’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
اسلام کا قانونِ وراثت
خطبہ نمبر ۹
خطبۂ مسنونہ کے بعد:
محترم علمائے کرام اور بھائیو دوستو!
ہماری گفتگو ایک تسلسل کے ساتھ خاندانی نظام کے تناظر میں قرآن کریم کے احکام کے حوالے سے چل رہی ہے۔ اس کا دائرہ یہ ہے کہ ہم عصر حاضر میں قرآن کریم کے احکام کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کو خاندانی احکام اور فیملی لاء (Family Law) کہتے ہیں۔ آج کی نشست میں بھی اس قانون کے حوالے سے ہماری گفتگو ہو گی۔ ہمارے جو خاندانی مسائل ہیں، وہ کیا ہیں؟ ان مسائل پر آج ہماری معروضی صورت حال کیا ہے؟ ان پر اعتراضات کی صورت حال کیا ہے؟ اور آج کے عالمی تہذیبی تناظر میں اسے کیسے دیکھا جا رہا ہے؟ اسی پر ہماری ہلکی پھلکی باتیں ہوئی ہیں، آج میں کوشش کرتا ہوں کہ وراثت کی بات ہو جائے۔
جب کوئی آدمی دنیا میں رہتا ہے تو کماتا ہے۔ محنت کرتا ہے تو جمع بھی کرتا ہے۔ جب وہ فوت ہوتا ہے تو اس کی ملکیت پر کون اس کا مستحق ہوتا ہے؟ عام طور پر ہمیشہ سے یہ نظام چلا آرہا ہے کہ اس کی اولاد اور اس کا خاندان اس کے ورثے کا حق دار ہے۔ اس کے مختلف قوانین، احکام اور ضوابط ہیں جن کو مختلف حوالوں اور پہلوؤں سے سمجھنا ضروری ہے۔
بعثتِ نبویؐ سے پہلے وراثت کا نظام
پہلا دائرہ تو یہ ہے کہ جناب خاتم النبیین ﷺ کی تشریف آوری کے وقت وراثت کا نظام کیسا تھا؟ مختلف قبائل کے تناظر کو سمجھنے کے لیے قبائل کا سسٹم جاننا ضروری ہے۔ وراثت تقسیم تو ہوتی تھی لیکن اس کے احکام، قواعد اور ضوابط مختلف ہوتے تھے۔ بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ بڑا بیٹا وارث ہوتا تھا، باقی اس کے رحم و کرم پر ہوتے تھے۔ بیوی کو کچھ نہیں ملتا تھا، اس کی اولاد کو بھی کچھ نہیں ملتا تھا۔ قرآن پاک نے آ کر یہ اصول و ضوابط طے کیے کہ اگر کوئی ترکہ چھوڑ جائے تو وہ کس کا حق بنتا ہے اور کتنا بنتا ہے۔
وراثت کا قرآنی قانون
قرآن کریم نے وراثت کے احکام و قوانین بیان کیے۔ قرآن کریم نے کوئی مسئلہ اس تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے جتنا وراثت کا بیان کیا ہے۔ سینکڑوں آیات میں نماز کا حکم دیا ہے لیکن جزئیات بیان نہیں کیں کہ اتنی رکعت پڑھو، اتنی مرتبہ پڑھو، بلکہ ہمارے رسول ﷺ کو دیکھو کیسے پڑھتے ہیں۔
صلوا کما رایتمونی اُصلی (صحیح بخاری، باب الاذان للمسافر، اذا کانوا جماعۃ، حدیث نمبر: 613)
(نماز ایسی پڑھو جیسے آپ مجھے پڑھتے دیکھتے ہیں۔)
وراثت کا واحد معاملہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اُس کا تیسرا حصہ ہے، اُس کا چوتھا حصہ ہے، اُس کا آٹھواں حصہ ہے، اُس کو نصف ملے گا، اُس کو نہیں ملے گا، اُس کو چھٹا حصہ ملے گا (سورۃ النساء: 4، آیت 6 تا 12)۔ میں نے بڑا غور کیا قرآن پاک میں کسی مسئلے کو اتنی توجہ اور اس قدر تفصیلات کے ساتھ بیان نہیں کیا جتنا وراثت کو بیان کیا ہے۔ وراثت مرد اور عورت دونوں کا حصہ ہے۔ وراثت صرف مردوں کا حصہ نہیں۔ ماں کے حصے کی الگ صورت ہے، بیوی کی الگ صورت ہے، بہنوں کی الگ صورت ہے۔
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے کسی وارث کو وراثت میں اس کے حصے سے محروم کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے حصے سے کٹوتی کر کے وارث کو اس کا حق دلوائیں گے۔ میں اسے یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت فرما رہے ہیں کہ جو حصے میں نے مقرر کیے ہیں ان سے کوئی شخص حقدار کو محروم نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص دنیا میں وارث کو محروم کرے گا تو میں اسے محروم نہیں رہنے دوں گا اور آخرت میں اُس کے حصے سے کاٹ کر محروم کو دوں گا۔ (سنن ابن ماجہ، باب الحنیف فی الوصیف، حدیث نمبر: 2703)
ہمارے دین میں کسی حقدار کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح بعض قبائل میں عورتوں، بیویوں، بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا، شریعت نے ایسے نہیں کیا بلکہ شریعت نے وراثت کی تقسیم کے لیے اصول بیان کیے ہیں۔
وراثت سے محرومی کی چند صورتیں
شریعت نے وراثت سے محرومی کی چند صورتیں بیان کی ہیں: (1) اختلافِ دین (2) اختلافِ دارین (3) قتل (4) غلامی۔
1۔ اختلافِ دین
وارث اور مورث کا دین اگر مختلف ہو، ایک مسلمان، دوسرا کافر ہو، تو ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہیں۔
2۔ اختلافِ دارین
وارث اور مورث کا وطن اگر مختلف ہو کہ ایک دارالسلام میں رہتا ہو اور دوسرا دارالکفر میں، تو بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہیں۔
3۔ قتل
وارث نے اگر مورث کو قتل کیا ہو، مثلاً اگر باپ نے بیٹے کو، یا بیٹے نے باپ کو قتل کیا ہو، تو قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔
4۔ غلامی
غلام کا وارث اس کا آقا ہوتا ہے۔ اس کی بیوی، بچوں وغیرہ کو اس کی وراثت میں حصہ نہیں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص اپنے وارث کو وراثت سے محروم نہیں کر سکتا ہے کہ وہ کہے کہ میں مالک ہوں جو میری مرضی ہو گی وہ کروں گا، تو ایسا نہیں ہے۔
تفصیلی روایت ہے میں وہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کا مزاج کیا ہے؟ آپ ﷺ حجۃ الوداع پر مکہ تشریف لائے۔ معروف صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے۔ مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گئے۔ بظاہر انسان پر ایسے وقت میں یہ احساس طاری ہو جاتا ہے کہ اب میں کیا کروں؟ ان کی بھی یہ کیفیت تھی، ان کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ میں دنیا سے جا رہا ہوں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ ان کے خیمے میں بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بہت پریشان تھے۔ انہیں دو مسئلوں نے پریشان کیا تھا۔ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! لگتا ہے میں جا رہا ہوں، لیکن دو مسئلوں نے مجھے بہت پریشان کیا ہے:
- ایک یہ کہ مکہ میرا پرانا شہر ہے، یہاں اگر فوت ہو کر یہیں دفن ہو گیا تو ہجرت کے اجر و ثواب کا کیا بنے گا؟ کیا میں ہجرت کے ثواب سے محروم تو نہیں ہو جاؤں گا؟
- دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میری ایک ہی بیٹی ہے، باقی کوئی وارث نہیں، اور میری جائیداد بھی ہے۔ کیا میں اس کا دو تہائی حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر کہا، آدھا حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، پھر کہا: ایک تہائی حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’الثلث کثیر‘‘ ٹھیک ہے، ایک تہائی حصہ بھی بہت ہے۔ مسلمان اپنے وارثوں کو فراوانی میں چھوڑے، یہ بہتر ہے اس سے کہ آپ ان کو محتاج چھوڑیں اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں (صحیح بخاری، باب قول المریض: انی وجع، حدیث نمبر: 5668)۔ تو حضور ﷺ نے سارے مال یا جائیداد کی غیر وارث کے لیے وصیت سے منع فرمایا کہ یہ وارثوں کا حق ہے۔
سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک جوڑا یعنی میاں بیوی ساٹھ ستر سال تک مسلسل اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، لیکن آخری وقت میں وراثت کی تقسیم میں نا انصافی کر کے جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ وراثت میں نا انصافی یہ ہے کہ ورثاء کے جو حصے قرآن کریم میں مقرر کیے گئے ہیں انہیں نظر انداز کر کے اپنی طرف سے حصے مقرر کیے جائیں۔ (سنن ترمذی، ما جاء فی الفرار بالوصیۃ، حدیث نمبر: 2117)
صحیح مسلم کی روایت ہے، ایک صاحب اپنے غلام کو مدبر بنانے لگے۔ اس زمانے میں غلام مدبر بنائے جاتے تھے، اس کا طریقہ یہ تھا، غلام کو کہا جاتا تھا کہ میری زندگی کے آخری سانس تک تم میرے غلام رہو گے اور میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، اس کو ’’مدبر‘‘ بنانا کہا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کے سوا تمھاری کوئی اور ملکیت یا پراپرٹی ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس غلام کو نیلام کر کے قیمت کو اس کے حوالے کر دیا، اور فرمایا کہ یہ لے کے اپنے اوپر خرچ کرو، اگر کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اس سے اگر کچھ بچ جائے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو، پھر اس کے بعد کچھ بیچ جائے تو پھر دائیں بائیں خرچ کرو (صحیح مسلم، باب الابتداء فی النفقۃ بالنفس، حدیث نمبر: 41)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد آزاد کرنا تو وصیت میں شمار ہوگا، اور اُس وقت یہ غلام وارثوں کی مشترکہ ملکیت میں چلا جائے گا۔
خلاصہ یہ کہ شریعت نے پابندی لگائی کہ نہ حصوں میں گڑبڑ کر سکتے ہو، نہ کسی وارث کو محروم کر سکتے ہو۔ مردوں کو بھی، عورتوں کو بھی، سب کو قرآن کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق حصہ ملے گا۔ یہ وراثت کا ایک پہلو ہے۔
وراثت کے احکام اور ہماری ذمہ داری
دوسرا پہلو یہ ہے کہ وراثت کے احکام میں بڑی گڑبڑ ہوتی تھی، بہت سے قبائل میں عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ آج بھی ہمارا معاشرتی کلچر ایسا بن گیا ہے کہ اس میں بالعموم عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ہماری عدالتوں میں بھی اس حوالے سے فیصلے سامنے آتے رہتے ہیں اور ان پر فاضل جج صاحبان کی جانب سے تبصرے (Remarks) بھی آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے وراثت کے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بیٹی اور بہن کو وراثت میں حصہ نہ دینے کا رجحان عام ہے، جو شریعت کے منافی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔
محترم جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ان ریمارکس میں معاشرہ کی ایک بہت بڑی خرابی اور نا انصافی کی عکاسی کی ہے جو ہمارے ہاں اس قدر سرایت کیے ہوئے ہے کہ اچھے خاصے مذہبی اور دیندار لوگ بھی اس کا شکار ہیں۔ اور یہ بات بھی ایک معاشرتی حقیقت ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت کے حصے سے محروم رکھنے کے لیے طرح طرح کے حیلے کیے جاتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر زبان سے نہ بھی کہا جائے تو معاشرتی دباؤ ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وراثت میں حصہ لینے والی خواتین کو اپنے بھائیوں کا ہمدرد تصور نہیں کیا جاتا، اور بہت سی بیٹیاں اور بہنیں اس طعنے سے بچنے کے لیے وراثت کے حق سے دستبرداری اختیار کر لیتی ہیں۔
ایک دفعہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے پاس ایک صاحب بیٹھے تھے، والد محترم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے والد کی وفات کے بعد بہنوں کو زمینوں میں حصہ دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے حقِ وراثت سے دستبردار ہو گئی ہیں۔ والد صاحب نے پوچھا کہ کیا وہ زمین ان کے قبضے میں تھی جس سے وہ دستبردار ہوئی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ان کے قبضہ میں تو نہیں تھی۔ والد صاحب نے فرمایا کہ وہ پھر دستبردار کس چیز سے ہوئی ہیں؟ پھر فرمایا کہ بھائی دستبرداری اسے نہیں کہتے، ان کے حصہ کی زمین ان کے نام کرا کے کاغذات ان کی تحویل میں دے دو، پھر ان سے کہو کہ وہ اپنے حصہ کی زمین تمھیں ہبہ کر کے واپس کر دیں۔
اس کے لیے انگریز کے دور میں ہمارے بزرگوں نے خواتین کے حقِ وراثت کے لیے باقاعدہ تحریک چلائی تھی۔ جناب حکیم الامت تھانوی صاحبؒ نے پنجاب میں ایک مہم چلوائی تھی۔ آج بھی علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اس موضوع کو اپنے خطابات اور دروس میں بیان کریں۔ حکومتوں سے ہمیں زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا مذکورہ بالا تبصرہ اس صورت حال میں انتہائی حوصلہ افزا ہے، البتہ اس کے لیے ایک زبردست معاشرتی تحریک کی ضرورت ہے کہ وراثت اور دیگر معاملات میں باہمی حقوق کی ادائیگی کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے اور اس کے لیے مسجد و مدرسہ کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی متحرک کیا جائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی
الحمد للہ وکفیٰ والصلوٰۃ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد۔
یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے کہ علمِ مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء کیسے ہوا؟ یعنی یہ جو علم ہے، مشکلات القرآن، عہدِ تدوین سے لے کر موجودہ دور تک اس میں کس قسم کی تبدیلیاں آئیں؟ تو اس مقالے میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ جو تعارفی جائزہ ہو گا، اس میں ہم بنیادی طور پر تین دائروں میں بات کریں گے:
- پہلی بات یہ ہے کہ مشکلات القرآن کے موضوع کو منتخب کرنے کی بنیادی وجہ، یعنی میں نے اس موضوع کو کیوں منتخب کیا، اس موضوع میں وہ کون سے خلا تھے، میری نظر میں جن پر کام کیا جا سکتا تھا۔
- جو بحثِ دوم ہو گی اُس میں اِس مقالے کے خصوصی مباحث کا ہم ذکر کریں گے۔ یعنی اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ بطور مقالہ نگار جو میں نے اس میں اضافے کیے، یا جو میری کوشش ہے، وہ آپ دیکھ لیں گے کہ کس حد تک کامیاب ہوئی ہے۔
- اور تیسرے نمبر پر، مقالے کے جو دیگر عمومی مباحث ہیں، اس کی ہم صرف ایک فہرست پیش کر دیں گے کہ اس مقالے میں مزید یہ یہ چیزیں بھی ہیں۔ اور ظاہر ہے کچھ بہت بنیادی نوعیت کی چیزیں ہوتی ہیں، تو ان کا آپ حضرات کے سامنے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بحثِ اول: مشکلات القرآن کا موضوع منتخب کرنے کی بنیادی وجہ
میں آپ کے سامنے مشکلات القرآن کی تعریف وغیرہ میں نہیں جاؤں گا، مختصراً آپ یوں سمجھ لیں کہ مشکلات القرآن سے مراد وہ علم ہے جس میں قرآنی آیات میں کسی بھی وجہ سے کوئی اشتباہ پیدا ہو۔ یعنی قرآنی آیات میں کسی بھی وجہ سے کوئی اشکال، کوئی اشتباہ، کوئی بھی اعتراض، یا کسی وجہ سے کوئی خِفا پیدا ہو، تو اس علم کو ہم مشکلات القرآن کا علم کہتے ہیں۔ اور مقالے کے شروع میں، میں نے اس اصطلاح پر بھی بات کی ہے کہ علوم القرآن کے علماء کے ہاں یہ اصطلاح کیسے استعمال ہوتی ہے۔ اور جو علماءِ علوم القرآن ہیں انہوں نے اس کی کتنی تعریفیں کی ہیں۔ مختلف قسم کی تعریفیں کی گئی ہیں، تو گویا کہ یہ اصطلاحی جائزہ بھی اس میں لیا گیا ہے۔ تو اس لیے آپ کے سامنے میں اُن تعریفات میں نہیں گیا کہ آپ سارے ما شاء اللہ اہلِ علم ہیں، اس کو سمجھتے ہیں۔
کتب کی درجہ بندی
اب دیکھیں، جو مشکلات القرآن کی کتب ہیں، اگر ہم اس کو کیٹیگرائز کریں تو وہ دو طرح سے ہیں:
(۱) مشکلات القرآن کی مختلف انواع
پہلی قسم وہ کتابیں ہیں جس میں مشکلات القرآن کی مختلف انواع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یعنی جو قرآن پاک کے مشکل مقامات ہیں، ان میں اس کی تاویل اور توجیہ کی گئی۔ مثلاً ایک آیت ہے ’’وارجلکم الی الکعبین‘‘۔ اب اس آیت میں اشکال ہوتا ہے، تو اس اشکال پر بحث کی گئی، کیف متفق۔ یہ جو کتابیں ہیں، عام طور پر انہی کو مشکلات القرآن کی کتابیں کہا جاتا ہے۔
’’تاویل مشکل القرآن‘‘
جیسے اس میں سب سے پہلی اور مشہور کتاب ابن قتیبہ دینوری کی ’’تاویل مشکل القرآن‘‘۔ مشکلات القرآن کی بالکل صدرِ اول کی کتابوں میں سے ہے۔[1]
اس کتاب کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں جو قرآن پاک میں لغوی اشکالات ہوتے ہیں، جو استعارے سے متعلق کوئی اشکال ہے، جو اعراب سے متعلق کوئی اشکال ہے، تو وہ باب باندھتے ہیں، عنوان باندھتے ہیں، اور اس کے تحت جو آیات ہوتی ہیں، ان آیات کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں، اس کی توجیہ اور تاویل کرتے ہیں۔ کیف متفق۔ جیسے ان کے ذہن میں آیا، تو وہ اس پر بات کرتے ہیں۔
’’وضع البرہان فی مشکلات القرآن‘‘
یا اسی طرح محمود بن حسن النیسابوری کی ایک کتاب ہے، بڑی مشہور ہے، ’’وضع البرہان فی مشکلات القرآن‘‘۔ یہ بھی اسی انداز کی کتاب ہے، اس میں بھی گویا کہ مشکلات القرآن کی مختلف قسم کی آیتوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔[2]
’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘
اسی طرح ایک بڑی مشہور ہے عز الدین عبد العزیز بن عبد السلام کی ’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘ ۔ بڑی مشہور کتاب ہے، اس میں بھی انہوں نے سورہ فاتحہ سے لے کر قرآن کے آخر تک جو جو آیتیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی نہ کوئی اشکال ہے، کوئی نہ کوئی توجیہ کی ضرورت ہے، تو انہوں نے اس میں اس کو ذکر کیا ہے۔[3]
’’تفسیر آیات اشکلت علیٰ کثیر من العلماء‘‘
اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک مختصر سا رسالہ ہے ’’تفسیر آیات اشکلت علیٰ کثیر من العلماء‘‘، جس میں چند ان آیتوں کو انہوں نے لیا جس میں حضرت سمجھتے ہیں کہ اہلِ علم پر یہ مخفی ہے، یا اس میں کوئی نہ کوئی اشکال ہے، تو انہوں نے ان آیتوں کو اس میں جمع کیا ہے۔[4]
’’مشکلات القرآن‘‘
اسی طرح حضرت انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ، ان کی کتاب ’’مشکلات القرآن‘‘ بڑی معروف ہے۔[5]
تو یہ مشکلات القرآن کی چند بنیادی ترین کتابیں ہیں۔ اب ان کتابوں میں ایک سقم ہے۔ وہ سقم کیا ہے، کہ یہ کتابیں تو ہیں بڑی اہم، لیکن اس میں مشکلات القرآن کی اقسام کا استیعاب نہیں کیا گیا۔ یعنی مشکلات القرآن کی جتنی قسمیں بن سکتی ہیں، منطقی ترتیب سے، اس منطقی ترتیب سے اس میں ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اہلِ علم اپنے اس علم کی بنیاد پر قرآن پاک کی جن آیتوں کے بارے میں سمجھتے تھے کہ ان میں کوئی اشکال ہے، تو وہ آیتیں ذکر کرتے تھے اور اس میں توجیہ اور تاویل، یا رفعِ اشکال اپنے انداز میں کرتے تھے۔ گویا کہ کتابیں تو اہم ہیں لیکن ان کتابوں میں استیعاب نہیں۔
(۲) مشکلات القرآن پر معاصر کتب
اس کے بعد دوسری قسم میں دراصل کچھ معاصر کتابیں ہیں مشکلات القرآن پر، جن میں اس موضوع پر کام کیا گیا ہے۔
’’مشکل القرآن الکریم‘‘
اب اگر ان کتابوں میں ہم دیکھیں تو اس میں خاص طور پر عرب دنیا میں بڑی مشہور کتاب ہے، اگر آپ گوگل پہ سرچ کریں مشکلات القرآن، تو آپ کو یہ کتاب نظر آئے گی ’’مشکل القرآن الکریم‘‘ عبد اللہ بن حمد المنصور کی۔ یہ جو کتاب ہے یہ دراصل جامعہ امام احمد بن سعود سے ایک ایم اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کافی بہترین ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے علمِ مشکلات القرآن پر بڑی جامع قسم کی بحث کی ہے، اور خاص طور پر اس کے انواع پر بحث کی ہے، کہ مشکلات القرآن کی کتنی انواع بن سکتی ہیں، یعنی کتنے اعتبارات سے قرآن پاک کی آیات پر اشکال ہو سکتا ہے۔ تو اس میں انہوں نے کوئی پندرہ کے قریب انواع کا ذکر کیا ہے۔ گویا کہ یہ کتاب کافی حد تک بہترین ہے، لیکن اس میں بھی بعض پہلو تِشنہ ہیں، وہ جب ہم اپنے مقالے کی بات کریں گے تو پھر آپ کے سامنے آجائے گا کہ کون کون سی باتیں اِس کتاب میں نہیں ہیں۔[6]
’’المؤلفات فی مشکل القرآن ومناہجھا‘‘
اسی طرح ایک دوسری کتاب ہے، یہ بھی مدینہ منورہ ہی کے ایک صاحب ہیں، عبد الرحمان بن سند الرحیلی۔ ان سے میرا رابطہ بھی ہوا تھا، جب میں مشکلات القرآن پہ کام کر رہا تھا۔ انہوں نے ماشاء اللہ ایک پی ایچ ڈی مقالہ بہت بہترین لکھا ہے ’’المؤلفات فی مشکل القرآن ومناہجھا‘‘۔ اس میں انہوں نے چودہ صدیوں کی جو مشکلات القرآن کی کتب ہیں، ان کا انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مخطوط ہے، مطبوع ہے، اور صدی وار ذکر کیا ہے۔ میرے مقالے کا جو کتابوں والا باب ہے، وہ میں نے زیادہ تر یہاں سے لیا ہے، لیکن اس پر کچھ اضافے بھی کیے ہیں، اپنی طرف سے بھی کچھ کتابیں میں نے ڈھونڈی ہیں۔ لیکن بہرحال اس میں بڑا حصہ اس کتاب کا ہے۔ تو گویا کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد مشکل القرآن کی کتب کا ذکر ہے۔ جس طرح پچھلی کتاب میں انواع تھیں، کتابیں نہیں تھیں، اِس کتاب میں کتابیں تو ہیں لیکن انواع کا بھی مختصر سا ذکر ہے، لیکن زیادہ زور کتابوں پہ دیا گیا ہے۔ تو یہ بھی ایک اچھی کتاب ہے۔[7]
’’المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن‘‘
اس کے بعد ایک اور کتاب ہے ’’المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن‘‘۔ یہ کتاب مجھے ملی تو نہیں لیکن اس کا تعارف پڑھا تو اس کتاب میں انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ مشکلات القرآن کو حل کرنے کے لیے مختلف تفاسیر نے کیا منہج اختیار کیا ہے۔ تو ایک اصولی قسم کی بحث کی ہے۔[8]
اب یہ جتنی بھی کتابیں ہیں، جو مشکلات القرآن کے قدیم مصادر تھے، جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا، یا جو معاصر کتابیں ہیں، تو ان سب کتابوں میں:
- ایک منطقی ترتیب سے علمِ مشکلات القرآن کے تاریخی ارتقاء کا ذکر نہیں ہے۔
- اسی طرح خاص طور پر مشکلات القرآن کی انواع اور اقسام کا استیعاب ان کتابوں میں نہیں تھا۔
- اور تیسری بات یہ ہے کہ دورِ جدید میں بھی کیا مشکلات القرآن کی کوئی انواع وجود میں آئیں؟ یعنی کوئی ایسی چیزیں وجود میں آئی ہیں جن کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک پر ہونے والے اشکالات، یا قرآن پاک کی آیتوں میں خفا میں اضافہ ہو گیا ہو۔ تو دورِ جدید کے حوالے سے تو ان کتابوں میں مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اِن وجوہات کی بنیاد پر میں نے سوچا کہ ایک ایسا مقالہ لکھا جائے جس میں: ایک تو اس علم کی مفصل تاریخ ہو۔ دوسرا، جو اشکالات قرآن پاک پر ہوتے ہیں، اس کی کتنی انواع بن سکتی ہیں، یا ابھی تک کتنی انواع وجود میں آئی ہیں، تو اس کا امثلہ کے ساتھ اس میں ذکر ہو، اور تیسرا، دورِ جدید میں مشکلات القرآن کی کون کون سی انواع ہیں، تو اس کا بھی اس میں ذکر ہو۔ تو گویا کہ اس بنیاد پر اس مقالے کو منتخب کیا گیا کہ اِن اِن جہات پر کام کرنے کی ضرورت تھی۔
حواشی
- ابو عبد اللہ بن مسلم بن قتیدہ الدینوری، تاویل مشکل القرآن، دارالکتب العلمیۃ، بیروت 1435ھ
- محمود بن الحسن النیسابوری، وضع البرہان فی مشکلات القرآن، دارالقلم، دمشق 1410ھ
- عز الدین عبد العزیز بن عبد السلام، فوائد فی مشکل القرآن، دارلشروق، جدہ 1402ھ
- احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیۃ، تفسیر آیات اشکلت، مکتبہ الرشد، ریاض 1417ھ
- محمد انور شاہ الکاشمیری، مشکلات القرآن، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان 1414ھ
- عبد اللہ بن حمد المنصور، مشکل القرآن الکریم، دار ابن جوزی، بیروت 1426ھ
- عبد الرحمٰن بن سند الرحیلی کا پی ایچ ڈی مقالہ بہ عنوان ’’المؤلفات فی مشکل القرآن و مناہجھا‘‘۔
- المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن، ریاض مفضی، یہ جامعہ اٰل البیت اردون سے ماجستیر کا مقالہ ہے۔
https://youtu.be/VhTHNQFwSLI
(جاری)
سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد کے ساتھ مکالمہ
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
چوتھا محور
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر
اس محور میں صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر تحقیقی کام، اس کے مناہج، موجودہ مطالعات کے نقائص، اور مستقبل کی تحقیقی ضروریات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس محور میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:
- تفسیرِ صحابہؓ پر تحقیق: موضوع کی اہمیت اور انتخاب کی وجوہات
- تفسیرِ صحابہؓ کو یکجا کرنے میں موجودہ مطالعات کے نقائص
- تفسیرِ صحابہؓ: نظریاتی اصول اور عملی تطبیق میں تضاد
- صحابہؓ کی تفسیر کے مضبوط اور جامع مطالعے کا منہج: اہم خصوصیات
- تحقیق سے حاصل شدہ نتائج اور مستقبل کا لائحہ عمل
سوال 1: تفسیرِ صحابہؓ پر تحقیق: موضوع کی اہمیت اور انتخاب کی وجوہات
تفسیرِ سلف پر تحقیقی کام کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، تاہم آپ نے خصوصاً صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر کام کیا، جسے آپ نے اپنی علمی تحقیق "المفسرون من الصحابۃ؛ جمعا ودراسۃ وصفیۃ" کے عنوان سے جمع و مرتب کیا۔ اس تحقیق کو جمعیۃ تبیان کی جانب سے دراساتِ قرآنیہ میں تحقیقی تمیز کے انعام سے نوازا گیا۔ کیا آپ ہمیں اس موضوع کے انتخاب کے پس پشت کارفرما اہم اسباب سے آگاہ فرمائیں گے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میری کتاب "المفسرون من الصحابۃ" دراصل وہی تحقیقی مقالہ ہے جس پر مجھے سنہ 1436ھ میں ایم اے کی ڈگری عطا ہوئی۔ یہ موضوع دراصل "طبقات المفسرین" کے عنوان سے ایک علمی منصوبے کی ایک کڑی تھا، جسے "کلیۃ القرآن الکریم، مدینہ منورہ" نے اپنے زیر اہتمام شروع کیا تھا۔
یہ منصوبہ پہلے دو صدیوں (صحابہؓ و تابعینؒ) کے مفسرین کو چھوڑ کر آگے بڑھ چکا تھا، اور محققین نے تیسری صدی سے پندرھویں صدی ہجری تک کے مفسرین کے طبقات پر کام کا آغاز کر دیا تھا۔ منصوبے کی ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی تھی، جس کے تحت ہر محقق نصف صدی کے مفسرین کا تفصیلی مطالعہ کرتا تھا۔
میں نے اس موقع پر چاہا کہ اسی علمی دائرے میں سے ہی کوئی موضوع اختیار کروں تاکہ منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ چنانچہ میں نے اس وقت کے معاون نگرانِ اعلیٰ فضیلۃ الاستاذ الدکتور محمد بن عبد العزیز العواجی سے مشورہ کیا، جو مقالہ ہٰذا کے نگران بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ابتدائی دو صدیوں کے متعلق ابھی کچھ کام ادھورا ہے، اور ان دو صدیوں کی نوعیت دیگر صدیوں سے مختلف ہونے کے سبب ان پر الگ منصوبہ بندی اور کام کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان دو صدیوں پر اتنی کثیر تصانیف اور جامعاتی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک گویا اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔
میں نے اس دعوے کی جانچ کے لیے ان صدیوں سے متعلق تمام علمی تصانیف، مقالات اور تحقیقی مواد جمع کیا، تو معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر صرف دس صحابہؓ تک محدود چند تحقیقات موجود ہیں، جبکہ تابعین کی تفسیر پر محض چوبیس تابعین کے تراجم پر کام ہوا ہے۔ یہی حال اتباع التابعین کے طبقہ کے ساتھ بھی ہے۔ چنانچہ میں نے ابن المنذر، البستی، الطبری، ابن ابی حاتم اور السیوطی کی مسند تفسیروں کا مطالعہ کیا، تاکہ عملی میدان میں سلف کی تفسیر کی حقیقی صورت معلوم ہو۔ ان مصادر کے مطالعے سے واضح ہوا کہ ان میں تینوں طبقات (صحابہ، تابعین، اتباع التابعین) کے تقریباً پانچ سو مفسرین کے اقوال و روایات محفوظ ہیں، اور ہر ایک کے آثارِ مَروِیہ تفصیلی مطالعے کے متقاضی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض مفسرین کی مرویات علومِ قرآن میں مذکور مشہور مفسرین سے بھی زیادہ ہیں، اور اس تحقیق ان دو صدیوں سے متعلق متعدد علمی کمزوریاں اور وہ پہلو سامنے آئے جو اب تک کسی نے موضوع بحث نہیں بنائے، حالانکہ وہ نہایت اہم ہیں۔
ان نتائج نے مجھے حیران کر دیا اور اسی وقت میرا ارادہ مزید پختہ ہو گیا کہ میں اس مبارک طبقے، یعنی صحابہ کرامؓ کے تفسیری منہج کا تفصیلی مطالعہ کروں اور اسی کو موضوع بحث و تحقیق بناؤں۔ چنانچہ میں نے طبقۃ الصحابۃ کی تفسیر کا وصفی مطالعہ کیا، موضوع کے منتشر پہلوؤں کو یکجا کیا، اس کے مختلف مسائل و مباحث کو واضح کیا اور ان کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں مرکز تفسیر للدراسات القرآنیۃ نے اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے نہایت خوبصورت انداز میں شائع کیا۔ یہ اشاعت اس بڑی اور مبارک "موسوعۃ التفسیر بالماثور" (مرتبہ: معہد الشاطبی) کے منظر عام پر آنے سے تقریباً تین یا چار سال قبل ہوئی۔ اس موسوعہ اور میری کتاب کے درمیان صحابہؓ کی مرویات کے عددی پہلو میں چند نمایاں اختلافات پائے گئے، جن کی تفصیل میں ان شاء اللہ ایک علیحدہ مقالے میں بیان کروں گا۔ اور میری خواہش ہے کہ آئندہ، اللہ کے فضل و توفیق سے، اس کتاب سے متعلق چند تحقیقی مقالات شائع کروں، جن میں بعض مباحث کی مزید توضیح، چند مقامات پر اصلاح، اور کچھ نئی معلومات کا اضافہ کیا جائے گا، جو مجھے کچھ ساتھیوں کے توسط سے معلوم ہوئیں یا مزید بحث و تحقیق سے سامنے آئیں۔ واللہ ولی التوفیق وہو حسبی ونعم الوکیل۔
سوال 2: تفسیرِ صحابہؓ کو یکجا کرنے میں موجودہ مطالعات کے نقائص
جیسا کہ آپ نے ذکر فرمایا کہ آپ نے متعدد تحقیقات اور علمی رسائل کا مطالعہ کیا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کے اقوال کو یکجا کیا گیا تھا، تو کیا آپ صحابہ کرامؓ کے اقوالِ تفسیریہ کو یکجا کرنے کے طریقہ کار میں موجود اہم اشکالات پر ہمیں مطلع کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
صحابہ کرامؓ کے اقوال تفسییریہ کو جمع کرنے کے لیے کی گئی مطالعات میں متعدد پہلوؤں سے مختلف نوعیت کے اشکالات پائے جاتے ہیں۔ تاہم طریقِ جمع سے متعلق جو نمایاں اشکالات ہیں، وہ حسبِ ذیل ہیں:
پہلا اشکال: مفہومِ علمِ تفسیر کی تعیین میں اضطراب
اکثر مطالعات میں تفسیر کا معنی یا تعریف کی کوئی حد متعین نہیں کی گئی، جس کے دائرہ کار میں رہ کر کام کیا جاتا۔ جس کے نتیجے میں عملی تطبیق میں شدید خلط مبحث پیدا ہوا۔ چنانچہ بہت سی تحقیقات میں ایسی روایات بھی شامل کر لی گئیں جن کا تفسیر سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، مثلاً آیات کے اعداد و شمار کے متعلق اقوال وغیرہ۔ بعض تحقیقات میں ایسی غیر متعلق روایات کی شرح نصف کے قریب اور بعض میں دو تہائی سے بھی تجاوز کر گئی، روایاتِ مکررہ کو ملا کر۔
دوسرا اشکال: مصادرِ تفسیر کے استیعاب میں کوتاہی
کئی مطالعات میں اقوالِ صحابہؓ جمع کرنے کے دوران بعض اہم مصادر کو نظرانداز کر دیا گیا۔ جیسے بعض مطالعات میں امام سیوطی کی "الدر المنثور" کو شامل نہیں کیا گیا، بعض میں ابن ابی حاتم اور البستی وغیرہ کی تفاسیر کو چھوڑ دیا گیا۔
تیسرا اشکال: طریقۂ کار کا صحیح تصور نہ ہونے کے سبب کئی روایات رہ جانا
تفسیرِ سلف کے ابواب میں طریقۂ کار کا صحیح تصور نہ ہونے کی وجہ سے کئی روایات چھوٹ گئیں۔ مثلاً بعض مطالعات نے اسباب النزول کی روایات کو محض اس بنیاد پر شامل نہیں کیا کہ وہ "حدیثِ مرفوع" کے زمرے میں آتی ہیں، جبکہ یہ حکم مطلق نہیں بلکہ اس سلسلے میں تفصیل موجود ہے۔ اسی طرح بعض محققین نے امام سیوطی کی ان روایات کو بھی نظر انداز کر دیا جنہیں انہوں نے گم شدہ مصادر مثلاً تفسیر ابن مردویہ وغیرہ سے نقل کیا تھا۔ اور اس طرح کے دیگر مسائل۔
چوتھا اشکال: روایات کا بغیر کسی اصول و ضابطہ کے تکرار
بعض محققین نے کچھ روایات کو محض اس وجہ سے دہرایا ہے کہ روایت اس جیسی آیات کے ضمن میں وارد ہوئی، یا ایک ہی مقام پر متعدد اسانید سے منقول ہے۔ یہاں تک کہ ایک رسالہ میں مکررہ روایات کی تعداد کل مواد کے نصف سے بھی زیادہ پائی گئی۔
پانچواں اشکال: روایات کے جمع کرنے کے طریقہ کار میں خرابی
بعض تحقیقات میں کچھ مرویات کو محض اس صحابی کی مرویات ہونے کی بنا پر شامل کر لیا گیا جن کی تفسیری روایات کو اکٹھا کرنا مقصود تھا، اگرچہ ان مرویات کا تفسیر سے کوئی تعلق نہ ہو، جبکہ مقصود موضوعِ تفسیر سے متعلق روایات کا اکٹھا کرنا تھا۔
چھٹا اشکال: سلف کی شخصیات میں تمیز نہ کرنا
بعض محققین نے سلف کی شخصیات میں تمیز اور تحقیق کا خیال نہیں رکھا۔ مثال کے طور پر کچھ مطالعات حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی تفسیری روایات پر مبنی تھیں، لیکن ان میں ہر اس راوی کی روایات شامل کر دی گئیں جن کا نام "حسن" تھا — چاہے وہ حسن بصری ہوں یا حسن جعفی — بغیر کسی تحقیق، تمیز یا احتیاط کے۔
ساتواں اشکال: مرفوع احادیث کو تفسیرِ صحابی میں شامل کر لینا
بعض تحقیقات میں احادیثِ مرفوعہ کو بھی روایت کرنے والے صحابی کی ذاتی تفسیر میں شامل کر لیا گیا، اور ان کے بارے میں نہ کوئی وضاحت دی گئی اور نہ کوئی ضابطہ قائم کیا گیا۔ جس سے احادیثِ مرفوعہ، موقوفہ سے الگ نہ ہو سکیں، جبکہ درحقیقت وہ احادیثِ مرفوعہ تھیں نہ کہ صحابیؓ کی ذاتی تفسیر۔
سوال نمبر 3: تفسیرِ صحابہؓ: نظریاتی اصول اور عملی تطبیق میں تضاد
تفسیر کے بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن کے بارے میں نظریاتی کتب میں کوئی واضح فکری اصول مرتب نہیں کیے گئے، حالانکہ عملی تفاسیر میں ان کا اطلاق موجود ہے۔ یہ بات کچھ تحقیقی کاموں سے ثابت ہوتی ہے، جیسے "اصول التفسیر فی المؤلفات؛ دراسۃ وصفیۃ موازنۃ" نامی مطالعہ۔ چونکہ آپ نے صحابہ کرامؓ کی تفسیر کو جمع کرنے اور اس پر تحقیق کرنے میں وسیع کام کیا ہے، تو آپ اس بات سے کتنا اتفاق کرتے ہیں؟ اور آپ کو کون سے اہم موضوعات ایسے ملے جن میں عملی تفسیری کام اور رائج نظریاتی اصولوں میں واضح تضاد نظر آیا؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میں اس مقالے سے کافی حد تک اتفاق رکھتا ہوں۔ جب کوئی اصولِ تفسیر کی کتابوں پر غور کرے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ تفسیر کی کتب سے صحیح طریقے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اسی لیے ان تصنیفات میں اصولِ تفسیر کی اصل روح نظر نہیں آتی، اس علم میں اصول سازی اور نظریہ بندی کے لحاظ سے ان کی ساکھ کمزور رہی، اور وہ تجدید اور ترقی کی روح سے بھی دور رہیں۔ یہ کمی خاص طور پر تفسیرِ صحابہ پر زیادہ اثر انداز ہوئی، کیونکہ تفسیرِ صحابہؓ تفسیر کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی تفسیر کی تحقیق میں مجھے کئی اہم مسائل ایسے ملے جن میں تفسیر کا عملی طریقہ اور مشہور نظریاتی اصولوں میں نمایاں فرق دکھائی دیا، ان میں سے اہم یہ ہیں:
تفسیر کا مفہوم
مفہومِ تفسیر میں سلف کی مختلف آراء ہیں، کچھ کے نزدیک تفسیر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور کچھ کے نزدیک مختصر ہے۔ جبکہ صحابہؓ کی تفسیر کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی تفسیر غالباً معانی کی تشریح و وضاحت پر مشتمل ہے، دیگر پہلو جیسے لطائف اور فوائد بہت کم زیر غور آئے۔
اسرائیلیات کے مسائل
جدید مطالعات میں کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر اسرائیلیات کی روایت کی ابتدا تابعین سے ہوئی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحابہؓ کی تفسیر میں اسرائیلیات کی تعداد کافی زیادہ تھی تقریباً نو سو (900) روایتیں، جو مجموعی تفسیر کا تقریباً 10٪ ہیں۔
اسرائیلیات کے ذکر کرنے کا مقصد
بعض تحقیقات کے مطابق صحابہؓ نے اسرائیلیات صرف از راہ تفنن ذکر کیں نہ کہ تفسیر بیان کرنے کے لیے، لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ روایات اکثر آیات کی تفسیر کے لیے ذکر کی گئیں، اور بعض آیات کی تفسیر ان کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
تفسیر میں سلف کے مکاتبِ فکر
بعض جدید تحقیقات سلف کی تفسیر کو مختلف فکری مکاتب اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تفسیری منہج یکساں تھا، اس لیے انہیں الگ الگ مذاہب میں تقسیم کرنا درست نہیں۔
سلف کے جائے رہائش سے متعلق
جدید تحقیقات جنہوں نے سلف کو تفسیر کے منہج کی بنیاد پر مختلف مکاتبِ فکر میں تقسیم کیا ہے، انہوں نے انہیں صرف تین یا زیادہ سے زیادہ چار مکاتب میں محدود کر دیا: مکہ، مدینہ، اور عراق (اور اگر تفصیل کریں تو کوفہ اور بصرہ الگ الگ ہیں)۔
جبکہ تحقیق سے حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ سلف کی تعلیم و تربیت صرف مکہ، مدینہ اور عراق تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ شام، یمن، مصر وغیرہ میں بھی علم پھیلاتے رہے۔ نیز بعض صحابہؓ ایک سے زیادہ مقامات پر مقیم رہے، جس کی وجہ سے انہیں مکاتبِ فکر میں تقسیم کرنا ہی غلط ثابت ہوتا ہے۔
تفسیر کے طریقے اور اقسام
اصولِ تفسیر کی کتب میں عموماً تفسیر کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں (1) تفسیر القرآن بالقرآن (2) تفسیر القرآن بالسنہ۔ اور ان دونوں کے تحت مختلف اقسام بیان کی جاتی ہیں جیسے: بیانِ مجمل، اطلاقِ مقید، تخصیصِ عام، وغیرہ۔ لیکن تفاسیر کا بخوبی مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان تقسیمات کا تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اصولِ فقہ سے لی گئی ہیں۔
مفسرین صحابہؓ کی تعیین
اکثر کتب میں مشہور مفسرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ آٹھ یا دس بتائی جاتی ہے، لیکن مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جن صحابہؓ سے تفسیر روایت کی گئی ان کی تعداد تقریباً ایک سو تک تھی۔ اور ان صحابہؓ سے، جنہیں کتابوں میں مشہور کہا گیا ہے، انتہائی کم مَرویات ملتی ہیں، اور بعض کی تو بلکہ کوئی روایت نہیں ملتی۔ اور بعض غیر مشہور صحابہؓ جن کا علومِ قرآن کی کتب میں ذکر تک نہیں کیا گیا، ان کی مرویات دس مشہور صحابہؓ سے بھی زیادہ ہیں۔ تو اس مسئلہ پر نظرثانی کی ضرورت ہے، اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ علماء نے جو شہرت کا ذکر کیا ہے اس سے ان کی مراد کیا ہے۔
سوال 4: صحابہؓ کی تفسیر کے مضبوط اور جامع مطالعے کا منہج: اہم خصوصیات
آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ آپ نے تفسیرِ صحابہؓ کے مضبوط اور پختہ مطالعہ کیلئے ایک منصوبہ بندی کی ہے تو کیا آپ اس منصوبے کی نمایاں خصوصیات سے ہمیں آگاہ فرمائیں گے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
یہ منصوبہ دراصل صحابہ کرامؓ کے مصادرِ تفسیر کا تحلیلی مطالعہ ہے، جس کا مقصد ایک طرف یہ واضح کرنا ہے کہ وہ کن ذرائع سے قرآن کی تفسیر کرتے تھے اور ان کے بیان تفسیر کے پہلو کیا ہیں۔ اور دوسری طرف یہ منصوبہ اسی تفسیرِ صحابہؓ کی بنیاد پر اصولِ تفسیر کی تشکیل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ مفسرین کے ان آثار کے فہم اور ان سے استفادہ کے طرق سے بھی مدد لی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں، میں نے صحابہ کرامؓ کے اقوالِ تفسیریہ کو جمع کیا، پھر انہیں ان کے مصادرِ تفسیر کی بنیاد پر مرتب کر کے ان کے مطالعے کا آغاز کر دیا ہے، کچھ حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ البتہ سلف صالحین کی تفسیر سے متعلق ایسے مباحث پوری پختگی اور مہارت کے ساتھ سامنے آنے کے لیے طویل محنت کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے کلام کی تحلیل و تہذیب میں متعدد دشواریاں پیش آتی ہیں۔
میں نے اسی منصوبے کا ایک تحقیقی مقالہ "الجامعۃ الاسلامیۃ للعلوم الشرعیۃ" کے شمارہ 191 میں شائع بھی کیا ہے، جس کا عنوان ہے: "تفسیر القرآن بتاریخ العرب عند الصحابۃ رضی اللہ عنہم؛ جمعا ودراسۃ وصفیۃ"۔ اس میں صرف وصفی مطالعہ شامل کیا ہے جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے تاکہ علمی مجلہ کے دائرہ کار کے مطابق ہو۔ اس میں ابھی مطلوبہ تحلیلی پہلو شامل نہیں کیے گئے۔ تاہم یہ وصفی مطالعہ بھی اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
سوال 5: تحقیق سے حاصل شدہ نتائج اور مستقبل کا لائحہ عمل
تفسیرِ صحابہؓ پر ریسرچ کے دوران آپ کے سامنے کیا نئے علمی پہلو ابھر کر آئے؟ اور آپ کی نظر میں مستقبل میں کن تحقیقی موضوعات پر کام کرنا اس تفسیر کی خدمت کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میں ان اہم پہلوؤں کو درج ذیل نکات میں سمیٹ کر پیش کر رہا ہوں:
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر کا بعد کے لوگوں پر اثرات کا مطالعہ کرنا۔
- ان مقامات کا تتبع کیا جائے جہاں مفسرین صحابہؓ نے سکونت اختیار کی، اور وہاں ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
- ہر صحابی کی تفسیر کا الگ الگ تجزیاتی مطالعہ تاکہ ان کی خاص خصوصیات اور امتیازات واضح ہوں۔
- صحابہ کرامؓ کے تفسیری اسالیب و طرق کا مطالعہ۔
- تفسیر میں صحابہؓ کے مصادر اور مراجع کا تجزیاتی مطالعہ۔
- تفسیر صحابہؓ پر حالات و زمانہ کے اثرات کا جائزہ۔
- صحابہ کرامؓ کا تفسیر میں قرآن و سنت آثار و لغت کے طرق استعمال کا مطالعہ۔
- صحابہ کرامؓ کے ہاں علومِ قرآن کے مباحث کا مطالعہ۔
- تفسیر میں صحابہؓ کے باہمی اختلافات کا جائزہ۔
- صحابہؓ کی تفسیر میں عربی زبان کے عام قواعد سے ہٹ کر آنے والے مقامات کا مطالعہ۔
(جاری)
صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ترجمہ : ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود
امام مسلم بن حجاج نیشاپوری (متوفی: ۲۶۱ھ) کی کتاب صحیح مسلم کا شمار سنتِ نبوی کی جلیل القدر کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ اہلِ علم کے نزدیک امام محمد بن اسماعیل بخاری کی صحیح بخاری کے بعد حدیث کی معتمد ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ منصۂ شہود پر آنے کے بعد سے ہی اس پر وسیع علمی کام ہوا ہے۔ علما نے اس کی روایت، کتابت، سماع، ضبط و شرح کا اہتمام کیا، صدیوں نسل در نسل یہ کتاب علمی حلقوں میں پڑھی جاتی رہی، یہاں تک کہ حدیث کے اہم مصادر میں شمار ہونے لگی اور فقہا ومحدثین نے استنباط واستدلال میں اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم کے مخطوطات، روایات، شروح اور اس کتاب کے حوالے سے کی گئی قدیم وجدید تحقیقات کثرت سے موجود ہیں۔ اس سلسلے کی آخری کڑی راقم سطور کی شرح ’’معالم المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن حجاج‘‘ ہے۔
صحیح مسلم کی اسی علمی قدر و منزلت کو پیش نظر رکھتے ہوے، اس کے قدیم ترین قلمی نسخوں کی تحقیق بھی سنتِ نبوی کی اہم علمی خدمت گردانی جاتی ہے؛ کیوں کہ اسی سے متن کتاب کی تصدیق ہوتی ہے اور علما کے مابین اس کی منتقلی اور گردش کے مراحل کا علم ہوتا ہے، نیز ایسی تحقیقات سے اسلامی تہذیب کی علمی زندگی کے متعدد پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں صحیح مسلم کے ایک عمدہ مخطوط کے ایک حصے کی اہمیت کا ہمیں پتا چلتا ہے۔ یہ مخطوط حافظ ابوبکر دقاق بغدادی (متوفی: ۴۸۹ھ) کا لکھا ہوا ہے۔ آپ ابن خاضبہ کے نام سے مشہور تھے۔ اس مخطوط کا شمار صحیح مسلم کے دست یاب قدیم ترین خطی نسخوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے بھائی، جلیل القدر عالم و محقق ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کو اس مخطوط کی دقیق علمی تحقیق کا شرف حاصل ہوا ہے۔ آپ نے مستقل طور پر اس مخطوط کا ممتاز تحقیقی تعارف وتجزیہ پیش کیا ہے، اس کی علمی قدروقیمت کا واضح کیا ہے اور صحیح مسلم کے نقلِ متن کی تاریخ میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ معاصر علمی کاوشوں میں ان کی یہ تحقیق، حدیثی تراث کے احیاء اور دقیق علمی شکل میں اس کے اظہار کی اہم مثال ہے۔ آپ مقدمے کے آغاز میں فرماتے ہیں: ’’ یہ اسلام کے عظیم دواوین ومجموعات میں سے ایک اعلیٰ مرتبت مجموعے کا حصہ ہے۔ ائمہ ٔ ہدایت وعالی مقام علما کے نزدیک حدیث کی صحیح کتابوں میں اس کا دوسرا درجہ ہے‘‘۔
حدیث کے قدیم مخطوطات، تاریخ متون اور ان کی زمانہ وار گردش کے اہم شواہد ہیں؛ کیوں کہ اولین (قلمی) نسخے عموماً مولف کے قریبی زمانے میں لکھے گئے ہوتے ہیں، اسی بنا پر تحقیق وضبط متون میں ان نسخوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ نسخے کا زمانۂ کتابت مولف کے زمانے سے جتنا قریب ہوگا، اتنی ہی اس نسخے کی قدر وقیمت زیادہ ہوگی، کیوں کہ ایسے نسخوں میں، زمانۂ مابعد میں لکھےگئے نسخوں کی بہ نسبت، غلطی کا احتمال کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتبِ تراث کی تحقیق کرتے ہوے محققین کی کوشش رہتی ہے کہ قدیم ترین دست یاب نسخوں کی طرف رجوع کیا جاے، اور ان کا موازنہ دیگر نسخوں کے ساتھ کیا جاے، تاکہ مولف کے لکھے ہوے متن تک بقدرِ امکان رسائی ممکن ہو سکے۔ ابن خاضبہ کا لکھا ہوا مخطوط ایسے ہی اہم قلمی نسخوں میں شمار ہوتا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ پانچویں صدی ہجری کا لکھا ہوا ہے، جو زمانۂ مولف سے نسبتاً قریب ہے۔ یہ حصہ کتاب الصلاۃ سے شروع ہوتا ہے اور کتاب الجنائز پر ختم ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل کتاب نہیں ہے، اس کے باوجود علمی واہم تاریخی خصوصیات کی بنا پر اس مخطوط کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے۔ محقق نے مقدمے میں نہایت باریک بینی سے اس نسخے کا تعارف پیش کیا ہے اور صحیح مسلم کے دیگر خطی نسخوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نسخے کا شمار کتاب کے قدیم ترین مخطوطات میں ہوتا ہے۔ اس کا تعارف بیان کرتے ہوے آپ فرماتے ہیں: ’’صحیح مسلم کا یہ سب سے قدیم اور معروف قلمی نسخہ ہے‘‘۔ اس بیان سے حدیثی وتحقیقی میدان میں اس مخطوط کی جلالت قدر کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
اس سے قبل محققین کو، نسخے پر اطلاع کے باوجود، اس کے کاتب کا علم نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے یہ نسخہ طویل عرصے تک غیر منسوب چلا آرہا تھا۔ ڈاکٹر عبد اللہ العوبل نے اس مخطوط پر دقیق علمی تحقیق کی، خط (لکھائی) کا تجزیہ کیا، سوانح (تراجم) کی کتابوں میں ابن خاضبہ کے خط کی جو خصوصیات لکھی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ اس کا موازنہ کیا، اسی طرح مخطوط سے جڑے ہوے علمی وتاریخی قرائن کو دیکھ کر یہ اہم نتیجہ مستنبط کیا کہ اس مخطوط کے کاتب حافظ ابوبکر دقاق بغدادی ہیں، جو ابن خاضبہ کے نام سے مشہور ہیں۔ محقق مقدمے میں فرماتے ہیں:
کان اسم ناسخہا متواریا عن الانظار حتی یسر اللہ بمنہ وکرمہ تکشیف ہذا الامر ومعرفتہ۔
(اس مخطوط کے کاتب کا نام نظروں سے اوجھل رہا۔ حتاکہ اللہ تعالیٰ کے کرم واحسان کے سبب اس کے نقل نویس کی پہچان ممکن ہوئی اور یہ معما حل ہوا)
ابن خاضبہ پانچویں صدی ہجری میں علمِ حدیث سے اشتغال رکھنے والے عالم تھے۔ آپ تالیفات حدیث کی کتابت، سماع اور روایت حدیث میں معروف تھے۔ مقدمے میں محقق کے بیان کے مطابق، آپ کا شمار مشہور محدثین اور حدیث وکتب حدیث کے کاتبین میں ہوتا تھا۔ بلاشبہ، ایک محدث کے ہاتھوں نسخے کا لکھا جانا، مخطوط کی علمی قیمت بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے؛ کیوں کہ محدثین حدیثی متون کے ضبط ومراجعت کا سب سے بڑھ کر خیال رکھتے تھے اور لکھی گئی احادیث کا معتمد نسخوں (اصول) کے ساتھ شدید اہتمام سے موازنہ کرتے تھے۔اسی بنا پر، جو نسخے علما لکھتے ہیں یا جو نسخے ان کی نگرانی میں لکھے جاتے ہیں، جاہل کاتبوں کے برخلاف، اکثر صحت متن کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
اس مخطوط کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متعدد ’’سماعاتِ حدیث‘‘ کا ذکر ہے۔ اس سے مخطوط کی انفرادی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں ’’سماع‘‘ کہتے ہیں: ’’طالب علم شیخ کے سامنے بیٹھ کر کتاب پڑھے یا شیخ کی موجود گی میں کتاب کی قراءت کی جاے اور طالب علم سنے، پھر روایت اور سننے کے اس عمل کو بطور ثبوت مخطوط میں لکھ دیا جاے‘‘۔ یہ طریقہ، اسلامی کتبِ تراث کی گردش و پھیلاؤ کا اہم ذریعہ تھا۔ طلبۂ کرام، علما سے کتابوں کی سماعت وقراءت کے لیے مجالسِ علم میں جمع ہوتے، پھر اپنی حاضری کو سامنے رکھے نسخوں میں درج کر دیتے۔ یہ سماعات اہم علمی دستاویزات ہیں، جس سے محققین کو علما کے مابین کتابوں کی منتقلی اور گردش کی تاریخ کا علم ہوتا ہے۔
محقق مقدمے میں اسی خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں: اس نسخے میں کئی بیش قیمت سماعات درج ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ علما کے درمیان منتقل ہوتا رہا اور مجالس حدیث میں پڑھا جاتا رہا۔ ان سماعات سے ہمیں اسلامی تہذیب میں موجود علمی زندگی کے ایک اہم پہلو کا پتا چلتا ہے کہ کتابوں کی گردش واشاعت قراءت، سماع اور تصدیق وثبوت کے ساے میں پورے نظم وضبط کے ساتھ عمل میں آتی تھی۔ انھی سماعات کی بدولت ان بعض علما کے ناموں سے بھی واقفیت ہو جاتی ہے، جو قراءتِ کتاب اور سماع میں شریک رہے اور نسل در نسل نسخے کی منتقلی کا طریق کار بھی جانا جا سکتا ہے۔
یہ ’’سماعات‘‘ مخطوط کے صرف تاریخی پہلو کی طرف اشارہ نہیں کرتے؛ بلکہ متنی خدمت بھی سرانجام دیتے ہیں؛ کیوں کہ کبھی کبھار یہ مخطوط میں موجود بعض متنی مظاہر کی تشریح میں مدد دیتے ہیں اور متن کی تصحیح اور نظر ثانی کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے محققین، تحقیق مخطوطات کے دوران میں ’’سماعات‘‘ و ’’تقییدات‘‘ کو پڑھنے کا خاص طور سے اہتمام کرتے ہیں، کیوں کہ یہ تاریخِ نص کا اہم جزو شمار ہوتے ہیں۔
دوسری جانب صحیح مسلم کے متن کی تحقیق میں مندرجہ بالا مخطوط اہم مصدر شمار ہوتا ہے؛ کیوں کہ اس نسخے کا تقابل دوسرے نسخوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ نسخوں میں اختلاف کے وقت محقق، نص صحیح تک پہنچنے کے لیے زمانی لحاظ سے قدیم ترین اور زیادہ قابلِ اعتماد نسخے کی عبارت کو ترجیح دیتا ہے، اس اعتبار سے بھی نسخۂ ابن خاضبہ کی اہمیت نکھر کر سامنے آتی ہے، کیوں کہ یہ صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ ہے، مزید براں، یہ ایک معروف محدث کا لکھا ہوا ہے۔ محققِ کتاب نے مقدمے میں اسی چیز کو واضح کرتے ہوے کہا ہے کہ اس نسخے کی اہمیت صرف اسی میں پوشیدہ نہیں کہ یہ زمانی لحاظ سے قدیم ہے، بلکہ اس میں ایسے شواہد بھی پاے جاتے ہیں، جس سے اس قلمی نسخے کی علما کے درمیان منتقلی کا علم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ العوبل کی تحقیق سے دنیاے اسلام کی علمی تاریخ کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے، کہ علما مجالسِ سماع میں کیسے کتابوں کا تبادلہ کرتے تھے اور کیسے قلمی نسخوں میں اس کی تصدیق ثبت کی جاتی تھی؟ اسی طرح اس تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ آلاتِ طباعت کی ایجاد سے صدیوں قبل مخطوطات کا علمی تراث کی حفاظت اور نسل در نسل اس کی منتقلی میں کیا کردار تھا؟
ہمارے نیک، صالح وصاحبِ علم بھائی ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کا اس مخطوط کی قدروقیمت کے اظہار اور دقیق علمی تعارف میں بڑا کردار ہے۔ طویل عرصے سے یہ غیر منسوب چلا آرہا تھا، آپ کی کوششوں سے معلوم ہوا کہ اس کے کاتب ابن خاضبہ ہیں۔ اس کی تحریری وعلمی خصوصیات کا عمیق علمی جائزہ پیش کیا، سماعات وتقییدات کو پڑھا، جس سے صحیح مسلم کے دیگر نسخوں کے درمیان اس نسخے کی عظمت سامنے آئی۔ ہم صحیح مسلم کی عظیم علمی خدمت پر خلوص دل سے ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایسے نفیس نسخے کے تعارف اور ان کی مبارک کوششوں بدولت محققین و طلبۂ علم کے لیے اس کی ارزانی پر ڈاکٹر صاحب کے مشکور ہیں۔ یہ بھی سنتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام اور تراثِ مخطوط کی خدمت کی ایک شکل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
حافظ محمد عبد المتین خان
دل کی بے نیازی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا اردہ فرماتے ہیں تو اسے دل کی بے نیازی عطا کر دیتے ہیں اور تقویٰ کی توفیق دیتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں۔ (دیلمی)
دنیا سے بے رغبتی
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ دیتے ہیں، دنیا سے بے رغبتی عطا فرماتے ہیں اور اسے اپنے عیوب پر نظر رکھنے کی توفیق دیتے ہیں۔ (بیہقی)
نفس کا واعظ
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بہتری کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے نفس کو اس کا واعظ بنا دیتے ہیں جو اسے نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے۔ (دیلمی)
گناہوں سے غسل
حضرت ابو عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بہتری کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے غسل دیتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ اس کا غسل کیا ہے؟ فرمایا کہ اسے مرنے سے پہلے عملِ صالح کی توفیق دیتے ہیں پھر اسی پر اسے موت دے دیتے ہیں۔ (مسند احمد)
دنیا میں سزا
جناب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بہتری کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہوں کی سزا اسے دنیا میں دے دیتے ہیں۔ اور جب کسی کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہوں کو روک رکھتے ہیں حتیٰ کہ قیامت کے دن وہ اپنی سزا کو پا لے گا۔ (طبرانی)
دین کی سمجھ
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بہتری کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ دیتے ہیں اور ہدایت عطا فرماتے ہیں۔ (بزار)
دل کا یقین
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے دل کا تالہ کھول کر اس میں یقین اور سچائی رکھ دیتے ہیں اور اس کے دل کو یاد کرنے والا بنا دیتے ہیں اور اس کے دل کو سلیم اور زبان کو صادق بنا دیتے ہیں اور اس کے اخلاق کو سیدھا کر دیتے ہیں اور اس کے کانوں کو سننے والا اور آنکھوں کو دیکھنے والا بنا دیتے ہیں۔ (ابوالشیخ)
معیشت میں نرمی
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی خاندان کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو انہیں دین کی سمجھ دیتے ہیں۔ اس خاندان کے چھوٹوں کو بڑوں کا ادب کرنے کی توفیق دیتے ہیں، ان کی معیشت میں نرمی اور اعتدال پیدا کرتے ہیں اور ان کو ان کے عیوب دکھاتے ہیں تاکہ وہ ان سے توبہ کر لیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اُن کے ساتھ خیر کا نہ ہو تو انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ (دارقطنی)
اللہ تعالیٰ کی محبت
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اسے آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ (طبرانی)
حضرت قتادہ بن النعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اسے دنیا سے اس طرح بچاتے ہیں جیسے تم مریض کو پانی سے بچاتے ہو۔ (حاکم)
محبت کی اطلاع
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے محبت کرے تو اسے اطلاع کر دے کہ اسے اس سے محبت ہے۔ (مسند احمد)
رب سے باتیں
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص یہ چاہے کہ اپنے رب سے باتیں کرے تو اسے چاہیے قرآن کریم کی تلاوت کرے۔ (دیلمی)
نماز کی حفاظت
حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کو اچھے طریقہ سے پڑھتا ہے اور اس کے رکوع و سجود کو مکمل کرتا ہے تو نماز کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری بھی اسی طرح حفاظت کرے جیسے تو نے میری حفاظت کی ہے۔ اور جب کوئی شخص نماز کو صحیح طریقہ سے ادا نہیں کرتا اور وہ رکوع و سجود کو مکمل نہیں کرتا تو [نماز کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے بھی اسی طرح] ضائع کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا ہے۔ پھر وہ نماز پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔ (طیالسی)
مؤذن کا درجہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کا آغاز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں جو اذان سے فراغت تک رہتا ہے اور اس کے لیے بخشش کی دعا کی جاتی ہے جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے۔ اور جب وہ اذان سے فارغ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سچ کہا اور اے بندے تو نے حق کی شہادت دی اس لیے اب خوش ہو جا! (حاکم)
نیند سے پہلے
حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو سوۃ الکافرون پڑھ لیا کرو پھر اسے پڑھ کر سو جاؤ کیونکہ یہ شرک سے براءت کا باعث ہو گی۔ (مسند احمد)
آقا کا حق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرے اور اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ (مسلم)
مال کا شر
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو تم نے اس کے شر کو اپنے سے دور کر دیا۔
لوگوں کی حاجات
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو لوگوں کی حاجات کا رخ اس کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ (دیلمی)
علماء کے مددگار
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان میں فقہاء زیادہ کر دیتے ہیں اور جہلاء کم کر دیتے ہیں، پس جب فقیہہ بات کرتا ہے تو قوم میں اپنے مددگار پاتا ہے اور جب جاہل بات کرتا ہے تو اس سے لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے بارے میں شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان میں جہلاء کی کثرت کر دیتے ہیں اور فقہاء کم رہ جاتے ہیں، پس جب جاہل کلام کرتا ہے تو قوم میں اپنے مددگار پاتا ہے اور جب فقیہ بات کرتا ہے تو اس سے ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ (دیلمی)
شکر کی توفیق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بہتری کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان کی عمریں لمبی کر دیتے ہیں او رانہیں شکرگزاری کی توفیق دیتے ہیں۔ (دیلمی)
مجلس کا حق
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسوں کا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو، لوگوں کو راستہ بتاؤ، نگاہوں کو جھکا کر رکھو۔ (طبرانی)
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور)
’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
انٹرویو : عمار خان یاسر
نشست کا آغاز عمار خان یاسر کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں مقامات (شکاگو اور پاکستان) کے درمیان دس گھنٹے کے فرق کی وجہ سے مناسب وقت تلاش کرنا ایک چیلنج ثابت ہوا جس کے بعد یہ نشست آخرکار ممکن ہو سکی۔ عمار خان یاسر نے بتایا کہ ان کی ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 2018ء میں ہوئی تھی جب وہ خود فیصل آباد میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں پڑھ رہے تھے اور مشکوٰۃ شریف کا سال تھا۔ تب ڈاکٹر صاحب پہلے ہی بہت مقبول تھے جبکہ وہ خود اس میدان میں نئے تھے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے بڑی شفقت سے وقت دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج آٹھ سال بعد دوسری بار یہ نشست منعقد ہو رہی ہے اور ڈاکٹر صاحب کے مداحین کی بڑی تعداد اس گفتگو کی منتظر تھی۔ عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الواجدی صاحب کو ان کی دینی خدمات اور خاص طور پر الحاد کے حوالے سے ان کے کام پر مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر عمار خان یاسر نے نئے سامعین کے لیے بتایا کہ ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، ان کے والد صاحب بھی وہاں استاد رہے ہیں، جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے ملائیشیا کی اسلامک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور اس وقت امریکہ میں ’’دارالعلوم آن لائن‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ ان کے یوٹیوب اور فیس بک پر دس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر متعدد ملحدین ان کی گفتگو سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھتے ہیں۔
آبائی و تعلیمی پس منظر
انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الواجدی صاحب سے ان کے تعلیمی پس منظر اور دیوبند سے امریکہ تک کے سفر کے بارے میں استفسار کیا۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق دیوبند کی سرزمین سے ہے۔ کم از کم پانچ نسلوں سے ان کی ددھیال وہاں آباد ہے اور ننھیال کئی سو سالوں سے وہیں مقیم ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک فطری امر تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد بقیہ تعلیم دارالعلوم دیوبند میں مکمل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد انہوں نے افتاء کیا، پھر تکمیل ادبِ عربی کیا۔ اس کے بعد تقریباً دو سال کے لیے امریکہ آئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی ننھیال 1981ء/1982ء میں دیوبند سے منتقل ہو کر امریکہ میں آباد ہو گئی تھی، اور ان کے نانا نے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا جسے مفتی طارق مسعود صاحب نے گزشتہ سال اپنے ولاگ میں دکھایا تھا۔ بچپن سے تعطیلات میں وہ امریکہ آیا جایا کرتے تھے۔ جب مزید تعلیم کا ارادہ ہوا تو انہوں نے مستقل طور پر امریکہ میں سکونت اختیار کر لی۔ یہاں مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد ملائیشیا چلے گئے جہاں انہوں نے اسلامک سٹڈیز میں خصوصاً تخریجِ حدیث میں پی ایچ ڈی کی، اور 2012ء کے کانووکیشن میں ڈگری سے نوازے گئے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے قریب رہنے کے فائدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑے بڑے اساتذہ، اکابر اور زعمائے ملت کو قریب سے دیکھنے اور ان کی مجالس میں حاضر ہونے کا موقع ملا، جس کا آج تک فائدہ ہو رہا ہے۔
عمار خان یاسر نے دریافت کیا کہ دارالعلوم دیوبند سے امریکہ اور ملائشیا تک کے سفر کا خیال کیسے آیا؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ یہ کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ قدرتی طور پر ایسا ہوا۔ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا ہے کہ ان کی ننھیال پہلے سے امریکہ میں آباد تھی، اس لیے بچپن سے آنا جانا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی چھٹیاں گزارنے یہیں آتے رہے۔ بعد میں مزید تعلیم کے لیے دیوبند سے نکلے تو پھر مستقل طور پر یہاں سکونت اختیار کر لی اور 2011ء سے مسلسل یہیں مقیم ہیں۔
عمار خان یاسر نے پوچھا کہ کیا مستقبل میں بھی امریکہ میں ہی دینی خدمات جاری رکھنے کا ارادہ ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ ان کے کام کا منہج اور انداز ایک عالمی سطح کا تقاضا کرتا ہے۔ انہیں ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں وہ آزادی سے اپنی بات کہہ سکیں اور ان پر یہ الزام نہ لگے کہ انہوں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی یا احساسات مجروح کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ عالمی سطح کا پلیٹ فارم انہیں مہیا ہے، جو دوسرے ممالک میں ممکن نہیں تھا۔
ردِ الحاد کے میدان کا انتخاب
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ الحاد کے حوالے سے خدمات انجام دینے کی سمت کیسے متعین ہوئی؟ کسی نے متوجہ کیا یا خود سے یہ راستہ چنا؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اسے ’’تکوینی معاملات‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ سب منجانب اللہ طے ہوتا ہے، انسان کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔ بہرحال انہوں نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب امریکہ آئے اور مدرسے میں انہیں تدریسی ذمہ داری سونپی گئی تو ان کے ذمے عقیدے کی کتابیں آئیں۔ اس دوران کچھ طلبہ نے ایسے سوالات کرنا شروع کر دیے جن کے جوابات ان کے پاس نہیں تھے اور نہ ہی عقیدے کی کتابوں سے وہ سمجھ میں آرہے تھے۔ یہ طلبہ ’’عالم کورس‘‘ کے ساتھ ساتھ ہائی سکول اور کالج سے بھی فارغ التحصیل تھے اور امریکہ کے معاشرتی مزاج کو سمجھتے تھے کہ جس کی بنیاد پر دنیا میں الحاد اور تشکیک پھیلتی ہے۔ اس صورتحال نے انہیں اس موضوع پر مطالعہ کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے خصوصاً حضرت قاسم نانوتویؒ کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کی عقلی تشریح کے لیے حضرت نانوتویؒ، حضرت تھانویؒ، شاہ ولی اللہؒ اور امام غزالیؒ جیسی ہستیوں کے مطالعہ کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح مطالعے کا سفر شروع ہوا۔ کلاس روم میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے ان کی اپنی دلچسپی بھی بڑھی اور اس طرح دینی و علمی جدوجہد کی یہ سمت متعین ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس راستے میں کام لینا شروع کر دیا۔
قدیم علمِ کلام اور جدید علمِ کلام
عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الوجدی صاحب سے دریافت کیا کہ مفتی محمد شمائل ندوی صاحب والی ڈیبیٹ کے بعد آپ کا ’’شرح عقائد‘‘ کے متعلق ایک کلپ وائرل ہوا تھا، تو اس کتاب میں اپنی دلچسپی کا کچھ تذکرہ کریں، نیز آج کل مدارس میں ’’شرح عقائد‘‘ کی طرف مناسب توجہ نہیں دی جاتی، تو آپ کے خیال میں اسے کس طرح پڑھنا چاہیے، اور نئے لوگ اسے سمجھنے کے لیے کن کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے سب سے پہلے ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر حضرات کی طرح علماء کے ہاں بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ ردِّ الحاد کے لیے بہت اعلیٰ درجے کی انگریزی اور ارسطو سے لے کر نطشے تک کے فلسفے کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ ان کی اپنی بنیاد وہی علمِ کلام ہے جو مدارس میں صدیوں سے پڑھایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے گیسٹالٹ سوئچ (Gestalt Switch) کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے مثال دی کہ تصویر میں آپ کو ایک خاتون نظر آتی ہے، لیکن جب کوئی بتائے کہ یہ دراصل صراحی ہے تو وہ پھر آپ کو وہ صراحی نظر آنے لگتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے چند سال پہلے تک مدارس میں علمِ کلام کو محض اکابر کی یادگار سمجھ کر پڑھایا جاتا تھا، لیکن جب انہوں نے اس سوئچ کو بدلا اور اسی علمِ کلام کو بنیاد بنا کر ملحدین سے مناظرے شروع کیے تو اس کے جوابات ملحدین کے پاس نہیں تھے۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہوا کہ علمِ کلام کو اگر جدید انداز سے پیش کیا جائے اور جدید اصطلاحات استعمال کی جائیں تو اسی کی بدولت ردِّ الحاد کے میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پوری دنیا میں خاص طور پر برصغیر، جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور امریکہ میں بیداری پیدا ہوئی ہے۔ ان کے پاس اساتذہ اور طلبہ کے مسلسل پیغامات آتے ہیں کہ شرح عقائد کو کیسے پڑھا جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اس کتاب کو محض امتحان پاس کرنے کی نیت سے نہ پڑھیں بلکہ اس فن کو حاصل کرنے کی نیت سے پڑھیں۔ جس دن امتحان کی نیت ختم ہو جائے گی، ان شاءاللہ خود محسوس ہوگا کہ یہ کتاب اور اس طرح کی دوسری کتابیں ردِّ الحاد کے میدان میں کام آ سکتی ہیں۔
عمار خان یاسر نے سامعین کے ذہن میں ابھرنے والے ایک سوال کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ قدیم علمِ کلام اور جدید علمِ کلام میں کیا فرق ہے؟ ان میں تمیز کیسے کی جا سکتی ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے واضح کیا کہ ان دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ کا حوالہ دیا جس کے مقدمے میں انہوں نے علمِ کلام کی تجدید کے معنی بیان کیے ہیں کہ جدید علمِ کلام کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نئے اصول وضع کیے جائیں اور پرانے اصولوں کو ختم کر دیا جائے۔ جدید علمِ کلام کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اصول وہی رہیں، لیکن مثالیں بدل دی جائیں، جیسے ہی مثالیں بدلی جائیں گی، وہی جدید علمِ کلام ہو گا۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے مثال دی کہ قدیم کتبِ کلام میں ارتقاء (ایوولوشن) کا ذکر نہیں ملتا، لیکن علمِ کلام کے اصول و ضوابط کو استعمال کرتے ہوئے ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو بخوبی رد کیا جا سکتا ہے۔ اصول وہی رہیں گے، لیکن مثال ڈاروینیئن ایوولوشن دی جائے گی، یہی جدید علمِ کلام ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ جدید علمِ کلام کوئی عنقا (ناپید) چیز ہے، بلکہ انہی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مثالیں بدل دینا ہی جدید علمِ کلام کی تعریف ہے۔
سائنس اور ریاضی کا دائرہ کار
عمار خان یاسر نے ایک بنیادی سوال سے کیا کہ الحاد کن مفروضوں پر کھڑا ہے؟ اور کیا سائنس بذات خود خدا کے وجود کی انکاری ہے، جیسا کہ اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے وضاحت کی کہ سائنس کا یہ دائرہ کار ہی نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر گفتگو کرے۔ سائنس کا فوکس عالمِ مشاہدہ پر ہے، یعنی نظر آنے والی کائنات پر۔ وہ یہ بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں اور ان کے مراحل کیا ہیں، لیکن وہ اس بارے میں گفتگو نہیں کرتی کہ ان کی تخلیق کیوں ہوئی۔ انہوں نے مفتی شمائل ندوی صاحب کی مشہور مثال دی کہ جس طرح میٹل ڈیٹیکٹر سے پلاسٹک کو ڈیٹیکٹ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح سائنس کو استعمال کر کے خدا کے وجود کو جاننا ممکن نہیں، کیونکہ یہ سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ جو لوگ سائنس کو الٰہیات کے معاملات میں استعمال کرتے ہیں، وہ ان دونوں موضوعات سے ناواقف ہوتے ہیں۔
عمار خان یاسر نے سامعین میں سے ایک دوست مبشر حیات کے سوال کو پیش کیا کہ کیا خدا کے وجود کو ریاضی سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ بعض مذہبی لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاضی کو فائن ٹیوننگ آرگیومینٹ (Fine Tuning Argument) میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس دلیل کے مطابق کائنات میں ہر چیز انتہائی درستگی سے متعین (Finely Tuned) ہے۔ اگر ریاضی کے حساب سے کوئی بھی چیز ذرا سی بھی مختلف ہوتی تو یہ دنیا یا تو موجودہ صورت میں نہ ہوتی یا وجود میں ہی نہ آتی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس طرح ریاضی کو فائن ٹیوننگ آرگیومینٹ میں استعمال کر کے خالق کو ثابت کیا جا سکتا ہے، تاہم براہ راست ریاضی سے خدا کو ثابت کرنے کی کوئی دلیل کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔
وجودِ الٰہی سے انکار کی بنیادی وجہ
اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے ایک اہم نکتہ بیان کیا جو ان کے نزدیک الحاد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سے 80 فیصد الحاد کی بنیاد نہ سائنس ہے، نہ لبرل ازم، بلکہ ذہنی صدمہ (Mental Trauma) ہے۔ انہوں وضاحت کی کہ زیادہ تر ملحدین یا متشککین کی زندگی کے دوران بچپن یا جوانی میں کوئی نہ کوئی ایسا تکلیف دہ واقعہ ضرور پیش آیا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں خدا کے متعلق شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ’’میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟‘‘ اور جب انہیں وحی کے ذریعے جواب نہیں ملتا تو وہ خدا کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر الواجدی صاحب نے مشہور ملحد جاوید اختر صاحب کا واقعہ بیان کیا کہ ایک ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’اگر آپ یہ بتا دیں کہ آٹھ سال کی عمر سے میرے اوپر جو مصائب آئے، خدا نے ایسا کیوں ہونے دیا، اور وہ اس کی تلافی کیسے کرے گا، تو میں الحاد چھوڑ دوں گا‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے تبصرہ کیا کہ جاوید صاحب کی موجودہ زندگی، ان کی شہرت، دولت اور پروٹوکول کو دیکھتے ہوئے، خدا نے انہیں بھرپور تلافی فراہم کی ہے، لیکن وہ ذہنی صدمہ ان کے ذہن سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ صرف ان کا ذاتی مشاہدہ نہیں بلکہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں میں ہونے والے سروے بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔
الحاد کے فروغ پذیر رجحان کے عوامل
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ احساسِ محرومی تو ہمیشہ سے انسان کے ساتھ رہا ہے، لیکن پچھلے دس بارہ سالوں میں الحاد کا رجحان خاص طور پر یونیورسٹیوں، حتیٰ کہ مدارس کے طلبہ میں کیوں بڑھ رہا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے دو چیزوں میں فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا: ایک ہے ’’بنیادی وجہ‘‘ (Cause) اور دوسری ہے ‘‘ذریعہ‘‘ (Vehicle)۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے زمانے میں لوگوں کے پاس ذہنی صدمے کو الحاد میں تبدیل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ نہ جدید تعلیمی نظام تھا، نہ سوشل میڈیا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ آج کے تعلیمی نظام کی بنیاد پر دو چیزیں معاشرے میں پائی جاتی ہیں:
- سائنٹزم (Scientism): سائنس کو ہر چیز کا معیار سمجھنا
- لبرلزم (Liberalism): بے راہ روی کو آزادی کا نام دینا
جب کوئی نوجوان ذہنی صدمے کا شکار ہوتا ہے تو وہ ان دو میں سے کسی ایک نظریے کو اختیار کر کے الحاد کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اس کے خیالات کو ترویج دیتا ہے، وہ اپنے جیسے لوگوں سے ملتا ہے، اور یوں یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں اگر کسی کے دل میں خدا کے متعلق شکایت آتی بھی تھی تو وہ کچھ دنوں میں خود بخود ختم ہو جاتی تھی، لیکن آج اسے پروموٹ کرنے کے لیے پورا نظام موجود ہے۔
فساد و مصائب سے ملحدین کا استدلال
عمار خان یاسر نے ایک اور اہم سوال اٹھایا جو اکثر ملحدین کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو معصوم بچوں کو مہلک بیماریاں اور تکالیف کیوں دیتا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ سوال کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سوال سے وہ میدان مار لیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ خدا نہیں ہے، تو کیا تکلیف (Suffering) ختم ہو جاتی ہے؟ کیا برائی (Evil) ختم ہو جاتی ہے؟ کیا بچے مرنا بند ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ الحاد کے پاس اس تکلیف اور برائی کا کوئی جواب نہیں ہے، جبکہ اہلِ مذہب کے پاس جواب ہے۔ ہمارے نزدیک خدا نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا کہ وہ ایسی دنیا بنا رہا ہے جہاں برائی اور تکلیف نہیں ہو گی۔ ایسی دنیا تو آخرت میں آنے والی ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس دنیا میں اچھائی اور برائی دونوں موجود ہیں، نبوت بھی ہے اور ابلیس بھی۔ انسان کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ اچھا راستہ اختیار کرے یا برا۔ قرآن نے کہا ہے: ’’انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا‘‘ (بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا)۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ برائی اور اچھائی دونوں موجود ہوں، اور یہ انصاف ضروری نہیں کہ اسی دنیا میں ہو، بلکہ یومِ جزا میں ہوگا۔
عمار خان یاسر نے اگلا سوال مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر صاحب کے مباحثہ کے حوالے سے کیا کہ جاوید اختر نے فلسطین کے بچوں کے قتلِ عام کو بنیاد بنا کر اعتراض کیا تھا کہ اگر خدا ہے تو ان بچوں کو کیوں مارا جا رہا ہے؟ اور کیوں نہیں بچا رہا؟ اس موقع پر کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کا بہتر جواب دیا جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ جواب تو وہی ہے، البتہ اندازِ بیان پر نقد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اصولی بات دہرائی کہ خدا نے اس دنیا میں برائی اور بھلائی دونوں رکھی ہیں، اور انسان کو اختیار دیا ہے۔ خدا کا سپریم بینگ (اعلیٰ ترین ہستی) ہونا ضروری ہے، اور سپریم بینگ ہونے کے لیے اس میں انصاف کی صفت ہونا ضروری ہے۔ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب برائی بھی موجود ہو اور اچھائی بھی۔ جبکہ انصاف کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں، ہمارے عقیدہ کے مطابق حتمی انصاف یومِ جزا میں ہو گا۔ چنانچہ بچوں کے مرنے یعنی مصائب کی موجودگی سے خدا کا موجود نہ ہونا لازم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
https://youtu.be/l1az2Pofkgk
(جاری)
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
جدید الحاد، فلسفہ اور مادیت پرستی کا خدا کی ذات کے بعد دوسرا سب سے بڑا فکری حملہ خدا کی صفات پر ہوتا ہے۔ سرِدست ہم صرف دو پہلو ذکر کرتے ہیں:
- میکانکی خدا اور ربوبیت (Deism)
- رحمت سے عاری خدا (Problem of Evil)
علمِ کلام ان دونوں تصورات کو براہ راست اللہ کی صفات (علم، ارادہ، قدرت) کے اثبات کے ذریعے رد کرتا ہے۔
میکانکی خدا اور ربوبیت
ولیم پیلی (William Paley) نے 1802ء کی کتاب قدرتی الٰہیات میں "گھڑی ساز کی تمثیل" پیش کی ۔ اگرچہ پیلی کا ارادہ خالق کا اثبات تھا، لیکن اس کی یہ تمثیل Deists (ربوبی) نے بڑے پیمانے پر ایسے خالق کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جس نے صرف نظام کو شروع کیا اور پھر کوئی مداخلت نہیں کی (Non-interventionist God)۔ البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے خود کو "سائنس دانوں کی خدائی" (God of Spinoza) کے قریب بتایا۔ ان کا نظریہ تھا کہ خدا قوانینِ فطرت میں مداخلت نہیں کرتا۔ آئن سٹائن کا مشہور جملہ ہے: "خدا کائنات کے ساتھ پانسے نہیں کھیلتا" (God does not play dice with the universe)۔ یہ سوچ کانٹ کے اس خیال کی بازگشت تھی کہ کائنات عقل کے طے کردہ غیر متغیر اصولوں پر چلتی ہے۔
جدید فلسفہ اب اس تصور سے بہت آگے نکل چکا ہے اور Neo-Kantianism کے نام سے جدید فلسفیانہ نظریات کی تدوین بھی ہو چکی ہے۔ الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ (Alfred North Whitehead) کا "عمل کا فلسفہ" (Process Philosophy) ایک فعال خدا کا تصور پیش کرتا ہے جو دنیا کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ یہ نقطہ نظر کانٹ کے بعد کی سوچ اور جدید سائنس کے مابین تعلق قائم کرنے کی ایک کوشش تھی، لیکن یہ بھی روایتی ڈئیزم سے مختلف ہے۔ یونیٹیرین یونیورسل ازم (Unitarian Universalism) اور اس طرح کے دوسرے لبرل گروہ ایسے افراد کو شامل کرتے ہیں جو خدا پر یقین رکھتے ہیں لیکن کسی ایک الہامی کتاب یا مذہب کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ طرزِ فکر ڈئیزم کے جوہر کے بہت قریب ہے۔ مغربی ممالک میں نوجوان نسل میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہ ایک خالق کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ کسی بھی مذہب کی رسومات، خدائی حقوق، مذہبی کتابوں یا اتھارٹی پر یقین نہیں رکھتے، کسی خدائی حکم نامے پر عمل ضروری نہیں سمجھتے۔ یہ طرزِ فکر عملی طور پر ثابت کرتا ہے کہ خدا ہے لیکن وہ ہم سے لاتعلق ہے۔ غیر فعال خدا (ڈئیزم ) کو ماننے کی یہ عوامی شکل ہے۔ اِس کی ظاہری وجہ یہ بنی کہ اٹھارہویں صدی کے فلسفی کانٹ نے عقلِ خالص (Pure Reason) سے استدلال کا ایک عجیب خودساختہ فارمولہ استعمال کرتے ہوئے الٰہیات کے دائرے کو محدود کر دیا، جس نے بالواسطہ طور پر خدا کے فعال کردار کو انسانی فہم سے خارج کر دیا، اسی سے لاتعلق خدا (Detached Deity) کے تصور کو تقویت ملی۔
معمولی تامل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فاعل بالایجاب و الاضطرار اور علتِ موجبہ (Agent by Necessity) کا وہی تصور ہے جو قدیم یونانی فلاسفہ (جیسے ارسطو) نے مانا تھا، جس کے مطابق تخلیق ایک بے اختیار عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا وجود ذاتِ الٰہی سے ایسے اضطرار کے عالَم میں صادر ہوا ہے جیسے سورج سے شعاع یا رعشے کے مریض سے رعشہ صادر ہوتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر ذاتِ الٰہی ہمیشہ سے ہے، تو کائنات کو بھی ہمیشہ سے ہونا چاہیے (عالم کی قدامت و ابدیت)، کیونکہ خالق تخلیق کرنے پر مجبوری تھا اور اس کے پاس انتخاب کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ تصور Deism (ربوبیت) کے "غیر متعلق خدا" کی بنیاد بناتا ہے، جو کائنات میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کرتا۔
متکلمین اِس پوری بحث کو ایڈریس کرنے کے لئے یہ جوابی بیانیہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فاعل بالارادۃ والاختیار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو اپنے ارادے، اختیار اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے، یہ اس سے کسی میکانکی یا خودکار مشین کی طرح خودبخود صادر نہیں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ کلام میں اللہ کی صفات (جیسے علم، ارادہ، قدرت، حیات) پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ یہ صفات یہ ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف موجود ہے بلکہ وہ فعال، زندہ اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اسی سے دعا، عبادت، اور آخرت کا تصور جڑا ہوا ہے۔
علم
اللہ تعالیٰ کا یہ وصف یقینی بناتا ہے کہ اس کا کوئی بھی فعل مقصد یا حکمت کے بغیر نہیں ہوتا۔ جو حکمتیں لوگوں کو بعد میں معلوم ہو جاتی ہیں وہ ازل سے اُس کے علم میں ہوتی ہیں۔ مخلوقات سے متعلق سب اُمور اس لامحدود علم کی روشنی میں انجام دیے جاتے ہیں۔ ممکنات و ناممکنات کوئی بھی چیز اُس کے علمی احاطہ سے باہر نہیں نکل سکتی۔
قدرت
قدرت کی صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف ہر ممکن و ناممکن چیز معلوم ہے، بلکہ ہر ممکن چیز کو وجود میں لانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ البتہ وجود تب بخشتا ہے جب اُس کے وجود میں لانے کا ارادہ فرماتا ہے۔
ارادہ
ارادہ کی صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ خدا کوئی کام مجبوری یا خودکاری (Mechanism) کے تحت نہیں کرتا، بلکہ کسی بھی چیز کا جب نام و نشان نہیں ہوتا، تو وہ اُس کے نہ ہونے کے سارے امکانات و نشانات مٹا کر اُس کی موجودگی کے امکانات و نشانات کو غلبہ و ترجیح دیتا ہے۔ یہی ارادہ ہے، جس کو عمل میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی فعلی صفات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ ارادہ پورا کر کے دکھاتی ہیں۔ ’’فعَّال لما یرید‘‘ (جو چاہے کر گزرنے والا) خدا فارغ و معطل کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ صفات یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ایک فعال، زندہ اور ہر لمحہ کائنات سے متعلق ہستی ہے۔ اسی فعال خدا کے تصور سے دعا، عبادت اور آخرت کا تصور وابستہ ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً پہلے سے پر چیز کا علمِ، کامل عدل، اور انسان کی پیدائش سے پہلے تقدیر لکھنے سے براہِ راست متعلق ایک سوال بہت عام اور مشہور ہے کہ اگر اللہ کا علمِ سابق ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اُس نے ہر واقعہ کو لکھ دیا ہے، تو انسان اپنے افعال میں مجبور کیوں نہیں اور سزا و جزا کا مستحق کیسے ہے؟ اکثر لوگ اس سوال سے پریشان رہتے ہیں، حالانکہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے:
- ایک استاد کی کلاس میں 40 سٹوڈنٹس ہیں۔ رولنمبر 201 دس دن میں ایک بار کلاس میں حاضری دیتا ہے، نہ محنتی ہے نہ ذہین۔ چار ماہ گزرنے کے بعد استاد طلبہ سے کہتا ہے: میں لکھ کے دیتا ہوں کہ یہ رولنمبر 201 امتحان میں ناکام ہوگا۔ چار ماہ بعد امتحان ہوا. دو ماہ بعد ریزلٹ آیا. گزٹ بک میں رولنمبر 201 کے سامنے فیل شدہ لکھا تھا۔ اسی سٹوڈنٹ سے والد صاحب نے پوچھا: کیوں فیل ہو گئے؟ تو وہ کہنے لگا کہ میرے ٹیچر نے 6 ماہ قبل لکھا تھا کہ میں فیل ہو جاؤں گا، تو میں اِس لیے فیل ہوا۔ کیا اس سٹوڈنٹ کی بات مانی جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہ استاد کے لکھنے کی وجہ سے نہیں اپنے عمل کی وجہ سے فیل ہوا ہے۔
- دوسری مثال لے لیجئے، موسمیات والے پیشگوئی کرتے ہیں کہ کل فلاں علاقے میں بارش کا 100 فیصد امکان ہے. پیشگوئی کے مطابق بارش ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بارش محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی وجہ سے ہوئی؟ نہیں۔ بالکل اسی طرح اللہ نے انسان کے بارے میں پہلے سے جو کچھ لکھا ہوتا ہے. انسان اس لکھنے کی وجہ سے مجرم نہیں بنتا، بلکہ ایک استاد اگر اپنے محدود علم کے مطابق سٹوڈنٹ کے بارے میں 6 ماہ قبل لکھ سکتا ہے، یا موسمیات والے کئی دن بارش کی پیشگوئی کر سکتے ہیں تو اللہ تعالی 10 ہزار سال پہلے اگر انسان کی تقدیر لکھ دے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔
متکلمین کا اساسی جواب یہ ہے کہ اللہ کا علمِ ازلی کسی فعل کے وقوع کا سبب (علت) یا جبری میکانزم نہیں بنتا۔ علم ہمیشہ معلوم کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ معلوم علم کے تابع۔ اللہ نے یہ اس لیے نہیں لکھا کہ انسان اپنے اختیار سے مجبور ہو کر یہ عمل کرے گا، بلکہ اللہ نے ازل میں یہ جان لیا کہ انسان اپنے دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کیا عمل کرے گا۔
تقدیر دراصل اللہ کا حتمی پیمانہ یا لکھا ہوا علم ہے جو انسان کے اختیاری انتخاب کا ریکارڈ ہے۔ یہ محض مستقبل کی پیشگوئی نہیں، بلکہ حکمتِ الٰہی کے تحت اس بات کا تعین ہے کہ کائنات میں کیا ہو گا، مگر یہ تعین انسان کے ارادے اور قوتِ انتخاب کو ختم نہیں کرتا۔ اس مسئلے میں اعتدال کی راہ متکلمین نے نظریۂ کسب (Acquisition) کے ذریعے اختیار کی، جو جبریہ (انسان بالکل مجبور ہے) اور قدریہ (انسان افعال کا خود خالق ہے) کے درمیان ہے۔ متکلمین کے نزدیک تمام افعال کی تخلیق (خلق) صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ کوئی بھی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ تاہم، انسان کو اس فعل کے لیے ارادہ اور قوتِ استعمال (کسب) کی آزادی دی گئی ہے۔ انسان سزا یا جزا کا مستحق اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے اپنی قوتِ ارادی کو استعمال کرتے ہوئے ایک مخصوص عمل کو کسب کیا اور اسے اپنی طرف منسوب کیا۔ سزا فعل کی تخلیق پر نہیں، بلکہ قوت و اختیار کے استعمال پر ہے۔ اگر انسان مجبور ہوتا تو سزا دینا ظلم ہوتا، اور ظلم اللہ کے شایانِ شان نہیں۔ چونکہ شرعی اور عقلی طور پر انسان کو جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے، یہ قطعی دلیل ہے کہ انسان کو حقیقی اختیارِ انتخاب حاصل ہے، جسے علامہ عثمانیؒ کی تشریح میں ایکشن میں اختیار کہا گیا ہے۔
ملحدین تقدیر کو "طے شدہ سکرپٹ" یا "جبری مادیت" سے تعبیر کرتے ہیں۔ متکلمین یہ واضح کرتے ہیں کہ اللہ کا علمِ ازلی سائنسی یا مادّی دنیا کے جبری قوانین جیسا نہیں ہے۔ مادہ علت و معلول (Cause and Effect) کے دائرے میں کام کرتا ہے، جبکہ اللہ کا علم اس دائرے سے ماورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قوتِ ارادی (Free Will) دی ہے، وہ ایک حقیقت ہے، اور سزا و جزا اس ارادے کو آزما کر حجت قائم کرنے کے لیے ہے۔ انسان کو یہ علم نہیں کہ لوحِ محفوظ پر کیا لکھا ہے۔ یہی عدمِ علم اس کے لیے امید اور خوف کے دروازے کھولتا ہے، اور اسے عمل (کوشش) پر آمادہ کرتا ہے۔ اگر تقدیر کا علم ہو جاتا تو عمل اور جدوجہد کا مقصد ہی ختم ہو جاتا۔ جبر و قدر کا مسئلہ درحقیقت علم و قدرت کے درمیان تصادم کا نہیں، بلکہ صفاتِ الٰہیہ کے باہمی کمال کو سمجھنے کا ہے۔ متکلمین نے یہ ثابت کیا کہ الحاد کا اعتراض اللہ کی صفتِ عدل سے حل ہوتا ہے۔ اگر اللہ کی صفت علمِ مطلق ہے اور قدرتِ کامل ہے، تو یہ دونوں صفات خودبخود انسان کو مجبور کر دیتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی صفتِ حکمت اور عدل یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر حجت تمام کرے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ انہیں آزاد ارادہ (اختیار) عطا کرے۔ چونکہ شرعی نصوص میں سزا و جزا کا حکم موجود ہے، جو عدل کی دلیل ہے، لہٰذا جبر کا نظریہ خودبخود باطل ہو جاتا ہے۔ اس طرح تقدیر پر ایمان توکل کو جنم دیتا ہے، جبکہ اختیار پر ایمان عمل اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، اور یہ دونوں پہلو اللہ کی صفات کے کمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان تمام مباحث کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ کی صفاتِ علم، قدرت، اور عدل میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ اللہ کا علم کامل ہے، اس کی قدرت حاکم ہے، مگر اس کا عدل تقاضا کرتا ہے کہ انسان کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو نبھا سکے۔
رحمت سے عاری خدا
جدید الحاد کا دوسرا اور سب سے مؤثر فکری حملہ خدا کی رحمت اور قدرت کی صفات پر ہے۔ ملحدین، خاص طور پر رچرڈ ڈاکنز اور ڈیوڈ ہیوم جیسے جدید فلاسفہ، اکثر مسئلہ شر (The Problem of Evil) پر زور دیتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر خدا کامل، قادرِ مطلق اور رحیم ہے، تو دنیا میں شر، آفات، زلزلے، سیلاب، بیماریاں اور ظلم کیوں موجود ہیں؟ ایپیکورس نے اسے ایک سوال کی شکل دی تھی کہ اگر خدا برائی کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن کر نہیں سکتا تو وہ قادر مطلق نہیں ہے؛ اگر وہ کر سکتا ہے لیکن کرنا نہیں چاہتا تو وہ رحیم نہیں ہے، جو علمِ عدلِ الٰہی (Theodicy) کی بنیاد ہے۔ جدید نامور ملحدین نے اس سطحی اور غلط انگیز بیانیے کو ہوا دینا الحاد کے فروغ کے لئے ضروری سمجھا۔
- اسکاٹش فلسفی ڈیوڈ ہیوم (1711ء-1776ء) نے اپنی کتاب "قدرتی مذہب پر مکالمات" (Dialogues Concerning Natural Religion) میں فطرت میں موجود بے رحمی اور بے قاعدگی کی مثالیں دے کر یہ دلیل دی کہ دنیا کو کسی ایسے معمار نے بنایا ہے جو شاید بے رحم یا کمزور ہو۔ وہ خدا کی صفات (رحمت، قدرت) کو اس کے افعال میں ظاہر ہوتی نہیں دیکھتے۔
- جرمن فلسفی نطشے (1844ء-1900ء) نے خدا کے وجود پر ہی سوال اٹھایا۔ ان کے نزدیک خدا کا تصور انسان کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "خدا مر چکا ہے" (God is dead)، کیونکہ اگر خدا ہوتا تو یہ دنیا اتنی بدحال اور بے معنی نہ ہوتی۔
- برطانوی فلسفی اور ریاضی دان رسل (1872ء-1970ء) نے اپنی کتاب "میں عیسائی کیوں نہیں ہوں" (Why I Am Not a Christian) میں خدا کے افعال پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے انسانی تکالیف اور مذہبی تاریخ میں ہونے والی برائیوں کو خدا کے وجود کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا۔
- برطانوی ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈاکنز اپنی کتاب "خدا کا وہم" (The God Delusion) میں خدا کے تصور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ خدا کو ایک بے رحم، متعصب اور حسد کرنے والی ہستی قرار دیتے ہیں، اور قدرتی آفات (سیلاب، زلزلے) اور بیماریوں کو اس کی رحمت کے خلاف دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ملحدین کی جانب سے خدا کے افعال پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اکثر ان افعال کے پیچھے موجود حکمت اور قوانین کو سمجھنے میں ناکامی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ ’’الرحمٰن الرحیم‘‘ کی صفات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’مالک یوم الدین‘‘ بھی ہے۔ اللہ کی رحمت لامحدود ہے اور یہ دنیا محدود، اس لئے آخرت کی ابدی دنیا میں رحمت کا کماحقہ اظہار ہو سکتا ہے۔ ظالموں کے ساتھ عدل اور حکمت و مہلت کے ساتھ انتقام جیسی صفات جلوہ گری کر سکتی ہیں۔ دراصل یہ اعتراضات صرف مادی اور فوری فوائد کے تناظر میں کیے جاتے ہیں، جبکہ خدا کے افعال (تکوینی اُمور) کو سمجھنے کے لئے اخلاقی، روحانی، اور ابدی تناظر کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ قرآن میں حضرت خضرؑ کے تین کام نمونہ کے طور پر ذکر ہوئے، جن میں صرف اُخروی جہان کا فائدہ نہ تھا، بلکہ ایسے طویل المیعاد دنیوی فائدے تھے جو بادی النظر میں نامناسب یا نقصان دہ تھے۔ مذہب نے زیادہ تکالیف کی داستانیں انبیاء کرامؑ کی سنائی ہیں۔ سیدنا یوسفؑ کو شرف و رتبہ مظالم کی وجہ سے حاصل ہوا۔ حضور پاک ﷺ کو آسمانی معراج اور حضرت ابراہیمؑ کو انسانیت کی امامت کا منصب دِل لرزانے والی قربانیوں کی وجہ سے ملا۔ پھر خدا کے افعال کا مقصد صرف اس دنیا کی عارضی راحت تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی ابدی فلاح اور روحانی ارتقاء ہے۔ اب بتایا جائے کہ جلد باز اور انتہائی محدود علم و نظر کے حامل انسانوں کے اعتراضات کی ایک حکیم و دانا خدا کی اُس غیبی سکیم کے سامنے کیا حیثیت ہو گی جس کو مکمل طور پر حیطۂ ادراک میں لانے کی ہمت سیدنا موسی علیہ السلام جیسا مدبر، رہبر اور حریم راز پیغمبر نہ کر سکا۔ جزئی واقعات کا استقرا و استقصاء تو نوعِ بشر کی بس سے باہر ہے، تاہم اصول کے ذریعے کسی بھی جزئیے کی درست تفہیم و تشخیص تک رسائی ممکن ہے۔ اِسی غرض سے ہم دو اصول ذکر کرتے ہیں۔
اصول اول: حکمتِ کلیہ (Universal Wisdom)
کلامی مفکرین، خاص طور پر ماتریدی مکتبِ فکر، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جسے انسان اپنی محدود نظر سے شر سمجھتا ہے، وہ خدا کی وسیع حکمت اور مصلحت کا حصہ ہوتا ہے، جس میں بڑے فوائد اور مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں۔ انسان کا علم اور فہم محدود ہے۔ وہ کسی ایک واقعے کی حکمت کو تو جان سکتا ہے لیکن پورے کائناتی اور اخلاقی نظام کی حکمت کو سمجھنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ ماتریدیوں کے نزدیک، کائنات کی تخلیق میں کوئی بھی چیز محض اتفاقی، نامناسب یا غیر ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ خدا کے نام الحکیم (All-Wise) کے خلاف ہوگا۔ اشاعرہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ کے افعال کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا (لا یسئل عمّا یفعل وھم یسألون He is not questioned about what He does, but they will be questioned)، مگر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اُس کے تمام افعال غیر مُعلَّل (Ungrounded by Cause/Purpose) ہیں، کیونکہ وہ کسی فعل کے پیچھے بندوں کے لئے کسی مصلحت یا فائدے کا محتاج نہیں۔ وہ جو کچھ کرتا ہے وہ محض اختیار (Sheer Will) سے کرتا ہے، اس کو کسی "لازمی حکمت" یا "غرض" کا پابند قرار دینا اس کی مطلق حاکمیت (Absolute Sovereignty) کے خلاف ہے۔
اصول دوم: کائنات بطور امتحان و ارتقاء
مسئلہ شر کا دوسرا کلامی جواب یہ ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسان کو اختیار (Free Will) دیا گیا ہے۔ دنیا میں شر اور مشکلات کی موجودگی انسان کے لیے ایک آزمائش ہے جس سے اس کے اخلاقی رویے اور ایمان کی جانچ ہوتی ہے۔ شر انسان کو صبر، شکر، استقامت، اور ہمدردی جیسی صفات سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور یہ صفات اس کی روحانی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ دنیا کی تکالیف اور مصیبتوں کا بدلہ آخرت میں اجر کی صورت میں ملتا ہے جو دنیاوی راحت و آسائش سے کہیں زیادہ دائمی اور روحانی ہے۔
جدید الحاد کی بنیادیں اخلاقی نسبتیت (Moral Relativism) کی طرف لے جاتی ہیں، جہاں کسی بھی اخلاقی دعوے کی کوئی ماورائی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، کلامی نظام (خواہ وہ شرعی حسن و قبح ہو یا عقلی حسن و قبح) ایک معروضی اخلاقی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو الحادی تنقید کو اخلاقی طور پر ہی بے معنی ثابت کرتا ہے۔
(جاری ہے)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
ذہین ڈیزائن کا الٰہیاتی اور فلسفیانہ جائزہ
اس حصے میں باب 6 میں بیان کردہ امام غزالی کے مابعد الطبیعی فریم ورک کی روشنی میں آئی ڈی کے چار مسائل زیرِ بحث لائے جائیں گے۔ یہ مسائل ہیں: مقامیت کا مسئلہ (localisation problem)، تعیین کا مسئلہ (specification problem)، عارضی استنتاج کا مسئلہ (tentative abduction problem)، اور امکان کا مسئلہ (contingency problem)۔ اس حصے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اشعری تناظر سے آئی ڈی کیوں ایک غیر تسلی بخش موقف ہے۔
مقامیت کا مسئلہ (Localisation Problem)
آئی ڈی کے حامی واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اُن ہستیوں کے لیے ڈیزائنر کا استدلال پیش کر رہے ہیں جن میں فطرت کے اندر پیچیدہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ حیاتیاتی دنیا کے دیگر حصے بآسانی نیو ڈارونین میکانزم کے ذریعے وجود میں آ سکتے ہیں۔ جیسا کہ بیہی لکھتے ہیں:
ذہین ڈیزائن بڑے پیمانے پر قدرتی انتخاب کے ساتھ بآسانی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ اینٹی بایوٹک اور کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت، مچھلیوں اور پودوں میں اینٹی فریز پروٹینز وغیرہ کو ممکن ہے [نیو-]ڈارونین میکانزم سے سمجھایا جا سکے۔ آئی ڈی کا بنیادی دعویٰ یہ نہیں کہ قدرتی انتخاب کچھ بھی واضح نہیں کرتا، بلکہ یہ کہ وہ سب کچھ واضح نہیں کرتا۔ (Behe 2011: 356)
اسی طرح ڈیمبسکی بھی لکھتے ہیں:
ڈیزائن کا نظریہ رکھنے والا اس بات کا پابند نہیں کہ ہر حیاتیاتی ساخت ڈیزائن شدہ ہو۔ فطری میکانزم جیسے تغیر اور انتخاب، فطری تاریخ میں جانداروں کو ان کے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کارگر ہوتے ہیں … تاہم فطری میکانزم اُن نہایت مخصوص اور معلومات سے بھرپور ساختوں کو پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو حیاتیات میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (Dembski 2004: 63)
چنانچہ بیہی اور ڈیمبسکی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ارتقا قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر کے ذریعے بعض چیزوں کی توضیح کر سکتا ہے، لیکن پیچیدہ خصوصیات کو وہ کسی ڈیزائنر (یا ڈیزائنرز) کے ذریعے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اس انداز میں دیکھیں تو ڈیزائنر کو کائنات میں ایک نہایت محدود اور مخصوص کردار دے دیا جاتا ہے۔
لیکن امام غزالی کے تصورِ خدا میں ایسا کوئی محدود اور مقامی ڈیزائنر نہیں پایا جاتا۔ غزالی کے ہاں خدا ہر شے کا خالق اور قائم رکھنے والا ہے۔ ہر جگہ، ہر وقت۔ جیسا کہ باب 6 میں بیان ہوا، غزالی کا اشعری مسلک ایک اتفاقیت پسند (occasionalist) زاویہ نظر اختیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی ہستی پیچیدہ ہو، نسبتاً کم پیچیدہ ہو، یا نہایت سادہ ہو۔ سب کی تخلیق اور بقا براہِ راست خدا کے فعل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا خدا کو صرف پیچیدہ خصوصیات کا ذمہ دار قرار دینا اور باقی تمام مظاہر کو فطری میکانزم کے حوالے کر دینا، اشعری الٰہیات کی روشنی میں یہ موقف ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
تعیین کا مسئلہ (Specification Problem)
آئی ڈی کے ساتھ وابستہ اگلا مسئلہ بنیادی طور پر ڈیزائنر کی تعیین کے فقدان سے متعلق ہے۔ چونکہ آئی ڈی کے حامی خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیزائنر مختلف نوعیت کی ہستیوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں رہتا کہ آیا وہ ڈیزائنر خدا ہے یا نہیں۔ آئی ڈی کے استدلال سے زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جن ہستیوں میں پیچیدگی پائی جاتی ہے، ان کے پسِ پشت کسی نہ کسی درجے کا ڈیزائنر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جوں جوں ان ہستیوں کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، ڈیزائنر کی علمی صلاحیتوں اور فکری استعداد کا درجہ بھی بلند تر فرض کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے منطقی طور پر یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ڈیزائنر خدا ہی ہو جو علیمِ اور قادرِ مطلق ہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے اضافی مقدمات یا مستقل دلائل درکار ہوں گے۔ اس بنا پر خدا ممکنہ امیدواروں میں سے ایک ہو سکتا ہے، مگر وہ واحد امیدوار نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ محض حیاتیاتی ڈیزائن کے استدلال سے ہم لازماً خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔ بیہی خود اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں:
میرے ذہین ڈیزائن کے استدلال اور ولیم پیلی کے خدا کے وجود کے روایتی ڈیزائن استدلال میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ میرا استدلال صرف ڈیزائن تک محدود ہے۔ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ یہ ایک مہربان خدا کے وجود کا استدلال نہیں ہے، جیسا کہ پیلی کا تھا۔ میں خود ایک مہربان خدا پر ایمان رکھتا ہوں، اور مانتا ہوں کہ فلسفہ اور الٰہیات اس استدلال کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ مگر حیاتیات میں ڈیزائن کے لیے پیش کیا جانے والا سائنسی استدلال اس حد تک نہیں پہنچتا۔ (Behe 2003: 277)
مندرجہ بالا باتوں کی روشنی میں یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ ڈیزائنر کوئی زمینی یا کہکشانی ہستی ہو، مثلاً خلائی مخلوق۔ صرف اسی بنیاد پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن (BD) الحاد، لاادریت اور توحید تینوں کے ساتھ مطابقت رکھ سکتا ہے۔ یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ بعض مسلم مفکرین (مثلاً ہارون یحییٰ) کے لیے یہ بات ناگوار ہو سکتی ہے، لیکن حیاتیاتی ڈیزائن کو محض توحیدی موقف تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے صرف خدا کے موافق بیانیے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ ایک بنیادی کمزوری بن جاتا ہے۔ حیاتیاتی ڈیزائن کی بنیاد پر توحید پسند اور ملحد ایک ہی سطح پر کھڑے ہوتے ہیں۔
بعض لوگ یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ کائناتی ڈیزائن کے دلائل اس امکان کو کمزور کر دیتے ہیں کہ ڈیزائنر کائنات کے اندر کی کوئی ہستی ہو، لہٰذا الحاد خارج ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو، لیکن یہ مفروضہ اس بات پر قائم ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن اور کائناتی ڈیزائن کا ڈیزائنر ایک ہی ہے۔ اس دعوے کے حق میں مستقل استدلال پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے فرض کر لیا جاتا ہے۔ چونکہ ارتقا کی بحث میں آئی ڈی ایک خالص حیاتیاتی استدلال ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ حیاتیاتی ڈیزائنر تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کائناتی ڈیزائنر تک پہنچنے کے لیے اضافی دلائل درکار ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ وہ کیسے فراہم کیے جائیں۔ مزید یہ کہ وسعتِ پیمانہ کے لحاظ سے کائناتی ڈیزائنر کو حیاتیاتی ڈیزائنر سے زیادہ طاقتور اور زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیے تاکہ وہ کائنات جیسی ہستی کو پیدا اور برقرار رکھ سکے۔ اس لیے یہ کہنا آسان ہے کہ کائناتی ڈیزائنر حیاتیاتی ڈیزائنر بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس ضروری نہیں۔
اگر بحث کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ حیاتیاتی اور کائناتی ڈیزائنر ایک ہی ہیں اور یہ ایک بڑی رعایت ہے، تب بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ خدا ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہستی کائنات کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی مطلوبہ صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ اب بھی اس بات سے بہت دور ہے کہ وہ وہی قادرِ مطلق اور علیمِ مطلق خدا ہے جسے امام غزالی مانتے ہیں۔ کثیر کائنات کے امکان کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایسی تہذیب نے، جو ہماری کائنات سے پہلے موجود تھی، اس کائنات کو پیدا کیا ہو۔ محض ڈیزائن کے استدلال پر انحصار کرنا اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ ڈیزائنر خدا ہی ہے۔
یہ مشکلات اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ ڈیزائن کے دلائل نیچے سے اوپر (bottom-up) طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ کسی ڈیزائنر کی طرف اشارہ تو کر سکتے ہیں، مگر ڈیزائنر کی شناخت غیر متعین رہتی ہے۔ اسی لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ خدا ہی واحد اور لازمی امیدوار ہے۔ بعض مسلم مفکرین یہ فرض کر لیتے ہیں کہ آئی ڈی لازماً خدا تک پہنچاتا ہے، مگر یہ محض دعویٰ ہے، دلیل نہیں۔ اگر اس دعوے کو مضبوط بنانا ہو تو ڈیزائن کے دلائل سے باہر نکل کر امکان (contingency) جیسے دیگر فلسفیانہ دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ تب جا کر آئی ڈی کے ڈیزائنر کو خدا کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ہی پڑے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ڈی سے وابستگی کی ضرورت کیا ہے، جب کہ وہ بذاتِ خود خدا کو لازم نہیں کرتا۔
بعض مفکرین آئی ڈی کو ارتقا کا متبادل اس لیے سمجھتے ہیں کہ وہ ارتقا کو ملحدانہ اور آئی ڈی کو خدائی موافق تصور کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط تقسیم ہے۔ جیسا کہ واضح ہو چکا، حیاتیاتی ڈیزائن الحاد، لاادریت اور توحید، تینوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس طرح نہ صرف یہ حکمت عملی اپنے مقصد میں ناکام رہتی ہے، بلکہ یہ ایک غیر منصفانہ دوئی پر بھی قائم ہے جس میں ارتقا کو ملحدانہ اور آئی ڈی کو لازماً توحیدی قرار دیا جاتا ہے۔
عارضی استنتاج کا مسئلہ (Tentative Abduction Problem)
آئی ڈی کے حوالے سے اگلا الٰہیاتی مسئلہ اس کے استدلال کی استقرائی یا ابڈکشن (abduction) نوعیت سے متعلق ہے۔ جیسا کہ ابتدائی حصے میں ذکر ہوا، ابڈکشن اس طرزِ استدلال کو کہتے ہیں جس میں متعدد ممکنہ توضیحات میں سے اس توضیح کو اختیار کیا جاتا ہے جو شواہد کی روشنی میں سب سے بہتر معلوم ہو۔ آئی ڈی کے حامی اپنے موقف کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ سائنسی شواہد کی بنا پر یہ نیو-ڈارونین ارتقا کے مقابلے میں بہتر توضیح ہے۔
فرض کیجیے کہ ہم اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ حیاتیاتی دنیا کی پیچیدہ ساختیں نہایت غیر محتمل ہیں، لہٰذا ایک ڈیزائنر ان کے لیے زیادہ بہتر توضیح ہے۔ مزید یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ یہ ڈیزائنر خدا ہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پورا استدلال موجودہ سائنسی معلومات پر مبنی ہے جن کے دائرے میں ارتقائی حیاتیات دان کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے پیچیدہ حیاتیاتی ساختوں کی توضیح غیر محتمل معلوم ہوتی ہو، پھر بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ کوئی ایسا فطری عمل دریافت ہو جائے جو ڈیزائنر پر انحصار کیے بغیر ان پیچیدگیوں کی سائنسی طور پر معقول توضیح فراہم کر سکے، یعنی کوئی ایسا ارتقائی طریقہ کار جو ابھی تک پوری طرح سمجھا یا دریافت نہ ہوا ہو۔
جب تک اس امکان کو قطعی طور پر رد نہ کر دیا جائے، اور ایسا نہیں کیا گیا، تب تک آئی ڈی کو خدا کے حق میں پیش کیا جانے والا استدلال عارضی اور مشروط ہی رہے گا۔ اشعری تناظر میں یہ بات نہایت مشکل پیدا کرتی ہے۔ امام غزالی کبھی بھی خدا کو ایسے عارضی مقام پر فائز نہیں کریں گے جسے مستقبل میں کسی نئے سائنسی انکشاف کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکے، خواہ وہ امکان کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ خدا اور فطری توضیحات کبھی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہوتے۔ اشعری فکر میں خدا ہر شے کا اولین سبب (primary cause) ہے، جبکہ سائنسی توضیحات ثانوی اسباب (secondary causes) کی سطح پر کام کرتی ہیں۔ معاملہ ہمیشہ "خدا اور سائنسی توضیحات" کا ہوتا ہے، نہ کہ "خدا یا سائنسی توضیحات" کا۔
مختصراً، خدا کو ہماری عارضی سائنسی لاعلمی کے خلا کو پُر کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تمام متبادل توضیحات کو قطعی طور پر رد نہ کر دیا جائے، جو کہ عملاً نہایت دشوار ہے، اشعری نقطۂ نظر سے حیاتیاتی ڈیزائنر کو خدا کے ساتھ ہم معنی قرار دینا دراصل "God of the gaps" کی صورت اختیار کر لیتا ہے، خواہ آئی ڈی کے حامی اس کا انکار ہی کیوں نہ کریں۔
امکان کا مسئلہ (Contingency Problem)
اب تک بیان ہونے والے سب کچھ کے باوجود، غالباً سب سے اہم اور نزاعی مسئلہ وہ ہے جسے امکان کا مسئلہ کہا جا سکتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر امام غزالی کو آئی ڈی سے سب سے زیادہ اختلاف ہو سکتا ہے۔ پہلے جو اعتراضات بیان ہوئے وہ نیچے سے اوپر (bottom-up) زاویہ نظر پر مبنی تھے، یعنی تخلیق میں موجود پیچیدہ عناصر سے ڈیزائنر کے بارے میں کیا اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امکان کا مسئلہ اوپر سے نیچے (top-down) زاویے پر مبنی ہے۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی قدرت کی نوعیت کیا ہے؟ خدا کیا کچھ کر سکتا ہے؟ کیا وہ ہر طرح کی ممکنہ دنیا پیدا کر سکتا ہے، یا وہ چند مخصوص صورتوں تک محدود ہے؟
جیسا کہ باب 6 میں بیان ہوا، اشعری تصور کے مطابق خدا ہر اس شے کو پیدا کر سکتا ہے جو منطقی طور پر متناقض نہ ہو۔ مثلاً خدا تین سروں والے انسان پیدا کر سکتا ہے، اژدہے پیدا کر سکتا ہے، یا مختلف قوانین پر مبنی کوئی اور کائنات پیدا کر سکتا ہے۔ البتہ الٰہی قدرت کا اطلاق منطقی محالات پر نہیں ہوتا، جیسے مربع دائرہ۔ یہ خدا کی قدرت کی کمی نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ایسی چیزیں بذاتِ خود بے معنی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پوچھا جائے کہ اعداد کب سوئے؟ یا کہا جائے کہ رنگ کل چل رہے تھے۔ اعداد سونے والی ہستیاں نہیں اور رنگ چلنے والی چیزیں نہیں۔ یہ جملے ہی بے معنی ہیں۔ انہی مثالوں کے فرق سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔
اس پس منظر میں خدا ایسی دنیائیں پیدا کر سکتا ہے جو اس دنیا جتنی پیچیدہ ہوں، اس سے زیادہ پیچیدہ ہوں (یعنی زیادہ باریک ترتیب یا زیادہ غیر محتمل صورتوں پر مشتمل ہوں)، یا اس سے کم پیچیدہ ہوں۔ اسی طرح قوانینِ فطرت کے اعتبار سے بھی خدا مختلف نوعیت کی کائناتیں پیدا کر سکتا ہے۔ وہ مکمل جبریت (determinism) پر مبنی کائنات بنا سکتا ہے جہاں ہر چیز قطعی اور غیر احتمالی ہو۔ وہ ایسی کائنات بھی پیدا کر سکتا ہے جس میں کچھ درجے کی غیر یقینی یا احتمالی نوعیت ہو، جیسا کہ ہماری کائنات میں ارتقائی اور کوانٹم قوانین کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس وہ ایسی انتہائی بے قاعدہ اور افراتفری پر مبنی کائنات بھی بنا سکتا ہے جس میں کوئی باقاعدہ نظم نہ ہو اور سائنسی تحقیق ہی ممکن نہ ہو۔
جب خدا کی تخلیقی قدرت کے یہ امکانات سامنے رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈیزائن یا پیچیدگی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اشعری نقطہ نظر سے پیچیدگی یا ڈیزائن تخلیق کا ایک ممکنہ پہلو تو ہے، مگر ضروری نہیں۔ اگر ہم ان تمام ممکنہ تخلیقات کا تصور کریں جو خدا پیدا کر سکتا ہے تو پیچیدگی ان سب میں لازمی عنصر نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ خدا مکمل سادہ یا مکمل افراتفری پر مبنی دنیائیں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تخلیق کی تمام ممکن صورتوں کی بنیاد کیا ہے؟ اشعری جواب "امکان"ہے۔
امکان کے دو معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ کوئی چیز وجود بھی رکھ سکتی ہے اور عدم بھی۔ انسان، انبیاء، دنیا، کائنات، فرشتے، جنت اور زمین، یہ سب ممکن تھے کہ وجود میں نہ آتے، مگر خدا نے انہیں وجود دیا۔ اشعری تصور میں کائنات کی ہر موجود چیز ممکن ہے، یعنی اس کا عدم قابلِ تصور ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو وہ مختلف اوصاف بھی رکھ سکتی ہے۔ یہ متن کسی بھی حجم، رنگ یا صورت میں ہو سکتا تھا۔ اس کے کسی خاص صورت میں ہونے کی کوئی ذاتی اور ضروری وجہ نہیں۔ اسی طرح پڑوسی کی گاڑی سفید ٹویوٹا ہو سکتی ہے یا زرد بیگل۔ گاڑی کی ذات میں کوئی ایسی لازمی خصوصیت نہیں جو اسے ایک خاص رنگ کا ہونا ضروری بنائے۔ دونوں تعریفوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اشیاء ویسی بھی ہو سکتی تھیں جیسی نہیں ہیں؛ وہ موجود بھی ہو سکتی تھیں یا نہ بھی ہوتیں، اور اگر موجود ہوں تو مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہیں۔
اشعری تصور میں پوری تخلیق بنیادی طور پر ممکن ہے۔ خدا کائنات اور اس کے تمام اجزا کو وجود میں لا بھی سکتا ہے اور عدم میں بھی رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ انہیں وجود دے تو وہ کسی بھی منطقی طور پر ممکن صورت میں ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ خدا ایسی دنیا بنا سکتا تھا جہاں قوانینِ فطرت ہماری دنیا سے بالکل مختلف ہوتے، جہاں انسانوں کو کبھی پیاس نہ لگتی، یا جہاں آگ، جلانے کی خاصیت نہ رکھتی۔ اس باب کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ خدا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کی تخلیق باریک ترتیب یافتہ ہو، ڈیزائن شدہ ہو، غیر ڈیزائن شدہ ہو یا سادہ۔ یہ سب ثانوی امور ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تخلیق میں کوئی ایسی ذاتی ضرورت ہے جو خدا کو اسے لازماً پیچیدہ یا باریک ترتیب یافتہ بنانے پر مجبور کرے؟ اس کا جواب ہے: نہیں۔ خدا سادہ اور پیچیدہ دونوں طرح کی دنیائیں پیدا کر سکتا ہے۔
مختصراً، ان تمام ممکنہ دنیاؤں میں جنہیں خدا پیدا کر سکتا ہے، ڈیزائن لازمی نہیں۔ جبکہ امکان ہر ممکن دنیا کی بنیادی خصوصیت ہے۔ آئی ڈی اور ارتقا کی بحث پر اس کا اثر واضح ہے۔ اگر کوئی محض اس بنا پر آئی ڈی کو اختیار کرتا ہے کہ وہ اسے خدا دوست محسوس ہوتی ہے اور ارتقا کو ملحدانہ سمجھتا ہے تو وہ ایک غلط دوئی پر انحصار کر رہا ہے۔ بلکہ اگر یہ مفروضہ مان بھی لیا جائے تو بھی محض اس لیے ارتقا کو رد کرنا کہ ڈیزائن زیادہ دلکش معلوم ہوتا ہے، اشعری تناظر میں غیر متعلق ہے۔ اسی لیے اتفاق، احتمال یا بظاہر عدمِ ڈیزائن اشعری الٰہیات کے لیے مسئلہ نہیں بنتے۔ اشعری تصور میں ڈیزائن کے مقابلے میں امکان زیادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بنا پر امام غزالی کے فریم ورک میں ایسی کسی سائنسی نظریے کو قبول کرنے میں کوئی الٰہیاتی رکاوٹ نہیں جو احتمال یا عدمِ ڈیزائن کے عناصر رکھتا ہو۔
اختتامیہ
اس باب کا مقصد یہ تھا کہ ذہین ڈیزائن (ID) کا اس کی اپنی بنیادوں پر، سائنسی اور الٰہیاتی دونوں زاویوں سے جائزہ لیا جائے۔ سائنسی اعتبار سے اس وقت آئی ڈی کی حیثیت غیر واضح ہے۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری رہا ہے، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا۔ فی الحال سائنسی برادری آئی ڈی کو ایک مستند سائنسی نظریے کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
الٰہیاتی زاویے سے ہم نے آئی ڈی کا جائزہ دو طریقوں سے لیا: نیچے سے اوپر (bottom-up) اور اوپر سے نیچے (top-down)۔ نیچے سے اوپر کے زاویے سے دیکھا جائے تو نہ حیاتیاتی ڈیزائنر (BD) اور نہ ہی کائناتی ڈیزائنر (CD) لازماً خدا تک پہنچاتے ہیں۔ کسی ڈیزائنر سے خدا تک پہنچنے کے لیے اضافی دلائل درکار ہوتے ہیں، جو محض ڈیزائن کے استدلال فراہم نہیں کرتے۔ درحقیقت یہ مسئلہ ڈیزائن کے تمام دلائل کے ساتھ وابستہ ہے۔ خاص طور پر یہ بات اہم ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن توحید، لاادریت اور الحاد، تینوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ارتقا کو الحاد کے مترادف اور آئی ڈی کو خدا دوست قرار دینا بے بنیاد ہے۔ بعض مفکرین ارتقا کو مکمل طور پر رد کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اس کا واحد متبادل آئی ڈی نظر آتا ہے، حالانکہ ارتقا اور آئی ڈی دونوں کو ایک توحیدی فریم ورک میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ الحاد ارتقا کا لازمی نتیجہ نہیں، اور نہ ہی توحید آئی ڈی کا لازمی تقاضا ہے۔
اوپر سے نیچے کے زاویے سے ہم نے دیکھا کہ خدا پیچیدہ اور سادہ دونوں طرح کی تخلیقات پیدا کر سکتا ہے۔ وہ ہماری کائنات سے زیادہ سادہ یا اس سے زیادہ باریک ترتیب یافتہ کائناتیں بھی بنا سکتا ہے۔ خدا کی تخلیقی قدرت کے امکانات میں ڈیزائن کوئی ایسا بنیادی عنصر نہیں جو اسے لازماً اور خصوصی طور پر خدا سے مربوط کر دے۔ اس بنا پر تخلیق میں ڈیزائن کا ہونا یا نہ ہونا بذاتِ خود فیصلہ کن اہمیت نہیں رکھتا۔ اس سے ان مفکرین کے اس مفروضے کو بھی چیلنج ملتا ہے جو ڈیزائن اور خدا کے درمیان لازمی ربط قائم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ تخلیق میں ڈیزائن کے وجود کا انکار کیا جا رہا ہے، بلکہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ اشعری تناظر میں ڈیزائن خدا کی تخلیق کے لیے کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔
(جاری)
حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
بہادری میں افسانوی شہرت کی حامل طبیبہ
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی
تمہید
اسلامی تاریخ ایسے درخشاں کرداروں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے دین، علم، جہاد، اور انسانی خدمت کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہے، جن میں مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین کی کردار بھی ناقابل فراموش ہے، انھوں نے نہ صرف گھریلو ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ نبھایا؛ بلکہ بعض اوقات میدانِ جنگ میں وہ کارنامہ انجام دیا جس کے سامنے مردوں کی تلواریں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ انہی عظیم المرتبت خواتین میں حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا بھی ہیں، جن کا نام تاریخ کے روشن صفحات میں سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ عسکری شجاعت و بہادری کی بنا پر مشہور ہیں؛ لیکن ان کی شخصیت کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو ان کی طبی خدمات بھی ہیں، جو انھوں نے زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی، علاج و معالجہ اور نگہداشت کے ذریعہ سے سرانجام دیں، آئیے! ان کے تعلق سے جانتے چلیں۔
نام و نسب
ان کا نام ’’خولہ‘‘ ہے، یہ ’’اَزْوَر‘‘ کی بیٹی ہیں، جن کا نام ’’مالک‘‘ ہے، نسب اس طرح ہے: خولۃ بنت الازور مالک بن أوس بن جذیمۃ بن ربیعۃ بن مالک بن ثعلبۃ بن دُودان بن أسد بن خزیمۃ [1]، ویکی پیڈیا نے اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھا کر عدنان تک پہنچایا ہے، جو اس طرح ہے: خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان۔[2]
پیدائش و اسلام
ان کی پیدائش مکہ میں ہوئی اور انھوں نے اپنے بھائی ضرار بن ازور کے ساتھ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ روزنامہ عمان کے ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۲ء کے شمارہ میں ان کے تعلق سے ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس میں لکھا ہے: ولدت فی مکۃ المکرمۃ وأسلمت مع أخیہا بعد الفتح [3] ’’مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں اور فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ اسلام قبول کیا‘‘۔
بھائی
ان کے ایک بھائی کا تذکرہ کتابوں میں مذکور ہے جن کا نام ’’ضرار بن ازور‘‘ ہے، یہ ایک بہترین شہسوار اور شاعر تھے۔ ابن سعد لکھتے ہیں:
وکان ضراراً فارساً شاعراً، وہو الذی یقول حین أسلم:
خلعتُ القداح وعزْف القیا
ن والخمرَ تصلیۃ وابتہالاً
وکری المحبر فی غمرۃ
وجہدی علی المشرکین القتالا
وقالت جمیلۃ بددتنا
وطرّحت أہلک شتی شلالا
فیارب لا أغبنن صفقتی
وقد بعثت أہلی ومالی بِدالا
’’میں نے شراب، گانے بجانے اور ناچنے والیوں کو چھوڑ کر توبہ، نماز و دعا کو اختیار کر لیا، میں نے اپنی خوبصورت زرہ پہن کر پوری قوت اور جدوجہد کے ساتھ مشرکوں سے جنگ کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔ جمیلہ نے کہا کہ: تم نے ہمیں اور اپنے گھر والوں وادیوں میں بکھرا ہوا چھوڑ دیا ہے، پس اے مرے پروردگار! میری یہ تجارت خسارہ والی نہ ہو کہ میں نے اپنے اہلِ و عیال اور مال و دولت کو تیرے بدلہ قربان کر دیا ہے۔‘‘
انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ’’حدیث اللقوح‘‘: دع دواعی اللبن (آسائش اور آرام طلبی کو چھوڑ دو) روایت کی ہے [4]، جنگِ یمامہ میں انھوں نے خوب دادِ شجاعت پیش کی؛ حتیٰ کہ ان کی دونوں پنڈلیاں کٹ گئیں تو وہ گھسٹ کر چلتے ہوئے قتال کرنے لگے، اس حال میں گھوڑوں نے انھیں روند ڈالا اور اس طرح انھوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔[5]
غزوات میں شرکت اور طبابت
ان کی بہادری کے غیر معمولی قصے کتابوں میں مرقوم ہیں، یہ اپنے زمانہ کی بہادر ترین خواتین میں سے تھیں؛ بلکہ انھیں بطلِ جلیل حضرت خالد بن ولیدؓ کے مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اپنے بھائی کی طرح ایک شاعرہ بھی تھیں، عبد مہنّا لکھتی ہیں:
شاعرۃ کانت من أشجع النساء فی عصرہا، وتشبہ خالد بن الولید فی حملاتہا، وہی أخت ضرار بن الأزور، لہا أخبار کثیرۃ فی فتوح الشام، ولما أسر أخوہا ضرار فی وقعۃ أجنادین، ہجمت بالنساء وقاتلت بہن قتال المستمیت؛ حتی خلصت الأسری من أیدی الروم، فی شعرہا جزالۃ وفخر، کانت تقول:
نحن بنات تبع وحمیر
وضربنا فی القوم لیس ینکر
لأننا فی الحرب نار تسعر
الیوم تسقون العذاب الأکبر
’’وہ ایک شاعرہ تھیں، اپنے زمانہ کی بہادر ترین خاتون میں شمار ہوتی تھیں، جنگی مہمات میں انھیں خالد بن ولید سے تشبیہ دیا جاتا تھا، وہ ضرار بن ازور کی بہن تھیں، ان کے بہت سے واقعات ’’فتوح الشام‘‘ میں مرقوم ہیں، جب ان کے بھائی ’’ضرار‘‘ جنگ اجنادین میں قید ہو گئے تو انھوں نے عورتوں کے ساتھ مل کر دشمن پر حملہ کیا اور پوری جاں نثاری کے ساتھ جنگ لڑی؛ یہاں تک کہ رومیوں کے قبضے سے قیدیوں کو چھڑالیا، ان کا کلام زوردار اور فخر سے بھرپور ہوتا ہے، وہ کہتی تھیں: ’’ہم تُبّع اور حمیر کی بیٹیاں ہیں، ہماری ضربوں کی گونج سے دشمن کانپ اٹھتے ہیں، ہم جنگ میں دہکتے ہوئے شعلے ہیں اور آج تمہیں ’عذاب عظیم‘ کا مزہ چکھایا جائے گا‘‘۔[6]
واقدی نے ان کی بہادری کو زبردست خراج پیش کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’ابھی حضرت خالد بن ولیدؓ چند اشعار گنگنا رہے تھے (جن میں بہادری کی تعریف اور شہادت و جنت کا ذکر تھا) کہ اچانک ان کی نظر ایک شہسوار پر پڑی، جو لمبے قد کے گھوڑے پر سوار تھا، اس کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ تھا، چمکتی آنکھوں کے سوا پورا چہرہ ڈھکا ہوا تھا، اس کے ہر انداز سے اس کی سوارانہ شان و شوکت نمایاں تھی، اس نے اپنے جنگی لباس کے اوپر سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا، اس کی کمر پر سبز عمامہ بندھا ہوا تھا، جس کا شملہ اس کے سینے پر اور پیٹھ کے پیچھے لہرا رہا تھا، وہ مجمع عام سے بہت آگے نکل چکا تھا، اس وقت اس کی مثال اس شعلۂ آتش کی سی تھی، جو دشمن کی طرف لپک رہا ہو، جب خالد بن ولیدؓ کی نظر اس پر پڑی تو وہ بے ساختہ بول اٹھے: ’’یہ سوار تو میرے اشعار سے بھی بڑھ کر نکلا، بخدا! یہ غیر معمولی دلیر اور جانباز معلوم ہوتا ہے‘‘، پھر حضرت خالدؓ اور باقی مسلمان بھی اس کے پیچھے روانہ ہوئے، وہ مشرکین کی صفوں تک سب سے پہلے جا پہنچا، اس وقت رافع بن عمیر طائیؓ دشمن سے نبرد آزما تھے اور اپنے رفقاء کے ساتھ بہادری سے دشمن کے مقابلہ میں جمے ہوئے تھے، جب حضرت خالدؓ اور ان کے مجاہد ساتھی پہنچے، اس وقت ان کی نظر بھی اس سوار پر پڑی، وہ نہایت پرجوش انداز میں رومی لشکر پر ٹوٹ پڑا، گویا وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا کوئی بگولہ ہو، اس نے دشمن کی صفیں تہہ و بالا کر دیں، ان کے مضبوط دستوں کو تتر بتر کر دیا، پھر دشمن کے قلب میں جا گھسا، ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ وہ دشمن کے قلب سے اس حال میں نکلا کہ اس نیزہ سے خون ٹپک رہا تھا، اس نے کئی دشمنوں کو تہہِ تیغ کر دیا تھا، کئی بہادروں کو خاک و خون میں ملا دیا تھا، وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صفوں کو چیرتا چلا گیا، نہ اسے کسی کا ڈر تھا، نہ کسی کی پروا، پھر وہ دشمن کے بڑے بڑے دستوں پر پل پڑا، جس سے ان کے دل میں کھلبلی مچ گئی، حضرت رافعؓ اور ان کے ساتھیوں نے جب اس کی یہ بے مثال شجاعت دیکھی تو یہ گمان کیا کہ: ’’یقیناً یہ خالد ہی ہیں، اس قدر جراءت مندانہ حملے ان کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔‘‘[7]
حضرت خولہؓ نے میدانِ جنگ میں صرف دادِ شجاعت ہی نہیں دی بلکہ علاج و معالجہ کی بھی خدمات انجام دی ہے۔ جنگِ یرموک کے تعلق سے خواتین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے راجی عباس تکریتی لکھتے ہیں:
’’جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو یرموک کے دن وہ بڑی تعداد میں نکلیں، میدانِ کارزار میں ان کے جانے کا مقصد مجاہدین کے حوصلوں کو بلند اور ان کے جوش و ولولہ کو برانگیختہ کرنا، ان کے لئے کھانے تیار کرنا، پیاسوں کو پانی پلانا، مرہم پٹیاں لانا اور زخمیوں کی دیکھ بھال و علاج و معالجہ کرنا تھا۔‘‘[8]
اس معرکہ میں حضرت خولہؓ بھی شریک تھیں اور جس بہادری کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا، اس کا تذکرہ آچکا ہے، تاہم طبی خدمات انجام دینے والی خواتین میں بھی ان کا نام آتا ہے؛ چنانچہ آگے چل کر یہ لکھتے ہیں:
وإلی أرض الشام ومرافقۃ للمجاہدین ولنساء المسلمین خرجت کذلک خولۃ بنت الأزور الکندی لتقوم بما تقوم بہ نساء المسلمین من رعایۃ لشؤون المقاتلین فی نظافۃ ملابسہم، وطہی طعامہم، وسقیہم الماء، ومعالجۃ الجرحی، ودفن الشہداء۔[9]
’’شام کی سرزمین کی طرف روانہ ہونے والے مجاہدین کے ہمراہ خولہ بنت ازور کندی بھی نکلیں؛ تاکہ وہ ان خدمات کو انجام دے سکیں، جو مسلمان خواتین مجاہدین کے لئے انجام دیا کرتی تھیں، جیسے: ان کے کپڑے صاف کرنا، کھانا تیار کرنا، پانی پلانا، زخمیوں کا علاج کرنا اور شہداء کو دفن کرنا وغیرہ‘‘۔
اسی طرح شیخ عکرمہ صبری اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں:
وممن ورد ذکرہن فی کتب الحضارۃ الاسلامیۃ من المجاہدات المتطوعات فی مجال التمریض والاسعاف: خولۃ بنت الأزور۔[10]
’’اسلامی عربی تہذیب کی کتب میں جن مجاہد خواتین کا ذکر آیا ہے، ان میں سے رضاکارانہ طور پر نرسنگ اور ابتدائی طبی امداد کے میدان میں خدمت انجام دینے والی خواتین میں خولہ بنت الازور بھی شامل ہیں‘‘۔
وفات
بالآخر شجاعت و بہادری میں افسانوی شہرت کی حامل یہ خاتون بھی اپنی حیاتِ مستعار کی مدت پوری کر کے خلافتِ عثمانی کے آخری ایام میں دارِ آخرت کی طرف کوچ کر گئیں۔
ایمان الزغول لکھتی ہیں: توفیت فی أواخر عہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔[11]
عبد مہنّا نے سن کی تعیین کی ہے، لکھتی ہیں: توفیت سنۃ ۳۵ھ۔[12]
ڈاکٹر عبد السلام ترمانینی نے بھی سن پینتیس ہجری کے وفات پانے والوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔[13]
روزنامہ عمان میں ان کی وفات کا سن اس طرح لکھا ہوا ہے: توفیت خولۃ بنت الأزور سنۃ ستمائۃ وتسعۃ وثلاثین، ودفنت فی البلقاء ’’خولہ بنت ازور کی وفات چھ سو انتالیس (۶۳۹) میں ہوئی اور بلقاء میں ان کی تدفین عمل میں آئی‘‘، یہ عیسوی سن کے مطابق ہے۔[14]
زرکلی نے سن عیسوی ۶۵۵ رقم کی ہے۔[15]
اللّٰہم ارض عن ہذہ الصحابیۃ الباسلۃ النار المحرقۃ للأعداء، وأجزہا عن الإسلام والمسلمین خیرا الجزاء۔
حوالہ جات
- الطبقات الکبری: ۸؍ ۱۶۲، نمبر شمار: ۲۷۲۳، ذکر ضرار بن الأزور، نیز دیکھئے: طبقات: ۶؍۱۵۹، نمبر شمار: ۱۱۳۸
- https://ar.wikipedia.org
- https://www.omandaily.com عنوان: خولۃ بنت الأزور ’’الفارسۃ الملثمۃ‘‘
- الطبرانی فی الاوسط، حدیث نمبر: ۳۷۴۳، الطحاوی فی مشکل الآثار، حدیث نمبر: ۵۷۰۱، سنن ابن ماجۃ، حدیث نمبر: ۴۱۳۴
- الطبقات الکبریٰ: ۶؍۱۵۹، نمبر شمار: ۱۱۳۸
- معجم النساء الشاعرات فی الجاہلیۃ والاسلام، ص: ۷۸، نمبر شمار: ۹۱، الأعلام للزرکلی: ۲؍۳۲۵
- فتوح الشام للواقدی: ۱؍۴۰-۴۱، الدرالمنثور فی طبقات ربات الخدور، ص: ۱۸۴، أعلام النساء فی عالمی العرب والاسلام: ۱؍۳۷۴
- الاسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص: ۱۰۰
- الاسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص: ۱۰۴
- https://ekrimasabri.net عنوان: حدیث الجمعۃ الدینی: الإسلام ویوم التمریض العالمی، تاریخ نشر: ۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۶ء
- https://mawoo3.com عنوان: ’’الصحابیۃ خولۃ بنت الأزور وصفاتہا‘‘
- معجم النساء الشاعرات فی الجاہلیۃ والاسلام، ص: ۷۸، نمبر شمار: ۹۱) ’’سن پینتیس ہجری میں ان کی وفات ہوئی‘‘
- أحداث التاریخ الإسلامی بترتیب السنین للترمانینی: ۱؍۳۴۷
- https://www.omandaily.com عنوان: خولۃ بنت الأزور ’’الفارسۃ الملثمۃ‘‘
- لأعلام للزرکلی: ۲؍۳۲۵
اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ
محمد سراج اسرار
ویکی پیڈیا ایک آن لائن دائرۃ المعارف ہے اور اس معنی میں آزاد ہے کہ اس کے مضامین کو دنیا بھر کے رضاکار قلم نگار مل کر تحریر اور تبدیل کرتے ہیں۔ اِس انسائیکلوپیڈیا کا آغاز 2001ء میں ہوا تھا اور آج دنیا کی ضخیم ترین معلوماتی ویب سائٹس میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ویکی پیڈیا کا اولین مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے شائقینِ علم کے لیے بڑی زبانوں میں آزاد اور قابلِ رسائی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس ویب سائٹ پر تاریخ، مذہب، سائنس، ادب، جغرافیہ، سیاست، ٹیکنالوجی اور دیگر بے شمار موضوعات پر لاکھوں مضامین موجود ہیں۔ ویکی پیڈیا کی چند انتظامی خصوصیات، جن کی بنا پر یہ بہتر اور تازہ معلومات فراہم کرنے والا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن گیا ہے، درج ذیل ہیں:
- ویکی پیڈیا کا بنیادی اصول اجتماعی تدوین (Collaborative Editing) کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے رضاکار صارفین کسی بھی مضمون کو بہتر بنانے کے لیے اس میں معلومات شامل کر سکتے ہیں، غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں، یا نئی تحقیق کے مطابق مواد کو اَپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔ ہر صارف اپنے علم اور تحقیق کی بنیاد پر مواد شامل کر سکتا ہے۔
- ویکی پیڈیا کے مضامین میں معلومات کو مستند بنانے کے لیے معتبر کتابوں، تحقیقی مقالات اور قابلِ اعتماد ویب سائٹس کے حوالہ جات شامل کیے جاتے ہیں۔
- ویکی پیڈیا کے مواد کا عمومی تاثر اس معنی میں غیر جانبدارانہ ہے کہ زیادہ رجحان درست معلومات کی فراہمی کا ہے، نہ کہ مناظرہ یا مباحثہ کا۔
- تجربہ کار صارفین اور منتظمین مضامین کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ غلط معلومات، تخریبی سرگرمیوں، یا غیر مستند مواد کو فوری درست کیا جا سکے۔
- ویکی پیڈیا کے مضامین دنیا کی سینکڑوں زبانوں میں دستیاب ہیں تاکہ مختلف لسانی گروہوں کے افراد اپنی زبان میں مطلوبہ معلومات حاصل کر سکیں۔
یہ آن لائن دائرۃ المعارف جدید دور میں معلومات کے حصول کا ایک نہایت اہم ذریعہ بن چکا ہے اور اس کی افادیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
- معلومات تک آسان رسائی: طلبہ، اساتذہ اور عام افراد کسی بھی موضوع پر فوری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
- تعلیم میں معاونت: تعلیمی تحقیق اور ابتدائی مطالعے کے لیے یہ ایک مفید ذریعہ ہے۔
- عالمی معلومات کا ذخیرہ: مختلف ممالک، مذاہب، ثقافتوں اور علوم کے بارے میں وسیع معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔
- بلا معاوضہ اور آزاد رسائی: ویکی پیڈیا کو استعمال کرنے کے لیے کسی فیس یا رکنیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
- علم کی ترویج: یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں علم کی اشاعت اور تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔
مختصراً یہ کہ ویکی پیڈیا ایک جدید اور مفید پلیٹ فارم ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو علم سے وابستہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نیز اس کی وسعت، آسان رسائی اور اجتماعی تدوین کا نظام اسے عصرِ حاضر کے اہم معلوماتی ذرائع میں شامل کرتا ہے۔
ویکی پیڈیا پر اسلامی معلومات
ویکی پیڈیا پر دینِ اسلام کے بارے میں وسیع اور متنوع معلومات مختلف مضامین کی صورت میں موجود ہیں۔ اسلام دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے اور اس کے بارے میں معلومات تاریخ، عقائد، عبادات، تہذیب و ثقافت اور اسلامی شخصیات کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ویکی پیڈیا چونکہ ایک آن لائن اور آزاد دائرۃ المعارف ہے، اس لیے اس کے مضامین دنیا بھر کے رضاکار مصنفین کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
ویکی پیڈیا کے مطابق اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو ایک خدا پر ایمان کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید ہے جسے مسلمان اللہ کا کلام مانتے ہیں۔ ویکی پیڈیا کے مضامین میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید، رسالت اور آخرت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی عبادات اور اخلاقی تعلیمات کا بھی تفصیلی ذکر موجود ہے۔ مثلاً اسلام کے بنیادی ارکان: کلمۂ شہادت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے متعلق بھی تفصیل ملتی ہے۔ یہ عبادات مسلمانوں کی دینی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ویکی پیڈیا میں ان عبادات کے پس منظر اور طریقوں کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس سے مطالعہ کرنے والے قارئین اسلام کے بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ویکی پیڈیا میں اسلام کے مختلف تاریخی ادوار پر بھی مضامین موجود ہیں جن میں عہدِ نبوی، خلافتِ راشدہ اور بعد کے اسلامی ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلامی تہذیب، فنون، علم و ادب، اور مختلف علمی میدانوں میں مسلمانوں کی خدمات کے بارے میں بھی وافر معلومات دستیاب ہیں۔ صحابہ کرامؓ، محدثینؒ، فقہاءؒ اور دیگر اہم اسلامی شخصیات کے حالاتِ زندگی پر بھی الگ الگ مضامین موجود ہیں۔
چونکہ ویکی پیڈیا ایک اشتراکی علمی پلیٹ فارم ہے اور اس میں شامل معلومات مختلف مصنفین کی تحقیق اور تحریر پر مبنی ہوتی ہیں، اسی وجہ سے قارئین کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ اہم دینی مسائل میں مستند دینی کتب اور علماء کی آراء سے بھی رہنمائی حاصل کریں۔ اس کے باوجود عمومی معلومات اور ابتدائی تعارف کے لیے ویکی پیڈیا ایک مفید اور آسان ذریعہ ثابت ہوتا ہے جس سے دنیا بھر کے لوگ اسلام کے بارے میں بنیادی آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔
ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے متعلق مضامین
ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے بارے میں تفصیلی معلومات مختلف مضامین کی صورت میں موجود ہیں۔ صحابہ کرامؓ سے مراد وہ خوش نصیب مسلمان ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، آپؐ پر ایمان لائے، اور ایمان ہی کی حالت میں وفات پائی۔ ویکی پیڈیا میں ان کے تعارف اور اسلامی تاریخ میں ان کے کردار کے بارے میں بنیادی اور تاریخی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے مجموعی تعارف پر ایک مضمون موجود ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ اسلام کے ابتدائی دور کی وہ اہم شخصیات ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی تبلیغ، حفاظت اور اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس میں صحابہ کرامؓ کی فضیلت، ان کی تعداد، اور اسلام کے پھیلاؤ میں ان کی خدمات کے بارے میں عمومی معلومات دی گئی ہیں۔
ویکی پیڈیا پر امہات المؤمنینؓ کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں۔ امہات المؤمنین یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو اسلام میں انتہائی عظمت اور احترام کا مقام حاصل ہے۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ، حضرت سودہ بنت زمعہؓ، حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکرؓ، حضرت حفصہ بنت عمرؓ، حضرت زینب بنت خزیمہؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت زینب بنت جحشؓ، حضرت جویریہ بنت حارثؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت صفیہ بنت حیؓ، حضرت میمونہ بنت حارثؓ۔ ویکی پیڈیا پر ہر امّ المؤمنینؓ کے بارے میں الگ مضمون ملتا ہے۔ جس میں ان کے نسب، نکاح اور گھریلو زندگی کے تذکرہ کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت، حدیثِ نبویؐ کی روایت، اور ابتدائی اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کتنا اہم کردار ادا کیا۔
اس کے علاوہ بڑے اور معروف صحابہ کرامؓ پر الگ الگ مضامین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں مفصل مضامین ملتے ہیں جن میں ان کی پیدائش، اسلام قبول کرنے کا واقعہ، خلافت سے پہلے اور بعد کی خدمات، اور وفات تک کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح بہت سے دیگر اکابر صحابہؓ کے بارے میں بھی تحریریں موجود ہیں جن میں عام طور پر ان کے نسب، اسلام کے لیے خدمات، غزوات میں شرکت، علمی کردار اور تاریخی اہمیت کو بیان کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے بارے میں معلومات بنیادی تعارف سے لے کر نسبتاً تفصیلی سوانح تک موجود ہیں۔ تاہم چونکہ یہ ایک عمومی اور اشتراکی دائرۃ المعارف ہے، نیز ضروری نہیں کہ اس پر پائی جانے والی تمام معلومات اہلِ سنت کے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہوں، اس لیے باقاعدہ دینی اور تحقیقی مطالعے کے لیے حدیث، سیرت اور تاریخ کی مستند اسلامی کتب سے رجوع کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔
ویکی پیڈیا پلیٹ فارم کے اس تعارف کے بعد اب ہم اس سلسلۂ تحریر میں صدرِ اول کی اسلامی شخصیات یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوانحی تعارف اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کی خدمات کا تذکرہ ویکی پیڈیا پر موجود معلومات کے حوالے سے پیش کریں گے۔ ایسا کرتے ہوئے ہماری کوشش ہو گی کہ حوالہ جات کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آسان فہم پیرائے میں ان معلومات کا خلاصہ کر دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین کو اکابرینِ ملت سے متعارف کرانے کا سامان مہیا کیا جا سکے۔ چنانچہ ترتیب کچھ اس طرح سے ہو گی کہ سب سے پہلے ہم اصحابِ عشرۂ مبشرہؓ کا تذکرہ کریں گے، اس کے بعد ازواج و بناتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور پھر دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا۔ حضراتِ عشرہ مبشرہؓ کا مختصر مجموعی تعارف ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اصحابِ عشرہ مبشرہؓ
’’عشرہ مبشرہ‘‘ کی اصطلاح سے مراد وہ دس خوش نصیب صحابہ کرامؓ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’عشرہ‘‘ یعنی دس اور ’’مبشرہ‘‘ یعنی خوشخبری دیے گئے افراد کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ان عظیم ہستیوں کی بے مثال قربانیوں، اخلاص اور رسول اکرمؐ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی کا اعتراف بھی ہے۔ یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں نہ صرف ایمان قبول کیا بلکہ ہر طرح کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہے اور دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
ان دس صحابہ کے نام ایک حدیث میں اکٹھے بیان ہوئے جس کی بنا پر انہیں اجتماعی طور پر یہ لقب دیا گیا۔ ان میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ شامل ہیں، جو بعد میں خلفائے راشدین بھی بنے۔ جبکہ دیگر جلیل القدر صحابہ میں حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت سعید بن زیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ شامل ہیں۔ اگرچہ حضور اکرمؐ نے دیگر صحابہ کرامؓ کو بھی جنت کی بشارت دی ہے، لیکن ان دس ہستیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک ہی موقع پر ان سب کے نام لے کر انہیں یہ خوشخبری سنائی گئی، جس سے ان کا مقام اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ حضرات نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھی تھے بلکہ انہوں نے مملکتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے اور نبویؐ روایات کے مطابق ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی زندگیاں ایثار، تقویٰ، شجاعت اور عدل کی ایسی مثالیں پیش کرتی ہیں جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ کا ذکر دراصل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سچا ایمان، اخلاص، اور اللہ و رسول کی محبت انسان کو کس بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے، حتیٰ کہ دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل جانا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔
چنانچہ عشرہ مبشرہ شخصیات کے سلسلہ میں اگلی قسط خلیفۂ اول امیر المومنین سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تذکرہ پر مشتمل ہو گی۔
(جاری)
مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
غزالی اور ابن تیمیہ علیہما الرحمۃ اسلامی روایت کی وہ دو غیر معمولی شخصیات ہیں جنھیں بعض معاصر حلقوں میں مسلمانوں کی موجودہ فکری صورت حال کے بڑے ذمہ داروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ غزالی کا گناہ یہ گنا جاتا ہے کہ انھوں نے ’’فلسفے’’ سے تنفر پیدا کیا، اور ابن تیمیہ کا جرم یہ ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندی کے نقیب ہیں اور یہی دونوں مسئلے، یعنی فلسفہ وعقلیت سے دوری اور مذہبی شدت پسندی، آج مسلمانوں کے سب سے بڑے مسئلے ہیں۔
غزالی کے حوالے سے تاریخی فہم کی تصحیح کی ذمہ داری بہت سے اہل علم نے انجام دی ہے، لیکن ابن تیمیہ کی پوزیشن پر زیادہ کام نہیں ہوا۔ وہ تصوف پسند حلقوں میں بھی زیادہ پسندیدہ نہیں اور شیعہ حضرات کی طرف سے تو باقاعدہ نشانے پر ہیں۔ ان سے انتساب کرنے والے سلفی حضرات چونکہ بہت جزوی اور محدود تناظر میں ابن تیمیہ سے اعتنا کرتے ہیں، اس لیے ان کی طرف سے عموما ان کی مجموعی فکر پر زیادہ بات نہیں کی جاتی۔
ابن تیمیہ اپنے اسلوب اظہار میں یقینا ایک جارحیت رکھتے ہیں اور ان کے بعض مذہبی مواقف میں بھی شدت کا پہلو نمایاں ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ انھوں نے بحیثیت مجموعی اسلامی فکر کی جو ترجمانی کی ہے، وہ بہت متوازن ہے۔ مثال کے طور پر ان کے ہاں ’’اسلامی تشخص’’ کی حفاظت اور ’’تشبہ بالغیر’’ سے اجتناب کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور غیر اسلامی نظریات اور بدعات کی تردید ان کا خاص موضوع ہے۔ تشبہ کے مسئلے پر اور خاص طور پر غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت وغیرہ کے سوال پر انھوں نے ’’اقتضاء الصراط المستقیم’’ کے عنوان سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس میں مسئلے کے مختلف جوانب کا شرعی وتاریخی پہلو سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس حساس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے ابن تیمیہ نے بعض ایسی باتیں بھی کہی ہیں جن سے ان کی علمی وفقہی بصیرت اور فکری توازن واضح ہوتا ہے۔
تشبہ کی بحث میں ابن تیمیہ نے ایک اہم نکتہ یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کے الگ اور امتیازی تشخص کے مسئلے کا اس سوال کے ساتھ براہ راست تعلق ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی صورت حال کیا ہے اور آیا وہ اسلامی اقتدار کے ماحول میں ہیں یا غیر مسلم اقتدار کے تحت رہ رہے ہیں۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان دار الحرب میں ہوں یا دار الحرب کے علاوہ کسی غیر مسلم علاقے میں ہوں تو اپنی ظاہری وضع قطع وغیرہ میں غیر مسلموں سے امتیاز قائم کرنے پر مامور نہیں ہیں، بلکہ ایسی صورت حال میں ان کے لیے مستحب بلکہ بسا اوقات واجب ہوگا کہ وہ ظاہری حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ اشتراک اختیار کریں تاکہ انھیں دین کی دعوت دینے، ان کے داخلی حالات سے واقف رہنے اور مسلمانوں کو ان کے ضرر سے بچانے جیسے دینی مصالح حاصل کیے جا سکیں۔
ابن تیمیہ اس حوالے سے صدر اسلام کے مختلف ادوار میں اختیار کی گئی پالیسی کا حوالہ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ابتداء میں مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے ساتھ مشابہت کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، کیونکہ مسلمان کمزور تھے۔ بعد میں جب اسلام کو سیاسی غلبہ حاصل ہو گیا تو وضع قطع اور معاشرت میں مسلمانوں کو کفار سے امتیاز اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ امتیاز اور مخالفت، سیاسی اقتدار اور غلبے کے ساتھ ہی بامعنی ہو سکتی ہے، اور آج بھی جب مسلمانوں کو ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو انھیں یہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
ابن تیمیہ کی اصل عبارت یہ ہے۔
وسبب ذلک: ان المخالفۃ لھم لا تکون الا مع ظھور الدین و علوہ کالجھاد، والزامھم بالجزیۃ والصغار، فلما کان المسلمون فی اول الامر ضعفاء لم تشرع المخالفۃ لھم، فلما کمل الدین وظھر وعلا، شرع ذلک۔
ومثل ذلک الیوم: لو ان المسلم بدار حرب، او دار کفر غیر حرب، لم یکن مامورا بالمخالفۃ لھم فی الھدی الظاھر، لما علیہ فی ذلک من الضرر، بل قد یستحب للرجل، او یجب علیہ، ان یشارکھم احیانا فی ھدیہم الظاھر، اذا کان فی ذلک مصلحۃ دینیۃ: من دعوتہم الی الدین، والاطلاع علی باطن امورھم، لاخبار المسلمین بذللک، او دفع ضررھم عن المسلمین، ونحو ذلک من المقاصد …
تشبہ پر کلام کرتے ہوئے ابن تیمیہ نے عید میلاد النبی کے مسئلے پر بھی تفصیلی کلام کیا ہے اور ان کا کلام ہمارے ہاں کے متشددین کے لیے بطور خاص قابل توجہ ہے۔
مسئلے کی اصولی حیثیت واضح کرتے ہوئے ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ دینی تہوار یا عید کا تعلق تعبدی امور سے ہے اور شارع کی طرف سے کسی دن کی تعیین کے بغیر ازخود کسی خاص دن کو بطور عید منانا بدعت ہے۔ ابن تیمیہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کی رسومات وبدعات سے اشتغال رکھنے والے لوگ عموما دین کی اصل روح یعنی اطاعت اور عبادت گزاری وغیرہ سے خالی ہوتے اور اس طرح کی ظاہری چیزوں کے اہتمام کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ تاہم ایسی رسوم اور ان کو اختیار کرنے والے مسلمانوں کے متعلق کیا موقف اختیار کیا جائے، اس حوالے سے ابن تیمیہ نے بہت اہم نکتوں کی وضاحت کی ہے۔
ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ایسی رسوم فی نفسہ بدعت اور ناجائز ہیں، لیکن ان کا محرک ایک اچھی نیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا جذبہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ قابل قدر ہے اور اس پر انھیں اللہ کے ہاں اجر ملنے کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ایک صحیح العمل مسلمان کے لیے جو عمل قبیح ہوتا ہے، وہ بعض دفعہ کچھ دوسرے لوگوں کی نسبت سے اچھا بھی ہو سکتا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ قرآن مجید کو سونے چاندی سے مزین کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے، لیکن جب ان سے بعض امراء کے متعلق پوچھا گیا کہ اس نے مصحف کی تیاری پر ایک ہزار دینار خرچ کیے ہیں تو امام احمد نے کہا کہ یہ وہ بہترین مصرف ہے جس پر یہ لوگ سونا خرچ کر سکتے ہیں۔ مراد یہ تھی کہ اگر وہ یہ رقم قرآن پر نہیں خرچ کریں گے تو کسی دوسری کتاب پر کریں گے جس میں کئی مفاسد ہو سکتے ہیں۔
ابن تیمیہ اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ شریعت میں معروف اور منکر کے مختلف مراتب کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور ان کے باہمی تصادم کی صورت میں اہم تر مصلحت کو ملحوظ رکھنا اس علم کی اصل حقیقت ہے جو انبیاء ورسل لے کر آئے ہیں۔ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر لوگ کسی منکر اور بدعت میں مبتلا ہوں تو انھیں سنت اور معروف کی طرف دعوت دیتے ہوئے یہ پیش نظر رکھنا لازم ہے کہ آیا وہ اس منکر کو چھوڑ کر کسی معروف کی طرف آئیں گے یا اس سے بھی برے کسی کام کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ اگر اس دوسری بات کا خدشہ ہو تو انھیں ترک منکر کی دعوت نہیں دینی چاہیے، بلکہ بدعت میں اگر کوئی خیر کا پہلو ہو تو (اسے بالکل ترک کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے) بقدر امکان اس میں خیر کے پہلووں کا اضافہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ نفوس کسی چیز کو کسی دوسری چیز کے عوض میں ہی چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
ابن تیمیہ کی اصل عبارت یہ ہے۔
وکذلک ما یحدثہ بعض الناس، اما مضاھاۃ للنصاری فی میلاد عیسی علیہ السلام، واما محبۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، وتعظیماً۔ واللہ قد یثیبہم علی ھذہ المحبۃ والاجتہاد، لا علی البدع — من اتخاذ مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم عیداً۔ مع اختلاف الناس فی مولدہ۔ فان ھذا لم یفعلہ السلف، مع قیام المقتضی لہ وعدم المانع منہ لو کان خیرا۔ ولو کان ھذا خیرا محضا، او راجحاً لکان السلف رضی اللہ عنہم احق بہ منا، فانہم کانوا اشد محبۃ لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتعظیماً لہ منا، وھم علی الخیر احرص۔ وانما کمال محبتہ وتعظیمہ فی متابعتہ وطاعتہ واتباع امرہ، واحیاء سنتہ باطناً وظاھراً، ونشر ما بعث بہ، والجھاد علی ذلک بالقلب والید واللسان۔ فان ھذہ طریقۃ السابقین الاولین، من المھاجرین والانصار، والذین اتبعوھم باحسان۔ واکثر ھؤلاء الذین تجدھم حراصاً علی امثال ھذہ البدع، مع ما لھم من حسن القصد، والاجتہاد الذی، یرجی لھم بہما المثوبۃ، تجدھم فاترین فی امر الرسول، عما امروا بالنشاط فیہ، وانما ھم بمنزلۃ من یجلی المصحف ولا یقرأ فیہ، …
ہمارے ہاں میلاد منانے کے حوالے سے عموما غلو کی شکایت کی جاتی ہے جو درست ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ غلو کہیں کسی دوسرے غلو کا ردعمل تو نہیں؟ شیخ احمد سرہندی سے لے کر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی تک بدعات ورسوم کی اصلاح کی جدوجہد کرنے والے بڑے بڑے بزرگان دین نے مولود وغیرہ کو کسی بہت بڑی بدعت کے طور پر نہیں لیا، اگرچہ ناروا تصورات اور رسوم اس کے ساتھ اس وقت بھی وابستہ تھیں۔ تاہم جب اس کے زوائد ولواحق کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے نفس میلاد کو بدعت قرار دیا گیا تو اس کا رد عمل پیدا ہونا ناگزیر تھا، اور دوسری انتہا یہی بنتی تھی کہ اسے سنی اور عاشق رسول ہونے کا معیار قرار دے دیا جائے۔ فافہموا وتدبروا
زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین
خداداد زندگی اور نعمتوں کی قدر کیجیئے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کی بات اور آپؐ کا ہر عمل، وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کا ادب اور احترام لازم اور ضروری ہے۔ قرآن کریم میں 26ویں پارے میں سورہ حجرات میں انہی آدابِ معاشرت پر بات کی گئی ہے کہ ’’لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ‘‘ (الحجرات ۱) اللہ اور اس کے رسولؐ سے آگے نہ بڑھو، نہ چلنے میں، نہ بات کرنے میں، نہ رائے دینے میں۔ اور پھر فرمایا ’’لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘ (الحجرات ۲) نبی کی آواز پر اپنی آوازوں کو اونچا مت کرو، جیسے ایک دوسرے کو بلاتے اور پکارتے ہو، ایسی آوازیں نہیں لگاؤ۔ ہوگا کیا؟ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے، تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اتنا گھبرا گئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنی پست آواز سے بات کرنے لگے کہ آقا ﷺ کو پوچھنا پڑتا، عمر! تم نے کیا کہا ہے؟ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ خطیب تھے، آواز ان کی تیز تھی، وہ اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے محصور ہو کے بیٹھ گئے کہ میں آقا کی مجلس میں جاؤں گا تو بے خیالی میں آواز تیز ہو جائے گی، بے ادبی کا مرتکب ہو جاؤں گا، اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر تسلی دی کہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ’’لست منھم، بل تعیش بخیر وتموت بخیر‘‘ تمہارا جینا اور تمہارا مرنا خیر کی حالت میں ہو گا۔ ’’تعیش حمیدًا وتموت شھیدًا‘‘۔ آپؐ نے یہ تسلی کے الفاظ کہے۔
آج جہاں اللہ رسول کی بات ہو رہی ہو تو بالکل انہی آداب کو ملحوظِ نظر رکھا جائے گا۔ کسی عالم نے ایک موقع پر کہا کہ بھئی اللہ رسول کی بات ہو گی، اگر کسی کا اس سے زیادہ ضروری کام ہو تو وہ جا سکتا ہے۔ ہمارا زیادہ وقت موبائل میں، فضولیات میں، لغویات میں، بے ہودہ چیزوں میں لگ جاتا ہے۔ اور حدیثِ پاک میں آتا ہے ’’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ‘‘ اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی اور بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔ لایعنی کا معنی علماء نے کیا ہے کہ ایسا کام جس میں نہ دین کا فائدہ ہو، نہ دنیا کا۔ نہ جسمانی کوئی فزیکل ایکٹیوٹی ہو جو صحت کے لیے مفید ہو، اور نہ روحانی اعتبار سے فائدے مند ہو۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ اللہ کے راضی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ ان کاموں میں لگا دے جس کا تمہیں کوئی فائدہ ہو، چاہے دنیا کا ہو، یا آخرت کا ہو۔ اور اللہ کی ناراضگی کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ ایسے کاموں میں لگ جائیں جس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہونا۔
اگر ہم اپنی چوبیس گھنٹے کی زندگی کو ایک بیلنس شیٹ بنا کر چیک کریں، اِن پٹ اور آؤٹ پٹ دیکھیں، تو ایک سروے کے مطابق سات سے آٹھ گھنٹے ہر آدمی موبائل استعمال کر رہا ہے۔ اور اس موبائل میں ہم کیا دیکھتے ہیں؟ بلکہ، ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟مطلب یہ کہ:
- ہم کوئی بیان سننے کے لیے جاتے ہیں اور اچانک کوئی ویڈیو آتی ہے ہم اس کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، وہ ختم ہونے کو لگتی ہے، بیچ میں کوئی ایڈ آتا ہے ہم کسی دوسرے لنک پر چلے جاتے ہیں۔ تو جس چیز کو سننے کے لیے ہم گئے تھے اس کو سنا ہی نہیں اور دس غلط چیزیں دیکھ کر اور سن کر آگئے۔
- پھر تبصرہ کرنے میں، پوسٹ پر کمنٹ کرنے میں، اپنی رائے دینے میں؟ ہم نے کچھ بھی لکھ دیا، کچھ بھی بول دیا۔ اس سے دل ٹوٹ گئے، اس سے گھر اجڑ گئے، اس سے خاندان کا شیرازہ بکھر گیا، اس سے نفرت اور عداوتیں پھیل گئیں، اس سے ملک میں انتشار اور انارکی کی صورتحال پیدا ہو گئی، اس سے دو ملک آپس میں لڑ پڑے۔ ہم نے کسی چیز کا خیال اور لحاظ نہیں رکھنا، ہم نے تو بس اپنی بات کر دینی ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھلائی، اور وہ دعا ہم پڑھیں اور اس کو یاد کریں کہ ’’اللہم انی اعوذ بک من زوال نعمتک وتحول عافیتک وفجاءۃ نقمتک وجمیع سخطک‘‘ اللہ میں پناہ مانگتا ہوں نعمتوں کے زائل ہو جانے سے۔ یہ نعمت ہے، صحت بھی ہے اور امن بھی ہے اور فرصت بھی ہے، اور اللہ نے اولاد کی نعمت، بیوی کی نعمت، ماں باپ کی نعمت، بہن بھائیوں کی نعمت، اچھے دوستوں کی نعمت، اور یہ ہواؤں کا چلنا اور یہ دن اور رات کا نظام، اور یہ سب کچھ اللہ نے دیا ہے۔ تو میں پناہ مانگتا ہوں کہ یہ نعمتیں زائل نہ ہو جائیں۔
ایک جھٹکے میں کلاؤڈ برسٹ ہوا، لوگ جاں بحق ہو گئے۔ اور زلزلہ آیا اور لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے اور پورے گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ سیلاب آیا اور کئی دیہات زیرِ آب آگئے۔ زکوٰۃ دینے والے، لینے والوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ؎
صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
اللہ نے بینائی چھین لی، اور ایکسیڈنٹ ہو گیا، فالج کا اٹیک ہو گیا، کڈنی فیل ہو گئے، کینسر ہو گیا، تو اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں نعمتوں کے زائل ہونے سے۔ ’’وتحول عافیتک‘‘ اور عافیت کے پلٹ جانے سے۔ ایک آدمی صبح اٹھتا ہے اور بدن بھی سلامت ہے، گھر والے بھی سلامت ہیں، ایمان بھی سلامت ہے، یہ عافیت ہے۔ ایمان کے بعد قیمتی چیز عافیت ہے۔ کتنے لوگ، اللہ اکبر کبیرا، ان کے اوپر حالات آتے ہیں اور عافیت اور سکون ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’وفجاءۃ نقمتک‘‘ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب کے انتقام کے اچانک آ جانے سے۔
اللہ فرماتے ہیں، ہم ڈھیل دیتے ہیں، استدراج ہوتا ہے، مہلت ملتی ہے۔ ’’اخذناھم بغتۃ‘‘ (الانعام ۴۴) پھر ہم اچانک پکڑتے ہیں۔ اور ’’ان بطش ربک لشدید‘‘ (البروج ۱۲) تیرے رب کی پکڑ بہت زیادہ سخت ہے۔ ’’افامن اھل القریٰ ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نآئمون (الاعراف ۹۷) کیا یہ گاؤں والے بے خوف ہیں اِس بات سے کہ اللہ کا عذاب رات میں آئے جب یہ سوئے ہوئے ہوں؟ کیا یہ بے خوف ہیں اس بات سے کہ اللہ کا عذاب دن میں آئے جب یہ کھیل کود میں مصروف ہوں؟ ’’افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون‘‘ (الاعراف ۹۹) اللہ کے عذاب سے بے خوف رہنے والے، وہ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
تو اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو سننا، اس پر عمل کرنا، اس کو یاد کرنا، اس کو آگے پہنچانا اور پھیلانا۔ بعض لوگ کہتے ہیں نا کہ کچھ لوگ اسباب اور وسائل نہ ہونے کے باوجود، بہت زیادہ پیسہ نہ ہونے کے باوجود بھی بڑی پرسکون اور سیٹزفائیڈ لائف گزارتے ہیں۔ تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سرسبز اور شاداب، تروتازہ رکھ اُن لوگوں کو جو دین کی بات، میری بات سنیں، اس کو یاد رکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ تو جو دین کی بات کو پھیلانے میں، اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں مصروف رہے گا، تو اللہ اس کے منتشر کاموں کو یکجا کر دیں گے، آسان کر دیں گے۔ سہولت، عافیت والی روزی اس کا مقدر ہو گی۔ اللہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔
وقت کی تقسیم کار کے متعلق چند گزارشات
وقت کو منظم انداز سے استعمال نہ کرنا زندگی میں انتشار پیدا کر دیتا ہے، اور انتشار کام کے بگڑنے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، جسے عام طور پر بے چینی (stress) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان جو کام کر سکتا ہو، لیکن بدنظمی کی وجہ سے نہ کرتا ہو، تو یہ بدنظمی بھی انسان کو بے چین کر دیتی ہے۔ چین و سکون میں آنے کا ایک بڑا طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے کرنے کے کام کو سمجھے اور ان کاموں کے لیے باقاعدہ وقت طے کرے اور ان کو اپنے مقررہ وقت پر انجام دے۔
ایک بات کا خاص اہتمام کر لیں کہ جن چیزوں یا لوگوں کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا ہے، ان سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کنارہ کش کر لیں۔ اسی طرح جو کام آپ کسی اور سے کرا سکتے ہیں تو بلاوجہ مجاہد بن کر وہ کام خود کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ اوروں کو ذمہ داریاں تقسیم کرنے سے وقت، ذہن، صلاحیت اور صحت کی بچت ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہ لوگ بھی احساسِ ذمہ داری محسوس کرنے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے سب کچھ خود کرنا کمال نہیں ہے، لیکن سب کچھ اپنی نگرانی میں کرانا بہت بڑا کمال ہے، یہ ایسی خوبی ہے کہ انسان مر بھی جاتا ہے لیکن اس کا کام جاری رہتا ہے۔
کاموں کو یومیہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ، یا طویل المدتی مقاصد امور وغیرہ کے نام سے تقسیم کیا جانا چاہیے۔ تمام کاموں کو روزانہ یا فوراً کرنے والی لسٹ میں نہ رکھیں:
- کچھ کام روزانہ کرنے کے ہوتے ہیں جیسے ورزش، عبادت، تلاوت، ملازمت اور کاروبار وغیرہ۔
- کچھ کام ہفتہ وار جیسے گھریلو مصروفیات، عیادت و تعزیت، صحبت اہل اللہ وغیرہ۔
- اور اسی طرح ماہانہ جیسے بجٹ بنانا، صدقہ کرنا وغیرہ۔
یہ طے کر لیا جائے کہ یومیہ آپ کی جامد اور پکی ٹھکی مصروفیت کون کون سی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کاموں کے وقت کو بھی اس میں شامل کر لیں جو اچانک (ایمرجنسی) کی صورت میں کرنے ہی ہوتے ہیں۔ اس میں ملازمت، آرام، کھانا پینا، اہل خانہ اور اپنی صحت کے ضروری امور کا حساب لگا لیں اور احتیاطا کچھ وقت زیادہ کا اندازہ مقرر کر لیں۔
مذکورہ طریقہ کار مقرر کرنے کے بعد دیکھ لیں کہ آپ کے پاس یومیہ کتنے گھنٹے بچتے ہیں۔ یومیہ مصروفیت سے جو وقت بچ جائے اسے اپنے مختلف ذاتی مقاصد کے لیے تول تول کر خرچ کیا جائے۔ جیسے مطالعہ، تحقیق، لکھنا پڑھنا، عبادت و ریاضت، خط و کتابت، مسیجز کے جواب دینا، لوگوں کی خدمت کرنا، صلہ رحمی، عیادت و تعزیت، خاندانی امور، اہلِ خانہ کے حقوق، علاقائی امور، فلاح و بہبود کے کام، قومی مقاصد، دوستوں کے ساتھ گپ شپ، کھیل ہنسی مذاق اور تفریح وغیرہ۔ مذکورہ تمام امور کو یومیہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ اور طویل المدت خانوں میں وقت، ضرورت اور ترجیح کے موافق تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ
موجودہ دور میں اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ بڑے زور و شور کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق محفوظ نہیں ہوتے۔ انہیں جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ دعویٰ سراسر غلط اور حقائق کے خلاف ہے۔ اسلام مذہبی رواداری، اعتدال اور عدمِ تشدد کا حامل دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان کا مقام و مرتبہ تو بہت بلند ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے تو جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اور کتے جیسے جانور کے ساتھ ہمدردی پر مغفرت اور اجر کی نوید سنائی ہے۔ خاص طور پر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کی جان، مال، عزت، آبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصول انصاف کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے۔ ان کی دل آزاری سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ فقہائے کرام نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی یہودی یا آتش پرست کو اے یہودی کہہ کر خطاب کیا، جس سے اس کی دل آزاری ہوئی، تو ایسا خطاب کرنے والا گناہگار ہوگا۔ (ہندیہ: ۵/۹۵)
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی، اخلاق اور امن کے دائرے میں رہ کر اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے۔ اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے۔ ان پر یا ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنا یا ان کے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا یقیناً گناہ اور سنگین جرم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی جتنی نگرانی کی گئی ہے، اس کی مثال کسی اور مذہب میں ملنا مشکل ہے۔
قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی یا انصاف کا معاملہ کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورۃ الممتحنہ: ۸)۔ اس آیت کریمہ میں ایسے کفار جنہوں نے مسلمانوں سے مقابلہ نہیں کیا، اور انہیں ان کے گھروں سے نکالنے میں بھی کوئی حصہ نہیں لیا، ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کی ہدایت ہے۔
ایک حدیث شریف میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار! جس شخص نے کسی غیر مسلم باشندے پر کوئی ظلم کیا، یا اس کی بے عزتی کی، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس کو کسی بات کا مکلف بنایا، تو قیامت کے دن میں غیر مسلم کی طرف سے اس شخص کے خلاف وکالت کروں گا (سنن ابی داؤد: ۳۰۵۲)۔ ایک دوسری روایت میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی معاہد (غیر مسلم باشندے) کو ناحق قتل کرے، اس پر اللہ رب العزت جنت حرام کر دیتے ہیں (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الوفاء للمعاہد، ۲۷۶۰)۔ یہاں ان دو احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ احادیث طیبہ، اسلامی فقہ اور تاریخ کی کتابیں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نہ صرف رواداری، بلکہ حسنِ سلوک، اور یکساں انسانی حقوق کی فراہمی کی تاکید اور ترغیب سے بھری پڑی ہیں۔
غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت
لیکن رواداری، حسنِ سلوک، اور انصاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مذاہب کے درمیان فرق اور امتیاز ہی کو مٹا دیا جائے، اور مسلمان رواداری کے جوش میں غیر مسلموں کے عقیدہ و مذہب ہی تائید شروع کر دیں۔ یا اس عقیدے پر مبنی تقریبات میں شریک ہو کر یا ان کے مذہبی شعائر کو اپنا کر ان کے مذہب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ہر چیز کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ ان حدود سے آگے بڑھنا درست نہیں ہوتا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک معاشرے کے اندر بہت سی قومیں رہتی ہیں، جن کا تعلق مختلف مذاہب و نظریات سے ہوتا ہے۔ اور یہ فطرتِ انسانی میں داخل ہے کہ معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے کر امن کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔ لیکن اسلام نے جو حدود مقرر کی ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ان کی پامالی کی اجازت نہیں ہوتی۔
اس سلسلے میں قرآن کریم کا واضح پیغام یہ ہے کہ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے، جو توحید کا عقیدہ رکھتا ہو، اور لا الٰہ الا اللہ پر ایمان اُس کی شناخت کا لازمی حصہ ہو، اس کے لیے غیر مسلموں کے باطل عقائد کے عملی مظاہرے کا حصہ بننا، اور ان مذہبی تہواروں میں شرکت کرنا، جو ان کے باطل مذہب کی پہچان ہیں اور ان کے کفر کی امتیازی علامات ہیں، جسے غیر مسلم اپنے مذہب کے شعار کے طور پر تعظیماً مناتے ہیں، یہ رواداری نہیں بلکہ مداہنت اور عقیدے کی کمزوری کا اظہار ہے۔ حضرت فاروق اعظمؓ کا ارشاد ہے: مشرکین کے عید کے دن ان کے گرجا گھروں میں داخل نہ ہو جایا کرو، کیونکہ ان پر اللہ رب العزت کا غضب نازل ہوتا ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی: ۱۸۸۶۱)۔
کچھ عرصے سے غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات (کرسمس، دیوالی، ہولی وغیرہ) میں ہمارے مسلم رہنماؤں اور وزیروں کی بھرپور انداز میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت نظر آ رہی ہے، جسے غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور رواداری کے رنگ میں دیکھا جاتا ہے۔ اور خاص طور پر پاکستان میں اسے اقلیتوں کی خوشیوں میں شرکت سمجھ کر اس سراہا بھی جاتا ہے، اور وسیع پیمانے پر فخریہ انداز میں اس کی نشر و اشاعت بھی ہوتی ہے۔ یہ یک طرفہ پہلو تو ان کی نظر میں ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کو نمایاں کیا جائے، کہ پاکستانی حکومت کس طرح غیر مسلموں کی خوشی میں برابر کی شریک ہے، لیکن یہ پہلو ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا کہ کرسمس اور دیوالی وغیرہ کے ساتھ بہت سے باطل عقائد اور تصورات وابستہ ہیں، ان مذہبی تہواروں میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوتی ہے۔ شرکیہ اعمال و افعال کیے جاتے ہیں۔ باطل عقائد کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اور اس طرف بھی ان کی توجہ نہ گئی کہ ان مذہبی تقریبات میں شریک ہو کر کیک کاٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟
حاصل یہ ہے کہ جس طرح وطن کے غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسنِ سلوک، اور ان کی باعزت اور آرام دہ زندگی کا خیال رکھنا ضروری اور مستحسن ہے، اور جس طرح ان پر یا ان کی عبادت گاہوں پر حملے کرنا، یا ان کے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا گناہ اور قابلِ مذمت ہے، اسی طرح کسی مسلمان کا غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔ اس سلسلے میں تمام پہلؤوں کی رعایت اور مختلف جہتوں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے۔
البتہ کسی ایسے مقام اور ملک میں جہاں غیر مسلم اکثریت ہو، اور وہاں صورت حال یہ ہو کہ کرسمس وغیرہ میں شریک نہ ہونے سے دینی یا دنیاوی نقصان ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو ایسی مجبوری میں نقصان سے بچنے کے لیے شرکت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کسی شرکیہ اور مذہبی عمل میں شریک نہ ہو، اور اس موقع پر جو مذہبی رسومات انجام دی جاتی ہیں ان سے بھی دور رہے۔
غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دینا
غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر مبارک باد دینا جائز نہیں ہے۔ علامہ ابن قیمؒ اپنی کتاب احکام اہل الذمہ میں لکھتے ہیں: کفریہ شعائر پر مبارک باد دینا حرام ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے صلیب کو سجدہ کرنے پر کسی کو مبارک باد دی جائے۔ وأما التھنئۃ بشعائر الکفر المختصۃ به فحرام بالاتفاق، مثل أن یھنئھم بأعیادھم و صومھم، فیقول: عید مبارك علیك۔ وھو بمنزلة أن یھنئہ بسجوده للصلیب۔ (أحکام أھل الذمۃ: ۱۵۳/فصل فی تھنئتھم/ط: دار الحدیث، القاھرۃ، ۲۰۰۵)
البتہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، اور یہ خدشہ ہو کہ اگر مسلمان ان کے تہواروں میں شرکت نہ کریں اور مبارک باد بھی نہ دیں، تو وہی غیر مسلم ان سے اور متنفر ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں مبارک باد دینے کی گنجائش ہے۔ لہٰذا ضرورت اور مجبوری کے تحت لکم دینکم ولی دین کے انداز میں مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں۔
بلکہ بعض علمائے کرام کا کہنا یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں بھی ان کافروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بہترین معاشرتی زندگی سے منع نہیں کیا گیا ہے جو مسلمانوں سے نہ قتال کرتے ہیں اور نہ ان کو اپنے گھروں سے نکالتے ہیں، بلکہ اس کی ترغیب دی ہے۔ لہٰذا غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دینا حسنِ معاشرت کے اندر داخل ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ آیت واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او ردوھا کے عموم میں یہ چیز آ سکتی ہے۔ (غير المسلمين فی المجتمع الاسلامی، الدكتور يوسف القرضاوی)
غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات کا تحفہ
غیر مسلم حضرات اپنے مذہبی تہوار، مثلاً دیوالی، ہولی یا کرسمس وغیرہ کے موقع پر جو تحائف، ہدایا، مٹھائیاں اور تبرکات وغیرہ اپنے مسلمان دوستوں کو پیش کرتے ہیں، اس سلسلے میں سلفِ صالحین سے دو قسم کے رجحانات منقول ہیں۔ مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کسی غیر مسلم نے ان کی خدمت میں نیروز کے دن ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ مجوسیوں سے ہمارے تعلقات ہیں، اور اس وجہ سے وہ اپنے تہوار کے موقع پر ہمیں ہدیہ دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر وہ گوشت وغیرہ دیں تو نہ کھاؤ، البتہ پھل وغیرہ کھا سکتی ہو۔ اسی طرح روایت حضرت ابو برزہ اسلمی سے بھی منقول ہے۔ ان روایات کے پیشِ نظر شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ان آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایا و تحائف کے باب میں تہوار سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور نہ اس سے غیر مسلموں کی اعانت لازم آتی ہے۔ اس لیے غیر حربی کافروں کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، خواہ وہ ان کے تہوار کے موقع پر ہو یا کسی اور موقع پر۔ (اقتضاء الصراط المستقيم، ص: ١٢٠)
اس کے بالمقابل حضرت مولانا عبدالحئ فرنگی محلی نے ذخیرۃ الفتاویٰ کی ایک عبارت نقل کی ہے، جس سے تہوار کے موقع پر غیر مسلموں کے تحائف قبول کرنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت ذخیرۃ الفتاویٰ کے حوالے سے لکھتے ہیں: لا ینبغی للمؤمن ان یقبل ہدیۃ کافر فی یوم عید، ولو قبل لا یعطیہم ولا یرسل الیہم (فتاویٰ عبد الحی: ۱/۴۰۲١٧)
یعنی مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ کافر کا ہدیہ تہوار کے موقع پر قبول کرے، اور اگر قبول کرے تو ان کو ہدیے میں نہ خود کوئی تحفہ دے اور نہ کسی اور کے ذریعے بھیجے۔
دونوں رجحانات کے درمیان تطبیق اس طرح دی جا سکتی ہے کہ مذہبی تہواروں کے موقع پر دو طرح کے تحفے ہوتے ہیں: بعض وہ ہیں جو بتوں اور دیوتاؤں وغیرہ پر چڑھاوے کا ہوتے ہیں، ان کا قبول کرنا جائز نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ما اھل لغیر اللہ میں داخل ہے۔ ذخیرہ کی عبارت کا محل بھی غالباً یہی صورت ہے۔ اور بعض ہدایا وہ ہوتے ہیں جن کا پوجاپاٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، محض خوشی کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ اس قسم کے تحفے قبول کرنے کی گنجائش ہے، اور یہی علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت کا محل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مذہبی تہوار کے تحائف اگر بتوں، دیوی یا دیوتاؤں پر نذر و نیاز کے طور چڑھاوے کے ہوں تو قبول کرنا جائز نہیں، اور اگر بتوں پر چڑھائے ہوئے نہ ہوں تو قبول کرنا جائز ہے۔
غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر تحفہ دینا
غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر (مثلاً دیوالی، ہولی، کرسمس وغیرہ) تحفہ دینا شرعاً درست نہیں ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں کفار کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، نیز اس میں فی الجملہ ان کے مذہبی تہوار کی تائید و حمایت بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جس نے اعاجم کے دیار میں رہائش اختیار کی، اور نیروز اور مہرجان منا کر ان کی مشابہت اختیار کی، اور اسی حال میں اسے موت آ گئی، (یعنی اس نے موت سے پہلے اپنے اس عمل سے توبہ نہیں کیا)، تو اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا۔ (السنن الكبریٰ للبیہقی: ۳۹۲،۹/، حديث: ١٨٨٦٣)
فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم تہوار کی تعظیم کے طور پر کسی کافر کو ہدیہ پیش کرے تو اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔
علامہ ابنِ عابدین شامیؒ نے امام ابو حفص کبیرؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص پچاس سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہے، پھر نیروز کے دن کسی مشرک کو محض اس دن کی تعظیم کی نیت سے ایک انڈا بھی ہبہ کر دے، تو وہ شخص کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے اور اس کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ بلکہ فقہائے کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس دن ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو بھی تحفہ نہیں دینا چاہیے، تاکہ کفار کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے۔ البتہ اگر تحفہ دینا مقصود ہو تو اس دن سے پہلے یا بعد میں دے دیا جائے، تاکہ غیر مسلم تہوار کی تعظیم اور اس کے شعائر سے اجتناب رہے۔ (حاشیہ ابن عابدین: ۲۴٢٤/۲۸۴٢٨٤، مسائل شتی، قبیل کتاب الفرائض، رقم المقولہ: ۵۵ ٥٥)
غیر مسلموں کے غیر مذہبی تقریبات کا ہدیہ
جہاں تک عام ہدایا اور دیگر تقریبات کے تحائف کا تعلق ہے، مثلاً شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، دکان یا مکان کا افتتاح، ان مواقع پر جو ہدایا دیے جاتے ہیں، ان کا لینا جائز ہے، اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ پاک ہوں اور اس میں کوئی حرام چیز ملی ہوئی نہ ہو۔ ولا باس بطعام المجوسی کلہ الا الذبیحۃ، فان ذبیحتہم حرام (ہندیۃ: ٥۵/۳۴۸٣٨٤)
قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب
پروفیسر خورشید احمد
بیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلمان نیم آزاد ملک تھے۔ باقی ساری اسلامی دنیا مغربی اقوام کی غلامی میں تھی۔ اور تقریباً یہ دو سو سال کا تاریک دور تھا۔ لیکن اس صدی میں ہم اس سے نکلے، آج مسلمانوں کی ستاون آزاد ریاستیں ہیں۔ پھر ۱۹۷۳ء تک دنیا کا اکنامک بیلنس آف پاور مغرب کے ہاتھوں میں تھا۔ یعنی ایک معمولی سے جھٹکے سے، آئل پرائسز، اکنامک بیلنس آف پاور abolish ہوا، اور ہمیں غیر معمولی موقع ملا۔ آزادی ہم کو اللہ نے دی ہے۔ اکانومی کا موقع ہم کو دیا۔ اور پھر اس صدی میں اللہ کا شکر ہے کہ دین کا صحیح تصور وضاحت کے ساتھ پیش ہوا۔ میں اس سلسلہ میں، ویسے تو ہمیشہ رہا، شاہ ولی اللہ کا اور سید احمد شہید کا بڑا کنٹری بیوشن ہے، لیکن میری نگاہ میں شبیر نعمانی، ابوالکلام آزاد، اقبال، مولانا مودودی، حسن البنا، سید قطب، مالک بن نبی، اسی طرح دیگر، ایک فوج کی فوج ہے جنہوں نے اس کو پیش کیا۔ اختلافات بھی ہیں لیکن مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دین مکمل نظام ہے، اسے قائم کرنے کی کوشش ہمارا فرض ہے۔
مجھے الجھن ہوتی ہے جب لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ریاست مسلمان کیسے ہو سکتی ہے۔ قانونی اعتبار سے ریاست ایک لیگل پرسن (قانونی شخصیت) ہے۔ اور ایک لیگل پرسن جو ہے، جس طرح اس کا ایک فزیکل وجود ہے، اس طرح اس کا انٹلیکچوئل اور آئیڈیالوجیکل وجود ہے، ایک پولیٹیکل وجود ہے۔ اگر ریاست ایک ویلفیئر سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک کرسچئن سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک سوشلسٹ سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک بدھسٹ سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک ہندو سٹیٹ ہو سکتی ہے، تو اسلامک سٹیٹ کیوں نہیں ہو سکتی؟
کہا جاتا ہے کہ یہ تو ایک انعام ہے، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ نعمت کے تو معنی یہ ہے کہ ہم اس کے حصول کی کوشش کریں۔ نعمت کا یہ معنی تو نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ کر انتظار کریں۔ ٹھیک ہے رزق بھی ایک نعمت ہے، لیکن رزق کے لیے آپ کو کوشش کرنی ہوتی ہے۔ تو اللہ کی نعمت اور انعام ہے، تو اس کے قیام کی جدوجہد تو ضروری شے ہے۔ اور یہ پھر قرآن خود کہہ دیتا ہے کہ ’’الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ واٰتوا الزکوٰۃ وامروا بالمعروف‘‘ (الحج 41) جب تمہیں اقتدار دیا جاتا ہے تو جہاں تم نماز قائم کرتے ہو، زکوٰۃ قائم کرتے ہو، وہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔اور امر کے معنی درخواست کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ اور نہی کے معنی محض متنبہ کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ قائم کرنا۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو یہ تینوں چیزیں ہمیں حاصل ہوئیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس سے پورا پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اور ہمارا اندرونی نظام، قیادتیں، جاہلیت کی بنیادوں پر یہ منظم ہیں۔ لیکن اصلاح کی قوتیں، تبدیلی کی قوتیں ہر جگہ کارفرما ہیںٖ۔ نشیب و فراز ہیں۔
- اگر مصر میں چالیس سال تک اخوان پر پابندی لگانے اور ہزاروں کی تعداد میں افراد کو شہید کرنے اور جیل میں ڈالنے، تعذیب کرنے، اس کے باوجود اس طرح ابھر سکتا ہے۔
- ترکی میں اذان دینا ممنوع تھا، سر پر ٹوپی نہیں اوڑھ سکتے تھے باہر آپ، عربی میں آج بھی کوئی کتاب نہیں چھاپ سکتے۔ لیکن کیا تبدیلی آئی ہے؟
- سنٹرل ایشیا میں ستر سال اشتراکیت نے کیا کیا ہے؟
تو میں، جہاں ایک طرف جو خرابیاں ہیں، جو تضادات ہیں، جو کمزوریاں ہیں، اُن کا معترف ہوں، وہیں یہ اعتماد رکھتا ہوں کہ ہمارے پاس وہ نظریہ بھی ہے، وہ استعداد اور قوت بھی ہے، جذبہ بھی ہے، اور ساری جہالت اور کمزوریوں کے باوجود، بڑی جان اور بڑا جذبہ ہے۔ صرف اسے صحیح طور پر موبلائز کرنے کی، مویٹیویٹ کرنے کی، آرگنائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں جہاں جو اس طرح ہوا ہے اس کے نتائج نکلے ہیں۔ تو نشیب و فراز ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی، میں پر امید ہوں کہ حالات بدلیں گے۔
اور اس میں مجھے امید نوجوانوں سے ہے خاص طور پہ۔ آج ففٹی سے سکسٹی پرسنٹ مسلم ورلڈ کی آبادی نوجوان ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ یہ بہت بڑی قوت ہے۔ اور مشورہ میرا اُن کے لیے صرف ایک ہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ زندگی کو محض کھانے اور پینے اور آرام کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ زندگی کا مقصد پہچانیں اور سمجھیں۔ اور پھر اس مقصد کے لیے اپنے آپ کو تیار بھی کریں، اور اس مقصد کو بروئے کار لانے کی کوشش اور جدوجہد بھی کریں۔ یہ کام انفرادی سطح پر بھی ہونا ہے، اجتماعی سطح پر بھی ہونا ہے۔ اور میں اسے صرف تین لفظوں میں ادا کیا کرتا ہوں:
- پہلی چیز ہے خدا شناسی۔ اللہ کو پہچان لیجیے، اس کے دامن کو تھام لیجیے، اور وہ ہمیں کیسا چاہتا ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
- پھر خود شناسی، کہ میں خود کیا ہوں۔ اور اللہ اور اس کے رسول مجھے کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور قرآن و سنت میں میرے لیے کیا نمونہ دیا گیا ہے، کیا مجھے ہدایت دی گئی ہے، کیسا بننے کا مجھے بتایا گیا ہے۔
- اور پھر خلق شناسی، کہ اس کے نتیجے کے طور پر اللہ کی مخلوق سے میرے تعلقات کیسے ہوں گے۔ اپنے اعزہ سے، اپنے خاندان سے، عام لوگوں سے، اپنے محلے سے، عام انسانوں سے ، دوستوں سے، دشمنوں سے، کافروں سے، مسلمانوں سے، انسٹیٹیوشنز سے، فیملی سے لے کر کے سٹیٹ تک، یہ سب اس میں کور ہو جاتے ہیں۔
تو میرا ان کو مشورہ صرف یہی ہے کہ زندگی کا مقصد متعین کیجیے اور مقصد کو پھر سنجیدگی سے قبول کر کے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کیجیے۔
رہا معاملہ خواتین کا، تو خواتین کے بارے میں میں یہ بات صاف عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے کوئی فرق، کامیابی کے معیار کے اعتبار سے، مرد اور عورت کے درمیان نہیں کیا ہے۔ اور قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ایمان لانے والے مرد، ایمان لانے والی عورتیں، تقویٰ اختیار کرنے والے مرد، تقویٰ اختیار کرنے والی عورتیں، قرآن میں دونوں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جس طرح مردوں کے لیے کہا اسی طرح عورتوں کے لیے کہا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنی صلاحیت ، اپنی ذمہ داریوں، اپنے ماحول، اس کی مناسبت سے آپ کو … وہاں فرق ہو سکتا ہے، لیکن مقام میں، رائٹس میں، رول میں، کوئی فرق نہیں ہے، …
اور یہ بھی اللہ کا ہمارے اوپر بڑا کرم ہے کہ اس نےعقیدے کے بارے میں ہمیں تفصیل دے دی ہے۔ اس میں نہ کوئی اضافہ ہو سکتا ہے، نہ کمی ہو سکتی ہے۔ اس نے عبادات کے بارے میں، جو اللہ سے انسان کو جوڑتی ہیں، اور بندوں کو اللہ کی مرضی زمین پر پوری کرنے کے لائق بناتی ہیں، اس کی پوری تفصیل دے دی ہے، اس میں کوئی اضافہ اور کمی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے بعد باقی سارے معاملات جتنے بھی ہیں ان میں ایک بڑی حکمت کے ساتھ صرف ضروری ہدایات دی ہیں، اور باقی آپ کو آزادی دی ہے اور آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ حالات کی مناسبت سے اپنا راستہ نکالیں۔
خاندان کے نظام کو آپ دیکھیے، اس کے لیے تفصیلی قانون دیا ہے۔ پورے قانون کا چالیس فیصد صرف خاندان کے بارے میں ہے۔ معاشی معاملات، سیاسی معاملات، اجتماعی معاملات، بین الاقوامی معاملات، سب کے بارے میں صرف گائیڈلائنز ہیں، تاکہ پھر آپ زمانے کی ضروریات کی مناسبت سے ان کی روشنی میں اپنا راستہ نکالیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں قرآن پہنچایا، قرآن کی تعلیم دی، قرآن کے مطابق تزکیہ کیا، وہیں حکمت کی تعلیم دی۔ اور حکمت کی تعلیم نام ہے اس بات کا کہ ان کی روشنی میں آپ اپنے دور میں اپنے حالات کے مطابق کیسے کام کریں۔ حضورؐ نے کر کے دکھایا دیا، اس لیے حدیث اور سنت آپ کے لیے نمونہ ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک datum (معلومات) نہیں ہے بلکہ methodology (عملی نمونہ) ہے۔ اور اس میتھاڈولوجی سے ہر دور میں افراد کو بھی اور امت کو بھی اپنا راستہ نکالنا ہے۔
میں نے مثال دی آپ کو کہ تحریکِ پاکستان میں، اس قرارداد میں بھی، جہاں قائد اعظم نے اور فضل الحق نے اور خلیق الزمان نے تقریریں کیں، وہیں مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ نے بھی تقریر کی۔ وہ برقع پہن کر پوری تحریک میں شریک رہی ہیں۔ اور آخری وقت تک مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگز میں شریک ہوتی رہی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے کیا کردار ادا کیا۔ اور بلا کسی اُس کے، تحدیثِ نعمت کے طور پر میں آپ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جو ہماری جماعت کی خواتین آئی ہیں، انہوں نے کس طرح خدمت انجام دی ہے۔ تازہ ترین جو رپورٹ ہے … وہ یہ کہتی ہے کہ اس اسمبلی میں بھی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی، ان کی خواتین سرِفہرست ہیں، مردوں سے بھی آگے ہیں، اپنا کام کرنے میں۔
تو آپ ہر جگہ کام کر سکتی ہیں، اپنے اصول اور اپنے آداب کا خیال رکھ کر۔ باقی یہ صحیح ہے کہ گھر اولین ذمہ داری ہے اور وہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جتنی بھی مہلت ملے، جتنا بھی وقت ملے، وہ آپ کا بھی فرض ہے کہ آپ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور اپنا کردار ادا کریں۔ اور آپ کا اجر دوسروں سے زیادہ ہے، اس لیے کہ اللہ کے رسولؐ نے آپ سے کہا ہے کہ آپ کی گھر کی نماز بھی اتنے ہی ثواب کی مستحق ہے جتنا جماعت میں مسجد میں جا کر مردوں کی نماز ہے۔ تو اللہ کے رسول اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے بے پناہ مواقع بھی دیے ہیں اور مراعات بھی دی ہیں۔ لیکن اس فریم ورک میں اپنا راستہ نکالیے۔
اور آخری بات تحقیق کے سلسلے میں کہہ کر بات کو ختم کرتا ہوں:
- تحقیق کے باب میں میری درخواست پہلی یہ ہے کہ تحقیق سے بھی پہلے عادت ڈالیے پڑھنے کی۔ مجھے دکھ ہے کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی، پڑھنے کی جو عادت ہے، جو اہمیت ہے، وہ کم ہو رہی ہے۔ یہ بہت نقصان کا سودا ہے۔ اللہ میاں نے جو کتاب بھیجی ہے، تو کتاب کا معنی یہی ہے کہ پڑھنا۔ سننا بھی آجاتا ہے، اور جو آپ کی جدید ٹیکنالوجی ہے، فائدہ اٹھائیے ضرور، لیکن کتاب پڑھنا، کتاب سے تعلق آپ کا رہنا چاہیے۔
- دوسری چیز یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچنا، سمجھنا، اور پھر تنقیدی فیکلٹی (صلاحیت) کو ڈویلپ کرنا۔ تحقیق کے لیے تنقیدی فیکلٹی کا ڈویلپ کرنا بے حد ضروری ہے۔ وہ تحقیق جو تنقیدی فیکلٹی کو ڈویلپ کیے بغیر ہوتی ہے، وہ مکھی پہ مکھی تو مار لیتے ہیں، لیکن نئی رائے نہیں ہوتی۔ تو دوسری چیز یہ ہے۔
- تیسری چیز یہ ہے کہ فیکٹ (حقائق) کے بارے میں کبھی کمپرومائز نہ کیجیے۔ نہ فیکٹ کا انکار کیجیے، نہ فیکٹ کے باب میں سیلیکٹِو ہوں۔ لیکن یہ متعین کیجیے کہ کیا فیکٹ ہے اور کیا فکشن۔ فکشن کو فیکٹ نہ لیں، اور فیکٹ کو فکشن نہ سمجھیں۔ لیکن فیکٹ کی تعبیر، فیکٹ کی روشنی میں پھر تفہیم، اور ان دونوں کی روشنی میں تشکیلِ نو ، آگے کی سوچ۔ فیکٹس آپ کا راستہ نہیں روکتے۔ فیکٹس آپ کو صرف بتاتے ہیں کہ کیا چیلنجز ہیں ، کیا حقائق ہیں، آپ کو کیسے ریسپانڈ کرنا چاہیے۔ تو اس لیے فیکٹ اور تفہیم اور تشکیلِ نو، ان تینوں مراحل کو۔
- اس کے بعد پھر میں بہت صاف الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ تحقیق کا کام پتہ ماری کا کام ہے، سہل انگاری کا نہیں۔ بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو محنت نہیں کرتے، یا کوالٹی کے اعتبار سے کمزور چیز ہوتی ہے، یا پھر prejudice (جانبداری/تعصب) کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان سب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی حد تک کوشش کی ہے اور اسی کی تلقین بھی اپنے ساتھیوں کو کی ہے کہ تحقیق کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔
اور جو ادارے، اللہ نے مجھے توفیق دی ہے، قیام میں کوئی کردار ادا کرنے کی، ہم نے وہ روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور میں بات کو اسی پہ ختم کرنا چاہتا ہوں کہ IPS ایک امانت ہے آپ سب کے ہاتھوں میں۔ یہ اللہ کا ہم پر فضل رہا ہے کہ اس نے ہمیں بروقت اس باب میں سوچ اور پھر اس سوچ کے مطابق کوشش کی صلاحیت سے نوازا، اس کی توفیق عطا فرمائی۔ آئی پی ایس اسلام کی احیائی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ لیکن آئی پی ایس اپنی تنظیم کے اعتبار سے، اپنی مینجمنٹ کے اعتبار سے، ایک انڈیپینڈنٹ ادارہ ہے۔ ہماری وفاداریاں اس تصور کے ساتھ ہیں، ہماری دعائیں اسلامی تحریک اور اسلامی قوتوں کی کامیابی کے لیے ہیں، لیکن ہمارا طریق کار یہ ہے کہ ہم ایک محدود دائرے میں، جو policy analysis ہے: کیا پالیسی ہے؟ کیا حقائق ہیں؟ پالیسیوں میں کیا خوبیاں اور کیا کمزوریاں ہیں؟ نئی پالیسیز کیا ہونی چاہئیں؟ یہ ہے وہ فریم ورک جس میں ہم کام کر رہے ہیں۔ ہمارا سورس آف ریفرنس ہمارا نظریہ، اسلام اور پاکستان اور مسلم امہ اور اس کی خودانحصاری، اس کی استطاعت کو مضبوط کرنا، اسے اس لائق بنانا کہ یہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو سکے۔
مختصراً ہمارا سارا کام پروفیشنل ہے، پروفیشنل انداز میں ہونا چاہیے، جس میں ادارے میں بروقت آنے سے لے کر کے آپ کی تحقیق، آپ کی تحریر، آپ کی ڈسکشنز، آپ کے نتائجِ فکر، ان کی تشہیر اور ان کو دوسروں تک پہنچانا، یہ سارے پہلو شامل ہیں۔ اور یہ ہر کام ایفیشنسی کے ساتھ اعلیٰ معیار کے اوپر، ہمیشہ cry for the best, there is always room at the top اگر اس کو آپ اپنے سامنے رکھیں گے تو ان شاء اللہ آپ بلندیوں کی طرف جائیں گے اور مثال قائم کریں گے۔ یہ آئیڈیل ہمارا ہونا چاہیے۔ اسی جذبے سے یہ ادارہ ہم نے قائم کیا ہے اور اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ یہی ہمارے پاس معیار رہے۔
میری دعا اور میری تلقین آپ لوگوں کے لیے یہی ہے کہ اس فریم ورک میں آپ اپنا کام کریں، اور مجھے خوشی ہے یہ بات کہتے ہوئے کہ میں اپنی صحت کی بنا پر اپنی غیر موجودگی کی بنا پر زیادہ وقت نہیں دے پا رہا ہوں، شروع میں تو بہرحال میں نے سارا وقت یہیں دیا ہے، لیکن اب بورڈ آف گورنرز نے میرے بھائی خالد رحمان کو ایگزیکٹو پریزیڈنٹ آئی پی ایس کا مقرر کیا ہے، جس کا چارج انہوں نے لے لیا ہے، مجھے وہ کنسلٹ کرتے رہیں گے، مطلع رکھیں گے، لیکن عملاً ذمہ داری اب اُن کے اوپر ہے، اور ان شاء اللہ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم کوشش کریں گے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی دوسرا آجائے، تاکہ انتظامی معاملات میں ان کو کچھ سہولت مل سکے، فی الحال یہ دونوں ذمہ داریاں وہ پوری ادا کریں گے۔
ان گزارشات کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس میں جو خیر ہے اس کے لیے ہمارے دلوں کو کھول دے۔ اور اگر مجھ سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہمیں معاف کرے اور مجھ کو اور آپ سب کو محفوظ رکھے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ندیم صاحب: بہت شکریہ سر ، جزاک اللہ۔ ……ابھی ہمارے پاس کچھ وقت ہے، ہم چار بج کر پچاس منٹ تک کچھ سوالات، کچھ کامنٹس، کچھ تاثرات لے سکتے ہیں، لیکن کوشش کریں کہ دوسروں کو بھی موقع ملے، پھر خاص طور پہ، اس وقت ظاہر ہے، جیسے میں نے شروع میں کہا کہ بہت خوشی ہے آپ سب لوگ تشریف لائے ہیں، خاص طور پر میں جو اس وقت پہچان رہا ہوں، سلیم منصور خالد صاحب لاہور سے تشریف لائے ہیں، ڈاکٹر عدنان سرور صاحب پشاور سے خاص طور سے تقریب کے لیے تشریف لائے ہیں۔
پروفیسر خورشید احمد: میں بہت ممنون ہوں آپ سب حضرات کا۔
ندیم صاحب: ہم دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر ابھی کچھ ہمارے ساتھی بزرگ ، پہلے ذرا ہم بزرگوں سے شرو ع کرتے ہیں …
https://youtu.be/edQgfHeyTp8
(جاری)
مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
مہمان : شجاع الدین شیخ
میزبان : مفتی طارق مسعود
مفتی طارق مسعود صاحب نے انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دس پندرہ سال قبل نارتھ کراچی میں نوجوان انہیں بتایا کرتے تھے کہ وہ جمعہ جناب شجاع الدین شیخ کے ہاں پڑھنے جاتے ہیں اور ان کے بیانات بہت معلوماتی اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ تب سے ان کے دل میں شجاع الدین شیخ کے لیے محبت بیٹھ گئی تھی کہ ما شاء اللہ ایک مؤثر کام کر رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ تنظیمِ اسلامی سے وابستہ ہیں اور بے حیائی، سود، اور فیمینزم جیسے مسائل کے خلاف ان کا کام نمایاں ہے۔ مفتی صاحب نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنا تعارف، تعلیمی پس منظر، ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے تعلق، اور تنظیمِ اسلامی میں شمولیت کے بارے میں بتائیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر
شجاع الدین شیخ نے مفتی طارق مسعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رہائش کراچی کے قدیم علاقے برنس روڈ میں رہی ہے اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے کامرس کی لائن میں تعلیم حاصل کی اور چارٹڈ اکاؤنٹنسی کی فیلڈ میں پاکستان کی معروف فرم ایئرفرگوسن سے ٹریننگ مکمل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات بھی کیا۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اسکول میں چند اساتذہ ایسے ملے جنہوں نے انہیں عربی سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ کالج لائف میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانیؒ، اور مفتی عبدالرؤف سکھرویؒ جیسی جید شخصیات سے استفادہ کیا۔ مفتی زرولی خانؒ کا دورہ تفسیر بھی ان کے لیے کالج کے دور میں فیض رساں رہا۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق اور تنظیمِ اسلامی میں شمولیت
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ انہوں نے 1991-92ء سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو سننا شروع کیا اور 1998ء میں باقاعدہ تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ مفتی طارق مسعود کے سوال پر کہ کیا داڑھی شروع سے رکھی تھی، انہوں نے بتایا کہ الحمداللہ شروع سے ہی داڑھی ہے اور کبھی صاف کرنے کا موقع نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے والدین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد اور دادا دونوں پاکستان کسٹمز میں تھے اور انتہائی درجے کے ایماندار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دین کی طرف آنے کی توفیق میں والدین کی تربیت اور حلال رزق کا بہت بڑا حصہ ہے۔
شجاع الدین شیخ نے اپنے علمی سفر میں چند دیگر اہم شخصیات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے محلے میں ایک استاد تھے جو بیک وقت جماعتِ اسلامی سے بھی وابستہ تھے اور جام شورو کے ایک بزرگ کے ساتھ تصوف کے حوالے سے بھی وابستہ تھے۔ اسی طرح مفتی نظام الدین شامزیؒ نے دس سال تک ان کے محلے میں درس دیا جس میں شرکت کا انہیں موقع ملا۔ ان تمام اساتذہ سے استفادہ کا تعلق رہا اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساتھ بھی وابستگی قائم ہوئی، پھر 1998ء میں تنظیمِ اسلامی میں ان کی شمولیت کا مرحلہ آیا۔
تنظیم کی جدوجہد کے مرکزی دائرے
مفتی طارق مسعود نے ابن تیمیہؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق اور باطل کا اندازہ باطل کے تیروں کے رخ سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں دو چیزوں کو فوکس کر رہی ہیں: سودی نظام اور بے حیائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیمِ اسلامی کا ان دونوں میدانوں میں کام نمایاں ہے اور وہ اس لیے شجاع الدین شیخ سے عقیدت رکھتے ہیں کہ ان کا کام صرف باتوں تک محدود نہیں بلکہ سائن بورڈز، احتجاج اور تقریروں کی صورت میں ان کا کام سامنے آتا رہتا ہے۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم اسلامی کی جدوجہد کے مرکزی دائرے یہ ہیں:
- معاشرت کی سطح پر بے حیائی کے خلاف مہم،
- معیشت کی سطح پر سود کے خلاف کام،
- اور سیاست کی سطح پر سیکولرازم کے خلاف محنت۔
انہوں نے بتایا کہ ہر تین ماہ بعد پورے پاکستان میں ’منکرات آگاہی مہم‘ چلائی جاتی ہے جس میں عوامی سطح پر گفتگو کی جاتی ہے اور لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ مہمات کبھی معیشت پر، کبھی معاشرت پر، کبھی سیاست پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ججز، وکلاء، اسمبلی ممبران، صدر اور وزراء، سب کو لٹریچر بھیجا جاتا ہے اور انہیں ان کی دینی ذمہ داری یاد دلائی جاتی ہے۔
شجاع الدین شیخ نے ختم نبوت جیسی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ایسا پبلک پریشر نہیں ڈالیں گے، منکرات کے خلاف بات بننے والی نہیں ہے۔ انہوں نے مفتی تقی عثمانی کا 2018ء کا کلپ یاد کروایا جس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ انگریز کے دور سے حکومتوں کو بات سمجھ آگئی ہے کہ جب تک کوئی ’جوتا لے کر نہیں آئے گا‘ بات نہیں ماننی۔ شجاع الدین شیخ نے واضح کیا کہ پریشر ڈالنے کا مطلب توڑ پھوڑ یا گاڑیاں جلانا نہیں ہے بلکہ عوامی دباؤ کا ماحول قائم کرنا ہے۔
مفتی طارق مسعود نے عدالتی خلع کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فیملی سسٹم تباہ کر دیا ہے جبکہ نہ منبر سے اس پر بات ہو رہی ہے نہ اسلامی نظریاتی کونسل اس پر سوچ رہی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کسی ’متفق علیہ منکر‘ کے خلاف چلنی چاہیے، اور شراب، جوا، سود، بے حیائی جیسے مسائل پر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
دعوت کا طریقہ کار اور نئی نسل کی شمولیت
مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ تنظیم اسلامی نوجوانوں کو کیسے راغب کرتی ہے اور جدوجہد کا حجم کیسے بڑھاتی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے پہلے تبلیغی جماعت کے حضرات کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ علمی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن ان کی قربانیاں قابلِ تعریف ہیں۔ پھر تنظیم اسلامی میں دعوت کے حوالے سے انہوں نے دو بنیادی نکات بیان کیے:
- ایک یہ کہ ’’قوا انفسکم و اھلیکم نارا‘‘ (التحریم) کے تحت پہلی ذمہ داری اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دعوت کی بات باقی جگہوں پر ہو رہی ہوتی ہے لیکن اکثر اپنے گھر والے نظر انداز ہو جاتے ہیں، اس لیے ہم پہلے اپنے بچوں اور بچیوں پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔
- دوسرا یہ کہ ہر ساتھی کو بتایا جاتا ہے کہ مدرس اور خطیب تو ہر کوئی نہیں بن سکتا لیکن داعی ہر ایک کو بننا ہے۔ چاہے آفس ہو، کالج ہو، یونیورسٹی ہو، یا پیشہ ورانہ زندگی ہو، دعوت کا کام جاری رکھنا ہے۔
شجاع الدین شیخ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیانات کی مقبولیت کو بھی ایک ایڈوانٹیج قرار دیا کہ ہر اردو بولنے والا جو دین سننا چاہتا ہے وہ ڈاکٹر صاحبؒ کو سنتا ہے، جس سے ہمارے لیے لوگوں کے ساتھ اس سلسلہ میں گفتگو کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اصل چیز مستقل محنت، ذاتی رابطہ، دروس میں شرکت کی ترغیب دینا ہے، اور اس کے ساتھ لوگوں کے خوشی اور غم کے مواقع پر ان کے ساتھ شریک ہونا ہے، کیونکہ اگر ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو داعی کا ٹیگ تو لگ جائے گا لیکن مؤثر داعی نہیں بن سکیں گے۔
مدرس بننے کے معیارات
مفتی طارق مسعود نے دریافت کیا کہ تنظیمِ اسلامی میں درس دینے کے لیے کیا معیارات ہیں، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ وہاں ہر ایک کو درس کی اجازت نہیں ہوتی۔ شجاع الدین شیخ نے اس سوال کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ تنظیمِ اسلامی میں درس دینے کے لیے چار بنیادی معیارات ہیں:
- پہلا یہ کہ تنظیم میں شامل ہونے والے کو پہلے ’’ملتزم‘‘ کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے یعنی وہ پختہ کار ہو جائے۔
- دوسرا تجوید کے امتحان سے گزرنا ہوتا ہے جس میں لحن جلی کی غلطیوں سے پاک ہونا ضروری ہے، یہ ٹیسٹ مرکزی نظم کے تحت مقامی سطح پر ہوتا ہے۔
- تیسرا عربی گرامر کا امتحان ہے اور یہ بھی مرکز کے تحت پورے پاکستان میں ہوتا ہے۔ اس میں 80 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔
- چوتھا یہ کہ مدرسین کے لیے سالانہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں فہمِ قرآن کے آداب، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، معروف تفاسیر کا تعارف، اور تفسیر بالرائے سے اجتناب جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کی تجوید بچپن سے ہی بہتر تھی اور انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی قائم کردہ قرآن اکیڈمیوں میں ہونے والے دس ماہ کا ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورس بھی کیا ہوا تھا، چنانچہ جب وہ تنظیم میں شامل ہوئے تو مذکورہ معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے انہیں فورًا ہی درس کی ذمہ داری مل گئی تھی۔
مفتی طارق مسعود نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے جاندار اور ڈرانے والے انداز کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا شجاع الدین شیخ کا انداز بھی وہی ہے۔ اس پر شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے چہرے پر جو جلال اور رعب تھا وہ امت کے بگاڑ اور منکرات کے بڑھتے چلے جانے پر ان کی کڑھن کا اظہار تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحبؒ سے ملنے والے جانتے ہیں کہ وہ بالکل مختلف شخصیت تھے، نجی محافل میں وہ ایسی سخت گفتگو نہیں کرتے تھے، حسبِ موقع مذاق اور لطیفہ گوئی کا معاملہ بھی ہوتا تھا۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ عاکف سعید بالکل برعکس شخصیت تھے، انتہائی شفقت اور نرمی والے، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کہا کہ نتیجے کے طور پر ڈاکٹر صاحبؒ کے شاگردوں میں مزاج کا تنوع پایا جاتا ہے، اور وہ خود بھی بشارت اور انذار دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیاست سے متعلق پالیسی
مفتی طارق مسعود نے سوال کیا کہ تنظیم اسلامی کا ہدف کیا ہے، کیا وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں؟ شجاع الدین شیخ نے وضاحت کی کہ فرد کا نصب العین رضائے الٰہی اور اُخروی نجات ہے اور تنظیم کا اجتماعی ہدف اقامتِ دین کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیمِ اسلامی مروجہ انتخابی سیاست میں شامل نہیں ہے۔ البتہ سیاسی گفتگو کرتے ہیں، ملک کے حالات پر کلام کرتے ہیں، اور حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اگر تنظیم کا کوئی رفیق کسی کو ووٹ دینا چاہے تو اس کے لیے دو باتوں کی ہدایت دی جاتی ہے:
- پہلی یہ کہ جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے منشور میں خلافِ اسلام کوئی بات شامل نہ ہو،
- دوسری یہ کہ جس امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے وہ ظاہری اعتبار سے کبائر میں مبتلا نہ ہو۔
یہ تنظیم کی طے شدہ پالیسی ہے اور اجتماعی سطح پر کسی جماعت کی براہ راست حمایت نہیں کی جاتی۔ البتہ انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے موقف کا بھی ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کو اگرچہ یقین تھا کہ انتخابی سیاست سے نظام نہیں بدلے گا، لیکن جب تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہو گئیں تو انہوں نے اس میں اپنا وزن ڈالنے کے لیے اس میں شمولیت اختیار کی۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ اب ایسا امکان نہیں ہے اور اس دور میں شریعت کے حوالے سے جو پسپائی ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
ایک نیا فرقہ بننے کا خدشہ
مفتی طارق مسعود نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ دینی مدارس کے بعض طلبہ اور علماء تنظیم اسلامی سے بدگمان رہتے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں تنظیم کوئی نیا فرقہ بن کر سامنے نہ آجائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس بدگمانی میں تھے لیکن جب انہوں نے تنظیم کے اداروں کا وزٹ کیا تو بدگمانی دور ہوئی۔
شجاع الدین شیخ نے کہا کہ یہ بدگمانیاں اس وقت تک رہتی ہیں جب تک ملاقاتیں نہ ہوں اور ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے 1995ء کا ایک واقعہ سنایا کہ نوجوانی میں وہ اپنے محلے کی مسجد میں ’’تفسیر عثمانی‘‘، مفتی کفایت صاحبؒ کی ’’تعلیم الاسلام‘‘، اور مولانا منظور نعمانی صاحبؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ سے کچھ درس دیا کرتے تھے، تو نیو ٹاؤن کے علماء کو شکایت پہنچی کہ کوئی لڑکا وہاں درس دیتا ہے۔ چنانچہ میں وہاں کے علماء سے جا کر ملا اور انہیں میرے متعلق معلوم ہوا تو وہاں ایک بزرگ مولوی فضل محمد صاحب تھے جنہوں نے مجھ پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شجاع الدین شیخ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے 1985ء میں فرمایا تھا کہ جب امت میں فتنہ اٹھتا ہے تو پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو اسلاف سے بدگمان کر دیا جائے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ تنظیم میں مدرسین کو سمجھایا جاتا ہے کہ ان کا میدان فتوے کا نہیں ہے، بلکہ دعوت اور اصلاح کا ہے۔ چنانچہ فقہی مسائل میں وہ علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خلاف دارالعلوم کورنگی اور جامعہ بنوریہ سے فتوے دیے گئے تھے لیکن آج ان فتاویٰ کا وجود نہیں ہے اور ان اداروں نے رجوع کر لیا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ خود فرماتے تھے کہ فقہی معاملات میں وہ اُمی ہیں، اور اس کی وضاحت میں فرماتے تھے کہ ’’جتنا ان کی اَمی نے بتایا ہے اتنا جانتے ہیں‘‘۔
خواتین کی جدوجہد اور پردے کا انتظام
مفتی طارق مسعود نے خواتین میں کام کے بارے میں پوچھا کہ کیا خواتین کو علاقوں کی امیر بنایا جاتا ہے اور کیا وہ درس بھی دیتی ہیں۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم میں مرد اور عورت کی علیحدگی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ عورتوں کا نظم محدود رکھا گیا ہے کیونکہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر ہے۔ جن خواتین کے بچے چھوٹے ہیں انہیں باہر کی کوئی ذمہ داری نہیں دی جاتی۔ البتہ جو خواتین گھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکی ہیں اور گھر سے اجازت ہے، وہ علاقائی سطح پر ہماری خواتین کی جدوجہد میں شریک ہو سکتی ہیں، اور اگر کسی میں صلاحیت ہے تو وہ بیان یا تربیت نشست کا سلسلہ بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کا نظم مردوں کے نظم کے تابع رکھا گیا ہے۔
شجاع الدین شیخ نے قرآن اکیڈمیوں میں خواتین کے سیکشن کا نظام بھی بتایا کہ خواتین براہ راست اساتذہ سے بات چیت نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے سوال لکھ کر بھیجتی ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورسز میں خواتین باپردہ شرکت کرتی ہیں اور تجوید اور گرامر کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ جن خواتین میں استعداد پیدا ہو جاتی ہے انہیں گھروں یا مقامی مراکز کی حد تک درس کا سلسلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ اگر بے حیائی ختم کرنی ہے تو عورتوں پر محنت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے دور اور آج کے دور کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ تب خواتین مسجد نہیں آتی تھیں تو گھروں میں رہتی تھیں، لیکن آج اگر انہیں مسجد میں نہیں لائیں گے تو وہ ٹیلی ویژن اور ڈراموں کے سامنے بیٹھیں گی، یا بازاروں میں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مصیبت کفر و الحاد ہے جس سے بچنے کے لیے چھوٹی مصیبت برداشت کرنی چاہیے۔
شجاع الدین شیخ نے مفتی طارق مسعود کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جب نوکری اور تعلیم وغیرہ کے لیے اجازت دی جا رہی ہے تو اللہ کے گھر میں آ کر قرآن سننے سے روکنا مضحکہ خیز بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری محافل میں ایسی خواتین آئیں جو پہلے ماڈلنگ یا فنکاری کرتی تھیں اور اللہ نے ان کی زندگیاں بدل دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے کلام کی برکت ہے اور مفتی منیب الرحمان جیسے بزرگ بھی اس رائے کے قائل ہیں کہ اس دور میں عورتوں کے لیے ایسا انتظام ہونا چاہیے تاکہ وہ فضولیات میں نہ جائیں۔
شادیوں کی آسانی کی مہم
مفتی طارق مسعود نے شادیوں کے موضوع پر بھی بات کی اور بتایا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تنظیمِ اسلامی بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی شادیوں کو بھی فروغ دیتی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے نکاح کو آسان بنانے کی بڑی تحریک چلائی تھی۔ ہمارے ہاں پہلی شادی ہی اتنی مہنگی اور مشکل کر دی گئی ہے کہ دوسری کے متعلق کسی نے کیا سوچنا ہے۔ اور بتایا کہ انہوں نے خود بھی اپنے ایک بزرگ ساتھی کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ سے نکاح کیا ہے، جن کی ایک شادی شدہ بیٹی (ربیبہ) بھی ہے جو ان کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترغیب و تشویق کا معاملہ ہے، حکم کی بات نہیں تاکہ خواتین عفت اور حیا کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
نصابِ تعلیم میں قرآن حکیم شامل کرنے کی جدوجہد
مفتی طارق مسعود نے اپنی ایک پرانی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے شجاع الدین شیخ سے کہا کہ اپنے اُس منصوبے کے متعلق بتائیے جس کے تحت وہ خیبرپختونخوا میں قرآن حکیم کو نصابِ تعلیم میں شامل کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ یہ کام ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت کیا گیا، جو کراچی کے چند مخلص تاجر حضرات کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ یہ نصاب 2009ء میں شروع ہوا اور 2010ء میں پہلا حصہ شائع ہوا۔ ابتدا میں ڈھائی ہزار بچوں کے لیے کراچی کے بائیس اسکولوں میں یہ سلسلہ شروع کیا گیا۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اس منصوبے کا نام ’’مطالعہ قرآن حکیم برائے طلبہ و طالبات‘‘ ہے جس میں مکمل قرآن کا ترجمہ، تشریح، اخلاقی اسباق اور مشقیں شامل ہیں۔ 2017ء میں نون لیگ حکومت کے وزیر تعلیم بلیغ الرحمان صاحب تک مفتی عدنان کاکاخیل صاحب کے ذریعے یہ بات پہنچی جس کے نتیجے میں فیڈرل گزٹ میں یہ ترتیب آگئی کہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن، اور چھٹی سے بارہویں تک قرآن کا ترجمہ پڑھانا ضروری ہے۔
2018ء میں جب کچھ خدشات سامنے آئے تو جناب بلیغ الرحمان نے ’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ (پانچوں وفاق: دیوبند، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، اور جماعت اسلامی) سے رابطہ کیا۔ ان پانچوں وفاق کے جید علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں شجاع الدین شیخ ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف سے شامل تھے۔ تین سال تک اسلام آباد میں بیس میٹنگیں ہوئیں جن میں ہر پہلو پر بحث ہوئی۔ اور بالآخر 28 جنوری 2020ء کو کووڈ (کرونا) سے پہلے تمام سات حصوں پر تمام مکاتب فکر نے اتفاق کیا اور دستخط کیے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ ایسا اتفاق پاکستان میں شاید ختمِ نبوت والے معاملے کے بعد پہلی بار ہوا ہو گا۔ شجاع الدین شیخ نے تائید کرتے ہوئے بتایا کہ تمام مسالک نے ایک ترجمہ و تشریح پر اتفاق کیا، اور آج تقریباً 23 لاکھ طلبہ یہ نصاب پڑھ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے اسکولوں میں لاگو کیا۔ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت میں اس پر کام شروع ہو گیا تھا، اور اب جبکہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے یہ سلسلہ ترک نہیں کیا اور اب نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے اس کا لازمی پیپر آنے والا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ جب پیپر لازمی ہو جائے گا تو سب کو پڑھنا پڑے گا۔
مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ اس نصاب کو منظور کروانے اور اسکولوں کا حصہ بنانے میں کن کن شخصیات کا کردار ہے۔ شجاع الدین شیخ نے سب سے پہلے علم فاؤنڈیشن کے سرپرستوں کا ذکر کیا جو تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی دیندار لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو اللہ نے خیر کے کاموں کے لیے خاص توفیق دی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی، مولانا منظور احمد مینگل (وفاق المدارس)، مولانا ارشد سعید کاظمی (بریلوی مکتب فکر)، مولانا نجیب اللہ طارق (اہل حدیث)، ڈاکٹر عطاء الرحمان (جماعت اسلامی)، اور اہل تشیع کی طرف سے جامعہ الکوثر کے نمائندوں کا نام لیا۔ مولانا قاری حنیف جالندھری اور مفتی عدنان کاکاخیل کا بھی تعاون رہا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیغ الرحمان صاحب نے مولانا فضل الرحمان اور عمران خان سے بھی بات کی تھی اور کسی نے اس سلسلہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
تنظیم میں شمولیت کا طریقہ کار
مفتی طارق مسعود نے آخری سوال میں پوچھا کہ اگر کوئی نوجوان تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کرنا چاہے یا درس دینا چاہے تو اس کا طریقہ کیا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ویب سائٹ tanzeem.org پر پورے پاکستان کے دفاتر کے پتے اور فون نمبر موجود ہیں، اور info@tanzeem.org پر ای میل بھی کی جا سکتی ہے۔ شامل ہونے سے پہلے دو تین بنیادی کتابچے پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جن میں تنظیمِ اسلامی کا تعارف اور اس کی دعوت شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شمولیت بیعت کے ذریعے ہوتی ہے۔ خواتین کی بیعت سورہ ممتحنہ کے الفاظ پر ہوتی ہے کہ وہ شرک، چوری اور گناہوں سے بچیں گی اور اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گی۔ مردوں کے لیے مبتدی کی بیعت میں کلمہ، استغفار، اور وعدہ ہوتا ہے کہ وہ نافرمانی چھوڑ دیں گے اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے محنت کریں گے۔ جو آگے بڑھ کر ملتزم بنتا ہے اس کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے الفاظ پر ہوتی ہے، البتہ چونکہ وہ بیعت تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر تھی، لہٰذا ہمارے ہاں اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ امیر کی کوئی ایسی بات جو شریعت کے خلاف ہو تو اسے نہیں ماننا ہوگا۔
مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ کیا پاکستان سے باہر بھی تنظیم کا کوئی سلسلہ ہے۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کا فوکس پاکستان پر ہے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں کی بولی بولتے ہیں اور جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جگہ اگر خلافت کا نظام قائم ہو جائے تو اس کا اثر خودبخود پھیلے گا۔ البتہ جو پاکستانی بیرون ملک جڑے رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ایک حد تک مختلف علاقوں میں نظم موجود ہے۔
آخر میں مفتی طارق مسعود نے شجاع الدین شیخ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مجلس بہت مفید رہی۔ شجاع الدین شیخ نے مفتی صاحب کی وسعتِ قلبی اور محبت کو سراہا کہ انہوں نے اپنا یہ پورا پروگرام تنظیمِ اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے حوالے سے کیا ہے۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مدارس اور عصری تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دین کی خدمت بڑے پیمانے پر ہو سکے۔
https://youtu.be/svG_KhgE6kE
رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے درست جواب کے لیے ضروری ہے کہ رویتِ ہلال سے متعلق پانچ امور کو الگ الگ دیکھا جائے۔
(۱) چاند کی ولادت
پہلا امر یہ ہے کہ چاند کب اپنے مدار میں چکر پورا کر کے نیا چکر شروع کرتا ہے، جسے اصطلاحاً نئے چاند کی ولادت کہتے ہیں۔ یہ بات سائنسی تحقیقات اور حسابات کی روشنی میں قطعی طور پر معلوم ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ مثلاً اس مہینے کا چاند اپنا چکر پورا کر کے نیا چکر جمعہ 28 فروری کو گرین وِچ وقت کے مطابق پونے 1 بجے (پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق پونے 5 بجے صبح) شروع کرے گا۔
(۲) چاند کا قابلِ رویت ہونا
دوسرا امر یہ ہے کہ نئے چاند کی ولادت کے بعد وہ کب ”قابلِ رویت“ ہو جاتا ہے؟ اس کے لیے کئی عوامل کو دیکھا جاتا ہے، جیسے غروبِ آفتاب کے بعد چاند کی عمر، غروبِ آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان مدت، مطلع کا صاف یا ابر آلود ہونا، افق پر چاند کا زاویہ، دیکھنے والے کی نظر کی قوت یا کمزوری وغیرہ۔ سائنسی تحقیقات کی بنا پر اس سلسلے میں تخمیناً اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔
(۳) چاند کا واقعتاً دیکھا جانا
تیسرا امر یہ ہے کہ چاند کی ولادت اور اس کے قابلِ رویت ہونے کے بعد واقعتاً اس کی رویت ہو جائے۔ کیا چاند کی واقعی رویت ہونا ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب سائنس کے بجاے شریعت سے ہی لینا ہوگا اور رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث سے یہ ضروری قرار پاتا ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ انتیسویں دن اگر مطلع ابر آلود ہو، تو تیس دن کے روزے پورے کریں۔ اسی طرح بعض دیگر احادیث میں آپ نے سلبی پہلو سے ممانعت بھی کی کہ جب تک چاند نہ دیکھو، روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند نہ دیکھو، روزہ ختم نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور دیگر شرعی اصولوں کی بنا پر فقہاے کرام نے رویت کی خبر کی قبولیت کے لیے یہ معیار مقرر کیا ہے کہ مطلع صاف ہو تو بہت بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھیں (جسے اصطلاحاً جمّ غفیر کہا جاتا ہے) اور مطلع صاف نہ ہو تو رمضان کے لیے ایک، جبکہ شوال اور دیگر تمام مہینوں کے لیے کم از کم دو گواہ ہونے چاہئیں۔ مکرّر عرض ہے کہ یہ امر سائنسی نہیں، بلکہ شرعی ہے۔
ان امور میں تعارض کا مسئلہ
اگر اس تیسرے امر اور پہلے دو امور میں تعارض آجائے تو کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں دو امکانات ہیں:
- ایک یہ کہ سائنسی تحقیقات اور حسابات کی رو سے چاند کی ولادت بھی ہوئی اور وہ قابلِ رویت بھی ہو، لیکن واقعتاً اس کی رویت کی قابلِ قبول شہادت نہ مل سکے۔ اس صورت میں فقہاے کرام کے ہاں یہ امر مسلّم ہے کہ نیا مہینہ شروع نہیں ہوگا اور تیس کی گنتی پوری کی جائے گی۔ اس سے صرف عصرِ حاضر میں سائنسی علمیت اور مغربی تہذیب سے مرعوب بعض لوگوں، بالخصوص نام نہاد مقاصدی فکر کے علم برداروں (اور ہمارے ہاں غامدی صاحب کے حلقۂ اثر) نے ہی اختلاف کیا ہے۔ اس اختلاف کو مانا جائے یا نہ مانا جائے، یہ بات طے ہے کہ یہ امر شرعی ہے، نہ کہ سائنسی، اور اس کا فیصلہ شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا اور اسی لیے فریقین اپنے اپنے موقف کے لیے شرعی اصولوں سے ہی استدلال کرتے ہیں۔
- دوسرا امکان یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات اور حسابات کی رو سے چاند کی ولادت نہ ہوئی ہو، یا وہ (اس مخصوص مقام یا وقت پر) قابلِ رویت نہ ہو، لیکن رویت کے گواہ مل جائیں جو شرعی اہلیت پر پورا اترتے ہوں۔ اس صورت میں علماے کرام کا اختلاف ہے۔ پشاور کے جناب پوپلزئی اور دیگر کئی اہل علم کی راے یہ ہے کہ اس صورت میں گواہی پر عمل کیا جائے گا اور سائنسی تحقیقات و حسابات کو نظرانداز کیا جائے گا، جبکہ جناب مفتی منیب الرحمان صاحب اور دیگر اہل علم اس صورت میں گواہی کو ناقابلِ قبول ٹھہراتے ہیں۔ بہرصورت دونوں فریقوں کے نزدیک یہ امر سائنسی نہیں بلکہ شرعی ہے، یعنی اس صورت میں اختلاف کو شرعی اصولوں پر حل کیا جائے گا۔ چنانچہ جو گواہی کو مسترد کرتے ہیں وہ یہ شرعی دلیل ذکر کرتے ہیں کہ سائنسی تحقیقات چونکہ قطعی ہیں، اس لیے گواہ کی طرف غلطی کی نسبت کی جائے گی؛ جبکہ وہ علماے کرام جو گواہی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات اس سلسلے میں قطعی نہیں ہیں جبکہ شریعت نے بااعتماد گواہ کی گواہی پر قتل کے مقدمات تک کے فیصلے کا حکم دیا ہے، حالانکہ متواتر سے کم درجے کی خبر پر یقینی علم حاصل نہیں ہوتا۔
جمعہ 28 فروری کو پاکستان میں غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر سوا 13 گھنٹے ہوگی۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اگر آج، مثلاً، سائنسی تحقیقات پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 18 گھنٹے سے کم عمر کا چاند ناقابلِ رویت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی رویت کے متعلق دستیاب معلومات سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اگر بڑی تعداد میں لوگوں نے 12 گھنٹے کے چاند کی رویت کی، اور دیگر قرائن سے اس کی تائید ہو، تو پھر سائنسی اعتبار سے 13 گھنٹے کے چاند کو بھی قابلِ رویت قرار دیا جائے گا۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ امر مشاہدے پر مبنی ہے کہ چاند کب قابلِ رویت ہوتا ہے اور کب نہیں اور مشاہدے کی بہتری پر حکم میں فرق بھی آسکتا ہے۔ اس لیے محض اس بنا پر کہ سائنسی اعتبار سے چاند ناقابلِ رویت ہے، گواہی کو مسترد نہیں کرنا چاہیے، جب تک اس کو مسترد کرنے کے لیے کوئی قوی دلیل نہ ہو۔
(۴) فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
چوتھا امر یہ ہے، اور یہ سب سے اہم ہے، کہ چاند کی ولادت ہو چکی ہو، وہ قابلِ رویت بھی ہو، اس کی رویت کا دعویٰ کرنے والے لوگ بھی ہوں، تب بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے کہ ان لوگوں کا یہ دعویٰ قابلِ قبول ہے اور اسی بنا پر رمضان کا مہینہ ختم ہوا، اب روزہ نہیں رکھا جا سکتا، شوال کا مہینہ شروع ہو چکا اور اب عید کی نماز پڑھنی ہے اور فطر کا صدقہ دینا ہے؟ جیسا کہ ظاہر ہے، یہ امر تو بالخصوص شرعی ہے اور اس کا فیصلہ شرعی اصولوں پر ہی ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں شریعت کے چند بنیادی اصول یہ ہیں:
- رمضان کے چاند کی رویت ”دینی امر“ ہے۔ چنانچہ جس شخص کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے خود چاند دیکھا، اس پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہو جاتا ہے، خواہ مجاز حاکم اس کی خبر مسترد کر دے اور یہ قرار دے کہ رمضان شروع نہیں ہوا، کیونکہ جب اس کے خیال کے مطابق اس پر روزہ لازم ہو چکا ہے تو اس کے لیے اسے کسی شخص سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
- تاہم یہ شخص کسی اور پر اپنا فیصلہ نافذ نہیں کر سکتا، بلکہ کسی اور پر فیصلہ صرف حکمِ حاکم سے ہی نافذ ہو سکتا ہے۔
- شوال (اور دیگر تمام مہینوں) کا معاملہ رمضان سے مختلف ہے کیونکہ وہ صرف ”دینی امر“ نہیں بلکہ ”بندوں کے حقوق“ کا بھی معاملہ ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص نے شوال کا چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا تو وہ دوسروں پر تو ویسے بھی اپنا فیصلہ نافذ نہیں کر سکتا، خود اس کے لیے بھی جائز نہیں ہوگا کہ وہ روزے ترک کر کے عید کرے! یہاں تک کہ اگر اس کے تیس پورے ہوئے ہوں، تب بھی وہ عید نہیں کر سکتا، بلکہ یہ فرض کیا جائے گا کہ اس سے ابتدا میں غلطی ہوئی تھی۔
- یہی حکم باقی دس مہینوں کے لیے بھی ہے۔
- رمضان کے چاند کی رویت کی خبر شرعی اصطلاح میں ”روایت“ ہے جبکہ شوال اور دیگر دس مہینوں کے چاند کی رویت ”شہادت“ ہے۔ چنانچہ رمضان کے گواہ پر جرح نہیں ہونی چاہیے اور اگر بظاہر قابلِ قبول، حتی کہ مستور الحال، ہے تب بھی اس کی خبر قبول کرنی چاہیے، جبکہ شوال اور دیگر مہینوں کے چاند کی رویت کے گواہوں پر باقاعدہ جرح ہونی چاہیے اور جب تک ان کا قابلِ اعتماد ہونا ثابت نہ ہو، ان کی خبر پر فیصلہ نہیں سنانا چاہیے۔ نیز چونکہ شوال اور دیگر دس مہینوں کی خبر شہادت ہے، اس لیے اس کے گواہ کو باقاعدہ مجلس قضاء (عدالت) میں آکر گواہی ریکارڈ کرنی چاہیے، البتہ مجبوری کے عالم میں شہادۃ علی الشہادۃ اور دیگر قانونی طریقوں سے اس کی گواہی مجلسِ قضاء میں پہنچائی جا سکتی ہے۔
- مسلمانوں کا حاکم، خواہ خود شرعی امور سے ناواقف ہو، یا فاسق ہو، فیصلہ اسی کا نافذ ہوتا ہے، البتہ اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اہل علم کی راے پر فیصلہ دے۔
- کسی حاکم کا فیصلہ صرف اس کے زیرِ اختیار علاقوں میں ہی نافذ ہوتا ہے۔ کسی دوسرے حاکم کے زیر اختیار علاقے میں اس کا فیصلہ تبھی نافذ ہو سکتا ہے جب وہاں کے حاکم تک یہ فیصلہ باقاعدہ قانونی طریقے سے پہنچایا جائے اور پھر وہ حاکم اس فیصلے کو قبول کر کے اپنے علاقے میں اسے نافذ کرنے کا حکم جاری کرے۔
- جہاں مسلمانوں کا حاکم نہ ہو، وہاں مسلمانوں کا جس عالم پر اعتماد ہو، اسے حاکم کے قائم مقام کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، اور رمضان و عیدین اور دیگر مہینوں کے آغاز و اختتام کا فیصلہ اس کے فتویٰ پر ہونا چاہیے تاکہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے اور انتشار نہ ہو۔
(۵) اصل اہمیت قانونی اختیار کی ہے، نہ کہ اختلافِ مطالع کی
پانچواں امر یہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کا مطلع ایک نہیں ہے؛ بعض اوقات ایک ہی ملک کے مختلف حصوں کا مطلع بھی مختلف ہوتا ہے؛ اور اس کے برعکس بعض اوقات مختلف ممالک کا مطلع ایک ہوتا ہے۔ ایسے میں شرعاً اور قانوناً اصل اہمیت اختلاف یا وحدتِ مطالع کی نہیں، بلکہ اس کی ہے کہ کسی خاص خطے میں فیصلہ نافذ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ مثلاً سعودی عرب کی عدالت کا فیصلہ پاکستان میں نافذ نہیں ہو سکتا جب تک قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں اور یہاں کی عدالت اس فیصلے کو قبول کر کے یہاں نافذ کرنے کی اجازت نہ دے۔ یہی معاملہ رویتِ ہلال کا بھی ہے۔ مثلاً:
- جمعہ 28 فروری کو غروبِ آفتاب کے وقت شمالی اور مرکزی امریکا میں چونکہ چاند کی عمر زیادہ ہوگی، اس لیے وہاں رویت ممکن ہوگی۔ اب اگر پاکستان میں کوئی انفرادی طور پر اس رویت کے مطابق ہفتے کے دن روزہ رکھنا چاہے، تو اس کی مرضی، لیکن وہ کسی دوسرے کو اس پر مجبور نہیں کر سکتا، جب تک یہاں کی حکومت یا حکومتی کمیٹی اس فیصلے کو قبول کر کے پاکستان میں نافذ کرنے کی اجازت نہ دے۔ یہ تو رمضان کا معاملہ ہے جو عبادت اور دینی معاملہ ہے۔
- شوال اور عید کے معاملے میں البتہ انفرادی سطح پر بھی اس کی اجازت نہیں ہو گی جب تک حکومت یا حکومتی کمیٹی اس کا فیصلہ نہ کرے۔
یوں عملاً یہ امکان ہے کہ کوئی شخص شمالی امریکا یا سعودی عرب کے فیصلے پر روزہ رکھے، اور پھر عید کے معاملے میں اس پر رویت کے متعلق پاکستان کا فیصلہ ماننا لازم ہو، اور اس صورت میں اسے تیس کے بجاے اکتیس روزے رکھنے پڑ جائیں۔ رمضان کے معاملے میں وہ اپنی مرضی کر سکتا ہے، لیکن عید کے معاملے میں نہیں کر سکتا۔
اس لیے عالمی سطح پر ایک ہی دن رمضان یا عید کرنے کے لیے پہلا قدم یہ لینا ہوگا کہ مسلمان ممالک آپس میں معاہدہ کر کے فیصلہ کر لیں کہ ایک ملک کی رویت دوسرے ملک میں قابلِ قبول ہوگی۔ اس کے بعد کچھ مزید قانونی اور عملی رکاوٹیں باقی رہیں گی، لیکن ان پر گفتگو کسی اور وقت کریں گے، ان شاء اللہ۔
مطلّقہ عورت کا شوہر کی جائیداد میں حصہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا غیر شرعی فیصلہ
ڈاکٹر محمد امین
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی صاحب نے حال ہی میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ شوہر اگر بیوی کو طلاق دے تو اس کی دولت اور جائیداد میں اس کی بیوی کا بھی منصفانہ حصہ ہونا چاہیے، نیز حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اس کے لیے ضروری قانون سازی کرے اور نکاح نامے میں ترمیم کرے۔
ہمیں یہ فیصلہ دو لحاظ سے غلط لگتا ہے:
(1) ایک تو اس بنا پر کہ نصوصِ شریعت میں اس کا کوئی ذکر نہیں، ہمارے علماء و فقہاء نے بھی کبھی یہ رائے نہیں دی، اگر جسٹس صاحب نے یہ فیصلہ بر بنائے اجتہاد کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان میں مجتہد کی وہ شرائط پائی جاتی ہیں جو ہماری فقہی روایت میں متفق علیہ ہیں — یعنی احکامِ قرآن و سنت، فقہ و اصولِ فقہ اور عربی زبان پر عبور — جب ان میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی تو وہ اجتہاد کیونکر کر سکتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 97 فیصد مسلمان ان کی ایسی رائے کو کیوں کر قبول کریں گے؟
یاد رہے کہ جسٹس صاحب کے پاس یہ آپشن موجود تھی کہ وہ مدعا علیہ کے فقہی مسلک کے مطابق فیصلہ کرتے۔ جیسا کہ دستورِ پاکستان کی دفعہ 227 کی تشریح کے مطابق شخصی اور عائلی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ نیز ان کے پاس یہ آپشن بھی موجود تھی کہ اگر وہ اس بارے میں تفصیلی شرعی احکام سے ناواقف تھے تو اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرتے، یا موزوں علماء کرام کو عدالتی معاون کے طور پر بلا لیتے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ہر حج کے ساتھ ایک مفتی ہونا چاہیے، جیسے کہ مسلمانوں کی فقہی تاریخ میں ہوتا رہا ہے کہ قاضی اگرچہ دین کا عالم ہوتا تھا لیکن وہ معاونت اور دینی معاملات کی تنقیح کے لیے مفتیوں سے رائے لے لیتا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت بھی آزاد کشمیر میں اور بلوچستان کے بعض اضلاع خصوصاً ریاست قلات میں مفتیوں کا تقرر سرکاری طور پر کیا جاتا ہے تاکہ فیصلے اسلامی شرع کے خلاف نہ ہو سکیں۔
سوال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ قانون کیوں عدلیہ کے چھوٹے بڑے جوں اور وکلاء کی شریعت اور فقہِ اسلامی میں تربیت کا انتظام نہیں کرتی اور کیوں عدالتوں میں مفتیوں کا تقرر نہیں کرتی جبکہ یہ آئین کی بے شمار دفعات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں جوں کو فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق کرنے چاہئیں۔ یہاں حالت یہ ہے کہ جب غازی ممتاز قادری کی اپیل سپریم کورٹ میں گئی تو چیف جسٹس صاحب نے وکیلِ صفائی کو کہا کہ ہمارے سامنے آپ کو آیات و احادیث پڑھنے کا فائدہ نہیں کیونکہ ہم شریعہ کے ماہر ججز نہیں ہیں، جی ہم تو فیصلہ آئینِ پاکستان کے تحت کریں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپیل خارج کر دی۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے عوام کی بہت بڑی اکثریت اور سارے دینی عناصر اس فیصلے کو غیر شرعی سمجھتے تھے اور آج بھی سمجھتے ہیں، لہٰذا عدالتوں کو چاہیے کہ ایسے فیصلے نہ دیں جنہیں عوام اور علماء غیر شرعی سمجھتے ہوں۔
(2) اس فیصلہ کی دوسری اہم بات جس پر ہم چاہتے ہیں کہ اہلِ علم غور کریں، یہ ہے کہ فاضل جج صاحب کی اس رائے کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری دانست میں اس کا ماخذ ہے مغربی قانون۔ اسلام کا معاشرتی اور عائلی نظام یہ ہے کہ بیٹی کا کفیل والد ہوتا ہے۔ لڑکی کی جب شادی ہو جائے تو شوہر اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اسے طلاق ہو جائے تو وہ دوبارہ باپ اور بھائیوں کی کفالت میں آجاتی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ مغربی تہذیب کے اثرات سے پہلے مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح شاید دس ہزار میں ایک بھی نہ تھی۔ دوسری طرف مغربی تہذیب کا حال یہ ہے کہ وہاں جب اولاد بالغ ہو جائے تو والدین کی کفالت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑ کا۔ اکثر عورت شادی خود کرتی ہے اور اس سے پہلے وہ ملازمت وغیرہ کر کے اپنی روزی روٹی کما رہی ہوتی ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں اسے کسی مرد کی کفالت کا آسرا نہیں رہتا اور وہاں طلاقوں کی شرح بہت زیادہ ہے لہٰذا وہاں کا قانون وہاں کے معاشرتی اور عائلی حالات کے مطابق شوہر کو پابند کرتا ہے کہ اگر وہ بیوی کو طلاق دے تو اس کے مال و جائیداد کا ایک خاصا حصہ مطلقہ بیوی کو ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے معاشرتی اور عائلی حالات بھی وہی ہیں جیسے امریکہ اور یورپ میں ہیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں نہیں دیا جا سکتا تو معزز جج صاحب کو سوچنا چاہیے تھا کہ انہوں نے پاکستان کے حالات کو مغرب کے حالات پر کیوں قیاس کیا ہے؟ اسے فقہ میں ’’قیاس مع الفارق‘‘ کہتے ہیں، مطلب یہ کہ یہ قیاس بھی غلط ہے اور اجتہاد بھی غلط۔
علماء اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری
ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اور آج پھر کہتے ہیں کہ ہماری دینی جماعتوں اور علماء کرام نے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی۔ انہیں حکومت سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ نظامِ عدالت کو اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ وہ وقتی طور پر متحرک ہوتے ہیں اور وہ بھی زبانی کلامی۔ نہ وہ متحد ہوتے ہیں اور نہ متفق ہو کر غیر اسلامی ماحول اور غیر اسلامی قوانین کے خلاف کوئی کامیاب مہم چلاتے ہیں۔ 1961ء کے غیر اسلامی عائلی قوانین جنرل ایوب خان نے مارشل لاء کے دوران بنائے، سوال یہ ہے کہ جب ایوب خان کا اقتدار ختم ہو گیا تو دینی جماعتوں اور علماء کرام نے ان قوانین کو ختم کرانے کے لیے کیا جدوجہد کی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ علماء نے غضِ بصر سے کام لیا اور آج تک لے رہے ہیں۔ عوام کو ان کے خلاف متحرک کرنا بھی تو علماء ہی کا کام تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے اعلیٰ عدالتوں کے جج مسلسل عائلی قوانین میں غیر شرعی فیصلے کر رہے ہیں اور دینی عناصر اس پر کوئی موثر مہم نہیں چلاتے۔ جب ایسا کوئی فیصلہ آتا ہے تو چند علماء اس کے خلاف بیان دے دیتے ہیں اور بس بات یہیں ختم ہو جاتی ہے۔
دینی جماعتیں اور علماء کرام اس بات پر بھی غور کیوں نہیں فرماتے کہ کیا نفاذِ شریعت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے رہیں کہ وہ ملک میں شریعت نافذ کرے، سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں؟ مثلاً عدالتی نظام کو لیجئے، کیا انہوں نے کبھی ایسا شریعہ اینڈ لاء کالج پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کرنے کا سوچا ہے جو ملک میں موجود مغرب زدہ قوانین کے ساتھ قرآن و سنت، فقہ و اصولِ فقہ اور عربی زبان میں مہارت پیدا کرے؟ اگر یہ سلسلہ موثر طور پر شروع ہو جاتا تو ایسے وکلاء اور ججز میسر آنا شروع ہو جاتے جو جدید قوانین کے ساتھ شریعت اور فقہ میں بھی مہارت کے حامل ہوتے۔
اسی طرح دینی جماعتیں اور علماء کرام اگر چاہتے تو مرکز اور ہر صوبے کے صدر مقام پر اعلیٰ معیار کی جوڈیشل اکیڈمیاں قائم کرتے جہاں وکلاء اور ججز کی شریعت اور فقہ میں تعلیم و تربیت کا انتظام ہوتا۔ فنڈز کی کمی اس ضمن میں کوئی معقول عذر نہیں کیونکہ اگر وہ اسے اپنی ترجیح بناتے اور عوام کی ذہن سازی کرتے تو جس طرح ملک کے اصحابِ خیر اور عوام ان کو دینی مدارس چلانے کے لیے اور دینی سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے لیے کروڑوں اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں، اس کام میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری دینی جماعتوں اور علماء کرام نے کبھی اس کام کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ اگر انہوں نے اس سمت میں کوئی موثر قدم نہ اٹھایا تو عدالتیں غیر شرعی فیصلے دیتی رہیں گی اور حکومتیں غیر شرعی قانون سازی کرتی رہیں گی اور مستقبل کا مورخ انہیں کبھی ان کی کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش نہیں کرے گا۔
اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
(اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ویبینار میں خواتین ڈاکٹروں کے ساتھ گفتگو کا کچھ حصہ)
میں چند باتیں حقوقِ انسانی کے قانون کے زاویۂ نظر سے بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
ظاہر ہے کہ حقوقِ انسانی کے قانون کا پورا نظام مغرب سے آیا ہے، اور مغربی غیر مذہبی اقدار کو دنیا کے سامنے یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ عالمی انسانی اقدار ہوں حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے اور اس میں اس خاص مسئلے کے تناظر میں خود یورپ اور امریکہ میں بھی کئی مسائل پائے جاتے ہیں۔
ایک دلچسپ مثال ’یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی‘ کے ایک فیصلے کی ہے جس کو VO v. France کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ 2004ء کا فیصلہ ہے۔ اس میں ہوا یہ تھا کہ دو خواتین کے ایک جیسے نام تھے؛ اور ایک حاملہ تھیں، اور ایک وہ جس نے مانعِ حمل طریقہ اختیار کیا ہوا تھا جسے نکالنے کے لیے وہ ہسپتال آئی تھیں۔ ڈاکٹر سے غلطی یہ ہوئی کہ ایک مریضہ کےلیے جو طریقِ کار اختیار کرنا تھا وہ دوسری کے ساتھ کر دیا، تو اس کا جنین ضائع ہو گیا۔ اس نے اس پر مقدمہ کیا اور فرانس سے معاملہ یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی تک پہنچا۔ وہاں بنیادی طور پر سوال یہ تھا کہ کیا جنین کو زندگی کا حق حاصل ہے یا نہیں ہے؟ یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی نے اس پر فیصلہ دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یورپین یونین کے رکن بعض ممالک میں اسقاطِ حمل کا حق لوگوں کو دیا گیا ہے، بعض میں نہیں دیا گیا، اور بعض میں محدود ہے، پس یکسانیت کی عدم موجودگی کی بنا پر ہم اس میں فیصلہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ وہاں اصل میں سوال یہی تھا کہ کیا جنین ایک مستقل ’شخص‘ ہے یا نہیں ہے؟ کیونکہ حقوقِ انسانی کے یورپی میثاق میں ہر ’شخص‘ کے لیے زندگی کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ تو جنین شخص ہے یا نہیں ہے، یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی نے اس پر فیصلہ دینے سے گریز کیا۔
امریکہ میں یہ بحث زیادہ بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے اور میں اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بعض اوقات مذاق میں کہا کرتا ہوں کہ ہمیں بہت سارے معاملات میں امریکہ کا تو شاید نہیں، لیکن امریکیوں کا شکر گزار رہنا چاہیے کہ بعض مسائل میں وہ بحث اٹھاتے ہیں اور اس کا فائدہ ہمیں ملتا ہے، ورنہ شاید ہمارے پاس اس طرح کے معاملات میں بات کرنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔ اس میں ایک مسئلہ اسقاطِ حمل کا بھی ہے۔ Roe v. Wade 1973ء کا مشہور مقدمہ ہے جس میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا۔ امریکہ میں چونکہ ایک جانب اسقاطِ حمل کے حامی ہیں اور دوسری جانب اس کے مخالفین ہیں، تو اس فیصلے میں ان کے درمیان ایک طرح سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ قرار دیا گیا کہ پہلے سہ ماہی عرصے (trimester) میں عورت کا حق ترجیح رکھتا ہے؛ اس کے بعد دوسرے سہ ماہی عرصے میں جنین کا حق زیادہ قوی ہو جاتا ہے، اور اس وجہ سے بغیر کسی مضبوط وجہ کے اسقاطِ حمل نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر کی رائے اور دوسری متعلقہ باتیں اہم ہو جاتی ہیں۔
تقریباً اسی طرح ایک اور معروف فیصلہ امریکی سپریم کورٹ نے 1992ء میں Planned Parenthood v. Casey میں دیا۔ اس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ جب ”اسقاطِ حمل کا حق“ کہا جاتا ہے تو امریکی آئین میں دیے گئے حقوق کی فہرست میں کون سا حق مراد ہوتا ہے کیونکہ اس فہرست میں اس نام سے کوئی حق نہیں پایا جاتا۔ امریکا میں ابتدائی دس ترامیم اور ان کے ساتھ چودھویں ترمیم کے ذریعے امریکی آئین میں انسانی حقوق کا اضافہ کیا گیا، ان ترامیم کو یکجا ”حقوق کی دستاویز“ (Bill of Rights) کہا جاتا ہے۔ تو ان میں کس حق کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اسقاطِ حمل کا حق اس میں شامل ہے؟
اس ضمن میں عام طور پر دو حقوق کی کی بات کی جاتی رہی ہے، اور آج بھی حقوقِ انسانی کے نقطۂ نظر سے جو لوگ اسقاطِ حمل پر بات کرتے ہیں تو وہ انھی دو حقوق کی بات کرتے ہیں: ایک نجی زندگی کے حق کی، اور ایک آزادی کے حق کی۔’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ تو آزادی کے حق سے نکلا ہے۔ جہاں تک نجی زندگی کے حق (right to privacy) کا تعلق ہے، تو بہ حیثیتِ طبیب، آپ جانتی ہیں کہ مریض کی نجی معلومات کا تحفظ کتنا اہم ہوتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر یہ معلومات دوسروں کے سامنے نہیں آنی چاہییں۔ چونکہ ان دونوں حقوق کی امریکی بل آف رائٹس میں ضمانت دی گئی ہے، تو اس بنا پر اس مقدمے میں مان لیا گیا کہ پہلے سہ ماہی عرصے میں خاتون کو اسقاطِ حمل کا حق حاصل ہے۔ البتہ دوسرے سہ ماہی عرصے میں اس خاتون کا حق اور جنین کا حق برابر کی سطح پر آ جاتے ہیں، اور اب ترجیح کے لیے کوئی مضبوط وجہ ہونی چاہیے۔
تاہم جون 2022ء میں معروف مقدمے Dobbs v. Jackson میں امریکی سپریم کورٹ منقسم ہو گئی، اور اکثریت نے ان دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ امریکی سپریم کورٹ میں نو جج ہوتے ہیں، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرح وہ الگ الگ بنچوں کی صورت میں نہیں بیٹھتے، بلکہ تمام نو جج اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ یہ نو جج تین آراء میں تقسیم ہو گئے۔
اسقاطِ حمل کے جواز کےلیے عام طور پر اس سوال پر غور کیا جاتا ہے کہ ”جنین کے زندہ رہنے کی صلاحیت“ (fetal viability) کتنی ہے، لیکن اس مقدمے میں ریاست مسی سپی (Mississippi) کے جس قانون پر بحث تھی اس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ پندرہ ہفتوں کے بعد اگر خاتون کی زندگی بچانے کے لیے یا جنین میں شدید جسمانی خرابی کی صورت نہ ہو، تو ان دو صورتوں کے سوا کسی صورت میں اسقاطِ حمل نہیں کیا جا سکے گا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر اور دیگر افراد کے لیے مختلف نتائج اور سزائیں ذکر کی گئی تھیں۔ بعض لوگ اس قانون کو Roe اور Casey مقدمات کے فیصلوں کی روشنی میں امریکی آئین سے متصادم قرار دینے کےلیے وفاقی عدالت میں گئے اور بالآخر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔
سپریم کورٹ میں پانچ ججوں نے ان پچھلے دو فیصلوں کو کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین میں اسقاطِ حمل کا حق سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور اس وجہ سے اس قانون کو آئین سے متصادم نہیں کہا جاسکتا۔ چیف جسٹس رابرٹس نے بھی اس قانون کو تو برقرار رکھا لیکن انھوں نے پہلے سے موجود فیصلوں کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے سے اتفاق نہیں کیا۔ باقی تین نسبتاً آزاد خیال جج تھے، انھوں نے اس قانون کے خلاف فیصلہ دیا اور اسقاطِ حمل کے حق کے حق میں فیصلہ دیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ پانچ ججوں نے کہا کہ اسقاطِ حمل کا حق موجود نہیں ہے، ایک نے درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی، اور تین نے کہا کہ اسقاطِ حمل کا حق موجود ہے۔ یوں پانچ ججوں کے اکثریتی فیصلے کی رو سے امریکی سپریم کورٹ نے کہا کہ امریکی آئین نے اسقاطِ حمل کا حق نہیں دیا، اور اس وجہ سے اسقاطِ حمل کے متعلق مختلف امریکی ریاستیں اپنا اپنا قانون بنا سکتی ہیں۔
یہ تو امریکہ کا معاملہ ہوا۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر ’ہیومن رائٹس واچ‘ کا مؤقف دیکھیں، یا ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کا، یا دیگر ایسی تنظیموں کا، تو وہ اقوام متحدہ کی حمایت سے Right to Safe and Legal Abortion، یعنی محفوظ اور قانونی اسقاطِ حمل کے حق، کی بات کرتی ہیں اور اس معاملے میں وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات کی ان دفعات سے استدلال کرتی ہیں جن میں یا تو زندگی کے حق کا ذکر ہوتا ہے یا تولیدی صحت کے حق کا ذکر ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس پر دلیل امتیازی سلوک کے خلاف حق کے زاویۂ نظر سے دی جاتی ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیاز ہو رہا ہے اور اس وجہ سے یہ CEDAW ، یعنی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے میثاق، سے متصادم ہے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اسقاطِ حمل کے خلاف قوانین سے اسقاطِ حمل تو نہیں رکتا لیکن وہ بہت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے اور نتیجتاً بہت ساری اموات واقع ہوتی ہیں۔
کیا یہ بین الاقوامی معاہدات پاکستان میں براہ راست نافذ کیے جا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں ۔ پاکستان ایک Dualist (دوئی پر مبنی) ریاست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ پاکستان کے قانونی نظام میں براہ راست نافذ نہیں ہوتا، عدالتیں اسے نافذ نہیں کر سکتیں، جب تک پاکستان کی پارلیمان اس معاہدے کو ملک کے اندر نافذ کرنے کےلیے قانون نہ بنائے۔ پاکستان کا قانون ایک الگ دائرے میں کام کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون ایک الگ دائرے میں۔ اس کو Dualism کہا جاتا ہے۔ تاہم ایک جانب اقوام متحدہ کا دباؤ ہوتا ہے، اور دوسری جانب مختلف حقوقِ انسانی کی غیر سرکاری تنظیمیں اس ایجنڈے کو لے کر آتی ہیں، اور ہماری پارلیمان کو قوانین تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے لیے استدلال بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ پاکستان نے CEDAW یا دیگر حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی معاہدات کی توثیق کی ہوئی ہے، اس لیے ان معاہدات کی روشنی میں اپنے قوانین کو تبدیل کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ یہ تنظیمیں ان معاہدات کی تشریح اس طرح کرتی ہیں کہ ان سے اسقاطِ حمل کا حق ثابت کیا جا سکے۔ جیسے میں نے ذکر کیا کہ زندگی کا حق، تولیدی صحت کا حق، یا امتیازی سلوک کے خلاف حق جیسی چیزوں کی تشریح کر کے وہ اس سے اسقاطِ حمل کا حق اخذ کرتی ہیں، پھر کہتی ہیں چونکہ آپ نے یہ حقوق تسلیم کیے ہوئے ہیں تو اسقاطِ حمل کا حق بھی آپ نے مان لیا ہے، اس لیے اب آپ اپنے قانون کو تبدیل کر لیں۔ اس کے لیے مختلف پہلوؤں سے پارلیمان کے ارکان کو قائل کرنے اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے اور قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تاہم ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے۔ ہماری سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججوں کے پاس چونکہ تشریح کا اختیار ہوتا ہے تو قانون کے متن کو تبدیل کیے بغیر بھی وہ قانون کو اس طرح سمجھنا اور بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان ہمیں بدقسمتی سے بعض ججوں میں نظر آتا ہے کہ وہ کسی حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی معاہدے کی روشنی میں اپنے قانون کی تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے دستور میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یہاں اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اور پاکستان میں حکومت اور ریاست کے تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کیے جائیں گے؛ اس کے علاوہ یہ کہ پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے، اور یہاں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ایسا ماحول فراہم کرے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کی روشنی میں بسر کر سکیں اور زندگی کا مفہوم اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھ سکیں؛ نیز یہ کہ یہاں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو اسلامی احکام سے متصادم ہو اور رائج الوقت تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ بنانا لازم ہے۔ ان آئینی دفعات کے علاوہ ہمارے پاس قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء ہے جس میں دفعہ 4 میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کی تشریح اسلامی اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی۔ اسقاطِ حمل کے متعلق قانون ہمارے ہاں مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں ’قصاص و دیت‘ کے متعلق باب کا حصہ ہے اور اس باب کی دفعہ 338 ایف میں تو خصوصاً یہ بات کہی گئی ہے کہ اس باب کی دفعات کی تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں کرنا لازم ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے، خصوصاً جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے مختلف فیصلوں میں، ان دفعات کا خصوصی حوالہ دیا جاتا رہا ہے، آئین کی دفعہ 227، قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4، اور مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 338 ایف، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین کی ایسی تشریح کرنا لازم ہے جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔
facebook.com/reel/882022229693598
On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
Regarding the Islamic status of Pakistan’s Constitution, we have stated on numerous occasions that its foundation rests upon the supreme sovereignty of Allah Almighty, and the supremacy of the Qur’an and Sunnah has been constitutionally recognized. Moreover, having pledged to enforce the rulings and laws of the Qur’an and Sunnah, Parliament has been prohibited from enacting any legislation inconsistent with them. Therefore, given this ideological foundation, it is not correct to label this Constitution as un-Islamic. This is especially so because, in its drafting, such eminent scholars as Mawlānā Muftī Maḥmūd, Mawlānā ‘Abd al-Ḥaqq, Mawlānā Ghulām Ghawth Hazāravī, Mawlānā ‘Abd al-Ḥakīm, Mawlānā Ni‘matullāh, Mawlānā Ṣadr al-Shahīd, Mawlānā Shāh Aḥmad Nūrānī, Mawlānā ‘Abd al-Muṣṭafā Azharī, Mawlānā Muḥammad Zākir, Mawlānā Ẓafar Aḥmad Anṣārī, and Professor Ghafūr Aḥmad — may Allāh have mercy on them all — were actively involved. Likewise, among those who have taken oath under this Constitution and rendered services in various constitutional institutions are towering figures of religious learning, including Mawlānā Sayyid Muḥammad Yūsuf Banūrī, ‘Allāmah Shams al-Ḥaqq Afghānī, Mawlānā Ḥasan Jān, Mawlānā Nūr Muḥammad, Mawlānā Muḥammad ‘Abdullāh Shahīd, Professor Sājid Mīr, Mawlānā Qāḍī ‘Abd al-Laṭīf, Mawlānā ‘Abd al-Sattār Khān Niyāzī, Mawlānā Mu‘īn al-Dīn Lakhvī, Qāḍī Ḥusayn Aḥmad, Mawlānā Gawhar Raḥmān, and Mawlānā Qārī Sa‘īd al-Raḥmān — may Allāh have mercy on them all.
Nevertheless, the question of how the Constitution is interpreted and applied within the country’s system undoubtedly merits serious consideration, and reservations in this regard have been expressed in every era. These reservations pertain to the domain of interpretation and application (ta‘bīr and taṭbīq), and cannot be attributed to the foundational principles of the Constitution itself. Rather, responsibility lies with those classes and individuals who either operate the Constitution or obstruct it from functioning in accordance with its true spirit.
In the context of interpreting constitutional provisions and applying them to the country’s system and laws, we ourselves have repeatedly voiced reservations. By way of example, I consider it appropriate to mention just two at this juncture:
- When the late General Muḥammad Zia-ul-Ḥaq, during his tenure, made the Objectives Resolution a binding part of the Constitution, and it formally became part of the constitutional text, a process began whereby various laws were challenged before the courts. One such instance pertained to the law of qiṣāṣ (retribution), wherein the authority to pardon the killer rests solely with the heirs of the victim, whereas our Constitution had also vested this power in the President. A petition was filed before the High Court contending that granting the President the power to pardon the killer was against the Sharī‘ah, and since the Objectives Resolution had established the supremacy of Sharī‘ah, this presidential power ought to be struck down. The High Court accepted this argument and nullified the President’s authority. However, when the matter was appealed before the Supreme Court, the pivotal question arose: does the Objectives Resolution enjoy supremacy over the other provisions of the Constitution? If so, the High Court’s decision was correct; but if the Objectives Resolution is merely one provision among others, then the High Court’s ruling could not stand. On this matter, a full bench of the Supreme Court, headed by the Mr. Justice (Retired) Dr. Naseem Hassan Shah, ruled that the Objectives Resolution is simply an ordinary provision of the Constitution, possessing no superiority over other constitutional provisions. Consequently, the High Court’s judgment was overturned.
Thus, the present situation is that the Objectives Resolution — which affirms the supreme sovereignty of Allah Almighty — is but an ordinary constitutional provision, enjoying no precedence over other clauses. Such a state of affairs is not acceptable for a Constitution that purports to be Islamic. This case is recorded in legal documentation under the title Ḥākim ‘Alī binām Sarkār, and we had earlier published its summary in Urdu during that period as a booklet titled Qarār-dād Maqāṣid binām Suprem Court of Pakistan through the Al-Sharī‘ah Academy, Gujranwala. - Similarly, during his first tenure as Prime Minister, Mīān Muḥammad Nawaz Sharīf had the “Sharī‘ah Bill” passed through Parliament. While this bill was ostensibly founded upon the supremacy of the Qur’an and Sunnah, it introduced a qualifying clause: “provided that the political system and governmental structure are not affected.” This exception effectively circumscribed the supremacy of the Qur’an and Sunnah. At that time, we sought the opinion of the country’s leading religious scholars on this matter. In response, the senior ‘ulamā’ declared this proviso contrary to the requirements of Sharī‘ah. Those inquiries and their responses were published in that era in the monthly Al-Sharī‘ah, Gujranwala.
These two references are provided merely as examples. Other reservations exist and persist, but they pertain to the interpretation and application of the Constitution — not to its foundational principles — nor do these measures affect the fundamental basis of the Constitution itself.
Therefore, our submission is that justice demands maintaining a distinction between the Constitution and its interpretations. There is a need to assess the laws and systems currently prevailing in the country independently of the Constitution. For if the Constitution provides us with the foundation for implementing Islam in the country, and furnishes pathways and opportunities for doing so, it is inappropriate to deny it by attributing our own shortcomings to the Constitution. If we have failed to act upon the Constitution correctly, or have not ensured its proper implementation, the fault lies not with the Constitution.
عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔
سب سے پہلے میں آپ تمام صحافی دوستوں کو عید مبارک کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی رمضان شریف کی عبادات کو قبول فرمائیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس پریس کانفرنس کے ذریعے سے مجھے موقع دیا اور ایک طویل عرصے کے بعد ہم ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یقیناً یہاں جو سب سے بڑا حساس معاملہ ہے وہ یہاں کے امن و امان کا ہے۔ ٹانک ہو، وزیرستان ہو، ڈیرہ اسماعیل خان ہو، لکی مروت ہو، بنوں ہو۔ دیہاتی علاقے جو ہیں وہ خالی ہو رہے ہیں اور آباد لوگ وہاں سے ہجرت کر رہے ہیں، اس بات کے لیے کہ ان کی زندگیاں محفوظ نہیں، اور حکومتی رِٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔
پھر جہاں حکومت اس ساری صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہی، وہاں پاکستان مشرقی سرحد پر بھی اور مغربی سرحد پر بھی جنگ میں الجھ گیا ہے، جس سے ملک محصور ہو گیا ہے۔ چین بھی پاکستان سے مطمئن نہیں ہے، ہم نے چین کی پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ایران بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ پاکستان کے کسی کام آ سکے یا ہمارے ساتھ کوئی تجارت کر سکے، معاملات کر سکے۔
اس لیے میری نظر میں اب یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں رہا کہ ہم صرف تنقید کر کے خود کو ذمہ داری سے عہدہ برآ کر سکیں، کسی ایک پارٹی کو اس کا ہم ذمہ دار ٹھہرا سکیں۔ یہ قومی مسئلہ ہے۔ اور ہم یہ تجویز دے چکے ہیں پارلیمنٹ کے فلور پہ، کہ ایک پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس ہو، جس میں
- عوام کے اس نمائندہ ادارے کو حالات سے آگاہ کیا جائے۔
- پاکستان کہاں کھڑا ہے، یہ واضح کیا جائے۔
- اور پھر قومی مشاورت کے ساتھ اس مشکل سے نکلنے کے لیے راہ نکالی جائے۔
پاکستان اس وقت بمقابلہ ہندوستان کے، پاکستان بمقابلہ افغانستان کے، پاکستان چائنہ تعلقات، پاکستان امریکہ تعلقات، اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کہاں کھڑا ہے، فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کہاں کھڑا ہے، عرب ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں، آج عرب کہاں کھڑے ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس سارے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں ہمیں اپنے ملک کی پوزیشن کو واضح کرنا ہے۔ ہم بڑے مبہم حالات میں جا رہے ہیں اور کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کی ہم پوزیشن میں نہیں ہیں۔
سو، وہاں بھی ہماری سوچ یہ ہے کہ چاہے عرب دنیا کی ایک صدی کی ماضی ہو یا پچاس سال کی ماضی ہو، جس طرح انہوں نے اپنی سیاست، اپنی معیشت، اپنی سفارت کا انحصار امریکہ اور مغربی دنیا پر کیا۔ اور جس طرح تحفظ کے نام پر اور تحفظ کے امکان پر امریکہ کو اور یورپ کو ہم نے اڈے دیے، سمندریں اُن کے حوالے کر دیں، ہر طرف ان کے بحری بیڑے کھڑے ہیں، اس خیال کے ساتھ کہ یہ اِس خطے کے لیے امن اور تحفظ کا سبب بنیں گے۔ آج وہ وہاں کی بد اَمنی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
اسلامی دنیا نے کیا کمایا ہے؟ افغانستان میں پچاس پچپن سالوں سے مسلسل جنگ اور جنگ، اور بین الاقوامی قوتیں افغانستان میں دخیل۔ عراق کا کیا بنا؟ لیبیا کا کیا بنا؟ آج ایران کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ایک ایک کو تنہا کر کے اور ان کے مقابلے میں مسلم دنیا کو لا کر، آج جن نتائج کے ساتھ ہمیں لا کھڑا کیا جا رہا ہے، اس پر اسلامی برادری کو ازسرِنو سوچنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس ہونی چاہیے اور ماضی کے بین الاقوامی تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے، ہمیں ایک اسلامی بلاک کی طرف جانا چاہیے، اسلامی دنیا کے درمیان سیاسی تعلقات، اسلامی دنیا کے درمیان معاشی تعلقات، تجارتی روابط، اور اسلامی دنیا کے درمیان دفاعی معاہدات، اس کی طرف ہمیں جانا چاہیے۔
ہماری جو باہمی تقسیم ہے، کم از کم آج اسلامی دنیا کی سمجھ میں آ رہا ہے، کیونکہ جب سے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئی ہے، عرب دنیا میں، وہاں پر امریکیوں کے یا یورپ کے اڈوں پر حملوں کے باوجود عرب دنیا، اسلامی دنیا تحمل مظاہرہ کر رہی ہے، وہ جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی، وہ اس کو جذباتی طور پر نہیں لے رہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اسلامی دنیا کی سوچ میں ایک تبدیلی ہے۔ اور یہ بنیاد بننی چاہیے کہ ہم اگلے مستقبل کے لیے اسلامی دنیا کے حوالے سے سوچیں، مسلم برادری کے حوالے سے سوچیں، اسلامی دنیا کے مفادات کے حوالے سے سوچیں، اور اپنے مفادات میں ہم اشتراک پیدا کر کے اس کے لیے مشترک حکمتِ عملی اپنائیں۔
یہ اس وقت ہمارا ایک پیغام ہے، اسلامی دنیا کے لیے بھی، پاکستان کے لیے بھی، پاکستان کی ریاست کے لیے بھی، اور یہ کہ حالات کے تقاضے کیا ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے، بند کمروں میں فیصلے کرنا، عوام کا بے خبر رہنا، عوام میں عدمِ اطمینان رہنا، یہ شاید اچھی بات نہ ہو۔ ہمیں ہر سطح پر عوام کو اعتماد میں رکھنا ہو گا۔
سوال
ماضی میں بھٹو کے دور میں، شاہ فیصل کے دور میں، ایک یونٹی کا اتحاد کیا گیا تھا، سربراہ کانفرنس طلب کی گئی تھی، اس کے نتائج ہم نے دیکھے ہیں کہ پھر ان کو چن چن کر علیحدہ علیحدہ کر کے نشانِ عبرت بنایا گیا۔ تو کیا اب ہم متحمل ہو سکتے ہیں دوبارہ سب کو یکجا کرنے کے؟
جواب
میرے خیال میں اب صورتحال وہ نہیں ہے، اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لیے یہ سارا کچھ کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کے دفاع کے لیے بھی نہیں کر رہا۔ اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی حاصل نہیں ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا، اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے۔ یہ خود امریکیوں کی اور امریکی عوام کی نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
سو، اس وقت پوری دنیا ازسرنو سوچ رہی ہے۔ اور ظاہر ہے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گے۔ سو اس وقت پوری دنیا، امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک، یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہے۔ اور ہمیں خود بیٹھ کر خوداعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہو گا۔
سوال
مولانا صاحب، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکی جنگ میں پاکستان کا جو کردار ہے وہ غیر واضح ہے۔ حالانکہ ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ تو اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے، کیا واقعی پاکستان کوئی ثالثی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟
جواب
یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے؟ اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا، خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو، اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے، اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کونسا راستہ ہے؟
سوال
مولانا صاحب، یہ افغانستان کے حوالے سے دو متضاد بیانیے پاکستان … کے پی گورنمنٹ ایک طرف کہہ رہی ہوتی ہے، وفاقی حکومت کے بیانات اور ہوتے ہیں … یہ ستر سالوں سے افغانستان پالیسی کیوں نہیں بنا سکے واضح طور پر، کیا مشورہ دیں گے، کیا اس حوالے سے آپ کہیں گے؟
جواب
جب تک ہمارے دماغ سے یہ ’’کیڑا‘‘ نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیرِ نگیں رکھنا ہے، اور افغانستان میں کوئی حکومت ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی، اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک آزاد افغانستان، ایک صاحبِ استقلال افغانستان، ایک خودمختار افغانستان، اس پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اور ماضی کی جو ہماری اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستر سالہ یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں، یہ مستقل ایک سوال ہے۔ یہ [کہنا] کافی نہیں ہے: ’’ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے‘‘۔ مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے؟ کیا ساری غلطیاں ستر سال سے انہی کی طرف ہیں؟ اور کیا ہماری طرف بالکل کوئی غلطی نہیں ہے؟ یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے۔
افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے۔ افغانستان صرف وہاں امارتِ اسلامیہ کا نام نہیں ہے۔ افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے۔ افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں، اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے۔ ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے۔ یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج اور رجیم چینج کی باتیں، یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے۔ ظاہر شاہ کے خلاف ہم نے انقلاب کی حمایت کی۔ پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا، پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد — اس وقت امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے۔ پھر وہی امریکہ تھا، اس نے طرف تبدیل کر دیا، تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق۔
یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی۔ اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتا پاکستان ٹھیک جا رہا ہے۔ اس پہ غور کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کا شکار ہیں، اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
سوال
مولانا صاحب، اسلامی دنیا کے حوالے سے آپ کا اپنا ذاتی اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے، عرب ممالک میں، اسلامی دنیا میں، تو کیا ان کو یکجا کرنے کے حوالے سے آپ کوئی سفارتکاری …
جواب
دیکھیے، سفارتکاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں، اس میں مدد دے سکتے ہیں۔ عوام ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب بھائی بھائی ہیں، ہم ایک دوسرے پہ ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں۔ بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں۔ اپنے ملک کے عوام کی خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔
سوال
مولانا صاحب، یہ جو ساری صورتحال ہے جس کی طرف آپ نے بریف کیا ہے، آج وزیر اعظم صاحب بھی، جو اتحادی ایک پارٹی ہے پاکستان پیپلز پارٹی … ان کو اعتماد میں لیا ہے شاید، اور کراچی کا انہوں نے وزٹ بھی کیا ہے، شاید ایم کیو ایم کو بھی۔ آپ سمجھتے ہیں کہ as a whole اپوزیشن کو ساتھ شامل نہ کرنا، آپ اپوزیشن میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں، تو کیا یہ کسی خاص پالیسی کا حصہ ہے، یا امریکہ کی طرف سے بھی کہ اس معاملے کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور معاملات جو ہیں وہ اندرون خانہ محدود کیے جائیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں پس منظر کیا ہے؟
جواب
دیکھیے، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون ہو یا ایم کیو ایم، سب اس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہماری حکومت ہے اور مشترکہ حکومت ہے۔ گو کہ بیچ میں کچھ کبھی کبھی تحفظات بھی آجاتے ہیں، لیکن وہ اس کو اپنی ایک مشترکہ حکومت کہتے ہیں۔ کیا ضرورت ہے کہ آج فوجی قیادت کی موجودگی میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کی باہمی نشست کی ضرورت پڑ گئی؟ میں سوچتا ہوں، یہ کافی نہیں ہے۔ یہ پھر اور اشارات دے رہی ہے، منفی اشارات کی طرف زیادہ شاید معاملات جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور جس طرح وزیراعظم نے بھی امید دلائی تھی ہمیں کہ میں اس پر غور کر کے پھر فیصلہ کرتا ہوں، لیکن ابھی تک وہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آئے۔ اس پر جلدی فیصلہ ہمیں کرنا چاہیے۔
سوال
مولانا صاحب، یہ فرمائیے گا کہ پاک افغان تنازع کے حل کے لیے آپ مذاکرات کے حامی نظر آتے ہیں، جبکہ ایسی جماعتیں جنہیں ریاست کالعدم قرار دے چکی ہے، خصوصاً میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات کروں گا، یا ان سے بھی مذاکرات ہونے چاہئیں؟
جواب
دیکھیے، ان سے مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کے سوال سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ افغان پاکستان تعلقات کے بیچ میں حائل چیز کیا ہے؟ تو ہم اس کو براہ راست مذاکرات کا حصہ بنائیں یا نہ بنائیں، لیکن اس کو ایڈریس کرنا پڑے گا، اس کو ایڈریس کیے بغیر افغانستان پاکستان کے تعلقات معمول پر آنے میں شاید دقتیں ہوں گی۔ تو، اب اس کو کس لیول پر ایڈریس کیا جاتا ہے، وہ اپنی جگہ پر ایک سوال ہے۔
سوال
سمارٹ لاک ڈاؤن …
جواب
دیکھیے بات یہ ہے کہ یہ جو اس وقت جنگ ہے اور جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، اس نے خود امریکہ کو بھی اور پوری دنیا کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا کے تیل کی رسد کا راستہ ہے، جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تضاد اس کو کہتے ہیں کہ کبھی تو امریکہ انڈیا کے ٹیرف میں اس بات پر اضافہ کرتا ہے کہ تم روس سے تیل کیوں لے رہے ہو؟ اور اگر تم روس کے خریدار بنتے ہو تو پھر آپ پر ٹیکس بڑھائیں گے، ٹیرف میں اضافہ کریں گے۔ اور یا وہ دن آ گئے ہیں کہ امریکہ خود انڈیا سے کہہ رہا ہے کہ آپ روس سے تیل لیں۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ کس قدر کمزوریاں آگئی ہیں عالمی سطح پہ۔
سوال
مولانا، کیا امریکی اڈوں کے ہوتے ہوئے اتحادِ امت ممکن ہے؟ دوسرا سوال میرا یہ ہے، آپ نے اسلامی بلاک کی بات کی ہے، کیا اس میں روس اور چین کے ساتھ بھی بلاک بننا چاہیے؟
جواب
دیکھیے، اس وقت دنیا میں علاقائی بلاک بنتے جا رہے ہیں۔ میں تو ایشیاٹک فیڈریشن کا بھی قائل ہوں۔ اور تین سو سال قبل جب معیشت کا محور ایشیا تھا، اور پھر وہ [نوآبادیاتی] کالونی بنا اور پوری ہماری معیشت پر مغرب نے اور یورپ نے قبضہ کیا۔ آج پھر دنیا کی معیشت پلٹا کھا رہی ہے اور معیشت کا محور ایک بار پھر ایشیا بنتا جا رہا ہے، جس کی قیادت بہرحال چائنہ کر رہا ہے۔ تو چائنہ کے ساتھ تعلقات، اور ایشیا کی وحدت اُس کی قیادت میں، آنے والے وقت کا تقاضا ہے۔ اور ہمیں اس حوالے سے علاقائی تعلقات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
ہم عالمی قوتوں کے پیروکار بن کر علاقے میں تنہا ہو جاتے ہیں۔ آج ہم افغانستان کے حوالے سے بھی تنہا، انڈیا کے حوالے سے بھی تنہا، ایران کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہو گئے، چائنہ کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہو گئے، اور ایشیا کے جو پیچھے ممالک ہیں، وہ انڈیا کے زیراثر ہیں، اور وسطی ایشیا کے جو ممالک ہیں، وہ پھر افغانستان کے زیر اثر ہیں۔ ہمارے زیرِ اثر کون ہے، ہم کس کے ساتھ ڈیل کریں گے، کس کے ساتھ بات کریں گے؟ ہمیں اس چیز سے نکلنا پڑے گا، اور بڑی قومی سطح کی سوچ ہمیں پیدا کرنی پڑے گی۔ کسی ایک پارٹی، یا صرف حکمران سوچ، وہ شاید مستقل حل کے لیے کافی نہ ہو۔
سوال
مولانا صاحب، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس وقت پاکستان دنیا کے امن کی بات کر رہا ہے، یا دنیا میں امن کی بات کر رہا ہے …
جواب
ہندوستان جو بات کرتا ہے، ریاست کی سطح پہ، اٹھتر سال اس نے کشمیر میں دہشت گردی کی، ریاستی دہشت گردی، کشمیری عوام ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے، اور ابھی تک ہیں۔ اور پھر انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ان کا خیال یہ تھا کہ یہاں ہندو آبادی آئے گی، یہاں پر ایک ڈیموگراف چینج آئے گا۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ سب کے باوجود … تو مودی کو تاریخی شکست ہوئی وہاں پر اور کشمیری عوام نے اس کو مسترد کر دیا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان مشکل میں ہے۔ اور پاکستان جس دہشت گردی کا شکار ہے، تو پاکستان کا تو خود موقف یہ ہے کہ ہماری مشکل کے پشت پہ انڈیا بھی ہے۔ لہٰذا، نہ بنگلہ دیش انڈیا سے مطمئن ہے، نہ پاکستان مطمئن ہے، نہ خطے کے دوسرے ممالک مطمئن ہیں، چائنہ جیسا بڑا ملک بھی انڈین جارحیت سے محفوظ نہیں ہے۔
تو ہندوستان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنے شیشے میں اس کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے، دوسروں کی طرف کیچڑ پھینکنا، یہ شاید انہیں زیب نہیں دیتا۔ وہاں پر مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے، تیس کروڑ سے وہاں مسلمان بڑھ گیا ہے، بہت بڑا رول ہے وہاں مسلمان برادری کا۔ اور نریندر مودی جو ہے وہ اسلام اور مسلمان دشمنی میں حد درجہ نفرت کی فرقہ واریت کر رہا ہے، اور نفرت کی فرقہ واری پہ اس کی سیاست کھڑی ہے۔ تو ایک الیکشن میں اس کو سزا ملی ہے۔ اگلے الیکشن کی طرف وہ کیسے جائے گا، یہ ہندوستانی عوام کا مسئلہ ہے۔ لیکن بہرحال وہ اپنا دہشت گردانہ جو تعارف ہے اس کا خطے میں، اس کو ختم کرے، تاکہ خطے کے اندر ایک پر امن ماحول پیدا ہو۔ آج انڈیا کی پالیسیوں کی وجہ سے ’’سارک‘‘ غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ ’’آسیان‘‘ غیر موثر ہو گیا ہے۔ اور ہمیں ازسرنو چین کے بشمول ایک ایشیاٹک فیڈریشن کی طرف جانا ہو گا، تو اس کے لیے زمین تو ہموار کرنی ہو گی۔ اور اس میں ظاہر ہے کہ پاکستان اور انڈیا کا بہت بڑا رول ہو گا۔
سوال
… مولانا صاحب، ہماری فارن پالیسی ہے کیا؟ اور اس میں کیا تبدیلی تجویز کریں گے آپ؟
جواب
ہماری کوئی فارن پالیسی ہے ہی نہیں۔ ہماری GHQ پالیسی ہے بس۔
سوال
ہماری حکومت کو کیسے دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کارکردگی…
جواب
یہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں۔ بس ایک کھلونا ہے، چل رہا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی نہیں چاہتے، ہم فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، یہ متضاد قسم کی سوچیں نہیں چلتیں، واضح لائن کی طرف ہمیں جانا پڑے گا۔
سوال
مولانا صاحب، اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات تو کی جا رہی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو اس وقت جو صورتحال چل رہی ہے عالمی سطح پر مہنگائی کے باعث، پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئے دن بڑھ رہی ہیں، تو اس سے عوام کی کمر جو ہے وہ ویسے ہی ٹوٹ چکی ہے، اگر مکمل لاک ڈاون ہو جائے گا تو کیا عوام گھروں میں محصور نہیں ہو جائے گی مکمل طور پر؟
جواب
دیکھیے، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اس موجودہ سمارٹ لاک ڈاؤن سے اس کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ ہو گیا ہے ہماری معیشت بیٹھ گئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کہاں چلی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ افغانستان کو دیکھیں، آپ ایران کو دیکھیں، آپ انڈیا کو دیکھیں، آپ نیپال کو دیکھیں، آپ بنگلہ دیش کو دیکھیں، پورے خطے میں صرف پاکستانی معیشت ہے جو نیچے جا رہی ہے، اور یہ کوئی آج اس نئی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ہماری مسلسل غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ بہت شکریہ۔
facebook.com/share/v/1G7LgDNBS4
امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
دس رمضان المبارک مطابق 28 فروری بروز ہفتہ علی الصباح امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی اور میزائیل حملوں کے ذریعے ایران کے فوجی تنصیبات، نیوکلیئر مقامات اور اہم سرکاری مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں بڑے دھماکے اور جانی نقصان کی اطلاعات شامل ہیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب عمان کے وزیر خارجہ نے یہ اطلاع دی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اچھے نتائج تک پہنچ رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔
ایران نے بھی جوابی حملوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف میزائل داغے اور کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس نے خلیجی ملکوں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اور یہ اس کے جائز نشانے ہیں کیونکہ اگر آپ دشمن کو ہوسٹ کررہے ہیں اور اس پر آپ کی چلتی بھی نہیں اور دشمن وہاں سے کارروائی کرتا ہے تو آپ اس کے حقدار ہیں کہ آپ کو برابر کی سزا دی جائے۔ اور اس کے بارے میں ایران پہلے ہی بیان دے رہا تھا، اس لیے عمانی وزیر داخلہ کی رائے ہے کہ ایران کا یہ اقدام غلط تو ہے مگر اس کے علاوہ تہران کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں۔
البتہ اس میں ایک خطرہ یہ چھپا ہوا ہے کہ بہت سے لوگ خاص کر مدخلی حضرات اس جنگ کو شیعہ سنی رنگ دینے میں لگ گئے ہیں۔ خلیج میں حکمرانوں کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں لوگ ایران کو اپنے لیے ویسا ہی خطرہ سمجھتے ہیں جیسا کہ اسرائیل کو سمجھتے ہیں، جبکہ امریکہ کی کوششوں سے حکمرانوں کی سطح پر اسرائیل کے لیے خاصا نرم گوشہ پیدا ہوچکا ہے۔ ایران کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اب تک خلیج کی ریاستوں نے ضبط سے کام لیا ہے مگر اس کے حملے برابر ہوتے رہے تو ناچار ان ریاستوں کو بھی جنگ میں بادل نخواستہ کودنا پڑے گا۔ اور اسرائیل کا عین یہی مقصد ہے۔
ایران اور خلیج کی ریاستوں کا تنازعہ پرانا ہے جس میں ایران نے اپنا انقلاب ان میں برآمد کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ ان ریاستوں نے ردعمل میں صدام حسین کی مالی اور عسکری مدد کرکے اس کے ذریعہ ایران پر حملہ کرایا اور نو سال تک دونوں ملک خونریز جنگ لڑتے رہے۔ اسی طرح شام کے ظالم و جابر علوی نظام کے ساتھ ایران جی جان سے کھڑا رہا اور ان سفاکوں نے لاکھوں سنیوں کا بے دریغ خون بہایا، وہ بھی خلیج کی سنی عرب آبادی بھول نہیں سکتی۔
لہٰذا ہم جو اسرائیل و امریکی جارحیت کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کو اہون الشرین یا اہون البلیتین کے اصول پر دکھا جانا چاہیے۔ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ اس خطہ میں ایران کی وجہ سے ایک توازن ہے۔ اگر وہ تباہ ہوگیا تو پھر اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ عرب حکمران اور عوام ترکی قوت کو بھی اپنے خطہ میں برداشت نہیں کریں گے، نہ وہ ایران کو برداشت کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ صرف ایران ہی ہے جو اب تک اسرائیل کا راستہ روکے ہوئے ہے، ترکی نہیں روک سکتا، وہ صرف زبانی بیان بازی پر اکتفا کرتا ہے۔ اس نے غزہ میں ستر ہزار معصوموں کا خون برداشت کرلیا مگر اسرائیل سے اپنی زبردست تجارت نہیں روکی!
امریکہ اور اسرائیل کی تیاریاں عموماً ایران کے جوہری پروگرام، عسکری صلاحیتوں، اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں کے تناظر میں بیان کی جاتی ہیں، جسے دونوں ملک اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ گرچہ سب جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ نتن یاہو باربار کہتا رہا ہے کہ شرقِ اوسط میں نیا نظام لانے کے لیے ایرانی محور کو گرانا ضروری ہے، اب اس نے اس میں توسیع کرکے موہوم سنی محور کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ حماس اور غزہ کو تو اس نے تباہ کر دیا مگر سات اکتوبر کے حادثہ کے لیے سارے شرقِ اوسط کو سزا دینا ضروری ہے اور اس کے لیے یہاں نیا آرڈر لانا ہوگا جو اسرائیل کی چھتر چھایا میں کام کرے گا۔ افسوس کہ خطہ کے سبھی عرب ممالک اس پہلو سے بالکل غافل ہیں! نیویارک کی جامعہ کولمبیا کے پروفیسر حمید دباشی کا کہنا ہے کہ صہیونی لابی اس وقت امریکہ میں اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نتن یاہو خواب دیکھتا ہے اور ٹرمپ اس کی تعبیر دینے کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔
ایران کی غلطی محض اسٹرٹیجک ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کے خلاف ’’مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل ‘‘ کے نعرے لگاتا رہا ہے۔ جن کو مغربی میڈیا اپنے عوام کو دھوکہ دینے اور گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس کو ’’ملارجیم ‘‘ کے نفرت انگیز نام سے پکارتا ہے۔ مسلم دشمنی میں پلا بڑھا اور ہندوتوا کا مارا ہوا انڈیا کا قومی میڈیا اس معاملہ میں مغربی میڈیا سے بھی دس ہاتھ آگے ہے۔ شور و غوغا کرنے سے زیادہ اگر ایران نے خاموشی سے کام کیا ہوتا اور شمالی کوریا اور پاکستان کی طرح اب تک ایٹم بنا لیا ہوتا تو وہ دشمنوں کے لیے یوں ترنوالہ ثابت نہ ہوتا! اس کے بجائے علی خامنہ ای صاحب مرحوم حقیقت میں مغرب سے تعلقات بحال کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ابتدا میں انہوں نے فتویٰ جاری کیا کہ ایٹم بم اسلام کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ بات سی این این پر ایک امریکی یہودی ماہر مبصر نے اپنے انٹرویو میں بتائی۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے جو کچھ بھی پروگریس اس سمت میں کی تھی، اس کو مغرب کے ایٹمی اداروں کے سامنے نیک نیتی سے رکھ دیا تاکہ مغرب ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھالے۔ مگر مغرب نے ایسا نہیں کیا۔ جب آیت اللہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی اور اب ان کا ایٹمی پروگرام ان کے ازلی دشمن اسرائیل کے نشانہ پر آچکا تھا۔ اس کے علاوہ ایران بڑی کمزوری کا مظاہرہ بھی اسرائیلی جارحیت کے سامنے کرتا رہا۔ اس کے سب سے بڑے ایٹمی سائنس دان محسن فخری زادہ کو نومبر 2020ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کے سپہ سالار اعلیٰ قاسم سلیمانی کو مار دیا گیا۔ نیز اس کے مہمان اور حماس کے قائد اعلیٰ اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا اور اس کے بعد حزب اللہ کے کمانڈر حسن نصراللہ کو مار دیا گیا۔ ایران کا کوئی جواب اسرائیل کو نہیں گیا جس کو اس کی کمزوری پر محمول کیا گیا۔
بہرکیف جیریمی بوؤن، مدیر برائے بین الاقوامی امور (بی بی سی)، کا کہنا ہے کہ یہ وار آف چوائس ہے: امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے تھے جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ:
’’امریکہ اور اسرائیل کے اس فیصلے نے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ میں کود پڑیں، عالمی منظرنامے کو نہایت خطرناک اور غیر متوقع نتائج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں اسے ’پیشگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ تاہم شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ حملہ کسی فوری خطرے کے جواب میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ ’پیشگی اقدام‘ کے لفظ کا مطلب ہوتا ہے۔ حقیقت میں انھوں نے اس جنگ کو لڑنے کا خود انتخاب (وار آف چوائس) کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ حساب لگایا ہو گا کہ فی الوقت ایران کی اسلامی حکومت بے حد کمزور ہے، یہ حکومت نہ صرف شدید معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ایرانی مظاہرین کے خلاف حالیہ سخت کریک ڈاؤن کے منفی اثرات سے بھی دوچار ہے، جبکہ گزشتہ موسمِ گرما میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد ایران کا دفاعی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ یوں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو درپیش اس صورتحال کا یہ نتیجہ نکالا کہ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
حالانکہ ایران نے اپنی سی کوششیں کیں کہ اپنے دشمنوں کے خلاف تیاری بھرپور کرے۔ مگر شیعہ سنی تنافر اور اپنے انقلاب کو عرب ملکوں میں درآمد کرنے کی ایرانی پالیسی نے اسے خطہ میں یکتا و تنہا بنا دیا تھا۔ چنانچہ اس کی جو بھی پراکسیز تھیں (حماس، حزب اللہ اور حوثی) ان سب کو مروانے میں کئی عرب ملکوں نے اپنی کرسیاں بچانے کے لیے کلیدی رول ادا کیا، جس کی جھلکیاں خود عبرانی میڈیا اور نتن یاہو کے بیانات میں آتی رہتی تھیں۔ خاص طور پر اس وقت دنیا میں متحدہ عرب امارات تو بالکل بے نقاب ہوگیا ہے اب اس کو تو خود بعض عرب بھی اسرائیل و امریکہ کا Trojan Horse کہہ رہے ہیں۔ وہ دہائی سے ایک دوسرا اسرائیل بن گیا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کو بالواسطہ نقصان پہنچا رہا ہے۔ اور خود امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز وغیرہ میں اس طرح کی اسٹوریز اور رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں کہ MBS، MBZ اور دوسرے حکمراں مسلسل ٹرمپ کو فون کال کر کرکے دباؤ ڈال رہے تھے کہ جلد از جلد ایران پر حملہ کر دیا جائے اور اس کی عسکری صلاحیتیں تباہ کر دی جائیں۔ گرچہ یہ رپورٹیں محض مغربی پروپیگنڈا بھی ہوسکتی ہیں مگر ایسا امکان بہرحال موجود ہے کیونکہ یہ حکمراں ایران اور حماس جیسی تنظیموں کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
دوسرے، شدید اقتصادی پابندیوں نے ایران کا کچومر نکال دیا ہے اور عوام میں بھی بہت سی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو موجودہ حکومت کو مغرب کے اشارے پر بدلنا چاہتی ہیں۔ ان میں کرد ہیں، مجاہدین خلق (کیمیونسٹ) ہیں اور کچھ سنی ہیں جن پر زیادتیاں کی گئی ہیں، اور جو خلیجی سنی عرب حکمرانوں کے پے رول پر ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران کا بنیادی عسکری انفراسٹرکچر مکمل تباہ کرکے ان لوگوں کو اندر سے اٹھایا جائے۔ موساد کے ہزاروں ایجنٹ پہلے سے اندرون ملک سرگرم ہیں، ان کے ذریعہ ایک مسلح بغاوت برپا کرانے کی کوشش برابر ہورہی ہے۔ اور موساد کے اندرونی طور پر نفوذ نے ثابت کردیا ہے کہ ایران میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، اسرائیلی جب چاہیں جہاں چاہیں کسی کو بھی مار سکتے ہیں! یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب آیا تو بمصداق ’’ہر انقلاب سب سے پہلے اپنے بچوں کو کھاتا ہے‘‘ خمینی حکومت نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بند کرنے کے ہزاروں لوگوں کو بے محابا تختۂ دار پر چڑھا دیا تھا۔ اس وقت سے یہ لوگ اس رجیم کے خلاف ہیں اور موقع کے انتظار میں ہیں۔
ایران نژاد امریکن اسکالر ولی نصر کا کہنا ہے کہ ’’ایران کا جو ڈائسپورا مغرب میں موجود ہے اس کو ایرانی ثقافت یا اسلامی تشخص سے کوئی دل چسپی نہیں، ان کی ساری توجہ اپنے آپ کو مغرب کے رنگ میں رنگنے میں رہی ہے‘‘۔ پروفیسر مقتدر خان کا بھی یہی تجزیہ ہے کہ یہ لوگ اگر حکومت میں آئے تو سب سے پہلے یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ مغرب میں بیٹھا بھگوڑے آنجہانی شاہ ایران کا بیٹا رضا شاہ (ثانی) بھی میدان میں کودنے کی تیاری کررہا ہے اور ایرانی قوم کے نام پیغام جاری کرتا رہا ہے کہ امریکی حملے موجودہ نظام کو بڑی تک کمزور کردیں گے اور اب ان کی باری ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور نظام کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایران میں آجائے گا اور نئے انتخابات کروائے گا۔ تاہم خود ایران میں شاہ کے حامی بہت ہی کم ہیں اور وہ کسی قیمت پر ملوکیت کی واپسی نہیں چاہتے، اس لیے پہلوی کے سپنے شاید مونگیری لال کے سپنے ہی بن کر رہ جائیں گے۔ اور جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی کہ اندر سے بغاوت ہو جائے گی اور ہمارا کام آسان ہوجائے گا!
انسانی تباہی اور جانی نقصان
ایک براہِ راست جنگ میں فوجیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں عام شہری اور بے گناہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں اسکولوں، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں سے بڑی ہلاکتیں اور زخمیوں کی رپورٹیں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فی الحال ایران کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں اور ان کے داماد اور ان کی اہلیہ بھی شہید ہوئی ہیں۔ علی شمخانی اور علی لاریجانی کے علاوہ اور کئی بڑے کمانداروں کی شہادت بھی ہوچکی ہے۔ لیکن ایران کے لیے یہ عام بات ہے اور اس سے قوم کا حوصلہ نہیں ٹوٹا ہے۔ کیونکہ شیعہ اسلام میں شہادت کے بعد اسلام اور زیادہ تقویت پاتا ہے، کربلا (قطع نظر اس کی واقعیت کے) اسلامی ادبیات میں ظلم کے خلاف مزاحمت کا عظیم استعارہ ہے۔ ؏
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
جبکہ اسرائیلی ڈاکٹرائن یہ ہے کہ اعلیٰ قیادت کو سب سے پہلے ختم کیا جائے تاکہ حریف کا مورال بالکل ٹوٹ جائے۔ اسرائیل اپنی ہر جنگ میں اس ڈاکٹرائن کا استعمال اپنی زبردست جاسوسی قوت کے ذریعہ کرتے رہے ہیں۔ جہاں ان کی انٹیلی جنس ناکام ہوئی، وہ یہ ہے کہ وہ یہ پتہ نہیں لگا سکے کہ ایران کی ماسبق جنگوں کے بعد جنگی اسٹریٹیجی ڈیولپ ہوچکی ہے اور تبدیل ہوچکی ہے۔ میناب کے علاقہ میں امریکہ نے معصوم بچیوں کے ایک اسکول کو تباہ کر دیا جس سے تقریباً ڈیڑھ سو بچیاں اور ان کی استانیاں شہید ہوگئیں! افسوس کہ اقوام متحدہ تک میں اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ اطالیہ کی وزیراعظم میلونی نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اب تک اسرائیل اور امریکہ ایران پر تقریباً پندرہ ہزار حملے کرچکے ہیں۔ جن میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران کی سول فیسیلٹیز (شہری عمارتیں) تباہ ہو رہی ہیں۔ کیونکہ دنیا کے یہ ’’مہذب قاتل‘‘ کسی مسجد، اسپتال اور اسکول، پانی کی ٹنکی وغیرہ کو بھی نہیں چھوڑتے جیساکہ انہوں نے غزہ کے اندر کیا ہے۔
عالمی سفارتی بحران
ویسے تو اقوام متحدہ، یورپ اور متعدد ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا اور اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جس سے عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل پر تنقید بڑھ گئی ہے۔ مگر دنیا میں نہ اس وقت یورپ کی کوئی اوقات ہے، بلکہ جرمنی اور انگلینڈ کے ہوائی اڈے تو ایران پر حملہ میں استعمال ہورہے ہیں، اسی طرح اقوام متحدہ کو بھی عالمی طاغوت ٹرمپ نے کالعدم کرکے رکھ دیا ہے۔ تاہم امریکہ کے روایتی حلیف سب بلند آواز سے اب یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، اس کی شروعات آپ نے کی ہے، اس کے نتائج بھی آپ بھگتو! اب ٹرمپ ان کو لتاڑنے اور گالیاں دینے پر اتر آیا ہے۔
اس لیے اندازہ یہی ہے کہ اگر ایران حوصلہ دکھاتا ہے اور امریکی اڈوں، اس کے بیڑوں اور اسرائیل پر حملے جاری رکھتا ہے تو امریکہ اس جنگ میں ویسے ہی پھنس جائے گا جیسے روس یوکرین میں پھنسا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ روس کے مقابلہ میں یوکرین کو یورپ کی ہر طرح کی مالی، تربیتی، عسکری لاجسٹک سپلائی کی بڑے پیمانہ پر امداد حاصل ہے، جبکہ ایران کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہے۔ اس کے سب عرب مسلم پڑوسیوں کی درپردہ خواہش یہی ہے کہ ایران تباہ ہوجائے، یا کم از کم اتنا کمزور ہوجائے کہ مستقبل میں وہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکے۔ قیاس ہی کیا جاسکتا ہے کہ روس اور چین کی خفیہ امداد انٹیلی جنس اور ضروری معلومات کی حد تک شاید اسے بھی مل رہی ہو گی۔ کیونکہ ایران میں اپنی مرضی کی حکومت لا کر امریکہ اصل میں چین اور روس کو بھی دنیامیں contain کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل کے اعلان شدہ مقاصد ایران کی عسکری قوت کو توڑنا، اس کی نیوکلیر توانائی کو برباد کرنا، اور میزائیل ٹیکنالوجی کو ختم کرنا ہیں۔ تاکہ اس طرح پورے خطہ میں اس کے خلاف کوئی بھی قوت کھڑی نہ ہوسکے اس کو یقینی بنانا ہے۔ جیساکہ وہ کامیابی سے امریکہ اور نیٹو کی مدد سے لیبیا، شام، عراق، کو پہلے ہی ختم کرچکا ہے۔ قطر، بحرین، کویت اور اردن و متحدہ عرب امارات وغیرہ رجواڑے اس کے پالے میں آچکے ہیں۔ ایران کے ختم کر دیے جانے کے بعد سعودی عرب کے پاس بھی اس کی آقائی مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ ایران کا محور شیعی تھا جو طاغوت کے خلاف ہمیشہ کھڑا رہا ہے۔ اب بچے گا نیا ابھرتا ہوا نام نہاد سنی محور جو ترکی پاکستان اور سعودی عرب پر مشتمل ہے، تو اس کے خلاف بھی جنگی مجرم نتن یاہو نیا محاذ کھڑا کررہا ہے۔ امریکہ نتن یاہو کی غلامی کرنے پر مجبور ہے، دوسرا ملک جو اس کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ انڈیا ہے۔ نریندر مودی اور دہشت گرد نتن یاہو کا قارورہ مسلم دشمنی میں ایک دوسرے سے ملتا ہے۔
جبکہ امریکہ کے مقاصد اصل میں اسرائیلی مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ہی دنیا بھر کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ وینزویلا میں انہوں نے جو کچھ کیا اس کا سبب بھی یہی تھا مگر وینزویلا کا تیل بہت بھاری ہے۔ ایران اور لیبیا کے پاس بلکہ پورے خلیج کے پاس جو تیل ہے وہ امریکہ اور یورپ خام حالت میں بڑا سستا خریدتے ہیں اور پھر اس کو ریفائن کرکے دنیا بھر کو مہنگا بیچتے ہیں اور اسی سے ان کی اکانومی دوڑ رہی ہے۔ اس لیے امریکہ بلکہ یوں کہیے کہ مغرب ہرحال میں مشرقِ وسطیٰ پر اپنا تسلط بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل ان کی سامراجی چوکی ہے جس کی حفاظت وہ جی جان سے کرتے ہیں۔ اور اس میں ایک مذہبی زاویہ بھی ہے کہ صہیونی عیسائی جو اس وقت امریکہ کے حکمراں ہیں، وہ اسرائیل کی حفاظت اپنا ایک مقدس مذہبی فریضہ جانتے ہیں۔ جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ خود امریکی مفادات بھی اس کے لیے قربان کیے جاسکتے ہیں۔
اسی سیاق میں اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکبی کا ابھی تازہ انٹرویو جو اس نے امریکہ کے مشہور براڈکاسٹر ٹرک کارلسن کو دیا تھا، یاد کر لیں۔ اس انٹرویو میں مائک ہکبی صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ بائبل کے مطابق شرقِ اوسط خداتعالیٰ نے اسرائیل کو دیا ہے اس لیے اگر اسرائیل نیل سے فرات تک کا علاقہ چھین لیتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ (اس کے اشارہ کردہ خطہ میں سعودی عرب، اردن، مصر، شام اور پورا فلسطین غزہ و مغربی کنارہ سب شامل ہے۔) یاد رہے کہ عربوں کے شور مچانے کے باوجود وائٹ ہاؤس سے مائک ہکبی کے اس بیان کی کوئی تردید نہیں آئی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خود ٹرمپ نے اب سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ اسرائیل اپنے رقبہ کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے، اس کو اور علاقہ چاہیے۔ اس سب کے باوجود مسکین عرب ممالک اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ صحیح معنی میں ان کی اب تو کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں ہے کیونکہ جب سے امریکہ میں ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں ان غریبوں کو اس کے سامنے ؏
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے
کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ملکوں کی حفاظت کے لیے کوئی آرمی نہیں بنائی۔ جو آرمی ہے وہ بس ان کی کرسی کی حفاظت کرتی ہے اور عوام میں موجود اسلام پسندوں کو دباتی کچلتی ہے۔ انہوں نے اپنی حفاظت پوری امریکہ کو گروی رکھی ہوئی ہے۔ اس پالیسی پر ان ملکوں پر بادشاہت ہونے کی وجہ سے کوئی چوں بھی نہیں کرسکتا، اگر کوئی کرتا ہے تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے یا سیدھے تختۂ دار پر پہنچا دیا جاتا ہے!
اب اس بحران کے موقع پر خلیج میں بعض لوگ یہ کہتے ضرور سنے گئے کہ امریکہ نے اس مشکل کی گھڑی میں ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، اس نے اپنی ساری دفاعی قوت اسرائیل کے تحفظ و دفاع پر لگا دی اور ہمیں ایران کے سامنے کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا، اس لیے ہمیں ایک متحدہ محاذ بنانا چاہیے۔ قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسر نے خلیج کے سبھی حکمرانوں کے نام اس مضمون کا خط لکھا ہے۔ لیکن اس کا کوئی اثر عملاً بھی ہوگا؟ اس میں ہمیں بہت شک ہے۔ کیونکہ عالم عرب میں جو فکری فضا ہے وہ بہت مایوس کن ہے اور وہ پوری طرح حکمرانوں اور ایلیٹ کلاس کے ہاتھ میں ہے جو مغرب کے سامنے بہت پہلے سپرڈال چکے ہیں۔ وہ کئی جنگوں میں اسرائیل سے شکست کھا کر اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ مغرب سے نہیں لڑ سکتے۔ چنانچہ وہ چپ چاپ غزہ کا قتلِ عام دیکھتے رہے اور ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا منظر پیش کرتے رہے!
عالمی اقتصادی اثرات
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، کیونکہ خلیج کے راستے دنیا کا تیل اور گیس گزرتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک اثرات ممکن ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ علاقائی طاقتیں ترکی، مصر اور سعودیہ یا حملہ آوروں کے ساتھ شامل ہیں یا ساحل کے تماشائی!
روس نے اس حملے کو غیر مجاز اور جارحانہ قرار دیا جس سے امریکہ، روس اور دیگر عالمی قوتوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ چین بھی ایسے حملوں کی مذمت کر چکا، جس سے عالمی جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت صرف ایک عسکری تنازع نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع الجہتی عالمی بحران ہے جس کے انسانی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر فوری طور پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات نہ ہوئے تو یہ طویل، گہرے اور تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے اور یوکرین جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو امریکہ کی معیشت بھی اس کو اس کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ خطہ میں مزید تباہی و بربادی پھیلائے۔ گرچہ اس کا امکانات ابھی بظاہر محدود ہیں۔
شہید علی خامنہ ای 1989ء سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور ان کا منصب محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور فیصلہ کن اختیارات کا حامل ہے۔ وہ مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری میڈیا اور اہم مذہبی و سیاسی تقرریوں پر براہِ راست اثر رکھتے تھے۔ مذہبی حکومت کے اپنے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں جیساکہ ملوکیت کے بھی ہوتے ہیں اور جمہوریت کے بھی۔ دیکھا جائے تو دنیا میں جتنا فساد اور جتنی دہشت نام نہاد جمہوری امریکہ اور ’’جمہوری‘‘ اسرائیل دنیا بھر میں مچائے ہوئے ہیں اتنا تو فوجی ڈکٹیٹر، آمر یا بادشاہ بھی نہیں مچا پاتے۔ تو مذہبی حکومت کی سخت گیری سے اگر ایران میں بہت سے لوگ اس نظام کے خلاف ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس کا سبب بھی تو امریکہ اور یورپ ہی ہیں جنہوں نے سولہ قسم کی سخت اقتصادی پابندیاں ایران پر دہائیوں سے لگا رکھی ہیں۔ ایسے میں اگر مذہبی حکومت نہ ہوتی خالصتاً سیکولر لبرل حکومت ہوتی مگر وہ مغرب کی ہاں میں ہاں نہ ملاتی تو بھی یہی ہونا تھا۔
آخر بدنام زمانہ رضا شاہ پہلوی سے پہلے 1956ء میں عوامی طور پر مقبول ڈاکٹر مصدق کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو امریکہ نے ہی سی آئی اے کے ذریعہ فوج کو استعمال کرکے گروایا تھا اور انہیں تختۂ دار پر چڑھا دیا تھا۔ وہ تو مذہبی نہیں تھے بس ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے تیل کی صنعت کو قومیایا تھا، جس نے امریکہ ان سے سخت ناراض ہو گیا تھا۔ اسی طرح صدام حسین اور کرنل قذافی تو مذہبی نہیں تھے! ہم اس مذہبی حکومت کی زیادتیوں کو جواز نہیں دے رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ اس کی سختیوں اور درازدستیوں سے تنگ ہیں، ابھی ایران کے وجود کو خطرہ ہے، اس لیے وہ حکومت کے پیچھے کھڑے ہوگئے ہیں لیکن ان کی شکایتیں حقیقی ہیں اور ایران کو اگر باقی رہنا ہے تو ان کی شکایتوں کا ازالہ اس کی پہلی ذمہ داری ہوگی۔
بہرحال خامنہ ای کا قتل تو ہوگیا مگر وہ اپنی ممکنہ شہادت کے پیش نظر اس کا پہلے ہی بندوبست کرچکے تھے اور نئے لوگوں کو قیادت سونپ چکے تھے۔ جس کے تحت قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین علی لاریجانی بنے اور ان کی شہادت کے بعد سعید جلیلی۔ اور حکومت کا نظم و نسق صدر مسعود علی پزشکیان، علی محسنی وغیرہ مل کر چلا رہے ہیں۔ اب خاص طور پر Islamic Revolutionary Guard Corps یعنی پاسدارانِ انقلاب اس صورتحال میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اور داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
داخلی طور پر اگرچہ ایران میں معاشی دباؤ، نوجوانوں کی بے چینی اور سماجی احتجاج کی تاریخ موجود ہے، لیکن بیرونی حملے یا اعلیٰ قیادت کے قتل جیسا واقعہ اکثر قوموں کو وقتی طور پر متحد کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ ایسا واقعہ نظام کے خاتمے کا سبب بنے، بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ مضبوط ہو، قومی سلامتی کے نام پر سخت اقدامات کیے جائیں، اور اختلافِ رائے پر مزید پابندیاں لگیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سپریم لیڈر کا قتل ایران میں فوری نظامی تبدیلی نہیں لا سکا بلکہ اس سے عسکری اداروں کا اثر و رسوخ اور بڑھ گیا ہے، اس لیے اب مزید نظریاتی سختی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور خطے میں عدمِ استحکام پھیل سکتا ہے۔ اس قسم کے اقدام کے نتائج محدود اور مقامی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی طاقتوں کی سیاست تک محسوس کیے جائیں گے۔
دو تین باتوں کی طرف اور اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں میں پوری مسلم امہ (اگر وہ کہیں موجود ہے!) کے لیے ایک سبق یہ ہے کہ مسلمان موجودہ دور میں میدان میں نہیں شکست نہیں کھا رہے بلکہ ان کی انٹیلی جنس ناکامی شکست کا سب سے بڑا سبب ہے۔ گزشتہ سال 12 روزہ اسرائیلی حملہ میں بھی ایران نے سب سے زیادہ مار اسی میدان میں کھائی۔ اب بھی دشمن علی الاعلان ہفتوں مہینوں سے یہ کہہ رہا تھا کہ ہم اعلیٰ مذہبی قیادت، سیاسی رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں کو پہلے نشانہ بنائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ رہبر معظم شہادت کے وقت اپنے آفس میں کیوں موجود تھے؟ ایران نے ایسے بنکر کیوں نہیں بنائے جس میں اپنے مذہبی قائدوں اور سائنس دانوں کو بچایا جاسکے؟ اسرائیل نے تو اتنے بڑے بڑے بنکر بنا رکھے ہیں کہ سارے شہری ان میں زیر زمین چلے جاتے ہیں! ہم تاریخ سے کوئی سبق نہیں لے رہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے اپنے سے دس دس گنا صلیبیوں کو ناکوں چنے چبائے تھے، صرف اپنے انٹیلی جنس کی نظام کی برتری سے۔ یہی سبق ہمیں پھر سے سیکھنا ہوگا۔
ایران پہلے سے کہہ رہا تھا کہ ہم حفظ ماتقدم کے طور پر اسٹرائک کریں گے مگر وہ نہیں کرسکا۔ جبکہ ایک دو دن پہلے سے ہی یہ آثار ہو چلے تھے کہ اس پر اب حملہ ہوا کہ تب ہوا۔ مگر وہ اس بار بھی امریکہ سے مذاکرات کے جھانسے میں ہی رہا اور پری امپٹو اسٹرائک (اقدامی حملہ) نہیں کرسکا۔ اگر وہ کر دیتا تو شاید اتنے بڑے جانی نقصانات نہ ہوتے۔ البتہ یہ کریڈٹ اس کو ضرور دینا ہوگا کہ گزشتہ سال اس کو سنبھلنے میں 12 گھنٹے لگے تھے اور اس نے جوابی حملے شروع کیے تھے۔ اس بار اس کا جوابی حملہ محض ایک گھنٹہ بعد شروع ہو گیا۔
اپنے پڑوس میں ایران نے بدقستمی سے دوست کم دشمن زیادہ بنائے۔ اب اس کے پراکسی کسی قابل نہیں رہ گئے ہیں۔ دشمن نے ان کو بری طرح توڑ دیا ہے۔ اگرچہ حزب اللہ اس جنگ میں دوبارہ کود پڑی ہے۔ ایران کو پڑوس میں اچھے تعلقات بنانے پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا۔ پڑوس اگر آپ کے ساتھ نہیں ہے تو پھر آپ دشمن کے لیے کھلے ٹارگیٹ بن جاتے ہیں۔
ان سنی ممالک کو جو چین کی بانسری بجا رہے ہیں جن میں سعودی عرب، ترکی و مصر ہیں کو بھی اپنی خیر منانی چاہیے۔ عالمی طاغوت کے راستہ کی شرقِ اوسط میں ایران آخری چٹان ہے۔ اگر وہ ہٹ گئی تو پھر اسرائیل مصر اور ترکی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر تو اس کی پہلے سے نظر بد ہے۔ جس میں اسے سعودیوں کے آقا ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سعودی عرب ہر سال کروڑوں کے ہتھیار تو امریکہ سے خریدتا ہے مگر ان ہتھیاروں کو چلانے والے ہاتھ کہاں سے لائے گا؟ اس کا تیل اور بڑی ثروت اس کو اسرائیل سے نہیں بچا پائیں گے۔
جنگ کو شروع ہوئے دو ہفتے ہوچکے ہیں۔ اس کی ابتدا میں ہی ہم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ کہیں یہ تھوپی ہوئی یہ ظالمانہ جنگ امریکہ کے لیے دوسرا یوکرین نہ ثابت ہو! اس میں شک نہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے اور وہ ٹرمپ کے زمانہ میں کچھ زیادہ ہی طاقت کے نشہ میں چور ہیں۔ جنگ بنیادی طور پر میدان سے پہلے Perception کی سطح پر لڑی جاتی ہے۔ مغربی میڈیا، جو اصل میں دنیا بھر کے میڈیا کا اجارہ دار ہے، جنگ سے پہلے ہی امریکہ کے حق میں لامتناہی پروپیگنڈہ کرکے اس کا narrative سیٹ کردیتا ہے۔ جس سے امریکہ کے حریف کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے وینزویلا میں کیا۔ مگر ایران نے اس مِتھ (گمان) کو بھی توڑ دیا ہے اور سارے بیانیے کو چیلنج کردیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ اس جنگ کو بس دو تین دن میں سمیٹ دیں گے۔ مگر ان کو پتہ نہیں تھا کہ ایران اسی سیناریو کے لیے دہائیوں سے تیاری کررہا تھا۔
رہبر معظم اور اپنی ٹاپ قیادت کے خاتمہ کے بعد بھی IRGC نے اپنی پوری جنگ کو ڈی سینٹرلائزڈ کر دیا اور فوج کو 32 آزاد اور خود مختار یونٹوں میں بانٹ دیا، جس کو کسی کمانڈ اور کنٹرول کی ضرورت نہ تھی، جس کو عسکری زبان میں موزائک ڈفینس کہتے ہیں۔ دوسرے، انہوں نے جنگ کے دائرہ کو بہت پھیلا کر امریکہ کے اقتصادی مفادات کو نشانہ پر لیا۔ اسرائیل پر لگاتار ضرب لگائی۔ اس کا اندازہ تھا کہ خلیج کے امریکی مفادات پر ضرب لگنے سے خلیجی ممالک اپنے اقتصادی نقصانات سے بچنے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اس جنگ کو روک دے۔ مگر عرب ممالک تھوڑی سی کوشش کرنے کے بعد یہ نہیں کر سکے۔ اب ایران نے پلان B کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے گیس اور تیل کی سپلائی روک دی ہے۔ وہاں ایک ہزار جہاز روکے ہوئے اور ایران کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس سے ساری دنیا میں شدید معاشی بحران دیکھنے میں آرہا ہے۔
شروع میں ٹرمپ نے دھمکیاں دیں، بڑھکیں ماریں ’’ہم جنگ پہلے دو گھنٹوں میں ہی جیت لی تھی، ہم نے ایران کی فضائیہ اور نیوی مکمل تباہ کر دی ہے، ہم نے ایران کے میزائل پروگرام تباہ کر دیے ہیں‘‘۔ مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران تابڑ توڑ اسرائیل اور امریکی مفادات پر حملے کررہا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ لوگ ہمت کریں اپنے جہاز لے کر نکلیں ہم اسکارٹ (حفاظت) دیں گے۔ مگر ان کی بات پر کسی نے یقین نہیں کیا کہ عملاً ایران وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور امریکی نیوی نے ان کو اسکارٹ دینے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ اب ٹرمپ دنیا کے اپنے حلیفوں سے اور ای یو کے ان ملکوں سے بھی، جن کو روزانہ وہ ذلیل کرتے رہتے تھے، کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے بحری بیڑے بھیجیں اور آبنائے ہرمز کو خالی کروائیں۔ مگر ان کی یہ گہار بھی بے سود ثابت ہوئی اور سبھی نے اپنی فوج بھیجنے سے منع کر دیا ہے۔
اب ٹرمپ اس بندگلی میں پھنس گیا ہے جس کو ’ نہ جاء ماندن نہ پائے رفتن‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس نے خلیج کے ملکوں کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے اکسایا مگر اب وہ بھی شاید اس کھیل کو سمجھ رہے ہیں، اس لیے محض اپنے دفاع تک محدود ہیں، اس سے آگے وہ جا بھی نہیں سکتے۔ ایران اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی قوت کے آگے بے حد کمزور ہے مگر ابھی فی الحال جنگ اسی کے کنٹرول میں ہے۔ اس نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ جنگ شروع آپ نے کی ہے، ختم ہم کریں گے۔ حزب اللہ بھی اس جنگ میں ایران کے ساتھ شریک ہو گئی ہے۔ جبکہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ ایک ترپ کا پتہ ’’باب المندب‘‘ بھی ہے جس کو ایران کے اشارہ کے منتظر یمن کے حوثی کسی بھی وقت بند کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا بظاہر ایران کی تباہی و بربادی کے علاوہ کوئی ہدف پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے، جو ابھی نظر نہیں آرہا ہے۔ جبکہ اسرائیل اس کو مزید طول دینا چاہتا ہے تاکہ امریکی فوج کے ذریعہ ایران میں زیادہ سے زیادہ تباہی کروا دی جائے، مگر ساتھ ہی اس کا اپنا نقصان بھی بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے جس کو میڈیا سنسرشپ کے ذریعہ اس نے چھپایا ہوا ہے۔ ابھی تک سارا فائدہ اسرائیل کو ہورہا ہے کہ ایران تباہ ہو رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب میڈیا کو جتنا بھی ہم نے دیکھا، الجزیرہ کو چھوڑ کر، اسرائیل کہیں سرے سے زیربحث ہی نہیں آتا۔ ان کے صحافی، علماء اور اسکالر و مبصرین تو سارا نزلہ صرف ایران پر گرا رہے ہیں۔ اس جنگ کے خطہ پر صہیونی نقطہ نظر سے کیا طویل اثرات ہوں گے، ان کا یہ سرے سے فوکس ہی نہیں!
بہرحال ابھی یہ جنگ ہاتھی اور چونٹی کا مقابلہ ہے۔ بس یہ ہے کہ چونٹی ہمت اور حوصلہ دکھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کسی اسٹریٹیجی سے عالمی طاغوتوں کو شکست دے پائی گی یا پاؤں تلے کچل دی جائے گی اور عالمی ظلم و استبداد کی مزاحمت کا آخری قلعہ بھی ڈھ جائے گا؟ البتہ جنگ کو طول دینا اِس وقت ایران کے حق میں ہے، حملہ آور قوتیں جلد از جلد ایران کو تباہ کرنا چاہتی ہیں مگر ایران جتنا بھی دفاعی جنگ کو کھینچتا جائے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا اور اس میں جارح قوتوں کا نقصان ہے۔ اس لیے کہ حکومتوں کے موقف کے بالکل برعکس دنیا بھر کے عوام واضح طور پر ایران کے ساتھ ہمدردی کررہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف ان کا غصہ بڑھتا جارہا ہے جو آخری تجزیہ میں ایران کے حق میں جائے گا۔
افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
افغانستان اور پاکستان کے دینی، سیاسی، اور علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے معزز علماء اور مؤثر شخصیات نے باہمی مشاورت کے بعد اس امر پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک میں امن، استحکام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ دینی ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے علماء، دانشوروں اور ذمہ دار طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ یہ بیان عید الفطر کے موقع پر جاری کیا گیا تاکہ اس بابرکت موقع کی مناسبت سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، رواداری اور اخوت کے جذبات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ افغانستان اور پاکستان کے علماء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو خطے میں استحکام کا باعث بنے۔
بیان کا متن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
د افغانستان او پاکستان ترمنځ د سولی د ټینګښت لپاره کد دردمندانه غوښتنلیک
د افغانستان او پاکستان د درنو ولسي او سیاسی جیدو علماوو او معززو قومي مشرانو مشترکو هڅو او کوښښونو، موږ د دواړو هېوادونو ترمنځ د وروستي کړکېچ د پایدار او باوقاره حل لپاره یو صادقانه، جدي او مصالحه کوونکی حرکت کړی دی۔
موږ پوره باور لرو چې اوسنی تاوتریخوالی او ټکر د هېڅ لوري په ګټه نه دی، د همدې مسؤولیت د احساس له مخې موږ دا یوه دیني، اخلاقي او انساني فریضه بولو چې د دواړو لورو ترمنځ د دوامدارې او باعزته سولي د ټینګښت لپاره خپلې هڅې کوو۔
په دې لړ کې زموږ لومړنۍ غوښتنه له دواړو حکومتونو څخه دا ده چې د عید الفطر په مناسبت اعلان شوی اوربند، چې اوس د پای ته رسېدو په حال کې دی، تر عید الاضحی پورې وغځول شي تر څو د اشهر حرم درناوی په بشپړ ډول وشي۔
د دې غځولو یوه اساسي موخه دا ده چې د دواړو هېوادونو مسلمانان وکولای شي د امن، سکون او اطمینان په فضا کې د حج ستره فریضه ادا کړي۔ حج د اسلام له بنسټیزو ارکانو څخه دی، نو په دې مبارکه موده کې د انساني ژوند ساتنه او د هر ډول وینې تویېدو مخنیوی د وخت تر ټولو مهم ضرورت دی۔
موږ د افغانستان او پاکستان له مشرانو څخه په ډېر اخلاص او جدیت غوښتنه کوو چې د دغو مشرانو مخلصانه هڅو ته درناوی وکړي او دا غوښتنه ومني۔ دا چې موږ د امت درد خپل درد ګڼو او د انساني تلفاتو پر وړاندې ژوره خواشیني دا "د سولی تحریک" به یوازې د اوربند د غځولو تر غوښتنې محدود نه وي، بلکې د دواړو هېوادونو ترمنځ د دوامدارې سولي د ټینګښت لپاره به هر ډول سولیپزی هڅې روانې وساتي، څو هغه ټول بنسټیز اختلافات او زړې ستونزې په عادلانه او د منلو وړ ډول حل شي چې د دې کړکېچ لامل ګرځېدلي دي۔
زموږ د هڅو محور دا دی چې یو داسې جامع او د منل شوي مسیر ومومو، چې د دواړو لورو رضا پکې شامله وي او په سیمه کې د تلپاتې ثبات او همغږۍ بنسټ کښېږدي۔
ان شاء اللہ، دا نوښت به د دواړو هېوادونو لپاره د خیر، برکت او تلپاتې سولي سبب وګرځي۔ موږ هیله لرو چې د دواړو هېوادونو د حکومتونو مشرتابه به داسې مناسب چاپېریال برابر کړي چې علماء او سیاسي مشران وکولای شي د سولي دا بهیر دکامیابی تر بریدہ و رسوی ورسوي او اوږدمهاله ستونزو ته یو عادلانہ او دایمي حل ومومي۔
والسلام
د پاکستان علماء کرام
(۱) شیخ ادریس صاحب اکوړه خټک
(۲) مولانا شیخ زاهدالراشدی صاحب (گجران والہ)
(۳) مولانا قاری محمد حنیف صاحب (جلندری)
(۴) مولانا حکیم مظہر صاحب (کراچی)
(۵) مولانا صلاح الدین ایوبی صاحب (بلوچستان)
(۶) مولانا محمد اویس نورانی صاحب
(۷) مولانا شیخ عبد الکریم صاحب
(۸) مولانا فضل الرحمٰن خلیل صاحب
(۹) مولانا عبد اللہ شاہ مظہر صاحب
(۱۰) مولانا مفتی زبیر شاہ صاحب (جانشین مفتی مختار الدین شاہ)
(۱۱) مولانا پیر عتیق الرحمٰن صاحب (جانشین پیر عزیز الرحمٰن ہزارہ)
د افغانستان علماء کرام
(۱) شیخ نظر محمد صاحب (افغانی)
(۲) مفتی نجیب اللہ صاحب (منیب)
(۳) شیخ حسن آصف صاحب (محسنی)
(۴) دوکتور فیروز صاحب (هروي)
(۵) شیخ مولوی زادہ صاحب (هروي)
(۶) شیخ مولوی احمد صاحب (ربانی)
(۷) مولوی معتصم آخند زادہ صاحب (کندھاری)
(۸) شیخ نصر اللہ صاحب (علمی)
(۹) شیخ سید احمد صاحب (ہاشمی)
(۱۰) شیخ میر فاروق صاحب (نورانی)
(۱۱) شیخ ذاکری صاحب (عرفاتی)
اردو ترجمہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
افغانستان اور پاکستان کے درمیان امن کے قیام کے لیے ایک درد مندانہ درخواست
افغانستان اور پاکستان کے معزز عوامی و سیاسی جید علماء اور باوقار قبائلی عمائدین کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ہم نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پائیدار اور باوقار حل کے لیے ایک مخلصانہ، سنجیدہ اور مصالحتی اقدام اٹھایا ہے۔
ہمیں مکمل یقین ہے کہ موجودہ کشیدگی اور تصادم کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسی ذمہ داری کے احساس کے تحت ہم اسے ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان مستقل اور باعزت امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
اس سلسلے میں ہماری پہلی درخواست دونوں حکومتوں سے یہ ہے کہ عید الفطر کے موقع پر اعلان کیا گیا جنگ بندی، جو اب اختتام کے قریب ہے، اسے عید الاضحیٰ تک بڑھایا جائے تاکہ اشہرِ حرم (حرمت والے مہینوں) کا مکمل احترام کیا جا سکے۔
اس توسیع کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مسلمان امن، سکون اور اطمینان کی فضا میں حج کی عظیم عبادت ادا کر سکیں۔ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے، لہٰذا اس بابرکت مدت میں انسانی جانوں کا تحفظ اور ہر قسم کے خونریزی کو روکنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
ہم افغانستان اور پاکستان کی قیادت سے نہایت اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان رہنماؤں کی مخلصانہ کوششوں کا احترام کریں اور اس درخواست کو قبول کریں۔ چونکہ ہم امت کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش رکھتے ہیں، اس لیے یہ “تحریکِ امن” صرف جنگ بندی کی توسیع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن کے قیام کے لیے ہر ممکن مصالحتی کوششیں جاری رکھے گی، تاکہ تمام بنیادی اختلافات اور پرانے مسائل، جو اس کشیدگی کا سبب بنے ہیں، منصفانہ اور قابلِ قبول طریقے سے حل کیے جا سکیں۔
ہماری کوششوں کا مرکز یہ ہے کہ ایک ایسا جامع اور قابلِ قبول راستہ تلاش کیا جائے جس میں دونوں فریقوں کی رضامندی شامل ہو اور خطے میں پائیدار استحکام اور ہم آہنگی کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ان شاء اللہ، یہ اقدام دونوں ممالک کے لیے خیر، برکت اور دائمی امن کا باعث بنے گا۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی قیادت ایسا سازگار ماحول فراہم کرے گی جس میں علماء اور سیاسی رہنما اس امن عمل کو کامیابی تک پہنچا سکیں اور طویل المدتی مسائل کا منصفانہ اور مستقل حل تلاش کر سکیں۔
مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ
موجودہ عالمی بحران میں مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
منجانب: عبد القادر عثمان — دفتر مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج کل جس فکری خلفشار اور بیرونی یلغار کا شکار ہیں اس سے نکلنے کے لیے حضرت سیدنا امام حسن اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما سے راہنمائی لینے کی ضرورت ہے:
- سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگ کے موقع پر جب اس وقت کے سب سے بڑے مسیحی بادشاہ قیصرِ روم نے حضرت معاویہؓ کو حضرت علیؓ کے خلاف تعاون کا پیغام بھیجا تو انہوں نے اسے سختی سے مسترد کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہماری لڑائی بھائیوں کی لڑائی ہے، اس میں اگر قیصرِ روم نے دخل دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پرچم تلے اس کے مقابلہ میں سب سے پہلے معاویہؓ میدان میں کھڑا ہو گا۔
- اور جب حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کے جانشین حضرت امام حسنؓ نے ایک بڑی جنگ کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو حضرت امیر معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے امت کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا، جس کی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرا یہ بیٹا مسلمانوں کے دونوں بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
مولانا راشدی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جال سے باہر نکل کر امت مسلمہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اور عالمی استعمار کو اپنے اختلافات و تنازعات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ماحول میں اکبر بادشاہ کے دور میں اس کا منظر دیکھ چکے ہیں کہ مختلف مذاہب کی باتیں جوڑ کر اکبر بادشاہ نے ’’دینِ الٰہی‘‘ کے نام سے ایک ملغوبہ تیار کر کے طاقت کے زور سے اسے رائج کرنا چاہا تھا تو علماء امت نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں اسے یکسر مسترد کر کے پسپا کر دیا تھا۔ ہمارا آج بھی اس حوالہ سے وہی موقف ہے جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کا تھا اور ہم کسی ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ (۶ مارچ ۲۰۲۶ء)
مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل کیا ہو گا؟
منجانب: حافظ احمد فداء — شریک دورۂ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
استاد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں پوچھا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا آئندہ کردار کیا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ پوری طرح تیار بھی ہیں۔ اسرائیل کا ایجنڈا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ ہے جبکہ ایران کا صرف ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کی بحالی ہے۔ تیسرا فریق عرب ممالک ہیں جن کے سامنے اپنی بادشاہتوں کو بچانے کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے، اور اس کے لیے بھی ان کی اپنی کوئی تیاری نہیں ہے اور وہ مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک عرب ممالک میں سے عراق اور مصر اس نئی صورتحال کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ترکیہ بھی اس میں آگے بڑھ سکتا ہے لیکن اسے عربوں کی مخالفت کا سب سے پہلے سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے عالمِ اسباب میں ایران اور اسرائیل میں سے کسی کی کامیابی ہی عربوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اللہ پاک امتِ مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے اور مسلم حکمرانوں کو امریکی جال سے جلد از جلد نکل جانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ (۹ مارچ ۲۰۲۶ء)
15 مارچ کو ’’یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ‘‘ منانے کے اعلان کا خیر مقدم
جاری کردہ: حافظ نصر الدین خان عمر بن قارن — امیر پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے وفاقی وزارت مذہبی امور کی طرف سے 15 مارچ بروز اتوار کو ملک بھر میں ’’یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ‘‘ منانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم دینی و ملی کام میں سنجیدہ دلچسپی لے کر امت مسلمہ کے عقائد و جذبات کے موثر اظہار کی بھر کوشش کریں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالہ سے ہمیں عالمی اور ملکی سطح پر جو حل طلب مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین امور یہ ہیں جن کی طرف عالمی رائے عامہ اور قومی حلقوں کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر کل جمعۃ المبارک کے خطبات میں ان پر آواز اٹھانا ضروری ہے:
- ایک یہ کہ بین الاقوامی حلقوں اور اداروں میں توہین رسالت ﷺ کو جرم کی بجائے آزادی رائے کے عنوان سے حقوق میں شمار کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے اس لیے کہ اگر کسی بھی ملک کے عام شہری کی توہین جرم ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات و مقامات کی توہین بھی جرم ہے، بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کو اسے جرم قرار دینا چاہیے اور مسلم ممالک اور حکمرانوں کو اس کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
- دوسری بات یہ کہ پاکستان میں توہینِ رسالت ﷺ اور توہین مذہب کے حوالے سے نافذ قوانین کو ختم یا کمزور کرنے کی جو کوششیں بین الاقوامی اور قومی سطح پر کی جا رہی ہیں ان کو مسترد کرتے ہوئے دستورِ پاکستان میں شامل اسلامی دفعات کے تحفظ کے لیے منظم اور اجتماعی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔
- تیسری بات یہ کہ جن مقدمات میں گستاخان رسالت ﷺ اور گستاخان مذہب کو سزائیں دی جا چکی ہیں اور وہ مجرم قرار پا چکے ہیں، ان کو سزا دینے میں مسلسل تاخیر قابل قبول نہیں ہے اور متعلقہ اداروں کی قومی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائیں۔
- چوتھی بات یہ ہے کہ توہین رسالت ﷺ اور توہین مذہب کے مقدمات عدالتوں میں زیر بحث ہیں، ان کے جلد از جلد فیصلے ہونے چاہئیں، فیصلوں میں تاخیر بھی مجرموں کو سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ
- پانچویں بات یہ ہے کہ زیر سماعت مقدمات میں ایسے مقدمات بھی یقیناً موجود ہیں جو مختلف قسم کی باہمی مخاصمت کی وجہ سے درج کرائے گئے ہیں، ان کا مجموعی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ بے گناہ لوگوں کو سزا اور مقدمات کی اذیت سے بچایا جا سکے کیونکہ جس طرح مجرم کو سزا سے بچانا جرم ہے اسی طرح بے گناہ کو سنگین سزا سے بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ (۱۲ مارچ ۲۰۲۶ء)
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایران کے اہداف کیا ہیں؟
منجانب: حافظ شاہد رحمٰن میر — سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ
استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں سوال ہوا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں ایران کے اہداف کیا دیکھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ چار عشروں سے مسلسل کہتا آ رہا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشمکش کے تین فریق ہیں:
پہلا فریق اسرائیل ہے جس کا ایجنڈا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا قیام ہے اور اس میں اسے امریکہ کی بھرپور پشت پناہی اور تعاون حاصل ہے۔ دوسرا ایران ہے جو ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کی واپسی کے لیے سنجیدگی سے لڑ رہا ہے۔ یہ دونوں فریق پوری سنجیدگی کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے ان کی تیاری اور وژن واضح ہے۔
تیسرا فریق عرب ممالک و اقوام ہیں جن کا کوئی اجتماعی ایجنڈا نہیں ہے، وہ صرف اپنی بادشاہتوں کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے صرف امریکہ پر انحصار کیے ہوئے ہیں، ان کی اپنی کوئی تیاری نہیں ہے۔ ’’امریکہ ایران جنگ‘‘ کے مسلسل آگے بڑھنے سے ان کا مستقبل خدانخواستہ ایران کے ساتھ وابستہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو صرف عربوں کے لیے نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے شدید پریشانی کا مرحلہ ہو گا۔
اس ماحول میں مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ترکیہ کی دلچسپی بھی دکھائی دینے لگی ہے جو ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ کی واپسی کی سوچ رکھتا ہے مگر اس میں اسے سب سے زیادہ عربوں کی طرف سے مخالفت پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری گزارش ہمیشہ سے یہی رہی ہے اور اب بھی ہے کہ عرب لیگ اور او ائی سی (اسلامی ممالک کی باہمی تعاون تنظیم) کو سنجیدہ ہونا ہو گا اور امریکی جال سے نکل کر مسلم امہ اور عرب ممالک کی بنیاد پر اپنی حکمتِ عملی ازسرنو طے کرنی ہو گی ورنہ انہیں خدانخواستہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ یا ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ میں سے کسی کا سامنا کرنا پڑے گا جو پورے عالمِ اسلام کے لیے بدقسمتی کی بات ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ نصف صدی کے دوران بیسیوں کالموں میں یہ متوقع صورتحال بیان کرتے آ رہے ہیں جن کا مجموعہ ’’سنی شیعہ کشمکش‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (923007423383) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب کو جذباتی بیانات اور سطحی نعروں کے ماحول سے نکل کر مجموعی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور قوم و ملت کی صحیح سمت راہنمائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ (۱۹ مارچ ۲۰۲۶ء)
امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے سفارتی کردار کا خیرمقدم
وزیر آباد (نامہ نگار روزنامہ گوجرانوالہ ٹائمز) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہو گی کہ اس جنگ کو رکوا کر خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں اور ہم اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ جنگ میں تو اسرائیل بھی پوری طرح شریک ہے بلکہ اس کا اصل فریق ہے مگر جنگ بندی کی کوششوں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے کہ جنگ بندی کا اس پر کیسے اطلاق ہو گا۔ اصل مسئلہ اسرائیل کو جنگ بندی کا پابند بنانا ہے جس نے اب تک جنگ بندی کے کسی معاہدے کو قبول نہیں کیا اور تمام تر معاہدات، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے سنگدلانہ جارحیت کو مسلسل جاری رکھنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو رکوانے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کی محنت کرنے والے سب حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ اسرائیل کو پابند بنانے کے لیے بھی کوئی ماحول بنائیں ورنہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گا۔ (۲۶ مارچ ۲۰۲۶ء)
مسلم حکو متوں کا اتحاد اور باہمی مشاورت اُمت کا حق ہے
جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
پریس ریلیز (۲۷ مارچ ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت موجودہ عالمی بحران پر مسلم حکمرانوں کی باہمی مشاورت اور اجتماعی موقف ہے جو امت مسلمہ کا ان پہ حق ہے اور اس میں مسلم حکمرانوں کی کوتاہی تاریخ میں ان کے سنگین جرم کے طور پر ریکارڈ ہو رہی ہے۔
وزیر آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں کی ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں حالیہ جارحیت، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کا ماحول پورے عالم اسلام کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث ہے، جس پر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہونا چاہیئے اور اگر یہ فورم قابل عمل نہیں رہا تو پھر پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر بڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو متبادل کسی فورم کا فی الفور اہتمام کرنا ہو گا۔ امت مسلمہ کو دوسری طاقتوں کے رحم و کرم پہ نہیں چھوڑا جا سکتا، ورنہ اس کے خوفناک نتائج کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں دین اسلام اور امت مسلمہ کے تشخص اور امتیاز کو ختم کرنے کے در پے ہیں، اپنے معاملات اور مسائل کو اُن کے حوالے کر دینا خودکشی سے کم نہیں ہے اور امت مسلمہ کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کو آگے بڑھ کر اس کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس وقت دین اور ملت کا سب سے بڑا تقاضہ یہی ہے، اور ہم سب کو اپنے اپنے دائرے میں اس کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
وزیر آباد نشست میں پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا امجد محمود معاویہ، میاں سعود الحسن الحسن، عمیر، قاری طیب مغل، عبدالقادر عثمان، اور حافظ شاہد میر بھی شریک تھے۔ (۲۷ مارچ ۲۰۲۶ء)
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی پاکستان آمد کا خیرمقدم
جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
خیرمقدم اور تائید
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد تشریف آوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
ملّی ضرورت اور دعا
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم وزرائے خارجہ کی سطح پر مسلم حکومتوں کے درمیان مشاورت کے آغاز کی اہم ترین ملی ضرورت کی طرف پیش رفت سمجھتے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دست بدعا ہیں۔
امت مسلمہ کی ذمہ داریاں
امت مسلمہ کو سنگین عالمی بحران سے نکالنے، حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت، بیت المقدس کو صیہونی جارحیت کے مذموم مقاصد سے بچانے، اور فلسطینیوں کی دادرسی کے لیے مسلم حکمرانوں کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اجتماعی مشاورت کے ساتھ مؤثر اقدامات کا اہتمام کرنا ہو گا اور وہ عالمی لابیوں سے بالاتر رہتے ہوئے آزادانہ فیصلوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
دعائیہ اختتام
اللہ پاک امتِ مسلمہ کو وحدت اور خودمختاری سے نوازیں اور ہمارے حکمرانوں کو اس سمت پیش رفت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ (۲۹ مارچ ۲۰۲۶ء)