’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
موجودہ فکری کشمکش اور دینی مدارس کی ذمہ داریاں
خطبہ نمبر ۱۴
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علیٰ سید الرسل وخاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین اما بعد!
حضراتِ علماء کرام، محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جامعہ فتحیہ کے ساتھ اس سال کے تعلیمی پروگرام کا جو میں نے وعدہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ اس سال احکام القرآن کے حوالے سے پروگرام ہوں گے، اور احکام القرآن میں بھی ہم نے جو عنوان یہاں کے لیے منتخب کیا تھا وہ تھا ’’اسلام کا خاندانی نظام‘‘۔ جن مسائل میں نکاح، طلاق، وراثت اور عالمی دنیا کے بہت سے اعتراضات و مسائل اور ان کے جوابات ہیں، ان کو زیرِ بحث لانا تھا۔ الحمد للہ ہماری تیرہ نشستیں ان پروگراموں کے متعلق ہو چکی ہیں۔ موضوع کا احاطہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی تیرہ چودہ نشستوں میں ہو سکتا ہے، لیکن مجھے یہ اطمینان ہے کہ بڑی بڑی باتیں ہو گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام کا خاندانی نظام اور اس کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے، اور اسلام کے نظامِ خاندان کے حوالے سے آج کی بین الاقوامی دنیا کے جو اعتراضات ہیں، ان سب کے متعلق تیرہ نشستوں میں جو کچھ باتیں ہوئیں ہیں، ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
انگریز سے پہلے دینی مدارس ہی فکری اور تہذیبی مراکز تھے
فکری و تہذیبی کشمکش پر بات کرنے سے پہلے میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ ہمارے معاشرے میں انگریزوں کے باضابطہ قبضہ جمانے سے پہلے، یعنی 1857ء سے پہلے دینی مدارس ہی ہمارے دینی، فکری اور تہذیبی مراکز تھے۔ ہم قرآن و حدیث بھی یہیں پڑھتے تھے، فقہ و شریعت اور معقولات بھی یہیں پڑھتے تھے، فلکیات و سائنس وغیرہ بھی یہیں پڑھی جاتی تھیں، عروض و قافیہ اور ریاضی وغیرہ بھی اکٹھی پڑھائی جاتی تھیں۔ اُس زمانے میں دینی علوم اور عصری علوم کی آج کی طرح تقسیم نہیں تھی۔ اسے قدیم اور جدید کی تقسیم کہہ لیں، دینی اور غیر دینی یا عصری علوم کی تقسیم کہہ لیں۔ یہ تقسیم اس سے پہلے نہیں تھی۔ یہیں قرآنِ پاک پڑھا جاتا تھا، حدیث شریف پڑھی جاتی تھی، اور ریاضی، فلکیات، سائنس، معقولات، فقہ اور درسِ نظامی سب یہیں تھا۔ صدیوں سے یہ چلا آ رہا تھا اور ہندو اور سکھ بھی یہی پڑھتے تھے اور باقی غیر مسلم بھی یہی پڑھتے تھے۔ بعض غیر مسلم جو ان علوم کے ماہرِ فن اور بڑے بڑے مدرس تھے، یہیں پڑھاتے تھے اور معقولات کے امام سمجھے جاتے تھے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی ان کا ذکر کرتے ہیں1۔ مسلمانوں کے نظامِ تعلیم میں سب کچھ پڑھایا جاتا تھا، یعنی تمام علوم مشترک طور پر پڑھائے جاتے تھے۔ اُس وقت تقسیم نہیں تھی تو یہ تقسیم کس نے کی ہے؟ یہ بات 1857ء کے بعد ہوئی، جب کہ مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ دینی اور دنیاوی علوم کی مولویوں نے تقسیم کی ہے۔ یہ تقسیم مولویوں کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہے، یہ تو غلط بات ہے، ہم تو صدیوں سے دونوں علوم اکٹھے پڑھاتے رہے ہیں۔
انگریز کے نظامِ تعلیم میں تقسیم اور علماء و مدارس کا کردار
جب انگریزوں نے سارے نظام پر قبضہ کیا اور نیا نظام بنایا تو قرآن و حدیث اور فقہ و عربی کو نکال دیا، باقی چیزیں رہ گئیں، تو دینی اور غیر دینی علوم کی تقسیم انہوں نے کی ہے؟ اب ان علوم کو نکال دیا تو سوال پیدا ہوا کہ قرآن، حدیث، فقہ اور عربی کے مضامین کو کون سنبھالے گا؟ یہ علوم ختم نہ ہوں، ان کو بچانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے ذمہ لے لیا۔ لیکن تقسیم ہم نے نہیں کی، وہ تقسیم کو ہمارے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ ہمارے پاس تو جب تک نظام رہا، دین و دنیا سب کچھ پڑھاتے تھے۔ ریاضی، سائنس، معقولات، فلسفہ، منطق وغیرہ سب کچھ تھا۔ جب انگریز نے نظام سنبھالا تو اس نے قرآن، حدیث، فقہ اور عربی کو نکال دیا۔ ہمارے بزرگوں نے ان چار علوم کو سنبھالا کہ یہ ضائع نہ ہوں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دینی مدارس کا معاشرے میں بنیادی کردار کیا ہے؟ موجودہ سسٹم کے حوالے سے 1857ء سے پہلے پوری تہذیب، تمدن، سماج، ثقافت، معاشرت، سب کا مرکز مدارس تھے۔ 1857ء کے بعد چند بزرگ اکٹھے ہوئے، اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں، اسباب فراہم کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان چند بزرگوں نے دیوبند کے قصبے میں 1866ء میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے کی بنیادی اساس اس پر تھی کہ پورے ملک کے نظامِ تعلیم سے یہ چار علوم: قرآنِ پاک، حدیث، فقہ اور عربی نکالے گئے ہیں، اب ان کو ہم نے بچانا ہے۔ اور عام آدمی کا علم کے ساتھ، دین کے ساتھ، کلمہ، ایمانیات، اخلاقیات اور فرائض و واجبات کے ساتھ تعلق باقی رکھنا ہے۔
تیسری بات یہ تھی کہ 1857ء کے بعد فکری اور تہذیبی فتنے شروع ہوئے، اقتدار کی جنگ شروع ہوئی، مسلمانوں کے عقائد پر حملے شروع ہو گئے، ہندوؤں نے اپنی تبلیغ شروع کر دی، عیسائیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی۔ دینی مدارس کے بنیادی اہداف ان چار علوم کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے عقائد اور دین کی حفاظت کرنا بھی تھے۔ یہ ایک لمبا زمانہ اور اس کی ایک مستقل تاریخ ہے۔ ایک طرف ہندوؤں کی یلغار تھی، ہندوؤں کا موقف یہ تھا اور اب بھی انتہا پسند ہندوؤں کا موقف یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے سب ہندو ہیں۔ یہاں رہنے والے جو مسلمان اور دوسرے اہلِ مذہب ہیں، وہ واپس چلے جائیں کہ یہ ہندو مذہب اور ہندو وطن ہے۔ آج بھی انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اور عیسائی اور جو دوسرے اہلِ مذہب یہاں رہتے ہیں، وہ اپنے دین یعنی ہندومت کی طرف واپس آئیں کہ یہ وطن کا مذہب ہے۔ یہ بڑی تحریک تھی۔ حتیٰ کہ دارالعلوم کو مستقل ایک شعبہ قائم کرنا پڑا تھا۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور بڑے بڑے اکابر نے محاذ قائم کیا تھا کہ شدھی یعنی مرتد ہونے والے مسلمانوں کو دوبارہ اپنے مذہب کی طرف لایا جائے۔ کیونکہ بہت سارے دیہاتوں کے غریب مسلمان ہندوؤں کی طرف چلے گئے، ان کے اس دعوے پر کہ ہندوستان کا مذہب ہندو ہے لہٰذا واپس اپنے مذہب میں آؤ۔ تو دارالعلوم دیوبند اور دیگر مسلم اداروں کے اس محاذ کی وجہ سے ہزاروں مسلمان واپس دین کی طرف آئے۔ اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کی پوری تاریخ ہے۔ ادھر پنجاب میں سکھ پھیلتے جا رہے تھے، ادھر عیسائیوں کی یلغار تھی، مسلسل اعتراضات اور مناظرے ہو رہے تھے۔ وہ مختلف مذاہب سے مناظروں کا زمانہ تھا، ہمارے اکابر نے دینی علوم کی حفاظت بھی کی اور مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے تحفظ کے لیے مقابلہ بھی کیا اور مناظرے بھی کیے۔
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا ایک پادری کو شکست دینا
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (المتوفیٰ 1880ء)، حضرت مولانا کیرانویؒ (المتوفیٰ 1891ء)، یہ حضرات بڑے مناظرین میں سے تھے۔ برطانیہ سے ایک ڈاکٹر فنڈر آئے تھے، بڑے عیسائی پادری تھے، پڑھے لکھے آدمی تھے، گفتگو کا سلیقہ تھا۔ پڑھا لکھا آدمی ہو اور گفتگو کا سلیقہ بھی ہو تو بہت سے لوگوں کو خراب کرتا ہے۔ اس ڈاکٹر نے ہندوستان میں طوفان مچا دیا، اس نے کہا میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے مقابلے میں مناظرہ کرو۔ کسی بھی چیز پر مناظرہ کرو؛ توحید پر، تثلیث پر، تعلیمِ قرآن پر، بائبل کی تحریف پر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں پر۔ یہ پادری اتنا چالاک اور چابک دست تھا کہ عام عالم اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ اس کا مقابلہ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے کیا، جو مولانا قاسم نانوتویؒ کے ساتھیوں میں سے تھے، مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ (المتوفیٰ 1896ء) کے مریدوں میں سے تھے، بڑے عالم تھے۔ مناظرہ بائبل کی تحریف پر تھا، بہت بڑا مناظرہ ہوا، مولانا کیرانویؒ کے سامنے پادری فنڈر نہ ٹھہر سکا اور بالآخر شکست کھا کر ہندوستان چھوڑ کر چلا گیا۔
یہ پادری ہندوستان سے ترکی آ گیا، ادھر آ کر پھر چیلنج کرنے لگا، ادھر کے لوگوں کا مناظروں کا مزاج نہیں تھا، وہ اس میدان کے لوگ نہیں تھے۔ سلطان عبدالمجیدؒ اس وقت عثمانی خلیفہ تھے، انہوں نے حج کے موقع پر اعلان کرایا کہ ایک عیسائی پادری ہے، گفتگو کا بڑا سلیقہ رکھتا ہے، اگر کوئی مسلمان عالم اس سے مقابلہ کرنا چاہے تو آ جائے۔ اس وقت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ خلافتِ عثمانیہ کے حصے تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مولانا کیرانویؒ ہجرت کر کے باقاعدہ مکہ آ چکے تھے۔ یہ ایک مستقل تاریخ ہے کہ مولانا کیرانویؒ کا مکہ مکرمہ میں کیا کردار تھا، اس پر ان شاء اللہ پھر کسی موقع پر مستقل عرض کروں گا۔ مولانا کیرانویؒ کو اس اعلان کا پتہ چلا تو کہا کہ میں اس سے مناظرہ کرتا ہوں۔ یہ خبر سلطان عبدالمجید تک پہنچی کہ ایک عالم آئے ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں پادری فنڈر سے مناظرہ کروں گا۔ انہوں نے مولانا کو استنبول بلوایا، عیسائی پادری کو بھی بلوایا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے، عیسائی پادری نے انکار کر دیا، کہا کہ میں نے ترکی کے لوگوں کو چیلنج کیا ہے، ادھر کا عالم ہونا چاہیے۔ بہرحال وہ مولانا کیرانویؒ کے سبب ترکی میں ٹِک نہ سکا۔
پھر سلطان عبدالمجید مرحوم نے حضرت کیرانویؒ کو سرکاری مہمان بنایا، ان کو احترام کے ساتھ رکھا۔ سلطان نے کہا کہ حضرت! بائبل کی تحریف اور جو دیگر اہم موضوع ہیں، اس پر کوئی کتاب لکھیں۔ مولانا رحمت اللہؒ نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے عربی میں کتاب لکھی۔ اس طرح ردِ عیسائیت میں یہ شاندار کتاب سلطان عبدالمجید کی فرمائش پر وجود میں آئی۔ سلطان عبدالمجید نے اس کے ترجمے کروا کر سرکاری خرچے پر لاکھوں کتابیں تقسیم کروائیں۔ کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کے بارے میں اس وقت کے ’’لندن ٹائمز‘‘ کا تبصرہ یہ تھا کہ اگر یہ کتاب پچاس سال تک پڑھی جاتی رہی تو دنیا سے عیسائیت ختم ہو جائے گی۔
پھر ’’اظہار الحق‘‘ کا ترجمہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے عنوان سے کیا، بہت زبردست ہے، عیسائیت کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے۔2
بات یہ ہو رہی تھی کہ ہمارے بزرگوں نے تعلیم اور اسلامی عقائد کا دفاع پہلے کیا۔ ایک ہے تعلیم، دوسری ہے تربیت، تیسرا ہے ماحول؛ یہ تینوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ تعلیم کتاب کی، تربیت عمل کی، اور ماحول ایسا کہ سب ان اعمال کو کریں۔ ہمارے بزرگوں نے ان تینوں پہلوؤں کو نہ صرف باقی رکھنے کی کوشش کی بلکہ باقی رکھنے میں کامیاب بھی ہوئے۔یہ ہمارے اکابر کا اعزاز ہے کہ آپ کہیں بھی چلے جائیں، ہمارے اکابر کی یہ تینوں چیزیں آپ کو کسی نہ کسی انداز سے ضرور ملیں گی۔ ان بزرگوں نے تعلیم کا نظام بھی باقی رکھا، تربیت کا بھی اور خانقاہی ماحول بھی باقی رکھا، بلکہ لباس اور وضع قطع کا ماحول بھی باقی رکھا کیونکہ لباس تبدیل کرنے کے نتیجے میں ماحول اور کلچر بدل جاتا ہے۔ یہ اَب تک باقی ہے، دنیا والوں کو نظر بھی آ رہا ہے اور بسا اوقات چھبتا بھی ہے کہ مولویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مذہب اور ثقافت کی بنیادیں بچانا اور انہیں مضبوط کرنا بہت بڑی فراست تھی۔ یہ خانقاہی ماحول کے انداز میں بھی باقی رکھا، یہ ماحول تسلسل کے ساتھ آپ کو اب تک نظر آئے گا۔
علماء آزادی کی تحریکوں کے قائد تھے
ایک اور بات جو ان تینوں سے بڑی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کر لیا تھا اور پوری قوم کو غلام بنایا تھا، تو علماء نے اس غلامی کے خلاف آزادی کا ذہن باقی رکھا۔ دیگر طبقات تو سب چیزیں قبول کر چکے تھے، ایک علماء کا طبقہ تھا جس نے نہ صرف اس استعمار کو قبول نہیں کیا بلکہ اس کے سامنے ڈٹ بھی گئے۔ یعنی یہ کہ ’’ہم نے غلام نہیں رہنا، آزاد ہونا ہے‘‘ اس کا صرف ذہن ہی نہیں بنایا بلکہ بھرپور تیاری بھی کی۔ میں تاریخ کا طالبِ علم ہوں، 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جتنی آزادی و حریت کی تحریکیں چلی ہیں، ان سیاسی و عسکری تحریکوں کو پورے ہندوستان میں کلکتہ سے پشاور تک مدارس نے ہی چلایا ہے۔
اُس عہد میں لفظ ’’مولوی‘‘ اس بات کی علامت بن گیا تھا کہ انگریزوں کا غلام نہیں رہنا بلکہ آزاد ہونا ہے۔ یہ اتنی پکی علامت بن گئی تھی کہ یونیورسٹی سے جو لوگ اِدھر آئے وہ بھی مولوی کہلانے لگے۔ شوکت علیؒ کس مدرسے کے فاضل ہیں؟ ظفر علی خانؒ بھی کسی مدرسے کے فاضل نہیں ہیں بلکہ اسلامیہ کالج لاہور اور علی گڑھ یونیورسٹی کے فاضل تھے۔ ان کا نام تحریکِ آزادی کے بڑے لوگوں میں ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، ڈاکٹر انصاریؒ، یہ سب ہمارے سیاسی اکابرین میں سے ہیں، چوٹی کے سیاستدان ہیں، تحریکِ آزادی میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں لطیفے کے طور پر کہا کرتا ہوں کہ بغاوت اور آزادی کی علامت مولوی بن چکا تھا کہ یونیورسٹی سے جو ٹاپ کے لوگ ہمارے پاس آئے، ان کو بھی ’’مولانا‘‘ کے ٹائٹل سے پکارا گیا۔
علماء کا مقصد
تحریکِ آزادی میں علماء نے قیادت بھی فراہم کی اور کارکن بھی فراہم کیے۔ یہ علماء معاشرے میں تہذیب و ثقافت کے محافظ بھی تھے، اپنے عقیدے اور ایمان کے محافظ بھی تھے، اپنی آزادی کے جذبے کے محافظ بھی تھے، اپنے علوم کے محافظ بھی تھے؛ تو اس طرح ہمارے اکابر نے چومکھی لڑائی لڑی۔ تاریخ کا یہ رخ میں نے اس لیے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔ الحمد للہ ہم آج اپنے اس ماحول کو قائم رکھنے میں کامیاب ہیں، ہم نے جو محاذ سنبھالا تھا اس میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ ہم نے کیا محاذ سنبھالا تھا؟ ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے بیٹے مولانا حافظ محمد احمدؒ دیوبند کے مہتمم تھے اور اکابرین میں سے تھے۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی سب سے مضبوط اور مستحکم مالی ریاست حیدرآباد دکن تھی، وہ حیدرآباد کے نظام کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے۔ نظام نے کہا: حافظ صاحب! بات یہ ہے کہ ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جو آپ کے مدرسے سے پڑھ کر نکلتے ہیں، یہ اہلیت میں بھی دوسروں سے زیادہ ہیں اور ذہانت میں بھی، کام بھی زیادہ کرتے ہیں اور دیانت دار بھی ہیں۔ میں نے آپ سے یہ بات اس لیے کی ہے کہ میں آپ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے مدرسے سے جتنے بھی علماء فارغ ہوں، ان کو یہاں حیدرآباد دکن میں بھیج دیا کریں۔ اور دارالعلوم کا سال کا جو بھی بجٹ ہو گا، وہ ہم ادا کر دیا کریں گے۔
اب مولوی کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو گی کہ مدرسے کے فارغ التحصیل بھی کھپ جائیں گے اور پورے سال کا بجٹ بھی آ جائے گا۔ مہتمم صاحب نے نظام صاحب کو کہا: ہم وعدہ تو نہیں کر رہے، بزرگوں سے مشورہ کر کے پھر جواب دیں گے۔
اس وقت حضرت گنگوہیؒ حیات تھے، بزرگ ہو گئے تھے، نابینا تھے، گنگوہ میں رہتے تھے۔ مہتمم صاحب ان کی خدمت میں پہنچے اور پوچھا کہ حضرت! نظامِ حیدرآباد نے یہ پیشکش کی ہے، آپ سے اجازت لینے آئے ہیں۔ حضرت گنگوہیؒ نے فرمایا: ”مولوی احمد! میں تمہیں بیوقوف تو سمجھتا تھا لیکن اتنا نہیں۔ اللہ کے بندے! ہم نے دیوبند کا یہ مدرسہ حیدرآباد دکن کے نظاموں کی ریاست چلانے کے لیے بنایا ہے؟ بھاڑ میں جائے حیدرآباد کی ریاست۔ ہم نے یہ مدرسہ اس لیے بنایا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام مل جائیں اور قرآنِ پاک پڑھانے کے لیے حافظ مل جائیں۔ مسلمانوں کی مسجدیں آباد رکھنے کے لیے اور مسلمانوں کو مکاتب کے استاذ فراہم کرنے کے لیے ہم نے یہ مدارس بنائے ہیں، ہمیں کیا لینا دینا حیدرآباد کی ریاست سے!
تو اُس وقت ہمارے بزرگوں کی یہ حکمتِ عملی تھی کہ جو شخص ہم سے فارغ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کسی بھی دنیا کے کام کا وارث مت سمجھے، وہ کہیں اور نہ کھپے بلکہ آ کر مسجدیں سنبھالے تاکہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد رہیں، قرآن پڑھانے کے لیے استاذ مل جائیں، وگرنہ دین کے مسئلے کون بتائے گا؟ یہ مدارس کا نظام اس حکمتِ عملی کے تحت تھا۔
مدارس پر ایک اعتراض کا جواب
پنجاب کے ایک گورنر خالد مقبول صاحب ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے جامعہ اشرفیہ کا وزٹ کیا، تقریر فرمائی اور شِکوہ کیا کہ ملک کے پاس سائنسدان نہیں ہیں، ملک کے پاس ڈاکٹر نہیں ہیں، بہت کمیاں ہیں، اور مدارس کیا کر رہے ہیں؟ اس لہجے میں انہوں نے تقریر فرمائی۔ میں نے اس پر ایک کالم لکھا، میں نے کہا کہ آپ کا جو شِکوہ ہے وہ درست ہے کہ ملک میں ضرورت کے مطابق انجینئر نہیں ہیں، سائنسدان نہیں ہیں، ڈاکٹر نہیں ہیں۔ میں اس شِکوہ میں آپ کے ساتھ ہوں لیکن شکایت کی یہ جگہ درست نہیں ہے۔ شکایت کی جگہ اِس طرف نہیں، نہر کے اُس طرف ہے جہاں پنجاب یونیورسٹی ہے۔ ڈاکٹر بنانے کے یا انجینئر بنانے کے ہم مخالف نہیں ہیں لیکن ہم نے یہ ذمہ داری نہیں لی۔ ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ مسجد کا امام ملتا رہے گا اور مدرسے کا استاذ ملتا رہے گا، اور وہ ذمہ داری ہم بخوبی پوری کر رہے ہیں۔ جب کہ یہ ذمہ داری یونیورسٹی نے لی تھی کہ ہم سائنسدان دیں گے، ڈاکٹر دیں گے۔ ڈاکٹروں کی کمی ہے تو ان سے پوچھیں۔ ہم سے پوچھنا ہے تو یہ پوچھیں کہ قرآن کا حافظ مل رہا ہے یا نہیں؟ مسجد کا امام مل رہا ہے یا نہیں؟ عالمِ دین مل رہا ہے یا نہیں؟
میں نے کہا، گورنر صاحب! ہم تو اتنے بڑے ایکسپورٹر ہیں کہ دنیا تنگ پڑ گئی ہے؛ پاکستان کے مدارس کے پڑھے ہوئے میں نے واشنگٹن میں پڑھاتے ہوئے دیکھے ہیں، ہانگ کانگ میں دیکھے ہیں، نیروبی، ٹورنٹو اور کیپ ٹاؤن میں دیکھے ہیں، دنیا بھر میں پڑھاتے ہوئے دیکھے ہیں۔ آج ہمارے مدارس کے پڑھے ہوئے دنیا میں کہاں نہیں ہیں؟ دنیا کے کونے کونے میں ہمارے لوگ پڑھا رہے ہیں۔ ہم نے برصغیر کی دینی تعلیم کی ذمہ داری لی تھی اور ہم ضرورت پوری کر رہے ہیں دنیا بھر کی۔ جو ذمہ داریاں ہم نے لی تھیں اگر اس میں سے کوئی نہیں مل رہا تو ہم سے پوچھیں۔ اگر ڈاکٹر، سائنسدان نہیں مل رہے تو یونیورسٹی سے جا کر پوچھیں، ہم سے کیا پوچھتے ہیں؟
مدارس اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے
ہماری ذمہ داری تو بحمد اللہ تعالیٰ پوری ہو رہی ہے۔ میں اگر مشاہدات بیان کرنا شروع کر دوں تو بہت سارے ہیں، ایک مشاہدہ مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں۔ امریکہ میں ’’دارالعلوم مدنیہ‘‘ ہے، میں وہاں گیا، مجھے وزٹ کروایا گیا۔ وہاں درسِ نظامی کا اہتمام ہے، بچوں کا بھی اور بچیوں کا بھی، حفظ کا اہتمام بھی ہے۔ اس وقت جب میں گیا تھا، ساڑھے چار سو بچیاں ہوسٹل میں تھیں اور تین سو بچے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کے خلیفہ مدرسہ کے مہتمم ہیں۔ وہ ڈاکٹر صاحب بھی ہیں اور مہتمم بھی ہیں۔ تہہ خانے میں حفظ کی کلاس تھی، جب میں نیچے گیا تو حیرت سے میرا دماغ چکرا گیا کہ میں گوجرانوالہ میں ہوں یا کسی غیر ملک میں ہوں؟ سوچ میں پڑ گیا کہ میں کہاں کھڑا ہوں، امریکہ میں؟ پوچھا کہ قاری صاحب! آپ یہیں کے پڑھے ہوئے ہیں؟ قاری صاحب نے کہا: نہیں حضرت، گوجرانوالہ کا ہوں، پیدا بھی وہیں ہوا ہوں اور پڑھا بھی وہیں سے ہوں۔
دیکھیں، یہ مدرسے کا فیض ہے کہ کہاں کہاں تک پہنچا ہے۔ بعض لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ مدارس کا کیا بنے گا؟ ہم کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا، یہ مدارس اسی طرح چلیں گے۔ آٹھ دس سال کے بعد ہم پر دباؤ آتا ہے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پانی کا راستہ کبھی کسی نے روکا ہے؟ اگر پانی کا راستہ روکیں گے تو دوسری طرف سے نکل جائے گا۔ زمین میں گھس کر دوسری طرف نکل آتا ہے، وہاں بھی بند کر لیں تو ہوا میں اُڑ کر دوسری طرف جا کر برس جاتا ہے۔ دین اور علم، یہ بھی پانی کی طرح ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو خواب کی تعبیرات منقول ہیں، ان میں دودھ علم کی علامت ہے اور پانی ایمان کی علامت ہے۔ تو پھر دین کا راستہ کون روکے گا، یا کس طرح رک سکے گا؟
دینی مدارس کی کامیابیاں
جہاں تک دینی مدارس کی ذمہ داری، جدوجہد اور اس کے نتائج کا تعلق ہے، آج وہ اس معاملہ میں بحمد اللہ پوری طرح سرخرو ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے اسلامی علوم و فنون کی صرف حفاظت ہی نہیں کی بلکہ کسی قسم کی سرکاری امداد کے بغیر معاشرے کے لاکھوں افراد کو ہر دور میں اسلامی علوم سے بہرہ ور کیا۔ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے صرف نشانات کو باقی ہی نہیں رکھا بلکہ طالبان حکومت کی صورت میں اس کا عملی نمونہ بھی خاص انداز سے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اس نمونے کو دیکھنے والے پکار اُٹھے کہ یہ تو وہی صدیوں پرانا نمونہ ہے اور اس نمونے نے تو گزشتہ دو صدیوں میں ہونے والی تہذیبی تبدیلیوں کا بھی سرے سے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔
اس لیے دینی مدارس سے کسی درجہ میں یہ شکایت تو ہو سکتی ہے کہ جو امانت ان کے سپرد کی گئی، انہوں نے اتنی سختی اور شدت سے اس کی حفاظت کی اور اس کو آنے والی نسلوں تک اس طرح پہنچا دیا ہے کہ اسے زمانے کی ہوا بھی نہیں لگنے دی۔ مگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیقات اور علوم میں قوم کے پیچھے رہ جانے پر دینی مدارس کو ذمہ دار قرار دینا اور ان کے اساتذہ اور طلباء کے درمیان کھڑے ہو کر سائنس و ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے جدید ترین ذرائع سے محرومی کا رونا رونا، نہ صرف سراسر ناانصافی ہے بلکہ انتہائی بے ذوقی کی بات بھی ہے۔ آج اگر ہم جدید سائنسی علوم، ٹیکنالوجی اور تحقیقات کی صلاحیت و مواقع سے محروم ہیں تو اس کی ذمہ داری دینی مدارس پر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذمہ داری اس تعلیمی نظام پر ہے جس نے ڈیڑھ سو برس قبل اس کی ذمہ داری قبول کی تھی، اور اس نے مغربیت کو قبول کرنے میں تو کسی حجاب سے کام نہ لیا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کی طرف اس کے قدم نہ بڑھ سکے۔ بلکہ اس تعلیمی نظام کی نااہلی نے ہماری آزادی اور خودمختاری کو بے بسی کی دلدل سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے۔
دینی مدارس کی نمایاں خدمات
آج جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی لاکھوں مدارس پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک علمی، فکری اور تہذیبی دائروں میں پورے عزم و استقلال کے ساتھ مصروفِ کار ہے۔ اور تاریخ ان مدارس کے اس عظیم کردار کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ ان دینی درسگاہوں نے:
- اس خطہ کو اسپین بننے سے بچا لیا، جس کا ذکر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اسپین کے دورے سے واپسی پر ان الفاظ میں کیا کہ ان مدارس کو اسی حالت میں رہنے دو اور انہیں اسی طرح کام کرنے دو، یہ مدارس اگر خدانخواستہ باقی نہ رہے تو اس کا نتیجہ جو ہو گا، وہ میں اپنی آنکھوں سے اسپین میں دیکھ آیا ہوں۔
- قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ ضروری علوم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور انہیں بحفاظت اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔
- مسجد و مکتب کے ادارے کو امام، خطیب، مدرس، حافظ، قاری، اور مفتی وغیرہ کی صورت میں رجالِ کار فراہم کر کے عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔
- اسلامی عقائد و روایات کے خلاف لادینیت کی یلغار کا مقابلہ کیا اور نہ صرف عقائد و احکام بلکہ تہذیبی اقدار و روایات کے معاشرتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
- بیرونی استعمار کے تسلط سے نجات اور آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف علمی و فکری راہنمائی مہیا کی بلکہ قائدین اور کارکنوں کی ایک وسیع کھیپ تسلسل کے ساتھ فراہم کی، جن کی قربانیوں کے نتیجے میں وطنِ عزیز آزاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔
- تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ اصلاح و ارشاد، دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا ہر سطح پر ایسا نظام دیا جس کی برکات سے پورا معاشرہ شب و روز مستفید ہو رہا ہے۔
- مسلمانوں میں اپنے اس تہذیبی امتیاز اور دینی تشخص کا شعور اجاگر کیا جو بالآخر دو قومی نظریہ اور مسلمانوں کے ایک الگ ملک کے قیام کی اساس ثابت ہوا۔
- عام مسلمانوں کی دینی راہنمائی اور ان کی احکامِ شریعت کے ساتھ وابستگی کو قائم رکھنے کے لیے فتویٰ و اجتہاد کے اس تسلسل کو برقرار رکھا جو وقت اور حالات کے تغیر کے ساتھ ساتھ احکامِ شریعت کی تطبیق و ترویج کا سلسلہ جاری رکھنے کا ذریعہ بنا۔
- ادب و خطابت، صحافت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر شعبوں میں نامور شخصیات پیدا کیں جنہوں نے دینی و قومی مسائل پر قوم کی جرأت مندانہ راہنمائی کی۔
- کسی قسم کی سرکاری امداد و معاونت سے بے نیاز رہ کر محدود وسائل بلکہ بے سروسامانی کے ماحول میں عالمِ اسلام کو ایک ایسا وسیع، منظم، مربوط اور متحرک نظامِ تعلیم دیا جس کی سادگی، اثر پذیری، قناعت پسندی اور پیہم سعی آج پوری دُنیا کے تعلیمی ماحول کے لیے قابلِ رشک ہے۔ وغیرہ ذالک۔3
دینی مدارس کے اساتذہ و طلبا کا عزم
دینی مدارس کی یہ محنت و کاوش گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے ریاستی سرپرستی اور تعاون کے ماحول میں نہیں، بلکہ حوصلہ شکنی، کردارکشی اور مخاصمت کی فضا میں جاری ہے۔ جو بیرونی استعمار کے دور میں تو قابلِ فہم تھی لیکن اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کے تہذیبی تشخص کی بقا کے عنوان سے وجود میں آنے والے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں بھی اشرافیہ اور مقتدر طبقات کا اسی روش پر قائم رہنا تعجب خیز بلکہ انتہائی افسوسناک ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بعد ہمارے مقتدر طبقات کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کے ریاستی تعلیمی نظام کو نوآبادیاتی ایجنڈے اور ماحول سے نجات دلا کر ایک آزاد، خودمختار اور باوقار اسلامی ملک کے طور پر قرآن و سنت کے علوم، عصری تعلیمی و فنی ضروریات اور مسلمانوں کی شاندار تہذیبی روایات و اقدار کی بنیاد پر ازسرِنو استوار کرتے۔ مگر ریاستی نظامِ تعلیم کو صحیح رخ پر لانے کی بجائے ریاستی اداروں کی توجہ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک دینی تعلیم دینے والے اداروں اور طبقات کی کردار کشی، حوصلہ شکنی اور ان کے کام میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے پر مرکوز ہے۔ جبکہ دینی مدارس کے خلاف وقفہ وقفہ سے کی جانے والی ریاستی کاروائیاں نشان دہی کر رہی ہیں کہ عالمی استعمار کی طرح ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی دینی مدارس کو کمزور کرنے اور انہیں اپنے تاریخی و معاشرتی کردار سے محروم کر دینے کی پالیسی پر گامزن ہے اور عالمی قوتیں، لابیاں اور میڈیا اس مشن میں ان کا پوری طرح معاون ہے۔
دینی مدارس کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں ہے، وہ تو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے اسی ماحول میں کام کرتے آ رہے ہیں۔ اور ان مخالفانہ کاروائیوں نے ان کا سفر روکنے کی بجائے ہمیشہ ان کے لیے مہمیز اور آگے بڑھنے کا کام دیا ہے، جو دینی مدارس کی وسیع تر کارکردگی کی موجودہ صورتحال سے واضح ہے۔ البتہ اس قسم کی کاروائیاں خود ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی اسلام اور نظریۂ پاکستان کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود دینی مدارس کے منتظمین، معاونین، اساتذہ اور طلباء اپنے اس عزم پر بحمد اللہ تعالیٰ قائم دکھائی دیتے ہیں کہ:
- مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے، انھیں قرآن و سنت کی ضروری تعلیم فراہم کرنے، اسلامی عقائد و روایات کے تحفظ، اسلام کے خلاف فکری و تہذیبی یلغار کے مقابلے، وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی جمہوری اسلامی ریاست بنانے، اور مسجد و مدرسہ کے معاشرتی کردار کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
- وہ وطنِ عزیز کی سالمیت و استحکام، قومی خودمختاری، ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور ملی و قومی مقاصد کے لیے پرامن قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس سے حسبِ سابق مکمل براءت کا اعلان کرتے ہیں، دینی مدارس پر بے بنیاد الزامات اور معاندانہ کاروائیوں کو مسترد کرتے ہیں، اور لادینی تہذیب، اباحیت مطلقہ اور مذہب بیزار فکر و ثقافت کا علمی و فکری تعاقب ہر سطح پر اور ہر دائرہ میں جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
- وہ حکومتِ پاکستان، ریاستی اداروں اور مقتدر طبقات کی موجودہ روش کو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے منافی سمجھتے ہوئے ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کریں اور حکومتی پالیسیوں کو اسلام، دستورِ پاکستان اور عوام کی خواہشات کے دائرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
- وہ ملک کے تمام مکاتبِ فکر اور دینی جماعتوں کی قیادتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مشترکہ دینی و قومی مقاصد کے لیے باہمی رابطوں اور اتحاد کو مستقل اور یقینی بنانے کی طرف آگے بڑھیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لبرل ملک بنانے کے اعلانات اور عزائم کو متحد ہو کر ناکام بنا دیں گے۔
- ملک کی سلامتی، امنِ عامہ کے قیام و استحکام، اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے کے لیے وطنِ عزیز کی مسلح افواج پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور ان مقاصد کے لیے ان اقدامات اور کاروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کی نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کی حفاظت بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ہم سب کو مل جل کر وطنِ عزیز اور پاکستانی قوم کے خلاف عالمی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
- وہ دینی مدارس کے اساتذہ، طلباء اور کارکنوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیمی و ثقافتی جدوجہد میں دستور و قانون اور امن و سلامتی کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کریں، امنِ عامہ کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں، اور شرپسند عناصر کو کسی طرح بھی اپنی صفوں میں گھسنے کا موقع نہ دیں۔
- وہ یہ اعلان بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس اور ان کے اساتذہ و طلبہ کی دینی جدوجہد کا دائرہ صرف اور صرف تعلیم و تدریس، اسلامی عقائد کا تحفظ اور مسلمانوں کی تہذیبی ثقافت و ماحول کی بقا و حفاظت ہے، جو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جاری رہے گی۔ ملک کی انتخابی و گروہی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کی تمام دینی اور اسلام پسند سیاسی جماعتیں ان کے لیے اس حوالہ سے یکساں ہیں اور وہ سب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دینی تعلیم کے فروغ اور اسلامی عقائد و ثقافت کے تحفظ کے لیے دینی مدارس کا ساتھ دیں گی۔4
- سارا زور دینی مدارس کے نصاب میں عصری تعلیم کو لازمی طور پر شامل کرنے پر دیا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی دائرے کے تعلیمی نظام و نصاب میں قرآنِ کریم، حدیث و سنت، فقہ و شریعت، تاریخِ اسلام اور عربی زبان کی تعلیم کے اہتمام کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے، جو ایک مسلم معاشرہ کی حیثیت سے ہم سب کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ دستور و قانون کا تقاضا بھی ہے۔
- پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے بیکن ہاؤس طرز کے تمام نیٹ ورک ’’لازمی یکساں نصابِ تعلیم‘‘ کے اس دائرے سے یکسر خارج ہیں اور اُن کی کوئی بات نہیں کر رہا۔
- محکمہ تعلیم کے تحت تمام دینی مدارس کی لازمی رجسٹریشن کے لیے جو پروسیجر، شرائط اور فارم وغیرہ سامنے آئے ہیں وہ رجسٹریشن کے نہیں بلکہ الحاق کے دائرے میں آتے ہیں۔ اور اکثر جگہ اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کا رویہ دینی مدارس کے ساتھ اس سلسلہ میں انتہائی توہین آمیز ہے۔5
- مغرب کے نزدیک مسلمانوں اور پاکستانیوں کے عالمی برادری اور سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عقیدہ و ثقافت اور خاندان و معاشرت کے حوالے سے وہ تمام مواد تعلیمی نصاب سے خارج کر دیا جائے جو اسلام کے جداگانہ تشخص اور مسلمانوں کے خاندانی و معاشرتی نظام کی دوسری قوموں سے امتیاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس بنا پر اگر تعلیمی نصاب کے بارے میں مغرب کا یہ موقف قبول کر لیا جائے — جبکہ تعلیمی نظام میں امریکی مداخلت کا مقصد بھی یہی ہے — تو پھر وہ چھوٹی چھوٹی اور جزوی باتیں غیر اہم ہو جاتی ہیں جن کے حوالے سے ہمارے دینی حلقے اس وقت احتجاج کر رہے ہیں، اور تعلیمی نظام کا اصل فکری ڈھانچہ اور ثقافتی فریم ورک ہی سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔ پھر بات صرف تعلیمی نصاب تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظریاتی تشخص اور اس کے الگ ملک کے طور پر قیام کی نظریاتی اساس اور تہذیبی پس منظر کا جواز بھی دھندلکوں کی نذر ہونے لگتا ہے، جسے ملک کا کوئی بھی محبِ وطن شہری ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتا۔6
آخری بات جو میں عرض کرنے لگا ہوں کہ مدرسہ کے ذمہ جو کام تھا وہ تو مدرسہ پورا کر رہا ہے کہ ایک تقسیم ہم پر مسلط کی گئی تھی اور ہم اس پر پکے ہو گئے۔ انگریز سے پہلے ہم دونوں علوم پڑھاتے تھے۔ یاد کریں اس وقت کو کہ جب ایک ہی نظامِ تعلیم تھا اور ہم اس زمانے میں سوسائٹی کی قیادت کیا کرتے تھے۔
دورِ حاضر میں مدارس کی ذمہ داری
آج بھی یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس معاملے میں قیادت کرنی چاہیے۔ تفصیلات کی طرف میں نہیں جاتا، بس یہ عرض کرتا ہوں کہ آج کی ضروریات کا ہمیں احساس کرنا چاہیے۔ ہم ماضی کو دیکھیں گے کہ ہمارے بزرگ قیادت کرتے تھے، یہ قیادت ہم سے چھین لی گئی تھی۔ اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے، اس ضرورت کو ہمیں سمجھنا چاہیے اور یہ ذمہ داری ہم کو سنبھالنی چاہیے۔ قوم غلط راہنمائی سے تنگ آ چکی ہے، اکتا چکی ہے۔ ایک مقولہ ہے:
و من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل (رد المحتار، باب الوتر والنوافل، ج 2، ص 47)
(جو شخص اپنے ہم عصر لوگوں کے حالات سے ناواقف ہو وہ جاہل ہے۔)
کیا ہم آج کے عالمی ماحول سے واقف ہیں؟ ہم سوسائٹی اور سماج سے واقف ہیں؟ اب سے کم و بیش ڈیڑھ سو سال قبل جب ہمارے معاشرے میں دینی مدارس کا یہ نظام آیا تھا، اس وقت ہمارے بزرگوں کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا ادارہ موجود رہے اور اسے امام، حافظ، قاری، مدرس، مفتی اور خطیب کے طور پر رجالِ کار کی فراہمی اور اس کے لیے تسلسل کو باقی رکھا جا سکے اور اس میں کوئی تعطل یا رکاوٹ نہ ہو۔ بحمد اللہ ہمارے دینی مدارس اپنے اس مقصد اور ہدف میں کامیاب ہیں اور آج بھی اس پورے خطے میں مسجد و مدرسہ کے ادارے کے لیے ضروری رجالِ کار یہ دینی مدارس فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ضروریات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی دینی راہنمائی کا تقاضا بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف یہ کہ وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
آج کی گلوبل دنیا اور مستقبل کا بین الاقوامی ماحول ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہم اپنے محدود اور مقامی و علاقائی ماحول کا اسیر رہنے کی بجائے عالمیت، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامیت کے تقاضوں اور ضروریات کو بھی سمجھیں، اور اس کے لیے اپنے تعلیمی نصاب اور تربیتی نظام میں جس ردوبدل اور تنوع کی ضرورت ہو اُس سے گریز نہ کریں، تاکہ دینی مدارس اپنے مستقبل کے کردار کو امتِ مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکیں۔ ہمارے اکابر نے ہر دور میں یہ عمل سرانجام دیا ہے اور آج بھی یہ عمل ہم سے پیشرفت کا متقاضی ہے۔7
جب تک ہم آج کے عالمی ماحول کو، آج کے علوم و فنون کو اور آج کے علمی تقاضوں کو نہیں سمجھیں گے اور اُن کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک ہم معاشرے کی صحیح راہنمائی نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور اس پر سوچنا چاہیے اور اس کا راستہ نکالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
حواشی و حوالہ جات
- دیکھیے مولانا گیلانی کی کتاب ’’مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت‘‘
- اس ترجمے سے پہلے آپ نے ’’عیسائیت کیا ہے؟‘‘ کے نام سے جو تحقیقی مقدمہ لکھا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے اور عصری تناظر میں تفہیمِ عیسائیت پر اہم مقالہ ہے۔
- مذکورہ بالا نکات روزنامہ اسلام 21 اکتوبر 2016ء میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے شائع شدہ کالم سے لیے گئے ہیں۔
- موضوع کی مناسبت اور جامع اختصار کے سبب یہ نکات مولانا کے روزنامہ اسلام لاہور 21 اکتوبر 2016ء کے کالم سے لیے گئے ہیں۔
- روزنامہ اسلام، 29 جنوری 2020ء
- روزنامہ پاکستان، لاہور، 11 اپریل 2004ء
- ماہنامہ الشریعہ، دسمبر 2006ء
امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی
قرآن کا پیغام تمام انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کا پیغام ہے، اس کی دعوت جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی دعوت ہے، اس کا پیش کردہ نظامِ حیات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے؛ کیونکہ یہ اسی فاطر السماوات والارض کا بنایا ہوا ہے جس نے زندگی اور اس سے متعلق تمام چیزوں کو اپنے لامحدود علم اور قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا ہے۔ یہ دعوت اور نظام ایسی عالمگیر ابدی صداقتوں پر مبنی ہے جو نہ صرف فطرت کے اصولوں اور قوانین کے عین مطابق ہے، بلکہ اس کے تقاضوں کا مثبت جواب بھی ہے؛ کیونکہ اللہ رب العالمین کے قول یعنی قرآن اور فعل یعنی زندگی میں کوئی تضاد نہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، قرآن کے پیغام یعنی تمام انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کا عملی نمونہ ہے۔ قرآنی دعوت جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول کی عملی جدوجہد کا نام ہے؛ اور اس کے پیش کردہ نظامِ حیات کو زندگی کے تمام شعبوں میں عملی طور پر نافذ کرنے کی کامیاب کوشش سے عبارت ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر قیامت کی صبح تک آنے والی تمام انسانیت — بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب و ملت — آپؐ کی امت ہے، یعنی امتِ محمدیہؐ ہے، جس کے لیے آپؐ رحمت کا پیغامبر بن کر تشریف لائے۔ اور آپؐ کا مقصدِ دعوت تعلیم اور تربیت کے ذریعے ایسی امتِ مسلمہ کو تشکیل دینا تھا جو قرآنی نظام کے نفاذ کی کوشش، مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی جدوجہد کرتی رہے۔ چنانچہ دعوت، تعلیم اور تربیت کے میدان میں آپؐ کی کامیاب جدوجہد سے جماعتِ صحابہ کرامؓ کی شکل میں ایک امتِ مسلمہ، یعنی امتِ اجابت وجود میں آئی؛ جس نے نہ صرف قرآنی نظام کے نفاذ کو اپنی کوشش سے یقینی بنایا، بلکہ مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی کامیاب جدوجہد بھی کی؛ اور باقی تمام انسانیت کے لیے — جسے امتِ دعوت کہا جاتا ہے — خیر اور بھلائی کی علامت بن گئے۔ گویا امتِ محمدیہ دو حصوں پر مشتمل ہے:
- ایک حصہ وہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تسلیم کیا، قرآنی نظام کو نافذ کیا، مقاصدِ شریعت کی تکمیل کی اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ یہ حصہ امتِ مسلمہ کہلاتا ہے، جسے امتِ اجابت بھی کہا جاتا ہے۔
- دوسرا حصہ وہ ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تسلیم نہیں کیا، خود ساختہ نظام اپنایا، ذاتی مفادات اور مقاصد کی تکمیل میں مصروف رہا۔ اس حصے کو امتِ دعوت کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآنی نظام کے نفاذ، مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے حوالے سے آج امتِ مسلمہ کہاں کھڑی ہے؟ کیا اس کی تعمیر و تشکیل اور قیام کا مقصد صرف یہی نہیں تھا کہ وہ قرآنی نظام کو نافذ کرے، مقاصدِ شریعت کی تکمیل کرے، اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے حوالے سے اپنے فرائض ادا کرے؟ اگر امتِ مسلمہ کو امتِ دعوت کی طرح خود ساختہ نظاموں پر ہی چلنا تھا، اس کے افراد کو ذاتی مفادات اور مقاصد کی تکمیل ہی میں مصروف رہنا تھا، تو اسے امتِ مسلمہ کہلانے کا حق کیونکر حاصل ہے؟ ان سوالوں کے جواب کا قرض تمام امت کے سر ہے، خصوصاً ان لوگوں کے ذمے ہے جو لیڈری کے زعم میں مبتلا ہیں اور اس شوق میں زار و نزار ہو رہے ہیں۔
امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبویؐ منہج
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل اور قیام کے حوالے سے آپؐ کی سنت، طریقہ اور منہج کیا تھا؟ تاکہ اس باب میں آپؐ کی سنت اور آپؐ کے منہج و میتھڈ (Method) کو اپنا کر نئے سرے سے امت کی تعمیر و تشکیل کی جائے؛ اور وہ دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کے قابل ہو سکے جنہیں تخریب اور انتشار کا شکار ہو کر بھلا چکی ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امت کی اس تخریب اور انتشار کی نوعیت کیا ہے اور اس کے اسباب کیا ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کی داخلی و ذہنی تشکیل بھی فرمائی تھی اور خارجی و بیرونی تنظیم بھی۔ یعنی انہیں ذہنی طور پر بھی نظامِ شریعت کے نفاذ، مقاصدِ شریعت کی تکمیل، اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے تیار کیا، اور عملاً بھی۔ اور جب یہ امت تخریب اور انتشار کا شکار ہوئی تو دونوں طرح سے ہوئی؛ داخلی و ذہنی طور پر بھی اور خارجی و عملی طور پر بھی۔ بلا شبہ امتِ مسلمہ کا خارجی انتشار یعنی سیاسی، معاشی اور معاشرتی افتراق اور انارکی، اس کو درپیش مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ ہے؛ لیکن درحقیقت بڑا اور اہم مسئلہ جو اسے درپیش ہے وہ اس کا فکری انتشار، شعوری افتراق، علمی انارکی اور عقلی بے راہ روی ہے۔ امتِ مسلمہ کا یہی وہ داخلی اضطراب اور اضمحلال ہے جو اس کے ہر عملی شعبے کو گھن کی طرح چاٹتا چلا جا رہا ہے۔ دراصل اس کا خارجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی انتشار اور افتراق اسی زبردست فکری بے راہ روی کا چربہ اور شاخسانہ ہے؛ کیونکہ کمزوری پہلے اندر آتی ہے، اس کا بیرونی اظہار بعد میں ہوتا ہے۔ یہی وہ داخلی بے راہ روی ہے جس کا خاتمہ اسلام کا سب سے بڑا اعجاز اور عظیم الشان کارنامہ تھا۔ ایسا اعجاز اور کارنامہ جسے بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
والف بین قلوبہم لو انفقت ما فی الارض جمیعا مآ الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم انہ عزیز حکیم۔ (الانفال ۶۳)
’’اور اللہ پاک نے (اپنے احکامِ تعلیم اور قوانینِ تربیت کے ذریعے) صحابہ کرامؓ کے قلوب میں الفتِ ایمانی رکھ دی۔ اے پیغمبرؐ! اگر آپ پوری دنیا بھی خرچ کر ڈالتے تب بھی ایمان کا یہ رشتۂ الفت ان میں پیدا نہ کر سکتے جو اللہ پاک نے ان کے دلوں میں پیدا فرما دیا۔ بے شک وہ زبردست حکمت و دانائی رکھتا ہے۔‘‘
مگر وہ وحدتِ فکری، شعورِ اجتماعی، اعتصام بحبل اللہ، جمعیتِ قلوب و اذہان، یک جائی و یک رنگی، امت پن اور یگانگت، جسے ساری دنیا تج کر بھی پایا نہیں جا سکتا، جو ہمارا سب سے قیمتی ورثہ تھا، افسوس صد افسوس! اسے ہم نے دنیا کے حقیر ٹکڑوں کے عوض بیچ ڈالا، ایسے ٹکڑے جن پر ہمارا اختیار بھی نہیں۔
اولٓئک الذین اشتروا الضلالۃ بالہدیٰ فما ربحت تجارتہم وما کانوا مہتدین۔ (البقرہ ۱۶)
’’یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے گمراہی (کے ساز و سامان) کے عوض ہدایت و راست بازی کو بیچ ڈالا، مگر نہ ان کی یہ تجارت نفع رساں ہوئی، نہ وہ سیدھے راستے پر باقی رہے۔‘‘
؏ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
امتِ مسلمہ کے فکری انتشار کے مظاہر
امتِ مسلمہ آج جس علمی، فکری اور شعوری بحران کا شکار ہے، اس کے مظاہر انتہائی پیچیدہ اور گنجلک ہیں؛ اور جیسے جیسے اس بحران میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس کے مظاہر بھی پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کیونکہ جب کسی عمارت کی تعمیر کی جا رہی ہوتی ہے تب تو اس میں استعمال ہونے والی ہر چیز کو ناپ تول کر، شمار کر کے پورے توازن اور ترتیب کے ساتھ چنا جاتا ہے؛ لیکن جب کوئی عمارت گر رہی ہوتی ہے تو اس کی کوئی ترتیب ہوتی ہے نہ توازن، اور نہ اس میں کوئی شمار ہوتا ہے نہ ناپ تول؛ وہاں فقط بے ترتیب ملبہ ہوتا ہے جس کے ڈھیر جا بجا بکھر جاتے ہیں؛ اور جسے جو اچھا لگتا ہے اٹھا لے جاتا ہے، اس پر اپنے حق جتلاتا ہے، اسے اپنے کسی مفاد میں لگاتا ہے۔ یوں عمارت کا شیرازہ بکھرتا چلا جاتا ہے اور اس کے اجزا کو جوڑ کر دوبارہ تعمیر کرنا پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر یہ معاملہ اس وقت اور بھی گنجلک ہو جاتا ہے جب یہ عمارت اور اس کے اندر استعمال ہونے والا کنکریٹ نایاب ہو۔
کچھ یہی حال امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کی عمارت کے تصور کا ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے مسلسل اس سے صَرفِ نظر کیے رکھا اور ان کے تخیل کی یہ عمارت بہت سے معلوم اور نامعلوم اسباب کی بناء پر گرتے گرتے ملبے میں تبدیل ہونے لگی؛ اور جہاں جہاں خلا پیدا ہوتا گیا، اس میں نئے نئے تصورات — جو نہ صرف مقامی تھے بلکہ غیر پائیدار بھی — اپنی جگہ بنانے لگے۔ امت کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کے تصور کی عمارت کا شیرازہ بکھرا تو اس کے نایاب اجزاء کو لوگوں نے اپنے تصورات کے خود ساختہ گھروندوں میں سجا لیا، جس کی نہ کوئی پختہ بنیاد ہے اور نہ بقا کی گارنٹی و ضمانت۔
اب صورتحال یہ ہے کہ امت کے اجتماعی ذہن میں نظامِ شریعت کی عمارت کا تصور بکھر چکا ہے۔ اور جن چیزوں کو ناپ تول کر مکمل ترتیب اور پورے توازن کے ساتھ ان کی صحیح اور اصل جگہوں پر چن کر معمارِ امتؐ نے یہ عمارت تعمیر فرمائی تھی، انہیں مختلف فرقوں اور گروہوں نے ’جو ہاتھ لگا اٹھا لیا‘ کے مصداق آپس میں بانٹ لیا؛ اور ان بانٹے ہوئے پر اپنا اپنا حق جتلانے لگے اور ملکیت کے دعویدار بن بیٹھے۔ کسی کو اپنے حصے میں دوسرے کی شراکت ہرگز گوارا ہے، نہ اس کے بارے میں کسی اور کی بات سننا پسند ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ایک، دوسرے کے پاس جو کچھ ہے، اسے گمراہی قرار دے رہا ہے، یا کم از کم اسے اپنے ہاں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ حالانکہ یہ تمام اجزاء ایک ہی نظام کے مختلف حصے اور ایک ہی عمارت کے مختلف ٹکڑے تھے۔
ایسے اجزاء کہ جن پر تمام مسلمانوں کا یکساں حق ہے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں، کسی گروہ یا کسی فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس نظامِ شریعت کو یا اس کے کسی حصے کو صرف اپنے لیے مخصوص کر لے؛ اور نہ ہی اس بات کا کوئی شرعی جواز ہے کہ نظامِ شریعت کے کسی بھی جزو کو کوئی بھی گروہ یا فرد اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرے؛ یا اس کی بنیاد پر کوئی نئی تصوراتی عمارت بنا لے جس سے نظامِ شریعت کے اجزاء میں دائمی تفریق پیدا ہو جائے۔ بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ امت کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کے تصور کی شیرازہ بندی کا اعادہ کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے، مگر اس اعلیٰ ظرفی کو پیدا کرنے کے لیے امت کے فکری انتشار کے اسباب کا پتا لگانا ضروری ہے۔
(جاری)
محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
۲- فقہِ اسلامی کے امتیازی خصائص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔
آج کی گفتگو کا عنوان ہے ’’فقہِ اسلامی کے امتیازی خصائص‘‘۔ فقہِ اسلامی ایک ایسا نظامِ قانون ہے جس کی اساس اور جڑیں شریعتِ الٰہی میں ہیں؛ جس کے ثمرات اور برکات سے انسانی زندگی کا ہر پہلو مستفید اور متمتع ہوتا ہے؛ جس نے کم و بیش بارہ سو سال تک دنیا کے انتہائی متمدن اور مہذب علاقوں کو قانونی، انتظامی اور ادارتی رہنمائی فراہم کی؛ جس نے نہ صرف ماضی میں اربوں انسانوں کی زندگیوں کو منظم کیا، بلکہ آج بھی وہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں ایک ارب بیس کروڑ انسانوں کو رہنمائی اور تنظیم فراہم کر رہا ہے۔ یہ نظامِ قانون — جس میں ایک لمحے کے لیے بھی خلا پیدا نہیں ہوا — اپنے روزِ آغاز سے آج تک کئی اعتبار سے نافذ العمل ہے۔
اگرچہ ایک مسلمان اس بات کو دکھ کے ساتھ نوٹ کرتا ہے کہ اسلامی شریعت یا اسلامی فقہ کے بعض میدان اور پہلو ایسے ہیں جن پر آج مسلمان عملدرآمد نہیں کر رہے، لیکن ہمیں امید ہے اور بطور ایک مسلمان کے اس بات کا یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن ہماری زندگی کے تمام پہلو اور زندگی کے تمام گوشے اسلامی شریعت کی رہنمائی سے مستنیر ہوں گے اور اسلامی فقہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی تنظیمِ نو کی جائے گی۔ اس کے باوجود ہماری زندگی کے بہت سے پہلو اب بھی ایسے ہیں جو شریعت کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں، جن کی تنظیمِ نو اسلامی فقہ کے اصولوں کی روشنی میں ہو رہی ہے، اور مسلمان اپنے بہت سے روزمرہ کے معاملات فقہِ اسلامی کے ان احکام کی روشنی میں انجام دے رہے ہیں۔ عبادات فقہِ اسلامی کا ایک اہم شعبہ ہے، عبادات کے تمام معاملات اور عبادات سے متعلق تمام سرگرمیاں فقہِ اسلامی کے احکام کے مطابق انجام پا رہی ہیں۔ شخصی قوانین (نکاح، طلاق، وراثت، وصیت)، افرادِ خاندان کے درمیان تعلقات اور روابط، ماں باپ اور اولاد کے درمیان روابط، رشتہ داروں کے درمیان روابط — یہ سارے معاملات آج بھی بہت حد تک اسلامی شریعت کے احکام کے مطابق انجام پا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے انفرادی معاملات، خرید و فروخت، تجارت، لین دین، میل جول، دو جنسوں کے درمیان مراسم اور روابط، لباس، خوراک اور حلال اور حرام کے بہت سے احکام پر مسلمان آج بھی عمل پیرا ہے۔
اس لیے مسلمانوں کے لیے فقہِ اسلامی کا مطالعہ کسی مردہ قانون کا مطالعہ نہیں ہے۔ یہ کسی ماضی کے ورثے کا مطالعہ نہیں ہے۔ یہ کسی تاریخ کے ایسے شعبے کا مطالعہ نہیں ہے جس کا تعلق ماضی سے ہو، جو محض قوموں کی یادداشت کو بیدار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہو، جو لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیا جاتا ہو، جس کی وجہ سے ماضی سے مسلمانوں کا رشتہ جڑتا ہو؛ محض یہ بات نہیں ہے۔ فقہِ اسلامی کا مطالعہ ایک زندہ، ایک Vibrant قانون کے طور پر مسلمان کرتے ہیں؛ اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے آج بھی زندگی کے بہت سے حصوں میں یہ ایک زندہ، نافذ العمل اور زندگی کی رو سے بھرپور اور متحرک قانون ہے۔
پہلے دن کی گفتگو میں، میں نے بعض قدیم قوانین کا ذکر کیا تھا۔ حمورابی کا قانون دنیا کا قدیم ترین قانون بتایا جاتا ہے۔ رومن لاء جس پر اہلِ مغرب کو بڑا فخر ہے، یہودی لاء، ہندوؤں کا منو شاستر — یہ سب قوانین اکثر و بیشتر مردہ قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض قوانین آج زندگی کھو چکے ہیں؛ آج ان کا تذکرہ قدیم کتابوں میں، علمِ آثار Archaeology میں ملتا ہے۔ کوئی دو انسان ایسے نہیں ملیں گے جو آج حمورابی کے قانون کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہوں۔ دنیا کا کوئی ایک گاؤں بھی ایسا نہیں ہے جہاں آج معاملات اس رومن لاء کے مطابق طے ہو رہے ہوں جو رومن لاء جسٹینین نے تیار کروایا تھا۔ یہی حال بڑی حد تک دوسرے قوانین کا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی قانون ایک زندہ قانون کے طور پر موجود ہے۔ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے بڑے حصے اس قانون سے منظم و مرتب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس قانون میں اور دنیا کے بہت سے قوانین میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ اگر آپ انگریزی، فرانسیسی یا دنیا کے دوسرے متمدن قوانین — جن کو ان کے ماننے والے متمدن سمجھتے اور کہتے ہیں — ان کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اس قانون میں ایک چیز قدرِ مشترک ہے جو دنیا کے ہر قانون میں پائی جاتی ہے۔ یہ قدرِ مشترک وہ ہے جس سے قانون کا قانون ہونا پتا چلتا ہے، جس سے قانون کی ماہیت کا پتا چلتا ہے، جس سے قانون کی حقیقت کا تعین ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قانون اور اخلاق میں امتیاز واقع ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قانون اور غیر قانون میں تمیز ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ان کے ہاں قانون کی تعریف میں شامل ہے، یعنی: قانون وہ ہے جو کسی بالا دست حکمران یا بااختیار فرمانروا نے اپنے ماتحتوں کو دیا ہو اور ملکی عدالتیں اس کو تسلیم کرتی ہوں۔ اس کو مغرب کی دنیا میں قانون کہتے ہیں۔
ایک مشہور مغربی قانون دان گزرا ہے، جان آسٹن؛ اس نے قانون کی تعریف کی ہے کہ Law is the command of the sovereign یعنی سوورین یا حاکمِ اعلیٰ کا حکم ہی قانون ہے۔ ایک اور ماضیِ قریب کا مشہور انگریز قانون دان گزرا ہے کیلسن، جس نے قانون کا ایک پازیٹو تصور پیش کیا کہ قانون وہ ہے جسے فی الوقت اور بالفعل کسی علاقے کے حکمران اور عدالتیں قانون کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔ یہ قانون کی تعریف تقریباً دنیا کے ہر نظام میں پائی جاتی ہے۔ جو چیز اس تعریف پر پوری نہیں اترتی، وہ قانون نہیں ہے اور جو چیز اس تعریف پر پوری اترتی ہے، وہ قانون ہے۔
اس روشنی میں اگر آپ قوانین کا جائزہ لیں اور کسی قانون کی لائبریری میں جا کر دیکھیں، تو آپ کو تین طرح کی کتابیں نظر آئیں گی:
- یا تو وہ کتابیں ہیں جن کو Statutory Law کہا جاتا ہے، جو کسی پارلیمنٹ یا کسی قانون ساز ادارے نے قوانین بنائے ہیں، یا کسی حاکمِ اعلیٰ نے بطور آرڈیننس یا بطورِ فرمان کے اس کو جاری کیا ہے۔ بہت سے قوانین اس نوعیت کے ہیں۔
- یا وہ اس نوعیت کی کتابیں ہیں کہ ان میں سے کسی ایک قانون کی شرح ہے۔ آپ لاء کی لائبریری میں جا کر دیکھیں تو مثلاً ایک انڈین پینل کوڈ رکھا ہوا ہے، اور اس کی آٹھ یا دس جلدوں میں شرح رکھی ہوئی ہے۔ ایک لیمیٹیشنز ایکٹ رکھا ہے اور ایک لیمیٹیشنز ایکٹ کی شرح ہے۔ ایک مثال کے طور پر سول پروسیجر یا کریمنل پروسیجر کوڈ ہے اور ایک اس کی شرح ہے۔ یہ دو قسم کی کتابیں آپ کو قانون کی لائبریری میں ملیں گی۔
- تیسری قسم کی کتابیں آپ کو قانون کی لائبریری میں وہ ملیں گی کہ کسی ماضی کے سابقہ قانون یا کسی مردہ قانونی روایت کو کسی نے آج سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہو۔ جیسے رومن لاء پر کتابیں ملیں گی، ہندو لاء پر ہندو مصنفین نے بہت سی کتابیں لکھ دی ہیں، یہودیوں نے جیوش لاء پر کتابیں لکھی ہیں۔ یہ ایک ماضی کے ورثے کا مطالعہ ہے۔ ماضی کے ایک ذخیرے کو آج کے انداز میں انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور دوسروں کو بتانے کی کوشش کی ہے۔
فقہِ اسلامی کی کتابیں ان میں سے کسی کیٹیگری میں نہیں آتیں۔ نہ وہ کسی بادشاہ یا فرمانروا کا دیا ہوا چارٹر یا آرڈیننس ہے۔ فقہ کی کوئی کتاب، کسی بھی مسلک یا کسی بھی فقہی مذہب کی ہو، وہ کسی حکمران یا فرمانروا کی عطا کردہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ خلفائے راشدین کی عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ خلفائے راشدین، جن سے بہتر فرمانروا اور جن سے زیادہ عادل اور خدا ترس حکمران دنیا نے نہیں دیکھا، یہ ان کا عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ یہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا بھی نہیں ہے۔ فقہ کی کوئی کتاب یا فقہ کا کوئی حکم، جس پر آج مسلمان عمل کرتے ہیں، وہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا نہیں ہے۔
- جب مسلمان نماز پڑھتے ہیں، کچھ لوگ ہاتھ اٹھا کے رکوع میں جاتے ہیں، کچھ ہاتھ اٹھائے بغیر جاتے ہیں، کچھ لوگ آمین زور سے کہتے ہیں، کچھ آمین آہستہ سے کہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ آمین آہستہ سے کہتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کہتے کہ کسی پارلیمنٹ نے ریزولوشن پاس کیا تھا کہ مسلمان آہستہ سے آمین کہا کریں؛ اور جو زور سے کہتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کہتے کہ کسی فرمانروا نے آرڈیننس جاری کیا تھا کہ آمین زور سے کہا کریں۔ اس لیے مسلمانوں کا قانون نہ کسی فرمانروا کا دیا ہوا ہے، نہ کسی قانون ساز ادارے کا دیا ہوا ہے۔ کوئی ایک کتاب بھی آپ کو فقہ کے ادب میں ایسی نہیں ملے گی — ابتدائی بارہ سو سال تک — جو کسی حکمران یا کسی سرکاری ادارے نے دی ہو۔
- جب سرے سے قانون دیا ہی نہیں تو ایسے قانون کی شرح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا، جو دوسری کیٹیگری میں نے بتائی تھی کہ قانون کی شرحیں اور کمنڑیریز ہوتی ہیں، اسلامی قانون کسی سرکاری قانون کی شرح بھی نہیں ہے۔
- اسی طرح اسلامی قانون کسی مردہ قانون کا مطالعہ بھی نہیں ہے۔ جس زمانے میں جن لوگوں نے اسے لکھا، انہوں نے اس کو زندہ قانون کے طور پر لکھا۔ اور جب لکھا، وہ اسی وقت، اسی لمحے، بلکہ اس سے پہلے ہی سے وہ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گیا۔ جس شخص نے جو بھی کتاب لکھی — امام مالکؒ نے جب ’’مؤطا‘‘ لکھی تو اس میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ پہلے سے لوگوں کی زندگیوں میں جاری و ساری تھے، اور اگر نہیں تھے تو امام مالکؒ کے ’’مؤطا‘‘ لکھنے کے بعد جاری و ساری ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی مردہ قانون نہیں تھا۔ یہ تو تھا کہ مسلمانوں نے اپنی کمزوری کی وجہ سے کسی ایک پہلو پر عمل چھوڑ دیا یا دوسرے پہلو پر عمل چھوڑ دیا، مسلمان اس کمزوری کا اعتراف بھی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں، لیکن وہ مردہ قانون کبھی نہیں رہا۔
یہ خصوصیت ایسی ہے جو ہر شخص کو نظر آ سکتی ہے اور ہر شخص اس کا اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ وہ خصوصیت ہے جو دنیا کے تمام قوانین سے اسلامی قانون کو یا فقہ کو ممیز کرتی ہے۔ یہ خصوصیت آزادی اور حریت کی خصوصیت ہے۔ اسلامی قانون دنیا کا واحد قانون ہے جو حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے اثرات اور رسوخ سے آزاد رہا ہے۔ اس کی تمام تر ترقی اور پیشرفت، اس کی ساری توسیع، اور اس میں ساری گہرائی اور گیرائی جو پیدا ہوئی ہے، وہ سب کی سب غیر سرکاری کاوشوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی بھی (سرکاری) قانون ساز ادارے کا وجود نہیں رہا، ایسا قانون ساز ادارہ جیسے آج دنیا کے بہت سے نظاموں میں پائے جاتے ہیں۔ آج برطانیہ میں ایک پارلیمنٹ ہے جو برطانوی لوگوں کے لیے قانون بناتی ہے، اچھا یا برا، لوگ اس کو مانتے ہیں۔ امریکہ میں کانگریس ہے جو امریکی قوم کے لیے قانون بناتی ہے۔ ایسی کوئی کانگریس یا ایسی کوئی پارلیمنٹ کسی اسلامی دور میں نظر نہیں آتی۔
مسلمانوں میں پھر قانون سازی پرائیویٹ طور پر کیسے ہوئی؟ یہ بڑی دلچسپ اور اہم بات ہے، اور یہ ہر مسلمان صاحبِ علم کے ذہن میں رہنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد بنایا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے حکم دیا تھا اور اس حکم نامے میں یہ جملہ تحریر فرمایا تھا: ’’متیٰ استعبدتم الناس وقد ولدتہم امہاتہم احرارا‘‘ ’’تم نے لوگوں کو غلام کب سے بنا لیا ہے، جبکہ ان کی ماؤں نے تو ان کو آزاد جنا تھا؟‘‘ لہٰذا ہر انسان اگر آزاد ہے اور ہر انسان صاحبِ کرامت ہے ’’ولقد کرمنا بنی آدم‘‘ (الاسراء ۷۰) اگر ہر انسان ایک دوسرے کے برابر ہے ’’الناس سواسیۃ کاسنان المشط‘‘ جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں، اس طرح ہر انسان اگر برابر ہے، تو پھر اس برابری کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہو، سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر قانون ایک اور یکساں نہیں ہے تو برابری نہیں ہو سکتی، اور اگر برابری نہیں ہو سکتی تو کرامتِ آدمؑ نہیں ہو سکتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اور مسٹر اے ایک دوسرے کے برابر نہ ہوں لیکن کرامت ہم دونوں کو حاصل ہو۔ جو مجھ سے اونچا ہے اس کو کرامت زیادہ حاصل ہوگی، میں نیچا ہوں تو مجھے کرامت کم حاصل ہوگی؟ انسانی عزت اور کرامت یا Dignity اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب قانون کی نظر میں سارے انسان برابر ہوں۔ اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں کرے گا، یہ ایک واضح بات ہے۔
قانون کی نظر میں برابری تب ہو سکتی ہے جب سارے انسان ایک ہی قانون کے پابند ہوں۔ اگر سارے انسان ایک قانون کے پابند نہیں ہیں، تو پھر قانون کی نظر میں برابری نہیں ہو سکتی۔ اور سب انسان ایک قانون کے پابند اسی وقت ہو سکتے ہیں جب قانون کا ماخذ ماورائے انسانی ذریعہ ہو۔ اگر کچھ انسان دوسرے انسانوں کے لیے قانون بناتے ہیں تو قانون بنانے والے برتر ہوں گے اور قانون کو قبول کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے زیرِ دست ہوں گے۔ جو قانون بنائے گا، وہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گا، وہ اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے بنائے گا۔ یہ بات میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ لہٰذا اسلام نے، اسلام کی شریعت نے ایک ایسا خودکار نظام وضع کر دیا کہ جس میں قانون اور نظام، دستور اور آئین، اور ان کے بنیادی تصورات اور احکام انسانوں کے فیصلے سے ماورا ہیں۔ قانون کے بنیادی اصول، قانون کے بنیادی احکام اور تصورات، وہ سب کے سب قرآنِ پاک میں موجود ہیں۔
آج علمِ اصولِ قانون کا ایک شعبہ ہے جو ابھی پچھلے تیس چالیس سال سے سامنے آیا ہے، اس کو کہتے ہیں میٹا جورِس پروڈنس۔ میٹا جورس پروڈنس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اصولِ قانون کی میٹافزکس ہے؛ کہ اصولِ قانون سے ماورا جو اعلیٰ اخلاقی اور فکری تصورات ہیں، جن پر اصولِ قانون کا دارومدار ہے، وہ کیا ہیں؟ پھر ان اصولِ قانون پر قانون کا دارومدار ہے۔ گویا میٹا جورِس پروڈنس پر مغربی دنیا اب پچھلے تیس چالیس سال سے آئی ہے، اس سے پہلے میٹا جورِس پروڈنس کا تصور مغربی دنیا میں نہیں تھا۔ اس کے برعکس، میٹا جورِس پروڈنس کے تصورات سارے کے سارے قرآنِ پاک میں موجود ہیں۔ قرآنِ پاک نے ان تمام بنیادی سوالات کا جواب دے دیا ہے جن پر جورِس پروڈنس کی اساس ہوتی ہے۔ اور جورِس پروڈنس کی بنیاد پر — جیسا کہ کل تفصیل سے میں عرض کر چکا ہوں — فقہِ اسلامی کے جزئیات اور فروعی احکام نکلے ہیں۔ ان کا ماخذ وہ بنیادی قوانین ہیں جن سے کام لے کر قرآن و سنت سے احکام معلوم کیے جا سکے ہیں۔ لہٰذا قرآنِ مجید نے بنیادی سوالات تو طے کر دیے، اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بنیادی سوالات میں، جہاں جہاں انسان کی عقل کے بھٹکنے کا امکان تھا، غلطی فہمی کا امکان تھا، ان کا جواب بھی دے دیا۔
اب مزید تفصیلات طے کرنے کا یا مزید جزئی مسائل کے جواب دینے کا فریضہ بھی کسی بادشاہ یا حکمران کے سپرد نہیں کیا گیا؛ نہ یہ کام کسی فرمانروا نے کیا، نہ بادشاہ نے، نہ خلیفہ نے، نہ حکمران نے اور نہ پارلیمنٹ نے۔ اس میں سرکار اور دربار کا کبھی کوئی دخل نہیں رہا۔ یہ کام امت کے اور امت کے اہلِ علم کے کرنے کا ہے ’’فسألوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ (النحل ۴۳)۔ امت کا کام یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارے، قرآن و سنت کے احکام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ اور اگر کسی شخص، گروہ یا جماعت کو کسی معاملے میں تامل ہو کہ اس میں شریعت کا حکم کیا ہے، شریعت کی فہم کیا کہتی ہے، تو وہ اہلِ علم سے جا کر معلوم کرے؛ اور جو اہلِ علم ایسے ہوں جن کے علم اور دین دونوں پر اعتماد ہو، علم اور تقویٰ پر اعتماد ہو، ان کی بات مان لی جائے۔
چنانچہ اسی نظام کے تحت فقہائے اسلام نے اور علمائے اسلام نے اس ذمہ داری کو انجام دینا شروع کیا۔ مسلمانوں میں جن جن حضرات کے فقہی آرا کی پیروی ماضی میں کی گئی یا آج کی جا رہی ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی سرکاری منصب کا حامل نہیں تھا۔ امام مالکؒ نے ’’مؤطا‘‘ لکھی۔ امام مالکؒ نے بہت سے فقہی اور قانونی مسائل کے جوابات دیے۔ امام مالکؒ کے جوابات اور ان کی رولنگز پر دنیائے اسلام کے بہت بڑے حصے میں ان کے زمانے سے عمل ہو رہا ہے۔ امام مالکؒ سے محبت اور عقیدت کی کیفیت یہ تھی کہ لوگ چھ چھ مہینے کی مسافت طے کر کے ان سے مسائل معلوم کرنے آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص چھ مہینے کی مسافت طے کر کے اسپین (اندلس) سے پہلے مراکش پہنچا، ظاہر ہے کشتی میں مراکش گیا ہو گا۔ مراکش سے اونٹ پر سوار ہو کر تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر، صحرائے سینا؛ صحرائے سینا سے پھر جزیرۂ عرب کا آدھا حصہ، یہ سب کراس کرتے ہوئے مدینہ پہنچا اور کہا کہ مجھے اہلِ اندلس نے آپ سے اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ اہلِ اندلس کی امام مالکؒ سے عقیدت کی کیا کیفیت ہو گی! اور امام مالکؒ کے فتاویٰ، ارشادات اور اجتہادات پر کتنی شدت سے اہلِ اندلس اور اہلِ مغرب عمل کرتے ہوں گے! کیا امام مالکؒ کسی علاقے کے فرمانروا تھے؟ کیا امام مالکؒ کو کسی حکمران یا خلیفہ نے مقرر کیا تھا کہ آپ قوانین بنائیں؟ کیا امام مالکؒ کسی پارلیمنٹ کے رکن تھے؟ کیا امام مالکؒ کسی کانگریس کے ممبر تھے؟ ان میں سے کوئی چیز نہیں تھی۔ امام مالکؒ ایک پرائیویٹ شہری تھے، ایک بالکل غیر سرکاری حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا جو درجہ اللہ نے دیا، وہ علم و فضل اور تقویٰ کی وجہ سے تھا۔ علم اور تقویٰ کے علاوہ کوئی دنیوی منصب، عہدہ یا اختیار ان کو حاصل نہیں تھا۔ لیکن ان کے زمانۂ مبارک میں چھ چھ مہینے کا لوگ سفر کر کے آیا کرتے تھے اور ان سے مسائل پوچھ کر اس پر عمل کیا کرتے تھے؛ عدالتیں بھی عمل کرتی تھیں، افراد بھی کرتے تھے اور حکمران بھی کرتے تھے۔
امام اوزاعیؒ، امامِ اہلِ شام کہلاتے ہیں، بیروت میں رہتے تھے؛ اور ایک زمانے میں پورا شام —جس میں موجودہ زمانے کا فلسطین، لبنان، اردن، شام اور سعودی عرب کا کچھ حصہ بھی شامل تھا — یہ پورا علاقہ امام اوزاعیؒ کے اجتہادات کی پیروی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ حکمرانوں کو بھی جب ضرورت پڑتی تھی، وہ امام اوزاعیؒ سے فتویٰ معلوم کر کے اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہارون الرشید کو کسی ایسے معاملے میں، جو بین الاقوامی قانون سے متعلق تھا، جس میں ایک غیر قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا تھا، انٹرنیشنل ٹرانزیکشن قسم کی چیز تھی، اس نے امام اوزاعیؒ کو بھیجا، امام اوزاعیؒ نے جو رائے دی، اس کے مطابق ہارون نے عمل کیا۔ کیا امام اوزاعیؒ وزیر خارجہ تھے؟ کیا امام اوزاعیؒ وزیر قانون تھے؟ کیا امام اوزاعیؒ چیف جسٹس تھے؟ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے۔ امام اوزاعیؒ ایک شہری تھے، جیسے بہت سے شہری ہوتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کی آج دنیا میں بڑی تعداد میں مسلمان پیروی کر رہے ہیں۔ مسلمانوں میں اکثریت امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کے پیروکاروں کی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں تھا۔ امام جعفر صادقؒ، امام زید بن علیؒ، یہ سب حضرات پرائیویٹ شہری تھے۔
طریقہ کار یہ تھا کہ جب کسی شخص کو کوئی مسئلہ پیش آئے، وہ ان میں سے جس فقیہ یا جس مجتہد کے علم اور تقویٰ پر بھروسہ رکھتا ہو، اس کے پاس جائے، اس سے جا کر معلوم کر لے؛ اور جو اجتہاد یا جو فتویٰ وہ بتائیں، اس فتوے کے مطابق لوگ عمل کیا کرتے تھے۔ آج بھی یہی ہوتا ہے، آپ بھی یہی کرتے ہیں، میں بھی یہی کرتا ہوں۔ جب آپ کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے جس میں کسی فقہی رہنمائی یا شریعت کی کسی تعبیر کی ضرورت ہو، تو آپ یا میں کسی وزیرِ قانون کے پاس نہیں جاتے، کسی عدلیہ کے افسر کے پاس نہیں جاتے، کسی پارلیمنٹ کے ممبر کے پاس نہیں جاتے؛ ہم کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جس کے علم اور تقویٰ پر ہمیں اعتماد ہو۔
بعض اوقات علم پر اعتماد ہوتا ہے، تقویٰ پر اعتماد نہیں ہوتا؛ بعض اوقات تقویٰ پر اعتماد ہوتا ہے، علم پر اعتماد نہیں ہوتا۔ آپ نے بہت بڑے بڑے بزرگ دیکھے ہوں گے جن کی ساری زندگی شریعت کی اتباع میں گزری، لیکن ان کے پاس وہ علم نہیں ہوتا جو رہنمائی دے سکے، لوگ ان کے پاس (مسائل کے لیے) نہیں جاتے۔ بعض اوقات ایسے صاحبِ علم ہوتے ہیں کہ جن کے علم کا دوست اور دشمن سب اعتراف کرتے ہیں، لیکن ان کے تقویٰ پر بھروسہ نہیں ہوتا، ان کے پاس بھی لوگ نہیں جاتے۔ جن کے پاس دونوں چیزیں ہوں، ان سے جا کر آج بھی لوگ رہنمائی لیتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
اس طرح فقہِ اسلامی پر عملدرآمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سے شروع ہوا۔ ایک اعتبار سے حضورؐ کے زمانے میں بھی اس پر عملدرآمد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ ہوتے، تو جس صحابیؓ یا جس مسلمان کو ضرورت پڑتی تھی، وہ اہلِ علم سے پوچھا کرتا تھا۔ اس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں؛ ایک دو نہیں، درجنوں بلکہ شاید سینکڑوں موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف فرما نہ ہونے کی صورت میں، لوگوں نے، ضرورتمندوں نے صحابہ کرامؓ میں ان حضرات سے پوچھا جو علم اور فہم میں زیادہ ممتاز تھے۔ تقویٰ میں تو سب برابر تھے، لیکن علم میں مدارج اور درجات تھے؛ اس لیے جس کے علم پر زیادہ اعتماد ہوتا تھا، ان سے پوچھا کرتے تھے۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرامؓ کے علم کی گواہی دی تاکہ لوگ ان سے پوچھا کریں۔
اس طریقے سے فقہِ اسلامی اور شریعتِ اسلامی پر عملدرآمد کوئی بارہ سو سال تک ہوتا رہا۔ ان بارہ سو سالوں میں کبھی بھی کسی حکمران یا فرمانروا کو شریعت کے کسی جزوی حکم پر بھی اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے کوشش نہیں کی؛ کوشش کی لوگوں نے؛ بعض لوگوں نے اچھے ارادے سے کوشش کی اور بعض نے غلط ارادے سے کوشش کی۔ نہ اچھے ارادے کی کوشش کو مسلمان فقہاء نے کامیاب ہونے دیا، نہ برے ارادے سے کوشش کرنے والوں کو کامیاب ہونے دیا۔ اچھے ارادے سے کوشش ایک مرتبہ ہارون الرشید نے کی تھی۔ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے ملاقات کی۔ جب وہ حج کے لیے حجاز گیا تو وہ امام مالکؒ سے ملنے کے لیے گیا۔ حکمران ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر پر جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ غالباً ہارون نے ملاقات کے وقت درخواست کی کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے دو بیٹوں امین اور مامون کے لیے الگ سے کوئی حلقۂ درس قائم کریں۔ امام مالکؒ نے فرمایا کہ ’’العلم یؤتیٰ ولا یأتی‘‘ علم کی خدمت میں حاضر ہوا جاتا ہے، علم کسی کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا۔ میرا درس ہوتا ہے، وہ بھی آ کر بیٹھیں۔ امام مالکؒ نے ہارون الرشید کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا، جو خود ان سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔
تو اس لیے یہ کہنا کہ ہارون الرشید نے کسی بدنیتی سے یہ فیصلہ کیا ہو گا یا رائے قائم کی ہو گی، یہ صحیح نہیں ہے۔ نیک نیتی سے وہ یہ سمجھتا تھا کہ دنیائے اسلام — جو اس وقت اسپین سے لے کر ملتان تک پھیلی ہوئی تھی — اس میں مختلف قاضی مختلف فتووں کے مطابق فیصلے دے رہے ہیں؛ کوئی کسی مجتہد کی رائے پر فتویٰ دے رہا ہے، کوئی کسی مجتہد کی رائے پر فیصلہ کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ چیز آگے چل کر کسی غلط فہمی یا الجھن کا ذریعہ بنے۔ تو کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ تمام قاضی صاحبان کو کسی ایک اجتہاد کا پابند کر دیا جائے؟ میرے خیال میں یہ بڑی نیک نیتی سے اس نے سوچا ہو گا۔ اس نے غور کیا تو اس کو پتا چلا کہ امام مالکؒ نے ایک کتاب بھی تحریر فرمائی ہے۔ وہ اپنے زمانے کے جید ترین ائمہ حدیث اور ائمہ فقہ میں شمار ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر ان کی کتاب کو معیار بنا دیا جائے اور ’’مؤطا امام مالک‘‘ کو پوری سلطنتِ اسلامیہ کے لیے قانون کے طور پر نافذ کر دیا جائے، تو شاید یہ بہتر ہو، امت کی وحدت کے لیے، فیصلوں اور قوانین کی ہم آہنگی کے لیے، اور عدالتی کام کی یکجہتی کے لیے۔
اگر کسی شخص میں ایک فی لاکھ بھی دنیا داری ہوتی — میں جب غور کرتا ہوں تو مجھے بڑا اثر ہوتا ہے اس پر — اگر امام مالکؒ میں ایک فی کروڑ بھی دنیا داری کا شائبہ ہوتا، تو اس سے بڑھ کر خوشی اور مسرت کی بات نہیں ہو سکتی تھی کہ ان کی لکھی ہوئی کتاب، ان کے لکھے ہوئے اجتہادات، ان کے فتاویٰ اور ان کے فہمِ شریعت کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بطورِ قانون کے جاری کر دے؛ اور ان کے فتاویٰ کے مطابق اسپین سے لے کر کشمیر تک فیصلے ہوا کریں، سائبیریا سے لے کر سوڈان تک ان کے اجتہادات کو قانون کا درجہ حاصل ہو جائے۔ لیکن امام مالکؒ نے ایک لمحے کی بھی اس میں مہلت نہیں مانگی، فوراً کہا کہ امیر المؤمنین! آپ ایسا نہ کریں، اس لیے کہ جتنے فقہاء اور مجتہدین اجتہادات کر رہے ہیں اور فیصلے کر رہے ہیں، یہ سب کے سب مختلف صحابہ کرامؓ کے اسلوبِ اجتہاد کے پیرو ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم سیکھا، اجتہاد کی تربیت پائی، شریعت پر غور و خوض کرنے کے آداب سیکھے اور وہ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں جا کر بس گئے، جہاں انہوں نے اپنے اپنے اسلوب کے مطابق لوگوں کو تیار کیا۔ اس لیے یہ ساری چیزیں بالآخر صحابہ کرامؓ تک اور صحابہ کرامؓ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے آپ اس آزادی اور اس وسعت کو، جو امتِ مسلمہ کو حاصل ہے، محدود نہ کریں؛ اور جس انداز سے کام چل رہا ہے، اسی انداز سے چلنے دیں۔
امام مالکؒ نے اتفاق نہیں فرمایا اور قانون کی آزادی اور خودمختاری پر ایک ہلکا سا دھبہ بھی نہیں آنے دیا۔ یہ فقہِ اسلامی کی پہلی بنیادی خصوصیت ہے، جس کو آپ حریت یا آزادی کہہ سکتے ہیں۔ آج دنیا میں دعویٰ ہے رُول آف لاء کا۔ دنیا کہتی ہے کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ امریکہ کے قانون دانوں کا ایک طویل عرصے تک یہ دعویٰ رہا کہ رول آف لاء کا تصور سب سے پہلے دنیا کو انہوں نے دیا ہے۔ امریکی دستور کو اگر آپ میں سے کچھ لوگوں نے پڑھا ہو، امریکی دستور کی تشریحات یا تعبیرات جتنی امریکی ماہرینِ قانون نے لکھی ہیں، اس میں وہ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں کہ American constitution is the most precious export of America, is the most valueable export of America امریکہ کی جتنی ایکسپورٹس ہیں، ان میں سب سے قیمتی امریکہ کا دستور ہے؛ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے دنیا کو ایک نیا تصور قانون کی بالادستی کا دیا ہے۔ قانون کی بالادستی وہ تین چیزوں کو قرار دیتے ہیں:
- پورے ملک میں یا پوری ریاست میں ایک قانون ہو جو سب کے لیے ہو، یعنی Uniformity of Law ہو۔
- دوسرے، اس یونیفارم قانون کو، یکساں قانون کو سب شہریوں پر نافذ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ ترین، بااختیار اور غیر جانبدار عدالت ہو۔ A uniform, impartial, independent judicial system دوسری چیز وہ یہ کہتے ہیں۔
- تیسری چیز وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر شہری کو یکساں طور پر آزادی اور موقع ہو کہ اس عدالت کے سامنے جا کر اس قانون کے تحت اپنا حق وصول کر سکے اور داد رسی حاصل کر سکے۔
یہ تین چیزیں ان کے دعوے کے مطابق رول آف لاء یعنی قانون کی بالادستی کے معیار ہیں۔ امریکہ کے نظام نے دنیا کو کتنا رول آف لاء دیا ہے، وہ آپ کے سامنے بھی ہے اور میرے سامنے بھی ہے، اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی افغانی سے پوچھیں، کسی عراقی سے پوچھیں، اور مسلمانوں سے پوچھیں کہ امریکہ کتنا رول آف لاء آپ کو دے رہا ہے، لوگ بتا دیں گے۔ لیکن رول آف لاء اگر دنیا میں کسی قانون نے دیا ہے تو وہ اسلامی شریعت نے دیا ہے؛ جس میں نہ صرف یہ کہ قانون کے ماتحت اور تابع ہونے میں حکمران اور رعایا میں کوئی فرق نہیں تھا، بلکہ قانون بنانے کا اختیار بھی حکمران سے لے لیا گیا۔ یہ دنیا کا کوئی قانون آج تک نہیں کر سکا۔ ہر فرمانروا اپنے مفاد کی خاطر قانون بناتا ہے، ہر بااثر آدمی اپنے مفاد کو قانون کے ذریعے بچانے کی اور بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صرف اسلامی شریعت ہے جو تمام بااثر طبقات کے مفادات سے بالاتر اور ماورا ہے۔
لہٰذا رول آف لاء کا تصور یا قانون کی بالادستی کا تصور اگر حقیقی طور پر کسی نظام نے دیا ہے، تو وہ صرف اسلامی شریعت ہے۔ جس میں یہ کہا گیا کہ تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے ہاں کمزور کے لیے الگ نظام تھا اور طاقتور کے لیے الگ نظام تھا؛ کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر سزا جاری ہوتی تھی اور بالادست، طاقتور اور بااثر آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو سزا سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ خدا کی قسم! پھر حضورؐ نے قسم کھا کر فرمایا — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن بھی سچا جانتے تھے، دشمن بھی دیانتدار سمجھتے تھے، قاتل بھی اپنی امانتیں انہی کے پاس رکھوایا کرتے تھے، جو قتل کرنے کے لیے آئے تھے گھر پر، ان کی امانتیں اسی گھر میں موجود تھیں، اس لیے حضورؐ کو قسم کھانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن آپؐ نے مزید تاکید کے لیے قسم کھائی کہ ’’وایم اللہ‘‘ قسم ہے خدا کی اگر فاطمہ بنتِ محمدؐ بھی چوری کرتی تو ’’لقطعت یدہا‘‘ میں اس کا ہاتھ کاٹنے میں تامل نہ کرتا۔
یہ خصوصیت صرف فقہِ اسلامی کو حاصل ہے، دنیا کے کسی اور قانون یا نظام کو کبھی حاصل نہیں رہی۔
(جاری)
https://youtu.be/pYFb_79RgUI
حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
فقہی جزئیات سے اصولی قواعد کا استخراج اور فقہ و اصول کا باہمی ارتباط
اب میں امام سرخسی رحمہ اللہ کی اس کتاب سے چند چیزیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جو اصول سرخسی کے نام سے مشہور ہے، ویسے تو نام اس کا ’’تمہید الفصول فی الاصول‘‘ انہوں نے رکھا تھا۔ اور آپ کو یاد ہوگا کہ امام جصاصؒ نے بھی اصول پر جو کتاب لکھی تو اس کا نام انہوں نے ’’الفصول فی الاصول‘‘ رکھا تھا۔ امام سرخسیؒ کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ وہ کس پائے کے فقیہ اور اصولی تھے۔ میں اس تفصیل میں مزید نہیں جانا چاہتا، جو ان کا مرتبہ اور مقام ہے، لیکن میں ان کی کتاب سے چند چیزیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ایک بات کا اضافہ کر کے۔ جب وہ قید میں تھے اور انہوں نے پہلے ’’الکافی‘‘ پر شرح لکھوائی، املاء کروائی، تیس جلدوں میں جو ’’المبسوط‘‘ کے نام سے شائع ہوتی ہے۔ تو یہ اصول (تمہید الفصول فی الاصول) انہوں نے اس کے بعد املاء کروائے ہیں، اور اس کی تصریح انہوں نے خود ابتدا میں کی ہوئی ہے۔ اور اس وجہ سے یہ جو اصول کی کتاب ہے، اس کو آپ مبسوط کے ساتھ ایک جوڑے (companion) کے طور پر سمجھیے۔ اس میں آپ کو بعض اوقات اس کے حوالے ملیں گے۔ بعض اوقات یہاں اختصار ہوگا اور اس کی تفصیل وہاں ہوگی۔ اور وہ خود بتاتے ہیں کہ جب میں نے املاء کروائی تو میرے بعض شاگردوں نے کہا کہ جن اصولوں پر آپ نے یہ شرح ہمیں بتائی ہے اور جو اصول معلوم ہوئے ہیں، ان کو الگ سے لکھنا چاہیے۔ تو پھر اس کو املاء کروایا۔
’’فصل فی بیان حکم العام‘‘۔ اب دیکھیں، وہ شروع کس طرح کرتے ہیں: ’’قال بعض المتاخرین ممن لا سلف لہم فی القرون الثلاثۃ۔‘‘ بہت سخت الفاظ سے شروع کیا ہے نا؟ یہ ان کے دور کے متاخرین ہیں۔ ہمارے والے متاخرین تو پھر کسی قطار و شمار میں نہیں ہیں۔ اور علامہ شامیؒ اپنے اساتذہ اور ان کے اساتذہ اور ان کے اساتذہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ناقلون حاکون‘‘، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اچھا، تو فرماتے ہیں کہ متاخرین میں سے بعض نے یہ کہا ہے: ’’حکمہ الوقف فیہ‘‘۔ توقف نہیں بلکہ وقف۔ ’’حتی یتبین المراد منہ بمنزلۃ المشترک او المجمل؛ ویسمی ہؤلاء الواقفیۃ ‘‘۔ یہ لوگ واقفیہ ہیں۔ تو ایک موقف یہ ہوا کہ وقف کریں، رک جائیں، عمل نہیں کرنا، جب تک معلوم نہ ہو کہ ’عام‘ سب پر شامل ہے یا نہیں؟ شارع کی مراد کیا ہے؟
’’الا ان طائفۃ منہم یقولون۔‘‘ البتہ ان واقفیہ میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں: ’’یثبت بہ اخص الخصوص۔‘‘ عام سے the most specific of the specifics ثابت ہو سکتا ہے؛اخص الخصوص۔ مثال کے طور پر اگر جمع ہے، ’’المشرکین‘‘ یا ’’الاقربون‘‘ کا لفظ آیا ہے، تو اقل جمع تین ہے اور مفرد ایک ہے۔ یہ اخص الخصوص ہوا۔ تو بس اتنا تو ثابت ہے۔
یعنی پہلے گروہ نے تو یہ کہا کہ کچھ بھی نہیں، جب تک خود شارع کی جانب سے بیان نہ آجائے۔ دوسرے نے کہا کہ اتنا تو ثابت ہے کہ اگر جمع ہے تو اس سے مراد تین افراد ہیں، اور اگر واحد ہے تو اس سے مراد ایک ہی بندہ ہے: ’’وفیما وراء ذلک الحکم ہو الوقف حتی یتبین المراد بالدلیل۔‘‘ یعنی اس کے علاوہ باقی صورتوں میں اس کا حکم وقف کرنا ہے، یہاں تک کہ دلیل کے ذریعے اصل مراد واضح ہو جائے۔ اس سے آگے البتہ پھر انتظار کرنا پڑے گا۔
امام سرخسیؒ تیسرا موقف، امام شافعیؒ کا بیان فرماتے ہیں کہ: ’’ہو مجری علی عمومہ موجب للحکم فیما تناولہ مع ضرب شبہۃ فیہ؛‘‘ کہ اس سے حکم تو ثابت ہوتا ہے، لیکن تھوڑا اس میں شبہ ہوتا ہے۔ شبہ کیسے؟ ’’لاحتمال ان یکون المراد بہ الخصوص۔‘‘ کیونکہ یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد شاید سارے نہ ہوں، کچھ لوگ ہوں۔ ہر عام میں، وہ کہتے ہیں، کچھ نہ کچھ تخصیص کا احتمال تو ہوتا ہے: ’’فلا یوجب الحکم قطعا بل علی تجوز ان یظہر معنی الخصوص فیہ لقیام الدلیل۔‘‘ تو یہ حکم قطعی نہیں بلکہ یہ ظنی ہے، اس میں احتمال موجود ہے: ’’ولہذا جوز تخصیص العام بالقیاس ابتداء۔‘‘
اب آگے دیکھیں کہ وہ امام شافعیؒ کے مسلک کی وضاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں، کہ ان کا یہ اصول میں نے کہاں سے اخذ کیا ہے؟ یعنی میں کیسے کہتا ہوں کہ امام شافعیؒ کے نزدیک عام کی جو دلالت ہے، اس کے لیے وقف ان کا موقف نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے حکم تو ثابت کرتے ہیں لیکن ظنی طور پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو واقفیہ تھے، ان میں اکثر وہ تھے جو عقیدے کے باب میں اشاعرہ کی طرف منسوب تھے؛ اور اشاعرہ میں اکثر وہ تھے جو فقہ میں امام شافعیؒ کی طرف منسوب تھے۔ تو گویا امام سرخسیؒ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ اپنے ہی امام کے اصول کے خلاف جا رہے ہیں۔
اچھا، کیا امام شافعیؒ وقف کے قائل نہیں ہیں؟ کیا واقعی وہ عام کی ظنیت کے قائل ہیں؟ جی، وہ فرماتے ہیں: ’’علی ہذا دلت مسائلہ۔‘‘ یہ اصول کہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے؟ ان کے مسائل سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر آگے انہوں نے مثالیں دی ہیں۔ امام شافعیؒ نے فلاں مسئلے میں یہ رائے قائم کی ہے، فلاں میں یہ رائے قائم کی ہے، فلاں میں یہ رائے قائم کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عام ظنی ہے۔ ان کے ان مسائل میں ان کا موقف کس اصول پر مبنی ہے؟ اس اصول پر کہ عام ظنی ہے۔
اب آئیے: ’’والمذہب عندنا ان العام موجب للحکم فیما یتناولہ قطعا۔‘‘ ہمارے نزدیک مذہب یہ ہے کہ عام اپنی دلالت میں قطعی ہے؛ ’’بمنزلۃ الخاص۔‘‘ خاص کی طرح۔ آگے انہوں نے پھر اس کی تھوڑی مزید تفصیل دی ہے، یہ موقع نہیں ہے، تفصیل میں نہیں جا سکتے۔ لیکن جو نکتہ میں رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے۔ فرماتے ہیں: ’’علی ہذا دلت مسائل علمائنا رحمہم اللہ۔‘‘ ہم یہ اصول اپنے علماء کے مسائل سے لے رہے ہیں۔ کس مسئلے سے؟ اب وہ یہ بتاتے ہیں۔
’’قال محمد رحمہ اللہ فی الزیادات۔‘‘ زیادات میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی بندے نے اپنی انگوٹھی کے بارے میں وصیت کی کہ یہ الف کی ہوئی، اور اگلی ہی سانس میں کہا کہ، لیکن جو اس کا نگینہ ہے وہ ب کا ہے۔ یعنی انگوٹھی اس کی اور نگینہ اس کا۔ تو وہ کہتے ہیں کہ جو چھلا ہے وہ تو سارے کا سارا الف کا ہے، اور جو نگینہ ہے وہ الف اور ب دونوں کا ہے۔ کیونکہ جب اس نے کہا انگوٹھی، تو اس میں چھلا اور نگینہ دونوں شامل ہیں، چنانچہ چھلا اور نگینہ دونوں الف کے ہوئے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے کہا: اور نگینہ ب کا۔ تو اس نے نگینہ ب کا بھی کر دیا، جو الف کا تو پہلے سے ہی تھا، کیونکہ اس نے اس کو منسوخ نہیں کیا اور نہ اس سے رجوع کیا۔
البتہ اگر یہ الگ الگ جملوں میں مفصولا کہا کہ انگوٹھی الف کی ہے۔ ابھی یہ انگوٹھی اسے دی نہیں ہے، کیونکہ یہ وصیت ہے جو موت کے بعد نافذ ہونی ہے، اور وصیت سے رجوع کا حق بھی اسے حاصل ہے۔ اور پھر کچھ دیر بعد کہا کہ نگینہ ب کا ہے۔ تو گویا اس دوسری وصیت نے اس پہلی وصیت کو جزوی طور پر منسوخ کر دیا۔ تو اب پورا نگینہ ب کا، اور صرف چھلا الف کا ہوا۔ لیکن جب دونوں جملے ایک ہی وصیت میں ہیں اور کلام موصول ہے، تو چھلا الف کا ہے، جبکہ نگینہ نصف نصف دونوں کا ہے۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ عام اور خاص برابر ہیں۔ انگوٹھی کے عموم میں چھلا اور نگینہ دونوں شامل تھے، یہ عام ہوا، اور نگینہ خاص ہے۔ اگر خاص کو عام پر فوقیت حاصل ہوتی، اگر خاص قطعی ہوتا اور عام ظنی ہوتا، تو چاہے کلام مفصول ہو یا موصول ہو، دونوں صورتوں میں الف کا صرف چھلا ہی ہونا تھا۔ اس کا تو بھلا ہوا کہ عام قطعی ہے۔
اچھا، آگے وہ مضاربہ والی مثال دی ہے اور اس میں پھر ’’کتاب الوصایا‘‘ کا یہاں حوالہ دیا ہے۔ اس کتاب پر تین بندوں نے تحقیق کی تھی، تین الگ جلدوں میں، ’’اصول سرخسی‘‘ پر بہت اچھا کام کیا ہے، اللہ ان کو جزائے خیر دے؛ لیکن ان سے یہاں تھوڑی سی تحقیق میں کمی ہوئی ہے، کیونکہ یہاں امام سرخسیؒ نے ’’کتاب الوصایا‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ ’’کتاب الوصایا‘‘ کا حوالہ وہ ڈھونڈ نہیں پائے، کیونکہ وہ اس نام سے اسے ڈھونڈ رہے تھے اور ’’المبسوط‘‘ میں وہ ’’کتاب العین والدین فی الوصایا‘‘ کے نام سے پائی جاتی ہے۔ تو بہرحال وہاں اس کی تفصیل ہے۔ وہاں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ چھلے اور نگینے والے مسئلے میں اگر انہوں نے تاریخیں بتا دیں کہ یہ تو بیس مئی کو کہا تھا اور وہ بائیس مئی کو کہا تھا، تو جو متاخر ہوگا اس پر عمل ہوگا، متقدم پر نہیں ہوگا، چاہے وہ خاص ہو یا عام ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام اگر متاخر ہو تو وہ خاص متقدم کو منسوخ کر سکتا ہے۔ پہلے خاص آیا، پھر عام آیا، تو ہم عام پر عمل کریں گے۔ پہلے عام آیا، پھر خاص آیا، تو ہم خاص پر عمل کریں گے۔ اور اگر ترتیب نامعلوم ہو تو دونوں پر جس حد تک عمل ہو سکتا ہے وہ کریں گے۔
پھر آگے امام سرخسیؒ نے مزید بتایا: ’’وظہر من مذہب ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ترجیح العام علی الخاص فی العمل بہ۔‘‘ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے مذہب سے یہ ظاہر کیا ہے کہ ترجیح عام کو خاص پر دی جائے گی، عمل کرنے کے لیے)۔ بعض بزرگوں نے، جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا کہ سوئے ادب نہ ہو، کہا کہ امام ابوحنیفہؒ نے تو نہیں کہا کہ عام قطعی ہے، جبکہ یہاں امام سرخسیؒ آپ کے سامنے امام ابوحنیفہؒ کے مسائل رکھ رہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ دیکھیں، یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عام اور خاص برابر ہیں، اور جو متاخر ہوگا اس پر عمل ہوگا، چاہے وہ عام ہو یا خاص ہو۔ اور یہاں انہوں نے ’’نسخ الخاص بالعام‘‘ ایک مثال یہ دی ہے: ’’کما فعلہ فی بول ما یؤکل لحمہ۔‘‘ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے، اس کا پیشاب نجس ہے یا نہیں ہے؟ ایک مثال ہمارے سامنے ’’عرنیین‘‘ والی ہے، اور دوسری مثال جس کو امام ابوحنیفہؒ نے ترجیح دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک ہے: ’’استنزہوا عن البول فان عامۃ عذاب القبر منہ۔‘‘
اگر اللہ نے آئندہ کبھی موقع دیا حنفی اصولی منہج پر بات کرنے کا، تو میری خواہش ہے کہ ہم حدیث کے متعلق فقہائے احناف کے اصولی منہج پر بات کریں، کہ فقہائے احناف حدیث کو کیسے دیکھتے ہیں، کیونکہ بہت سارے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ حدیث تو بخاری کی ہے اور یہ حدیث دارمی کی ہے، اور امام ابوحنیفہؒ اس کو ترجیح دے رہے ہیں، اس کو نہیں دے رہے۔ یہ جو ترجیح والی بحث ہے خصوصا، یہ بہت اہم ہے۔
اچھا، آگے انہوں نے پھر اس کی ساری تفصیل دی ہوئی ہے، میں اس میں نہیں جانا چاہتا، لیکن جو اگلی فصل ہے: ’’فی بیان حکم العام اذا خصص منہ شیء۔‘‘ اس میں وہ ایک اہم بات فرماتے ہیں: ’’کان ابو الحسن الکرخی رحمہ اللہ یقول من عند نفسہ لا علی سبیل الحکایۃ عن السلف۔‘‘ امام کرخیؒ کا بہت بڑا مقام ہے۔ لیکن امام سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ وہ جو بات کر رہے ہیں وہ اپنی بات کر رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ امام محمدؒ نے یہ فرمایا ہے، یا امام ابو یوسفؒ نے یہ فرمایا ہے، یا امام ابوحنیفہؒ نے یہ فرمایا ہے۔ وہ اپنے طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر عام کی تخصیص ہو جائے تو وہ حجت باقی نہیں رہتی، بلکہ اب بیان کی ضرورت ہے۔ یعنی ایک فرد اگر اس میں سے نکالا گیا ہے تو ہو سکتا ہے اور بھی نکالے گئے ہوں، اور ہو سکتا ہے نہ نکالے گئے ہوں، تو اب ہم وقف کریں گے۔
امام سرخسیؒ کہتے ہیں ہمارا مذہب یہ نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: ’’والصحیح عندی‘‘۔ آپ جانتے ہیں کہ ’’الاصح‘‘ اور ’’الصحیح‘‘ میں فرق ہے۔ یہاں وہ فرماتے ہیں کہ امام کرخیؒ کی بات صحیح نہیں ہے۔ صحیح کیا ہے؟ ’’ان المذہب عند علمائنا رحمہم اللہ فی العام اذا لحقہ خصوص یبقی حجۃ فیما وراء المخصوص۔‘‘ جو اس میں سے تخصیص کی گئی وہ تو نکال لیا گیا، جو باقی ہے اس پر وہ حجت ہے؛ لیکن ’’الا ان فیہ شبہۃ حتی لا یکون موجبا قطعا ویقینا۔‘‘ بلکہ وہ امام شافعیؒ کے اس قول کی طرح ہو جائے گا جسے وہ قبل از تخصیص کہتے ہیں۔
اچھا، اب میرے نزدیک ہمارے علماء کا مذہب یہ ہے۔ یہ کیوں ہے؟ وہ کہتے ہیں: ’’والدلیل علی ان المذہب ہذا‘‘ مذہب یہ ہے، اس کی دلیل کیا ہے؟ ’’ان ابا حنیفۃ رضی اللہ عنہ استدل علی فساد البیع بالشرط بنہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع وشرط، وہذا عام دخلہ خصوص۔‘‘ جو بیع و شرط کی نہی ہے، یہ عام ہے، لیکن اس کی تخصیص تو ہو چکی ہے، اس کے باوجود امام ابوحنیفہؒ اس سے استدلال کر رہے ہیں۔ پھر آگے انہوں نے شفعہ کی مثال دی ہے، پھر آگے اور مثالیں دی ہیں۔
یہ طریقہ ہے جو حنفی منہج کی اساس ہے۔ دو چیزیں: یعنی ایک تو عام کی قطعیت کو ہم نے بطور مثال ذکر کیا تھا، لیکن جو طریقہ اس سے ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اصولوں کو کہاں سے لیتے ہیں؟ جو ہماری فروعات ہیں، بالخصوص امام محمدؒ کی جو چھ کتابیں ہیں، جن کو ہم ’’ظاہر الروایۃ‘‘ کہتے ہیں، ان سے ہم لیتے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک اصول بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم کیسز کے ذریعے، جزئیات کے ذریعے اپنے اصول بتاتے ہیں۔ ان اصولوں کو الفاظ کے ذریعے روایت کرنے کو ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ اگرچہ امام محمدؒ کی کتابوں میں بالخصوص ’’الحجۃ علی اہل المدینۃ‘‘ میں آپ کو بعض اوقات اصول کی تصریح بھی مل جاتی ہے۔ اسی طرح ’’کتاب الاصل‘‘ میں بھی مختلف ابواب میں بعض اوقات آپ کو الفاظ میں بھی اصول مل جاتے ہیں۔ بعض اوقات سوال و جواب کی صورت میں بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات کیا ہوتا ہے کہ اصول آپ کو جزئیے سے مستخرج کرنا پڑتا ہے۔ اور اس میں ظاہر ہے بہت ساری جزئیات ہیں، چونکہ ابتدا میں ابھی تدوین کا مرحلہ جاری تھا، ان اصولوں کے استخراج میں انہوں نے بڑا کام کیا، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان سے یہ چند جزئیات رہ گئیں۔ تو بعد میں آنے والے نے اس کام پر بنا کرتے ہوئے ان جزئیات کو بھی ذکر کیا اور اس اصول کی تھوڑی تصحیح کر دی کہ بھئی، یہ اصول دراصل اس طرح ہے کیونکہ یہ (جزئیات) بھی اس میں شامل کرنی ہیں۔
امام سرخسیؒ کو اللہ تعالی نے یہ موقع عنایت کیا اور اللہ نے ان کو یہ توفیق دی، جس کا بدلہ اللہ ہی ان کو دے گا، کہ انہوں نے اس سارے معاملے کو — فقہ اور اصول کو آپس میں ملا کر — تیس جلدوں میں املاء کروا کر، اور اس کے علاوہ ’’السیر الکبیر‘‘ کی شرح الگ سے املاء کروا کر اور ’’الزیادات‘‘ اور ’’زیادات الزیادات‘‘ کی شرح الگ سے املاء کروا کر، اس طرح سے اصول مستخرج کر کے ہمارے سامنے رکھے کہ اس کے بعد کسی کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں رہی کہ حنفی اصول ہے کیا؟ مثبت اولیٰ ہے یا نافی اولیٰ ہے؟ بعض نے یہ کہا ہے، بعض نے وہ کہا ہے۔ اچھا، جن بعض نے یہ کہا ہے، وہ ان جزئیات کی بنا پر کہا ہے۔ اور جن بعض نے وہ کہا ہے، وہ ان جزئیات کی بنا پر کہا ہے۔ لیکن امام سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ ہم تو نہ ان جزئیات سے انکار کر سکتے ہیں اور نہ ان سے۔ تو اصول ہے کیا؟ وہ ایسا اصول بیان کر دیتے ہیں کہ یہ جزئیات بھی فٹ ہو جاتی ہیں اور وہ جزئیات بھی فٹ ہو جاتی ہیں۔ اور پھر اس اصول کے لیے چند اور جزئیات ذکر کرتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی اصول یہ ہے۔
یہ وہ طریقہ ہے جس کو ’’تخریج‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ’’المبسوط‘‘ میں مسلسل آپ کو بیان کرتے رہتے ہیں کہ: ’’والتخریج علی اصل محمد۔‘‘ اگر امام محمدؒ کے اصول پر ہم اس مسئلے کی تخریج کریں تو یہ بنتا ہے۔ اصحاب تخریج کا کام صرف یہ نہیں تھا کہ وہ اصول آپ کو بتائیں، بلکہ وہ یہ بھی کرتے تھے کہ ان اصولوں کی بنا پر وہ بعض نئی جزئیات بھی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اور اس کی بے شمار مثالیں آپ کو ’’المبسوط‘‘ میں اور امام سرخسیؒ کی دیگر کتابوں میں ملتی ہیں۔ اور اس وجہ سے اس مسئلے کا بہت ہی گہرا تعلق اس تقسیم سے بھی ہے جس کو ہم فقہاء کے طبقات کہتے ہیں۔ اس بحث سے قطع نظر، جو بات اس طریقے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امام محمدؒ کو بھی اپنا مقام و مرتبہ بخوبی معلوم تھا اور امام سرخسیؒ کو بھی اپنے مقام و مرتبے کے ساتھ اپنی حدود کا بخوبی علم تھا۔ اس وجہ سے وہ ان مسائل کو جوں کا توں مان کر ان سے اصول نکال کر ہمارے سامنے رکھتے ہیں اور پھر اس کی روشنی میں ہمیں آگے کچھ مزید مسائل بھی بتاتے ہیں۔
تو جو آج کی ڈھائی یا تین گھنٹے کی ہماری گفتگو تھی، اس کا خلاصہ اگر میں ایک جملے میں بیان کرنا چاہوں تو وہ یہ ہوگا کہ یہ جو ’’ظاہر الروایۃ‘‘ ہیں، یہ ہمارے لیے صرف فقہی جزئیات نہیں ہیں، بلکہ یہ اصل میں ہمارے لیے ’’مسائل الاصول‘‘ ہیں۔ اور ہمارے ائمہ نے اپنے اصول ان جزئیات کے ذریعے ہمیں بتائے ہیں۔ کیس میتھڈ کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ہمیں اپنے اصول ان مسائل کے ذریعے بتائے ہیں۔ گویا یہ صرف فتوی کے لیے نہیں ہے — کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، طلاق ہوئی یا نہیں — اپنی جگہ اس کا وہ فائدہ تو عظیم القدر ہے، اس کے علاوہ ان جزئیات کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اصول بتاتی ہیں اور ان کو برتنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔
ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔
سوال کا جواب
میں پھر ڈورکن کا حوالہ دوں گا۔ ڈورکن یہ کہتا ہے کہ جو جج ہوتے ہیں، وکیل ہوتے ہیں، قانون دان ہوتے ہیں، ان کو ماضی کے نظائر میں، فیصلوں میں، gravitational force (کشش ثقل کی قوت) محسوس ہوتی ہے۔ ’’گریویٹیشنل فورس‘‘ کی ترکیب وہ استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے جڑے رہتے ہیں، اس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس کی پابندی کرتے ہیں۔ اس لیے جج کے سامنے اگر کوئی ایسا کیس آئے جس میں بظاہر قانون خاموش ہے، تو وہ اپنے جی سے فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ان نظائر کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ان کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتا ہے۔ اس لیے آپ کسی بھی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا فیصلہ اٹھا کر پڑھ لیں، آپ کو اس میں بے شمار ماضی کے نظائر کے حوالے ملتے ہیں کہ ۱۹۸۴ء میں سپریم کورٹ نے یہ کیا تھا، ۱۹۹۸ء میں پھر وہ کیا، وغیرہ۔
اور جو وکلاء ہوتے ہیں، ان کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالتی نظائر پر نظر رکھیں کہ یہ قانون تھا، اس کی تشریح کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ طے کیا۔ پھر اگلی دفعہ اسی سے ملتا جلتا ایک کیس سپریم کورٹ میں آیا، اس نے یہ طے کیا۔ تو کیا اس نے اس (پہلے والے) کا مفہوم تبدیل کر دیا؟ نہیں، مفہوم تو وہی رہا، لیکن اس کے ساتھ ان مخصوص حالات میں، جو اس سے تھوڑے مختلف تھے، یہ اضافہ کیا۔ یعنی فلاں سال یہ ہوا، پھر یہ ہوا، پھر یہ ہوا، اب صورتحال یہاں تک آئی ہے۔ اس کی روشنی میں پھر وکیل اپنے کلائنٹ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ آپس میں تجارت کا معاہدہ کر رہے ہیں تو اس میں الفاظ یہ نہ لکھیں، اگر یہ لکھیں گے تو کل کوئی تنازعہ ہوا اور عدالت میں بات جائے گی تو یہ فیصلہ ہوگا، اس لیے الفاظ کو یوں کر دیں۔
اچھا، یہی کام جب ہمارے علماء کرام کرتے ہیں تو ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ تو حیلے بنا رہے ہیں۔ بھئی حیلہ کیا ہوتا ہے؟ حیلہ یہی تو ہے کہ جو احکام ہیں، ان کے اندر رہتے ہوئے، ان کو نہ توڑتے ہوئے، کس طرح سے مسئلہ حل ہو؟
سوال کا جواب
شخصی تقلید تو میں نہیں کہوں گا، اصولی تقلید کہوں گا۔ کیونکہ شخصی تقلید سے مراد تو یہ ہوگی کہ مثال کے طور پر فلاں جج کی تقلید ہو رہی ہے۔ نہیں! جو اصولی نظام ہے اس کی تقلید ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے تو جب صاحبینؒ اور امام صاحبؒ کا اختلاف ہو، یا بعد میں اگر اصحاب ترجیح یا اصحاب تخریج آپ کو بتاتے ہیں کہ اس مسئلے میں فتوی امام صاحبؒ کی بجائے صاحبینؒ کے قول پر ہے، تو یہ اس اصولی نظام کی تقلید ہے۔
آج تو ہم نے عراقی و سمرقندی کی بات کی، میں ایک اور گروہ ’’مصری‘‘ کی بھی بات کرنا چاہ رہا تھا، جس کو لوگ ایک گروہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مثلا ابن الہمامؒ مصری تھے اور ابن نجیمؒ مصری تھے۔ امام ابن نجیمؒ تقلید شخصی کے زبردست قائلین میں سے ہیں۔ اسی طرح اور بھی آپ کو آرا نظر آئیں گی۔ لیکن اگر کبھی تقلید اور اجتہاد پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، تو اس میں ہم واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل بات جو ہوتی ہے، وہ اس اصولی نظام کی تقلید ہوتی ہے، اس کی پابندی ہوتی ہے، اور اس کی وجہ سے کام آسان بھی ہو جاتا ہے۔
سوال
سر، یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ، جب آپ نے گفتگو فرمائی کہ عام اور خاص کے اندر قطعیت کا فرق محسوس نہیں ہو رہا، تاریخی تناظر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو بعد میں آیا وہ پہلے والے کو منسوخ کر رہا ہے، تو کیا پھر خاص کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی؟ یہ سوال ایک ابھرتا ہے کہ وہاں پر پھر خاص کو چھوڑ کر ہم صرف عام کی بحث میں ہی لگ جائیں … تو خاص کو الگ بیان کرنے کی وجہ؟
جواب
وہ اس طرح ہے کہ مثال کے طور پر آپ وصیت کی بات کر رہے ہیں کہ اس نے پہلے وصیت کی اور اس میں ایک خاص لفظ استعمال کیا، بعد میں اس نے ایک اور وصیت کی۔ اس کو وصیت سے رجوع کا حق تو حاصل ہے نا؟ اس نے پہلے آپ کے حق میں نام لے کر وصیت کی، بعد میں وہ اس کو منسوخ کر کے ان کے حق میں نام لے کر بھی وصیت کر سکتا ہے۔ اس خاص کو اس خاص کے ذریعے تبدیل کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے اس نے خاص آپ کے حق میں وصیت کی، پھر خاص ان کے حق میں وصیت کی، تو اس خاص نے اس کو منسوخ کر دیا۔ اب خاص آپ کے حق میں وصیت کی، پھر ساری کلاس کے حق میں (عام) وصیت کی۔ کیا یہ اس (خاص) کو منسوخ کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام ابوحنیفہؒ کہتے ہیں کہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بھی قطعی ہے، وہ بھی قطعی ہے۔ تو خاص کا اپنا مقام ہے اور عام کا اپنا۔ اگر دونوں بیک وقت ہوں تو ہم دونوں پر عمل کریں گے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ہم نے خاص کو اہمیت نہیں دی، یہ بات صحیح نہیں ہے، خاص کا تو اپنا مقام ہے، لیکن دونوں قطعی ہیں، تو کسی بھی دو قطعی دلیلوں میں جب تعارض آ جائے، تو اگر ہمیں تاریخ معلوم ہو، تو ظاہر ہے ہم متاخر پر عمل کریں گے۔
https://youtu.be/aKUMIHHZ7_A
https://youtu.be/Lku2jpF9zeU
https://youtu.be/OYuXJdZqmJo
https://youtu.be/5QnxCXDW1gw
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
علمِ کلام پر یونانی فلسفے سے ماخوذ ہونے کا طعن: ایک فکری رد
اب کچھ تجزیہ علم الکلام پر سب سے بڑے اور مشہور طعن کا بھی ہونا چاہئیے کہ یہ اول تا آخر یونانی فلسفہ سے ماخوذ ہے۔ ہم یہاں چند نمایاں مثالیں پیش کرتے ہیں، جن میں متکلمین نے یونانی فلسفے کے بنیادی تصورات کو چیلنج کیا اور انہیں اسلامی عقائد کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ چند اہم مسائل جن میں انہوں نے یونانی فلاسفہ کی تردید کی، وہ درج ذیل ہیں:
1- عقول عشرہ (دس عقلیں) اور افلاک تسعہ (نو آسمان)
یونانی فلسفہ، خاص طور پر ارسطو اور افلاطین کے نظریات میں، کائنات کو ایک میکانکی نظام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، خدا (علتِ اولیٰ) سے پہلی عقل کا صدور ہوا، اور پھر اس سے مزید عقلیں اور آسمان وجود میں آئے۔ اس نظریے میں دس عقلیں اور نو آسمان شامل تھے جو درجہ بدرجہ ایک دوسرے کو وجود بخشتے تھے۔
متکلمین نے اس تصور کو رد کیا اور کہا کہ یہ خدا کے فاعلِ مختار (با اختیار خالق) ہونے کے خلاف ہے۔ خدا کسی جبر یا قانون کے تحت کائنات کو وجود میں نہیں لایا، بلکہ اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے ہر چیز کو پیدا کیا۔ یہ کائنات خود خدا کی تخلیق کردہ ہے، نہ کہ کسی جبری اور خودکار صدور کا نتیجہ۔
2- جزء لا یتجزیٰ (وہ ذرہ جو تقسیم نہ ہو سکے)
یونانی فلاسفہ کے درمیان مادے کی ماہیت پر اختلاف تھا۔ بعض فلاسفہ، جیسے ارسطو، کا ماننا تھا کہ مادہ لامحدود طور پر قابلِ تقسیم ہے، یعنی کوئی ایسا آخری ذرہ نہیں ہے جسے مزید تقسیم نہ کیا جا سکے۔ اس کے برعکس، بعض دیگر فلاسفہ اور بعد میں متکلمین نے "جزء لا یتجزیٰ" کا نظریہ پیش کیا۔
متکلمین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہر مادی چیز ایک ایسے چھوٹے ذرے سے بنی ہے جو مزید تقسیم نہیں ہو سکتا۔ یہ دلیل دراصل "حدوثِ عالم" کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کی گئی، کیونکہ اگر مادہ لامحدود طور پر قابلِ تقسیم ہوتا تو وقت اور جگہ کے لامحدود ہونے کا تصور ممکن ہو جاتا، اور اس طرح کائنات کا آغاز ثابت کرنا مشکل ہو جاتا۔
3- حدوثِ عالم (کائنات کا آغاز) بمقابلہ قِدَمِ عالم (کائنات کا ازلی ہونا)
یونانی فلاسفہ، خاص طور پر ارسطو، یہ نظریہ پیش کرتے تھے کہ کائنات قدیم اور ازلی ہے، یعنی اس کا کوئی آغاز نہیں ہے۔ اس کے برعکس، متکلمین نے اس نظریے کی سختی سے تردید کی اور عقلی و منطقی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ کائنات حادث ہے اور اس کا ایک آغاز ہے۔ یہ بحث علمِ کلام کی سب سے بنیادی بحثوں میں سے ایک تھی۔ متکلمین نے "تسلسل کا باطل ہونا" (Impossibility of an Infinite Regress) جیسے دلائل سے یہ ثابت کیا کہ وقت کا ایک آغاز ہونا ضروری ہے۔ یہ دلیل آج بھی کلامی کائناتی دلیل (Kalam Cosmological Argument) کی بنیاد ہے۔
4- فاعلِ مختار (بااختیار خالق) بمقابلہ علتِ موجبہ (لازمی سبب)
یونانی فلاسفہ، جیسے افلاطون، خدا کو "علتِ موجبہ" (necessary cause) کے طور پر پیش کرتے تھے، جس کے مطابق خدا سے کائنات کا وجود ایک لازمی اور جبری عمل کے تحت ہوا، جیسے سورج کی حرارت سے روشنی کا نکلنا۔ اس کے برعکس، متکلمین نے خدا کو "فاعلِ مختار" (free agent) ثابت کیا، یعنی کائنات کی تخلیق اس کے مکمل ارادے اور اختیار کا نتیجہ ہے۔ اسلامی علمِ کلام کی سب سے بڑی انفرادیت "فاعلِ مختار" کا تصور ہے، جس کے تحت خدا کو مکمل اختیار اور ارادے کا مالک مانا جاتا ہے، جو اسے بعض دیگر الٰہیاتی روایات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ نظریہ آج بھی جدید الحادی اعتراضات کا مؤثر جواب فراہم کرتا ہے جو ’خدا کے ہوتے ہوئے دنیا میں موجود برائی (evil)’ کے مسئلے پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف اس لیے اہم تھا کہ اس سے خدا کی صفات جیسے قدرت, ارادہ، اور حکمت کا تصور واضح ہوا۔
5- وجودِ جزئیات (individual objects) کا مسئلہ
فلاسفہ کے نزدیک کلیات (universals) کی ایک مستقل اور حقیقی حیثیت ہوتی ہے، جبکہ جزئیات (خاص اشیاء) کا وجود ثانوی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، متکلمین نے جزئیات کے وجود کو زیادہ اہمیت دی اور انہیں ہی حقیقت کا بنیادی حصہ قرار دیا۔ یہ اختلاف اس لیے اہم تھا کہ یہ حقیقت کی نوعیت اور ہمارے علم کی بنیاد سے متعلق تھا۔
6- خدا کا علمِ جزئیات (خدا کا اشیاء کا علم)
یونانی فلسفے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ خدا کو صرف کلیات کا علم ہے، کیونکہ جزئیات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جو خدا کی کامل ذات کے لیے مناسب نہیں۔
متکلمین نے اس نظریے کو رد کیا اور یہ ثابت کیا کہ خدا کو ہر چھوٹی بڑی جزئی کا علم ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کی صفتِ علم ناقص ہو جائے گی۔ یہ ایک اہم بحث تھی جس نے اسلامی عقائد کو فلسفے کے اثرات سے محفوظ رکھا۔
7- جعلِ بسیط (سادہ وجود میں لانا)
فلسفیانہ نظریہ کے مطابق، خدا (یا علتِ اولیٰ) صرف وجود کا مصدر ہے، یعنی وہ چیزوں کو "ہو جا" کہتا ہے اور وہ وجود میں آ جاتی ہیں۔ اس میں صفات کا پیدا کرنا یا تغیر شامل نہیں ہوتا۔ گویا خدا صرف "وجود بخشنے" کا کام کرتا ہے۔
متکلمین نے اس نظریے کو رد کیا۔ ان کے نزدیک، خدا نہ صرف اشیاء کو وجود بخشتا ہے بلکہ ان میں صفات (خواص) بھی پیدا کرتا ہے۔ خدا کا ہر فعل، چاہے وہ وجود بخشنا ہو یا کسی صفت کو پیدا کرنا، اس کے اختیار اور ارادے کا مظہر ہے۔ یہ نظریہ خدا کی قدرت اور فعلیت کو زیادہ وسعت دیتا ہے۔
8- قیاس الشاہد علی الغائب (جانی ہوئی چیزوں پر انجانی کا قیاس کرنا)
یونانی فلاسفہ نے انسانی دنیا اور اس کے قوانین (جیسے علت و معلول، نظام) کو بنیاد بنا کر خدا اور ماورائی حقائق کے بارے میں تصورات قائم کیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں کام چلتا ہے، اسی طرح خدا کے معاملات بھی ہوں گے۔
متکلمین نے اس قیاس کو محدود کیا۔ ان کے نزدیک، خدا کی ذات اور صفات انسانی ادراک اور تجربے سے ماورا ہیں۔ "لیس کمثلہ شیء" (قرآن) کے تحت، ہم خدا کو اپنی مخلوق پر قیاس نہیں کر سکتے۔ خدا کا علم، اس کی حکمت، اور اس کے افعال کو سمجھنے کے لیے وحی (قرآن و سنت) کی رہنمائی ضروری ہے۔
9- صفاتِ ذاتیہ و فعلیہ میں فرق نہ کرنا اور صفات نہ ماننا
بعض فلاسفہ اور خصوصاً معتزلہ نے خدا کی صفات کو اس کی ذات کا عین (identical) قرار دیا یا پھر صفات کا مکمل انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خدا کی صفات اس کی ذات سے الگ مانی جائیں تو یہ خدا کی وحدانیت (unity) کے خلاف ہے، یعنی خدا ایک سے زیادہ چیزوں کا مرکب بن جائے گا۔
دوسرے مکتبِ فکر، جیسے اشاعرہ اور ماتریدیہ، نے صفاتِ ذاتیہ (جو اس کی ذات کا حصہ ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت، ارادہ) اور صفاتِ فعلیہ (جو اس کے افعال سے متعلق ہیں، جیسے خالق ہونا، رازق ہونا) میں فرق کیا۔ انہوں نے صفات کو خدا کی ذات کے عین ماننے کے بجائے، اس کی ذات سے ثابت اور حقیقی قرار دیا جو اس کی وحدانیت کو مجروح نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک، صفات کا انکار خدا کی کامل ذات کا انکار ہے۔
10- صفاتِ ذاتیہ و فعلیہ میں فرق اور صفات کا انکار
یونانی فلسفہ میں خدا کو محض ذات کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اس کی صفات (جیسے علم، قدرت، ارادہ) کو اسی کی ذات کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
اس کے برعکس، اسلامی متکلمین کے درمیان صفات کے حوالے سے کئی آراء پیدا ہوئیں:
معتزلہ نے خدا کی صفات کا انکار کیا اور کہا کہ اگر صفات کو مانا جائے تو یہ خدا کی توحید کے خلاف ہو گا، کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ذات کے ساتھ کوئی اور چیز بھی موجود ہے۔ ان کے نزدیک خدا کی صفات دراصل اس کی ذات کا عین (exact) ہیں۔
اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف تھا کہ خدا کی صفات حقیقی ہیں جو نہ تو اس کی ذات سے الگ ہیں اور نہ ہی اس کا عین ہیں۔ انہوں نے صفاتِ ذاتیہ (جو ہمیشہ سے ہیں، جیسے علم اور قدرت) اور صفاتِ فعلیہ (جو اس کے افعال سے ظاہر ہوتی ہیں، جیسے پیدا کرنا اور رزق دینا) میں فرق کیا۔ یہ نظریہ خدا کی توحید کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی صفات کو بھی تسلیم کرتا تھا۔
11- واحد سے واحد کا صدور اور کثرت پر حدوث کا مدار
فلاسفہ کا یہ نظریہ تھا کہ ایک واحد علت (خدا) سے صرف ایک ہی چیز وجود میں آ سکتی ہے (واحد سے واحد کا صدور)۔ اس لیے انہوں نے کائنات کی کثرت کی وضاحت کے لیے ایک پیچیدہ نظام (جیسے عقول عشرہ) پیش کیا۔ ان کے نزدیک کائنات کی کثرت (diversity) ہی اس کے حادث ہونے کا ثبوت ہے۔
متکلمین نے اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ خدا اپنے ارادے اور اختیار سے ایک ہی وقت میں بے شمار چیزوں کو پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی پیچیدہ درمیانی نظام کی ضرورت نہیں۔ یہ نظریہ فلاسفہ کے جبری اور لازمی نظام کے خلاف ایک بنیادی اختلاف تھا۔
12- کثرت پر حدوث و امکان کا مدار رکھنا (فلاسفہ کا نظریہ)
بعض یونانی فلاسفہ، خصوصاً ارسطو کے پیروکار، یہ سمجھتے تھے کہ کائنات کا وجود (existence) اور اس میں کثرت (diversity) کا پایا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات حادث (نئی پیدا شدہ) اور ممکن (possible) ہے۔ ان کے نزدیک، اگر کائنات قدیم اور واجب ہوتی تو اس میں یہ کثرت اور تغیر ممکن نہ ہوتا۔
متکلمین نے اس بات سے اختلاف کیا کہ کثرت بذاتِ خود حدوث کا سبب ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ حدوث کا ثبوت کائنات کے ازل سے نہ ہونے (یعنی اس کا آغاز ہونے) سے ہے۔ کثرت تو اس حادث کائنات کی ایک خصوصیت ہو سکتی ہے، مگر خود حدوث کا اصل ثبوت "حدوثِ عالم" کے دلائل سے ہے۔
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
غزالی کے اصولِ تعبیر
تمہید
اس کتاب کے گزشتہ حصے میں ہم نے نظریۂ ارتقا سے متعلق مابعد الطبیعیاتی مسائل کا جائزہ لیا تھا اور یہ دیکھا تھا کہ اشعری نقطۂ نظر سے ان مسائل کا جواب کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ ہماری بحث کا حاصل یہ تھا کہ جب ان مسائل کو اشعری فکری فریم ورک میں رکھ کر ضروری توضیحات اور علمی باریکیوں کے ساتھ دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی مسئلہ بھی کوئی ایسا سنگین اعتراض پیدا نہیں کرتا جس کا اطمینان بخش جواب نہ دیا جا سکے۔
کتاب کے اس آخری حصے میں ہم بحث کے نصوصی پہلوؤں کا تجزیہ کریں گے، جہاں نظریۂ ارتقا کو قرآن اور احادیث کی تعلیمات کے بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے یہ باب غزالی کی تحریروں سے نصوص کی تعبیر و تفسیر کے ان اصولوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے گا جو ہماری بحث سے متعلق ہیں۔
یہ کام بظاہر جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزالی سے منسوب کوئی ایسا قابلِ ذکر تفسیری ذخیرہ موجود نہیں—یا کم از کم ایسا ذخیرہ ہم تک نہیں پہنچا جو وقت کی کسوٹی پر قائم رہا ہو۔ اس لیے ہمیں ان کی مختلف تصانیف اور رسائل سے استفادہ کرنا ہوگا، جن میں انہوں نے اپنے اصولِ تعبیر کو مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ بعد ازاں انہی اصولوں کو نظریۂ ارتقا کے تناظر میں اسلامی نصوص کی تعبیر پر منطبق کیا جا سکے گا (Hourani 1984; Griffel 2009)۔
تاہم اس طریقۂ کار کے ساتھ ایک اہم دشواری یہ بھی پیش آتی ہے کہ غزالی کی ہر تصنیف کے سیاق و سباق کو درست طور پر سمجھا جائے اور یہ متعین کیا جائے کہ وہ کسی خاص کتاب میں کس علمی حیثیت سے گفتگو کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اس کتاب کے تعارف میں واضح کیا گیا ہے، غزالی کی فکر کو کسی ایک متعین خانے میں رکھنا بعض اوقات خاصا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان کی تحریروں میں مختلف نوعیت کے علمی اسالیب اور مباحث پائے جاتے ہیں۔ کہیں وہ ایک متکلم کی حیثیت سے لکھتے ہیں، کہیں فقیہ کے طور پر، اور بعض مقامات پر ایک صوفی مفکر کی حیثیت سے اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
ان مختلف علمی حیثیتوں کے فرق کو یوں سمجھا جا سکتا ہے: ایک متکلم کی بنیادی دلچسپی عقائد اور ایمانی تصورات کی توضیح اور ان کے دفاع سے ہوتی ہے۔ اس علمی مباحثے کا ایک اہم حصہ یہ متعین کرنا بھی ہے کہ کون سا عقیدہ اہلِ سنت کے مسلمہ دائرے میں آتا ہے، کون سا انحراف یا بدعت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، اور کون سا قول کفر قرار پاتا ہے۔
اس کے برعکس ایک فقیہ کی توجہ بنیادی طور پر قانونی اور شرعی مسائل پر مرکوز ہوتی ہے۔ فقہی بحث میں اصولی اخلاقیات اور عملی اخلاقیات، دونوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اسلامی تناظر میں اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی نصوص، یعنی قرآن اور حدیث، سے فقہی اصول اخذ کیے جائیں اور ایسا منہج تشکیل دیا جائے جسے مختلف حالات اور مسائل پر یکساں اور منظم انداز میں منطبق کیا جا سکے۔ اس دائرے میں شخصی عبادات، مثلاً نماز اور روزے کے احکام، بھی شامل ہیں اور روزمرہ زندگی کے معاملات، مثلاً وصیت اور مالی لین دین سے متعلق قوانین بھی۔
ایک صوفی مفکر کی بنیادی توجہ معرفتِ الٰہی کے حصول پر ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق دعاؤں، اذکار اور عبادات کے ذریعے انسان روحانی مدارج طے کر سکتا ہے اور خدا کی ایسی معرفت حاصل کر سکتا ہے جو محض عقلی استدلال اور حسی ادراک کی حدود سے ماورا ہوتی ہے۔
ان علمی حیثیتوں کے باہمی فرق کی وجہ سے ہر قسم کے مباحثے میں زور، موضوعات کی نوعیت، دائرۂ بحث، زبان اور طریقۂ استدلال مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہلِ علم نے غزالی کے وسیع علمی ذخیرے میں بظاہر پائی جانے والی داخلی کشمکشوں اور تناؤ کی نشان دہی کی ہے (Gianotti 2000; Moosa 2005; Griffel 2009)۔
چونکہ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ متعین کرنا ہے کہ اسلام اور نظریۂ ارتقا کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، اس لیے یہاں ہماری توجہ بنیادی طور پر غزالی کی حیثیتِ متکلم پر مرکوز رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں، اصل سوال یہ ہے کہ اعتقادی نقطۂ نظر سے نظریۂ ارتقا اسلامی نصوص کے ساتھ کس حد تک مطابقت رکھتا ہے؟
یہ طرزِ تحقیق خاصا معقول معلوم ہوتا ہے، کیونکہ کسی عقیدے کو دین کا لازمی حصہ قرار دینے کے لیے نص کے ثبوت اور اس کی دلالت، دونوں میں نہایت اعلیٰ درجے کی قطعیت درکار ہوتی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کی وضاحت آگے چل کر کی جائے گی۔ اس سخت علمی معیار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگر اسلامی نصوص حضرت آدمؑ کی تخلیق کی مخصوص تفصیلات کے بارے میں پوری طرح واضح نہیں ہیں، اور یہی اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو ہے، تو یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام اور نظریۂ ارتقا لازماً ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
البتہ اگر کسی واضح نص کو ایسی تاویل پر محمول کیا جائے جس کی خود نص میں کوئی گنجائش یا بنیاد موجود نہ ہو تو ایسی تعبیر اعتقادی اعتبار سے مسئلہ بن جاتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ غزالی کے نزدیک کسی تعبیر کے اعتقادی طور پر قابلِ قبول یا ناقابلِ قبول ہونے کے مختلف درجات ہیں۔ اس کا انتہائی درجہ وہ ہے جہاں کوئی تعبیر انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مسلمان اسلامی نصوص سے شرک کا مفہوم اخذ کرے، حالاں کہ ان میں بار بار نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں خالص توحید کا اثبات کیا گیا ہے، تو ایسی تعبیر اسے دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔
اس کے مقابلے میں نسبتاً کم سنگین صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان ایسی آیت کی مجازی تعبیر کرے جس کا تعلق ایمان کے بنیادی عقائد سے نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس پر کفر یا خروج از اسلام کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ غزالی کے اصولِ تعبیر میں اس بات کا فیصلہ کہ کوئی تعبیر اعتقادی طور پر قبول کی جا سکتی ہے یا نہیں، اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ متعلقہ مسئلہ دین کے بنیادی امور سے تعلق رکھتا ہے یا ثانوی امور سے۔
اس باب کی ترتیب درج ذیل ہوگی۔ پہلے حصے میں ہم غزالی کے ایک مختصر رسالے، تاویل کا کلی قانون "قانون التاویل" (آئندہ اسے کلی قانون کہا جائے گا) کا جائزہ لیں گے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ عقل اور وحی کے باہمی تعلق کی بحث کو کس طرح مرتب کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں ان کے اصولِ تعبیر کو اس کے درست علمی سیاق میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔
دوسرے حصے میں اس بات پر گفتگو ہوگی کہ غزالی سائنس اور قرآن کے باہمی تعلق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر اپنی کتاب "جواہر القرآن" (آئندہ اسے جواہر کہا جائے گا) میں مختصر بحث کی ہے۔
تیسرے حصے میں یہ واضح کیا جائے گا کہ غزالی اپنے اعتقادی فریم ورک کے اندر تعبیر و تاویل کو کس طرح سمجھتے ہیں۔ اس بحث سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ اسلامی نصوص کی تعبیر کرتے ہوئے ان کے نزدیک کون سے اعتقادی امور داؤ پر لگ سکتے ہیں۔
چوتھے حصے میں غزالی کے منہجِ تعبیر کے عملی مراحل کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنی کتاب اسلام اور زندقہ کے درمیان امتیاز کا فیصلہ کن معیار "فيصل التفرقة بين الإسلام والزندقة" (آئندہ اسے معیار کہا جائے گا) میں وہ لفظی اور غیر لفظی تعبیرات کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔ جیسا کہ آگے واضح ہوگا، وہ اسلامی نصوص کو سمجھنے کے پانچ مختلف درجات بیان کرتے ہیں۔
پانچویں اور آخری حصے میں ایک متکلم کی حیثیت سے غزالی کے اصولِ تعبیر میں احادیث کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس حصے میں یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ مختلف علمی تخصصات رکھنے والے اہلِ علم احادیث کے معاملے میں مختلف نوعیت کی احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، متکلمین، فقہا، محدثین اور صوفیا، احادیث کی جانچ اور ان کے اطلاق کے لیے یکساں علمی و معرفتی معیارات اختیار نہیں کرتے۔
اس فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے واضح ہوگا کہ غزالی کا اعتقادی نقطۂ نظر، فقیہ اور صوفی مفکر کی حیثیت سے ان کے نقطۂ نظر سے کس طرح مختلف اور ممتاز ہے۔ مجموعی طور پر یہ باب، باب 10 میں نظریۂ ارتقا سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث کو سمجھنے اور ان کی تعبیر متعین کرنے میں ہماری رہنمائی کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ بحث ہمیں یہ جاننے میں مدد دے گی کہ باب 4 میں زیرِ بحث آنے والی مختلف آرا سے غزالی کہاں اور کس بنیاد پر اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں۔
عقل اور وحی
غزالی کلی قانون میں عقل اور وحی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے پانچ مختلف مواقف بیان کرتے ہیں، اگرچہ وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ ان میں سے ہر موقف سے ان کی مراد کون سے مخصوص افراد یا گروہ ہیں۔¹ ان مواقف کو ایک تدریجی سلسلے کی صورت میں ترتیب دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اصل کتاب کے صفحہ 259 پر موجود جدول میں دکھایا گیا ہے۔
بائیں جانب سے آغاز کریں تو پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو وحی کی مطلق حاکمیت کے قائل ہیں۔ غزالی واضح کرتے ہیں کہ اس گروہ کے افراد نصوص میں اس قدر منہمک اور ان سے اس حد تک وابستہ ہوتے ہیں کہ وہ عقل کو رد کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں، خواہ اس کے نتیجے میں تناقض ہی کیوں نہ تسلیم کرنا پڑے: “شاید وہ یہ کہنے سے بھی نہ ہچکچائیں کہ کسی شخص کا بیک وقت دو مقامات پر موجود ہونا خدا کی قدرت میں ہے” (Al-Ghazālī 1998, 49)۔
جیسا کہ باب 6 میں بیان ہو چکا ہے، غزالی کے نزدیک منطقی محالات کو واقع کرنا خدا کی قدرت کے دائرے میں نہیں آتا۔ چونکہ ایک شخص کا بیک وقت دو مقامات پر موجود ہونا منطقی تناقض کو مستلزم ہے، اس لیے خدا کے لیے بھی ایسا کرنا ناممکن ہے۔ نتیجتاً نص کی ایسی تعبیر بھی اصولِ تعبیر کے اعتبار سے ناممکن قرار پاتی ہے۔ اس موقف کے حامی وحی کو اس قدر بالادست حیثیت دیتے ہیں کہ اگر نص میں ایسی کوئی بات مذکور ہو تو وہ اسے بھی قبول کر لیں گے۔
دوسرا گروہ، یعنی عقل کی مطلق حاکمیت کے قائل، اس سلسلے کے بالکل دوسرے سرے پر واقع ہے۔ اس موقف میں عقل کو مکمل بالادستی حاصل ہوتی ہے اور وہ وحی کی تعبیر کو پوری طرح اپنے تابع رکھتی ہے:
انہوں نے اپنی تحقیق کو عقل تک محدود رکھا اور نصوص کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ اگر نصوص میں کوئی ایسی بات سنتے جو ان کی عقل کے موافق ہوتی تو اسے قبول کر لیتے، لیکن اگر کوئی بات ان کی عقل سے متصادم ہوتی تو دعویٰ کرتے کہ یہ ان امور میں سے ہے جنہیں انبیا نے محض تصوراتی انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک انبیا کو عام لوگوں کی ذہنی سطح پر اتر کر بات کرنا پڑتی تھی، اور کبھی ایسا بھی ضروری ہوتا تھا کہ وہ کسی حقیقت کو اس انداز سے بیان کریں جو نفسِ امر کے مطابق نہ ہو۔ چنانچہ جو بات بھی ان کی عقل کے موافق نہ ہوتی، وہ اسی طرح اس کی تاویل کر دیتے۔ انہوں نے عقل پسندی میں اس قدر غلو کیا کہ کفر تک جا پہنچے، کیونکہ مصلحتِ عامہ کے نام پر انہوں نے انبیا، علیہم الصلاۃ والسلام، کی طرف خلافِ واقع بات منسوب کی (Al-Ghazālī 1998, 49)۔
غزالی اس مخصوص تصنیف میں یہ واضح نہیں کرتے کہ اس گروہ کے لوگ کس نوعیت کی آرا رکھتے تھے۔ تاہم قرینِ قیاس ہے کہ ان کا اشارہ مسلم فلاسفہ کی طرف ہے، یعنی ان مفکرین کی طرف جو ابن سینا کی طرح یونانی فلسفیانہ روایت کی پیروی کرتے تھے، جن پر انہوں نے اپنی معروف تنقیدی تصنیف "تہافت الفلاسفہ" میں نقد کیا ہے۔ اس کتاب میں غزالی مسلم فلاسفہ کے اختیار کردہ سترہ مسائل کو بدعت و انحراف کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، جبکہ تین مسائل کو کفر کا موجب قرار دیتے ہیں۔ ان میں عالم کے ازلی ہونے کا عقیدہ، جسمانی حشر کا انکار، اور یہ نظریہ شامل ہے کہ خدا کو جزئیات کا علم نہیں (Al-Ghazālī 2000a)۔
بالخصوص نصوص اور نظریۂ ارتقا سے متعلق ہماری بحث کے تناظر میں، معجزات کے بارے میں فلاسفہ کے موقف پر غزالی کی تنقید خاص اہمیت رکھتی ہے۔ غزالی کے نظریۂ عادت اور سببیت میں معجزات کا وقوع ممکن ہے، جیسا کہ باب 6 میں بیان ہو چکا ہے۔ لیکن بعض لوگ انہیں اس لیے رد کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ باب 4 میں زیرِ بحث آ چکا ہے، غزالی ابن سینا پر اس وجہ سے تنقید کے لیے مشہور ہیں کہ وہ معجزات کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ابن سینا کے فکری فریم ورک کا ایک بنیادی تصور یہ ہے کہ قوانینِ فطرت اٹل اور غیر متغیر ہیں، اور یہ تصور معجزات کے امکان کی نفی کرتا ہے (Richardson 2020)۔ اسی بنا پر انہوں نے اسلامی نصوص میں مذکور معجزات کی مجازی تعبیر کی۔ معجزات کے بارے میں ابن سینا کے موقف کا خلاصہ غزالی یوں بیان کرتے ہیں:
جو شخص فطرت کے معمول کے طریقوں کو لازمی اور غیر متغیر قرار دیتا ہے، وہ ان تمام معجزات کو ناممکن سمجھتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے قرآن میں مردوں کو زندہ کیے جانے کے بیان کی مجازی تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد علم کی زندگی کے ذریعے جہالت کی موت کا خاتمہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے عصا کے جادوگروں کے جادو کو نگل جانے کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ خدا کی حجت ہے جو موسیٰ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئی اور جس نے خدا کے منکروں کے شبہات کو باطل کر دیا۔ جہاں تک شقِ قمر کا تعلق ہے، وہ اکثر اس واقعے کے وقوع ہی سے انکار کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی صحیح، متواتر اور یقینی روایت موجود نہیں (Al-Ghazālī 2000a, 163)۔
ایسے دعووں کے جواب میں غزالی کہتے ہیں:
ہم ان کے اس انکار کو رد کرتے ہیں کہ عصا کا سانپ بن جانا، مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا اور اسی نوع کے دیگر معجزات ممکن نہیں۔ اسی بنا پر اس مسئلے میں تفصیلی بحث ضروری ہو جاتی ہے، تاکہ معجزات کا اثبات کیا جا سکے اور ایک دوسرے اہم مقصد کی تائید بھی ہو، یعنی اس بات کی حمایت جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (Al-Ghazālī 2000a, 165)۔
یہاں ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ غزالی کے نزدیک اسلامی نصوص میں مذکور معجزات کا انکار یا ان کی ازسرِنو مجازی تعبیر درست نہیں، کیونکہ یہ واقعات منطقی طور پر ممکن ہیں اور اسی بنا پر قدرتِ الٰہی کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ اس بات کی ایک نہایت واضح مثال ہے کہ کسی شخص کا اعتقادی یا مابعد الطبیعیاتی پس منظر اس کے اصولِ تعبیر کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ متن پر پہلے سے قائم مفروضات مسلط کرنے اور متن سے اس کا مفہوم اخذ کرنے کے باہمی تعلق کو پیشِ نظر رکھنا باب 10 میں خاص طور پر اہم ہوگا، جہاں ہم ان مختلف طریقوں کا جائزہ لیں گے جن کے ذریعے لوگوں نے نظریۂ ارتقا کو اسلامی نصوص سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسرے گروہ کے ضمن میں انبیا کی صداقت و دیانت کے بارے میں غزالی کے تبصرے کو ملحوظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ نکتہ کلی قانون میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کا ہم آگے چل کر تجزیہ کریں گے۔ مختصراً یہ کہ غزالی کے نزدیک بلا ضرورت کسی نص کی غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کرنا ایک سنگین اعتقادی معاملہ ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے، یا یہ نتیجہ لازم آتا ہے، کہ انبیا نے خدا سے وحی پانے کے بعد اپنے مخاطبین سے کلی یا جزوی طور پر خلافِ واقع بات کہی۔ انبیا کی طرف کسی بھی نوع کا کذب منسوب کرنا غزالی کے نزدیک ایک ناقابلِ عبور حد ہے۔ اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ غزالی دوسرے گروہ کو پہلے گروہ کے مقابلے میں زیادہ مسئلہ خیز قرار دیتے ہیں (Al-Ghazālī 1988, 49)۔
تیسرا گروہ، یعنی عقل پر زیادہ اعتماد رکھنے والے، وحی کو بھی ایک حد تک اہمیت دیتا ہے، لیکن تعبیر میں فیصلہ کن حیثیت اب بھی عقل ہی کو حاصل رہتی ہے:
تیسرے گروہ نے عقل کو بنیاد بنایا اور اس پر تفصیل سے غور کیا، لیکن نصوص کی طرف بہت کم توجہ دی۔ چنانچہ ان کا سامنا ان مقامات سے نہیں ہوا جو پہلی نظر اور ابتدائی تاثر میں باہم متناقض، ایک دوسرے سے متصادم یا عقل کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کی تہہ تک جانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ جب ان کے سامنے ایسی روایات آئیں جو عقل سے متصادم معلوم ہوتی تھیں تو انہوں نے انہیں رد کر دیا، نظر انداز کر دیا یا ان کے راویوں کو جھوٹا قرار دیا۔ اس سے صرف وہ نصوص مستثنیٰ تھیں جو تواتر کے ذریعے منقول تھیں، جیسے قرآن، یا ایسی احادیث جن کے الفاظ کی تاویل آسانی سے کی جا سکتی تھی۔ جن روایات کی تاویل انہیں مشکل محسوس ہوئی، انہیں انہوں نے رد کر دیا تاکہ دور ازکار تاویلات سے بچ سکیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ موقف کس قدر خطرناک ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان صحیح روایات کو بھی رد کر دیا جاتا ہے جو انہی ثقہ راویوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں جن کے واسطے سے اسلامی نصوص ہم تک منتقل ہوئے ہیں (Al-Ghazālī 1998, 50)۔
اس تبصرے کی کچھ وضاحت ضروری ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غزالی اس گروہ پر دو اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض محض غفلت سے متعلق ہے؛ ممکن ہے کہ انہوں نے کسی مخصوص مسئلے پر اسلامی نصوص کا پوری طرح جائزہ ہی نہ لیا ہو۔ دوسرا اعتراض خاص طور پر احادیث سے متعلق ہے۔ اس نکتے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی تاریخی روایت اور احادیث کی تاریخی روایت کے درمیان فرق کیا جائے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن اپنی روایت کے ہر مرحلے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ذریعے منتقل ہوا ہے کہ یہ تصور کرنا مضحکہ خیز ہوگا کہ مختلف اور ایک دوسرے سے آزاد افراد نے باہمی سازش کے تحت اس کے متن کو مرتب کیا ہو۔ اس نوع کی روایت کو تواتر کہا جاتا ہے، اور جو خبر اس طریقے سے ہم تک پہنچے اسے متواتر کہا جاتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے براعظم انٹارکٹیکا کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ کبھی وہاں نہیں گئے، لیکن ہمیں اس کے وجود کا علم اساتذہ، کتابوں، انٹرنیٹ، تصاویر اور معلومات کے مختلف ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں اتنے زیادہ اور باہم مستقل ذرائع موجود ہیں کہ اس کے وجود پر شک کرنا بے معنی ہوگا۔ انٹارکٹیکا کے وجود سے متعلق ہمارا علم متواتر ہے، جبکہ وہ متعدد آزاد ذرائع جو اس علم کی تصدیق کرتے ہیں، مجموعی طور پر تواتر کہلاتے ہیں۔
اسی طرح قرآن کی صدیوں پر محیط روایت کا ایک نہایت مضبوط تاریخی ریکارڈ موجود ہے، اسی لیے مسلمانوں نے اس کی تاریخی صحت کو کبھی سنجیدہ طور پر محلِ نزاع نہیں بنایا۔ لیکن احادیث کے بارے میں یہی بات بلا تفریق نہیں کہی جا سکتی۔ احادیث مسلمانوں کے لیے قرآن کے ساتھ ایک بنیادی ماخذ ہیں، لیکن ان میں سے ہر روایت کو قرآن جیسی تاریخی مضبوطی حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ حدیث کے نام سے ایک مستقل علمی شعبہ وجود میں آیا، جس کے ذریعے مضبوط احادیث کو کمزور روایات سے الگ کیا جاتا ہے، جیسا کہ باب 3 میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔
قرآن اور بعض احادیث متواتر ہیں، لیکن ایسی احادیث بھی موجود ہیں جو متواتر نہیں۔ انہیں آحاد کہا جاتا ہے، اور انہیں خبر واحد یا خبرِ آحاد بھی کہا جاتا ہے۔ علم و یقین کے اعتبار سے ان کا درجہ متواتر روایات سے کم ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لازماً بے فائدہ یا مردود ہیں۔ محدثین نے مختلف اصولی طریقے وضع کیے ہیں جن کے ذریعے ایسی احادیث کو بھی مضبوط درجے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر متعدد احادیث ایک ہی مضمون بیان کرتی ہوں، اگرچہ ہر روایت انفرادی طور پر کمزور ہو، تو باہمی تائید کے باعث ان کی مجموعی قوت بڑھ سکتی ہے اور ان کا معرفتی درجہ بلند ہو سکتا ہے۔
اس پس منظر میں غزالی کو اس گروہ سے یہ شکایت ہے کہ جب انہیں ایسی احادیث میں کوئی بات عقل کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو وہ یا تو انہیں فوراً رد کر دیتے ہیں، یا ان کے مفہوم کو اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ایسی احادیث کے ساتھ نہایت عجلت اور غیر محتاط انداز میں معاملہ کرتے ہیں اور ان کی جانچ کے لیے درکار اصولی و منہجی توجہ نہیں دیتے۔ احادیث کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ تفصیل بیان کی جا سکتی ہے، اور آگے کی بحث میں ایسا کیا بھی جائے گا، لیکن اس مقام پر غزالی کے مذکورہ بیان کی وضاحت کے لیے اتنی گفتگو کافی ہے۔
چوتھا گروہ، یعنی وحی پر زیادہ اعتماد رکھنے والے، تیسرے گروہ کے بالمقابل ہے۔ اس موقف میں نصوص کو سمجھتے ہوئے عقل کو کسی حد تک پیشِ نظر تو رکھا جاتا ہے، لیکن اکثر اسے مناسب توجہ نہیں دی جاتی:
چوتھے گروہ نے نصوص کو بنیاد بنایا اور ان پر تفصیل سے غور کیا۔ وہ بڑی تعداد میں نصوص سے واقف تھے، لیکن عقل سے گریز کرتے تھے اور اس کی گہرائی میں نہیں اترتے تھے۔ عقل اور نصوص کے درمیان تعارض انہیں صرف عقلی علوم کے بعض ضمنی اور حاشیائی مسائل میں دکھائی دیتا تھا۔ تاہم چونکہ عقل سے ان کی واقفیت وسیع نہ تھی اور انہوں نے اس میں گہرا غور نہیں کیا تھا، اس لیے عقلی محالات ان پر واضح نہیں ہوتے تھے؛ کیونکہ بعض امور کا محال ہونا اسی وقت سمجھ میں آتا ہے جب متعدد مسلسل مقدمات پر مبنی نہایت دقیق اور طویل تحقیق کی جائے (Al-Ghazālī 1998, 50)۔
غزالی اس گروہ پر بنیادی اعتراض یہ کرتے ہیں کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ بعض آیات کو عقل کے اصولوں کی روشنی میں ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ بعض نامعقول عقائد اختیار کر لیتے ہیں۔ غزالی چوتھے گروہ کی غلطی واضح کرنے کے لیے ان آیات کی مثال دیتے ہیں جن میں خدا کے بارے میں جہت کا تاثر دینے والے الفاظ آئے ہیں:
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو یہ نہیں جانتا کہ خدا کا کسی جگہ میں ہونا ناممکن ہے، لہٰذا وہ 'اوپر'، 'مستوی ہونے' اور اس نوع کے دیگر تمام الفاظ کی تاویل کو غیر ضروری سمجھتا ہے جو مکان پر دلالت کرتے ہیں (Al-Ghazālī 1998, 51)۔
چونکہ کلامی و فلسفیانہ دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا مکان سے ماورا ہے اور ان جدلیاتی دلائل کو پوری طرح سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اس علم سے محرومی اس گروہ کے لوگوں کو خدا کی طرف جہت منسوب کرنے جیسی غلطیوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔
آخر میں پانچواں گروہ، یعنی اعتدال پسند، عقل اور وحی دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک دوسرے کے حوالے سے دونوں کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ غزالی کے مطابق جو شخص دونوں دائروں سے متعلق علوم میں مہارت رکھتا ہو، وہ تعارض کے مواقع پر نسبتاً آسانی سے مناسب تعبیر تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم غزالی کے نزدیک بعض مواقع ناگزیر طور پر ایسے پیش آتے ہیں جہاں تطبیق مشکل ہو جاتی ہے اور انسان کو درج ذیل دو صورتوں میں سے کسی ایک کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
... ناگزیر طور پر دو ایسی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں جن میں تاویل دشوار ہوتی ہے: پہلی وہ صورت ہے جس میں انسان کو ایسی دور ازکار تاویلات اختیار کرنا پڑتی ہیں جنہیں عقل قبول کرنے سے جھجکتی ہے؛ اور دوسری وہ صورت ہے جس میں سرے سے یہ طے نہیں ہو پاتا کہ تاویل کس طرح کی جائے... جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں سے بچ نکلا ہے، اس کی وجہ یا تو عقلی علوم میں اس کی کمزوری اور عقلی محالات سے ناواقفیت ہے، جس کے باعث وہ اس چیز کو ممکن سمجھ لیتا ہے جس کے ناممکن ہونے کا اسے علم نہیں؛ یا پھر روایات کے مطالعے میں اس کی کمی ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے بہت سی ایسی انفرادی روایات نہیں آتیں جو عقل سے متصادم دکھائی دیتی ہیں (Al-Ghazālī 1998, 52)۔
جو لوگ اس مرحلے تک پہنچ جائیں، غزالی انہیں تین نصیحتیں کرتے ہیں۔ پہلی نصیحت یہ ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے، اس کام میں عاجزی اختیار کرے اور یہ تسلیم کرے کہ ممکن ہے وہ ہر چیز کا علم نہ رکھتا ہو:
پہلی نصیحت یہ ہے کہ انسان ان تمام امور کو جان لینے کی خواہش نہ کرے، اور میری اس پوری گفتگو کا مقصود بھی یہی تھا۔ اس نوع کا علم ایسی چیز نہیں جس کے حصول کی حرص کی جائے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھنا چاہیے: "اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا ہی دیا گیا ہے، (القرآن 17:85)۔
دوسری نصیحت یہ ہے کہ انسان عقل کی گواہی کا کبھی انکار نہ کرے، کیونکہ عقل جھوٹ نہیں بولتی۔ اگر عقل جھوٹ بول سکتی، تو ممکن تھا کہ وہ نصوص کی صداقت ثابت کرنے میں بھی جھوٹ بولتی، حالاں کہ نصوص کے برحق ہونے کا علم ہمیں عقل ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے (Al-Ghazālī 1998, 52)۔
اس نکتے میں غزالی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خود نصوص کی صداقت بھی عقل ہی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ جب خدا لوگوں کی طرف انبیا بھیجتا ہے تو ان کی نبوت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے انہیں معجزات عطا کرتا ہے، اور ان معجزات کو پہچاننے اور ان سے استدلال کرنے کے لیے عقل کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا جب نصوص کی صداقت ہی عقل کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تو اس کے بعد عقل کی صحت پر سوال اٹھانا ایک مغالطہ ہے۔ غزالی اس سلسلے میں ایک حدیث کی مثال دیتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ غزالی واضح کرتے ہیں کہ موت کوئی محسوس اور مادی شے نہیں بلکہ ایک حالت ہے، اس لیے حقیقتاً اسے"قتل" یا "ذبح" نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس حدیث کو اس کے ظاہری مفہوم پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے اس کی تعبیر یوں کی جانی چاہیے کہ آخرت کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں دوبارہ موت واقع نہیں ہوگی، اور مینڈھے کا ذبح کیا جانا اسی حقیقت کی علامتی نمائندگی ہے۔ اس طرح یہ طے کرنے میں کہ نصوص سے کیا معنی مراد لیے جا سکتے ہیں اور کیا نہیں، عقل ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے (Al-Ghazālī 1998, 53)۔
تیسری نصیحت یہ ہے کہ جب کسی عبارت کی مختلف ممکنہ تعبیرات باہم متعارض ہوں تو کسی ایک تعبیر کو قطعی طور پر متعین کرنے سے گریز کیا جائے۔ محض گمان اور قیاس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرنا کہ خدا یا اس کے رسول کی مراد کیا تھی، نہایت خطرناک ہے۔ کسی متکلم کی مراد اسی وقت یقینی طور پر معلوم ہو سکتی ہے جب وہ خود اسے واضح کرے۔ اگر وہ اپنی مراد بیان نہ کرے تو اسے کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ تمام ممکنہ معانی محدود ہوں اور ان میں سے ایک کے سوا باقی سب کا بطلان ثابت ہو جائے (Al-Ghazālī 1998, 53)۔
غزالی اس نکتے پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ مبہم نصوص کے بارے میں خدا کی مراد کا اندازہ لگانے کے اخروی نتائج ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی خاص تعبیر کو محض ایک ممکنہ تعبیر کے بجائے قطعی اور حتمی تعبیر قرار دے دے تو ممکن ہے کہ قیامت کے دن خدا اس سے اس دعوے کے بارے میں بازپرس کرے۔ اسی لیے قیاس و گمان کی بنیاد پر کسی تعبیر کو زبردستی متعین کرنے کے مقابلے میں توقف اور تفویض زیادہ محفوظ طرزِ عمل ہے:
یہ طرزِ عمل قیامت کے دن زیادہ سلامتی کا باعث ہے، کیونکہ بعید نہیں کہ اس روز اس شخص سے اس کے فیصلوں کے بارے میں سوال کیا جائے، اسے ان کا جواب دہ ٹھہرایا جائے اور اس سے کہا جائے: ‘تم نے ہمارے بارے میں محض گمان کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا (Al-Ghazālī 1998, 54)۔
قرآن میں متعدد آیات ایسی ہیں جن میں یہ تصور بیان ہوا ہے کہ آخرت میں انسان کے اعمال تولے جائیں گے۔ غزالی اسے اس بات کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ بعض نصوص کی ایک سے زیادہ تعبیرات ممکن ہوتی ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا:
مثال کے طور پر اگر تم پر یہ واضح ہو جائے کہ خود اعمال کو تولا نہیں جا سکتا، اور اعمال کے تولے جانے سے متعلق روایت تمہارے سامنے آئے، تو تمہیں یا تو لفظ "تولنے" کی تاویل کرنا ہوگی یا لفظ "اعمال" کی۔ ممکن ہے کہ یہاں "اعمال" کا لفظ مجازی طور پر استعمال ہوا ہو اور اس سے مراد اعمال نامے ہوں جن میں اعمال درج کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ دراصل یہی اعمال نامے تولے جائیں گے (Al-Ghazālī 1998, 53–54)۔
دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ مجازی استعمال لفظ"تولنے" میں ہو اور اس سے مراد اس کا نتیجہ، یعنی اعمال کی مقدار کا تعین ہو، کیونکہ تولنے کی حقیقت یہی ہے۔ وزن اور پیمائش، دونوں کسی چیز کی مقدار متعین کرنے کے طریقے ہیں۔
اب اگر تم عقل یا نص کی کسی دلیل کے بغیر یہ فیصلہ کر لو کہ تاویل لفظ "اعمال" کی ہونی چاہیے، نہ کہ لفظ "تولنے" کی، یا لفظ "تولنے" کی ہونی چاہیے، نہ کہ لفظ "اعمال" کی، تو تم محض اندازے کی بنیاد پر خدا اور اس کی مراد کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہو، اور اندازہ و گمان جہالت کے مترادف ہیں۔
مختصر یہ کہ غزالی اس بات کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں کہ بعض نصوص کی تعبیر کے بارے میں کوئی غیر قطعی موقف اختیار کیا جائے۔اس نکتے کے ضمن میں یہ بات بھی مفید ہوگی کہ غزالی اعتقادی توقف سے بھی کام لیتے ہیں، جس کا تصور باب 4 میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔ اس سے مراد کسی مسئلے میں سرے سے فیصلہ نہ کرنا ہے، کیونکہ نصوص اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے جس میں نص تو موجود ہیں، لیکن ان کا مفہوم مبہم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر کسی معاملے کا نصوص میں ذکر ہی نہ ہو تو کوئی شخص اس کے اثبات یا نفی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
غزالی کلی قانون میں اس مسئلے پر گفتگو نہیں کرتے، لیکن اس کی ایک مثال ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "احیاء علوم الدین" (آئندہ اسے احیاء کہا جائے گا) میں ملتی ہے۔ ایک مقام پر وہ اسلام میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے تصور پر بحث کرتے ہیں۔ صغیرہ گناہ نماز اور دعا کے ذریعے معاف ہو سکتے ہیں، لیکن کبیرہ گناہوں کے باعث انسان کو ایک مدت تک جہنم کا عذاب بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
غزالی کے مطابق کسی گناہ کے کبیرہ یا صغیرہ ہونے کا قطعی علم صرف نص ہی سے حاصل ہو سکتا ہے، کیونکہ اس فرق کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہماری روزمرہ کی فرض نمازیں آخرت میں ان گناہوں کا کفارہ بنیں گی یا نہیں۔ لہٰذا یہ ایسا فقہی حکم نہیں جس کے نتائج دنیاوی زندگی میں مرتب ہوتے ہوں اور جس کے لیے شریعت نے واضح احکام مقرر کیے ہوں، بلکہ اس کا تعلق آخرت سے ہے۔ چنانچہ اگر نصوص اس مسئلے میں خاموش ہوں تو ہمارے لیے لازم ہے کہ اس گناہ کے کبیرہ یا صغیرہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے رک جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ غزالی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایسے امور کا غیر واضح رہنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس بارے میں قطعی علم نہ ہونا اہلِ ایمان کو گناہوں سے زیادہ محتاط رہنے میں مدد دے سکتا ہے:
…کبیرہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس کا کفارہ، شرعی اعتبار سے، فرض نمازوں کی ادائیگی سے نہیں ہوتا۔ اس کی تین قسمیں ہیں: وہ گناہ جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ فرض نمازیں ان کا کفارہ نہیں بنتیں؛ وہ گناہ جن کا کفارہ فرض نمازوں سے ہو جانا چاہیے؛ اور وہ گناہ جن کے بارے میں ہمیں توقف اختیار کرنا لازم ہے۔ جن امور میں توقف کیا جاتا ہے، ان میں بعض ایسے ہیں جن کے بارے میں کفارہ ہونے یا نہ ہونے کا اثبات محض ظن پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ بعض میں مکمل شک پایا جاتا ہے۔ اس شک کو دور کرنے کا واحد ذریعہ قرآن یا سنت کی نص ہے، اور جب ایسی کوئی نص دستیاب نہ ہو تو اس شک کو ختم کرنے کی کوشش بھی ممکن نہیں رہتی (Al-Ghazālī 2018, 23)۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس بحث سے تو یہ لازم آتا ہے کہ کبیرہ گناہ کی تعریف جاننا ممکن نہیں، پھر شریعت کسی ایسی چیز کو کیسے موضوع بنا سکتی ہے جس کی تعریف ہی ممکن نہ ہو؟ تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جن امور کا تعلق دنیاوی احکام سے نہ ہو، ان میں ابہام کی گنجائش ہوتی ہے، کیونکہ قانونی ذمہ داری اور مؤاخذے کا دائرہ دنیاوی زندگی سے ہے۔ کسی فعل کو خاص طور پر "کبیرہ گناہ" قرار دینا اس فعل سے متعلق کوئی دنیاوی حکم نہیں۔
درحقیقت جن افعال پر کوئی مقررہ شرعی سزا لازم آتی ہے، وہ اپنے نام اور نوعیت کے اعتبار سے معلوم ہیں، جیسے چوری، زنا اور اسی نوع کے دوسرے جرائم۔ اس کے برعکس کسی گناہ کے کبیرہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں اس کا کفارہ نہیں بنتیں۔ اس مسئلے کا تعلق آخرت سے ہے، اور اس میں ابہام کا باقی رہنا زیادہ بہتر ہے، تاکہ لوگ محتاط رہیں اور گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کریں۔ بصورتِ دیگر وہ صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور یہ بھروسا رکھیں گے کہ ان کی نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔
اس طرح جن مسائل کا نصوص میں ذکر نہ ہو، ان کے بارے میں فیصلہ معطل رکھنا غزالی کے اصولِ تعبیر کا ایک اہم حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی پر عقل اور وحی کے باہمی توازن سے متعلق غزالی کی بحث مکمل ہوتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ غزالی پانچویں، یعنی اعتدال پسند گروہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عقل اور وحی کے درمیان مکمل اور قطعی ہم آہنگی قائم کرنے میں یہ گروہ کہاں تک جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ان کے تحفظات کیا ہیں۔ اس مختصر جائزے سے تین اہم نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
اول، غزالی عقل اور وحی دونوں کو اصولِ تعبیر میں نہایت اہم اور بنیادی عنصر سمجھتے ہیں۔ دوم، غزالی کے نزدیک ہر مسئلے میں کوئی قطعی جواب موجود ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کسی مخصوص نص کی متعدد تعبیرات ممکن ہیں۔ جب کسی ایک تعبیر کے حق میں واضح دلیل موجود نہ ہو تو کسی خاص رائے کو زبردستی حتمی قرار دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس اعتبار سے غزالی علمی تواضع کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ اسے آخرت کی جواب دہی سے جوڑتے ہیں۔ جب نص واضح نہ ہو تو خدا کی طرف منسوب کر کے کوئی قطعی بات کہنا آخرت میں مؤاخذے کا باعث بن سکتا ہے۔ سوم، غزالی اعتقادی توقف کو بخوشی اختیار کرتے ہیں۔ اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو ان سے اس مسئلے کے اثبات یا نفی، کسی بھی جانب استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
سائنس اور اصولِ تعبیر
غزالی کے اصولِ تعبیر کا ایک اور پہلو، جو ہماری بحث سے متعلق ہے، ان علوم کے بارے میں ان کا رویہ ہے جنہیں آج ہم طبعی علوم کہتے ہیں، اور یہ کہ وہ ان علوم کی روشنی میں اسلامی نصوص کو کس طرح دیکھتے تھے۔ باب 6 میں ہم نے دیکھا تھا کہ غزالی کے نظریۂ کسبِ اسباب میں طبیعی سببیت اپنی ذات میں لازمی نہیں، بلکہ قدرتی مظاہر کا ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل طور پر واقع ہونا ہے۔ اسی لیے وہ معجزات کے امکان اور واقعیت کو تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔
تاہم غزالی کے نظریۂ علم میں طبیعی دنیا کے اندر اس مسلسل تلازم کا باقاعدہ اور مکرر مشاہدہ ایک نہایت مضبوط درجے کا یقین پیدا کرتا ہے، اور اس سے سائنس کا انکار لازم نہیں آتا۔ ان کی متعدد تحریروں میں اس مفہوم کے بیانات ملتے ہیں (Al-Ghazālī 1987, 553–554; Al-Ghazālī 2013a, 19)۔ ایک مقام پر وہ یہاں تک زور دیتے ہیں کہ دین کی بالادستی ثابت کرنے کے لیے ہیئت جیسے طبعی علوم کا انکار نہیں کرنا چاہیے:
ملحدین کے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوتی ہے کہ دین کا کوئی مدافع یہ اعلان کر دے کہ یہ ہیئتی دلائل اور ان جیسے دوسرے حقائق دین کے خلاف ہیں۔ کیونکہ جب دین کے دفاع میں پیش کیے جانے والے ایسے دلائل کو اس کی صداقت کی شرط بنا دیا جائے تو ملحد کے لیے دین کی تردید کا راستہ آسان ہو جاتا ہے (Al-Ghazālī 2000a, 7)۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ غزالی طبعی علوم کو نہ تو دین کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی انہیں مذہب سے متصادم قرار دیتے ہیں (Malik 2021)۔ بلکہ وہ قرآن میں مذکور قدرتی مظاہر سے استدلال کرتے ہوئے متعلقہ موضوعات میں سائنسی ماہرین کی علمی حیثیت اور اختصاص کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے جواہر میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (القرآن 26:80)۔ غزالی اس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس ایک فعل کی حقیقت صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو علمِ طب سے پوری طرح واقف ہو، کیونکہ علمِ طب کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بیماریوں کی تمام اقسام، ان کی علامات، ان کے علاج اور علاج کے ذرائع کا علم حاصل کیا جائے (Al-Ghazālī 2013b, 30)۔
ایک اور آیت اجرامِ فلکی کی نہایت منظم اور دقیق حرکت کی طرف اشارہ کرتی ہے: سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں (القرآن 55:5)۔ اس آیت اور اجرامِ فلکی کی حرکت سے متعلق دوسری آیات کے بارے میں غزالی لکھتے ہیں:
سورج اور چاند کے ایک مقررہ حساب کے مطابق حرکت کرنے کی حقیقی معنویت صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ساخت و ترکیب سے واقف ہو، اور یہ بذاتِ خود ایک علم ہے، یعنی علمِ ہیئت (Al-Ghazālī 2013b, 31)۔
ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ غزالی سائنس مخالف نہیں تھے؛ بلکہ وہ اسلامی نصوص اور طبعی علوم کے درمیان ایک باہمی مناسبت پر مبنی، اگرچہ غیر قطعی، تعلق کے قائل تھے۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جواہر میں غزالی ان مختلف علوم کا ذکر کرتے ہیں جن سے قرآن کی معنوی گہرائیوں کو سمجھنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ان میں علمِ کلام، فقہ، علمِ لغت، علمِ قرات، علومِ تصوف اور طبعی علوم سمیت متعدد شعبے شامل ہیں (Al-Ghazālī 2013b, 18–28; Tamer 2015)۔ اس بنا پر غزالی کے نزدیک سائنس قرآن کو سمجھنے کے متعدد ذرائع میں سے صرف ایک ذریعہ ہے۔ اس نکتے کی وضاحت اس لیے اہم ہے کہ ایک فکری رجحان قرآن میں "سائنسی اعجاز" کا قائل ہونا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ جدید سائنسی تصورات قرآن میں براہِ راست اور بہ آسانی موجود ہیں (Guessoum 2011; Bigliardi 2014)۔ غزالی غالباً اس طرزِ فکر کی تائید نہ کرتے۔ ایک طرف سائنس کو قرآن کے متن میں زبردستی تلاش کرنے اور دوسری طرف طبعی علوم کو یکسر مسترد کر دینے کے بجائے انہوں نے دونوں کے درمیان مناسبت اور ربط کا متوازن راستہ اختیار کیا۔ قرآن انسان کو خدا کی کاریگری سمجھنے کے لیے عالمِ فطرت کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن وہ خود سائنسی تفصیلات کی کتاب نہیں ہے (Tamer 2015, 74)۔
چونکہ خدا ہر شے کا خالق ہے اور قرآن کا ایک بڑا حصہ قارئین کو عالمِ فطرت میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اس لیے قرآن مسلمانوں کو دنیا دیکھنے اور سمجھنے کا ایک بنیادی زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے (Tamer 2015, 72)۔ مثال کے طور پر غزالی سورۂ فاتحہ کی ایک آیت پر غور کرتے ہوئے خدا کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ ہر جانور کو اس کے مقصد کے لیے نہایت موزوں انداز میں تخلیق کیا گیا ہے۔ شہد کی مکھی کی مثال میں وہ قاری کو چھتے کی ہندسی ساخت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جو دوسری ممکنہ شکلوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ جگہ مہیا کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: یہ خدا کی کاریگری کے عجائب اور اپنی مخلوق پر اس کے لطف و رحمت کی ایک مثال ہے(Al-Ghazālī 2013b, 52–53)۔
اسی بنا پر اطالوی محقق ماسیمو کیمپانینی بجا طور پر بجا طور پر لکھتے ہیں کہ غزالی قرآن کو تمام علوم کا ذخیرہ نہیں، بلکہ علوم تک رسائی فراہم کرنے والی رہنما کلید سمجھتے ہیں: قرآن میں 'تمام علوم' موجود نہیں، لیکن بلاشبہ اس میں وہ کلیدیں موجود ہیں جو تمام علوم تک رسائی فراہم کرتی ہیں (Campanini 2011, 35)۔ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ غزالی کے نزدیک سائنس اور نصوص ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی بہتر تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ غزالی ایک طرف معجزات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول کرتے ہیں اور دوسری طرف سائنسی مظاہر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، تو ان دونوں رویوں میں مطابقت کیسے قائم ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب ان کے اس منہج میں پوشیدہ ہے جس کے تحت وہ نصوص کی لفظی اور مجازی تعبیر کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ اگلے حصے میں اسی موضوع کا جائزہ لیا جائے گا۔
علمِ کلام اور اصولِ تعبیر
غزالی اپنی کتاب معیار میں یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ اسلامی نصوص کو کن مواقع پر ظاہری و لفظی معنی میں لیا جانا چاہیے اور کن مواقع پر غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کے اس منہج کو درست سیاق میں سمجھنے کے لیے ان اعتقادی بنیادوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جن پر یہ قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزالی کے اصولِ تعبیر کو ان کے اعتقادی تصورات کی روشنی میں دیکھے بغیر پوری طرح سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔
یہ پورا رسالہ بنیادی طور پر اس سوال سے بحث کرتا ہے کہ نصوص کی تعبیر یا کسی تفسیری رائے کے باعث کسی شخص پر کفر کا حکم کب عائد کیا جا سکتا ہے، یعنی اسے دائرۂ اسلام سے خارج کب قرار دیا جا سکتا ہے۔ غزالی کے نزدیک کفر کی تعریف یہ ہے کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرے۔ اس کے برعکس ایمان یہ ہے کہ انسان رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ حقائق کو دل کی گہرائی سے سچا تسلیم کرے (Al-Ghazālī 2002, 92)۔ چونکہ قرآن اللہ کے کلام کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کو ایسا سچا انسان مانا جاتا ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، اس لیے نصوص کو اصولاً ان کے ظاہر اور متبادر معنی پر محمول کیا جانا چاہیے، جب تک کہ انہیں کسی دوسرے معنی میں لینے کی کوئی مضبوط دلیل موجود نہ ہو، اگرچہ اس اصول کے ساتھ بعض قیود بھی ہیں جن کی وضاحت آگے آئے گی۔
غزالی کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ظاہری معنی سے ہٹ کر غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کرنے کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود نہ ہو تو وہ خطا کا مرتکب ہوتا ہے (Al-Ghazālī 2002, 104; Griffel 2009, 112)۔ چنانچہ اسلامی نصوص کی من مانی تعبیر، خصوصاً کسی نہایت مضبوط دلیل کے بغیر، ایک باطل طرزِ عمل ہے۔
تاہم ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ کفر کا حکم صرف اسی وقت عائد ہو سکتا ہے جب کوئی شخص ایمان کے بنیادی عقائد کی غیر لفظی یا مجازی تعبیر کرے۔ غزالی لکھتے ہیں: اگر ان کی مجازی تعبیر کا تعلق کسی ایسے مسئلے سے ہو جو عقیدے کے بنیادی اصولوں اور لازمی تقاضوں سے متعلق نہ ہو تو ہم انہیں کافر قرار نہیں دیتے (Al-Ghazālī 2002, 107)۔ یہاں فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقیدے کے بنیادی اصول کون سے ہیں؟ غزالی تین امور کو ایمان کی بنیاد قرار دیتے ہیں: بنیادی اصول یہ ہیں کہ اللہ کے وجود، اس کے رسول کی نبوت اور یومِ آخرت کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے (Al-Ghazālī 2002, 112)۔
غزالی کے نزدیک جب تک کوئی شخص اسلامی نصوص میں ان تینوں بنیادی عقائد کو محض استعارہ یا مجاز قرار نہیں دیتا، اس پر کفر کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ثانوی مسائل کا کیا حکم ہے؟ اس سلسلے میں غزالی ایک اہم قید کا اضافہ کرتے ہیں:
جان لو کہ اصولی طور پر کسی بھی ثانوی مسئلے میں کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ اس کی صرف ایک استثنائی صورت ہے: وہ شخص کسی ایسے دینی عقیدے یا حکم کا انکار کرے جو رسول اللہ ﷺ سے معلوم ہوا ہو اور تواتر کے ذریعے ہم تک پہنچا ہو (Al-Ghazālī 2002, 112)۔
یہ نکتہ تاریخی روایت سے متعلق ہماری سابقہ بحث سے وابستہ ہے۔ قرآن اور بعض احادیث تواتر کے درجے تک پہنچی ہیں، اس لیے ان کی تاریخی صحت میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ان کا انکار کرے تو اس پر کفر کا حکم عائد ہوگا، کیونکہ ان کا انکار دراصل رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دینے کے مترادف ہے:
جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کہا تھا، اسے کافر قرار دینا لازم ہے، خواہ اس کا یہ دعویٰ کسی ثانوی مسئلے ہی سے متعلق کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہے کہ مکہ میں موجود یہ گھر وہ کعبہ نہیں ہے جس کا حج کرنے کا اللہ نے لوگوں کو حکم دیا ہے، تو یہ قول کفر ہوگا؛ کیونکہ یہ دعویٰ اس امر کے خلاف ہے جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ذریعے ثابت ہو چکا ہے۔ اور اگر وہ شخص گرفت سے بچنے کے لیے یہ انکار کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی صراحت کے ساتھ یہ فرمایا ہی نہیں کہ یہی گھر کعبہ ہے، تو اس کا یہ انکار بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا (Al-Ghazālī 2002, 113)۔
تاہم غزالی اس معاملے میں بھی کسی قدر نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں: یہاں بھی بعض مسائل میں زیادہ سے زیادہ اسے خطاکار قرار دیا جا سکتا ہے... یا پھر اسے بدعت کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے (Al-Ghazālī 2002, 112–113)۔ غزالی یہاں "بدعت" سے اعتقادی انحراف مراد لیتے ہیں، جو اہلِ سنت کے مسلمہ عقیدے اور کفر کے درمیان ایک درجہ ہے۔ چنانچہ کسی ایسے غیر بنیادی عقیدے کا انکار، جو تواتر سے منقول نص سے ثابت ہو اور اس بنا پر متواتر ہو، اگرچہ مسلمہ عقیدے سے انحراف شمار ہو سکتا ہے، لیکن لازماً کفر کے حکم کا موجب نہیں بنتا۔
آخر میں غزالی خبرِ آحاد کے ذخیرے کے بارے میں اپنا موقف بالکل واضح کر دیتے ہیں: یقیناً اگر کوئی شخص کسی خبرِ واحد کی صحت کا انکار کرے تو اسے کافر قرار دینا لازم نہیں ہوگا۔
ان نکات کی وضاحت کے بعد غزالی اپنے موقف کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:
جہاں تک پہلے تین بنیادی اصولوں، یعنی خدا، رسول اور یومِ آخرت، نیز ان نصوص کا تعلق ہے جو تواتر کے ذریعے منقول ہوئی ہوں، اپنی ذات میں کسی مجازی تعبیر کی گنجائش نہ رکھتی ہوں، اور جن کے مضمون کے خلاف کسی قطعی عقلی دلیل کا تصور بھی ممکن نہ ہو، تو ان کی مخالفت دراصل انہیں صاف اور صریح جھوٹ قرار دینا ہے؛ مثلاً جسمانی حشر، جنت اور جہنم کا انکار۔ البتہ جو نصوص مجازی تعبیر کی گنجائش رکھتی ہوں، خواہ وہ تاویل بظاہر کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو، ان کے بارے میں اس عقلی دلیل کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر مجازی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اگر وہ دلیل قطعی ہو تو اسے قبول کرنا لازم ہوگا۔ لیکن اگر عقلی دلیل قطعی نہ ہو، بلکہ صرف غالب گمان پیدا کرتی ہو، اور اس تعبیر سے دین کو کوئی نقصان بھی نہ پہنچتا ہو، تو ایسی رائے کفر نہیں بلکہ بدعت شمار ہوگی۔ رہے وہ امور جو بظاہر دین کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، تو ان کا حکم متعین کرنا اہلِ علم کے اجتہاد اور ظنی تحقیق پر موقوف ہوگا۔ ممکن ہے کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دینے کی بنیاد بنیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ بنیں (Al-Ghazālī 2002, 114)۔
واضح ہے کہ غزالی کے نزدیک تین بنیادی عقائد خدا، رسول اور آخرت پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ اسی طرح ان متواتر نصوص کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے جو مجازی تعبیر کی گنجائش نہیں رکھتیں۔ بصورتِ دیگر کسی شخص پر کفر کا حکم عائد ہو سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بہت سے ایسے درمیانی اور غیر واضح مسائل ہیں جن کا فیصلہ ہر معاملے کی نوعیت کو الگ الگ دیکھ کر کرنا ہوگا۔
یہی وہ اعتقادی پس منظر ہے جس میں غزالی کے اصولِ تعبیر کو سمجھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ واضح ہے، غزالی کفر کے حکم کے لیے ایک نسبتاً محدود، لیکن واضح اور سیدھا معیار مقرر کرتے ہیں۔ یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ باب 4 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ بعض اہلِ فکر نے انسانی ارتقا کے عقیدے کو دائرۂ اسلام سے خروج کا موجب قرار دیا ہے (Keller 2011)۔ اس کے برعکس غزالی کا فریم ورک اس وقت تک خاصی گنجائش فراہم کرتا ہے جب تک کوئی تعبیر ایمان کے تین بنیادی اصولوں اور متواتر نصوص سے متصادم نہ ہو۔
حضرت آدمؑ کی تخلیق کا واقعہ، بذاتِ خود، غزالی کے بیان کردہ بنیادی عقائد سے متصادم نہیں۔ چنانچہ اگر نظریۂ ارتقا میں کوئی اعتقادی اشکال موجود ہے تو اسے کسی متواتر نص کے ساتھ اس کے تعارض کی بنیاد پر ثابت کرنا ہوگا، اور اس صورت میں بھی شرط یہ ہے کہ وہ نص مجازی تعبیر کی گنجائش نہ رکھتی ہو۔ آیا واقعی ایسی صورت پائی جاتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ باب 10 میں کیا جائے گا۔
کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب
دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ مذہب سے قطعِ نظر یہ بہت بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا جواب صنعتی انقلاب نے دیا تو سہی، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ کیا واقعی اس پورے عالم کا کوئی بدیع، صانع اور خالق بھی ہے؟ صنعتی انقلاب کا باقاعدہ آغاز اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں ہوا۔ یکایک سب کچھ بدلنے لگا۔ دھیرے دھیرے انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی اور کئی گنا بہتر انداز میں وہی کام کم وقت میں کرنے لگیں جو انسان کم معیار اور زیادہ وقت کے ساتھ کرتا تھا۔ یہ چیز انسان کو نرگسیت اور احساس برتری میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھی۔ شاید تبھی جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے انیسویں صدی میں God is dead کا نعرہ لگا کر 'مڈل مین' کا انکار کیا اور انسان کے اس نعرۂ من برتر کو مزید ہوا دی۔ جیسے جیسے ترقی ہوتی رہی، کائنات کے راز فاش ہوتے رہے ویسے ویسے انسان مادے کا اسیر ہوتا رہا۔ ظاہر ہے، ہزاروں سالوں کے بعد وہ اپنی محدود دنیا سے اچانک باہر نکلا تھا، اچانک چبھنے والی اس چکا چوند سے اس کی آنکھوں کا متاثر ہو جانا غیر معمولی بات نہیں تھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مادے سے قربت واقعی اس بات کا باعثِ اصلی ہے کہ انسان خدا سے دور ہونے پر مجبور ہو چکا ہے۔ کیا نت نئی دریافتیں واقعی غیر محسوس انداز میں آباؤ اجداد سے چلے آ رہے اس چٹان نما مستحکم یقین کے سینے کو چھید رہی ہیں؟
صنعتی انقلاب کے بعد انسان کائنات کے مخفی حقائق اور تیزی سے تلاش کرنے لگا، اس کی جستجو میں تیزی آئی اور نتائج تک جلد پہنچنے کی ہوس اس میں ویسے ہی بڑھ گئی، جیسے کوئی مشین جلد سے جلد نقطۂ اختتام تک پہنچا دیتی ہے۔ ابتدائی طور پر انسان کو یہی محسوس ہوا کہ یہ کائنات ایک روٹین کے ساتھ چل رہی ہے، یہاں کچھ متعین اصول و ضوابط کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ہی مل ملا کر ہستی کو سنبھالا ہوا ہے۔ مفکرین کا خیال تھا کہ مادے کے چند قوانین کو سمجھ کر پوری کائنات کی تشریح ممکن ہے، اور اس بظاہر خودکار نظام میں کسی ماورائے عقل خالق کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن تجسس کے ہاتھوں مجبور انسان جیسے جیسے غور و فکر کر کے گہرائیوں میں اترتا گیا، اور کوانٹم فزکس، بلیک ہول، ڈی این اے کے ناقابل یقین معلوماتی نظام اور کائنات کی بناوٹ میں موجود انتہا کی نفاست جیسے سربستہ راز اس کی عقل کے پردے پر حرکت کرنے لگے، تو وہی نظام جس کو سمپل اور سادہ قرار دے کر وہ خدا کو ایک غیر ضروری وجود قرار دے چکا تھا، اسی نظام کی باریک بین پرفیکشن نے اس کی عقل کو ہلا کر رکھ دیا، اور وہ اس بات کو ماننے کے قریب ہونے لگا کہ کوئی تو ہے، جو اگر ڈیزائنر ہے تو اس کا ڈیزائن پرفیکٹنس کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے، جو اگر ریاضی دان تو اعداد کی بازی گری سے واقف ہے، جو اگر آرٹسٹ ہے تو رنگوں کے ملاپ کے ان رازوں سے بھی واقف ہے کہ ذرہ برابر چیونٹی میں کئی رنگ بھر دیتا ہے، اور اتنے بڑے آسمان کو فقط ایک رنگ بخشتا ہے، اور اس رنگ کو انسان ہزاروں برس سے تکتا آ رہا ہے پر آج تک نہ تھکا ہے، نہ لمحے بھر کو اکتایا ہے۔
اگر کچھ دیر کے لیے یہ بات مان بھی لیں کہ سب کچھ مادہ اور اس کے مخصوص اصولوں کا کیا دھرا ہے، تو سوال یہ ہے کہ مادے کے پاس تو صرف حرکت ہے، پرفیکٹ حرکت تو نہیں ہے نا۔ یہ بات بالکل ویسے ہے جیسے ہم کینوس پر رنگ کا ڈبہ پھینکیں اور یہ توقع کریں کہ مونا لیزا جیسا شاہ کار وجود میں آ جائے۔ کائنات کا تناسب اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔ خدا نے قرآن کے مقابلے کی کتاب لانے کا چیلنج کیا تھا، وہی چیلنج یہ کائنات بھی بزبان حال دیتی ہے، اور یہی سوال کرتی ہے کہ کوئی ہے ایسا تخلیق کار، جس کے پاس اس سے بہتر خیال موجود ہو؟ کوئی ہے ایسا رنگ مصور جو سبزے کے لیے کوئی اور بہتر رنگ تجویز کر سکے؟ کوئی ہے جو غذائی سائیکل کو اس سے اعلیٰ انداز میں پیش کر سکے؟ کوئی ہے جو کائنات کے نظم کے لیے زیادہ اچھا خاکہ بنا سکے اور کوئی ہے ایسا جو اس کائنات کے عروج و زوال کی کہانی کا نسبتاً بہتر پلاٹ پیش کر سکے۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس سب میں واقعتاً انسان کو خدا نظر نہیں آ رہا، یا اگر نظر آ رہا ہے تو وہ کون سا محرک ہے جس نے اسے نظریں چرانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس سب کے باوجود بھی انسان خدا کا منکر کیوں ہے؟ میری طالب علمانہ فکر اس کی دو وجوہات بیان کرتی ہے۔ پہلی وجہ مطلق آزادی کا تصور ہے۔ کلیسا کے غیر حقیقی اور انتہائی متشدد رویے کے نتیجے میں بالآخر مغرب نے مذہب کو اپنی سماجی زندگی سے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ اب مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے، کسی بھی خارجی قوت، حتی کہ ریاست کو بھی اختیار نہیں کہ وہ مذہب کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ یا جبری نفاذ کرے۔ یہ Absolute freedom (مطلق آزادی) کا تصور تھا۔ بیسویں صدی میں فرنچ مفکر ژاں پال سارتر نے Radical Freedom کا فلسفہ پیش کیا۔ یہ نظریات اتنے پرکشش تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئے اور بہت کم ایسے لوگ رہ گئے جو ان خیالات سے متاثر نہیں ہوئے۔ (یا نہ ہونے کا دکھاوا کرتے رہے۔) سوشل میڈیائی انقلاب کے بعد ویسے بھی معلومات کا بہاؤ اور بڑھ گیا۔ سو آج کا انسان خود کو ماضی کی بہت ساری روایات اور ان کہے قوانین سے آزاد سمجھتا ہے۔ ایک دفعہ (بزعم خود) آزاد ہونے کے بعد دوبارہ مذہبی پابندیوں کو قبول کر لینا ایک بہت مشکل امر ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کا اقرار انسان سے ایسے بہت سارے امور کا تقاضا کرتا ہے جن سے مذکورہ فکر سے متاثر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک خارجی طاقت اس کی آزادی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ نئے دور کا انسان بھلے معلومات کے بہاؤ میں بہہ رہا ہے، ماضی کے لوگوں کی بنسبت اس نے بہت کم وقت میں زیادہ دلائل کو اکٹھا کر لیا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو معلومات کا بہاؤ ایک ہی جانب ہے۔ وہ ٹرینڈ سے جڑے رہنے پر مجبور ہے۔ وہ ٹرینڈ کو اپنے خیالات کی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے افکار کو ٹرینڈ کے ترازو میں تولتا اور اسی کے معیار پر پرکھتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی غیر جانب دار نہیں ہے۔ وہ اس دلیل کو قبول تو کرتا ہے جو وجودِ خدا کا انکار کرتی ہے، لیکن اس دلیل کو، جو پکار پکار کر خدا کے وجود کا اعلان کرتی ہے، وہ ماننے سے پہلے عقلی اور منطقی معیار پر تولنے کے بجائے ان متعینہ معیارات میں تولتا ہے جو اس کے دماغ میں غیر محسوس طور پر گھسا دیے گئے ہیں۔ وہ دلیل کو قبول نہیں کرتا یا پھر کرنا نہیں چاہتا۔
ماضی کے ملحد کے پاس شاید تھوڑی بہت وجہ تھی، لیکن حال کے ملحد کے پاس وہ بھی باقی نہیں رہی۔ فرنچ فلسفی رینے ڈیکارٹ نے انسانی وجود کے تحقق پر دلیل قائم کی تھی کہ I think, therefore I am کہ میں سوچتا ہوں، اسی لیے میں ہوں۔ اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں کہ I am, therefore God is کہ میں ہوں، اسی لیے خدا بھی موجود ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے اندر اتنا متناسب اور مکمل ہونا کہ اس سے مزید بہتر ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو سکے؛ بھلا اس سے بڑھ کر کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟ بھلا کیسے کوئی اتنے پرفیکٹ نظام عالم کو محض حادثات اور اتفاقات کا نتیجہ کہہ سکتا ہے؟ کہنے والے نے یوں ہی نہیں کہا تھا کہ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، وہ واقعی مل جاتا ہے، بس اس کے لیے ایک غیر جانب دار نظر اور سوچنے والا ذہن چاہیے۔
اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ
محمد سراج اسرار
باب چہارم: عہدِ خلافت
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُن کے سب سے قریبی مشیر، معاون اور رفیقِ کار تھے۔ خلافت کے تمام اہم معاملات میں حضرت ابوبکرؓ ان سے مشورہ کرتے تھے اور ان کی رائے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ مرتدین کے خلاف جنگوں، اسلامی ریاست کے استحکام، فتوحات کے آغاز اور قرآنِ مجید کی تدوین جیسے اہم معاملات میں حضرت عمرؓ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ کی انتظامی صلاحیتوں، دور اندیشی، عدل پسندی اور دینی بصیرت کا گہرا مشاہدہ کیا تھا، اس لیے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت کے لیے سب سے موزوں شخصیت حضرت عمرؓ ہیں۔
۱۳ ہجری میں جب حضرت ابوبکر صدیقؓ شدید بیمار ہوئے اور انہیں اپنی وفات کا احساس ہونے لگا تو انہوں نے امت کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر شروع کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ مسلمانوں میں اختلاف اور انتشار پیدا نہ ہو، اس لیے انہوں نے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کے مسئلے پر متعدد جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے — جن میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت اسید بن حضیرؓ اور دیگر اکابر صحابہ شامل تھے — حضرت عمرؓ کے بارے میں مشورہ کیا۔ اگرچہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کی سخت گیری کی طرف اشارہ کیا، لیکن سب نے ان کی دیانت، تقویٰ، قوتِ فیصلہ اور عدل و انصاف کا اعتراف کیا۔ مشاورت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے باقاعدہ طور پر حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین نامزد کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت عثمانؓ کو بلا کر ایک تحریر لکھوائی، پھر یہ تحریر لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تاکہ سب اس فیصلے سے آگاہ ہو جائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس فیصلے کی قبولیت کی دعا بھی کی کہ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق امت کے لیے سب سے موزوں شخص کو منتخب کیا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح خلافت ان کی طرف منتقل ہو گئی۔ خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں ایک مؤثر خطبہ دیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی ذاتی رائے کی بجائے کتاب اللہ اور سنتِ رسولؐ کے مطابق حکومت کریں گے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے طرزِ عمل کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو یہ حق دیا کہ اگر وہ حق سے ہٹیں تو انہیں متنبہ اور درست کیا جائے۔ اس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ سے حضرت عمر فاروقؓ تک خلافت کا انتقال نہایت منظم، پُرامن اور مشاورت کے اصول کے مطابق ہوا۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا جس نے امتِ مسلمہ کو انتشار سے محفوظ رکھا اور خلافتِ راشدہ کے تسلسل کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
حضرت عمرؓ نے اپنے پیش رو کے اعتماد کو درست ثابت کرتے ہوئے مثالی دورِ حکومت قائم کیا۔ خلیفۂ ثانی کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کے درخشاں ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ کی خلافت ۱۳ ہجری سے ۲۳ ہجری تک رہی، یعنی تقریباً دس سال اور چھ ماہ، اس زمانے میں اسلامی ریاست کی سرحدیں غیر معمولی طور پر وسیع ہوئیں، عراق، شام، مصر اور ایران کے وسیع علاقے اسلامی اقتدار میں آئے، جبکہ بیت المقدس مسلمانوں کے زیرِ نگیں ہوا۔ ۱۶ھ بمطابق ۶۳۸ء میں حضرت عمرؓ کے دور میں اہلِ بیت المقدس نے صلح کے ذریعے اسلامی اقتدار قبول کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت عمرؓ نے بیت المال، عدلیہ، نظامِ شرطہ (پولیس)، مالی و انتظامی اندراجات کا منظم نظام، صوبائی نظم و نسق، فوجی رجسٹروں (دیوان) اور عدل و احتساب کا ایسا مضبوط نظام قائم کیا جس نے اسلامی ریاست کو ایک منظم اور مضبوط انتظامی ریاست بنا دیا۔ انہی غیر معمولی فتوحات، اصلاحات اور عدل و انصاف کی وجہ سے حضرت عمرؓ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب سمجھا جاتا ہے۔
فتوحاتِ عراق و ایران
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست کی سب سے بڑی عسکری کامیابی عراق اور ایران کی فتوحات تھیں۔ اگرچہ ابتدائی مہمات کا اصل ہدف عراق تھا، جو اس وقت ساسانی سلطنت کا سرحدی صوبہ تھا، لیکن ایرانی حکمرانوں کی مسلسل جوابی کارروائیوں اور نئی فوجی تیاریوں کے باعث مسلمانوں کو رفتہ رفتہ ایران کے اندر پیش قدمی کرنا پڑی۔ چنانچہ قادسیہ، مدائن، جلولا اور نہاوند جیسے معرکے ایک ہی تاریخی سلسلے کی مختلف کڑیاں بن گئے۔ انہی فتوحات کے نتیجے میں نہ صرف عراق اسلامی ریاست کا حصہ بنا بلکہ ساسانی سلطنت بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور ایران کے وسیع علاقے اسلامی اقتدار میں شامل ہو گئے۔ تاریخی کتب میں ان واقعات کو بعض اوقات صرف فتوحاتِ عراق کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، کیونکہ ابتدائی مہم کا مرکز عراق تھا، جبکہ بعض مؤرخین انہیں فتوحاتِ عراق و ایران یا فتوحِ فارس کے ضمن میں ذکر کرتے ہیں۔
مہمِ عراق کا آغاز
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے عراق کے متعدد اہم علاقوں، جن میں بانقیا، کسکر اور حیرہ شامل تھے، فتح کر لیے تھے۔ تاہم جب شام میں رومیوں کے خلاف جنگ کی ضرورت پیش آئی تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو شام روانہ ہونے کا حکم دیا۔ انہوں نے عراق میں حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کو اپنا جانشین مقرر کیا، لیکن ان کے شام روانہ ہوتے ہی عراق میں اسلامی پیش قدمی سست پڑ گئی۔
حضرت عمرؓ جب منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے عراق کی مہم کو مکمل کرنے کا عزم کیا۔ بیعتِ خلافت کے موقع پر عرب کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ حضرت عمرؓ نے اس اجتماع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلسل کئی دن تک جہاد کی ترغیب دی، مگر اس وقت عربوں میں یہ تاثر عام تھا کہ عراق سلطنتِ فارس کا مضبوط ترین حصہ ہے اور اس کی فتح نہایت دشوار ہوگی، اس لیے ابتدا میں مجمع خاموش رہا اور فوری طور پر کوئی نمایاں جواب سامنے نہ آیا۔
چند روز بعد حضرت عمرؓ کی ولولہ انگیز تقریر نے حاضرین کے دلوں میں نیا جوش پیدا کر دیا۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ ایرانیوں کی قوت کو آزما چکے ہیں اور وہ ناقابلِ شکست نہیں ہیں۔ اسی دوران قبیلہ ثقیف کے سردار حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے اٹھ کر اعلان کیا ’’انا لها‘‘ (میں اس مہم کے لیے تیار ہوں)۔ ان کے اس اعلان نے مجمع میں جوش کی لہر دوڑا دی اور بہت سے افراد جہاد کے لیے آمادہ ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے مدینہ اور اس کے نواح سے ایک لشکر تیار کیا اور حضرت ابو عبید ثقفیؓ کو اس کا سپہ سالار مقرر کر کے عراق روانہ فرمایا۔
جنگِ پل اور مسلمانوں کا پہلا بڑا امتحان
دوسری جانب حضرت خالد بن ولیدؓ کی مہمات نے سلطنتِ فارس کو خطرے کا احساس دلا دیا تھا۔ ساسانی سلطنت اس وقت شدید سیاسی انتشار کا شکار تھی۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں پوران دخت سمیت کئی حکمران آئے، اور بالآخر یزدگرد سوم تخت نشین ہوا۔ جب خراسان کے گورنر فرخ زاد کے بیٹے رستم کو — جو ایک قابل سپہ سالار اور مدبر سیاست دان تھا — جنگی امور کا نگران مقرر کیا گیا تو رستم نے ایرانیوں کو متحد کیا، ان میں قومی اور مذہبی جوش پیدا کیا اور سلطنتِ ساسانیہ کو دوبارہ منظم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
حضرت ابو عبید ثقفیؓ کی آمد سے پہلے ہی رستم نے فرات کے اطراف بغاوتیں بھڑکا دیں، جس کے نتیجے میں کئی علاقے مسلمانوں کے قبضے سے نکل گئے۔ اس نے مزید فوجیں روانہ کیں جن کی قیادت نرسی اور جابان کر رہے تھے۔ جابان کی فوج کا مسلمانوں سے مقابلہ ہوا، لیکن اسے سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی فوج کے کئی بڑے افسر مارے گئے اور جابان گرفتار ہوگیا۔ تاہم جس مسلمان سپاہی نے اسے گرفتار کیا تھا وہ اسے پہچان نہ سکا۔ جابان نے دو غلاموں کے بدلے اپنی رہائی حاصل کر لی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی تو بعض لوگوں نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے فرمایا کہ اسلام میں عہد شکنی کی اجازت نہیں۔
اس کامیابی کے بعد مسلمانوں نے سقاطیہ میں نرسی کی فوج کو بھی شکست دی، جس کے نتیجے میں اردگرد کے کئی مقامی سردار مسلمانوں کے مطیع ہوگئے۔ ان پے در پے ناکامیوں کے بعد رستم نے ایک اور لشکر روانہ کیا، لیکن جلد ہی فیصلہ کن معرکہ پیش آیا جسے تاریخ میں جنگِ پل Battle of the Bridge کہا جاتا ہے۔ حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے بعض فوجی کمانڈروں کے اختلاف کے باوجود فرات عبور کر کے ایرانیوں کا مقابلہ کیا۔ میدان تنگ اور غیر ہموار تھا، جبکہ مسلمانوں کے لیے پہلی مرتبہ ایرانی جنگی ہاتھیوں کا سامنا کرنا بھی ایک بڑا امتحان تھا۔ نتیجتاً مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا، حضرت ابو عبید ثقفیؓ شہید ہوگئے اور لشکر کا بڑا حصہ شہید یا منتشر ہو گیا۔
جنگِ بویب اور مسلمانوں کی نئی پیش قدمی
اس شکست کی خبر مدینہ پہنچی تو حضرت عمرؓ نے عرب قبائل کو دوبارہ جہاد کے لیے ابھارا۔ ان کی پرجوش اپیل کا اثر یہ ہوا کہ بعض عیسائی عرب قبائل نے بھی یہ کہہ کر مسلمانوں کا ساتھ دیا کہ یہ عرب و عجم کا مقابلہ ہے، اس لیے وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ حضرت جریر بن عبد اللہؓ کو ایک لشکر دے کر عراق روانہ کیا گیا، جبکہ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے بھی سرحدی قبائل کو جمع کر کے نئی فوج تیار کر لی۔
ایرانیوں نے مہران بن مہرویہ کی قیادت میں بارہ ہزار منتخب سپاہیوں کو میدان میں اتارا، لیکن حیرہ کے قریب ہونے والی جنگ میں انہیں شکست ہوئی اور مہران مارا گیا۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے پل بند کروا دیا، جس کے باعث ایرانی فوج کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ اس فتح کے بعد مسلمان دوبارہ عراق کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور سورا، کسکر، صراۃ اور فلالیح جیسے علاقے ان کے زیرِنگیں آگئے۔
یہ خبریں مدائن پہنچیں تو ایران میں نئی اصلاحات شروع ہوئیں اور بالآخر یزدگرد سوم ساسانی سلطنت کا حکمران بنا۔ سلطنت کو ازسرِنو منظم کیا گیا، فوجی قلعوں کو مضبوط بنایا گیا اور مسلمانوں کے زیرِقبضہ علاقوں میں بغاوتیں کرائی گئیں۔ نتیجتاً کئی علاقے دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ عرب کی سرحد کی طرف واپس ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے عرب قبائل کو متحد ہونے کی دعوت دی اور حضرت عمرؓ کو ایرانی تیاریوں سے تفصیل سے آگاہ کیا۔
معرکۂ قادسیہ اور فتحِ مدائن و جلولا
حضرت عمرؓ نے اس مرحلے پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو تقریباً بیس ہزار مجاہدین کے ساتھ عراق کی فیصلہ کن مہم پر روانہ کیا۔ اس لشکر میں بدر اور فتح مکہ کے متعدد ممتاز صحابہ کرام شامل تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ شراف پہنچے، لیکن اسی دوران حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کا انتقال ہوگیا، حضرت سعدؓ کو ان کی وصیتیں اور جنگی مشورے پہنچائے گئے۔ حضرت عمرؓ عراق کے جغرافیے سے بخوبی واقف تھے، اس لیے وہ مسلسل خطوط کے ذریعے فوجی نقل و حرکت، پڑاؤ، رسد اور دفاعی انتظامات کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہی ہدایات کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے شراف سے آگے بڑھ کر قادسیہ کو مستقل جنگی مرکز بنایا۔
اس سے پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے متعدد اکابر صحابہ پر مشتمل وفود یزدگرد کے دربار بھیجے تاکہ اسے اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے کی دعوت دی جائے، مگر ایرانی دربار نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ کئی ماہ تک دونوں فوجیں آمنے سامنے رہیں۔ رستم ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ ساباط میں پڑا رہا اور حتی الامکان جنگ سے گریز کرتا رہا، لیکن بالآخر وہ بھی قادسیہ کے میدان میں آگیا۔ قادسیہ کی جنگ اسلامی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کئی دن تک جاری رہی۔
پہلے دن، جسے یومِ ارماث کہا جاتا ہے، دونوں افواج نے زبردست جنگ کی، مگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ دوسرے دن، یعنی یومِ اغواث، شام سے مسلمانوں کی تازہ کمک میدان میں پہنچ گئی۔ اسی دوران حضرت عمرؓ کا قاصد بھی انعامات لے کر آیا اور اعلان کیا کہ یہ انعام ان مجاہدین کے لیے ہیں جو ان کا حق ادا کریں گے۔ اس اعلان نے مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند کر دیے، لیکن اس دن بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ تیسرے دن، جسے یومِ عماس کہا جاتا ہے، مسلمانوں نے ایرانی جنگی ہاتھیوں کا مؤثر توڑ نکالا۔ بعض تجربہ کار افراد کے مشورے سے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حضرت قعقاع بن عمروؓ اور دیگر جانبازوں نے اس حکمتِ عملی پر عمل کیا، جس سے ہاتھی بدک کر میدان چھوڑ گئے اور ایرانی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ اسی رات، جسے لیلۃ الہریر کہا جاتا ہے، پوری رات شدید جنگ جاری رہی۔ آخرکار رستم زخمی ہو کر فرار ہونے لگا، مگر ایک مجاہد صحابی نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا۔ رستم کی موت کے ساتھ ہی ایرانی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
قادسیہ کی اس عظیم کامیابی کے بعد مسلمانوں نے بابل، کوثی، بہرہ شیر اور بالآخر ساسانی دارالحکومت مدائن پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جلولا کا معرکہ پیش آیا، جہاں طویل محاصرے کے بعد فتح حاصل ہوئی۔ حضرت قعقاعؓ نے حلوان پہنچ کر اعلان کرایا کہ جو اسلام قبول کرے یا جزیہ ادا کرے، اسے امن دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد بہت سے مقامی سردار مسلمانوں کے مطیع ہوگئے۔
ایران کی فیصلہ کن فتح اور ساسانی سلطنت کا خاتمہ
عراق کی فتح کے باوجود یزدگرد سوم نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے مرو کو اپنا مرکز بنایا اور پورے ایران میں مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی۔ اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوا جس کی قیادت مختلف ایرانی امراء نے سنبھالی۔ حضرت عمرؓ نے اس خطرے کے مقابلے کے لیے حضرت نعمان بن مقرنؓ کو تقریباً تیس ہزار مجاہدین کے ساتھ روانہ کیا۔ نہاوند کے مقام پر سخت جنگ ہوئی۔ اس معرکے میں حضرت نعمان بن مقرنؓ شہید ہوگئے تو حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے سپہ سالاری سنبھالی اور جنگ جاری رکھی۔ آخرکار ایرانی فوج کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ اس عظیم کامیابی کو مسلمانوں نے فتح الفتوح کا نام دیا، کیونکہ اس کے بعد سلطنتِ ساسانیہ کی مرکزی قوت عملاً ٹوٹ گئی۔
نہاوند کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے حالات کو دیکھتے ہوئے مزید مہمات کی اجازت دی اور مختلف اسلامی لشکر ایران کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کیے گئے۔ مختصر عرصے میں ایران کے بیشتر علاقے اسلامی ریاست کے زیرِنگیں آگئے اور ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ یزدگرد سوم مختلف علاقوں میں پناہ لیتا پھرا، حتیٰ کہ ترک حکمران (خاقان) سے بھی مدد طلب کی، مگر کوئی مستقل کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ بالآخر وہ بے سروسامانی کی حالت میں دربدر ہوتا رہا اور اس کی سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
مدینہ میں ان فتوحات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا، اور حضرت عمرؓ مسلمانوں کو یہ نصیحت کرتے رہے کہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اگر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ہٹ گئے تو حکومت ان سے بھی چھین لی جائے گی، کیونکہ اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے: ’’اللهم مالك الملك تؤتی الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير‘‘۔
فتوحاتِ شام
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں شام کے کئی اہم علاقے، جن میں اجنادین، بصریٰ اور متعدد چھوٹے شہر شامل تھے، اسلامی ریاست میں شامل ہو چکے تھے۔
فتحِ دمشق اور جنگِ فحل
جب حضرت عمرؓ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو دمشق مسلمانوں کے محاصرے میں تھا۔ مسلمان افواج نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی نمایاں عسکری قیادت کے ساتھ رجب ۱۴ ہجری میں دمشق فتح کیا۔ یہ فتح شام میں اسلامی پیش قدمی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ دمشق کی فتح نے سلطنتِ روم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ قیصرِ روم نے شام کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں فوجیں جمع کر کے بیسان کے قریب مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی۔ مسلمانوں نے بھی فحل کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ جنگ سے قبل مسلمانوں کی طرف سے سفارتی مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن فریقین کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
چنانچہ ذوالقعدہ ۱۴ ہجری میں جنگِ فحل پیش آئی۔ کئی دن تک شدید لڑائی جاری رہی اور آخری معرکہ نہایت خونریز ثابت ہوا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور رومی فوج پسپا ہوگئی۔ اس کامیابی کے بعد اردن کے بیشتر شہر اور علاقے اسلامی اقتدار میں آگئے۔ فتح کے بعد مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں کے باشندوں کو ذمی کی حیثیت سے امن دیا اور اعلان کیا کہ ان کی جان، مال، زمینیں، مکانات، گرجا گھر اور دیگر عبادت گاہیں مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔ اس عادلانہ طرزِ حکومت نے مقامی آبادی میں اعتماد پیدا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسلامی اقتدار کو اطمینان کے ساتھ قبول کیا۔
حمص اور ساحلی علاقوں کی فتوحات
دمشق اور اردن کے استحکام کے بعد اسلامی لشکر شمال کی طرف بڑھا۔ راستے میں بعلبک، حماۃ اور معرۃ النعمان سمیت کئی اہم مقامات فتح ہوتے گئے، یہاں تک کہ مسلمان حمص پہنچ گئے۔ حمص کا کچھ عرصہ محاصرہ جاری رہا، لیکن آخرکار اہلِ شہر نے مصالحت کو قبول کر لیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے وہاں انتظامی ذمہ دار مقرر کیے اور خود ساحلی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی۔ اس کے بعد لاذقیہ کا رخ کیا گیا، جو اپنے مضبوط قلعوں اور دفاعی انتظامات کے باعث ایک اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے نہایت مؤثر جنگی تدبیر اختیار کی، جس کے نتیجے میں لاذقیہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ حمص اور لاذقیہ کی فتوحات کے بعد اسلامی لشکر نے قیصرِ روم کے اہم مرکز انطاکیہ کی جانب بڑھنے کا ارادہ کیا، لیکن مدینہ منورہ سے حضرت عمرؓ کا حکم پہنچا جس کے مطابق کچھ عرصہ فتوحات کو مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی۔ چنانچہ اسلامی فوجیں اسی مقام سے واپس آگئیں اور اپنی فتوحات کو مضبوط بنانے میں مصروف ہوگئیں۔
رومیوں کی فیصلہ کن تیاری
دمشق، حمص اور لاذقیہ کی مسلسل شکستوں نے قیصرِ روم کو سخت مشتعل کر دیا۔ اس نے سلطنت کے مختلف حصوں سے عظیم فوج جمع کی اور انطاکیہ کو اپنی جنگی تیاریوں کا مرکز بنایا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو شام سے مکمل طور پر بے دخل کرنا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اپنے تمام فوجی کمانڈروں سے مشورہ کیا۔ اس مشورے کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ منتشر افواج کو واپس بلا کر ایک ہی مقام پر مجتمع کیا جائے تاکہ رومیوں کے فیصلہ کن حملے کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ چنانچہ مسلمانوں نے بعض مفتوحہ علاقوں سے وقتی طور پر انخلا کیا اور دمشق کے گرد اپنی قوت مجتمع کر لی۔
اس فیصلے کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو اسلامی عدل و دیانت کی روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ مسلمان اب وقتی طور پر ان علاقوں کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تھے، اس لیے ان سے وصول کیا گیا جزیہ واپس کر دیا گیا۔ اس غیر معمولی دیانت داری نے مقامی عیسائیوں اور یہودیوں کے دل جیت لیے۔ روایت ہے کہ بہت سے لوگ رنجیدہ ہو کر مسلمانوں کے لیے دعائیں کرتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ جلد واپس لائے، کیونکہ انہوں نے ان جیسا عادل حکمران کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت عمرؓ کو جب صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فوجی کمانڈروں کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ یقیناً اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
معرکۂ یرموک: شام کی قسمت کا فیصلہ
فوجی نقطۂ نظر سے دریائے یرموک کے قریب واقع میدان اس عظیم معرکے کے لیے نہایت موزوں تھا، چنانچہ یہی مقام فیصلہ کن جنگ کے لیے منتخب کیا گیا۔ رومی فوج کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ مختلف تاریخی روایات میں اس کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم یہ بات مسلم ہے کہ رومی لشکر عددی اعتبار سے مسلمانوں پر نمایاں برتری رکھتا تھا، جبکہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً تیس سے چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ اگرچہ تعداد کم تھی، لیکن ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار صحابہ کرام شریک تھے جن میں اہلِ بدر اور دیگر نامور مجاہدین بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ عرب کے وہ قبائل بھی شریک تھے جو اپنی جنگی مہارت اور شجاعت کے لیے مشہور تھے۔
ابتدائی جھڑپوں کے بعد رجب ۱۵ ہجری میں فیصلہ کن جنگ شروع ہوئی۔ رومیوں کا جوش اس قدر تھا کہ ان کے ہزاروں سپاہیوں نے میدان سے نہ بھاگنے کے عزم کے اظہار کے لیے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا، جبکہ بشپ اور راہب صلیبیں اٹھائے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ دونوں لشکروں کے درمیان نہایت سخت اور خونریز جنگ ہوئی۔ کئی گھنٹوں تک معرکہ جاری رہا، مگر مسلمانوں کی ثابت قدمی، بہترین عسکری نظم اور غیر معمولی شجاعت کے سامنے رومی فوج زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ آخرکار ان کی صفیں ٹوٹ گئیں اور وہ میدان چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
جنگِ یرموک سلطنتِ روم کے لیے ایک فیصلہ کن شکست ثابت ہوئی۔ اس معرکے کے بعد شام پر رومی اقتدار عملاً ختم ہوگیا۔ روایت ہے کہ جب قیصر ہرقل کو اس شکست کی اطلاع ملی تو اس نے شام کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا: ’’سلام ہو اے شام! اب تم سے ہمیشہ کے لیے جدائی ہے‘‘۔ اس کے بعد وہ قسطنطنیہ واپس چلا گیا۔
مدینہ منورہ میں اس عظیم فتح کی خبر پہنچی تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا۔ فتحِ یرموک کے بعد اسلامی فوجوں نے شام کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی۔ قنسرین، انطاکیہ، سرمین، قورس، تل غرار، ولوک، رعیان اور متعدد دوسرے شہر اور قلعے یکے بعد دیگرے اسلامی اقتدار میں شامل ہوتے گئے۔ اس طرح شام میں رومی سلطنت کی سیاسی اور فوجی طاقت کا خاتمہ ہوگیا اور شام کا بیشتر حصہ اسلامی اقتدار میں آگیا۔
فلسطین کی مہم اور بیت المقدس کی فتح
شام کے جنوبی علاقوں کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے فلسطین کی مہم حضرت عمرو بن العاصؓ کے سپرد کی۔ انہوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ فلسطین کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کی اور یکے بعد دیگرے نابلس، لُد، عمواس، بیت جبرین اور متعدد دوسرے اہم مقامات کو اسلامی ریاست کے زیرِنگیں کر لیا۔ ان فتوحات کے بعد مسلمانوں نے ایلیا (بیت المقدس) کا رخ کیا، جو اس وقت رومی سلطنت کا ایک نہایت اہم مذہبی اور سیاسی مرکز تھا۔
بیت المقدس کا محاصرہ اور صلح کی پیشکش
حضرت عمرو بن العاصؓ نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ بھی شام کے دوسرے محاذوں سے فارغ ہو کر اس محاصرے میں شریک ہوگئے۔ شہر کے باشندوں نے کئی ہفتوں تک دفاع جاری رکھا، لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ مزید مزاحمت سودمند نہیں رہی تو انہوں نے صلح کی خواہش ظاہر کی۔ اہلِ بیت المقدس نے یہ شرط پیش کی کہ وہ شہر کی کنجیاں صرف اس صورت میں مسلمانوں کے حوالے کریں گے جب خود امیر المؤمنین حضرت عمرؓ تشریف لا کر معاہدۂ صلح کریں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ انہیں براہِ راست اسلامی حکومت کی ضمانت حاصل ہو اور مستقبل میں ان کے مذہبی اور شہری حقوق محفوظ رہیں۔
حضرت عمرؓ کا سفرِ بیت المقدس
جب یہ اطلاع مدینہ منورہ پہنچی تو روایات کے مطابق حضرت عمرؓ نے ممتاز صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور سب کی رائے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، جبکہ حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور دیگر اکابر صحابہ نے بھی اس فیصلے کی تائید کی۔
چنانچہ رجب ۱۶ ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہایت سادہ انداز میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر اسلامی تاریخ میں سادگی، تواضع اور عدل کی ایک روشن مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے ہمراہ صرف ایک خادم تھا اور دونوں ایک ہی اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ راستے میں جب خادم کی باری آتی تو وہ سواری کرتا اور حضرت عمرؓ اونٹ کی نکیل پکڑ کر پیدل چلتے۔ روایت ہے کہ جب بیت المقدس کے قریب پہنچنے کا وقت آیا تو اتفاقاً سواری کی باری خادم کی تھی، چنانچہ امیر المؤمنین خود پیدل چل رہے تھے۔ بعض لوگوں نے عرض کیا کہ اہلِ شہر آپ کو اس حالت میں دیکھیں گے تو شاید مسلمانوں کی ہیبت کم ہو جائے، لیکن حضرت عمرؓ نے اس مشورے کو قبول نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اسلام کے ذریعے عزت عطا کی ہے، اگر وہ عزت کے لیے کسی اور ذریعہ کی تلاش کریں گے تو اللہ انہیں ذلیل کر دے گا۔
جابیہ میں معاہدۂ صلح (عہدِ عمری)
شام پہنچنے پر اسلامی لشکر کے سپہ سالاروں نے مقامِ جابیہ میں حضرت عمرؓ کا استقبال کیا۔ جابیہ میں قیام کے بعد حضرت عمرؓ بیت المقدس تشریف لے گئے، جہاں معاہدۂ صلح پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ یہ معاہدہ بعد میں عہدِ عمری کے نام سے مشہور ہوا، جس میں اہلِ شہر کی جان، مال، عبادت گاہوں، اور مذہبی آزادی کے مکمل تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ کسی گرجا کو منہدم نہیں کیا جائے گا، نہ ہی کسی شخص کو اس کے مذہب سے زبردستی ہٹایا جائے گا۔ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد حضرت عمرؓ بیت المقدس میں داخل ہوئے، شہر کا جائزہ لیا اور اس مقام کی زیارت کی جہاں مسجدِ اقصیٰ واقع ہے۔ بعد میں اموی دور میں اس مسجد کی موجودہ عظیم عمارت تعمیر ہوئی۔ روایات کے مطابق اس وقت وہ جگہ طویل عرصے کی بے توجہی کے باعث ملبے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی میں حصہ لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کام میں شریک ہونے کی ترغیب دی۔
بعد ازاں حضرت عمرؓ کو شہر کے ایک بڑے گرجا کا معائنہ کرایا گیا۔ اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا۔ عیسائی پیشواؤں نے احتراماً انہیں گرجا کے اندر نماز ادا کرنے کی دعوت دی، لیکن حضرت عمرؓ نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا، گرجا سے باہر تشریف لائے اور وہاں نماز ادا کی۔ پھر فرمایا کہ اگر میں گرجا کے اندر نماز پڑھ لوں تو ممکن ہے آئندہ مسلمان اسے دلیل بنا کر اس عبادت گاہ پر اپنا حق جتانے لگیں، جبکہ اسلامی حکومت کا عہد اس کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ نے مذہبی رواداری اور عدل کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جو دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا گیا۔
شام کے انتظامی امور کی تنظیم
بیت المقدس میں چند روز قیام کے بعد حضرت عمرؓ نے شام کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، سرحدی انتظامات کا جائزہ لیا، فوجی چھاؤنیوں اور انتظامی امور کو منظم کیا، مقامی حکام کو ضروری ہدایات دیں، اور اس کے بعد خیریت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔
بیت المقدس کی فتح اگرچہ شام کی مہم کا اہم ترین سنگِ میل تھی، لیکن اس کے بعد بھی مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ رومی سلطنت نے اہلِ جزیرہ اور دوسرے عیسائی قبائل کی مدد سے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی، خصوصاً حمص کو واپس لینے کی ایک بڑی مہم چلائی گئی، مگر مسلمان ثابت قدم رہے اور رومی اس کوشش میں ناکام رہے۔
قیصریہ اور شام کے دیگر علاقوں کی فتوحات
فلسطین میں قیصریہ (قیساریہ) اس خطے کا ایک مضبوط، خوشحال اور ساحلی تجارتی مرکز تھا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اس کا محاصرہ کیا، لیکن شہر کی مضبوط فصیلوں اور بحری امداد کے باعث یہ فوری طور پر فتح نہ ہو سکا۔ کئی برس تک مختلف اوقات میں محاصرہ جاری رہا، یہاں تک کہ ۱۹ ہجری کے قریب حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی قیادت میں شہر فتح ہوا اور فلسطین میں رومی اقتدار کا ایک اور اہم مرکز مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ اسی دوران ۱۶ ہجری میں حضرت عیاض بن غنمؓ نے جزیرہ (بالائی بین النہرین) کی طرف پیش قدمی کی۔ تکریت کا محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا اور متعدد حملوں کے بعد شہر فتح ہوا۔ اس کے بعد جزیرہ کے دوسرے اہم علاقے بھی یکے بعد دیگرے اسلامی ریاست میں شامل ہوتے گئے۔
خوزستان اور شوستر کی فتح
عراق کے مشرقی محاذ پر خوزستان کی مہم بھی جاری رہی۔ ابتدا میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اس محاذ کے نگران تھے، لیکن بعد میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے اہواز، مناذر، سوس اور رامہرمز سمیت کئی اہم علاقوں کو فتح کیا اور بالآخر خوزستان کے مضبوط دارالحکومت شوستر کا محاصرہ کر لیا۔ شوستر ایک نہایت مستحکم قلعہ بند شہر تھا، جسے براہِ راست فتح کرنا آسان نہ تھا۔ آخرکار ایک مقامی شخص کی راہنمائی سے مسلمانوں نے زیرِزمین راستے کے ذریعے شہر میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی اور قلعہ فتح کر لیا۔ اس مہم میں ایرانی سپہ سالار ہرمزان گرفتار ہو کر مدینہ منورہ بھیجا گیا۔ وہاں اس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا برتاؤ کیا، اسے مدینہ میں رہائش کی اجازت دی اور اس کے لیے وظیفہ بھی مقرر فرمایا۔
ان مسلسل فتوحات کے نتیجے میں شام، فلسطین، جزیرہ اور خوزستان میں اسلامی اقتدار مضبوط ہوتا گیا اور حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلامی ریاست ایک وسیع اور منظم نظامِ خلافت میں تبدیل ہو گئی۔
فتوحاتِ مصر
شام اور فلسطین کی فیصلہ کن فتوحات کے بعد اسلامی ریاست کی سرحدیں مصر سے ملنے لگیں۔ اس زمانے میں مصر سلطنتِ روم (بازنطینی سلطنت) کا ایک نہایت اہم صوبہ تھا۔ زرعی پیداوار، تجارتی اہمیت اور بحیرۂ روم پر اس کے ساحلی مراکز کی وجہ سے اسے رومی سلطنت کی معاشی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ مصر پر رومی اقتدار قائم تھا، لیکن مقامی قبطی آبادی مذہبی اختلافات اور حکومتی مظالم کے باعث رومی حکومت سے مطمئن نہ تھی۔
حضرت عمرو بن العاصؓ کی مصر روانگی
حضرت عمرو بن العاصؓ، جو شام کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کر چکے تھے، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ جب تک مصر رومی اقتدار میں رہے گا، شام کی سرحدیں مستقل خطرے سے دوچار رہیں گی۔ اسی بنا پر انہوں نے حضرت عمرؓ سے مصر کی مہم کی اجازت طلب کی۔ ابتدا میں حضرت عمرؓ نے احتیاط کے پیشِ نظر تردد کا اظہار کیا، لیکن حضرت عمرو بن العاصؓ کے اصرار اور حالات کے جائزے کے بعد بالآخر انہیں محدود فوج کے ساتھ پیش قدمی کی اجازت دے دی۔ روایات کے مطابق حضرت عمرؓ نے ایک خط بھیجا تھا کہ اگر تم مصر کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے میرا خط پا لو تو واپس آ جانا، اور اگر سرحد پار کر چکے ہو تو آگے بڑھنا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سرحد عبور کرنے کے بعد خط کھولا۔
حضرت عمرو بن العاصؓ تقریباً چار ہزار مجاہدین کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انہوں نے سرحدی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے فرما، بلبیس، ام دنین اور متعدد دوسرے مقامات کو اسلامی اقتدار میں شامل کر لیا۔ ان کامیابیوں کے بعد اسلامی لشکر نے مصر کے مضبوط ترین فوجی مرکز بابلیون کے قلعے کے قریب پہنچ اس کا محاصرہ کر لیا۔ بعد میں اسی کے قرب میں فسطاط شہر آباد کیا گیا۔
بابلیون کے قلعے کا محاصرہ اور فتح
بابلیون کا قلعہ مضبوط فصیلوں، گہری خندقوں اور رومی فوج کے باعث نہایت مستحکم سمجھا جاتا تھا۔ محاصرہ طویل ہونے لگا تو حضرت عمرو بن العاصؓ نے مدینہ منورہ میں حضرت عمرؓ سے مزید کمک کی درخواست کی۔ حضرت عمرؓ نے تقریباً دس ہزار مجاہدین پر مشتمل امدادی لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر کے ساتھ چار ممتاز صحابہ کرام شامل تھے: حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ، حضرت مقداد بن عمروؓ اور حضرت سلمہ بن مخلدؓ۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت زبیر بن العوامؓ کے مقام و مرتبہ اور عسکری تجربے کے پیشِ نظر انہیں لشکر کی اہم قیادت سونپی۔ تقریباً سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔ بالآخر حضرت زبیر بن العوامؓ نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند منتخب مجاہدین کے ساتھ رات کی تاریکی میں قلعے کی فصیل پر چڑھائی کی۔ اس کارروائی نے قلعے کے دفاعی نظام کو منتشر کر دیا اور مسلمانوں نے بابلیون پر قبضہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد مصر میں رومی اقتدار کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو گئیں۔
اسکندریہ کی فتح اور رومی اقتدار کا خاتمہ
بابلیون کی فتح کے بعد اسلامی لشکر نے اسکندریہ کی طرف پیش قدمی کی، جو مصر کا سب سے بڑا شہر، بحری اڈہ اور رومی حکومت کا مرکزی انتظامی مرکز تھا۔ راستے میں مختلف مقامات پر رومی فوج نے مزاحمت کی، جن میں کریون اور دوسرے علاقوں کی لڑائیاں قابلِ ذکر ہیں، لیکن ہر معرکے میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بالآخر اسلامی فوج اسکندریہ پہنچ گئی اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اسکندریہ مضبوط فصیلوں، بلند برجوں اور بحری راستوں کی وجہ سے ایک نہایت محفوظ شہر سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس کا محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ مسلسل دباؤ اور مختلف مذاکرات کے بعد رومی حکام نے شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور معاہدۂ صلح طے پایا، جس کے تحت مقامی آبادی کی جان و مال، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کو مکمل تحفظ دیا گیا۔
مصر میں اسلامی نظمِ حکومت کا قیام
جب حضرت عمرؓ کو مصر کی اس عظیم فتح کی خبر پہنچی تو مدینہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا اور اس کامیابی کو اسلامی ریاست کے لیے ایک بڑی نعمت قرار دیا۔ اسکندریہ کی فتح کے بعد مصر کا بیشتر حصہ اسلامی اقتدار میں آ گیا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے انتظامی مرکز کے طور پر بابلیون کے قریب ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، جو بعد میں فسطاط کے نام سے مشہور ہوا۔ یہی شہر کئی صدیوں تک مصر کا دارالحکومت رہا اور بعد میں قاہرہ کی آبادی اسی کے گرد پروان چڑھی۔ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد مصر میں ایک منظم انتظامی نظام نافذ کیا گیا۔ مقامی قبطی آبادی کو مذہبی آزادی دی گئی، ان کی عبادت گاہوں اور املاک کا تحفظ کیا گیا اور محصولات کے نظام میں بھی اعتدال اختیار کیا گیا۔ رومی دور کی مذہبی سختیوں کے خاتمے کے باعث بہت سے قبطیوں نے اسلامی حکومت کا خیر مقدم کیا، جبکہ بعد کے ادوار میں ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا۔
مصر کی فتح نے اسلامی ریاست کو صرف ایک نئے صوبے کا اضافہ ہی نہیں دیا، بلکہ بحیرۂ روم کے جنوبی ساحل پر اس کی سیاسی اور عسکری حیثیت کو بھی مضبوط کیا۔ اس کامیابی کے نتیجے میں شمالی افریقہ کی آئندہ فتوحات کی راہ ہموار ہوئی اور اسلامی ریاست کی سرحدیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئیں۔ اسکندریہ فتح ہونے کے چند برس بعد، حضرت عثمانؓ کے دور میں، رومیوں نے دوبارہ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے۔
آخری ایام اور شہادت
خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً دس برس تک اسلامی ریاست کی قیادت کی۔ اس عرصے میں اسلامی سلطنت عرب سے نکل کر عراق، شام، مصر اور ایران کے وسیع علاقوں تک پھیل گئی۔ انہوں نے صرف فتوحات ہی نہیں کیں بلکہ عدل و انصاف قائم کیا اور مضبوط انتظامی نظم کے ساتھ بیت المال، عدلیہ، شرطہ (پولیس)، اندراجات (مالی، فوجی، آبادی)، صوبائی نظم و نسق اور عوامی فلاح کے ایسے ادارے قائم کیے جنہوں نے اسلامی حکومت کی مستقل بنیادیں استوار کیں۔
اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی حضرت عمرؓ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سنتے، بیت المال کی نگرانی کرتے اور گورنروں کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انہی دنوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک فارسی غلام فیروز — جس کی کنیت ابو لؤلؤ تھی — نے حضرت عمرؓ سے اپنے آقا کی طرف سے مقرر کیے گئے محصول کی شکایت کی۔ حضرت عمرؓ نے اس کی بات سنی اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد محسوس کیا کہ اس پر عائد ذمہ داری اس کی صلاحیت کے مطابق ہے، اس لیے اس میں کمی مناسب نہیں۔ یہ فیصلہ ابو لؤلؤ کو ناگوار گزرا اور اس کے بعد اس نے حضرت عمرؓ کے قتل کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔
ابو لؤلؤ کا حملہ
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کئی روز تک منصوبہ بندی کی اور ایک دو دھاری خنجر تیار کیا، جسے زہر میں بھی بجھایا گیا تھا۔ آخرکار ۲۶ ذوالحجہ ۲۳ ہجری کی صبح، جب حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں فجر کی نماز کی امامت کر رہے تھے، ابو لؤلؤ صفوں میں چھپ کر کھڑا ہو گیا۔ نماز شروع ہوتے ہی اس نے اچانک آگے بڑھ کر حضرت عمرؓ پر پے در پے خنجر کے کئی وار کیے، ان میں سے متعدد وار ان کے جسم پر لگے اور ایک گہرا زخم ناف کے نیچے لگا، جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔ حملے کے بعد قاتل نے مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کی اور راستے میں جو شخص اسے روکنے آیا، اس پر بھی خنجر سے حملہ کرتا گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب فرار ممکن نہیں تو اس نے خود اپنے ہی خنجر سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
حضرت عمرؓ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے۔ فوراً حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اشارہ فرمایا کہ وہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کرائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن نے مختصر قراءت کے ساتھ نماز مکمل کرائی، جبکہ مسلمان شدید رنج و اضطراب کی کیفیت میں اپنے خلیفہ کی طرف متوجہ تھے۔ حضرت عمرؓ کو ان کے گھر منتقل کیا گیا۔ طبیبوں نے زخموں کا معائنہ کیا۔ جب دودھ پلایا گیا تو وہ زخم کے راستے باہر نکل آیا، جس سے اندازہ ہو گیا کہ زخم انتہائی گہرا ہے اور صحت یابی کی امید بہت کم رہ گئی ہے۔ اسی دوران حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا کہ حملہ آور کون تھا۔ جب بتایا گیا کہ وہ ایک فارسی غلام ابو لؤلؤ تھا تو انہوں نے فرمایا: الحمد للہ! میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔
خلافت کے لیے مجلسِ شوریٰ کا قیام
اس نازک حالت میں بھی حضرت عمرؓ کی سب سے بڑی فکر امت کا مستقبل تھا۔ انہوں نے خلافت کے مسئلے کو باہمی اختلاف کا سبب بننے سے بچانے کے لیے چھ ممتاز صحابہ کرام پر مشتمل ایک مجلسِ شوریٰ قائم کی، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں جنت کی بشارت دی تھی۔ حضرت عمرؓ نے ہدایت فرمائی کہ یہ حضرات باہمی مشورے سے تین دن کے اندر اپنے میں سے ایک شخص کو خلیفہ منتخب کر لیں، تاکہ امت انتشار کا شکار نہ ہو:
- حضرت عثمان بن عفانؓ
- حضرت علی بن ابی طالبؓ
- حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ
- حضرت زبیر بن العوامؓ
- حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
- حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ
آخری وصیتیں
اس کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو کئی اہم وصیتیں کیں۔ بیت المال کے حقوق کی ادائیگی، اپنے ذمے موجود قرض کی ادائیگی اور مہاجرین، انصار، سرحدوں پر مقیم مجاہدین، اہلِ ذمہ اور عام رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک کی خصوصی تلقین فرمائی۔ فرمایا کہ اگر میری جائیداد سے قرض ادا ہو جائے تو بہتر، ورنہ پہلے قبیلہ بنو عدی سے مدد طلب کرنا اور اگر وہاں سے بھی پوری رقم نہ ملے تو قریش سے کہنا، لیکن اس کے بعد کسی اور کو تکلیف نہ دینا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت حاصل ہو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ اس کی اجازت طلب کریں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ وہ اس جگہ کو اپنے لیے محفوظ رکھنا چاہتی تھیں، لیکن آج وہ حضرت عمرؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہیں۔
وفات اور روضۂ رسولؐ کے پہلو میں تدفین
چند روز تک زخموں کی شدت برداشت کرنے کے بعد حضرت عمرؓ یکم محرم ۲۴ ہجری کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً تریسٹھ برس تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عمر کے قریب تھی۔ حضرت صہیب بن سنانؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد انہیں مسجد نبوی کے اس حجرۂ مبارک میں سپردِ خاک کیا گیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے سے مدفون تھے۔ اس طرح اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد کو اپنے عظیم پیش روؤں کی رفاقت ہمیشہ کے لیے نصیب ہوئی۔
حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سانحہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی عدل، تقویٰ، سادگی اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کا دورِ خلافت اسلامی طرزِ حکمرانی کی تاریخ میں عدل، نظم و نسق، احتساب اور عوامی خدمت کے اعتبار سے ایک مثالی عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے عہد میں اسلامی ریاست ایک مضبوط، منظم اور وسیع ریاستی نظام میں ڈھل گئی۔ جبکہ انصاف، احتساب اور مساوات کے وہ اصول قائم ہوئے جو آج بھی اسلامی حکمرانی کے لیے مشعلِ راہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے مؤرخین حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کو اسلام کی سیاسی، انتظامی اور تمدنی تاریخ کا ایک سنہرا دور قرار دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے وسعت پذیر اسلامی ریاست کو جس حکمت، بصیرت اور انصاف کے ساتھ منظم کیا، اس عظیم دورِ حکومت کی نمایاں خصوصیات اور انتظامی کارناموں کا جائزہ ہم اگلی قسط میں پیش کریں گے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
تالیف : مولانا مفتی رضاء الحق
تحقیق و ترتیب : مولانا محمد عثمان بستوی
نام و نسب
ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ بن عبدالملک، ازدی، حجری، مصری، طحاوی۔
’’ازد‘‘ یمن کا مشہور قبیلہ ہے، ’’حجر‘‘ اس کی ایک شاخ ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ ’’ازد‘‘ کی اسی شاخ کی طرف منسوب ہیں؛ اس لیے آپ کو ازدی اور حجری کہتے ہیں۔
جب مصر اسلامی سلطنت میں داخل ہوا تو آپ کے آبا و اجداد نے مصر میں سکونت اختیار کرلی، اس لیے آپ کو مصری کہتے ہیں، اور ’’طحا‘‘ مصر کے بالائی حصہ پر ایک گاؤں ہے جو آپ کی جائے ولادت ہے، اس لیے آپ کو طحاوی کہتے ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۳۲۶/۲، لسان المیزان ۲۷۴/۱)
لیکن امام طحاوی اصل طحا کے رہنے والے نہیں تھے، بلکہ طحا سے قریب ایک چھوٹی سی بستی طحطوط کے رہنے والے تھے، لیکن اس کی طرف نسبت کر کے طحطوطی کہلانا پسند نہیں تھا، اس لیے طحا کی طرف نسبت کر کے طحاوی کہے گئے۔ (تاریخ ابن یونس ۲۰/۱، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور آپ مصر کے ’’جیزہ‘‘ نامی شہر میں بھی رہے ہیں، اس لیے آپ کو جیز ی بھی کہتے ہیں۔ (معانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار للعینی ۳۹۵/۳) جیزہ قاہرہ کے ساتھ ملا ہوا شہر ہے۔
ولادت: مختلف اقوال کی تحقیق
آپ کی ولادت اتوار کی رات ۱۱ ربیع الاول کو ہوئی۔ سنہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:
آخری قول راجح ہے۔
پہلا قول: ۲۲۹ھ
ابن نقطہ نے التقیید (ص ۱۷۴) میں آپ کی تاریخ ولادت ۲۲۹ لکھی ہے۔ اور عبدالقادر قرشی نے الجواہر المضیۃ (۲۷۳/۱) میں، ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (۱۷۴/۱۱) میں سمعانی سے ۲۲۹ نقل کی ہے، جبکہ سمعانی نے الانساب (۷۳/۴، ۵۳/۹) میں ابن یونس سے ۲۳۹ نقل کی ہے۔ اور ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام طحاوی کی وفات ۸۲ سال کی عمر میں ہوئی، اور ۸۲ سال عمر اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ ولادت ۲۳۹ میں ہو، کیونکہ وفات کا ۳۲۱ میں ہونا تقریبا متفق علیہ ہے، صرف ابن ندیم نے ۳۲۲ لکھا ہے۔
امام طحاوی کے حالات پر لکھی گئی بعض اردو کتابوں میں لکھا ہے کہ سمعانی نے ۲۲۹ کے قول کو صحیح قرار دیا ہے، اور امانی الاحبار کے مقدمہ (ص ۲۹) میں اور وفیات الاعیان (۷۲/۱) میں سمعانی سے ۲۲۹ کا قول نقل کیا ہے اور اس کی تصحیح کی ہے۔ اور مظاہر علوم سہارنپور کے موقر اور قابل قدر استاذ مولانا اسعد اللہ رحمہ اللہ نے امام طحاوی کی وفات اور ولادت اور عمر کے بارے میں یہ شعر فرمایا ہے ؎
طحاوی کی توفی اور تولد اور زمان عمر
محمد مصطفی ہے مصطفی ہے اور محمد ہے
۳۲۱ ۲۲۹ ۹۲
مولانا اسعد اللہ صاحب کے بعض علمی اشعار عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ فاقد الطہورین کے بارے میں امام مالک کہتے ہیں: لا یؤدی ولا یقضی، امام شافعی کہتے ہیں: یؤدی ویقضی، امام احمد کہتے ہیں: یؤدی فقط، اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: یقضی فقط۔ مولانا اسعد اللہ رحمہ اللہ نے ان مذاہب کو اس شعر میں جمع فرمایا ہے:
مالک ہیں شافعی ہیں احمد ہیں اور ہم
لا لا، نعم نعم، نعم لا، و لا نعم
(الدرالمنضود۱۷۹/۱)
اسی طرح علامہ عینی نے نخب الافکار کے مقدمہ میں لکھا ہے: «وقال ابو سعید بن یونس: قال لی الطحاوی رحمہ اللہ: ولدت سنۃ تسع وعشرین، وکذا قالہ السمعانی، وصححہ»۔ (نخب الافکار ۷۶/۱، تحقیق: السید ارشد المدنی، ط: دار الیسر)
جبکہ ابن یونس نے تاریخ مصر میں ۲۳۹ لکھا ہے: «ولد سنۃ تسع وثلاثین ومئتین»۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۰/۱، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نیز ابن یونس کی اس کتاب میں «قال لی الطحاوی» کے الفاظ نہیں ہیں۔
اسی طرح علامہ سمعانی نے بھی الانساب میں حجری و طحاوی دونوں نسبتوں کے تحت امام طحاوی کی تاریخ پیدائش ۲۳۹ لکھنے پر اکتفا کیا ہے، تصحیح نہیں کی ہے؛ «ولد سنۃ تسع وثلاثین ومئتین»۔ (الانساب للسمعانی ۱۷۹/۲، و ۵۳/۴، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور ۲۲۹ کے قول کو ذکر ہی نہیں کیا ہے۔
دوسرا قول: ۲۳۷ھ
سیوطی نے طبقات الحفاظ (۳۳۹/۱) میں ۲۳۷ لکھا ہے۔ اور ذہی نے تذکرۃ الحفاظ (۲۱/۳) میں ابن یونس سے ۲۳۷ نقل کیا ہے؛ جبکہ ابن یونس کی تاریخ میں ۲۳۹ لکھا ہوا ہے۔ اور خود ذہبی نے تاریخ الاسلام (۴۳۹/۷) میں ابن یونس سے ۲۳۹ نقل کیا ہے۔ اور سیر اعلام النبلاء (۱۵/ ۲۷) میں اور العبر فی خبر من غبر میں بھی ۲۳۹ لکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ تذکرۃ الحفاظ میں تاریخ کے نقل میں غلطی ہوئی ہے۔ اور خود سیوطی نے بھی حسن المحاضرہ میں ۲۳۹ لکھا ہے۔ اور ذہبی نے العبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ۸۲ سال کی عمر میں امام طحاوی کی وفات ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبقات الحفاظ اور تذکرۃ الحفاظ میں تاریخ کے نقل میں غلطی ہوئی ہے۔ ابن تغری بردی نے بھی ’’النجوم الزاہرہ‘‘ (۲۴۲/۳) میں، اور ابو الفلاح نے ’’شذرات الذہب‘‘ (۱۰۵/۳) میں لکھا ہے کہ ۸۲ سال کی عمر میں امام طحاوی کی وفات ہوئی۔
تیسرا قول: ۲۳۸ھ
شیرازی نے طبقات الفقہاء (۱۴۲/۱) میں، ابن خلکان نے وفیات الاعیان (۷۱/۱) میں، اور ابن الوردی نے تاریخ ابن الوردی (۲۵۶/۱) میں ۲۳۸ لکھا ہے۔
چوتھا قول: ۲۳۹ھ
ابن یونس صدفی نے تاریخ مصر (۲۲/۱) میں ۲۳۹ لکھا ہے۔ اور ابن یونس امام طحاوی کے استاذ یونس بن عبد الاعلی صدفی (م: ۲۶۴) کے پوتے ہیں اور مصری شخصیات کے بارے میں آپ کا قول سند شمار کیا جاتا ہے؛ نیز ابن یونس کے علاوہ متعدد علماء: ابن ماکولا نے الاکمال (۸۵/۳) میں، ابن عساکر نے تاریخ دمشق (۳۶۷/۵) میں، سمعانی نے الانساب (۱۷۹/۲) میں ذہبی نے العبر فی خبر من غبر (۱۱/۲) میں، ابن حجر نے لسان المیزان (۲۷۴/۱) میں، زرکلی نے الاعلام (۲۰۶/۱) میں، یاقوت حموی نے معجم البلدان (۲۲/۴) میں، ابن جوزی نے المنتظم (۳۸۱/۱۳) میں، سیوطی نے حسن المحاضرہ (۳۵۰/۱) میں، اور ابن التغری نے النجوم الزاہرہ (۲۳۹/۳) میں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اور یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
وفات
مشہور قول کے مطابق آپ کی وفات ۸۲ سال کی عمر میں شب جمعرات ۱ ذوالقعدہ ۳۲۱ھ کو ہوئی۔ (تاریخ ابن یونس ۲۰/۱، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت، تاریخ دمشق لابن عساکر ۳۶۷/۵)
ابن ندیم نے ۳۲۲ لکھا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔
قرافہ مصر میں دفن ہوئے۔ (وفیات الاعیان ۷۱/۱)
آپ کا خاندان
آپ کے والد محمد بن سلامہ صاحب علم و فضل تھے۔ امام طحاوی نے اپنے والد سے بھی احادیث سنی ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۱۰۲/۱) آپ کے والد کی وفات ۲۶۴ ہجری میں ہوئی۔ (وفیات الاعیان ۷۲/۱)
آپ کی والدہ امام مزنی کی بہن عالمہ و فقیہہ تھیں۔ امام سیوطی نے ان کو ’’حسن المحاضرہ‘‘ (۳۹۹/۱) میں مصر کے شافعی فقہاء میں شمار فرمایا ہے۔
اور آپ کے ماموں امام مزنی اسماعیل بن یحیی امام شافعی کے شاگرد تھے۔ اور آپ کے رضاعی والد عیسی بن ابراہیم المثرو دی الغافقی ثقہ و ثبت تھے۔ امام طحاوی نے اپنے رضاعی والد سے بھی علم حاصل کیا۔ (تہذیب التہذیب ۲۰۵/۸)
آپ کے صاحبزادے ابو الحسن علی بن احمد آپ کی طرح صاحب علم و تقوی تھے، انھوں نے آپ سے علم حاصل کیا اور آپ سے روایت بھی کی۔ علامہ قرشی نے الجواہر المضیۃ (۳۵۲/۱) میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔ اور آپ کے پوتے ابو علی الحسین بن علی بن احمد کا سمعانی نے الانساب (۵۴/۹) میں ذکر فرمایا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کا عہدِ زرّیں
امام طحاوی (۲۳۹-۳۲۱ھ) کے عہدِ زریں میں اس وقت کی مایہ ناز ہستیاں بقید حیات تھیں۔ آپ نے صحاح ستہ کے مصنفین امام بخاری (م: ۲۵۶)، امام مسلم (م: ۲۶۱)، امام ابو داود (م: ۲۷۵)، امام ترمذی (م: ۲۷۹)، امام نسائی (م: ۳۰۳)، امام ابن ماجہ (م: ۲۷۳)، اور ان حضرات کے علاوہ امام دارمی (م: ۲۵۵) اور امام ابن خزیمہ (م: ۳۱۱) وغیرہ کا زمانہ پایا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے امام مسلم، امام ابو داود، امام نسائی اور امام ابن ماجہ کے شیوخ سے حدیث بھی سنی ہے۔ مثلا ہارون بن سعید الایلی سے روایت کرنے والوں میں مسلم، ابو داود، نسائی، اور ابن ماجہ کے ساتھ امام طحاوی بھی شامل ہیں۔ (تہذیب الکمال ۳۰/ ۹۰-۹۱)
حضرت مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں ۳۶ ان مشائخ کے نام شمار کرائے ہیں جن سے روایت کرنے میں امام طحاوی صحاح ستہ کے بعض یا اکثر مؤلفین کے ساتھ شریک ہیں۔ (مقدمۃ امانی الاحبار فی شرح معانی الآثار، ص ۴۴-۴۶)
اور امام نسائی بھی آپ سے روایت کرتے ہیں۔ «قال ابو جعفر: کتب ہذا الحدیث «اذا تبایع الرجلان فکل واحد منہما بالخیار ما لم یتفرقا۔۔۔» عنی ابو عبد الرحمٰن یعنی: النسائی»۔ (شرح مشکل الآثار ۲۶۵/۱۳، ط: الرسالۃ)
مصر میں مالکی، شافعی، اور حنفی تینوں فقہ رائج تھے۔
مالکی فقہاء میں عبد الرحمٰن بن قاسم (م: ۱۹۱)، عبد اللہ بن وہب (م: ۱۹۷)، اسحاق بن فرات التجیبی (م: ۲۰۴)، اشہب بن عبد العزیز العامری (م: ۲۰۴) مصر کے ان قابل ذکر مالکی فقہاء میں سے تھے جن کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا تھا۔ (تاریخ مصر لابن یونس، والاعلام للزرکلی)
شافعی فقہاء میں خود امام شافعی رحمہ اللہ ۱۹۵ھ میں مصر تشریف لے گئے اور وفات ۲۰۴ھ تک علم کی نشر و اشاعت کرتے رہے اور الام، الرسالہ اور سنن وغیرہ کی تالیف فرمائیں۔ پھر آپ کے شاگردوں میں یوسف بن یحیی بویطی (م: ۲۳۲)، ابو حفص حرملہ بن یحیی تجیبی (م: ۲۴۳)، ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنی (م: ۲۶۴)، ابو محمد ربیع بن سلیمان مؤذن (م: ۲۷۰) وغیرہ بہت سے شافعی فقہاء مصر میں علم کی نشر و اشاعت میں مشغول رہے، جس کی وجہ سے فقہ شافعی مصر میں مشہور ہو گئی۔ (تاریخ مصر لابن یونس، والاعلام للزرکلی)
حنفی فقہاء میں ابو عبد الرحمٰن محمد بن مسروق الکندی ۱۷۷ سے ۱۸۴ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۲۴۷/۲)
اور ابو عبد اللہ عبد الرحمٰن بن عبد اللہ العمری ۱۸۵ سے ۱۹۵ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۱۲۳/۲)
ابراہیم بن الجراح بن صبیح ۲۰۵ سے ۲۱۱ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۷/۲)
بکار بن قتیبہ ۲۴۶ میں مصر کے قاضی ہوئے اور ۲۷۵ میں مصر میں وفات پائی۔ یہ امام طحاوی رحمہ اللہ کے زمانہ طالب علمی کے قاضی اور بڑے محدث وفقیہ تھے، امام طحاوی نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ «روی عنہ الطحاوی فاکثر، وبہ انتفع وتخرج»۔ (الجواہر المضیۃ ۱۶۸/۱)
بکار بن قتیبہ کے بعد ابو جعفر احمد بن ابی عمران بن موسی مصر کے قاضی ہوئے۔ یہ بھی امام طحاوی کے شیخ ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۱۲۷/۱)
زمانہ طالب علمی میں شافعی مذہب سے حنفی مذہب کی طرف منتقلی کی وجوہات
کتب تراجم میں امام طحاوی کے شافعی مسلک کو چھوڑ کر حنفی مسلک اختیار کرنے کے سلسلے میں پانچ روایات ملتی ہیں، جن میں سے اول الذکر دو صحیح ہیں اور آخر الذکر تین صحیح نہیں۔
۱- امام طحاوی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے مزنی سے حدیث لکھی اور امام شافعی کا قول اختیار کیا۔ چند سالوں کے بعد جب ہمارے یہاں احمد بن ابی عمران قاضی بن کر آئے تو میں نے ان کی صحبت اختیار کی اور ان کا قول اختیار کر لیا، وہ کوفیین کے مذہب پر تھے، اور اپنا پہلا قول چھوڑ دیا۔ «قال الطحاوی: کان اول من کتبت عنہ العلم المزنی، واخذت بقول الشافعی۔ فلما کان بعد سنین، قدم الینا احمد بن ابی عمران قاضیا علی مصر، فصحبتہ، واخذت بقولہ، وکان یتفقہ علی مذہب الکوفیین، وترکت قولی الاول»۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۱/۱، تاریخ دمشق لابن عساکر ۳۶۹/۵، سیر اعلام النبلاء ۲۹/۱۵، معجم البلدان للحموی ۲۲/۴)
یہ روایت ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ امام طحاوی سے ذکر کی ہے۔
۲- محمد بن احمد شروطی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے ماموں امام مزنی سے اختلاف کر کے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب کیوں اختیار کیا؟ امام طحاوی نے فرمایا: میں اپنے ماموں کو دیکھتا تھا کہ وہ ابو حنیفہ کی کتابوں میں غور کیا کرتے تھے، اس لیے ان کی طرف منتقل ہو گیا۔ «قال احمد بن محمد الشروطی: قلت للطحاوی: لم خالفت خالک واخترت مذہب ابی حنیفۃ؟ قال: لانی کنت اری خالی یدیم النظر فی کتب ابی حنیفۃ، فلذلک انتقلت الیہ»۔ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی ۴۳۱/۱، طبقات المفسرین لاحمد بن محمد الادنہ وی، ص۶۰، الطبقات السنیۃ، ص۱۳۷، مرآۃ الجنان ۲۱۱/۲)
اس روایت کو ابو یعلی خلیلی نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے۔
۳- ابراہیم بن علی ابو اسحاق شیرازی (م: ۴۷۶) سے بلا سند یہ منقول ہے کہ امام طحاوی پہلے شافعی تھے، امام مزنی سے پڑھتے تھے، مزنی نے ایک دن ان سے فرمایا: بخدا تم سے کچھ نہ ہو سکا «واللہ لا جاء منک شیء»۔ اس سے طحاوی ناراض ہو کر ابن ابی عمران کے یہاں چلے گئے۔ جب امام طحاوی نے مختصر الطحاوی لکھی تو فرمایا: اللہ تعالی ابو ابراہیم (امام مزنی) پر رحم کرے، اگر وہ زندہ ہوتے تو کفارہ دیتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ۴۳۹/۷، تذکرۃ الحفاظ للذہبی ۲۱/۳، سیر اعلام النبلاء ۲۹/۱۵، طبقات المفسرین للداوودی ۷۵/۱، تاریخ ابن الوردی ۲۵۶/۱، مرآۃ الجنان ۲۱۱/۲، الوافی بالوفیات ۸/۸، وفیہ: واللہ لا جاء منک خیر۔)
علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں، اس لیے کہ «واللہ لا جاء» صیغہ ماضی ہے، اور صیغہ ماضی کے ساتھ قسم لغو ہوتی ہے۔ اور امام طحاوی ایسے مشہور مسئلے سے ناواقف نہیں ہو سکتے۔ (الحاوی فی سیرۃ الامام ابی جعفر الطحاوی، ص۱۶)
۴- امام قدوری (۳۶۲-۴۲۸ھ) فرماتے ہیں کہ ایک دن مزنی نے طحاوی سے کہا «واللہ لا افلحت» تو طحاوی ناراض ہو کر چلے گئے اور احناف کی فقہ حاصل کی اور فقہ حنفی کے امام بن گئے۔ جب کوئی مشکل مسئلہ پڑھاتے یا بتاتے تو فرماتے کہ اللہ تعالی ابو ابراہیم پر رحم فرمائے، اگر زندہ ہوتے اور مجھے دیکھتے تو اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔ (معجم السفر لابی طاہر السلفی، ص ۱۶، الجواہر المضیۃ ۷۶/۱)
اس روایت میں بھی قسم کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں۔ نیز امام قدوری کی پیدائش امام طحاوی کی وفات کے ۴۱ سال بعد ہوئی ہے، اس لیے سند منقطع ہے۔
۵- امام طحاوی نے ایک روز امام مزنی کے سامنے ایک مسئلہ پر گفتگو کی تو مزنی نے ان سے کہا: «واللہ لا تفلح ابدا» اس پر طحاوی ناراض ہو گئے اور ابو جعفر بن ابی عمران سے جا ملے۔ اور امام ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کر لیا اور اس میں کمال پیدا کیا۔ اس کے بعد مزنی کی قبر سے گزرے تو فرمایا: اے ابو ابراہیم! اگر آپ زندہ ہوتے تو اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔
اس روایت کو ابن عساکر نے «بلغنی» کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
نیز آخر الذکر تینوں حکایتوں میں یہ مذکور ہے کہ امام طحاوی امام مزنی کو چھوڑ کر احمد بن ابی عمران کے پاس چلے گئے؛ جبکہ امام مزنی کی وفات ۲۶۴ ہجری میں ہوئی اور احمد بن ابی عمران ۲۷۰ کے بعد مصر آئے؛ اس لیے آخر الذکر یہ تینوں حکایات صحیح نہیں۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کے اساتذہ
مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں امام طحاوی رحمہ اللہ کے ان ۸۸ مشائخ کے مختصر حالات اور ان پر جرح و تعدیل کا ذکر فرمایا ہے جن سے آپ نے معانی الآثار اور مشکل الآثار میں روایات لی ہیں۔ پھر ان ۲۶ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے آپ نے صرف معانی الآثار میں روایت کی ہے۔ پھر ان ۱۳۵ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے آپ نے مشکل الآثار میں روایت کی ہے۔ پھر ان ۲۳ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے معانی الآثار اور مشکل الآثار کے علاوہ کسی اور کتاب میں روایت کی ہے۔ اس طرح امانی الاحبار کے مقدمہ میں ذکر کردہ آپ کے مشائخ کی تعداد ۲۷۲ ہے۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں ہارون بن سعید الایلی، جن سے امام مسلم، ابو داود، نسائی، اور ابن ماجہ بھی روایت ہیں۔
ربیع بن سلیمان جیزی، جن سے امام ابو داود اور امام نسائی بھی روایت کرتے ہیں۔
امام مزنی، جو امام طحاوی کے ماموں ہیں، آپ سے امام طحاوی نے بکثرت احادیث سنی ہیں۔
یونس بن عبد الاعلی صدفی، جن سے امام مسلم، امام نسائی اور امام ابن ماجہ بھی روایت کرتے ہیں۔
ابو محمد ربیع بن سلیمان المؤذن جو امام شافعی کے شاگرد اور ان کی کتابوں کے راوی ہیں۔
ان کے علاوہ اور بھی آپ کے بہت سے قابل ذکر اساتذہ ہیں۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کے تلامذہ
امام طحاوی رحمہ اللہ کے تلامذہ اور مستفیدین کی فہرست سیکڑوں سے متجاوز ہے۔ مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں آپ کے ۴۹ تلامذہ کا ذکر فرمایا ہے۔
آپ کے مشہور تلامذہ میں چند یہ ہیں:
حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی، جو معجم کبیر، معجم صغیر اور معجم اوسط وغیرہ کے مصنف ہیں۔
حافظ ابو سعید عبد الرحمٰن بن احمد بن یونس المصری، جو تاریخ مصر کے مصنف ہیں۔
حافظ ابو بکر محمد بن ابراہیم المقری، جو شرح معانی الآثار کے راوی ہیں۔
حافظ عبد اللہ بن عدی جرجانی، جو الکامل فی ضعفاء الرجال کے مصنف ہیں۔
حافظ محمد بن مظفر بغدادی، جنہوں نے امام اعظم کی مسند کو جمع کیا، یہ دار قطنی کے شیخ ہیں، دار قطنی ان کی موجودگی میں روایت بیان نہیں کرتے تھے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ۴۷۲/۸)
امام طحاوی کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کے تعریفی کلمات
ابن یونس لکھتے ہیں: «کان ثقۃ ثبتا، فقیہا عاقلا، لم یخلف مثلہ»۔ (تاریخ مصر لابن یونس، ص ۲۲/۱)
ابن یونس کے اس قول کو ابن عساکر، علامہ ذہبی، حافظ ابن حجر، امام سیوطی وغیرہ متعدد حضرات نے اپنی کتابوں میں نقل فرمایا ہے۔
علامہ سمعانی فرماتے ہیں: «کان اماما ثقۃ ثبتا فقیہا عالما، لم یخلف مثلہ»۔ (الانساب ۵۳/۹)
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں: «و کان ثبتا فہما فقیھا عاقلا»۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم ۳۱۸/۱۳)
ابن کثیر لکھتے ہیں: «ھو احد الثقات الاثبات، والحفاظ الجھابذۃ»۔ (البدایۃ والنہایۃ ۱۷۴/۱۱)
اور علامہ ذہبی لکھتے ہیں: «الامام، العلامۃ، الحافظ الکبیر، محدث الدیار المصریۃ وفقیھھا،۔۔۔ من نظر فی توالیف ھذا الامام علم محلہ من العلم، وسعۃ معارفہ»۔ (سیر اعلام النبلاء ۲۷/۱۵)
امام ذہبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں: «المحدث الحافظ احد الاعلام»۔ پھر ذہبی نے ابن یونس کے قول کو نقل کیا ہے۔
صلاح الدین صفدی لکھتے ہیں: «کان ثقۃ نبیلا ثبتا فقیھا عاقلا لم یتخلف بعدہ مثلہ»۔ (الوافی بالوفیات ۸/۸، ومثلہ فی تاج التراجم، ص ۱۰۰، وطبقات المفسرین للادنہ وی، ص ۵۹، والجواہر المضیۃ ۱۰۲/۱)
ابن عبد البر فرماتے ہیں: «کان الطحاوی من اعلم الناس بسیر الکوفیین واخبارھم وفقھھم مع مشارکتہ فی جمیع مذاھب الفقھاء»۔ (لسان المیزان ۶۲۰/۱)
یوسف بن تغری بردی لکھتے ہیں: «الفقیہ الحنفی المحدث الحافظ احد الاعلام وشیخ الاسلام،… کان امام عصرہ بلا مدافعۃ فی الفقہ والحدیث واختلاف العلماء والاحکام واللغۃ والنحو، وصنف المصنفات الحسان»۔ (النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ ۲۴۰/۳)
علامہ عینی لکھتے ہیں: «امام عظیم ثبت ثقۃ حجۃ کالبخاری ومسلم، وغیرھما من اصحاب الصحاح والسنن، یدل علی ذلک اتساع روایتہ ومشارکتہ ایاھم، بل ھو اثبت منھم فی استنباط الاحکام من القرآن والسنۃ، واقعد منھم فی الفقہ، یصدق ذلک من ینظر فی کلامہ وکلامھم، ویدل علی ذلک ایضا تصانیفہ المفیدۃ»۔ (مقدمۃ نخب الافکار ۷۹/۱)
عورت کا حقِ مہر اور حقِ ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ
انسان کو زندگی گزارنے کیلئے جیسے روٹی، کپڑے اور مکان کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح خاندان بھی اس کی ایک نہایت اہم ضرورت ہے، خاندان کے بغیر زندگی قیدِ تنہائی سے کم نہیں۔ انسان کو زندگی کے تقریباً ہر اہم مرحلے میں خاندان کے تعاون اور رفاقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ خوشی ہو یا غم، دونوں کا حقیقی اندازہ اور اثر خاندان کی شرکت ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر خاندان کی دلجوئی اور ہمدردی شاملِ حال نہ ہو تو معمولی غم بھی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتا ہے۔
اسی لئے اسلام میں خاندانی نظام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کو اپنے انعامات میں شمار فرمایا ہے "و جعلنا کم شعوباً و قبائل" (یعنی ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا)۔ ہر شادی شدہ شخص کے ساتھ خاندان کی تین شاخیں وجود میں آتی ہیں: دادیہال، نانیہال، اور سسرال۔ یہ تینوں رشتے نکاح ہی کے ذریعے قائم ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام میں نکاح کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ نکاح مرد اور عورت کے درمیان انجام پانے والا قابلِ احترام عقد ہے، جس سے عائلی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ نکاح کے ذریعے دو اجنبی مرد و عورت ایک مودت و محبت اور اعتماد کی فضا میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
حقِ مہر
اسلام رشتہ نکاح کو پائیدار اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے، اسی لئے اس نے نکاح کے سلسلے میں ایسے احکام اور ہدایات دیئے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو جاتا ہے۔ انہی احکام میں سے ایک اہم حکم حقِ مہر ہے۔ مہر کے معاملے میں لوگ افراط و تفریط اور مختلف غلطیوں کا شکار ہیں۔ خاص کر یہ تاثر تو بہت زیادہ عام ہے کہ مہر جتنا کم سے کم طے کیا جائے، شریعت کی نگاہ میں اتنا ہی مستحسن ہے۔ اس کے علاوہ بھی مہر کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پائی جاتی ہے جن کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا اس تحریر میں ان غلطیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
مہر کی حقیقت
مہر دراصل شوہر کی طرف سے عورت کا ایک اعزاز و اکرام ہے، یہ نہ تو عورت کی قیمت ہے، جسے ادا کر کے یہ سمجھا جائے کہ وہ شوہر کے ہاتھوں بِک گئی ہے اور اب اس کی حیثیت محض ایک لونڈی کی ہے، اور نہ یہ محض ایک فرضی اور رسمی کاروائی ہے، جس کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ اسے عملاً ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے شوہر کے ذمہ بیوی کا مہر لازم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیوی کو اپنے گھر میں لائے تو اس کا مناسب اکرام کرے، اور اسے ایسا ہدیہ پیش کرے جو اس کے اعزاز و اکرام کے مناسب ہو۔ اس لئے شریعت کا تقاضہ یہ ہے کہ مہر کی مقدار نہ تو اتنی کم رکھی جائے جس میں اعزاز و اکرام کا یہ پہلو بالکل مفقود ہو جائے اور نہ اتنی زیادہ رکھی جائے کہ شوہر اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہو اور بالآخر یا تو مہر ادا کئے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے یا آخر میں بیوی سے معاف کرانے پر مجبور ہو۔
مہر کا تعین محض ایک فرضی یا رسمی کاروائی نہیں ہے، جو غور و فکر اور سوچے سمجھے بغیر کر لی جائے، بلکہ یہ ایک دینی فریضہ ہے جو پوری سنجیدگی اور بیداری کا محتاج ہے، شرعاً اس کے تمام پہلو واضح اور صاف ہونے چاہئیں اور اس کے مطابق ادائیگی کی فکر کرنی چاہئیے۔ یہ بڑی نا انصافی ہو گی کہ اس حق کی ادائیگی سے ساری عمر بے فکر رہنے کے بعد بسترِ مرگ پر بیوی سے اس کی معافی حاصل کر لی جائے، جب کہ ماحول کے جبر سے اس کے پاس معاف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔
مہرِ معجل اور مہرِ مؤجل
مہر کی مشہور دو قسمیں ہیں: (۱) مہر معجل (۲) مہر مؤجل۔ یہ الفاظ عقدِ نکاح کے موقع پر سنائی دیتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو ان کا مطلب معلوم نہیں ہوتا۔
مہرِ معجل شرعی اعتبار سے اس مہر کو کہتے ہیں جو نکاح ہوتے ہی شوہر کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے، اب اس کا فریضہ یہ ہے کہ یا تو نکاح کے وقت ہی ادا کر دے، یا اس کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو ادا کر دے۔ عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین عام طور سے مطالبہ نہیں کرتیں، اس لئے اس سے یہ نہیں سمجھنا چایئے کہ اس کی ادائیگی ہمارے ذمہ ضروری نہیں، بلکہ شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ عورت کے مطالبے کا انتظار کیے بغیر جس قدر جلد ممکن ہو اس فریضہ سے سبکدوش ہو جائے۔
مہرِ مؤجل اس مہر کو کہا جاتا ہے جس کی ادائیگی کیلئے فریقین نے آئندہ کوئی تاریخ متعین کی ہو، مثلاً دو سال بعد شوہر مہر ادا کرے گا وغیرہ۔ عورت مقررہ میعاد سے پہلے مہرِ مؤجل کا مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں۔ لہٰذا مہر کے مؤجل ہونے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس ادائیگی کیلئے کوئی تاریخ نکاح کے وقت ہی مقرر کر لی جائے۔ لیکن ہمارے معاشرے کے رواج کے مطابق اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہر کی یہ مقدار اس وقت واجب الادا ہوگی جب نکاح ختم ہوگا، یعنی اگر طلاق ہو جائے تب مہر مؤجل کی ادائیگی لازم ہوگی، یا میاں بیوی میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تب اس کی ادائیگی لازم سمجھی جاتی ہے، جو کہ درست تصور نہیں ہے۔
مہر کی کم سے کم مقدار کیا ہے؟ (اَقَل مہر)
مہر کی کم از کم مقدار حنفی مذہب کے مطابق دس درہم ہے۔ دس درہم کا مطلب دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے۔ موجودہ اوزان کے اعتبار سے اس کی مقدار 30 گرام 618 ملی گرام چاندی ہے۔ چاندی کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، آج کل ایک تولہ چاندی کی قیمت تقریباً چھ ہزار (6000) روپے ہے، اس حساب سے کم از کم مہر کی مقدار 15756 روپے بنے گی۔
اس کم سے کم مقدار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنا مہر رکھنا شرعاً پسندیدہ ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس سے کم مہر پر اگر عورت خود بھی راضی ہو جائے تو شریعت راضی نہیں ہے، کیونکہ اس سے مہر کا مقصد، یعنی عورت کا اعزاز و اکرام پورا نہیں ہوتا۔ یہ کم از کم حد بھی ان لوگوں کا خیال کر کے رکھی گئی ہے جو مالی اعتبار سے کمزور ہیں اور زیادہ رقم خرچ کرنے کے متحمل نہیں، ان کے لئے یہ گنجائش دی گئی ہے کہ اگر عورت راضی ہو تو کم از کم اس مقدار پر نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب لینا ہرگز درست نہیں ہے کہ شریعت کو منظور ہی یہ ہے کہ مہر کی مقدار دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اس کی قیمت طے کیا جائے۔
عورت کا مہر کتنا ہونا چاہیے؟ (مہرِ مثل)
شرعی نقطہ نظر سے ہر عورت کا اصل حق یہ ہے کہ اسے "مہر ِمثل" دیا جائے۔ مہر مثل کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، شہر، باکرہ یا ثیبہ ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر تھا، اتنا مہر، مہرِ مثل ہے۔ خاندان کے لڑکیوں سے مراد اس کی بہنیں، پھوپھی زاد اور چچا زاد بہنیں وغیرہ ہیں۔ اور اگر اس لڑکی کی خاندان میں دوسری لڑکیاں نہ ہوں تو خاندان کے باہر اس کے ہم پلہ خواتین کا جو مہر عام طور سے مقرر کیا جاتا ہو، وہ اس لڑکی کا مہرِ مثل ہے، اور شرعی اعتبار سے بیوی مہر ِمثل وصول کرنے کی حقدار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر نکاح کے وقت باہمی رضا مندی سے مہر کا تعین نہ کیا گیا ہو یا مہر کا ذکر کئے بغیر نکاح کر لیا گیا ہو تو مہر ِمثل خودبخود لازم ہو جاتا ہے، اور شوہر کے ذمہ شرعاً ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ بیوی کو اس کا مہرِ مثل ادا کرے۔ البتہ اگر بیوی خود مہرِ مثل سے کم پر خوش دلی سے راضی ہو جائے، یا شوہر خوشی سے مہرِ مثل سے زیادہ مہر کی مقدار طے کر لے، تو باہمی رضا مندی سے مہرِ مثل سے کم یا زیادہ مقرر کر لینا جائز ہے، شریعت نے زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، البتہ کم سے کم مہر کی حد مقرر کر دی ہے۔
مہر مقرر کرنے میں اتباعِ سنت (مہرِ فاطمی)
لوگوں میں یہ تصور بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے کہ مہر جتنا کم سے کم معمولی مقدار میں مقرر کیا جائے اتنا ہی شریعت کے نظر میں مستحسن اور افضل ہے۔ اچھے خاصے دیندار لوگ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں، حالانکہ یہ تصور غلط اور بے بنیاد ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم مقرر کیا تھا، جو 131 تولہ تین ماشہ چاندی کے برابر ہوتا ہے۔ موجودہ حساب کے اعتبار سے اس کی مقدار 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔ آج کے لحاظ سے مہرِ فاطمی کی مقدار پاکستانی 787801 روپے بنے گی۔ خود جناب نبی کریم ﷺ نے اپنی متعدد ازواج مطہرات کا مہر بھی اس کے قریب قریب ہی مقرر کیا، جو اوسط درجے کے اعتبار سے ایک قابلِ لحاظ مہر ہے۔
بہت زیادہ مہر نہ رکھنے کی حکمت
اس سلسلے میں حضرت عمر ؓ کا یہ واقعہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ تقریر کے دوران لوگوں سے فرمایا کہ وہ نکاح میں بہت زیادہ مہر نہ رکھا کریں۔ اس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم نے ایک جگہ مہر کے لئے "قنطار" کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاندی کا ڈھیر مہر ہو سکتا ہے، لہٰذا آپ کا زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع کرنا درست نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ نے خاتون کی بات سن کر فرمایا: واقعی خاتون کا استدلال اور بات ٹھیک ہے، اور کلی طور پر زیادہ مہر رکھنے سے منع کرنا درست نہیں۔ (السنن الکبری للاِمام البیھقی، کتاب الصداق، ۷/۲۳۳)۔
مطلب یہی تھا کہ اگر دکھاوا مقصود نہ ہو، ادائیگی کی نیت بھی ہو اور استطاعت بھی ہو تو زیادہ مہر مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ یہاں یہ اصول مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ
- مہر اتنا ہو جس سے بیوی کا اعزاز و اکرام بھی ہو اور شوہر کی استطاعت سے باہر بھی نہ ہو۔ جن حضرات نے زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمایا، ان کا مقصد یہی تھا کہ اگر استطاعت سے زیادہ مہر مقرر کر لیا جائے تو وہ محض ایک کاغذی کاروائی ہو کر رہ جاتی ہے، حقیقت میں اسے دینے کی کبھی نوبت ہی نہیں آتی، اور مہر ادا نہ کرنے کا گناہ شوہر کی گردن پر رہ جاتا ہے۔
- دوسرے، بعض اوقات بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کے پیچھے نام و نمود اور دکھاوے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے، لوگ محض اپنی شان و شوکت کے اظہار کیلئے غیر معمولی مہر مقرر کر لیتے ہیں۔
ظاہر ہے یہ دونوں باتیں اسلام کے پاکیزہ اور مقدس مزاج کے متصادم ہے۔ اس لئے متعدد علمائے کرام نے غیر معمولی مہر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
مہرِ فاطمی بہتر ہے یا شوہر کی حیثیت کا لحاظ کرنا؟
بعض حضرات مہرِ فاطمی کو مہرِ شرعی کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ شرعی اعتبار سے اس سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرنا پسندیدہ نہیں۔ یہ تصور بھی غلط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر فریقین مہرِ فاطمی کے برابر مہر طے کر لیں اور نیت یہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کی مقرر کی ہوئی مقدار بابرکت اور معتدل ہے، اور اتباعِ سنت کی اجر کا بھی قصد ہو، تو یقیناً یہ جذبہ بہت مبارک اور مستحسن ہے۔ لیکن یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ یہ مقدار اس معنی میں شرعی ہے کہ اس سے زیادہ یا کم مہر مقرر کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرنے میں شرعی نقطہ نظر سے کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہاں یہ اصول مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ مہر اتنا ہو جس سے بیوی کا اعزاز و اکرام بھی ہو اور شوہر کی گنجائش سے باہر بھی نہ ہو۔
مہر کے اضافے کی شرط رکھنا
طلاق کی صورت میں مہر کے اضافے کی شرط
طلاق ایک ناپسندیدہ چیز ہے اور ساتھ ہی بعض ناگزیر حالات میں ایک ضرورت بھی ہے، لیکن اس کے غلط اور بے جا استعمال سے معاشرہ میں بڑی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، جس سے مرد و عورت اور سارا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اگر عقدِ نکاح کے وقت یوں مہر طے کیا جائے کہ ’’اگر شوہر نے بیوی کو طلاق دی تو عورت کا مہر دو لاکھ روپے ہے، اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو پھر عورت کا مہر ایک لاکھ روپے ہے۔‘‘ اس طرح مہر طے کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شوہر مہر کی بڑی رقم سے بچنے کے لیے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا غیر مشروع اقدام نہ کرے، آیا اس طرح مہر طے کرنا جائز اور معتبر ہے یا نہیں؟
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فقہ کے اس مشہور مسئلہ سے رہنمائی لی جا سکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر نکاح کے وقت مہر اس طرح مشروط طور پر طے ہو کہ ’’شوہر بیوی کو اس کے آبائی وطن سے باہر لے کر گیا تو مہر دو ہزار ہو گا، اور اگر بیوی کو اس کے آبائی وطن سے باہر نہ لے کر گیا تو اس کا مہر ایک ہزار ہو گا۔‘‘ اس مسئلے میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جس مہر کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور پہلی شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (متعین کردہ دو ہزار) لازم ہوگا، اور دوسری شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ ( ایک ہزار) کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ مہرِ مثل لازم ہوگا (جو خاندان میں معروف ہو)، اس شرط کے ساتھ کہ مہرِ مسمیٰ سے مہرِ مثل زائد نہ ہو۔ جبکہ حضراتِ صاحبین امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک دونوں شرطیں درست ہیں اور ہر دو صورت میں مہرِ مسمیٰ لازم ہوگا، یعنی جو شرط پائی گئی اس کے مطابق۔
موجودہ زمانے میں جبکہ کثرتِ طلاق کی وباء عام ہوتی جا رہی ہے، عوام الناس معمولی معمولی باتوں پر بلاخوف و خطر طلاق دیتے ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے اور وقوعِ طلاق کے نتیجے میں پورے معاشرے میں تباہی و بربادی آتی ہے، جس کے بے حد نقصانات ہیں، مثلاً: زوجین اور ان کے رشتہ داروں کے درمیان دشمنی و کینہ اور بغض و حسد پیدا ہو جاتا ہے، انسان کا بسا بسایا گھر اجڑ جاتا ہے، بچے بے سہارا ہو جاتے ہیں اور ان کی پرورش و پرداخت اچھی اور نشونما عمدہ نہیں ہو پاتی، طرفین کا سکون ختم ہو جاتا ہے، قرآن و سنت کی خلاف ورزی لازم آجاتی ہے، حتیٰ کہ بسا اوقات یہ نوبت بھی آجاتی ہے کہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا طلاق کے بے جا اور غلط استعمال کو روکنے اور کثرتِ طلاق پر بند باندھنے کے لیے صاحبین ؒ کے قول پر عمل کی گنجائش نکل سکتی ہے۔
و فی الھدایۃ: و لو تزوجھا علی الف ان اقام بھا، و علی الفین ان اخرجھا، فان اقام بھا فلھا الالف، و ان اخرجھا فلھا مھر المثل، لا یزاد علی الفین و لا ینقص عن الالف، و ھذا عند ابی حنیفۃ، و قالا: الشرطان جمیعا جائزان، حتی کان لھا الالف ان اقام بھا، و الالفان ان اخرجھا۔ (2/45،ط:البشری سن الطباعۃ:1436ھ)
دوسری عورت سے نکاح کی صورت میں مہر کے اضافے کی شرط
اگر عقدِ نکاح کے وقت اس طرح مہر مقرر کیا جائے: ‘‘اگر شوہر نے اس منکوحہ کے عقدِ نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا تو اس عورت کا مہر دو لاکھ روپے ہوگا، اور اگر اس عورت کے عقدِ نکاح میں رہتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کیا تو اس کا مہر ایک لاکھ روپے ہوگا‘‘۔ تو جیسا کہ ماقبل میں تفصیل ذکر جا چکی ہے کہ
- حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک پہلی شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (دو لاکھ) لازم ہوگا، اور دوسری شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (ایک لاکھ) نہیں بلکہ مہرِ مثل لازم ہو گا۔
- جبکہ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک دونوں شرطیں معتبر ہوں گی اور ہر دو صورتوں میں مہرِ مسمیٰ لازم ہوگا، یعنی جو شرط پائی گئی اس کے مطابق۔
حقِ مہر کے سلسلہ میں چند معاشرتی امور
انسدادِ مفاسد کیلئے مہر کی تحدید کرنا
لوگوں پر مہر کی ایک متعین مقدار مقرر کر کے لازم کر دینا — تاکہ بعض برادریوں اور قبائل کی مہر کے بارے میں جو افراط و تفریط پائی جاتی ہے اس کا سدباب اور خاتمہ ہو جائے — یہ جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ مہر کی ادنیٰ مقدار تو شریعت میں موجود ہے لیکن زیادہ کی کوئی حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے۔ لہٰذا حاکمِ وقت، کسی فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ برادریوں کیلئے یا قبائل وغیرہ کے لئے مہر کی کوئی خاص مقدار مقرر کر کے ان پر لازم کر دے کہ اس میں کمی و اضافہ کی اجازت ہی نہ رہے اور ہر شخص اس مقدار پر مجبور ہو جائے۔ اس لیے کہ مہر بیوی کا حق ہے، دیگر لوگ اس کے مقرر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ البتہ دیگر لوگ مناسب مہر مقرر کرنے کی اپیل کر سکتے ہیں۔
نام و نمود کیلئے زیادہ مہر مقرر کرنا
محض فخر و مباہت، نام و نمود اور دکھاوے کیلئے زیادہ مہر مقرر کرنا غلط ہے۔ اس سلسلے میں ایک کوتاہی لڑکی کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کی جانب سے یہ ہوتی ہے کہ مہر مقرر کرتے وقت لڑکے کی حیثیت اور استطاعت کا لحاظ نہیں کرتے، بلکہ زیادہ سے زیادہ مہر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض اوقات اس سلسلے میں شور شرابا اور جھگڑے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر بعض مرتبہ اسی جھگڑے میں نکاح اور شادی رک جاتی ہے۔ لوگ زیادہ مہر مقرر کرنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ غیر معمولی مہر مقرر کر کے اس کو فخر کی چیز سمجھنا، اس پر جھگڑے کھڑے کرنا اور باہمی رنجش کی بنیاد بنا لینا جاہلیت کے جراثیم ہیں، جن سے مسلمانوں کو بچنا چاہئیے۔
سوا بتیس روپے مہر
ایک کوتاہی بعض حلقوں میں یہ رائج ہے کہ وہ سوا بتیس روپے کو مہرِ شرعی سمجھتے ہیں اس کو مہرِ محمدی بھی کہتے ہیں۔ جو بالکل غلط ہے۔ خدا جانے یہ غلطی کہاں سے چلی ہے؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا مہر کی کم از کم مقدار دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے، اس سے کم مہر مقرر کرنا درست نہیں ہوتا۔
پہلے بیٹے کے لحاظ سے مہر طے کرنا
بعض لوگوں میں یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ وہ مہر کے تعین میں پہلے بیٹے کا لحاظ کرتے ہیں۔ پہلے بیٹے کی بیوی کے لئے جتنا مہر مقرر کیا ہوتا ہے، اسی مقدار کو دوسرے بیٹے کی بیوی کیلئے بھی طے کرتے ہیں اور اس پر باقاعدہ اصرار کرتے ہیں۔ حالانکہ شرعاً مہر کے تعین میں پہلے بیٹے کی بیوی کا اعتبار نہیں کیا جاتا، بلکہ عورت کے اپنے خاندان کی ہم پلہ خواتین کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ماقبل بھی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
جب مہر ادا کرنے کی نیت نہ ہو
ایک کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ مہر ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ یہ رواج بنتا جا رہا ہے کہ لوگ زیادہ مہر مقرر کر لیتے ہیں اور ان کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مہر دینا نہیں ہے۔ حدیث پاک میں ایسے لوگوں کے متعلق بہت سخت وعید آئی ہے۔ حدیث پاک کے مطابق جو شخص نکاح کرے اور مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، وہ زانی ہے۔ (مسند احمد: ۴/۳۳۲ طبع بیروت)
شرما شرمی میں یا ڈرا دھمکا کر مہر معاف کروانا
ہمارے معاشرے میں ایک کوتاہی یہ پائی جاتی ہے کہ عورتوں کیلئے مہر لینا معیوب اور برا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح میراث کا حصہ لینا بھی عیب سمجھا جاتا ہے، اس لئے خاتون شرما شرمی میں اور ماحول کے جبر سے معاف کر دینا ضروری سمجھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو معاشرے میں "نکو" سمجھی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس معاشرتی برائی کو بالکلیہ ختم کریں اور خواتین کو مہر اور میراث کا حصہ دلوائیں۔ اگر وہ معاف کرنا چاہیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ وہ اپنا حق وصول کر لیں اور کچھ عرصہ اپنے تصرف میں رکھنے کے بعد اگر چاہیں تو مرضی و خوشی اور رضا مندی سے واپس لوٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان پر ہرگز جبر نہ کیا جائے۔
اسی طرح اگر شوہر یا اس کے علاوہ کسی نے عورت کو ڈرا دھمکا کر مہر معاف کروایا تو مہر معاف نہ ہوگا بلکہ شوہر کے ذمہ بدستور واجب ہو گا۔ (رد المحتار، کتاب النکاح،۳/۱۱۳،ط: سعید)
حقِ ملازمت
دورِ حاضر میں جہاں مردوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا رواج عروج پر ہے وہیں ہمارے مسلم معاشرہ کی عورتوں میں بھی اعلیٰ تعلیم کا رواج کافی عام ہوتا جا رہا ہے، چنانچہ تعلیم کے بعد بہت سی عورتیں مختلف ملازمتوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اور چونکہ موجودہ دور کے مسلم دنیا کے اکثر حکمران مغربی نظریات و افکار سے مرعوب ہیں اور ان کے آزادی نسواں کے خوشنما نعروں سے متاثر ہیں، اس لیے وہ بھی عورتوں کی ملازمت پر خاص توجہ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
خاندانی زندگی کا اسلامی تصور
خاندانی زندگی کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسبِ معاش، خاندان کی کفالت اور گھر سے باہر ذمہ داریوں کی تکمیل مرد کے ذمہ ہے، جبکہ بچوں کی پرورش و تربیت، شوہر کی خدمت اور گھریلو نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری عورت کی ہے۔ جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے کام کی تقسیم یوں فرمائی کہ گھریلو جو امور ہیں ان کو انجام دینے کی ذمہ داری حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ڈالی اور گھر کے باہر کے جو امور ہیں ان کی خدمت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔ قرآنِ مجید میں اندرونِ خانہ کی ذمہ داریاں، بچوں کی پرورش، شوہر کے مال کی نگہداشت اور گھر کے ماحول کو سنوارنے کی ذمہ داری عورت پر ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے: و قرن في بیوتکن (اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو)۔ فالصالحٰت قانتات حافظات للغیب بما حفظ اللہ (نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے اس کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جس کی انجام دہی کے لیے عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر جانا پڑے، اور عورت کے باہر کے کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے شوہر کا حق متاثر ہوتا ہو یا اسے ضرر لاحق ہو، تو شوہر کو ایسے کاموں سے اپنی بیوی کو روکنے کا حق حاصل ہے۔
بوقتِ نکاح عورت کے حقِ ملازمت کی شرط
اس پس منظر میں اگر کوئی عورت نکاح کے وقت اپنے ہونے والے شوہر کے سامنے یہ شرط رکھے کہ شوہر اسے موجودہ ملازمت سے یا آئندہ ملنے والی ملازمت سے نہیں روکے گا، اور شوہر عقدِ نکاح کے وقت اس شرط کو قبول کر لیتا ہے، تو کیا شوہر کے لیے اس شرط کی پابندی ضروری ہوگی یا نہیں؟ اور اگر شوہر اس شرط کو قبول کرنے کے باوجود عورت کو ملازمت چھوڑنے کا حکم دیتا ہے، یا نئی ملازمت کرنے سے منع کرتا ہے، تو عورت کے لئے شوہر کے اس حکم کی تعمیل ضروری ہو گی یا نہیں؟
غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ شریعت نے حقوقِ زوج کا کتنا خیال رکھا ہے، اگر بیوی ملازمت کے لیے نکلے گی تو یقینی بات ہے کہ پورے دن تھکی ماندی رہے گی، جب شام میں گھر آئے گی تو اپنے آرام و سکون کے فکر میں رہے گی۔ شوہر کا خیال نہیں رکھ سکے گی، بچے کی بھی صحیح تربیت نہیں کر سکے گی، گھر کا نظام بھی درست نہ رکھ سکے گی، جو عورت کا اہم فریضہ ہے۔ فقہائے کرام نے جو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر عورت علمی مجلس میں جانا چاہتی ہے اور شوہر اس کو وہاں جانے سے منع کرے تو عورت کو یہ اختیار نہ ہو گا کہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں چلی جائے۔ (خانیہ علی ھامش الھندیہ،۱/۴۴۳)
دوسری بات یہ ہے کہ جب شوہر کے ذمہ بیوی کا نان و نفقہ شرعاً واجب ہے تو بیوی کو ملازمت کر نے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خاص کر آج کل کے پر فتن دور میں جہاں ہر چار جانب فحاشی، عریانی، بے حیائی اور بے پردگی عام ہے۔ اور عام طور پر ملازمت دینے والے اداروں میں بے پردگی، مردوں سے اختلاط و آزادی اور غیر محرم سے بلا حجاب بے تکلفی کے ساتھ بات کرنا عام معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف مغرب کی تقلید میں عورت کی ملازمت اور بے جا حقوق کی بات کی جا رہی ہے تو ایسے میں شوہر پر ضروری ہے کہ فتنہ کی وجہ سے عورت کو ملازمت کی اجازت ہی نہ دے۔ عورت چراغِ خانہ ہے شمعِ محفل نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ شوہر کو شرط قبول کرنے کے باوجود ملازمت ختم کرنے کا حکم دینے یا نئی ملازمت سے روکنے کا اختیار باقی رہے گا اور اس سلسلے میں شوہر کے حکم کی تعمیل ضروری ہوگی، یہ شرط فاسد اور لغو ہو جائے گی، شوہر پر اس کا ایفا لازم نہیں ہوگا۔
البتہ اگر کسی ایسے ادارے میں ملازمت ہو جہاں سارا نظام عورتوں کے ہاتھ میں ہو، مثلاً مدرسۃ البنات ہو جہاں مردوں کے داخلہ پر پابندی ہو، اور آنے جانے میں بے پردگی کے فتنے سے بچاؤ کا اہتمام ہو، اور شوہر بھی مکمل مطمئن ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کو اجازت دینی چاہیے۔
فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی
عصری فکری منظرنامے میں مسلم معاشروں کو جن نظریاتی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاصر نسائیت (فیمنزم) اور اس کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والا تشکیکی و الحادی رویہ سرفہرست ہے۔ موجودہ دور میں ارتداد اور فکری بے راہ روی کا سب سے زیادہ شکار مسلم نوجوان بالخصوص لڑکیاں ہو رہی ہیں، جنہیں مساواتِ مطلق اور انفرادی خود مختاری کے دلفریب مغربی تصورات نے شدید نظریاتی الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدیدیت کی اس یلغار کا سب سے مربوط اور منظم حملہ اسلام کے خاندانی، معاشی اور سماجی قوانین پر ہوا ہے۔ اس کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ناگزیر ہے کہ مغرب میں ابھرنے والی یہ نسائی تحریک ابتدا میں سماجی اور معاشی مساوات کی داعی رہی، پھر اس نے بتدریج ایک باقاعدہ 'فیمنسٹ تھیولوجی' (نسائی الہیات) کا روپ دھار لیا۔ بیسویں صدی کے وسط میں ویلری سیونگ اور میری ڈیلی جیسی فیمنسٹ مفکرین نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام الہامی مذاہب کی الہیات 'پیٹریارکی' (پدرسری نظام) کی پروردہ ہیں۔ اس گمراہ کن تصور نے 'جیوش فیمنزم' (یہودی نسائیت) اور 'کرسچئین فیمنزم' (عیسائی نسائیت) کو جنم دیا، جس کا بنیادی مقصد مذہبی متون میں اصلاح کے نام پر تحریف کرنا، خواتین کو مخصوص عبادات کی قیادت سونپنا اور خدا کے مذکر تصور کو مونث میں تبدیل کرنا تھا۔ جب روایتی مذاہب کے متون میں کی جانے والی یہ تانیثی تعبیرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو بغاوت کے اس فلسفے نے 'ساٹانک فیمنزم' (شیطانی نسائیت) کی شکل اختیار کر لی، جس میں شیطان کو حوا کا خیر خواہ اور پدرسری نظام کی حاکمیت سے نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔
مغرب کا یہ فکری ارتقاء جب مسلم معاشروں کی طرف بڑھا تو اس نے 'اسلامک فیمنزم' کا خوشنما لبادہ اوڑھ لیا۔ مارگوٹ بدران، اسماء برلاس، لیلیٰ احمد اور امینہ ودود جیسی فیمنسٹوں نے قرآن و سنت کی ایسی تعبیرِ نو شروع کی جو مغربی صنفی مساوات کے طے کردہ فریم ورک پر پوری اتر سکے۔ اس تحریک نے ریاست، سول اداروں اور روزمرہ زندگی میں صنفی مساوات کے نفاذ کے لیے نجی و عوامی شعبے کی تفریق کو یکسر مسترد کر دیا۔ امینہ ودود کا نیویارک میں نمازِ جمعہ کے مخلوط اجتماع کی امامت کروانا، اسراء نعمانی کا مساجد میں صنفی اختلاط کے لیے مہم چلانا، یا فدیلا عمارہ کا حجاب کو 'خواتین کی آزادی کا کفن' قرار دے کر اس پر پابندی کی بھرپور حمایت کرنا، دراصل اسی مغربی ایجنڈے کی کڑیاں ہیں۔ ان نسائی تحریکوں کا سب سے بڑا ہدف اسلام کا ازدواجی و عائلی نظام بنا، جس میں تعددِ ازدواج، مرد کا یک طرفہ حقِ طلاق، سرپرست (ولی) کی شرط اور وراثت میں تفاوت کو عورت کی مظلومیت اور محکومی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔
جب ہم اسلام کے عمرانی ڈھانچے کا معروضی مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام عدلِ تکمیلی اور صنفین کی حیاتیاتی جبلت پر استوار ہے۔ اس حوالے سے برصغیر کے عبقری مفکر اور متکلم، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' کے مباحثِ ارتفاقات میں خاندانی نظام کی جو عقلی، نفسیاتی اور کلامی اساس 'تدبیرِ منزل' کے عنوان سے فراہم کی ہے، وہ اس معاصر نسائی چیلنج کا ایک محکم اور مسکت جواب پیش کرتی ہے۔ البتہ شاہ صاحبؒ کے ان دقیق فلسفیانہ افکار کو موجودہ دور کے تناظر میں سمجھنے کے لیے برصغیر کے نامور عالم اور شارحِ حجۃ اللہ البالغہ، مفتی سعید احمد پالنپوریؒ کی شرح 'رحمۃ اللہ الواسعہ' بہترین رہنما ہے۔ مفتی صاحبؒ نے عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان عمرانی، خاندانی اور نفسیاتی حکمتوں کو اس سلیس اور مدلل انداز میں واضح کیا ہے جو آج کے جدید ذہن کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا مکمل ازالہ کر دیتا ہے۔
شاہ صاحبؒ اور ان کے شارح کی تفہیم کے مطابق، خاندان ایک حیاتیاتی اکائی ہے، اور 'ارتفاقِ ثانی' یعنی تمدنی ارتقا کا دوسرا اہم ترین مرحلہ اور ایک مکمل انتظامی ادارہ بھی۔ علمِ تدبیرِ منزل وہ حکمتِ عملی ہے جو ترقی یافتہ تمدن میں خاندانی تعلقات کی نگہداشت سے بحث کرتی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد انسانی طبعی ضرورتوں سے جڑی ہے؛ ہم بستری کی ضرورت نے مرد و زن میں رفاقت پیدا کی اور پھر اولاد پر شفقت نے ان کی پرورش میں باہمی تعاون کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت، دونوں کی فطری و جسمانی ساخت میں کچھ مخصوص کمالات اور کچھ کمزوریاں رکھی ہیں۔ عورت فطری طور پر اولاد کی پرورش کے طریقے مرد سے بہتر جانتی ہے۔ اس کی جبلت میں حیا اور خانہ نشینی کا رجحان غالب ہوتا ہے اور وہ گھریلو و لطیف کاموں میں طبعاً ماہر ہوتی ہے۔ فطری طور پر اس میں تابعداری اور موافقت کی صلاحیت مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کی اصطلاح میں اس کی عقلِ تدبیری، بدن اور عزم و حوصلہ نرم ہوتا ہے، جس کے باعث وہ سخت محنت اور بیرونی مشقت کے کاموں سے فطری طور پر گریزاں رہتی ہے۔ اس کے برعکس مرد کی ساخت اور عقلِ تدبیری بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ سخت اور صائب الرائے ہوتی ہے۔ مرد کی فطرت میں تسلط، مناقشے کی صلاحیت اور غیرت و حمیت کامل ہوتی ہے جو خاندان کے بیرونی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ مرد میں اولاد کی پرورش کا وہ لطیف سلیقہ نہیں پایا جاتا، نہ ہی وہ ہر وقت گھر میں بند رہ سکتا ہے۔ اس فطری تقسیمِ کار کی روشنی میں یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نکاح استحصالی معاہدہ بالکل نہیں ہے، بلکہ دونوں اصناف کی مجبوری اور ضرورت ہے جس سے وہ ایک دوسرے کی خامیوں کی تلافی کر کے ایک پرسکون معاشرتی اکائی تشکیل دیتے ہیں۔
فیمنسٹ ڈسکورس کی جانب سے ولایت (سرپرست کی شرط) پر جو شدید اعتراض کیا جاتا ہے، شاہ صاحب اس کی نہایت شاندار عقلی توجیہ پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عورت کے معاملے میں مردوں کے اندر رقابت اور غیرت کا مادہ شدید ہوتا ہے، اس لیے سماجی امن کے لیے ضروری ہے کہ گواہوں، منگنی اور مہر کے ذریعے مرد کا کسی عورت کے ساتھ اختصاص (خاص ہونا) برملا اور درست طریقے سے طے کر دیا جائے۔ عورت چونکہ اپنے ولی کو عزیز ہوتی ہے، اس لیے ولی اسے ہر بیرونی دست درازی اور دھوکے سے محفوظ رکھتا ہے۔ نسائی تحریکیں ولایت کو عورت کی خود مختاری کی نفی سمجھتی ہیں، جبکہ درحقیقت یہ ایک ایسا حفاظتی حصار ہے جس کے ذریعے پورا خاندان عورت کے حقوق کا ضامن بن جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح محرم رشتہ داروں سے نکاح کی کامل حرمت میں بھی عظیم عمرانی اور نفسیاتی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مفتی صاحبؒ تشریح فرماتے ہیں کہ اگر محارم میں اولیاء کی رغبت کا دروازہ کھول دیا جاتا تو اس سے عورت کو ناقابلِ تلافی ضرر پہنچتا۔ ولی خود عورت پر غاصبانہ قبضہ کر لیتا، اور مشکل وقت یا شوہر کی حق تلفی کی صورت میں عورت کے حقوق کا مطالبہ کرنے والا پشت پناہ ادارہ (یعنی میکہ) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا۔ علاوہ ازیں، محارم سے نکاح کی صورت میں پیدا ہونے والے سوکنوں کے جھگڑے خونی رشتوں اور صلہ رحمی کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتے۔
معاشی تفاوت اور وراثت میں عورت کے نصف حصے کو جدید دور کی فیمنسٹ مفکرین فرسودہ اور استحصالی قرار دیتی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ آج کی انڈیپنڈنٹ اور خودمختار عورت چونکہ معاشی میدان میں مرد کے شانہ بشانہ ہے، اس لیے وراثت کا یہ قانون بدلنا چاہیے۔ یہ اعتراض دراصل اسلامی معاشیات کے بنیادی ڈھانچے سے کامل ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام میں مالی تقسیم کا معیار 'جینڈر' (صنف) ہے ہی نہیں، بلکہ اس کا اکلوتا معیار مالی ذمہ داری ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق اسلام کا قانونِ نفقہ عورت کو جو مکمل معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کی کوئی نظیر مغربی تہذیب میں نہیں ملتی۔ عورت بیٹی، بیوی یا ماں کی حیثیت میں مالی طور پر ہمیشہ کسی نہ کسی مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عورت جو کچھ کماتی ہے، وہ اس کی خالص ذاتی ملکیت ہے جس پر خاندان کا ایک روپیہ خرچ کرنا بھی اس پر شرعاً لازم نہیں۔ اس کے برعکس، مرد پر اپنی ذات، بیوی، بچوں اور بوقتِ ضرورت دیگر غریب رشتہ داروں کا نفقہ فرض کیا گیا ہے۔ عدل و انصاف اور معاشی توازن کا یہی بے لاگ تقاضا ہے کہ جس پر مالی بوجھ زیادہ ہو، اسے وراثت میں حصہ بھی دوگنا دیا جائے۔ اگر عورت کو معاشی ذمہ داریوں سے مکمل آزاد رکھنے کے باوجود مرد کے برابر حصہ دیا جاتا تو یہ مرد پر صریح ظلم اور خاندانی اقتصادیات کی تباہی کا سبب بنتا۔ اسلام نے مرد کی جسمانی ساخت اور انہی مالی ذمہ داریوں کے سبب اسے 'قوامیت' (خاندانی سربراہی) سونپی ہے۔ مغربی تہذیب نے جب عورت کو معاشی کفالت کے اس فطری حق سے محروم کیا تو وہاں خاندانی زندگی مہر و محبت سے خالی ہو کر ایک کچے دھاگے کی مانند رہ گئی ہے۔
قانونی اور سماجی مساوات کے حوالے سے عورت کی آدھی گواہی پر بھی معاصر لبرل اور نسائی حلقوں میں مستقل طعن و تشنیع کی جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے 'حجۃ اللہ البالغہ' میں عورت کی جبلت کے لیے 'أخفهما عقلاً' (عقلِ تدبیری میں ہلکا ہونا) اور 'أكثرهما انحجاماً من المشاق' کی جو اصطلاحات استعمال کی ہیں، ان اصطلاحات، یا احادیث میں وارد ہونے والے لفظ 'ناقصات عقل' سے مراد انسانی شرف، فہم، یادداشت یا 'آئی کیو' (ذہنی استطاعت) کی کمی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد 'عقلِ تدبیری و تجارتی' ہے، جس کا تعلق خالصتاً بیرونی معاملات، کاروباری جوڑ توڑ اور عدالتی محاذ آرائی سے ہے۔ مالی و تجارتی تنازعات میں عورت کی گواہی کو نصف کرنا اس کی تحقیر نہیں ہے،، بلکہ اس کی فطری جبلت، لطافتِ مزاج اور 'امومہ' (ممتا) کے تقدس کا پاس رکھنا ہے، تاکہ عدالتی جرح اور کارروائیوں کے دوران اس پر نفسیاتی بوجھ نہ پڑے۔ ایک عورت کی بھول چوک پر دوسری کا اسے یاد دلانا اسی اعصابی و نفسیاتی تحفظ کا ایک لازمی اور مشفقانہ حصہ ہے۔ اسی بنیاد پر امامتِ صغریٰ و کبریٰ (ریاست کی سربراہی اور مخلوط مجمع کی امامت) عورت کے لیے ممنوع قرار دی گئی ہیں، کیونکہ یہ امور عورت کی فطری حیا اور تدبیرِ منزل کے اصل دائرے سے براہِ راست متصادم ہیں۔ اسلام کے احکامِ حجاب عورت کی سماجی پاکیزگی کو برقرار رکھنے اور معاشرے کو اخلاقی انارکی سے بچانے کا بنیادی ستون ہیں، جسمانی خود مختاری پر قدغن لگانا مقصود نہیں ہے۔
خاندانی تنازعات اور طلاق کے حوالے سے بھی اسلام کا موقف مکمل عدل پر مبنی ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ مرد پر خاندان کی کفالت کا بوجھ ہے، اس لیے طلاق کا اختیار بنیادی طور پر اسے دیا گیا ہے تاکہ وہ نکاح ٹوٹنے کے مالی نقصان کے پیشِ نظر جذباتی اور عجلت پسندانہ فیصلوں سے گریز کرے۔ دوسری جانب عورت کو 'خلع' کا حق دے کر مضبوط عدالتی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ طلاق یا وفات کے بعد عدت کی پابندی 'استبراءِ رحم' اور نسب کی حفاظت کے لیے ایک ناگزیر عمل ہے تاکہ رشتوں کا تقدس خلط ملط ہونے سے بچ جائے۔ تعددِ ازدواج کو تنقید کا نشانہ بنانے والے مغربی مفکرین فراموش کر دیتے ہیں کہ یہ مرد کا کوئی بے مہار حق نہیں ہے، یہ سنگین سماجی مسائل کا ایک تدارک اور حل ہے۔ جنگوں اور آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا خواتین کے معاشی اور جنسی تحفظ کا اس سے بہتر اخلاقی راستہ کوئی نہیں۔ مغربی معاشرے نے جب اس پاکیزہ قانونی حل کو رد کیا، تو اسے ناگزیر طور پر مسٹریس کلچر (خفیہ داشتہ کی روایت) کی غلاظت میں پناہ لینی پڑی۔ اسی طرح گھریلو معاملات میں سورہ نساء کی آیت 'ضرب' کو گھریلو تشدد کے شرعی جواز کے طور پر پیش کرنا فیمنسٹ طبقے کی ایک اور بڑی فکری خیانت ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک چونکہ خاندان ایک انتظامی ادارہ ہے، اس لیے اس کے نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لیے ناظم کے پاس تادیبی اختیارات کا ہونا لازم ہے۔ قرآن نے خاندانی بکھراؤ کو روکنے کے لیے ایک نفسیاتی علاج تجویز کیا ہے، جس میں افہام و تفہیم اور بستر الگ کرنے کے بعد آخری مرحلہ ایک علامتی ضرب ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی صراحت کے مطابق یہ ضرب غیر مبرح ہونی چاہیے، جس سے جسم پر کوئی نشان نہ پڑے، اور چہرے پر مارنے کی تو سختی سے ممانعت ہے۔ نبی کریم ﷺ کا یہ اسوہ حسنہ تاریخ کے صفحات پر روشن ہے کہ آپ ﷺ نے پوری زندگی کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامک فیمنزم کا دعویٰ سرتاسر باطل اور فکری تضادات کا ملغوبہ ہے۔ فیمنسٹ تھیولوجی دراصل الہامی متون کو مسخ کر کے، اور اصلاحِ مذہب کا مغربی لبادہ اوڑھ کر، فرد کو خاندان کے حصار سے نکال کر تنہا اور مادر پدر آزاد کرنے کا ایک استعماری پروجیکٹ ہے۔ جب کہ اسلامی فقہ اور قوانین خالقِ کائنات کے وضع کردہ عدلِ تکمیلی کے کامل عکاس ہیں۔
زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
اول :
تابعین کے فتاویٰ اس حوالے سے مختلف ہیں کہ ایسا سامان یا اثاثے جو فروخت کی نیت سے خریدے گئے ہوں لیکن کئی سال تک فروخت نہ کیے جا سکیں، آیا ان کی قیمت پر ہر سال زکوٰۃ عائد ہوگی یا نہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ہر سال ان کی زکوٰۃ دی جائے گی، اور دوسری یہ کہ جب وہ سامان یا اثاثہ فروخت کر کے نقد رقم ہاتھ میں آئے، تب اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔ درمیان کے سالوں میں واجب نہیں ہوگی۔ اس دوسرے موقف میں زیادہ آسانی ہے، اس لیے میری رائے میں ایسے سامان یا اثاثے پر زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے، خصوصاً جبکہ اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہو۔ ہاں، آدمی کو گنجائش ہو تو وہ استحباباً ایسے سامان یا اثاثوں کی زکوٰۃ دے سکتا ہے۔
دوم :
اسی طرح کا اختلاف ایسی فصل کے متعلق بھی ہے جس کا عشر ایک دفعہ دے دیا گیا ہو اور پھر وہ کئی سال تک آدمی کے پاس اسٹاک میں پڑی رہے۔ بعض تابعین ہر سال اس کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہونے کے قائل ہیں اور بعض کے نزدیک جب اسے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کر لی جائے، تب دوبارہ زکوٰۃ واجب ہوگی۔ درمیان کے سالوں میں واجب نہیں ہوگی۔ یہاں بھی دوسری رائے بہتر معلوم ہوتی ہے، البتہ استحباباً اس کی زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے۔
اسی پر ایسی مصنوعات کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے جن کی زکوٰۃ ایک دفعہ ادا کر دی جائے اور پھر وہ کئی سال تک اسٹاک میں پڑی رہیں۔ ان پر بھی دوبارہ زکوٰۃ تبھی واجب ہونی چاہیے جب ان کو فروخت کر کے رقم حاصل کر لی جائے۔ یہی حکم اس رقم کا بھی ہونا چاہیے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد سیونگ کے طور پر کسی ضرورت کے لیے الگ رکھ دی گئی ہو اور انویسٹمنٹ کے ذریعے سے مزید آمدن کا وسیلہ نہ بن رہی ہو۔ ایک دفعہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد ہر سال اس پر زکوٰۃ نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ انویسٹ کی گئی رقم کا حکم ظاہر ہے، مختلف ہوگا۔
واللہ اعلم
A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi
This is Allah Almighty’s distribution and His wisdom — and He knows best — that many of our brothers and sisters are born with physical disabilities or acquire them later. Yet they remain part of society, just like us. Their basic needs and emotions are no different from ours. Therefore, it becomes a collective responsibility of society to care for them and ensure that they do not develop a sense of deprivation. In this regard, I fully endorse the proposals presented and the demands made to the government, however, I would like to say to my special friends: take heart, work with resolve and courage, and rather than relying solely on facilities, strive to move forward on your own. In this context, I find it appropriate to share a personal reflection.
Sometimes I ponder that Allah, the Lord of Majesty, has blessed human beings with immense gifts in the form of physical organs. These organs are priceless endowments of nature, each beyond valuation. But alongside these organs, nature has also endowed humans with determination, courage, and willpower — far more precious and far more powerful than any physical attribute. I often wonder: are these organs more effective, or is the willpower behind them more potent? Experience and observation tell us that willpower, resolve, and courage are the greatest strengths of all. For many people are blessed with perfect physical health and show no sign of any weakness, yet because their willpower is weak and their resolve feeble, they achieve nothing. On the other hand, we see many people who are physically disabled and apparently in no position to accomplish anything, yet through sheer willpower and determination, they achieve remarkable feats — and their performance leaves us astonished.
Thus, I believe that physical health is indeed a great blessing, but resolve, courage, and willpower are even greater blessings — and by harnessing them, one can overcome physical limitations. Human beings are both extremely weak and extremely powerful. If one’s resolve is directed toward weakness, there is none weaker; but if one’s willpower is channeled toward courage and determination, there is none stronger. Allah has granted human beings tremendous power in the form of resolve and courage, and by employing it, a person can overcome even the greatest of weaknesses.
On this occasion, I also wish to share an incident mentioned by the renowned hadith scholar and historian, Al-Khatib al-Baghdadi, in his book Al-Faqih wa al-Mutafaqqih (الفقیہ والمتفقہ). He relates that a great scholar named Qadhi Awqas (قاضی اوقص) is counted among the eminent judges of Islamic history. His name was Muhammad ibn Abd al-Rahman, and he was known as Qadhi Awqas. Due to his physical appearance and bodily structure, hardly anyone would consent to sit beside him. He narrates his own story:
He was born that way, but his mother was very wise. When he began to understand things, one day she sat him down and explained: My son, Allah has given you such a form and physique that perhaps no one would even want to sit near you. So take my advice, devote yourself to acquiring religious knowledge. For knowledge is such a treasure that it covers all flaws and weaknesses. Qadhi Awqas said, he understood his mother's words, dedicated himself to the pursuit of knowledge, and gained such mastery in Islamic jurisprudence that today he serves as a judge — while those who were thought would never even sit with him now come to him with their disputes, and he resolves their cases.
Through this instructive story of Qadhi Awqas, I wish to say this to all my special friends: do demand your rights and facilities, and do press for your entitlements. But if you make knowledge and skill your destination and work with determination and courage, you will attain such a place in society that you will never need to ask anything from anyone. Therefore, I say to the special members of society: your real strength lies in resolve, courage, and willpower, and your greatest target should be knowledge and skill. If you grasp this lesson, like Qadhi Awqas did, people will come to you of their own accord, and society will be compelled to give you your rightful place. May Allah Almighty bless us all with the wealth of resolve, courage, knowledge, and skill. Ameen, O Lord of the worlds.
https://zahidrashdi.org/372
رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا ونبینا ومولانا محمد خاتم النبیین وامام المرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین وعلیٰ کل من تبعہم باحسان الیٰ یوم الدین۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ہم ’’استقلالِ پاکستان‘‘ کا ۷۸ واں جشن منا رہے ہیں۔ الحمد للہ، دارالعلوم میں یومِ آزادی کے موقع پر ولولہ انگیز قسم کا یہ اجتماع ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ اور ہمارے والد ماجد، بانی دارالعلوم، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ کی ہدایت کے مطابق یومِ آزادی کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ختمِ آیتِ کریمہ اور تلاوتِ قرآن سے کیا جاتا ہے۔
دنیا میں یہ رواج ہے کہ یومِ آزادی کی شروعات توپوں کی سلامی سے ہوتی ہے، اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے، لیکن ہمارے حضرت والد قدس اللہ تعالیٰ سرہ نے یہ فرمایا کہ پاکستان چونکہ الحمد للہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اس لیے ہمارے یومِ آزادی منانے کا طریقہ بھی دوسری اقوام سے مختلف ہونا چاہیے؛ اور اسلام کے مطابق کسی بھی قسم کی عید یا کسی بھی قسم کا جشن اگر منانا ہو، تو اس کی روح درحقیقت ’’رجوع الی اللہ‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے رجوع کر کے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور اسی سے یہ فریاد کی جائے کہ اللہ تبارکٰ و تعالیٰ، جس مقصد کے لیے یہ ملک قائم ہوا ہے، اس مقصد میں ہمیں پیش قدمی کی توفیق عطا فرمائیں۔
چنانچہ آج بھی، الحمد للہ، اس یومِ آزادی کا آغاز دارالعلوم کی مسجد میں ختم سے ہوا، دعاؤں سے ہوا؛ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ دعائیں قبول فرمائیں۔ اور آج، ماشاء اللہ، جس طرح ہمارے دارالعلوم کے مختلف شعبوں کے طلبہ نے نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اور بہت جوش و خروش کے ساتھ پروگرام پیش کیے، میں ان طلبہ کو بھی اور درحقیقت ان کے اساتذہ اور منتظمین کو بھی، جنہوں نے یہ خوبصورت، پروقار اور منظم پروگرام تیار کیے اور اس کے لیے محنت کی، میں ان سب کو تہہِ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خاص طور پر نچلے درجوں کے طلبہ، دار القرآن کے بچے، دار القرآن کے اساتذہ، ابتدائیہ اور ثانویہ کے، اور حرا فاؤنڈیشن کے اساتذۂ کرام، جنہوں نے یہ خوبصورت اور ولولہ انگیز پروگرام تشکیل دیے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور انہیں تہہِ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان جذبات کو ملک و ملت کے لیے بہتر مستقبل کا پیش خیمہ بنائے۔
جب بچے، بالکل چھوٹے بچے، مدرسہ ابتدائیہ کے چھوٹے بچے ہمارے سامنے پریڈ کر رہے تھے، تو مجھے اپنا بچپن یاد آ رہا تھا۔ آج اس دنیا میں وہ لوگ کوئی خال خال ہی ہوں گے جنہوں نے پاکستان بنتے ہوئے دیکھا۔ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے بچپن ہی میں سہی، لیکن پاکستان کو بنتے ہوئے، پاکستان کی تحریک کے چلتے ہوئے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس تحریکِ پاکستان میں کسی بھی حیثیت سے شرکت اور حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ جیسے چھوٹے چھوٹے بچے آپ کے سامنے ابھی پریڈ کر رہے تھے، تو مجھے دیوبند کا وہ منظر یاد آ رہا تھا جب ہم اتنے ہی کم عمر تھے، بلکہ شاید اس سے بھی کم، اور اس وقت اپنی توتلی آواز میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے اور یہ نعرے لگایا کرتے تھے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ تمنائیں، وہ آرزوئیں، وہ دعائیں، وہ قربانیاں اور وہ جدوجہد اس طرح قبول فرمائی کہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا ہوا یہ خطۂ زمین اللہ تبارک و تعالیٰ نے خالص اسلام کے نام پر عطا فرمایا۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسا ملک جو کسی دین کی بنیاد پر قائم ہوا ہو، وہ پاکستان کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا، سوائے ارضِ حرمین شریفین کے، جو الحمد للہ نبی کریم سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد اور آپؐ کی ہدایات کے مطابق ایک نمونہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجی تھی۔ وہ تو ظاہر ہے کہ مستثنیٰ ہے، اس کا تو کوئی مقابلہ کیا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس کے بعد جتنی اِس وقت حکومتیں نظر آتی ہیں، وہ کوئی بھی اسلام کے نام پر نہیں بنیں، وہ قومیت کی بنیاد پر بنیں۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ شرف پاکستان کو عطا فرمایا کہ اس کی بنیاد اسلام پر قائم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، یہ عظیم نعمت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو عطا فرمائی۔
اس نعمت کا تھوڑا سا اندازہ آپ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سن کر اور دیکھ کر کر سکتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ اور یہی وہ چیز تھی جس کی بنا پر قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کانگریس سے علیحدہ ہوئے۔ پہلے وہ کانگریس میں شامل تھے لیکن ہندوؤں کا طرزِ عمل دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارا ان کے ساتھ نباہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ سے پاکستان کی تحریک چلی اور پاکستان کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آج سے ۷۸ سال پہلے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو یہ وطن ہمیں عطا فرمایا۔ اس نعمت کا سب سے پہلے تو ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے! آزادی کی فضا میں مسلمان سانس لے سکیں، آزادی کی فضا میں اپنی بات کہہ سکیں، اور اپنے دین کے مطابق چلنے کی کوشش کر سکیں، یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
اس نعمت کا تقاضا یہ تھا کہ ہم سب، اور نہ صرف ہم سب بلکہ ہماری حکومتیں اور ہمارے حُکام اس نعمت کی قدر پہچان کر اُس منزل کی طرف بڑھیں جس منزل کی خاطر ہمارے بے شمار بھائیوں اور بہنوں نے قربانیاں دیں، اور اس ملک میں اسلام کو بحیثیت ایک دین کے، بحیثیت ایک نظام کے، اس طرح اختیار کیا جائے کہ وہ ساری دنیا کے لیے ایک مثال بن سکے۔ افسوس ہے کہ چند قدم شریعت کی طرف بڑھنے کے باوجود، بحیثیتِ مجموعی ہمارے حکمران اپنے اس فریضے سے غافل رہے، اور اس سے غافل ہونے کے نتیجے میں جو منزل ہمیں حاصل کرنی تھی، وہ ۷۸ سال کے بعد بھی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی۔
الحمد للہ، کچھ اقدامات ہمارے بزرگوں کی جدوجہد سے ایسے وجود میں آئے ہیں کہ اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں اور اس پر فخر بھی کر سکتے ہیں، لیکن بحیثیتِ مجموعی حکومتوں کا طرزِ عمل یہ رہا کہ وہ اپنے نظامِ حکومت کو اسی مغربی طرز کے اوپر چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس نے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اور مجھے بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جب کہ ہم یومِ آزادی منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، اس سے کچھ ہی پہلے دو ایسے اقدامات کیے گئے جو پاکستان کے وجود کے لیے انتہائی خطرناک اور انتہائی شرمناک ہیں۔
ایک یہ کہ کچھ دن پہلے پارلیمنٹ کی طرف سے اسلام آباد میں چار ہوٹلوں کو شراب بیچنے کی اجازت دی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاکستان کو شراب سے بچایا تھا، شراب کے قانونی استعمال سے بچایا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان بننے کے بعد شراب بند ہو گئی تھی، پھر بھی لوگ خلوت میں، چوری چھپے شراب پیتے تھے، لیکن کراچی کا وہ منظر جو ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ صدر بازار میں قدم قدم پر شراب خانے تھے اور وہاں شراب اس طرح پی جاتی تھی جیسے کہ آپ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، اس طرح اس کا رواج عام تھا، گلیوں میں سے شراب کی بو آیا کرتی تھی۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس سے نجات عطا فرمائی تھی، اور ۱۹۷۸ء میں صدر ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں ہماری طرف سے ایک قانون منظور ہوا، اس قانون کے تحت شراب بالکل بند کر دی گئی، شراب کا پینا جرم قرار دیا گیا اور اس کا بیچنا جرم قرار دیا گیا۔ اس قانون کی تیاری میں اِس ناکارہ کا بھی حصہ تھا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ قانون منظور کرایا۔
یہاں تک کہ پی آئی اے (PIA) کے جو جہاز تھے، پہلے اس میں مسافروں کو شراب پلانے کا انتظام تھا، اور جب پی آئی اے سے شراب بند کرنے کا حکم آیا تو کہا جاتا تھا کہ اب پی آئی اے نقصان برداشت نہیں کر سکے گا، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو آنکھوں سے دکھایا کہ جس سال شراب بند ہوئی، پی آئی اے کا منافع پچھلے سالوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑھ گیا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قانون کو الحمد للہ اس طرح کامیاب بھی فرمایا۔ چوری چھپے قانون کے خلاف ہر جگہ کام ہوتا ہے، یہاں بھی ہوتا رہا، لیکن قانون کے سائے میں شراب کی خرید و فروخت اور اس کے پینے کا معاملہ الحمد للہ حل ہو چکا تھا۔ اب یہ آزادی کے دن سے چند دن پہلے پارلیمنٹ میں یہ بل منظور کیا گیا کہ چار بڑے ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی، بلکہ دے دی گئی۔ یہ انتہائی شرمناک فیصلہ ہے جو حکومت نے کیا، اور افسوس ہے کہ یومِ آزادی سے چند دن پہلے کر کے یومِ آزادی کی خوشیوں کو مکدر کر دیا۔
اور دوسرا فیصلہ؛ اسلام آباد کی ایک مسجد کو گرایا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ہم نے مدرسہ گرایا تھا اور مدرسہ والوں سے یہ طے کیا گیا تھا کہ ہم اس کے متبادل زمین ’’بارہ کہو‘‘ میں عطا کریں گے اور وہاں پر مدرسہ قائم ہوگا اور مدرسہ وہاں پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اول تو یہ باہمی مذاکرہ کس طرح ہوا، کس نے اس پر اتفاق کا اظہار کیا؟ یہ کچھ پتا نہیں۔ اور دوسرے، اگر مدرسہ کو منتقل کرنے کا معاملہ تھا، وہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرے کی بنیاد پر اس کو منتقل کر دیا جائے، لیکن جو مسجد بن گئی تھی، اور جو جگہ ایک مرتبہ مسجد بن جاتی ہے وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے، اس کا تقدس برقرار رکھنا ہر مسلمان کے فرائض میں داخل ہے۔ اس مسجد کو گرانے پر کوئی مذاکرہ نہیں ہو سکتا تھا، اس کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے کہ مسجد بن گئی تھی اور سالہا سال سے اس میں نمازیں پڑھی جا رہی تھیں۔ کسی مذاکرے سے، کسی معاہدے سے اس کو ختم کرنا کسی صورت جائز نہیں تھا۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایسی افسوسناک اور ایسی شرمناک حرکت کی گئی کہ اس مسجد کو شہید کیا گیا۔
میں یہ کہتا ہوں حکومت کے لوگوں سے کہ آپ مجھے پورے پاکستان میں کوئی ایک مسجد ایسی دکھا دیں جو حکومت نے بنائی ہو۔ جتنی مسجدیں ہیں، وہ عوام نے بنائیں، مسلمانوں نے بنائیں۔ حکومت کی طرف سے، حکومت کے خرچ پر کوئی ایک مسجد پورے پاکستان میں، کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔ شاہ فیصل مسجد اگر ہے تو وہ سعودی عرب کی امداد سے بنائی گئی تھی۔ لیکن وہ مسجد جو پاکستانی بجٹ کے اندر شامل کر کے بنائی گئی ہو، کم از کم میرے علم میں کوئی ایسی مسجد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کل ہی مجھے ایک میرے دوست بتا رہے تھے کہ جس مسجد میں میں امامت کرتا ہوں وہ سرکاری پولیس کا مرکز ہے، سرکاری پولیس کا مرکز جو ہے وہ بھی سرکار کے خرچ پر نہیں بنایا گیا بلکہ عوام سے چندہ لے کر بنایا گیا۔ تو وہ اسلامی ریاست، جس کا سب سے بڑا Motto یہ ہونا چاہیے تھا:
الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ (الحج ۴۱)
’’جن کو ہم زمین میں اقتدار دیں تو وہ سب سے پہلے نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘
اس ریاست کے حکمرانوں نے کوئی ایک مسجد نہیں بنائی پورے ملک میں، اور جو مسجدیں بنائی جا رہی تھیں ان کو شہید کرنے کے واقعات ایک سے زیادہ ہیں۔ اور افسوس ہے کہ اس موقع پر، جبکہ یومِ آزادی قریب آ رہا تھا، یہ حرکت کر کے سارے مسلمانوں اور پاکستان کے سارے دین پسند عوام کے جذبات کو مجروح کر کے ان کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انتہائی افسوس، انتہائی صدمہ کہ اس یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں یہ نوحہ پڑھنا پڑ رہا ہے، ہمیں اس پر رنج و غم کا اور صدمے کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے۔
لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ حکمران، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے، وہ اسلام کے اس مقدس مرکز یعنی پاکستان کے ساتھ جتنی بے وفائی کریں اور اس کے مقصدِ وجود سے کتنا ہی انحراف کریں، یہ ملک اللہ کے نام پر وجود میں آیا، ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر وجود میں آیا، لہٰذا ان کی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور کبھی بھی پاکستان کے مسلمان ان حرکتوں کو گوارا نہیں کریں گے۔ یہ پتا نہیں کس احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کہ وہ ایسے کام کر گزرتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؛ لیکن الحمدللہ یہ قوم مسلمان قوم ہے، یہ بیدار ہے، یہ ایک ایک عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ کوئی بات قابلِ تعریف ہوتی ہے تو ہم اس کی تعریف بھی کرتے ہیں، ہم اس کی حمایت بھی کرتے ہیں، لیکن ایسے اقدامات، شرانگیز اقدامات، جو ہمارے ملک کے مقصدِ وجود کے خلاف ہیں، ان پر خاموش رہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ ہمیں اس کے خلاف پوری مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تلافی کی پوری کوشش کرنی ہوگی اور اس کے لیے سب مسلمانوں کو تیار رہنا چاہیے۔
بہرحال، انتہائی افسوس ہے کہ خوشی کے اس موقع کو ایک صدمے کا موقع بنا دیا گیا، مسرت کی اس تقریب کو نوحہ پڑھنے کی تقریب بنا دیا گیا۔ اور پورا ملک، علماء، اور علماء ہی نہیں، سب دین کے چاہنے والے عوام بھی اس پر تُف کر رہے ہیں۔ جو قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے، اگر اس کی فورًا تلافی نہ کی گئی تو یہ ایک طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے؛ لہٰذا میں انتہائی درمندانہ اپنے حکمرانوں سے یہ کہوں گا کہ وہ اس صورتحال کا فورًا نوٹس لے کر پاکستان کے اصل مقصدِ وجود کی طرف بڑھیں، اور نہ صرف یہ کہ مسجد کو شہید کرنے کی اس انتہائی منافقانہ حرکت سے توبہ کریں، اور توبہ کر کے اپنے پورے ملک کو اس لحاظ سے مسجد بنائیں کہ اس میں اللہ کا حکم جاری ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل ہو، ہمارا نظامِ تعلیم ایسے لوگ تیار کرے جو سچے پکے مسلمان اور سچے پکے پاکستانی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
مجھے افسوس ہے کہ اس خوشی کے موقع پر بھی مجھے یہ کلمات کہنے پڑے، لیکن یہ دردِ دل ہے جس کے کہے بغیر ہمارا فریضہ ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ بہرحال، اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ انتہائی شرمناک حرکتیں جو بعض اوقات حُکام سے سرزد ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ اس قوم کو ان کے شر سے بچائے اور اس قوم کو اس کا صحیح مداوا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام ہی پر ان شاء اللہ یہ قائم رہے گا۔ اور مجھے اپنے بھائی، مولانا زکی کیفی صاحب کا ایک شعر یاد آتا ہے؛ جب ابھی تھوڑی دیر پہلے پاک بھارت جنگ کا جو ذکر ہوا تھا، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے فضل و کرم کا مظاہرہ فرمایا کہ اپنے سے پانچ گنا سے زائد طاقتور دشمن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے شکستِ فاش دی اور ہماری افواج کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے برتری عطا فرمائی جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجا ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اس کا انعام ہے۔ میرے بھائی مرحوم نے کہا تھا کہ ؎
ہر کڑے وقت میں اسلام ہی کام آیا ہے
ہر کڑے وقت میں اسلام ہی کام آئے گا
لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو ذرا اپنے گوشِ ہوش سے اس بات کو سننا چاہیے کہ ان کو جو کچھ فتح ملی، وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ملی، اس لیے ملی کہ پاکستان کو اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اگر وہ اس کے خلاف کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے تو پاکستانی قوم کبھی بھی اس کو قبول نہیں کرے گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر استقامت عطا فرمائے، ہمارے ملک کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اور جس مقصد کے لیے یہ وجود میں آیا تھا، اس مقصد کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کی توفیق بخشے۔ ان دعاؤں کے ساتھ میں آپ حضرات سے اجازت چاہتا ہوں اور آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس تقریب میں شرکت فرمائی۔
سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن
ریحان اللہ والا:
کیسے ہیں آپ لوگ؟ ہمارے بزرگوں میں ایک بزرگ مولانا فضل الرحمٰن ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں جو ہمارے ینگ بچے ہیں، جو خاص طور پر کراچی یا بڑے شہروں کے بچے ہیں، وہ زیادہ نہیں جانتے۔ میرا جب بھی ان کو سننے کا اتفاق ہوا ہے تو مجھے تو بہت مزا آتا ہے سننے میں، بہت انٹیلیکچوئل کنورسیشن سننے کو ملتی ہے۔ تو آج مولانا صاحب نے ٹائم دیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ان کی پرسنل لائف کو تھوڑا سا ڈسکس کریں، ان کے بارے میں جانیں کہ یہ ہیں کون، یہ کیسے ۳۸ سال سے اپنی جماعت چلا رہے ہیں۔ تو اس سے پہلے جو نان پولیٹیکل مولانا صاحب تھے، وہ کیسے آدمی تھے، ان کی تربیت کیسے ہوئی، کیسے گھرانے میں ہوئی؟ اور آپ ان کو بطورِ انسان جاننے کی آج کوشش کیجیے گا۔
مولانا صاحب! شکریہ بہت بہت ٹائم دینے کا۔ آپ تھوڑی سی اپنی کہانی بچپن کی سنائیں، کہاں پیدا ہوئے، کیسے بڑے ہوئے؟ ماحول تو ہمیں معلوم ہے کہ دینی تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن:
میں تو ۱۹۵۳ء میں عبدالخیل نامی گاؤں میں پیدا ہوا، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں، اور میرا بچپن وہیں گزرا ہے۔ والد صاحب چونکہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے شیخ الحدیث تھے، اور میری تربیت جو ہے میرے چچا جان نے کی، خلیفہ محمد صاحب نے، تو ابتدائی تعلیم، قرآنِ کریم ناظرہ اور جو ابتدائی کتابیں ہوتی ہیں، وہ انہوں نے پڑھائیں مجھے۔ پھر چھٹی جماعت میں، میں نے ملتان میں داخلہ لیا، ملت ہائی اسکول میں، اور میٹرک وہیں سے کیا۔
ریحان اللہ والا:
تو چھٹی سے پہلے شیطانیاں ویطانیاں کرتے تھے نارمل بچوں کی طرح، یا؟
مولانا فضل الرحمٰن:
جو بچپن میں فطرت ہوتی ہے ہر بچے کی، وہ ہماری بھی تھی، دیہاتی ماحول میں، میں نے تو قریب قریب دیہاتوں کو بھی نہیں دیکھا تھا، بس اپنے ہی گاؤں اور اپنے ماحول میں ہی۔
ریحان اللہ والا:
تو کتنا بڑا گاؤں تھا یہ؟ اور وہاں اسکول وغیرہ تھے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
اس زمانے میں تو خیر چھوٹا تھا، یوں سمجھیے سات آٹھ ہزار کی آبادی کا، اور اب بہرحال دس بارہ ہزار تک پہنچ گیا ہو گا۔ تو یہ اس ماحول میں۔ اسکول پرائمری تھا پہلے، پھر اس کے بعد، بلکہ میرے ہوتے ہوئے تو پرائمری ہی تھا، اس سے زیادہ نہیں تھا۔ تو دیہاتی ماحول میں ہم وقت گزارتے تھے۔ ہمارے گھر میں اگر کوئی بھیڑ بکری تھی یا کوئی گائے تھی یا بھینس تھی، تو ہم اس کو صبح کھول کے پہاڑ کی طرف لے جاتے تھے، اس کو چراتے تھے (ریحان اللہ والا: سنت پر عمل کرتے تھے) تو ان کے لیے گھاس وغیرہ کاٹ کے لانا، تو یہ سارے کام ہم نے کیے ہیں بچپن میں، اور بالکل دیہاتی ماحول میں، یہی ہماری زندگی تھی۔ صبح ہم پڑھتے تھے، پھر اس کے بعد ہم کام پہ نکلتے تھے، پھر اس کے بعد ظہر کو پھر پڑھتے تھے۔ یہ مشغلے رہے ہیں۔
پھر اسکول میں آ گیا، تو ۱۹۷۰ء میں، میں نے میٹرک کیا۔ پھر میں دیہاتوں میں چلا گیا پڑھنے کے لیے۔ ان دیہاتوں میں کوئی پانی تک بھی نہیں ہوتا تھا، کھارا پانی ہوتا تھا، ہم دریا سے میٹھا پانی لاتے تھے۔ اور بجلی بھی نہیں ہوتی تھی، تو لالٹین کے سامنے ہم رات کو پڑھتے تھے۔ کبھی غفلت ہو جاتی تھی کہ تیل ختم ہو گیا ہے اور ہم نیا لائے بھی نہیں ہیں، تو پھر اندھیرا ہوتا تھا جی۔ تو وہ بڑا تکلیف دہ وقت ہوتا تھا، کیونکہ صبح استاد نے سننا ہوتا تھا، اور ہم حفظ یاد کرتے تھے سبق کو، اور صبح پورا سبق ہم سناتے تھے استاد کو، تو بڑا مشکل ہوتا تھا۔
تو کبھی کبھی پھر ہمیں یہ بھی کرنا پڑتا تھا کہ روڈ پہ نکل آتے تھے، تو کوئی بس آ رہی ہے یا کبھی کوئی ٹرک آ رہا ہے، تو اس کی روشنی میں پھر وہ کاپی کھول لیتے تھے؛ تو جب تک اس کی روشنی پڑتی تھی، تو تھوڑا تھوڑا یاد کرتے تھے۔ تو اس طریقے سے ہماری ابتدا تعلیم کی ہوئی ہے۔ پھر اس کے بعد ۱۹۷۰ء کا الیکشن ہو گیا، پھر ۱۹۷۱ء میں پاکستان دولخت ہو گیا، لیکن میری زندگی دیہاتوں میں گزری hw جی۔
ریحان اللہ والا:
ٹی وی آ گیا تھا آپ کے گاؤں میں یا نہیں؟
مولانا فضل الرحمٰن:
نہیں نہیں، بجلی بھی نہیں تھی۔ بجلی آئی ہے جب ۱۹۷۲ء میں میرے والد صاحب چیف منسٹر بنے صوبے کے۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد پہلے وزیرِ اعلیٰ میرے والد صاحب تھے صوبے کے، تو انہوں نے پھر اپنے علاقے کے لیے پلان بنایا۔ جتنی بھی دیہاتیں تھیں وہاں پر — کیونکہ کہیں بھی بجلی نہیں تھی — تو ان کے لیے بجلی، پینے کا پانی، کہیں پہ ڈسپنسری، کچھ اسکولز وغیرہ انہوں نے ایک پلان کیا۔ لیکن وہ نو مہینے کی حکومت تھی، مشکل سے ایک ہی بجٹ پاس کر کے منظوری دے دی انہوں نے، اور پھر وہ بعد میں روک دی گئیں ساری چیزیں، لیکن ہمارے گاؤں میں بجلی کم از کم آ گئی تھی۔ تو یہ وہ زمانہ تھا جس میں ہم —
پھر اس کے بعد میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک چلا گیا۔ میں نے پھر ۱۹۷۹ء میں وہاں سے فراغت حاصل کی، دورۂ حدیث پڑھا۔ اور اس کے بعد میں ملتان چلا آیا۔ تو اگلے سال میں نے ملتان میں جامعہ قاسم العلوم میں تدریس شروع کی۔ ایک سال میں نے پڑھایا اور اگلے سال بھی میں نے جب پڑھانا شروع کیا، تو ابھی عید الاضحیٰ کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور والد صاحب حج پہ روانہ ہو گئے تھے، ابھی کراچی میں ہی تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
پھر تو جمعیت علماء کی ذمہ داریاں سر پر آگئیں۔ دوستوں نے کہا، آپ نے اس میدان میں آنا ہے، اس محاذ پہ۔ تو مجھے تو تجربہ بھی نہیں تھا سیاست کا اور بس زیادہ سے زیادہ چونکہ میرے گھر کا ماحول سیاسی تھا، والد صاحب کو اٹھتے بیٹھتے، لوگوں سے ملتے، گفتگو کرتے دیکھتے تھے۔ تو پھر وہاں سے ہم نے سیاسی کام شروع کیا۔ تو اس سے میری تدریس کا عمل جو ہے، بڑا متاثر ہوا۔ چند سال تو میں نے کوشش کی کہ میں اس کو برقرار رکھ سکوں، لیکن پھر میں نے پہلے تو اپنی تنخواہ رکوا دی، جب میں حاضری نہیں دے سکتا مدرسے میں تو میں تنخواہ کیوں لوں؟ پھر اس کے بعد جب میں نے محسوس کیا کہ میں بالکل بھی مدرسے کو وقت نہیں دے سکتا، تو پھر میں جامعہ قاسم العلوم سے رخصت لے کر ڈیرہ اسماعیل خان چلا گیا اور وہاں میں نے پھر ایک جامعہ کی بنیاد رکھی ’’جامعۃ المعارف الشرعیہ‘‘ کے نام سے۔ ابھی بھی وہاں پر تعلیمی خدمات ہیں، گو کہ میں زیادہ وہاں پر تدریسی خدمات نہیں انجام دے سکتا، میری سارا سال کی جو سیاسی مصروفیات ہوتی ہیں، لیکن ایک سلسلہ وہاں، ایک نسبت علم کے ساتھ اور دینی علوم کے ساتھ، وہ برقرار ہے میری۔ تو یہی زندگی ہماری چلی آ رہی ہے، الحمد للہ۔
ریحان اللہ والا:
۳۸ سال آپ نے گزارے سیاست کرتے ہوئے۔ آج کے دور کے جو بچے ہیں، جو آپ سے گائیڈنس لینا چاہیں گے، ان کو آپ کیا تین مشورے دیں گے کہ دیکھو یہ ہے سیاست اور ایسے کرنی چاہیے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
دیکھیے، جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو وہ اپنی زندگی ہی میں جنرل ضیاء الحق سے مایوس ہو گئے تھے۔ ایک تو انہوں نے شریعت کے نفاذ کی بات کی، مفتی صاحب کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے، کوئی ارادہ اس کا نہیں ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ انہوں نے قوم سے الیکشن کا وعدہ کیا ہے، وہ الیکشن نہیں دے رہا ہے۔ تو پیپلز پارٹی کے ساتھ جو ہمارا معاہدہ ہوا ہے، وہ تو ایک نیشنل لیول کی ایک کمٹمنٹ تھی، اور قوم کے ساتھ ایک وعدہ تھا، تو ہم قوم کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو نبھانا چاہتے ہیں۔
تو اس بنیاد پر پھر انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کیے کہ باقاعدہ تمام پولیٹیکل فورسز جو ہیں وہ اکٹھی ہوں اور وہ آئین کی بحالی کی جدوجہد کریں۔ ان رابطوں میں ہی تھے، کراچی میں بھی یہی رابطے تھے، تمام سیاسی قیادت یہاں کراچی میں موجود تھی اور یہیں پر ان کا پھر انتقال ہوا۔
تو اس کے بعد جب میں میدان میں آیا تو ظاہر ہے جی کہ مارشل لاء، مارشل لاء کا مقابلہ، ایم آر ڈی بنی اور پھر میں پانچ سال تک مسلسل جیلوں میں آتا جاتا رہا۔ اور جیلیں بھی ایسی کہ سی کلاس کی جیلیں۔ تو کبھی کبھی ہمیں بی کلاس بھی مل جاتا تھا بیچ میں، لیکن یہ ہے کہ جیلیں ایسی بن گئیں میرے لیے کہ جیسے کوئی اپنا گھر بن گیا، آنا جانا معمول سا بن گیا ہمارا، اور کبھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ اوہ یہ تو پھر آرڈر گرفتاری کا آگیا! ایک معمول سی زندگی بن گئی، آج باہر ہیں تو کل جیل میں ہیں، چند دن گھر پہ گزار دیے، پھر چند دن جیل میں گزار دیے۔ تو اس طریقے سے ہماری ابتدا جو ہے، وہ بہت مشقت کے ساتھ ہوئی ہے۔ مشقت کی سیاسی زندگی سے میں نے آغاز کیا ہے۔ ایک بہت بڑے ڈکٹیٹر کے ساتھ پنگا لیا ہم نے اور پھر اس کے سامنے ڈٹ گئے ہم لوگ اور کوئی کمپرومائز ہم نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۵ء میں الیکشن ہوا اور سیاسی جماعتوں نے اور ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کیا اس کا، غیر جماعتی تھا۔ تو پھر اس کے بعد جنرل ضیاء الحق صاحب کا طیارے کا حادثہ ہو گیا ۱۹۸۷ء میں۔ اور ۱۹۸۸ء میں پھر جب الیکشن ہوا تو ہم الیکشن میں آئے ہیں۔ اور ۱۹۸۸ء سے پارلیمنٹ ہے، سیاست ہے، جماعت ہے، اس میں ہم مصروف ہیں۔
ریحان اللہ والا:
کوئی بچہ اگر پولیٹکس میں آنا چاہتا ہو آج کے دور کا، اس کو آپ تین کیا مشورے دیں گے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
پہلی بات تو یہ ہے جی کہ سیاست میں نظریہ ہونا چاہیے۔ آپ سیاست کس لیے کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کا ویژن کیا ہے؟ تو اس حوالے سے بہرحال پاکستان کی تاریخ میں جو میں نے مشاہدہ کیا ہے، کہ یہاں پر جب تک سوویت یونین موجود تھا، تو اس وقت دنیا میں نظریاتی جنگ تھی۔ ایک طرف مغرب کی سرمایہ دارانہ طرزِ معیشت اور وہ نظریہ تھا؛ دوسری طرف جو ہے پھر وہ ایک اشتراکیت؛ اور دونوں انتہائیں تھیں۔ اس بیچ میں ہمارے علماء اسلامی معیشت کی بات کرتے تھے، قرآن و سنت پر مبنی معیشت، جو دونوں کے بیچ میں ایک اعتدال کا راستہ تھا۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر بہرحال جو گروپنگ تھی، وہ انہی دو کی تھی۔
تو جب پاکستان میں، سوویت یونین کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے تھے، تو کوئی سیاستدان جب گرفتار ہوتا تھا، تو جیل میں اس کو سیاسی قیدی کہا جاتا تھا۔ کوئی مذہبی آدمی بھی اگر گرفتار ہوتا تھا، تو ایک مذہبی قیدی ہے، کسی مذہبی مسئلے میں آیا ہے۔ لیکن جب سے سوویت یونین ختم ہو گیا ہے، تو دنیا میں وہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ اب پوری دنیا پر سرمائے کی حکومت ہے اور مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام میں آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ اگر کسی سیاست دان کو پکڑا جاتا ہے، تو کہتے ہیں: یہ چور ہے، کرپٹ ہے۔ یعنی اب وہ سیاسی عنوان سے نہیں پکڑے جاتے تھے۔ اور پھر جب یہ نائن الیون ہو گیا اور دنیا میں مذہب کے خلاف امریکہ اور مغربی دنیا نکل آئی ہے، آج اگر کوئی مذہبی آدمی پکڑا جاتا ہے، تو اس کو کہتے ہیں: یہ دہشت گرد ہے۔ یہ سینیریو پوری دنیا کا تبدیل ہو گیا ہے۔
میں ایک سے دوسرے میں آیا ہوں، یعنی اس سیاست کو بھی میں نے دیکھا ہے اور اس سیاست کو بھی۔ لیکن جب میں سیاست میں آیا تو اس وقت افغانستان میں روس کے خلاف جنگ شروع ہو چکی تھی اور ۱۹۸۰ء سے لے کر ۹۳ء-۱۹۹۲ء تک یہ جنگ جاری رہی، یہاں تک کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ تو میری سیاست کا آغاز جو ہے، وہ اس جنگ کے دوران ہوا ہے۔ اور پھر جب اس کا خاتمہ ہوا تو بظاہر تو ہم خوشیاں منا رہے تھے کہ جہاد جیت گیا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ لیکن اس کے بعد جو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے، وہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ آیا، کیسے آیا؟ کس طرح انہوں نے افغانستان کو برباد کیا؟ کس طرح عراق کو برباد کیا؟ کس طرح لیبیا کو برباد کیا؟ کس طرح شام کو برباد کر رہا ہے؟ کس طرح یمن کو برباد کر رہا ہے؟ کس طرح وہ اسلامی دنیا کے اوپر ایک دباؤ رکھے ہوئے ہیں۔
دہشت گردی اس طرح پھیل گئی کہ اب الزام جو ہے وہ مذہب پر ہے کہ وہ دہشت گردی پیدا کر رہا ہے، جبکہ ان کی پالیسیوں سے دنیا میں ایک ایسی جنگ چھڑی ہے کہ خون ریزی ہی خون ریزی ہو رہی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ سوویت یونین کا خاتمہ جہاں پر ایک بہت بڑی فتح تھی دنیا کی، وہ کچھ مغربی اور امریکی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔ تو یہ کامیابیاں اور ناکامیاں جو ہیں، ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں اور ابھی تک ہم اس کشت و خون سے نکلے نہیں ہیں۔
آپ دیکھیں جی، جب سوویت یونین کے خلاف جنگ ہو رہی تھی، تو ہمارا یہ قبائلی بیلٹ جتنا تھا، یہاں سے جہادی لوگ منظم ہو کر افغانستان میں جاتے تھے۔ یہیں پر ان کا بیس کیمپ تھا، یہیں پر بھاری اسلحے ہوتے تھے، یہیں سے عبور کر کے افغانستان میں جاتے تھے۔ اس کے باوجود قبائلی علاقے میں امن تھا۔ کسی نے نہیں کہا کہ قبائلی علاقے میں کوئی دہشت گردی ہوئی ہے، کوئی بم دھماکا ہوا ہے، کوئی خودکش حملہ ہوا ہے، کچھ بھی نہیں تھا۔
آج جب قدغنیں لگ گئی ہیں، قبائلی علاقے کو بالکل بند کر دیا گیا ہے، فوج اندر چلی گئی ہے پاکستان کی، افغانستان سائیڈ پر امریکہ کی فوج موجود ہے، آج وہ بارود کا ڈھیر بن گیا ہے۔ یہ کیا پالیسی ہے؟ کہاں سے بن گئی ہیں جی؟ تو یہ کہنا کہ قبائلی علاقے جو ہیں، یہ فساد کا مرکز ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر فساد کا مرکز ہوتا تو اس وقت زیادہ بہتر انداز میں ہوتا کہ جب وہاں پر سب کچھ تھا، مجاہدین تھے، ان کے جتھے تھے، ان کی تنظیمیں تھیں، اسلحہ تھا، سب کچھ بارود تھا۔ لیکن وہ افغانستان میں جا کر تو لڑتے تھے لیکن یہ علاقے خاموش تھے۔ کیوں خاموش تھے؟ ظاہر ہے ایسی وجوہات آ گئی ہوں گی کہ آج اس علاقے کو بارود کا ڈھیر کیوں بنا دیا گیا ہے؟
تو ان ادوار سے گزر گزر کر ہم یہاں پر آئے ہیں اور اس وقت جو بین الاقوامی سینیریو ہے، اس میں ہمارا اپنا ایک موقف ہے، اس حوالے سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تو ایک بات ہو گئی کہ نمبر ایک، نظریہ ہونا چاہیے۔ وہ نظریاتی جنگ دنیا میں نہیں رہی ہے، اب سرمائے کی جنگ ہے۔ اب آپ کا جو بھی لیڈر آئے گا اور عوام میں مقبول ہو گا، تو اسی نعرے سے کہ جی یہ کرپٹ ہے، اس کرپٹ کو پکڑو، اس کو یہ کرو، کوئی نظریہ اس کے پاس نہیں ہے۔
آئین آپ کا کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہے، آئین کہتا ہے قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنیں گے؛ ۱۹۷۳ء سے لے کر آج تک ایک قانون سازی نہیں ہو رہی ہے۔ کون ذمہ دار ہے اس کا؟ (اس کے علاوہ) ہر قانون ناگزیر ہے، بہت جلدی ہے، فوجی عدالتیں بناؤ، جلدی کرو، نیشنل ایکشن پلان پاس کرو، یہ کرو وہ کرو، دہشت گردی کے خلاف نیکٹا بناؤ، فلاں چیز بناؤ! یہ ساری چیزیں بہت ناگزیر ہیں، لیکن اگر کوئی چیز غیر ضروری ہے پاکستان میں، تو وہ قرآن و سنت کی قانون سازی ہے جو آج تک نہیں ہو رہی ہے۔
تو اس اعتبار سے نظریاتی سیاست ہی ختم ہو گئی ہے اور اب یہی کھیل ہو گا کہ سیاست دانوں پر کبھی ایک پر کرپشن، کبھی دوسرے پر کرپشن۔ زرداری کی حکومت ہو گی تو وہ سب سے بڑا کرپٹ ہو گا، جب اس کی حکومت چلی جائے گی تو اس کو نواز شریف کے خلاف لڑانے کے لیے صادق و امین قرار دے دیا جائے گا۔ پھر یہ کرپٹ ہوں گے۔ پھر جب اِن کی حکومت نکل جائے گی تو پھر اُن سے کہیں گے کہ اب ان کے خلاف لڑو، تو آپ کو صادق و امین بنا دیا جائے گا۔ یہ کھیل ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں۔ اور ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم اس غیر سنجیدہ کھیل کا حصہ نہیں بن سکتے۔
ریحان اللہ والا:
تو پہلا تو نظریہ ہونا چاہیے۔ دوسری دو چیزیں کیا ہونی چاہئیں؟
مولانا فضل الرحمٰن:
دوسری چیز یہ ہے کہ آپ کو سیاست میں آنے کے بعد دیانتدار ہونا چاہیے۔
ریحان اللہ والا:
وہ تو ہر کام میں ہونا چاہیے، مسلمان ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن
سیاست میں — چونکہ ایک ہے انفرادی کام، آپ انفرادی ہیں، آپ چوری نہ کریں، محنت کریں، جو حلال کمائی ہے اس سے آپ زندگی گزاریں، اچھی ہو، بری ہو، جو اللہ دے رہا ہے اس پر قناعت۔ اور پھر یہی چیز آپ کو مملکت میں ساتھ دینی چاہیے کہ آپ مکمل طور پر اس ملک کے سرمائے کو عام آدمی کی امانت سمجھیں، اور کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں ہونی چاہیے۔ آپ ملک میں حکومت بھی کرتے ہیں، بحیثیت حکمران کے کچھ آپ کو حقوق بھی دیے جاتے ہیں، کچھ آپ کو سہولتیں بھی دی جاتی ہیں، کچھ آپ کو صوابدیدی اختیارات بھی دیے جاتے ہیں، اس کے اندر رہتے ہوئے اگر کوئی سیاستدان کرے، تو سمجھ میں آئے گی کہ جائز کام کر رہا ہے۔ اور اس پر بھی اگر وہ احتیاط کرے تو اچھی بات ہے، لیکن پھر بھی جائز تصور کیا جائے گا۔ لیکن جب ہم اس سے تجاوز کرتے ہیں اور بڑی بڑی دولتیں بنا رہے ہوتے ہیں، اور غریب آدمی جو ہے وہ بیچارہ صبح و شام روٹی کے لیے ترستا ہے، اور ہم بہت بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار اور صنعت کار بن جاتے ہیں، تو یہ چیزیں جو ہیں، اس کا رجحان اگر ہم ملک میں ختم کریں، یہی ہماری کامیابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
ریحان اللہ والا:
الیکشن سر پہ ہیں، آپ ایم ایم اے کے ساتھ بہت لوگ ہیں، آپ وزیرِ اعظم بن جاتے ہیں، پہلے تین کیا کام کریں گے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
دیکھیے، ہمارے ملک میں پہلے سے یہ کہہ دینا کہ میں یہ کر دوں گا اور یہ کر دوں گا، پاکستان کے اندر اس وقت جو اسٹیبلشمنٹ ہے اور جس طرح نظام پر اس کی گرفت ہے، یہ پھر نعرے اور دعوے ہی رہ جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد بڑا مشکل ہوتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ اپنی حکمت و تدبیر کی بنیاد پر، جو حکومتی ادارے ہیں، ان کو جب آپ اپنے ساتھ ملاتے ہیں — کیونکہ حکومت پارٹی نہیں کرتی اکیلی، حکومت آپ کے تمام ادارے مل کر پارٹی کے ساتھ (کرتے ہیں)، آپ کی ترجیحات کو وہ ضرور قبول کریں گے — تو وہ سب مل کر جب ایک آئیڈیا طے کرتے ہیں کہ ہم نے اس طریقے سے آگے بڑھنا ہے، تو ظاہر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سامنے دو چیزیں ہونی چاہئیں:
نمبر ایک: عام آدمی کو امن مہیا کرنا، اس کی جان، مال اور عزت و آبرو کو تحفظ دینا۔ اور قوانین کو ایسی حکمت کے ساتھ استعمال کرنا کہ کم از کم آپ کے شہری جو ہیں، وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں۔ اور ظاہر ہے جی کہ وہ اسی صورت میں ہو گا جب آپ لوگوں کو انصاف دے سکیں گے۔
دوسری چیز ہے: خوشحال معیشت۔ اگر ہم اپنی پالیسیاں ٹھیک کر لیں، اپنے ملکی وسائل پر ہم اعتماد کر لیں، اسی پہ ہم انحصار کر لیں، تو پھر ان کو استعمال میں لا کر یا ہم خودکفیل ہو جائیں گے، اور اگر خودکفیل نہیں بھی ہوں گے تو باہر کی امداد پر ہمارا دارومدار کم از کم ہو گا۔اس وقت ہمارا ۸۰ فیصد سے زیادہ باہر کے قرضوں، آئی ایم ایف کی شرائط، مغربی دنیا کی پالیسیاں، اس پر دارومدار ہے۔ اور ہم ملکی وسائل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب باہر کے سودے ہوتے ہیں اور قرضے آپ لیتے ہیں اور باہر کی انویسٹمنٹ آپ لیتے ہیں، تو اس میں بہت زیادہ کمیشنیں آتی ہیں۔ اور بدقسمتی سے ہماری جو ستر سال سے موجود ایک بیوروکریسی ہے، اس کی جو ایک ذہنیت بن گئی ہے اور اسی کی پاداش میں کچھ مفاد پرست طبقہ سیاست دانوں کا بھی، جو روایتی سیاست کرتے ہیں، وہ اس مشکل میں پڑ گئے ہیں کہ ہم بس کمائیں! اور اگر ہم ملکی وسائل استعمال کریں گے تو شاید ہمیں کمیشن نہیں ملیں گی، کہ وہ تو گھر کی بات ہو جائے گی۔ تو ہمیں اپنے وسائل پر کھڑا ہونا چاہیے، تاکہ ایک خوشحال معیشت کی طرف ہم قدم رکھ سکیں۔
چائنا ہم سے بعد میں آزاد ہوا ہے، ایشیا کے کتنے کتنے ممالک ہیں، کہ جو پاکستان کے یا ہم عمر ہیں یا عمر میں کچھ کم ہیں، آج وہ معاشی لحاظ سے کیوں اتنی ترقی کر چکے ہیں اور ہم کیوں پیچھے ہیں؟ ہم نے تو برصغیر کے مسلمانوں کو کہا تھا کہ تم معاشی لحاظ سے ہندو کے غلام ہو اور اس کی بالادستی ہے، اس سے نکلنا ہے۔ آج وہ ہندوستان معاشی لحاظ سے کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تو یہ ساری صورتحال ہے کہ جس کو ہم نے ترجیحات کے طور پر اپنانا ہے۔
اور تیسری بات کہ بہرحال یہ ملک اگر اسلام کے لیے بنا ہے، تو اس میں قانون سازی جو ہے، وہ قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے، باہمی مشاورت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہی اسی لیے ہے کہ اس میں تمام مکاتبِ فکر کے نمائندے ہوں، اس میں ماہرینِ آئین، ماہرینِ قانون، ریٹائرڈ لوگ، تجربہ کار، تاکہ وہاں سے جو بھی سفارشات آئیں، وہ فرقہ واریت سے بالاتر ہوں اور ایک قومی سوچ کی وہ نمائندگی کریں۔ الحمد للہ، اس میں وہ کامیاب ہو گیا ہے، اس نے آج تک جتنی سفارشات مرتب کی ہیں، تقریباً متفقہ ہیں۔ اس کے مطابق قانون سازی کا آغاز کیا جائے، طریقے سے کیا جائے، ایسی صورتحال کہ ہم بھی قائل نہیں ہیں کہ ہم اپنی خواہش کے بدلے میں ایک دنیا میں ہنگامہ اپنے خلاف کھڑا کروا دیں۔ تو جو چیز بھی کریں ہم، ایک بڑے تدریجی انداز سے، کیونکہ جمہوریت تدریجی اصلاحات کا نام ہے اور اس کو ہم ایک انقلاب نہیں کہہ سکتے، کیونکہ انقلاب تو تلچھٹ کر دیتا ہے، سارے نظام کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ کیا پاکستان کا ماحول اس کا متحمل ہے؟ میری تجربے کے مطابق شاید ہم اس کے متحمل نہیں ہیں۔
ریحان اللہ والا:
ڈونلڈ ٹرمپ آپ کو فون کرتے ہیں، کہتے ہیں: فضل الرحمٰن صاحب! آپ کوئی تین مشورے دیجیے مجھ کو، سر آنکھوں پہ، آپ مسلمانوں کے ریپریزنٹیٹو ہیں، کوئی تین مجھے مشورے دیجیے۔
مولانا فضل الرحمٰن:
ہم امریکہ سے، مغربی دنیا سے پہلی بات یہ کہتے ہیں کہ تمام ملکوں کی اور تمام قوموں کی خود مختاری کو تسلیم کر لو۔ نمبر ایک۔
دوسری بات یہ کہ دنیا آج ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ اگر امریکہ میرے سے وابستہ ہے تو میں اس سے وابستہ ہوں؛ اگر مغرب اسلامی دنیا سے وابستہ ہے تو اسلامی دنیا اس سے وابستہ ہے۔ اسی طریقے سے جو ہمارے براعظم ہیں، اس کے اپنے اندر کے تعلقات ہیں۔ تو ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو فائدہ بھی پہنچائیں اور ایک دوسرے سے فائدہ بھی حاصل کریں۔ کیونکہ رب العزت نے جو خزانے پیدا کیے ہیں، انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے ہیں، اس میں کہیں پر کسی قوم کی پیداواری صلاحیت کچھ ہے تو کہیں پر کسی قوم کی پیداواری صلاحیت کچھ ہے۔ یہ دونوں جب آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، تو اس صورتحال میں انسانیت ایک دوسرے پہ اعتماد کر سکے گی۔
اور اگر یہ ہو کہ اسلامی دنیا کا تیل، اسلامی دنیا کی معدنیات، اسلامی دنیا کا کوئلہ، اسلامی دنیا کا سونا چاندی، اس کے ذخائر، اپنی قوم کا تو اس پہ حق نہ ہو، لیکن جب مغربی دنیا کو ضرورت پڑی تو پھر وہ سارے اس پہ قبضہ کر کے ہمارے وسائل اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں۔ تو ہمیں کنگال کرنا اور چند ڈالر دے کر ہمیں کہنا جی ہم تو آپ کی بڑی مدد کر رہے ہیں، فلاں شعبے میں ہم آپ کو اتنے ڈالر دے رہے ہیں، فلاں میں آپ کو اتنے ڈالر دے رہے ہیں۔ بابا! میں اسی سے تو نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں، وہ دن بھی تو آئے کہ میں آپ کے ڈالروں کے بغیر زندگی گزار سکوں؟
تو ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں کہ جس میں ہم بیرونی جو خیراتیں ہیں، ان خیراتوں کے اوپر ہمارا انحصار نہ ہو، اور کم از کم اس کو کر دیا جائے پھر برابری کی بنیاد پر۔ تو ہم امریکہ کو بڑا ملک مانتے ہیں، ایک سپر پاور مانتے ہیں۔ ہم مغربی دنیا کو اپنے سے زیادہ طاقتور تسلیم کرتے ہیں، مادی لحاظ سے وہ طاقتور ہیں، ان کے وسائل زیادہ ہیں، لیکن کیا اس کا یہ معنی ہے کہ پھر وہ غریب دنیا کو نوچتے رہیں، ان کو بھوکا مارتے رہیں؟ اور پھر جب ہمیں چند ڈالر وہ بھیجتے ہیں، تو اس کو خیرات سمجھ کر ہمیں کہیں کہ بس ٹھیک ہو رہا ہے جی! تو اس اعتبار سے قوموں کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے بعد ان کے وسائل پر ان کو مالک بنانا چاہیے اور ان کی ترقی کے لیے ان کو راستے دینے چاہئیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ سیاسی مداخلت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ آج امریکہ جو ہے، وہ پاکستان کے لیے وزیرِ اعظم کا نام بھی طے کرتا ہے کہ اگلا وزیرِ اعظم آپ کا فلاں ہو گا۔ ایسی ایسی مخلوق آ جاتی ہے کہ کبھی قوم نے اس کا نام سنا تک نہیں ہوتا۔ معین قریشی بھی ہمارے ملک کا وزیرِ اعظم بن جاتا ہے، اور جس دن وہ عہدے سے اترتا ہے پھر پاکستان کو دیکھتا بھی نہیں ہے۔ نہ اس سے پہلے پاکستان کو دیکھا نہ بعد میں، اور وزیرِ اعظم بھی رہا۔ شوکت عزیز نے اس سے پہلے بھی پاکستان کو نہیں دیکھا، اس کے بعد بھی پاکستان میں نہیں آیا اور پاکستان کا وزیرِ اعظم ہو کر چلا گیا، اور ایک ووٹ بھی پاکستان میں اپنا استعمال کرنا گوارا نہیں کیا انہوں نے۔ اب اس قسم کے لوگ جو بیرونی ایجنڈے پہ کام کرتے ہیں اور یہاں آ کر ہمارے لیے بڑے خیرخواہ بن جاتے ہیں، یہ چیزیں بھی ہمیں ختم کرنی چاہئیں اور بیرونی سپورٹ جو ایسی قوتوں کو حاصل ہوتی ہے — میرے خیال میں وہ قوم پہ اعتماد کریں اور قوم پر اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کرنے کا رویہ ترک کریں۔
ریحان اللہ والا:
تیسرا مشورہ رہ گیا، تیسرا ان کو کیا مشورہ دیں گے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
تیسرا یہی ہے کہ وہ اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے کریں۔ اپنے ملکوں میں ہر حکومت کو حق ہے۔ ہم امریکی عوام کے دشمن تو نہیں ہیں، امریکہ میں بھی انسان رہتے ہیں، وہاں بھی غریب رہتے ہیں، اپنے اپنے ملکوں کو خوشحال کرنے کے لیے زیادہ توجہ دیں۔ اور دوسری دنیا کو کنٹرول کرنا اور دوسری دنیا پر تمام توانائیاں صَرف کرنا، اس سے باز آ جائیں، تو میرے خیال میں دنیا میں کوئی امن کے راستے نکل آئیں گے۔
ریحان اللہ والا:
آپ کشمیر کمیٹی کے بھی صدر ہیں۔ مودی صاحب فون کرتے ہیں، بولتے ہیں بھئی! تین کام بتاؤ، میں کرنے کو تیار ہوں۔ کیا مانگیں گے آپ؟
مولانا فضل الرحمٰن:
دیکھیے، انڈیا کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل مختلف ہے اور بہرحال کشمیر ہماری نظر میں ایک کور ایشو ضرور ہے۔ لیکن میں ایک بات آپ سے عرض کر دینا چاہتا ہوں، ہمارے ہاں اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کا بڑا آسان طریقہ ہے کہ اگر فضل الرحمٰن کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہے، تو پھر فضل الرحمٰن نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟ مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں کیا؟ کشمیریوں کو کیوں آزاد نہیں کیا؟ یہ چیزیں جو ہیں، یہ قوم کو گمراہ کرنے والی باتیں ہیں۔
کشمیر ملک کا مسئلہ ہے، کسی کمیٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ صرف پارلیمنٹ کا بھی مسئلہ نہیں ہے، صرف حکومت کا بھی مسئلہ نہیں ہے، یہ قوم کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان اتنا طاقتور ہے اور پاکستان کی حکمتِ عملی اتنی مضبوط ہے، تو پھر اس میں کمیٹی بھی طاقتور ہے، پارلیمنٹ بھی طاقتور ہے، حکومت بھی طاقتور ہے، سب طاقتور ہیں۔ اور اگر ایک کمزور ہے تو سب کمزور ہیں، تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔
پاکستان کا کشمیر کے مسئلے پر موقف ضرور ہے کہ حقِ خود ارادیت ہونا چاہیے اور استصوابِ رائے ہونا چاہیے اور کشمیریوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے، لیکن اس پر کوئی آپ کی حکمتِ عملی اور پالیسی نہیں ہے۔ تو میں ایک بات ڈرتے ڈرتے کہتا ہوں کہ کشمیری دو پاٹوں کے بیچ میں پس رہے ہیں: ایک طرف ہندوستان کا ظلم اور دوسری طرف پاکستان کا تذبذب! ان دو چیزوں نے کشمیریوں کو برباد کر دیا ہے۔
ریحان اللہ والا:
تو مودی سے کیا ڈیمانڈ کریں گے؟
مولانا فضل الرحمٰن:
یہی کہیں گے کہ اگر معاملہ طے کرنا ہے، تو آئیں بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو طے کریں۔
جب ہم بین الاقوامی فورم پر کشمیر کے مسئلے کو اٹھاتے ہیں تو انڈیا چیختا ہے کہ یہ تو بائی لیٹرل کیس ہے، شملہ معاہدے کے تحت۔ اور اگر ہم انڈیا کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارا انٹرنل کیس ہے۔ یہ کیا پالیسی ہے کہ انڈیا ایک تو کشمیر کو بائی لیٹرل کیس کہتا ہے بین الاقوامی فورم پر جاتے وقت، اور جب ہم ان کے ساتھ براہِ راست بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں، نہیں، کوئی تجارت کی بات کرو، کوئی ٹماٹر آلو کی بات کرو، ہم اس کا تبادلہ کیسے کریں گے؟ کلچر کیسے ایکسچینج کریں گے ایک دوسرے کا؟ کشمیر کے مسئلے پر بات ہی نہیں کرتے ہمارے ساتھ۔
تو اس حوالے سے ہندوستان جو ہے، اگر وہ مسئلے کے حل پہ سنجیدہ ہے، آئے! پاکستان اس پر بات کرنے کو تیار ہے۔ اگر ہم دونوں ممالک کسی مسئلے کو آپس میں طے نہیں کر سکتے، تو پھر ہم بین الاقوامی ثالثی کو قبول کر لیں۔ بہت سی دنیا ہے جو کہتی ہے کہ ہم اس میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ تو ہندوستان ثالثی بھی قبول نہیں کرتا۔ ارے بھئی پانی کے مسئلے پر آپ ورلڈ بینک کی ثالثی کو قبول کر چکے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہو کہ اس کی مثال میرے اور آپ کے بیچ میں نہ ہو پہلے سے، تو پھر آپ کشمیر پر ضرور کہیں کہ ثالثی سے کیا ہوتا ہے ہم خود طے کریں گے۔
اس حوالے سے بھی ہم یہی کہیں گے کہ جو چیز عوام سے تعلق رکھتی ہو، غریب انسان سے تعلق رکھتی ہو، ہمیں ہندوستان کو سپورٹ کرنا چاہیے، وہاں کا غریب انسان ہے، وہاں ہندو بھی رہتا ہے، وہاں مسلمان بھی رہتا ہے، اور وہاں کا مسلمان پاکستانی مسلمان سے زیادہ ہے، لہٰذا وہاں انسانی حقوق ہیں۔ ہم اس حوالے سے ہندوستان کے عام آدمی کو اپنی طرح کا انسان سمجھتے ہیں اور اس کی خوشحالی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
لیکن ہندوستان بھی اس طرح کرے نا! وہ ڈیم پہ ڈیم بنائے جا رہے ہیں، پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑ رہے ہیں، پاکستان کی زراعت کو آئندہ کے لیے بالکل بنجر کر رہے ہیں، اور آنے والے مستقبل میں عام پاکستانی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ جو حربہ ہے اس کا، یہ پاکستان کے غریب آدمی کے خلاف ہے، یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہوتا۔ اس طرح کے اقدامات کرنا! اس پر دنیا اس کے ہاتھ روکے۔ امریکہ اس کو سپورٹ کر رہا ہے اِس وقت۔ اور یہاں پاکستان کے انسانی حقوق، بائیس کروڑ مسلمانوں کے اور عام انسانوں کے جو حقوق ہیں، اس کو تو وہ خطرے میں ڈال رہا ہے۔ تو یہ رویے جو ہیں اگر ہم ترک کر دیں —
اختلاف جو ہوتا ہے، اصل اختلاف دو اسٹیٹس کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ہمیں اس لیول پر مسائل کو ٹیکل کرنا ہے۔ اختلاف اسٹیٹس کا ہوتا ہے۔ حکومتیں جو ہیں وہ نمائندگی کرتی ہیں اسٹیٹس کی، اور ان کے رویے حالات پہ اثر انداز ہوتے ہیں، کبھی حالات نرم ہو جاتے ہیں، کبھی سخت ہو جاتے ہیں۔ اور پیپلز ٹو پیپلز جو ہمارے رابطے ہوتے ہیں وہ ماحول پیدا کرتے ہیں۔ تو جب عوام آپس میں رابطے میں رہتے ہیں تو وہ مفاہمت کے لیے ایک ماحول تیار کر سکتے ہیں کہ ان کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا، اسٹیٹس کا جھگڑا ہوتا ہے۔ ایک عوام اپنی اسٹیٹ کے ساتھ ہو گا، دوسرا اپنی اسٹیٹ کے ساتھ ہو گا، لیکن ان کے بیچ میں باہمی رابطے جو ہیں وہ علاقے میں اخوت کی ایک فضا بناتے ہیں۔
تو اس حوالے سے ہمیں ہر چیز کو الگ الگ سوچنا چاہیے: (۱) اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ معاملات اپنی جگہ پر (۲) حکومت ٹو حکومت معاملات اپنی جگہ پر (۳) اور عوام کے جو پیپلز ٹو پیپلز کانٹیکٹ ہیں وہ اپنی جگہ پر۔ تب جا کر ہم ایک پر امن ماحول خطے میں بنا سکتے ہیں۔ اور یہی مودی صاحب کو بھی کرنا چاہیے، وہ تو ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے روزانہ۔
ریحان اللہ والا:
ٹائم قلیل ہے، آخری سوال اور ریکویسٹ کہ آپ کا پیغام پاکستان کے لوگوں کے نام کہ آپ کو الیکشن میں ووٹ کیوں دیں؟
مولانا فضل الرحمٰن:
دیکھیے، ہم پاکستانیوں کو، اپنی قوم کو یہ ضرور پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک بنا کس لیے تھا؟ آپ کے اور ہمارے آبا و اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں کس بنیاد پر دی تھیں؟ اگر ملک بنا ہے اور ستر سال سے جتنا ہم سفر کر رہے ہیں اتنا ہی منزل دور ہوتی چلی جا رہی ہے، تو اس منزل کو قریب تر لانے کے لیے اس نظریے کے ساتھ کمٹڈ لوگ کون ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس نظریے کے ساتھ کمٹمنٹ جو ہے وہ اس وقت مذہبی جماعتوں کی ہے، متحدہ مجلسِ عمل کی ہے، کہ وہ پاکستان کو سوچتے ہیں، پاکستان کی اسلامی حیثیت کو سوچتے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا سوچتے ہیں، خواتین کے حقوق کا سوچتے ہیں، اور ملک میں امن و امان اور اس کی معاشی ترقی کا سوچتے ہیں۔ تو اس حوالے سے، جو نظریاتی حوالے سے ملک کی اصلاح اور ملک میں بہتری لانے کا سوچتے ہیں، وہ زیادہ حقدار ہوتے ہیں عام آدمی کے ووٹ کا۔ نہ کہ وہ لوگ جو پاکستان کی وفاداری کی بات تو کرتے ہیں لیکن آگے جا کر نہ دینِ اسلام ان کا مقصد ہے، بلکہ اپنے ذاتی مفادات کو وہ ترجیح دیا کرتے ہیں، یا پھر وہ کسی بین الاقوامی ایجنڈے کو پاکستان میں لانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہوتے ہیں اور وہاں سے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ ایسی مخلوق کو ہمیں شکست دینی چاہیے اور خالص جو پاکستان، پاکستانی نظریے، اسلام کے لیے اور ملک میں امن و امان اور معاشی خوشحالی کا سوچتے ہیں، ان کو ہمیں فوکس کرنا چاہیے اور ان کو ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے۔
ریحان اللہ والا:
مولانا صاحب، بہت شکریہ، خوش رہیے، آباد رہیے، پاکستان زندہ باد! اور امید کرتا ہوں آئندہ دوبارہ آپ پھر ٹائم دیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن:
ان شاء اللہ، ان شاء اللہ۔
https://youtu.be/2sQgoZwUJXg
اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
’’سیاست شرعیہ کے حوالے سے ہمارے نصاب میں ضرور ایک کتاب ہونی چاہیے۔‘‘
آج مولانا فضل الرحمان صاحب نے یہ بات کہی ہے تو کئی لوگوں نے اس پر لکھنا شروع کیا ہے۔ یہ بہت اہم تجویز ہے۔
عام طور پر یونیورسٹیوں میں امام ابن تیمیہ کی کتاب السیاسۃ الشرعیۃ کو نصابی کتاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ کتاب یقینا اچھی ہے لیکن امام ابن تیمیہ سے صدیوں پہلے حنفی فقہاے کرام نے سیاسہ شرعیہ کا تصور نہ صرف وضع کیا تھا بلکہ پورے قانونی نظام میں برتا بھی تھا۔ امام محمد کی کتابوں سے سیاسہ شرعیہ کا پورا تصور نہایت واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ میں نے اپنا پی ایچ ڈی مقالہ سیاسہ شرعیہ کے موضوع پر لکھا تھا اور اس میں حنفی فقہاے کرام کے کام کی روشنی میں سیاسہ شرعیہ کی تفصیل دی تھی، تاہم اس مقالے میں اس کا اطلاق خصوصا جرم و سزا کے قانون کے تناظر میں کیا گیا۔ اس مقالے میں ایک مقام سے کچھ اقتباسات کا اردو ترجمہ یہاں پیش خدمت ہے۔ ان اقتباسات سے اس کتاب کا بھی پتہ معلوم ہو جائے گا جو علامہ شامی نے سیاسہ شرعیہ کے تصور کی بہتر تفہیم کے لیے تجویز کی تھی۔
سیاسہ کے تصور کے تین دائرے
علامہ ابن عابدین شامی تراث کی بعض کتب سے سیاسہ کی یہ تعریف نقل کرتے ہیں:
فالسیاسۃ استصلاح الخلق بارشادہم الی الطریق المنجی فی الدنیا والآخرۃ۔
(پس سیاسہ سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو دنیا وآخرت میں نجات کا راستہ دکھا کر ان کی حالت بہتر کی جائے۔)
علامہ شامی کہتے ہیں کہ اس لحاظ سے سیاسہ کا یہ تصور پورے دین کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ سیاسہ کے تصور کا وسیع ترین دائرہ ہے۔ سیاسہ کے اس تصور کی بہترین تفہیم کے لیے علامہ شامی نویں صدی ہجری کے مشہور حنفی فقیہ اور قاضی علاؤ الدین ابو الحسن علی بن ابراہیم الطرابلسی (م 844ھ/1440ء) کی کتاب معین الحکام کا حوالہ دیتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں اس تصور کی نہایت خوبصورت اور جامع توضیح پیش کی گئی ہے۔
چنانچہ قاضی طرابلسی پہلے یہ واضح کرتے ہیں کہ اپنے وسیع ترین مفہوم میں سیاسہ دراصل شریعت کا مترادف تصور ہے کیونکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے کہ خواہشات کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈال کر نفس کو اللہ کی بندگی پر آمادہ کیا جائے اور یوں دنیا و آخرت کی کامیابی کا حصول ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد وہ شریعت کے پانچ شعبے بیان کرتے ہیں:
- سرکش نفس کو قابو میں کرنے کے لیے کچھ احکام عبادات کے باب میں دیے گئے؛
- انسان کی بقا کے لیے کھانے پینے، رہن سہن اور اس طرح کے دیگر امور کو مباحات کے باب میں رکھا گیا؛
- چونکہ انسان تنہا رہ نہیں سکتا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے کچھ احکام تجارت، بیع، قرض وغیرہ کے لیے دیے گئے؛
- احکام کے ایک حصے کا تعلق مکارم اخلاق سے ہے کیونکہ انسان کی صرف مادی ضروریات ہی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کا اصل امتحان تو اخلاق کے باب میں ہے؛ اور
- نیز شرعی احکام کی خلاف ورزی سے روکنے کے لیے کچھ خصوصی احکام دیے گئے ہیں۔
یہاں قاضی طرابلسی فرماتے ہیں کہ سیاسہ کا نسبتا چھوٹا دائرہ شریعت کے اس پانچویں شعبے پر محیط ہوتا ہے۔ گویا اس لحاظ سے شریعہ عام ہے اور سیاسہ اس کا ایک خاص شعبہ ہے۔ یہ سیاسہ کے تصور کا دوسرا دائرہ ہوا۔ شریعت کے اس پانچویں حصے کی، جسے سیاسہ کا خاص مفہوم کہا جا سکتا ہے، قاضی طرابلسی چھے ذیلی قسمیں بیان کرتے ہیں:
- اس شعبے کے بعض احکام وہ ہیں جن کا مقصد انسانی جان کی حفاظت ہے؛
- بعض احکام نسب کی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں؛
- بعض احکام کا تعلق عزت کی حفاظت سے ہے؛
- اسی طرح بعض احکام مال کی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں؛
- جبکہ بعض احکام کا تعلق عقل کی حفاظت سے ہے؛ اور
- بعض احکام وہ ہیں جو سزا اور تادیب کے لیے دیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان احکام کو توڑنے سے باز رہیں۔
یوں قاضی طرابلسی سیاسہ کے تصور کو مقاصد شریعت کے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتے ہیں اور واضح کر دیتے ہیں کہ سیاسہ کا تصور شریعت کے قواعد عامہ پر مبنی ہے جو شریعت کے مقاصد کے حصول کی راہ دکھاتا ہے۔ اسی لیے بحث کی ابتدا میں ہی قاضی طرابلسی فرماتے ہیں کہ سیاسہ اگر شریعت کے احکام سے متصادم ہو تو وہ سیاسہ ظالمہ ہے اور حرام ہے:
اعلم ان السیاسۃ شرع مغلظ۔ والسیاسۃ نوعان: سیاسۃ ظالمۃ، فالشریعۃ تحرمہا؛ و سیاسۃ عادلۃ تخرج الحق من الظالم وتدفع کثیرا من المظالم وتردع اہل الفساد ویتوصل بہا الی المقاصد الشرعیۃ للعباد، فالشرعیۃ، تجب المصیر الیہا والاعتماد فی اظہار الحق علیہا۔
(جان لو کہ سیاسہ سخت قانون ہے اور سیاسہ دو طرح کا ہے: ظالمانہ سیاسہ، جسے شریعت حرام قرار دیتی ہے؛ اور عادلانہ سیاسہ جو ظالم سے حق چھینے، بہت سے مظالم دور کرے، فساد کرنے والوں کو ڈرائے اور جس کے ذریعے بندوں کے شرعی مقاصد تک رسائی ممکن ہو سکے، تو یہ سیاسہ شرعیہ ہے اور اس کی طرف جانا اور حق کو غالب کرنے کے لیے اس پر تکیہ کرنا واجب ہے۔)
واضح رہے کہ قاضی طرابلسی کی یہ کوئی انوکھی اپج نہیں تھی بلکہ ان سے پانچ سو سال قبل امام سرخسی سیاسہ کو اسی طرح مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پیش کر چکے تھے۔ چنانچہ ارتداد کی سزا پر بحث کرتے ہوئے امام سرخسی فرماتے ہیں:
ان تبدیل الدین واصل الکفر من اعظم الجنایات، ولکنہا بین العبد وبین ربہ؛ فالجزاء علیہا مؤخر الی دار الجزاء؛ وما عجل فی الدنیا، سیاسات مشروعۃ لمصالح تعود الی العباد؛ کالقصاص لصیانۃ النفوس، وحد الزنا لصیانۃ الانساب والفرش، وحد السرقۃ لصیانۃ الاموال، وحد القذف لصیانۃ الاعراض، وحد الخمر لصیانۃ العقول؛ وبالاصرار علی الکفر یکون محاربا للمسلمین، فیقتل لدفع المحاربۃ؛ الا ان اللہ تعالی نص علی العلۃ فی بعض المواضع، بقولہ تعالی: فان قتلوکم فٱقتلوہم؛ وعلی السبب الداعی الی العلۃ فی بعض المواضع، وہو الشرک۔
(دین کا تبدیل کرنا اور اصل کفر تو سنگین ترین جرائم میں ہے لیکن یہ معاملہ بندے اور اس کے آقا کے درمیان ہے؛ اس لیے اس کی سزا تو دارالجزاء تک ہی مؤخر کی گئی ہے اور دنیا میں جرائم پر جو فوری سزائیں مقرر کی گئی ہیں تو لگام ڈالنے کے لیے ہیں جو اس لیے مشروع کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعے بندوں تک پہنچنے والے مصالح کی حفاظت ہو سکے۔ چنانچہ زندگی کے تحفظ کے لیے قصاص، نسب اور خاندان کے تحفظ کے لیے حد زنا، اموال کی حفاظت کے لیے حد سرقہ، عزت کے تحفظ کے لیے حد قذف اور عقل کی حفاظت کے لیے حد خمر مقرر کی گئی ہیں۔ اسی طرح کفر پر اصرار کی وجہ سے یہ شخص (مرتد) مسلمانوں کے لیے لڑنے والا قرار پاتا ہے تو اس کی اس جنگ کے خاتمے کے لیے اسے قتل کیا جاتا ہے۔ البتہ اللہ تعالی نے بعض مواقع پر علت کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ فرمایا: "اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تم انھیں قتل کر دو۔" اور بعض مواقع پر اس سبب کا، یعنی شرک کا ذکر کیا، جو اس علت کی طرف لے جاتا ہے۔)
اسی طرح علامہ شامی فرماتے ہیں:
انہا داخلۃ تحت قواعد الشرع، وان لم ینص علیہا بخصوصہا، فان مدار الشریعۃ بعد قواعد الایمان علی حسم مادۃ الفساد لبقاء العالم۔
(سیاسہ شرعی قواعد کے تحت ہے، خواہ اس کے لیے خصوصی طور پر تصریح نہ کی گئی ہو کیونکہ ایمان کی بنیادوں کے بعد شریعت کا مدار عالم کے بقا کے لیے فساد کے خاتمے پر ہے۔)
قاضی طرابلسی آگے ان چھے شعبوں کے متعلق متعدد قرآنی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور خلفاے راشدین کے نظائر پیش کرتے ہیں، جیسے حرم میں شکار پر سزا، غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والے تین صحابۂ کرام کی سرزنش، مانعین زکوۃ کے خلاف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جنگ اور عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے گورنر کا محل جلانے کا فعل وغیرہ۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سیاسہ کا یہ اختیار صرف حکمران کے پاس ہے یا قاضی بھی اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ وہ پہلے مالکی فقیہ قرافی، شافعی فقیہ ماوردی اور حنبلی فقیہ ابن قیم الجوزیہ کی راے پیش کرتے ہیں جو اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں اور پھر حنفی فقہ سے تفصیلی شواہد پیش کر کے دکھاتے ہیں کہ یہی موقف حنفی فقہاے کرام کا بھی ہے۔ اس کے بعد وہ قاضی اور والی الجرائم (انتظامی مجسٹریٹ) کے اختیارات میں فرق واضح کرتے ہیں اور پھر آخر میں فقہ کے مختلف ابواب سے حکمران اور قاضی کے اس اختیار کی تفصیلی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ سیاسہ کے تصور سے متعلق اصول اور جزئیات کے لیے یہ کتاب ایک مخزن کی حیثیت رکھتی ہے۔
حکومت یا عدالت کے اس اختیار کے لیے جب سیاسہ کی تعبیر استعمال کی جائے تو اس کی تعریف زین العابدین ابراہیم ابن نجیم المصری (970ھ/1563ء) ان الفاظ میں کرتے ہیں:
السیاسۃ فعل شیء من الحاکم لمصلحۃ یراہا، وان لم یردبذلک الفعل دلیل جزئی۔
(سیاسہ حکمران کا وہ اقدام ہے جو وہ کسی مصلحت کی بنا پر اٹھائے، خواہ اس فعل کےلیے کوئی خاص نص نہ پائی جائے۔)
اس کے بعد سیاسہ کا وہ دائرہ آتا ہے جو جرائم کی سزاؤں کے متعلق ہےاور اس مفہوم میں علامہ شامی تراث سے سیاسہ کی یہ تعریف یوں پیش کرتے ہیں:
السیاسۃ تغلیظ جنایۃ لہا حکم شرعی حسما لمادۃ الفساد۔
(سیاسہ کسی ایسے جرم کی، جس کے متعلق شرعی حکم موجود ہو، سخت سزا کو کہتے ہیں جس کا مقصد فساد کا خاتمہ ہو۔)
اس دائرے میں بھی بالخصوص جب کسی سنگین جرم میں سزاے موت دی جائے، تو اسے سیاسہ کہا جاتا ہے، جیسا کہ توہین رسالت کے مرتکب ذمی کی سزا کے متعلق کہا جاتا ہے، یا پتھر سے کسی کا سر کچلنے والے کی سزاے موت کو سیاسہ کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ سیاسہ کے اس دائرے میں صرف سزائیں ہی نہیں آتیں بلکہ جرائم کی روک تھام کے لیے اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر (preventive measures) بھی اس میں شامل ہیں۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خدشہ ہوا کہ نصر بن حجاج کی وجہ سے مدینہ منورہ میں کوئی جرم وقوع پذیر ہو جائے گا، تو آپ نے انھیں مدینہ منورہ سے جلاوطن کر دیا اور جب اس نے پوچھا کہ میرا جرم کیا ہے، تو آپ نے واضح فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے شہر میں بے حیائی کا وقوع نہ ہونے دینا بہ حیثیت حکمران آپ کی ذمہ داری ہے۔
fb.com/share/p/198bzeVhHU
اسلام کے سیاسی نظام پر کتب کی چار بڑی قسمیں
مولانا فضل الرحمان صاحب کی تجویز کے بعد سے اس موضوع پر کئی لوگوں نے لکھنا شروع کیا ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوا کہ اس موضوع پر کتابوں کی قسموں کے متعلق ایک بنیادی بات مکرر پیش کی جائے۔
مشہور برطانوی مورخ این لیمبٹن (م 2008ء) نے اپنی مشہور کتاب State and Government in Medieval Islam میں ریاست اور سیاست سے متعلق مسلمانوں کی کاوشوں کو تین بنیادی مناہج میں تقسیم کیا ہے:
- فقہاے کرام کا منہج (بہ الفاظ دیگر وقت کے قانون دانوں کا زاویۂ نظر)؛
- فلاسفہ کا منہج؛ اور
- ادیبوں کا منہج۔
فلاسفہ کے نقطۂ نظر کے لیے عام طور پر فارابی کی ”المدینۃ الفاضلۃ“ کا رخ کیا جاتا ہے۔ ادیبوں کا زاویۂ نظر دیکھنے کے لیے ابن المقفع کے کام کے علاوہ ”نصیحۃ الملوک“ اور ”سیر الملوک“ جیسی کتب کا رخ کیا جاتا ہے۔
فقہاے کرام کے نقطۂ نظر سے اس مسئلے کو دیکھنے کے لیے بالعموم ”الاحکام السلطانیۃ“ یا زیادہ سے زیادہ ”السیاسۃ الشرعیۃ“ جیسی کتب کی طرف توجہ کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کتب کے مصنفین (امام ماوردی اور امام ابن تیمیہ) بڑے فقیہ تھے (ایک شافعی اور دوسرے حنبلی)، تاہم حقیقت یہ ہے کہ فقہی (یعنی قانونی) نظام کو سمجھنے کے لیے یہ کتب ناکافی ہیں۔ اس مقصد کے لیے فقہ کی مخصوص کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
تفہیم میں آسانی کی خاطر فقہ کی ان مخصوص کتب کو پھر ہم دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیں گے:
- فقہ اصغر (عام فقہی ذخیرہ)؛ اور
- فقہ اکبر (جس میں عموما عقائد سے متعلق امور کی وضاحت کی گئی ہے)۔
عام فقہی کتب میں بعض ابواب بالخصوص بہت اہم ہوتے ہیں، جیسے کتاب السیر، کتاب البغی، کتاب ادب القاضی، کتاب الشھادات، کتاب الحدود۔ ان ابواب میں بہت اہم قانونی اصول مذکور ہوتے ہیں جن کا صحیح فہم اسلامی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
فقہ اکبر کی کتب میں ایک تو ظاہر ہے کہ امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ”الفقہ الاکبر“ کا متن ہے۔ اس نسبت بعض لوگوں نے شک بھی کیا ہے لیکن محققین کا عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس میں ”امامت“ کے متعلق جو اصول دیے گئے ہیں وہ امام ابوحنیفہ ہی کے موقف پر مبنی ہیں۔ اس کے علاوہ ”العقیدۃ الطحاویۃ“ بہت اہم ہے لیکن اس کی عام طور پر رائج شرح پر، جو ابن ابی العز الدمشقی کی ہے، حنفی اصولوں کی روشنی میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ شرح بہرحال مفید ہے لیکن اسے فقہ حنفی اور اس کے اصولوں کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔
ان دو بنیادی مآخذ کے علاوہ اہم ترین ماخذ امام الحرمین الجوینی کی ”غیاث الامم فی التیاث الظلم“ ہے جس کی عبارت بے شک بہت مشکل ہے لیکن حقیقتا وہ اس موضوع پر جامع ترین کتاب ہے اور جواہر کا معدن ہے۔ اس کا بہت ہی مختصر لیکن جامع خلاصہ ان کے شاگرد رشید امام غزالی نے ”الاقتصاد فی الاعتقاد“ میں پیش کیا ہے۔ خلاصہ یقینا جامع ہے اور آسان ہے لیکن بہرحال خلاصہ ہے۔ غیاث الامم پڑھنے سے پہلے بے شک الاقتصاد میں امامت کی بحث پڑھی جائے لیکن اس کے بعد غیاث الامم کئی بار پڑھنے کے بعد ہی سیاسی نظام کے متعلق اسلامی قانون کے اصول اور قواعد سمجھ میں آنے کی توقع ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ سیاسی نظام کے متعلق مسلمانوں کی کاوشوں کی چار قسمیں ہیں (نہ کہ تین):
- فلاسفہ کی کتب؛
- ادیبوں کی کتب؛
- سیاسی نظریے کی کتب؛ اور
- خالص قانونی کتب۔
اس مؤخر الذکر کی پھر دو قسمیں ہیں: قانون کی کتب (فقہ) اور آئینی اصولوں کی کتب (فقہ اکبر)۔
اگر مسلمانوں کے قانونی اصولوں کو ان کے لوازم اور شرائط کے ساتھ سمجھنا ہے تو مؤخر الذکر کتب کا رخ کرنا پڑے گا۔ تیسری قسم میں شامل کتب، خواہ فقہاے کرام نے لکھی ہوں، کافی نہیں ہیں۔ ایک دفعہ یہ قانونی اصول اور قواعد اپنے مقتضیات اور حدود و قیود سمیت سمجھ میں آجائیں تو اس کے بعد ہی عصرِ حاضر میں ان کی تطبیق اور موجودہ ریاستی ڈھانچے کی شرعی تکییف کی بات کی جا سکے گی۔
لا تحسب الفقہ تمرا انت آکلہ
لن تبلغ الفقہ حتی تلعق الصبرا
fb.com/share/p/1BP5kXqZDw
مذہب، قانون اور جذبات
علامہ شامی کے رسالہ ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ کے انگریزی اور اردو ترجمے
خورشید احمد ندیم
محرم کا پہلا عشرہ امن کے ساتھ گزر گیا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔ مسلک اور جذبات کی آمیزش نے جس طرح ہمارے مذہبی شعور کی پرورش کی ہے، اس نے مذہب کو ہدایت اور نظامِ اخلاق کے بجائے عصبیت اور شناخت بنا دیا ہے۔ ان ایام میں دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہیں عصبیت اور جذبات بے لگام ہو کر انسانی جانوں سے نہ کھیلنے لگیں۔ اہلِ اسلام نے سال بھر کے ایام کو باہم تقسیم کر رکھا ہے۔ ان ایام کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔ مسلمان عہدِ رسالت سے دو عیدیں مناتے چلے آ رہے ہیں۔ اب تین چار منائی جا رہی ہیں۔ ان تمام نئی باتوں کے پس منظر میں مسلکی عصبیت کارفرما ہے۔ مقصود گروہی امتیاز اور شناخت کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ خدا کو راضی کرنا۔ محرم سیدنا حسینؓ کے ذکرِ خیر کے بجائے شیعہ سنی اختلاف کی نذر ہو جاتا ہے۔ عصبیت اور جذبات کی کارفرمائی سے، مذہبی حوالہ رکھنے والی محترم شخصیات کی توہین کے واقعات بھی ہوتے ہیں جس سے اشتعال پھیلتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے پر اب مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
توہینِ مذہب، توہینِ نبوت و رسالت اور توہینِ صحابہ جیسے جرائم کے لیے یہاں قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس قانون سازی کا محرک جذبات ہیں۔ اس سے پہلے، علم اور حکمت کی سطح پر جو تیاری لازم تھی، وہ نہیں کی گئی۔ قانون سازی ایک غیر جذباتی اور منطقی عمل ہے۔ ہماری فقہی روایت اس کا مظہر ہے۔ فقہ اور اصولِ فقہ کے باب میں جو کچھ لکھا گیا، اس پر ایک نظر ڈالنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ قانون سازی بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ اسے جذبات کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر میں قانون اسی سنجیدگی کے ساتھ بنتے اور نافذ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں قانون سازی کی تاریخ ایک مختلف کہانی سنا رہی ہے۔ یہاں لوگوں کے جذبات کو دیکھ کر، مذہبی معاملات پر قانون سازی کی جاتی ہے۔ عدالتیں بھی ان جذبات کو سامنے رکھ کر ایسے مقدمات کے فیصلے سناتی ہیں۔ انصاف اور قانون کی حیثیت ضمنی ہوتی ہے۔ اشد ضرورت ہے کہ اس باب میں دینی روایت کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھا جائے اور پھر قانون سازی کی جائے۔ جب قانون بن جائے تو انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے جو دینی قانون کا مطالبہ ہے اور دنیاوی قانون کا بھی۔
توہینِ مقدسات کے باب میں، اردو میں ایسے لٹریچر کی شدید کمی ہے جو اس سوچ کی آبیاری کرے۔ میں آج ایک کتاب کا تعارف کرانا چاہوں گا جو اس کمی کو ایک حد تک پورا کرتی ہے اور لازم ہے کہ ہر اس آدمی کی نظر سے گزرے جو ان موضوعات سے دلچسپی رکھتا ہے۔ کہنے کو یہ ایک معروف حنفی فقیہ ابن عابدین شامی کی تصنیف کا ترجمہ ہے مگر یہ اس سے کہیں زیادہ، اس موضوع پر ایک علمی دستاویز ہے۔ ابن عابدین شامی کا شمار متاخرین فقہا حنفی میں ہوتا ہے۔ وہ انیسویں صدی کے نامور عالم ہیں جنہیں فقہ حنفی کے شارحین میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ان کا انتقال 1836ء میں دمشق میں ہوا۔ ان کے بتیس رسائل کا مجموعہ معروف ہے۔ ان میں ایک رسالہ توہینِ رسالت اور توہینِ صحابہ کو موضوع بناتا اور اس باب میں فقہ احناف کا مؤقف بیان کرتا ہے۔
یہ اردو ترجمہ اس کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ اصل عربی رسالہ قدیم طرزِ تحریر کا نمونہ ہے۔ اس میں مصنف نے بہت سے حوالے دیے ہیں۔ دقتِ نظر کے بغیر یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں اصل متن شروع ہے اور کہاں حوالہ۔ پھر یہ ایک طویل تحریر ہے جو مسلسل چلی جاتی ہے۔ آج کا قاری اس اسلوب کا خوگر نہیں ہے۔ وہ کتاب کے جس تصور سے آشنا ہے، وہ اس سے مختلف ہے۔ اس جدید قاری کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے، ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اس رسالے کا انگریزی میں اس اہتمام اور محنت کے ساتھ ترجمہ کیا کہ اسے ایک نئی کتاب بنا دیا۔ ایک طرف انہوں نے کتاب کی ترتیبِ نو کی اور اسے ابواب و فصول میں تقسیم کر دیا۔ دوسری طرف اقتباسات اور اصل متن میں واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا۔ اس کے ساتھ پیراگراف بھی بنا دیے۔ اس طرح یہ کتاب اصل متن اور مصنف کے مدعا کو متاثر کیے بغیر ایک نئی کتاب بن گئی جو جدید قاری کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے اس کا ایک طویل مقدمہ لکھا جس میں یہ بتایا کہ احناف کے اصولِ فقہ کیا ہیں اور توہینِ رسالت و صحابہ کے باب میں ان اصولوں کے اطلاق کے نتائج کیا ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے پاکستان میں رائج قوانین کا ایک شاندار تجزیہ کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ احناف کے نقطہ نظر کا ترجمان نہیں ہے اور فقہ حنفی کے حوالے سے اس میں کیا کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو اصلاح طلب ہیں۔ مثال کے طور پر ابن عابدین یہ بتاتے ہیں کہ فقہ حنفی کے مطابق اگر توہینِ رسالت کا مرتکب کوئی مسلمان ہے تو اس پر ارتداد کے قانون کا اطلاق ہو گا۔ اس کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو ارتداد کے مجرم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر غیر مسلم ہے تو اس کے ساتھ 'سیاسہ‘ کے تحت معاملہ کیا جائے گا۔ یہ فقہ حنفی کا ایک تصور ہے جس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اس جرم کی سزا کا تعین اربابِ حکومت، مقاصدِ شریعت کے روشنی میں ازخود کریں گے اور یہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ یہی نہیں، ڈاکٹر صاحب نے موضوع کی مناسبت سے کتاب اس میں ایسے ضمیمہ جات شامل کر دیے ہیں جس سے اس کی افادیت بڑھ گئی ہے۔ ان میں ایک ضمیمہ ارتداد کی سزا کے بارے میں حنفی مذہب کے بارے میں بھی ہے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب جب ابن عابدین کی اس رسالے کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے تھے تو ان کی معاونت ان کے شاگرد ڈاکٹر محمد رفیق شنواری نے کی۔ شنواری صاحب کو اسی دوران میں اس کے اردو ترجمے کا خیال آیا اور یہ کیا ہی مبارک خیال تھا۔ اس کا حاصل ایک شاندار اور رواں اردو ترجمہ ہے جس کی صحت پر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اردو کے دینی لٹریچر میں یہ ایک اہم اضافہ ہے۔ ان مباحث سے دلچسپی رکھنے والا کوئی عالم یا طالب علم اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے وہ علما جو فقہ حنفی پر اس سختی سے عمل کرتے ہیں کہ نماز کے اوقات میں دوسرے فقہی مذاہب کی رعایت پر آمادہ نہیں ہوتے، انہوں نے ایک انتہائی اہم مسئلے میں فقہ حنفی کی رائے کو رد کر دیا اور اب اس قانون پر گفتگو کے لیے آمادہ نہیں۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فقہ حنفی کی رو سے اس قانون کے قابلِ اصلاح پہلوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ احناف کی اس رائے پر تنقید ہو سکتی ہے اور بعض اہلِ علم اس باب میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بطورِ خاص ارتداد کی سزا محلِ نظر رہی ہے۔ تاہم دیانت داری کا تقاضا ہے کہ تنقید سے پہلے اس رائے کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ سطحی علم یا ادھوری معلومات کے نتیجے میں قائم کی جانی والی آرا صرف ابہام کا باعث بنتی ہیں۔
عشرہ محرم کے دوران میں، چند غیر ذمہ دار عناصر کی بے اعتدالیوں پر آج مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ یہ مطالبہ کرتے وقت یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ توہینِ مذہب، توہینِ رسالت اور توہینِ صحابہ کے باب میں اسلاف کی رائے کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
(بشکریہ، روزنامہ دنیا)
پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مولانا عبد الودود:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ناظرینِ محترم! آج کی نشست بھی ہمیشہ کی طرح خاص ہے، لیکن آج بہت خاص ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی آپ کو پتہ ہے کہ ایک دو روز پہلے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک بڑا ہی تاریخی، الحمد للہ، دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تناظر میں حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم کے کچھ شارٹ وائس میسجز تو ہم تک پہنچے، ایک دو منٹ کے، لیکن آج ہم ان کے ساتھ اس نشست میں خاص طور پر اس معاہدے کی اہمیت جاننے کی کوشش کریں گے۔ اور یہ اہمیت پاکستان کے لیے سفارتی سطح پہ، سیاسی سطح پہ، دفاعی سطح پہ، ہر ہر سطح پہ کس قدر زیادہ ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور عالمی منظر نامے میں پاکستان کی حیثیت اور سعودی عرب کا پورا جو ماحول ہے، وہ اس معاہدے کے بعد کس طرح سے تبدیل ہو جائے گا، یہ بھی ان سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور اس سب میں، ہمارے پاکستان کے اندرونی طور پہ جو ایک خانہ جنگی کا ماحول ہے اور ہمارے کچھ پڑوسی ممالک کے معاملات آپ کے سامنے ہیں، اور پھر حضرت استاذ صاحب کی ان کے حوالے سے گفتگو بھی ہم سن رہے ہیں؛ تو ان پڑوسیوں کے لیے اس معاہدے کے بعد کیا نصیحتیں ہیں، اور ان سے کیا ہم گزارش کریں گے، تو وہ بھی ہم حضرت کی زبانی سنیں گے۔ آج کی اس نشست میں آپ آخر تک، ان شاء اللہ، ہمارے ساتھ رہیں گے، تو آئیے آغاز کرتے ہیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت!
مولانا مفتی عبد الرحیم:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا عبد الودود:
حضرت! بہت شکریہ اور آپ کو بہت مبارکباد اس تاریخی معاہدے کے اوپر، ما شاء اللہ، تو سب سے پہلے سوال آپ کی خدمت میں ہم رکھیں گے۔ ایک تو آپ سے یہ جاننا چاہیں گے، جیسے ہم نے اپنے انٹرویو میں بھی ذکر کیا، کہ یہ معاہدہ یقیناً پاکستانی قوم کے لیے بڑی خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے، الحمد للہ، پورا پاکستان بہت خوش ہے، سعودی عرب میں بہت خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ تو پاکستان اور سعودی عرب کے تناظر میں، اور اس کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے تناظر میں اگر ہم دیکھیں، تو اس معاہدے کی ان دونوں ممالک کے لیے اور پورے عالمِ اسلام کے لیے کون کون سے محاذوں پر کتنی اہمیت ہے؟ ذرا آپ اس سے گفتگو کا آغاز فرمائیے گا۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ جو معاہدہ ہے، اس کی اہمیت، اس کی گہرائی کتنی ہے، اس کی وسعتیں کتنی ہیں؛ ہمارے ملک کے لیے، پاکستانیوں کے لیے، ہماری آرمی کے لیے، ایئر فورس کے لیے، نیوی کے لیے، ایس پی ڈی جو ہمارا ایٹمی پروگرام ہے اس کے لیے، امتِ مسلمہ کے لیے، برصغیر کے لیے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے لیے اور بالخصوص حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے اس کی بہت اہمیت ہے۔
ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد کی کتنی برکتیں ہوتی ہیں۔ ستاون اسلامی ممالک میں کتنے ملک ایسے ہیں جن کی خواہش ہے کہ ہم ایٹمی طاقت بن جائیں۔ ایٹامک انرجی کے لیے لوگ کتنی کوششیں کرتے ہیں! ایٹمی پاور بننے کے لیے خواہشات تو بہت ہیں، لیکن آپس کے اتفاق و اتحاد سے سعودی عرب ایک ہی جست میں، ایک ہی چھلانگ میں ایٹمی پاور بن گیا۔ اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اور شاید یہ نیٹو کے بعد پہلا ایک ایگریمنٹ ہے جس میں ایٹمی پاور کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گئے۔ تو اس حوالے سے اس کو دیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جس طرح سے عراق، شام اور لیبیا اور پڑوسی ممالک کو جس طریقے سے اسرائیل نے بالکل تہس نہس کر دیا، اور دو تین ہفتوں میں ہی چھ سات ملکوں پر ان کا حملہ ہوا۔ اسرائیل کا جو وزیر اعظم ہے، وہ پارلیمنٹ میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا نقشہ خود لے کر کھڑا ہوا تھا، اور اس میں آدھا سعودی عرب آتا ہے۔ ان کی باچھیں اتنی کھلی ہوئی تھیں کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ ہر چیز کو روندتے چلے جائیں گے۔ ان کے سامنے نہ مسلمانوں کی، نہ غزہ کی، نہ فلسطین کی، نہ بچوں کی کوئی قیمت ہے، نہ خواتین کی، نہ بوڑھوں کی، نہ ان کی جان مال عزت کی، نہ دنیا کے قانون کی، نہ بین الاقوامی قانون کی اور نہ ہی انسانیت کی۔ تو ایسے میں جب وہ بالکل بے لگام ہو گئے اور انہوں نے باقاعدہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ جہاں بھی لوگ ہوں گے ہم ان کو ہِٹ کریں گے۔ تو ایسے وقت میں مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان اور خاص طور پر بلادِ حرمین شریفین کے جو مسلمان تھے، وہاں کی حکومت اور وہاں کی جو ریاست تھی، وہ ایک بہت بڑے پریشر میں تھی۔
ظاہر ہے کہ اتنے بڑے ملک کی اس طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے دہائیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ دنیا نے اپنے آپ کو اتنا منظم کر لیا ہے اور اتنا شکنجے میں کسا ہوا ہے کہ اب کسی مسلمان ملک کے لیے ایٹمی پاور بننا بہت مشکل ہے۔ آپ نے دیکھا ایران کے ساتھ کیا ہوا، بغداد کے ساتھ کیا ہوا، لیبیا کے ساتھ کیا ہوا؟ جس ملک نے بھی کوشش کی ہے، اس کو وہیں انہوں نے دبوچا ہے جا کر۔ تو سعودی عرب کی خواہش تو تھی، لیکن یہ کہ محمد بن سلمان اور وہاں کی جو قیادت ہے، ان کو میں شاباش دوں گا، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بہت بڑا فیصلہ کیا، بہت بروقت فیصلہ کیا، اور ایک ایسا فیصلہ کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سطح پہ اس کو تاریخی سمجھا جائے گا، اور یہ تاریخی ہے بھی، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
تو کل جب یہ معاہدہ ہوا، اس کے بعد سے یہود و ہنود پہ، اسرائیل اور بھارت پہ، اور جتنی بھی یہ صہیونی طاقتیں ہیں اور جتنے بھی ہندوتوا کے لوگ ہیں، ان کے اوپر جو بجلی بن کے گری ہے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس معاہدے کی گہرائی کتنی ہے اور اس کی وسعت کتنی ہے۔ اس کو شمال و جنوب میں، سعودی عرب کے اور عالم اسلام کے مشرق و مغرب میں، اور فرش سے لے کر عرش تک اوپر نیچے اس کی گہرائی دیکھیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ جو ایٹمی پاور ہوتی ہے، اس کا دفاع یا اس کا حملہ یا اس کی فوجی طاقت، وہ اتنی مختلف ہوتی ہے کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ اس کا موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔
تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سعودی حکومت نے، وہاں کے جو بادشاہ ہیں، وہاں کے جو ولی عہد ہیں، یا وہاں کے جو بھی ذمہ دار لوگ ہیں، انہوں نے پاکستان کو دیر سے پہچانا لیکن صحیح پہچانا ہے۔ تو جہاں ہمارے پاکستان کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے، وہاں سعودی عرب کے لیے بھی بہت بڑی بات ہے کہ سب کو ایک تحفظ حاصل ہو گیا۔ اور (اسرائیل کے) قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب بھی بالکل ایک متزلزل حالت میں تھا اور وہاں عدمِ تحفظ کا احساس تھا۔ الحمد للہ، رات کو جس طرح سے آپس میں معاہدہ ہوا ہے، تو یہ حرمین شریفین کی حفاظت بھی ہے اور ان شاء اللہ باذن اللہ بیت المقدس اور فلسطین کی حفاظت بھی اس سے ہو گی۔
دوسرا، اس میں یہ بھی بتا دوں کہ برصغیر میں جو چیزیں چل رہی تھیں، جس طریقے سے انڈیا کو ایک چوہدری بنایا گیا اور اتنے بڑے پیمانے پر ان کو ہم پر مسلط کیا گیا، جس طریقے سے وہ دھمکیاں دے رہے تھے، اور جتنی بڑی طاقت ان کے پاس ہے؛ ان سب چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جو معاہدہ ہوا ہے؛ یہ فوجی اعتبار سے بھی برصغیر کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑی سعادت ہے، بہت بڑی قوت اور طاقت ہے؛ سیاسی حوالے سے بھی؛ معاشی حوالے سے بھی؛ اور عالمِ اسلام کے حوالے سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی بات ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مفتی عبد المنعم:
اچھا، استاذ صاحب نے بڑی تفصیل سے اس بات پر تو گفتگو کی کہ عالمِ اسلام کے لیے اس کی کتنی بڑی اہمیت ہے، تو خود پاکستان — کیونکہ بہت سارے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہے پاکستان کو — تو پاکستان کی اپنی جو عالمی حیثیت ہے اس میں کتنی تبدیلی آئے گی؟ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی کتنی بڑی اہمیت ہے؟ خصوصاً حرمین شریفین، مکہ مکرمہ، روضۂ رسول اور ان مقدس مقامات کی حفاظت کا یہ بہت مقدس موقع جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے، اس کے پاکستان کے مستقبل پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
ایک تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاہدے کے بعد ہر پاکستانی، روحانی اعتبار سے، ایمانی اعتبار سے، نظریاتی اعتبار سے، وہ فرش سے عرش تک پہنچ گیا ہے، بہت بڑی بات ہو گئی ہے۔ ہر پاکستانی، ہر آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کی، مکہ مکرمہ کی، بیت اللہ کی، روضۂ رسول کی ہمیں نوکری مل گئی ہے، تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز سوچی جا سکتی ہے؟ اب صحیح معنوں میں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم پاکستانی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی بات کر سکتے ہیں۔ اس کو روحانی اعتبار سے انجوائے کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارا دین و ایمان حرمین شریفین سے وابستہ ہے۔ تو اس کے لیے اگر ہمیں موقع ملتا ہے وہاں کی حفاظت کے لیے اور ہمارا نام بھی اس میں آتا ہے، تو ہماری شفاعت کے لیے، آخرت میں مغفرت کے لیے، اور دنیا میں کامیابی کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہر پاکستانی اس کو انجوائے کرے، ہر اعتبار سے، خاص طور پر نظریاتی اور روحانی اعتبار سے۔
بہت سے لوگ جو اس وقت بیمار ہیں، ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں، وہ اس بات کو سوچیں کہ ہم کہاں تک پہنچے ہیں، تو ان شاء اللہ ان کو شفا اور صحت بھی ملے گی۔ جتنے ہمارے فوجی حضرات ہیں، چاہے وہ آرمی کے ہوں، نیوی کے ہوں، ایئر فورس کے ہوں، یا ایس پی ڈی میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، وہ آج سے کتنے اونچے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ تو جتنا اس بات کو سوچیں گے، جتنا اس کو اہمیت دیں گے، اتنا ان کے اندر کا ایمان بھی بڑھے گا، ان کی روحانیت بھی بڑھے گی اور ان کو حوصلہ بھی ملے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسی طریقے سے جو اس خطے کے مسائل تھے؛ اندرونی مسائل، جس طریقے سے یہاں خلفشار تھا، جس طریقے سے یہاں فوج پہ حملے ہو رہے تھے، فوج کے خلاف چیزیں ہو رہی تھیں اور اینٹی سٹیٹ نظریہ چل رہا تھا، ان سب کے لیے یہ جو معاہدہ ہے، یہ بہت مؤثر ایک ضربِ کاری ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان شاء اللہ اس کی وجہ سے ہمارے ملک کی قدر، ہماری افواج کی اہمیت، پاکستان کی اہمیت، پاکستانیوں کی اہمیت، پاکستان کے جھنڈے کی اہمیت اور پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت اتنی زیادہ ہو گئی ہے اور مزید بڑھے گی، بشرطیکہ ہم اس نعمت کی قدر کریں۔
مولانا عبد الودود:
اچھا، حضرت! میں نے اپنے پہلے سوال میں بھی ذکر کیا تھا کہ جو آرمی چیف ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب، ان کی ہم بہت ساری ملاقاتیں — وزیراعظم کے علاوہ بھی — محمد بن سلمان صاحب کے ساتھ دیکھتے رہے ماضی میں، بہت سارے ان کے وزٹ ہوتے رہے سعودی عریبیہ کے، اور آپ نے اپنے ایک میسج میں ان کی کوششوں اور کاوشوں کا ذکر بھی کیا۔ تو میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کل بڑا اچانک all of a sudden یہ معاہدہ منظرِ عام پر آیا ہے، کوئی بھی شاید اتنے بڑے breakthrough کی توقع نہیں کر رہا تھا، سب حیران تھے کہ اتنا والہانہ استقبال اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ ہم سبھی حیران تھے، پوری دنیا دیکھ رہی تھی ان چیزوں کو۔ تو میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس کے پیچھے کوششیں اور کاوشیں کب سے ہو رہی تھیں اور اس معاہدے کے پیچھے آرمی چیف کا خاص طور پر کتنا بڑا کردار ہے؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
دیکھیے، اس پر تو جو لوگ وزارتِ خارجہ اور دفاعی نظام سے وابستہ ہیں، وہ زیادہ روشنی ڈال سکتے ہیں، لیکن جو میں نے اندازہ کیا ہے مختلف ملاقاتوں میں اور جو میری معلومات ہیں، کافی مدت سے اس کی کوشش ہو رہی تھی۔ سعودی عرب خود اس کوشش میں تھا کہ کسی طریقے سے ہمیں پاکستان کی یہ قوت حاصل ہو، لیکن اس میں بہت ساری سیاسی پارٹیاں، بہت سارے علاقائی مسائل اور بہت سارے بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز جو پوری دنیا میں ہیں، وہ بیچ میں رکاوٹ تھے۔ اس کی کوششیں کافی مدت سے ہو رہی تھیں لیکن اتنی ہمت محمد بن سلمان کے علاوہ کسی نے نہیں دکھائی۔ میں اس معاہدے پر، جہاں ہم اور حوالوں سے اہمیت دیں گے، وہاں میں محمد بن سلمان کی شجاعت اور ہمت کو بھی داد دوں گا۔ جب یہاں ان کے خلاف لوگ بہت باتیں کرتے تھے، اس وقت بھی ہمیں اندازہ تھا کہ اس پر بات چیت ہو رہی ہے اور وہ اپنے طور پر مختلف طریقوں سے سعودی عرب کو اس حوالے سے فوجی اعتبار سے خودکفیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو الحمد للہ یہ چیز اب ہوئی ہے۔ اور سعودی عرب کا سب سے زیادہ پاکستانی فوج کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ سعودی عرب کا سفارت خانہ ہو یا کوئی اور، جب بھی ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم فوج کے ساتھ ہیں، فوج کے ساتھ ہم چلیں گے، اور فوج کے بغیر ہم کسی چیز کو نہیں مانتے۔ تو یہ کافی مدت سے کوششیں ہو رہی تھیں۔
اس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کی کوششیں بہت ہی اخلاص پر مبنی تھیں۔ اس میں کہیں کوئی سیاست نہیں تھی، کہیں کوئی پیسہ نہیں تھا، کہیں کوئی شہرت نہیں تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے میں اتنی بڑی نیکی، اتنی بڑی فتحِ مبین اور عظیم بشارت عطا فرمائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جو لوگ مخلص ہوتے ہیں، ان کے اندر جرأت ہوتی ہے، تقویٰ ہوتا ہے، لوگ تو بہت باتیں کرتے ہیں، لیکن میں جتنا ان کو جانتا ہوں، وہ انتہائی متقی اور پرہیزگار شخصیت ہیں اور ان کے دل میں اسلام اور عالمِ اسلام کی بہت قدر ہے، بہت ان کے اندر کے جذبات ہیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ معرکۂ حق ’’بنیان مرصوص‘‘ میں کس طریقے سے ان کی شخصیت سامنے آئی۔ اور جو ان کے اقدامات ہیں اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بے لاگ اور بے داغ شخصیت ہیں۔ ان کی اس محنت کا پھل اور ان کے اخلاص کا پھل آج پوری امتِ مسلمہ کو، مشرقِ وسطیٰ کو، بلادِ حرمین شریفین کو، پاکستان کو اور پاکستان کی تمام افواج کو مل رہا ہے، اور ہر پاکستانی کو جنرل عاصم منیر صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
اس میں ایک بہت اہم بات میں اور بتا دوں، وہ یہ کہ جو ہمارے وزیر اعظم ہیں، محترم جناب شہباز شریف صاحب، میں شروع سے ہی دیکھ رہا ہوں کہ وہ آرمی چیف کے ساتھ اور آرمی چیف اُن کے ساتھ اس طریقے سے اکٹھے ہیں، جو ہمارے ملک کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ لوگ اس پہ اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ یہی تو کامیابی کی ضمانت ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے جب اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ملک ترقی کرتا ہے۔ تو الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بہت عزت بخشی ہے، کس طریقے سے ان کا استقبال ہوا ہے اور کس طریقے سے ان کو عزت دی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپس میں مل کر رہنا اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنا کتنی بڑی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق بھی ہے اور نعمت بھی ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
جنرل عاصم منیر صاحب بہت سارے چیلنجز سے نمٹے ہیں۔ جب وہ آرمی چیف بنے تھے، اس وقت پاکستان کہاں کھڑا تھا؟ سکیورٹی کے حوالے سے، معاشی حوالے سے، سیاسی حوالے سے، نظم و ضبط کے فقدان کے حوالے سے، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کے حوالے سے؛ اور آج الحمد للہ ان کے خصوصی اخلاص کی وجہ سے ملک یہاں تک پہنچا ہے۔ تو سب سے زیادہ اس میں جو سرخیل ہیں، سب سے زیادہ جن کو مبارکباد دینی چاہیے، جن کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، وہ فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب ہیں۔ اللہ ان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ پورے عالمِ اسلام کی طرف سے ان کا شکریہ، سعودی عرب کی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور تمام پاکستانیوں کی طرف سے ان کا شکریہ بھی ہم ادا کرتے ہیں، ان کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہیں، ان کو مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں اور ان سے ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو سپورٹ کریں گے۔ جب تک آپ کے اندر یہ اخلاص ہوگا، عالمِ اسلام کے ساتھ آپ کی وفاداری رہے گی، ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ کو سپورٹ کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس کے جو اور بہت سارے فوائد ہیں نا ہمارے پاکستان کے لیے، ایک بہت بڑا فائدہ پاکستان کی افواج کے لیے اور پاکستانیوں کے لیے یہ ہے کہ جتنی بھی حرمین شریفین میں دعائیں ہوتی ہیں — رجالِ امن کے لیے، فوج کے لیے، ستائیسویں شب میں رمضان میں، اور دعائے قنوت میں، جمعے میں — تو اس رات کے معاہدے کے بعد ہم پاکستانی لوگ اور خاص طور پر ہماری فورسز، وہ باقاعدہ حرمین شریفین کی محافظ بھی ہیں اور ان کی دعاؤں میں شامل ہو گئی ہیں۔ تو جیسے ائمہ حرمین دعا کرتے ہیں کہ
’’یا اللہ! ہماری فوج کی حفاظت فرما، سلامتی فرما، ان کو کامیابی عطا فرما، ان کے شہداء کی شہادت قبول فرما، ان کے جو زخمی ہیں ان کو صحت عطا فرما۔‘‘
تو الحمد للہ ہماری افواج اب ائمہ حرمین کی باقاعدہ دعاؤں میں، حرمین شریفین کی دعاؤں میں شامل ہو گئی ہیں۔ تو دیکھیے، بیٹھے بیٹھے اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے۔ خاص طور پر میں پاکستان میں جب دیکھتا ہوں، تو جتنے نیک لوگ ہیں، دیندار لوگ ہیں، مدارس کے لوگ ہیں، مذہبی جماعتیں ہیں، ان میں جلدی سے ہمت نہیں ہوتی فوج کے لیے دعا کرنے کی۔ تو اگر آپ دعا نہیں کریں گے تو اللہ نے کتنی بڑی کامیابی عطا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں کی دعاؤں میں ہماری افواج کو شامل کر لیا، تو یہ کتنی بڑی بات ہے، ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ، اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے۔
مفتی عبد المنعم:
اچھا، استاذ صاحب! یہ جو ابھی پاکستان کو، الحمد للہ، اتنا بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے، تو اس کے بعد جو پاکستان کی ریاست کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا تھا کہ یہ کفریہ ریاست ہے، یہاں کا جو نظام ہے وہ کفریہ ہے، یہ کفر کے حامی اور مددگار ہیں؛ تو اس بیانیے کو اس سے کیا زد پہنچے گی، اس پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور دوسرے نمبر پہ، ایسے لوگ جو یہ بیانیہ لے کر چل رہے ہیں، ان کے لیے آپ کیا میسج دینا چاہیں گے کہ اب پاکستان کو جب اتنی بڑی اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت عطا فرمائی ہے، تو اس کے بعد ان کا بیانیہ اب کہیں پر بھی سٹینڈنگ نہیں رکھتا، کہیں پہ اس کا کوئی وجود نہیں رہا؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
دیکھیے، ایک تو یہ ہے کہ کسی فوج کے کسی افسر پہ، کسی خاص واقعے پہ اگر کوئی اعتراض کرتا ہے، کوئی تنقید کرتا ہے، یہ تو الگ بات ہے۔ لیکن ادارے پر، فوج بحیثیت فوج کے، اگر کوئی اس پہ اعتراض کرتا ہے تو یہ تو بڑی بدقسمتی بھی ہے، بہت بے دینی کی بات بھی ہے، اور بے وقوفی کی بات بھی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا اسلام سے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ حرمین شریفین کس منہ سے جائے گا؟ یہ وہ افواج ہیں جو حرمین شریفین کی حفاظت کرنے جا رہے ہیں۔ آخر وہ لوگ جن کے پاس اتنا بڑا بجٹ ہے، ان کے پاس گیس دیکھیں، پٹرول کے ذخائر دیکھیں، ان کی آبادی دیکھیں، ان کی معاشی قوت اور طاقت دیکھیں، آخر ان کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ پاکستان کے ساتھ دفاع میں ایگریمنٹ کریں، معاہدہ کریں؟ اس سے معلوم یہ ہوا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی فوجی قوت عطا فرمائی ہے کہ وہ حرمین شریفین کی، بلادِ حرمین شریفین کی اور عالمِ اسلام کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر فوج کے پیچھے کوئی پڑتا ہے، تو میں سمجھتا ہوں وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔
ہاں، اگر کسی فوجی افسر کے بارے میں بات کرتا ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، یا کسی خاص واقعے کے بارے میں بات کرتا ہے، تو وہ الگ بات ہے۔ اس میں تنقید کرنا اور مثبت تنقید کرنا، یہ بالکل ہونا چاہیے، تاکہ فوج کو بھی اندازہ ہو کہ ان کی ہر چیز کو لوگ خاموشی سے قبول نہیں کرتے رہیں گے۔ تو ان کے بارے میں بولنا، یہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن فوج کو بے عزت کرنا، ان کی memes بنانا، اس کا استہزا کرنا، مذاق اڑانا۔ میرے خیال میں آج کے بعد، اس معاہدے کے بعد، ایک تو یہ ہے کہ وہ کس منہ سے یہ مذاق اڑائیں گے؟ دوسرے یہ کہ وہ حرمین شریفین اور بیت اللہ میں حج اور عمرے کے لیے کس منہ سے جائیں گے؟ ان کو شرم آنی چاہیے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کس منہ سے کریں گے کہ جس فوج کو اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا فضل، اتنا بڑا شرف بخشا ہے، آپ اس کے خلاف پوری ایک مہم چلا رہے ہیں؟ تو ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ہماری فوج کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں، ان کو اس سے باز آنا چاہیے۔ میں صحیح بات عرض کر رہا ہوں، جتنا میں جانتا ہوں اپنی افواج کو، جتنی ان کی فوجی قوت اور طاقت ہے اور جتنے وہ لوگ عالمِ اسلام سے اور حرمین شریفین سے مخلص ہیں، ایسے لوگوں پر اتنی پھبتیاں کسنا، ان کو برا بھلا کہنا اور اس کو اپنا مشن بنا لینا، یہ ایمان کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔
دوسرے نمبر پہ، پاکستانیوں کو بھی بالعموم اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ بہت بڑی بڑی نعمتیں ہمیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں، لیکن جب ہم ناقدری کرتے ہیں، ناشکری کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت سے محروم کر دیتے ہیں۔ تو اس نعمت کا ہم شکر ادا کریں، اور ہم زبان سے بھی شکر ادا کریں، دل سے بھی کریں اور اپنے عمل سے بھی کریں۔ عمل سے کیسے ہم شکر ادا کریں؟ کہ اس ملک میں انصاف کا نظام ہونا چاہیے، امن ہونا چاہیے، کسی پر ظلم اور زیادتی نہ ہو۔ اور پاکستان اور ریاستِ پاکستان کے جتنے مواقع ہمیں ملے ہوئے ہیں ترقی کرنے کے، معاشی طور پر، فوجی اعتبار سے، اس میں ہم روڑے نہ اٹکائیں، ہم سپورٹ کریں۔ جب بھی ہمیں موقع ملتا ہے اپنی ریاست کی معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے یا اس ملک کی نیک نامی کے لیے، تو بہت سارے لوگ بیچ میں کود پڑتے ہیں۔ اگر انڈیا بیچ میں آئے، یہودی بیچ میں آئیں، یا انڈیا کے لوگ آئیں، صہیونی لوگ آئیں، تو ان کو تو آنا چاہیے، ظاہر ہے کہ وہ دشمن ہیں؛ لیکن جب اپنے لوگ آتے ہیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے اس بات سے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنے پاکستانیوں کو بھی اس کی قدر کرنی چاہیے، شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور اپنی بدعملیوں سے باز آنا چاہیے۔
یہ ٹھیک ہے کہ یہاں پاکستان کا آئین اسلامی ہے، یہ اسلامی ملک ہے، اور جتنی بھی ہمارے فقہاء نے دارالاسلام کی تعریفیں کی ہیں، یا کسی ملک کو اسلامی کہا گیا ہے، تو وہ سب یہاں موجود ہیں۔ لیکن عملی طور پر جہاں جہاں بھی اسلام کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، جہاں جہاں بد اَمنی ہوتی ہے، جہاں نا انصافی ہوتی ہے، اور خاص طور پر ہماری جوڈیشری، اس کی بہت اہمیت ہے، تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی بھی قدر کرنا ہوگی اور اپنی بدعمالیوں سے ہمیں توبہ کرنا ہوگی، پھر جا کر یہ شکر ادا ہو گا۔
ایک چیز اور میں بتا دوں کہ آج کے دور میں جو سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں فتنۃ الخوارج کا سلسلہ چل رہا ہے، بلوچستان میں فتنۃ الہند یا فتنۂ ہندوستان، اور اس کے پیچھے پڑوسی ممالک سے جو کچھ ہو رہا ہے، اب وہ آپ کے سامنے ہے۔ ان سب کا جو موقف ہے، یہ سب اس پہ اکٹھے ہیں کہ پاکستانی فوج کے خلاف ہیں اور ان سے وہ لڑ رہے ہیں۔ روزانہ ہمارے جو جوان ہیں، ہمارے شیر بہادر جوان ہیں، ان کے جنازے اٹھ رہے ہیں، ان کی قربانیاں لگ رہی ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پہ قربانیاں ہو رہی ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ اس معاہدے سے یہ بات بالکل ثابت ہو گئی ہے کہ ان کو اب اپنی لڑائی بند کرنی چاہیے، چاہے وہ ٹی ٹی پی کے لوگ ہوں، چاہے ان کے پیچھے دوسرے لوگ ہوں، یا وہ لوگ ہوں جو مذہبی بنیادوں پہ، شریعت کے نام پہ، جہاد کے نام پہ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ کیسے جائز ہوگا ان کے لیے؟ پہلے بھی ہم اس کو حرام سمجھتے تھے، خروج سمجھتے تھے، ان کو خوارج کہتے تھے، بغاوت کہتے تھے اور ان کی موت کو حرام موت، ہم سب یہ سمجھتے ہیں۔
تو میں ان نوجوانوں سے جو اُن کے چنگل میں آئے ہوئے ہیں، اور جو اُن کے لیڈر ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہم دین کے حساب سے لڑ رہے ہیں، تو میں ان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ کیا اب بھی آپ باز نہیں آئیں گے؟ میرے خیال میں اب تو باز آنا چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر آپ پاکستانی فوج سے لڑیں گے، جو حرمین شریفین کی محافظ ہے، جیسے آپ نے پوچھا تھا سید عاصم منیر صاحب کے بارے میں، تو جیسے محمد بن سلمان خادم الحرمین شریفین ہیں، تو ہمارے فیلڈ مارشل محافظ الحرمین شریفین ہیں۔ تو یہ کتنی بڑی اللہ نے ہمیں نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں ان نوجوانوں سے — چاہے وہ افغانستان سے آ رہے ہیں، یا یہاں سے کسی دین کے لیے یا شریعت کے نام پر ان کو بہکایا گیا ہے — کہ یہ شریعت اور دین نہیں ہے، یہ آپ کی حرام موت ہے اور یہ بغاوت ہے، خروج ہے اور یہ جاہلیت کی موت ہے۔ اب اگر پاکستانی فوج سے آپ لوگ لڑیں گے، تو آپ اس فوج سے لڑ رہے ہیں جس کے ذمے روضۂ رسول کی حفاظت ہے، جس کے ذمے بیت اللہ کی حفاظت ہے، جس کے ذمے مکہ مکرمہ کی حفاظت ہے، جس کے ذمے مدینہ طیبہ کی حفاظت ہے۔ تو ایسی فورس سے جو بھی لڑے گا، وہ کس منہ سے وہاں جائے گا، کس منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہے گا؟ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی اس حوالے سے بھی پیشرفت ہے کہ ہمارے ملک میں اب امن قائم ہونا چاہیے، اور علماءِ کرام اور ہماری مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کو سمجھائیں اور ان کو بتائیں کہ یہ جائز نہیں ہے آپ کے لیے۔
جہاں تک اس کی بات ہے کہ اسلام کیسے نافذ ہوگا، تو اسلام نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس درسِ نظامی میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، کتبِ عقائد میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، ہمارے آئین میں جو کچھ لکھا ہوا ہے — ہمارے آئین پہ اتنے بڑے بڑے اکابر نے دستخط کیے ہیں، پیغامِ پاکستان پہ سب لوگوں کے دستخط ہیں — اور عقائد میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سارے طریقے ہیں کہ ہم یہاں نفاذِ اسلام کے لیے کوشش کریں۔ تو جب اس پہ بات ہوگی، پھر دوبارہ سے میں اس پہ بات کر لوں گا کہ دس پندرہ طریقے ہیں نفاذِ اسلام کے۔ اگر ہم متفق ہو جائیں، جو ہمارے مذہبی لوگ ہیں، تو پاکستان میں اسلامائزیشن کا بہت کام ہو سکتا ہے۔ اور جتنا کام ابھی ہو رہا ہے، کیا یہ کم ہے؟ یہ بھی تو بہت بڑی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔
میں ایک دفعہ پھر امارتِ اسلامی افغانستان سے بھی درخواست کروں گا کہ اگر آپ کے پاس وہ قوت نہیں ہے جس سے آپ حرمین شریفین اور اس کی حفاظت کے لیے انتظام کر سکیں، اور آپ کے پاس اگر وہ ڈسپلن نہیں ہے، وہ ایٹمی پاور نہیں ہے، وہ فوجی قوت نہیں ہے، وہ میزائل نہیں ہیں، وہ جنگی طیارے نہیں ہیں؛ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ایک پڑوسی کو یہ چیز عطا فرمائی ہے، اور جس کو آپ ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ یہ ہمارا دوسرا گھر ہے، اور آپ نے چالیس پینتالیس سال یہاں گزارے ہیں، یہاں آپ نے مدرسوں میں علم حاصل کیا ہے، یہاں آپ نے کاروبار کیا ہے، یہاں دو تین نسلیں آپ کی پیدا ہوئی ہیں؛ اس ملک سے لڑنے سے پیچھے ہٹ جائیں اور جو لوگ وہاں سے لڑ رہے ہیں تو ان کو بھی منع کریں۔ اس کے بعد یہ دونوں ملک ترقی کریں گے اور ان دونوں ملکوں کے پاس اتنے مواقع ہیں ترقی کرنے کے — اقتصادی لحاظ سے، فوجی اعتبار سے، معاشی اعتبار سے، سیاسی اعتبار سے، علاقائی اعتبار سے، بین الاقوامی اعتبار سے — دنیا اس بات کو سوچ رہی ہے کہ کسی دن اگر ان کا آپس میں اتفاق ہو گیا تو کیا ہو گا؟
میں یہ بھی اس میں عرض کروں گا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے کے بعد سعودی عرب خود ایٹمی پاور بن گیا ہے اور وہ علاقے محفوظ ہو گئے ہیں، اور سارا پریشر صہیونیوں پر اور ہندوتوا اور ان لوگوں پر ہے، مودی اینڈ کمپنی پر۔ اسی طریقے سے اگر ہم اور اکٹھے ہو جائیں، باقی عالمِ اسلام کے ممالک اپنے مشترک مفادات کے لیے اکٹھے ہو جائیں، تو آپ یقین کریں کہ جیسے ہم ایٹمی پاور ہیں، ہم دنیا کے لیے سپر پاور بھی بن سکتے ہیں۔
تو پاکستان کے بغیر، جیسے پہلے میں نے عرض کیا تھا اور کئی بزرگوں نے اس سے پہلے پیشگوئی بھی کی تھی کہ ایسا وقت آئے گا کہ پاکستان کے بغیر دنیا کے کوئی فیصلے نہیں ہوں گے، دنیا کے فیصلے پاکستان کے ہاتھوں ہوں گے اور پاکستان فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ ایسے ہی جو لوگ کہہ رہے تھے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک طرف مغربی دنیا اور امریکہ سپر پاور ہے اور دوسری طرف چائنا ہے اور رشیا ہے، تو پاکستان یہ کیا کرے گا؟ تو پاکستان نے ان حالیہ پانچ چھ مہینوں میں ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان ان دونوں بڑی طاقتوں کو نہ صرف یہ کہ بیلنس کر سکتا ہے بلکہ دونوں کو چلا بھی سکتا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اگر ہم لوگ اپنی اس نعمت کی قدر کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ہم ادا کرتے رہیں، تو سعودی عرب اور پاکستان کے اس معاہدے کے بعد آپ دیکھیے گا کہ بہت سارے ملکوں کی لائن بھی لگ سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس جو فوجی قوت ہے، وہ اتنی بڑی ہے اور اتنی زبردست ہے اور اتنی جدید ترین ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی ملک تو اسلامی ملک، دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں ایک دفعہ پھر اپنی مذہبی جماعتوں سے اور ان نوجوانوں سے — جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں — یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد ہے، امتِ مسلمہ کے اندر بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے ہی جذباتی لوگوں نے عراق کو تباہ کیا ہے، شام کو تباہ کیا ہے، لیبیا کو تباہ کیا ہے، یمن تباہ ہو گیا ہے، صومالیہ تباہ ہو گیا ہے، سوڈان تباہ ہو گیا ہے۔ ایک اتنی بڑی ایٹمی طاقت کو، عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کو، واحد ایک منظم فوجی قوت کو، جس کی ایک ہزار سال میں کوئی مثال نہیں ملتی، اس کو اپنے ہاتھوں سے خراب نہ کریں۔ جو شکایتیں ہیں فوج سے یا کسی بھی ادارے سے، اس شکایت کو حل کرنے کے لیے دوسرے پرامن راستے اختیار کرنے چاہئیں۔ اور آج کے دور میں اتنے راستے مل سکتے ہیں کہ ہم بہت سی چیزوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوان کسی کے لیے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں؛ کوئی پیسے لے رہا ہے، کوئی ڈالر لے رہا ہے، اس کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کے لیے، یہود و ہنود کے لیے ہم اپنی جانیں دے رہے ہیں، اسلام کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مولانا عبد الودود:
جی حضرت! بہت شکریہ، جزاک اللہ، ایک آخری سوال حضرت کی اجازت سے۔ جس طرح سے آپ نے ابھی بڑی تفصیل سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت سارا پریشر یہود و ہنود کے اوپر ہے اور ہم وہ محسوس بھی کر رہے ہیں۔ کل جب یہ معاہدہ ہوا تو رات کو خالد بن سلمان، جو محمد بن سلمان کے بھائی ہیں اور سعودی عرب کے وزیرِ دفاع ہیں، تو انہوں نے دو ٹویٹ کیے، ایک انگریزی میں اور ایک اردو زبان میں۔ وہ میں پڑھ رہا ہوں کہ
’’سعودیہ اور پاکستان جارح کے مقابل ایک ہی صف میں ہیں، ہمیشہ اور ابد تک۔‘‘
تو اس واضح اور clear stance کے بعد یقیناً جو پہلے ایک صف بندی تھی اور جن پر پہلے سعودی عرب کا انحصار تھا دفاع کے حوالے سے، اب وہ انحصار یقیناً کم ہوا اور شفٹ ہوا ہے پاکستان کی طرف۔ انڈیا کے چینل بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی بھی معاملہ ہوتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سعودیہ کے ساتھ بھی لڑ رہے ہیں۔ تو اتنی بڑی جو انڈیا کی مارکیٹ ہے، تو ظاہر ہے کہ سعودی عرب اور وہ عملاً آپس میں ایک دوسرے سے دور ہوں گے۔ ادھر سے اسرائیل کے اوپر ایک پریشر آئے گا۔ تو یقینی بات ہے کہ جو عالمی قوتیں ہیں، وہ اس اتحاد کو، اس اتفاق کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کریں گی۔ کچھ ایسے ٹویٹس وغیرہ ان کے ایجنٹس کی طرف سے اس وقت سامنے بھی آ رہے ہیں۔ تو بطورِ پاکستانی ہم آپ سے رہنمائی لینا چاہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے آپ کا یہ کلپ ان شاء اللہ ہمارے عربی چینل کے لیے ٹرانسلیٹ بھی ہوگا۔ تو آپ تھوڑا سا بتائیں گے کہ پاکستانی قوم، سعودی عرب کے ہمارے بھائی، بطورِ قوم ہم لوگوں کو کس طرح سے اِس یکجہتی کو سنبھالنا ہے آگے، تاکہ اس کو ہم فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی صلاحیت پر، اپنے ملک کی طاقت پر، جو اللہ نے ہمیں حیثیت عطا فرمائی ہے، اس کا ہمیں اعتراف بھی کرنا چاہیے اور بغیر مرعوب ہوئے اس کا اعلان بھی کرنا چاہیے۔ تو اگر ہماری سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اور جتنی ہماری یہاں پارٹیاں ہیں، چاہے اپوزیشن ہو، چاہے حکومت کے لوگ ہوں، وہ سب اس بات پر اکٹھے ہو جائیں تو باہر کے جو ممالک ہیں، جو نقصان پہنچانا چاہ رہے ہیں، جو بہت زیادہ پریشان ہیں — جس میں ہمارا پڑوسی انڈیا ہے سب سے پہلے اور دوسرا اسرائیل — یہ سرِفہرست ہیں، تو یہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہمارا۔
دنیا میں چائنا، رشیا، نیٹو، امریکہ، یہی بڑی طاقتیں ہیں جن کے پاس فوجی اعتبار سے قوت ہے۔ تو اس میں نیٹو اور امریکہ نے تو ظاہر ہے کہ وہ کردار ادا نہیں کیا جو ان کی ذمہ داری تھی، تبھی تو سعودی عرب مجبور ہوا۔ اور قطر کا جو واقعہ ہوا ہے اس سے تو سب چیزیں سامنے آ گئی ہیں۔ تو اب سعودی عرب کے پاس بظاہر تین ہی آپشن تھے: ایک رشیا کا تھا، دوسرا چائنا کا۔ تو رشیا اور چائنا دونوں یہ نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ ظاہر ہے کہ حرمین شریفین سے تو ایک ایمانی اور اسلامی رشتہ ان کا نہیں ہے، اور ان کے اپنے مسائل بھی بہت ہیں۔ تو اِس وقت پاکستان واحد ایک ایٹمی طاقت ملک تھا جو اس کو بیلنس بھی کر سکتا تھا، اور پاکستان نے کر کے دکھایا ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ سعودی عرب سے فارغ ہو کر ہماری قیادت برطانیہ جا رہی ہے، پھر وہاں سے امریکہ جائیں گے۔ تو پاکستان نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ہماری لوکیشن اتنی زبردست ہے اور اللہ نے جو طاقت عطا فرمائی ہے، جو ہمیں صلاحیت عطا فرمائی ہے، اتنی بڑی ہے کہ ہم دنیا کے لیے ایک نمونہ بن سکتے ہیں، دنیا کو ہم چلا سکتے ہیں۔ تو سعودی عرب کے لیے پاکستان سے بہتر اور پاکستان کے لیے سعودی عرب سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اس حوالے سے بہت اہمیت ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ یہ جو پاکستانی قوم ہے، اس میں بہت سارے طبقات ہیں، تو اس موقع پہ وہ (پاکستان کے مخالفین) کوشش کریں گے کہ مختلف طبقات کو اٹھائیں۔ کہیں ہو سکتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے آپس کے جو اختلافات ہیں، اس کو ایشو بنائیں۔ کئی اور یہاں کے آپس کے جو مسائل ہیں، علاقائی مسائل ہیں، اور ان میں وہ کافی دخیل بھی ہو چکے ہیں۔ تو پوری قوم کو بحیثیتِ قوم کے، ریاست کے، اکٹھے ہونا ہو گا۔ اور اللہ کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، حرمین شریفین کے لیے، جب ہم اکٹھے ہوں گے تو ان شاء اللہ ہم مزید مضبوط ہوں گے۔ اور باہر سے جتنی سازشیں ہوں گی، یہ لوگ منہ کی کھائیں گے، ان شاء اللہ۔
آخر میں، میں اپنی افواج کے لیے خاص طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ سچی بات ہے کہ اتنی بڑی نعمت کے اوپر میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں کن الفاظ کا چناؤ کروں۔ رات سے میں سوچ رہا ہوں کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کی کئی دہائیوں سے ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ کاش امتِ مسلمہ، سعودی عرب اور ہمارے مسلمان، اور خاص طور پر پاکستانی قوم اپنی حیثیت کو پہچانے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ایک تو معرکۂ حق ’’بنیان مرصوص‘‘ کا منظر اپنی آنکھوں سے دکھا دیا، دوسرا یہ اتنا بڑا جو معاہدہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے قطر میں ہماری لیڈرشپ نے جو گفتگو کی ہے، جو مشورے دیے ہیں، جو تجاویز دی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ ہمیں اپنی قدر کرنی چاہیے، اپنی لیڈرشپ کی بھی قدر کرنی چاہیے اور ان کو ہمیں سپورٹ بھی کرنا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے اتفاق و اتحاد کی۔
تو جو آپ نے سوال کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ’’بنیان مرصوص‘‘ بنے رہیں، اکٹھے رہیں، تو یہ سازشیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔ اور آپ دیکھیے گا کہ جو کچھ مظالم مسلمانوں پر ہو رہے ہیں، چاہے وہ غزہ ہو، فلسطین ہو، یا کسی اور جگہ ہو، ہمارے آپس کے اتفاق و اتحاد کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی جان، مال، عزت محفوظ ہو جائے گی۔ اور اگر آپس میں ہم لڑیں گے تو جہاں جہاں عزتیں لٹیں گی اس میں بھی ہم گنہگار ہوں گے، شریک ہوں گے اس میں۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں آپس میں اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے۔ اور یہ جو مرعوبیت کی ذہنیت ہے کہ ہم مرعوب ہو جاتے ہیں، مغرب سے کوئی پیغام آ جاتا ہے، کوئی ڈیلیگیشن آ جاتا ہے، وہاں سے کوئی اعتراض ہو جاتا ہے تو ہم اپنی صفائیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، ہمیں ان کے اوپر اعتراض کرنا چاہیے کہ تم کیسے انسان ہو؟ تمہارے ہوتے ہوئے کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ ہمیں مرعوبیت سے نکل کر اپنی حیثیت کو پہچاننا چاہیے، اور جب ہم اپنے آپ کو پہچان لیں گے تو سارے مسئلے بہت آسانی سے حل ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
مولانا عبد الودود:
بہت بہت شکریہ حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم۔
ناظرین محترم! گفتگو آپ نے سنی، اور وقت کی بہت اہم ترین ضرورت تھی یہ گفتگو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت کی تمام باتوں، جن کو ہم نے سنا، سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور بحیثیتِ ایک قوم ہم سب کو اتفاق و اتحاد عطا کرے۔ ہم ایک قوم بن کر رہیں، بجائے اس کے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں اور اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل میں پہلے کی طرح آگے بڑھتے چلے جائیں، اور نتیجتاً ہم اپنے ہی ملک کو، اپنی ہی ریاست کو کوئی نقصان دے بیٹھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتفاق و اتحاد نصیب کرے۔ بہت شکریہ، آمین ثم آمین۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
اچھا، ایک بات اور اس میں رہ گئی۔ یہ جو تاریخی معاہدہ ہوا، یہ تو رات کو ہوا ہے نا، یعنی سترہ ستمبر کو یا غالباً اٹھارہ ستمبر کو ہوا ہے۔ تو ہمارے جامعۃ الرشید کے معہد کے تین طلبہ نے، آپس میں ان کا انٹرویو ہوا تھا، تو اس میں انہوں نے ایک مہینہ پہلے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس وقت اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے مسلمان (ملک) پاکستان کے ساتھ فوجی تحالف اور معاہدے کریں آپس میں۔ تو میں اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین سے کہوں گا کہ اس کو ایک دفعہ ضرور سن لیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جامعۃ الرشید کے طلبہ اور بچے کتنا وسیع ذہن رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنی توفیق عطا فرمائی ہے۔ میں نے وہ سنا تو مجھے بڑی خوشی بھی ہوئی کہ الحمد للہ جامعۃ الرشید ابنائے جامعۃ الرشید کو صحیح راستہ دے رہا ہے۔ تو ان تین بچوں کی جو گفتگو ہے، وہ میں JTR والوں سے کہوں گا کہ اردو ترجمے کے ساتھ — کیونکہ وہ عربی میں ہے — اس کو ضرور شائع کریں اور اس سے اندازہ لگائیں کہ عالمِ اسلام کے بچے بھی کیا سوچ رہے ہیں اس وقت۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
میں جے ٹی آر میڈیا، مولانا عبد المنعم صاحب، مولانا عبد الودود صاحب، آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی برکت سے مجھے بھی موقع مل جاتا ہے کچھ بات کرنے کا۔ اور یہ جو موضوع ہے، اس کی اور بہت ساری جہتیں ہیں، ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً اس پر ہم بات کرتے رہیں گے۔ بہت شکریہ، جزاکم اللہ، السلام علیکم۔
مفتی عبد المنعم، مولانا عبد الودود:
ان شاء اللہ۔
https://youtu.be/x-NEZs33j2w
وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل
مفتی صاحب کا یہ خطاب وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، ترکمانستان اور کرغیزستان وغیرہ میں مسلم دور کے تاریخی سفر کے بارے میں ہے۔
- پہلا حصہ اس بارے میں ہے کہ ماضی میں (خلافتِ عباسیہ، سلجوقی دور، تیموری سلطنت اور اس کے بعد) یہ خطہ کس طرح اسلامی علوم، ثقافت اور تصوف کا ایک عظیم مرکز بنا۔ امام بخاریؒ، امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ جیسے عظیم نام اسی مٹی سے اٹھے اور یہاں دینی روایات اپنے عروج پر پہنچیں۔
- دوسرا حصہ سوویت یونین USSR کے دور (1917ء تا 1991ء) کا احاطہ کرتا ہے۔ جب کمیونسٹ حکومت نے مذہب مخالف مہمات چلائیں، مساجد اور مدارس کو بند کر دیا گیا اور نتیجتاً دینی روایات کو شدید زوال کا سامنا کرنا پڑا، تو سوویت دور کے بدترین جبر کے دوران وہاں کے باشعور مسلمانوں نے خفیہ طور پر اپنے دین کو کیسے زندہ رکھا؟ اور پھر 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دینی روایات ایک بار پھر ابھر کر کیسے سامنے آئیں؟
- تیسرا حصہ اس بارے میں ہے کہ ہمارے لیے اس میں کیا سبق ہے؟ جس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سوویت یونین نے جبر کا راستہ اپنایا، وہی ایجنڈا ہمارے ہاں کس انداز سے کارفرما ہے؟ اور وسطی ایشیا کے مسلمانوں نے جس انداز سے اپنے ایمان و دین کے بقا کی جنگ لڑی، اس کی روشنی میں ہم اپنی جدوجہد کا محاسبہ کس طرح سے کرتے ہیں؟
(ادارہ)
اللہ تعالیٰ دین کے مراکز کو بدلتا رہتا ہے۔ اور دین کے مرکز کا مطلب وہ جگہ ہے جہاں پر دین کی ایسی محنت ہوتی ہے، جہاں سے پوری امت کے دینی مستقبل اور دینی حال کی رہنمائی اور نگرانی ہو رہی ہوتی ہے۔ وہاں سے وہ پیغام اس جگہ پر محفوظ ہوتا ہے جہاں سے اُس نے پورے عالم کو جانا ہوتا ہے اور قیامت کی صبح تک اس نے محفوظ رہنا ہوتا ہے۔
عروج کا دور
مدینہ منورہ سے کوفہ اور بصرہ سے ہوتا ہوا دین ایک زمانے میں نہر کے اُس پار چلا گیا — جیحون اور سیحون کی نہروں کے پار — جس کو عربی میں کہتے ہی ’’ما وراء النہر‘‘ ہیں، کہ نہر کے پار کا علاقہ۔ نہر عربی میں دریا اور سمندر کو کہتے ہیں۔ تو ان دریاؤں کے پار کا جو علاقہ ہے، اللہ نے دین بڑی جلدی پہنچا دیا، کوئی دوسری تیسری صدی ہجری میں ہی۔ پہنچ تو پہلی صدی ہجری میں گیا تھا، مرکزِ دین دوسری تیسری صدی ہجری کے اندر بننا شروع ہو گیا۔ اور ایسے ایسے علماء وہاں پر پیدا ہوئے ہیں کہ آج بھی تاریخِ اسلام ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم مدرسوں میں جو درسِ نظامی پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، اس کے تقریباً ستر اَسی فیصد مصنفین، کتابیں لکھنے والوں کا تعلق انہی علاقوں سے ہے، جس کو آپ سمرقند و بخارا کہتے ہیں؛ تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور یہ جتنی ریاستیں ہیں، جو وسطی ایشیا کی ریاستیں کہلاتی ہیں۔
اس کے پڑوس میں روس تھا اور روس کے اندر یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ان ریاستوں میں دین کے ایسے مراکز قائم تھے اور یہاں کے مدارس — آج بھی علماء جب جاتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہیں — ان کا تاریخ کے اندر ہم تذکرہ پڑھتے ہیں، تو تعجب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی کے اوپر، کہ یا اللہ! تیری ذات کتنی بے نیاز ہے ’’اللہ الصمد‘‘ واقعی بے نیاز ہے کہ اس کے نزدیک انسان کے کام اور بظاہر ان کے پھیلے ہوئے نقشے اور ان کے ظاہری مظاہر، ایسے لگتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس پر فیصلے نہیں ہیں کہ ضرور اس کا خیال رکھا جائے گا۔ اور اس بات تک خیال رکھا جائے گا کہ چاہے ان لوگوں نے ایک زمانے میں دین کی خدمت کی ہے تو ان کے ساتھ دین کی خدمات کو جوڑ دیا جائے، ایسا ضروری نہیں ہے۔
ان وسطی ایشیائی ریاستوں کی دینی حالت کیسی تھی، یہاں کیسے محدثین پیدا ہوئے، کیسے فقہاء پیدا ہوئے، کیسے متکلمین پیدا ہوئے؟ آپ دیکھیں:
- آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ کلام اور عقیدے میں امام ابو منصور ماتریدیؒ کی تشریح پر یقین رکھتا ہے اور اپنے آپ کو ’’ماتریدی‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ ماترید کا جو گاؤں ہے، یہ بھی سمرقند کے قریب ایک گاؤں ہے، اسی علاقے سے ان کا تعلق ہے۔
- ہمارے ہاں فقہ حنفی میں، جو دنیا میں ستر اَسی کروڑ مسلمانوں کا فقہی مذہب ہے، اس کی سب سے بڑی اور معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ کہلاتی ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے، علامہ مرغینانیؒ کی۔ یہ مرغینان بھی اسی علاقے میں ہے۔
- ہمارے ہاں ’’شرح الوقایہ‘‘، ’’کنز الدقائق‘‘ وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں، یہ بھی انہی علاقوں کے اندر ہیں۔
- جب ہمارے مدارس کے طلبہ دورۂ حدیث میں پہنچتے ہیں تو یہ بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ پڑھتے ہیں، یہ سارے یہی علاقے ہیں۔ ترمذ تو افغانستان کی سرحد کے بالکل پار ہے؛ افغانستان کی سرحد پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو آگے سے نظر بھی آتا ہے اور آپ میں سے شاید کچھ لوگوں نے دیکھا بھی ہو۔
یہاں دین کی کیسی بہار تھی، یہاں کیسے علماء تھے، کیسے فقہاء تھے، کیسے محدثین تھے، کتنے بڑے مشائخِ عظام تھے، ائمہ کرام تھے، صوفیاء تھے! یہ تو ایسی تفصیل ہے جس کو اگر بیان کیا جائے تو بہت وقت لگ جائے گا۔
زوال اور بقا کا دور
لیکن اسی خطے نے پھر دین کی ایک عجیب خزاں بھی دیکھی۔ اور آج وہ لوگ زندہ ہیں اور آج بھی آپ میں سے کوئی جا کر اس خزاں کے آثار دیکھ سکتا ہے۔ جب روس نے ستر سال کے بعد ان علاقوں کو چھوڑا تو علماء کی جو پہلی جماعت وہاں پر گئی، ہمارے مفتی جمیل خان صاحب شہیدؒ اس میں تھے اور دوسرے حضرات اس میں تھے؛ کہتے تھے بلا مبالغہ؛ وہاں امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ، امام نسائیؒ، ابن ماجہؒ اور امام بخاریؒ کی اولادوں کو کلمۂ طیبہ نہیں آتا تھا، کلمہ نہیں پڑھ سکتے تھے وہ لوگ! تو کیسے اتنی بڑی تبدیلی وہاں پر آئی اور اتنا نظام پیچھے گیا؟ اور پھر اس میں سے اللہ جل جلالہ کیسے خیر برآمد کرتا رہا کہ اس حد تک ہوا کہ ان لوگوں کو کلمہ آتا نہیں تھا، پڑھ نہیں سکتے تھے، اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکے، لیکن پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور اسلام سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے تھے، اگرچہ اپنے اسلام کا ثبوت نہیں دے سکتے تھے۔
اس کی تاریخ اگر آپ اٹھا کر دیکھیں، اس کی بڑی تفصیلات موجود ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں وہاں سے طلبہ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ہم جب پڑھتے تھے تو ہمارے ساتھ بہت سارے پڑھتے تھے اور ہم کرید کرید کر ان سے ان ملکوں کے حالات پوچھا کرتے تھے۔ آج تک مجھے یاد ہے، ہمارے طالب علمی کے زمانے میں، آج سے آٹھ دس سال پہلے، ہمارے ہاں ایک مختصر سی کتاب ملتی ہے ’’مختصر المعانی‘‘ کے نام سے، تو میں نے وہ ایک طالب علم کو تحفے میں دی۔ تاجکستان کا طالب علم تھا، مجھ سے چھوٹا تھا، پڑھتا تھا مجھ سے۔ میں نے اس کو کتاب تحفے میں دی۔ اس زمانے میں وہ کتاب ہمارے کتب خانوں کے اندر کوئی پچاس یا ساٹھ روپے کی ملتی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ کتاب ہمارے ہاں ڈھائی ہزار روپے کی ملتی ہے۔ اس لیے کہ نہ چھپتی ہے، نہ آنے کی اجازت ہے۔ جس طرح اسمگلنگ ہوتی ہے کسی چیز کی، کوئی بستروں کے درمیان چھپا کر، کوئی سامان کے درمیان چھپا کر افغانستان کی سرحد سے اس کو پار لے جائے۔ حالانکہ وہ بلاغت کی کتاب ہے، علمِ معانی کی کتاب ہے۔ اس زمانے میں اس نے مجھے کہا کہ ہمارے ہاں یہ ڈھائی ہزار کی ہے، یعنی یہ اس طرح قیمتی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں مخطوطات بکتے ہیں، مخطوطات یعنی ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے، جس طرح وہ بکتے ہیں، ایسے وہاں دینی کتابیں ملا کرتی تھیں۔
علماء نے لکھا ہے کہ یہ ہوا کیسے؟ میں آپ کو ان ساری صدیوں کے درمیان کا سفر چھوڑ کر، اندلس اور اسپین کے سارے معاملات کو چھوڑ کر، آپ کو میں آپ کے پڑوس میں اس لیے لے آیا ہوں کہ یہاں جو اقدامات ہوئے اور اس کے جو نتائج نکلے، اس کو آپ اپنے آج کے ماحول کے ساتھ ذرا relate کیجیے اور اس کی relevancy دیکھیے کیسی ہے۔ وہاں پر کیا کیا گیا؟ اس کے مراحل کیا تھے اور کیا نتائج برآمد ہوئے؟ آپ اس تاریخ کو سامنے رکھیں، اور پھر اِس مملکت خداداد میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آج ۲۰۱۲ء تک کے اس سارے scenario کو سامنے رکھیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ ایک ہی تاریخ ہے جو دہرائی جا رہی ہے بار بار۔
1- مسلم صفوں میں ’’ادخال‘‘
مؤرخین نے لکھا ہے کہ روس سے یہودیوں کے کچھ گھرانے اٹھ کر تجارت کے نام پر سمرقند و بخارا گئے اور تجارت وہاں پر شروع کی۔ اور جس طرح یہودیوں کی عادت ہے، جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو بڑی مضبوطی سے ڈالتے ہیں، پکا ڈالتے ہیں، جن چیزوں پر بھی ان کی اجارہ داری ہے بڑی مضبوط ہے۔ بہت جلدی ان کا شمار سمرقند و بخارا کے اونچے درجے کے تاجروں میں ہونے لگا۔ انہوں نے پیسہ کمایا۔
مسلمانوں کا نظامِ تعلیم اتنا مضبوط تھا کہ غیر مسلم بچے ان کے اداروں میں پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ اس پر تعجب مت کیجیے گا۔ آج آپ کے بچے عیسائی مشنری اداروں میں جاتے ہیں یا نہیں جاتے ہیں؟ ان کا نظامِ تعلیم مضبوط ہے، آپ کے بچے عیسائیوں کے پاس پڑھنے جاتے ہیں۔ صبح صبح فادر ان کو دعا کراتا ہے اور ننز ان کو بتاتی ہیں۔ آج پاکستان کے ہر شہر میں، آپ کے سینکڑوں ہزاروں بچے عیسائیوں کے پاس پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک زمانے میں یہ لوگ ہمارے پاس پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ آپ کو تعجب ہو گا، اس لیے میں نے آپ کو آج کی صورتحال بتائی۔
ان یہودی تاجروں کے پاس اپنا نظامِ تعلیم تو تھا نہیں، سمرقند و بخارا کے مدارس پوری دنیا کو علم و حکمت بانٹ رہے تھے، علم و عرفان وہاں سے جا رہا تھا، انہوں نے اپنے بچے انہی مدرسوں میں داخل کرا دیے، انہی تعلیمی اداروں میں داخل کرا دیے، اور ان بچوں نے وہی کچھ پڑھا جو مسلمان بچے پڑھتے ہیں۔ اور اس اختصاص کے بغیر کہ بعضوں کی شناخت ہی نہیں ہو سکی کہ یہ لوگ یہودی ہیں، یہ پتہ ہی نہیں چل سکا۔
جیسے بدقسمتی سے آج بہت سے مسلمانوں کی شناخت نہیں ہوتی کہ یہ مسلمان ہیں۔ ایسے ہی ہے۔ آج آپ کے صفحہ اول کے لوگوں میں سے ان کے خیالات کے اعتبار سے، ان کی شکل و شباہت کے اعتبار سے، ان کے جذبات کے اعتبار سے، ان کی وفاداریوں کے اعتبار سے کیا شناخت ہوتی ہے کہ یہ مسلمان ہیں؟ کہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلمان ہیں؟ کس طرف سے پتہ چلتا ہے اس بات کا؟ کسی کو ان کے اسلام پر شک ہو جائے تو شک کرنے کے پورے قرائن موجود ہوتے ہیں۔
ایسے ہی ان یہودیوں کے بارے میں، بہت سوں کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ یہ یہودی ہیں یا نہیں ہیں۔ انہوں نے وہاں پر پڑھا اور پڑھنے کے بعد ان تعلیمی اداروں سے نکلے اور باقاعدہ مسلمان علماء کے روپ میں انہوں نے خدمات انجام دینی شروع کیں۔ اور مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس میں سے بعض لوگ بڑے بڑے مفتی بنے اور بعض مفتیوں کے بارے میں آج بھی تاریخ میں ایک سے زیادہ آرا پائی جاتی ہیں، جس میں کہا جاتا ہے کہ اس دور میں جو وہاں مفتی تھے، وہاں کے لوگوں سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس پر یہودیت کا الزام ہے۔ فلاں جو مفتی تھا فلاں علاقے کا، اس کے بارے میں یہ شک ہے کہ اس کا تعلق یہودی گھرانے سے تھا۔ جیسے آج بھی یہاں پر ہوا ہے اور بہت سے لوگوں نے اپنے لوگ داخل کیے۔
اور اس کا ایک طریقہ ہے اس کو پہچانے کا۔ دیکھیں، جو شخص علمِ دین کا دعویٰ کرتا ہے اور جو شخص علمِ دین کی طرف منسوب ہے، تو امت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس کے علم کے آثار کم سے کم اس کی اپنی زندگی پر نمایاں ہونے چاہئیں۔ اس امت نے چودہ سو سالوں میں ربانی علماء بھی دیکھے ہیں، غیر ناجی فرقے بھی دیکھے ہیں، اور دین میں رخنہ اندازی کرنے والے لوگ بھی دیکھے ہیں۔ زندگیوں سے فیصلہ ہوا کرتا ہے۔ اسی لیے علماء کی زندگیاں بہت نمایاں اور ممتاز ہونی چاہئیں کہ ان کے قول کا، ان کی حقانیت کا، ان کی درستگی کا، ان کے راہِ راست پر ہونے کا فیصلہ ان کی زندگیاں کر سکتی ہیں، ان کی باتیں نہیں کرتیں۔ باتیں تو ہر بندہ کر سکتا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک اچھی باتیں کر سکتا ہے۔ فیصلہ تو زندگیاں کرتی ہیں۔
اسی لیے ہمارے ہاں حدیث کی روایات جب کی جاتی ہیں تو راویوں کے احوال بیان ہوتے ہیں، ان کے اقوال نہیں بیان ہوتے۔ رجال کی کتابوں میں راویوں کے احوال بیان کیے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں بیان ہوتی ہیں۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ان کے معاصرین کیا کہتے تھے، ان کے بارے میں ان کے شاگرد کیا کہتے ہیں، ان کے بارے میں عام لوگ کیا کہتے ہیں، ان کے بارے میں ان کے بڑے کیا کہتے ہیں، اساتذہ کیا کہتے ہیں۔ اور ان کی پوری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بیان کے قابل ہے یا نہیں ہے۔ یہ criteria امتِ مسلمہ نے رکھا ہے اور اس پر وہ پرکھتی چلی آ رہی ہے۔ آج ہم سے یہ پیمانے بھی گڈمڈ کیے جا رہے ہیں۔ آج ہم جن لوگوں سے دین سن رہے ہیں اور آج جن لوگوں کی دینی تشریح و تعبیر ہمارے کانوں میں ٹھونسی جا رہی ہے —ہم سن نہیں رہے، زبردستی ٹھونسی جا رہی ہے — اور ہمیں ان کی تشریح و تعبیر کا قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ سارے کے سارے وہ لوگ ہیں کہ خود ان کی زندگیاں ان کے دینی تصورات کا کھلا مذاق اڑا رہی ہیں۔
پہلا مرحلہ ’’ادخال‘‘ کا ہوا کہ علماء کی صفوں کے اندر ایسے لوگوں کو داخل کیا جائے جو ربانی علماء نہ ہوں، جو مخلصین نہ ہوں۔
2- رفاہی کاموں کا جال اور روشن خیالی کا فریب
دوسرے مرحلے میں روس نے ان ریاستوں کے ساتھ ایسے تعلقات کی بِنا رکھی جس میں ان کے ہاں رفاہی کاموں کو شروع کیا گیا۔ وہ آج کل کا دور نہیں تھا کہ این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے کام کیا جاتا۔ زارِ روس کا زمانہ تھا۔ براہ راست ان ریاستوں کو بتایا گیا کہ آپ معدنی وسائل سے مالامال ہیں، آپ کے ہاں پٹرول ہے، گیس ہے، قدرتی وسائل ہیں، جنہیں آپ نکال نہیں سکتے اور اپنے کام میں نہیں لا سکتے۔ ہم آپ کو نکال کر دیتے ہیں، ہمیں آنے کی اجازت دیں، اپنے معاشرے میں پھلنے پھولنے اور پھیلنے دیں، ہم آپ کا معیارِ زندگی بلند کریں گے۔
میں چاہوں گا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، آپ تاجکستان اور ازبکستان کے ماحول سے نکل کر ہمارے اِس ماحول میں ان باتوں کو سنیے اور ان کو سمجھیے۔ اپنے نقشے کو سامنے رکھیں۔ اُن سے کہا گیا کہ ہم آپ کا معیارِ زندگی بلند کریں گے، آپ کے قدرتی وسائل، آپ کی گیس، آپ کا پٹرول، آپ کا کوئلہ اور آپ کے معدنیات ہم نکال کر آپ کو دیں گے، آپ کی خدمت کریں گے۔ ہم تو خدمت خلق کے لیے آئے ہیں، آپ کا معیارِ زندگی بلند کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے لیے تعلیمی ادارے بنانا چاہتے ہیں، آپ کے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، آپ کی صحت کی ہمیں بڑی فکر ہے، ہم آپ کے لیے ہسپتال بنانا چاہتے ہیں، ویکسینیشن کی مہمیں چلانا چاہتے ہیں۔ اور یہ سارے مقاصد ہیں۔
اُس دور میں، آپ اس کی تاریخ اٹھا کے دیکھیں کہ علماء منع کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لوگ، یہ سرخ بھیڑیے اگر تمہارے ملک میں داخل ہو گئے، آئیں گے تمہاری مرضی سے، جائیں گے اپنی مرضی سے، تم سے تمہاری قیمتی متاع لوٹ کر لے کر جائیں گے۔ علماء پر دقیانوسیت کا، رجعت پسندی کا، پرانے زمانے کے خیالات کے حامل ہونے کا، نئی روشنی سے بے خبر ہونے کا، معتدل اور اعتدال پسند اور روشن خیال نہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ یہ باتیں تاجکستان اور ازبکستان میں کی گئیں۔ کہا گیا کہ یہ علماء تو دشمن ہیں ترقی کے، یہ خود بھی پسماندہ اور دقیانوس ہیں اور ساری قوم کو پسماندہ اور دقیانوس رکھنا چاہتے ہیں، ان سے لوگوں کی ترقی برداشت نہیں ہوتی۔ اُدھر دیکھو کیسی کیسی چیزیں لا رہے ہیں وہ لوگ، دیکھیں کیسے ہماری چیزیں نکال کر ہمیں دے رہے ہیں، دیکھیں کیسے تعلیمی ادارے بنا رہے ہیں، دیکھیں کیسے صحت کے منصوبے چلا رہے ہیں۔ تو اس کے نتیجے میں روس کو اس مملکت میں پورے طور پر اندر داخل ہونے کا موقع ملا۔ لوگوں کو علماء کا دشمن بنا دیا گیا۔
آج پاکستان کے جو علاقے اپنی مشرقی روایات سے بہت زیادہ attach ہیں، جیسے کوہستان ہے، یہاں پر اگر کوہستانی عالم بیٹھے ہوئے ہیں یا کوئی دیندار آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کبھی ان سے پوچھیں کہ ان کے علاقوں کی صورتحال کیا ہے اور وہاں پر این جی اوز اس وقت کیا کر رہی ہیں؟ مقامی آبادی روز بروز علماء سے کتنی متنفر ہو کر این جی اوز کے دامن میں جا رہی ہے کہ جو لوگ ہمیں پانی پلانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو لوگ ہمیں ٹیکے لگانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو لوگ ہمارے لیے کنویں کھودنے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو ہمارے بچوں کو پڑھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو ہمارے لیے پل اور سڑکیں بنانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، علماء کو ان سے کیا تکلیف ہے؟ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا راستہ روکو اور اپنا معاشرہ ان کے حوالے مت کرو اور اپنے معاشرے کی باگیں ان کے ہاتھ میں مت دو؟ ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس صرف باتیں کرنے کے لیے ہیں، وہ تو ہمارے کام کر رہے ہیں۔
اس کے لیے اگر کبھی آپ کو موقع ملے تو دیکھیں کہ یہ اسرائیل کیسے قائم ہوا اور فلسطینیوں سے ان کی زمینیں کیسے خریدی گئیں؟ اور اس زمانے میں علماء کے فتوے کیا تھے؟ جب فلسطینی اپنی زمینیں یہودیوں کو بیچ رہے تھے تو علماء کیا کہہ رہے تھے؟ اور اس کے جواب میں اس زمانے کے روشن خیال لوگ ہمیں کیا کہہ رہے تھے؟ جب ہم کہہ رہے تھے کہ یہ زمینیں مت بیچو، جائز نہیں ہے زمینیں بیچنا۔ ہندوستان کے علماء نے فتویٰ دیا کہ یہ زمینیں بیچنا جائز نہیں ہے یہودیوں کو۔ کہا گیا کہ آپ کوئی سوشلسٹ ہیں؟ آپ لوگ اسلام کے ملکیت کے تصور کو نہیں مانتے؟ ایک آدمی مالک ہے اپنی زمین کا، اس کی مرضی ہے یہودی کو بیچے یا عیسائی کو بیچے۔ آج یہ ریاست انہی زمینوں کے اوپر قائم ہے۔
یہی حال تاجکستان میں ہوا تو روس کو نفوذ کا موقع ملا۔ اس نے اتنا نفوذ پا لیا اور پورے معاشرے کی اپنے ہاتھ میں اتنی گرپ لے لی کہ اس کو اپنی فوجیں داخل کرنے میں کوئی تامل اور کوئی مزاحمت ہی پیش نہیں آئی، بڑی آسانی کے ساتھ اس کی فوجیں داخل ہوئیں۔ اور یہ دوسرا مرحلہ تھا، پہلے مرحلے کے بعد۔
3- سرخ انقلاب اور علماء کی نسل کشی
تیسرے مرحلے میں علماء کی باقاعدہ نسل کشی شروع ہوئی۔ چن چن کر علماء کو مارا گیا۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ جو جو طریقے آزمائے گئے۔ بالکل مستند اور authentic ذرائع سے آپ اس کی معلومات کیجیے۔ علماء کو لے جا کر، باقاعدہ کشتیوں میں بٹھا کر، بھرے ہوئے بڑے بڑے جہازوں میں بٹھا کر جہازوں کو ڈبو دیا گیا۔ سائبیریا میں لے جا کر چھوڑ دیا گیا۔ علماء کی جماعت نے، جو لوگ نکل کر آئے اور بتایا کہ سائبیریا کے برف زاروں میں لے جا کر زندہ چھوڑ دیا گیا وہاں پر۔ اور اتنا وہ برفستان ہے کہ اگر وہ رک جائیں اور کھڑے ہو جائیں تو ادھر ہی جم جائیں۔ ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ چلتے رہیں۔ اگر چلتے رہیں گے تو جسم کی حرارت سے زندہ رہیں گے۔ لیکن کھائیں گے کیا؟ کہتے ہیں ادھر ہی چلتے چلتے، جیسے سائبیریا کا ماحول ہے، اوپر برف جمی ہوتی ہے نیچے دریا بہہ رہے ہوتے ہیں، برف پر مکا مار کر پانی توڑ کر نیچے سے مچھلیاں پکڑ کر زندہ مچھلیاں کھاتے تھے اور چلتے رہتے تھے۔ اگر رکتے ہیں تو جمتے ہیں۔ اس حال کے اندر گرتے پڑتے کچھ مر گئے، وہیں دفن ہو گئے۔ اور کچھ اس برف زار جہنم سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے یہ پوری داستان بیان کی ہے۔
اور یہ واقعہ تک موجود ہے ریکارڈ پر کہ علماء کو دو علاقوں سے ٹرینوں کے اندر بٹھایا گیا، ایک ٹرین وہاں سے بھری گئی، دوسری ٹرین یہاں سے بھری گئی، دونوں کو ایک ہی پٹری پر چلایا گیا، اور جب وہ ٹرینیں پوری رفتار کے ساتھ چلتی ہوئی ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرائیں تو سارے کے سارے وہاں کٹ گئے، کچھ ساری عمر کے لیے معذور ہو گئے، باقی مر گئے۔ ایسے واقعات بھی وہاں پر نسل کشی کے لیے پیش آئے۔
اور یہ صرف یہاں پر نہیں ہوا، آپ ترکی میں دیکھیں مصطفیٰ کمال نے کیا کیا، (مصر میں) حسنی مبارک نے کیا کیا، (شام میں) حافظ الاسد نے کیا کیا، آپ کبھی اس کی داستان اٹھا کے دیکھیں۔ چالیس چالیس ہزار، پینتالیس پینتالیس ہزار لوگ ایک دن کے اندر شہید کیے گئے ہیں، دینداروں کے مدرسوں پر بمباریاں کی گئی ہیں؛ اس کے ذریعے سے پورے معاشرے سے ان کے نفوذ کو ختم کیا گیا۔ جو بندہ ان کے خیال میں ان کے قابو میں نہیں آتا تھا، اسے ختم کر دیا گیا، یہ تیسرا مرحلہ تھا۔
4- دینی روایت کے خلاف سات بڑے اقدامات
چوتھے مرحلے پر کچھ اقدامات ہوئے۔ جب ظاہر بات ہے علماء ختم ہو گئے اور تجارت و معیشت ان کے ہاتھ میں آ گئی اور رفاہی کام ان کے ہاتھ میں آ گئے، تو جو اقدامات کیے گئے، وہ سات بڑے بڑے اقدامات ہیں جو میں آپ سے عرض کروں گا:
(1) قرآن پاک پر پابندی
پہلے مرحلے میں قرآن پر پابندی لگائی گئی۔ باقاعدہ مصحف پر پابندی۔ قرآن پاک کا نسخہ کوئی انسان اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا تھا، اس کا کوئی صفحہ نہیں رکھ سکتا تھا، اس کی سطر لکھ کر نہیں رکھ سکتا تھا، بالکل پوری کی پوری پابندی۔ آپ کو یاد ہوگا اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب یہ ریاستیں آزاد ہوئی تھیں تو یہاں کراچی سے لاکھوں کی تعداد میں قرآن پاک چھاپ کر وہاں پر لے جائے گئے تھے۔ تو کیا ضرورت تھی کہ قرآن چھاپ کر ایک مسلمان ملک میں لے جائے جا رہے ہیں؟ ’’بضاعتنا ردت الینا‘‘۔ اور اللہ کی شانِ بے نیازی دیکھیں کہ مصحف چھپ کر بت کدۂ ہندوستان سے بخاریؒ اور مسلمؒ کے دیس میں جا رہے ہیں! اللہ کی شانِ بے نیازی دیکھیں! بخاریؒ اور مسلمؒ کی اولادوں کو ہندی مسلمانوں کی جانب سے مصحف کے تحفے جا رہے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، جو تمہارے ہاں سے ہمارے ہاں آیا تھا۔ اور قرآن کے یہی الفاظ کہ ’’بضاعتنا ردت الینا‘‘ ہماری پونجی ہمیں لٹائی جا رہی ہے۔
(2) رسم الخط کی تبدیلی
اس کے بعد رسم الخط کو تبدیل کیا گیا۔ یہ فارسی رسم الخط میں لکھا کرتے تھا، فارسی رسم الخط عربی رسم الخط ہی ہے، اس کو رشین بنایا گیا تاکہ نئی نسلیں کسی بھی صورت میں قرآن کو پڑھ نہ سکیں۔ کوئی عربی کتاب، کوئی قرآن و حدیث کی چیز اگر ان کے گھروں کے اندر موجود ہے تو یہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔
(3) حجاب پر پابندی
خواتین کے حجاب اور نقاب پر باقاعدہ پابندی لگی۔ اور آپ اخبارات اٹھا کر دیکھیں کہ پولیس والے چوراہوں کے اوپر کھڑے ہوتے تھے جو لڑکیوں، بچیوں اور ماؤں کے چہروں سے نقاب نوچتے تھے۔ اور قینچیاں ہاتھ میں رکھتے تھے اور ان کے لمبے بالوں کو کاٹتے تھے۔ یہ منظر آپ دیکھیں کہ اسلامی ملک میں بچیوں کے چہروں سے نقاب نوچے جا رہے ہیں اور جس کے لمبے بال نظر آ رہے ہیں، کٹے ہوئے بال نہ ہوں، اس کے بال کانوں تک کاٹے جاتے تھے۔ چوراہوں کے اوپر چٹیاں پڑی ہوتی تھیں کٹی ہوئی اور نقاب پڑے ہوئے ہوتے تھے نوچے ہوئے۔ باقاعدہ یہ منظر وہاں پر ان چوراہوں پر دیکھا گیا۔
(4) اخلاقی بے راہ روی کا نصاب
اخلاقی بے راہ روی کو اس حد تک عام کر دیا گیا تھا، آپ اس زمانے کے نصاب کی کتابوں میں پڑھ لیں، ایسی تعلیمات ہیں کہ اگر تمہیں بھوک لگتی ہے تو تم کھانا کھاتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، اگر تمہیں پیاس لگتی ہے تو تم پانی پیتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، اگر تمہیں نیند آتی ہے تو تم سوتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، تو اگر تمہارے جسم میں کوئی شہوانی جذبہ پیدا ہو تو اس کو پورا کرتے ہوئے تمہیں شرم کیوں آتی ہے؟ اس میں شرمانے کی کیا بات ہے؟ جس طرح اپنے جسم کی باقی ضروریات پوری کرتے ہوئے تمہیں حیا نہیں آتی، تمہیں اس میں کوئی جھجک نہیں ہوتی، تمہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، تو اِس میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ بچوں کو پڑھایا جاتا تھا، یہ نصاب کا حصہ تھا، اس زمانے کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں۔
(5) سرکاری ریڈیو اور موسیقی کا جبر
موسیقی کی ترویج پانچویں چیز تھی۔ گھر میں ایک باقاعدہ سرکاری ریڈیو تھا جس کا لائسنس لینا ہر فرد کے لیے لازمی تھا۔ اس زمانے میں ٹی وی نہیں آیا تھا۔ ہر گھر میں ایک ریڈیو سیٹ رکھنا اور اس کا لائسنس لینا ضروری قرار دیا گیا تھا اور چوبیس گھنٹے وہ ریڈیو آن رہے گا۔ اگر پولیس والا گشت کے دوران دیکھے کہ آپ نے ریڈیو بند کیا ہے، تو وہ آئیں گے اور آپ کو پکڑ کر لے جائیں گے۔ اس پر سارا دن موسیقی چلتی تھی، بے ہودگی اور بد اخلاقیاں چلتی تھیں۔ چونکہ اس قوم کے مزاج کو مکمل بدلنا تھا اور اس کے لیے بڑی سخت محنت کی ضرورت تھی۔ اس محنت کی شاید امریکہ اور لندن میں ضرورت نہ پیش آئے کسی کو، لیکن یہاں چونکہ اسلام بالکل راسخ تھا ان کی جڑوں کے اندر، اس کو وہاں سے وہ کھینچ کر نکالنا چاہتے تھے، اس لیے یہ موسیقی کی ترویج ہوئی۔
آپ اپنے معاشرے کے ساتھ ان سارے اقدامات کو relate کرتے چلے جائیے۔ ایک فرق کے ساتھ کہ جبر کے ذریعے ایسا کرنے کے چونکہ نتائج نہیں نکلے، اس لیے اب جبر کے ذریعے یہ کام نہیں ہو رہے، بلکہ برضا و رغبت کیے جا رہے ہیں، اس کا ماحول بنایا جا رہا ہے، اس لیے کہ جبر نے نتائج نہیں دیے۔ اب آپ کو یہ چیزیں sugar-coated کر کے، چینی میں لپیٹ کر دی جا رہی ہیں۔ اور آپ خود برضا و رغبت کر رہے ہیں اپنے گھروں کے اندر، کسی کو آپ پر مسلط ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے۔
(6) سستی شراب کی فراہمی
شراب کو اتنا عام کیا گیا تھا، اس زمانے کے اخبارات بتاتے ہیں کہ سوڈے کی بوتل چار روبل کی تھی اور شراب کی بوتل دو روبل کی تھی۔ آج کل پیپسی کتنے کی ہوتی ہے؟ گویا پیپسی کی بوتل بیس روپے کی تھی اور شراب کی بوتل دس روپے کی تھی۔ اور یہ ’فضائل‘ بھی سنائے جاتے تھے کہ یہاں بڑی سردی ہے، سردی میں جسم گرم رکھنے کے لیے شراب بڑی ضروری ہے، یہ معدے کو تقویت پہنچاتی ہے، جسم گرم کرتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اتنا عام کر دیا گیا تھا کہ گلی گلی کے اندر جو چیز موجود تھی وہ گھر گھر کے اندر پہنچ گئی۔
(7) حرام گوشت کی ترویج
حرام چیزوں کو عام کر دیا گیا۔ خنزیر کا گوشت اور ساری وہ چیزیں جو اسلام میں حرام ہیں، ان کو بازاروں میں عام اور انتہائی سستا کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ خنزیر کے گوشت کا کباب سمرقند و بخارا میں اتنا سستا تھا کہ اس سے زیادہ کھانے پینے کی کوئی چیز سستی نہیں تھی۔ اور ذبیحہ کی اجازت نہیں تھی، اگر چوری چھپے کہیں پر ذبیحہ ہو اور اس کا گوشت بازار میں پہنچے، تو اس کی اتنی ہوشربا قیمت ہوتی تھی کہ کوئی آدمی اس کو خریدنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا تھا۔ تو جب ویسے ہی ساری چیزیں ان کی تائید میں ہو چکی تھیں تو پھر سور کا گوشت کھانے میں بھی کسی کو کوئی تامل نہیں تھا۔ سور کے گوشت کے کباب پورے سمرقند و بخارا کے بازاروں میں عام بھنتے تھے، جیسے آج ہمارے ہاں دوسرے گوشت کے کباب اور باربی کیو بھن رہا ہوتا ہے۔
یہ پورا کا پورا ماحول بنا دیا گیا۔ اس ماحول میں آپ یقین کریں کہ بچوں کے اسکولوں میں اساتذہ کو KGB کو رپورٹ دینی ہوتی تھی کہ اس سال کی رپورٹ بتاؤ کہ تمہاری کلاس میں کون سا بچہ ہے جس کو ’’بسم اللہ‘‘ آتی ہے، یا اس کو ’’الحمد للہ‘‘ آتی ہے، یا اس کو عربی کا کوئی جملہ آتا ہے؟ اس بچے کا نام دینا استاذ کی ذمہ داری تھی اور جیسے ہی اس کا پتہ چلتا تھا، اس کے سارے گھر والے پابند سلاسل ہو جاتے تھے۔ اس کا باپ تو عام طور پر پھانسی چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہ بات خود وہاں کے علماء، وہاں کے لوگ بتاتے ہیں، آپ کبھی یہ داستان وہاں کے کسی بوڑھے سے سنیں جس نے وہ دور دیکھا ہو، یا اپنے باپ سے یہ ساری کی ساری باتیں اس نے سنی ہوں۔ ان حالات میں بھی وہ لوگ مسلمان رہے ہیں۔
5- بقائے دین کی خفیہ جدوجہد
آپ ذرا تھوڑی دیر کے لیے ان پابندیوں کو اپنے اوپر لا کر دیکھیے، تو ان حالات کے اندر بھی وہ لوگ مسلمان رہے ہیں۔ وہاں کے علماء سے لوگوں نے پوچھا۔ ایک بہت بڑے عالم یہاں سے گئے تھے، انہوں نے اپنے سفرنامے میں لکھا کہ میں نے وہاں کے مفتی سے پوچھا کہ تم لوگ کیسے قرآن و حدیث کے عالم رہ گئے، اس سب کے باوجود؟ اس نے کہا کہ میرا والد عالم تھا، جیسے ہی یہ سرخ انقلاب آیا، تو میرے والد نے اپنے آپ کو ایک جاہل انسان بنا دیا۔ وہ کوئی مشہور عالم نہیں تھے کہ ان کے علم کی شہرت ہوتی، تو میرے والد کو ناخواندہ لوگوں کی فہرست میں لکھا گیا۔ اور چونکہ سوشلزم آ گیا تھا، ساری چیزیں سرکار کی ملکیت ہو گئی تھیں، تو میرے والد اٹھارہ گھنٹے سرکاری کھیتوں میں ٹریکٹر چلایا کرتے تھے۔ اٹھارہ گھنٹے مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آتے تھے، تو آتے ہی مجھے پڑھایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں: لیکن جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد جب گھر پر آتے تھے اور ان کو نماز پڑھنی ہوتی تھی تو میری ماں سے کہتے تھے کہ اس کو کسی اور کام میں لگاؤ، اس کو چائے پلاؤ، اس کو باورچی خانے میں بٹھاؤ، میری نظروں سے اوجھل کرو تاکہ میں چپکے سے نماز پڑھ لوں۔ تو کہتے ہیں مجھے میری ماں اِدھر اُدھر کرتی تھی، پھر میرا باپ نماز پڑھتا تھا۔ کیونکہ جب میں گھر کے باہر کھڑا ہوتا تھا تو پولیس والا آتا تھا، مجھے دو ٹافیاں دے کر پوچھتا تھا کہ بیٹا! تیرا باپ نماز پڑھتا ہے گھر کے اندر؟ تو میں کہتا تھا کہ نہیں پڑھتا، کیونکہ میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا نہیں تھا۔ تو اس حد تک آ کر گھروں پر جانچ ہوتی تھی کہ تیرا باپ نماز پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔ اور بچوں سے باقاعدہ پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے گھر میں کیا ہوتا ہے۔
پوچھا کہ پڑھاتے کیسے تھے؟ بچوں کو کیسے پڑھایا، کلمہ کیسے سکھایا، قرآن کیسے سکھایا؟ اس حال کے اندر بھی کچھ لوگ عالم بنے، پڑھنے پڑھانے کا نظام اندرونِ خانہ چلتا رہا۔ اُس عالم نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں ہم نے ایک ہال بنایا اور اس کے چاروں طرف کمرے بنائے، اور اس ہال میں چھ مہینے کا کھانا پینا اور خشک چیزیں ذخیرہ کی گئیں۔ استاذ اور شاگرد، قرآن پڑھنے پڑھانے والے اس کے اندر چلے جاتے تھے۔ اور جہاں سے اس کو بند کرنا ہوتا تھا، وہاں پر لکڑی کا فریم لگایا جاتا تھا، لکڑی کے فریم کے باہر الماری لگائی جاتی تھی اور اس الماری میں شراب کی بوتلیں رکھی جاتی تھیں، اس کے اندر بے راہ روی کی تصویریں رکھی جاتی تھیں، اور اس باہر کے کمروں کا سارا ماحول ایسے بنایا جاتا تھا جیسے یہ انتہائی بدقماشوں کا گھر ہے۔ تو جب کبھی اس گھر پر چھاپا پڑتا تھا یا تفتیش والے لوگ آتے تھے اور چاروں طرف کمرے دیکھتے تھے تو ان کو گندی تصویریں نظر آتی تھیں، گندے رسالے نظر آتے تھے، ان کو شراب کی بوتلیں نظر آتی تھیں، تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان باہر کے کمروں کی دیواروں کے پیچھے ایک ہال ہے اور اس ہال میں علماء اور طلبہ بیٹھ کر قرآن پاک یاد کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہاں ہم قرآن یاد کرتے تھے۔ اور مائیں انہی گھروں کے اندر چھ چھ مہینے اپنے بچوں کو نہیں دیکھتی تھیں، وہ دیواروں کے پیچھے ہوتے تھے۔ وہ بچہ جو ایک حرف عربی کا نہیں پڑھ سکتا تھا، اس کو چھ مہینے بعد نکالا جاتا تھا تو بعض پورے پورے قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ وہاں اس طریقے سے انہوں نے اس دین کو محفوظ رکھا ہے۔
آپ بتائیں، کوئی اور مذہب اپنے بچاؤ اور اپنے بقا کے لیے ایسی مزاحمت کر سکتا ہے؟ مولانا ابو الحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ آزمائشیں کسی اور مذہب پر آتیں تو اس کا اپنا وجود اور اپنی بقا قصۂ پارینہ ہو جاتا۔ اسلام کے قلب و جگر پر جو حملے ہوئے ہیں اور اسلام کو کھرچ کھرچ کر لوگوں کے دلوں سے نکالنے کی جو کوشش ہوئی ہے، اس کے باوجود وہ ریاستیں آج پھر آزاد ہیں اور پھر ان ریاستوں کے اندر علماء کی آمد و رفت ہے۔ آج ہمارے کراچی کے کتنے احباب ان ریاستوں میں مدارس چلا رہے ہیں۔ کرغزستان میں اور اِدھر اُدھر لوگ پڑھ رہے ہیں۔ اور ان کے بچے پڑھنے کے لیے ہمارے مدارس میں آئے ہوئے ہیں۔ وہ پوری دنیا میں جا رہے ہیں پڑھنے کے لیے۔ یقین کیجیے میں آپ کو ستر سال کے اس جبر کی پوری تفصیلات نہیں بتا سکا۔ پوری تفصیل آپ کے سامنے ہو اور پھر آپ دیکھیں کہ پھر بھی دین زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر اسلام زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر قرآن زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر لوگ مسلمان رہے۔ باوجود ان ساری کوششوں کے۔ سخت جان ہے یہ مذہب۔
اللہ کا فیصلہ ہے ’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ (اٰل عمران ۱۹) اللہ نے طے کیا کہ دین جو ہے، اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہے۔ ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ (الحجر ۹) اللہ فرماتے ہیں کہ خود نازل کیا ہے، حفاظت بھی میں خود کروں گا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نبی کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘‘ (الصف ۹) جس نے نبی کو بھیجا ہدایت کے ساتھ اور دینِ حق کے ساتھ کہ سارے ادیان پر، سارے نظاموں پر، ساری ترتیبوں پر محمدِ عربی کا کلمہ اور اس کا نظام غالب ہو کر رہے، اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمدِ عربی کو بھیجا ہی اس لیے ہے، بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے۔
تو ان پھونکوں سے یہ چراغ نہیں بجھائے جاتے۔ دین کے معاملے میں ہر دور میں اہلِ عزیمت نے اور اہلِ علم نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔ اگر دین کا پیغام پہنچانا قابلِ گردن زدنی جرم ٹھہرے تو اس کو قبول کیا جائے گا؟ اگر کسی بھی دور کے علماء نے اس آزمائش کے مقابلے میں خاموشی کا فیصلہ کیا اور انہوں نے طے کر لیا کہ بس اب دور نہیں رہا دین کی بات کرنے کا، اب دور نہیں رہا قرآن کا پیغام پہنچانے کا، اب دور نہیں رہا محمدِ عربی کی باتیں پہنچانے کا، اگر یہ فیصلہ کسی دور میں ہوا تو یقیناً وہ قیامت کا زمانہ ہوگا، جب امت پر تکلیف ختم ہو جائے گی، یعنی مکلف نہیں رہے گی امت اس کے بعد، تب یہ فیصلے ہوں گے۔ جب تک لوگوں نے آنا ہے، زمانے نے آنا ہے، یہ بات چلے گی اور آگے بڑھے گی۔ ہر دور میں یہ بات آگے بڑھتی ہے۔
پیغامِ حق کی قیمت اور ہمارا محاسبہ
آپ سے ایک آخری بات میں عرض کر کے بات ختم کروں گا۔ بات طویل بھی ہو گئی کہ موضوع ہی ایسا تھا۔ آپ سارے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان علماء کو بہت سنا ہے جو آج ہمارے درمیان نہیں۔ آپ میں سے بہت سوں نے حضرت مفتی نظام الدین صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا، آپ لوگوں نے حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا، آپ نے مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا، آپ نے مفتی جمیل خان صاحب شہید مرحوم کو بھی دیکھا ہوگا، اور مولانا اسلم شیخوپوری صاحب شہید کی تو یہ مسند ہے جہاں پر ہم بیٹھے ہیں، انہی کے حوالے سے یہ ساری چیز میں ذکر کر رہا ہوں۔
انہوں نے تو یہ قیمت ادا کی آپ تک پیغام پہنچانے کی۔ اور تو ان کا کوئی جرم نہیں تھا، یقینی بات ہے۔ اگر ان کی زندگی کے اوپر فردِ جرم عائد کریں تو سوائے ان باتوں کے، جو آج آپ سے ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی اور جرم نہیں تھا۔ کسی کے ساتھ کوئی کاروباری لین دین نہیں تھا، کسی کے ساتھ کوئی اور مزاحمت نہیں تھی، ان کی دعوت میں تو کسی کے ساتھ ٹکراؤ بھی نہیں تھا، کسی کے ساتھ گالی گلوچ نہیں تھی، کسی کو برا بھلا کہنا نہیں تھا۔ ایک قرآن کا بیان تھا، قرآن کی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو اس کا مطلب سمجھانا تھا، دین کی حقانیت کا بیان تھا۔ پیغام پہنچانے والا تو پیغام پہنچانے کی اتنی بڑی قیمت ادا کرے۔ آپ کو یاد ہے مولانا یہاں پر کیا کہا کرتے تھے؟ اللہ غریق رحمت کرے، آج یہاں آتے ہوئے مجھے وہ نئے سرے سے بہت زیادہ یاد آئے۔ اسی نشست پر آپ نے ان کو کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ ’’آپ کے پاس ہم لوگ جو آتے ہیں اور اپنے گھروں سے جب نکلتے ہیں تو اپنے بچوں پر آخری نگاہ ڈال کر نکلتے ہیں‘‘۔ یہ نہیں ہے کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ یہ قیمت ہمیں ادا کرنی ہے۔ جو لوگ آپ کے سامنے آ کر بیٹھتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے اور کیا ادا کرنی پڑے گی، لیکن یہ قیمت ادا کرنے پر وہ تیار ہیں۔
پیغام پہنچانے والا تو یہ قیمت ادا کر رہا ہے، سننے والے نے کیا کیا ہے؟ یقین جانیں، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ جس دن نبی آواز لگائیں گے نا کہ ’’یا رب ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مہجورا‘‘ (الفرقان ۳۰) قرآن کہتا ہے کہ نبی قیامت کے دن اللہ کے دربار میں دہائی دیں گے کہ یا اللہ! میری اس قوم نے —اگر میں ترجمہ نہ کروں، ترجمانی کروں، تو — میری اس قوم نے قرآن کا حق ادا نہیں کیا، جس کتاب کو میں نے ان تک پہنچایا، میری قوم نے اس کو سینے سے نہیں لگایا۔ اگر یہ شہید علماء قیامت کے دن اپنی خون آلود داڑھیوں اور خون آلود لباس کے ساتھ اٹھیں اور آپ سے پوچھیں کہ تم تک دین کی بات پہنچانے کے جرمِ بے گناہی پر ہم نے تو یہ قیمت ادا کی، تم نے کیا کیا؟
https://youtu.be/kCW5TMAaBVs
۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا متفقہ موقف
ناشر : حافظ مجددی
اضافے
مملکت کی پالیسی کے رہنما اُصول
مذکورہ بالا ترمیمات کے علاوہ ہمارے نزدیک رپورٹ کے رہنما اصولوں میں حسبِ ذیل امور کا اضافہ بھی ضروری ہے۔
شق (۲) ضمن (و): ’’اسلامی علوم و ثقافت کے فروغ کا مؤثر انتظام کیا جائے۔‘‘
شق (۷) ضمن (د): ’’حکومت کے ادنیٰ و اعلیٰ ملازمین کے معاوضوں کا تفاوت اعتدال پر لایا جائے۔‘‘
مزید نئی دو شقیں:
(۱) (الف): ’’مملکت کے لیے اس امر کا اہتمام لازمی ہو گا کہ مسلم امیدوارانِ ملازمت اور ملازمینِ حکومت کے انتخاب، تقرر اور ترقی کے مواقع پر قابلیت اور کارکردگی اور دیگر متعلقہ عوامل کے ساتھ ساتھ اسلامی کردار اور شعائرِ اسلام کی پابندی کا مؤثر لحاظ رکھا جائے۔‘‘
(ب): ’’تمام سرکاری ملازمتوں کی ٹریننگ میں، خواہ وہ فوجی ہوں یا سول، مسلمانوں کے لیے دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا خاص انتظام کیا جائے تاکہ ریاست پاکستان کے ملازمین کا اخلاقی معیار بھی معیارِ قابلیت کی طرح بلند ہو۔‘‘
(ج): مسلمان ملازمینِ حکومت کو فرائضِ دینی کی پابندی اور شعائرِ اسلام کے التزام میں پوری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔‘‘
(۲) ’’دہریت و الحاد کی تبلیغ، اور قرآن و سنت کی توہین و استہزاء کا بذریعہ قانون سازی انسداد کیا جائے۔‘‘
قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب
پیراگراف ۳:
اس پیراگراف میں صرف سلبی حیثیت سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کوئی قانون سازی قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہو گی۔ بلکہ ایجابی طور پر اس اصولی حقیقت کو دستور میں ثبت ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں قرآن اور سنت کے احکام و ہدایات ہی قانون کا اصل سرچشمہ ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیراگراف کے بعد اس عبارت کا اضافہ ضروری ہے:
’’اور مملکت کے قوانین کے مآخذِ اساسی (چیف سورس) قرآن و سنت ہوں گے۔‘‘
پیراگراف ۴، ۵، ۶ اور ۸:
(حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب، حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی اور حضرت مفتی محمد صاحبداد صاحب نے اِس کی بجائے ایک دوسری تجویز پیش کی، جو ضمیمے میں درج ہے۔)
ان میں قرآن اور سنت کے خلاف قانون سازی کی روک تھام کے لیے علماء کے ایک بورڈ کے قیام کی جو صورت پیش کی گئی ہے وہ نہ کسی لحاظ سے معقول ہے اور نہ اس طرح کی قانون سازی کو روکنے کے لیے مؤثر ہی ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے بہت سی نئی خرابیوں کے پیدا ہو جانے کا قوی امکان ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس طرح دوسرے قوانین کے معاملے میں حدودِ دستور سے متجاوز قانون سازی کی روک تھام کے لیے تعبیرِ دستور کے اختیارات سپریم کورٹ کے سپرد کیے گئے ہیں، اسی طرح پیراگراف ۳ کے معاملے کو بھی سپریم کورٹ ہی پر کیوں نہ چھوڑا جائے۔
البتہ یہ امر ضروری ہے کہ جس وقت تک ہمارے ملک میں نئے دستور کے تقاضوں کے مطابق کتاب و سنت میں بصیرت رکھنے والے فاضل جج پیدا نہ ہوں، اس وقت تک کے لیے کوئی ایسا عارضی انتظام تجویز کر دیا جائے جس سے سپریم کورٹ میں — پیراگراف ۳ کے منشا کے مطابق — کتاب و سنت کی صحیح تعبیر کی جا سکے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیراگراف ۴ تا ۶ کو، اور ان سے تعلق رکھنے والے پیراگراف ۸ کو حذف کر دیا جائے، اور ان کے بجائے حسبِ ذیل پیراگراف رکھا جائے:
(۱) ’’پیراگراف ۳ کے تحت مجالسِ قانون ساز کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف جو دستوری اعتراضات یا تعبیرِ دستور کے مسائل پیدا ہوں، ان کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پانچ علماء مقرر کیے جائیں گے، جو سپریم کورٹ کے کسی ایسے جج کے ساتھ — جسے امیرِ مملکت تدین و تقویٰ اور واقفیتِ علوم و قوانینِ اسلامی کے پیش نظر اس مقصد کے لیے نامزد کرے گا — مل کر اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ قانون کتاب و سنت کے مطابق ہے یا نہیں۔‘‘
(۲) ’’ان علماء کا تقرر اسی طریقے سے ہو گا جو سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘
(۳) ’’اس منصب کے لیے صرف ایسے ہی علماء اہل ہوں گے جو
(الف) کسی دینی ادارے میں کم از کم دس سال تک مفتی کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہوں، یا
(ب) کسی علاقے میں کم از کم دس سال تک مرجعِ فتویٰ رہے ہوں، یا
(ج) کسی باقاعدہ محکمہ قضاء شرع میں کم از کم دس سال تک قاضی کی حیثیت سے کام کر چکے ہوں، یا
(د) کسی دینی درسگاہ میں کم از کم دس سال تک تفسیر، حدیث یا فقہ کا درس دیتے رہے ہوں۔‘‘
(۴) ’’یہ انتظام پندرہ سال کے لیے ہو گا اور اگر ضرورت ہو تو رئیسِ مملکت اس مدت میں توسیع کر سکتا ہے۔‘‘
(۵) ’’ان عالمِ دین ججوں کے لیے جملہ ضوابط وہی ہوں گے جو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں دوسرے ججوں کے متعلق تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘
پیراگراف ۷:
رپورٹ میں اس پیراگراف کو دیکھ کر ہمیں سخت حیرت ہوئی کہ جن لوگوں نے پیراگراف ۳ میں اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ اس مملکت میں قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بننا چاہیے، ان کے قلم سے یہ بات کیسے نکلی کہ اس مملکت کے مالی معاملات قرآن اور سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد رہیں گے!
اگر یہ ریاست خدا اور رسول کے احکام و فرامین کو بالاتر قانون تسلیم کرتی ہے — جیسا کہ پیراگراف ۳ کے الفاظ سے ظاہر ہے — تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ریاست کے مالیات خدا اور رسول کے دائرہ اثر (جورسڈکشن) سے باہر ہوں۔ ہمارے نزدیک جس طرح اسلام دنیا کے ہر معاملے میں ہمارا بہترین رہنما ہے، اسی طرح مالی معاملات میں بھی ہے۔ ہم اس کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ ہمارے دستور کی ایک دفعہ میں مالیات کی حد تک اسلام کی رہنمائی پر صاف صاف عدمِ اعتماد کا اعلان کر دیا جائے۔
البتہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سرِدست کچھ مدت تک ریاست کے مالی معاملات کو اسلام کے مطابق درست کرنے میں عملی مشکلات مانع ہوں گی۔ مگر اس کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مالی مسوداتِ قانون پر باب سوم کے احکام کا اطلاق ہونے کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کر دی جائے۔ لہٰذا اس باب کا پیراگراف ۷ حذف کر کے اس کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’باب ہٰذا کے احکام کا اطلاق مالی مسوداتِ قانون پر تاریخِ نفاذِ دستور سے پانچ سال کی مدت کے اختتام پر ہو گا۔‘‘
وفاقیہ اور اس کے علاقہ جات
پیراگراف ۹:
اس دفعہ کی شق (۱) میں مملکت کا نام صرف پاکستان تجویز کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کافی نہیں ہے۔ اس کے بجائے مملکت کا نام ’’جمہوریہ اسلامیہ پاکستان‘‘ ہونا چاہیے۔
اس نام پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع ہے۔ آخر جب روس میں کثیر التعداد غیر اشتراکیوں کی موجودگی جمہوریہ روس کو اشتراکی جمہوریہ کہنے میں مانع نہیں ہے، تو پاکستان کے لیے غیرمسلموں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں کیوں مانع ہے؟
’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوئی ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار ’’قراردادِ مقاصد‘‘ میں بھی کیا جا چکا ہے۔ اور اس رپورٹ کا پیراگراف ۳ بھی اس پر دلالت کر رہا ہے۔
علاوہ بریں اس پیراگراف میں حسبِ ذیل اضافے بھی ہونے چاہئیں۔
شق (۱) کے بعد حسبِ ذیل عبارت:
’’ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزائے انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی وحدہ جات کی نہیں، بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہو گی، جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع اختیارات سپرد کیے جائیں گے۔‘‘
شق (۲) کے بعد حسبِ ذیل عبارت:
’’ولایاتِ مملکت کو مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہو گا۔‘‘
اس کے بعد موجودہ شق (۲)، شق (۴) ہو جائے گی۔
عاملہ
پیراگراف ۲۳ شق (۲):
اس میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار اُن امور میں داخل کیا گیا ہے جو صدرِ ریاست کی صوابدید پر چھوڑے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ انتخابات میں انصاف قائم کرنا اس ریاست کے وجود کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے۔ اور انصاف کے تمام دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد اور عدلیہ کے دائرۂ عمل میں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی شق (۲) سے ’’اور انتخابی عدالتوں‘‘ کے الفاظ حذف کر دینے چاہئیں۔ اس کی متبادل تجویز ہم حصہ دوازدہم در بابِ انتخابات میں پیش کریں گے۔
پیراگراف ۲۸ شق (۲) و (۳):
ان دونوں شقوں میں اس امر کا امکان رکھا گیا ہے کہ ایسے اشخاص وزیراعظم اور وزیر بن سکیں جو مجالسِ قانون ساز میں منتخب ہو کر نہ آئے ہوں، یا انتخاب میں ناکام ہوئے ہوں، اور پھر اقتدار کی کرسی پر چھ مہینے تک فائز رہنے کے بعد انتخاب جیتنے کی کوشش کریں۔ یہ چیز نہایت قابلِ اعتراض اور نقصان دہ بھی ہے۔ کسی شخص کو وزارت کی کرسی پر بٹھا کر پھر انتخاب جیتنے کا موقع دینا، حکومت کی انتظامی مشینری کو اور رائے دہندوں کو سخت اخلاقی انحطاط میں مبتلا کرنے کا موجب ہو گا۔ لہٰذا اس دروازہ کو قطعی بند ہونا چاہیے اور یہ دونوں شقیں حذف کی جانی چاہئیں۔
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف ۸۹ شق (۲) میں بھی کیا گیا ہے، جہاں ولایات (یونٹس) میں غیرمنتخب لوگوں کے وزیر اعلیٰ اور وزیر بن جانے اور پھر انتخاب جیتنے کے امکانات رکھے گئے ہیں۔ لہٰذا پیراگراف ۸۹ شق (۲) کو بھی حذف کیا جانا چاہیے۔
وفاقی مقننہ
اس باب میں ایوانِ ولایات (ہاؤس آف یونٹس) اور ایوانِ جمہور (ہاؤس آف دی پیپل) کی ترکیب و تشکیل جس طرح کی گئی ہے، اس میں متعدد امور ایسے ہیں جو اس مجلس کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض ہیں اور ان میں بڑی بے اصولی بھی پائی جاتی ہے۔ مگر چونکہ اس وقت مختلف صوبوں کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ان امور میں گفت و شنید ہو رہی ہے، اور ہم اس میں خلل ڈالنا پسند نہیں کرتے، اس لیے ان کے بارے میں ہم سرِدست اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔
پیراگراف ۴۰ شق (۱):
اس میں ایوانِ ولایت کی نشست پُر کرنے کے لیے کسی شخص کے نااہل ہونے کے جو چار وجوہ بیان کیے گئے ہیں، ان میں مسلم ارکان کے لیے پانچویں وجہ کا بھی اضافہ ہونا چاہیے، جس کے الفاظ یہ ہوں:
’’فرائضِ اسلام کا پابند اور فواحش سے مجتنب نہ ہو۔‘‘
اس وجہ کا اضافہ پیراگراف ۴۷ در باب ایوانِ جمہور، اور پیراگراف ۱۰۱ در باب مجالسِ مقننۂ ولایات میں بھی ہونا چاہیے۔
پیراگراف ۴۰ شق (۱) ضمن (۴):
اس ضمن کی موجودہ عبارت قابلِ اعتراض ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایوانِ ولایات کا ہر رکن لازماً اس ولایت کا باشندہ ہونا چاہیے کہ جس سے وہ منتخب ہو کر آئے۔ یہ پاکستانیوں کے درمیان صوبائی تعصبات کو مستقل طور پر قائم رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہو گا۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس عبارت کو بدل کر یوں کر دیا جائے:
’’مملکت کے کسی حصہ کی فہرستِ رائے دہندگان میں اس کا نام درج نہ ہو۔‘‘
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف ۴۷ شق (۴) میں بھی کیا گیا ہے اور اس کی بھی مذکورہ بالا طریقے پر اصلاح ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۴۲ ضمن (۵):
اس میں ہر شخص کو ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے جسے کسی عدالتِ مجاز نے کسی جرم کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا دی ہو۔ یہ ’’کسی جرم‘‘ کا لفظ بہت وسیع ہے، اس کی زد میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جنہیں سیاسی اسباب کی بنا پر سزا دی گئی ہو۔ اس کی بجائے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق میں کسی دوسرے جرم کے الفاظ حذف کر کے ’’کسی اخلاقی جرم‘‘ کے الفاظ رکھے جائیں۔
یہی اصلاح پیراگراف ۴۸ شق (۵) اور پیراگراف ۱۰۲ شق (۵) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۴۲ شق (ز):
اس شق میں ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے ہر اس شخص کو نااہل قرار دیا گیا ہے جو سرکاری ملازمت سے ’’بداطواری‘‘ کی بنا پر برخاست کیا گیا ہو۔ یہ بداطواری بھی بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جن کو کسی وقت کسی پارٹی کی حکومت سیاسی اسباب سے خارج کر دے درآں حالیکہ وہ کسی اخلاقی خرابی میں مبتلا نہ پائے گئے ہوں۔ لہٰذا اس شق ’’بداطواری‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی جرم کی نوعیت کی ہو‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
یہی اصلاح پیراگراف ۴۸ شق (ز) اور پیراگراف ۱۰۲ شق (ز) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۵۰ شق (د):
اس میں ہر شخص کو رائے دہندگی کے حق سے محروم کیا گیا ہے جس نے کسی عدالتِ مجاز سے ’’کسی جرم‘‘ کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پائی ہو۔ اس پر بھی ہم کو وہی اعتراض ہے جو پیراگراف ۴۲ شق (۵) کے سلسلہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ’’کسی جرم‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی نوعیت کا ہو‘‘ کے الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
یہی اصلاح پیراگراف ۱۰۶ شق (د) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۶۶ شق (۱):
اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مقننہ کے ہر رکن کے لیے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھانا لازم ہو گا۔ یہ بالکل مناسب ہے، لیکن اس کے ساتھ ہر رکنِ مقننہ کو یہ حلف بھی اٹھانا چاہیے کہ وہ مقننہ کی کارروائیوں میں اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ دے گا۔ لہٰذا اس شق میں ’’وہ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھائے‘‘ کے بعد ان الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے: ’’نیز اس امر کا حلف اٹھائے کہ وہ اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ استعمال کرے گا۔‘‘
اس فقرے کا اضافہ پیراگراف ۱۱۸ شق (۱) میں بھی ہونا چاہیے۔
عدلیہ
عدلیہ کے باب میں کسی مقام پر حسبِ ذیل دو دفعات کا اضافہ ہونا ضروری ہے:
(۱) ’’عدلیہ کے ہر اہلِ منصب کے لیے تقرر و ترقی میں، تقرر کرنے والے کے پیش نظر — منجملہ دیگر عواملِ متعلقہ کے — تقویٰ و تدین اور اصلی ماخذ کے ذریعہ علوم و قوانینِ اسلامی سے واقفیت بھی مؤثر عوامل اور وجہِ ترجیح کی حیثیت رکھیں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام انتظامیہ اور مقننہ کے ارکان سے بھی بڑھ کر عدالت ہائے انصاف کے حکام کے تدین و تقویٰ کو اہمیت دیتا ہے۔ اور جبکہ اس مملکت میں یہ اصول تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں کے قوانین اسلام کے اصول و احکام پر مبنی ہوں گے۔ تو یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے حکامِ عدالت قوانینِ اسلامی سے واقف ہوں۔
(۲) ’’مقننہ یا انتظامیہ کو ٹربیونلز (خاص عدالتیں) مقرر کرنے کے اختیارات نہ ہوں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ کسی خاص مقدمہ کے لیے یا خاص نوعیت کے مقدمات کے لیے انتظامیہ کا اپنی اغراض اور مصلحتوں کی بنا پر خود، یا مقننہ کے ذریعہ سے خاص عدالتیں قائم کرنا، اور ان کے اختیاراتِ دادرس پر من مانی حدود و قیود عائد کرنا قطعاً خلافِ انصاف ہے۔ اور اس اختیار کو جس بے جا طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اس کی نہایت بری مثالیں دیکھی جا چکی ہیں۔ اس لیے خاص عدالتیں مقرر کرنے کے طریقے کو ازروئے دستور بند ہونا چاہیے اور ہر قسم کے مقدمات ملک کی عام عدالتوں ہی کی طرف رجوع کیے جانے چاہئیں۔
عدالتِ عظمیٰ
پیراگراف ۱۸۲:
اس میں سپریم کورٹ کو اس اختیار سے محروم کیا گیا ہے کہ وہ مسلح افواج سے متعلق کسی عدالت یا ٹربیونل کے صادر کیے ہوئے کسی حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے۔ ہمارے نزدیک یہ قید غیر منصفانہ ہے، جبکہ ہمارے دستور میں سپریم کورٹ کو آخری عدالتِ انصاف قرار دیا جائے گا، تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے کسی شخص کو — خواہ وہ فوجی ہو، سویلین یا عام شہری — انصاف حاصل کرنے کے لیے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع نہ دیا جائے۔ اگر فوجی عدالتوں میں کسی شخص کو بے انصافی کی شکایت ہو تو آخر کیوں وہ ملک کی آخری عدالتِ انصاف سے اپیل نہ کر سکے۔ لہٰذا پیراگراف ۱۸۲ کی حسبِ ذیل عبارت حذف کی جانی چاہیے۔
پیراگراف ۱۸۷:
اس پیراگراف میں سپریم کورٹ کے اس اختیار کو کہ وہ انصاف کی غرض کے لیے کوئی شہادت یا دستاویز طلب کر سکے، وفاقی مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین سے محدود کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مقننہ کوئی ایسا قانون بنا دے جس میں کسی خاص قسم کی شہادتیں یا دستاویزیں طلب کرنا ممنوع ہو، تو سپریم کورٹ انہیں طلب نہ کر سکے۔ خواہ انصاف کے لیے اس کا طلب کرنا کتنا ہی ضروری ہو۔ یہ بات اسلامی اصولِ عدل کے قطعاً خلاف ہے۔ اسلام کی رو سے جس شہادت کے بغیر انصاف نہ کیا جا سکتا ہو، وہ جس کے پاس بھی ہو، عدالت اس کو طلب کرنے کا حق رکھتی ہے اور اس شخص کے لیے کتمانِ حق جائز نہیں۔ لہٰذا اس پیراگراف سے یہ الفاظ حذف کر دیے جائیں: ’’بحفظ احکام موضوعہ مقننہ وفاقی‘‘۔
نیز پیراگراف کے اختتام پر حسبِ ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے:
’’البتہ عاملہ کو حق ہونا چاہیے کہ اگر اس کے نزدیک کسی شہادت یا دستاویز کا افشا مملکت کے تحفظ و استحکام کے منافی ہو تو وہ عدالت سے استدعا کر سکتی ہے کہ اس کے اخفا کا خاطرخواہ انتظام کیا جائے۔‘‘
عدالت ہائے عالیہ
پیراگراف ۲۰۵ شق (۲):
اس پیراگراف میں ہائی کورٹ کے اختیارات پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کسی عدالت کے ایسے فیصلوں پر اعتراض کر سکے جن کی اپیل یا نگرانی کسی اور طریقہ سے ہائی کورٹ میں نہ ہو سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک یہ پابندی ولایات کی بلند ترین عدالت کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے روکتی ہے۔ ہائی کورٹ کو تو اس امر کے پورے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں کہ جب کبھی اس کے علم میں کوئی ایسا معاملہ آئے — جس میں اس کی ماتحت عدالتیں انصاف کرنے سے قاصر رہی ہوں — وہ اس کا نوٹس لے اور انصاف بہم پہنچانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی یہ شق پوری کی پوری حذف کی جانی چاہیے۔
ملازمین و ماموریۂ ملازمت سرکاری
پیراگراف ۲۲۲ شق (۱):
اس شق میں یہ کہا گیا ہے کہ وفاقی مقننہ میں امیرِ مملکت کی اجازت کے بغیر اور ولایات (یونٹس) کی مجالسِ مقننہ میں حاکمانِ ولایات کی اجازت کے بغیر کوئی ایسا مسودۂ قانون پیش نہیں کیا جا سکتا جو اُن تحفظات کو منسوخ یا محدود کرتا ہو جو دفعہ ۱۹۷ ضابطۂ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطۂ دیوانی میں سرکاری ملازمین کو دیے گئے ہیں۔
ہمارے نزدیک یہ شق سخت قابلِ اعتراض ہے۔ اگر ریاست پاکستان کے ملازمین امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایت کے ملازم نہیں بلکہ پاکستان کی پبلک کے ملازم ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پبلک کے نمائندے اس کے ملازموں کے حقوق، اختیارات اور امتیازات میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون پیش کرنے میں امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایات کی اجازت کے محتاج ہوں۔ آزاد پاکستان میں تو دفعہ ۱۹۷ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطۂ دیوانی جیسی صریح غیر منصفانہ دفعات کا کتابِ آئین پر موجود رہنا ہی شرمناک ہے۔ کجا کہ دستور میں ان دفعات کو بچانے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ ان میں ترمیم اور تنسیخ کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون نہ پیش کیا جا سکے جب تک کہ امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایات اس کی اجازت نہ دیں۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس پیراگراف کی یہ شق حذف کی جائے۔
انتخابات
اس باب میں کسی مقام پر حسبِ ذیل عبارات کا بصورت پیراگراف اضافہ ہونا ضروری ہے:
(الف) ’’امیرِ مملکت، حاکمانِ ولایات اور عُمالِ حکومت کے لیے یہ ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ انتخابات میں کسی شخص یا پارٹی کے خلاف یا موافق رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے۔‘‘
(ب) ’’مرکزی اور صوبائی وزراء اعظم، وزراء مملکتی، وزراء اور نائب وزراء اور پارلیمنٹری سیکرٹری کے لیے ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ کسی شخص یا پارٹی کے موافق یا خلاف سرکاری اثرات اور وسائل کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔
(ج) ’’مرکزی مقننہ اور ولایات کی مجالسِ مقننہ میں ہر نشست جو خالی ہو گئی ہو، زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر اندر بذریعہ ضمنی انتخابات پُر کرنی ضروری ہو گی۔‘‘
پیراگراف ۲۳۴ شق (۲):
اس میں انتخابی کمیشن کے ارکان کا تقرر بھی چیف کمشنر کے تقرر کی طرح محض امیر مملکت کی صوابدید پر موقوف کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک چیف کمشنر کا تعلق ہے اس کے تقرر کے معاملے میں تو اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ امیر مملکت ہی کی صوابدید پر ہو۔ لیکن انتخابات کی آزادی کے لیے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا الیکشن کمیشن محض امیر مملکت ہی کا ساختہ پرداختہ نہ ہو۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق کے الفاظ ’’اور چیف کمشنر انتخابات‘‘ سے لے کر ’’اپنی صوابدید پر مقرر کرے گا‘‘ تک حذف کر دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے:
’’اور امیر مملکت چیف کمشنر انتخابات کو اپنی صوابدید پر اور دوسرے انتخابی کمشنروں کو چیف کمشنر انتخابات کی سفارش پر ایسے قانون کے احکام … کرے گا جو وفاقی مقننہ اس کے بارے میں وضع کرے۔‘‘
نیز انتخابی … کو محفوظ کرنے کے لیے پیراگراف ۲۳۴ شق (۲) میں یہ اضافہ ہونا چاہیے:
’’چیف الیکشن کمشنر کا تقرر مستقل ہونا چاہیے۔ اس کے سپرد مرکز اور ولایات میں نہ صرف عام انتخابات کا انتظام ہو گا بلکہ وقتاً فوقتاً خالی ہونے والی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا انتظام بھی ہو گا۔ نیز انتخابات کے لیے رائے دہندگان کی فہرستوں کو ہر وقت تیار رکھنا بھی اس کا فرض ہو گا۔ چیف الیکشن کمشنر کا مرتبہ سپریم کورٹ کے ججوں کے مماثل ہو گا اور اس پر بھی وہ پابندیاں عائد کی جائیں جو پیراگراف ۲۲۷ شق (۲) و (۳) میں پبلک سروس کمیشن کے صدر پر عائد ہوتی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر وہی شخص مقرر کیا جائے گا جو کم از کم تین سال کسی ہائی کورٹ میں جج رہ چکا ہو۔‘‘
پیراگراف ۲۳۹ شق (۲):
اس شق میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں امیرِ مملکت اور ولایات میں حاکمانِ ولایات کو دیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ حصہ سوم کے پیراگراف ۲۳ میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ چیز انتخابات کی آزادی کے لیے مضر ہے، لہٰذا اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں سپریم کورٹ اور ولایات میں ہائی کورٹ کو ہونا چاہیے۔‘‘
https://iili.io/CzlUADG.jpg
ملی مجلسِ شرعی اور تنظیمِ اسلامی کے اعلامیے
ڈاکٹر محمد امین
اظہر بختیار خلجی
ملی مجلس شرعی
ابراہیمی معاہدے (ابراہام ایکارڈز) پر حکومت دستخط نہ کرے
ملی مجلس شرعی جو سارے دینی مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی مشترکہ علمی مجلس ہے اور جس کے صدر مولانا زاہد الراشدی ہیں، اس کے علماء کرام نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ پر معاہدۂ ابراہیمی پر ہرگز دستخط نہ کریں کیونکہ اس معاہدے (ابراہام ایکارڈ) کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں اور اس کے ساتھ دوستی کر لیں۔ اس کا براہ راست فائدہ اسرائیل کو ہوگا اور یہ فلسطین اور غزہ میں اس کے مظالم پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے سارے مسلم ممالک خصوصاً پاکستان کو اس بارے میں امریکی دباؤ کو مسترد کرنا ہوگا اور امریکہ و اسرائیل کی بجائے حق کا ساتھ دینا ہوگا اور فلسطین و غزہ کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کی حمایت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے علماء پہلے ہی اس قسم کے نام نہاد اتحاد مذاہب ثلاثہ کے پروگراموں کی مذمت کر چکے ہیں۔
جن علماء کرام نے اس قرارداد کی حمایت کی، ان میں مندرجہ ذیل علماء کرام شامل ہیں:
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (صدر ملی مجلس شرعی و شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
۲۔ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان (چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ، پاکستان)
۳۔ حافظ عبدالغفار روپڑی (مہتمم جامعہ اہلحدیث، لاہور)
۴۔ مولانا عبد المالک (صدر وفاق رابطۃ المدارس، پاکستان)
۵۔ ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری جنرل ملی مجلس شرعی، پاکستان)
۶۔ مفتی شاہد عبید (چیف مفتی جامعہ اشرفیہ، لاہور)
۷۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (رہنما جماعت اسلامی و مدیر علماء اکیڈمی، منصورہ)
۸۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی، لاہور)
۹۔ مولانا محمد عمران طحاوی (مدیر مرکز قباء، جوہر ٹاؤن، لاہور)
۱۰۔ مولانا غضنفر عزیز (رہنما جمعیت علماء اسلام، پاکستان)
۱۱۔ حافظ نعمان حامد (صدر لجنۃ العلماء، پاکستان)
۱۲۔ مولانا محمد اسلم نقشبندی (سیکرٹری لجنۃ العلماء، پاکستان)
۱۳۔ مولانا رضاء الحق (ناظم شعبہ تعلقاتِ عامہ تنظیمِ اسلامی، پاکستان)
ڈاکٹر محمد امین، سیکرٹری جنرل
۱۵ جون ۲۰۲۶ء
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت
ملی مجلس شرعی، جو ساری دینی مکاتبِ فکر کی مشترکہ علمی مجلس ہے، کے علماء کرام نے ’جیو نیوز‘ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے خاکے نشر کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماضی میں غیر مسلم ممالک کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کرتے رہے ہیں اور اس پر کئی مسلمانوں نے اپنی جان کی قربانی دی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک نیوز چینل نے یہ دلخراش حرکت کی ہے۔
علماء کرام نے کہا کہ اس شنیع جرم پر پندرہ دن کی بندش کوئی سزا نہیں ہے بلکہ یہ تو اس ادارے کو تحفظ دینے والی بات ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیو نیوز کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے اور باقاعدہ قانونی کاروائی کی جائے اور اسے سخت سزا دی جائے تاکہ یہ دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہو اور کسی دوسرے کو اس طرح کی جرأت نہ ہو۔
ان گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرنے والے علماء کرام میں مجلس کے صدر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد امین، مولانا شجاع الدین شیخ (امیر تنظیم اسلامی) اور معزز علماء کرام خصوصاً مولانا مفتی محمد کریم خان، مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا عبد المالک، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا غضنفر عزیز، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی، مولانا حافظ نعمان حامد، مولانا اسلم ندیم نقشبندی، حاجی عبداللطیف چیمہ، مولانا رضاء الحق، حافظ ڈاکٹر محمد سلیم، مفتی محمد شبیر انجم، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد عثمان رمضان، مولانا عبداللہ مدنی اور مولانا مزمل بھکر شامل ہیں۔
ڈاکٹر محمد امین، سیکرٹری جنرل
یکم جولائی ۲۰۲۶ء
تنظیمِ اسلامی
کرپٹو کرنسی اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ترجیحی بجلی فراہمی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
عنوان: کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے حکومت کی ترجیحی بجلی فراہمی اور انصاف، مساوات اور عوامی امانت کی اسلامی رہنمائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
آپ کو یہ خط گہری تشویش کے ساتھ لکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ معاملہ معاشی پالیسی، عوامی وسائل کے استعمال اور اسلامی انصاف کے دائمی اصولوں سے متعلق ہے۔ ہمارا مقصد نہ تو ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت کرنا ہے اور نہ ہی بلاک چین یا مصنوعی ذہانت کے معاشی فوائد یا نقصانات پر بحث کرنا۔ ہماری عاجزانہ رائے میں ایک مخصوص حکومتی پالیسی ایسی معلوم ہوتی ہے جو انصاف، عوامی امانت اور ظلم کی ممانعت سے متعلق قرآنی اور نبوی تعلیمات سے ہٹتی نظر آتی ہے، اس لیے اس پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔
مئی 2025ء میں حکومتِ پاکستان نے وزارتِ خزانہ اور پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے ذریعے پہلے مرحلے میں 2000 میگا واٹ بجلی خصوصی طور پر بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو اضافی بجلی کے استعمال، غیر ملکی سرمایہ کاری، آمدنی میں اضافے اور پاکستان کو ڈیجیٹل جدت کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔ کرپٹو ٹریڈنگ کو قانونی شکل دینا اور PCC کا قیام ایسے اقدامات ہیں جنہیں کئی ماہرینِ معیشت مثبت سمجھتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو ٹریڈنگ بجلی کی اس ترجیحی تقسیم نے انصاف، معاشی اخلاقیات اور اسلامی احکامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
مزید یہ کہ ایسی ترجیح جس سے معاشرے کے ایک طبقے پر بوجھ پڑے اور دوسرا فائدہ اٹھائے، ناانصافی کو بڑھا سکتی ہے۔ بجلی کوئی نجی سرمایہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ اور عوامی امانت ہے۔ ایک مخصوص شعبے کو رعایت دینا جبکہ باقی شعبے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہوں، عوامی وسائل میں جانبداری کے مترادف ہے۔ اگر اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہو تو پاکستان کو یقیناً ڈیجیٹل دنیا میں آگے بڑھنا چاہیے۔ تاہم، اس کے لیے ایسا نظام ہونا چاہیے جو شفاف، غیر امتیازی اور تمام شعبوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے۔ تمام فیصلے کھلے مباحثے، مسابقتی عمل اور برابری کے اصول پر مبنی ہونے چاہئیں۔ اس پالیسی کا قرآن، سنت، اسلامی مالیات، معاشی انصاف اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ مزید برآں، مالیاتی جدتوں کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔
لہٰذا، ہم مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ:
اتحاد تنظیمات المدارس / اسلامی نظریاتی کونسل اس پالیسی کا قرآن، سنت اور فقہِ اسلامی کے قائم شدہ اصولوں — خصوصاً عوامی مالیات، معاشی انصاف اور ٹیکنالوجی میں جدت — کی روشنی میں جائزہ لیں۔ اسی طرح، آپ ایک واضح اور دلائل پر مبنی رائے یا فتویٰ جاری کریں کہ آیا ترجیحی الاٹمنٹ اور اس سے متعلق خفیہ طریقہ کار اسلامی احکامات کے مطابق ہے یا نہیں۔ کیا یہ پالیسی آئینِ پاکستان کے درج ذیل آرٹیکل کے تحت اسلامی احکامات کے خلاف سمجھی جا سکتی ہے؟
آرٹیکل 227: تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں بیان کردہ اسلامی احکامات کے مطابق بنایا جائے گا، اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو ان احکامات کے خلاف ہو۔
ہم یہ بھی گزارش کرتے ہیں کہ آپ وفاقی شرعی عدالت سے، ازخود نوٹس یا درخواست کے ذریعے، عوامی مفاد میں اس معاملے کا جائزہ لینے پر غور کریں۔ آپ کی مداخلت نہ صرف حکومتی نظام کے اسلامی تشخص کے تحفظ کا ذریعہ بنے گی بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت بھی کرے گی۔ ایسے وقت میں جب پاکستان شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ریاستی فیصلوں کو شریعت کے اعلیٰ مقاصد — یعنی دین، جان، عقل، نسل اور مال کے تحفظ — کے مطابق بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ البتہ بدرجۂ اولیٰ علماء کرام کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی کوششوں کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۲ ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ / ۱۹ مئی ۲۰۲۶ء
خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دینے کا فیصلہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
عنوان: خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دینے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر شرعی رہنمائی اور رائے کی درخواست
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دعاگو ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیریت و عافیت کے ساتھ ملے۔
وفاقی شرعی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے خودکشی کی کوشش کو جرم کے دائرے سے خارج کرنے کی والی ترمیم کو خلافِ شریعت قرار دیتے ہوئے تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعہ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد علمی، قانونی، نفسیاتی اور سماجی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
اس حوالے سے بعض ماہرینِ نفسیات اور سماجی علوم کا موقف ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد اکثر شدید ذہنی دباؤ، نفسیاتی بیماری، گھریلو تشدد، معاشی تنگی، مایوسی یا دیگر سماجی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو سزا دینے کے بجائے علاج، بحالی اور معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں شرعی اصولوں کی بنیاد پر اس عمل کو قابلِ سزا قرار دیا ہے۔
اس اہم اور حساس معاملے میں آپ کے معززینِ جماعت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن و سنت، فقہِ اسلامی، مقاصدِ شریعت، مصالحِ عامہ اور موجودہ سماجی و نفسیاتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مفصل شرعی رائے اور رہنمائی سے آگاہ فرمائیں۔
بالخصوص درج ذیل امور پر آپ کی رہنمائی مطلوب ہے:
- کیا وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ قطعی شرعی حکم پر مبنی ہے یا اجتہادی تعبیر ہے؟
- کیا مقاصدِ شریعت، مصالحِ عامہ اور انسانی جان کے تحفظ کے پیشِ نظر اس معاملے میں مختلف اجتہادی آراء کی گنجائش موجود ہے؟
- کیا ایسے افراد، جو شدید نفسیاتی یا سماجی مجبوریوں کے باعث خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے ساتھ تعزیری سزا کے بجائے اصلاح، علاج اور بحالی کا طریقہ اختیار کرنا شریعت کے زیادہ قریب ہے؟
- کیا اس فیصلے پر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ میں نظرثانی کی گنجائش موجود ہے، اور اس سلسلے میں شرعی طور پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس اہم قومی اور دینی مسئلے پر اپنی علمی رہنمائی سے امت کی رہنمائی فرمائیں گے۔
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۲۴ محرم الحرام ۱۴۴۸ھ / ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ء
توہینِ قرآنِ حکیم کے نسخوں کا معاملہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
صدر ملی مجلسِ شرعی کی خدمت میں
عنوان: توہینِ قرآنِ حکیم کے نسخوں کا معاملہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
سوشل میڈیا کے ذریعے ایک صاحبِ خیر محترم قیصر احمد راجہ کی طرف سے درج ذیل سنگین معاملے پر توجہ دلائی گئی ہے اور ہم اس معاملے کو آپ تک اس لئے پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ آپ اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اس کے فوری حل کے لئے کوشش فرمائیں۔
ابھی رمضان المبارک کے مہینہ کا اختتام ہوا ہے جس میں ہم نے مساجد میں تراویح کے دوران پورے قرآن مجید کو حفاظ کرام سے سنا ہے اور یہ عمل لاکھوں مقامات پر ہوا، اور اس سے بڑھ کر کئی مساجد و دیگر مقامات پر اس پورے قرآن مجید کا ترجمہ یا ترجمانی (خلاصہ) بھی بیان ہوا ہے۔ اس طرح ہم نے قرآن مجید سے اپنے تعلق کو از سر نو تازہ کیا ہے۔ اور یہ قرآن مجید ہماری شناخت اور ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ مگر نہایت دکھی دل کے ساتھ عرض ہے کہ حال ہی میں پاکستان میں توہینِ مقدسات کے بعض مقدمات کے سلسلے میں اسی کتاب مقدس (قرآن مجید) کے متعدد نسخے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے دفاتر میں بطور ثبوت پیش کیے گئے ہیں اور یہ ابھی تک اسی حالت میں موجود ہیں۔ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ ان نسخوں کو مبینہ طور پر ناپاک مواد سے آلودہ کیا گیا ہے۔
اس ضمن میں عرض ہے کہ قانونی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں مگر قرآن کی حرمت اپنی جگہ ایک لازمی اور اہم ترین فریضہ ہے۔ اس ضمن میں موصوف کی جانب سے درج ذیل موصولہ تجاویز سے ہمیں کافی حد تک اتفاق ہے، لہٰذا انہیں آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
- ان تمام نسخوں کا فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کیا جائے تاکہ قانونی ثبوت محفوظ ہو جائیں۔
- ان رپورٹس اور دستاویزی ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے بعد ایک با اختیار ریاستی عہدیدار کی نگرانی میں ان نسخوں کو اس غلاظت سے پاک کر کے غسل دے کر شرعی طریقے سے تدفین کی جائے۔
- اگر کوئی قانونی رکاوٹ درپیش ہو تو اس مقصد کے لئے فوری سوموٹو ایکشن، قانون سازی یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے طریقہ کار وضع کیا جائے۔ ہم آپ تمام اکابرینِ امت و منتظمینِ مجلسِ اتحادِ امت اور دیگر مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو اس حوالے سے بروقت مؤثر اقدامات کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں تاکہ متعلقہ حکام یہ محسوس کریں کہ ان مقدسات کی حرمت کا دفاع محض زبانی جمع خرچ نہیں، بلکہ اگر ضرورت داعی ہوئی تو ایسے ہر موقع پر تمام علمائے امت اجتماعی طور پر بھی اقدامات کرتے رہیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی شعائرِ دینی کی حفاظت کی کاوشوں کا تسلسل جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۱۹ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ / ۲۷ جولائی ۲۰۲۶ء
مولانا راشدی کے بیانات اور مصروفیت
ادارہ الشریعہ
علماء کرام دعوتِ دین کے جدید اسلوب اپنائیں
جاری کردہ: مولانا نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
یکم جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ علمائے کرام امتِ مسلمہ کے مقتدا، رہنما اور پیشوا ہیں، اس لیے انہیں وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعوتِ دین کے جدید اسلوب اختیار کرنے چاہئیں تاکہ نئی نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات تک دینِ اسلام کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ اس وقت اندرونی و بیرونی سطح پر بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے، جن کا مقابلہ باہمی اختلافات اور تفرقہ بازی سے نہیں بلکہ اتحاد، حکمت، بصیرت اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد علی المرتضیٰ اور مدرسہ عربیہ اسلامیہ (سنی بینک، مری) میں منعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اور مساجد ہمیشہ سے امت کی فکری، دینی اور اخلاقی رہنمائی کے مراکز رہے ہیں، اس لیے علماء کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں اعتدال، رواداری، اخوت اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دعوت و تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ اور دین کی خدمت کے لیے روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ اور ابلاغی تقاضوں سے بھی بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو صحیح انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء کرام نوجوان نسل کی دینی، فکری اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں عصرِ حاضر کے فتنوں اور گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط علمی اور فکری رہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل قرآن و سنت کی تعلیمات، باہمی اعتماد، اتحادِ امت اور ملی یکجہتی میں مضمر ہے۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اختلافی مسائل کو ہوا دینے کی بجائے مشترکہ دینی مقاصد کے حصول، اتحادِ امت کے استحکام اور دین کی دعوت کو عام کرنے پر اپنی توانائیاں صَرف کریں۔
علماء کنونشن میں ملکہ کوہسار مری کی ممتاز دینی شخصیت مفتی خالد حسین عباسی، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا قاسم عباسی، مفتی عبد اللہ عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مفتی محمد نعمان، مولانا قاری عثمان رمضان، پروفیسر حافظ منیر احمد، صاحبزادہ نصر الدین خان عمر، مولانا طارق عباسی، مولانا حق نواز عباسی، مولانا ذوالفقار گل ایڈووکیٹ، مفتی محمد سعد سعدی، مولانا محمد نوید، مولانا صلاح الدین، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا مجیب الرحمٰن عباسی، مولانا عاصم جمشید عباسی، مولانا طالب الرحمٰن اور کثیر تعداد میں دیگر علماء کرام، طلباء اور دینی ذوق رکھنے والے کارکنوں نے شرکت کی۔
مری میں اہم اجلاس: کشمیر اور ملکی حالات پر تشویش کا اظہار
رپورٹ: شعبہ نشر و اشاعت پاکستان شریعت کونسل، مری
یکم جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل مری کے زیر اہتمام اور مری شریعت کونسل کے امیر مولانا محمد قاسم شعیب کی زیر نگرانی مرکزی جامع مسجد علی المرتضٰیؓ (سنی بنک) میں ایک اہم علمی و فکری سیمینار اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ سیمینار کا موضوع ’’عصر حاضرِ میں دعوتِ دین کا صحیح منہج‘‘ رکھا گیا تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ نے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز، سوشل میڈیا اور فرقہ واریت کے ماحول میں دعوتِ دین کا کام حکمت، اعتدال اور علم کی بنیاد پر کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے علماء کرام کو توجہ دلائی کہ وہ نوجوانوں کو صحیح منہج اپنانے کی تلقین کے لیے خود کو علمی اور فکری طور پر تیار کریں۔
سیمینار کے بعد مرکزی اور صوبائی قیادت کا ایک خصوصی مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس نے کشمیر کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملات کو اس نہج تک نہیں پہنچنا چاہیے تھے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کی دینی قیادت اپنا تاریخی اور فکری کردار ادا کرے۔ شرکاء نے کہا کہ حالات کا بیک وقت بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں خراب ہونا ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اور اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
اجلاس میں مرکزی رہنماؤں میں پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا عبد الرؤف محمدی اور مولانا علی محی الدین شریک ہوئے۔ صوبائی قیادت میں مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا مفتی محمد نعمان احمد، مولانا عمر خان قارن، مولانا کامران حیدر، مولانا ذوالفقار علی اور مولانا عبداللہ سعید برادران نے شرکت کی۔
تمام شریک علماء نے مولانا محمد قاسم شعیب، مولانا عبد اللہ سعید برادران اور شریعت کونسل مری کی بہترین مہمان نوازی کو سراہا۔ پروگرام کا اختتام ملک، امت اور کشمیر کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا پر ہوا۔
مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا قاری حنیف جالندھری کو مبارکباد
رپورٹ: مولانا عبدالرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل، پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۳ جولائی ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو بلامقابلہ صدر اور مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کو مسلسل ساتویں مرتبہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کو ملک بھر کے دینی مدارس، اساتذہ اور وابستگانِ وفاق کی طرف سے ان کی علمی، دینی، انتظامی اور ملی خدمات کا بھرپور اعتراف قرار دیا ہے۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کے نظم، اتحاد، ترقی اور تعلیمی معیار کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور نومنتخب قیادت کی موجودگی میں یہ خدمات مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت، فقہ و افتاء کے معتبر مرجع اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں، جبکہ مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے بطور جنرل سیکرٹری وفاق المدارس کو مضبوط، فعال اور منظم ادارہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی مسلسل کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ وفاق کے ذمہ داران اور وابستگان کو ان کی قیادت پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔ رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نومنتخب قیادت کو صحت، عافیت اور استقامت کے ساتھ دین اسلام، دینی مدارس، طلبہ و اساتذہ اور ملک و ملت کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو مزید ترقی، استحکام اور قبولیت سے نوازے اور اسے امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین
جمعیت علماء اسلام کی قصور کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے
منجانب: مولانا نصرالدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۹ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے گیارہ جولائی کو پھول نگر قصور میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عوامی حقوق کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ایک بیان میں علاقہ بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس میں جوق در جوق شریک ہوں اور اس کی بھرپور کامیابی کے لیے کانفرنس کی انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں۔
اہلِ سنت رابطہ کمیٹی لاہور کے عہدہ داران کی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ آمد
جاری کردہ: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ
۱۴ جولائی ۲۰۲۶ء: مفکر اسلام شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار۔ حضرت علامہ راشدی صاحب کی سرپرستی میں جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ اور اہل سنت رابطہ کمیٹی لاہور کا مشترکہ طور پہ پورے پنجاب میں تمام اہل سنت نمائندگان سے رابطے اور مشترکہ نظریاتی معاملات میں جدوجہد کو فروغ دینے کی ضرورت پہ زور۔ اجلاس میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد اعوان، مولانا نعمان حامد جالندھری، مفتی ظہیر احمد ظہیر، حافظ حسین احمد، مولانا قاسم بلوچ، قاری محمد اسلم ندیم نقشبندی، مولانا قاری ریاض چشتی، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا عامر حبیب، حافظ عبد الجبار، مولانا طبیب الرحمٰن اور دیگر شریک تھے۔
گوجرانوالہ میٹرو پروجیکٹ کے بارے میں تحفظات
جاری کردہ: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ
۲۶ جولائی ۲۰۲۶ء: مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب مولانا زاہد الراشدی نے میٹرو منصوبے سے متاثر ہونے والے شہریوں اور تاجروں کے موقف کی حمایت کی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبہ پر نظر ثانی کریں اور شہریوں کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسے منصوبے کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں ہے مگر اس کے لیے پہلے اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے گوجرانوالہ اور اس کے شہریوں کا کم سے کم نقصان ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ اول تو ان نقصانات پر مناسب معاوضہ دینا بنتا ہے، نہیں تو اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے تاجروں اور شہریوں کو ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ منصوبہ شہریوں کی حمایت حاصل نہیں کر سکے گا۔
مجاہدِ ختمِ نبوت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
رپورٹ: مولانا عبدالرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل، پاکستان شریعت کونسل
۲۹ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی اور سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد نے معروف عالمِ دین، مجاہدِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے عظیم داعی مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو دینی حلقوں اور بالخصوص تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور ناموسِ رسالتؐ کی پاسبانی کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ اس عظیم محاذ پر پوری استقامت، جرأت اور بصیرت کے ساتھ زندگی بھر پہرہ دیتے رہے اور قادیانیت کے فتنہ کے تعاقب، رد اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کی علمی، تحقیقی، دعوتی اور قلمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے موضوع پر متعدد اہم اور گراں قدر کتابیں تصنیف کیں اور اپنی تحریروں، خطابات اور عملی جدوجہد کے ذریعے نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کی زندگی ہمارے لیے اس بات کا روشن نمونہ ہے کہ دین کے بنیادی عقائد کے تحفظ کے لیے اخلاص، استقامت اور مسلسل جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے۔ انہوں نے تحفظِ ختمِ نبوت کے محاذ پر جو خدمات سرانجام دیں، وہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی و دینی سرمایہ ہیں۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی و ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، تلامذہ اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور عالمِ اسلام کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
قومی معاملات میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت
منجانب: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب
۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو قومی معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی سطح پر باہمی مشاورت و مفاہمت کی صورت نکالنی چاہیے۔ آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے سن ۱۹۷۰ء جیسے حالات محسوس ہو رہے ہیں، میں نے ۱۹۷۰ء کا ماحول اسی مسجد میں اور اسی منبر پر دیکھا ہے اور نہ صرف پوری طرح یاد ہے بلکہ بہت ڈر بھی لگ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز قومی مشاورت کا اہتمام اور دستور کی پاسداری اور تحفظ ہماری اس وقت سب سے بڑی قومی ضرورت ہے اور قومی اداروں کے بعد سیاسی جماعتوں اور طبقات کو اس میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کا مقصد ملک کو اس کے مطابق چلانا ہوتا ہے اور اس کی وفاداری کا حلف بھی اسی مقصد کے لیے اٹھایا جاتا ہے اس لیے تمام طبقات، شخصیات اور اداروں کو دستور کی بالادستی اور عملی نفاذ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے نماز جمعہ کے بعد بتایا کہ پاکستان شریعت کونسل ملک کی انتخابی اور تحریکی سیاست کا حصہ نہیں ہے لیکن دستور کی بالادستی، قومی خودمختاری کے تحفظ اور ملک کی سالمیت کے لیے آواز اٹھاتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے اور اسی سلسلہ میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا اجلاس ۱۹ اگست ۲۰۲۶ء کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔