برادرِ عزیز مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی وفات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ- برادرِ عزیز حضرت مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آج نمازِ جمعہ سے قبل دل کے اچانک دورہ سے جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نمازِ جنازہ آج عشاء کی نماز کے بعد دس بجے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خاندان کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ ہے۔ احباب سے گزارش ہے کہ مرحوم کے لیے مغفرت و بلندئ درجات اور خاندانِ سواتی کے لیے صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات پر ملک بھر میں صدمہ محسوس کیا گیا ہے اور دوست مختلف اطراف سے، دوست بھی، ساتھی بھی، ان کے شاگرد بھی مسلسل رابطہ کر رہے ہیں، سب کا فرداً فرداً جواب دینا تو مشکل ہے، سب حضرات کا شکریہ، جزاکم اللہ خیرا۔ بس دعا کریں اللہ پاک ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائیں، جنت الفردوس میں جگہ دیں، اور ان بچوں کو صبر و حوصلہ دیں، اور خاندان کو ان کی روایات قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ سب یاد کرنے والوں کا جنہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے، میسج کے ذریعے، اور دیگر ذرائع سے اس غم میں شرکت کی ہے، ہمارے غم کو ہلکا کیا ہے، اللہ پاک سب کو جزائے خیر عطا فرمائیں، اور ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، شکریہ، جزاکم اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ برادرِ عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے گہرے صدمہ میں ملک بھر سے بلکہ مختلف ممالک سے بزرگ علماء کرام، دینی راہ نماؤں، احباب او ررفقاء نے جس محبت کے ساتھ ہمارے غم میں شرکت کا اپنے اپنے انداز میں اظہار فرمایا ہے، میں مرحوم کے بیٹوں اور اپنے خاندان کی طرف سے اس پر سب حضرات کا شکرگزار ہوں۔ جنازے میں شرکت کے علاوہ دور دراز سے تعزیت کے لیے خود تشریف لا کر، ٹیلی فونک پیغامات کے ذریعہ، اور پرخلوص دعاؤں کے ساتھ ہمارے اس غم و صدمہ میں شریک ہونے والے سب دوستوں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے اور اپنی پرخلوص محبت کا اظہار کیا ہے، فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔
میں سب حضرات کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ گذارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سخت گرمی اور حبس کے اس موسم میں دور دراز سے تشریف آوری کی زحمت فرمانے کی بجائے سب بزرگ، احباب اور دوست خصوصی دعاؤں کا اہتمام فرمائیں کہ اللہ رب العزت مولانا قارن صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے خاندان، تلامذہ اور رفقاء و احباب کو صبر و حوصلہ کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا قارن صاحبؒ کے انتقال کی دل فگار خبر
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی
گزشتہ جمعہ 15 اگست سن 2025ء کو اتفاقاً فقیر کی تقریر کا موضوع ’’حسنِ خاتمہ کی تدابیر‘‘ تھا، ابھی ابتدائی خطبہ مکمل ہی کیا تھا کہ خادم جامع مسجد نور حافظ عبد الوحید رانا نے یہ دل فگار خبر سنائی کہ استاذ جی قارن صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ (ریکارڈنگ بابر اقبال)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم حاضرین و برادرانِ اسلام و خواتینِ محترمات، میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم سولہوے پارے میں سے سورۃ الکہف کے آخری رکوع میں سے دو آیات نمبر ۱۰۷ اور ۱۰۸ تلاوت کی ہیں۔ ان آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں، میں آج آپ کے سامنے حسنِ خاتمہ کی کچھ تدابیر کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
(حافظ عبد الوحید رانا کی اطلاع)
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہمارے مسجد کے امام صاحب کے بارے میں خبر آئی ہے وہ انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ……
پانچ منٹ، میں ذرا ان کا پتہ ……
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد۔ میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم سے سورۃ کہف کی دو آیات تلاوت کی ہیں۔ اتفاق سے میں نے۔ آج یہی موضوع ذہن میں آیا کہ حسنِ خاتمہ۔ حسنِ خاتمہ کی تدابیر ہمیں اختیار کرنی چاہئیں ……
دعا فرمائیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو حسنِ خاتمہ نصیب فرمائیں۔ اس دنیا کے اندر آئے ہیں، جانا ہے، ہر ایک نے جانا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر ایک کو حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے۔
(۲۱ اگست ۲۰۲۵ء)
’’ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
والد محترم حضرت اقدس مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔
یا رب چو مصطفیٰ را، من بہر تو ستودم
توہم بمصطفی بخش، ایں مصطفیٰ ستارا
(علامہ رومیؒ)
ترجمہ: اے باری تعالیٰ جب تیرے محبوب کی میں نے صرف تیرے لیے ستائش کی ہے تو تُو بھی روزِ قیامت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعریف کرنے والے کو محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے میں بخش دے۔ آمین۔
؏ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
ترجمہ: یہ دعا میری بھی ہے اور تمام اہلِ دنیا کی بھی، سب کی طرف سے آمین کہی جائے۔
ابتدائی اطلاعات اور مختصر تعزیتی پیغامات
مولانا عبد الوکیل خان مغیرہ
محمد ابو حنظلہ
استاد الحدیث جامعہ نصرت العلوم، یادگار اسلاف، ترجمانِ علماء دیوبند، پیکر اخلاص، ابن امام اہل السنۃ، جامع المعقول والمنقول، وارث علومِ صفدریہ، استاذی المکرم، حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب دارِ فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ استاد جی ہمیں ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ پڑھا رہے تھے، لیکن کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی ہم سے بچھڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ استاد جی کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں قبول و منظور فرمائے، ان کے فیض کو تا قیامت جاری رکھے، قبر و حشر کے منازل آسان فرمائے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
آزاد جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام
امام اہلسنت حضرت مولانا علامہ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہونہار فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ جمعہ المبارک 15 اگست 2025ء کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش۔ مولانا عبدالقدوس قارنؒ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ بانی خدام اہلسنت والجماعت اور امام اہلسنت حضرت علامہ مولانا شیخ الحدیث سرفراز خان صفدر رحمہم اللہ تعالیٰ کے علوم معارف اور نظریات و افکار کے امین اور مفسر قرآن کریم حضرت مولانا عبد الحمید خان سواتی کے بھتیجے (اور) حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے چھوٹے بھائی اور مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی کی اہلیہ محترمہ کے حقیقی بھانجے تھے اور بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔
اتحاد تنظیمات مدارسِ دینیہ آزاد کشمیر سوادِ اعظم اہل السنت والجماعت اور آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام کے احباب کرام کی طرف سے حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کے خاندان اور رفقاء سے مسنون تعزیت اور مرحوم کے لیے دعائیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور تمام خاندان اور رفقاء کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعۃ الرشید میڈیا آفیشل
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انتہائی افسوسناک خبر!
امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند مفکرِ اسلام علامہ مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ غم کی اس گھڑی میں سرپرست اعلیٰ جامعۃ الرشید اور جامعۃ الرشید کے تمام طلباء و اساتذہ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سمیت جملہ لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ کریم حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی جملہ خدمات کو قبول فرما کر انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مدرسہ تعلیم الاسلام عیدگاہ روڈ جیاموسیٰ شاہدرہ لاہور
امام اہلسنّت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند و جانشین، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث ترجمانِ اہلسنّت حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللّٰہ انتقال فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
نماز جنازہ: آج 15 اگست | 20 صفر | بروز جمعہ | جامعہ نصرۃ العلوم، گھنٹہ گھر چوک، گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی۔
- مدرسہ تعلیم الاسلام شاہدرہ لاہور کی ابتداء 1987ء سے ہی حضرت رحمہ اللہ مدرسہ ہٰذا کے سرپرستوں میں شامل تھے۔
- گزشتہ سات سالوں سے دورہ لہجاتِ قرآنیہ کی اختتامی تقاریب میں حضرت رحمہ اللہ کے دست مبارک سے شرکاء دورہ میں تقسیم اسناد اور حفاظ و قراء کی دستار بندی ہوتی تھی۔
- پہلے دورہ لہجاتِ قرآنیہ کی اختتامی تقریب سے کیے بیان میں دورہ لہجاتِ قرآنیہ کے انعقاد کو "پچھلے دور کی تلافی" قرار دیا۔
- مدرسہ ہٰذا کے بانی حضرت مولانا قاری عبد الجلیلؒ کی عقائد و نظریات میں پختگی، علوم و فنون پر غیر معمولی گرفت، منفرد طریقۂِ تدریس، تعلق مع کبار علماء و بزرگانِ دین کے باوجود عجز و انکساری کے حضرت قارن رحمہ اللّٰہ بے انتہاء معترف تھے۔
- یہی وجہ تھی کہ کبھی لاہور تشریف لاتے تو بلا تکلف مدرسہ ہٰذا تشریف لاتے، چائے نوش فرماتے اور دعاؤں سے نوازتے۔
- اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی نصف صدی سے زائد تدریسی تصنیفی تبلیغی تحقیقی خدمات کو قبول فرما کر اپنی شایانِ شان اجر عظیم عطاء فرمائے ، اور آپ کے ہزاروں شاگردوں کو آپ کیلئے صدقہ جاریہ بنائے رکھے۔
- مدرسہ ہٰذا کے تمام متعلقین فضلاء اور بالخصوص سات سالوں کے دورہ لہجاتِ قرآنیہ کے فضلاء کرام سے درخواست ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کے ہاتھوں سے وصول کی گئی اسناد کا حق تلاوتِ قرآن کریم سے اداء کرتے ہوئے حضرت رحمہ اللہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
منجانب:
مہتمم (مولانا قاری) محمد لاہوری | ناظم (مولوی) محمد رشیدی | ابناء مولانا قاری عبد الجلیل رحمہ اللہ۔ و اہلیان مدرسہ تعلیم الاسلام عیدگاہ روڈ جیاموسیٰ شاہدرہ لاہور۔
مدرسہ تعلیم الاسلام مسجد تقویٰ عرفات پارک جیاموسیٰ
مدرسہ تعلیم الاسلام مسجد اخلاص سگیاں روڈ شاہدرہ لاہور
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
سلمان احمد
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ ابوعمار زاہد الراشدی دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن دنیا فانی سے کوچ کر گئے ہیں، نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
پاسبان جمعیت ضلع نوشہرہ
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ کے بھائی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے بیٹے مولانا عبد القدوس قارن صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
ناصر شہزاد میر
سانحہ ارتحال۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ امیر پاکستان شریعت کونسل علامہ زاہدالراشدی کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد رسول نگری
انتہائی افسوسناک خبر: امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند، مفکرِ اسلام علامہ زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب اس دارِ فانی سے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ: وقت: رات 10 بجے، مقام: جامع مسجد نور، جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
میاں عبد الرؤف
موتُ العالم موتُ العالَم۔ امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے بیٹے، مولانا زاہد الراشدی کے بھائی مولانا قاری عبد القدوس قارن وفات پا گئے ہیں۔ نماز جنازہ رات دس بجے جامعہ نصرت العلوم میں ہو گی۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
صدائے حسن پاکستان
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امامِ اہلسنت، مولانا شیخ سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند، سرمایہِ اہلسنت حضرت علامہ زاہد الرشدی حفظہ اللہ کے بردارِ صغیر جانشینِ امامِ اہلسنت، حضرت مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ اس دارِ فانی سے انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ آج ۱۵ اگست بروز جمعہ رات ۱۰ بجے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
راؤ افضال احسن
موت العالِم موت العالَم۔ امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے بیٹے، مولانا زاہد الراشدی کے بھائی مولانا قاری عبد القدوس قارن وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
البرہان بکس
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نہایت افسوس کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے، حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند ارجمند، مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ جنازہ ۱۵ اگست بروز جمعۃ المبارک ۱۰ بجے رات جامعہ نصرت العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ میں ادا کیا جائے گا۔ تمام دوست و احباب سے دعائے مغفرت کی اپیل ہے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
قاسم اعوان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اہلِ پسرور متوجہ ہوں۔ حضرت مولانا شیخ الحدیث عبدالقدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نمازِ جنازہ کے لیے جانے والے ساتھی و علماء کرام رابطہ فرمائیں تاکہ نظم بنایا جا سکے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
قاضی رویس خان ایوبی
امام اہلِ سنتؒ کے فرزند، مفکر اسلام جناب زاہد الراشدی کے برادرِ اصغر، علامہ عبدالقدوس قارن خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں اپنے بھانجے کی وفات پر جناب راشدی اور جناب شاہد، جناب راشد اور خاندانِ امام اہلِ سنتؒ سے تعزیت کناں ہوں۔ آپ عرصہ دراز سے مدرس حدیث تھے، پوری برادری کا پل، اللہ مغفرت فرمائے۔ جناب عبد الحق خان بشیر اور راشد سب سے تعزیت۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا محمد الیاس گھمن
تعزیتی پیغام: امام اہل السنۃ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی استاذ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ انتقال فرما گئے ہیں۔ ہم حضرت کی وفات پر لواحقین کے ساتھ غم میں برابر کے شریک ہیں۔ تمام احباب حضرت کی کامل مغفرت اور ترقی درجات کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام فرمائیں۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مفتی عقیل احمد
استاد محترم حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
اماز ملک
میرے پیارے استاد محترم جگر گوشہ امام اہلسنت مولانا قاری عبد القدوس خاں قارن استاذ الحدیث جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ علوم اسلامیہ
موت العالِم موت العالَم۔ گوجرانوالہ سے انتہائی افسوسناک خبر۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ چند روز قبل ہی والد صاحب سے ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے اور تقریباً نصف صدی کا آپس میں قلبی اور والہانہ تعلق تھا اور ایک دوسرے کے لئے محبت اور قدردانی کے بھرے جذبات تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
قاری محمد صالح عثمانی
آہ حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ۔ ابن امام اہلسنت ولی کامل استاد العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارن قضاء الہی سے وفات پا گئے ہیں۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
ابوبکر ساقی
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۔مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ جو مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کے برادرِ صغیر تھے، کے وصال کی خبر نہایت رنج و الم کے ساتھ موصول ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حافظ وقاص حیات
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انتہائی افسوسناک خبر۔ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند مفکرِ اسلام علامہ مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب اس دارِ فانی سے انتقال فرما گئے ہیں۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حافظ ایوب کلاچی
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انتہائی افسوسناک خبر۔ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند، مفکرِ اسلام علامہ مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی، خطیب مسجد تقویٰ پیپلزکالونی، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب اس دارِ فانی سے انتقال فرما گئے ہیں۔ نماز جنازہ ان شاء اللہ مدرسہ نصرت العلوم میں رات دس بجے ادا کی جائے گی۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
نعیم اللہ
انا للہ واناالیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ استاذ محترم عبد القدوس قارن صاحب کو لغزشوں سے درگزر فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے آمین۔ موت العالِم موت العالَم۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد عثمان
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب انتقال فرما گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مفتی ابرار احمد شائق
مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند مولانا عبد القدوس قارن صاحب، جنہوں نے دقیق علمی مسائل میں میری رہنمائی کی اور کئی نایاب کتب کے حصول میں میری مدد کی، میرے کتب خانے کی کئی کتب جو حضرت نے رجسٹری کی، میری ملاقات کا ذریعہ مولانا سرور نقشبندی صاحب بنے، آج داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، اللّٰہ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
عبد اللہ امین
بائیس جلد میں لکھی گئی تفسیر ذخیرہ الجنان کے مرتب کنندہ حضرت مولانا عبد القدوس قارن داغ رفاقت دے گیا، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا مبین فاروقی
ہمارے جنازے اسلام کی حقانیت کے گواہ۔ جنازہ حضرت استاذ جی مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ فرزند امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللّٰہ۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
سمیع اللہ طاہر
ابھی ابھی مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کا جنازے میں شرکت سے واپسی ہوئی، ان کے جنازے کا منظر۔ حضرت جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں استاذ الحدیث اور مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند تھے۔ بلاشبہ موصوف کی رحلت ایک علمی سرمایہ کی رخصتی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں علماء، طلباء اور تمام شعبہ زندگی کے افراد نے شرکت کی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
شریف پٹھان
شيخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب کے جنازے میں پنجاب بھر سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے، آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
صوفی ریاض خان سواتیؒ
خبرِ غم: موت العالِم موت العالَم۔ جانشینِ امام اہل سنتؒ شیخ التفسیر والحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس خان قارن صاحب آج بوقت جمعۃ المبارک داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ آج بعد از نماز عشاء رات ۱۰ بجے جامعہ نصرت العلوم و جامع مسجد نور گھنٹہ گھر گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی، دعائے مغفرت و بلندی درجات کی اپیل ہے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
شبان ختم نبوت میڈیا
موتُ العالم موتُ العالَم۔ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزند استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ آج بروز جمعۃ المبارک رات ۱۰ بجے جامع مسجد نور، جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی۔ شبان ختم نبوت کے تمام ذمہ داران و کارکنان دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ کریم حضرت کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد عمر
استاذ مکرم شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن صاحب انتقال فرما گئے۔ احباب سے دعا کی التماس ہے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حافظ شاہد منیر
ممتاز عالم دین مولانا عبد القدوس قارن ہم میں نہیں رہے۔ میرا قرآن کریم حفظ کا ٹیسٹ انہوں نے لیا تھا۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حافظ تنویر
انا للّٰه وانا الیہ راجعون۔ موت العالِم موت العالَم۔ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند اور مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہدالراشدی صاحب مدظلہ کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کریم حضرت کا فیض تاقیامت جاری فرمائے، آمین۔ نماز جنازہ رات دس بجے مدرسہ نصرۃ العلوم میں ادا کی جائے گی۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حماد عزیز
آہ! مولانا عبدالقدوس قارن صاحب بھی اس دارِ فانی سے کوچ کر گے۔ مولانا عبد القدوس قارن، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کا بیٹا ہے۔ قارن صاحب کا سب سے پہلا رسالہ جو میں نے مطالعہ کیا ہے وہ ہے ’’امام بخاری کا عادلانہ دفاع‘‘ اس میں قارن صاحب نے مشہور منکرِ حدیث احمد سعید ملتانی کے رسالے (قرآن مقدس بخاری محدث) کے ایک ایک اعتراض کا کافی شافی جواب دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قارن صاحب نے جواب کا حق ادا کیا ہے اور احمد سعید ملتانی کے تعصب بھرے اعتراضات کو خاک میں ملایا ہے۔ یہ رسالہ شاید انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔ لہٰذا طالبان علم اس رسالے سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد عثمان بیگ فاروقی
اناللہ واناالیہ راجعون۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند میرے استاذِ مکرم حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ آج جمعۃ المبارک کے وقت انتقال فرما گئے۔ نماز جنازہ رات ۱۰ بجے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی۔ اللہ کریم حضرت استاذیم کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور سب متعلقین کو صبرِ جمیل سے نوازیں۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
اسرار حنفی
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امامِ اہلِ السنت والجماعت، شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور تمام پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ تمام احباب سے ایصالِ ثواب اور دعا مغفرت کی درخواست۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد آصف معاویہ کشمیری
میرے استاد جی استاذ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ کا فرمان تھا کہ میری تصویر اگر کسی نے بنائی تو کل قیامت والے دن میرا ہاتھ اور اس کا گریبان ہو گا۔ شیئر کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا ایوب خان
استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللّٰہ کی وفات کے موقع پر اظہار تعزیت (جنازہ کے موقع پر خطاب کی ویڈیو)۔
علم و زہد کا تھا جہاں میں وہ چراغِ ہدیٰ
اللہ کرے کہ اس کا فیض رہے جاوداں
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
رانا رحمت اللہ
حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللّٰہ کے نمازِ جنازہ کا منظر اللہ اکبر۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
قاری عطاء اللہ شاہ
بندہ نا چیز کو استاد محترم مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی نماز جنازہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ اکبر۔ جنازہ میں عوام کا ایک جمِ غفیر تھا۔ اللہ پاک استاد محترم کی کامل مکمل مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
علی حسن
استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب کے جنازے کا مختصر سا منظر۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
توصیف احمد
مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت کے لیے آج یہاں آنا ہوا۔ ابھی رات کو ہی واپسی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انسان کی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں، سب فنا ہے۔ (۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ عربیہ سراج العلوم و جامعہ سید احمد شہید مانسہرہ
امام اہلسنت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزندِ گرامی اور شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی مدظلہ کے برادرِ صغیر شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ نائب شیخ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی وفات اہلِ علم، طلبائے علم حدیث اور دین دار طبقہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم نے ساری زندگی تحریر و تقریر کے ذریعے دین متین کی عظیم الشان خدمات انجام دیں ہیں۔ جو ان شاء اللہ تعالیٰ عند اللہ ان کی مغفرت و رفع درجات کا ذریعہ بنیں گی۔
جامعہ عربیہ سراج العلوم مانسہرہ کے مدیر و شیخ الحدیث مولانا سید شاہ عبد القادر مدظلہ العالی، جامعہ کے تمام اساتذہ و طلباء اس موقع پر شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی، مولانا محمد فیاض خان سواتی مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سمیت سواتی برادران کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور مرحوم کے حق میں دعاگو ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کے آمدہ منازل آسان فرمائے، تمام خدماتِ جلیلہ کو قبول فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد ابوبکر صدیقی
استاد محترم مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ
وہ سائبانِ شفقت ہم سے جدا ہوا ہے
جنت کا راہی اپنی جنت میں جا بسا ہے
تا عمر دینِ حق کی جو آبیاری کی تھی
مجھ کو یقیں ہے رب نے اس کا صلہ دیا ہے
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد اسامہ اعوان
آہ کل استاد محترم شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات پر استاد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کا جملہ۔ ’’کل جب چچا محترم صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کی وفات ہوئی تو میں نے ابا جان سے کہا کہ آج آپ کی جوڑی ٹوٹ گئی ہے۔ آج وہ ہی معاملہ میرے ساتھ پیش آیا کہ آج میری جوڑی ٹوٹ گئی۔‘‘ اللہ رب العزت استاد محترم کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، بڑے مشفق اور محبت کرنے والے استاد تھے، ہر شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ صرف مجھ ہی سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت جملہ خاندان اور مجھ سمیت تمام شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
آغا موسیٰ بن نصیر
حضرت عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ نے میری دستار بندی بھی کی تھی۔ اللہ پاک حضرت کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے، جنت میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
قاضی محمود الحسن
ولی کامل محدث ابنِ محدث شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن مرحوم ابنِ محدث العصر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا سانحہ ارتحال۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ حضرات شیخین کے تربیت یافتہ مدرس محدث مفکر اور داعی اسلام حضرت مولانا مفتی عبد القدوس قارن مرحوم کی آخرت کی تمام منزلیں آسان فرمائیں۔ اور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، حضرت مولانا محمد فیاض صاحب سواتی، حضرت مولانا محمد ریاض سواتیؒ سمیت احباب سواتی خاندان اور جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے منتظمین اساتذہ کرام اور طلبہ کرام اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین یارب العالمین۔
جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ جامع مسجد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ آزاد کشمیر۔ آل جموں کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
اسد اللہ قریشی
جگر گوشۂ امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر، برادر مکرم مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی، استاد المکرم استاد الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن کے جنازے کے مناظر۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد امیر نواز
ملک پاکستان کے عظیم مفسر و محدث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند مولانا عبد القدوس خان قارن، برادر خورد مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی داعی اجل کو لبیک کہہ کر سفرِ آخرت پر قرآن و حدیث کو زاد راہ لے کر روانہ ہو گئے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی آپ کی حسنات کو اضعافاً مضاعفہ قبول فرمائیں اور جملہ لواحقین کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائیں اور صالحین کے ساتھ حشر فرمائیں۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔ (محمد امیر نواز خادم الحديث جامعہ عربیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ) (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مدرسہ تحفیظ الفرقان
اللّٰہ تعالیٰ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین ثم آمین۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
محمد ایوب صفدر
جانشین امام اہل السنہؒ مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی اچانک وفات پر ورثا کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں اور حضرت کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعا گو ہیں۔ (تصویر میں) بندہ حقیر محمد ایوب صفدر اور حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ ایک موقعہ پر دستار بندی کرتے ہوئے۔ منجانب: مرکزی جمعیت اہل السنہ والجماعہ حنفی دیوبندی پاکستان۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
حافظ عبد العزیز
امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللّٰہ علیہ کے فرزند ارجمند جامع المعقول والمنقول؛ استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ۔ ایسی حیات جس کا ہر لمحہ دین و متین کی خدمت، قرآن و سنت کی اشاعت اور امت کی تربیت میں گزرا ہے۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
زبیر ضیاء
گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث شیخ التفسیر مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے صاحبزادے مولانا عبد القدوس قارن صاحب کے جنازے پر جانا ہوا۔ مولانا عبدالقدوس قارن صاحب حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علمی جانشین تھے، حضرت نے علمی میدان کے اندر بہت بڑے استاد کی حیثیت رکھتے تھے، حضرت کا جنازہ بتا رہا تھا، جنازے کے اوپر ہر آنکھ ہر آدمی ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کا اپنا اس دنیا سے چلا گیا۔ حضرت کی وفات: جمعۃ المبارک نماز فجر کے بعد درس قرآن پاک دیا، اس کے بعد جمعہ کا غسل فرمایا، پھر وضو کرتے ہوئے حرکتِ قلب بند ہونے سے اللہ رب العزت کے ہاں پہنچ گئے۔ بہت کثیر تعداد میں علماء کرام اور ان کے شاگرد جنازے کے اندر شریک تھے وہاں پر مفتی ابو محمد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
عمر
علامہ زاہد الراشدی صاحب، قاری حماد الزہراوی صاحب، مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب کے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب کی نماز جنازہ (کا منظر)۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
اکمل خان
استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمت اللہ علیہ جنہوں نے ہمیں بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا اور میرے سر پہ دست شفقت رکھتے ہوئے دستار فضیلت سجائی وہ آج اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ حضرت صاحب کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ حضرت صاحب کی بہت ساری دینی خدمات ہیں، ساری زندگی حدیث پڑھتے پڑھاتے گزر گئی، جب ایسی شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے، کچھ شک نہیں ہے کہ عالِم کی موت عالَم کی موت ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ حضرت صاحب کو دین کی ہر ایک خدمت کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے۔ اللہ حضرت کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمارے لیے تو یہی فخر کی بات تھی کہ ہم حضرت صاحب کے شاگرد بھی ہیں اور ان سے بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھی ہے۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
شعیب نقشبندی
امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند مفکر اسلام استاد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہ کے چھوٹے بھائی اور ہزاروں علماء کے استاد مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی نماز جنازہ کا منظر۔ اللہ استاد محترم کی کامل مکمل مغفرت فرمائے اور ان کی تمام تر دینی خدمات قبول فرمائے، آمین۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
طلحہ
معروف دیوبند عالمِ دین مولانا عبدالقدوس قارن کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ استاذ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی کے حقیقی بھائی اور علامہ سرفراز خاں صفدر رحمہ اللہ کے صاحبزادے تھے۔ جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جنازے میں علماء کرام، طلبہ مدارس، مقامی افراد اور سیاسی، سماجی حلقوں سے کثیر تعداد نے شرکت کی۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مفتی عقیل احمد
استاد محترم حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ (کی تصویر)۔ اللہ پاک استاد محترم کی قبر کو اپنے نور سے بھر دے، آمین ثم آمین۔ (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مفتی قاسم شہزاد ہزاروی
آج جامعہ محمدیہ گجرات میں حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ (سابق شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) کے ایصالِ ثواب کے لئے قرآنِ پاک کی تلاوت کی گئی اور دعائیں مانگی گئیں۔ اس موقع پر جامعہ محمدیہ کے اساتذہ، طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ (مفتی قاسم شہزاد ہزاروی، بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ گجرات، صدر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ضلع گجرات) (۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
شیر محمد الحیدری
استاد محترم حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ کی آخری آرام گاہ (کی تصویر)۔ اللہ پاک استاد محترم کی قبر کو اپنے نور سے بھر دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ (۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
قاری وسیم اللہ امین
عوام الناس کا جمِ غفیر۔ استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ کا جنازہ کے مناظر دیکھیں۔ (۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
عبد الباسط علوی
استاذ الاساتذہ حضرت اقدس مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ ساری زندگی تصویر سازی سے سختی سے منع فرماتے رہے۔ اور جس پروگرام میں تصویر بنانے کا امکان ہو وہاں جانے سے گریز فرماتے تھے، حتیٰ کہ جامعہ کے پروگرامات میں بھی اسٹیج سے ہٹ کر بیٹھتے کہ کوئی تصویر نا بنا لے۔ اور اگر معلوم ہو جاتا تو منع فرما دیتے لیکن ان کی وفات کے بعد کچھ تصاویر دھڑا دھڑ شیئر ہو رہی ہیں: جو کہ بالکل نامناسب ہے۔ اگر آپ ان کی زندگی میں اس چیز سے اجتناب کر رہے تھے تو ان کی وفات کے بعد بھی احترام باقی رہنا چاہیے۔ ان سے عقیدت ہے تو صرف دعا کیجئے یہی چیز ان کے لیے نفع مند ہے۔ شکریہ۔ (۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
یحییٰ زکریا
استاد محترم مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
پروفیسر ارشد صدیقی
بہت عمدہ کاوش (مجلہ الشریعہ بیاد حضرت قارنؒ) استاذی المکرم رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کا تذکرہ ایک بار پھر پڑھ کر غم تازہ ہوا مگر ان کے اوصاف و کمالات کے بارے میں اہلِ علم کی آراء اور تعزیتی مضامین سے بہت حوصلہ و اطمینان بھی ہوا۔ اللّہ رب العزت اس خاندان کی علمی بہاریں و برکات میں تا قیامت اضافہ فرمائے۔ جملہ پسماندگان، صاحبزادگان اور تلامذہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
(پروفیسر ارشد صدیقی۔ گڑھی حبیب اللہ۔ سابق متعلم جامعہ نصرت العلوم، گوجرانوالہ۔ فاضل جامعہ اشرفیہ، لاہور۔)
(۹ ستمبر ۲۰۲۵ء)
ڈاکٹر محمد رفیق شیخ (ایم بی بی ایس، چائلڈ اسپیشلسٹ)
حضرت قارن صاحبؒ بہت سادہ منش انسان تھے۔ انہوں نے بہت اعلیٰ، معیاری اور سادہ زندگی بسر کی اور آخر دم تک مسجد مدرسہ کے ساتھ جڑے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے وفات بھی جمعہ کے بابرکت دن جمعہ کی تیاری کرتے ہوئے دی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
(۱۱ ستمبر ۲۰۲۵ء)
والد محترم رحمہ اللہ کا سانحۂ ارتحال
حافظ محمد شمس الدین خان طلحہ صفدری و برادران
والد محترم شیخ التفسیر و الحدیث حضرت مولانا محمد عبد القدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ 15 اگست بروز جمعۃ المبارک جمعہ کی تیاری کرتے ہوئے انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ والد محترم 1971ء سے جامع مسجد نور میں امام تھے اور یہ امامت کا سفر 15 اگست 2025ء کی نماز فجر تک تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ آپ رحمہ اللہ نے آخر تک اپنی ذمہ داری احسن انداز سے نبھائی اور جاتے ہوئے سب کو اشکبار کر گئے:
وہ مسافر تھا ، کچھ دیر ٹہرا یہاں
اپنی منزل کو آخر روانہ ہوا
جمعہ کے بعد مہمانوں کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ اور سب ہمارے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ سب کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ اتنی محبت شفقت اور پیار کرنے والے انسان ہم سے جدا ہو گئے۔ حضرت والد محترم کی یہ ادا سب سے نرالی تھی کہ اگر کوئی مہمان ملنے آتا تو دور سے ہی بانہیں پھیلا لیتے جس سے مہمان خوشی سے نہال ہو جاتا۔ آپ کو ہم نے ہمیشہ مہمان نواز, ملنسار اور باوقار انداز میں دیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے موت بھی باوقار انداز میں دی کہ جمعۃ المبارک کا مبارک دن اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ورد کرتے ہوئے روح پرواز کر گئی۔ رحمۃ اللہ واسعۃ
صدیوں کی سوچ تھی کہ وہ قرنوں کا خواب تھا
اک شخص زندگی میں ملا لاجواب تھا
ہوا کے رخ پہ چراغ الفت کی لو بڑھا کے چلا گیا ہے
وہ اک دیے سے نجانے کتنے دیے جلا کر چلا گیا ہے
عشاء کے بعد جامع مسجد نور میں مولانا فضل الہادی صاحب (استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم) نے مائیک سنبھالا اور تعزیتی بیان وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں حضرت مولانا مفتی ابو محمد صاحب، حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد صاحب، حضرت مولانا پیر احسان اللہ قاسمی صاحب، برادرم مولانا عبدالوکیل خان مغیرہ، اور تایا جان مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب نے مختصر مگر جامع بیانات کیے اور حضرت والد محترم رحمہ اللہ کی خدمات کو سراہا۔
تایا جان نے کہا کہ ’’آج ان کی جوڑی ٹوٹ گئی ہے۔‘‘
برادرم حضرت مولانا عبدالوکیل خان مغیرہ نے اس موقع پر اعلان فرمایا کہ والدِ محترم تصویر کو ناجائز سمجھتے تھے، یہ اُن کی وصیت تھی اور ہم سب اس پر عمل پیرا ہوں گے۔
رات دس بجے برادر مکرم حضرت مولانا نصر الدین خان عمر نے والدِ محترم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
جنازے کی ادائیگی کے بعد آپ کا جسدِ خاکی بڑے قبرستان منتقل کیا گیا۔ جہاں علما، طلبہ اور عوام کا اس قدر عظیم اجتماع تھا کہ قبرِ مبارک کے قریب جگہ بنانا بھی لوگوں کے لیے نہایت دشوار تھا۔ حضرتؒ کو اُن کے چچا و مربی حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ کے جوار میں سپردِ خاک کیا گیا۔ لحد میں آپ کو نہایت محبت اور ادب کے ساتھ آپ کے فرزند مولانا حافظ نصرالدین خان عمر، حافظ علم الدین ابوہریرہ اور حافظ شمس الدین خان طلحہ نے اتارا۔ زمین نے اپنے دامن میں ایک اور ولی کو سمیٹ لیا۔
تدفین کے بعد سرہانے کی جانب آپ کے فرزند حافظ قاری عبدالرشید خان سالم نے سورۂ بقرہ کے آغاز سے تلاوت شروع کی، اور پاؤں کی سمت آپ کے پوتے، حافظ حنظلہ عمر نے سورۂ بقرہ کی آخری آیات تلاوت فرمائیں۔
اس کے بعد حضرت صوفی عطاء اللہ نقشبندیؒ کے جانشین، پروفیسر ضیاء اللہ نقشبندی نے نہایت سوز و گداز کے ساتھ دعا فرمائی۔ ان کی دعا کے کلمات نے مجمع کے دلوں کو موم کر دیا، آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فضا پر رقت و خشوع کی کیفیت طاری ہو گئی۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
ہم جنازے میں شریک ہونے والے تمام دوست احباب بزرگ کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو ہمارے غم میں شریک ہوئے۔ اور جنہوں نے فون میسجز کے ذریعے تعزیت کا اظہار کیا ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، اور خصوصاً جن دوست احباب نے اپنے اپنے مقامات پر ایصالِ ثواب کیا ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
حافظ محمد شمس الدین خان طلحہ و برادران
اللہ والوں کے جنازے اور وقت کی پابندی
مولانا مفتی ابو محمد
دعا کیجئے اللہ تعالیٰ حضرت فرزند امام اہلسنت شیخ الحدیث استاد العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔ یقیناً اللہ والوں کے جنازے ایسے ہی ہوتے ہیں، بلا مبالغہ ہزاروں کی تعداد میں اہلِ علم اکابرین، شیوخ، علمائے کرام، طلباء کرام کا جمِ غفیر تھا۔ شدید رش آور، انتہاء کی گرمی کے باوجود ایک تسکین یوں محسوس ہوتی رہی جیسے سکینہ کا نزول ہو رہا ہو۔
اس جنازہ میں سب سے اہم سبق یہ ملا کہ دس بجے کا وقت مقرر تھا، مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے وقت کی اس قدر پابندی فرمائی، ایک منٹ بھی اوپر نہیں ہوا، ٹھیک دس بجے جنازہ ادا کیا گیا۔ ورنہ تو اکثر جنازوں میں وہ سیاسی لوگ جو فرض نماز بھی نہیں پڑھتے، ان کے انتظار میں حاضرین کا جو حشر نشر کیا جاتا ہے وہ آپ کے علم میں ہے۔
یہی وقت کی پابندی امام اہلسنت حضرت شیخ سرفراز خان صفدر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نمازِ جنازہ کے موقع پر دیکھی گئی تھی۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
نمازِ جنازہ میں کثیر تعداد کی شرکت
حافظ عبد الجبار
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے صاحبزادے، مفکر اسلام علامہ زاہدالراشدی کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن 73 برس کی عمر وفات پا گئے، جن کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے مولانا حافظ نصر الدین خان عمر قارن نے جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم میں ادا کی، اور مرحوم کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں قبرستان کلاں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
نماز جنازہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ ابوعمار زاہد الراشدی، مولانا فیاض خان سواتی، مولانا ایوب خان، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، حاجی محمد بابر رضوان باجوہ، مفتی ابو محمد، قاضی عطا المحسن راشد، مفتی محمد اسلم طارق، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا پیر محمد ریاض چشتی، مولانا پیر احسان اللہ قاسمی، (مولانا) محمد ابوبکر خان (جہلمی)، مولانا فضل الہادی، سمیت ملک بھر سے علماء کرام، شاگردوں، مذہبی و سیاسی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے۔ علماء کی وفات ناقابل تلافی نقصان ہے۔ عظیم عالم دین، مصلح امت اور دینی اداروں کے معمار کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو مدتوں پر نہ ہو سکے گا۔ حضرت قارن صاحب ایک باوقار عالم، باعمل صوفی اور دور اندیش مربی تھے۔ انہوں نے تعلیم، تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی سادگی، تقویٰ، علم دوستی اور امت کے لیے درد مندی ان کی پہچان تھی۔ نصرت العلوم میں دورہ حدیث پڑھاتے تھے، اپنے اخلاص، محنت اور اللہ پر بھروسے سے پروان چڑھایا۔ ان کے تربیت یافتہ ہزاروں علماء، ائمہ اور دینی کارکن ملک و ملت کی خدمت کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت قارن صاحب کی مغفرت، درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین یارب العالمین۔
کیپشن: گوجرانوالہ: شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی، مولانا ایوب خان، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، حاجی محمد بابر رضوان باجوہ، مفتی ابو محمد، قاضی عطا المحسن راشد، مفتی محمد اسلم طارق، مولانا شاہ نواز فاروقی و دیگر حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ پر خطاب کر رہے ہیں۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
سانحۂ ارتحال کی خبریں اور بیانات
منجانب : حافظ عبد الرشید خان سالم
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن دنیا فانی سے کوچ کر گئے
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ جامعہ نصرت العلوم میں ادا کی گئی جس میں علماء، سیاسی رہنماؤں، ان کے لاکھوں شاگردوں، اہلِ علاقہ کے علاوہ ہر طبقہ و فکر سے تعلق رکھنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مولانا عبد القدوس قارن کے جسدِ خاکی کو قبرستان کلاں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ مولانا عبد القدوس قارن امام اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند اور مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی وفات کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ مولانا عبد القدوس قارن نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے کہ اچانک طبیعت بگڑنے پر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات مکتبِ اہل سنت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ساری زندگی عاجزی، انکساری، محبت اور خلوص کے ساتھ اللہ کے دین کا کام کیا اور لاکھوں طلباء کو دینی علوم سے آراستہ کیا جو ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کی نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ عوام کا ایک جمِ غفیر اشکبار تھا جو ان کی ساری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہنے کا چرچہ کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی سادگی میں گزاری۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ایک اچھے انسان، عالمِ باعمل کی کامل بخشش و مغفرت فرمائے۔
(روزنامہ تصویرِ گوجرانوالہ، گوجرانوالہ۔ ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
(روزنامہ سلطنت، گوجرانوالہ۔ ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا زاہد الراشدی کے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کے انتقال پر مذہبی رہنماؤں کی طرف سے اظہارِ تعزیت
گکھڑ منڈی (نامہ نگار) مولانا عبد القدوس خان قارن کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار۔ اہلِ سنت کے علمی و دینی حلقوں کو ایک عظیم سانحے کا سامنا ہے۔ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے سینئر استاد جید محدث و محقق حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزندِ ارجمند اور امیر مرکزیہ پاکستان شریعت کونسل مولانا زاہد الراشدی کے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کے انتقال پر مذہبی رہنماؤں کی تعزیت۔ قاری محمد فیصل محمود قاسمی، محمد شریف طاہر، قاری محمد شعیب، مولانا محمد شاہد سرور، محمد طلحہ افضل، حاجی محمد اکمل طاہر، محمد اویس، محمد عابد بلال، محمد عظیم و دیگر نے دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالقدوس خان قارن نہ صرف علم و تقویٰ کا پیکر تھے بلکہ اہلِ حق کے نمائندہ بزرگوں میں سے تھے۔ ہم ان کے خاندان، شاگردوں اور متعلقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
(روزنامہ جمہوریہ پاکستان، گوجرانوالہ۔ ۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار، خدماتِ دینیہ کی ایک روشن مثال
گکھڑ منڈی (محمد گلشاد سلیمی) حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار۔ اہلِ سنت کے علمی و حلقوں کو ایک عظیم سانحے کا سامنا ہے۔ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے سینئر استاد جید محدث و محقق امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزندِ ارجمند اور امیر مرکزیہ پاکستان شریعت کونسل جانشینِ امام اہلِ سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی وفات کی خبر سے ملک بھر کے علمی، دینی، تدریسی و طلبہ حلقوں میں گہرا رنج و غم پایا جا رہا ہے۔ حضرت نے تمام عمر درس و تدریس، علومِ حدیث کی اشاعت اور دینی رہنمائی میں گزاری۔ ان کی سادگی، اخلاص، تواضع، علمی استقامت اور خدماتِ دینیہ ایک روشن مثال ہیں۔
اس موقع پر محمد شریف طاہر جالندھری صاحب اور قاری محمد فیصل محمود قاسمی (نائب صدر / جنرل سیکرٹری مدرسہ قاسم العلوم حنفیہ رجسٹرڈ ساروکی) نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا: مولانا عبد القدوس خان قارن کا وصال ایک ایسا صدمہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، وہ نہ صرف علم و تقویٰ کا پیکر تھے بلکہ اہلِ حق کے نمائندہ بزرگوں میں سے تھے۔ ہم ان کے خاندان، شاگردوں اور متعلقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
اس موقع پر قاری محمد شعیب مہتمم مدرسہ قاسم العلوم، مولانا محمد شاہد سرور، ممتاز کالم نگار محمد طلحہ افضل، حاجی محمد اکمل طاہر، محمد اویس، محمد عابد بلال، محمد عظیم و دیگر نے بھی دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کی وفات سے دینی و تعلیمی دنیا ایک عظیم استاد، مربی اور مشفق راہنما سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کا علمی و روحانی فیضان ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے جید علماء کرام، طلبا، دینی شخصیات، اداروں کے نمائندگان اور عام عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
(روزنامہ شیرِ پاکستان، لاہور۔ ۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
(روزنامہ سیاسی تقدیر، لاہور۔ ۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
جمعیت علماء اسلام ضلع خوشاب
امام اہلسنت حضرت شیخ سرفراز خان صفدر رحمہ اللّہ کے فرزند ارجمند اور مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کے چھوٹے بھائی استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن مرحوم کی وفات اسلامیان پاکستان کے لیے عظیم سانحہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام ضلع خوشاب کے امیر مولانا عبداللہ احمد اور جنرل سیکرٹری مولانا حسین علی بلوچ اور عاملہ کے دیگر اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللّہ دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالا کی رونق و زینت تھے۔ سینکڑوں علماء کے استاذ اور ہزاروں دینی کارکنان کے مربی تھے، علمِ تفسیر و حدیث اور فقہ میں خاص مہارت رکھتے تھے اور کئی بہترین کتابوں کے مصنف تھے۔ حضرت مرحوم کی وفات سے امت کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔ دعاگو ہیں کہ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائیں اور درجات بلند فرمائیں۔
منجانب: قاری فیصل احمد، سیکرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام ضلع خوشاب
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
صابری نیوز
گکھڑ سٹی (صابری نیوز) امیدوار حلقہ NA66 بلال فاروق تارڑ کی علامہ زاہد الراشدی سے بھائی کی وفات پر تعزیت پسماندگان کو صبر جمیل اور مرحوم کی بلندی درجات کیلئے دعا گزشتہ روز گوجرانوالہ کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن کی بروز جمعہ اچانک وفات اور انتقال پر جی ٹی روڈ گکھڑ جامع مسجد اہل سنت والجماعت المعروف بوہڑ والی میں NA 66 کے متوقع ضمنی انتخابات میں امیدوار بلال فاروق تارڑ نے عالمی اسلامی اسکالر حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی، مرحوم کے صاحبزادوں اور بھائیوں قاری حماد الزہراوی اور منہاج الحق خاں راشد سے ملاقات کر کے دلی دکھ اور تعزیت کے ساتھ اظہار افسوس کیا اور مرحوم کی کامل بخشش و مغفرت کے ساتھ ساتھ پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی تھی۔
ان کے ساتھ اظہار افسوس کرنے والوں میں نوجوان معروف عالم دین مولانا خالد محمود سرفرازی، چیئرمین وسیم یعقوب بٹ، عرفان مقبول بٹ، عبد الوحید بٹ، ریحان مقبول بٹ کے علاوہ قاری محمود اختر عابد اور کثیر تعداد میں شہری موجود تھے۔
علامہ زاہد الراشدی، بھائی مولانا عبد القدوس قارن مرحوم کی وفات پر خصوصی طور پر آبائی گھر گکھڑ تشریف لائے جو مغرب تک موجود رہے جہاں پر تعزیت کیلئے آنے والوں کا سلسلہ جاری تھا۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
عبد المجید توحیدی
چونیاں (سٹاف رپورٹر مفتی طاہر مبین نفیس) عبد المجید توحیدی الازہری صاحب صوبائی سالار جے یو آئی پنجاب نے مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب کی وفات علمی و روحانی دنیا کا عظیم نقصان ہے۔ انہوں نے عمر بھر علم و دین کی خدمت اور طلبہ کی تربیت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا زہد، تقویٰ، علمی مقام اور نسبت مشائخ سے وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا اظہارِ تعزیت
مولانا عبد الرؤف محمدی
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے پاکستان شریعت کونسل کے امیر شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان کے چھوٹے بھائی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے مولانا قارن صاحبؒ کی علمی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے عمر بھر درس و تدریس اور طلبہ کی علمی و فکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا شمار اہلِ علم کی اس عظیم نسل میں ہوتا تھا جس نے پاکستان میں دینی علوم کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
انہوں نے مولانا زاہد الراشدی اور تمام اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے
مولانا فضل الرحمٰن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا زاہد الراشدی صاحب، میں کل بھی آپ کو فون کرتا رہا ہوں اور آج بھی صبح میں نے آپ کو فون کیا لیکن شاید آپ، رات کو تو شاید آپ جنازے کے انتظامات میں مصروف تھے، صبح شاید آرام فرما رہے ہوں۔
مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ کی وفات پر بہت ہی زیادہ صدمہ اور افسوس ہوا۔ اور میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر فائز فرمائے، اور آپ کو اور پورے خاندان کو اور متعلقین کو اللہ صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ بس میرا مقصد آپ سے تعزیت کرنا تھا۔ اس صوتی پیغام کے ذریعے سے آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
اللہ تعالیٰ عافیت کا معاملہ فرمائے، اور ہمارے لیے بھی آپ دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ ہر قسم کی پریشانیوں سے اور ہر قسم کی آزمائشوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جیسے آپ کا دل دُکھا ہے، ہمارا دل بھی دُکھا ہے
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی
محترم مکرم جناب حضرتِ اقدس مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت مولانا محمد فیاض صاحب دامت برکاتہم العالیہ دونوں بزرگوں کی خدمتِ اقدس میں گزارش ہے، سب سے پہلے تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پھر اس کے بعد آپ حضرات کے گھرانے میں حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ، ان کی وفات کا سانحہ پیش آیا، مجھے دلی طور پر بہت دکھ ہوا، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دوٹوک اٹل فیصلہ ہے جس کا مفہوم یہی ہے ’’اذا جاء الاجل لا یستقدم العبد ولا یستاخر‘‘ اللہ تعالیٰ نے اسی کے مطابق ان کو لے لیا۔ ان کی سعادت مندی تھی کہ زندگی بھر کے لیے ان کو درس و تدریس اور اسی طرح اصلاحِ خلق کے شعبے سے منسلک رکھا۔ اور یہ ان کے لیے ایک بہت بڑی سعادت کی بات تھی، ان کے مزاج میں استقامت اور اعتدال اور پختگی اور ان کے طرزِ گفتگو میں متانت موجود تھی۔ اور ان کے اپنے اکابر بڑے حضرات شیخینؒ کی طرف سے یہ وراثت ان کی طرف اور آپ کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ یوں سمجھیں کہ حضرات شیخینؒ کے جانے کے بعد ان کی جو مسندیں ہیں وہ آباد ہیں۔ تو حضرات شیخینؒ دنیا سے جا چکے ہیں تب بھی وہ ابھی زندہ ہیں کہ ان کی مسند آباد ہیں۔ بزرگوں کی مسند کی آبادی دراصل ان کی روحانی زندگی ہے۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ میرے بڑے بھائی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب، جو میرے استاذ بھی ہیں، دامت برکاتہم العالیہ، ان کے دوست بھی تھے۔ اور اسی نسبت سے ہمارے گھر میں مانسہرہ کے اندر کافی مرتبہ آنا ہوا۔ اور ان کی تواضع، عاجزی اور شفقت والا مزاج ہی مجھے یاد آ رہا ہے۔ ان کے لیے دعا تو میں نے کی ہے اور طلبہ سے بھی کروائی۔ اور ان شاء اللہ مستقبل قریب میں تعزیت کے لیے وہاں مدرسہ نصرۃ العلوم میں اپنے دونوں حضرات بزرگوں کی خدمت میں حاضری ہو گی ان شاء اللہ، میں جاؤں گا، لیکن اس حاضری سے پہلے یہ پیغام ریکارڈ کر رہا ہوں تاکہ ان کے عظیم الشان صدمے کے اندر، جیسے وہ بھی اپنے غم کو سہہ رہے ہیں، اسی غم کو ہم بھی سہہ رہے ہیں۔ اور جیسے ان کا دل دُکھا ہے، ہمارا بھی اسی طرح دل ان کی وفات کے اوپر دُکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی کمی کو پورا فرما دے اور ان کی اولاد میں اللہ تعالیٰ صلاحیت بڑھا دے۔ اور آپ حضرات دونوں کو صبر اور استقامت نصیب فرما دے۔ مدرسے کو اپنے اکابر کے مجوزہ اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ آباد رکھے اور اس کا فیض جاری رکھے۔
میرے سب سے بڑے بھائی حضرت مولانا حمید الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ جن کا انتقال ہوا تھا مکہ مکرمہ میں اور وہیں پر قبرستان میں ان کو دفن کر دیا گیا تھا۔ وہ بھی یہیں سے فارغ تھے، یہاں سے پڑھے ہوئے تھے۔ اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تقریری کاپی ان کے پاس تھی۔ میں تو جب پڑھتا تھا اس زمانے میں اس کاپی کو کبھی کبھی دیکھتا تھا، حوالے کے ساتھ مسائل، کتابوں کے نام، اور ایک مدلل مضمون ہوتا تھا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ آپ سب حضرات کو اجرِ عظیم نصیب فرمائے، اور اس حادثہ فاجعہ اور اس سانحہ عظیمہ میں آپ کو صبر نصیب فرمائے، آمین۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے متبعِ کامل
مولانا میاں محمد اجمل قادری
مرکزِ اہلِ حق شیرانوالے کے متبعین علماء میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کا بہت بڑا سیاسی اور مذہبی نام ہے۔ اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ، جو ان کے والدِ گرامی تھے، ان کی وطنِ عزیز پاکستان میں دینی اور سماجی خدمات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اور اتنے بڑے عالم اور اتنے بڑے شیخ ہونے کے باوجود حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کو اور مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت امام الہدیٰ مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کروایا۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب تو اپنے خاص مزاج کے ساتھ چل رہے ہیں اور ان کا تعلق قلبی اور جذباتی شیرانوالہ مرکز سے بہت زیادہ ہے، لیکن حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ بالکل اپنے مرشدِ کامل کی اتباعِ کامل پہ یقین رکھتے تھے۔ اور حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی فیض بھی حاصل کیا، اور بہت سے دینی اور عائلی معاملات میں راہنمائی حاصل کی۔ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے جذباتی دستِ راست رہے۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ کی وفات پر پوری جماعتِ شیرانوالہ غمزدہ ہے۔ علماء اور عوام اور گوجرانوالہ کے خواص ان کی خوبصورت جو ایسی طبیعت تھی جس میں وہ ہر کسی سے گھل مل جاتے تھے اور زبردست مہمان نواز تھے۔ اور اپنے تلامذہ، شاگردوں اور سٹوڈنٹس کے ساتھ بھی بہت مہربانی سے پیش آتے تھے۔ جانا تو ہر کسی نے ہے لیکن جس انداز سے گئے، اللہ ان پر عظمتیں، رفعتیں اور بلندیاں نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو حضرت مرحوم کی ترقئ درجات کا وسیلہ بنائے۔ اللہ پاک پوری امت کے لوگوں کو مولانا کی مغفرت کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
(۱۷ دسمبر ۲۰۲۵ء)
اللہ تعالیٰ ان کی خدماتِ دینیہ کو قبول فرمائے
مولانا محمد الیاس گھمن
امامِ اہلِ سنت شیخ التفسیر والحدیث استاذِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ کے بیٹے استاذ الحدیث استاذِ محترم مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ وکل شئی عندہ باجل مسمیٰ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اللہ تعالیٰ ان کے تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کی تمام خدماتِ دینیہ کو قبول فرمائے، ان کے تلامذہ، شاگردوں، متوسلین کو، ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ میں اس پیغام سننے والے تمام حضرات و خواتین سے گزارش کروں گا کہ آپ ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائیں، رفعِ درجات کی دعا فرمائیں، اور جن سے ممکن ہو ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم میں دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے بڑوں، اکابرین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
زاہدان، ایران سے تعزیت
مولانا غلام اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ۔
استاذ جی سب سے پہلے دلی تسلیت اور تعزیت عرض کر دیتا ہوں اور آپ سے معافی چاہتا ہوں استاذ جی اس تاخیر پر۔ حقیقت یہ ہے استاذ جی اسی دن ہم مطلع ہو گئے اور اسی دن سے الحمد للہ اہتمام سے دعا بھی کی اور دعا کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ خاص طور پر والدہ سے روزانہ ہر رات دعا کرواتا ہوں، والدہ دعا کرتی ہے۔ مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ، والد صاحبؒ اور صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ اور باقی اکابرین کے لیے روزانہ ہر رات ہمیشہ اہتمام سے نام لے کر دعا کرتے ہیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
استاذ جی میں ابھی زاہدان پہنچ گیا، پہلے جہاں میری والدہ رہتی ہے وہاں ۱۷۵ کلو میٹر۔ آج مولانا مفتی (قاسم القاسمی) صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اسی دن زاہدان کے اساتذہ کے گروپ میں بھیج دیا۔ لیکن آج مفتی صاحب نے کہا کہ مجھے آپ نے اطلاع نہیں کیا۔ میں نے حضرت سے معافی مانگا، اور قصور میرا اپنا تھا۔ لہٰذا انہوں نے یہ تعزیت والے کلمات کا رسالہ لکھ کر مجھے حکم کیا کہ میں بھیج دوں آپ کی خدمت میں۔ اور استاذ جی ان شاء اللہ مزید دعاؤں کا اہتمام ہو گا، ان شاء اللہ، جزاکم اللہ خیرا، جزاکم اللہ خیرا۔
علمائے کرام کے پیغامات بسلسلۂ تعزیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق
ماموں جان حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات پر برطانیہ میں مقیم علمائے کرام نے جس محبت اور قلبی تعلق کے ساتھ اظہارِ تعزیت فرمایا ہے وہ اس بات کا مظہر ہے کہ حضرتؒ کی علمی، دینی اور اخلاقی خدمات نے سرحدوں سے ماورا علمی و روحانی اثر چھوڑا ہے۔ ان کے انتقال پر جو صدمہ دلوں نے محسوس کیا وہ صرف ایک فرد کے جانے کا نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام کا صدمہ ہے۔ درج ذیل چند پیغامات اور اسمائے گرامی درج کیے جا رہے ہیں جنہوں نے برطانیہ سے رابطہ کیا۔
مولانا امداد اللہ قاسمی صاحب، برمنگھم، برطانیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
قاری ابوبکر صاحب، بہت افسوس ہے آپ کے ماموں کا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروڑ کروٹ جنت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرمائے۔ اور انسانی تقاضے کے مطابق کچھ لغزشیں ہو گئی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے صدقے ان کو معاف فرمائے۔ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
میں نے مولانا زاہد الراشدی صاحب سے تو بات کر لی تھی دوسرے دن، جنازے کے بعد۔ آپ سے نہیں ہو سکی تھی، اس لیے میسج کر رہا ہوں، تعزیت کا یہ میسج قبول فرمائیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا امداد الحسن نعمانی، برمنگھم، برطانیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قاری ابوبکر صاحب، بہت صدمہ ہوا، بہت افسوس ہوا، مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ کا۔ میں حضرت قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اکثر جب گوجرانوالہ جایا کرتا تھا، میں ان کے ساتھ ہوتا تھا، وہ سارا زمانہ سامنے آگیا، بڑی خاموش طبع طبیعت، بڑی سادگی، اس پر پھر اللہ تعالیٰ نے بہت نوازا تھا، اللہ تعالیٰ نے علم کے اندر بہت فوقیت عطا فرمائی۔ بس اللہ پاک کے فیصلے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس کے اندر اعلیٰ مقام عطا فرمائے، خاندان اور سب کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا محمد لقمان، والسل، برطانیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت مولانا صاحب، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں محمد لقمان بول رہا ہوں۔ حضرتؒ کا سنا تو کافی صدمہ ہوا، افسوس ہوا، اللہ تعالیٰ حضرتؒ کے درجات کو بلند فرمائیں۔ حضرتؒ میرے نصرت العلوم کے زمانے کے اساتذہ میں سے ہیں اور ما شاء اللہ بڑی محبت تھی اور ایک تعلق تھا ما شاء اللہ۔ حضرتؒ سے میں نے ابوداود شریف پڑھی ہے، تو خصوصی تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ دعا کرتے رہیں گے ان شاء اللہ، جزاکم اللہ خیرا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ و کل شئی عندہ باجل مسمیٰ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا عمران الحق، خطیب جامع مسجد طیبہ برمنگھم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے ماموں جان حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی صدمہ ہوا۔ اللہ پاک ان کی کامل بخشش و مغفرت فرمائیں اور ان کی جملہ دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ میں اپنی طرف سے بھی اور صاحبزادہ حافظ عدیل تصور صاحب اور مولانا ارشد محمود صاحب کی طرف سے بھی آپ سے اور جملہ پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ رب تعالٰی حضرت کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔ آمین
تمام حضرات کا شکریہ
برطانیہ سے جن دیگر علمائے کرام نے ماموں جان کی وفات پر مجھ سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا:
مولانا ارسلان غوث صاحب
مولانا عبد الرحمٰن صاحب
حاجی عزت خان صاحب
مولانا حافظ جنید معاویہ صاحب
مولانا قاری محمد عارف صاحب
مولانا ادریس صاحب
مولانا عبد الرشید ربانی صاحب
مولانا مفتی خورشید احمد صاحب
مولانا فیصل شفیق صاحب
حافظ ناصر امین صاحب
مولانا حافظ سلیمان صاحب
مولانا عبد الوحید شاہ صاحب
مولانا ضیاء المحسن طیب صاحب
مولانا شاہد اقبال صاحب
مولانا سراج احمد صاحب
مولانا حافظ ظہیر صاحب
حافظ عرفان صاحب
قاری یعقوب صاحب
حافظ ظفیر صاحب صاحب
ہم ان تمام حضرات کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے چند لمحے نکال کر تعزیت کی اور ہمارے غم میں شریک ہوئے۔
جامعہ فتحیہ لاہور میں دعائے مغفرت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن جمعے والے دن انتقال فرما گئے ہیں۔ عالمِ دین تھے، بڑے عالم تھے، زندگی پڑھتے پڑھاتے گزر گئی ہے، تعلیمی دنیا کے آدمی تھے۔ تہتر سال کی عمر میں جمعے والے دن ان کا انتقال ہوا ہے۔ آپ سب حضرات دعا فرمائیں اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں۔
الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الرسل وخاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ مولا کریم! ہمارے تمام مرحومین و مرحومات کی مغفرت فرما اور مولانا عبد القدوس قارن ہمارے بھائی جو دنیا سے چلے گئے ہیں، مولا کریم ان کی نیکیاں قبول فرما، غلطیوں سے درگزر فرما، آخرت کی منزلیں آسان فرما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما، حضورؐ کے مبارک ہاتھوں سے جامِ کوثر نصیب فرما، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ ہم سب کو خیر کی زندگی عطا فرما، برکت کی زندگی عطا فرما، نیکی کی زندگی عطا فرما، اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرما۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک التواب الرحیم وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
(۲۱ اگست ۲۰۲۵ء)
استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انٹرویو نگار : حافظ محمد عمرفاروق بلال پوری
حافظ محمد عمر فاروق بلال پوری: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحسنات میڈیا کے پلیٹ فارم سے میں ہوں آپ کا میزبان محمد عمر فاروق بلال پوری۔ ناظرین، ہم ایک نشست یا پوڈ کاسٹ کرنے جا رہے ہیں، جس کا عنوان ہے ’’استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں‘‘۔ ناظرین، یہ نشست صرف ایک خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیت، سادگی، اخلاص اور استقامت کا پیغام ہے۔ ہمارے ساتھ اس وقت تشریف فرما ہیں حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے برادرِ کبیر جانشینِ امامِ اہلِ سنتؒ، عظیم مذہبی سکالر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب۔
استاذ جی، سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں کچھ فرمائیں۔
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الامی وآلہ واصحابہ و بارک وسلم۔ مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ میری ولادت سن ۱۹۴۸ء کی ہے، ان کی سن ۱۹۵۲ء کی ہے۔ گکھڑ میں ابتدائی تعلیم میں نے بھی اور انہوں نے بھی اپنی والدہ محترمہ سے آغاز کیا تھا۔ والدہ محترمہؒ اور والدِ محترمؒ دونوں سے۔ والدہ محترمہ، گھر میں ان کا ایک مدرسہ ہوتا تھا شام کو، پرانی روایات کے مطابق، جو آج بھی چل رہا ہے۔ ہمارے چھوٹے بھائی قاری راشد صاحب اس ماحول کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری دونوں والدہ محترمہ، ایک اپنی، ایک سوتیلی والدہ محترمہ تھیں، وہ والد صاحب کی چچا زاد، بعد میں نکاح ہوا تھا۔ دونوں پڑھاتی تھیں۔ اور اس مدرسے میں ترجمۂ قرآن پاک ہوتا تھا، بعض بچیوں نے حفظ بھی کیا قرآن پاک۔ ناظرہ بہت زیادہ بچیاں پڑھتی تھیں۔ بچے بچیاں آتے تھے۔ تو ہماری ابتدائی تعلیم جس کو ہم بنیادی تعلیم کہتے ہیں، قاعدہ، قرآن پاک ناظرہ، میں نے بھی اور قارن صاحبؒ نے بھی والدہ محترمہ سے اور والد محترم سے پڑھا۔
اس کے بعد گکھڑ کی جس مسجد میں والد صاحبؒ خطیب تھے، اب چھوٹے بھائی حماد صاحب وہاں خطیب ہیں، تو وہاں مدرسہ قائم ہوا حفظِ قرآن پاک کا۔ راہوالی کے سیٹھی محمد یوسف صاحب کا ذوق ہوتا تھا کہ وہ مختلف جگہوں پر خود جا کر ترغیب دے کر اور تعاون کر کے مدرسے بنواتے تھے۔ ہمارے ہاں مدرسہ قائم ہوا، حفظ، ناظرہ، حضرت مولانا قاری اعزاز الحق امروہی رحمۃ اللہ علیہ پہلے استاذ کے طور پر تشریف لائے۔ پھر ان کے بعد مختلف حضرات آتے رہے، ہمارے اور بھی اساتذہ ہیں، لیکن قاری محمد انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بڑے استاذ ہیں، جن سے میں نے بھی قرآن پاک یاد کیا، اور قارن صاحب نے بھی قرآن پاک یاد کیا۔ وہ گکھڑ میں طویل عرصہ پڑھاتے رہے۔ پھر وہ مدینہ منورہ چلے گئے۔ اور مدینہ منورہ میں کم و بیش تیس پینتیس سال انہوں نے مسجد نبوی میں حفظِ قرآن پاک کی تعلیم دی ہے۔ بڑے شفیق استاذ تھے، میں ان کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ اللہ رب العزت نے انہیں ہمارا شیلٹر بنا کر مسجد نبوی میں بٹھایا ہوا ہے۔ وہ ہمارے سروں کا سایہ ہیں، دعائیں فرماتے رہتے تھے۔
قارن صاحبؒ نے بھی ابتدائی تعلیم والدہ صاحبہ سے اور پھر قاری محمد انور صاحبؒ سے حاصل کی۔ اور سکول بھی انہوں نے پڑھا۔ میں سکول نہیں پڑھ سکا۔ میں چوتھی جماعت میں تھا جب وہ مدرسہ شروع ہوا حفظ کا، تو میں تو چوتھی جماعت سے اٹھایا ہوا یا بھاگا ہوا کہہ لیں، اس کے بعد آج تک کسی سکول میں پڑھنے کے لیے نہیں گیا۔ انہوں نے خیر میٹرک کیا، ہائی اسکول میں، اور ابتدائی تعلیم ان کی یہ تھی۔ پھر وہ نصرۃ العلوم میں آ گئے۔ درسِ نظامی میں نے بھی نصرۃ العلوم میں پڑھا ہے، اور قارن صاحبؒ نے بھی۔
حافظ بلال پوری: ابتداء سے لے کر آخر تک؟
مولانا راشدی: تقریباً درسِ نظامی سارا ہی۔ کچھ کتابیں پہلے والد صاحبؒ سے میں نے پڑھ لی تھیں۔ انہوں نے بھی شاید پڑھی ہوں گی۔ لیکن ابتدا سے آخر تک درسِ نظامی نصرۃ العلوم میں انہوں نے بھی پڑھا، میں نے بھی پڑھا۔ میرا ان کا چار سال کا فرق تھا تقریباً۔ اور ان کے ساتھیوں کا گروپ۔ میرا گروپ تو الگ تھا، کچھ ہم تھوڑا سینئر تھے۔ ان کا گروپ، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا عبد الہادی صاحب شیخوپورہ کے، مولانا قاری خبیب احمدؒ جو ہمارے بہنوئی بھی بنے بعد میں، جہلم والے۔ ان کا گروپ ہوتا تھا، مولانا عقیل صاحب تھے۔ تو یہ انہوں نے تعلیم حاصل کی۔
اور پھر تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں سن ۱۹۶۹ء میں فارغ ہوا تھا، تو حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مرکزی جامع مسجد کے خطیب، حضرت والد صاحبؒ کے استاذ تھے۔ تو وہ مجھے لے گئے وہاں۔ سن ۱۹۶۹ء سے وہیں بیٹھا ہوں الحمد للہ۔ اور قارن صاحبؒ جب فارغ ہوئے، میرا خیال ہے میرے سے تین چار سال بعد فارغ ہوئے تو چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے معاون کے طور پر مدرس بھی بنے اور مدرسے کی نظامت بھی سنبھالی اور ایک عرصہ گزارا۔ بڑے متحرک بڑے معاملہ فہم اور کنٹرولر قسم کے ساتھی تھے۔ ایک عرصہ چچا محترمؒ کے ساتھ بطور ناظم مدرسے کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اور مدرس تو وہ آخر دم تک تھے۔ اپنی وفات سے ایک دن پہلے بھی اسباق پڑھائے ہیں انہوں نے۔ اس کے ساتھ مسجد نور کے امام بھی تھے، وہ بھی تقریباً تیس پینتیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔ اور آخری دن بھی فجر کی نماز پڑھائی ہے۔
بیمار تو کافی عرصہ سے تھے لیکن معمولات چل رہے تھے۔ ہمت والا آدمی تھا۔ یہ اللہ پاک کی طرف سے ہوتا ہے۔ کوشش کرتے تھے کام وقت پر ہو۔ اور سادہ طبیعت تھی۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔
حافظ بلال پوری: استاذ جی گھر کے ماحول میں حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دینی دلچسپی کس طرح پروان چڑھی؟
مولانا راشدی: گھر کا ماحول ہی تعلیمی تھا ہمارا۔ میں گھر کے مدرسے کے بارے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ شام کو عصر سے عشاء تک تقریباً ہمارے گھر میں تعلیمی ماحول ہی ہوتا تھا۔ محلے کے بچے بچیاں آتے تھے، کوئی ناظرہ پڑھ رہا ہے، کوئی حفظ کر رہا ہے، کوئی بہشتی زیور پڑھ رہا ہے، کوئی ترجمہ پڑھ رہا ہے، والدہ محترم دونوں پڑھایا کرتی تھیں۔ اور تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ ہمارے گھر میں پڑھنے والوں میں سابق صدرِ پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ صاحب بھی ہیں، سابق آئی جی پنجاب پولیس احمد نسیم صاحب بھی ہیں، پاک آرمی کے ایجوکیشن کور کے سربراہ تھے بریگیڈیئر محمد علی چغتائی صاحب، وہ بھی ہیں۔ بڑے بڑے لوگوں نے تعلیم حاصل کی ہے والدہ محترمہ سے۔ قارن صاحبؒ نے بھی وہیں۔ ہمارا ماحول تھا ہی تعلیمی۔ اور اب بھی ہمارے گھر کا ماحول تعلیمی ہے۔ اللہ پاک جزائے خیر دے ہمارے سب سے چھوٹے بھائی قاری راشد صاحب کو، انہوں نے ماحول قائم رکھا ہوا ہے۔ وہ دن کو گھر ہوتا تھا ، شام کو مدرسہ بن جاتا تھا۔ اور اب تو وہ دن کو بھی مدرسہ ہی چلاتے ہیں وہاں الحمد للہ۔ تو یہ ہمارا تعلیمی ماحول ہے شروع سے۔
حافظ بلال پوری: استاذ جی، جامعہ نصرۃ العلوم میں حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا دائرہ اور اثر کیا تھا؟
مولانا راشدی: وہ ایک عرصہ ناظم رہے ہیں اور مدرس بھی رہے ہیں۔ اور ناظم کے طور پر اور مدرس کے طور پر ایک کامیاب ناظم اور ایک کامیاب مدرس تھے۔ وہ نظم و نسق میں بھی بڑے مضبوط تھے، اور تعلیم میں بھی ان کے شاگرد ہزاروں ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں۔ انہوں نے ابتدا سے لے کر دورۂ حدیث تک تقریباً تمام درجوں کی کتابیں پڑھائی ہیں۔ بہت اچھے مدرس تھے۔ معقولات، منقولات دونوں پر دسترس تھی۔ اور طرز وہی جو ہمارے پرانے مدرسین کا ہوتا ہے، وہ حضرت والد صاحبؒ کے اور حضرت صوفی صاحبؒ کے طرز پر پڑھایا کرتے تھے اور ملک بھر میں ان کے بے شمار شاگرد ہیں، اور شاگردوں کے شاگرد بھی ہیں۔ اور الحمد للہ ایک کامیاب اور ایک محترم استاذ کے طور پر انہوں نے زندگی گزاری ہے۔
حافظ بلال پوری: حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کن تدریسی اسلوب اور اخلاقی انداز سے معروف تھے؟
مولانا راشدی: اخلاقی انداز سے تو حضرت والد صاحبؒ کے اثرات الحمد للہ، کہ گفتگو سلیقے سے کرنی ہے، اختلاف بھی دائرے میں کرنا ہے، اور ایک دوسرے کا احترام بھی۔ اور سادہ مزاج تھے، زیادہ تکلفات میں نہیں پڑتے تھے۔ مکان اپنا بنا لیا تھا لیکن ساری زندگی مسجد کے مکان میں، آخر میں جنازہ بھی وہیں سے اٹھا ہے۔ طبیعت میں، لباس میں، اٹھنے بیٹھنے میں سادگی تھی۔ ایک دوسرے کا احترام تھا۔ اور مہمان نواز تھے۔ مہمان نوازی میں ان کا کمال کہ جو بھی دوست کوئی ملتا تھا تو کوشش کرتے تھے کچھ نہ کچھ کھا کر جائے، کچھ نہ کچھ پی کر جائے۔ اور دوستوں کا حلقہ بھی بڑا وسیع تھا۔
مسلکی کاموں میں بھی شہر کے ساتھیوں کی دینی جماعتوں کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ جو کام بھی ہو، ختمِ نبوت کے محاذ پر، ناموسِ صحابہؓ کے محاذ پر، یا جو بھی جماعتیں کام کر رہی تھیں، خود آگے نہیں آتے تھے، لیکن سرپرستی سب کی کرتے تھے۔ معاونت بھی کرتے تھے، مشورہ بھی دیتے تھے، کہیں دیکھتے تھے ڈانٹنے کی ضرورت ہے تو ڈانٹ بھی دیتے تھے۔ یعنی بیک ڈور سرپرست تھے تمام تحریکات کے، دینی جماعتوں کے۔ لیکن خود سامنے نہیں آئے۔ خود ان کا سارا کام تدریسی اور تعلیمی ہی رہا ہے۔
حافظ بلال پوری: حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا دینی تحریکوں میں کیا کردار رہا اور تحریکی و تنظیمی ذوق کیسا تھا؟
مولانا راشدی: میں گزارش کرتا ہوں، ایک بات تو میں نے کی ہے کہ وہ دینی تحریکوں کے، دینی جماعتوں کے سپورٹر تھے۔ سپورٹ کرتے تھے۔ اور دو تحریکوں میں تو ان کا عملی کردار بھی ہے۔ مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم۔ یہ سن ۱۹۷۶ء کی بات ہے، اس کے اسباب مختلف ہیں، پنجاب کے محکمہ اوقاف نے مدرسہ نصرۃ العلوم کو اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔ عنوان یہ تھا ’’مسجد نور بمع چالیس کمروں کے‘‘۔ نصرۃ العلوم کا نام نہیں لیا انہوں نے۔
ہم نے آپس میں مشورہ کیا۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہم سب کے بزرگ تھے، میرے والد صاحبؒ کے بھی استاذ تھے۔ اور میں ان کے پاس ہی تھا، ان کے نائب کے طور پر۔ تو حضرت مولانا عبد الواحد صاحبؒ نے ہمیں کہا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ تو اپنی ضد میں کر رہے ہیں لیکن راستہ کھل جائے گا پھر۔ اس پر کچھ احتجاج کرنا چاہیے۔ نوید انور نوید ایڈووکیٹ، بعد میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر بھی رہے ہیں۔ ہمارے دوست تھے۔ صوفی رستم صاحبؒ، مولانا محمد علی جامیؒ، ڈاکٹر غلام محمد صاحبؒ، ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ قبضہ نہیں دیں گے۔ ہم نے یہ طے کر لیا تھا۔ اور کہا کہ آرڈر واپس لو۔ ہم نے گرفتاریوں کی تحریک شروع کر دی۔ ہم نے یہ طے کیا کہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ اور طلبہ، ان کے نظم میں خلل نہیں آنے دیں گے، اور مسلکی کارکن گرفتاریاں پیش کر کے تحریک کو منظم کریں گے۔
لیکن اس دوران ہوا یہ کہ محکمہ اوقاف نے۔ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمۃ اللہ علیہ مسجد نور کے خطیب تھے، مدرسہ کے مہتمم تھے، ان کی جگہ قارن صاحبؒ کو مسجد نور کا خطیب مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ یہ سازش تھی دو بھائیوں کو لڑانے کی۔ وہ بھتیجے تھے اور صوفی صاحبؒ کے معاون تھے۔ تو نوٹیفیکیشن آ گیا کہ حافظ عبد القدوس قارن صاحب کو مسجد نور کا خطیب مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بات تھی کہ الحمد للہ جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا، وہ مشورہ مجھ سے کرتے تھے، اور اکثر بات مانتے تھے، جو میں کہتا تھا کرتے تھے وہ۔ میرے پاس آئے کہ کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ بہت بڑی شرارت ہے خاندان کے خلاف اور ادارے کے خلاف۔ اس کا جواب بھی اسی لہجے میں ہونا چاہیے، اسی لیول پر ہونا چاہیے جس لیول پر۔ آپ تیاری کریں، آپ بھی گرفتاری دیں۔ یہی جواب ہے اس کا۔ جس درجے کی یہ سازش ہے نا، اس کا جواب یہی ہے۔ تو خیر انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
یہ طے تھا کہ مدرسہ نصرۃ العلوم کا کوئی استاذ کوئی طالب علم گرفتاری نہیں دے گا۔ لیکن یہ ضروری ہو گئی تھی۔ جمعے کے دن گھنٹہ گھر چوک سے جلوس نکالا کرتے تھے، گرفتاریاں دیتے تھے۔ تو میرے مشورے پر انہوں نے یہ کیا کہ جلوس سے خطاب کیا اور وہ نوٹیفیکیشن پڑھ کر سنایا، پھر یوں پھاڑا، میرا یہ جواب ہے، اور میں حاضر ہوں۔ اور چار مہینے کے لگ بھگ جیل میں رہے۔ بڑی استقامت کے ساتھ، بڑے صبر کے ساتھ۔ ہم نے طے کر رکھا تھا کہ ہم نے ضمانتیں نہیں کروانی۔ ضمانتیں ہو جاتی تھیں لیکن ہم نے طے کر رکھا تھا کہ نہیں ضمانتیں نہیں کروانی۔
الحمد للہ ہماری تین چار مہینے کی جدوجہد کا اتنا دباؤ پڑا۔ پنجاب اسمبلی میں بات ہوئی جو علامہ رحمت اللہ ارشد صاحبؒ نے کی، قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ نے کی۔ مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ نے یہاں آکر عوامی جلسہ سے خطاب فرمایا مسجد نور میں۔ تو حکومت وہ نوٹیفیکیشن واپس لینے پر مجبور ہو گئی۔ قارن صاحب کا وہ کردار میں نہیں بھولوں گا کبھی کہ انہوں نے میری بات سمجھی بھی اور عمل بھی کیا اور اس کا نتیجہ بھی نکلا۔ ورنہ بہت خرابیاں ہوتیں۔
اسی طرح سن ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کا ایک واقعہ میں ریکارڈ میں لانا چاہتا ہوں۔ سن ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت سیالکوٹ کے اسلم قریشی صاحب کے مسئلے پر تھی۔ مرکزی مجلس عمل حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ صدر تھے۔ گجرات کے ہمارے بریلوی علماء میں سے مولانا مفتی مختار احمد نعیمی صاحبؒ بڑے عالم تھے، وہ سیکرٹری جنرل تھے۔ میں سیکرٹری اطلاعات تھا۔ حافظ عبد القادر روپڑیؒ صاحب ہمارے نائب صدر تھے۔ پوری ایک ٹیم تھی جو کام کرتی تھی۔ تو ہم نے پنڈی میں ایک اجتماع کا اعلان کیا کہ اپنے مطالبات کے لیے پنڈی میں بہت بڑا اجتماع کریں گے۔ ایک تاریخ مقرر کر دی۔ جیسا کہ ہوتا ہے کہ پنڈی کا محاصرہ کر لیا گیا کہ کسی کو نہیں آنے دیں گے۔ ناکہ بندی ہو گئی۔
تو یہ تین چار ساتھی، قارن صاحبؒ، قاری یوسف عثمانی صاحب، امان اللہ قادری صاحب، اور وہ ہمارے ساتھی فوت ہو گئے ہیں، عبد المتین چوہان، حاجے کالے خان صاحب کے بیٹے، انہوں نے کہا کہ جانا ہے۔ یہ اس اجتماع میں شرکت کے لیے بس پہ بیٹھے، جہلم میں ان کو اتار لیا گیا۔ جہلم اتار لیا گیا کہ آپ کو آگے نہیں جانے دیں گے۔ یہ اِدھر اُدھر دیکھتے رہے کہ ناکہ بندی بڑی سخت تھی، کوئی جانے نہیں دے رہا تھا۔ ان کو ایک بات سوجھی۔ ایک بس پر خالی بوریاں جا رہی تھیں بار دانے کی۔ اس کے کنڈیکٹر سے بات کی کہ یار ہمیں باردانے میں باندھ کر لے جاؤ، ہمیں اس میں لپیٹو۔ معاملات طے کیے، جو کچھ بھی طے کیا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔
وہاں سے وہ بار دانے میں لپٹ کر یہ پنڈی گئے۔ لیکن لطیفے کی بات یہ ہے کہ باردانہ مرچوں کا تھا۔ وہ جس حالت میں بھی پہنچے، لیکن ان کی قربانی کہ یہ گئے، جلسہ اٹینڈ کیا۔ یعنی تحریکی ذوق تھا ان کا لیکن سامنے آ کر نہیں، پیچھے بیٹھ کر سپورٹ کرتے تھے، لیکن تحریکات میں حصہ بھی لیا۔ بڑے جری آدمی تھے۔
حافظ بلال پوری: استاذ جی، آج کی نسل کے لیے حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سے کون سا پیغام سب سے اہم ہے؟
مولانا راشدی: سب سے پہلی بات کہ ان کا جو ذوق تھا، زندگی سادہ، میل جول سب سے۔ اور اختلاف ہوتا تھا، ہمارا بھی آپس میں اختلاف ہوتا تھا، بہت باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے، مجھ سے کرتے تھے، میں ان سے کرتا تھا، لیکن باہمی احترام، اور اختلاف کی حدود کو قائم رکھنا۔ اس معاملے میں حضرت والد صاحبؒ کی تلقین میں عرض کیا کرتا ہوں۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے، کوئی اختلافی بات کر رہے ہو کسی سے بھی، موقف مضبوط رکھو، لہجہ لچکدار رکھو۔ کوئی یہ نہ محسوس کرے کہ میری توہین کر رہا ہے، کوئی بھی ہو۔ یہ ہمیں وہاں سے گھٹی میں ملی ہے یہ بات، کہ بات میں لچک نہیں ہے لیکن لہجہ میں لچک ضروری ہے۔
وہ کہتے تھے بات میں لچک بالکل نہیں ہونی چاہیے، بات دوٹوک کرو، لیکن لہجہ اتنا لچکدار ہو جتنا ہو سکتا ہے۔ اور اس میں وہ مثال دیا کرتے تھے، والد صاحبؒ ہمیں سمجھاتے ہوئے، کہ اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام جیسے جلالی پیغمبر کو فرعون جیسے متکبر کے پاس بھیجا تھا، موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو، اور کہا تھا ’’قولا لہ قولا لینا‘‘ نرمی سے بات کرنا، شاید سمجھ جائے، شاید مان لے۔
قارن صاحب کے مزاج میں سادگی، اٹھنا بیٹھنا، کوئی تکلف نہیں، کوئی پروٹوکول نہیں، اور بات سلیقے سے کرنی ہے، اور موقع محل کو دیکھ کر کرنی ہے۔ اختلاف بھی اگر ہے تو سلیقے سے اظہار کرنا ہے۔ اور مہمان نواز۔ یہ ان کا عام تھا۔ اور پڑھنا پڑھانا۔ اور اپنے کام سے غرض رکھنی ہے۔ نئی نسل کے لیے ان کی زندگی کا پیغام یہی ہے کہ اپنے آپ کو بزرگوں کے نقشِ قدم پر، اپنے بزرگوں پر اعتماد۔ والد صاحبؒ کی تلقین بھی یہی ہوتی تھی کہ اپنے جو اکابر ہیں ان کے دائرے سے نہیں نکلو بھئی، ان کے دائرے میں رہو۔ اختلافِ رائے ہوتا ہے، وہ کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اپنے کام میں، اپنے مشن میں بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے دائرے میں رہتے ہوئے۔
یہ قارن صاحب کا مزاج تھا۔ اور اس کے ساتھ بطور بھائی کے، الحمد للہ یہ بات میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں، جب بھی کوئی خاندانی مسئلہ ہوا ہے، یا مسلکی مسائل ہوتے ہیں، جماعتی اختلافات ہوتے ہیں، جب بھی ہم نے آپس میں بات کی ہے تو انہوں نے میری بات مانی ہے۔ مجھے بہت احترام دیا ہے انہوں نے الحمد للہ۔ ہوتی ہیں باتیں، لیکن جب بھی موقع آیا ہے، انہوں نے پورا احترام، اور پورے سلیقے کے ساتھ معاملات کو سلجھایا ہے۔ بہت سے معاملات ہم نے مل کر سلجھائے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ باہمی اعتماد کے ساتھ جب بھی کوئی آخری فیصلے کا موقع آیا ہے، ہم نے طے کیا ہے اور اسی پر عمل ہوا ہے جو ہم نے طے کیا ہے۔
حافظ بلال پوری: یہ پوڈ کاسٹ صرف ایک خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیت، اخلاص، سادگی، اور استقامت کا پیغام ہے۔ دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اگلی پوڈ کاسٹ تک کے لیے اجازت دیجیے، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
(ضبطِ تحریر: مدیر منتظم مجلہ الشریعہ)
اسلاف کی جیتی جاگتی عملی تصویر تھے
مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی
محترم و مکرم شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے بھائی اور ملک کے ممتاز عالمِ دین، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحبؒ کے سانحۂ ارتحال اور وفات کی خبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون، ان للہ مآ اخذ ولہ ما اعطیٰ وکل شئی عندہ باجل مسمیٰ۔ ان کی وفات آپ کے خاندان ہی کے لیے نہیں بلکہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے لیے بھی یہ خبر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کی تمام زندگی اسلام کی اشاعت، دین کی خدمت، مدارس و مساجد کے تحفظ، تحقیق و تصنیف، درس و تدریس اور اعلاء کلمۃ اللہ میں گذری۔ وہ حقیقت میں اپنے والد گرامی اور اکابرین و اسلاف کی جیتی جاگتی عملی تصویر تھے۔ آپؒ کے ہزاروں شاگرد، لاکھوں عقیدت مند، جامعہ اشرفیہ لاہور کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء آپ کے خاندان و لواحقین اور جامعہ نصرت العلوم کی انتظامیہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
جامعہ اشرفیہ لاہور میں حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ کے لیے ایصالِ ثواب اور دعاء مغفرت کا اہتمام کیا گیا۔ اللہ رب العزت حضرت مولانا عبد القدوس صاحبؒ کی خدماتِ دینیہ و مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جملہ لواحقین و ورثاء کو صبرِ جمیل اور سکون عطاء فرمائے۔ آمین
والسلام، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی
مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور
۲۰ اگست ۲۰۲۵ء
اعزيكم واهله بهٰذا المصاب
مولانا مفتی محمد قاسم القاسمی
بسم الله الرحمٰن الرحيم
سماحة الشيخ مولانا أبو عمار الراشدي حفظه الله تعالىٰ.
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
وبعد، فوجئنا بنبأ رحيل شقيقكم المكرم فضيلة الشيخ مولانا عبد القدوس خان قارن، إنا لله وإنا إليه راجعون. أعزيكم وأهله بهذا المصاب سائلًا المولى الكريم أن يغفر للفقيد الراحل ويتغمده برحمته الواسعة وينزل عليه شآبيب كرمه وسحائب لطفه ويرزقكم جميعًا الصبر والسلوان ويملأ الفراغ الذي حدث برحيله في الأسرة وجامعة نصرة العلوم و في المجتمع و هو المستعان.
محبكم: خادم الإفتاء والحديث
محمد قاسم (بني كمال) القاسمي
۴ / ۳ / ۱۴۴۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سماحۃ الشیخ مولانا ابو عمار زاہد الراشدی حفظہ اللہ تعالی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اما بعد! آپ کے محترم بھائی، فضیلۃ الشیخ مولانا عبد القدوس خان قارن کے انتقال کی خبر سن کر ہمیں سخت صدمہ پہنچا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں اس مصیبت پر آپ اور آپ کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی وسیع رحمت میں جگہ دے، ان پر اپنے کرم کی بارش اور لطف کے بادل برسائے، آپ سب کو صبر و سکون عطا فرمائے اور خاندان، جامعہ نصرۃ العلوم اور معاشرے میں ان کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرے۔ وہی مددگار ہے۔
آپ کا محب: خادم الافتاء والحدیث
محمد قاسم (بنی کمال) القاسمی
۴ / ۳ /۱۴۴۷ھ
اسلاف کی عظیم روایات کے امین تھے
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی
مکرمی و محترمی حضرت علامہ مولانا ابوعمار زاہد الراشدی صاحب مدظلہم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کے برادرِ معظم، فاضلِ جلیل اور حضرت امام اہل السنت مولانا سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ کے ہونہار چشم و چراغ، حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی وفات پُرملال کی خبر سن کر دل نہایت رنج و الم میں ڈوب گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مرحوم کا شمار ایک ایسے خانوادے کے فرد میں ہوتا تھا، جس کی علمی و دینی خدمات نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط ہیں۔ ان کی نجابت، متانت، علمی وابستگی اور خاندانی عظمت ہر صاحبِ نظر پر روشن تھی۔ وہ اپنے اسلاف کی عظیم روایت کے امین اور دین و ملت کے لیے سراپا خیر خواہی و اخلاص تھے۔ بلاشبہ ان کا رخصت ہونا علمی دنیا اور بالخصوص آپ کے خانوادے کے لیے ایک عظیم خلا ہے، جس کی تلافی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
ہم گناہگار بارگاہِ ایزدی میں دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کو اپنی بے پایاں مغفرت و رحمت سے نوازے، قبر کو نور و راحت کا گہوارہ بنائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے صدقہ جاریہ کو قیامت تک ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اللہ تعالیٰ آپ کو، اہلِ خانہ کو اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل سے نوازے، اور اس عظیم علمی خانوادے کو تادیر امتِ مسلمہ کے لیے رُشد و ہدایت اور خیر و برکت کا سرچشمہ بنائے۔
والسلام مع الاکرام
[حضرت مولانا] عبد القیوم حقانی
۱۵ اگست ۲۰۲۵ء
حق تعالیٰ شانہ صبرِ جمیل کی نعمت سے سرفراز فرمائیں
حضرت مولانا اللہ وسایا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مخدومی حضرت قبلہ مولانا زاہد الراشدی مدظلہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
آپ کے برادر گرامی حضرت مولانا عبد القدوس قارن مرحوم کی تعزیت مسنونہ کے لیے حاضر ہوا مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ گذشتہ کل عصر کی نماز جامعہ نصرت العلوم میں ادا کی۔ حضرت مہتمم صاحب اور حضرت مرحوم کے جملہ صاحبزادگان سے تعزیت کا فریضہ انجام دیا۔ حق تعالیٰ شانہ حضرت مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں۔ جملہ پسماندگان کی پردہ غیب سے کفالت فرمائیں۔ آنجناب سمیت جملہ ورثاء کو صبرِ جمیل کی نعمت سے سرفراز فرمائیں، آمین۔
محتاجِ دعا،
[حضرت مولانا] اللہ وسایا
۲۲ اگست ۲۰۲۵ء
حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یادگار تھے
مولانا محمد الیاس گھمن
برادر مکرم محترم مولانا نصر الدین خان صاحب عمر سلّمہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے والد محترم مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ کی وفات کا بہت دکھ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ حضرت بہت صاحبِ علم و عمل شخص تھے اور امام اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی بہت اچھی یادگار تھے، ان کی خدمات ان شاء اللہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، خصوصاً ان کی مسلکی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ میں اس موقع پر آپ سے مسنون تعزیت کرتا ہوں اور حضرتؒ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔
والسلام!
محتاجِ دعا
محمد الیاس گھمن
تنظیمِ اسلامی کی جانب سے تعزیت
اظہر بختیار خلجی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اظہر بختیار خلجی کی جانب سے
محترم علامہ زاہد الراشدی حفظہ اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل کی خدمت میں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہم آپ کے چھوٹے بھائی استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ کی وفات پر دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس سانحۂ ارتحال پر امیر تنظیم اسلامی اور ہمارے تمام مرکزی ذمہ داران کی جانب سے تعزیت قبول فرمائیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور آپ سمیت تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
والسلام مع الاکرام
ناظم رابطہ، تنظیمِ اسلامی
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کی تعزیتی قرارداد
مولانا محمد قمر الحق
حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن رحلت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے تمام اساتذہ اور انتظامی عملے کے ایک دعائیہ اجلاس میں شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے لیے تعزیتی قرارداد اور دعائے مغفرت کی گئی۔ ایصالِ ثواب اور دعاء صدرِ جامعہ مولانا محمد قمر الحق سیالوی نے کروائی۔
یہ اجلاس حضرت مولانا ابوعمار زاہد الراشدی اور حضرت کے سارے خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتا ہے اور دعاء گو ہے کہ حضرتِ مغفور کو اللہ کریم اعلیٰ علیین میں جگہ عطاء فرمائے اور خاندان کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطاء فرمائے۔ آمین!
بتاریخ: 21 صفر المظفر۔ 1447ھ / بعد از نمازِ مغرب
مظہر حسین ملک، ڈائریکٹر، انتظامی امور
حضرت مفتی احمد شاہین، مسئول دارالافتاء
مولانا ملک امجد اقبال، ناظم تعلیمات
محمد قمر الحق، صدر، جامعہ محمدی شریف / سیکرٹری جنرل، متحدہ علماء کونسل، پاکستان
مجلسِ انوری پاکستان کی تعزیتی پیغام
مولانا محمد راشد انوری
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
15 اگست 2025ء کو حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی اطلاع ملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین! حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ، مولانا فیاض خان سواتی صاحب مدظلہ سمیت تمام خاندان، متعلقین و متوسلین اور جملہ تلامذہ کو اللہ تعالیٰ صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
اس موقع پر ہم: خاندانِ حضرت مولانا انوری لائل پوری رحمۃ اللہ علیہ اور مجلسِ انوری کے سرپرست حضرت مولانا خلیل الرحمٰن انوری مدظلہ سمیت تمام احباب و متعلقین کی جانب سے دلی غم کا اظہار اور تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہیں۔ حضرت کے ایصالِ ثواب اور بلندئ درجات کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے جو انشاء اللہ جاری رہے گا۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھے اور مزید استقامت کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباعِ سنت کے ساتھ اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
والسلام!
وصلی اللہ علی النبی الکریم وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ حقانیہ سرگودھا کی جانب سے تعزیت
حضرت مولانا عبد القدوس ترمذی
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
بخدمت گرامی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامی خدا کرے بخیر ہوں۔
گرامی قدر محترم و مکرم حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات سے دلی صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ وکل عندہ الیٰ اجل مسمیٰ۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں اور تمام پسماندگان کو صبر و اجر عطا فرمائیں۔ حضرت مرحوم کا الحاق پیش رو صالحین سے فرمائیں۔ اور ان کی خدمات کو قبول فرمائیں۔ آمین
اللہ تعالیٰ مرحوم کی جسمانی اور روحانی اولاد کو ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائیں۔ آمین۔ فقط
دعا گو و دعا جو
احقر عبد القدوس ترمذی غفرلہ
۲۴ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ
۱۹ اگست ۲۰۲۵ء
علمی و دینی حلقوں کا عظیم نقصان
وفاق المدارس العربیہ پاکستان
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین کا مولانا عبد القدوس قارنؒ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
اسلام آباد (16 اگست 2025ء) وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا انوار الحق، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا سعید یوسف، مولانا مفتی عبدالرحمٰن، مولانا زبیر احمد صدیقی اور دیگر اکابرین نے شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ قائدین نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا عبدالقدوس قارنؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے علوم کے سچے وارث تھے۔ آپ نے علمی، تدریسی اور تصنیفی میدان میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں جو آپ کے لیے صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
وفاق المدارس کے قائدین نے مرحوم کے برادرِ اکبر مولانا زاہد الراشدی اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ذمہ داران سے تعزیت کرتے ہوئے مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی وفات کو علمی و دینی حلقوں کا عظیم نقصان قرار دیا۔ قائدینِ وفاق نے ملک بھر کے علماء، ائمہ، مدارس و مساجد کے ذمہ داران اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم کے بلند درجات اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کریں۔
(میڈیا سنٹر وفاق المدارس العربیہ پاکستان — ۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
تعزیت نامہ از طرف خانقاہ نقشبندیہ حسینیہ نتھیال شریف
مولانا پیر سید حسین احمد شاہ نتھیالوی
تعزیت نامہ برائے حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب
از طرف خانقاہ نقشبندیہ حسینیہ نتھیال شریف
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت محترم!
انتہائی رنج و افسوس کے ساتھ اطلاع ملی کہ آپ کے برادر عزیز، استاذ الحدیث حضرت مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
سن 1985ء میں ہم اپنے رفقاء کے ساتھ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کی غرض سے حاضر ہوئے تاکہ امام اہل سنت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ سے بخاری شریف پڑھ سکیں۔ اس وقت حضرت قارن صاحب ناظم تعلیمات کے منصب پر فائز تھے۔ ان کی مشفقانہ طبیعت، خوش اخلاقی اور محبت بھرے رویے کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔
خانقاہ نقشبندیہ حسینیہ نتھیال شریف اور ادارہ سادات القرآن اکیڈمی کے تمام وابستگان اس دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت قارن صاحبؒ کی علمی، دینی اور تدریسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ یہ سانحہ علمی و روحانی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں اللہ کریم حضرت قارن صاحبؒ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور آپ سمیت تمام خاندان، تلامذہ اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
والسلام
[مولانا پیر] سید حسین احمد نتھیالوی
خانقاہ نقشبندیہ حسینیہ نتھیال شریف
17 اگست 2025ء / 13 صفر 1447ھ
جامعہ اشاعت الاسلام اور جامعہ عبد اللہ ابن عباس مانسہرہ کی طرف سے تعزیت
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی
محترم مکرم حضرات
حضرت اقدس مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
حضرت مولانا محمد فیاض صاحب دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے میں آپ حضرات کے گھرانے میں حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ کے وفات کے سانحہ پر دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ یہ ایک ناقابلِ یقین نقصان ہے اور مجھے اس پر گہرا دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبرِ عظیم عطا فرمائے اور مرحوم کی مغفرت فرمائے۔
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ اپنی زندگی بھر درس و تدریس، اصلاحِ خلق اور دعوت و تربیت کے شعبے سے منسلک رہے۔ ان کے مزاج میں استقامت، اعتدال اور پختگی تھی، اور طرزِ گفتگو میں متانت و وقار نمایاں تھا۔ آپ حضرات کے اکابر بزرگ شیخین کی علمی و روحانی وراثت اب آپ سب بھائیوں کے حصے میں منتقل ہو چکی ہے۔ اگرچہ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن ان کا مشن اور ان کی روشنی آپ حضرات کے ذریعے زندہ ہے۔
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ میرے بڑے بھائی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بھی دوست تھے، اور اسی نسبت سے ہمارے گھر میں مانسہرہ میں ان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ سالانہ تقریبات اور دیگر مجالس میں بھی ان سے استفادہ کا موقع ملا۔ سن 2016ء میں میرے بیٹے کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا، تو حضرت قارن رحمہ اللہ نے جامعہ نصرۃ العلوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کے ساتھ ہمارے گھر حاضری دی اور تعزیت فرمائی۔ ان کی تواضع، عاجزی اور شفقت ہمیشہ یاد رہنے والی ہیں۔ ان کے جانے سے یقیناً ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے، اور ان کی خدمات ہمیشہ قابلِ ستائش رہیں گی۔
میرے سب سے بڑے بھائی حضرت مولانا حمید الرحمٰن رحمہ اللہ مدفون مکہ مکرمہ بھی اسی علمی ماحول سے مستفید ہوئے تھے، حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی تقریریں ان کے پاس تھیں، جن سے میں نے زمانہ طالب علمی میں استفادہ کیا۔
میں دکھ کے اس موقع پر اپنی طرف سے، جامعہ اشاعت الاسلام کی انتظامیہ، طلباء و اساتذہ، اور جامعہ عبد اللہ ابن عباس کی پوری ٹیم کی طرف سے دلی تعزیت پیش کرتا ہوں اور اس حادثے کو اپنا حادثہ سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کا حامی و ناصر ہو۔ اس مشکل گھری میں آپ کو خصوصی مدد عطا فرمائے، اور مرحوم کی اولاد کو اصلاح و فلاح اور دین داری میں ترقی نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے سایہ کو تادیر سلامت رکھے، جامعہ نصرۃ العلوم کو اکابر کے مجوزہ اصولوں کے مطابق آباد رکھے، اور اس کا فیض جاری رکھے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول کرے، اور آپ حضرات کو صبر و ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خلیل الرحمٰن نعمانی
ناظمِ تعلیمات، جامعہ اشاعت الاسلام مانسہرہ
مہتمم، جامعہ عبد اللہ ابن عباس مانسہرہ
تحریک تنظیم اہلِ سنت پاکستان کا مکتوبِ تعزیت
صاحبزادہ محمد عمر فاروق تونسوی
محترم المقام شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ، ابناء امامِ اہلِ سنتؒ، پسماندگان و اولادِ امجاد (حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ تعالیٰ)، حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی، منتظمین و اساتذۂ کرام اور متعلقین جامعہ نصرت العلوم، گوجرانوالہ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمیں یہ خبرِ ناگہانی ملی کہ حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ تعالیٰ اس فانی دنیا سے دارِ بقا کی طرف رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ جہاں علمِ دین کے بحرِ بے کراں تھے، وہاں عمل و تقویٰ اور اخلاقِ فاضلہ کا بے مثال نمونہ تھے۔ ایسی ہستیاں معاشرے میں برکات و فیوضات کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ ان کی رحلت جہاں ان کے خانوادۂ سواتی کے لیے شدید صدمہ ہے، اور جامعہ نصرت العلوم کا علمی و تربیتی نظام متاثر ہوا ہے، وہاں پورے دینی و علمی حلقوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ صرف نصرت العلوم کا ہی نہیں بلکہ تمام مدارسِ دینیہ کا مشترکہ غم اور بڑا علمی خسارہ ہے۔
ہم تحریک تنظیمِ اہلِ سنت پاکستان کی مرکزی شوریٰ، مرکزی صدر، تمام مبلغین اور اراکین کی طرف سے آپ تمام حضرات سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت قارن صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
از طرف:
امیر مرکزیہ و مرکزی شوریٰ و جملہ مرکزی مبلغین و اراکین، تحریک تنظیم اہل سنت پاکستان
بذریعہ:
صاحبزادہ محمد عمر فاروق تونسوی عفا اللہ عنہ، مرکزی ناظمِ اعلیٰ تحریک تنظیم اہل سنت پاکستان
تاریخ: ۲۲ صفر المظفر ۱۴۴۷ ہجری
بمطابق: ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء
جامعہ فاروقیہ شجاع آباد ملتان کی طرف سے تعزیت
مولانا زبیر احمد صدیقی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بخدمت اقدس شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم
بخدمت اقدس حضرت مولانا علامہ عبد الحق خان بشیر دامت برکاتہم
و برادران
بخدمت اقدس حضرت مولانا نصر الدین خان عمر بن قارن صاحب دامت برکاتہم
بخدمت اقدس حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب دامت برکاتہم
و اساتذہ و طلباء کرام جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیریت کا طالب خیریت سے ہے!
استاذ العلماء، شیخ الحدیث، مصنف و محقق حضرت اقدس مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات ملت اور وطن کا عظیم سانحہ ہے۔ آپ بلاشبہ قحط الرجال کے اس دور میں امت کا قیمتی سرمایہ تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ سے دین کے مختلف شعبوں میں کام لیا اور آپ نے کمال کے کارنامے سرانجام دیے۔
یہ سانحہ جامعہ نصرۃ العلوم یا خانوادہ امام اہل السنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کا ہی نہیں، بلکہ امت کا سانحہ ہے۔ ہم آپ کے اس غم میں برابر کے شریک اور آپ سب سے تعزیت کناں ہیں۔
راقم نے حضرت اقدس مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ پر تعزیتی شذرہ ماہ نامہ ’’صدائے فاروقیہ شجاع آباد‘‘ جلد نمبر 15، شمارہ نمبر 3، ماہ ربیع الاول 1447ھ میں تحریر کیا ہے، جو لف ہٰذا ہے۔
جامعہ فاروقیہ شجاع آباد، ادارہ الفاروقیہ ٹرسٹ (رجسٹرڈ)، ادارہ ماہ نامہ ’’صدائے فاروقیہ شجاع آباد‘‘ اس صدمہ پر تعزیت کناں اور دعا گو ہیں۔
والسلام
[مولانا] زبیر احمد صدیقی
خادم: جامعہ فاروقیہ، شجاع آباد
صدر: الفاروقیہ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) شجاع آباد
مدیر: ماہنامہ صدائے فاروقیہ شجاع آباد
alfarooqia@gmail.com
0300-7332265
اللہ تعالیٰ علمی، دینی اور سماجی خدمات کو قبول فرمائے
متحدہ علمائے برطانیہ
متحدہ علمائے برطانیہ کے راہنماؤں مولانا عبد الرشید ربانی، ڈاکٹر اختر الزمان غوری، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا ضیا المحسن طیب، مولانا رضا الحق سیاکھوی، مولانا محمد قاسم، مولانا امداد اللہ قاسمی، مولانا طارق مسعود، قاری عبد الرشید اولڈھم، مولانا اسید میاں شیرازی، مولانا عمران الحق، مولانا آفتاب احمد، مولانا عادل فاروق، مولانا محمد اکرم، مولانا قاضی عبد السلام خورشید، مولانا ارشد محمود، مفتی فیض الرحمان، مولوی لیاقت علی سیاکھوی، حکیم محفوظ الرحمان نے اپنے مشترکہ بیان میں مولانا عبد القدوس قارنؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بڑے بھائی مفکر اسلام علامہ زاہد الراشدی، ان کے دیگر بھائیوں، قارن صاحبؒ کے بیٹوں اور ان کے پورے خاندان، متعلقین اور متوسلین، شاگردوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
علماء نے کہا، مولانا قارنؒ کی اچانک رحلت بہت بڑا ناقابلِ تلافی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ قارن صاحب کی علمی، دینی اور سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے لیے نجات اور بلندئ درجات کا ذریعہ بنائے، آمین۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
پاکستان شریعت کونسل کے تعزیت نامے
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کی صوبائی مجلسِ عاملہ کے اراکین نے امامِ اہلِ سنت کے فرزندِ ارجمند، مفکرِ اسلام، امیرِ مرکزیہ پاکستان شریعت کونسل، شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے برادرِ صغیر، استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم نے نصف صدی سے زائد عرصہ علومِ دینیہ کی تدریس، علمی و فکری اور نظریاتی خدمات میں گزارا۔ وہ بالخصوص مدرسہ نصرت العلوم میں درسِ حدیث کے حوالے سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ حضرت قارنؒ کے ہزاروں شاگرد آج ملک اور بیرونِ ملک دینِ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں، جو آپ کے لیے عظیم صدقہ جاریہ ہے۔
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا مفتی محمد نعمان پسروری، سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا عبیداللہ عامر، مفتی زین العابدین، مفتی نعمان احمد، مولانا عبد المالک فاروقی، مولانا جاوید ، مولانا عمیر، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا فیصل احمد، مولانا عبید جمیل معاویہ، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا بدر عالم چنیوٹی ،مفتی حفظ الرحمن نعمانی، مولانا حماد انظر قاسمی، حافظ محمد زبیر ، مولانا عبداللہ پتوکی، پروفیسر مولانا محمد زاہد نارووال اور دیگر اراکین نے حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی علمی، دینی، تدریسی اور تصنیفی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام خاندانِ اکابرینِ علماء سے بالخصوص امیرِ مرکزیہ حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم اور مرحوم کے صاحبزادے، پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ کے امیر حضرت مولانا نصر الدین خان عمر ان کے برادران سے خصوصی طور پر تعزیت کا اظہار کیا۔
آخر میں حضرت مرحوم کی مغفرت و بلندیِ درجات اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
پاکستان شریعت کونسل کے ایک وفد نے گوجرانوالہ میں جامعہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکیڈمی کا دورہ کیا اور استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کے انتقال پر تعزیت کی۔ وفد کی قیادت پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی نے کی، جبکہ دیگر اراکین میں مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا حافظ سید علی محی الدین، مولانا مفتی سید عبد اللطیف شاہ اور جناب سعید احمد اعوان شامل تھے۔ وفد نے جامعہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکیڈمی میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا فیاض خان سواتی، مولانا مفتی رویس خان ایوبی، صاحبزادہ نصر الدین خان عمر اور دیگر حضرات سے ملاقاتیں کیں۔
اس موقع پر وفد نے استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کی عظیم دینی، تدریسی اور علمی خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نصف صدی تک درس و تدریس اور علمی خدمات کے ذریعے نسلوں کی تربیت کرتے رہے اور ان کا شمار ہمارے اس خطے کے جید اساتذہ اور اکابر علماء میں ہوتا ہے۔ ان کے انتقال سے علمی دنیا اور خصوصاً اہلِ علم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پُر نہ ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبد القدوس قارنؒ نے زندگی بھی قابلِ رشک بسر کی، اللہ پاک نے موت بھی انہیں قابلِ رشک عطا کی اور وہ نماز جمعہ کی تیاری کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے ساری زندگی قرآن اور حدیث کی خدمت کی اور اپنے عظیم والد امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا حقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
علمائے دیوبند کے علم و عمل کے وارث تھے
نقیب ملت پاکستان نیوز
محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا عزیز الرحمٰن و مولانا رشید الحق خان دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
حضرت مولانا کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ گو ناگوں صفات کے مالک تھے۔ ان کا سایہ بہت سے فتنوں کے لیے سدباب رہا۔ ان کا تبحر علمی بے مثال تھا۔ وہ علمائے دیوبند کے علم و عمل کے وارث تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے جو کام بھی شروع کیا، مستقل مزاجی کے ساتھ کیا اور ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا۔ اپنی پوری زندگی دین حق کی حفاظت میں صَرف کی اور جب بھی کسی اہلِ باطل نے اسلام کے مسلّمہ اصولوں میں کسی ایک اصول کے خلاف قلم اٹھایا تو حضرت مولانا نے بطریقِ احسن اس کا تعاقب کیا۔ ’’وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا اور دلائل کے میدان میں ہمیشہ سرفراز ہی رہے، لیکن اس مشکل گھاٹی سے گزرتے ہوئے کبھی آپ نے اپنے اکابرین کی تحقیقات سے سرِمو انحراف نہیں کیا۔ نیز جس طرح آپ نے اپنے قلم کے ذریعے اسلام کی نظریاتی سرحدوں کا پہرا دیا، اسی طرح عملی تحریکات میں بھی شریک رہے۔ بالخصوص تحریک ختم نبوت میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جہدِ مسلسل کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ وہ دین کا روشن چراغ تھے جن سے بے شمار دینی مشعلیں روشن ہوئیں۔ ان کو ایک عالم حق اور باعمل بااخلاص ہونے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ’’خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را‘‘۔ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوارِ رحمت و غفران و رضوان میں جگہ عطا فرمائے اور امت میں ایسے افراد زہاد پیدا فرمائے جو اقامتِ دین کا فریضہ اسی طرح ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہل و عیال اور متعلقین کرام پر ہمیشہ اپنے فضل و کرم کا سایہ رکھے۔
آخر میں اپنے بھائیوں جیسے عزیزوں حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا عبد الحق خان بشیر و دیگر برادران سے عرض کروں گا کہ وہ اپنے بھائی رحمہ اللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمت اور استقامت کے ساتھ دین حق پر سختی سے کار بند رہیں اور اپنی اولاد کو بھی اس پر کار بند رکھیں تاکہ یہ چراغ بجھنے نہ پائے۔
سرکردہ شخصیات کی تشریف آوری اور پیغامات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر و برادران
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث برادرِ عزیز حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی وفات حسرت آیات پر جن بزرگوں، احباب اور شخصیات نے تشریف لا کر، فون کر کے اور پیغامات کے ذریعہ ہمارے غم و صدمہ میں شرکت کا اظہار کیا ہے اور جن بزرگوں نے جہاں بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کا اہتمام کیا ہے، ہم ان سب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے غم و صدمہ کے اس مرحلہ میں ہماری حوصلہ افزائی فرمائی ہے جس سے ہمارا غم ہلکا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو اجرِ جزیل سے نوازیں اور مولانا قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
سب بزرگوں اور دوستوں کا تذکرہ تو بہت مشکل ہے البتہ چند سرکردہ شخصیات کا بطور خاص ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے جنہوں نے خود تشریف لا کر یا فون میسج کے ذریعہ ہماری حوصلہ افزائی اور مرحوم کے لیے دعاؤں کا اہتمام کیا۔
خود تشریف لانے والے حضرات
حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، کندیاں شریف
حضرت مولانا محمد عمر قریشی، کوٹ ادو
حضرت مولانا نظام الحق تھانوی، کراچی
حضرت مولانا عبد الرؤف فاروقی، لاہور
حضرت مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی، آزاد کشمیر
حضرت مولانا سلیم اعجاز صاحب
حضرت مولانا عبد الرؤف محمدی مع رفقاء، اسلام آباد
حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین، چکوال
مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج صاحب، مدینہ منورہ
مولانا زاہد محمود قاسمی صاحب، فیصل آباد
مولانا قاری احمد علی ندیم صاحب، سرگودھا
حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، ملتان
حضرت مولانا قاری عتیق الرحمٰن، راولپنڈی
حضرت مولانا فہیم الحسن تھانوی، لاہور
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثالث، ملتان
مولانا سید عطاء المنان شاہ بخاری، چناب نگر
حضرت مولانا مفتی محمد اشفاق، کوٹ ادو
جسٹس ریٹائرڈ جناب افتخار احمد چیمہ
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ، ایم این اے وزیر آباد
جناب ذوالفقار احمد چیمہ، سابق آئی جی پنجاب
محترم حاجی عبد اللطیف چیمہ، چیچہ وطنی
حضرت مولانا خالد حسن مجددی، گوجرانوالہ
مولانا مفتی نعیم اللہ، گوجرانوالہ
مولانا معاویہ اعظم، جھنگ
مولانا طاہر اشرف، شیخوپورہ
مولانا مفتی عبد الرحمٰن، ناظم وفاق پنجاب
مولانا زبیر احمد صدیقی، اسلام آباد
مولانا محمد نذیر فاروقی، اسلام آباد
مولانا تنویر احمد علوی، اسلام آباد
مولانا جمیل فاروقی، اسلام آباد
مولانا محمد امجد خان، لاہور
مولانا صفی اللہ، لاہور
حافظ نصیر احمد، لاہور
مولانا غضنفر عزیز، لاہور
ٹیلی فون کے ذریعے تعزیت و دعا کرنے والے حضرات
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، کراچی
قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن، اسلام آباد
حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، لاہور
حضرت مولانا اللہ وسایا، لاہور
حضرت مولانا اشرف علی، راولپنڈی
حضرت مولانا علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، لاہور
مولانا پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، لاہور
حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، ملتان
مولانا محمد احمد لدھیانوی، کمالیہ
حضرت مولانا غلام اللہ، زاہدان، ایران
حضرت مولانا سعید احمد عنایت اللہ، مکہ مکرمہ
حضرت مولانا مفتی محمد ارشد، ہانگ کانگ
حضرت مولانا عبد المالک، ڈھاکہ
حضرت مولانا محمد عبد الرشید ربانی، لندن
حضرت مولانا رضاء الحق سیاکھوی، برطانیہ
مولانا رشید الحق خان عابد، بیرون ملک
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد، سعودی عرب
منجانب: ابوعمار زاہد الراشدی و فرزندان مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ
خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی جامعہ نصرۃ العلوم آمد
مولانا حافظ محمد حسن یوسف
آج مؤرخہ 23 اگست 2025ء بروز ہفتہ صبح سوا نو بجے کے قریب جانشین خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، قائم مقام امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان) جامعہ نصرۃ العلوم میں مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی تعزیت کے سلسلہ میں تشریف لائے اور جامعہ کے مہمان خانہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، مہتمم جامعہ مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب، مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ کے صاحبزادگان اور دیگر حضرات سے تعزیت کی، اور مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لئے دعائے خیر فرمائی۔
بعد ازاں مہتمم صاحب کی گزارش پر حضرت خواجہ صاحب دارالاہتمام میں تشریف لائے اور مہتمم صاحب کے ساتھ چائے نوش فرمائی۔ چائے سے فارغ ہو کر جامعہ کے مدرس اور حضرت مہتمم صاحب کے سمدھی مولانا عبد الرحیم صاحب کو اپنے سلسلہ عالیہ میں خصوصی بیعت فرمایا۔
اسی دوران جامعہ کے دورہ حدیث کے طلباء نے حضرت مہتمم صاحب سے فرمائش کی کہ آپ حضرت خواجہ صاحب سے ہمارے لئے اجازتِ حدیث کی درخواست کر دیں۔ چنانچہ حضرت مہتمم کی درخواست سن کر حضرت خواجہ صاحب مہتمم صاحب سے فرمانے لگے کہ آپ کے ہوتے ہوئے تو ہماری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن شفقت فرماتے ہوئے حضرت خواجہ صاحب نے درخواست قبول فرمائی اور دورہ حدیث کے تمام طلباء اور کچھ فضلاء حضرات حضرت خواجہ صاحب اور مہتمم صاحب کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ ایک طالب علم نے حضرت خواجہ صاحب اور مہتمم صاحب کو بخاری شریف کی آخری حدیث مبارکہ پڑھ کر سنائی۔ بعد ازاں حضرت خواجہ صاحب نے تمام طلباء کو اپنے تمام سلاسل میں اجازتِ حدیث عنایت فرمائی، قیمتی نصائح سے نوازا اور اپنے حدیث کے اساتذہ کا مختصر تذکرہ بھی کیا۔
اور پھر مصافحہ و دعائے خیر کے ساتھ اپنے اگلے سفر کی طرف روانہ ہوئے۔
(۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی جامعہ نصرۃ العلوم آمد
مولانا حافظ فضل اللہ راشدی
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ممتاز سیاسی و سماجی رہنما، ضلع مانسہرہ کے ناظم سردار سید غلام، زاہد میر، چوہدری طارق گجر اور عثمان گورسی بھی شریک تھے۔
اس موقع پر انہوں نے ناظمِ جامعہ مولانا محمد منیر، اساتذہ کرام اور طلباء کے ساتھ ملاقات کی اور حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ کے فرزندانِ گرامی: مولانا نصر الدین خان عمر، مولانا حبیب القدوس خان معاویہ، حافظ قاری عبدالرشید خان سالم، مولانا عبدالوکیل خان مغیرہ، حافظ علم الدین خان ابوہریرہ اور حافظ شمس الدین خان طلحہ سے تعزیت کی۔
جامعہ کے مہمان خانے میں منعقدہ نشست میں علما و طلبہ کرام نے وفاقی وزیر کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور خاندانِ مفسرِ قرآن و خاندانِ امام اہل سنت کی طرف سے سردار محمد یوسف کا شکریہ ادا کیا گیا اور پاکستان کے نظریاتی و جغرافیائی تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔
اس موقع پر سردار محمد یوسف نے امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ اور حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم سے اپنے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ جامعہ اشاعت الاسلام کالج دوراہا مانسہرہ میں دو مرتبہ تشریف لائے: پہلی بار 10 جون 2009 کو اور دوسری بار 4 جون 2012 کو، اور دونوں مواقع پر جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علماء اور عوام الناس نے ان کے فیوض و برکات سے استفادہ کیا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ سادگی، عاجزی اور انکساری کے پیکر تھے۔ بظاہر سادہ مزاج ہونے کے باوجود جب زبان کھولتے تو علم و فضل کے چشمے بہا دیتے، اور جب قلم اٹھاتے تو معارف کے سمندر رواں ہو جاتے۔ ان کی علمی، تدریسی، تحریکی اور اصلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم کو اپنی محبتوں کا مرکز قرار دیا اور بتایا کہ حضرت شیخین کے والد محترم نور احمد خان رحمہ اللہ اپنے علاقے کے جلیل القدر بزرگ تھے، جن کے فرزندان نے ان کی عزت و ناموس کو چار چاند لگائے۔ اسی ضمن میں انہوں نے کڑمنگ بالا کی جامع مسجد کے افتتاحِ جمعہ کا بھی تذکرہ کیا۔
وفاقی وزیر نے نمازِ ظہر جامعہ نصرۃ العلوم میں ادا کی اور بعد ازاں ایک طویل نشست میں اپنی دینی وابستگی، خاندانی پس منظر، علماء سے تعلق اور سرکاری خدمات کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ نشست کا اختتام مولانا فضل الہادی کی پُراثر دعا پر ہوا، جس کے بعد سردار محمد یوسف ایک اہم سرکاری میٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
امیرتنظیمِ اسلامی پاکستان جناب شجاع الدین شیخ کی الشریعہ اکادمی آمد
مولانا محمد عامر حبیب
گزشتہ روز تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر جناب شجاع الدین شیخ صاحب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ تشریف لائے، جہاں انہوں نے اکادمی کے مدیر حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب سے ان کے برادرِ گرامی مولانا عبدالقدوس خان قارن علیہ الرحمہ کی وفات پر تعزیت کی۔ مغرب کے وقت جب شیخ صاحب اکادمی پہنچے تو معمول کے مطابق اکادمی میں ہفتہ وار فکری نشست جاری تھی۔ حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب نے جناب شجاع الدین شیخ صاحب کو خطاب کی دعوت دی۔
اس موقع پر تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ الشریعہ اکادمی آمد کے دو مقاصد تھے، ایک حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب سے ان کے برادرِ محترم کی وفات پر تعزیت اور دوم حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کی زیارت کی سعادت۔
انہوں نے کہا کہ مولانا زاہدالراشدی صاحب ہم پر ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں۔ میرے لیے سعادت ہے کہ جب سے تنظیم اسلامی کی ذمہ داری میرے اوپر عائد ہوئی ہے حضرت سے استفادے اور رہنمائی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، روزنامہ اسلام میں حضرت کے آرٹیکلز اور ماہنامہ الشریعہ (آن لائن) سے استفادہ ہوتا ہے۔ سیکولر، لادین طبقے کے اسلام اور اسلامی نظام پر اعتراضات کے جوابات کے حوالے سے حضرت کی بڑی خدمات ہیں۔ ہم جب بھی ان کے سامنے اپنا دردِ دل رکھتے ہیں تو اپنی شفقتوں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد اپریل 2010ء میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک کے چوٹی کے علماء ملکی حالات اور مسائل کے حوالے سے جمع ہوئے تھے اور حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی سربراہی میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تھا، اس میں بھی حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کا بنیادی کردار تھا۔
انہوں نے کہا سود کے خلاف تحریک میں جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی کے ساتھ حضرت نے بھرپور معاونت فرمائی اور اسی حوالے سے ایک اجلاس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ جس طرح 1974ء کی تحریک ختم نبوت چلی تھی، جس کا تعلق عقیدے سے تھا اور اس میں سب مسالک اور مکاتبِ فکر جمع تھے اسی طرح سود کے خلاف بھی ایسی تحریک چلنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ اور رسول سے جنگ کے خلاف تحریک ہے۔
آخر میں مدیر اکادمی حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب نے فرمایا ہمیشہ دینی جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کی ہے، اسی لیے آئندہ بھی دینی تحریکات کے لیے مل کر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد عمارخان ناصر، مولانا نصرالدین خان عمر، چوہدری بابر رضوان باجوہ، حافظ امجد معاویہ، حافظ خرم شہزاد، حافظ عبدالجبار، مولانا محفوظ الرحمٰن، مفتی عثمان جتوئی، ڈاکٹر محمد رشید اور اکادمی کے دیگر رفقاء اور متعلقین بھی موجود تھے۔
جامعہ نصرۃ العلوم میں تعزیت کیلئے شخصیات اور وفود کی آمد
منجانب : حافظ علم الدین خان ابوہریرہ
جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحبؒ کی وفات کا صدمہ بہت بڑا صدمہ ہے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب سے گوجرانوالہ کے علماء کرام کی اظہارِ تعزیت کے لیے جامعہ نصرت العلوم تشریف آوری۔
منجانب: قاری ضیاء اللہ، سیکرٹری اطلاعات تنظیم القراء پاکستان
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
ابن امام اہلسنت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحبؒ کی تعزیت کیلئے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ حاضری۔ حضرت والد صاحب دامت برکاتہم کی مولانا فیاض خان سواتی صاحب، مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب اور حضرت کے پوتے برادرم مولانا احسن خدامی سے ملاقات۔ حضرت قارن صاحبؒ کی وفات پر تعزیت کی اور بلندئ درجات کی دعاء فرمائی۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
آج گوجرانوالہ نصرت العلوم میں حضرت قارن صاحبؒ کے جنازہ کے بعد حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کے ساتھ قائدِ پنجاب ترجمانِ جمعیت حافظ نصیر احمد احرار کی معیت میں تعزیت کرتے ہوئے۔ اللہ پاک خاندان امام اہلسنت کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے اور حضرت قارن صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ عطاء فرمائے، آمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
قائدِ پنجاب حافظ نصیر احمد احرار صاحب اور دیگر جماعتی ساتھیوں کے ساتھ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں استاذ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی تعزیت کے لیے جامعہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی صاحب سے ملاقات۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
پیکرِ اخلاص و محبت حضرت مولانا قاری محمد ریاض صاحب (امیر جمعیت علمائے اسلام تحصیل خانپور)، حضرت مولانا عمر طاہر صاحب (صدر اہلسنت والجماعت)۔ شیخ الحدیث فرزند امام اہلسنت حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللّٰہ کی تعزیت کیلئے جامعہ نصرت العلوم گجرانوالہ میں شیخین کی خدمت میں حاضری۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
والد گرامی قدر شیخ الحدیث مولانا قاضی فاروق احمد کھٹانہ صاحب متعنا اللہ بطول حیاتہ کی حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت، شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ، مولانا فیاض خان سواتی صاحب مدظلہ اور دیگر خاندان کے افراد سے تعزیت۔ اللہ تعالیٰ حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ کی خدماتِ دینیہ قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے، تمام خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
خطیبِ یورپ و ایشیا علامہ یحییٰ عباسی صاحب مدرسہ نصرت العلوم میں مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ان کے برادرِ صغیر استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ تعالی کی تعزیت کیلئے ملاقات کرتے ہوئے۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ- اظہارِ تعزیت- ابنِ جانشینِ شیخُ القرآن حضرت مولانا ولی اللہ خان صاحب اور مولانا حسین علی صاحب نے حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ان کے برادرِ مکرم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کی وفات پر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ و متعلقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا امجد خان حفظہ اللہ تعالیٰ کی مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں مفکر اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ان کے برادرِ صغیر استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تعزیت کیلئے ملاقات اور مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا فرماتے ہوئے۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
کل ۱۶ اگست کو اشاعت التوحید والسنت گوجرانوالہ کے وفد میں نصرت العلوم حاضر ہوا اور استاد العلماء عالم با عمل استاد المدرسین استاذ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خاں قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ (ایک باوقار با اخلاق صاحبِ علم و بصیرت اور انتہائی مشق شخصیت) کی وفات پر ان کے صاحبزادے حضرت مولانا نصر الدین عمر خان اور چچا زاد بھائی مہتمم جامعہ نصرت العلوم استاد العلماء عالم باعمل حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ یقیناً حضرت کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ ہے، حضرت استاد الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی وفات نہ صرف تشنگانِ علوم کے لیے بلکہ خود بڑے بڑے مدرسین بڑے بڑے مفتیان کرام کے لیے بھی بہت بڑا نقصان دہ مرحلہ ہے۔ نصف صدی تدریسی خدمات سے اہلِ علم کو مختلف علوم سے سیراب کرنے والی اس شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دعا ہے اللہ رب العزت حضرت کو جنت میں بلند جگہ دے آمین۔ وفد میں استاد العلماء امیر ضلع حضرت مولانا مفتی عبدالقاہر جرجانی صاحب، ممبر کور کمیٹی ڈویژن گوجرانوالہ حضرت مولانا شہباز رسول صاحب، نائب امیر حضرت مولانا حاکم صاحب، نائب ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا اسحاق حقانی صاحب و دیگر علماء شریک تھے۔
منجانب:
محمد اعجاز غزنوی ناظم نشر و اشاعت جمعیت اشاعت التوحید والسنہ گوجرانوالہ
صاحبزادہ سلمان حمید قریشی بن مولانا عبدالحمید قریشی رحمہ اللہ
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء / ۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث، ہمارے جامعہ میں دورہ تفسیر کے مؤسس، امام اہل السنت شیخ التفسیر مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے خلف الرشید شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات پر جامعہ نصرۃ العلوم حاضری۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا عبد الحق خان بشیر، حضرت مولانا محمد فیاض سواتی، [فرزندانِ] مولانا محمد قارنؒ اور دیگر مشائخ سے برادرم مولانا مفتی محمد طیب معاویہ، مولانا محمد ریاض جھنگوی مہتمم جامعہ مدینۃ العلم گوجرانوالہ کے ہمراہ تعزیت۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
جے یو آئی پنجاب کے قائم مقام امیر مولانا صفی اللہ کی قیادت میں جے یو آئی وفد کی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آمد۔ جے یو آئی کے صوبائی وفد نے مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی وفات پر شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی اور مولانا نصر الدین خان عمر سے تعزیت کی۔ وفد نے مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ وفد میں صوبائی نائب امیر مولانا جمال عبد الناصر، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز اور حافظ عبدالودود شامل تھے۔
جاری کردہ: میڈیا سیل جے یو آئی پنجاب
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
گوجرانوالہ۔ شیخ الحدیث استاذ العلماء حضرت مولاناعبدالقدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تعزیت کے لیے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں حاضری ہوئی، جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب اور حضرت مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب سے تعزیت کی۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور حضرت کی دینی خدمات کو اپنے دربار میں قبول فرمائے آمین ثم آمین۔
منجانب: پیر جی قاری محمد صالح عثمانی، فاضل نصرت العلوم گوجرانوالہ
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا فرید احمد حقانی بالاکوٹی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ (امیر جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ پنجاب، صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پنجاب) نے استاد العلماء حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی وفات پر ان کے ورثاء سے تعزیت کا اظہار کیا۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
گوجرانوالہ: استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن نور اللہ مرقدہ کے انتقال پر تعزیتی ملاقات۔ مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی محمد فیاض خان سواتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ناظمِ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (صوبہ پنجاب) شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عبد الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تعزیت کی۔ اس موقع پر حضرت مولانا قاضی مراد اللہ خان صاحب، مسئول وفاق المدارس العربیہ پاکستان ضلع گجرانوالہ حضرت مولانا جواد محمود قاسمی صاحب، معروف خطیب حضرت مولانا عبد الجبار سلفی صاحب، چوہدری بابر رضوان باجوہ صاحب، حضرت مولانا قاری محمد طاہر رشید صاحب و دیگر شخصیات بھی موجود رہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
جمعیت علماء اسلام تحصیل فیروزوالہ کے صدر پروفیسر حافظ مدثر سلیم گجر ممبر مرکزی مجلسِ عمومی و کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل ضلع شیخوپورہ زید معاویہ گجر اور صدر ضلعی بزنس فورم مفتی زاہد حسین صاحب کی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر اظہار تعزیت کے ان کے بڑے صاحبزادے نصرالدین خان عمر سے ملاقات اور اظہارِ افسوس۔ حضرت کے سب سے چھوٹے بھائی مولانا عبد الحق صاحب اور مناظر اسلام مولانا عبد الجبار سلفی بھی موجود۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
استاذ العلماء یادگارِ اسلاف شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب نوَّر اللّٰہ مرقدہ کے انتقالِ پُرملال پر اظہارِ تعزیت کے لیے مسئول وفاق المدارس العربیہ پاکستان برائے گوجرانوالہ و حافظ آباد مہتمم مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم اللّٰہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ آمد اور حضرت استاد جی مفکر پاکستان استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے اور حضرت استاد جی قارن صاحبؒ کے بیٹوں سے اظہارِ افسوس کیا۔ اللّٰہ رب العزت حضرت استاد جی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسِ ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
جے یو آئی پاکستان کے مرکزی شوریٰ کے رکن، سابق امیرِ پنجاب ڈاکٹر قاری عتیق الرحمٰن صاحب مدظلہ کی اپنے وفد کے ہمراہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں آمد۔ مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحبؒ کی ناگہانی وفات پر ان کے بیٹے مولانا عمر قارن صاحب اور [چچازاد] بھائی مولانا فیاض خان سواتی صاحب مدظلہ سے اظہارِ تعزیت اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعاء مغفرت و فاتحہ خوانی۔. وفد میں جے یو آئی ضلع گوجرانوالہ کے سرکردہ راہنما مولانا سمیع الحق صاحب، قاضی مراد اللہ صاحب اور بابر رضوان باجوہ صاحب کے علاوہ جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے نائب مہتمم قاری محمد انس صاحب اور پرسنل سیکرٹری مولانا حلیم الرحمٰن صاحب بھی شامل تھے۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
گجرانوالہ جامعہ نصرت العلوم میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے رہنماء حضرت مولانا قاری محمد رفیق وجھوی صاحب امیر مرکزیہ [پاکستان شریعت کونسل] مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی اور گجرانوالہ کے امیر صاحبزادہ حافظ نصر الدین خان عمر سے استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کی وفات پر اظہارِ تعزیت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل پنجاب مولانا قاری محمد عثمان رمضان، حافظ گلزار احمد آزاد و دیگر بھی موجود ہیں۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وفات پر تعزیت کیلئے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ حاضری، حضرت کے برادران، صاحبزادے اور عزیز و اقارب سے مولانا مطلوب الرحمٰن اور مولانا طاہر الحسن کوڑالوی کے اور حافظ گلزار احمد آزاد کے ہمراہ ملاقات۔ مرحوم کی دینی و ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کے لئے دعاء مغفرت کی گئی۔ مداحِ رسول فیصل بلال صاحب سے بھی ملاقات، ان کی تیمارداری کی۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
جالندھری برادران حضرت مولانا قاری عبد الرحمٰن جالندھری، مولانا ہدایت اللہ جالندھری، قاری حبیب اللہ جالندھری، قاری سیف اللہ جالندھری، کی استادِ محترم حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کی خدمتِ اقدس میں اُن کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب نوّر اللہ مرقدہ کی وفات پر بطورِ تعزیت حاضری۔ اللّٰہ کریم اُستاد جی مرحوم کے درجات بلند فرمائیں اور استادِ محترم مفکرِِ اسلام سمیت جملہ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
(خادم العلماء ابو الحسن عطاء الرحمٰن جالندھری)
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
اظہارِ تعزیت۔ استاذ الحدیث جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ کی وفاتِ پُرملال پر صاحبزادہ حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی رحمہ اللہ قاری صہیب احمد عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے فرزند و رفقاء کے ہمراہ جامعہ نصرت العلوم گجرانوالہ تشریف لے گئے۔ حضرت نے مرحوم کے صاحبزادگان، عزیز و اقارب، متعلقین اور مہتمم جامعہ سے ملاقات کر کے دلی رنج و غم کا اظہار فرمایا، مرحوم کے لیے مغفرت و بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
گوجرانوالہ- امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے صاحبزادے استاد الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کی نماز جنازہ میں قائد پنجاب جنرل سیکرٹری جے یو آئی پنجاب حافظ نصیر احرار کی شرکت، شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی و حاجی فیاض خان سواتی سے اظہارِ تعزیت۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کی وفات پر جامعہ نصرت العلوم میں صاحبزادہ مولانا محمد ایوب خان ثاقب کی قیادت میں دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کا ایک وفد مولانا نصر الدین خان عمر، حاجی محمد فیاض خان سواتی مہتمم جامعہ ہٰذا سے تعزیت کرتے ہوئے۔ مرحوم استاد محترم کی بلندی درجات کے واسطے دعا گو ہیں۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
خطیبِ یورپ و ایشیا صاحبزادہ مولانا محمد یحییٰ عباسی کی گوجرانوالہ جامعہ نصرت العلوم آمد۔ مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے برادر حضرت مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات پر تعزیت کی۔ مہتمم جامعہ حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی اور حضرت مولانا عبدالقدوس رحمہ اللہ کے صاحبزادگان سے ملاقات اور تعزیت کی۔ جبکہ میزبان مکرم حضرت مولانا جواد احمد قاسمی مسئول وفاق المدارس العربیہ گوجرانوالہ اور ملک کے معروف نعت خواں محترم فیصل بلال صاحب بھی ہمراہ تھے۔ بعد از حاجی محمد شہزاد صاحب اور مولانا جواد قاسمی صاحب کی طرف سے حاجی شہزاد صاحب کے فام ہاؤس پر پُروقار عشائیے میں شرکت کی۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی تعزیت کے لئے مولانا نظام الحق تھانوی، مولانا عبدالرؤف فاروقی اور قاری عتیق ارشد صاحب کے ساتھ نصرۃ العلوم حاضری، مولانا زاہد الراشدی صاحب اور مولانا فیاض خان سواتی صاحب سے ملاقات۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
امیر تحریک خدام اہل سنت والجماعت پاکستان صاحبزادہ حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر صاحب دامت برکاتہم کی جماعتی وفد کے ہمراہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں تشریف آوری۔ ماموں جان استاد الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر ان کے صاحبزادگان اور متعلقین سے اظہار تعزیت۔ وفد میں امیر تحریک خدام اہل سنت والجماعت پنجاب حضرت مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق صاحب دامت برکاتہم، امیر راولپنڈی ڈویژن مولانا قاری عطاء اللہ طارق صاحب، امیر ہزارہ ڈویژن استاد العلماء حضرت مولانا نور الٰہی صاحب دامت برکاتہم، مولانا حافظ نعمان فاروق صاحب ڈومیلی، مولانا محمد فاروق حیدری صاحب، حاجی اشتیاق صاحب اور دیگر احباب شامل تھے۔ اس موقع پر قائدِ اہلسنت نے مرحوم کی دینی و مسلکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات کو ایک ناقابلِ تلافی سانحہ قرار دیا۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
سترہ اگست یومِ شہادت جنرل ضیاء الحق شہید اور مولانا علی شیر حیدری۔ تعزیت برائے علامہ عبد القدوس قارن۔ پاکستان شریعت کونسل کے وفد کے ہمراہ گجرانوالا نصرت العلوم۔
(مفتی رویس ایوبی۔ ۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
امیر خدام اہل سنت والجماعت پاکستان حضرت مولانا قاضی محمد ظہور الحسین اظہر صاحب دامت برکاتہم کی امیر پنجاب حضرت مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق صاحب دامت برکاتہم و دیگر احباب کے ہمراہ الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ آمد۔ حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ سے ان کے برادرِ صغیر مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات پر اظہار تعزیت۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
سفر برائے تعزیت۔ استاد العلماء حضرت مولانا محمد اشفاق قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی اپنے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبید الرحمٰن قاسمی صاحب کے ہمراہ، مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے گوجرانوالہ تشریف آوری۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم و تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ رانا محمد شاہد کریم. حافظ غلام رسول سوتر اور منظور احمد شریکِ سفر ہیں۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
ملک و ملت کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضری اور ان کے بھائی مولانا عبدالقدوس قارن کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ ہمراہ حضرت مولانا عبدالرؤف فاروقی صاحب لاہور، حضرت مولانا سید فہیم الحسن تھانوی صاحب لاہور اور حضرت مولانا نظام الحق تھانوی دامت برکاتہم العالیہ آف آسٹریلیا۔
(۲۱ اگست ۲۰۲۵ء)
پیارے حضرت جی کے حکم پر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے پاس مولانا عبد القدوس قارن صاحب کی تعزیت کے لئے حاضری۔
(۲۱ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفہ مجاز جامعہ معہد الفقیر الاسلامی جھنگ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا پیر حبیب اللّٰہ نقشبندی مجددی مدظلہ حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ کے حکم سے شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ سے استاذ العلماء حضرت مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن نور اللّٰہ مرقدہ و رحمۃ اللّٰہ علیہ رحمۃ واسع کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ حضرت استادِ گرامیؒ کی قبر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے ساتھ گوجرانوالہ سے مقامی خلفاء حضرت حافظ انعام اللّٰہ جاوید نقشبندی مجددی مدظلہ، صوفی محمد اسلم مرزا نقشبندی مجددی مدظلہ، مولانا معظم علی نقشبندی مجددی مدظلہ اور جماعت کے دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔
(۲۲ اگست ۲۰۲۵ء)
آج مورخہ 23 اگست 2025ء بروز ہفتہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں جانشین شیخ المشائخ حضرت مولانا صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ مسند نشین خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ کندیاں قائمقام مرکزی امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان مفکرِ اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ کی تعزیت کے لئے تشریف لے گئے جو گزشتہ جمعہ کو انتقال فرما گئے تھے۔ اس موقع پر مہتمم جامعہ نصرت العلوم حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب، مولانا عبدالقدوس قارن رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند حضرت مولانا نصر الدین عمر، امن کمیٹی گوجرانوالہ کے اہم رکن مولانا خالد حسن مجددی، جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ کی قیادت سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود ہیں۔
(۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ فرزندِ امام اہل سنت، محقق العصر حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی وفات علمی و دینی حلقوں کے لیے نہایت جانکاہ سانحہ ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی بصیرت، فقہی مہارت اور دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آج مورخہ 28 صفر المظفر 1447ھ مطابق 23 اگست 2025ء، حضرت مولانا زکریا صاحب (مدیر الجامعہ و جانشین حضرت شیخ رحمہ اللہ)، حضرت مولانا انجم نوید صاحب (استاذ الحدیث)، حضرت مولانا تقی صاحب اور حضرت مولانا عمر فاروق صاحب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ حاضر ہوئے اور حضرت مہتمم جامعہ مولانا فیاض احمد خان سواتی مدظلہ، نیز مرحوم کے اعزہ و صاحبزادگان سے تعزیتِ مسنونہ کی۔ اللہ رب العزت حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو تا دیر باقی رکھے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات اور اپنے مقربین و صلحاء کے جوار میں جگہ عطا فرمائے، اور پسماندگان و تلامذہ کو صبر جمیل کے ساتھ مرحوم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)
22 اگست، 2025ء دورہ گوجرانوالہ۔ اہم ترین۔ مردِ حق، پاسبانِ مشنِ حق، محافظِ پاکستان، جرنیل ابن جرنیل مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کی قائد گوجرانوالہ مفتی اسلم طارق صاحب کے ہمراہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ آمد۔ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے صاحبزادے شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی وفات پر لواحقین سے اظہار تعزیت۔
(۲۴ اگست ۲۰۲۵ء)
آج مؤرخہ 26 اگست بروز منگل بعد نماز فجر والد گرامی کے ہمراہ گوجرانوالہ روانگی ہوئی جہاں سب سے پہلے برادرِ عزیز ہر دل عزیز مولانا عمر فاروق صاحب مدیر ادارۃ الحسنات کی معیت میں استاذ الحدیث جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ کی وفاتِ پُرملال پر تعزیت کے لیے جامعہ مدینۃ العلم میں مفکر اسلام حضرت علامہ زاہدالراشدی صاحب دامت فیوضہم کی خدمت حاضر ہوئے۔ حضرت سے ملاقات کے بعد الحسنات میڈیا نیٹ ورک کے سٹوڈیو میں جانے کا موقع ملا اور اس ادارہ کے چیف ایگزیکٹو نوجوان عالمِ دین حضرت مولانا عمر فاروق صاحب سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں خطیب العصر مبلغ اسلام علامہ شاہ نواز فاروقی صاحب دامت برکاتہم العالیہ مرکزی جنرل سیکرٹری مرکزی علماء کونسل پاکستان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو عمرہ کی مبارک باد پیش کی اور ان کی مہمان نوازی اور پرتکلف ضیافت سے لطف اندوز ہو کر بوقتِ عصر جہلم واپسی ہوئی۔ الحمد للہ۔
قاری شبیر احمد، صدر مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم
(۲۶ اگست ۲۰۲۵ء)
نائب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر مولانا سعید یوسف خان صاحب نے ابن امام اہلسنت حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ سے ان کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ کی وفات پر ان کے بڑے بیٹے مولانا حافظ نصر الدین خان عمر سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے مولانا قارن صاحبؒ کی دینی، تصنیفی، مسلکی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے بلندی درجات کی خصوصی دعا فرمائی۔ اس موقع پر عبدالقادر عثمان، حافظ دانیال عمر، حافظ شاہد الرحمٰن میر بھی موجود تھے۔
(حافظ دانیال عمر — ۵ ستمبر ۲۰۲۵ء)
الشریعہ اکادمی میں تعزیت کیلئے شخصیات اور وفود کی آمد
ادارہ الشریعہ
شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب کے برادرِ صغیر مولانا عبد القدوس قارن صاحب کی وفات پر اظہار تعزیت کے لئے علماء کرام کا ایک وفد الشریعہ اکیڈمی گجرانوالہ گیا۔ وفد میں مولانا محمد ثناء اللہ غالب صاحب، مولانا سید علی محی الدین شاہ صاحب، مولانا عبد الروف محمدی صاحب، مفتی سید عبد اللطیف شاہ صاحب اور ملک سعید احمد اعوان صاحب شامل تھے۔ بعد ازاں پاکستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ نصرۃ الاسلام گجرانوالہ میں بھی حاضری ہوئی۔ جہاں جامعہ کے مہتمم مولانا فیاض خان سواتی صاحب اور مولانا قارن مرحوم کے صاحب زادے حافظ نصر الدین عمر و دیگر سے بھی اظہار افسوس کیا گیا۔
اس سے پہلے وزیر آباد میں معروف ماہر تعلیم پروفیسر منیر احمد صاحب کی دعوت پر ان کے تعلیمی ادارے امپیریل سکول اینڈ کالج میں وفد کی حاضری ہوئی جہاں انہوں نے پورے کالج کا وزٹ کروایا اور نصاب و نظام پر روشنی ڈالی۔ اور گجرانوالہ سے واپس ہوتے ہوئے نکودر منگلا روڈ دینہ میں معیاری اور معروف درسگاہ جامعہ الحسینیہ میں وفد پہنچا جہاں ادارے کے سربراہ مولانا قاری خالق داد عثمان صاحب سے ان کی اہلیہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کی۔ رات گئے اسلام آباد واپسی ہوئی۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
گوجرانولہ: نبیرۂ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء المنان بخاری مدظلہ (مرکزی ناظم دعوت و تبلیغ مجلس احرار اسلام پاکستان) نے الشریعہ اکادمی کا دورہ کیا، اور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ملاقات کی اور ان کے بھائی مولانا عبدالقدوس قارنؒ کی وفات پر تعزیت کے ساتھ ساتھ سالانہ احرار ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر مجلس احرار اسلام گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل حافظ محمد اکمل و دیگر بھی موجود تھے۔
(۲۹ اگست ۲۰۲۵ء)
چیمہ برادران کی تعزیت کے لیے آمد
جسٹس ریٹائرڈ محترم افتخار احمد چیمہ، محترم ڈاکٹر نثار احمد چیمہ (ایم این اے وزیر آباد)، محترم ذوالفقار احمد چیمہ (سابق آئی جی پنجاب) کی ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے ہمراہ شیخ الحدیث مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب سے ان کے چھوٹے بھائی شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن صاحب کی وفات پر تعزیت کے لیے الشریعہ اکیڈمی کنگنی والہ آمد۔ اس موقع پر مہمانوں نے حضرت قارن صاحبؒ کی دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے بلندئ درجات کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر
(۳۱ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کا سفرِ آخرت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ جمعۃ المبارک کو برادرِ عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارنؒ اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک عرصہ سے بیمار تھے مگر معمولات مسلسل جاری رہے، جمعرات کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حسبِ معمول اسباق پڑھائے اور جمعۃ المبارک کو صبح نمازِ فجر پڑھائی۔ جمعہ سے قبل خطبۂ جمعہ کی تیاری کر رہے تھے، غسل کیا اور کپڑے پہنے، اسی دوران اجل کا بلاوا آ گیا، حرکتِ قلب بند ہوئی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے۔ مجھے مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد اس سانحہ کی اطلاع ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب نے دی، فوری ان کے گھر حاضر ہوا تو وہ سوگوارانِ خاندان کے حصار میں ایسے گھرے ہوئے تھے کہ چہرے پر بلا کا سکون تھا، یوں جیسے آرام سے سو رہے ہوں، ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کلمہ طیبہ اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، بیٹوں سے تعزیت کی اور ہم ان کی تجہیز و تکفین کے انتظامات کے مشورہ میں مصروف ہو گئے۔
ان کا سنِ ولادت ۱۹۵۲ء ہے، اس لحاظ سے انہوں نے تہتر سال کی عمر پائی ہے اور وہ ساری عمر پڑھنے پڑھانے اور درس و تدریس میں مصروف رہے۔ حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کے خصوصی تلامذہ اور تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی و تدریسی اور تصنیفی معاملات میں ان کے معاون بھی تھے، اعلیٰ پائے کے مدرس تھے، معقولات و منقولات دونوں پر یکساں دسترس رکھتے تھے، ابتدا سے دورہ حدیث تک ہر درجہ کی کتابیں پڑھائیں، تفہیم کا ذوق بہت عمدہ تھا، شاگردوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے اور بے تکلف گفتگو کا مزاج تھا جس سے ان کے شاگرد بہت محظوظ ہوتے تھے۔
میں نے فراغت کے بعد کم و بیش بیس سال تک مدرسہ انوار العلوم میں تدریس کے فرائض انجام دیے جبکہ قارن صاحبؒ ابتدا سے ہی جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریس سے وابستہ ہو گئے اور کم و بیش نصف صدی کے لگ بھگ مسلسل تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ ایک عرصہ تک جامعہ نصرۃ العلوم کے ناظم بھی رہے۔ حضرت والد محترم اور عمِ مکرم رحمہما اللہ تعالیٰ جب زیادہ بیماری اور معذوری کے دور میں داخل ہوئے تو ان کے حکم پر میں نے بھی جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سنبھال لیں جو بحمد اللہ تعالیٰ اب تک جاری ہیں۔ بزرگوں کی وفات کے بعد دورۂ حدیث میں بخاری شریف ہم دونوں بھائیوں کے سپرد چلی آ رہی ہے، اس ترتیب کے ساتھ کہ ایک سال بخاری اول میرے پاس اور دوم ان کے پاس ہوتی تھی، جبکہ دوسرے سال اول ان کے پاس اور دوم میرے پاس ہوتی تھی۔ اس سال بھی اسی ترتیب سے اول ان کے پاس اور ثانی میرے پاس رہی، مگر وہ اپنے وقت پر بارگاہِ ایزدی میں پیش ہو گئے اور اساتذہ کے مشورہ سے بخاری اول جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کے سپرد کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل ترمذی شریف اول پڑھاتے چلے آ رہے تھے۔
تدریس میں ان دونوں کا ذوق فقہی مباحث کا ہے، دونوں حضرت والد محترم رحمہ اللہ کی طرز پر فقہاء کے اختلافات پر محدثانہ بحث کرتے ہیں اور بزرگوں کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مگر میرا مزاج مختلف ہے، اس لیے بخاری شریف کے سبق کے آغاز میں طلبہ سے عرض کر دیا کرتا ہوں کہ میرے ہاں آپ کو سبق میں صرف تین چیزیں ملیں گی: حدیث کا مفہوم و ترجمہ کیا ہے، ترجمۃ الباب کے ساتھ حدیث کا تعلق کیا ہے، اور آج کے عصری ماحول میں یہ حدیث ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے؟ فقہی مباحث آپ کو قارن صاحب اور فیاض صاحب کے ہاں ملیں گے اور میں تھوڑی بہت یہ خدمت طحاوی شریف میں کرتا رہوں گا، وہ بھی ایک عرصہ سے میرے زیر تدریس چلی آ رہی ہے۔
قارن صاحبؒ اول درجہ کے مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین خطیب بھی تھے اور پیپلز کالونی گوجرانوالہ کی جامع مسجد تقویٰ میں گزشتہ کم و بیش پینتیس سال سے جمعہ کی خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی وہیں خطبہ جمعہ کے لیے جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ وقت آگیا اور وہ خاموشی کے ساتھ اس دنیا کو خیرباد کہہ گئے۔ عشاء کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جو اُن کے بڑے فرزند اور پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا حافظ نصر الدین خان عمر نے پڑھائی اور ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام، دینی کارکنوں اور شہریوں نے اس میں شرکت کی۔ اس کے بعد انہیں قبرستان کلاں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور ان کے خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی روایات قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
’’تیرے بغیر رونقِ دل اور در کہاں‘‘
مولانا عبد الرحیم
بندہ اس قابل تو نہیں ہے کہ حضرتِ استادِ گرامی مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ پر کچھ لکھے، کیونکہ یہ کام تو اس میدان کے بڑے بڑے اصحابِ قلم اور دانشوروں کا ہے۔ بندہ نہ تو مستقل لکھاری ہے اور نہ ہی تحریر کے میدان میں بندہ کو کوئی مہارت حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد زادوں کا پیغام ملا کہ: ”میں حضرت استاد جی کے حوالے سے اپنی یادیں پیش کروں“ تو یہ پیغام میرے لیے کسی حکم سے کم نہیں تھا۔ اس لیے قلم و کاغذ لے کر کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
یہ محض مبالغہ آرائی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت استاد جی مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کوئی رسمی عالم، مدرس، فقیہ اور محدث نہیں تھے بلکہ حضورِ اقدس ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی ایک عملی تصویر تھے، صورت میں بھی اور سیرت میں بھی۔ حضرت استاد جی کی بالکل وہی کیفیت تھی کہ جب دیکھنے والا دور سے اور پہلی بار دیکھتا تو مرعوب ہوتا۔ حضرت استاد جی کے چہرے پر ایسا جلال طاری ہوتا تھا کہ دیکھنے والا مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، لیکن جب قریب سے دیکھتا اور کچھ شناسائی ہو جاتی تو ایک دوست کی طرح آپ سے بے تکلف ہو جاتا اور ایک قریبی اور بے تکلف دوست کی طرح پاتا۔
حضرت استاد جی کو میں نے پہلی بار سنہ 1991ء میں دیکھا، جب میں دورۂ تفسیر کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم آیا تھا۔ میرا درجہ رابعہ کا سال تھا۔ حضرت استاد جی کی اقتدا میں نمازیں پڑھتا اور فجر کے بعد ان کے درسِ قرآن میں ضرور شریک ہوتا۔ پھر سن 1996ء میں میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث شریف میں داخلہ لیا تو یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہماری ترمذی شریف مکمل حضرت استاد جی کے پاس تھی اور استاد جی کے سامنے عبارت پڑھنے کا موقع بھی اللہ تعالیٰ نے مرحمت فرمایا۔
حضرت استاد جی کے سامنے عبارت پڑھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ معمولی سی معمولی غلطی پر بھی حضرت استاد جی تنبیہ بھی فرماتے اور ٹوکتے بھی تھے۔ ترمذی جلدِ ثانی کی عبارت دو چار اور ساتھیوں نے بھی پڑھنے کی کوشش ضرور کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر چند دنوں کے بعد ترمذی شریف مکمل کی عبارت پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے موقع دیا۔ دورۂ حدیث والے سال حضرت استاد جی نے کئی مرتبہ کتابوں کی شکل میں انعام سے بھی نوازا۔
حضرت استاد جی: "ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ"، ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“ (ترمذی شریف)، کا عملی مصداق تھے۔ حق ڈنکے کی چوٹ بیان کرتے تھے، چاہے اس حق کی ضد میں کوئی رشتہ دار یا تعلق والا آتا ہو، اِس کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے۔ حق کے معاملہ میں کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے: ”حق کے معاملہ میں کسی قسم کی لچک اور سمجھوتہ کرنا نہ ہمارے دین کا مزاج ہے نہ میرا مزاج ہے“۔
"خافض الطرف، نظرہ الی الارض اطول من نظرہ الی السماء، جل نظرہ الملاحظۃ، یسوق اصحابہ ویبدا من لقی بالسلام" (شمائل ترمذی)
ترجمہ: "آپ ﷺ کی نگاہ نیچی رہتی تھی، آپ کی نظر زمین کی طرف آسمان کی طرف دیکھنے سے زیادہ ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کی زیادہ تر نظر غور و فکر اور اعتبار کی نظر ہوتی تھی۔ آپ اپنے اصحاب کو ساتھ لے کر چلتے اور جس سے بھی ملاقات کرتے سبقت کے ساتھ سلام میں ابتدا فرماتے تھے۔"
اس کا بھی عملی مصداق تھے۔ ہمیشہ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوتیں۔ میں نے کبھی ان کو سر اٹھائے ہوئے اور نظریں بلند کیے ہوئے چلتے نہیں دیکھا۔ چاہے وہ مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے مصلے پر جا رہے ہوں یا راستہ چل رہے ہوں، ہمیشہ ان کی نظر زمین پر ٹکی ہوتی تھی۔ عاجزی، انکساری اور سادگی حضرت استاد جی کی زندگی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور یقیناً یہ ایسی خوبیاں اور صفات تھیں کہ رشک آتا تھا۔
ایک دفعہ ایک سفر کے دوران حافظ آباد (مولانا نعمت اللہ صاحب دامت برکاتہم، مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم) کے کسی عزیز کے جنازے پر جا رہے تھے۔ مولانا ڈاکٹر خالد محمود لاہوری، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم، ہمارے ڈرائیور تھے۔ راستے میں گاڑی کا پٹرول ختم ہوا۔ پٹرول پمپ کچھ فاصلے پر تھا۔ ہم نے استاد جی سے کہا: ”حضرت! آپ گاڑی میں تشریف رکھیں، گرمی ہے، ہم گاڑی کو دھکا لگاتے ہیں۔“ لیکن حضرت استاد جی نہیں مانے۔ فرمایا: ”میں آپ لوگوں سے کمزور ہوں، پہلے میں گاڑی کو دھکا لگاؤں گا۔“ پھر پٹرول پمپ تک برابر استاد جی ہمارے ساتھ گاڑی کو دھکا لگاتے رہے۔
واپسی پر استاد جی نے فرمایا: ”راستے میں ہمارے ایک شاگرد کسی مسجد میں امام ہیں، ان سے ملاقات کر کے جاتے ہیں۔“ جب ان کی ملاقات کو پہنچے تو مولوی صاحب استاد جی کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگے: ”استاد جی! آپ؟“ مولوی صاحب استاد جی کی آمد پر خوش بھی ہو رہے تھے، خوشی کے آنسو بھی تھے اور افسوس بھی کر رہے تھے کہ: ”استاد جی! آپ نے پہلے بتایا نہیں۔“ استاد جی نے مسکرا کر مزاحاً فرمایا: ”مولوی صاحب! نہ ہم آپ کے پاس کھانا کھائیں گے اور نہ رات کو ٹھہریں گے۔ مجھے پتہ ہے مولوی حضرات بیویوں سے ڈرتے ہیں۔ ہم صرف آپ سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ ہم نے نماز پڑھنی ہے، نماز پڑھ کر ہم نے فوراً چلے جانا ہے۔“ اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، استاد جی نے مولوی صاحب کی کچھ خدمت بھی فرمائی، رخصت لیتے وقت ان کی مٹھی میں کچھ پیسے پکڑائے کہ: ”بچوں کے لیے کچھ لے کر جانا، میں خالی ہاتھ آیا ہوں، کچھ ساتھ نہیں لایا ہوں۔“ یہ دیکھ کر اور سن کر ہماری بھی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ایک استاد کی اپنے شاگرد کے ساتھ اتنی بھی محبت ہو سکتی ہے۔
حضرت استاد جی جب ”حادی الارواح“ کے ترجمہ سے فارغ ہو گئے تو عصر اور مغرب کے بعد مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔ اردو ترجمہ کی پروف ریڈنگ بھی ہوا کرتی تھی۔ استاد جی اصل عربی کتاب ”حادی الارواح“ بھی سامنے رکھتے تھے کہ کسی لفظ کا ترجمہ رہ نہ جائے۔ اور ساتھ مجھے فرماتے تھے: ”اگر کسی لفظ کا ترجمہ رہ جائے یا ترجمہ میں کوئی دوسرا لفظ آپ کو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہو تو مجھے بتا دیا کریں۔“ اپنے شاگردوں پر استاد جی اتنا اعتماد فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی موقع پر میں نے کہہ دیا: ”استاد جی! یہاں پر یہ لفظ مجھے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔“ تو اکثر وہ لفظ تجویز فرماتے۔ یہاں تک کہ جب کتاب کا نام تجویز فرمانے لگے تو فرمایا: ”یہ دو نام ہیں، کون سا زیادہ اچھا اور مناسب ہوگا؟“ پھر احقر کی تجویز پر کتاب کا نام: ”جنت کے نظارے“ رکھ دیا۔
حضرت استاد جی اپنے شاگردوں کے ساتھ مذاق اور دل لگی بھی فرمایا کرتے تھے۔ دورۂ حدیث والے سال ہمارے ایک ساتھی، جس کا نام گل ولی تھا، مغرب کی نماز کے بعد ہم استادوں کو دبانے کے لیے تالاب کے پاس والے برآمدے میں بیٹھ جاتے۔ ایک دن حضرت استاد جی فرمانے لگے: ”گل ولی جب کوئی مسئلہ پوچھتا ہے تو کہتا ہے: ہمارے علاقے میں ایک مرد تھی اور ایک عورت تھا۔“
چونکہ ساتھی پٹھان تھے اور اردو بھی کمزور تھی، سکول بھی نہیں پڑھے ہوئے تھے۔ لیکن استادوں کی بات سمجھ گئے۔ کہنے لگے: ”استاد جی! میں بھی پٹھان ہوں، آپ بھی پٹھان ہیں۔ میں تو پھر بھی اتنی اردو بول لیتا ہوں، آپ پشتو کے دس لفظ بول دیں۔ آپ تو پشتو کے دس لفظ بھی نہیں بول سکتے۔“ اس پر استاد جی نے خوب زور کا قہقہہ لگایا، ساتھیوں نے بھی قہقہہ لگایا۔ استاد جی فرمانے لگے: ”آج گل ولی نے مجھے لاجواب کر دیا۔“
ایک دفعہ غالباً استاد جی کسی سفر پر تھے۔ مجھے فرمایا: ”آپ نے میری جگہ پیپلز کالونی تقویٰ مسجد میں جمعہ پڑھانا ہے۔“ میں نے کہا: ”استاد جی! مجھے تقریر کرنی بھی نہیں آتی اور میری اردو بھی کمزور ہے۔“ استادوں نے فرمایا: ”آپ نے ہی جمعہ پڑھانا ہے۔“ استاد جی جب سفر سے واپس تشریف لائے تو اگلے دن مجھے فرمانے لگے: ”ساتھیوں نے آپ کی تقریر پسند کی ہے۔ میں جب بھی کسی سفر پر جاؤں گا، میری جگہ آپ ہی پڑھائیں گے۔“ پھر دو تین مرتبہ مزید استادوں کی جگہ میں نے جمعہ پڑھایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نہ تو میری تقریر اچھی تھی، نہ کوئی علمی گفتگو تھی، صرف استادوں کا اعتماد تھا اور میری حوصلہ افزائی کرنی تھی۔
چند سال پہلے میں نے استاد جی مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحبؒ کے خطبات چھاپنے کا ارادہ کیا تو استاد جی مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ سے مشورہ کیا کہ اس کی ترتیب کیا ہونی چاہیے؟ استاد جی نے فرمایا کہ: ”قاضی صاحبؒ کی تقریر کے الفاظ تبدیل نہیں کرنے۔ جو ان کی تقریر کے اپنے الفاظ ہیں وہی لکھنے ہیں، اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہو۔ مرچ مصالحہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قاضی صاحبؒ کا اپنا اندازِ بیان تھا، اس اندازِ بیان میں مٹھاس اور چاشنی ہے۔“ اور فرمایا کہ: ”آخر میں اگر ممکن ہو تو ایک دو خطبے اپنے بھی ساتھ لگا دیں۔“ استاد جی نے فرمایا: ”آپ نے مدرسہ نصرۃ العلوم کی جامع مسجد میں ایک جمعہ پڑھایا تھا، جب حضرت مہتمم صاحب باہر کے ایک سفر پر تھے۔ میں نے خود آپ کی تقریر سنی تھی۔ آپ کا اندازِ بیان اچھا تھا، نمازیوں نے بھی پسند کیا تھا۔“ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف استادوں کی طرف سے میری حوصلہ افزائی تھی، کیونکہ استاد جی کی یہ خاص خوبی تھی کہ اپنے شاگردوں کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔
تقریباً تین مہینے پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک دوست حافظ محمد اکمل نے بتایا کہ: ”استاد جی قارن صاحب آپ کے گھر تشریف لائے تھے۔ دو تین دفعہ گھنٹی بھی بجائی، دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن بچوں نے بتایا کہ ابو گھر نہیں ہیں۔ استاد جی نے آپ کا فون بھی لگایا لیکن آپ کا فون نہیں لگا۔“ میں جب گھر پہنچا تو بچوں سے پوچھا کہ: ”استاد جی قارن صاحبؒ کل گھر پر تشریف لائے تھے؟ آپ لوگوں نے مجھے بتایا نہیں؟“ گھر والے کہنے لگے کہ: ”بچے نے اوپر کھڑکی سے دیکھا، بچے نے پہچانا نہیں کہ کون ہے تو بچے نے اوپر سے ہی آواز دی کہ ابو گھر نہیں ہیں۔“
مجھے بہت افسوس ہوا کہ استاد جی گھر تشریف لائے لیکن مجھ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ اگلے دن میں نے ظہر کی نماز اپنی مسجد میں پڑھائی اور نماز کے بعد آکر استاد جی کے پیچھے ظہر کی نماز نفل کی نیت سے مدرسہ میں ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضرِ خدمت ہوا۔ استاد جی نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا، بڑی گرمجوشی سے ملے۔ میں نے کہا: ”استاد جی! پہلے تو میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ گھر تشریف لائے تھے لیکن میں گھر پر موجود نہیں تھا، آپ سے گھر پر ملاقات بھی نہیں ہو سکی اور بچوں نے بھی آپ کو نہیں پہچانا۔“ استاد جی فرمانے لگے: ”مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ ٹھیک ہیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ میں چند دن پہلے حافظ آباد ایک حکیم کے پاس گھر والوں کی دوائی لینے گیا ہوا تھا تو حکیم صاحب نے بتایا کہ مولانا عبدالرحیم صاحب کو بھی فالج ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں! مجھے بھی پتہ چلا ہے کہ مولانا عبدالرحیم بلوچ صاحب کو بھی فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ حکیم صاحب کہنے لگے کہ میں مولانا عبدالرحیم بلوچ صاحب کی بات نہیں کر رہا، مولانا عبدالرحیم صاحب جو حذیفہ خان سواتی کے سسر ہیں، ان کی بات کر رہا ہوں، ان کو فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ تو میں تو یہ سن کر بہت پریشان ہو گیا۔ تو میں آپ کا پتہ کرنے آیا تھا کہ مجھے تو معلوم بھی نہیں ہے، کسی نے بتایا بھی نہیں ہے۔ آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ ٹھیک ہیں۔“ پھر استاد جی نے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
یہ چند ٹوٹے پھوٹے جملے اور کلمات ہیں جو میں نے لکھنے کی جسارت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے استاد جی کو جن خوبیوں، کمالات اور صفات سے نوازا تھا، استاد جی صحیح معنوں میں اپنے والد اور میرے شیخ و استاد امامِ اہلِ سنت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے علمی جانشین تھے۔ حضرت استاد جی کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں تک پُر نہیں ہو سکے گا۔ لیکن یہ قانون ایسا ہے کہ ہم اس دنیا میں جانے ہی کے لیے آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد جی مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی بشری لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے تمام دینی و مسلکی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے بچوں و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(۱۲ ستمبر ۲۰۲۵ء)
ایک عابد زاہد محدث مربی و معلم کی مکمل تصویر
قاری سعید احمد
15 اگست 2025ء کو علم و عرفان کا ایک چراغ بجھ گیا، حضرت استاد محترم جامعہ نصرت العلوم کے استاذ الحدیث ہزاروں طلبہ کے مربی اور لاکھوں دلوں کے رہبر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کی وفات ایک ایسا خلا ہے جو مدتوں پر نہیں ہو سکے گا، علمی مقام و خدمات، آپ کو اللہ تعالٰی نے تفسیر، حدیث، فقہ، اور خوابوں کی تعبیر میں غیر معمولی مہارت عطا فرمائی تھی۔ آپ کا درسِ بخاری اور ترمذی طلبہ کے دل و دماغ میں رس گھولتا تھا، حدیث کی باریکیوں پر آپ کی گرفت، اسناد کے حوالے سے مضبوط یادداشت، اور فقہی بصیرت سب پر واضح تھی۔ آپ نے ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث، اصولِ تفسیر اور فقہ کی تعلیم دی، آپ کے شاگرد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تدریس، دعوت، اور فتویٰ کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقویٰ و روحانیت
حضرت استاذ صاحبؒ کا لباس، طرزِ زندگی، گفتگو، سادہ اور شہرت سے کوسوں دور، آپ کے تقویٰ کی زندہ علامت تھی۔ آپ کے شب و روز تعلیم و تعلّم، درس و تدریس، عبادت، تلاوت، ذکر و اذکار، اور تدبر میں گزرتے تھے۔ کسی سے بغض، حسد، یا دنیاوی دوڑ میں شامل ہونا آپ کی فطرت میں نہ تھا۔ آپ کے چہرے سے نرمی، نظر سے حیا، اور زبان سے حکمت جھلکتی تھی۔ طلبہ کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ ادب ہمیشہ آپ کی شخصیت کا حصہ رہا۔
اخلاص اور سادگی
حضرت الاستاذ کا ہر عمل اخلاص سے لبریز ہوتا۔ کسی شہرت یا دنیاوی منصب کی تمنا نہ تھی، حتیٰ کہ تبلیغی اجتماعات اور بڑے دینی اجتماعات میں شرکت بھی سادگی، خاموشی اور عاجزی سے کرتے۔
تعلیم و تربیت میں انفرادیت
آپؒ محض کتابوں کے استاذ نہ تھے بلکہ دلوں کو جیتنے والے مربی بھی تھے۔ طلبہ کے مزاج کے مطابق سمجھاتے، دعائیں دیتے، ان کے اخلاق و روحانیت کی فکر کرتے، بہت سے طلبہ آپ کی ایک مسکراہٹ کو زندگی بھر کی دولت کہتے ہیں۔
تعلیمی و تدریسی خدمات
آپؒ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں تدریس کے لیے وقف کیا۔ تقریباً نصف صدی تک آپؒ نے اس عظیم ادارے میں حدیث و فقہ کی کتابیں پڑھائی۔ راقم الحروف کو بھی 2004ء میں بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھنے کا شرف آپؒ ہی کی شاگردی میں نصیب ہوا۔ آپؒ کو فقہی بصیرت، محدثانہ تبحر، اور دقیق علمی انداز میں خاص امتیاز حاصل تھا۔
آپ جامع مسجد تقویٰ پیپلز کالونی میں 35 برس تک خطیب بھی رہے اور جامع مسجد نور میں نصف صدی سے زائد امام رہے۔ حضرت الاستاذؒ سے میرے تعلقات، محبت، شفقت اور روحانی فیض کا ایک روشن باب تھا۔ آپؒ صرف ایک عظیم محدث، جلیل القدر استاد اور علومِ حدیث کے ماہر نہیں تھے بلکہ وہ اپنے شاگردوں کے لیے سراپا شفقت و محبت بھی تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ علم، اخلاص، عاجزی اور تعلق باللہ سے مزین تھا۔
میرا خاص اعزاز
اللہ تعالٰی نے مجھے یہ سعادت بخشی کہ مجھے حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ جیسے عظیم استاد کی شاگردی نصیب ہوئی۔ آپؒ ہمیشہ شفقت و محبت سے مجھے نوازتے اور خاص طور پر حضرت قاری صاحب کہہ کر مخاطب فرماتے۔ یہ انکساری اور محبت کا وہ انداز تھا جس پر میں اکثر شرمندہ ہو جاتا کہ اتنی بڑی شخصیت، میرے مربی اور حدیث کے استاد مجھ ناچیز کو اتنے ادب سے بلاتے ہیں۔
استاد محترم میرے گھر بھی کئی بار تشریف لائے، بیسیوں پروگراموں میں مجھے آپ کی معیت، قربت اور راہنمائی مسیر آئی۔ ان مجالس میں اکثر مجھے تلاوت قرآن کریم کی سعادت بھی ملتی اور آپ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے، میری تلاوت پر تبصرہ فرماتے، راہنمائی کرتے اور دلنشین الفاظ میں حوصلہ افزائی بھی فرماتے۔ ایک بار فرمایا، آپ تلاوت میں مدات اور غنات کی برابری کا خاص خیال رکھتے ہیں ورنہ اکثر قراء اس میں کوتاہی کرتے ہیں، آپ قراءت کی باریکیوں کو خوب سمجھتے ہیں کیونکہ آپ صرف اسٹیج کے قاری نہیں بلکہ مدرس بھی ہیں۔ یہ کلمات میرے لیے نہ صرف خوشی بلکہ تجدیدِ عزم کا ذریعہ تھے۔ حضرت الاستاذ رحمہ اللہ نے مجھے تجوید و قراءت کے میدان میں پیش قدمی کے لیے مسلسل حوصلہ دیا۔
ایک یادگار واقعہ عزیزم پروفیسر حافظ قاری محمد خزیمہ خان سواتی نے روایت کیا جو میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ غالباً 2007ء میں ایک قراءت اور خطاب پر مشتمل پروگرام کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ اور استاد مکرم جانشینِ مفسرِ قرآن مولانا قاری محمد فیاض خان سواتی مہتمم جامعہ نصرت العلوم بھی شریک تھے۔ پہلے تلاوت کا سیشن تھا جس میں قاری محمد ابراہیم کاسی سمیت کئی قراء شریک تھے۔ بعد ازاں تقاریر ہوئیں تو حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ محفلِ قراءت بھی ہے تو ہم اپنا قاری سعید نصرت العلوم سے ساتھ لاتے پھر آپ کو پتہ چلتا قاری کسے کہتے ہیں۔ یہ جملے میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔ ایک استاد کا اپنے شاگرد کے لیے ایسا فخر، ایسی محبت اور اتنی عزت واقعی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
وفات کی خبر
آپ کی وفات کی خبر مجھے مکہ مکرمہ میں مطاف کے اندر ملی تو روح کانپ اٹھی اور دل پر یہ خبر ایک بجلی بن کر گری۔ بلاشبہ یہ نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ایک عہد، ایک روایت اور ایک قافلے کا تھا۔ علماء، طلبہ اور آپ سے عقیدت رکھنے والے ہر شخص کے دل پر یہ خبر ایک بجلی بن کر گری۔ اللہ تعالٰی ہمارے اس مربی اور استاذ محترم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو جنت میں بلند سے بلند تر فرمائے۔ اور ان کے علم کو صدقہ جاریہ بنا دے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
(۱۳ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد جی حضرت قارنؒ کے تدریسی اوصاف
اکمل فاروق
مادرِ علمی جامعہ نصرت العلوم سے گزشتہ چار سال سے تعلیمی وابستگی ہے، اس دوران جامعہ کے کئی ماہر اور اپنے اپنے فن میں ماہر اساتذہ کرام سے درسی استفادے کا شرف حاصل ہوتا رہا اور اب بھی ہو رہا ہے لیکن ایک ایسی شخصیت، ایک ایسا مہرباں، جن کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تو احساس ہوا کہ دنیا میں اب بھی ایسی شخصیات موجود ہیں جن کے تدریسی اوصاف کی مثال دینی ہو تو آدمی سرِ دست ان کا نام ذکر کر سکتا ہے۔ یہ عظیم شخصیت استاد جی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی ہے۔
گزشتہ سال "التبیان فی علوم القرآن" استاد جی سے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی، گویا یہ ان کے تدریسی کمالات و اوصاف سامنے آنے کی ایک ابتداء تھی۔ استاذ جی کی طبیعت اکثر ناساز رہتی اس کے باوجود سبق کے لیے تشریف لاتے اور پیریڈ کا پورا وقت علمی نکات اور جاندار آواز میں پڑھاتے، سبق کے دوران کتاب کا فہم اور پچیدہ عبارات کا سہل تو حاصل ہوتا ہی تھا اس کے ساتھ ساتھ استاد جی کے اپنے علمی اور مطالعاتی ذخیرہ سے جو متاع حاصل ہوتی، وہ دل کے گوشوں میں گھر کر لیتی۔ استاد جی کسی بھی مسئلہ میں جمہور مفسرین کے موقف کو بڑی تائید، دلائل اور جامع انداز میں پیش کرتے اور واضح کرتے کہ جمہور کا موقف اختیار کرنے میں کیا کیا فوائد اخذ ہوں گے۔
امسال استاد جی کے پاس بخاری شریف (اول) اور ترمذی شریف (اول) کے اسباق آئے تو استاد جی کی شخصیت میں چھپے تدریسی اوصاف مزید منکشف ہوئے اور روز بروز ہوتے ہی چلے گئے۔ چند ایک کا ذکر کیے دیتا ہوں۔
- فقہی ذوق اور استاد جی کا آپس میں گہرا رشتہ تھا، یہ ذوق آپ کی ہر ہر بات سے عیاں ہوتا اور پھر دورانِ سبق آپ متنِ حدیث کی فقہی نہج پر انتہائی جامع تشریح فرماتے جس سے طلبہ کا ذوق بھی بیدار رہتا اور مسائل کا فہم بھی آسان تر ہوتا چلا جاتا۔
- رفعِ تعارض اور تطبیقات سے جیب کے قلم سا تعلق تھا، پچیدہ سے پچیدہ عبارات اور اختلافی معرکۃ الآرا مسائل میں تطبیق اس شان سے قائم فرماتے کہ سامعین عش عش کر اٹھتے۔
- جمہور محدثین، فقہاء اور علماء کے دامن سے وابستگی استاد جی کا وصفِ عالی تھا، جس میں وہ الگ ہی شان رکھتے تھے، حدیث سے اخذ ہونے والے اختلافی مسائل کو جمہور کے موقف میں ایسے جامع اور مدلل انداز میں ڈھالتے کہ طلبہ کو مکمل تشفی بھی ہوتی اور مزید شروحات کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہ رہتی۔
- منہج احناف اور فکرِ دیوبند سے خاندانی بنیادوں پہ گہرا تعلق تھا، اس کے باوجود اختلافی مسائل میں جانبِ مخالف جماعتوں کے نظریہ و موقف کو بڑی شائستگی اور میانہ روی سے بیان کرتے، اکثر یوں فرماتے کہ "بعض حضرات کو اس متن سے مغالطہ ہوا ہے اور انہوں نے اس کا مطلب یوں مراد لیا ہے" حتیٰ کہ جماعتِ منکرِ حدیث کا نظریہ بیان کرتے ہوئے بھی شائستگی کو غالب رکھتے اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے۔
- مدارس میں کتب کی عبارت کی تلاوت کا طریقہ رائج ہے، بیشتر اساتذہ اولاً طالب علم سے مکمل حدیث تلاوت کرواتے ہیں اور بعد ازاں ترجمہ و تشریح کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، لیکن استاد جی قارن صاحب عبارت کو جزوی طور پر ساتھ ساتھ لے کر چلتے، متنِ حدیث کے ہر ہر جزو کی تشریح فرماتے، جزوی عبارتوں سے اخذ ہونے والے مسائل و مستدلات کی نشاندہی بھی فرماتے، جو کہ انتہائی دقیق اور مشکل اندازِ تدریس میں شمار ہوتا ہے لیکن اس کو آسانی کے ساتھ سر انجام دینا استاد جی کا ہی طرہ امتیاز تھا۔
- بلند اور جاندار آواز میں تدریس آپ کے خون میں رچی بسی تھی، بیماری کی حالت میں بھی ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ سبق کی تقریر بلند آواز سے فرماتے جس سے جامعہ کی پوری فضاء گونجتی اور ہر ہر کونہ فیض یاب ہوتا۔
اس قدر علمی و تحقیقی شخصیت ہونے کے باوجود طبیعت میں مزاح غالب تھا۔ چٹکلوں سے بچپن سے ہی گہرا ناطہ تھا جو کہ آخر دم تک قائم رہا، تبیان کے سبق کے ابتدائی ایام میں بچپن کی شرارتوں اور سب سے منفرد شرارتوں کا باب بڑی تفصیل سے بیان فرمایا۔ دورانِ سبق مسائل کی صورتِ مسئلہ اور نکاح وغیرہ کے مسائل کو خاص طور پر کسی طالب علم کا نام لے کر سمجھاتے، جن میں مزاح کا بھرپور تڑکا ہوتا، بعض اوقات بڑے سنجیدہ انداز میں انفرادی اور اشاری چٹکلے سناتے جس سے طلبہ لوٹ پوٹ ہو جاتے اور خود آگے عبارت کی تفہیم کی جانب بڑھ جاتے۔
لیکن اب اس عظیم روح کی رخصتی سے جامعہ کے در و دیوار پہ جدائی کا گہرا سکوت طاری ہے، وابستگان صدموں سے دو چار ہیں اور ان کی غیر موجودگی کا خود کو یقین دلا رہے ہیں، ان کے علمی و فکری سائے کی تلاش میں سر گرداں ہیں، ان کے بعد آنے والے فتنوں سے خائف ہیں اور تقدیر ازل سے شکوہ کناں ہیں!
بچھڑا کچھ اس اداء سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
حسین یادوں کے انمٹ نقوش
مولانا محمد عبد المنتقم سلہٹی
انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرتِ کاملہ اور درجاتِ عالیہ سے مالامال فرمائے۔ اہلِ خانہ، شاگردوں اور رشتہ داروں کو صبر جمیل عطاء فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
بندۂ ناچیز محمد عبد المنتقم عفا اللہ تعالیٰ عنہ نے سن 1993ء کے آخر میں امام اہلسنت، محدث اعظم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی خدمت میں دورۂ تفسیر کے لئے حاضری دی، یہ میرے لیے عظیم سعادت کی بات ہے کہ 40 روزہ دورہ تفسیر میں شرکت کی توفیق میسر آئی۔ اس دوران ہر فجر کے بعد مسجد نور میں حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درسِ قرآن میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی، درس کے بعد حضرت سے بڑے اہتمام کے ساتھ ملنے کی میں کوشش کرتا تھا، اس کے لئے میں نے ایک بہانہ بھی بنا لیا تھا اور وہ یہ ہے کہ ان دنوں مجھے خواب کافی زیادہ نظر آتے تھے، خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لئے میں ملنے کی خواہش ظاہر کرتا تھا اور درس کے بعد حضرت مسجد کے کسی کونے میں کھڑے کھڑے کافی زیادہ وقت دیتے تھے اور پوری توجہ کے ساتھ مجھ ناچیز کی گفتگو سننے کی زحمت گوارا فرماتے اور نہایت تسلی بخش جواب مرحمت فرمایا کرتے تھے۔ اس طرح کچھ اور باتیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پوچھنے کی نوبت آ جاتی تھی۔
سچی بات یہ ہے کہ حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ سے میں نے بہت استفادہ کیا، قرآن کریم کے مضامین کو آسان اور عام فہم انداز میں انتہائی خوبصورت پیرایۂ زبان اختیار کرتے ہوئے سمجھانے میں وہ یدِ طولیٰ رکھتے تھے، مجھے آج تک ہر آن اس لذیذ درس کی چاشنی محسوس ہوتی ہے اور زندگی بھر ان کے درسِ قرآن کی لذت اور اس کا غیر معمولی فائدہ میرے لئے ناقابلِ فراموش رہے گا۔ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے علم کی پختگی، اندازِ بیان کی شیرینی اور خلوص و سادگی جیسے اوصاف جمیلہ کے حسین نقوش ہمیشہ انمٹ رہیں گے۔
پچھلے 30 سالوں کے دوران حضرت مسلسل یاد آتے رہے، ان کے دروس کی خوبیوں کی تاثیر میں دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتا رہا، آج ان کے انتقال پرملال کی خبر نے دل پر جو چوٹ لگائی ہے، اسے الفاظ کے ذریعے بیان کرنا آسان نہیں، چونکہ وہ ایک ایسے عظیم خانوادہ سے تعلق رکھتے ہیں، جس کے علمی تحقیقی اور فکری خدمات کے آگے امتِ مسلمہ کی گردن ہمیشہ جھکی رہے گی، اس لئے ان کے انتقال کو میں امت کے لئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان سمجھتا ہوں، اللہ تعالیٰ حضرت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، درجات میں پیہم ترقی نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم کی توفیق سے مالا مال کرے، آمین یارب العالمین۔
( ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
جامع الصفات اور منکسر المزاج عالمِ دین
مولانا محمد عبد اللہ عمر
ایک کامل اور جامع الصفات عالمِ دین وہ ہوتا ہے، جس کی شخصیت میں خشیتِ خداوندی نمایاں ہو، جس کے دل و دماغ پر تقویٰ و للہیت کا غلبہ ہو، جس کی زندگی اتباعِ سنت اور اتباعِ شریعت کا آئینہ دار ہو اور جس کا شب و روز دین کی خدمت اور خلقِ خدا کی خیر خواہی میں بسر ہو۔ حقیقی عالم صرف وہ نہیں جو علم کے خزانے کا مالک ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے علم کو عمل سے سنوارے، اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالے اور اپنے وجود سے دوسروں کو ہدایت، محبت اور راہنمائی فراہم کرے۔ ایسے علماء کرام ہی امت کے لیے چراغِ راہ اور قلوب کے سکون کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اہلِ سنت والجماعت کی علمی اور فکری تاریخ میں حضرت امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ایک ایسی جلیل القدر شخصیت ہیں جنہیں دینی اور مسلکی اعتبار سے متفقہ طور پر امام مانا گیا۔
اسی خانوادے کے چشم و چراغ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں نصف صدی تک مسندِ تدریس کو رونق بخشنے، جامع مسجد نور میں امامت کے ساتھ درسِ قرآن و حدیث سے خلقِ خدا کی ہدایت و راہنمائی کرنے والے، دسیوں علمی و فکری کتابوں کے مصنف، میرے مشفق و مہربان استاد حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن نوّر اللہ مرقدہ و برد اللہ مضجعہ گذشتہ دنوں عارضہ قلب سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ وکل شیء عندہ باجل مسمیٰ فلتصبر ولتحتسب۔
جن کی زندگی میں علم و فضل، تقویٰ و للّٰہیت، محبت و شفقت اور دین کی غیرت و حمیت سب ایک ساتھ جمع نظر آتے تھے۔ جو سراپا محبت و شفقت ،اکابر کی نسبتوں کے امین تھے۔ آپ عظیم مذہبی سکالر حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم (جو کسی تعارف کے محتاج نہیں، جن کی دین و دنیا کے مسائل پر گہری نظر اور متجددین کے اعتراضات کا مدلل اور جامع جواب دینے میں اپنی مثال آپ ہیں) کے برادرِ مکرم تھے۔
ذیل میں آپ کی حیات مستعار سے وابستہ چند یادیں سپرد قلم کی جاتی ہیں؛
1. علم و فضل اور تدریس کی مہارت
حضرت استاذیم رحمہ اللہ نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں درس و تدریس کے ذریعے سینکڑوں طلبہ کے قلوب کو منور کیا۔ وہ حجیتِ حدیث، تقابلِ ادیان اور علومِ اسلامیہ کے اہم مباحث کو نہایت واضح، دلنشین اور علمی انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی تدریس محض علمی نہ تھی بلکہ شاگردوں کی فکری و روحانی تربیت بھی ساتھ ساتھ ہوتی تھی۔ بندہ نے باضابطہ درسِ نظامی کی کوئی کتاب آپ سے نہیں پڑھی لیکن 2005ء میں ہونے والے دورہ تفسیر و تقابلِ ادیان کورس کے موقع پر "حجیتِ حدیث" کے اہم موضوع پر علمی و فکری مجلس میں زانوئے تلمذ کرنے کا شرف حاصل ہوا، جو آج تک میرے لیے سرمایۂ علم و عمل ہے۔
2. تقویٰ اور شریعت پر عملداری
آپ کی سب سے نمایاں صفت شریعت کے احکام پر غیر متزلزل عمل تھا۔ چاہے دینی معاملہ ہو یا دنیاوی، مسجد و مدرسہ ہو یا بازار، ہر موقع پر وہ اپنے عمل سے بتاتے کہ دین کے چھوٹے بڑے مسائل پر عمل کرنا ہی اصل دینداری ہے۔ چنانچہ حضرت امام اہلسنت والجماعت کی تصنیفات کے سلسلہ میں آپ سے پانچ سال معاملات رہے۔ مجال ہے کسی موقع پر آپ شریعت سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے ہوں۔ ایک دفعہ چند بقایا جات کی ادائیگی کے لیے جامع مسجد نور میں نمازِ عصر کے بعد ملاقات ہوئی اور جب ادائیگی کرنا چاہی تو بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا؛ "مسجد میں دنیاوی لین دین شرعاً درست نہیں ہے"۔
ایک موقع پر مادرِ علمی جامعہ نصرت العلوم کے مہمان خانہ میں دعوتِ طعام کے دوران ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے: چند لمحات مسجد میں انتظار کرو، چنانچہ تشریف لائے اور مسجد کی دوسری جانب ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ماحضر سے اکرام کرتے ہوئے فرمانے لگے؛ "مہمان کے لیے کسی دوسرے مہمان کو میزبان کی اجازت بغیر کھانا کھلانا مہمان نوازی کی روح کے خلاف اور ایک نامناسب عمل ہے"۔ اس لیے میں نے تمہیں وہاں کھانے کا نہیں کہا"۔ کیا کہنے حضرت استاذیم کے کہ آپ کی پوری زندگی علم و عمل کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔
3. تواضع و انکساری
اپنے مقامِ علم و فضل کے باوجود استاذیم نہایت منکسر المزاج اور تواضع کے پیکر تھے۔ شاگردوں اور محبین کے ساتھ محبت بھرے انداز سے پیش آنا، دھیمے و مشفقانہ لہجے میں گفتگو کرنا اور اظہارِ محبت کرنا ان کے مزاج کی خاص پہچان تھی۔ بندہ نے متعدد بار تراویح میں تکمیلِ قرآن کریم کے موقع پر استاذیم کو دعوت دی تو ہمیشہ یہی فرماتے؛ "بس مجھے بتا دو کہاں آنا ہے، میں خود ہی پہنچ جاؤں گا"۔ اور قسم بخدا ایک دفعہ تو حضرت استاذیم رکشہ پر اکیلے ہی تشریف لائے۔
بندہ جب کبھی گوجرانوالہ ہوتا تو عموماً نماز جمعہ آپ کی امامت میں ادا کرتا۔ نماز جمعہ کے بعد انتہائی مشفقانہ انداز میں ملتے، بچوں پر دستِ شفقت رکھتے اور کبھی کبھی عاجزی میں فرماتے؛ "مجھے پتہ ہوتا آپ ادھر ہی ہیں، تو میں آج چھٹی کر لیتا"۔
4. محبت و شفقت پدرانہ
استاد اور شاگرد کے تعلق کو آپ نے محض تعلیمی رشتہ نہ رہنے دیا، بلکہ پدرانہ محبت و شفقت سے اسے پروان چڑھایا۔ شاگردوں کو نصیحت کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے آداب بھی سکھائے۔ اس سلسلہ میں استاذیم کے دسیوں واقعات دل و دماغ میں رس گھولتے ہیں۔
مادر علمی جامعہ نصرت العلوم میں درجہ ثانویہ عامہ کے سہ ماہی امتحانات کے موقع پر جب پوزیشنوں کا اعلان ہوا تو تینوں پوزیشن ہولڈرز سے فرمایا؛ "شش ماہی امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرو، تمہیں جنت (جنت سے مراد علامہ ابن القیم کی کتاب "ہادی الارواح الی بلاد الافراح" کا اردو ترجمہ ہے، جو استاذیم کی "جنت کے نظارے" کے نام سے مایہ ناز تصنیف ہے) دوں گا۔ چنانچہ استاذیم کی دعاؤں اور ترغیب سے تینوں نے اول پوزیشن حاصل کی تو استاذیم نے وعدے کے مطابق کتاب مرحمت فرمائی۔
درجہ ثانیہ عامہ والے سال بندہ مطعم میں کھانے کے لیے جا رہا تھا، فرمانے لگے؛ "یہ تو زکوٰۃ و صدقات کا مال ہے، جسے مسافر طلباء ہی استعمال کر سکتے ہیں، آپ تو ایک خوش حال مقامی گھرانے سے تعلق رکھتے ہو آپ کے لیے تو یہ کھانا درست نہیں"۔ پھر شفقت سے سمجھاتے ہوئے فرمایا؛ "آئندہ اپنے جیب خرچ کی ایک مقدار کھانے کی مد میں رسید کٹوا لیا کرو، آپ کا یہ کھانا قیمتاً ہو جائے گا۔
5. غیرتِ دینی اور علمی دفاع
حضرت استاذیم کو اکابر و اسلاف، حضراتِ شیخین کریمین کی جانب سے جو علمی و فکری وراثت ملی، آپ نے زندگی بھر اس نسبت کی لاج رکھی۔ چنانچہ اہلسنت والجماعت سے خارج فتنہ کے ایک نام نہاد عالم نے امام بخاری اور ان کی روایات پر بازاری زبان استعمال کرتے ہوئے طوفان بد تمیزی کھڑا کیا تو استاذیم نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ علمی و متوازن انداز میں "دفع اعتراضات المخبث علی بخاری محدث" المعروف "امام بخاری کا عادلانہ دفاع" کے نام سے جواب دیا اور اس کتاب کے پانچ نسخے بندہ کو دارالعلوم کبیروالا ارسال کرتے ہوئے تاکید کی؛ ایک نسخہ حضرت مولانا ارشاد احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے، دو نسخے ماہنامہ تذکرہ دارالعلوم میں تبصرہ کے لیے، ایک میرے لیے اور ایک کے بارے میں فرمایا؛ کسی معتبر ذریعے سے یہ کتاب اس فتنہ پرور تک پہنچا دیں، ممکن ہو تو آپ از خود پہنچائیں۔ چنانچہ حکم بجا لاتے ہوئے، جب بندہ نے یہ کتاب پہنچا دی تو مبلغ پانچ صد روپے بذریعہ منی آرڈر انعام مرحمت فرمایا۔
اس کے علاوہ آپ کی دسیوں تصنیفات اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ محض مدرس ہی نہیں، بلکہ دینی غیرت و حمیت کے ساتھ محقق اور محافظ دین بھی تھے۔
6. اخلاص اور امانت داری
معاملات میں شفافیت اور دیانت آپ کی پہچان تھی۔ مالی لین دین ہو یا علمی امانت، ہر جگہ ان کا کردار کامل دیانت کا آئینہ دار نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ معاملات کرنے والا ہر شخص مطمئن اور پُر اعتماد رہتا۔
7. روحانیت اور اثر آفرینی
حضرت استاذیم کا وجود محض ایک عالم کا وجود نہ تھا بلکہ ان کی شخصیت میں ایک خاص روحانیت اور اثر آفرینی تھی۔ ان کے چہرے کا سکون اور نمازِ جنازہ کے موقع پر ہزاروں علماء و محبین کی حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی زندگی بھی قابلِ رشک تھی اور ان کا وصال بھی۔
الغرض حضرت استاذیم کی شخصیت علم و عمل، تقویٰ و اخلاص، محبت و شفقت اور دین کی غیرت و حمیت کا حسین امتزاج تھی۔ ان کے شاگرد اور محبین کے لیے ان کی زندگی ایک دائمی مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ استاذیم کی کامل و مکمل مغفرت فرمائے، سفرِ آخرت آسان کر کے جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام نصیب فرمائے اور ہمیں بھی ان کے علم و عمل کے فیوض سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین
وہ روایتِ کہنہ اور مسنون وضع قطع کے امین
مولانا محمد نوید ساجد
استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، امام جامع مسجد نور، خطیب جامع مسجد تقویٰ سیٹلائٹ ٹاؤن، گوجرانوالہ، استاذ الاساتذہ، حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب فی ذمۃ اللہ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کریم ان کی زندگی بھر کی تمام حسنات کو قبول فرمائیں، لغزشوں سے درگزر فرمائیں اور ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماتے ہوئے اعلیٰ علیین میں مقامِ فاخرہ سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ یادِ ماضی کے حسین لمحات میں کھو کر کچھ بکھرے ہوئے موتیوں کو پاتال سے منصۂ شہود پر لانے کی کوشش کروں گا، ان شاء اللہ۔
استاذِ محترم 5 اپریل 1952ء کو گکھڑ میں پیدا ہوئے، یہ ایک والدہ سے تین بھائی ہیں، جن میں سب سے بڑے استاذِ محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں، جبکہ درمیانی نمبر اِن کا تھا، اور چھوٹے بھائی مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ گجرات والے ہیں۔
حفظِ قرآن مجید گکھڑ میں ہی پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا امتحان پاس کر کے امتیازی نمبروں میں سندِ فراغت حاصل کی۔ جبکہ 1975ء سے تاحال جامعہ میں ہی تدریس کرتے رہے۔ بیچ میں کچھ عرصہ ادارے کے ناظم بھی رہے۔ شنید ہے کہ موصوفِ ممدوح کی ناظمیت کا زمانہ ادارے کے لئے نیک شگون ثابت ہوا اور اس دور میں ادارے نے بہت ترقی کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر حضراتِ شیخین کریمین کی طرف سے انہیں کے زیرِ سایہ استاذِ محترم کو ’’استاذ الحدیث‘‘ بھی بنا دیا گیا، یقیناً جامعہ نصرۃ العلوم جیسے علم و عمل کے ’’بحرِ ذخار‘‘ ادارے میں تدریس کا مل جانا ہی غنیمت ہوتا ہے چہ جائیکہ ’’ناظمِ ادارہ‘‘ اور ’’استاذ الحدیث‘‘ مقرر ہو جانا — زہے مقدر، زہے نصیب —
1998ء کی ایک یخ بستہ صبح تھی جب بندہ جامعہ میں درجہ ثالثہ میں داخلے کے لئے وہاں حاضر ہوا، میرا وہ اس وقت کا ’’خوفناک ترین‘‘ اور زندگی بھر کا ’’یادگار ترین‘‘ داخلہ ٹیسٹ تھا جو استاذِ محترم نے لیا۔ اس کی وجہ سے میں پھر جامعہ کا ایسا اسیر ہوا کہ دورۂ حدیث سے فارغ ہو کر ہی وہاں سے بادلِ نخواستہ رخصت ہوا۔ زندگی بھر مجھے ان میں اور کسی تبلیغی سلسلے کے استاذ و شیخ میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا، یقیناً وہ روایتِ کہنہ اور مسنون وضع قطع کے امین تھے۔ آج بھی ان کا سراپا آنکھوں کے سامنے گھوم کر نمناکی کا ساماں پیدا کر رہا ہے۔ بندہ کو 2003ء میں استاذِ محترم سے دورۂ حدیث شریف کے سال بخاری شریف جلد ثانی اور مسلم شریف جلد اول سبقاً پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آج بھی ان کی کٹورے جیسی آواز کانوں میں رس گھول کر دل کو حزین و مغموم کر رہی ہے۔
استاذِ محترم کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ نصر الدین خان عمر حفظہ اللہ تعالیٰ شروع سے ہی بندہ کے کلاس فیلو رہے ہیں۔ استاذِ محترم کو میں نے منتہی کتب کی تدریس کرتے ہی دیکھا ہے، لیکن جب ان کے چھوٹے بیٹے غالباً ’’مغیرہ‘‘ کے ادارے میں ابتدائی کتب پڑھنے کی باری آئی تو شفقتِ پدری سے مغلوب ہو کر استاذِ محترم نے ’’علم الصرف‘‘ اپنے زیرِتدریس کر کے محبت کی اعلیٰ مثال پیش کی۔ مجھ سمیت کسی بھی طالب علم کو کسی بھی مسئلے میں، کبھی بھی استاذِ محترم نے تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا اور ہمہ وقت طلبہ کو ایک مشفق استاذ کے ساتھ ساتھ ایک سایہ دار سائباں بھی مہیا کئے رکھا، یہ سب اعمال یقیناً آج ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں، ان شاء اللہ۔
استاذِ محترم کلاس میں دورانِ تدریس ایک بہترین مدرس و معلم جبکہ فارغ اوقات بالخصوص بعد از نمازِ مغرب و عشاء حوض کے پاس ایک ستون کے ساتھ تشریف فرما ہوتے جس میں کوئی دیکھنے والا محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ استاذ کون ہیں اور طلبہ کون؟۔ بذلہ سنجی اور نکتہ رسی میں حضرت کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ سدا بہار بلکہ باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ اس سب کچھ کے باوجود حضرت کا رعب و دبدبہ قابلِ دید ہوتا تھا، جہاں سے گزر جاتے تھے یا جس طرف ایک مرتبہ بغور دیکھ لیتے تھے، طلبہ کو ’’کچھ کچھ ہونے‘‘ لگتا تھا۔
استاذِ محترم اپنے علاقے میں صرف میرے ہی استاذ نہیں تھے بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ (۱) مولانا محمد حنیف حنفی صاحب، اکالی (۲) مولانا عبد الرحمٰن صاحب، ناڑیاں (۳) مفتی عتیق الرحمٰن صاحب، ہلاں (۴) مولانا محمد طارق بوٹا صاحب، اکالی والوں کے استاذ اور شیخ بھی تھے۔ میں ان سب حضرات سے بھی تعزیت کناں ہوں۔ حضرت کی رحلت یقیناً خاندانِ سواتی و خاندانِ صفدر کے لئے دکھ اور افسوس کی گھڑی ہے، بندہ ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ میرے بہی خواہوں، دوستوں اور جاننے والوں نے دکھ اور پریشانی کی اس گھڑی میں بندہ کے ساتھ اظہارِ افسوس و تعزیت کیا، ان میں بالخصوص استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد افضل خان صاحب، مفتی حبیب اللہ اختر صاحب، برادرِ عزیز مولانا عدیل ساجد اور مولانا مسعود کریم صاحب، مولانا عطاء الرحمٰن صاحب، مولانا فضل الرحمٰن صاحب، مولانا مفتی ادریس مظہر صاحب، حافظ اعجاز احمد خان صاحب، مولانا ضیاء اللہ عابد صاحب، قاری وسیم عثمانی صاحب، مولوی عبد المجید چاچا صاحب، مولانا برکت عثمانی صاحب و دیگر شامل ہیں۔ سبھی کے اسماء گرامی شامل کرنا دشوار ہے اس لئے کوئی ساتھی محسوس نہ کرے، میں سبھی کا مشکور ہوں، اللہ کریم تمام احباب کو اپنی شایانِ شان جزائے خیر سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔
ابھی سفر میں ہوں، فرصت کے ان لمحات میں غم غلط کرنے اور استاذِ محترم کو چند گھڑیاں ساتھ رکھنے پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ چند سطور جو بندہ کے حافظہ میں فی الوقت مستحضر تھیں، پیش کر دی ہیں۔ کسی سہو، غلطی یا کمی بیشی پر دلی معذرت۔ والسلام مع الاکرام۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
چراغ جو خود جلتا رہا اور دوسروں کو روشنی دیتا رہا
محمد اسامہ پسروری
پاکستان کی معروف و عظیم دینی درسگاہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ عبد القدوس قارن خان صاحبؒ ایک زندہ کردار اور مخلص استاد تھے۔ علم و اخلاص، سادگی و تقویٰ اور عاجزی و انکساری کی روشن علامت، حضرتؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی رحلت ایک ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جس کی تلافی آنے والے کئی عشروں میں بھی ممکن نہیں۔ حضرتؒ علم، سادگی اور اخلاص کی ایک روشن قندیل تھے، جو بجھ تو گئی، مگر اس کی روشنی اہلِ علم و نسبت کے دلوں کو مدتوں منور کرتی رہے گی۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن خان صاحبؒ گوجرانوالہ کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ وہ ریاکاری اور دنیاداری سے پاک، خالص اللہ والے بزرگ تھے۔ ان کی زندگی علم، عمل اور اخلاق کا حسین امتزاج تھی۔ ان کا وجود نہ صرف دینی اداروں، بلکہ پورے خطے کے لیے باعثِ برکت اور رہنمائی تھا۔ راقم کو حضرتؒ سے دو بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جو میری زندگی کے نہایت قیمتی لمحات میں سے ہیں۔ پہلی ملاقات جامعہ نصرۃ العلوم میں ہوئی۔ حضرتؒ ظہر کے بعد سبق پڑھا کر باہر تشریف لائے تو میں نے اپنا تعارف پیش کیا کہ میں مولانا اسحاق صاحب کا بیٹا ہوں اور پسرور سے حاضر ہوا ہوں۔ حضرتؒ کا یہ سننا تھا کہ نہایت گرم جوشی سے گلے لگا لیا اور نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے ہوئے، حال احوال دریافت کیا۔ حضرتؒ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے اور میں جامعہ کے مرکزی گیٹ کی طرف بڑھا ہی تھا کہ چند لمحوں بعد ایک خادم میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہا: ’’استاد جی دروازے پر کھڑے آپ کا انتظار کر رہے ہیں، انہوں نے فرمایا ہے: وہ مہمان کہاں گئے، انہیں گھر لے آئیں۔‘‘ میں حیرت کے ساتھ واپس گیا تو واقعی حضرتؒ گھر کے دروازے پر میرے منتظر تھے۔ جیسے ہی میں قریب پہنچا، حضرتؒ نے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا: ’’چلیے، گھر چلتے ہیں۔‘‘ یہ واقعہ ان کی بے لوث محبت، خلوصِ دل اور مہمان نوازی کا روشن مظہر تھا۔
حضرتؒ کا معمول نہایت سادہ، مگر کردار میں عظمت لیے ہوئے تھا۔ اگرچہ دل کے مریض تھے مگر اپنے کام خود انجام دیتے۔ میں نے دیکھا وہ سارا منظر کہ ایک ہاتھ میں رجسٹر دوسرے ہاتھ سے سہارا لے کر سیڑھیاں چڑھتے۔ بیٹے نے اوپر سے دیکھا اور عرض کیا: ’’ابا جی، وہیں رکیں میں آتا ہوں۔‘‘ تو حضرتؒ نے فرمایا میں خودی آجاتا ہوں۔ بیٹے کے اصرار کرنے کے باوجود حضرت نے اسے منع کیا پھر گرجدار کڑک آواز میں فرمایا، گویا کہ بوڑھا آدمی ایک دم سے جوان ہوگیا ہو: ’’میں خود ہی آؤں گا، اوپر ہی رہو... بوڑھوں کو کبھی خود بھی کام کرنے دیا کرو۔‘‘ یہ جملہ ان کی خودداری، سادگی اور خود اعتمادی کی اعلیٰ مثال ہے، جو آج بھی دل میں گونجتا ہے۔
جب حضرتؒ کے گھر پہنچے تو جو منظر دیکھا، وہ دنیاوی تزئینات سے پاک، مگر روحانی سکون سے بھرپور تھا۔ ان کا دسترخوان وسیع دل کی مانند کشادہ، اور طبیعت مہمان نواز تھی۔ نشست و برخاست میں سادگی اور روحانیت جھلکتی تھی۔ جو ان سے ایک بار ملتا، وہ ان کا ہو کر رہ جاتا۔ راقم کو ان سے بے حد روحانی سکون حاصل ہوا۔ ان کی عاجزی، بے تکلفی اور محبت نے دل کو مسخر کر لیا۔
ہمارے آباء سے ان کے پرانے تعلقات تھے، مگر جب خود ان سے ملاقات ہوئی تو ان کے اخلاص نے عقیدت کو محبت میں بدل دیا۔ اگر کوئی امام اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی عملی جھلک دیکھنا چاہے، تو حضرت عبد القدوس قارن خانؒ کی شخصیت میں وہ مکمل تصویر نظر آتی تھی۔ ان میں علم و حلم، وقار و سنجیدگی، اور دینی غیرت کا حسین امتزاج موجود تھا۔ ان کی زندگی اکابرِ دیوبند کی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ وہ نہ صرف ان کے علمی وارث تھے بلکہ طرزِ زندگی، سادگی، تقویٰ اور فکرِ دین کے بھی نمائندہ تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ اکابر سے جوڑنے کی فکر میں رہتے، ان کا تذکرہ محبت سے کرتے، اور ان کے طرزِ عمل کو اپنانے کی ترغیب دیتے۔ حضرت مولانا عبد القدوس قارن خان صاحبؒ صرف ایک عالمِ دین، استاد یا شیخ الحدیث نہیں تھے، بلکہ وہ ایک مکتبِ فکر، ایک جیتی جاگتی تاریخ، اور اکابر کے فیضان کا مظہر تھے۔ ان کی زندگی علم، عمل، اخلاق، تواضع، قناعت اور اخلاص کا حسین پیکر تھی۔ وہ ایک ایسا چراغ تھے، جو خود جلتا رہا اور دوسروں کو روشنی دیتا رہا۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تعلیمات، طرزِ عمل، شفقتیں اور نصیحتیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے فیوض و برکات کو تادیر جاری رکھے، اور ہمیں بھی اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
استادِ گرامی حضرت قارنؒ صاحب کی یاد میں
پروفیسر غلام حیدر
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
دینی و علمی ماحول کے پروردہ، تدریسی و تحریری دنیا کے باسی، زہد و تقویٰ کے پیکر، اور اخلاص وللّٰھیت کے عملی نمونہ حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس قارنؒ شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ گزشتہ جمعہ 20 صفر المظفر 1447ھ (15 اگست 2025) کو دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف رخصت ہو گئے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر لمحہ دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تدریس و اشاعت اور دینی جدوجہد کے لئے وقف تھی۔ معتبر ذرائع کے مطابق:
- آپ نے نصف صدی تک جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
- پچاس سال تک نصرۃ العلوم سے ملحق جامع مسجد نور میں امامت کے فرائض سرانجام دیے۔
- اسی مسجد میں پینتیس سال تک درسِ قرآن دیا۔
- چھپن مرتبہ نماز تراویح میں مکمل قرآن مجید سنایا۔
- پینتیس سال تک جمعہ کے خطبات سے عوام کو مستفید کیا۔
- سترہ دینی کتب تصنیف فرمائیں۔
غنا کا یہ عالم ہے کہ مدرسہ کی ایک چھوٹی سی رہائش میں زاہدانہ اور مجاہدانہ زندگی گزار دی، گزشتہ جمعہ غسل کرنے کے بعد سفید لباس زیب تن کر کے خوشبو لگا کے جامع مسجد تقویٰ پیپلز کالونی گوجرانوالہ کی طرف خطبہ جمعہ کیلئے روانہ ہوئے ہی تھے کہ داعی اجل کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے خالقِ حقیقی کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد مکرم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ سے اعلیٰ اور عمدہ سے عمدہ مقام عطا فرمائے اور سیئات سے درگزر فرمائے۔
1995ء میں حضرت استاد محترم قارنؒ صاحب سے ہم نے ترمذی شریف جلد اول اور ابوداؤد شریف مکمل پڑھی، علاوہ ازیں ترجمہ قرآن اور بخاری شریف جلد اول شیخ المشائخ استاذ الاساتذہ امام اہلسنت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ بخاری جلد دوم حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ مسلم شریف اور شمائل ترمذی شریف بانی نصرۃ العلوم مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ ترمذی شریف جلد دوم حضرت مفتی عیسی صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ نسائی شریف اور ابن ماجہ شریف کے کچھ ابتدائی ابواب مدرسہ کے مہتمم حاجی محمد فیاض صاحب سے پڑھے۔ طحاوی شریف حضرت مولانا اللہ یار صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ مؤطئین موجودہ شیخ الحدیث حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب سے پڑھیں۔ حجۃ اللہ البالغہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔
آخر میں ایک ذاتی واقعہ بیان کرنے کو جی چاہ رہا ہے جو میرے لئے باعثِ فخر بھی ہے اور ناقابلِ فراموش بھی۔ چند سال قبل ایک رات کو جب میں نماز عشاء پڑھانے کیلئے مصلیٰ امامت پر کھڑا ہوا اور صفوں پر نظر ڈالنے کیلئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران کن منظر تھا، حضرت مولانا حافظ عبد القدوس قارنؒ صاحب میرے پیچھے کھڑے تھے، میں نے نماز پڑھانے کی درخواست کی تو فرمانے لگے نہیں نہیں آپ ہی نماز پڑھائیں گے۔ میں نے عذر کیا کہ آپ کی موجودگی میں میں نماز نہیں پڑھا سکوں گا۔ مشکل سے آمادہ ہوئے، نماز پڑھائی تو میں نے ایک اور درخواست کر دی کہ اب نصیحت کیلئے بیان بھی فرما دیں۔ چنانچہ انہوں نے فی البدیہ آیت شریفہ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘ پڑھ کر مختصر بیان فرمایا۔ اس کے بعد گھر لا کر تھوڑا سا اکرام کیا اور پھر ان کے رشتہ داروں کے گھر میں جدھر وہ تعزیت کیلئے تشریف لائے تھے پہنچا دیا۔ اس دن میری کیفیت یہ تھی کہ
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ بھی چل بسے!
مولانا زبیر احمد صدیقی
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث، امام اہل السنت حضرت اقدس مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ و فرزند، استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ مؤرخہ 20 صفر الخیر 1447ھ بمطابق 15 اگست 2025ء بروز جمعۃ المبارک، نماز جمعہ کی تیاری کر کے حرکتِ قلب بند ہونے سے جنت سدھار گئے:
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ مآ اخذ ولہٗ مآ اعطیٰ و کل شیءٍ عندہٗ باجل مسمٰی۔ اللھم لا تحرمنا اجرہٗ و لا تفتنا بعدہٗ۔
حضرت اقدس مولانا عبدالقدوس قارنؒ بہترین مدرس، محقق عالم، مصنف کتب، مصلح خطیب، تقویٰ، طہارت اور سادگی کے پیکر تھے۔ آپؒ نہایت مواضع، صلح جو اور صابر و شاکر شخصیت تھے۔ تفسیر و حدیث و فقہ سے خاص شغف تھا۔ اپنے والد گرامی رحمۃ اللہ کی طرح دینی مسلکی اور مِلی غیرت کے خوگر تھے۔ دھیمی طبیعت کے مالک لیکن نظریات و افکار میں چٹان کی طرح مضبوط تھے۔
جامعہ فاروقیہ شجاع آباد اور ہمارے ساتھ آپ کا خاص تعلق تھا۔ 2005ء میں جامعہ فاروقیہ شجاع آباد میں دورہ تفسیر القرآن الکریم و تقابلِ ادیان و مسالک کے اجراء کا فیصلہ کیا تو عاجز آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، پہلے سے سرسری تعارف تھا، کوئی زیادہ تعلق نہ تھا، اس کے باوجود نہایت ہی اکرام و اعزاز سے نوازا۔ عاجز نے آپ کی شفقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جامعہ میں دورہ تفسیر القرآن الکریم پڑھانے کی دعوت دے ڈالی۔ حضرتؒ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دعوت کو قبول فرما لیا۔ چنانچہ آپؒ نے دورہ تفسیر القرآن الکریم کے پہلے سال شعبان المعظم 1426ھ میں پہلے دس پاروں کی تدریس فرمائی۔ عاجز دورہ تفسیر القرآن الکریم کا آغاز کروا کر سفرِ ہانگ کانگ پر چلا گیا، واپس آیا تو حضرت اپنا نصاب پورا فرما چکے تھے، رخصت لے کر واپس تشریف لے گئے۔ یہ ہماری سعادت مندی تھی کہ دورہ تفسیر القرآن الکریم کا آغاز حضرت مولانا عبدالقدوس قارنؒ جیسی شخصیت نے کروایا اس کے اثرات بحمد اللہ آج بھی موجود ہیں۔
تب سے لے کر وصال تک انہوں نے اپنا تعلق نبھایا۔ ذی الحج 1446ھ میں والدہ محترمہ کا وصال ہوا، اس کے بعد حضرت اپنی علالت کے باوجود تعزیت کے لیے تشریف لائے، عاجز نے عرض کیا اتنی نقاہت و علالت کے ساتھ آپ کو تشریف نہیں لانا چاہیے تھا، فون یا مکتوب کے ذریعے ہی تعزیت کافی تھی۔ فرمانے لگے میں اپنے آپ کو جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کا سابق مدرس سمجھتا ہوں۔ عاجز نے اساتذہ کرام کے ساتھ نصیحت پر مبنی نشست کروائی، اپنے گھر لایا۔ واپسی پر ہدیہ پیش کیا تو ہدیہ قبول کرنے سے معذرت کر لی اور فرمایا میں اِس وقت تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ عاجز نے صد اصرار کیا لیکن حضرتؒ نے ہدیہ قبول نہ فرمایا۔
مذکورہ بالا عمل سے حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کی وضع داری اور خودداری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حضرتؒ کے ساتھ اس آخری نشست میں کچھ مسائل پر گفتگو ہوئی، مناسب محسوس ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ وہ مسائل پیش کر دیے جائیں:
- عاجز نے تعزیت کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے متعلق آپ کے والد گرامیؒ امام اہل السنت والجماعت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا معمول پوچھا تو ارشاد فرمایا: ’’حضرتؒ علماء کی مجلس میں تو کبھی کبھی ہاتھ اٹھا کر تعزیت کے موقع پر دعا فرما لیتے لیکن عوام الناس میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے اجتناب فرماتے‘‘۔ تاکہ عوام الناس اس عمل کو سنت نہ سمجھ لیں۔
- سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین سے متعلق گفتگو پر فرمایا: ’’والد گرامی حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ ارشاد فرماتے تھے کہ بنو امیہ کے خلاف سبائیت کا پروپیگنڈہ اور بنی امیہ پر لگائے گئے سنگین الزامات کے نتیجے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد گرامی سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو سَبّ بکا جاتا ہے، ان دونوں صحابہ کرامؓ کی توہین کی بڑی وجہ بنو اُمیہ سے نفرت اور ان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات ہیں۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ نے زندگی کی تقریباً 73 بہاریں دیکھیں۔ (1952ء تا 2025ء) نصف صدی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ’’قال اللہ وقال الرسول‘‘ کی صدائیں لگائیں۔ عرصہ 35 سال بعد نماز فجر قرآن و حدیث کا درس دیا اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ 56 سال تراویح میں قرآن کریم سنایا۔ 50 سال امامت کروائی۔ 17 دینی کتب تصنیف فرمائیں، آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں:
- خزائن السنن (کتاب البیوع)
- حمیدیہ ترجمہ رشیدیہ (فن مناظرہ کی کتاب)
- جنت کے نظارے (علامہ ابن القیمؒ کی کتاب حادی الارواح کا اردو ترجمہ)
- امام بخاریؒ کا عادلانہ دفاع
- مروّجہ قضائے عمری بدعت ہے
- علم غیب خاصہ خداوندی
- ایضاح سنت
- مسئلہ تین طلاق پر جواب مقالہ
- بخاری شریف غیر مقلدین کی نظر میں
- امام ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع (علامہ کوثریؒ کی کتاب تانیب الخطیب کا اردو ترجمہ)
- اظہار الغرور
- وضو کا مسنون طریقہ (شیعہ کی جانب سے اہل سنت کے وضو پر اعتراضات کے جوابات)
- غیر مقلدین کے متضاد فتوے
- الدروس الواضحہ شرح کافیہ
- مجذوبانہ واویلا
- تصویر بڑی صاف ہے
- انکشافِ حقیقت
حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرتؒ کی سیئات کو حسنات سے تبدیل فرمائے اور درجاتِ عالیہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
عاجز نے بحمد اللہ! تعزیت کے لیے مؤرخہ 16 اگست 2025ء کو گوجرانوالہ کا سفر کیا۔ حضرت کے برادران، حضرت اقدس مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبد الحق خان بشیر دامت برکاتہم، حضرت مولانا محمد عمر بن قارن زید مجدہ، حضرت مولانا محمد فیاض سواتی دامت برکاتہم، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور دیگر پسماندگان کی خدمت میں عزاء مسنون پیش فرمایا۔
وصلّی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد واٰلہ وصحبہ وسلم۔
حضرت استاد مکرم رحمہ اللّٰہ کا حاصلِ حیات ’’عبد‘‘ اور حسنِ خاتمہ کے اشارے
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
پہلی ملاقات اور ابتدائی تاثر
استادِ گرامی حضرت مولانا حافظ محمد عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ سے میری پہلی ملاقات 11 شوال 1416ھ، بروز ہفتہ، 2 فروری 1996ء کو جامعہ نصرۃ العلوم میں ہوئی۔ یہ ظہر کی نماز تھی اور پہلی بار ان کی اقتداء کا شرف نصیب ہوا۔
بعد ازاں 18 شوال سے باقاعدہ دروس شروع ہوئے۔ 19 شوال بروز اتوار حضرت قارن صاحبؒ سے استفادے کا سلسلہ شروع ہوا جو زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہا۔
دروس اور علمی استفادہ
ہمارے اوقاتِ درس کی ترتیب یہ تھی:
پہلا سبق: تفسیر (پہلے پندرہ پارے) امام اہل سنہؒ علامہ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے پاس۔
دوسرا سبق: تفسیر جلالین (جلد ثانی) حضرت مولانا محمد یوسف کشمیریؒ کے پاس۔
تیسرا سبق: توضیح و تلویح حضرت مولانا عبدالقیوم ہزارویؒ کے پاس۔
چوتھا سبق: دیوان الحماسہ اور محیط الدائرہ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کے پاس تھا۔
یوں دیوانِ الحماسہ، محیط الدائرہ اور بعد ازاں ہدایہ جلد رابع آپ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا انداز یہ تھا کہ سبق محض پڑھا نہیں دیتے تھے بلکہ ذہن و دماغ پر نقش کر دیتے تھے۔ علم العروض میں جو کچھ سمجھ بوجھ ہمیں حاصل ہے وہ آپ کی کرامت، دعا اور محنت کا نتیجہ ہے۔
ادبِ عربی کا ذوق
ابتدائی طور پر میرا میلان منطق، نحو اور صرف، بلاغت اور دیگر فنون کی طرف تھا، ادبِ عربی میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ لیکن جب حضرت قارنؒ کی خدمت میں دیوان الحماسہ اور محیط الدائرہ پڑھنے بیٹھا تو دل میں عربی ادب کا شوق پیدا ہوگیا۔
شفقت و تعلق
آپ کا شاگردوں کے ساتھ تعلق سراسر شفقت اور محبت پر مبنی تھا۔ ہر شاگرد کو یہ محسوس ہوتا کہ حضرت کا سب سے قریبی اور خاص تعلق میرے ساتھ ہے۔ یہی آپ کے تعلق اور تربیت کا انوکھا رنگ تھا۔
’’عبد‘‘: زندگی کا خلاصہ
حضرت قارنؒ کی ولادت 1371ھ میں ہوئی۔ کمال یہ ہے کہ آپ کے نام کے اعداد کا مجموعہ بھی بعینہٖ 1371ھ بنتا ہے:
محمد = 92، عبد = 76، القدوس = 201، خان = 651، قارن = 351، کل = 1371ھ۔
یوں آپ کی ولادت کا سال آپ کے نام کے عدد سے ظاہر ہوا۔
وفات کے اعتبار سے آپ 1447ھ میں رخصت ہوئے۔ اگر ولادت کے عدد (1371) پر ’’عبد‘‘ (76) کا اضافہ کیا جائے تو بالکل 1447 بنتا ہے۔ یوں پوری زندگی کا خلاصہ ’’عبد‘‘ یعنی حقیقی بندگی و عبادت بن گیا۔ آپ کی ابتدا بھی ’’عبد‘‘ سے تھی اور اختتام بھی ’’عبد‘‘ پر ہوا۔
پورا جملہ یوں ہوگا: ”محمد عبدالقدوس خان قارن عَبدٌ“
(ترجمہ: محمد عبدالقدوس خان قارن، بندگی کا شاہکار۔ )
امام بخاریؒ کی حیات سے مثال
امام بخاریؒ کی حیات پر بھی ایک شاعر نے یوں بیان فرمایا ہے:
مِيلادُهٗ صِدقٌ، وَمُدَّةُ عُمرِهٖ
فِيهَا حَمِيدٌ، وَانقَضٰى فِي نُورٍ
ترجمہ: ان کی پیدائش ’’صدق‘‘ (194ھ) میں ہوئی، ان کی عمر ’’حمید‘‘ (62) تھی اور ان کا وصال ’’نور‘‘ (256ھ) میں ہوا۔
اور امام طحاوی کا مادہ تاریخ پیدائش "مصطفی" (229) ہے عمر "محمد" (92) ہے اور وفات "محمد مصطفی" (321) ہے
اسی طرز پر حضرت قارنؒ کی حیات پر بھی تطبیق نثر کی شکل میں یوں بنتی ہے:
مِيلادُهُ: ”مُحَمَّدٌ عَبدُ القُدُّوسِ خَان قَارِن“، وَمُدَّةُ عُمرِهِ فِيهَا: ”عَبدٌ“، وَانقَضٰی فِي ”مُحَمَّدٌ عَبدُ القُدُّوسِ خَان قَارِن عَبدٌ“۔
گویا آپ کی پوری زندگی عبادت ہی میں ڈھلی ہوئی تھی۔
آخری ایام اور آخری نماز
یہ محض حسابی اتفاق نہ تھا بلکہ عملی زندگی کا عکس بھی تھا۔ جامع مسجد تقویٰ، پیپلز کالونی میں آپ کے بیانات مختصر مگر جامع ہوتے، اکثر 25 منٹ میں مکمل کر دیتے۔
زندگی کا آخری جمعہ آپ نے سورۃ الکوثر کی تفسیر 35 منٹ میں بیان کی جس میں نماز کی تاکید پر خاص زور دیا۔
بدھ 13 اگست کو جامعہ نصرۃ العلوم میں آخری دروس بھی نماز ہی کے متعلق تھے۔ بخاری شریف میں کتاب العیدین سے 18 ویں باب کے اختتام تک سبق پڑھایا، اور ترمذی شریف میں باب فضل الجماعۃ سمیت تین باب پڑھائے۔
پھر جمعہ 15 اگست کی صبح آپ نے آخری نماز جامع مسجد نور میں پڑھائی:
پہلی رکعت میں سورۃ الحشر کا آخری رکوع (آخرت کی تیاری اور تقویٰ کی تاکید)۔
دوسری رکعت میں سورۃ الجمعہ کا آخری رکوع (نماز کو دنیا و تجارت پر مقدم رکھنے کا حکم)۔
یوں آپ نے اپنی آخری نماز میں امت کو یہ دائمی پیغام دیا: اللہ کا تقویٰ، آخرت کی تیاری، اور نماز کو دنیا پر ترجیح دینا۔
نماز کے بعد بھی ذکر و تسبیح جاری رکھا۔ پھر نماز جمعہ سے پہلے غسل فرمایا، لباس تبدیل کیا اور طہارت و تیاری کی حالت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔
وفات کا لمحہ اور حسنِ خاتمہ کی علامت
آپ کی عین وفات کے وقت جامع مسجد نور کے خطیب اور جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم، مولانا محمد فیاض خان سواتی، نے اپنی تقریر کا آغاز خطبہ اور تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ انہوں نے سورۃ کہف کی دو آیات، نمبر 107 اور 108، تلاوت فرمائیں۔ اتفاقاً تقریر کا موضوع تھا: "حسنِ خاتمہ کی تدابیر"۔
ابھی ابتدائی خطبہ مکمل ہی ہوا تھا کہ آپ نے فرمایا: "میں ان آیات کی روشنی میں کچھ تدابیرِ حسنِ خاتمہ کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔"
اتنے میں حافظ عبد الوحید رانا نے یہ خبر سنائی کہ استاد قارن صاحب، کا انتقال ہو گیا ہے۔ حضرت محترم صاحب نے تین بار "انا للہ وانا الیہ راجعون" کا ورد فرمایا اور یوں خبر سنائی کہ ہمارے مسجد کے امام صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔
یہاں قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ آپ کے دیگر بڑے بڑے علمی و تدریسی عناوین کے مقابلے میں، وفات کے وقت آپ کو "مسجد کے امام" کے عنوان سے یاد کیا گیا، جو براہِ راست عبادت اور بندگی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ حقیقت آپ کی پوری زندگی کے خلاصے کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ آپ کی زندگی کا حاصل ’’عبد‘‘ تھا اور آپ کا خاتمہ بھی بندگی و عبادت کے لمحے میں ہوا۔
البتہ ہمارے لیے حسرت اور غم کا مادۂ تاریخ یہ ہے:
بَعُدَ مُحَمَّد عَبدُ القُدُّوسِ خَان قَارِن
یعنی: ’’محمد عبدالقدوس خان قارن بہت دور (سوئے آخرت) چلے گئے‘‘۔
بَعُدَ = 76،محمد = 92، عبد = 76، القدوس = 201، خان = 651،قارن = 351، میزان = 1447ھ.
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی وفات اگست کے دوسرے عشرے کے پہلے جمعہ (11 اگست 1905ء) کو، پہلی اذانِ جمعہ کے بعد ہوئی۔
عجب مشابہت ہے کہ ہمارے مخدومِ گرامی حضرت مولانا محمد عبدالقدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بھی اگست کے دوسرے عشرے کے پہلے جمعہ (15 اگست 2025ء) کو، پہلی اذانِ جمعہ کے بعد پیش آئی۔
یہ موافقت اور مشابہت محض اتفاق نہیں بلکہ اس میں ایک خاص روحانی اشارہ پوشیدہ محسوس ہوتا ہے کہ اولیاءِ کرام اور اہلِ حق کی زندگیاں ہی نہیں بلکہ ان کے اوقاتِ رحلت بھی ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے ہیں۔ شاید یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مقرب بندوں کے مابین ایک باطنی ربط اور سلسلۂ ولایت کا اظہار ہے۔
آخری سبق کے روحانی اشارات اور اختتام مادۂ ’’حمد‘‘ پر
امام بخاریؒ نے اپنی کتاب الجامع الصحیح کی پہلی حدیث کی سند میں اپنے استاد امام "حمیدی" سے آغاز کیا ہے، اور آخر میں اپنے شیخ "احمد بن اشکاب" کی سند سے حدیث شریف پیش کی ہے۔ دونوں کا تعلق مادۂ ’’حمد‘‘ سے ہے۔
یوں کتاب کا آغاز اور اختتام ’’حمد‘‘ پر ہوا۔
یہی شان حضرت مولانا قارنؒ کی زندگی اور آخری اسباق میں بھی نظر آئی۔ آپ کو آخری عبارت سنانے والا طالب علم مولوی حامد ہے، جس کا نام بھی ’’حمد‘‘ سے بنا ہے۔
خوف سے عید تک
آپؒ نے اپنی تدریسی زندگی میں بخاری شریف کی آخری مکمل کتاب ”کتاب صلاۃ الخوف“ ختم فرمائی۔ گویا یہ اعلان تھا کہ اب خوف کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اس کے بعد 13 اگست کو کتاب العیدین کا آغاز فرمایا، جس میں دو عیدوں کا ذکر ہے۔ یہ بھی ایک اشارہ تھا کہ آپ اپنی زندگی کے آخری سفر میں ’’دو عیدوں‘‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں:
پہلی عید: برزخی عید۔
دوسری عید: اُخروی عید۔
یہ بھی اللہ کی خاص مشیت تھی کہ آپ کی رحلت ایسے ایام میں وقوع پذیر ہوئی کہ اگلا دن 14 اگست، پاکستانیوں کا قومی دن اور قومی عید تھا، اس کے بعد مسلمانوں کی ہفتہ وار عید، جمعۃ المبارک کا دن آیا، اور آپ نے انہی متبرک ساعتوں میں دنیا سے رخصتی اختیار کی۔ گویا آپ کی زندگی بھی عید کے پیغام کی طرح مسرت و راحت بانٹتی رہی اور آپ کی وفات بھی عید کے ایام کی برکتوں میں ڈھل گئی۔
بخاری شریف کا آخری سبق
آپؒ نے کتاب العیدین کے 18 ابواب پڑھائے اور باب العلم بالمصلّی کے اختتام پر سبق روک دیا۔ کل 26 ابواب ہیں، یوں 8 ابواب باقی رہ گئے۔ یہ آٹھ دروازوں والے ٹھکانے ”جنت“ کی طرف بلیغ اشارہ ہے۔
طالب علم نے مکتبۃ البشری کے نسخے سے عبارت سنائی، اور "بشریٰ" کے معنی ہی خوشخبری ہیں۔ مزید سبق صفحہ 293 سے شروع ہو کر 301 پر ختم ہوا، جو بالکل 8 صفحات ہیں، جنت کے آٹھ دروازوں کا ایک اور لطیف نشان ہے۔
ترمذی شریف کا آخری سبق
اسی دوران آپؒ نے جامع ترمذی کے آخری صرف تین ابواب پڑھائے۔ یہ تین کا عدد دین کے بنیادی عقائد (توحید، رسالت اور آخرت) کی یاد دہانی ہے۔
یوں اپنی تدریسی زندگی کا اختتام حضرتؒ نے انہی بنیادوں پر کیا، گویا شاگردوں کو پیغام دیا کہ اب انہی پر جمے رہنا ہے۔
آخری سبق کے چشم دید گواہ
مولوی حامد نے اپنے تاثرات یوں قلم بند کیے:
"السلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ، استاذِ محترم رحمہ اللہ نے اپنے آخری دروس میں صحیح بخاری (جلد اوّل، مکتبہ البشری) سے کتاب العیدین صفحہ 293 سے آغاز فرمایا اور باب العلم بالمصلّی کے اختتام تک صفحہ 301 تک پڑھایا۔ اسی طرح جامع ترمذی (جلد اوّل، مکتبہ البشری) میں باب ما جاء فی فضل الجماعۃ (صفحہ 132) سے شروع کیا اور باب ما جاء فی الرجل یصلی وحدہ ثم یدرک الجماعۃ کے آخر تک صفحہ 133 تک پڑھایا۔یہ سعادتِ عظمیٰ بھی فقیر ہی کو نصیب ہوئی کہ دونوں کتب کی عبارات میں نے ہی پڑھ کر سنائی تھیں۔"
یہاں بھی مناسبتوں کے کئی پہلو نکلتے ہیں، تاہم ایک عجیب مناسبت یہ ہے کہ جس شاگرد نے آخری عبارتیں پڑھیں، اس کا نام ’’حامد‘‘ ہے، اور اس کا تعلق بھی ’’حمد‘‘ سے ہے۔ یوں حضرتؒ کی تدریسی زندگی کا حسنِ اختتام بھی مادۂ ’’حمد‘‘ پر ہوا۔ یوں اپنی تدریسی زندگی کا اختتام حضرتؒ نے انہی بنیادوں پر کیا، گویا شاگردوں کو پیغام دیا کہ اب انہی پر جمے رہنا ہے۔
حضرت قارنؒ کی آخری زندگی اور آخری اسباق کے یہ اشارات ایک مکمل پیغام بن گئے:
- خوف ختم ہوا اور خوشی کی بشارت آگئی۔
- دو عیدوں کا سفر شروع ہوا: برزخی اور اخروی۔
- آٹھ ابواب اور آٹھ صفحات، آٹھ دروازوں کی علامت بنے۔
- ترمذی کے تین ابواب، دین کے تین بنیادی عقائد پر جمے رہنے کا اشارہ بن گئے۔
- اور اختتام مادۂ ’’حمد‘‘ پر ہوا۔
یوں حضرت قارنؒ کی پوری زندگی کا حاصل ’’عبد‘‘ تھا، اور تدریسی اختتام ’’عبادت‘‘ اور ’’حمد‘‘ پر ہوا۔ اور جنتیوں کا آخری کلام بھی مادۂ ’’حمد‘‘ پر مشتمل ہوگا: ”وَآخِرُ دَعْواهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ اور آخری دعا ان کی یہ ہوگی کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (ترجمہ حضرت صوفی عبدالحمیدخان سواتیؒ)
(مجلہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ ستمبر ۲۰۲۵ء)
حضرت قارنؒ کی یادیں
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
آج کی بہت دل گرفتہ اور رقت آمیز کیفیت
آج جامعہ اشرف العلوم کے مہتمم حضرت مولانا مفتی نعیم اللہ دامت برکاتہم العالیہ، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ تشریف لائے اور حضرت شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم العالیہ سے ان کے برادرِ مرحوم کی تعزیت کی۔
اس دوران برادر مکرم مولانا عبد الوکیل خان مغیرہ بھی حاضر ہوئے۔ انہوں نے رونے والی کیفیت کے ساتھ، اشکبار آنکھوں اور لرزتی آواز میں یہ خبر سنائی کہ آج ہمارے والدِ گرامی سیالکوٹ کے ایک پروگرام کے لیے روانہ ہونا چاہتے تھے، مگر افسوس! آج والد موجود نہیں ہیں۔ یہ سن کر ہمارے دلوں پر کرب و صدمے کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ہم نے بڑی مشکل سے اپنے جذبات پر قابو پایا، مگر حضرت مولانا راشدی کی کیفیت تو اور بھی زیادہ غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی تھی، بمشکل ضبط کر پا رہے تھے۔
حضرت قارنؒ ہمیں کب تک رلاتے رہیں گے؟ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں خوش و خرم رکھے، اور ہمارا یہ رونا دھونا ان کے حق میں نیکی بنا کر قبول فرمائے۔ ہمارے دردِ دل کے بدلے ربِ کریم انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
مانسہرہ میں حضرت قارنؒ کی یادیں
3 جون 2012ء بروز اتوار 13 رجب المرجب 1433ھ حضرت شیخ الحدیث و التفسیر مولانا حافظ محمد عبد القدوس خان قارنؒ صبح کے وقت اپنے طالب علم محمد ارشد مانسیروی (شریک دورہ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) کے ہمراہ مانسہرہ تشریف لائے۔ آپ سب سے پہلے تاء مسجد میں پہنچے اور وہیں نماز فجر ادا فرمائی۔ بعد ازاں آپ کو جامعہ رحیمیہ لے جایا گیا۔ جامعہ رحیمیہ میں پروگرام کا آغاز نماز ظہر کے بعد ہونا تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد جامعہ کے سامنے کھلے میدان میں قناعتیں لگائی گئیں اور ایک عظیم الشان جلسے کے لیے سٹیج تیار کیا گیا۔ اس اجتماع میں علماء کرام، طلبہ، عوام الناس اور ہر طبقہ فکر کے افراد شریک تھے۔
مہمان خصوصی: شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا حافظ محمد عبد القدوس خان قارن
صدارت: حضرت مولانا خلیل الرحمن نعمانیؒ (شیخ الحدیث جامعہ رحیمیہ)
سرپرستی: حضرت مولانا عبد الغفور دامت برکاتہم العالیہ
منتظمِ جلسہ: حضرت مولانا عبد الرحیم علوی (مہتمم جامعہ رحیمیہ)
نقیبِ محفل: فضل الہادی (سابقہ استاد حدیث جامعہ رحیمیہ و جامعہ اشاعت الاسلام مانسہرہ)
دیگر علماء کی شرکت: خصوصاً حضرت مولانا شبیر احمد کشمیری
علماء کرام کے پُر اثر خطابات کے بعد حضرت قارنؒ کی خدمت میں استقبالیہ نظم پیش کی گئی، جو جامعہ کے دو طلبہ نے نہایت خوبصورت انداز میں سنائی۔ بعد ازاں وہ منظوم استقبالیہ ایک فریم کی صورت میں آپ کو بطور یادگار پیش کیا گیا۔ اس کے بعد حضرت قارنؒ نے تقریباً سوا گھنٹہ نہایت بصیرت افروز درس دیا۔ اس درس میں آپ نے امام بخاریؒ کے حالات و سوانح، بخاری شریف کی عظمت و اہمیت، حدیث شریف کے مقام و مرتبہ، شریعت سے وابستگی کے فوائد، شریعت سے دوری کے نقصانات، اور بالخصوص نئے فاضل علماء کو سیاسی، سماجی اور علمی میدان میں کردار ادا کرنے کی بھرپور ترغیب دی۔
اس جلسہ میں 12 طلبہ نے دورہ حدیث کی تکمیل پر سندِ فراغت حاصل کی، جبکہ 20 حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی۔ اس بابرکت اجتماع میں پیش کیا گیا یہ قصیدہ حضرت مولانا نصر الدین خان عمر زید مجدہم اور ان کے برادران مکرمین دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ (نوٹ: یہ قصیدہ اس لنک پر دستیاب ہے)
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
میری زندگی کا پہلا جمعہ اور حضرت قارنؒ
میری زندگی کا پہلا جمعہ جو میں نے پڑھایا وہ جامع مسجد جان محمد، پیپلز کالونی گوجرانوالہ میں تھا۔ یہ وہی مسجد ہے جہاں ہمارے محترم و مکرم استاذِ گرامی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ (ٹیکسلا) خطیب تھے۔ اس وقت رجب المرجب کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا، سالانہ امتحانات قریب تھے اور تیاری جاری تھی کہ حضرت کے بھانجے، ہمارے ہم جماعت اور حضرت مولانا ضیاء الدین رحمہ اللہ کے فرزند، مولانا محمد بلال (ہری پور) نے اطلاع دی کہ استاذِ گرامی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ ٹیکسلا تشریف لے گئے ہیں اور آپ کو حکم دیا ہے کہ ان کی مسجد میں جمعہ پڑھائیں۔
میں نے راستے کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مولانا محمد عبدالقدوس خان قارن سواتی رحمہ اللہ جمعہ پیپلز کالونی میں پڑھاتے ہیں اور ان کی مسجد ہے جامع مسجد تقویٰ، جو جامع مسجد جان محمد کے قریب ہے۔ لہٰذا انہی کے ہمراہ جانا ہوگا۔ چنانچہ 24 رجب المرجب 1417ھ بمطابق 6 دسمبر 1996ء، بروز جمعہ میں نے پہلی مرتبہ جمعہ کے دونوں عربی خطبے کتاب "نماز حنفی" سے رٹ کر یاد کیے۔
صبح نو بجے ہی میں نے حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ کے گھر پیغام بھیجا کہ کس وقت جانا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ مسجد میں تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے طلبہ سے فرمایا: "اسے منبر پر بٹھاؤ، تقریر سنو، ابھی تو نو بجے ہیں، جب جانے لگیں گے تو اطلاع دے دی جائے گی۔"
متعین وقت پر رکشہ آیا اور میں حضرت قارن رحمہ اللہ کے ساتھ مسجد روانہ ہوا۔ راستے میں میں نے عرض کیا: "استاد جی! یہ میرا پہلا جمعہ ہے، کچھ رہنمائی فرمائیں۔" وہ مسکرائے اور فرمانے لگے: "تمہاری تقریریں تو ہم سنتے رہتے ہیں، بڑا شور مچاتے ہو۔" اس کے بعد انہوں نے جمعہ کے بیان کے لیے معراج النبی ﷺ کے موضوع پر نکات سمجھائے اور ایک جملہ یاد کروایا جس میں ان تمام انبیاء علیہم السلام کے نام اشارۃً جمع تھے جنہوں نے آسمانوں پر حضور ﷺ کا استقبال فرمایا۔ وہ جملہ تھا: "أَعْيَاهُم"۔
ہمزہ (أ) سے: حضرت آدم علیہ السلام (پہلا آسمان)
عین (ع) سے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام (دوسرا آسمان) ـ اسی آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔
یاء (ي) سے: حضرت یوسف علیہ السلام (تیسرا آسمان)
الف (ا) سے: حضرت ادریس علیہ السلام (چوتھا آسمان)
ہاء (هـ) سے: حضرت ہارون علیہ السلام (پانچواں آسمان)
میم (م) سے: حضرت موسیٰ علیہ السلام (چھٹا آسمان)
اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
پھر اس جملے کی لطافت کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کا لفظی ترجمہ ہے: "اس نے ان سب کو تھکا دیا"، لیکن یہاں یہ مطلب مراد نہیں بلکہ اس کا لازمی مفہوم مراد ہے، یعنی: "وہ ان سب سے آگے نکل گئے"۔ اور حقیقت یہی ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر میں تمام انبیاء سے آگے بڑھ گئے۔
یوں میں نے زندگی کا پہلا جمعہ اسی مسجد میں پڑھایا۔ جمعہ کے بعد واپسی بھی اسی رکشے سے ہوئی۔ میں نے حضرت قارن رحمہ اللہ سے درخواست کی کہ چھٹیوں میں یہیں رہ کر تفسیر پڑھنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی عرض کیا کہ فلسفے کے بعض اسباق مجھے سمجھ نہیں آئے، اس لیے آپ "ہدایت الحکمت" پڑھا دیں۔ وہ مسکرا کر فرمانے لگے: "چھٹیوں میں تو چھٹیاں ہی کروں گا!" بعد میں ہم نے یہی درخواست حضرت مولانا عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ سے کی تو انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے ہمیں "ہدایت الحکمت" پڑھانا شروع کیا۔ میں، مولانا قاری محمد خورشید اور حضرت مولانا حماد الرحمٰن ہم سبق تھے۔ مگر افسوس! تین ہی اسباق کے بعد حضرت کی طبیعت ناساز ہو گئی اور سلسلہ رک گیا۔ انہی دنوں حضرت قارن رحمہ اللہ بھی شدید بیمار ہوگئے۔ ایک دن فرمانے لگے: "مولوی فضل الہادی! میں نے تجھے کتاب پڑھانے سے انکار کیا تھا، اسی لیے بیمار ہوا ہوں۔" میں نے عرض کیا: "استاد جی! ایسا نہیں، میں نے تو حضرت عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ سے سبق شروع کیا تھا، مگر وہ بھی بیمار ہوگئے۔" اس پر وہ حیران ہو کر فرمانے لگے: "عجیب بات ہے، جو پڑھائے وہ بھی بیمار، اور جو نہ پڑھائے وہ بھی بیمار!"
یہ پہلا جمعہ تھا جو میں نے پڑھایا اور وہ بھی حضرت قارن رحمہ اللہ کی معیت میں۔ اگلا جمعہ 13 دسمبر 1996ء کو مسجد عثمان غنیؓ، محمدی ٹاؤن میں پڑھانا پڑا۔ وہاں مجھے ناظم جامعہ، حضرت مولانا محمد ریاض خان سواتی رحمہ اللہ نے بھیجا تھا۔ یوں مسلسل دو جمعے پڑھانے کی سعادت ملی۔ اللہ تعالیٰ ان تینوں بزرگوں، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ٹیکسلا رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ، اور ناظم جامعہ حضرت مولانا صوفی محمد ریاض خان سواتی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبور کو نور سے بھر دے اور ہمیں ان کی برکات سے ہمیشہ مستفید فرمائے۔
اللَّهُمَّ لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم۔ ترجمہ: اے اللہ! ہمیں ان کے اجر و ثواب سے محروم نہ فرما، اور ان کے بعد ہمیں فتنے میں نہ ڈال۔
(۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)
مانسہرہ میں یوم آزادی اور حضرت قارنؒ کی تاریخی آمد
14 اگست 2006ء کے دو عظیم اجتماعات کی یادگار روداد
مولانا حافظ عبد الہادی المیدانی سواتی
14 اگست 2006ء بروز پیر، مانسہرہ کی دینی و علمی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جسے ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اسی ایک دن میں دو عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ مہمانِ خصوصی تھے۔ علما و مشائخ، طلبہ و طالبات، فاضلات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے ان سے فیض پایا اور ان کے ایمان افروز خطابات سے دلوں کو جلا بخشی۔
حضرتؒ کا انکساری بھرا سفر
انتظامیہ نے خواہش ظاہر کی کہ حضرتؒ کے لیے خصوصی گاڑی بھیجی جائے، مگر آپؒ نے ہمیشہ کی طرح سادگی و انکساری کو ترجیح دی اور ایک عام سواری میں رات بھر کا طویل سفر طے کر کے مانسہرہ پہنچے۔ صبح سویرے قلندر آباد میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل مولانا شیخ محمد عقیل کے ہاں قیام فرمایا۔ بعد ازاں مولانا فضل الہادی اور مولانا عبید اللہ شاہ آپ کو جامعہ بنوریہ لے آئے۔ یہ منظر ہی حضرتؒ کی عظیم شخصیت کا آئینہ دار تھا کہ بڑا سے بڑا عالم بھی عاجزی اور تواضع میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔
جامعہ بنوریہ للبنات مانسہرہ کی ختم بخاری تقریب
صفدر چوک ڈب نمبر 1 میں قائم جامعہ بنوریہ للبنات الاسلامیہ میں پہلی بار بخاری شریف کے اختتام کی پرنور تقریب منعقد ہوئی، جس میں خواتین، طالبات، فاضلات اور علما و مشائخ کی بڑی تعداد شریک تھی۔
نظامت و خطابات
جلسے کی نظامت مولانا مفتی فضل الہادی نے کی۔ پراثر خطابات کرنے والوں میں حضرت مولانا عبد الغفور دامت برکاتہم، مہتمم جامعہ حضرت مولانا سید قاضی شاہ، حضرت مولانا سید عبید اللہ شاہ، حضرت مولانا سراج العارفین، حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ اور استاذِ مکرم حضرت مولانا خلیل الرحمن نعمانی شامل تھے۔
مولانا خلیل الرحمن نعمانی نے فرمایا:
’’پہلی ختم بخاری میں حضرت قارنؒ کی شفقت جامعہ کے مستقبل کے لیے ایک روشن مینار ہے۔‘‘
جامعہ کے سرپرست حضرت مولانا سید مہتاب شاہ نے حضرت مہمانِ مکرم سمیت تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی آمد کو جامعہ کے لیے سعادت اور علاقے کے لیے خیر و برکت قرار دیا۔ اسی طرح جامعہ منہاج العلوم کے مہتمم حضرت مولانا فیض الباری نے بتایا کہ دورۂ حدیث کے زمانے میں حضرت قارنؒ ان کے استاد اور ناظم رہے ہیں۔
منظوم استقبالیہ اور حدیث کی قراءت
مولانا فضل الہادی نے عربی منظوم استقبالیہ لکھا، جسے قاری عادل محمود نے خوش الحانی سے پڑھا اور پھر فریم کر کے حضرتؒ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اسی موقع پر مولانا فضل الہادی نے بخاری شریف کی متعلقہ حدیث بھی سند کے ساتھ پڑھ کر سنائی۔
حضرتؒ کا خطاب اور تشریحِ حدیث
حضرت قارنؒ نے جامعہ کے منتظمین، اساتذہ اور معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا:
’’آپ حضرات نے اس علاقے کو بچیوں کی تعلیم سے بھی مالامال کر دیا ہے۔ یہ ایک عظیم دینی خدمت ہے۔‘‘
آپؒ نے ہزارہ کے علما و مشائخ کی علمی روایت، تحریکِ آزادی میں ان کی قربانیوں اور مدارس کی خدمات کا ذکر کیا۔ اپنے شاگرد مولانا فضل الہادی کی علمی صلاحیتوں کو سراہا، مولانا خلیل الرحمن نعمانی پر اعتماد کا اظہار فرمایا اور مولانا فیض الباری کو اپنے والدِ ماجد کے ممتاز شاگردوں میں شمار کیا۔
کتاب النکاح کی آخری حدیث کی تشریح میں آپؒ نے نہایت باریک نکات بیان کیے:
- بیٹیاں گھروں میں شوہروں کے لیے سکون و راحت کا باعث بنیں.
- بیٹے بڑے منصب پر بھی ہوں تو والدین کے نصیحت کرنے کا حق باقی رہتا ہے۔
آخر میں حضرت مولانا عبد الغفور دامت برکاتہم کی پُرسوز دعا پر یہ تاریخی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ خواتین اور طالبات کی کثیر شرکت نے اسے ایک یادگار تقریب بنا دیا.
لبرکوٹ کا عظیم اجتماع
نمازِ ظہر کے بعد حضرت قارنؒ ایک بڑے قافلے کے ہمراہ، حضرت مولانا سراج العارفین اور مولانا فضل الہادی کی معیت میں لبر کوٹ روانہ ہوئے۔ راستے میں حضرت مولانا فیض الباری کے مدرسے میں مختصر حاضری دی اور پھر جامعہ اُم سلمہ للبنات لبر کوٹ پہنچے جہاں ختم بخاری کی تقریب جاری تھی۔ اس اجتماع کے ناظم بھی مولانا فضل الہادی تھے۔
علما کے خطابات اور استقبال
جامعہ کے بانی حاجی علی حسین، مہتمم مولانا خلیل الرحمن نعمانی، ناظم قاری محمد اعجاز، مولانا نور الٰہی، قاضی حبیب الرحمن اور دیگر علما نے والہانہ استقبال کیا۔ خطابات میں حضرتؒ کی آمد کو اپنی سعادت قرار دیا گیا۔
منظوم سپاس نامہ اور ولولہ انگیز درس
یہاں بھی مولانا فضل الہادی نے نیا عربی منظوم سپاس نامہ پیش کیا جسے قاری عادل محمود روفی نے ترنم کے ساتھ پڑھا۔ اس کے بعد حضرت قارنؒ نے نہایت دلنشین انداز میں حدیث شریف سنائی اور فرمایا:
’’اس علاقے میں دینداری کے ساتھ لوگوں کا گہرا تعلق، علماء کی بڑی تعداد اور اپنے والدِ گرامی کے شاگردوں کو دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔‘‘
آپؒ نے بخاری شریف کی حدیث کی روشنی میں سماجی مسائل، خاندانوں میں رقابتوں کے اسباب اور ان کے ازالے کی صورتیں بیان کیں۔ ساتھ ہی علم کے فضائل، مدارس کی اہمیت اور علما کی قربانیوں پر مفصل گفتگو فرمائی۔ یہ ولولہ انگیز خطاب تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا اور سامعین ہمہ تن گوش رہے۔
اجازتِ تدریس
جامعہ کے مدرس میں نے اور مولانا امر اللہ نے حضرتؒ سے متن الکافی کی اجازت حاصل کی جبکہ دیگر علما نے بھی حدیث شریف کی اجازت لی۔ پروگرام کا اختتام حضرت مولانا عبد الغفور دامت برکاتہم کی دعا پر ہوا۔
اچھڑیاں میں قیام اور واپسی
نمازِ عصر کے بعد حضرت قارنؒ اچھڑیاں تشریف لے گئے اور اپنی ہمشیرہ کے ہاں قیام فرمایا، مولانا سراج العارفین اور مولانا فضل الہادی حضرت کو اچھڑیاں پہنچا کر واپس آگئے۔ حضرت قارن رحمہ اللّٰہ نے جامعہ انوار القرآن ہزارہ یونیورسٹی کے خطیب اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا حافظ تاج محمود سے بھی ملاقات کی اور انہیں اپنی کتاب "انکشاف حقیقت" بطورِ تحفہ عطا کی۔ یہی کتاب اپنے شاگرد مولانا فضل الہادی کو بھی مرحمت فرمائی۔
اگلے دن حسبِ معمول سادگی اور خودداری کے ساتھ اکیلے ہی گوجرانوالہ واپس روانہ ہو گئے۔
یوں یومِ آزادی 14 اگست 2006ء کا دن مانسہرہ کی فضاؤں میں حضرت قارنؒ کے ایمان افروز خطابات، ان کی عاجزی و خلوص اور ان کی علمی شان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ ایک ہی دن دو عظیم اجتماعات میں علما، طلبہ، طالبات، فاضلات اور عوام نے حضرتؒ کے فیوض و برکات سے استفادہ کیا۔ یہ دن مانسہرہ کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور حضرتؒ کی حیاتِ مبارکہ کا تابندہ باب ہے۔
اللَّهُمَّ اغفِر لِحَضرَةِ القَارِن، وَمَنِحْنَا الِانتِفَاعَ بِفُيُوضَاتِهِ، وَاحفَظْنَا بَعدَهُ مِنَ الفِتَنِ مَا ظَهَرَ وَمَا بَطَنَ، وَلَا تَحرِمنَا أَجرَهُ، وَاجمَعنَا بِهِ فِي دَرجَاتِ الجَنَّةِ مَعَ الأَبرَارِ۔
آہ! سائبانِ شفقت ہم سے جدا ہوا ہے
قاری محمد ابوبکر صدیقی
استاد محترم عمدۃ المدرسین، یادگارِ اسلاف، عظیم محدث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن بھی داعیِٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ راقم السطور بروز جمعہ والدین کے ہاں گیا ہوا تھا، وہیں پر جمعہ ادا کر کے گھر پہنچا تو یہ اندوہناک خبر ملی کہ استاد قارن صاحبؒ وصال فرما گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی اعصاب شل ہوگئے اور سر چکرا گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور انا للہ کے سوا کوئی جملہ زبان سے نہ نکل سکا۔ استاد محترم کی ذات سراپا شفقت و محبت تھی، جس سے ملتے اسے یہ محسوس ہوتا کہ استاد جی کا تعلق سب سے زیادہ مجھ سے ہے۔
استاد جی سے ہمارا تعلق
استاد قارن صاحبؒ گو میرے براہِ راست استاد نہیں، میرے والد صاحب (مولانا قاری رشید احمد صدیقی) کے استاد تھے۔ اور والد صاحب سے حضرات شیخین کریمینؒ کے بعد جن کا سب سے زیادہ والہانہ تذکرہ سنا وہ استاد قارن صاحبؒ ہیں۔ 2005ء میں والد محترم گرفتار ہوئے، اور 1 مہینے کی نظربندی 10 مہینے تک طویل کر دی گئی، اسی دوران والد صاحب کا خط آیا کہ نصرۃ العلوم جا کر استاد قارن صاحب سے دعاؤں کی درخواست کرنا۔ ایک روز میں نصرۃ العلوم استاد جی کی خدمت میں حاضر ہوا استاد جی سبق پڑھا کر گھر کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے والد صاحب کی درخواست پیش کی، تو مجھے گلے لگایا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور فرمایا کہ مکمل صورتحال سے آگاہ کرو۔ میں نے تمام حالات تفصیل سے عرض کر دیے تو فرمانے لگے "تیرے ابو دی بڑی قربانی اے پر اودی قدر نئیں کیتی کسے نے" (تیرے ابو کی بڑی قربانی ہے مگر اس کی قدر کسی نے نہیں کی)۔ اس کے بعد مجھے تسلی دی کہ دین کیلئے قربانی دینا ہمارے بزرگوں کی سنت ہے، پریشان نہیں ہونا۔ چائے وغیرہ کے بعد رخصت کرتے ہوئے کچھ پیسے دیے کہ یہ گھر میں استعمال کرنا۔ یہ میری استاد جی سے بغیر واسطے کے پہلی ملاقات تھی۔
2011ء میں میرے چھوٹے بھائی عزیزم مولوی محمد اسامہ عبد اللہ کے حفظ کی تکمیل ہوئی تو اس کا آخری سبق استاد جی نے سنا۔ ماشاء اللہ اب وہ استاد جی کا شاگرد ہے اور پچھلے سال نصرۃ العلوم سے دورۂ حدیث کر چکا ہے۔
استاد جی کی محبت
کھانے کے بعد میں نے پوچھا کہ استاد جی چائے میں چینی ڈالنی ہے، تو میری کمر پر تھپکی دی اور فرمایا کہ "بغیر چینی توں چاہ بن دی اے؟" (بغیر چینی کہ چائے بنتی ہے؟) جہاں ملتے محبت و شفقت کا اظہار فرماتے، ساتھ کوئی لطیفہ یا چٹکلہ ضرور سناتے۔
اہل علم کی نظر میں استاد جی کا علمی مقام
قریباً 8 یا 9 سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ماموں فرمانے لگے کہ مجھے کسی حدیث کے بارے کوئی مسئلہ درپیش ہوا، میرا رابطہ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ (سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) کے ساتھ ہوتا رہتا تھا، میں نے پریشانی کے عالم میں حضرت کو کال کی اور مسئلہ عرض کیا کہ حضرت یہ معاملہ ہے۔ ماموں جی کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ جب انہوں نے کہا کہ "آپ کے قریب مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ ہیں، ان سے پوچھیے، فی الحال میرے ذہن میں مستحضر نہیں ہے۔" اور فرمایا کہ "پوچھ کر ان کا جواب مجھے بھی ضرور بتانا۔" ماموں جی کہتے ہیں کہ میں نے استاد جی قارن صاحب کے سامنے ساری بات رکھی تو استاد جی نے چٹکی میں وہ مسئلہ حل کردیا۔ میں نے حضرت پالنپوری رحمہ اللہ کو استاد جی کا جواب سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ "بڑے باپ کے بڑے بیٹے ہیں، مجھے پتہ تھا کہ حضرت قارن صاحب فوراً یہ مسئلہ حل کردیں گے۔"
استاد جی کی نصیحت
دو سال قبل مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں حضرت مولانا محمد ریاض خان سواتی رحمہ اللہ تعالی کی یاد میں تعزیتی پروگرام منعقد ہوا، استاد جی اس میں تشریف لائے۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا تو راقم نے عرض کی کہ استاد جی نماز پڑھائیں، استاد جی نے فرمایا کہ خود پڑھاؤ۔ نماز کے بعد میں مصافحہ کیلئے بڑھا تو استاد جی نے فرمایا، یہاں کب سے ہے؟ راقم نے عرض کی کہ استاد جی دو سال ہوگئے ہیں۔ فرمایا، کس نے رکھا ہے؟ عرض کی بڑے استاد جی مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہم نے۔ بہت خوش ہوئے اور پنجابی زبان میں فرمایا کہ "میری گل نصیحت سمجھ کے یاد رکھیں" (میری بات نصیحت سمجھ کر یاد رکھنا) کہ استاداں دا ناں اپنے مفاد واسطے کدی استعمال نئیں کرنا" (استاد جی مولانا زاہدالراشدی صاحب کا نام اپنے مفاد کیلئے کبھی استعمال نا کرنا)۔ الحمد للہ ابھی تک اس نصیحت پر کار بند ہوں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کوشش یہی ہے۔
اہل تصوف کے ہاں استاد جی کا مقام
ہمارے بڑے حضرت جی، حضرت اقدس مولانا حافظ محمد ناصر الدین خان خاکوانی صاحب دامت برکاتہم استاد جی سے بہت محبت فرماتے، اور استاد جی قارن صاحبؒ بھی حضرت جی سے بہت محبت فرماتے تھے۔ حضرت حافظ سیف اللہ صاحب جو کہ مچھلی منڈی کی مسجد کے امام اور حضرت خاکوانی صاحب کے اجل خلفاء میں سے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ اس ناکارہ کو فرمایا کہ استاد قارن صاحب نے حضرت خاکوانی صاحب سے بیعت ہونے کی درخواست کی تھی مگر حضرت خاکوانی صاحب مدظلہم نے استاد قارن صاحبؒ کو کہا کہ آپ کو حضرت شیخ سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی نسبت حاصل ہے اور حضرت کی نسبت بہت اونچی نسبت ہے۔ لہٰذا میں آپ کو بیعت نہیں کروں گا۔ بلکہ حضرت خاکوانی صاحب مدظلہم نے کئی مرتبہ استاد قارن صاحب کی موجودگی میں فرمایا کہ گوجرانوالہ آکر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ ان جیسے حضرات سے استفادہ کرتا ہوں۔ دارالسلام کے اجتماعات میں بھی کئی مرتبہ استاد جی قارن صاحب کو دعوت دے کر بلایا اور بیان کروایا۔
حضرت صوفی عطاء اللہ صاحب رحمہ اللہ کی خانقاہ میں جب حضرت خاکوانی صاحب تشریف لاتے تو اکثر استاد قارن صاحب بیان کر رہے ہوتے تھے۔ حضرت بڑے انہماک کے ساتھ استاد جی کا بیان سماعت فرماتے۔ ایک مرتبہ استاد قارن صاحب نے ہمارے ایک پیر بھائی سے کہا کہ حضرت خاکوانی صاحب تصوف میں عظیم شخصیت تو ہیں ہی، مگر علمی مقام بھی بہت اونچا ہے کہ حضرت جو قرآن پاک سے استدلال کرتے ہیں اس پر حیران رہ جاتا ہوں۔ اسی طرح اس فقیر نے حضرت صوفی عطاء اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ جب استاد قارن صاحب سے ملتے تو فرطِ محبت میں حضرت صوفی صاحب بھی آبدیدہ ہوتے اور استاذ قارن صاحب کی آنکھیں بھی نم ہوتیں۔ آہا حضرت الاستاد کی شخصیت تھی ہی ایسی کہ جو کئی کمالات کا مجموعہ تھی جو ملتا وہ انہیں کا ہوکر رہ جاتا۔
یہ سطور لکھتے ہوئے بھی راقم کی آنکھیں نم ہیں، دل ویران سا ہے، کہاں سے ملیں گے اب استاد قارن صاحب جیسی محبت و شفقت دینے والے، کہ جن کی مجلس دل کو جِلا بخشتی تھی۔ اللہ رب العزت استاد جی کی کامل مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوس عطا فرمائیں۔ اور استاد جی کے اہلِ خانہ، بچوں اور مجھ سمیت تمام متعلقین محبیّن متوسلین اور شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں۔ اور ہم سب کو استاذ جی کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
وہ سائبانِ شفقت ہم سے جدا ہوا ہے
جنت کا راہی اپنی جنت میں جا بسا ہے
تا عمر دین حق کی جو آبیاری کی تھی
مجھ کو یقیں ہے رب نے اس کا صلہ دیا ہے
آمین ثم آمین۔
مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کے ساتھ وابستہ یادیں
اسد اللہ خان پشاوری
15 اگست 2025ء کو بروز جمعہ شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کا انتقال ہوا۔ وہ مولانا سرفراز صفدر صاحبؒ کے بڑے بیٹوں میں سے تھے اور مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم سے کچھ سال چھوٹے تھے۔ اللہ تعالی ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے۔ میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور ان کی اکثر تصانیف کا مطالعہ کیا تھا، لہٰذا زیر نظر مضمون میں ان سے جڑی یادوں کو ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بندہ نے مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کے بارے میں لکھے گئے اپنے مضمون میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح مجھے مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی کتابوں کی طرف رہنمائی ہوئی۔ یہ قصہ وہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ میں جب مدرسہ عربیہ رائے ونڈ لاہور میں پڑھتا تھا، صرف سالانہ چھٹیوں میں گھر جاتا تھا، تو میری کوشش ہوتی تھی کہ راستے میں مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے ملاقات کروں اور وہاں سے کچھ کتابیں بھی خریدوں۔ اسی غرض سے 2002ء میں میں تبلیغی چلّے کے بعد گوجرانوالہ گیا تھا، اس موقع پر مولانا عبد القدوس خان قارن صاحبؒ سے بھی ملاقات ہوئی تھی، اس سفر کی روداد میں نے اپنی ڈائری میں لکھی تھی، اس وقت میں اگرچہ نوآموز تھا، لیکن کچھ نا کچھ لکھنے کی کوشش کرتا تھا، ملاحظہ ہو:
’’… میں اور احمد گل گوجرانوالہ گئے، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب سے ملاقات کے لیے۔ سب سے پہلے مکتبہ نعمانیہ گیا جو اہلِ حدیث کا تھا، مکتبہ دار السلام گیا جو سلفیوں کا تھا، پھر جامعہ نصرۃ العلوم گیا۔ جامعہ ہٰذا کے ناظم فرزند ارجمند صوفی عبد الحمید صاحب سے ملاقات ہوئی، کافی دیر ان کے پاس بیٹھا رہا، حضرت سے مدرسے کے تعارف کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مدرسہ ہٰذا کا ماہنامہ دیا (ماہنامہ نصرۃ العلوم نومبر 2002ء) اس کے پشت پر یہ تعارف لکھا ہوا تھا:
تعارف مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ قائم شدہ 1952ء: مدرسہ ہٰذا گوجرانوالہ میں قرآن و سنت اور دیگر علومِ اسلامیہ کا ایک عظیم ادارہ ہے۔ جہاں فرقہ واریت سے بالاتر قرآن و سنت اور دیگر علوم و فنون کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، گزشتہ نصف صدی میں یہاں سے ایک لاکھ سے زائد طلباء و طالبات نے تعلیم حاصل کی ہے، جو گوجرانوالہ، پاکستان کے ہر علاقے اور دنیا کے کئی ممالک میں اسلام، دین اور شریعت کی نشر و اشاعت و ترویج کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، اس سال بھی اللہ تعالی کے فضل و کرم سے 125 ایک سو پچیس طلباء و طالبات نے دورہ شریف، تفسیر قرآن کریم، تجوید و قراءت اور حفظ قرآن سے سند حاصل کی ہے۔ کل پچاسی اساتذہ و معلمات۔ (ملخصا)
میں نے مولانا و ناظم حافظ ریاض خان سواتی صاحب سے پوچھا، کیا ’’تسکین الصدور‘‘ کی رد میں کوئی کتاب لکھی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کون اس کی رد میں کتاب لکھ سکتا ہے، اس پر تو علمائے دیوبند کی تصدیقات ہیں تو کس کس تصدیق کی نفی کرے گا۔ پھر فرمایا چھوٹے چھوٹے رسائل ویسے لکھے گئے مگر وہ ویسے برائے نام جواب تھے، کوئی کتاب لکھی جاتی تو ہم تک پہنچ جاتی۔
پھر مولوی محمد فیاض خان سواتی سے ملاقات ہوئی۔ اصل ملاقات جن کی مقصود تھی وہ حضرت مولانا شیخ الحدیث سرفراز خان صفدر صاحب کی اور ان کے برادر محترم شیخ الحدیث صوفی عبد الحمید صاحب کی۔ شیخ صاحب کے بارے میں جب سُنا کہ وہ تو عمرے پر گئے ہوئے ہیں تو بہت رنجیدہ ہوا، لیکن خوشی اس بات کی ہوئی کہ اللہ تبارک و تعالی نے اتنی طاقت دے دی کہ عمرے کے لیے گئے۔
صوفی صاحب صبح 10 بجے تک مدرسے ميں بیٹھے رہتے ہیں، 10 بجے کے بعد پھر گھر جاتے ہیں (گھر بالکل مدرسے کے متصل ہے)، پھر اگلے روز نکلتے ہیں، اور میں ان کی ملاقات کیلئے 11 بجے پہنچ گیا تھا۔ مولوی صاحب نے کہا کہ اب تو ملاقات نہیں ہو سکتی۔
اتنے میں حافظ عبد القدوس خان قارن لائبریری سے شیر کی طرح نکلے اور گھر کی طرف جا رہے تھے، ملاقات کا یہی موقع تھا، میں جلدی سے بھاگا اور ملاقات کی، پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا پشاور سے، فرمایا کہ غلطی کی اوہو ہم نے وہاں آنا تھا (مسکراتے ہوئے)، میں نے کہا نہیں جی۔ پھر پوچھا کس لئے آئے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرات کی ملاقات کے لیے، فرمایا تو پھر حضرات سے ملاقات کرو، صوفی صاحب ہیں، میں نے کہا جی آپ بھی تو ہیں! فرمایا نہیں جاؤ صوفی صاحب کو ملو اور گھر میں جا کر ملاقات کرو۔ آخر میں جدا ہوتے ہوئے میں نے کہا جی آپ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، تواضعاً فرمایا: ہماری کیا کتابیں ہیں۔
حافظ ریاض خان صاحب نے فرمایا تم بیٹھو تمہاری ملاقات ہو جائے گی۔ آخر میں کمرے میں گیا صوفی صاحب فرشتے رو چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، سامنے ایک اور چار پائی تھی، مجھے بیٹھے کا حکم دیا، میں نیچے زمین پر بیٹھا، مجھے تین مرتبہ اصرار سے فرمایا چارپائی پر بیٹھو، جلدی جلدی تعارف کے بارے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ کیوں آئے ہو؟ کیا پڑھتے ہو؟ والدین کیا کرتے ہیں؟ میں نے جواب دیا ۔ پھر میں نے خیریت پوچھی، فرمایا: چل پھر نہیں سکتا، یہی کمرے میں نماز پڑھتا ہوں۔ آخری کلمے یہ تھے کہ کورس مکمل کرو پھر آؤ ۔ میں کمرے سے باہر آیا۔ صوفی صاحب کے کمرے دائیں بائیں کچاکچ کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔
ظہر کی نماز کا وقت ہوا، نماز حافظ قارن صاحب نے پڑھائی، تقریباً 10 دس منٹ میں چار فرض پڑھے۔ نماز کے بعد مدرسہ ہٰذا کے دارالافتار میں گیا، دار الافتاء میں مفتی نور محمد صاحب سے ملاقات کی، خیر المدارس سے افتاء کیا تھا، یہاں جامعہ میں تین سال سے افتاء کا شعبہ سنبھالا تھا۔ ایک اور مفتی صاحب تھے ان کا نام نہ پوچھا۔ پھر مکتبے آئے، مدرسے میں ہی مکتبہ ہے ادارہ نشر و اشاعت، وہاں سے شیخ سرفراز صاحب کی، صوفی صاحب کی، قارن صاحب کی، فیاض صاحب اور عمار صاحب کی کتابیں خریدیں۔ پھر گھنٹہ گھر گئے، احمد کیسٹ ہاؤس سے شیخ صاحب کی، تقی عثمانی صاحب کی اور قاری محمد طیب صاحب کی کیسٹیں خریدیں، پھر واپس گھر کی طرف رخ کیا۔ رات 2 بجے گھر پہنچے۔‘‘ (ذاتی ڈائری، اسد اللہ خان)۔
مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی کتابیں
یہ وہ دور تھا جب یہاں خوب کتابیں لکھی جا رہی تھیں، اس پورے گھرانے کی کتابیں علمی ہوتی تھیں، لہٰذا میری کوشش ہوتی تھی کہ اس پورے خاندان کی تمام کتابیں خریدوں۔ ذیل میں مولانا قارن صاحبؒ کی پڑھی ہوئی کتابوں کی تفصیل درج کرتا ہوں:
- خزائن السنن اردو شرح سنن ترمذی، دورہ حدیث کے سال اس کا مطالعہ کیا تھا۔
- فنِ مناظرہ کی کتاب رشیدیہ کی اردو شرح حمیدیہ۔ خریدی تھی اور مطالعہ کیا تھا۔
- امام بخاریؒ کا عادلانہ دفاع۔ یہ کتاب خریدی تھی اور مطالعہ کیا تھا۔
- مروجہ قضائے عمری بدعت ہے۔ یہ بھی پڑھی تھی۔ یہ مولانا عبد الحیی لکھنویؒ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔
- مسئلہ تین طلاق پر جواب مقالہ۔ یہ شیخ سرفراز صفدرؒ کی کتاب عمدۃ الاثاث کے دفاع میں لکھی گئی ہے، یہ بھی خریدی تھی اور مطالعہ کیا تھا۔
- بخاری شریف غیرمقلدین کی نظر میں۔ اس کتاب میں انہوں نے بخاری شریف کے وہ مسائل جمع کیے ہیں جس پر غیرمقلدین کا عمل نہیں ہے، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ غیرمقلدین بخاری شریف پر عمل کرتے ہیں احناف اس پر عمل نہیں کرتے۔ یہ بھی خرید کر پڑھی تھی۔
- امام ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع۔ یہ علامہ کوثریؒ کی کتاب تانیب الخطیب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کا مطالعہ کیا تھا۔
- وضو کا مسنون طریقہ (شیعہ کی جانب سے اہل سنت کے وضو پر اعتراضات کے جوابات) یہ بھی خرید پڑھی تھی۔ جب میں 2002ء میں سفر پر گیا تھا یہ اس وقت تازہ چھپی تھی۔
- مولانا ارشاد الحق اثری کا مجذوبانہ واویلا۔ یہ مولانا سرفراز صفدرؒ کے دفاع میں لکھی ہے۔
- تصویر بڑی صاف ہے۔ یہ کتاب بھی مولانا ارشاد الحق اثری کے رد میں ہے۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کے ہزارہ میں دو یادگار دن
مولانا قاری شجاع الدین
الحمد للہ! ہزارہ کی علمی و دینی فضاؤں میں جون 2012ء کا وہ یادگار موقع آج بھی ایمان افروز اور روح پرور یادوں کے طور پر زندہ ہے، جب امام اہل سنت، مجاہدِ باطل شکن حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند اور ان کے علمی و روحانی جانشین، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث، محدث و محقق، استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ نے مانسہرہ کی سرزمین کو اپنی مبارک قدم بوسی سے منور فرمایا۔ یہ بابرکت سفر 3 اور 4 جون 2012ء (اتوار و پیر) کو ہوا اور دو دن کے اندر حضرت نے متعدد مدارس، اجتماعات اور علمی مجالس میں شرکت فرما کر ہزارہ کے علماء، طلباء اور عوام کے دلوں کو نورِ ایمان سے سرشار کیا۔
3 جون 2002ء: جامعہ رحیمیہ، ڈب، مانسہرہ
حضرت قارن صاحب رات بھر کا سفر کر کے گوجرانوالہ سے براہِ راست مانسہرہ پہنچے۔ بعد نمازِ ظہر جامعہ رحیمیہ ڈب میں ختمِ بخاری شریف کی عظیم تقریب منعقد تھی۔ اس موقع کے سرپرست بزرگ عالم دین، استاد الاساتذہ حضرت مولانا عبدالغفور دامت برکاتہم تھے، جبکہ صدرِ جلسہ شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی دامت برکاتہم تھے۔ اسٹیج کی نظامت مولانا فضل الہادی کے سپرد تھی۔ اجتماع علماء، طلبہ اور عوام کے ہزاروں ہجوم پر مشتمل تھا۔ مولانا قارن کی خدمت میں عربی منظوم سپاس نامہ پیش کیا گیا جس میں ان کا خاندانی مقام، والد گرامی کی خدمات، چچا جان کی جلالتِ شان اور خود حضرت کے علمی مقام و تصنیفی خدمات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد انہیں خطاب کی دعوت دی گئی۔ حضرت قارن صاحب نے نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں تقریباً ایک گھنٹہ بیان فرمایا۔ آپ نے خاص طور پر علماء کو دینی و سیاسی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"سیاست انبیاء علیہم السلام کی میراث کا ایک اہم منصب ہے۔ اس منصب کو اگر علماء چھوڑ دیں تو قوم کی رہنمائی کون کرے گا؟ علمی میدان ہو یا سیاسی، شرک و بدعات اور رسومات کے خلاف جہاد علماء ہی کے ذمہ ہے۔ نوجوان علماء اس کام کو بہتر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔"
اس موقع پر 12 فضلاء کو سندِ فراغت اور 20 حفاظِ کرام کی دستاربندی حضرت کے دستِ مبارک سے ہوئی۔ جامعہ کے مہتمم مولانا عبدالرحیم علوی اور شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی نے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا نعمانی نے فرمایا:
"مولانا عبدالقدوس قارن صاحب اپنے عظیم والد کے وہ عظیم فرزند ہیں جنہوں نے امام اہل سنتؒ کی جانشینی کا صحیح حق ادا کیا اور کر رہے ہیں۔ میں انہیں محدثِ درویش خدا مست اور محقق مانتا ہوں کہ بغیر کسی تصنع اور تفاخر کے دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔"
بعد از عصر: مدرسہ عبداللہ بن عباس، پانو ڈھیری
نمازِ مغرب کے وقت حضرت قارن صاحب اپنے ہمراہیوں (مولانا فضل الہادی، قاری شجاع الدین اور قاری عبدالحق عامر) کے ساتھ مدرسہ عبداللہ بن عباس تشریف لے گئے۔ نماز کے بعد صحن میں ایک عوامی نشست منعقد ہوئی۔ حضرت نے نہایت محبت بھرے انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا ذکر فرمایا اور دین پر استقامت اختیار کرنے کی تلقین کی۔ بیان کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں اچھڑیاں تشریف لے گئے اور رات اپنی بڑی ہمشیرہ کے ہاں قیام فرمایا۔ اگلی صبح تک آپ رشتہ داروں اور احباب سے ملاقات اور تعزیت فرماتے رہے۔
4 جون 2012ء: جامعہ اشاعت الاسلام، کالج دوراہا، مانسہرہ
جامعہ اشاعت الاسلام کالج، دوراہا مانسہرہ کے مہتمم مولانا عبدالقدوس، شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمٰن اور مولانا فضل الہادی کی درخواست پر، ظہر کے بعد حضرت قارن صاحب جامعہ اشاعت الاسلام پہنچے۔ یہ ادارہ ہزارہ کی ایک بڑی اور معیاری دینی درسگاہ ہے، جہاں دورۂ حدیث کے ساتھ ساتھ تخصص فی الفقہ کی اسناد بھی دی جاتی ہیں۔
ورود کے وقت سیکورٹی پر مامور افراد نے حضرت کو نہ پہچانا اور تلاشی لی، مگر حضرت نے کمال صبر و انکساری کے ساتھ اسے برداشت فرمایا۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے آپ کی عاجزی اور خندہ پیشانی کی روشن مثال بن گیا۔ جب اسٹیج سے مولانا فضل الہادی نے آپ کا تعارف کرایا اور آپ کو دعوتِ خطاب دی تو لوگ حیرت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نے ایک طویل اور مؤثر خطاب فرمایا۔ آپ نے علماء، طلبہ، عوام اور مدارس کے معاونین کو الگ الگ ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے فرمایا:
"دینی مدارس اسلام کی بقا اور امت کی رہنمائی کے قلعے ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون دین کی نصرت اور قرآن و سنت کی خدمت ہے۔"
اسی روز جامعہ کے 63 طلبہ نے دورۂ حدیث کی فراغت حاصل کی جبکہ 12 علماء نے تخصص فی الفقہ مکمل کیا۔ اس عظیم اجتماع میں کم و بیش دس ہزار افراد شریک ہوئے۔
بزرگوں سے ملاقاتیں
تقریب کے بعد حضرت قارن صاحب اپنے ہمراہیوں قاری شجاع الدین، مولانا فضل الہادی اور مولوی ارشد (متعلم نصرۃ العلوم) سمیت اپنے استاد، ضلع مانسہرہ کی پہچان، ملک کی عظیم علمی، تحریکی اور روحانی شخصیت حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمہ اللہ (سابق شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ) سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔
دونوں بزرگوں کے درمیان مختلف علمی حوالوں سے گفت و شنید ہوئی۔ ہم جیسے طلبہ پرسکون ماحول میں ان کے ارشادات سے مستفید ہوتے رہے اور ہمیں علم و عمل اور روحانیت کے نئے زاویوں سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ مولانا عبدالقیوم ہزاروی اس وقت قریباً 95 برس کے تھے۔ لرزتے ہاتھوں اور کانپتی زبان سے حضرت کے لیے دعا فرمانے لگے۔ یہ منظر ایسا روح پرور تھا کہ حاضرین پر رقت طاری ہو گئی اور ہر دل اس دعا کی قبولیت پر مطمئن تھا۔
اسی شب حضرت نے جامع مسجد علی المرتضیٰ ڈب مانسہرہ میں مولانا محمد انس مرحوم کی خواہش پر مختصر ملاقاتیں کیں، نمازِ عشاء کے بعد ایک چھوٹا سا بیان فرمایا اور رات دس بجے کی گاڑی سے گوجرانوالہ واپسی اختیار کی۔ اگلی صبح فجر کے وقت اپنے مرکز جامعہ نصرۃ العلوم میں پہنچ کر حسبِ معمول درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔
حضرت قارن صاحب کی سادگی
پورے سفر میں حضرت کی سادہ طبیعت نمایاں رہی۔ وہ نہ ذاتی گاڑی استعمال کرتے تھے، نہ ہی کوئی خاص ساز و سامان رکھتے۔ عام کپڑے اور سادہ سی گول ٹوپی ان کا معمول تھی۔ طویل سفر کے لیے عام بس کا سہارا لیتے، اور اگر کسی صاحبِ خیر نے سہولت فراہم کی تو قبول فرما لیتے۔ یہی سادگی اور تواضع آپ کی شخصیت کا اصل حسن تھی، جس نے طلبہ، علماء اور عوام سب کے دل جیت لیے۔
یہ دو دن مانسہرہ کی سرزمین کے لیے سعادت کے دن تھے۔ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کے بیانات، ملاقاتیں اور دعائیں آج بھی اہلِ ہزارہ کے دلوں میں تازہ ہیں۔ آپ کی گفتگو نے جہاں علمی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی، وہیں علماء کو سیاسی اور اصلاحی میدان میں فعال کردار ادا کرنے کی تحریک بھی دی۔
بے شک یہ سفر حضرت قارن صاحب کے دینی و اصلاحی فکر اور ان کی سادہ مگر باوقار شخصیت کا آئینہ دار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دو روزہ علمی و روحانی سفر ہزارہ کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے، جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
حضرت قارن صاحبؒ سے ملاقاتوں اور استفادے کی حسین یادیں
مولانا حافظ فضل اللہ راشدی
حضرت مولانا محمد عبد القدوس خان قارنؒ، امام اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے لائق فرزند اور آپ کے علوم و افکار کے امین تھے، آپ نے نہ صرف اپنے عظیم والد کے قائم کردہ علمی و فکری محاذوں کو سنبھالا بلکہ اپنی تصنیفات، تحقیقات اور وعظ و نصیحت کے ذریعے انہیں مزید آگے بڑھایا۔ رافضیت، تجدد پسندی، انکارِ حیات الانبیاء اور دیگر باطل نظریات کے رد میں حضرت قارنؒ نے جس استقامت اور بصیرت کے ساتھ دیوبندیت کی نمائندگی کی وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی علمی مجالس میں تفقہ، آپ کے بیانات میں اخلاص اور آپ کی شخصیت میں عجز و شفقت نمایاں تھی۔ انسان کی زندگی کے صفحات میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے دل و دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں، میرے لیے ان حسین لمحات میں نہایت قیمتی یادیں وہ ہیں جو حضرت مولانا محمد عبد القدوس خان قارنؒ سے ملاقاتوں اور ان کی شفقتوں سے وابستہ ہیں۔
حضرت استاد محترمؒ سے پہلی ملاقات 10 جون 2009ء کو ہوئی، میں عمر کے ساتویں سال میں تھا۔ خبر ملی کہ حضرت مولانا محمد عبد القدوس خان قارنؒ گوجرانوالہ سے جامعہ بنوریہ مانسہرہ تشریف لا رہے ہیں، اور صبح کا ناشتہ جامعہ اشاعت الاسلام کے مہتمم حضرت مولانا عبدالقدوس ہزاروی صاحب کے ہاں کریں گے۔ میری خوش قسمتی رہی کہ میرے چچا جان حضرت مولانا عبدالہادی صاحب کی شفقت ہمیشہ شاملِ حال رہی۔ مُلک کے اکابر جہاں بھی تشریف لاتے وہ ہمیں ضرور وہاں لے جاتے۔ اس دن بھی انہوں نے صبح سویرے کہا: فضل اللہ کو تیار کرو، گوجرانوالہ سے ہمارے استاد محترم آ رہے ہیں۔ میں چچا جان کے ساتھ جامعہ پہنچا۔ حضرت، مہتمم صاحب کے گھر ناشتہ فرما رہے تھے اور ان کے بھتیجے مولانا محمد احسن خدامی صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ناشتہ کے بعد حضرتؒ جامعہ تشریف لائے، طلبہ دو صفوں میں کھڑے تھے اور حضرت قارنؒ بیچ سے گزر رہے تھے۔ چچا جان نے تعارف کروایا: یہ مولانا فضل الہادی صاحب کا بیٹا ہے۔ حضرت قارنؒ نے شفقت فرماتے ہوئے مجھے گود میں اٹھایا اور پیار دیا۔ میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔
اسی موقع پر میرے والد صاحب نے منبر سے اعلان فرمایا کہ حال ہی میں میری دو کتابیں تکمیل کو پہنچی ہیں: درجہ سادسہ میں علم العروض والقوافی کی متن الکافی۔ اور یہ فن میں نے حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ صاحب ہی سے سیکھا ہے۔ اور دورہ حدیث شریف میں داخل نصاب امام طحاوی کی شرح معانی الآثار۔ ان دونوں کتابوں کا آخری سبق ہمارے گوجرانوالہ سے تشریف لائے ہوئے ہمارے مہمان اور استاد محترم پڑھائیں گے۔ متن الکافی کی آخری عبارت مولانا محمد حسین ہزاروی نے پڑھی۔ طحاوی شریف کا اختتامی سبق بھی حضرت قارنؒ نے پڑھایا۔
جامعہ اشاعت الاسلام سے فراغت کے بعد حضرت قارنؒ جامعہ بنوریہ للبنات مانسہرہ تشریف لے گئے۔ مجھے بھی چچا جان کے ہمراہ وہاں پہنچنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ منظر نہایت روح پرور تھا؛ ایک بڑا مجمع موجود تھا اور مختلف اہلِ علم کے خطابات جاری تھے، آخر میں میرے والدِ گرامی حضرت مولانا فضل الہادی نے حضرت قارنؒ کو خطاب کی دعوت دینے سے قبل مانسہرہ کے نوجوان عالم مولانا قاری عبدالباسط کو مائیک پر مدعو کیا، انہوں نے نہایت دلنشین لہجے میں والدِ گرامی کا تحریر کردہ عربی قصیدہ پیش کیا جس نے محفل کو کیف و سرور سے بھر دیا۔
بعد ازاں والد صاحب نے حضرت استاذِ مکرم قارنؒ کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے فرمایا: حضرت امام اہلِ سنتؒ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن آپ کے فرزندان اُس عظیم علمی و فکری وراثت کے امین اور ترجمان ہیں۔ حضرت مولانا محمد عبد القدوس خان قارن نے اپنے والدِ گرامی کے قائم کردہ تمام محاذوں کو نہایت استقامت کے ساتھ سنبھالا ہوا ہے۔ خواہ وہ قادیانیت کا فتنہ ہو، متجددین کے انحرافات ہوں، رافضیت کا محاذ ہو، ناصبیت کی گمراہی، اہلِ حدیث کی تشدد پسندی کا رد ہو، بریلوی مکتبِ فکر کا غلو ہو، یا مماتی فکر کے شبہات۔ حضرت نے ہر محاذ پر دیوبندیت کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔ آپ کی تصنیفات، تحریرات، تحقیقات، وعظ و نصیحت اور بیانات سب اسی حق گوئی و استقامت کے آئینہ دار ہیں۔ جب والدِ گرامی نے تعارف کے دوران مماتیت کا لفظ استعمال کیا تو علماء کے چہروں پر خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت قارنؒ نے انکارِ حیات الانبیاء جیسے نہایت حساس مسائل میں بھی جرات مندانہ اور مدلل موقف اختیار کیا اور ہمیشہ حق کو واضح فرمایا۔ بعد ازاں حضرت قارنؒ نے بخاری شریف کی آخری حدیث پر نہایت پراثر درس دیا۔ علماء، طلباء، خواتین، طالبات، عالمات اور عامۃ الناس سب ہی اس درس سے بے حد متاثر ہوئے اور محفل کا رنگ یکسر بدل گیا۔
دوسری ملاقات حضرت استاد محترمؒ سے 8 فروری 2013ء کو ہوئی جب شیخ الکل حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا انتقال ہوا تھا۔ حضرت قارنؒ گوجرانوالہ سے ہمارے گھر تشریف لائے اور کچھ دیر آرام فرمایا۔ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا جنازہ نمازِ جمعہ کے بعد تمبر کولا میں تھا۔ حضرت قارن صاحبؒ کے فرزند قاری حافظ شمس الدین خان طلحہ بھی ہمراہ تھے۔ ناشتہ کے دوران میری دونوں بہنوں (جن کی عمریں اس وقت چھ اور چار سال تھیں) نے حضرت قارن صاحبؒ کو قرآنی عربی کی گردانیں سنائیں۔ حضرت نے خوشی کا اظہار کیا اور انہیں سات سو روپے انعام دیا۔ اس کے بعد حضرت نے جامع مسجد ابراہیم باغ لمبی ڈھیری میں (جہاں والد صاحب خطیب تھے) جمعہ پڑھایا، خطاب فرمایا، خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔ بعد ازاں جنازے میں شرکت کے لئے چچا جان حضرت مولانا عبدالہادی صاحب کے ہمراہ موٹر سائیکل پر تشریف لے گئے۔ مجھے بھی حضرت ہزارویؒ کے جنازہ میں چچا عبدالشکور صاحب کے ساتھ شرکت نصیب ہوئی اور دیگر مشائخ کے ساتھ ساتھ حضرت قارن صاحبؒ کا پراثر تعزیتی بیان سنا۔
2017ء میں جب ہم گوجرانوالہ منتقل ہوئے تب میں درجہ ثانیہ میں تھا تو حضرت قارنؒ کی شفقتیں اور قریب سے زیارت کرنا مقدر بنا۔ ہر ملاقات میں نئے زاویے سے ان کی محبت اور توجہ دیکھنے کو ملتی۔ انہی ایام میں ایک یادگار موقع یہ بھی آیا کہ ایک جمعہ کے دن حضرت کے گھر جانا ہوا، کافی دیر تک ملاقات رہی، بار بار خود اُٹھ کر کھانے پینے کی چیزیں لاتے۔ میں نے مؤدبانہ عرض کیا: “حضرت! آپ تکلیف نہ فرمائیں۔” مگر حضرت اپنی عادت کے مطابق خود ہی چیزیں لاتے رہے۔ یہ ان کی عاجزی و شفقت کا بے مثال مظہر تھا، اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اس دن میرا سر بالکل منڈا ہوا تھا تو مسکرا کر پنجابی میں فرمایا: "عمرہ کر آیا ایں دسیا وی نئیں؟"
اس کے بعد استاد جی کی شفقتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آخرکار یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ میں نے حضرت سے ہدایہ جلد رابع، بخاری شریف جلد ثانی اور ترمذی شریف جلد اول پڑھنے کا شرف پایا۔ یہاں یہ بات بھی میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ میرے والد گرامی نے بھی حضرت سے ہدایہ جلد رابع 1997ء میں یہیں پر پڑھنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ اس طرح علم و استفادہ کی یہ روایت والد سے بیٹے تک منتقل ہوئی۔
حضرت کا معمول تھا کہ ہر سال کے آغاز میں پہلی درسگاہی نشست تعارفی ہوا کرتی تھی۔ دورہ حدیث کے آغاز میں بھی جب یہ نشست ہوئی تو ایک ایک طالب علم سے تعارف پوچھتے رہے۔ جب میرا نمبر آیا تو میں نے کہا: نام فضل اللہ۔ حضرت نے دوبارہ پوچھا: "نئیں صحیح ناں دس!" میں نے پھر کہا: فضل اللہ۔ تیسری بار حضرت نے فرمایا: "نئیں راشدی وی نال لا کے دس!" پھر ہنستے ہوئے کہا: "ہُن ٹھیک دسیا ای!" یہ الفاظ پنجابی میں حضرت کی محبت اور شگفتگی کے ساتھ ادا ہوئے جو ہمیشہ یاد رہیں گے۔
حضرت کی شفقت کا ایک اور پہلو یہ بھی تھا کہ کلاس میں سبق کے دوران بات سمجھانے کے لئے اکثر میرا نام لے کر مثال دیا کرتے۔ بسا اوقات والد صاحب کا بھی نام لیا کرتے، اور جب دیہاتی علاقہ کی مثال دینی ہوتی تو ہمارے آبائی وطن "آلائی" کا نام لیا کرتے، جس سے مجھے حضرت کی قربت کا خاص احساس ہوتا۔
حضرت قارنؒ تصویر کے سخت خلاف تھے اور ہمیشہ اس کی ممانعت فرمایا کرتے تھے۔ میں جب ہمارے دادا جان اور والد گرامی کی عمرہ کے سفر سے واپسی ہوئی تو اس دن (8 فروری 2023ء) جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں حضرات شیخینؒ سیمینار منعقد ہوا۔ ہمارے گھر میں حضرت قارنؒ، ان کے برادرِ بزرگ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور دوسرے بھائی حضرت مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب تینوں تشریف فرما تھے۔ تو کسی نے وہاں حضرت قارنؒ کی تصویر بنا کر اپ لوڈ کر دی۔ اس بات پر حضرت نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ ہم نے وہ تصویر ختم کروائی۔ جب بخاری شریف یا ترمذی شریف کے سبق میں تصویر کا ذکر آتا تو حضرت مزاحیہ انداز میں میری طرف دیکھ کر فرمایا کرتے: "اینیں تے ھِک پیالی چائے پیا کے میری فوٹو کچھی سی"- یہ جملہ وہ بارہا محبت بھرے انداز میں دہراتے، گویا اپنی ناپسندیدگی کو بھی ایک لطیف مزاح اور شفقت میں ڈھال دیتے تھے۔ جب بھی کسی پروگرام میں جانا ہوا استاد جی مجھے فرماتے "دیہان رکھیں کوئی فوٹو نہ بناوے"۔
استادِ محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب فرماتے ہیں: مسجد نور کی تحریک کے دوران محکمہ اوقاف نے ایک نہایت خطرناک سازش کی۔ انہوں نے ہمارے خاندان میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے یہ نوٹیفیکیشن جاری کیا کہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی جگہ میرے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کو مسجد نور کا خطیب مقرر کیا جائے۔ بظاہر یہ ایک سرکاری تقرری تھی مگر حقیقت میں خاندان کے دو بزرگوں کے درمیان دوری ڈالنے اور تحریک کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ جب یہ نوٹیفیکیشن حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کو ملا تو انہوں نے مجھ سے بات کی۔ میں نے کہا کہ یہ جتنی بڑی سازش ہے اس کا جواب بھی اسی شان کا ہونا چاہیے۔ آپ کارکنوں کے اجتماع میں یہ نوٹیفیکیشن بلند آواز سے پڑھ کر سب کو سنائیں، پھر اسے پرزہ پرزہ کر کے اعلان کریں کہ "میری طرف سے اس حکم کا یہی جواب ہے" اور اسی وقت گرفتاری پیش کر دیں۔ چنانچہ حضرت قارنؒ نے اسی جرأت مندانہ انداز میں عمل کیا۔ کارکنوں کے سامنے نوٹیفیکیشن کو پھاڑ ڈالا اور اعلان کیا کہ ’’یہ ہے میرا جواب‘‘۔ پھر خود گرفتاری پیش کر دی اور یوں چار پانچ ماہ قید و بند کی صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ ان کی یہ قربانی اس بات کی دلیل بنی کہ اہلِ علم کا وقار اور مدارس و مساجد کی آزادی چند نوٹیفیکیشنز سے پامال نہیں کی جا سکتی۔
آج وہ دلیر، باوقار اور باہمت عالمِ دین حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر ان کی جرأت، اخلاص اور استقامت کی یہ داستان ہمیشہ اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کی یادیں، ان کی باتیں اور ان کی مٹھاس دل کو ہمیشہ تازگی عطا کرتی رہیں گی۔ حضرت قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی علم و استقامت اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ ان کی وفات بھی قابلِ رشک ہوئی، جمعہ کا دن اور بوقت جمعہ ان کے پوتے نے بتایا کہ جب آخری لمحات شروع ہوئے تو ایک مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا، دو مرتبہ کلمہ شہادت، دوسری مرتبہ کلمہ شہادت مکمل ہوا تو آنکھیں بند ہو گئیں اور روح پرواز کر گئی۔
اللہ تعالیٰ حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، درجات بلند فرمائے، قبور کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اپنے خاص مقربین کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے علوم، اخلاص اور برکات سے ہمیشہ فیضیاب رکھے، آمین یا رب العالمین۔
علمِ دین کا ایک سایہ دار درخت
مولانا میاں عبد اللطیف
موتُ العالِم، موتُ العالَم۔ آج کا دن دل پر ایک گہرا بوجھ چھوڑ گیا۔ بروز جمعہ، 15 اگست 2025ء، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک خبر نے روح کو تڑپا دیا — امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز احمد خان صفدرؒ کے فرزندِ ارجمند، حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
یہ خبر سنتے ہی ماضی کے دریچے خودبخود کھل گئے۔ یاد آیا کہ 1994ء کے آغاز میں، جامعہ اشرفیہ میں درجہ رابعہ کے امتحان سے فارغ ہو کر گجرانوالہ میں جامعہ "نصرت العلوم" کا رخ کیا، تاکہ حضرت مولانا سرفراز احمد خان صفدرؒ کے درسِ تفسیر سے فیض حاصل کر سکیں۔ انہی دنوں میں پہلی بار حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب کی زیارت نصیب ہوئی۔ وہ جوانی کے عروج پر تھے— قد و قامت میں مضبوط، گھنے کالے بال، چہرے پر علم کا جلال اور اخلاق کی مٹھاس۔ ان کی شخصیت دیکھ کر دل کہتا تھا کہ یہ ایک ایسے عالم ہیں جن کے سینے میں علم کا خزانہ اور دل میں دین کی حرارت ہے۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، اور ملاقاتیں کم ہوتی گئیں۔ پھر تین جولائی 2025ء کو جامعہ مدنیہ جدید لاہور کے مہتمم حضرت مولانا سید محمود میاں صاحبؒ کے جنازے کے بعد مسجد میں ایک نورانی چہرہ نظر آیا۔ ہمارے عزیز حضرت مولانا میاں عبدالوحید صاحب امام، خطیب جامع مسجد ماڈل ٹاؤن ایف بلاک نے بتایا:
"یہ مولانا عبدالقدوس قارن صاحب ہیں۔"
انہیں دیکھ کر دل خوش بھی ہوا اور حیران بھی۔ خوشی اس لیے کہ برسوں بعد ملاقات ہو رہی تھی، اور حیرت اس لیے کہ وہ جو کبھی جوانی کی توانائی کا پیکر تھے، آج بیماریوں کی زد میں کمزور ہو چکے تھے۔ شوگر اور دیگر امراض نے جسم کو ناتواں کر دیا تھا، مگر چہرے کی نورانیت، پیشانی کی روشنی متبع سنت اور سادگی اب بھی ویسی ہی تھی۔ یہ وہی چہرہ تھا جسے دیکھ کر دل بے ساختہ اللہ کی یاد میں جھک جائے۔ اور آج، وہ چہرہ بھی ہمارے درمیان نہیں رہا۔ آج رات 10 بجے ان کا جنازہ ہوگا۔ یہ صرف ایک شخص کی جدائی نہیں، بلکہ علم و تقویٰ کے ایک چراغ کا بجھ جانا ہے۔ ایک ایسا سایہ دار درخت کٹ گیا ہے جس کے نیچے بیٹھ کر کئی نسلوں نے دین سیکھا، ایمان کی پناہ لی، اور زندگی کا راستہ پایا۔
حضرت کی وفات نہ صرف حضرت اقدس مولانا سرفراز احمد خان صفدرؒ اور صوفی عبدالحمید سواتیؒ کے خانوادے کا صدمہ ہے بلکہ پوری علمی ،دینی اور روحانی دنیا کے لیے ایک گہرا زخم ہے۔ ایسے علماء کے جانے سے مسجدوں کی رونق، مدارس کی حرارت اور مجلسوں کی برکت کم ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و دینی اور روحانی مشن کو جاری رکھنے والے پیدا فرمائے۔ اے اللہ! ہمیں بھی علمائے حق سے محبت و عقیدت کا تعلق نصیب فرما، اور ان کی دعاؤں اور تعلیمات کا حقیقی وارث بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
آہ! استاذ قارن صاحبؒ
مفتی محمد اسلم یعقوب گجر
بروز جمعہ 15 اگست 2025ء کو ہمارے عظیم استاذ، مفسر و محدث، حضرت العلام مولانا حافظ عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اللہ، طویل عرصہ کی دینی و علمی خدمات انجام دینے کے بعد 73 برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خاندانی پس منظر
حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ، اکابرِ اہلِ علم کے چشم و چراغ تھے۔ آپ حضرت شیخ الاسلام مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے صاحبزادے، حضرت صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ کے بھتیجے اور مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم کے بھائی تھے۔
تعلیمی و تدریسی خدمات
آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریس کے لیے وقف کیا۔ تقریباً نصف صدی تک آپ نے اس عظیم ادارے میں حدیث و فقہ کی کتابیں پڑھائیں۔ راقم الحروف کو بھی 2012ء میں بخاری شریف اور جامع ترمذی پڑھنے کا شرف آپ ہی کی شاگردی میں نصیب ہوا۔ آپ کو فقہی بصیرت، محدثانہ تبحر اور دقیق علمی انداز میں خاص امتیاز حاصل تھا۔ آپ جامع مسجد تقویٰ پیپلز کالونی میں 35 برس تک خطیب و امام بھی رہے۔
ذاتی تعلقات اور محبت بھرے واقعات
استاذ جی نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو شفقت و محبت سے نوازا۔ مجھے خصوصی طور پر پیار سے ’’مولوی جن‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ میرے ولیمہ میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور ہدیہ بھی عنایت فرمایا۔
ہمارے مشترکہ استاذ حضرت مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی رحمہ اللہ سے آپ کو خاص تعلق تھا۔ آپ اکثر مجھے ان کے پاس ہدیہ، سرسوں کا تیل یا لکڑی کی کنگھیاں دے کر بھیجتے۔ استاذ قارن صاحب اپنے استاذِ محترم کے صاحبزادے مولانا حافظ احمد اللہ خان گورمانی کو ہمیشہ محبت سے ’’شہزادہ‘‘ کہا کرتے تھے۔ حضرت قارن صاحب نے اپنے استاذ حضرت مفتی عیسیٰ خان گورمانی رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی تھی۔
سفرِ سیالکوٹ کی یادیں
2 اگست کو مجھے استاذ جی کے ساتھ سیالکوٹ جانے کا موقع ملا۔ وہاں مولانا جاوید صاحب استاذ جی کےچہتے شاگرد خادم اور حافظ حفظ الرحمٰن صاحب کی رہائشگاہ پر قیام فرمایا، جہاں بھرپور اکرام و خدمت کی گئی۔ پھر مولانا ندیم قاسمی صاحب کی میزبانی میں قاری تسلیم الرحمٰن صاحب کے جامعہ میں ’’عظمتِ صحابہ کرامؓ‘‘ کے موضوع پر درسِ قرآن دیا۔ بعد ازاں طعام تناول فرمایا اور گوجرانوالہ واپس تشریف لائے۔ اس دوران آپ نے اپنے مہربان انداز میں مجھ سے ’’شہزادے‘‘ یعنی حضرت حافظ احمد اللہ خان گورمانی کے بارے میں بھی دریافت کیا اور فرمایا کہ کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔
وصال اور نمازِ جنازہ
15 اگست بروز جمعہ آپ کا وصال ہوا۔ اسی دن نمازِ عشاء کے بعد رات دس بجے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں آپ کے بڑے بیٹے اور جانشین حضرت مولانا نصرالدین خان عمر صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تدفین قبرستان کلاں میں ہوئی۔
اختتامیہ
حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس قارن صاحب رحمہ اللہ ایک باوقار محدث، جید فقیہ اور اپنے شاگردوں کے لیے سراپا شفقت تھے۔ ان کی زندگی علم، عمل اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کا علمی و روحانی فیض تادیر قائم رہے گا، ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت استاذ جی کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں آپ کے علوم و اخلاق سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
(۱۳ ستمبر ۲۰۲۵ء)
حضرت قارن رحمہ اللہ اور ڈاکٹر صاحبان کی تشخیص
حافظ اکبر سیالکوٹی
کل ۱۵ اگست بروز جمعۃ المبارک جانشین امام اہلسنت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی وفات ہوئی ہے۔ حضرت رحمہ اللہ کی وفات کی خبر سننے کے بعد سے ابھی تک دل اتنا غمگین ہے کہ بیان کے قابل نہیں۔ حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ امام اہلسنت شیخ سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ کے حقیقی فرزند اور جانشین تھے آپ کا علمی مقام، زہد اور تقوی بہت بلند تھا۔ مولانا قارن صاحب رحمہ اللہ گزشتہ پچاس سال سے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مدرس تھے آپ نے عرصہ پچاس سال مدرسہ نصرۃ العلوم کی جامع مسجد نور میں امامت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔ کل صبح یعنی فوت ہونے والے دن بھی آپ نے فجر کی نماز کی امامت کروائی، پہلی رکعت میں سورۃ الحشر آور دوسری رکعت میں سورۃ الجمعہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے ۳۵ سال سے نماز فجر کے بعد درس قرآن پاک کا اہتمام کیا۔ ۵۶ سال مسلسل رمضان المبارک میں نماز تراویح میں قرآن پاک مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی، اکثر رمضان المبارک میں اعتکاف کیا، ۳۵ سال مسجد تقوی میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ آپ ایک بہترین خطیب، باکمال مدرس اور مشفق استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف بھی تھے۔
آپ عرصہ تین سال سے دل کے عارضے، شوگر، اور بلڈپریشر کی زد میں کمزور ہو چکے تھے۔ ان بیماریوں نے جسم کو تو ناتواں کر دیا تھا، مگر چہرے کی نورانیت، پیشانی کی روشنی متبع سنت اور سادگی ویسی ہی تھی۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ڈاکٹرز کی تشخیص کے حساب سے میں آج سے چند سال قبل دنیا چھوڑ چکا ہوں۔ ایک بار حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ نے علماء کرام کی مجلس میں فرمایا کہ میرے معالج نے ایک پروگرام میں میری گفتگو سنی تو حیرانگی سے کہنے لگا یہ وہی عبد القدوس ہے جس کی رپوٹیں میں چیک کرتا ہوں۔ آپ کا اندازِ تکلم اتنا مضبوط اور توانا ہوتا تھا کہ سامعین کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ آپ اتنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ آپ کا چہرہ ایسا تھا کہ دیکھ کر دل بے ساختہ اللہ کی یاد میں جھک جائے۔ آپ کی جدائی صرف ایک شخص کی جدائی نہیں، بلکہ علم و تقویٰ کے ایک چراغ کا بجھ جانا ہے۔ ایک ایسا سایہ دار درخت کٹ گیا ہے جس کے نیچے بیٹھ کر کئی نسلوں نے دین سیکھا، ایمان کی پناہ لی، اور زندگی کا راستہ پایا۔
چند یوم قبل ۲ اگست کو حضرت سیالکوٹ ایک پروگرام کے لیے تشریف لا رہے تھے، ہم نے حضرت کی آمد سے متعلق آپ کے شاگردِ خاص اور معتمد حضرت مولانا جاوید صاحب ناظم تبلیغ جمعیۃ علماء اسلام تحصیل سیالکوٹ سے رابطہ کیا، جاوید صاحب نے فرمایا، استاد جی اس وقت میرے گھر تشریف فرما ہیں، ہم نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، مولانا جاوید صاحب کی محبت انہوں نے ہمیں جلد گھر پہنچنے کا حکم دیا، جیسے ہم جاوید صاحب کے گھر پہنچے، ہم سے قبل کچھ علماء کرام حضرت کے شاگرد تشریف فرما تھے، علماء کے درمیان حضرت کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، آپ رحمہ اللہ اپنے شاگردوں سے بے تکلف گپ شپ فرما رہے تھے۔ مولانا جاوید صاحب کے چھوٹے بھائی اور ہمارے دوست حافظ حفظ الرحمٰن صاحب نے حضرت کو ہمارا تعارف کرواتے ہوئے کہا: استاد جی یہ حافظ اکبر صاحب ہمیں زبردستی جمعیۃ میں لے آئے ہیں۔ اس پر حضرت نے مسکراتے ہوئے ایک لطیفہ سنایا اور فرمایا کچھ رضامندی آپ کی بھی ہو گی، سارے کام زبردستی نہیں ہوتے۔ اس کے بعد حضرت کو پروگرام میں پہنچنا تھا، ہم نے حضرت سے ایک بچے کے لیے شہد اور کھجور کی تحنیک اور دم کروایا اور حضرت کی اجازت و دعاؤں سے واپسی کی راہ لی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ۔
حضرت کی وفات نہ صرف حضرت اقدس مولانا شیخ سرفراز خان صفدرؒ اور صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے خانوادے کا صدمہ ہے بلکہ پوری علمی، دینی اور روحانی دنیا کے لیے ایک گہرا زخم ہے۔ ایسے علماء کے جانے سے مسجدوں کی رونق، مدارس کی حرارت اور مجلسوں کی برکت کم ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین، متعلقین، اور تلامذہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ اللہ رب العزت آپ رحمہ اللہ کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے آپ کے علوم و فیوض کو عام فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۱۵ء)
استاد محترم، ایک عہد کے ترجمان
مفتی شمس الدین ایڈووکیٹ
جب ذہن استادِ محترم حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے کی طرف بڑھتا ہے تو انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ زندگی کی کون سی جہت کو سامنے لائے؟ وہ ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت تھے کہ جس پہلو کو بیان کیا جائے، ایک کائنات سامنے کھل جاتی ہے۔ ان کی علمی گہرائی، تدریسی مہارت، کامل مدرس، کتابت کا ماہر، دلائل کا بادشاہ، نصیحتوں کی حکمت، بیان میں قرآن و حدیث سے مثالیں، اخلاق کی گرمی اور مزاح کی چاشنی ہر رخ اپنی مثال آپ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ بات سمجھانے کا ایسا سلیقہ عطا فرمایا تھا جو کم ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ خاص طور پر تدریسِ حدیث میں ان کا انداز بے مثال تھا۔ دورانِ درس کبھی ایسا نہ ہوا کہ محض عبارت پڑھ کر گزر جائیں۔ تھوڑی سی عبارت کے بعد اس کا ترجمہ کرتے اور ساتھ ہی اگر تشریح مطلوب ہوتی تو وہ بھی بیان کر دیتے، ہر حدیث کو معانی و مفاہیم کی روشنی میں، ترجمۃ الباب سے لے کر جدید اعتراضات کے جوابات تک، پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے۔ گویا شاگرد یہ محسوس کرتا کہ وہ محض ایک عبارت نہیں بلکہ ایک پورا جہان سمجھ رہا ہے۔
دورۂ حدیث کے زمانے میں وہ علیل تھے، مگر بیماری کے باوجود ان کی آواز میں وہی جلال اور وہی تاثیر قائم رہی۔ کبھی کبھی جامعہ کے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے ہی ان کی پرجوش آواز سن کر پتہ چل جاتا تھا کہ استاد محترم درس فرما رہے ہیں۔ عبارت پڑھوانے میں وہ نہایت سخت تھے۔ شاگرد خوب تیاری کے بغیر ان کے سامنے جرات نہ کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پرانے فضلاء ان کے اس سختی آمیز لیکن تربیت انگیز انداز کو یاد کرتے ہیں اور اس طالب علم کو بھی یاد رکھا جاتا ہے جو ان کی عبارت پڑھتا تھا۔ کبھی ہنسی مذاق کی محفل سجا لیتے، اور کبھی دل میں اتر جانے والی نصیحتیں فرما دیتے۔
بطور ناظمِ جامعہ ان کا رعب اور وقار دیدنی تھا۔ مگر یہ رعب ان کی محبت اور طلبہ کے ساتھ خوش طبعی کے رنگ میں ڈھل جاتا۔ ایک دن بندہ نے استاد محترم سے پوچھا آپ کے نام کے ساتھ قارن کیوں ہے؟ فرمانے لگے وہ وجہ نہ بتاؤں جو کبھی کبھار والد ماجد (سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ) فرمایا کرتے تھے: قارن سینگوں والے بکرے کو بھی بولتے ہیں، میرا یہ بیٹا مجھ پر جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ان کا دفاع کرتا ہے گویا کہ ان اعتراضات کو اپنے سینگوں سے اٹھا کر دور پھینکتا ہے۔
کھانے میں نہاری ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔ دورہ حدیث شریف کے لیے جب بندہ نے اپنے استادِ محترم مولانا خالد محمود صاحب استاد جامعہ اشرفیہ کو بتایا کہ میں نصرت العلوم جا رہا ہوں تو وہ مسکرا کر بولے: "بہت خوب! ہم نے سنا ہے کہ پنجاب میں اگر کوئی ایک مدرس ہے تو وہ مولانا عبد القدوس قارن ہیں۔" کچھ اس طرح کی بات میرے استاد پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید صاحب نے بھی کہی کہ "مولانا یہ لوگ (زاہد الراشدی و عبد القدوس خان قارن) نایاب ہیں، ان کی قدر کیجئے، کل کو یہ خزانۂ علم ڈھونڈے نہ ملے گا۔"
مجھے یاد ہے کہ جب وہ بیماری کے بعد طویل وقفے سے درسگاہ تشریف لائے تو ان کے صاحبزادے مولانا عبدالوکیل مغیرہ صاحب نے مجھ سے کہا: "استاد جی کو گھر تک چھوڑ دیا کریں، جوتی پہننا بھی ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے وہ بھی دیکھ لیا کریں۔" تب سے جب بھی استاد محترم کو مسجد سے گھر جاتے دیکھتا تو وہاں حاضر ہو جاتا تھا۔ اسی اثنا میں ایک دن طویل کھڑے ہو کر انہوں نے مجھے وکالت کے بارے میں نصیحتیں کیں اور کئی مثالیں بیان فرمائیں۔ بعد میں، بار کونسل کا لائسنس ملنے اور بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں میں اپنے محترم استاد حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ملتے ہی سب سے پہلے یہ سوال کیا " کچہری جانا شروع کیا؟" ہم دونوں حضرات سے وہ نہ صرف خوش ہوئے بلکہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور طویل نشست میں علمی و روحانی تربیت سے نوازا۔ ہم جو کام کر رہے وہ سب کچھ پوچھا اور مسرت کا اظہار کیا۔
وفات سے چندہ روز پہلے استاد محترم کے ہاں بندہ کا تذکرہ، مولانا حنزلہ شاہد صاحب فرماتے ہیں کہ "بھائی ابھی چند دن پہلے استاد جی سے ملاقات ہوئی تو مجھے آپ کی جگہ سمجھتے ہوئے صوبائی قانونی مشیر بننے کی مبارکباد دینے لگے، مجھے اول تو سمجھ نا آیا کہ کس بات کی مبارک باد! پھر جب سمجھا تو استاد جی سے عرض کیا کہ استاد جی وہ میں نہیں بھائی شمس الدین ہیں مجھ سے ایک سال آگے تھے۔"
اگر سوچا جائے تو شاید ہی کوئی مثال ایسی ملے جس میں ایک ہی شخصیت کے اندر اتنے اوصاف جمع ہوں۔ استادِ محترم عبدالقدوس خان قارن صاحب یقیناً ان نایاب شخصیات میں سے تھے جن کی یاد محض یاد نہیں، بلکہ ایک عہد کی ترجمان ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ استاد محترم کی کامل مغفرت فرمائیں لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے علمی کاموں کی قدر اور استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
(۲۴ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت شیخ قارنؒ — امام اہلسنت نور اللہ مرقدہ کی تصویر
مولانا قاری عبد القدیر سواتی
دنیا میں جو بھی آیا ایک نہ ایک دن اس سے اس دنیائے فانی سے کوچ کر جانا ہے۔ مشیت کے اسی قاعدے کے تحت ہمیں اپنے پیارے استاذ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب نور اللہ مرقدہ کی جدائی کا زخم برداشت کرنا پڑا۔
2011ء کی بات ہے جب راقم نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے مرکز اہل حق جامعہ نصرت العلوم کا انتخاب کیا تو وہاں پہ جس طرح تعلیمی معیار بے مثال تھا اسی طرح تربیت کے لیے جو شخصيات اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائیں وہ بھی باکمال تھیں جن میں کبھی تو صوفی باصفاء مولانا ریاض خان سواتی صاحب رحمہ اللہ کی شفقتیں نصیب ہوتی کبھی جانشینِ مفسرِ قرآن محققِ اہلسنت مولانا حاجی فیاض خان سواتی صاحب کی تربیت سے استفادہ ہوتا اور کبھی مفکر اسلام حضرت اقدس مولانا زاہدالراشدی صاحب کی عالمگیر گفتگو سے مستفید ہوتے اور کبھی اپنے استاذ القرآء استاذی المکرم مولانا قاری سعید صاحب سے تعلیم کے ساتھ تربیت کے بہت سے انمول خزانے سمیٹنے کو ملتے۔
اسی جامعہ کے آنگن نے راقم کے دل کو ایک ایسی ہستی جو سخاوت میں دیکھو تو بے مثال، ریاضت میں دیکھو تو بے مثال، تقویٰ و للّٰہیت کا عظیم مجسمہ، اخلاق، محبت اور شفقت دیکھی جائے تو ایسے محسوس ہو جیسے والد اپنی اولاد سے کرتا ہے، وہ ہستی کوئی اور نہیں تھی بلکہ ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا عبدالقدوس خان قارن تھے۔ آپ جامعہ میں جب نماز مغرب کی امامت سے فارغ ہوتے تو مسجد کے سامنے اپنی فرشی نشست پہ تشریف فرما ہوتے اور ہم کچھے کچھے وہاں پہنچ جاتے اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر شفقتوں بھرے تربیت کے انمول خزانے سے استفادہ کرتے اور کافی خوش طبعی ہوتی، لطائف سے مجلس کشتِ زعفران بنی رہتی۔ اور مجھے مانسہرہ کی وجہ سے کبھی کبھی فرماتے گرایاں! (گاؤں والے)، اور مانسہرہ بالاکوٹ سے متعلق بہت سی باتیں ہوتیں۔ کبھی کبھی عزیز مکرم صاحبزادہ حافظ حنظلہ عمر آجاتا پھر حنظلہ کی شرارتیں ہوتیں اور استاذ جی کی شفقتیں ہوتیں، ہم بہت محظوظ ہوتے۔
خیر جب جامعہ سے اپنے تعلیمی کورس کی تکمیل کی تو استاذ جی نے اپنی ڈھیروں دعاؤں سے رخصت کیا۔ اور جامعہ سے راقم کا رشتہ ایسا ہے جس طرح اپنے گھر کا، تو جب بھی لاہور یا گوجرانوالہ جانا ہوتا جب تک جامعہ کا چکر نہ لگتا وہ دورہ نامکمل محسوس ہوتا۔ اور اگر جامعہ پہنچ کر حضرت شیخ قارن صاحب سے ملاقات نہ ہوتی تب جامعہ کا دورہ ادھورا محسوس ہوتا۔
گزشتہ سال جامعہ انوریہ گوجرانوالہ میں مخدومی حضرت مولانا قاری عبیداللہ عامر صاحب نے اپنے سالانہ جلسے میں راقم کو بیان کے لیے مدعو فرمایا تو حسب معمول جامعہ جانا ہوا، شیخ سے ملاقات کی، غرض سے عصر کی نماز تک انتظار کیا اور انہی کی اقتداء میں نماز عصر ادا کی، نماز کے بعد ملاقات ہوئی، کافی دیر تک بغل گیر رہے اور سب خیر خیریت دریافت کی اور فرمانے لگے کس طرح آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا جامعہ انوریہ میں بیان ہے، تو فرمایا مجھے بھی دعوت ہے میں عام طور پہ پروگرامات میں نہیں جاتا، آج اگر طبیعت نے اجازت دی تو ضرور وہاں حاضر ہوں گا۔
ایسے ہی ہوا راقم کا بیان چل رہا تھا، استاذ جی کمرے میں تشریف لے آئے اور قاری صاحب سے پوچھا کہ کون بیان کر رہا ہے؟ انہوں نے بتایا تو خوشی کا اظہار فرمایا۔ جب بیان سے فارغ ہو کر ہم کھانے والی جگہ پہنچے جہاں دیگر مہمان بھی تشریف فرما تھے وہاں استاذ جی بھی جلوہ افروز تھے، راقم سے ہی متوجہ رہے، کافی مانسہرہ کے حوالے سے اور حضرت والد گرامی (مولانا مفتی عبد القادر صاحب) کے حوالے کافی باتیں ہوتی رہیں۔ مولانا امجد سعید قریشی صاحب کا تذکرہ بھی ہوا۔ جب کھانے کے دسترخوان پہ ہم لوگ بیٹھے تو استاذ جی شریک طعام نہیں ہوئے۔ ہم نے اصرار کیا کہ استاذ جی آپ بھی تشریف لائیں تو اپنے مخصوص ظرافت کے انداز میں فرمایا کہ ’’جنتی جب جنت میں کھانے کھائیں گے تو جِنّات اس طرح جنتیوں کو دیکھیں گے‘‘۔
دل چاہا کہ اس خوبصورت مجلس کو جس میں مفکر اسلام حضرت شیخ زاہد الراشدی صاحب، خطیب اسلام مولانا حفظ الرحمٰن عدیم شاہ صاحب، پیر طریقت مولانا محمودالحسن شاہ صاحب، استاذ الحدیث حضرت مولانا فضل الہادی صاحب، صاحبزادہ نصر الدین خان عمر صاحب اور استاذ جی تشریف فرما ہیں اس خوبصورت منظر کو موبائل کی گیلری میں محفوظ کر لیا جائے، لیکن چونکہ استاذ جی علم و تقویٰ کے پہاڑ تھے جو بالکل تصویر کے سخت خلاف تھے، ان کے ادب کی خاطر وہ منظر ہم محفوظ نہ کر سکے۔ آخر سب حضرات سے رخصت لی اور استاذ جی نے بھی بہت دعاؤں پیار اور شفقت کے ساتھ کافی دیر بغل گیر کر کے پیشانی پہ بوسہ دے کر رخصت فرمایا۔ اس ملاقات کی شفقتیں زندگی بھر نہیں بھول پاؤں گا اور یہ ملاقات آخری ملاقات ثابت ہوئی اور اس سال آسمان علم و تقویٰ کا آفتاب اپنی روشنیاں چھوڑ کر خود غروب ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ درجات کی بلندی نصیب فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ عرفا مقام نصیب فرمائے، آمین۔
(۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء)
تحریک ختمِ نبوت اور حضرت قارن رحمہ اللہ تعالیٰ
مولانا عبد اللہ انیس
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب نور اللہ مرقدہ بڑی جامع شخصیت تھے، بیک وقت مفسر، محدث، امام و خطیب، بہترین مایہ ناز مدرس، حافظ، قاری، مجاہد، مبلغ، مصنف تھے۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
تحریکوں میں بھی آپ کا بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔ تحریک ختمِ نبوت، تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ، تحریک مسجد نور، خصوصاً تحریک ختمِ نبوت کے حوالے سے آپ کی بڑی جدوجہد ہے۔ جب بھی ختمِ نبوت کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیش آیا آپ سب سے پہلے میدان میں نظر آتے تھے۔ چاہے وہ تحریک کی شکل میں ہو یا تحریر کی شکل ہو، یا تقریر کی شکل میں۔
ختمِ نبوت کے حوالہ سے آپ کی چند جھلکیاں جن کو شاہینِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی کتاب ’’تحریک ختمِ نبوت‘‘ (جو دس جلدوں میں ہے) کی مختلف جلدوں میں تذکرہ کیا ہے، ان کا ذکر کرتا ہوں۔
تحریک ختمِ نبوت 1974ء اور حضرت قارن صاحبؒ
گوجرانوالہ میں جمعیۃ طلباء اسلام نے مقامی صدر جناب قاری عبد القدوس (مولانا عبد القدوس قارن مراد ہیں۔ مرتب) کی سرکردگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قاری عبد القدوس نے دوسری طلباء تنظیموں سے مل کر طلباء متحدہ محاذ بنایا جس کے تحت مختلف علاقوں میں جلسے ہوئے لیکن مصلحت بین اور مفاد پرست عناصر کی وجہ سے یہ اتحاد برقرار نہ رہ سکا۔ لہٰذا اس کام کو کرنے کا جمعیۃ طلباء اسلام نے تنہا بیڑہ اٹھایا۔ روزانہ مختلف مقامات پر جلسے منعقد کر کے تحریک کو زندہ رکھا۔
جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے صدر محمد اسلوب قریشی، جناب جاوید احمد پراچہ، عبد المتین چوہدری، رانا شمشاد علی خان، حافظ محمد طاہر، اقبال شیروانی، حافظ عبد العزیز، رشید اختر، ظہیر میر، طاہر عباس، محبوب الرحمٰن، حفیظ الرحمٰن جھنگوی نے متعدد بار خطاب کیا۔
صرف گوجرانوالہ میں 56 عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوئے، جگہ جگہ اشتہارات لگائے گئے اور قادیانیوں کی دوکانوں پر رضا کاروں کو متعین کیا گیا۔
(تحریک ختمِ نبوت جلد 3، صفحہ 695)
گوجرانوالہ میں ہڑتال
ایک دوسری جگہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شہری جمعیۃ کے صدر حافظ عبد القدوس (مولانا عبد القدوس خان قارن مراد ہیں) اور جنرل سیکرٹری محمد فاروق نے ایک مشترکہ بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 12 اگست (1974ء) کو مکمل ہڑتال کریں۔
(تحریک ختم نبوت جلد 3، صفحہ 413)
ختم نبوت کورس چناب نگر میں بحیثیت مدرس خدمات
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ ختمِ نبوت کورس چناب نگر میں جایا کرتے تھے اور حجیتِ حدیث پر آپ کی کئی کئی گھنٹوں کی مختلف کی اوقات میں نشستیں ہوا کرتی تھیں اور گذشتہ کئی سالوں سے آپ جایا کرتے تھے جس کا باقاعدہ ریکارڈ بھی محفوظ ہے۔ آپ کے حجیتِ حدیث پر دروس بڑے ہی علمی اور تحقیقی ہوا کرتے تھے۔
ختم نبوت کانفرنس
حضرت ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت کیا کرتے تھے خصوصاً ضلع گوجرانوالہ میں آپ اکثر ایسے پروگراموں اور مجالس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوا کرتے تھے۔ ریکارڈ میں لانے کی غرض سے چند جھلکیاں جنہیں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ العالی نے محفوظ کیا ہے۔ ان کے حوالے ذکر کرتا ہوں۔
(1) تحریک ختم نبوت: جلد 7، صفحہ 105،383،430
(2) تحریک ختم نبوت : جلد 8، صفحہ 234،291،371
(3) تحریک ختم نبوت: جلد 9، صفحہ 239،253،348،374
(4) تحریک ختم نبوت: جلد 10، صفحہ 405تا406
مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ایک نہایت ہی اہم تحریر ’’تحریک ختمِ نبوت کی چند یادیں‘‘ جو کئی قسطوں میں ہفت روزہ ختم نبوت میں جون، جولائی 2024ء کے شماروں میں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں بھی علامہ صاحب کے ساتھ اور ان کے دست و بازو بن کر حضرت قارن صاحبؒ نے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ انہی کا حصہ ہیں۔ تحریک ختم نبوت 1974ء میں حضرت قارن صاحب نور اللہ مرقدہ ضلع گوجرانوالہ کے فعال اور سر گرم کارکن اور مجاہد تھے۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائے اور ہمیں اپنے بڑوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ: چند یادیں
مولانا حافظ خرم شہزاد
امام اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند اور استادِ گرامی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن گذشتہ دنوں جمعہ کی تیاری کے دوران دل کی تکلیف کے باعث جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسی شب دس بجے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت ہوئی۔ ایک جم غفیر ان کے جنازہ میں شریک تھا۔ ان کی اچانک وفات سے ہر وہ شخص متاثر اور غمگین ہوا جن کا ان سے کسی بھی حوالے سے تعلق تھا۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ۔ حضرت قارن صاحب سے وابستہ یادیں ذہن میں اب بھی تازہ ہیں:
میں جب درجہ ثانیہ کے سال جامعہ نصرۃ العلوم زیرِ تعلیم تھا تو اس وقت حضرت قارن صاحب کے پاس میرا کوئی سبق تو نہیں تھا لیکن اس وقت بھی خارجی مطالعہ کا بہت شوق تھا، بالخصوص امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی کتابیں خریدنا اور ان کا مطالعہ کرنا میری سرگرمیوں میں سے تھا۔ جب معلوم ہوا کہ حضرت امام اہل سنہ کی کتابیں مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ شائع کرتا ہے اور اس کا سارا اہتمام حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب فرماتے ہیں تو بعض اوقات ان کی رہائش گاہ جو مدرسہ کے اندر ہی تھی اور سیڑھیوں کے ذریعہ وہ اپنے گھر جاتے تو جب میں نے کوئی کتاب خریدنی ہوتی تو پہلے بیل دی جاتی، حضرت تشریف لاتے تو انہیں بتایا جاتا کہ فلاں کتاب خریدنی ہے تو حضرت کتاب کا نام پوچھ کر واپس جاتے اور کتاب سمیت سیڑھیوں سے نیچے تشریف لاتے، کتاب کی قیمت بتاتے اور کتاب عنایت فرماتے۔
اس طرح مجھے زمانہ طالب علمی میں حضرت امام اہل سنہ کی کئی کتابیں حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ سے خریدنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اس دوران ان کی بے پناہ شفقت بھی میسر آتی۔ ایک دفعہ پوچھنے لگے آپ کس درجے میں پڑھتے ہیں؟ میں نے بتایا درجہ ثانیہ۔ تو فرمانے لگے کہ حضرت شیخ کی کتابیں پڑھتے ہو وہ سمجھ میں بھی آتی ہیں؟ میں نے کہا حضرت ابھی تو اتنی سمجھ نہیں آتی، کوشش کرتا ہوں کہ ان کا کچھ نہ کچھ مطالعہ ہوتا رہے۔ فرمانے لگے چلو یہ اچھا ہے کہ کتابیں جمع کر رہے ہو، عالم بننے کے بعد جب مطالعہ کرو گے تو ان شاء اللہ تب ٹھیک سمجھ آئیں گی۔ بحمد للہ وہ کتابیں آج بھی موجود ہیں اور ان سے اکثر و بیشتر استفادہ ہوتا رہتا ہے۔
دورانِ طالب علمی ایک چیز جو میں نے حضرت قارن صاحب میں دیکھی وہ وقت کی پابندی تھی۔ پورا سال پانچوں نمازیں ان کی امامت میں ادا کرنے کی سعادت ہوئی، فجر کے بعد عوامی درس اور اکثر و بیشتر ان کے اسباق کی سماعت کی سعادت ہوتی۔ نصرۃ العلوم میں واحد ان کا درس تھا بغیر لاؤڈ اسپیکر کے ان کی آواز پوری مسجد میں گونجتی اور ایک عجیب نورانی سماں باندھ دیتی۔
کئی سال پہلے اپنے علاقہ کامونکی میں ایک مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کے بعد مسجد انتظامیہ کی درخواست پر میں نے حضرت قارن صاحب سے وقت کی درخواست کی جو انہوں نے قبول فرمائی اور گوجرانوالہ سے کامونکی تشریف لے گئے۔ اسی تقریب میں حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری صاحب بھی مہمان خصوصی تھے، جب ہم مسجد میں پہنچے تو منتظمین نے بتایا کہ ابھی تک میاں اجمل قادری صاحب نہیں پہنچے لہٰذا قارن صاحب کی خدمت میں درخواست کر دیں کہ بیان تھوڑا سا طویل فرما دیں تاکہ حضرت میاں صاحب ان کے بیان کے دوران تشریف لے آئیں۔ میں نے حضرت قارن صاحب کی خدمت میں درخواست کی اور عرض کیا کہ مسجد کی دوبارہ تعمیر ہوئی ہے لہٰذا مسجد کے فضائل پر آپ گفتگو فرما دیں، اگر گھنٹہ گفتگو ہو جائے تو مناسب ہے۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت قارن صاحب نے سوا گھنٹہ مسجد کی عظمت و فضیلت اور کردار پر سیر حاصل گفتگو کی جو کہ قابل رشک تھی۔ لیکن سوا گھنٹہ بیان کرنے کے بعد بھی میاں محمد اجمل قادری صاحب تشریف نہ لائے۔
حضرت نے مجھے فرمایا کہ ہاں بھئی! بیان تو کر لیا ہے اب واپسی کرتے ہیں۔ حضرت جونہی مسجد سے نکلے اور باہر گلی میں داخل ہوئے تو ادھر سے میاں صاحب تشریف لا رہے تھے۔ انہوں نے آتے ہی حضرت قارن صاحب کو زور سے سینے سے لگایا اور اونچی آواز سے کہا ’’ماشاءاللہ! ابن امام اہل سنہ تشریف لائے ہیں، ماشاء اللہ‘‘۔ اور ساتھ ہی حضرت قارن صاحب کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ مسجد میں لے گئے۔ وہاں میاں صاحب نے بیان کیا اور پھر مقامی میزبان کے گھر کچھ دیر کھانے کے لیے بیٹھے رہے۔ کافی دیر تک مجلس رہی دونوں بزرگوں کا آپس میں عقیدت و محبت دیدنی تھا۔ جب میاں صاحب سے اجازت لے کر ہم واپس گاڑی کی طرف لوٹے تو میں نے ازراہ تفنن حضرت قارن صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ آپ کی کرامت ہے کہ آپ کے بیان کے بعد میاں صاحب تشریف لے آئے ہیں تو حضرت نے مسکرا کر فرمایا یہ میری نہیں آپ کی کرامت ہے کہ وہ آپ کے پروگرام میں تشریف لے آئے ہیں۔
ابھی گزشتہ سال جامعہ نصرۃ العلوم کے سالانہ امتحان کے موقع پر حضرت مہتمم جامعہ مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب کا حکم ہوا کہ آپ بھی امتحان کے لیے جامعہ تشریف لائیں، میں حاضر ہوا تو ہر ممتحن کا نام کمپیوٹر سے لکھا ہوا دیوار پر چسپاں تھا جبکہ میرا نام کمپیوٹر کی بجائے قلم (ہاتھ) سے لکھا ہوا چسپاں تھا۔ دورانِ امتحان حضرت قارن صاحب تشریف لائے، ہر ممتحن کی نشست پر خود تشریف لے گئے، سب سے گلے لگ کر ملے، حال احوال اور خیر خیریت دریافت کی، جب میرے پاس پہنچے تو میرا نام دیکھ کر مسکراہٹ بھرے انداز میں فرمانے لگے: ’’کیا وجہ ہے کہ سیاسی لوگوں کا نام سب سے ہٹ کر لکھا گیا ہے؟‘‘ میں نے ازراہِ تفنن عرض کیا کہ ’’حضرت میرا نام اس لیے سب سے مختلف انداز میں لکھا ہے کہ سیاسی لوگ ذرا راہِ راست سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں‘‘۔ اس بات پر حضرت خوب مسکرائے اور سینے سے لگا کر اپنی دعاؤں سے خوب نوازا۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کا تصویر اور ویڈیو کیمرے کے متعلق موقف بہت واضح تھا۔ وہ تصویر اور ویڈیو کو نہ صرف ناجائز سمجھتے بلکہ جس مجلس میں تصویر کشی یا ویڈیو کیمرہ نظر آتا تو وقت دینے کے باوجود وہاں تشریف نہ لاتے۔ بعض اوقات دور سے کیمرہ دیکھ کر واپس لوٹ آتے۔ یہ ان کی بنیادی شرائط میں ہوتا کہ اسٹیج پر تصویر کشی اور ویڈیو کیمرہ نہیں ہوگا، جب تسلی کرائی جاتی تب آمادہ ہوتے۔
اس موقف پر وہ ساری زندگی کاربند رہے۔ ایک مرتبہ برادرم حافظ عمر فاروق صاحب نے مرکزی جامع مسجد (شیراں والا باغ) گوجرانوالہ میں "الحسنات میڈیا" کے زیر اہتمام علماء دیوبند سیمینار منعقد کیا۔ مہمانانِ گرامی میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب بھی تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دینا میرے ذمے تھا۔ دونوں بزرگ اسٹیج پر موجود تھے اور ہم نے طے کیا تھا کہ پہلے مولانا قارن صاحب کا خطاب ہو جائے کیونکہ ان کے خطاب کے دوران ویڈیو کیمرہ بند رہے گا، جب وہ خطاب کر کے تشریف لے جائیں پھر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب خطاب فرمائیں گے اور ویڈیو کیمرہ بھی چلا لیا جائے گا۔ مگر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ مجھے ایک دوسری جگہ بھی خطاب کے لیے جانا ہے لہٰذا پہلے میرا خطاب ہو جائے۔ ہم نے کہا کہ پہلے مولانا قارن صاحب کا خطاب طے ہے۔ حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ بات سمجھ گئے۔ اور فرمانے لگے ’’یار میری وجہ سے آپ پریشان مت ہوں، پہلے بھائی جان (مولانا زاہد الراشدی) کا خطاب کروائیں، انہوں نے دوسری جگہ جانا ہے، میں تو آپ کے پاس ہوں، میرا خطاب بعد میں ہو جائے گا۔ رہی بات کیمرے کی تو اس کو بھی چلا لیں میں ڈائس کے پیچھے بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘ ہم نے کہا نہیں حضرت آپ اسٹیج کی کرسی پر ہی تشریف فرما ہوں اور ہم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے خطاب کے دوران بھی کیمرہ بندہ رکھیں گے۔ پھر حضرت زاہد الراشدی صاحب کا خطاب آڈیو ریکارڈ ہوا ویڈیو نہ بن سکی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللّٰہ کے درجات بلند فرمائے۔ وہ بہت شفیق، ہمدرد اور درد دل رکھنے والے بزرگ تھے۔ ایسے اللہ والے صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کی تمام منزلیں آسان کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
محبت اور دلجوئی کرنے والے بزرگ
قاری محمد عثمان رمضان
حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ ایک عظیم مدرس، عظیم باپ کے عظیم بیٹے اور عظیم بھائی کے عظیم بھائی تھے۔ انہوں نے واقعی ایک نہایت بابرکت اور عظیم زندگی گزاری۔ ساری زندگی پڑھنے پڑھانے اور درس و تدریس میں بسر کی، اور جامعہ نصرت العلوم کے ساتھ ساتھ علومِ دینیہ کی خدمت میں اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ ان سے تعلق اور محبت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے صاحبزادے اور مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بھائی تھے۔ لیکن اس نسبت کے علاوہ بھی ان کی ذات اپنی جگہ محبت و احترام کی مستحق تھی۔
میری پہلی ملاقات ان سے دارالعلوم مدنیہ رسول پارک لاہور میں اس وقت ہوئی جب دورۂ تفسیر کے چند اسباق جو حضرت مفتی عیسیٰ صاحب رحمہ اللہ نہیں پڑھا سکے تھے، ان کے ذمے لگائے گئے۔ وہ گجرانوالہ سے روزانہ تشریف لاتے اور دورہ تفسیر کے اسباق پڑھاتے، غالباً دس پارے انہوں نے پڑھائے۔ پھر بعد ازاں مختلف مواقع پر ان سے ملاقاتیں رہیں، مجالس میں حاضری ہوئی اور سلام و دعا کا سلسلہ رہا۔
خصوصی طور پر ایک موقع مجھے آج بھی یاد ہے جب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ہمیں اہلِ لاہور کو یہ ذمہ داری سونپی کہ مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی شان میں نازیبا کلمات کہنے والے ایک تنظیم کے رکن کو لگام دینے کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ہم نے لاہور کے علماء کی رپورٹ مرتب کر کے گوجرانوالہ پیش کی۔ اس وقت وہاں علماء کرام کا ایک بھرپور اجلاس جاری تھا۔ جب ہم نے اپنی رپورٹ پیش کی تو مولانا عبدالقدوس قارن صاحب سمیت تمام علماء کرام نے اطمینان کا اظہار فرمایا۔ اسی موقع پر حضرت مولانا نے مجھے اپنے سینے سے زور سے لگایا، گویا یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنا علم و فیض میرے سینے میں منتقل کر رہے ہوں۔ یہ ان کی بے پناہ شفقت اور محبت کا ایک انمول لمحہ تھا، جو میرے لیے بہت بڑی سعادت کی حیثیت رکھتا ہے۔
بعد ازاں بھی ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ چند ماہ پہلے پاکستان شریعت کونسل پنجاب کا پورا وفد ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر حاضر ہوا، جہاں مولانا عمیر، مولانا محمد جاوید، اور حکیم ارشد، حافظ محمد زبیر جمیل بھی موجود تھے۔ اس موقع پر حضرت نے بڑی بے تکلفانہ مگر عالمانہ گفتگو فرمائی۔ ان کی ہنسی مذاق اور پرخلوص باتیں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ وہ محبت کرنے والے اور دل جوئی کرنے والے بزرگ تھے۔ یقیناً ہم ایک بڑی ہستی سے محروم ہو گئے ہیں اور ہمیں اعتراف ہے کہ ہم ان سے فیض حاصل کرنے کا حق کماحقہ ادا نہ کر سکے۔
گزشتہ دنوں مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ساتھ ایک نشست میں گفتگو کے دوران حضرت نے فرمایا کہ مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ کا مؤقف تھا کہ تصویر کشی کو وہ بالکل درست نہیں سمجھتے تھے اور اس بارے میں بڑی شدت سے عمل کرتے تھے۔ اگرچہ کسی کا موقف مختلف ہو سکتا ہے، لیکن ان کی اس رائے کا احترام بہرحال ضروری ہے۔
الحمد للہ! ان کے صاحبزادے مولانا حافظ نصر الدین خان عمر سے بھی بڑا محبت بھرا اور برادرانہ تعلق ہے۔ وہ پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ کے امیر ہیں اور مختلف امور پر مشاورت رہتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبدالقدوس قارن رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل خانہ اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)
ایک عہد کا اختتام
حافظ حفظ الرحمٰن راجپوت
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چل رہا ہے، مگر بعض دن ایسے آ جاتے ہیں جو تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ۱۵ اگست ۲۰۲۵ء بروز جمعۃ المبارک، ایسا ہی ایک دن تھا جب دنیائے علم و دین کا درخشندہ چراغ، جلیل القدر عالمِ دین، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ یہ سانحہ محض ایک شخصیت کا غم نہیں بلکہ پورے علمی و دینی معاشرے کا مشترکہ دکھ ہے۔
حضرت قارن صاحبؒ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، علم کے فروغ اور ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔ وہ بیک وقت محدث، مفسر، فقیہ، محقق، خطیب اور مربی تھے۔ آپ نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کی نظامت و تدریس کے ذریعے ہزاروں طلبہ کے دلوں کو علم و حکمت کی روشنی سے منور کیا۔ ان کی محنت کا ثمر یہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف گوشوں میں ان کے تربیت یافتہ شاگرد دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خدمت امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی علمی میراث کی تکمیل اور حفاظت ہے۔ انہوں نے اپنے بزرگ کی ناتمام تصانیف کی تدوین و تکمیل کا جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا وہ رہتی دنیا تک ان کے نام کو زندہ رکھے گا۔
حضرت قارن صاحبؒ کی خطابت دلوں کو مسخر کر لینے والی تھی۔ ان کے بیان میں سچائی کی قوت اور استدلال کی پختگی جھلکتی تھی۔ وہ پیچیدہ مسائل کو نہایت سادگی اور محبت کے ساتھ پیش کرتے، اور سننے والے کے دل میں دین کی محبت بٹھا دیتے۔ ان کی شخصیت زہد، قناعت اور انکساری کا پیکر تھی۔ ہم رنگ لباس، سادہ طعام، اور اپنے اکابر و شاگردوں سے بے مثال محبت، یہ سب اوصاف ان کی زندگی کا خاصہ تھے۔ بڑے سے بڑا عالم بھی ان کے سامنے عاجزی محسوس کرتا، اور چھوٹے سے چھوٹا طالب علم ان کی مجلس میں سکون پاتا۔ حضرتؒ نے ختمِ نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفیٰ، شریعت بل اور مسجد نور کی تحریک سمیت تمام دینی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کسی ایک جماعت کے پابند نہ تھے بلکہ امتِ مسلمہ کے ہر درد کو اپنا درد سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مکتبِ فکر کے علماء و طلبہ آپ کو یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
2 اگست کو آخری ملاقات میں استاذ جی فرمانے لگے، سن 88ء یا 80ء کہا، کہ میرے خلاف توہینِ اہلِ بیت کا کیس ہو گیا۔ جج نے ایس ایچ او سے پوچھا، کیا تقریر کی تھی انہوں نے؟ ایس ایچ او کہنے لگا، انہوں نے کہا تھا حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے اور بھائی بھی تھے۔ جج نے پوچھا، تو اس میں گستاخی کونسی ہے؟ توں کیتھو پڑھدا رہیا ایں؟ جج نے ایس ایچ او کو خوب سنائیں۔
ان کی وفات پر جو مناظر دیکھنے میں آئے وہ دل کو لرزا دینے والے تھے۔ جنازے میں شریک ہجوم اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا کہ یہ رخصتی صرف ایک عالم کی نہیں بلکہ علم و تقویٰ اور اخلاص و خدمت کے ایک عہد کی ہے جو مٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ بطور شاگرد، میرا دل اس غم سے لبریز ہے کہ ہم اپنے محسن، اپنے مربی اور اپنے چراغِ راہ کو کھو بیٹھے ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ اطمینان بھی ہے کہ حضرتؒ کی دعائیں، ان کی تعلیمات اور ان کا فیض تاحیات ہمارے ساتھ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے علمی و روحانی نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد عالی وقار
ڈاکٹر حافظ محمد رشید
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ استاد گرامی مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالی رخصت ہوئے۔ گوجرانوالہ بہت سی برکات سے محروم ہو گیا۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ و تفتنا بعدہ۔ ایک بہت ہی شفیق و رحیم مربی تھے۔ علمی پایہ تو بلند تھا ہی، شاگردوں کے ساتھ تعلق بھی بے مثال تھا۔ جب انہیں پہلی دفعہ ہارٹ اٹیک ہوا تو میں اور مولانا وقار احمد عیادت کے لیے حاضر ہوئے، میں نے انہیں دیکھتے ہی پوچھا: استاد جی! تہاڈا دل ہن قابو وچ اے کہ نہیں؟ مسکراتے ہوئے فرمایا: یارا میں تے لئی پھرداں، کوئی لیندا ای نہیں۔ پھر دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
میرا جگر عثمان حیدر وہاں زیر تعلیم تھا، دورانِ سبق استاد جی نے اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھا: اوئے عثمان! ناشتہ کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں استاد جی۔ سبق چھوڑا اور مسجد کے اوپر اپنے گھر چلے گئے اور تازہ ناشتے سے سجا ہوا تھال اٹھائے مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: چھڈ سب کج، پہلے ناشتہ کر۔
آج شفقت و محبت کا یہ پیکر جہانِ فانی سے رخصت ہوا۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت عطا کرے۔ تفصیلی حالات مولانا وقار صاحب لکھیں گے، لیکن کتنی تفصیل لکھ سکتے ہیں وہ بھی، ان کا تو ہر دن ایسے واقعات سے پر ہے۔ جب بھی اکادمی تشریف لاتے تو ملتے ہی چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر ہلکی سی دو چپت لگاتے اور کاندھے پر تھپکی دے کر پوچھتے: او سنا منڈیا، کی حال اے تیرا؟
اللہ استاد گرامی کو ہم سب کی طرف سے اجرِ جزیل عطا کرے، آمین۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ و وسع مدخلہ آمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
چراغِ علم بجھ گیا
مولانا محمد عمر عثمانی
آج علم کا ایک آفتاب غروب ہو گیا۔ آج محبت کا ایک سائبان اٹھ گیا۔ آج ہزاروں شاگرد یتیم ہو گئے۔ میری زبان لڑکھڑا رہی ہے، دل لرز رہا ہے، اور آنکھیں سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میرے استاد، میرے محسن، میرے مربی، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
میں جمعہ پڑھا رہا تھا، فارغ ہو کر دفتر آیا، حسبِ عادت موبائل ہاتھ میں لیا، ایک کے بعد ایک پیغام، ایک ہی جملہ ’’استاذ جی نہیں رہے‘‘۔ وہ الفاظ میرے دل کو تیر کی طرح کاٹ گئے۔ دنیا تھم گئی، سانس رک گیا، اور روح پر ایک یخ بستہ سردی طاری ہو گئی۔ تصدیق کے لیے میں نے فوراً ان کے صاحبزادے، میرے عزیز بھائی اور درجہ ثالثہ سے دورہ حدیث تک کے ہم جماعت مولانا حبیب القدوس خان معاویہ سے رابطہ کیا، ان کی رندھی ہوئی آواز، ہچکیوں میں ڈوبے جملے، اس خبر کو پتھر کی سل کی طرح میرے دل پر رکھ گئے۔
یہ وہی استاذِ مکرم تھے جن سے میں نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درجہ ثالثہ کی کتب سے لے کر صحیح بخاری شریف ثانی اور جامع ترمذی شریف اول پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ وہ میرے محسن بھی تھے اور مربی بھی۔ میرے سے بے پناہ محبت کرتے، ہر ملاقات میں شفقت کے موتی لٹاتے۔ ان کی مجالس علم و تقویٰ کے نور سے بھری ہوتیں، اور ان کی نصیحتیں زندگی کا سرمایہ بن جاتیں۔ وہ ہر شاگرد کو اولاد کی طرح چاہتے، ہر سوال پر مسکرا کے جواب دیتے، ہر کمزوری کو ڈھانپ دیتے، میرے لیے وہ صرف استاد نہیں، میرے بچوں کے لیے دعاگو بزرگ، محبت کے مینار، اور شفقت کا سمندر تھے۔ آج وہ سمندر خشک ہو گیا۔ آج وہ مینار زمین بوس ہو گیا۔
وہ صرف میرے استاد نہیں، میرے دو بھائیوں جیسے عزیزوں اور میرے ہم جماعتوں حبیب القدوس خان معاویہ اور عبد الوکیل خان مغیرہ کے والدِ محترم بھی تھے۔ کئی بار میرے گھر تشریف لائے۔ ایک دن جب میرے بیٹے محمد زکی عثمانی نے قرآن حفظ کرنا شروع کیا تو انہوں نے شفقت بھرے ہاتھ سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، دعا دی اور فرمایا: ’’یہ بچہ ان شاء اللہ حافظِ قرآن بنے گا‘‘۔ استاد جی کی دعا کی برکت سے آج الحمدللہ میرا بیٹا حافظ قرآن ہے۔ یہ الفاظ آج بھی میرے دل میں نقش ہیں، اور ان کی محبت کا چراغ ہمیشہ جلتا رہے گا۔
آج ان کا مسکرانا، ان کا پڑھانا، ان کا دعا دینا، سب ایک حسین مگر رلانے والی یاد بن گیا۔ ان کی مجلس میں بیٹھنا گویا جنت کی خوشبو محسوس کرنا تھا۔ ان کے الفاظ دل میں اترتے اور دل کو سنوار دیتے۔ اور آج، آج وہ آواز، وہ خوشبو، وہ پرنور چہرہ، سب کچھ ہم سے دور، بہت دور جا چکا ہے۔ ہزاروں شاگرد جو قرآن و سنت کی خدمت میں مصروف ہیں، آج اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کر رہے ہیں۔ ہزاروں دل جن میں ان کی محبت کی روشنی تھی، آج اس روشنی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جامع مسجد نور، جامعہ نصرۃ العلوم کا گلشن اجڑ گیا، اور ہم جیسے شاگردوں کے دل کا ایک کونا ہمیشہ کے لیے خالی ہو گیا۔
اے اللہ! یہ تیرے نیک بندے تھے ،تیرے دین کے معلم تھے، تیرے کلام اور تیرے نبی ﷺ کی سنت کے چراغ بردار تھے۔ اے اللہ! انہیں جنت الفردوس میں وہ مقام عطا کر جو ان کے علم، ان کی محنت اور ان کی محبت کا حق ہے۔ ان کے درجات بلند کر، اور ان کے شاگردوں کو ان کا سچا وارث بنا آمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
’’یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ‘‘
مولانا عبد الجبار سلفی
آج دل غم سے بوجھل اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ابھی ابھی جمعۃ المبارک پڑھانے کی بابرکت ساعتوں سے فارغ ہو کر گھر پہنچا ہی تھا کہ ایک دل دہلا دینے والی خبر نے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے نہایت فاضل، باکمال اور جلیل القدر صاحبزادہ، حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ بقضائے الٰہی اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا عبد القدوس خان قارنؒ صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ ایک علمی روایت کے امین، ایک دینی قلعے کے پاسبان اور ایک ایسے چراغ تھے جن کی روشنی نے سینکڑوں دلوں کو ایمان و یقین کی حرارت بخشی۔ آپ کا وجود اپنے والد گرامی کی علمی، فکری اور روحانی میراث کا عملی مظہر تھا۔ آپ کا درس و تدریس کا انداز، نصوصِ شرعیہ سے استدلال، فقہ و حدیث پر گہری نظر، اور قلم سے ایسے موتی بکھیرنا کہ پڑھنے والا اَش اَش کر اٹھے۔ یہ سب آپ کی علمی عظمت کے روشن پہلو تھے۔ آپ نے نہ صرف مدارس و جامعات میں تدریس کی خدمت انجام دی بلکہ اپنے قلم سے بھی ملت کو گراں قدر تحفے دیے۔
مولانا قارنؒ کی شخصیت میں ایک طرف علمی وقار، سنجیدگی اور تحقیق کی گہرائی تھی، تو دوسری طرف عاجزی، انکساری اور اخلاص کی چمک تھی۔ شاگرد آپ کو استاذ نہیں بلکہ مربی کہتے، اور اہلِ علم آپ کو ایک جید محقق کے طور پر جانتے تھے۔ آپ کی وفات محض ایک عالمِ دین کی رخصتی نہیں، بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ عہد جس میں علم، عمل اور اخلاص ایک ساتھ نظر آتے تھے۔ آپ کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
ایک بے مثال شخصیت
بلال مصطفیٰ ملک
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ پاک نے اس امت کو ایسے نفوسِ قدسیہ عطا فرمائے جن کی زندگی علم و عمل، اخلاص و للہیت اور محبت و شفقت کا پیکر ہوتی ہے۔ انہی میں سے ایک محترم و مکرم مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ تھے۔ آپ جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ الحدیث تھے، ایک باوقار، سنجیدہ اور باعلم شخصیت جن کے پاس بیٹھنا گویا علم و حکمت کے سمندر میں غوطہ زن ہونا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہ صرف علم کا ملکہ عطا فرمایا بلکہ علمی لطائف، قیمتی نصائح اور نایاب واقعات سے دلوں کو منور کرنے کی خاص صلاحیت بھی عطا کی۔ آپ کی گفتگو میں نرمی بھی تھی، وقار بھی اور دلوں کو اپنی جانب کھینچ لینے والا انداز بھی۔ بڑوں کے ساتھ علمی گفتگو اور بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ، دونوں میں آپ کی شخصیت ایک مثال تھی۔ اللہ نے آپ کو ایسی بلند اور پُراثر آواز دے رکھی تھی کہ سپیکر کی حاجت نہ رہتی۔ افسوس ایسے علم بردار، ایسے باذوق اور بامروّت اساتذہ ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں اور ان کا حقیقی نعم البدل نظر نہیں آتا۔
چونکہ میرا سسرال بھی نصرۃ العلوم کے پڑوس میں واقع ہے تو جب بھی جانا ہوتا ہے تو کوشش ہوتی کہ نماز قارن صاحب کی امامت میں ادا کروں تاکہ ملاقات بھی ہو جائے۔ جیسے ہی استاد جی سے ملتا تو فوراً خوشی سے کہتے (ہور سنا علی پوری، لگدا سوریاں ول آیاں اے)۔ اللہ تعالیٰ استاد جی کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور درجات کو بلند فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی ورثے سے ہمیں فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ یہ لوگ چراغِ راہ تھے، اور چراغ بجھ جائیں تو راستے اندھیرے ہو جاتے ہیں۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
مطمئن اور نورانی چہرہ
پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید مشرقی
جانتے ہو کہ گوجرانوالہ کے سب سے بڑے قبرستان میں ۱۵ اگست کو رات گیارہ بجے کس ہستی کو قبر میں اتارا گیا؟
وہ بزرگ ہستی جس کی ساری زندگی زہد، تقویٰ سے عبارت ہے۔ وہ ہستی کہ تعلیم و تعلّم جس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ ہستی جو بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، دیگر احادیث کی کتب صحیح عربی متن کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کا ملکا رکھتے تھے۔ وہ ہستی جنہوں نے کبھی نہ جھوٹ بولا اور نہ کسی کی غیبت کی۔ وہ شخصیت جس نے اپنے چہرے کو تصویر کش کیمرے سے بچانے کی حتی المقدور کوشش کی۔ وہ شخصیت جو دن کو فرش پر بیٹھ کر صرف عرش والے کی باتیں کرتے تھے اور رات کو مصلے پر بیٹھ کر عرش والے سے فرش والوں کی باتیں کرتے تھے۔ وہ ہستی جن میں اولیائے کرام کی صفات نمایاں نظر آتی تھیں۔ ان کی نمازِ جنازہ سے پہلے جب ان کے چہرے کی زیارت ہوئی تو ایسے خوبصورت نورانی اور مطمئن چہرہ، یوں لگتا تھا کہ جنت میں اپنا مقام دیکھ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔
وہ ہستی ’’شیخ الحدیث و تفسیر حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمۃ اللہ‘‘ ہیں۔
حضرت قارنؒ اور مولانا فضل الہادی سواتی
عمار نفیس فاروقی
استاد گرامی مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کے انتقال پرملال کے بعد ان کے اسباق استاذ گرامی مولانا فیاض سواتی اطال اللہ بقاءہ اور مولانا فضل الہادی دامت برکاتہم کے حصہ میں آئے۔
ترمذی اول کا سبق استاذ جی فضل الہادی دام ظلہ نے پڑھانا تھا سو تشریف لائے اور آج کے سبق کی منظر کشی کچھ یوں تھی: ’’بڑوں کا جانا تھوڑا حادثہ تھا جو چھوٹوں کو ان کا مسند نشین ہونا پڑا، یہ اس سے بھی بڑا حادثہ ہے۔ مجھے تدریس میں جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو قارن صاحب سے پوچھتے تھے، گذشتہ دنوں ایک مسئلہ میں مشکل پیش آئی تو بے ساختہ فون اٹھایا تو فوراً خیال آیا کہ قارن صاحبؒ نہیں ہیں‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد جی بے ساختہ رو پڑے۔ ’’مدرسہ میں آیا تو استاد جی کا دروازہ دیکھ کر خیال آیا کہ استاد جی ابھی آئیں گے تو فوراً خیال آیا کہ قارن صاحب نہیں ہیں۔ یہ ’’نہیں ہیں‘‘ ہضم نہیں ہو رہا۔ اللہ عافیت فرمائے‘‘۔
مزید فرمایا کہ ’’حضرت نے وفات تک دورۂ حدیث کے طلبہ کو ترمذی شریف کی تین کتب پڑھائیں جو اسلام کے تین عقائد پر اثبات کی دلیل ہے ان شاء اللہ۔ آخری باب کتاب العیدین کا پڑھایا جس کے چھبیس ابواب ہیں ان میں سے اٹھارہ پڑھائے اور آٹھ باقی تھے جو جنت کے آٹھ دروازوں میں دخول پر نیک شگون ہے ان شاء اللہ۔ استاد جی نے آخری سبق تیرہ اگست کو عیدین کی کتاب سے پڑھایا تو اگلے دن چودہ اگست یومِ آزادی اور اس سے اگلے پندرہ اگست یومِ جمعہ کی صورت میں استاد جی نے دو عیدیں بھی دیکھ لیں۔‘‘
ایک دو واقعات سنائے جنہوں نے زخم دوبارہ تازہ کر دیا۔ اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ نمدیدہ و رنجیدہ کلاس اختتام پذیر ہوئی۔
نعی وفاۃ الشیخ عبدالقدوس خان رحمہ اللہ تعالیٰ
مولانا ذکاء اللہ
فی أصیل یوم الجمعۃ ١٥/٨/٢٠٢٥ م بعد ما فرغت من صلاۃ العصر، استعددت _ حسب عادتی_ أن آوی لمدۃ قصیرۃ إلی المقصف للاستراحۃ من تعب دراسۃ الیوم، قبل وصولی إلی المکان الذی کنت أریدہ، اتصل بی والدی ہاتفیا، عند التحیۃ المسنونۃ لمست من صوتہ أن ہناک خبرا مؤلما، قال: ان فضیلۃ الشیخ المحدث الفقیہ عبدالقدوس خان قارن قد انتقل إلی جوار رحمۃ اللہ، فما کنت أملک إلا أن أقول: إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
بوفاتہ لقد فقد العالم الإسلامی بشکل عام، وجامعۃ نصرۃ العلوم بشکل خاص علما من أعلام یعتبر من بقیۃ السلف الصالح بعلمہ وعلمہ، وکان شیخنا واحد من کبار المفکرین فی العالم، وکذلک کل احد یعترف بعلمہ وبفقاہتہ، وکان نموذجا عملیا لفکرۃ والدہ المعی امام اہل السنۃ الشیخ سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ، وکان إماما فی مسجد النور منذ خمسین سنۃ، وہکذا کان یقوم بتعلیم القران الکریم، بعد صلوۃ الفجر، وقد أتم تفسیر القران الکریم ثلاث مرات، تقبل اللہ مساعیہ المشکورۃ۔
قد انتشر خبر وفاتہ کالنار فی الحشیش، وبدا الناس یصلون إلی الجامعۃ من جمیع أنحاء البلد، لیشارکو فی الصلاۃ علی المیت، وقد شارک فی جنازتہ عدد کثیر من التلامیذ والمحبین لہ، فرغبت فی المشارکۃ فی جنازتہ تادیۃ لحقہ علی، لکن للأسف، ورغم رغبتی فی ذلک، لم أتمکن من حضور الجنازۃ بسبب بعض الأعذار، سیبقی لدی أسف دائم لذلک۔
أخیرا أسأل اللہ عز وجل أن یسکن شیخنا فسیح جناتہ، وارزق أہلہ، وذریتہ، ومن یتعلق بہ الصبر، إنک علی کل شیء قدیر۔
بقلم الاخ: ذکاء اللہ۔
پیغام: حضرت! میں اس اکیڈمی میں ہوتا ہوں تو اس اکیڈمی کے مجلہ الکفاح میں حضرت استاذ جی کی وفات کے متعلق بندے کا لکھا ہوا یہ مضمون ہے۔
شیخ عبدالقدوس خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات پر تعزیت
جمعہ کی شام 15 اگست 2025ء کو عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے حسبِ عادت تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے کیفے ٹیریا جانے کی تیاری کی۔ ابھی میں وہاں تک نہیں پہنچا تھا کہ میرے والد نے فون کیا۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد ہی میں نے ان کی آواز میں افسردگی محسوس کی۔ انہوں نے کہا: ’’حضرت محدث فقیہ شیخ عبدالقدوس خان قارین رحمۃ اللہ علیہ اللہ کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کی وفات سے اسلامی دنیا عام طور پر اور جامعہ نصرۃ العلوم خاص طور پر ایک ایسے عالم سے محروم ہو گئی ہے جو اپنے علم و عمل میں سلف صالحین کی باقیات میں سے تھے۔ ہمارے شیخ دنیا کے بڑے مفکرین میں سے ایک تھے اور ہر کوئی ان کے علم و فقہ کا قائل تھا۔ وہ اپنے والد ماجد امام اہل سنت شیخ سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فکر و نظر کا عملی نمونہ تھے۔ پچاس سال تک مسجد النور کے امام رہے اور ہمیشہ فجر کی نماز کے بعد قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر تین مرتبہ مکمل پڑھائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی شکرگزار خدمات کو قبول فرمائے۔
ان کی وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے ملک کے تمام کونوں سے جامعہ پہنچنے لگے۔ ان کے جنازے میں بے شمار شاگردوں اور چاہنے والوں نے شرکت کی۔ میں بھی ان کے حق کو ادا کرنے کے لیے ان کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتا تھا، لیکن افسوس کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے میں جنازے میں حاضر نہ ہو سکا۔ اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے شیخ کو اپنی وسیع جنتوں میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ، اولاد اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
از قلم: بھائی ذکاء اللہ
آہ ایک اور علم و معرفت کا درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا
مولانا شفیق الرحمان شاکر ایبٹ آبادی
شیخ الحدیث جامع المعقول والمنقول استاذ العلماء میرے استاذ و مربی حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب گزشتہ کئی دہائیوں سے سال سے علم کی شمع روشن کرتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ عالم کی موت سارے جہاں کی موت ہوتی ہے۔ آج کا دن میرے لیے یوم الحزن سے کم نہیں ہے۔
استاد کا مقام اس وقت اور بھی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے جب استاد علم کے خزانے طالب علم میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ باپ جیسی شفقت اور ماں جیسا پیار عطا کرے۔ ہم نے اس علم و معرفت سے مزین مربی کو ہر آن ہر کھڑی بس ہنستے مسکراتے دیکھا۔ اس عظیم ہستی کو پریشان و مایوس چہروں کو خوش راضی کرتے دیکھا۔ دورانِ طالب علمی ہم جب بھی ان کے پاس بیٹھتے تو شفقت فرماتے اور اپنی زندگی کے تلخ و حسین واقعات ضرور بیان فرماتے۔ اور مسکراتے ہوئے ہمیں تسلی بھی دیتے اور استقامت کی دعا بھی دیتے۔ ایک جملہ فرمایا کرتے کہ جامعہ نصرت العلوم کا طالب علم کبھی کسی دوسرے جامعہ میں نہیں رہ سکتا، اس لیے کہ اس جامعہ میں طالب علم کی جو مہمان نوازی اور خدمت ہوتی ہے کسی دوسرے مدرسہ میں نہیں ہوتی، اس لیے وہ جہاں کہیں چلا بھی جائے واپس ضرور آئے گا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ان جیسے شیوخ کے قدموں میں بیٹھ کر علم کے موتی حاصل کرنے والے کہاں کسی دوسرے مقام کو ترجیح دے سکتے تھے۔
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحبؒ گزشتہ پچاس سال سے جامعہ نصرت العلوم کے مدرس تھے، آپ نے عرصہ پچاس سال جامع مسجد نور میں امامت کے فرائض سر انجام دیے، آج بھی فجر کی نماز کی امامت کروائی، پہلی رکعت میں سورۃ حشر آور دوسری رکعت میں سورۃ جمعہ کی تلاوت فرمائی۔ عرصہ 35 سال سے نمازِ فجر کے بعد درس قرآن پاک کا اہتمام کیا۔ 56 سال مسلسل رمضان المبارک میں نماز تراویح میں قرآن پاک مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اکثر رمضان المبارک میں اعتکاف کیا۔ 35 سال مسجد تقویٰ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حج اور عمرہ کے علاوہ 11 دینی کتب تحریر فرمائیں۔ آپ محنت، سادگی، تقویٰ، علم، عمل، اخلاص کے پیکر تھے۔ اپنے استاذ محترم اور خاندان سواتی چشم و چراغ اور علماء و شیوخ کے ساتھ علمی عملی اور روحانی تعلق و رشتہ تادم مرگ جاری رہے گا- اللّٰہ کریم حضرت کے درجات بلند فرمائے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد محترم مولانا عبد القدوس قارنؒ بھی چلے گئے
محمد مقصود کشمیری
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جمعہ کے بعد ابھی سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر ملی کہ استاذ محترم جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث، امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے لائق و فائق فرزند، مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
یہ خبر سنتے ہی ذہن یک دم پچیس سال پیچھے لوٹ گیا۔ سن ۲۰۰۰ء کا وہ مبارک سال، جب مجھے جامعہ نصرت العلوم میں دورۂ حدیث شریف کی سعادت نصیب ہوئی۔ ترمذی شریف اور ابوداؤد شریف کی تدریس حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ سے پڑھنے کی خوش نصیبی ملی۔ ان کا پڑھانے کا انداز ایسا تھا کہ مشکل سے مشکل بحث کو بھی اس قدر آسان اور واضح بنا دیتے کہ جیسے دھوپ میں بکھرا ہوا اجالا دل و دماغ کو منور کر دیتا ہو۔ نمازِ عشاء کے بعد ان کا عوامی درس ختم ہوتا تو طلبہ آ کر علمی سوالات پیش کرتے۔ میں جب کسی دقیق مسئلے میں الجھ جاتا تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ اور وہ ہمیشہ شفقت بھری مسکراہٹ اور نرمی کے ساتھ منٹوں میں الجھی گرہیں کھول دیتے۔ یہ ان کا بڑا وصف تھا کہ علم کو بوجھ نہیں بلکہ نعمت سمجھ کر بانٹتے تھے۔
حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ نہ صرف ایک عظیم معلم تھے بلکہ کئی علمی کتب کے مصنف بھی تھے۔ ان کی تحریریں ان کے علمی ذوق، وسعتِ مطالعہ اور فکری پختگی کا آئینہ ہیں۔ وہ سادگی، انکساری، اور اخلاص کا پیکر تھے۔ ان کے چہرے کی متانت اور گفتگو کی شائستگی آج بھی ذہن میں نقش ہے۔ یقیناً یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ مگر کچھ لوگ اپنے علم، عمل اور اخلاص سے ایسا چراغ جلا جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی روشنی باقی رہتی ہے۔ حضرت مولانا عبد القدوس قارن رحمہ اللہ کا شمار انہی چراغوں میں ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت حضرت استاد محترم کی کامل مغفرت اور ان کی لغزشوں کو معاف فرماتے ہوئے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
خاندانِ سواتی کا ایک درخشندہ ستارہ
ڈاکٹر فضل الرحمٰن
شیخ الحدیث جامع المعقول و المنقول استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب گزشتہ پچاس سال سے جامعہ نصرتِ العلوم کے مدرس تھے، آپ نے عرصہ پچاس سال جامع مسجد نور میں امامت کے فرائض سر انجام دیے، آج بھی فجر کی نماز کی امامت کروائی پہلی رکعت میں سورۃ حشر آور دوسری رکعت میں سورۃ جمعہ کی تلاوت فرمائی، عرصہ 35 سال سے نماز فجر کے بعد درسِ قرآن پاک کا اہتمام کیا، 56 سال مسلسل رمضان المبارک میں نماز تراویح میں قرآن پاک مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی، اکثر رمضان المبارک میں اعتکاف کیا، 35 سال مسجد تقویٰ (پیپلز کالونی گوجرانوالہ) میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، حج اور عمرہ کے علاوہ 11 دینی کتب تحریر فرمائیں، آپ محنت، سادگی، تقویٰ، علم، عمل، اخلاص کے پیکر تھے، آج اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، اللّٰہ کریم حضرت کے درجات بلند فرمائے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
ایک آفتابِ علم کا غروب
صاحبزادہ حافظ حامد خان
گزشتہ روز ۱۵ اگست ۲۰۲۵ء جمعۃ المبارك ایک عظیم سانحہ پیش آیا، جب جلیل القدر عالمِ دین، استاد الحدیث، ماہرِ علومِ عقلیہ و نقلیہ و شرعیہ، محققِ بے مثال حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ قضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔ ان کی رحلت کی خبر نے پورے علمی و دینی حلقوں کو غمگین کر دیا۔
مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ کا شمار اکابر علماء میں ہوتا تھا۔ وہ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے خانوادہ سے نسبت رکھتے تھے۔ آپؒ نے ایک طویل عرصہ تک جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کی نظامت فرمائی اور تدریس و تصنیف کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ امام اہل سنتؒ کی غیر تکمیل شدہ تصانیف کی تکمیل اور تدوین کا عظیم کام بھی آپ کے حصے میں آیا۔ خطابت میں ان کی زبان کی شیرینی، استدلال کی پختگی اور مسائل پیش کرنے کا انداز ایسا دلنشین تھا کہ سننے والا مسحور ہو جاتا۔
آپؒ کی شخصیت سادگی، انکساری اور زہد و تقویٰ کا مرقع تھی۔ لباس اور ٹوپی ہم رنگ پہنتے، سادہ کھانے پر قناعت فرماتے، اور ہمیشہ اپنے اکابرین و اساتذہ کا بے حد احترام کرتے۔ علمی حلقوں میں آپ کی ذات ایک انجمن کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ بیک وقت استاد، محدث، محقق، مفسر، خطیب اور مربی کی صفات کے حامل تھے۔
حضرت قارن صاحبؒ نے تحریکِ ختمِ نبوت، تحریکِ نظامِ مصطفیٰ، تحریکِ شریعت بل، تحریکِ بحالئ مسجد نور اور تحریکِ مجاہدین سمیت ہر دینی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ کسی ایک جماعت سے منسلک نہ تھے مگر تمام دینی تحریکات کی سرپرستی فرماتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء و طلباء یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی رحلت سے علمی و دینی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس کا پُر ہونا قریب از ناممکن ہے۔ جنازے کے مناظر دل کو لرزا دینے والے تھے۔ ان کے کفن میں لپٹی میت کو دیکھ کر یہی خیال بار بار دل میں ابھرا کہ یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہدِ علم، تقویٰ اور خدمتِ دین دفن ہو رہا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پس ماندگان و شاگردان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ حضرت کے ہزاروں شاگرد، علماء اور محبین ان کے لیے ہمیشہ ایصالِ ثواب اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مولانا عبد القدوس قارنؒ کے علمی و روحانی نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت قارن صاحبؒ حضرت شیخ سرفرازؒ کی نظر میں
محمد سرور کشمیری
حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب (گجرانوالہ) کی وفات کی خبر سن کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ ایک عرصہ میں میرا ان سے بڑا تعلق تھا۔ وقت گزر جاتا ہے انسان کی یادیں رہتی ہیں۔ بہرحال وہ بڑی علمی شخصیت تھے، حضرت شیخ سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے تمام بیٹے حافظ قاری اور جید عالمِ دین ہیں اور ان میں سے کچھ نامور شخصیات بھی ہیں۔ لیکن حضرت شیخؒ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ کیا کوئی اپنا جانشین کسی کو (مقرر کیا ہے) چھوڑا ہے؟ فرمایا، کبھی مولانا عبد القدوس قارن کے درس میں بیٹھ کر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
بہرحال وہ بے شک ملکی سطح پر دیگر بھائیوں کی طرح زیادہ شہرت نہیں رکھتے تھے، تدریس کی طرف خاموشی سے متوجہ تھے اور حضرت شیخ کی کتابوں کو وہی ترتیب دیتے تھے۔ وہ شخصیت جس کو حضرت شیخ اپنا جانشین کہتے تھے، ایسی شخصیت کے اٹھ جانے پر یقیناً ایک اہلِ علم کے حلقوں میں ایک بڑا خلا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ادارہ نصرت العلوم کو چند سالوں کے وقفہ سے پھر ایک بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ نعم البدل دے، آمین۔
میں حضرت مولانا شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب، ان کے دیگر تمام بھائیوں اور تمام خاندان والوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
امت ایک مخلص عالم سے محروم ہو گئی
مفتی رشید احمد العلوی
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بہت افسوس کے ساتھ اطلاع ملی کہ امام اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے فرزندِ ارجمند، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ صاحب اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ تدریسی حوالے سے اپنے عظیم والد کے سچے جانشین تھے۔
آپ کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ، واجعل قبرہ روضۃ من ریاض الجنۃ۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
ہزاروں طالبانِ علم کے مُفیض
یحیٰی علوی
بہت ہی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر ملی کہ ہمارے بزرگ، جلیل القدر عالمِ دین، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مرحوم کی شخصیت علم و فضل، تقویٰ و تدین، زہد و ورع اور اخلاص و للّٰہیت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ دین متین کی خدمت، تدریس و تربیت اور طلبہ کی علمی و اخلاقی نشوونما کے لیے وقف کیا۔ ہزاروں طالبانِ علم نے آپ کے فیض سے بہرہ ور ہو کر دین کی روشنی کو آگے پہنچایا۔ بلاشبہ آپ کا وجود ایک علمی و روحانی سرمایہ تھا جس کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی۔ اہلِ علم اور دین کے شائقین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی وفات محض ایک شخص کا دنیا سے جانا نہیں بلکہ ایک علمی دور کا خاتمہ ہے۔ تدریسی حلقے، علمی مجالس اور تربیتی نشستیں آپ کی کمی کو شدت کے ساتھ محسوس کریں گی۔
ہم اللہ رب العزت کے حضور دعا گو ہیں کہ مرحوم کو کامل مغفرت، اعلیٰ درجات اور جنت الفردوس میں مقامِ محمود عطا فرمائے۔ ان کے پس ماندگان، تلامذہ اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم سے نوازے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
آہ! ایک درخشاں ستارۂ علم و فضل
ڈاکٹر ناصر محمود
آہ! ایک درخشاں ستارہ علم و فضل کے آسمان سے رخصت ہو گیا۔ ہمارے نہایت معزز، محترم اور مشفق استاذ، حضرت علامہ مولانا عبدالقدوس قارن صاحبؒ، شیخ الحدیث مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ، اس فانی دنیا سے ابدی قرارگاہ کی طرف کوچ فرما گئے۔ حضرتؒ میرے وہ استاذ تھے جنہوں نے نہ صرف علم سے نوازا بلکہ ہر موقع پر شفقت و محبت کی بارش فرمائی۔ ان کی نصیحتوں میں حکمت، اندازِ گفتگو میں نرمی، اور شاگردوں کے لیے دل میں بے پناہ محبت ہوا کرتی تھی۔ ان کے سامنے بیٹھنا گویا علم، اخلاق اور روحانیت کے چشمے سے سیراب ہونا تھا۔ ان کی رحلت میرے لیے ذاتی طور پر ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ میں نے ان میں ایک ایسے مربی کو پایا جو شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح چاہتے اور ہر حال میں ان کا بھلا چاہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں ان کی علمی و اخلاقی وراثت کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت قارنؒ سے پہلی ملاقات
محمد بلال فاروقی
سن 2008ء کی بات ہے، جب میں دارالعلوم خلفائے راشدین، ویسہ (اٹک) میں پڑھ رہا تھا۔ سالانہ جلسے کے لیے مرکزی خطاب کے لیے مولانا عبدالقدوس قارن صاحب سے درخواست کی گئی تو انہوں نے فوراً قبول فرما لیا۔ نہ کسی گاڑی کی فرمائش، نہ ہی لفافے کی خواہش۔ ایسا لگا جیسے واقعی علمائے کرام بھی “پیکج فری” آ سکتے ہیں۔ مولانا صاحب گوجرانوالہ جی ٹی روڈ سے پشاور جانے والی بس میں بیٹھ گئے اور فون پر مدرسے والوں کو اطلاع دے دی: “میں فلاں وقت تک کامرہ پہنچ جاؤں گا، آگے سے کوئی بندہ راہنمائی کے لیے آ جائے۔” اب مدرسہ والوں نے یہ ڈیوٹی ہمیں سونپ دی، یعنی مجھے اور میرے دوست اکرام الحق کو کہ ایک کیری ڈبہ لے کر جاؤ اور مولانا کو لے آؤ۔
مسئلہ یہ تھا کہ ہم دونوں نے مولانا کو کبھی دیکھا نہیں تھا۔ سو ہر بس رکتے ہی آنکھیں گاڑی میں سے اترنے والے ہر سواری پر یوں جمی ہوتیں جیسے پولیس ناکے پر شناختی چیک ہو رہا ہو۔ کچھ ہی دیر میں اکرام نے ایک شخص کو دیکھتے ہوئے کہا: “یار، یہ ایسا نہیں لگ رہا جیسا گاڑیوں میں پھکی بیچنے والے ہوتے ہیں؟” میں نے غور کیا تو سامنے ایک نہایت سادہ شلوار قمیض پہنے، اسی رنگ کے کپڑے کی ٹوپی لگائے، ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ تھامے ایک شخصیت کھڑی تھی جو ادھر اُدھر متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے اکرام کو گھورتے ہوئے کہا: “اوئے پاگل! یہ تو خود مولانا ہیں۔” ہم آگے بڑھے، سلام کیا، بیگ لیا اور کیری ڈبے میں بٹھا کر روانہ ہو گئے۔ پورا راستہ بے تکلفی سے بات چیت چلتی رہی۔ وہ ہم سے ہمارے سبق پوچھتے رہے اور ہم ان سے ان کے والد گرامی مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے واقعات سنتے رہے۔
ہاں، ویسہ گاؤں کی ایک الگ ہی خصوصیت ہے: وہاں کی سڑکوں پر ہر تین چار میٹر کے بعد ایسا جمپ بنایا گیا ہے کہ گاڑی تو دھیمی ہو ہی جاتی ہے، مگر گاڑی کے اندر بیٹھے افراد کی ہڈیاں بھی الگ سے جمپ لگاتی ہیں۔ مولانا کافی دیر برداشت کرتے رہے، پھر مسکرا کر بولے: “بھائی! یہ جمپ ختم ہونے کے بعد کہیں سڑک بھی آئے گی یا سارا گاؤں ہی قلابازیاں کھلاتا ہے؟” خیر، مولانا بخیر و عافیت پہنچ گئے، نہایت وقیع خطاب فرمایا اور جیسے عام بس پر آئے تھے، ویسے ہی واپس تشریف لے گئے۔ علم تو پہلے ہی متاثر کن تھا، لیکن ملنے کے بعد ان کی سادگی، بے تکلفی اور اپنائیت نے دل کو گرویدہ کر لیا۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں قیام کے دوران کئی بار ملاقات ہوئی، ہمیشہ شفقت سے ملے اور دعائیں دیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے، ان کے اہلِ خانہ، استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی اور تمام برادران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
دینِ متین کا ایک اور روشن چراغ گل ہوگیا
محمد عمران حقانی
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینِ متین کا ایک اور روشن چراغ گل ہوگیا، علم و عمل کی ایک عظیم شمع بجھ گئی۔ آج اُمتِ مسلمہ خصوصاً علمی و دینی حلقے ایک نہایت رنجیدہ خبر سے دوچار ہیں کہ حضرت امام اہل سنت علامہ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے جگر گوشہ، علم و تقویٰ کے پیکر، محقق عصر، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے۔
حضرت مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس و تدریس، مسلکِ حق کی وضاحت اور سنتِ نبوی ﷺ کے فروغ میں بسر کی۔ آپ کی علمی مجالس، عالمانہ خطابات اور حدیثِ رسول ﷺ کی تدریس نے ہزاروں طالبانِ علم کو منور کیا۔ آپ نہ صرف ایک باکمال مدرس تھے بلکہ ایک بلند پایہ محقق، متواضع خادمِ دین اور اہلِ حق کے ترجمان بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں علمی رسوخ کے ساتھ زہد و ورع اور اخلاقی جاذبیت کا حسین امتزاج تھا۔ ہمیشہ امت کے اتحاد، دینی غیرت اور شرعی حدود کی پاسداری کے لیے آواز بلند کی۔ اپنے عظیم والد کی طرح آپ بھی کسی مصلحت یا دباؤ کے آگے حق گوئی سے پیچھے نہ ہٹے۔
ان کے وصال سے علمی دنیا ایک عظیم محدث اور سچے خادمِ دین سے محروم ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ کی قبر کو جنت کا باغ بنائے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور پس ماندگان و تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد جی حضرت قارنؒ اور ملکی قانون کی پابندی
مولانا امداد اللہ طیب
1998,99ء کی بات ہے، حفظ کے بعد گردان کا زمانہ تھا۔ اس وقت ہمارا سالانہ ختم نبوت کورس گرمیوں کی چھٹیوں میں 15 جون سے 30 جون تک ہوتا تھا۔ چھٹیوں کی وجہ سے اساتذہ، سکول، کالجز کے بچوں کی اس میں شرکت ہو جاتی تھی۔ اس کورس کے سالانہ مہمان استاد جی زاہد الراشدی حفظہ اللہ تعالیٰ اور استاد جی مولانا عبد القدوس قارن علیہ الرحمہ ہوتے تھے۔ جب تک صحت نے اجازت دی، ہر سال تشریف لاتے رہے۔ اب بھی یہ کورس شعبان المعظم کی چھٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس سال بھی تشریف لائے، کورس کا تقریباً آخری دن تھا۔
گاؤں کے ساتھ شروع میں جو بستی ہے، گریڈ اسٹیشن ساتھ ہونے کی وجہ سے اس بستی کو بستی گریڈ اسٹیشن، یا ہندوؤں کا یہاں ایک مقدس مقام تھا جسے باؤلی کہا جاتا تھا، ان دونوں ناموں سے یہ بستی آج بھی مشہور ہے۔ یہاں ہمارے ایک مخدوم و مکرم بزرگ ہوتے تھے، اب تو کئی سال ہوئے فوت ہو گئے، حاجی محمد غلام حیدر رحمۃ اللہ علیہ، بڑے نیک، اچھے اور صوفی منش انسان تھے، علماء سے محبت رکھنے والے تھے، تبلیغی جماعت سے تعلق تھا، جامع مسجد عائشہ صدیقہ گریڈ اسٹیشن کے متولی تھے۔ والد صاحب سے کہنے لگے، کورس میں جو بزرگ آئے ہیں، ان سے مسجد کا سنگ بنیاد رکھوا لیتے ہیں۔ والد صاحب نے استاد جی سے گزارش کی۔ فرمایا سعادت ہے، چلو چلتے ہیں۔
ان دنوں ملکی حالات کچھ ایسے تھے کہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کی پابندی تھی۔ بائیک پر 3 منٹ لگنے تھے، جبکہ پیدل 10 منٹ لگ جاتے۔ والد صاحب کہنے لگے! استاد جی آپ موٹر سائیکل پر سوار ہو جائیں، میں بھی آتا ہوں۔ فرمایا، افتخار میں موٹر سائیکل پر سوار نہیں ہوں گا، اس لیے کہ ڈبل سواری پر پابندی ہے۔ ابا جی نے کہا، استاد جی! اپنی بستی سے دوسری بستی میں جانا ہے، درمیان میں کوئی مین سڑک نہیں، کوئی چوک، شہر نہیں ہے۔ فرمانے لگے، افتخار تیری بات ٹھیک ہے لیکن قانون، قانون ہوتا ہے، چاہے بستی ہو یا شہر، بہرحال قانون کی پابندی لازمی ہے۔ چنانچہ سب مہمان پیدل سفر کر کے مسجد والی جگہ پہنچے۔ مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا، دعا فرمائی۔
آج الحمد للہ وہ مسجد آباد ہے۔ پانچ وقت نماز، جمعہ ہوتا ہے۔ مکتب تعلیم القرآن الکریم کے ناظرہ کی کئی ایک کلاسز اس نظم میں چل رہی ہیں۔ ہمارے دوست مولانا قاری محمد ذیشان قمر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ اس کے امام و خطیب ہیں، اللہ تعالیٰ نے بہترین قراءات سے نوازا ہے، دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس مسجد میں جاری دینی کاموں کا اجر و ثواب استاد جی کو پہنچائے، درجات بلند فرمائے، کامل مغفرت فرمائے، آمین ثم آمین۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت قارن رحمہ اللہ کا پابندئ وقت کا ایک واقعہ
شہزادہ مبشر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جس طرح میں پہلی ایک ویڈیو میں حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ حضرت دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔ تو ابھی میں ان کے بارے میں ایک اور واقعہ آپ حضرات کو سنانا مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت صاحبؒ باعمل عالم تھے۔ آج کل اس قسم کے علماء حضرات بہت کم ہیں کہ جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک معروف مولوی صاحب کی وفات ہو گئی تو ان کے جنازے کا وقت مقرر کیا گیا۔ تو جب جنازے کا وقت ہوا تو بہت سارے عوام بھی جمع تھے، بہت سارے مولوی حضرات بھی جمع تھے۔ تو وہاں پر مولوی صاحبان نے سلسلہ شروع کر دیا کہ ابھی میں دعوتِ خطاب دیتا ہوں فلاں مولوی صاحب کو کہ وہ تشریف لائیں تو اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔ ایک مولوی آیا، اس نے اس مولوی صاحب کی جو ہے وہ بڑائی بیان کی۔ ابھی میت سامنے پڑی ہے۔ اس کے بعد، ابھی میں دعوتِ خطاب دیتا ہوں فلاں صاحب کو کہ وہ تشریف لائیں۔ تو یہ لمبا سلسلہ چلا دیا۔ حالانکہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ کہ جب تجہیز و تکفین اور قبر کا بندوبست ہو جائے تو فی الفور دفن کرنا چاہیے۔ حالانکہ بہت بڑی تعداد میں مولوی حضرات موجود تھے لیکن کسی کو اس بات کا احساس نہیں تھا۔ تو صرف اور صرف حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ تھے جنہوں نے اس بات کی طرف رہنمائی کی کہ بھئی جنازہ لیٹ ہو رہا ہے، جنازے کے اندر تاخیر کرنا مناسب کام نہیں ہے۔ تو حضرت کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ جو بھی چیز خلافِ شریعت دیکھتے اس کو ضرور پوائنٹ آؤٹ کرتے۔
(۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)
حضرت قارنؒ اور قرآن کا ادب
قاری عبد الوحید مدنی
غالباً 2017ء یا 2018ء کی بات ہے مجھے جامعہ اقبالیہ سیالکوٹ تلاوت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ہمارے دوست مفتی مبشر صاحب اور مولانا نور الحسن صاحب جو اس وقت وہاں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے تھے انہوں نے ہی ترتیب بنائی تھی کیونکہ مفتی مبشر صاحب سے اکثر وہاں تجوید اور خصوصاً قراءاتِ عشرہ کے حوالے سے بات چلتی رہتی تھی کہ سیالکوٹ میں اس پر معیاری کام ہونا چاہیے۔
خیر، جب تلاوت جاری تھی تو اس دوران حضرت استاذ جی مولانا عبد القدوس قارن صاحب بالائی منزل سے نچلے ہال میں تشریف لائے، پکچر میں جو صوفہ نظر آرہا ہے اس پر ایک نعت خواں اور ایک خطیب صاحب تشریف رکھے ہوئے تھے، میں زمین پر بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کیونکہ مجھے اسی طرح زیادہ سہولت تھی۔ منتظمین نے حضرت کو صوفے پر بٹھانے کی کوشش کی تو فرمانے لگے (مفہوم:) نہیں قرآن پڑھنے والا نیچے بیٹھا ہوا ہے میں ادھر ہی نیچے بیٹھوں گا، سبحان اللہ۔ صوفے پر بیٹھے حضرات بھی نیچے بیٹھ گئے۔ یہ سارا معاملہ میں بھی دیکھ اور سن رہا تھا۔ بہت عجیب اثر ہوا۔ اس دوران بھی اور بعد میں بھی یہ خیال کئی دفعہ آیا کہ کیا شان ہے ہمارے ان بڑوں کی جو اپنے عمل سے کئی کئی چیزیں ہمیں سکھا گئے۔ کئی دفعہ احباب کے ساتھ اس واقعے کو شیئر کیا کہ ہمارے لیے یہ سب سیکھنے کی چیزیں ہیں۔ ادب ہی سب کچھ ہے جو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ تلاوت جاری رہی، بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ حضرت کے بیٹھنے اور توجہات سے وہ تلاوت بہت ہی پر اثر رہی۔
سیالکوٹ سے بجائے ایبٹ آباد کے میں نے گوجرانوالہ گھنٹہ گھر تک کا سفر حضرت کی سواری میں ہی کیا تھا۔ چھوٹوں کو آگے بڑھانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے تو حضرت نے بیان میں تین، چار دفعہ اور پھر گاڑی میں دورانِ سفر بھی مجھے حوصلہ افزاء کلمات سے نوازا جو میرے لیے سعادت مندی تھی، حقیقت میں حضرت کی توجہات و برکات تھیں، لیکن افسوس کہ اس وقت وہ کلمات اور سفر کی باتیں لکھ نہ سکا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ حضرت جی کو کروٹ کروٹ جنت کی خوشبوئیں نصیب فرمائے، درجات بلند فرمائے۔
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
’’قارن‘‘ کی وجہِ تسمیہ
مولانا حافظ فرمان الحق قادری
حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی شخصیت سراپا علم، جلال اور روحانی رعب کا پیکر تھی۔ ہم جیسے طالب علموں کے لیے آپ کا سبق محض علمی نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ایک عظیم ذریعہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم بیضاوی شریف کے سبق میں شریک تھے۔ دل میں کئی دن سے ایک سوال مچل رہا تھا لیکن حضرت کا رعب اور دبدبہ ایسا تھا کہ زبان کھلنے کا حوصلہ نہیں ہوتا تھا۔ آخرکار ہمت کر کے ہم چند طلباء نے استاذ محترمؒ سے عرض کیا کہ ’’حضرت! آپ کے نام کے ساتھ قارن لکھنے کی کیا وجہ تسمیہ ہے؟‘‘
حضرت نے اپنے مخصوص جلالی اور مانوس انداز میں جواب دیا: ’’میں نے الحمد للہ ردِ قادیانیت، مماتیت اور غیرمقلدیت پر قلمی خدمات انجام دی ہیں۔ انہی عظیم علمی خدمات کی بنا پر میرے ابا حضور، امامِ اہل سنتؒ نے میرے نام کے ساتھ قارن کا تخلص لگایا۔‘‘ یہ بات سن کر ہمارے دلوں پر علمی غیرت اور دینی استقامت کی ایک نئی روشنی اُتر آئی۔
ایک بار حضرت کے پاس چند مہمان تشریف لائے۔ ابا حضور نے آواز دی: قارن بیٹا! ذرا مہمانوں کے لیے خاطر تواضع کا انتظام کرو، مہمانوں کو بھی یہ سوال کھٹکا کہ آخر ’’قارن‘‘ کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ اس پر امام اہل سنتؒ نے بڑے دلنشین اور پراثر انداز میں فرمایا: ’’توانوں پتا میں اینوں قارن کیوں آکھدا آں؟ اس واسطے کہ میرے پتر نے مماتیت، غیرمقلدیت، قادیانیت تے بے تحاشہ کم کیتا اے، ہن جدوں کوئی سجی پاسوں آندا، اے اوہنوں ٹکر ماردا اے۔ جدوں کوئی کھبے پاسوں آندا، اے اوہنوں وی ٹکر ماردا اے، اس لئی میں اینوں قارن آکھدا واں، ایہ میرا پیڈو اے، سب نال پورا آجاند اے!‘‘ یہ الفاظ آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں اور دلوں کو حضرت کی دینی غیرت و شجاعت کی یاد دلاتے ہیں۔
اللہ جل شانہ ہمارے استاذِ محترم حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے، آپ کے علمی و روحانی فیض کو پوری امت میں جاری و ساری رکھے، اور ہمیں آپ کے نقشِ قدم پر استقامت عطا فرمائے، آمین۔
(۲۱ اگست ۲۰۲۵ء)
چراغِ علم کی رخصتی
مولانا محمد ادریس
علم و عرفان کی بستیوں میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وجود سے زمانے کو روشنی عطا کرتی ہیں۔ ان کے الفاظ چراغ ہوتے ہیں، ان کی محفلیں گلشنِ علم، اور ان کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ انہی منور ہستیوں میں ایک درخشاں نام شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا ہے۔
آپؒ ہمارے علاقے کے مایہ ناز محدث اور فقیہ، حضرت مولانا عبدالقدیرؒ کے فخرِ روزگار اور برگزیدہ شاگرد تھے۔ آپؒ کی شاگردی کا شرف حاصل کرنے والے بھی اپنی جگہ علم و تقویٰ کے مینار تھے، جن میں ہمارے محترم اساتذہ حضرت مولانا عبدالسلامؒ، حضرت مولانا محمد صابرؒ اور حضرت مولانا قاری چن محمد مدظلہ شامل ہیں۔ ہمارے گاؤں کا علمی سرمایہ اور فخر، شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ، آپؒ کے مجازِ خلافت ہونے کی سعادت رکھتے تھے۔
ہمارے استادِ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالسلامؒ کو بھی آپؒ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے آپؒ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا تو حضرت سرفراز خان صفدرؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’یہ علماء کا ہدیہ ہے، بخوشی قبول ہے۔‘‘ یہ جملہ آپؒ کے دل کی وسعت اور علماء کے مقام کی قدردانی کا عکاس ہے۔ ہمیں حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے ایک خاص قلبی لگاؤ ہے۔ ان کی کتب سے بارہا علمی تشنگی بجھائی، اور ہر بار محسوس ہوا کہ یہ تحریریں محض الفاظ نہیں بلکہ ایمان و بصیرت کی روشنی ہیں۔
آج دل کو مغموم کر دینے والی خبر ملی کہ آپؒ کے لائق و فاضل صاحبزادے، علم و فضل کے امین، اور سینکڑوں شاگردوں کے مربی، حضرت مولانا عبدالقدوس قارنؒ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
یقیناً حضرت قارنؒ خوش نصیب تھے کہ ہزاروں تشنگانِ علم نے ان کے در سے سیرابی پائی، اور وہ اس قافلے کا حصہ رہے جو صدیوں سے چراغِ علم کو نسل در نسل منتقل کرتا آ رہا ہے۔ ان کے اخلاق و کردار کی خوشبو ہر اس دل میں باقی رہے گی جو ان کی صحبت سے فیضیاب ہوا۔
اس اندوہناک موقع پر ہم مرحوم کے اہلِ خانہ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے علم و فیض کا سلسلہ تا قیامت روشن رکھے۔
(۱۷ اگست ۲۰۲۵ء)
استاد جی حضرت قارنؒ کے گہرے نقوش
مولانا محمد حنظلہ
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چل رہا ہے، مگر بعض دن ایسے آ جاتے ہیں جو تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ۱۵ اگست ۲۰۲۵ء بروز جمعۃ المبارک، ایسا ہی ایک دن تھا جب دنیائے علم و دین کا درخشندہ چراغ، جلیل القدر عالمِ دین، استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ یہ سانحہ محض ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پورے علمی و دینی معاشرے کا مشترکہ دکھ ہے۔
میں اپنا واقعہ آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پڑھائی کے دوران سادسہ والے سال میں مغرب کے بعد کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ اس دن ہم دوستوں نے ارادہ کیا ہے کہ استاد جی سے کھانا کھائیں تو ہم تین چار دوست اکٹھے مل کے استاد جی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ استاد جی سے کہا آج ہم نے کھانا آپ کے ساتھ کھانا ہے۔ استاد جی نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو 500 روپیہ نکلا۔ استاد جی نے کہا کہ یہ پانچ سو روپیہ لے لیں اور کھانا کھا لیں۔ ہم نے کہا کہ نہیں استاد جی آج ہم نے آپ کے گھر کا کھانا کھانا ہے اور آپ کے ساتھ کھانا ہے، تو استاد جی بہت شفقت کرنے والے تھے، استاد جی نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئے، ہمیں اپنے کمرے میں بٹھا کر خود باہر چلے گئے اور ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یار استاد جی کو ہم نے تکلیف دی، استاد جی کو اور بھی کام ہوتے ہیں، ہم نے کیوں استادوں کو تکلیف دی؟ ہمیں پیسے مل رہے تھے ہم باہر سے کھا لیتے، لیکن پھر ارادہ بھی یہی تھا کہ استادوں کے گھر سے ہی کھانا ہے۔
پھر اتنے میں استاد جی آئے اور استاد جی نے ہمارے سامنے کھانا پیش کیا۔ کھانا تو وہ بہت سادہ تھا لیکن اس میں استاد جی کی محبت خلوص شفقت احساس جذبات سب کچھ بھرا ہوا تھا۔ اور وہ کھانا آج تک ہم بھول نہ سکے تو اس شخصیت کو آج ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ جنہوں نے ہمیں علم سکھایا جنہوں نے ہمیں ادب سکھایا جنہوں نے ہمیں عالم بنایا جن کی دعاؤں سے ہم اس عہدے پر ہیں اور اپنے اپنے مقامات پر دین کا کام کر رہے ہیں۔ یہ سب انہی کا فیض ہے، اللہ رب العزت ان کے درجات کو بلند تر فرمائے۔
آج ان کو ہم سے رخصت ہوئے پورا ایک مہینہ ہو گیا، ایک مہینہ ایسے گزرا کہ پتہ بھی نہ چلا، اللہ رب العزت ان کے عزیز و اقارب کو، ان کے گھر والوں کو، ان کی اولاد کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت استاد جی کے قبر کو تا حد نگاہ کشادہ فرمائے، اللہ رب العزت استاد جی کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۵ ستمبر ۲۰۲۵ء)
دل بہت غمگین ہوا!
محمد فاروق احمد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انا للہ وانا الیہ راجعون
میرے محترم بھائی قارنؒ صاحب کے انتقال کی خبر سن کر دل بہت غمگین ہوا۔ میں اس دُکھ کی گھڑی میں آپ سب کے ساتھ برابر کا شریک ہوں۔ وہ ہمیشہ شفقت، محبت اور نیک اخلاق کے ساتھ سب کے دلوں میں بستے تھے۔
بالخصوص ہمارا تعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت کے تمام اہلِ خانہ سے برسوں سے چلا آرہا ہے۔ ہمیں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے ایک خاص قلبی لگاؤ ہے جو تا قیامت قائم و دائم رہے گا، انشاء اللہ۔
اس دکھ بھرے موقع پر ہم بھائی قارنؒ صاحب کے اہلِ خانہ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھائی قارنؒ صاحب کے علم و فیض کا سلسلہ تا قیامت روشن رکھے۔ اللہ رب العزت بھائی قارنؒ صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند کرے اور ان کی زندگی بھر کی خدماتِ دین، علمِ حدیث کی ترویج اور نیک اعمال کو شرفِ قبولیت بخشے۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمين يا رب العالمين۔
غم خوار بھائی: محمد فاروق احمد، کویت
[گکھڑ میں حضرت امامِ اہلِ سنتؒ کے ہمسایہ]
حضرت قارن صاحبؒ کی وفات اور قرآن کا وعدہ
میاں محمد سعید
انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ، جو امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند اور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے برادرِ صغیر تھے، کے وصال کی خبر نہایت رنج و الم کے ساتھ موصول ہوئی۔
مرحوم نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ قرآن و سنت کی اشاعت، علومِ نبویہ کی تدریس، اور خصوصاً بخاری شریف کے درس میں بسر کی۔ ان کی علمی و دینی خدمات امتِ مسلمہ کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ بارگاہِ رب العزت میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، قبر کو نور اور رحمت کا گہوارہ بنائے، اور انہیں جنت الفردوس میں انبیاء و صلحاء کی معیت نصیب فرمائے۔
اہلِ خانہ اور تلامذہ کے لیے یہ جدائی یقیناً نہایت کٹھن مرحلہ ہے، مگر قرآن کا وعدہ ہے کہ ’’انما یوفی الصٰبرون اجرھم بغیر حساب‘‘ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور اس غم کو اپنی رحمت و سکینت سے بدل دے۔ آمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
’’وہ چہرۂ خاندانِ صفدر، جو سارے رشتوں کا پاسباں تھا‘‘
احسان اللہ
بجھا چراغِ دیارِ دل ہے، ہوئی ہے ویران بزمِ ہستی
اجل نے چھینا ہے وہ ستارہ، جو میری رونق تھا کہکشاں تھا
گرا ہے وہ شجر جس کے سائے میں، زندگی پُر سکوں بڑی تھی
وہ محرمِ رازِ دل تھا میرا، وہ شفقتوں کا بھی سائباں تھا
تھی کتنی پُرکیف زندگانی، تمہارے ہونے سے اے مسیحا
تو میری دنیا تو میری جنت، تو میرا دل تھا تو میری جاں تھا
ہیں گھولتی رس میری سماعت میں، آج تک بولیاں اسی کی
وہ مسکراتا تھا بزم میں جب، تو مسکراتا پھر اک جہاں تھا
خدا کی اس پر نوازشیں تھیں، محبتیں تھیں، عنایتیں تھیں
وہ باوفا تھا وہ باصفا تھا، وہ علم و حکمت کا آسماں تھا
کسی بھی جانب جو حال آیا، تو ڈھال بن کر کھڑا ہوا تھا
زمانے بھر کی مصیبتوں سے، ہر ایک آفت سے وہ اماں تھا
ہرا بھرا چھوڑ کر جو گلشن، گیا ہے راہِ عدن پہ وہ جو
خدا میری ماں کو صبر دے دے کہ اس کا وہ خاص مہرباں تھا
اولاد ساری سے پیار اس کا، مجھے فخر کہ میں مان اس کا
بنا کے فرزند مجھ کو رکھا، وہ میری خوشیوں کا راز داں تھا
خدا تیری لحد کو سجائے، نورِ ایماں کی روشنی سے
باغِ نبوی کا خوشہ چیں تو، علومِ قرآن کا ترجماں تھا
محبتوں کی لڑی میں جس نے، پرو کے رکھا سبھی کو احساں
وہ چہرۂ خاندانِ صفدر، جو سارے رشتوں کا پاسباں تھا
(۲۲ اگست ۲۰۲۵ء)
’’دے کر وہ دینِ حق کی گواہی چلا گیا‘‘
لیاقت حسین فاروقی
وہ کاروانِ حق کا سپاہی چلا گیا
دے کر وہ دینِ حق کی گواہی چلا گیا
شیخ الحدیث حضرتِ قارن تھے مردِ حق
جس نے حدیث ہم کو پڑھائی چلا گیا
محفل میں اب سکوت کا عالم چھا گیا
کر کے اداس خلد کا راہی چلا گیا
وہ جانشینِ دلنشیں تھا سرفرازؒ کا
علامہ راشدی کا وہ بھائی چلا گیا
سرکارؐ کا تھا عاشقِ صادق و معتبر
توحید جس نے ہم کو سکھلائی چلا گیا
وہ ختمِ نبوت کا عَلم بردار تھا سالار
ہر آن یہ تحریک چلائی چلا گیا
گزری تمام عمر ہے تبلیغِ دین میں
وہ ترجمان دین کا داعی چلا گیا
لیاقت اکابرین کے رستے پہ چلے وہ
ظلمت میں حق کی شمع جلائی چلا گیا
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
’’مجلس کے شہسوار تھے استادِ محترمؒ‘‘
قاری محمد ابوبکر صدیقی
استادِ محترم حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ! دل کی کیفیت کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔
غمخوار تھے دل دار تھے استادِ محترم
سب سے ہی وفا دار تھے استادِ محترم
شیخین کے پیار کا مرکز بنے رہے
خوش بخت و با وقار تھے استادِ محترم
حق بات ہر جگہ ہی وہ کہتے تھے بے دھڑک
حق گوئی کا شعار تھے استادِ محترم
اسلاف کا نشاں تھے وہ اَخلاف کیلئے
اونچے ہی وضع دار تھے استادِ محترم
بدعات پر نکیر بھی کرتے تھے میرے شیخ
سنت کے پہریدار تھے استادِ محترم
وہ تھے وکیل پیارے نبی کی جماعت کے
ہر وقت ہی بیدار تھے استادِ محترم
کردار صاف ستھرا تھا استاد کا مرے
سادہ تھے پُر بہار تھے استادِ محترم
علم و عمل سے متّصف تھے پیکرِ خلوص
ولیوں میں ہی شمار تھے استادِ محترم
تا عمر خدمتِ حدیث کرتے وہ رہے
اسلاف کا وقار تھے استادِ محترم
غمگین گوجرانوالہ کے سب اہلِ دین ہیں
الفت کا اک مدار تھے استادِ محترم
قارن "دلوں" کو جوڑ کے خود چھوڑ گئے ہمیں
اپنوں کا تو قرار تھے استادِ محترم
صدیقی ان کی یاد میں دل ہے مرا حزیں
مجلس کے شہسوار تھے استادِ محترم
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
’’تیری محفلیں تھیں گلشنِ دیں کی خوشبوئیں‘‘
حافظ حفظ الرحمٰن راجپوت
خراج تحسین برائے حضرت مولانا عبدالقدوس قارنؒ:
چھپن برس دیا چراغِ قرآں کو جلا کے
ہر دل کو نور بخشا تلاوت سنا کے
ہر سال تراویح میں سنایا کلامِ رب
رُوحیں تھیں جھومتیں تیری لحنِ خوش ادا کے
پینتیس برس دیا منبر کو اجالا
جمعے کی صدا میں تھا بیداری کا پیغام والا
استاذ الحدیث تھے، فقیہِ باکمال تھے
کئی کتابوں کے مصنف، علم کا جمال تھے
ہزاروں علما کے تم تھے استاذِ محترم
تیرے فیض سے کھلا تھا علم کا ہر اک حرم
تیری محفلیں تھیں گلشنِ دیں کی خوشبوئیں
تیرا درس تھا اجالوں کی روشنی کے مثل نوائیں
اے مولانا قارن! یہ خدمات رہیں گی زندہ
تیرا نام رہے گا تا قیامت بلند و تابندہ
(۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
یہ ہیں متوکل علماء
قاضی محمد رویس خان ایوبی
مفتی عیسی گورمانی مرحوم جامعہ علوم اسلامیہ میرپور میں مدرسِ حدیث تھے، سابق مفتی نصرۃ العلوم گجرانوالہ تھے، حاجی بوستان مرحوم بھی منشورِ مہتممی پر مکمل عملدرآمد کیا کرتے تھے، انہوں نے مفتی عیسیٰ خان گورمانی کو بیک بینی و دوگوش مدرسہ سے فارغ کر دیا۔ تو حاجی صاحب مرحوم نے مجھے فرمایش کی کہ آپ جناب زاہد الراشدی اور جناب قارن سے رابطہ کریں بلکہ نصرۃ العلوم میں جا کر ان سے کہیں کہ دونوں بھائی اپنی خدمات میرپور جامعہ علوم اسلامیہ کے حوالے کریں، منہ مانگی تنخواہ دوں گا۔ میں نے حقِ دوستی نبھاتے ہوئے جناب راشدی اور قارن مرحوم سے رابطہ کیا۔
’’خالو جی! ہم نے اللہ کا دین بولی لگانے کے لیے نہیں پڑھا کہ جہاں زیادہ بولی لگے وہاں بخاری اور صحاح ستہ پڑھائیں۔ یہ دین ہے، ٹھیکہ اور سٹیج ڈرامہ نہیں کہ اداکاروں کی طرح ریٹ بڑھاتے رہیں۔ ہماری تربیت ہی یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے والد چھپڑوالی مسجد کے خستہ حال مدرسے میں گزشتہ نصف صدی سے پڑھا رہے ہیں۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد کے بڑے مدارس نے اعلیٰ گریڈ کی پیشکشیں کیں مگر انہوں نے فرمایا، دین کی منڈی نہیں لگانی، ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں، رزق دوڑ کر ہمیں تلاش کرتا ہے۔‘‘ قارن صاحب نے کہا، ’’ہماری تیسری نسل پروان چٰڑھ گئی ہے ہم اہلِ گجرانوالہ سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مدرسے ریٹ کے حساب سے چلنے لگیں تو دین کا رکھوالا کون ہو گا؟ سوچیے، جہاں مفتی عیسیٰ اور آپ اور کے دوسرے لایق فایق مدرسین دیہاڑی دار کی طرح فارغ کر دیے گئے، وہاں ہم پچاس سالہ نصرت العلوم کی خدمات کو طلاق دے دیں؟ خالو جی معذرت! ہم آپ کی بات نہیں مان سکتے۔ دعا کجیے اللہ ہمیں یہیں موت نصیب فرمائے۔‘‘
اور پھر قارن صاحب واقعی تادمِ واپسین ڈیڑھ کمرے کے اسی مکان میں اللہ کے حضور پیش ہو گئے، ان کے ما شاء اللہ اٹھارہ پوتے پوتیاں سبھی رزق کھا رہے ہیں۔ یہ ہیں متوکل علماء۔
(۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)
میرے ماموں زاد حضرت قارنؒ کی پُر شفقت یادیں
سہیل امین
سن 2012ء کی ایک خوشگوار یاد آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔ 15 رجب 1433ھ بمطابق 4 جون 2012ء بروز پیر جامعہ اشاعت الاسلام کالج دوراہا مانسہرہ میں ہماری دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ یہ صرف ایک تعلیمی تقریب نہیں تھی بلکہ میرے لیے زندگی کا ایک سنگِ میل اور خوشبو سے لبریز دن تھا۔ اس سے ایک روز قبل 3 جون کو فرزندِ امام اہل سنت، استاذِ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ جامعہ رحیمیہ مانسہرہ تشریف لائے۔ آپ اپنی بڑی ہمشیرہ اُمِ عدیل عمران کے گھر اچھڑیاں بھی گئے۔ یہ ملاقات بھی نہایت محبت و شفقت سے معمور تھی۔
اسی دوران شیخ الحدیث حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی دامت برکاتہم اور استاذِ حدیث مولانا فضل الہادی نے حضرت قارنؒ سے گزارش کی کہ وہ جامعہ اشاعت الاسلام کالج دوراہا مانسہرہ کی ختمِ بخاری و دستار بندی کی تقریب میں شرکت فرمائیں۔ اس سعادت کے لیے مجھے حکم ملا کہ حضرت کو اپنے ساتھ لے کر تقریب میں حاضر ہوں۔ جب ہم اچھڑیاں سے روانہ ہوئے اور کالج دوراہا پہنچ کر جامعہ کی حدود میں داخل ہونے لگے تو مہمانِ خصوصی ہونے کے باوجود حضرتؒ نے اپنی شناخت ظاہر نہ ہونے دی۔ حتیٰ کہ سیکیورٹی پر مامور افراد نے باقاعدہ آپ کی تلاشی لی اور آپ نے ذرا برا نہ مانا۔ اس وقت میرے دل نے گواہی دی کہ یہ شخصیت واقعتاً اہلِ دل، بے نفس اور متواضع ہیں۔ حالانکہ آپ جیسے بزرگ کا مقام یہ تھا کہ ہزاروں لوگ استقبال کے لیے کھڑے ہوں، لیکن آپ نے قدم بہ قدم خاکساری کا عملی مظاہرہ کیا۔
جلسہ کے اسٹیج سیکرٹری مولانا فضل الہادی صاحب خود تھے۔ انہیں جب اطلاع دی گئی کہ حضرت پہنچ گئے ہیں تو پھر حضرت کا والہانہ اور جذباتی استقبال ہوا۔ مولانا فضل الہادی نے جامعہ کے فکری و نظریاتی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بطورِ خاص یہ بات عرض کی: ’’حضرت! ہم فکری حوالے سے نہ تو رضاخانی ہیں اور نہ چھتروڑگڑھی۔‘‘ اس پر حضرتؒ نے تبسم فرمایا اور شفقت سے اس بات کی تائید کی، یہ تبسم آج بھی میری آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔
حضرت قارنؒ کو یہ جان کر مزید مسرت ہوئی کہ یہ صرف ختمِ بخاری کی تقریب نہیں بلکہ ان کے محترم ماموں قاری محمد امینؒ کے بیٹے سہیل امین (راقم الحروف) کی دستار بندی بھی ہے۔ جیسے ہی آپ کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے نہایت پراثر الفاظ کہے جو آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔ آپ نے فرمایا:
’’میرے لیے یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ آج 63 فاضلین اور 12 مفتیانِ کرام کی دستار بندی کی تقریب میں میرے ماموں زاد بھائی سہیل امین کا نام بھی شامل ہے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’شیخ الحدیث حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نعمانی، مولانا فضل الہادی اور مہتمم جامعہ حضرت مولانا عبدالقدوس دامت برکاتہم العالیہ کا یہ بڑا احسان ہے کہ انہوں نے مجھے اس بابرکت محفل میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے ابتدا میں محض مروّت اور رسم کے طور پر قبول کیا، لیکن یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ میرے ماموں قاری محمد امینؒ کے فرزند کی دستار بندی ہے۔ میرے ماموں میرے صرف ماموں نہیں بلکہ جگری دوست تھے۔ اگر میں آج یہاں شریک نہ ہوتا اور واپس گوجرانوالہ چلا جاتا تو مجھے ساری زندگی افسوس رہتا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ماموزاد بھائی سہیل امین کی دستار بندی پر جتنی خوشی ہوئی ہے شاید اپنے بیٹے کی تقریب میں بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔‘‘
یہ الفاظ سن کر میری آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے واقعی حضرت قارنؒ نے اپنی شفقت اور محبت سے میرے سر پر دستِ کرم رکھ دیا ہو۔ یہ تقریب نہایت اخلاص، محبت اور علم و برکت کے ماحول میں منعقد ہوئی۔ حضرت قارنؒ کے پراثر کلمات نے اس تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔ حاضرین کے دل شاداب ہو گئے اور سب نے محسوس کیا کہ یہ دن زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے۔
آخر میں دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اس محفل میں شریک ہونے والے تمام حضرات کی محنت کو قبول فرمائے اور اس ناچیز طالبِ علم کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔ بالخصوص دعا ہے کہ فرزندِ امام اہل سنت، استاذِ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ، جن کی 15 اگست کو وفات ہوئی اور رات دس بجے جنازہ ادا کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
سانحۂ ارتحال برادرِ مکرم
مولانا محمد عرباض خان سواتی
میرے عظیم تایا زاد بھائی، مشفق و مہربان استاذِ گرامی حضرت قارن صاحبؒ ۱۵ اگست ۲۰۲۵ء بروز جمعۃ المبارک، جمعہ کی تیاری کے دوران حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ۷۳ سال کی عمر میں رب کے حضور پیش ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ کئی سال سے دل، شوگر اور بلڈ پریشر جیسے عوارض میں مبتلا تھے۔ ان کا جنازہ جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب دس (۱۰) بجے مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں ادا کیا گیا، نمازِ جنازہ ان کے بڑے صاحبزادہ مولانا حافظ نصر الدین خان عمر نے پڑھائی۔ شہر کے قدیم ’’بڑے قبرستان‘‘ میں ان کے مشفق چچا مفسر قرآن محدث کبیر حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی نوّر اﷲ مرقدہٗ کے قرب و جوار میں ہی ان کو سپرد خاک کیا گیا۔ پسماندگان میں انہوں نے اہلیہ، چھ بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں سوگوار چھوڑے، ان للّٰہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ، وکل شیء عندہ باجل مسمیٰ۔
اپنے بڑوں کے نقشِ قدم پر پوری طرح عمل پیرا ہونے اور بہترین منتظمانہ، بے انتہا مشفقانہ اور بے مثال عالمانہ صفات کے باعث، ہمارے بڑے بزرگوں (حضرت امام اہل سنت و حضرت صوفی صاحب رحمہما اﷲ) کے بعد حضرت قارن صاحبؒ کا سایۂ شفقت نہ صرف پورے خاندان بلکہ جملہ دینی، تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور مسلکی تمام ہی حلقوں، متعلقین و متوسلین اور اہلِ شہر کے لیے تقویت اور اطمینان کا باعث تھا۔ اللہ رب العزت نے اپنے دین کی عظیم الشان مخلصانہ خدمات کے لیے نصف صدی سے زائد عرصہ ان کو قبول فرمائے رکھا۔ ان کی ہمہ جہت خدمات کا دائرہ کار مختلف شعبوں کے وسیع دائروں میں پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی مدرسہ نصرۃ العلوم و جامع مسجد نور کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھی، ادارہ کو ترقی کی عظیم بلندیوں پر پہنچانے میں ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تصنیفی سلسلے میں بھی ان کی شاندار علمی و تحقیقی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
ان کو قرآن کریم کی تلاوت سے بے حد لگاؤ تھا، آپ ہمیشہ فرض نماز کی امامت میں بھی ترتیب سے مکمل قرآن پڑھنے کا معمول جاری رکھتے تھے۔ حضرات شیخین کریمینؒ کی طرح اللہ نے ان کے معمولات میں بھی بڑی برکت رکھی تھی، اس قدر مصروفیات کے باوجود پابندئ وقت کا اہتمام لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا تھا۔ انہوں نے ہر دینی و مسلکی تحریک کے محاذ پر اول دستے کا کردار ادا کیا، بین المسالک رواداری کے فروغ اور ملکی امن و امان کے لیے ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکیں گی۔
وہ اپنے والد ماجد حضرت شیخ الحدیثؒ کی طرح خوابوں کی تعبیر کا بھی خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ روحانی سلسلہ میں ان کے والد ماجدؒ نے ان کی علمی و روحانی ترقی کو دیکھتے ہوئے اپنی خلافت سے بھی نوازا۔ آپ اپنے اخلاق کریمانہ، زندہ دلی، درویش صفت، قلندرانہ، عاجزانہ، انتہائی ملنسار، مہمان نواز، متحرک، سخی شخصیت کے بدولت ہر دلعزیز تھے۔
ان کی اس طرح اچانک وفات سے ہر کوئی غمگین اور صدمے کی کیفیت میں ہے، ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو دور دور تک پُر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اللہ کریم خطاؤں کو معاف فرمائے، خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر درجات عطا فرمائے، آمین۔ تاحدِ نگاہ انسانوں کے سمندر علماء کرام، طلبہ عظام، معززین شہر، محبین و مخلصین و متعلقین و مریدین نے اپنے محسن کی نماز جنازہ میں شرکت کر کے الوداع کیا۔ ملک بھر سے علماء و عوام تعزیت کے لیے مسلسل تشریف لا رہے ہیں۔
ان کے شاگرد، معتقدین و محبین دنیا بھر سے فون و میسیجیز اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں کے ذریعے اپنے دلی جذبات کا اظہار فرما رہے ہیں اور ہمارے صدمے اور غم میں برابر کے شریک ہو کر ہماری ہمت و حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اس کے لیے ہم بے حد ممنون و شکر گزار ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ اپنے اپنے مقامات پر ان کے لیے مغفرت و بلندی درجات کی دعاؤں اور مسنون ایصال ثواب کا اہتمام ضرور فرمائیں، اللہ پاک اجر عظیم سے نوازے، آمین۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ فی جنات النعیم بحرمۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
(۱۸ اگست ۲۰۲۵ء)
’’گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا‘‘
امِ ریحان
15 اگست اور جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ ابھی صبح کا ہی وقت تھا، میں اپنے روز مرّہ کے کاموں میں مصروف تھی کہ میسج کی ٹون سنائی دی۔ ہم پردیسیوں کے دل تو میسج اور کال کی آواز کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔ فوراً موبائل اٹھا کر میسج چیک کیا تو چھوٹی ہمشیرہ کا میسج تھا۔ ایک لمحے کے لیے تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ جو پڑھا اس پر یقین ہی نہ آیا۔ دوبارہ پڑھا تو بے ساختہ زبان پر انا للہ وانا الیہ راجعون اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بے شک یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا لیکن اللہ کی رضا کے سامنے ہم سب سرِ تسلیم خم ہیں۔ ہم سب ایک نہایت مشفق اور محبت کرنے والے شخص سے محروم ہو گئے۔
بچپن سے لے کر دو سال پہلے (22/8/23) ہونے والی آخری ملاقات تک کی ساری فلم گویا آنکھوں کے سامنے چلنے لگی۔ یوں تو ان کی محبت و شفقت کے بہت سارے واقعات ہیں لیکن ایک واقعہ بہت بچپن کا تحریر کرنا چاہوں گی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب رابطے کے لیے خط و کتابت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور ہماری سالانہ تعطیلات قریب تھیں اور دل ننھیال جانے کے لیے مچل رہا تھا۔ میں نے اور بڑی ہمشیرہ نے والد صاحب علیہ الرحمۃ سے درخواست کی تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے تراویح پڑھانی ہوتی ہیں اس لیے میں سفر نہیں کر سکتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ سخت گرمیوں کے روزے تھے۔
ہم دونوں نے ماموں جان قارن علیہ الرحمۃ کے نام ایک خط لکھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے پتے پر روانہ کر دیا جس میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ اٹھارہ رمضان المبارک کو ہمیں چھٹیاں ہو رہی ہیں آپ ہمیں آ کر لے جائیں۔ خط بھیج کر ہم روز ایک دوسرے سے سوال کرتی تھیں کہ نجانے ماموں جان تک خط پہنچے گا یا نہیں اور وہ ہمیں لینے آئیں گے یا نہیں۔
آخر اٹھارہ رمضان کا دن آ پہنچا اور ہم سب سحری کے بعد نماز پڑھ کر دوبارہ سونے کی تیاری میں مصروف تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی اور سب نے حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا کہ اس وقت کون آگیا۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی، والد صاحب علیہ الرحمۃ نے جا کر دیکھا تو ہمارے پیارے ماموں جان اپنی نیند قربان کر کے ہمیں لینے کے لیے آگئے تھے۔ فرمانے لگے، میں آپ سب کو لینے آیا ہوں، جلدی تیاری کریں، ہمیں جلدی نکلنا ہے۔ ہم سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اور سب سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ ماموں جان نے ہمارا راز فاش نہیں کیا تھا۔ بس پھر ہم نے وہ چھٹیاں ننھیال میں سب ماموؤں کی شفقت کے سائے میں گزاریں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ماموں جان قارن اور ماموں جان ماجد علیھما الرحمۃ کے درجات بلند فرمائیں اور ہمارے سب ماموں جو حیات ہیں ان کی صحت، زندگی، مال، علم میں برکت عطا فرمائیں۔ آمین
ماموں قارنؒ ایک بہت بڑا خلا ہم سب کی زندگیوں میں چھوڑ گئے ہیں جو کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی یاد ہر موقع پر ستائے گی۔
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
امِ ریحان
ناٹنگھم
29/8/2025
’’وقار تھا اور سادگی تھی اور ان کی شخصیت میں نور تھا‘‘
ڈاکٹر سبیل رضوان
ماموں کے ساتھ ہر لمحہ محبت کی خوشبو میں ڈوبا رہا
ہر پل تھا شفقت کا ایک قصہ اور دل کو سکون عطا رہا
نعمتیں تھیں ان کی ملاقاتیں جو سرمایہ حیات بن گئیں
ان کا ہنسنا ان کا دیکھنا ان کا بولنا یادوں میں بسا رہا
وہ محبت کا روشن چراغ لے کر ہر کوچے میں جا پہنچتے
عزیزوں اور دوستوں سے ملنے کا سلسلہ آخر تک چلتا رہا
وہ مشفق لہجہ وہ پیاری باتیں اب بھی کانوں میں گونجتی ہیں
دل کی وسیع وادیوں میں ان کی یادیں ہر وقت مہکتی ہیں
آنکھوں میں وہ لمحے اب بھی ہیں جیسے کل کی بات ہو
بچپن کی یادیں اور ان کی محبت جیسے ساون کی برسات ہو
ماموں جان کی شفقت اور ان کا پیار اور جذبہ بے مثال تھا
ہر موڑ پہ ان کی دعاؤں کا سایہ جیسے رب کا جمال تھا
ان کی قربت میں ہمارے دل کو غم کا پتہ نہ چلتا تھا
ان کا ایک بار مسکرانا ہمارے ہر درد کا مرہم بنتا تھا
وقار تھا اور سادگی تھی اور ان کی شخصیت میں نور تھا
وہ جو رخصت ہوئے ان کی زندگی کا سلسلہ بھرپور تھا
ماموں قارنؒ ہمیشہ ہمارے دلوں میں ایک حسین اور خوبصورت احساس کی طرح زندہ رہیں گے۔ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
عمِ مکرمؒ کی شخصیت کے چند پہلو
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
عم مکرم علیہ الرحمۃ کی شخصیت کے کتنے ہی پہلو ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
بچپن میں سب سے پہلے ان کے متعلق جو خاص تاثر ماحول میں سامنے آیا، وہ ان کی انتظامی صلاحیت تھی۔ جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو وہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ناظم تھے اور اس کے علاوہ خاندان میں ہر خوشی غمی کے موقع پر انتظامات میں پیش پیش ہوتے تھے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ بھی ایسے معاملات میں عم مکرم کو ہی اعتماد کے ساتھ ذمہ داری سونپتے تھے۔
حضرت کی تصانیف پہلے ادارہ نشر واشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم سے شائع ہوتی تھیں۔ پھر بعد میں انھوں نے مسودات کی کتابت وغیرہ کے اخراجات ادارے کو ادا کر کے اپنی کتابیں خود شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو ’’مکتبہ صفدریہ’’ کے نام سے طباعت واشاعت کی ذمہ داری بھی عم مکرم کے سپرد کی جو آخر وقت تک انھی کے پاس رہی اور وہ اپنے بچوں (خصوصاً برادرم مولانا عبد الوکیل مغیرہ) کی معاونت سے انجام دیتے رہے۔
پھر تعلیم وتعلم کے حوالے سے ان کا تعارف ایک بہت قابل اور پختہ مدرس کے طور پر سامنے آیا۔ ان کی تدریسی قابلیت کے ساتھ ان کی بلند آواز بھی شہرہ رکھتی تھی۔ مدرسے میں داخل ہوں تو لاوڈ اسپیکر کے بغیر بھی انھی کی آواز گونج رہی ہوتی تھی۔ نقلی اور عقلی، دونوں طرح کے علوم مہارت اور گرفت کے ساتھ پڑھاتے تھے۔ ہماری جماعت کو ان سے درجہ سادسہ میں میبذی اور شرح العقائد اور موقوف علیہ میں ہدایہ رابع پڑھنے کا موقع ملا۔ دورہ حدیث کے سال سنن ابی داود کی تدریس ان کے سپرد تھی۔
حضرت شیخ الحدیثؒ کی علالت کی وجہ سے ان کے آخری سالوں میں ایک خلا سا محسوس ہونے لگا کہ جن مسلکی ودینی موضوعات پر انھوں نے تصنیف وتالیف کا کام کیا، اس کا تسلسل جیسے ٹوٹ رہا ہے۔ عم مکرم کا طبعی میلان اس وقت تک تصنیف وتالیف کا نہیں تھا، لیکن انھوں نے دادا جیؒ کی تصانیف کی اشاعت کا بیڑہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کام کے تسلسل پر بھی ذاتی طور پر توجہ دی اور بڑی محنت سے اسی دائرے میں متعدد تصانیف قلم بند کیں اور اس سلسلے کو بساط بھر جاری رکھنے کی کوشش کی۔
علمی قابلیت اور تدریس وتصنیف کی صلاحیت تو حضرتؒ کی اولاد میں والد گرامی سمیت ہمارے متعدد اعمام کرام کو منتقل ہوئی، البتہ مسلکی ذوق اور مسلکی موضوعات پر تصنیف وتالیف کے تسلسل کی حد تک یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان کی جانشینی زیادہ تر عم مکرم مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کے حصے میں آئی۔ لیکن اس جانشینی کا ایک اور پہلو بھی تھا جو اور کسی کے حصے میں نہیں آیا۔ وہ مسلکی صلابت کے ساتھ ساتھ اس اعتدال اور شخصی وقار ومتانت کا بھی نمونہ تھے جو حضرت شیخ الحدیثؒ کی شخصیت میں پائی جاتی تھی۔ وہ انھی کی طرح دیوبندی حلقے کی مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی یکساں سرپرستی کرتے تھے اور بین المسالک تعلقات میں بھی ان کے ہاں یہی رواداری دیکھنے کو ملتی تھی۔ خاص طور پر والد گرامی کے خلاف بعض مسلکی حلقوں کی مہم بازی کا حصہ بننے سے انھوں نے خود کو بھی الگ رکھا اور اپنے بچوں کو بھی اس کی لپیٹ میں نہیں آنے دیا۔
ان کی وفات سے حضرت شیخ الحدیثؒ کے علم وتبحر اور انداز فکر کا ہی نہیں، مسلکی اختلافی معاملات میں ان کی متانت وشرافت اور شخصی وقار کا جانشین بھی دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ غفر اللہ لہ ورحمہ رحمۃ واسعۃ۔ آمین
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
تایاجان علیہ الرحمہ، ایک گوہر نایاب
اُمیمہ عزیز الرحمٰن
مشہور رومی فلاسفر سینیکا کا قول ہے: Death is a part of life, just as much as birth is. We move towards it as we move towards sunset (موت زندگی کا ایک حصہ ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پیدائش ہے۔ ہم اس کی طرف بڑھتے ہیں جیسے سورج غروب کی طرف بڑھتا ہے)
بے شک موت سے کسی کو فرار ممکن نہیں۔ ہر ایک نفس نے بالآخر اس فانی دنیا سے کوچ کر کے دار البقا کی طرف جانا ہے "کل نفس ذائقۃ الموت"، یہ دنیا ایک سرائے ہے اور موت اس کا دروازہ۔ موت نہ بادشاہ کو بخشتی ہے نہ فقیر کو، نہ امیر کو اور نہ ہی غریب کو۔ البتہ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو علم کے چراغ کو روشن کر کے جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔
میرے تایا جان، شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن صاحبؒ انہی خوش نصیب لوگوں میں سے ایک تھے، جو رہتی دنیا تک علم و عمل کی روشنی پھیلا کر گئے۔ آپ علم و فہم کا خزانہ، سنتِ رسول ﷺ کے عملی پیکر اور سادہ طرزِ حیات کے آئینہ دار تھے۔ اللہ رب العزت نے انہیں دینی و علمی خدمات کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ذہانت، علم، جرأت اور غیرت میں آپ اپنے والدِ محترم (دادا جان) شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی عملی تصویر تھے۔ بقول شاعر ؎
دانشِ مرد بہ زِ گنجِ زر است
علم، چراغِ روانِ بشر است
(آدمی کا علم سونے کے خزانوں سے بہتر ہے، کیونکہ علم انسان کی روح کا چراغ ہے۔)
وہ محدث تھے، مگر صرف کتب کے صفحات تک محدود نہ تھے۔ ان کی گفتگو میں سنت کی خوشبو تھی، ان کی مجلس میں حدیث کا نور جھلکتا تھا، اور ان کی ذات سے محبتِ رسول ﷺ کا رنگ ٹپکتا تھا۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: "علماء وہ ہیں جو دنیا سے زیادہ آخرت کو پہچانتے ہیں۔" یقیناً میرے تایا ابو اس قول کی عملی تصویر تھے۔ ان کی زندگی عبادت، تقویٰ اور تعلیمِ دین کے لیے وقف رہی۔
سوانح
آپ ۵ اپریل ۱۹۵۲ء کو گکھڑ میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ تجوید القرآن، گکھڑ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ جامعہ نصرت العلوم، گوجرانوالہ سے درس نظامی کیا۔ ۱۹۷۵ء سے تادمِ وفات جامعہ نصرت العلوم میں مدرس و استاد الحدیث کے مرتبے پر فائز رہے۔ تقریباً ۵۰ سال جامع مسجد نور میں امامت کی خدمات انجام دیں۔ کئی سال جامع مسجد تقویٰ پیپلز کالونی میں خطابت کرتے رہے۔ ۳۵ سال درسِ قرآن دیا۔ ۵۶ سال تراویح میں مکمل قرآنِ مجید سنایا اور اکثر رمضان المبارک کی ساعتیں اعتکاف میں گزارنے کی سعادت حاصل تھی۔ گویا تمام عمر اشاعتِ دین اور علومِ دینیہ کی تدریس میں گزری۔
تصنیفی خدمات
آپ نے کئی قیمتی علمی و تحقیقی کتب تصنیف کیں، جیسے: • آفتابِ تحقیق کی تحقیقی کرنوں کا انکار (ایک غیر مقلدانہ جسارت) • الدروس الواضحہ فی شرح الکافیہ • بخاری شریف غیر مقلدین کی نظر میں • غیر مقلدین کے متضاد فتوے • علمِ متشابہات خاصۂ خداوندی • انکشافِ حقیقت • اظہار الغرور فی کتاب آئینۂ تسکین الصدور • خزائن السنن • مجذوبانہ واویلا • مولانا ارشاد الحق اثری کے علمی جائزہ کا تحقیقی جائزہ • مروجہ قضاءِ عمری بدعت ہے • نمازِ جنازہ کا بہتر طریقہ • تانیب الخطیب (تالیف علامہ زاہد الکوثریؒ) کا اردو ترجمہ، بعنوان: ابو حنیفہؒ کا عادلانہ دفاع • تصویر بڑی صاف ہے سبھی جان گئے، بجواب آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے • تین طلاقوں کے مسئلہ پر غیر مقلد عالم کے مقالے کا مدلل جواب • وضوء کا مسنون طریقہ
اخلاق و اوصاف
اللہ رب العزت نے انہیں ذہانت، علم، سادگی، حلم، تواضع اور مہمان نوازی جیسی اعلیٰ صفات سے نوازا۔ آپ ہمیشہ سادہ لباس زیب تن کرتے، مصنوعی شان و شوکت اور نمود و نمائش سے دور رہتے۔ سادہ سا کرتہ شلوار پہنتے اور کاندھے پر رومال لازمی جزو تھا۔ یوں تو مزاج ہر وقت نرم ہوتا مگر دین کے معاملہ میں سخت تھا۔ زندگی میں کبھی تصویر نہ کھینچوائی۔ اگر کوئی کھینچنے کی کوشش کرتا تو فوراً ٹوک دیتے کہ: "میری جانب سے ہرگز اجازت نہیں۔"
کبھی انہیں غیبت کرتے نہ دیکھا، اگر کوئی ان کے سامنے غیبت کر بھی رہا ہوتا تو گفتگو میں حصہ نہ لیتے، خاموش رہتے۔ اس کے باوجود خوش مزاجی کا یہ عالم تھا کہ زائرین، شاگردوں اور ساتھیوں کا ہجوم ہمیشہ آپ کے گرد رہتا۔ آپ کا دسترخوان ہمیشہ مہمانوں کے لیے سجا رہتا۔ کوئی اچانک بھی آجاتا تو اسے ضیافت کے بغیر واپس نہ جانے دیتے۔ مہمان نوازی کی خوبی انہیں دادا جانؒ سے ورثہ میں ملی تھی۔ مہمان نوازی مومن کی پہچان، علماء کی شان اور سنتِ ابراہیمی ہے۔ تایا جان اس فرمانِ نبویؐ کے بہترین مصداق تھے: "من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیکرم ضیفہ" (جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے)۔ صلہ رحمی اور ایثار کے پیکر تھے۔ خاندان یا عزیز و اقارب میں کسی کی بیماری یا خوشی و غمی کی خبر ملتی تو فوراً پہنچ جاتے۔ باوجود علالت کے، تا عمرِ آخر یہی معمول رہا۔
بچوں کی تعلیمی کامیابیوں پر نہایت مسرت کا اظہار کرتے۔ یوں تو سب بھتیجوں و بھتیجیوں، بھانجوں اور بھانجیوں کے ساتھ شفقت فرماتے لیکن ناچیز کے ساتھ خصوصی محبت والا معاملہ تھا۔ عصری تعلیم کے نتائج ہوں یا وفاق المدارس کے امتحانات، فوراً حاضر ہوتے اور سب سے پہلا سوال یہی کرتے: "ہاں بھئی، بتاؤ دونوں بہن بھائیوں نے کتنے نمبر لیے؟" پھر پیار بھری تھپکی دیتے اور انعام عطا کرتے۔ بھائی شکوہ کرتا، آپ اسے کیوں ہمیشہ زیادہ انعام دیتے ہیں تو مسکرا کر کہتے: "بھئی، اس کے نمبر بھی تو زیادہ ہیں نا!" دراصل ان کا یہ خاص برتاؤ اپنی بھتیجی کے ساتھ قلبی وابستگی کا ایک حسین انداز تھا۔ ہمیشہ تاکید کرتے: "میری بیٹی کو نئے درجے کی کسی کتاب کی ضرورت ہو تو مجھے بتانا۔" اکثر بغیر کہے تفاسیر کے سیٹ بھیج دیتے۔ ہر ملاقات پر شکوہ کرتے: "تم آتی نہیں نہ مجھ سے ملنے؟ زیادہ مصروف ہو جاتی ہو۔ دیکھو، میں خود آ گیا ہوں اپنی بیٹی سے ملنے۔"
ایک یاد بہت نمایاں ہے: جب بڑے بھائی ارسلان نے قرآنِ مجید مکمل کیا، آپ سعودیہ عرب میں ہمارے ساتھ تھے۔ آخری سبق مسجدِ حرام میں سنایا۔ اس دن آپ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ فرمانے لگے: "آج کی دعوت میری طرف سے!" والدِ محترم (شیخ الحدیث مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد صاحب) نے انکار کیا اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں، مگر آپ بضد رہے: "مجھے اپنے بھتیجے کی خوشی منانے دو!"
اے شمعِ وفا! تیرے پروانے ہزاروں ہیں!
اک میں ہی نہیں تنہا، دیوانے ہزاروں ہیں!
خاندان کی سب سے بڑی رونق آپ کے گھر میں ہوا کرتی تھی۔ جب بھی جاتے تو ہلہ گلہ، پوتے پوتیوں کی چہکاریں اور مسکراہٹیں گونج رہی ہوتیں۔ وجہ یہی تھی کہ آپ نے خاندان کو نہایت خوش اسلوبی سے جوڑ رکھا تھا۔ اکثر فرماتے: "اللہ نے مجھے صرف بیٹے عطا فرمائے ہیں، لیکن کیا ہوا، یہ میری بہوئیں ہی میری بیٹیاں ہیں۔"
آپ کی حسِ مزاح بھی لاجواب تھی۔ ہر وقت تائی جان اور گھر والوں کے ساتھ خوش طبعی سے ماحول کو شاداب رکھتے۔ پوتے پوتیاں ہر دم آپ کے گرد جمع رہتے، تحمل مزاجی کا یہ عالم تھا کہ بچوں کے شور، شرابے اور چہکاروں سے کبھی تنگ نہ ہوتے۔ اور اگر کبھی بچے گھر میں موجود نہ ہوتے تو فوراً پوچھتے: "بھئی، اتنی خاموشی کیوں ہے؟ کہاں ہیں میرے گھر کی رونقیں؟"
میں ماضی کے صفحات پلٹوں تو یادوں کے کئی باب سامنے آتے ہیں، جو خوشبو کی مانند دل کو معطر کر دیتے ہیں۔ ان تمام یادوں کو صفحہ قرطاس پر لانا ممکن نہیں ہے۔ یہی یادیں دراصل اس بات کا اعلان ہیں کہ آپ نے زندگی ہمیشہ سربلندی اور حق گوئی کے ساتھ گزاری۔ آپ سعادت و حمیت کی زندگی جئیے۔ ہمیشہ باطل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔ اہل باطل کو منہ توڑ جواب دیا کبھی قلم سے، کبھی زبانی للکار سے۔ آپ دلائل و تحقیق کی روشنی میں مخالفین کی جہالت بے نقاب کرتے رہے۔ آپ کے جانے سے فیض علم کا ایک بہت بڑا باب بند ہوگیا۔
سانحہ ارتحال
آپ کا اس دنیا سے جانا ایک بہت بڑا سانحہ اور لواحقین کے لیے نہایت بھاری ہے۔ اور بے شک ایک عالم کی موت ایک پوری دنیا کی موت کے مترادف ہے "مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم"۔ ایک عالم کے جانے سے جو علمی نقصان اور خلا پیدا ہوتا ہے، اسے کوئی چیز پر نہیں کر سکتی۔ آپ کی باکمال زندگی کی طرح، آپ کی موت بھی باکمال تھی۔ جمعہ کے مبارک دن، عین جمعہ کی برکت والی گھڑیوں میں، غسل کے بعد آپ کا اس دنیا سے رخصت ہونا آپ کی خوش بختی اور رب کریم کی عنایتوں کی واضح علامت تھی۔ سنن ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ، او لیلۃ الجمعۃ، الا وقاہ اللہ فتنۃ القبر۔
یعنی: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبر کے فتنے (عذابِ قبر) سے محفوظ رکھتا ہے۔ (جامع ترمذی، حدیث: ۱۰۷۴)
آپ کی آخری منزل تک آپ کو رخصت کرنے کے لیے علماء کرام، تلامذہ، عزیز و اقارب، بڑے چھوٹے، ہر شخص کا جم غفیر جمع ہونا اس بات کی روشن علامت ہے کہ زمانہ ایک گوہر نایاب سے محروم ہو گیا۔ ہر چہرہ، ہر آنکھ، ہر دل اس فقدان کے غم میں شریک تھا۔
مضی احبتنا وفؤادی یتبعہم
وما بقیت سوی ذکری لہم فی دمی
(ہمارے پیارے گزر گئے اور میرا دل ان کے ساتھ چل پڑا، میرے اندر اب بس ان کی یادیں ہی خون میں رواں ہیں۔)
آہ، خاندانِ صفدریہ کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹ رہی ہیں۔ یہ سانحہ قیامت سے کم نہیں، بطور خاص تائی جان کے لیے۔ اللہ پاک سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آپ کی آل اولاد کو آپ کے دینی اور علمی مشن کو احسن طریقہ سے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
"اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا"
حافظ عبد الرزاق خان واجد
بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
حضرت تایا جان مرحوم نے دو دن قبل مجھے کال کی، فرمانے لگے:
"ابو دا سنا کی حال اے؟ میں جمعہ کو آؤں گا، گھر رہنا۔"
کیا خبر جمعہ ہمیں نصیب نہ ہونا تھا۔ ہفتہ میں ایک دو دفعہ فون کر کے حال پوچھتے تھے۔ وقتاً فوقتاً گھر ابو کی خیریت کیلئے بھی آجاتے۔
ایک دفعہ میں ایک جامع مسجد خالد بن ولید میں مغرب کی نماز پڑھا رہا تھا۔ سلام پھیرا۔ پیچھے حضرت تایا جان مرحوم۔ بقیہ نماز کے بعد کہا:
"ما شاء اللہ بڑا سونا پڑ دا ایں۔"
ساتھ انعام سے نواز۔ دعا دی۔
اللہ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
والد گرامی حضرت قارنؒ کے ہمراہ مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے جنازہ میں شرکت
حافظ محمد شمس الدین خان طلحہ صفدری
25 ربیع الاول 1434ھ بروز جمعرات (7 فروری 2013ء) مغرب کے بعد یہ خبر ملی کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے اکابرِ ثلاثہ میں سے تیسری عظیم شخصیت، جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد میں انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ استاذُ الاساتذہ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ سے میرے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ والدِ گرامی کے بنیادی اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب ہزاروی رحمہ اللہ اور استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ (ٹیکسلا) جب تک جامعہ نصرۃ العلوم میں رہے، ایک ہی کمرے میں قیام پذیر رہے۔ والد محترم رحمہ اللہ اسباق پڑھا کر اکثر استاذ محترم کے کمرے میں چلے جاتے اور وہاں سے کچھ دیر بعد گھر آتے۔ کبھی والد محترم دیر سے گھر پہنچتے یا والدہ محترمہ کو فوری پیغام دینا ہوتا تو مجھے اس کمرے میں بھیج دیا جاتا۔ یوں بچپن ہی سے میرا تعلق دونوں بزرگوں سے قائم ہوگیا۔
حضرت ہزاروی رحمہ اللہ کی شفقت بے مثال تھی۔ ان کے دستِ مبارک سے بارہا بابرکت چائے پینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ کئی مرتبہ وہ خود میرے لیے کوئی چیز منگوا کر رکھتے اور پھر یا تو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے، یا جیب میں ڈال دیتے، یا کچھ نقدی دے دیتے کہ "خود کچھ کھا پی لینا"۔ جب والد محترم کو کسی کتاب کی ضرورت پیش آتی تو وہ ایک پرچی پر کتاب کا نام لکھ کر مجھے دیتے اور میں استاذ محترم کی خدمت میں پیش کر دیتا۔ وہ کتاب فوراً عنایت فرما دیتے۔ بعض کتب درسی ہوتیں اور بعض غیر درسی۔ بعد میں جب مجھے مطالعہ کا ذوق پیدا ہوا تو کبھی وہ خود فرماتے: "کتاب کا نام دیکھ لو اور ڈھونڈ لو"۔ انہی میں سے غالباً ایک کتاب "پاگلوں کی کہانی" بھی تھی۔
حضرت ہزاروی رحمہ اللہ مجھے "صفدری" کہا کرتے۔ فرماتے: "اس کے دادا (امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ) صفدر ہیں تو یہ صفدری ہے۔"
جب دونوں اساتذہ جامعہ نصرۃ العلوم چھوڑ کر جامعہ محمدیہ اسلام آباد تشریف لے گئے تو والد محترم ہر تین چار ماہ بعد ضرور ملاقات کے لیے جاتے اور مجھے بھی ساتھ لے جاتے کہ میرا ان دونوں بزرگوں سے خاص تعلق تھا۔ حضرت مجھے دیکھتے ہی فرمایا کرتے: "میرا سنگی آیا، میرا صفدری آیا۔" ہم نے اپنی زندگی میں اپنے اساتذہ کرام کا ادب و احترام کرنے والوں میں والد گرامی رحمہ اللہ کو عملی طور پر دیکھا.
اسی تعلق و محبت کی وجہ سے والد گرامی نے مجھے جنازے کے سفر میں بھی ہمراہ چلنے کا حکم دیا۔ ہم فوراً مانسہرہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ عام گاڑی کے ذریعے رات بھر سفر کے بعد صبح سویرے مانسہرہ کے قدیم لاری اڈہ پر پہنچے۔ وہاں والد گرامی نے اپنے شاگرد، مولانا فضل الہادی صاحب (استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم) سے رابطہ کیا۔ وہ فوراً تشریف لائے اور ہمیں اپنی رہائش گاہ (لمبی ڈھیری، محلہ باغ، لبرکوٹ روڈ) لے گئے۔ مختصر آرام اور ناشتہ کے بعد والد گرامی نے جامع مسجد ابراہیم (باغ، لمبی ڈھیری) میں قریب پون گھنٹہ خطاب فرمایا جس میں فکرِ آخرت اور اصلاحِ اعمال پر نہایت پر اثر نصیحتیں فرمائیں۔ پھر خطبہ جمعہ دیا اور نماز پڑھائی۔ والد گرامی کی آمد کی خبر سن کر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے۔
نمازِ جمعہ کے بعد مولانا فضل الہادی کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالہادی کی معیت میں والد گرامی بذریعہ موٹر سائیکل حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمہ اللہ کے گاؤں "تمبر کولا" تشریف لے گئے جبکہ میں اور دیگر مہمان ایک دوسری سواری پر وہاں پہنچے۔ اس وقت مختلف مقررین حضرتؒ کی علمی و دینی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور علما و مشائخ کی بڑی جماعت شریک تھی۔ والد گرامی نے بھی نہایت جامع اور پر اثر انداز میں اپنے تاثرات بیان فرمائے۔ سامعین پر واضح ہوا کہ حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمہ اللہ کس قدر عظیم شخصیت تھے۔
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے حضرت مولانا صوفی محمد ریاض خان سواتی رحمہ اللہ بھی اپنے رفقا اور اساتذہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک عظیم انسانی سیلاب امڈ آیا ہو۔
نماز جنازہ سہ پہر تین بجے حضرت مولانا ظہور احمد علوی (مہتمم جامعہ محمدیہ اسلام آباد، چائنہ چوک) نے پڑھائی۔ جنازے میں سیاسی، سماجی، علمی اور عوامی شخصیات کا عظیم مجمع شریک تھا۔ تدفین مقامی قبرستان میں آپ کے بھائی مولانا عبدالغنی اور اہلیہ محترمہ کے پہلو میں عمل میں آئی۔
جنازے کے بعد میں والد گرامی کے ہمراہ اچھڑیاں گیا اور پھوپھی کے ہاں قیام کیا۔ اگلے روز، 9 فروری 2013ء کو مولانا فضل الہادی اپنے دوست مولانا عدنان مسوالی کے ہمراہ گاڑی لے کر آئے اور ہمیں مانسہرہ لے گئے۔ وہاں پانو ڈھیری میں واقع جامعہ عبداللہ بن عباس میں حضرت مولانا خلیل الرحمٰن دامت برکاتہم کی زیر صدارت تعزیتی سیمینار منعقد تھا۔ اس میں حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمہ اللہ کی یاد تازہ کی گئی۔
نماز عشاء سے قبل تلاوتِ قرآن، نعت اور تعارفی کلمات پیش کیے گئے۔ بعد ازاں حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نے والد گرامی کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اور اسٹیج سیکرٹری مولانا فضل الہادی نے والد گرامی کو خطاب کی دعوت دی۔ والد گرامی نے تقریباً ایک گھنٹہ تک حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمہ اللہ کے علمی کمالات، دینی و تحریکی خدمات، جامعہ نصرۃ العلوم میں قیام اور شاگردوں کی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ خاص طور پر تحریکِ ختمِ نبوت میں حضرت کے کردار اور گوجرانوالہ میں ان کی عملی قربانیوں، حتیٰ کہ گرفتاری دینے کے واقعات بھی بیان کیے۔
بعد از نمازِ عشاء عشائیہ کا اہتمام تھا۔ اس کے بعد ہم لاری اڈہ مانسہرہ پہنچے اور نیو حبیب خان کی گاڑی کے ذریعے رات کا سفر شروع کیا۔ بالآخر 10 فروری کی صبح بخیر و عافیت گوجرانوالہ پہنچ گئے۔
’’اک ستارہ تھا وہ کہکشاں ہو گیا‘‘
اہلیہ حافظ علم الدین خان ابوہریرہ
مجھے میری پھوپھو جان نے بتایا کہ جب میں نے تمہارا نام خنساء رکھا تو پھوپھا جان کہتے کہ میری خواہش تھی کہ میری بیٹی ہوتی اس کا نام خنساء رکھتا۔ پھر اللہ کا کرنا پھوپھا جان کے گھر بیٹی بن کر آئی، جن کی تعریف محبت و شفقت کے گن میں ہمیشہ گاتی تھی، اتنی پر خلوص شخصیت، اتنی اعلیٰ تقویٰ و پرہیزگاری کہ اللہ کریم کا جتنا شکر کریں کم کہ ہمیں ان کی خدمت کا موقع ملا ان کے زیر سایہ ہماری تربیت ہوئی۔
ابو جان ہمیشہ ہمیں سلوک و اتفاق کا درس دیتے اور سب میں برابری کرتے۔ میرے بیٹے حسین احمد جو کہ فوت ہو چکا ہے اس کو مسجد میں لے کر جاتے اور ایک دفعہ خود اٹھا کر چیز لینے گئے حالانکہ ابو جان بچوں کو زیادہ باہر نہیں لے کر جاتے تھے۔ حسین احمد کو کہتے تھے یہ میرا شیر ہے ۔ بہت ہی کم عرصہ میں حسین احمد نے اپنے دادا جان سے بے انتہا پیار لیا اور اپنے دادا جان کے ہاتھوں میں 16 نومبر 2019ء بروز ہفتہ کو جان دے دی۔
تقریباً پانچ ماہ کے بعد میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو پھوپھا جان کہتے کہ ’’حسین احمد کو تو میں نے گود میں اٹھانا تھا لیکن اس کے نانا نے اٹھا لیا‘‘۔ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد ابو جان نے میرے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔
تین رمضان 2020ء کو میرے والد صاحب کی وفات کے بعد پہلی عید کے قریب مجھے بلایا کہ بیٹی خوشی کا موقع ہے عید قریب ہے۔ مطلب ابو جان اپنے الفاظ میں مجھے سمجھا رہے تھے کہ رسم و رواج میں نہ پڑنا سوگ کی کیفیت نہ رکھنا۔ شرعی معاملات ابو جان بڑے پیار سے احسن طریقے سے سمجھاتے تھے کہ کسی بات کا برا نہیں لگتا تھا۔
ابو جان نے پوچھنا کہ کسی چیز کی کمی ہے تو بتاؤ ہمیشہ ابو جان نے ہر خوشی غمی میں ساتھ دینا۔ ابو جان کے لیے ہمیشہ میں دعا کرتی کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا محتاج نہ کرے۔ میں اپنے حقیقی والد صاحب کی وفات پر اتنا درد اتنا صدمہ نہیں لیا جتنا ایک روحانی باپ کے جانے سے دل افسردہ آنکھیں پر نم۔ اتنی عظیم ہستی ہم سے جدا ہو گئی جس کے منہ سے ہم نے کبھی گلہ و شکوہ نہیں سنا۔
ابو جان کی وفات سے کچھ دن پہلے میرے شوہر مجھے کہتے میں انتہائی پریشان ہوں اللہ خیر فرمائے۔ بار بار امی جان اور ابو جان کی طرف دھیان جاتا تھا اتنی بے چینی میں نے دیکھی کئی راتیں کروٹیں بدلتے رہے نیند نہیں آتی تھی۔ راتوں کو تسبیح پڑھنا پھر نفل پڑھ کے دعا بھی کی اللہ خیر فرمائے، جو بہتر اللہ وہ کرے، اس طرح کی ہماری کیفیت تھی کہ دل پہ انتہا کا بوجھ محسوس ہوتا تھا آنکھیں اشک بار ہوئی۔ بس اللہ خیر والا معاملہ فرمائے کی دعا کرتی تھی۔
ان کی بہت سی کرامات کی میں عینی شاہد ہوں کہ ابو جان کا کبھی کوئی چیز کھانے کو دل کرنا تو اکثر ان کی خواہش پر اتفاقاً وہ چیز مل جانی کہیں سے آجانی۔ زبان سے لفظ نکلتے تھے وہ اکثر ہم نے پورے ہوتے دیکھے۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ دردِ دل کی جو دوا ہے وہ میرے پھوپھا جان کا پرسکون چہرہ اور لاکھوں شاگرد علماء طلباء وغیرہ کا جنازہ میں شریک ہونا۔ وہ ان شاء اللہ کامیاب سرخرو دربارِ الٰہی میں پیش ہوئے ہے۔ بس دعائیہ کلمات جیسے کہ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:
’’اے باری تعالیٰ جب تیرے محبوب کی میں نے صرف تیرے لیے ستائش کی ہے۔ تو تو بھی روز قیامت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنے والے کو محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے بخش دے آمین۔‘‘
اتنے پر نور چہرہ کو اللہ کریم جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ ہمیں ان کی تربیت و اخلاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق دے، آمین۔
’’کیا بیتی ہم پہ لوگو! کسے حال دل سنائیں؟‘‘
اہلیہ حافظ محمد شمس الدین خان طلحہ
ابا جی شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا حافظ محمد عبدالقدوس خان صاحب قارن رحمہ اللہ تعالٰی بہت محبت کرنے والے اور اعلیٰ کردار و اخلاق، ملنسار و مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کے اچانک یوں ایسے چلے جانے کی وجہ سے ہم پر جو غم کا پہاڑ ٹوٹا اور جس صدمے سے ہم دوچار ہوئے ہیں اس دکھ و الم کا کوئی مداوا نہیں کر سکتا۔
جس دن میری شادی ہوئی اس دن ہم آپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر آئے۔ راستے میں ایک جگہ پوچھتے کہ کھانا ہے کچھ، تو کھانے کے لیے کچھ لے لیتے ہیں؟ مگر میں خاموش رہی۔ ابا جی کا ایسے پوچھنا مجھے بہت اچھا لگا کہ ان کو فکر مندی تو تھی۔ پھر جب گھر دروازے کے پاس پہنچے تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر گھر لے کر آئے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے حقیقی والد ہوں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ وہ ہمیں ہمارے والد کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر محبت کرنے والے، خیال رکھنے والے انسان تھے۔ ابا جی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بہووں کو کبھی بھی بہو نہیں سمجھا بلکہ بیٹی سمجھا۔ ابا جی رحمۃ اللہ علیہ بچوں سے بہت زیادہ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے۔ سب بچوں کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ بچوں کے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کا بھی خیال رکھتے اور موسم کے مطابق بچوں کے کپڑے وغیرہ بھی چیک کرتے کہ کسی نے ٹھنڈے موسم میں سردی سے بچاؤ کا مکمل انتظام کر رکھا ہے یا نہیں؟
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ پیسوں کے معاملے میں دل کے بہت زیادہ فراخ دل تھے۔ ہم تین فیملیاں (بھائی مغیرہ، بھائی ابوہریرہ اور ہماری فیملی) آپ کے ساتھ رہتے تھے تو آپ آئے دن بچوں کو پیسے ضرور دیتے۔ ایسے ہی اگر ہم اپنے میکے جاتیں تو ابا جی ہمیں پیسے دیتے کہ یہ میرے بچوں کے ہیں ان کے کھانے پینے کا خیال کرنا۔ ایسے ہی اگر ہم ابا جی کی پسند کی کوئی کھانے کی چیز بناتے اور وہ اچھی بن جاتی تو ابا جی ہمیں انعام ضرور دیتے۔ ایسے ہی جب ابا جی کے مہمان آتے اور ہم ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے تب بھی ابا جی خوشی خوشی انعام سے نوازا کرتے۔
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کا بچوں کے بغیر دل نہیں لگتا تھا جب ہم میکے جاتے تو ابا جی فون کر کے ضرور پوچھتے کہ واپسی کب ہے، میرا بچوں کے بغیر دل نہیں لگ رہا، یا تو آکر مل جاؤ یا پھر میں آجاتا ہوں۔ اسی بہانے تمہارے پنڈ والوں (موڑ ایمن آباد) تمہارے ابا جی سیف اللہ بٹ صاحب، تایا جی قاری ضیاء اللہ صاحب، ذکاء اللہ صاحب سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ ایسے کئی بار آپ ہمارے گھر (موڑ ایمن آباد) تشریف لائے اور وہاں بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ خود بتاتے ہوتے تھے کہ جب تمہارا بڑا بھائی محمد عمر بٹ آٹھ نو سال کی عمر میں نہر میں ڈوب کر فوت ہوا تو وہ رات میں تم لوگوں کی طرف رہا تھا۔
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ بچوں کی دینی تعلیم کو لے کر بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے اور فرماتے ہوتے تھے کہ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے لیکن دینی تعلیم ہی دنیا و آخرت سنوار دے گی۔ اس لیے اپنے بچوں کو دینی تعلیم کی طرف راغب کرو۔
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کو ہم نے کبھی کسی کی برائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ بلکہ اگر گھر میں کبھی ایسی کوئی بات ہو رہی ہوتی تو آپ اس طرف دھیان بالکل نہ دیتے بلکہ خاموش رہتے۔ اور ایسی ویسی کسی بات میں شامل نہ ہوتے بلکہ ہماری باتوں کا رخ موڑنے کے لیے اپنی کوئی بات چھیڑ دیتے۔
ویسے تو ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کا سب پوتے پوتیوں سے بہت زیادہ پیار تھا مگر بھائی عمر کے بیٹے حافظ محمد حنظلہ عمر کے بارے میں کہتے تھے کہ سب پوتے ایک طرف حنظلہ ایک طرف۔ مگر ابا جی میرے بڑے بیٹے محمد التمش سے بھی بہت زیادہ پیار محبت کرتے تھے۔ ابا جی کبھی کبھار التمش کو تنگ کرتے کہ میں نے "تمہارے نانا سے اس کی گاڑی چھین لینی ہے" جس کی وجہ سے التمش چڑ جاتا تھا تو اسے کہتے تھے کہ میں تمہاری باتیں سننے کے لیے تمہیں تنگ کرتا ہوں۔ گزشتہ بڑی عید کو میرے میاں اور محمد التمش، ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میترانوالی جانور پسند کرنے گئے تو ابا جی کہتے تھے کہ سارے راستے میں التمش کی باتوں نے بور نہیں ہونے دیا۔ سارے راستے گپ شپ لگاتا رہا ہے۔
جب کبھی کبھار التمش کو کسی شرارت کی وجہ سے مار پڑتی تو ابا جی مجھے غصے ہوتے کہ "کڑیے منڈے نوں ماریا نہ کر، اس سے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے۔"
بچوں کی تعلیمی کامیابیوں پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے اور غالباً آخری انعام بھائی عمر کی بیٹی کو میٹرک میں کامیابی پر ملا۔
ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح میرے میاں کو بھی لکھنے پڑھنے کا ذوق و شوق ہے تو ابا جی رحمہ اللہ کبھی کسی کتاب کا نام بتاتے کہ یہ موجود ہے تو لے کر آؤ۔ اسی بہانے کبھی کبھار آپ ہمارے کمرے میں بھی تشریف لاتے۔ تھوڑی دیر بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور اپنی مطلوبہ کتاب لے کر نیچے اپنے کمرے میں واپس تشریف لے جاتے۔
اب تو بس ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کی صرف یادیں ہی رہ گئی ہیں اب تو بھرا ہوا گھر بھی اکیلا محسوس ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی اماں جی (ساس صاحبہ) کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے آمین ثم آمین۔ جس طرح ابا جی رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی دین کی خدمت کی اللہ تعالٰی آپ کی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ بالایمان نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔
میرے پیارے پھوپھا جانؒ
محمد احمد عمر بٹ
پھوپھا جان شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی با صلاحیت باوقار، روحانی شخصیت اور سب کو جوڑ کر رکھنے والے، شفقت اور مزاح کرنے والے انسان تھے۔ میں جب بھی ان سے ملتا مجھے اپنے بچوں کی طرح گلے لگاتے، پیار دیتے اور پیار سے ’’وہابی کٹا‘‘ کہتے تھے۔
14 اگست 2025ء بروز جمعرات کو میرا گوجرانوالہ آنا ہوا کہ ان شاءاللہ تعالیٰ ہم پھوپھا جان سے صبح ملیں گے۔ رات کو بے چینی سی رہی۔ پھر صبح نماز فجر پڑھ کر بھی لیٹا مگر دو ڈھائی گھنٹے مسلسل نیند نہ آئی اور طبیعت میں مسلسل بے چینی رہی۔ پھر صبح جمعہ کی تیاری کی۔ میں نے، حافظ حنظلہ عمر اور حافظ عکرمہ عمر نے گھر کے بالکل سامنے مسجد میں جمعہ پڑھا۔ ابھی ہم پڑھ کر آئے ہی تھے کہ خالو جان مولانا حافظ نصرالدین خان عمر جن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ جب انھوں نے کہا ابا جی فوت ہو گئے ہیں ہم تینوں کے سروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا۔ اسی وقت زبان پر انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون کا ورد شروع ہوگیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ ایک دوسرے کو سہارا دیا اور اشکبار آنکھوں سے ہم گھنٹہ گھر جامعہ نصرت العلوم پہنچے۔
پھوپھا جان کا جب مطمئن اور روشن چہرے کو دیکھا تو دل کو اطمینان آیا مگر یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہمارے پھوپھا جان ہم میں نہیں رہے۔ موت بھی اٹل حقیقت ہے سب نے اللّٰہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ پھوپھا جان کا روشن چہرے کو دیکھ کر لگا کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد ہم اپنے کزن (بھائی معاویہ، بھائی سالم، بھائی مغیرہ، بھائی ابوہریرہ، اور بھائی طلحہ) وغیرہ کے ساتھ تدفین وغیرہ اور دوسرے معاملات (خواتین کے لیے سکول میں بیٹھنے) کے کام میں مصروف ہوگئے اور غسل وغیرہ اور جنازے کا انتظامات میں ہاتھ بٹاتے رہے۔
پھر ان آنکھوں نے انسانوں کا سمندر دیکھا جو دینی اور علمی شخصیت سے عقیدت و احترام اور جنازے کے لیے اکٹھے تھے۔ پھر تقریباً 10 بجے کے بعد خالو جان مولانا نصر الدین خان عمر نے پھوپھا جی کا جنازہ پڑھایا۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں 2011ء میں رمضان المبارک میں جامعہ نصرت العلوم میں حفظ کرنے آیا تھا تو اکثر پھوپھا جان کے ساتھ جامع مسجد تقویٰ میں تراویح پڑھنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کچھ اٹکن آئی تو تراویح ختم ہونے کے بعد مزاح میں پوچھا کہ ’’سہی سہی دسی وضو کیتا سی؟‘‘ میں نے کہا جی ہاں۔ گھر جانے کے بعد بھی انہوں نے کافی دفعہ مزاح میں پوچھا۔ اور ایک دفعہ میں نے 4 تراویح پڑھائی تو میں نے پھوپھا جان کو بتایا تو انہوں نے خوشی سے 20 روپے انعام دیا۔ پھوپھا جان دین کے کاموں میں بچوں سے بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اکثر جب میں گھنٹہ گھر آتا تو اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا کھلاتے تھے۔
جب میرے نانا ابو محترم امان اللہ میر صاحب کی لاہور میں ہمارے ہاں وفات ہوئی تو آپ اپنے سب بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ اور آپ نے نانا ابو کی نماز جنازہ پڑھائی۔
آپ کی اچانک جدائی کا زخم کبھی نہیں بھرے گا اور پھوپھا جان ہر وقت دعاؤں میں یاد رہیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ پھوپھا جان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں بھی قبر کی اور آخرت کی تیاری نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
دل جیتنے والے پھوپھا جانؒ
بنت محمد عمر بٹ
میرے پیارے پھوپھا جان شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کی ہر عادت، ہر مسکراہٹ میرے ذہن میں نقش ہو کر رہ گئی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح کسی کے اچھے عمل کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ آپ کی موجودگی بہت خوبصورت تھی اور آپ کو بہت یاد کیا جاتا ہے۔ جب آپ حیات تھے تب بھی آپ کا ذکر وقتاً فوقتاً گھر میں ہوتا رہتا اور آپ کی سادہ مزاجی، ملنساری، بے لوث محبت اور مہمان نوازی کو یاد کیا جاتا۔ آپ کے جانے کے بعد آپ کی باتیں یادیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
پھوپھا جان سب کو جوڑ کر رکھنے والے انسان تھے۔ میرے پھوپھا جان محبت اور اتحاد کا پیکر تھے انہوں نے سب کو جوڑے رکھا ان کی محبت اور میل جول کی خوبی ہمیشہ یاد رہے گی۔ ان کی نرم دلی اور شفقت نے ہر دل کو جیت لیا وہ سب کے لیے پیار کا سر چشمہ تھے ان کی خوبیوں کو ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ مجھے ان سے بے حد محبت تھی۔ میرے اور بھی پھوپھا ہیں پر آپ جیسا کوئی نہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں آپ جیسے محبت پیار کرنے والے پھوپھا جان ملے۔
میرے پھوپھا ایک خوب سیرت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین دادا تھے۔ میں جب بھی ان کو ایک دادا کے روپ میں دیکھتی تو عش عش کرتی کہ دادا کا پیار ایسا ہوتا ہے۔ کاش میرے بھی دادا جان ہوتے مجھے بھی یہ لمحات ملتے میں بھی ان کے ساتھ ان کی یادوں کے ساتھ زندگی گزارتی۔ مجھے میری زندگی میں یہ خوبصورت لمحہ نصیب نہیں ہوا، یہ اللہ پاک کے معاملات ہیں، انہوں نے مجھے اُن کے روپ میں پیارے پھوپھا دیے۔
ہم نے جب بھی گوجرانوالہ جانا ہوتا خالہ (اہلیہ مولانا نصر الدین خان عمر) کے گھر جانا۔ اگلی صبح کا شدید انتظار ہوتا۔ رات کو تو نیند مشکل سے ہی آتی خوشی سے۔ پھر ایک حسین صبح کا آغاز ہوتا، خالہ کی فیملی کے ہمراہ روانہ ہوتے، جیسے ہی گھنٹہ گھر پہنچتے سب سے سلام دعا ہوتی، ساتھ ہی نظریں پھوپھا جان کو تلاش کرتی کہ پھوپھا جان کا آرام کا وقت نہ ہو، مسجد میں نہ ہوں۔ پھر ایک انتظار کے بعد یہ گھڑی ختم ہوتی پھوپھا جان کا دیدار ہوتا۔ پھوپھا جان اتنے خوبصورت اور والہانہ انداز سے ملتے کہ مجھے اپنے بڑے جو اس دنیا فانی سے رخصت ہو چکے ہیں جن میں میری نانو، نانا جان، دادا، دادی جان شامل ہیں ان کی کمی کے احساس میں کمی آ جاتی۔
ایک خوبصورت لمحہ جو لمحہ بہ لمحہ یاد آئے گا۔ مجھے آج سے تقریب 5 سال پہلے Migraine (مائیگرین) کا بہت شدید درد رہتا تھا۔ جب میں گوجرانوالہ گئی اماں جی نے پھوپھا جان کو بتایا۔ پھوپھا جان بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے خوراک اچھی کرو، روزانہ ایک اخروٹ کھایا کرو۔ اتنے میں پھوپھا جان اٹھے اور اپنے کمرے میں داخل ہوئے اور ہاتھ میں اخروٹ سے بھرا ہوا شاپر لائے اور مجھے دیا کہنے لگے روزانہ کھاؤ انشاء اللہ بہت جلد آرام آجائے گا۔ پھر آپ نے مجھے دم بھی کیا جس کی وجہ سے پورا دن سر درد نہیں ہوا۔ آپ نے مجھے تب پانی دم کر کے دیا کہ یہ بھی وقتاً فوقتاً استعمال کرتی رہنا اس سے بھی افاقہ ہو گا۔ پھر پھوپھا جان خالہ (اہلیہ مولانا عمر) سے پوچھتے رہتے کہ اس کا سر درد ٹھیک رہندا اے۔ میں نے جب بھی گوجرانوالہ جانا پھوپھا جان نے پیار دینے کے فوری بعد سر پکڑ کر پوچھنا ’’ہن سر درد ٹھیک راہندا اے؟‘‘ اب اس طرح کہنے والے سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے اور ہم اس محبت سے محروم ہو گئے۔
اسی طرح مجھے میرے پھوپھا کی ایک اور محبت شفقت یاد آئی۔ ہمارا گوجرانوالہ جانا ہوا خالہ کی فیملی کے ساتھ ہم گھنٹہ گھر جامعہ نصرت العلوم پہنچے۔ ابھی ہم بچوں کے منہ میں ہی بات تھی کہ برگر کھانے کا دل کر رہا ہے۔ جیسے ہی پھوپھا جان کے کانوں تک یہ بات پہنچی پھوپھا جان نے جھٹ سے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور بھائی طلحہ کو پیسے دیے کہ جا کر سب کے لئے برگر لے کر آؤ۔ جیسے ہی برگر آئے اس کو سب میں برابر تقسیم کیا اور سب کو کھاتے ہوئے دیکھ کر خوشی سے مسکرانے لگے۔ پھر جیسے ہی گھر جانے کا وقت قریب آتا۔ آپ کہتے رہ جاؤ سویرے چلے جانا۔ آپ اتنی چاہت سے کہتے کے ہم آگے سے کچھ نہ کہہ پاتے۔ جب سب نے خوب گپیں لگا کر کھانا وغیرہ کھا لینا۔ پھوپھا جان پھر ہمارے سونے کے انتظامات میں لگ جاتے۔ درمیان والے کمرے میں بڑا سا بسترا ڈلواتے اور موسم کے حساب سے ہر کسی کے اوپر چادر، کمبل، رضائی کا بھرپور خیال رکھتے۔
جب ہم سب نے اپنی اپنی جگہ پر لیٹ جانا تو پھوپھا جان پھر اپنے کمرے سے نکل کر باہر آتے اور ہر ایک کو دیکھتے کہ سب اپنی اپنی جگہ پر سکون سے لیٹے ہوئے ہیں کوئی تنگ تو نہیں، کسی کو کسی شے کی ضرورت تو نہیں، تب پھوپھا جان پرسکون ہو جاتے، سب کو اچھے سے لیٹا دیکھ کر پھر خود آرام کے لیے واپس اپنے کمرے میں تشریف لے جاتے۔
پھر جیسے ہی ہم سب نے گھر جانا پھوپھا جان نے اتنے پیار سے ملنا اور دعاؤں کے سائے میں رخصت کرنا کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہ بھیجنا بچوں کو اچھے خاصے پیسوں میں رخصت کرنا جس کی بدولت بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا۔
میرے نانا جان میر امان اللہ مرحوم جو پچھلے سال 21 نومبر 2024ء کو ہمیں اکیلا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے (اللہم اغفر لہ ورحمہ) اللہ میرے نانا جان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کو اپنے خاص بندوں میں شامل کرے۔ آمین ثم آمین۔ میرے پھوپھا جان اس غم کی گھڑی میں اپنے بیٹوں کے ساتھ تشریف لائے بھائی طلحہ، بھائی مغیرہ، بھائی ابوہریرہ، بھائی سالم۔ پھوپھا جان نے غم کا اظہار کیا مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کان میں کہا اللہ کا حکم! میرے پھوپھا جان نے میرے نانا جان کا جنازہ پڑھایا۔ نانا جان پھوپھا جان کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے۔ جب یہ دونوں بزرگ اکٹھے ہوتے تو اپنی ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے۔ چند سال پہلے میرے بابا جان پھوپھا جان کے ہاں لکڑی کا کام کرنے گئے اور کتب کے لئے پھوپھا جان نے الماریاں بنوائیں۔ بابا جان کہتے کہ ان دنوں بھائی جان قارن صاحب کے پیچھے پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا لطف ہی اور تھا۔
پھوپھا جان کا جب بھی سیالکوٹ کی طرف چکر لگتا تو واپسی پر ڈسکہ ہماری خالہ کی طرف چکر ضرور لگاتے اور ہمارے خالہ زاد بھائی بلال، بھائی زبیر سے ملاقات ضرور کرتے اور ان کو اپنی ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے۔ اسی طرح 17 اگست کو پھوپھا جان کا سیالکوٹ میں پروگرام تھا اور خالہ زاد بھائی حافظ حنظلہ عمر کو ساتھ جانے کے لیے تیار کیا ہوا تھا کہ واپسی پر ڈسکہ چکر لگائیں گے۔ سنا ہے کہ زبیر کا آپریشن ہوا ہے، اس بہانے عیادت بھی ہو جائے گی۔ مگر قسمت کہ آپ 15 اگست کو ہی جنت کے مکین ہو گئے۔
ہم 13 اگست کی رات کو خالہ (اہلیہ مولانا عمر) کے ہاں پہنچے۔ ہمارا 15 اگست کو گھنٹہ گھر پھوپھا جان سے ملنے کا پروگرام تھا۔ 14 اگست کی رات میں اپنی والدہ سے کہتی ہوں اماں جی پھوپھا جان سے ملنے کا بہت جی چاہ رہا ہے۔ اماں جی کہتی ہیں صبح دیکھتے ہیں۔ جیسے ہی رات ہوئی سب سونے کے لیے لیٹے مگر طبیعت میں بے چینی اس قدر تھی کہ رات کروٹ پر ہی گزری اور نیند نہیں آئی۔ اٹھ کر پھر ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور جمعہ کی تیاری شروع کی اتنی دیر میں دوسرے کمرے سے شور کی آواز آئی تو پتہ چلا میرے پیارے پھوپھا جان ہم میں نہیں رہے۔ اس وقت سمجھ نہیں آیا سروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا۔ اسی وقت زبان پر انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون کا ورد شروع ہوگیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ ہم گھنٹہ گھر جامعہ نصرت العلوم پہنچے۔ وہاں پہنچ کر پھوپھا جان کو دیکھا جن کا چہرہ پرسکون تھا اس طرح لگ رہا تھا کہ پھوپھا جان آرام کر رہے ہیں سو رہے ہیں۔
میرے پھوپھا ایک اچھے نیک انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شوہر، بہترین باپ، ایک عظیم استاد، مثالی دادا رہے ہیں۔ میرے پھوپھا نے بہت مثالی زندگی گزاری ہے اور ہمیشہ اپنے گھر کو جوڑ کر رکھا۔ اپنے بیٹوں پوتے پوتیوں کو ایک چھت کے نیچے رکھا۔ اللہ یہ ہی اتفاق ان کے اہل خانہ میں برقرار رکھے اور ان سب کو ایک ساتھ رکھے جس طرح میرے پھوپھا نے ان سب کو ایک رکھا اور اس پر عمل کیا۔ ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا جو بھرنا بہت مشکل ہے۔ ان کی غیر موجودگی کا درد بہت گہرا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ان کی اچھائی کبھی فراموش نہیں ہو گی۔ پھوپھا جان نے زندگی میں بہت کچھ سکھایا، ان کی تعلیمات ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں، اللہ ہمیں ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ ہر لمحہ آپ کے بغیر کھوکھلا محسوس ہوتا ہے، روح میں ایک خلا غیر موجودگی میں محسوس ہونے والے گہرے خالی پن کو ظاہر کرتا ہے۔
میرے پھوپھا جان جو اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے مگر ان کی تمام یادیں میرے دل میں موجود ہیں جو اب میرے جینے کا سہارا ہے اور مجھے مزید مضبوط کریں گی انشاء اللہ۔ اللہ پاک میری پھوپھو جان کو صحت و تندرستی کے ساتھ ہم سب پر سلامت رکھے اور پھوپھا جان کی قبر کو جنتوں کا باغ بنائے، ان کی قبر پر لاکھوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، پھوپھا جان پر اپنا خاص و خاص کرم فرمائے اور ان کی علمی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ؎
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
(۱۱ ستمبر ۲۰۲۵ء)
میرے دادا ابو کی یاد میں
حافظ حنظلہ عمر
میرے پیارے دادا ابو شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ محمد عبد القدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ دو ہفتے قبل (15 اگست بروز جمعۃ المبارک ) ہم سے بچھڑ گئے۔ ان کا جانا میرے لیے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی حافظ عکرمہ عمر سلّمہ اکثر جمعہ دادا ابو کے پیچھے پڑھتے جمعہ پڑھ کر دادا ابو ہمیں پیار محبت شفقت سے گلے لگاتے اور شاباشی دیتے اور اپنے ہاں (گھر میں) آنے کا پوچھتے۔ 15 اگست بروز جمعۃ المبارک کو میں اور حافظ عکرمہ معمول سے ہٹ کر گھر کے سامنے مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لیے چلے گئے۔
جب ہم جمعہ پڑھ کر واپس گھر دروازے کے قریب پہنچے تو میرے والد محترم مولانا حافظ نصر الدین خان عمر صاحب دروازے پر کھڑے ہمارے انتظار میں رو رہے تھے اور ان سے کوئی بات نہیں ہو رہی تھی۔ ہمیں والدہ محترمہ نے بتایا کہ تمہارے دادا ابو کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر ہمیں یقین نہیں آیا کیونکہ میں ابھی گزشتہ کل (14 اگست) کو دیر تک ان سے ملاقات کر کے گیا تھا۔ ان کی وفات کا سن کر زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون کا ورد جاری ہوا۔ اور ہم بھاری قدموں اور زخمی دل کے ساتھ دادا ابو کے گھر روانہ ہوئے۔ دادا ابو کا پرسکون نورانی چہرہ دیکھ کر اطمینان ہوا مگر آپ کی ہمیشہ کی جدائی نے رلا دیا۔
والد محترم اور سب چاچووں کے ساتھ بیٹھ کر جنازہ اور تدفین کے حوالے سے مشاورت کی اور بعد از نماز عشاء رات دس بجے نماز جنازہ والد محترم حافظ نصر الدین خان عمر نے پڑھایا۔ تدفین کے بعد قبر پر عم مکرم قاری عبدالرشید خان سالم نے سر کی سائیڈ پر سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی ابتدائی تلاوت کی. پاؤں والی سائیڈ پر راقم (حافظ حنظلہ عمر) کو پڑھنے کی سعادت ملی.
کچھ یادیں کچھ باتیں
جب میرا نو سوا نو سال کی عمر میں حفظ قرآن کریم ہوا تو دادا ابو نے جامعہ مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم میں باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا۔
جس میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب دادا ابو مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب، صوفی عطاء اللہ نقشبندی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، نانا ابو محترم امان اللہ میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور میرے حفظ کے استاد استاذ الاساتذہ محترم حضرت قاری محمد منور صاحب رحمۃ اللہ علیہ خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
جن کے سامنے مجھے آخری سبق سنانے کی سعادت ہوئی تب دادا ابو خوشی سے نہال تھے اور ان کے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسی لیے ہمیشہ کہتے ہوتے تھے کہ "میرا حنظلہ ایک طرف اور باقی سارے پوتے ایک طرف۔"
ہماری بچپن سے لے کر آج تک انہوں نے ہر خواہش کو پورا کیا۔ چاہے میری تعلیم کا معاملہ ہو یا زندگی کی کوئی اور ضرورت، مجھے کبھی بھی ان کے سامنے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کا میرے لیے یہ کہنا ہی کافی تھا کہ “میرا حنظلہ ایک طرف اور باقی سارے پوتے ایک طرف۔” دادا ابو ہم بہن بھائیوں کو ہر جمعہ پیسے دیا کرتے تھے، اور ہم سب اسے “جُمّی” کہتے تھے۔ ہر ہفتے کا سب سے بڑا انتظار یہی ہوتا کہ کل دادا ابو ہمیں جمی دیں گے۔ مگر اب وہ انتظار ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔
گزشتہ سال کا ایک سفر ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اس سفر میں، میں دادا ابو اور دادا ابو کے چھوٹے بھائی مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب مانسہرہ گئے تھے۔ پورے ہفتے کا یہ سفر نہایت خوشگوار رہا۔ اس سفر میں کئی جگہوں پر مجھے نماز کی امامت کا موقع ملا، اور دادا ابو میرے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ یہ سفر آج بھی میری یادوں کا قیمتی خزانہ ہے۔ دادا ابو سفر میں دعاؤں کا اہتمام کرتے اور جو مشہور مقامات ہوتے وہ بھی بتلاتے جاتے۔ سفر میں دادا ابو اپنے ہم سفروں کے کھانے پینے کا بہت خیال رکھتے اور وقتا فوقتاً کھانے پینے اور تقاضہ حاجات کے بارے میں پوچھتے رہتے۔
میرے لئے یہ بھی سعادت کی بات ہے کہ مجھے دادا ابو کے ساتھ تقویٰ مسجد پیپلز کالونی میں نماز تراویح پڑھانے کا اتفاق ہوا اور رمضان المبارک کی تراویح کے دن بھی میرے لیے بھلانے کے نہیں جب دادا ابو نے آخری بار مسجد میں تراویح پڑھائی تھی تو وہ ان کا مسجد کا آخری مصلی تھا اور میرا پہلا مصلی۔ ان تراویح میں پہلی دس رکعتیں دادا ابو پڑھاتے اور اگلی دس میں پڑھاتا تھا۔ دادا ابو روزانہ میرا اعتماد بڑھاتے جاتے تھے کہ تراویح پڑھتے ہوئے گھبرانا نہیں ہے۔ ہمیشہ اعتماد کے ساتھ اور روانی کے ساتھ پڑھو گھبرانے کی ضرورت نہیں، میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔ یوں بندہ کو اعتماد ملتا گیا۔ اس سال جب ختمِ قرآن ہوا اور ہم گھر میں بیٹھے تھے تو دادا ابو نے مجھ سے کہا: “اگر میں تصویر کو جائز سمجھتا تو آج تیرے ساتھ بیٹھ کر ایک تصویر کھنچواتا۔” مگر اب وہ لمحہ ایک حسرت بن کر رہ گیا ہے۔
شخصیت کے اعتبار سے وہ بڑے شفیق، مہربان اور عظیم انسان تھے۔ ان کی زندگی ہماری خوشیوں اور سہولتوں کے لیے وقف تھی۔ آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دادا ابو کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی اگلی منازل آسان فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ رحمۃ اللہ واسعۃ۔ آمین یا رب العالمین۔
شفقتوں کے امین
دختر مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
ہمارے پیارے محترم و مشفق دادا جان شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ جو 15 اگست 2025ء بروز جمعۃ المبارک ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حادثہ ہمارے لیے بہت گہرا صدمہ تھا۔ دادا جان ہمارے لیے کسی درخت کی چھاؤں کی مانند تھے ان کے جانے سے ایسا لگا ہم کسی تپتی دھوپ میں آگئے ہیں۔ ان کا جانا ہمارے گھر کو ویران کر گیا ہے.۔ انہوں نے کس قدر خوبصورتی سے پورے گھر کو جوڑے رکھا ہمیں ان کا وہ پیار محبت اور سب کو اکٹھے دیکھ کر ماشاء اللہ ماشاء اللہ کہنا اور خوش ہونا بہت یاد آتا ہے۔ ان کی وہ محبت و شفقت ہمیشہ یاد رہے گی۔
اسی طرح چند سال پہلے میرے ختم القرآن کے موقع پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ جس دن میرا حفظ قرآن مکمل ہوا اس دن دادا جان خاص طور پر میرے اسکول اقرا روضۃ الاطفال ٹرسٹ گوجرانوالہ کی برانچ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیٹلائٹ ٹاؤن تشریف لائے۔ اور اسکول میں اسمبلی کے بعد دادا جان نے مختصر خطاب کیا اور بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ اور میرے استاذ محترم قاری عبد الوحید صاحب کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ان کے خاندان کی فرد کو حافظ قرآن بنا دیا۔ الحمدللہ
چند ماہ بعد میرے سب سے چھوٹے چاچو (حافظ محمد شمس الدین خان طلحہ) کی شادی تھی اور میرے ختم القرآن کی تقریب بھی اسی دن منتخب کر دی گئی۔ مگر شادی کی بے انتہا مصروفیت کی وجہ سے تقریب آمین منعقد نہ ہو سکی۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ہم عام دنوں کی طرح وہاں گئے تو اچانک ہی دادا جان نے مُجھے اپنے پاس بلایا اور اپنے ساتھ بٹھایا اور سب گھر والوں کو متوجہ کر لیا اور مجھے کہنے لگے آخری سبق پڑھنا شروع کرو میں نے آخری سبق پڑھنا شروع کیا سبق مکمل ہوتے ساتھ ہی مجھے اپنے گلے لگایا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف گئے اور کچھ دیر بعد واپس آئے اور ایک ڈبی سے سونے کی انگوٹھی میرے ہاتھ میں پہنا دی سب گھر والے بہت حیران ہوئے دادا جان نے کہا یہ اس کا ادھار تھا مجھ پر جو ادا ہو گیا۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا سب بہت خوش تھے یہ میری زندگی کا یادگار موقع تھا ان کی یہ نشانی ہمیشہ ان کی یاد دلائے گی۔ دادا جان رحمۃ اللہ علیہ ابھی تک کہتے ہوتے تھے سب سے بہتر عمر کی بیٹی رہی ہے۔
اسی طرح ہم بہن بھائیوں کو ہر جمعہ کو ان سے پیسے ملتے تھے جس کو ہم نے "جمی" کا نام دیا ہمیں پورا ہفتہ اس جمی کا انتظار رہتا تھا کے کب جمی ملے گی اور اب وہ انتظار انتظار ہی رہ گیاـ۔
"چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے"
مجھے یہ سعادت ملی ہوئی ہے کہ مجھے آپ کے پاس علم الصرف, علم النحو, زاد الطالبین, اصول الشاشی, مفتاح القرآن جیسی کتب پڑھنے کا موقع ملا۔ آپ ہمیشہ آسان اور عام فہم انداز میں سمجھاتے جو بات سمجھ میں نہ آتی اسے پھر بار بار سمجھاتے تاکہ مجھے پختہ یاد ہو جائے۔ آپ کے پڑھانے کا انداز بہت دل نشیں ہوتا۔ شخصیت کے اعتبار سے وہ بڑے شفیق، مہربان اور عظیم انسان تھے۔ ان کی زندگی ہماری خوشیوں اور سہولتوں کے لیے وقف تھی۔ آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دادا جان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی اگلی منازل آسان فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ رحمۃ اللہ واسعۃ۔ اور ہم سب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین
دادا جان ہماری تعلیم و تربیت کے نگہبان
دختر حافظ علم الدین ابوہریرہ
میرے ابو جان کہا کرتے تھے بیٹا آپ نے بڑے دادا جان مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ نہیں دیکھے، اس وقت آپ کے بڑے تایا جان مولانا نصرالدین خان عمر کے بیٹے حنظلہ اور بیٹی گود میں تھی، انہوں نے خوب پیار لیا بڑے دادا جان سے، لیکن آپ بھی بہت خوش قسمت ہو جنہوں نے اپنے دادا جان رحمۃ اللہ علیہ کی آغوش محبت و شفقت میں پروان چڑھا، ان کی زیر تربیت اللہ نے ہمیں فیض یاب کیا۔
بظاہر تو میرے والد محترم حافظ علم الدین ابوہریرہ اور میری والدہ نے میری تعلیمی تربیت بہترین کی، فجر کی نماز سے لے کر رات تک ایک باقاعدہ پلان شدہ معمول تھا جس میں دادا جان رحمۃ اللہ کی فکر کوشش محنت اور بے انتہا دعائیں تھی کہ میرے دادا جان نے میری پیدائش پہ میرا نام اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا ابوہریرہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے حمیرا کہتے تو اِس کا نام میں نے حمیرا رکھا۔ یہ ایک نام ہی نہیں تھا ایک تربیت کا آغاز تھا۔ ہمیشہ دادا جان دینی معاملات میں بھرپور تعاون کرتے اور انعامات سے نوازتے اور دعائیں دیتے۔ میرے دادا جان نے مجھے کلمہ سنانے، میرے کھانا کھانے کی دعا سنانے سے لے کر نورانی قاعدہ ختم کرنے اور ہر پارہ حفظ کرنے تک باقاعدگی سے انعام و اکرام اور دعاؤں سے دستِ شفقت رکھا۔
اس سال رمضان مارچ میں 2025ء کو مجھے دادا جان کا قرآن تراویح میں سننے کا موقع ملا، مجھے بتاتے غلطی بتانی نہیں، ہاتھ سے ہاتھ کو مارنا۔ میں الحمد للّہ اپنے والد صاحب کو روزانہ ڈیڈھ سے دو پارے سناتی تھی منزل۔ اپنے ماحول کی پیش رفت کے حساب سے ماشاء اللہ بہتر تھی۔ میرے بہن بھائی اور مجھے غلطی نکالنے کا دادا جان سے یومیہ انعام ملتا، شاباشی ملتی۔ تروایح کے بعد کہتے آؤ بھائی بچوں کھلی کچہری لگی۔ بتاؤ کیا غلطی آئی ہے؟ جب تراویح میں قرآن مکمل ہوا مجھے دادا جان نے ایک ہزار بطور انعام سے نوازا۔
میری بڑی بہن دختر تایا ابو مغیرہ جو ڈینگی بخار کی وجہ سے کافی علیل ہو گئی تھی آدھا قرآن ہو چکا اور اس کے بھائی چھوٹے کے بھی سترہ پارے ہوچکے تھے ان کو بھی انعام دیا۔ اور کہا ماشاء اللہ حمیرا کی قابل اعتبار منزل ہے اللہ یاد رکھنے کی توفیق دے۔ سب کو دعائیں دیتے تھے۔
مجھے یاد جب میرے پانچ چھ پارے رہ گے تھے تو دادا جان کی فکر بڑھ گئی کہتے تھے پتر میری زندگی کے اندر مکمل کر لینا میرا کوئی پتا نہیں میں تیری خوشی ویکھ لواں۔ پھر آتے جاتے کچھ دن کے بعد پارے پوچھتے رہتے تھے۔
کسی معتبر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم غالباً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے کر فرمایا کہ جس دن مکمل ہو اسی دن دعا آمین کرنی چاہیے۔ دادا جان فرماتے کہ رسم و رواج میں نہیں پڑنا۔ جس دن قرآن مکمل ہوا اسی دن دعا ہونی، یہ رسم ہوتی، اس میں دادا جان کی تربیت ہمیشہ تھی رسم و رواج سے دادا جان انتہائی احتیاط کرتے تھے۔ پھر دادا جان نے مجھے سوٹ کے پیسے دیے۔ آمین کی تیاری شروع ہو گئی۔
بقرہ عید سے پہلے 4 جون 2025ء کو بروز بدھ غالباً بعد نماز عشاء میں نے اپنے جز وقتی استاد قاری محمد عظیم صاحب اور کل وقتی استاد قاری محمد مدثر صاحب کی موجودگی میں میرے دادا جان رحمۃ اللہ علیہ نے میرا آخری سبق سنا۔ مجھے دستِ شفقت سے پیار دیا۔ میں خوش قسمت دو لحاظ سے ہوں۔ الحمد للّہ ایک تو مجھے دادا جان کو آخری سبق سنانے کا اللہ کریم نے موقع دیا۔ دوسرا دادا جان نے مجھے اپنا قرآن ہدیہ گفٹ کے طور پہ دیا، اس سے بڑا گفٹ میرے لیے اور کچھ نہ ہو سکتا تھا اور نہ ہی ہے۔ اور فرمایا اس کو سنبھالنا بھی ہے اور پڑھنا بھی ہے۔ اور مختصر بیان کیا جو والد صاحب آپ کو ریکارڈ فراہم کریں گے۔ یہ میری زندگی کا ایک اہم دن تھا۔
نصیحت و عزائم کے ساتھ اپنے معاملات میں دین کی خدمت و کوشش کا جذبہ پیدا کرنا دادا جان رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت کا حصہ تھا۔ روزانہ صبح دعاؤں سے سکول جانا۔ آتے جاتے محبت و شفقت کا سائباں۔ ہمیں کیا خبر تھی۔ جمعہ پندرہ اگست میرے گھر آتے تیاری میں مصروف تھے۔ غسل کا اہتمام کیا، باہر نکل کر اچانک طبیعت خراب ہوئی اور میرے بابا میرے تایا جان کے ہاتھوں میں اونچی آواز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا اور عین جمعہ کی تیاری کے وقت جاتے ہوئے دربار الٰہی میں ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔ ہم سب سے وہ سائباں اٹھا جس کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔
اللہ کریم سے دعا میرے دادا جان کو اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پہ چلائے ان کی دی گئی نصیحت و تربیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دینِ اسلام پہ قائم دائم رکھے۔ آمین ثم آمین
آہ! حضرت قارن صاحب رحمہ اللہ
مولانا محمد فاروق شاہین
مولانا ضیاء الحق صاحب، محترم حاجی افضال صاحب، محترم حاجی بشیر صاحب، بڑے میاں محترم عبدالرحمن صاحب، بھائی عبداللہ صاحب بڑے میاں سویٹ کے ہمراہ، حضرت مولانا عبدالقدوس صاحب قارن رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت ایک علمی و کتابی شخصیت تھے، آپ نے زندگی بھر علم و کتاب ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ کتاب و سنت کی تعلیمات کو صرف اپنے سینے اور سفینے تک ہی محدود نہ رکھا، بلکہ ان کی نشر و اشاعت فرمائی، اور تبلیغ و تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، جو ان شاء اللہ تا قیامت آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنی رہیں گی۔
مادرِ علمی جامعہ حنفیہ کے سالانہ جلسہ پر حضرت سے آخری ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ اس موقع پر آپ نے توحید باری تعالٰی پر عام فہم اور مؤثر درس قرآن ارشاد فرمایا، اس کا ابتدائی حصہ اور درس کے آخر میں حضرت نے لجاجت سے جو دعا فرمائی تھی، پیشِ خدمت ہے قارئین کرام مطالعہ فرما کر حضرت کے بلندئ درجات کے لیے دعا فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
درس کا ابتدائی حصہ
آپ حضرات کو دیکھ کر، اور یہاں بیٹھے بزرگوں کو دیکھ کر، اکابر کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اکابر کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی ہمیں جامعہ حنفیہ میں حاضری کی توفیق حاصل رہتی ہے۔ جامعہ کے سالانہ جلسہ میں جامعہ کی سالانہ کارکردگی اور رپورٹ پیش کی جاتی ہے، اور ساتھ ہی مختلف موضوعات پر علماے کرام کے بیانات بھی کرواے جاتے ہیں، تاکہ شرکاے جلسہ ایک سوچ، فکر اور لائحہ عمل لے کر جائیں۔ بہت سے موضوعات پر آپ نے بیانات سنے، اور مزید بھی سنیں گے، مگر سب سے اہم موضوع عقیدہِ توحید ہے۔
درس کا آخری حصہ (دعا)
یا اللہ! سفر کر کے آنے والوں کا ایک ایک قدم اپنی بارگاہ میں قبول فرما، ان کی جائز حاجات قبول فرما، جو حرمین شریفین کی زیارت کے لیے ترس رہے ہیں، پروردگار عالم ان کو اسباب مہیا فرما، جو زیارت کر کے آ گئے ہیں ان کو بار بار زیارت کی توفیق عطا فرما، یا اللہ ہمیں اپنے دین کے لیے قبول فرما، ہماری اولاد کو بھی دین کی سمجھ نصیب فرما، دین پر عمل کی توفیق نصیب فرما، ہمارے ملک میں رہنے والوں کی حفاظت فرما، یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، سیاست دانوں، حکمرانوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی، بلکہ اسے مزاح بنا کر رکھ دیا ہے، پروردگار عالم ہماری ان قربانیوں کی برکت سے ہمارے حال پر رحم فرما، اس ملک کو صحیح معنوں میں پاکستان بنانے کی توفیق عطا فرما، ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، زیادہ سے زیادہ دین کی تبلیغ اور اشاعت کی توفیق عطا فرما، دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرما، یا اللہ ہماری غفلتوں، کوتاہیوں سے درگزر فرما، یا اللہ میرے جن اکابر نے یہ مبارک سلسلہ شروع کیا تھا، پیر طریقت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب، اور مجاہد اہل سنت حضرت مولانا عبداللطیف صاحب، میرے بھائی قاری خبیب احمد عمر صاحب، ان سب کے درجات بلند فرما، ان کے جانشین کو صحت و عافیت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھ، یا پروردگار عالم تجھ سے مدد چاہتے ہیں، ہماری مدد فرما، یا اللہ فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما، بہت زیادہ ان پر ظلم ہو رہا ہے، مسلم حکمرانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار فرما، ہمارے جو اکابر ایمان کے ساتھ تیری بارگاہ میں پہنچے ہیں ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما، ہمیں موت کی تیاری کی توفیق عطا فرما، سب کو جنت الفردوس نصیب فرما، جب تک رہیں ایمان، اعمال صالحہ کی سلامتی، عزت و وقار، آرام والی زندگی نصیب فرما، ہمارا آخری وقت آنے پر ہماری زبان پر جاری فرما، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ، آمین۔
میرا اعلان اور حضرت کا فرمان
درس سے فارغ ہوئے تو دعا کے بعد راقم نے اعلان کیا کہ حضرت کچھ علیل ہیں، اس لیے مصافحہ کی کوشش نہ فرمائیں۔ بیان سماعت فرما لیا ہے، بس زیارت ہی پر اکتفا کریں۔ مگر یہ اعلان صدا بہ صحرا ثابت ہوا، اور لوگوں نے آگے بڑھ کر مصافحہ شروع کر دیا۔ حضرت کی نقاہت دیکھتے ہوئے کہا گیا: "جزاکم اللہ! راستہ چھوڑتے جائیں، مصافحہ کی زحمت نہ فرمائیں۔"
حضرت میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: "مصافحہ کرنے دیں، ان میں کئی ہاتھ ایسے ہوں گے جنہوں نے حضرت قاضی صاحب سے مصافحہ کیا ہو گا۔"
درس سے پہلے میری ایک گزارش
راقم نے بیان سے قبل گزارش کی کہ: "حضرت! اگر نمازِ فجر کے بعد والی دعا سے پہلے بیان شروع فرما لیں تو زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں گے، کیونکہ دعا کے بعد کچھ لوگوں کے اٹھ جانے کا امکان ہے۔"
فرمانے لگے: "مجھے کوئی مسئلہ نہیں، اس کا تعلق انتظامیہ سے ہے۔ جیسے وہ کہیں گے، میں حاضر ہوں۔"
حضرت کی اس بات سے بھی بڑا سبق ملا۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے۔
جنازہ کا منظر
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر شریک تھا۔ جنازہ اسی مقام پر ہوا، جہاں حضرت نے نصف صدی سے زائد عرصہ علم کے پیاسوں کو سیراب کیا۔
جہلم کے احباب کی جنازہ میں بھرپور شرکت
جنازہ سے قبل اپنے مختصر بیان میں، گلشنِ حضرت جہلمی کے مہتمم، شہزادہ اہل سنت حضرت مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق صاحب نے، حضرت کی وفات کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ گہری محبت و تعلق تھا، اور ان کی جدائی ایک ایسی کمی اور خلا ہے، جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔ قائدِ طلباء محترم قاری عمر فاروق صاحب، صاحبزادہ مولانا قاری محمد عمیر خان عثمان، جامعہ کے اکابر اساتذہ کرام، مولانا اسد حسین کوٹلی اللہ یار، اور دیگر جماعتی احباب نے بھی جنازہ میں شرکت فرمائی۔
حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی نمازِ جنازہ و تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
گوجرانوالہ کی فضاء جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ایک عجیب کیفیت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے در و دیوار، شہر کی سڑکیں اور لوگوں کے چہرے سبھی ایک ہی صدا بلند کر رہے تھے: "انا للہ وانا الیہ راجعون"۔
استاد الحدیث، امامِ جامع مسجد نور اور بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا حافظ محمد عبدالقدوس خان قارنؒ دارِ فانی کو الوداع کہہ گئے۔ مغرب کے بعد جب آپ کا جسدِ خاکی زیارتِ عام کے لیے جامعہ کے صحن میں لایا گیا تو صحن کی وسعت بھی تنگ ہو گئی۔ ہر طرف سے لوگ ٹوٹ پڑے۔ جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی، حضرت مولانا عبدالحق خان بشیر، حضرت مولانا زاہد الراشدی، مولانا حماد الزہراوی، مولانا منہاج الحق خان راشد، مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر اور دیگر اکابر علماء نہایت کرب و اضطراب میں تھے۔ ان کے چہرے کہہ رہے تھے کہ آج ایک ایسا چراغ بجھا ہے جس کی روشنی برسوں تک قلوب کو منور کرتی رہی۔ شرکاء کی تعداد اتنی تھی کہ سڑکیں دور دور تک بھر گئیں، لوگ بڑی مشکل سے راستہ بنا کر پہنچے۔ یہ ہجوم کسی شخصیت کی عظمت کا نہیں بلکہ ایک عہد کی قدردانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
نمازِ عشاء کے بعد جامع مسجد نور میں ایک بامقصد تعزیتی اجلاس ہوا، جس کی نظامت خاکسار حافظ فضل الہادی نے کی۔ آغاز قاری وسیم اللہ امین کی پرسوز تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد مختلف مقررین نے حضرتؒ کی یادوں کو زبانی تاریخ کی شکل دی۔ حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مفتی محمد اسلم طارق، پروفیسر عبدالماجد حمید مشرقی، چوہدری بابر رضوان باجوہ، مولانا پیر ریاض احمد چشتی، مولانا ابوبکر جہلمی، مولانا جواد محمود قاسمی، پیر احسان اللہ قاسمی، مفتی ابو محمد، مولانا اویس شاد (دارالعلوم کبیروالا)، پیر اسد اللہ (جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور)، پیر عتیق الرحمن عزیز (راولپنڈی)، پروفیسر اشفاق حسین منیر (گجرات)، اور قاضی عطاء المحسن راشد (قلعہ دیدار سنگھ) نے اپنے اپنے انداز میں حضرتؒ کی علمی، دینی اور اخلاقی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ہر مقرر کے الفاظ دراصل آنسوؤں کی صورت تھے، جو لبوں سے نہیں دل سے بہہ رہے تھے۔ ان سب نے کہا کہ حضرت قارنؒ کی وفات امت کے لیے محض ایک شخص کا غم نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہے جس نے ہزاروں طلباء کے دلوں میں قرآن و سنت کی محبت بھری۔
اجتماع میں شریک ہونے والوں میں خاندان سواتی کے سبھی حضرات کے علاوہ حضرت مولانا قاری خالق داد (دینہ)، حضرت مولانا محمد فاروق احمد کھٹانہ، مفتی فخر الدین (گوجرانوالہ)، مولانا بلال احمد پسروری، مولانا الیاس (گجرات)، ڈاکٹر فضل الرحمن (گوجرانوالہ)، مولانا امجد محمود معاویہ (پاکستان شریعت کونسل)، مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا نعمان بابر (شبان ختمِ نبوت)، مولانا عارف شامی (عالمی مجلس ختم نبوت)، مولانا پیر محمود الحسن شاہ (مانسہرہ)، قاضی محمد اسرائیل گڑنگی و قاضی نعمان گڑنگی (مانسہرہ)، مولانا عبدالقدیر (مانسہرہ)، مولانا وقار احمد، مفتی توصیف احمد، مولانا ساجد اعوان (ہری پور) اور اچھڑیاں مانسہرہ سے حضرت کے خاندان کے کئی حضرات سمیت ہزاروں علماء، طلباء اور اہلِ محبت شامل تھے۔ یہ سب اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ حضرتؒ کا فیض صرف گوجرانوالہ تک محدود نہ تھا، بلکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔
اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا زاہد الراشدی کی لرزتی آواز نے سب دلوں کو رُلا دیا:
"جیسے میں نے اپنے چچا جان حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ کی وفات پر اپنے والد حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے کہا تھا کہ آج جوڑی ٹوٹ گئی ہے، بالکل اسی کیفیت میں آج کہتا ہوں کہ ہماری جوڑی ٹوٹ گئی ہے۔"
یہ جملہ ایک شخص کا بیان نہیں تھا بلکہ ہزاروں دلوں کی دھڑکنوں کا ترجمہ تھا۔
حضرت مولانا عبدالوکیل خان مغیرہ نے اس موقع پر اعلان فرمایا کہ والدِ محترم تصویر کو ناجائز سمجھتے تھے، یہ اُن کی وصیت تھی اور ہم سب اس پر عمل پیرا ہوں گے۔
رات دس بجے حضرت مولانا نصرالدین خان عمر نے والدِ محترم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
جنازے کی ادائیگی کے بعد آپ کا جسدِ خاکی بڑے قبرستان منتقل کیا گیا۔ جہاں علما، طلبہ اور عوام کا اس قدر عظیم اجتماع تھا کہ قبرِ مبارک کے قریب جگہ بنانا بھی لوگوں کے لیے نہایت دشوار تھا۔ حضرتؒ کو اُن کے چچا و مربی حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ کے جوار میں سپردِ خاک کیا گیا۔ لحد میں آپ کو نہایت محبت اور ادب کے ساتھ آپ کے فرزند مولانا حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ علم الدین ابوہریرہ اور حافظ شمس الدین خان طلحہ نے اتارا۔ زمین نے اپنے دامن میں ایک اور ولی کو سمیٹ لیا۔
تدفین کے بعد سرہانے کی جانب آپ کے فرزند حافظ عبدالرشید خان سالم نے سورۂ بقرہ کے آغاز سے تلاوت شروع کی، اور پاؤں کی سمت آپ کے پوتے، حافظ حنظلہ عمر نے سورۂ بقرہ کی آخری آیات تلاوت فرمائیں۔
اس کے بعد حضرت صوفی عطاء اللہ نقشبندیؒ کے جانشین، پروفیسر ضیاء اللہ نقشبندی نے نہایت سوز و گداز کے ساتھ دعا فرمائی۔ ان کی دعا کے کلمات نے مجمع کے دلوں کو موم کر دیا، آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فضا پر رقت و خشوع کی کیفیت طاری ہو گئی۔
حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کی وفات صرف گوجرانوالہ یا جامعہ نصرۃ العلوم کا غم نہیں، یہ ایک پوری نسل کا دکھ ہے۔ وہ استاد بھی تھے، رہنما بھی، مصلح بھی اور مربی بھی۔ آج ان کی مسکراہٹیں، ان کی دعائیں اور ان کی نصیحتیں ہمیں شدت سے یاد آئیں گی۔ لیکن اُن کا فیض ہمیشہ باقی رہے گا، ان کے شاگرد ان کی تعلیم و تربیت کے آثار کو زندہ رکھیں گے۔ ان شاء اللہ
(مجلہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’جوڑی ٹوٹ گئی‘‘
مولانا حافظ محمد حسن یوسف
حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن صاحب رحمہ اللّٰہ تعالی کے جنازے کے موقع پر ایک جملہ فرمایا کہ ’’جوڑی ٹوٹ گئی‘‘۔
اس سے پہلے آج تک حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا، ہمیشہ جب بھی کہتے تو کہتے دو باتیں کروں گا۔ فرمانے لگے ایک واقعہ ہے آپ کو بتاتا چلوں۔ غم و اندوہ کا عالم تھا، کہنے لگے کہ میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا اور ایک واقعہ کہوں گا کہ میرے چچا صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی میت صحن کے اندر تھی اور میرے والد مکرم حضرت مولانا امام اہلِ سنت شیخ سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کو علیل ہونے کے باوجود وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے چھوٹے بھائی کی چارپائی کے قریب، میں نے دونوں کے چہرے دیکھے، نورانیت تھی، میں نے کہا ابا جان ’’آج جوڑی ٹوٹ گئی‘‘۔ فرمانے لگے، تو حقیقت میں آج ہماری جوڑی بھی ٹوٹ گئی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ حضرت مولانا شیخ الحدیث ابن امام اہل سنت عبد القدوس خان قارن صاحب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی کامل بخشش فرمائے اور حضرت کی ملاقات جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء سے کروائے اور آپ کے تلامذہ اور بیٹوں کو ان کا علمی فیض جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا عبد الحق بشیر اور مولانا زاہد الراشدی کے تاثرات
عمار نفیس فاروقی
گزشتہ دنوں ابنِ امامِ اہل سنہ شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن کا انتقال ہوا ان کی تعزیت کا سلسلہ جامعہ نصرت العلوم اور دیگر متعلقین کے ہاں تاحال جاری ہے۔ 19 اگست 2025 بروز سوموار بمطابق ۲۲ صفر ۱۴۴۷ھ جامع مسجد امام اہلسنتؒ گکھڑ منڈی میں حضرت رحمہ اللہ کے بڑے بھائی مفکر اسلام علامہ زاہد الراشدی اور چھوٹے بھائی محقق اہلسنت مولانا عبدالحق خان بشیر دامت فیوضھم تشریف فرما تھے، مولانا حماد الزہراوی اور مولانا منہاج الحق خان راشد، نیز حضرت رحمہ اللہ کے صاحبزادہ مولانا نصر الدین خان عمر بھی موجود تھے۔ گکھڑ بھر سے علماء و متعلقین تعزیت کیلئے آتے رہے، نمدیدہ و رنجیدہ مجلس دعاؤں اور دلاسوں سے آباد رہی۔
مجلس کے اختتام پر مولانا عبد الحق خان بشیر رحمہ اللہ نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں فرمایا:
اللہ رب العزت نے اس کائنات کے اندر موت و حیات کا جو سلسلہ شروع کیا ہمارا اہلسنت والجماعت کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ اللہ کا قانون قیامت تک رہے گا اور یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ اس قانون سے اگر کوئی مستثنیٰ ہوتا تو اللہ کے محبوب حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ مستثنیٰ ہوتے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ پر بھی یہ قانون جاری ہوا اور آپ پر بھی موت آئی۔ اور یہ موت و حیات اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک آزمائش کے طور پر دی ہے کہ کون اس قانون کے حوالے سے اللہ کی راہ پر چلتا ہے اور کون اس راہ کو ترک کرتا ہے۔ جہاں تک اللہ کے قانون کا اور اللہ کے راستے کا تعلق ہے تو اللہ رب العزت نے انسانوں کی زندگی کا قانون پہلے انسان کے ذریعے پہلے ہی دن اتار دیا تھا۔ فرمایا ’’قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون‘‘ اس آیت میں انسان کو بتا دیا گیا ہے کہ اس قانون کے مطابق زندگی گزارو گے تو واپس اسی جنت میں آؤ گے اور اگر تم نے اس راستے کر ترک کر دیا تو تمہارا ٹھکانہ کوئی اور ہو گا۔
ہم آج ایک ایسی شخصیت کے حوالہ سے جمع ہیں کہ جن کو اللہ رب العزت نے علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، علمِ فقہ اور دوسرے علوم پر کمال مہارت عطا فرمائی تھی اور تقریباً پچاس سال تک وہ ان علوم کی تدریس کرتے رہے۔ اللہ کے قانون کے مطابق موت کا قانون ان پر جاری ہوا، ایسی شخصیات کے چلے جانے پر ہم مایوس ہو جاتے ہیں کہ اب ہمارے دین و ایمان کا کیا ہو گا؟ لیکن جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے تو اطمینان ہونے لگتا ہے جانے والوں سے فرق تو پڑتا ہے، جیسے پچھلے دور میں ہم حضرت نانوتویؒ کو تلاش کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے، اس سے اگلے دور میں حضرت مدنیؒ اور حضرت تھانویؒ کو تلاش کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے، اس سے اگلے دور میں حضرت بنوریؒ اور حضرت امام اہل سنہؒ کو تلاش کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے، نقصان تو ہوتا ہے لیکن دین کی حفاظت کی ذمہ داری چونکہ اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے اس لیے ہمارا ایمان ہے کہ دین قیامت تک کیلئے محفوظ ہے، شخصیات کے جانے سے اس پر حرف نہیں آ سکتا۔
ان کے متصل بعد جانشین امام اہل سنہ مفکر اسلام علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم نے مختصر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
میں اسی بات کو آگے چلاؤں گا کہ سن ۱۹۷۰ء یا ۱۹۷۱ء میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ شیرانوالہ باغ تشریف لائے اور علماء کے جوڑ میں خطاب کرتے ہوئے یہی آخری بات انہوں نے اپنے لہجے میں یوں فرمائی کہ دیکھو یار، آپ نے کام کرنا ہے، اگر آپ انتظار کریں گے کہ امیرِ شریعتؒ تشریف لائیں، آپ انتظار کریں گے کہ حضرت احمد علی لاہوریؒ آئیں گے، یا آپ کو حضرت تھانویؒ یا مدنیؒ کا انتظار ہو گا تو وہ نہیں آئیں گے۔ اور اپنے لہجے میں فرمایا، اب ہمارے ساتھ ہی گزارا کرنا ہو گا۔
اللہ پاک بھی ہمارے ساتھ ہی گزارا کر رہا ہے، وہ اب نہیں آئیں گے، اب وہ نہیں آئیں گے۔ باقی جب کوئی چلا جاتا ہے تو وہ خلا پُر نہیں ہوتا، میں بھی پچاس سال سے میدان میں ہوں، جو بزرگ چالیس سال پہلے تھے وہ تیس سال پہلے نہیں تھے، جو تیس سال پہلے تھے وہ دس سال پہلے نہیں تھے، جو دس سال پہلے تھے وہ اب نہیں ہیں۔ اور آج بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایسی شخصیات دنیا سے اٹھی ہیں کہ واقعتاً ان کے جانے کے بعد اندھیرا ہو جانا چاہیے، لیکن اندھیرا نہیں ہے۔ کمی کمزوری ہے، اندھیرا نہیں، اس لیے کہ اللہ رب العزت نے دین کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے۔ دین کی وجہ سے مدرسہ قائم ہے، دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے، اس کے بہانے ہم بھی بچ جاتے ہیں۔
ہمارے بھائی نے زندگی بہت اچھی گزاری ہے، پڑھنے پڑھانے میں گزاری ہے، خاص کر یہ کہ بیماریوں کے باوجود زندگی بھر معمولات میں کوئی کمی نہیں آئی، آخری سے پچھلے دن اسباق پڑھائے، وفات والے دن فجر پڑھائی، اور جمعہ کی تیاری کرتے ہوئے معمولات کی ادائیگی کے دوران اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ چہرے پر سکون تھا جس سے تسلی ہوتی ہے۔ ایک صحابی کے استفسار پر حضورؐ نے فرمایا جانے والے کے تین حق ہیں: (۱) اس کے حق میں دعا کی جائے، (۲) وہ کوئی کام کرنا چاہتا تھا اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے (۳) ان کی وجہ سے جو تعلقات تھے ان روابط کو قائم رکھا جائے۔
اللہ پاک ہم سب کو ان کے معمولات اور ان روایات کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، حوصلہ عطا فرمائیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ سب کا شکریہ کہ آپ تشریف لائے، اس سے حوصلہ بڑھتا ہے، ڈھارس بندھتی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کی اس غمگساری کو قبول فرمائیں اور اور اس کا اجر ہم سب کو نصیب فرمائیں۔
اسی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
الشریعہ اکادمی میں تعزیتی تقریب
مولانا محمد اسامہ قاسم
استاذ العلماء، عظیم مدرس، نصف صدی سے مسندِ حدیث کی آبرو، قافلۂ اسلاف کے بچھڑے ہوئے فرد، حق گوئی اور بے باکی میں اپنی مثال آپ، حافظ قرآن، حافظ حدیث، امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے فرزند، حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمۃ اللہ علیہ کا تعزیتی پروگرام استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب کی زیر سرپرستی الشریعہ اکیڈمی کنگنی والہ میں منعقد ہوا، جس میں معزز علماء کرام، شیوخ حضرات اور حضرت کے صاحبزادگان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مولانا عبد القدوس قارن صاحبِ علم تھے۔ ان کا ذوق یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ظاہر نہ کریں۔ ساری زندگی پڑھنے اور پڑھانے میں گزاری۔ ایک بات اور، ہماری ساری زندگی ایک ساتھ گزری۔ وہ اختلاف کا اظہار اختلاف کے لہجے میں کرتے تھے، مگر سامنے والے کا لحاظ کرتے ہوئے احترام کے ساتھ دوٹوک بات کرتے تھے۔ ان کی بات میں لچک نہیں ہوتی تھی۔ حضرت والد صاحب بھی فرمایا کرتے تھے کہ لہجے میں جتنی لچک پیدا کر سکتے ہو، کر لو، لیکن موقف میں لچک نہیں آنی چاہیے۔ جب بھی ان سے کوئی معاملہ ہوتا تھا، آخر میں اکثر کوئی بھی مسئلہ ہو ہم دونوں ہی فائنل کرتے تھے۔ وہ اکثر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے، "میری رائے یہ ہے، لیکن آپ کی بات فائنل کرتے ہیں۔"
دیگر علماء کرام کا کہنا تھا کہ حضرت کا سانحہ وفات اس دورِ قحط الرجال میں صرف اُن کے متعلقین اور منتسبین کے لیے ہی نہیں، بلکہ قافلۂ اہلِ حق اور علم و فن کے طلبہ کے لئے ایسا غم ہے جسے آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایسا خلاء ہے کہ جسے پر کرنا شاید اب ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے دل سے دعا گو ہیں کہ
اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ
(اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے چلے جانے کے بعد ہمیں کسی فتنے میں مبتلا نہ فرما)
حضرت استاد الحدیث ؒ آخر دم تک تدریس کی ذمہ داری بڑی پرجوش انداز میں نبھاتے رہے۔ حدیث پاک پڑھنے پڑھانے کی یہ ایک کھلی کرامت ہے کہ آپ آخر عمر تک ایسے تازہ دم اور بیدار مغز رہے کہ جامعہ جیسی عظیم درسگاہ میں آپ کی آواز گونج رہی ہوتی۔ حدیث پاک کی خدمت میں مشغول خوش قسمت افراد کے لیے خود زبانِ رسالت سے یہ دعا نازل ہوئی ہے:
نضر اللّٰہ عبداً سمع مقالتی فؤعاھا فبلغھا من لم یسمعھا
(اللہ تعالیٰ اُس بندے کو تروتازہ رکھے جو میری بات سننے، محفوظ رکھنے اور پھر اُن لوگوں تک پہنچانے والا ہو جنہوں نے نہیں سنی)
یہ حدیث پاک بیس جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مختلف کتب حدیث میں منقول ہے اور اس کے واضح اثرات اور برکات آج بھی مدارس دینیہ میں درس حدیث سے وابستہ شخصیات میں مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ بلا شبہ، آپ اس لحاظ سے بھی اپنے زمانے کے ہی نہیں، تاریخ کے خوش قسمت ترین مدرسین میں سے تھے کہ قدرت نے آپ کے تلامذہ کی کہکشاں میں ایسے ایسے ستارے جوڑ رکھے ہیں جن کی اپنی روشنی سے ایک عالم روشن ہے۔
عظیم شخصیات، بے مثال فقیہ، امتِ مسلمہ کے نبض شناس، سینکڑوں قرآن و حدیث پڑھانے والے ،مفتیان کرام اور دین کے مخلص خدام ایسے ہیں جنہوں نے آپ سے براہِ راست استفادہ کیا۔ وذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔ حضرت کا پڑھانے کا انداز بھی طلبہ کرام میں بہت مقبول تھا۔ واقعات بیان کرنے کا انداز اتنا دلکش اور حسین تھا کہ انسان کو یوں لگتا تھا کہ وہ کتاب نہیں پڑھ رہا بلکہ سیرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ پھر اس کے ساتھ جزئیات کا احاطہ، متعارض روایات میں باہم تطبیق و ترجیح اور دیگر علمی نکات سونے پر سہاگہ ہوتے تھے۔
تعزیتی پروگرام میں مولانا نصرالدین خان عمر، مولانا محمد یوسف، مولانا فضل الہادی، مولانا لقمان، مولانا قاری احسان اللہ قاسمی، مولانا خبیب عامر، مولانا عبد الوکیل مغیرہ، مولانا ارسلان شاہد ، مولانا محفوظ الرحمن، مفتی محمد عثمان جتوئی، مولانا عامر حبیب، مولانا عبد الرشید کے علاوہ شہر کے دیگر علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
مدرسہ تعلیم القرآن میترانوالی کے زیر اہتمام مولانا عبدالقدوس قارنؒ سیمینار
حافظ محمد عمرفاروق بلال پوری
حافظ سعد جمیل
جانشینِ امام اہل سنت، استاذ العلماء مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہمراہ اس سیمینار میں شرکت کی سعادت ملی۔ نمازِ ظہر ادارے کے نئے مہمان خانے میں ادا کی، کھانے کی محفل جاری تھی کہ پروگرام کےمہمان، استاذ الخطباء مولانا عبدالواحد رسولنگری صاحب بھی تشریف لے آئے اور ساتھ شریک ہوگئے۔ جہاں بزرگوں کی علمی و فکری باتوں کا تبادلہ خیال ہوا، کھانے کے بعد ہم پروگرام کی نشست میں پہنچے جہاں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خصوصی خطاب فرمایا۔ ان کے بیان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
اس سیمینار کے انعقاد پر میں مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن میترانوالی کے منتظمین، معاونین اور تمام احباب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے ہمارے دکھ میں شریک ہو کر ہمیں حوصلہ دیا۔ اس خاندان سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب کے دادا اور ان کے والد مولانا یوسف رشیدی صاحب ہمیشہ محبت فرماتے رہے، اور یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے۔
بھائی مولانا عبدالقدوس قارنؒ میرے چھوٹے بھائی تھے، قارن صاحبؒ نے آنکھ کھولتے ہی درس و تدریس کے ماحول کو پایا۔ ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی جہاں والدہ محترمہؒ بچوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھیں۔ ہمارے گھر میں قائم مدرسے میں محلے کے بچے بچیاں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ قارن صاحبؒ کا شغف ہی کتابوں سے تھا؛ پڑھنا، پڑھانا اور کتب کی خدمت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ والد محترم مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی تمام کتب کی ترتیب و تکمیل انہی کے ذمے رہتی۔
مولانا سرفراز خان صفدرؒ وقت کے سخت پابند تھے، یہاں تک کہ لوگ اپنی گھڑیاں ان کے معمولات کے مطابق درست کیا کرتے تھے۔ یہی مزاج قارن صاحبؒ نے بھی اپنایا۔ وہ نہایت باوقار، سادہ طبع اور اصول پسند شخصیت کے مالک تھے۔
عظیم دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن میترانوالی میں ابن امام اہلسنت حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کی یاد میں یہ تعزیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ علاقہ بھر کی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
اس پروگرام میں خصوصی طور پر حضرت مولانا عبد الواحد رسولنگری صاحب، حضرت مولانا قاری شمس الحق صاحب، حضرت مولانا موسیٰ صاحب، مولانا قاری ارشد عثمانی صاحب، حضرت مولانا دلاور شیر صاحب، عبد القادر عثمان، حافظ شاہد الرحمٰن میر، مولانا دانیال عمر، حافظ عمر فاروق بلال پوری سمیت کثیر تعداد میں علاقہ بھر کے علماء کرام نے شرکت کر کے حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارنؒ کی دینی، تصنیفی، مسلکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
قارن کی یہ دعا ہے الٰہی قبول کر لے!
مولانا عبد القدوس خان قارن
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات کے موقع پر لکھا گیا منظوم کلام۔
کیا بیتی ہم پہ لوگو! کسے حالِ دل سنائیں؟
دنیا اجڑ گئی ہے کسے زخمِ دل دکھائیں
جس شیخ کی زیارت تھی سکونِ دل کا باعث
وہ شیخ چل دیئے ہیں اب سکوں کہاں سے لائیں؟
ہر فرد اُداس بیٹھا، سوچ میں گم ہوا ہے
آنکھوں سے بہتے آنسو، اوروں کو بھی رلائیں
بھائیو! نہ ہارو ہمت اب حوصلہ دکھاؤ!
ورثے میں جو ملا ہے اس مشن کو بڑھائیں
ہر مسئلہ حق بتایا، اسلاف سے ملایا
باطل سے ڈر نہ کھایا چاہے جان ہی سے جائیں
توحید کو پھیلایا سنت کی راہ دکھائی
پڑھ پڑھ کتابیں ان کی عوام کو سنائیں
سواتی برادران کے نسبی روحانی بیٹو!
درس و عمل میں اپنے اسی فرض کو نبھائیں
خونِ دل سے ہم کریں گے اس مشن کی حفاظت
دشمنوں سے جا کے کہہ دو یوں خوشیاں نہ منائیں
قارن کی یہ دعا ہے الٰہی قبول کر لے!
جب محشر میں ہم کو دیکھیں تو اسلاف مسکرائیں
فہرست تصنیفات حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس خان قارنؒ
مولانا عبد الوکیل خان مغیرہ
فہرست تصنیفات: فرزند و جانشین امام اہل سنت شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس خان قارن صاحبؒ، سابق استاذ التفسیر والحدیث مدرسہ نصرت العلوم و امام جامع مسجد نور، گوجرانوالہ۔
1- خزائن السنن (کتاب البیوع)
2- حمیدیہ ترجمہ رشیدیہ (فن مناظرہ کی کتاب)
3- جنت کے نظارے (علامہ ابن القیمؒ کی کتاب حادی الارواح کا اردو ترجمہ)
4- امام بخاریؒ کا عادلانہ دفاع
5- مروجہ قضائے عمری بدعت ہے
6- علم غیب خاصہ خداوندی
7- ایضاح سنت
8- مسئلہ تین طلاق پر جواب مقالہ
9- بخاری شریف غیر مقلدین کی نظر میں
10- امام ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع (علامہ کوثریؒ کی کتاب تانیب الخطیب کا اردو ترجمہ)
11- اظہار الغرور
12- وضو کا مسنون طریقہ (شیعہ کی جانب سے اہل سنت کے وضو پر اعتراضات کے جوابات)
13- غیر مقلدین کے متضاد فتوے
14- الدروس الواضحہ شرح کافیہ
15- مجذوبانہ واویلا
16- تصویر بڑی صاف ہے
17- انکشاف حقیقت
برائے رابطہ کتب:
مولانا مغیرہ خان
923338250280
منتخب تاثراتی تحریریں
منجانب : مولانا حبیب القدوس خان معاویہ
مدرسہ حیات القرآن، پسرور
فرزند امام اہلسنت حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کا عکس، جب بندہ ناچیز نے حضرت کو امتحان دیا تھا، اللّٰہ تعالیٰ حضرت کی دینی علمی ملی قومی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
باسمہ تعالیٰ۔
آج مدرسہ حیات القرآن پسرور میں طلبہ اور طالبات کے امتحان کے موقعہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ بفضلہٖ تعالیٰ تعلیمی معیار بہت مناسب ہے۔ اور طلبہ و طالبات کی تعداد بھی محدود وسائل کے باوجود کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم جناب قاری غلام فرید صاحب زید مجدہ کی صحت و عمر میں برکت عطا فرمائے جو اس دینی ادارہ کو نہایت خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحب زید مجدہ کو اکابر علماء دیوبند کی سرپرستی میں رہتے ہوئے مزید سے مزید علمی ترقی عطا فرمائے اور مدرسہ کی ترقی کے راستہ میں حائل ہر قسم کی دشواری دور فرمائے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
(دستخط عبد القدوس خان قارن)
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۲۵ شعبان المعظم ۱۴۱۹ھ / ۱۵ دسمبر ۱۹۹۸ء
(قاری محمد عبد الباسط اعوان نقشبندی — ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
جامعہ مکیہ، گوجرانوالہ
باسمہ تعالیٰ
آج بتاریخ ۳۱ مئی ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ جامعہ مکیہ میں درسِ نظامی کی بعض کلاسوں کے طلبہ کا امتحان لینے کا اتفاق ہوا۔ بفضلہ تعالیٰ طلبہ کا تعلیمی معیار کافی اچھا ہے اور طلبہ کی اخلاقی حالت بھی قابلِ داد ہے جو کہ اساتذہ اور منتظمین کی نگرانی کا ثمرہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید سے مزید ترقی عطا فرمائے اور تمام حضرات کی مساعی کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے آمین یا الٰہ العالمین۔
(دستخط عبد القدوس قارن)
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
باسمہ تعالیٰ
آج بتاریخ ۲۴ مئی ۲۰۱۵ء جامعہ مکیہ نزد ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں درسِ نظامی کی بعض کلاسوں کے طلبہ کا امتحان لیا۔ مجموعی طور پر ما شاء اللہ نتیجہ اچھا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اساتذہ اور معاونین کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ادارہ کو دن دوگنی رات چارگونی ترقی عطا فرمائے آمین یا الٰہ العالمین۔
(دستخط عبد القدوس قارن)
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
افکار و نظریات حضرات شیخینؒ سیمینار سے خطاب
مولانا عبد القدوس خان قارن
ضبطِ تحریر : حافظ محمد عمرفاروق بلال پوری
(ادارۃ الحسنات انٹرنیشنل کے زیر اہتمام فروری ۲۰۲۳ء کے دوران جامعہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں ’’افکار و نظریات حضرات شیخینؒ سیمینار‘‘ سے خطاب)
بعد الحمد والصلوۃ۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم واما بنعمۃ ربک فحدث۔
قابل صد احترام علماء کرام، معزز سامعین عظام! آج کا یہ پروگرام حضرات شیخینؒ کے نظریات و فکر اور ان کے افکار کے بیان میں منعقد ہوا ہے۔ مجلس کا انعقاد کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں اور میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ علماء کرام اپنی اپنی سوچ کے مطابق، اپنے اپنے مطالعے کے مطابق، اپنے اپنے مزاج کے مطابق بیانات کریں گے، آپ غور کے ساتھ ان کے بیانات سنیں، میں صرف دو تین منٹ میں اپنی بات کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
تحدیثِ نعمت کے طور پر کہ پروردگار نے ہمیں ایسے حضرات کے ساتھ وابستہ کیا، نسبی لحاظ سے بھی اور علم کے لحاظ سے بھی، جنہوں نے دین کی بے لوث خدمت کی ہے۔ اس مجلس کا عنوان ہے حضرت شیخ مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے افکار و نظریات۔ مجھے اس موقع پر امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے، انہوں نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو سیرت منانے کی چیز نہیں، سیرت اپنانے کی چیز ہے۔ اسی طرح بزرگان دین کے افکار نظریات سننے کی اتنی ضرورت نہیں جتنا ان نظریات کو اپنانے اور افکار پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے بزرگوں نے دین کی جو خدمت کی تو ان کا اصل مقصد تو اللہ کی رضا اور دین کی خدمت تھا، لیکن ظاہری اسباب میں سے بھی کوئی نہ کوئی سبب پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔ مثلاً امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری شریف لکھی، اصل میں خدمت حدیث مقصود تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ظاہری طور پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر یہ بات تھی کہ اس دور میں ہر آدمی قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر بات حضورﷺ کی جانب منسوب کر دیتا، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ظاہری سبب دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب صحیح منسوب روایات کا انتخاب کر کے امت کو اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ ہر قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والا سچا نہیں ہے، آپؒ نے سچی روایات کو جمع کر کے خدمت سرانجام دی۔
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کا مجموعہ اکٹھا کیا۔ لکھنے والوں نے لکھا ہے اس دور میں کچھ لوگ غلط نظریات کا پرچار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ فقہاء کے پاس اپنے مسالک پر، اپنے نظریات پر، اپنے اعمال پر، اپنے افعال پر کوئی دلیل نہیں ہے تو امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ابو داؤد شریف لکھ کر فقہاء کو ہتھیار دے دیا۔ اگر کوئی آدمی ہاتھ سینے پر باندھتا ہے اس کو بھی دلیل دے دی اور جو ناف کے نیچے باندھتا ہے اس کو بھی دلیل دے دی۔
اسی طرح ہمارے ان دونوں بزرگوں کا جو نقطہ نظر تھا، تعبیر میں آپ فرق مان لیں، لیکن دونوں کا نقطہ نظر ایک تھا۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالی سے جو ساتھی ملتا، فارغ ہوتا، ملاقات کرتا تو اس کو ایک سبق دیتے کہ سلف کے اور اپنے اسلاف کے دامن کو نہ چھوڑنا۔ حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جب کوئی آدمی پوچھتا کہ حضرت! کوئی نصیحت فرمائیں تو فرماتے خود رائی کو نہ اپنانا۔ دونوں کا لب لباب ایک ہے کہ اپنے اسلاف سے وابستہ رہو۔ ان حضرات کا یہ فکر اور یہ نظریہ کہ اپنے اسلاف کے ساتھ وابستہ رہو، اب یہ اسلاف کے ساتھ وابستگی کا مظہر آپ حضرت شیخ کی کتابیں دیکھیں، حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں دیکھیں تو آپ کو ایک ہی بات نظر آئے گی کہ جمہور اہل سنت والجماعت کے نظریات کا تحفظ ان حضرات نے اپنا مشن بنایا۔ اکیلی اور منفرد رائے کو پیش نظر نہیں رکھا، بلکہ اس کے مقابلے میں جیسے مولانا عبدالواحد صاحب رسولنگری زید مجدہ بیان کر رہے تھے کہ حضرت شیخؒ نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ اصولی بنیادوں پر بھی ہیں، فروعی مسائل پر بھی ہیں۔ آپؒ نے جہاں اہل سنت والجماعت کے مجموعی جمہوری نظریے کی مخالفت دیکھی تو قلم اٹھایا۔
حضرت شیخؒ کی زندگی پر، ان کی کتابوں پر تبصرہ کرنے والے اپنے اپنے لحاظ سے تبصرہ کرتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ حضرت شیؒخ کی کتابیں فروعی مسائل پر ہیں، حالانکہ اس کا حقیقت کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی بعض لوگوں نے کہا کہ امام بخاریؒ کا مقصد حنفیوں کی مخالفت تھی، حالانکہ یہ تبصرہ درست نہیں ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تو اعزاز ہی حنفی اساتذہ کے ذریعے سے ہے۔ بخاری شریف میں جو ثلاثیات ہیں ان بائیس ثلاثیات میں سے بیس ثلاثیات حنفی اساتذہ سے لی ہیں، لہٰذا یہ تبصرہ کرنا کہ امام بخاری نے بخاری شریف حنفیوں کے خلاف لکھی ہے، غلط ہے۔
دیکھیے ایک ہوتا ہے اختلاف، یہاں چونکہ میرے ساتھ میرے تلامذہ بھی ہیں، میرے ساتھ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے عقیدت کا اظہار کرنے والے بھی ہیں، میں آپ حضرات سے ایک ہی اپیل کرتا ہوں۔ آج کے دور میں اختلاف برائے مخالفت ہے، اختلاف برائے اختلاف رہنا چاہیے، اختلاف برائے مخالفت نہیں ہونا چاہیے۔ امام بخاریؒ کو بھی اپنے بعض اساتذہ سے اختلاف تھا، مخالفت نہیں تھی۔ مخالفت کا معنی یہ ہے کہ محاذ قائم کر لینا، مقابلے میں اتر آنا، گالم گلوچ اور جیسے آج کل میڈیا میں ہو رہا ہے، یہ انداز نہیں۔ اختلاف کرو، اختلاف سے کوئی نہیں روکتا، مخالفت مت کرو، مخالفت کی اجازت نہیں ہے۔ مخالفت اور اختلاف میں فرق رکھیں۔ مخالفت کہتے ہیں محاذ آرائی کو، مقابلے میں نکل آنے کو، کسی کی بات برداشت نہ کر کے بازو چڑھا کر میدان میں آنے کو۔ اس مخالفت کی قباحت بیان کی جائے گی، اختلاف تو ہوتا رہتا ہے۔
ایک بات جو اس موضوع کے ساتھ متعلق نہیں، لیکن کسی نہ کسی درجے میں تعلق بھی ہے بیان کرتا ہوں۔ یہ مدرسہ انوار العلوم میرے دونوں شیخین کریمینؒ کی مادر علمی ہے۔ یہیں سے انہوں نے حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ صاحب اور مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالی سے استفادہ کیا اور انہی کی تعلیم آگے پھیلائی۔ اس لیے انوار العلوم کے حالات کو جان کر، دیکھ کر ایک قسم کا درد دل میں اٹھتا ہے کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اور چچا محترم حضرت صوفی عبدالحمید صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تعلیم حاصل کی، یہ ان کا مادر علمی ہے۔ جس طرح اپنی ماں کا احترام ہوتا ہے اسی طرح اپنے مادر علمی کا احترام اور اپنے اکابر کے مادرِ علمی کا احترام بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
مدارس اور مساجد پر کسی کی جاگیر نہیں ہے، لیکن میں ایک فقہی مسئلہ آپ سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ حضرات فقہاء نے مسئلہ لکھا ہے کہ فضا میں اڑنے والے پرندے کسی کی ملکیت نہیں، لیکن اگر کوئی آدمی شکار کر کے اس کو اپنی ملکیت میں لاتا ہے، جدوجہد کرتا ہے، محنت کرتا ہے تو اس کی محنت کے نتیجے میں وہ اس کی ملکیت ہو جاتا ہے، اس پر اس کا حق ہوتا ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممنوع ہے۔ یا جیسے سمندر کے مچھلیاں کسی کی جاگیر نہیں، لیکن اگر کسی نے شکار کر کے ان پر قبضہ کر لیا اس کی ملکیت ہو گئی تو کسی دوسرے آدمی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی ملکیت میں مداخلت کرے۔ اسی طرح مساجد و مدارس کے یہ مراکز کسی کی جاگیر نہیں، لیکن اگر کسی کی 12 سال کی، 14 سال کی، 18 سال کی، 50 سال کی محنت ہو تو اس کی محنت کو رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مفتی عبدالواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی موجودگی میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کو اس مدرسے اور مسجد کا حصے دار بنایا، پھر مولانا قاضی حمید اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کے متولی اور ذمہ دار بنے۔ اس کے بعد ہمارے عزیز مولانا محمد داؤد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی سالہا سال کی محنت ہے، لہٰذا گڑبڑ کرنے والے اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ یہ ہمارے اکابر کا مادر علمی ہے۔ جن حضرات نے محنتیں کی ہیں، ان کا حق مقدم ہے۔ یہ کسی کی جدی پشتی وراثت نہیں ہے، محنت کا حق تسلیم کرتے ہوئے ہم ان حضرات کے لیے دعاگو بھی ہیں، ان کو ثابت قدمی کا مشورہ بھی دیتے ہیں اور اُن حضرات کو جو گڑبڑ پھیلانا چاہتے ہیں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے تلامذہ سے یہی کہتا ہوں کہ دیکھو اختلاف کرو، اختلاف حق ہے لیکن مرکز سے کٹنے کی جرأت نہ کرنا۔ مرکز کی حفاظت کرنا، مرکز کے خلاف کام کرنے والے، مرکز کو اکھاڑنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھنا۔ جس کا میرے ساتھ تعلق ہے میں کھلے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا، ہمارے اکابر کا، شیخینؒ کا مادر علمی ہے۔ اگر ہم نصرۃ العلوم کے لیے قربانیاں دے سکتے ہیں تو انوار العلوم کے لیے بھی قربانیاں دیں گے ان شاء اللہ تعالی۔ یہاں محنت ہے، محنت کے ذریعے سے شریعت حق دیتی ہے۔ اس لیے یہ حق ہے علامہ زاہد الراشدی صاحب کا، یہ حق ہے مولانا محمد داؤد صاحب کا ہے، یہ حق ہے ان لوگوں کا جو ان حضرات کو ساتھ لے کر چلے اور ساتھ چل رہے ہیں۔ مداخلت کرنے والے خوامخواہ کی مداخلت سے گریز کریں، ورنہ نتائج برے سے برے ہوں گے۔
میں نے کہا کہ حضرت شیخ اور حضرت صوفی صاحب رحمہما اللہ تعالی ان حضرات کے متفقہ طور پر افکار و نظریات یہ تھے کہ اکابر کے دامن کے ساتھ وابستہ رہنا۔ صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تلقین کیا کرتے تھے کہ خود رائی سے بچنا۔ مآل دونوں کا ایک ہے۔ الفاظ مختلف ہیں تعبیر ایک ہے۔ ہم بھی اگر افکار و نظریات کا تذکرہ کرتے ہیں تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ افکار و نظریات کو اپنا کر زندگی گزاریں۔ انہوں نے جو ہمارے لیے سبق چھوڑا اسے اپنائیں۔
آپ حضرتؒ کی کتابیں دیکھیں، اب دیکھیے تبصرہ کرنے والے مختلف انداز میں تبصرہ کرتے ہیں۔ کسی نے حضرت شیؒخ کی خدمات کا یوں تذکرہ کیا کہ حضرت ؒنے رد رد رد ہی کیا ہے۔ اللہ کے بندو! ایک لمحہ کے لیے غور کرو۔ سیلاب آ جائے، ایک عمارت ہے جس کے چاروں طرف سوراخ ہیں تو عقل مند آدمی چاروں طرف کی سوراخ بند کرے گا تاکہ یہ پانی عمارت میں داخل ہو کر نقصان نہ پہنچائے۔ جہاں سے بھی اہل سنت والجماعت کے جمہوری نظریے کی مخالفت شروع ہوئی حضرات نے اس کے سامنے بند باندھا، خواہ وہ غلام جیلانی برق ہو، غلام احمد پرویز ہو، احمد رضا خان ہو یا پھر مرزا قادیانی ہو۔ جنہوں نے بھی جمہور کے نظریے کی مخالفت کی، سیلابی ریلے کی صورت میں انہوں نے ان کا رد کیا۔
اور پھر یہ آپ حضرات کے لیے عرض کروں کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالی اپنے اساتذہ میں عملی زندگی میں سب سے زیادہ متاثر تھے حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ سے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ جب دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہو کر آئے، اپنے علاقے میں رسومات دیکھیں۔ جنازے کے موقع پر رسومات، دعا بعد الجنازہ، پھر دوسرے تیسرے دن ایصالِ ثواب کے نام پر دورانِ قرآن، اسقاطِ حیلہ وغیرہ تو حضرت مولانا غلام غوث صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس دور میں جس دور میں ان مسائل کا ذکر کرنا بھی موت کو دعوت دینا تھا حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علاقے سے ان رسومات کا خاتمہ کیا۔ آج مانسہرہ، الائی، بٹگرام میں جائیں، مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کے ان افکار کو، ان نظریات کو اور اس سوچ و فکر کو اس انداز کے ساتھ عوام الناس نے مانا کہ وہاں اب ان رسومات کا بہت کم تذکرہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایک مسلک کے خلاف نہیں، بلکہ جہاں سے بھی جمہور کے مسلک کی مخالفت ہوئی انہوں نے اس کا دفاع کیا۔ اپنی جماعت میں شامل ہو کر انہوں نے مخالفت کی تو حضرت شیخ نے کوئی معافی نہیں دی، بلکہ قلم اٹھایا۔ اس لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالی اور حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے افکار و نظریات کی بنیاد سلف صالحین کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہے۔ اپنی رائے کو ٹھونسنے کی کوشش مت کرو۔ ”واما بنعمۃ ربک فحدث“ تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ پروردگار تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں ایسے اساتذہ کے ساتھ، ایسے علمی طبقے کے ساتھ، ایسے علمی خاندان کے ساتھ وابستگی نصیب فرمائی کہ ہم جتنا بھی تیرا شکر ادا کریں کم ہے۔ اللہ مجھے بھی اور آپ کو بھی عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ کے تقاضے
مولانا عبد القدوس خان قارن
(جمعیت اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام فہمِ قرآن اسلامک سنٹر، شہزاد ٹاؤن، گوجرانوالہ میں ’’فہمِ قرآن و سنت کورس‘‘ سے ۲۸ مئی ۲۰۱۹ء کو خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قابلِ صد احترام سامعینِ عظام اور میری انتہائی احترام و اکرام کے لائق خواتینِ اسلام! حضرت حافظ (گلزار احمد آزاد) صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کے بارے میں کچھ کہنے کا حکم دیا ہے، مختصر وقت میں اس کے بارے میں کماحقہ تو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن صدقہ اور زکوٰۃ کی حیثیت ایک حدیث کی روشنی میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
صدقہ اور زکوٰۃ کی حیثیت
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ تم چونکہ اللہ کے نائب ہو، اللہ نے تمام مخلوقات میں تمہیں اعلیٰ اور افضل بنایا ہے، دنیا میں تمہیں اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم انسان اپنے اندر اللہ والی صفات کو پیدا کرو۔ ’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘۔ اپنے اندر اللہ والے اخلاق کو پیدا کرو۔ اللہ پاک ہے، تمہیں حکم دیا کہ پاکی اختیار کرو۔ ظاہر کے لحاظ سے بھی پاکی، باطن کے لحاظ سے بھی پاکی، اعتقاد کے لحاظ سے بھی پاکی، اخلاق کے لحاظ سے پاکی، جسم کے لحاظ سے پاکی، کپڑوں کے لحاظ سے پاکی، معاشرت کے لحاظ سے پاکی۔ پاکی اختیار کرو۔
اسی طرح باقی صفات جو ہیں ان میں ایک صفت رب تعالیٰ کی، کہ رب تعالیٰ رب العالمین ہے، تمام جہانوں کو پالنے والی ذات ہے۔ چھوٹی سی چیز کو پالتے پالتے پالتے پالتے بڑا کر دیتا ہے۔ بندوں سے تقاضا یہ ہوا ’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ کہ تم بھی اپنے اندر وہ جذبہ رکھو کہ تمہارے کمزور طبقات جو ہیں، تم نے ان کا سہارا بنتے ہوئے رب والی صفت کو اپنے اندر پیدا کر کے، تم نے ان کی پرورش کرنی ہے۔ اللہ کے نائب کی حیثیت سے، ’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے۔ اب ایک آدمی اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، گویا رب تعالیٰ کی وصفِ ربوبیت جو ہے اس کا اظہار بندے نے اپنے اندر کیا، کہ پروردگار کے حکم کے ساتھ میں اللہ کی مخلوق کو روزی عالمِ اسباب پہ دے رہا ہوں۔ حقیقت پہ تو اللہ دیتا ہے۔ اس کا مرتبہ کتنا ہوگا!
اور اسی کے ساتھ مماثلت اور مشابہت بیان کرنے کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ تم جب صدقہ کرتے ہو، تم سمجھتے ہو کہ معمولی ہے، اللہ تو اس کو یوں پالتا ہے جس طرح تم اپنے جانور کے بچوں کو پالتے ہو۔ بکری ہے چھوٹی، پالتے پالتے۔ فرمایا، خود محشر کے میدان میں آدمی حیران و پریشان ہوگا کہ یہ مجھے کس چیز کا بدلہ دیا جا رہا ہے؟ فرشتوں سے پوچھے گا۔ فلاں وقت میں تو نے کسی کو کھانا کھلایا تھا نا، فلاں وقت میں تو نے کسی کی حاجت پوری کی تھی، فلاں وقت میں تو نے کسی محتاج کو اس کی احتیاجی دور کرنے کے اسباب دیے تھے، یہ اس کا بدلہ ہے۔ آدمی خود حیران ہوگا۔ اس لیے صدقہ و خیرات کے بارے میں۔
اور پھر یہ کہ زکوٰۃ جو ہے، زکوٰۃ کے بارے میں حضرات نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ زکوٰۃ نکالو اپنے مالوں کی، ورنہ یہ زکوٰۃ والا مال اگر تمہارے باقی مادہ مال کے اندر باقی رہے گا تو سارے مال کو فاسد اور برباد کر دے گا۔ اس کی مثال جسم کے اندر ایسے پھوڑے کی سمجھی جائے، جب تک آپریشن کے ساتھ اس کو کاٹتے نہیں، باقی جسم کی صحت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، سارے جسم کے برباد ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ فرمایا، اسی طرح اگر کوئی آدمی زکوٰۃ کا مال نہیں نکالتا تو اس کا باقی مادہ سارے کا سارا مال فاسد ہوگا، باطل ہوگا، اور اگر تم چاہتے ہو کہ اپنے باقی مادہ مال کو پاک کرو، زکوٰۃ جو پروردگار نے فرض فرمائی ہے، اس زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔ اس کے ساتھ ایک تو اللہ والی صفت تمہارے اندر آئے گی، کہ پروردگار رب ہے اور تم بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ ترس کھاتے ہوئے عالمِ اسباب میں اس کی روزی کا انتظام کرتے ہو۔ تو یہ صدقہ خیرات کے بارے میں۔
اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، فرمایا کہ رمضان المبارک میں تو آپؐ، یہ ریحِ مرسلہ، یہ چلتی ہے ہوا، یہ ہوا تو معمولی سا سوراخ دیکھ کر بھی اندر گھس جاتی ہے، فرمایا اس ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے رمضان المبارک میں۔ اس لیے آپؐ نے ترغیب دی کہ اپنے باقی مادہ مال کو پاک کرنے کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کی جائے۔ اور اللہ کے ہاں قُرب حاصل کرنے کے لیے پروردگار کی مخلوق پر ترس کھاؤ۔ اب دیکھیے مخلوق پر ترس کھانا، یہ کوئی معمولی عمل نہیں، ہم تو اپنے معاشرے میں چونکہ غافل ہیں اور غفلت کی وجہ سے ہمیں پتہ نہیں چلتا۔
خلقِ خدا پر ترس کھانے کا وصف
خلقِ خدا پر ترس کھانا، بخاری شریف کی روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ایک ایسا آدمی جس نے، ایمان تو اس کے اندر تھا، لیکن کبھی نیک عمل نہیں کیا تھا۔ رب تعالیٰ نے رحمت کے فرشتوں کو کہا اس کی موت کے وقت کہ اس کی روح تم نے قبض کرنی ہے۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے تو کبھی نیک عمل کیا ہی نہیں ہے اور ہمیں حکم دیا جا رہا ہے کہ تم نے اس کی روح کو قبض کرنا ہے۔ فرشتوں نے اس سے سوال کر دیا، بندے تیری کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا، سوچ میں پڑ گیا، نہیں میں نے تو کبھی نیک کام نہیں کیا، ہاں اتنی بات ہے ایک، وہ یہ کہ میں تاجر تھا، تجارت میرا پیشہ تھا، میں نے اپنے کارندوں سے اپنے ملازموں سے اپنے خادموں سے یہ کہہ رکھا تھا کہ دیکھو اگر کوئی کمزور آدمی آئے درگزر کا معاملہ کرو، اور اگر کوئی آدمی تم سے مہلت مانگتا ہے تو مہلت دو، اور اگر بہت زیادہ کمزور ہے تو درگزر کا معاملہ کرو۔ ادھر اس نے فرشتوں سے یہ کہا، غیب سے آواز آئی، میرے بندے! اگر تیرے دل میں میری مخلوق کے بارے میں یہ ترس کا مادہ تھا، تو میں تیرے ساتھ ترس کا معاملہ کیوں نہ کروں؟ میں تیرے ساتھ ترس کا معاملہ کیوں نہ کروں؟ اس لیے ایک تو مخلوق کے ساتھ ترس کا معاملہ ہے، رب تعالیٰ کی ربوبیت والی صفت کا بندہ عالمِ اسباب میں اظہار کرتا ہے تو یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ریاکاری سے بچاتے ہوئے ہماری ہر عبادت کو قبول فرمائے۔
علماء کی قدر کا درست مفہوم
حضرت حافظ صاحب نے آپ کو یہ ارشاد فرمایا کہ علماء کی قدر کرنی چاہیے۔ علماء کی واقعی قدر کرنی چاہیے، لیکن قدر کا مفہوم بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے، قدر کس کو کہتے ہیں؟ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے، کہتے ہیں میرا ایک مرید تھا، اس مرید کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ میں حضرت کا جوتا اٹھاؤں۔ ہمارے ہاں قدر اِعزاز یہ آگیا جی، جوتا اٹھاؤ۔ فرماتے ہیں میں اس کو موقع نہیں دیتا تھا، میں جا کر اپنا جوتا خود اٹھاتا۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ جوتے تک میرے پہنچنے سے پہلے پہلے وہ پہنچ گیا، ادھر میں بھی پہنچ گیا۔ جب میں اپنے جوتے کو اٹھانے لگا تو اس نے مجھے دھکا دیا، مجھے گرا دیا اور جوتا اٹھا لیا۔ اپنے طور پر مجھے دیکھ کر فاتحانہ انداز میں وہ مسکرایا، ہنسا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے اس بیچارے کو کیا پتہ کہ قدر کیا ہوتی ہے۔ کیا دھکا دے کر جوتا اٹھانا یہ قدر ہے۔
آج ہم معاشرے کے اندر نظر دوڑائیں تو قدر جو ہے اس کو بھی ہم نے ایک مذاق بنا دیا۔ موقع کی مناسبت میں آپ حضرات سے کہنا چاہتا ہوں، آج کے دور میں دیکھا دیکھی یہ فیشن آگیا، حافظ صاحب نے ختم کیا ہے اس کو پھولوں کا ہار پہناتے ہیں، پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ علماء آئے، ان پر یہ پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ قاری صاحب نے تلاوت کی، پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ نعت خوان نے نعت پڑھی، پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ حالانکہ پتیاں نچھاور کرنا اس کے اعزاز کے ساتھ ساتھ اس جگہ کو آلودہ بھی تو کرتا ہے۔ اور مسجد میں اگر پروگرام ہے تو مسجد کو تم نے آلودہ کر دیا، بعد میں مسجد کی صفائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سوموار کو میری امت کے اعمال میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ نیکی اور بدی یہ پیش کی جاتی ہے، فرمایا اگر کسی آدمی نے مسجد میں گند ڈالا اس کی برائی بھی میرے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ اور آپ اندازہ کریں امتی کے کسی برے عمل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا جائے تو کیا آپ کا دل دکھتا نہیں ہوگا؟ اب صرف ایک جانب کو پیشِ نظر رکھا، جی مولوی صاحب آئے ہیں ان پر پتیاں نچھاور کرو، قاری صاحب نے تلاوت کی ہے پتیاں نچھاور کرو۔ لیکن دوسری جانب نظر ہی نہیں کہ کیا ہماری اس حرکت سے اللہ کا گھر مسجد یہ آلودہ تو نہیں ہو رہی۔ اس لیے فرمایا کہ مومن آدمی جو ہے، مومن آدمی ہر جانب دیکھتا ہے۔ اگر کسی آدمی کی ایک آنکھ ہو وہ ایک آنکھ کے ساتھ ایک ہی جانب دیکھے گا۔ لیکن مومن آدمی ہمہ جانب دیکھتا ہے۔ کیا یہ صرف احترام ہے یا احترام کے ساتھ بے احترامی کا پہلو بھی پایا جاتا ہے؟ بے احترامی نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے درمیان میں ضمناً یہ بات آگئی۔
سوال و جواب کے ذریعے تعلیم اور اس کے تقاضے
اسلام میں بھی اور دیگر مذاہب میں بھی یہ سوالات کا سلسلہ تعلیم کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ تعلیم میں یہ انداز بعض بعض معاملات میں زیادہ کارگر زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سوالات پوچھتے رہے، حتیٰ کہ پروردگار نے جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا، انہوں نے آ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے تاکہ امت کو تعلیم کا یہ انداز اختیار کرنے میں کوئی قباحت نظر نہ آئے کہ سوال کیا اور سوال کا جواب حاصل کیا۔
لیکن ایک دور ایسا آیا جس دور میں یہود و نصاریٰ کے اکسانے پر منافقین نے آپؐ کو پریشان کرنے کے لیے، آپؐ کا وقت ضائع کرنے کے لیے، حضراتِ صحابہ کرام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان رکاوٹ ڈالنے کے لیے ایسے سوالات شروع کر دیے جو بالکل لا یعنی قسم کے ہوتے۔ بخاری شریف کی روایت ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، کچھ لوگوں نے سوالات شروع کر دیے۔ ایک کہنے لگا، میرا ابا کون ہے؟ ایک کہنے لگا جی میری اونٹنی کہاں ہے؟ کیا اللہ کا نبی یہ بتانے کے لیے ہے؟
اسی کی روشنی میں، میں عوام الناس سے یہ درخواست بھی کرتا ہوں کہ کسی عالم کے پاس جائیں مسئلہ پوچھیں، مسئلہ جو زندگی کے اندر مذہبی حیثیت سے فائدے اور نقصان کا باعث بننے والا ہو، وہ پوچھیں۔ اس سے وہ باتیں نہ پوچھیں جو اس کے علم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں بلکہ وہ تو اللہ کے علم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ آدمی آ جائے حافظ گلزار صاحب کے پاس اور آ کر کہے حافظ صاحب میری چوری ہو گئی ہے بتاؤ میری چوری کس نے کی ہے، میری چوری کرنے والا کہاں ہے؟ یہ مسائل علماء سے نہیں پوچھے جاتے۔ علماء سے مسائل، جو دنیاوی لحاظ سے، اُخروی لحاظ سے، یہ مسائل پوچھے جاتے ہیں۔
اللہ کے نبی سے بھی ان سوالات کی اجازت تھی جو دین کی تقویت کا باعث بنتے، جو معاشرے کے اندر اصلاح کا باعث بنتے ہیں۔ اب یہ سوال کہ میرا ابا کون ہے؟ میری اونٹنی کہاں گئی؟ اس طرح کے اوٹ پٹانگ قسم کے سوالات۔ اللہ کے نبی کو غصہ آیا، صلی اللہ علیہ وسلم، اور پروردگار نے سارے غیبی پردے ہٹا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر چیز کو ظاہر کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا، اچھا تم میرا امتحان لینا چاہتے ہو! پوچھو، میں تمہیں جواب دوں گا ’’ما دمت فی مقامی ھذا‘‘ جب تک میں اس مجلس کے اندر موجود ہوں جو سوال کرو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ اس لیے کہ پروردگار نے غیب کے سارے پردے اس وقت ہٹا دیے تھے۔ اور یہ آپ کا انداز ناراضگی کا تھا۔ اور اللہ کا ولی، عالم جب غصے میں کہتا ہے نا کہ پوچھو! اب اس میں ایک دھمکی بھی ہوتی ہے۔ اللہ کے نبی نے غصے سے کہا۔
معاملہ فہمی کی ضرورت و اہمیت
لیکن ہمارے ہاں غصے کو بھی غصہ نہیں سمجھا جاتا۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بیمار تھے، بستر پر پڑے، اور وقت لینے والے آئے تو حضرت کی اٹھنے کی حالت نہیں تھی۔ حضرت نے غصے میں کہا ’’ایمبولنس لاؤ اور لے جاؤ‘‘۔ تھوڑی دیر گزری وہ ایمبولنس لے کر آ گئے اور لا کر مکان کے سامنے کھڑی کر دی۔ گکھڑ والے حیران کہ حضرت کے مکان کے سامنے ایمبولنس آگئی ہے، پتہ نہیں کیا معاملہ ہے، وہ اکٹھے ہوئے تو پتہ چلا کہ وہ تو حضرت کے غصے کے انداز کو عام جواب سمجھتے ہوئے ایمبولنس لے کر آگئے۔ جی ہم نے اپنے جلسے کے لیے لے جانا ہے آپ نے کہا تھا ایمبولنس لے آؤ، ہم ایمبولنس لے آئے ہیں۔ اب یہ غصے کا انداز جو ہے اس کو سمجھنا چاہیے ایسے معاملات میں۔
اس لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، آپ ناراض ہوئے، ہائے ہائے، اللہ کیسے آپ کی ناراضگی کو برداشت کر سکتا ہے، اللہ نے حکم اتار دیا ’’یا ایھا الذین اٰمنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسؤکم‘‘ ایمان والو! فضول قسم کے سوال مت کرو، جواب ملا تو برا لگے گا۔ جیسے اس آدمی کو برا لگا، ایک آدمی کی باپ کے علاوہ کسی اور کی جانب نسبت کی جاتی تھی، جب آپؐ نے کہا کہ تیرا باپ وہی ہے جس کی جانب نسبت کی جاتی ہے، تو حلال زادہ نہیں ہے۔ برا مانا۔ فرمایا، سوال ہی کیوں کیا تھا ’’میرا ابا کون ہے جی؟‘‘ حقیقتِ حال سامنے آئی برا مانا۔ فرمایا کہ اگر حقیقتِ حال سامنے آئے گی، تم برا مناؤ گے۔ اس لیے ایسے سوالات مت کرو جن سوالات میں تمہیں جواب اچھا نہ لگے۔
سوالات کے جوابات
اس لیے اپنی اصلاح کے لیے، اپنے گرد و پیش کے لوگوں کی اصلاح کے لیے سوالات کرنا اچھی چیز ہے۔ اور سوالات کرنے والا جب سوال کے ذریعے سے علم کی بات کو اجاگر کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں جہاد کے مترادف ہے، اس لیے یہ جہاد کی ایک قسم ہے۔ میری جن بہنوں نے، میرے جن بھائیوں نے یہ سوالات کیے ہیں تو وہ دینی جذبے کے ساتھ کیے ہیں، اپنی اصلاح کے لیے کیے ہیں، اپنے عقائد و اخلاق و اعمال کی درستگی کے لیے، اپنی عبادات کو صحیح قائم رکھنے کے لیے انہوں نے کیے ہیں، اس لیے یہ جوابات دیے جا رہے ہیں۔
کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا
سوال: میری ایک بہن پوچھتی ہے کہ ہم کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں، جبکہ ہم نے یہ سنا ہے کہ جس لباس میں تم اپنے دوست کے پاس ملاقات کے لیے نہ جا سکو، ایسا لباس تم پہن کر اللہ کے حضور حاضر نہ ہو۔
جواب: دیکھیے، ایک ہے لباس کا صاف ستھرا ہونا، ایک ہے پاک ہونا۔ نماز کے لیے پاک لباس کی، بلکہ عورتوں کو تو گھر کے کام کاج کے کپڑے پہن کر مسجد میں وعظ سننے اور مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت مشروط ہے۔ بھڑکیلے لباس کے ساتھ عورتوں کو منع کیا گیا کہ تم بھڑکیلے لباس کے ساتھ، زیورات کی نمائش کے لیے، اپنے کپڑوں کے فیشن کی نمائش کے لیے تم نماز کے لیے بھی نہیں جا سکتیں۔ فرمایا کہ عورتیں اگر تم سے اجازت مانگیں کہ ہم نے مسجد میں نماز پڑھنے جانا ہے، ہم نے دینی مجلس میں وعظ سننے کے لیے جانا ہے، فرمایا، ان سے کہو اپنے گھر کے کام کاج والے کپڑوں میں جائیں۔ اگر تو واقعی تیار ہو جائیں تو پھر ان کی خواہش ہے وعظ سننے کی، مسجد میں نماز پڑھنے کی۔ اور اگر یہ کہیں کہ ہم نے اس لباس میں نہیں جانا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فیشن دکھانا مقصود ہے، نماز پڑھنا مقصود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں روک دو۔ مردوں کو حکم دیا، فرمایا کہ اگر یہ گھر کے کام کاج کے کپڑوں میں جانے کو پسند کرتی ہیں تو پھر تو واضح بات ہے کہ ان کا مقصد نماز کے لیے جانا ہے، وعظ کی بات سننے کے لیے جانا ہے۔ اور اگر یہ اور مقصد کے لیے جاتی ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ وعظ کے لیے نہیں، نماز کے لیے نہیں، بلکہ اپنے فیشن دکھانے کے لیے، ایسی عورتوں کو تو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
تو یہ پاک ہونا چاہیے۔ ہر آدمی صاف ستھرا لباس پہننے کے لیے ہر نماز میں گھر نہیں جا سکتا، بدل کر نہیں آ سکتا، جو دکان میں پہنا ہوا ہے اسی میں جا کر نماز پڑھ لے شریعت اجازت دیتی ہے بشرطیکہ پاک ہو۔ ہاں جمعے کے دن کے لیے کہا کہ ذرا دھلے ہوئے کپڑے پہن کر آؤ، مجمع زیادہ ہوتا ہے، کہیں تمہارے ایک دوسرے کے کپڑے سے یہ پسینے کی بو کی وجہ سے آس پاس بیٹھے ہوؤں کو تکلیف نہ پہنچے۔ جمعے کا مسئلہ، عید کا مسئلہ الگ ہے۔ عام نمازوں میں کپڑا پاک ہونا چاہیے، صاف ستھرا ہو یا کچھ اس پر دھبے بھی لگے ہوں، کوئی حرج کی بات نہیں۔
پیوند لگے کپڑے پہننے کی سنت
سوال: یہ کہتے ہیں جی، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے تھے۔
جواب: سنت تو یہی ہے، سنت تو یہی ہے۔ لیکن بعض دفعہ مجبوری ہو جاتی ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی، شوق ہوا کہ اپنے لباس میں بھی سادگی لائیں۔ میں مسجد نور کا امام تھا، اب بھی ہوں۔ بیٹھے بیٹھے کیل کے ساتھ شلوار اڑ گئی اور وہ پھٹ گئی۔ میں نے کہا موقع ملا ہے پیوند والے کپڑے کو پہننے کا، تو میں نے درزی کو دیا اس نے پیوند لگا دیا۔ وہ چونکہ درمیان میں ایک کپڑا اور لگانا تھا، وہ واضح طور پر نظر آ رہا تھا، ایک نماز پڑھائی، اگلے دن دیکھا دو نئے سوٹ سلے سلائے لا کر مجھے پیش کر دیے گئے، حضرت! آپ ہمارے امام ہیں اور پیوند لگا ہوا کپڑا آپ پہنیں تو ہمارا جی نہیں چاہا ہم دو سوٹ جو ہیں آپ کے لیے سلوا کر لائے ہیں۔ اللہ کے بندے! ہماری خواہش کیا تھی تم نے کیا کر دیا؟
اس لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ادائیگی، یہ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہننے چاہئیں۔ بشرطیکہ دوسرے لوگ اس سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں، اور اگر دوسرے لوگ جس طرح میرے اس مقتدی نے غلط فائدہ اٹھایا، تو اس لیے ہم ذرا احتیاط کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے پیوند لگے ہوئے نہیں پہنتے۔ جی چاہتا ہے پہنیں، لوگ نہیں پہننے دیتے۔ فرمایا کہ عام کپڑوں کے اندر نماز ہو جاتی ہے بشرطیکہ پاک ہوں۔
مہندی کے علاوہ کسی رنگ سے بال رنگنا
سوال: یہ کہتے ہیں جی مہندی کے علاوہ بالوں کو کسی رنگ سے…
جواب: دیکھیے، مہندی ہو یا مہندی کے علاوہ کوئی اور رنگ ہو، عورتوں کے لیے جائز ہے۔ اس لیے کہ عورتوں کو اپنے گھر میں اپنے خاوند کے لیے ہر ایسا انداز اختیار کرنے کی اجازت ہے جو اس بیوی کی قدر، عزت، محبت خاوند کے دل میں ڈالے۔ وہ مہندی لگائے، بالوں کو کالا کرے، عورتوں کے لیے اجازت ہے۔ ہاں مرد بوڑھا کالا خضاب نہ لگائے، بالکل کالا کہ وہ بوڑھا جوان نظر آنے لگ جائے، اس کو تو منع کیا گیا۔ ہاں کسی اور رنگ کے ساتھ رنگا ہوا جس سے پتہ چلے کہ اس نے خضاب لگایا ہے ایسا خضاب لگانے کی مرد کو (اجازت ہے)۔ عورتوں کو کھلی چھٹی ہے، لیکن وہ رنگ ایسا ہو جو جسم میں پیوست نہ ہوتا ہو، لیپ نہ کرتا ہو، اگر لیپ ہو جاتا ہے تو وہ ناخن پالش کی طرح ہوگا، تو ناخن پالش چونکہ اوپر لیپ ہو جانے کے بعد اصل جسم پر پانی نہیں پڑتا، نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل ہوتا ہے۔ اور اگر اس کی صرف رنگت ہے تو رنگت میں عورتوں کو کھلی چھٹی ہے، وہ بیوٹی پارلر کی بجائے اپنے گھریلو جو حسن کے انداز ہیں وہ اختیار کریں۔
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
سوال: کہتے ہیں جی کرسی پر بیٹھ کر…
جواب: دیکھیے بھئی، شریعت نے نرمی کا حکم دیا ہے، ایک آدمی اگر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے۔ بیٹھنے میں بھی جو انداز اختیار کر سکتا ہے، اگر التحیات کی صورت میں بیٹھ سکتا التحیات کی صورت میں بیٹھے، گوٹھ مار کر بیٹھ سکتا ہے گوٹھ مار کر بیٹھے، اور اگر کسی اور انداز میں بیٹھنا چاہتا ہے تو بے شک ٹانگیں وہ قبلے کی طرف پھیلا کر نماز پڑھ سکتا ہے، شریعت نے اجازت دی ہے۔ لیکن اس آدمی کے لیے جس کو قیام کی ہمت نہ ہو اور رکوع اور سجدہ، یہ کرے۔ اگر رکوع اور سجدے کی ہمت نہیں تو رکوع اور سجدے کا اشارہ کرے۔
اب یہ زمین پر بیٹھنا، شریعت کی جانب سے یہ قیام کا متبادل ہے۔ اور ہم نے اپنے طور پر بیٹھنے کا ایک اور متبادل نکال لیا، وہ ہے کرسی پر بیٹھنا۔ یہ کرسی پر بیٹھنا قیام کا متبادل نہیں، یہ کرسی پر بیٹھنا زمین پر بیٹھنے کا متبادل ہے۔ لہٰذا وہ آدمی جو زمین پر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ کرسی پر بیٹھ کر پڑھے۔ شریعت نے متبادل بتایا ہے، متبادل ہے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا، اس میں بھی انداز، شریعت نے اجازت دے دی، تم گوٹھ مار کر بیٹھ سکتے ہو، تم التحیات کی صورت میں بیٹھ سکتے ہو، تم ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ سکتے ہو۔ زمین پر بیٹھو۔ اور یہ کرسی پر بیٹھنا یہ زمین پر بیٹھنے کا متبادل ہے۔
اور یہ حضرات آپ کو بتائیں گے کہ متبادل اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب اصل کی ہمت نہ ہو۔ اگر اصل پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں پھر متبادل کی اجازت نہیں ہوتی۔ قیام کی طاقت ہے، بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت نہیں ہے فرض نماز۔ نفل میں تو گنجائش ہے۔ اسی طرح جس آدمی کو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی ہمت ہے وہ کرسی پر نماز پڑھنے سے گریز کرے، اس لیے کہ یہ متبادل ہے۔ متبادل اس صورت میں جب کہ اصل پر عمل کرنے کی ہمت نہ ہو۔
اس لیے یہ کرسی پر نماز پڑھنا، یہ ان لوگوں کے لیے، جو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے، ٹانگوں میں درد ہے، گھٹنے میں درد ہے، بواسیر کا پھوڑا ہے، بھگندر ہے جو زمین پر بیٹھنے نہیں دیتا، ایسے لوگ بڑے ہیں۔ اور جن کے صرف گھٹنوں میں درد ہے وہ کرسی کی بنسبت زمین پر آسانی کے ساتھ ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ سکتے ہیں، وہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھیں تاکہ زمین پر جسم کا زیادہ سے زیادہ حصہ لگے۔ اگر رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتے تو زمین پر بیٹھے ہوئے وہ اشارہ کریں۔ اشارے کے ساتھ نماز پڑھیں تاکہ کم از کم قیام کا متبادل، زمین پر بیٹھنے کی صورت میں شریعت نے جو بتایا ہے، اس پر عمل پیرا ہو سکے۔
سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کا زیور پہننا
سوال: یہ کہتے ہیں جی سونے چاندی کے علاوہ چوڑیاں پہننا …
میں نے کہا عورتوں کو اللہ نے کھلی چھٹی دی ہے، وہ ہیرے کی انگوٹھی پہنیں، وہ کانچ کی چوڑیاں پہنیں، وہ لوہے کی انگوٹھیاں پہنیں، لوہے کے کڑے پہنیں، چاندی کے پہنیں، سونے کے پہنیں، پیتل کے پہنیں، جو پہن سکتی ہیں پہنیں، بشرطیکہ صرف اپنے گھر والوں کے سامنے اپنے خاوند کے سامنے زینت کے اظہار کی نیت ہو۔ اگر صرف اپنے خاوند کے سامنے زینت کے اظہار کی نیت ہے اس عورت کو ثواب ملے گا، اس عورت کو ثواب ملے گا، اس لیے کہ جو عورت اپنے خاوند کے دل کو اپنی جانب مائل رکھنے کے اسباب اختیار کرتی ہے، وہ گھر کو، گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کا انداز اختیار کرتی ہے، اس کو اس کے ایک ایک عمل کا اچھا بدلہ ملےگا۔ اس لیے عورتیں، یہ کانچ کی پہنیں، سونے کی پہنیں چاندی کی پہنیں لوہے کی پہنیں، جو بھی زیور، عورتوں کے لیے اجازت ہے۔ ہاں اگر سونے کی ہیں تو ان کی زکٰوۃ دینا ضروری ہوگا۔
ناخنوں پر رنگ لگانا
سوال: یہ کہتے ہیں جی ناخنوں پر سرخ مہندی …
تو میں نے کہا کہ کالی ہو یا سرخ ہو بشرطیکہ وہ لیپ نہ کرتی ہو اور صرف رنگ لاتی ہے تو ایسی مہندی عورتوں کو لگانے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ مرد اس صورت میں لگا سکتے ہیں جب بطورِ علاج ہو۔ گرمی کا موسم ہے حکیم نے کہہ دیا پاؤں پر مہندی لگاؤ بھئی۔ مرد بطور علاج لگا سکتے ہیں، عورت بطور زینت لگا سکتی ہے۔ بشرطیکہ زینت کا اثر اپنے صرف گھرانے کے اندر اندر ہو، اور اپنے خاوند کے سامنے ہو۔
جہیز کی رقم یا سامان پر زکوٰۃ
سوال: یہ میری بہن کہتی ہے کہ بچی پیدا ہوتی ہے، والدین اس کو بیاہنے کی تیاری میں سامان جہیز کا تیار کرتے ہیں۔
دیکھیے، اگر جہیز سامان کی صورت میں ہے اس پر تو زکوۃ نہیں، ہاں اگر انہوں نے بینک میں پیسہ اس نیت کے ساتھ جمع کرانا شروع کیا ہوا ہے، یا کوئی زیور رکھا ہوا ہے، تو اس زیور پر، اور جو بینک میں یا گھر میں پیسہ رکھا ہوا ہے اس کی شادی کے لیے، جب تک اس کی شادی نہیں ہوتی اگر وہ زکوٰۃ کے نصاب تک مال پہنچتا ہے تو اس کی زکوٰۃ لازم ہے، جب تک اس کو خرچ نہیں کریں۔ تو یہ جو گھروں میں بسترے بنا لیتی ہیں بیویاں اور یہ رکھ لیتی ہے سامان، اس سامان پر نہیں ہے۔ بلکہ نقدی ہو، زیور ہو، یہ جو تیار کر کے رکھیں گی ان پر زکوٰۃ ہو گی۔ یہ جہیز کا جو سامان باقی ہے اس پر نہیں ہو گی۔
شادی سے پہلے تصویر یا براہ راست دیکھنا
سوال: یہ میری بہن پوچھتی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ شادی سے پہلے دکھائی گئیں، تو اس کا معنی یہ ہوا کہ مرد عورت کو شادی سے پہلے، اس کی تصویر دیکھ سکتا ہے۔
ایک لمحے کے لیے سوچیں کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہی عمل ہمارے لیے قابلِ عمل ہے؟ کیا باقی اعمال کی پرواہ ہم کرتے ہیں؟ ام المومنینؓ، یہ تو معجزہ تھا حضورؐ کا۔ باقی رہا یہ کہ شرعی نقطہ نظر سے مرد عورت کو خفیہ نظر سے، عورت مرد کو گھر والوں کی اجازت کے ساتھ، اپنے طور پر نہیں، گھر والوں کی اجازت کے ساتھ کہ یہ بچہ ہے ہم نے تیری شادی اس کے ساتھ کرنی ہے ذرا ایک نظر دیکھ لے، پردے میں دیکھ لے۔ عورت بھی دیکھ سکتی ہے، مرد بھی دیکھ سکتا ہے، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
اب چونکہ آج کا دور جو ہے قیاس در قیاس کا ہے۔ جی دیکھنے کی اجازت ہے تو پھر ملاقات کی بھی اجازت ہے۔ ملاقات کی اجازت ہے تو پھر گلشن پارک لے جانے کی بھی اجازت ہے۔ گلشن پارک میں لے جانے کی اجازت ہے تو سینما گھر میں بھی۔ یہ قیاس در قیاس کے دروازے بند کرنے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے مرحلے میں ہی قدم روک دو۔ اور اگر یہ شرعی قدم ہے تو شادی سے پہلے دیکھا جا سکتا ہے۔ راہ جاتے ہوئے عورتیں دیکھتی ہیں، بیٹھا ہے دکان پر، نظر پڑ گئی، کوئی حرج کی بات نہیں، ٹھیک ہے بھئی۔ لیکن والدین کی اجازت کے ساتھ کہ فلاں بچہ ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح کرنا چاہتے ہیں، جاتے جاتے نظر پھیر لینا۔ تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
عورت مرد کو دیکھ سکتی ہے، مرد عورت کو دیکھ سکتا ہے۔ ہاں ایک شرط کہ دیکھنے کے بعد کسی قسم کی جانبین میں سے کسی کی تذلیل کا ذریعہ نہ بنے۔ جیسے یہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے۔ ’’اسی ویخ آئے ساں سانوں نئیں چنگا لگا‘‘۔ اس بیچارے کی کیوں تذلیل کرتے ہو؟ ہم دیکھ آئے تھے ہمیں کُڑی پسند نہیں آئی۔ کیا ضرورت ہے؟ تم نے دیکھا ہے، تمہیں شریعت نے اجازت دی، لیکن آگے تبصرے کی اجازت نہیں ہے۔ تمہارا جی نہیں چاہتا، نہ کرو، تبصرے کیوں کرتے ہیں؟ یہ تبصرے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ تذلیل ہے۔ دیکھنے کی اجازت ہے، تذلیل کی اجازت نہیں ہے۔ یہ شریعت ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیؓ سے فرمایا کہ انصار کی عورت کے ساتھ تیرا رشتہ طے ہوا ہے، تو نے دیکھا ہے؟ کہنے لگے، نہیں۔ فرمایا، دیکھ لے، پہلی نظر جو ہے وہ دل میں محبت کو پیدا کرتی ہے۔ اس لیے یہ قید کے ساتھ کہ آگے تذلیل کا باعث نہ بنے، ذلت کا باعث نہ بنے، تو دیکھ سکتے ہیں، کوئی حرج کی بات نہیں۔ تصویر تو تصویر، بظاہر بیٹھے ہوئے دوکان پر اس بچے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ریشمی دوپٹے کے ساتھ نماز پڑھنا
سوال: کہتے ہیں جی ریشمی دوپٹہ لے کر نماز پڑھنا …
دیکھیے، دوپٹہ اس کو کہا جاتا ہے جس کے ساتھ سر ڈھانپا جا سکے۔ ریشمی کپڑا اگر ایسا ہے جو سر پر ٹھہرتا نہیں، بار بار گرتا ہے، بار بار گرتا ہے۔ ایک تو نماز کے اندر عملِ کثیر ہوگا کہ اس کو سر ڈھانپنے کے لیے بار بار جسارت کرنی ہو گی۔ اور دوسرا یہ کہ ہو سکتا ہے کہ سر سے یکدم وہ ریشمی کپڑا اتنا گر جائے کہ سر ننگا ہو جائے۔ جب آدھا سر ننگا ہو گیا تو نماز پڑھی ہوئی باطل ہو گئی، دوبارہ نماز پڑھے۔ اس لیے اگر یہ نیت ہے کہ وہ بار بار گرتا ہے، میں بار بار سنبھالتی ہوں، تو پھر تو احتیاط چاہیے، ایسا کپڑا سر پر رکھنا چاہیے جس کے گرنے کا امکان کم ہو اور زیادہ حرکات نماز میں نہ کرنی پڑیں۔ اس لیے اگر وہ کپڑا بار بار گرتا ہے تو ایسا کپڑا لے کر نماز پڑھنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
عینک کے ساتھ نماز پڑھنا
سوال: یہ کہتے ہیں جی عینک لگا کر نماز پڑھنا …
کوئی حرج کی بات نہیں، بشرطیکہ ناک اور ماتھا دونوں زمین پر لگتے ہوں۔ اور اگر فیشنی عینک ہے جو ماتھے کو زمین پر نہیں لگنے دیتی، اونچی ہے، تو پھر ایسی عینک کی احتیاط کرنی چاہیے۔ ویسے نماز عینک کے ساتھ، کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
میک اپ کے ساتھ نماز پڑھنا
سوال: یہ میری ایک بہن پوچھتی ہے کہ میک اپ کر کے نماز پڑھنا …
اسی قسم کا سوال ایک دفعہ ہوا، ایک نیک خاتون تھی، اچھے کپڑے پہن کر میک اپ کر کے وہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑی ہوئی۔ اس کے گھر والوں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ کہنے لگی، اللہ نے فرمایا ’’خذوا زینتکم عند کل مسجد‘‘ مسجد سے مراد نماز۔ ہر نماز کے وقت تم زینت اختیار کرو۔
لہٰذا اگر ایسی چیزیں، ایسی کریم، میک اپ میں ایسا سامان جس کے اندر حرام کی ملاوٹ نہ ہو۔ بعض بعض پرفیوم ایسے آئے جن کے اندر شراب کی کثرت کی وجہ سے ان کو لگانا ممنوع قرار دیا گیا۔ ایسی ایسی لپسٹکیں آئیں جن کا لگانا ممنوع ہے۔ وہ تو نہ لگائے۔ کہتے ہیں، یہ کھوتے کی کھال لے جاتے ہیں چائنا والے، اس سے میک اپ کا سامان تیار کرتے ہیں۔ اگر کھوتے کی کھال کا بنایا ہوا ہے تو ایسے میک اپ کے سامان کے ساتھ تو عورت اللہ کے حضور حاضر نہ ہو۔ ہونٹ اپنے صاف کر کے، اپنا چہرہ صاف کر کے۔ لیکن اگر ایسا سامان نہیں، صرف زینت کا سامان ہے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ عورت بنی سنوری بیٹھی ہے، دلہن ہے، اور نماز کا وقت ہو گیا، اٹھے اٹھ کر نماز پڑھے اگر پاک ہے۔ اور اس میک اپ کے استعمال کے ساتھ کوئی حرج نہیں نماز پڑھنا۔
اگر وضو نہ ٹھہرتا ہو
سوال: یہ میری بہن پوچھتی ہے کہ اگر کسی کا وضو نہ ٹھہرتا ہو …
جواب: مثلاً کسی پیشاب والے کے پیشاب کے قطرے نہیں رکتے۔ استطلاقِ بطن، کہ ہوا خارج ہوتی رہتی ہے، اتنا وقت بھی اس کو نہیں ملتا کہ وہ نماز پڑھ سکے۔ عورتوں کو استحاضے کی بیماری کی صورت میں، لیکوریا کی صورت میں۔ تو ایسے حضرات کو معذور اور معذورہ کہا جاتا ہے۔ معذور کو شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ ایک نماز کا وقت شروع ہو، اس وقت وضو کر لے، اور اگلی نماز کا وقت آنے تک اپنے آپ کو باوضو پاک سمجھتے ہوئے جو عبادت ادا کرنا چاہتی ہے کر سکتی ہے۔ مرد بھی عورت بھی۔ سلسلِ بول کی بھی ایک بیماری ہے، پیشاب کے قطرات نکلتے ہیں۔
ظہر کی نماز کا وقت ہوا، وضو کر لیا، اب عصر کی نماز کے وقت تک وہ قرآن بھی پڑھ سکتی ہے، نماز بھی پڑھ سکتی ہے، اذکار بھی کر سکتی ہے، کوئی حرج کی بات نہیں۔ یہی حال ہے مردوں کا جن کو سلسلِ بول کی بیماری ہے۔ اب پیشاب کے قطرے بھی گر رہے ہیں اور یہ نماز بھی پڑھ رہا ہے، کوئی حرج کی بات نہیں، شریعت نے اس کو معذور قرار دے کر معذور والا حکم، کہ وہ ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے، اگلی نماز کا وقت آیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، نیا وضو اس کو کرنا پڑے گا۔
عورت کے لیے شریعت کی آزادی اور حدود
سوال: یہ سونا چاندی، کہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور …
جواب: میں نے کہا کہ عورتوں کو پروردگار نے کھلی چھٹی دی ہے۔ یہ جو کہتے ہیں نا جی، اسلام نے عورتوں کو جکڑ کر رکھ دیا۔ جتنی عورتوں کو آزادی شریعت نے دی ہے کسی اور مذہب نے نہیں دی۔ ہاں، عورت کو عورت کی حیثیت۔ عورت کو جانور کی حیثیت سے نہیں کہ بکری جس کھرلی میں جائے، جائے۔ ناں بھئی، عورت کا مقام بہت اونچا ہے۔ عورت ہونے کے ناطے گھر میں اچھے سے اچھا لباس پہنے، زیورات پہنے، لیکن باہر نکلنے کا وقت عورت کو عورت ہونا چاہیے۔
عورت کا معنی کیا ہے؟ عورت کا معنی ہے چھپانے کی چیز۔ فرمایا، ’’عورۃ الرجل‘‘ آدمی کے جسم کے چھپانے کا حصہ، یہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ۔ جس طرح یہ عورۃ ہے، اسی طرح وہ عورۃ ہے، اس کو چھپاؤ، اس کی نمائش مت کرو۔ اس کو میلوں ٹھیلوں میں لے کر مت جاؤ، اس کو ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی اجازت دو۔ یہ عورت ہے، لہٰذا عورت ہونے کی حیثیت ہو تو ٹھیک ہے … جیسے اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا، انہوں نے یہ کہا کہ جب تک نکاح والی رسم ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک عورت کو آزادی نہیں ملتی، لہٰذا یہ نکاح والی رسم۔ اللہ کے بندو! کیا تم عورت کو کھوتی کی طرح سمجھتے ہو، جہاں چاہے وہ چلی جائے؟ نکاح کے ساتھ عورت اپنے گھر کا ایک عظیم فرد بنتی ہے، اس کا اعزاز ہے، اس کا اکرام ہے، اس کا وقار ہے۔ اور تم یہ سمجھتے ہو کہ اسلام نے جو اس کو نکاح کی پابندی لگائی، یہ اس کی آزادی کے منافی ہے؟ انسانوں والی آزادی چاہیے، کھوتے گھوڑے والی آزادی نہیں چاہیے … اسلام اجازت نہیں دیتا، یہ عورت کے اعزاز اکرام، اس کی عزت کے منافی چیز ہے۔
خواتین کا بال کٹوانا
سوال: یہ کہتے ہیں کیا بچیوں کو بال کٹوانے چاہئیں …
جواب: دیکھیے، اصل بات یہ ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دور میں مردوں سے یہ کہا کہ دیکھو تم اپنی داڑھی کو سفید مت رکھو، تم اس کو مہندی کے ساتھ رنگ لیا کرو۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہودیوں نے بھی داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں، وہ رنگتے نہیں، تم رنگو تاکہ تمہارے اور یہودیوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ معاشرے کے اندر یہودیوں کی مخالفت، ایک دور تھا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں یہود و نصاریٰ کی عورتیں بالوں کو نہیں کاٹتی تھیں، بلکہ عرب لوگ بڑے بالوں کو عورتوں کے لیے فخر کا باعث سمجھتے تھے۔ اشعار بھرے پڑے ہیں کہ فلاں عورت کے بال ایسے، فلاں عورت کے بال ایسے۔ امہات المومنینؓ فیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کاٹ دیتی تھیں۔ مسلم شریف کی روایت ہے، ام المومنین حضرت عائشہؓ بھی کاٹتی تھیں، حضرت ام سلمہؓ بھی کاٹتی تھیں۔
لیکن یہاں یہود و نصاریٰ والا فیشن بال کاٹنے کا ہے۔ اِس دور میں عورتوں کو یہود و نصاریٰ سے اور ان کی عورتوں کے فیشن سے بچنے کے لیے نہیں کاٹنے چاہئیں۔ بال کاٹنا اگر یہود و نصاریٰ کا فیشن ہے تو پھر نہیں کاٹنے چاہئیں۔ اگر ان کا فیشن الٹ ہے تو پھر بال کاٹنے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ کٹے ہوئے بال اچھے انداز کے ساتھ سنبھالے جا سکتے ہیں۔
اس لیے امہات المومنین کے بارے میں جو روایات ہیں وہ اس لیے کہ وہ یہود و نصاری کی مخالفت تھی، عربوں کی مخالفت تھی، جو بڑے بالوں کو پسند کرتے تھے۔ تو میری بہنیں، یہود و نصاریٰ کا فیشن آج عام ہو چکا ہے، اس لیے ان کے فیشن سے بچنے کے لیے آج عورتوں کو اپنے بال نہیں کٹوانے چاہئیں۔
بڑے ناخنوں کے ساتھ نماز پڑھنا
سوال: یہ کہتے ہیں ناخن بڑے ہوں تو نماز …
دیکھیے، ناخن بڑا ہونا کوئی اپنے طور پر۔ لیکن یہ ہے کہ ناخن بڑا ہونے کی وجہ سے اندر میل کچیل پھنس جاتی ہے، وہ ناخن اندر پانی جانے سے رکاوٹ بن جاتا ہے اور صحیح طور پر غسل اور وضو نہیں ہوتا۔ اس لیے بڑے ناخن نہیں ہونے چاہئیں۔ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک جوڑا آیا، نئی نئی ان کی شادی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے ناخنوں کو ظاہر کیا، بڑے بڑے ناخن تھے۔ وہ چونکہ بے تکلف تھے تو والد صاحبؒ نے پوچھا ’’یہ بلی کب سے لائی ہے؟ کہا، جی بلی؟ ’’ہاں، اینے تینوں کدی نوندراں نئیں ماریاں؟‘‘ پنجابی بولتے تھے۔ ’’اے بلی کدوں دی آندی آ؟‘‘ بلی؟ دیکھنے لگ گیا۔ فرمایا، یہ بلی کی عادت ہے لمبے لبے ناخن، کاٹو ان کو۔ یہ تو خاوند کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔
اس لیے یہ لمبے ناخن اس لحاظ سے کہ یہ خاوند کے لیے ڈراوے کا باعث بھی ہیں، اور پھر یہ لمبے ہونے کی وجہ سے وضو اور غسل میں رکاوٹ بھی بنتے ہیں، اس لیے فرمایا کہ اس سے گریز کرنا اور ان کو کاٹنا چاہیے۔
مسجدِ حرام کو مسجدِ حرام کیوں کہتے ہیں؟
سوال: یہ کہتے ہیں جی مسجدِ حرام کو مسجدِ حرام کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: حرام کا معنی ہے احترام و اکرام۔ یہ مسجد جو ہے تمام دنیا کے خطوں میں زیادہ احترام والی جگہ ہے اس لیے اس مسجد کو مسجدِ حرام کہا جاتا ہے۔
اعتکاف کے دوران نہانا
سوال: اعتکاف کے دوران نہا سکتے ہیں؟
جواب: دیکھیے، حضرات نے کہا کہ معتکف اعتکاف والی جگہ سے نہ نکلے۔ اور یہ مسجد ساری کی ساری اس کے لیے اعتکاف کی جگہ ہے۔ اس لیے جہاں عبادت ہوتی ہے وہ مسجد ہے۔ ہمارے یہ بیت الخلا، یہ وضو کی جگہ، یہ مسجد کا حصہ تو ہیں لیکن مسجد نہیں ہیں۔ اس حصے میں معتکف کو نہیں جانا چاہیے۔ ہاں، مسجد کے اندر انتظام کر دیا جائے تو وہاں یہ ٹھنڈک کا غسل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر غسلِ لازم ہو جائے، احتلام ہو گیا، تو پھر باہر نکل کر بھی غسل کرنے کی اجازت ہے۔
شام کے وقت جھاڑو دینا
سوال: یہ کہتے ہیں جی، شام کے وقت میں گھر میں جھاڑو دینا …
جواب: دیکھیے، بعض بعض صوفیا نے لکھا کہ رزق میں بے برکتی کا باعث بنتا ہے۔ حدیث نہیں ہے، کوئی شرعی مسئلہ اہم نہیں ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ چونکہ اس دور میں ہوتی تھی تاریکی، تاریکی میں جھاڑو کے ساتھ کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا بھی نکل آتا۔ آج کل تو رات کی تاریکی میں ہے ٹیسٹ میچ کھیلے جاتے ہیں۔ دن کی بنسبت بھی رات کو زیادہ اجالا ہوتا ہے۔ آج کے دور میں یہ کوئی حرج کی بات نہیں۔ اگر کوئی آدمی صوفیائے کرام کی اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ رات کے وقت میں جھاڑو پھیرنا رزق میں تنگی کا باعث بنتا ہے، تو نہ پھرے۔ لیکن اس میں اگر ایسی کوئی صورت پیش آ جائے تو جھاڑو عورتیں لگا سکتی ہیں، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
مہندی کے بارے میں، میں نے کہہ دیا کہ اگر لیپ ہے تو درست نہیں۔ لیپ نہیں صرف رنگت ہے، تو اس کے ساتھ وضو بھی ہو جاتا ہے، غسل بھی ہو جاتا ہے۔
غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والوں کی کمائی
سوال: کہتے ہیں ایک آدمی چوری چھپے دوسرے ملک چلا گیا، وہاں کمائی کرتا ہے تو کیا اس کی کمائی جائز ہے؟
جواب: دیکھیے، وہاں اگر وہ جائز کاروبار کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ یہ دو چیزیں الگ الگ ہیں: ایک ہے وہاں چوری چھپے جانا، یہ ہے حکومت کا جرم کہ اس آدمی نے حکومت کا جرم کیا ہے۔ وہاں جا کر اگر وہ جائز کمائی کے ساتھ کمائی کرتا ہے تو گھر والوں کو اس کی کمائی میں شک نہیں کرنا چاہیے، اس کی کمائی جائز اور درست ہے۔
اب دیکھیں، یہ مسئلہ نہیں پوچھتے کہ جو لوگ عمرے کی نیت کے ساتھ چلے جاتے تھے، آج کل تو زیادہ سختی ہو گئی، اور وہاں وہ چوری چھپے رہ کر حج بھی کر کے آتے، یہ بھی تو جرم ہے نا، لیکن حج ہو گیا۔ اسی طرح یہ آدمی اگر چوری چھپے گیا ہے، مجرم ہے حکومت کا، اس کا یہ گناہ الگ ہے۔ لیکن اس کی کمائی جائز ہے، اگر وہ جائز انداز کے ساتھ کما رہا ہے۔
اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا
سوال: کہتے ہیں باپ زندہ ہو تو جائیداد …
جواب: زندہ باپ کیوں جائیداد تقسیم کرتا ہے؟ ہم نے زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے والوں کو فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر روتے دیکھا ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے تھے، وہ کہنے لگے، دیکھو! باپ چھ بچوں کو پالتا ہے، چھ بچے ایک باپ کو نہیں پال سکتے۔ جائیداد تقسیم کر دی، تھڑے پر بیٹھ کر روتا تھا، چھ بچوں کو پالا ہے لیکن چھ بچے مل کر بھی میری کفالت نہیں کر رہے۔ میں اِدھر اُدھر ٹھوکریں۔ کیوں؟ جائیداد کو تقسیم کر دیا۔
وراثت کا حق بنتا ہے آدمی کے مرنے کے بعد۔ اولاد اپنی کمائی کرے، اپنا کاروبار کرے، اپنے وسائل اختیار کرے۔ باپ کے مرنے کے بعد وہ وارث بنتا ہے، باپ کے مرنے سے پہلے پہلے وہ وارث نہیں بنتا۔ اس کو للچائی ہوئی نظر کے ساتھ باپ کی جائیداد کی جانب نہیں دیکھنا چاہیے۔
نہیں تقسیم کرنی چاہیے، لیکن اگر وہ تقسیم کرتا ہے تو اس کو اختیار ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ مرضِ وفات میں نہیں تو مرضِ وفات میں نہ ہونے کی وجہ سے اس کو اختیار ہے، وہ بیٹی کو زیادہ دیتا ہے کہ بیٹے کو زیادہ دیتا ہے۔ لیکن مرنے کے بعد ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ بیٹے کو دو اور بیٹی کو ایک حصے کے انداز سے اس جائیداد کو تقسیم کیا جائے گا۔ اور آج کے دور میں باپ کو زندگی میں جائیداد تقسیم نہیں کرنی چاہیے، اس کے بہت مہلک اثرات ہم نے دیکھے ہیں۔
مہرِ مؤجل اور غیر مؤجل
سوال: اور یہ کہتے ہیں مہرِ مؤجل اور مہر غیر مؤجل …
جواب: دیکھیے، یہ دو صورتیں ہیں: (۱) ایک صورت یہ ہے کہ نکاح کا حق مہر (۲) ایک یہ ہے کہ جس کو ہم کہتے ہیں جی پہلی رات ملنا، منہ دکھائی، اس کو بھی مہر کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ نکاح کا مہر الگ اور منہ دکھائی یا پہلی رات بیوی کے ساتھ ملاقات کا کچھ دینا، یہ دو الگ الگ ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہؓ کا مہر مقرر کیا اور مؤجل کے طور پر پھر اپنی ڈھال بھی دی۔ اور پھر یہ بھی حضرات نے کہا کہ اگر مہر مقرر کیا ہے، مہر کا کچھ حصہ اگر ادا کر دیا جائے۔ پانچ ہزار روپے اس نے مہر مقرر کیا، ایک ہزار ادا کر دیا، جو ادا کر دیا ہے وہ مؤجل ہے اور جو ادا ابھی تک نہیں کیا وہ غیر مؤجل ہے۔ لہٰذا اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں۔ اگر وہ مراد ہے کہ ایک نکاح کا حق ہے، اور ایک یہ ہے کہ پہلی رات ملاقات اور باہمی ایک دوسرے کے ساتھ لگاؤ اور محبت کے اضافے کے لیے، تو یہ دو الگ الگ ہیں، ان کو الگ الگ ہی سمجھنا چاہیے۔
روزے کے چند مسائل
سوال:
جواب: روزے کی حالت میں خالی برش تو کیا جا سکتا ہے، پیسٹ کے ساتھ نہیں۔ روزے کی حالت میں کان میں دوائی نہیں ٹپکائی جا سکتی، آنکھ میں دوائی ڈالی جا سکتی ہے۔ اس لیے کہ کان کا براہ راست دماغ کے ساتھ تعلق ہے، ناک کا براہ راست معدے کے ساتھ تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے جو بیمار ہوتے ہیں، خوراک کی نالی لگائی جاتی ہے ناک میں۔ اس کا مطلب یہ ہوا، یہ تو طب نے واضح کر دیا۔ اور آنکھ جو ہے، فرمایا کہ آنکھ کا نہ دماغ کے ساتھ براہ راست کوئی سوراخ ہے اور نہ معدے کے ساتھ کوئی سوراخ ہے۔ اگر حلق میں اثرات آتے ہیں تو یہ ڈیلے کی وجہ سے، درمیان میں یہ آنکھ کا ڈھیلا حائل ہے، تو اس کی وجہ سے آدمی کو آنکھ میں دوائی ڈالنے میں روزے کی حالت میں کوئی قباحت نہیں۔ ناک میں اور کان میں نہیں ڈالنی چاہیے۔
سوال: روزے کی حالت میں دانت کا علاج …
جواب: اگر ڈاکٹر ماہر ہے، ہم نے دیکھے ہیں ڈاکٹر۔ وہ یوں اندر کی جانب منہ میں سپنچ سا رکھ دیتے ہیں اور باہر ہی باہر یہ علاج کر کے، تو ایسے کوئی حرج کی بات نہیں۔ اگر ڈاکٹر ماہر ہے اور وہ اندر دوائی کے اثرات روکنے کے اسباب اختیار کرتا ہے اور باہر باہر ہی منہ کے اندر اندر ہی اس کے اثرات رہتے ہیں تو ایسی صورت میں دانت کا علاج کروانے میں کوئی حرج کی بات نہیں، کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ماہر نہیں ہے اور وہ بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتا ہے، دوائی کے اثرات کے اندر جاتے ہیں، پھر پرہیز کرنا چاہیے۔
دکانوں کے کرائے پر زکوٰۃ
سوال: کہتے ہیں کہ دکانیں کرائے پر دی ہوں تو زکوٰۃ …
جواب: دیکھیے بھئی، مکان ہو، دکان ہو، اصل اس کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں۔ اس کا جو کرایہ آتا ہے، وہ کرایہ اگر نصاب تک پہنچتا ہے، تو اس مال پر جو اس کے کرائے کی صورت میں حاصل ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ ہے۔
حدیث اور سنت میں فرق
سوال: یہ کہتے ہیں جی حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے؟
جواب: دیکھیے بھئی، جو بھی بات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سند کے ساتھ پہنچ جائے، اس کو حدیث کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ حدیث اور سنت میں فرق کوئی نہیں، لیکن محتاط علماء یہ کہتے ہیں: حدیث وہ کہ جس پر عمل کرنا امت کے لیے جائز ہو یا ناجائز ہو، اس کو حدیث کہا جا سکتا ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیک وقت نو شادیاں کیں۔ اب یہ حدیث تو ہے لیکن سنت نہیں۔ سنت تب ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروی میں امت کو بھی اجازت ہوتی۔ اب امت جو ہے یہ چار شادیوں سے زائد نہیں کر سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تو ہے کہ آپ نے نو شادیاں کیں، لیکن سنت نہیں ہے۔
اس لیے حضرات نے کہا کہ حدیث اور سنت میں فرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ صحیح روایت کے ساتھ، وہ حدیث ہے۔ اگر وہ امت کے لیے عمل کے لائق ہے تو سنت ہے، عمل کے لائق نہیں وہ حدیث تو ہے لیکن وہ سنت نہیں ہوگی۔
ماہِ رمضان یا بروز جمعرات فوت ہونے والی بخشش
سوال: یہ کہتے ہیں جی ہمارے ہاں یہ معروف ہے کہ رمضان میں جو فوت ہو جائے اس کی بخشش ہوتی ہے، جمعرات کو فوت ہو جائے اس کی بخشش …
جواب: دیکھیے بھئی، بخشش کا اصل مدار ہے ایمان پر۔ بعض بعض اوقات فضیلت کا باعث ہیں۔ جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صوفیائے کرام یہ روایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کے بعد یہ تسبیح ’’سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم‘‘ سو مرتبہ پڑھتا ہے، اس کے اپنے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اس کے والدین کے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ جمعرات کا وقت ہے تو معزز لیکن یہ ہر آدمی کے لیے نہیں ہے، بلکہ جس کا ایمان اور پھر جس کے بارے میں پروردگار فیصلہ فرمائے۔ پروردگار جس کے بارے میں چاہیں گے وہ فیصلہ فرماتے ہیں، لہٰذا اس کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں احتمال، پروردگار سے امید کہ ہمارا یہ بھائی رمضان میں گیا ہے، جمعرات کو گیا ہے، اللہ سے امید کی جاتی ہے اللہ اس کے ساتھ اس وقت کی برکت کی وجہ سے خصوصی فضل فرمائیں گے۔ یہ کہا جا سکتا ہے۔
سونے پر زکوٰۃ کا نصاب
سوال: یہ کہتے ہیں دو تولے سونا ہے کیا زکوٰۃ …
جواب: دیکھیے، دو تولے سونے کے ساتھ اگر نقدی اتنی ہے جو ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا کرنا بہتر ہے، اس کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔
گھروں میں ٹیوشن پڑھانے والوں کا اکرام
سوال: یہ گھروں میں ٹیوشن پڑھانے والے …
جواب: دیکھیں بھئی، یہ گھروں میں ٹیوشن پڑھانے والے، ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔ جن آدمیوں نے ان کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کو گھروں میں لگایا۔ اس لیے کہ تمہارا بچہ اگر مسجد میں آ کر پڑھنے کے لائق نہیں، اس کو وقت نہیں ملتا، اور یہ بھاری بھر کم بستے جو ہیں اس کو مسجد میں آنے سے رکاوٹ بنتے ہیں۔ وہ بیچارہ تمہارے گھر میں جاتا ہے۔ لیکن آج ایک تکلیف دہ چیز نظر آتی ہے کہ ان بیچاروں کو وہ اعزاز اکرام نہیں دیا جاتا۔ جی چاہا تو اندر سے آواز آگئی: ’’آج نہیں آنا، آج چھٹی کرو، آج جاؤ‘‘۔ اور گھنٹی بجانے کے بعد، وہ بیچارہ آدھا آدھا گھنٹہ باہر کھڑا ہے۔ یہ تذلیل مت کرو بھئی۔ اگر تمہارا انگلش پڑھانے والا اعزاز کے لائق ہے تو قرآن پڑھانے والا زیادہ اعزاز کے لائق ہے۔ جیسے مساجد اور مدارس میں تعلیم کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے، اسی طرح گھروں میں ٹیوشن پڑھانے والوں کو بھی معاوضہ دیا جا سکتا ہے، اعزاز و اکرام کے ساتھ۔ وہ تمہارے بچے کا استاد ہے، اور بچے کا استاد ہونے کی وجہ سے اعزاز و اکرام کے لائق ہے۔ اس کو یوں دھتکار کر کہ ’’اج نئیں جی، بچہ نانی دے گھر گیا اے‘‘۔ پہلے اطلاع کرو بھئی۔ آج کل تمہارے پاس فون موجود ہے، اگر تم انگلش ٹیچر کو بتا سکتے ہو تو عربی ٹیچر کو کیوں نہیں بتاتے؟ وہ بیچارہ آئے ہی نا کام کاج چھوڑ کر۔ تو اعزاز و اکرام کو ملحوظ رکھتے ہوئے، یہ جو گھروں میں پڑھاتے ہیں، کوئی حرج کی بات نہیں۔ اور ان کو معاوضہ دینا، بلکہ میں تو کہوں گا زیادہ معاوضہ دینا۔ ایک ان کا پڑھانے کا وقت اور ان کا آنے جانے کا وقت، ان دونوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا معاوضہ انگلش ٹیچر سے زیادہ ہونا چاہیے۔
اپنے امام کی برائی کرنا
سوال: کہتے ہیں جس امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اسی کی برائی کرنا …
جواب: بچنا چاہیے، لیکن نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا، نماز آپ کی ہو جائے گی۔ نماز اپنی جگہ پر ہے، اس کا اعزاز و اکرام اپنی جگہ پر۔ لیکن عجیب بات ہے، ہم پنجابی لوگ جو ہیں ’’چٹے ککڑ دی توہین نہ کرو، اے اذاناں دیندا اے‘‘۔ چٹا ککڑ اس کی توہین نہ کرو یہ کیا کرتا ہے؟ اذان دیتا ہے۔ اب اذان دینے والے مرغے کا تو اعزاز ہے، یہ بیچارہ مسجد میں اذان جو دیتا ہے، مسجد میں نماز جو پڑھاتا ہے، ساری برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال کر، بیٹھ کر، ہمارے مولوی نے یہ کیا، ہمارے مولوی نے یہ کیا۔ اگر اس کے اندر ہے تو اس کو بیٹھ کر سمجھائیں کہ مولوی صاحب اپنی اصلاح کریں، ہم آپ کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں۔ یہ پسِ پشت ایسا کرنا، یہ تو منافی ہے عزت و احترام کے۔ عزت و احترام ملحوظ رکھنا چاہیے، لیکن اگر کوئی آدمی ایسا کرتا ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی اس کے پیچھے، نماز کا مسئلہ الگ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ نصیب فرمائے، اور مسائل سمجھنے کے بعد ان پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(ضبطِ تحریر و عنوانات: مدیر منتظم مجلہ الشریعہ)
بخاری ثانی کے اختتام کے موقع پر دعائیں
مولانا عبد القدوس خان قارن
مولانا عمر شکیل خان
بخاری ثانی کے اختتام کے موقع پر استاد محترم مولانا عبد القدوس قارن صاحبؒ رو رو کر ہمیں دعاؤں سے نواز رہے ہیں:
’’یااللہ، یہ پڑھنا پڑھانا دنیا کے اندر نیک نامی کا باعث بنا، آخرت میں نجات کا ذریعہ بنا۔ یااللہ اس کی برکت سے پروردگار بیماروں کو شفاء کاملہ نصیب فرما۔ یااللہ تیرا فضل ہے اور ان بھائیوں میں سے کسی کی دعا کا نتیجہ ہے، پروردگار تو نے پڑھانے کے عمل کو جاری رکھنے کی ہمت نصیب فرمائی۔ یااللہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے۔ یااللہ یہ فضل بھی فرما دے، یااللہ مستقبل آسان فرما دے۔ یااللہ میرے ان بچوں کو دنیا کے اندر کوئی تکلیف نہ پہنچے، یااللہ آسانیاں فرما دے، یااللہ راستے آسان فرما دے۔ یااللہ ہمارے مخالفین کے دلوں میں ہماری محبت ڈال دے۔ یااللہ ہمیں اپنے مشن میں کامیابی نصیب فرما۔ پڑھنے پڑھانے کے ساتھ اس ملک میں اسلامی نظام کے لیے کام کرنے کی توفیق دے۔ یااللہ ظاہری طور پر پڑھا ہے، یااللہ سمجھ نصیب فرما، عمل کی توفیق نصیب فرما، درجات کی بلندی کا ذریعہ بنا، نیک نامی کا ذریعہ بنا۔ یااللہ ہمیں بھی، ہماری اولاد کو بھی، دین کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرما۔ یااللہ گمراہی ذلالت کا دور ہے، یااللہ ہمیں اپنے اسلاف کے دامن کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق نصیب فرما۔ اپنی خود آرائی، اپنے نظریات کے پرچار کی بجائے اسلاف کے نظریات کا پرچار کریں، جو ہمیں وراثت میں ملا، یااللہ اسی کی پرچار کی توفیق نصیب فرما، خودرائی سے بچا اور محفوظ رکھ۔ یااللہ یااللہ ہمارے اس مدرسے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرما۔ مزید یاللہ یہاں سے استفادے اور افادے کے مواقع مہیا فرما۔ یااللہ یااللہ جو ہم نہیں مانگ سکے پروردگار وہ بھی نصیب فرما۔ یااللہ جتنے بھی غیرشادی شدہ ہیں، پروردگار ان کو نیک صالح خدمت گزار جنت کی جانب جانے والی عورتیں نصیب فرما، نیک صالح اولاد نصیب فرما، نیک صالح جگہ نصیب فرما جس میں دین کی خدمت کر سکیں۔ ربنا تقبل منا۔ یااللہ بیماروں کو صحتِ کاملہ نصیب فرما۔ یااللہ ہمارے عزیز و اقارب جو اس دنیا سے ایمان کی حالت میں تیرے حضور پہنچے، پروردگار سب کے ساتھ کرم کا معاملہ فرما۔ یااللہ ہمارے اساتذہ کو، جن کے ذریعے سے ہم اس مقام میں پہنچے، پڑھنے پڑھانے کی توفیق ملی، پروردگار ان تمام، امام بخاری سے نہیں، حضورؐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے لے کر، ہمارے اس علم کے پہنچنے میں جتنے بھی وسائط ہیں (آڈیو بس یہاں تک ہے)۔‘‘
(۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی کی تحریروں میں حضرت قارنؒ کا تذکرہ
ادارہ الشریعہ
’’میں حافظوں کا باپ ہوں‘‘
بحمد اللہ خاندان کا پہلا حافظ میں ہوں۔ ۱۹۶۰ء میں میرا حفظ مکمل ہوا تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ حافظ نہیں تھے، آپؒ سے کوئی پوچھتا کہ آپ حافظ ہیں؟ تو وہ فرماتے کہ میں حافظوں کا باپ ہوں۔ کافی عرصہ پہلے ایک دن ہم نے گننا چاہا کہ والد محترمؒ کے خاندان میں کتنے حافظ ہیں تو اس وقت تینتالیس حافظ تھے۔ ابھی دو ہفتے پہلے میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کے پوتے عکرمہ نے حفظ مکمل کیا، میں نے اس کے والد حافظ نصر الدین خان عمر سے پوچھا کہ بیٹا! شمار کیا ہے کہ اس کا کتنا نمبر ہے؟ تو اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان میں حافظ ساٹھ سے بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے والد محترمؒ کو حق تھا کہ کہتے ’’میں حافظوں کا باپ ہوں‘‘۔ میں نے عکرمہ کے آخری سبق کی تقریب میں تحدیث نعمت کے طور پر کہا کہ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی اولاد میں پہلا حافظ میں ہوں اور ساٹھواں حافظ یہ ہے۔
(محمدی ٹاؤن اسلام آباد میں ’’ینگ علماء لیڈر شپ پروگرام‘‘ کے ایک سیمینار سے خطاب ۔ ۲۶ فروری ۲۰۲۳ء)
حضرت والد صاحبؒ کا ذاتی کمرہ
یہ حضرت والد محترم کی آرام گاہ بھی تھا، اسٹڈی روم بھی تھا، ذاتی لائبریری بھی اسی میں تھی اور یہی ان کی درس گاہ بھی تھی۔ میں برادرم راشد خان کی کلاس میں بیٹھا تھا اور میری نگاہوں میں اس درس گاہ کے مختلف مناظر باری باری گھوم رہے تھے۔ یہ خود میری اولین درس گاہ بھی ہے کہ ۱۹۶۰ء میں قرآن کریم حفظ مکمل کرنے کے بعد درس نظامی کی تعلیم کا آغاز میں نے یہیں سے کیا تھا اور سال اول کی کتابوں کے طور پر میزان الصرف و منشعب، نحو میر، علم الصیغہ اور شرح مائۃ عامل حضرت والد صاحبؒ سے پڑھی تھیں۔ ۱۹۶۲ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں داخل ہوا اور ۱۹۷۰ء میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل ہوئی۔ اس دوران بھی یہ معمول تھا کہ شعبان اور رمضان کی سالانہ تعطیلات میں سال کے دوران پڑھی ہوئی کتابوں میں سے ایک دو کتابیں مجھے دوبارہ حضرت والد محترم سے پڑھنا ہوتی تھیں، بلکہ سنانا ہوتی تھیں۔ یہی معمول چھوٹے بھائیوں مولانا عبد القدوس قارن، مولانا عبد الحق خان بشیر، قاری حماد الزہراوی، پیر عابد سلّمہ اور دیگر کا بھی کم و بیش رہا ہے، جبکہ ہماری بہنوں نے بھی یہیں تعلیم حاصل کی ہے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۳۰ اپریل ۲۰۱۲ء)
امامِ اہلِ سنتؒ کا آخری وقت
گزشتہ جمعرات کو گھر گوجرانوالہ واپس پہنچا اور جمعۃ المبارک کی شام کو گکھڑ حاضری ہوئی تو وہ اگرچہ بات چیت اشاروں میں ہی کر رہے تھے مگر اطمینان کی کیفیت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی وفات کے دن ہم سب بھائی خلاف معمول یہاں موجود تھے۔ میں برطانیہ سے واپس پہنچ گیا تھا۔ ہمارے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان خان شاہد کئی سالوں سے جدہ میں مقیم ہیں اور تحفیظ القرآن کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، وہ گزشتہ ماہ بچوں سمیت آگئے تھے۔ اور ہمارے ایک بھائی مولانا رشید الحق خان عابد سلمہ جنہیں ہم پیر عابد کے نام سے یاد کرتے ہیں، نقشبندی سلسلہ کے اصحاب سلوک میں سے ہیں بلکہ وقف للسلوک ہیں، اپنے اوراد و اشغال میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ مہینوں ان کا پتہ نہیں چلتا کہ کہاں ہیں۔ میں انہیں خاندان کا ’’امام غائب‘‘ کہا کرتا ہوں، وہ بھی دو روز قبل گکھڑ پہنچ چکے تھے۔ بقیہ برادران مولانا عبد القدوس خان قارن، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا قاری حماد الزہراوی، قاری عنایت الوہاب خان ساجد، قاری منہاج الحق خان راشد، اور ہمارے مرحوم بھائی قاری محمد اشرف خان ماجد کے فرزند حافظ انصر خان اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ اس طرح ہم سب بھائی حضرت والد محترم کے سفر آخرت کے وقت حاضر تھے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۹ مئی ۲۰۰۹ء)
دو ماؤں کی اولاد
جب آپؒ گکھڑ میں سیٹ ہوئے ہیں تو دو سال کے بعد ان کی شادی ہوئی۔ گوجرانوالہ میں تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کی بیک میں آبادی ہے، اس آبادی میں ایک مسجد کے امام مولانا محمد اکبر صاحب مرحوم تھے، جنجوعہ راجپوت برادری سے تعلق تھا، اچھے حافظ، اچھے قاری تھے تو مولانا عبد الواحد صاحبؒ کی وساطت سے والد صاحبؒ کی ان کے ہاں سے شادی ہو گئی۔ ہماری والدہ محترمہ مولوی محمد اکبر صاحب کی بیٹی ہیں اور گوجرانوالہ شہر کی ہیں۔ پہلی شادی ہوئی، اس سے ہماری بڑی ہمشیرہ پیدا ہوئیں، جن کا پچھلے سال انتقال ہوا ہے، اس کے بعد میں پیدا ہوا، میرے بعد ایک اور بھائی تھے جو بچپن میں ہی فوت ہو گئے، پھر مولانا عبد القدوس قارن صاحب، پھر مولانا عبد الحق صاحب اور جو جہلم میں ہماری چھوٹی ہمشیرہ ہیں، پیدا ہوئے۔ اس دوران حضرت والد صاحبؒ نے اپنی برادری میں بھی شادی کی۔ ہماری چھوٹی والدہ ان کی چچا زاد لگتی تھیں۔ حاجی فیروز خان مرحوم کورے اچھڑیاں میں ہوتے تھے، ان کی بیٹی تھیں۔ دوسری شادی ہوئی تو پھر دونوں گکھڑ میں اکٹھی رہیں۔ الحمد للہ ہمارا یہ امتیاز ہے کہ دونوں مائیں زندگی بھر اکٹھی رہی ہیں، ایک گھر میں رہی ہیں، ایک ہنڈیا رہی ہے، ایک جگہ کھانا رہا ہے جبکہ ہم بھائیوں میں بھی ہلکی پھلکی نوک جھونک چلتی رہی ہے، لیکن جس کو جھگڑا کہتے ہیں وہ کبھی نہیں ہوا۔ نہ ماؤں میں اور نہ ہم میں۔ ہم اکٹھے ہی رہے ہیں، اب بھی ہم سب بھائیوں کی طرح ہیں اور الحمد للہ ہمارے ہاں وہ ماحول نہیں پیدا ہوا۔ …… ہم مجموعی طور پر بارہ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ ہمارے تین بھائی بچپن میں فوت ہو گئے تھے عبدالکریم رانا، عبدالرشید، اور ایک بھائی محمد یونس خان تھے جو بچپن میں فوت ہو گئے۔ ہم بارہ بھائی تھے، جن میں سے نو حیات رہے، جن کی شادیاں ہوئیں اور بہنیں تین تھیں، اب ایک فوت ہو گئی ہیں، دو الحمد للہ حیات ہیں، اللہ پاک سلامت رکھے۔ دونوں ماؤں سے ہم پندرہ بہن بھائی ہیں۔ سچی بات ہے کہ مجھ سے کوئی اب بھی پوچھتا ہے کہ اس ماں سے کتنے ہیں تو گننے پڑتے ہیں۔ الحمد للہ ہمارا سب کا بھائیوں بہنوں جیسا معاملہ ہے۔ ہم تین بھائی اور دو بہنیں ایک والدہ سے ہیں: میں، قارن صاحب، عبدالحق، ہماری بڑی ہمشیرہ اور جہلم والی ہمشیرہ۔ باقی بھائی اور چھوٹی ہمشیرہ جو گوجرانوالہ میں ہیں دوسری والدہ سے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے تقسیم کرنا مشکل ہوتا ہے، الحمدللہ سب کے ساتھ یکساں محبت پیار ہے۔
(طلال ناصر اور ہلال ناصر کے انٹرویو ’’یادِ حیات (۱)‘‘ سے ماخوذ۔ ماہنامہ الشریعہ نومبر ۲۰۲۴ء)
البتہ آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ شروع سے آخر تک دونوں والدہ اکٹھی رہیں اور دونوں کی اولاد ایک ہی گھر میں رہی۔ بڑی امی کی اولاد سے ہم کل پانچ ہیں، تین بھائی اور دو بہنیں۔ ایک بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم میں مدرس ہیں۔ دوسرے بھائی عبد الحق خان بشیر ہیں جو مسجد و مدرسہ حیات النبی گجرات کے خطیب و مہتمم ہیں۔ بڑی بہن اچھڑیاں مانسہرہ جبکہ چھوٹی بہن جہلم میں بیاہی گئیں۔ چھوٹی امی سے ہمارے چھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ایک بھائی وفات پا چکے ہیں۔ اکٹھا رہنے سے باہم چھوٹا موٹا اختلاف تو کبھی کبھار ہوا، جیسا کہ انسان ہونے کے ناطے سے ہوتا ہی ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کبھی تقسیم تک نوبت نہیں پہنچی اور وقت اچھا گزر گیا۔ چھوٹی امی کی اولاد سے بھی مجھے بہت پیار ہے بلکہ ان چھوٹے بھائیوں کے گھروں میں مجھے زیادہ پروٹوکول ملتا ہے۔ ہمایوں صاحب! ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت جس نہج پر جا پہنچی ہے اس سے آپ بھی واقف ہیں، لیکن الحمد للہ ہمارے گھروں میں اب بھی باہمی احترام اور محبت کی فضا موجود ہے۔
(انٹرویو ماہنامہ قومی ڈائجسٹ، لاہور۔ دسمبر ۲۰۰۷ء)
والدہ محترمہ کا انتقال
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی اہلیہ محترمہ اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف) کی والدہ مکرمہ کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی اور وہ کچھ عرصہ سے ذیابیطس او رہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ دو ہفتہ سے ان کی طبیعت زیادہ خراب تھی چنانچہ انہیں شیخ زاید ہسپتال لاہور میں داخل کرا دیا گیا مگر وہ تین چار روز بیہوش رہنے کے بعد وفات پا گئیں۔ ان کی نماز جنازہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے پڑھائی جس میں ممتاز علماء کرام، سیاسی راہنماؤں، سماجی شخصیات اور جماعتی کارکنوں کے علاوہ ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اور نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔
مرحومہ ایک عبادت گزار اور شب زندہ دار خاتون تھیں اور انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس میں بسر کیا۔ وہ صبح و شام اپنے گھر میں بچیوں اور بچوں کو قرآن کریم حفظ و ناظرہ، ترجمہ قرآن اور بہشتی زیور کی تعلیم دیا کرتی تھیں اور یہ سلسلہ تقریباً پینتالیس برس سے تسلسل کے ساتھ جاری تھا۔ وہ خود قرآن کریم کی حافظہ نہیں تھیں لیکن جن بچیوں نے ان سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ان کی تعداد پچیس سے زائد ہے جبکہ باقی شاگرد بچوں اور بچیوں کا کوئی شمار نہیں ہے۔ ان کے شاگردوں میں ان کے اپنے بچوں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد القدوس خان قارن اور مولانا عبد الحق خان بشیر کے علاوہ بریگیڈیئر محمد علی چغتائی اور اے آئی جی پولیس احمد نسیم جیسی ممتاز شخصیات شامل ہیں۔
سابق وفاقی وزیر غلام دستگیر خان، میئر گوجرانوالہ کارپوریشن الحاج محمد اسلم بٹ، کونسلر ڈاکٹر محمد احمد اور سابق ڈپٹی میئر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کے علاوہ ممتاز علماء کرام علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا قاضی عصمت اللہ، مولانا محمد فیروز خان، مولانا حکیم عبد الرحمان آزاد، مولانا خالد حسن مجددی، مولانا حکیم محمود اور دیگر شخصیات نے مولانا محمد سرفراز خان اور مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کر کے مرحومہ کی وفات پر تعزیت کی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۲۹ اگست ۱۹۸۸ء)
شادی کی شیروانی
۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا اور وہ میں نے شادی کے دوسرے دن چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کو دے دی۔ اپنے اپنے مزاج کی بات ہے، شیروانی اور بند کوٹ میں خود کو گھٹا گھٹا سا محسوس کرتا ہوں، حتیٰ کہ واسکٹ کے بٹن بند کرنے میں بھی مجھے الجھن ہوتی ہے، جبکہ مایہ والے سوتی کپڑوں میں لباس کے ساتھ خود بھی اکڑے رہنا پڑتا ہے اس لیے اس سے حتی الوسع بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن اس سال صدر پاکستان کی طرف سے ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر جن حضرات کو صدارتی تمغوں کے لیے نامزد کیا گیا ان میں تمغۂ امتیاز پانے والوں میں میرا نام بھی شامل تھا۔ یہ تمغہ ۲۳ مارچ کو گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب کے دوران گورنر پنجاب کے ہاتھوں ملنا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تو اس میں یہ شرط درج تھی کہ شیروانی اور جناح کیپ پہن کر شریک ہونا ہے۔ میرے پاس یہ دونوں موجود نہیں تھیں، اس لیے جناح کیپ تو بازار سے خریدی اور شیروانی کے لیے کسی دوست کی تلاش شروع کر دی جس سے ایک دن کے لیے عاریتاً حاصل کر سکوں۔ گزشتہ ہفتے فیصل آباد جانا ہوا تو شام کا کھانا جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کے ساتھ کھایا اور انہی سے فرمائش کر دی کہ اگر ایک روز کے لیے کوئی مناسب شیروانی مل جائے تو فقیروں کا کام چل جائے گا۔ انہوں نے اپنی شیروانی عطا کی جو پہننے پر مناسب لگی تو ساتھ لے آیا۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۶ مارچ ۲۰۱۵ء)
مسجد حرام میں ارسلان خان کے حفظِ قرآن کریم کی تکمیل
میں نے گزشتہ عشرہ سعودی عرب میں گزارا۔ ۱۲ جولائی کو جدہ پہنچا تھا اور ۲۲ جولائی کو جدہ سے سفر کر کے ایک روز قبل نیویارک آگیا ہوں۔ اس دوران بیت اللہ شریف کی حاضری، عمرہ اور روضۂ اطہر پر صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ میرے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان خان شاہد، میرے ایک برادر نسبتی حافظ عبد العزیز اور میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد جدہ میں مقیم ہیں۔ قاری شاہد خان کے بچے ارسلان خان نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جبکہ حافظ عبد العزیز کی بچی کا نکاح تھا۔ دونوں نے مسجد میں مشترکہ تقریب کا اہتمام کیا۔ میرے ایک اور بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن سلّمہ بھی عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آئے ہوئے تھے وہ بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔ مسجد حرام میں اپنے عزیز بھتیجے ارسلان خان کا حفظِ قرآن کریم کا آخری سبق سنا اور برادر نسبتی حافظ عبد العزیز کی بیٹی کا نکاح پڑھایا۔
(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ یکم اگست ۲۰۱۰ء)
مولانا عبد الحق خان بشیر کے فرزند انس خان کا ولیمہ
واپسی پر ہم مختلف گاڑیوں میں گجرات کی طرف روانہ ہوئے جہاں اگلے روز حافظ عبد الرحمٰن خان انس کا ولیمہ تھا مگر جب ٹیکسلا کراس کر کے ترنول پھاٹک پر پہنچے تو ٹریفک بری طرح بلاک تھی۔ بڑی ہمشیرہ محترمہ، راقم الحروف اور مولانا عبد القدوس قارن ایک گاڑی میں تھے جو سب سے آگے تھی اس لیے سب سے زیادہ پھنسی ہوئی تھی کہ آگے جانے کا راستہ تو بند تھا ہی پیچھے ہٹنے بلکہ دائیں بائیں ہونے کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے آنے والے اس کے ہزارہ و پشاور کے کارکنوں کو روکنے کے لیے ریلوے پھاٹک سے آگے باقاعدہ کنٹینر کھڑے کر کے راستہ بند کیا گیا ہے۔ دونوں طرف رکی ہوئی گاڑیوں ہزاروں کی تعداد میں تھیں اور کئی میل دور تک ان کی درجنوں لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ ہماری دوسری گاڑیاں بلکہ دولہا اور دلہن بھی اسی ہجوم میں محصور تھے مگر ہم موبائل فون پر ایک دوسرے کا بار بار حال پوچھنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ رات نو بجے سے بارہ بجے تک مسلسل تین گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد رکاوٹیں ختم کرنے کی نوید سنی اور ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ ہم گجرات پہنچنے میں کامیاب ہوئے، فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ یکم نومبر ۲۰۱۶ء)
مولانا عبد القدوس خان قارن کی پوتی کا حفظِ قرآن کریم
گوجرانوالہ زون کے مدارس میں گزشتہ سال ۱۹۹ طلبہ و طالبات نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا جن کے آخری سبق اور دعا کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مجھے بھی شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ اقراء روضۃ الاطفال کے ذمہ دار حضرات مولانا مفتی خالد محمود اور مفتی محمد بن مفتی جمیل خان شہید کی سربراہی میں موجود تھے اور بچوں کے والدین اور دیگر بہت سے معززین شہر اور سرکردہ علماء کرام شریک محفل تھے۔ اس سال حفظ مکمل کرنے والوں میں ہمارے خاندان کی ایک بچی عفیفہ عمر بھی شامل ہے جو برادرم مولانا عبد القدوس خان قارن کی پوتی اور حافظ نصر الدین خان عمر کی بیٹی ہے اس لیے اس میں حاضری میرے لیے دوہری خوشی کا باعث ہوئی۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد۔ ۱۰ نومبر ۲۰۱۸ء)
تدریسی اسباق کی تقسیم
اس سال دورہ حدیث کے اسباق کے آغاز پر ان کا تقاضہ تھا کہ ہم دونوں بھائی یعنی راقم الحروف اور مولانا قاری عبد القدوس خان قارن اس موقع پر شریک ہوں۔ چنانچہ جب ہم تینوں بہن بھائی اسباق کے آغاز پر بنات کی درسگاہ میں بیٹھے تو یہ دیکھ کر میرے دل میں تشکر و امتنان کی ایک عجیب سی لہر اٹھی کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بخاری شریف اور دورۂ حدیث کی کتابیں پڑھائی ہیں اور اب ان کی اس روایت کا تسلسل جاری رکھنے کا شرف ہم تینوں بہن بھائیوں کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت والد محترمؒ کی زندگی میں ہی بخاری شریف ہم دونوں بھائیوں کے سپرد ہو گئی تھی۔ ایک جلد میرے پاس ہوتی ہے اور دوسری جلد قارن صاحب پڑھاتے ہیں، اور ہم دونوں بھائی ہر سال تبادلہ کر لیتے ہیں تاکہ ہر ایک کو دو سال میں پوری بخاری شریف پڑھانے کا موقع مل جائے۔جہلم میں اکٹھے ہوئے تو ترتیب یہ تھی کہ برادرم مولانا عبد القدوس قارن نے ترمذی شریف کا پہلا سبق پڑھانا تھا جبکہ میرے ذمہ بخاری شریف کا پہلا سبق تھا اور اسی ترتیب کے مطابق ہم دونوں نے یہ خدمت سر انجام دی۔ درس طالبات کا تھا اس لیے میں نے اس موقع پر خواتین کی دینی تعلیم کی اہمیت و ضرورت پر کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ (۱) قرآن کریم، (۲) حدیث و سنت اور (۳) فقہ و شریعت میں جس طرح مردوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا اور علوم نبویؐ کو امت تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی، اسی طرح خواتین نے بھی یہ خدمات سر انجام دیں۔ چنانچہ قرآن کریم کی تفسیر، حدیث و سنت کی روایات اور فقہی احکام و مسائل کا ایک بڑا ذخیرہ امت کو خواتین کے ذریعہ پہنچا ہے اور آج تک اہل علم اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ یکم اکتوبر ۲۰۱۵ء)
تحریکِ واگزارئ جامع مسجد نور
۱۹۷۶ء میں نوید انور نوید مرحوم مسجد نور کی واگزاری کی تحریک کے قائد کے طور پر سامنے آئے اور بھٹو حکومت کے خلاف معرکہ کا ایک اور بازار گرم کر دیا جس کی یادیں کم و بیش تیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ کے ساتھ ملحق وسیع جامع مسجد کو مسجد نور کہا جاتا ہے جسے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کا نام لیے بغیر حکومت نے مسجد نور کو اس سے ملحقہ پینتالیس کمروں سمیت اوقاف کی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا۔ محکمہ اوقاف اس نوٹیفیکیشن کے مطابق مسجد و مدرسہ دونوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے مجھے اور نوید انور نوید مرحوم کو بلایا اور فرمایا کہ یہ بڑا خطرناک فیصلہ ہے، اگر اس پر عمل ہوگیا تو ملک بھر میں مدارس پر سرکاری قبضے کا راستہ کھل جائے گا اس لیے اس کی مزاحمت ہونی چاہیے اور مؤثر احتجاج ہونا چاہیے، آپ نوجوان لوگ اس کی کوئی صورت نکالیں۔ اس پر ہم تیار ہوگئے اور مزاحمت کا فیصلہ کر لیا …… اس دوران محکمہ اوقاف نے ہمارے کچھ مقامی ’’مہربانوں‘‘ کے اشارے سے یہ چال چلی کہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم، جو کہ ہمارے چچا محترم اور استاد و مربی ہیں، کی جگہ میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کو مسجد نور کا خطیب مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس کا مقصد ہمارے خاندان میں تفریق پیدا کرنا تھا اور دو بھائیوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اور حضرت صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا تھا جو ایک انتہائی خطرناک بات تھی۔ قارن صاحب کو یہ آرڈر ملا تو انہوں نے مجھ سے بات کی، میں نے ان سے کہا کہ یہ جتنی بڑی سازش ہے جواب بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔ اس لیے آپ گرفتاری کے لیے تیار ہو جائیں اور کارکنوں کے مظاہرے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سب کے سامنے یہ نوٹیفیکیشن پڑھیں اور اس کے بعد اسے پرزے پرزے کرتے ہوئے اعلان کریں کہ میری طرف سے اس آرڈر کا یہ جواب ہے اور میں خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور تقریباً پانچ ماہ کا عرصہ جیل میں گزارا۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۵ء)
۱۹۷۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور اس کی ملحقہ جامعہ مسجد نور کو محکمہ اوقات پنجاب نے سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو اس کے خلاف مزاحمتی تحریک کے دوران یہ ضرورت پیش آئی کہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں مدرسہ خالی نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ سالانہ تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر شروع کر دیا گیا جو اکیس برس تک مسلسل جاری رہا اور ہزاروں علماء کرام اور طلبہ نے اس سے استفادہ کیا۔ یہ دورۂ تفسیر حضرت والدِ محترمؒ کی آواز میں آڈیو سی ڈی کی صورت میں مکمل طور پر موجود و محفوظ ہے، برادرِ عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن اسے تحریری صورت میں مرتب کر رہے ہیں اور یہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا ذوق رکھنے والے علماء کرام اور طلبہ کے لیے ایک عظیم علمی تحفہ ہوگا۔ کم و بیش اکیس برس تک مسلسل پڑھانے کے بعد یہ سلسلہ حضرت والد محترمؒ نے ترک کر دیا تو بہت سے دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ میں نے بھی ان سے عرض کیا کہ دورۂ تفسیر کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب معذور ہوگیا ہوں اور مسلسل پڑھانا میرے بس میں نہیں رہا۔ میں نے عرض کیا کہ چند پارے آپ پڑھا دیں، باقی میں اور قارن صاحب مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو علماء اور طلبہ دورۂ تفسیر پڑھنے کے لیے آئیں گے، وہ اس اعتماد کے ساتھ آئیں گے کہ سارا قرآن کریم میں خود (یعنی حضرت شیخ ؒ ) پڑھاؤں گا۔ اگر میں نے چند پارے پڑھا کر چھوڑ دیا تو ان کا اعتماد مجروح ہوگا جو دیانت کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے فرمایا کہ اب چونکہ وفاق المدارس نے مکمل ترجمہ قرآن کریم نصاب میں شامل کر دیا ہے جو مختلف مراحل میں باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے، اس لیے اب اس کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ چنانچہ سالانہ دورۂ تفسیر کا سلسلہ موقوف ہوگیا جبکہ دو سال والا ترجمہ قرآن کریم وفاق المدارس کے ترجمہ قرآن کریم کے نصاب کے باوجود الگ طور پر اب بھی ہوتا ہے اور حضرت والدِ محترمؒ کی زندگی میں ہی ان کے حکم پر یہ سعادت میرے حصہ میں آگئی تھی جو مسلسل جاری ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ جنوری ۲۰۱۳ء)
حضرت والد صاحب مدظلہ کے ترجمہ قرآن کریم کے تین الگ الگ حلقے ہوتے تھے۔ روزانہ صبح نماز فجر کے بعد جامع مسجد گکھڑ میں ہفتہ میں تین دن قرآن کریم اور تین دن حدیث نبویؐ کا درس ہوتا تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں روزانہ ترجمہ کی مذکورہ کلاس ہوتی تھی اور شام کو روزانہ گکھڑ کے نارمل اسکول میں، جہاں اسکولوں کے اساتذہ کی تربیتی کلاسیں، ایس وی، جے وی، سی ٹی وغیرہ ہوتی تھیں، ان اساتذہ کے لیے درسِ قرآن کریم کا الگ حلقہ ہوتا تھا۔ تینوں کا رنگ الگ الگ تھا اور ہر کلاس میں اسی کے ماحول اور ذوق کے مطابق ترجمہ ہوا کرتا تھا۔ ان تین حلقوں کے ساتھ ایک چوتھے حلقے کا اضافہ اس وقت ہوا جب ۱۹۷۶ء میں بھٹو حکومت کے صوبائی وزیر اوقاف نے، جو گوجرانوالہ سے ہی تعلق رکھتے تھے، مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کو سرکاری تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس پر شہر کے علماء نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی سرپرستی میں اس آرڈر کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمتی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس مزاحمتی تحریک میں سینکڑوں علمائے کرام اور کارکن گرفتار ہوئے جن میں راقم الحروف اور میرے دو چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن اور مولانا عبد الحق خان بشیر بھی شامل تھے، ہم اس موقع پر کئی ماہ تک گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں رہے۔ اس موقع پر ضرورت محسوس ہوئی کہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات کے دوران مدرسہ خالی نہ رہنے دیا جائے تاکہ حکومت کو اس پر قبضہ کرنے میں آسانی نہ ہو۔ اس ضرورت کے تحت تعطیلات کے دوران مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اعلان کر دیا گیا اور پھر دو عشروں تک حضرت والد محترم مدظلہ نے شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات کے دوران ہزاروں علمائے کرام اور طلبہ کو قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھائی۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء)
۱۹۷۶ء میں پنجاب کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور اس کے ساتھ ملحقہ جامع مسجد نور کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا جس کے خلاف احتجاج کے لیے گوجرانوالہ کے معروف وکیل جناب نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم کی قیادت میں احتجاجی تحریک چلی جس میں سینکڑوں علماء اور کارکنوں نے گرفتاری دی اور ہم تین بھائی راقم الحروف، مولانا عبد القدوس خان قارن اور مولانا عبد الحق خان بشیر بھی کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ اس تحریک کے اصل سرپرست مولانا مفتی عبد الواحدؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، اور مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی تھے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۷ جون ۲۰۰۹ء)
معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ میں دورۂ تفسیرِ قرآن کریم
میں دس رمضان المبارک کو بیرون ملک سفر سے واپس پہنچا تو پہلے سے طے شدہ مصروفیات نے کسی اور طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ گکھڑ میں معارف اسلامیہ اکادمی نے چند سالوں سے شعبان المعظم اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں دورہ تفسیر قرآن کریم کا اہتمام کر رکھا ہے۔ ہمارے فاضل ساتھی مولانا داؤد احمد، جو مدرسہ مظاہر العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث ہیں، ترجمہ قرآن کریم اور تفسیر پڑھاتے ہیں۔ ان کے علاوہ برادرم عبد القدوس خان قارن، برادرم مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا محمد اسماعیل محمدی اور دیگر فاضل دوستوں کے لیکچر بھی ہوتے ہیں۔ میرے لیے آخری تین پارے چھوڑ دیے جاتے ہیں، جن کے ترجمہ اور ہلکی پھلکی تفسیر کے ساتھ مجھے اپنے ذوق کی کچھ باتیں طلبہ کے کانوں میں انڈیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال ڈیڑھ سو کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات نے شرکت کی۔ ایک ہفتہ اس میں مصروفیت رہی۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۱۳ نومبر ۲۰۰۵ء)
جامعہ انوار القرآن چنیوٹ میں امامِ اہلِ سنتؒ سیمینار
عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران مجھے چنیوٹ میں ایک اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جامعہ انوار القرآن چنیوٹ کے مہتمم مولانا قاری عبد الحمید حامد، مولانا محمد عمیر اور ان کے رفقاء نے کیا تھا۔ یہ کانفرنس حضرت والد محترم مولانا محمد سر فراز خان صفدر دامت برکاتہم کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ’’امام اہل سنت سیمینار‘‘ کے عنوان سے جامع مسجد صدیق اکبر میں منعقد ہوئی، جس سے برادرم مولانا قاری عبد القدوس قارن، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبد الحمید حامد اور راقم الحروف کے علاوہ شاعر اسلام الحاج سید سلمان گیلانی نے بھی خطاب کیا۔
(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ جنوری ۲۰۰۹ء)
مدرسہ تعلیم القرآن، باگڑیاں، گکھڑ میں دورۂ تفسیر قرآن کریم
گکھڑ کے قریب باگڑیاں نامی گاؤں میں بھی کئی سالوں سے دورۂ تفسیر ہو رہا ہے۔ حاجی محمد نعیم بٹ صاحب والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے خاص عقیدت مندوں میں سے ہیں، صاحب حیثیت اور صاحب خیر آدمی ہیں۔ انہوں نے اپنے خرچہ سے گاؤں میں مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے درسگاہ قائم کر رکھی ہے جس میں سینکڑوں طلبہ اور طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ حضرت والد محترم اس مدرسہ کی خصوصی سرپرستی فرماتے تھے اور اس کے لیے دعا گو رہتے تھے، وہی نسبت ہمیں بھی اس کے ساتھ وابستہ رکھے ہوئے ہے اور وقتاً فوقتاً حاضری کے علاوہ دورۂ تفسیر کی سالانہ کلاس میں چند اسباق پڑھانے کی سعادت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ باگڑیاں میں مولانا داؤد احمد میواتی ترجمہ و تفسیر کا بیشتر حصہ پڑھاتے ہیں۔ ان کے ساتھ اس سال مولانا عبد الکریم ندیم، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا محمد الیاس گھمن اور مولانا محمد اسماعیل محمدی نے مختلف موضوعات پر لیکچر دیے جبکہ آخری دو پارے پڑھانے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ ۱۷ اگست کو اختتامی تقریب تھی جس کے مہمان خصوصی مخدوم العلماء حضرت مولانا عبد الستار تونسوی دامت برکاتہم تھے اور مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا عبد القدوس خان قارن اور راقم الحروف کے علاوہ علامہ تونسوی مدظلہ کے فرزند مولانا عبد الغفار تونسوی نے بھی خطاب کیا۔ علماء کرام اور طلباء کا بھرپور اجتماع تھا۔ دورۂ تفسیر کے علاوہ دورۂ صرف و نحو اور حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے طلبہ کی بھی دستار بندی کی گئی۔ حاجی محمد نعیم بٹ کو اللہ تعالیٰ نے دولت، کشادہ دل اور حسن ذوق سے نوازا ہے۔ بہت سے دینی مدارس کی خدمت کرتے ہیں اور علماء حق سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۱۱ اگست ۲۰۱۲ء)
مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کا تعزیتی پروگرام
۱۳ مارچ کو چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد نافع قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزندان گرامی جناب محمد مختار عمر اور مولانا ابوبکر صدیق بھی رونق محفل تھے۔ اظہارِ خیال کرنے والوں کا کہنا تھا کہ حضرت مولانا محمد نافعؒ ملک کے معمر اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے جبکہ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا شمار نوجوانوں میں ہوتا تھا مگر دونوں کتابی آدمی تھے اور سادگی، تواضع، علم دوستی اور تحقیق و مطالعہ دونوں میں قدرِ مشترک تھی۔ دونوں کی زندگی ایسی تھی کہ اسے دیکھ کر پرانے بزرگوں اور اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ حضرت مولانا محمد نافعؒ کی تصنیفات اور تحقیقی افادات و جواہر کو محفوظ رکھنے اور ان کی مسلسل اشاعت کے ’’رحماء بینہم ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ایک رفاہی ادارہ ان کی زندگی میں ہی قائم کر دیا گیا تھا اور اس کے تحت سماجی اور رفاہی خدمات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا تھا۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء)
حضرت والد صاحبؒ کا دورۂ تفسیرِ قرآن کریم
مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۱۹۷۶ء سے دورۂ تفسیر کا آغاز ہوا تھا جو اکیس سال تک چلتا رہا، اس کی بھی ریکارڈنگ موجود ہے۔ لیکن اس پر لطیفہ یہ ہے کہ گکھڑ والا عمومی درس تو مرتب ہو کر چھپ گیا ہے، نارمل سکول والا ریکارڈ نہیں ہو سکا تھا اور یہ ریکارڈ ہو کر ریکارڈ موجود ہے۔ اس دورے میں علماء سامنے ہوتے تھے اور والد صاحبؒ جو تفسیر انہیں پڑھاتے رہے ہیں وہ بڑی کام کی چیز ہے۔ ہمارے بھائی حضرت مولانا عبد القدوس قارن صاحب بڑے باذوق عالم ہیں اور بہت اچھے مدرس ہیں، اللہ پاک انہیں صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔ وہ اس کو مرتب کر رہے ہیں اور میں کئی دفعہ انہیں یاد دلاتا ہوں کہ مکمل کر لو، چھاپ دیتے ہیں۔
(جامعہ انوار العلوم گوجرانوالہ۰ ۲۵ فروری ۲۰۲۳ء)
حضرت والد محترمؒ کے خاص ذوقِ تدریس کے ترجمان
حضرت والد محترمؒ کا ایک خاص ذوق تدریس و تعلیم کے دوران حنفیت اور دیوبندیت کے مسلکی تعارف و دفاع میں ان کا ممتاز اسلوب بھی تھا جس سے ہزاروں علماء کرام نے استفادہ کیا ہے۔ ان کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم کی تدریس و تعلیم کے ماحول میں اس ذوق کو برادرم مولانا عبد القدوس خان قارن اور عزیزم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے بحسن و خوبی سنبھال رکھا ہے۔ اور وہ بحمد اللہ تعالیٰ ترمذی شریف کی خصوصی تدریس کے اس تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۳ جولائی ۲۰۱۵ء)
الشریعہ کی خصوصی اشاعت ’’امام اہل سنتؒ‘‘ پر مبارکباد
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذِ حدیث مولانا عبد القدوس خان قارن نے اپنی گفتگو میں خصوصی اشاعت (ماہنامہ الشریعہ ’’بیاد امام اہل سنتؒ‘‘) کی تیاری کو ایک قابل قدر اور فخریہ کارنامہ قرار دیتے ہوئے اس پر الشریعہ اکادمی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس کوشش کے ذریعے عوام الناس کو حضرت امام اہل سنت کی شخصیت اور ان کی ذات سے روشناس کرانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت کے ساتھ عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تحقیقات پر کامل اعتماد کیا جائے اور اگر کسی کے ذہن میں ان کی کسی بات سے اختلاف موجود ہے تو اسے صفحۂ قرطاس پر منتقل نہیں ہونا چاہیے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۷ اکتوبر ۲۰۰۹ء)
مسئلہ توہینِ رسالت پر علمی مباحثہ
مذکورہ مسئلہ (توہینِ رسالت پر موت کی سزا) پر ملک کے جن اہلِ علم نے سنجیدگی سے قلم اٹھایا ہے ان میں دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا مفتی محمد عیسٰی خان گورمانی، مولانا عبد القدوس خان قارن، مولانا مفتی ڈاکٹر عبد الواحد، مولانا مفتی محمد زاہد، علامہ خلیل الرحمن قادری، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، پروفیسر مشتاق احمد اور حافظ محمد عمار خان ناصر بطور خاص قابل ذکر ہیں، اور ہم ان سب حضرات کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک علمی مباحثہ کو آگے بڑھانے کی طرف توجہ دی اور اس میں حصہ لیا۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ اکتوبر ۲۰۱۱ء)
مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ کی نمازِ جنازہ کی امامت
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی کے ساتھ زندگی بھر میرا ربط و تعلق رہا۔ ہمارے درمیان عام طور پر مختلف دینی مسائل کی تحقیق اور نادر کتابوں کے حوالہ سے گفتگو چلتی رہتی تھی۔ نوشہرہ سانسی کی مسجد توحیدی میں امامت و خطابت کے ساتھ ان کی رہائش تھی اور اسی علاقہ میں جامعہ فتاح العلوم کے نام سے ایک درسگاہ بھی انہوں نے قائم کر رکھی تھی جس میں اپنی صحت کے زمانہ میں افتاء کا کورس کراتے تھے۔ بہت سے فاضل علماء کرام نے ان سے استفادہ کیا اور فقہ و افتاء کی تربیت حاصل کی۔ جب بھی ملاقات ہوتی کسی نایاب کتاب یا کسی مسئلہ پر نئی تحقیق پر بات چیت ہوتی، کوئی نئی کتاب ان کے علم میں آتی یا مجھے معلوم ہوتی تو باہمی معلومات کا تبادلہ ہو جاتا اور مسائل پر گفتگو ہوتی۔ ملاقات میں زیادہ دیر ہو جاتی تو پیغام بھیجتے تھے کہ کسی روز آکر مل جاؤ، میں جاتا اور ان کی مسجد میں کسی نماز کے بعد درس دیتا پھر کچھ دیر نشست رہتی۔ وہ مجھے کوئی کتاب ہدیہ کے طور پر مرحمت فرما دیتے۔ ہمارے پاس الشریعہ اکادمی میں بہت دفعہ تشریف لائے اور دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھتے۔ جمعہ سے قبل گیارہ بجے جامعہ فتاح العلوم کے قریب کھلے میدان میں ان کی نماز جنازہ برادر عزیز مولانا عبد القدوس قارن حفظہ اللہ تعالیٰ کی امامت میں ادا کی گئی جس میں حضرت مولانا فضل الرحمان درخواستی، حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ اور حضرت مولانا محب النبی بھی شریک تھے جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت کی اور اس کے بعد ان کی میت تونسہ شریف روانہ کر دی گئی۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ جنوری ۲۰۱۷ء)
قاری خبیب احمد عمرؒ کے ہم سبق
قاری خبیب احمد عمرؒ نے دورۂ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کیا اور وہ میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کے ہم سبق رہے ہیں، جو اس وقت مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے اسباق پڑھا رہے ہیں۔ قاری صاحب مرحوم نے اپنے سب بچوں کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا۔ ان کے بڑے بیٹے قاری ابوبکر صدیق جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں درس نظامی کے اسباق پڑھا رہے ہیں اور انتظامی معاملات میں بھی اپنے والد مرحوم کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے نماز جنازہ میں شریک اکابر علمائے کرام اور جامعہ حنفیہ کی مجلس شوریٰ نے انہیں قاری صاحبؒ کے جانشین کے طور پر منتخب کیا ہے اور تحریک خدام اہل سنت کے امیر مولانا قاضی ظہور الحسین نے ان کی دستاربندی کر کے اس کا اعلان کیا ہے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۹ مارچ ۲۰۰۹ء)
حضرت مولانا قاری عبد الحلیم صاحبؒ کے شاگر
۱۹۶۴ء میں تجوید کی کلاس کا آغاز ہوا۔ تجوید کے استاد کے طور پر حضرت مولانا قاری عبد الحلیم صاحبؒ گکھڑ تشریف لائے اور کافی عرصہ یہاں پڑھاتے رہے ہیں، ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں جنہوں نے ان سے تجوید پڑھی ہے، میں نے خود حضرت قاری صاحبؒ سے تقریبا دو مہینے مشق کی ہے، میرے استاد محترم تھے، بڑے شفیق استاد تھے۔ میرے اکثر بھائی (مولانا حافظ قاری عبد القدوس قارن، مولانا حافظ قاری رشید الحق عابد، مولانا قاری حماد الزہراوی، قاری محمد اشرف خان ماجد مرحوم، مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر، ہمشیرہ محترمہ ام قاری ابوبکر صدیق جہلم) ان کے شاگردوں میں سے ہیں، انہوں نے ان سے تجوید پڑھی اور مشق کی ہے۔
(الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ۔ ۲۳ ستمبر ۲۰۲۲ء)
قاری محمد انور صاحب کے ساتھ ایک نشست
قاری صاحب محترم گذشتہ دنوں گکھڑ تشریف لائے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ تھوڑا سا وقت الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے لیے مرحمت فرما دیں تو ہم ان کے چند پرانے شاگرد ان کے ساتھ بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کر لیں گے۔ چنانچہ ۲ مئی کو ان کے ساتھ ایک نشست کا پروگرام بن گیا اور ان کے شاگردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع ہو گئی جن میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر، لاہور کے نامور خطیب مولانا خورشید احمد گنگوہی، میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن، مولانا عبد الحق خان بشیر اور قاری منہاج الحق خان راشد اور دیگر بہت سے علماء کرام اور قراء کرام شریک تھے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۶ مئی ۲۰۰۷ء)
ماسٹر بشیر احمد کشمیری مرحوم
گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کے ایک قریبی ساتھی ماسٹر بشیر احمد کشمیری مرحوم مجلس احرار اسلام سے وابستہ تھے اور امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے گہری عقیدت رکھتے تھے، ان کے ہاں ہمارا اکثر آنا جانا رہتا تھا اور گھریلو نوعیت کے تعلقات ہوگئے تھے، حتیٰ کہ ان کی ایک ہمشیرہ محترمہ بعد میں میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کی خوشدامن ہوئیں۔ ماسٹر صاحب مرحوم جماعتی اور تحریکی لٹریچر سے دلچسپی رکھتے تھے اور انہی کے ہاں میں نے بچپن میں چودھری افضل حقؒ کی کتابوں ’’زندگی‘‘ اور ’’تاریخ احرار‘‘ وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۱۸ نومبر ۲۰۱۸ء)
پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور کتابوں کو خود پڑھنے کی منزل آگئی۔ اس کے لیے میں گکھڑ کے ایک مرحوم بزرگ ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیری کا ممنون احسان ہوں کہ ان کی بدولت کتاب کے مطالعہ کی حدود میں قدم رکھا۔ ماسٹر بشیر احمد کشمیریؒ پرائمری سکول کے ٹیچر تھے اور حضرت والد محترم کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ ان کے خاندان سے ہمارا گہرا خاندانی تعلق تھا۔ انہیں ہم چاچا جی کہا کرتے تھے اور وہ بھی ہم سے بھتیجوں جیسا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ کو ہم بے جی کہتے تھے اور ان کی ہمشیرگان ہماری پھوپھیاں کہلاتی تھیں۔ انہی میں سے ایک پھوپھی اب میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کی خوشدامن ہیں۔ والد محترم کو جب کسی جلسہ یا دوسرے کام کی وجہ سے رات گھر سے باہر رہنا پڑتا تو بے جی اس روز ہمارے ہاں رات گزارتی تھیں اور ہمیں چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتی تھیں جس کی وجہ سے ہم بہت خوش ہوتے تھے اور ہمیں ایسی رات کا انتظار رہتا تھا۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ اکتوبر ۲۰۱۱ء)
مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ — چھوٹے بھائی سے بھی چھوٹے
ازبکستان کے سفر میں مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کے ساتھ اچھی رفاقت رہی اور اس سفر کی بہت سی یادیں ذہن میں وقتاً فوقتاً تازہ ہوتی رہتی ہیں۔ طبیعت میں سادگی اور زندہ دلی تھی، دوستوں کے ساتھ بے تکلف رہتے تھے اور ہنسی مزاح کا شغل چلتا رہتا تھا۔ پہلے میرے ذہن میں تھا کہ عمر میں شاید مجھ سے بڑے ہوں گے مگر ایک مرتبہ سن ولادت دریافت کی تو غالباً ۱۹۵۲ء بتائی۔ میں نے دل لگی سے کہا کہ مفتی صاحب! یہ بات آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی، میں خواہ مخواہ اب تک آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھتا رہا ہوں۔ آپ تو میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن سے بھی عمر میں چھوٹے ہیں۔ یہ سن کر بہت ہنسے لیکن یہ بہرحال دل لگی کی بات تھی۔ مفتی صاحب عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود علم وفضل اور دینی جدوجہد کے جذبہ وحوصلہ میں مجھ سے کہیں آگے تھے اور آخری عمر میں تو ان کی جدوجہد ہم سب کے لیے قابل رشک تھی۔
(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ ۴ جون ۲۰۰۴ء)
بے تکلف دوستوں کا گروپ
اس حوالہ سے ایک اور واقعہ بھی ذہن میں آگیا ہے جس سے کسی دینی تحریک بالخصوص تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کارکنوں کے جذبات کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی مجلس عمل نے تحریک کے ایک دوسرے مرحلے میں دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں ’’کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا اور ملک بھر میں علماء کرام اور کارکنوں کو اس شرکت کے لیے کال دے دی۔ حکومت نے حسب عادت کانفرنس کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں اور چاروں طرف راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی تاکہ علماء اور دینی کارکن کسی طرف سے بھی راولپنڈی میں داخل نہ ہو سکیں۔ گوجرانوالہ سے ایک گروپ راولپنڈی جانے کے لیے روانہ ہوا جس میں میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن، قاری محمد یوسف عثمانی، جناب امان اللہ قادری اور ہمارے بے تکلف مرحوم دوست عبدالمتین چوہان شامل تھے۔ جہلم سے گزرتے ہی انہیں بس سے اتار دیا گیا کہ کسی داڑھی والے کو آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے بہت سے بس کنڈیکٹروں کی منتیں کیں مگر کوئی بھی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہ ہوا، بالآخر ایک بس کنڈیکٹر اس بات کے لیے تیار ہوا کہ بس کی چھت پر کسی تاجر کی خالی بوریاں بندھی ہوئی ہیں اگر وہ تیار ہوں تو وہ ان بوریوں میں لپیٹ کر انہیں راولپنڈی لے جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ حضرات بس کی چھت پر بار دانے کی بوریوں میں لپٹ کر راولپنڈی پہنچے اور احتجاجی جلسہ میں شریک ہوئے۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۲ء)
محمد خان جونیجو صاحب کا دور آیا ، وہ وزیراعظم بنے تو ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ ہم نے اسلام آباد میں کال دے دی، لوگوں کو کہا کہ جمعہ اسلام آباد پڑھنا ہے تو لوگ ایک دن پہلے پہنچ گئے کہ حکومت رکاوٹیں کھڑی کر دے گی۔ اس میں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ انہوں نے ناکہ بندی کر رکھی تھی اور ہم نے طے کر رکھا تھا کہ ہم نے ہر حال میں پہنچنا ہے۔ چونکہ جو پرانے کارکن تھے انہیں پتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ بعض حضرات نے اپنا حلیہ بدلا۔ یہ طریقے سیکھنے پڑتے ہیں جو ہم نے سیکھے ہیں۔ راستے میں انہوں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا ادھر ایک بندے سے کام ہے۔ انہوں نے پوچھا جمعہ کہاں پڑھنا ہے؟ ہم نے کہا جہاں آگیا پڑھ لیں گے، اس طرح ہم نکل گئے۔ حضرت مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ مجلس عمل کے نائب صدر تھے، وہ آئے تو ان کو اسلام آباد میں روکا گیا۔ وہ آتے ہی بولے کہ تم جانتے نہیں ہو میں مجلس عمل کا نائب صدر ہوں۔ انہوں نے کہا جی تشریف لے آئیں اور انہیں تھانے میں لے جا کر بٹھا دیا۔ اور بھی کئی حضرات کو تھانے میں لے گئے تھے۔ بہرحال لوگ اسلام آباد پہنچے، وہاں جمعہ پڑھا، جلسہ ہوا، شام کو ہماری میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد دوبارہ کال دی گئی،ناکہ بندی جہلم سے شروع ہو گئی تھی، پچاس ساٹھ میل پر ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ کوئی آدمی جانے نہ پائے۔ اس کے باوجود لوگ پہنچے اور لوگوں کے جذبے کا حال یہ تھا کہ گوجرانوالہ کے چار پانچ ساتھیوں کو جہلم میں روک دیا گیا۔ قاری یوسف عثمانی، میرے چھوٹے بھائی قارن صاحب، امان اللہ قادری، طالب اعوان وغیرہ۔ جب انہیں روکا تو انہوں نے سوچا کہ جانا تو ضروری ہے۔ لیکن انہوں نے بٹھا دیا تھا کہ آپ نہیں جا سکتے۔ چنانچہ ایک بس پر باردانہ لدا ہوا تھا، خالی بوریاں تھیں، ان حضرات نے کنڈیکٹر سے بات کی کہ ہم آپ کو ڈبل کرایہ دیں گے آپ ہمیں باردانہ میں باندھ کر لے جائیں۔ انہوں نے کرایہ طے کر کے اپنے آپ کو بندھوایا اور بس کے اوپر چڑھ گئے ۔ باردانہ مرچوں کا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر تھا، ہمارا تو برا حال ہوگیا ، لیکن بہرحال اسلام آباد پہنچ گئے۔ لوگ اس کیفیت میں بھی وہاں پہنچے۔ پھر جونیجو صاحب کے ساتھ جو تفصیلی مذاکرات ہوئے، میں بھی ان میں شریک تھا۔
(الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ میں نشستیں۔ ۲۰۱۶ء، ۲۰۱۷ء)
نوٹ: ماہنامہ الشریعہ میں مولانا راشدی کی تعارف و تبصرہ والی تحریریں مولانا کامران حیدر کے مرتب کردہ مجموعہ میں آ گئی ہیں، جو اسی اشاعت میں شامل ہے۔
مجلہ الشریعہ میں حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کا تذکرہ
مولانا حافظ کامران حیدر
حضرت قارن صاحبؒ کی ظرافتِ طبع
اہلیہ قاری خبیب احمد عمرؒ لکھتی ہیں:
ہم بہن بھائیوں میں سے بھائی جان زاہد شروع سے ہی سنجیدہ مزاج رہے ہیں، البتہ بھائی جان قارن کے مزاج میں بچپن سے ہی ظرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جس کا نشانہ اکثر ہم چھوٹے بہن بھائی ہی بنتے۔ کبھی کبھار گلی محلہ میں سے بھی کوئی اس کی زد میں آجاتا۔ بھائی جان قارن آج الحمدللہ مسند حدیث پر رونق افروز ہیں اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے استاد ہیں۔ دونوں بھائی زاہد وقارن اور عم زاد حاجی محمد فیاض تینوں، اباجی اورچاچا جی کی نیابت کا خوب حق ادا کر رہے ہیں، اللہم زد فزد۔ جب ہم سبق یاد کر رہے ہوتے تو بھائی قارن صاحب اپنی ظرافت طبع سے کوئی نہ کوئی چٹکلہ چھوڑ دیا کرتے۔
ایک مرتبہ جب بھائی جان سورۃ نور کی آیت ’’لُجِّیٍّ یَّغْشَاہُ‘‘ یاد کرتے ہوئے بار بار اس آیت کو پڑھتے اور لُجِّیٍّ پڑھتے ہوئے ہمارا منہ چڑا دیتے۔ ہم بہن بھائی جو ان سے چھوٹے تھے، ابا جان سے شکایت کرتے کہ بھائی قارن ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ ابا جی جب سر اٹھاکر دیکھتے تو بھائی پڑھ رہے ہوتے اور ہمیں ڈانٹ پڑ جاتی کہ وہ تو پڑھ رہا ہے، تم خواہ مخواہ شور کررہے ہو۔ دھیان سے سبق یاد کرو۔ جب تین چار دن تک مسلسل ایسا ہوتا رہا، نہ بھائی جان منہ چڑانے سے باز آئے اورنہ ہی ہم شکایت کرنے سے تو ابا جی کو کچھ شک ہوا۔ اب ابا جی چہرہ جھکائے مطالعہ میں مصروف تھے اور ساتھ چپکے چپکے کن انکھیوں سے بھائی جان کو بھی دیکھتے رہے، اور بھائی جان کو معلوم نہ ہوا۔ حسب معمول بھائی نے آیت پڑھی اور ہمارا منہ چڑایا تو اباجی نے فوراً چوری پکڑ لی اور پھر ڈانٹ ڈپٹ کا رخ بھائی جان کی طرف ہو گیا اور خوب ہوا۔ (ماہنامہ الشریعہ، امام اہلسنتؒ نمبر، 2009ء)
بلند آواز میں تدریس
استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ لکھتے ہیں:
راقم الحروف نے جب تدریس کا آغاز کیا تو حضرت (والد محترم) رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے مجھ پر پابندی تھی کہ آواز اتنی نکالو کہ مجھے اپنی درس گاہ میں تمہاری آواز آئے اور پھر حضرتؒ نے استاد محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی دام مجدہم سے فرمایا تھا کہ اس کا سبق وقتاً فوقتاً سنا کرو اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو، اس کی اصلاح کر دیا کرو۔ حضرت کے ارشاد کی وجہ سے حضرت استاد محترم دام مجدہم بھی میرے سبق کا جائزہ لیتے۔ اس وقت سے اونچی آواز میں سبق پڑھانے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ اب اس عادت کو ترک کرنا بھی چاہتا ہوں تو نہیں کر پاتا۔ اب اونچی بولنے سے کچھ تکلیف بھی ہو جاتی ہے اور پھر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ میری اونچی آواز کی وجہ سے میرے ارد گرد قریب کوئی مدرس سبق نہیں پڑھا سکتا جس سے مجھے کوفت ہوتی ہے، مگر کوشش کے باوجود میں اپنی اس عادت کو چھوڑ نہیں سکا۔ (الشریعہ امامِ اہلسنت نمبر، 2009ء)
مجھے اس کے چمڑے کی ضرورت نہیں ہے
استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ لکھتے ہیں:
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب گکھڑ میں استاد محترم قاری محمد انور صاحب دام مجدہم کا شعبہ حفظ میں تقرر ہوا اور ہم پہلی دفعہ حضرت قاری صاحب سے پڑھنے کے لیے گئے تو اتفاق سے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ صبح کے درس سے فارغ ہو کر مسجد سے نکل رہے تھے تو مجھے دیکھ لیا۔ پھر مجھے بازو سے پکڑ کر قاری صاحب کے پاس لے گئے اور فرمایا کہ مجھے اس کے چمڑے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پڑھائی کی ضرورت ہے۔ حضرت قاری صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔ وہ منظر مجھے آج بھی یاد ہے اور کئی دفعہ حضرت قاری محمد انور صاحب دام مجدہم نے بعد میں بھی اس کا ذکر فرمایا۔ پھر حضرت قاری صاحب دام مجدہم نے ہمارے چمڑے کی نہیں بلکہ ہماری پڑھائی کی ایسی فکر کی کہ اب وہ ہم جیسے نالائق شاگردوں پر مسجد نبوی میں چھتری کے سایے میں بیٹھ کر اپنے دوستوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتے رہتے ہیں۔ (ماہنامہ الشریعہ امامِ اہلسنت نمبر، 2009ء)
ہماری صاحب زادگی کو نچوڑ دیا جاتا
استاذ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارنؒ لکھتے ہیں:
میں ۱۹۶۸ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں داخل ہوا۔ میرے ہدایۃ النحو کی کلاس کے اسباق تھے جبکہ برادر محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی دام مجدہم کے آخری سال تھے۔ برادر محترم دوران تعلیم بھی خاصے متحرک اور جمعیۃ علماے اسلام کے فعال کارکن تھے۔ دور دراز کے سفر بھی کرتے مگر صبح جنرل حاضری میں ضرور حاضر ہو جاتے تھے جو حضرت رحمۃ اللہ علیہ خود لیا کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کوئی کسی وجہ سے کسی دن حاضر نہ ہو سکتا تو اگلے دن تمام طلبہ کے سامنے ہمیں کھڑا کر کے پوچھا جاتا کہ کل کہاں تھے؟ اس رسوائی سے بچنے کے لیے جرات ہی نہیں ہوتی تھی کہ غیر حاضری کی جائے۔ اسی طرح ہمارے جو اسباق حضرت کے پاس ہوتے تھے، ان میں اسباق سننے یا امتحان کے طور پر کوئی بات پوچھنے میں ہمیں ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا تا تھا، بلکہ بعض اوقات یہ سلسلہ ہم سے ہی شروع کیا جاتا تھا اور کوتاہی پر ساری جماعت کے سامنے ہماری صاحب زادگی کو یوں نچوڑ دیا جاتا کہ ایک بوند بھی ہمارے اندر نہ رہی۔ (ماہنامہ الشریعہ امامِ اہلسنت نمبر، 2009ء)
امامِ اہلِ سنتؒ کا اپنے کمرے اور چارپائی سے اُنس
اہلیہ استاذ جی حضرت مولانا زاہد الراشدی لکھتی ہیں:
اپنے کمرے او راپنی چارپائی سے انھیں بہت انس تھا۔ موقع کوئی بھی ہو، وہ اپنے کمرے میں اپنی چارپائی پر ہی سوتے تھے۔ جب وہ بیمار ہوئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کی آب وہوا تبدیل کی جائے۔ ان کے کہنے پر راشدی صاحب نے بھی بہت کوشش کی کہ وہ گوجرانوالہ آ جائیں اور بھائی عبد الحق صاحب نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ابا جی کچھ دنوں کے لیے ہی سہی، گجرات آ جا ئیں لیکن وہ نہیں مانے۔ البتہ شاید مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ پرانی یادیں وابستہ ہونے کی وجہ سے وہ بیماری کے دوران دو مرتبہ تقریباً دس دس دن کے لیے قارن صاحب کے گھر رہنے کے لیے آئے۔ ہم سب نے کوشش کی کہ وہ ہمارے ہاں رہیں، لیکن ان کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ میرا کمرہ اور میری چارپائی، بس مجھے وہیں پہنچاؤ۔ وہ اپنے کمرے میں واپس جانے کے بہانے تلاش کرتے تھے، کیونکہ انھیں وہیں جا کر سکون ملتا تھا۔ ان کا کمرہ بہت یادگار کمرہ ہے۔ انھوں نے اپنی تمام کتابیں وہیں بیٹھ کر لکھیں، بہت سی اہم شخصیات کے ساتھ ملاقات بھی اسی کمرے میں ہوئی اور بہت سے اہم فیصلے بھی وہیں ہوئے۔ (الشریعہ امامِ اہلسنت نمبر، 2009ء)
خودداری
قاضی عبدالرحمٰن فرماتے ہیں:
حضرت امام اہل سنتؒ طلباء کو کبھی تحکمانہ انداز میں نام لے کر نہ بلاتے تھے بلکہ ہمیشہ مولانا کہہ کر پکارتے تھے۔ ایک مرتبہ جمعہ کے دن حضرت کے پاس گکھڑ ملاقات کے لیے گئے تو حضرت نے ہمیں بٹھایا، اکرام کیا اور پر تکلف کھانا کھلایا۔ اس وقت حضرت کے صاحبزادے مولانا عبدالقدوس قارن چھوٹے بچے تھے۔ کچھ ساتھیوں نے مولانا عبدالقدوس قارن کو کچھ رقم دے دی ۔ حضرت نے پوچھا، عبدالقدوس کو پیسے کس نے دیے ہیں؟ ہم نے عرض کی: حضرت! ہم نے، تو اس پر فرمایا کہ تمہارا اپنے استاد کے بچے سے محبت کرنا اور اکرام کرنا اپنی جگہ، مگر اس طرح بچے کی عادت خراب ہو جاتی ہے۔ یہ اوروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے گا۔ آئندہ ایسے نہ کرنا۔ اللہ اکبر! کیسی شان تھی امام اہل سنت کی کہ طلباء کے کام کی تعریف بھی کر دی اور بچے کی اصلاح بھی کر دی۔ (ماہنامہ الشریعہ، امام اہلسنتؒ نمبر، 2009ء)
حضرت امامِ اہلِ سنت سے اجازتِ حدیث
حافظ محسن سعید ثاقب، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ لکھتے ہیں:
گزشتہ سال نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث میں داخلہ لیا تو ارادہ یہ تھا کہ گکھڑ قریب ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً زیارت کی سعادت ملتی رہے گی۔ بحمداللہ حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ محدث وقت کی زیارت سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی رہی۔ آخری بار حضرت کی زیارت ۲۵ ؍فروری ۲۰۰۹ ء کو ہوئی جب وہ اپنے صاحبزادہ استاذ محترم مولانا عبد القدوس خان قارن کے گھر تشریف لائے۔ دورۂ حدیث کی جماعت کے ساتھیوں نے مولانا زاہد الراشدی اور مولانا عبدالقدوس قارن سے خواہش ظاہر کی کہ ہم حضرت سے سبق پڑھنا اور حدیث کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔ حضرت سے پوچھا گیا تو کمال شفقت سے اجازت مرحمت فرمائی، چنانچہ ہم سب ساتھی مولانا عبدالقدوس قارن صاحب کے گھر گئے اور زیارت کے ان مقدس لمحات میں حضرت کے سامنے بخاری ثانی سے واقعہ افک کی عبارت پڑھی گئی۔ حضرت اس وقت شدید بیماری اور کمزوری کی وجہ سے نیم دراز تھے۔ عبارت سن کر نہایت گھمبیر لہجے میں فرمایا کہ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعا کرنا کہ میں حدیث کا ادب کما حقہ نہیں کرسکا، لیکن میں معذور ہوں ۔ عبارت پڑھتے ہوئے خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ طلبہ حدیث اپنے اکابر کے ہاں ادب حدیث کے بارے میں فکر مندی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ (الشریعہ امامِ اہلسنت نمبر، 2009ء)
تعارف و تبصرہ کتب
’’خزائن السنن‘‘ (جلد دوم)
ترمذی شریف پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے درسی افادات ’’خزائن السنن‘‘ (جلد اول) کے عنوان سے چھپ چکے ہیں جو ترمذی حصہ اول کے ابواب پر مشتمل ہیں۔
اب ترمذی کے کتاب البیوع سے متعلقہ ابواب پر مولانا حافظ عبد القدوس قارن استاذِ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اپنے درسی افادات کو اسی عنوان کے ساتھ پیش کیا ہے جو مفید مباحث اور معلومات پر مشتمل ہیں اور طلبہ و اساتذہ کے لیے یکساں افادیت کے حامل ہیں۔
اڑھائی سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمدہ طباعت اور خوبصورت جلد کے ساتھ عمر اکادمی، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۹۰ روپے ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ مارچ ۲۰۰۰ء)
’’بخاری شریف غیر مقلدین کی نظر میں‘‘
برادر عزیز مولانا حافظ عبد القدوس قارن سلّمہ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اس رسالہ میں احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحيہ والسلام کے مستند ترین مجموعہ ’’الجامع الصحیح للبخاریؒ‘‘ کے بارے میں غیر مقلدین کے اعتراضات اور امام بخاریؒ سے مختلف مسائل میں ان کے اختلافات کا باحوالہ تذکرہ کیا ہے۔ اور یہ واضح کیا ہے کہ غیر مقلدین کی طرف سے احناف پر بخاری شریف کی کچھ احادیث پر عمل نہ کرنے کا جو الزام عائد کیا جاتا ہے، وہ خود بعض دیگر مسائل میں اس کے مرتکب ہیں، اور علمی و فقہی مسائل میں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
ان مسائل میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ علمی اختلاف کو خوش دلی کے ساتھ قبول کیا جائے اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی سے گریز کیا جائے۔
۶۸ صفحات کے اس رسالہ کی قیمت اٹھارہ روپے ہے اور اسے عمر اکیڈیمی، نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ اکتوبر 1998ء)
’’غیر مقلدین کے متضاد فتوے‘‘
ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے مقلدین پر غیر مقلدین کی طرف سے اکثر اعتراض کیاجاتا ہے کہ ان کے مسائل اور فتووں میں تضاد ہے۔ حالانکہ مسائل و احکام میں فقہی اختلاف ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذِ حدیث مولانا عبد القدوس خان قارن نے اس کتابچہ میں غیر مقلد علماء کے مسائل اور فتاوٰی کے باہمی تضاد کو بے نقاب کیا ہے اور باحوالہ نشاندہی کی ہے کہ مقلدین پر اختلاف کا الزام لگانے والوں کے باہمی اختلافات کی حالت کیا ہے۔ صفحات ۱۰۰ ، قیمت ۲۷ روپے، ملنے کاپتہ، عمر اکادمی: نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ اگست، 2001ء)
’’تصویر بڑی صاف ہے سبھی جان گئے‘‘
معروف اہل حدیث عالم مولانا ارشاد الحق اثری نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی تصنیفات پر نقد کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا جواب حضرت شیخ مدظلہ کے فرزند مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے دیا۔ مولانا اثری نے اس کا جواب شائع کیا اور مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے اب اس کے جواب میں قلم اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ پر مولانا اثری کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بے وزن ہیں۔
صفحات ۲۹۶، مجلد، قیمت ۷۵ روپے، ملنے کا پتہ: عمر اکادمی، نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ اپریل 2003ء)
’’مولانا ارشاد الحق اثری کا مجذوبانہ واویلا‘‘
فقہی اختلافات امت میں چودہ سو سال سے چلے آ رہے ہیں اور تعبیر و تشریح اور استنباط و استخراج کے مختلف اصولوں کے تحت فقہی مکاتبِ فکر کا وجود ایک مسلّمہ اور فطری حقیقت ہے۔ لیکن فقہائے امت اور اہلِ علم کا ہمیشہ سے یہ ذوق اور رویہ رہا ہے کہ اختلافِ رائے کے حق اور اس کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کو ہی سلامتی کی راہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
البتہ گزشتہ ایک صدی کے دوران برصغیر پاک و ہند میں فقہی اختلافات کے اظہار کے حوالے سے یہ رویہ اور ذوق اپنے مقام سے محروم رہا ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تقلید سے گریز کرنے والے حضرات نے اہلِ حدیث کے نام سے اپنا جداگانہ تشخص قائم کرنا چاہا تو اس تشخص و امتیاز کو جلد از جلد منظر عام پر لانے کے جذبہ نے جارحیت کا راستہ اختیار کر لیا۔ اور رفع یدین، فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجہر بھر جیسے صدیوں سے چلے آنے والے مسائل میں فتویٰ بازی کے عصر نے راہ پا لی۔ چنانچہ ان مسائل میں احناف کے خلاف جارحانہ انداز میں مختلف کتابیں سامنے آئیں اور تحریری و تقریری مناظرہ بازی کا بازار گرم ہو گیا۔
اس پس منظر میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے احناف کے موقف کی علمی ترجمانی کا بیڑا اٹھا لیا اور ان اختلافی مسائل پر ان کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف نے احناف کے مذہب اور دلائل کی محققانہ وضاحت کے باعث اہلِ علم سے داد وصول کی۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی ان تصانیف کے حوالے سے ممتاز اہلِ حدیث عالمِ دین مولانا ارشاد الحق اثری نے ان کی شخصیت کو موضوعِ بحث بنایا اور ’’مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینہ میں‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تحریر فرمائی۔
زیر نظر کتاب مولانا اثری کی اس تصنیف کا جواب ہے جو حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے فرزند اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ حدیث برادر عزیز مولانا عبد القدوس قارن سلّمہ کی تحریر کردہ ہے اور اس میں انہوں نے مولانا اثری کے استدلالات اور طرز استدلال کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ سوا تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ساٹھ روپے ہے اور اسے مکتبہ صفدریہ نزد مدرسہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ دسمبر 1995ء)
’’امام اعظم ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع‘‘
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر بعض حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں ہر دور میں ممتاز اہلِ علم نے قلم اٹھایا ہے اور مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے اکابر علماء کرام نے امام اعظمؒ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا رد کیا ہے۔
اس سلسلہ میں عرب دنیا کے معروف حنفی عالم الاستاذ المحدث محمد زاہد الکوثری رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ’’تانیب الخطیب‘‘ ایک قابل قدر علمی کاوش ہے جس میں پانچویں صدی کے محدث خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
برادر عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن سلّمہ استاذ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اس کا ترجمہ اردو میں ’’امامِ اعظمؒ کا عادلانہ دفاع‘‘ کے نام سے کیا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ سوا چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمر اکادمی، نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ نے عمدہ کتابت و طباعت، خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ پیش کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو چالیس روپے ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ دسمبر 1999ء)
’’انکشاف حقیقت‘‘
ایک اہل حدیث عالم نے ’’احناف کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں انھوں نے بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فقہ حنفی کے بیشتر مسائل احادیث نبویہ کے خلاف ہیں، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ فقہ حنفی کی بنیاد قرآن کریم، سنت نبوی اور آثار صحابہ پر ہے اور احناف کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد ان مآخذ پر نہ ہو۔ استنباط واستدلال یا احادیث وآثار میں ترجیحات میں اختلاف کی بات ہو سکتی ہے اور یہ ہر فقہ میں موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ فقہ حنفی یا دوسرے ائمہ کرام کی فقہیں نعوذ باللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف پر مبنی ہیں، نری جہالت اور ہٹ دھرمی کی بات ہے۔
مولانا عبد القدوس قارن، استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے زیر نظر کتاب میں اسی جہالت کو بے نقاب کیا ہے اور دلائل وتحقیق کے ساتھ مذکورہ بالا کتاب کے مصنف کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ہے۔
چار سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب عمر اکادمی، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ جولائی، 2006ء)
’’اظہار الغرور فی کتاب آئینہ تسکین الصدور‘‘
شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ نے مسئلہ حیات النبی پر ’تسکین الصدور‘کے نام سے مبسوط تصنیف لکھی جس پر اکابر علماے دیوبند کی تصدیقات موجود ہیں۔ اس کے جواب میں جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ کے رہنما مولوی شیر محمد جھنگوی صاحب نے ’آئینہ تسکین الصدور‘ لکھ کر حضرت شیخ الحدیث کی مذکورہ تصنیف کو بے وقعت بنانا چاہا اوراس مہم کو کامیاب کرنے کے لیے بیسیوں مغالطے دیے۔ مولانا حافظ عبدالقدوس صاحب قارن نے ’اظہار الغرور‘ کے نام سے ان مغالطوں کاجواب دیاہے جو موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے لائق مطالعہ ہے۔
ناشر: عمر اکادمی نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ (مولانا مشتاق احمد، ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ مئی 2007)
’’وضو کا مسنون طریقہ‘‘
وضو کا سنت طریقہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین ہمیشہ سے اختلافی رہا ہے اور فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر دلائل موجود ہیں۔ اختلافی اور فروعی مسائل کی دعوت کو اگر اپنے اپنے حلقہ اثر تک محدود رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر انھیں مناظرانہ تقریروں اور تحریروں کی صورت میں عوام الناس کے سامنے پیش کیا جائے تو لازمی طور پر مذہبی رواداری کی فضا مکدر ہوتی ہے اور اتحاد امت کی کوششوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لیے بالخصوص موجودہ تناظر میں مناظرانہ اسلوب میں اختلافی مسائل کو زیر بحث لانے سے اجتناب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
زیر تبصرہ کتابچہ، شیعہ پروفیسر جناب غلام صابر صاحب کی مناظرانہ انداز میں لکھی گئی کتاب ’’وضوء رسول‘‘ کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں پروفیسر صاحب نے مبینہ طور پر اہل سنت کے وضو کے طریقہ کو غلط اور اہل تشیع کے طریقہ وضو کو عین سنت رسول ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب نے اپنے کتابچہ میں پہلے تو وضو کا مسنون طریقہ مکمل حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کے بعد پروفیسر صاحب کے دلائل واعتراضات کا ایک ایک کر کے جواب دیا ہے۔ جو احباب اس موضوع پر دلائل کو یکجا دیکھنا چاہتے ہوں، ان کے لیے یہ کتابچہ بے حد معلوماتی اور مفید ہے۔
یہ کتابچہ عمر اکادمی نزد مدرسہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۳۰ روپے ہے۔ (محمد اکرم ورک، ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ۔ دسمبر 2004ء)
’’حمیدیہ شرح اردو رشیدیہ‘‘
’’رشیدیہ‘‘ فنِ مناظرہ کی معروف کتاب ہے جو درسِ نظامی کے نصاب میں شامل ہے اور اہلِ علم ایک عرصہ سے اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ مدرسہ نصرت العلوم کے فاضل مدرس مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن نے اس کا اردو ترجمہ اور ضروری مقامات کی تشریح کر کے اس فن پارہ کو طلبہ اور اردو دان طبقہ کے لیے قدرے آسان کر دیا ہے۔
یہ کوشش تعلیمی اور تدریسی نقطۂ نظر سے بلاشبہ قابلِ قدر ہے لیکن اس کتاب کے لکھے جانے کے بعد چار صدیاں گزر چکی ہیں اور گفتگو اور مناظرہ کا فن بے شمار مزید مراحل طے کر چکا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ گفتگو اور مباحثہ کے جدید اسلوب اور تقاضوں سے بھی دینی مدارس کے طلبہ کو روشناس کرایا جائے تاکہ منبر و محراب کے اسلوبِ تکلم کو اجنبی اور بوجھل محسوس کرنے کا رجحان کم ہو اور نئی نسل اس سے زیادہ استفادہ کر سکے۔
خوبصورت اور مضبوط جلد کے ساتھ معیاری کتابت و طباعت سے کتاب مزین ہے۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت اڑتالیس روپے ہے اور مکتبہ صفدریہ، نزد مدرسہ نصرت العلوم، گوجرانوالہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔(ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، مئی 1993ء)
’’الخیرات فی تفسیر القرآن الکریم‘‘
مدرسہ نصرۃ العلوم میں منتہی طلبہ کے لیے حضرت رحمہ اللہ کے تفسیر قرآن کے دروس کو مرتب کرنے کی خدمت استاذ گرامی وعم مکرم مولانا عبد القدوس خان قارن زید مجدہ انجام دے رہے ہیں اور وہ اس ضمن کا دوتہائی کام بحمد اللہ مکمل کر چکے ہیں۔ ان دروس کا نام خود حضرت شیخ الحدیثؒ نے ’’الخیرات فی تفسیر القرآن الکریم مع الربط بین السور والرکوعات‘‘ تجویز فرمایا تھا اور اسی عنوان سے یہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں کتابی صورت میں منصہ شہود پر آئیں گے۔ (از مولانا محمد عمار خان ناصر) (ماہنامہ الشریعہ ، گوجرانوالہ۔ امام اہلسنتؒ نمبر، 2009ء)
فہرست تصنیفات
1. خزائن السنن (کتاب البیوع)
2. بخاری شریف غیر مقلدین کی نظر میں
3. غیر مقلدین کے متضاد فتوے
4. ’’تصویر بڑی صاف ہے سبھی جان گئے‘‘
5. ’’مولانا ارشاد الحق اثری کا مجذوبانہ واویلا‘‘
6. امام ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع (علامہ کوثریؒ کی کتاب تانیب الخطیب کا اردو ترجمہ)
7. انکشاف حقیقت
8. ’’اظہار الغرور فی کتاب آئینہ تسکین الصدور‘‘
9. وضو کا مسنون طریقہ (شیعہ کی جانب سے اہل سنت کے وضو پر اعتراضات کے جوابات)
10. حمیدیہ ترجمہ رشیدیہ (فن مناظرہ کی کتاب)
11. الدروس الواضحہ شرح کافیہ
12. الخیرات فی تفسیر القرآن الکریم:
13. امام بخاریؒ کا عادلانہ دفاع
14. جنت کے نظارے (علامہ ابن القیمؒ کی کتاب حادی الارواح کا اردو ترجمہ)
15. مروجہ قضائے عمری بدعت ہے
16. علم غیب خاصہ خداوندی
17. ایضاحِ سنت
18. مسئلہ تین طلاق پر جواب مقالہ
مضامین و خطوط
فہرست اشاعت بیاد حضرت قارنؒ
ادارہ الشریعہ

سانحۂ ارتحال کی اطلاعات اور نماز جنازہ کا احوال
ٹیلیفون کالز، وائس میسجز اور سوشل میڈیا پر آڈیو ویڈیو پوسٹس
زعماء، جامعات اور اداروں کی جانب سے تعزیتی خطوط
تعزیت کے لیے تشریف لانے والے وفود اور شخصیات
قدرے طویل تحریروں کی صورت میں تذکرہ اور یادیں
مختصر سے درمیانی طوالت کی تحریروں میں مغموم تاثرات
اشعار کی صورت میں قلمبند کیے گئے اظہار ہائے تعزیت
افرادِ خاندان کے تحریر کردہ تاثرات و احساسات
تعزیتی مجالس میں پیش کیے گئے جذبات و خیالات
حضرت قارنؒ کی منتخب آڈیوز کا متن اور اصحابِ قلم کی گزشتہ تحریروں میں حضرت مرحوم کا تذکرہ
پیش لفظ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
برادرِ عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کی اچانک وفات کا سانحہ صرف سواتی خاندان کے لیے نہیں بلکہ ان کے ہزاروں شاگردوں اور احباب و رفقاء بالخصوص جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے متعلقین کے لیے گہرے صدمہ کا باعث بنا ہے۔ اور علم و دانش کی وہ جولانگاہ جو ان کی زندگی بھر کی جہد و کاوش کا میدان تھی، اس کا خلا اس صدمہ کی وسعت و گہرائی میں مسلسل اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے جس سادگی، متانت اور وقار کے ساتھ پون صدی کے لگ بھگ زندگی گزاری اور تعلیم و تدریس اور وعظ و نصیحت میں ساری عمر محو رہے وہ نئی نسل کے علماء کرام اور کارکنوں کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ہے۔ ایک انسان ہونے کے حوالہ سے وہ یقیناً خامیوں اور کوتاہیوں سے پاک نہیں تھے لیکن ہر بات کو ایک حد تک محدود رکھنا اور اس کے دینی و اخلاقی دائروں کی پاسداری کا اہتمام ان کا خاص ذوق و امتیاز تھا جس کا خاندانی اور معاشرتی ماحول میں جابجا احساس ملتا ہے اور ان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، آمین یا رب العالمین۔
فرزند عزیزم حافظ ناصر الدین خان عامر نے مولانا قارن صاحبؒ کے فرزندوں بالخصوص عزیزم مولانا حافظ نصر الدین خان عمر کے تعاون سے ان کی یادوں کا یہ گلدستہ جس محنت و کاوش سے سجایا ہے وہ لائقِ تحسین ہے اور نقشِ اول کے طور پر اس سلسلہ کا بہترین آغاز ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور مولانا قارن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرتے ہوئے ان کے فرزندوں اور دیگر سب اہلِ خاندان و رفقاء کو صبر ِجمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
ابو عمار زاہد الراشدی
۳۱ اگست ۲۰۲۵ء
عرضِ مرتب
ناصر الدین عامر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کے سانحۂ ارتحال کے موقع پر اس اشاعت کی تیاری میں حضرت مرحوم کے فرزندان خصوصاً مولانا حافظ نصر الدین خان عمر نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ اس مختصر وقت میں یہ سب اس لیے ممکن ہو سکا کہ بہت سا مواد ہمیں احباب کے فیس بک اکاؤنٹس پر ٹائپ شدہ مل گیا جسے پروف ریڈنگ اور ضروری تزئین کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ البتہ تعزیتی مکاتیب اور آڈیو ویڈیو پیغامات ٹائپ کیے گئے ہیں، نیز ویب سائیٹ پر تعزیتی نوعیت اور اس پیمانے کا مواد منظم انداز میں شائع کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
جب سانحۂ وفات کے ابتدائی دنوں میں مجلہ صفدر کی ’’خصوصی اشاعت‘‘ کا اعلان سامنے آیا تو ہم نے ادارہ الشریعہ کی طرف سے اس سلسلہ میں اعلان کا ارادہ ترک کر دیا۔ چنانچہ ہماری اس اشاعت میں جو مواد شامل ہے اس کے حصول کے ذرائع یہ ہیں:
- استاذ جی مولانا ابوعمار زاہد الراشدی نے تعزیتی خطوط مہیا فرمائے۔
- سوشل میڈیا سے احباب کی پوسٹس جمع کی گئیں، جو کہ اکثر مواد پر مشتمل ہیں۔
- برادرم نصر الدین خان عمر نے حضرات سے تحریریں وصول کر کے بھیجیں۔
- اہلِ خاندان کی طرف سے تحریریں موصول ہوئیں۔
- حضرت قارنؒ کے ’’افکار و نظریات حضرات شیخینؒ سیمینار سے خطاب‘‘ کا متن حافظ محمد عمر فاروق بلال پوری نے بھیجا۔
- حضرت قارنؒ کا بیان ’’تخلقوا باخلاق اللہ کے تقاضے‘‘ راقم الحروف نے ٹائپ اور مرتب کیا۔
- استاذ جی مولانا ابوعمار زاہد الراشدی کی گزشتہ تحریروں سے حضرت قارنؒ کے تذکرہ کا انتخاب راقم نے کیا۔
- مجلہ الشریعہ میں شائع شدہ تحریروں سے حضرت قارنؒ کے تذکرہ کا انتخاب مولانا کامران حیدر نے کیا۔
- حضرت قارنؒ کی تصانیف کی فہرست حضرت مرحوم کے فرزند مولانا عبد الوکیل خان مغیرہ کی مہیا کردہ ہے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کی دینی و علمی خدمات اور سماجی روابط کا دائرہ جس قدر وسیع تھا اسی مناسبت سے ان کے سانحۂ ارتحال کے موقع پر پاکستان بھر سے بلکہ دیگر ممالک سے بھی حضرات نے اپنے تاثرات و احساسات کا اظہار کیا ہے اور حضرت مرحوم سے متعلق اپنی یادداشتوں اور واقعات کا انکشاف بھی کیا ہے۔ اور یہ سب مل کر حضرت قارنؒ کی زندگی اور خدمات کے ایک اجمالی آئینہ کی صورت اختیار کر جاتا ہے، جو کہ کسی بھی تعزیتی مجموعہ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازیں اور حضرت مرحوم کے درجات بلند سے بلند فرمائیں۔
(مدیرمنتظم مجلہ الشریعہ)