گئی ہے ’’آیاتِ متعارضہ اور ان کا حل‘‘ جس میں صرف آیاتِ متعارضہ کو حل کیا گیا ہے۔ گویا کہ مختلف انواع پر مختلف قسم کی تفاسیر یا مختلف قسم کی جزوی کتب موجود ہیں۔
(4) ایک سامعہ:
السلام علیکم، مولانا! مجھے ساختیات (Structuralism) کے حوالے سے ایک سوال کرنا ہے۔ آپ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس کے بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یا ہو رہے ہیں علوم القرآن پر، تفسیرِ قرآن پر۔ تو اس حوالے سے باقاعدہ ایک کتاب لکھی ہے ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے، جو پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں ادب کے۔ انہوں نے اس میں بالکل واضح کیا تھا کہ متن کو مصنف کے عندیے سے ہٹا کر اگر ہم دیکھیں گے تو آپ لازمی کثیر المعنویت تک پہنچ جائیں گے، اور مقصدی تحریر بھی آپ کو بے مقصد نظر آنے لگے گی۔ تو یہ ایک نقص کے طور پر وہ بیان کر رہے ہیں، انسان کے نقص کے طور پر۔ اور پھر اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ سائنسی، تاریخی اور الہامی کتب میں آپ وحدتِ معنی تک نہیں پہنچتے۔ یہ انسانی نقص ہے، یہ بالکل ویسا ہی نقص ہے جیسے انسان سماعت اور بصارت میں ایک حد رکھتا ہے، اس سے آگے سن اور دیکھ نہیں پاتا، تو پھر وہ خوردبین اور دوربین کا سہارا لیتا ہے، یا خاص آلے ہوتے ہیں جن کا استعمال کرتا ہے۔ تو یہ جو آپ مشکلات القرآن پیش کر رہے ہیں، یا اس سے پہلے اہلِ علم نے اسالیب القرآن پیش کیے، تو ان سب کو کیا ہم وہی ٹولز سمجھیں جیسے دوربین اور خوردبین ہوتے ہیں، جو ہماری مدد کرتے ہیں اور اس کمزوری کے ہوتے ہوئے ہمیں دور کی یا انتہائی چھوٹی چیز دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بالکل وہی ٹولز ہیں جو ہمیں قرآن کے وحدتِ معنی تک پہنچنے میں مدد دیں گے؟ کیا صحیح سمجھی ہوں میں اس چیز کو؟
جواب:
میرے خیال میں اس میں فرق ہے۔ دیکھیں مابعد جدیدیت کی جو بحث ہے، اس نے پوری لسانیات کی تاریخ کو ہی بدل دیا ہے۔ یعنی پہلے جو ٹولز استعمال ہوتے تھے، وہ کسی بھی متن کو سمجھنے کے ٹولز ہوتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اب مابعد جدیدت نے وہ پورا پیراڈائم ہی شفٹ کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک لسانیات کا معاملہ ہی الگ ہو گیا ہے۔ کچھ چیزیں ظاہر ہے بہت دقیق بھی ہیں۔ یہ اُس طرح تو نہیں ہے لیکن یہ بہت بڑا فرق ہے اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مابعد جدیدیت جو بحث ہے اس نے وہ لسانیات کا پورا فلسفہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ اس کا براہ راست الہامی کتابوں پر بڑا گہرا اثر ہے، اور یہ بہت بڑا چیلنج ہے الہامی کتابوں کے لیے، کہ الہامی کتابوں کا متن اور معنی کی خاص حدود ہوتی ہیں، باؤنڈریز ہوتی ہیں، اُس نے تو لسانیات کی باؤنڈریز کو ہی توڑ دیا۔ اس لیے یہ اُس میں سے نہیں ہے، یہ بالکل الگ چیز ہے، یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔
سوال:
ایک چھوٹی سی بات میں پوچھنا چاہوں گی، اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اسے واضح کر دیں۔ اُن کا موقف تھا اس کتاب میں کہ مصنف کا لکھتے وقت ارادہ تو ایک ہی معنی قاری تک پہنچانا ہوتا ہے۔ یعنی لکھتے وقت مصنف کا یہی ارادہ تھا کہ میں ایک ہی معنی قاری تک پہنچاؤں۔ لیکن جب وہ قاری کے ہاتھ میں آتا ہے تو تنقیدی نگاہ کی وجہ سے، جو کہ ہر قاری کی الگ الگ ہوتی ہے، وہ مختلف معنی تک پہنچ جاتا ہے۔ تو یہ بات انہوں نے نقص کے طور پر بیان کی تھی۔ آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ چیز بطور نقص ساختیات کے لوگ پیش نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس کو ایک مثبت چیز کے طور پر پیش کر رہے ہیں اس لیے مختلف المعانی تک پہنچنا ان کو ایک اچھی چیز لگ رہا ہے، الہامی کتب کے حوالے سے بھی۔ کیا یہ کہنا چاہ رہے ہیں آپ؟
جواب:
یہاں ہم نقص اور خامی کے حوالے سے نہیں دیکھ رہے۔ صرف بات یہ ہے کہ لسانیات کی جو جدید بحثیں اٹھی ہیں، اس نے لغت، لفظ اور معنی کا پورا فلسفہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ جو لغت کی بحث ہے، یا لفظ اور معنی کی بحث ہے، اس نے وہ ساری حدود توڑ دی ہیں۔ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو متن یا ٹیکسٹ ہوتا ہے، ایک تو وہ اس مصنف سے آزاد ہو جاتا ہے، وہ قاری کے فہم کے تابع ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف ایک قاری کے فہم کے تابع نہیں ہے، اگر ہزار قاری ہیں تو ہزار قاریوں کے فہم کے تابع ہے۔ پھر صرف یہی نہیں ہے، وہ الفاظ بھی اپنے معنی کی حدود سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظ اور معنی ایک دوسرے کے ساتھ نتھی نہیں ہیں۔ تو گویا کہ یہ ایک بہت بڑی سطح پہ بحث ہے، جس نے گویا کہ صرف لسانیات پر اثر نہیں ڈالا۔ اسی لیے تو ان لوگوں کے ہاں کوئی نظریہ ہی نہیں ہے، کوئی ایک کائناتی سچائی ہے ہی نہیں۔ کیونکہ کائناتی سچائی تو آپ الفاظ سے بنائیں گے، جبکہ الفاظ اور معانی کا کوئی رشتہ ہی نہیں رہا۔ یہ کافی گہری اور پیچیدہ قسم کی بحث ہے، وہ ہماری لغات میں، جو ہماری linguistic history ہے، وہ اس سے الگ تھلگ ہے، اس لیے وہ اس میں آتا ہی نہیں۔
یہ جو مشکلات القرآن ہیں، اس میں متن کے حوالے سے کچھ اشکالات پیدا ہوتے ہیں جن کو ہم نے حل کرنا ہے۔ یہ وہ والی بحث نہیں ہے۔ وہ والی بحث تو اس پوری انسانیت کی تاریخ کو بدل دیتی ہے، جس کے نہ صرف ٹیکسٹ پر اثرات پڑتے ہیں بلکہ فکری اثرات پڑتے ہیں، فلسفے پر اثرات پڑتے ہیں، اس کے کائناتی سچائی پر اثرات پڑتے ہیں۔ تو مابعد جدیدیت نے تو پوری انسانی تاریخ ہی بدل دی، اور اتنا بدل دیا کہ وہ اپنا آپ بھی ڈیفائن نہیں کر پا رہا، کیونکہ خود کو ڈیفائن کرنے کے لیے بھی الفاظ چاہئیں، اور اس نے تو الفاظ اور معنی کا رشتہ ہی توڑ دیا۔ یہ عجیب غریب بحث ہے جو خود ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے، یعنی مابعد جدیدت بھی ابھی پورا محدد نہیں ہو سکا، اس کی اسی کنفیوژن کی وجہ سے، یا جو الفاظ اور معانی کا جو رشتہ انہوں نے توڑ دیا ہے، اس کی وجہ سے وہ خود بھی یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ اب کیسے اس کی باؤنڈریز طے کریں۔
سوال:
مولانا! علامہ جاوید احمد یہ فرماتے ہیں کہ انسان اپنے وجود کی بنا پر چیز کو سمجھتا ہے اور پھر وہ علمی ارتقائی سفر طے کرتا ہے۔ ہر دور میں انسان نے یہی کیا ہے۔ تو آپ کو نہیں لگتا کہ ساختیات کے لوگ جو ہیں وہ انسان کی اس کیفیت کو ڈسکرائب کر رہے ہیں کہ وہ کیوں مختلف معانی نکالتا ہے چیز سے۔ وہ ’کیوں‘ کا تو جواب دے رہے ہیں لیکن اس کا حل نہیں بتا رہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ بتائیں کہ یہ جو انسانی آنکھ ہے یہ فلاں حد تک تو دور کی چیز کو دیکھ سکتی ہے، اس سے آگے نہیں۔ تو جب یہ ایک نقص ہے اور یہ واقعی حقیقت ہے، پھر اس نقص کو جان لینے کے بعد آگے اس پر قابو کیسے پانا ہے، دور کی چیز کیسے دیکھنی ہے، اس کے پھر حل تلاش کیے جاتے ہیں۔ پھر علامہ صاحب بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس سیاق و سباق ہوتا ہے، جملے کی تالیف، عربی کے اندر لفظ کا معروف استعمال، اس طرح کی وہ ساری چیزیں پیش کرتے ہیں کہ یہ سب آپ کی مدد کرتے ہیں وحدتِ معنی تک پہنچنے میں، یعنی یہ ٹولز ہیں۔ اور وہ ٹولز آپ بھی پیش کر رہے ہیں اپنی جگہ کہ فلاں فلاں ٹولز استعمال ہوتے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ساختیات اثر نہیں ڈال رہا، وہ تو انسانی کمزوری بتا رہا ہے، اب ہمارا کام ہے کہ اچھا اب یہ کمزوری ہے کہ مختلف معانی تک ہم پہنچ سکتے ہیں تو اس کو کور کیسے کرنا ہے؟ تو جی فلاں فلاں ٹولز ہیں جو آپ کو اس کمزوری پر قابو پا کر وحدتِ معانی تک پہنچائیں گے۔ تو کیا یہ ٹھیک طریقہ نہیں ہے ساختیات کو دیکھنے کا؟
جواب:
اس میں ایک بنیادی فرق ہے:
ایک تو یہ ہے کہ پہلے سے یہ طے کر دیں کہ اس ٹیکسٹ کا ایک مفہوم ہے۔ اب وہ ٹیکسٹ اپنے مفہوم پر کیسے دلالت کر رہا ہے؟ اس میں کچھ رکاوٹیں آ رہی ہیں اور آپ ان رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں، کمزوریوں کو دور کر رہے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے۔
لیکن یہ لوگ اس طرح سے نہیں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اس کو دیکھ ہی نہیں رہے کہ ٹیکسٹ کا ایک خاص مفہوم ہے۔ وہ ان مشکلات کو نہیں دور کر رہے کہ ٹیکسٹ اپنے مفہوم پر کیسے دلالت کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی رکاوٹ ہی ٹیکسٹ کا ایک متعین مفہوم پر دلالت کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں آپ ٹیکسٹ کو بھی آزاد کردو اور مفہوم کو بھی آزاد کر دو۔ تو پہلے والے لوگ جو اس پر بات کرتے تھے وہ ٹیکسٹ کا ایک متعین مفہوم فرض کر کے پھر اس کو دریافت کرتے تھے۔ یہ لوگ فرض کر کے دریافت نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ جو آپ دریافت کرتے ہیں دراصل یہی کمزوری ہے۔ کیونکہ جب آپ دریافت کر لیتے ہیں تو پھر اس کی باؤنڈریز آپ نے طے کر دیں۔ جب آپ نے باؤنڈریز طے کر دیں تو آپ نے لفظ اور معنی کو آپس میں جوڑ دیا، حالانکہ اس کو جوڑنا ہی نہیں ہے۔
تو اس لیے یہ اس سے بالکل الگ ہے۔ امید ہے فرق واضح ہو گیا ہو گا۔ مابعد جدیدت سے مجھے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے، زیادہ تو نہیں ہے، لیکن پڑھتا رہتا ہوں، تو اس لیے اِس میں اور اُس میں کافی فرق ہے۔
سوال:
اچھا، میں سمجھ گئی، یعنی جیسے غلامی کے بارے میں علامہ جاوید احمد نے اپنا جب موقف پیش کیا تو لوگوں نے سوال اٹھا دیا کہ یہ پہلے ادوار میں جو اہلِ علم تھے ان کو کیوں نہیں سمجھ آئی یہ آیت کہ اچھا یہ تو غلامی کو ختم کر رہی ہے، آپ کو اتنی صدیوں بعد کیسے پتہ چلا؟ تو استاذ نے فرمایا کہ چونکہ یہ مسئلہ ہی نہیں تھا پہلے لوگوں کا، اس لیے نہ تو نقد ہوا اور نہ ہی جواب دینے کی ضرورت پیش آئی۔ آج کا عالم اس پر غور کر کے کیوں یہ جواب لے آیا ہے، کیونکہ آج ہی تو مسئلہ پیدا ہوا ہے جدید تہذیب کی وجہ سے، تو اس لیے جب ہم نے اس آیت پہ غور کیا تو ہمیں صاف پتہ چل گیا۔ تو آپ کا کہنا ہے کہ یہ چیز ہے کہ قاری غور کرتا ہے اور پھر اپنے حالات کے لحاظ سے معنی اخذ کر لیتا ہے۔ اور یہی اصل چیز ہے، یعنی ساختیات اِدھر راہنمائی کر رہی ہے کہ حاضر کا شخص کوئی معنی اخذ کر رہا ہے، وہی اصل معنی ہے، مصنف کا معنی یا مصنف کا جو عندیہ ہے وہ اصل معنی نہیں ہے۔ یہ کہنا چاہ رہے ہیں نا آپ؟
جواب:
اسی کے قریب قریب۔ لیکن اس میں پھر وہ یہ بھی ساتھ کہتے ہیں کہ یہ جو قاری نے اخذ کیا ہے، یہ بھی کوئی الٹی میٹ نہیں ہے، یہ بھی یوں سمجھ لیں کہ اس کو محدد نہیں کرتا، یعنی قاری اپنے اس مفہوم پہ اصرار کرے گا تو یہ بھی غلط ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ جیسے ایک مٹی ہے، آپ اس سے گھوڑے کی شبیہ بنا لیں، میں اس سے انسان کی شبیہ بنا لوں، کوئی دوسرا اٹھا کر اس سے دیوار بناتا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ الفاظ دراصل مٹی ہیں، اس مٹی سے کیا بنانا ہے، یہ ہر ایک کی اپنی مرضی ہے، ضروری نہیں کہ اگر آپ نے اس مٹی سے گھوڑا بنا لیا تو اس مٹی سے صرف گھوڑا ہی بن سکتا ہے، کچھ اور بن ہی نہیں سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اس گھوڑے کو گرا کر اس سے کوئی شبیہ بھی بنا سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ قاری جو اِس تک پہنچا ہے وہ اس کی چوائس ہے۔ تو اس طرح سے گویا کہ ہمارا پورا جو کمیونیکیشن کا نظام ہے وہ سارا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اور جو الہامی کتابیں ہیں، اس کا بنیادی فلسفہ تو یہی ہے نا کہ اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے کمیونیکیٹ کرتا ہے انسانوں سے۔ اگر آپ اس کمیونیکیشن کی تار ہی کاٹ دیں، تو پھر کیسے کمیونیکیشن ہو گی۔ تو اس لیے یہ فکر بہت زیادہ چیلنجنگ ہے الہامی کتابوں کے لیے۔ اس لیے میں نے مابعد جدیدت کو مستقبل کی ممکنہ مشکلات میں شمار کیا ہے کہ ابھی یہ چیلنج پورا واضح ہوا نہیں ہے، لیکن یہ واضح ہو گا مستقبل میں۔
(5) ایک سامع:
میرے ذہن میں سوال آ رہا تھا کہ یہ مشکلات تو صحابہؓ سے شروع کی ہیں آپ نے، یا تابعین سے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کوئی مشکلات پیش آئی تھیں کبھی اس طرح؟
جواب:
بڑا مشکل سوال آپ نے کیا ہے۔ دیکھیں، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ مشکلات پیش آ سکتی ہوں گی کہ وہ تو خود شارع تھے۔ یعنی وہ خود اس کی توضیح کرتے تھے۔ لہٰذا آپؐ کو مشکلات پیش نہیں آ سکتی تھیں۔ یعنی مشکلات تو سننے والے کو پیش آتی ہیں۔ گویا کہ آپؐ خود ان الفاظ کی تشریح اور ان کو ڈیفائن کرنے والے تھے، اس لیے آپ کو مشکلات نہیں آ سکتیں۔ ہاں، اگر کبھی آئی بھی ہوں گی تو ہو سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام، ان تینوں کے درمیان ہی معاملہ ہوا ہو گا، جو ظاہر ہے امت تک منتقل نہیں ہوا۔
سوال:
جیسے ہم دیکھتے ہیں سیاق و سباق میں، جب قرآن کی کچھ آیات ہم پڑھتے ہیں، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ کی جا رہی ہو کسی بات پر، کسی آیت میں کسی جگہ پہ روکا جا رہا ہو۔ جیسے سورہ تحریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ آپ قسم کو کھول لیں، اور اس کا طریقہ بتا دیا گیا۔ اب یہاں پہ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم سمجھنے میں [مشکل پیش آئی ہو گی]۔ ’’لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ یا ’’عفا اللہ عنک‘‘ یا ’’عبس وتولیٰ‘‘ یا اس طرح کے جو مقامات ہیں، کیا اسے ہم اس حوالے سے دیکھ سکتے ہیں؟
جواب:
دیکھیں، یہ جو مشکلات القرآن ہے، اس کا تو ٹیکسٹ کے ساتھ تعلق ہے کہ ٹیکسٹ میں کوئی اشکال ہو رہا ہے۔ آپ نے جو مثالیں پیش کی ہیں، اس میں تو کوئی واقعہ ہو جاتا ہے اور اس واقعہ پر اللہ تعالیٰ آپؐ پر کوئی اس طرح شکوے والا جملہ کہہ دیتے ہیں، تو اس کا قرآنی ٹیکسٹ سے تعلق نہیں ہے۔
یعنی مشکلات القرآن تو ہم اس کو کہتے ہیں کہ قرآنی متن آیا، اب یہ قرآنی متن کسی حوالے سے اشکال پیدا کر رہا ہے۔ اور ایک یہ ہے کہ ویسے ہی کوئی واقعہ ہوا، اس واقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی آئی۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ یعنی متن سے پہلے کچھ واقعات ہو گئے، مثلاً حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ کو قریب آنے دینا ہے یا نہیں دینا، آپ علیہ السلام نے اجتہاد کیا کہ نہیں آنے دینا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ناراضگی ظاہر کی کہ ان کو آنے دینا چاہیے تھا۔ تو اس کا ٹیکسٹ کی توضیح سے براہ راست تعلق نہیں ہے کہ اس وقت تو ٹیکسٹ آیا ہی نہیں تھا۔
سوال:
یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ سامع اور قاری کے لیے مشکلات ہیں، لیکن جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکلات کا مسئلہ نہیں ہے۔
جواب:
مشکلات کا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ آپ علیہ السلام خود شارع ہیں، تو جب آپ خود شارع ہیں تو پھر آپ کے لیے کیا مشکلات ہیں۔
سوال:
مثلاً جیسے وہ وصیت والی آیت ہے سورۃ بقرہ میں، اس میں بھی اسی طرح دیکھا جائے گا کہ اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جو سزائیں بھی آئی ہیں، جیسے ’’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘‘ کہ ان کو گھروں میں رکھو، پھر اس کے بعد سورۃ نور میں آیا۔ تو اس میں بھی کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا۔
جواب:
وہ تو احکامات کی تدریج ہے، وہ تو چلتی رہتی ہے، وہ تو ہر شریعت میں چلتی رہی ہے کہ ایک حکم آ گیا، پھر اس حکم میں مزید سختی آ گئی، اس میں ترمیم آ گئی، اس کا بھی مشکلات القرآن کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔
سوال:
وہ آپ نے منسوخ کا لفظ استعمال کیا ہے، وہ جو آپ نے ایک فہرست بنائی ہے، درجہ بندی کی ہے۔
جواب:
وہ مشکل النسخ ہمارے لیے ہے۔ یعنی ہم جو بعد والے ہیں، ہمارے لیے یہ مسئلہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوئی تھی یا نہیں۔ اس دور کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن بعد میں مختلف قسم کی روایت آئی کہ یہ منسوخ ہے یا نہیں؟ تو اس نے گویا کہ پھر سوال پیدا کر دیا۔
(6) سید شہزاد علی:
السلام علیکم، آپ کی اجازت سے ایک آیت پڑھنا چاہوں گا: ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘۔ تو جب آپؐ کا فریضہ ہی یہی ہے کہ تبیین کرنا ہے، تو پھر آپ کے لیے مشکل ہی نہیں ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس براہ راست ’’وما ینطق عن الہویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ‘‘ تو پھر براہ راست وحی جب آتی ہے اور جب آپؐ کا مقصد ہی یہی ہے کہ آپؐ نے تبیین کرنی ہے تو میرا نہیں خیال کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے متعلق یہ سوچنا کہ آپؐ کو مشکل پیش آئی ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ عملاً ہمیں نظر بھی آتی ہے روایات سے کہ آپؐ نے اس کی باقاعدہ تشریح کی ہے، اور آخری حجت بھی وہی ہیں۔ اور اسی طرح جیسے ہم بات کر رہے ہیں ناسخ و منسوخ کی، یہ بھی ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ پہلے شراب کی حرمت نہیں تھی، بعد ازاں ہوئی، تو یہ سارے علمی سوالات ہیں۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں یہ جملہ بول دوں ’’لتبین‘‘ کہ نبی صلی اللہ علیہ کی حجیت کی طرف یہ جملہ بولا جائے۔
جواب:
ما شاء اللہ بہت خوب بولے ہیں۔
(7) ایک سوال
ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی: یہ انہوں نے چیٹ میں ایک بڑا اچھا سوال کیا ہے، اور یہ سوال مجھے وہاں پی ایچ ڈی کے ڈیفنس میں بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ہم نے اسے سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، لیکن ’’مشکلات‘‘ سے لگتا ہے کہ یہ آسان نہیں ہے بلکہ مشکل ہے۔
جواب:
بڑا زبردست سوال ہے۔ دیکھیں، تھوڑا سا فرق آپ نے سمجھنا ہے کہ سمجھنے کا لفظ نہیں ہے بلکہ ’’للذکر‘‘ کا لفظ ہے۔ ذکر کا مطلب ہے نصیحت حاصل کرنا، عبرت حاصل کرنا، سبق حاصل کرنا۔ تو کسی ٹیکسٹ سے آپ سبق کب حاصل کریں گے؟ جب آپ اس کو پہلے سمجھیں گے۔ تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے جو مفاہیم ہیں وہ اتنا پیچیدہ نہیں ہیں، ان کو بڑی آسانی سے ایک انسانی ذہن قبول کرتا ہے۔ مثلاً اگر وہ کہتا ہے کہ چوری نہ کرو، تو انسانی ذہن اس کو قبول کرتا ہے کہ چوری بری چیز ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ سچ بولو، تو انسانی ذہن قبول کرتا ہے کہ واقعی سچ تو اچھی چیز ہے۔ گویا کہ ہماری جو عقل ہے اور جو ہماری نیچر ہے وہ قرآنی احکامات کے ساتھ بہت مطابقت رکھتی ہے، اس لیے وہ انسان کو بہت اپیل کرتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے آپ کو متن سمجھنا ہو گا۔ گویا کہ یہ والی آیت کا مرحلہ تب آئے گا جب آپ متن والی مشکلات کو عبور کر جائیں گے۔ جبکہ مشکلات القرآن میں متن کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ لہٰذا مشکلات القرآن دراصل متن کی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ اور یہ معاملہ ہر ٹیکسٹ کے حوالے سے پیش آتا ہے، صرف قرآن کے حوالے سے نہیں، اگرچہ قرآن کے متعلق کچھ زیادہ ہے۔ جب آپ ان مشکلات کو عبور کر جائیں یعنی ٹیکسٹ کو سمجھ جائیں تو پھر قرآن کی جو تھیم اور فکر سامنے آتی ہے، وہ پھر بڑی آسان ہے، وہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ انسانی ذہن کو اپیل کرتا ہے۔ امید ہے دونوں میں فرق سمجھ میں آگیا ہو گا۔
(8) سید شہزاد علی:
میں ایک اور سوال کرنا چاہ رہا ہوں، ما شاء اللہ علمی بحث ہے۔ آپ نے نوعِ اول بیان کی ہے مشکل القرآن کے حوالے سے، اس میں ساتویں نمبر پہ آپ نے بیان کی ہے: حفاظتِ قرآن و تحریف۔ عام طور پر اہلِ تشیع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریف کے نقطۂ نظر کے قائل ہیں۔ تو اس حوالے سے آپ نے ان کا لٹریچر پڑھا ہے یا آپ کی نظر سے گزرا ہے کہ یہ واقعتاً اُن کا نقطۂ نظر ہے؟ یا جیسا کہ ہمارے ہاں مسالک کے حوالے سے اعتراضات کا جو رویہ ہوتا ہے، یہ ویسی کوئی بات ہے؟ اس حوالے سے ذرا بتائیے گا۔
جواب:
ہاں، ایسا ہے۔ یہ ان کا نظریہ رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک تھے علامہ طبرسی (مرزا حسین نوری طبرسی)، یہ تیرہویں صدی ہجری کے تھے، انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے، شاید آپ نے نام سنا ہو، ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘۔ اس میں انہوں نے شیعہ علماء سے، شیعہ ائمہ سے، شیعہ تراث سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ قرآن محرف ہے۔ لیکن بعد میں جب وہ کتاب منظر عام پر آئی تو اس نے گویا کہ ایک دھماکہ کر دیا اور لوگوں کو یہ ہوا کہ واقعی اہلِ تشیع کے تراث میں تحریفِ قرآن پہ اتنا اجماع ایک قسم کا انہوں نے پیش کر دیا۔ پھر جب یہ ایک ٹول آ گیا اہلِ سنت کے علماء کے ہاں، کہ قرآن کی تحریف کا منکر تو کافر ہے، تو اہلِ تشیع کافر ہیں۔ پھر اہلِ تشیع کو تھوڑے سے لالے پڑ گئے۔ پھر انہوں نے دو قسم کے کام کیے:
- ایک قسم کا کام یہ کیا کہ انہوں نے جواباً کہا کہ مرزا طبرسی نے تو کتابوں سے روایاتِ تحریف لی ہیں، وہ روایاتِ تحریف تو آپ کی کتابوں میں بھی ہیں۔ گویا کہ انہوں نے کہا کہ تحریف کے قائل صرف ہم نہیں ہیں، تم بھی ہو۔ یعنی جواباً انہوں نے یہ کر دیا۔
- اور کچھ لوگوں نے، جو اُن کے معتدل علماء تھے، انہوں نے اس کتاب سے براءت کا اظہار کر دیا کہ ہم اس کی تاویل کرتے ہیں، جیسے اہلِ سنت کے علماء تاویل کرتے ہیں۔
گویا کہ اہلِ تشیع کے ہاں یہ نظریہ رہا تھا، لیکن معاصر علماء نے، یعنی اہلِ تشیع کا جو ابھی مین سٹریم ہے، وہ اب تحریف کا قائل نہیں ہے، کیونکہ ردعمل ہی بہت شدید آیا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب غائب کر دی گئی۔ یعنی اب اہلِ تشیع اس کتاب کی نسبت ہی اپنی طرف نہیں مانتے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ مرزا نوری طبرسی نے لکھی ہی نہیں۔ اب ایک بحث الگ چل پڑی اس کتاب کو ثابت کرنے کے لیے۔ بہرحال یہ ایک نظریہ تھا لیکن جب یہ بہت زیادہ منظر عام پر آ گیا تو پھر انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔
سوال:
جی، وہ حدیث تو ملتی ہے جس میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، وہ بکری کے حوالے سے۔ اچھا، میرا جب اُن سے مکالمہ ہوا تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم تحریف کے قائل نہیں ہیں … ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جو تشریح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے، امام مہدیؒ جب آئیں گے … ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کوئی علیحدہ قرآن کے قائل ہیں۔ قرآن نہیں ہے بلکہ تفسیر ہے۔ میرے پوچھنے پر یہ نقطۂ نظر اُن سے براہ راست مجھے ملا تھا۔
جواب:
بالکل، اب وہ اس طرف آ گئے ہیں کہ الفاظ تو محفوظ ہیں لیکن تشریح جو تم کر رہے ہو، ظاہر ہے وہ ایسے نہیں ہے، امام مہدیؒ پھر بالکل الگ ہی ایک ورژن اس کا پیش کریں گے۔ اصل میں یہ بھی تحریف ہی کا نظریہ ہے۔ ظاہر ہے جب آپ قرآن کی موجودہ تشریح کو نہیں مانتے، تو گویا دین کا جو موجودہ حلیہ ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو پھر یہ تحریفِ معنوی ہو گئی۔ تو اس لیے وہ پہلے تحریفِ لفظی میں مبتلا تھے، اب تحریفِ معنوی میں مبتلا ہو گئے۔
اصل میں یہ ایک الگ موضوع ہے، ان شاء اللہ کبھی اس پر بات کرنی چاہیے کہ امامت کا جو نقطۂ نظر ہے، اور صحابہؓ کی تکفیر کا جو نظریہ ہے، خاص طور پر خلفاء ثلاثہؓ کا۔ یعنی امامت اور خلفاء ثلاثہ کی تکفیر کے دو عقیدے اور قرآن کے محفوظ ہونے کا عقیدہ، یہ ساتھ چل نہیں سکتے۔ ان دونوں میں دراصل تضاد ہے۔ اسی وجہ سے اہلِ تشیع کبھی اُدھر جاتے ہیں کبھی اُدھر جاتے ہیں کیونکہ یہ دونوں آگ اور پانی کو جمع کرنے والی بات ہے، اس میں مسائل ہوتے ہیں۔ یعنی ایک مرتبہ خلفاء ثلاثہ کو کافر مان لیا، اور امامت کا نظریہ جس ترتیب سے وہ مانتے ہیں، تو پھر قرآن میں خودبخود ہی نقص آجاتا ہے، وہ ماننا ہی پڑتا ہے، یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ لیکن اہل تشیع اس طرح سے نہیں کرتے، وہ پھر تاویلات پیش کرتے رہتے ہیں۔
(9) شفقت ناز:
جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں واضح طور پر کہہ دیا ہے ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ تو پھر تو ہمارے ذہن میں اس طرح کی کوئی بات آنی ہی نہیں چاہیے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اتنا واضح پیغام دے دیا ہے تو یہ تو نہیں ہمیں سوچنا چاہیے۔
جواب:
اہلِ تشیع اس کو اس اینگل سے دیکھتے ہیں کہ قرآن تو اب بھی محفوظ ہے لیکن امام مہدیؒ کے پاس ہے۔ تو پھر کیا جواب دیں گے؟ گویا کہ وہ اس کو کسی نہ کسی حوالے سے تاویل کر ہی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں قرآن تو محفوظ ہے، اللہ نے حفاظت کی ہے، لیکن وہ میرے اور آپ کے پاس نہیں ہے، امام مہدیؒ کے پاس ہے، اس لیے وہ اس کو امام مہدیؒ کی طرف کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس قرآن محفوظ ہے۔ ان کے پرانے علماء یہ بات کہا کرتے تھے۔ ورنہ تو بات وہی ہے جو آپ نے کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تو پھر اس میں تحریف ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن ظاہر ہے کہ روایات تو ہیں، تو ان روایات کی توجیہ پھر ہمیں بھی کرنی پڑے گی اور اُن کو بھی کرنی پڑے گی۔
(10) محمد حذیفہ نواز:
……
جواب:
دیکھیں، … آپ اصل بات اشکال پہ کر رہے ہیں کہ اشکال کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے اس پر بات کی ہی نہیں ہے کہ اس کے جوابات ہو ہی نہیں سکتے، یا جوابات نہیں ہیں، یا تعارض حقیقی ہے۔ تعارض حقیقی نہیں ہے، تعارض تو ظاہری ہے، اس تعارض نے اشکال پیدا کر دیا لیکن اس کا جواب موجود ہے۔
گویا کہ ہم جواب پہ بات نہیں کر رہے کہ جواب ہے ہی نہیں، لیکن اشکال ہے جس کی وجہ سے آیت میں خفا پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً آپ نے کسی اشکال کا جواب پڑھا ہو گا تو آپ کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا، لیکن میں نے اُس اشکال کا جواب نہیں پڑھا ہو گا تو میرے لیے تو مسئلہ ہو گا۔ یعنی ضروری نہیں کہ زید کے ہاں اشکال ختم ہے تو بکر کے ہاں بھی ختم ہو گیا۔ نہیں، بکر کے ہاں اشکال رہے گا جب تک وہ جواب تک نہ پہنچے گا۔ تو وہ جواب تک کیسے پہنچے گا؟ پہلے اس کا منبعِ اشکال دیکھیں گے۔ ہم نے اس مقالے میں منابعِ اشکال پر بات کی ہے کہ وہ یہ یہ ہو سکتے ہیں۔
سوال:
تو اس میں پھر یقیناً اضافہ بھی ممکن ہو گا، یعنی کوئی اور جب دیکھے گا، اس کو پڑھے گا؟
جواب:
ایسا ہی ہے۔ یعنی میرے ذہن کے مطابق اتنے منابعِ اشکالات ہو سکتے ہیں، لیکن صرف یہی نہیں ہیں، اور بھی منابعِ اشکالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بلکہ زمانہ جب مزید آگے جائے گا تو مزید اشکالات ہوں گے۔ ظاہر ہے اشکال تو کسی کو کسی وقت بھی پیش آ سکتا ہے۔ کچھ اشکال قابلِ اعتنا نہیں ہوتے، کچھ قابلِ اعتنا ہوتے ہیں یعنی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے مشکلات القرآن ایک ایسا علم ہے جس کی نوعیت وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے، اس کی مثالیں بدلتی رہتی ہیں، اس کی انواع بدلتی رہتی ہیں، یہ ایک flexible علم ہے جس کی وجہ سے یہ وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم سے گزرتا رہتا ہے۔
اختتام
…… آپ حضرات کا بھی شکریہ کہ آپ لوگوں نے یہ تھوڑی سی بھاری، تھوڑی سی ہلکی، یہ ساری باتیں سن لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سمجھ عطا فرمائے اور آپ لوگوں کا یہ شوق قبول کرے۔ آپ لوگ نہ ہوتے تو ہم کس کو سناتے؟ تو یہ علم کا شوق ہی ہے جو آپ لوگوں کو لے کر آیا۔ آپ لوگوں سے دعاؤں کی بھی درخواست ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ سب کا یہ وقت قبول فرمائے، جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
https://youtu.be/VhTHNQFwSLI
(مکمل)
کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود
مجھ سے حدیثِ نبوی اور مصادرِ حدیث سے لگاؤ رکھنے والے ایک صاحب نے سنن دارقطنی سے متعلق سوال کیا کہ اس کتاب میں کتبِ ’’سنن‘‘ کی ترتیب اختیار کی گئی ہے یا کتبِ ’’علل‘‘ کا طور و انداز اپنایا گیا ہے؟ ان کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
نام
اس کتاب کا نام ’’سنن‘‘ ہے، جسے حافظ حدیث امام ابوالحسن علی بن عمر بن احمد بن محمد دارقطنی (م۳۸۵ھ) نے تالیف فرمایا ہے۔ امام دارقطنی کی ’’سنن‘‘ کے علاوہ دیگر تصنیفات بھی ہیں، جن کے ناموں سے ہی ان میں موجود مضامین کی جھلک نظر آتی ہے۔ آپ نے کتاب ’’التتبع والالزامات ‘‘ لکھی، جس میں صحیحین کی ان احادیث کا تتبع کر کے نقد کیا، جو آپ کے نزدیک شرائطِ صحت پر پورا نہ اترتی تھیں، اسی طرح آپ نے ایسی احادیث کی نشان دہی بھی کی، جنھیں صحیحین میں درج کرنا ضروری تھا۔ آپ نے کتاب ’’العلل‘‘ تالیف کی، جس میں بے مثال انداز میں معلل احادیث جمع کیں۔ اسی طرح ’’کتاب السنن‘‘ تالیف فرمائی، جس کا نام مضمون کے مطابق ہے؛ کیوں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ امام دار قطنی ’’علل‘‘ کے موضوع پر کتاب لکھیں اور نام اس کا ’’سنن‘‘ رکھیں۔
موضوع
اس کتاب میں دیگر کتبِ سنن مثلاً، سنن ابی داؤد، ترمذی اور نسائی کی طرح آں حضرت ﷺ کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ سنن کی ہر کتاب کی طرح اس کتاب کی بھی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں۔ سنن ترمذی میں مذاہب کا بیان، فقہا کے اختلافات کا ذکر، صحت و حسن اور ضعف کے لحاظ سے احادیث کی درجہ بندی اور تعلیلِ احادیث ایسی کئی مباحث ملتی ہیں، جو دیگر کتب میں موجود نہیں۔ سنن ابو داؤد میں کثرت سے ابواب بندی اور فروعی مسائل کا ذکر، علل کا بیان اور اسنادی اختلافات کی طرف اشارہ ہے۔ یہ انداز دیگر کتابوں میں نہیں ملتا۔ اسی طرح سنن دارقطنی بھی اپنے اسلوب و منہج میں دوسری کتبِ سنن سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں امام دارقطنی نے صحیح و حسن احادیث کے ساتھ ضعیف، موضوع، مضطرب اور معلل احادیث ذکر کی ہیں۔ ان کی یہ کتاب فقہ، روات پر کلام، مختلف الحدیث اور علل کا مجموعہ ہے۔
احادیث کی اقسام
اس کتاب میں اسانید و طرق حدیث ملا کر تقریباً پانچ ہزار احادیث موجود ہیں، جن کی مختلف اقسام ہیں:
صحیح و حسن
اس کتاب میں صحیح و حسن احادیث کی معتد بہ تعداد موجود ہے۔ کچھ احادیث ایسی ہیں جو صحیحین میں بھی پائی جاتی ہیں، کچھ احادیث دیگر محدثین کی شرائط پر پورا اترنے کی وجہ صحیح ہیں، جب کہ بعض احادیث پر امام دارقطنی نے خود صحت و حسن کا حکم لگایا ہے؛ چناں چہ آپ احادیث ذکر کرنے بعد فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، یا اس کی اسناد حسن ہے، یا یہ تمام اسانید صحیح ہیں‘‘، وغیرہ۔ اس کتاب میں اتنی بڑی تعداد میں صحیح و حسن احادیث پاے جانے کی بنا پر اسے کسی طور ’’علل‘‘ کی کتاب نہیں کہا جا سکتا۔
متابعات و شواہد
امام دارقطنی اپنی کتاب میں کثرت سے متابعات و شواہد ذکر کرتے ہیں۔ صحیح و ضعیف کی پروا کیے بغیر احادیث مسلسل بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب محدثین کے ہاں معروف ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح اور امام نسائی نے اپنی سنن میں اسی اسلوب کو سامنے رکھ کر احادیث بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر، سنن دارقطنی میں ’’حدیث قلتین‘‘ وغیرہ کے طرق دیکھیے۔
مقطوع و موقوف
کتب ’’مصنفات‘‘ کی طرح امام دارقطنی اپنی کتاب میں موقوف و مقطوع احادیث و آثار سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ انھوں نے امام بخاری کے تراجم ابواب کی پیروی کرتے ہوے موقوف و مقطوع آثار کو بیان کیا ہے۔
غریب، منکر و موضوع
علامہ محمد بن جعفر کتانی، جو ہمارے بہت سے شیوخ کے استاذ ہیں، فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی غریب احادیث کا مجموعہ ہے۔ اس میں ضعیف، بلکہ موضوع احادیث بہت زیادہ ہیں‘‘1۔ حافظ حدیث امام ابن عبد الہادی رقم طراز ہیں: ’’امام دارقطنی اپنی کتاب میں غریب احادیث لاتے ہیں، کثرت سے ضعیف بلکہ موضوع احادیث ذکر کرتے ہیں اور بعض اوقات حدیث کی علت اور سبب ضعف و نکارت بھی بیان کرتے ہیں2۔ امام ذہبی کہتے ہیں: ’’سنن دارقطنی منکر احادیث کا گھر ہے‘‘۔
خصوصیات
فقہی مذاہب کی تائید میں احادیث و آثار
امام دارقطنی نے کتب فقہ کے منہج کو سامنے رکھ کر اپنی ’’سنن‘‘ کو ترتیب دیا ہے۔ فقہا کی طرح ابواب بندی کی ہے، جن میں فقہی مذاہب کے مستدلاتِ حدیث ذکر کیے ہیں، خواہ یہ احادیث ضعیف، غریب، منکر، شاذ بلکہ موضوع (من گھڑت) ہی کیوں نہ ہوں۔ قاضی ابو علی صفدی کا کہنا ہے: ’’امام دارقطنی نے مختلف فیہ مسائل میں فقہا کے مستدلات حدیث بیان کیے ہیں، اور جہاں تک ہو سکا ان احادیث میں موجود علتوں کی نشان دہی کی ہے3۔
غرائب حدیث
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’امام دارقطنی نے اپنی ’’سنن‘‘ غریب احادیث بیان کرنے کے لیے لکھی ہے۔ آپ حدیث بیان کرنے کے بعد اکثر (فنی حیثیت سے) اس پر حکم لگاتے ہیں۔ ایسی مباحث کے آپ سب سے بڑے عالم ہیں4۔ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں: ’’حدیث میں کمال امامت کے باوجود آپ نے ’’سنن‘‘ اس لیے لکھی تاکہ اس میں فقہ سے متعلق غریب احادیث ذکر کر کے ان کے طرق جمع کیے جائیں؛ کیوں فقہ میں اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے5۔ امام زیلعی فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی معلل احادیث کا مجموعہ اور غریب احادیث کا سرچشمہ ہے‘‘۔
بیان علل
امام دارقطنی عبقری ناقد اور علامۂ علل ہیں۔ جہاں تک ہو سکے، آپ حدیث میں موجود علل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ سنن دارقطنی میں روات کے تفرد کی کثرت سے نشان دہی کی گئی ہے اور احادیث کی علل کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے شیخ عبد الفتاح ابو غدہ فرماتے ہیں: ’’حق یہ ہے کہ اس کتاب کا نام و عنوان ’’السنن المعلولۃ ‘‘ ہونا چاہیے ‘‘6۔
امام دارقطنی پر کوئی الزام نہیں
سنن دارقطنی میں، غریب، منکر اور موضوع احادیث کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ امام دارقطنی متساہل ہیں؛ کیوں کہ انھوں نے اس کتاب میں صحیح حدیث لانے کی شرط نہیں لگائی۔ ان کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں بھی یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، امام ترمذی کبھی کبھار ضعیف حدیث سے باب شروع کرتے ہیں اور اسی موضوع پر شیخین، یعنی بخاری و مسلم کی ذکر کردہ صحیح حدیث چھوڑ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی کا شمار سنت کے دواوین میں ہوتا ہے۔ اس میں تخریج حدیث کے لیے صحت کا التزام نہیں کیا گیا؛ لہٰذا اس میں صحیح، ضعیف اور واہی احادیث اور کثرت سے غریب احادیث پائی جاتی ہیں۔ امام دارقطنی نے ’’سنن‘‘ میں کئی روات کے بارے میں متروک کا حکم لگایا ہے۔ یہ پینسٹھ روات ہیں، جن میں پانچ روات کو متروک نہیں کہا جا سکتا۔ مزید براں اس کتاب میں چار وضاع (من گھڑت احادیث بیان کرنے والے) بھی ہیں‘‘7۔
سنن دارقطنی میں موجود ایک باطل حدیث ذکر کرنے کے بعد امام ابن القیم رقم طراز ہیں: ’’امام دارقطنی نے اس حدیث کو اس وجہ سے ذکر کیا ہے، تاکہ اس کے بطلان کا علم ہو جاے، وگرنہ امام دارقطنی کی شان بہت بلند ہے، وہ ایسی حدیث سے استدلال نہیں کر سکتے‘‘8۔
خلاصہ
سنن دارقطنی انداز و ترتیب میں کتب علل کی بجاے کتب سنن کے مشابہ ہے۔ اس میں صحیح و حسن اور اس سے فروتر درجے کی احادیث موجود ہیں۔ امام دارقطنی نے اس کتاب کا نام ’’سنن‘‘ رکھا ہے، اسی سے امام صاحب کا ہدف واضح ہو جاتا ہے۔ متقدمین حفاظِ حدیث میں سے کسی نے سنن دارقطنی کو علل کی کتاب نہیں کہا۔ اس میں علل احادیث کی نشان دہی سے کتاب کا مضمون بدل نہیں جاتا۔ امام دارقطنی جیسے بڑے محدث سے کوئی بعید نہیں کہ وہ فقہی احادیث کے لیے مخصوص کتاب میں ان کی علتیں بھی بیان کر دیں۔ حفاظ حدیث اپنی تالیفات میں یہ سب کرتے آے ہیں۔ کتاب کسی اور موضوع پر ہوتی ہے؛ لیکن اس میں احادیث کی علتیں بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اس نکتے کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ وللہ الحمد
حوالہ جات
1 ۔ الرسالة المستطرفة، ص: 32
2 ۔ الصارم المنکی فی الرد علی السبکی ، ص: 19
3 ۔ المعجم في أصحاب القاضي أبي علي الصفدي: ص: 79
4 ۔ تلخيص كتاب الاستغاثة ، ص: 20
5 ۔ الفتاوى الكبرى : 5/299
6 ۔ ملحق تحفة الأخبار ص: 154
7 ۔ مناهج البحث وتحقيق التراث ، ص: 178-179
8 ۔ إغاثة اللهفان : 1/317
محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا جائزہ لیتے ہیں، یعنی قرآن مجید اور سنت میں جو تعلیم بھی آپؐ نے دی ہے، اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے تین بڑے میدان ہیں جن کے بارے میں شریعت میں رہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے تین بڑے میدانوں کے بارے میں شریعتِ اسلامیہ نے رہنمائی دی ہے:
(1) — سب سے پہلی رہنمائی انسان کے ذہنی اور فکری معاملات کی ہے۔ اگر انسان ذہنی طور پر الجھنوں کا شکار ہو، ذہنی طور پر پریشان ہو، اس کو یہی پتہ نہ ہو کہ راستہ کدھر جاتا ہے؟ کامیابی کا راستہ کون سا ہے اور ناکامی کا کون سا ہے؟ تو وہ بیابان کی طرح بھٹکتا رہے گا اور اس میں سرگرداں رہے گا اور کبھی بھی صحیح راستے پر نہیں چل پائے گا۔ اس لیے سب سے پہلا کام شریعت نے یہ کیا ہے کہ وہ بنیادیں حقیقی طور پر متعین کر دیں جو انسان کے ذہنی رویے کی تشکیل کرتی ہیں۔ انسان سوچے تو کن خطوط پر سوچے؟ عقلی طور پر معاملات پر غور کرے تو کن حدود کا پابند ہو؟ بنیادی سوالات کیا ہیں جن کا جواب قرآن پاک میں دیا گیا ہے؟ تاکہ ان کی بنیاد پر وہ آگے تفصیلی سوالات کا جواب دے سکے۔
جب آپ سائنس پڑھتی ہیں، سائنس میں آپ کو مثال کے طور پر کیمسٹری میں بعض بنیادی تصورات اور اصول بتا دیے جاتے ہیں کہ کیمسٹری کے بنیادی اصول اور تصورات یہ ہیں۔ ان تصورات کو جاننے کے بعد آپ لیبارٹری میں کھڑی ہو جائیں اور جتنی مرضی تحقیق کریں، آپ کے لیے بہت آسان ہے، آپ بہت جلدی کیمسٹری میں بہت ترقی کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی خاتون کسی گاؤں اور دیہات سے آئی ہو، اس کو یہی نہ پتہ ہو کہ کیمسٹری کیا چیز ہوتی ہے، اس کو وہاں تازہ ترین اور اعلیٰ ترین لیبارٹری میں جا کر کھڑا کر دیں، وہ کچھ نہیں کر سکتی۔ کبھی ایک چیز کو توڑے گی، کبھی دوسری چیز کو خراب کرے گی، کبھی تیسری چیز کو بگاڑے گی۔ اس لیے کہ اسے وہ بنیادی مسائل ہی نہیں پتہ جن کی بنیاد پر اس کو استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ بنیادی سوالات بتا دیے ہیں کہ انسان کی کیمسٹری اور کائنات کی اس کیمسٹری کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ یہ ایک تجربہ گاہ ہے، آپ تجربہ کیجیے۔ اگر آپ کے سامنے وہ سارے بنیادی تصورات اور ڈھانچے موجود ہیں جو قرآن پاک نے اس قوت کو استعمال کرنے کے لیے بتائے ہیں، تو آپ کے لیے بہت آسان ہے، چند منٹوں اور چند لمحوں، چند دنوں میں آپ وہ کچھ معلوم کر سکتی ہیں، جو وہ ناواقف اور ناخواندہ خاتون پچاس برس میں بھی معلوم نہیں کر سکتی، سو برس بھی وہاں کھڑی رہے تو کچھ نہیں کر سکتی، اس کے لیے وہ سب چیزیں بیکار ہیں۔
کم و بیش یہی تشبیہ ہے اس انسان کی جس کو وحی الٰہی کی رہنمائی حاصل نہ ہو اور وہ اس تجربہ گاہ میں کھڑا کر دیا جائے۔ یہ کیمسٹری اس کے سامنے ہو اور وہ اس کیمسٹری کو روز تباہ کیا کرے۔ روز اعلیٰ سے اعلیٰ قوتوں کو ضائع اور برباد کرے، تباہ کرے۔ لیکن اگر اس کے سامنے رہنمائی موجود ہے تو اس رہنمائی کی مدد سے وہ سالوں کا سفر منٹوں میں طے کر سکتا ہے، وہ صدیوں کا سفر سیکنڈوں میں طے کر سکتا ہے۔ یہ شریعت کی برکت اور رحمت ہے کہ اس نے انسانی زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب دے دیا ہے۔
(2) — دوسری چیز جو شریعت نے بتائی ہے، وہ انسان کے احساسات اور جذبات ہیں۔ ہر انسان کے احساسات اور جذبات اس کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ اگر احساسات اور جذبات اسٹیبل ہوں، مستحکم ہوں، تو پوری انسانی زندگی مستحکم ہوتی ہے۔ اگر جذبات اور احساسات مستحکم نہ ہوں تو انسان غیر مستحکم ہوتا ہے، اس کی زندگی اسٹیبل نہیں ہوتی۔ آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ ہیں جو emotionally disturbed رہتے ہیں، جذباتی اعتبار سے پریشانی کے شکار رہتے ہیں، انہیں کبھی جذباتی سکون نہیں میسر ہوتا، ان کی زندگی کامیاب نہیں ہوتی۔ دنیا کی ساری نعمتیں میسر ہوں، لیکن جذباتی استحکام میسر نہ ہو تو وہ ساری نعمتیں بیکار ہیں۔ لیکن اگر کوئی نعمت نہ ہو، لیکن جذباتی طور پر استحکام ہو، تو انسان کی زندگی بڑی کامیاب ہوتی ہے۔
بعض اوقات چھوٹی سی چیز انسان کے استحکام کو خراب کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ بڑی خوشی کے ماحول میں بیٹھے ہوں، انتہائی مسرت کا ماحول ہو، وہاں کسی شخص کو آکر یہ بتا دیا جائے کہ آپ کے فلاں قریب ترین عزیز کا انتقال ہو گیا ہے، اچانک اس کی کیفیت بدل جائے گی، وہ اس ماحول میں نہیں رہے گا۔ وہ جسمانی طور پر وہاں بیٹھا ہوگا، اس کے کان بھی ہوں گے، ناک بھی کام کر رہی ہوگی، آنکھ بھی کام کر رہی ہوگی، سب اعضا کام کر رہے ہوں گے، لیکن عملاً وہ نہ سن رہا ہوگا، نہ دیکھ رہا ہوگا۔ ایک گھنٹے بعد پتہ چلے کہ نہیں، خبر غلط تھی، اس کے عزیز کا نہیں، اس کے ہم نام کسی اور کے عزیز کا انتقال ہوا تھا، وہ دوبارہ اس ماحول میں واپس آ جائے گا۔ اب آپ اس سے پوچھیں کہ فلاں نے کیا کہا تھا، اس کو یاد نہیں ہوگا۔ اس سے پوچھیں کہ اس دوران میں کیا ہوا تھا؟ کوئی ٹی وی چل رہا ہو تو ٹی وی پر کیا آیا تھا؟ اس کو پتہ نہیں ہوگا۔ استاد لیکچر دے رہا ہو تو اسے پتہ نہیں چلے گا کہ کیا کہا تھا۔ اس لیے کہ جذباتی طور پر اس وقت وہ مستحکم نہیں تھا۔
یہ اہمیت ہے جذباتی استحکام کی۔ یہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت چاہتا ہے، یہ وہ اخلاقی خصائص اور روحانی اوصاف چاہتا ہے جو قرآن مجید اور سنت نے انسانوں میں پیدا کیے ہیں اور پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ یہ شریعت کا دوسرا بنیادی حصہ ہے۔
(3) — تھوڑا سا غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ دونوں حصے ایک تیسرے حصے کی تیاری کے لیے ہیں۔ انسان بنیادی سوالات کا جواب کیوں چاہتا ہے؟ اس لیے کہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ بنانا ہے، اسے زندگی سنوارنے کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ انسان جذباتی استحکام کیوں چاہتا ہے؟ اس لیے کہ زندگی کامیابی سے گزارنی ہے۔ تو اصل میں زندگی گزارنے کی جو رہنمائی ہے، شریعت نے جو رہنمائی دی ہے، وہ شریعت کا تیسرا بنیادی حصہ ہے، جو سب سے اہم حصہ ہے۔ شریعت کا وہ حصہ جو انسان کی عملی زندگی کو استوار کرتا ہو، انسان کی ظاہری اور عملی زندگی کو جو حصہ منظم کرتا ہو، وہ شریعت کا تیسرا اور سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جس کو فقہ کہتے ہیں۔
فقہ کے لفظی معنی ہیں گہری بصیرت اور گہری فہم۔ کسی چیز کی گہری فہم کو عربی زبان میں فقہ کہتے ہیں۔ لیکن اس اصطلاحی اعتبار سے فقہ سے مراد ہے شریعت کے عملی احکام کا تفصیلی علم۔ وہ تفصیلی علم جو تفصیلی دلائل کی بنیاد پر ہو۔ یہ بات بڑی اہم ہے۔ فقہ کی دوبارہ تعریف کرتا ہوں، عربی کے الفاظ ہیں: ’’الفقہ ہو العلم بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ عن ادلتہا التفصیلیۃ‘‘ کہ فقہ سے مراد شریعت کے اُن احکام کا علم ہے جو عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں اور جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہوں۔ اگر کوئی حکم انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتا ہو، لیکن شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ نہ ہو، وہ فقہ نہیں ہے۔ فقہ وہ ہے جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے تعلق رکھتا ہو، ان سے ماخوذ ہو، اور اس کا انسان کی عملی زندگی سے تعلق ہو۔ مثال کے طور پر بہت سارے ایسے معاملات ہو سکتے ہیں جن کا تعلق انسان کی عقل سے ہو، جن کا تعلق احساسات سے ہو، وہ چیزیں شریعت کے احکام تو ہو سکتی ہیں، لیکن وہ فقہ کے احکام نہیں ہوں گے، اس لیے کہ ان کا تعلق انسان کی عملی زندگی سے نہیں ہو گا۔ انسان کی عملی زندگی سے تعلق ہو، لیکن شریعت کے تفصیلی دلائل پر مبنی نہ ہو، ان کا تعلق بھی فقہ سے نہیں ہے۔
مثال کے طور پر انگلستان میں ٹریفک کے قوانین میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے۔ اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ اپنے رخ پر چلو، دوسرے کا حق نہ مارو، جب اِدھر سے لال بتی آئے تو رک جاؤ، ہری بتی ہو تو چلے جاؤ۔ جس کا رائیٹ پہلے آنے کا ہو وہ پہلے آئے گا، جس کا بعد میں آنے کا ہو وہ بعد میں آئے گا۔ یہ سب عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ ان میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے، لیکن یہ فقہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان میں کوئی حکم بھی ایسا نہیں ہے جو براہ راست شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہو۔ جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہو گا، وہ فقہ ہو گی۔ کسی فقہ کی کتاب اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو اس میں احکام ملیں گے، مثال کے طور پر یہ ملے گا کہ فلاں پانی پاک ہے، اس سے وضو کی جا سکتی ہے۔ مثلاً بارش کا پانی پاک ہے، اس سے وضو جائز ہے۔ یہ ایک عملی بات ہے، وضو کرنا ایک عملی چیز ہے، اور پانی کے بارے میں ایک مسئلہ آپ کو بتایا جا رہا ہے۔ یہ فقہ ہے، اس لیے کہ اس کا تفصیلی دلائل سے تعلق ہے، قرآن پاک کی ایک آیت ہے اُس میں آیا ہے کہ ’’وانزلنا من السمآء مآءً طہورا‘‘ (الفرقان ۴۸) ہم نے آسمان سے ایسا پانی اتارا جو پاک کرنے والا ہے۔ چونکہ بارش کے پانی کو قرآن مجید نے، شریعت نے پاک قرار دیا ہے، لہٰذا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک حکم ہوا جس کا تعلق تفصیلی دلائل کے ساتھ ہے، یعنی قرآن مجید کی متعلقہ آیت، یا سنت کی متعلقہ نص، کوئی حدیث ہو یا کسی صحابیؓ کا بیان ہو کہ حضورؐ کے زمانے میں یہ طریقہ تھا۔ اس سے براہ راست جب تک تعلق نہیں ہو گا، اس وقت تک اسے فقہ نہیں کہا جائے گا۔
فقہ کے لفظی معنی ہیں گہری بصیرت اور گہری فہم۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس مضمون کا گہری بصیرت سے کیا تعلق ہے؟ کیوں گہری بصیرت اس کو کہا گیا؟ اس مضمون کو گہری بصیرت کے نام سے کیوں یاد کیا گیا؟ تھوڑا سا غور کریں تو اس نام میں اور اس مضمون میں گہری مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے، بڑی لطیف مناسبت پائی جاتی ہے، اس کا آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ آپ سب نے قرآن پاک پڑھا ہے۔ قرآن پاک کی کل آیات چھ ہزار چھ سو سے کچھ زائد ہیں، غالباً چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ یا اس کے لگ بھگ۔ کل احادیث جو ساری کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں، ان کی تعداد چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان ہے۔ چالیس پچاس ہزار کے درمیان جو تعداد ہے، ان میں جو احادیث احکام سے متعلق ہیں، انسان کی زندگی کے عملی احکام سے متعلق ہیں، ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ قرآن پاک کی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات میں وہ آیات جن کا تعلق براہ راست عملی احکام سے ہے، ان کی تعداد چار سو سے زائد نہیں ہے۔ گویا شریعت کے چھپن ہزار چھ سو چھیاسٹھ کے قریب نصوص میں چار ہزار چار سو ہیں جن کا تعلق عملی احکام سے ہے، بقیہ کا تعلق دوسرے احکام سے، دوسرے معاملات سے ہے۔
اب یہ چار ہزار چار سو نصوص زندگی کے لامتناہی معاملات پر منطبق ہوتے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں، اربوں انسانوں کی زندگی میں لامتناہی معاملات ہیں جو ان چار ہزار چار سو نصوص سے ریگولیٹ ہو رہے ہیں، منضبط ہو رہے ہیں۔ آپ نے رات بستر پر آرام کیا، بستر پر سونا ایک عملی کام ہے۔ اس کے بعد صبح اٹھیں، وضو کی، نماز پڑھی، یہ ایک عملی کام ہے۔ ناشتہ کیا، یہ ایک عملی کام ہے۔ کپڑے استری کیے، دھوئے، یہ ایک عملی کام ہے۔ کپڑے بدلے، یہ عملی کام ہے۔ پھر گھر کے اور معاملات انجام دیے، یہ سب عملی کام تھے۔ یہاں تشریف آوری ہوئی، یہ عملی کام ہے۔ رات تک، اگلی صبح تک، اور زندگی کے آخری لمحے تک جو بھی ہوگا، یہ سارے عملی کام ہوں گے۔ ان سب کی رہنمائی ان چار ہزار چار سو نصوص میں موجود ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے، میرا اور آپ کا چشمہ استعمال کرنا، آپ کا یہ سفید رنگ کا یا سرخ رنگ کا یا نیلے رنگ کا گاؤن استعمال کرنا، میرا یہ گلاس استعمال کرنا، اس پانی کو پینا، یہ سب لامتناہی اعمال ہیں، یہ ان چار ہزار چار سو نصوص کے کنٹرول میں ہیں۔ ان چار ہزار چار سو نصوص کی حیثیت اس لگام کی ہے جنہوں نے ان لامتناہی گھوڑوں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔
انسانی اعمال اس کی خواہشات کے تابع ہیں۔ جب تک خواہشات نہ ہوں، ارادے نہ ہوں، اعمال جنم نہیں لے سکتے۔ خواہشات کے یہ گھوڑے، ان چار ہزار چار سو نصوص کی جو لگام ہے، اس کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ان سب کو راہ راست پر رکھا ہوا ہے۔ یہ کتنا غیر معمولی کام ہے! جتنا غور کریں، دنیا کے کسی قانون میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا کے کسی نظام میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ لامتناہی انسانوں کے لامتناہی معاملات ان چار ہزار چار سو نصوص کے ہاتھ میں ہیں۔ لیکن ان چار ہزار چار سو نصوص کو منطبق کیسے کیا جائے گا لامتناہی حالات پر؟ اس کے لیے بڑی گہری بصیرت کی ضرورت ہے، انتہائی گہری سوچ کی ضرورت ہے۔ یہ پورا عمل ایک انتہائی گہری فہم اور سوچ کا متقاضی ہے، اس لیے اس پورے عمل کو فقہ کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ فقہ گویا وہ پروسس یا وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں وہ تفصیلی ضابطے اور رہنمائیاں مرتب ہوتی ہیں جو انسانی زندگی کے لامتناہی گوشوں کو مربوط اور منظم کرتی ہیں۔
فقہ کی تعریف آپ کے سامنے آگئی اور یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ فقہ اور قانون دونوں ایک چیز نہیں ہے۔ قانون تو صرف اس کو کہتے ہیں کہ وہ ضابطہ جو کسی حکمران نے مقرر کیا ہو، اور عدالتیں اپنے مقدمات کا فیصلہ اس ضابطے کے تحت کرتی ہوں، اس کو قانون کہتے ہیں۔ ہم میں سے یہاں ڈیڑھ دو سو کے قریب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، شاید ہم میں سے کبھی کسی کو کسی عدالت میں جانے کا موقع نہ ملا ہو۔ تو قانون کا ہونا یا نہ ہونا، عدالت میں اس کا تسلیم کیا جانا یا نہ کیا جانا، اس کا آپ کی روزمرہ زندگی سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ آپ کی زندگی کے مشکل سے دو فیصد معاملات ہوں گے جو کسی قانون کے براہ راست دائرے میں آتے ہوں گے، ملکی قانون کے۔ لیکن کوئی دائرہ، کوئی گوشہ ایسا نہیں جو فقہ کے دائرے میں نہ آتا ہو۔ آپ کی ہر جسمانی سرگرمی اور ہر عملی سرگرمی فقہ کے دائرے میں آئے گی۔ جبکہ قانون کے دائرے میں دو فیصد، ایک فیصد، آدھا فیصد چیزیں آئیں گی۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ فقہ کا دائرہ قانون کے دائرے سے سینکڑوں گنا بڑا ہے۔ اگر فقہ کے دائرے میں پانچ سو چیزیں آ رہی ہیں تو قانون کے دائرے میں دو چیزیں آئیں گی۔ اس لیے جس کو انگریزی میں لاء کہتے ہیں، یا اردو میں جس کے لیے قانون کی اصطلاح رائج ہے، وہ فقہ کے مشکل سے ایک دو فیصد کو کور کرتا ہے۔ بقیہ معاملات وہ ہیں جن کے لیے فقہ ہی کی اصطلاح استعمال کی جانی چاہیے، اس کے لیے قانون کی اصطلاح استعمال کرنا ایک محدود چیز کو لامحدود پر منطبق کرنے کے مترادف ہے۔
فقہ کی عملداری انسان کی پیدائش سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور پیدائش کے بعد تک جاری رہتی ہے۔ انسان کی پیدائش سے پہلے سے وہ فقہ کے دائرۂ کار میں آ جاتا ہے اور مرنے کے بعد تک اس پر فقہ کی عملداری جاری رہتی ہے۔ ایک مثال آپ کو دیتا ہوں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا، مسٹر اے کا انتقال ہو گیا، مسٹر اے نے بہت سارے ورثاء چھوڑے۔ ایک بچہ انتقال کے چھ مہینے بعد پیدا ہوا۔ لیکن یہ بچہ جو چھ مہینے بعد پیدا ہوا ہے، اس بچے نے وراثت کی تقسیم کے عمل کو روک دیا۔ اس بچے نے یہ حکم دیا کہ چونکہ میں آنے والا ہوں، لہٰذا میرے باپ کی وراثت تقسیم نہ کی جائے، اس تقسیم کے عمل کو روک دیا جائے۔ اور تقسیم کا عمل روک دیا جائے گا، شریعت کے احکام کے مطابق اور پاکستان میں عدالتوں کے احکام کے مطابق۔ جب وہ بچہ دنیا میں آ جائے گا تو وہ اپنا حصہ لے گا، پھر بقیہ ورثاء کو حصہ ملے گا۔
پھر یہ بچہ ساٹھ سال، اسی سال، نوے سال جیا۔ نوے سال جینے کے بعد جب یہ دنیا سے جانے لگا تو اس نے ایک وقف قائم کر دیا۔ ایک بڑا ادارہ بنا دیا کہ مسجد ہو گی، اوپر درسگاہیں ہوں گی، اس کے نیچے دکانیں ہوں گی، اس کے ساتھ مسافر خانے ہوں گے اور یہاں غریب لوگ آ کے ٹھہرا کریں گے اور پڑھا کریں گے۔ وہ شخص دنیا سے چلا گیا۔ اب اگر یہ مسافر خانہ پانچ سو برس بھی موجود ہے، یہ مسجد اور درسگاہ پانچ سو برس بھی موجود ہیں، تو اسی مرنے والے کے فیصلے کے مطابق اس کا نظم کیا جائے گا۔ اس لیے کہ شریعت کا حکم ہے: ’’شرط الواقف کنص الشارع‘‘ کہ وقف کرنے والے کی شرط کی اسی طرح پیروی کی جائے گی جیسے شریعت کی نص کی پیروی کی جاتی ہے۔ اگر اس نے کہا تھا کہ یہاں صرف اندھے بچوں کو پڑھنے کی اجازت ہو گی، تو وہاں کوئی بینا بچہ نہیں پڑھ سکے گا، اس لیے کہ وہ اندھے بچوں کے لیے وقف ہے۔ اگر اس نے کہا ہو کہ یہاں صرف معذور بچوں کو تعلیم پانے کی اجازت ہو گی، تو یہاں صرف معذور بچے تعلیم پائیں گے، چلنے والا بچہ تعلیم نہیں پائے گا۔ کیوں؟ اس نے جو کہا تھا، اس کے مطابق اس وقف کا انتظام کیا جائے گا۔ اب اگر یہ وقف پانچ سو سال چلے، چار سو سال چلے، سو سال چلے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور اس مرنے والے کی وصیت اور وقف کے مطابق معاملات کو چلایا جائے گا۔ گویا فقہ کی عملداری اس کے انتقال کے بعد بھی اس کی جائیداد پر جاری ہے، جب تک وہ جائیداد موجود ہے اس وقت تک عملدرآمد ہوتا رہے گا۔ گویا انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو فقہ کے دائرۂ کار اور فقہ کی عملداری سے باہر ہو۔
فقہ کے نام سے جو ذخیرہ ہمارے سامنے ہے، اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(1) — ایک حصہ وہ ہے جس پر افراد عملدرآمد کریں گے۔ میں اپنی ذات پر عمل کروں گا، آپ اپنی ذات پر عمل کریں گی۔ میں اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کی حد تک اس کا ذمہ دار ہوں، آپ اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کی حد تک اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جس کے بارے میں شریعت کا اصول ہے: ’’المسلم ملتزم احکام الاسلام حیث کان‘‘ کہ مسلمان جہاں بھی ہو، وہ احکامِ اسلام کا پابند ہے۔ اس حصے میں چار چیزیں شامل ہیں:
- عبادات — یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اور ان سے متعلقہ احکام۔
- شخصی قوانین — یعنی نکاح، طلاق، وراثت اور وصیت کے احکام۔
- معاشی معاملات — یعنی ذاتی خرید و فروخت، لین دین، افراد کے درمیان کاروبار، تجارت۔
- معاشرتی معاملات — یعنی لوگوں کے درمیان میل جول، تعلق، لباس، خوراک، کھانا پینا۔
یہ چار چیزیں وہ ہیں جس میں احکامِ شریعت کا، احکامِ فقہ کا، ہر مسلمان ہر وقت اور ہر جگہ پابند ہے اور ہر حال میں پابند ہے۔ اگر کل مریخ پر آبادی دریافت ہو جائے، وہاں پلاٹ بکنے لگیں اور آپ کو پلاٹ مل جائے اور مریخ پر آپ جا کر بسیں، تو مریخ پر بھی نمازیں ادا کرنی ہوں گی، مریخ پر بھی روزے رکھنے ہوں گے، مریخ پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، وہاں سے بھی حج کرنے کے لیے روئے زمین پر آنا پڑے گا۔ اس کے احکام کیا ہوں گے، میں نہیں جانتا۔ وہاں پر نمازوں کے اوقات کا تعین کیسے ہو گا، وہ بعد کی بات ہے۔ لیکن جو بھی تعین ہوگا، نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔ وہاں بھی شراب پینا جائز نہیں ہوگا، چوری کرنا جائز نہیں ہوگا، معاملات اسی کے مطابق رہیں گے۔ نکاح و طلاق کے معاملات وہاں بھی شریعت کے مطابق ہوں گے۔ وہاں بھی نکاح و طلاق اور وراثت و وصیت کے احکام کی خلاف ورزی جائز نہیں ہوگی۔ شراب وہاں بھی حرام رہے گی۔ حجاب کے احکام وہاں بھی ہوں گے، پردہ وہاں بھی ہوگا۔ یہ چار وہ چیزیں ہیں جو ہر جگہ، ہر وقت، ہر حال میں مسلمان کو انفرادی طور پر عمل کرنے کی ہیں۔
(2) — دوسرا حصہ فقہ کے احکام کا وہ ہے کہ جو حکومت یا ریاست کے کرنے کی چیزیں ہیں۔ اگر مسلمانوں کی ریاست ہو گی تو وہ ان احکام پر عملدرآمد کرے گی۔ اور مسلمانوں کی ریاست اگر نہیں ہو گی تو پھر افراد ان احکام کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ شریعت نے مثال کے طور پر فوجداری احکام دیے ہیں۔ چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے، قصاص کا حکم دیا ہے، شریعت نے شراب نوشی پر اسی کوڑے یا چالیس کوڑوں کی سزا دی ہے۔ افراد کو یہ اجازت نہیں ہے کہ کل آپ نے دیکھا کہ چوری ہو گئی، آپ نے گنڈاسہ لیا اور ہاتھ کاٹ دیا۔ یہ آپ کا یا میرا یا افراد کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ حکومت کا، ریاست کے اداروں کا کرنے کا کام ہے۔ اس کے لیے افراد مکلف نہیں ہیں۔ اگر آپ اسرائیل میں رہتی ہوں خدانخواستہ، یا کسی اور غیر مسلم ملک میں، اور وہاں چوری ہو، تو آپ سے قیامت میں نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں شخص نے امریکہ میں چوری کی تھی، تم نے اس کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹا؟ اس لیے کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، شریعت نے آپ سے نہیں کہا۔ شریعت نے حکمرانوں سے کہا ہے، حکمرانوں کو یہ کام کرنا چاہیے۔ یہ بھی چار چیزیں ہیں:
- سب سے پہلی چیز ہے اسلام کا دستوری قانون، جس پر آگے چل کر ایک دن گفتگو ہوگی۔
- دوسری چیز ہے اسلام کا فوجداری قانون، جس پر آگے چل کر ایک دن گفتگو کریں گے۔
- تیسری چیز ہے اسلام کا قانونِ ضابطہ، یعنی پروسیجر اینڈ لاء، اس پر بھی اختصار سے بات کریں گے۔
- اور چوتھی چیز ہے اسلام کا بین الاقوامی قانون کہ اسلام کی ریاست کے تعلقات دوسری ریاستوں سے، یا مسلمانوں کے تعلقات دوسرے مذاہب سے کیسے ہوں؟
یہ وہ چیزیں ہیں جو فقہ کے تمام مضامین کو کور کرتی ہیں۔ یہ آٹھ بنیادی ابواب ہیں، یا آٹھ بنیادی موضوعات ہیں، جو فقہِ اسلامی کے بیشتر حصے پر محیط ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایک دو چیزیں جزوی طور پر ہیں، لیکن بڑے بڑے ابواب یہ چار ہیں۔ ان کو سمجھنے کی خاطر مختلف عنوانات کے تحت مختلف لوگوں نے بیان کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ شریعت کے احکام میں دو چیزیں ہیں: عادات اور عبادات۔ کچھ نے کہا کہ شریعت میں عبادات اور معاملات ہیں۔ کچھ نے کہا معاملات، عادات اور عبادات تین چیزیں ہیں۔ لیکن یہ ساری تقسیمیں سمجھنے کی خاطر ہیں اور طلبہ کی آسانی کی خاطر ہیں۔ جو ابواب ہیں، وہ سب کتابوں میں ایک جیسے ہیں۔
- اس میں آغاز طہارت و پاکیزگی کے مسائل سے ہوتا ہے، اس لیے کہ انسان کو سب سے پہلے ضرورت جن احکام کی پڑتی ہے، وہ یہی مسائل ہیں۔ اگر آج اس وقت کوئی شخص مسلمان ہو جائے، پونے تین بجے، تو سب سے پہلے شریعت کے جس حکم کی تعمیل کرنی پڑے گی وہ ظہر کی نماز ہے۔ اس سے کہیں گے: بھائی صاحب، ابھی ظہر کی نماز کا وقت ختم نہیں ہوا، آپ عاقل بالغ ہیں، نماز ادا کریں۔ نماز ادا کرنے کے لیے پہلی بات آپ اسے کہیں گے: جا کر غسل کرو۔ غسل کے لیے اس کو بتانا ہوگا کہ پاک پانی کون سا ہے، ناپاک کون سا ہے… سب سے پہلا مسئلہ جو پیدا ہوگا، وہ پاکی اور ناپاکی کا ہوگا۔ اس کے بعد نماز کا ہوگا۔ اب چند دن کے بعد رمضان آ رہا ہے، رمضان آئے گا تو اسے روزے رکھنے ہوں گے۔ ممکن ہے وہ بوڑھا ہو، کمزور ہو، بچہ ہو، روزے نہ رکھ سکتا ہو۔ سال بھر کے بعد زکوٰۃ کا مسئلہ پیدا ہوگا تو زکوٰۃ کے احکام آئیں گے۔ گویا سب سے پہلے عبادات سے اس کو واسطہ پڑے گا۔
- پھر واسطہ پڑے گا شخصی قوانین سے۔ وہ ایک خاندان کا رکن ہوگا، ممکن ہے اس کے بیوی بچے ہوں، اس کے ماں باپ ہوں، بہن بھائی ہوں۔ ان سے کیسے معاملہ کرے؟ ان سے تعلقات کو کیسے منظم کرے؟ تو شخصی قوانین کی ضرورت پیش آئے گی۔
- پھر اس کو بازار میں جا کر خرید و فروخت بھی کرنی ہو گی، اس کے لیے معاملات کے احکام درکار ہوں گے۔
- پھر اس کو یہ بتانا ہوگا کہ حلال کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ پردے کے آداب کیا ہیں؟ افراد مردوں اور خواتین کے درمیان میل جول کی حدود کیا ہیں؟
یہ معاملات اس کو بتانے ہوں گے، اس کی پابندی وہ کرے گا۔ تو فقہ کی کتابوں میں اسی ترتیب سے یہ احکام لکھے ہوئے ہیں۔ اور جتنی زیادہ ضرورت مسلمانوں کو جن احکام کی پڑتی ہے وہ پہلے ہیں، اور جتنی کم ضرورت پڑتی ہے وہ بعد میں ہیں۔ یہ وہ ذخیرہ ہے جس کو فقہ کہتے ہیں۔
آپ نے اندازہ کیا ہو گا کہ اپنی وسعت اور جامعیت میں یہ دنیا کے تمام قوانین سے بڑھ کر ہے۔ دنیا کے تمام قوانین یا تو ان معاملات سے بحث کرتے ہیں جن میں دو انسانوں کے درمیان کوئی میل جول یا لین دین کا تعلق ہوتا ہو۔ یا وہاں واسطہ رکھتے ہیں جہاں انسان نے کوئی غلطی کر دی ہو یا جرم سرزد ہو گیا ہو۔ ان دو کے علاوہ اکثر و بیشتر قوانین میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا کہ انسانی زندگی اس کے علاوہ بھی ہوتی ہے۔ جہاں دو افراد کے درمیان لین دین ہے اس کو منظم کرنے کے لیے، یا انسان سے غلطی ہو گئی تو اس غلطی کی سزا دینے کے لیے۔ اس کے علاوہ دنیا کے قوانین کو اکثر و بیشتر دلچسپی نہیں ہوتی کہ انسانی زندگی میں اور کیا کیا ہو رہا ہے۔ جبکہ فقہِ اسلامی کی دلچسپی آپ کے رات کو بستر پر سونے سے لے کر اگلی رات سونے تک، اور جب تک یہ زندگی ہے اس وقت کے آخری لمحے تک ہے۔ اس کے بعد بھی فقہ بتائے گی کہ کیسے آپ کو اور مجھے ڈسپوز آف (تکفین و تدفین) کریں، دنیا سے رخصت کیسے کریں۔ گویا استقبال کرنے سے لے کر رخصت کرنے تک کے تمام مدارج اور ایک ایک چیز کے بارے میں ہدایت اور رہنمائی موجود ہے۔ یہ ذخیرہ اپنی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے دنیا کے تمام ذخیروں سے ممتاز اور نمایاں ہے۔
پھر دنیا کے قوانین ایک اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں: کچھ قوانین ہیں جو مذہبی قوانین ہیں، کچھ قوانین ہیں جو دنیاوی یا غیر مذہبی قوانین ہیں۔ ان دونوں کا دائرۂ کار دنیا میں ہر جگہ الگ الگ ہے۔ پنڈت، پروہت، پادری، یہ مذہبی قوانین سے بحث کرتے ہیں۔ عدالتیں، وکیل، قاضی، یہ دنیاوی قوانین سے بحث کرتے ہیں۔ اسلام میں یہ دونوں قوانین ملے جلے ہیں۔ جن کتابوں میں دنیا کے قوانین لکھے ہیں، انہی میں دین کے قوانین بھی لکھے ہوئے ہیں۔ جن کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ رات کو نمازِ تہجد کیسے ادا کی جائے، انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ بطور وزیر خارجہ معاہدہ کریں تو کیسے کریں۔ اگر آپ فوج کے سربراہ ہیں، میدانِ جنگ میں لڑ رہے ہیں تو آپ جنگ کو کیسے منظم کریں، یہ بھی انہی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ جس قرآن مجید سے یہ رہنمائی ملی ہے کہ آپ کا تعلق پڑوسیوں سے کیسے ہونا چاہیے، اسی قرآن مجید سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ معاشرے میں جرائم کا سدباب کیسے کیا جائے، چور کو سزا کیسے دی جائے، قاتل کو سزا کیسے دی جائے۔ گویا اسلامی نظام میں یا اسلامی فقہ میں اس بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے کہ معاملے کا تعلق خالص مذہبی یا روحانیات کے دائرے سے ہے، یا اس کا تعلق خالص دنیا و مادیات کے دائرے سے ہے۔ ان دونوں دائروں سے ایک جگہ بحث ہو رہی ہے اور ان دونوں میں کوئی تعارض یا ثنویت یا دوئی نہیں ہے۔
یہ دوئی جب انسانی معاشرے میں پیدا ہوتی ہے تو انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ جب انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو انسانی شخصیت دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، پھر انسانی زندگی میں وحدت کا پیدا کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ بات دنیا کے قدیم مذاہب نے نہیں سمجھی، یا سمجھی تو اس کو بھلا دیا۔ اس بھلانے کے نتیجے میں ان کا مذہب، ان کی تہذیبیں، ان کی ثقافتیں، ان کے معاشرے سب دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ کہیں تین میں، کہیں چار میں، کہیں پانچ میں، اور یہ تقسیم در تقسیم کا عمل پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ جب تک مسلمان وحدت کے اس تصور پر کاربند رہے: ’’فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ‘‘ (البقرۃ ۲۰۱) ایک ہی نماز میں، جو خالص دینی عبادت ہے، خالص روحانی معاملہ ہے، لیکن اس میں دنیا کی بہتری کا سوال پہلے ہے، آخرت کی بہتری کا سوال بعد میں ہے۔ اس لیے کہ دنیا پہلے ہے، آخرت بعد میں ہے۔ تو قرآن مجید نے، شریعت نے ان دونوں کو ایک کر دیا ہے اور فقہِ اسلامی میں یہ دونوں چیزیں اس طرح یکجا ہو گئی ہیں کہ ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
آغازِ اسلام میں جب فقہاءِ اسلام فقہ کے قوانین اور احکام کو مرتب کر رہے تھے، اس وقت تک تو یہ صورتحال تھی کہ جب کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تھا تو فقہاءِ اسلام اس کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے پاس — حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس قرآن پاک کا علم بھی تھا اور سنت کا علم بھی تھا۔ جب کسی شخص کو مسئلہ پیش آتا تھا، ان کے پاس جاتا تھا کہ یہ مسئلہ بتا دیجیے، وہ بتا دیا کرتے تھے۔ اس طرح ایک ایک کر کے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے اجتہادات جمع ہوتے گئے۔ حضرت علیؓ کے پاس لوگ جایا کرتے تھے، ان کے اجتہادات جمع ہوتے گئے۔ حضرت عمر فاروقؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، بڑے بڑے صحابہ کے اجتہادات ایک ایک کر کے جمع ہوتے گئے اور تابعین ان کو مرتب کرتے گئے۔ پھر تابعین کے اجتہادات لوگوں کے پاس پہنچتے گئے، وہ جمع ہوتے گئے، کتابی شکل میں مرتب ہوتے گئے۔ پہلی صدی ہجری میں یہ سارا کام ہو گیا۔ صحابہ کرامؓ نے جتنا قرآن پاک کو سمجھا اور اس سے جو احکام نکالے، وہ انہوں نے تابعین تک منتقل کر دیے۔ تابعین نے جتنا سمجھا اور جو احکام مرتب کیے، وہ انہوں نے تبع تابعین تک منتقل کر دیے۔ تبع تابعین نے اپنے شاگردوں تک منتقل کر دیے۔ جب شاگردوں کا زمانہ آیا، تبع تابعین اور تبع تابعین کے شاگردوں کا، تو انہوں نے الگ الگ کتابیں مرتب کرنی شروع کیں۔ یعنی قرآن پاک کی تفسیر اور حدیث کے مجموعوں سے الگ کچھ کتابیں، جن میں تفصیلی احکام لکھے گئے۔
ان میں سب سے پہلی کتاب کس نے لکھی؟ یہ کہنا بڑا مشکل ہے، لیکن آج جو کتابیں موجود ہیں، ان میں قدیم ترین کتاب ’’کتاب المجموع‘‘ ہے جو امام زید بن علیؒ نے لکھی تھی۔ امام زید بن علیؒ، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے اور امام زین العابدینؒ کے صاحبزادے تھے۔ یہ علیؒ وہی ہیں جو زین العابدینؒ کہلاتے ہیں۔ امام زید بن علی زین العابدینؒ بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب۔ سب سے پہلی کتاب انہوں لکھی تھی ان عملی احکام پر، جن کو آج فقہ کہتے ہیں۔ اس کتاب کا نام تھا ’’کتاب المجموع‘‘۔ یہ کتاب پہلی صدی ہجری کے اواخر میں اور دوسری صدی ہجری کے اوائل میں لکھی گئی۔ آج اس سے پہلے لکھی جانے والی کوئی کتاب فقہ کی ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔
اس کے بعد دوسری کتاب جو ہمارے پاس آئی ہے، وہ امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں کی اور امام ابوحنیفہؒ کے معاصر فقہاء کی کتابیں ہیں۔ امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ، امام ابو یوسفؒ، ان کا تفصیلی تذکرہ میں بعد میں کروں گا۔ لیکن جب دوسری صدی ہجری کا آغاز ہوا اور دنیائے اسلام کی حدود دن بہ دن پھیلتی چلی گئیں، تو روزانہ ایسے مسائل کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔ اور اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ کسی قابلِ اعتماد اور مستند فقیہ کی عدم موجودگی میں لوگ کم علمی سے غلط فیصلہ نہ کر لیں، یا کسی کم علم آدمی سے جا کر پوچھ لیں اور غلط رائے قائم نہ کر لیں۔ اس زمانے میں دنیائے اسلام کی حدود چین سے لے کر اسپین تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسپین اور فرانس کی سرحد کے درمیان ایک پہاڑ آتا ہے لے پیرینے (Les Pyrenees)۔ لے پیرینے کی حدود سے لے کر پورا اسپین، آدھا پرتگال، پورا شمالی افریقہ، پورا مڈل ایسٹ، پورا افغانستان، پورا سنٹرل ایشیا، پورا ایران اور چین کی سرحد تک، یہ حدود تھیں دنیائے اسلام کی۔ اب یہاں اس کا امکان موجود تھا کہ کسی گاؤں میں، کسی دیہات میں، کسی سرحدی علاقے میں، کسی نو مسلموں کی بستی میں کوئی ایسا آدمی ہو جس کو مسئلہ پیش آئے اور وہاں کوئی جواب دینے والا فقیہ موجود نہ ہو، یا موجود ہو لیکن وہ کچا فقیہ ہو، یا کچا نہ ہو لیکن اس معاملے میں رہنمائی اس کے پاس موجود نہ ہو، تو غلط جواب دے دے، تو اللہ اور رسول کی شریعت کو لوگ غلط سمجھ لیں، اس پر غلط طریقے سے عمل کریں۔
ان حالات میں بعض فقہاءِ اسلام نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئے نئے مسائل کا سوچ سوچ کر جواب تلاش کیا جائے۔ بجائے اس کے کہ ہم انتظار میں بیٹھیں کہ کوئی آ کر پوچھے تو ہم جواب دیں۔ ہم انتظار نہ کریں، بلکہ ازخود سوچ کر معاملات پر غور کرتے جائیں اور نئے نئے سوالات کا جواب سوچ سوچ کر دیتے جائیں۔ یہ فقہ کا وہ حصہ ہے جس کو ’’فقہِ تقدیری‘‘ کہتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اس کو پسند نہیں کرتے تھے، کہ بغیر اس کے کہ معاملہ واقعتاً پیش آئے، ازخود سوچ سوچ کر جواب دیا جائے۔ اس لیے انہوں نے اس کام کو نہیں کیا۔ بعد میں اس ضرورت کا احساس ہوا کہ ایسا ہونا چاہیے، تو تبع تابعین اور ان کے شاگردوں کے زمانے میں یہ عمل شروع ہوا۔ جب یہ عمل شروع ہوا تو بہت سے حضرات نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابن جریر طبریؒ، امام اوزاعیؒ، سفیان ثوریؒ۔ اس طرح کے درجنوں حضرات تھے جنہوں نے اس کام کو کیا اور معاملات پر غور کر کر کے، ان کے احکام تلاش کر کر کے وہ کتابوں میں مرتب کرتے گئے۔ یہ وہ چیز تھی جس کو فقہِ تقدیری کہتے تھے، جس کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے کم و بیش چوراسی ہزار مسائل کا جواب سوچا اور مرتب کرایا، ان کے شاگردوں نے کم و بیش پانچ لاکھ مسائل کا جواب سوچا اور مرتب کرایا، ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے مزید پانچ لاکھ مسائل کا جواب سوچا۔ اس طرح صرف امام ابوحنیفہؒ اور ان کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں نے دس لاکھ چوراسی ہزار مسائل پر غور و خوض کیا اور ان کے احکام مرتب کروائے۔
امام شافعیؒ نے آٹھ جلدوں میں ایک انسائیکلوپیڈیا لکھا، جس کی ایک ایک جلد اتنی ضخیم ہے۔ اس میں کتنے مسائل ہیں میں نہیں جانتا، لیکن وہ لاکھوں میں ضرور ہیں۔ زندگی کے ایک ایک مسئلے کے بارے میں، جو امام شافعیؒ کے ذہن میں آیا، وہ سوچتے گئے، جواب دیتے گئے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن پاک کی ایک آیت کو لے لیتے تھے، اس آیت پر غور کرتے رہتے تھے، اپنے شاگردوں سے تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے، اور جو جو مسائل ان سے سوچ سوچ کر نکلتے جاتے تھے، وہ لکھتے جاتے تھے۔ پھر احادیث کو لیتے تھے، سوچتے رہتے تھے، ایک ایک حدیث سے جو مسائل نکلتے رہتے تھے، وہ لکھتے رہتے تھے۔ اس طرح سے انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جو ایک بڑی کتاب کی شکل میں جمع ہیں جس کو ’’کتاب الام‘‘ کہتے ہیں۔
یہ سلسلہ دوسری صدی ہجری سے جاری رہا اور کئی سو سال تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا فقہی ذخیرہ مرتب ہوا جو دنیا کی پوری تاریخ میں بے مثال و بے نظیر ہے۔ نہ صرف انسانی علوم کی تاریخ میں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی مثال کسی اور علمی کاوش میں نہیں ملتی۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تفقیہ کا نتیجہ ہے۔ اس میں لاکھوں بہترین دماغوں نے حصہ لیا ہے۔ اس میں لاکھوں انسانوں کے لاکھوں دن اور لاکھوں راتیں بسر ہوئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ کتابیں، جن سے آج کتب خانے بھرے ہوئے ہیں، ہمارے سامنے ہیں۔
یہ کام خلا میں نہیں ہوا۔ یہ روزمرہ کے حقائق کے جواب میں ہوا ہے، روزمرہ تہذیبی ضروریات کے جواب میں ہوا ہے، روزمرہ حکومتوں کے مسائل کا جواب دینے کے طور پر ہوا ہے۔ اس لیے انسانی زندگی کے روزمرہ سے، اسلامی تہذیب و تمدن کے حقائق سے، اسلامی ثقافت کو روز پیش آنے والے مسائل و معاملات سے اس کا گہرا ربط اور تعلق تھا۔ اس لیے ایک لمحے کے لیے بھی اس کی حیثیت محض کسی نظری رائے کی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عملی ہدایت نامہ تھا جو لاکھوں فقہاءِ اسلام کروڑوں انسانوں کو روزانہ شب و روز فراہم کر رہے تھے۔ اس کی اساس قرآن پاک اور سنت میں ہے۔ اس کا تعلق اخلاق سے انتہائی گہرا ہے۔ دنیا کے سیکولر قوانین کی طرح یہ کوئی غیر اخلاقی یا لااخلاقی نظام نہیں ہے، اخلاق کے بارے میں یہ غیر جانبدار نہیں ہے۔ بلکہ، جیسا کہ ہم دیکھیں گے آگے چل کر، یہ اخلاق سے گہری طور پر مربوط ہے۔ ہر حکم کے براہ راست اخلاقی اور روحانی ثمرات ہیں۔ قرآن پاک کی سینکڑوں آیات میں، جہاں فقہی احکام بتائے گئے ہیں، وہاں اس کے روحانی اور اخلاقی ثمرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے:
’’لعلکم تتقون‘‘ — اس سے تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوگا،
’’لعلکم تذّکرون‘‘ — اس سے تم اللہ کو یاد رکھو گے،
’’وفی القصاص حیاۃ‘‘ — قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے،
’’کیلا یکون دولۃ بین الاغنیآء منکم‘‘ — اس طرح مال و دولت تمہارے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں کرے گا۔
گویا ہر چیز کے ثمرات، اخلاقی نتائج اور روحانی برکات کی نشاندہی کی گئی، ہر قانون کے ساتھ۔ گویا اسلام میں فقہی احکام، قانون، مذہبی ہدایات، اخلاقی برکات، روحانی ثمرات، یہ ساری چیزیں ایک جگہ مربوط ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں انسانی مزاج اور نفسیات کا اس طرح لحاظ رکھا گیا ہے کہ کوئی حکم اور کوئی ضابطہ انسانی نفسیات اور انسانی مزاج اور کرامتِ آدم سے [غیر] ہم آہنگ نہیں ہے۔
رات میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، علامہ بدر الدین عینی ؒ کا نام آپ نے سنا ہوگا، جن بہنوں نے حدیث کے محاضرات میں شرکت کی ہے، انہوں نے کئی بار سنا ہوگا۔ علامہ بدر الدین عینی ؒ بڑے فقیہ تھے، انہوں نے صحیح بخاری کی ایک شرح بھی لکھی تھی۔ ان کی ایک کتاب ہے ’’البنایہ‘‘ جو ’’ہدایہ‘‘ کی شرح ہے، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص سفر پر جا رہا ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، لیکن ہمراہی کے پاس پانی ہو، تو کیا اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہمراہی سے پانی مانگ کر وضو کرے؟ یا وہ بغیر پانی مانگے تیمم کر کے کام چلا سکتا ہے؟ اس پر فقہاءِ اسلام نے بحث کی ہے، پوری بحث اس کتاب کے دس بارہ صفحات میں لکھی ہوئی ہے۔
بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ شریعت نے ہاتھ پھیلانے سے منع کیا ہے، شریعت نے کرامتِ آدم کا حکم دیا ہے، انسانی عزت کو برقرار رکھا ہے، ہاتھ پھیلانے سے کرامت میں فرق آتا ہے، انسانی عزت کو بٹا لگتا ہے۔ اس لیے کسی بھی کام کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا، شریعت نے اس کا پابند نہیں کیا۔ لہٰذا شریعت میں اس کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور اس کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے کہ مجھے پانی دے دو۔ پھر انہوں نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ اگر اِس شخص کے پاس پیسے ہیں اور وہ شخص پانی قیمتاً دینے کو تیار ہے، تو کس قیمت پر پانی لیا جا سکتا ہے؟
اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ فقہاءِ اسلام نے انسانی مزاج اور نفسیات کا کتنا لحاظ رکھا ہے کہ انسان دوسرے سے کوئی چیز مانگنے سے تامل کرتا ہے۔ جتنی بھی بے تکلفی ہو، مجھے پیاس لگ رہی ہو اور آپ کے پاس پانی ہو تو شاید میں مانگنے میں تامل کروں، اس لیے کہ وہ آپ کے پینے کے لیے ہے۔ تو شریعت میں ایک ایسی چیز، جس کو انسان کا ذہن اور نفس اِبا کرتا ہے مانگنے سے، اس کا مکلف نہیں کیا کہ آپ زبردستی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ یہ انسانی مزاج اور نفسیات کے لحاظ کی بات ہے، اس کی مثال میں اور آگے چل کر گفتگو میں عرض کروں گا۔
یہ وہ چند بنیادی خصائص ہیں جو فقہِ اسلامی میں پائے جاتے ہیں۔ فقہِ اسلامی اپنی جدت کے اعتبار سے، نوعیت کے اعتبار سے، اپنی خصوصیات کے اعتبار سے، نہ صرف پوری انسانی تاریخ میں بلکہ اسلامی علوم و فنون کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اسے گلدستۂ اسلام کا گلِ سَر سَبد بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے۔
سوالات
سوال:
فقہِ تقدیری کیا اختلاف کا باعث نہ بنی، چونکہ اُن کا پوائنٹ آف ویو میں فرق ہو سکتا ہے؟
جواب:
فقہی معاملات میں اختلاف بری چیز نہیں ہے۔ اختلاف اچھی چیز ہے اگر وہ شریعت کی حدود کے اندر ہو، اور ہر شخص یہ سمجھتا ہو کہ یہ میری فہم ہے جس میں غلطی کا امکان ہے، اور یہ ایک دوسرے فقیہ کی فہم ہے جس میں درستی کا امکان ہے۔ جب تک یہ بات ہو تو اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صحابہ کرامؓ میں بھی ایک سے زائد آرا موجود تھیں، جس کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ اگر ان اختلافی آرا کو دین بنا دیا جائے، یا شریعت کا قائم مقام سمجھ لیا جائے، اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک فقیہ کی فہم ہے، اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔
جو چیز غلطی سے مبرا ہے، جس میں سو فیصد صحت ہی صحت ہے، وہ صرف اللہ کے رسول کا ارشاد ہے اور قرآن پاک کی آیت ہے۔ اس کے علاوہ ہر انسان کی فہم میں، ہر انسان کی بصیرت میں، ہر انسان کے اجتہاد میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجتہد صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہے تو اس کو دو اجر ملیں گے، اگر غلطی کرے گا تو اس کو ایک اجر ملے گا۔ اس کا مطلب، غلطی بھی وہاں اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہے۔ مجتہد کی غلطی اللہ کی نظر میں ایسی ہے کہ جیسے آپ کا ایک چھوٹا عزیز بچہ ہو، جس نے ابھی چلنا سیکھا ہو، اور آپ اسے بلائیں، جب وہ گرتا ہے تو آپ کو اس پہ بڑا پیار آتا ہے، اس پہ بھی آپ ایک دم اٹھا کر گود میں لے لیتی ہیں۔ تو گویا انسان ایک بچے کی طرح ہے، انسان اپنی محدود عقل و بصیرت سے اللہ کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس میں اخلاص سے غلطی کرتا ہے، تو وہ غلطی بھی اللہ کو پسندیدہ ہے۔
سوال:
آپ نے جو آخری مثال دی، اس سے تو لگتا ہے کہ فقہ شریعت کے مقابلے میں گنجلک، کوئی الجھی ہوئی چیز ہے۔
جواب:
نہیں، فقہ گنجلک چیز نہیں ہے۔ فقہ ایک ناگزیر چیز ہے۔ شریعت پر جب بھی عملدرآمد عملی زندگی میں ہو گا، اسی کو فقہ کہتے ہیں۔ فقہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی، پھیلتی چلی جائے گی۔ آپ کو معاملات میں رہنمائی کی ضرورت پڑے گی۔ اگر پہلے دن سے یہ ارادہ ہو کہ شریعت پر عمل کرنا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے منشا کو زندگی میں ڈھالنا ہے، تو پھر انسان خودبخود اس کے مطابق زندگی کو ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر پہلے دن سے ہی یہ ہو کہ اس میں کیڑے نکالنے ہیں، اس میں مشکلات کی نشاندہی کرنی ہے، تو آسان سے آسان چیز میں لوگ مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ اُن کے ہاں مشکلات کتنی ہیں۔
آج سے کئی سال پہلے میں نے ایک کتاب دیکھی تھی، اتنی ضخیم کتاب تھی، کم و بیش آٹھ سو نو سو صفحے کی ہو گی، اس میں انگریزی پروٹوکول کے آداب لکھے ہوئے تھے۔ اس میں ایک پورا چیپٹر اِس پر تھا کہ جب کھانے کی میز پر مہمان کو بٹھاؤ تو اس کے آداب کیا ہوں، برتن کیسے رکھے جائیں، مہمان کو کیسے بٹھایا جائے؟ تو ہمارے ایک بزرگ دوست تھے، مجھ سے بہت بڑے تھے عمر میں، وہ مغرب کی ہر چیز کے بڑے قائل تھے اور مسلمانوں کی ہر چیز کے بڑے ناقد تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے فقہ کے نام پر دین کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ میں نے کہا، مسلمانوں نے پیچیدہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، یہ بتائیے، انگریز نے پیچیدہ کر رکھا ہے۔ مسلمان سیدھا فرش پر بیٹھ کر کھا لیتا ہے، ایک برتن میں دو آدمی کھا لیتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے کھانا کھانے پر یہ سو صفحے لکھے ہیں کہ ترتیب کیا ہو۔ چونکہ وہاں اعتراض نہیں، اس لیے وہ چیز اچھی معلوم ہوتی ہے۔ شریعت کے معاملے میں چونکہ تامل ہوتا ہے، اس لیے یہاں کی ہلکی اور آسان چیز بھی پیچیدہ معلوم ہوتی ہے۔
فقہ میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ آپ فقہ کی کتاب اٹھا کر دیکھیں، آپ کو لگے گا کہ بڑی ریشنل اور بڑی سائنٹیفک اور ایک سسٹیمیٹک چیز ہے۔ آسان سے آسان چیز ان لوگوں کے لیے مشکل ہوتی ہے جنہوں نے اس کو پڑھا نہ ہو۔ جب پڑھ لیا ہو تو بہت آسان معلوم ہوتی ہے۔ آپ دو چار سال فقہ کی کتابیں پڑھیں، آپ کو بہت آسان اور بہت لبرل اور بہت سائنٹیفک معلوم ہو گی۔
سوال:
ایک بہن نے پوچھا ہے کہ کچھ لوگ اسلامی فقہ کو ریوائز کر رہے ہیں۔
جواب:
اسلامی فقہ ریوائز ہوتی رہتی ہے مستقل۔ کوئی دور ایسا نہیں کہ فقہ میں ریویژن اور ری ریویژن کا عمل نہ ہوتا رہتا ہو۔ اس لیے کہ انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں، انسانی مزاج اور مسائل بدلتے رہتے ہیں۔ جب مسائل بدلتے ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، تو جس دور کے فقہاء ہیں، وہ اس دور کے لحاظ سے ان مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں، نئی ہدایت اور رہنمائی دیتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ آج اسے کرنے کی ضرورت پیش آئے، یہ تو شروع سے ہو رہی ہے۔
https://youtu.be/rmxuGx0Mnd8
حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
اصول سے فروع یا فروع سے اصول؟ حنفی اصولی منہج اور جدید نظریۂ قانون کا تقابلی مطالعہ
یہاں ایک دفعہ پھر ہم شروع کریں گے جورس پروڈنس (اصولِ قانون) کی ایک بحث سے۔ اور میں آپ کو صرف یاد دلانا چاہتا ہوں جو پچھلی نشست میں ہم نے گفتگو کی تھی، اس میں ہم نے دو مناہج ذکر کیے، اصول الفقہ کی کتابوں میں جو ذکر کیے جاتے ہیں: متکلمین کا منہج یہ ہے کہ ہم اصول سے فروع کی طرف جاتے ہیں اور فقہا کا منہج یہ ہے کہ ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی بحث جورس پروڈنس میں بھی پائی جاتی ہے:
- ایک کو ہم پازیٹیو جورس پروڈنس کہتے ہیں، جن کا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ جج کرتے کیا ہیں؟ یہاں گویا ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔ ججز کے فیصلوں کو سامنے رکھ کر ہم ان کے اصول معلوم کرتے ہیں اور پھر ان کا آگے دیگر مسائل پر اطلاق کرتے ہیں۔
- ایک نارمیٹیو جورس پروڈنس کے نام سے زاویۂ نظر ہے، جس میں اس پر بات ہوتی ہے کہ ججوں کو کرنا کیا چاہیے؟ گویا وہاں اصول سے فروع کی طرف جایا جاتا ہے، اصول طے کیے جاتے ہیں۔
آپ لیگل پازیٹیوزم کو پازیٹیو جورس پروڈنس کی ایک مثال سمجھ لیں، اور نیچرلزم کو نارمیٹیو جورس پروڈنس کی ایک مثال سمجھ لیں۔ اچھا، اِس بحث کی روشنی میں ’عام‘ کی دلالت کی مثال لے لیتے ہیں۔ اور یہاں پہلا سوال یہ ہے کہ حنفی اصول یا حنفی منہج کی بنیادی خصوصیات واضح کرنے کے لیے میں نے اس مسئلے کو کیوں چنا ہے، یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟ حنفی جو زاویۂ نظر ہے اور جو اصولی نظام ہے، اس کا ذائقہ معلوم کرنے کے لیے ہم نے مثال کے طور پر یہ مسئلہ کیوں چنا ہے؟ اس کی وجہ آپ کے خیال میں کیا ہو سکتی ہے؟ ’عام‘ ہی کیوں؟ یعنی بحثیں تو اور بھی بہت ساری ہیں اور ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ’عام‘ کے مسئلے کی اہمیت زیادہ کیوں ہے؟
طالب علم:
اس لیے کہ یہ زیادہ وسیع ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کے اندر بہت زیادہ دقتِ نظری کے ساتھ بحث کی جا سکتی ہے اور اس میں بہت سے پہلوؤں پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں مزید تخصیص کا چونکہ امکان رہتا ہے، اس وجہ سے۔ چونکہ خاص تو بالکل ہی خاص ہو جاتا ہے، اس پر تو سمجھ لیں ایک طرح سے وہ یونیورسل ٹروتھ کی طرح رہے گا۔ اور پھر جب مشترک اور مؤول کی طرف جاتے ہیں تو وہ مشترک میں بھی پھر دو اپنی اپنی رائے کے مطابق باتیں چلی جاتی ہیں تاویل کرنے کے بعد …
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
آپ کی بات کو میں اس طرح اگر پیش کروں تو کیا یہ درست ہوگا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ خاص کی قطعیت پر تو کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا، مشترک کی ظنیت بھی معلوم ہے، لیکن عام میں تو اچھی خاصی بحث پائی جاتی ہے کہ قطعی ہے یا ظنی ہے، اور مخصوص منہ البعض ہے تو کیا ہے؟ اور قبل از تخصیص اور بعد از تخصیص میں فرق ہے یا نہیں ہے؟
طالب علم:
یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر دو مناہج احناف اور شوافع کے آپس میں تطبیق کے اندر واضح فرق سمجھ آ جاتا ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ ہے کہ احناف کے نزدیک عام قطعی ہے، شوافع کے نزدیک عام ظنی ہے۔ اس کی بنیاد پر خبرِ آحاد سے کیا تخصیص کی جا سکتی ہے، ممکن ہے یا نہیں ہے، احناف اس کے قائل نہیں ہیں جبکہ شوافع اس کے قائل ہیں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بالکل، یہ بھی اس بحث کو چننے کی ایک وجہ ہے کہ یہاں، کیا عام کی تخصیص خبرِ واحد سے کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ایک فریق قائل ہے، ایک نہیں قائل۔ اور اس وجہ سے بہت سارے مسائل پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے، یقیناً۔
طالب علم:
عام کی بنیاد پر قواعد تشکیل پاتے ہیں۔ اور قواعد کی وجہ سے ہم لوگ پازیٹو جورسپروڈنس کو سمجھ سکتے ہیں اور نارمیٹیو ……
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
ہاں، میں اصل میں اس پہلو کی طرف آنا چاہ رہا تھا، بہت شکریہ۔ یہ جو ’عام‘ ہے (جنرل ورڈ جس کو کہا جاتا ہے) کیا اس کی عمومیت (جنرلیٹی) میں سارے لوگ شامل ہیں یا نہیں؟ اور اگر سارے لوگ شامل ہیں تو کیا قطعی طور پر شامل ہیں یا نہیں؟ اس کا بہت گہرا تعلق اُس بحث سے ہے جو میں نے پچھلی گفتگو میں آپ کے سامنے رکھی کہ جہاں بظاہر قانون خاموش ہو، وہاں جج کیا کرتے ہیں؟ رونالڈ ڈورکن نے کہا تھا وہاں جج قانون کے عام اصولوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مختلف جزئیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس سے وہ ایک عام اصول اخذ کر لیتے ہیں اور پھر اس کا اطلاق کرتے ہیں ان مسائل میں جہاں آپ کو کوئی مخصوص جزئیہ نہیں ملتا۔ یہ صرف ڈورکن کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ حنفی جو زاویۂ نظر ہے اور حنفی جو نظام ہے، اس میں اس اصول کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اور ہمارے استاذ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب نے تو حنفی اصولی نظام کو نام ہی ’’تھیوری آف جنرل پرنسپلز‘‘ کا دیا ہے کہ یہ قواعدِ عامہ کا نظریہ ہے۔
عام اصولوں کا نظریہ، کہ حنفی کرتے یہ ہیں کہ وہ کسی نص سے ایک عام اصول اخذ کر لیتے ہیں۔ اور چونکہ عام ان کے نزدیک قطعی ہے، تو اس وجہ سے وہ بہت سارے مسائل پر اس کا اطلاق کرتے ہیں، اور اس کے اطلاق سے کسی کو نکالنے کے لیے قطعی دلیل مانگتے ہیں۔ تو اس وجہ سے جب ان کو عام اصول مل جاتا ہے، تو یوں کہیں کہ ایک بہت بڑا ہتھیار مل گیا ہے یا ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہے، جس کا اطلاق بہت سارے مسائل پر ہوتا ہے۔ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چونکہ حنفی عام کی قطعیت کے قائل تھے اور اس کی بنا پر وہ عام اصولوں کا استخراج کر کے عملی مسائل پر ان کا اطلاق کرتے تھے، تو فقہ کا بہت بڑا ذخیرہ بہت جلدی وجود میں آیا۔ بقول جوزف شاخٹ ۱۳۲ ہجری میں ساری فقہ وجود میں آ چکی تھی، اس کی ایک بڑی وجہ یہ عام اصولوں کا استعمال ہے، قواعدِ عامہ کا استعمال ہے، جو حنفی نظام کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔
اس مسئلے کی اہمیت ایک اور پہلو سے بھی ہے۔ بعض لوگ، جیسے میں نے پچھلی نشست میں مختصرًا عرض کیا، دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حنفی اصول نہیں ہے، بعض بڑے بزرگوں نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے، اور کہتے ہیں کہ ایک تو امام ابوحنیفہؒ سے اصول روایت نہیں ہیں، بعد کے لوگوں نے مستخرج کیے ہیں۔ اور پھر یہ کہ عام کو قطعی کہنا، یہ تو عیسیٰ بن ابان رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہ حنفی اصول نہیں ہے۔ تو یہ بھی ایک پہلو ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی اصولوں کا امام ابوحنیفہؒ سے براہِ راست قول کے ذریعے روایت کرنا ضروری ہے؟ یا اصول کی روایت کا کوئی اور بھی طریقہ ہے؟ کیا اصول صرف قولاً روایت کیے جاتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ کھڑے ہو کر آپ کے سامنے کہیں، یا کوئی بندہ حدثنا یا اخبرنا کہہ کر امام ابوحنیفہؒ تک اپنی متصل سند کے ساتھ پہنچے اور پھر کہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے فلاں موقع پر سب کے سامنے یہ کہا کہ میرے نزدیک عام قطعی ہے؟
بھئی، ابھی کچھ دیر پہلے ہم نے مضاربہ کا ایک جزئیہ ذکر کیا، وہ امام محمدؒ نے لکھا ہے، کتاب المضاربہ میں ہے، کتاب الاصل میں ہے، کہ اگر مضارب اور رب المال کا اختلاف ہو عموم اور خصوص میں، ایک کہتا ہے کہ عام ہے، دوسرا کہتا ہے خاص ہے، اور دونوں کے پاس کوئی دلیل نہ ہو، تو ہم یہ دیکھیں گے کہ عام کا قائل کون ہے، ہم اس کی بات مانیں گے، کیونکہ وہ مقتضائے عقد کے مطابق ہے۔ ہم نے اس کا تجزیہ کر کے نتیجہ یہ نکالا کہ مقتضائے عقد کی بنیاد پر فیصلہ اس لیے کیا کہ عام اور خاص برابر ہیں، ورنہ اگر خاص قطعی ہوتا اور عام ظنی ہوتا تو پھر تو خاص کو ترجیح دی جاتی۔ یہ برابر ہیں۔ اور چونکہ خاص قطعی ہے تو عام بھی قطعی ہے۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ یہ مضاربہ کے اس جزئیے سے معلوم ہوا۔ یہ جزئیہ امام محمدؒ نے لکھا ہے اور وہ کتاب الاصل میں کہتے ہیں کہ اس میں جتنے بھی مسائل ہیں وہ ابوحنیفہؒ، ابو یوسفؒ اور محمدؒ کے ہیں، اور جہاں اختلاف ہے تو میں نے بتا دیا ہے۔ جبکہ یہاں انہوں نے کوئی اختلاف نقل نہیں کیا۔ اور نہ صرف انہوں نے، بلکہ کہیں سے بھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف ابوحنیفہؒ سے روایت نہیں ہے۔ یہی فقہ حنفی کی مسلسل روایت ہے ابوحنیفہؒ سے لے کر آج تک کی۔ تو اس کے مطابق تو عام قطعی ہے، جیسے خاص قطعی ہے۔ تو کیا اس کے لیے امام ابوحنیفہؒ سے براہِ راست یہ قول روایت کرنا ضروری ہے کہ ’’میرے نزدیک عام قطعی ہے‘‘؟ اس پہلو سے آگے مزید بھی میں کچھ تفصیل دینا چاہوں گا۔
دوسری بات، جس کی طرف عمر نے اشارہ کیا، کہ یہ اصول ہماری ناقص رائے میں حنفی منہج کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کہ عام قطعی ہے، کیونکہ حنفی جو منہج ہے، وہ عام اصولوں کے اطلاق کا نظریہ ہے، جنرل پرنسپلز کا نظریہ ہے، اور اس کا انحصار عام کی قطعیت پر ہے۔ کیا یہ اصول حضرت عیسیٰ بن ابانؒ نے وضع کیا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ جیسے میں نے کہا، متاخرین میں سے اور معاصرین میں سے بعض بزرگوں نے یہ کہا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔
کچھ لوگوں نے ایک اور پہلو سے بھی بات کی ہے — جس کی طرف میں نے پچھلی نشست میں مختصراً اشارہ کیا تھا، اب اس کی کچھ تفصیل دینے کا وقت آ گیا ہے — کہ یہ گویا کوئی جغرافیائی قسم کی تقسیم ہے۔ عراقی مشائخ یہ کہتے ہیں اور سمرقندی مشائخ وہ کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے، مشائخ سمرقند کا بھی ذکر آتا ہے کتابوں میں، مشائخ العراق کا بھی ذکر آتا ہے، لیکن جو اصولی بحث ہے وہ جغرافیہ پر مبنی نہیں ہے۔ اس موضوع پر ایک مشہور صاحب ہیثم عبد الحمید علی خزنہ نے اس طرح کی رائے قائم کی ہے، اور وہاں سے ہمارے لوگ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے نقل کر کے بات کرتے ہیں، ان کی کتاب ہے ’’الإختلافات الأصولية بين مدرستی العراق وسمرقند وأثرها فی أصول الفقه الحنفی‘‘ جس میں انہوں نے مشائخ عراق اور مشائخ سمرقند کے درمیان تین بڑے اختلافی مسائل ذکر کیے ہیں۔ اس پر اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ ان میں ایک مسئلہ عام کی دلالت کا ہے۔
اس میں ان کی بات کا خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ پہلی تین صدیوں میں جو غالب منہج تھا وہ اہلِ عراق کا تھا، جو عام کی قطعیت کے قائل تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں سمرقند کے مشائخ کا مسلک سامنے آیا، جو امام ابو منصور الماتریدیؒ کے زیر اثر سمرقند اور آس پاس علاقوں میں پھیل گیا، جو عام کی ظنیت کے قائل تھے۔ لیکن پانچویں صدی ہجری تک جاتے جاتے امام دبوسیؒ نے دونوں مدارس یا دونوں زاویہ ہائے نظر کو جمع کیا اور انہوں نے اس مسئلے میں اہلِ عراق کی رائے کو ترجیح دی۔ اور پھر امام بزدویؒ اور امام سرخسیؒ نے بھی اس پر مزید اپنی قوت صَرف کی، تو پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک یہ مذہب غالب ہو گیا اور حنفی مذہب یہ قرار پایا کہ عام قطعی ہے۔ یعنی پہلی تین صدیوں میں مشائخِ عراق عام کی قطعیت کے قائل تھے، چوتھی صدی ہجری میں مشائخِ سمرقند کا ظنیت کا قول بھی سامنے آیا، پانچویں صدی ہجری میں امام دبوسیؒ اور پھر امام سرخسیؒ اور امام بزدویؒ نے عام کی قطعیت کے حق میں ووٹ دے دیا۔
یہاں تک کہنے کے بعد وہ آخر میں یہ بحث بھی کرتے ہیں کہ یہ عام کی قطعیت والی رائے آخر کیوں راجح قرار پائی؟ وہ کہتے ہیں، امام ماتریدیؒ اور ان کے زیر اثر بعض فقہاء، جو ظنیت کے قائل تھے، تو وہ دراصل عقیدے کی بحث کی وجہ سے اس کی ظنیت کے قائل تھے۔ عقیدے کی بحث کیسے؟ وہ ایسے کہ وہ چونکہ معتزلہ کے خلاف تھے اور معتزلہ عقائد کے باب میں عمومات سے استدلال کرتے تھے۔ ان کا جو عدل کا تصور تھا اور حسن و قبح کا جو ان کا سارا نظام تھا، وہ عمومات پر قائم تھا۔ جبکہ یہ اس کے قائل نہیں تھے، تو انہوں نے عام کو ظنی کر دیا۔
اچھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ امام سرخسیؒ کو یہ سمرقند اور ماتریدی سکول میں شمار کرتے ہیں اور صحیح کرتے ہیں۔ وہ معتزلہ کے خلاف ہیں، اس کے باوجود عام کی قطعیت کے قائل ہیں۔ گویا عام کی قطعیت اور اعتزال کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق ہے ہی نہیں۔ آپ عام کی قطعیت کے قائل ہوتے ہوئے بھی غیر معتزلی ہو سکتے ہیں، کیونکہ آپ اِس مخصوص عام کو ظنی مانتے ہیں، اس بنا پر کہ اِس کو اُس قطعی نے ظنی کر دیا ہے۔ اِس مخصوص عام کی ظنیت کیا ہے؟ جہاں اس کی تخصیص ہوئی ہے، وہاں تو بالکل ہوئی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ سارے ہی عمومات قطعیہ ہیں، ہم تو صرف اصول کی بات کرتے ہیں کہ اصولاً جو عام ہے وہ قطعی ہے، جب تک اس کی تخصیص نہ ہو جائے کسی قطعی دلیل سے۔ تو اگر ہوئی ہے تو ہم اس کے قائل ہیں۔ اور اسی بنا پر ہم معتزلہ سے آگے چلے جاتے ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ نہیں یار، یہ جو آپ یہاں اس عموم سے یہ استدلال کرتے ہیں، اس عموم کی تو تخصیص ہو چکی ہے۔ تو عام کی قطعیت کے قائل ہونے کے باوجود بھی ضروری نہیں کہ آپ معتزلی ہوں۔ ہیثم عبد الحمید صاحب خود بھی یہ مانتے ہیں۔
دوسری وجہ زیادہ اہم ہے، اور ہمارے نزدیک تو اصل وجہ ہی یہی ہے۔ اور ہماری آج کی جو بحث ہے، وہ میں اسی نکتے کی طرف بار بار لا رہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ عام کی قطعیت کے حق میں فقہی جزئیات موجود تھیں۔ بھئی، ہم یہی تو کہتے ہیں کہ ہمارے اصول تو فقہی جزئیات سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے مراد ظاہر الروایہ کی جزئیات ہیں۔ ظاہر الروایہ ہی تو ہمارے اصول ہیں۔ آپ اصول بیان کرنے کا صرف یہ طریقہ سمجھتے ہیں کہ کوئی الفاظ میں بتائے کہ ’’عام قطعی ہے‘‘؟ ہم مسائل کے ذریعے آپ کو بتا دیتے ہیں کہ ہمارے اصول کیا ہیں۔ اس کو ’’کیس میتھڈ‘‘ کہتے ہیں، یہ میں نے نیازی صاحب کا حوالہ دیا تھا پچھلے لیکچر کے شروع میں۔ روسکو پاؤنڈ ایک بڑا مشہور قانونی فلسفی گزرا ہے جس نے مختلف قانونی نظریات اور مذاہب پر تفصیلی بحثیں کی ہیں۔ روسکو پاؤنڈ جیسا شخص — ’’ہدایہ‘‘ کا کوئی ٹیکسٹ اس نے کہیں پڑھا ہوگا — اس کا حوالہ دے کر کہتا ہے This is the beginning of the case method، یہ کیس میتھڈ کی ابتدا ہے۔ اس بیچارے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ صاحبِ ہدایہ سے پہلے (کیس میتھڈ کی) پانچ صدیاں ہیں۔
ظاہر الروایہ کی کوئی کتاب: کتاب الاصل، الجامع الصغیر، الجامع الکبیر، السیر الصغیر، السیر الکبیر، الزیادات، یا اس کے علاوہ بھی فقہ حنفی کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، کہ جس کو ہم جزئیہ کہتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے؟ کیس ہی تو ہوتا ہے۔ ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر فلاں نے بیوی سے ان الفاظ میں یہ یہ کہا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یار ان لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ طلاق کے اتنے پیچیدہ پیچیدہ جملے انہوں نے گھڑ لیے؟ بھئی، وہ آپ کو طلاق دینے کے پیچیدہ جملے گھڑ کر نہیں سکھا رہے، وہ آپ کو ان کیسز کے ذریعے قانونی اصول سمجھا رہے ہیں۔ اچھا، بعض لوگ کہتے ہیں امام ابوحنیفہؒ اور حنفی فقہاء نے تو ایسے ایسے کیس فرض کیے ہوئے ہیں کہ ان کی وفات سے ہزار بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی آج تک وہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ ہاں، تو کس نے کہا تھا کہ ان کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے؟
بعض لوگ اس کا فائدہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اتنا سوچا کہ اگر ’’یوں ہو‘‘ تاکہ بعد والوں کو آسانی ہو۔ ٹھیک ہے، اس کا فائدہ یہ بھی ہے، میں اس کے فائدہ ہونے سے انکار نہیں کرتا، لیکن مقصدِ اصلی اس کا یہ نہیں تھا۔ اس کا اصل مقصد آپ کو قانونی زاویۂ نظر سکھانا تھا، اس کی ٹریننگ تھی کہ لیگل ریزننگ (قانونی استدلال) جس کو کہا جاتا ہے، وہ کیسے کی جاتی ہے؟ نیازی صاحب کو اور بعض دیگر اساتذہ کو دیکھتے ہوئے میں نے خود اپنے سٹوڈنٹس کے ساتھ اسی طرح کا طرز اختیار کیا ہے۔ ظاہر ہے بچوں کے ساتھ تھوڑی نرمی بھی کرنی پڑتی ہے تو بعض اوقات ان کو سیدھا سادھا سوال بھی دے دیتے ہیں کہ ’’عام قطعی ہوتا ہے یا ظنی ہوتا ہے؟‘‘ لیکن عام طور پر — چاہے انٹرنیشنل لاء کا کورس ہو، کریمنل لاء کا ہو، فیملی لاء کا ہو، کسی اور قانون کا ہو — میں ان کے سامنے کیس بنا کر پیش کر دیتا ہوں کہ اب اس کا خود ہی فیصلہ کر لیں۔ میں تین صفحوں میں حقائق ذکر کر دیتا ہوں اور آخر میں ایک سطر کا سوال ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے کلاسز اٹینڈ کی ہوں اور ریزننگ کا طریقہ انہیں آتا ہو، تو وہ جواب دے لیں گے، ورنہ نہیں دے سکیں گے۔ یہ تو ٹریننگ کا طریقہ ہوتا ہے۔
انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین لاء پڑھاتے ہوئے ہم نے ایک تصویر لوگوں کے سامنے رکھی۔ چونکہ ہم ان کو مسلسل بتاتے ہیں کہ جنگ میں بچوں کو نہیں مارنا، ہسپتال پر حملہ نہیں کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ تو پہلے دن کے اختتام پر ان سے کچھ بھی پوچھیں کہ یہ کام کر سکتے ہیں تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں۔ مثلاً، درخت کاٹ سکتے ہیں؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ کہا: درخت کاٹنا تو فساد ہے۔ کہا: تو جنگ کونسا اچھا کام ہے، جنگ میں آپ دشمن کا بندہ مار سکتے ہیں تو درخت کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ اس پر میں نے ان سے کہا کہ ہمارے ایک بزرگ کسی دوسرے بزرگ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہر بات کے جواب میں ’نہیں‘ کہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان کو آپ سے اتفاق بھی ہو تو وہ کہیں گے: نہیں، مجھے آپ سے اتفاق ہے۔
بہرحال، کورس کے شرکاء کے سامنے میں نے ایک تصویر رکھی، جس میں نیچے سے ایک بندے نے فائر کر کے اوپر ایک جہاز کو نشانہ بنا لیا ہے، اور جہاز کا پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے اتر رہا ہے۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس پائلٹ کو، جو فائٹر پائلٹ ہے، اس حالت میں نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیراشوٹ کے ذریعے نیچے اتر رہا ہے؟ اکثر نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ جس وقت وہ جہاز میں تھا، اس وقت تو آپ نے نشانہ بنایا، تو اب کیوں نہیں؟ ہاں، کیونکہ اس وقت وہ بمباری کر رہا تھا۔ پائلٹ کسی طرح ایجیکٹ کرکے جہاز سے نکلا، اب وہ اتر رہا ہے:
- اگر اس کے ہاتھ میں بندوق ہے، یا وہ فائرنگ کرتے ہوئے اتر رہا ہے، تو کیوں نہیں ماریں گے؟
- اگر اس نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں، تو نہیں ماریں گے۔
- اگر ابھی ہم شک میں ہیں کہ اس کے پاس بندوق ہے یا نہیں، تو ہم نشانہ باندھے ہوئے انتظار کریں گے، جب تک اس کی حالت واضح نہ ہو جائے، توقف کریں گے، نظر رکھیں گے۔
- اس کا پیراشوٹ کسی درخت میں الجھ گیا، یا بجلی کے کھمبے میں، اب اس کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں، اس وقت اس کو نہیں ماریں گے۔
تو ہر ہر فیکٹر سے فرق پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’کیس میتھڈ‘‘ کے ذریعے دراصل فقہاء آپ کو اپنے اصول بتاتے ہیں۔ اور ہیثم عبدالحمید صاحب آخر میں فرماتے ہیں کہ فقہی جزئیات عام کی قطعیت کے حق میں تھے۔ یہ آخر میں کہنے کی بات نہیں تھی، یہ شروع میں کرنے کی بات تھی، کیونکہ اگر فقہی جزئیات اس کے حق میں تھے — فقہی جزئیات سے مراد امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور اسی طرح دیگر جو مشائخ ہیں ان کی جزئیات ہیں — تو یوں کہیں کہ ان کو تو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اب ماتحت عدالتیں تو اس سے آگے پیچھے نہیں جا سکتیں۔ تو ان فیصلوں کو جوں کا توں مانتے ہوئے، ہم نے آگے دیگر مسائل پر ان کا اطلاق کرنا ہے۔ تو ان فیصلوں سے ہمیں کیا اصول معلوم ہوا؟ قطعیت کا معلوم ہوا۔ مضاربہ کی مثال ہم نے ذکر کی، کچھ مثالیں اور بھی ابھی دیکھیں گے۔
- تو یہ جغرافیہ کا اثر نہیں تھا، عراقی بمقابلہ سمرقندی کا مسئلہ نہیں تھا۔
- اسی طرح یہ عقائد کے اختلاف کا، یعنی معتزلی بمقابلہ ماتریدی کا مسئلہ نہیں تھا۔
- نہ ہی یہ تاریخی ارتقاء کا مسئلہ تھا کہ پہلی تین صدیوں میں یہ تھا، چوتھی میں وہ ہوا، پانچویں میں وہ ہوا۔ بھئی پانچویں صدی میں، ابھی ہم دیکھیں گے کہ امام سرخسیؒ اپنی جانب سے بات نہیں کر رہے، لیکن یہ دیکھنے سے پہلے میں اس میں سے چند اقتباسات آپ کے سامنے بھی رکھوں گا۔
میں آپ کی خدمت میں بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ پڑھتے ہوئے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ چلیں، آپ تو سارے اصحابِ علم ہیں، لیکن میں آپ کو اپنا طریقہ بتاتا ہوں کہ یہ پڑھتے ہوئے میں کیا کرتا ہوں اور کیا نہیں کرتا۔
پہلی بات، میں یہ نہیں دیکھتا کہ احناف کے نزدیک عام قطعی کیوں ہے؟ سمجھنے کے لیے ساری بحث پڑھنی ضروری ہے کہ آخر احناف اس نتیجے تک کیوں پہنچے ہیں کہ عام قطعی ہوتا ہے۔ اور جو عام کی قطعیت کے خلاف دوسروں کے دلائل ہیں، ان کا وہ کیا جواب دیتے ہیں، وہ سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن چونکہ میں مقلد ہوں اور میں ان اصولوں کا پابند ہوں، میں ان سے آگے پیچھے نہیں جا سکتا، اس لیے میرے لیے اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ احناف کے نزدیک عام قطعی ہے یا نہیں ہے؟ کیوں ہے یا کیوں نہیں ہے کا سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ وہ عام کو ظنی کیوں نہیں مانتے؟ جو لوگ ظنی مانتے ہیں، ان کا جواب وہ کیا دیتے ہیں؟ یہ سارے دلائل اہم ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن بطور اس مذہب کے متبع اور مقلد کے میری پوزیشن کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ مذہب ہے کیا؟
اور یہ معلوم کیسے کرنا ہے؟ یہ دیکھنا اور معلوم کرنا ہے مسائل سے۔ ابھی امام سرخسیؒ ہمیں بتائیں گے۔ لیکن اُس مسئلے میں حنفیوں نے یہ رائے کیوں قائم کی ہے؟ اِس مسئلے میں حنفیوں یہ رائے کیوں قائم کی ہے؟ یہ درست ہے یا غلط ہے؟ میں اس بحث میں بھی نہیں جا سکتا۔ امام ابوحنیفہؒ یا امام محمدؒ نے اس مسئلے کا جو حکم بتایا ہے، وہی حکم ہے۔ میرا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس حکم سے اصول کیا معلوم ہوتا ہے؟ اس حکم کی درستی یا نادرستی معلوم کرنا، یہ میرے اختیار میں بھی نہیں ہے اور میرا دردِ سر بھی نہیں ہے۔ میرے نزدیک اس مسئلے میں جو اُن کا حکم ہے، وہ درست ہے۔ اس مسئلے میں جو انہوں نے حکم متعین کیا ہے، اس کو جوں کا توں مان کر ان سے اصول معلوم کرنے ہیں۔ یہ طریقہ ہے۔
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
دیسی الحاد: اسباب، محرکات اور اصلاح کی راہیں
الحاد کے فروغ کو صرف مغربی فکری یلغار یا فرد کی ذاتی سوچ کا نتیجہ قرار دینا مسئلے کی گہرائی کو نظر انداز کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں الحاد کا رجحان وہاں کے مخصوص سیاسی، سماجی، اور ریاستی حکمتِ عملی کے زمینی حقائق سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ تحریر انہی عوامل کا تجزیہ کرتی ہے کہ کس طرح ریاست، مذہبی طبقات اور سیاسی نظام کی کمزوریوں نے نوجوانوں کو خدا اور مذہب کی تعلیمات سے دور کیا۔
1۔ دیسی الحاد کی اقسام اور اس کے بنیادی محرکات
دیسی ملحدین کے الحاد کی وجوہات کو علمی، نفسانی اور نفسیاتی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس کی روشنی میں مسئلے کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ یہ تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ زیادہ تر "دیسی الحاد" فکری یا عقلی (Intellectual) نہیں، بلکہ نفسیاتی، اخلاقی، اور ردِعمل پر مبنی ہے۔
(1) علمی الحاد: نایاب اور فلسفیانہ بنیاد
علمی الحاد وہ نادر قسم ہے جس میں کسی شخص کو خالصتاً علمی بنیادوں پر وجودِ خدا کے بارے میں شکوک و شبہات لاحق ہوں۔ یہ رجحان دنیا میں فلاسفہ اور نظریاتی سائنس دانوں کی ایک قلیل جماعت تک محدود ہے۔
علمی الحاد کا سب سے بڑا سبب فلسفہ ہے، خواہ وہ فلسفہ برائے فلسفہ ہو یا فلاسفی آف سائنس۔ چونکہ قرآن مجید الحاد کو علم کے مقابلے میں ظن و تخمین سے زیادہ مقام نہیں دیتا (جیسا کہ سورۃ الجاثیہ کی آیت 24 میں بیان ہوا ہے: "وہ صرف ظن و تخمین سے کام لیتے ہیں")، اس لیے یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ فلسفہ اور منطق ہمیشہ سے مذہب کے مقابل ایک علمی چیلنج رہے ہیں۔ چونکہ یہ الحاد اصلاً ہماری تہذیب کا مسئلہ نہیں بلکہ مغربی تہذیب سے درآمد شدہ ہے، لہٰذا یہ ایک مستقل کام کی بجائے ایک عارضی اور وقتی ضرورت ہے جس کا رد کیا جائے۔ دیسی ملحدین پر مغرب کا فکری ٹھپہ لگا ہوتا ہے، خواہ یہ اثر فلاسفی آف سائنس، انگریزی ادب، ہالی وڈ فلموں، یا درسی کتابوں کے ذریعے منتقل ہوا ہو۔
(2) نفسانی (Sensual) الحاد: خواہش پرستی اور ضمیر کی ملامت سے فرار
نفسانی الحاد ہمارے معاشروں میں بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اس کا تعلق علمی شک و شبہات سے نہیں، بلکہ خواہشِ نفس کی تکمیل سے ہے۔ خواہش پرست انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ خدا، مذہب اور آخرت کے تصورات اس کی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہتا ہے، تو وہ اس ملامت سے بچنے کے لیے خدا کا زبانی انکار کر دیتا ہے۔ وہ دراصل اپنی خواہش کو علم سمجھنے کا دھوکہ دے رہا ہوتا ہے تاکہ ضمیر کی خلش کو ختم کیا جا سکے۔ دیسی ملحدین کی ایک بڑی تعداد اسی قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔
(3) نفسیاتی (Psychological) الحاد: ردعمل، صدمے اور غلط رویے
نفسیاتی الحاد وہ ہے جس کا سبب انسان کے نفسیاتی مسائل، ذہنی تناؤ، یا شدید ردعمل ہوتے ہیں۔
مذہبی لوگوں کا غلط رویہ
الحاد کی طرف مائل ہونے کا ایک بڑا سبب مذہبی لوگوں کے غلط رویے، تنگ نظری، یا عدم رواداری کا شدید ردعمل ہے۔ جب مذہبی حلیہ اختیار کرنے والے افراد ناروا حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں تو نوجوان اسے مذہب کی خرابی سمجھ کر ردعمل میں مذہب سے انحراف اختیار کر لیتے ہیں۔
جسمانی یا جنسی تشدد
یہ ایک اہم اور حساس نکتہ ہے کہ مدرسوں یا مذہبی حلقوں میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد بھی مذہبی بیزاری یا الحاد کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کا قول ہے کہ اگر داڑھی والوں نے چوریاں شروع کر دی ہیں تو یوں کہو کہ "چوروں نے داڑھی رکھ لی ہے"، اس لیے ان بدفطرت لوگوں کی نشاندہی مذہب کی خیرخواہی ہے۔
آزمائش اور شکوہ
کچھ لوگ کسی آزمائش کے دوران اللہ سے دعا قبول نہ ہونے کا شکوہ کرتے کرتے بالآخر خدا کا ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ درحقیقت، وہ اس "خدا" کا انکار کر رہے ہوتے ہیں جسے انہوں نے خود اپنے ذہن کے تخیل سے پیدا کیا ہوتا ہے، جو ان کی اپنی شخصیت کا عکس ہوتا ہے، نہ کہ اس خدا کا جو کتاب و سنت میں بیان ہوا ہے۔ وہ خدا کو منصف اور عادل نہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایلف شفق نے بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(4) تاریخی عبرت: علمی آزادی پر تشدد کا جبر
تاریخ اسلامی ایسے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں علمی اختلافات کو ذاتی انا، تعصب اور حکومتی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ واقعات بھی آج کے نوجوانوں کے سامنے ایک تاریک تصویر پیش کرتے ہیں کہ مذہبی حلقوں میں فکری اختلاف کا کیا حشر ہوتا رہا ہے۔
امام مالک بن انس کو ایک فتوے کی مخالفت پر عباسی خلیفہ کے دور میں کوڑے مارے گئے۔ امام احمد بن حنبل کو "خلقِ قرآن" کے عقیدے کو تسلیم نہ کرنے پر کئی سال تک قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ منصور حلاج کو "انا الحق" کہنے پر بغداد میں سولی دی گئی، جو فکری اور روحانی خیالات کو درست طور پر نہ سمجھنے کا سنگین نتیجہ تھا۔ امام ابن تیمیہ کو ان کے اجتہاد اور فتاویٰ میں اختلاف کرنے کی پاداش میں کئی بار قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ شہاب الدین سہروردی کو ان کے اشراقی فلسفے کی وجہ سے الحاد کا الزام لگا کر قتل کر دیا گیا۔
بدقسمتی سے مسلمانوں کی تاریخ عبقری شخصیات کو ملنے والی کربناک سزاؤں اور طعن و تشنیع بھری پڑی ہے: ابن جریر طبری کا تہ خانے سے نہ نکل پانا، حتیٰ کہ وہیں دفن ہونا تاکہ کوئی میت کو نکال کر بے حرمتی نہ کر بیٹھے۔ امام بخاری کا دربدر پھر کر تنگ آنا اور موت کی آرزو کرنا۔ بنو امیہ، بنو مروان، ابن زیاد و حجاج کا علماء اور ائمہ اہلِ بیت پر جبر و تشدد۔ ابن رشد کی کتابیں جلانا۔ امام ابوحنیفہ اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کو قید و بند کی صعوبتیں دینا۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی اور اُن کی فکر پر دیوبند کی بنیاد اٹھانے والے اہلِ علم کی تنقیص و تکفیر۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب علمی بحثوں میں برداشت اور رواداری ختم ہو جائے تو جبر ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جہاں نوجوان کوئی سوال یا خیال پیش کرنے سے ڈرتے ہیں اور بالآخر دین سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔
2۔ ریاستی و سماجی محرکات اور الحاد کا فروغ
مذہبی، نفسانی اور نفسیاتی عوامل کے علاوہ پاکستان کے مخصوص سیاسی و سماجی ڈھانچے نے الحاد کے فروغ کے لیے زمین ہموار کی ہے۔
(1) سیاسی و ریاستی ناکامیاں
مسلم دنیا میں طویل عرصے سے جاری استبدادی حکمرانی اور سیاسی و سماجی انصاف کی عدم فراہمی نے شہریوں میں مذہب پر مبنی ریاست کے تصور سے مایوسی پیدا کی ہے۔ حکمرانوں کی ناکامیوں اور کرپشن کا بوجھ بالواسطہ طور پر مذہب پر پڑتا ہے، جس سے نوجوان طبقہ مذہب کی بنیاد پر قائم معاشرتی نظام کو ان ناکامیوں کا ذمہ دار سمجھنے لگتا ہے۔
(2) بنیادی دینی معلومات کا فقدان
جدید سائنسی اور کاسمولوجی کے سوالات کا روایتی دینی تعلیمات میں اطمینان بخش جواب نہ ملنا۔ جب ایک مخلص مؤمن طالب علم — جیسے "کوسموس" ٹی وی سیریز دیکھنے والا انجینئرنگ کا طالب علم — کو مذہب اور سائنس میں مطابقت پیدا کرنے کی خواہش ہوتی ہے لیکن اس کی اہلیت نہیں ہوتی، تو وہ خدا کے وجود پر شک نہیں کرتا بلکہ مذہب اور حاضر علم میں مطابقت نہ ہونے کی تشویش کا شکار ہو جاتا ہے۔
(3) سائنس اور مذہب میں فطری ربط کا فقدان
الحاد کے فروغ کا ایک اہم محرک جدید سائنس اور مذہبی تعلیمات کے درمیان فکری ربط قائم کرنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی ہے۔
(4) نصاب میں ناکافی اور سطحی دینی تعلیمات
ریاستی تعلیمی حکمتِ عملی کا نقص یہ ہے کہ ایک طرف یونیورسل سائنسی حقائق (جیسے نظریہ ارتقاء) کو جدید تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے، اور دوسری طرف دینی تعلیمات انتہائی ناکافی اور سطحی ہوتی ہیں، مزید یہ کہ اُن کو محض رٹانے اور تقدیس کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس دوہرے نظام سے نوجوان ذہن میں ایک شدید تصادم پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ ریاست جدید سائنس اور اسلامی فلسفے کے درمیان کوئی فکری پل قائم نہیں کر سکی، لہٰذا نوجوانوں کو مذہب کی وہ عقلی اساس فراہم نہیں ہوتی جو انہیں جدید سائنسی چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مدد دے سکے۔
(5) عصری اداروں اور دینی مدارس کا فکری خلا
پاکستان میں جدید تعلیمی ادارے اور دینی مدارس دو الگ دنیاؤں کی طرح ہیں۔ یہ فکری خلا ملحدین کے لیے ایک بہترین سازگار میدان فراہم کرتا ہے، جو سائنسی حقائق کی غلط تعبیر کر کے انہیں مذہب کے خلاف ایک آخری دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نظریہ ارتقاء جیسے موضوعات کو نہ تو ٹھیک سے سمجھایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا مدلل اسلامی جواب دیا جاتا ہے، جس سے مذہب بیزاری کا رجحان بڑھتا ہے۔
(6) فرقہ واریت کا رجحان اور مذہبی طبقات کی حکمتِ عملی
فرقہ واریت کا رجحان اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے اختلافات مذہبی طبقات کی حکمتِ عملی کی ایک سنگین ناکامی ہے۔ جب مذہبی پلیٹ فارم سے ایک فرقے کی دوسرے کے خلاف نفرت انگیز تقریریں یا فتوے جاری ہوتے ہیں، تو یہ مذہب کو محبت اور اتحاد کے بجائے تفرقہ اور تشدد کا ذریعہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ فرقہ وارانہ بیانیہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایک نوجوان جو دین میں اتحاد اور رواداری کی تلاش میں ہے، جب اس نفرت انگیز مواد کا سامنا کرتا ہے، تو وہ گہری مایوسی کا شکار ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ مذہب صرف تفرقہ، نفرت اور گروہ بندی کا نام ہے۔
(7) علمی بحث کا مسخ ہونا
علمی اور صحت مندانہ بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ حقیقت تک پہنچا جائے۔ لیکن جب یہ بحث ذاتی لڑائی میں بدل جاتی ہے، تو زور مخالف کو نیچا دکھانے اور توہین کرنے پر ہوتا ہے، تاکہ لوگ اس کی بات سننا چھوڑ دیں۔ دلیل کے بجائے چٹکلے، طنز، اور اشتعال انگیز باتیں استعمال کرنے کا مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا اور اپنے مخالف کے نظریات کو مذاق کا نشانہ بنا کر ایک گروہ بندی کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد علم کا فروغ نہیں بلکہ اپنی قیادت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
(8) نوجوان نسل کے سوالات اور مذہبی رہنماؤں کی کج بحثی
نوجوان نسل جو سوالات اور تجسس سے بھرپور ہوتی ہے، جب مذہبی رہنماؤں کو اس طرح کی اخلاقی طور پر گری ہوئی بحثوں میں الجھا ہوا دیکھتی ہے، تو ان کی نظر میں مذہب کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کے داعی ہی اخلاقیات سے گرے ہوئے ہیں، تو اس دین کا کیا فائدہ؟ ملحدین اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر مذہب کے نام پر لڑنے والے افراد ہی اخلاق سے عاری ہیں، تو مذہب کیسے امن کا درس دے سکتا ہے؟ وہ ان جھگڑوں اور گالی گلوچ کو مذہب کا اصل چہرہ قرار دیتے ہیں، جو لوگوں کو جذباتی طور پر دین سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
3۔ مسلم معاشروں میں الحاد کے رد اور علاج کے لیے جامع اصلاحات
مسلم معاشروں میں الحاد کے فروغ کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع اور اندرونی اصلاحات درکار ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ:
(1) علم و اخلاق اور آدابِ اختلاف کا فروغ
- تعلیمی نظام میں جدید سائنس اور اسلامی فلسفے کے درمیان ایک فکری ربط قائم کیا جائے، تاکہ نوجوانوں کو سائنسی چیلنجوں کا مدلل اسلامی جواب میسر آ سکے۔
- مذہبی رہنما فرقہ پرستی کی بنیاد پر اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار اور مذہبی ہم آہنگی پر زور دیں۔
- مذہبی بحثوں کو علمی، مدلل اور اخلاقی بنیادوں پر واپس لایا جائے، جہاں مخالف کی بات کا احترام کیا جائے اور ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے۔
جب علم و اخلاق کو ترجیح دی جائے گی اور ادب الخلاف و الاختلاف کو یقینی بنایا جائے گا تو نوجوان نسل دین کو ایک مثبت اور روشن پیغام کے طور پر دیکھے گی، جو الحاد اور مذہب بیزاری کا خودبخود خاتمہ کر دے گا۔
الحاد کے رد اور اس کے علاج میں فرق ہے۔ الحاد کا رد صرف ملحدوں کا شر کم کرتا ہے، جبکہ الحاد کا علاج ملحدوں کو دین کی طرف راغب کرنا ہے۔ چونکہ خدا پر ایمان انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے، لہٰذا اس میں شک پیدا کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل شیطانی اور ملحدانہ محنت درکار ہے۔
(2) فکری پرہیزگاری اور حقیقی دنیا میں واپسی
زیادہ تر الحاد علمی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسانی ہوتا ہے۔ ملحدین سادہ لوح مسلمانوں کو مسلسل مطالعے یا ٹی وی سیریز — جیسے کارل ساگان کی "کوسموس" — کے ذریعے ایک خیالاتی اور تصوراتی دنیا (Imaginary World) میں داخل کر دیتے ہیں، جو بظاہر خوبصورت مگر جھوٹی ہوتی ہے۔ الحاد کا مسلسل مطالعہ یا ویڈیو سیریز دیکھنا ترک کر دینے اور دہریت کا مطالعہ بند کر دینے سے چند دنوں میں ہی اس "جھوٹی دنیا" کا سحر ٹوٹ جاتا ہے جو صرف خیالات میں موجود ہوتی ہے۔
(3) قلبی و اخلاقی طریقہ کار (طریقۂ انبیاء)
الحاد کا اصل علاج قلبی اور اخلاقی ہے، جو نبیوں اور رسولوں کا طریق کار تھا۔ دل پہلے اپنے رب کی طرف جھکتا ہے، ذہن بعد میں اس سے اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اگر محض عقل و منطق سے خدا سمجھ میں آتا تو فلسفہ کی تاریخ میں دو چار سے زیادہ فلسفی مسلمان ہوتے۔ اس لیے الحاد کا مؤثر ترین علاج خدا کا کلام ہے۔ کسی تشویش کی صورت میں مکی سورتوں کا لفظی ترجمہ پڑھنا اور پھر اس کی خوبصورت آواز میں تلاوت سننا ایک مؤثر، وجودی اور شعوری دلیل بنتا ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 83 میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے: "جب وہ اسے سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا تو تم دیکھتے ہو کہ حق کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک پڑتی ہیں"۔
جو لوگ مذہبی عناصر کے غلط رویوں کے ردعمل میں ملحد بنے ہیں، ان کا علاج صرف اعلیٰ اخلاق، دوستی، دلاسہ اور ہمدردی سے ممکن ہے۔ خانقاہی نظام کا ادارہ اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ کوئی خانقاہ تصوف کی اصل بنیادوں پر قائم ہوں تو متاثرہ انسانیت کی خدمت کا سہرا اُس کے سر ہوگا۔
خواجہ أبو الحسن خرقانیؒ نے اپنی خانقاہ کے لیے یہ أصول مقرر فرمایا تھا: ہر کہ در این سرا درآید، نانش دہید و از ایمانش مپرسید (جو بھی اس خانقاہ میں داخل ہو، اسے روٹی دو اور اس کا مذہب مت پوچھو)۔ چہ آنکس کہ بہ درگاہ باری تعالیٰ بہ جان ارزد، البتہ بر خوان بوالحسن بہ نان ارزد (جو شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی جان کے سبب قابلِ عزت ہے، تو یقیناً وہ ابوالحسن کے دسترخوان پر روٹی کے سبب بھی قابلِ عزت ہے)۔
آزمائش کے سبب الحاد کی طرف مائل ہونے والوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خدا کے انکار سے آزمائش ختم نہیں ہوگی، اور ضرورت پڑنے پر ان کی دنیاوی مدد بھی کرنی چاہیے تاکہ خدا سے ان کا شکوہ شکایت جاتی رہے۔
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ الحاد کے فروغ کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف فکری دلائل کافی نہیں، بلکہ مذہبی طبقے کو شفقت و محبت سے بھرپور رویہ اپنانا ہوگا، مالی سماجی انصاف فراہم کرنا ہوگا، اور فرد کو عقلی دلائل کے بجائے قلبی، فطری اور رفاہی طریقوں سے اللہ کے قریب لانا ہوگا۔
وجودِ الٰہی اور اس کے مباحث کا موضوعاتی مطالعہ (۱)
چیٹ جی پی ٹی
نوٹ: سلسلہ وار تحریر ’’اسلام اور ارتقا‘‘ کے مترجم محترم بعض وجوہات کی بنا پر اِس ماہ اُس کی قسط ارسال نہیں کر سکے۔ چنانچہ زیر نظر تحریری سلسلہ، جس کا آغاز آئندہ ماہ سے ہونا تھا، اسی شمارہ میں اس کی پہلی قسط شائع کی جا رہی ہے۔ ادارہ
ویکی پیڈیا پر Existence of God کے عنوان سے ایک طویل تحریر موجود ہے، اس کا لنک ہم نے مصنوعی ذہانت کی معروف سروس چیٹ جی پی ٹی کو مہیا کر کے پوچھا کہ آپ کے خیال میں کیا اس میں ذکر کردہ مباحث کی ترتیب موزوں ہے، یا آپ اس سے بہتر موضوعاتی ترتیب تجویز کرنا چاہیں گے؟ اس پر چیٹ جی پی ٹی نے درج ذیل وضاحت کے ساتھ ایک نئی ترتیب قائم کی ہے جو ہم اس تحریر میں پیش کر رہے ہیں:
’’ذیل کی ترتیب اس انداز کی عکاسی کرتی ہے جس کے مطابق فلسفہ عموماً پڑھایا جاتا ہے: پہلے بنیادی تصور کی وضاحت کی جاتی ہے، پھر اس سے متعلق ممکنہ نظریات متعارف کرائے جاتے ہیں، اس کے بعد استدلال کے اصول و معیارات متعین کیے جاتے ہیں، پھر ہر موقف کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ لیا جاتا ہے، ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، ان اعتراضات کے جوابات پر غور کیا جاتا ہے، اور آخر میں پورے مباحثے کو اس کے تاریخی اور مذہبی تناظر میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے، جس کے بعد معاصر افکار و مباحث کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ اس تدریجی ترتیب کی بدولت ہر حصہ اپنے سے پہلے آنے والے مباحث سے فطری طور پر مربوط رہتا ہے اور پوری بحث ایک منظم اور مربوط شکل اختیار کر لیتی ہے۔‘‘
چنانچہ درج ذیل فہرست کے مطابق مجلہ کی آئندہ اشاعتوں میں ان اصطلاحات اور موضوعات کی مختصر وضاحتیں پیش کی جائیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
فہرست
مسئلہ کا تعارف The Question
- خدا کی موجودگی سے کیا مراد ہے؟ What does "God exists" mean
- خدا کے متعلق مختلف تصورات Different conceptions of God
- تصورِ توحید Classical Theism
- غیر مداخلتی خدا Deism
- خدا بطور کائنات Pantheism
- خدا بطور کائنات سے ماورا Panentheism
- شخصی اور غیر شخصی خدا Personal vs. Impersonal God
- یہ سوال کیوں اہم ہے؟ Why the question matters
ممکنہ مواقف Possible Positions
- خدا پرستی Theism
- الحاد Atheism
- لاادریت Agnosticism
- الہیاتی لایعنیت Ignosticism
- بے پروائی Apatheism
استدلال کی بنیادیں Foundations of Reasoning
- ثبوت کسے کہتے ہیں؟ What Counts as Evidence
- منطق اور قیاسی استدلال Logic and Deduction
- استقرائی استدلال اور احتمال Induction and Probability
- بارِ ثبوت Burden of Proof
- ایمان اور عقل Faith and Reason
- انسانی علم کی حدود Limits of Human Knowledge
خدا کے وجود کے حق میں دلائل Arguments for God's Existence
- کونیاتی دلائل Cosmological Arguments
- ارسطو کی دلیل Aristotle
- تھامس ایکویناس Aquinas
- کلامی دلیل Kalam Argument
- لائبنز کی دلیل Leibniz
- غایتی دلائل Teleological Arguments
- دلیلِ نظم و مقصد Design Argument
- فائن ٹیوننگ دلیل Fine-tuning Argument
- وجودی دلیل Ontological Arguments
- اخلاقی دلائل Moral Arguments
- شعور سے دلیل Argument from Consciousness
- عقل سے دلیل Argument from Reason
- مذہبی تجربہ Religious Experience
- معجزات Miracles
- عملی دلائل Pragmatic Arguments
- پاسکل کی شرط Pascal’s Wager
- دیگر عملی نقطہ ہائے نظر Other Pragmatic Approaches
خدا کے وجود کے خلاف دلائل Arguments Against God's Existence
- شر کا مسئلہ Problem of Evil
- الٰہی پوشیدگی Divine Hiddenness
- متضاد الہامات Inconsistent Revelations
- طبعیاتی توضیحات Naturalistic Explanations
- قادرِ مطلقیت کے تضادات Omnipotence Paradoxes
- کامل علم اور آزاد ارادہ Omniscience and Free Will
- سادگی اور توضیحی قوت Simplicity and Explanatory Power
- عدمِ ایمان سے دلائل Arguments from Nonbelief
جوابات اور جوابی جوابات Responses and Counterresponses
- شر کے مسئلے کی الٰہیاتی توجیہ Theodicies
- معرفتی عاجزی پر مبنی خدا باوریت Skeptical Theism
- آزاد ارادے کے دفاعات Free Will Defenses
- روح سازی کی تھیوڈیسی Soul-making Theodicy
- اصلاح شدہ معرفتِ علم Reformed Epistemology
- بیزیائی طریقۂ کار Bayesian Approaches
تاریخی ارتقا Historical Development
- قدیم فلسفہ Ancient Philosophy
- قرونِ وسطیٰ کا فلسفہ Medieval Philosophy
- عہدِ روشن خیالی کا فلسفہ Enlightenment Philosophy
- جدید تجزیاتی فلسفہ Modern Analytic Philosophy
- معاصر فلسفۂ مذہب Contemporary Philosophy of Religion
مذہبی نقطہ ہائے نظر Religious Perspectives
- یہودیت Judaism
- مسیحیت Christianity
- اسلام Islam
- ہندو روایات Hindu Traditions
- بدھ مت Buddhism
- سکھ مت Sikhism
- دیگر روایات Other Traditions
نفسیات اور عمرانیات Psychology and Sociology
- انسان کیوں ایمان لاتے ہیں Why Humans Believe
- مذہب کی ادراکی سائنس Cognitive Science of Religion
- ارتقائی توضیحات Evolutionary Explanations
- مذہب کے سماجی افعال Social Functions of Religion
مباحث کی موجودہ صورتحال Current State of the Debate
- اہم غیر حل شدہ سوالات Major Unresolved Questions
- اتفاقِ رائے کے نکات Areas of Consensus
- مستقبل کی سمتیں Future Directions
اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ
محمد سراج اسرار
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
باب اول: شخصیت و کردار
نام و نسب اور کنیت و لقب
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کے خاندان بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ تھا۔ آپ کا نسب آٹھویں پشت میں عدی بن کعب کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے، اس طرح حضرت عمرؓ اور رسول اکرمؐ قریشی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مشہور کنیت ’’ابو حفص‘‘ تھی۔ روایات کے مطابق غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروقؓ کی شجاعت، رعب اور پختگی کو دیکھتے ہوئے انہیں اس کنیت سے پکارا تھا، کیونکہ عربی زبان میں شیر کے بچے کو حفص کہتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کا سب سے معروف لقب ’’فاروق‘‘ ہے، جس کے معنی ہیں حق اور باطل میں فرق کرنے والا، اس لیے کہ آپ کے اسلام لانے سے حق کو کھل کر اظہار کا موقع ملا اور مسلمانوں کو قوت حاصل ہوئی۔ روایات کے مطابق کنیت کی طرح یہ لقب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ ہیں۔ خلافت کے زمانے میں آپ ’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، اور تاریخ میں یہ لقب اختیار کرنے والے اولین خلیفہ شمار ہوتے ہیں۔
حلیہ مبارک اور لباس و غذا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند قامت، مضبوط جسم اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا رنگ گندمی مائل سفید تھا۔ جسمانی قوت اور جلالتِ شان ایسی تھی کہ دور سے ہی آپ کی شخصیت نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ آپ کے کندھے چوڑے، ہاتھ پاؤں مضبوط اور آواز بلند تھی۔ چلتے تو تیزی اور وقار کے ساتھ چلتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آپ اپنی ہیبت، جلال اور قوتِ ارادی کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سادگی اور زہد کا عملی نمونہ تھے۔ خلافت جیسی عظیم ذمہ داری سنبھالنے کے باوجود آپ کا لباس نہایت سادہ ہوتا تھا، اکثر پیوند لگے ہوئے کپڑے استعمال فرماتے، عربوں کے قدیم طرز کے جوتے پہنتے، اور بیت المال سے اپنے لیے کسی قسم کی شاہانہ آسائش پسند نہ کرتے تھے۔
خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کی روزمرہ کی خوراک انتہائی سادہ، معمولی اور زاہدانہ تھی۔ وہ بیت المال سے خود کو صرف اتنے وظیفے کا حقدار سمجھتے تھے جس سے ایک عام شہری کا گزارا ہو سکے۔ان کی روزمرہ غذا جَو کی خشک موٹی روٹی ہوتی تھی، جس پر زیتون کا تیل مل کر کھا لیا کرتے تھے، یا روٹی پر پگھلی ہوئی چربی یا گھی لگا لیتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا طرز عمل اس اصول کے مطابق تھا کہ رعایا جس معیارِ زندگی پر ہو حاکم کو بھی اسی معیار پر رہنا چاہیے۔
ذریعۂ معاش اور ملکیت
اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تجارت سے وابستہ تھے اور مختلف علاقوں، مثلاً شام اور یمن کے تجارتی سفر کیا کرتے تھے۔ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جو اس دور میں ایک خاص امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ خلافت کے زمانے میں آپ نے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بیت المال سے صرف مقررہ وظیفہ لیا اور ذاتی کاروبار کو محدود کر دیا۔ آپ کے پاس کچھ زمینیں اور جائیدادیں بھی تھیں، جن میں خیبر کی زمین مشہور ہے جسے آپ نے اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔
ازواج
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مختلف ادوار میں متعدد نکاح کیے۔ ان میں نمایاں ازواج درج ذیل ہیں:
- زینب بنت مظعونؓ — آپ کی ابتدائی اور مشہور زوجہ تھیں۔ ان سے عبد الرحمٰنؓ، عبد اللہؓ، حفصہؓ اور فاطمہؓ پیدا ہوئے۔
- ملیکہ بنت جرول — نکاح زمانۂ جاہلیت میں ہوا تھا۔ اسلام قبول نہ کرنے کے باعث بعد میں علیحدگی ہو گئی۔
- قریبۃ بنت ابی امیہ — یہ بھی ابتدائی دور کی زوجہ تھیں۔ اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے صلح حدیبیہ کے بعد علیحدگی ہوئی۔
- جمیلہ بنت ثابتؓ (جن کا نام پہلے عاصیہ تھا) — انصار میں سے تھیں۔ ان سے عاصم بن عمرؒ پیدا ہوئے۔
- عاتکہ بنت زیدؓ — مشہور صحابیہ تھیں، حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت زبیر بن العوامؓ کے نکاح میں آئیں۔
- اُمِّ حکیم بنت حارثؓ — بعض روایات میں ان کا ذکر حضرت عمرؓ کی ازواج میں ملتا ہے۔
- اُمِّ کلثوم بنت علیؓ — حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی تھیں، جن سے خاندان نبوت کے ساتھ نسبت پیدا کرنے کے لیے نکاح کیا۔ ان سے زیدؓ اور رقیہؓ پیدا ہوئے۔
ان ازواج سے آپ کی متعدد اولادیں ہوئیں اور ہر نکاح اپنے دور کے سماجی اور خاندانی حالات کے مطابق تھا۔
اولاد
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں کئی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔
بیٹوں میں:
- عبد اللہ بن عمرؓ — مشہور صحابی، عبادت و اتباعِ سنت میں نہایت معروف، اور کثرت سے احادیث روایت کرنے والے جلیل القدر راوی تھے۔
- عبید اللہ بن عمرؓ — ابتدائی اسلامی تاریخ میں معروف، اور بعض روایات کے مطابق انہوں نے حضرت عثمانؓ کے دور میں سیاسی و عسکری معاملات میں حصہ لیا۔
- عاصم بن عمرؒ — تابعین میں شمار ہوتے ہیں، زہد و تقویٰ کے لیے معروف، اور ان کی نسل سے بعد میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ پیدا ہوئے۔
- عبد الرحمٰن بن عمرؓ — ان کا ذکر تاریخی کتب میں کم تفصیل سے ملتا ہے اور وہ زیادہ تر نجی و خاندانی زندگی سے منسلک رہے۔
- زید بن عمرؓ — ان کا انتقال کم عمری یا نوجوانی میں ہو گیا تھا، اس لیے ان کا تذکرہ تاریخی مصادر میں مختصر ملتا ہے۔
بیٹیوں میں:
- حفصہ بنت عمرؓ — نبی کریمؐ کی ازواجِ مطہرات میں شامل ہیں۔ قرآنِ مجید کے مصحف کی حفاظت میں اہم کردار کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں نہایت بلند مقام رکھتی ہیں۔
- فاطمہ بنت عمرؓ: حضرت زینب بنت مظعونؓ کی بیٹی تھیں، ان کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔
- رقیہ بنت عمرؓ — ان کا ذکر بعض تاریخی مصادر میں ملتا ہے، تاہم ان کی زندگی اور حالات کے بارے میں کم تفصیل دستیاب ہے۔
حضرت عمرؓ کی اولاد میں بالخصوص حضرت عبد اللہؓ اور حضرت حفصہؓ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اسلامی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ جبکہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف حاصل ہے اور ان کا شمار قرآنِ کریم کے ابتدائی صحائف کی محافظات میں ہوتا ہے۔
باب دوم: عہدِ جاہلیت و قبولِ اسلام (مکی زندگی)
قبل از اسلام حالات
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہجرتِ نبوی سے تقریباً چالیس سال پہلے پیدا ہوئے۔ بچپن اور نوجوانی کے حالات زیادہ واضح نہیں ملتے، تاہم جوانی میں آپ نے عرب معاشرے کے روایتی علوم و فنون جیسے نسب شناسی، سپہ گری، پہلوانی، خطابت اور خصوصاً گھڑ سواری میں مہارت حاصل کی۔ آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اور دورِ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے والے چند افراد میں شامل تھے۔ پھر آپ نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا، مختلف علاقوں کے سفر کیے جس سے آپ کو وسیع تجربہ اور معاملہ فہمی حاصل ہوئی۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے قریش نے آپ کو سفارتی ذمہ داریاں بھی دیں اور قبائلی تنازعات کے حل کے لیے آپ کو بطور نمائندہ بھیجا جاتا تھا۔
حضرت عمرؓ ستائیس سال کے لگ بھگ تھے جب اسلام کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں انہوں نے سخت مخالفت کی، حتیٰ کہ اپنی ایک کنیز پر بھی سختی کی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان سختیوں کے باوجود اسلام کی دعوت کو روکا نہ جا سکا اور لوگ مسلسل اسلام قبول کرتے رہے۔ حضرت عمرؓ ابتدا میں اپنے خاندان اور قریش کے دوسرے سرداروں کی طرح دینِ اسلام کے سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کو اپنا آبائی دین چھوڑنے کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں کی مخالفت کا سلسلہ جاری تھا تو وہ اس میں پیش پیش رہے اور قریش کے نقطۂ نظر کے حامی تھے، جو نئے دین کو قریش کے اتحاد کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔
ابو جہل کی طرح عمر بن خطاب بھی قریش کے ان با اثر افراد میں سے تھے جو اسلام اور نبی کریم کی دشمنی میں سب سے آگے تھے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر انہی دونوں کے لیے یہ دعا فرمائی کہ خدایا! اسلام کو ابوجہل یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعے عزت دے۔ اللہ رب العزت نے یہ دولت حضرت عمرؓ کے مقدر میں لکھ دی اور چند ہی دنوں بعد سب سے بڑا دشمن دینِ اسلام کا مددگار اور رسول اکرمؐ کا جان نثار بن گیا۔
قبولِ اسلام اور مابعد
نبوت کے چھٹے سال عمر بن خطاب کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب آیا۔ روایات کے مطابق قریش کی زبردست مخالفت کے ماحول میں ایک روز انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن راستے میں حضرت نعیم بن عبد اللہؓ مل گئے جنہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی بہن حضرت فاطمہ بنت خطابؓ اور بہنوئی حضرت سعید بن زیدؓ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ فوراً اپنی بہن کے گھر پہنچے جہاں ان کی بہن قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھیں۔ حضرت عمرؓ کے پہنچنے پر وہ خاموش ہوگئیں اور تلاوت کے صحیفے چھپا دیے، لیکن آواز ان کے کانوں میں پڑ چکی تھی۔ اس موقع پر پوچھ گچھ کے دوران حضرت عمرؓ کی اپنے بہنوئی کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں حضرت فاطمہؓ زخمی ہو گئیں، لیکن انہوں نے کہا کہ عمر جو چاہو کر لو مگر اسلام دل سے نہیں نکل سکتا۔ اس پر حضرت عمرؓ نرم پڑ گئے۔ پھر انہوں نے خواہش کی کہ جو قرآن پڑھا جا رہا تھا وہ انہیں سنایا جائے۔ ان کی بہن نے چند آیات انہیں سنائیں۔ اللہ کی قدرت کی قرآنی آیات سننے پر ان کے دل میں نرمی پیدا ہوئی اور وہ بے اختیار کلمۂ شہادت پڑھنے پر آمادہ ہو گئے۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم کیا کہ آپ کہاں موجود ہیں۔ حضورؐ اس وقت صحابہ کرامؓ کے ساتھ دارِ ارقم میں مقیم تھے۔ حضرت عمرؓ وہاں پہنچے تو تلوار ان کے ہاتھ میں تھی، جس سے صحابہؓ کو کچھ تردد ہوا، مگر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے اندر آنے دو، اگر خیر کے ارادے سے آیا ہے تو بہتر، ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا معاملہ ختم کر دوں گا۔ جب حضرت عمرؓ اندر داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر! کس ارادے سے آئے ہو؟ اللہ کے نبی کی پُراثر آواز سن کر حضرت عمرؓ پر رعب طاری ہوگیا اور انہوں نے نہایت عاجزی سے عرض کیا کہ وہ ایمان لانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ’’اللہ اکبر‘‘ فرمایا جس کی آواز سے اردگرد کی فضا گونج اٹھی اور صحابہ کرامؓ خوشی سے نہال ہو گئے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کو خفیہ رکھنے کے بجائے کھلے عام اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے قریش کی مخالفت اور ظلم و ستم کی پروا نہ کی اور مسلمانوں کو حرمِ کعبہ میں علانیہ نماز ادا کرنے کا حوصلہ دیا۔ ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور اسلام کی دعوت زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھنے لگی۔ مکہ مکرمہ کے بقیہ قیام کے دوران آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھرپور ساتھ دیا، کفار کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ کیا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہے۔
ہجرتِ مدینہ کے وقت بھی آپ نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ جہاں اکثر مسلمان خفیہ طور پر ہجرت کر رہے تھے، وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلح ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور پھر علانیہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس طرح مکی دور کے اختتام تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے مضبوط ترین ستونوں اور رسول اکرمؐ کے نہایت وفادار ساتھیوں میں شمار ہونے لگے تھے۔
باب سوم: عہدِ رسالت و اشاعتِ اسلام (مدنی زندگی)
ہجرتِ مدینہ
جوں جوں مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، اسی نسبت سے مشرکینِ قریش کے دلوں میں ان کے خلاف مخالفت اور دشمنی میں بھی شدت آتی گئی۔ ابتدا میں وہ زیادہ تر جاہلانہ جذبات اور وقتی غصے کے تحت مسلمانوں کو اذیت دیتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ ان کے رویے میں تبدیلی آ گئی۔ اب ان کی مخالفت محض جذباتی نہیں رہی تھی بلکہ اس کے پیچھے معاشی مفادات اور سیاسی حکمتِ عملی بھی کارفرما تھی، جس کی بنا پر وہ مسلمانوں کی قوت کو کمزور کرنے کے درپے ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمان اس دور میں اپنے ایمان پر استقامت نہ دکھاتے اور صبر و ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ایسے نامساعد حالات میں اپنے مقصد اور مشن پر قائم رہنا ان کے لیے نہایت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد تقریباً ساڑھے چھ برس تک قریش کے مظالم جھیلتے رہے۔ جب مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت ملی تو وہ بھی اس سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن اس شان سے کہ پہلے مشرکین کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، اطمینان سے طواف کیا، نماز پڑھی، پھر مشرکین سے کہا: جس کا مقابلہ کرنے کا جذبہ ہو، وہ مکہ سے باہر آ کر مقابلہ کر لے۔ مگر کسی میں جرات نہ ہوئی، اور حضرت عمر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
مدینہ پہنچ کر وہ قبا میں حضرت رفاعہ بن عبدالمنذرؓ کے مہمان ہوئے۔ ان کے بعد بہت سے صحابہؓ نے ہجرت کی، یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ کی وادیوں سے نکل کر مدینہ کی وادیوں میں جا پہنچے۔ نبی اکرمؐ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد مہاجرین کا انصار کے ساتھ مواخات کا انتظام فرمایا۔ یعنی مکہ سے ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کا مدینہ کے مقیم صحابہ کرامؓ کے ساتھ بھائی چارہ قائم کر دیا۔ اس موقع پر انصار نے بے مثال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے مال و اسباب میں آدھے کا حصہ دار بنا لیا۔ چنانچہ حضرت عمر کے برادرِ اسلام حضرت عتبان بن مالکؓ بنے، جو قبیلۂ بنی سالم کے معزز سردار تھے۔ جبکہ بعض روایات میں حضرت معاذ بن عفراءؓ کا ذکر بھی حضرت عمرؓ کے مواخاتی بھائی کے طور پر آتا ہے۔
مدینہ کا حال مکہ جیسا نہ تھا۔ یہاں اب آزادی اور اطمینان کا دور تھا۔ مسلمانوں کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی تھی اور اب وقت آ گیا تھا کہ دین کے فرائض اور ارکان کو واضح اور متعین کیا جائے۔ نماز کا وقت ہوتا تو لوگ اندازے سے مسجد میں جمع ہو جاتے، مگر باقاعدہ اعلان کا کوئی واضح طریقہ موجود نہ تھا۔ بعض صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ نماز کے وقت اعلان کے لیے کوئی مناسب طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ سب لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں۔ کچھ صحابہؓ نے ناقوس بجانے کی رائے دی، کچھ نے آگ روشن کرنے کا مشورہ دیا، مگر نبی کریمؐ نے ان طریقوں کو پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے طریقوں سے مشابہت رکھتے تھے۔ اسی دوران ایک انصاری صحابی حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں دکھایا گیا کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر انہیں اذان کے الفاظ سکھائے۔ وہ صبح اٹھے اور فوراً نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب عرض کیا۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی تقریباً اسی طرح کا خواب دیکھا ہے اور وہ بھی اس کی تائید کر رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے کو پسند فرمایا ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنی خوبصورت اور بلند آواز کے لیے مشہور تھے، چنانچہ آپؐ نے انہیں بلا کر اذان کے الفاظ سکھائے اور حکم دیا کہ نماز کے وقت یہی الفاظ بلند آواز سے کہے جائیں۔ حضرت بلالؓ نے پہلی اذان دی اور مدینہ کی فضا ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ یوں اسلام میں نماز کے اعلان کا بابرکت اور مستقل طریقہ یعنی اذان مقرر ہوا۔
غزوات
مدینہ طیبہ میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا پیش آیا۔ اس جنگ میں حضرت عمرؓ اپنی رائے، تدبر، جانبازی اور پامردی کے ہر لحاظ سے نبی کریمؐ کے دست و بازو رہے۔ اس غزوہ میں حضرت عمرؓ نے اپنے رشتے کے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کر کے اس عزم و روایت کو تقویت دی کہ اسلام کے مقابلے میں قرابت اور محبت کے رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بدر کا میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ قریش کے کم و بیش ستر آدمی مارے گئے اور تقریباً اتنی ہی تعداد قیدیوں کی تھی جن میں قریش کے بعض سردار بھی تھے۔ چنانچہ یہ بحث چھڑ گئی کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ مگر حضرت عمرؓ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کو قتل کر دینا چاہیے، اور وہ بھی اس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیز کو قتل کرے۔ نبی کریمؐ کی شفقت و رحمت نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رائے کو پسند کیا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ مگر بعد میں قرآن کریم میں اس بارے میں یہ تنبیہ نازل ہوئی کہ کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں خونریزی نہ کر لے۔
بدر کے بعد مدینہ کے یہودیوں سے لڑائی ہوئی اور انہیں جلاوطن کر دیا گیا۔ اسی طرح غزوہ سویق اور دیگر چھوٹے معرکے پیش آئے، اور حضرت عمرؓ ہر جنگ میں سرگرم رہے۔
پھر شوال ۳ ہجری میں احد کا معرکہ آیا۔ ایک طرف قریش کی تعداد تین ہزار تھی، جن میں دو سو سوار اور سات سو زرہ پوش تھے، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کی کل تعداد صرف سات سو تھی۔ سات شوال بروز ہفتہ لڑائی شروع ہوئی۔ نبی کریم نے حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ ایک پہاڑی کے درہ میں اور مسلم لشکر کے عقب میں تعینات کر دیا تھا تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ مسلمانوں نے کافروں کی صفیں تہہ و بالا کر دیں، کفار شکست کھا کر بھاگنے لگے۔ لیکن مالِ غنیمت جمع ہوتے دیکھ کر ان میں سے اکثر تیر اندازوں نے یہ سمجھ کر اپنی جگہ چھوڑ دی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اسی موقع پر خالد بن ولید نے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، عقب سے زوردار حملہ کر دیا۔ مسلمان اپنی غفلت میں اس اچانک حملے کو روک نہ سکے۔ یہاں تک کہ کفار خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے حتیٰ کہ آپؐ کے دندان مبارک شہید ہو گئے، پیشانی پر زخم آیا اور رخساروں میں زرہ کڑیاں دھنس گئیں۔ جب جنگ کا رخ کسی قدر ہلکا ہوا تو نبی کریمؐ چند فدائیوں کے ساتھ پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ اسی دوران خالد بن ولید کو ایک دستے کے ساتھ آتے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا کہ خدایا! یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ ان جان نثار صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے نبی کریمؐ کے دفاع میں ثابت قدمی دکھائی۔ ابو سفیان، جو قریش کا سالار تھا، درہ کے قریب پہنچ کر پکارنے لگا کہ کیا محمد اس گروہ میں ہیں؟ نبی کریم نے اشارے سے منع فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے۔ ابو سفیان نے پھر عمر اور ابوبکر کا نام لے کر پوچھا۔ اور جب کوئی جواب نہ ملا تو بولا کہ ضرور یہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اس پر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے پکار کر کہا: اے دشمنِ خدا! ہم سب زندہ ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اپنے بتوں کا نعرہ لگایا تو نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو اللہ کے نام کا نعرہ لگانے کا حکم دیا۔
احد کے بعد ۳ ہجری میں حضرت عمرؓ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کی صاحبزادی حضرت حفصہؓ نبی کریمؐ کے نکاح میں آئیں۔ ۴ ہجری میں بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کیا گیا اور اس واقعے میں بھی حضرت عمرؓ شریک رہے۔
۵ ہجری میں غزوہ خندق پیش آیا۔ روایات کے مطابق جب قریش اور دیگر قبائل کی بڑی فوج مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے جمع ہو رہی تھی تو صحابہ کرامؓ میں مختلف دفاعی حکمتِ عملیاں زیر غور آئیں۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ نے فارس (ایران) کے جنگی طریقۂ دفاع کا ذکر کیا کہ وہاں بڑے حملوں سے بچنے کے لیے شہر کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے۔ نبی کریمؐ نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور اسی کے مطابق مدینہ کے شمالی حصے میں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کام میں تمام صحابہؓ نے خود حصہ لیا اور یوں مسلمانوں نے ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا۔ نبی کریم نے خندق کے کنارے صحابہؓ کو تعینات کیا تو ایک حصہ پر حضرت عمرؓ کو مامور کیا۔ ایک دن کافروں کے مقابلے میں حضرت عمرؓ اتنے مصروف رہے کہ عصر کی نماز قضا ہوتے ہوتے بچی۔ جب نبی کریمؐ کے پاس آ کر عرض کیا کہ آج کافروں نے نماز پڑھنے کا بھی موقع نہ دیا، تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے بھی اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ جب اس محاصرے اور مقابلے کو تین چار ہفتے گزر گئے تو آخرکار اللہ تعالیٰ نے شدید آندھی کے ذریعے دشمن کے لشکر کو منتشر کر دیا، اور یوں یہ محاصرہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو کر واپس پلٹ گیا۔
بیعتِ رضوان اور صلحِ حدیبیہ
۶ ہجری میں نبی کریم نے ارادہ فرمایا کہ کعبہ کی زیارت کریں۔ اس خیال سے کہ کسی کو لڑائی کا شبہ نہ ہو، آپؐ نے حکم دیا کہ کوئی ہتھیار باندھ کر نہ چلے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر حضرت عمرؓ کو خیال آیا کہ دشمنوں کے درمیان غیر مسلح جانا ٹھیک نہیں ہے۔ نبی کریم نے ان کی رائے کے مطابق مدینہ سے اسلحہ منگوا لیا۔ مکہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش نے عہد کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو مکہ میں قدم رکھنے نہیں دیں گے۔ نبی کریمؐ لڑائی نہیں چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو سفیر بنا کر بھیجا، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ جب کئی دن گزر گئے تو یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید کر دیے گئے ہیں۔ یہ خبر سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو صحابہؓ سے جہاد پر بیعت لی۔ قرآن مجید میں اس واقعے کے متعلق کہا گیا ہے کہ اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپؐ سے بیعت کر رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے بیعت سے پہلے ہی لڑائی کی تیاری شروع کر دی تھی، خبر ملی کہ نبی کریمؐ بیعت لے رہے ہیں، چنانچہ فوراً حاضر ہوئے اور جہاد کے لیے دستِ اقدس پر بیعت کی۔
آخر کار بہت بحث و تکرار کے بعد قریش اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا۔ اس معاہدے میں یہ شرط بھی تھی کہ اگر قریش کا کوئی آدمی نبی کریم کے پاس چلا جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا، لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی شخص قریش کے ہاتھ آ جائے تو اسے واپس نہ کرنے کا اختیار ہوگا۔ یہ شرط سن کر حضرت عمرؓ کی غیور طبیعت بے حد مضطرب ہوئی۔ وہ خود نبی کریمؐ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ جب ہم حق پر ہیں تو باطل سے اتنا دب کر کیوں صلح کریں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور خدا کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا۔ بعد میں حضرت عمرؓ کو اپنی گفتگو پر ندامت ہوئی اور اس کے کفارہ میں انہوں نے صدقہ خیرات کیا۔ بالآخر یہ صلح کا معاہدہ لکھا گیا جس پر حضرت عمرؓ نے بھی دستخط کیے۔ مدینہ واپسی پر راستے میں سورۃ ’’انا فتحنا لک فتحا مبینا‘‘ نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو بلا کر یہ سورۃ سنائی اور فرمایا کہ آج ایسی سورہ نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔
۷ ہجری میں خیبر کا واقعہ پیش آیا۔ یہاں یہودیوں کے بڑے مضبوط قلعے تھے۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ سپہ سالار ہوئے، پھر حضرت عمرؓ کو اس خدمت پر مامور کیا گیا، لیکن یہ فخر حضرت علی المرتضٰیؓ کے حصے میں آیا کہ رسول اکرمؐ نے انہیں عَلم عطا کیا اور ان کے ہاتھوں خیبر کا سردار مرحب مارا گیا اور خیبر فتح ہوا۔ نبی کریمؐ نے خیبر کی زمین مجاہدوں میں تقسیم کر دی۔ ایک ٹکڑا، جسے ثمغ کہتے تھے، حضرت عمرؓ کے حصے میں آیا۔ انہوں نے اس زمین کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔ یہ اسلامی تاریخ کے اولین اور مشہور اوقاف میں شمار ہوتا ہے۔
فتحِ مکہ
حدیبیہ کا معاہدہ جب قریش نے توڑ دیا تو ابو سفیان مدینہ آیا اور معذرت کی۔ وہ حضرت ابوبکرؓ اور پھر حضرت عمرؓ کے پاس بھی گیا کہ معاملہ طے کر دیں۔ مگر حضرت عمرؓ نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل ناامید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی کریم نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ رمضان ۸ ہجری میں مکہ کا قصد کیا۔ قریش میں مقابلے کی طاقت نہ تھی، اس لیے انہوں نے مزاحمت نہ کی۔ نبی کریم نہایت جاہ و جلال کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ پھر حضرت عمرؓ کو ساتھ لے کر مقامِ صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لیے تشریف لائے۔ لوگ جوق در جوق آتے اور بیعت کرتے جاتے۔ جب عورتوں کی باری آئی تو نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو اشارہ کیا کہ تم ان سے بیعت لو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے عورتوں کا ہاتھ چھوئے بغیر سورۃ الممتحنہ کی آیت ۱۲ میں مذکور شرائط کے مطابق ان سے درج ذیل باتوں کا عہد لیا تھا:
- شرک نہ کرنا: اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔
- چوری نہ کرنا: نہ کسی عام چیز کی چوری کریں گی اور نہ شوہر کے مال میں خیانت کریں گی۔
- بدکاری/ زنا نہ کرنا: پاکدامنی کی زندگی گزاریں گی۔
- اولاد کو قتل نہ کرنا: جاہلیت کی طرح اپنی اولاد کو غربت یا عار کے خوف سے قتل یا دفن نہیں کریں گی۔
- بہتان نہ باندھنا: کسی پر جھوٹا الزام یا بہتان نہیں لگائیں گی۔
- نافرمانی نہ کرنا: معروف (دینی فرائض) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی نافرمانی نہیں کریں گی۔
غزوۂ حنین اور سفرِ تبوک
فتح مکہ کے بعد اسی سال ۸ ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے ساتھ وہ معرکہ پیش آیا جو غزوۂ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ مسلمانوں کا لشکر تقریباً بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا، اور بعض مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر فخر محسوس ہوا۔ تاہم وادی حنین میں دشمن کی اچانک تیراندازی اور گھات کے حملے سے ابتدا میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا۔ اس نازک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم اور ڈٹے رہنے والے صحابہ کرامؓ میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے۔ بعد ازاں مسلمان دوبارہ منظم ہوئے، بھرپور جوابی حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے نمایاں فتح حاصل کی، جس کے نتیجے میں بہت سا مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
پھر ۹ ہجری میں تبوک کا سفر ہوا۔ یہ خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ نبی کریمؐ نے تمام صحابہؓ کو تیاری کا حکم دیا اور مالی اعانت کی ترغیب دلائی۔ بہت سے صحابہؓ نے بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر اپنے سارے مال و املاک کا آدھا حصہ لا کر نبی کریم کی خدمت میں پیش کیا۔ اسلحہ اور سامانِ رسد مہیا ہو جانے کے بعد مجاہدین نے تبوک کا رخ کیا۔ وہاں پہنچے تو دشمن مقابلے پر نہ آیا، چنانچہ چند روز قیام کے بعد سب لوگ واپس آ گئے۔
سریے اور اہم مہمات
غزوات کے علاوہ بھی حضرت عمرؓ مختلف سریوں اور اہم مہمات میں شریک رہے، جہاں انہوں نے اپنی غیرمعمولی شجاعت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کی حیثیت مستحکم ہونے لگی، تو نبی کریم نے مختلف قبائل اور علاقوں میں چھوٹے چھوٹے دستے بھیجے۔ ان سریوں میں حضرت عمرؓ بھی شامل ہوتے۔ ان میں سے ایک اہم مہم سریہ نجد کی تھی، جس میں مسلمانوں نے دشمن قبائل کے خلاف کارروائی کی۔ اسی طرح جب قبیلہ بنو نضیر نے مدینہ میں غداری کی تو ان کے خلاف جو کارروائی ہوئی، اس میں بھی حضرت عمرؓ پیش پیش رہے۔ ان یہودیوں کو ان کی بدعہدی کی پاداش میں مدینہ سے جلاوطن کیا گیا۔ غزوہ خندق کے بعد جب مسلمانوں نے قبیلہ بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کیا تو حضرت عمرؓ نے اس معرکے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی نے مجاہدین کے حوصلے بلند کیے۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب خیبر کی طرف پیش قدمی ہوئی تو اس مہم میں بھی حضرت عمرؓ نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے، اگرچہ قلعوں کو توڑنے کا فخر حضرت علیؓ کو حاصل ہوا۔ فتح مکہ کے بعد جب غزوہ حنین پیش آیا تو حضرت عمرؓ اس معرکے میں بھی ثابت قدم رہے۔ اسی طرح طائف کی طرف پیش قدمی میں بھی وہ نبی کریمؐ کے ہمرکاب تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا، تو حضرت عمرؓ اس عظیم اجتماع میں بھی شریک تھے اور انہوں نے آخری خطبہ سن کر پوری امت تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ان تمام محاذوں پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ثابت قدمی اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا، وہ بعد میں ان کی خلافت کے دور میں بھی نظر آیا۔ ان کی قیادت میں اسلامی ریاست نے غیر معمولی وسعت حاصل کی، اور حضرت عمرؓ کے دور کی فتوحات صرف جنگی قوت کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ انتظام، سیاست، فوجی حکمتِ عملی اور اس وقت کی بین الاقوامی صورتحال بھی اس کے عوامل تھے۔
وفاتِ رسولؐ اور خلافتِ ابی بکرؓ
۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ اس مبارک سفر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ حج سے واپسی کے بعد ربیع الاول کے آغاز میں رسول اکرمؐ علیل ہو گئے۔ تقریباً دس دن تک یہ کیفیت رہی، پھر ۱۲ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا۔ آپؐ کی وفات کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بجلی بن کر گری۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس صدمے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ کے رسول دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ کا انتقال ہو گیا ہے، وہ اس کی گردن اڑا دیں گے۔ ان کی یہ کیفیت شدید محبت، غم اور اضطراب کا نتیجہ تھی، نیز یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں منافقین اس نازک موقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں میں انتشار نہ پھیلا دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلے پر انصار کا ایک اجتماع سقیفہ بنی ساعدہ میں منعقد ہوا، جس سے ایک نازک صورتحال پیدا ہو گئی۔ ایسے وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بروقت وہاں پہنچے۔ انہوں نے نہایت دانشمندی، تدبر اور حسنِ استدلال کے ساتھ انصار اور مہاجرین کے درمیان گفتگو کی اور امت کو انتشار سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد حضرت عمرؓ نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کے بعد دیگر صحابہ کرامؓ نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ اس طرح امتِ مسلمہ ایک بڑے اختلاف اور ممکنہ انتشار سے محفوظ رہی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت تقریباً سوا دو سال تک قائم رہی۔ اس مختصر مگر نہایت اہم دور میں پیش آنے والے تمام بڑے معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے معتمد ترین مشیر اور معاون رہے۔ قرآنِ مجید کی تدوین کا عظیم الشان کام بھی حضرت عمرؓ کی تجویز اور مسلسل اصرار کے نتیجے میں انجام پایا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ کی صلاحیتوں، فہم و فراست، عدل و انصاف اور انتظامی قابلیت کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، اس لیے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے حضرت عمرؓ سے زیادہ موزوں شخصیت موجود نہیں۔ چنانچہ اپنی وفات کے قریب انہوں نے اکابر صحابہ کرام سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا اور انہیں ایسی قیمتی نصیحتیں فرمائیں جو بعد میں ان کے دورِ خلافت میں بہترین رہنمائی اور دستورِ عمل ثابت ہوئیں۔
’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
پیش گفتار : محمد فہد حارث
عرضِ مترجم : محمد بلال ابراہیم بربری
پیشِ گفتار
حارث پبلی کیشنز کے لیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں کہ اسلامی دنیا میں پہلی مرتبہ کسی طباعتی مکتبہ سے علامہ شبلی نعمانی کی کتاب ’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا اردو ترجمہ شائع ہونے جا رہا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کی بابت بہت کچھ لکھا گیا، اس لیے اپنے اس ’’پیشِ گفتار‘‘ میں ان کی بابت مزید لکھنا اضاعتِ وقت ہوگا اور کچھ سود مند نہ رہے گا۔ تاہم یہ سطور لکھتے ہوئے ہمیں اپنے ایک ہندوستانی رفیق رشید ودود صاحب کی علامہ شبلی پر لکھی کچھ سطریں بڑی شدت سے یاد آ رہی ہیں۔ چلیں، آئیے آپ حضرات کو بھی رشید ودود صاحب کے علامہ شبلی پر لکھے ان خیالات کی سیر کرواتے ہیں۔ رشید ودود صاحب لکھتے ہیں:
’’مصر میں مقیم ایک شامی نژاد عیسائی مؤرخ اور ناول نگار ’جرجی زیدان‘ تھا، شبلی سے اس کی یاد اللہ تھی، اس کے رسالے ‘الہلال’ کے لیے شبلی مضامین بھی لکھا کرتے تھے، اسی نے پانچ جلدوں میں ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ لکھی۔
اسی اثنا میں ایک مصری فاضل ڈاکٹر محمود لبیب نے شبلی کو خط لکھا کہ ایسا کوئی رسالہ بتائیے جس میں اسلامی آلات کی تفصیل ہو۔ شبلی نے جرجی زیدان کو لکھا کہ رسالہ ڈاکٹر صاحب کو دے دیا جائے، لیکن ساتھ میں جرجی زیدان کی استشراقی فکر پر بھی تبصرہ کر دیا کہ: ’اس کتاب میں بہت سے افتراءات اور ابلہ فریبیاں ہیں، اس کتاب کی تصنیف سے جرجی زیدان کا سب سے اہم مقصد غالباً عربوں کی تحقیر اور عجمیوں کی ترجیح ہے‘۔ (اوکما قال)
جواب میں ڈاکٹر صاحب نے شبلی کی تائید کی۔ اسی دوران استاذ کے اشارے پر سید سلیمان نے الندوہ میں مضمون ’تمدنِ اسلامی مصنفۂ جرجی زیدان اور اس کی فریب کاریاں‘ لکھا۔ یہ مضمون الندوہ میں اکتوبر ۱۹۰۸ء کو شائع ہوا۔ اس مضمون میں ڈاکٹر محمود لبیب کا مفصل خط موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا تھا کہ:
’میں نے تمدنِ اسلامی کا نہایت غور و فکر سے مطالعہ کیا ہے، اس کتاب کا نام ’التمدن الاسلامی‘ کے بجائے ’برباد کنندۂ تمدنِ اسلامی‘ ہوتا تو بہتر ہوتا۔’ (او کما قال)
طوالت کے خوف سے ہم اس خط کے مندرجات پر تبصرہ نہیں کریں گے، لیکن یہ خط واقعی اس قابل ہے کہ پورے کا پورا نقل کر دیا جاتا۔ تفصیل کے لیے ‘الندوہ’ کی جلد پنجم سے رجوع کریں۔
ڈاکٹر یوسف ہارویز علی گڑھ میں پروفیسر تھے، ان کی تجویز سے ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے کچھ حصے ‘عالم’ اور ‘فاضل’ کے امتحانات میں شامل کر لیے گئے۔ شبلی نے ابوالکلام آزاد اور ریاض حسن خاں کے نام خطوط میں اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوس نے ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اسی اثنا میں ٹائمز کے ایک مضمون میں کتب خانہ اسکندریہ جلانے کا الزام ایک بار پھر حضرت عمر فاروقؓ پر رکھا گیا اور حوالہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا دیا گیا۔ ان حالات سے متاثر ہو کر شبلی مجبور ہوئے کہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا مفصل رد لکھیں۔ یہ رد لکھنا کوئی آسان کام نہ تھا، ہزاروں صفحات پڑھ کر لکھنا تھا تاکہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کی بے اعتباری ہر کس و ناکس پر آشکارہ ہو جائے۔ شبلی نے جنوں کی حکایات خونچکاں کچھ اس محنت سے لکھی کہ ایک آنکھ میں پانی اتر آیا۔ رمضان کا مہینہ تھا، برسات کی امس اور حبس بھی شبلی کا حوصلہ نہیں توڑ سکی۔ کتاب مکمل ہوئی، اس کا اردو خلاصہ ‘الندوہ’ میں شائع ہوا اور اصل عربی کتاب ’الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے نام سے پہلے لکھنؤ، پھر مصر میں شائع ہوئی۔ رشید رضا نے کہا کہ:
‘میں خود بھی تردید کرنا چاہتا تھا لیکن جرجی زیدان کے مکائد اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ ان کو سمیٹ کر یکجا کرنا اور ان کی تردید کرنا قابو میں نہ آتا تھا، آپ نے اس پر قابو پا لیا اور تردید کر دی۔’ (او کما قال)
عربوں کی تحقیر اور بنو امیہ کی تنقیص پر شبلی تڑپ اٹھے، ’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘ میں جرجی زیدان جیسے مستشرق کے لیے شمشیر براں بن گئے۔ آج کے فضلائے ندوہ اس آئینے میں اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں، اس کے بعد وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ شبلی کا دم بھرتے ہیں یا مستشرقین کا؟‘‘
رشید ودود صاحب اپنی ایک دوسری تحریر میں اسی موضوع سے متعلق مزید رقم طراز ہیں:
’’نسیم حجازی کے ناولز پڑھ پڑھ کر ہمارا دماغ اس حد تک خراب ہوا کہ ہم بھی خلفائے بنو امیہ کو کوسنے لگے، بالخصوص سلیمان بن عبد الملک تو ہماری نظر میں کسی ولن سے کم نہیں تھا۔ ذرا بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ یزید تو سلیمان سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ ناول نگاروں اور انشا پردازوں سے ہماری جان بہت جلد چھوٹ گئی۔ اردو زبان میں تاریخ نویسی کا فریضہ زیادہ تر انشا پرداز اور ناول نگار حضرات نے انجام دیا ہے۔ محمد حسین آزاد کی انشا پردازی گپ تو چھوڑ سکتی ہے لیکن تاریخ نویسی ان کے بس کی بات نہیں۔ ہر انشا پرداز شبلی کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔ شبلی انشا پرداز بعد میں تھے اور مؤرخ پہلے تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں شبلی نعمانی کی تاریخ نگاری پر گفتگو کم ہی کی جاتی ہے، حالانکہ شبلی ایسے تاریخ نویس ہیں جنہوں نے تاریخ سازوں کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ کتب خانہ اسکندریہ کے جلانے کا الزام ہو یا تاج محل کے معماروں کے نام، اورنگ زیب عالمگیر پر لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ ہو یا ‘الفاروق’ کی تصنیف، ہر جگہ شبلی کی تاریخ نویسی نمایاں ہے۔ شبلی مروت کے قائل نہیں تھے لیکن متعصب بھی نہیں تھے، اس لیے کہ وہ تاریخ نویس کے فرائض سے آگاہ تھے، اصل مصادر تک ان کی رسائی تھی، اسی لیے وہ کہیں کنفیوژن کا شکار نہیں ہوئے۔
‘الفاروق’ کی تصنیف کے وقت سر سید چاہتے تھے کہ شبلی یہ کتاب نہ لکھیں، اس لیے کہ کہیں شیعہ دوست ناراض نہ ہو جائیں، لیکن شبلی شبلی تھے۔ حالانکہ سر سید کو جس شیعہ دوست کا خیال خاطر تھا، انہوں نے تقیہ سے کام لے کر ‘الفاروق’ کی تصنیف پر مسرت کا اظہار کیا تھا، لیکن اگر وہ نفرت کا اظہار بھی کرتے تب بھی شبلی وہی کرتے جو ایک تاریخ نویس کا فرض ہوتا ہے۔
شبلی خلفائے بنو امیہ کے مداح کبھی نہیں رہے، لیکن جرجی زیدان جیسے مستشرق نے جب ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ لکھ کر تاریخ سازی کرنی چاہی تو شبلی فورًا حرکت میں آگئے اور انہوں نے زیدان کی کتاب کا تنقیدی جائزہ ’الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے نام سے کیا۔ زیدان نے اپنی اس کتاب میں خلفائے بنو امیہ بالخصوص عربوں کی جم کر ہجو کی، لیکن شبلی نے زیدان کے ہفوات کا تاروپود ایسا بکھیر دیا کہ رشید رضا بھی خوش ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔‘‘
امید ہے کہ رشید ودود صاحب کے خیالات کے مطالعہ کے بعد قارئین کو علامہ شبلی نعمانی کی زیر نظر کتاب کے پس منظر سے کسی قدر شناسائی حاصل ہو گئی ہو گی۔
اس کتاب کی طباعت کے سلسلے میں سب سے پہلے تو اللہ عزوجل کے حضور شکر گزار ہوں کہ اُس مالک نے اس احقر کو اس قابل بنایا کہ وہ یہ کام کر سکے۔ اگر اس کی مدد شاملِ حال نہ ہو تو کوئی کام ممکن نہیں۔ اسی کے کرم سے یہ کام ہو سکا ہے اور اس کام کی ہر اچھائی صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ کے سبب سے ہے۔
اس مالکِ کُل کے شکریہ کے بعد ڈاکٹر محمد بلال ابراہیم بربری حفظہ اللہ کا شکریہ ادا کروں گا کہ ان کے تعاون کے بغیر یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچنا ناممکن تھا۔ انہوں نے حقیقتاً دن رات محنت کر کے اس کتاب کے ترجمہ کو تخلیق کیا ہے، کیونکہ علامہ شبلی جیسے انشا پرداز کی عربی کتاب کا اردو ترجمہ خود اپنے اندر بہت بڑا چیلنج تھا جہاں قاری کتاب کا ترجمہ پڑھتے ہوئے بھی علامہ شبلی کی قلمکاری و انشا پردازی کو ذہن میں رکھے گا اور ایسا کرنے میں یقیناً قاری بھی مجبور ہے، لیکن یہ چیز مترجم کے بوجھ اور ذمہ داری کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ اس مختصر سی کتاب کے ترجمے میں ہمارے دوست بلال بربری صاحب کو دانتوں پسینہ آ گیا، لیکن الحمد للہ جب ترجمہ مکمل ہو کر سامنے آیا تو ان کے لیے دل سے دعائیں ہی نکلیں۔ اللہ ان کو اس کتاب کے ترجمہ کرنے پر جزائے خیر سے نوازے۔ ساتھ ہی اپنے عزیز دوست محمد صہیب نذیر، بلال احمد راؤ، راشد جمال اور بھائیوں جیسے بہنوئی اویس رضوی صاحب کا شکریہ ادا کروں گا کہ ان حضرات کے تعاون کی وجہ سے ہی حارث پبلی کیشنز اس قابل ہو سکا ہے کہ اپنے قارئین کے لیے اس طور کی وقیع کتب کی نشر و اشاعت کر سکے۔ مالکِ کائنات ان احباب کو اس تعاون و مساعی پر بہترین اجر سے نوازے اور یومِ آخرت سرخرو فرمائے۔
کسی بھی کام میں کمال صرف اس ذاتِ بے ہمتا کو ہی سزاوار ہے، مخلوق کا کام تو غلطیوں سے پُر ہوتا ہے۔ پھر بھی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی غلطی کوئی کمی نہ رہ جائے، تاہم اس کے باوجود اگر کوئی کمی یا غلطی رہ جائے تو قارئین سے التماس ہے کہ اس بابت مطلع فرمائیں، ان شاء اللہ ایجابی طریق سے آئی ہر تنقید کو سر آنکھوں پر رکھا جائے گا۔
محمد فہد حارث — حارث پبلی کیشنز، متحدہ عرب امارات، ۱۶ نومبر ۲۰۲۴ء، مطابق ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۶ ہجری
عرضِ مترجم
عربی زبان کی گہرائی و گیرائی اور اس کے مقابلے میں ریختہ کی کم مائیگی کے جاننے والے، فنِ ترجمہ کاری کے رموز سے آشنا، اور مولانا شبلی رحمہ اللہ (۱۸۵۷ء - ۱۹۱۴ء) کے مقامِ علم و ادب کے شناسا کے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ عربی زبان میں مولاناؒ کی کسی علمی کاوش کو ریختہ میں کچھ اس انداز سے منتقل کرنا کہ ترجمے میں مولاناؒ کے اسلوب و انداز کی کچھ نہ کچھ جھلک بہرحال نظر آئے، کتنا صبر آزما اور کٹھن کام ہو سکتا ہے۔ گیسوئے اردو تو اب بھی منت پذیر شانہ ہے، جب کہ عربی زبان کا حال یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق؛ تلوار کے لیے کم و بیش ایک ہزار (۱۰۰۰)، شیر کے لیے پونے سات سو (۶۷۰)، سانپ کے لیے پانچ سو (۵۰۰)، شہد کے لیے اَسی (۸۰) اور پتھر کے لیے ستر (۷۰) مترادف مفردات موجود ہیں (المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ڈاکٹر جواد علی، ج: ۸، ص: ۵۵۱، ط: منشورات شریف الرضی)۔ ترجمہ کاری کا تجربہ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوامیس اور لغات سامنے رکھ کر ایک زبان میں لکھی تحریر کو محض دوسری زبان میں منتقل کر دینے کو ترجمہ کہنا درست نہیں۔ قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین مترجم وہی ہوتا ہے جو اصل متن اور ترجمے دونوں کی زبانوں کی پختہ معرفت رکھتا ہو، الفاظ کے آہنگ کو سمجھتا ہو، دونوں زبانوں میں مستعمل تعبیرات اور جملوں کے زیر و بم اور نشیب و فراز سے واقف ہو، اور متن کے سیاق و سباق کو دیکھ کر ماتن کے ماتھے پر چڑھی تیوری، پھٹی آنکھ اور لبوں پر پھیلے قہقہے کو چشمِ تصور سے دیکھ کر اس کے غیظ و غضب، تعجب و تحیر اور خوشی و مسرت کو ترجمے میں ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔
جہاں تک مولانا شبلیؒ کے علمی و ادبی مقام کا تعلق ہے تو سید سلیمان ندویؒ (۱۸۸۴ء - ۱۹۵۳ء) کو سنیے، کہتے ہیں:
’’مولانا (شبلیؒ) نے اپنے لیے بیان کی سہولت، عبارت کی روانی, ترتیب کی خوبی، عام فہم الفاظ کے انتخاب اور تشبیہ و استعارہ کی عمدگی سے وہ طرز نکالا کہ ان کی کتابیں ادب و انشا کا اعلیٰ نمونہ قرار پائیں اور تعلیم یافتہ تو تعلیم یافتہ، حضراتِ علماء کو بھی بالآخر اس کی تقلید سے چارہ نہ رہا اور اب تو وہ علمی و مذہبی علوم کی ٹکسالی زبان بن گئی ہے۔‘‘ (حیاتِ شبلی، ص: ۲۳)
ایسے بلند و بالا علمی و ادبی قامت والی شخصیت کی ترجمانی کا منصب سنبھالنا کیا کوئی آسان کام ہے؟ ہرگز نہیں! جناب فہد حارث صاحب نے جب ’’الانتقاد‘‘ کا ترجمہ کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تو موضوع کی اہمیت اور اردو خوان طبقے کے لیے اس کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے، مولانا شبلیؒ سے فکری انسیت و ہم آہنگی، آپؒ کے علمی شاہ کار ’’سیرۃ النبی ﷺ‘‘ سے والہانہ تعلق و شغف اور آپ کے قلمِ گہر بار کے نتائج و حاصلات سے محبت و مودت کی بنا پر زیادہ سوچے سمجھے بغیر ترجمہ کرنے کی پیشکش نہ صرف قبول کی بل کہ جناب سے اصرار کیا کہ ایک علمی کام میں وقتی مصروفیت کی وجہ سے اس کام کو شروع کرنے اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تاخیر ہونا عین ممکن ہے، اس تاخیر کو برداشت کر لیا جائے، توفیقِ ایزدی شاملِ حال رہی تو یہ کام میں ہی کروں گا۔ جناب نے یوں ہمت بندھائی کہ: ’’جی! تاخیر کا مسئلہ نہیں، یہ کام آپ نے ہی کرنا ہے!‘‘ حوصلہ افزائی کرنے والے ایسے دوستوں کا میسر آنا بھی یقیناً نعمتِ الٰہی ہے، علمی ترقی میں اہلِ تعلق کی حوصلہ افزائی کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے!
جذبات کی تپش جب ذرا ٹھنڈی ہوئی اور باقاعدہ کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ میں نے ایک بھاری ذمہ داری اٹھا لی ہے، اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید حق ادا نہ ہو سکے۔ بطور نمونہ ابتدائی چند صفحات کا ترجمہ کر کے اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ: ’’اس ترجمے کو دیکھ کر رائے دیں، یہ مہم جاری رکھوں یا اس قیمتی پتھر کو بوسہ دے کر دوبارہ اپنی جگہ پر ہی رکھ دوں؟‘‘ جناب نے ترجمے میں سلاست کی کمی کے سقم کی نشان دہی کرتے ہوئے نظر ثانی و اصلاح کرنے اور ساتھ ہی کام جاری رکھنے کو کہا تو حوصلہ بڑھا اور پھر مقدور بھر کوشش سے آہستہ آہستہ کم و بیش آٹھ ماہ کے عرصے — جو عام معمول سے زیادہ مدت ہے — میں ترجمہ بالآخر مکمل ہو گیا، والحمد للہ۔ شبلی رحمہ اللہ کی ترجمانی کی اس مشکل مہم میں کہاں تک کامیابی ہوئی ہے؟ امید ہے کہ قارئین اپنے منصفانہ نقد و تبصرے کے ذریعے اس سوال کے جواب سے ممنون فرمائیں گے۔
مولانا شبلیؒ اور سید سلیمان ندویؒ کی ’’حیاتِ شبلی‘‘
سید سلیمان ندویؒ نے اپنے دلچسپ علمی و ادبی انداز میں شبلیؒ کے حالاتِ زندگی بہ نام ’’حیاتِ شبلی‘‘ لکھے ہیں۔ اس سوانح کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک قدردان شاگرد نے اپنے مایہ ناز استاذ کے ساتھ اپنے مخلصانہ تعلق کا بھرپور حق ادا کیا ہے۔ دیگر کتب کی طرح ’’حیاتِ شبلی‘‘ سید صاحبؒ کی مقبول ادبی کاوش ہے۔ شبلیؒ کو جاننے کے خواہش مند ’’حیاتِ شبلی‘‘ سے علمی و ادبی حظ اٹھا سکتے ہیں۔ عرضِ مترجم کی محدود گنجائش کے پیشِ نظر شبلیؒ کے مختصر تعارف، آپؒ کے معتقدین اور منتقدین کے رویہ افراط و تفریط کی تفہیم، اور اس بابت درست سمت کی نشاندہی کے لیے ’’حیاتِ شبلی‘‘ سے کچھ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:
’’محبت و عقیدت کی نظر جہاں مخدوموں کی بہت سی خامیوں کے دیکھنے سے قاصر رہتی ہے، وہاں بدگمانوں کی نگاہیں سب سے پہلے ان ہی پر پڑتی ہیں، اور ان کے تکرار و اعادے میں ان کو ایسی لذت ملتی ہے کہ وہ ممکن کمالات سے بھی اغماض برت جاتی ہیں۔ لیکن یہ دونوں باتیں درحقیقت نفسیاتِ فطرت کے مطابق ہیں اور اس میں معتقد و منتقد دونوں ہی معذور ہیں۔‘‘
’’مولانا کا رنگ ان قدیم علمائے دین کا نہ تھا، جن کا پاک مشغلہ صرف خانقاہوں میں رشد و ہدایت اور مدرسوں میں درس و تدریس ہے … بل کہ یہ عہدِ جدید کے سب سے پہلے عالم کی زندگی کے سوانح ہیں، جن میں قدیم کے ساتھ ساتھ ایسے جدید رجحانات بھی پہلو بہ پہلو ہیں جو عہدِ قدیم کی مانوس نگاہوں میں کبھی کبھی کھٹک پیدا کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے عہد میں ایک نئے دور کی بنیاد پڑی، اس لیے وہ قدیم و جدید کے ایسے سنگم بنے جس میں دونوں دریاؤں کے دھارے آکر مل گئے تھے۔ وہ ہمارے قدیم اور مذہبی علوم کے عالم بھی تھے اور جدید علوم کے بہت سے آرا و خیالات سے واقف بھی تھے، قدیم علماء کی صحبت بھی اٹھائی تھی اور جدید تعلیم کے ارکان اور جدید تعلیم یافتوں کی صحبت میں بھی رہے تھے۔ ساتھ ہی محقق بھی تھے، ادیب بھی تھے، شاعر بھی تھے، انشا پرداز بھی تھے، خطیب بھی تھے، مؤرخ بھی تھے، متکلم بھی تھے، مفکر بھی تھے، مصلح بھی تھے، سیاسی بھی تھے، ماہرِ تعلیم بھی تھے، اور نئے زمانے کے اقتضاءات اور مطالبات کے مقابلے میں بہت سی باتوں میں انقلابی بھی تھے۔ لیکن بہرحال شبلی، شبلی تھے، جنیدؒ و شبلیؒ نہ تھے۔‘‘ (حیاتِ شبلی، ص: ۶، ۷)
’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ مطبوعہ درۃ الغواص
ترجمہ کرتے وقت میرے پیشِ نظر سن ۲۰۱۹ء میں مصر کے طباعتی ادارے ‘درۃ الغواص’ سے ’’الانتقاد‘‘ کا شایع شدہ ایڈیشن رہا ہے۔ یہ نسخہ دراصل مجموعۂ مضامینِ شبلیؒ ہے۔ ابتدا میں مقدمۂ تحقیق ہے، جس میں محققِ کتاب؛ جناب ڈاکٹر محمد اجمل ایوب اصلاحی نے ’’الانتقاد‘‘ کا سببِ تالیف، اس کے موضوعات کی ترتیب، منہج و اہمیت، ایڈیشنز، اور زیر نظر ایڈیشن کے منہجِ تحقیق پر گفتگو کی ہے۔ نیز اس مجموعے میں شامل شبلیؒ کے دو اور مضامین؛ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’ملخص بحث مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ کا اجمالی تعارف بھی پیش کیا ہے۔
اس کے بعد ’’الانتقاد‘‘ کا متن شروع ہوتا ہے، جو حواشی سمیت تقریباً سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ’’الانتقاد‘‘ کے بعد؛ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ پیش کیے گئے ہیں اور پھر ‘ضمائم’ کے عنوان سے سب سے پہلے شبلیؒ کے مجلہ ‘الہلال’ کے مدیر جرجی زیدان کو بھیجے گئے دو علمی خطوط ہیں۔ یہ دونوں خطوط مجلے کے خطوط کے لیے مختص حصے ’’باب المراسلات‘‘ میں شائع بھی ہوئے ہیں۔ کتاب؛ ’’الف لیلۃ ولیلۃ‘‘ کی تالیف کیسے عمل میں آئی؟ پہلا خط اس سوال کے جواب میں ہے، جب کہ دوسرا خط ’’عبداللہ بن مقفع‘‘ کے مسلمان ہونے کے متعلق بعض اہلِ علم میں پائے جانے والے اضطراب کی تحقیق سے متعلق ہے۔
اس کے بعد شبلیؒ اور جرجی زیدان کی باہمی خط و کتابت میں سے دو خطوط درج ہیں۔ پہلے خط میں شبلیؒ نے ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا نسخہ بھیجنے پر جرجی زیدان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طرزِ تحریر اور مباحث کی پیشکش سے متعلق کچھ تجاویز دی ہیں، جب کہ دوسرے خط میں جرجی زیدان نے شبلیؒ سے اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ انہوں نے ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ پر لکھے نقد میں ان پر ایسے جارحانہ شخصی حملے کیوں کیے ہیں؟ یہ خط ناقص ہے۔
مجموعے کے آخر میں مجلہ ‘المنار’ کے مدیر سید رشید رضا کی مولانا شبلیؒ اور ’’الانتقاد‘‘ کے بارے میں شائع ہونے والی تحریریں شامل کی گئی ہیں، جن میں ’’الانتقاد‘‘ پر رشید رضا کے لکھے مقدمے سمیت چھ تحریریں ہیں۔
’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا اردو ترجمہ
اس نقد کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں سید رشید رضا اور محققِ کتاب؛ ڈاکٹر اجمل ایوب اصلاحی نے تفصیل سے جو کچھ لکھا ہے، اس پر مزید خامہ فرسائی تکرار ہو گی۔ اس تفصیل کا اجمال یہ ہے کہ اس نقد کے ذریعے مولانا شبلیؒ اسلامی تاریخ اور خاص طور پر اس کے ابتدائی ادوار کے متعلق جرجی زیدان سمیت مستشرقین کی پھیلائی ہوئی بعض بڑی غلط فہمیوں کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ جرجی زیدان کی کتاب عربی زبان میں تھی، اس لیے مولاناؒ نے نقد کے لیے بھی عربی زبان کا انتخاب کیا تاکہ سب سے پہلے عربی زبان میں اس تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کی فکر و نظر میں سرایت کرنے والے زہر کا تریاق ہو سکے۔ مذکورہ تاریخ کے ترکی زبان میں ترجمہ ہو جانے کے بعد اہلِ علم نے اس نقد کے بھی ترکی زبان میں ترجمہ کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی۔
میری معلومات کے مطابق تاحال جرجی زیدان کی تاریخ کے صرف پہلے حصے کا اردو ترجمہ ہوا ہے، جس کے مترجم محمد حلیم انصاری ردولوی ہیں۔ پاکستان میں اس کا پہلا ایڈیشن سن ۱۹۶۴ء میں شیخ شوکت علی اینڈ سنز، تاجران کتب، بندر روڈ، کراچی سے شایع ہوا۔ اردو ترجمہ ہو جانے کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ شبلیؒ کے نقد کا بھی اردو ترجمہ ہو جاتا۔ باعثِ تعجب ہے کہ اب تک پاک و ہند میں کسی کی توجہ اس طرف مبذول نہ ہوئی تھی، جب کہ بصد افسوس موجودہ زمانے میں جابجا دیکھا جاتا ہے کہ پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں بسنے والا اردو خوان طبقہ بھی اسلامی تاریخ کے بارے میں مستشرقین کی پھیلائی ہوئی انہی غلط فہمیوں کا شکار بل کہ ان کا پرچارک ہے اور اس نقد کے استفادے سے محروم ہے۔ بفضلہٖ تعالیٰ اس نقد کے اردو ترجمے کی ضرورت پوری کرنے کی سعادت اس مترجم کے حصے میں آئی!
چونکہ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ دونوں مضامین مولانا نے اصلاً اردو زبان ہی میں لکھے تھے اور صرف ’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا ترجمہ مقصود تھا، اس لیے مجموعۂ مضامین پر مشتمل ‘درۃ الغواص’ کے ایڈیشن میں سے ترجمے کے لیے میں نے ڈاکٹر محمد اجمل کا مقدمۂ تحقیق، ’’الانتقاد‘‘ کا متن بمع حواشی محقق، اور ضمائم میں سے ’’الانتقاد‘‘ کے بارے میں شبلیؒ اور جرجی کی باہمی خط و کتابت اور علامہ رشید رضا کی تحریرات کا انتخاب کیا ہے۔ نیز مقدمۂ تحقیق میں سے ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’ملخص بحث مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ کے متعلق محقق کا لکھا تعارفی نوٹ بھی اس ترجمے میں شامل نہیں کیا گیا۔
سلاست اور روانی برقرار رکھنے کے لیے حسبِ عادت الفاظ کی لغوی معنویت اور تعبیر و ترکیب کے اعتبار سے جملوں کی ساخت کی رعایت رکھتے ہوئے لفظی اردو ترجمے کی بجائے بامحاورہ ترجمانی کی کوشش کی گئی ہے۔ ذوقی اختلاف کی وجہ سے تو اصلاح و ترمیم کی گنجائش غالب و اقبال کے کلام میں بھی نکل سکتی ہے، البتہ ایسی فنی غلطی، جس کی وجہ سے عبارت کا مفہوم کچھ سے کچھ اور ہو جائے، کی اصلاح بے حد ضروری ہوتی ہے۔ ایسی اغلاط کی نشان دہی کو نہ صرف کھلے دل سے قبول کیا جائے گا بل کہ اگلے ایڈیشن میں توجہ دلانے والے کے شکریے کے ساتھ غلطی کی اصلاح کر دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دست بہ دعا ہوں کہ وہ اس کوشش کو بار آور فرمائے، اردو خوان طبقے کے لیے نافع بنائے اور اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے! آمین۔
وصلی اللہ وسلم علیٰ سید المرسلین نبینا محمد و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین۔
محمد بلال ابراہیم بربری — لیکچرار، شعبۂ علومِ اسلامیہ، اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء (ڈگری)، سہالہ، اسلام آباد۔ ۴ ربیع الاول ۱۴۴۶ھ، ۱۰ اگست ۲۰۲۴ء
haris.publications@gmail.com
اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
جو اس وقت پورے معاشرے پر مسلط ہے، اور مدرسوں کو تو کھا رہی ہے، وہ ہے یہ کیمروں والا موبائل۔ یہ ایک بلا ہے، ایک مصیبت ہے، اور افسوس ہے کہ پورے معاشرے کو کھا گئی ہے۔ بڑے سے بڑا عالم، بظاہر متقی، بظاہر نمازوں کا پابند، لیکن اس کے پاس یہ موبائل جو ہے، جس کو آج کل اسمارٹ موبائل کہتے ہیں۔ اسمارٹ کیا ہوتا؟ وہ تو تباہ کن میزائل ہے۔ موبائل نہیں ہے، وہ میزائل ہے۔ وہ انسان کے اخلاق کو تباہ کرنے والا، انسان کے دین کو تباہ کرنے والا، انسان کے اوقات کو تباہ کرنے والا میزائل ہے۔
تو اس کے اوپر ہم نے یہاں پابندی لگائی ہے، اور اسی لیے لگائی ہے کہ دو اس میں بڑے عظیم نقصان ہیں۔ ذرا یہ بات اچھی طرح کان کھول کر، ہمہ تن گوش ہو کر سن لو۔ اس میں دو عظیم نقصان ہیں:
(۱) گناہ میں مبتلا ہونے کا ماحول
ایک عظیم نقصان تو یہ ہے کہ موبائل کا استعمال کرنا، موبائل کی جو سوشل میڈیا ہے، اس کو استعمال کرنا، بڑے سے بڑے متقی کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے استعمال میں وہ کسی گناہ میں مبتلا نہیں ہوگا۔ بڑے سے بڑا متقی بھی ہو۔ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ نگاہ جو ہے وہ شیطان کے تیروں میں سے ایک اہم تیر ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے کہ شیطان تمہاری رگوں میں اس طرح دوڑتا ہے جیسے کہ خون دوڑتا ہے۔
اب ایک شخص ہے بیچارہ، نیک نیتی سے اس نے کہا جی فلاں بزرگ کی تقریر سن لوں ذرا، اور اس نے کھول لیا۔ اس کے کسی اختیار کے بغیر ایسی چیزیں سامنے آ جائیں گی کہ شیطان کو ڈسنے کا فوراً موقع مل جائے گا۔ میں نہیں جانتا، لیکن بڑے سے بڑا متقی، صاحبِ نسبت بھی، اگر استعمال کرے گا تو کبھی نہ کبھی، کبھی نہ کبھی، وہ گناہ میں مبتلا ہو جائے گا۔ اور ایک گناہ جو ہے وہ دوسرے گناہ کو کھینچتا ہے۔ ایک چھوٹا سا گناہ ہو گیا، ایک عورت کی تصویر آ گئی، اس میں دیکھنے سے مزا آ گیا۔ تو بھئی یہ تو آ ہی گیا، ذرا اس کو اور تھوڑا سا آگے بڑھ کر دیکھ لیں۔ شیطان اس طرح انسان کو رفتہ رفتہ ایک گناہ سے دوسرے گناہ، دوسرے سے تیسرے گناہ، تیسرے سے چوتھے گناہ میں مبتلا کرتا جاتا ہے۔ تو اسی لیے میں کہتا ہوں کہ یہ میزائل ہے ہاتھوں میں۔ عام انسان کے لیے بھی۔
اور یہ اصول علمی دنیا میں مسلّم ہے کہ ’’دفعِ مضرت، جلبِ منفعت سے مقدم ہے‘‘۔ آپ کہتے ہو کہ بھئی اس موبائل سے تو ہمیں بہت سے مواعظ سننے کو ملتے ہیں، ہمیں بزرگوں کی ہدایات اور نصیحتیں سننے کو ملتی ہیں، اس میں ہم ایسے پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ تو یہ کیا ہوئی؟ یہ جلبِ منفعت ہے۔ اور نگاہ کا بہک کر کسی غلط جگہ پر چلا جانا، یہ مضرتِ کبریٰ ہے۔ تو دفعِ مضرت، مقدم ہے جلبِ منفعت پر۔ لہٰذا ایک بات تو یہ ہے کہ یہ عام آدمیوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔
(۲) اوقات کے ضیاع کا سب سے بڑا ذریعہ
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس بات کا تجربہ ہے، مشاہدہ ہے، اس میں کوئی ادنیٰ شک اور شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ اوقات ضائع کرنے کا اس وقت اس سے بڑا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اگر طالبِ علم ہے تو اس کا وقت اتنا قیمتی ہے کہ اس کا ہر ہر لمحہ طلبِ علم میں صَرف ہونا چاہیے، مطالعہ میں صَرف ہونا چاہیے، تکرار میں صَرف ہونا چاہیے۔ اگر اس کو کوئی مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا، تو اس کو چین نہیں آنا چاہیے اس وقت تک جب تک کہ وہ سمجھ میں نہ آ جائے۔ چاہے وہ طالبِ علم ہو، چاہے استاذ ہو۔ اس کا تو ایک ایک وقت قیمتی ہے، ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔
یہاں تک کہ ہمارے بزرگوں نے یہ فرمایا تھا کہ طالبِ علم کو مغرب کے بعد اوابین (کے نفل) بھی نہیں پڑھنے چاہئیں، صرف دو سنت پڑھے اور اپنے مطالعہ میں لگ جائے۔ یہ تلقین ہوتی تھی ہمارے اکابر کی طرف سے۔ نوافل تمہارے لیے اتنی اہم نہیں ہیں۔ تمہاری کتاب، تمہارا مطالعہ، تمہارا تکرار زیادہ اہم ہے، اپنے اوقات کو اُس میں صَرف کرو۔ تو طالبِ علم کا وقت تو ایک ایک لمحہ اس کا قیمتی ہے۔ اس کو اگر پڑھنا ہے تو اپنے اوقات کو صحیح کام میں لگانا ہے۔ اور یہ موبائل جو ہے، یہ تمہارے اوقات کو ضائع کرنے والا ہے۔ تجربہ ہے، اس میں کوئی ادنیٰ شبہ اور شک نہیں ہے کہ یہ اوقات کو ضائع کرنے والی ایک بہت بڑی وبا اور مصیبت ہے جو ہمارے اوپر نازل ہو گئی ہے۔
اچھا خاصا نمازی ہے، پرہیزگار ہے، صفِ اول میں نماز پڑھنے والا ہے، لیکن تنہائی میں بیٹھا ہے اور اپنی آنکھوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کر رہا ہے۔ کتنی بڑی غداری، کتنی بڑی خیانت، کتنی بڑی نافرمانی! تو اس لیے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ جس شخص کو یہ بھروسہ نہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے گا اس فتنے سے، اس کے لیے ایسا فون استعمال کرنا جائز نہیں۔ اگر بھروسہ ہے تو بعض اوقات اس سے اچھے کام بھی لیے جا سکتے ہیں، لیکن پاؤں پھسلنے کا ہر وقت خطرہ، نگاہ کے پھسلنے کا ہر وقت خطرہ۔ لہٰذا بھئی! کتنے دن کی زندگی ہے، پتہ نہیں۔ کسی کو پتہ ہے کہ کب اس کو موت آ جائے گی؟ یہ جو ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا۔ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہوگی، اور ایک ایک نگاہ جو جس چیز پر ڈالی ہے، اس کا حساب مجھے دینا ہوگا۔
بہت عرصے تک میں بیان کرتا رہوں ’’یا ایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ … وجاھدوا فی سبیلہ‘‘ (المائدۃ ۳۵) کہ تقویٰ کا راستہ یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں محنت کرو۔ کیا محنت کرو؟ کہ نفس کسی طرف بلا رہا ہے، مچل رہا ہے، گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہو رہی ہے، اور تم اس خواہش کو زبردستی کر کے دباؤ۔ یہ ہے مجاہدہ۔ اور اس مجاہدے کے ثمرات یہ ہوتے ہیں کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جتنا جتنا انسان اپنے نفس کو، نفسانی خواہشات کو روکتا ہے اللہ کے لیے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے قرب بڑھتا ہے۔ ’’واما من خاف مقام ربہ ونہی النفس عن الہویٰ۔ فان الجنۃ ھی المأویٰ‘‘ (النازعات ۴۰، ۴۱) جو اپنی خواہشات کو اللہ کے لیے روکتا ہے، دل تو مچل رہا ہے بہت، بے شک مچل رہا ہے، نفس بھی آمادہ کر رہا ہے، شیطان بھی آمادہ کر رہا ہے، لیکن مجھے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے، اپنی ایک ایک نظر کا جواب دینا ہے۔ اس کا احساس کر کے جب آدمی اپنے اوپر زبردستی کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں اس کے درجات میں ترقی ہوتی ہے، تعلق میں اضافہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتے ہیں۔
تو میرے بھائیو اور بہنو! اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کا پہلے تو احساس کرو، کثرت سے سوچا کرو کہ کیا کیا نعمت مجھے ملی ہے؟ اور اس نعمت کو صحیح استعمال کرنے کے لیے اپنے نفس کے اوپر زبردستی کرو، اور اس (اللہ تعالیٰ) کی نافرمانی میں استعمال کرنے سے اپنے آپ پر زبردستی کر کے بچاؤ۔
https://youtu.be/Bu3gHVtJw7k
شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
شب بیداروں کے لیے خوشخبری
جب رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو جائے، خلق خدا نیند کے مزے لے رہی ہو، ایسے میں رب کی رضا کے لیے اپنی نیند کو قربان کرنا، اُس کے حضور گڑگڑانا، آنسو بہانا اور اُس سے معافی مانگنا، ایک ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ہمیشہ شعار رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ان محبوب بندوں کا ذکر قرآن مجید میں کچھ اس طرح کیا ہے کہ:
''ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ اُن (اعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے۔'' (السجدہ: 16، 17)
اپنے پہلو کو خواب گاہوں سے جدا رکھنے کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں لیکن علامہ آلوسیؒ نے روح المعانی میں لکھا ہے:
''مشہور قول یہی ہے کہ یہاں 'نمازِ تہجد' کے لیے پہلو کو خواب گاہ سے علیحدہ کرنا مراد ہے۔''
اسی طرح حضور نبی اکرمؐ کے ایک فرمان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ حضرت معاذؓ کی روایت ہے کہ حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا:
''کیا میں تم کو ابوابِ خیر نہ بتاؤں؟ پھر آپؐ نے ابوابِ خیر کو شمار فرمایا: (۱) روزہ (۲) صدقہ (۳) درمیان شب میں نماز پڑھنا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے انعامات
مذکورہ بالا آیت کریمہ اور حدیث مبارکہ کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ رات کی تاریکی میں اپنا آرام و سکون چھوڑ کر حق تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کی دی ہوئی چیزوں کو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اور ان سب عبادتوں کو انجام دیتے وقت اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہوتے، تو درحقیقت وہی سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے اللہ پاک نے ایسے انعامات تیار فرمائے ہیں جن کا آج تک کسی شخص کو بھی علم نہیں۔ اللہ پاک نے ان انعامات کے متعلق حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا کہ
''میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کا خیال گُزرا۔''
حق تعالیٰ کی ان لوگوں پر خاص کرم نوازی ہوتی ہے جو تہجد گُزار اور شب بیدار ہوتے ہیں۔
جنت میں داخلے کے اعمال
حضرت عبداللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرمؐ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپؐ کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ حضور اکرمؐ تشریف لائے ہیں۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچا، تو پہلا ارشاد حضور اکرمؐ کی زبان سے سنا وہ یہ تھا کہ
''لوگو! آپس میں سلام کا رواج ڈالو اور (غرباء کو) کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت جب سب لوگ سوتے ہوں نماز پڑھا کرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔''
اس حدیث پاک میں آپؐ نے چار باتیں بیان فرمائی ہیں:
- پہلی بات یعنی سلام کو آپس میں خوب پھیلانا، کیوں کہ اس سے آپس میں اُلفت و محبت پیدا ہوتی ہے اور تعلقات بھی مستحکم و مضبوط ہوتے ہیں۔
- دوسری بات صلہ رحمی ہے۔ ہر انسان کا فرض ہے کہ اپنے والدین اور رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اچھا معاملہ کرنے کی کوشش کرے۔
- تیسری بات غرباء، فقراء کو کھانا کھلانا۔
- اور چوتھی بات ایسے وقت نماز پڑھنا کہ سب لوگ آرام و سکون کے مزے لے رہے ہوں، یعنی نیند کر رہے ہوں۔
رات کے وقت نماز پڑھنے کی فضیلت کے حوالے سے حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضور نبی اکرمؐ سے دریافت کیا کہ مجھے ایسی چیز بتا دیجیے کہ جس پر میں عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپؐ نے تین باتیں ارشاد فرمائیں:
- اول، سلام کا خوب پھیلانا۔
- دوم، غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا۔
- سوم، رات کے وقت نماز پڑھنا۔
شب بیداری کے ثمرات
حضرت بلالؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا:
''تم رات کے جاگنے کو لازم پکڑ لو، کیوں کہ یہ تم سے پہلے صالحین اور نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کا ذریعہ ہے اور گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ (رات کی نماز) گناہوں سے روکنے والی اور حسد کو دور کرنے والی ہے۔''
اس حدیثِ پاک میں رات کے قیام یعنی نماز تہجد کے چار اہم فائدے ذکر کیے گئے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ صالحین کا طریقہ ہے۔
آخری تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:
''حق تبارک و تعالیٰ ہر رات، جب پچھلی تہائی باقی رہ جاتی ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے؟ میں اس کی دعا قبول کروں۔ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے؟ میں اس کے گناہ معاف کر دوں۔'' حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ: ''پھر حق تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ کھولتے ہیں (یعنی لطف و رحمت ظاہر فرماتے ہیں) اور فرماتے ہیں کہ کون ہے جو ایسے ضرورت مند کو قرض دے جو نہ فقیر ہے نہ ظلم کرنے والا ہے؟ صبح تک اللہ پاک کی طرف سے یہی ندا ہوتی رہتی ہے۔''
قیامت کے دن شب بیداروں کا مقام
حضرت اسماء بنت یزیدؓ حضور نبی اکرمؐ سے نقل فرماتی ہیں کہ
''تمام لوگوں کو قیامت کے روز ایک زمین پر جمع کیا جائے گا۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو راتوں میں اپنے پہلوؤں کو اپنے بستروں سے علیٰحدہ رکھتے تھے (یعنی تہجد پڑھتے تھے)؟ پس یہ لوگ اُٹھیں گے اور بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہو جائیں گے اور یہ لوگ تعداد میں تھوڑے ہوں گے۔ (اس کے بعد) پھر تمام لوگوں کے حساب و کتاب کا حکم دیا جائے گا۔''
فلاح کا راستہ اور ہماری غفلت
رات کا آخری پہر مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن آج کا مسلمان خوابِ غفلت میں گم ہے۔ پورا دن انسان رب کو یاد نہیں کرتا، بس کمانے کے چکر میں لگا رہتا ہے۔ رات آتی ہے تو اگلے دن کے بارے میں سوچتا ہے اور سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں گم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ رب کو بھول کر سونا ہی حقیقی غفلت کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لیے کتنے انعام و اکرام مہیا کر رکھے ہیں جو رب کی رضا کے لیے اپنی نیند قربان کر کے اُس کے حضور عبادت کرتے ہیں۔ اگر ہم دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانی چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اپنے رب کو راضی کر لیں کیوں کہ جب رب راضی ہوتا ہے تو جَگ کو راضی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ
روئے زمین پر سب سے افضل پانی
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال نعمتوں میں سے ہے۔ اللہ پاک قیامت کے قریب تمام زمین سے میٹھا پانی خشک کر دیں گے، مگر زم زم کا پانی اس وقت بھی باقی رہے گا۔ (اخبار للفاکہی)
یہ دنیا کے تمام پانیوں سے افضل، عمدہ و اشرف ہے اور دنیا کے تمام پانیوں کا سردار اور زمین کے اوپر سب سے عمدہ اور مفید پانی ہے، اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سب سے بہتر اور مرغوب بھی ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ زم زم کا پانی افضل ہے یا حوضِ کوثر کا؟ محققین کی رائے یہ ہے کہ زم زم کا پانی حوضِ کوثر کے پانی سے افضل ہے۔ یہی وہ عظیم چشمہ ہے جو حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پَر مارنے سے نکلا، یہی وہ بابرکت اور مقدس پانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو پلایا تھا، اور یہی وہ پاکیزہ پانی ہے جس سے جناب کریم ﷺ کا دل دھویا گیا۔
قدرت کا یہ معجزہ مسلمانوں کے لیے عظیم الشان تحفہ ہے، یہ مسلمان ہی سمجھ سکتا ہے۔ دور حاضر میں زم زم کی خوبیوں پر تحقیق جاری ہے لیکن آج بھی اطباء اور ماہرین حیران ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پانی کو کتنی خصوصیوں، خوبیوں اور قوتوں سے نوازا ہے۔ زم زم میں ایسے مفید معدنیاتی عناصر و ادویاتی اجزاء شامل ہیں جن پر میڈیکل سائنس بھی حیران ہے۔
دنیا کا واحد پانی ہے جس میں بو پیدا نہیں ہوتی، نیز اس میں بھرپور غذائیت اور ہر بیماری سے شفاء بھی ہے۔ اس پانی کا ایک حیران کن کرشمہ یہ ہے کہ روزِ اول سے جاری و ساری ہے اور بالکل کمی نہیں آتی۔ جو لوگ مکہ مکرمہ کی سنگلاخ وادیوں، خشک ریتیلی ریگستانوں اور مضبوط چٹانوں سے واقف ہیں ان کے لیے یہ انتہائی باعث تعجب اور حیرانگی کی بات ہے کہ جہاں دور دور تک آبی وسائل اور ذخائر موجود نہیں ہیں وہاں زم زم کا کنواں نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے پینے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے، بلکہ تمام لوگوں کو خوب سیراب کر رہی ہے۔ حرمین شریفین میں موجود لاکھوں لوگوں کے علاوہ حجاج کرام اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے افراد اسے اپنے ساتھ پوری دنیا میں لے کر جاتے ہیں، یوں زم زم کا پانی پوری دنیا کے لوگوں کو سیراب کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آبِ زم زم اللہ تعالیٰ کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے، اور اس پر جب بھی اور جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے، کیونکہ ہر مرتبہ انسان پر نئے حقائق کے راز آشکارا ہوتے ہیں اور مزید روشن پہلو اور حیرت انگیز فوائد سامنے آتے ہیں۔
یہ دنیا کا وہ واحد عظیم الشان بابرکت پانی ہے جس میں جناب نبی کریم ﷺ کے لعاب مبارک کی برکت موجود ہے، چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ "ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ زم زم کے کنویں کے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کے لیے بئرِ زم زم میں ڈول ڈال کر آپ ﷺ کی خدمت میں زم زم کا پانی پیش کیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو نوش فرمایا اور پھر اسی میں کلی فرما دی، پس ہم نے اسی ڈول کا پانی، جس میں آپ ﷺ نے کلی فرمائی تھی زم زم کے کنویں میں ڈال دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم آبِ زم زم کے کنویں سے ازخود پانی نکالنے کے لیے غلبہ کرو گے تو میں اپنے ہاتھ سے پانی نکالتا"۔ (مسند احمد، وہو حدیث صححیح)
آب زم زم کو خوب سیر ہو کر کثرت سے پینا مستحب اور ایمان کی علامت ہے، اور اس کو قربت سے دیکھنا عبادت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والی نشانی یہ ہے کہ منافقین زم زم کو سیر ہو کر نہیں پیتے، لہٰذا تم جب زم زم کو پیو تو خوب سیر ہو کر پیا کرو"۔ (رواہ ابن ماجۃ وسنن الدار قطنی)
آب زم زم ہر بیماری کے لیے شفاء ہے
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے انداز بھی بڑے عجیب اور نرالے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کتنا عظیم فضل اور رحمت ہے کہ اس نے آب زم زم میں ہر بیماری کی شفاء رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت اور فضل سے آب زم زم کے ذریعے کتنے ہی لوگوں کو شفاء عطا فرمائی ہے، اور بے شمار اب بھی اللہ پاک کی اس عنایت سے مستفید ہو رہے ہیں اور تاقیامت ہوتے رہیں گے۔ آب زم زم کی خوبیوں اور فضائل کے متعلق احادیث اور واقعات تو بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم اختصار کے پیش نظر صرف چند ذکر کریں گے، جن سے اجمالی طور پر بہت سی خوبیاں اور فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔
(۱) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "روئے زمین پر سب سے بہترین پانی زم زم ہے جس میں طعام کی طرح غذائیت بھی ہے اور مرض کے لیے شفاء بھی ہے"۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر وقال المحقق ابن الہمام: رواتہ ثقات، ورواہ ابن حبان ایضا)
(۲) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ آب زم زم کو مختلف برتنوں اور مشکیزوں میں بھر کر لے جاتے اور مریضوں پر ڈالتے اور انہیں پلاتے"۔ (جامع الترمذی، وسنن البیہقی ۵/۲۰۲)
(۳) حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ "زم زم کا پانی ہر اس مقصد کے لیے کافی ہے جس کے لیے پیا جائے، جو شخص کسی مرض سے شفاء کے لیے پیے اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دیتے ہیں، اور جو بھوک کی وجہ سے پیے اللہ تعالیٰ اس کا پیٹ بھر دیتے ہیں، اور جو کسی اور ضرورت کے لیے پیے اللہ تعالیٰ اس کی وہ ضرورت پوری فرماتے ہیں"۔ (رواہ المستغفری فی الطب عن جابر، الجامع الصغیر للسیوطی)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ زم زم غذا، دوا اور ہر مقصد کے حصول کے لیے بے نظیر چیز ہے مگر اخلاص اور اعتقاد شرط ہے۔
امام حاکمؒ نے لکھا ہے کہ ابوبکر بن محمد بن جعفرؒ نے حضرت امام علامہ محدث ابن خزیمہؒ کے متعلق نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ عظیم الشان علم کس طرح حاصل ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ "زم زم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ دیتا ہے"۔ میں نے جب بھی زم زم پیا، اللہ تعالیٰ سے علم نافع کا سوال کیا۔ (سیر اعلام النبلاء، ۱۴/۳۷۰)
امام علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حج سے فارغ ہونے کے بعد آب زم زم چند مقاصد کے لیے پیا، جن میں سے ایک خاص مقصد یہ تھا کہ میں علمِ فقہ میں امام سراج الدین بلقینیؒ کے مرتبہ کو پہنچوں، اور علمِ حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانیؒ کے مرتبہ کو پہنچوں، اب میں بطور تحدیثِ نعمت کے اپنی اس دعا کی قبولیت کا اعتراف کرتا ہوں۔ (حسن المحاضرۃ فی تاریخ مصر والقاھرۃ، ۱؍ ۳۲۸)
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے طلبِ حدیث کے ابتدائی زمانہ میں حج کی سعادت کے موقع پر زم زم کا پانی پیا اور پیتے وقت یہ دعا کی "االلہ مجھے حافظ ذہبیؒ جیسا حافظہ عطا فرما"۔ تقریباً بیس سال بعد پھر دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، اس وقت میں نے اس فن میں اپنی واقفیت امام ذہبیؒ سے کچھ زیادہ پایا۔ پھر میں نے زم زم پیتے وقت اس سے اونچا مرتبہ حاصل ہونے کی دعا کی، مجھے اللہ تعالیٰ سے اس کی بھی حصول کی امید ہے"۔ (فتح القدیر،۲؍۵۰۷)
امام المحدثین حضرت زین الدین العراقیؒ کے پیٹ میں ایک مرتبہ شدید تکلیف تھی، انہوں نے اس سے نجات کے لیے زم زم پیا، اللہ تعالیٰ نے نجات عطا فرما دی اور شفا یاب ہوگئے۔ (شفاء الغرام)
امام تقی الدین فارسیؒ نے "شفاء الغرام" میں لکھا ہے کہ شیخ احمد بن عبد اللہ الشریفیؒ نابینا ہو گئے تھے، انہوں نے آب زم زم کو بینائی واپس لوٹنے کی نیت سے پیا، پس ان کی بینائی واپس لوٹ آئی۔
اس طرح کے سینکڑوں اور معتبر واقعات ہیں جن کی تفصیل کا موقع یہ نہیں۔
آب زم زم سے بچوں کی تحنیک
علامہ فاکہیؒ نے "اخبار مکہ" میں روایت کیا ہے کہ حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ میں زم زم کے پانی کو مکہ مکرمہ سے کہیں دور لے جا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا "جی ہاں"۔ حضور اقدس ﷺ زم زم کو بوتلوں میں بھر کر لے جایا کرتے تھے، نیز حضور ﷺ نے زم زم کو عجوہ کھجور کے ساتھ ملا کر حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی تحنیک بھی فرماتے۔ (اخبار مکۃ للفاکہی: ۲؍۵)
آب زم زم کے پینے کے آداب
علماء کرام نے آب زم زم پینے کے متعدد آداب بیان کیے ہیں:
- شروع میں بسم اللہ پڑھنا،
- تین سانسوں میں پینا،
- سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے ہٹا لینا،
- قبلہ رخ ہونا،
- خوب سیر ہو کر پینا،
- دنیا و آخرت کی کوئی کوئی خوبی حاصل ہونے کی نیت کر کے پینا
آب زم زم کھڑے ہو کر پیا جائے یا بیٹھ کر؟
اس مسئلہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ آب زم زم کو کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے یا بیٹھ کر۔ ملا علی قاریؒ نے اپنی مناسک میں تخییر کا قول اختیار کیا ہے، وہ لکھتے ہیں: (ثم یاتی زمزم) ای بئرھا (فیشرب من مائہا) ای قائما وقاعدا، پھر زم زم کے کنویں کے پاس آئے اور اس سے پانی پیے، چاہے کھڑے ہو کر پیا جائے یا بیٹھ کر۔ بعض حضرات نے کھڑے ہو کر پینے کو مستحب قرار دیا، کیونکہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نوش فرمایا تھا، جبکہ بعض علماء کرام نے بیٹھ کر پینے کو مستحسن قرار دیا ہے، بندہ کی رائے میں کھڑے ہو کر پینا زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال چونکہ دونوں طرف جلیل القدر علماء ہیں لہٰذا کسی بھی طریقہ کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
قبولیت کے متعلق ایک ضروری وضاحت
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آب زم زم جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہو جاتا ہے بشرطیکہ اخلاص اور اعتقاد کے ساتھ پیا جائے۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جن لوگوں نے مختلف نیتوں سے پیا مگر ظاہری طور پر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوئے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زم زم پینے کا فائدہ نہیں ہوا، بلکہ زم زم پینے کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے، مگر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ مومن بندہ جو چیز اللہ سے مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی اس کو وہی عطا فرماتے ہیں جو اس نے مانگی ہے، اور کبھی اس کے بدلے میں دوسری نعمت عطا فرما دیتے ہیں، یا اس کے بدلے کوئی بلا ٹال دیتے ہیں، یا اس کا اجر و ثواب آخرت میں محفوظ فرما دیتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حق میں زیادہ جانتے ہیں کہ میرے بندہ کے لیے کیا بہتر ہے۔ ایسے ہی بعض گناہ بھی دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، جیسے حرام کی کمائی، والدین کی نافرمانی، کسی کی حق تلفی، قطع رحمی وغیرہ وغیرہ۔
یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جس نیت سے پانی پی رہا ہے اس کو حاصل کرنے کا سبب بھی اختیار کرے، اور یہ بھی دعا کے آداب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آب زم زم کی قدر کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین
کاروباری طبقے سے وابستہ افراد موجودہ مالی و معاشی بحران کے دور میں چند بنیادی باتیں پیش نظر رکھیں تو اس سے کام کرنے، حالات کو جاننے اور معاملات کو بہتر انداز میں چلانے میں آسانی ہو گی ان شاء اللہ۔
نظام الاوقات کی تقسیم کا اثر پوری زندگی پر
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے نظام الاوقات کو تقسیم کریں۔ اس میں اپنی نیند کا وقت، عبادت کا وقت، گھر والوں اور لوگوں کی خدمت کا وقت، اور کام کا وقت الگ الگ مقرر کریں۔ جب سب چیزیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتی ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ کوئی کام درست طریقے سے ہو پاتا ہے اور نہ ہی گھر اور کاروبار کا نظام صحیح رہتا ہے۔ جب معاملات گڈمڈ ہو جائیں تو انسان ذہنی طور پر بھی پریشان ہو جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے کاموں کی درست انجام دہی بھی متاثر ہوتی ہے۔
خاص طور پر جب نیند پوری نہ ہو، جب گھر والوں کو وقت نہ دیا جائے، یا جب لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے جائیں اور میل جول مناسب نہ ہو، تو یہ چیزیں بھی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ آپ اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ جسمانی مضبوطی سے زیادہ ضروری ذہنی مضبوطی اور ذہنی سکون ہے۔ کیونکہ جب انسان کی نیند متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں دماغ بھی کمزور ہوتا ہے، جسم بھی کمزور ہوتا ہے، اور بڑے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ زیادہ سونا بھی نقصان دہ ہے اور کم سونا بھی مسائل کا سبب بنتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
کاروباری امور کے چند بنیادی تقاضے
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کسی کاروبار یا معاملے کا آغاز کریں تو استخارہ بھی کریں۔ یہ دیکھیں کہ آیا یہ کام مجھے کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیا یہ کام میرے مزاج، صلاحیت اور حالات کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیا اس کام کے لیے مجھ میں اہلیت و قابلیت موجود ہے؟ کیا میں اسے اچھے انداز میں انجام دے سکتا ہوں؟ اور کیا مجھے اس کام سے شوق اور دلچسپی بھی ہے یا نہیں؟ ان تمام چیزوں کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف کام شروع کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ بہت سی دوسری چیزوں کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔
پھر ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آپ اپنے کاروبار اور معاملات کی نگرانی خود کرتے ہیں یا کسی اور کے سپرد کر دیتے ہیں؟ اگر انسان اپنے کاموں پر خود نظر رکھے تو اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ کاموں کی نگرانی کرنا، ان کا حساب رکھنا، انہیں لکھنا، اور مستقل جائزہ لینا کامیابی کی بڑی علامت ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔
بعض اوقات انسان کا کام بالکل درست ہوتا ہے، سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کام مخلص لوگوں کے سپرد نہیں ہوتا۔ معاونین، منشی، مشورہ دینے والے یا ہاتھ بٹانے والے افراد بعض اوقات مخلص نہیں ہوتے، یا ذہنی طور پر کاروبار کے مقصد کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ بعض لوگ آپ کے کام کے لیے وہ جذبۂ خلوص نہیں رکھتے جو خود آپ اپنے کام کے لیے رکھتے ہیں، اور اس وجہ سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
چنانچہ پہلی ترجیح یہ ہو کہ انسان خود نگرانی کرے، اور دوسری یہ کہ مخلص، خیر خواہ اور قابل لوگوں کا انتخاب کرے۔ یاد رکھیں! صرف نیک ہونا کافی نہیں، قابل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی دیانت دار تو ہو لیکن کام کرنا نہ جانتا ہو، تب بھی نقصان ہے۔ اور اگر کوئی کام کرنا جانتا ہو لیکن دیانت دار اور امانت دار نہ ہو، تب بھی نقصان ہے۔ اس لیے دیانت اور قابلیت، دونوں کا ہونا ضروری ہے۔
دنیا دنیا ہے، جنت نہیں ہے
تیسری اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے، البتہ آزمائشوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو مالی آزمائش دی جاتی ہے، کسی کو جسمانی بیماریوں میں مبتلا کیا جاتا ہے، کسی کو اولاد کی آزمائش پیش آتی ہے، کسی کو کاروبار اور روزگار کے مسائل درپیش ہوتے ہیں، کسی کو غربت کا سامنا ہوتا ہے، اور کسی کو زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہر انسان کسی نہ کسی طریقے سے آزمائش میں ہے۔ یہ دنیا کا وہ قانون ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، اور یہاں آزمائش کا نظام چلتا ہے، جبکہ مکمل انصاف کا قانون آخرت میں نافذ ہوگا۔
دنیا میں ہمیشہ ’’دو جمع دو چار‘‘ والا معاملہ نہیں ہوتا کہ انسان محنت کرے اور لازماً فائدہ ہی حاصل ہو، ایسا ہونا ضروری نہیں۔ آپ اپنے اردگرد بے شمار مثالیں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بہت کم محنت کرتے ہیں لیکن بہت زیادہ نفع کماتے ہیں، جبکہ بعض لوگ انتہائی محنت کے باوجود مناسب آمدنی حاصل نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات تو انسان اپنی پوری کوشش کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دیکھ پاتا۔ اس لیے ان معاملات کو سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے، تاکہ انسان ہر نقصان کو صرف اپنی ناکامی نہ سمجھے بلکہ اللہ کی حکمت کو بھی پیشِ نظر رکھے۔
آزمائشیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب
ایک اہم بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو زیادہ آزمائشوں میں مبتلا فرماتے ہیں، اور انہی آزمائشوں کے ذریعے انہیں اپنے زیادہ قریب کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک انسان بیس سال عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک مقام حاصل کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو شاید اتنی عبادت نہ کر پائے، مگر اس پر سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آتی ہیں، اور وہ ان پر صبر کرتا ہے، برداشت کرتا ہے، لوگوں کے سامنے شکوہ شکایت نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس کے صبر کی وجہ سے بلند درجات عطا فرماتے ہیں۔ بعض اوقات ایک لمحے کا صبر انسان کو وہ مقام عطا کر دیتا ہے جو طویل عبادتوں سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آزمائشوں میں بندے کا صبر دیکھتے ہیں، اور جب بندہ ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتے ہیں۔
مشکلات کا روحانی فائدہ
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اگر انسان کو ہر وقت آسانیاں ہی آسانیاں ملتی رہیں، ہر خواہش پوری ہوتی رہے، اور زندگی میں کوئی مشکل نہ آئے، تو اکثر انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب انسان مشکلات، پریشانیوں اور آزمائشوں کا شکار ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب آتا ہے، دعا کرتا ہے، فریاد کرتا ہے، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اسے آزمائشوں میں ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو، اس سے مانگے، اس کے سامنے گڑگڑائے، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے۔ مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا بعض اوقات زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ حالات ایسے پیدا فرما دیتے ہیں کہ بندہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا مانگنا پسند ہے۔
صبر کا اجر اور آخرت کی کامیابی
احادیثِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں جو آزمائشوں میں صبر کرتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو ہر شخص کے سامنے واویلا اور شکوہ شکایت نہیں کرتے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ مالی یا جسمانی آزمائش میں مبتلا کرے اور وہ صبر اختیار کرے، لوگوں کے سامنے مسلسل شکوہ نہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، تو اللہ تعالیٰ اس صبر کو پسند فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو آزمائش میں دیکھتے ہیں کہ اس نے صبر کیا، اور نعمت کے وقت شکر کیا، تو یہ بندہ اللہ کے ہاں بلند درجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتے ہیں اور لے کر بھی آزماتے ہیں۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دنیا ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں صبر کرتے ہیں، آخرت میں انہیں ایسا عظیم اجر و ثواب دیا جائے گا کہ وہ تمنا کریں گے: کاش! دنیا میں ہم پر مزید آزمائشیں آتیں اور ہم ان پر صبر کرتے، تاکہ آج ہمیں مزید بلند درجات حاصل ہوتے۔ اس وقت انسان کو اندازہ ہوگا کہ صبر کا مقام کتنا بلند اور اس کا اجر کتنا عظیم تھا۔
اسی طرح احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب ایک انسان جنت میں داخل ہوگا اور جنت کی راحتوں میں سے صرف ایک ہوا کا جھونکا اسے محسوس ہوگا تو اس سے پوچھا جائے گا: ’’کیا تم نے دنیا میں کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟‘‘ وہ جواب دے گا: ’’اللہ کی قسم! مجھے دنیا کی کوئی تکلیف یاد نہیں رہی۔‘‘ یعنی جنت کی ایک نعمت دنیا کی تمام پریشانیوں، دکھوں اور مصیبتوں کو بھلا دے گی۔
شکر کے کرشمے
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں نعمتوں کے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ شکر کو قرار دیا ہے۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں پر زیادہ غور کرے، ان کی قدر کرے، ان کا احساس کرے۔ اور جو چیزیں اس کے پاس موجود نہیں ہیں ان کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پریشان نہ ہو۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوشش چھوڑ دی جائے۔ انسان کوشش بھی کرے، بہتر حالات کی فکر بھی کرے، اور پریشانی کا احساس بھی ایک حد تک فطری ہے، لیکن اپنی پوری توجہ صرف محرومیوں پر مرکوز نہ کرے بلکہ ان نعمتوں کو بھی دیکھے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہیں۔
ذرا غور کریں! ایسی بے شمار نعمتیں ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں مگر بہت سے لوگ ان سے محروم ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے مناسب گھر نہیں، بہت سے لوگ کاروبار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، بعض کے پاس سرمایہ نہیں، بہت سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس کوئی آمدنی نہیں، اور بے شمار لوگ صحت، گھریلو مسائل یا دیگر پریشانیوں کا شکار ہیں۔
اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سے کم تر حالات والے لوگوں پر بھی نظر رکھے۔ اس سے انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں سے مجھے نوازا ہے جن سے دوسرے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو بندہ شکر ادا کرے گا، اللہ اس کی نعمتوں میں اضافہ فرمائے گا۔ یعنی انسان جتنا زیادہ اپنی موجودہ نعمتوں کی قدر کرے گا، اللہ تعالیٰ اتنا ہی اس کے لیے خیر اور برکت کے دروازے کھولیں گے۔
لیکن اگر انسان ناشکری اختیار کرے، ہر وقت شکایت کرتا رہے، اور یہ بھول جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے برسوں سے رزق دیا، کھلایا پلایا، عزت دی، مگر ایک یا دو سال کے نقصان پر پوری زندگی کو بھلا دے، تو یہ ناشکری کے انداز ہیں، اور ناشکری مزید مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
آخری بات
لہٰذا کاروباری نقصان، مالی بحران اور معاشی مشکلات کو صرف تباہی نہ سمجھیں، بلکہ ان کے اندر چھپی حکمتوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی زندگی کو منظم کریں، نیند، عبادت، گھر والوں اور کام کرنے والوں کے حقوق ادا کریں، معاملات میں استخارہ اور مشورہ کریں، دیانت دار اور قابل معاونین کا انتخاب کریں، شکر اور صبر کو اپنائیں، اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھیں۔ اللہ رب العزت سے امید ہے کہ جب مذکورہ تمام باتوں کو ذہن نشین کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو آسان فرمائے گا، آپ کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا، آپ کے کاروبار میں خیر و عافیت نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ۔
۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا متفقہ موقف
شائع کردہ : حافظ مجددی
علماء کرام کے متفقہ بائیس دستوری نکات ۱۹۵۱ء
اسلامی دستور کے وہ بائیس نکات جو جنوری ۱۹۵۱ء میں پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء نے متفقہ طور پر مرتب کر کے شائع کیے:
- اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
- ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا حکم دیا جا سکے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔ (تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ، یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
- مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی، یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطۂ حیات ہے۔
- اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے، اور شعائرِ اسلام کے احیا و اعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
- اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتۂ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیتِ جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی و لسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
- مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور قیام کی کفیل ہو گی جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں، یا عارضی طور پر بے روزگار ہوں، یا بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعئ اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
- باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعتِ اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں۔ یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظِ جان و مال و آبرو، آزادئ مذہب و مسلک، آزادئ عبادت، آزادئ ذات، آزادئ اظہارِ رائے، آزادئ نقل و حرکت، آزادئ اجتماع، آزادئ اکتسابِ رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی، اور رفاہی ادارت سے استفادہ کا حق۔
- مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سندِ جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا۔ اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمئ موقعِ صفائی و فیصلۂ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
- مسلّمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انہی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
- غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب و عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہو گی۔ اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہوگا۔
- غیر مسلم باشندگانِ مملکت سے حدودِ شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہوگی۔ اور جن حقوقِ شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگانِ ملک برابر کے شریک ہوں گے۔
- رئیسِ مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے۔ جس کے تدین، صلاحیت اور اصابتِ رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
- رئیسِ مملکت ہی نظمِ مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
- رئیسِ مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہو گی، یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
- رئیسِ مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ وہ دستور کو کلاً یا جزواً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
- جو جماعت رئیسِ مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی، وہ کثرتِ رائے سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔
- رئیسِ مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہو گا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہو گا۔
- ارکان و عمّالِ حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون و ضابطہ ہو گا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
- محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئتِ انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
- ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہو گی جو مملکتِ اسلامی کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
- ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزاءِ انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہو گی، جنہیں انتظامی اختیارات کے پیش نظر مرکزی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انہیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہو گا۔
- دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
دستوری سفارشات رپورٹ ۱۹۵۲ء پر علماء کرام کی ترمیمات و اضافہ جات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
جنوری ۱۹۵۱ء میں تمام اسلامی فرقوں اور گروہوں کے معتمد علیہ علماء کا جو اجتماع دستورِ اسلامی کے مسائل پر غور کرنے کے لیے کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس کے مرتب کردہ ۲۲ اصول ’’اسلامی مملکت کے بنیادی اصول‘‘ کے نام سے منظر عام پر آ چکے ہیں اور بفضلِ خدا مسلم پبلک میں قبولِ عام بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ابتداء میں یہ خیال تھا کہ کسی قریبی وقت میں دوبارہ یہ اجتماع منعقد کر کے ان اصولوں کے مطابق ایک دستور کا خاکہ بھی مرتب کر دیا جائے۔ لیکن بعد میں یہی مناسب سمجھا گیا کہ مجلس دستور ساز کی مقرر کردہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی جب اپنی رپورٹ پیش کرے، اس وقت ہی یہ اجتماع منعقد کیا جائے اور اس رپورٹ کو مدارِ بحث بنا کر جس قسم کی اصلاحات اس میں ضروری سمجھی جائیں، کر دی جائیں۔ چنانچہ ۲۲ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جب مجلس دستور ساز میں مذکورہ بالا رپورٹ پیش ہو گئی تو اس اجتماع کے دوبارہ منعقد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس میں شرکت کے لیے انہی اصحاب کو دعوت دی گئی جو جنوری ۱۹۵۱ء کے اجتماع میں مدعو تھے۔
۱۱ جنوری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں یہ اجتماع منعقد ہوا اور ۱۸ جنوری تک ۹ اجلاس مختلف اوقات میں حسبِ ذیل اصحاب کے زیر صدارت منعقد ہوئے: حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ حضرت مولانا سید سلیمان صاحب ندوی۔ حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب۔ حضرت مولانا داؤد غزنوی صاحب۔ حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی۔
ان اجلاسوں میں پوری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اگرچہ مدارِ بحث مذکورہ بالا رپورٹ کا مستند اردو ترجمہ رہا، جو حکومتِ پاکستان کی طرف سے شائع ہوا تھا، لیکن چونکہ ترجمہ میں بکثرت نقائص تھے اس لیے رپورٹ کے مصنفین کا منشاء سمجھنے کے لیے اصل انگریزی رپورٹ کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔
اجتماع کی کارروائی میں بڑی سہولت ہو جاتی اگر مجلس دستور ساز کے قائم کیے ہوئے تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ کی تجاویز بہم پہنچ جاتیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مجلس دستور ساز کے صدر نے اس اجتماع کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا پسند نہیں کیا۔
الحمد للہ کہ اس اجتماع میں تمام فیصلے بالاتفاق کیے گئے ہیں جنہیں اطلاعِ عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔
ترمیمات
مملکت کی پالیسی کے رہنما اصول
جامع اسلامی نظامِ تعلیم
پیراگراف ۲ شق (۲) ضمن (الف):
رپورٹ میں اس ضمن کی موجودہ عبارت سے یہ گنجائش نکلتی ہے کہ حکومت نظامِ تعلیم کو سابق انگریزی دور کی بنیادوں پر برقرار رکھتے ہوئے صرف اس امر کی کوشش کرے کہ مسلمانوں کے لیے بس قرآن مجید کی تعلیم لازم کر دے۔ اور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ کس قسم کی زندگی قرآن مجید اور سنتِ رسول کے مطابق ہوتی ہے، دینیات کا ایک کورس مقرر کر دے۔ لیکن یہ انتظام کسی طرح بھی تعلیم اور تربیت کی ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو سابق ملحدانہ نظامِ تعلیم کے بدولت پیدا ہو رہی تھیں۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس ضمن کے موجودہ الفاظ کو حسبِ ذیل الفاظ سے بدل دیا جائے:
’’مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے اور ملک کے نظامِ تعلیم میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے مسلمان اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنتِ رسول کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘
فواحش کا سدِباب
پیراگراف ۲ شق (۲) ضمن (ب):
اس ضمن میں رپورٹ کی موجودہ تجویز دو لحاظ سے ناقص ہے: ایک یہ کہ وہ صرف شراب خوری کو ممنوع کرتی ہے، نہ کہ شراب فروشی اور شراب سازی وغیرہ کو بھی، اور دوسرے مسکرات کے بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ شراب، جوئے اور عصمت فروشی کے انسداد کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کرتی، جس سے اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں یہ فواحش غیر معین مدت تک جاری رہیں گے۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے:
’’ہر قسم کی مسکرات، جوئے اور عصمت فروشی کا تاریخِ نفاذِ دستور سے زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر قانون سازی کے ذریعہ مکمل انسداد کیا جائے۔‘‘
خلافِ اسلام قوانین کی تبدیلی
پیراگراف ۲ شق (۴):
اس شق میں رپورٹ کے مصنفین نے موجودہ قوانینِ ملکی کو کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا ہے۔ جس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ نفاذِ دستور سے پہلے کے خلافِ اسلام قوانین غیر معین مدت تک ملک میں نافذ رہیں گے، حالانکہ یہ قابلِ برداشت نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس شق کو بدل کر حسبِ ذیل صورت میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں:
شق (۴) ضمن (الف): ’’موجودہ قوانین کو پانچ سال کے اندر کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کر دینے کا مناسب انتظام کیا جائے۔‘‘
شق (۴) ضمن (ب): ’’قرآن پاک اور سنت کے وہ احکام جو قانونی صورت میں نافذ کیے جا سکتے ہیں ان کی تدوین و تنفیذ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔ البتہ کوئی قانون جو مسلمانوں کے شخصی معاملات سے متعلق ہو، ہر فرقے کے لیے کتاب و سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں بنایا جائے گا جو اس کے نزدیک مستند ہو۔ اور کوئی فرقہ دوسرے فرقے کی تعبیر کا پابند نہ ہو گا۔ نہ کوئی قانون ایسا بنایا جائے گا جس سے کسی فرقے کے مراسم و فرائضِ مذہبی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو۔‘‘
بنیادی ضروریات بلا امتیازِ مذہب و قوم
پیراگراف ۲ شق (۶):
اس شق کی موجودہ عبارت کے بجائے ہمارے نزدیک یہ عبارت مناسب ہو گی:
’’مملکت کی کوشش ہونی چاہیے کہ بلا امتیاز مذہب و ملت پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے کھانے، کپڑے، مکان، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرے۔ خصوصاً ان کے لیے جو بیروزگاری، کمزوری، بیماری، یا ایسی ہی کسی دوسری وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر اپنی روزی کمانے کے قابل نہ ہوں۔‘‘
معاشی پالیسی اسلام کے اصولوں پر
پیراگراف ۲ شق (۷):
اس شق میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدل پر مبنی ہو گی۔ اس لیے موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدلِ عمرانی پر مبنی ہونی چاہیے اور بلا امتیاز مذہب، نسل یا رنگ عوام کی ہر قسم کی بہبودی کا انتظام کیا جائے اور اس پر اس طرح عملدرآمد ہونا چاہیے کہ‘‘
مزدوروں اور کسانوں کے حقوق
پیراگراف ۲ شق (۷) ضمن (ج):
اس شق میں اگرچہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا مفہوم بہت وسیع ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ محنت پیشہ اور زراعت پیشہ لوگوں کے معاوضوں کا معاملہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا الگ ذکر کر دینا اور اس امر کی صراحت کرنا ضروری ہے کہ ملک میں اس طبقہ کے معاوضوں کا معیار کم از کم اس حد تک پر رکھا جائے گا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ لہٰذا ہماری رائے میں موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور معاوضوں کا ایسا منصفانہ معیار مقرر کیا جائے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں اور ان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔‘‘
تعصبات کا خاتمہ
پیراگراف ۲ شق (۱۰):
اس شق میں رپورٹ کی موجودہ عبارت ناقص ہے اور یہ نقص خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ لسانی تعصبات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اس کو حسبِ ذیل عبارت سے بدلنا چاہیے:
’’مملکت کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں میں سے جغرافیائی، قبائلی، نسلی اور لسانی، اور اسی قسم کے دوسرے غیر اسلامی جذبات دور کرنے؛ اور ان میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ملتِ اسلامیہ کی سالمیت، وحدت و استحکام اور اس طرز فکر کے لوازمات؛ اور اس مقصد کو سب سے مقدم رکھیں جس کی تکمیل کے لیے پاکستان قائم ہوا تھا۔
https://iili.io/CzlUADG.jpg
(جاری)
ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
ہمارے آئین کا کہنا ہے کہ پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ہے، یہاں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، یہاں لوگوں کے پاس اختیارات ایک ’’مقدس امانت‘‘ کے طور پر ہیں جنھیں وہ اللہ تعالیٰ کی ’’مقرر کردہ حدود کے اندر‘‘ اپنے ’’منتخب نمائندوں کے ذریعے‘‘ استعمال کریں گے۔ آئین نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ ’’قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام‘‘ سے متصادم کوئی قانون پاکستان میں نہیں بنایا جائے گا اور رائج الوقت تمام قوانین کو ان احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ پاکستان کے قانون نے عدالتوں پر یہ بھی لازم کیا ہے کہ وہ تمام قوانین کی ایسی تعبیر کریں جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔
ان آئینی اور قانونی اصولوں کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ پاکستان کی جامعات میں اسلامی قانون کو ہی ملکی قانون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا، اس کے اصولوں پر غور کیا جاتا، اس سے احکام مستنبط کرنے کے طریقے سکھائے جاتے، معاصر مسائل پر ان کی تطبیق کی مشقیں کرائی جاتیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رائج الوقت قوانین کی اسلامی تعبیر کی تربیت دی جاتی، لیکن عملاً ہماری جامعات میں کیا ہو رہا ہے؟
اس سوال پر غور سے پہلے دیکھیں کہ ہماری جامعات ’’اسلامی قانون‘‘ کہتی کسے ہیں؟ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور چار دیگر جامعات (جن میں تین خیبر پختونخوا میں ہیں) کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام جامعات کا حال یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نام پر ان کے ہاں دو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں: ایک ڈنشا فردون جی ملّا کی ’محمڈن لا‘ اور ایک سر عبد الرحیم کی ’اسلامک جوریسپروڈنس‘۔ دونوں کتابوں پر صدی بیت چکی۔
- پہلی کتاب کے مصنف ایک پارسی تھے جو اعلیٰ پائے کے وکیل تھے لیکن جنہیں اسلامی قانون کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ، جنھیں ’’مسلم شخصی قانون‘‘ کہا جاتا تھا، میں عدالتی فیصلوں پر غور کر کے ان میں رائج اصول مستخرج کر کے انھیں دفعہ وار مرتب کیا۔ سو سال قبل یہ وکیلوں کے لیے ایک مفید کام تھا، لیکن انگریزوں کی غلامی میں انگریزوں کے نظام کے تحت چند مخصوص امور میں دیے گئے فیصلوں اور ایک آزاد اسلامی جمہوریہ میں قرآن و سنت کے احکام پر مبنی قانون میں زمین و آسمان کا فرق ہونا چاہیے۔
- سر عبد الرحیم کی کتاب بھی اپنے وقت پر ایک اچھی کتاب تھی لیکن پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے پروپیگنڈا کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور فقہ و اصول فقہ پر بہترین کتابیں اور مقالات آ چکے ہیں۔ پھر بھی اس قدیم کتاب سے چپکے رہنے کی کیا وجہ ہے؟
انگریزوں نے جب برصغیر پر اپنا تسلط جمانا شروع کیا، تو ان کی نظر پہلے محصولات — بالخصوص زرعی زمین پر محصول — کے قانون پر تھی۔ ان امور اور دیوانی کے اختیارات پر تسلط کے بعد انھوں نے جرم و سزا کے قانون اور دیگر امور کی طرف توجہ دی، لیکن ’’شخصی امور‘‘ میں ’’عدمِ مداخلت‘‘ کی ’’پالیسی‘‘ پر گامزن رہے تاکہ ’’رعایا‘‘ بھڑک نہ اٹھے۔
چنانچہ ابتدا میں مسلمان قاضیوں کو نکاح، طلاق وغیرہ کے فیصلے کرنے تک محدود کر دیا۔ پھر ان قاضیوں کی جگہ اپنے ’’جج‘‘ بٹھا دیے اور ان قاضیوں کو بطورِ مفتی ’’جج کا معاون‘‘ بنا دیا کیونکہ ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد اسلامی قانون کی ان کتابوں کے ترجمے کرائے جن سے عام طور پر مفتی کسی مسئلے کا حکم نکالتے تھے، جیسے حنفی فقہ میں ’ہدایہ‘ اور اثنا عشری فقہ میں ’شرائع الاسلام‘۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چارلس ہملٹن — جس نے ہدایہ کا ترجمہ کیا — کو عربی آتی ہی نہیں تھی اور اس نے فارسی ترجمے سے انگریزی میں ترجمہ کیا، لیکن یہ شوربے کا شوربہ آج بھی ہماری عدالتوں میں اسلامی قانون کا بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اسی کو پڑھ کر ہمارے جج فیصلے کرتے آئے ہیں۔ پھر ان فیصلوں سے ڈی ایف ملّا کی کتاب بنی، جو آج تک ہماری جامعات میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے اور جسے ہمارے جج آج تک اسلامی قانون کی سب سے مستند کتاب سمجھتے ہیں۔
اصولِ فقہ یعنی اسلامی قانون کے تصور، اس کے مآخذ، اور اس سے استنباط سے متعلق امور کے علم کی کہانی اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ جوزف شاخٹ جیسے مستشرقین نے یہ مفروضات پیش کیے تھے کہ اصولِ فقہ اور فقہ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اصولِ فقہ کا ڈھانچا تو امام شافعی نے کھڑا کیا جبکہ فقہ تو امام شافعی کی پیدائش سے بھی دو عشرے قبل مکمل طور پر وجود میں آچکی تھی اور یہ کہ فقہ صرف کتابوں میں پائی جاتی تھی جبکہ عملی دنیا میں سارا نظام حکمرانوں کے فرامین پر چلتا تھا۔ یوں مسلمانوں کے قانونی نظام میں نظریے اور عمل کا تضاد پایا جاتا تھا۔ آج تک ہمارے قانون دانوں اور ججوں کی اکثریت ان مفروضوں کو حقیقت کے طور پر قبول کیے ہوئے ہے۔
ایک اور ظلم یہ ہوا ہے کہ ان نصابی کتب میں حنفی، شافعی اور دیگر فقہی مذاہب کو ’’فرقوں‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے حالانکہ فقہی مذہب دراصل اسلامی قانون کی تعبیر و تشریح کا ایک مستحکم نظام ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’مغربی جورِس پروڈنس‘‘ پڑھاتے ہوئے ’قانونِ فطرت‘ کے علم برداروں (Naturalists) اور ’قانونِ وضعی‘ کے ماننے والوں (Positivists Legal)، یا ’لذت پسندی‘ (Utilitarianism) اور ’قانونی عملیت پسندی‘ (Legal Realism) کے اختلاف کو ’فرقہ وارانہ اختلاف‘ کا عنوان نہیں دیا جاتا، بلکہ انھیں قانون کو دیکھنے اور اس کی تعبیر و تشریح کے مختلف نظریات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ نصاب پڑھنے والے اگر مسلمانوں کے فقہی اختلافات دیکھ کر یہ سوال اٹھائیں کہ پاکستان میں ’کس کی شریعت‘ نافذ کی جائے گی، تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ یہ سوال اٹھانے والے کبھی اس پر غور نہیں کرتے کہ آئین و قانون کی تعبیر کے متعلق مختلف نظریات کی موجودگی میں پاکستان میں ’کس کا آئین‘ یا ’کس کا قانون‘ نافذ کیا جائے گا؟ وجہ واضح ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا، پاکستان کے آئین و قانون کی رو سے عدالتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوانین کو اسلامی اصولوں پر پرکھیں اور ان کا ایسا مفہوم متعین کریں جو ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ یہ ذمہ داری صرف نکاح و طلاق کے قانون اور نہ صرف حدود و قصاص کے قانون کے لیے نہیں بلکہ تمام قوانین کے لیے ہے۔
اس لیے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں اسلامی قانون کو بہت سارے قوانین کے درمیان محض ایک اور قانون کے طور پر نہیں، بلکہ ملک کے اصل قانون کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے اور قانون کی ڈگری کے ہر کورس میں اسلامی قانون کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ اسی طرح ہماری عدالتوں کو اس مفروضے سے بھی جان چھڑانی ہے کہ اسلام ہمارے آئین میں صرف ’اسلامی دفعات‘ کے باب تک محدود ہے۔ (حالانکہ) ہمارے آئینی نظام کی اساس یہ ہے کہ ہمارا پورا آئین اسلامی ہے اور ہر ہر دفعہ اور ہر ہر شق کی تعبیر اسلامی اصولوں پر کرنی لازم ہے۔ باقی رہی اسلامی یونیورسٹی اور دیگر چند جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم کی بات، تو اس پر کسی اور وقت بات کریں گے، ان شاء اللہ۔
امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن
(امریکہ اسرائیل ایران جنگ، روس یوکرین جنگ، ایٹمی حملوں کا خطرہ، عسکری قوت کا بدلتا عالمی توازن، امریکہ کی داخلی صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات جیسے موضوعات پر ٹکر کارلسن اور پروفیسر جان میئرشائیمر کی گفتگو کا خلاصہ)
پروفیسر جان میئرشائیمر شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے ممتاز پروفیسر ہیں اور بین الاقوامی تعلقات کے متعلق حقیقت پسندانہ نظریہ کے حوالے سے معروف ہیں، جس کے مطابق بڑی طاقتیں سلامتی اور اثر و رسوخ کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسلسل مسابقت کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کتاب ’’دی ٹریجڈی آف گریٹ پاور پالیٹکس‘‘ تصنیف کی، جبکہ اسٹیفن والٹ کے ساتھ مل کر ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی‘‘ بھی لکھی۔ پروفیسر جان میئرشائیمر عالمی تنازعات پر ہونے والی بحثوں میں ایک نمایاں اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ البتہ وہ اسرائیل کے سخت ناقد ہونے کے ناطے سے اسرائیلی لابی کے زیرعتاب بھی رہے ہیں جس میں ان کی بعض اہم تقاریر منسوخ ہوئیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، جبکہ آج کے عالمی حالات کے حوالے سے ماضی میں ان کی طرف سے پیش کیے گئے تجزیے درست ثابت ہو رہے ہیں۔
ایران جنگ میں ظاہر ہونے والی امریکی قوت کی محدودیت
صدر ٹرمپ نے 23 مارچ سے اب تک 38 مرتبہ ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا، لیکن ہر بار یہ غلط ثابت ہوا۔ ایران نے امریکہ پر حملہ کرنے کے بجائے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، جہاں چھ خلیجی ریاستوں کو فوجی اور شہری انفراسٹرکچر دونوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ نے ایران کی فضائیہ اور بحریہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن واحد اہم پیمانہ — آبنائے ہرمز پر کنٹرول — ایران کے پاس ہے، جبکہ جنگ سے پہلے ایران کا یہ کنٹرول نہیں تھا۔ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکام رہی۔ اس جنگ نے امریکی طاقت کی تین اہم حدود کو بے نقاب کیا ہے:
فوجی طاقت کی حد
بڑے دفاعی بجٹ اور جدید ہتھیاروں کے باوجود امریکہ ایک محدود آبی راستہ (اسٹریٹ آف ہرمز) کو مکمل طور پر کھول یا کنٹرول نہیں کر سکا۔
معاشی انحصار کا اثر
اگرچہ امریکہ خود کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل سمجھتا ہے، لیکن عالمی تیل مارکیٹ کی قیمتیں اب بھی امریکی اندرونی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
اخلاقی اثر و رسوخ میں کمی
امریکہ اب پہلے جیسا اخلاقی جواز اور عالمی اعتماد برقرار نہیں رکھ سکا، کیونکہ اس نے بعض کارروائیاں کھلے عام قبول کر لی ہیں جنہیں پہلے پوشیدہ رکھا جاتا تھا۔
ایران کے خلاف اہداف کے حصول میں ناکامی
ایران — جو پہلے ایک پسماندہ، پابندیوں میں گھرا اور تھیوکریٹک ملک تھا — جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور عالمی معیشت میں ایک کھلاڑی بن گیا ہے۔ اب اس کی معیشت بہتر ہو گی کیونکہ پابندیاں ختم ہوں گی اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ خلیج عرب میں امریکی اڈے جزوی تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں کافی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ فلسطینیوں کے لیے کھڑا ہونے کی وجہ سے عرب دنیا میں ایران کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔
امریکہ نے ایران کے حوالے سے چار اہداف رکھے تھے:
- ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا،
- اس کے جوہری پروگرام ختم کرنا،
- حزب اللہ، حوثیوں اور حماس کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا،
- ایران میں حکومت کی تبدیلی،
امریکہ یہ چاروں اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ چنانچہ اس جنگ نے درج ذیل امور ثابت کیے ہیں:
- امریکہ اب وہ واحد عالمی طاقت نہیں رہا جو اپنے فیصلوں کو آسانی سے دنیا پر نافذ کر سکے۔ چونکہ عالمی معیشت باہم انحصار کی بنیاد پر چلتی ہے، نیز توانائی اور اشیاء کی قیمتیں عالمی منڈی طے کرتی ہے، چنانچہ امریکہ اپنی مرضی سے نتائج کنٹرول نہیں کر سکتا۔
- امریکی صدر ملک کے حقیقی فیصلہ ساز نہیں ہیں، جیسا کہ یہ بتایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اس جنگ کا وقت اور جگہ طے کی۔
- امریکہ خودمختار ملک نہیں ہے بلکہ اس کی پالیسیاں مخصوص طبقات طے کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکی عوام ووٹ کے ذریعے کچھ تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ احساس انتہائی خطرناک ہے اور معاشرے میں انتہا پسندی کو جنم دے سکتا ہے۔
یوکرین جنگ اور جوہری ہتھیاروں کا خطرہ
یوکرین، امریکی اور یورپی حمایت کے ساتھ، روس کے اندر گہرائی میں ڈرون اور میزائل حملے کر رہا ہے جو روسی انرجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس میں روسی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ یوکرین کو روس اسے ایک وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جیسے (امریکہ کے لیے) کیوبا میں سوویت میزائل کا معاملہ تھا۔ سیرگی کاراگانوف جیسے روسی دانشور مطالبہ کر رہے ہیں کہ روایتی ہتھیاروں سے مشرقی یورپ پر حملہ کیا جائے اور اگر یہ کام نہ کیا تو محدود جوہری حملے کیے جائیں۔
مغرب کو لگتا ہے کہ روس پر دباؤ بڑھانے سے پیوٹن ہار مان لیں گے، لیکن یہ سوچ خطرناک ہے کیونکہ بڑی طاقتوں کو کونے میں دھکیلنا کبھی دانشمندی نہیں ثابت نہیں ہوئی۔ پیوٹن کو روس کے اندر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ جنگ سختی سے نہیں لڑ رہے۔ وہ ہٹلر کی طرح نہیں ہیں بلکہ ایک اعتدال پسند رہنما ہیں جنہوں نے یوکرین کے شہریوں کو بچانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مغربی میڈیا اسے نظر انداز کرتا ہے۔
جنگ ختم کرنے میں ٹرمپ کی ناکامی
ٹرمپ چین کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے، اور انہوں نے یوکرین جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ تو میں ایک دن میں کر دوں گے، لیکن وہ ناکام رہے۔ اس کی تین اہم وجوہات ہیں:
- سفارت کاری میں نااہلی،
- ڈیپ اسٹیٹ (امریکہ میں سرکاری اثرورسوخ رکھنے والوں) کی مزاحمت، کیونکہ بہت سے لوگ روس کے ساتھ مفاہمت نہیں چاہتے،
- اور ایران جنگ میں اتنی مصروفیت کہ یوکرین پر توجہ نہ دے سکے۔
مارچ و اپریل 2022ء میں یوکرین اور روس مذاکرات کے قریب تھے، لیکن بورس جانسن امریکی حمایت کے ساتھ آئے اور یوکرین کو مذاکرات سے الگ ہونے کو کہا کیونکہ مغرب کو لگا کہ پابندیاں اور یوکرینی فوج روس کو شکست دے سکتی ہے، حالانکہ 2023ء میں یوکرین کا بڑا حملہ ناکام رہا۔
پیوٹن کے بارے میں مغرب کا مغالطہ
مغرب میں ایک طرف کہا جاتا ہے کہ روس بہت کمزور ہے اور ہار رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ روس یورپ کو فتح کرنے والا ہے، حالانکہ دونوں ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس سست رفتاری سے جنگ جیت رہا ہے، لیکن پوری یوکرین کو فتح نہیں کرے گا اور نہ ہی مشرقی یورپ پر حملہ کرے گا کیونکہ نیشنلزم بہت طاقتور ہے۔ امریکہ روس کو بڑی طاقتوں کی صف سے نکالنا چاہتا ہے کیونکہ وہ پیوٹن کو پسند نہیں کرتے، جو یلسن کی طرح جھکا نہیں۔ لیکن روس کو کمزور کرنا انتہائی خطرناک ہو گا کیونکہ ایک بڑے جوہری ملک کو غیر مستحکم کرنا سب کے لیے خطرہ ہے۔
سلطنتوں کے زوال کی تاریخ
سلطنتیں دو بڑی وجوہات کی بنا پر گرتی ہیں:
نیشنلزم
لوگ اندرونی خود مختاری چاہتے ہیں اور اپنے اوپر کسی اور کی حکومت نہیں دیکھنا چاہتے۔
اقتصادی بوجھ
صنعتی انقلاب کے بعد سلطنتیں منافع بخش نہیں رہیں بلکہ ایک بوجھ بن گئیں۔ سوویت یونین نے مشرقی یورپ پر قبضہ کیا لیکن یہ اقتصادی طور پر منافع بخش نہ تھا۔ عوام نے 1953ء میں مشرقی جرمنی، 1956ء میں ہنگری اور 1968ء میں چیکوسلواکیہ میں مزاحمت کی۔ یعنی سلطنتیں آخر کار ٹوٹ جاتی ہیں۔ روسی اس سبق سے واقف ہیں اور وہ یورپ پر حملہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اس سے مزاحمت اور نقصان ہوگا۔
اسرائیل اپنی ہی تباہی کی راہ پر
1948ء سے 1967ء تک اسرائیل انتہائی محتاط تھا کیونکہ امریکہ اس کا اتحادی نہیں تھا اور وہ دشمنوں کے سمندر میں گھرا ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ امریکی حمایت اور اسرائیل لابی کی وجہ سے اسرائیل ایک بہت بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس طاقت کے ساتھ اس میں حد کے اندر رہنے کا احساس ختم ہو گیا۔ آج اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، یعنی ایک ایسی قوم نسل کشی کر رہی ہے جو خود کبھی نسل کشی کا شکار تھی۔ اور اسرائیل لبنان میں شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، مسیحی دیہات تباہ کر رہا ہے اور بیروت پر بمباری کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اس سب کی حمایت کر رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے بہترین بات یہ ہوتی کہ امریکہ اسے سختی سے روکتا، لیکن اسرائیل لابی اس کی اجازت نہیں دیتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری
ٹرمپ شدید معاشی دباؤ میں ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہے اور امریکہ کے وسطی انتخابات قریب ہیں، اگر معیشت تباہ ہوئی تو ڈیموکریٹس کے پاس کنٹرول چلا جائے گا۔ اس لیے ٹرمپ کو معاہدہ چاہیے لیکن معاملہ اب ایران کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرنا چاہتے جو ایران کو فاتح بنائے، تاہم اسرائیل امریکہ پر مکمل انحصار کرتا ہے اور امریکی امداد کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس حوالے سے نیتن یاہو کو اندر سے بھی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ اپوزیشن انہیں کمزور کہہ رہی ہے۔ چنانچہ ٹرمپ کو اسرائیل کے ساتھ سخت کھیل کھیلنا پڑے گا، چاہے یہ کتنا بھی ناممکن لگے۔ ٹرمپ کے پاس دو آپشنز ہیں:
- یا تو اسرائیل کی امداد بند کر دیں، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
- یا معاشی تباہی کا سامنا کریں۔
امریکہ کے لیے اہم سبق
- 2022ء سے 2024ء تک ڈرون اہم نہیں تھے اور توپ خانہ سب سے اہم تھا، لیکن ڈرون 2024ء کے بعد میدانِ جنگ کا بادشاہ بن گیا ہے۔ جبکہ امریکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے اور اپنی اس کمزوری پر قابو پانے کی کوشش میں ہے، کیونکہ طیارہ بردار جنگی جہازوں کی افادیت پر ڈڑونز نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
- جنرل سلیمانی کو جیسے قتل کیا گیا، اس طرح دھوکے سے مخالفین کو جال میں پھنسانا، یہ وہ رویہ ہے جس پر امریکہ پہلے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتا تھا لیکن اب خود ایسا کر رہا ہے، اور ایسے رویے کا نتیجہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
- بہت سے امریکی اپنے آبائی ممالک کی لابی کرتے ہیں — کیوبا، یوکرین، اسرائیل — جو کہ دوہری شہریت کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ امریکہ آتے ہیں تو امریکی بنیں، صرف امریکی، اپنی اصلی شہریت ترک کریں، اور غیر ملکی مفادات کی لابی کرنا غلط ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ ملک کون سا ہے۔ (مثال کے طور پر) اٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر جیفری گولڈ برگ نے اسرائیلی جیل کیمپ میں بطور گارڈ رضاکارانہ خدمات انجام دیں — امریکی فوج میں نہیں بلکہ اسرائیلی فوج میں — اور اس کے باوجود وہ امریکی خارجہ پالیسی پر بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
دنیا تاریخی موڑ پر
دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں:
- امریکہ اور اسرائیل کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے۔
- فوجی، اقتصادی اور اخلاقی طور پر امریکی طاقت محدود ثابت ہوئی ہے۔
- امریکی خودمختاری ختم ہو رہی ہے اور حقیقی فیصلے غیر ملکی رہنما کر رہے ہیں۔
- اسرائیل حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے خود اپنی تباہی کی راہ پر ہے۔
- روس اور ایران دونوں جنگ کے باوجود مضبوط ہو رہے ہیں۔
- یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا خطرہ حقیقی ہے۔
- پولینڈ اور جرمنی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں جس سے یورپ میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔
پروفیسر میئرشائیمر کہتے ہیں کہ وہ صبح اٹھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں کہ انہیں اخبارات اور ویب سائٹس پڑھ کر بری خبروں سے واسطہ پڑے گا، لیکن یہ ایک دلچسپ دنیا ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ایک بہت دلچسپ کام ہے۔ ان کے مطابق مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بڑے خطرات موجود ہیں اور امریکہ ان جنگوں سے کمزور ہو کر نکلے گا جبکہ اس کے مخالفین مضبوط ہوں گے۔
https://youtu.be/TQvZaBQuT80
مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر
فرض کریں کہ ایران کو شکست ہو جاتی ہے تو اس کے بعد کیا یہ ’’کلیش آف سویلائزیشن‘‘، یہ تہذیبوں کا تصادم جو ہے، یہ ختم ہو جائے گا؟ کیا دنیا بھر میں مسلمان ختم ہو جائیں گے؟ ایسا تو بالکل ہو ہی نہیں سکتا، ایک مسلمان ملک شکست کھا سکتا ہے لیکن مسلمان تو ختم نہیں ہو سکتے۔ آخرکار ہوگا کیا؟ اب اس کے لیے میں آپ کو ایک بڑی دلچسپ بات بتانے جا رہا ہوں کہ اَلٹیمیٹلی، اینڈ گیم کیا ہے؟
اینڈ گیم یہ ہے کہ مسلمانوں کا تیا پانچا کرنے کے بعد، اگر یہ کامیاب ہو جاتے ہیں سازش میں، ایران کے بعد یہ باری باری باقی مسلمان ممالک کی طرف بھی آئیں گے، تو اس کے بعد اینڈ گیم کیا ہوگی، کہ پھر یہ جو نیتن یاہو جیسے صیہونی ہیں، اس کے بعد یہ امریکہ اور یورپ کو سبق سکھانے کا ایجنڈا لے کے سامنے آئیں گے۔ اور یہ بات میں کوئی ایسے نہیں کر رہا، میرے پاس بہت سے دستاویزی ثبوت ہیں، لیکن آج میں آپ کو جو ڈاکومنٹری ایویڈنس دکھانے جا رہا ہوں، وہ یہ کتاب ہے۔ یہ کتاب آپ دیکھ رہے ہیں، اس کتاب کا نام ہے
How the West Became Antisemitic?
’’اینٹی سیمیٹِک‘‘ کا مطلب ہے، جو یہودیوں کا مخالف ہوتا ہے۔ تو یہ کتاب لکھی ہے ایوان جی مارکوس نے، یہ ایک امریکن یونیورسٹی میں استاد ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ مغرب جو ہے یہ یہودیوں کا مخالف کیسے بنا؟ اس کی پوری انہوں نے ہسٹری لکھی ہے۔ اب اس کتاب میں انہوں نے اپنی ریسرچ کے ذریعے جو ہسٹری لکھی ہے کہ یہ جو یہودی انتہا پسند ہیں یا زائنسٹ (صیہونی) ہیں، یہ کرسچیئنٹی کے کتنے خلاف ہیں۔ مسیحیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ کتنی نفرت کرتے ہیں۔ یہ جو باتیں اس کتاب میں لکھی گئی ہیں میں وہ دوہرا نہیں سکتا۔ میرے سامنے ہیں یہ چیزیں۔ یہ جتنی توہین مسلمانوں کی یا قرآن پاک کی یا نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کرتے ہیں، یہ اتنی ہی توہین کرسچیئنٹی کی بھی کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی کرتے ہیں۔ یہودی انتہا پسند، جن کو میں صیہونی کہتا ہوں۔ میں تمام یہودیوں کی بات نہیں کر رہا۔
تو اس کتاب میں انہوں نے بتایا ہے جی کہ بہت سے جو یورپی ممالک ہیں، ان میں جو یہودیوں سے نفرت کی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی جو ہیں، ماضی میں بہت توہین آمیز رویہ اختیار کرتے رہے ہیں کرسچیئنٹی کے بارے میں اور کراس (صلیب) کے بارے میں، اس کی یہ توہین کرتے رہے ہیں۔ اس کی پوری انہوں نے ہسٹری دی ہے اور اس کتاب میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ بالآخر، یہ جو رویہ ہے کچھ یہودی انتہاپسندوں کا، جو ابھی بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتا ہے، یہ اگر تبدیل نہ ہوا تو پھر یورپ میں جو یہودی ہیں ان کی موجودگی بہت سی مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔
تو یہ اگر کلیش آف سولائزیشن جاری رہا تو آخر میں یہ جو زائنسٹ ہیں یا صیہونی ہیں، جن کا اس وقت سب سے بڑا لیڈر نیتن یاہو ہے، اس کا پھر اگلا حملہ کرسچیئنٹی پہ ہو گا۔ اسلام اور مسلمانوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ کرسچیئنٹی پہ حملہ کریں گے۔ اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، یہ امریکہ کے ایک سکالر کی لکھی ہوئی کتاب ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے۔
https://www.fb.com/share/v/1F3x87h84L
ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ
کچھ عرصہ پہلے مشرق وسطیٰ کو ہلا دینے والا ایک بیان سامنے آیا:
’’ہم کسی بھی وقت اسرائیل میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘‘
یہ بیان ترکیہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جو کبھی اسرائیل کا قریبی اتحادی تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا تبدیلی آئی ہے؟ اور اس سے بھی اہم بات، کیا یہ محض سیاسی ڈرامہ ہے یا کسی حقیقی تنازع کا آغاز؟ کیونکہ اگر ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے آ گئے تو یہ معاملہ علاقائی حدود میں نہیں رہے گا، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔
باہمی تعاون کے عروج کا دور (1949ء-1990ء)
ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی کہانی تنازع سے نہیں بلکہ تعاون سے شروع ہوتی ہے۔ 1949ء میں ترکیہ پہلا مسلم اکثریتی ملک بنا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ اس وقت یہ ایک جرأت مندانہ قدم تھا، کیونکہ بیشتر عرب ممالک اسرائیل کو مکمل طور پر مسترد کر رہے تھے۔
1990ء کی دہائی تک ترکیہ اور اسرائیل عسکری طور پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ انٹیلیجنس کا تبادلہ جاری تھا، مشترکہ فضائی مشقیں ہو رہی تھیں، اسرائیل اعلیٰ درجے کا دفاعی نظام ترکیہ کو فراہم کر رہا تھا اور اس کے جنگی طیاروں کو جدید بنا رہا تھا۔
اسرائیل کو ایک مخالف علاقے میں اسٹریٹجک پارٹنر کی ضرورت تھی، اور ترکیہ اس کے لیے بہترین انتخاب تھا۔ یہاں کلاسیکی جغرافیائی سیاسی منطق کام کر رہی تھی: ’’میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے۔‘‘ اس وقت عرب ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات کشیدہ تھے، جبکہ اسرائیل تنہا تھا، چنانچہ دونوں نے اتحاد قائم کر لیا۔
ایک بہت ہی اہم بات یہ کہ ترکیہ نیٹو کا رکن تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں تھا بلکہ اسے مغرب کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔
تعلقات کے خاتمے کا دور (2008ء-2010ء)
2008ء میں اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہوئے۔ عالمی سطح پر تنقید بڑھنے لگی جبکہ ترکیہ کی طرف سے ایک منفرد ردعمل سامنے آیا — یہ ردعمل سفارتی نہیں بلکہ جذباتی اور سیاسی تھا۔
2009ء میں ورلڈ اکنامک فورم کے اسٹیج پر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی قیادت کا سامنا کرتے ہوئے کہا: ’’آپ کو قتل کرنا بخوبی آتا ہے‘‘ اور پھر وہ اسٹیج اٹھ کر چلے گئے۔ اس لمحے نے اردگان کی شخصیت کو راتوں رات ایک علاقائی رہنما سے پوری مسلم دنیا کے ہیرو میں تبدیل کر دیا۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ یہاں سے ترکیہ کی شناخت ایک سیکولر مغرب کے حمایتی ملک سے مسلم دنیا کے رہنما کے طور پر ابھرنے لگی۔
2010ء میں ترکیہ کی طرف سے ایک انسانی امدادی قافلہ غزہ کی طرف روانہ ہوا جس میں خوراک، ادویات اور امدادی سامان تھا۔ اسرائیل نے بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی تھی اور اس نے بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کے جہازوں کو روک لیا۔ اس موقع پر اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں نو ترک شہری ہلاک ہوئے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک اہم موڑ تھا۔ ردعمل کے طور پر ترکیہ نے اسرائیل کے سفیر کو نکال دیا، عسکری تعلقات منقطع ہو گئے اور اعتماد کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔
2016ء میں امریکہ کے دباؤ پر دونوں فریقوں نے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے معاوضہ ادا کیا اور سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ لیکن یہ دوستی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ایڈجسٹمنٹ ثابت ہوئی کیونکہ بظاہر مفاہمت ہونے کے باوجود اندرون خانہ دشمنی بڑھ رہی تھی۔
شام — اصل میدانِ جنگ (2011ء-2024ء)
13 سال کی جنگ اور ساڑھے چھ لاکھ سے زائد اموات کے بعد شام 2024ء میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہوا اور اچانک ترکیہ کی حمایت یافتہ قوتوں نے شام کے اندر اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ ترکیہ کے لیے یہ برسوں کی محنت کا جغرافیائی سیاسی نتیجہ تھا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ترکیہ کے لیے شام ایک مسئلہ بنا رہا۔ لاکھوں شامی پناہ گزین ترکیہ میں داخل ہوئے، سرحد کے قریب کرد گروہ مضبوط ہوئے، اور ایران اور روس جیسے حریف اثر و رسوخ حاصل کرتے چلے گئے۔ لیکن اب صورتحال الٹ گئی ہے کیونکہ اب ترکیہ خود شام کی تشکیلِ نو کر رہا ہے۔
اسرائیل کے لیے یہ خوش کن خبر نہیں ہے۔ پہلے اسد کے تحت شام ایران کا حلیف تھا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے، لیکن کم از کم وہ صورتحال قابلِ فہم تھی۔ اب ترکیہ کی حمایت یافتہ ایک نئی حکومت، جس کے اسلام پسند گروہوں سے تعلقات ہیں، اسرائیل کی سرحدوں کے قریب بیٹھی ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ جبکہ جغرافیائی سیاست میں غیر یقینی صورتحال دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد اسرائیل نے شام بھر میں فضائی حملے کر کے نہ صرف اس کے فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا بلکہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب ایک بفر زون بھی قائم کیا تاکہ مستقبل کی کسی ممکنہ صورتحال کو ابھی سے کنٹرول کیا جا سکے۔
اب ترکیہ ایک مضبوط اور متحد شام چاہتا ہے۔ کرد خودمختاری ترکیہ کی سب سے بڑی تشویش ہے۔ اگر شام میں کرد علاقے خودمختار ہو گئے تو یہ خود ترکیہ کے اندر علیحدگی پسندی کی تحریک پیدا کر سکتا ہے۔
جبکہ اسرائیل ایک منقسم اور کمزور شام چاہتا ہے۔ منقسم شام کا مطلب ہے کوئی ایک مضبوط دشمن نہ ہو بلکہ متعدد چھوٹے گروہ ہوں جن کے درمیان اثر و رسوخ بڑھانے کی زیادہ گنجائش ہو۔
دونوں ممالک متضاد نتائج چاہتے ہیں۔ ترکیہ اتحاد چاہتا ہے، اسرائیل انتشار چاہتا ہے، جبکہ شام بیچ میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ اب محض خانہ جنگی نہیں بلکہ دو علاقائی طاقتوں کا ایک پراکسی میدان جنگ ہے جو خاموشی سے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے۔
طاقت کی چار جہتی کشیدگی
فلسطین کا نعرہ
ترکیہ مسلم دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا تھا، سعودی عرب ہر طرف سے محتاط تھا، جبکہ ایران مختلف تنازعات میں مصروف تھا، اس صورتحال میں ترکیہ نے آگے بڑھ کر فلسطین کا نعرہ لگایا۔
نیٹو کی رکنیت
ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، جو اسے ایک خاص سیاسی وزن دیتا ہے۔ اگر معاملات بگڑتے ہیں تو مغرب آسانی سے ترکیہ کو الگ تھلگ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے جس کی بہت زیادہ جغرافیائی اہمیت ہے۔
توانائی کی جنگ
اسرائیل نے بحیرہ روم میں بڑے گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں، جبکہ ترکیہ یورپ کو پائپ لائنوں کے ذریعے توانائی فراہم کرنے کا پل بننا چاہتا ہے۔ اب دونوں ممالک ایک ہی مارکیٹ اور ایک ہی ہدف کے ساتھ براہ راست مسابقت میں ہیں۔
فوجی تیاری
گزشتہ دہائی کے دوران ترکیہ نے اپنی دفاعی صنعت کو زبردست وسعت دی ہے، ڈرونز سے لے کر بحری طاقت تک، اس کا مغرب پر اب پہلے جیسا انحصار نہیں ہے۔ دوسری طرف اسرائیل دنیا کی جدید ترین فوجی قوتوں میں سے ایک ہے، جس میں آئرن ڈوم جیسے میزائل دفاعی نظام اور انتہائی جدید انٹیلیجنس نیٹ ورک شامل ہیں۔ اب تصور کریں کہ دو تکنیکی طور پر جدید قوتیں ایک ہی خطے میں سرگرمِ عمل ہیں، ایسی قوتیں جو پراعتماد بھی ہیں اور جارحانہ بھی، اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
یہ معاملہ صرف ترکیہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کا نہیں ہے، بلکہ توانائی کے کنٹرول، مسلم دنیا کی قیادت، جغرافیائی اثر و رسوخ، اور عالمی اتحاد کا بھی ہے۔ ترکیہ زمین کے سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک کو کنٹرول کرتا ہے، جو بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتا ہے۔ اگر ترکیہ اپنا رخ بدلتا ہے تو طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ جغرافیائی سیاست میں کوئی مستقل دوست نہیں ہوتا، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ اور موجودہ صورتحال اس لیے خطرناک ہے کیونکہ دو تکنیکی طور پر جدید، پراعتماد، اور جارحانہ قوتیں ایک ہی خطے میں سرگرم عمل ہیں، جہاں کوئی واضح حدیں نہیں ہیں۔
ایک چھوٹی سی حرکت، ایک جھڑپ، یا ایک غلط اشارے سے کشمکش کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے — جو اتحادیوں کو کھینچ لائے، کشیدگی بڑھا دے، اور پورے خطے کو ایک بڑی صورتحال کی طرف لے جائے۔
https://youtu.be/oTyfN30f2gs
بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
حالیہ انتخابی ’’کامیابی’’ سے بی جے پی کا ایجنڈا بظاہر ایک قدم اور آگے بڑھا ہے۔ اگر کامیابی کے گزشتہ مراحل کو سامنے رکھ لیا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
- قومی سیاست میں کانگریس کو حاشیائی کردار پر لے آنا
- سیاسی طاقت کو مرکز میں مجتمع کر لینا
- ریاستی اداروں کو ہندو نیشنلزم کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ بنا لینا
- مسلم شناخت کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور پر عدم تحفظ کا واضح احساس دلانا، اور اب
- علاقائی سیاسی قوتوں کو ریاستی طاقت کے استعمال سے میدان سیاست میں مزید کمزور کر دینا۔
گویا طاقت کے ارتکاز کا ایجنڈا اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور سیاسی طاقت کو جہاں سے بھی کوئی چیلنج آ سکتا تھا، اس کو بڑی حد تک دور کر لیا گیا ہے۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے بعد کسی بھی بیانیے کی قوت کا اصل امتحان ہوتا ہے، کیونکہ جدید جمہوری سیاست میں طاقت کا ارتکاز بذات خود مقصود نہیں ہوتا، بلکہ کچھ وعدوں اور اہداف کی تکمیل کا ذریعہ ہوتا ہے۔ طاقت کے ارتکاز کی صورت حال میں ان وعدوں کی تکمیل میں ناکامی ایک چیلنج پیدا کرتی ہے اور بیانیے کی کمزوریاں ایکسپوز ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ بی جے پی کا بیانیہ بھی اس مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بھارتی سماج کا سب سے بڑا اور پرانا تہذیبی مسئلہ عدم مساوات اور ذات پات کا نظام ہے۔ اس کو جڑ سے ختم کرنے کی کوئی تہذیبی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی اور سیاسی و اقتصادی طاقت کے ڈھانچے میں یہ مسلسل خود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بی جے پی نے یقیناً پس ماندہ ہندو طبقوں کے لیے سہولیات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں اس طرح کی مساعی عدم مساوات اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے بجائے مزید نمایاں کرنے کا موجب بن جاتی ہیں۔ زیادہ بعید نہیں کہ جیسے پون صدی پہلے سماجی جدیدیت کے وعدوں کے خلاف ہندو سماج کی مزاحمت نے ڈاکٹر امبیدکر جیسے لوگوں کو پیدا کیا تھا، اسی طرح ترقی اور خوشحالی وغیرہ کے معاشی وعدوں کے خلاف گہری طبقاتی مزاحمت مزید ایسے کسی ردعمل کے ظہور کا موجب بن جائے۔
بی جے پی اپنے، طاقت کے ارتکاز کے ایجنڈے کی وجہ سے دیگر سیاسی قوتوں کو اپنا مشترک حریف بنانے کا راستہ تو پہلے ہی لے چکی ہے اور انتخابی نظام کی maneuvering نے اس مخاصمت کو زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ معاشی بہتری اور سماجی انصاف کی فراہمی کے وعدے جب زمینی چیلنجز سے نبردآزما ہوں گے تو ہندوستانی سماج کی بنیادی مشکلات اور بی جے پی کے بیانیے کی عملی محدودیتیں مزید ابھر کر سامنے آئیں گی۔ افراتفری، انتشار، کشمکش، تشدد اور تصادم اس سارے عمل کا لازمی حصہ ہے۔ مسلمان تو بے چارے اس ساری کشمکش میں پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے، لیکن ہندو تہذیب اور ہندو سماج بظاہر ایک بڑے تحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔
والعلم عند اللہ
Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi
Turkey was once the sword-arm of the Islamic world, and the Turkish nation, as the center of the Ottoman Caliphate, led the Muslim world for nearly five hundred years. Istanbul was the capital of the Ottoman Caliphate, and its flag flew over most of the Middle East, including the sacred Hijaz. However, after suffering repeated defeats at the hands of the Turks during the Crusades, European nations laid intricate plots to uproot the Ottoman Caliphate itself. Ultimately, by pitting Arab nationalism against Turkish nationalism, European powers succeeded in rolling up the proverbial carpet of the Ottoman Caliphate in 1924:
- Arab countries, in the name of Arab nationalism, chose the path of rebellion to liberate themselves from Turkish "subjugation."
- Turkish nationalists, under the leadership of Atatürk Mustafa Kemal Pasha, cast off the "yoke" of the Caliphate and laid the foundations for a secular Republic of Turkey.
It was also deemed necessary to rid themselves of the Caliphate's influences and symbols: the Arabic language was banned. The recitation of the Holy Quran, the Adhan (call to prayer), and the performance of Salat (prayer) in Arabic were prohibited. Most mosques were closed. The burqa was outlawed. Religious seminaries (madrasas) and Sufi lodges (khanqahs) were shut down. Every possible effort was made to forcibly strip Turkey of all religious symbols and align it with the ranks of secular Europe, although this campaign could not be sustained for long.
Arab Nationalism
The rise of Arab nationalism was conceived as an idea of Arab freedom, a reaction against centuries of Ottoman Turkish rule. Just as those who paved the way for the end of the Caliphate taught the Turks that they were Europeans and a superior nation, and therefore their connection with the Arabs could hinder their bright future, similarly, during that era, Arabs were taught that they were Arabs, and being ruled by non-Arabs (Ajamis) was against Arab supremacy—hence, they should liberate themselves from the Ottoman Caliphate as soon as possible. This "Arab nationalism" had various facets and dimensions:
- One dimension was religious, manifested in the rebellion of Sharif of Mecca, Syed Hussain Hashemi, against the Ottoman Caliphate. The reason cited was that the Turks were non-Arabs (Ajamis) and oppressors, thus they had no right to the Caliphate. A condition for the Caliph of Islam was to be a Qurayshi, and a non-Qurayshi could not be Caliph. Therefore, Sharif Hussain, who was Qurayshi and Hashemite, rebelled against the Turks based on the British colonial promise that he would be recognized as the Caliph of the Arab world. However, when the rebellion succeeded and the Turks were expelled from the Arab lands, the sons of the Sharif of Mecca were given the rule of Iraq and Jordan, while the rule of the House of Saud was acknowledged over the land of Hijaz. Meanwhile, one of the Sharif's sons was made the ruler of Iraq, who, being a Hashemite, laid the foundation of a separate kingdom in Iraq.
- However, the second aspect of Arab nationalism, based on secularism rather than religion, overthrew this through revolution. General Abdul Karim Qasim and the Ba'ath Party led this wing of Arab nationalism, and Saddam Hussein's rise to power was also rooted in this context.
- There was also a third facet of Arab nationalism, distinct from both Saudi Arabia's religious Arab nationalism and the Ba'ath Party's secular Arab nationalism. Its leadership was in the hands of Egypt's Jamal Abdel Nasser, who was neither inclined to implement Sharia law in the country like Saudi Arabia, nor did he deny religion like the Ba'ath Party.
After the fall of the Ottoman Caliphate, Arab nationalism continued to advance on these three fronts, often clashing with one another. During the Cold War, they were divided between the American and Russian camps, leading to divisions and revolutions in many Arab countries based on this ideology. Despite all these conflicts, Arab nationalism remained a common thread among them, and they still make collective decisions on the forum of the "Arab League." This is precisely why, when the possibilities of Iranian influence and penetration in the Arab world became evident after the success of the religious revolution in Iran, Saddam Hussein fought an eight-year-long continuous war with Iran to block its path. He had American backing in this war because it served America's future agenda. However, the entire Arab world supported Saddam Hussein in this war, and the underlying force was this same Arab nationalism, which deemed this war necessary to curb the influence of a non-Arab (Ajami) power in the Arab world.
The Israel Factor
After the fall of the Ottoman Caliphate, Britain first occupied Palestine itself, installing its Governor-General, and then paved the way for the establishment of Israel before departing. The first alteration to the geographical borders of the Middle East occurred when the Ottoman Caliphate was dismantled and Arabs were "liberated" from the domination of the non-Arab Caliphate. Besides granting several Arab regions the status of independent states, new states like Saudi Arabia, Jordan, and Israel were also established. The real purpose of this division at that time was to establish governments favorable to them in the region and to pave the way for the establishment of a Jewish state in Palestine.
"Greater Israel" is the long-cherished dream of Jewish Zionists, for which Palestine was partitioned to facilitate the creation of Israel. The West has armed and strengthened it to such an extent that it now disregards all concerns in fulfilling its ambitions and agendas, moving forward while trampling all moral and legal boundaries. The map of Greater Israel has emerged, which includes the entirety of Iraq, half of Saudi Arabia including Medina, and many other Arab countries, making it the paramount power in the region, under whose subjugation Arabs and Muslims would have to live.
The Cold War Era
The prescription of Arab nationalism or regional nationalisms was used very deftly and cleverly by Western intellectuals and rulers to dismantle the Ottoman Caliphate. They succeeded in sabotaging the political center of the Islamic world, the Ottoman Caliphate, by encouraging Arabs to seek freedom from the rule of the non-Arab Turks. And when they succeeded in achieving this freedom by fragmenting the Caliphate, they entangled them in the web of Egyptian, Syrian, Jordanian, Iraqi, Palestinian, and other regional nationalisms. In reaction, a segment of Arab intellectuals adopted the principle of "like-for-like treatment," seeking to use the very Arab nationalism and regional nationalisms that had paved the way for Western intervention and dominance against the Ottoman Caliphate, as a weapon against Western supremacy. This was the strategy of Jamal Abdel Nasser, Ahmed Ben Bella, Ibrahim Abboud, Abdul Karim Qasim, Muammar Gaddafi, Nureddin al-Atassi, and many other Arab leaders. They attempted to use Arab nationalism—which had become a tool for Western dominance and intervention—as a weapon for liberation from the West.
Since the Soviet Union had emerged as a rival to the United States, it supported this slogan of Arab nationalism, thereby expanding its sphere of influence. However, the devastating defeat of the Arabs at the hands of Israel in 1967 completely changed the landscape. Even the nationalist Arab leaders had to prostrate themselves at America's doorstep to save their politics and power. Saddam Hussein fundamentally belonged to this camp; he was a proponent of Arab nationalism and later Iraqi nationalism. He worked tirelessly for the Ba'ath Party, founded on this ideology, and ascended to power. The Ba'ath Party once enjoyed the political and moral support of the Soviet Union, but falling behind in the race for competition, Saddam Hussein, like other Arab nationalist leaders, had to enter the fold of American friendship. There was a time when Saddam Hussein was counted among America's friends in the region; he received full American backing in the war against Iran and was considered one of America's best allies. But when Saddam Hussein was no longer needed, or in other words, when America had to choose between Israel and Iraq, the scene in the Arab Gulf changed once again.
The Impact on the Muslim Word
The condition of our Arab kings is that they are still under the illusion that America is their "friend" as much as Israel's, and that for the sake of one friend, it will not harm the other without some consideration. Therefore, for their protection and survival, the Arab monarchies have no apparent support other than America's mercy. Nor have they made any alternative arrangements during the past half-century, or at least bothered to think about one. For their protection and defense, they are left with essentially the umbrella of "Arab nationalism," where they gather under the name of the Arab League and feel happy that they are all united. However, the weapon of Arab nationalism is also a double-edged sword, capable of striking both ways:
- This very Arab nationalism dismembered the Ottoman Caliphate.
- Wielding this sword of Arab nationalism, Egypt's late President Jamal Abdel Nasser stood against American and Israeli ambitions in the Middle East.
- This same Arab nationalism is the slogan of President Saddam Hussein and his Ba'ath Party.
- And it was by raising the banner of this very Arab nationalism that the Arab League gave America clearance to attack Afghanistan, effectively saying, "Say nothing to the Arabs, whatever else you do, we are with you."
Muslim rulers are preoccupied with their own duties, the religious scholars (Ulama) have no time beyond their traditional tasks, and a large number of intellectuals and thinkers are consumed by concerns for their own futures rather than that of the Ummah. In these circumstances, who will guide the Ummah and who will have the courage to step forward to show the nation the right path? It is the duty of the learned to maintain courage and awareness and to use intellect and wisdom to pull the Muslim Ummah out of this terrible confusion and quagmire. But as is evident, the intellectuals themselves have fallen prey to subjugation, their senses have erred, and their courage has failed. Then who can devise a strategy to save a person venturing empty-handed into a jungle from wild beasts?
Despite all reservations, we are ready to raise the slogan of "Long Live Arab Nationalism," because in defense and protection, any weapon that proves useful should be adopted. However, we must respectfully submit to the Arab kings that true Arab nationalism consists of those Arab peoples and Muslims who are ready to become an insurmountable wall against American and Israeli ambitions, provided they are given the opportunity to organize and defend themselves. We are confident that if today Arab public opinion is given the chance to organize in the right direction, and if Arab rulers choose the path of respecting their people's sentiments instead of suppressing them, then America and its allies will not dare to cast an eye on any Arab country.
May Allah Almighty have mercy on our condition, Ameen.
پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیاں
پاکستان شریعت کونسل
حضرت مولانا محمد ادریسؒ کی شہادت پر تعزیت
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے یکم جون ۲۰۲۶ء کو مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا مفتی نعمان احمد اور پروفیسر حافظ منیر احمد کے ہمراہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت اور حضرت مولانا مفتی سیف اللہ کی وفات پر ان کے اہل خاندان اور دارالعلوم کے اساتذہ سے تعزیت کی اور سرکردہ علماء کرام کی دینی و علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو دینی و علمی حلقوں کے لئے گہرے صدمے کا باعث قرار دیا۔ اس موقع پر مولانا انور مسرور، مولانا عرفان الحق حقانی، مولانا اسامہ سمیع حقانی، مولانا خزیمہ سمیع اور دیگر حضرات موجود تھے۔ شرکاء اجلاس نے مرحوم علماء کرام کے لئے دعا کی کہ اللہ رب العزت انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یارب العالمین۔
شیخ القرآن مولانا اشرف علیؒ کی وفات پر تعزیت
مولانا محمد سعد سعدی — رابطہ سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی صاحب دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی تشریف لائے۔ جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ حضرت نے دوران ملاقات حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور قاضی احسان صاحب رحمہا اللہ سے اپنے دیرینہ مراسم و تعلقات اور ہر تحریک میں یکجا ہونے کے واقعات سنائے، اور مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی دہائیوں پر محیط خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ جس تحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ مولانا نے ادارے کو چلایا اور اس کو اپنے مقاصد پر قائم رکھا وہ قابل تحسین و تعریف ہے، اور ہمارا باہمی رشتہ اس نوعیت کا رہا کہ مختلف اہم امور میں مشاورت و تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب کی وفات بلاشبہ مرکز تعلیم القرآن کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد کے تمام علماء و تحریکوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے لیکن امید ہے کہ ان کے نائبین اسی سمت چلتے ہوئے اس کمی کو ادارے پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
حضرت امیر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنی طرف سے اور اپنی جماعت کی طرف سے حسب سابق ہر موقع پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی، مفتی محمد نعمان، سردار زاہد منان اور راقم محمد سعد سعدی سمیت دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن خلیل سے ملاقات
مولانا عبد الرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲ جون ۲۰۲۶ءء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی اور انصار الامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراہیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
مذکورہ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔
مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔
انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔
اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
آزادکشمیر کی صورتحال پر اظہارِ رنج و افسوس
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۱۵ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور حکومتی اداروں کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال، تصادم، تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے افہام و تفہیم، مذاکرات اور قومی ذمہ داری کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی، سماجی اور شہری حقوق سے متعلق جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور ان کے حل میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کرے اور تمام متعلقہ حلقوں کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرے۔
قائدین نے کہا کہ عوامی احتجاج ہرگز تصادم اور خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حالیہ واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع اور متعدد افراد کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے حالات میں طاقت کے استعمال، اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کے بجائے تحمل، بردباری اور حکمت کے ساتھ مسئلہ کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی دونوں کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل آزاد کشمیر کے عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حکومت فوری طور پر عوامی مطالبات کا جائزہ لے، قابل عمل اور جائز مطالبات کو تسلیم کرے اور عوامی بے چینی کے خاتمہ کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کا اعلان کرے۔
پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عناصر عوامی حقوق کی تحریک اور احتجاجی سرگرمیوں کی آڑ میں پاکستان مخالف بیانیہ کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور پاکستان کے ساتھ ان کے تاریخی، مذہبی اور نظریاتی تعلقات کے منافی ہیں۔ پاکستان مخالف نعرے بازی اور بیانیہ دشمن قوتوں، بالخصوص بھارت، کے مفادات کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔
قائدین نے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے اور انہیں تحریک سے الگ کرے جو عوامی حقوق کی جائز تحریک کو غلط رخ دے کر پاکستان مخالف مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی حقوق کی تحریک کو قومی مفادات اور کشمیر کاز کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی دشمن قوت کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔
پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے حکومت آزاد کشمیر، وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ حالات کو معمول پر لانے، عوامی اعتماد کی بحالی اور مسائل کے مستقل حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ خطہ مزید کشیدگی اور انتشار سے محفوظ رہ سکے۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی آزاد کشمیر کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن حل کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
محرم الحرام میں قیامِ امن کے ضابطۂ اخلاق پر عملدرآمد کی ضرورت
مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب
پریس ریلیز (۱۵ جون ۲۰۲۶ء) جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا سالانہ مشترکہ مشاورتی اجلاس جمعیت کے صدر پیر قاری محمد ریاض چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر سے ہم مسلک جماعتوں کے قائدین، اور تمام حلقہ جات کے نمائندگان علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔ اجلاس میں جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اجلاس کے شرکاء سے خطاب فرماتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ قیام امن کے لئے لازم ہے کہ ریاستی ادارے تمام مسالک کے اکابرین کا مشترکہ طے کیا ہوا ضابطہ اخلاق عملی اور قانونی طور پر نافذ کریں تاکہ کسی شر پسند کو مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام خلفاء راشدین، ازواج مطہرات اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کسی سطح پر بھی اشارے کنائے میں بھی توہین و تنقیص کی ناپاک جسارت کی جرات نہ ہو۔ اگر کسی بھی مسلک اور مکتبہ فکر سے کوئی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی مسلمان کی نہ کوئی دل آزاری کر سکے اور نہ شہر کے امن کو سبوتاژ کر سکے۔
علامہ زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مسلک دیوبند کی تمام جماعتوں کے قائدین اور جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے تمام حلقہ جات کے نمائندگان قیام امن کے لیے حسبِ سابق امسال بھی ضلعی انتظامیہ، پولیس انتظامیہ، اور تمام اداروں کے معاون ہوں گے، بالخصوص ممبران امن کمیٹی، سفیران امن، حاجی بابر رضوان باجوہ ممبر کور کمیٹی کی قیادت میں محرم الحرام، صفر، ربیع الاول میں حسبِ معمول میدانِ عمل میں رہیں گے اور ضلع بھر میں قیام امن کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اس سلسلے میں شرکاء اجلاس نے امن کمیٹی کے فورم پہ کام کرنے والے ضلعی ممبران حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی ضیاء المحسن، مفتی محمد اسلم طارق، حافظ شہباز رسول اور ممبرانِ امن کمیٹی سٹی ڈویژن گوجرانوالہ مولانا امجد محمود معاویہ، حافظ عبد الجبار اور قاری محمد ریاض چشتی پہ مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہر سطح پر قیامِ امن کی کوششوں میں اپنے مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا نور حسین عارف، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا امجد محمود معاویہ، قاضی مراد اللہ، قاری عبد القیوم اعوان، مولانا عبیداللہ حیدری، سید احمد حسین زید، مولانا عمر حیات، قاری احسان اللہ قاسمی، مولانا عمر شکیل، قاری نعمان بابر، مولانا عبد الماجد، مولانا افضال کھٹانہ، مولانا عمران صدیقی، مفتی نعمان، مولانا ظہور فاروقی مفتی ناصر، رانا ذوالفقار، سعید الرحمن فاروقی، حافظ عبد الغفار اعوان، حافظ محمد یحییٰ، مولانا مجاہد حنیف، اکرام اللہ خان، حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، قاری فضل الرحمان، حفیظ الرحمان شاہ، قاری محبوب اور دیگر علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
گوجرانوالہ میٹرو ٹنل منصوبہ اور تاجروں کے تحفظات
روزنامہ انقلابی دنیا گوجرانوالہ — ۱۵ جون ۲۰۲۶ء
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر) سماجی و مذہبی رہنما (امیر پاکستان شریعت کونسل) ابوعمار زاہد الراشدی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو ارسال کردہ ایک تحریری مراسلے میں گوجرانوالہ میٹرو بس منصوبے خصوصاً مجوزہ ٹنل اور تجارتی مراکز پر اس کے اثرات کے حوالے سے تاجروں کے تحفظات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئی ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عملی اقدامات سے قبل منصوبے کا جامع اور باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹرو بس منصوبہ خالصتاً شہری مفاد کے تناظر میں تشکیل دیا جانا چاہیے اور اب تک کی گئی تبدیلیوں کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ابو عمار زاہد الراشدی نے زور دیا کہ منصوبے سے متاثر ہونے والے تاجروں اور کاروباری حلقوں کے موقف کو سنجیدگی سے سنا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈروز کی مشاورت سے ایسے قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں جو شہری سہولت اور کاروباری مفادات دونوں کے لیے مفید ہوں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مجوزہ شیرانوالہ باغ اور گوندلانوالہ اسٹیشنوں سے شہر کے مرکزی تجارتی مراکز کو خاطر خواہ فائدہ ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق درمیان میں ریلوے اسٹیشن اور حمید بلڈنگ اسٹینڈ کے مقام پر اضافی اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے روزانہ کی بنیاد پر شہر آنے والے تاجروں، کاروباری افراد اور خریداروں کو براہ راست سہولت میسر آ سکے گی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر سست رفتاری اور تقریباً ۳۲ کلومیٹر طویل سڑکوں کی کھدائی کے باعث شہر کے کاروباری مرکز شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں منصوبے کو مختلف مراحل یا چار حصوں میں تقسیم کر کے بیک وقت مکمل کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ متاثرہ علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی جلد بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
ابوعمار زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں کہا کہ تاجروں اور شہری حلقوں نے ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ تاہم جہاں شہریوں اور تاجروں کے جائز تحفظات کا تعلق ہو وہاں ان کی نشاندہی کرنا اور مسائل کے حل کے لیے کوشش کرنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں بلکہ مثبت اور تعمیری تجاویز کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تاجران و علماء کے مشترکہ فورم کی جانب سے معاملات میں رابطہ کاری اور تعاون کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں حاجی بابر رضوان باجوہ، حافظ امجد محمود معاویہ اور مولانا جواد محمود قاسمی شامل ہیں۔ کمیٹی تاجران، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ تاجروں اور شہریوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کا جامع جائزہ لیا جائے اور متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کی جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ عوامی توقعات کے مطابق کامیابی سے مکمل ہو سکے۔
مولانا عبد الرحمٰن یعقوب باواؒ کی وفات پر اظہار رنج و غم
حافظ محمد ابرار — شریک دورہ حدیث
اناللہ واناالیہ راجعون۔ آج ۱۸ جون ۲۰۲۶ء بروز جمعرات جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے سبق کے بعد استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی نے تحریک ختم نبوت کے ممتاز راہنما مولانا عبد الرحمٰن یعقوب باوا آف لندن کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا نیز جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ الحدیث مولانا مفتی فضل الہادی کے والد محترم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اس موقع پر دونوں مرحوم بزرگوں کی مغفرت کی دعا کی گئی۔ اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں آمین یارب العالمین۔
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مذمت
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲۹ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے جیو نیوز پر حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے نشر کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی گستاخی، بے ادبی یا توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد، سرپرست مولانا مفتی رویس خان ایوبی، نائب امیر مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ اور ذوالفقار گل ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ جیو نیوز کی اس نازیبا حرکت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کسی قسم کی گستاخی یا بے ادبی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میڈیا اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے عناصر اور رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جو دینی اقدار، اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے عقائد و جذبات کو مجروح کرنے کا سبب بنیں۔
رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان، پیمرا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے قوم کے جذبات و احساسات کا احترام ناگزیر ہے۔
۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کی ختم نبوت کانفرنس: علماء کا اہم مشاورتی اجلاس
روزنامہ حق سچ کا ترجمان لاہور — ۲۴ جون ۲۰۲۶ء
حافظ آباد (شان علی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع حافظ آباد کے زیر اہتمام ۳ ستمبر بروز جمعرات کچہری روڈ پر منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں اتوار کے روز مرکزی جامع مسجد قدیم حافظ آباد میں ضلع بھر کے علمائے کرام کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں کانفرنس کے انتظامی، تنظیمی اور دعوتی امور پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی (امیر پاکستان شریعت کونسل) نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدارت حضرت مولانا محمد اشرف مجددی (ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ) نے کی۔ اجلاس کا انتظام حضرت مولانا مفتی محمد جمیل (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد) نے کیا جبکہ مولانا عبد الحنان صدیقی، مولانا حافظ نعمان، سعید اعوان، مولانا محمد عارف شامی اور ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں کانفرنس کی کامیابی کے لیے عوامی رابطہ مہم، دعوتی سرگرمیوں، انتظامات، مختلف کمیٹیوں کی ذمہ داریوں اور دیگر امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس ضلع حافظ آباد کی ایک تاریخی اور یادگار دینی اجتماع ثابت ہو گی۔
مولانا سلمان حسینی ندویؒ کی وفات پر صدمے کا اظہار
حافظ احمد فدا — الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ
الشریعہ اکادمی میں آج صبح (۳۰ جون ۲۰۲۶ء) نمازِ فجر کے درسِ حدیث کے دوران استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
بعد ازاں دوستوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کا شمار برصغیر کے سرکردہ علماء کرام میں ہوتا تھا اور ان کی علمی سرگرمیوں کا دائرہ مختلف ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ کچھ عرصہ قبل تک ان کے ساتھ میری بھی سرگرم رفاقت رہی ہے، مگر بعد میں بعض امور میں فکری زاویۂ نگاہ مختلف ہو جانے کے باعث اس میں گرم جوشی نہ رہی۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ میں ان کے لیے تہہِ دل سے دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ان کی سیئات سے درگزر فرمائیں اور حسنات کو قبولیت سے نوازتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل کی توفیق مرحمت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔