الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

قرآن و سنت

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد 
آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)مولانا طلحہ نعمت ندوی 
A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraintمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

کلام و الٰہیات

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی 
خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگیڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 

خدمت و رِفاہ

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہامولانا جمیل اختر جلیلی ندوی 
بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہمولانا محمد طارق نعمان گڑنگی 
اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیتمفتی سید انور شاہ 

دستور و قانون

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)ڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)ڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظرطاہر چودھری 

خبر و نظر

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیتمولانا حافظ اسعد عبید 
مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالباتالخیر میڈیا سیل 
مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائیدپروفیسر حافظ منیر احمد 
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘ادارہ الشریعہ 

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

حضور ﷺ کی خاندانی زندگی

خطبہ نمبر 6: مورخہ 11 دسمبر 2016ء

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ وانذر عشیرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین (صدق اللہ العظیم) (سورۃ الشعراء: 26، آیت: 215،214)
(اور اے پیغمبر ﷺ) آپ اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کریں۔ اور جو مومن آپ کے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دیں۔)

حضرات علماء کرام! محترم بزرگو، دوستو، بھائیو، ساتھیو!

ہماری گفتگو خاندانی نظام کے حوالے سے چل رہی ہے۔ خاندانی نظام میں بھی اور زندگی کے تمام معاملات میں جناب نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم وہیں سے رہنمائی لیتے ہیں اور وہیں سے ہی رہنمائی لینی چاہیے۔ اس لیے ربیع الاول کے دوران ہم نے دو نشستوں کو مخصوص کیا ہے: ایک میں ہم جناب نبی کریم ﷺ کے خاندان کے تعارف اور معاملات پر گفتگو کریں گے، اور دوسری نشست میں جناب خاتم النبیین ﷺ کی گھریلو زندگی پر بات کریں گے، ان شاء اللہ العزیز، رہنمائی کے لیے اور آج کے حالات کے تناظر میں یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں اور کیا صحیح کر رہے ہیں۔ حضور ﷺ کا خاندان کیا تھا اور حضور ﷺ کے اپنے خاندان کے ساتھ معاملات کیا تھے؟ یہ بات سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کے خلاف کشمکش و جدوجہد اور مقابلہ خاندان سے شروع ہوا تھا، مخالفت کا آغاز یہیں سے ہوا۔

حضور ﷺ کی اپنے خاندان سے دعوت کی ابتدا

سب سے پہلے جناب نبی کریم ﷺ کی اعلانیہ دعوت کو کس نے رد کیا تھا؟

تبت یدآ ابی لہب و تب (سورۃ اللہب: 111، آیت: 1)
(ابولہب کے ہاتھ برباد ہوں اور وہ خود برباد ہو چکا ہے۔)

یہ کشمکش کا نقطہ آغاز تھا۔ جناب نبی کریم ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر سفید چادر ہلائی، جو اُس زمانے میں علامت ہوتی تھی کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہو گیا ہے، بڑی اہم خبر (Breaking news) ہے، سب اکٹھے ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعوت دی تو سب سے پہلے کون کھڑا ہوا تھا؟ کس نے اعلانیہ طور پر حضور ﷺ کی دعوت کو رد کیا ہے؟ چچا نے۔ یہاں سے کشمکش کا آغاز ہو رہا ہے۔ اور جب اس کشمکش کا خاتمہ ہوا، اکیس سال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر، Surrender کس نے کیا تھا، شکست کس نے مانی تھی؟ جناب ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے، جو چچا بھی تھے، خسر بھی تھے۔ اکیس سال کی کشمکش تھی۔ ابتدائی بات عرض کر رہا ہوں کہ حضور ﷺ کی جدوجہد کا اور کشمکش کا آغاز چچا سے ہوا اور انتہا بھی چچا پر ہوئی۔

آج بھی ہمارے ہاں محاذ آرائی کا ماحول ہے اور ہم بالکل ابتدا (Zero point) پر کھڑے ہیں۔ اکیس سال میں حضور ﷺ کا اپنے خاندان کے ساتھ اور خاندان کا حضور ﷺ کے ساتھ کیسا رویہ رہا ہے؟ خاندان، خاندان ہی ہوتا ہے، قرآن پاک نے خاندان کی نفی نہیں کی۔

وجعلنٰکم شعوبا وقبائل لتعارفوا (سورۃ الحجرات: 19، آیت: 13)
(اور ہم نے تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔)

یہ خاندان تعارف کا ذریعہ ہیں، امتیاز کا ذریعہ ہیں، تفریق کا ذریعہ نہیں ہیں۔ قرآن پاک نے قبیلہ، برادری، خاندان، قوم، اِن سب کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ قرآن پاک نے بیان کیا کہ یہ خاندان کا سلسلہ تعارف اور امتیاز کے لیے ہے۔

قیصرِ روم اور ابو سفیانؓ کا حضور ﷺ کے بارے میں مکالمہ

یہاں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا جناب نبی کریم ﷺ نے جب قیصرِ روم کو خط لکھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد حضور ﷺ نے اردگرد کے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خط لکھے۔ مصر، حبشہ، کسریٰ جو کہ ایران کا بادشاہ تھا، بحرین کا بادشاہ، اور روم اس وقت کی جو سب سے بڑی سلطنت تھی اس کے بادشاہ کو لکھا۔

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے آپؐ کا گرامی نامہ لے کر گئے قیصرِ روم کے پاس گئے تھے۔ قیصرِ روم نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا اور کسریٰ نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا، اس سے دونوں قوموں کا مزاج پتہ چلتا ہے۔ دونوں بڑی حکومتوں کے سربراہ تھے۔ کسریٰ نے جواب دیا، یہ کون ہوتا ہے مجھے دعوت دینے والا! بحرین کے گورنر کو حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر کے میرے سامنے پیش کرو۔ قیصر نے دعوت کو ٹھکرایا نہیں، ادب کیا، احترام (Protocol) دیا، کیونکہ عالم اور جاہل میں فرق ہوتا ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ کسریٰ کی سلطنت جلد بکھر گئی تھی اور قیصر کی سلطنت کچھ دیر باقی رہی تھی۔

قیصر کو پتہ چلا کہ کوئی صاحب ہیں جو کہتے ہیں کہ میں پیغمبر ہوں اور میرے پاس ان کا خط آیا ہے۔ بین الاقوامی اصول کے مطابق جب کسی ملک کا سربراہ یا نمائندہ آرہا ہو تو پہلے اس کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ جناب ابوسفیان رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے حریف تھے۔ اُحد میں حضور ﷺ کے خلاف جنگ کی قیادت کس نے کی تھی؟ احزاب میں کس نے کی تھی؟ وہ ابوسفیانؓ تھے۔ اور یہ حضور ﷺ کے حریف بھی تھے اور خسر تو پہلے سے چلے آ رہے تھے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مکہ میں مسلمان ہوئی تھیں اور حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، ان کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا تھا اور باپ ابوسفیانؓ مقابلے پر تھے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ خود روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم شام میں تجارت کے لیے گئے۔ یہ زمانہ تھا جب حضور ﷺ کے ساتھ حدیبیہ والے معاہدے کی مدت طے تھی کہ ہم دس سال جنگ نہیں کریں گے۔ اطمینان سے تجارت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ اور بھی ساتھی تھے۔ قیصر کا دربار لگا ہوا ہے۔ قیصر کا دربار پھر قیصر کا دربار ہو گا، یعنی کہ اُس وقت کا وہ باراک اوباما (امریکی صدر) سمجھ لیں۔ اس نے ہم سب کو اپنے سامنے بٹھایا اور کہا کہ تم میں اُن صاحب کا سب سے قریبی رشتے دار کون ہے، جو نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں؟ ابوسفیانؓ آگے بڑھے، کہا کہ جناب میں ہوں۔ ان کو کہا کہ آپ آگے بیٹھ جائیں، باقی ساتھی پیچھے بیٹھیں۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں کہ قیصر نے مجھے آگے بٹھا کر ایسے باندھ دیا کہ میں جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ اگر میری یہ کیفیت نہ ہوتی تو پتہ نہیں میں کیا کہتا۔ قیصر نے پوچھا کہ جو صاحب نبی ہونے کے دعوے دار ہیں، یہ خاندانی اعتبار سے کیسے ہیں؟ حضرت ابوسفیانؓ نے کہا کہ پورا عرب اس خاندان کی عزت کرتا ہے۔ قیصر نے جواب دیا کہ اللہ پاک علاقہ کے سب سے معزز خاندان میں ہی نبی کو بھیجا کرتے ہیں، تاکہ تعارف کے مراحل طے نہ کرنے پڑیں کہ وہ کون ہیں۔ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی للناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)

اس لیے جناب نبی کریم ﷺ نے جب دعوت دی تو سب سے پہلے کیا کہا؟ کیا مجھے جانتے ہو؟ تو آپؐ کی کشمکش کا آغاز ہوا تھا ابولہب سے اور اختتام ہوا جناب ابوسفیانؓ پر۔ حضور ﷺ کے رشتے میں چچا بھی لگتے تھے اور حضور ﷺ کے سسرال بھی تھے۔ حضور ﷺ کے سب سے پہلے سسرال قریش تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اہلیہ محترمہ ہیں۔ حضور ﷺ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ڈبل رشتہ تھا۔ اہلیہ تو تھیں اور آپؐ کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت خدیجہؓ کے بھانجے (ابو العاص رضی اللہ عنہ) سے ہوا، تو یہ ڈبل رشتہ تھا۔ ابو العاص ابن ربیعؓ کی بھی اپنی تاریخ ہے، دوسرے اور تیسرے داماد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور آخری داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، ہر ایک کا اپنا اپنا ایک مقام ہے۔

حضور ﷺ کے داماد ابو العاص رضی اللہ عنہ کا معاملہ

ابوالعاص بن ربیعؓ کی بات آئی ہے تو میں اس حوالے سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ حضور ﷺ کے مقابلہ پر تھے۔ بدر کی جنگ میں قریش کے خاندان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ بدر کے قیدیوں میں حضور ﷺ کے چچا بھی تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ، اور داماد بھی تھے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ فیصلہ ہوا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیں گے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ ان کے خاوند بھی گرفتار ہو کر آئے ہیں اور ان کے پاس فدیے کے پیسے نہیں ہیں، بیوی تو بیوی ہوتی ہے، تو انھوں نے اپنا ہار اتارا اور کسی کو دیا اور کہا کہ یہ کسی بھی طریقے سے اور جتنا جلدی ہو سکے ابوالعاص کو پہنچا دو۔ تو وہ شخص گیا اور قیدیوں میں چپکے سے جا کر حضرت ابوالعاصؓ کو پکڑا دیا اور پیغام دیا کہ آپ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ یہ ہار دے کر اپنی جان چھڑا لو۔

جب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے بطور فدیہ ہار آگے کیا، حضور ﷺ نے ہار دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے، کیونکہ یہ ہار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا جو انہوں نے اپنی بیٹی کو شادی پر دیا تھا۔ حضور ﷺ کو سارا منظر یاد آگیا اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضور ﷺ نے کبھی کسی کی سفارش نہیں کی لیکن اس موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا، دیکھو، یہ خدیجہؓ کا ہار ہے، بیٹی کے پاس ماں کی یادگار ہے، اگر اجازت ہو تو یہ ہار میں واپس کر دوں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ جس میں آپ کی خوشی ہو، اگر آپ خوش ہیں تو واپس کر دیں۔ تو ہار واپس کر دیا کس بات پر؟ کہ یہ ہار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ ابو العاص بن ربیعؓ واپس چلے گئے۔ (مسند احمد، حدیث السیدۃ عائشۃ، حدیث نمبر: 26362)

ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت زینبؓ کو اپنے پاس بلا لیا اور ابوالعاصؓ کو کہا کہ زینبؓ کو واپس بھیج دو، یعنی حضور ﷺ نے حضرت زینبؓ کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ حضور ﷺ ابو العاصؓ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے کہ یہ بڑا وفادار ہے، میں نے جو اسے کہا اس نے وہی کیا۔

حضرت ابوالعاصؓ پھر کسی موقع پر گرفتار ہوئے تو دوبارہ قیدی بن گئے۔ حضرت زینبؓ بھی حضور ﷺ کے گھر آچکی تھیں۔ اُس وقت وہاں مکہ میں تھیں، اب تو بیٹی اپنے والد کے گھر میں تھی۔ نبی اکرم ﷺ کا معمول یہ تھا، جو قیدی آتا تھا اسے فیصلے تک مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا۔ حضرت ابو العاصؓ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا، جب فیصلہ ہو گا دیکھا جائے گا۔ فیصلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ چھوڑ دیں، فیصلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ قتل کر دیں، یا مستقل قیدی بنا لیں۔ فجر کی نماز میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا دروازے پر کھڑی تھیں۔ کہتی ہیں کہ اس قیدی کو میں نے پناہ دے دی۔ یہ قانون تھا کہ کوئی عام سپاہی بھی اگر پناہ دے دیتا تو اس قیدی کو پناہ مل جاتی تھی۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

اجرنا من اجرت۔ [یہ بات آپؐ نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کو بھی فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی تھی۔ صحیح بخاری، باب امان النساء، حدیث نمبر: 3171]
(جس کو آپ نے پناہ دے دی تو ہم نے بھی پناہ دے دی۔)

تو بیوی نے دوسری مرتبہ چھڑوایا اپنے خاوند کو۔ وہ بھی ابو العاصؓ تھے، سیدھے مکے گئے، جا کر کہنے لگے، میں ابو العاص ہوں، گرفتار ہو گیا تھا، میں نے وہاں مسلمانوں کو دیکھا ہے، مجھے سمجھ آگئی ہے کہ مسلمان کیا ہوتے ہیں، میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن اعلان میں نے وہاں نہیں کیا بلکہ اعلان تمہارے سامنے کرنا چاہتا ہوں، کلمہ پڑھنے کا فیصلہ میں نے کر لیا تھا، اعلان میں نے وہاں نہیں کرنا تھا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں قیدی کلمہ پڑھ رہا ہے، یہ میں نہیں کہلوانا چاہتا تھا۔

ایک جرمن لڑکی کے اسلام لانے کا واقعہ

اسی پر ایک دلچسپ واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہمارے نوجوان جب یورپ جاتے ہیں، دو سال چار سال وہاں رہتے ہیں تو واپسی پر کوئی نہ کوئی خاتون لے آتے ہیں۔ ہمارے ایک نوجوان جرمنی گئے، دو چار سال رہے اور واپسی پر ایک لڑکی ساتھ لے آئے۔ میرے پاس آگئے کہ نکاح پڑھاؤ۔ میں نے لڑکی کا مذہب پوچھا، کہنے لگے عیسائی ہے۔ میں نے دو چار سوال کیے۔ لڑکی عیسائی تھی، پکی کیتھولک مذہب کی تھی۔ کہنے لگی کہ میں اہلِ کتاب ہوں میرا نکاح پڑھا دو۔ میں نے کہا بیٹا! کلمہ پڑھ لو، مسلمان کے نکاح میں جو آنا ہے تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ۔ میں ترغیب دیتا رہا، کہنے لگی نہیں، میں کلمہ نہیں پڑھتی۔ نکاح جائز ہے تو پڑھا دو، وگرنہ ’’نہ‘‘ کہہ دو۔ یہ لڑکا مسلمان ہے، میں اہلِ کتاب ہوں۔ اب میں نہ تو نہیں کر سکتا تھا کیونکہ نکاح تو جائز تھا، میں نے نکاح پڑھا دیا۔ ایجاب و قبول ہوا، مٹھائی دعا وغیرہ سارے مراحل سے گزر گئے۔ اب کہتی ہے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ۔ میں نے کہا پہلے پڑھ لیتی۔ کہنے لگی کہ میں کلمہ پڑھنے کا فیصلہ کر کے گھر سے نکلی تھی لیکن میں شادی کے لیے کلمہ نہیں پڑھنا چاہتی تھی، میں کلمے کو کلمہ سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بچی کی سترہ اٹھارہ سال عمر تھی۔ میں نے کہا، بیٹا، اب تم معصوم ہو، جو کلمہ پڑھ لیتا ہے اس کی پچھلی ساری غلطیاں اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اب تم میرے لیے دعا کرو، اللہ تعالیٰ ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے، آمین۔

حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ نے کہا، کلمہ پڑھنے کا فیصلہ میں کر چکا تھا لیکن قیدیوں میں سے کہلوا کر میں کلمہ نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔ اب مکے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں، حرم میں کھڑا ہوں ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ‘‘۔ اور یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ کل صبح ہجرت کر کے جا رہا ہوں، کسی کی ہمت ہے تو روک لو۔ پھر وہ مدینہ تشریف لے آئے۔

جناب ابو طالب اور حضرت عباسؓ کا آپ ﷺ کا ساتھ دینا

تو حضور ﷺ کے خاندان کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ چند جھلکیاں ذکر کروں گا۔ جناب ابوطالب نے کلمہ نہیں پڑھا لیکن نبی کریم ﷺ کی حمایت و دفاع میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور کسی چچا نے اتنا ساتھ نہیں دیا جتنا آپ نے دیا۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ کلمہ پڑھتے نہیں اور حمایت کرتے ہو؟ جناب ابوطالب نے تین سال کا بائیکاٹ برداشت کیا۔ بنو ہاشم کی ناکہ بندی ہو گئی اور تین سال رہی۔ لین دین، خرید و فروخت اور رشتے ناطے سب کچھ بند تھا۔ کہتے تھے کہ میرے والد محترم جناب عبدالمطلب وفات کے وقت اپنے پوتے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گئے تھے، تو جب تک میں ہوں بھتیجے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے گا۔ یہ ہے وفا کا انداز ۔ اور ایک وہ بھی چچا تھا جس نے کہا تھا:

تبا لک سائر الیوم (صحیح بخاری، باب شرار الموتیٰ، حدیث نمبر: 1394)
(تیرے لیے پورا دن ہلاکت ہو۔ یعنی تجھے دائمی بربادی ملے۔)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی دیر سے کلمہ پڑھا تھا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ سناتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا۔ یہ شعب ابی طالب کے تین سالہ محاصرے کا دور تھا۔ خوف کی کیفیت دیکھی۔ انھیں کسی سے پوچھنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا کہ میں بنو غفار کے علاقے سے آیا ہوں اور محمد ﷺ کو ملنا چاہتا ہوں، کوئی مجھے ان کا پتہ بتا دے، میں آپؐ سے ملنا چاہتا ہوں۔ تین دن سے حرمِ مکہ میں بیٹھے ہیں پَر پوچھنے کا موقع نہ ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنے ساتھ لے جاتا ہوں لیکن دیکھنا کہ ہر طرف نگاہیں ہم پر لگی ہیں، ہم محاصرے میں اور نگرانی میں ہیں، راستے میں مجھے کہیں شک پڑ گیا کہ کوئی ہماری نگرانی کر رہا ہے، تو میں جوتے کا تسمہ ٹھیک کرنے کے بہانے بیٹھ جاؤں گا، تم سیدھے نکل جانا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم ایک ساتھ جا رہے ہیں۔

پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ حضور ﷺ نے کلمہ پڑھایا اور ہدایت دی کہ اپنے قبیلہ میں آرام سے چلے جاؤ، یہاں اعلان نہ کرنا، اعلان وہاں جا کر کرنا، چپکے سے عبادت کرتے رہو۔ جب ہمارا یہاں سے نکلنے کا اور کسی جگہ ٹھکانہ پکڑنے کا مرحلہ آگیا تو پھر اس وقت تم ہمارے پاس آجانا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور حرم کے پاس سے گذرے تو فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ سچا کلمہ پڑھا ہے پھر کیوں چھپ کر پھرتا رہوں۔ حرم میں کھڑے ہو گئے اور اعلان کیا میں ابوذر غفاری ہوں (چاشت کا وقت تھا) سارے عرب سردار اکٹھے بیٹھے تھے، ان کے درمیان جا کر اعلان کیا کہ میں نے کلمہ پڑھا ہے ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ و اشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘۔ لوگوں نے پکڑ لیا، بہت مارا، چاروں طرف سے لوگ مار رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ موت مجھے آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی۔ ایک شخص تیزی سے اندر گھسا اور لوگوں کو پیچھے کرنے لگا اور کہا ہٹو! ہٹو! کیا کر رہے ہو؟ خدا کے بندو! کس کو مار رہے ہو؟ پتہ ہے یہ بنو غفار کے آدمی ہیں؟ اور بنو غفار تمھاری تجارت کے راستے میں ہیں، اس کے قبیلے والے تمہارا راستہ بند کر دیں گے، تم گندم کا ایک دانہ بھی خرید نہیں پاؤ گے۔ یہ بچانے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے مجھے چھڑوایا۔ جب رات ہوئی تو مجھے تسلی نہ ہوئی، ایمان نے جوش مارا، پھر صبح کو جا کر میں نے دوبارہ کلمہ پڑھ دیا۔ وہ پھر مارنے لگے۔ حضرت عباسؓ آئے، انھوں نے چھڑوایا اور کہا کہ خدا کے بندو! اگر یہ مر گیا تو تمہارے بزنس کا راستہ بند ہو جائے گا۔ ابوذرؓ تو ابوذرؓ تھے۔ کہتے ہیں کہ پھر میں نے سوچا، دل میں خیال آیا کہ ایک مرتبہ اور اعلان کروں، پھر تیسرا اعلان کیا، لوگ مارنا شروع ہوئے، پھر حضرت عباسؓ نے آکر چھڑوایا۔

چچا ابولہب بھی تھا۔ رشتے میں چچا ابوجہل بھی تھا۔ ابو سفیانؓ بھی تھے۔ اور چچا حضرت عباسؓ بھی ہیں، یہ سب سے نرالے ہیں۔ (صحیح بخاری، باب اسلام ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 3861)

حضور ﷺ کے ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفا

حضور ﷺ زندگی بھر حضرت خدیجہؓ کو نہیں بھولے، فرمایا کرتے تھے کہ مجھ پر دو ہستیوں کے احسانات ہیں، میں ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ مردوں میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عورتوں میں خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ بار بار حضرت خدیجہؓ کو یاد کرتے۔ وہ بہت پہلے فوت ہو چکی تھیں، حضرت عائشہؓ کی شادی بہت بعد میں ہوئی۔ تو فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو کہا کہ کیوں ان بزرگ خاتون کو یاد کرتے رہتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اور خوبصورت بیویاں دی ہیں۔ کوئی بھی موقع آتا ہے، آپ کہتے ہیں کہ خدیجہؓ یوں کرتی تھیں، خدیجہؓ یوں کرتی تھیں۔ حضور ﷺ نے بڑا عجیب جملہ ارشاد فرمایا: ’’عائشہؓ ! خدیجہؓ، خدیجہؓ تھیں‘‘ (ایضًا، باب تزویج النبی تخدیجۃ، حدیث نمبر: 3818)۔ حضورؐ کے فرمانے کا منشا یہ تھا کہ وہ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھی، اس نے گیارہ سال میرے ساتھ دکھ کے گزارے ہیں، اس نے اپنا سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بڑی مالدار خاتون تھیں۔

جناب خاتم النبیین ﷺ کے خاندان میں بیویاں بھی تھیں اور بچے بھی تھے اور قریش کا پورا خاندان بھی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

و انذر عشیرتک الاقربین (سورۃ الشعراء: 26، آیت: 214)
(اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔)

تو یہ سب سے پہلی دعوت تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ حضور ﷺ نے بلایا، سب کو دعوت دی۔ دعوتِ دین کے تقاضوں میں کھانے کی دعوت بھی شامل ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے دعوت دی بھی اور دعوت کھلائی بھی۔ آپ ﷺ نے ایک ایک کو مخاطب کر کے دعوت دی۔ مکہ مکرمہ کے تیرہ سال تو تقابل کے تھے ہی لیکن مدینہ منورہ جا کر بھی ان لوگوں نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ بدر کی لڑائی، احد کی لڑائی، احزاب کی لڑائی، یہ کن کے ساتھ تھیں؟ قریش کے ساتھ ہی تو تھیں۔

حضور ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کے خاوند حضرت ابو سلمہؓ حضورؐ کے ساتھی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی تھے۔ خاندان میں ایک رشتہ رضاعی بھی ہوتا ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے، جناب خاتم النبیین ﷺ نے، چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، ان سب نے حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا۔ ابوسلمہؓ حضورؐ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ رضاعت کو حضورؐ نے حرمت اور رشتے کا سبب قرار دیا ہے۔ تو نبی کریمؐ کی رضاعی والدہ بھی تھیں اور رضاعی بھائی بھی تھا۔ رضاعی بہن بھی تھیں، رضاعی باپ بھی تھا۔ حضور ﷺ نے ان کو بھی پورا پروٹوکول و احترام دیا۔ حارث رضی اللہ عنہ نام تھا رضاعی باپ کا، رضاعی ماں کا نام حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اور بہن کا نام شَیما رضی اللہ عنہا تھا۔

حضور ﷺ کا رضاعی بہن سے حسنِ سلوک

اس پر واقعہ عرض کرتا ہوں، ہوازن کی جنگ کے بعد قیدی آئے۔ بنو ہوازن حضور ﷺ کے رضاعی ننہیال تھے، اسی قبیلے سے لڑائی تھی۔ رضاعی ماں کا خاندان کہ جس میں باپ بھی ہے، ماں بھی ہے، بہن بھی ہے۔ بنو ہوازن کو شکست ہوئی تو ان کے افراد قیدی بن کر آئے۔ مؤرخین ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ قیدیوں میں ایک خاتون تھیں۔ جب قیدی تقسیم ہونے لگے تو ایک خاتون نے کہا کہ دیکھو میرے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا، میں تمہاری پھوپھی لگتی ہوں، تمھارے پیغمبرؐ کی بہن ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے پیغمبرؐ کی کوئی بہن تھیں ہی نہیں۔ وہ کہنی لگی، میں ہوں۔ کہنے لگی مجھے حضورؐ کے پاس لے جاؤ۔ صحابہ کرامؓ ان کو خدمتِ نبویؐ میں لے گئے۔ یہ حاضر ہوئیں اور حضورؐ سے کہنے لگیں کہ آپ کو حلیمہ کا گھر یاد نہیں ہے جہاں ہم ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں شیما ہوں، یاد ہے ایک دن آپ نے میرے کندھے پر کاٹا تھا زور سے، دانتوں کے نشان ابھی تک ہیں، دکھا دوں؟ حضورؐ نے فرمایا: رہنے دو مجھے یاد آ گیا، آپ میری بہن ہیں۔

[فقالت: یا رسول اللہ انا اختک، انا شیماء بنت الحارث۔ فقال لہا: ان تکونی صادقۃ، فان بک منی اثر لا یبلی۔ (تفسیر ابن کثیر، داراحیاء التراث العربی، ج 4 ص 418)]

بہنوں کے ساتھ حضور ﷺ نے اس طرح معاملہ کیا۔ جب یہ سارے معاملات ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ سب کو آزاد کر دو۔ پھر شیما سے فرمایا کہ بہن تمھارے سامنے دونوں اختیار (Options) ہیں۔ بھائی کے گھر جانا چاہتی ہو تو بھائی کا گھر حاضر ہے، بہنوں کی طرح رکھوں گا۔ واپس جانا چاہتی ہو تو تمھیں اختیار ہے، یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں واپس جانا چاہتی ہوں۔ تو حضورؐ نے انھیں ایسے رخصت کیا جیسے بھائی بہنوں کو رخصت کیا کرتے ہیں۔ تو یہ بھی سنت ہے، بہن بھائی کے گھر سے خالی ہاتھ نہیں جاتی، یہ سنتِ رسولؐ ہے۔ دو اونٹ سامان تیار کروایا۔ اس زمانے میں معمول یہ ہوتا تھا کہ ایک اونٹ سامان، دو اونٹ سامان۔ سب ضرورت کی چیزیں پیک کروائیں اور ایک حفاظتی دستہ دیا کہ میری بہن کو پورے اعزاز کے ساتھ ان کے گھر پہنچا کر آؤ۔

حضور ﷺ کے گھر میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بیٹے حضور ﷺ کی اولاد میں شامل ہیں۔ حضرت قاسم، حضرت عبد اللہ، طیب اور طاہر رضی اللہ عنہم کے نام بھی آئے ہیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، یہ سب تو تھیں۔ حضور ﷺ کے گھر میں جو حضرات پلے ہیں، ان میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچے، ایک بیٹا ایک بیٹی، زینبؓ اور عمرؓ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو گھر میں کسی نے کہہ دیا، یارسول اللہ زینب جوان ہیں۔

حضور ﷺ کے گھر میں زینب نامی خواتین بہت تھیں۔ آپؐ زینب کا نام آنے پر پوچھتے تھے: ’’ای الزیانب؟‘‘ (کون سی زینب؟) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی زینبؓ بھی گھر میں آیا جایا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ مسئلہ پوچھنے آئیں، حضرت بلالؓ سے کہا کہ مسئلہ پوچھو، میرا نہیں بتانا کہ کون ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مسئلہ پوچھا تو حضورؐ نے فرمایا کہ کون ہے؟ یارسول اللہ، زینبؓ ہیں۔ آپؐ نے کہا: ’’ای الزیانب؟‘‘ کون سی زینب؟ کیونکہ دو تو حضورؐ کی بیویاں تھی۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اور اور حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ عنہا۔ ایک بیٹی تھی، بلکہ دو بیٹیاں زینب تھیں: ایک ام سلمہؓ کی بیٹی، وہ بھی تو حضورؐ کی بیٹی تھیں۔ تو چار زینب گھر میں تھیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیوی زینب بھی آیا کرتی تھیں۔

تو کسی نے آپؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ جو زینب ام سلمہؓ کی بیٹی ہے، اس سے نکاح کر لیں۔ آپؐ نے فرمایا، کیا کہہ رہے ہو، یہ تو میری ربیبہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

و ربآئبکم الٰتی فی حجورکم من نسآئکم الٰتی دخلتم بہن۔ (سورۃ النساء:4، آیت: 23)
(اور تمھارے زیر پرورش تمھاری سوتیلی بیٹیاں جو تمھاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔)

کہ جو تمہاری بیوی، جس سے تم ہم بستری کر چکے ہو، اس کی بیٹی کا تمہارے ساتھ رشتہ حرام ہے۔ وہ میری بیٹی ہے۔ یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حضور ﷺ نے اس کو بیٹی بنا کر پالا ہے۔ اس حوالے سے بھی کہ میری بیوی کی بیٹی ہے، جو میری بیٹی ہے۔ اور اس حوالے سے بھی کہ میری رضاعی بھتیجی ہے، اس کے باپ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اور میں نے ثوبیہؓ کا دودھ پیا ہے، تو میری بھتیجی لگتی ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ جناب نبی کریم ﷺ کا اپنے خاندان کے ساتھ معاملہ کیسا تھا۔ لڑائی بھی رہی ہے، معاملات بھی رہے ہیں، صلح بھی ہوئی، جنگ بھی رہی ہے، رشتے بھی چلتے رہے ہیں اور معاملات بھی چلتے رہے ہیں۔ اور اس کا آخری مرحلہ کون سا تھا؟ وہ ہے فتح مکہ۔

حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ساری زندگی میں نے مقابلہ کیا ہے۔ قیصرِ روم کی ملاقات میں جو مکالمہ ہے، اس کو میں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ میں یہ ان کے دو بڑے حریفوں کا باہمی مکالمہ ہے۔ قیصر تھا عالمی طور پر، اور ابوسفیانؓ تھے جزیرۃ العرب میں، مدمقابل کے طور پر۔ جب سارا مکالمہ ہو گیا تو ابوسفیانؓ خود کہتے ہیں، قیصر نے کہا، مجھے بھی لگتا ہے کہ نبی ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اگر میں وہاں تک پہنچ سکوں تو اپنے ہاتھوں سے ان کے پاؤں دھلاؤں۔ اپنی قوم کو مشورہ بھی دیا کہ کلمہ پڑھ لو۔ ابو سفیانؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے دل میں بات آئی کہ کبشہ کے بیٹے (محمد ﷺ) کی بات تو بن گئی۔

یخافہ ملک بنی الاصفر (صحیح بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ، حدیث نمبر: 7)
(گوروں کا بادشاہ بھی حضور ﷺ سے ڈرتا ہے۔)

یہ پہلا مرحلہ تھا کہ جب اسلام کی عظمت میرے دل میں بیٹھ گئی۔ اس سے پہلے اسلام کی میرے ہاں کوئی حیثیت نہیں تھی کیونکہ یہ مدمقابل تھے۔ تو پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کو ڈالنا شروع کیا۔

حضرت ابوسفیانؓ کی اہلیہ حضور ﷺ کی خدمت میں

حضرت ابوسفیانؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہندؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ کہنے لگیں، ایک وہ وقت تھا پوری روئے زمین پر آپ سے زیادہ نفرت کسی سے نہیں تھی، اور پوری روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کسی گھرانے سے دوری نہیں تھی۔ آج یا رسول اللہ! آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے اور آپؐ کے گھرانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی گھرانہ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے جواب میں ایک لفظ فرمایا: ’’وایضًا‘‘۔ میرا حال بھی یہی ہے۔

[ان عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: جاءت ہند بنت عتبۃ، قالت: یا رسول اللہ، ما کان علی ظہر الارض من اہل خباء احب الی ان یذلوا من اہل خبائک، ثم ما اصبح الیوم علی ظہر الارض اہل خباء، احب الی ان یعزوا من اہل خبائک، قال: وایضا والذی نفسی بیدہ، صحیح البخاری، باب ذکر ہند بنت عتبہ بن ربیعہ، رقم الحدیث 3825]

عزیز دوستو! میں نے تھوڑا سا تبصرہ کیا ہے حضور ﷺ کے خاندان کی باہمی کشمکش کا، پھر جب یہ خاندان اسلام کے آگے جھک کر سرنڈر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ عظمت عطا فرمائی کہ اسلام کے جھنڈے کو لے کر پوری دنیا میں پہنچے۔ بنو امیہ کی خلافت جزیرۃ العرب میں، افریقہ میں، کابل میں، اندلس میں، اور بنو عباس کی خلافت ہلاکو خان کے حملے تک رہی۔ یہ وہی خاندان تھے۔ پھر اسی خاندان نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی، اللہ تعالیٰ نے عظمت عطا فرمائی۔ اللہ رب العزت جناب نبی کریم ﷺ کا تذکرہ، آپؐ کے خاندان کا تذکرہ قبول فرمائے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

(جاری)

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)

مفہوم اور اس کی اہمیت کے بنیادی اسباب

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

مقدمہ

"تفسیرِ سلف" ایک نہایت قیمتی علمی سرمایہ ہے، جو تفسیر کے ذخیرے میں ایک خاص مقام اور امتیاز رکھتی ہے۔ علمائے کرام نے مختلف ادوار میں اس تفسیر کی بڑی گہری توجہ کے ساتھ مختلف انداز سے خدمت کی، کبھی اس کی مرویات کو جمع کیا، کبھی ان کو منظم کیا، اور کبھی باہم ان کا تقابلی جائزہ لیا۔ یہ بات معروف ہے کہ سلف کی تفسیر سے متعلق کئی اہم اور متنوع مسائل وابستہ ہیں، جیسے خود "تفسیر" کے مفہوم کی نوعیت، جو اس طرزِ تفسیر میں نمایاں ہوتی ہے، اور کچھ تفسیری مصادر جیسے "اسرائیلی روایات"، جنہیں قدیم و جدید علماء کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ان تفسیری مرویات کی اسناد، ضعیف روایات سے تعامل، اور دیگر کئی علمی و اصولی اشکالات بھی زیر بحث آتے ہیں۔

اسی پس منظر میں، ہم نے معروف محقق ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد سے گفتگو کی، جنہوں نے سلف کی تفسیر بالخصوص صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر بھرپور کام کیا ہے۔ ان کی مفصل علمی کاوش "المفسرون من الصحابۃ: جمعا ودراسۃ وصفیۃ" اس میدان میں ایک اہم حوالہ مانی جاتی ہے۔

ہمارا یہ مکالمہ ڈاکٹر مشد کے ساتھ پانچ مرکزی نکات کے گرد گھومتا ہے:

  1. سلف کی تفسیر: مفہوم اور اس کی اہمیت کے بنیادی اسباب
  2. سلف کی تفسیر سے متعلق اختلافی مسائل اور اشکالات
  3. اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار
  4. صحابہ کرامؓ کی تفسیر
  5. سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار

پہلا محور
سلف کی تفسیر: مفہوم اور اہمیت کے نمایاں اسباب

اس محور کے تحت مندرجہ ذیل موضوعات پر گفتگو کی جائے گی:

  1. تفسیرِ سلف کا متفقہ مفہوم اور سلف کی تعریف
  2. اہلِ لغت علماء (جیسے فراء اور زجاج) کو تفسیرِ سلف میں شامل نہ کرنے کی وجوہات
  3. تفسیرِ سلف کی امتیازی خصوصیات: متقدمین اور متاخرین میں فرق
  4. سلف کے تفسیری ورثے کی اہمیت: بنیادی اسباب

سوال 1: تفسیرِ سلف کا متفقہ مفہوم اور سلف کی تعریف 

تفسیر کے مفہوم کو وسعت اور مفسرین کے درمیان اختلاف کا سامنا ہے، کیونکہ تفسیری تصانیف میں پیش کردہ مواد نہایت مختلف اور نمایاں طور پر متنوع ہوتا ہے۔ تو کیا سلف کی تفسیر کا کوئی غالب اور قابلِ اعتماد مفہوم موجود ہے جس پر اتفاق ہو سکے؟ اور جب ہم "تفسیرِ سلف" کی بات کرتے ہیں تو سلف سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اس میں کوئی شک نہیں کہ اصطلاحات کو واضح کرنا اور مفاہیم کو متعین کرنا دینی علوم کے ان اہم ترین امور میں سے ہے جن پر خاص توجہ دی جانی چاہیے، اور یہ بالخصوص قرآنی علوم کے میدان میں نہایت پیچیدہ، نازک اور مشکل ترین مسائل میں سے ہے۔ اس کے باوجود افسوس کہ قرآنی مطالعات میں اس اہم مسئلے پر ویسا شعوری اور سنجیدہ اہتمام دکھائی نہیں دیتا، جیسا کہ ہونا چاہیے تھا، حالانکہ پچھلی دہائیوں میں اس میدان میں نمایاں علمی ترقی اور تالیفات کا انبار وجود میں آیا ہے۔ اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیوں، الجھے ہوئے تصورات اور غیر درست نتائج کی بھرمار ہو جاتی ہے، اور یوں بہت سی علمی کاوشیں بے وقعت اور غیر معتبر ہو جاتی ہیں۔

علمائے تفسیر اور علومِ قرآن کے ماہرین نے تفسیر کے مفہوم کو واضح کرنے کی کوششیں ضرور کی ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کا بغور جائزہ لینے سے ہمیں تین اہم باتیں سامنے آتی ہیں:

  1. انہوں نے "علمِ تفسیر" کے لیے جو تعریفی تصورات پیش کیے، ان میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔
  2. ان تعاریف کو عملی طور پر لاگو کرنے کے انداز میں بھی ان کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
  3. اکثر مفسرین نے تفسیر کے مفہوم و ماہیت کی تطبیق و اطلاق کے حوالے سے ایک دوسرے پر کثرت سے تنقید کی ہے۔

ان تین مشاہدات سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے: علمائے تفسیر نہ تو تفسیر کے مفہوم کی تعیین میں متفق ہیں اور نہ اس کے عملی اطلاق میں۔ اکثر اہلِ علم کے درمیان ان کے نظریہ اور عملی تطبیق میں فرق پایا جاتا ہے، اور وہ ایک دوسرے کی تطبیقات پر تنقید کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ مناسب نہیں کہ کوئی محقق اپنی طرف سے "علمِ تفسیر" کا ایک مفہوم متعین کرے اور پھر اسی کو معیار بنا کر تمام مفسرین کا محاسبہ شروع کر دے۔

درحقیقت، صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم تفسیر کا مفہوم ان عملی نمونوں سے اخذ کریں جو مفسرین نے اپنے تفسیری کاموں میں پیش کیے ہیں۔ یقیناً‌ یہ طریقہ وقت طلب اور محنت طلب ہے، لیکن اگر اس کے بغیر صرف نظری مباحث پر اکتفا کیا جائے، اور تفسیری کتابوں کے عملی اطلاق کو نظر انداز کر دیا جائے، تو نتائج غیر حقیقی ہوں گے اور وہ اصل حقیقت کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

سلف کی تفسیر کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں قرآن سے متعلق کئی پہلوؤں پر مشتمل نہایت وسیع اور متنوع معلومات شامل ہیں۔ تاہم جب ان معلومات میں غور و فکر کیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ سلف کی تفسیر میں غالب رجحان قرآن کے معانی کو واضح کرنے پر ہے، نہ کہ احکام کا استخراج، فوائد و لطائف، یا وعظ و نصیحت جیسی ضمنی چیزوں پر۔

یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیری روایتوں کے اعداد و شمار سے بھی واضح ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنی کتاب "المفسرون من الصحابۃ: جمعا ودراسۃ وصفیۃ" میں ان کی تفسیری مرویات کو ان کے مصادر کے اعتبار سے مرتب کیا، اور یہ مرویات تقریباً‌ دس ہزار آثار پر مشتمل ہیں۔ میں نے صحابہؓ کی ان مرویات کو ان کے تفسیری مصادر کے مطابق ترتیب دیا، اور یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ان کے ہاں تفسیری مرویات کا رجحان زیادہ تر قرآنی الفاظ کے معانی بیان کرنے پر تھا۔

ان میں سے تقریبا 15۔5٪ مرویات لغت (یعنی الفاظ کے لغوی معانی) پر مشتمل تھیں، تقریبا 13٪ روایات میں آیات کے اسبابِ نزول و احوالِ نزول کا بیان تھا، 10٪ میں اخبار بنی اسرائیل کا ذکر تھا، 3٪ مرویات قرآن کریم سے استدلال پر مشتمل تھیں، 1۔3٪ روایات سنتِ نبویہ سے متعلق تھیں، اور 0۔6٪ مرویات تاریخِ عرب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے مقابلے میں سب سے بڑی نسبت یعنی 56٪ مرویات وہ تھیں جو تفسیر بالرای کے زمرے میں آتی ہیں (بمطابق اس اصطلاح کے جو میں نے اپنی تحقیق میں وضع کی ہے)۔ ان میں بھی اکثریت الفاظ کے معانی کی وضاحت سے متعلق ہے، جبکہ قلیل تعداد ان روایات کی ہے جو معانی کی تشریح کے علاوہ دیگر پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں، من جملہ: دلائل و شواہد کا بیان، احکامِ شرعیہ کا استنباط، علمی فوائد، اخلاقی مواعظ، تفسیری لطائف، اور اسی قبیل کے دیگر امور جن کا بنیادی مقصد معنی کی توضیح نہیں ہوتا۔

اسی طرح سلف کی تفسیر میں استعمال ہونے والے بہت سے الفاظ بھی مختلف ہوتے تھے، جیسے: البیان، المعرفۃ، الفقہ، التاویل وغیرہ۔

جہاں تک "سلف" کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو اس کا مفہوم "آگے بڑھنے والا" یا "پہلے آنے والا" ہے، اور یہی مفہوم قرآن و سنت میں بھی متعدد مقامات پر ملتا ہے۔ بعض تابعین کے آثار میں "سلف" کا اطلاق صحابہ کرامؓ پر بھی ہوا ہے، اور جو کوئی بھی آپ سے پہلے ہو، وہ لغوی اعتبار سے آپ کا "سلف" کہلائے گا۔ لہٰذا جب ہم "تفسیر سلف" کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پیش نظر وہ تین طبقے ہوتے ہیں:

  1. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
  2. تابعین کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
  3. تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین

یہی تین طبقات وہ ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے بہترین افراد قرار دیا: "خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم"۔ اکثر مفسرین "سلف" کی اصطلاح انہی تینوں طبقات کے لیے استعمال کرتے ہیں، اگرچہ بعض اوقات بعض لوگ تابعین یا تبع تابعین کے بعد کے افراد کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، مگر یہ شاذ و نادر مثالیں ہیں۔

سوال 2: اہلِ لغت علماء (جیسے فراء اور زجاج) کو تفسیرِ سلف میں شامل نہ کرنے کی وجوہات

مطالعہ و تحقیق کے حلقوں میں یہ بات معروف ہے کہ ان اہلِ لغت کو، جنہوں نے قرآن کے معانی پر لکھا ہے — جیسے فراء اور زجاج — انہیں تفسیرِ سلف کی اصطلاح سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ تو اس اخراج کی نمایاں وجوہات کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اگر ہم محض زمانی معیار کو سامنے رکھیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض اہلِ لغت، تابعین کے بعد کے زمانے میں زندگی گزارنے والے افراد کے ہم عصر تھے۔ مثلاً‌: قطرب جن کی وفات 206 ہجری ہے، وہ مقاتل بن سلیمان (150 ہجری)، سعید بن ابی عروبۃ ( 156 ہجری)، اور سفیان ثوری (161 ہجری) کے ہم عصر تھے ۔ یہ سب تبع تابعین کے زمانے کے اکابر ہیں۔ تو اگر ہم صرف زمانی اعتبار سے دیکھیں، تو قطرب اور اس جیسے اہلِ لغت کو بھی سلف کے طبقے کا فرد مانا جا سکتا ہے۔ لیکن جب ہم عملی تفسیر کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہم واضح فرق محسوس کرتے ہیں۔ مفسرین، سلف کے تینوں طبقات (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) اور اہلِ لغت کے اقوال میں فرق کرتے ہیں۔

مثلاً‌: ابن جریر طبری اپنے تفسیر میں سلف کے اقوال کو بڑی کثرت سے نقل کرتے ہیں، اور ان کو "اہلِ تاویل" کا لقب دیتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں اہلِ لغت کی آراء کو الگ رکھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان علمی و طرزِ فہم کے لحاظ سے امتیاز موجود ہے۔

اسی طرح جن مفسرین کا اہم مقصد "تفسیرِ سلف" کے اقوال کو اپنی تصنیفات میں جمع کرنا ہوتا ہے، وہ بھی صرف انہی تین طبقوں (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کی آراء پر اکتفا کرتے ہیں، اور بعد کے اہلِ لغت کو شامل نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر سیوطی نے "الدر المنثور" میں یہ اصول اپنا رکھا کہ صرف ماثور تفسیر کو جمع کرے گا — یعنی نبی کریم ﷺ اور سلف کے تینوں طبقوں سے منقول اقوال۔ چنانچہ اس نے اہلِ لغت کے اقوال کو اس میں شامل نہیں کیا۔

اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہلِ لغت کی تفسیر میں لغوی پہلو کو حد درجہ غالب کر دیا گیا ہے، جب کہ سلف کی تفسیر میں صرف زبان پر اعتماد نہیں تھا بلکہ وہ دیگر بنیادی ذرائع — جیسے قرآن کی آیات کا باہمی ربط، حدیث، آثار صحابہ، اور اسباب نزول — پر بھی بھرپور انحصار کرتے تھے۔

اگرچہ بعض اہلِ لغت بھی ان ذرائع کو استعمال کرتے تھے، لیکن ان کے ہاں مرکزی حیثیت صرف زبان و لغت کو حاصل تھی، جبکہ دوسرے تمام پہلو بہت کمزور ہو جاتے تھے۔ اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تفسیر کے انداز کو دیکھیں، تو ان کے آثار میں صرف 15٪ اقوال وہ ہیں جو کسی لفظ کے لغوی مفہوم کی وضاحت پر مشتمل ہیں۔ باقی تمام اقوال سیاق، حدیث، اسبابِ نزول اور دیگر تفسیری پہلوؤں سے متعلق ہیں۔ جب کہ اہلِ لغت کی بیشتر تفسیر صرف لغوی توضیح پر مرکوز ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے کچھ علماء نے اہلِ لغت کی اس روش پر سخت تنقید کی، اور اسے سلف کے تفسیری منہج سے انحراف قرار دیا۔ اس حوالے سے کئی واقعات مشہور ہیں، جن میں سے ایک اصمعی (وفات: 216ھ) اور ابو عبیدہ (وفات: 210ھ) کے درمیان پیش آنے والا واقعہ بھی ہے: روایت ہے کہ اصمعی نے ابو عبیدہ کی کتاب "مجاز القرآن" پر اعتراض کیا اور کہا: "یہ شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرتا ہے!" ابو عبیدہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: "اصمعی کی مجلس کس دن ہوتی ہے؟" چنانچہ جب وہ دن آیا تو وہ گدھے پر سوار ہو کر اصمعی کی مجلس میں پہنچے، اتر کر ان سے سلام کیا، ان کے قریب بیٹھے، اور بات چیت شروع کی۔ پھر ان سے پوچھا: "ابو سعید! یہ بتاؤ، قرآن کریم میں 'خبز' (روٹی) کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کی کیا تفسیر ہے؟" اصمعی نے کہا: "خبز سے مراد وہی ہے جو ہم کھاتے ہیں اور پکاتے ہیں۔" ابو عبیدہ نے کہا: "تو پھر جان لو، میں نے بھی قرآن اسی طرح سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یحمل فوق راسہ خبزا تاکل الطیر منہ" (سورۂ یوسف، آیت: 36) میں نے اس آیت کو اپنی رائے سے نہیں سمجھا، بلکہ جو بات مجھے واضح ہوئی، میں نے وہی کہی، جیسے تم نے ابھی 'خبز' کی تعریف کی۔" پھر وہ گدھے پر سوار ہو کر واپس چلے گئے۔

سوال 3: تفسیرِ سلف کی امتیازی خصوصیات: متقدمین اور متاخرین میں فرق

سلف صالحین کے طبقہ کو تفسیرِ قرآن کے ساتھ نمایاں طور پر گہرا شغف رہا ہے۔ آپ کی تحقیق کی روشنی میں، خاص طور پر وہ کون سی نمایاں خصوصیات ہیں جو ان کی تفسیر میں پائی جاتی ہیں اور جو بعد کے مفسرین سے اس تفسیر کو ممتاز بناتی ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

 اللہ سلف پر رحم کرے! وہ ایسے بلند ذوق، عمیق فہم اور باریک بینی کے حامل تھے کہ وہ ان نکتہ ہائے معنی تک فوری رسائی پا لیتے تھے، جن تک بعد والے لوگ عمر بھر کی محنت، تحقیق اور تفننِ خیال کے باوجود صرف اس کے گرد گھومنے تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ سلف کی تفسیر بہت سی خصوصیات سے مزین ہے، بلکہ ہر مفسر کی اپنی انفرادی شان اور الگ شناخت ہے۔ بعض کی تفاسیر میں نصیحت و موعظت غالب ہے، کچھ میں فقہی بصیرت نمایاں ہے، اور بعض میں آیات کا عصری حالات پر اطلاق اور ان سے زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنا غالب نظر آتا ہے۔ یہ تمام پہلو تحقیق، تجزیے اور مکمل فہرست بندی کے قابل ہیں، لیکن اگر ہم مجموعی طور پر ان نمایاں خصوصیات کو دیکھیں جن میں سلف نے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کیا اور جو انہیں بعد والوں سے ممتاز کرتی ہیں، تو انہیں درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

گہرائی کے ساتھ سادگی

ان کی تفاسیر میں دل کو چھو لینے والی معنوی گہرائی موجود ہوتی تھی، مگر پیچیدگی اور فلسفے سے پاک ہوتی تھی۔

اجمالی مفہوم پر توجہ

وہ آیات کے اجمالی اور کُلی مفہوم پر زور دیتے، تفصیلات میں الجھنے سے گریز کرتے۔

سیاقی معنی پر توجہ

وہ آیت کے معنی کو اس کے سیاق و سباق کی مناسبت سے سمجھتے،

لغوی موشگافیوں سے احتراز

ان کی تفسیر میں زبان و لغت کے نکتہ سنجیوں سے زیادہ آیات کے وسیع معانی پر زور ہوتا۔

سادہ اور رواں زبان

ان کے بیان کا انداز نہایت سادہ، فطری اور عام فہم ہوتا، جس میں مشکل الفاظ کی بھرمار نہیں ہوتی۔

نزولِ آیت کے حالات سے ربط

وہ آیات کی تفسیر کرتے وقت ان کے اسبابِ نزول اور وقتِ نزول کی کیفیات کو بھرپور اہمیت دیتے۔

دل نشین اسلوب

وہ مفہوم کو قریب لانے کے لیے کئی خوبصورت اسالیب اختیار کرتے تھے، مثلاً‌ سوال و جواب کا انداز، تکرار، خطاب، تقسیم، تاکید، اور محسوس چیزوں کی مثالیں دے کر بات کو واضح کرنا — یہ سب ان کی تفسیر کے نمایاں رنگ تھے۔

یہ وہ بنیادی خصوصیات ہیں جنہوں نے تفسیرِ سلف کو بعد کی تفسیری کاوشوں سے ممتاز کیا، اور جو آج بھی قرآن فہمی کے سنہرے اصولوں میں شمار ہوتی ہیں۔

سوال 4: سلف کے تفسیری ورثے کی اہمیت: بنیادی اسباب

آپ کی نظر میں سلف کے اس عظیم تفسیری ورثے کی اہمیت کے نمایاں اسباب کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

 سلف کے تفسیری ذخیرے کی اہمیت دو بنیادی پہلوؤں میں نمایاں طور پر سامنے آتی ہے: پہلا پہلو زمانہ ہے جس میں وہ لوگ زندہ تھے، اور دوسرا پہلو وہ شخصیات خود ہیں جنہوں نے یہ ورثہ چھوڑا۔

(1) زمانۂ نزولِ قرآن کے قریب ہونا

زمانۂ نزولِ قرآن کے قریب ہونا، ایک ایسا وصف ہے جو صرف سلف کو حاصل تھا، بعد کے لوگوں کو اس کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے جیسے کسی نے مکہ میں نوفل قبیلے کے درمیان سکونت اختیار کی ہو اور دوسرا شخص ریگزار کے دور دراز مقام پر ٹھہرا ہو — گویا فرقِ مراتب از زمین تا آسمان!

سلف، خاص طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ عظیم امتیازات حاصل تھے۔ وہ عہدِ نبوت کے چشم دید گواہ تھے، وہ قرآن کے نزول کے لمحات کے گواہ تھے، انہوں نے وحی کے نزول کے ماحول کو جیا اور محسوس کیا، وہ ان حالات کے عینی شاہد تھے جن میں قرآن نازل ہوا، اور وہ ان اشخاص و اقوام کو بھی جانتے تھے جن کے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ یہی امتیازات ایک حد تک تابعین کو بھی حاصل ہوئے، کیونکہ وہ صحابہؓ کے براہ راست شاگرد تھے، اور انہوں نے تفسیر کو انہی سے اخذ کیا۔ وہ زمانۂ وحی کے قریب تھے اور اس فکری و ایمانی فضا میں سانس لیتے تھے۔ اسی طرح تبع تابعین کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ تابعین سے ان تفسیری روایات کو روایت کرتے اور ان سے براہ راست سیکھتے تھے۔

(2) سلف کی شخصیات کا باطنی و فکری امتیاز 

جہاں تک دوسرا پہلو یعنی سلف کی شخصیات کا باطنی و فکری امتیاز ہے، تو وہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی شخصیات کے چند نمایاں خصائص یہ ہیں: ان کے سینے حسد، کینہ، تعصب اور دنیا داری سے پاک تھے۔ ان کی نیتیں خالص اور اخلاص سے بھرپور تھیں۔ ان کا فہم عمیق، سلیم اور سادہ تھا۔ وہ اس زبان میں فطری طور پر مہارت رکھتے تھے جس میں قرآن نازل ہوا۔ ان کے دل مذہبی تعصبات سے پاک تھے۔ وہ نفس کی پیروی سے بچے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان حقیقی اختلاف بھی نہایت کم تھا کیونکہ ان سب کا مرجع و ماخذ ایک ہی تھا اور ان کا منبع علم ایک ہی چشمہ تھا۔ اس یکجہتی، قربِ زمانہ، اخلاصِ نیت، سادہ فطرت اور قرآنی زبان سے فطری انس نے ان کے تفسیری ورثے کو ایک ایسا ناب اور بے مثل خزانہ بنا دیا ہے، جو بعد والوں کے لیے نہ صرف علمی حوالہ ہے بلکہ ہدایت کا روشن چراغ بھی۔

(جاری)

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)

مولانا طلحہ نعمت ندوی

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن نیموی (م ۱۳۲۲ھ)1 فقہ حنفی کی موید احادیث کا مقبول و مستند مجموعہ ہے، جس کو بے انتہا مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اور بھی متعدد تصانیف ہیں، علومِ اسلامیہ اور خالص اردو ادبیات کی جامعیت جس قدر ان کے یہاں ملتی ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آئی ہے۔ دنیائے ادب میں ان کی لسانی تحقیقات اور ان کی شاعری بھی اپنا مقام رکھتی ہے، لیکن جس کتاب نے ان کو شہرتِ عام کے خلعتِ دوام سے سرفراز کیا ہے، اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی ان کی سرخروئی کا ذریعہ بنے گی، وہ ان کی مشہورِ زمانہ کتاب آثار السنن ہے، کاش اگر اس علمی منصوبے کا ایک بڑا حصہ بھی پورا ہو جاتا تو علمی دنیا کے لئے بہت اہم تحفہ ہوتا۔ حضرت نیموی نے اور بھی مذہبی اور فقہی رسائل لکھے لیکن ان کی شہرت صرف ایک زمانہ تک محدود رہی، بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تصنیف آثار السنن کے بعد ہی ان کتابوں کو بھی زیادہ شہرت ملی۔

حضرت علامہ نیموی نے جس کام کا آغاز کیا اگر چہ وہ اس کو انجام تک پہنچانے سے قبل ہی عین عالمِ جوانی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اس طرح یہ کام ادھورا رہ گیا، لیکن اس فن کا نقشِ اولین بن کر بہت سے لوگوں کے لئے محرک ضرور بنا، اور لوگوں کے لئے کام کی راہ ہموار ہوئی۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مولانا اشرف علی تھانوی کی نگرانی میں اس کام کا آغاز ہوا اور احیاء السنن کے نام سے اس کی ایک جلد منظر عام پر آئی، پھر وہ کام بھی تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ اس کے بعد اعلاء السنن کے نام سے حضرت تھانوی نے اپنے بھانجہ مولانا ظفر احمد تھانوی سے اس کام کا آغاز کروایا، اور اس کے فورً‌ا بعد ہی ان کے وطن عظیم آباد میں بھی الجامع الرضوی لکھی گئی، ان سب کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

مسلک حنفی کے مطابق احادیث کی جمع و تدوین و ترتیب کا کام تو ابتدائی صدیوں میں ہی شروع ہوگیا تھا، فقہ شافعی و مالکی کے مطابق روایات کے کئی مجموعے ابتدا ہی میں منظر عام پر آئے، فقہ حنفی میں اس سلسلہ کی اولین کوشش امام طحاوی کی تھی، جنہوں نے شرح معانی الآثار میں مکمل سند کے ساتھ اس ملک کی تائید میں روایات جمع کیں، پھر متعدد مجموعے منظر عام پر آئے۔ ہندوستان میں بھی گیارہویں اور بارہویں صدی میں دو مجموعے مرتب ہوئے، ایک حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی فتح المنان فی تائید مذہب النعمان اور دوسری علامہ مرتضیٰ زبیدی کی عقود الجواہر المنیفہ ہے۔ اول الذکر میں حدیث سے زیادہ فقہی مباحث ہیں اور ثانی الذکر نقدِ احادیث اور فنی مباحث سے خالی ہے، جیسا کہ مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کی رائے ہے،2 مولانا کے بقول خالص محدثانہ اور فقہی نقطہ نظر سے جو کتاب سب سے پہلے لکھی گئی وہ آثار السنن ہے۔3

مشہور محقق و محدث علامہ ابو محفوظ الکریم معصومی (م۱۴۳۰ھ) نے بھی اسی طرح کی اطلاع فراہم کی ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ فقہ حنفی کی حدیث سے تائید و توثیق میں علامہ شوق نیموی سے قبل کئی کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں، لیکن بہت زیادہ اور جامع کام کی ضرورت پھر بھی باقی تھی۔ چنانچہ امام طحاوی کی مشہور کتاب شرح معانی الآثار اس سلسلہ کی ابتدائی کاوش ہے۔ اس کے بعد کچھ اور بھی کام منظر عام پر آئے۔

سرزمینِ ہند پر علامہ نیموی سے پہلے جو کام ہوا، وہ مولانا معصومی کے بقول حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ الغرۃ المنیفہ فی ترجیح مذہب ابی حنیفہ۔ ابو حفص سراج الدین عمر بن اسحاق الہندی الغزنوی (۷۰۴۔ ۷۷۳ھ) کی تصنیف اس موضوع پر پہلی تصنیف ہے۔

۲۔ فتح المنان فی تائید مذہب النعمان۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی (م۱۰۵۲ھ) کی تصنیف۔

۳۔ عقود الجواہر المنیفۃ فی ادلۃ الامام ابی حنیفہ۔ علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی (م۱۲۰۵ھ)۔

۴۔ مولانا حافظ عبدالعلی نگرامی (م۱۲۹۶ھ) کی دو کتابیں نور الایمان فی تائید مذہب النعمان اور الیواقیت اللطیفۃ فی تائید مذہب ابی حنیفہ بھی اسی موضوع پر ہیں۔4

۵۔ زجاجۃ المصابیح از شیخ عبداللہ حیدرآبادی بھی اس سلسلہ کی اہم کتاب اور احادیث کا مجموعہ ہے۔

لیکن ان میں فقہی رنگ غالب تھا، نیز اس وقت فقہ حنفی کو اس قدر موردِ طعن بھی نہیں بنایا گیا تھا کہ اس موضوع کو توجہ حاصل ہوتی، لیکن علامہ نیموی کے بعد اس سلسلہ کا آغاز ہو گیا اور گرچہ وہ اس کام کو مکمل نہیں کر سکے لیکن کئی علمی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں، اور تقریباً سب میں ان کی تحقیقات سے استفادہ کیا گیا، نیز علمائے احناف نے کتبِ حدیث کی جو شرحیں لکھیں ان میں بھی اس سے استفادہ کیا گیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا اشرف علی تھانوی کے علمی کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حضرات اہل حدیث کے اس فرقہ کی طرف سے جو غالی ہے، اکثر حضرات حنفیہ پر یہ طعن کیا گیا ہے کہ حنفی مسائل کی تائید میں احادیث بہت کم ہیں، اور چوں کہ کتبِ حدیث زیادہ تر محدثین اور حضرات شوافع کی تالیف ہیں، اس لئے ان میں حنفیہ کی موید حدیثیں یکجا نہیں ہیں، گو امام محمد کی موطا، اور آثار اور قاضی ابویوسف کی کتاب الآثار اور مسند ابی حنفیہ مرتبہ خوارزمی اور امام طحاوی کی تصانیف سے ان کا جواب دیا جاتا رہا ہے مگر کتبِ صحاح و مسانید و مصنفات سے جو رائج اور محدثین میں مقبول ہیں چن کر ان احادیث و روایات کو یکجا نہیں کیا گیا تھا، جن سے مسائل حنفیہ کی تائید ہوتی تھی … یہ ضرورت ہمیشہ سے تھی، مگر اس زمانہ میں اہل حدیث کے ظہور و شیوع سے اس ضرورت کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی، چوں کہ اس تحریک کا آغاز پورب (عظیم آباد پٹنہ) سے ہوا اس لئے اس ضرورت کا احساس بھی پہلے یہیں کیا گیا، چنانچہ مولانا محمد بن ظہیر احسن شوق نیموی عظیم آبادی نے آثار السنن کے نام سے کتبِ حدیث سے التقاط کر کے اس قسم کی حدیثوں کو شائع کیا، اس کے دو ہی حصے شائع ہو سکے، اس کا دوسرا حصہ ۱۳۲۱ھ میں شائع ہوا۔ علمائے احناف نے اس کتاب کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا، یہاں تک کہ مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جو اس زمانہ میں مدرسہ امینیہ دہلی میں مدرس تھے اس کی مدح میں عربی قصیدے لکھے، افسوس ہے کہ مولانا نیموی کی وفات سے ان کا یہ کام ناتمام رہا۔‘‘5

چنانچہ ان کے بعد مولانا تھانوی کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے احیاء السنن کے نام سے ایک مجموعہ احادیث مرتب کیا لیکن وہ مسودہ ضائع ہوگیا،6 کچھ دنوں کے بعد پھر مولانا تھانوی کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے جامع الآثار کے نام سے ایک مجموعہ کتاب الصلاۃ تک مرتب کیا، جو شائع ہوگیا، اس کے بعد حضرت تھانوی کی نگرانی میں مولانا ظفر احمد تھانوی نے اعلاء السنن کے نام سے اٹھارہ جلدوں اس کی تکمیل کی جو بڑے اہتمام سے منظر عام پر آئیں اور فقہ حنفی کا اہم ماخذ و مرجع بن گئیں۔ لیکن اس کے باوجود حضرت نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کا سلسلہ جاری ہے، اور اختصار کی وجہ سے آثار السنن ہی پاکستان کے نصاب درس میں شامل ہے۔

علامہ نیموی کے بعد ان کے صوبہ بہار میں بھی اس موضوع پر کئی کام منظر عام پر آئے۔

چنانچہ اسی صدی میں چند دہائیوں کے بعد پٹنہ ہی میں مولانا ظفر الدین قادری (م۱۳۸۲ھ) نے الجامع الرضوی معروف بہ صحیح البھاری لکھی۔ اور اختصار و جامعیت کے ساتھ تمام ابواب فقہ کی صحیح حدیثیں مرتب کیں۔

اس کے بعد اس صوبہ کے ایک دوسرے عالم مولانا عمیم الاحسان مجددی برکتی (مونگیری شیخ پوروی ثم کلکتوی مدفون ڈھاکہ، متوفی ۱۳۹۵ھ) نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کے دوران قیام ایک جامع کتاب فقہ السنن والآثار لکھی۔ اس میں الجامع الرضوی کے برعکس احادیث کی ترتیب کے ساتھ اس کے درجات بھی ذکر کئے گئے، جن میں جابجا علامہ شوق نیموی کے حوالے موجود ہیں۔

تیسرا کام ایک مدت کے بعد مولانا محمد قاسم (م۱۴۴۲ھ) صاحب مظفر پوری کے قلم سے منظر عام پر آیا۔ ادلۃ الحنفیۃ من الاحادیث النبویۃ علی المسائل الفقہیۃ کے عنوان سے ایک ملتانی عالم محمد عبداللہ بن مسلم پہلوی ملتانی (م۱۳۹۸ھ) شاگرد علامہ انور شاہ کشمیری نے اس کتاب کا آغاز کیا تھا لیکن پہلی جلد کے بعد وہ مزید جلدیں مرتب نہیں کر سکے تو مولانا محمد قاسم مظفر پوری نے مزید تین جلدیں لکھ کر اس کی تکمیل کی اور نہایت تحقیق سے کام کیا۔ ان کے برادر زادہ مشہور عالم مولانا رحمت اللہ ندوی کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ یہ کتاب چار جلدوں میں عالم عرب سے شائع ہوئی۔

یوں بھی مذکورہ بزرگوں کے پیش نظر وہ حالات نہیں تھے، جو حضرت شوق کے پیش نظر تھے، ان کا شہر عظیم آباد اور شہر غازی پور جہاں ان کا تعلیمی دور گذرا تھا دونوں اور ان کے مضافات علمائے اہل حدیث سے آباد تھے جن کی طرف سے فقہ حنفی پر اعتراضات ہوتے رہتے تھے، جیسا کہ علامہ سید سلیمان ندوی کی تحریر میں اوپر گذر چکا ہے۔

احیاء السنن اور اعلاء السنن سے لے کر ادلۃ الحنفیہ تک کی تمام کوششوں میں علامہ نیموی کی اپنی انفرادیت، اولیت اور عظمت برقرار ہے اور سب نے ان سے استفادہ کیا ہے، جس کا مطالعہ ایک مستقل موضوع ہے۔

کام کا آغاز

حضرت نیموی نے اس کام کا آغاز کب کیا، اس کے بارے میں کوئی ایسی صراحت نہیں ملتی، البتہ انہوں نے اپنی خود نوشت اور اپنے وطن کا تذکرہ یادگار وطن ۱۳۱۲ھ سے قبل مکمل کر لیا تھا، اس میں آثار السنن کے آغاز کا ذکر ہے، اس سے قبل ان کے شاگرد منشی بشیر بلیاوی کی تذکرۃ الشوق میں جو تقریباً ۱۳۰۵ھ میں مرتب ہو چکی تھی جب وہ لکھنؤ سے تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تھے، اخیر میں مذکور ہے:

’’آج کل جناب ممدوح اپنے وطن میں تشریف رکھتے ہیں، اور وعظ و تلاوت قرآن و تدریس احادیث و فقہ و کتب دینیہ میں مشغول ہیں، اللہ تعالیٰ عمر میں برکت عطا کرے اور ہمیشہ مکروہات سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔‘‘7

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی تصنیف کا ذہن اسی وقت بنا چکے تھے، اور تقریباً‌ ۱۱۔۱۳۱۰ھ (۱۸۹۵ء) میں اس کا آغاز بھی کر چکے تھے، اس لئے مولانا سید عبدالحی حسنی کا یہ کہنا بہ ظاہر درست نہیں معلوم ہوتا کہ وہ ایک مدت تک شعر و شاعری میں مشغول رہے بعد میں انہیں اس کتاب کی تصنیف کی توفیق ملی۔8 اس کے مطابق انہوں نے کتابوں کی تلاش بھی شروع کر دی تھی، اور ملک کے اہل علم سے کتابت کر کے بہت اچھا ذخیرہ فراہم کر لیا تھا، جو ان کی وفات کے بعد تک موجود تھا۔ اس کے علاوہ جہاں جہاں کسی نادر نسخہ کا علم ہوا منگوا کر اس سے استفادہ کیا، ممکن ہے اس کے لئے ملک کے سفر بھی کئے ہوں۔ بنگال کا سفر بھی وفات سے تین سال قبل اسی مقصد سے ہوا تھا اور انہوں نے کلکتہ کے ایشیاٹک سوسائیٹی کتب خانہ سے استفادہ کیا ہو۔ ادھر ان کے شہر پٹنہ میں کتب خانہ خدا بخش کا قیام بھی اسی دور میں ہوا تھا، یقیناً‌ انہوں نے وہاں کے دس سالہ قیام میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہوگا، گرچہ اس کا ذکر کہیں ان کی کسی تحریر میں نہیں ملتا۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت اچھا ذخیرہ تھا، جو تقسیمِ ہند سے پہلے بہار میں رونما ہونے والے فساد ۱۹۴۶ء میں ضائع ہوگیا، جو چیزیں بچی تھیں وہ ان کے فرزند نے کتب خانہ خدا بخش پٹنہ کے حوالہ کر دیں۔ حالاں کہ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی طرح وہ بہت صاحبِ ثروت نہیں تھے، علامہ عظیم آبادی نے بھی اپنے وطن جو ان کے وطن سے قریب ہی تھا بہت ہی نادر ذخیرہ جمع کیا تھا جس کی تفصیل بھی قلمبند ہو چکی ہے9 اور اس کا بڑا حصہ کتب خانہ خدا بخش میں محفوظ بھی ہو گیا۔

حضرت نیموی کے فرزند مولانا عبد الرشید فوقانی (م۱۳۹۱ھ) نے اپنے رسالہ القول الحسن میں ان کی کتابوں کے اشتہارات اور دیگر حوالوں سے وہ تمام اقتباسات یکجا کر دئے ہیں جن میں آثار السنن کی تصنیف کا تکمیل کا ذکر آیا ہے، ان سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس دور تک کتنا کام ہو چکا تھا اور خود مصنف کی نظر میں اس کا کیا مقام تھا، ان کے صاحبزادے لکھتے ہیں:

’’واعلم یا اخی ان النیموی شرع فی کتابہ آثارالسنن فی السنۃ السادسۃ بعد الالف وثلاث مائۃ من الہجرۃ النبویۃ بل من قبیلہا وفرغ من تحریر آخر ابواب الصلاۃ من ذ لک الکتاب فی الثالثۃ عشر بعد الالف وثلاث مائۃ کما صرح بنفسہ فی رسالتہ تبیان التحقیق قد طبعت من قبل المجلی، وہذا المجلی طبع عام الرابع عشر بعد الالف وثلاث مائۃ من الہجرۃ واما الدلیل علی ابتداء النیموی بتالیف آثارالسنن فی السنۃ السادسۃ بعد الالف وثلاث مائۃ فسنذکرہ فی ما سیاتی فانتظر وعلۃ التالیف لتبیان التحقیق عی ما رآہ النیموی من التاخیروالتعویق من بعض الوجوہ فی طباعۃ کتابہ آثارالسنن واتمامہ فلذلک اراد ان یری من کان علی عہدہ من اہل العلم ما فی آثارالسنن من تحقیقات جدیدۃ وفوائد غریبۃ من قبل طباعتہ فالتقط بعض تحقیقاتہ بعد الالتقاط ادخلہ فی تبیان التحقیق وکان من قبل ارسل قراطیس الاشتہارات الی البلاد وغیرہا من القری والقصبات واخبرہم بتلک الاشتہارات بانی اؤلف فی عصری ہذا کتابا فی فن الحدیث سمیتہ بآثارالسنن، فہذہ رسالتہ تبیان التحقیق قد طبعت من قبل آثارالسنن بخمس سنینن۔‘‘

ردسکین مطبوعہ ۱۳۱۲ھ کے اخیر میں یہ اعلان ہے:

’’یہ تو ظاہر ہے کہ حدیث میں پہلے بلوغ المرام یا مشکاۃ پڑھائی جاتی ہے اور ان کے مولف شافعی المذہب تھے، ان کتابوں میں زیادہ وہی حدیثیں ہیں جو مذہب امام شافعی کے مؤید اور مذہب حنفی کے خلاف ہیں، اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر معلم درپردہ غیر مقلد ہوتے ہیں، بے چارے اکثر طلبہ یہ ابتدائی کتابیں پڑھ کر مذہب حنفی سے بدعقیدہ ہو جاتے ہیں، پھر جب صحاح ستہ کی نوبت آتی ہے تو ان کے خیالات اور بھی بدل جاتے ہیں۔ علمائے حنفیہ نے کوئی ایسی کتاب قابلِ درس تالیف ہی نہیں کی کہ جس میں مختلف کتب احادیث کی وہ حدیثیں ہوں جن سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہو، پھر بے چارے طلبہ ابتدا میں پڑھیں تو کیا اور ان کے عقائد درست رہیں تو کیوں کر۔ آخر بے چارے غیر مقلد نہ ہوں تو کیا ہوں، فقیر نے انہیں خیالات سے حدیث شریف میں آثار السنن نام ایک کتاب کی بنائے تالیف ڈالی ہے، اور ارادہ ہے کہ کتب متداولہ کے علاوہ عرب و عجم کے نایاب کتبِ احادیث سے حدیثیں انتخاب کر کے جمع کروں، اور حاشیہ پر اسناد لکھ دوں۔‘‘10

اسی سنہ میں تردید السیف چھپی تھی، اس میں اشتہار میں لکھتے ہیں:

’’بالفعل آثار السنن نام ایک کتاب حدیث شریف میں قابلِ درس بطور مشکاۃ مختلف کتبِ احادیث سے انتخاب کر کے تنقید اسانید کے ساتھ مع التعلیق الحسن علی آثار السنن میں لکھ رہا ہوں، جو حنفیہ کے لئے نہایت بکار آمد ہے، بفضلہ تعالیٰ کتاب الطہارت تمام ہو چکی ہے، کتاب الصلاۃ کے بھی اکثر ابواب لکھے جا چکے، میرا قصد ہے کہ ہندوستان کے نامی کتب خانوں مصر و روم و حجاز کی قلمی کتابوں سے بھی اس میں مدد لی جائے، امید کہ جن صاحب کے پاس حدیث شریف کی کوئی نایاب قلمی کتاب تو ہو تو اس سے مطلع فرمائیں گے، اگر مجھے ضرورت ہو گی خود پہنچ کر اس سے مستفید ہوں گا۔‘‘

اسی طرح جلاء العین مطبوعہ ۱۳۱۳ھ قومی پریس لکھنؤ کے ٹائٹل پیج صفحہ ۲ میں ہے کتاب الطہارت ختم ہو گئی، کتاب الصلاۃ بھی قریب الاختتام ہے، اور اسی رسالہ میں مولانا نیموی مرحوم لکھتے ہیں: ہر چند آثار السنن اور اس کی شرح موسوم بہ تعلیق الحسن کی تالیف کی وجہ سے مجھے اتنی مہلت کہاں کہ کوئی رسالہ لکھوں، مگر چوں کہ آج کل ایک صاحب نہایت مصر ہیں، اس لئے ناچار اپنے اوقات عزیز میں سے کچھ تھوڑا سا وقت نکال کر یہ رسالہ لکھ کے پیش کرتا ہوں، انتہی ملخصاً۔

جلاء العین کے اخیر میں آثار السنن کا تعارف ان الفاظ میں ملتا ہے:

’’آج کل ملک کی سخت ضرورت ہے کہ حدیث شریف میں کوئی ایسی کتاب قابلِ درس تالیف کی جائے جس میں مختلف کتبِ احادیث سے وہ صحیح حدیثیں جمع کی جائیں جو بیشتر صحیح اور مذہب حنفی کی موید ہوں۔ حضرات محدثین بہت کچھ تالیف کر گئے ہیں مگر افسوس اس قسم کی کتاب کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ اگرچہ یہ کام سخت اہم ہے، مگر فقیر نے متوکلاً علی اللہ آثار السنن نام ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے، جس کے ساتھ ہی عربی میں عمدہ شرح بھی لکھی جاتی ہے، جس کا نام التعلیق الحسن علی آثار السنن رکھا گیا ہے۔ کتاب الطہارہ ختم ہو گئی، کتاب الصلاۃ بھی قریب الاختتام ہے، ہر حدیث کے آخر میں بعد حوالہ مخرجین صحیح یا حسن یا ضعیف ہونے کا بھی بیان ہے، بلکہ حاشیہ میں ضروری مباحث کے علاوہ اور محدثین کی تصحیح و تضعیف بھی اکثر مواقع میں لکھی گئی ہے۔ ہندوستان کے نامی کتب خانوں کے علاوہ ان شاء اللہ تعالیٰ مصر و روم و حجاز کی قلمی کتابوں سے بھی اس میں مدد لی جائے گی۔ چوں کہ اکثر علماء کی رائے ہے کہ یہ کتاب نصابِ تعلیم میں داخل کر لی جائے، اور اکثر شائقین کو کتاب الصلاۃ ہی کا زیادہ اشتیاق ہے، لہٰذا قصد ہے کہ کتاب الصلاۃ ختم کر کے جلد اول چھپوا دی جائے۔ جس کی قیمت فی جلد … قرار پائی ہے۔‘‘

اشتہار رسالہ مجلی مطبوعہ ۱۳۱۴ھ حسبِ ذیل ہے:

’’فقیر نے متوکلاً علی اللہ آثار السنن نام ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے، کتاب الطہارت اور کتاب الصلاۃ تمام ہو گئی ہے۔‘‘

ان عبارتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہوں کب اس کا آغاز کیا اور کب پہلی جلد تکمیل کو پہنچی۔ اس کی اشاعت کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

اس سلسلہ میں حضرت علامہ نیموی کے خوابوں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب آثار السنن اور عمدۃ العناقید میں ذکر کئے ہیں، اور اس کتاب کی تصنیف کی مناسبت ہی سے ذکر کئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہرحال ان کے اس کام میں تائید الہی اور دعائے نبوی شامل رہی ہے۔

التعلیق الحسن علی آثار السنن میں لکھتے ہیں:

’’انی رایت ذات لیلۃ فی المنام انی احمل فوق راسی جنازۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام فعبرت ہذہ الرؤیا الصالحۃ بان اکون حاملا لعلمہ ان شاءاللہ العلام ثم شمرت عن ساق الجد واشتغلت بالحدیث حتی وفقنی اللہ تعالی لتالیف آثارالسنن‘‘11

عمدۃ العناقید میں تحریر فرماتے ہیں

’’تشرفت ذات لیلۃ فی المنام برؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم رایتہ جالسا علی السریر وبجانبہ امراۃ بیضاء کالبدر المنیر فقال لی علیہ الصلاۃ والسلام انکحنی ہذہ المراۃ ذات الاکرام فذہبت الیہا وقلت لہا قد انکحتک النبی علیہ الصلاۃ والسلام فقالت قبلتہ بما حصل لہا من النعم فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وطلبنی وذہب الی حجرۃ فذہبت علی اثرہ ودخلت فاستیقظت۔‘‘

ان کے فرزند مولانا فوقانی اس کی تاویل میں لکھتے ہیں:

’’لعل امراۃ بیضاء فی التاویل ہی الاحادیث الصحیحیۃ الواقعۃ فی سنن الآثار وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انکحنی ہذہ المراۃ اشارۃ الی ان نسبتہا الیہ صحیحۃ، والذہاب علی اثرہ والدخول فی حجرتہ والاستیقاظ بعدہ ان وفاۃ المؤلف قریب منہ، وکان الامر کذلک لانہ قد مات بعد رؤیتہا فی مدۃ یسیرۃ، ہذا ما خطر ببالی واللہ اعلم۔‘‘12

حضرت نیموی نے اپنی یادگار وطن میں اپنے حالات کے اخیر میں بھی اسی طرح کے خوابوں کا ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں:

’’ایک دفعہ وعظ میں ایک نعتیہ شعر پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس نے عجب مزا دیا، میں بھی نعت شریف میں ایک فارسی قصیدہ کہنا شروع کیا، جس شب کو میں نے تمام کیا خواب میں دیکھا کہ جناب رسالت مآب ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے ابھی مدینہ طیبہ تشریف لائے ہیں اور ایک جماعت میں رونق افروز ہیں، اور میں بھی جماعت میں شریک ہوں، اٹھ کر آپ سے ایک مسئلہ پوچھنے کا قصد کیا کہ آپ کی آنکھیں کھل گئیں، رویت پر شکر بجا لایا، اور بیداری پر سخت تاسف ہوا، اس قصیدے میں ایک شعر یہ بھی تھا
نقاب خویش بکشائی بخواہم جلوہ فرمائی
جمال پاک بنمائی کہ یابم نعمت عظمی
الحمد للہ کہ یہ شعر مقبول ہوگیا، میں نے اس قصیدے کا نام نعمت عظمی رکھا ……… اس متبرک خواب کے علاوہ میں اور رویائے صالحہ سے بھی شرف اندوز ہوا ہوں۔ ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ آں حضرت ﷺ کا جنازہ سر پر اٹھائے ہوئے ہوں، جس کی تعبیر دل نے یہ کہی کہ تو ان شاء اللہ تعالیٰ حاملِ علمِ نبوی ہوگا، اور واقعی اسی زمانہ سے مجھ کو دینیات خصوصاً‌ حدیث شریف کا زیادہ شوق ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ ۔ ایک دفعہ خواب میں مدینہ طیبہ پہنچا، اور روضہ مبارک میں داخل ہوا، اندر چار قبریں نظر آئیں، ایک قبر حضرت عائشہ صدیقہ کی جو مربع نظر آئی اور تین قبریں مسنم دیکھیں، جن میں ایک آں حضرت ﷺ کی قبر مبارک تھی، اور دو صاحبین کی، اندر ایک پیر مرد کو جس کا چہرہ نہایت نورانی تھا، فرش بچھاتے ہوئے دیکھا، خواب ہی میں عجب سرور حاصل ہوا، اور بعد بیداری جو مسرت حاصل ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ اللہم صل وسلم علیٰ سیدنا ونبینا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین‘‘۔13

حواشی

  1. ان کے حالات ان کی خود نوشت یادگار وطن میں ہیں، اس کے علاوہ ایک دو کتابیں پہلے بھی آچکی ہیں، ابھی حال میں راقم کا ایک مفصل مضمون چار قسطوں (مارچ تا جولائی ۲۰۲۵) میں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ میں شائع ہو چکا ہے، اس کی طرف بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
  2. علامہ شوق نیموی حیات وخدمات ص ۲۶۰
  3. حوالہ سابق
  4. برہان حوالہ سابق
  5. حکیم الامت کے آثار علمیہ مشمولہ مکاتبت سلیمان از مفتی محمد زید مظاہری، ص ۲۸۰ لکھنؤ
  6. حوالہ سابق
  7. سرمۂ تحقیق، ص ۵۶
  8. نزہۃ الخواطر جلد ۸ تذکرہ ظہیر احسن النیموی
  9. دیکھئے کتب خانہ ڈیاواں از مولانا ابوسلمہ شفیع احمد مشمولہ مضامین ابوسلمہ مرتبہ مولانا کفیل احمد ندوی کلکتہ ۲۰۲۳ء
  10. بحوالہ القول الحسن
  11. آثارالسنن ص ۲
  12. القول الحسن ص ۱۵۱
  13. یادگار وطن، ص ۱۰۰

(جاری)

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

A narration is mentioned from Ummul-Mumineen Aisha (may Allah be pleased with her), reported in Bukhari. She says that for a short period of time, the Prophet Muhammad (PBUH) felt some unusual effects on himself in everyday matters. For example, he might ask for food after having already eaten. At other times, when food was offered, he would say that he had already eaten, even though he had not. This situation continued for a few days. These were ordinary, worldly matters, but the Prophet became concerned. Such a condition would not be appropriate for anyone, let alone a Messenger of Allah.
Allah Almighty then revealed the reality of the matter to the Prophet through a dream. The Prophet later described the dream himself. He said that he was lying down, and two men appeared — one standing near his head and the other near his feet. They began speaking to each other. One asked: Does this man have a problem? The other replied: Yes, he does. He asked: What is the problem? The reply was: He has been affected for some days. He asked: What is the cause? The answer was: Someone has done magic on him. It was known that some Jews in Madinah practiced magic. When asked who did it? The reply was: Labid bin A‘sam, a Jew. Then said that the magic was done using some hair along with a comb comb. When asked where these things were? The reply was: They were placed under a stone near a well called Bi’r Fi Dharwan.
The Prophet understood in the dream that these two men were angels, and through their conversation Allah had informed him of what had happened. In the morning, the Prophet took a few companions with him and went to the well of Dharwan. He said that the water looked changed in color, and around it were tall, dense trees, described as looking like the heads of devils. They searched and found the stone, and under it they found the comb and the hair. The Prophet took the hair, went a short distance away, dug into the ground, and buried it there. Then he returned.
Later, the Prophet said to Aisha: The discomfort I had for a few days, Allah has now informed me about it. He told her about the dream, that the angels had explained it, that the person responsible was Labid bin A‘sam, and that the place and the objects had been found. He explained all the details to her. After hearing this, Aisha asked: Where are the hair and the comb now? The Prophet replied; I buried them in the ground. She then asked: Why didn’t you make it public? Why didn’t you show it to people? Everything was clear: the cause was known, the person was identified, the objects were found. Why bury them and remain silent?
The Prophet replied that he was troubled, and Allah had removed his trouble. So why should he spread disorder among people? Allah had shown him the cause through a dream, and he had dealt with it quietly. If he were to announce it publicly in Madinah, it would create chaos. Even when such accusations are made about an ordinary person, they can disturb society, let alone a Messenger of Allah. Allah had protected him and informed him of the matter, so why should he spread unrest by publicizing it? For this reason, only the few companions who went with him knew about it. He did not announce it in the mosque, nor did he tell others, and he buried the items and moved on.
From this incident, scholars explain an important principle. When any news or incident comes to you, the first duty is to investigate it. The Qur’an teaches clear steps regarding news. 
  1. The first step is “verify.” If some news reaches you, first check whether it is true or false. Do not move forward without confirmation. The Qur’an warns that if you act on unverified information, you may harm people out of ignorance and later regret what you have done.
  2. The second step mentioned in the Qur’an is that such matters should be referred to responsible and knowledgeable people. Let those with understanding and experience decide whether the news should be shared further or not.
  3. The third step is to consider the consequences. Even if the news is true, confirmed, and proven, you must still ask: what will happen if it is spread? If spreading a true story will create disorder and harm in society, then restraint is better. This is exactly what the Prophet practiced.
This lesson is shared because today news spreads very easily. Someone hears something and forwards it to dozens or hundreds of people without checking. Many incidents have happened where reactions followed, villages or neighborhoods were disturbed, and the next day it turned out the news was fake.
Here, however, the news was real. The Prophet himself went to the place, found the objects, and identified the person responsible, yet he still chose not to publicize it. When Aisha asked why he did not announce it, he explained that since Allah had protected him, there was no reason to spread unrest among people.
This is very relevant to our daily lives. We all receive news constantly, and we all carry mobile phones. The Prophet warned that it is enough for a person to be considered a liar if he passes on everything he hears. Simply forwarding every piece of information without checking is itself a form of falsehood. Sadly, this has become a habit. When news reaches us, we quickly send it to many people without thinking. We do not ask whether it is true, what harm it may cause, or whether it will spread fear, hatred, or chaos. Even if the news is true, we must still consider whether sharing it will damage peace or create disorder.
So we should be careful. We should verify news, think about its effects, and act responsibly. Otherwise, the warning of the Prophet applies: it is enough for a person to be considered a liar that he repeats everything he hears. May Allah protect us from this habit.
https://zahidrashdi.org/5753


مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی

مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

ممتاز عالمِ دین مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی اور نامور نغمہ نگار جاوید اختر کے درمیان کانسٹیٹیوشن کلب، دہلی، بھارت میں ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ’’کیا خدا موجود ہے؟‘‘ کے موضوع پر دو گھنٹے دورانیہ کا ایک مباحثہ منعقد ہوا جس کی نظامت معروف صحافی ابھیسار شرما نے کی۔ مباحثہ کا ضابطہ کچھ اس طرح تھا  کہ فریقین کی جانب سے گفتگو کے متعدد ادوار کے علاوہ سامعین کے سوالات و جوابات کا دور بھی ہوا: 
  1. ابتدائی استدلالی گفتگو کا دور — دس منٹ فی کس 
  2. پہلا تردیدی / جوابِ دعویٰ کا دور — سات منٹ فی کس 
  3. دوسرا استدلالی گفتگو کا دور — سات منٹ فی کس 
  4. دوسرا تردیدی / جوابِ دعویٰ کا دور — پانچ منٹ فی کس 
  5. جرح اور سوال و جواب کا دور — دو دو منٹ پر مشتمل چار چار سوالات فی کس (سولہ منٹ)
  6. اختتامی گفتگو — پانچ منٹ فی کس 
  7. سامعین کے سوال و جواب — تیس منٹ
مباحثہ کے بعد مفتی یاسر ندیم الواجدی اور مفتی شمائل ندوی نے Post Debate Analysis (بعد از بحث تجزیہ) کی ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی جس کی گفتگو ضروری تسہیل کے ساتھ یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ 
(ادارہ الشریعہ) 


مفتی یاسر ندیم الواجدی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تمام دیکھنے والوں کا آج کی اس پاڈکاسٹ میں استقبال ہے۔ آج کا یہ دن بڑا تاریخی دن ہے، ابھی چند گھنٹے پہلے ہم کانسٹیٹیوشن کلب سے یہاں پہنچے ہیں، اور تقریباً‌ دس لاکھ سے زائد لوگ چند گھنٹوں میں ہی ایک ایسی بحث دیکھ چکے ہیں کہ جس میں اس تصور کو واضح انداز سے ثابت کیا گیا ہے کہ خدا موجود ہے، ہمیشہ سے موجود ہے، اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ اور آج کی اس بحث سے یہ پتہ چل گیا ہے کہ الحادی دنیا دلائل کے معاملے میں کتنی دیوالیہ ہوتی ہے۔ 

مخالف دلائل سے مایوسی

مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی، اور اسی طریقے سے مشہور ملحد اور گیت نگار جاوید اختر کے درمیان یہ جو بحث ہوئی ہے، اس کا لوگوں کو شدت سے انتظار تھا، اور بہت بڑی تعداد میں لوگ مایوس اس معنی میں ہوئے ہیں کہ، میں خود یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید کچھ مضبوط دلائل ملحدین کی طرف سے آئیں گے اور ملاحدہ شاید کوئی نئی دلیل پیش کر پائیں گے۔ ہم اس میدان میں ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں اور میں ہمیشہ یہ دعوے کے ساتھ کہتا آ رہا ہوں کہ الحاد بغیر کسی دلیل کے ایک بے بنیاد عمارت کے اوپر کھڑا ہوا ہے۔ اور الحمد للہ یہ بات پھر سچ ثابت ہوئی۔ 

اسی طریقے سے ایک اور بات جو میں اکثر و بیشتر کہتا ہوں اور شاید لوگوں نے یہ بات کہتے ہوئے مجھے سنا ہوگا کہ تقریباً‌ ستر سے اسی فیصد صورتوں میں الحاد کی وجہ ذہنی صدمہ (Mental Trauma) ہوتی ہے، اور شاید یہی وجہ جاوید اختر صاحب کے تعلق سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے، یہ کوئی انہوں نے ڈھکی چھپی بات نہیں کہی ہے، اس لیے میں اس کو ظاہر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ہوں۔ بحث سے پہلے جب ہماری جاوید صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہم سے یہ کہا کہ بھئی مجھے آپ اس بات پہ قائل کر دیں کہ آٹھ سال کی عمر سے لے کر آگے تک جو میں نے مختلف مصیبتیں جھیلی ہیں، تو کیا خدا اس کی تلافی کرے گا یا نہیں کرے گا؟ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جو بچپن میں مینٹل ٹراما کا وہ شکار ہو گئے تھے تو یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی توجیہ نہیں کر پائے اور خدا کا انکار کر بیٹھے۔

بحث کون جیتا کون ہارا، یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تمام کے تمام لوگ اس بات کے اوپر متفق ہوں گے کہ ایسے تمام لوگ ہماری دعاؤں کے مستحق ہیں، میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جاوید صاحب کو ہدایت دے، وہ اس دنیا سے ایمان کا کلمہ پڑھ کر جائیں، اور خود دوسروں کے لیے بھی وہ ہدایت کا سبب بنیں۔

جہاں تک آج کی بحث کا تعلق ہے تو مفتی شمائل احمد عبد اللہ، ماشاء اللہ آج کے دن کے ہیرو ہیں، تو سب سے پہلے تو میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی ہے کہ آپ یہ وحدانیت کا اور خدا کے وجود کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کریں، تو ایک بار پھر مبارک باد، اور اب آپ کچھ اپنے کلمات کا اضافہ کیجیے۔

مفتی شمائل ندوی: جزاکم اللہ خیرً‌ا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں آپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، اور اس کے علاوہ ہمارے جتنے مسلمان ہیں، بھائی بہن، جنہوں نے ہمارے لیے دعائیں کی ہیں اور بڑا اہتمام کیا تھا اس بحث سے پہلے، تو بس اللہ کے فضل کے بعد آپ حضرات کی محنتوں اور توجہ اور دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ جو کچھ میں کہہ سکا۔

یہ بات آپ نے بالکل صحیح کہی کہ ہم نے توقع نہیں کی تھی کہ جناب جاوید اختر صاحب وہی باتیں کریں گے جو اکثر کرتے آئے ہیں، بلکہ ہم نے یہ سوچا تھا کہ شاید کوئی علمی انداز میں گفتگو ہو گی۔ اور میں نے تو یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ کئی سارے دلائل میں وہاں پہ پیش کروں گا، صرف Argument of Contingency (دلیلِ امکان/حدوث) نہیں۔ لیکن انہیں کنٹنجنسی ہی سمجھ میں نہیں آرہی تھی، تو اسے سمجھانے میں ہی دو گھنٹے گزر گئے۔ تو الحمد للہ، بہرحال جو ہوا اللہ کا فضل رہا، اور اللہ کا فضل ہے کہ حق بات سامنے واضح آ گئی۔ اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں بھی ہدایت دے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ماشاء اللہ اس بحث سے کئی ساری ایسی چیزیں ہیں یا نتائج ہیں کہ جن کو بڑا خوش آئند کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً‌، ایک بات تو یہی کہ بڑے مضبوط انداز سے الحاد کے خلاف یہ مقدمہ قائم ہوا ہے۔ دوسرا جو اس کا بڑا مثبت نتیجہ نکلا ہے وہ یہ کہ شاید ابھی تک لوگ یہ سمجھتے آ رہے تھے کہ یہ جو ٹی وی مباحثوں پر نام نہاد مولانا جاتے ہیں، جن کا کام سوائے چیخنے چلانے کے کچھ نہیں ہوتا، اور چونکہ چینلوں کو TRP بھی چاہیے، تو کچھ پانچ ہزار کا تھیلا ان کو پکڑا دیا جاتا ہے کہ تم چیخو بندروں کی طرح، تو یہ جو تاثر ہے، یہ ختم ہوا ہے، اور اس کو بہت پہلے ختم ہونا تھا، لیکن اس بحث نے تو ماشاء اللہ وہ کام کیا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

باہمی احترام کے ماحول میں مباحثوں کی ریت

مفتی شمائل ندوی: جی بالکل صحیح فرمایا آپ نے، بالخصوص ہمارے جو اس وقت ملک کے حالات ہیں، ان حالات میں اس طرح دو الگ الگ نظریاتی دنیا کے لوگوں کا بیٹھ کر باعزت انداز میں، علمی انداز میں، ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کرنا، یہ میں سمجھتا ہوں یہ خود میں ایک سنگِ میل ہے۔ اور اس کے ذریعے سے ان شاء اللہ آگے بھی راستے ہموار ہوں گے کہ ہم اگر مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والے ہیں تو تشدد کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ساتھ میں بیٹھ جائیں، چائے پی لیں، اور ساتھ میں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کر لیں، آپ کو سمجھ میں آئے تو قبول کریں، نہ سمجھ میں آئے تو نہ قبول کریں، یہ بہت اچھی ابتدا ہوئی ہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ایک صحافی نے بحث کے بعد مجھ سے آ کر یہ پوچھا کہ یہ جو بحث ہوئی ہے، اس کا آپ کیا فائدہ دیکھتے ہیں؟ تو میں نے اس سے یہ کہا کہ کم سے کم انڈیا میں یہ پیغام بڑی مضبوطی کے ساتھ گیا ہے کہ علمی ماحول میں ان حساس موضوعات کے اوپر گفتگو ہو سکتی ہے۔ تو اس نے بڑی انوکھی بات کہی مجھ سے، اس نے کہا، انڈیا کا کیا مطلب، ساری دنیا میں ایسا ہی ہے، بحثیں ان موضوعات پر ہوتی ہی نہیں ہیں۔ میں نے کہا نہیں، آپ غلط ہیں، یورپ میں، امریکہ میں، دنیا کے اکثر ممالک میں ان موضوعات کے اوپر مباحثے ہوتے ہیں، بڑے ہی علمی ماحول میں گفتگو ہوتی ہے، دونوں طرف سے دلائل آتے ہیں، اور الحمد للہ ہم حق کا جو مقدمہ ہے وہ بڑے واضح انداز سے پیش کرتے ہیں۔

مباحثہ کے موضوع کا انتخاب

مفتی شمائل ندوی: ایک صحافی نے مجھ سے بھی کچھ اسی طرح کا سوال پوچھا تھا، اس نے کہا کہ باقی چیزوں کو چھوڑ کر ?Does God Exist (کیا خدا کا وجود ہے؟) پر ہی کیوں بات ہوئی؟ تو ہم نے کہا کہ بھئی ہمارے نزدیک ’’خدا کی موجودگی‘‘ جو ہے وہ درحقیقت سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور خدا پر ایمان لانا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، چونکہ باقی ساری چیزیں ثانوی درجے کی چیز ہیں۔ ہمارے لیے، ہم اس دنیا میں آئے ہیں، ہماری زندگی کا مقصد جو ہے وہ اللہ کو راضی کرنا ہے، اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ تو یہ سوال دراصل اس بنیاد پر مبنی ہے کہ آپ اس چیز کو ایک ثانوی اور نجی چیز سمجھ رہے ہیں، اور سمجھ رہے ہیں کہ اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، آپ کو صرف مادی اور Materialistic ترقی کرنی ہے۔ یہی نظریہ دراصل مغربی دنیا نے دیا ہے کہ کس طریقے سے لوگوں کو مادیت میں مبتلا کر دیا جائے۔ اور الحمد للہ، اللہ نے چاہا تو یہ ایک بہت بڑا سبب بنے گا کہ حق لوگوں تک پہنچے اور سمجھیں کہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں اور ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔

مذاہب کتنے پرانے ہیں؟

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ضرور، ماشاء اللہ۔ اچھا، بحث میں کچھ موضوعات زیر بحث آئے، اور ویسے تو آپ نے ماشاء اللہ وافی شافی جواب دیا وہاں پر، اور میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص بھی اس دو گھنٹے کی بحث کو دیکھے گا، تو جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، ان موضوعات کے اوپر اس کو اچھی معلومات فراہم ہوگی۔ لیکن چند باتیں ہیں جن کو محدود وقت کی وجہ سے، اور اس وقت جو ماحول ہوتا ہے کہ اس میں آپ کو پانچ باتیں کہنی ہیں، وقت کم ہے، اس میں سے دو باتیں آپ نے کہہ دیں اور تین باتیں رہ گئیں۔ تو اس لیے Post Debate Analysis (بعد از بحث تجزیہ) کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جو بات رہ جائے اس کو بعد میں ذکر کر دیا جائے۔

جاوید صاحب نے ایک بات کہی اور وہ یہ کہ مذاہب کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے، یعنی سات آٹھ ہزار سال، اور انسان اس سے پہلے کا ہے، اور یہ جو مذاہب شروع کیے ہیں یہ تعلیم یافتہ لوگوں نے کیے ہیں۔ لیکن ساتھ میں انہوں نے ایک چیز کا اضافہ کیا ہے، وہ یہ کہ مذہب ایک عرصے تک رہا اور اس کے بعد وہ ختم ہو گیا، پھر دوسرا مذہب آیا، پھر تیسرا مذہب آیا، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خدا فانی ہے۔

مفتی شمائل ندوی: جی۔ اصل میں ان کی پوری توجہ موضوع سے ہٹ کے مذہب پر رہی، چونکہ اکثر وہ مذاہب پر ہی بات کرتے آئے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ پہ شاید ان کی پہلی بحث ہے، مجھے نہیں نظر آئی، تو وہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ سے سیدھا مذاہب پر آ رہے تھے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: نہیں، اصلی بندے سے پہلی بحث ہے۔ یہ بہت اہم پوائنٹ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ’’جشنِ ریختہ‘‘ تو تھا نہیں کہ اس میں مثلاً‌ کوئی صحافی خاتون یا کوئی مرد بیٹھ گیا اور اس نے کبھی غالب کا شعر پڑھ دیا اور انہوں نے پانچ اشعار کا اضافہ کر دیا، اور پھر مضطر کے کچھ اشعار …

مفتی شمائل ندوی: شاید وہ یہی سوچ کر آئے تھے میرے خیال سے۔

اہلِ مذہب کے موقف کی مضبوطی

مفتی یاسر ندیم الواجدی: تو وہ یہ سوچ کر آئے تھے کہ میں کچھ بھی پھینک دوں گا، یا کچھ بھی کہہ دوں گا۔ تو اس طرح نہیں ہوا کرتا، اور A good lesson has been learnt (ایک اچھی مثال قائم ہوئی ہے)۔ نہ صرف ان کے ذریعے، بلکہ جتنے بھی لوگ تھے جو الحاد کی طرف سے پیش ہوئے تھے حاضرین میں، ان کو بھی یہ پتہ چل گیا کہ اہلِ مذہب کے پاس جو مقدمہ ہے وہ بہت مضبوط ہے۔

مفتی شمائل ندوی: بہت مضبوط ہے۔ اور یہ صرف انہی کا نہیں بلکہ پوری الحادی دنیا کا یہ ایک طریقہ رہتا ہے کہ وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ الحاد Default Position (اصل/ابتدائی کیفیت) ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے، اگر ہم تاریخ میں دیکھیں تو جو بہت سب سے پہلا جو ملتا ہے ملحد، یا الحاد کی فلاسفی جو ملتی ہے، اگر ہم ہندوستان سے ہی لیں تو تقریباً‌ وہ میرے خیال سے پانچ سو سے چھ سو سال Before Common Era ہے (قبلِ دورِ عام / قبل از مسیح)۔ اور اس سے پہلے بھی مذاہب کی ہمارے پاس تصدیقات موجود ہیں، آثار ظاہر ہوئے ہیں، اور پتہ چلا ہے کہ ان تہذیبوں کے ہاں اس پہلے سے خدا کا تصور موجود تھا۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: بلکہ ہر مذہب میں اگر خدا تصور ہے، صحیح یا غلط اِس سے قطع نظر، تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب سے مذاہب ہیں تب سے انسانیت اس بات کے اوپر متفق ہے کہ خدا ہے۔ خدا کی تشریح میں ہی تو اختلاف ہوا ہے۔ یہ تو عالمگیر سچائی ہوئی۔

مفتی شمائل ندوی: صحیح، اور جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ مذاہب آئے اور چلے گئے، خدا فانی ہو گیا۔ تو وہ مذہب غلط تھا اس لیے فنا ہو گیا، اس کا خدا کہاں فانی ہوا، خدا تو باقی ہے، صحیح مذہب آج بھی باقی ہے۔

ایمان و یقین اور عقیدہ و اعتقاد کا فرق

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ہر مذہب Faith مانگتا ہے۔

مفتی شمائل ندوی: یہ تو ایسے سر درد والی چیز ہے، پتہ نہیں یہ اس خول میں مبتلا ہیں، وہ اس سے کیوں نہیں باہر آ رہے ہیں۔ اصل میں رچرڈ ڈاکنز نے یہ ذکر کیا ہے کہ Faith اور Belief میں فرق ہے۔ فیتھ وہ ہے جو غیر منطقی ہے اور اس کے پیچھے ثبوت نہ ہو۔ اور بیلیف یہ ہے جو ثبوت رکھتا ہو، منطقی ہو، اور خود آپ اس کا تجربہ کر سکتے ہوں۔

تو وہ ان کا اپنا ہے بھی نہیں، انہوں نے وہاں سے لیا، اور اس پہ ان کو پورا فیتھ ہے۔ اس پہ وہ غور نہیں کر رہے ہیں کہ صحیح ہے کہ نہیں ہے۔ تو وہ ہمیشہ سے ہر بحث میں یہی کہتے آئے ہیں، اسی لیے میں نے ان کو واضح کیا کہ بھئی فیتھ صحیح بھی ہو سکتا ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے، آپ جو فیتھ کی ڈیفینیشن بیان کر رہے ہیں، وہ بلائنڈ فیتھ (اندھا عقیدہ) ہے، اس کو تو ہم بھی نہیں مانتے ہیں۔

انسان کی بے مقصد و ترتیب پیدائش کا تصور

مفتی یاسر ندیم الواجدی: دو باتیں انہوں نے اور کہی ہیں۔ ایک بات انہوں نے یہ کہی کہ انسان کی پیدائش Random ہے (کسی منصوبے یا ترتیب کے بغیر)۔ اور دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ انصاف انسانی تصور ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس وقت بھی جواب دیا تھا، لیکن پھر بھی اس کی تھوڑی وضاحت کریں۔

مفتی شمائل ندوی: انسان کی پیدائش رینڈم ہے، یہ تو ظاہر ہے کہ ان کے نظریہ کے اعتبار سے ہے۔ ہمارے نظریہ کے اعتبار سے بالکل واضح ہے کہ ہم اس دنیا میں ایک مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔ اب ان حضرات کی طرف سے سوال یہ ہوتا ہے کہ بھئی اگر ہم بھیجے گئے ہیں اس دنیا میں، تو خدا نے ہم سے پوچھا کیوں نہیں؟ اسی لیے وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم رینڈملی آگئے ہیں۔ تو یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا کا اور انسان کا درجہ کیا ہے۔ وہ خدا ہے، آپ کا ملازم تھوڑا ہی ہے جو آپ سے پوچھے گا۔ تو ہم اس دنیا میں آئے، یہ آپ کو لگ رہا ہے کہ رینڈم ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے، ایک مقصد کے تحت آئے ہیں۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: دوسری بات یہ کہ یہ جو Randomness (بے ترتیبی) ہے نا، تو اس کا جو پوائنٹ آف ریفرنس ہے، وہ ہم ہیں، خدا نہیں ہے۔ یعنی ہمارے لیے ایک انسان کی پیدائش رینڈم ہے، کسی کو پہلے سے پتہ نہیں ہوتا کہ دس سال کے بعد کون اس دنیا میں آئے گا، ہمیں ایسا لگتا ہے کہ رینڈملی کوئی انسان آ گیا، لیکن خدا کے۔

مفتی شمائل ندوی: Lack of Information (معلومات کی کمی) ہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: بالکل، تو یہ Argument from Ignorance ہے (دلیلِ لاحاصل / کم علمی پر مبنی)۔

مفتی شمال ندوی: اور یہ چیز میں نے اپنی ابتدائی گفتگو میں بتائی تھی کہ ان کے جواب کی بنیاد یا تو Argument from Ignorance ہی ہو گا، یا پھر یہ کہ وہ Dogmatic Answer (ہٹ دھرم جواب) دیں گے۔

انصاف کے انسانی تصور ہونے کا موقف

مفتی یاسر ندیم الواجدی: انصاف انسانی تصور ہے۔

مفتی شمائل ندوی: یہ تو سمجھ میں آگیا، وہ آگے پیچھے کرتے رہے۔ انصاف انسانی تصور ہے، اور انہوں نے کہا کہ نیچر میں انصاف نہیں پایا جاتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ اگر نیچر میں انصاف نہیں پایا جاتا ہے، تو اس کا مطلب انصاف کا نہ ہونا نیچرل ہے۔ تو آپ کیوں جدوجہد کر رہے ہیں انصاف کو لانے کے لیے؟ اور انصاف اگر لوگوں کا بنایا ہوا ہے تو پھر مسئلہ وہی Objective اور Subjective والا آتا ہے کہ آپ کیسے فیصلہ کریں گے کہ انصاف اچھی چیز ہے یا بری چیز ہے؟ آپ کے نزدیک انصاف اس لیے اچھی چیز ہے چونکہ سماجی اتفاقِ رائے ہے۔ سماجی اتفاقِ رائے تو ایسی چیز ہے جو ہر زمانے میں، یعنی ہر پچاس سال میں سو سال میں تبدیل ہو جائے، اس کی تو کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ جبکہ انصاف ایک ایسی چیز ہے جو کہ Objectively Morally True ہے (معروضی و اخلاقی طور پر مانی ہوئی سچائی)۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسی مضبوط بنیاد چاہیے جو سماجی اتفاقِ رائے سے یا ذاتی ترجیح سے تبدیل نہ ہو بلکہ ہر زمان و مکان کے لیے یکساں رہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ’’انصاف نیچر میں موجود نہیں ہے، اور انسانی تصور ہے‘‘، یہ دراصل خدا کے وجود کی دلیل ہے۔ وہ اس طریقے سے کہ اگر انصاف قدرتی دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتا، جانوروں میں ہوتا، شیر، پرندوں میں ہوتا، اور پتھروں میں ہوتا، تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ بھئی، انسان اس دنیا کا حصہ ہے تو اس میں بھی ہے۔ لیکن کہیں نہیں ہے، انسان میں ہے، اور انسان ہی مکلف ہے، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ By Design (ساختی) ہے، By Evolution (انقلابی) نہیں ہے۔ (صحیح، بالکل صحیح۔ مفتی شمائل)۔ تو یہ ایک بہت مضبوط دلیل ہے جو وہ ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہیں کہ یہ دلیل آپ میرے خلاف دے دیں۔

اہلِ مذاہب پر سوال کی حوصلہ شکنی کا الزام

اچھا، ایک اور جو غلط فہمی ہے ملحدین کی، میرے خیال سے اس کو کلیئر کرنا بہت ضروری ہے۔ اور مجھے اس کا اندازہ ہے کہ اس وقت اس کو کلیئر نہیں کیا جا سکتا تھا، چونکہ ہماری جو بحث تھی وہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ پر تھی، وہ مذہب کے اوپر نہیں تھی۔ اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ اہلِ مذاہب کے یہاں سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ سوال مت کرو۔ اور جو لوگ سوال کرتے ہیں وہ ترقی کر کے کہاں تک پہنچ گئے، اور جن لوگوں نے سوال کی حوصلہ شکنی کی، وہ آج کہاں پڑے ہوئے ہیں۔ تو یہ جو غلط فہمی ہے، اس کو ذرا کلیئر کیجیے۔

مفتی شمائل ندوی: میں نے وہاں پر یہ بات کہی تھی کہ مذاہب، ظاہر ہے بالخصوص اسلام، سوال کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا، ہاں، بے جا سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ تو صحیح سوال اور غلط سوال، کہاں سوال کرنا چاہیے، کہاں نہیں کرنا چاہیے، یہ دراصل فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اب ایک انسان اللہ سے بے جا سوالات کرے، جیسے کہ وہ کرتے آئے ہیں۔ والعیاذ باللہ، ان کے الفاظ ہیں کہ وہ ہے تو پھر اس کی کیا مجال ہو گی، میں پوچھوں گا اور یہ کروں گا۔ تو ظاہر ہے یہ بے جا چیزیں ہیں۔ تو یہاں پر آپ کو سوال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چونکہ جب آپ نے خدا کی موجودگی کو تسلیم کر لیا تو آپ نے اس کی اتھارٹی کو مان لیا ہے۔ اب جس کی اتھارٹی کو آپ نے تسلیم کر لیا ہے تو اب اس سے سوال نہیں ہوگا۔

ہاں، اس اتھارٹی کو تسلیم کرنے کی تلاش میں، جب تک آپ اس راستے میں ہیں، ظاہر ہے سوال کرنا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے ’’فسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ (النحل ۴۳) کہ تم علماء سے سوال کرو، اہلِ علم سے سوال کرو، جاننے والوں سے سوال کرو، اگر تمہارے پاس علم نہیں ہے۔

تو یہ بھی دراصل ایک ہٹ دھرمی کا موقف ہے، جو الحادی دنیا کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، کہ مذہب تو دباتے ہیں۔ اچھا، ایسا ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بہت سے مذاہب ایسے گزرے ہوں، اور ابھی بھی ایسے مذاہب ہوں، جو ان چیزوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوں، لیکن ظاہر ہے اگر وہ کرتے ہیں تو ہم تو اسے سپورٹ نہیں کرتے۔ ہم تو اس مذہب کے قائل ہیں جو صحیح مذہب ہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: یہ جو میں نے ابھی کہا کہ اس وقت اس سوال کا جواب اس طریقے سے دینا ممکن نہیں تھا، چونکہ بحث مذہب پر نہیں ہے، ورنہ قرآن کریم نے واضح طور سے یہ کہہ دیا کہ ’’لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسؤکم‘‘ (المائدۃ ۱۰۱)۔ یہ ’’ان تبدلکم تسؤکم‘‘ کا جو اضافہ ہے وہ خود بتا رہا ہے کہ مطلق سوال سے منع نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ ایسے بے جا سوالات سے منع کیا جا رہا ہے جو نقصان دہ ہیں، وہ خود آپ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تو یہ جو ان لوگوں کی طرف سے ایک غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے، اس کو ٹھیک کرنا بہت ضروری تھا۔

اسی طریقے سے اگر آپ ہماری تاریخ کو دیکھیں، خدا کی ذات اور خدا کی صفات کے تعلق سے، میں سمجھتا ہوں کہ جتنا غوروخوض ماضی میں ہو چکا ہے، بالکل ابتدائی دور میں، معتزلہ کے دور میں اور اس کے بعد، تو وہ پوری کی پوری اعلیٰ روایت، تاریخ اور علمی ذخیرہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے، اور بہت سے نصابات میں، جو اسلامی تدریس کے اور اسلامی تعلیمات کے نصاب ہیں، ان میں پڑھایا جاتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ معتزلہ نے سب سے پہلے صفات کا انکار کیا۔ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھئی آج کوئی ایسا کر کے دکھا دے۔ بھئی، معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صفات سے الگ کر دیا، اور کہا کہ اس کی کوئی صفت نہیں ہے، تو کیا ان کی گردنیں مار دی گئیں؟ یا یہ کہا گیا کہ تمہیں سوال کرنے کا حق نہیں ہے؟ تو یہ ایک بہت ہی بڑا دھوکہ ہے کہ جو ان لوگوں کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے۔

قرآن میں ڈائناسور کا تذکرہ کیوں نہیں؟

ایک بڑا بچگانہ سوال آیا اور میں تو بہت زیادہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اور حیرت کی وجہ یہ رہی کہ جب میں نے اس موضوع کے اوپر کام کرنا شروع کیا، آن لائن اور سوشل میڈیا کے اوپر میں آیا، تو بالکل ابتدائی دنوں میں، غالباً‌ یہ بات ہے 2016ء یا 2017ء کی، تو اس وقت جو بہت کم عقل قسم کے اسلام مخالف ہوا کرتے تھے، وہ آ کے یہ سوال کیا کرتے تھے کہ قرآن میں ڈائناسور کا تذکرہ کیوں نہیں ہے۔ (بڑے تعجب کی بات ہے۔ مفتی شمائل)۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ جاوید صاحب کے یہاں ابھی تک علمی پختگی کیوں نہیں آئی۔

مفتی شمائل ندوی: اصل میں اب تک وہ رَسل کو ہی پڑھ رہے ہیں۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: وہ اب تک رسل کو ہی پڑھ رہے ہیں، جی ہاں۔ تو آپ کا جو جواب تھا وہ بڑا زبردست تھا ماشاءاللہ کہ قرآن ہدایت کے لیے ہے، وہ جیوگرافی یا زوالوجی، یا اس طرح کے مضامین کا احاطہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔ کچھ چیزوں کا اس میں مظاہرِ فطرت کے تحت تذکرہ آ گیا، وہ بات الگ ہے۔

ممکن الوجود اور واجب الوجود کی بحث

اچھا، اب آ جاتے ہیں ہم اس عظیم الشان لفظ کی طرف کہ جس کو ہمارے جاوید صاحب آخر تک سمجھ نہیں پائے۔

مفتی شمائل ندوی: Contingency

مفتی یاسر ندیم الواجدی: جی ہاں، کنٹِنجنسی۔ مجھے تشویش ہے کہ کہیں لوگ جاوید صاحب کی چڑ نہ رکھ دیں ’’کنٹنجنسی‘‘۔ ان کے ٹویٹر وغیرہ پر یہ لفظ ٹائپ نہ کرنے لگ جائیں۔ یعنی میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہا ہوں، براہ مہربانی مجھے غلط مت سمجھیے گا، لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بہت ہی معمولی دلیل، معمولی اس معنی میں کہ تمام داعیین جو اس میدان میں کام کر رہے ہیں، یا جو مباحثے کرتے ہیں، جن کو ان موضوعات سے دلچسپی ہے، چاہے وہ اِس طرف کے ہوں یا اُس طرف کے، یعنی وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہوں، وہ Argument of Contingency سے واقف ہیں۔ آپ اتنا بڑا چہرہ ہیں الحاد کا اس ملک میں، اور آپ بحث کرنے کے لیے آئے ہیں، اور نیشنل پلیٹ فارم کے اوپر بحث کرنے کے لیے آئے ہیں، راجدھانی میں وہ بحث ہو رہی ہے، اور آپ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ آرگومنٹ آف کنٹنجنسی ہوتا کیا ہے۔

مفتی شمائل ندوی: جبکہ وضاحت کی گئی کئی مرتبہ، اردو میں بھی اور ہر طریقے سے۔ آپ نے بھی کھڑے ہو کر سوال کیا ان سے اور Infinite Regress (لامتناہی تسلسل) کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اس کے بعد بھی نہیں سمجھ سکے، بڑا تعجب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب جس عمر میں وہ پہنچ گئے ہیں، جیسے، اب ظاہر ہے الحادی دنیا الگ ہے، ہماری دنیا میں جب اس عمر میں کوئی پہنچ جائے اور دیندار ہوں، تو گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں وہ حضرات، اور دعا کرتے ہیں، ہم ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔ اب انہیں اپنی دنیا میں گوشہ نشین بن جانا چاہیے، اب ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ توجہ دیں کہ بھئی کیا بات ہے، حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش کریں، اپنے حد تک رکھیں، چونکہ ایک بحث کے اندر۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: الیکٹران اور نیوٹران کی تسبیح پڑھیں۔

مفتی شمائل ندوی: ایک بحث کے اندر، دو گھنٹوں کے اندر، کتنی جگہ وہ اپنے آپ سے ہی تضاد کر رہے ہیں، اگر ہم اس کو دوبارہ دیکھیں۔ جب ہم اخلاقیات کی بات کرنے آئے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ سوسائٹی سے اخلاقیات طے ہوں گی۔ ہم نے کہا، آپ نازی جرمنی کو سپورٹ کرتے ہیں؟ نہیں، کرۂ ارضی۔ تو کرۂ ارضی میں اکثریت مذہب اور خدا کو مانتی ہے، آپ نہیں مانتے۔ پھر آخر میں کہہ رہے ہیں کہ میں اکثریت والی بات واپس لیتا ہوں۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: وہ بہت اہم پوائنٹ تھا، بہت اہم پوائنٹ تھا۔ اچھا، یہ جو آرگومنٹ آف کنٹنجنسی ہے، یقیناً‌ لوگوں نے اس کو سمجھ لیا، لیکن پھر بھی ہمارے ناظرین کے لیے اس کو مختصر انداز میں سمجھائیے۔

مفتی شمائل ندوی: دیکھیں، اس کائنات کی ہر چیز کنٹینجنٹ ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ موجود ہو بھی سکتی تھی اور نہیں بھی ہو سکتی تھی، یعنی اس کا موجود ہونا کوئی ضروری چیز نہیں تھی۔ اور اگر موجود ہوتی تو مختلف قوانین کے ذریعے بھی ہو سکتی تھی، یعنی ابھی جو قوانینِ قدرت چل رہے ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اور قوانینِ قدرت ہوتے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: میں علمِ کلام کے طلبہ کے لیے اضافہ کر دوں، اسی کو ممکن الوجود کہا جاتا ہے ’’ما کان وجودہ عدمہ سواءً‌‘‘ (وہ چیز جس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہو)۔

مفتی شمائل ندوی: تو جو ممکن الوجود ہو گا، جو کنٹِنجنٹ ہو گا، وہ ظاہر ہے کسی اور کے اوپر انحصار کرے گا اپنے وجود کے لیے۔ اب وہ کس کے اوپر انحصار کرتا ہے؟ ہم یہ دیکھیں گے کہ بھئی، کیا وہ چیز بھی کنٹینجنٹ ہے، ممکن الوجود ہے؟

مفتی یاسر ندیم الواجدی: اچھا، اور یہاں پر بھی اس کا اضافہ ضروری ہے، لوگ پوچھتے ہیں بھئی کیوں ہوگا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک چیز کا وجود اور عدم دونوں برابر ہیں، یہ ترازو کے دو پلڑے ہیں، تو کسی ایک پلڑے کے بھاری ہونے کے لیے اس میں وزن ڈالنا ضروری ہے۔ یہ وزن ہے ارادے کا۔ تو کسی نہ کسی نے تو ارادہ کیا ہوگا نا کہ جس نے عدم پر وجود کو ترجیح دی ہوگی۔ اس لیے کنٹینجنسی ہے۔

مفتی شمائل ندوی: تو یہاں سے لاجیکلی، عقلی طور پہ، ہم اس Necessary Being تک پہنچتے ہیں جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جس کا موجود نہ ہونا ناممکن ہے، کیونکہ اگر وہ موجود نہ ہو تو ظاہر ہے یہ ساری چیزیں وجود میں نہیں آ سکتیں۔ اور اس واجب الوجود ذات کا خودمختار ہونا، ازلی ہونا، علیم ہونا، خودکفیل ہونا، اور ایک ہونا، یہ بالکل ضروری ہے۔ تو یہ جب باتیں میں نے کہیں تو آخر میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’اِن کے نزدیک تو عقل سے ہم خدا کو جان ہی نہیں سکتے‘‘۔ یعنی یہ تضاد ہے۔ یعنی پوری بحث اس پہ تھی کہ عقل کے ذریعے ہم خدا کے وجود کو کیسے جانیں؟ اور آپ وہ نہیں سمجھ پا رہے، اور اخیر میں کہہ رہے ہیں: ’’آپ تو کہہ رہے ہیں کہ عقل سے ہم سمجھ نہیں سکتے‘‘۔ تو میرے خیال ہے یہ اُن کی عمر کا تقاضا تھا۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: اسی طریقے سے وہ Infinite Regress اور تسلسل کو بھی نہیں سمجھ پائے، بلکہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ جب میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ آپ اس کو درست سمجھتے ہیں یا نہیں، تو انہوں نے کہا میں درست سمجھتا ہوں۔

مفتی شمائل ندوی: میرے خیال سے وہ سمجھ ہی نہیں پائے Infinite Regress کیا ہے، اس لیے انہوں نے کہہ دیا۔ اور آپ نے بڑی اچھی مثال دی کہ کئی سارے شعراء ایک ساتھ کھڑے ہوں، اور مان لیں کہ جاوید اختر صاحب سب سے آگے ہوں، اور وہ کہیں کہ میں اس وقت تک شاعری نہیں لکھوں گا جب تک پیچھے والا نہ لکھے، اور وہ کہے کہ میں نہیں لکھوں گا جب تک پیچھے والا نہ لکھے۔ تو یہ تسلسل ہو جائے گا، تسلسل باطل ہے۔ اس طریقے سے چلتا رہا لامتناہی طور پر، اور اگر کہیں ہم نہیں رکیں گے تو شاعری وجود میں ہی نہیں آئے گی۔ یعنی شاعری اگر وجود میں آئی تو اس کا مطلب ہے کوئی ایک ایسا شاعر ہے جو اپنے پیچھے والے پہ انحصار نہیں کرتا، وہ خودمختار ہے۔ اسی طریقے سے اس کائنات کے جو اسباب ہیں، اگر یہ لامتناہی تسلسل ہوتا، تو ہم اور آپ یہاں پہ آج موجود ہی نہیں ہوتے، پاڈکاسٹ ہی نہیں کر رہے ہوتے۔ ہم یہاں موجود ہیں، اس کا مطلب ہے، کوئی ایک خودمختار ذات ہے جو کسی اور کے اوپر انحصار نہیں کرتی، اس نے اپنے ارادے سے فیصلہ لیا ہے۔

مباحثہ میں علمِ کلام کا کردار

مفتی یاسر ندیم الواجدی: علمِ کلام کے طلبہ کی آسانی کے لیے کہہ دوں کہ اگر عِلّت اولیٰ نہ ہو تو معلولِ اخیر نہیں ہو سکتا (ماشاء اللہ۔ مفتی شمائل)۔ اچھا، یہ بتائیں کہ اس میں علمِ کلام کا کتنا کردار رہا، آپ کی بحث میں، آپ کے لیے؟

مفتی شمائل ندوی: پورا علمِ کلام ہی تھا، اور کیا تھا؟

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ایک ہے آپ اس کو پیش کر رہے ہیں، ماشاء اللہ، اور ایک یہ کہ علمِ کلام کے جو مباحث ہیں، جیسے تسلسل ہے، دلیلِ توقف ہے، تو ماشاء اللہ چونکہ آپ نے اس سے استفادہ کیا ہے، تو یہ بڑی خوش آئند بات رہی۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ علمِ کلام کو فرسودہ علم سمجھا جانے لگا تھا۔

مفتی شمائل ندوی: میں سمجھتا ہوں کہ علم فرسودہ نہیں ہے، البتہ اصطلاحات ضرور فرسودہ ہو گئی ہیں، ان کو تھوڑا سا ریفائن کرنا چاہیے اور جدید علمِ کلام کی طرف لانا چاہیے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: یہی بات ہے کہ جب ہم علمِ کلام کی تجدید کی بات کرتے ہیں نا، تو تجدیدِ لسان، یعنی زبان کی تجدید کو چھوڑ کر ہم مواد (دلائل) کی تجدید پر چلے جاتے ہیں۔ (ہاں، یہ ایک پرابلم ہے، مفتی شمائل)۔ تو لوگ یہی نہیں سمجھتے کہ علمِ کلام کی تجدید کا کیا مطلب ہے۔ یعنی میں اس بات سے متفق ہوں کہ آج کی آپ کی جو بحث کامیاب رہی ہے وہ اس لیے کہ جو اصطلاحات اور دقیق مباحث علمِ کلام کے اندر پائے جاتے ہیں عربی میں، آپ نے ان کو انگلش کے قالب میں ڈھال کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور لوگوں کو سمجھ میں آگیا۔ اگر آپ تسلسل، اور دور، اور دلیلِ توقف، اور یہ سب کہہ رہے ہوتے ہیں، اور معلولِ اخیر اور عِلّتِ اولیٰ، تو یا تو میں سمجھ رہا ہوتا، یا آپ سمجھ رہے ہوتے۔

مفتی شمائل ندوی: صحیح بات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اس میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔

تصرّفِ الٰہی (تقدیر اور دعا) کا عقیدہ

مفتی یاسر ندیم الواجدی: بارک اللہ فیکم۔ اچھا، ایک سوال جو بہت اہم ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی Interference (تصرفِ الٰہی) اور دعا، اس کے تعلق سے آپ کیا کہیں گے؟ یعنی یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر خدا نے ہر چیز کو مقرر کر دیا اور اب وہ ہٹ گیا، جیسے چیزیں چلنی چاہئیں ویسے چل رہی ہیں، ایک مکینکی انداز میں، تو پھر دعا مانگنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، تو دعا مانگنے کی ضرورت ہے۔

مفتی شمائل ندوی: ایسا تو نہیں ہے کہ مکینکی انداز میں یہ دنیا چل رہی ہے، بلکہ اللہ رب العالمین ہر لمحے اس نظام کو چلا رہا ہے اور اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ انسانی زندگی میں بنیادی طور پر دو قسم کے احوال آتے ہیں: ایک وہ ہیں جن پہ اس کا اختیار نہیں ہوتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جس پہ اس کا اختیار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ ہم اختیار کا استعمال کر کے اعمال کرتے ہیں، اعمال کو انجام دیتے ہیں، آپ چاہے اچھا عمل کریں، یا برا عمل کریں۔ بہت سے حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں پہ ہمارا اختیار نہیں ہے، مثلاً‌ کوئی حادثہ ہو گیا، یا کوئی ایسی چیز آگئی جسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے ہیں، تو وہ براہ راست اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تو دعا کی اہمیت اس لیے بھی باقی رہتی ہے چونکہ ایک طرف وہ حالات بھی ہیں جہاں پہ آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اللہ کا مکمل کنٹرول ہے۔

دوسری چیز، جب ہم کوئی عمل اپنے اختیار سے بھی کیوں نہ کر رہے ہوں، اللہ کی توفیق ضروری ہوتی ہے، اس لیے اللہ سے دعا مانگنے کا حکم خود اللہ نے دیا۔ اور اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ ہم جو مانگ رہے ہیں اللہ سے، وہ ہمیں اِس دنیا میں نہ ملے، لیکن اس کی جو جزا ہے وہ اللہ کے ہاں متعین ہے۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عبادت قرار دیا، تو ظاہر ہے یہ مستقل ایک عبادت ہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: یعنی بالفاظِ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم دعا مانگتے ہیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ دعا اسی انداز سے قبول ہوگی جس انداز سے ہم چاہ رہے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ وہ اجر کی صورت میں قبول ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ وہ تاخیر کی صورت میں قبول ہو جائے۔ ایک بات۔

دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہمیں کیا معلوم کہ دعا کس انداز سے قبول ہوگی۔ ہمارا کام تو دعا مانگنا ہے (وہ الحکیم ہے، ہم الحکیم نہیں ہیں، مفتی شمائل)۔ ٹھیک۔

تیسری بات یہ ہے کہ، ایک بات ’’شرح عقائد‘‘ میں لکھی ہوئی ہے، میں تمام لوگوں کے ساتھ اس کو شیئر کرنا چاہوں گا۔ یہ مبحث وہاں آیا ہے اور اس میں تفتازانی یہ فرماتے ہیں۔ وہ ایک حدیث ہے جس کے تحت یہ کلام ہے کہ ’’لا یرد القدر الی الدعاء‘‘ کہ تقدیر کو صرف دعا بدلتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا دعا سے واقعی تقدیر بدل جاتی ہے؟ تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ مثلاً‌ ایک انسان ہے، اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ دعا مانگے گا اور دعا مانگ کر فلاں کام ہوگا۔ یہ دعا بھی چونکہ عبادت ہے، تو اگر یہ دعا مانگے گا نیکی کی، تو اس کی عمر ساٹھ سال ہوگی، اور دعا نہیں مانگے گا تو اس کی عمر چالیس سال ہوگی۔ لیکن چونکہ اللہ کے علم میں ہے کہ دعا مانگے گا تو وہ ہر حال میں دعا مانگتا ہے۔ تو دعا نہ مانگنے کی صورت میں عمر کی جو اہلیت ہے وہ چالیس سال ہے، اور مانگنے کی صورت میں عمر کی جو اہلیت ہے وہ ساٹھ سال ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔

یعنی جو میں نے اضافہ کیا ہے، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جو مباحث آج کانسٹیٹیوشن کلب میں ہو رہے تھے، یہ تو تفتازانی نے ایک ہزار سال پہلے لکھ دیا۔ بات یہ ہے کہ ہمارے جو طلباء ہیں، اساتذہ ہیں، میں ان کی توجہ اکثر و بیشتر اس طرف مبذول کراتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک مضبوط علمی روایت ہے، اس مضبوط علمی روایت کو صرف پیش کرنے کا سلیقہ چاہیے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

سائنس ’کیوں‘ کا جواب نہیں دیتی

ایک آخری نکتہ میں ذکر کروں گا اور اس کے بعد ان شاء اللہ اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں۔ ملحدوں سے ایک سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ بھئی، یہ کیا وجہ ہے کہ انسان ہی کے اندر اتنا شعور آیا ہے کہ وہ If A Then B کا سوال کرتا ہے۔ یہ سوال گھوڑا، گدھا، بکرا، یہ سب کیوں نہیں کرتے؟ (جبکہ ڈاروِن ایولوشن کے قائل ہیں وہ، مفتی شمائل)۔ ڈاروِن ایولوشن کے قائل ہیں سب، ایولوشن ہوا ہے۔ تو کہیں گے، نہیں، اصل میں وہ انسان کے اندر جو نیورانز ہیں، نیوروسیلز ہیں، وہ زیادہ ہیں۔ تو اگر یہ دیکھا جائے تو بھئی ہاتھی کے اندر زیادہ ہیں۔ وہ کہیں گے، نہیں، اصل میں فرنٹل لوب میں جو نیوروسیلز ہیں، وہ زیادہ ہیں۔ تو ٹھیک ہے، یہ آپ نے ’’کیسے‘‘ کا جواب دیا۔ آپ نے کہا، اس لیے شعور ہے کہ اس کے فرنٹل لوب میں نیوروسیلز زیادہ ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیوں زیادہ ہیں؟ ’’کیوں‘‘ کا جواب سائنس کبھی نہیں دے پاتی۔

مفتی شمائل ندوی: کبھی نہیں دے سکتی، وہ میکینزم کو ہی بتاتی ہے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: جی ہاں۔ تو چلیں مفتی صاحب، بہت اچھا لگا کہ آج۔

غزہ کی نسل کشی سے خدا کی عدمِ موجودگی پر دلیل

مفتی شمائل ندوی: ایک چیز اور ہے جس کا ذکر میں کروں گا، جو نظر آیا، اور صرف انہی کے ساتھ نہیں، اور بھی جو دیگر ملحدین ہیں، وہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہوتی تو فوراً‌ جذباتی دلیل پہ آجاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ کیسے غزہ کے مسئلے کو انہوں نے اٹھایا۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: ہاں، وہ پوائنٹ ذکر کرنا بہت ضروری تھا، جی ہاں۔

مفتی شمائل ندوی: تو پوری بحث میں ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہا، اب وہ جذباتی طور پر لوگوں کو ابھارنے لگ گئے کہ بھئی غزہ میں اتنا قتل ہو رہا ہے، اور یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے۔ میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ بھئی، اگر بالفرض مان لیں کہ خدا نہیں ہے، تو آپ بتائیے کہ پھر اس ظلم کا اور ان کی مصیبتوں کا کیا ہوگا؟ اور آپ کیسے شَر کو طے کرتے ہیں؟ اب وہاں جا کے ان کے پاس کوئی ڈھنگ کا جواب نہیں رہا۔ چونکہ معروضی طور پر شَر کا موجود ہونا بھی درحقیقت خدا کے ہونے کی دلیل ہے۔ باقی ہمارے نظریہ کے اعتبار سے ہم اس دنیا میں ٹیسٹ کے لیے آئے ہیں، ہمارا امتحان ہو رہا ہے، ہماری آزمائش ہو رہی ہے۔ کیا صحابہ کرامؓ نے قربانیاں نہیں دیں؟ جس طرح آج غزہ کے مسلمان قربانی دے رہے ہیں، صحابہؓ نے بھی دیں اور تاریخِ اسلامی میں سب نے دیں۔ اور الحمد للہ ابھی بھی جو غزہ میں شہید ہو رہے ہیں وہ دین سے دور نہیں ہو رہے، اور دین سے قریب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: صحیح بات ہے۔ اچھا، یہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں، بہت سے لوگ، یعنی ملحدین میں سے، کہ بھئی آپ نے غزہ کی جو نسل کشی ہے اس کو جسٹیفائی کر دیا (توجیہ کر دی / جواز دے دیا)۔

مفتی شمائل ندوی: اصل میں اسے کہتے ہیں Straw Man Fallacy, where you misrepresent your opponent آپ اپنے سامنے والے کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ بھئی، ہم سے زیادہ اور کون ہمدردی رکھے گا غزہ والوں سے؟ آپ تو ایک ملحد ہیں، آپ کے پاس تو اخلاقیات کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے، آپ تھوڑی رکھیں گے۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: یعنی ان کا جو پورا موقف ہے غزہ کے تعلق سے، وہ اس مفروضے کے اوپر مبنی ہے کہ چونکہ (۱) اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے، (۲) چونکہ آپ دعا مانگ سکتے ہیں، (۳) تو آپ دعا مانگ کے رکوا دیں۔ یہ کیوں نہیں کروا رہے؟

مفتی شمائل ندوی: یہ تو سمجھ رہے ہیں کہ آٹومیٹک، جیسے بٹن کو دباتے ہیں، ویسے ریموٹ کی طرح اللہ کام کرے، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: (۱) قادرِ مطلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، (۲) ہم دعا مانگتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے، (۳) لیکن ہم دعا مانگ کر کام کروا دیں۔ اِن دو شروع کے مقدمات اور تیسرے مقدمے میں کوئی تلازم نہیں ہے۔

مفتی شمائل ندوی: صحیح۔ اللہ اس وقت کرے گا جب وہ جانتا ہے کہ بہتر ہو، اور جب وہ کرنا چاہے گا، ہمارے اعتبار سے نہیں کرے گا۔

امت کو مبارکباد

مفتی یاسر ندیم الواجدی: بالکل، ماشاء اللہ۔ ایک مرتبہ پھر آپ کے توسط سے پوری امت کو مبارکباد۔

مفتی شمائل ندوی: جزاکم اللہ خیرً‌ا۔ الحمد للہ۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی: اور یہ ایک بہت بڑا دن ہے اور بہت بڑا موقع ہے۔ ’’الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ‘‘۔ ’’وقل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘ (بنی اسرائیل ۸۱)۔ جزاکم اللہ خیرا الجزاء۔

مفتی شمائل ندوی: الحمد للہ، بارک اللہ فیکم۔ ’’بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ہو زاھق ولکم الویل ما تصفون‘‘ (الانبیاء ۱۸)۔

https://youtu.be/v1ajmmgSjdk


خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سوال

اگر خدا زمان اور مکان سے ماورا ہے اور زمان ومکان اس کی تخلیق ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ خدا کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی؟ ہمیشہ کا تصور بھی تو زمان پر مبنی ہے، اگر زمان ہی نہ ہو تو ہمیشہ کا وجود کیسے متصور ہوسکتا ہے؟

جواب

یہ سوال زمان کے کامن سینس تصور پر مبنی ہے اور کامن سینس کے اعتبار سے درست ہے۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ زمان یا مکان کو محدود تصور کرنا یعنی یہ تصور کرنا کہ زمان کی کوئی ابتدا ہے اور اس سے پہلے زمان نہیں تھا، یا مکان کی کوئی حد ہے اور اس حد سے آگے مکان کا وجود نہیں، یہ counter-intuitive ہے، یعنی کامن سینس کے لیے ایسا تصور کرنا ممکن نہیں۔ زمان اور مکان کے محدود ہونے کا تصور دراصل عقلی استدلال کے ذریعے سے بالواسطہ قائم کیا جاتا ہے۔ مثلاً‌ چونکہ لامحدود زمان اور لامحدود مکان کا تصور لامتناہی کے تصور کو مستلزم ہے اور انسانی عقل لامتناہی کے تصور کو قبول نہیں کرتی، اس لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ زمان اور مکان لامحدود نہیں، بلکہ محدود ہیں۔

لیکن اس وضاحت کے باوجود کامن سینس کے لیے کسی بھی چیز کے وجود کو زمان سے الگ کر کے تصور کرنا ناممکن ہے۔ اگر زمان کے تخلیق ہونے سے پہلے بھی خدا موجود تھا تو موجود ہونے کا تصور وقت یا زمان کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ہمیں اس حالت کو بیان کرنے کے لیے بھی ’’پہلے’’ کی تعبیر اختیار کرنی پڑتی ہے جو وقت کو بیان کرتی ہے۔ انسانی زبان میں ایسا پیرایہ ہی موجود نہیں جو زمان کے تصور کے بغیر کسی چیز کے وجود کو بیان کر سکے۔

کامن سینس کی اس مشکل کے پیش نظر بعض مسلم ومسیحی ماہرین الہیات نے زمان یا وقت کے مختلف تصورات قائم کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثلاً‌ ایک صورت ’’ابدیت’’ یا ’’سرمدیت’’ ہے جو خدا کا زمان ہے۔ یہ بیک آن ہے، یعنی اس میں آنات کے یکے بعد دیگرے وجود میں آنے کا پہلو نہیں ہے اور نہ وہ محل تغیر ہے۔ اس کے مقابلے میں خدا کا تخلیق کردہ زمان ہے جس کا تعلق مخلوقات سے ہے۔ یہ زمان بیک آن نہیں ہے، بلکہ مرحلہ بہ مرحلہ وجود میں آتا ہے اور اسی وجہ سے تغیر کے امکان کو متضمن ہے۔ علت ومعلول کا ضابطہ بھی جس صورت میں اس زمان میں ظاہر ہوتا ہے، وہ ابدیت یا سرمدیت پر قابل اطلاق نہیں ہے۔

یہ تفریق، جیسا کہ اس وضاحت سے معلوم ہوا، عقلی اور تصوراتی سطح پر ہے۔ یہ ہمارے تجربے میں نہیں آ سکتی اور نہ اس کی کُنہ کو جاننا ہمارے لیے ممکن ہے۔ یہ مختلف تصورات اور ان کے باہمی تعلق کو بامعنی بنانے کے لیے قائم کی جاتی ہے۔ (مولانا فراہیؒ نے اس کو یوں بیان کیا ہے کہ زمان دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت بقا سے مُنتزع ایک تصور ہے، یعنی مذہبی تصور میں اصل چیز خدا کا، عدمِ وجود یا زوال وفنا سے پاک ہونا ہے۔ اسی سے ہم ذہنی طور پر زمان کا تصور انتزاع کر لیتے ہیں۔)

زمان کی مختلف کیٹگریز میں فرق صرف الہیات کے ساتھ خاص نہیں۔ فلسفے میں اور جدید سائنسی نظریات میں بھی مختلف فکری ضرورتوں کے لیے اس سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلاً‌ ارسطو کے فلسفے میں محرک اول کا چونکہ تغیر سے ماورا ہونا ضروری ہے، اس لیے وہ زمان سے بھی ماورا ہے۔ اسی طرح جدید سائنس میں جو نظریے یہ فرض کرتے ہیں کہ کائنات کے وجود میں آنے اور فنا ہونے کا عمل لامتناہی زمانے سے ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا، ان میں بھی لامتناہی زمان (eternality) میں اور اُس وقت (local time) میں جو کسی کائنات کے ظہور کے ساتھ وجود میں آتا ہے اور پھر اسی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ کائناتوں کے ساتھ پیدا ہونے والا وقت، مقامی اور محدود ہوتا ہے، جبکہ کائناتوں کے ظہور اور فنا کا یہ سارا عمل جس زمان میں ہو رہا ہے، وہ ابدی اور لامتناہی ہے۔

اسی نوعیت کا فرق ابن تیمیہ بھی ملحوظ رکھتے ہیں جو نوعی اعتبار سے عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی صفت خلق ہمیشہ سے فعال ہے اور کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جب خدا خلق نہ کر رہا ہو۔ اسی پہلو سے وہ زمان کو بھی قدیم کہتے ہیں جس میں خلق کا یہ عمل ہو رہا ہے، تاہم یہ زمان دیگر حوادث کی طرح ’’مخلوق’’ اور فانی ہے، جبکہ خدا کی ذات کے ساتھ زمان کا جو تصور وابستہ ہے، وہ ’’ازل’’ ہے، جو مخلوق زمان سے الگ ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

علمِ کلام کی قدیم روایت مسلمانوں کے پاس ایک ایسا بیش بہا سرمایہ ہے، جو حرزِ ایمان ہونے کی بنا پر حرزِ جان سے زیادہ اہم ہے۔ قدیم و جدید فلسفے کے تباہ کن نظریات کی زد میں زیادہ تر وہ لوگ آئے ہیں، جن کا کلامی روایت میں رسوخ نہیں تھا۔ اس علم کا جنم دوسری صدی ہجری کے بعد اُس وقت ہوا جب یونانی فلسفے کے اثرات نے مسلم معاشروں میں فکری چیلنجز پیدا کرنا شروع کر دیے تھے۔ قدیم متکلمین نے ان چیلنجز کا جواب دینے کے لیے فلسفے کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا، جس میں ارسطو کے فلسفے کا ایک بڑا کردار تھا۔ یہ حقیقت بھی مسلَّم ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض چوٹی کے اہلِ علم یونانی فلسفہ کی رو میں بہہ گئے اور فلسفہ کی تو خاصیت بھی یہ ہے کہ پہلے سے قائم فکر کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں تو سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ امام فارابی، ابن سینا [1] اور ابن رشد تاریخِ اسلامی کی غیر معمولی شخصیات گزری ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ارسطو کے فلسفے سے اپنا دامن نہ بچا سکا۔

اسلامی عقائد و نظریات کی حفاظتِ غیبی ہر دور کے متکلمین کے حصے میں آئی ہے۔ امام غزالی سے کم و بیش دو سو سال قبل امام ابوالحسن اشعری اور امام أبو منصور ماتریدی [2] اپنے عہد کے وہ کلامی مسائل جو معتزلہ سے متعلق تھے، مکمل کر چکے تھے۔ ابن رشد کے عہد کی باقی ماندہ ارسطوائی نظریات کا صفایا امام غزالی [3] نے تہافۃ الفلاسفہ میں ایسے کیا کہ ابن رُشد تہافۃ التہافۃ جیسی گرانقدر کاوشوں سے بھی دوبارہ اُٹھنے کے قابل نہیں ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ غزالی کے اُٹھائے گئے سوالات کو بلاواسطہ ایڈریس کرنے کا کسی کو حوصلہ نہیں ہوا۔ الغرض یہ الزام دینا قطعی طور پر بے انصافی ہو گی کہ متکلمین کسی بھی دور میں اسلام سے زیادہ فلسفہ کی خدمت کر بیٹھے ہیں۔ پہلی قسط میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ ہیوم و کانٹ گویا سوفسطائیہ کی نئی شکل (New version) ہیں، جو سائنسی مشاہدات و تجربات کی خارجی و نفس الامری حقیقت ماننے سے انکار کرتے ہیں، بلکہ اسے انسانی عادت یا ذہنی تشخص سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ متکلمین نے مشاہدات و تجربات کی خارجی و نفس الامری حقائق مان کر سائنس کی تصویب و تحسین کی۔ افسوس کی انتہاء یہ ہے کہ کانٹ و ہیوم پر سائنس کو پیچھے دھکیلنے کا الزام نہیں، رازی و غزالی پر یہ الزام دھڑلے سے لگایا جاتا ہے۔ یونانیوں کے کئی بنیادی فلسفے اور اشیاء میں تاثیر ماننے کا وہ فلسفہ جو ارسطو نے پیش کیا تھا، اور ابن سینا، ابن رشد، معتزلہ اور کئی مسلم فلاسفہ کسی نہ کسی شکل میں اُس سے تاثر لیے ہوئے تھے، متکلمین نے دلائل کی قوت سے ایسے رد کیا کہ نہ فلسفہ آج تک اپنی پیروں پر کھڑا ہو سکا اور نہ ہی متکلمین کی دلیل میں کوئی رخنہ ڈال سکا۔

متکلمین کی دلیلِ حدوث جدید فلسفے کے عَلم برداروں کے لیے آج بھی ویسا ہی چیلنج ہے، جیسا یونان کے فلاسفہ کے لیے چیلنج تھا۔ کیونکہ یونانی کائنات کو قدیم (وقت سے ماوراء) مانتے تھے۔ دلیلِ حدوث کو آج کی زبان میں "کلامی کائناتی دلیل" (Kalam Cosmological Argument) اور مختصراً KCA دلیلِ کونی یا دلیلِ حدوث کہتے ہیں۔ دلیل کا لُب لباب یہ ہے کہ یہ کائنات اپنی ماہیت میں حادث (یعنی مخلوق، نوپیدا، عدم سے وجود میں آنے والی، Temporarily originated) ہے، لیکن اس کو وجود میں لانے والا (مُوجِد، مُحدِث، خالق، فاعلِ مختار، علّتِ تام) "واجب الوجود" (Necessary Being) اور "قدیم" (Space & Time, Cause & Effect سے باہر و ماوراء) ہے۔ یہ دلیل استنتاجی و استخراجی (deductive) منطق پر مبنی ہے جس میں دو بنیادی مقدمات (premises) اور ایک لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔

1. پہلا مقدمہ: کائنات حادث (نوپیدا) ہے یعنی عدم سے وجود میں آئی ہے [4]۔

2. دوسرا مقدمہ: ہر نوپیدا چیز کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہے (Cause & Effect، علت کے لئے معلول ہونے کا قانون)۔

نتیجہ: کائنات کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہے۔

پہلا مقدِّمہ یعنی حدوثِ عالم "کائنات کا عدم سے وجود میں آنا" (the universe is contingent and began to exist) کو ثابت کرنا ہی متکلمین کا اولین فریضہ ہے؛ کیونکہ یونان کے فلاسفہ، خاص طور پر ارسطو، یہ دعویٰ کرتے تھے [5] کہ کائنات ہمیشہ سے ہے، یعنی عالم قدیم ہے، اس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ اختتام۔ اس یونانی تصور کو رد کرنے کے لیے متکلمین نے ایسی قوی و فطری دلیل (Self-Evedentry) دی ہے، جو مزید اجنبی یا نظری دلائل پر مشتمل نہیں، بلکہ حِس و مشاہدہ پر مبنی ہے؛ مثلاً متکلمین ابتداء یہاں سے کرتے ہیں کہ کسی چیز کا ہونا اور نہ ہونا دونوں بیک وقت نہیں ہو سکتا۔ اب اگر کوئی چیز موجود ہے تو دو حال سے خالی نہیں ہوگی یا تو حادث (Time Bound & Space) ہوگی اور یا قدیم (Time Beyond & Space) ہوگی۔ کائنات کی جو چیزیں ہمارے حِس و مشاہدہ میں آتی ہیں، وہ ہمیشہ سے نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ہم تک اُن کا پہنچنا لازم کرتا ہے کہ ایک مبداء ضرور ہے جہاں سے آغاز کیا ہے۔ اُس مبداء کے دُور اور نزدیک ہونے پر جلد یا بدیر پہنچنے کا مدار ہوتا ہے۔ وقت اِسی حرکت و رفتار کو ناپنے کا آلہ ہے۔ اور جو بھی چیز وقت کے اندر ہوگی وہ ناپی جائے گی۔ یوں اُس کا آغاز متعین ہوگا۔ آغاز اُس چیز کا ہوتا ہے جو پہلے نہ ہو اور پھر وجود میں آئی ہو۔ اِسی کو حادِث (نو پیدا) کہتے ہیں ۔ اِس پہلے مقدِّمے کا ثبوت اشیاء کے لامتناہی سلسلے (Infinite Set) کا خارج میں موجود نہ ہو سکنے پر موقوف ہے۔ اِس کو ہم پہلے علمِ کلام کے روایتی اور پھر جدید سائنسی طریقے سے ثابت کرتے ہیں۔

1۔ تسلسل کا باطل ہونا (Actual Infinite Regress)

غیر متناہی أمور کا بالفعل بیک آن جمع ہونے کو اہلِ منطق کی اصطلاح میں تسلسل کہتے ہیں، اور اس کو باطل اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جس چیز کے أجزاء کا احاطہ و تحدید نہ ہو سکے اُن لامحدود أجزاء کا ہم اپنے تخیل میں یا خوابوں میں تصور کر سکتے ہیں، لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہے۔ حقیقتِ واقعی کے طور پر اُن اجزاء کو اوّل تا آخر جمع کرنا ناممکن ہے، کیونکہ لامحدود أجزاء کا نہ اوّل ہوتا ہے، نہ آخر۔ قدیم یونانی فلسفے میں، خاص طور پر ارسطو کے پیروکاروں میں، کائنات کے قدیم ہونے کا تصور راسخ تھا۔ ان کے نزدیک کائنات کا نہ کوئی آغاز تھا اور نہ ہی کوئی اختتام، بلکہ وہ ہمیشہ سے موجود تھی۔ یہی یونانی فلسفہ کی بنیاد ہے، اُن کا فلسفہ ’’جزء لا یتجزی‘‘ کی نفی سے شروع ہوتا ہے، حالانکہ اب ایک ایک ایٹم کو چیر کر الیکٹران، پروٹان، نیوٹران وغیرہ کی تعداد اور لہروں تک انسان کی رسائی ہوئی ہے۔

متکلمین اِس تسلسل کو باطل کرنے کے لئے مختلف دلائل و براہین جیسے برہانِ سُلَّمی، بُرہانِ تضعیف وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ علامہ تفتا زانیؒ کو یہ دلائل واضح طور پر مُثمِر محسوس نہیں ہوئے ہیں، اِس لئے ہم نے اِن سے پہلو تہی کر کے دیگر دلائل کی طرف توجہ کی ہے۔

زمان کا تسلسل:

اگر ہم وقت کو پیچھے کی طرف لے جائیں اور یہ فرض کریں کہ وقت کبھی شروع نہیں ہوا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لامحدود ماضی موجود ہے۔ اب سوچیں کہ آج تک پہنچنے کے لیے ہمیں ان لامحدود لمحوں کو عبور کرنا پڑے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ لامحدود کو عبور کیا جا سکے؟ نہیں، کیونکہ لامحدود کے عبور کے لیے خود لامحدود وقت درکار ہوگا، جو ایک ایسا دائرہ بن جائے گا، جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے، وقت کا ایک آغاز ہونا لازم ہے اور جو چیز وقت کے اندر ہو اُس کا بھی ایک آغاز ہونا لازم ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ کائنات کی ہر چیز پر زمانے نے احاطہ کیا ہوا ہے، اِس لئے یہ کہنا ناگزیر ہے کہ کائنات حادث ہے۔

مکان و حیز کا تسلسل:

اگر کائنات میں اشیاء یا ذرات کا سلسلہ بھی لامحدود ہو تو کوئی چیز نہ دوسرے سے آگے ہو سکے گی، نہ پیچھے۔ کائنات میں موجود اشیاء کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کا شمار کیا جا سکتا ہے، اور لامحدود اشیاء، جن کا نہ اول ہو، نہ آخر ہو، اُن کا شمار ممکن نہیں رہتا، اِسی طرح کائنات کے واقعات کا سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا، بلکہ اِس کا ایک آغاز ہے، اور اِسی کو حادث کہتے ہیں۔

2۔ کائنات کے آغاز کے سائنسی شواہد

مشہور ریاضی دان ہلبرڈ نے اِس کو سمجھانے کی بہت دلچسپ مثال دی ہے، کہ فرض کیا جائے کہ ایک ہوٹل میں لامتناہی کمرے ہیں اور لامتناہی لوگ آکر سب کمرے اپنے لئے بُک کر لیں۔ اب ایک نیا شخص آئے اور کمرہ مانگے تو اُس کو کمرہ ملنا ضروری ہے، کیونکہ ہم نے ہوٹل کو لامتناہی کمروں والا فرض کیا ہے۔ اِس لئے دنیا جہاں کے سب لوگ اگر اس ہوٹل میں کمرہ لینا چاہیں تو اُن کو کمرہ ملنا چاہئیے، حالانکہ حقیقت کی دُنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ قدیم علمِ کلام کی خالص فلسفیانہ بحثوں کے سینکڑوں سال بعد، جدید سائنس نے آزادانہ طور پر کائنات کے ایک آغاز کی شہادت فراہم کرنا شروع کی۔

بگ بینگ تھیوری اس سائنسی ماڈل کا نام ہے جو کائنات کی ابتدا اور ابتدائی ارتقاء کی وضاحت کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، آج سے تقریباً 13.8 ارب سال پہلے، کائنات ایک انتہائی گرم، گنجان، اور چھوٹے نقطے سے پھیلنا شروع ہوئی اور تب سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ بگ بینگ کے اس ماڈل کو دو بڑے سائنسی شواہد سے تقویت ملی:

1۔ ہبل کا قانون (Hubble's Law):

1929ء میں ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے یہ دریافت کیا کہ دور دراز کی کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، اور ان کے دور جانے کی رفتار ان کے فاصلے کے متناسب ہے۔ اگر کائنات پھیل رہی ہے، تو لازمی طور پر ماضی میں تمام مادے اور کہکشائیں ایک نقطے پر جمع رہی ہوں گی۔ یہ دریافت کائنات کے پھیلاؤ اور اس کے ایک آغاز کا پہلا مشاہداتی ثبوت ہے جو قدیم یونانی فلسفے کے کے تصورِ قِدَم کے خلاف ہے۔

2۔ کائناتی مائیکرو وَیو پس منظر تابکاری (Cosmic Microwave Background Radiation - CMBR):

بگ بینگ تھیوری نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر کائنات ایک انتہائی گرم نقطے سے شروع ہوئی ہے، تو اس کی بچی ہوئی حرارت کی تابکاری آج بھی خلا میں موجود ہونی چاہیے۔ 1964ء میں پنزیاس اور ولسن نے اتفاقاً وہ حرارت دریافت کر لی جو مائیکرو ویو لہروں کی صورت میں پوری کائنات میں موجود ہے۔ خلا کا موجودہ درجہ حرارت (2.725 کیلون) اس قدیم حرارت کا باقی ماندہ حصہ ہے جو کائنات کے پھیلنے سے ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ چونکہ یہ تابکاری ہر سمت میں یکساں موجود ہے، یہ بگ بینگ کے نظریے کا قطعی ثبوت ہے کہ کائنات کا ایک مشترکہ آغاز (Point of Origin) تھا، نہ کہ یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔

اس طرح یہ دونوں شواہد (کہکشاؤں کی دوری اور کائناتی تابکاری) سائنسی طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات "حادث" (بنی ہوئی) ہے، یعنی اس کا ایک متعین نقطۂ آغاز تھا اور یہ وقت کے ساتھ بدل رہی ہے۔ یہ شبہ کہ وقت ہمیشہ سے ہے اور وقت کا کوئی آغاز نہیں ہے، بالکل بے جا ہے، کیونکہ جدید فزکس کے مطابق، وقت خود کائنات کے ساتھ ہی وجود میں آیا۔ بگ بینگ سے پہلے نہ تو وقت تھا اور نہ ہی خلا۔ یہ وہم بھی قابلِ التفات نہیں کہ کانٹ کی تھیوری نے متکلمین کے اِن دلائل کو گزند پہنچائی ہوگی، کیونکہ کانٹ یہ نہیں کہتا کہ کائنات قدیم ہے، بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ ہماری عقل اس حقیقت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔ یعنی کانٹ کا اعتراض دلائل کے مقدمات پر نہیں، بلکہ وہ تو قریب قریب عندیہ کی طرح اِدراکُ الادراک کا حقیقتِ واقعی (خارج و نفس الامر) کے مطابق ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے؛ کانٹ کا یہ نظریہ زمینی اشیاء سے متعلق مان بھی لیا جائے تو دیگر سیارے، جن کا زمان و مکان زمین سے مختلف ہے، کے بارے میں عقل و سائنس متفق ہیں تو کیا دیگر سیاروں کے حدوث کے مشاہدے پر بھی کانٹ ذہنی تردد کا اظہار کرے گا؟ اِس جیسے کئی سوالات ہیں جو کانٹ کے فلسفے کی لغویت ظاہر کرتے ہیں۔

اب یہاں موقع ہے کہ، سائنسی اکتشافات جب متکلمین کی برسوں کی کاوشوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں تو، متکلمین کی باریک بینی کی داد دی جائے، لیکن اُمتِ مسلمہ کی تاریخ سے متعلق عجیب قسم کی إحساسِ کمتری کی نفسیاتی اُلجھن میں ہمارے کئی روایت بیزار اصحابِ دانش مبتلا ہیں، جن کا یہ دعویٰ ہے کہ بگ بینگ تھیوری کے بعد قدیم علمِ کلام غیر ضروری ہو چکا ہے۔ تعبیر تو یہ بھی ہو سکتی تھی کہ بگ بینگ کی تھیوری نے متکلمین کے مدعا کو بیِّن ثبوت فراہم کر دیا۔ مسلمان مفکرین اب محض اس تھیوری کا حوالہ دے کر زیادہ وثوق و آسانی سے کائنات کا حدوث و امکان ثابت کر سکتے ہیں۔ یوں متکلمین کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا کہ جس وقت متکلمین کو یہ چیلنج درپیش تھا، کوئی بگ بینگ کا سائنسی تجربہ و مشاہدہ میسر نہ تھا جس سے مدد لے کر اپنا مدعا بصد آسانی ثابت کیا جاتا۔ اُس وقت مسلمان ماہرینِ کلام نے محنت کر کے فلسفہ میں اِس حد تک مہارت پیدا کر لی کہ فلاسفہ کے نہ صرف دین مخالف بنیادیں گرا دیں، بلکہ علم الکلام کے نام سے فلسفہ کا متوازی علم مدوَّن کیا۔ جس سے غرض یہ تھی کہ متکلمین کے جوابات الل ٹپ نہ ہوں، بلکہ کنسسٹنٹ اور یونیفارم اصولوں کے تحت ہوں۔ اور یہ ہر علم کی کم از کم اور بنیادی شرائط میں سے ہے۔ جس کے بغیر کوئی بھی علم، علم کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر کوئی اصولِ فقہ کے بغیر فقہی اجتہادات کرنے لگ جائے، خواہ علم و فقاہت کے دریا بہا دیں، لیکن اجتہادات کا وہ مجموعہ ایک قابلِ تعمیل و تدوین علم نہیں کہلا سکتا، یہی معاملہ اصولِ حدیث و تفسیر کا بھی ہے۔

علمِ کلام پر ایک سنجیدہ علمی تنقید محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی ہے، جو ایک سطحی تبصرہ نہیں، بلکہ ان کے وسیع تر فکری منہج کا تقاضا ہے۔ دین کو اس کی بالکل ابتدائی شکل میں پیش کرنے کے لئے لازم ہے کہ اُسے علمِ کلام، تصوف، قواعدِ فقہ اور اصولِ فقہ کی فکری یا علمی کاوشوں یا "آمیزشوں" سے پاک رکھ کر پیش کیا جائے۔ اُن کے نزدیک، علمِ کلام کا پورا فن اس لیے غیر ضروری ہے کہ وہ قرآن اور سنت کے براہ راست مطالعے کے بجائے فلسفیانہ بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اِس خاص تناظر میں دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا موقف متکلمین کی بنسبت عہدِ اوّل کے محدِّثین اور حنابلہ کے قریب تر ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ غامدی صاحب آج کے کلامی مباحث کو جن قرآنی اصول پر ایڈریس کرتے ہیں؛ اُن اصول کے اوّلین مؤسس امام حمید الدین فراہی صاحب ہیں، جمع و ترتیب کی خدمت امامِ ثانی مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے فرمائی ہے، اور تدوین و تجدید کا سہرا محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے سر ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ اب تک مدوَّن ہونے والے اصول اپنا ارتقائی سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر ارتقائی مرحلے پر پہلے سے زیادہ خوبی اور نکھار لیے ظاہر ہوتے ہیں؛ اب یہ امر قابلِ غور ہے کہ کیا فراہی فکر کے وہ کلامی اصول، جو قرآنی و فطری کہلائے جاتے ہیں، کیا علمِ کلام کی قدیم و مجرّب روایت کا نعم البدل ہو سکتے ہیں؟ کیا اِن اُصول میں اتنی وسعت و جامعیت ہے کہ جدید الحاد و فلسفہ کے متنوع سوالات کو الگ الگ کلامی اصولوں کے مطابق کلاسیفائی کر سکیں؟ اس طرح کے گوناگوں سوالات ہیں، جس پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا نہ صرف أصحاب المورد کے ذمے ہے، بلکہ کلام کی قدیم روایت کو غیر ضروری جاننے والے سب علمی حلقوں کے ذمے ہے۔ دوسری طرف علم الکلام کی تدریس و تحقیق کا مشغلہ جاری رکھنے والے اہلِ علم کے ذمے یہ ثابت کرنا ہے کہ علمِ کلام جس طرح جدید افکار کو ایڈریس کرتا ہے، کوئی دوسرا علم اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہ فقیر خود بھی یہ علمی مشغلہ کچھ اس لیے بھی جاری رکھے ہوئے ہے کہ نہ اِسے وقت کا غلط مصرف سمجھتا ہے اور نہ اِس علم کو آؤٹ آف ڈیٹ سمجھتا ہے، بلکہ خیال کرتا ہے کہ بگ بینگ جیسے سائنسی نظریات آنے کے بعد بھی علم الکلام کی ضرورت و افادیت میں کسی طرح کمی نہیں آئی ہے۔

کسی جگہ نہ رُکنے والی سائنسی اکتشافات کا تو یہ حال ہے کہ الیکٹران کی لہروں کی دریافت کے بعد اب مادہ کی ظاہری شکل اور اُس میں کارفرما قوانین سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ مادہ ہر آن اپنا وجود بدلتا رہتا ہے۔ اِسی طرح ہر آن کی اپنی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ کسی زمانے میں یونانی فلاسفہ تجدد الامثال کا نظریہ پیش کرتے تو لوگ عقل انگشت بدندان رہ جاتی۔ سائنسی تھیوریز کو مذہب کے حق میں استدلال کے لئے پیش کرنے میں علمی غیر ہم آہنگی کے علاوہ سائنسی غیر ہم آہنگی کی خرابی یوں لازم آتی ہے کہ مذہب کے حق میں کوئی بھی ایک سائنسی تھیوری لینے کے بعد کئی دوسری تھیوریز لا محالہ چھوڑنی پڑیں گی۔ یوں پِک اینڈ چوز کا ایک غیر علمی رویہ سامنے آئے گا۔ سائنسی نظریات میں پک اینڈ چوز اور انتخابی استعمال کی ایک واضح مثال، مسلمان مفکرین کا بگ بینگ نظریہ کی حمایت ہے کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کی تائید کرتی ہے، لیکن ارتقاء کے نظریے کو باطل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنسی شواہد (جیسے ڈی این اے اور فوسل ریکارڈز) اس کی تردید کرتے ہیں اور تخلیق کی تائید کرتے ہیں۔ یہ فکری طرز عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا مقصد ہر سائنسی دریافت کو قبول کرنا نہیں، بلکہ سائنس کو اپنے پہلے سے قائم فکری موقف کی تائید میں استعمال کرنا ہے۔

دوسری جانب بگ بینگ نے کائنات کے ایک آغاز و حُدوث کو تو ثابت کر دیا، لیکن اس نے کچھ نئے فلسفیانہ چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں جن کا جواب صرف فلسفے کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ آج بھی کچھ ملحدین یہ دلیل دیتے ہیں کہ بگ بینگ کا لمحہ آغاز (t=0) کوئی "حقیقی" لمحہ نہیں تھا جس پر کائنات اچانک وجود میں آ گئی، بلکہ یہ ایک "اوپن انٹرول" ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نقطۂ آغاز سے پہلے بھی وقت کا ایک لامحدود سلسلہ موجود ہو سکتا ہے، جیسا کہ مثبت اعداد کا سلسلہ (اعشاریہ ایک، اعشاریہ صفر ایک …) جو صفر کے قریب ہوتا جاتا ہے لیکن کبھی صفر نہیں بنتا۔ اس طرح کا استدلال وقت کے ایک مطلق آغاز سے گریز کرتا ہے۔ یہ ایک خالص فلسفیانہ اور ریاضیاتی دلیل ہے، جس کا جواب صرف سائنسی مشاہدے سے ممکن نہیں۔ اس کا جواب دینے کے لیے قدیم علمِ کلام کے اصولوں، خاص طور پر "بالفعل لامحدودیت" کی ناممکنیت کو جدید سائنسی اور ریاضیاتی زبان میں بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز قدیم دلائل بھی کسی طرح "غیر ضروری" نہیں ہوئے، تاہم اُن دلائل کو فزکس و ریاضی کی نئی صورت میں پیش کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اور روایت کا اشتغال رکھنے والے علماء کے لئے تو بقا و فنا کا فیصلہ کن موڑ ہے۔

(جاری ہے)

حواشی

[1] امام فارابی: پیدائش 872 عیسوی - وفات 950 عیسوی، ابن سینا : پیدائش 980 عیسوی - وفات 1037 عیسوی۔ یہ وہ دور تھا جب یونانی فلسفہ اسلامی دنیا میں متعارف ہو رہا تھا۔ فارابی نے دسویں صدی کے اوائل میں اور ابن سینا نے گیارہویں صدی کے اوائل میں اس پر کام کیا۔ ابن سینا، فارابی کے فلسفے سے گہرا متاثر تھے۔ فارابی کو "المعلم الثانی" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ارسطو کی منطق اور مابعدالطبیعات کو اسلامی سانچے میں ڈھالا۔ ابن سینا نے ان نظریات کو مزید وسعت دی اور ایک جامع فلسفیانہ نظام تشکیل دیا، جس کا سب سے اہم کام "الشفاء" ہے۔

[2] ابوالحسن اشعری: پیدائش 873 عیسوی - وفات 935 عیسوی، ابو منصور ماتریدی: وفات 944 عیسوی۔ یہ دسویں صدی عیسوی کا دور تھا، جب معتزلہ کا اثر کم ہو رہا تھا۔ ان دونوں نے اسلامی عقائد کو عقلی بنیادوں پر مضبوط کرنے کا کام کیا۔ دونوں کا مقصد اہلِ سنت کے عقائد کا دفاع کرنا اور معتزلہ کے فکری حملوں کا جواب دینا تھا۔ اشعری نے ابتدا میں معتزلی عقائد کا مطالعہ کیا لیکن بعد میں ان سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ماتریدی نے حنفی فقہ کے اصولوں کی بنیاد پر عقائد کی تشریح کی۔ دونوں نے علمِ کلام کی بنیاد رکھی اور اسلامی عقائد کو ایک منظم شکل دی۔

[3] امام غزالی: (پیدائش 1058 عیسوی - وفات 1111 عیسوی) ابن رشد: (پیدائش 1126 عیسوی - وفات 1198 عیسوی۔ ان کے درمیان تقریباً ایک صدی کا فاصلہ ہے۔ غزالی گیارہویں صدی کے آخر میں تھے، جبکہ ابن رشد بارہویں صدی کے آخر میں تھے۔ یہ وہ دور تھا جب فلسفیوں کے نظریات کی وجہ سے اسلامی عقائد کو خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ امام غزالی نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" میں فلسفیوں (خاص طور پر ابن سینا اور فارابی) کے ان 20 مسائل پر تنقید کی جو اسلامی عقائد سے متصادم تھے۔ اس کے جواب میں، ابن رشد نے اپنی کتاب "تہافۃ التہافۃ" میں غزالی کی تنقید کا جواب دیا اور فلسفے کا دفاع کیا۔ اس تصادم نے اسلامی فکر میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ غزالی کے کام نے اسلامی دنیا میں فلسفے کے اثر کو کم کیا، جبکہ ابن رشد کا کام بعد میں مغربی فلسفے پر اثر انداز ہوا۔

[4] اس پر یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ عدم کہاں تھا، حالانکہ بحث اُن لوگوں سے ہے جو ہر چیز قدیم مانتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ جو چیز ہمیشہ سے رہ سکتی ہے وہ عارضی طور پر بھی رہ سکتی ہے، نیز عدم کوئی وجودی صفت نہیں، جس کے لیے زمان و مکان اور حیز ضروری ہو۔

[5] ارسطو کا "مادہ ھیولی" اور "پوٹینشلٹی" کا جدید تصور۔ ارسطو کا فلسفہ یہ بیان کرتا ہے کہ ہر شے مادہ (خام مال) اور صورت (شکل) کے امتزاج سے بنتی ہے۔ ان دونوں کا تعلق پوٹینشلٹی (چھپی ہوئی صلاحیت) اور ایکچوایلیٹی (موجودہ حقیقت) کے نظریے سے ہے۔

اس طرح، بیج میں درخت بننے کی پوٹینشلٹی ہوتی ہے اور جب وہ بڑا ہو کر درخت بنتا ہے تو وہ ایکچوایلیٹی میں آ جاتا ہے۔ جدید سائنس میں یہ تصور جینیات کے ڈی این اے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ڈی این اے میں موجود معلومات ایک جسم بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : محمد یونس قاسمی

اشعریت اور DAP

جیسا کہ پچھلے دو حصوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، اشعریت اور DAP بنیادی طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ DAP سے وابستہ مفکرین قدرتی سائنسز کے وقار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ معجزات سے گریز کرتے ہیں۔ اس منصوبے کو آگے بڑھانے والا اصل تضاد یہ ہے کہ ایک طرف معجزات کی غیر معمولی اور قاعدے سے ہٹی ہوئی نوعیت ہے، اور دوسری طرف فطرت کے غیر متغیر قوانین—اور ان دونوں میں تطبیق پیدا نہیں ہو پاتی۔ یہ بات قابلِ فہم ہے، کیونکہ موجودہ دور میں سائنس ایک اہم ثقافتی قوت بن چکی ہے، اور معجزات کی بات کرنا بسا اوقات تقریباً شرمندگی کا باعث محسوس ہوتا ہے۔  اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے مسیحی الٰہیات دان جان میکوارئی کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

معجزے کو اس انداز سے سمجھنا جو فطری نظم میں رخنوں اور ماورائے فطرت مداخلتوں پر مبنی ہو، ایک اساطیری طرزِ فکر سے تعلق رکھتا ہے، اور مابعدِ اساطیری فکری فضا میں وہ قابلِ قبول نہیں رہتا۔ … معجزے کا روایتی تصور ہماری جدید سائنسی اور تاریخی فہم،  دونوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ سائنس اس مفروضے پر آگے بڑھتی ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے تمام واقعات کی توضیح اُن ہی دوسرے واقعات کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے جو اسی دنیا کے دائرے میں آتے ہیں؛ اور اگر بعض مواقع پر ہم کسی واقعے کی مکمل وضاحت کرنے سے قاصر رہتے ہیں … تو سائنسی یقین یہ ہوتا ہے کہ مزید تحقیق اس صورتِ حال کے مزید عوامل کو آشکار کر دے گی—مگر وہ عوامل بھی اتنے ہی درونِ عالم اور اسی جہان سے متعلق ہوں گے جتنے وہ عوامل جو پہلے سے معلوم ہیں (Plantinga 2011,17)۔

 چنانچہ DAP ایک جدید منصوبہ ہے، اور غالباً اسے جدید سائنس کی بڑھتی ہوئی ثقافتی قوت اور دباؤ کے جواب میں الٰہیات کے روشن خیال منصوبے کی توسیع سمجھا جا سکتا ہے (Placher 1996)۔ ایک اور مسیحی الٰہیات دانلینگڈن گلکی Langdon Gilkey، اسی نکتے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

چنانچہ معاصر الٰہیات نہ تو فطری اور تاریخی زندگی کے ظاہری بہاؤ میں کسی غیر معمولی الٰہی مداخلت کی توقع رکھتی ہے اور نہ ہی اس نوع کے واقعات کی بات کرتی ہے۔ زمان و مکان کے دائرے میں اسباب و علل کا وہ منظم سلسلہ، جسے عہدِ تنویر / عصرِ روشن خیالی کی سائنس اور فلسفے نے مغربی ذہن میں راسخ کیا، جدید الٰہیات دانوں اور محققین کے ہاں بھی ایک بنیادی مفروضہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے جدید سائنسی دنیا کا حصہ ہیں، اس لیے اس سے ہٹ کر کسی اور زاویہ نظر کو اختیار کرنا ان کے لیے عملاً ممکن نہیں رہتا (Alvin Plantinga 2011, 69)۔

اشاعرہ اس تصور کو اصولی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ خدا کے فطری دنیا میں کردار کو سمجھنے کے لیے سائنس کو نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ یہ مفروضہ—جو DAP کے لیے ایک بنیادی اساس کی حیثیت رکھتا ہے—اشاعرہ کے نزدیک کسی مسلمہ اصول  کے طور پر قابلِ قبول نہیں۔ اشعری فکر کا نقطۂ آغاز تخلیق کی ہمہ گیر امکانیت (radical contingency) اور اس کی ساختی خصوصیات کے ساتھ ساتھ خدا کی مطلق قدرتِ کاملہ ہے۔ خدا کی تخلیقی صلاحیتیں نہ تو اس چیز سے محدود ہوتی ہیں جسے وہ پیدا کرتا ہے (یعنی کائنات)، اور نہ ہی اس چیز سے جس کا وہ حکم دیتا ہے (یعنی اخلاق، جس پر باب 8 میں گفتگو آئے گی)۔

نظریہ اتفاقیت (occasionalism) کے تحت، معجزات اور فطرت کے قوانین، دونوں خدا کی مشیت اور قدرت کے براہِ راست اظہار کے نتائج ہیں۔ لہٰذا خدا کے افعال کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سائنس کی حدود کے تابع ہیں، اور اسی کے ساتھ معجزات کو رد کر دینا، اشعری تناظر میں سائنس پرستی (scientism) کی ایک صورت سمجھا جائے گا۔ یہاں سائنس پرستی سے مراد ایک ایسی نظریاتی سوچ ہے جس کے تحت ہر شے کو سائنس کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے، جب کہ خود سائنس ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان دونوں میں امتیاز ضروری ہے۔

DAP اور اشعریت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ DAP کے مطابق خدا کو اسباب کے سلسلے میں ایک سبب کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جب کہ اشعریت کے نزدیک خدا اسباب کا سبب ہے۔ دوسرے الفاظ میں، DAP کا منصوبہ بظاہر توضیح اور سببیت کی ایک دوئی پیش کرتا ہے: خدا یا فطرت کے قوانین۔ اس کے برعکس، اشاعرہ خدا کو اس کی مخلوق سے بالکل مختلف درجے کی ہستی سمجھتے ہیں۔ اشعری فکری تناظر میں خدا اور فطرت دو الگ الگ نوع کی توضیحات ہیں: خدا علتِ اوّلی (primary cause) ہے اور فطرت علتِ ثانوی (secondary cause)۔ چنانچہ اشعری فکر میں کسی بھی واقعے کی توضیح ہمیشہ ایک مجموعی ربط  کے طور پر سمجھی جاتی ہے، یعنی خدا اور تخلیق دونوں۔

درجہ بندیوں ے حوالے سے اشاعرہ GDA اور SDA کے درمیان کسی بھی قسم کی تقسیم کو رد کریں گے، کیونکہ نظریہ اتفاقیت کے تحت عام اور خاص واقعات میں تمیز کرنا بے معنی ہو جاتا ہے، اس لیے کہ تمام اثرات علت کے اعتبار سے براہِ راست خدا کی مشیت میں جڑے ہوتے ہیں۔ اشعری نقطہ نظر سے خدا کی مداخلت اور عدمِ مداخلت کے تصور پر قائم پوری بحث ہی کسی حد تک غیر موزوں اور بے محل نظر آتی ہے۔ اس امتیاز کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ فطرت کے قوانین کسی نہ کسی درجے میں ایک خودمختار وجودی فعالیت رکھتے ہیں جو ازخود جاری رہتی ہے، اور خدا ضرورت پڑنے پر یا تو پیچھے ہٹ جاتا ہے یا مداخلت کرتا ہے۔

اشعری تناظر میں، اس کے برعکس، خدا ہر لمحہ زمانی ترتیب سے ماورا، فطرت کے قوانین اور موجودات کو براہِ راست ارادہ کرتا اور قائم رکھتا ہے۔ اس لیے معاملے کو مداخلت یا عدمِ مداخلت کی صورت میں پیش کرنا فی نفسہٖ قابلِ اطلاق نہیں رہتا۔ تاہم، اگر مختلف الٰہیاتی ماڈلز کے تقابلی مطالعے کے لیے کوئی مشترک زبان اختیار کی جائے، توحد درجہ مداخلت hyper-interventionism  کا تصور ایک مناسب اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جہاں ہم سازیت (compatibilism) اور عدمِ ہم سازیت (incompatibilism) کی دوئی کا تعلق ہے، اشاعرہ کو اصولی طور پر ہم سازیت کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ہم سازیت لازماً خدا کے خاص افعال کے تصور (SDA) کے ذریعے قائم نہیں ہوتی۔ آگے چل کر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اشعری نقطہ نظر میں اس امر سے کوئی بنیادی فرق واقع نہیں ہوتا کہ کائنات طبعی اعتبار سے معین ہو یا غیر معین۔ آخر میں، فطرت کے قوانین کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشعری موقف میں دونوں پہلوؤں کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں فطرت کے قوانین اور سائنس کے قوانین کے درمیان پہلے بیان کیا گیا امتیاز مددگار ثابت ہوگا۔ فطرت کے قوانین اس معنی میں تجویزی ہیں کہ وہ خدا کی مشیت سے مقرر ہیں، جب کہ سائنس کے قوانین فطرت کے انہی قوانین کی توصیفی توضیحات ہیں۔ یوں اشاعرہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لیے دونوں عناصر کو مفید سمجھتے ہیں۔DAP اور اشعری فکری تناظر کے درمیان فرق کا خلاصہ اصل کتاب کے صفحہ 193پر موجود جدول6.2  میں دیکھا جاسکتا ہے۔

طبعیت پسندی، تصادف اور عدم معنویت کے اعتراضات

اشعریت کے DAP سے تعلق کو واضح کرنے اور اس بحث میں استعمال ہونے والی بنیادی اصطلاحات سے واقف ہو لینے کے بعد، اب ہم اس باب کے آغاز میں اٹھائے گئے نظریہ ارتقا سے متعلق تین بنیادی اعتراضات پر غور کر سکتے ہیں۔ ذیل میں یہ تینوں اعتراضات، یعنی طبعیت پسندی کا اعتراض، تصادف کا اعتراض، اور عدمِ معنویت کا اعتراض، اسی ترتیب سے زیرِ بحث آئیں گے جس ترتیب سے انہیں ابتدا میں پیش کیا گیا تھا۔

طبعیت پسندی کا مسئلہ

جیسا کہ باب 4 میں پہلے واضح کیا جا چکا ہےکہ بعض مفکرین یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقا بالخصوص قدرتی انتخاب کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا کا فطری دنیا میں کوئی فعال کردار باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر نوح ہامیم کیلر جو انسانی اختصاص (human exceptionalism) کے قائل ہیں، شعور کے مسئلے کو اس وقت سنگین سمجھتے ہیں جب اسے ارتقائی عمل کی پیداوار مانا جائے۔ ان کے مطابق اگر ارتقائی مفکرین یہ فرض کرتے ہیں کہ "انسانی شعور" بھی ارتقا کے زیرِ اثر ہے، تو پھر عدد، مکان، زمان، پیمائش، منطق، سببیت وغیرہ جیسے تمام تصورات محض کسی مخصوص نوع میں وقوع پذیر ہونے والے اتفاقی تغیرات اور قدرتی انتخاب کے جسمانی حادثات  بن کر رہ جاتے ہیں (Keller 2011, 351)۔ اس بنیاد پر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یوں نظریے کے اندر دیا جانے والا ہر بیان اُن غیر شعوری اور اُن اندھے تاریخی عوامل سے صادر ہوتا ہے جنہوں نے 'شعور'  کو پیدا کیا (Keller 2011, 351)۔ گویا کیلر ارتقا پر اپنے شکوک کا اظہار اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کے نتائج انسانی شعور کی معنویت اور اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔

اسی نوعیت کی تشویش امریکی فلسفی الوِن پلینٹنگا Alvin Plantinga نے بھی ظاہر کی ہے، جنہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر انسانی ادراک ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آیا ہو تو اس پر اعتماد کی کیا بنیاد باقی رہتی ہے (Plantinga 2011, 311)۔ تاہم، پلینٹنگا کے نزدیک مسئلہ محض ارتقا بذاتِ خود نہیں۔ ان کا مکمل استدلال یہ ہے کہ سخت طبعیت پسندانہ تناظر میں سائنسی ارتقا پر ایمان رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اصل اشکال ارتقا اور طبعیت پسندی کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی امتزاج انسان کو اپنے ادراکی آلات پر اعتماد کرنے میں شکوک میں مبتلا کر دیتا ہے۔

یہاں اصل تشویش واضح کرنے اور دو ٹوک انداز میں سامنے لانے کے لیے دو الگ الگ نکات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ضروری ہے۔

اوّل، علمیاتی سطح پر وہ مسئلہ ہے جو طبعیت پسندی اور نظریہ ارتقا کے باہمی امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ امتزاج درست مان لیا جائے تو، جیسا کہ نوح ہا میم کیلر اور الوِن پلینٹنگا  دونوں نے نشان دہی کی ہے، یہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ انسانی شعور کی صداقت اور اس پر اعتماد کی بنیاد ہی مشکوک ہو جائے۔ دوم، ایک ما بعد الطبیعی سوال یہ ہے کہ آیا خود طبعیت پسندی درست نظریہ ہے یا نہیں۔ اس مقام پر اصل توجہ اسی دوسرے سوال پر مرکوز ہے، کیونکہ اگر یہ دکھایا جا سکے کہ نظریہ ارتقا کو لازماً سخت طبعیت پسندانہ تعبیر میں سمجھنا ضروری نہیں، تو اس کے ساتھ ہی علمیاتی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی بھی بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔

پلینٹنگا خود بھی اس امتیاز کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ جب وہ ارتقا اور طبعیت پسندی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے علمیاتی مسائل پر تنقید کرتے ہیں تو اپنا مشہور طبعیت پسندی کے خلاف ارتقائی استدلال (EAAN) پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ طبعیت پسندی کو بذاتِ خود ایک ما بعد الطبیعی موقف کے طور پر پرکھتے ہیں، تو وہ فلسفیانہ طبعیت پسندی اور منہجی طبعیت پسندی کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ مسیحی مفکرین دوسری صورت (منہجی طبعیت پسندی) کے تحت نظریہ ارتقا کو بآسانی قبول کر سکتے ہیں، جب کہ پہلی صورت (فلسفیانہ طبعیت پسندی) کے تحت نہیں (Plantinga 2011, 168–177)۔

بالکل یہی نکتہ یہاں اشعری فکر کے زاویہ نظر سے پیش کیا جا رہا ہے: یعنی ارتقا کو قبول کرنا لازماً طبعیت پسندی کو قبول کرنے کے مترادف نہیں، اور جب یہ فرق واضح کر دیا جائے تو علمیاتی اشکالات خود بخود اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔

یہی پلینٹنگا کا مشہور ارتقائی استدلال بر ضدِ طبعیت پسندی (Evolutionary Argument Against Naturalism: EAAN) ہے (Plantinga 2011, 307–350)۔ متبادل کے طور پر، پلینٹنگا یہ تجویز دیتے ہیں کہ اگر ارتقا کو الٰہیاتی تناظر میں یعنی طبعیت پسندی کے بجائے قبول کیا جائے، تو یہ اشکال خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

اب یہاں پر طبعیت پسندی کی دو اقسام کے درمیان فرق واضح کرنا مفید ہوگا۔ فلسفیانہ، مابعد الطبیعی یا وجودی طبعیت پسندی (جسے آگے PN کہا جائے گا) ماورائے فطرت ہستیوں کے وجود کی صریح نفی کرتی ہے (Draper 2005, 279)۔ اس نفی کے نتیجے میں وہ سوالات جو روایتی طور پر مذہب کے دائرے میں آتے رہے ہیں، متبادل جوابات کے ساتھ ازسرِنو مرتب کیے جاتے ہیں، مثلاً: کیا کوئی خالق ہے؟ کیا فرشتے موجود ہیں؟ کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ وغیرہ۔ فلسفیانہ طبعیت پسندی کے زاویہ نظر سے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک صرف وہی فطری دنیا موجود ہے جو زمان و مکان کی حدود میں مقید ہے، اور اسی دنیا کو ہر قسم کے جواب کی آخری کسوٹی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منہجی طبعیت پسندی (MN) کا مفہوم یہ ہے کہ سائنس دان اپنی تحقیق میں صرف فطری مظاہر پر توجہ دیتے ہیں اور انہیں ماورائے فطرت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں، MN  کے تحت سائنس محض فطری دنیا کا ایک منہجی مطالعہ ہے، جبکہ اس سوال کو معلق چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آیا ماورائے فطرت ہستیاں موجود ہیں یا نہیں (Draper 2005, 279)۔ چنانچہ MN  ایک علمیاتی یا منہجی موقف ہے، نہ کہ وجودی دعویٰ۔

اسی بنا پر MN  کے ساتھ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بیک وقت ایمان دار بھی ہو اور سائنس دان بھی، جب کہ PN  کے تحت یہ امکان اصولی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

کیلر کی طرف دوبارہ رجوع کریں تو وہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان کے نزدیک مادی دنیا اور ماورائے فطرت کے درمیان ایک ایسا "ہموار نورانی پردہ" حائل ہے جو تخلیق کے کمال کے ذریعے الوہیت کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو آدم کے معاملے میں ارتقا کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں (اور یاد رہے کہ اس سیاق میں کیلر کے نزدیک اس کا مطلب طبعیت پسندی ہے) اس کائنات کو "باہم پیوست سببی تعلقات کا ایک کامل جال" سمجھتے ہیں، جس میں کسی ایسی شے کی گنجائش نہیں رہتی جو مادی نہ ہو (Keller 2011, 357)۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ کیلر یہاں فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) اور منہجی طبعیت پسندی (MN) کے درمیان مفید اور ضروری امتیاز قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس الوِن پلینٹنگا کے نزدیک مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنس کے ساتھ اضافی "فلسفیانہ رنگ" شامل کر دیا جائے۔ یعنی اسے فلسفیانہ طبعیت پسندی کے تحت سمجھا جائے۔ خصوصاً اس وقت جب یہ تصور قائم کیا جائے کہ "ارتقا نہ ہدایتی ہے، نہ رہنمائی یافتہ، اور نہ ہی خدا کی طرف سے منظم (Plantinga 2011, xii)۔ اگر ارتقا کو منہجی طبعیت پسندی کے زاویے سے دیکھا جائے تو خدا کا فطری دنیا سے کٹ جانا لازمی نتیجہ نہیں بنتا، اور اس طرح ارتقا کی ایسی تعبیرات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے جو الٰہیاتی نقطہ نظر سے قابلِ قبول ہوں۔ مثلاً دانشمندانہ منصوبہ بندی (intelligent design)  یا الٰہیاتی ارتقا (Scott 2009, 53–76) (theistic evolution)۔

ارتقا کی تخصیص (Evolution Exclusionism)

فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) اور منہجی طبعیت پسندی (MN) کے درمیان امتیاز قائم کرنے سے بحث کو تقویت تو ملتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مفکرین ارتقا کو واحد سائنسی نظریہ سمجھتے ہیں جو لازماً PN  کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کیمیا، طبیعیات، انجینئرنگ، جغرافیہ اور دیگر متعدد علوم یا تو نظرانداز کر دیے جاتے ہیں یا کم از کم اس بحث سے خارج رہتے ہیں۔

یہ رویہ فکری طور پر غیر ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف ارتقا کو طبعیت پسندی کے مسئلے (PON) کا حامل قرار دیا جائے، جبکہ دوسری طرف الیکٹران، ایٹم، طبعی لہریں، جینز اور دیگر تمام سائنسی طور پر قابلِ تعین ہستیاں اسی طبعیت پسندانہ فریم ورک کے اندر بلا اشکال محفوظ سمجھی جائیں۔ اگر طبعیت پسندی واقعی ایک جامع مسئلہ ہے تو پھر اس کا اطلاق محض ارتقا تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

اسی نکتے کی وضاحت کے لیے باب 1 میں رابرٹ پینوک Robert Pennock  کا وہ اقتباس دوبارہ یاد کرنا مفید ہوگا، جس میں وہ معروف تخلیق پرست مفکرفلپ جانسن Phillip Johnson  پر تنقید کرتے ہیں: 

نظریہ ارتقا بھی اسی معنی میں طبعیت پسند ہے جس معنی میں تمام سائنسی نظریات ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی بھی ماورائے فطرت ہستی یا قوت کا سہارا لیے بغیر آگے بڑھتا ہے۔ جب یہ بات عمومی طور پر سائنس کے بارے میں درست ہے تو پھر ارتقا ہی اہلِ ایمان کے لیے کوئی خاص تشویش کا باعث کیوں بنے؟ اگر مسئلہ دراصل سائنس کے طبعیت پسندانہ منہج ہی میں مضمر ہے، تو پھر جانسن کو کیمیا، موسمیات اور برقی انجینئرنگ کے بارے میں بھی اسی قدر فکرمند ہونا چاہیے۔ بلکہ اسے گاڑیوں کی مکینکس پر بھی اعتراض ہونا چاہیے، کیونکہ یہ شعبہ بھی اسی طبعیت پسند مفروضے کے تحت کام کرتا ہے کہ انجن کے چلنے کے عمل میں خدا براہِ راست مداخلت نہیں کرتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ ایسی طبعیت پسند سائنسں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ خدا کا وجود ہی نہیں (Pennock 1999, 333)۔

دوسرے لفظوں میں، نظریہ ارتقا بھی دیگر سائنسی شعبوں کی طرح منہجی طور پر طبعیت پسند ہے۔ ارتقا میں بذاتِ خود کوئی ایسی داخلی خصوصیت موجود نہیں جو اسے لازماً فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) کا لازمی جزو بنا دے، بالکل اسی طرح جیسے کسی الیکٹران، ایٹم یا جین میں کوئی ایسی داخلی صفت نہیں پائی جاتی جو انہیں فلسفیانہ طبعیت پسندی کی پیداوار قرار دے۔

منہجی طبعیت پسندی کی کون سی صورت؟

اگرچہ منہجی طبعیت پسندی (MN) اشعری فکری فریم ورک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، تاہم علمی لٹریچر میں اس کے اندر بھی ایک مزید امتیاز قائم کیا گیا ہے: داخلی/ ذاتی منہجی طبعیت پسندی (intrinsic methodological naturalism: IMN) اور عملی یا عارضی منہجی طبعیت پسندی (pragmatic یا provisory methodological naturalism: PMN)۔

بوڈری اور ان کے رفقا کے مطابق،  IMN سے مراد سائنس کی ایک خود عائد کردہ یا داخلی حد ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ سائنس اپنی ساخت کے اعتبار سے ہی ماورائے فطرت دعوؤں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی (Boudry et al. 2010, 227)۔ اس کے برعکس، PMN سائنس دانوں کا ایک عارضی اور تجرباتی بنیادوں پر قائم رویہ ہے، جو اس بنا پر درست سمجھا جاتا ہے کہ تاریخِ سائنس میں طبعی توضیحات مسلسل کامیاب رہی ہیں، جبکہ ماورائے فطرت توضیحات کسی نمایاں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماورائے فطرت سے رجوع کو اکثر قبل از وقت ثابت کیا گیا ہے، اور سائنس نے کبھی بھی اس راستے کو اختیار کر کے کوئی حقیقی پیش رفت حاصل نہیں کی (Boudry et al. 2010, 230)۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشعری فکری تناظر میں ان دونوں میں سے کون سا زاویہ زیادہ موزوں اور قابلِ قبول قرار پاتا ہے؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ دونوں ہی قابلِ قبول ہیں۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے یہ بات واضح رکھنی ضروری ہے کہ منہجی طبعیت پسندی (MN) بنیادی طور پر ایک علمیاتی اور منہجی موقف ہے، جو اس بات سے متعلق ہے کہ بطورِ ایک علمی شعبہ سائنس کی حدود اور صلاحیتیں کیا ہیں۔ چنانچہ سائنس دان (اور ممکن ہے کہ فلسفیانِ سائنس بھی) سائنس کی سرحدیں کہاں متعین کرنا چاہتے ہیں اور اس کی استطاعت کو کس حد تک مانتے ہیں؟ یہ فیصلہ دراصل انہی پر چھوڑا جا سکتا ہے۔

الٰہیاتی اعتبار سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ خدا کو سائنسی پیمانوں کا پابند نہ سمجھا جائے۔ اشعری فکری تناظر میں خدا اس بات کا پابند نہیں کہ سائنس منہجی طور پر کیا طے کر سکتی ہے اور کیا نہیں۔ فطرت کے قوانین دراصل خدا کی مشیت کا وہ ظہور ہیں جو ایک مستقل ترتیب کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اسی باقاعدہ تسلسل کو سائنس فطرت کے قوانین کے طور پر متعین کرتی ہے، لیکن اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جو خدا کو، اگر وہ چاہے، ان تسلسلات کو مقامی سطح پر یا کلی طور پر تبدیل کرنے سے روک سکے۔

IMN  کے تحت سائنس اصولی طور پر معجزات کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہے۔ چنانچہ اگر واقعی کوئی معجزہ وقوع پذیر ہو بھی جائے تو اس موقف کے مطابق وہ سائنسی طور پر ناقابلِ تعین ہوگا۔ اس کے برعکس PMN  کے تحت معجزات کا سائنسی طور پر قابلِ تعین ہونا یا نہ ہونا واقعے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض معجزات میں ممکن ہے کوئی سائنسی پہلو موجود ہو، مثلاً ایسی ابھی تک نامعلوم قوت جس کے ذریعے سمندر کو چیر دیا گیا ہو، جیسا کہ حضرت موسیٰ کے واقعے میں بیان ہوتا ہے۔ جبکہ بعض دوسرے معجزات سائنسی اعتبار سے قطعی ناممکن سمجھے جائیں گے، مثلاً کسی انسان کا ایک لمحے میں بندر میں تبدیل ہو جانا (باب 5 میں مذکور مسخ کے واقعے کو یاد کیجیے)۔ بہرکیف، سائنسی امکانات کی جہت، الٰہیاتی امکانات کی جہت کے مقابلے میں ایک محدود ذیلی دائرہ ہی ہے۔

ان نکات پر اس لیے زور دیا جا رہا ہے کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ منہجی طبعیت پسندی (MN) خواہ وہ IMN  ہو یا PMN کو اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ معجزات کی نفی ہے۔ حالانکہ معاملہ ایسا نہیں۔ معجزات کو سائنس کے زاویہ نظر سے تو رد کیا جا سکتا ہے، مگر الٰہیات کے دائرے میں نہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص صرف سائنس ہی کے زاویے سے دیکھے اور اس سے ماورا کسی چیز کو قبول نہ کرے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ یا تو فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) یا سائنس پرستی (scientism) کا پابند ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے سائنس کو بطورِ ایک علمی شعبہ کم تر ثابت کرنا مقصود نہیں۔ سائنس ایک قابلِ احترام علمی کاوش ہے، مگر اس کا اپنا ایک دائرہ اور اپنی حدود ہیں۔ مزید یہ کہ فطرت میں پائی جانے والی باقاعدگیاں اسلامی فقہ کے لیے بھی نہایت اہم ہیں؛ اگر فطرت کے قوانین موجود نہ ہوں تو فقہ کا عملی نظام قائم ہی نہیں رہ سکتا (Opwis 2012; Eissa 2017; Malik 2021)۔ مثال کے طور پر وصیت، خاندان اور نسب سے متعلق اسلامی احکام حیاتیاتی عمل کی باقاعدگیوں ہی پر قائم ہیں۔

یہاں اصل نکتہ صرف یہ ہے کہ اشعری تناظر میں معجزات کو اصولی طور پر ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا، الا یہ کہ کوئی شخص فلسفیانہ طبعیت پسندی یا سائنس پرستی کو اختیار کرے۔

اتفاق (chance) کا مسئلہ

کسی ایسے طریقِ کار کو تسلیم کرنا جس میں اتفاق جیسا عنصر شامل ہو، چند ایسے نتائج پیدا کرتا ہے جو الٰہیاتی اعتبار سے مسئلہ خیز ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر نظریہ ارتقا کے عمل کا سنجیدہ الٰہیاتی جائزہ لینا مقصود ہو تو پہلے یہ سمجھنا مفید ہوگا کہ "اتفاق" سے مراد کیا ہے۔ یہ ایک بدنام حد تک مبہم اصطلاح ہے۔ اس کے لیے مستعمل یا متبادل الفاظ میں حادثہ، تصادف، بے علت ہونا، نصیب یا اتفاقِ حسن، محض وقوع، امکان (یا احتمال)، غیر متوقع پن، اتفاقیہ ہم زمانی، خود رو پن اور خوش گوار اتفاق وغیرہ شامل ہیں (Johnson 2015, 1–2)۔ اسی طرح یہ دیکھنا بھی مددگار ہوگا کہ اتفاق کو کن تصورات کے مقابل رکھا جاتا ہے، مثلاً تعینیت، ناگزیریت، سببیت، پیش بینی، مہارت، ارادۂ آزاد، مقصدیت، طراحی اور یکسانیت وغیرہ (Johnson 2015, 2)۔ اس باب کے مقاصد کے لیے ہر مترادف اور متضاد جوڑے کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ یہاں جس خاص پہلو پر توجہ دی جائے گی وہ یہ ہے کہ اتفاق کو پیش بینی (بالخصوص خدا کے حوالے سے) اور مقصدیت کے مقابل کیسے سمجھا جاتا ہے۔ آئیے پہلے پیش بینی سے آغاز کرتے ہیں۔

اتفاق اور خدا

اتفاق (chance) کو دو فلسفیانہ زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا زاویہ علمیاتی اتفاق (epistemic chance) کا ہے، جو کسی نظام کے بارے میں ہمارے علم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، اسی وجہ سے وہ نظام ہمیں اتفاقی محسوس ہوتا ہے۔ اس کی مزید دو صورتیں ہیں۔

پہلی صورت وہ ہے جس میں ہم کسی نظام کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں (جسے آگے EC1  کہا جائے گا)۔ مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہے کہ سکہ اچھالنے پر یا تو ہیڈ آئے گا یا ٹیل، مگر کسی خاص بار سکہ اچھالنے پر ہیڈ کیوں آیا یا ٹیل کیوں؟ یہ ہمارے لیے غیر یقینی ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس سکے کے اچھالنے سے متعلق تمام معلومات موجود ہوں، مثلاً سکے کی طبیعی حالت، اس کی حرکت، اور ماحول کی تفصیلات، تو ممکن ہے ہم یہ متعین کر سکیں کہ اس خاص بار سکہ کس رخ پر گرے گا۔

علمیاتی اتفاق کی دوسری صورت وہ ہے جو اصولی طور پر ناقابلِ معرفت ہو (جسے آگے EC2  کہا جائے گا)۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی فاعل کے لیے کسی واقعے تک علمی رسائی ہی ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ہم بطور انسان کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ جولیس سیزر نے اپنی زندگی کے آخری 37ویں گھنٹے میں کیا لباس پہنا ہوا تھا، اس بارے میں ہمارے پاس کوئی تاریخی دستاویز موجود نہیں، اور چونکہ (کم از کم فی الحال) وقت میں سفر ممکن نہیں، اس لیے یہ معلومات ہمیشہ کے لیے ہماری دسترس سے باہر رہیں گی۔

اب اگر ہم اس بحث کو نظریہ ارتقا کی طرف منتقل کریں تو ماضی میں اگر کچھ (یا کئی) اتفاقی واقعات پیش آئے ہوں، مثلاً کوئی خاص تغیر (mutation) یا تغیرات کا ایسا مجموعہ جس کے نتیجے میں نئی انواع وجود میں آئیں، تو آج ہمارے لیے ان کا قطعی علم حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تغیرات کے وقوع پذیر ہونے کی مختلف توضیحات دی جا سکتی ہیں، جیسے جینز کی نقل میں غلطیاں یا شعاعی اثرات۔ ہم ماضی میں واپس جا کر یہ متعین نہیں کر سکتے کہ کسی خاص تغیر کا درست سبب کیا تھا۔ یوں EC1  اور EC2 دونوں درحقیقت اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم کیا جان سکتے ہیں اور کیا نہیں جان سکتے۔

اتفاق کو وجودی (ontological) سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، اور اس زاویے سے بھی اس کی دو صورتیں بنتی ہیں۔ وجودی اتفاق کی پہلی صورت (جسے آگے OC1  کہا جائے گا) وہ ہے جس میں کسی واقعے کے لیے کوئی سابق طبعی سبب موجود نہ ہو۔ چنانچہ اگر کوئی شے بغیر کسی پیشگی طبعی علت کے مادی وجود میں آ جائے یا اس سے خارج ہو جائے، تو ایسے واقعات کو اتفاق نما مظاہر کے طور پر سمجھا جائے گا۔ وجودی اتفاق کی دوسری صورت وہ ہے جس میں نہ کوئی طبعی سبب ہو اور نہ ہی کوئی مابعد الطبیعی سبب( جسے آگے OC2  کہا جائے گا)۔ اس تناظر میں اتفاق محض فطری دنیا کی عملی خاصیت نہیں رہتا بلکہ ایک مابعد الطبیعی وصف بھی بن جاتا ہے۔ اس کی نہایت قوی صورت میں اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا خود بھی اشیا کے سابق اسباب یا ان کے آئندہ وقوع پذیر ہونے کے طریقے سے واقف نہ ہو، اور یوں اشیا حتیٰ کہ خدا کے لیے بھی غیر متعین ہوں۔ OC1  اور OC2  دراصل اس بات سے متعلق موقف ہیں کہ حقیقت اپنی بنیاد میں کیسی ہے۔

ان امتیازات کو واضح کرنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ EC1، EC2 اور OC1تینوں اشعری فکری فریم ورک میں بالکل غیر مسئلہ خیز یعنی بلا اشکال ہیں۔ EC1  اور EC2  محض انسانی جہالت کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے ان میں کوئی نظری تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کہ ہم (بطور انسان) کسی فطری واقعے کے خاص سبب کو متعین نہیں کر پاتے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا بھی اس سے ناواقف ہے۔ ہمارے پاس احتمالی قوانین اور نظریہ آشوب (chaos theory) موجود ہیں، جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کسی بھی نظام کو پوری طرح سمجھنے کی ہماری صلاحیتیں محدود ہیں (Polkinghorne 1995; Polkinghorne 2001; Briggs 2016)۔

لہٰذا جب کوئی تغیر واقع ہوتا ہے تو ارتقائی ماہرین لازماً یہ نہیں جانتے کہ وہ خاص اسی وقت کیوں واقع ہوا، تاہم عموماً وہ اس کے لیے ممکنہ توضیحات کی ایک حد پیش کرتے ہیں، مثلاً جینز کی نقل میں غلطی۔ اصل اختلاف کا مقام تب سامنے آتا ہے جب ارتقائی مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی تغیر فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے، نقصان دہ بھی، یا غیر مؤثر بھی، اور یہ کہ جینز، انواع اور ان کے ماحول کے باہمی تعامل کے تحت طویل زمانی ادوار میں اس کا رخ مختلف سمتوں میں جا سکتا ہے۔ ارتقائی فریم ورک میں یہی کھلا پن نظریہ ارتقا کو اتفاق نما تاثر دیتا ہے۔ تاہم ایک بار پھر، اس کو EC1  یا EC2  کے تحت ہی رکھا جا سکتا ہے، یعنی یہ محض انسانی جہالت کی علامت ہے۔ اس ضمن میں برائن سویٹ مین کی درج ذیل بات قابلِ توجہ ہے، جو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

ہم اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حیاتیات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر اثر کے پیچھے کوئی نہ کوئی مخصوص سبب ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ تمام تغیرات بھی جنہیں بظاہر "اتفاقی" یا "تصادفی" کہا جاتا ہے، اور اسی طرح ہر ماحولیاتی تبدیلی کا بھی ایک سبب ہوتا ہے، جو سلسلۂ اسباب میں وقت کی ابتدا تک جا پہنچتا ہے۔ ارتقائی نظریہ دان بعض اوقات ارتقا کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے اس حقیقت کو یا تو بھول جاتے ہیں یا دانستہ نظر انداز کر دیتے ہیں Sweetman 2015, 124–125)

چنانچہ اگرچہ ارتقا کا عمل انسانوں کو اتفاقی محسوس ہوتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ بآسانی یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ خدا پورے عمل کو منظم کرتا ہے، یعنی اسے اس کا مکمل علم اور اس پر کامل اختیار حاصل ہے، مگر اسے اس انداز میں نافذ کرتا ہے کہ وہ ہمیں غیر متعین (indeterministic) دکھائی دے۔

جہاں OC1  کا تعلق ہے، اور نظریہ اتفاقیت کو پیشِ نظر رکھا جائے، تو یہ بھی بلا اشکال ہے، کیونکہ خدا کسی بھی فطری قانون کی پابندی میں مقید نہیں۔ خدا کے لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی طبعی مادّے کے ایک نئی نوع کو وجود میں لے آئے، اور اسی طرح کسی نوع کو بالکل نیست و نابود کر دے، جس کے نتیجے میں یہ عمل ہمیں اتفاقی محسوس ہو۔ تاہم یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اتفاق محض ظاہری نہیں بلکہ طبعی سطح پر وجودی طور پر بھی حقیقی ہے۔ اس فریم ورک میں یہ پوری طرح قابلِ قبول ہے کہ خدا ہر شے کو جانتا بھی ہے اور اس پر کامل اختیار بھی رکھتا ہے۔

اس کی مثال ایک گرافکس اینیمیٹر سے  دی جا سکتی ہے جو ایک فریم سے دوسرے فریم تک چیزوں کو عدم سے وجود میں لا سکتا ہے۔ اینیمیٹر کو مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پوری اینیمیشن کس طرح آگے بڑھے گی، اگرچہ درمیان میں لمحاتی "انقطاع" یا اچانک تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔

اصل اور حقیقی مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اتفاق کو OC2  کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ اس نوع کا اتفاق اشعری تناظر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، کیونکہ اس سے ایک ایسا محدود خدا لازم آتا ہے جو اس بات سے ناواقف ہو کہ تخلیق کس طرح آگے بڑھتی ہے یا کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پولکنگ ہورن کو دیکھیے، جو کوانٹم مکینکس کے سیاق میں جس میں بھی ارتقا کی طرح ایک غیر متعین ساخت پائی جاتی ہے (کم از کم کوپن ہیگن تعبیر کے مطابق) یہ کہتے ہیں کہ:

میں یہ مانتا ہوں کہ جو خدا بننے والی دنیا (world of becoming) کا خالق ہے، وہ ایسا خدا ہونا چاہیے جس میں زمانی پہلو بھی ہو اور ازلی پہلو بھی۔ چونکہ ایسی دنیا کا مستقبل ابھی وجود میں نہیں آیا، اس لیے خود خدا بھی اسے ابھی نہیں جانتا۔ یہ الٰہی ذات میں کوئی نقص نہیں، کیونکہ خدا ہر اُس چیز کو جانتا ہے جو جانی جا سکتی ہے؛ البتہ مستقبل بذاتِ خود ابھی فطری طور پر ناقابلِ علم ہے (John Polkinghorne 1995, 156)۔

یہ تصور اشعری فکری تناظر میں ایک نہایت سنگین خلل پیدا کرتا ہے، کیونکہ خدا کے مستقبل سے ناواقف ہونے کا تصور اشعریت کے لیے شدید طور پر مسئلہ خیز ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر ارتقا کو منہجی طبعیت پسندی (MN) کے تحت سمجھا جائے تو یہ دعویٰ دراصل سائنس کے دائرہ کار سے باہر چلا جاتا ہے۔

یہاں بیان کیے گئے اتفاق کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو نظریہ ارتقا سوائے اس صورت کے جب اتفاق کو OC2 کے مفہوم میں لیا جائے، اشعری فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اشعری تناظر میں اس بات سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا کہ کائنات متعین ہے یا غیر متعین، بشرطیکہ اس غیر تعین کو OC2  کے طور پر تعبیر نہ کیا جائے۔

اتفاق اور مقصدیت

اتفاق کو غایتیت (teleology) کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ اس لیے تشویش پیدا کرتا ہے کہ بظاہر اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فطرت میں کوئی حتمی مقصد موجود نہیں۔ اگر زندگی کی پوری تاریخ بنیادی طور پر اتفاق پر قائم ہو اور یوں متعدد ممکنات پر منحصر ہو، تو پھر انسان محض ایک خوش قسمتی کا حادثہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ تصور قرآن کے اس بیانیہ سے متصادم معلوم ہوتا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انسان کا مقصد خدا کی عبادت ہے (القرآن، سورہ 51، آیت 56)۔

اس ظاہری تعارض کو سلجھانے کے لیے اس بحث میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔ بعض مفکرین قریبی مقاصد (proximate goals) اور حتمی مقاصد (ultimate goals) کے درمیان ایک  امتیاز قائم کرتے ہیں (Kurt 2012, 46–48)۔ قریبی مقاصد سے مراد وہ مقامی یا فوری توضیحات ہیں جن کے ذریعے یہ بتایا جاتا ہے کہ چیزیں کیوں واقع ہوتی ہیں یا کسی خاص انداز میں کیوں عمل کرتی ہیں، مثلاً کسی جین کا فعل یا کسی جانور کا اپنے ماحول کے مطابق ڈھل جانا۔ اس کے برعکس، حتمی مقاصد وہ توضیحات ہیں جو کائناتی پیمانے پر دی جاتی ہیں؛ مثلاً انسان کی غایت کیا ہے، اور خدا نے دنیا اور اس کے باشندوں کو کیوں پیدا کیا۔

تاہم معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو تا ہے جب"قریبی" اور"حتمی" جیسی اصطلاحات کو حیاتیاتی معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ممتاز ارتقائی ماہر ارنسٹ مائر Ernst Mayr (1961) نے ان اصطلاحات کو حیاتیاتی توضیح کے دو مختلف پہلوؤں کے لیے استعمال کیا۔ پرندوں کی ہجرت کی مثال لیتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کے درمیان یوں فرق واضح کیا :

اب اگر ہم اس پرندے کی ہجرت کے اسباب کو ایک بار پھر غور سے دیکھیں تو یہ بات بآسانی واضح ہو جاتی ہے کہ ہجرت کے قریبی اسباب  کا ایک فوری مجموعہ موجود ہوتا ہے۔ یہ اسباب پرندے کی جسمانی حالت، دن کے دورانیے اور درجہ حرارت میں کمی کے باہمی تعامل سے بنتے ہیں۔ ہم ان اسباب کو ہجرت کے قریبی اسباب کہہ سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حتمی اسباب وہ ہیں جن میں سردیوں کے دوران خوراک کی قلت اور پرندے کی جینیاتی ساخت یا جبلّت شامل ہے۔ یہ وہ اسباب ہیں جن کی ایک تاریخی تشکیل ہوتی ہے اور جو قدرتی انتخاب کے طویل عمل کے ذریعے ہزاروں نسلوں میں بتدریج اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ فعلی حیاتیات دان (functional biologist) قریبی اسباب کے تجزیے میں دلچسپی رکھے گا، جبکہ ارتقائی حیاتیات دان (evolutionary biologist) حتمی اسباب کے تجزیے پر توجہ دے گا۔ یہی صورتِ حال تقریباً ہر اس حیاتیاتی مظہر میں پائی جاتی ہے جس کا ہم مطالعہ کرنا چاہیں۔ ہر جگہ اسباب کا ایک قریبی مجموعہ بھی ہوتا ہے اور ایک حتمی مجموعہ بھی۔ اور کسی بھی مظہر کی مکمل تفہیم کے لیے ان دونوں کی توضیح اور تعبیر ناگزیر ہے (Mayr 1961, 1503)۔

یہ امتیازات پروفیسر سمیر عکاشا کی پیش کردہ تعریفات کے ساتھ  بھی ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، جنہیں وہ قسم اوّلاور قسم دوم کے طور پر بیان کرتے ہیں:

قسم اوّل  میں غایت کسی ارتقا یافتہ جاندار سے متعلق ہوتی ہے، یعنی جاندار کو ایک عامل کے طور پر دیکھنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ اس کی ارتقائی خصوصیات، بشمول اس کے رویّے،مطابقتی ہیں، اور اسی بنا پر بقا اور افزائشِ نسل کے ہدف کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔اس کے برعکس قسم دوم  میں مفروضہ غایت خود ارتقائی عمل سے منسوب کی جاتی ہے (جسے بعض اوقات "mother nature" کہا جاتا ہے)۔ اس تصور کے مطابق قدرتی انتخاب میں یہ اندرونی رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ آبادی کو کسی خاص سمت میں لے جائے، اور اسی معنی میں اسے ہدف رُخ (goal-directed) سمجھا جاتا ہے۔ یوں پہلی صورت میں غایتی توضیح ارتقا کی پیداواروں پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ دوسری صورت میں وہ خود ارتقائی عمل پر منطبق کی جاتی ہے (Okasha 2018, 16)۔

ان باریکیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، اگر ارتقا اور مذہب کے تناظر میں اتفاق اور غایتیت پر ایک بامعنی اور تعمیری گفتگو کرنی ہو، تو ضروری ہے کہ غایتیت کی تین سطحوں یا اقسام کے درمیان واضح حد بندی  قائم کی جائے۔ ان اقسام کو یہاں کُلّی غایتیت (macroteleology: MAT)، درمیانی غایتیت (mesoteleology: MET) اور جزوی غایتیت (microteleology: MIT) کے نام دیے جائیں گے۔

 MAT سے مراد تخلیق کے مجموعی اور حتمی مقاصد ہیں، یعنی غایت کا وہ تصور جو حیاتیاتی دائرے تک محدود نہیں۔ یہ اس نوعیت کے سوالات کا جواب دیتا ہے جیسے: زندگی کا مقصد کیا ہے؟ MET ایک ساختی اور کلی نوعیت کی غایتیت ہے جو فطرت کے قوانین میں پیوست ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی توضیح کرتی ہے کہ فطرت کے قوانین کس طرح بعض نتائج تک لے جاتے ہیں یا بعض واقعات کے وقوع کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سطح ارنسٹ مائر کے ہاں "حیاتیاتی قالب میں ڈھالی گئی حتمی علل" (biologicised ultimate causes) اور سمیر عکاشا کے قسم دوم غایت کے مساوی ہے۔ MIT فوری اور مقامی نوعیت کی توضیحات پر مشتمل ہوتی ہے، مثلاً کیمیائی تعاملات، جینز کے اشارتی نظام، بیماریوں کے اسباب، دل کے افعال وغیرہ۔ یہ مائر کے ہاں قریبی مقاصد (proximate goals) اور عکاشا کے قسم اوّل غایت کے مماثل ہے۔

اگر اس فریم ورک کو قبول کر لیا جائے تو ان سطحوں کے باہمی انحصار کی نشان دہی بھی آسان ہو جاتی ہے۔ MIT اور MET بظاہر ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ آج کسی جاندار یا حیاتیاتی وجود کا طرزِ عمل کسی نہ کسی درجے میں اس کی ارتقائی تاریخ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، کسی مخصوص وقت پر کسی نوع کے آئندہ ارتقائی راستے بڑی حد تک اس کی بقا کی صلاحیت اور اس کے جینیاتی ذخیرے پر منحصر ہوں گے۔ ان امور پر گفتگو اور بحث کرنا سائنس دانوں کے دائرہ  کار میں آتا ہے۔

تاہم یہ بات اب بھی واضح نہیں ہو پاتی کہ MAT کو محض فطرت کے مشاہدے سے کس طرح اخذ کیا جائے۔ بطورِ حوالہ، تصمیمی دلائل (design arguments) پر ہونے والی بحثوں کو سامنے رکھیے (جن پر باب 7 میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی)۔ اس موضوع پر ایک وسیع علمی لٹریچر موجود ہے کہ آیا کائنات میں طراحی کے آثار نظر آتے ہیں یا نہیں اور یہی بحث MAT کے سوال کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اہلِ ایمان بھی طراحی کے دلائل سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے۔حیاتیاتی طراحی کے سیاق میں، مثال کے طور پر امریکی فلسفی الوِن پلینٹنگا  یہ کہتے ہیں:

اگر انہیں باقاعدہ دلائل کے طور پر نہیں بلکہ ڈیزائن پر مبنی بیانیات کے طور پر لیا جائے تو یہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے اخذ ہونے والا درست نتیجہ یہ ہے کہ طراحی کے بیانیے الٰہیات کی تائید تو کرتے ہیں، اگرچہ یہ کہنا آسان نہیں کہ وہ کتنی مضبوط تائید فراہم کرتے ہیں  (Alvin Plantinga 2011, 264)۔

اس کے مقابلے میں، معروف نقادرچرڈ ڈاکنز ایک زیادہ سخت مگر  منفی تشریح پیش کرتے ہیں:

فطری دنیا میں ہر سال ہونے والی اذیت کی مجموعی مقدار ایسی ہے کہ کسی بھی حساس ذہن کے لیے اس پر غور کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس ایک منٹ کے دوران، جس میں میں یہ جملہ لکھ رہا ہوں، ہزاروں جانور زندہ کھائے جا رہے ہیں، بہت سے دوسرے اپنی جان بچانے کے لیے خوف سے سسکتے ہوئے بھاگ رہے ہیں، کچھ اندر ہی اندر کھردرے طفیلی کیڑوں کے ہاتھوں آہستہ آہستہ کھائے جا رہے ہیں، اور ہزاروں مختلف انواع بھوک، پیاس اور بیماری سے مر رہی ہیں۔ یہ سب ناگزیر ہے۔ اگر کبھی خوشحالی کا کوئی دور آ بھی جائے، تو یہی حقیقت خود بخود آبادی میں اضافے کا سبب بنے گی، یہاں تک کہ فطری حالت یعنی بھوک اور بدحالی دوبارہ بحال ہو جائے۔ الیکٹران اور خود غرض جینز، اندھی طبعی قوتوں اور جینیاتی نقل کے اس کائنات میں، کچھ لوگ لازماً زخمی ہوں گے، کچھ خوش قسمت نکل آئیں گے، اور اس میں آپ کو نہ کوئی نظم ملے گا نہ کوئی وجہ، نہ ہی کوئی انصاف۔ جس کائنات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اس میں بعینہٖ وہی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی توقع ہمیں اس صورت میں ہونی چاہیے اگر حقیقت کی تہہ میں نہ کوئی طراحی ہو، نہ کوئی مقصد، نہ خیر ہو نہ شر بلکہ محض بے رحم بے اعتنائی ہو (Richard Dawkins, 1995, 131–133)۔

حیاتیاتی طراحی (biological design) سے آگے بڑھتے ہوئے، معروف طبیعیات دان اور ملحد مفکر، اسٹیون وائنبرگ کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجیے:

"جوں جوں کائنات ہمیں قابلِ فہم دکھائی دیتی ہے، اسی قدر وہ ہمیں بے مقصد بھی محسوس ہونے لگتی ہے" (Steven Weinberg 1993, 149)۔اسی مفہوم کو آگے بڑھاتے ہوئے مرحوم کرسٹوفر ہچنزانسان کے محض اتفاقی ظہور اور فطرت میں کسی واضح کُلّی غایت (MAT) کی عدم موجودگی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:
کائنات میں ہماری حیثیت اس قدر ناقابلِ تصور حد تک معمولی ہے کہ اپنے دماغی مادّے کی قلیل سی پونجی کے ساتھ ہم اس پر زیادہ دیر غور ہی نہیں کر سکتے۔ اتنا ہی دشوار یہ ادراک بھی ہے کہ شاید زمین پر ہماری موجودگی بھی محض ایک اتفاق ہو۔ ہم نے پیمانے میں اپنی محدود جگہ کو پہچان لیا ہے، اپنی عمروں کو طول دینے، بیماریوں کا علاج کرنے، دوسری اقوام اور جانوروں کے ساتھ احترام اور فائدے کا رشتہ قائم کرنے، اور رابطے کی سہولت کے لیے راکٹوں اور سیارچوں (satellites) کو استعمال کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے، لیکن اس شعور سے جو تسلی بہت کم ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری موت آنے والی ہے، اس کے بعد نوعِ انسانی کی موت ہوگی، اور بالآخر کائنات بھی حرارتی موت (heat death) سے دوچار ہو جائے گی  (Christopher Hitchens 2007, 91)۔

اس تنوع کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کلی غایت (MAT) پر اتفاق کرنا، درمیانی غایت (MET) اور جزوی غایت (MIT) کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار ہے۔ اشعری تناظر میں MAT کا علم صرف خدا ہی کی جانب سے حاصل ہو سکتا ہے، اور اسی بنا پر وہ وحی سے وابستہ ہے (Frank 2005, 135–138 ،Al-Ghazālī 2013, 157–198 )۔ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، اس کا دارومدار فطری دنیا کی ساخت پر نہیں۔ اس پہلو سے دیکھیے تو خدا کی عبادت کو انسان کا مقصد قرار دینا یعنی MAT اس بات سے قطع نظر درست رہے گا کہ انسان کو یک لخت پیدا کیا گیا ہو یا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آیا ہو۔ اس لیے یہ سوال کہ کون سا طریقہ درست ہے، MAT کو متاثر نہیں کرتا۔

لیکن اگر ہم ترتیب کو الٹ دیں اور MET اور/یا MIT سے MAT اخذ کرنے کی کوشش کریں تو یہ ایک نہایت مشکل اور حد درجہ قیاسی کام بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم محدود اور قریبی توضیحات سے کلی اور ہمہ گیر مقصد کا اندازہ لگانے کی سعی کرتے ہیں، جس کے نتائج فرد بہ فرد مختلف ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اوپر نقل کیے گئے اقتباسات سے ظاہر ہوا۔ چنانچہ یہ بات محلِ نظر رہتی ہے کہ خدا کے مقصود کے طور پر MAT کو غیر متعین فطری عمل، جیسے ارتقا، کے ذریعے نہ تو قطعی طور پر متعین کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فیصلہ کن طور پر باطل ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خواہ انسان کسی ایسے طریق کار کے ذریعے منظرِ عام پر آئے ہوں جو بظاہر اتفاقی محسوس ہوتا ہو، جیسے ارتقائی عمل، تب بھی یہ بات باعثِ تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ انسان فطرت کی قریبی یا ساختی بنیادوں  یعنی MIT یا MET سے کوئی ہمہ گیر مقصد اخذ کرنے سے قاصر ہے۔ محض اس وجہ سے کہ کلی غایت (MAT) کو MET  یا MIT سے براہِ راست حاصل نہیں کیا جا سکتا، یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی عظیم یا حتمی مقصد سرے سے موجود ہی نہیں۔

ممکن ہے کہ خدا کے پیشِ نظر کوئی آخری اور حتمی مقصد ہو، لیکن یہ مقصد کائنات کی ساختی راہوں کے ذریعے کس طرح بروئے کار آتا ہے، یہ نہ تو فوراً سمجھ میں آنے والی بات ہے اور نہ ہی لازماً ظاہری طور پر واضح۔ وائلڈمین بھی بظاہر اسی نوعیت کا زاویہ نظر پیش کرتے ہیں:

فطرت میں بظاہر نظر آنے والے مقاصد کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ نکالنا کہ کائنات میں کوئی بنیادی غایتی اصول موجود ہے، اور پھر وہاں سے یہ طے کرنا کہ خدا کس طرح عمل کرتا ہے، یہ سب ایک مضبوط اور مسلسل منطقی سلسلے کے ذریعے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے برعکس سمت میں بات زیادہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔جب ہم فطرت میں دکھائی دینے والے مقاصد سے آگے بڑھ کر حقیقی اور حتمی مقاصد کا اثبات کرنا چاہتے ہیں، پھر ان سے مابعد الطبیعی نظریات قائم کرتے ہیں، اور آخرکار مخصوص صورتوں میں الٰہی فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، تو ہر مرحلے پر دلیل ٹوٹ جاتی ہے،خصوصاً اس وقت جب گفتگو صرف حیاتیاتی ارتقا تک محدود ہو۔ایسے نتائج تک پہنچنے کے لیے ہر مرحلے پر اضافی مفروضات درکار ہوتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقا خود یہ اضافی مفروضات فراہم نہیں کرتا۔ اس لیے ارتقا کی بنیاد پر نہ تو حقیقی مقاصد کو یقینی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی مخصوص انداز میں الٰہی عمل کو رد یا ثابت کیا جا سکتا ہے (Wildman1998, 148)۔

مختصر یہ کہ اتفاق اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ کائنات یا انسان کے پیچھے کوئی حتمی مقصد موجود ہو۔ البتہ یہ فطرت کے اندر کارفرما طریقِ کار اور فوری اسباب کے بارے میں ہماری فہم کو ضرور متاثر کرتا ہے، مگر ان بنیادوں پر انسان یا کائنات کے آخری مقصد کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

عدمِ افادیت کا مسئلہ

ارتقا کی عدمِ افادیت سے متعلق اعتراض کا تعلق بڑی حد تک شر کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے، جس پر باب 8 میں گفتگو کی جائے گی۔ یہ اعتراض یوں پیش کیا جاتا ہے کہ خدا ایسا طریقہ اختیار کر سکتا تھا جس میں انسان کی پیدائش کسی طویل، مشکل اور تکلیف دہ عمل سے وابستہ نہ ہوتی، اور جس میں اتنی زیادہ اذیت اور موت بھی شامل نہ ہوتی۔ تاہم افادیت اور شر اگرچہ دونوں قدرتی تصورات ہیں، لیکن یہ دو الگ الگ نوعیت کے جائزے ہیں۔

افادیت کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ کسی کام کو مخصوص زمانی، مکانی یا مادی حدود کے اندر کتنے بہتر طریقے سے انجام دیا گیا۔ مثال کے طور پر اگر دو یکساں کارخانے ایک ہی وسائل کے ساتھ ایک ہی شے تیار کریں، اور ایک کارخانہ ایک گھنٹے میں زیادہ پیداوار دے، تو اسے زیادہ مؤثر سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر دو بڑھئیوں کو لکڑی کی یکساں مقدار دی جائے اور ایک بڑھئی کم لکڑی ضائع کرے، تو وہ زیادہ مؤثر قرار پائے گا۔ اسی طرح محدود جگہ کے بہتر استعمال کو بھی افادیت کہا جاتا ہے۔

لیکن جب معاملہ خدا کے فعل کا ہو تو افادیت کو ناپنے کا یہی پیمانہ لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ خدا وقت، جگہ اور وسائل کی کسی حد میں مقید نہیں۔ افادیت کا تصور وہاں معنی رکھتا ہے جہاں ایسی پابندیاں موجود ہوں، جبکہ خدا ان پابندیوں سے ماورا ہے۔ اسی بنا پر خدا کے کام کو "غیر مؤثر" کہنا اصولی طور پر درست نہیں۔الیکزینڈر لکھتے ہیں:

ارتقا کو آخر کس معیار کے تحت غیر کفایتی یا غیر ضروری زیاں پر مبنی کہا جا سکتا ہے؟ … اس خدا کے بارے میں، جو تمام وجود کی اساس ہے، یہ طے کرنا ہی مشکل ہے کہ “زیاں” یا “غیر کفایت” کا مفہوم کیا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ارتقا کو انسان تک پہنچنے میں “اتنا طویل وقت کیوں لگا” … انہیں یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ خدا اپنی ماورائیت میں نہ مکان کی حدود میں مقید ہے اور نہ زمان کی۔ چنانچہ ایسے خالق کے بارے میں یہ سوال کہ “یہ عمل اتنا طویل کیوں رہا” اصولی طور پر کوئی خاص معنویت نہیں رکھتا (Alexander 2012, 238)۔

یہ تصورِ خدا اشعری فکر کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ خدا کوئی مادی شے نہیں، اور نہ ہی زمان کے اندر واقع ہے، کیونکہ مادّیت اور زمانیت دونوں محدود وجود کو لازم آتی ہیں (Al-Ghazālī 2016, 59–68)۔ زمان، مکان اور مادّہ سب مخلوق ہیں جو وجود میں لائے گئے، اور جیسا کہ الیگزینڈر نے واضح کیا ہے، خدا ہی ان کے وجود کی بنیادہے۔

اسی بنا پر عدمِ افادیت پر مبنی استدلال درحقیقت کوئی ٹھوس وزن نہیں رکھتا، کیونکہ افادیت ایک انسان مرکز (anthropocentric) تصور ہے جس کا اطلاق خدا پر نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا وہ دلائل جو ارتقا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حیاتیاتی زیاں اور اس کے طویل طریقِ کار کی بنیاد پر ارتقا اور اسلام کے درمیان عدمِ مطابقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سنجیدہ علمی اعتراضات نہیں سمجھے جا سکتے۔

(جاری)


حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا

عہد نبوی کی ایک جنرل فزیشین خاتون

مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

عہدِ نبوی کی جن خواتین کا ذکر تاریخ کے صفحات میں نمایاں طور پر درج ہے، ان میں ایک نام ’’کُعَیْبہ بنت سعید/سعد اسلمیہ‘‘ ہے۔

بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ ’’کُعیبہ‘‘ ہی ’’رُفیدہ‘‘ ہیں؛ چنانچہ سمیرہ الدیب ایک عربک پورٹل ’’الجمہوریۃ آنلائن‘‘ میں لکھتی ہیں: کعیبہ بنت سعد، جو رفیدہ اسلمیہ کے نام سے مشہور ہیں، مدینہ منورہ کے قبیلۂ اسلم سے تعلق رکھتی تھیں۔

جب کہ بعض دونوں کو علاحدہ شمار کرتے ہیں، ڈاکٹر شوکت شطی کے مطابق رفیدہ اور کعیبہ دو الگ خواتین ہیں، رفیدہ طبیبہ تھیں اور سرجری میں مہارت رکھتی تھیں، جب کہ کعیبہ طبیبہ تھیں؛ لیکن سرجری میں مہارت نہیں رکھتی تھیں، انھیں نرسنگ میں مہارت تھی؛ البتہ دونوں ہی قبیلۂ اسلم سے تعلق رکھتی تھیں (تاریخ العلوم الطبیۃ، ص:۱۷۵-۱۷۶)۔

ہم یہاں پر دونوں کو علاحدہ شمار کرتے ہوئے میسر معلومات حضرت کعیبہؓ کے تعلق سے ذکر کریں گے۔ 

یہ ان خوش نصیب خواتین میں ہیں، جو اسلام کی کرنوں سے ہجرت سے قبل ہی منور ہوئیں اور ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔ ابن سعد لکھتے ہیں: ہجرت کے بعد بیعت کی (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۷۶)۔

یہ عرب کی معروف طبیبہ تھیں اور جنگ کے علاوہ بھی علاج کیا کرتی تھیں۔ محمد ابراہیم سلیم لکھتے ہیں: یہ عرب کی چند گنی چنی نیک سیرت خواتین طبیبات میں سے ایک تھیں، ان کا معزز پیشہ (طب) صرف جنگوں کے مواقع تک محدود نہیں تھا (بل کہ عام دنوں میں بھی یہ جاری رہتا تھا) (نساء حول الرسولﷺ، ص: ۱۶۱)۔

ان کے لئے بھی مسجد میں خیمہ ہوا کرتا تھا، جہاں یہ مریضوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: یہ وہ طبیبہ ہیں، جن کے لئے مریضوں اور زخمیوں کے علاج کی خاطر مسجد میں خیمہ ہوا کرتا تھا (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۷۶)۔

بتایا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ جب خندق کے دن زخمی ہوئے تو علاج کے لئے انھیں اِن کے ہی خیمہ میں منتقل کیا گیا، جہاں وفات تک ان کا علاج ہوتا رہا (أعلام النساء فی عالمی العرب والإسلام:۴؍۲۴۵)۔

غزوۂ خیبر میں یہ بھی ان خواتین میں شامل تھیں جنھیں رسول اللہ ﷺ نے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور نبی کریم ﷺ نے جنگ ختم ہونے کے بعد ان کی خدمات کے صلہ میں انھیں مالِ غنیمت میں سے مردوں کے جیسے حصہ عطا فرمایا۔ حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھیں؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں مردوں کا حصہ عطا فرمایا (الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۳۵)۔

ان کی وفات کب ہوئی؟ مؤرخین کے قلم نے اس پر کچھ بھی خامہ فرسائی نہیں کی ہے، لہٰذا ہم بھی کچھ کہنے سے قاصر ہیں، رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ الطبیبۃ الرائدۃ فی عالم الطب و رضی عنہا۔

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام جس طرح ہمیں خوشیوں میں دوسروں کا ساتھ دے کر ان کی خوشیاں بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے، اسی طرح دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے، اس میں شریک ہونے اور اس کے ازالے کی کوشش کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان بھائی کو بیماری و پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کے اندر رحم کے جذبات ابھریں اور اس کی مصیبت کا اسے بھی احساس ہو۔ یقیناً‌ ایک مسلمان کا دوسروں کی تکلیف کا احساس کر کے دل جوئی اور دل داری کی خاطر اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر بیمار پرسی کرنے میں اس فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عملی اظہار ہوتا ہے کہ جس میں تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے۔

بیمار پرسی سے آپسی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے، ایک دوسرے کے لیے ہم دردی اور غم خواری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ مریض، اس کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے دل میں بیمار پرسی کرنے والے کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اتحاد و یگانگت کی ایک اچھی فضا قائم ہوتی ہے۔ گویا سماجی اور دینی دونوں ضرورتیں اس سے پوری ہوتی ہیں۔ اگر بیماری کے علم کے باوجود مریض کی عیادت نہ کی جائے اور اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی جائے تو آپس میں عداوت، کدورت، نفرت اور کم از کم بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔

بیمار پرسی مسلمان کا حق

مریض کی عیادت مسلمان کا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی بیمار پرسی کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک کے جواب پر ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنا۔ (رواہ البخاری عن ابی ہریرہ، کتاب الجنائز، اتباع الجنائز: 1240)

اسلام نے بیمار پرسی اور تیمارداری کو گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بتایا ہے، کسی بھی بیمار کی بیمارپرسی کو اللہ تعالیٰ کی عیادت کے مترادف بتلایا گیا، اللہ تعالیٰ کی ذات اگرچہ ہر بیماری سے پاک ہے، اسے کوئی بیماری و تکلیف ہرگز ہرگز لاحق نہیں ہو سکتی؛ لیکن عیادت کی فضیلت اجاگر کرنے کے لیے اس طرح کی مثال بیان کی گئی۔

چنانچہ حدیثِ قدسی میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم!میں بیمار تھا، تو نے میری عیادت نہیں کی، وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا، حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پا لیتا … الخ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب فضل عیادۃ المریض: 2569)

بیمار پرسی کے فضائل

مریض، دوست ہو یا دشمن، امیر ہو یا غریب، عیادت کو سنت، اخلاقی فریضہ اور مسلمان کا حق سمجھ کر کرنا چاہیے۔ آج عیادت کا دائرہ سمٹ کر رہ گیا ہے، معاشرے میں عیادت ایک رسم بن گئی ہے، لوگ اس وجہ سے عیادت کرتے ہیں کہ اگر میں نے عیادت نہیں کی تو اس کے گھر والے کیا سمجھیں گے؟ کوئی مالدار یا عہدہ دار یا خاص رشتہ دار ہو تو اس کی عیادت کی جاتی ہے۔ اگر کوئی غریب ہے تو پڑوس میں ہونے کے باوجود ایک مرتبہ بھی مزاج پرسی اور اظہارِ ہمدردی نہیں کی جاتی، اس لیے کہ اس سے ہمارا کوئی دنیوی مفاد وابستہ نہیں اور نہ آئندہ اس کی کوئی توقع ہے۔

حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عیادت کو جاتا ہے تو واپس ہونے تک وہ جنت کے باغات میں ہوتا ہے۔ یعنی عیادت کرنے والا جب سے عیادت کے لیے نکلتا ہے تو واپس ہونے تک اس طرح ثواب کو حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے جس طرح جنتی جنت کے باغات میں پھل توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز: 1527)

بیمار پرسی اور ستر ہزار فرشتے

حضرت ابو فاختہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علیؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: میرے ساتھ حسن کی عیادت کے لیے چلو (ہم حضرت حسنؓ کے گھر گئے) وہاں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ موجود تھے، حضرت علیؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے پوچھا: ابو موسیٰ! آپ ملاقات کے لیے آئے ہو یا عیادت کی غرض سے آئے ہو؟ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے عرض کیا: حضرت حسنؓ کی عیادت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان صبح کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے، شام تک ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں، اگر شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کیا جاتا ہے۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی، ابواب الجنائز، باب ما جا فی عیادۃ المریض: 929)

بیمار پرسی کے لیے چلنا مبارک ہو

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے، یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے، تو آسمان سے ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ تم نے اچھا کیا، تمہارا (عیادت و ملاقات کے لیے) چلنا مبارک ہے اور تم نے (عیادت کر کے) جنت میں اپنے لیے ٹھکانہ بنا لیا۔ (رواہ الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی زیارۃ الاخوان: 2008)

علامہ طیبیؒ شارح مشکوٰۃ تحریر فرماتے ہیں: اس روایت میں عیادت کرنے والے کے لیے تین دعائیں دی گئیں ہیں، یہ جملے خبریہ نہیں بلکہ دعائیہ ہیں، پھر حدیث کا ترجمہ یوں ہوگا: تیرا بھلا ہو (دنیا و آخرت میں)، تو آخرت کے راستے پر (برائیوں سے بچتے ہوئے) بھلائی کے ساتھ چلے اور تیرا ٹھکانہ جنت بنے، گویا اس روایت میں عیادت کرنے والے کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی، نیکیوں کی توفیق کی اور حصولِ جنت کی دعائیں دی گئیں ہیں۔ (مرقات: 1575)

بیمار پرسی کا شرعی حکم

اسلام میں بیمار پرسی کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اس بنا پر بعض فقہاء نے بیمار پرسی کو واجب قرار دیا ہے، امام بخاریؒ کا رجحان بھی یہی ہے، علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: عیادت کا حکم اصلاً استحباب ہے، بعض اوقات بعض لوگوں پر واجب ہوتا ہے۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب وجوب عیادۃ المریض: 5649)

عیادت کا واجب یا مستحب ہونا حالات پر موقوف ہے، اگر مریض کے متعدد تیماردار موجود ہوں تو مستحب ہے، کوئی دیکھ ریکھ کرنے والا نہ ہو تو واجب ہے۔ علامہ بغویؒ نے یہی بات کہی ہے۔ (قاموس الفقہ 4184)

ایک مسلمان کا فرض ہے کہ مریض کے ساتھ ہم دردی اور غم خواری کرے، اس کے احوال پوچھے اور جہاں تک ہو سکے اس کا تعاون کرے، اسی کو عربی زبان میں عیادت کہا جاتا ہے۔

عیادت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بیمار کی مزاج پرسی کی جائے، یا تیمار داروں سے اس کے احوال معلوم کر لیے جائیں۔ عیادت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ مریض کے ساتھ مکمل غم خواری کی جائے، یعنی بیمار کے پاس پیسے کی کمی ہے اور اللہ نے وسعت دی ہے، تو پیسوں کے ذریعے اس کا تعاون کریں؛ تاکہ صحیح علاج کیا جا سکے، اگر خدمت کی ضرورت ہو، تو خدمت کی جائے، صحیح ڈاکٹر کی رہنمائی کی جائے، اپنے علم کے اعتبار سے صحیح اور مفید مشورے دیے جائیں۔

تیمارداروں اور مریض کے رشتہ داروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی وسعت و مالی استطاعت کے موافق مریض کی خدمت، اس کا علاج اور اس کی ضروریات کی تکمیل کریں۔ شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ مریض بوجھ نہیں بلکہ سببِ رحمت ہے، اس کی خدمت اور تیمارداری اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ ہے۔ (اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے: 29)

بیمار پرسی کا طریقہ اور آداب

(1) جب بیمار پرسی کے لیے جائے تو با وضو جائے۔

(2) اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے عیادت کی جائے، جاہ و منصب، مال و منال کی رعایت، یا ترکِ عیادت پر ملامت سے بچنے کی غرض سے عیادت نہ کی جائے۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وضو کرے، اچھا وضو کرے اور اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے (کسی دنیوی غرض سے نہ جائے؛ بلکہ محض رضائے الٰہی اور)، ثواب کی نیت سے جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے ساٹھ سال کی مسافت کے بقدر دور کر دیتے ہیں۔ (ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب فی فضل العیادۃ علی الوضو: 3097)

(3) مریض کے سامنے اس کو خوش کرنے والی باتیں کی جائیں، ایسی باتیں نہ کی جائیں جو اس کے دل کو تکلیف پہنچانے والی ہوں، یا اس کے فکر و اندیشے میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ مریض کو تسلی دے اور کہے ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے، کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ رسول اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو مندرجہ ذیل کلمات سے تسلی دیتے تھے:

’’لا باس طہور ان شاء اللہ۔‘‘ (رواہ البخاری عن ابن عباس، کتاب المرضی، باب عیادۃ الاعراب: 5656)
’’کوئی تکلیف یا گھبراہٹ کی بات نہیں ہے، اس لیے کہ بیماری گناہوں کی صفائی و ستھرائی کا ذریعہ ہے۔ ان شاء اللہ (بہتر ہی ہوگا)‘‘۔

(4) مریض کو صحت و تندرستی اور زندگی کی امید دلائے، مریض کو نا امید بنانے والی گفتگو سے احتراز کرے۔

حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیمار کے پاس جاؤ تو اس سے عمر کی درازی اور لمبی حیاتی کی بات کرو، عمر کی درازی کی بات سے اس کی عمر لمبی اور بیماری دور نہیں ہو جائے گی لیکن بیمار خوش اور مطمئن ہو جائے گا۔ (رواہ الترمذی، ابواب الطب: 2087)

(5) مریض کے پاس زیادہ دیر نہیں ٹھہرنا چاہئے۔ بعض مرتبہ مریض کو آرام یا بعض خاص ضروریات کی تکمیل کا تقاضا ہوتا ہے بیمار اور تیماردار مہمان کے واپس ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں، زبان سے کہہ نہیں سکتے جس کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اس لیے مریض اور تیمارداروں سے چند تسلی کے کلمات کہہ کر فوراً چلے آنا چاہئے، البتہ اگر مریض خود خواہش مند ہو اور اہلِ خانہ کو بھی کوئی زحمت نہ ہو تو دیر تک بیٹھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

(6) مریض کے پاس شور و شغب نہیں کرنا چاہئے، اس لیے کہ شور و شغب سے مریض کو بھی اذیت ہوتی ہے اور تیمارداروں کو بھی برا لگتا ہے۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’العیادۃ فواق ناقۃ‘‘ (مشکوۃ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض: 1590) عیادت دودھ دوہنے کے وقت کے بقدر ہونی چاہئے۔

حضرت سعید المسیبؓ سے مرسلاً مروی ہے: سب سے جلد واپسی والی عیادت سب سے افضل ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: عیادت میں سنت یہ ہے کہ مریض کے پاس کم وقت ٹھہرا جائے اور شور شرابہ نہ کیا جائے۔

مریض کو سکون اور خاموشی کا ماحول اچھا لگتا ہے، شور و غل سے تکلیف اور الجھن محسوس ہوتی ہے، اس لیے عیادت کرنے والوں اور تیمار داروں کو غیر ضروری بات چیت سے احتراز کرنا چاہئے۔ بیمار کے پاس کم ٹھہرنا سنت ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ مریض کو اس کے قریب رہنے سے خوشی حاصل ہوتی ہو، راحت ملتی ہو، یا کوئی ایسی شخصیت ہو جس سے حصولِ برکت کی امید ہو، تو ان لوگوں کے مریض کے پاس دیر تک رہنا جائز ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض: 1590)

(7) مریض کسی کھانے پینے کی چیز کی خواہش کرے اور وہ چیز اس کی صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو تو وہ چیز مریض کے لیے فراہم کرنا چاہئے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس بیمار سے فرمایا: کیا کھانا چاہتے ہو؟ بیمار شخص نے کہا: گیہوں کی روٹی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو وہ اس مریض کے پاس بھیج دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مریض کسی چیز کی کھانے کی خواہش کرے تو اس کو وہ چیز کھلا دے۔ (ابن ماجہ، کتاب الطب، باب المریض یشتھی الشیئہ: 3440)

(8) جب بیمار پرسی کے لیے جائے تو مریض سے دعا کی درخواست کرنی چاہئے، اس لیے کہ مریض کی دعا قبول ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس سے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ مریض کی دعا (قبولیت میں) ملائکہ کے دعا کی طرح ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الطب، باب المریض یشتھی الشیئہ: 3441)

(9) عیادت کے لیے مناسب وقت میں جائے کیوں کہ بعض اوقات مریض اور تیماردار کے آرام اور ضروریات کا ہوتا ہے، اس لیے ان چیزوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب وجوب عیادۃ المریض: 5649)

غیر مسلم کی بیمار پرسی

ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عیادت کرنا تو اسلامی حق ہے مگر اس سے آگے بڑھ کر انسانیت کی بنیاد پر بلا تفریقِ مذہب و ملت غیر مسلم برادرانِ وطن کی مزاج پرسی بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں۔ اگر اس میں تبلیغِ اسلام کی نیت کر لی جائے تو پھر نور علیٰ نور، اس کے بہتر اور مفید نتائج سامنے آتے ہیں۔

فخرِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں اور عورتوں، یہاں تک کہ غیر مسلموں کی عیادت کے لیے بھی تشریف لے جاتے تھے، اس لیے کہ انسانیت کی بنیاد پر وہ بھی ہم دردی کے مستحق ہیں۔ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی لڑکے کی خبر گیری اور عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: اسلام قبول کر لو۔ اس کا باپ بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ یہودی لڑکا اپنے باپ کو دیکھنے لگا، باپ نے کہا: بیٹا! ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات مان لے۔ بیٹے نے فوراً کلمہ پڑھا اور انتقال کر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الحمد للہ الذی انقذہ من النار‘‘ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔ (رواہ البخاری عن انس، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی، فمات: 1356)

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی اصولوں کے مطابق بیماروں کی بیمار پرسی و تیمار داری کرنے کی توفیق دے، معاشرہ میں اسی سے اخوت و بھائی چارے کی فضاء قائم ہو گی۔ (آمین)

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت

مفتی سید انور شاہ

انسان عام طور پر اپنی زندگی میں تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ وہ اس حال میں پیدا ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، زبان قوت گویائی سے محروم ہوتی ہے، پاؤں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوتی، عقل و شعور کے اعتبار سے بھی وہ ایک ناقص وجود ہوتا ہے۔ پھر قدرت کے ہاتھوں آہستہ آہستہ اس کی نشوونما ہوتی ہے، اور جب وہ بڑھتے بڑھتے جوانی کی منزل میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کی ساری صلاحیتیں اور قوتیں عروج پر ہوتی ہیں، اس کی طبیعت میں مہم جوئی کا جذبہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات پرمشقت راستوں پر چلنے اور خطرات کے طوفانوں سے کھیلنے میں اسے لطف آتا ہے۔ پھر اللہ تعالی کی طرف سے اس کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں میں انحطاط شروع ہوتا ہے، جس شخص کو کل دوڑنے، بھاگنے اور کود پھاند کرنے میں مزہ آتا تھا، اب وہ دو قدم چلنے میں کسی انسان یا لاٹھی کا محتاج ہوتا ہے۔

گویا ایک طرح سے پھر اس کا بچپن لوٹ آتا ہے اور اس کی انتہا اپنی کیفیت کے اعتبار سے اس کی ابتدا کے ہم پایہ نظر آتی ہے، لیکن عمر کے ان دونوں مرحلوں میں فرق یہ ہے کہ بچہ پورے خاندان کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے والدین، دادا، دادی، نانا اور نانی میں محبت و شفقت کے جو غیر معمولی جذبات رکھے ہیں، اس کے تحت اسے سب کی چاہت حاصل ہوتی ہے، لیکن بوڑھوں اور معذوروں کو یہ توجہ حاصل نہیں ہوتی۔ اور بدقسمتی سے موجودہ دور میں یہ بے توجہی بڑھتی ہی جا رہی ہے، کیونکہ اس وقت دنیا پر مغربی تہذیب کا بول بالا ہے اور اس تہذیب کی بنیاد خود غرضی اور مفاد پرستی ہے۔ جس شخص سے مستقبل میں کوئی غرض وابستہ نہ ہو اسے بوجھ تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے بوڑھے ماں باپ اور خاندان کے معذور افراد تکلیف دہ بے توجہی کا شکار ہیں۔ خاص کر اگر اولاد میں اللہ کا خوف نہ ہو تو والدین ایک بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔

والدین سے حسنِ سلوک کی اسلامی تعلیمات

قرآن مجید میں اللہ نے یہ حکم دیا کہ ’’جب والدین میں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انھیں اف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو، بلکہ ان سے نرم گفتگو کیا کرو۔‘‘ (سورۃ الاسراء: ۲۴) مقصد یہ کہ کوئی بھی ایسا کلمہ ان کی شان میں زبان سے مت نکالو جس سے ان کی تعظیم میں فرق آتا ہو، یا جس کلمہ سے ان کے دل کو رنج پہنچتا ہو۔

حضرت مجاہدؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ اگر وہ بوڑھے ہو جائیں اور تمہیں ان کا پیشاب پاخانہ دھونا پڑ جائے تو کبھی اف بھی نہ کرو، جیسا کہ وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔ (الدر المنثور: ۵/۲۲۴)

علامہ جصاص رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہشام بن عروہؒ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ والدین کی ہر جائز خواہش اور چاہت پوری کر لیا کرو: ’’و قال ھشام بن عروہ عن أبیہ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ: قال لا تمتنعھا شیأ یریدانہ۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص: ۲۰)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو (تین مرتبہ یہ بد دعا فرمائی) عرض کیا گیا: کون؟ یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، ج: ۲، ص: ۳۱۴)

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امام نوویؒ فرماتے ہیں: ’’وقال النوویؒ: معناہ أن برہما عند کبرہما وضعفہما بالخدمۃ والنفقۃ وغیر ذلک سبب لدخول الجنۃ، فمن قصر فی ذلک فاتہ دخول الجنۃ۔‘‘ (مرقات،ج:۷، ص:۳۰۸۰) والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے بڑھاپے اور کمزوری کے زمانے میں ان کی خوب خدمت کی جائے اور ان کے مکمل اخراجات اٹھائے جائیں اور یہی چیز جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ ان کی خدمت اور اخراجات میں غفلت اور کوتاہی سے کام لینا جنت سے محرومی کا ذریعہ ہے:

شریعت نے جتنا زیادہ بوڑھوں کے حقوق پر زور دیا ہے اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے، افسوس کہ اتنا ہی زیادہ ان کے حقوق سے بے توجہی برتی جاتی ہے۔ اور ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ گویا وہ زائد از ضرورت کوئی شئے ہے۔ آج شاید یہ سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے، جن کے حقوق کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہیں۔

اولڈ ایج ہاؤس (دارالمعمرین) اور اس کی شرعی حیثیت

اس پس منظر میں بوڑھے اور سن رسیدہ لوگوں کے حقوق کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ اولڈ ایج ہاؤس (Old Age House) کے قیام کا ہے، چنانچہ مغربی ملکوں میں عمر دراز لوگوں کے لیے ہاسٹل بنا دیئے گئے ہیں۔ اور اب پاکستان میں بھی جگہ جگہ ایسے ہاسٹل بن رہے ہیں جن میں نوجوان اپنے بزرگوں کو داخل کر دیتے ہیں۔ اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ ان عمر دراز حضرات کو ایک جگہ اپنی ضروریات کی چیزیں مہیا ہو جاتی ہیں اور اپنے ہم عمر لوگ مل جاتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ اپنے بال بچوں کے درمیان رہے، اولاد اور اولاد کی اولاد کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔

ایسے ہاسٹلوں میں ان کی یہ خواہش ایک حسرت بن جاتی ہے۔ ایسے ہاسٹلوں کے متعلق شریعت کا نقطہ نظر کیا ہے؟ نیز کوئی اپنے بزرگوں کو ایسے ہاسٹلوں میں قیام پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں؟

والدین کے حقوق اور خدمت کے متعلق اوپر ذکر کردہ قرآن و حدیث کے اس تاکیدی حکم سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی ہر ممکن خدمت کی جائے، ان کی منشا کا بھرپور لحاظ رکھا جائے، جس طرح وہ زندگی بسر کرنا چاہیں، ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔ اس سلسلے میں پیش آمدہ دشواریوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جائے، بلکہ خدمت کے اس موقع کو غنیمت جانا جائے اور اسے اپنے لیے سعادت اور برکت کا ذریعہ سمجھا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی خدمت کا کامل حق تو اسی وقت ادا ہوگا جبکہ وہ اپنے اہل خانہ کے درمیان زندگی بسر کریں۔ اگر انہیں بوڑھوں کے کسی ہاسٹل میں ڈال دیا جائے گا، تو ان کی خدمت کا موقع فراہم نہ ہوگا۔ خاص کر بڑھاپے کی اس عمر میں طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے اور صحت روبہ زوال ہوتی ہے، خدمت و مدد کی بار بار ضرورت پڑتی ہے۔ ان کی جیسی نگہداشت ہونی چاہیے، ہاسٹل میں ویسی نہیں ہو پاتی۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ مغربی تہذیب اور مغربی حیات کا بول بالا ہے جس کی موجوں نے آج معاشرتی نشیمن کو تہہ و بالا اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مغربی تمدن اور تہذیب کا علمی اور نفسیاتی جائزہ لینے والے اس پر متفق ہیں کہ اس کی بنیاد خود غرضی، مفاد پرستی اور مشترکہ مادی منفعت پر ہے۔ ساری مغربی دنیا کا پورا معاشرہ ایک تجارتی کمپنی کے اصولوں پر عامل اور گامزن ہے۔ وہاں انسان صرف ایک مشین یا محض تاجر بن کر رہ گیا ہے۔ عائلی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، نہ اخلاص نہ محبت، نہ ایک دوسرے سے کوئی ربط اور تعلق۔ یہ مغربی تہذیب کے جراثیم ہیں، جس نے انسان کو حواس باختہ کر دیا ہے، اس کے دل و دماغ پر مادیت کے پردے ڈال دیئے ہیں اور اس کے احساسات کو مردہ کر دیا ہے۔ آگے کے اقتباس سے وہاں کی تہذیب و تمدن اور وہاں رہنے والے لوگوں کی انسانیت نوازی اور اپنے والدین کے لیے جذبۂ ہمدردی کا اندازہ لگائیں۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب اپنے سفرنامہ ’’دو مہینے امریکہ میں‘‘ وہاں کے خاندانی حالات اور والدین و اولاد کے باہمی تعلقات کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

’’یہاں والدین اولاد کے صرف جوان ہونے تک اپنے کو ایک حد تک ذمہ دار سمجھتے ہیں، اور درمیان درمیان میں ان بچوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا کرتے ہیں کہ آدمی کو خود اپنی کمائی سے اپنے مصارف پورے کرنے چاہئیں۔ ان کی تعطیلات میں ان کو وقتی طور پر ملازمت کر لینے یا کوئی آمدنی والا کام کرنے کا شوق دلاتے ہیں۔ اور جیسے ہی ان کی عمر کمانے کی ہو جاتی ہے، ان کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اولاد بھی بڑی ہو کر اس رویہ کا جواب اپنے خود غرضانہ رویے سے دیتی ہے کہ ہر شخص اپنی کمائی سے فائدہ اٹھائے۔ نہ کما سکتا ہو تو حکومت اس کی ذمہ داری لے یا پھر اس کی قسمت ہے، بھگتے۔ کوئی ایک دوسرے کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ ہر شخص کی کمائی اس کی ضرورت اور مصارف کے مطابق ہے۔ اسی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد لوگوں کی حالت عجیب ہوتی ہے۔ اعزہ سے ملاقات، اہل تعلق کی مزاج پرسی اور ہمدردی سے وہ بالکل محروم رہتا ہے، اپنا وقت خود ہی گزارنا پڑتا ہے۔ بوڑھوں کی دلبستگی کے لیے اگر بیوی کے لیے شوہر اور شوہر کے لیے بیوی نہیں ہے، تو کوئی دلبستگی کرنے والا نہیں، بہت کسی نے کیا تو اتوار کے روز چند منٹ آکر مل گیا اور اپنے ہاتھ کچھ پھول یا گلدستے اظہار تعلق کے لیے ہدیۃ‌ لے آیا۔‘‘ (دو مہینے امریکہ میں: ۲۵۶، ۲۵۷)

مذکورہ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ ’’بوڑھوں کے ہاسٹل‘‘ مغربی نظام کا عطیہ اور غیر اسلامی و مادی فکر کا نتیجہ ہیں، جو اسلام کے عطا کردہ لازوال اور فلاحی معاشرتی نظام کے بالکل مخالف ہے، لہٰذا عام حالات میں بوڑھوں یا معذوروں کو بوجھ سمجھ کر ان کو ہاسٹل کے حوالہ کرنا اور وہاں قیام پر مجبور کرنا نہ شرعا جائز ہے اور نہ عقلا اس کی گنجائش ہے۔

البتہ ایسے بے سہارا معذور اور بوڑھے حضرات جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور دربدر ٹھوکریں کھانے اور ادھر ادھر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہو کر لاوارث بن گئے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے لیے اس غرض سے ہاسٹل قائم کرنا اور اس میں ان کی ضروریات و سہولیات مہیا کرنا، تاکہ وہ اپنی زندگی کے بقیہ ایام باعزت طور پر گزار سکیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ رہیں، ایک مناسب اقدام معلوم ہوتا ہے، خواہ یہ ہاسٹل حکومت کی طرف سے قائم کیے جائیں یا رفاہی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے۔

واضح رہے کہ یہ مسئلہ کا کوئی مستقل حل نہیں ہے، اصل طریقہ وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ ان کو گھروں میں رکھ کر ان کی خدمت کی جائے، لہٰذا بوڑھوں کے متعلق معاشرے کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ بوڑھے حضرات انسانی سماج کا عضو معطل یا اس کے لیے بار گراں یا زمین کا بوجھ نہیں ہیں، بلکہ وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں اور ہر اعتبار سے انسانی تکریم کے مستحق ہیں، ان کی خدمت اپنی سعادت سمجھ کر کی جائے۔

مجبوری کی صورت میں معذور اور بوڑھے حضرات کا ہاسٹل کی طرف منتقل ہونے کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے:

  1. اولاد گھر میں موجود ہو اور بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے میں کوئی دقت نہ ہو، نیز ان کو گھر میں رہنے کی خواہش ہو تو ایسی صورت میں اولاد پر بوڑھے والدین کی خدمت واجب ہے، ہاسٹل کے حوالہ کرنا جائز نہیں۔
  2. اولاد گھر میں موجود نہ ہو اور باپ کی خواہش گھر میں رہنے کی ہو تو اگر اولاد مستطیع ہو تو بوڑھے ماں باپ کے لیے خادم کا انتظام کرنا واجب ہے۔ ہاسٹل کے حوالہ کرنا جائز نہیں۔
  3. اگر گھر میں بوڑھے باپ کے ساتھ نامناسب برتاؤ ہوتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ ہاسٹل میں منتقل ہونا چاہتے ہوں تو اولاد پر لازم ہے کہ ماحول تبدیل کریں، خوشگوار فضا بنائیں اور بوڑھے باپ کو راحت پہنچائیں اور انہیں ہاسٹل منتقل نہ ہونے دیں۔
  4. اگر اولاد معاشی مجبوری یا کسی اور حقیقی مجبوری کی وجہ سے یا تنگ دستی کی بنیاد پر خادم نہیں رکھ سکتی ہو، یا اولاد ہی نہ ہو اور دوسرے رشتہ دار صحیح خدمت نہیں کر پا رہے ہوں تو پھر ان کے لیے ہاسٹل منتقل ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

آخر میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ نوجوان نسل میں یہ شعور اور احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ عمر ڈھلنے اور شباب رخصت ہونے کے بعد ان کو بھی اس تلخ حقیقت اور دشوار مرحلہ سے گزرنا ہے، اس لیے وہ اپنے بوڑھوں اور بزرگوں کی خدمت اور اطاعت کریں۔ نیز ان کے ساتھ ہمدردی اور محبت و تعلق کا ایسا نمونہ پیش کریں، جس سے خوشگوار فضا قائم ہو اور آنے والی نسل ذہنی و فکری طور پر اپنے بوڑھوں کی خدمت کے لیے خوش دلی سے آمادہ رہے۔


27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کل، 3 دسمبر 2025ء کو، شعبۂ شریعہ و قانون، شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ہم نے 27 ویں آئینی ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔

پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی سورۃ العصر کی تلاوت سے کیا گیا جس میں تیزی سے گزرتے وقت کی گواہی پیش کر کے یہ حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سواے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اچھے کام کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو سچائی اور ثابت قدمی کی نصیحت کرتے رہے۔ اس کے بعد میں نے موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے یاد دہانی کی کہ آئین پر چونکہ ملک کا سارا نظام چلایا جاتا ہے اور چونکہ قوم کی فلاح و بہبود اور مستقبل کا انحصار آئین کی تعبیر پر ہوتا ہے، اس لیے یہ بہت حساس معاملہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں میں نے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان مارشل کے اس مشہور جملے کا حوالہ دیا جو انھوں نے 1819ء میں ’مک کلوچ بنام میری لینڈ‘ مقدمے میں لکھا تھا: ’’ہمیں ہر گز یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس کا مفہوم ہم متعین کر رہے ہیں وہ (کوئی عام قانون نہیں بلکہ) آئین ہے۔‘‘ میں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ امریکی آئین میں 239 سالوں میں 27 ترامیم کی گئی ہیں، جبکہ ہم نے 27 ترامیم کا ہدف 52 سالوں میں ہی حاصل کر لیا ہے۔

27 ویں ترمیم کے متعلق پاکستانی معاشرے میں اٹھائے گئے سوالات میں موجودہ پارلیمان کے متعلق اس سوال کا بھی میں نے ذکر کیا کہ فارم 45 اور فارم 47 پر تنازعے کی وجہ سے کیا موجودہ پارلیمان کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل بھی ہے یا نہیں؟ اس بات پر بھی میں نے خصوصاً بات کی کہ اس ترمیم میں جتنی دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں لائی گئی ہیں، ان کا تقاضا یہ تھا کہ اس ترمیم سے قبل عوامی سطح پر تفصیلی مباحثہ ہوتا اور پارلیمان میں بھی اتنا غور و فکر کیا جاتا جتنا 18 ویں ترمیم کے موقع پر سینیٹر رضا ربانی صاحب کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے کیا تھا۔

تیسرا سوال میں نے یہ پیش کیا کہ کیا یہ ترمیم محض ایک ترمیم ہے یا یہ نئی آئین سازی کی گئی ہے اور اگر یہ نئی آئین سازی ہے، تو کیا پارلیمان کو، جو کہ آئین کی پیداوار ہے، نئی آئین سازی کا اختیار حاصل ہے؟ اس ضمن میں میں نے اس تنازعے کا ذکر کیا جو ہمارے قانونی حلقوں میں پایا جاتا ہے کہ کیا پارلیمان آئین میں کسی طرح کی بھی ترمیم کر سکتی ہے یا اس کے یہ اختیارات محدود ہیں؟ کیا ہمارے آئین کی کوئی ’بنیادی ساخت‘ ہے یا چند امتیازی خصوصیات ہیں جن میں تبدیلی کو ترمیم کے بجائے نئی آئین سازی کہا جائے گا؟

ایک اور اہم سوال صدر اور افواجِ پاکستان سے ’قومی سورماؤں‘ (national heros) کو قانون سے دی جانے والی غیر معمولی استثنا کی وسعت کے متعلق میں نے پیش کیا کیونکہ اس استثنا کی مثال اسلامی قانون یا تاریخ میں دور کی بات ہے، معاصر دنیا میں بھی کسی ملک میں نہیں پائی جاتی۔

یہ سوال بھی میں نے ذکر کیا کہ کیا اس ترمیم سے ہمارے وفاقی نظام پر کچھ اثر پڑا ہے اور کیا اس نئے نظام پر وفاق کی اکائیوں میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے؟

سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کے متعلق ہے کہ کیا سپریم کورٹ سے آئینی اختیارِ سماعت چھین کر، ایک نئی آئینی عدالت قائم کر کے، جیوڈیشل کمیشن کی ساخت تبدیل کر کے اور ججوں کے ٹرانسفر اور دیگر امور سے متعلق نیا نظام تشکیل دے کر اس ترمیم نے عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگا دیے ہیں یا یہ محض انتظامی نوعیت کی تبدیلیاں ہیں؟

میں نے بعض حلقوں کی جانب سے ذکر کیے گئے اس ’جواز‘ یا ’محرک‘ پر بھی بات کی کہ پچھلے ڈیڑھ عشرے میں عدلیہ کی جانب سے حکومت اور پارلیمان کو جس طرح دیوار سے لگانے کا کام کیا گیا، 27 ویں ترمیم دراصل اس کا ردّ عمل ہے۔ ساتھ ہی میں نے ردّ عمل کی نفسیات سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دلائی کیونکہ اس طرح پہلے سے موجود مسائل حل ہونے کے بجائے نئے اور زیادہ پیچیدہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

میں وکلا اور قانون کے اساتذہ کے درمیان مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قانونی نظام کی بہتری کے لیے اس طرح کے مکالمے اور مباحثے کی اشد ضرورت ہے۔

آخر میں میں نے 27 ویں ترمیم کے متعلق اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کے چیئرمین کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کا متن پڑھا جس میں اس ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عطاء اللہ خان وٹو

میری تمہیدی گزارشات کے بعد ڈاکٹر عطاء اللہ خان وٹو نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آئین کی تعریف سے بات شروع کر کے واضح کیا کہ آئین کا کام اقتدارِ اعلیٰ اور حاکمیت کو ایک فرد یا ادارے میں مرتکز ہونے سے روکنا، اسے متعدد افراد یا اداروں میں تقسیم کرنا، اور ان افراد یا اداروں کی حدود متعین کرنا ہے۔ اسی لیے جن ممالک میں بھی تحریری آئین موجود ہیں، ان میں ’اختیارات کی علیحدگی‘ (separation of powers) کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا آپس میں سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو کیونکہ اس طرح حکومت کا نظام ہی معطل ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے حکومت کی ان تینوں شاخوں کو آئین میں ایک دوسرے پر نظر رکھنے اور ایک دوسرے کی طاقت کو متوازن کرنے (checks and balances) کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ اس بندوبست کا مؤثر ہونا نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے، لیکن جب ایک شاخ دوسری شاخ کے کام میں مداخلت کرے، تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے نظام میں ایک نوع کا تناؤ مستقل موجود رہتا ہے۔

ڈاکٹر وٹو نے 27 ویں ترمیم پر اس پہلو سے تنقید کی کہ اس میں ’’چیف جسٹس آف پاکستان‘‘ کے منصبِ جلیل کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک طرف یہ خطاب سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کو ان کی مدتِ ملازمت تک دیا گیا، جو کسی مخصوص فرد کے لیے قانون سازی کی ایک مثال ہے، تو دوسری طرف یہ بھی طے کر دیا ہے کہ آئندہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس جو سینیئر ہو، تو وہ اس خطاب کا مستحق ہوگا۔ انھوں نے جیوڈیشل کمیشن کے رکن کے لیے ’ٹیکنو کریٹ‘ کی تعریف پر بھی اعتراض کیا جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس نے 16 سال کی تعلیم حاصل کی ہو۔ انھوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اس تعریف نے علماء کو ٹیکنو کریٹ کی تعریف سے خارج کر دیا ہے کیونکہ درسِ نظامی کا دورانیہ 8 سال پر مشتمل ہوتا ہے۔

سید احمد حسن شاہ

ان کے بعد سید احمد حسن شاہ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، نے تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے پہلے ’گول میز‘ کے تصور کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہر کوئی مختلف زاویوں سے بات کر سکتا ہے اور مقصود غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مباحثہ‘ (debate) کی باری اس کے بعد آتی ہے جس میں کوئی اس ترمیم کے خلاف اور کوئی اس کے حق میں خلاف بولتا ہے؛ اور ’دستاویزِ عمل‘ (working paper) سب سے آخر میں آتی ہے جس میں مستقبل کے لیے لائحۂ عمل بنایا جاتا اور تجاویز و سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں آئینی امور پر گفتگو کا معیار بہت گر گیا ہے جس کے لیے اقبال کی اصطلاح ’بد آموزی‘ استعمال کی۔

ترامیم کی تعداد کے مسئلے پر انھوں نے کہا کہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق کم یا زیادہ ترامیم کرتا ہے، مثلاً بھارت اب تک 106 اور جرمنی 66 ترامیم کر چکا ہے، جبکہ جاپان نے ایک بھی ترمیم نہیں کی۔ انھوں نے پاکستان کے آئین کے حوالے سے ان تین ترامیم کا بھی ذکر کیا (نویں، گیارھویں اور پندرھویں) جو آئین میں مذکور طریقِ کار پورا نہ ہونے کے سبب سے نافذ نہیں ہو سکیں اور اس وجہ سے انھیں گنتی سے خارج کیا جائے، تو ہمارے پاس 24 ترامیم بچتی ہیں۔ انھوں نے خصوصاً نویں ترمیم کا حوالہ دیا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ قرآن و سنت کو ملک کے سب سے بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس ترمیم کو سینیٹ نے منظور کیا تھا، لیکن قومی اسمبلی سے اس کی منظور نہیں ہو سکی کیونکہ وہ اس وقت تحلیل ہو چکی تھی۔ پندرھویں ترمیم بھی اس موضوع پر تھی، لیکن اسے پارلیمان کے کسی بھی ایوان سے منظوری سے قبل ہی واپس لے لیا گیا تھا۔

27 ویں ترمیم کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے ذکر کیا کہ اس ترمیم کے ذریعے کل 55 تبدیلیاں لائی گئی ہیں جن میں کچھ کا تعلق عدلیہ سے، کچھ کا مسلح افواج سے اور کچھ کا صدر اور قومی سورماؤں کے لیے استثنا کے ساتھ ہے۔ استثنا کے مسئلے پر انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جب اس کے مفہوم اور حدود پر آئینی عدالت میں بحث آئے گی، تو ملک کے اعلیٰ آئینی و قانونی دماغ اس پر تفصیلی بحث کے ذریعے اس کی نوک پلک سنوار لیں گے۔

سب سے زیادہ تنقید عدلیہ میں لائی جانے والی تبدیلیوں پر کی جاتی ہے، لیکن اس ضمن میں انھوں نے واضح کیا کہ 1996ء میں ’ججز کیس‘ کے فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ نے یہ قرار دے کر کہ ججوں کی تعیناتی میں چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی مشاورت کا ’بامعنی‘ ہونا ضروری ہے، معاملہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ 2010ء میں پارلیمان نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے جیوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کر کے انھیں اس معاملے میں بااختیار کیا اور توازن کو پارلیمان کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی، تو سپریم کورٹ اس کی راہ میں حائل ہو گئی اور مجبوراً پارلیمان کو 19 ویں ترمیم کرنی پڑی، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت محض ربر سٹیمپ کی حد تک رہ گئی اور کنٹرول پھر عدلیہ نے لے لیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ 1996ء سے 2024ء تک جب ’عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے عدلیہ میں تعیناتیاں خود عدلیہ ہی کرتی تھی، تو کیا اس سے نظام میں کچھ بہتری لائی جا سکی تھی؟

انھوں نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ اصل اہمیت تعیناتی کرنے والے فرد یا فورم کی نہیں، بلکہ تعینات کیے جانے والے افراد کی ہوتی ہے۔ اگر جج خود آزاد ہوں اور وہ قانون پر عمل کرتے ہوئے منصفانہ فیصلے دیں، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ان کی تعیناتی کس نے کی تھی؟ انھوں آمروں کے دور میں تعینات کیے گئے بعض ججوں کی مثالیں بھی دیں جو اپنے فیصلوں کی وجہ سے ملک کے مایہ ناز ججوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان

پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان صاحب نے پہلے تو ٹاک شوز، میڈیا اور معاشرے میں عمومی طور پر 27 ویں ترمیم کے متعلق جاری بحث کے معیار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم آئینی اور قانونی اصولوں کے تجزیے کے بجائے سیاسی نعروں اور جذباتی تقریروں کے ذریعے تعصبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے راؤنڈ ٹیبل کے انعقاد پر شعبۂ شریعہ و قانون، شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بحث کو ایک اور زاویے سے اٹھایا اور اس طرف توجہ دلائی کہ پچھلے ڈیڑھ عشرے سے سیاسی امور میں عدلیہ کے بہت زیادہ متحرک ہونے کی بنا پر ہمارے ہاں بات ’قانونی دستوریت‘ (legal constitutionalism) سے ’سیاسی دستوریت‘ (political constitutionalism) کی طرف چلی گئی تھی جس نے عدلیہ کو بھی سیاسی رنگ دے دیا تھا۔ انھوں نے کارل شمٹ کے منہجِ فکر کو بنیاد بنا کر عدلیہ و مقننہ کے درمیان جاری کشمکش کا تجزیہ کیا اور یہ اہم نتیجہ نکالا کہ پاکستان میں آئین کسی عمرانی معاہدے کا نہیں، بلکہ اشرافیہ اور طاقت کے ستونوں کے درمیان سمجھوتے کا نام ہے اور ہر کچھ عرصے بعد طاقت کے توازن میں تبدیلی کے بعد اس سمجھوتے میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔

جناب جاوید اقبال بانڈے

جناب جاوید اقبال بانڈے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آئین کی کچھ امتیازی خصوصیات (salient features) ہیں جنھیں ترامیم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کو تبدیل کرنے کا مطلب نئی آئین سازی ہے، اور نئی آئین سازی کا اختیار اس پارلیمان کو حاصل نہیں ہے جو خود موجودہ آئین کی پیداوار ہے۔ ان امتیازی خصوصیات میں انھوں نے اسلامیت، وفاقیت، پارلیمانی حکومت، اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد عدلیہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے 27 ویں ترمیم میں مقرر کیے گئے اس اصول پر بھی تنقید کی کہ سپریم کورٹ کے نظائر کی پابندی وفاقی آئینی عدالت پر لازم نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ نظائر کی پابندی ہمارے نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے خاتمے سے بہت سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔ سب سے اہم بات انھوں نے یہ ذکر کی کہ 27 ویں ترمیم کے ’اسباب‘ پر بات بھی ضروری ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس ترمیم کے ’مقاصد‘ پر بات کی جائے کیونکہ اس teleological perspective سے ہی اس ترمیم کے دور رس نتائج کا صحیح ادراک ممکن ہوگا۔ انھوں نے خصوصاً اس پہلو کی نشاندہی کی کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان توازن میں اب انتظامیہ کا پلڑا بہت بھاری ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر عدنان خان

ڈاکٹر عدنان خان نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا، لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے آئین میں اتنی ترامیم کی ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ترامیم ’ہم‘ نے کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ دعویٰ تو وہ ارکانِ پارلیمان بھی نہیں کر سکتے جنھوں نے 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ انھوں نے بحث میں اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ 27 ویں ترمیم کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ اسے 26 ویں ترمیم اور اس سے قبل سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ کے ساتھ اور ان کے تسلسل میں دیکھا جائے کیونکہ عدلیہ پر تسلط کا آغاز وہاں سے ہوا۔

انھوں نے ایک اہم نکتہ یہ ذکر کیا کہ ان کی رائے میں 27 ویں ترمیم نہ ہی محض ترمیم ہے، اور نہ ہی محض نئی آئین سازی، بلکہ اس نے ہمارے آئینی نظام کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اس کی وضاحت میں انھوں نے کہا کہ اگر دیوانی قانون سے ڈگری کے اجرا، یا فوجداری قانون سے ایف آئی آر اور شکایت کے اندراج کی دفعات ختم کر دی جائیں، تو چاہے باقی سارے دیوانی قوانین اور فوجداری قوانین موجود رہیں، دیوانی اور فوجداری نظامِ انصاف باقی نہیں رہے گا۔ اسی طرح آئین کے نفاذ کے لیے ہائی کورٹ کے پاس دفعہ 199 اور سپریم کورٹ کے پاس دفعہ 184 کے تحت اختیارات تھے اور جب انھی اختیارات پر ڈاکا پڑا، تو باقی آئینی دفعات کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انھوں نے مزید ذکر کیا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے ہمارے وفاقی نظام کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ اب صوبوں میں موجود اعلیٰ عدلیہ (ہائی کورٹ) کو مرکزی عدلیہ کے ماتحت عدلیہ کی حیثیت دے دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل ہمارے عدالتی نظام میں سپریم کورٹ کو یہ اختیار تو حاصل تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے کسی فیصلے کو اپیل میں تبدیل یا ختم کر دے، لیکن ہائی کورٹ کے انتظامی امور یا اندرونی امور یا ہائی کورٹ کے ماتحت ضلعی عدلیہ پر سپریم کورٹ کو کوئی انتظامی اختیار حاصل نہیں تھا۔ انھوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کے طریقے وضع کرنے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایک جانب چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے لیے ترغیب (incentive) مقرر کرنا اور دوسری جانب حکومت کے لیے ناپسندیدہ ججوں کو ٹرانسفر کرنے اور جبری ریٹائر کرنے کا اختیار تخلیق کر کے عدل و انصاف کے نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

(جاری)

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)

بنوریہ میڈیا کا انٹرویو

گفتگو و نظرثانی : ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

انٹرویو : رفیق اعظم بادشاہ

تعلیمی و علمی سفر

رفیق اعظم بادشاہ:

ڈاکٹر صاحب، آپ سے ہم وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعہ ایپلیٹ بینچ پر، ان شاء اللہ مزید سوالات کریں گے، لیکن اس وقت ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا تعلق ایک معروف علمی، دینی سیاسی خاندان سے ہے، تو کیا آپ اس بارے میں بتانا پسند فرمائیں گے؟ اس پس منظر کے بارے میں، اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں، اپنے بارے میں، اپنے خاندان کے بارے میں؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

میرا تعلق الحمد للہ ایک علمی گھرانے سے ہے، جو علمی بھی ہے اور اس کا عملی سیاست میں بھی کردار رہا ہے۔ میرے دادا مرحوم علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار نقشبندی قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ انھوں نے عملی طور پر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مجلسِ احرار کے ساتھ کیا تھا اور بعد میں انھوں نے اپنی جمعیت علمائے سرحد کے نام سے تنظیم بنائی تھی۔ ان دنوں علماء کی جو بڑی تنظیم تھی، جمعیت علمائے ہند کے نام سے، یہ اس سے الگ تنظیم تھی۔ ہمارا صوبہ ان دنوں صوبہ سرحد کہلاتا تھا، تو اس میں میرے دادا مرحوم نے دیگر علماء کے ساتھ مل کر جمعیت علمائے سرحد بنائی تھی اور اس پلیٹ فارم سے وہ مسلم لیگ کو سپورٹ کرتے تھے اور قائد اعظم کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ ان کا اور ان کے بڑے بھائی مولانا محمد شعیبؒ کا اس تحریک میں بہت اہم کردار رہا۔

قائد اعظم نے جب برطانیہ سے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور 1937ء کے انتخابات کے بعد انھوں نے مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی تو اس سلسلے میں صوبہ سرحد میں بھی انھوں نے مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی اور صوبائی مسلم لیگ بنائی تو اس کے پہلے صدر کے طور پر میرے دادا کے بڑے بھائی تھے مولانا محمد شعیبؒ کو منتخب کیا گیا۔ وہ صوبائی سطح پر مسلم لیگ کے پہلے صوبائی صدر تھے۔ 1937ء میں بھی، پھر 1938ء میں بھی۔

اسی طرح جو 1940ء میں قراردادِ لاہور کا مرحلہ آیا تو دونوں بھائی وہاں اس میں شریک ہوئے اور قائد اعظم کو اپنی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ پھر قائد اعظم کے کہنے پر اور ان کی ہدایت پر میرے دادا مرحوم نے قبائلی علاقوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں قائد اعظم کا پیغام قبائلی عمائدین تک پہنچایا۔ وہاں جو روحانی بزرگ ہوتے تھے، باجوڑ میں، چارمنگ میں، دیگر قبائلی علاقوں میں، ہر جگہ جا کر انھوں نے قائد اعظم کا پیغام پہنچایا اور یوں کہیں کہ مسلم لیگ کو ایک عوامی جماعت بنانے میں ان کا بڑا کردار رہا۔

آپ جانتے ہیں کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کو، خلفاء کو، مسلم لیگ اور قائد اعظم کا ساتھ دینے کی ہدایت کی تھی۔ پھر مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ نے جب جمعیت علمائے اسلام قائم کی تو میرے دادا مرحوم نے اپنی جمعیت علمائے سرحد اس میں ضم کی اور پھر اس پلیٹ فارم سے ان کا مسلم لیگ کے ساتھ تعاون جاری رہا۔ ان کے نام قائد اعظم کے خطوط بھی ہیں۔ انھوں نے ریفرنڈم کو کامیاب بنانے میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا اور اس کے بعد بھی ان کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔

میرے والد صاحب مرحوم جناب اکرام اللہ شاہد بھی عملی سیاست میں بھی رہے، اور مردان کے چیئرمین بھی رہے، صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے، پھر صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے۔ اسی طرح وہ علمی کاموں میں بھی، اپنی سیاست کے باوجود، اس میں مصروف رہے۔ اور ’’اقبال اور افغانستان‘‘ کے نام سے انھوں نے ایم فل کا مقالہ لکھا جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا۔ ان کی اور بھی کئی کتابیں ہیں۔

میں نے عام تعلیم حاصل کی ہے۔ میں نے پاکستان ایئر فورس کالج رسالپور سے ایف ایس سی کی۔ اس سے پہلے میٹرک مردان کے عام سرکاری سکول سے کیا، گورنمنٹ ہائی سکول نمبر دو مردان سے۔ بہت اچھے اساتذہ تھے ہمارے اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین اجر دے (آمین۔ رفیق) ایف ایس سی میں نے 1994ء میں کی۔ میری ایف ایس سی کے دوران (1993ء-1994ء میں) میرے دادا بیمار تھے اور صاحبِ فراش تھے، تو ان کے پاس جب کوئی مستفتی آتا تھا، تو خود لکھنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا ۔ چنانچہ انھوں نے میری یہ ذمہ داری لگائی کہ میں ان کے ساتھ بیٹھ کے، جو وہ مجھے بتاتے، املا کراتے، میں لکھتا۔ تو مجھے یہ سعادت ملی کہ ان کی جو فتاویٰ کی کتاب یا رجسٹر ہے، تو اس میں ان کے ہاتھ کے علاوہ اگر کسی کا لکھا ہوا ہے تو میرا ہے۔ یوں کہیں کہ ان کی خصوصی نظر مجھ پہ رہی اور مجھے ان کی دعائیں بھی ملیں۔ میرے نانا، حکیم حافظ ضیاء الاسلامؒ، فاضلِ دیوبند تھے، بہت اعلیٰ پائے کے طبیب بھی تھے۔ ان کی دعاؤں کا سلسلہ بھی، الحمد للہ، رہا۔

چنانچہ میرا رجحان دینی علوم، بالخصوص فقہ کی طرف ہوگیا۔ میری ایف ایس سی پری میڈیکل میں تھی تو عام طور پر لوگ کہتے تھے میڈیکل کالج میں جائیں۔ میڈیکل کالج میں داخلے کا امکان بھی تھا۔ لیکن انھی دنوں میرے دادا کا انتقال بھی ہوا تو کچھ اس کا بھی اثر تھا۔ اس لیے تو میں نے ارادہ کیا کہ میں نے دینی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اس کے لیے پھر میں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ ایک الگ دلچسپ کہانی ہے، کسی وقت اللہ موقع دے تو وہ بھی بیان کریں گے (جی ان شاء اللہ۔ رفیق)

اسلامی یونیورسٹی سے میں نے پھر ایل ایل بی آنرز شریعہ اینڈ لا کیا، اور اس کے بعد وہیں سے ایل ایل ایم شریعہ اینڈ لا کیا۔ میرا ایل ایل ایم کا مقالہ آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے جواز پر تھا، بین الاقوامی قانون میں بھی اور اسلامی شریعت میں بھی۔ میں نے اسی دوران میں پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے بھی کیا۔ پھر بعد میں پی ایچ ڈی بھی اسلامی یونیورسٹی سے ہی کی۔ اس میں میرا مقالہ حنفی فقہ میں سیاسہ شرعیہ کے تصور پر تھا، بالخصوص جو حدود اور جنایات کے ابواب میں فقہاء نے سیاسہ شریعہ کا اصول کیسے برتا ہے اور اس اصول کی روشنی میں پاکستان میں فوجداری قوانین میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

ایل ایل ایم کے دوران میں ہی مجھے اللہ تعالیٰ نے موقع دیا اور مجھے سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا، لیکن اسی دوران میں مجھے پشاور یونیورسٹی میں لیکچررشپ آفر ہوئی تو میں نے سول جج کا عہدہ چھوڑ کر پشاور یونیورسٹی میں تدریس شروع کی۔ پھر کچھ عرصے بعد واپس اپنی یونیورسٹی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر آگیا؛ پھر آگے کا سلسلہ تو آپ جانتے ہیں؛ اسسٹنٹ پروفیسر، پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ قانون کی سربراہی، پھر شریعہ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل۔

رفیق اعظم بادشاہ:

عام طور پر جب کوئی طالب علم شریعہ اینڈ لا کے لیے آتا ہے اور اس کا پس منظر سکول اور کالج کا ہوتا ہے، نہ کہ مدرسے کا، تو پھر اتنی گہرائی میں فقہ اور اصولِ فقہ اور اس طرح کے مباحث میں بہت ہی گہرائی کے ساتھ، اس کی دسترس نہیں ہوتی۔ تو کیا آپ کا کوئی ایسا پس منظر تھا؟ آپ نے جس طرح بتایا کہ آپ کے دادا بہت بڑے مفتی تھے، لیکن کیا آپ نے ان سے کچھ پڑھا بھی؟ اصولِ فقہ، اصول حدیث اور دیگر علوم میں؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

میں نے باقاعدہ تو ان سے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور دیگر علوم نہیں پڑھے لیکن میں ان کے ساتھ میں رہا۔ ان کی تربیت یقیناً‌ تھی، ان کی نظر بھی تھی اور شفقت بھی تھی اور وقتاً‌ فوقتاً‌ انھوں نے مجھے مختلف چیزیں سمجھائیں۔ ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ وہ میرا بیکار سے بیکار قسم کا سوال بھی بہت توجہ سے سنتے اور پھر اپنے طریقے سے مجھے اس میں رہنمائی فراہم کرتے۔ ان کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ میں ان کو دیکھ کر بات نہیں کر سکتا تھا۔ بس نظریں نیچی کر کے میں ان کے سامنے سوال اپنا عرض کرتا تھا؛ لیکن ان کی طرف سے بے حد شفقت ہوتی اور بہت محبت ہوتی۔ اسی طرح میرے نانا بھی تھے۔ ان کے سامنے تو اُن کی اپنی اولاد، یعنی میرے ماموں، سر پر ٹوپی رکھے بغیر بھی حاضر نہیں ہوتے تھے، لیکن ہمارے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ میری نانی کہا کرتی تھیں کہ آپ لوگ اپنے نانا کی اتنی تعریف کرتے ہیں، آپ تک پہنچتے پہنچتے یقیناً وہ بہت اچھے ہو گئے ہیں۔

تو یقیناً‌ ان بزرگوں کی شفقت اور دعائیں ہیں اور سب کچھ، جو کچھ بھی ہے، انھی کی برکت سے ہے۔ باقاعدہ میں نے ان سے نہیں پڑھا لیکن یہ آخری سال جو میں نے ان کے ساتھ گزارا، اس کی بہت برکت رہی۔ وہ نقشبندی سلسلے میں تھے اور وہ خواجہ عبد المالک صدیقیؒ، خانیوال، کے خلیفہ مُجاز تھے۔ میں نے بھی اپنے دادا سے نقشبندی سلسلے میں بیعت کی۔ کچھ عرصہ وظائف اور اوراد کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بعد میں اور کاموں میں لگ گئے تو وہ چیزیں رہ گئیں۔ تو یہ جو آخری سال ڈیڑھ میں نے ان کے بہت قریب گزارا، تو اس کا اثر ہے میری اپروچ میں یا فقہ کے ساتھ دلچسپی میں۔ ویسے جو ان کے والد تھے یعنی میرے پردادا، تو لوگ فقہ میں تخصص کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ تو شاید یہ معاملہ جینیٹک بھی ہو۔

اس کے بعد اسلامی یونیورسٹی میں مجھے اللہ تعالیٰ نے جو موقع دیا، یہاں جو اساتذہ دیے، انھوں نے جس طرح رہنمائی دی، جس طرح پڑھایا، وہ خاصے کی چیز تھی۔ مثال کے طور پر جنایات میں ہمارے استاذ تھے، ڈاکٹر سعد الجبالی۔ مصر سے تھے۔ وہ جس موضوع پر لیکچر دیتے، اختتام پر کہتے : ’’أنا کاتب فی ھذا الموضوع‘‘ ، اس پر میں نے لکھا ہوا ہے۔ کیا لکھا ہوا ہے؟ کوئی مقالہ، کوئی کتابچہ، بعض اوقات کتاب۔ جنایات کے دو کورسز ہم نے ان سے پڑھے، یعنی یوں کہیں کہ ہم نے ایک سال ان سے استفادہ کیا۔ اختتام پر ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے جو اتنا کچھ لکھا ہے تو وہ تو کبھی ہمیں دکھائیں۔ کبھی کبھی وہ دے بھی دیتے تھے، فلاں صفحہ پڑھیں، فلاں جگہ یہ دیکھیں، وہ دیکھیں۔ لیکن ایک دن وہ سارا اکٹھا کر کے لائے تھے، اتنا بڑا بریف کیس تھا، انھوں نے کھولا، اس کے اندر مقالات ہی مقالات اور کتابیں ہی کتابیں، تو جنایات سے متعلق ہر موضوع پر ان کا کام تھا۔

پھر خصوصاً‌ چند اساتذہ تھے جن کا بہت ہی زیادہ مجھ پہ احسان ہے۔ ان میں میں سب سے پہلے ذکر کرنا چاہوں گا پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر صاحب کا کہ وہ ان دنوں بالکل نوجوان تھے اور بہت انرجیٹک۔ آج کل ان میں، ماشاء اللہ اتنی انرجی پائی جاتی ہے، تو ان دنوں تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کیا عالم رہا ہوگا۔ ان کا جورِسپروڈنس (اصولِ قانون) کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا، اور انٹرنیشنل لا (بین الاقوامی قانون) کے ساتھ، تو اس کا اثر ہم پر ہوا کہ ہماری دلچسپی بھی ان دو مضامین میں پیدا ہو گئی، ابتدا سے ہی۔ ان سے میں نے ایل ایل بی میں کوئی سات کورسز پڑھے، ایل ایل ایم میں بھی ان سے دو کورسز پڑھے، پھر پی ایچ ڈی میں وہ میرے مقالے کے نگران بھی رہے۔ تو ان کا بہت اثر ہے۔

اسی طرح جن کا میں خصوصاً‌ ذکر کرنا چاہوں گا تو وہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب تھے۔ بہت بڑے سکالر، بلکہ استاذ الاساتذہ۔ ان کے ساتھ جو چند سال میں نے گزارے، وہ میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ میرا ایک مقالہ مدوّن کر کے شائع کرنے میں انھوں نے دو سال لگائے۔ دارالاسلام اور دارالحرب پر میرا جو مقالہ انگریزی میں 2008ء میں شائع ہوا ہے، یہ میں نے 2006ء میں لکھا تھا ۔ پہلے، جیسے ان کا طریقہ تھا، نام وغیرہ ہٹا کر تبصرے کے لیے بھیج دیتے تھے، پاکستان کے اندر بھی، پاکستان سے باہر بھی۔ ان تبصروں کی روشنی میں آپ اپنے مقالے پر نظرِ ثانی کرتے، اس کے بعد ان کی میز تک چیز پہنچتی، اس کے بعد ان کا کام شروع ہو جاتا۔

تو وہ اس طرح کا سلسلہ تھا کہ مثال کے طور پر ایک مسودہ انھوں نے مدوّن کر کے مجھے فون کیا کہ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو کل آپ تشریف لا سکتے ہیں؟ اس طرح بات کرتے۔ جی ضرور، میں کل آ جاتا ہوں۔ میں گیا تو انھوں نے مجھے بٹھایا، ظہر کے بعد عصر تک تقریباً‌ دو ڈھائی گھنٹے اس مقالے پر انھوں نے میرے ساتھ بات کی، اور میں نے دیکھا کہ ہر ہر صفحہ انھوں نے ’’لہولہان‘‘ کیا ہوا تھا، یہاں وہاں، پتہ نہیں کیا کیا کچھ۔ بہت کچھ میں نے نوٹ کیا اور ان کا مدوّن کیا ہوا مسودہ بھی میں گھر لے آیا اور بیٹھ گیا۔ دو تین ہفتے میں میں نے ان کی تدوین اور گفتگو کی روشنی میں تفصیلی نظرِ ثانی کر کے ان کو بھیج دیا۔

میرا خیال تھا کہ اگلی دفعہ ان کی جانب سے مجھے شاباشی ملے گی۔ ان کا فون آیا اسی طرح ۔ میں گیا۔ انھوں نے شاباشی تو دی کہ آپ نے محنت کی ہے، لیکن یہ ذرا دیکھیے۔ اب جب انھوں نے دکھایا تو پھر اس کا ہر صفحہ اسی طرح لہولہان ہوا تھا۔ پھر دو ڈھائی گھنٹے کی بحث۔ ہوتے ہوتے اٹھارہ دفعہ وہ مقالہ انھوں نے مدوّن کیا (اٹھارہ دفعہ؟ رفیق) اٹھارہ دفعہ، اور کہا کہ اب بھی میرا جی اس سے نہیں بھرا لیکن مجھے رسالے کا پیٹ بھرنا ہے تو اس لیے اب یہ مقالہ ہم شائع کر دیتے ہیں۔ اس مقالے کو شائع ہونے میں دو سال لگے لیکن اس نے یوں کہیں میری سوچ، میرے زاویۂ نظر، تجزیے کا طریقہ، بات پیش کرنے کا سلیقہ، سب کچھ تبدیل کر دیا۔ اسی طرح انھوں نے بعد میں میرا ایک اور مقالہ بھی مدوّن کیا۔ وہ تصورِ دفاع پر ہے کہ بین الاقوامی قانون میں ریاست کے پاس دفاع کا جو حق ہے، اس کی کیا حدود ہیں، اور اسلامی قانون میں کیا ہیں۔ اس پہ بھی اسی طرح کا کام تھا۔ تو ان کا ظاہر ہے بہت بڑا کردار ہے۔

رفیق اعظم بادشاہ:

سر، یہ جو مقالات ہیں، ان کا اردو نسخہ بھی ہے تاکہ مدارس کے علماء و فضلاء بھی ان سے فائدہ اٹھائیں؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

ہاں، اس کا جواب میں دیتا ہوں، لیکن میں اپنے ایک اور استاذ کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا اور وہ ہیں ہمارے پروفیسر عمران احسن خان نیازی۔ وہ ایک اور ہی طرح کے آدمی ہیں اور جب ان کے ساتھ میرا تعلق بنا تو پھر تو دنیا ہی تبدیل ہو گئی؛ اور اصل میں جو فقہ کا اور اصول کا ذوق ہے تو وہ انھی کی وجہ سے ملا ہے۔ انھوں نے کس طرح میری تربیت کی اور کس طرح مجھے فقہ اور اصول کی دنیا میں داخل کرایا، اور پھر ایسے داخل کرایا کہ اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، کس طرح انھوں نے مجھے امام سرخسیؒ سے روشناس کرایا کہ وہ کس پائے کے فقیہ تھے، کس طرح انھوں نے مجھے اسلامی تراث اور فقہی تراث کی اہمیت سمجھائی، میرے ذہن میں بٹھائی، میرے دل میں راسخ کی، اور مجھے اپنے اس تہذیبی ورثے پر اعتماد بخشا، تو اس کو میں الفاظ میں نہیں بیان کر سکتا۔

تو یہ اصل میں یوں کہیں کہ ان اساتذہ کی برکت ہے جو کچھ بھی ہے۔ اور جو نہیں ہے تو ظاہر ہے وہ ہماری اپنی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے۔

مقالات کے متعلق آپ نے سوال کیا، تو جو دارالاسلام اور دارالحرب والا مقالہ ہے، یہ تو میں نے انگریزی میں لکھا تھا، لیکن بعد میں جو میری کتاب آئی ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کے عنوان سے، تو میں نے پھر اس میں اس کو اردو میں پیش کیا ہے۔ اس طرح جو تصورِ دفاع پر مقالہ تھا، وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ تو تمام تو نہیں لیکن بہت سارا کام ایسا ہے جس کو میں نے بعد میں اردو کا جامہ پہنایا، یا کچھ کام پہلے اردو میں لکھا تھا، بعد میں انگریزی میں لکھا۔

تاہم ظاہر ہے کہ جب آپ ایک کام کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد دوبارہ وہی کام کرتے ہیں تو اس میں بہت آپ کو تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پھر زبان کی وجہ سے بھی فرق پڑتا ہے، مخاطبین کی وجہ سے بھی فرق پڑتا ہے۔ یعنی اردو جو لوگ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں اور طرح کے سوالات ہیں، آپ ان کو ذہن میں رکھ کر لکھتے ہیں۔ انگریزی میں جو لکھتے ہیں تو ان کا اور طرح کا پس منظر ہوتا ہے، رجحان ہوتا ہے، اور طرح کے سوالات ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب مرحوم میرے چوتھے استاذ تھے جن کا میں لازماً‌ ذکر کرنا چاہتا تھا۔ فقہ کے ساتھ، اصول کے ساتھ، پھر بین الاقوامی قانون کے ساتھ ان کی بھی گہری وابستگی تھی، پھر ان کا جو شفقت بھرا انداز تھا۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عجیب ذہن دیا تھا کہ آپ ان سے کسی بھی وقت، کسی بھی موضوع پر، چاہے وہ فقہ کا ہو، سیرت کا ہو، حدیث کا ہو، تفسیر کا ہو، کوئی بھی سوال پوچھیں، وہ ایک لمحے کے لیے یوں سوچتے، بعض اوقات وہ یوں اپنی انگلیوں کو دیکھتے، اور ایک دو سیکنڈ بعد بولنا شروع کر دیتے۔ اچھا، وہ بولنا شروع کر دیتے تھے تو آپ کو حیرت ہوتی تھی کہ وہ کس ترتیب سے، کس طرح ایک ایک چیز بیان کر رہے ہیں۔ پہلے یہ، پھر اس کے بعد یہ ہوا، پھر اس میں دو چیزیں ہیں، ایک اس طرح، ایک اس طرح۔ سارا کچھ ان کے ذہن میں بالکل مرتّب موجود ہوتا (ایک کتاب کی طرح۔ رفیق) ایک کتاب کی طرح، آپ نے بس صرف بٹن کلک کیا، فولڈر کھلا اور فائل کھل گئی، اس میں دو تین سیکنڈ لگ گئے، اس کے بعد بس اب آپ کے سامنے کتاب کھلی پڑی ہے، پڑھتے جائیں، پڑھتے جائیں۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ان کا کتنا مرتب ذہن ہے۔ تو یہ ان کے کمالات تھے۔

انھوں نے ایک دفعہ مجھے یہ کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون پر دو کتابیں لکھنا چاہتے ہیں، ایک عربی میں، اور ایک انگریزی میں۔ انھوں نے کہا کہ عربی میں فقہ کا حصہ زیادہ ہوگا اور قانون کا حصہ کم ہوگا؛ اور انگریزی میں اس کے برعکس تناسب ہوگا کیونکہ پڑھنے والوں کو مدنظر رکھ کر لکھا جاتا ہے۔ تو اس طرح کے فروق میرے کام میں بھی میں نے مدنظر رکھنے کی کوشش کی کیونکہ مخاطب کی رعایت ضروری ہے۔ تو وہ فرق تو ہوگا، لیکن جو کام میں نے انگریزی میں کیا ہے وہ اردو میں بھی ہے، اور جو اردو میں کیا ہے اس کا بھی بیشتر حصہ انگریزی میں موجود ہے۔

رفیق اعظم بادشاہ:

ابھی آپ نے کہا کہ آپ ایل ایل ایم میں ہی تھے کہ آپ بطور جج تعینات ہو گئے تھے۔ تو اسی طرح آپ ابھی طالب علم تھے تو اس وقت بھی کیا آپ کو عدالتوں میں بطور معاون جانے کے مواقع ملے ؟ کیونکہ جب ہم آپ سے پڑھتے تھے تو آپ اکثر بہت اچھے واقعات سنایا کرتے تھے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

استاذ کے پاس بیان کرنے کے لیے واقعات ہی تو ہوتے ہیں۔ ہاں، یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم تھا کہ مجھے زمانہ طالب علمی میں ہی یہ مواقع بھی ملے۔ ان میں ایک بڑا موقع وہ تھا، ابھی میں نے ایل ایل بی نہیں کی تھی، میرا تیسرا سال تھا، یہ 1997ء کی بات ہے کہ ان دنوں اخبارات میں ایک اشتہار مجھے نظر آیا کہ عائلی قوانین کے خلاف درخواستوں کی سماعت وفاقی شرعی عدالت میں جاری ہے، تو عوام الناس میں بھی اگر کوئی عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کرنا چاہتا ہے تو وہ آ سکتا ہے۔

اسلامی یونیورسٹی میں ہمارے ایک بہت سینئر تھے، لیکن ہمارے ساتھ جن کا بہت ہی محبت کا تعلق تھا اور ہے، ڈاکٹر مطیع الرحمٰن صاحب، وہ وفاقی شرعی عدالت میں کام کرتے تھے۔ اکثر عصر کی نماز کے بعد مغرب تک ہم فیصل مسجد کے اردگرد یا ای سیون میں چہل قدمی کرتے تھے، تو کبھی وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے تھے۔ ان سے ذکر کیا تو انھوں نے مجھے لکھنے کی بہت ترغیب دی، اور یہ کریڈٹ میں ان کو دیتا ہوں کہ اگر وہ ترغیب نہ دیتے تو شاید مجھے لکھنے کا خیال ہی نہ آتا۔ انھوں نے کہا کہ آپ اس پر ضرور لکھیں۔

پھر میں نے والد صاحب کے ساتھ مشورہ کیا۔ میرے والد گرامی کا بہت ہی عجیب طرح کا مزاج تھا، انھوں نے جس طرح مختلف طریقوں سے میرا حوصلہ بڑھایا، میری رہنمائی کی، میرے لیے راستے بنائے اور پھر چلنے دیا، تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا ان کو اجر دے سکتا ہے (آمین۔ رفیق) انھوں نے کہا کہ آپ ضرور اس پر لکھیں۔ میں نے لکھنا شروع کیا اور ہوتے ہوتے کوئی پچاس ساٹھ صفحے بن گئے، تو وہ میں نے وفاقی شرعی عدالت میں جمع کرائے۔ پھر وہاں سے مجھے بلاوا آیا تو میں گیا۔ ظاہر ہے نوجوانی کا عالم تھا، 1997ء میں میری عمر ہو گی 21 سال، اور ججز تو جس طرح وہ ہوتے ہیں (ڈیکورم ہوتا ہے ان کا۔ رفیق)، اور مجھ سے پہلے چند ایک وکیلوں کا جو انھوں نے حشر کیا وہ بھی مجھے نظر آیا تھا۔ والد صاحب بھی حوصلہ افزائی کے لیے میرے ساتھ گئے تھے۔ وہ بھی پاس بیٹھے تھے۔ تو میں نے دلائل دینے شروع کیے، پھر ایک دو ٹھوکریں کھانے کے بعد الحمد للہ بات چل پڑی، اور پھر بہت ہی دلچسپ سوال و جواب اور دلائل و جوابی دلائل کا ایک سلسلہ چلا۔ مجھے اس میں بڑا مزہ بھی آیا۔ مجھے پتہ نہیں چلا لیکن مجھے بعد میں ڈاکٹر مطیع الرحمٰن صاحب نے کہا کہ آپ نے تو کوئی چالیس منٹ دلائل دیے ہیں (سبحان اللہ۔ رفیق) میں ان کے ساتھ آفس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت، کے آفس سے فون آیا کہ اس نوجوان کو میرے چیمبر میں لے آئیں۔ میں وہاں گیا، تو انھوں نے اٹھ کر میرا استقبال کیا، مجھے داد دی، مجھے ساتھ بٹھایا، پھر چائے پلائی، اور کہا کہ فلاں فلاں سوالات رہتے ہیں، ان پر آپ کام کر کے دوبارہ آئیے گا۔ تو بس پھر وہاں سے وہ سلسلہ چل پڑا۔ یہ چیف جسٹس میاں محبوب احمد تھے۔ انھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مزید کام بھی دیا۔ ڈاکٹر فدا محمد خان صاحب بھی بینچ میں تھے، وہ خود بہت اچھے عالمِ دین بھی تھے اور قانون کے بھی ماہر تھے۔ تیسرے جج تھے جسٹس اعجاز یوسف، تو وہاں سے یہ سلسلہ چل پڑا۔

https://youtu.be/PXcGGfZugQo

(جاری)

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر

طاہر چودھری

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔ وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

  1. مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔
  2. مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن (مادہ) تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔
  3. اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔
  4. میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالب علموں کیلئے

اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنیٰ کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

جسٹس صلاح الدین پنھور کا اختلافی نوٹ

شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔


اختلافی رائے والے پیرا گرافس کاپی کیے ہیں۔

facebook.com/share/p/1AHduDi7Nu

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت

مولانا حافظ اسعد عبید

جامعہ اشرفیہ لاہور کے علماء کا حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اور مولانا عبدالرحیم نقشبندی کی وفات پر اظہار تعزیت اور دعائے مغفرت:

جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرست و صدر حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم صاحب مدظلہ، مہتمم مولانا قاری ارشد عبید صاحب مدظلہ، مولانا محمد یوسف خان صاحب، حافظ اسعد عبید صاحب، حافظ اجود عبید صاحب، مولانا زبیر حسن صاحب اور مولانا مجیب الرحمٰن صاحب نے جامعہ معہد الفقیر کے بانی و مہتمم اور عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی تمام زندگی دینی مدارس و مساجد کے قیام، تعمیر و ترقی، اصلاحِ معاشرہ، تذکیہ نفس اور وعظ و نصیحت میں گذری، مرحوم ولئ کامل حضرت مولانا پیر غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلیفہ مجاز، جید عالم دین، معروف واعظ، زہد و تقویٰ اور علم و عمل کے پیکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات سے ملک ایک جید عالم دین اور نامور علمی و اصلاحی شخصیت سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرحوم کے لواحقین و ورثاء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

دریں اثناء جامعہ اشرفیہ لاہور کے علماء نے معروف عالم دین حضرت مولانا عبدالرحیم نقشبندی کی وفات پر بھی اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالرحیم نقشبندی کی بھی تمام زندگی دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت میں گزری۔ انہوں نے دعاء کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل اور سکون عطاء فرمائے۔ آمین

facebook.com/share/p/1BKvBRSA9D

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات

الخیر میڈیا سیل

مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا مشاورتی و علمی نمائندہ اجتماع منعقدہ یکم رجب 1447ھ مطابق 22 دسمبر 2025ء بروز پیر، کراچی کا اعلامیہ اور مطالبات ’’الخیر میڈیا سیل‘‘ اور ’’مدارس نیوز‘‘ کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔ (ادارہ الشریعہ)

اعلامیہ

تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور مختلف دینی جماعتوں اور تنظیموں کا یہ اجتماع مندرجہ ذیل امور پر مکمل اتفاقِ رائے رکھتا ہے:

(1) آئینِ پاکستان دفعہ 277 کی رو سے حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنائے اور کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بنائے۔ اس غرض کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی مکمل سفارشات تیار کی ہوئی ہیں۔ آئین کی رو سے ان کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے سلسلے میں قانون سازی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس ہے کہ سالہا سال گزرنے کے باوجود اب تک انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نفاذِ شریعت کو اولیت دے اور یہ سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

(2) ملک میں اسلامی قوانین کے جاری اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے مؤثر ترین ادارہ ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ اور سپریم کورٹ کی ’’شریعت اپیلٹ بینچ‘‘ ہے۔ آئین کی رو سے وفاقی شرعی عدالت میں تین علماء جج ہونے چاہئیں، لیکن عرصہ دراز سے یہ عدالت علماء ججوں سے خالی ہے، نیز شریعت اپیلٹ بینچ میں بھی علماء کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان عدالتوں کی طرف رجوع کی شرح بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے مطابق علماء ججوں کا تقرر یقینی بنایا جائے۔

(3) آئین کی چھبیسویں ترمیم کا یہ ایک مستحسن فیصلہ تھا کہ ملک سے ربا (سود) کے مکمل خاتمے کے لیے ایک معین مدت مقرر کر دی گئی تھی جو 31 دسمبر 2027ء کو ختم ہو رہی ہے، اور یکم جنوری 2028ء سے سودی نظام کو مکمل ختم کر کے اسلامی مالیاتی اور بینکاری نظام کو نافذ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے تمام بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مذکورہ مدت میں اپنے تمام مالی معاملات کو سود سے پاک کر لیں۔

لیکن اس دوران اس مبارک عمل کو سبوتاژ کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ قانون کی طرف سے ایک یادداشت تیار کی گئی ہے جس میں ان بینکوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جن میں غیر ملکی افراد کی حصہ داری (شیئر ہولڈنگ) ہے۔ اور باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بڑے بینکوں کی اکثریت کو استثناء دے بھی دیا گیا ہے۔ اس استثناء کی وجہ اس تحریر میں یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ بین الاقوامی معاہدات کا یہی تقاضا ہے۔

ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کو برتری حاصل ہے اور جو کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں کام کرتی ہے، اسے پاکستان کے قانون کے تابع رہ کر ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ بین الاقوامی معاہدات جب تک پارلیمنٹ کے ذریعے قانون نہ بن جائیں، انہیں دستور اور قانون پر بالاتری حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ عذر کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ جاری رکھنے کے مترادف ہے۔

ان حالات میں یہ اجتماع متفقہ طور پر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دستور میں سود ختم کرنے کی جو مدت مقرر کی گئی ہے اس پر لفظاً و معناً‌ مکمل طور سے عمل کیا جائے۔

(4) حال ہی میں دستورِ پاکستان میں ستائیسویں ترمیم انتہائی عجلت میں منظور کی گئی ہے۔ اس ترمیم میں متعدد امور عدلیہ کی آزادی پر قدغن کے حکم میں ہیں، لیکن ایک بات قرآن و سنت سے صراحتاً متصادم ہے اور وہ یہ کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے بعض اعلیٰ مناصب پر فائز افراد کو نہ صرف ان کی مدتِ کار میں بلکہ تاحیات ہر قسم کی فوجداری کارروائی سے استثناء دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کام چھوڑنے کے بعد بھی زندگی بھر وہ ہر قسم کے جرم کی باز پرس سے آزاد رہیں گے۔ یہ استثناء قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے جس نے یہ دو ٹوک ہدایت عطا فرمائی ہے کہ:

یا ایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء للہ ولو علیٰ انفسکم او الوالدین والاقربین (النساء: 135)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘

شعارِ نبوت تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر میں عین حالتِ جنگ میں خود اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے عہد میں اپنے آپ کو عدالت میں فریقِ ثانی کے ساتھ مساوی حیثیت میں پیش کر کے بلا امتیاز اور شفاف عدل کا نمونہ پیش کیا۔

ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ کے معرکہ میں کامیابی پر افواجِ پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن ان کے اعلیٰ مناصب کو استثناء دینا ان کے مناصبِ جلیلہ کے شایانِ شان نہیں ہے بلکہ کردار پر دھبہ لگانے کے مترادف ہے۔

بفضلہ تعالیٰ ہمارا آئین سن 1973ء سے تمام حلقوں کی طرف سے متفقہ چلا آ رہا تھا، ستائیسویں ترمیم کی بنا پر آئین کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے، لہٰذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو منسوخ کیا جائے، یا قومی مشاورت اور پارلیمنٹ کے اتفاق سے دستورِ پاکستان کی روح کے مطابق ڈھالا جائے، کیونکہ دستور کسی قوم و ملت کا اجماعی میثاق ہوتا ہے۔

(5) جون 2025ء میں اسلام آباد دارالحکومت کے علاقے کے لیے ایکٹ نمبر 11 نافذ کیا گیا ہے، اس میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کے نکاح کرنے، کرانے، اور نکاح پڑھانے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ قانون تمام صوبوں سے بھی منظور کرایا جا سکتا ہے، جبکہ سندھ کی حکومت پہلے ہی ایک ایسا قانون بنا چکی ہے۔

یہ اجلاس واضح الفاظ میں قرار دیتا ہے کہ یہ قانون قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں نکاح کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔ بالخصوص بلوغ کے بعد، جو ہمارے ملک میں عموماً بارہ سے پندرہ سال کی عمر تک ہو جاتا ہے، کسی شخص کے لیے نکاح پر پابندی عائد کرنا موجودہ ماحول میں ناجائز تعلقات اور زنا کاری پر آمادہ کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا اس اجلاس کا متفقہ مطالبہ ہے کہ اس وفاقی قانون اور سندھ کے پابندی کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔

(6) ٹرانس جینڈر ایکٹ سن 2018ء میں نافذ ہوا تھا جسے وفاقی شرعی عدالت نے قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا تھا، لیکن حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل دائر کر دی جو ابھی تک زیرِ التواء ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہے، اور قانون فی الحال جوں کا توں موجود ہے۔ البتہ شنید ہے کہ پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی اس میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔

یہ اجلاس واضح الفاظ میں یہ قرار دیتا ہے کہ تخلیقی طور پر جس شخص کی جنس مشتبہ ہو، اسے اسلامی اصطلاح میں ’’خنثٰی‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے لیے شریعت میں مفصل احکام موجود ہیں، جن میں یہ بھی داخل ہے کہ اسے معاشرے میں باعزت شہری کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کی بے عزتی سے پرہیز کیا جائے۔

لیکن ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کی اصطلاح جس معنی میں مغرب کی طرف سے گھڑی گئی ہے اس کا ’’خنثٰی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ اپنی حیاتیاتی یا تخلیقی بنیاد پر نہیں، بلکہ خود اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر کر سکتا ہے، یہ درحقیقت ہم جنس پرستی کو لائسنس دینے کے لیے ایک مخفی دروازہ ہے۔ مغرب نے انسان کی اصناف صرف مرد، عورت، اور خنثٰی کی حد تک محدود نہیں رکھیں، بلکہ انسان کی بہت سی اصناف بنا دی ہیں جنہیں LGBTQ کہا جاتا ہے اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، اسلامی معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

(7) یہ اجتماع اس بات پر یقین رکھتا ہے اور علماء کی طرف سے اس کا بار بار اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں حالات کی اصلاح اور شریعت کے نفاذ کے لیے صرف پُر امن آئینی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے اور اس غرض کے لیے مسلح جدوجہد نہ موجودہ حالات میں اسلام کا تقاضا ہے نہ مصلحتِ شریعت کا۔ اس وقت متعدد بیرونی طاقتیں ملک کو کمزور کرنے اور داخلی انتشار کے ذریعے اس کو تقسیم کرنے پر تلی ہوئی ہیں، ایسے حالات میں کوئی مسلح جدوجہد، چاہے وہ اسلام کے نام پر ہو یا قومیت کے نام پر، اس کا فائدہ صرف ملک دشمن عناصر ہی کو پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا ہم ایک بار پھر ملک میں مسلح کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، البتہ حکومت سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان شورشوں کو ختم کرنے کے لیے جائز مطالبات پر عمل بھی کرے اور اس مسئلہ کو حکمت اور تدبر کے ذریعے حل کرے۔

(8) یہ اجتماع اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے، یہ صورتحال دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے صرف اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم امارتِ اسلامیہ افغانستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو ان مفسد گروہوں اور طبقات کی آماجگاہ نہ بنائے جو وہاں دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

قوموں اور ملکوں کے مسائل باہمی مکالمے سے حل ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اس کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول دیرپا حل یہی ہے۔ لازم ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت مل بیٹھے اور مزید کسی نقصان کے بغیر سارے مسائل کا مثبت اور قابلِ عمل حل نکالا جائے تاکہ دونوں پڑوسی برادر ممالک کے تعلقات معمول پر آئیں اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کا سلسلہ جاری رہے، ان میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے۔ اور ماضی کی اچھی باتوں کو یاد رکھا جائے اور ناخوشگوار باتوں سے صرفِ نظر کیا جائے، یہی دونوں کے ملکی، ملی اور قومی مفاد میں ہے۔

(9) آج کا یہ تمام مکاتبِ فکر کا نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس و جامعات کے ساتھ کیے گئے میثاق اور اس کی بنیاد پر نافذ ہونے والے قانون پر لفظاً و معناً‌ عمل کیا جائے اور اس میں نِت نئی رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔ حکومتی اداروں کے اپنے بعض اعداد و شمار کے مطابق تقریباً تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر بیٹھے ہیں، ریاست و حکومت ان کی تعلیم کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں دینی مدارس و جامعات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ یہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ان اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ ادارے انہی علاقوں سے، جہاں آج شورش ہے، قوم کے بچوں کو لا کر پاکستان کے محبِ وطن شہری اور اچھے مسلمان بناتے ہیں، شرحِ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔

ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس و جامعات اپنے نظامِ تعلیم اور نصاب کے لیے پہلے کی طرح آزاد رہیں گے۔ دینی مدارس و جامعات نے کسی بھی حکومتِ وقت کے لیے نہ پہلے مسائل پیدا کیے ہیں اور نہ اب کریں گے۔ اور حکومت ان اداروں کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے اپنا حلیف سمجھے، کیونکہ تعلیم کا فروغ اور ملک و ملت کا مفاد ہم سب کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔

یہ اجتماع اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون بننے کے بعد بھی ان کی رجسٹریشن عملاً بند ہے اور انہیں ناشائستہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ وہ قومی خزانے پر ایک روپے کا بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف تعلیم دے رہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے خدمتِ خلق کا کام ان جگہوں پر بھی ہو رہا ہے جہاں حکومت کی بھی پہنچ نہیں ہے۔

ہم یہ بات دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کا بنیادی کام شریعتِ حق کی تعلیم ہے، جس کے ذریعے حکومت سمیت کسی بھی حلقے کی ترغیب و تحریص یا کسی قسم کے دباؤ کے بغیر مستند اور حق گو علماء پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ان کا اپنے نصاب و نظام میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہونا ضروری ہے۔ اور دینی مدارس کسی ایسے اقدام کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں گے جو ان کے اس بنیادی اہداف کے راستے میں رکاوٹ ہو، اور ان پر ایسے کسی نظام میں داخل ہونے پر مجبور کرنا سراسر زیادتی اور متفقہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ، وہ اس معاملے میں عرصے سے مزاحمت اور زبردستی پر آمادہ ہے، ملک پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، ایسے حالات میں اس تنازعے کو پالتے رہنے سے مسائل مزید الجھیں گے اور یہ ملک کے لیے سخت مضر ہوگا۔

مدارس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم نہیں دیتے۔ اول تو اس وقت بیشتر مدارس اپنے وسائل کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دے رہے ہیں اور ان کے طلبہ سرکاری بورڈوں کے امتحانات میں پوزیشن لے رہے ہیں، اور جہاں اس کی کمی ہے دینی مدارس اسے خود اپنی ضرورت سمجھ کر اس کے لیے کوشاں ہیں۔ دوسرے، یہ ادارے قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ کی تعلیم کے لیے مختص ہیں، ضروری عصری تعلیم کے بعد اگر ان کا سارا زور قرآن و حدیث اور فقہ پر ہو تو اسپیشلائزیشن کے اِس دور میں اس کی حکمت ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کسی لاء کالج سے یہ مطالبہ کرنا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کیوں پیدا نہیں کرتا، ایک لغو مطالبہ ہے۔ لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ عصری تعلیم کا شوشہ دراصل انہیں حکومت کے ماتحت کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے تاکہ علماء اور اہلِ مدارس کو دینی معاملات میں حق گوئی سے روکا جا سکے۔

یہ متفقہ اجتماع واضح کرنا چاہتا ہے کہ مدارس ایسی کسی کاوش کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔

(10) یہ اجتماع بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی دل و جان سے نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ اس بات کو ہر مسلمان کا فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہ کرے۔ اگرچہ ظاہری سطح پر جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن اسرائیل کی طرف سے بے گناہوں کو نشانہ بنانے اور ان کو امداد پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان ملکوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی افواج وہاں بھیج کر حماس کو غیر مسلح کریں، متعدد مسلمان حکومتیں اس سے انکار کر چکی ہیں اور اب پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ اجتماع پوری تاکید کے ساتھ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی افواج کو بھیجنے سے گریز کرے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہ آئے۔ الحمد للہ پاکستان کی افواج جذبۂ جہاد سے آراستہ ہیں اور انہیں آزادئ بیت المقدس یا آزادئ فلسطین کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنے کا تصور بھی قوم کے لیے ناممکن ہے۔ اس سازش سے ملک کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کا ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔

فہرست علمائے کرام و معزز شخصیات

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب

حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب

حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب

حضرت مولانا محمد یاسین ظفر صاحب

حضرت جناب شجاع الدین صاحب

حضرت علامہ سید ریاض حسین نجفی صاحب

حضرت مولانا سید حامد سعید کاظمی صاحب

حضرت مولانا عبد الغفور حیدری صاحب

حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب

حضرت مولانا راشد سومرو صاحب

حضرت ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب

حضرت مولانا عبد القیوم ہالیجوی صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب

حضرت علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب

حضرت امداد اللہ صاحب

حضرت مولانا عبد الحق ثانی صاحب

حضرت مولانا سعید یوسف صاحب

حضرت مولانا پیر نورالحق قادری صاحب

حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب

حضرت علامہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی محمد طیب صاحب

حضرت قاری محمد عثمان صاحب

حضرت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی صاحب

حضرت مولانا محمد سلفی صاحب

حضرت مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب

حضرت مولانا عبد الستار صاحب

حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب

حضرت مولانا احمد افنان صاحب

حضرت علامہ یاسر نواز صاحب

مولانا عبد الکریم عابد صاحب

علامہ سید فیاض حسین نقوی صاحب

حضرت مولانا سمیع الحق سواتی صاحب

حضرت مولانا قاضی احسان صاحب

حضرت مولانا عبد الوحید صاحب

حضرت مولانا مفتی اویس ارشاد صاحب

جناب بابر قمر عالم صاحب

حضرت مولانا قاری عبد الرشید صاحب

حضرت سید حماد اللہ شاہ صاحب

حضرت مولانا خلیل احمد اعظمی صاحب

حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب

حضرت مولانا محمد منظور مینگل صاحب

حضرت مفتی یوسف قصوری صاحب

حضرت مولانا انس عادل صاحب

حضرت مولانا محمد غیاث صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر خلیل احمد اعظمی صاحب

حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب

حضرت علامہ احمد ربانی صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود صاحب

حضرت علامہ اکرام سیالوی صاحب

حضرت علامہ شعیب معینی صاحب

حضرت علامہ ثاقب صدیق گلستان صاحب

حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب

حضرت نصیر الدین سواتی صاحب

حضرت مولانا قاضی احسان صاحب

حضرت مولانا عابد مبارک صاحب

حضرت مولانا مفتی جان نعیمی صاحب

facebook.com/share/1B5DnSpr3a

مطالبات

کراچی میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کرام کا اہم مشاورتی علمی اجتماع منعقد ہوا جس میں قوم و ملت کے اہم ترین مسائل پر مبنی درج ذیل 10 نکاتی ایجنڈا غور و فکر کے لیے پیش کیا گیا، جس کو تمام مسالک کے علماء کرام نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ مدارس نیوز ٹیم نے دس نکاتی اعلامیہ کو مختصر الفاظ میں مرتب کیا ہے۔

نفاذِ شریعت

آئین اور دستور کی رو سے مملکتِ خداداد پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کے فوری نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

سودی نظام کا خاتمہ

26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق طے شدہ مدت کے اندر ملک سے سودی نظام کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔

استثناء کا خاتمہ

27 ویں آئینی ترمیم کے تحت دیے گئے تاحیات استثنا کو ختم کیا جائے۔

نکاح پر پابندی

18 سال سے کم عمر کی شادی کے خلاف بنائے گئے خلافِ شریعت قانون کا خاتمہ کیا جائے۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ

موجودہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت جنس کی تبدیلی کے غیر شرعی اختیار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

مسلح گروہوں کی مخالف

ریاست کے اندر کسی بھی قسم کی نجی مسلح جدوجہد کی غیر مشروعیت کا اعادہ کرتے ہیں۔

پاک افغان تعلقات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خطرات کو مذاکرات اور باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

مسئلہ فلسطین

حماس کو غیر مؤثر کرنے، یعنی بالواسطہ اسرائیل کو تقویت پہنچانے کے لیے کسی بھی قسم کی فوج بھیجنے کی تجویز کی مکمل مخالفت کرتے ہیں۔

عدالتی و پارلیمانی اصلاحات

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے نیز وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں مستند علمائے کرام کا تقرر عمل میں لایا جائے۔

مدارس رجسٹریشن

26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر منظور شدہ قانون کے مطابق دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے اور انہیں وفاقی وزارت تعلیم کے تحت رجسٹریشن کے دباؤ میں نہ ڈالا جائے۔

facebook.com/share/p/14V8KZDX996


مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید

پروفیسر حافظ منیر احمد

پاکستان شریعت کونسل

پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے ’’مجلس اتحادِ امت پاکستان‘‘ کے حالیہ متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعلامیہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور، آئینی تقاضوں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کا حقیقی ترجمان ہے۔ قائدین نے کہا کہ اعلامیہ میں جن قومی، دینی اور نظریاتی امور کی نشاندہی کی گئی ہے وہ وقت کی اہم ضرورت ہیں اور پوری قوم کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد، اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مجلس اتحاد امت پاکستان نے آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات، شریعت کے نفاذ، خاندانی نظام کے تحفظ، دینی مدارس کی آزادی، قومی خود مختاری اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے جو واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے، پاکستان شریعت کونسل اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

قائدین نے کہا کہ مغربی فکری یلغار، غیر اسلامی سماجی ایجنڈوں، خاندانی نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں، اور دینی اقدار کے خلاف کسی بھی اقدام کو قوم کبھی قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اصطلاحات اور قوانین کو مسخ کر کے غیر اسلامی نظریات مسلط کرنا ناقابل قبول ہے اور مجلس اتحاد امت پاکستان کا اس حوالے سے موقف بروقت اور قابل تحسین ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دینی مدارس پاکستان کے نظریاتی قلعے ہیں جنہوں نے ہمیشہ قرآن و سنت، ملکی سلامتی، اور معاشرتی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مدارس کے نصاب، نظام اور آزادی میں کسی بھی غیر ضروری مداخلت کو پاکستان شریعت کونسل مسترد کرتی ہے، اور مجلس اتحاد امت پاکستان کے اس مطالبے کی مکمل تائید کرتی ہے کہ اصلاح کے نام پر دینی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔

اسی طرح انہوں نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی ختم کر کے دانشمندی اور حکمت کے ساتھ مسئلہ حل کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجلس اتحاد امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کو سنجیدگی سے لے، علماء و مشائخ کے مشترکہ موقف کا احترام کرے، اور آئینِ پاکستان کے اسلامی تقاضوں کے مطابق قانون سازی اور عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔

دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبد الحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصر الدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ، اور دیگر نے بھی مجلس اتحاد امت پاکستان کے اعلامیہ کو بروقت اور امت کے لیے رہنمائی قرار دیتے ہوئے تمام دینی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں۔


الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘

ادارہ الشریعہ

قرآن کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی رہنمائی کرنے والا آخری اور ابدی ضابطہ حیات ہے۔ دورِ حاضر کے پیچیدہ مسائل اور فکری یلغار کے تناظر میں علومِ قرآن کی تفہیم اور احکامِ الٰہیہ کی عصری تطبیق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہر سال کی طرح الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا یہ خصوصی کورس اس سال بھی دینی مدارس کے طلبہ اور علومِ قرآن کے شائقین کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ قرآن مجید کے علمی و تحقیقی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کریں۔ اس کورس کا بنیادی مقصد شرکاء میں قرآن فہمی کا وہ ملکہ پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ جدید دور کے چیلنجز کا علمی بنیادوں پر سامنا کر سکیں۔

نصابی مضامین

عقائد سے متعلقہ مباحث اور عصرِ حاضر

اس مضمون میں قرآنی عقائد کو جدید فلسفیانہ اعتراضات اور الحادی رجحانات کے تناظر میں پڑھایا جائے گا، تاکہ طلبہ اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکری رہنمائی بھی کر سکیں۔

احکام القرآن اور عصرِ حاضر

قرآن مجید کے قانونی اور سماجی احکامات کی دورِ حاضر کے مسائل پر تطبیق اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس موضوع کے مطالعہ سے شرکاء کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ قرآنی قوانین کس طرح آج کے دور میں بھی عدل و انصاف کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہیں۔

قرآن و سنت کا باہمی تعلق

قرآن اور سنت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اس پہلو کو اجاگر کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ان فتنوں کا سدِ باب کیا جا سکے جو سنتِ نبوی کو قرآن سے جدا کر کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

تقابلِ ادیان

دعوتِ دین کے کام کے لیے دیگر مذاہب کے بنیادی نظریات سے واقفیت ضروری ہے۔ اس مضمون کے ذریعے قرآنی نقطہ نظر سے دیگر الہامی و غیر الہامی مذاہب کا موازنہ پیش کیا جائے گا، جو مبلغین کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

تاریخ و جغرافیہ قرآنی

قرآن میں مذکور اقوام، انبیاء اور مقامات کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کو سمجھے بغیر بہت سے قرآنی اشارات کی تفہیم ادھوری رہتی ہے۔ یہ مضمون قرآن کے بیانیہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔

متنِ قرآن و رسمِ عثمانی

قرآن مجید کی حفاظت کا معجزہ اس کے رسمِ خط سے بھی وابستہ ہے۔ اس موضوع کے تحت متنِ قرآن کی تاریخ اور رسمِ عثمانی کی فنی و علمی حیثیت پر گفتگو کی جائے گی، جو علومِ قرآن کے ہر طالب علم کے لیے جاننا ناگزیر ہے۔

مشکلات القرآن

قرآن کریم کی وہ آیات جن کی تفہیم میں بظاہر تعارض یا ابہام محسوس ہوتا ہے، ان کی علمی و لغوی توجیہ اس مضمون کا خاصہ ہے۔ یہ مطالعہ طلبہ کے علمی ذوق کو جلا بخشنے اور تشکیک کے دروازے بند کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

علمی سرپرستی اور لائقِ صد احترام محاضرین

اس کورس کی سب سے بڑی انفرادیت حضرت مولانا ابوعمار زاہد الراشدی مدظلہ العالی کی سرپرستی ہے۔ مولانا کی علمی بصیرت اور دورِ حاضر کے مسائل پر گہری نظر محتاجِ تعارف نہیں۔ ان کی نگرانی اس کورس کو ایک خاص وقار اور اعتدال فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، لیکچرز دینے والے اساتذہ میں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، ڈاکٹر سمیع اللہ فراز، مفتی فضل الہادی، ڈاکٹر طیب عثمانی، ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر عبد الرشید جیسے جید علماء اور محققین شامل ہیں۔ ان ماہرینِ فن کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ شرکاء کو روایتی علم کے ساتھ ساتھ جدید تحقیقی اسلوب سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملے گا۔

حصولِ علم کا ایک سنہری موقع

اگر آپ قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کی گہرائیوں میں اترنا چاہتے ہیں اور اپنے اندر علمی و تحقیقی ذوق پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں، تو یہ کورس آپ ہی کے لیے ہے۔ یہ محض چند دن کی نشستیں نہیں بلکہ علم و عرفان کے بند دروازے کھولنے کی ایک کلید ہے۔ دینی مدارس کے وہ طلبہ جو اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں یا آخری سالوں میں ہیں، انہیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ میدانِ عمل میں اترنے سے پہلے قرآنی علوم کے جدید تقاضوں سے لیس ہو سکیں۔

کورس کا شیڈول اور انتظامی معلومات

یہ تعلیمی دورہ ۲۵ جنوری تا ۱۵ فروری ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا۔ پروگرام کا انعقاد الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ کے پرسکون اور علمی ماحول میں ہوگا۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے قیام و طعام کا مناسب انتظام کیا گیا ہے، البتہ شرکاء کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ موسم کی شدت کے پیشِ نظر اپنا بستر ہمراہ لائیں۔

رابطہ اور رجسٹریشن

کورس میں داخلے یا مزید معلومات کے لیے درج ذیل ذمہ داران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:

مفتی محمد عثمان جتوئی: 03015797737 

مولانا محفوظ الرحمٰن: 923246438464 

مولانا محمد عامر حبیب: 923007423383 

مولانا اسامہ قاسم:  03048832430