’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
حضور ﷺ کی گھریلو زندگی
خطبہ نمبر 7: مؤرخہ 25 دسمبر 2016ء
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین وعلیٰ اٰلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین اما بعد۔
حضرات علمائے کرام محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
آج حضرت خاتم النبیین ﷺ کے گھر کے اندر کے ماحول کے حوالے سے کچھ باتیں نسبت و محبت کے لیے، عقیدت کے لیے، رہنمائی کے لیے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے عرض کروں گا۔ دعا کریں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور دینِ حق کی بات جو علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے بھی نوازے۔
خاتم النبیین ﷺ کی گھریلو زندگی کا آغاز
خاتم النبیین ﷺ کے اپنے گھر کا آغاز یوں ہوا تھا کہ جب حضور ﷺ کا نکاح ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو وہاں سے حضور ﷺ کی گھریلو زندگی کی ابتدا ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے اور کوئی نکاح نہیں فرمایا۔ پچیس سال کی عمر میں نبی کریم ﷺ کا نکاح ہوا تھا اور پچیس سال ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گزارے ہیں، سن گیارہ نبویؐ میں ان کا انتقال ہوا۔ تو پھر اگلے مراحل پیش آئے۔ یہ پہلی زوجہ مکرمہ تھیں اور نبی ﷺ کے بچوں کی ماں بھی تھیں۔
[قال: اول امراۃ تزوجہا رسول اللہ ﷺ خدیجۃ، سنن الکبریٰ للبیہقی، باب تسمیۃ ازواج النبی، حدیث نمبر: 13423]
جناب خاتم النبیین ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سوائے حضرت ابراہیم کے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ چار بیٹیاں، تین بیٹے یا چار باختلافِ روایات۔ حضرت قاسم کے بارے میں آتا ہے کہ بلوغت کے قریب تھے، تیرہ چودہ سال عمر تھی، گھوڑے پر سواری بھی کر لیتے تھے، پھر ان کا انتقال ہوا۔ اسی نسبت سے جناب خاتم النبیین ﷺ کو ابوالقاسم کہا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ کا بھی نام آتا ہے، ایک بچے کا نام طاہر اور طیب بھی آتا ہے، لیکن ان میں سے جوان کوئی نہیں ہوا۔ بیٹیاں بڑی ہوئی ہیں اور ان کی شادیاں بھی ہوئی ہیں، ان کی اولاد بھی ہوئی۔ خاتم النبیین ﷺ نے بیٹیوں کو پالا بھی ہے، بیٹیوں کو عزت بھی دی ہے، بیٹیوں کی اولاد کو بھی پالا ہے۔ پوتا تو حضور ﷺ کے ہاں نہیں تھا لیکن ظاہراً ایک تھا جس کو پوتے کی طرح پالا تھا، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، ان کی حضور ﷺ کے گھر میں ہی پرورش ہوئی، آپؐ کے ہاتھوں میں جوان ہوئے ہیں۔
میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بات کر رہا تھا۔ میاں بیوی کی وہ محبت اور میاں بیوی کا وہ تعلق پوری دنیا کے لیے مثالی ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ کی بڑی مالدار خاتون تھیں۔ انہوں نے سارے کا سارا مال جناب خاتم النبیین ﷺ پر خرچ کر دیا۔ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ دو آدمیوں کے احسان میں نہیں بھلا سکتا کہ انہوں نے سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا۔ مردوں میں حضرت ابوبکرؓ اور عورتوں میں حضرت خدیجہؓ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی تالناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)۔ یہ وہی خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ پر جب غارِ حرا میں وحی آئی، وہ واقعہ جو زندگی میں انوکھا واقعہ تھا، حضورؐ پر گھبراہٹ طاری تھی، حضورؐ فرماتے ہیں:
لقد خشیت علیٰ نفسی۔
(مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا۔)
[فقال لخدیجۃ واخبرھا الخبر: لقد خشیت علیٰ نفسی، فقالت خدیجۃ: کلا واللہ ما یخزیک اللہ ابدا، انک لتصل الرحم، وتحمل الکل، وتکسب المعدوم، وتقری الضیف، وتعین علیٰ نوائب الحق، صحیح بخاری، کیف کان بدء الوحی، حدیث نمبر: 3]
حضور ﷺ کو سنبھالنے والی کون تھیں؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ بیوی کا یہی کام ہوتا ہے کہ خاوند کی پریشانی میں اضافہ کرنے کی بجائے مصیبت میں اس کے کام آئے۔ مصیبت میں اور پریشانی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سنبھالا اور یہ حضور ﷺ کو ہمیشہ یاد بھی رہیں۔ حضرت خدیجہؓ مکہ میں سنہ 11 نبویؐ میں فوت ہو گئی تھیں۔ مدینہ جا کر حضور ﷺ نے اور نکاح کیے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی بیویوں میں حضورؐ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، ذہین و فطین بھی تھیں، اللہ پاک نے بہت سے کمالات سے نوازا تھا۔ تو وہ کہتی ہیں کہ مجھے کسی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی اس وقت آتی تھی جب حضور ﷺ بار بار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے۔ خدیجہؓ ایسی تھیں، خدیجہؓ ایسی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، ایک دن میں نے کہا، یارسول اللہؐ! وہ بزرگ خاتون آپ کو بھولتی نہیں ہیں۔ ہر بات میں ان کا ذکر فرماتے ہیں، آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے اچھی بیویاں دی ہیں۔ اور اچھی بھی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی کوئی سہیلی آتی، آپ ﷺ کہتے کہ خدیجہؓ کی سہیلی آئی ہے اس کو کھلاؤ پلاؤ۔ تو جناب خاتم النبیین ﷺ نے ایک جملے میں بات فرمائی کہ: عائشہ! خدیجہ بھولنے والی چیز نہیں ہے، وہ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھیں اور تم میرے سکھ کے وقت کے ساتھی ہو اور تکلیفوں اور دکھوں کا دور کبھی نہیں بھولتا۔
[عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: ما غر تعلی احد من نساء النبی ﷺ، ما غرت علی خدیجۃ، وما رایتہا، ولکن کان النبی ﷺ یکثر ذکرھا، وربما ذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضاء، ثم یبعثہا فی صدائق خدیجۃ، فربما قلت لہ: کانہ لم یکن فی الدنیا امراۃ الا خدیجۃ، فیقول انہا کانت، وکانت، وکان لی منہا ولد، صحیح بخاری، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ، حدیث نمبر: 3818]
تو جناب خاتم النبیین ﷺ کے گھر کا آغاز ہوا تھا ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے۔ حضورؐ کے حرم میں بہت سی خواتین آئیں۔ حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت زینب ام المساکین، حضرت حفصہ، حضرت عائشہ، حضرت ماریہ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن۔
حضور ﷺ کا گھر والوں اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
خیرکم خیرکم لاھلہ، وانا خیرکم لاھلی۔ (سنن ترمذی، باب فی فضل ازواج النبی، حدیث نمبر: 3895)
(تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔)
جناب خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے۔ گھر میں اُس کا سلوک کیا ہے، گھر والوں کے ساتھ معاملہ کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے گھر کے معاملات میں کبھی سختی نہیں کی۔ دین کے معاملات میں اگر اونچ نیچ ہو جاتی تو آپؐ کے لہجے میں سختی آجاتی۔ ورنہ کبھی گھر میں کوئی نقصان ہو گیا، کوئی برتن ٹوٹ گیا، یا صحیح وقت پر کام نہیں ہوا (ہمارے ہاں لڑائی کی اکثر یہی صورتیں ہوتی ہیں)، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے کسی بات پر ڈانٹا ہو، کبھی کسی بات پر ٹوکا ہو۔ (صحیح بخاری، باب: کم التعزیر، حدیث نمبر: 6853)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دس سال حضور ﷺ کے ساتھ بطور خادم کے گزارے ہیں۔ یہ بھی حضور ﷺ کے گھر کے فرد ہی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میری والدہ بہت سمجھ دار تھیں۔ جب حضور ﷺ ہجرت کر کے تشریف لائے، اس وقت میرے والد گھر سے ناراض ہو کر کہیں چلے گئے۔ میری والدہ اور میں، ہم دونوں تھے۔ والدہ کا نام ام سُلیم رضی اللہ عنہا تھا۔ یہ خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں، یارسول اللہ! میں بے سہارا عورت ہوں، میرا خاوند کہیں چلا گیا ہے، معلوم نہیں کہاں گیا ہے، اور یہ ایک بیٹا میرے پاس ہے، میں یہی آپ کے لیے وقف کرتی ہوں۔ آج کے بعد یہ میرا نہیں آپ کا خادم ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ میری ماں بڑی سمجھ دار تھیں کہ مجھے حضور ﷺ کے حوالے کر گئیں۔ میں دس سال کی عمر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور دس سال حضور ﷺ کی خدمت میں گزارے، اور اکیس سال میری عمر تھی جب حضور ﷺ کا وصال ہوا۔ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی تالناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)
ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ عام طور پر لوگوں کے گھروں میں نہیں جایا کرتے تھے، بس اپنے گھر، مسجد، اور ضرورت کی جگہ، لیکن ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ام سُلیم اور ام حرام رضی اللہ عنہما دونوں بہنیں تھیں، اور بعض روایات کے مطابق یہ دونوں دودھ کے رشتے میں حضور ﷺ کی خالہ بھی لگتی تھیں۔ ہم سے جو حضور ﷺ کی خدمت ہو سکتی، کرتے تھے۔ ایک دن آپؐ چاشت کے وقت تشریف لائے تو میری والدہ نے درخت کے نیچے چارپائی بچھا کر دی۔ آپؐ تھوڑا آرام فرما کر اٹھے، میری والدہ نے کھجوریں اور دودھ وغیرہ پیش کیا، آپؐ نے قبول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا، دو رکعت چاشت کی نماز پڑھی، جب نماز پڑھ کر دعا مانگ رہے تھے، یہاں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں کتنی سمجھدار تھیں، میرا ہاتھ پکڑا اور حضور ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ کہا ’’خویدمک یا رسول اللہ ﷺ‘‘ یہ آپؐ کا ننھا خادم ہے، اس کے لیے دعا فرما دیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا دعا مانگوں تمھارے لیے؟ میں نے کہا، یا رسول اللہ! لمبی عمر چاہیے، زیادہ پیسے چاہئیں، بہت سی اولاد چاہیے۔
[قالت امی: یا رسول اللہ خویدمک، ادع اللہ لہ، قال فدعا لی بکل خیر، صحیح مسلم، باب من فضائل انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 142]
اس دعائے نبویؐ کا فیضان تھا کہ خود سو سال سے زائد عمر پائی ہے اور آخر تک بالکل سیدھے اور تندرست تھے۔ فرماتے ہیں کہ خود اپنے ہاتھ سے جو بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں دفن کر چکا ہوں وہ سب نوے (۹۰) کے لگ بھگ ہیں۔ اور بعض روایات کے مطابق ان کی وفات کے وقت دو سو کے لگ بھگ موجود تھے۔ مجھ سے کوئی دوست مسئلہ پوچھتا ہے کہ ختمِ قرآن پر جلسہ کرنا کیسا ہے؟ میں کہا کرتا ہوں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ اپنے معمول کے ختمِ قرآن پر خاندان والوں کی دعوت کیا کرتے تھے اور حضرت انس ؓ کے خاندان والوں کی دعوت ہمارے کسی بھی چھوٹے جلسے سے بڑی ہوتی تھی۔
اپنے مال کے بارے میں کہتے ہیں کہ اندازے سے بھی نہیں بتا سکتا کہ میرے پاس کتنا مال ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ دس سال میں نے حضور ﷺ کے ساتھ ذاتی خادم کے طور پر گزارے ہیں۔ کبھی کسی بچے اور عورت پر حضور ﷺ نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہ حضور ﷺ کے گھر کی زندگی ہے۔
ایک دلچسپ قصہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے حضور ﷺ نے کسی کام بھیجا۔ میں باہر گیا، وہاں بچے کھیل رہے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا اور بھول ہی گیا کہ حضورؐ نے مجھے کسی کام بھیجا ہے۔ کافی دیر گزر گئی، میں واپس نہیں گیا، تو حضور ﷺ خود باہر تشریف لائے۔ آپؐ کو دیکھتے ہی مجھے یاد آ گیا۔ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، سر پر ہاتھ پھیرا اور تھوڑا سا کان پکڑا اور فرمایا: انس! تجھے کام بھیجا تھا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! جاتا ہوں ابھی جاتا ہوں۔ پورے دس سال میں صرف یہی ایک واقعہ ہوا۔ (صحیح مسلم، باب کان رسول اللہ تاحسن الناس خلقا، حدیث نمبر: 54)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی نہیں ڈانٹا، صرف دینی معاملات میں تھوڑی بہت روک ٹوک وغیرہ کرتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت ہے۔ رمضان کی راتیں تھیں، حضور ﷺ اٹھے اور فرمایا: یہ حجرے والیاں سوئی پڑی ہیں، ان کو اٹھاؤ کہ اٹھ کر نماز پڑھیں (صحیح بخاری، باب تحریض النبی تعلی صلاۃ اللیل، حدیث نمبر: 1126)۔ دینی معاملات میں ایسا ہوتا تھا لیکن دنیاوی معاملات میں کبھی نقصان ہو گیا، کبھی یہ نہیں ہوا، کبھی وہ نہیں ہوا۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی سختی نہیں فرمائی۔ یہ حضور ﷺ کے گھر کا ماحول تھا۔
گھر والوں کو محبت و احترام دینا
حضور ﷺ بیوی کو بیوی سمجھتے تھے، محبت بھی کرتے اور احترام بھی دیتے تھے۔ میں نے ایک واقعہ پہلے عرض کیا تھا، اب دوبارہ عرض کرتا ہوں۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن حقیقت میں بڑی باتیں ہیں۔ ہماری گھریلو زندگی میں جو مسائل کھڑے ہوتے ہیں تو ان معاملات میں اگر یہ دیکھ لیں کہ حضور ﷺ کیا کرتے تھے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اس حوالے سے معروف ہے۔
[عروۃ بن الزبیر، ان عائشۃ، زوج النبی اخبرتہ: ان النکاح فی الجاہلیۃ کان علی اربعۃ انحاء…الخ، صحیح بخاری، باب من قال لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر 5127]
یہ معاشرتی معاملہ ہے، اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، تو میں کہا کرتا ہوں کہ صرف بیوی کی نہیں بلکہ اس کے خاندان کی عزت بھی حضور ﷺ کی سنت ہے۔ حضور ﷺ نے ان کے خاندان کی عزت اور وقار کا خیال کیا کہ کہیں آپ کے خاندان کی آپ کی وجہ سے بے توقیری نہ ہو جائے، ان کے وقار پر فرق نہ پڑ جائے۔
خاتم النبیین ﷺ کی بیک وقت نو بیویاں تھیں (یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت ہے، ویسے چار سے زائد سے بیک وقت نکاح کرنا جائز نہیں)۔ آپس میں بیویوں میں کچھ نہ کچھ بات ہو جاتی ہے۔ بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔ حضور ﷺ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تھے تو کسی نے پیالے میں کوئی کھانے کی چیز بھیجی۔ تو ان کو تھوڑا غصہ آ گیا کہ میری باری کے دن میں اور میرے گھر میں اس نے کیوں بھیجا ہے۔ غصے میں پیالے کو ہاتھ مارا تو پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ حضور ﷺ نے خادم کو روک لیا کہ کہیں واپس جا کر خبر نہ دے دے وگرنہ مسئلہ گڑبڑ ہو جائے گا۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نیا پیالہ لیا اور سارا کھانا سمیٹا اور نیا پیالہ خادم کو دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ حضرت عائشہؓ کے سپرد کیا۔ (صحیح بخاری، باب اذا کسر قصعۃ او شیئا لغیرہ، حدیث نمبر: 2481)
گھر والوں کے ساتھ دل لگی اور بے تکلفی
یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن حضور ﷺ ان کا بھی خیال فرمایا کرتے تھے۔ آپس میں دل لگی بھی فرمایا کرتے تھے۔ وفات سے چند دن پہلے کی بات ہے، حضور ﷺ بیمار تھے، نیم بے ہوشی کی کیفیت تھی۔ آپ ﷺ سن بھی رہے تھے، دیکھ بھی رہے تھے، لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ نیم بے ہوشی کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ گھر والوں نے مشورہ کیا کہ دوا پلانی ہے۔ حضور ﷺ نے اشارہ کیا کہ نہیں پلانی، میں نہیں پیوں گا۔ گھر والوں نے کہا کہ مریض تو کہتا ہی ہے کہ نہیں پیوں گا۔ آپ ﷺ کو گھر والوں نے پکڑا اور دوا پلا دی۔ آپؐ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی پاس تھے۔
جب حضور ﷺ کو افاقہ ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ نہیں پلانی دوا، کیوں پلائی ہے؟ سب نے جواب دیا، یارسول اللہ! مریض تو منع کرتا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا، نہیں، اب سارے باری باری ایک دوسرے کو جکڑو اور جس طرح مجھے پلائی اسی طرح ایک دوسرے کو یہی دوائی پلاؤ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپؐ نے فرمایا، ان کو مت پلاؤ، یہ پلانے والوں میں نہیں تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، میرا روزہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی روزہ نہیں ہے، ان کو بھی جکڑو اور دوا پلاؤ۔ تو یہ بے تکلفی کا ماحول گھر میں ہوا کرتا تھا۔ حضور ﷺ خود بھی بے تکلفی فرماتے اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی بھی آپس میں بے تکلفی ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، حدیث نمبر : 4458)
حضور ﷺ کبھی کبھار کسی بات پر ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قد کی ذرا چھوٹی تھیں۔ یہ یہودی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خیبر کے سردار حی ابن اخطب کی بیٹی تھیں، جنگ میں قید ہو کر آئی تھیں۔ حضور ﷺ نے آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا تھا۔ بہت ہی اچھی اور معزز خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ وہ (پست قد)۔ آپ ﷺ نے ڈانٹ دیا، فرمایا کہ عائشہ! کیا کر رہی ہو، اس طرح مذاق نہیں اڑایا کرتے، یہ تم نے کیا کہا۔ (صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، حدیث نمبر : 4458)
یہ بے تکلفی کی باتیں ہیں۔ خاتم النبیین ﷺ کا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ پیار کا، احترام کا اور بے تکلفی کا رشتہ تھا۔ بے شمار واقعات ہیں، میں نے دو تین عرض کیے ہیں۔
رضاعی بہن کے ساتھ نبی ﷺ کا حسنِ سلوک
جو حضرت شیما رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے بیان ہو چکا ہے، اس حوالے سے دیکھیں۔ (اسی کتاب کی نشست نمبر 6)
بیٹیوں کے ساتھ حسنِ معاشرت
بیٹا تو آپ ﷺ کا جوان نہیں ہوا، البتہ بیٹیاں تھیں۔ حضور ﷺ نے بیٹیاں کیسے پا لیں؟ میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت ہے، جس معاشرے میں بیٹیوں کو عار سمجھا جاتا تھا، حضور ﷺ نے اس معاشرے میں چار بیٹیاں پال کر، بیاہ کر دکھائیں کہ بیٹی کسے کہتے ہیں اور اسے رخصت کیسے کیا جاتا ہے۔ اس وقت معاشرے کی عمومی کیفیت یہ تھی:
واذا بشر احدھم بالانثیٰ ظل وجہہ مسودا وھو کظیم یتواریٰ من القوم من سوء ما بشر بہ ایمسکہ علیٰ ھون ام یدسہ فی التراب۔ (سورۃ النحل: 16، آیت: 58)
(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے یا اسے زمین میں گاڑ دے۔)
جب کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ شرم کے مارے سیاہ ہو جاتا تھا۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے بیٹی کا باپ نہ کہہ دے۔ اور اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو برداشت کروں یا نام نہاد عزت کی خاطر اس کو دفن کر دوں۔ اللہ اکبر کبیرا! جس معاشرے میں یہ کیفیت تھی اس معاشرے میں حضور ﷺ نے چار بیٹیاں پالیں، پرورش کی، عزت دی، احترام دیا، ان کی شادیاں کیں، اور ان کی اولاد کو سینے سے لگایا۔ حضور ﷺ نے بتایا کہ بیٹی کیا ہوتی ہے اور بیٹی کی اولاد کیا ہوتی ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی بڑی بیٹی تھیں، ان کا نکاح حضرت ابوالعاصؓ سے ہوا تھا۔ حضرت زینبؓ سے ان کا نکاح خالہ زاد رشتہ کے ساتھ ہوا تھا۔ بدر میں قیدی بن کر آئے تو حضور ﷺ نے اعلان فرمایا، فدیہ لے کر چھوڑ دو۔ حضرت ابو العاصؓ کے پاس کچھ نہیں تھا، حضرت زینبؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنا ہار بھیجا کہ ہار دے کر اپنی جان چھڑوائیں۔ حضرت ابو العاصؓ نے بطور فدیہ کے وہ ہار پیش کیا، جب حضور ﷺ نے دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ یہ وہی ہار تھا جو نکاح کے موقع پر حضرت خدیجہؓ نے اپنی بیٹی زینبؓ کو دیا تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے اجازت لی اور ہار حضرت ابو العاصؓ کو واپس کر دیا۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ
ایک دن حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ حضور ﷺ نے پوچھا، میرا چچا زاد کہاں ہے؟ (یہ ایک محبت آمیز جملہ تھا، مراد تھی کہ تمھارا خاوند کہاں ہے؟) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا، یا رسول اللہ! کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، وہ ناراض ہو کر باہر چلے گئے۔ (آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے، یہ فطری بات ہے)۔ یا رسول اللہ! مسجد میں سوئے ہوں گے۔ حضور ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ حضرت علیؓ مسجد میں سوئے ہوئے تھے ننگی زمین پر، کمر پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ محبت سے بیٹھے اور بڑے پیار سے کمر پر سے مٹی جھاڑنے لگے، فرمانے لگے:
قم ابا تراب، قم ابا تراب (صحیح بخاری، باب نوم الرجال فی المسجد، حدیث نمبر: 441)
(اے مٹی والے اٹھ جا، اے مٹی والے اٹھ جا۔)
آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو محبت سے راضی کیا اور راضی کر کے واپس گھر بھیجا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ یہ ابوتراب والی کنیت اچھی لگتی تھی کیونکہ یہ الفاظ جناب خاتم النبیین ﷺ نے بطور محبت کے کہے تھے۔ یہ لقب حضور ﷺ نے انہیں دیا تھا۔
ایک اور واقعہ عرض کرتا ہوں۔ کسی نے آکر خبر دی کہ یہ بات مشہور ہو گئی حضرت علیؓ کے بارے کہ وہ ابوجہل کی بیٹی سے (جو مسلمان ہو گئی تھی) نکاح کرنا چاہتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی تو پریشان ہو گئیں کیونکہ انہوں نے اذیتوں کا وہ مکی دور دیکھا تھا، بارہ تیرہ سال کا اذیتوں کا دور۔ حضرت فاطمہؓ پریشان تھیں۔ فطری بات ہے کہ عورت پریشان ہوتی ہے۔ پھر ابوجہل کی بیٹی سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ سوچنے لگیں کہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہوگا۔ حضرت فاطمہؓ حضورؐ کی خدمت میں پہنچیں اور جا کر عرض کیا، یارسول اللہ، آپؐ کے عم زاد (حضرت علیؓ) ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ کہا کہ آپؐ بیٹیوں کا لحاظ بھی کرتے ہیں یا نہیں! حضور ﷺ نے مجمع میں جا کر اعلان فرمایا کہ نبی کی بیٹی اور ابوجہل کی بیٹی ایک گھر میں نہیں رہیں گی (صحیح بخاری، باب ذکر، احتبار النبی، حدیث نمبر: 3739)۔ یہ معاشرتی اسباب کے طور پر آپؐ نے فرمایا کہ ایک دشمنِ دین کے گھر کی تربیت اور نبی کے گھر کی تربیت والی بچی ایک گھر میں گزارا نہیں کر سکے گی۔ حضور ﷺ کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ اس قدر پیار اور محبت والا رشتہ تھا۔
آخری بات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ کے وصال سے چند دن پہلے کی بات ہے۔ حضور ﷺ علیل ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خیریت دریافت کرنے کے لیے تشریف لائیں۔ (باقی تینوں بیٹیاں فوت ہو چکی تھیں)۔ حضور ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ساتھ بٹھا لیا، جیسے باپ بیٹیوں کو بٹھاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فاطمہؓ کے کان میں کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد حضور ﷺ نے پھر کان میں کوئی بات کہی تو اس پر خوش ہو گئیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے الگ بلا کر پوچھا کہ بیٹی تمھارے کان میں حضور ﷺ نے کیا کہا تھا؟ حضرت فاطمہؓ نے جواب دیا، امی جان کان میں بات کہی تھی اور یہ راز ہے، میں نہیں بتا سکتی۔ حضور ﷺ کی وفات کے چند دنوں کے بعد پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا، میں تمہیں ماں ہونے کا واسطہ دیتی ہوں، بتاؤ کہ حضور ﷺ نے کان میں کیا فرمایا تھا؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اب بتا دیتی ہوں کیونکہ اب راز نہیں رہا۔ پہلی مرتبہ جب حضور ﷺ نے میرے کان میں بات کہی تو فرمایا کہ بیٹی میں اسی بیماری میں اس دنیا سے جا رہا ہوں، تو میں رونے لگی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا، میرے جانے کے بعد تو سب سے پہلے مجھے آ کر ملے گی، تو میں اس پر خوش ہو گئی۔ (صحیح بخاری، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، حدیث نمبر: 3623)
جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس محبت کے ساتھ اس پیار کے ساتھ اپنے خاندان کو چلایا۔ اور جب حضور ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو آپؐ کے خاندان اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بہت عزتیں عطا فرمائیں۔
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرنا
آخری بات حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سن لیں۔ یہ حضور ﷺ کے گھر میں پلے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے ایک لشکر کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ آخری لشکر جو حضور ﷺ روانہ نہیں کر سکے تھے۔ لوگوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ لڑکا ہے، غلام زادہ ہے، ان کو امیر مقرر کر دیا! حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں، اور ایک غلام کے لڑکے کو حضور ﷺ نے امیر بنا دیا ہے۔ اس فیصلے پر لوگوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ حضور ﷺ نے مسجد نبویؐ میں خطبہ ارشاد فرمایا: تم اسامہ پر اعتراض کر رہے ہو؟ حضور ﷺ نے ڈانٹا۔ جب میں نے اس کے والد زیدؓ کو امیر بنایا تھا (موتہ کی جنگ میں) تب بھی تم نے باتیں کی تھیں۔ خدا کی قسم! یہ امارت کا اہل ہے، اس کا باپ بھی امارت کا اہل تھا۔ (صحیح بخاری، باب مناقب زید بن حارثۃ، حدیث نمبر: 3730) ایک خادم کے بیٹے کو حضور ﷺ نے یہ عزت عطا فرمائی۔
یہ حضور ﷺ کا طرز عمل تھا۔ اپنے خاندان کے بارے میں، خواتین کے بارے میں، بچوں کے بارے میں، اور اپنے گھریلو ماحول کے بارے میں۔ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ سنتے رہتے ہیں، تو اس لیے میں نے اس کا تفصیلاً ذکر نہیں کیا، وہ تو ہر مسلمان جانتا ہے، باقیوں کا میں نے ذکر کیا ہے۔ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے تھی۔ یہ حضور ﷺ کی گھریلو زندگی تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
اختلافی مسائل اور اشکالات
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
دوسرا محور
سلف کی تفسیر سے متعلق اختلافی مسائل اور اشکالات
اس محور میں تفسیرِ سلف پر وارد ہونے والے اعتراضات، متنازعہ مسائل اور ان کا علمی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ اس میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:
- تفسیرِ سلف میں اسرائیلی روایات کی موجودگی: تجزیہ و تنقید
- تفسیرِ سلف میں ضعفِ اسناد پر اعتراضات: تجزیہ اور حل
- بعض محدثین کی جانب سے مفسرین سلف پر جرح و تعدیل: تجزیہ و حل
- حجیتِ تفسیرِ سلف اور اس سے مخالف اقوال کا حکم
- مفسرین سلف کی فکری مذاہب میں تقسیم: تنقیدی جائزہ
سوال 1: تفسیرِ سلف میں اسرائیلی روایات کی موجودگی: تجزیہ و تنقید
باوجود اس کے کہ محققین سلف کے تفسیری اقوال کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، لیکن ان کی تفاسیر — خصوصاً تابعین اور تبع تابعین کی تفسیروں — میں اسرائیلی روایات کی موجودگی کو بعض ناقدین کی طرف سے سخت اعتراض کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ کے نزدیک اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے؟ اور کیا واقعی یہ بات تفسیر سلف میں کسی علمی خلل یا کمزوری کو ظاہر کرتی ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
تفسیری علوم اور ان کے تحقیقی میدان میں پچھلی چند دہائیوں کے دوران جو تحقیقات سامنے آئیں، ان میں کئی نازک اور اہم موضوعات نمایاں ہوئے۔ بعض مرتبہ یہ موضوعات ورثۂ سلف کے غلط فہم پر مبنی تھے، اور بعض مرتبہ روایتی متون پر جذباتی اطلاق کی بنا پر سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مسائل کے نتائج آپس میں متضاد ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کا پیچھے کوئی خاص پس منظر ہوتا ہے، کبھی جذباتی محرکات، اور کبھی امتِ مسلمہ کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات۔
انہی میں سے ایک مسئلہ "اسرائیلی روایات" کا بھی ہے، جو گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی حد تک زیر بحث آیا۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں، جامعات میں تحقیقی مقالات اور تھیسسز لکھے گئے جن کا مقصد تفسیری کتب کو اسرائیلی اثرات سے "صاف کرنا" تھا۔ بعض ناقدین نے ان روایات کو تفسیری روایت کا عیب قرار دیا، یہاں تک کہ کسی مفسر کا ان روایات کو نقل کرنا بھی قابلِ اعتراض گردانا جانے لگا۔
یہاں مجھے ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم کا واقعہ یاد آگیا جس نے تفسیر کے موضوع پر اپنی تحقیق پیش کی، لیکن اس کے مشرف اور مناقش نے یہ کہہ کر اس کی تحقیق کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ "آپ کی پوری تحقیق مستشرقین کے لیے ایک سونے کی پلیٹ ہے"، صرف اس وجہ سے کہ اس تحقیق میں سلف کی تفسیری روایات کو جمع کرتے ہوئے بعض اسرائیلی روایات بھی شامل ہو گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اس مناقش نے محقق سے یہ شرط لگا دی کہ وہ ان تمام اسرائیلی روایات کو اپنی تحقیق سے نکالے، ورنہ یہ مقالہ قابلِ قبول نہ ہو گا۔ اور وہ طالب علم دل برداشتہ ہو کر یہ شرط پوری کرنے پر مجبور ہوا۔
ہم حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے دین کی غیرت اور تحفظِ قرآن کا جذبہ ہوتا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ علمی مسائل صرف غیرت یا جذبات سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے علمی بصیرت، تحقیقی توازن، اور حجت و دلیل کی بنیاد پر استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کتنے ہی مواقع آئے جب جذباتی شور، بغیر علمی بنیاد کے، قوموں اور نسلوں کو گمراہی کی طرف لے گیا۔
اسرائیلی روایات سے متعلق نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں، جن میں اجازت دی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات کو روایت کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ نہ قرآن و سنت سے ٹکرائیں، اور نہ ان کی تصدیق یا تکذیب لازم ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہی اصولوں کے تحت ایسی روایات بیان کیں، تابعین نے ان سے روایت کیں، اور تبع تابعین نے تابعین سے، پھر جلیل القدر مفسرین نے ان روایات کو اپنی تفاسیر میں مخصوص اصولوں کے ساتھ درج کیا۔
علمی دنیا میں یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ کسی چیز پر حکم لگانے سے پہلے اس کا مکمل تصور حاصل کرنا ضروری ہے۔ تنقید صرف اس وقت معتبر ہو گی جب وہ علمی اصولوں پر مبنی ہو، جس میں غور و فکر، فہم، توازن اور مزاج کی گہرائی شامل ہو، بغیر عجلت اور تعصب کے۔
جب ہم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی کو دیکھتے ہیں — جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اللہم فقہہ فی الدین وعلمہ التاویل"، اور جن کے علم و فہم کی گواہی دیگر صحابہؓ نے دی — تو ہم پاتے ہیں کہ ان سے تقریباً 663 اسرائیلی روایات مروی ہیں، جو ان کی کل تفسیر کا تقریبا 10٪ بنتی ہیں۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ — جو اپنے طلبہ پر سختی، دینی حساسیت، اور فکری غیرت کے حوالے سے معروف تھے — ان سے بھی 92 اسرائیلی روایات مروی ہیں، جن کی نسبت ان کی مجموعی تفسیری روایات کا (8%) بنتی ہے۔
جب ایسے بزرگ صحابہ، تابعین، اور تبع تابعین، جن کی دیانت، علم اور غیرت پر کوئی شک نہیں، ان روایات کو روایت کریں، اور جب طبری (310ھ)، ابن ابی حاتم (327ھ)، ابن عطیہ (541ھ)، ابو حیان (745ھ)، ابن کثیر (774ھ) جیسے جلیل القدر مفسرین انہیں اپنی تفاسیر میں جگہ دیں، تو پھر پورے مکتبِ تفسیر کو یکسر مسترد کرنا یا ان پر شک کرنا نہ عقلاً درست ہے نہ شرعاً منصفانہ۔ یہ امت کے چودہ سو سالہ فکری ورثے کو کسی سطحی تاثر، ذاتی رائے، یا علمی ناپختگی کی بنیاد پر مسترد کرنے کے مترادف ہوگا۔ ایسے میں اہلِ انصاف کا کام یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے سلف کے موقف کو اچھی طرح سمجھیں، اس کے محرکات کو پرکھیں، ان روایات کے استعمال کے مقاصد اور دائرہ کار کو واضح کریں، پھر علمی انداز میں اپنی رائے قائم کریں۔
اور جو کچھ میری تحقیق، میرے مطالعے اور سلف کی تفاسیر سے طویل وابستگی کے نتیجے میں میں نے پایا، وہ یہ ہے کہ سلف اور مفسرین نے ان اسرائیلی روایات کو دو بنیادوں پر ذکر کیا:
- نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی اجازت پر اعتماد کرتے ہوئے، اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ روایات شریعت سے نہ ٹکرائیں، نہ ان کی تصدیق کی جائے نہ تکذیب، بلکہ ان میں توقف کیا جائے۔ میرے ذاتی مطالعے میں صحابہؓ سے ایسی کوئی اسرائیلی روایت نہیں ملی جو اسلامی شریعت کے کسی اصول سے متصادم ہو۔
- یہ روایات تفصیلی وضاحت کے لیے نہیں بلکہ صرف کسی آیت کے عمومی مفہوم کی تشریح یا ایک اجمالی نکتہ کی وضاحت کے لیے نقل کی جاتی تھیں۔ جیسے کوئی شاعر ایک بیت سے کسی لفظ یا اسلوب کی وضاحت کرتا ہے، حالانکہ اس شعر میں بعض قبیح معانی بھی ہو سکتے ہیں، مگر مقصود صرف استشہاد ہوتا ہے، قبولِ مضمون نہیں۔ بعض مواقع پر قرآن کی آیات کے بعض مفاہیم واضح ہی نہیں ہوتے جب تک کہ اس طرح کی اسرائیلی روایت کی روشنی نہ ملے، جیسے قصۂ سامری یا حضرت سلیمانؑ کی آزمائش کے بعض پہلو۔
اسرائیلی روایات کی تفصیلات کے سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایم فل کے طالب علم کے مقالے کے وائیوا میں، جو سلف کی تفسیری روایات کو جمع کرنے پر مبنی تھا، ممتحن خارجی نے اس ریسرچ اسکالر سے مسلسل پوچھ گچھ کی۔ اس نے جو روایتیں نقل کی تھی، وہ ان میں سے ہر چھوٹی بڑی بات پڑھ کر پوچھتے رہے: "کیا یہ صحیح ہے؟ کیا یہ درست ہے؟" ان میں سے ایک روایت یہ تھی کہ حضرت سلیمان علیٰ نبینا وعلیہ السلام جانوروں کے تنازعات کے بھی فیصلے فرماتے تھے۔ جب یہ بات مناقش اور مشرف مقالہ نے دیکھی تو اس نے طالب علم سے سوال کیا: "کیا حضرت سلیمانؑ جانوروں کے درمیان فیصلے کرتے تھے؟ کیا یہ ایک نبی کے شایانِ شان ہے کہ وہ خاص طور پر جانوروں کے لیے بیٹھیں اور ان کے مابین فیصلہ کریں؟"
مناقش کا یہ سوال انتہائی عجیب تھا، اور ان کی کم علمی اور کج فہمی پر دلالت کرتا تھا، اس لیے کہ قرآن خود گواہی دیتا ہے کہ اللہ نے سلیمانؑ کو پرندوں کی بولیاں سکھائیں، اور وہ چیونٹی کی بات پر مسکرائے۔ تو پھر اگر سلیمانؑ نے جانوروں کے تنازعات کا فیصلہ کیا ہو، تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
آخر میں یہی کہوں گا کہ یہ معاملہ اب بھی ایک گہرے علمی جائزے اور تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ سلف کی تفاسیر، ان کے آثار، اور ان اسرائیلی روایات کے استعمال کی پوری علمی روشنی میں ازسرِنو مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام انفرادی نہیں، بلکہ علمی اداروں، تحقیقاتی مراکز اور تخصص یافتہ اہلِ علم کی اجتماعی کوشش کا متقاضی ہے۔ اور اس حوالے سے "مرکز تفسیر" کی ویب سائٹ پر "اسرائیلیات فائل" ایک اہم علمی ذریعہ ہے، جس میں اس موضوع پر کئی گراں قدر تحقیقات اور نکتہ ہائے نظر جمع کیے گئے ہیں۔
آخر میں، یہ بھی واضح رہے کہ ان مسائل کے ساتھ ساتھ اب بھی تفسیر کی اسانید، قرآنی اعجاز، اور تدبرِ قرآن جیسے موضوعات تحقیق، تنقیح، اور تاریخی جائزے کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان اہم میدانوں میں کچھ نفع بخش خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال 2: تفسیرِ سلف میں ضعفِ اسناد پر اعتراضات: تجزیہ اور حل
تفسیرِ سلف کی وقعت گھٹانے اور اس کی افادیت کو کم کرنے کی ایک بڑی وجہ بعض محققین کے نزدیک ضعیف اسناد کا اشکال بھی ہے۔ آپ نے سلف کی تفاسیر پر بھرپور کام کیا ہے، آپ کے خیال میں اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے اور اسے کیسے سمجھا جانا چاہیے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہم چودھویں یا پندرھویں صدی میں یکایک پیدا نہیں ہو گئے۔ ہم ایک ایسی امت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا علمی ورثہ بے حد وسیع اور گہرا ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص عمر بھر ایک ہی علم کو سمجھنے، اس کی اصل روح تک پہنچنے، اور مصنف کے منشا کے مطابق اس کی باریکیوں کو جاننے میں لگا رہے، تب بھی مکمل احاطہ ممکن نہیں۔ لہٰذا ہمیں اس ورثے کا احترام کرنا چاہیے۔ کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ ہم اسے ویسے سمجھنے کی کوشش کریں جیسا کہ اس کے مصنفین کی منشا تھی۔ اگر ہم اس میں بھی پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں تو کم از کم اخلاص اور نیتِ خیر سے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں تاکہ عند اللہ معذور ہوں۔
ہم سے پہلے بڑے بڑے امام اور علمی اکابر گزرے ہیں جن کی قدر و منزلت ہر میدانِ علم میں مسلّم ہے۔ جیسا کہ امام ابو عمرو بن العلاء رحمہ اللہ کا قول ہے: "ہم ان کے مقابلے میں ویسے ہی ہیں جیسے چھوٹے پودے بڑے اور لمبے درختوں کے سائے میں اگتے ہیں!"۔ لہٰذا جو لوگ "تحقیق" یا "تجدید" کی بات کرتے ہیں، تراثِ علمی کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی عقل کا مذاق بنا رہے ہوتے ہیں اور خیالی آرزوؤں میں جیتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح کے نازک علمی معاملات میں ہمیں لازماً اس فن کے ائمہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور ان کی تحریروں، اقوال اور عملی تطبیق کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ ان کی بنیادوں کو صحیح فہم کے ساتھ سمجھا جا سکے۔
یقیناً یہ کام آسان نہیں، بلکہ طویل صبر، گہری نظر، عبارتوں کی باریک تفہیم، متون کا تحقیقی جائزہ، جامع مطالعہ اور ان سے استنباط درکار ہے۔ اور جہاں تک "اسناد" اور ان سے متعلق مسائل کا تعلق ہے، تو یہ دراصل علمِ حدیث کا موضوع ہے، اور اس کا فہم بھی اسی علم کی روشنی میں ہونا چاہیے، یہ مسئلہ جمہور اکابر علماء کے لیے کبھی اشکال کا باعث نہیں رہا، بلکہ ان میں سے کئی ایسے تھے جو بیک وقت حدیث اور تفسیر دونوں میں امام مانے جاتے تھے، جیسے طبری (310ھ) اور ابن ابی حاتم (327ھ)۔ علمِ تفسیر میں ان دونوں کی تفسیروں کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کو میسر نہیں
دراصل یہ اشکال بعض متاخرین کی طرف سے پیدا ہوا جنہوں نے اس باب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اس میں دو منہج ہیں: ایک سخت گیر منہج اور دوسرا اسانید پر حکم لگانے میں نرم منہج۔ یا یہ کہ محدثین کا اسانیدِ تفسیر کے ساتھ تعامل کا ایک الگ منہج ہے اور غیر محدثین کا الگ۔ اور یہ بات حقیقت سے بالکل متصادم ہے، کیونکہ جو مسئلہ اصل میں پیدا ہوا وہ اس وجہ سے تھا کہ بعض ناقدین نے علمِ حدیث کے منہج کو مکمل طور پر سمجھا ہی نہیں۔ اہلِ حدیث نے اس میدان میں ایسا جامع، محتاط اور قابلِ انعطاف اصولی منہج ترتیب دیا ہے کہ وہ ہر طرح کی روایات کے ساتھ علمی توازن سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات غلط فہمی پر مبنی ہے کہ وہ محض سند کے ظاہر پر حکم لگاتے ہیں۔ بلکہ اہلِ حدیث متن، سیاق، مصنف کی غرض، اور قرائن کو بھی شامل کرتے ہیں۔ یہ تمام پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اور اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کیا جائے تو نقد کا منہج ناقص ہو جاتا ہے، اور اس کے نتائج غیر معتبر ہوتے ہیں۔
اسی منہجِ نقد میں خرابی کی وجہ سے بعض معاصرین نے ایسی کتابیں تصنیف کیں، جن میں بہت سی تفسیری روایات محض سند کی کمزوری کے باعث حذف کر دی گئیں، یا صرف ان روایات کو قبول کیا گیا جنہیں وہ "صحیح" سمجھتے تھے، حالانکہ یہ رویہ تراثِ علمی کے ساتھ سخت زیادتی، تفسیر کی علمی روح کا مسخ کرنا، اور ایک صدیوں پر محیط علم کا ضیاع ہے۔
یہ ہے علمائے سلف کا عمومی منہج، جس پر وہ اس مسئلے میں عمل پیرا تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ مزید تحقیق، تدقیق، تتبع اور استقراء کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام تفسیری کتب کو فرداً فرداً پڑھیں، ان کے مناہج کو سمجھیں، اور ان کے عملی تطبیقات کو پرکھیں۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ علمی اداروں، تحقیقی مراکز اور سنجیدہ اسکالرز کی اجتماعی کوشش چاہتا ہے۔
یہ تھے اس معاملے میں علماء کے عمومی منہج کے اہم نکات۔ البتہ یہ اہم موضوع مزید تحقیق و تدقیق کا تقاضا کرتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر تفسیر کا فرداً فرداً گہرائی سے جامع مطالعہ کیا جائے، ان میں مفسرین کے نظری اصولوں کو اکٹھا کیا جائے، ان کے عملی اطلاقات کا تجزیہ کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ آثار و روایات کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ان کا بالکل واضح منہج کیا تھا، نیز یہ بھی جانا جائے کہ انہوں نے ان روایات کو کن کن مقامات پر استعمال کیا۔ یہ سب باریک نکات ہیں جو صرف اسی وقت سامنے آسکتے ہیں جب انسان طویل صبر و تامل، گہرے تجزیے اور باریک بینی سے کام لے۔
اور اس غلط منہج کا نقصان صرف تفسیر تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے دیگر تمام علوم کو بھی متاثر کیا، جیسے سیرت۔ اب ہمیں "صحیح سیرت" جیسی اصطلاحات سننے کو ملتی ہیں، اور بعض افراد نے مرفوع احادیث کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پیدا کر دیں۔ اگر یہی انداز جاری رہا تو ممکن ہے کل کو شعر، ادب اور تاریخ بھی اسی کسوٹی پر پرکھے جانے لگیں۔
یہ طرزِ فکر مجھے ایک عرب کے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ایک شخص عید بن لجیم نامی عرب کے پاس ایک عمدہ گھوڑا تھا۔ کسی نے کہا: "ہر عمدہ گھوڑے کا کوئی نام ہوتا ہے، تمہارے گھوڑے کا کیا نام ہے؟" اس نے جواب دیا: "ابھی تک کوئی نہیں رکھا۔" تو لوگوں نے اصرار کیا کہ "اس کا نام رکھو!" اس کے ذہن میں اعور نام آیا جو اسے اچھا لگا، اور اعور کا مطلب تھا "کانا"، یعنی ایک آنکھ والا۔ جب یہ نام اس کے ذہن میں آیا تو اس نے گھوڑے کا اسم بامسمّٰی کر دیا، یعنی اس نے فوراً ایک آنکھ نکال دی اور کہا: "اب اس کا نام ہے: الاعور (کانا)!"۔ یعنی جہاں اصل میں حفاظت مقصود تھی، وہاں نقصان کر بیٹھے۔ بس یہی حال ان لوگوں کا ہے جو علم کی حفاظت کے نام پر علم ہی کو مجروح کر رہے ہیں۔
سوال 3: بعض محدثین کی جانب سے مفسرین سلف پر جرح و تعدیل: تجزیہ و حل
تفسیرِ سلف سے متعلق ایک اور قابلِ توجہ اشکال یہ بھی ہے کہ اہلِ حدیث کی ایک بڑی تعداد نے تابعین اور تبع تابعین کے بہت سے راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ اشکال کس حد تک معتبر ہے؟ اور اس کا درست علمی حل کیا ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
یہ بات اپنی جگہ درست ہے، اور جو لوگ یہ بات کرتے ہیں وہ کوئی جھوٹ نہیں بولتے، لیکن ان کی بات اس شخص کی مانند ہے جو قرآن کی یہ آیت پڑھے: "فویل للمصلین" (تباہی ہے نمازیوں کے لیے)، اور آگے نہ پڑھے کہ اصل مراد کیا ہے۔
جیسا کہ میں نے پچھلے جواب میں وضاحت کی، اہلِ حدیث کسی بھی روایت کو پرکھنے میں ایک سے زیادہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہیں۔ ان میں ایک پہلو سند (یعنی راویوں کا سلسلہ) بھی ہے، جس پر ان کی بڑی باریک اور عالمانہ نظر ہوتی ہے۔ سند کا جائزہ لیتے ہوئے وہ راوی کے حفظ، دیانت، فہم، ضبط اور دیگر صفات کو پرکھتے ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کسی راوی کو حدیث میں ضعیف قرار دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ہر علم میں ضعیف ہے۔ ممکن ہے وہ حدیث میں ضعیف ہو، مگر تفسیر، قراءت، لغت یا دیگر علوم میں امامت کا مقام رکھتا ہو۔
اس کی کئی نمایاں مثالیں موجود ہیں: امام عاصم بن ابی النجود (وفات: 127ھ)، جن کی قراءت آج بھی دنیا بھر میں معروف و مقبول ہے۔ وہ قراءت میں پختہ، مضبوط اور متقن تھے، لیکن حدیث کے باب میں ضعف کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ ان کے شاگرد اور سوتیلا بیٹا بھی تھا، حفص بن سلیمان (وفات: 180ھ)، جن سے قرآن کی سب سے مشہور قراءت "روایت حفص عن عاصم" مروی ہے۔ وہ قراءت میں امام تھے، لیکن حدیث کے باب میں ضعیف شمار کیے گئے۔ اس کے برعکس، امام اعمش (سلیمان بن مہران)، وہ حدیث کے باب میں بہت ثقہ اور مضبوط راوی تھے، لیکن ان کی قراءت کو "شاذ" قراءتوں میں شمار کیا گیا، اور وہ قراء کے نزدیک معتبر نہیں مانی گئی۔
یہ بات زندگی کے ہر میدان میں مشاہدے میں آتی ہے۔ ایک شخص طب (میڈیکل) میں ماہر ہو سکتا ہے، لیکن انجینئرنگ کا ذرا سا فہم نہ رکھتا ہو۔ تو کیا ہم اس کی طبی مہارت کو رد کر دیں گے، صرف اس لیے کہ وہ انجینئرنگ نہیں جانتا؟ ہرگز نہیں! ہم اسی علم میں اس سے فائدہ اٹھائیں گے جس میں وہ ماہر ہے، اور باقی معاملات میں خاموشی اختیار کریں گے۔ یہی اصول علمائے حدیث نے بھی اپنایا۔ ان کے تصریحات اور تطبیقات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ وہ راویوں کی جانچ صرف فنِ حدیث تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کس فن میں راوی قابلِ اعتماد ہے، اور کس فن میں نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی راوی حدیث میں ضعیف ہو، تو اس سے تفسیر یا قراءت یا لغت میں روایت لینے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اس فن میں قابلِ اعتماد ہو۔ یہی علمی توازن اور فہم کا انصاف پر مبنی منہج ہے، اور یہی اہلِ علم کا اصل طریقہ رہا ہے۔
سوال 4: حجیتِ تفسیرِ سلف اور اس سے مخالف اقوال کا حکم
تفسیرِ سلف کی حجیت (یعنی اس کا واجب الاتباع ہونا) ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ماضی و حال کے علماء کے درمیان خاصا اختلاف رہا ہے۔ آج کے اہلِ علم کے مابین بھی اس پر بحث پائی جاتی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر کوئی نیا قول، سلف کے کسی قول سے واضح طور پر متصادم ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ آپ اس مسئلے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
یہ مسئلہ واقعی بہت اہم اور بنیادی نوعیت کا ہے۔ سلف کے فہم سے استدلال اور اس پر عمل کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایک قدیم علمی رویہ ہے، جو عہدِ صحابہؓ ہی سے چلا آ رہا ہے اور علماء و ائمہ نے صدیوں سے اس پر اعتماد کیا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ سلف کو جو فضیلت اور انفرادیت حاصل ہے، وہی ان کے فہم کو معتبر اور حجت بنانے کی بنیاد ہے، اور اس پر بے شمار آثار بھی وارد ہوئے ہیں۔
مثلاً: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں جھانکا تو محمد ﷺ کا دل سب سے بہتر پایا، تو انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔ پھر محمد ﷺ کے بعد لوگوں کے دلوں میں جھانکا تو صحابہؓ کے دل سب سے بہتر پائے، چنانچہ انہیں اپنے نبی کے وزیروں کے طور پر چن لیا، تاکہ وہ دین کی حفاظت کریں۔ تو جو بات صحابہؓ کے نزدیک اچھی، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی، اور جو ان کے نزدیک بری، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔"
اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خوارج کے ساتھ مناظرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہیں مہاجرین و انصار، اور نبی ﷺ کے چچا کے صاحبزادے (یعنی علیؓ) کی طرف سے خطاب کر رہا ہوں۔ اور قرآن انہی پر نازل ہوا تھا، اس لیے وہ اس کے مفہوم کو تم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔"
ایسے اقوال کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے تتبع سے ایک زبردست علمی روایت اور اصولی بنیاد سامنے آتی ہے۔ علمائے امت نے ان اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قرآن و سنت کا جو فہم سلف کے درمیان اجماعی طور پر قائم ہو گیا ہو، وہی صحیح فہم ہے۔ اور جو بھی قول اس اجماعِ سلف کے خلاف ہو، وہ غلط اور گمراہی پر مبنی ہے۔ یہ ایک واضح اصول اور قابلِ اعتماد علمی قاعدہ ہے، اور قرآن کی تفسیر بھی اسی قاعدے کے تحت آتی ہے۔ تاہم جب ہم تفسیر کی پوری علمی روایت کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں کچھ ایسے آثار بھی ملتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قرآن میں مزید تدبر، اجتہاد اور فہم کے امکانات موجود ہیں۔
مثلاً: ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی ایسا علم ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں؟" حضرت علیؓ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، ہمارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ نہیں، ہاں، قرآن کے فہم کی وہ صلاحیت جو کسی شخص کو عطا کی گئی ہو، وہ ایک الگ بات ہے۔"
اسی طرح حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "تم اس وقت تک مکمل فقیہ نہیں بن سکتے جب تک قرآن کے متعدد معانی و پہلو نظر نہ آئیں۔"
ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا فہم صرف ایک جامد سانچہ نہیں ہے، بلکہ تدبر، تامل، فہم و فراست سے اس میں نئے معانی اور حکمتیں اخذ کی جا سکتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سلف کے اجماعی فہم سے متصادم نہ ہوں۔ چنانچہ اگر کوئی نیا قول علمی لحاظ سے معتبر ہے، اور سلف کے اجماع یا ان کے متفقہ فہم کے خلاف نہیں جاتا، تو پھر اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اگر وہ نیا قول سلف کے اجماعی فہم کی نفی کرتا ہے، یا ان کے اجماع کو باطل قرار دیتا ہے، تو وہ قول درست نہیں اور اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
امام طبری (وفات: 310ھ) نے اپنی تفسیر کی تمہید میں بڑی وضاحت سے اس اصول کو بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں: "قرآن کی تفسیر میں حق بات کا سب سے زیادہ مستحق وہ مفسر ہے جو واضح دلیل رکھتا ہو، لیکن اس کی تفسیر سلف کے اقوال سے خارج نہ ہو، یعنی اس کا مطلب و مفہوم سلف کے بیان کردہ فہم کے دائرے میں آتا ہو۔"
امام طبری رحمہ اللہ کی اپنی تفسیر میں عملی طریقہ کار اس اصول کی تصدیق کرتا ہے جس کا انہوں نے مقدمے میں ذکر کیا ہے۔ وہ اکثر کسی قول کو غلط قرار دیتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گنجائش نظر آئے، اور وضاحت کرتے ہیں کہ اسے رد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ سلف کے اتفاق اور ان سے کثرت سے منقول روایات کے خلاف ہے۔
مثلاً ان کا قول: "یہ قول اہلِ علم کے موقف سے الگ ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں … اور تمام اہلِ تاویل کا اتفاق ہے کہ یہ آیت ابن حضرمی کے قتل کے معاملے میں نازل ہوئی"۔ اسی طرح ان کا یہ قول: "چونکہ حقیقتِ حال یہی ہے، اور اس مسئلے میں سلف کے درمیان کوئی نمایاں اختلاف بھی نہیں، اور جو بات ان کے درمیان معروف اور رائج تھی وہی حجت ہے، لہٰذا لازم ہے — اگرچہ اس میں دوسرے احتمالات بھی ہوں — کہ ہم اسی بات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں جس کی درستی ان کی معتبر نقل سے ثابت ہو۔"
بلکہ امام طبری ایسے قول کو بھی غلط قرار دیتے ہیں جو سلف کے اجماع کے خلاف ہو، اگرچہ وہ قول خود سلف میں سے کسی فرد سے منقول ہو۔ اور ان کا منہج یہ ہے کہ وہ اکثریت کے اتفاق کو اجماع شمار کرتے ہیں۔ زیادہ تر مقامات جو میں نے اس نوعیت کے دیکھے، وہ آیات میں احکام سے متعلق اقوال کی وضاحت میں تھے۔
مثلاً ان کا قول: "محمد بن ابی موسیٰ سے جو بات منقول ہے، وہ اہلِ تاویل کے قول سے الگ ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہر قرآن کے مفہوم سے بھی دور ہے۔" اسی طرح ان کا قول: "طاووس نے ابن عباس سے جو روایت کی ہے، وہ قول امت کے موقف کے خلاف ہے۔ کیونکہ سب کا اتفاق ہے کہ میت کے بھائی کو اس کے باپ کی موجودگی میں وراثت نہیں ملتی۔ تو ان کا اجماع ہی اس قول کی غلطی کی دلیل ہے۔" نیز ان کا قول: "جس نے یہ کہا کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جسے مسلمان نے ذبح کیا لیکن اللہ کا نام لینا بھول گیا، تو یہ قول صحیح سے دور ہے، کیونکہ یہ شاذ ہے اور اس سے ہٹ کر ہے جس پر حجت کا اجماع ہے، اور یہی اس کی فاسد ہونے کی دلیل ہے۔"
البتہ جن مقامات پر امام طبری نے اہلِ لغت سے کوئی ممکنہ قول ذکر کیا جو سلف کے بعض افراد سے مختلف ہو لیکن ان کے اجماع کے خلاف نہ ہو، تو انہوں نے اسے درست مانا اور نہ تنقید کی نہ غلط قرار دیا۔ جیسے ان کا قول: "بعض نے کہا ہے کہ وہ کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اور 'فقلیلا ما یؤمنون' اس حال میں کہا گیا جبکہ وہ سب پر کافر تھے، جیسے عرب کہتے ہیں: 'قلما رایت مثل ہذا قط' (میں نے کبھی اس جیسا نہیں دیکھا)۔"
یہ پورا مسئلہ مزید تتبع، تحقیق اور سلف کے آثار کے عمیق مطالعے کا متقاضی ہے۔ میں نے یہاں صرف امام طبری کی تفسیر کو بنیاد بنایا، کیونکہ انہوں نے سلف کی تفسیر کو بنیاد بنا کر پورا تفسیری منہج ترتیب دیا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سلف کے اجماعی اقوال کو معلوم کرنے کی جامع کوشش کریں، اور ایسے اقوال کو یکجا کریں جن پر مفسرین نے صراحت کے ساتھ اتفاق ظاہر کیا ہے۔ یہ کام ایک بڑے تحقیقی منصوبے کا متقاضی ہے، جس میں ماہرین، ادارے اور محققین شریک ہوں، تاکہ اس مسئلے کی حقیقت اور حدود کو پوری امت کے سامنے صحیح علمی روشنی میں پیش کیا جا سکے، نہ کہ جیسا بعض سطحی مقالات اور جزوی فہم کے حامل محققین نے اسے بیان کیا ہے۔
سوال 5: مفسرین سلف کی فکری مذاہب میں تقسیم: تنقیدی جائزہ
محققین عام طور پر سلف کے مفسرین کو مختلف مدارسِ تفسیر اور تفسیری رجحانات میں تقسیم کرتے رہے ہیں، لیکن بعض معاصر علماء اس تقسیم کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔ آپ کے نزدیک کیا یہ تقسیم واقعی درست ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تقسیم، جدید تحقیق کی پیداوار ہے۔ متقدمین میں سے کسی بھی امام یا مؤرخ نے سلف کے مفسرین کو "مدارس" یا "رجحانات" میں تقسیم نہیں کیا۔ نہ تو کتبِ تراجم میں، اور نہ ہی تفاسیر یا علومِ قرآن کی کتب میں اس طرز کی کوئی تقسیم ملتی ہے۔ سلف کی تفسیر کو ہمیشہ ان کے تین معروف طبقوں (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کے تناظر میں دیکھا گیا ہے، اور انہیں ایک ہی علمی نہج، ایک ہی فہم، اور ایک ہی منہج کا نمائندہ سمجھا گیا ہے۔
جب ہم تفسیر کو مدارس، رجحانات یا مذاہب میں تقسیم کرتے ہیں تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے درمیان منہجی و اصولی اختلافات پائے جاتے ہیں، جیسے فقہ میں: "حنفی"، "شافعی"، یا کلام میں: "معتزلہ"، "رافضہ"، یا نحو میں: "بصری"، "کوفی" وغیرہ۔ ایسی اصطلاحات وہاں استعمال کی جاتی ہیں جہاں اصول، منہج اور طریقہ کار میں بنیادی فرق پایا جائے۔ لیکن سلف کی تفسیر کے معاملے میں یہ انداز درست نہیں، کیونکہ:
- اولاً: سلف کی تفسیر ایک ہی اصولی بنیاد پر استوار ہے۔ ان کے اصول، مصادر اور منہج ایک تھا۔ ان کے درمیان ایسا کوئی بنیادی منہجی اختلاف نہ تھا جس کی بنیاد پر انہیں الگ الگ "مدارس" یا "رجحانات" میں تقسیم کیا جا سکے۔
- ثانیاً: جن لوگوں نے یہ تقسیم کی، انہوں نے سلف کی تفاسیر کو جغرافیائی بنیاد پر تین بڑے "مدارس" میں بانٹ دیا: مکہ کا مدرسہ، مدینہ کا مدرسہ، عراق کا مدرسہ (بعض نے اسے مزید "بصرہ" اور "کوفہ" میں تقسیم کیا)، کبھی کبھار "طائف" کو بھی مکہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے۔ شاید اس تقسیم کے پیچھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) کا وہ قول اثرانداز ہوا ہے جس میں انہوں نے فرمایا: "تفسیر کے باب میں اہلِ مکہ، اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ سب سے زیادہ ماہر ہیں۔" مثلاً: شیخ محمد حسین الذہبی (وفات: 1397ھ) نے اپنی معروف کتاب التفسیر والمفسرون میں اسی قول کو بنیاد بنا کر یہ مدارس قائم کیے۔ لیکن درحقیقت ابن تیمیہ کا مقصد یہ نہ تھا کہ وہ ان مقامات کو الگ الگ "مذاہب و مدارس" مان رہے ہیں، بلکہ وہ صرف علم کی کثرت اور مہارت کی طرف اشارہ کر رہے تھے ، نہ کہ منہجی اختلاف یا اصولی تفرق کی طرف۔
- ثالثاً: یہ جغرافیائی تقسیم ایک اور پہلو سے بھی اشکال رکھتی ہے، وہ یہ کہ سلف کے بہت سے اکابر علماء کئی مقامات پر رہے، مختلف شہروں میں تعلیم دی اور طلبہ کی جماعتیں بنائیں۔ تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسے عالم کو کس "مدرسہ" میں شمار کریں گے؟ مثلاً: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ اور یمن دونوں میں اقامت فرمائی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مکہ، طائف اور کوفہ تینوں مقامات پر تدریس کی اور ہر جگہ ان کے شاگرد موجود تھے جو ان سے علم حاصل کرتے تھے۔ تو کیا ہم انہیں مکہ کے مدرسے کا نمائندہ کہیں یا کوفہ کے؟ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تقسیم زیادہ تر مصنوعی اور محض ایک اجتہادی خاکہ ہے، جسے ابن تیمیہ کی ایک جزوی رائے کو غلط مفہوم دے کر تشکیل دیا گیا۔
مزید برآں، سلف صرف انہی تین شہروں تک محدود نہ تھے، بلکہ وہ شام، یمن، مصر اور دیگر علاقوں میں بھی موجود تھے، تو پھر ان علاقوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟
(جاری)
آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی
آثار السنن پر اہل علم کے تبصرے
آثارالسنن کے متعلق عالم اسلام کے مشہور حنفی عالم و محقق علامہ زاہد الکوثری لکھتے ہیں:
’’وہا ہو العلامۃ مولانا ظہیر حسن النیموی رحمہ اللہ قد الف کتابہ (آثار السنن) فی جزاین لطیفین، وجمع فیہما الاحادیث المتعلقۃ بالطہارۃ والصلاۃ علی اختلاف مذاہب الفقہاء، وتکلم علی کل حدیث منہا جرحا وتعدیلا علی طریقۃ المحدثین، واجاد فیما عمل کل الاجادۃ، وکان یرید ان یجری علی طریقتہ ہذہ الی آخر ابواب الفقہ لکن المنیۃ حالت دون امنیتہ رحمہ اللہ۔ وہذا الکتاب مطبوع بالہند طبعا حجریا الا ان اہل العلم تخاطفوہ بعد طبعہ، فمن الصعب الظفر بنسخۃ منہ الا اذا اعید طبعہ۔‘‘14
مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی لکھتے ہیں:
’’علامہ نیموی کی مشہور تصنیف آثار السنن اپنے خصائص و مزایا کے لحاظ سے شاہکار سمجھی جاتی ہے، علامہ نیموی کے پاس قلمی نوادر کا گراں بہا ذخیرہ تھا، جو ۱۹۴۶ء کے طوفانِ حوادث میں بالکل برباد ہوگیا، اور اب صرف اس کی یاد باقی ہے، انہوں نے مخطوطات کے تجسس میں کہاں کہاں کی خاک چھانی، اس کا اندازہ ان نسخ عتیقہ کے حوالجات سے معلوم ہو سکتا ہے جو آثار السنن کی تعلیق اور ان کے بہتیرے فروعی رسائل میں بکثرت نظر آتے ہیں، حدیث میں نیموی کا درجہ اتنا بلند تھا کہ حسبِ بیان مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی عمید مدرسۂ عالیہ کلکتہ محدث نبیل علامہ جلیل حضرت شاہ انورکشمیری رحمۃ اللہ علیہ نیموی کو شوکانی پر ترجیح دیتے تھے’’۔
مفتی فیضان الرحمٰن کمال جنہوں نے آثار السنن کی توضیح و تشریح کی ہے، لکھتے ہیں:
’’غیر منقسم ہندوستان میں فقہ حنفی کے علمی دفاع میں اس کتاب کو اولیت حاصل ہے، علامہ ظہیر احسن المعروف بہ شوق نیموی نے بڑی جانفشانی سے کتاب و سنت کے گوشہ گوشہ سے مسائل فقہ حنفی کے ثبوت پر ناقابل تردید دلائل جمع کر دئے ہیں، کاش کہ آپ کی یہ تصنیف پایہ تکمیل کو پہنچتی، مگر بایں قدر بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے نعمت عظمیٰ اور فقہ حنفی کے لئے قیاس کن زگلستان من بہار مرا کا مصداق ہے‘‘۔15
آثار السنن کے اسلوب پر مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے بہت ہی عالمانہ محاکمہ کیا ہے، انہوں نے لکھا ہے:
آثار السنن کا اسلوب مقدسی کی کتاب العمدۃ، ابن تیمیہ کی منتقیٰ حافظ ابن حجر کی بلوغ المرام اور خطیب تبریزی کی مشکاۃ جیسا ہے لیکن نقدِ رواۃ اور بحثِ جرح و تعدیل میں اس کتاب کا اپنا امتیاز ہے جو اس کو ان کتابوں کے ساتھ ساتھ زیلعی کی نصب الرایہ، مرتضیٰ بلگرامی کی عقود الجواہر المنیفہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی فتح المنان سے بھی ممتاز کرتی ہے، لیکن ان تمام کتابوں میں آثار السنن کا اسلوب بلوغ المرام سے زیادہ قریب ہے۔
ان کے بقول علامہ شوق نیموی نے اس سے پوری طرح استفادہ کیا ہے، باون حدیثیں بھی وہی آثار السنن میں درج کی ہیں جو بلوغ المرام کے متعلقہ ابواب میں موجود ہیں، البتہ نقدِ رواۃ اور جرح و تعدیل میں حافظ ابن حجر سے تحقیق کے ساتھ اختلاف کیا ہے، اس کے بعد مولانا نے اس کی چند مثالیں بھی پیش کی ہیں، اس کے بعد انہوں نے بتایا ہے کہ بلوغ المرام ہی کی طرح حضرت نیموی نے کتابوں کا مکمل حوالہ دینے کے بجائے علامات کا استعمال کیا ہے۔16
مولانا نے اس پر استدراک بھی کیا ہے کہ ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قاسمی نے اس کو حضرت نیموی کا وضع کردہ بتایا ہے جب کہ یہ اصطلاحات حافظ ابن حجر نے بھی استعمال کی ہیں۔ اس کے بعد بلوغ المرام پر مولانا نے آثار السنن کی فوقیت کے چند پہلو ذکر کئے ہیں، اور اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، جن میں موافق و مخالف روایات کا استخراج اور متعارض احادیث کے مابین تطبیق اہم ہیں۔
البتہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آمین بالجہر کے سلسلہ میں ایک عبارت میں مولانا عتیق الرحمٰن کے ساتھ مفتی ثناء الہدیٰ صاحب کو بھی یہ مغالطہ ہوا ہے کہ یہ قول مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کا ہے۔ ایسا نہیں ہے، مولانا نے نذیر حسین سے علامہ نیموی کی ملاقات کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا، اور پھر وہ اہل حدیث ہو کر ایک حنفی مسئلہ کی توثیق کیوں کر سکتے تھے، یہ علامہ نیموی کے بھائی نذیر احسن ہیں، جو مکمل عالم نہیں تھے لیکن متوسطات تک کی کتابیں پڑھی تھیں، مولانا عبدالرشید نے نیموی اپنے انہی چچا سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔
مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کے بقول:
’’خالص محدثانہ اور فقہی رنگ حنفی نقطہ نظر سے ہندوستان میں جو پہلی کتاب لکھی گئی ہے جہاں تک مجھے معلوم ہے، آثار السنن ہے، میری نگاہ میں اس کتاب کی بہت قدر و قیمت ہے، اور یہ مولانا ظہیر احسن کا تصنیفی شاہکار ہے‘‘۔17
حضرت کشمیری کا یہ معمول تھا کہ جو طلبہ دیوبند اور ڈابھیل سے فارغ ہو کر نکلتے تھے تو وصیت فرماتے کہ ہر ایک کے پاس یہ کتاب ہونی چاہئے، تمام کتبِ رجال پر آثار السنن کو ترجیح دیتے، اور فرماتے حضرت نیموی کی تحقیق کی داد ہے۔18
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:
’’مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کی کتاب آثار السنن محدثانہ نقد و نظر اور مذہب حنفی کی تائید میں ایک بلند پایہ تصنیف اور ہندوستان کی فنِ حدیث کی تصنیفات میں ایک وقیع و جدید اضافہ ہے‘‘۔19
ان کے علاوہ کچھ تاثرات معاصرین کے اعترافات کے ذیل میں بھی گذر چکے ہیں۔
آثار السنن کی دوسری جلد مکمل ہو کر جب شائع ہوئی تو ان کے وطن کے مشہور اخبار ہفتہ وار الپنچ پٹنہ نے، جس سے ان کا بھی تعلق تھا، اس پر نہایت عمدہ تبصرہ لکھا جو آثار السنن ہی کے عنوان سے ۲۳ جنوری ۱۹۰۴ء کے شمارہ میں شائع ہوا، اور اسی سال حضرت نیموی کا انتقال بھی ہوگیا، وہ پوری تحریر حسبِ ذیل ہے:
’’خدا کا شکر و احسان ہے کہ اس وقت ہمارا صوبہ بہار علم و فضل میں کسی طرح دوسرے صوبہ سے کم نہیں ہے، گو علمِ دین کی تعلیم گاہیں بہت ہی کم ہیں، اور ہیں بھی تو تکمیل کے لئے ناکافی ہیں، اور ہمارا صوبہ لکھنؤ، دہلی، دیوبند، کانپور وغیرہ کے مدارس کا محتاج ہے، اور یہاں کے طلبہ کو تکمیل کے لئے پچھم جانا ہی پڑتا ہے، اس پر بھی اس صوبہ میں ایسے ایسے افراد موجود ہیں جن پر نہ صرف ہمارا صوبہ بہار بلکہ زمانہ ناز کرتا ہے، اور ناز کرتا رہے گا۔ اس وقت ہمارے صوبہ میں علماء کی تعداد اتنی کافی ہے کہ اگر محض وعظ و تصانیف سے قوم کے سدھارنے کا بیڑا اٹھالیں تو اس میں کوئی کلام نہیں کہ قوم سدھر جائے …… مگر ہاں جو علم کے مردِ میدان ہیں وہ اس وقت تک اپنی بیش بہا تصانیف سے زمانہ کو فیض پہنچا رہے ہیں۔ ان میں سے ہمارے فخرِ بہار علامہ زمن مولانا حکیم محمد ظہیر احسن صاحب شوق نیموی سلمہ اللہ القوی ہیں جن کی کتاب آثار السنن پر زمانہ جنتا فخر کرے کم ہے، اور احناف جتنا ناز کریں بجا ہے۔ ملک میں عموماً اور سلسلہ نصاب میں خصوصاً ایک ایسی کتاب کی کہ جس میں مختلف کتبِ احادیث سے وہ صحیح اور حسن حدیثیں جمع کی جائیں جو مذہب حنفی کی مؤید ہوں، سخت ضرورت تھی، جس کمی کو ہمارے فخر صوبہ بہار حضرت شوق نے پوری کی، جزاہ اللہ خیر الجزاء۔ اس وقت آثار السنن کے دونوں حصے ہمارے ہاتھ میں ہیں، ہم نے اس کے بعض بعض معرکۃ الآرا مقامات نہایت غور اور دلچسپی سے پڑھے، ایسا شافی اور کافی جواب لکھا ہے کہ سبحان اللہ! ہر بیان بجائے خود ایک مکمل کتاب ہے، اور ہر بحث قلّ ودلّ۔ آثار السنن اصل کتابِ حدیث ہے اور اس پر التعلیق الحسن عربی حاشیہ ہے۔ حدیث تو حدیث ہی ہے، تعلیق کی زبان عربی بھی ایسی پیاری ہے کہ سبحان اللہ! جابجا اس حاشیہ پر بھی حاشیہ ہے، جس کا نام تعلیق التعلیق ہے۔ دوسرا حاشیہ تو واقعی سونے میں سہاگہ ہے، ان حواشی میں محدثانہ ومحققانہ طور پر اکثر احادیث کے وہ علل غامضہ بیان کئے گئے ہیں، جن سے بڑی بڑی ضخیم کتابیں خالی ہیں۔ آثار السنن کے دیکھنے سے شبہ لگتا ہے کہ حضرت مولانا نے اس کتاب کی تالیف میں کیسی جاں کاہ محنت کی ہے، اور کس عرق ریزی اور دماغ سوزی سے اتنے مواد جمع کئے ہیں۔ پہلے حصے میں آمین، رفع یدین، قرات خلف الامام کے معرکہ الآرا مسائل کو اس وضاحت سے لکھا ہے کہ باید وشاید۔ شائقینِ علمِ حدیث اس کتاب کو ضرور دیکھیں، مسلمانوں کا کوئی گھر اور کوئی کتب خانہ ایسی فخرِ زمانہ کتاب سے ہرگز خالی نہ ہونا چاہئے۔ ہم حضرت مولانا کو ان کی اس اسلامی و دینی خدمت پر سچے دل سے مبارک باد دیتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ خدا آپ کو اس دینی خدمت پر صد و سی سال سلامت رکھے، آمین۔ آثار السنن دونوں حصے کی قیمت ایک ایک روپیہ ہے، اور جناب مولانا حکیم محمد ظہیر احسن صاحب شوق نیموی محلہ شاہ کی املی پٹنہ سے ملے گی۔‘‘
آثار السنن کی تالیف میں علامہ انور شاہ کشمیری کی شرکت
آثار السنن کے سلسلہ میں ایک معرکہ آرا بحث یہ بھی رہی ہے کہ اس کتاب کی تالیف و تصنیف میں علامہ شوق نیموی کے ساتھ علامہ انور شاہ کشمیری بھی شریک رہے ہیں، بلکہ اس کا آغاز درحقیقت علامہ کشمیری ہی کی ایک عبارت سے ہوگیا تھا جس کا جواب حضرت نیموی کے صاحبزادے مولانا عبدالرشید فوفانی نے دیا تھا۔
مولانا عبدالرشید فوقانی نیموی نے علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری کی ابکار المنن فی تنقید آثار السنن کا جواب دیتے ہوئے القول الحسن میں اس کا ذکر کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
’’فاقول واما ما قال الشیخ انور شاہ الکشمیری فی نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین فصل فی احادیث ترک الیدین ونبذ من الآثار وقد نقلت فیہ شیئا من التعلیق الحسن للشیخ النیموی مع ما زدت علیہ وکان الشیخ المرحوم حین تالیفہ ذلک الکتاب یرسل الی قطعۃ قطعۃ حتی انی کنت مرافقا فیہ وزدت علیہ اشیاء کثیرۃ بعدہ وانتہی کلامہ فمرادہ بلفز حین تالیفہ ہو بعد حین التالیف بتقدیر المضاف واقامۃ المضاف الیہ مقامہ یعنی کان الشیخ المرحوم بعد حین التالیف یرسل الی قطعۃ قطعۃ …… فلیس مراد الشیح الکشمیری ان النیموی قد ارسلہ الیہ حین تالیف ذلک الکتاب شیئا فشیئا وکیف فان الشیخ الکشمیری کان فی عہد تالیفہ آثارالسنن فی زمرۃ الطلبۃ ولم یکن فارغا من تحصیل العلوم فانہ فرغ فی السنۃ الثانیۃ عشر بعد الالف وثلاث مائۃ کما سیجئ بیانہ۔‘‘20
گرچہ اس سے پہلے انہوں نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوری نے ابکار المنن یا کسی تحریر میں کسی اور اہل حدیث عالم نے ان کے کام کی اہمیت کم کرنے کے لئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہو کہ وہ تنہا ان کا کارنامہ نہیں بلکہ دیگر حنفی علماء بھی اس میں شریک ہیں۔
اس سلسلہ میں مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی رائے ہے کہ زدت فیہ اشیاء سے ان کے حواشی کا مجموعہ الاتحاف لمذھب الاحناف مراد ہے۔21 یہ حواشی آثار السنن پر بہت جامع ہیں، اب تک مرتب ہو کر منظر عام پر نہیں آسکے ہیں لیکن مولانا یوسف بنوری، مولانا محمد میان سملکی اور علامہ کشمیری کے دیگر تلامذہ نے ان کے چند عکسی نسخے ان کی وفات کے بعد شائع کئے تھے جو متعدد اہلِ علم کے پاس ہیں اور اب انٹرنٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
اس سلسلہ میں مولانا منظور نعمانی کی ایک تحریر بہت اہم ہے جو مذکورہ بالا حضرات کے پیش نظر نہیں تھی، اس سے اس پورے قضیے کا صحیح علم ہوتا ہے۔ مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں:
’’حضرت استاد [انور شاہ کشمیری] رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دن درس میں اس کتاب [آثار السنن] کے متعلق یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جس زمانہ میں مولانا ظہیر احسن صاحب نیموی رحمۃ اللہ علیہ آثار السنن تالیف فرما رہے تھے انہوں نے اس کے کچھ اجزاء حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ (یعنی حضرت شیخ الہند) کی خدمت میں اس غرض سے بھیجے کہ کچھ ملاحظہ فرما کر مشورے دیں، اور جو اضافے فرمائے جا سکیں وہ اضافے فرما دیں، حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ نے ملاحظہ فرما کر وہ اجزاء واپس فرما دئے اور ان کو میرا پتہ لکھ دیا کہ آپ اس مقصد کے لئے اس پتہ پر خط و کتابت فرمائیں۔ میں اس زمانہ میں اپنے وطن (کشمیر) میں رہتا تھا، مولانا ظہیر احسن صاحب نے حضرت استاذ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے مجھے خط لکھا اور اس طرح میری ان کی خط و کتابت شروع ہو گئی، اور پھر انہوں نے اپنی کتاب بھیجنی شروع فرمائی، جتنی لکھ لیتے تھے وہ مجھے بھیج دیتے تھے اور میں ان کے حکم کی تعمیل میں اضافے کرتا تھا۔ میں نے جو اضافے کئے وہ مقدار میں ان کی اصل کتاب سے زیادہ تھے، لیکن میرے یہ اضافے زیادہ معنوی بحثوں سے متعلق تھے کیوں کہ مولانا موصوف نے علل و اسانید کی بحثوں کے اضافہ کی گنجائش کسی کے لئے بہت کم چھوڑی تھی، مگر چوں کہ میری وہ معنوی بحثیں مولانا کے ذوق کی چیز نہیں تھی اور وہ اپنی کتاب میں خالص محدثین کے طرز پر علل واسانید ہی سے بحث کرنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے میرے اس بات کے (یعنی علل واسانید کے متعلق) اضافے تو قبول فرمائے اور کتاب میں لے لئے لیکن معنوی مباحث تمام تر حذف کر دئے۔‘‘22
آگے مولانا نعمانی لکھتے ہیں:
’’ اس عاجز نے حضرت استاد سے یہ پوری بات درس میں خود سنی ہے، اور حضرت ہی کے ذریعہ یہ معلوم ہے کہ علامہ شوق نیموی جب تک رہے حضرت سے علمی مراسلت اور مشاورت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ ہی سے سنے ہوئے بعض جزئیات اس عاجز کو بھی یاد ہیں لیکن وہ خالص علمی باتیں ہیں اس مقالہ میں ان کا ذکر مناسب نہ ہوگا۔‘‘
اس سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ اتحاف کے علاوہ موجودہ آثار السنن میں بھی کچھ اضافے علامہ کشمیری کے شریک ہیں لیکن وہ بہت زیادہ نہیں ہیں، اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت نیموی کا اپنا کوئی مقام نہیں تھا، کیوں کہ اس کے باوجود علامہ کشمیری ان سے جس طرح متاثر رہے اس کا اندازہ ان کے دو قصیدوں کے علاوہ ان کے تلامذہ کے مذکورہ بالا بیانات سے بھی کیا جا سکتا ہے جو اوپر گذر چکے ہیں۔ اور آثار السنن ہی وہ تصنیف ہے جس کی وجہ سے وہ حضرت نیموی سے متاثر ہوئے تھے۔
آثارالسنن کے ایڈیشن
آثار السنن کی پہلی جلد یعنی کتاب الصلاۃ حضرت نیموی نے تقریبا ۱۳۱۳ھ تک مکمل کر لی تھی جیسا کہ اوپر گذر چکا، لیکن انہوں نے اہلِ علم سے رائے لینا بھی شاید مناسب سمجھا ہوگا اور شاید اشاعت کے وسائل بھی نہ ہوں، اس لئے انہوں نے تبیان التحقیق کے نام اس اہم مباحث چند ورق میں شائع کئے تاکہ اہلِ علم رائے دے سکیں۔ اس کے بعد تقریباً پانچ سال کے بعد ۱۳۱۹ھ میں اس کی پہلی جلد احسن المطابع پٹنہ سے شائع ہوئی۔ مولانا فوقانی نے اسی سنہ کا ذکر کیا ہے،23 مکمل کتاب ایک ساتھ چھپنے کے مصارف نہیں تھے اس لئے اس کو دو حصوں میں کر کے پہلی جلد شائع کر دی گئی۔ اسی سال ان کا بنگال کا سفر ہوا تو نواب ڈھاکہ نے واپسی میں کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہا، حضرت نیموی نے ان سے عرض کیا کہ مجھے ہدیہ پیش کرنے کے بجائے آپ میری آثار السنن کا دوسرا حصہ چھپوا دیں، انہوں نے اس کا وعدہ کیا۔24 چنانچہ ۱۳۲۱ھ میں دوسرا حصہ بھی شائع ہوگیا، لیکن رئیس ڈھاکہ کی طرف سے نہیں، اس کی وضاحت آگے آئے گی۔25 اسی کے ایک سال کے بعد حضرت نیموی کی وفات ہوئی۔
آثار السنن کی طباعت کے متعلق مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے اطلاع فراہم کی ہے، اور تلاش و تحقیق کے بعد تمام طباعتوں اور ایڈیشنوں کا جائزہ لیا ہے۔ چنانچہ ان کے مطابق آثار السنن کی پہلی جلد کی اشاعت ۱۳۲۱ھ میں احسن المطابع پٹنہ ہی سے ہوئی، لیکن یہ درست نہیں، یہ دوسری جلد کا سنہ اشاعت ہے۔ اس کو عبدالقادر مالک مطبع نے مصنف کی نگرانی میں عابد حسین سے کتابت کروا کر شائع کیا، اس میں طباعت کے اخراجات خود مصنف نے کسی اور کے تعاون سے ادا کئے تھے، وہ رقم اتنی نہیں تھی کہ پوری کتاب چھپ پاتی تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، شاید اسی کی وجہ سے انہوں نے نواب ڈھاکہ سے دوسری جلد کی اشاعت کی گذارش کی تاکہ وہ کتاب چھپ سکے جیسا کہ انہوں نے اپنے سفرنامہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ پہلی جلد کی اشاعت میں کوٹلی لوہاران ضلع سیالکوٹ (پنجاب پاکستان) کا مالی تعاون شامل تھا۔
اس میں علامہ نیموی نے جو اشتہار شائع کیا تھا وہ بہت اہم ہے اس لئے مکمل یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’واضح ہو کہ کئی برس سے یہ کتاب آثار السنن مع تعلیقات زیر تالیف ہے، چوں کہ اکثر احادیث کی تحقیق و تنقید میں محنتِ شاقہ ہوتی ہے اور مؤلف اس اثناء میں اکثر علائقِ گوناں گوں و عوارضِ مختلف میں مبتلا رہا، اس وجہ سے اس کتاب کی تالیف کا سلسلہ ہنوز آخر کتاب الصلاۃ سے نہیں بڑھا ہے، پیشتر مؤلف کا قصد تھا کہ پوری جلد اول کتاب الصلاۃ تک چھپوا کر شائع کی جائے مگر بوجہ کثرتِ مخارج و قلتِ مداخل زیور طبع کا پورا بندوبست نہ ہو سکا۔ آغازِ طبع میں دو ایک بار قیمت پیشگی کا اشتہار بھی دیا گیا تھا مگر اس کا نتیجہ بہت ہی کم ظاہر ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد بعض مصالح کی وجہ سے یہ معاملہ نظر انداز کر کے جن کی قیمت پیشگی آئی تھی ان کو واپس کر دی گئی۔
بعض بعض حضرات خیر اندیشانِ مذہب نے اس کے طبع میں مالی اعانت بھی فرمائی۔ مگر وہ رقم چند اجزا کے لئے کافی تھی اور اس ضخیم کتاب کے چھپوانے میں زرکثیر درکار تھی، اس لئے مؤلف کا قصہ ناتمام ہی رہا، اور ادھر اکثر علماء زمانہ نے اپنا بے حد اشتیاق ظاہر فرما کر سخت تقاضا کرنا شروع کیا، ناچار جلد اول کے دو حصے کر کے حصہ اول جس میں اکثر ابواب کتاب الصلاۃ اور معرکۃ الآرا مباحث درج ہیں شائع کیا جاتا ہے۔‘‘
اس کا عربی خاتمہ حسبِ ذیل ہے، جو پہلی جلد کے اختتام پر فہرست سے پہلے حاشیہ پر ہے:
خاتمۃ الطبع
الحمد للہ علی آلائہ والصلاۃ والسلام علی خیرانبیائہ، اما بعد فقد طبع الجزء الاول من الکتاب المستحسن الذی ہو من ابکارالمنن المسمی بآثارالسنن مع ما یتعلق بہ من التنقید والتحقیق المسمی بالتعلیق الحسن وتعلیق التعلیق علی ذمۃ المتمسک بذیل الاکابر ذی المعالی والمفاخر المولوی محمد عبدالقادری بالمطبعۃ القاردیۃ المسماۃ باحسن المطابع الواقعۃ فی عظیم آباد وحفظہا اللہ تعالی عن الفتن والفساد بحظ المتوسل بشفاء رسول الثقلین عابد حسین صانہ اللہ عن شقاوۃ الدارین وغفر لہ ولوالدیہ بحرمۃ سیدالحرمین، وذلک فی اواخر شہر رمضان الذی تنزل فیہ الرحمۃ والغفران 1319 من الہجرۃ النبویۃ علی صاحبہا ازکی السلام واتم التحیۃ۔
اس کے بعد دوسرا حصہ فورًا نہیں چھپ سکا بلکہ شاید ایک سال کے بعد چھپا، اس میں گذشتہ تحریر کے ساتھ حسبِ ذیل تحریر تھی:
’’خدائے پاک کا ہزار شکر ہے کہ جب آثار السنن کا پہلا حصہ چھپ کر شائع ہوا اور اہلِ علم کی نظر سے گذرا تو اکثر علمائے نامدار نے نہایت تعریف و توصیف کے خطوط لکھ کر مؤلف کی ہمت بڑھائی، بلکہ بہت سے اہلِ علم نے یہ لکھا کہ اگر یہ کتاب آخر ابواب الصلاۃ تک چھپ جائے تو مدارس میں داخلِ درس کر دی جائے۔ پھر دوسرے حصہ کے اشتیاق میں برابر خطوط آتے رہے، مگر اس کی اشاعت میں حد سے زیادہ تاخیر ہوئی، سبب یہ کہ، مؤلف امسال مختلف امراض میں بہت بیمار رہا، حصہ اول کے جس قدر نسخے فروخت ہوئے ان کی قیمت معالجہ اور ذاتی اخراجات میں صَرف ہوتی گئی، اور کوئی دوسرا سامان اس کے طبع کا نہ ہو سکا، سن گذشتہ میں رئیس ڈھاکہ نے اس کے چھپوا دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ایفائے وعدہ کی طرف توجہ نہیں فرمائی، غرض کہ مہینوں یہ حصہ عدمِ سامانِ زیورِ طبع کی وجہ سے اور مؤلف کی علالت کے سبب پڑا رہا، آخر تحریک بعض اکابر اہلِ فضل و عمائد ارباب دین حضرات دربھنگہ نے چندہ کر کے اس کے طبع میں کامل اعانت فرمائی۔ جن کی ہمت عالیہ کی وجہ سے آج یہ دوسرا حصہ بھی بفضلہ تعالیٰ چھپ کر منظر افروز عالم ہوتا ہے۔
مؤلف نے حصہ اول کے ٹائٹل پیج کے اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ جن حضرات نے اس طبع میں اعانت فرمائی ہے ان کے نام نامی شکریہ کے ساتھ دوسرے حصے میں درج کئے جائیں گے، مگر یہ مضمون دیکھ کر اکثر معاونین نے تحریر فرمایا کہ جب حسبتہ للہ اس کے طبع میں مدد کی گئی ہے تو نام درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا مؤلف ان حضرات کے نام نامی درج کرنے سے مجبور رہا، مگر اتنا لکھنا غیر مناسب نہیں کہ جس طرح یہ دوسرا حصہ حضرات دربھنگہ کے زر چندہ سے چھپا ہے، پہلا حصہ بیشتر حضرات کوٹلی لوہاران ضلع سیال کوٹ کی اعانت سے بتوجہ منشی محمد صادق صاحب مستری چھپا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرات معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے دینی و دنیاوی مقاصد دلی بر لائے۔ آمین ثم آمین۔ کتبہ النیموی کان اللہ لہ۔‘‘
اس پہلے ایڈیشن کے بعد دوسرا ایڈیشن مؤلف کے فرزند مولانا عبد الرشید فوقانی نیموی کی نگرانی و اہتمام میں شائع ہوا، اس کی پہلی جلد مطبع قیومی کانپور میں شائع ہوئی تھی۔ یہ اشاعت راقم کی نظر سے نہیں گذری، نہ تلاش کے باوجود دستیاب ہو سکی، مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی اطلاع کے مطابق یہ پہلی اشاعت کا عکس تھی اس لئے غلطیاں رہ گئی تھیں، چنانچہ شروع میں تیرہ صفحات کا اغلاط نامہ لگایا گیا، اور علامہ انور شاہ کشمیری کے قصائد میں سے صرف ایک قصیدہ شامل کتاب کیا گیا، دوسرے کو چھوڑ دیا گیا۔ اس پر سنہ طباعت نہیں ہے۔ مفتی صاحب کے بقول اس طباعت کے ہر صفحہ پر اوسطاً پانچ غلطیاں ہیں۔26 اسی وجہ سے دوسرا حصہ اصح المعابع لکھنؤ سے شائع ہوا۔
دوسرا حصہ ۱۳۴۴ھ میں مطبع اصح المعابع لکھنؤ سے چھپ کر شائع ہوا تھا، یہ راقم کے پیش نظر ہے، اس کا خاتمہ حسبِ ذیل ہے:
الحمد للہ الملک العزیز العلام والصلاۃ والسلام علی رسولہ خیرالانام وآلہ واصحابہ البررۃ الکرام اما بعد فقد طبع الجزء الثانی من الکتاب المستحسن الذی ہو من ابکارالمنن المسمی بآثارالسنن مع ما یتعلق بہ من التعلیقات للعلامۃ الاجل والمحدث الاکمل الفاضل القمقمام الذی تاریخ ولادتہ ظہیرالاسلام (1278ھ) محمد بن علی المکنی بابی الخیر المدعو بظہیر احسن النیموی الظیم آبادی رحمہ اللہ ذوالایادی باصح المطابع الواقع فی لکنو فی شہر ذی الحجۃ سنۃ 1344 من الہجرۃ النبویۃ علی صاحبہا ازکی السلام والتحیۃ۔
شاید اسی ایڈیشن پر ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ) مارچ ۱۹۲۲ء کے شمارہ میں مطبوعات جدیدہ کے ذیل میں آثار السنن کے نئے ایڈیشن کا تعارف ہے، گرچہ تبصرہ نگار کا نام درج نہیں ہے لیکن اغلب ہے کہ وہ علامہ سید سلیمان ندوی ہی کے قلم سے ہوگا۔ لکھتے ہیں:
’’مولانا محمد بن علی شوق نیموی عظیم آبادی مرحوم ہمارے ان علمائے متاخرین میں تھے، جن میں ہمارے علمائے متقدمین کے کارناموں کی جھلک پائی جاتی تھی۔ مولانا مرحوم غالی حنفی تھے، ان کا خیال تھا کہ چوں کہ علمائے احناف نے فقہ کے باعتبار حدیث کی طرف کم توجہ کی، اس لئے عام طور پر نوجوانوں کو حنفی مسائل زیادہ تر حدیث کے مخالف معلوم ہوتے ہیں، اسی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر وہ آثار السنن کے نام سے کئی جلدوں میں ایک مجموعہ حدیث مرتب کرنا چاہتے تھے، جس سے حنفی مسائل کی صحت اور آثار و سنن سے ان کا ماخذ معلوم ہو۔ مرحوم اس مجموعہ کے صرف دو حصے مرتب کر سکے تھے کہ وفات پائی۔ یہ مجموعہ متعدد حیثیات سے قابلِ قدر ہے، فقہی ابواب پر اس کی ترتیب ہے، اور حنفی مسائل کی موید حدیثیں ان میں درج ہیں، جابجا احادیث پر نقد بھی ہے، اور فقہاء و محدثین کے مذاہب بھی بتلائے ہیں۔ پتہ رحمانیہ پریس مونگیر‘‘۔
تیسری اشاعت غالباً دارالاشاعت اسلامیہ کولو ٹولہ کلکتہ سے ۱۳۷۶ھ میں ہوئی اور پھر یہی طباعت عام رہی، اس کے بعد مکتبہ رحیمیہ دیوبند نے ایک ایڈیشن شائع کیا، جس میں کوئی خاص کام نہیں ہے، بلکہ انہی تمام اغلاط کے ساتھ جو سابقہ ایڈیشنوں میں موجود تھے یہ کتاب چھپتی رہی۔
پاکستان کے مختلف مدارس میں یہ کتاب زیرِ درس رہی، اس لئے اس پر متعدد علمی کام منظر عام پر آئے، چنانچہ ایک ایڈیشن مکتبہ امدادیہ ملتان سے مولانا فیض احمد استاد حدیث قاسم العلوم ملتان کی تحقیق سے شائع ہوا، لیکن اس میں علامہ نیموی کے حاشیہ تعلیق التعلیق کو حذف کر دیا ہے، اس کے علاوہ اس میں کئی اغلاط ہیں جن پر مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ بعد میں جو ایڈیشن شائع ہوئے ان میں کچھ نہ کچھ اضافہ حواشی تھے اس لئے ان کا تذکرہ آثارالسنن پر علمی کام کے ذیل میں کیا گیا ہے۔
بہرحال ان تمام کوششوں کے باوجود ایک علمی و تحقیقی متن مطابق اصل مصنف کا کام اب بھی باقی اور ایک علمی قرض ہے۔
حواشی
- مقالات الکوثری بحوالہ تفہیم السنن
- درس آثار السنن بنوری ٹاؤن کراچی، ص ۱۰
- تفہیم السنن، ص ۸۴
- علامہ شوق نیموی حیات وخدمات، ص ۲۶۱
- القول الحسن ضمیمہ
- ہندوستانی مسلمان، ص ۵۰
- القول الحسن ص ۲۳
- تفہیم السنن، ص ۹۳
- حیاتِ نعمانی از مولانا عتیق الرحمٰن لکھنؤ ۲۰۱۴ء
- القول الحسن ص ۳۱۔ مفتی ثناء الہدیٰ صاحب نے دوسرا حصہ کے سنہ اشاعت کو پہلے کا سنہ اشاعت لکھا ہے، جب کہ جلد اول میں خود خاتمہ طبع موجود ہے۔
- سیر بنگال، ص ۲۳
- حوالہ سابق
- تفہیم السنن ۱۔ ص ۹۸
(جاری)
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
علمِ کلام قصۂ پارینہ نہیں، بلکہ عصری الحاد نے اِس کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ فلسفۂ یونان تو اب از کارِ رفتہ ہو چکا، لیکن سائنسی تھیوریز اور نئے فلسفوں نے مابعد الطبیعیات (Metaphysics) جیسے خالص مذہبی حدود میں مداخلت شروع کی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اب تک جسے پرائیویٹ معاملہ کہا جاتا تھا، ایمان کا وہی ذاتی نہاں خانہ ابھی الحاد و تشکیک کے حملوں کی زد میں ہے۔ لاادریت (اگناسٹس ازم) تشکیک پر اکتفا کرتی ہے اور خدا کے وجود یا عدمِ وجود کے سوال کو کھلا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ لوگ اشیاء کے تمام حقائق میں قدیم سوفسطائی لاادریہ نہ سہی، خدا کے وجود یا عدمِ وجود سے متعلق ہوبہو لاادریہ کا موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ مُلحدین اِس مادِّی کائنات (یعنی زمان و مکان کے دائرے) سے باہر کسی بھی چیز بشمول خدا کے وجود کے منکر ہیں، شعور سے عاری نیچرل پراسس کو ہر چیز کا خالق ہونے کا رُتبہ عطا کرتے ہیں، جس سے قدیم کلام ہرگز غیر متعلق نہیں، بلکہ یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہے کہ یہ سارا نیچرل پراسس تمہارے نزدیک مادہ کے لئے علت ہوا، اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ وہی ارسطو کا اشیاء میں علت و معلول کا نظریہ ہے۔
اِس لئے ہم بالکل اُسی طرح سب سے پہلی علت (First Cause) کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں گے کہ سب سے پہلے ہونے والا نیچرل پراسس کیسے ہوا تھا؟ "قدرتی قوانین" خود کیسے اور کیوں موجود ہیں؟ کیا وہ بذاتِ خود وجود رکھتے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جو سائنس کی حدود سے باہر ہیں اور ان کا تعلق فلسفہ اور مذہب سے ہیں۔ سائنس صرف "کیسے" (how) کا جواب دیتی ہے، "کیوں" (why) کا نہیں، لیکن اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ سائنس کچھ کہہ نہیں پاتی، زمان و مکان سے باہر کسی بھی چیز بشمول خدا کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہ عجیب سائنس ہے کہ خود بھی زمان و مکان سے باہر کوئی چیز معلوم نہیں کر سکتی، اور کسی دوسرے معتبر ذریعہ (وحی) سے کچھ معلومات حاصل ہوں، تو زمان و مکان میں موجودگی کے لئے جو شرائط (Tools and Principles) ہیں، زمان و مکان سے ماوراء چیزوں میں وہ نہ ہونے کی وجہ سے انکار کیا جائے۔ ایسی بھونڈی دلیل کو قدیم کلام میں قیاس الشاہد علی الغائب کہتے ہیں۔
زمان و مکان سے باہر رہتے ہوئے زمان و مکان میں مؤثر رہنے کو کوانٹم فزکس، سائنس اور کامن سینس کی کئی مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔
- ایک ڈرون اپنی حرکت اور زمان و مکان کے لحاظ سے مکمل طور پر اِس مادّی کائنات کا حصہ ہے اور فزکس کے معلوم قوانین کا پابند ہے، لیکن اس ڈرون کا حاکم ایک آپریٹر ہوتا ہے جو خود ڈرون کے زمان و مکان کے دائرے سے باہر (یعنی زمین پر یا کسی دوسرے مقام پر) موجود ہوتا ہے۔ آپریٹر ڈرون کے لیے ایک مابعد الطبیعیاتی (Metaphysical) ہستی کی طرح ہے، کیونکہ وہ ڈرون کے چلنے کے لیے ضروری مادی شرائط (Tools & Principles) کا پابند نہیں ہے۔ آپریٹر کا ذہن، شعور اور ارادہ ڈرون کو ہدایات دیتا ہے، لیکن آپریٹر خود ڈرون کے گرنے، تباہ ہونے یا اس کے کسی بھی مادّی انجام سے براہ راست متاثر نہیں ہوتا۔
- آئن سٹائن کی نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق مادّی دنیا میں زمان و مکان (Space-time) کوئی مطلق شے نہیں ہیں، بلکہ یہ مشاہدہ کرنے والے فریم آف ریفرنس کے لحاظ سے اضافی ہیں اور مختلف فریمز میں ان کا وجود مختلف ہے، تو عقلی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام اضافی فریمز اور ان کے زمان و مکان کے نظاموں کے لیے کوئی غیر اضافی، مطلق اور ان سب سے ماوراء ہستی موجود نہیں ہو سکتی؟ اگر ایک فریم آف ریفرنس میں وقت سست ہو جاتا ہے اور دوسرے میں تیزی سے گزرتا ہے، تو ان تمام فریموں کو وجود دینے والی ہستی مطلق وقت (Absolute Time) اور مطلق مکان (Absolute Space) سے ماوراء کیوں نہیں ہو سکتی، جو تمام زمان و مکان کے نظاموں سے باہر ہو۔
- انسان کا "اندرونی نفس" (روح/شعور) مادّی دنیا (زمان و مکان) میں ایک الگ سے قابلِ مشاہدہ وجود نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود، انسان اس مادّی جسم کے اندر غصہ، محبت، بھوک، پیاس، درد اور خوشی جیسی غیر مادّی کیفیات کو محسوس کرتا ہے۔ یہ کیفیات مادّی جسم کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن خود مادّی طور پر ناپنے یا قید کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ کہ مادّی وجود (جسم) کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی شعور اور جذبات حقیقت رکھتی ہیں اور مادّی دائرے کے اندر فعال ہو سکتی ہیں۔ اگر انسان کی مادّی کائنات کے اندر ہی غیر مادّی حقیقت کا وجود ممکن ہے، تو پھر تمام کائنات سے باہر غیر مادّی، مطلق اور لازمی وجود (واجب الوجود) کا تصور کسی طرح بھی عقلی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
اِس سارے قضیے سے واضح ہے کہ سائنس کی دوڑ قوانینِ فطرت (Natural Process) تک ہے۔ اور کوئی ذی شعور کبھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ قوانین (Laws of Nature) آپ سے آپ وجود میں آئے ہیں، اس لئے ایک اوّلین سبب ضرور ہے جس نے انہیں بنایا اور باقاعدہ انداز میں چلایا ہے۔ علمِ کلام کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگر ہر چیز کا ایک سبب ہے اور اس سبب کا بھی ایک سبب ہے، تو اس طرح کا لامتناہی سلسلہ (Infinite Regress) چلانا منطقی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے ایک ایسے غیر مسبب سبب (Uncaused Cause) کا ہونا ضروری ہے جو خود سے موجود ہو اور تمام کائنات کا سبب بنے۔ اس غیر مسبب سبب کو خدا کہتے ہیں۔ یہ دلیل کسی خلا کو نہیں بھرتی، بلکہ کائنات کے وجود کے بنیادی سوال کا جواب دیتی ہے۔ ارسطو، ابنِ سینا، الكندی اور ایکویناس (Aquinas) نے اس ہستی کی موجودگی کے بارے میں خیالات پیش کیے۔ ارسطو نے منطقی توجیہات سے دلائل پیش کر کے اُسے "اٹل قوت یا محرک اعظم" (Supreme First Cause) کہا۔ تھامس ایکویناس، ابن سینا اور الکندی ارسطو کی اس بات سے متفق ہیں کہ کسی چیز کو لازماً کائنات کی موجودگی کی وضاحت کرنا ہے۔ ارسطو بنیادی طور پر یہ ثابت کرتا تھا کہ ہر موجود چیز کے لئے ایک علت یا سبب کا ہونا لازم ہے۔ آئن سٹائن کا یہ قول مشہور ہے کہ "جب میں ٹوسٹ کا ایک ٹکڑا دیکھتا ہوں تو جانتاہ وں کہ کہیں ایک ٹوسٹر بھی ہے۔" اِس کا لازمی نتیجہ ہے کہ تمام موجودات کا ایک موجِد (Creator) ہے۔ اسی غیر مسبب سبب (Uncaused Cause) کو ہم "خدا" کہتے ہیں۔ دلیلِ حدوث (Cosmological Argument) ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں، جس کی رو سے ہر چیز کے وقوع (یعنی اثر effect) کے لیے ایک عِلَّت (وجہ؛ cause) کا ہونا ضروری ہے-
ملحدین ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ اگر ہر چیز کا سبب ہوتا ہے، تو خدا کا سبب کون ہے؟ یہ اعتراض دراصل اس دلیل کی بنیادی منطق کو نظر انداز کرنے اور دلیل کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ دلیل یہ نہیں کہتی کہ ہر چیز کا سبب ہوتا ہے، بلکہ یہ کہتی ہے کہ "ہر وہ چیز جو وجود میں آئی ہے" اس کا سبب ہوتا ہے۔ خدا ایک ایسی ہستی ہے جو کبھی وجود میں نہیں آئی بلکہ ازل سے موجود اور خود سے قائم ہے۔ اس طرح، اس پر سبب کی شرط لاگو ہی نہیں ہوتی۔
آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق، وقت اور جگہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کائنات کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی وجود میں آئے۔ اسی لیے، سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ وقت اور جگہ بگ بینگ کے ساتھ ہی شروع ہوئے۔ اس نظریے کے مطابق وقت اور جگہ سے پہلے کوئی وقت یا جگہ موجود ہی نہیں تھی۔ اِسی کو علمِ کلام میں عدم کہتے ہیں اور یہ کائنات "عدم" سے وجود میں آئی ہے، اور یہ "عدم" کوئی خالی جگہ، وقت یا کسی اور جہان کا نام نہیں ہے۔ سائنس صرف ان چیزوں کا مطالعہ کرتی ہے جو موجود ہیں۔ بگ بینگ کے نظریے کے مطابق، کائنات ایک بہت ہی گرم، کثیف اور چھوٹی حالت سے شروع ہوئی۔ اس نظریے کے مطابق، کائنات کا آغاز ایک ایسے لمحے سے ہوا جسے ہم "سنگولیریٹی" (Singularity) کہتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں وقت، جگہ اور مادہ کی موجودہ فزکس کے قوانین کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اس سنگولیریٹی سے پہلے کیا تھا؟ سائنس اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی۔ کیونکہ وقت اور جگہ بذاتِ خود اس سنگولیریٹی کے ساتھ ہی وجود میں آئے۔ لہٰذا، "پہلے" کا لفظ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر وقت نہیں تھا تو "پہلے" کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس لیے سائنس بگ بینگ سے پہلے کے بارے میں خاموش ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ پوچھیں کہ شمالی قطب سے ایک کلومیٹر شمال میں کیا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیں، کیونکہ "شمالی قطب" کی تعریف ہی یہ ہے کہ یہ زمین کا سب سے شمالی نقطہ ہے۔ اسی طرح، بگ بینگ سے پہلے وقت کا وجود سائنسی طور پر ناممکن ہے، کیونکہ بگ بینگ ہی وقت کا آغاز تھا۔
تھوڑی دیر کے لئے یہ جائزہ بھی لیا جائے کہ علمِ کلام میں جس عدم سے کائنات کا آغاز ثابت کیا جاتا ہے، اُس "عدم" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی خالی جگہ تھی جس میں کچھ نہیں تھا۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کے مطابق زمان و مکان؛ مادہ اور توانائی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر مادہ اور توانائی نہیں تھے، تو زمان و مکان کا وجود بھی نہیں تھا۔ اس لیے، یہ کہنا کہ کائنات ایک حقیقی معنوں میں "کچھ نہیں" سے وجود میں آئی، سائنسی طور پر اس لیے درست ہے کہ اس سے پہلے مادہ، توانائی، وقت یا جگہ کسی کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔
جب ہم "عدم" کی بات کرتے ہیں، تو یہ کوئی فزیکل جگہ یا چیز نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں کوئی بھی چیز موجود نہیں ہے۔ کوئی خالی ڈبہ نہیں، کوئی خالی خلا نہیں، کوئی وقت نہیں، اور کوئی دوسرا جہان بھی نہیں۔ یہ تمام تصورات وجود کے دائرے میں آتے ہیں۔ اگر ہم کوئی بھی خالی جگہ یا وقت تصور کرتے ہیں تو ہم دراصل کسی نہ کسی وجود کا تصور کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ انسانی عقل ہر شے کو زمان کے پیرائے میں تصور کرنے کی عادی ہے، لیکن جو معیارات اور تکنیکی ڈھانچہ (Framework) خدا کے علاوہ چیزوں کے لئے ہیں، سبحان اللہ کا یہی مطلب ہے کہ خدا کی ذات اُن سے پاک اور وراء الوریٰ ہے ۔ لہٰذا متکلمین زمان سے پہلے وجود کو غیر زمانی وجود کے طور پر منطقی طور پر (Logically) قابلِ تصور قرار دیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ زمان اور مکان صرف مخلوقات کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ابن تیمیہ اور دیگر متکلمین نے واضح کیا کہ زمان بذاتِ خود کوئی حقیقت نہیں، بلکہ مخلوقات کے تغیر، وقوع اور حرکت کی پیمائش ہے۔ اس نقطہ نظر سے قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang) یا زمان سے پہلے کے وجود کو انسانی عقل میں تصور کرنے کے لیے ہمیں زمان کے محدود تکنیکی ڈھانچے (Framework) سے آزاد ہونا پڑتا ہے۔
متکلمین کا مؤقف یہ ہے کہ اگر ہم خدا کی وجودی حقیقت کو صرف مادی یا زمانی معیار سے دیکھیں گے تو خدا کی شان کی ناقدری ہوگی۔ تاہم قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang) یعنی بگ بینگ سے پہلے کی حالت کو زمان کے پیرائے میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ "پہلے" اور "بعد" جیسے الفاظ بذاتِ خود ایک زمانی ترتیب کے متقاضی ہیں اور جب زمان موجود نہیں تو یہ ترتیب لاگو نہیں ہوتی، اس لیے اس حالت کو براہِ راست زمانی زبان (Direct Temporal Language) میں بیان کرنا غیر منطقی ہے۔ جدید فلسفہ یہاں یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ وجود بذاتِ خود زمان سے مشروط نہیں، بلکہ ایک منطقی اور وجودی (Ontological) حقیقت ہے، اور زمان محض ایک وضاحتی ڈھانچہ (Descriptive Framework) ہے جو انسان کے شعور کو شے کے وقوع اور تبدیلی کو سمجھنے کے لیے مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وجودِ قبل از بگ بینگ (Pre-Big Bang Existence) کو بھی منطقی طور پر (Logically) تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے انسانی شعور یا عام فہم (Common Sense) کے معمول کے زمانی وجدان (Temporal Intuition) کے مطابق نہیں سمجھا جا سکتا؛ یعنی ہم اسے "کب" یا "کتنی دیر" تک موجود تھا کے سوالات سے نہیں دیکھ سکتے بلکہ اسے ایک مستقل، غیر زمانی (Non-temporal) وجود کے طور پر ذہنی سطح پر ادراک (Grasp) کرتے ہیں۔
اس تناظر میں وجود کی یہ حالت ایسی ہے جو وقت کی کسی قسم کی ترتیب یا تبدیلی کے بغیر اپنی حقیقت رکھتی ہے، اور انسانی زبان و تصور کی حدود کی وجہ سے ہم اسے براہِ راست تجربے (Direct Experience) یا تصور میں مکمل نہیں لے سکتے، مگر منطقی اور فلسفیانہ سطح پر یہ مربوط (Coherent) اور جائز تصور ہے، اور جدید فلسفہ (Modern Philosophy) میں یہی دلیل دی جاتی ہے کہ زمان کے بغیر بھی وجود (Existence) کا تصور مکمل طور پر ممکن ہے، کیونکہ وجود کو زمان میں باندھنا انسانی ادراکی ساخت (Cognitive Structure) کی عادت ہے، حقیقت کی شرط نہیں۔
لیکن عقل اور منطق ہمیں یہ سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے کہ وجود کا اصل معیار وجود بذات خود ہے، نہ کہ زمان میں وقوع۔ اس لیے خدا کی ازلیت، سرمدیت اور غیر زمانی وجود (Non-temporal Existence) کو عقلی طور پر جائز اور مربوط (Coherent) سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ زمان سے ماوراء وجود کو ہمارے عام زمانی زمروں (Ordinary Temporal Categories) میں نہیں پرکھا جا سکتا۔ یہ ایک نوعی فرق (Category Distinction) ہے۔ انسانی شعور جو زمانی تسلسل (Temporal Sequence) میں سوچتا ہے، اسے خدا کی غیر زمانی حقیقت کو سمجھنے (Grasp) کے لیے مجرد استدلال (Abstract Reasoning) اور عقلی استخراج (Deduction) کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
لا ادری (Agnostic) مفکرین اس مقام پر یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ ممکن ہے موجودہ طبیعیات (Physics) کے قوانین حتمی اور مکمل نہ ہوں۔ بعید نہیں کہ مستقبل میں کوئی ایسا نظریۂ طبیعیات (Theory of Everything) سامنے آئے جو بگ بینگ سے ماقبل کسی حالتِ کائنات (Pre-Big Bang State) کی وضاحت کر سکے۔ چنانچہ وہ اس بنیاد پر وجودِ باری تعالیٰ پر استدلال کو عارضی سائنسی علم پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ بظاہر یہ اعتراض علمی انکساری (Epistemic Modesty) کا مظہر ہے، لیکن تحقیق کی کسوٹی پر یہ موقف خود داخلی تضاد/خود تردیدی (Self-defeating) کا شکار ہو جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سائنسی طور پر، بگ بینگ ہی زمان و مکان کا مبدا ہے۔ اس سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا۔ فلسفیانہ طور پر، اس مطلق عدم (Absolute Nothingness) سے کسی چیز کا وجود میں آنا ایک منطقی تناقض ہے، جب تک کہ کوئی ایسا وجود نہ ہو جو خود سے موجود ہو اور اس کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہ ہو۔ وہ منفرد ذریعہ علم وحی ہی ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ "کچھ نہیں سے کچھ کیوں موجود ہے؟"۔ ملحدین اگر پھر بھی مُصِر ہوں کہ عدم یا قوانینِ فطرت شعور سے خالی ہو کر بھی شعور و حیات کے خالق ہیں، تو اِس سفسطے کو دیوانے کا بھڑ ہی کہا جا سکتا ہے۔
لا ادری (Agnostics) یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہماری طبیعیات (Physics) کے قوانین نامکمل ہوں اور کوئی ایسا نظریہ ہو جو بگ بینگ سے پہلے کے وقت کی وضاحت کرے۔ اس کے کچھ نظریاتی ماڈل موجود ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سائنسی شواہد سے ثابت نہیں ہے۔ مثلاً:
- دوری کائنات (Cyclic Universe): اس نظریے کے مطابق کائنات بگ بینگ اور بگ کرنچ (Big Crunch) کے درمیان چکر لگاتی رہتی ہے، جس میں ایک کائنات کا بگ کرنچ (Big Crunch) دوسری کائنات کے بگ بینگ کو جنم دیتا ہے۔
- کثیر کائنات (Multiverse): اس نظریے میں ہماری کائنات بہت سی کائناتوں میں سے ایک ہے اور بگ بینگ کسی بڑی، پہلے سے موجود "ماں کائنات" میں ہوا تھا۔
ان نظریات کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف مفروضے (Hypotheses) ہیں اور ان کو ثابت کرنے کے لیے کوئی تجرباتی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس، بگ بینگ کے نظریے کی حمایت میں ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں، جیسے کہ:
- کائناتی مائیکرو ویو پس منظر (Cosmic Microwave Background): کائنات کے ابتدائی لمحوں کی ایک 'بازگشت' جو آج بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔
- ہبل کا قانون (Hubble's Law): یہ مشاہدہ کہ تمام کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، جو کہ ایک ابتدائی پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
- عناصر کا تناسب: کائنات میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کا تناسب بھی بگ بینگ کے ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے۔
لہٰذا، جب تک یہ متبادل نظریات سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوتے، بگ بینگ ہی سب سے قابل قبول سائنسی وضاحت ہے۔ خلاصہ یہ کہ سائنسی نقطہ نظر سے، بگ بینگ سے پہلے وقت یعنی زمان و مکان (Space & Time) کا سوال ہی غلط ہے، کیونکہ وقت بذاتِ خود بگ بینگ کے ساتھ ہی وجود میں آیا۔ اس سے آگے کی کوئی بھی بات سائنس کی بجائے فلسفہ اور قیاس آرائی (Speculation) کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
ذہین ڈیزائن
تعارف
باب 2 میں ہم نے اختصار کے ساتھ ذہین ڈیزائن (Intelligent Design: ID) کی تحریک کا جائزہ لیا تھا اور دیکھا تھا کہ یہ دیگر مسیحی ردِعمل،یعنی ینگ ارتھ کری ایشنزم، اولڈ ارتھ کری ایشنزم، اور تھی اسٹک ایوولیوشن، کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے۔ باب 4 میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض مسلم مفکرین، مثلاً مظفر اقبال اور ہارون یحییٰ، آئی ڈی کے بیانیے کی تائید کرتے ہیں۔ یہ دونوں مائیکل بیہی کے حوالے دیتے ہیں، اور بعض مواقع پر اسے ارتقا کے مقابل ایک واحد الٰہیاتی متبادل کے طور پر اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ ارتقا کو ایک لادینی یا مادّیاتی نظریہ سمجھنا ہے، یا پھر نیو-ڈارونیت میں تصادف کے تصور کو پریشان کن خیال کرنا ہے۔ باب 6 میں یہ استدلال پیش کیا گیا کہ طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم کے تحت بھی خدا کے لیے ارتقائی عمل کی تدبیر اور رہنمائی ممکن رہتی ہے، اور تصادف سوائے مضبوط وجودی اتفاق کےنظریہ اوکیژنل ازم کے تحت مسئلہ نہیں بنتا۔ مزید یہ کہ باب 6 میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ارتقا بذاتِ خود نہ تو لامذہب ہے اور نہ ہی لازماً نیچرل ازم پر مبنی۔ جب الحاد، نیچرل ازم اور ارتقا کے درمیان لازمی انحصار کو غلط ثابت کر دیا گیا، تو اب ضروری ہے کہ آئی ڈی کو اس کی اپنی بنیاد پر پرکھا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ آیا یہ نظریہ لازماً الٰہیاتی ہے یا نہیں۔ اسی مقصد کے تحت یہ باب سائنسی اعتبار سے اور اشعری نقطہ نظر سے الٰہیاتی سطح پر آئی ڈی کی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ باب چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں چند ابتدائی نکات بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں مائیکل بیہی جو آئی ڈی کے حامی ہیں، کے پیش کردہ ایک خاص نوعیت کے استدلال کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے حصے میں اُن چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا سامنا آئی ڈی کو ارتقا کے سائنسی متبادل کے طور پر اعتبار حاصل کرنے میں ہے۔ چوتھا حصہ اشعری نقطہ نظر سے آئی ڈی کی عدمِ متعلقیت کو واضح کرتا ہے۔ اس باب میں استعمال ہونے والے متعدد مخففات کی وضاحت کے لیے انہیں اس جملے کے ساتھ منسلک نوٹ میں خلاصہ اور جدول کی صورت میں پیش کر دیا گیا ہے، مگر یہاں ترجمہ میں ہم یہ سب پیش کرنے سے بوجوہ قاصر ہیں۔ خواہش مند اصل کتاب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
ابتدائی نکات
آنے والی بحثوں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے تین ابتدائی نکات کا ذکر ضروری ہے۔ ان میں (1) ڈیزائن کے استدلال کی مختلف صورتیں، (2) زیریں سطح سے بالائی سطح (bottom-up) اور بالائی سطح سے زیریں سطح (top-down) کے زاویہ نظر میں فرق، اور (3) کونیاتی (cosmological) ڈیزائن/ڈیزائنر اور حیاتیاتی (biological) ڈیزائن/ڈیزائنر کے مابین امتیاز شامل ہیں۔ آئیے ان کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔
ڈیزائن کے استدلال کی مختلف پیشکشیں
اولاً ڈیزائن کے استدلال منطقی طور پر عموماً دو طریقوں میں سے ایک کے تحت پیش کیے جاتے ہیں: (الف) تمثیلی استدلال، اور (ب) بہترین توضیح کی طرف استنتاج، جسے ابڈکشن (abduction) بھی کہا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک تمثیلی استدلال کی مثال ولیم پیلے William Paley کی معروف گھڑی کی تمثیل میں ملتی ہے (Nagasawa 2010, 71-73)۔ پَیلے گھڑی کو ایک مُصنَّع شے قرار دیتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اس کا ایک بنانے والا یعنی گھڑی ساز ہوتا ہے، پھر وہ اسی تمثیل کو کائنات میں پائی جانے والی بظاہر ڈیزائن شدہ خصوصیات پر منطبق کرتا ہے۔ اس کے مطابق، اگر کائنات میں ایسے عناصر موجود ہوں جو گھڑی کی طرح ڈیزائن شدہ ہوں، تو لازماً ان خصوصیات کا بھی کوئی ڈیزائنر ہونا چاہیے، جیسے گھڑی کا گھڑی ساز ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، ابڈکشن مختلف انداز سے کام کرتی ہے۔ اس طریقِ استدلال میں کسی مظہر کے لیے ممکنہ منظرناموں یا توضیحات کی نشاندہی کی جاتی ہے، پھر شواہد کے تدریجی اجتماع اور امکانوں کے اخراج کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون سی توضیح اس مظہر کی بہترین وضاحت کرتی ہے۔ ذہین ڈیزائن (ID) کے دلائل عموماً ابڈکٹیو قالب میں پیش کیے جاتے ہیں، جہاں حیاتیاتی پیچیدگی کی توضیح کے لیے ارتقا کی کفایت کو ایک ذہین ڈیزائنر کے تصور کے مقابل رکھا جاتا ہے، اور آئی ڈی کے حامیوں کے نزدیک مؤخر الذکر کو زیادہ برتر توضیح سمجھا جاتا ہے (189-225، Jantzen 2014)۔
بالائی سطح اور زیریں سطح کے درمیان فرق
دوسرے نکتے کے طور پر، ڈیزائن اور ڈیزائنر کو سمجھنے میں بالائی سطح (top-down) اور زیریں سطح (bottom-up) کے طریقِ کار میں امتیاز ضروری ہے۔ بالائی سطح کا طریقہ یہ دیکھتا ہے کہ کسی ڈیزائنر کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر وہ کیا بنا سکتا ہے اور کیا نہیں۔ مثال کے طور پر، فرض کریں کہ ایک معمار لکڑی کے گھروں کے ڈیزائن میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور اس کے سوا کسی اور مادّے میں کام نہیں کرتا۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتا ہے،یعنی معیاری لکڑی کے گھر بنانا، اور کیا نہیں کر سکتا مثلاً کنکریٹ کے گھر بنانا۔ اس کے برعکس، زیریں سطح کا طریقہ کار اس بات سے ڈیزائنر کی صلاحیتوں کا تعین کرتا ہے کہ کیا چیز ڈیزائن شدہ سمجھی جا رہی ہے۔ تصور کیجیے کہ دو میزیں ہیں جن کی پیچیدگی کی سطح ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے۔ ایک میز نہایت سادہ ہے، محض ہموار سطح اور چار سادہ پائے، اگرچہ اس کی تکمیل (finishing) عمدہ ہے۔ دوسری میز کہیں زیادہ شاندار ہے، اس کے پاؤں اور سطح پر نہایت نفیس نقش و نگار ہیں، اور اس میں متحرک حصے بھی موجود ہیں، مثلاً درازیں وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ ہر میز کے ڈیزائنر کے بارے میں ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ پہلی میز کی سادگی کی بنا پر، ڈیزائنر کے بارے میں جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ سادہ میزیں بنانے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہے۔ اس سے فطری طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس اتنا علم اور جسمانی ساخت موجود ہے کہ وہ ایسی میز بنا سکے، یہ معلومات قابلِ حصول ہیں۔ لیکن یہ باتیں معلوم نہیں کی جا سکتیں کہ آیا یہ ڈیزائنر کی پہلی میز ہے یا اب تک کی بہترین، یا یہ کہ اس کے بالوں کا رنگ کیا ہے۔ ممکن ہے وہ شخص فی الواقع ایک نہایت تخلیقی ڈیزائنر ہو اور کسی خاص موقع یا کسی بیماری وغیرہ، کی وجہ سے اس نے جان بوجھ کر ایک سادہ میز بنائی ہو۔
اس کے باوجود، جب ڈیزائنر کے بارے میں اس میز کے سوا کوئی اضافی معلومات دستیاب نہ ہوں اور محض میز کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے، تو ہم قطعی طور پر صرف یہی طے کر سکتے ہیں کہ وہ ایک سادہ ڈیزائنر ہے؛ اس کے علاوہ تمام قیاسات محض اندازے ہیں۔
البتہ دوسری میز کے ڈیزائنر کے بارے میں یہی بات نہیں کہی جا سکتی، کیونکہ اس کی کاریگری میں اضافی نفاست اور پیچیدگی پائی جاتی ہے۔ دوسری میز کا ڈیزائنر زیادہ باریک اور اعلیٰ درجے کی میزیں بنانے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میز سازی کی صلاحیتیں منسوب کرنا معقول معلوم ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات عقلی طور پر قابلِ قبول ہے کہ زیادہ نفیس میز کا ڈیزائنر سادہ میز بھی بنا سکتا ہے، کیونکہ زیادہ پیچیدہ کام کے لیے زیادہ مہارت اور بہتر کاریگری درکار ہوتی ہے؛ تاہم ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سادہ میز کا ڈیزائنر زیادہ نفیس میز بھی بنا سکے گا۔
اب تک ہم یہ فرض کرتے آئے ہیں کہ ڈیزائنر ایک انسان ہے، حالانکہ یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی میز کا ڈیزائنر ایک مشین ہو۔ چونکہ انسان اور مشین دونوں میزیں بنا سکتے ہیں، اس لیے اضافی معلومات کی عدم موجودگی میں دونوں امکانات قابلِ غور رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح نہیں کہ اس عمل میں ایک ڈیزائنر شامل تھا یا متعدد۔ ممکن ہے میز کے مختلف حصوں کی تیاری مختلف ڈیزائنرز نے کی ہو، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں انسان اور مشین دونوں کی مشترکہ کاوش شامل ہو۔ صرف میزوں کو بطور واحد دستیاب شہادت سامنے رکھ کر نہ تو ڈیزائنر کی شناخت یقینی طور پر متعین کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ اس عمل میں کتنے ڈیزائنرز شامل تھے۔ البتہ ہم قطعی طور پر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کم از کم ایک ڈیزائنر ضرور شامل تھا۔ جب تک میز بیچنے والا ہمیں یہ اطلاع نہ دے کہ میز انسان نے بنائی یا مشین نے، اور اس عمل میں کتنے افراد یا آلات شریک تھے، تب تک ہم ان امکانات کو واضح طور پر رد نہیں کر سکتے۔
بالائی سطح (top-down) اور زیریں سطح (bottom-up) کے طریقِ کار کے مابین یہ امتیاز، ذہین ڈیزائن (ID) کے الٰہیاتی تجزیے میں ہمارے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوگا۔
کونیاتی ڈیزائن بمقابلہ حیاتیاتی ڈیزائن
آخر میں، کونیاتی ڈیزائن (cosmological design) اور حیاتیاتی ڈیزائن (biological design) کے درمیان فرق کو سمجھنا مفید ہوگا (Stephen Barr 2003, 69-70)۔ کونیاتی ڈیزائن کے دلائل پوری کائنات کی خصوصیات کی بنیاد پر کسی ڈیزائنر کی طرف استنتاج کرتے ہیں۔ فائن ٹیوننگ (fine-tuning) کا استدلال یعنی یہ تصور کہ کائنات میں بعض طبعی مستقلات نہایت تنگ، زندگی کے لیے سازگار حدود کے اندر متعین ہیں، اسی نوعیت کی ایک نمایاں مثال ہے (Bruce Waller 2020)۔
اس کے برعکس، حیاتیاتی ڈیزائن ایسے استدلالات پر مشتمل ہے جو حیاتیاتی دنیا میں پائی جانے والی پیچیدہ خصوصیات کی بنا پر کسی ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ صرف اسی تک محدود نہیں، مگریہ میدان بنیادی طور پر ذہین ڈیزائن (ID) کے زیرِ بحث آتا ہے۔ اس فرق کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہر قسم کے استدلال سے اخذ ہونے والی ڈیزائنر کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ محض پیمانےکے فرق ہی کی بنا پر کائنات کے ڈیزائنر کو حیاتیاتی دنیا کے ڈیزائنر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے میز کے ڈیزائنر کی مثال میں دیکھا تھا۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ہر استدلال کے لیے ممکنہ ڈیزائنر امیدواروں کی معقولیت واضح ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک نہایت ترقی یافتہ خلائی مخلوق کا تصور کیجیے جو زمین پر حیات کے آغاز سے پہلے کسی اور سیارے پر وجود میں آ چکی ہو۔ ممکن ہے وہ زمین پر آ کر اس کی حیاتیاتی تاریخ میں مداخلت کرے، جس کے نتیجے میں آج نظر آنے والی حیاتی کیمیائی تنوع اور پیچیدگی وجود میں آئی ہو۔ اس صورت میں، انہیں بجا طور پر زمین کی حیاتیاتی دنیا کے ڈیزائنر کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، وہ لازماً کائنات کے ڈیزائنر کے منطقی امیدوار نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کا اپنا وجود کائنات (اس کے طبعی مستقلات اور قوانین) پر منحصر ہے۔
اگر کوئی ہستی کائنات کی ڈیزائنر ہو، تو اس میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ زمین پر پائی جانے والی حیاتیاتی پیچیدگی کو ڈیزائن کر سکے۔ اس فرق کی نشاندہی اس لیے ضروری ہے کہ اس سے کونیاتی ڈیزائنر (CD) اور حیاتیاتی ڈیزائنر (BD) کے درمیان منطقی تعلق واضح ہوتا ہے۔ CDمثلاً خدا، یا کوئی ایسی ہستی جو کثیر کائنات (multiverse) میں یا اس سے ماورا وجود رکھتی ہو، BD بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ لازم نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، BD کا وجود خود بخود CD کو مستلزم نہیں کرتا۔ یہ نکتہ نہایت اہم ہے اور مزید آگے ذہین ڈیزائن کے الٰہیاتی تجزیے میں اس کے نمایاں مضمرات سامنے آئیں گے۔
مائیکل بیہی کا نظریہ
ذہین ڈیزائن (ID) اس مقدمے پر قائم ہے کہ حیاتی کیمیائی دنیا میں ذہانت کے نہایت پیچیدہ اور دقیق اشاریے پائے جاتے ہیں، جو ہمیں کسی نہ کسی قسم کے ڈیزائنر پر ایمان رکھنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ باب 2 میں ذکر ہو چکا ہے، آئی ڈی کے حامی واضح طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ ارتقا کا ایک سائنسی متبادل ہے، نہ کہ کوئی مذہبی موقف۔ آئی ڈی کے حامیوں کی جانب سے اس استدلال کی دو معروف صورتیں پیش کی جاتی ہیں۔ ایک صورتم مائیکل بیہی Michael Behe نے پیش کی ہے، جو "ناقابلِ تقلیل پیچیدگی" (Irreducible Complexity: IRC) کے تصور کے حوالے سے مشہور ہیں (Behe 2006; 2007; 2019)؛ جبکہ دوسری صورت William Dembski کی ہے (Dembski 1998; 1999; 2002; 2004)، جس میں نہایت فنی اور ریاضیاتی انداز اختیار کیا گیا ہے اور ایک ایسا عمومی فریم ورک تجویز کیا گیا ہے جسے حیاتیاتی یا غیر حیاتیاتی—ہر قسم کے نظامات پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ان دونوں طرزِ استدلال کی پیشکش مختلف ہے، لیکن حاصلِ کلام ایک ہی ہے۔ آئی ڈی کے حامیوں کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر، یعنی نیو-ڈارونین میکانزم حیاتیاتی دنیا میں نظر آنے والی بعض پیچیدگیوں کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، چنانچہ ان کے نزدیک نیو-ڈارونین ارتقا، ایک intelligent designer کے تصور کے مقابلے میں کمزور توضیح ہے۔ سادگی کی خاطر یہاں صرف بیہی کے استدلال کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم ڈمسکی اور دیگر مصنفین کے خیالات کے لیے قاری متعلقہ مراجع سے رجوع کر سکتا ہے (Johnson 1993; 1995; 1997; 2000; Wells 2000; 2006; Meyers 2009; Berlinski 2010; Wells 2011; Meyers 2013; Denton 2016; Wells 2017)۔
بیہی کے ہاں ذہین ڈیزائنر کے حق میں صورت بندی کی بنیاد IRC پر ہے۔ لیکن IRC سے مراد کیا ہے؟ بیہی اس کی توضیح کے لیے چوہے دانی کی مثال دیتے ہیں (Behe 2019: 227-252)۔ جیسا کہ اصل کتاب میں صفحہ 216 پر موجود شکل 7.1 میں دکھایا گیا ہے، چوہے دانی متعدد الگ الگ اجزا پر مشتمل ہوتی ہے، اور یہ اجزا صرف اسی وقت چوہے دانی کا مطلوبہ فعل انجام دیتے ہیں جب وہ سب مل کر کام کریں۔ چنانچہ اگر ان میں سے ایک جز بھی نکال دیا جائے تو پورا نظام اپنی فعّالیت کھو دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، IRC نظام ایسے اجزا کے مجموعے پر قائم ہوتے ہیں جن میں ہر جز اپنی جگہ ضروری ہوتا ہے، اور یہ تمام اجزا مل کر ایک مخصوص اور متعین فعل پیدا کرتے ہیں۔ اس مفہوم کو واضح کرنے کے بعدبیہی حیاتیاتی دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور IRC کی مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ بعض حیاتیاتی نظام بھی اسی نوعیت کی ناقابلِ تقلیل پیچیدگی رکھتے ہیں۔
بیہی کی پسندیدہ مثالوں میں سے ایک بیکٹیریائی فلیجیلم ہے (Behe 2019: 283-287)۔ فلیجیلم ایک ایسا حیاتیاتی ڈھانچہ ہے جس میں باہر کی طرف نکلا ہوا ایک دم نما حصہ ہوتا ہے، جو اسے حرکت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جیسا کہ اصل کتاب کے صفحہ 217 پر موجود شکل 7.2 میں دکھایا گیا ہے۔ فلیجیلم ایک موٹر سے مشابہ ساخت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے،جو مختلف پروٹینز کی مجموعی ترتیب پر مبنی ہوتی ہے، اور یہی ساخت اسے گھومنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے قاری کو بیہی کی تصانیف میں دی گئی وضاحتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔
اس مثال میں اصل اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر اس نظام کا ایک جز بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری ساخت حرکت کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اگر واقعی یہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی (IRC) کی ایک مثال ہے، تو پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے؟ بیہی اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں (Behe 2006: 39):
ناقابلِ تقلیل پیچیدگی پر مبنی کوئی نظام براہِ راست پیدا نہیں کیا جا سکتا، یعنی اس طریقے سے نہیں کہ کسی ابتدائی فعل کو بتدریج بہتر بنایا جائے جبکہ وہی میکانزم مسلسل کام کرتا رہے، کیونکہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی والے نظام کا کوئی بھی پیش رو اگر کسی ایک جز سے محروم ہو تو وہ تعریفاً غیر فعّال ہوتا ہے۔ اگر واقعی کوئی ناقابلِ تقلیل پیچیدگی پر مبنی حیاتیاتی نظام موجود ہے تو وہ ڈارونین ارتقا کے لیے ایک طاقتور چیلنج ہوگا۔ چونکہ قدرتی انتخاب صرف اُن نظامات کو منتخب کر سکتا ہے جو پہلے ہی کارآمد ہوں، اس لیے اگر کوئی حیاتیاتی نظام بتدریج پیدا نہیں ہو سکتا تو اسے ایک مکمل اکائی کی صورت میں، یکبارگی وجود میں آنا ہوگا، تاکہ قدرتی انتخاب کے پاس کام کرنے کے لیے کچھ ہو۔
واضح رہے کہ اس بیان سے بیہی کا مدعا یہ ہے کہ یہاں معاملہ یا تو سب کچھ ہے یا کچھ بھی نہیں (all or nothing)۔ نیو-ڈارونین ارتقا، جسے بیہی اوپر کے اقتباس میں محض "ڈارونین" کہتے ہیں، مرحلہ وار ارتقائی عمل پر انحصار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی حیاتیاتی ساختیں اپنے پیش رو سانچوں پر قائم ہوتی ہیں۔ لیکن اگر ضروری اجزا میں سے کوئی ایک بھی موجود نہ ہو تو بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی کوئی پیشگی ساخت موجود ہی نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ اپنی فعّالیت کھو دے گی، اور یوں وجود ہی میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا بیہی کے نزدیک تمام ضروری اجزا کا ایک ہی وقت میں موجود ہونا لازم ہے، ورنہ پورا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔
اسی استدلال کی بنیاد پر بیہی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ محض اتفاقی تغیرات اور قدرتی انتخاب کے ذریعے تمام ضروری اجزا کا درست حالات میں یکجا ہو جانا شماریاتی طور پر نہایت بعید ہے۔ چنانچہ ایک بہتر توضیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے کسی ذہین ڈیزائنر کو فرض کیا جائے۔ مزید برآں، جیسے جیسے IRC نظام زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں، یعنی زیادہ اجزا کی ضرورت کے ساتھ کسی ایک مخصوص اجتماعی فعل کو حاصل کرتے ہیں، ویسے ویسے نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے ان کا وجود میں آنا شماریاتی اعتبار سے مزید غیر محتمل ہو جاتا ہے، اور یوں ذہین ڈیزائنر کی توضیح نسبتاً زیادہ قابلِ قبول دکھائی دیتی ہے۔
تاہم ناقدین اس طرزِ استدلال کو قائل کن نہیں سمجھتے۔ اس بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ غیر محتمل ہونا لازماً ناممکن ہونے کو مستلزم نہیں، ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بیہی نے بحث کو ایک دو رخے زاویے میں محدود کر دیا ہے، جس کی کوئی مضبوط بنیاد نظر نہیں آتی (Miller 2002: 131-164; Miller 2003)۔ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی ساختوں کے لیے کئی بنیادی مگر لازمی اجزا کا اکٹھا ہونا ضروری ہے، لیکن جس نکتے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے وہ بیہی کا پیش کردہ "سب یا کچھ نہیں" والا طریقِ استدلال ہے۔
ممکن ہے کہ انفرادی اجزا اس انداز میں دستیاب رہے ہوں جس سے IRC جیسے نظامات کے وجود میں آنے کا امکان یا احتمال بڑھ گیا ہو۔ بعید نہیں کہ یہ اجزاء اپنی ارتقائی تاریخ میں ابتدا میں مختلف افعال انجام دیتے رہے ہوں، اور وقت کے ساتھ ان کے افعال بدلتے چلے گئے ہوں، یہاں تک کہ بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی پیچیدہ ساختیں وجود میں آ گئیں۔ اس بنا پر، اگرچہ کسی پیشگی یا ابتدائی بیکٹیریائی فلیجیلم کا وجود نہ ہو، لیکن اس کے اجزا ممکن ہے پہلے سے موجود ہوں اور بالآخر ان کے امتزاج سے ایسی ساخت سامنے آئی ہو۔
اب دوبارہ چوہے دانی کی مثال پر غور کیجیے۔ کم از کم اس میں ایک اسپرنگ کا نظام، کسی نہ کسی قسم کا ضرب لگانے والا حصہ، ایک پکڑنے والی سلاخ، اور ایک بنیادی تختہ شامل ہوتا ہے ۔ اگر آپ اپنے گھر میں ہوں اور اچانک چوہے دانی بنانے کا خیال آئے، تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ یہ تمام پرزے آپ کو ویسے ہی تیار حالت میں مل جائیں جیسے چوہے دانی کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ گھر میں موجود اشیا میں ان کے متبادل تلاش کر سکیں تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسپرنگ کسی پرانے کھلونے سے لیا جا سکتا ہے، ضرب لگانے والا حصہ کپڑوں کے ہینگر سے، اور بنیاد فالتو لکڑی سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ اجزا اپنی انفرادی حیثیت میں مختلف افعال رکھتے ہوں گے، لیکن جب انہیں ایک خاص ترتیب کے ساتھ اکٹھا کیا جائے تو یہی اجزاء ایک چوہے دانی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔ بیہی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ IRC نظامات کی ارتقائی تشکیل بھی کچھ اسی انداز سے ممکن ہو سکتی ہے۔
ان اختلافی آرا کے پیشِ نظر اب سوال شواہد کا بنتا ہے۔ وضاحت کے لیے ہمیں دو الگ سوالات میں امتیاز کرنا ہوگا:
- کیا اس بات کے سائنسی شواہد موجود ہیں کہ حیاتیاتی اجسام عموماً وقت کے ساتھ اپنے افعال تبدیل کرتے رہے ہوں؟
- کیا ایسے سائنسی شواہد موجود ہیں جو انفرادی اجزا کے ارتقائی راستوں کو دکھاتے ہوں جو بالآخر ناقابلِ تقلیل پیچیدگی (IRC) پر مبنی نظامات تک لے جاتے ہوں؟
پہلے سوال کے جواب میں عام طور پر یہ مثال دی جاتی ہے کہ پر (feathers) ابتدا میں حرارتی تحفظ (thermal insulation) کے لیے استعمال ہوتے تھے، جو بعد میں پرواز کی صلاحیت کے حصول میں کارآمد ہو گئے (McLennan 2008)۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے، مختلف تجربات، میکانزمز اور نظریاتی سیمولیشنز (theoretical simulations) تجویز کی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ IRC نظامات کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہیں (Gishlick 2005; Doolittle et al. 2008; Durett and Schmidt 2008; Näsvall et al. 2012; Chou et al. 2015; Good et al. 2017; Lang and Rice 2019; Lents et al. 2019)۔
تاہم اپنی تازہ ترین کتاب Darwin Devolves میں بیہی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والی ان تمام مطالعات کا جائزہ لیتے ہیں جو اسی نوعیت کے دلائل پیش کرتی ہیں، اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی حتمی طور پر مطلوبہ نتیجہ فراہم نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک اس بحث کا خلاصہ یوں ہے:
فلیجیلم کے ارتقا سے متعلق تقریباً تمام کام محض ترتیبوں (sequences) کے تقابل پر مشتمل ہے—یہ طریقہ اگرچہ اس بارے میں دلچسپ قیاسات کی تائید کر سکتا ہے کہ کون کس سے نکلا، مگر یہ ارتقا کے میکانزم کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ اس میکانزم سے متعلق جو بہت تھوڑا سا کام ہوا ہے، وہ اس کتاب کے دلائل کی مضبوط تائید کرتا ہے (Behe 2019: 294)۔
بیہی کے نزدیک اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس بات کو کافی حد تک ثابت کرے کہ IRC نظامات کے لیے ارتقائی راستے واقعی وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ اس نکتے میں مزید اضافہ کرتے ہوئےبیہی (2019: 232) ناقدین کے اُس مطالبے پر سخت اعتراض کرتے ہیں جس کے تحت ان سے، اور عمومی طور پر آئی ڈی سے، ایسے امکانات کی قطعی نفی کا ثبوت مانگا جاتا ہے:
… بہت سے ناقدین … مجھ جیسے شکوک رکھنے والوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کسی منفی دعوے کو ثابت کریں۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ دکھایا جائے کہ کوئی فعّال پھندابتدریج کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکتا، یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ یہ کسی نہ کسی طرح منطقی طور پر ناممکن ہے۔ مگر یہ سراسر ناموزوں معیار ہے۔ اگرچہ سائنس منطق استعمال کرتی ہے، مگر وہ کسی نظریے کی کامیابی کو تجربی شواہد کے وزن سے پرکھتی ہے۔ مناسب اور سیدھا معیار یہ ہے: اگر اس بات کے ٹھوس طبعی اسباب موجود ہوں کہ [نیو-]ڈارونین راستے کارگر نہیں ہو سکتے، اور بھرپور تلاش کے باوجود کوئی ایسا ثبوت نہ ملے جو ان کے کارگر ہونے کو دکھائے، تو نظریہ ناکام ہو چکا۔ اس کے برعکس دکھاوا کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں، اور نہ ہی ہمیشہ کے لیے لوخ نیس مونسٹر کی تلاش لازم ہے۔
دوسرے الفاظ میں، بیہی کے نزدیک یہ مطالبہ نہایت مسئلہ خیز ہے کہ ان سے یہ ثابت کرنے کو کہا جائے کہ قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر کے ذریعے کبھی بھی پیچیدہ خصوصیات پیدا نہیں ہو سکتیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک غیر عملی تقاضا ہے۔ تاہم دیگر اہلِ علم بیہی کے دلائل اور نتائج سے اتفاق نہیں کرتے (Lang and Rice 2019; Lents et al. 2019)۔
اس مقام سے آگے اس مناظرانہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں توجہ دینے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ بیہی کے نزدیک IRC نظامات کی مناسب توضیح نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے ممکن نہیں، اور اس کی نسبتاً بہتر توضیح ایک ذہین ڈیزائنر کا تصور ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا استدلال یہ ہے کہ یہ طریقِ کار بہت جلد کسی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے، اور اُن دلائل اور ممکنہ منظرناموں کو مناسب وزن نہیں دیتا جو پیش کیے جا چکے ہیں، یا جو اگرچہ فی الحال نامعلوم ہیں، یا معلوم مگر تجربی طور پر ثابت نہیں، تاہم ممکن ہے مستقبل میں تجربی طور پر قائم ہو جائیں (Musgrave 2005; Ussery 2005; Young 2005; Dorit 2007; Elsberry 2007)۔
دوسرے لفظوں میں، جہاں فی الحال کوئی جواب دستیاب نہ ہو، وہاں ڈیزائنر کو لازمی طور پر خودکار جواب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس پورے مسئلے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ دستیاب اور ممکنہ شواہد کس طرح مختلف امکانات اور احتمالات کو سہارا دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو آئی ڈی کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔
ذہین ڈیزائن کا بطورِ سائنس جائزہ
یہ سوال کہ آیا ذہین ڈیزائن (ID) ایک معتبر سائنسی توضیح ہے یا نہیں، ایک طویل عرصے سے جاری اور مسلسل بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس کثیرالجہتی بحث کو سمجھنے کے لیے ہم اختلاف کے نکات کو تین بنیادی پہلوؤں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان میں: (1) سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان امتیاز، (2) طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم (Methodological Naturalism: MN)، اور (3) سائنس کا ثقافتی سیاق شامل ہیں۔ ان تینوں نکات کو الگ الگ اور باہم غیر متعلق نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، بلکہ انہیں اس بحث کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے زاویوں کے طور پر دیکھنا چاہیے کہ آیا آئی ڈی کو ایک سائنسی نظریہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنے کا سوال ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے، جس کا آغاز 1935 میں اس وقت ہوا جب کارل پوپر Karl Popper نے، جن پر باب 1 میں گفتگو ہو چکی ہے، سائنس اور غیر سائنس کے درمیان حدِّ فاصل کے معیارات پر گفتگو کی۔۔ اس کے بعد سے سائنس اور دیگر تمام سرگرمیوں کے درمیان واضح امتیاز قائم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ تاہم تقریباً تمام ایسی تجاویز کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے: یا تو اس لیے کہ وہ سائنس دانوں کے لیے عملی طور پر ناقابلِ استعمال بن جاتی ہیں یعنی وہ حد سے زیادہ یہ طے کرنے لگتی ہیں کہ سائنس دانوں کو کیا کرنا چاہیے، یا اس لیے کہ ہر معیار کے ساتھ ایسے استثنائی معاملات سامنے آ جاتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (Hansson 2017; McIntyre 2019; Reeves 2019)۔ مزید یہ کہ خود"سائنس" کا مفہوم بھی مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے (Brooke 2014; Harrison 2017)۔ مثال کے طور پر، کمپیوٹر کے دور سے پہلے اور بعد میں جس چیز کو سائنسی سمجھا جاتا ہے، اس میں نمایاں فرق ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے سائنس دانوں کو عموماً تجرباتی عمل سے وابستہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج بعض ایسے شعبے بھی موجود ہیں جو مکمل طور پر حسابی نوعیت کے ہیں۔ نظری طبیعیات اس کی ایک مثال ہے۔ ایسے شعبوں کی کوئی واضح تاریخی نظیر نہیں ملتی۔
آج کے دور میں سائنس کے شدید تخصص کے پیشِ نظر یہ طے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ کوئی ایک ایسا معیار وضع کیا جا سکے جو تمام سائنسی شعبوں پر یکساں طور پر صادق آ سکے۔ ارتقائی حیاتیات، فلکیات، نفسیات اور سماجیات کے درمیان کون سا مشترک بنیادی عنصر ہے؟ اور کیا ریاضی کو سائنس کہا جانا چاہیے؟ یہ ایسے پیچیدہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر درکار ہے۔
مختصریہ کہ ایسا کوئی واحد معیار متعین کرنا جو تاریخی ادوار اور علمی شعبوں سے ماورا ہو کر سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان واضح حد کھینچ سکے، ایک نہایت مشکل فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے بعض مفکرین نے واحد معیارقائم کرنے کے بجائے کئی معیاری طریقِ کار اختیار کرنے کی کوشش کی ہے (Hansson 2017)۔
تاہم اس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سائنس میں ہر چیز قابلِ قبول ہے۔ موجودہ دور میں کوئی بھی نجوم (astrology) یعنی زائچوں کے مطالعہ کو سائنس نہیں سمجھتا، کیونکہ اس میں سائنسی کشش موجود نہیں۔ یہ نہ تو متعین پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، نہ سادگی، نہ توضیحی یا تحقیقی وسعت، اور نہ ہی قابلِ ابطال ہونے کا معیار پورا کرتی ہے۔ احتیاطاً اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ ہر شعبے کو الگ الگ جانچا جاتا ہے، اور اسی کے بعد اسے سائنس کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے۔
درج بالا مباحث کی روشنی میں اب اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ذہین ڈیزائن (ID) ایک سائنسی نظریے کے طور پر کس حد تک قابلِ قبول ہے۔ اس ضمن میں ایک مفید نقطہ آغاز Kitzmiller v. Dover Area School District کا عدالتی مقدمہ ہے، جسے Dover Panda Trial بھی کہا جاتا ہے، اور یہ 2005 میں پیش آیا تھا۔ یہ مقدمہ آئی ڈی کی قانونی، سماجی اور تدریسی سطح پر قبولیت کے حوالے سے ایک نہایت اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس مقدمے کی بنیاد اس وقت پڑی جب بعض اسکولوں میں آئی ڈی کو بطورِ مضمون پڑھایا جا رہا تھا۔ اسی تناظر میں Of Pandas and People نامی ایک کتاب، جس سے Dover Panda Trial کا نام ماخوذ ہے، بطور نصابی کتاب کے سامنے آئی۔ تاہم اس پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے، جو بالآخر عدالتی سماعت پر منتج ہوئے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد، اس مقدمے کی صدارت کرنے والے جج نے بالآخر آئی ڈی کو ایک سائنسی نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (Kitzmiller v. Dover 2005)۔
اس بحث کا مرکزی نکتہ سائنس کے دائرہ کار اور اس کے نیچرل ازم کے ساتھ تعلق سے متعلق ہے (Koperski 2015: 202-214)۔ باب 6 میں بیان کیا جا چکا ہے کہ Methodological Naturalism (MN) کو Philosophical Naturalism (PN) سے اس اعتبار سے ممتاز کیا جاتا ہے کہ مؤخر الذکر ایک وجودی (ontological) مؤقف ہے، جبکہ اول الذکر ایک معرفتی (epistemic) طریقِ کار۔ ایم این کائنات کی کلی وجودی ساخت کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ سائنس کو محض فطری دنیا کی تحقیق کے ایک طریقہ کار تک محدود رکھتا ہے۔ ایم این کی یہی غیر جانبدار حیثیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ملحد اور مذہبی دونوں پس منظر رکھنے والے افراد اعلیٰ درجے کی سائنس کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، آئی ڈی کے حامی ایم این پر تنقید کرتے ہیں۔
آئی ڈی کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایم این سائنس پر ایک غیر ضروری قدغن عائد کرتا ہے۔ ان کے نزدیک سائنس کو ایسے پیشگی اصولوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے جو ممکنہ طور پر معقول توضیحات کو خود بخود خارج کر دیں۔ اگر فطری مظاہر کی تحقیق کسی نوع کے ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور یاد رہے کہ آئی ڈی کے نظریہ ساز اس ڈیزائنر کی تعیین نہیں کرتے، تو ایسی توضیح کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ آئی ڈی کے حامیوں کے مطابق، اگر سائنس دان ایسی بظاہر معقول توضیحات کو محض اس بنا پر مسترد کر دیں کہ وہ پہلے سے طے شدہ سائنسی تصورات سے ہم آہنگ نہیں، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس حقیقتاً ایک کھلا تحقیقی میدان نہیں رہی۔ مزید یہ کہ آئی ڈی کے حامی مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈیزائنر متعین نہیں ہے اور وہ قدرتی ہستیاں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً خلائی مخلوق، اس لیے آئی ڈی کو مافوق الفطرت ڈیزائنر کے حق میں دلیل قرار دینا، ان کے نزدیک، اپنی قوت کھو دیتا ہے۔ تو پھر اصل مسئلہ کہاں ہے؟
آئی ڈی کی تحریک نے اپنی غیر جانب داری اس وقت کھو دی جب ڈسکوری انسٹیٹیوٹ سے 1999 میں Wedge document منظر عام پر آئے (Forrest and Gross 2007)۔ یہ ایک منشور تھا جس میں سائنس کے مادّیاتی فریم ورک پر غلبہ پانے کا واضح منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ اس دستاویز میں آئی ڈی تحریک کا خاکہ درج تھا، جس کا مقصد ارتقا کے مقابل ایک ایسا سائنسی متبادل قائم کرنا تھا جو خدا دوست ہو (Pigliucci 2002: 68-72; Kitzmiller v. Dover 2005: 720)۔ اس دستاویز کے منظرِ عام پر آنے سے آئی ڈی تحریک کے پس پردہ محرکات پوری طرح واضح ہو گئے، اور یہی امر جج کے فیصلے میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا، جس کے تحت آئی ڈی کو بطورِ سائنسی نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ چونکہ Wedge document سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ آئی ڈی ایک مذہبی محرکات پر مبنی تحریک ہے، اور اس میں ڈیزائنر درحقیقت خدا ہی کو تصور کیا جا رہا ہے، اس لیے غیر متعین ڈیزائنر کی بات کو محض عوامی غیر جانبداری کے لیے ایک رسمی دعویٰ سمجھا گیا (Kojonen 2016: 91)۔ چنانچہ جب یہ واضح ہو گیا کہ آئی ڈی کے ارکان ڈیزائنر کو ایک مافوق الفطرت ہستی کے طور پر شناخت کرتے ہیں، تو مذکورہ بالا معیار کی بنیاد پر آئی ڈی کو غیر سائنسی قرار دیا گیا (Kitzmiller v. Dover 2005: 737)۔ اگر Wedge document منظرِ عام پر نہ آتا، تو بعید نہیں کہ آج آئی ڈی کی قانونی، سماجی اور تعلیمی صورت بندی بالکل مختلف ہوتی۔
یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ ذہین ڈیزائن (ID) کے حامیوں نے اس تنقید کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ذاتی اعتقادات لازماً اُن دلائل کی علمی حیثیت کو مجروح نہیں کرتے جو وہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ ان کے عالمی نظریے (worldview) کی روشنی میں خدا ڈیزائنر کا ایک ممکنہ امیدوار ہو سکتا ہے، تاہم اسی درجے میں کوئی زمینی یا کہکشانی ڈیزائنر بھی اس کردار کے لیے تصور کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ محض اس بنیاد پر کہ ان کے ذاتی اعتقادات خدا سے وابستہ ہیں، ڈیزائنر کے حق میں پیش کی جانے والی دلیل کی معقولیت ختم نہیں ہو جاتی (Kojonen 2016: 91–93)۔
جیسا کہ بیہی خود اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں (Behe 2003: 276):
اگرچہ میں ڈیزائن کے وجود کے حق میں دلیل دیتا ہوں، لیکن میں یہ طے نہیں کرتا کہ ڈیزائنر کون ہے۔ ڈیزائنر کے طور پر مختلف امکانات پیش کیے جا سکتے ہیں، مثلاً عیسائیت کا خدا، کوئی فرشتہ، افلاطون کا ڈیمیورج(یعنی کائنات کو عقلی نمونوں کے مطابق ترتیب دینے والا اصول) کوئی پراسرار قوت، الفا سینٹوری سے آنے والی خلائی مخلوق، وقت میں سفر کرنے والی کوئی ہستی، یا کوئی بالکل نامعلوم ذہین وجود۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بعض امکانات، سائنس سے ہٹ کر دوسرے علمی میدانوں کی روشنی میں، دوسروں کے مقابلے میں زیادہ معقول لگ سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیہی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر کسی مافوق الفطرت ڈیزائنر کو اصولی طور پر قبول بھی کر لیا جائے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ ہر مافوق الفطرت توضیح کو بلا چون و چرا مان لیا جائے یا سائنس کا ڈھانچہ ہی منہدم ہو جائے (Behe 2006: 241):
کوئی بھی انسانوں کے طرزِ عمل کی پیش گوئی نہیں کر سکتا، مگر مجھے یہ اندیشہ بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا محسوس ہوتا ہے کہ سائنس میں ہر جگہ مافوق الفطرت توضیحات در آئیں گی۔ اگر میری کوئی گریجویٹ طالبہ میرے دفتر میں آ کر یہ کہے کہ اس کی بیکٹیریائی ثقافت کو فرشتہ موت نے ختم کر دیا ہے، تو میں اس بات پر یقین کرنے کا رجحان نہیں رکھوں گا۔یہ ناممکن ہے کہ Journal of Biological Chemistry انزائم کی سرگرمی کو روحانی عوامل سے جوڑنے کے لیے کوئی نیا سیکشن قائم کرے۔
تاہم اگر اس نکتے کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ بات جوابات سے زیادہ نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔ فرض کیجیے کہ بحث کی خاطر مافوق الفطرت ڈیزائنرز، اور حتیٰ کہ فطری ڈیزائنرز، کو بھی قابلِ قبول توضیحات مان لیا جاتا ہے، تب بھی یہ بات واضح نہیں رہتی، بلکہ شاید مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، کہ سائنس دان آخر کس طرح کامیابی کے ساتھ ان توضیحات کے درمیان حدِ فاصل قائم کر سکیں گے جو مافوق الفطرت ڈیزائنر، فطری ڈیزائنر، یا محض فطری اسباب پر مبنی دعووں کی طرف رجوع کرتے ہیں (Ratzsch 2001: 27–39; Pigliucci 2002: 64–68)۔
ڈیزائنرز کو بطورِ قابلِ قبول توضیح تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش یہ ہے کہ اگر کسی مظہر کی فوری طور پر کوئی فطری توضیح دستیاب نہ ہو تو تحقیق کے ممکنہ راستے بہت آسانی سے منقطع ہو سکتے ہیں۔ اگر نیو-ڈارونین میکانزم بعض پیچیدہ حیاتیاتی خصوصیات کی وضاحت میں غیر محتمل ثابت ہوتے ہیں، جیسا کہ آئی ڈی کے حامی دعویٰ کرتے ہیں، تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ فوراً کسی ڈیزائنر کو فرض کر لیا جائے۔ ممکن ہے کہ دیگر متبادل توضیحات بھی موجود ہوں جن پر غور کیا جا سکتا ہو۔ جیسا کہ باب 1 میں ذکر کیا گیا ہے، اس وقت ارتقائی حیاتیات کے ماہرین کے درمیان خود نیو-ڈارونین میکانزم کے بارے میں ایک بحث موجود ہے، جس کے نتیجے میں بعض ایسے متبادل میکانزم تجویز کیے گئے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اُن مظاہر کی وضاحت کر سکتے ہیں جنہیں نیو-ڈارونین ارتقا واضح کرنے سے قاصر ہے (Extended Evolutionary Synthesis) کو یاد کیجیے۔ ممکن ہے کہ یہ نئی پیش رفتیں اس بات پر کچھ نئی روشنی ڈالیں کہ بعض حیاتیاتی طور پر پیچیدہ خصوصیات کس طرح وجود میں آئیں (Koperski 2015: 218)۔ اس تناظر میں خدشہ یہ ہے کہ اس قسم کی سوچ تحقیقی سرگرمی کو بہت جلد دبانے یا روک دینے کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی نکتے پر معروف مسیحی سالماتی حیاتیات دان ڈینس الیگزینڈر Denis Alexander نے آئی ڈی پر سخت تنقید کی ہے (Alexander 2008: 306-307):
"ناقابلِ تقلیل پیچیدگی" کا تصور، اور اس کے ساتھ جڑا ہوا"ڈیزائن کے استنتاج" کا خیال، حقیقت میں سائنس کے لیے نہایت غیر زرخیز ہے اور سائنسی فکر کا حصہ ہی نہیں بنتا۔ تصور کیجیے کہ میری تجربہ گاہ میں ایک پی ایچ ڈی طالب علم ہے، جسے میں نے سفید خون کے خلیات میں پائے جانے والے ایک پیچیدہ حیاتی کیمیائی سگنلنگ راستے کو سمجھنے کا کام سونپا ہے، جو ہمارے جسم کو وائرسز کے خلاف دفاع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن دو سال کی سخت محنت کے بعد وہ طالب علم میرے دفتر میں آ کر یہ کہتا ہے: "مجھے بہت افسوس ہے، میں نے اس منصوبے پر دو سال پوری محنت سے کام کیا، مگر یہ سگنلنگ راستہ اتنے زیادہ اجزاء پر مشتمل ہے کہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھنا ممکن نہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی رکھتا ہے اور لازماً ڈیزائن کیا گیا ہے۔" اس کے بعد ہونے والی گفتگو کو میں آپ کے تصور پر چھوڑتا ہوں، لیکن نتیجہ یقیناً یہ ہوگا کہ طالب علم کو دوبارہ تجربہ گاہ بھیج دیا جائے گا تاکہ وہ کچھ اور محنت کرے! کسی چیز کو محض "ڈیزائن شدہ" قرار دے دینا ایسے تجربات تجویز کرنے میں کوئی مدد نہیں دیتا جن کے ذریعے اس مفروضے کو جانچا جا سکے۔ میرا پی ایچ ڈی طالب علم تجربہ گاہ میں یہ خیال آخر کیسے جانچے گا کہ زیرِ بحث حیاتی کیمیائی سگنلنگ راستہ ڈیزائن کیا گیا ہے؟ اور ایسی بات کو قابلِ ابطال کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ جب تک حیاتیاتی علوم میں پیش کیے جانے والے خیالات قابلِ آزمائش نہ ہوں اور ایک بامعنی تحقیقی پروگرام کی طرف نہ لے جائیں، وہ غیر زرخیز رہتے ہیں اور درحقیقت سائنسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنتے۔
عملاً، کسی ڈیزائنر کو فرض کرنا سائنس کے لیے مسئلہ خیز دکھائی دیتا ہے، اور اگر اسے نیو-ڈارونین ارتقا (یا اس کے متبادل نظریات) کے مقابل ایک طے شدہ متبادل کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ موقف ناقابلِ ابطال ہونے کے خطرناک حد تک قریب پہنچ جاتا ہے۔ مافوق الفطرت یا حتیٰ کہ فطری ڈیزائنرز کو بطورِ سائنسی توضیح قبول کرنے میں درپیش یہ اضافی مشکلات اس مزاحمت کی وضاحت کرتی ہیں جو سائنس دانوں میں آئی ڈی کو بطورِ سائنس قبول کرنے کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔
اس پوری بحث میں یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ کچھ پس منظر ی وابستگیاںایسی ہوتی ہیں جو ناگزیر طور پر اس امر کو متاثر کرتی ہیں کہ آئی ڈی، اور درحقیقت ہر اُس شے کا جائزہ کیسے لیا جائے جو سائنس کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، نظریات کو بعض سائنسی اوصاف کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔کوپرسکی Koperski (2015: 25–29) ان اوصاف کو ماورا نظریاتی تشکیل دینے والے اصول (metatheoretical shaping principles: MSPs) کا نام دیتے ہیں، اور انہیں مجموعی طور پر دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: مابعدالطبیعی (metaphysical) اور معرفتی (epistemic) MSPs۔ مابعدالطبیعی MSPs کی مثالوں میں فطرت کی یکسانیت (uniformity of nature)، علیّت (causation)، اور واقعیت پسندی (realism) شامل ہیں؛ جبکہ معرفتی MSPs میں توجیہ (justification)، استقرا (induction)، اور طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم (Methodological Naturalism: MN) شامل ہیں۔ یہ اُن متعدد اصولوں میں سے چند ہیں جنہیں سائنس دان سائنسی نظریات اور ڈیٹا کے بارے میں اپنے فیصلوں اور جائزوں کی رہنمائی کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ ان تمام اصولوں پر بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے (Pigliucci 2010; Koperski 2015: 11–57)۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ایم این اس مباحثے کا ایک بڑا نکتہ ہے۔ تاہم کوپرسکی کے ہاں ایک پہلو یا تو غائب ہے یا واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، اور وہ یہ کہ اقدار سائنسی سرگرمیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ سائنسی سرگرمیاں کبھی بھی خلا میں انجام نہیں پاتیں، وہ ہمیشہ ایک بڑے ثقافتی سیاق کا حصہ ہوتی ہیں۔ بعض اوقات اس معاشرے کی قدریں اس بات کو متاثر کرتی ہیں کہ عملی سطح پر سائنس کیسے آگے بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی ایسے زمانے اور معاشرے کا تصور کیجیے جہاں مردہ جسم کو چیر پھاڑ کرنا شدید طور پر معیوب یا ممنوع سمجھا جاتا ہو۔ ایسے ماحول میں انسانی جسم کے اندرونی ڈھانچے کو سمجھنے کا شوق رکھنے والے سائنس دان کسی بھی قسم کی جراحی سے پہلے کئی بار سوچیں گے، کیونکہ اس عمل کے ساتھ مضبوط سماجی قدغنیں وابستہ ہوں گی۔ اس مثال میں ایک خاص قدر تحقیق کے ایک خاص راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک فرضی مثال ہے، لیکن حقیقت میں ایسے واقعات کم نہیں۔ جیسا کہ باب 1 میں ذکر کیا گیا، ڈارونین ارتقا کو ابتدا میں منفی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ یہ اُس وقت کی نہایت قدر کی جانے والی غائی توضیحات سے ہٹ کر تھا (Bowler 1983; Bowler 2009; Behe 2019: 81–86)۔ یا بیسویں صدی کے اوائل کی مثال لیجیے، جب بعض سائنس دانوں نے سفید اور سیاہ فام انسانوں کے درمیان فرق کی ارتقائی توضیحات پیش کیں، جن میں سیاہ فام افراد کے دماغ کے چھوٹے حجم کا دعویٰ بھی شامل تھا، بلکہ بعض اوقات انہیں غیر آدمی (non-Adamic) سلسلوں کی اولاد قرار دیا گیا، اور یوں سفید فام افراد کے مقابلے میں ان کی "ابتدائیت" کو جواز فراہم کیا گیا (Livingstone 2008)۔ یہ سب اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ قدریں اور تعصبات سائنسی عمل کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
یقیناً اس سے یہ مراد نہیں کہ سائنس دان مکمل طور پر یا محض سماجی اقدار ہی کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں محض یہ نکتہ اجاگر کرنا مقصود ہے کہ پس منظر کی قدریں، خواہ وہ سماجی ہوں یا فردی، اس بات کے ساتھ گہرے طور پر پیوست ہوتی ہیں کہ MSPs کو کیسے اختیار کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔
اس نکتے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موجودہ تدریسی اور سماجی سیاق ذہین ڈیزائن (ID) کے حق میں سازگار نہیں۔ آئی ڈی کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے، تخلیقیت پر مبنی تحریکوں) ینگ ارتھ اور اولڈ ارتھ کری ایشنزم(نے اپنی اپنی عدالتی کارروائیوں اور سائنسی برادری کے ساتھ سماجی و سیاسی کشمکش کے ذریعے قانونی، سیاسی اور تعلیمی منظرنامے پر ایک دیرپا مگر منفی اثر چھوڑا تھا (Numbers 2006; Bowler 2007; Nagasawa 2010: 51–54; Phy-Olsen 2010; Caudill 2013; Rios 2014; Kaden 2015: 1–66)۔ سائنس کے خلاف تخلیقیت پر مبنی تنقیدات کے خدشات کے پیشِ نظر، متعدد مفکرین اور اداروں نے اس کے جواب میں ملک گیر سطح پر ایسے اقدامات کیے جن کا مقصد تعلیمی اداروں میں تخلیقیت پر مبنی نظریات کی دراندازی کو روکنا تھا (Berkman and Plutzer 2010)۔ ان اقدامات میں تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بھی شامل تھی، مثلاً National Academy of Science تاکہ ایسے رہنما اصول وضع کیے جائیں جو یہ واضح کریں کہ جماعتوں میں کس نوعیت کی سائنس پڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، متعدد کتب اور تربیتی پروگرام بھی شائع کیے گئے جو تخلیقیت پسند دعووں کے جواب میں مرتب کیے گئے تھے۔
اس کشیدہ ماحول کے پس منظر میں، آئی ڈی کو ایک اور تخلیقیت پسند کیمپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اگرچہ وہ نسبتاً زیادہ نفیس صورت میں سامنے آتا ہے اور اسی بنا پر اس کے ساتھ انتہائی شکوک و شبہات کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر Wedge document اور اس کے پس منظر میں موجود آئی ڈی تحریک پر کی گئی تفصیلی تحقیق کا عنوان ہی Creationism’s Trojan Horse رکھا گیا۔ اس صورتِ حال میں یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ سائنسی برادری ہر اُس چیز سے شدید بدگمان نظر آتی ہے جو تخلیقیت کے قریب بھی محسوس ہو۔ یہ بات آئی ڈی کی سائنسی حیثیت کے حق میں کوئی عذر یا جواز فراہم نہیں کرتی، بلکہ یہاں محض اُن قدری نظاموں کی نشان دہی مقصود ہے جو آئی ڈی پر جاری بحث کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں، اور جن کی جڑیں گہرے تاریخی تجربات میں پیوست ہیں۔ یہی پس منظر اس امر کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے کہ موجودہ دور میں آئی ڈی کو خاص طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ درج بالا نکات کو پیشِ نظر رکھے بغیرسین کیرل Sean Carroll کا درجِ ذیل بیان اس بات پر کچھ روشنی ڈالتا ہے کہ آئی ڈی طرز کے تصورات کسی اور زمانے اور دور میں شاید قابلِ عمل محسوس ہوتے، مگر معاصر عہد میں ایسا نہیں ہے: (Carroll 2005: 631)
مثال کے طور پر، چند صدیوں پہلے یہ بات بالکل معقول سمجھی جاتی کہ جانداروں کے حیاتیاتی نظام میں پائی جانے والی پیچیدگی اور باریکی کا مشاہدہ کیا جائے اور یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ ایسی نزاکت محض اتفاق سے پیدا نہیں ہو سکتی، بلکہ لازماً کسی خالق کے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ تاہم ڈارون کے نظریہ ارتقا کی آمد، جس میں تبدیلی کے ساتھ نسل در نسل ارتقا اور قدرتی انتخاب جیسے تصورات شامل ہیں، نے ایک ایسا میکانزم فراہم کیا جس کے ذریعے بظاہر نہایت غیر محتمل ساختیں بے شمار تدریجی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آ سکتی ہیں۔
یہ کہ آیا ذہین ڈیزائن (ID) کو کبھی سنجیدگی سے لیا جائے گا یا نہیں، اس کا انحصار بڑی حد تک سائنسی محنت کے ثمرات اور سائنسی برادری کے اتفاقِ رائے پر ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں آئی ڈی کو یا تو مکمل طور پر غیر سائنسی سمجھا جاتا ہے، یا محض ناقص سائنس قرار دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے دیکھا جا چکا ہے، یہ اعتراضات ملحد سائنس دانوں (مثلاً Sean Carroll) کی جانب سے بھی سامنے آتے ہیں اور مسیحی سائنس دانوں (مثلاً Denis Alexander) کی طرف سے بھی۔ تاہم ان مسائل کے باعث جو ہم نے دیکھے، یعنی حدِّ فاصل کے معیارات، طریقہ کار کی سطح پر نیچرلزم (MN)، اور سائنسی برادری کے ثقافتی سیاق جیسے عوامل کی وجہ سے یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ آئی ڈی کو سائنس کے کس خانے میں رکھا جائے۔ اس جائزے میں احتیاط برتتے ہوئےیوجن ناگاساوا Yujin Nagasawa اس صورتِ حال کو یوں سمیٹتے ہیں :"یہ دکھانا کہ ذہین ڈیزائن سائنس نہیں ہے، اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ اسے ایک اچھی اور قابلِ عمل سائنسی نظریے کے طور پر قائم نہیں کیا جا سکا (Nagasawa 2011: 100)۔"
(جاری)
غلامی اور اسلام
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
جوناتھن براون نے اپنی کتاب Slavery and Islam کے آخر میں درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانی تکریم کا اسلامی تصور اور جدید مغربی تصور، دو مختلف سانچے ہیں، چنانچہ غلامی سے متعلق اسلام کے نقطہ نظر کو کسی بھی استدلالی کھینچ تان سے کام لے کر مغربی ذہن کے لیے قابل فہم نہیں بنایا جا سکتا۔ انفرادی حریت اور مساوات جس مفہوم میں مغربی اخلاقیات میں قدر مانی جاتی ہے، اس مفہوم میں اسلام میں نہیں مانی جاتی، اور غلامی کے سوال کا براہ راست تعلق اسی خاص قدر سے ہے۔ اس نوعیت کے اختلاف کی ایک اور مثال جانوروں کو انسانی خوراک بنانے کا مسئلہ ہے، اور ہندی مذاہب کا تصور اہمسا جس اخلاقی اصول پر استوار ہے، اس کے لحاظ سے اسلام کے تصور ذبح وقربان کو قابل فہم بنانے کا کوئی بھی طریقہ یا استدلال کارآمد نہیں ہو سکتا۔
البتہ یہ سوال اہم ہے کہ جب غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب اور حکم اسلام میں بھی دیا گیا اور اس کے لیے بہت سے شرعی وقانونی اقدامات بھی عمل میں لائے گئے تو یہ غلامی کو اخلاقی برائی مانے بغیر کیونکر ممکن ہے؟ اور اگر یہ اخلاقی برائی تھی تو اس کا کسی بھی درجے میں قانونی جواز آخر کیوں تسلیم کیا گیا؟ خصوصاً نبی علیہ السلام نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کی گنجائش کیوں رکھی؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اسلام کا تصور اخلاق دو پہلووں پر مشتمل ہے، ایک ایجابی اور دوسرا سلبی۔ سورہ نحل کی مذکورہ آیت میں ایجابی اخلاقیات کا ذکر عدل واحسان اور ایتائے ذی القربیٰ سے ہوا ہے اور سلبی اخلاقیات کا فحشاء، منکر اور بغی کے عنوان سے۔
اگر حریت فرد اور مساوات کو مطلق اور باقی ہر اخلاقی قدر پر حاوی قدر مانا جائے تو کسی انسان کا غلام بننا، چاہے اس کے پیچھے جو بھی سماجی جواز موجود ہو، یہ ’’بغی’’ کے تحت آتا ہے۔ جدید مغربی تصور اخلاقی یہی پوزیشن رکھتا ہے، چنانچہ کسی بھی صورت میں اس کا جواز تسلیم نہیں کرتا۔ لیکن اگر حریت اور مساوات over riding principle نہیں، بلکہ دیگر اخلاقی اصولوں اور سماجی ضرورتوں کو ساتھ رکھ کر ان کی قدر طے کی جائے گی، جیسا کہ اسلام کا زاویہ نظر ہے، تو پھر انسان کا کسی دوسرے انسان کی ملکیت بن جانا فی نفسہ ’’بغی’’ شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں، ایجابی اخلاقیات میں سے ’’احسان’’ کے تحت اس کی ترغیب دی جا سکتی ہے کہ اس کو آزاد کر دیا جائے یا آزادی کے حصول میں اس کی مدد کی جائے۔
اسلام نے اس معاملے میں یہ طریقہ اختیار کیا کہ غلام بنانے کے بعض طریقوں (مثلاً بردہ فروشی یا مالی واجبات کے عوض میں غلام بنانے) کو ناجائز قرار دے کر ’’بغی’’ میں شمار کیا اور ان پر پابندی لگا دی، جبکہ پہلے سے موجود غلاموں اور جنگ میں قیدی بننے والوں کو اس زمرے میں شمار نہیں کیا، بلکہ ’’احسان’’ کے اصول کے تحت ان کی آزادی کی ترغیب دی اور جب تک غلام، غلام رہیں، ان کے ساتھ برتاو کے حوالے سے اخلاقی وقانونی حدود مقرر کر دیں۔ مزید یہ کہ اپنی اخلاقی تعلیم سے اس کی بنیاد بھی مہیا کر دی کہ سماجی اور تمدنی حالات کی تبدیلی سے انسانوں کو غلام بنانے کی صورتیں بالکل ختم کرنا ممکن ہو اور انسانوں کے مابین غلامی کا برا ہونا ایک ’’معروف’’ کا درجہ اختیار کر لے تو مذہبی شعور بھی اس کو ایک مثبت پیش رفت سمجھ کر اس کی تائید میں کھڑا ہو جائے، جیسا کہ دور جدید کی اسلامی فکر مجموعی طور پر کھڑی ہے۔
مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ
اسلام جہاں غلو، غلط بیانی اور بے جا مبالغہ سے منع کرتا ہے، وہی ہر معاملے میں راہِ اعتدال اپنانے کی تاکید کرتا ہے۔ یہی دینِ اسلام کی ایک بڑی خوبی ہے کہ اس نے اعتدال، توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں اُمتِ وسط بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اعتدال اپنانے والوں کو کبھی بھی گمراہی اور پچھتاوے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اعتدال کے دامن کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ یا تو افراط کا شکار ہو کر گمراہ ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ اسی طرح دینِ اسلام سادگی اور للہیت کو بڑی اہمیت دیتا ہے، جبکہ نام و نمود، دکھاوے اور نمائش کی مذمت کرتا ہے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں مذہبی القاب کے استعمال کرنے میں جو بے اعتدالیاں پائی جا رہی ہیں، وہ کسی پر اوجھل نہیں۔ نام کے آگے القابات پر القابات جڑ دیے جاتے ہیں، خواہ وہ شخص ان صفات کا حامل ہو یا نہ ہو۔ آئے روز نئے سے نئے اور بڑے سے بڑے القابات سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات تو جلسوں میں اور بعض دیگر مجالس میں امیروں، وزیروں، عہدیداروں، پیروں اور خصوصاً علماء کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے جاتے ہیں، مثلاً کسی کے لیے حجۃ الاسلام، کسی کے لیے شیخ الاسلام، کسی کے لیے شیخ الفقہ، کسی کے لیے شیخ الحدیث، کسی کے لیے مفتی اعظم، کسی کے لیے خطیب بے بدل، خطیبِ زماں، نمونہ ٔاسلاف، محققِ دوراں، محقق العصر، علامۃ العصر، محدث العصر، فقیہِ زماں، جامعِ علوم عقلیہ و نقلیہ، شیخ المشائخ، اعلیٰ حضرت، مفکرِ اسلام، غزالیِ وقت، غزالیِ دوران، شہنشاہِ خطابت، محقق علی الاطلاق، محدثِ اعظم، شیخ الجامعہ، ولیِ کامل، رہبرِ شریعت، ثانیِ جنیدؒ، وغیرہ وغیرہ۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض حضرات تو باقاعدہ اپنے حلقۂ احباب کو اس طرح بڑے بڑے القاب اپنے نام کے ساتھ لگانے کی تاکید کرتے ہیں، اور القاب کے بغیر پکارے جانے پر بے التفاتی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ علمائے کرام کی اکثر مجالس اس قسم کے القابات سے گونجتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مذہبی القابات کے متعلق یہی بے اعتدالیاں پمفلٹوں اور اشتہارات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ اور نہایت بے احتیاطی کے ساتھ شریعت کے تقاضوں کو فراموش کیا جارہا ہے۔ ایک طرف تو یہ معاملہ ہے، جبکہ دوسری طرف کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو اپنے لیے ایسے القاب تجویز کرتے ہیں جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو، جیسے: العبد العاصی، عاصی وغیرہ، حالانکہ یہ بھی درست نہیں۔ یہ ساری باتیں اور احکام سمجھنے کے ہیں۔ ان کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ افراط و تفریط اور متضاد پہلوؤں کا شکار ہیں۔ اس موضوع پر انتہائی عمدہ اور تفصیلی گفتگو علامہ ابن الحاج المالکی المصریؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’المدخل‘‘ کی پہلی جلد ’’فصل فی ذکر النعوت‘‘ کے تحت فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ علامہ ابن الحاجؒ کا شمار مسلک مالکیہ کے مشہور اور بڑے فقہاء میں ہوتا ہے، ’’وقد ذکرہ السیوطیؒ فی من کان بمصر من فقھاء المالکیۃ۔‘‘ (حسن المحاضرۃ، السیوطی، ج ۱ ص ۳۸۲) ان کی وفات مصر کے مشہور شہر قاہرہ میں ہوئی۔ ’’المدخل‘‘ فقہ مالکیہ کی نہایت معتبر اور انفع کتاب ہے۔
القابات کے ارتقاء کا پسِ منظر
علامہ ابن الحاج المالکی المصریؒ ان القاب کے رائج ہونے کے اسباب بیان کرتے ہیں:
’’ان کی ترویج میں سب سے بڑا کردار عجمیوں کا رہا ہے، اور وہ اس طرح کہ جب ترک مسندِ خلافت پر غالب آگئے، اور حکومت کی باگ ڈور خود سنبھال لی، تو انہوں نے اپنے لیے مختلف قسم کے القابات اختیار کر لیے، جیسے :شمس الدولۃ، ناصر الدولۃ، نجم الدولۃ وغیرہ، چونکہ ان القابات کا استعمال حکومت کے مناصب پر فائز بڑے بڑے عہدے داروں کے لیے ہوتا تھا، اس لیے لوگ ان القاب کو باعثِ عظمت و فخر سمجھنے لگے، اس وجہ سے عام لوگوں نے ان میں انتہائی دلچسپی ظاہر کی۔ لیکن حکومت میں منصب اور عہدہ نہ ہونے کی بنا پر ان کے لیے اپنے لیے ان القاب کا رکھنا ممکن نہیں تھا، چنانچہ جب انہوں نے اس کے حصول کے لیے کوئی راستہ نہیں پایا تو اب انہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مذہب کا راستہ اختیار کر لیا: ’’نجم الدولۃ نہ سہی تو نجم الدین ہی سہی۔‘‘
اس زمانے میں ان القابات کی انتہائی اہمیت اور وقعت تھی اور بڑی باعثِ عظمت اور قابلِ فخر چیز تھی۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت نے ان ناموں اور القاب کے رکھنے پر سخت پابندی عائد کی تھی، لہٰذا جب کوئی اپنی اولاد کے لیے اس قسم کا لقب رکھنا چاہتا تو اسے حکومت کو ایک بھاری رقم ادا کرنی ہوتی، اور حکومت سے باقاعدہ اجازت نامہ لینا ہوتا۔ یوں ہی لوگ حکومت کی مقرر کردہ بھاری رقم ادا کرتے تھے اور اپنی اولاد کے لیے اس قسم کے القاب تجویز کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد خلافتِ عباسیہ پر ترک نے مکمل طور پر قابض ہو کر ہر قسم کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ان القابات کی اہمیت باقی نہیں رہی؛ کیونکہ اب حکومت ان کے لیے ایک قسم کی لونڈی بن چکی تھی، اس لیے اب وہ مذہبی القابات میں کشش محسوس کرتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور ان کے لیے نجم الدولۃ کے بجائے نجم الدین جیسے القاب زیادہ باعثِ عظمت و فخر بن گئے۔ اس دوران حکومت نے پابندی ختم کر کے عام لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی۔ یہ القابات اس قدر تیزی کے ساتھ رائج ہوگئے کہ کوئی بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہا، امیر غریب، چھوٹے بڑے سب اس وبا کی زد میں آگئے، یہ معاملہ اس سطح پر پہنچ گیا کہ علماء نے بھی اس سے مانوس ہو کر ان کے رکھنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کی اور لوگوں سے متاثر ہو کر ان کو قبول کرنے لگے۔‘‘ (المدخل، ج ۱ ص ۱۱۰، فصل فی النعوت) القابات کی اس ترویج کے متعلق علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ تاریخ ابنِ خلدون میں اس کے قریب قریب گفتگو فرمائی ہے۔
القابات کی شرعی حیثیت آیاتِ کریمہ کی روشنی میں
قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے تزکیہ کا اعلان کرے، یا اپنے لیے ایسے القاب اختیار کرے جس میں پاکیزگی اور تقدس کا پہلو پایا جاتا ہو، چنانچہ ذیل میں اس کے متعلق چند آیاتِ کریمہ مفسرین کی تشریح کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے:
آیتِ کریمہ ۱:
الم تر الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء ولا یظلمون فتیلا۔ (النساء: ۴۹)
’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا ہی پاکیزہ بتاتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے، اور کسی پر اس عطا میں ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
اس آیت کے شانِ نزول میں مفسرین لکھتے ہیں کہ:
’’یہود اپنے آپ کو بڑے پاکیزہ اور مقدس بتلاتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ترین لوگ ہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں ان کی مذمت کی گئی ہے کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو! جو اپنی پاکی بیان کر رہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہیے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ کے تحت حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں:
’’معلوم ہوا کہ اپنے کو پاک باز کہنا اور تقدس کا دعویٰ کرنا صریح گناہ ہے۔‘‘ (معارف القرآن: ۲)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں اس آیت کے متعلق عنوان باندھا ہے:’’ اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونے کا دعویٰ جائز نہیں۔‘‘ پھر نیچے لکھتے ہیں:
’’اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ ممانعت تین وجہ سے ہے:
۱:- اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔
۲:- یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقویٰ و طہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لیے اپنے آپ کو مقدس بتلانا خلافِ خوفِ الٰہی ہے۔
۳:- ممانعت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس دعوی سے لوگوں کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ آدمی اللہ کے ہاں اس لیے مقبول ہے کہ یہ تمام نقائص اور عیوب سے پاک ہے، حالانکہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ بہت سے عیوب بندہ میں موجود ہوتے ہیں۔‘‘ (معارف القرآن، ج ۲ ص ۴۳۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’بیان القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اس میں دعوائے تقدس پر انکار ہے اور اس میں بجز اہلِ قنا کے بہت مشائخ مبتلا ہیں۔‘‘ (بیان القرآن، ج ۱ ص ۳۶۱)
آیتِ کریمہ ۲:
’’فلا تزکوا أنفسکم ھو أعلم بمن اتقی۔‘‘ (سورۃ النجم :۳۲)
’’تم اپنی پاکیزگی مت بیان کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔‘‘
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ’’بیان القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:
’’اس آیتِ کریمہ میں دعوائے تقدس سے صریح ممانعت ہے۔‘‘ (بیان القرآن، ج ۲ ص ۴۷۵)
حضرت مولانا عاشق الٰہی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر ’’انوار البیان‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’اپنا تزکیہ کرنا اور اپنی تعریف کرنا، یعنی اپنے اعمال کو اچھا بتانا اور اپنے اعمال کو بیان کر کے دوسروں کو معتقد بنانا، یا اپنے اعمال پر اترانا اور فخر کرنا، آیت کریمہ سے ان سب کی ممانعت معلوم ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا نام رکھنا بھی پسند نہ تھا جس سے اپنی بڑائی اور خوبی کی طرف اشارہ ہوتا ہو۔‘‘ (انوار البیان، ج ۵ ص ۲۳۵)
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحبؒ ’’معالم العرفان‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیروں، وزیروں، اور عہدیداروں کی ان کے حاشیہ بردار کتنی تعریفیں کرتے ہیں، ان کو سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں جس میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں، آپؐ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ایسے معاملے میں مبالغہ آرائی سے منع کیا گیا ہے، صرف حقیقت بیان کرنے کی اجازت ہے۔‘‘ (معالم العرفان، ج ۱۷ ص ۴۱۸)
القابات میں مبالغہ آرائی احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
القابات میں مبالغہ آرائی سے ممانعت پر اب چند احادیثِ طیبہ ملاحظہ فرمائیے:
(۱) ایک مرتبہ ایک شخص نے جناب نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک دوسرے آدمی کی خوب مدح و تعریف کی، اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’ویحک، قطعت عنق صاحبک…‘‘ افسوس ہے تجھ پر، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہیں کسی کی تعریف کرنی ہو تو ان الفاظ سے کرو کہ میرے علم کے مطابق یہ شخص نیک و متقی ہے۔ ’’ولا ازکی علی اللہ احدا‘‘ میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے نزدیک بھی وہ ایسا ہی ہے جیسا میں سمجھ رہا ہوں۔ (صحیح بخاری، کتاب الشہادات و الادب۔ مسلم، کتاب الزہد)
(۲) حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ’’ان نحثو فی وجوہ المداحین التراب‘‘۔ ’’ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی دیں، یعنی ان کو ناکام بنا دیں۔‘‘
(۳) ایک روایت میں ہے کہ حضرت زینب بن ابی سلمہؓ فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ چونکہ اس وقت میرا نام ’’برّہ‘‘ تھا (جس کے معنی ہیں نیک و گناہوں سے پاک عورت) میں نے وہی بتلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لاتزکوا انفسکم، اللہ اعلم باھل البر منکم‘‘ (رواہ مسلم و بخاری، باب تحویل الاسم) تم اپنے آپ کی گناہوں سے پاکی بیان نہ کرو، کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہے کہ تم میں سے نیک اور پاک کون ہے۔ پھر برہ کے بجائے آپ نے زینب نام رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی کا نام برہ (نیک عورت) ہوگا تو اس سے جب دریافت کیا جائے گا کہ تم کون ہو؟ تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ یہ کہے گی ’’برّہ‘‘ یعنی میں نیک اور گناہوں سے پاک خاتون ہوں، اس میں چونکہ بظاہر صورتاً خود اپنی زبان سے نیک ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
(۴) علامہ ابن الحاج مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’سنن ابوداؤد‘‘ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنا کہ وہ اپنے سردار کو ’’ابو الحکم‘‘ سے پکار رہے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کنیت کو ناپسند فرمایا، ان کے سردار کو بُلایا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو ’’ابو الحکم‘‘ کیوں کہتے ہیں؟ اس نے جواب میں کہا کہ: میری قوم میں جب کوئی دو فریق اختلاف کریں تو وہ میرے پاس فیصلہ کرنے کے لیے آتے ہیں، پھر میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، تو دونوںفریق اس فیصلہ کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: آپ کی اولاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میرے تین بیٹے ہیں: شریح، عبد اللہ، مسلم۔ آپؐ نے اس سے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ انہوں نے کہا: شریح۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ: آپ ابو شریح ہیں نہ کہ ابو الحکم۔ کیونکہ اس میں تقدس اور بڑائی کا پہلو پایا جاتا ہے۔ (المدخل، ج ۱ ص ۱۱۰، فصل فی ذکر النعوت)
(۵) خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتِ اقدس کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’لا تطرونی کما أطرت النصاری عیسی بن مریم…‘‘ لوگو! میری تعریف میں مبالغہ سے کام نہیں لینا، جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسی بن مریمؑ کے متعلق مبالغہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الوہیت کا درجہ دے کر خود کافر اور مشرک بن گئے، میرے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرنا۔ ’’انی عبداللہ و رسولہ‘‘ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، لہٰذا تم بھی مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔ (بخاری، باب ’’واذکر فی الکتاب مریم‘‘)
ایک اعتراض اور اس کا جواب
یہاں پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ بعض مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی مدح اور تعریف فرمائی ہے، اور ان کو اچھے اچھے القابات سے نوازا ہے۔ حضرت عثمانؓ کے بارے میں فرمایا: ’’واصدقھم حیاءًا عثمان‘‘۔ حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا: ’’واقضاھم علی‘‘۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہؓ کے بارے میں فرمایا: ’’وامین امتی ابوعبیدۃ بن الجراح، و اعلم امتی بالحلال معاذ بن جبل، واقراھم ابو موسیٰ، نعم العبد عبد اللہ بن عمر و غیر ذٰلک‘‘۔
جواب: اس سوال کا جواب امام نوویؒ، حافظ ابن حجرؒ، اور علامہ ابن بطالؒ نے یہ ذکر کیا ہے کہ صرف حقیقتِ حال بیان کرنے کی اجازت ہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں آدمی میں یہ خوبی ہے، اس میں مبالغہ سے کام لینا جائز نہیں، جیسا کہ ’’المداحین‘‘ (بہت زیادہ تعریف کرنے والے) کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بھی صرف اس شخص کے متعلق کہا جا سکتا ہے جس کے متعلق تکبر اور عجب کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو صحابہ کرامؓ کے بارے میں یقین تھا کہ وہ حضرات اس سے فتنہ میں مبتلا نہیں ہوں گے؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی، چونکہ صحابہ کرامؓ کے علاوہ دیگر لوگوں کے متعلق فتنہ میں ابتلا کا اندیشہ غالب ہے، لہٰذا دوسرے لوگوں کی تعریف سے بچنا چاہیے۔ (شرح صحیح البخاری لابن البطالؒ: باب ما یکرہ من التمادح، ج ۹ ص ۲۵۳۔ فتح الباری: باب ما یکرہ من التمادح، ج ۱۰ ص ۴۷۶۔ شرح النووی علی صحیح مسلم، باب النہی عن المدح)
فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں
قرآن و سنت کے ماہرین حضرات فقہائے کرام نے بھی نیکی، تقدس، پاکیزگی، بڑائی اور مدح سرائی میں مبالغہ کا تأثر دینے والے ان القاب کو ناجائز قرار دیا ہے۔
چنانچہ مالکیہ کے مشہور فقیہ علامہ ابن الحاج المالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس بدعت سے بچنا ضروری ہے جو وبا کی طرح پھیل گیا ہے اور شاید ہی اس کی زد سے کوئی بڑا چھوٹا محفوظ رہا ہو، اور وہ یہ نئے اور خود ساختہ القابات ہیں جو شریعت کے سراسر مخالف ہیں، وہ ہیں: ’’فلان الدین و فلان الدین‘‘ عالم کے لیے تو اور زیادہ ضروری ہے کہ وہ اس جیسے القاب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔ اس سلسلے میں لوگوں کو بھی سمجھائیں کہ یہ القاب شریعت کے مخالف ہیں، لہٰذا ان کو اس جیسے القاب سے نہ پکاریں۔ ایسے القاب و اسماء کو استعمال کرنا جو تزکیہ اور تعریف پر مشتمل ہو، اس کی ممانعت کتاب اللہ، سنت رسول اور علماء کے اقوال سے ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ غلط بیانی اور جھوٹ میں داخل ہو کر سلفِ صالحین کے عمل کے بالکل مخالف ہے۔
آگے فرماتے ہیں کہ اگر ان القاب و اسماء کا استعمال جائز ہوتا تو اُمتِ محمدیہ میں اس کے سب سے زیادہ حقدار اور مستحق صحابہ کرامؓ تھے، جو ہدایت کے سورج اور اندھیروں کے چراغ تھے، اور دین کے سب سے پہلے مددگار تھے، جیسا کہ قرآن نے اس کی گواہی دی ہے۔ اسی طرح ازواجِ مطہراتؓ جن کو اللہ تعالیٰ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چنا اور جن کی فضیلت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے۔ ام المومنین حضرت زینبؓ کا پہلے نام ’’برہ‘‘ تھا، آپؐ نے تبدیل کر دیا، حالانکہ وہ اس کی مصداق اور حقدار تھیں، تو پھر ہم کون ہیں کہ اپنے لیے ایسے القاب تجویز کریں، لہٰذا نجات اور کامیابی صحابہؓ کی اتباع میں ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے امام نوویؒ کا مشہور اور معروف واقعہ بھی نقل کیا ہے۔ امام نوویؒ مشہور شافعی عالمِ دین ہیں جو کئی مفید اور بڑی کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں شرح مجموع مہذب، اور شرح مسلم جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے، اور ریاض الصالحین وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ شافعیہ میں بڑی عبقری شخصیت گزرے ہیں جن کی تصنیفات سے اُمت کا ایک بڑا طبقہ استفادہ کرتا چلا آرہا ہے۔ دینی و علمی خدمات کی بنیاد پر جب ان کے معاصرین نے ان کو محی الدین کے لقب سے موسوم کیا تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اور فرمایا: ’’انی لا اجعل احدا فی حل من یسمینی بمحی الدین‘‘۔ یعنی میں کسی کو بھی محی الدین کے لقب سے پکارنے کی اجازت نہیں دیتا، حالانکہ وہ اس لقب کے حق دار بھی تھے، یہی وجہ ہے کہ امت نے انہیں انتقال کے بعد اس لقب سے موسوم کیا، مگر اپنی زندگی میں انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ظاہر ہے کہ ناراضگی کی وجہ صرف یہی تھی کہ اس میں مذہبی تقدس کا پہلو تھا۔ (المدخل، ج ۱ ص ۱۱۱، فصل فی النعوت)
مولانا عبد الحئ لکھنویؒ نے ’’فوائدِ بہیہ‘‘ کے آخر میں لکھا ہے کہ عراق کے فقہاء میں عام طور پر القاب میں سادگی تھی، وہ کاروبار، محلہ، قبیلہ یا گاؤں کی طرف نسبت کرنے پر اکتفا کیا کرتے تھے، جیسے جصاص (گچ والا)، قدوری (ہانڈی والا)، طحاوی (طحا گاؤں کا باشندہ)، کرخی (مقام کرخ کا باشندہ)، صیمری (صمیرہ کا باشندہ )، اور خراسان اور ماوراء النہر میں عام طور پر القاب میں مبالغہ کیا جاتا تھا، اور دوسروں پر ترفع ظاہر کیا جاتا تھا، جیسے: شمس الائمہ، فخر الاسلام، صدر الاسلام، صدرِ جہاں، صدر الشریعہ وغیرہ اور یہ صورت زمانۂ ما بعد میں پیدا ہو گئی تھی۔ پہلے زمانے کے لوگ اس قسم کی باتوں سے پاک تھے۔ ابو عبداللہ قرطبیؒ اسماء اللہ الحسنیٰ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
’’قرآن و حدیث سے اپنا تزکیہ کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ: مصر کے علاقوں میں اور دیگر بلادِ عرب و عجم میں جو رواج ہوگیا ہے کہ اپنے لیے ایسی صفات استعمال کی جاتی ہیں جو تزکیہ اور تعریف پر دلالت کرتی ہیں، وہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے۔ جیسے زکی الدین، محی الدین، علم الدین، اور اسی طرح کے دیگر القاب۔ اور محی الدین نحاس کی ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں جہاں منکرات کا تذکرہ ہے، لکھا گیا ہے کہ منکرات میں سے وہ بھی ہے جو وبا کی طرح پھیل گیا ہے، یعنی وہ جھوٹ جو زبانوں پر رائج ہوگیا ہے اور وہ خود ساختہ القاب ہیں: جیسے محی الدین، نور الدین، عضد الدین، غیاث الدین، معین الدین، اور ناصر الدین وغیرہ۔ یہ وہ جھوٹ ہے جو پکارتے وقت اور تعریف کرتے وقت اور حکایت کرتے وقت زبانوں پر بار بار آتا ہے۔ یہ سب دین میں امر منکر اور بدعت ہے۔ ‘‘
مذکورہ بالا اقتباسات نقل کرنے کے بعد مولانا لکھنویؒ نے یہ نوٹ لکھا ہے کہ:
’’یہ بات یعنی مذکورہ بالا القاب کا منکر و بدعت ہونا اس صورت میں ہے جب کہ صاحبِ لقب اس کا اہل نہ ہو، یا اہل تو ہو مگر اس نے لقب بطور تزکیہ رکھا ہو۔‘‘ (فوائد بہیہ: ۱۰۰، بحوالہ: آپ فتویٰ کیسے دیں؟: ۵۰)
حاشیہ میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب لکھتے ہیں:
’’ہمارے عرف میں یہ القاب بطور اعلام (ناموں کے) مستعمل ہیں، اس لیے ممنوع نہیں ہیں، ہمارے محاورات میں القابِ غالیہ کی مثالیں، مفتی اعظم، محقق بے بدل، خطیبِ عصر، علامۂ زماں وغیرہ ہیں۔‘‘ (آپ فتویٰ کیسے دیں؟: ۵۰)
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک سلسلۂ گفتگو میں بعض مخترع القاب کے متعلق فرمایا:
’’خبر نہیں لوگ کس عبث اور فضولیات میں مبتلا ہیں، اس سے ان لوگوں کے مذاق کا پتہ چلتا ہے، کوئی شیخ الحدیث ہے، کوئی استاذ الحدیث، کوئی شیخ التفسیر، کوئی شیخ الجامعہ، یہ اس قسم کے جھگڑے ابھی شروع ہوئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں میں تو ان چیزوں کا نام و نشان بھی نہ تھا، یہ سب جاہ طلبی ہے۔ اور سب سے زیادہ اچھی اور خوبی کی بات تو وہی ہے جو پہلے اپنے بزرگوں میں تھی: سادگی، اسی میں برکت ہے۔ ان چیزوں میں برکت کہاں، یہ سب نئی روشنی کا اثر ہے۔‘‘ (ملفوظ نمبر: ۴۲۷،۲۷۳، ملفوظات حکیم الامت)
صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت
حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ علم و فضل میں یکتائے روزگار تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی ایک مجلس میں نقل کیا کہ ایک عیسائی فیلسوف نے لکھا ہے کہ: ’’اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ امام غزالیؒ جیسا محقق اور مدقق اسلام کو حق سمجھتا ہے۔‘‘ یہ واقعہ بیان کر کے حضرت تھانویؒ نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں کہ میرے زمانے میں مولانا انور شاہ صاحبؒ کا وجود اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ایسا محقق اور مدقق عالمِ اسلام کو حق سمجھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں کہ: طلاق کے ایک مسئلہ میں کشمیر کے علماء میں اختلاف ہو گیا، فریقین نے حضرت شاہ صاحبؒ کو حکم بنایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے دونوں کے دلائل غور سے سنے، ان میں سے ایک فریق اپنے موقف پر فتاویٰ عمادیہ کی ایک عبارت سے استدلال کر رہا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: میں نے دارالعلوم کے کتب خانے میں فتاویٰ عمادیہ کے ایک صحیح قلمی نسخے کا مطالعہ کیا ہے، اس میں یہ عبارت ہرگز نہیں ہے، لہٰذا یا تو ان کا نسخہ غلط ہے یا یہ لوگ کوئی مغالطہ انگیزی کر رہے ہیں۔
ایسے علم و فضل اور ایسے حافظہ کا شخص اگر بلند و بانگ دعوے کرنے لگے تو کسی درجہ میں اس کو حق پہنچ سکتا ہے، لیکن حضرت شاہ صاحبؒ اس قافلۂ رشد و ہدایت کے فرد تھے جس نے ’’من تواضع للہ‘‘ کا عملی پیکر بن کر دکھایا تھا۔ چنانچہ اسی واقعہ میں انہوں نے حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ کو اپنا فیصلہ لکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے حضرت شاہ صاحبؒ کے نام کے ساتھ ’’الحبر البحر‘‘ (عالم متبحر) کے دو تعظیمی لفظ لکھ دیئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے دیکھا تو قلم ہاتھ سے لے کر زبردستی خود یہ الفاظ مٹائے، اور غصہ کے لہجے میں مولانا بنوریؒ سے فرمایا: ’’آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے۔‘‘ حضرتؒ کا جملہ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ تواضع کے کس مقام کی غمازی کر رہا ہے؟ اور یہ محض لفظ ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ واقعۃً اپنے تمام کمالات کے باوجود اپنے آپ کو ایک معمولی طالب علم سمجھتے تھے اور اس دعائے نبوی (l) کے مظہر تھے: ’’اللھم اجعلنی فی عینی صغیرا و فی أعین الناس کبیرا۔‘‘ (اکابر دیوبند کیا تھے؟: ۹۷، ۹۸)
حقیقت یہ ہے کہ علم و فضل کے سمندر سینے میں جذب کر لینے کے باوجود سلفِ صالحین کی تواضع، سادگی، اور للہیت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی۔
تحدیث بالنعمۃ کی اجازت
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو اچھے اعمال، اچھے اخلاق، اور اچھے اوصاف کی نعمت سے نوازا ہو اور وہ بطور تحدیث بالنعمۃ اپنی اچھی حالت بیان کر دے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن بیان کرتے وقت اپنے باطن کا جائزہ لے لے کہ نفس کہیں دھوکہ تو نہیں دے رہا ہے۔ (المستفاد: انوار البیان، ج ۱ ص ۶۰۱۔ معارف القرآن، ج ۲ ص ۴۳۱)
ایسا لقب اختیار کرنا جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ام المومنین کا نام زینب رکھ دیا جن کا پہلا نام ’’برہ‘‘ تھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکی کا نام ’’جمیلہ‘‘ رکھ دیا جس کا پہلا نام ’’عاصیہ‘‘ (گناہ گار) تھا (رواہ مسلم)۔
معلوم ہوا کہ اپنی نیکی کا ڈھنڈورا بھی نہ پیٹے، اور اپنا نام اور لقب بھی ایسا نہ رکھے جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو۔ مومن نیک ہوتا ہے، لیکن نیکی کو بگھارتا نہیں پھرتا، اور کبھی گناہ ہو جاتا ہے تو توبہ کر لیتا ہے۔ نیز اپنی ذات کے لیے کوئی ایسا نام و لقب بھی تجویز نہیں کرتا، جو گناہ گاری کی طرف منسوب ہوتا ہو، بہت سے لوگ تواضع میں اپنے نام کے ساتھ العبد العاصی یا عاصی پر معاصی لکھتے ہیں، یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ نہیں کھاتا۔ (انوار البیان، ج ۵ ص ۲۳۲)
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے سامنے یہ بات خوب واضح کر لی جائے، اس طرح بے محل القاب استعمال کرنا ہر گزر درست نہیں، بلکہ یہ غلط بیانی اور جھوٹ میں داخل ہے۔ نیز مدارسِ دینیہ میں طلبہ کرام کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ اپنے لیے ایسے القاب پسند ہی نہ کریں، بلکہ سادگی کے ساتھ اپنے نام کو ہی پسند کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سلسلے میں افراط و تفریط سے بچنے اور راہِ اعتدال پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۱)
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب
پروفیسر خورشید احمد
ویڈیو کا تعارفی نوٹ: 23 مارچ 2017ء کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (IPS) کی ٹیم اور اس کے رفقاء کے لیے ایک فیملی گیٹ ٹو گیدر اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں آئی پی ایس کے بانی چیئرمین پروفیسر خورشید احمد صاحب نے خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد ایک طرف یومِ پاکستان منانا تھا تو دوسری طرف پروفیسر صاحب کی زبانی تحریکِ پاکستان کی یادیں، قیامِ پاکستان کے احوال، اور ملک و ملّت اور عالمِ اسلام کے لیے ان کی تاحیات خدمات پر گفتگو کرنا تھا۔ اس اجتماع کی ایک اور انفرادیت یہ تھی کہ پروفیسر صاحب 23 مارچ 1932ء کو پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ سے یہ ان کی 85ویں سالگرہ کا موقع بھی تھا۔
جناب خالد رحمان:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آپ سب کو میں خوش آمدید کہتا ہوں، اپنی جانب سے بھی اور IPS (انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز) کے سارے ساتھیوں کی جانب سے بھی۔ ویسے تو آپ سب بھی آئی پی ایس ہی ہیں، اس لیے اس معنیٰ میں آپ اس تقریب میں اپنے آپ کو مہمان کی بجائے میزبان سمجھیں تو بھی [صحیح] ہے۔ اس تقریب کا ایک خصوصی حوالہ تو یہی ہے کہ ہم پروفیسر خورشید صاحب کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں اور ان سے کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ اس اعتبار سے ایک دلچسپ موقع ہمارے لیے ہے کہ جیسے کسی بچے کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب آپ اسے کھلونوں کی دکان پہ لے جائیں، تو وہ تو ہر کھلونا خریدنا چاہتا۔ اور مشکل یہ ہوتی ہے کہ والدین تو ایک، زیادہ سے زیادہ دو کھلونے دلوانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی یہ لگتا تھا کہ ہم آج بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن تقریب تو ایک ہی ہونی ہے۔ اسی لیے آپ کو جو دعوت نامہ ملا ہو گا، آپ نے شاید محسوس کیا ہو کہ اس کا ایک تاثر یہ تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کو جیسے خورشید صاحب کے بارے میں کچھ بات کرنی ہو گی، یا بہت سے لوگوں نے یہ تاثر لیا۔ اور ہمیں بھی اس کا احساس ہوا جب بعض لوگوں نے اس حوالے سے بات چیت کی کہ اچھا، کیسے ہو گا پروگرام؟ ہمیں لگا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ انہیں بھی بولنے کا موقع ملے گا کہ خورشید صاحب کو وہ کیسے دیکھتے ہیں۔ تو حقیقت میں ایک خواہش ہماری یہ تھی تو سہی لیکن شاید ہم اسے آج پورا نہیں کر سکیں گے۔
ایک اور بات یہ کہ آپ کو معلوم ہے آج تئیس مارچ ہے، یومِ پاکستان ہے۔ تو پاکستان ہم سب کی پہچان ہے اور تئیس مارچ پاکستان کی پہچان ہے۔ تو ہماری خواہش یہ بھی تھی ہم تئیس مارچ کے موقع پر جمع ہو جائیں۔ ایک اور بات یہ بھی ہمارے ذہن میں کافی عرصے سے تھی، اس سے پہلے بھی ایک دو بار ہم نے، آئی پی ایس سے وابستگان جو ہیں، ان کی فیملی گیٹ ٹو گیدر کی، کہ یہاں پہ ایک بار پھر ایسا موقع نکالیں اور فیملیز کی گیٹ ٹو گیدر ہو ، آئی پی ایس میں جمع ہوں ایک بار پھر۔
اور ایک اور پہلو یہ تھا کہ خورشید صاحب، آپ کو معلوم ہے، اپنی صحت کی وجہ سے بھی اور بعض دوسرے مسائل کی بنا پر گزشتہ کافی عرصہ اسلام آباد نہیں رہے۔ اب کوئی چھ مہینے سے یہاں موجود ہیں۔ اور جب خورشید بھائی آ رہے تھے یہاں تو ہمارا خیال تھا کہ ہم بہت سی نشستیں منعقد کریں گے۔ بہت سے دوست احباب جو ذکر کرتے تھے، مختلف موضوعات پہ، لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ یہاں رہتے ہوئے بھی صحت نے ساتھ نہیں دیا۔ اور خورشید صاحب نے آپریشن کرایا تھا آنکھ کا، اس میں اتفاق سے کچھ کمپلیکیشن ہو گئی، اور ابھی تک بھی وہ فُلی اس معنی میں آنکھ ریکور نہیں ہوئی۔ اور اب چند دن کے بعد خورشید بھائی جو ہیں وہ پھر دوبارہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔
تو ہم نے سوچا کم از کم ایک موقع ایسا نکال لیں کہ جس میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔ اور یہ ملاقات اس طرح ہی ہو کہ آج ذہنوں میں جو بہت سے سوالات لوگوں کے آتے ہیں، پاکستان کے حوالے سے، اسلام کے حوالے سے، نوجوانوں کے حوالے سے۔ ان سوالات پر ہم خورشید صاحب کو دعوت دیں کہ وہ کچھ گفتگو ہمارے سامنے رکھ سکیں۔ اور یہ ایک طرح سے ان کا وژن بھی ہے، ان کی جانب سے رہنمائی بھی ہے جو ہمیں مل جائے گی۔ اور اس کے بعد آپ کے سوال جواب بھی ہو جائیں گے۔
لیکن جیسے میں نے کہا، وہ کھلونوں کی دکان پہ آ کے بہت سارے کھلونے بچے لینا چاہتے ہیں، تو مجھے بہت خوشی ہے کہ اکرم ذکی صاحب بھی ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔ اور اکرم ذکی صاحب کی ایک بہت اچھی نظم کچھ عرصے قبل میری نگاہ سے گزری تھی۔ شاید بہت سے لوگوں کو علم نہ ہو کہ اکرم ذکی صاحب، باقاعدہ کلام بھی ہے ان کا، شاعری کرتے ہیں، اور جس طرح آپ ان کی گفتگو اور تقاریر سنتے ہیں، اسی طرح اس نظم میں بھی بہت عمدہ پیغام ہے نوجوانوں کے نام۔ تو میں نے ان سے درخواست کی کہ اس سے قبل کہ خورشید صاحب سے ہم سوال کریں، جو ندیم بھائی آپ کے سامنے پیش کر دیں گے، تو آپ کی اجازت سے ہم ذکی صاحب سے کہیں گے وہ اپنی نظم پیش کریں۔ تو ذکی صاحب آپ بیٹھ کے پیش کرنا چاہیں گے یا؟ …
پروفیسر خورشید احمد: ہاں جی، بیٹھ کے ہی، آرام سے۔ [اتنے میں ذکی صاحب اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے]۔
خالد رحمان: جیسے سہولت ہو۔ [ذکی صاحب مائیک پر تشریف لے آئے]۔ یہ نوجوانوں کے نام ہے اور اس اعتبار سے ذکی صاحب کھڑے ہو کے ہی پیش کرنا چاہیں گے۔
پروفیسر خورشید احمد: اچھا [قہقہہ]۔ [حاضرین بھی محظوظ ہوئے]۔
جناب اکرم ذکی:
پہلے تو میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ خورشید صاحب کو ان کی پچیسویں سالگرہ پر مبارکباد دیتا ہوں۔
پروفیسر خورشید احمد: پچاسی۔
حاضرین محظوظ ہوتے ہوئے: پچیاسویں۔
اکرم ذکی: پچاسی کو میں پچیس ہی سمجھتا ہوں۔ پچاس سال تو ایسے ہی گزر جاتے ہیں۔
خالد رحمان: اگر آپ اجازت دیں۔ ذکی صاحب یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں انہیں بھی چھبیس سال کا کہا جائے [ہر طرف قہقہے]۔
اکرم ذکی: مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے استقبال کے لیے میں اس زمین پہ آ چکا ہوا تھا۔ [حاضرین محظوظ ہوئے]۔ یہ بذاتِ خود ایک ادارہ ہیں۔ اور جو ادارہ انہوں نے بنا دیا ہے، وہ پاکستان کے بے شمار اداروں سے بہتر کام کر رہا ہے، تو میں اس کی بھی مبارکباد ان کو دینا چاہتا ہوں۔
میں نظم سنانے سے پہلے معذرت کروں گا: اسلام جو ہے وہ درمیانی راستہ بتاتا ہے۔ اور نہ ہمیں مغرب کی طرف جانے کی ضرورت ہے، اور نہ بہت پیچھے کی طرف۔ ہمارے کچھ علماء ہمیں اسلام سے پہلے کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ تو جو میرا ریفرنس ہے، وہ ان کے لیے ہے۔ تو یہ نظم بچوں کے لیے لکھی تھی، کچھ عرصہ [پہلے]، قائد اعظم کی وفات پر۔
مغرب کے طلسمات سے باہر نکلو
ملّا کی خرافات سے باہر نکلو
آزادئ افکار کی روشن کرو مشعل
ماضی کے توہمات سے باہر نکلو
نئے اپنی ترقی کے طریقے ڈھونڈو
فرسودہ رسومات سے باہر نکلو
اب کوئی مسیحا نہیں آنے والا
امیدِ کرامات سے باہر نکلو
تقدیر کی تعمیر ہے میدانِ عمل میں
گلیوں سے مکانات سے باہر نکلو
امن اور محبت کا اٹھا کر پرچم
خون ریز فسادات سے باہر نکلو
اللہ سے بھی مانگو خود بھی کرو ہمت
بگڑے ہوئے حالات سے باہر نکلو
تقدیر کے گھوڑے کی لگامیں تھامو
مایوسی کی ظلمات سے باہر نکلو
نئے عزم سے تاروں پہ کمندیں ڈالو
اور حدِ سماوات سے باہر نکلو
تخلیق کے کھل جائیں گے اسرار و رموز
منزل کو چلو ذات سے باہر نکلو
پروفیسر خورشید احمد: بہت خوب، بہت خوب، جزاک اللہ، بہت خوب۔
جناب ندیم:
بہت شکریہ سر۔ اصل میں جو سوالات ہم نے خورشید صاحب کے لیے ترتیب دیے ہیں، وہ بنیادی طور پہ قائد اعظم کا جو خطبۂ لاہور ہے، 1940ء کا جو اجلاس ہوا تھا، اس کے اندر سے ایک اقتباس ہے جو میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے بیان کر دوں، اور اس کے بعد پھر وہ سوالات پیش کروں۔ قائد اعظم نے یہ کہا تھا کہ:
’’قوم کی ہر تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں۔ ان کا اپنا وطن ہے، علاقہ ہے اور اپنی ریاست ہے۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی سے رہنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ہم اپنے لوگوں کا آزاد اور خودمختار تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی، تہذیبی، معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کو اپنی سوچ اور نظریات کے مطابق اس طرح استوار کریں جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔ ہماری قوم اپنے مقصد اور منزل کے حصول کے لیے کسی قسم کی دھمکی یا خطرات سے مرعوب نہیں ہو گی۔ میں اپنے لوگوں سے التجا کروں گا کہ تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود ہمیں ہر اس قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اس مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے۔‘‘
اس اقتباس کی روشنی میں کچھ سوالات ہم نے ترتیب دیے کہ جن کا جو تعلق ہے، وہ پاکستان سے، امتِ مسلمہ سے، نوجوانوں سے، خواتین سے، اور علم و تحقیق سے ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے کے طور پر وجود میں آیا تھا جو دنیا بھر کے لیے اسلام کے موجود دور میں قابلِ عمل بلکہ مفید اور بابرکت ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ تاہم داخلی معاملات کے علاوہ بیرونی طور پر بھی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں نے ایک ایسے عالمی نظام کو جنم دیا ہے جس میں ایک مختلف بلکہ متضاد نظام کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔
- اس منظرنامے میں جو پہلا سوال ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی نگاہ میں پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کیا ہیں اور ان چیلنجز کی موجودگی میں آپ مستقبل کا منظرنامہ کیا دیکھتے ہیں؟
- ہم ایک وسیع تر تناظر میں یہ جاننا چاہیں گے کہ مسلم دنیا اس وقت جس انتشار کا شکار ہے، اور خود اسلام کو مسلم معاشروں ہی میں جن سوالات کا سامنا ہے، ان کا بہتر جواب کیا ہے؟ نیز مغرب کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے تعلقات کے حوالے سے کیا نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے؟
- یہ کچھ پیغام تو نوجوانوں کے لیے، ابھی ہمیں بہت عمدہ ایک پیغام ملا، لیکن ہمارے سوالوں میں بھی یہ اس انداز میں شامل ہے کہ نوجوان اپنی تعداد کے حوالے سے مسلم دنیا کا ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے بالخصوص آپ کیا نصیحت فرمائیں گے؟
- چوتھا سوال یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں خواتین کا مقام اور کردار ہمیشہ سے مسلّمہ ہے۔ اِس وقت خواتین کا سماجی کردار تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے میں خواتین کے حوالے سے معاشرے کا اور خود خواتین کا نقطۂ نظر اور اندازِ فکر و عمل کیا ہونا چاہیے؟
- اور آخری سوال کہ جو آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے، علم و تحقیق کسی بھی تہذیب اور معاشرے کی ترقی کے لیے اہم ہیں، اس میں کھویا ہوا نشانِ راہ پانے کی کیا سبیل ہے؟
یہ بعض سوالات ہیں، ہماری خواہش ہو گی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی رہنمائی کے لیے آپ سے درخواست کریں۔
پروفیسر خورشید احمد:
شکریہ بہت۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، رب اشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقہوا قولی۔
برادرانِ عزیز خالد رحمان، ندیم، میرے نہایت ہی عزیز محترم اور قابلِ احترام ساتھیو اور بھائیو، بہنو، بیٹیو! سب سے پہلے تو میں آپ کا اور خاص طور سے آئی پی ایس کے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اس محفل کا انتظام کیا اور آپ نے شرکت کی۔ میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ دیکھیں، سچی بات یہ ہے کہ میری زندگی سرپرائزز سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن جب خالد رحمان بھائی نے مجھ سے کہا کہ ہم اس تئیس دسمبر [مارچ] کو ایک پروگرام کر رہے ہیں، آپ اس میں آئیں۔ تو میں نے کہا، سر آنکھوں پر۔ تو جب انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کی برتھ ڈے بھی ہے، تو میں تعجب میں پڑ گیا، میں نے کہا کہ یہ اڑتیس سال کے بعد کیسے یاد آ گیا ہمارے ساتھیوں کو! [آئی پی ایس کا قیام 1979ء میں ہوا]۔اور پھر جب نوفل کا ای میل دیکھا تو پھر میں گھبرایا کہ یہ تو فی الحقیقت ایک دھماکہ خیز موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ تو یہ میرے لیے ایک سرپرائز تھا۔
اس پہلو سے بھی کہ اس پچاسی سال میں اللہ کا بڑا کرم، اس کی عنایت ہے کہ اس نے مجھے یہ موقع دیا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقے سے کوئی محفل منعقد ہو رہی ہے۔ بچے ضرور گھر پر مجھے مبارکباد دیتے رہے ہیں…کیک کھلاتے رہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر کبھی ہمارے ہاں یہ چیز نہیں ہوئی۔ اور غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ، یہ گویا کوئی غلط چیز نہیں ہے، لیکن بحیثیت مجموعی ہماری تاریخ کی روایت یہ نہیں ہے۔ ہماری تاریخ کی روایت اگر کوئی ہے تو وہ تو وہ ہے جو ایک شعر میں کسی نے سمو دیا ہے کہ؎
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
یعنی جو مدت آپ لے کے آئے ہیں اللہ کے حضور سے، اور جو موقع آپ کو اس مہلت سے اور اس اپرچونیٹی سے فائدہ اٹھانے کا ہے، اب اس میں اور کمی ہو گئی ہے۔ تو خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی۔ تو یہ ہماری روایت رہی ہے۔ لیکن بہرحال زمانے کا چلن ہے، دستور ہے، آپ نے بھی اس کا انعقاد کیا۔ میں بے حد ممنون ہوں، بہت بہت شکریہ۔
دوسری سرپرائز آپ نے دی سوالات کی شکل میں۔ اس پر مجھے یاد آیا کہ امیر خسرو، جو بڑے مشہور شاعر، بذلہ سنج، ادیب اور … ہیں، تو وہ ایک مرتبہ کسی دیہات میں گئے۔ پیاس لگی، کنویں پہ گئے پانی پینے کے لیے۔ کنویں پہ قبضہ تھا خواتین کا، اور وہ ان کو آگے نہیں بڑھنے دیتی تھیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اب میں آپ سب کے جانے کا انتظار کروں، اس میں تو بڑا وقت لگے گا، مجھے موقع دیں کہ میں پانی پی لوں۔ اس اثنا میں کچھ نے پہچان لیا ان کو اور آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی کہ یہ تو خسرو ہے، اس سے کہو پہلے کچھ ہمیں سنائے، پھر ہم اس کو موقع دیں گے۔ تو ایک نے فرمائش کی، موضوع دیا ان کو: ’’کھیر‘‘۔ دوسری نے کہا: ’’چرخا‘‘۔ تیسری نے کہا: ’’کتا‘‘۔ چوتھی نے کہا: ’’ڈھول‘‘۔ کہ پہلے ہمیں اس کے بارے میں کچھ کہو، پھر ہم لوگ اجازت دیں گے۔ تو امیر خسرو جیسا بذلہ سنج کہاں کون ہو سکتا تھا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ ؎
کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا
لا پانی پلا۔ لیکن میرا ساتھ یہ ہوا، انہوں نے چار نہیں پانچ سوال دے دیے [حاضرین محظوظ ہوئے] بہرحال میں کوشش کرتا ہوں کہ مختصراً ان کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ اور اس کا آغاز میں اس بات سے کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا جو مسلمان گھرانہ ہے۔ کہیں بھی پیدا ہو سکتا تھا اور کچھ بھی میری قسمت ہو سکتی تھی۔ پھر ایسے ماں باپ اور گھر کا ماحول میسر کیا جس نے شروع ہی سے میری تربیت ایک خاص رُخ پر کی، اور وہ خیر کا اور اچھائی کا رُخ تھا۔ مجھے بالکل اپنے بچپن ہی میں علمی ادبی ماحول ملا۔ ہم قرول باغ میں رہتے تھے، جامعہ ملیہ قریب ہی تھی۔ اور ہر سال وہ محمد علی ٹرافی کمپی ٹیشن ہوا کرتے تھے۔ جس میں سپورٹس بھی تھے، نظم پڑھنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا، تقریر کا بھی ہوتا تھا، بچوں کے لیے، نوجوانوں کے لیے۔ میں نے سات آٹھ سال کی عمر میں نظم پڑھنے میں، مباحثوں میں حصہ لینے میں، اور سپورٹس میں شرکت کی۔ اور یہ جب ٹرافی کا ہوتا تھا تو تین دن کا پروگرام ہوتا تھا، وہیں ٹھہرنا پڑتا تھا اور زمین پر سونا ہوتا تھا، تو ایک کیمپنگ لائف تھی۔ یہ بڑے اہم تجربات تھے زندگی کے۔
پھر تحریکِ پاکستان، ہندو مسلم فسادات، آزادی کی تحریک۔ 1942ء میں آزادی کی تحریک کو قوت سے کچلنے کی برطانوی کوشش۔ پھر 1945ء / 1946ء کے انتخابات۔ میری پوری فیملی مسلم لیگ سے وابستہ تھی۔ میں بچوں کی انجمن کا سب سے ینگسٹ (کم عمر) صدر بنا تھا۔ اور بچہ مسلم لیگ کا دلی میں صدر منتخب ہوا۔ اینگلو عریبک ہائر سیکنڈری سکول میں میری سیکنڈری ایجوکیشن ہوئی، جو تحریکِ پاکستان کا مرکز تھا۔ اس کے بزمِ ادب کا مجھے سیکرٹری بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ہر ہفتے کم از کم ہمارے جلوس آیا کرتے تھے اسمبلی کی طرف، پاکستان کی تائید کے لیے۔ الیکشن کی مہم میں شب و روز ہم نے کوشش کی۔ ڈاکٹر عبد الغنی قریشی ہمارے کینڈیڈیٹ تھے دلی میں، انہیں کامیاب کیا۔ میرے والد کے بہت گہرے دوست تھے وہ۔ یعنی یہ سب دور سے میں گزرا ہوں۔
پھر میں نے 3 جون کی تقریر بھی ریڈیو کے اوپر، اس زمانے میں ٹی وی نہیں ہوا کرتا تھا، اپنے کانوں سے سنی۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پھر 3 ستمبر 1947ء کو مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ اور گھر سے اس حالت میں ہم نکلے ہیں کہ ایک تانگے میں، جو کچھ ہمارے بدن پر تھا یا ہاتھوں میں تھا، بس اس کو لے کر ہم آگئے۔ اور پھر میرا گھر لُٹا، جلایا گیا۔ پھر جہاں ہم نے پناہ لی تھی، وہاں پر حملہ ہوا۔ اور کئی راتیں ایسی گزری ہیں کہ جس میں پوری پوری رات ہم جاگے ہیں، ایک مکان سے دوسرے میں۔ ایک رات مجھے یاد ہے کہ چھ جگہ ہم نے بدلیں ایک رات کے اندر۔ اور وہ رات وہ بھی تھی جس میں نے اپنی ناک سے خود انسانی چربی کے جلنے کی بدبو سونگھی ہے۔ پھر میں ایک مہینہ ریفیوجی کیمپ میں بھی رہا ہوں۔ ہمایوں کے قلعے پر جو کیمپ تھا، وہاں ہم رہے ہیں۔ وہاں ہم خدمت کرتے رہے ہیں۔ وہاں سے گاڑیاں جا رہی تھیں۔ پھر وہاں سے، چونکہ میرے والد الحمد للہ متمول لوگوں میں سے تھے، تو ہم نے پھر ہوائی جہاز سے آنے کا طے کیا۔ اور فیملی کا ایک حصہ دسمبر 1947ء، اور میں خود اور میرے والد اور میری والدہ 12 فروری 1948ء کو پاکستان منتقل ہوئے۔ اور اس کے بعد سے میں نے پھر وہ گھر یا وہ جگہ نہیں دیکھی۔ تو اِس سب دور سے میں گزرا ہوں۔ تو اس پہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مسلمان گھرانے میں مجھے پیدا کیا، اچھے گھرانے میں پیدا کیا، اور مجھے موقع اس نے دیا۔
پھر اس کے بعد جب ہم لاہور آگئے، تو میرے بڑے بھائی مجھ سے پہلے آ گئے تھے، انہیں ایف سی کالج میں داخلہ مل گیا۔ میں چونکہ آیا ہوں فروری میں، سال شروع ہو چکا تھا، تو مجھے کہیں داخلہ نہیں ملا۔ ایک ہی کالج تھا، ٹی آئی کالج، جو قادیانیوں کا تھا۔ اور ایف سی کالج کے بالکل پیچھے ایک ٹیمپریری جگہ تھی جہاں وہ کالج تھا۔ وہاں سے پھر وہ دیال سنگھ میں منتقل ہوئے۔ وہاں میں نے داخلہ لے لیا۔ اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ میرا دوسرا کلاس فیلو، بہار سے آئے ہوئے، وہ جو آج کل ڈاکٹر ای کیو، اقبال احمد، مشہور سوشلسٹ، جن کا انتقال ہو چکا ہے، ہم دونوں کلاس فیلو تھے اور اچھے دوست تھے۔ اور وہیں پر ہمیں پہلی مرتبہ سوشلزم اور اسلام کے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اور ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نوجوانوں کا مستقبل یا سوشلزم میں ہے یا اسلام میں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ سوشلزم کی طرف چلے گئے اور میں اسلام کی طرف آ گیا۔
1949ء میں پہلی مرتبہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے میں آشنا ہوا ہوں۔ الحمد للہ جو روایتی دینی زندگی ہے وہ ہم گزارتے تھے، لیکن یہ ذہن کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام کیسا انسان چاہتا ہے؟ اسلام کیسا معاشرہ چاہتا ہے؟ اسلام تاریخ کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے؟ اس کا ہمیں کوئی زیادہ شعور نہیں تھا۔ یہ 1949ء کے وسط سے جمعیت سے تعارف، پھر 1950ء میں میں جمعیت کا رکن بنا ہوں، جنوری میں۔ فوراً ہی بعد دو یا تین مہینے کے اندر ناظم کراچی منتخب ہو گیا۔ پھر ناظمِ سندھ، پھر ناظمِ اعلیٰ …… دونوں موجود ہیں، جنہیں 1951ء، 1952ء میں میں نے، جب یہ سکول میں تھے، جمعیت کا جو پہلا سٹڈی سرکل بنا تھا، اس میں مسلم سجاد اور محبوب علی اور سب ساتھی … شریک تھے۔ تو اس طرح پھر تحریکی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور اس کے بعد کی چیزیں آپ کے سامنے ہیں۔
تو پہلا اللہ کا کرم یہ ہے کہ اس نے مسلمان گھرانے میں پیدا کیا۔ دوسرا یہ ہے کہ ایسا گھرانہ جس میں بہرحال دین کا شعور تھا اور اس نے میری زندگی کو ایک بہتر رخ کے اوپر ڈالا۔ پھر اس نے مجھے تحریکِ اسلامیہ کو جاننے کی توفیق دی۔ اور اس سے بھی پہلے ایک اور چیز یہ کہ وہ دور مجھے ملا جس میں تحریکِ اسلامی موجود تھی۔ اس لیے کہ ہماری تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیں کہ جن میں اسلام تو تھا لیکن اسلام کے لیے جدوجہد اور اسلام کے لیے اجتماعی اور دعوتی، اور تبدیلی کی جو رَو ہے، وہ نہیں تھی یا کمزور تھی۔ تو مجھے وہ دور ملا۔ اور پھر مجھے یہ توفیق بھی نصیب ہوئی کہ میں اس تحریک سے وابستہ ہوا ہوں۔ اور میری یہی دعا ہے کہ آخری سانس تک اسلام اور اسلامی تحریک کے ساتھ میرا رشتہ استوار رہے۔
اس پس منظر میں آئیے، جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان پر تھوڑا سا غور و فکر کریں۔ بلاشبہ آج یہ ایک ایکسیڈنٹ [اتفاق] ہے کہ میری یومِ پیدائش بھی یہی ہے۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ مارچ کی اہمیت ہماری تاریخ میں کم از کم تین پہلوؤں سے ہے۔
https://youtu.be/edQgfHeyTp8
(جاری)
قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری
(۲۴ دسمبر ۲۰۰۴ء کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
محترم صدرِ مجلس، جنرل خالد مقبول صاحب، معزز زعمائے قوم، اور معزز خواتین و حضرات! میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کا یہ اقدام، جو تسلسل کے ساتھ اہم قومی امور پر غور و خوض اور تبادلۂ خیال کے لیے کرتے رہتے ہیں، یقیناً لائقِ تحسین ہے۔ اور اس سے بہت سے اہلِ فکر و دانش کا نقطۂ نظر سننے اور آپس میں خیالات و نظریات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بڑی کارآمد، پرمغز اور فکر انگیز باتیں ہو چکی ہیں۔ میں اپنی گفتگو کو موضوع کے حساب سے دو حصوں میں تقسیم کروں گا:
- ایک قائد اعظم کے افکار، اس کو الگ سے، چند پہلو، جو میں نے ان کی تقاریر، ان کے بیانات، اور ان کی ہدایات سے اخذ کیے ہیں، وہ پہلے الگ سے بیان کروں گا۔ تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں ہم پاکستان کے اس تصور کا ایک خاکہ اور نقشہ ذہنوں میں لا سکیں، جو قائد اعظم کا خواب تھا، جس کی تعبیر انہوں نے شروع کر دی، اور جس کے لیے انہوں نے ایک عظیم جدوجہد کی۔ اور بقول ایس ایم ظفر صاحب، جس کے لیے انہوں نے تاریخ تخلیق کی اور ایک ریاست ان کی جدوجہد سے معرضِ وجود میں آئی۔
- دوسرے حصے میں پھر آج کا پاکستان، اس کا جو نقشہ ہے، اُس کو بیان کروں گا، چند ایک پہلو تاکہ ایک تقابلی جائزہ ہو سکے۔ اور غالباً یہی مقصود ہے حقانی صاحب کا اور سوسائٹی کا کہ اس تقابل کا اور توازن کا جائزہ ہو۔
قائد اعظم کے افکار
قراردادِ مقاصد: قائد اعظم کے افکار کی جامع جھلک
ہماری جو مستند دستاویز اس وقت قوم کے پاس ہے وہ پاکستان کا آئین ہے، ۱۹۷۳ء کا آئین۔ قائد اعظم کے افکار کو اگر اس میں تلاش کرنا ہو، تو اس آئین میں جو دستاویز ہے بنیادی، ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے، جو آئین کا حصہ ہے۔ یہ قائداعظم کے افکار کی ایک جامع جھلک ہے۔ اور ان کے تصور میں جو پاکستان کا نقشہ ہے، اس کے خدوخال ہیں جو اس قراردادِ مقاصد میں بیان کیے گئے ہیں۔ تو میں نے چونکہ ابھی تقابلی جائزہ نہیں لینا، پہلے حصے میں صرف اس نقشے کو ممکنہ حد تک بیان کرنا ہے جو ہمیں قائد اعظم کے افکار سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ نقشہ جب ایک مکمل کلُیت کے طور پر ہم سامنے رکھیں گے، تو پھر موجودہ جو پاکستان کا نقشہ ہے اس کو تقابلی جائزے میں سمجھنے کی آسانی ہو جائے گی۔
(1) عوامی نمائندوں کی با اختیار حکومت
سب سے پہلے جو اس قرارداد میں ہمیں بات ملتی ہے اور جس کا پرچار عمر بھر قائداعظم نے کیا، وہ ریاست کے بارے میں کہ:
Wherein the State shall exercise its powers and authority through the chosen representatives of the people;
یہاں وہ پارلیمنٹ کے کردار کی بات کرتے ہیں، کہ جس مملکتِ خداداد کو ہم معرضِ وجود میں لائے ہیں، اس کی پوری اختیاری قوت اور تمام تر صلاحیتیں منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی معرضِ وجود میں آئیں گی اور ان کے ذریعے ہی کام ہو گا۔ تو ان کی ایک فیصلہ کن حیثیت کو بیان کرتے ہیں۔ اس سے ریاست کا، ان کے ذہن میں، جمہوری جو تصور ہے، وہ اجاگر ہوتا ہے۔
(2) اسلامی تعلیمات پر مبنی نظامِ زندگی
دوسری بات جو قائد اعظم کی تعلیمات کی صورت میں، ہمیں اس قرارداد میں جس کا عکس نظر آتا ہے، وہ ہمارا اسلامی نظامِ زندگی ہے، جس میں کہتے ہیں:
Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunnah;
ہم نے پاکستان کو اس فکری، اعتقادی اور نظریاتی اساس پر قائم کیا ہے۔ اس میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بتمام و کمال حفاظت ہے، آزادی ہے۔ اور تمام چیزیں جو دورِ جدید میں ہم، … اور انسانی زندگی کے جو ارتقائی حالات ہیں، اس میں پوری جدت کے ساتھ درکار ہے، اس کا جو بنیادی ایک خاکہ دیا گیا ہے، وہ وہ اصول ہیں جس کو قرآن اور سنت نے مقرر کیا ہے۔
(3) بنیادی حقوق کی ضمانت و حفاظت
تیسری چیز جو قائد اعظم کے افکار کی ہمیں آئین میں نظر آتی ہے، وہ بنیادی حقوق کی ضمانت ہے:
Wherein shall be guaranteed fundamental rights including equality of status, of opportunity and before law, social, economic and political justice, and freedom of thought, expression, belief, faith, worship and association, subject to law and public morality;
سیاسی، سماجی اور معاشی عدل و انصاف، اور برابری اور مساوات۔ مواقع میں اور حیثیتوں میں۔ وہ ایک ایسا معاشرہ قائد اعظم تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ان خوبصورت اصولوں کے ستونوں پر قائم ہو۔ جس میں امتیازات پر مبنی قوانین نہ ہوں۔
(4) عدلیہ کی آزادی اور پارلیمنٹ کی بالادستی
اس کے بعد بڑی اہم بات جو ہے، وہ ہے:
Wherein the independence of the Judiciary shall be fully secured;
وہ عدلیہ کو ہر قیمت پر آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم پارلیمنٹ کو تمام اختیارات اور قوت کا منبع بنا کر اعلیٰ ترین دیکھنا چاہتے تھے۔ اور عدلیہ کو تمام تر اثر و رسوخ اور دباؤ سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ ان کا تصور تھا۔ ایک ایسا ملک پاکستان جس میں پارلیمنٹ اعلیٰ ترین ادارہ ہو، حقیقی معنوں میں، اور جس میں عدلیہ مکمل طور پر ہر دباؤ سے آزاد ہو۔
(5) ملکی سالمیت اور قومی خودمختاری کی نگہبانی
پانچویں چیز، جو بڑی بنیادی، علامہ اقبال (قائد اعظم) کے افکار کی، اس قرارداد میں ہمیں منعکس نظر آتی ہے، وہ:
Wherein the integrity of the territories of the Federation, its independence and all its rights including its sovereign rights on land, sea and air shall be safeguarded;
ہماری خودمختاری، بحیثیت قوم کے خودمختاری، آزادی، اقتدارِ اعلیٰ۔ خودمختاری، جس میں دنیا کی کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کی مداخلت کی گنجائش نہ ہو، اور اس کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے۔ ہم اپنی آزادی، اپنی خودمختاری، اپنی ہوا، اپنی زمین، اور اپنے پانیوں کی مکمل حفاظت کریں، اور اس میں کوئی دخل اندازی کرنے کا مجاز نہ ہو۔ یہ تصور دیتے ہیں خودمختاری (Sovereignty) کا۔
(6) بانئ پاکستان کے افکار کی پاسداری
یہ وہ ڈکلیریشن ہے جو قائد اعظم کی تعلیمات پر قائم ہے، اس لیے اسی قرارداد میں آخر پر یہ حلف لیا جاتا ہے، جو ہمارے آئین کا حصہ ہے۔ یہ تمام چیزوں کو بیان کر کے آئین کے اندر یہ اعلان ہے:
Faithful to the declaration made by the Founder of Pakistan, Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah, that Pakistan would be a democratic State based on Islamic principles of social justice;
اس لیے میں نے عرض کیا کہ یہ جو ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے، یہ قائد اعظم کے افکار کی نہ صرف آئینہ دار ہے، بلکہ اس کی ایک عملی شکل ہے، جو آئین کے ہمارے رہنما اصولوں کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ یہ دستاویز ہمارے دستور میں ہے۔ اور قائد اعظم نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اور ہمارے بزرگوں نے، جو گزر گئے، قائدین جو ان کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک تھے، انہوں نے اس قرارداد کو ثبت کر کے اور پھر اسے آئین کا حصہ بنا کر قائد اعظم کے افکار کو پاکستان کے تصور کی شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔
قائد اعظم کے افکار کا پاکستان
اب قائد اعظم کے افکار کا پاکستان کیا تھا؟ اس پر میں کچھ اقتباسات ان کی تقاریر کے، اہم مواقع پر جو ہیں، وہ دوں گا۔
(1) اقوامِ عالم سے دوستانہ تعلقات
قائد اعظم ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے، اور انہوں نے زندگی اس کے لیے قربان کی تھی، اس میں انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے خطاب کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ہم مستقبل میں آپ سے اور اقوامِ عالم سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غلامانہ نہیں، دوستانہ رشتہ چاہتے ہیں۔ اور پھر اس وقت حکومتِ برطانیہ سے کہتے ہیں کہ اگر آپ پورے طور سے مطمئن کر کے مسلمانوں کو اپنا دوست بنا لیں تو تعلقات خوشگوار رہ سکتے ہیں۔
اور پھر مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ آپ ان پر اعتماد نہیں کر سکتے، آپ کو ہر صورت اپنی ہی طاقت پر اعتماد کرنا ہو گا۔ یہ وہ رہنما اصول ہے کہ آپ کو اپنی طاقت پر اعتماد کرنا ہو گا۔
اور پھر انہیں خطاب کرتے ہیں، برطانوی حکومت کو، کہ میں اس پلیٹ فارم سے واضح کیے دیتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا سمجھوتہ ہماری یعنی مسلمانوں کی مرضی کے خلاف مسلمانانِ ہند پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، تو ہم پوری قوت سے مزاحمت کریں گے، اور برطانیہ سمیت کسی طاقت کو اس معاملے میں کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے۔ یہ قیادت تھی ان کی۔
(2) عالمی کردار کے خدوخال
اس کے بعد وہ معرضِ وجود آنے والے پاکستان کا امتِ مسلمہ کے لیے ایک کردار دیکھتے ہیں۔ الگ تھلگ رہ کر جینے کا سبق نہیں دیتے ہیں، کہ اپنے معاملات کو نمٹاؤ۔ اس کو ایک عالمی کردار دیتے ہیں۔ اور اس عالمی کردار میں وہ برطانیہ پر فلسطینی مسلمانوں کے مطالبات کو قبول کرنے اور ان کے حقوق انہیں واپس دلانے پر زور دیتے ہیں۔
یہاں پر قائد اعظم نے 14 جولائی 1947ء میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال دیے ہیں۔ اس میں سے چند متعلقہ باتیں، جو وہ بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں، بڑی طاقتوں کے درمیان جو اپنے مفادات کے لیے باہمی کشمکش ہوتی ہے، ہمیں اس کا فریق اور اس کا شریک نہیں بننا چاہیے۔
بڑی طاقتیں، اور آج کی بڑی طاقت، ان کا قومی مفاد ہی ان کے لیے سب سے بڑا قانون ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی آئین اور کوئی قانون ان کے نزدیک تقدس نہیں رکھتا، جتنا تقدس ان کے قومی مفاد کو حاصل ہوتا ہے۔ باقی ہر چیز ثانوی ہے، دنیا میں جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں:
- وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا نعرہ لگائیں،
- وہ کسی آمرانہ حکومت سے قوم کو آزادی دلانے کا نعرہ لگائیں،
- وہ ایک معتدل انسانی معاشرے کے لیے ثقافت دینے کی بات کریں،
- انسانی حقوق کی بات کریں،
- وہ ثقافت کی آزادی کی بات کریں،
- آزاد خیالی کی بات کریں،
- وہ جمہوریت کی بات کریں،
جو کچھ کہتے ہیں، اس کے پیش نظر ان کے صرف اپنے مفادات اور اغراض ہوتی ہیں۔ اور وہ اپنی اغراض اور مفادات کے لیے ہمیشہ ایک نیا فلسفہ وضع کر کے اقوامِ عالم کو اپنی جنگ میں ملوث کرتے ہیں۔
اگر انہیں یک قطبی نظام قائم کرنے کے لیے، پوری دنیا میں طاقت کا توازن اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے، اگر اشتراکی قوت کو ختم کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اس کو ’’جہاد‘‘ قرار دلواتے ہیں، اور امتِ مسلمہ کو اس جہاد میں پورا شریک کر کے جہاد کی مدد کرتے ہیں۔
جب وہ یک قطبی نظام قائم کر لیتے ہیں، اس کے بعد ان کو، پوری دنیا پر ایک دہشت کی فضا قائم کرنے کے لیے پھر ایک نئی جنگ کی ضرورت ہوتی ہے، ایک نیا عنوان درکار ہوتا ہے۔ وہ عنوان ایک جنگ ہے دہشت گردی کے خلاف۔ دہشت کے خلاف جنگ کے نام پر اب پوری دنیا کو اس میں ملوث کرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ، پہلے بھی ایک جنگ میں طویل مدت شریک ہو کر اس نے دیکھا ہے، اور پاکستان نے بھی انجام دیکھا ہے۔ اب عالمی سطح پر دہشت کے خلاف ایک جنگ ہے، اور اس میں سب کو شریک کر کے؛
قائد اعظم اُس امر کی طرف درحقیقت اشارہ کر رہے ہیں کہ بڑی طاقتیں، ان کے اپنے اغراض ہیں، مفادات ہیں، اور ان کی کشمکش ہے اپنے مفادات کے لیے۔ وہ خارجہ پالیسی کا اصول دے رہے ہیں کہ ہم ان کی کشمکش میں کبھی فریق نہیں بنیں گے۔
(3) مظلوم اقوام کی جدوجہد میں مدد
اور پھر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں جو محکوم قومیں ہیں، وہ جو اپنی جدوجہد کی جنگ لڑیں گی، اور محکوم قوموں کی، کشمیر اور فلسطین کی طرح، ان کی جو جدوجہد اور جنگِ آزادی ہے، جسے پچھلی صدی تک آئین میں، جمہوریت میں، اقوام متحدہ کے چارٹر میں، ان کی اپنی آزادی کی جنگ کو War of Independence کے طور پر حق تسلیم کیا جاتا تھا، اور امریکہ خود بھی اسی جنگِ آزادی کے نتیجے میں آزاد ہوا تھا، آج اِس صدی میں فلسفہ تبدیل کرتے ہوئے، آج سراسر قوموں کی آزادی کی جنگ ہی ’’دہشت گردی‘‘ کے عنوان میں آ گئی ہے۔
لہٰذا انہوں نے کہا کہ محکوم قوموں کی جدوجہدِ آزادی میں ہماری خارجہ پالیسی یہ ہو گی کہ ہم ہر ممکن ان کی مدد کریں گے۔ یہ خارجہ پالیسی کے خدوخال دے رہے ہیں۔
(4) قومی مفادات کا تحفظ اور بیرونی مداخلت سے گریز
اور عالمی مسائل، ہم کسی کے اثر اور کسی کے دباؤ میں نہیں، بلکہ دیانت اور عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق طے کریں گے۔ اور خارجہ پالیسی کے تعین میں اپنے جغرافیائی اور سیاسی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات۔ غیر ملکی امور میں نہ مداخلت کریں گے، نہ مداخلت ہونے دیں گے اپنی (مملکت میں)۔ اور تیسری دنیا کے جو ممالک ہیں، جن کے خلاف، بڑی سامراجی اقوام جن کو ابھرنے سے ہمیشہ روکتی ہیں، ان کے مابین یکجہتی اور اتحاد کی جدوجہد میں مُمد ہوں گے۔
یہ قائد اعظم کے، پاکستان اور اس کے مستقبل کے لیے، خارجہ پالیسی کے وہ خدوخال تھے، وہ بنیادی اصول تھے، جن کو انہوں نے اس تقریر میں نمایاں کیا۔
قائد اعظم کی فکرِ اسلامی اور تصورِ مملکت
اس کے بعد ایک بڑا اہم پہلو ہے۔ جنہوں نے قائد اعظم کو پڑھا ہے، وہ واقف ہیں۔ اور بہت لوگ جو پڑھ نہیں سکے، شاید طویل وقت اور طرح طرح کے فلسفوں اور نظریات کی وجہ سے قائد اعظم کی شخصیت کا اور ان کے افکار کا یہ پہلو ہر ذہن پر اتنا نمایاں نہ رہا ہو۔ سوائے اہلِ علم و دانش کے، جو مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ اہم بات ہے۔
(1) فکرِ اسلامی کا جرأتمندانہ اظہار
قائد اعظم واضح طور پر اسلامی فکر کے علمبردار تھے۔ اور انہوں نے اپنے عقیدۂ اسلامی پر کسی جگہ بھی کبھی معذرت خواہی کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ وہ کبھی معذرت خواہ نہیں تھے۔ وہ بہادر تھے، جرأت مند تھے، صاف ذہن کے مالک تھے، ان پر سب واضح تھا، ان کے اندر یقین تھا، عزم تھا، ہمت تھی، اور وہ جرأت کے ساتھ اپنے عقیدۂ اسلامی اور اس فکرِ اسلامی کے مطابق ہر موقع پر اپنی بات کرتے۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک تقریر میں قائد اعظم کو اور امت، پاکستانی مسلمانوں کو، شہنشاہ اکبرِ اعظم کی مثال دے کر کہا کہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کے لیے آپ اکبرِ اعظم کے نمونے کی پیروی کریں، جس طرح انہوں نے آزادی اور رواداری کا نمونہ پیش کیا۔
اسی وقت جب قائد اعظم اس تقریر کے جواب میں اپنی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ تو قائد اعظم کبھی معذرت خواہ نہیں تھے۔ انہیں اپنے عقیدے کے، عقیدۂ اسلامی ہونے پر نہ کبھی شرم تھی، نہ کبھی کوئی افسوس تھا، نہ کسی قسم کا کوئی احساسِ کمتری تھا۔ کھڑے ہو کر انہوں نے جواب دیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو، کہ خیرسگالی اور رواداری، جس کا اظہار اکبرِ اعظم نے غیر مسلموں کے لیے کیا، وہ آج کی تاریخ نہیں ہے۔ قائد اعظم نے کہا، اس کی ابتدا پندرہ صدیاں قبل ہمارے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے عمل سے ہوئی تھی۔ انہوں نے یہودیوں اور مسیحیوں کو، فتح پانے کے باوجود ان سے حسنِ سلوک کیا تھا۔ اور آپؐ نے ان کے دین اور ان کے عقائد کے بارے میں انتہائی رواداری، لحاظ اور احترام کا اظہار کیا تھا۔ اور پھر قائد اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی پوری تاریخِ اسلام، جہاں بھی انہوں نے حکومت قائم کی، شرافت اور انسان دوستی کے انہی اصولوں سے بھری پڑی ہے، اور ہم اسلام کے انہی زریں اصولوں پر عمل پیرا ہوں گے۔
یہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیا کہ ہمیں یہاں سے، اکبرِ اعظم سے کوئی نیا لائحہ عمل لینے کی اور نمونہ لینے کی ضرورت نہیں۔ وہیں انہوں نے تاجدارِ کائناتؐ کے اسوہ کو سامنے رکھا۔ اور میں نے عرض کیا کہ قائد اعظم کی فکر میں اپنے عقیدۂ اسلامی پر جو پختگی تھی اس میں کوئی معذرت خواہی نہیں تھی۔
(2) اسلامی نظام کے خواہاں
اس میں ایک بڑی اہم چیز جو میں یہاں نقل کروں، وہ یہ ہے کہ قائد اعظم نے تقریر کی 18 اگست 1947ء کو۔ اور اس کے بعد 24 اکتوبر 1947ء۔ 23 جنوری 1948ء۔ یہ تین چار مواقع پر تقریر کی۔ اس میں قائد اعظم نے ایک بات کہی ہے۔
اس آخری تقریر میں، بینکنگ کے افتتاح کا جو ہمارا مرحلہ تھا، سٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر تقریر کی اور قائد اعظم نے فرمایا: ’’لہٰذا ہمارے لیے عوام کو خوشحال اور فارغ البال بنانے کے لیے قطعاً مغرب کے اقتصادی نظام کے نظری اور عملی طریقے کی پیروی کرنا ہمارے لیے بے سود اور بے کار ہو گا۔‘‘ اور وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں چاہیے کہ ہم ایک نئی راہِ عمل اختیار کریں اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کریں جو انسانی اخوت اور سماجی انصاف کے صحیح اسلامی نظریات پر قائم ہے۔ اور اس طرح ہم اپنی وہ ذمہ داری ادا کر دیں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہے۔ اور عالمِ اسلامی کو امن کا وہ تنہا پیغام، جو اسلام نے دیا ہے، وہ دیں اور یہ واضح کر دیں کہ انسانیت کو تباہی سے صرف اسلام کا پیغامِ امن بچا سکتا ہے‘‘۔ یہ عقیدۂ اسلام پر، کسی سمجھوتے کے بغیر، ان کا عزم اور ان کا یقین اور ان کا یہ تصور تھا۔
(3) جمہوریت پسند شخصیت
اس کے بعد قائد اعظم میں ڈیموکریسی کتنی تھی، ان کی شخصیت میں جمہوریت کتنی تھی۔ اور وہ کس طرح کونسلوں میں، اپنی پارٹی میں، پارلیمنٹ میں، اور معاشرے میں جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کا اجلاس، جو نئی دہلی میں 5 جون 1946ء میں منعقد ہوا، اس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے، اس سے رائے لینے سے قبل۔ کسی مسئلے پر برطانوی وزارتی کمیشن کی تجاویز پر ووٹ تھے، آرا لینی تھیں۔ قائد اعظم کا ایک جملہ بڑا تاریخی جملہ ہے، جمہوری فکر کے زاویے سے۔ قائد اعظم نے فرمایا، میں چاہتا ہوں۔ اور یہ بڑی اہم بات ہے، اسے ہمیں اپنی سیاسی پارٹیوں کو، پارلیمنٹ کو، اسمبلیوں کو، اور پورے سیاسی ماحول (ڈیموکریٹک کلچر) کو، قائد اعظم کے اس قول اور اس عمل کی روشنی میں پرکھنا ہو گا۔ قائد اعظم اپنے اراکینِ کونسل، ممبرز کو خطاب کرتے ہیں، فرماتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ ہر ممبر آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرے، اور اس سلسلہ میں خود کو کسی پابندی میں جکڑا ہوا نہ سمجھے۔
(4) عالمِ اسلام کی خیرخواہی
پھر قائد اعظم اپنے تصور کے پاکستان کا عالمی کردار دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو کہتے ہیں، اور عربوں کو کہتے ہیں کہ، اینگلو امریکن کمیٹی، جس نے ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں داخلہ دینے کی اجازت اور سفارش کر دی ہے، انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ عربوں سے کہتے ہیں کہ اس بنیادی اصول کے خلاف اس کو عملدرآمد مت ہونے دیں، ایک یہودی کو بھی قدم نہ رکھنے دیں۔ اور کہتے ہیں، ہم ہندوستان کے مسلمان ہر ممکن آپ کی مدد کریں گے شانہ بشانہ ہو کر۔
اور پھر وہ کہتے ہیں، قائد اعظم، برطانیہ کو، کہ اگر آپ ہمیں اور اپنے آپ کو ایک دوست قوم کے رشتہ کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر جو کچھ آپ فلسطین میں کر رہے ہیں — برطانیہ اس وقت کا امریکہ ہے — لیبیا میں کر رہے ہیں، شام میں کر رہے ہیں، انڈونیشیا میں کر رہے ہیں، آپ کو اپنا طرزِ عمل ختم کرنا ہو گا۔ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، اور یہ جذبات بڑھ رہے ہیں، اور بہت بڑے خطرناک مستقبل کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ یہ ان کی جرأت تھی اور کلیریٹی تھی۔
(5) عالمی معاملات میں شرکت
پھر قائد اعظم ایک پوری عالمی برادری میں، اقوامِ عالم کی سوسائٹی میں، مل جل کے، باعزت، برابری کے ساتھ، باعزت زندگی بسر کرنے اور باہمی تعلق کے اصول وضع کرنے کے لیے ایک بات کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: عالمی امن کے قیام میں — آج عالمی امن کے قیام کا مسئلہ درپیش ہے — ہم اس کے عالمی امن اور سلامتی کے قیام میں ہر ممکن مدد کریں گے، تعاون کریں گے۔
مگر قائد اعظم 17 اگست 1947ء کی تقریر میں، جو جمعۃ الوداع کو نشر کی گئی، اس میں فرماتے ہیں: ہم عالمی امن کے قیام میں دوستانہ حیثیت سے مکمل تعاون کریں گے، مگر ہماری صرف ایک شرط ہے، اور ایک ہی خواہش ہے، وہ یہ ہے کہ ہم عزت سے جینا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی عزت کے ساتھ جینے کا حق دینا چاہتے ہیں۔
ہم اپنی قومی عزت پر، قومی خودمختاری پر، قومی سالمیت پر، قومی آزادی پر، اپنے قومی اور ملی فیصلہ کرنے کے آزاد اختیار پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ اور برطانیہ سمیت کسی بڑی سے بڑی طاقت کو، عالمی امن کے قیام کے تصور کے تحت بھی، ہم اپنی آزادی اور خودمختاری میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ عزت سے جیو اور عزت سے جینے دو۔ یہ قائد اعظم کا فرمان ہے۔
(6) ملکی و قومی مسائل پر نظر
اور پھر قائد اعظم نے ایک بڑی اہم بات، 14 اگست 1947ء میں، اپنے دستور ساز اسمبلی کے اندر خطبۂ صدارت دیتے ہوئے کہی۔ اور فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی خرابیاں جو پاکستان کو تباہ کر رہی ہیں وہ تین ہیں: (1) ایک، امن و امان کا مسئلہ (2) ایک، بدعنوانی کا خاتمہ (3) اور ایک، امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خیانتِ منصبی، جو لوگ منصب پر فائز ہوتے ہیں، وہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں جب خیانت کرتے ہیں، اور بالواسطہ یا بلاواسطہ اقربا پروری کرتے ہیں، اقربا نوازی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں ہرگز اس چیز کو برداشت نہیں کروں گا۔
اور کرپشن کے لیے قائد اعظم فرماتے ہیں کہ یہ بدعنوانی اور بددیانتی، یہ چھوٹی موٹی سزاؤں سے اس کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ قائد اعظم کہتے ہیں، 11 اگست 1947ء کی تقریر میں، کہتے ہیں کہ انتہائی سخت سزاؤں کے ذریعے اس لعنت کا، کرپشن کی لعنت کا، کُلی خاتمہ کرنا ہو گا۔ اور فرماتے ہیں کہ یہ جو وسیع پیمانے پر فاقہ کشی، لوگوں کی ہلاکت، غربت، روزگار سے محرومی، اور جتنی تباہی معاشرے میں، سماجی و معاشی شعبے میں نظر آتی ہے، اس کا ایک بہت بڑا بنیادی سبب، اہلِ اقتدار کا، ذمہ دار لوگوں کی کرپشن ہے۔ چونکہ وہ پورے نظام کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے ہاتھ میں اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور جو کہتے ہیں وہ ان کا قانون ہوتا ہے۔ (قائد اعظم) کہتے ہیں کہ پوری قوت کے ساتھ اس کرپشن کو ختم کرنا ہو گا۔ اگر ہم پاکستان کو وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جو قائد اعظم کی تعبیر کا پاکستان تھا۔
آج کے پاکستان کا نقشہ
قائد اعظم کا نقشۂ خیال، ان کا تصور، ان کے افکار کا پاکستان، اس کے بنیادی خدوخال ہم سن چکے، ہم پڑھ چکے، دیکھ چکے۔ آج کے پاکستان کو جب دیکھتے ہیں، تو میں ایک شعر کے ذریعے یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے اندر آج جو کچھ ہو رہا ہے اور جو نقشہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، پاکستان کی روح یقیناً دیکھ رہی ہے، اور شاید وہ تڑپ کر زبانِ حال سے یہ کہتی ہو گی کہ؎
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
اس طویل عرصے میں، ہم نے پاکستان کو قائد اعظم کے افکار کے بالکل متضاد سمت گامزن کیا ہے۔ ہم نے قائد اعظم کے افکار کو صرف اپنی تقریروں کی زینت بنایا ہے، اپنے مضامین کی زینت بنایا ہے۔ اس سے آگے آج کے پاکستان میں عملاً قائد اعظم کے افکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔
(1) عدلیہ کی بے حیثیتی
قائد اعظم اس ملک میں جس عدلیہ کی آزادی کو ہر صورت محفوظ کرنا چاہتے تھے، آج اس عدلیہ کی شہ رگ پر بڑے بڑے مضبوط طاقتور پنجے ہیں۔ اور وہ طاقتور پنجوں کی منشا کے خلاف ایک فیصلہ کرنے کی، عدلیہ پاکستان کی، جرأت نہیں رکھتی۔ عدلیہ کے جج، ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک، کثیر تعداد میں ایڈہاک رکھے جاتے ہیں، سالہا سال، تاکہ کسی مقدمے میں، جب ایک فریق حکومت ہو، تو اس کے بعد وہ مقدمہ ایڈہاک ججوں کے پاس جاتا ہے۔ اور ایڈہاک ججز، جس ملک میں جج اپنی نوکری کو پختہ کرنے کا خیال ذہن میں رکھے، برطرف کیے جانے کا اختیار سیاسی لیڈروں کے ہاتھ میں ہو، اس ملک میں انصاف اور عدلیہ سے عدالت کی توقع کرنا بالکل عبث ہے۔ یہ عدلیہ پاکستان (قائد اعظم) کے افکار کی عدلیہ نہیں ہے۔ اس میں آزادی تو کیا، میں سمجھتا ہوں کہ عدل کے بنیادی اصول تک کلیۃً ختم ہو گئے ہیں۔
(2) پارلیمنٹ کی بے اختیاری
قائد اعظم آزادی کے ساتھ پھر پارلیمنٹ کو، ارکانِ اسمبلی کو جو طاقت، جو اختیار دینا چاہتے تھے، آج وہ پارلیمنٹ پاکستان کا ایک مفلوج ادارہ ہے۔ نہ وہ وجود میں آزادی کے ساتھ آئی ہے، نہ آ سکتی ہے۔ نہ اس کی بقا میں کوئی آزادی ہے، نہ اس کے کام میں آزادی ہے۔ نہ اس کے پاس کوئی ایجنڈا ہے، نہ ایجنڈے پر بات کرنے کی جرأت ہے۔ نہ فیصلہ کرنے کی طاقت ہے، نہ اپنی تقدیر پر گفتگو کرنے کی طاقت ہے۔ نہ تو پارلیمنٹ کے فلور پر پارلیمنٹ کے ممبران اِس ملک کی دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کر سکتے ہیں کہ دہشت گردی کیا ہے، دہشت گردی کیوں ہے۔ یہ پانچ سال سے جس ملک میں تمام تر اختیارات افواجِ پاکستان کے ہاتھ میں ہوں، اور بلا روک ٹوک پوری طاقت کے ساتھ اختیارات بروئے کار لانے کی ان کو اجازت ہو، تو پانچ سال گزر جانے کے باوجود وہ فرقہ واریت ختم نہ کر سکیں، وہ دہشت گردی ختم نہ کر سکیں، وہ انتہاپسندی ختم نہ کر سکیں، قتل و غارت گری ختم نہ کر سکیں، تو پھر سوچ ابھرتی ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟کیا ہم اور ہمارے طاقتور ادارے اتنے کمزور ہو گئے ہیں؟ یا ہم دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں قوم کے ساتھ؟ ہاتھی کے دانت ہیں، کھانے کے اور ہیں، دکھانے کے اور ہیں۔
(3) دہشت گردی کا دور دورہ
میں دیکھتا ہوں، ہمارے گورنر پنجاب جتنی محنت اس عمر میں کرتے ہیں بیس گھنٹے، شاید کوئی سیاسی لیڈر جوانی میں نہ کر سکے۔ اتنے جواں ہمت جنرل، ان کی دیانت کے، ان کے دیانتدار ہونے کے تذکرے۔ اتنی اس عمر میں محنت کرنے والے جرنیل اور ایسی افواجِ پاکستان، پانچ سال سے بلا شرکتِ غیرے ان کے پاس اقتدار ہو، اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہو سکے! یہ بات کم سے کم میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ میری دانست میں یہ سوال ابھرتا ہے جس کا جواب مجھے نہیں ملتا، کہ یہ دہشت گردی پیدا کیوں ہوئی، برقرار کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ خود بخود ایک سرپرستی شدہ عمل ہو؟ یہ خود سرپرستی شدہ عمل ہو۔ اور میں کبھی سوچتا ہوں، انتہاپسندی کی بات کرنے والے، اسلام آباد میں جلوس نکلتے ہیں، ہر جمعہ کو اسلام آباد کی مسجدوں سے جلوس نکلتے ہیں، مسجد کا امام اور خطیب اس کی قیادت کرتا ہے، اسلام آباد کے چوکوں پر اجتماع ہوتا ہے، گاڑی پر جاتے ہیں اور آتے ہیں، اور ایک مسجد بھی اسلام آباد کا خطیب اوقاف کے ملازم کے بغیر نہیں ہے، ہر خطیب اور ہر امام سرکاری محکمہ اوقاف کا ملازم ہے۔ اوقاف کا ملازم، ایک خطیب اور امام، ہر مسجد سے جلوس نکالے، اور وہ گالی دے، اور نہ کوئی اس میں گرفتار ہو اور نہ کسی پر مقدمہ بنے اور آج تک جوں کے توں قائم رہیں، تو سوچ آتی ہے کہ دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی ہے…
ہمیں اپنی پالیسیوں کی طرف نظر کرنی ہو گی۔ ان کو خرچے کہاں سے آتے ہیں دہشت گردوں کو؟ ان کو وسائل کہاں سے میسر ہوتے ہیں؟ اس ملک میں، میری دانست میں، دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دہشت گردوں کا صرف نام بدلا گیا، کام وہی رہا۔ پانچ جماعتیں دہشت گرد قرار دی گئیں، وہ ساری کی ساری آج موجود ہیں، صرف انہوں نے اپنے نام بدل لیے ہیں، نام بدلنے سے مقصد پورا ہو گیا۔ وہ دہشت گرد، جنہیں دہشت گرد، دین کا دشمن، امن و سلامتی کا دشمن، انسانیت کا دشمن، پاکستان کی معتدل پہچان کا دشمن، اسلام کے لیے بدنما داغ، ہم بہت کچھ کہتے ہیں، مگر وہی لوگ جیتتے ہیں، وہ اسمبلیوں میں بھی آتے ہیں، اور آج بھی کام کر رہے ہیں، ایک دہشت گرد تنظیم کی اپنی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں، ان کے تربیت کے مراکز بھی قائم ہیں، سب کچھ قائم ہے۔ مگر دہشت گردی کا خاتمہ کس طرح ہو؟ یہ تو ہمارا اندر کا زاویہ ہے۔
(4) امریکی مداخلت اور در اندازی
اور پھر دوسری طرف ہمیں اپنے اندر یہ جرأت پیدا کرنی چاہیے کہ ہم امریکہ سے بھی پوچھیں کہ اصل دہشت گرد ہے کون اس دنیا میں؟ دنیا میں پچھتر ممالک ایسے ہیں اس وقت، 1950ء سے لے کر آج 2004ء تک، پچھتر ممالک میں تنہا امریکہ نے سیاسی مداخلت اور فوجی مداخلت کر کے پچھتر ممالک کی سالمیت، اقتدارِ اعلیٰ اور ان کی خودمختاری کو اپنے ہاتھ میں کر رکھا ہے، مداخلت ہے۔ میں نے اپنا پارلیمنٹ سے جو استعفیٰ دیا اس کے اندر میں نے تمام ممالک کی تفصیل مختصراً بیان کر کے آخر میں ضمیمے میں لگائی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پچھتر ممالک کی جمہوریت اگر ایک ملک درہم برہم کر رہا ہو، اور براہ راست مداخلت کر رہا ہو۔ اور 1978ء سے لے کر 2004ء تک 180 سلامتی کونسل کے قراردادیں ایسے ہیں، ایک سو اسی، جس میں پوری دنیا کی اقوام ایک طرف تھیں، اور امریکہ نے تنہا ویٹو کر کے پوری کی پوری دنیا کے ضمیر کے منہ پر طمانچہ مارا۔ صرف کبھی ساتھ اسرائیل نے دیا، کبھی برطانیہ نے دیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں اس چیز پر اس سے سوال کرنا چاہیے، جو ہمیں کہتا ہے کہ اپنے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرو، اور ہمارے نام نہاد دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہماری زمین پر داخل ہو کر، ایجنسیوں کو، اپنی قوت بھیج کر ہمارے اندر مداخلت کرتا ہے، کاش ہمیں یہ جرأت ہوتی، ہماری اسمبلیوں میں، ہماری قیادت میں، حکمرانوں میں، نمائندوں میں، کہ ہم بھی امریکہ سے پوچھ سکتے کہ یہ جب آپ پچھتر ممالک کی سالمیت اور خودمختاری میں مداخلت کریں گے، جب آپ اقوامِ عالم کے اجتماعی فیصلے کو مسترد کر کے ایک سو اسی قراردادیں تنہا ایک ووٹ یا دو ووٹوں کے ساتھ ویٹو کریں گے تو ردِ عمل نہیں پیدا ہو گا تو کیا ہو گا؟ غصہ ہو گا، غصہ انتہاپسندی کو جنم دے گا، انتہاپسندی اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے بندوق اٹھائے گی۔ جب مجبور، محروم اپنے حقوق کے لیے بندوق اٹھائے گا، آپ اسے دہشت گرد کہیں گے۔ فیصلہ ہونا چاہیے کہ اصل دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟
(5) جمہوریت کی زبوں حالی
اور قائد اعظم نے جس جمہوریت کی بات کی، افسوس آج پاکستان ’’غیر جمہوری‘‘ جمہوریت کا شکار ہے۔ ہماری جمہوریت ’’غیر جمہوری‘‘ ہے۔ پارلیمنٹ میں جو ممبران آج بیٹھے ہیں، زبان سے تائید بھی ہو جائے گی، تردید بھی ہو جائے گی، مگر آنکھوں دیکھی حقیقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ آج جب صورتحال جمہوریت کی یہ ہو جائے کہ، بیٹھ کر افراد ان کی سیٹیں مقرر کرنے والے ہوں، جیتنے ہارنے کے فیصلے الیکشن سے پہلے ہو رہے ہوں، ٹیبل چارٹ پر پوری اسمبلی کا نقشہ بنایا جا رہا ہو، اور اسمبلی کو ایک پلان کے تحت ٹکڑوں میں تقسیم کر کے چلایا جا رہا ہو، اسمبلی کے پاس اپنا کوئی ایجنڈا نہ ہو، ایک دیے ہوئے ایجنڈے پر وہ بحث کریں، اور ایک اصطبل کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہو، اور وہ اسمبلی نہ پاک انڈیا تعلقات پر بحث کرنے کی مجاز ہو، نہ پاک افغان تعلقات پر بحث کرنے کی مجاز ہو، نہ وہ کشمیر تنازع پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہو، نہ امریکہ پاکستان تعلقات پر بات کرنے کی مجاز ہو، نہ جوہری پالیسی پر بات کرنے کی مجاز ہو، اور اگر اس کا خالق عبد القدیر کسی قید خانے میں ہے تو نہ اس کے بارے میں پوچھنے کی جرأت ہو۔ اسے پہلے خراب کر دیا جائے اور یہ پوچھنے کی جرأت تک نہ ہو کہ ہمارا ایٹم بم ہے کہاں؟ ایٹم بم اور ہماری جوہری صلاحیت میں کچھ بچ بھی گیا ہے یا نہیں؟ ہم یہ پوچھ بھی نہ سکیں۔ جو اسمبلی اتنی گونگی، اتنی بہری، اور اتنی اپاہج ہو گئی ہو، اس اسمبلی سے کس قسم کی جمہوریت کو آگے چلانے کا خیال رکھتے ہیں؟ آج ہم نے صرف یہ اسمبلی، یہ انتخابات، یہ جمہوری ادارے، دنیا کو ایک دھوکہ دینے کے لیے بنا رکھے ہیں کہ:
Democracy is going on, and everything is very nice, every thing is ok, here is democracy, here are the elections going on, and the elected people are here to take the decisions, and they are here to decide the fate of their nation.
اپنی قوم سے بھی دھوکہ ہے، اقوامِ عالم سے بھی دھوکہ ہے۔ جب تک فوج اپنے اصل کردار کی طرف واپس نہیں جاتی، اسمبلی، پارلیمنٹ آزاد نہیں ہوتی، عدلیہ آزاد نہیں ہوتی، اور قائد اعظم کے دیے ہوئے کردار کو اس قوم میں بحال نہیں کیا جاتا، اس وقت تک میں سمجھتا ہوں یہ پاکستان، قائد اعظم کے افکار کا پاکستان نہیں ہے، معلوم نہیں کس کے افکار کا پاکستان ہے۔
(6) بدعنوانی کا غلبہ
آخری بات، ختم کرنے کے لیے کہنا چاہتا ہوں، وہ ایک ذاتی واقعہ بیان کرتا ہوں۔ کرپشن کے خاتمے کا ہم نے بڑا ڈھنڈورا پیٹا۔ قائد اعظم نے کہا کہ سب سے بڑی جڑ خرابی کی، ہر بدی اور ہر تباہی کی، بدعنوانی ہے۔ اگر ہم ایک اچھا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ تو کرپشن کے خاتمے کی باتیں ہوئیں، الیکشن سے پہلے، میں نام نہیں لوں گا، ایک محترم لیڈر جو اس وقت سینیٹر ہیں، اور وہ کسی زمانے کسی ایک صوبے کے وزیر بھی رہے دو بار پہلے، اور سپیکر بھی رہے، وہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے کہا: قادری صاحب! میں آپ کی جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ جوائن کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سنی سنائی بات نہیں کی، ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ میں نے کہا، خوش آمدید۔ اس کے بعد وہ پاکستان کو گالیاں دینے لگ گئے اور افواجِ پاکستان کو گالیاں دینے لگ گئے۔ میں نے کہا، آپ نے بات کچھ اور کی، اور پاکستان کو گالیاں، افواجِ پاکستان کی گالیاں، یہ کیا ایجنڈا ہے آپ کا؟ آپ اصل بات کریں، اس موضوع کو چھوڑیں۔ انہوں نے کہا، بات یہ ہے کہ مجھے نااہل قرار دے دیا گیا ہے، میرے اوپر اتنے کروڑ روپے لگا دیے گئے ہیں اور میں جیل سے آیا ہوں، ضمانت پر ہوں۔ تو میں نے کہا، آپ سپریم کورٹ کیوں نہیں جاتے؟ کہتے ہیں، سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ میرے خلاف دے دیا ہے۔ یعنی آخری عدالتِ عظمیٰ تک ان کے خلاف فیصلہ ہو گیا ہے۔ (کہنے لگے) میں دو کروڑ روپے تک تو دینے کو بھی تیار ہوں، مگر مانگتے زیادہ ہیں۔ نام نہیں لیا کسی کا۔ تو میں نے کہا، میرے لیے کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا، آپ کی جماعت میں شامل ہوتا ہوں، جنرل پرویز مشرف صاحب آپ کی عزت کرتے ہیں — الیکشن سے بہت پہلے کی بات ہے — آپ انہیں سفارش کر کے میری ساری سزا، نااہلیت کی سزا معاف کروا دیں، تاکہ آنے والے الیکشن میں حصہ لے سکوں۔ میں نے کہا بھئی میری اتنی طاقت نہیں ہے، اتنا رسوخ نہیں جو آپ نے سمجھا، اور میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ آپ جا کر کسی اور جماعت میں شمولیت کر لیں، میں معذرت خواہ ہوں، میں اتنا طاقت والا آدمی نہیں ہوں۔ وہ چلے گئے۔
چونکہ ساری صورتحال مجھے خود بتا گئے تھے۔ الیکشن ہو گئے۔ الیکشن کے بعد جمالی صاحب نے ایک عشائیہ دیا۔ اس ڈنر میں ہم بیٹھے تھے، وہ صاحب اندر تشریف لے آئے، میرے پاس آئے، میں نے سلام کیا، میں نے سمجھا کہ شاید جمالی صاحب سے کوئی کام ہے تو ملنے کے لیے آئے ہیں۔ تو میں نے پوچھا کہ بائی دا وے آپ کیسے تشریف لائے؟ انہوں نے کہا جی میں سینیٹر منتخب ہوا ہوں، ممبر ہوں سینٹ کا۔
السلام علیکم!
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن خلیل
اس ہفتے میں دو اہم موضوع سامنے آئے ہیں اور دونوں بین الاقوامی بھی ہیں اور ہمارے قومی ایشوز بھی ہیں۔ ایک تو کانفرنس ہمارے قومی سطح کی، جس میں پاکستان بھر کے علماء تشریف لائے، اور اس میں ہمارے وزیر اعظم صاحب اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب بھی تشریف فرما تھے، اور بڑی خوبصورت گفتگو ہوئی، اور پاکستان کے بیانیے کو بڑے اچھے طریقے سے علماء کے سامنے پیش کیا گیا، اور علماء نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا ہے اپنی پاک فوج کے ساتھ اور اپنی پاک آرمی کے ساتھ اور اپنی حکومت کے ساتھ۔
جہاں تک پاکستان میں دہشت گردی کا تعلق ہے ، پاکستان کی سالمیت کی بات ہے، تو پاکستان کی پوری قوم، علماء، مدارس، ہم سب کو جو ہیں وہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، اور سب نے یک زباں ہو کر فوج کی بھرپور سپورٹ کی ہے۔ اور جنرل صاحب زندہ باد کے نعرے بھی سننے میں آئے ہیں اور خود بھی میں وہاں موجود تھا۔
تو، بہت اچھی بات ہے، اور قومی ایشو پر علماء کا اور تمام مکاتب فکر کا اکٹھے ہونا، میں سمجھتا ہوں پاکستان کے لیے بہت اچھا شگون ہے۔ اور ہر موقع کے اوپر ایسا ہی رہا۔ اور پچھلے دنوں میں جب انڈیا کے ساتھ پاکستان کی جنگ لگی تو اس موقع کے اوپر بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی، پاکستان کے مشائخ نے، علماء نے بھی متفقہ طور پر اپنی پاک فوج کی بھرپور سپورٹ کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم متحد ہے ، قومی ایشو پر جب بات آتی ہے تو وہاں آپ پاکستانی قوم کو منتشر نہیں دیکھتے بلکہ وہاں پاکستانی قوم آپ کو یک جاں نظر آتی ہے۔ اور یہی ہم نے اس کانفرنس کے اندر دیکھا جو چند روز پہلے ہوئی ہے اور پاکستان کا اصولی موقف بھی دہرایا گیا ہے۔
تو بعینہ اسی وقت، اسی دن، افغانستان کے ایک ہزار علماء نے کابل یونیورسٹی کے اندر بھی، میں سمجھتا ہوں کہ بڑی اچھی کانفرنس کی ہے اور پاکستان کے اس بیانیے کو، جو پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورم پر یہ بات کہتا رہا ہے کہ جی ہمارے ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے، اور طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو بند کیا جائے۔
تو، میرے خیال میں علماء نے بہت ہی عقل مندی کا مظاہرہ کیا ہے اور بڑے اچھے انداز کے اندر فتویٰ صادر کیا ہے کہ افغانستان کی سر زمین استعمال نہیں ہو گی۔ اور ہم یہی چاہتے ہیں، اور پاکستان کے احسانات بھی ہیں، پاکستان نے چالیس لاکھ مہاجرین کو پناہ دی، اور ہر مشکل گھڑی کے اندر پاکستان نے افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ تو میرے خیال میں اس احسان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو مقدم رکھا جائے۔ تو آج اگر طالبان نے یہ کیا ہے اور اللہ کرے کہ اس کے اوپر عملدرآمد بھی ہو جائے اور اس کے اوپر بھرپور طریقے سے۔ ہر وہ طاقتیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرتی ہیں، اگر طالبان ان کے خلاف کوئی اقدام کرتے ہیں، اور جس طریقے سے بیانیہ سامنے آیا ہے کہ ان کو باغی سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور افغان سرزمین استعمال نہیں ہو گی۔ تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اور ان کو بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ’’دیر آید درست آید‘‘۔ لیکن کاش کہ یہ چیز پہلے ہو جاتی تو آج یہ دونوں ملک جو ہیں کافی حد تک ترقی کر چکے ہوتے، لیکن اب بھی میں سمجھتا ہوں دور نہیں ہوا ہے، یعنی دیر تو ہوئی ہے لیکن دور نہیں ہوئے۔ اور آج بھی یہ دونوں طاقتیں اکٹھی ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے اندر پاکستان بھی ترقی کرے گا اور افغانستان بھی ترقی کرے گا۔ وما علینا الا البلاغ۔
The Demands of Our Geographical Defence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
Defending the country has many aspects, and one very important part is the defence of our borders. This is called geographical defence. We should be aware of the dangers our borders have faced in the past and the dangers they may face in the future. Protecting the borders is mainly the responsibility of our armed forces, but our responsibility as citizens is to stand behind them, show unity and solidarity, encourage our soldiers, and support them in every way.
To understand the situation of our geographical defence, there are two important aspects that we must think about:
(1) The Promise of Kashmir
Nearly eight decades ago the creation of Pakistan was the result of a long struggle. Yet the vision of our founding fathers regarding our territory remains incomplete, as Kashmir is not fully part of it, even though it was an essential part of the idea of Pakistan. We are bound by a sacred promise to the Kashmiri people to support their quest for self-determination. They promised that when they are free, they will join Pakistan. Their slogan is “Kashmir will become Pakistan,” and our slogan is “Kashmir will be free.” This is a mutual promise, but this goal still seems far away.
(2) The Tragedy of Dhaka
The second point we must not forget is that the Pakistan created in 1947 lost one of its parts because of our own mistakes and negligence. In 1971, we lost half of the country, yet we have not truly learned from or repented for the mistakes that led to that loss. We need to seriously reflect on the foolish decisions and failures that caused the country to break apart, that separated East Pakistan from West Pakistan, and that led to the surrender of our armed forces. These mistakes are not imaginary; they are real facts recorded in history.
A commission was formed under Chief Justice of the Supreme Court, Justice Hamoodur Rahman, which documented the reasons for the separation of East Pakistan. That report still exists on record. I urge the youth and the intelligentsia of Pakistan to study these findings. We cannot afford to ignore the lessons of history; we must acknowledge our past shortcomings with sincerity to ensure that the mistakes of 1971 are never repeated.
Our Collective Resolve
Pakistan’s map will remain incomplete until the people of Kashmir achieve their destiny. We need to review what we are doing about Kashmir and what we should be doing. We must honestly examine our responsibilities and our shortcomings. Along with this, we must renew our commitment to stand with our armed forces in defending every inch of Pakistan’s borders. Whenever the country needs us, and wherever sacrifice is required, we must stand with our defences and support them without hesitation.
’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
پیش لفظ، عرضِ مرتب، پہلا باب، فہرست مشمولات
پیش لفظ : ڈاکٹر قبلہ ایاز
عرضِ مرتب : ڈاکٹر انعام اللہ
(اسلامی نظریاتی کونسل کے مرتب کردہ ’’اسلامی قانونِ وراثت ۲۰۱۹ء‘‘ کے منتخب حصے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں، آخر میں کونسل کی ویب سائیٹ کے مطبوعات والے حصے کا لنک درج کیا گیا ہے۔)
پیش لفظ
اسلامی احکام میں سے ایک اہم حکم تقسیمِ وراثت ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں اکثر احکام کے اصول کو اجمالی انداز میں مختصر بیان کیا گیا ہے لیکن وراثت کے احکام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہر وارث کا حصہ مقرر کیا گیا ہے، مزید یہ کہ ان تمام حصوں کی تفصیلات بیان کرنے سے قبل ان کو ’’نصیبًا مفروضًا‘‘ یعنی (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مقرر کردہ حصے قرار دیا، تاکہ عمل کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ خود علیم و خبیر ذات نے مقرر کئے ہیں، اور ان تمام حصوں کی جزوی تفصیلات تک ذکر کے بعد آخر میں ارشاد ہوتا ہے: ’’تلک حدود اللہ‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حدیں ہیں، اور ساتھ ہی ان کی پیروی پر نعمتوں کے وعدے اور عدمِ اطاعت پر وعید بھی مذکور ہے، لہٰذا مسلم معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت میں منضبط احکام کے تحت گزارنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس حکمِ وراثت پر عمل کیا جائے۔
علمی دنیا میں وراثت کے موضوع پر بیش بہا مواد موجود ہے جو خالص فقہی اسلوب یا عوامی انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس سے اہلِ علم اور عوام یکساں مستفید ہو رہے ہیں۔ وراثت کے احکام و مسائل پر قانونی زبان میں کتب ناپید ہیں، محمڈن لاء نامی کتاب موجود ہے جس سے عدالتیں اور وکلا مستفید ہو رہے ہیں لیکن یہ کتاب اپنے اندر نہ تو جامعیت رکھتی ہے اور نہ ہی پوری طرح ان احکام کو درست انداز میں سمیٹتی ہے۔ اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے ۲۰۹ویں اجلاس مؤرخہ ۷ جنوری ۲۰۱۸ء میں یہ فیصلہ کیا کہ
’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں مرتب کیا جائے اور ماہرینِ قانون کی رہنمائی کے لیے کونسل کی سفارش کی شکل میں منظور کیا جائے‘‘۔
اس فیصلہ کی عملی صورت بہت سے علمی و تحقیقی مراحل سے گزری جس کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل (شعبہ تحقیق) نے ’عرضِ مرتب‘ کے تحت ذکر کی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ کس قدر عرق ریزی سے کام لے کر یہ قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کی حتمی تیاری میں تقریباً دو سال کا عرصہ صَرف ہوا اور کونسل نے اپنے ۲۱۷ویں اجلاس ۷-۸ جنوری ۲۰۲۰ء میں اس کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ قانون کو ارسال کرنے اور اسے اردو و انگریزی زبان میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا، فی الحال یہ اردو ایڈیشن ہے عنقریب اس کا انگریزی ایڈیشن بھی منظر عام پر آجائے۔
اس مجموعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تیاری میں مفتیان کرام اور ماہرینِ قانون نے حصہ لیا، ملکِ عزیز کے تمام مکاتبِ فکر کے دارالافتاؤں سے اس کی تصدیق و توثیق کرائی گئی اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے مؤقر آئینی ادارے نے اس کی منظوری دی۔
جناب مولانا مفتی امداد اللہ (سابق رکن کونسل و استاد الحدیث و ناظمِ تعلیمات جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی)، جناب علامہ افتخار حسین نقوی (رکن کونسل)، ڈاکٹر انوار اللہ (سابق سینئر ریسرچ ایڈوائز وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد، سابق اسلامک لیگل سپیشلسٹ وزارتِ مذہبی امور برونائی دارالسلام، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ)، ڈاکٹر انعام اللہ (سینئر ریسرچ آفیسر)، مفتی غلام ماجد، اور ریسرچ اسسٹنٹ مفتی شرف الدین اشرف نے ’’احکامِ میراث پر مشتمل مسودہ قانون‘‘ کے علمی، فقہی اور قانونی انداز میں ترتیب و تدوین کی خدمات سرانجام دیں۔ شعبہ ریسرچ کے دیگر رفقاء نے انتظامی معاونت فراہم کی اور کمپوزنگ و پروف ریڈنگ کے مراحل بحسن و خوبی سر انجام دیے۔ تمام معزز اراکینِ کونسل نے قیمتی علمی آراء پیش کیں۔
میں ان تمام حضرات کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ یہ وقیع علمی کام ججز، وکلاء، علماء، مفتیان کرام، دینی مدارس اور قانون کے طلباء اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہو گا۔
قبلہ ایاز
پی ایچ ڈی، ایڈنبرا
چیئرمین
عرضِ مرتب
حدیثِ نبوی ہے کہ علمِ میراث سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، اس لیے کہ سب سے پہلے یہ علم اٹھا دیا جائے گا۔ نیز ارشادِ نبوی ہے کہ علمِ میراث سیکھو، یہ آدھا علم ہے۔ علمِ میراث کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر قرآن مجید میں ورثاء کے حصے خود خالقِ کائنات نے مقرر کر کے نازل فرمائے، اس لیے کہ علمِ میراث انسانوں بالخصوص معاشرے کے کمزور طبقات (خواتین، یتیم بچوں) کے مالی حقوق کی حفاظت کا ضامن ہے۔
عملی زندگی میں بھی اس علم کی قدر و منزلت مسلّم ہے، اسی لیے دارالافتاؤں میں بھیجے جانے والے سوالات میں سب سے زیادہ تعداد میراث کے متعلق ہوتی ہے۔ اسی طرح عدالتوں میں زیر بحث خاندانی تنازعات کا معتد بہ حصہ تقسیمِ جائیداد اور تقسیمِ وراثت سے متعلق ہوتا ہے۔ تقسیمِ وراثت سے متعلق مقدمات میں فیصلہ کرنے کے لیے یا تو فتاویٰ کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر محمڈن لاء نامی کتاب کا، جس کو پارسی مذہب کے پیروکار ڈی ایف مُلا (Dinshah Fardunji Mulla) نے تصنیف کیا ہے۔ عدالتوں میں اسی کتاب کو معتبر مانا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعض مندرجات شرعی حوالے سے محلِ نظر ہیں۔ اس لیے اس کتاب کی بعض دفعات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دلانے کے لیے مسز نجات ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ایک آئینی درخواست وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی، وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی، کونسل نے ۲۰۹ویں اجلاس (۱۷ جنوری ۲۰۱۸ء) میں غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ:
’’مناسب یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں مرتب کیا جائے اور ماہرینِ قانون کی رہنمائی کے لئے کونسل کی سفارش کی شکل میں منظور کیا جائے۔
معزز رکن کونسل جناب مولانا امداد اللہ وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں ڈرافٹ کریں اور آنے والے اجلاس میں کونسل کے غور و خوض کے لیے پیش فرمائیں۔‘‘
معزز رکن کونسل جناب مولانا مفتی امداد اللہ (ناظم تعلیمات و استاد الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن) نے احکامِ میراث پر مشتمل مسودہ مرتب کیا، جس کی کونسل نے ۲۱۰ویں اجلاس (۸ فروری ۲۰۱۸ء) میں تحسین کی، اور چند ترمیمات اور اضافے تجویز کیے، نیز ہدایت کی کہ مسودہ کے مندرجات کے بارے میں تمام مکاتب کے مستند دارالافتاؤں سے بھی آراء حاصل کی جائیں۔ چنانچہ مختلف دارالافتاؤں کو یہ مسودہ ارسال کیا گیا۔
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی نے پورے مسودہ کی ایک سے زائد خواندگیاں کر کے مناسب اصلاح و ترمیم اور تسہیل کرنے کے بعد مورخہ ۲۲ اپریل ۲۰۱۹ء کو دفتر کونسل ارسال کر دیا۔ جامعہ عثمانیہ پشاور نے مسودہ کی تائید و تحسین کی اور چند مفید مشورے بھی دیے۔ وفاق المدارس السلفیہ نے مسودہ کے بعض مقامات میں ترمیم و اضافہ اور بعض مقامات میں حذف و تبدیلی کا مشورہ دیا۔ معزز اراکین کونسل جناب حافظ فضل الرحیم صاحب نے جامعہ اشرفیہ، لاہور کے دارالافتاء اور جناب مولانا راغب نعیمی صاحب نے جامعہ نعیمیہ، لاہور کے دارالافتاء میں خواندگی کرائی۔ علاوہ ازیں، بعض معزز اراکین کونسل کی طرف سے بھی جوابی مراسلے موصول ہوئے، جن میں انہوں نے بعض مقامات کی اصلاح اور مناسب ترامیم کی نشان دہی کی۔
بعد ازاں، شعبہ ریسرچ کی تجویز پر جناب چیئرمین نے جناب ڈاکٹر انوار اللہ (سابق سینئر ریسرچ ایڈوائز وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد و سابق اسلامک لیگل سپیشلسٹ وزارتِ مذہبی امور برونائی دارالسلام) کو مذکورہ مسودہ کی قانونی زبان میں تسوید کی ذمہ داری سونپی اور ان کی معاونت کے لئے شعبہ ریسرچ کے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی:
۱۔ جناب ڈاکٹر انعام اللہ (ڈی جی ریسرچ)
۲۔ جناب مفتی غلام ماجد (سینئر ریسرچ آفیسر)
۳۔ جناب مفتی شرف الدین (ریسرچ اسسٹنٹ)
جناب ڈاکٹر غلام دستگیر شاہین (سینئر ریسرچ آفیسر) و جناب محمد رضا (ریسرچ آفیسر) بھی وقتاً فوقتاً اس تحقیقی اور فنی کام میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔
کمیٹی نے مسلسل پانچ ماہ کام کیا اور قانونی زبان میں حتمی مسودہ مرتب کیا، جس کے دو حصے بنائے گئے: پہلا حصہ فقہ حنفی پر مشتمل ہے، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ مکتبِ اہلِ حدیث کے ہاں بھی میراث کے یہی احکام ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ فقہ جعفریہ کے مطابق ہے، جس کے لیے علامہ سید افتخار حسین نقوی (رکن کونسل) کی کتاب ’’مسلم عائلی قوانین بمطابق فقہ جعفری‘‘ کو بنیاد بنایا گیا۔ پہلا حصہ تیرہ (۱۳) ابواب پر مشتمل ہے، جس میں کُل چھیالیس (۴۶) دفعات ہیں، جبکہ دوسرا حصہ چھ ابواب پر مشتمل ہے، جس میں کُل بیس (۲۰) دفعات ہیں۔ اس لحاظ سے پورا مسودہ چھیاسٹھ (۶۶) دفعات پر مشتمل ہے۔
قانونی زبان میں مرتب حتمی مسودہ اراکینِ کونسل اور مدونِ اول جناب مولانا مفتی امداد اللہ (سابق رکن کو نسل) کو برائے مطالعہ و آراء ارسال کیا گیا۔ معزز اراکینِ کونسل جناب ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری اور جناب محمد شفیق خان پسروری نے تحریری ملاحظات پیش کیے، جبکہ مفتی امداد اللہ صاحب نے بھی تفصیلی ملاحظات دفتر کونسل ارسال کیے، ان ملاحظات کے ساتھ یہ مسودہ کونسل کے ۲۱۶ویں اجلاس میں برائے منظوری پیش کیا گیا۔ کونسل نے غور و خوض کے بعد اصولی طور پر مسودہ کی منظوری، اور ہدایت کی، کہ تسوید کرنے والی کمیٹی ملاحظات کا جائزہ لے کر مناسب تبدیلیاں و ترامیم شامل کرے۔
جناب ڈاکٹر انوار اللہ صاحب چونکہ دوبارہ برونائی تشریف لے جانے کی وجہ سے موجود نہیں تھے، اس لیے راقم (ڈاکٹر انعام، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ) کی سربراہی میں کمیٹی کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے، اور ملاحظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اکثر ملاحظات لفظی ترمیم و تعبیر یا ترتیب سے متعلق تھے، اس لیے جہاں ضروری سمجھا گیا، مناسب ترمیم یا تصحیح کر دی گئی۔ تاہم مفتی امداد اللہ صاحب کے دو ملاحظات (بیت المال کا وجود اور حقوقِ مجردہ (کاپی رائٹ وغیرہ) کا ترکہ ہونا) پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے شعبہ تحقیق کے رائے کے ساتھ کونسل کی منظوری کے لیے اجلاس نمبر ۲۱۷ (۷-۸ جنوری ۲۰۲۰ء) میں پیش کیے گئے۔ کونسل نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں دونوں مسائل میں شعبہ ریسرچ کی رائے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، جبکہ کونسل کی سابقہ سفارش بھی یہی ہے، اس لیے اس رائے کو اختیار کیا جائے۔
کونسل نے مسودہ قانونِ وراثت کی حتمی منظوری دی، اور ہدایت کی کہ اس مسودہ کو اردو / انگریزی زبان میں طباعت کا اہتمام کیا جائے، اور حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے ارسال کیا جائے۔
امیدِ واثق ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے آئینی ادارے کا مرتب کردہ ’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘ عدالتوں اور قانون کے پیشے سے متعلق تمام افراد کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ نیز فقہ و قانون کی تدریس کے عصری و دینی ادارے اور علمِ میراث سے دلچسپی رکھنے والے تمام اہلِ علم اور عام لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔
انعام اللہ
(پی ایچ ڈی، علومِ اسلامیہ)
ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ)
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
پہلا باب — ابتدائیہ
تمہید
ہر گاہ کہ قرینِ مصلحت ہے کہ وراثت سے متعلق قرآن و سنت کے احکامات اور ان پر مبنی فقہی آراء اور اجتہادات کو عصری قوانین کی طرح مدون کیا جائے تاکہ شریعت اور آئین کے اغراض و مقاصد میں سے وراثت کا اہم مقصد حاصل کیا جائے جس کو قرآن و سنت میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا درج ذیل قانونِ وراثت وضع کیا جاتا ہے۔
دفعہ ۱ — مختصر عنوان، وسعت، اطلاق و آغازِ نفاذ
(۱) یہ قانون اسلامی قانونِ وراثت ۲۰۱۹ء کے نام سے موسوم ہو گا اور سرکاری جریدے میں نوٹیفیکیشن کے ذریعے سربراہِ ریاست کی منظوری سے وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے متعین کردہ تاریخ سے نافذ العمل ہو گا۔
(۲) ضمنی دفعہ ۱ کے تحت مذکورہ قانون کی مختلف دفعات یا کسی دفعہ کے مختلف مقاصد کے لیے مختلف تاریخیں متعین کی جا سکتی ہیں۔
(۳) اس قانون کا اطلاق پاکستان کے تمام مسلم شہریوں پر ہو گا۔
دفعہ ۲ — تعریفات
تاوقتیکہ اس قانون میں سیاق و سباق سے کچھ اور مترشح ہوتا ہو، مندرجہ ذیل الفاظ سے وہی معنی مراد ہوں گے جو ان کے سامنے درج ہیں۔
۱۔ اخیافی بھائی: ماں شریک بھائی
۲۔ اخیافی بہن: ماں شریک بہن
۳۔ اخیافی چچا: باپ کا وہ بھائی جو ماں شریک ہو۔
۴۔ ارتداد: ارتداد سے مراد کسی مسلمان کی طرف سے دینِ اسلام کا ترک ہے، جس میں ضروریاتِ دین بشمول حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت میں سے کسی ایک کا انکار کرنا شامل ہے۔
۵۔ بیت المال: اس سے ’’پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۱ء‘‘ کے تحت قائم کردہ ادارہ مراد ہے۔
۶۔ ترکہ: وہ مال جس کا میت وفات کے وقت مالک ہو اور اس کے ساتھ براہ راست کسی اور شخص کا حق متعلق نہ ہو، خواہ وہ مال پاکستان میں ہو یا بیرون پاکستان ہو۔
۷۔ تقدیری موت: میت کو زندہ تصور کرتے ہوئے اس کی حقیقی موت قرار دی جائے، مثلاً جنین (بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو) کو کوئی صدمہ پہنچا کر شکمِ مادر سے علیحدہ کر دیا جائے۔
۸۔ جد صحیح: وہ مذکر جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں کسی مؤنث کا واسطہ نہ ہو، جیسے دادا (باپ کا باپ)، اس میں ماں کا واسطہ درمیان میں نہیں ہے۔
۹۔ جدہ صحیحہ: وہ مؤنث جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں جد فاسد کا واسطہ نہ ہو، جیسے دادی اور نانی کہ ان کا رشتہ میت سے جوڑنے میں نانا یعنی جد فاسد کا واسطہ درمیان میں نہیں ہے۔
۱۰۔ جد فاسد: وہ مذکر جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں مؤنث کا واسطہ ہو، جیسے نانا (ماں کا باپ) اس میں مؤنث یعنی ماں کا واسطہ درمیان میں ہے۔
۱۱۔ جدہ فاسدہ: وہ مؤنث جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں جد فاسد کا واسطہ ہو، جیسے نانا کی ماں کہ اس کا رشتہ میت سے جوڑنے میں نانا یعنی جد فاسد کا واسطہ درمیان میں ہے۔
۱۲۔ حقیقی موت: کسی شخص کا رشتہ حیات بدن سے منقطع ہو جائے، جس کا علم مشاہدہ یا گواہ کے ذریعہ ہو جائے۔
۱۳۔ حکمی موت: کسی شخص کی موت و حیات کی اطلاع نہ ہو یا اس کی حیات نامعلوم ہو اور مجاز عدالت تحقیق کر کے اسے مردہ قرار دے کر اس کی موت کا حکم جاری کر دے، مثلاً گم شدہ شخص کو تاریخِ گمشدگی سے عدالت مردہ قرار دے دے۔
۱۴۔ ذوی الارحام: میت کے وہ رشتہ دار جو نہ اصحابِ فروض ہوں اور نہ ہی عصبہ ہوں۔
۱۵۔ ذوی الفروض: وہ ورثا ہیں جن کے حصے قرآن، سنت یا اجماعِ امت میں متعین ہیں۔
۱۶۔ سبب: سبب سے مراد زوجیت کا تعلق ہے جو میت اور وارث کے درمیان نکاح صحیح کے سبب قائم ہو۔
۱۷۔ طلاق بائن: وہ طلاق جس کے بعد طلاق دینے والا اپنی مطلقہ عورت کو نئے عقد کے بغیر رشتہ زوجیت میں نہ لوٹا سکے۔
۱۸۔ طلاق رجعی: وہ طلاق جس میں عدت کے دوران شوہر اپنی مطلقہ عورت کو نئے عقد کے بغیر رشتہ زوجیت میں واپس لوٹانے کا اختیار رکھتا ہو۔
۱۹۔ طلاق فار: وہ طلاق بائن یا طلاق مغلظ جو شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے مرضِ موت میں دی ہو۔
۲۰۔ طلاق مغلظ: وہ طلاق جس میں شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے جس کے بعد شوہر کے لیے نہ رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور نہ ہی شرعی تقاضے پورے کئے بغیر وہ اس بیوی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔
۲۱۔ عدت: وہ مقررہ مدت جو عورت پر نکاح کے اثرات ختم ہونے کے لیے گزارنا لازم ہوتی ہے۔
۲۲۔ عصبہ: میت کے وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض سے بچا ہوا ترکہ لے لیتے ہیں، اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو تمام ترکہ کے مستحق ہوتے ہیں۔
۲۳۔ علاتی بہن: باپ شریک بہن
۲۴۔ علاتی بھائی: باپ شریک بھائی
۲۵۔ علاتی چچا: باپ کا وہ بھائی جو باپ شریک ہو۔
۲۶۔ قتل بالسبب: اس سے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۲۱ میں مذکور تعریف مراد ہے۔
۲۷۔ لعان: اس سے جرم قذف (نفاذِ حد) کے آرڈیننس کی دفعہ ۱۴ میں مذکور تعریف مراد ہے۔
۲۸۔ مفقود: وہ شخص جو غائب ہو جائے اور کسی طرح بھی معلوم نہ ہو کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، اسے مفقود کہتے ہیں۔
۲۹۔ مقرلہ بالنسب علی الغیر: وہ شخص جس کے نسب کو میت نے دوسرے اشخاص سے متعلق کر کے تسلیم کیا ہو، اور ان اشخاص نے اس نسب کو تسلیم نہ کیا ہو، مثلاً کسی مجہول النسب کے متعلق کہا ہو، یہ میرا بھائی یا چچا ہے۔
۳۰۔ مرضِ موت: مرضِ موت وہ مرض جس میں مرض بڑھتا جائے اور موت کا خوف غالب ہو، نیز جس میں مرد مریض مکان سے باہر اپنے کاروبار کے سلسلے میں نکلنے سے عاجز ہو، اور اگر مریض عورت ہو تو گھر کے کام کاج سے عاجز ہو اور ایک سال کے اندر مریض کا انتقال ہو جائے۔
۳۱۔ مانع ارث: کوئی ایسا ذاتی وصف جو سببِ وراثت کے ہوتے ہوئے وراثت سے محرومی کا باعث ہو۔
۳۲۔ مورث: وہ میت جس کا ترکہ اس کے ورثا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
۳۳۔ موصی لہ عام: وہ شخص جس کے لیے میت نے اپنے کُل مال کی وصیت کی ہو۔
۳۴۔ مولی الموالات (وارث بذریعہ معاہدہ): وہ شخص جو کسی لاوارث سے معاہدہ کرتا ہے کہ اگر اس پر کوئی تاوان یا دیت لازم ہوئی تو وہ اس کو ادا کرے گا اور اس کے معاوضہ میں اس لاوارث شخص سے حقِ وراثت حاصل کرے گا۔
۳۵۔ نکاح باطل: وہ نکاح جو اسلام میں ممنوع اور حرام ہو، جیسے محارم کا آپس میں نکاح۔
۳۶۔ نکاح فاسد: وہ نکاح جس میں نکاح کی شروط میں سے کوئی شرط پوری نہ کی گئی ہو، مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح۔
۳۷۔ نسب: نسب سے مراد وہ قرابت ہے جو وارث اور مورث کے درمیان خونی رشتہ کی بنیاد پر ہو۔
۳۸۔ وارث: وہ شخص جو اسبابِ میراث میں سے کسی سبب کی وجہ سے وراثت کا مستحق ہو۔
۳۹۔ وراثت: وراثت ایک ایسا غیر اختیاری انتقالِ عمل ہے جس کے ذریعے میت کا ترکہ اس کے ورثا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی کو میراث بھی کہا جاتا ہے۔
۴۰۔ وصیت: اس سے قانونِ جانشینی ۱۹۲۵ء کی دفعہ ۲ (ایچ) میں مذکور تعریف مراد ہے۔
فہرست مشمولات
پیش لفظ
عرض مرتب
اسلامی نظریاتی کونسل، دستوری تاریخ کے آئینے میں
کونسل کا انتظامی ڈھانچہ
کونسل کی مطبوعات
پہلا باب — ابتدائیہ
تمہید
مختصر عنوان، وسعت، اطلاق و آغازِ نفاذ
تعریفات
حصہ اوّل: وراثت بمطابق سنی فقہ (حنفی و اہل حدیث)
دوسرا باب — ارکان و موجباتِ وراثت
ارکانِ وراثت (بمطابق فقہ حنفی)
مورث اور وارث کی شرائط
وارث کی نوعیتِ قرابت
موجباتِ وراثت
نسبی قرابت کی قسمیں
سبب کے ذریعہ استحقاقِ وراثت کیلئے شرائط
ترکہ
تیسرا باب — مستحقینِ وراثت کی ترتیب
مستحقینِ وراثت
موانع وراثت
چوتھا باب — موانع وراثت
موانع وراثت
پانچواں باب — ترکہ سے حقوق
ترکہ کے حقوق
چھٹا باب — ذوی الفروض اور ان کے حصے
ذوی الفروض کے حصے
ذوی الفروض کی تعداد
شوہر کا حصہ
بیوی کا حصہ
باپ کا حصہ
ماں کا حصہ
جد صحیح (دادا) کا حصہ
جدہ صحیحہ (دادی، نانی) کا حصہ
بیٹی کا حصہ
پوتی کا حصہ
حقیقی بہن کا حصہ
علاتی بہن کا حصہ
اخیافی بہن کا حصہ
ساتواں باب — عصبہ کے حصے
عصبہ کی اقسام
عصبہ بنفسہ میں ترجیح کا طریقہ
عصبہ میں تقسیمِ وراثت کا طریقہ
آٹھواں باب — ذوی الارحام اور ان کے حصے
ذوی الارحام کے استحقاقِ وراثت اور اقسام
ذوی الارحام میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ
پہلی قسم کے ذوی الارحام میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ
دوسری قسم کے ذوی الارحام میں تقسیمِ ترکہ
ذوی الارحام کی تیسری قسم میں تقسیمِ ترکہ
ذوی الارحام کی چوتھی قسم میں تقسیمِ ترکہ
نواں باب — بقیہ ورثا
مولی الموالات، مقرلہ بالنسب علی الغير، موصی لہ عام اور بیت المال
دسواں باب — رد (واپس لوٹانا)
رد کے مسائل
گیارہواں باب — حجب
حجب کا معنی اور اقسام
بارہواں باب — مخصوص ورثا
حمل (ماں کے پیٹ میں بچہ) کی وراثت
مفقود کی وراثت
خنثیٰ کی وراثت
ولد الزنا اور ولد اللعان کی وراثت
مرتد
سوتیلے ماں باپ اور متبنیٰ کی وراثت
تیرہواں باب — عول، مناسخہ اور تخارج
عول
مناسخہ
تخارج
حصہ دوم: وراثت بمطابق فقہ جعفری
پہلا باب — ارکان و موجباتِ وراثت
ارکانِ وراثت (بمطابق فقہ جعفری)
مورث اور وارث کی شرائط
موجباتِ وراثت
سبب کی اقسام
ترکہ کی تفصیل
دوسرا باب — موانع وراثت
موانع وراثت
تیسرا باب — ترکہ سے متعلق حقوق
ترکہ سے متعلق حقوق
چوتھا باب — ورثا کے طبقات اور ان کے حصے
ورثا کے طبقے
طبقاتِ ثلاثہ کے علاوہ ورثا
پہلے طبقہ میں وراثت کے طریقے
دوسرے طبقے کے ورثا
دوسرے طبقے کے باقی ورثا کے حصے
تیسرے طبقے کے ورثا کے حصے
پانچواں باب — میاں اور بیوی کی وراثت
میاں اور بیوی کی وراثت
چھٹا باب — مخصوص ورثا
مرتد کی وراثت
لعان، زنا اور زنا بالجبر سے پیدا شدہ بچے کی وراثت
حمل کی وراثت
مفقود کی وراثت
خنثیٰ کی وراثت
اولادِ متعہ کی وراثت
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
گفتگو و نظرثانی : ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
انٹرویو : رفیق اعظم بادشاہ
آئینی و قانونی مباحث
رفیق اعظم بادشاہ:
سر، سپریم کورٹ نے حال ہی میں اس بنا پر پہلی بیوی کا نکاح فسخ کیا کہ اس بندے نے پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔ تو اس پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے بھی بیان دیا کہ اگرچہ یہ فیصلہ ملکی قانون سے مطابقت رکھتا ہے لیکن شریعت سے متصادم ہے۔ تو اس حوالے سے آپ کچھ رہنمائی فرمائیں گے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
دیکھیں، اس میں تھوڑا پس منظر واضح کرنا ہوگا۔ انگریز جب یہاں آئے اور برِصغیر پر انھوں نے اپنا تسلط قائم کیا، تو ابتدا میں ان کی پالیسی یہ رہی کہ عائلی تنازعات مسلمانوں کے قاضی خود ہی ان کا فیصلہ کریں، اور انگریز جج یہ مقدمات نہ سنے۔
پھر کچھ عرصے بعد جب آہستہ آہستہ ان کی گرفت مضبوط ہوتی گئی تو انھوں نے قاضیوں کو ختم کر دیا اور ان کی جگہ اپنے جج بٹھا دیے؛ لیکن انگریز جج کو تو اسلامی قانون کا پتہ ہی نہیں تھا، پھر نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ کا فیصلہ وہ کیسے کرتا؟ تو اس کی معاونت کے لیے مفتی کو رکھ دیا۔ یعنی اب قاضی کی حیثیت ختم ہو گئی، جج انگریز ہوگا اور مسلمان مفتی اس کی معاونت کرے گا۔
پھر ایک تیسرا مرحلہ آیا جب انگریزوں نے یہ دیکھا کہ مسلمان مفتی زیادہ تر چند مخصوص کتابوں کا رخ کرتے ہیں، اور وہیں سے مسئلہ نکال کے بتاتے ہیں، جیسے ہدایہ ہے، کیونکہ تقریباً سارے ہی حنفی تھے، شیعہ کے لیے شرائع الاسلام تھی۔ تو انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان کا ترجمہ کر لیں؟ تو چارلس ہملٹن نے غالباً 1791ء میں ہدایہ کا جو ترجمہ کیا، آج تک، یعنی 250 سال بعد بھی، ہماری عدالتیں اس ترجمے پر انحصار کرتی ہیں۔
رفیق اعظم بادشاہ:
عربی سے انگریزی؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
یہ اچھا سوال ہے، کیونکہ ہملٹن ہے کو عربی نہیں آتی تھی، البتہ فارسی اسے آتی تھی، تو اس نے ہدایہ کے فارسی ترجمے کی بنیاد پر انگریزی ترجمہ کیا۔ تو یہ شوربے کا شوربہ ہے۔ پھر آپ جانتے ہیں کہ ہدایہ تو اصل میں شرح ہے۔ اور اصل متن بدایۃ المبتدی ہے۔ متن اور شرح میں فرق ہے، مرتبے میں بھی اور اس میں بھی کہ کس طرح ان کو دیکھنا چاہیے۔ یہ فرق بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ کئی دیگر مسائل بھی ہیں۔ پھر جو شخص اسلامی قانون سے واقف ہی نہ ہو، وہ اسلامی قانون کی ایک اہم کتاب کا ترجمہ کیسے کر سکتا ہے، بالخصوص جبکہ اس کو اس زبان کا بھی علم نہ ہو؟ بہرحال اس نے جو ترجمہ کیا، اس پر عدالتوں کے فیصلے ہوئے۔ اب جج انگریز ہے، وہ انگریزی قانون کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ترجمے پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ کر رہا ہے۔ اس میں ظاہر ہے کافی مسائل پیدا ہوئے اور وہ مسائل آج تک چلے آ رہے ہیں۔
تو عائلی امور پر انگریزوں کے وقت میں بھی کوئی خاص قانون سازی نہیں ہوئی۔ زیادہ تر اصول یہ اپنایا گیا کہ نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وقف اور اس طرح کے دیگر مسائل میں شریعت پر فیصلہ ہوگا، اگر وہاں قانون سازی نہ ہوئی ہو۔ لیکن شریعت پر فیصلہ وہ جج کرے گا جس کو شریعت کا کچھ علم نہیں ہے۔
مثال کے طور پر اب اگر کوئی خاتون فسخِ نکاح چاہتی ہے تو اس کے لیے فسخ کے کچھ اسباب ہونے چاہئیں، جو حنفی فقہ میں معلوم ہیں، انھی پر فسخِ نکاح ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کے نظام میں قاضی کے پاس جو اختیارات ہوتے ہیں، وہ انگریزوں کے نظام میں جج کے پاس نہیں ہوتے۔ تو اگر کسی خاتون پر ظلم ہو رہا ہے، کسی یتیم کا مال کھایا جا رہا ہے، کوئی اور اس طرح کا مسئلہ ہے، تو اس میں قاضی کے ذمے بہت کام ہوتا ہے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔
چند سال پہلے میں چند ججوں کا وفد لے کر گیا تھا ، ترکی اور اردن کے نظامِ عدل کا مطالعہ کرنے کے لیے۔ اردن میں عثمانی خلافت کے دور کی کچھ چیزیں اب تک باقی ہیں ۔ اس میں ایک قاضی کا نام تھا، قاضی حقوق القاصرین، یعنی وہ لوگ جو اپنے حقوق کا خود تحفظ نہیں کر سکتے، ان کے حقوق کا تحفظ یہ قاضی کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور ان کا ادارہ تھا جس کو انھوں نے نام دیا ہوا تھا، الإصلاح الأسري، یعنی family reconciliation، تو وہاں کوئی بھی تنازع عدالت میں جانے سے پہلے الاصلاح الاسری کے پاس جاتا ہے اور وہاں وہ ان کے درمیان اصلاح صلح کی کوشش کرتے ہیں۔ اور نہیں ہوا تو پھر جو ذمہ دار ہو، یعنی مسئلہ جس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، تو یہ ادارہ اس کا تعین کرتا ہے، پھر اس کے بعد معاملہ عدالت میں جاتا ہے۔
یہاں ہمارے ہاں عائلی امور میں اصلاح کا معاملہ بہت زیادہ ناقص ہے اور وہ طلاق کے بعد والے مرحلے میں ہے، جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے تحت ہے۔ اسی طرح جو دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کے لیے طریقِ کار اس آرڈی نینس کی دفعہ 6 میں طے کیا گیا ہے، اس میں بھی اس کونسل کا، جس کو یہاں ثالثی کونسل کا نام دیا گیا ہے، کردار ہے۔ اس ثالثی کونسل کا سربراہ یونین کونسل کا چیئرمین یا ناظم ہوتا ہے، اور ایک اس میں شوہر کی جانب سے نمائندہ ہوتا ہے ، اور ایک بیوی کی جانب سے۔ یہ کونسل متعین کرتی ہے کہ اس شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے، اور اگر دی جائے تو کن شرائط کے تحت۔ ہمارے ہاں دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کی بات کی جاتی ہے ، جبکہ قانون میں اصل ضرورت اس کونسل کی اجازت کی ہوتی ہے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر اس نے اگلی شادی کی، دوسری، تیسری یا چوتھی ، تو قانون اس شادی کو ناجائز نہیں کہتا لیکن اس پر کچھ اثرات مرتب کرتا ہے۔
ان اثرات میں ایک یہ ہے کہ اگر پہلی بیوی کا مہر ابھی تک اس نے نہیں ادا کیا تو وہ ادا کرنا اب اس پر فوراً لازم ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس شوہر کو کچھ سزائے قید اور کچھ جرمانے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ تیسرا یہ کہ اس کے پاس پہلے سے موجود بیوی یا بیویاں ہیں، تو اس کو یا ان کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے نکاح کی تنسیخ کے لیے دعویٰ دائر کریں۔ یعنی خلع نہیں، بلکہ فسخِ نکاح کے لیے دعویٰ دائر کریں۔ یہ تبدیلیاں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء نے کی ہیں ۔
آپ نے خلع کا ذکر کیا، وہ بات اہم ہے، اس کی طرف آنے سے پہلے ہم 1939ء کا جو تنسیخِ نکاح کا قانون ہے، اس پر بات کریں گے۔ جیسے میں نے کہا، انگریزوں کے دور میں ان امور پر قانون سازی بہت کم ہوئی ہے۔ تو جو چند ایک چیزیں ہیں ان میں ایک یہ قانون ہے، مسلم تنسیخِ نکاح کا قانون 1939ء، Dissolution of Muslim Marriages Act، اس کے پیچھے بھی ایک لمبی کہانی ہے۔
انگریزوں کے زیرِ تسلط ہندوستان میں کئی مسائل تھے، جہاں عورتوں پر اگر ظلم ہوتا تھا تو ظالم شوہر سے نجات کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ کیونکہ جو فسخِ نکاح کے مخصوص اسباب تھے تو وہ یا تو میسر نہیں تھے، یا اگر تھے تو ان کا عدالت میں ثابت کرنا بہت مشکل تھا۔ جیسے میں نے عرض کیا، مسلمانوں کا قاضی تو اب نہیں تھا، جس کے پاس بہت سارے اختیارات ہوتے تھے۔ اب تو یہاں تو انگریز جج بیٹھا ہوا تھا، اس کے سامنے تو آپ نے ساری چیزیں رکھنی ہیں، ثابت کرنا ہے، وہ ازخود کچھ نہیں کر سکتا۔ انکوائری کمیشن وغیرہ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ تو کسی نے ایسی خواتین کو یہ مشورہ دیا کہ وہ مرتد ہو جائیں، جا کر کلیسا سے سند لے لیں کہ یہ عیسائی ہو گئی ہے۔ تو اس کا نکاح ختم ہو جائے گا، پھر بعد میں وہ واپس مسلمان ہو جائے۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس پر ابتدائی فتویٰ یہ دیا تھا کہ یہ طریقہ ہے تو غلط، لیکن اس طرح فسخِ نکاح ہو جاتا ہے۔ بعد میں انھوں نے اس پر جب ازسرنو غور کیا اور دیگر علماء کرام کو بھی بٹھایا تو اس کے بعد انھوں نے فتوی دیا، اور یہ دونوں فتویٰ آپ کو امداد الفتاویٰ میں مل جاتے ہیں، اس میں انھوں نے یہ کہا کہ نہیں، ایک تو اس سے ازخود نکاح نہیں ختم ہوتا، اب بھی فسخِ نکاح کے لیے عدالت کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کسی کو کفر کا مشورہ دینا بھی تو کفر ہے، تو اگر کوئی مفتی کسی عورت کو یہ مشورہ دے کہ تم کافر ہو جاؤ، تو وہ تو خود کافر ہو گیا ہے۔ اور اس عورت کو تو اس نے یہ مشورہ دیا، خود اس کی اپنی بیوی اب اس پر حرام ہو گئی ہے ، اور اُس کو اِس کے ساتھ نکاح پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا، وہ آزاد ہو گئی ہے۔
مزید انھوں نے یہ کہا کہ اب اس مسئلے کا حل نکالنا ہے کیونکہ یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے، پورا ملک اس میں الجھا ہوا ہے، اور ایسی خواتین کے لیے کیا کریں؟ پھر انھوں نے اس پہ سوچنا شروع کیا کہ کیا مالکی مذہب میں جو فسخِ نکاح کے دیگر اسباب ہیں، ان کی بنا پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے اور نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ پہلے تو یہ بذاتِ خود ایک بڑا مسئلہ تھا کہ فتویٰ بمذہب الغیر۔ پھر مذہب الغیر میں اس فتویٰ کے حدود اور قیود کیا ہیں، وہ بھی متعین کرنے ہیں۔ یہ سارا کام کیا۔ انھوں نے مالکی فقہاء کے ساتھ خط و کتابت بھی کی اور بہت تفصیلی بحثیں بھی ہوئیں اور آخر میں الحیلہ الناجزہ کے نام سے جو تفصیلی ان کا فتویٰ آیا تو اس نے یوں کہیں کہ بنیاد رکھی۔
پھر اسی بنیاد پر قانون ساز مجلس میں مسلمان ارکان نے بل پیش کیا، جسے کاظمی بل کہا جاتا ہے۔ کاظمی بل نے اسبابِ فسخِ نکاح میں اضافہ اور اس پر قانون سازی کی بات کی۔ ظاہر ہے کہ اسمبلی میں اور لوگ بھی ہوتے ہیں، تو منظور ہوتے ہوتے اس قانون کی شکل کچھ اور بن گئی۔ جو اصل شکل تھی وہ کچھ اور تھی، جو تھانوی صاحب نے اور دیگر علماء نے تجویز کی تھی۔ لیکن بہرحال بڑی حد تک کہ یہ ان کی رائے پر مبنی ہے۔ تو تنسیخِ نکاح کا قانون آگیا 1939ء میں۔ یہ قانون اب بھی موجود ہے۔ اس کی دفعہ 2 میں فسخِ نکاح کے متعدد اسباب ذکر کیے گئے ہیں ۔
اب جب جنرل ایوب خان 1961ء کا عائلی قوانین آرڈیننس لے آئے، جس میں یہ کہا گیا کہ دوسری شادی پر اگر اس نے ثالثی کونسل سے اجازت نہیں لی تھی ، تو پھر پہلی بیوی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ فسخِ نکاح کے لیے دعوی دائر کرے۔ تو یہ بات بھی اس تنسیخِ نکاح والے قانون میں شامل کر لی گئی۔ یہ دوسری بات ہوئی۔
تیسری چیز خلع ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا تھا۔ اسلامی قانون میں صدیوں سے خلع کا تصور یہ ہے کہ مرد اور عورت آپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں کہ شوہر اسے طلاق دے گا اور اس کا کچھ عوض عورت اسے ادا کر دیتی ہے؛ یعنی شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا، عورت رہنا نہیں چاہتی، وہ آپس میں بحث مباحثے اور سمجھوتے کے بعد اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ عورت کچھ ادائیگی کرے گی جس کے عوض میں شوہر اسے آزاد کر دے گا۔ گویا یہ ایک طرح سے out of court settlement، اور باہم طے پانے والا سمجھوتہ ہے، جس کو یوں کہیں کہ عدالت کی سند حاصل ہو جاتی ہے۔ خلع کا اصل طریقہ یہ ہے۔ یہ فریقین کے درمیان عقد ہے، معاہدہ ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
لیکن عمومی طور پر تو پاکستان میں لوگ خلع کا کچھ اور تصور لیتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
میں وہی بتانے جا رہا ہوں کیونکہ اس کو سمجھے بغیر اس مسئلے کو، جس پر آپ نے سوال اٹھایا ہے، سمجھا نہیں جا سکتا۔ 1952ء میں لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ (سعیدہ خانم بنام محمد سمیع) آیا جس میں خاتون نے یہ کہا کہ وہ شوہر سے آزادی چاہتی ہے، لیکن جو اسباب تنسیخِ نکاح کے قانون کی دفعہ 2 میں ذکر ہیں، ان میں کوئی بھی سبب پایا نہیں جاتا تھا۔ تو لاہور ہائی کورٹ میں ان دنوں پاکستان کے بڑے مشہور مسیحی جج تھے، جسٹس کارنیلیس، انھوں نے فیصلہ دیا کہ جب ان اسباب میں کوئی سبب موجود نہیں ہے تو آپ کا نکاح فسخ نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ عرصے بعد 1959ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ہی ایک اور کیس آیا (بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام قریشی)، اس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جج صاحب تھے، اور وہ مسلمان جج تھے، جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس، انھوں نے یہ کہا کہ جب عورت رہنا نہیں چاہتی تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پھر یہ حدود اللہ کی پامالی کریں گے، اس لیے حدود اللہ کی ماپالی سے بچانے کے لیے عدالت ان کا نکاح فسخ کر دیتی ہے۔ یہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ تھا اور اس پر بھی کافی تنقید ہوئی لیکن اتنا زیادہ اس کا اثر نہیں رہا۔
مزید کچھ عرصے بعد 1967ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا (خورشید بی بی بنام بابو محمد امین)۔ اب چونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا تو وہ ظاہر ہے پورے ملک میں نافذ ہوا، اور اس وقت مشرقی پاکستان بھی ہمارے ساتھ تھا تو وہاں بھی نافذ ہوا۔ اس میں چیف جسٹس ایس اے رحمان نے یہ طے کیا کہ مسلمان خاتون کو خلع کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
مطلب تنسیخِ نکاح کے قانون میں جن اسباب کا ذکر ہے، ان میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بس وہ رہنا نہیں چاہتی، تو اب میاں بیوی حدود اللہ میں رہ نہیں سکتے، اور ہم ان کو مجبور نہیں کر سکتے، تو ہم ان کا نکاح فسخ کر دیں گے۔ اس ”عدالتی خلع“ پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے، لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں تنسیخِ نکاح کا قانون یکسر غیر ضروری ہو گیا۔ اب وہ کاغذات میں موجود ہے لیکن اب اس پر فیصلے نہیں ہوتے (معطل ہو گیا۔ رفیق) معطل ہوگیا کیونکہ اگر مثال کے طور پر خاتون یہ کہتی ہے اسے نفقہ نہیں دیا جا رہا، تو ایک تو اسے ثابت کرنا ہوگا۔ اس کو کہتے ہیں یہ fault based ہے، یعنی آپ نے fault، غلطی، ثابت کرنی ہوگی دوسرے فریق کی۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ نان نفقہ دینے پر آمادہ ہو جائے اور اپنی راہیں راہ سیدھی کر لے، تو فسخِ نکاح کا سبب ختم ہو جاتا ہے۔ اور بھی مسائل ہیں۔ یہاں تو آپ نے سیدھا سادا راستہ بنا لیا کہ بس خاتون آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ اسے نہیں رہنا، تو اسے کوئی اور سبب بتانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
بعد میں جنرل مشرف نے فیملی کورٹس ایکٹ میں بھی ایک تبدیلی کی اور اس میں فیملی کورٹ کو پابند کیا کہ پہلی تاریخ میں ہی، اِدھر سے دعویٰ آ گیا، اِدھر سے جوابِ دعویٰ آ گیا، یہاں مدعیہ ہے، اور یہاں مدعا علیہ ہے، اگر ان کے درمیان اصلاح نہیں ہو سکی تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ نکاح فسخ کر دے۔ اس نے ایک طرح سے یوں کہیں اس خلع کو automatic، خود کار، کر دیا۔ اب بھی فیملی کورٹس اس میں کچھ تذبذب کا اظہار کرتی ہیں، لیکن اگر قانون کے لفظ پر غور کریں تو اس میں عدالت کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اس نے لازماً دینا ہی دینا ہے۔
اس سے یہ مسئلہ بھی ہوا کہ مہر کا کیا ہوگا، اور وہ عوض کیا ہوگا جو شوہر کو دیا جائے گا؟ بیوی مہر کا پچیس فی صد یا پچاس فیصد لوٹائے گی یا پورا لوٹائے گی؟ اب عدالتیں کرتی کیا ہیں؟ نکاح تو ختم کر دیتی ہیں؛ اور مہر کا جھگڑا چلتا رہتا ہے، کہ مہر ادا کیا گیا تھا یا نہیں، جہیز کا سامان کتنا تھا، واپس کیا گیا یا نہیں، وغیرہ۔
میں نے یہ تین الگ قوانین آپ کے سامنے رکھے: عائلی قانون ، تنسیخِ نکاح قانون اور فیملی کورٹس ایکٹ ۔ ان تینوں کے ساتھ مل کر ہمارے سامنے بڑا مسئلہ عدالتی خلع کا بنتا ہے۔
آپ نے پوچھا تھا کہ شریعت کورٹ نے کیا کیا ہے؟ میں نے شریعت کورٹ میں اس مقدمے کا ذکر کیا تھا جس میں زمانہ طالب علمی میں میں نے عدالت کی معاونت کی تھی، لیکن میں نے صرف یتیم پوتے کی وراثت والی دفعہ 4 کے متعلق دلائل دیے تھے ۔ اس مقدمے میں دفعہ 6 بھی زیرِ بحث آئی تھی جس میں دوسری شادی کے لیے ثالثی کونسل کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ دیگر لوگوں کے دلائل کے تجزیے کے بعد شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ قانون شریعت سے متصادم نہیں ہے۔ البتہ اس نے یتیم پوتے کی وراثت کے متعلق دفعہ 4 اور طلاق مؤثر کرنے کے طریقِ کار کے متعلق دفعہ 7 کو شریعت سے متصادم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دسمبر 1999ء سے اپیلیں معلق ہیں، یعنی 25 سال ہو گئے ہیں اور اس کی سماعت نہیں ہو رہی۔ بہرحال شریعت کورٹ کہہ چکی ہے کہ دفعہ 6 شریعت سے متصادم نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور مقدمے میں شریعت کورٹ نے عدالتی خلع کو بھی جائز کہا ہے اور قرار دیا ہے کہ یہ بھی شریعت سے متصادم نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب عدالتی خلع، جس کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے، اس کے متعلق شریعت کورٹ نے قرار دیا ہے کہ یہ شریعت سے متصادم نہیں ہے، تو ایسی صورت جس میں خاتون کے پاس کوئی سبب موجود ہو، اس کو شریعت کورٹ کیسے ناجائز کہے گی؟ اس لیے جب اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے ذکر کیا کہ یہ فیصلہ ملکی قانون کے تو مطابق ہے لیکن شریعت سے متصادم ہے، تو میں نے اس پر لکھا تھا کہ شریعت سے یہ متصادم ہے یا نہیں، یہ تو مستقل سوال ہے، لیکن یہ بحث اس فیصلے سے نہیں شروع کرنی چاہیے، یہ پیچھے سے شروع کرنی ہے کیونکہ جب تک آپ عدالتی خلع والے معاملے کو حل نہیں کرتے، یہ مسئلہ بھی لا ینحل رہے گا۔ عدالتی خلع کے لیے تو کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے، یہاں تو سبب موجود ہے۔ اس عدالتی خلع بلاسبب کو شریعت کورٹ جائز قرار دے چکی ہے، تو یہاں خلع یا فسخِ نکاح بالسبب کو وہ کیسے غلط کہے گی؟ عدالتی خلع کا تو سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ طلاق ہے یا فسخ ہے؟ اس نے تو دونوں کو خلط ملط کر دیا ہے اور طلاق اور فسخ کا فرق ہی ختم کر دیا ہے۔
پس اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کو آپ فسخِ نکاح کا سبب مان لیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلا سبب بھی عدالت نکاح فسخ کر سکتی ہے۔ اس لیے اگر ہدف بنانا ہے تو اُس کو ہدف بنائیں۔
باقی رہا یہ سوال کہ شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ہے، تو ہمارے نظام میں اس کا فیصلہ شریعت کورٹ کرتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو اپنی رائے دیتی ہے، اسے فیصلے کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ یہاں تو اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی نہیں رائے دی ہے، بلکہ صرف چیئرمین صاحب نے رائے دی ہے۔ ٹھیک ہے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس بلائیں اور اس پر کونسل کی رائے بھی آ جائے، تو بہت اچھی بات ہے، لیکن قانونی پوزیشن یہ ہے کہ کیا چیز شریعت کے مطابق ہے اور کیا نہیں ہے؟ اس سلسلے میں شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے ختم کر دے۔ اب چونکہ یہ معاملہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں معلق ہے تو ساری توانائی اس پر مرکوز کرنی چاہیے کہ شریعت ایپلیٹ بینچ فیصلہ کرے۔ بے شک آپ اس کو اپنی رائے کا قائل کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ آپ کی رائے کے مطابق فیصلہ دے دے۔ اس کے بعد ہم یہ کہیں گے کہ اب، شریعت سے متصادم ہے یا نہیں، اب یہ والا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ تو فی الوقت تو آپ کی جو رائے ہے وہ آپ کی انفرادی رائے ہے، اگر کونسل نے بھی اس کو اپنا لیا، تو یہ کونسل کی رائے بن جائے گی، لیکن فیصلے کی حیثیت تو بہرحال شریعت کورٹ کے فیصلے کو ہو گی، یا شریعت ایپلیٹ بینچ کے فیصلے کو ہو گی، یعنی اس فیصلے کی کہ کیا چیز شریعت سے متصادم ہے اور کیا نہیں ہے۔
https://youtu.be/PXcGGfZugQo
(جاری)
افغانستان میں نیا فوجداری قانون: حقیقت اور افسانے کے بیچ!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
افغانستان کا قانون بنیادی طور پر حنفی مذہب پر مبنی ہے اور وہاں طالبان کی حکومت سے قبل بھی آئین اور قانون میں اس کی تصریح تھی کہ جہاں قانون خاموش ہو، وہاں حنفی مذہب پر عمل ہوگا، اور یہ کہ فوجداری نظام میں قصاص اور حدود میں حنفی مذہب پر عمل ہوگا اور حکومت کے بنائے ہوئے قانون کا اطلاق صرف تعزیر کے دائرے میں ہوگا۔ اب طالبان نے تعزیری قانون کو بھی حنفی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
چند دنوں سے مسلسل ایسی خبریں اور تجزیے نظر آئے جن میں اِس نئے فوجداری قانون کے متعلق دعوے کیے گئے تھے کہ:
- اس کے ذریعے غلامی کو دوبارہ زندہ کیا گیا ہے اور اب مخالفین کو غلام بنانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا؛
- اس نے معاشرے کو ہندوؤں کی چار ذاتوں کی طرح چار طبقات میں تقسیم کر دیا ہے (کئی ایک نے اسے بھارت کے ساتھ قربت کا اثر بھی قرار دیا)؛
- اس میں نجی سطح پر افراد کو بھی سزا دینے کا اختیار دے دیا گیا ہے؛
- اس میں بچوں کو بھی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے؛ اور
- اپنے سوا دیگر فرقوں کو سزائیں دینے کی گنجائش بھی پیدا کر لی گئی ہے۔
یہ تنقیدات سوشل میڈیا کے علاوہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر بھی نشر کی گئیں۔1
ان تنقیدات کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ تنقید کرنے والے یا تو غلط فہمی کا شکار ہیں یا بد نیتی میں مبتلا ہیں۔ تاہم اس موضوع پر لکھنے سے قبل میں نے اس قانون کا پورا متن پڑھنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ اب جبکہ میں نے یہ قانون پڑھ لیا ہے، تو میں پورے اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو لوگ مندرجہ بالا تنقیدات کر رہے ہیں، انھوں نے یا تو یہ قانون پڑھا ہی نہیں، یا پڑھا ہے تو سمجھا نہیں، یا سمجھا ہے تو بدنیتی کا شکار ہیں۔
اس قانون کا ماخذ
بنیادی طور پر یہ قانون کتبِ فقہ میں موجود کتاب الحدود اور کتاب التعزیر کی جزئیات پر مبنی ہے اور ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو فقہ پڑھنے والوں کے لیے انوکھی ہو۔ قانون کا مسودہ بنانے والوں نے کوشش کی ہے کہ ہر ہر شق اور دفعہ کے لیے کسی فقہی عبارت کا حوالہ حاشیے میں دیا جائے۔ چنانچہ جس کسی کو اس قانون پر تنقید کا شوق ہے، وہ پہلا کام یہ کرے کہ مذکورہ عبارات اور حوالوں کا جائزہ لے کر بتائے کہ ان سے اخذ و استنباط میں کیا غلطی ہوئی ہے؟ یا اگر اخذ و استنباط میں غلطی نہیں ہوئی ہے، تو پھر تنقید کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ مذکورہ فقہی جزیئات کیوں غلط ہیں؟
جہاں تک اس قانون کی فقہ کے ساتھ ہم آہنگی یا تصادم کا سوال ہے، اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ الگ الگ جزئیات میں اتنا مسئلہ نہیں ہے، لیکن دو بنیادی امور ایسے ہیں جن میں اس قانون کے مدونین اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں جن میں بیسویں صدی عیسوی کے بہت سے عرب و عجم کے مؤلفین مبتلا ہوئے تھے، اور اس غلط فہمی کا اثر اس قانون کے پیش کرنے (presentation) پر پڑا ہے۔ میں ان دو امور کی تھوڑی وضاحت کروں گا جس کے بعد امید ہے کہ اس قانون کے متعلق کئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔
ایک تیسرے امر کا تعلق بھی presentation سے ہی ہے، لیکن وہ فقہ کے بارے میں نہیں، بلکہ فوجداری نظام کے بارے میں ہے۔ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
ان تین امور کی وضاحت کے بعد تنقید کے لیے صرف وہ بعض دفعات رہ جاتی ہیں جہاں سزا کی شدت یا تخفیف پر متعدد آرا پائی جا سکتی ہیں۔ ان میں چند ایک دفعات کی میں نشاندہی کروں گا۔ اس کے بعد اس قانون کے بعض قابلِ تحسین پہلوؤں کا بھی ذکر کروں گا، وباللہ التوفیق۔
پہلا امر: حق اللہ کی خلاف ورزی پر تعزیری سزا
حنفی فقہاے کرام نے اسلامی فوجداری قانون کا نظام جس بنیاد پر وضع کیا ہے، وہ ”حقوق کی تقسیم“ ہے۔ اس تقسیم کی درست تفہیم کے ذریعے ہی اسلامی فوجداری قانون کے متعلق بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس تقسیم میں تین الگ نوعیت کے حقوق پائے جاتے ہیں: حق اللہ، حق العبد اور حق الامام/حق السلطان۔ حدود سزاؤں کے متعلق حنفی فقہاے کرام یہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق حق اللہ سے ہے؛ تعزیر کو وہ حق العبد قرار دیتے ہیں اور حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر کارروائی کو وہ ”سیاسہ“ قرار دیتے ہیں۔ قصاص کے متعلق وہ قرار دیتے ہیں کہ یہ ”حقِ مشترک“ ہے (یعنی یہاں حق اللہ اور حق العبد دونوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے) اور اس وجہ سے یہاں کچھ اثرات حدود کی طرح ہیں اور کچھ تعزیر کی طرح۔ ان اثرات پر میں نے اپنے انگریزی اور اردو مقالات میں تفصیل سے بات کی ہے۔
فقہاے کرام نے اپنی کتب میں زیادہ تر حق اللہ کے متعلق سزاؤں کی تفصیل دی ہے، اور حق العبد کی خلاف ورزی کی سزا (تعزیر) پر بھی زیادہ تر اُن امور پر بات کی ہے جن پر بحث حق اللہ کی بحث کی تکمیل کے لیے ضروری تھی۔ جہاں تک حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر سزا کی بات ہے (سیاسہ)، تو عموماً فقہاے کرام اس کی تفصیل میں نہیں جاتے اور قرار دیتے ہیں کہ اس کی تفصیل طے کرنا حکمران کا کام ہے (وما وراء ذلک من السیاسۃ موکول إلی الإمام واجتھادہ)۔
انیسویں صدی عیسوی میں جب مسلم دنیا پر غیر مسلموں کا غلبہ ہوا اور کئی مسلم ممالک میں غیر مسلموں کا قانونی نظام نافذ کیا گیا، تو حق الامام/حق السلطان کے دائرے میں غیر مسلم قابضین نے اپنے قوانین نافذ کیے۔ جب بیسویں صدی کے نصفِ ثانی میں مسلم ممالک نے آزادی حاصل کی اور کئی ممالک میں اسلامی فوجداری قانون کے نفاذ کی بات ہوئی اور اس مقصد کے لیے فقہی کتب کا رخ کیا گیا، تو وہاں زیادہ تر بحث حدود، قصاص اور کسی حد تک تعزیر کے متعلق جزئیات اور اصول ملے، لیکن سیاسہ پر بحث بہت کم نظر آئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی میں لکھی گئی کتب میں عموماً سیاسہ کے تصور کو نظر انداز کیا گیا، الا ما شاء اللہ۔ حنفی فقہاے کرام نے فوجداری نظام میں سیاسہ کا اصول کیسے برتا ہے، میرے پی ایچ ڈی کے مقالے میں اس کی تفصیل دی گئی ہے اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ معاصر دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل اس تصور کے ذریعے کیسے دیا جا سکتا ہے؟
بیسویں صدی کے مؤلفین عام طور پر اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہو گئے کہ حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ تھی کہ مغربی قوانین میں عموماً حقوق کو دو قسموں میں تقسیم مانا جاتا ہے: فرد کا حق، معاشرے/ریاست کا حق، یعنی private right اور public right۔ چنانچہ ان مؤلفین نے حق العبد کو private right کہا اور ساتھ ہی قرار دیا کہ حق اللہ سے مراد public right ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ حق جس کا ہوتا ہے، معافی کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوتا ہے۔ چنانچہ جب فقہاے کرام کہتے ہیں کہ حدود سزائیں حقوق اللہ ہیں، تو ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حدود کی معافی کا اختیار متاثرہ فرد کے پاس بھی نہیں ہے اور حکمران کے پاس بھی نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ صراحتاً قرار دیتے ہیں کہ حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر دی جانے والی سزا کو حکمران معاف کر سکتا ہے۔
غلط فہمی کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ فقہاے کرام کے ہاں ایسی عبارات مل جاتی ہیں کہ حق اللہ کے فوائد پورے معاشرے کو ملتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کا نقصان بھی سب کو ہوتا ہے، یعنی یہ انفرادی معاملہ نہیں ہے۔ تاہم چونکہ انھی عبارات میں آگے لکھا ہوتا ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اختیار کسی کو نہیں دیا تاکہ یہ فوائد ضائع نہ ہوں، اس لیے جو شخص پوری عبارت پڑھتا ہے وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔
تاہم اچھے خاصے نامی گرامی اہلِ علم (جیسے عبد القادر عودہ شہید، وہبہ الزحیلی رحمہما اللہ) بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے، تو اس کی وجہ ایک اور تھی۔ وہ یہ کہ شافعی فقہاے کرام کے ہاں حقوق کی تقسیم اس طرح نہیں پائی جاتی اور ان کے ہاں بعض حدود کو حق العبد کہا جاتا ہے، اور وہ حقوق اللہ میں بھی تعزیر کے قائل ہیں۔ چنانچہ بیسویں صدی کے مؤلفین تو ایک طرف، متاخرین حنفی فقہاے کرام میں بھی کئی ایک اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ حق اللہ میں تعزیر دی جا سکتی ہے۔ البتہ متاخرین میں بھی جنھوں نے تلفیق سے گریز اور اصولوں پر ارتکاز کیا اور متقدمین کی کتب سے جڑے رہے، انھوں نے اس معاملے میں اصولی تناقض کی طرف توجہ بھی دلائی اور بعض نے یہاں تک کہا کہ حق اللہ میں دی جانے والی تعزیر کو کوئی معاف نہیں کر سکتا کیونکہ حق اللہ کی معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔
پس وجوہات کچھ بھی ہوں، بیسویں صدی کے مؤلفین عموماً حقوق کی حنفی تقسیم کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں، اور وہ غلط فہمی افغانستان کے جاری کردہ اس نئے قانون میں بھی نظر آتی ہے۔ چنانچہ اس قانون میں ایک جانب حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان کو یکساں قرار دیا گیا ہے، دوسری جانب کئی مقامات پر حق السلطان کو قاضی، امیر یا امیر المؤمنین کی اجازت اور مرضی پر منحصر کر دیا ہے۔ عبد القادر عودہ، ابو زہرہ، وہبہ الزحیلی اور ایسے ہی دیگر مؤلفین کے کام پر انحصار کے نتیجے میں ایسا ہونا حیران کن نہیں ہے۔
میں نے ایک تفصیلی مقالے [میں] متاخرین کی عبارات کا تفصیلی تجزیہ کر کے دکھایا ہے کہ جن امور کو متاخرین ”حق اللہ میں تعزیر“ کہتے ہیں، وہ دراصل ”سیاسہ“ کی مثالیں ہیں۔ یہی اس نئے قانون میں مذکور ”حق اللہ میں تعزیر“ کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مثلاً لہو لعب کی محفل برپا کرنے یا رمضان میں برسرِ عام کھانا پینے پر سزا ہو، تو اس کا مقصد معاشرتی بگاڑ کو روکنا ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس سزا میں تخفیف اور معافی کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ اسی طرح اس نئے قانون میں ”حق اللہ میں تعزیر“ کی بعض دوسری قسمیں دراصل وہ امور ہیں جن کو معاصر قانون میں preventive measures کہا جاتا ہے، یعنی جرائم کے ارتکاب سے قبل انھیں روکنے کی تدابیر، اور ایسے امور میں افراد کو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا کہہ کر ان کو یہ لائسنس نہیں دیا جا رہا کہ وہ عدالتی کارروائی کے بغیر کسی کو ”سزا“ دے دیں، بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دنگا فساد کر رہے ہیں، یا کوئی اور جرم کر رہے ہیں، انھیں روکا جائے، اور ضروری ہو اور ممکن ہو، تو پکڑ کر قانون کے حوالے کیا جائے۔ کیا خود ہمارے ہاں ضابطۂ فوجداری میں ایسی صورتیں موجود نہیں ہیں جہاں نجی سطح پر افراد کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو گرفتار کر کے جلد از جلد پولیس کے حوالے کر دیں؟2
دوسرا امر: تعزیر اور تادیب کا تعلق
جیسے ایک جانب حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان میں فرق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کئی سنجیدہ مسائل پیدا ہوئے ہیں، ایسے ہی دوسری جانب سزا اور تادیب میں فرق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بھی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں۔
حدیث مبارک میں آیا ہے کہ بچہ دس سال کا ہو جائے اور وہ نماز نہ پڑھے، تو اسے مارنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح عورت کے نشوز کی صورت میں قرآن کریم نے شوہر کو اسے مارنے کی اجازت دی ہے جس کی قیود و حدود حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات کسی فوجی دستے کا امیر اپنے ماتحتوں کو زجر و توبیخ کرتا ہے، یا استاد شاگردوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے۔ ان سارے امور کو فقہاے کرام نے تعزیر کے تحت ذکر کیا ہے۔
تاہم اس سے متوازی ایک حقیقت یہ ہے کہ فقہاے کرام نے بچے کے متعلق پوری صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اسے ”سزا“ (عقوبۃ) نہیں دی جا سکتی کیونکہ سزا کی اہلیت (أھلیۃ العقوبۃ) کے لیے عقل و بلوغ دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ پھر ”بچے کو تعزیر“ سے کیا مراد ہے؟ فقہاے کرام نے واضح کیا ہے کہ اس سے مراد انھیں ادب سکھانا، یعنی ان کی تادیب، ہے۔ اسی لیے انھوں نے اس تعزیر میں، جو تادیب کی نوعیت کی ہے، اور اس تعزیر میں، جو سزا کی نوعیت کی ہے، فرق کیا ہے۔ مثلاً وہ یہ بتاتے ہیں کہ بچے کی تادیب کرتے ہوئے اسے ایسا نہیں مارنا چاہیے کہ اس کے بدن پر نشان بنے، یا جلد پھٹ جائے، نہ ہی اسے مارنے کے لیے چھڑی/ڈنڈے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ نیز انھوں نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایسا کیا، تو الٹا اس شخص کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ یہی حکم بیوی کی تادیب کرنے والے شوہر یا ماتحت کی تادیب افسر کے لیے ہے۔3
افغانستان کے اس نئے فوجداری قانون میں جہاں بچے یا بیوی کی تعزیر کی بات کی گئی ہے، اس سے مراد یہی تادیب والی تعزیر ہے، نہ کہ سزا۔ تاہم تعزیری قانون میں اس کے ذکر سے بعض لوگوں کو غلط فہمی لاحق ہوئی ہے، اور بعض کو پروپیگنڈا کا موقع میسر آگیا ہے، حالانکہ اسی قانون میں یہ تصریح بھی کی گئی ہے کہ تادیب میں مذکورہ بالا حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کو تعزیری سزا دی جائے گی، بلکہ اس میں تو معلّم (استاد) کے لیے بھی ایسی تعزیری سزا مقرر کی گئی ہے، اگر اس نے شاگردوں کی تادیب میں حدود سے تجاوز کیا۔ حیرت ہے کہ ان دفعات کی موجودگی میں غلط فہمی کے لیے گنجائش کہاں سے نکل آئی ہے؟ تاہم اگر تادیب سے متعلق امور کو یا تو تعزیری قانون میں ذکر ہی نہ کیا جاتا، یا انھیں الگ الگ مقامات پر ذکر کرنے کے بجاے ”تادیب“ کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کر کے ان امور کو وہاں اکٹھے ذکر کیا جاتا، تو شاید یہ غلط فہمی پیدا نہ ہوتی، اگرچہ پروپیگنڈا کرنے والے پھر بھی پروپیگنڈا کرتے۔
تاہم ایک مسئلہ اور بھی ہے جو زیادہ پیچیدہ ہے۔ فقہاے کرام نے تعزیر کی بعض صورتوں میں قرار دیا ہے کہ جس فرد کا حق متاثر ہوا ہے، اس کے پاس تعزیر کے نفاذ کا اختیار ہے۔ ان قسموں کا تجزیہ کیا جائے، تو یہ بھی دراصل تادیب کی صورتیں ہیں، نہ کہ سزا کی۔ نیز فقہاے کرام نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ تعزیر کی بعض صورتوں کے لیے باقاعدہ ”دعوی“ عدالت میں دائر کرنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں تعزیر کے نفاذ کا اختیار بھی قاضی یا حکمران کے پاس ہی ہے۔ یہاں بھی ”حقوق کی قسموں“ کی بنا پر تجزیہ کریں، تو یہ قسم دراصل ”سیاسہ“ ہے اور یہاں متاثر ہونے والا حق دراصل حق الامام/ حق السلطان ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ حق الامام/ حق السلطان سے مراد حکمران کا ذاتی حق نہیں، بلکہ قوم کے وکیل کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اور اصلاً یہ لوگوں کا اجتماعی حق ہے جس کا نفاذ حکمران/قاضی ان کے نمائندے/وکیل کی حیثیت سے کرتا ہے۔
تعزیر کی اس قسم میں، جو اصل میں سیاسہ ہے، اور اس قسم میں جو تادیب ہے، بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ سزا ہے اور وہ سزا نہیں ہے۔ نیز یہاں یہ فرق بھی اہم ہے کہ قصاص یا حدود کے باب میں جب تعزیر دی جاتی ہے، تو اس کا نفاذ بھی حکمران/قاضی کا کام ہے، اور قانوناً وہ بھی سیاسہ ہی ہے۔ تاہم اس میں کوڑے لگانے کی زیادہ سے زیادہ حد بھی مقررہ ہے، اور اس سے تجاوز ممکن نہیں ہے۔ وہ حد 39 کوڑوں کی ہے۔ تعزیر/سیاسہ کی دیگر قسموں میں سزاؤں کی دیگر شکلیں بھی ہو سکتی ہیں، جیسے سزاے قید یا جرم کی بعض انتہائی صورتوں میں سزاے موت۔
افغانستان کے اس نئے قانون میں یہ تینوں قسمیں (تادیب، جو اصل میں سزا نہیں ہے؛ تعزیر جس میں 39 کوڑوں سے زیادہ سزا نہیں ہوسکتی؛ اور تعزیر جس میں سزاؤں کی دیگر شکلیں بھی ہو سکتی ہیں، اور بعض صورتوں میں سزاے موت بھی ہو سکتی ہے) باہم مختلط اور گڈ مڈ ہو گئی ہیں۔ اس وجہ سے اگرچہ اس قانون میں تصریح کی گئی ہے کہ کہاں تعزیر کے لیے دعویٰ کی ضرورت ہے اور کہاں نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ باتیں غیر مرتب انداز میں اور بکھری ہوئی ہیں، اس لیے غلط فہمیوں اور پروپیگنڈا کا امکان موجود ہے۔ تاہم اس میں بھی قصور اس قانون کے بنانے والوں سے زیادہ بیسیوں صدی کے مؤلفین کا، اور کسی حد تک متاخرین فقہاے کرام کا ہے۔ یہاں بھی چونکہ مسئلہ صرف ترتیب اور پیش کرنے کے انداز سے ہے، اس لیے معمولی تغییر اور محنت سے اسے بہتر کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے بہت زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
تیسرا امر: جرم ثابت ہونا اور سزا کی مقدار کا تعین
فوجداری نظام میں یہ امر مسلّم ہے کہ جرم کا ثابت ہونا اور اس پر سزا کی مقدار کا تعین دو الگ امور ہیں۔ چنانچہ فوجداری مقدمے میں اس لحاظ سے دو الگ مرحلے ہوتے ہیں: پہلے عدالت میں کسی فرد کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کا تعین کیا جاتا ہے کہ اسے کتنی سزا دی جائے؟
جرم ثابت کیسے ہوتا ہے؟ اس کے لیے تفصیلی ضوابط قانونِ شہادت میں دیے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مجرم ایک مقررہ ضابطے پر عدالت کے سامنے باقاعدہ اقرارِ جرم کرے؛ یا یہ کہ جرم کے ثبوت کے لیے گواہی کا معیار کیا ہوگا، اور قرائن و دیگر امور سے جرم کیسے ثابت ہو گا؟ اسی طرح بعض قوانین میں خصوصی ضوابط بھی دیے جا سکتے ہیں، مثلاً بعض قوانین میں گنجائش ہوتی ہے کہ استغاثہ اور ملزم آپس میں سمجھوتہ (plea bargain) کریں۔ عموماً ایسے سمجھوتے کے بعد سزا کی مقدار یا نوعیت میں ملزم کو کچھ فائدہ یا تخفیف کا امکان ہوتا ہے۔
ایک بار جرم ثابت ہوگیا، تو اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اب اس جرم پر کون سی سزا دی جائے، اور یہ کہ اس سزا کی مقدار کتنی ہو؟ بعض اوقات قانون میں جرم کی ایک ہی سزا متعین ہوتی ہے (جیسے اسلامی قانون میں حدود سزائیں ہیں)، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی جرم پر ایک سے زائد سزائیں مقرر شدہ ہوتی ہیں (جیسے ”سزاے موت یا عمر قید“)۔ اس دوسری صورت میں عدالت کونسی سزا دے گی؟ اسی طرح بعض اوقات سزا کی مقدار مقرر ہوتی ہے (جیسے حدِ قذف میں 80 کوڑے ہیں)، لیکن اکثر اوقات قانون میں صرف سزا کی زیادہ سے زیادہ مقدار مقرر شدہ ہوتی ہے (جیسے ”دس سال تک قید“)۔ اس مؤخر الذکر معاملے میں (مجرم کا جرم ثابت ہو چکنے کے بعد) عدالت نے یہ تعین کرنا ہوتا ہے کہ مجرم کو کتنی سزا دی جائے؟ کیا ان امور میں عدالت اپنی ”مرضی“ (discretion) سے فیصلہ کرتی ہے؟ یا عدالت پر کچھ اصولوں اور ضوابط کی پابندی لازم ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ سزا کا مقصد کیا ہے؟
اس آخری سوال کے جواب میں ”سزاؤں کے نظریات“ کا فہم مفید ثابت ہوتا ہے۔ سزا کے مقصد/مقاصد کی توضیح کے لیے قانون کے فلاسفہ اور سماجیات کے ماہرین نے متعدد نظریات دیے ہیں، مثلاً عبرت، بدلہ، انتقام کی آگ سرد کرنا اور اصلاح۔ ان میں ہر نظریے میں متعدد سوالات پر غور کیا جاتا ہے، مثلاً عبرت سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کہ مجرم، جسے سزا دی جا رہی ہے، عبرت پکڑے اور آئندہ جرم کے ارتکاب سے باز رہے؟ یا یہ کہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور وہ اس جرم سے باز رہیں؟ یا دونوں کے لیے عبرت؟ ان میں ہر سوال کے جواب میں بہت تفصیلی بحثیں ہیں جن کے تجزیے کی اس وقت گنجائش نہیں ہے۔ مختصراً اتنا ذکر کرنا کافی ہوگا کہ اسلامی قانون کے ماہرین نے بالعموم حد کی سزا کا مقصد ”زجر“ ذکر کیا ہے، یعنی مجرم خود اور دوسرے بھی آئندہ یہ جرم نہ کریں؛ جبکہ ”تعزیری سزا“ کا مقصد عموماً یہ بتایا جاتا ہے کہ مجرم کی ”اصلاح“ ہو جائے؛ اور ”سیاسہ“ سزا، بالخصوص جہاں سزاے موت دی جا رہی ہو، کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے، کہ مجرم کے فساد سے معاشرے کو بچایا جائے۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں فوجداری قانون میں اکثر جرائم پر ایک سے زیادہ سزائیں رکھی گئی ہیں، اکثر جرائم پر سزا کی مقدار میں اچھی خاصی گنجائش چھوڑی گئی ہے (مثلاً بعض اوقات مقرر ہوتا ہے: ”کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال“؛ اکثر اوقات لکھا ہوتا ہے: ”زیادہ سے زیادہ دس سال قید“، یا ”زیادہ سے زیادہ دس لاکھ روپے جرمانہ“)، اور اس کے باوجود قانون میں کوئی اصول نہیں لکھے گئے کہ کسی ایک سزا کا تعین، یا سزا میں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مقدار کا تعین جج کیسے کرتا ہے؟ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی جرم میں ایک عدالت مجرم کو تین سال کی سزا، اور دوسری عدالت دس سال کی سزا دے دیتی ہے؛ اور بعض اوقات ایک ہی عدالت ایک ہی جرم میں ایک مجرم کو یہ، اور دوسرے مجرم کو وہ سزا دے دیتی ہے۔ توہینِ عدالت کی سزا کو ہی دیکھ لیجیے۔ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو سزا دی تھی ”عدالت کے برخاست ہونے تک“، اور پھر اگلے ہی لمحے عدالت برخاست کر دی گئی۔ چنانچہ انھیں بس ایک لمحے کی ہی سزا دی گئی۔ (تاہم چونکہ اب وہ سزا یافتہ مجرم ہوگئے، اس لیے وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نا اہل ہو گئے۔) پاکستان اور بھارت دونوں کی سپریم کورٹ نے کئی مقدمات میں اس طرف توجہ دی ہے، لیکن تا حال اس معاملے میں نہ وہاں اور نہ ہی ہمارے ہاں کوئی قانون سازی ہوئی ہے۔
دوسری طرف امریکا اور بعض یورپی ممالک میں اس موضوع پر ججوں کی رہنمائی کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان ہدایات کی پابندی عدالت پر لازم نہیں ہوتی، لیکن جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سزا کا تعین کرتے وقت ان ہدایات کو مدِّ نظر رکھے گا۔ البتہ انگلینڈ اور ویلز نے ججوں پر ان ہدایات کی پابندی لازم کی ہے۔ چونکہ عام طور پر انگلینڈ اور ویلز کے اس نظام کو معاصر دنیا میں ایک اچھے نمونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے اس کے متعلق مختصراً نوٹ کیجیے کہ سزا یا اس کی مقدار کے تعین میں جج جن امور کو دیکھتا ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- جرم کرنے والے کی نیت، نیز اس کی جانب سے اعتماد شکنی
- متاثرہ فرد/افراد کو پہنچایا گیا نقصان
- پہلے اسے سزا ہوئی ہے یا نہیں؟
- عہدے کا غلط استعمال
- نفرت پر مبنی طرزِ عمل
- ندامت
- کم عمری
- ذہنی صحت
- جلد اقرارِ جرم
اس بحث کی روشنی میں افغانستان کے نئے فوجداری قانون میں اگر تعزیری سزا کے لیے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو کوڑے لگانے یا قید کرنے کے بجاے صرف تنبیہ کرنا کافی ہوتا ہے، بعض کو عدالت میں بلا کر ان کی سرزنش کرنی پڑتی ہے، بعض کو جسمانی سزا دینی ضروری ہوتی ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ؛ تو اس پر اس سے زیادہ اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا سوءِ استعمال ممکن ہے، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ کون سا قانون ایسا ہے جس کا سوءِ استعمال ممکن نہ ہو؟ نیز کیا ہمارے ہاں جو نظام ہے اس کا سوءِ استعمال نہیں ہو رہا؟ کیونکہ ہمارے ہاں تو سرے سے ایسی کوئی ہدایات یا اصول ہیں ہی نہیں اور جج مرضی سے فیصلہ کرنے کے لیے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔
اس پر اس بات کا اضافہ کیجیے کہ افغانستان کے اس نئے فوجداری قانون میں یہ اصول بھی طے کیا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں جج کو بھی تعزیری سزا ہو سکتی ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے ہاں تا حال کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اس شق کی موجودگی میں کیا اس قانون کے سوءِ استعمال کو بڑی حد تک روکنے کا بندوبست نہیں کیا گیا؟
پھر یہ ہنگامہ، اے خدا، کیا ہے!
اس قانون کے چند قابلِ تحسین پہلو
یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ اس قانون کے بہت سارے قابلِ تحسین پہلو ناقدین کی توجہ نہیں پا سکے ہیں اور ان پر سرے سے بات ہی نہیں ہو رہی۔ ان میں سے چند ایک امور کی طرف پچھلی سطور میں اشارہ کیا گیا، جیسے:
تعزیری سزائیں
بعض واضح طور پر غیر شرعی فیصلوں پر قاضی کے لیے تعزیر کی بات ہے، یا بچے کی تادیب میں حد سے تجاوز کرنے والے استاد کی بطورِ تعزیر عہدے سے معزولی کا حکم ہے۔ اسی طرح بیوی کی تادیب میں حد سے تجاوز کرنے والے شوہر کے لیے بھی تعزیری سزا مقرر کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں سکولوں اور مدرسوں میں بچوں کو شدید جسمانی سزاؤں کے خلاف یا اسی طرح گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی یا تو کی نہیں گئی، یا کی گئی ہے تو وہ اسلامی اصولوں کے بجاے مغربی تصورات سے ماخوذ ہے اور اس وجہ سے معاشرے کے لیے یکسر اجنبی ہے۔ ایسے میں افغانستان میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان موضوعات پر تعزیری سزائیں مقرر کرنے کی تحسین ہونی چاہیے تھی، لیکن تعصب اور پروپیگنڈا کے شکار لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ہوئی۔
جرمانے کی سزا
اس قانون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں جرمانے کی سزا سرے سے ہی نہیں، بلکہ جرمانے کو (جسے اس قانون میں ”تعزیر بأخذ المال“ کہا گیا ہے) صراحتاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ یادش بخیر، 2022ء میں جب میں بین الاقوامی قانونِ جنگ کے ایک تربیتی پروگرام کے لیے افغانستان گیا تھا، تو وہاں علمی حلقوں میں یہ مسئلہ زیرِ بحث تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے چالان اور جرمانہ ضروری ہے، لیکن حنفی فقہ میں چونکہ تعزیر بالمال ناجائز ہے تو وہ سوال کرتے تھے کہ اس کا حل کیا ہے؟ ایک مجلس میں یہ سوال اٹھا، تو ایک بزرگ عالمِ دین نے کہا کہ تعزیر بالمال کو جہاں حنفی فقہاء نے ناجائز کہا ہے، وہاں مراد تعزیر بأخذ المال ہے، اور یہ کہ بعض صورتوں میں ”تعزیر بإتلاف المال“ جائز ہے (جیسے مثلاً مجرموں سے منشیات برآمد کی گئیں اور بعد میں انھیں تلف کیا گیا)۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا ٹریفک پولیس اوور سپیڈنگ پر گاڑی کا شیشہ توڑے گی؟ میں نے عرض کیا کہ ایک تو شیشہ توڑنے کے بجاے وہ گاڑی کو روک کر اس کے ٹائر سے ہوا بھی نکال سکتی ہے، لیکن تعزیر بالمال کی ایک تیسری صورت بھی ہے جسے فقہاے کرام نے جائز کہا ہے، اور وہ ”تعزیر بحبس المال“ ہے، تو آپ اس کی گاڑی روک لیں، اور پھر بے شک ایک گھنٹے بعد اسے جانے دیں، تو امید ہے کہ ایک گھنٹے کی اس تاخیر سے اوور سپیڈنگ کا بھوت نکل جائے گا۔
اب جب اس نئے قانون کا متن میں نے پڑھا اور اس میں دیکھا کہ تعزیر بأخذ المال کو ناجائز، اور تعزیر بحبس المال اور تعزیر بإتلاف المال کو جائز قرار دیا ہے، اور ان جائز قسموں کے لیے حدود اور قیود مقرر کی گئی ہیں، تو بے حد خوشی ہوئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ہماری اس گفتگو کا اثر ہے، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اس قانون کے بنانے والوں نے فقہی ذخیرے کا بغور مطالعہ کیا اور یہ امر قابلِ تحسین ہے۔
منشیات پر سزائیں
اسی طرح منشیات کی روک تھام کے لیے اس قانون میں مخصوص پودوں کی کاشت سے لے کر منشیات بنانے، ان کی خرید و فروخت، ملک کے اندر یا باہر سمگلنگ اور دیگر متعلقہ جرائم پر تعزیری سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پچھلی حکومت (1996ء-2001ء) میں بھی منشیات کا کاروبار زوال کا شکار ہوا تھا، لیکن کرزئی حکومت اور پھر اشرف غنی حکومت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ناک تلے اس کاروبار نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی، اور طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد 2022ء سے پھر اس کاروبار کو شدید نقصان ہوا ہے۔ ان نئی اور سخت سزاؤں سے معاملہ مزید بہتری کی طرف جائے گا، لیکن مجال ہے کہ ناقدین اس پہلو پر بات کریں۔
توہینِ رسالت کی سزا
سب سے زیادہ قابلِ تحسین پہلو اس قانون کا یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیاے کرام کی شان میں گستاخی پر سزا میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ مجرم کی توبہ کی صورت میں اسے سزاے موت کے بجاے بطورِ تعزیر 6 سال تک سزاے قید دی جائے گی۔ معلوم امر ہے کہ پاکستان میں ایک تو اس جرم پر سزاے موت مع جرمانے کی سزا کا قانون ہے، اور اس میں پہلے سزاے موت کی جگہ عمر قید کی سزا کا امکان تھا، لیکن وفاقی شرعی عدالت کے 1990ء کے فیصلے کے بعد وہ امکان ختم کر دیا گیا ہے؛ دوسرے، پاکستانی قانون میں توبہ پر سزا کے ساقط ہونے یا اس میں تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی، بلکہ قانون یہ ہے کہ بہر صورت مجرم کو سزاے موت اور جرمانے کی سزا دینی ہے؛ تیسرے، پاکستان کے قانون میں یہ سزا صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر ہے، اور دیگر انبیاے کرام کی شان میں گستاخی پر دس سال تک قید کی سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں جاتی ہیں۔ انبیاے کرام کے درمیان اس تفریق کی کوئی گنجائش اسلامی قانون میں نہیں ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں، تو افغانستان کا قانون پاکستان کے قانون سے بہت بہتر ہے۔ کیا پاکستان میں ایسے مجرم کی توبہ کی بنا پر اس کی سزا میں تخفیف کے لیے قانون میں ترمیم کی بات کی جا سکتی ہے؟
البتہ ایک اہم مسئلہ باقی رہتا ہے۔ اس قانون میں توہینِ رسالت کے مسئلے میں یہ کہا گیا ہے کہ اس دفعہ کا اطلاق مسلمان پر ہوتا ہے کیونکہ یہ جرم کر کے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ یہاں تک تو بات حنفی مذہب کے مطابق ہے، لیکن اس کے آگے یہ کہا گیا ہے کہ مرتد ہونے کے بعد وہ تعزیر کا مستحق ہو جاتا ہے، اور یہ کہ اگر یہ جرم توبہ کے بغیر ثابت ہو، تو قاضی اسے امام (حکمران) کی اجازت سے بطور تعزیر سزاے موت دے گا۔ اس پر سوال یہ ہے کہ کیا حنفی مذہب کی رو سے مرتد کی سزا حد نہیں ہے؟ بیسویں صدی کے بعض مؤلفین کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ چونکہ مرتد کی سزا توبہ سے ساقط ہو جاتی ہے، اور دیگر حدود سزائیں حد سے ساقط نہیں ہوتیں، اس لیے مرتد کی سزا حد نہیں ہے۔ امام سرخسی اور علامہ شامی کی تصریحات اس موضوع پر میں بارہا ذکر کر چکا ہوں۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ مرتد کی سزا کی علت کے دو اجزا ہیں: ایک، کفر؛ اور دوسرا، کفر کے بعد اس پر اصرار۔ چنانچہ اگر مسلمان کفر کرے، تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور سزاے موت کا مستحق ہو جاتا ہے اگر وہ کفر پر جما رہے؛ چنانچہ اگر وہ کفر کے بعد اس پر اصرار نہ کرے، بلکہ توبہ کر لے، تو علت باقی نہیں رہتی جس کی وجہ سے اس کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قانون کے حاشیے میں جو فقہی عبارات نقل کی گئی ہیں، ان میں توبہ نہ کرنے کی صورت میں سزاے موت، جبکہ توبہ کے بعد تعزیری سزا کی گنجائش بتائی گئی ہے، جبکہ اس قانون میں توبہ نہ کرنے کی صورت میں بطورِ تعزیر سزاے موت کی بات کی گئی ہے۔
حواشی
(1) پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی ویب گاہوں پر ایسی خبروں کے لیے دیکھیے:
https://tinyurl.com/taliban-dastoor-2026-january
(2) میرا یہ مقالہ درج ذیل پر پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ مقالہ انگریزی میں ہے۔ اس موضوع پر اردو میں میرا مقالہ میری کتاب ”مقالاتِ شریعت“ میں شامل ہے۔ یہ کتاب ورلڈ ویو پبلشرز لاہور نے 2023ء میں شائع کی ہے:
https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=2238520
(3) اس موضوع پر میرے اس مقالے میں اور کتاب میں، جس کا حوالہ پیچھے دیا گیا، تفصیلات موجود ہیں۔ نیز وفاقی شرعی عدالت میں گھریلو تشدد کے متعلق قانون پر عدالت کی معاونت کےلیے لکھے گئے نوٹ میں بھی تفصیلات دے چکا ہوں۔
ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب
ایک مجلس میں استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی سے ائمہ مساجد کو پنجاب حکومت کی طرف سے پچیس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے چند قابل غور سوالات اٹھائے جن پر حکومت، مساجد کمیٹیوں اور ائمہ مساجد تینوں کو توجہ دینی چاہیے:
- مساجد کا انتظام ان کی کمیٹیاں کر رہی ہیں۔ مساجد کے لیے تعاون کی رقم ان کمیٹیوں کی بجائے ائمہ مساجد کو دی جا رہی ہے جس سے کمیٹیوں اور ائمہ کے درمیان غلط فہمیاں اور بے اعتمادی پیدا ہو گی اور مساجد کا نظام ڈسٹرب ہو جائے گا۔
- ائمہ مساجد کو یہ وظیفہ ملنے کے بعد کمیٹیوں کی طرف سے دی جانے والی تنخواہ اور مراعات دونوں خطرے میں پڑ جائیں گی اور اکثر و بیشتر انتظامی کمیٹیاں ائمہ کی تنخواہیں روک دیں گی۔
- اس وظیفے کی کوئی قانونی ضمانت نہیں ہے کہ یہ حکومت اسے مسلسل جاری رکھے گی اور اس کی بھی کوئی قانونی گارنٹی نہیں ہے کہ اگلی حکومت یہ سلسلہ قائم رکھے گی، جس سے ائمہ مساجد فضا میں معلق ہو کر رہ جائیں گے۔
- اس وظیفہ کے ساتھ یہ بھی مختلف ذرائع سے کہا جا رہا ہے کہ ائمہ و خطباء کو اپنے بیانات و خطبات میں حکومتی پالیسی اور ہدایات کی پابندی کرنا ہو گی جس سے اس وظیفہ کی حیثیت ائمہ مساجد و خطباء کی زبان بندی کے مترادف ہو جائے گی اور وہ آزادی کے ساتھ دینی احکام و مسائل بیان نہیں کر سکیں گے۔
- حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ان کی پالیسیاں بھی ساتھ ہی بدل جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ہر پانچ دس سال کے بعد ائمہ و خطباء کو بھی اپنے بیان و خطاب کا موضوع اور موقف تبدیل کرنا پڑے گا اور اس سے خود دین اور اس کے احکام و مسائل بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائیں گے جو شریعت کی روح کے منافی ہے۔
- حکومت اگر اس معاملہ میں سنجیدہ ہے اور فی الواقع دین اور علماء کرام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو ہمارے تمام تر اختلاف کے باوجود اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ذریعہ باقاعدہ قانون سازی کر کے مساجد اور ائمہ کی کم از کم تنخواہ اور دیگر ضروریات کا تعین کر کے ان کی انتظامی کمیٹیوں کو اس کا پابند بنایا جائے اور تعاون کی رقم اس کے ساتھ مشروط کر کے ان کمیٹیوں کو فراہم کی جائے۔
- مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کو محکمہ اوقاف کے تحت لانے کی بجائے سوسائٹی ایکٹ کے تحت ان کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جائے اور اس کے مطابق چلنے والی کمیٹیوں کو بجلی و گیس کے بلوں میں سہولت اور دیگر ضروری معاملات میں مالی تعاون فراہم کیا جائے، ورنہ اس کے علاوہ کوئی بھی صورت عملاً مساجد کے نظام کو ڈسٹرب کرنے اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔
جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
تحفظِ مدارسِ دینیہ کنونشن
جامعہ اشرفیہ لاہور میں گیارہ جنوری کو لاہور و گوجرانوالہ ڈویژن کے دینی مدارس کا ایک اہم اور بامقصد تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن منعقد ہوا، جس میں ملک کے جید علماء کرام، دینی مدارس کے ذمہ داران اور مختلف دینی تنظیموں کے نمائندہ وفود نے شرکت کی۔ اس اجتماع کا مقصد دینی مدارس کے تحفظ، آزادی، خودمختاری، نصاب اور انتظامی تشخص کے دفاع کے لیے مشترکہ موقف اور اجتماعی عزم کا اظہار تھا۔
کنونشن میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب، قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور دیگر اکابر علماء کرام نے خصوصی خطابات کیے۔ اجتماع سے حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے نہایت جامع، مدلل اور فکری خطاب فرمایا، جسے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے سراہتے ہوئے غیر معمولی اور بصیرت افروز قرار دیا۔
یہ اجتماع جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، شیخ الحدیث، استاد العلماء حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ کے وصال کے بعد ایک تعزیتی اجتماع کی حیثیت بھی رکھتا تھا، جس میں مرحوم کی دینی، علمی اور تدریسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف خان صاحب، مولانا حافظ زبیر الحسن صاحب، حضرت مولانا ارشد عبید صاحب، حافظ اجود عبید صاحب، حافظ اسد عبید صاحب اور دیگر اکابر و متعلقین نے شرکت کی۔
کنونشن میں تحفظِ مدارس کے حوالے سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دینی مدارس امتِ مسلمہ کا فکری و نظریاتی سرمایہ ہیں، جن کی آزادی، نصاب اور انتظامی خودمختاری پر کسی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے، اور اس ضمن میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت کے ہر جائز مؤقف کی مکمل تائید کی جائے گی۔
امیر پاکستان شریعت کونسل، مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خصوصی ہدایت پر اس اجتماع میں پاکستان شریعت کونسل کی جانب سے ایک بھرپور وفد نے شرکت کی، جس میں: مولانا قاری محمد عثمان رمضان (سیکرٹری جنرل پنجاب)، حضرت ڈاکٹر حافظ عبدالواحد قریشی (امیر لاہور)، حضرت مولانا حافظ محمد عمر خان قارن (امیر گوجرانوالہ)، مولانا محمد جواد گلزار قاسمی اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔
وفدِ پاکستان شریعت کونسل نے دینی مدارس کے تحفظ، اتحادِ علماء اور ملی تشخص کے استحکام کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کے عزم کی تجدید کی۔
مولانا زاہد الراشدی کا تعزیتی دورہ
امیرِ پاکستان شریعت کونسل، مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب جمعرات (۱۵ جنوری) کے روز بعد نمازِ مغرب جامعہ اشرفیہ لاہور تشریف لائے، جہاں انہوں نے جامعہ اشرفیہ کے مہتممِ اعلیٰ اور سرپرستِ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، ممتاز عالمِ دین شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کی تعزیت کی۔ اس موقع پر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کے لیے دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ تعزیتی ملاقات کے دوران انہوں نے حضرت مرحوم کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی، علمی و دینی رفاقت اور باہمی احترام کو یاد کرتے ہوئے پرانی یادیں تازہ کیں۔
صاحبزادگان سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق نہایت گہرا، قلبی اور نیاز مندانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دیگر اکابر کے ساتھ بھی تعلق رہا، مگر حضرت مرحوم کے ساتھ خصوصی رفاقت اور اعتماد کا تعلق تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا: ہمارا نیاز مندی کا جو تعلق بزرگان کے ساتھ رہا ہے، ان شاء اللہ وہی تعلق آپ حضرات کے ساتھ بھی قائم رہے گا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
تعزیت کے موقع پر صاحبزادہ مولانا زبیر حسن صاحب، حافظ اسعد عبید صاحب اور مولوی اویس حسن صاحب سے خصوصی ملاقات ہوئی، جبکہ مفتی شاہد عبید صاحب، حافظ ابراہیم نقشبندی صاحب اور مولانا مجیب الرحمٰن انقلابی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ وفد میں پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا شمس الدین ایڈووکیٹ، حافظ پیر زبیر جمیل، بھائی طیب شبیر اور حافظ شاہد الرحمٰن میر شریک تھے، جبکہ نشست میں جامعہ اشرفیہ کے علماء کرام اور ذمہ داران بھی موجود تھے۔
بعد ازاں حافظ اسعد عبید صاحب اور مولانا زبیر حسن صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ ہمارے لیے بڑے ہیں، سرمایہ ہیں، اور ہمیں آپ کی رہنمائی اور دعاؤں کی ضرورت رہے گی۔
کہوٹہ لاء کالج میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کے دو اہم خطبے
سید علی محی الدین شاہ
کہوٹہ لاء کالج قانون کی معیاری تعلیم دینے والا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے مختصر عرصے میں اپنی ایک منفرد اور امتیازی شناخت اور پہچان قائم کی ہے اور ترقی کے سفر کی جانب گامزن ہے۔ اس کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لئے نصابی مضامین کے ساتھ مزید وسعت نظر پیدا کرنے، علم کی مختلف اطراف و جہات سے انہیں آگاہی بخشنے، مختلف موضوعات پر عبور رکھنے والی مستند شخصیات سے استفادے کا ذوق پروان چڑھانے، اور اپنے خاص مضمون کے علاوہ باقی علمی دنیا سے بھی واقفیت پیدا کرنے کے لئے اہلِ علم شخصیات کے توسیعی خطبات کا ایک جاندار اور ٹھوس سلسلہ بھی قائم ہے جہاں مختلف ایام میں ملکی سطح کی شخصیات تشریف لاتی ہیں اور وہ شخصیات اپنے طویل تعلیمی تجربات اور مطالعے کے نتائج کا نچوڑ پیش کرتے ہیں اور طلباء و طالبات نہایت ذوق و شوق سے ان کے خیالات کو سن کر اپنے فہم و شعور میں اضافے کے ساتھ سوال و جواب اور تعمیری مکالمے کے ذریعے علم کے میدانوں میں آگے سے آگے بڑھنے اور بہتر سے بہتر کی تلاش کی جستجو کو جگاتے ہیں۔
تعلیم و تربیت اور سیکھنے و سکھانے کا یہ سارا عمل اور اسی طرز کے دیگر متعدد ادارے علم دوست شخصیت، تعلیمی میدان میں طویل اور گہرے تجربات کے حامل، مربیانہ اوصاف سے متصف، صاحبِ فکر و نظر اور اہل علم کے قدردان جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صاحب کی زیر سرپرستی چل رہے ہیں اور اِن اداروں میں اپنے فن اور موضوع کے لائق و فائق اساتذہ کرام، جناب صاحبزادہ عمیر ہاشم صاحب، اور اس کالج کے سی ای او جناب بیرسٹر صاحبزادہ عزیر ہاشم صاحب کی قیادت میں ہیرے تراشنے کی مشکل مہم کو سر کر رہے ہیں۔
توسیعی خطبات کے اسی سلسلے میں دورِ حاضر کے ایک نہایت اہم موضوع قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے اصول و ضوابط اور بدلتے حالات میں ان بنیادی مصادر سے اعتقادی، عملی، سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی رہنمائی حاصل کرنے کے معتبر، معیاری، مستند اور درست طریقہ کار کی تشریح و وضاحت کے لئے، علومِ اسلامیہ کے نامور محقق، ماہرِ تعلیم، مشکل اور دقیق فنی مباحث کو ہر سطح اور درجہ رکھنے والوں کے لئے نہایت آسان اور عام فہم بنانے کی صلاحیت سے مالامال شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب بھی دو دن لیکچر پیش کرنے کے لئے تشریف لائے اور اپنے علم و فضل کے موتی بکھیرے۔ ستائیس و اٹھائیس جنوری کی اِن علمی نشستوں میں مولانا صاحب نے اس مشکل موضوع کا احاطہ معتدد اطراف سے کیا، اور مولانا راشدی صاحب نے اس حوالے سے اپنے گہرے مطالعے اور افکار کے نتائج کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ دلچسپ انداز و اسلوب میں سیرت و حدیث میں موجود واقعات کی مثالوں سے واضح فرمایا، اور دین کے تمام مسلّمہ مصادر کا ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہونے اور ان کی تشریح و تعبیر میں کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنے یا تسلسل سے چلے آنے والے طریقہ کار سے انحراف کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور تضادات کو خوبصورت مثالوں سے واضح فرمایا۔
ان لیکچرز کی سماعت طلباء و طالبات نے پورے انہماک و استغراق کے ساتھ کی اور پھر ان کی جانب سے کیے جانے والے سوالات سے واضح ہوا کہ اس مضمون کو سمجھنے میں انہوں نے خاصی دلچسپی اور ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا۔ اور دونوں دن آخر میں جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صاحب نے پوری گفتگو کا نچوڑ اور خلاصہ سامعین و سامعات کے سامنے رکھا اور مولانا راشدی صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس دورے میں مولانا راشدی صاحب نے پورے ادارے کا تفصیلی معائنہ بھی فرمایا اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لئے اس ادارے کو ہر اعتبار سے ایک آئیڈیل اور مثالی ادارہ قرار دیا۔
————————
خطبات کے لنکس:
facebook.com/share/p/1ZDfA8XSLW
facebook.com/share/v/17dJmgoH5N