الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۵ء

مدنی مسجد اسلام آباد کا معاملہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسجد گرانے کے متعلق چند اہم اصولی سوالاتڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
اکیسویں صدی میں تصوف کی معنویت اور امکاناتمولانا شاہ اجمل فاروق ندوی 
خطبہ حجۃ الوداع اغیار کی نظر میںمولانا حافظ واجد معاویہ 
شہیدِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مظلومانہ شہادتمولانا محمد طارق نعمان گڑنگی 
خادمۂ رسول ؐحضرت امِ رافع سلمٰیؓمولانا جمیل اختر جلیلی ندوی 
سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے نتائجمولانا مفتی عبد الرحیم 
خواتین کا مسجد میں باجماعت نماز ادا کرناڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
خطبہ، تقریر اور نمازِ جمعہ میں لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمالمفتی سید انور شاہ 
کُل جماعتی دفاعِ شعائر اللہ سیمینار: اعلامیہ، سفارشات، قراردادیںقرآن و سنہ موومنٹ پاکستان 
غزہ پر اسرائیل کا نیا حملہ: فلسطین کا مستقبل کیا ہو گا؟ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
East and West: Different Futures for Different Pastsمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

سلسلہ وار

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۳)مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۴)ڈاکٹر محمد سعد سلیم 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۷)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 
اداریہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

ماہانہ بلاگ

بونیر میں امدادی سرگرمیاں اور مدارس کے طلباءمولانا مفتی فضل غفور 
اسلام ایک عالمی مذہب کیسے بنا؟ایپک ہسٹری 
پاکستان اور عالمِ اسلام: فکری و عملی رکاوٹیں کیا ہیں؟عبد اللہ الاندلسی 
ردِ عمل پر قابو پانے کی ضرورتمحسن نواز 

فلسطین

غزہ کو بھوکا مارنے کے اسرائیلی اقدامات کو کیسے روکا جائے؟الجزیرہ 
گلوبل صمود فلوٹیلا: غزہ کی جانب انسانی ہمدردی کا سمندری سفرادارہ الشریعہ 
صمود (استقامت) فلوٹیلا میں پاکستان کی نمائندگیمولانا عبد الرؤف محمدی 
فلسطینی ریاست کی ممکنہ تسلیم کا برطانوی فیصلہ اور اس کی مخالفتادارہ الشریعہ 
فلسطین کے متعلق آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کا بدلتا ہوا رجحان: ایک مذاکرہ کی روئیداداے بی سی نیوز آسٹریلیا 

کتابیات

’’سیرتِ مصطفیٰ ﷺ (۱)‘‘حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ 
’’مطالعۂ سیرتِ طیبہ ﷺ : تاریخی ترتیب سے‘‘ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن 
’’اکبر بنام اقبال: ایک صدی کے بعد 133 غیرمطبوعہ خطوط کی دریافت‘‘ڈاکٹر زاہد منیر عامر 
’’فہمِ اقبال — کلامِ اقبال کا موضوعاتی انتخاب‘‘رانا محمد اعظم 

مدنی مسجد اسلام آباد کا معاملہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رپورٹ : ادارہ الشریعہ

مساجد و مدارس کو مسمار کرانے کی کارروائی کو قانونی اور شرعی حیثیت کے حوالے سے پیش کرنا ہمارے نزدیک فریب کاری سے کم نہیں ہے، اس لیے کہ اگر بات صرف قانون کی عملداری یا شرعی حیثیت کی پاسداری کی ہوتی تو اس کا نشانہ صرف مساجد نہ بنتیں بلکہ اسلام آباد میں غیر قانونی قبضوں کی باقی صورتیں بھی اس میں شامل ہوتیں، اور کسی بھی عنوان سے سرکاری اراضی پر بغیر اجازت تعمیر کی جانے والی تمام عمارتوں کے خلاف اجتماعی آپریشن کا فیصلہ ہوتا۔ باقی تمام غیر قانونی قبضوں کو نظرانداز کر کے صرف مساجد کے خلاف آپریشن اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اصل ہدف ’’لاقانونیت‘‘ نہیں بلکہ ’’مسجد‘‘ ہے اور اسلام آباد کے حکمران دنیا کو اپنے سیکولر ہونے کا یقین دلانے کے لیے مساجد کے خلاف آپریشن کرنا چاہ رہے ہیں۔

(ابوعمار زاہد الراشدی — ۱۵ اگست ۲۰۲۵ء)

اِنہدام سے تعمیرِ نو کے فیصلے تک

اسلام آباد کی مدنی مسجد، جو مری روڈ (راول ڈیم چوک) کے قریب برسوں سے عبادت کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اگست 2025ء میں اچانک انتظامیہ کی کارروائی کا نشانہ بن گئی۔ اس انہدام نے نہ صرف مقامی لوگوں اور دینی طبقات میں بے چینی پیدا کی بلکہ ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق کی بحث ایک بار پھر چھیڑ دی۔

9 اور 10 اگست کی درمیانی شب سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے بھاری مشینری کے ذریعے مسجد اور اس سے منسلک مدرسے کو مسمار کر دیا۔ انہدام کے فوراً بعد علاقے میں گھاس اور پودے لگا دیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ عمارت گرین بیلٹ پر غیر قانونی طور پر موجود تھی اور وی آئی پی روٹ پر ہونے کے باعث سیکیورٹی رسک سمجھی جاتی تھی۔ حکومت کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مدرسے کو پہلے ہی مارگلہ ٹاؤن میں منتقل کر دیا گیا ہے جس پر کروڑوں روپے لاگت آئی۔

حکومت کی طرف سے یہ اچانک کارروائی شدید عوامی ردعمل کا باعث بنی۔ مذہبی جماعتوں نے موقع پر احتجاجی اجتماع منعقد کیا اور جمعہ کی نماز ادا کی۔ بعد ازاں ملبے سے علامتی تعمیر بھی شروع کی گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی خبریں آئیں اور دارالحکومت میں ایک تناؤ محسوس کیا جانے لگا۔

وزارت داخلہ نے وضاحت دی کہ مدرسے کو اس کی انتظامیہ کی رضامندی سے گرایا گیا ہے اور متبادل مقام پہلے سے فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم وفاق المدارس اور دیگر دینی جماعتوں نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔

بالآخر حکومت نے دباؤ بڑھنے پر جمعیۃ علماء اسلام (ف) اور اسلام آباد کے مقامی علماء سے مذاکرات شروع کیے جو تین چار دن جاری رہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں 20 اگست کو ایک تحریری معاہدہ طے پایا جس کے مطابق:

مدنی مسجد کا واقعہ محض ایک عمارت کے انہدام کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور مذہب کے تعلق کی تازہ ترین جھلک ہے۔ حکومت کے نزدیک یہ اقدام قانون اور سیکورٹی کے تحت تھا، مگر دینی حلقے اسے اپنے عقیدے اور مذہبی شناخت پر حملہ سمجھتے ہیں۔ بالآخر حکومت نے دباؤ میں آ کر مسجد کی تعمیرِ نو پر رضامندی ظاہر کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں مذہبی طبقات اب بھی فیصلہ سازی میں اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. سی ڈی اے نے مدنی مسجد اور مدرسہ 9 اور 10 اگست کی درمیانی شب مسمار کیا، بعد ازاں جگہ پر پودے لگائے گئے۔ (ڈان، ۱۰ اگست ۲۰۲۵ء)
  2. وزیرِ مملکت داخلہ نے بتایا کہ مدرسہ انتظامیہ کی رضامندی سے گرایا گیا اور متبادل عمارت 4 کروڑ روپے میں تعمیر کی گئی۔ (دی نیوز، ۱۱ اگست ۲۰۲۵ء)
  3. حکومت نے جمعیۃ علماء اسلام (ف) کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے مسجد دوبارہ تعمیر کرنے اور دیگر مساجد نہ گرانے کی یقین دہانی کرائی۔ (بزنس ریکارڈر، ۱۲ اگست ۲۰۲۵ء)
  4. مذہبی جماعتوں نے موقع پر جمعہ پڑھا اور ملبے سے علامتی تعمیر کی، پولیس کے ساتھ کشیدگی بھی ہوئی۔ (ڈان، ۱۶ اگست ۲۰۲۵ء)
  5. حکومت اور علماء ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا کہ مسجد اسی مقام پر چار ماہ میں دوبارہ تعمیر ہوگی، نمازوں کا انتظام اور مستقبل میں مشاورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔ (ایکسپریس ٹریبیون، ۱۹ اگست ۲۰۲۵ء)

(رپورٹ — ۲۳ اگست ۲۰۲۵ء)


اسلام آباد انتظامیہ اور علماء ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج مورخہ 19 اگست 2025ء بروز منگل مدنی مسجد (راول ڈیم) چوک، اسلام آباد کے قضیہ کے معاملہ میں اسلام آباد انتظامیہ اور علماء ایکشن کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد باہمی مشاورت سے طے پایا ہے کہ

  1. مدنی مسجد کی تعمیر سی ڈی اے چار ماہ میں مکمل کرے گی۔
  2. اس دورانیہ میں باہمی مشاورت سے مدنی مسجد کے مقام پر پانچ وقت باجماعت نماز کے لیے ترتیب بنائی جائے گی۔
  3. پچاس مساجد سے متعلق جو نوٹیفیکیشن جاری ہوا تھا وہ جعلی ہے، اس حوالے سے انتظامیہ نے کوئی لسٹ جاری نہیں کی، یہ محض افواہ ہے۔
  4. اسلام آباد میں آئندہ مساجد کے کسی بھی معاملہ میں انتظامیہ علماء ایکشن کمیٹی سے مشاورت کرے گی۔


دستخط: صاحبزادہ محمد یوسف، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، جنرل، اسلام آباد (نمائندہ ضلعی انتظامیہ)

دستخط: مفتی محمد اویس عزیز (نمائندہ علماء ایکشن کمیٹی، امیر جے یو آئی اسلام آباد)

دستخط گواہ: ڈاکٹر ضیاء الرحمان امازئی

دستخط گواہ: عبد الہادی (مجسٹریٹ، سیکرٹریٹ، اسلام آباد)

دستخط گواہ: محمد عثمان خان


مسجد گرانے کے متعلق چند اہم اصولی سوالات

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بعض پوسٹیں نظر سے گزریں جن میں مسجد گرانے کے فعل کی شدّ و مدّ سے تائید کی گئی تھی اور اس حکم کی تعمیل کو امیر کی اطاعت قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ زمین غصب کر کے مسجد بنائی گئی ہے۔

اس موقف پر چار اصولی سوالات پیدا ہوتے ہیں:

  1. حقیقی فرد/شخص (انسان) کی ملکیت اور فرضی شخص (ریاست) کی ملکیت کو یکساں کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
  2. اگر کسی حقیقی فرد کی ملکیت پر کسی اور نے مالکانہ تصرف کیا اور عشروں تک وہ خاموش رہا، تو کیا بعد میں وہ عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے؟
  3. کیا ریاست نے دعویٰ کیا بھی ہے؟
  4. ریاست کے کسی محکمے نے اگر ایسا دعویٰ کیا بھی ہو، تو کیا صرف اس کے دعوے پر ہی اسی محکمے کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ جس عمارت کو وہ ناجائز سمجھتا ہے، اسے راتوں رات گرا دے؟

پہلا سوال یہ معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کیا واقعی مذکورہ زمین کو غصب شدہ زمین کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ زمین کسی حقیقی فرد/افراد کی ملکیت تھی یا ریاست کی ملکیت تھی؟

اتنا تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ پہلا امکان نہیں ہے، اس لیے دوسرے امکان پر غور کریں۔

اگر آپ اسے ریاست کی ملکیت قرار دیتے ہیں، تو آگے بڑھنے سے قبل اس پر سوچیے کہ ریاست کیا ہے؟ ایک فرضی شخص؟ کیا اسلامی قانون کی رو سے فرضی شخص کا تصور قابلِ قبول ہے بھی، یا ویسے ہی آپ نے فرض کر لیا ہے کہ چونکہ یہ تصور رائج ہے تو بس جائز ہے؟ کیا اسلامی قانون کی رو سے ایسی زمین جو کسی حقیقی فرد کی ملکیت میں نہ ہو، ریاست نام کے فرضی شخص کی ملکیت میں شامل سمجھی جاتی ہے، یا اسے ”مباحات“ میں شمار کیا جاتا ہے، اور کیا ”مباح مال“ پر قبضے کو ”غصب“ کہا جاتا ہے؟

چلیں، ان مشکل سوالات سے جان چھڑانے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ اسلامی قانون کی رو سے فرضی شخص کا تصور قابلِ قبول ہے۔ لیکن یہیں سے تو وہ سوال اٹھا جو اوپر پہلے سوال کے طور پر ذکر ہوا ہے: حقیقی فرد (انسان) کی ملکیت اور فرضی شخص (ریاست) کی ملکیت کو یکساں کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

یہ سوال بھی مشکل ہے تو چلیں اس سے بھی جان چھڑانے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ دونوں کی ملکیت یکساں ہے اور مان لیتے ہیں کہ جس نے ریاست نامی فرضی شخص کی ملکیت پر اس کی اجازت کے بغیر قبضہ کیا، اس نے غلط کیا۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مالِ غیر منقول کو ”غصب“ کیا جا سکتا ہے؟ لیکن اس مشکل سوال کو بھی پیپر سے نکال لیتے ہیں کیونکہ پھر ’دانشور‘ احتجاج کریں گے۔ چنانچہ ہم اس پہلے سوال کے جواب میں فرض کر لیتے ہیں کہ ریاست کی زمین غصب کر لی گئی ہے اور ریاست کو حق ہے کہ غاصب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے۔

اب یہاں سے وہ دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے جو اوپر ذکر کیا گیا: جب آپ حقیقی فرد اور فرضی شخص کی ملکیت کو یکساں مانتے ہیں، تو اگر کسی حقیقی فرد کی ملکیت پر کسی اور نے مالکانہ تصرف کیا اور مالک عشروں تک خاموش رہا، تو کیا بعد میں وہ عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے؟ واضح رہے کہ یہاں بات اس کی نہیں ہو رہی کہ کیا مالک کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف کرنے والا اس مال کا مالک بن جاتا ہے، بلکہ اس کی ہو رہی ہے کہ کیا مالک کے پاس عدالتی چارہ جوئی کا حق ہے؟ یہاں اصل میں بات قانونِ تحدید میعادِ سماعت (Limitation Act) کی ہو رہی ہے۔

اب اگر آپ حقیقی فرد اور فرضی شخص کی ملکیت کو یکساں مانتے ہیں، تو اس سوال کا جواب واضح طور پر نفی میں ہے لیکن اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ریاست کے پاس چارہ جوئی کا حق ہے، تو آپ فرضی شخص کی ملکیت کو حقیقی فرد کی ملکیت سے زیادہ اہم اور زیادہ مقدس مانتے ہیں۔

گویا پہلے آپ نے ایک فرضی شخص گھڑا، پھر اس فرضی شخص کے لیے ملکیت فرض کی، پھر اس ملکیت کو حقیقی شخص کی ملکیت پر فوقیت بھی دے دی!

چلیں، بحث کی خاطر ہم آپ کے ساتھ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ریاست نامی فرضی شخص کی ملکیت کو حقیقی فرد کی ملکیت پر فوقیت حاصل ہے اور اس وجہ سے قانونِ تحدیدِ سماعت کا اطلاق ریاستی املاک پر نہیں ہوتا اور یہ کہ ریاست جب چاہے دعویٰ دائر کر سکتی ہے، خواہ اس دوران میں وہ 40 سال تک خاموش رہی ہو۔

لیکن یہیں سے تو اوپر ذکر کردہ تیسرا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے: کیا ریاست نے دعویٰ کیا بھی ہے کہ اس کی ملکیت پر کسی اور نے غاصبانہ قبضہ کیا ہے؟ اس وقت تو آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک محکمے کا موقف یہ ہے کہ اس مسجد کی تعمیر غیر قانونی تھی۔

اگر گھوم پھر کر بالآخر آپ اصل مسئلے تک پہنچ ہی گئے ہیں، تو یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”ریاست“ کی جانب سے دعوے کا اختیار کس کے پاس ہے اور دعوے کے بعد مدعی اور دوسرے فریق کا موقف سننے اور پھر فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا یہاں صرف سرکاری رپورٹس پر انحصار کرنا کافی تھا یا دوسرے لوگوں کو بھی سننا چاہیے تھا، بالخصوص ان کو جن کے متعلق آپ کا الزام ہے کہ انھوں نے غاصبانہ قبضہ کیا ہے؟ اور کیا فیصلے کا اختیار اسی محکمے کے پاس ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کام غیر قانونی تھا؟ اور اگر یہ غیر قانونی تھا، تو اس غیر قانونی کام کو روکنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا اسی محکمے کی؟ تو اس محکمے نے ان افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جو اس غیر قانونی کام کو نہیں روک سکے اور کئی عشروں تک انھوں نے اس سے صرفِ نظر کیے رکھا؟

سوالات تو اور بھی ہیں، جیسے کسی مسجد کا شارعِ عام میں رکاوٹ بننے کی صورت وہاں سے ہٹا دینا اور کسی مسجد کو ہٹا کر اس کی جگہ درخت لگانا، کیا ایک ہی نوعیت کے کام ہیں؟ یا یہ کہ اس محکمے کی نظر صرف مسجدوں پر ہی کیوں پڑی ہے اور اسے شاہراہِ دستور اور اس کے ارد گرد بلند و بالا اور وسیع و عریض غیر قانونی عمارات کیوں نظر نہیں آرہیں؟ لیکن ان پر بحث اگلے مرحلے میں ہوگی، ان شاء اللہ۔

facebook.com/share/p/19GUNGnjYK

مسجد گرانے کے متعلق سوالات کی مزید توضیح

کل مسجد گرانے کے حکم نامے کے پس منظر میں چند سوالات اٹھائے تھے لیکن بعد کی بحث سے معلوم ہوا کہ وہ سوالات بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکے۔ اس لیے ایک دفعہ پھر ان سوالات کی توضیح کر رہا ہوں تاکہ ان کے ذریعے جن امور کی طرف توجہ دلانی مقصود تھی، وہ امور سامنے آجائیں۔
سوالات یہ تھے:
  1. حقیقی فرد (انسان) کی ملکیت اور فرضی شخص (ریاست) کی ملکیت کو یکساں کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
  2. اگر کسی حقیقی فرد کی ملکیت پر کسی اور نے مالکانہ تصرف کیا اور عشروں تک وہ خاموش رہا، تو کیا بعد میں وہ عدالت میں دعویٰ دائر کرسکتا ہے؟
  3. کیا ریاست نے دعویٰ کیا بھی ہے؟
پہلے سوال کے اصل مخاطب وہ علماے کرام تھے جنھوں نے فرضی شخصیت (Fictitious Personality) کے جواز کا فتوی دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ تصور اسلامی اصولوں کی رو سے جائز ہے، بلکہ اسلامی تراث میں اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ انھی علماے کرام کو مخاطب کر کے یہ سوال قائم کیا گیا تھا تاکہ انھیں معلوم ہو کہ فرضی شخصیت ماننے کے بعد کون سے نتائج ماننے لازمی ہیں؟ ان نتائج میں ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ پھر ”سب کی مشترک ملکیت“ اور ”مباحات کی ملکیت“ جیسے تصورات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جب آپ نے فرض کر لیا کہ ریاست ایک شخص ہے تو اس فرضی شخص کی ملکیت کو وہی قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے جو کسی حقیقی شخص کی ملکیت کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ مان لیا تو پھر یہ بھی ماننا ہوگا کہ اس فرضی شخص کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف اسی طرح ناجائز ہے، جیسے کسی حقیقی شخص کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف ناجائز ہوتا ہے۔ یہ بھی مان لیا، تو پھر یہ بھی ماننا ہوگا کہ ریاست کی اجازت کے بغیر ریاستی ملکیت میں شامل زمین پر قبضہ کرنا غلط ہے، خواہ یہ قبضہ مسجد کی تعمیر کے لیے کیا جائے۔
اس کے بعد دوسرا سوال اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ بتایا جا سکے کہ معاصر قانونی نظام میں نہ صرف یہ کہ ریاست نامی فرضی شخص کو ملکیت کا حق اسی طرح دیا گیا ہے جیسے کسی حقیقی شخص کے لیے تسلیم کیا گیا ہے، بلکہ اس نظام میں اس فرضی شخص کی ملکیت کو حقیقی شخص کی ملکیت سے زیادہ تقدس عطا کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے اسے زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ چنانچہ مثلا اس ملکیت پر قانونِ تحدیدِ سماعت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چنانچہ ریاست جب چاہے دعویٰ دائر کر سکتی ہے، خواہ اس دوران میں وہ 40 سال تک خاموش رہی ہو۔
یہیں سے تیسرا سوال پیدا ہوا تھا کہ چلیں، ریاست کسی بھی وقت دعویٰ کر سکتی ہے لیکن کیا موجودہ معاملے میں وہ مدعی ہے بھی؟ اس کے بعد میں نے واضح کیا تھا کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے، لیکن اگر آپ سی ڈی اے کی رپورٹ کو ریاست کی جانب سے دعویٰ قرار بھی دیں، تو اس کے بعد وہ نیا سوال پیدا ہوتا ہے جو میں نے مضمون کے آخر میں ذکر کیا تھا لیکن کچھ معلوم اور بہت سی نامعلوم وجوہات کی بنا پر ناقدین نے اس سوال پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ وہ سوال یہ تھا: ”کیا یہاں صرف سرکاری رپورٹس پر انحصار کرنا کافی تھا یا دوسرے لوگوں کو بھی سننا چاہیے تھا، بالخصوص ان کو جن کے متعلق آپ کا الزام ہے کہ انھوں نے غاصبانہ قبضہ کیا ہے؟ اور کیا فیصلے کا اختیار اسی محکمے کے پاس ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کام غیر قانونی تھا؟ اور اگر یہ غیر قانونی تھا، تو اس غیر قانونی کام کو روکنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا اسی محکمے کی؟ تو اس محکمے نے ان افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جو اس غیر قانونی کام کو نہیں روک سکے اور کئی عشروں تک انھوں نے اس سے صرفِ نظر کیے رکھا؟ “
مجھے حیرت ہے کہ اس پہلو پر بھی ناقدین کی توجہ کیوں نہیں ہو سکی؟ (اس حیرت کو بے شک آپ تجاہلِ عارفانہ کہہ دیں۔)
تو ناقدین کی آسانی کے لیے میں صورتِ مسئلہ آسان کر کے یوں پیش کر دیتا ہوں:
  • مان لیا کہ ریاست نامی فرضی شخص کو ملکیت کا حق حاصل ہے؛
  • مان لیا کہ ریاست نامی فرضی شخص کی ملکیت کسی حقیقی شخص کی ملکیت سے زیادہ مقدس اورمحفوظ ہے اور اس وجہ سے اس پر قانونِ تحدیدِ سماعت کا اطلاق بھی نہیں ہوتا؛
  • مان لیا کہ ریاست نے اپنی ملکیت پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف دعویٰ بھی کیا ہے؛
لیکن یہ سب کچھ ماننے کے بعد سوال یہ ہے کہ دوسرے فریق کو پوری طرح سنے بغیر، جس پر غاصبانہ قبضے کا دعویٰ ہے، کیا مدعی خود ہی اپنے حق میں فیصلہ کرنے کا مُجاز تھا؟ سی ڈی اے کی کارروائی کو غلط قرار دینے کے لیے تنہا یہی سوال کافی ہے، اگرچہ پچھلے مضمون کے آخر میں اس سوال کا بھی اضافہ کیا گیا تھا: ”کسی مسجد کا شارعِ عام میں رکاوٹ بننے کی صورت وہاں سے ہٹا دینا اور کسی مسجد کو ہٹا کر درخت لگانا، کیا ایک ہی نوعیت کے کام ہیں؟“ یہ سوال اس لیے ضروری تھا کہ ناقدین اسلامی شریعت کا ناقص ہی سہی حوالہ دے رہے ہیں، تو پھر بات پوری کیوں نہ کی جائے؟
اب جب نیا مضمون لکھ ہی لیا ہے، تو ایک سوال کا مزید بھی اضافہ ہو جائے۔
جن معاصر علماے کرام نے قرار دیا ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں نہ صرف فرضی شخص کا تصور جائز ہے بلکہ اس کی مثالیں بھی اسلامی قانون میں ملتی ہیں، ان کے نزدیک مسجد، بلکہ وسیع مفہوم میں وقف، بھی فرضی شخص ہے۔ چنانچہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرضی شخص ایک اور فرضی شخص کی ملکیت پر اس کی اجازت کے بغیر قبضہ کر لے، تو اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے گا؟ کیا بڑا فرضی شخص (ریاست) چھوٹے فرضی شخص (مسجد) کو قتل کر لے گا؟
نوٹ: جو لوگ مسجد گرانے کے لیے ”شہید کرنے“ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں، یہ محض شاعرانہ استعارہ ہے۔ اس کا قانون کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن مسجد یا ریاست کو شخص ماننا محض شاعرانہ استعارہ نہیں، بلکہ قانونی اصول ہے اور اس کے قانونی اثرات ہوتے ہیں۔ کاش کوئی سمجھے!
facebook.com/share/p/1LnT8L7im7

ریاست کی ملکیت نہیں، تو لٹ ہی مچ جائے گی؟

ایک تو ہمارے اہلِ دانش کا بھی عجیب مسئلہ ہے۔ جس صندوق میں ان کے ذہنوں کو اغیار نے بند کردیا ہے، اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کےلیے ناممکن ہوگیا ہے۔

تازہ مثال مسجد کے انہدام کی ہے، وہ مسجد جس کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قبضہ شدہ زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔

ان سے پوچھا کہ قبضہ شدہ زمین کیسے آپ کہہ سکتے ہیں، کیا یہ زمین کسی کی ملکیت تھی؟

جواب ملا، ریاست کی ملکیت تھی۔

پوچھا، کیا ریاست بھی مالک ہوسکتی ہے؟

کہا، ہاں، کیوں نہیں؟

پوچھا، کیا ریاست شخص ہے؟

کہا، ہاں، کیوں نہیں؟

پوچھا، کیا اسلامی شریعت میں ایسے فرضی شخص کا کوئی تصور پایا جاتا ہے؟

اب کے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر، اور پنجے جھاڑ کر، جھپٹ پڑے: ریاست کی ملکیت کا انکار کریں گے، تو لٹ ہی مچ جائے گی، پھر تو ہر کوئی اپنی مرضی سے یہ کرے گا، وہ کرے گا، پھر تو تاجروں اور دکانداروں کی "تجاوزات" بھی جائز ہوجائیں گی، وغیرہ وغیرہ۔

یہ اہلِ دانش ایسا کہتے ہوئے ایک لمحے کےلیے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ جس قیامت کا منظر آپ پیش کررہے ہیں، وہ قیامت آخر کیوں آئے گی؟ ریاست کےلیے فرضی شخصیت اور اس فرضی شخصیت کےلیے حقِ ملکیت مانے بغیر صدیوں تک آپ کا نظام کیسے چلتا رہا؟ اب کیوں نہیں چل سکتا؟ مجال ہے کہ یہ اہلِ دانش آقاؤں کے دیے گئے صندوق سے باہر نکل سوچنے کی جرات کرسکیں۔

بہرحال، جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں، ان کےلیے مختصر اشارات پیش ہیں:

ایک یہ کہ جو زمین کسی کی ملکیت نہیں، وہ "مباحات" میں ہے۔ ان مباحات پر جس نے پہلے تسلط حاصل کیا، یہ اس کی ہوجائیں گی، لیکن حکومت عوام کے وکیل اور ولی کی حیثیت سے ان مباحات کے استعمال کو مقید کرسکتی ہے اور اس مقصد کےلیے باقاعدہ قانون سازی کرسکتی ہے جس کی پابندی حکومت سمیت سب پر لازم ہوگی، بشرطے کہ اس قانون میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو شریعت سے متصادم ہو۔

اگر حکومت نے ایسی کوئی قانون سازی کی جس کے ذریعے مباحات میں شامل زمینوں کو اپنے تسلط میں لے لیا، تو وہ ریاست نامی فرضی شخص کی ملکیت میں نہیں ہوں گی، بلکہ تمام لوگوں کی مشترک ملکیت میں ہوں گی۔ اس سے نتائج پر کیا قانونی اثرات مرتب ہوں گے، ان پر خود ہی غور کیجیے۔

یہ امر البتہ طے شدہ ہے کہ جو احکام فرد کی ملکیت کےلیے ہیں، وہی احکام تمام لوگوں کی ایسی مشترک ملکیت کےلیے بھی ہوں گے اور "ریاست نامی شخص" کو اختصاصی فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔ 

اگر حکومت نے قانون سازی کے ذریعے ایسی زمینوں کو مشترک ملکیت قرار نہیں دیا، تو یہ مباحات کے حکم میں ہی رہیں گی اور ان کےلیے وہی حکم ہوگا جو اوپر مباحات کےلیے ذکر کیا گیا۔ 

تاہم حکومت ایک درمیانی راہ بھی نکال سکتی ہے، اور وہ یہ کہ ان کو اپنے تسلط میں لیے بغیر، انھیں مباحات کے دائرے میں چھوڑتے ہوئے، ان کے استعمال کے حق پر اسلامی شریعت کی حدود کے اندر کچھ قیود لگا دے۔ اس پہلو پر یہ اہلِ دانش غور کریں، تو ان کے چودہ طبق روشن ہوسکتے ہیں۔

facebook.com/share/p/1Eoy86Brzu

اکیسویں صدی میں تصوف کی معنویت اور امکانات

مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

تمہید

تصوف کے متعلق یہ بحث اب فضول ہو چکی ہے کہ کون سا تصوف اسلامی ہے؟ اور کون سا غیر اسلامی؟ اس موضوع پر اتنا لکھا جا چکا اور اس مسئلے کی وضاحت اس کثرت کے ساتھ کی جا چکی کہ اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ تصوف کے نام پر جو خرافات، غیر اسلامی اعمال اور لغو چیزیں مفاد پرست اور مادہ پرست لوگوں نے ایجاد کر لی ہیں، اُنھیں تصوف کہنا ہی غلط ہے۔ جس طرح مسلمانوں میں پھیلی بدکاریوں کی بنا پر اسلام کو بدنام نہیں کیا جا سکتا، اُسی طرح جاہل اور مادہ پرست ٹولے کی حرکتوں کی وجہ سے تصوف کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ابوالمجاہد زاہد نے بہت خوب کہا ہے:

تصوف اُس جگہ سے غیر اسلامی تصوف ہے
جہاں سے ساتھ چھوڑا ہے تصوف نے شریعت کا

قرونِ اولیٰ سے لے کر عہدِ جدید تک کے تمام علما و صالحین اس بات کی وضاحت کرتے آئے ہیں کہ تصوف کا مقصد رضائے الٰہی اور اس کے حصول کا راستہ اتباعِ سنت ہے۔ رسول کریم ﷺ کی راہ سے ہٹ کر جو راہ بھی اختیار کی جائے گی، وہ ناقابلِ قبول بھی ہو گی اور باعثِ عذاب بھی۔ اس سلسلے میں حضرت ذوالنون مصریؒ کا یہ قول ہماری رہنمائی کرتا ہے:

من علامات المحب لللہ عزوجل متابعۃ حبیب اللہ ﷺ فی أخلاقہ و أفعالہ وأوامرہ وسننہ۔1
’’اللہ سے محبت کرنے والے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اخلاق، اعمال، احکام اور ہر چیز میں اللہ کے محبوب کی پیروی کرتا ہو۔‘‘

اسی طرح حضرت جنید بغدادی کا یہ ارشاد بھی بہت فیصلہ کن ہے:

مذھبنا ھذا مقید بأصول الکتاب والسنۃ، و علمنا ھذا مشید بحدیث رسول اللہ ﷺ۔2
’’ہمارا یہ راستہ کتاب و سنت کے اصول سے بندھا ہوا ہے اور یہ علم احادیثِ رسول سے وابستہ ہے۔‘‘

تصوف کی ضرورت

کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی روح پاک ہو چکی، اس کا دل صاف شفاف ہو چکا، اُسے رضائے الٰہی کی نعمت مل چکی اور اب کبھی یہ چیزیں اُس سے دور نہیں ہو سکتیں۔ جب یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا تو اِن چیزوں کے حصول کے لیے کی جانے والی کوشش کی اہمیت کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ روح کی پاکیزگی، قلب کی صفائی اور رضائے الٰہی کی کوشش ایسے اعمال ہیں، جو انسان کی موت تک جاری رہنے چاہییں۔ اُس وقت تک، جب تک کہ انسان کے لیے اعمالِ خیر کا دروازہ بند نہ ہو جائے۔ کیوں کہ:

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بہت وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ تصوف وہی چیز ہے، جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں تزکیہ اور حدیثِ نبوی کی اصطلاح میں احسان کہا گیا ہے۔ اس لیے کسی کو تصوف کے نام پر کوئی اعتراض ہو تو اِن دونوں ناموں میں سے کوئی ایک یا دونوں اختیار کر لے۔ لیکن اس کی ضرورت یا عدمِ ضرورت پر کوئی بحث نہیں کی جا سکتی۔ تزکیہ و احسان کی ضرورت ہر مسلمان کو ہر دور میں تھی، ہے اور رہے گی۔3

مزید لکھتے ہیں: احسان اور فقہ باطن سب علمی و شرعی حقائق اور دین کے مسلّمہ اصول ہیں، جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔ اگر اہلِ تصوف اس مقصد کے حصول کے لیے (جس کو ہم تزکیہ و احسان سے تعبیر کرتے ہیں) کسی خاص اور متعین راستے یا شکل پر اصرار نہ کرتے (اس لیے کہ زمان و مکان اور نسلوں کے مزاج اور ماحول کے ساتھ اصلاح و تربیت کے طریقے اور ان کے نصاب بھی بدلتے رہتے ہیں) اور وسیلے کے بجائے مقصد پر زور دیتے تو اس مسئلے میں آج سب یک زبان ہوتے اور اختلاف کا سر رشتہ ہی باقی نہ رہتا۔ سب دین کے اس شعبے اور اسلام کے اس رکن کا جس کو ہم تزکیہ یا احسان یا فقہ باطن کہتے ہیں، صاف اقرار کرتے اور اس بات کو بلا تأمل قبول کرتے کہ وہ شریعت کی روح، دین کا لب لباب اور زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ کہ جب تک اس شعبے کی طرف کما حقہ توجہ نہ کی جائے، اس وقت تک کمال دین حاصل نہیں ہو سکتا اور اجتماعی زندگی کی بھی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ صحیح معنی میں زندگی کا لطف آسکتا ہے۔4

دو بنیادی سوالات

تصوف کی اہمیت اور ضرورت واضح ہونے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ تصوف کی عصری معنویت کیا ہے؟ دوڑ بھاگ سے بھری ہوئی زندگی میں ہم کسی کو تصوف کی اہمیت کیسے سمجھا سکتے ہیں؟ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تم اپنی روحانی تربیت کے لیے کچھ وقت نکالو۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور سرمایہ داری کے اس دور میں ہم کسی کو تصوف کے اعمال کی طرف کیسے بلا سکتے ہیں؟ کیا آج کا انسان یہ سمجھنے پر آمادہ ہوگا کہ تصوف اُس کی زندگی کی ایک اہم بلکہ سب سے اہم ضرورت ہے؟ اگر کوئی شخص اس کی تسلیم کر لے تو ہمیں اُس کی روحانی تربیت کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا؟ نہ اب اہلِ حق کی خانقاہیں عام ہیں کہ انسان وہاں جا کر کچھ وقت لگائے اور اپنی روحانی تربیت کا انتظام کرے۔ جو چند خانقاہیں موجود ہیں، وہاں جا کر کچھ وقت لگانا عام انسان کے لیے نہایت مشکل ہے۔ گویا اب ہمارے سامنے دو بنیادی سوالات ہیں:

۱۔ کیا اکیسویں صدی کے انسان کے لیے تصوف کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟

۲۔ اکیسویں صدی میں ایک عام انسان کی اصلاحِ باطن کے کیا کیا طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں؟

آئیے! ان دونوں سوالات پر قدرے تفصیل سے گفتگو کریں۔

موجودہ انسانی مسائل اور تصوف

آج کے انسان کے تمام روحانی امراض کی جڑ مادیت پرستی ہے۔ روحانی وجود کی حفاظت کے لیے روحانیت کی تقویت ضروری ہے، لیکن آج کے انسان کو اس کے مواقع بہت کم حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں روحانی وجود خال خال نظر آتے ہیں۔ غور کیا جائے تو مادیت پرستی کا یہ مرض تین شکلوں میں ظاہر ہو رہا ہے: (۱) بناوٹی زندگی (۲) داخلی اضطراب (۳) فساد فی الارض۔ یہ تینوں شکلیں اپنا مستقل وجود بھی رکھتی ہیں اور ایک دوسرے سے بندھی ہوئی بھی ہیں۔ انسان سب سے پہلے اپنے ظاہر کو دکھاوے اور بناوٹ کا عادی بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی روح مردہ، ضمیر بے دم اور دل بے جان ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس روحانی موت کا نتیجہ فساد فی الارض کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی محدود پیمانے پر اور کبھی وسیع ترین پیمانے پر۔

۱۔ بناوٹی زندگی

بناوٹی زندگی بظاہر کوئی بڑی مصیبت نہیں لگتی، لیکن معمولی غور و فکر کے بعد اس نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ موجودہ دنیا کے اکثر امراض کی جڑ ہے۔ امریکا سے نکلنے والے مشہور جریدے Psychology Today نے ۲ جولائی ۲۰۱۸ کو اپنی ویب سائٹ پر پروفیسر کلیر براؤن (Prof. Clair Brown) کا ایک تحقیقی مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں کئی اہم اشارات کیے گئے ہیں۔ مضمون نگار امریکا میں بیٹھ کر اس نتیجے تک پہنچی ہیں کہ دکھاوے کی زندگی سے انسان کو بہت نقصانات ہو رہے ہیں اور یہ زندگی انسانیت کو مختلف ذہنی، جسمانی اور سماجی مصیبتوں سے دوچار کر رہی ہے۔ اس مضمون کی کچھ سطریں ملاحظہ کیجیے:

Not much from a happiness or social welfare viewpoint, as Buddhist economics explains. While a person shows off their self-importance, they are still wanting more because another rich person has an even longer yacht or bigger house. The valuation of consumption rests on comparing ourselves to one another. Thorstein Veblen, the 20th Century economist who coined the terms “conspicuous consumption” and “invidious comparisons,” pointed out how individuals use luxury goods to show off their status. Veblen observed that people were living on treadmills of wealth accumulation, competing incessantly with others but rarely increasing their own well-being. This means that when inequality increases, we all feel less well-off even if our income has not gone down. When the rich get even richer and the rest of us don’t get more, our stagnant income and lifestyles seem diminished. Over the past four decades, economic growth has mostly gone to the top 5% of households, and this growth begets more inequality, without increasing social welfare as it exacerbates invidious comparisons.5
’’صرف خوشی یا سماجی بہبود کے نقطۂ نظر سے نہیں، جیسا کہ بدھ مت کی معاشیات بیان کرتی ہے، بلکہ عام طور پر جب کہ ایک شخص اپنی خود کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، تو دراصل وہ اس سے بھی زیادہ کا طالب ہوتا ہے، کیوں کہ اس کے سامنے دوسرا امیر شخص ہوتا ہے، جس کے پاس اس سے بھی لمبی یاٹ یا بڑا گھر ہوتا ہے۔ کھپت کی تشخیص خود کو ایک دوسرے سے موازنہ کرنے پر منحصر ہے۔ Thorstein Veblen بیسویں صدی کے ماہر معاشیات جنھوں نے ''spicuous consumption'' اور ''invidious comparisons'' جیسی اصطلاحات وضع کیں، انھوں نے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ لوگ اپنی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کس طرح پر تعیش اشیا کا استعمال کرتے ہیں۔ ویبلن نے بتایا کہ لوگ دولت جمع کرنے کی ٹریڈمل پر زندگی گزار رہے ہیں، دوسروں کے ساتھ مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی اپنی فلاح و بہبود میں اضافہ کر پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب عدمِ مساوات بڑھ جاتی ہے، تو ہم سب اپنی کم خوش حالی محسوس کرتے ہیں، چاہے ہماری آمدنی کم نہ ہوئی ہو۔ جب امیر اور بھی امیر ہو جاتے ہیں اور ہم میں سے باقی لوگ زیادہ امیر نہیں ہوتے ہیں تو ہماری رکی ہوئی آمدنی اور طرز زندگی کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلی چار دہائیوں کے دوران، اقتصادی ترقی زیادہ تر گھرانوں میں زیادہ سے زیادہ 5% تک پہنچی ہے اور یہ ترقی سماجی بہبود میں اضافہ کیے بغیر، مزید عدمِ مساوات کو جنم دے رہی ہے کیوں کہ یہ ناگوار مقابلے کو بڑھاتی ہے۔‘‘

اس اقتباس کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ آج کے انسان نے اپنے اوپر بناوٹ کا ایک خول چڑھا لیا ہے۔ اس کی ساری تگ و دو اس خول کی سجاوٹ اور بناؤ سنگار میں صرف ہو رہی ہے۔ اس کا اوڑھنا پہننا، کھانا پینا، بولنا چالنا، تجارت یا ملازمت کرنا، اولاد کی تربیت کرنا، ملنا جلنا، حتیٰ کہ سوچنا سمجھنا بھی دوسروں کو پیش نظر رکھ کر ہوتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ کیا سوچیں گے؟ میرے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے؟ ان سوالات کے اردگرد اس کی پوری زندگی گھوم رہی ہے۔ وہ اس بناوٹ کے لیے اپنا مال دولت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی فکر میں رہتا ہے اور اس کے لیے دن رات ادھیڑ بن میں لگا رہتا ہے۔ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ گھر والوں کے ساتھ وقت گزار کر ملنے والی خوشی اور دوستوں یاروں کے ساتھ کی جانے والی موج مستی سے وہ محروم رہتا ہے۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ متعدد ذہنی، فکری اور جسمانی امراض کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی بے شمار تحقیقات کے مطابق اس طرح کی غیرفطری زندگی گزارنے کی وجہ سے دورانِ خون کا بڑھنا (High Blood pressure)، شکر (Sugar)، امراض قلب (Heart diseases)، پیٹ کی متعدد بیماریاں، مختلف طرح کے سر درد، جنسی مسائل، بے خوابی، گردن اور ٹانگوں کے امراض اور اس طرح کے دسیوں امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ امراض سننے میں تو بہت عام معلوم ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ ان امراض کے مستقل شکار رہتے ہیں، وہ کس صورت حال سے دوچار رہتے ہیں، وہی جانتے ہیں۔ ان امراض سے انسان جن مسائل کا شکار ہے، وہ تو اپنی جگہ ہیں، ان کے نتیجے میں خرچ ہونے والے سیکڑوں کروڑ کے مالی وسائل بھی انسانیت کے لیے سوہانِ روح سے کم نہیں ہیں۔

اس بڑے انسانی مسئلے کو سامنے رکھ کر جب ہم صوفیائے کرام کی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اُن کے ہاں مختلف ناحیوں سے اس بنیادی مسئلے کا حل موجود ہے۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات پر مشتمل کتابیں توکل علی اللہ، زہد فی الدنیا، استغنا، دنیا اور اہل دنیا سے بے زاری، حب فی الآخرۃ، مادے کی بے حیثیتی اور اس طرح کی دوسری تعلیمات سے بھری پڑی ہیں۔ یہ ساری چیزیں وہ ہیں، جو انسان کو ظاہر سے باطن کی طرف، تکلف سے بے تکلفی کی طرف، بناوٹ سے حقیقت کی طرف، حرص و ہوس سے قناعت و توکل کی طرف لے جاتی ہیں۔ جو انسان ان اعلیٰ تعلیمات کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ بناوٹی زندگی اور اس کی لعنتوں سے دور ہو جاتا ہے، بلکہ اس کے دل و دماغ میں ایسا سکون و اطمینان رچ بس جاتا ہے کہ اسے دنیا کی رنگا رنگی اور بناؤ سنگار سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ اس سلسلے میں امام احمد ابن حنبل کا یہ قول ہمیں روشنی دکھاتا ہے:

الزھد علی ثلاثۃ أوجہ، ترک الحرام وھو زھد العوام، والثانی ترک الفضول من الحلال وھو زھد الخواص، والثالث ترک ما یشتغل العبد عن اللہ تعالیٰ وھو زھد العارفین۔6
’’زہد تین طرح کا ہوتا ہے۔ ایک حرام کاموں کو چھوڑنا، یہ عوام کا زہد ہے۔ دوسرے حلال چیزوں میں سے بھی ضرورت سے زائد چیزوں کو چھوڑنا، یہ خواص کا زہد ہے۔ تیسرے ہر اس چیز کو چھوڑنا جو بندے کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے، یہ عارفین کا زہد ہوتا ہے۔‘‘

اگر آج کا انسان زہد کے ان تین مراحل میں سے صرف پہلے مرحلے کا اہتمام کر لے تو بھی اس کے مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے کے زہد کا تو پوچھنا ہی کیا۔

۲۔ داخلی اضطراب

انیسویں صدی میں دنیا نے ایک طرف صنعت و ایجادات کے حوالے سے برق رفتاری کے ساتھ ترقی کرنی شروع کی، تو دوسری طرف انسان کو ایک نئے مرض سے سامنا کرنا پڑا۔ تنہائی اور اکیلا پن (Loneliness)۔ یہ مرض اس سے پہلے بھی پایا جاتا تھا، لیکن صرف انفرادی طور پر یا بہت محدود پیمانے پر۔ انیسویں صدی میں اس مرض نے شدید وسعت اختیار کر لی۔ اب دنیا کا بڑا حصہ اس سے متأثر ہوگیا۔ اس کے اثرات نے بھی خطرناک رخ اختیار کرلیا۔7

دراصل صنعتی انقلاب کے بعد انسان کی پوری زندگی نے مشینی رخ اختیار کر لیا۔ آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا ہر چھوٹا بڑا کام مشینوں پر منحصر ہوگیا۔ ساتھ ہی دولت کی ریل پیل نے ہر انسان کے سر پر مادیت کا نشہ سوار کر دیا۔ انسان کا مقصد کمانا کھانا اور مادیت کی راہ میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ لگانا بن گیا۔ مادی لحاظ سے بڑے لوگوں کو خدا بنا دیا گیا اور ان کی خوش نودی کے لیے سب کچھ ہنسی خوشی کرنا عقل مندی تصور کیا جانے لگا۔ خودداری، انسانی ہم دردی، غریبوں کی دل داری اور اعزہ و اقارب کی خبرگیری کو غیر ضروری اور نادانی کے کام سمجھا جانے لگا۔

گویا انسان خود بھی چلتی پھرتی مشین بن گیا۔ ایسی مشین جس میں نہ دل ہوتا ہے اور نہ احساس۔ وہ تو دن رات اپنے مالک کے اشارے کے مطابق کام میں لگی رہتی ہے۔ مالک اسے کچھ آرام دے دے یا اس میں تیل وغیرہ ڈال دے تو اس کا احسان ہے۔ اس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ مالک کی مرضی کے خلاف زبان ہلا سکے۔ اسی طرح چلتے چلتے وہ مشین ایک دن بند ہو جاتی ہے۔ پھر کبھی نہیں چل پاتی۔ اگلے ہی دن مالک اس کو کوڑے کے بھاؤ بیچ کر دوسری مشین لے آتا ہے۔ اس پورے نظام میں پسنے والا انسان شدید اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ روحانی بے چینی، اندرونی اضطراب، بہت کچھ ہونے کے باوجود شدید خالی پن کے احساس اور یاس و قنوط میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

پھر یہ چیزیں جسمانی امراض کی شکل اختیار کرتی ہیں تو سخت ذہنی دباؤ، قلبی امراض اور متعدد نفسیاتی امراض اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جو لوگ ان امراض کے لیے کسی ڈاکٹر کا رخ نہیں کرتے یا اپنے احساسات کو زیادہ عرصے تک دبائے رہتے ہیں وہ نشے کی دنیا میں اپنی پناہ ڈھونڈتے ہیں یا اپنی زندگی کے خاتمے کو ہی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال ہونے والے خود کشی کے واقعات اور نشے کی بڑھتی ہوئی رفتار کے پیچھے یہی داخلی اضطراب کارفرما ہے۔8

ان مسائل سے جوجھتا ہوا انسان جب تصوف کی طرف آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا سابقہ ایک رہنما سے پڑتا ہے۔ جسے تصوف کی اصطلاح میں مرشد یا پیر کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو حتی الامکان اپنے اندرون کو صاف کر چکنے کے باوجود خود کو ناقص سمجھتا ہے اور دوسروں کو پیار محبت سے صحیح راہ دکھاتا رہتا ہے۔ اس کا دروازہ خلق خدا کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ وہ ہر طالب کی باتیں سکون سے سنتا ہے اور پھر اس کی کچھ رہنمائی کرتا ہے۔ اکیلے پن اور خالی پن کے شکار انسان کو اور کیا چاہیے؟ یہ تو اس کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یعنی اسے راہِ سلوک پر گامزن ہونے سے پہلے ہی مسائل کا حل اور غموں کا مداوا مل جاتا ہے۔

اس کے بعد وہ مرشد کامل سے حسب توفیق استفادہ کر کے سکون و اطمینان کی فضا میں سانس لینے لگتا ہے۔ مرشد کے پاس اسے ذکر و اذکار کے ذریعے اللہ کے قادر مطلق ہونے اور باقی سب کے عاجز ہونے کا سبق ملتا ہے۔ مراقبے اور مجاہدے کے ذریعے اسے اللہ کے باقی ہونے اور باقی سب کے فانی ہونے کا علم ہوتا ہے۔ سب کے ساتھ محبت و موانست، خلق خدا کی خدمت اور ان کے ساتھ ہم دردی کو سب سے عظیم عبادت جاننے کا درس ملتا ہے۔ اپنے رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوستوں یاروں کی خبرگیری، عیادت، تہنیت، تعزیت اور ان کے ساتھ ہنستے بولتے کچھ وقت گزارنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ یہ تمام تعلیمات اس کی زندگی کی کایا پلٹ دیتی ہیں۔ اس طرح وہ مایوس انسان اپنی روح کو پرسکون اور جسم کو صحت مند کر کے خالق کائنات کے نظام فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔

۳۔ فساد فی الارض

موجودہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ فساد فی الارض ہے۔ یہ ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پھیلائے جانے والے مختلف بگاڑوں کو فساد سے تعبیر کیا ہے۔9 اس زمین پر برپا ہونے والا پہلا فساد وہ تھا، جو حضرت آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کا خون بہا کر پیدا کیا تھا۔10 آخری فساد قیامت کے بالکل قریب مسیحِ دجال کے ذریعے برپا کیا جائے گا۔11 اس پہلے اور آخری فساد کے درمیان واقع ہونے والا ہر وہ واقعہ جس سے انسانیت مصیبت میں گرفتار ہو، اسے فساد فی الارض کہا جاتا ہے۔ کفر و شرک، لوٹ مار، کالابازاری، دھوکہ دہی، چوری ڈکیتی، زنا کاری، قتل و غارت گری، دنیوی فائدے کے لیے ہونے والی جنگیں، دولت کے نشے میں انسانیت کو نشے اور جنسیات کا عادی بنانا، اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے نئے نئے موذی امراض پھیلانا یا بڑے بڑے گھوٹالے کرنا، میڈیا کے ذریعے جھوٹ پھیلانا، رشوت خوری، سودی کاروبار، جوا یا سٹے بازی، ظالمانہ ٹیکس اور اس طرح کی بے شمار چیزیں زمین میں فساد برپا کرنے میں شامل ہیں۔ ماضی قریب میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والا پراسرار مرض Covid-19 بھی فساد فی الارض کی ایک شکل تھی۔ دنیا کے مٹھی بھر انسانوں پر فساد فی الارض کا دورہ پڑتا ہے اور وہ پوری انسانیت کو انتہائی نازک حالات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ماضی میں بھی یہی ہوا ہے اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ اس میں عام انسانوں کا جرم یہ ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کی فسادی طاقتوں کے ہاتھوں کٹ پتلی بن جاتے ہیں۔ ان کے سجھائے ہوئے خطرناک راستے پر چلنے لگتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انسان ہیں۔

تصوف کے اندر اس بات کی پوری صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسان کو انسان بنائے۔ آدمیت کا سبق یاد دلائے۔ نفس پرستی کے راستے سے ہٹا کر خدا پرستی کی راہ پر لگائے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس حسین دنیا کو جہنم کے بجائے جنت بنائے۔ تصوف میں خلق سے محبت، مخلوق کی خدمت اور ہر انسان کو اپنا بنانے کا جو درس بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہی درس فساد سے بھری اس دنیا کو جنت نما بنا سکتا ہے۔ یہ طاقت امن کے علم بردار کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب امن کی دعوت تو دے سکتے ہیں، لیکن نہ تو پوری انسانیت کو ایک مرکز پر جمع کر سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو عالمی بھائی چارے کا درس دے سکتے ہیں۔ یہ کام صرف اسلام کر سکتا ہے کہ سارے انسانوں کو وحدانیت کے محور کے گرد جمع کرے اور ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کا تصور دے کر رنگ، نسل، ذات اور علاقائیت کے ہر بت کو پاش پاش کر دے۔ شاید ہم برصغیر والے اس بات کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں، کیوں کہ ہمارے پاس حضرت سید علی ہجویری، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی، خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلی، خواجہ سید محمد حسینی بندہ نواز اور ان جیسے بے شمار اولیا و اصفیا ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص نے ہزارہا ہزار بندگان خدا کو ان کے رب سے جوڑنے اور فساد فی الارض کو ختم کرنے کا کام نہایت وسیع پیمانے پر انجام دیا ہے۔

امکانات

عہد حاضر میں تصوف کی معنویت اور اہمیت و افادیت سمجھنے کے بعد اب یہاں دوسرا سوال سامنے آتا ہے۔ آج کے دور میں تصوف کے لیے کیا امکانات موجود ہیں؟ کیا آج کے انسان کے لیے تصوف کو قابل عمل بنایا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل حل کر سکے؟ کیا تصوف کا سیکڑوں سالہ قدیم نظام اپنے اندر ایسی لچک رکھتا ہے، جس کے ذریعے وہ اکیسویں صدی کے بدحال انسان کے لیے لائقِ عمل بن سکے؟ اس کا بہت آسان جواب یہ ہے کہ تصوف اسلام کا ایک انتہائی اہم شعبہ ہے۔ لہٰذا جس طرح اسلام کے اندر ہر دور اور زمانے کا ساتھ دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے، اُسی طرح تصوف کے اندر بھی یہ صلاحیت بہ درجۂ اتم پائی جاتی ہے۔ لیکن تصوف کو آج کے انسانی مسائل کے لیے بہترین عملی حل کے طور پیش کرنا، اُس وقت تک کوئی حیثیت نہیں رکھتا، جب تک کہ اسے عملی نہ بنا دیا جائے۔ اس بڑے مرحلے کو طے کرنے کے لیے یہ عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

۱۔ معاشرے میں تصوف کی پوزیشن واضح کی جائے۔ تصوف کے نام پر بددینی اور اسلام مخالف چیزوں کو فروغ دینے والوں کی سخت مذمت کی جائے۔ دنیا کو بتایا جائے کہ تصوف اِس گورکھ دھندے کا نام نہیں، بلکہ ایک پاکیزہ اسلامی تربیتی نظام کا نام ہے۔

۲۔ اپنے اندر وہ کشادہ دلی، مال و جاہ سے بے زاری، سخاوت، تواضع، نرمی اور جھکاؤ، اعتدال و میانہ روی اور خوش خلقی پیدا کی جائے ، جو ہر دور میں صوفیائے کرام کی شناخت رہی ہے۔

۳۔ خانقاہوں کے دروازے نئی نسل کے لیے کھول دیے جائیں۔ اس طور پر کہ انھیں خانقاہوں میں وحشت اور اجنبی پن محسوس نہ ہو۔ اس کے لیے خانقاہوں کے ظاہری ماحول کو بھی مناسب بنانا ہوگا اور اہلِ خانقاہ کی وضع قطع اور اخلاق میں بھی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔

۵۔ خانقاہوں میں اس طرح کے پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں آج کا انسان دلچسپی محسوس کرے۔ مثلاً: آپ کے مسائل اور اُن کا حل، نوجوانوں کے مسائل: اسباب و علاج، تعلیم: کیوں اور کیسے؟، معاشی تنگی: اسباب اور حل، ذہنی الجھنوں کے اسباب اور علاج، روحانی بے چینی کے اسباب و علاج، گھریلو جھگڑے اور ان کا حل۔

۶۔ مذکورِ بالا موضوعات پر چھوٹے چھوٹے پمفلٹ، عالمی و علاقائی زبانوں میں دل کش گٹ اَپ کے ساتھ شائع کرنا۔ ساتھ ہی ان موضوعات پر آڈیو، ویڈیو مواد فراہم کرنا۔

۷۔ معروف و غیر معروف بزرگانِ دین کے احوال کو ہر ممکنہ وسیلے کے ذریعے گھر گھر پہنچانا۔

۸۔ ایسے آن لائن یا آف لائن پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں عوام کو اپنے احساسات پیش کرنے کا موقع بھی مل سکے۔ جیسے: روحانی، ذہنی اور فکری الجھنوں پر سوال جواب کا پروگرام۔

۹۔ اس طرح کے پروگرام خانقاہوں سے نکل کر تعلیمی اداروں اور دوسرے اہم مقامات پر منعقد کرنے کی بھی کوشش کی جائے۔

۱۰۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اہل تصوف ، بالخصوص مشائخ و مرشدین اپنے اور عوام کے درمیان حائل اونچی دیواروں کو ڈھا دیں، تاکہ دوریاں ختم ہوں، شکوک و شبہات کے جالے جھڑ جائیں اور عوام کو بلاواسطہ مشائخ و مرشدین کی زندگیوں میں تصوف کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملے۔

یہاں اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ ان میں سے بہت سے اہم اقدامات مختلف معتبر خانقاہوں اور مستند مشائخ کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ الحمد للہ اس کے مثبت نتائج بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ لیکن ان اقدامات کی رفتار بہت سست اور مقدار بہت کم ہے۔ اہلِ تصوف کو مذکور بالا تمام کام پوری قوت کے ساتھ کرنے ہوں گے۔ ان شاء اللہ پھر عہدِ حاضر میں تصوف کی معنویت بھی واضح ہوگی اور بے چین انسان کو چین سکون بھی میسر آئے گا۔

خاتمہ

اکیسویں صدی میں تصوف کی معنویت اور امکانات کے متعلق اس مختصر جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اکیسویں صدی میں اسلام کے نظامِ تزکیہ و احسان اور نظامِ تصوف و سلوک کے لیے کام کرنے کا وسیع میدان کھلا ہوا ہے۔ آج کے انسان کو پہلے سے کہیں زیادہ تصوف کی ضرورت ہے۔ اگلے زمانوں کا انسان صرف روحانی امراض کے علاج کے لیے تصوف سے وابستہ ہوتا تھا، آج کا انسان روحانی امراض کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی بیمار ہو چکا ہے۔ بیماریاں بھی معمولی نہیں، مہلک اور تباہ کن۔ آج کے انسان کے بے شمار مسائل حل ہو جائیں، اگر وہ خلوص دل کے ساتھ اس نظام کا تجربہ کر دیکھے۔ اس کی زندگی سکون و اطمینان سے بھر جائے۔ بے چینی اور اضطراب ختم ہوجائے۔ کیوں کہ دنیا کی بے حیثیتی، اخروی زندگی کی ہمیشگی کا یقین، مادے (Material) کے بے اصل ہونے، بہ ظاہر معمولی نظر آنے والے اخلاقی امراض کے انتہائی خطرناک ہونے کا یقین، ایک ذات کے مالک و حاکم ہونے اور باقی سب کے غلام و حقیر ہونے کا احساس، دنیا کی سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کو سمجھنا اور اس کے حصول کو اپنی زندگی کا مدار اور محور بنانا، ایک خاص ترتیب کے ساتھ رشتے داروں، عزیزوں، پڑوسیوں، دوستوں، غریبوں، ناداروں، حتیٰ کہ جانوروں، پرندوں اور نباتات تک کے حقوق کی اہمیت ، انسان کو ایک فطری زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہے۔ شریعت کی روشنی میں ان تمام عقائد و اخلاق کی تربیت کا نام ہی تصوف ہے۔ عقائد کی پختگی اور اخلاق کی برتری ہی تصوف کا موضوع ہے۔ اگر انسانیت اس عظیم نظام سے وابستگی اختیار کر کے اپنا سفر آگے بڑھائے گی تو مادی ترقی کے ساتھ روحانی ترقی بھی اس کا مقدر بن جائے گی۔ وہ روحانی ترقی، جس کے بغیر مادی ترقیات انسان کے لیے آفت اور مصیبت بن چکی ہیں۔ بالکل اسی طرح، جس طرح روح کے بغیر جسم بے کار ہوتا ہے، اُسی طرح دنیا کی روحانی ترقی کے بغیر مادی ترقی کا کوئی مطلب نہیں۔

حوالہ جات / حواشی

  1. قشیری، ابوالقاسم عبدالکریم ابن ہوازن، الرسالۃ القشیریۃ فی علم التصوف، المکتبۃ التوفیقیۃ، قاہرہ، 2015، ص 40
  2. الرسالۃ القشیریۃ، حوالۂ سابق، ص 82
  3. ندوی، سید ابوالحسن علی، تزکیہ و احسان یا تصوف و سلوک، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 1979،ص 13-16
  4. تزکیہ و احسان یا تصوف و سلوک، حوالۂ سابق، ص 16,17
  5. https://www.psychologytoday.com
  6. الرسالۃ القشیریۃ، حوالۂ سابق، ص232
  7. وکی پیڈیا کا مقالہ، بعنوان Loneliness
  8. اس موضوع پر بڑا لٹریچر وجود میں آچکا ہے۔ بیسیوں تحقیقاتی رپورٹیں انٹرنیٹ پر دست یاب ہیں۔ مثلاً Loneliness: Causes and Health Consequences کے موضوع پر Kendra Cherry کا مختصر مضمون https://www.verywellmind.com پر دیکھا جاسکتا ہے۔
  9. نمونے کے طور پر قرآن کریم کی یہ آیات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں: البقرہ 30,60,204-206، المائدہ 33,64، ہود 85، الرعد25
  10. المائدہ، آیت 31
  11. دجال کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ نے بہت تفصیل کے ساتھ انسانیت کو خبردار فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں احادیث کی کتابوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر صحیحین میں کتاب الفتن سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔


خطبہ حجۃ الوداع اغیار کی نظر میں

مولانا حافظ واجد معاویہ

اس وقت دنیا میں سب سے بڑی جنگ "انسانی حقوق" اور اس سے وابستہ ان تمام مسائل کی ہے جن کی تار کہیں نہ کہیں سے انسانی حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے ذیلی شعبہ جات پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو سوسائٹی خود مختاری، آزادی اظہار رائے، حقوق نسواں، جان و مال کا تحفظ، تہذیب و تمدن کی بقاء، حق ملکیت، عدل و انصاف، معیشت و تجارت، سیاست و حکومت، مذہبی آزادی، خاندانی نظام، اقلیتوں کا لحاظ، باہمی قرابت و دوستانہ تعلقات وغیرہ اس موضوع کے جزو لاینفک ہیں۔ اسلام نے انسانی حقوق کا جس قدر لحاظ رکھا اور "حق دو" کا درس دیا اس جیسی مثال تاریخ عالم کے کسی بھی مذہب یا شریعت میں نہیں ملتی۔ اس کا عملی و آفاقی نمونہ خطبہ حجۃ الوداع ہے جو ۹ ذوالحجہ ۱۰ھ بمطابق 6 مارچ 632ء بروز جمعہ کو محسن انسانیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے مقام پر ایک عالم گیر خطبہ کی شکل میں ارشاد فرمایا تھا جسے قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے حقیقت پسندانہ فکر رکھنے والے مفکرین انسانی حقوق کا بنیادی اور پہلا عالمی منشور مانتے رہیں گے۔

مغرب میں انسانی حقوق کا تصور ارتقاء و تنزل کے کئی منازل طے کر چکا ہے۔ اس کی تاریخی حیثیت سے قطع نظر اس تصور کی بنیادوں کے حوالے سے بات کی جائے تو مغربی دنیا انسانی حقوق کے حوالے سے تین ادوار کو بطور اتھارٹی و سند کے تسلیم کرتے ہیں۔ 

  1. پہلا دور تیرہویں صدی عیسوی کا ہے جب 1215ء میں برطانیہ کے وزیر اعظم کنگ جان کے رو برو میگنا کارٹا کے نام سے انسانی حقوق کے متعلق دستاویز پیش کی گئی اور اسے 82 سال بعد تقریبا 1297ء میں کنگ ایڈورڈ اول کے دور میں نفاذی حیثیت ملی۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ کئی اور اس قسم کے چارٹرز تاریخ کا حصہ بنے لیکن اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اسی میں کئی ترامیم ہوئیں اور دوسرے کئی مغربی ممالک نے مختلف ترامیم کے ساتھ اسے اپنے ملک میں دستوری و قانونی حیثیت دی۔ مثلاً‌ 1628ء petition of rights (حقوق کی عرضداشت) 1689ء میں بل آف رائٹس کے نام سے انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی ہوئی۔ 
  2. دوسرا دور اٹھارہویں صدی کے اواخر کا ہے جب فرانس سے جمہوری انقلاب اٹھا جو عوام کی جانب سے مذہبی شخصیات، بادشاہ اور جاگیر داروں کے خلاف اپنے حقوق طلبی کے لیے نمودار ہوا تھا۔ 
  3. جبکہ تیسرا دور 1945ء سے 1948ء تک کا ہے جس میں اقوام متحدہ کی طرف سے "انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس چارٹر" متعارف کرایا گیا اور اس پر دنیا کے تقریبا سبھی ممالک نے دستخط کیے۔ جبکہ اسلام میں انسانی حقوق کو "حقوق العباد" کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد وحی ہے، حوالہ کے طور پر قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 36 اور احادیث نبویہ کے ذخیرہ میں سے خطبہ حجۃ الوداع اور حضرت سلمان فارسی اور ابوالدرداء رضی اللہ عنھما کی مواخات کے موقع پر پیش آنے والی صورتحال جسے بخاری شریف، کتاب الصیام حدیث نمبر 1968 کے طور پر امام بخاری نے درج کیا ہے جبکہ ترمذی وغیرہ میں بھی الگ سند کے ساتھ موجود ہے، کو پیش کیا جاتا ہے۔

اگر حقیقت پسندانہ نگاہوں سے غور کیا جائے تو مغربی فکر و معاشرہ انسانی حقوق کے حوالے سے جن تین ادوار کو بطور سند کے پیش کرتا ہے ان کی بنیاد بھی یہی مذکورہ آیت و احادیث بالخصوص خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ مغرب نے خطبہ حجۃ الوداع کی شقوں میں کئی تبدیلیاں کرنے کے بعد "انسانی حقوق کا منشور" کے نام سے مختلف ادوار میں نئی دستاویزات تیار کر کے دنیا کے سامنے پیش کیں۔ یہاں اس بات سے قطع نظر کہ انسانی حقوق کے درج بالا تمام ذیلی شعبہ جات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کن اہمیتوں کے حامل ہیں اور اسلام نے انسانی حقوق کا کتنا پاس رکھا، فقط یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ خود مغربی مفکرین خطبہ حجۃ الوداع کو اپنے عالمی منشور کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔

چنانچہ مشہور مغربی مفکر "لارڈ ایکٹن" خطبہ حجۃ الوداع کے متعلق لکھتے ہیں کہ 

"اگر یہ کہا جائے کہ آسمان نے روز و شب کی ہزاروں کروٹیں بدلیں، لیکن انسانیت اور حقوق انسانی کے لیے اس سے زیادہ پُردرد اور پُر خلوص آواز نہیں سنی تو یقیناً اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا" (بحوالہ محسن انسانیت اور انسانی حقوق ص 115) 

لارڈ ایکٹن کا یہ اعتراف اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ مغرب میں انسانی حقوق کا تصور اسلام بالخصوص خطبہ حجۃ الوداع سے ہی لیا گیا ہے۔ "رابرٹ بری فالٹ" نے اقوامِ مغرب کی تہذیب و ثقافت کے تاریک دور کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے حقائق کے دریچوں سے مزید پردہ سرکا دیا، رابرٹ بری فالٹ لکھتے ہے کہ 

"پانچویں صدی سے دسویں صدی تک یورپ میں گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے، اور مغربی تہذیب مثل لاش تھی جو متعفن ہو کر گل سڑ چکی تھی، بعد میں مغرب کو نشأۃ ثانیہ کا احیاء مسلمانوں کے اندلس علمی مراکز سے ملا کہ اس سے قبل تو مغرب کے مقتدر ممالک فرانس، اٹلی اور جرمنی میں طوائف الملوکی اور ویرانی کا دور تھا" 

رابرٹ کے اس اعتراف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نشأۃ ثانیہ سے قبل مغرب میں مقتدر ممالک کی تہذیب و ثقافت کا حال بھی ابتر تھا، اور انہوں نے اندلس میں موجود مسلمانوں کے علمی مراکز سے اپنی تہذیب و ثقافت کی بہتری کے گر سیکھے اور اندلس کی تہذیبی شناخت یا مراکز کی علمیت کی بنیاد پیغمبر علیہ السلام سے منسوب وحی ہی تھی۔

مزید اس حوالے سے غیر مسلم سیرت نگار جان بیگٹ المعروف "جنرل گلب پاشا" اپنی کتاب "دی لائف اینڈ ٹائم آف محمد" میں لکھتے ہیں کہ 

"مؤرخین نے حضور کے اس تاریخی خطبہ کو محفوظ کر لیا ہے، آپ کا یہ آخری حج اپنی نوعیت میں ایک امتیازی شان لیے ہوئے ہے، آپ نے جو کچھ بھی اس تاریخی موقع پر کہا اس کی پیروی ہمیشہ ہوتی رہے گی" ( دی لائف اینڈ ٹائم آف محمد، مترجم ص 582) 

جان بیگٹ کا یہ اعتراف بھی اس حقیقت پر مہر تصدیق ہے کہ مغربی دنیا میں انسانی حقوق کا پیش کردہ عالمی منشور خطبہ حجۃ الوداع سے ہی ماخوذ ہے۔

مغرب اگر خطبہ حجۃ الوداع کو بغیر تبدیل کیے "عمر لاء" کی طرح من و عن نافذ کرتا اور دنیا کے سامنے بے شک اپنے تجربات کی روشنی میں پیش کرتا تو بعید نہیں تھا کہ عالم اسلام بھی اس سے مستفید ہوتا اور دنیائے مغرب سے جڑے ممالک بھی بلا اختلاف و تنقید اس سے وابستہ رہتے۔ اور مغربی دنیا کو 1215ء کے بعد دسیوں بار اس میں ترامیم کی ضرورت بھی پیش نہ آتی۔ لیکن مغرب نے خطبہ حجۃ الوداع کو سامنے رکھ کر اس سے نکات ماخوذ کیے اور انہیں اپنی خواہشات کے مطابق نئے سانچے میں ڈھال کر جب دنیا کے سامنے متعارف کروایا تو خود کئی مغربی ممالک ایک مدت کے بعد اس نئے منشور سے متنفر ہو چکے ہیں۔ اور مغربی مفکرین کے اس چارٹر کے حوالے سے تاریخ کا ریکارڈ بننے والے تجزیے اور تبصرے دلچسپی سے خالی نہیں ہیں۔ چنانچہ ماہر مغربی قانون دان "ہنز کیلسن" لکھتے ہیں کہ 

"خالص قانونی نظر سے دیکھا جائے تو منشور کی دفعات کسی بھی ملک پر انہیں تسلیم کرنے اور منشور کے مسودہ یا اس کے ابتدائیہ میں صراحت کردہ انسانی حقوق اور آزادیوں کو تحفظ دینے کی پابندی عائد نہیں کرتی" (the low of united nations London 1950 P. 29 بحوالہ محسن انسانیت اور انسانی حقوق ص 159)

ڈاکٹر رافیل (Raphael) کا بے لاگ تبصرہ بھی ملاحظہ ہو، ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ 

"یہ نام نہاد معاشی اور سماجی حقوق کوئی بین الاقوامی فرض عائد نہیں کرتے" (political theory and the righs of man P. 96 بحوالہ محسن انسانیت اور انسانی حقوق ص 160) 

مغربی دنیا نے خطبہ حجۃ الوداع سے سرقہ تو کیا لیکن اب وہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

شہیدِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مظلومانہ شہادت

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

ماہ محرم الحرام سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے، اس ماہ میں ایک ایسا تاریخی اور انقلابی سانحہ پیش آیا کہ جو ہر سال اہلِ ایمان کو عظیم قربانیوں کا سبق دیتا ہے، کربلا کا درس یہ بھی یادکراتا ہے کہ اصل زندگی خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے اور میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خانوادہ رسول کی قربانی کا یہ ہی پیغام ہے۔حضرت سیدنا حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی شہادت تاریخِ انسانی کا ناقابلِ فراموش المیہ ہے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت

آپ کی ولادتِ با سعادت ۵ شعبان المعظم ۴ھ کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے گوش مبارک میں اذان دی، منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعا فرمائی۔ پھر ساتویں روز آپ کا نام مبارک حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔ نام: حسین، کنیت: ابو عبد اللہ، لقب مبارک: سبطِ رسول اور ریحانِ رسول ہے۔

حضور ﷺ کا حسنین کریمین کے ناموں پر فخر

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبر اور شبیر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا نام انہی کی طرز پر حسن اور حسین رکھا۔ (صواعق المحرقہ) اسی لیے حسن و حسین کو شبر اور شبیر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سریانی زبان میں حسنین کریمین کے ناموں یعنی شبر و شبیر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ (صواعق المحرقہ) ایک حدیث مبارکہ میں ہے: حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔ (صواعق المحرقہ) ابنِ الاعرابی حضرت مفضل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے یہ نام مخفی رکھے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب

آپ کے فضائل میں بہت حدیثیں ملتی ہیں۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسینؓ کو اپنے انتہائی قریب فرمایا ہے، گویا کہ حسین سے دوستی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دوستی ہے، حسین سے عداوت رکھنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عداوت و دشمنی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے حسینؓ سے محبت کی اس نے اللہ رب العزت سے محبت کی۔ (مشکوۃ شریف)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود مبارک میں بیٹھ گئے اور اپنی انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک میں داخل کر دیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کا بوسہ لیا اور فرمایا: اے اللہ! میں اس (حسینؓ) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی جو اس سے محبت کرے۔ (نورالابصار)

شہیدِ کربلا کے کارنامے

شہیدِ کربلا حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک ابھی ساڑھے سات برس تھی کہ والدہ محترمہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا کا انتقال ہو گیا اور آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے شفیق ترین نانا کے بعد حضرت فاطمہؓ جیسی شفیق ترین ماں کی مامتا اور سایہ سے محروم ہوگئے۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے شفیق ترین باپ کی پدرانہ شفقت نے آپ کا غم غلط کر دیا اور آپ کی کامل تربیت فرمائی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے حافظ بن گئے۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور قرآن کریم کے معانی پر آپ کی خاصی نگاہ تھی۔ اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ نبوی میں کامل تھے۔ تقویٰ، طہارت اور حق گوئی و بے باکی اور جہاد آپ کا شعار تھا۔

دورِ صدیقی اور عہدِ فاروقی میں آپ نو عمر تھے۔ البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں آپ اچھے جوان اور سپاہی تھے۔ چنانچہ فتح طبرستان کے لشکر میں، جو حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں گیا تھا، آپ سرفروشانہ شریک تھے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کو جب باغیوں نے گھیر لیا تھا تو ان کی حفاظت کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو مقرر کیا تھا۔ لیکن باغی کسی دوسری جانب سے مکان میں داخل ہو گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے دروازے پر پہرہ دیتے رہے، باغیوں کے اندر داخل ہونے کا انہیں پتہ نہیں چل سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات پر ڈانٹا۔ مگر باغی ایسے راستے سے اندر داخل ہوئے تھے جس کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو علم نہیں تھا۔

دورِ حیدری میں آپ برابر اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دست و بازو رہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت (۴۰ھ) کے بعد اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں میں آپ آگے آگے تھے، لیکن جب چھ ماہ بعد وہ حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں دست بردار ہو گئے تو حضرت حسینؓ نے بھی اپنے بڑے بھائی کے احترام میں ان کا ساتھ دیا۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جب تمام مسلمانوں کے وظیفے مقرر کیے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا وظیفہ پانچ ہزار درہم سالانہ مقرر فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ وظیفہ آپ کو برابر ملتا رہا۔ یہ وظیفہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں دس لاکھ درہم تک بڑھا دیا، جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو برابر ملتا رہا۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے تو اس طرح مسلمان ایک بار پھر متحد ہو گئے۔ اور وہ تلوار جو اعلائے کلمۃ الحق کے لیے وقف تھی؛ اور بدقسمتی سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے اس کا رخ خود مسلمانوں کی طرف ہو گیا تھا اور پورے دور حیدری میں مسلمان اپنا ہی خون بہانے میں مصروف رہے تھے؛ وہ تلوار پھر جہاد، اعلائے کلمۃ الحق اور اتحادِ ملت کیلئے وقف ہو گئی۔ یہ حضرات حسینین کریمین رضی اللہ عنھما کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ مسلمانوں کے اس باہمی اتفاق و اتحاد کے بعد اسلام کی اشاعت جو مسلمانوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے موقوف ہو گئی تھی، ایک بار پھر شروع ہو گئی اور مسلمان یکسو ہو کر اشاعتِ اسلام اور جہاد کے مشن پر گامزن ہوگئے۔

سانحہ کرب و بلا

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے علم و فضیلت، تقویٰ و طہارت کے باوجود سیاست میں حصہ لیا، بلکہ میدانِ کربلا میں اپنی جان دے کر اسے صحیح رخ پر لانے کی کوشش فرمائی۔ اس طرح آپ نے دین کے صحیح تصور کو قائم اور باقی رکھنے، زندہ اور تازہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ سیاسی پہلو میں شورائیت اور انتخابات کے بجائے جو نامزدگی اور ولی عہدی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، اس کے خلاف آواز اٹھا کر اور تحریک چلا کر، بلکہ اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ دین کے کسی پہلو میں بھی بدعت سر اٹھائے تو اسے کسی حال میں برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ایک کارنامہ آپ کا یہ ہے کہ اگرچہ رخصت کی راہ کھلی ہوئی تھی، مگر آپ نے عزیمت کی راہ اختیار کر کے رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کیلئے سنگِ میل قائم کیا کہ اسلامی خلافت باقی رکھنے کیلئے اور اسے ملوکیت کی راہ پر جانے سے روکنے کیلئے عزیمت کی راہ اپنانا چاہیے اور اپنا خون دے کر اسے صحیح صورت پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مسندِ خلافت اور بیعت

رجب ۶۰ ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا یزید مسندِ خلافت پر براجمان ہوا تو فسق و فجور، ظلم و جبر، ناانصافی و عہدشکنی کے دور کا آغاز ہوگیا۔ نیز یزید نے خود اور اپنے کارندوں کے ذریعے عالمِ اسلام سے بزورِ جبر اپنے حق میں بیعت لینا شروع کر دی۔ اس وقت مدینہ منورہ میں یزید کا چچازاد بھائی ولید بن عقبہ گورنر تھا۔ یزید نے اسے ایک مختصر سا حکم نامہ ارسال کیا جس میں تحریر تھا کہ حسین ابنِ علی، عبداللہ ابنِ عمر اور عبداللہ ابنِ زبیر کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کے ساتھ پوری سختی کی جائے، یہاں تک کہ تینوں بیعت کر لیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی تو آپ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ ادھر اہلِ کوفہ تواتر کے ساتھ خطوط اور وفود کے ذریعے یہ اصرار کرتے رہے کہ آپ کوفہ آجائیں تاکہ اہلِ کوفہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر سکیں۔

حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت

کوفے والوں کے بے انتہا اصرار اور لاتعداد خطوط کے جواب میں آپ نے پہلے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہاں کے حالات کا صحیح اندازہ کر کے اطلاع دیں۔ حضرت مسلم بن عقیل نے کوفہ پہنچ کر عوسجہ نامی ایک شخص کے گھر قیام کیا اور لوگوں سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت لینی شروع کر دی۔ جلد ہی بارہ ہزار لوگوں نے خفیہ طور پر بیعت کر لی، جس پر انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر جلد کوفہ پہنچنے کی گزارش کی۔ حضرت حسینؓ نے خط ملتے ہی کوفہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔ ادھر کوفہ کے نئے گورنر عبیداللہ بن زیاد کو حضرت مسلم بن عقیل اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بارے میں مخبری ہو گئی، چنانچہ چند سازشی عناصر کے ذریعے حضرت مسلم بن عقیل کو ہانی بن عروہ کے مکان سے گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا اور اہلِ کوفہ بزدلی، خوف اور بے بسی کی تصویر بنے، شہادت کا یہ روح فرسا منظر دیکھتے رہے۔

شہیدِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی

۳ ذی الحجہ ۶۰ ہجری بروز دوشنبہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال اور خاندان کے ہم راہ کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ اور یہ وہی دن تھا کہ جب حضرت مسلم بن عقیل کو ابن زیاد نے بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ اہلِ مدینہ اور صحابہ کرام نے آپ کو روکنے کی کوشش کی۔ اہلِ کوفہ کی بے وفائیاں اور شہادتِ علی المرتضی رضی اللہ عنہ یاد دلائی، مگر آپ نے فرمایا میں نے اپنے نانا کو خواب میں دیکھا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تاکید کے ساتھ اس کام کو کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب یہ کام ضرور کروں گا، خواہ مجھے نقصان ہو یا فائدہ۔ لوگوں نے آپ سے خواب کی تفصیل جاننی چاہی، تو آپ نے فرمایا، میں نے یہ خواب کسی کو نہیں بتایا اور نہ بتاؤں گا، یہاں تک کہ اپنے پروردگار سے جا ملوں گا۔ (ابنِ اثیر، البدایہ والنہایہ)

ابھی آپ کوفہ کے راستے میں قادسیہ سے تین میل کے فاصلے پر تھے کہ حر بن یزید تمیمی سے سامنا ہوا، جو ایک ہزار افواج کے ساتھ آپ ہی کی تلاش میں تھا۔ یہ بھی ان لوگوں میں شامل تھا کہ جنہوں نے کوفہ آنے پر اصرار کیا تھا، لیکن اب یزید کے ساتھ تھا۔ وہ آپ سے ملا اور حضرت مسلم کی شہادت سمیت پوری روداد سناتے ہوئے واپس جانے کا مشورہ دیا، لیکن حضرت مسلم کی شہادت کی خبر سن کر ان کے بھائیوں نے کوفہ جانے پر اصرار کیا، چنانچہ آپ نے سفر جاری رکھا۔ راستے میں کوفہ سے آنے والے لوگوں نے آگے نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے بتایا کہ اہلِ کوفہ کے دِل تو آپ کے ساتھ ہیں، لیکن تلواریں یزید کے ساتھ ہیں۔

کربلا میں قیام اور شرائطِ امام

۲ محرم ۶۱ ہجری کو ایک مقام پر آپ نے قافلے کو روک کر اس جگہ کا نام دریافت کیا۔ بتایا گیا کہ اس جگہ کو کربلا کہتے ہیں۔ آپ نے آب دیدہ ہو کر فرمایا کہ یہی جگہ ہماری مقتل گاہ ہے۔ چنانچہ وہاں خیمے نصب کر دیے گئے، لیکن ابنِ زیاد کے حکم پر وہاں سے خیمے ہٹا دیے گئے اور دریائے فرات سے تین مِیل کی دوری پر صحرا میں لگا دیے گئے کہ جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔

کربلا میں عمرو بن سعد ۴ ہزار فوجیوں کے ساتھ آپ کے محاصرے پر مامور تھا۔ اس وقت آپ کے خیموں میں معصوم شیرخوار بچوں، بیمار زین العابدین اور خواتین سمیت ۷۲ نفوسِ قدسیہ ذکرِ الٰہی میں مصروف تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعد کے سامنے تین شرائط رکھیں:

(۱) مجھے واپس مکہ یا مدینہ جانے دیا جائے۔

(۲) کسی سرحدی مقام کی جانب نکل جانے دیا جائے۔

(۳) یزید کے پاس دمشق جانے دیا جائے تاکہ اپنے معاملات طے کر لوں۔

عمرو بن سعد نے شرائط ابن زیاد کو لکھ بھیجیں، لیکن اس نے یہ تینوں شرائط قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فوراً گرفتار کیا جائے یا پھر جنگ کر کے ان کا سر کاٹ کر بھیج دو۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک سفاک شخص، شمر ذی الجوشن کو نیا سالار بنا کر بھیج دیا۔

یومِ عاشور اور خطابِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ

سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خیمے کے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ ہلکی سی اونگھ آجاتی ہے۔ بیدار ہوتے ہیں، تو حسین چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح منور ہے۔ ہلکی سی مسکراہٹ نے فضا میں پھول بکھیر دیے ہیں۔ رفقا سے فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے میرے نانا جان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں آئے تھے۔ فرمایا کہ حسین! اب ہم سے ملنے کی تیاری کر لو‘‘۔ راہِ حق کے متوالوں کی پوری رات عبادت میں گزری۔ صبح آپ نے یزیدی فوج کے سامنے ایک پرجوش اور ولولہ انگیز تقریر کی۔

فرمایا: اے لوگو! تم جانتے ہو کہ میں رسول اللہ کا نواسہ، حیدرِ کرار کا نورِ نظر اور خاتونِ جنت کا لختِ جگر ہوں۔ تم واقف ہو کہ رسول اللہ نے ہم دونوں بھائیوں کو جنت کے نوجوانوں کا سردار بتایا ہے۔ تم سب نے مجھے خط لکھ کر بلایا، اب تم اپنے وعدوں سے پِھر چکے ہو۔ میں ابھی بھی چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے جنگ نہ کرو اور مجھے اپنے رفقا سمیت مکہ یا مدینہ واپس جانے دو۔ اس تقریر سے متاثر ہو کر حر بن یزید تمیمی نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔

شمرذی الجوشن نے جب یہ منظر دیکھا تو اسے فکر ہوئی کہ فوج میں بغاوت نہ ہو جائے، اس نے عمرو بن سعد سے کہا کہ اب دیر نہ کرو۔ عمرو نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی جانب پہلا تیر پھینک کر سانحہ کرب و بلا کا آغاز کیا۔ لشکرِ حسینی سے سب سے پہلے آپ کے ساتھیوں بریر ہمدانی، عابس شاکری، نافع بن ہلال، حبیب بن مظاہر اور دیگر نے میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کی۔ اب اقربا کی باری ہے۔ عون، محمد، جعفر و قاسم، علی و عبداللہ غرض ایک ایک کر کے سب آتے رہے اور جنت کو سدھارتے رہے۔

شہادتِ امام عالی مقام

آخر میں لختِ جگر علی اکبر ہاتھ میں تلوار پکڑے آگے بڑھے۔ والدِ محترم کو مسکراتی نگاہوں سے الوداعی سلام کیا اور دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ خیموں سے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں، تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جا کر فرمایا تمہارے رونے کی آوازوں سے یزید کے فوجی خوش ہوتے ہیں۔ سامنے ہی چھے ماہ کے علی اصغر لیٹے تھے، گود میں اٹھایا اور باہر آکر کہا دیکھو! یہ معصوم تین دن سے پیاسا ہے ابھی الفاظ بھی پورے نہ ہوئے تھے کہ ایک تیر آیا اور شیرخوار شہزادے نے باپ کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ اب حضرتِ حسین رضی اللہ عنہ تنہا رہ گئے تھے۔ لشکرِ یزیدی نے چاروں جانب سے گھیر لیا تھا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے آسمان کی جانب دیکھا، شمشیرِ حیدری کو داہنے ہاتھ میں پکڑا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ؎

نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ ظلم ابنِ زیاد کا
جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

شمشیرِ حسینی خوف زدہ فوجیوں کے سر قلم کرتی میدانِ جنگ میں چاروں جانب چل رہی تھی کہ اچانک کہیں دور سے اذان کی آواز آئی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ہاتھ روک لیا اور بآوازِ بلند نماز پڑھنے کی مہلت مانگی اور یہی وہ لمحہ تھا کہ جب شمر کے جوش دلانے پر مالک کندی نے دوشِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہہ سوار پر ایسا کاری وار کیا کہ تلوار کلاہِ مبارک کو کاٹتی ہوئی کاسہ سر تک پہنچ گئی۔ خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور سارا بدن خون کے چھینٹوں سے لالہ احمر ہوگیا۔ آپ نے زخمی سر مبارک پر دوسرا عمامہ باندھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا، ہزاروں کے حصار میں اکیلے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے جسمِ اطہر پر زخموں کے نشانات بڑھتے جا رہے تھے۔ زخموں کی شدت نے آپ کو نڈھال کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ شجاعت و بہادری کے اس کوہِ گراں کو شہید کر سکے۔ آخر شمر ملعون نے دھاڑ کر کہا آگے بڑھو اور شہید کر دو۔ یہ سنتے ہی آپ پر تیروں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ ایک تیر گردن پر پیوست ہوگیا، جسے آپ نے اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر نکالا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے زخموں سے چور، فاطمہ کے لال پر وار کیا۔ بایاں بازو کٹ کر دور جا گرا، عین اسی حالت میں سنان بن انس نے نیزا مارا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مقام زمین پر گر گئے۔ خولی بن یزید سر قلم کرنے آگے بڑھا لیکن ہاتھ کانپ گئے، پیچھے ہٹ گیا۔ سنگ دل اور شقی القلب سنان بن انس نے سر مبارک کو جسمِ اطہر سے جدا کر دیا۔ ابنِ زیاد کے حکم پر ان وحشی فوجیوں نے جسمِ اطہر کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے کہا ؎

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

علامہ ابنِ جوزی نے تذکر الخواص میں لکھا ہے کہ آپ کے جسمِ اطہر پر ۳۳ زخم نیزوں کے، ۴۳ تلواروں کے تھے، اور آپ کے پیرہن شریف پر ۱۲۱ سوراخ تیروں کے تھے۔ یہ تمام زخم جسمِ مبارک کے اگلے حصے میں تھے، پشت مبارک کی جانب کوئی زخم نہ تھا۔ (جامع التواریخ)

مرِ دِ حق باطل سے ہر گز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں

بالآخر نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، ریحانۃ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش پا گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

خادمۂ رسول ؐحضرت امِ رافع سلمٰیؓ

عہدِ نبوی کی Midwifery میں ماہر خاتون

مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

تمہید

عہدِ نبوی میں خواتین کی ایک بڑی تعداد پیشہ ورانہ طور پر طب سے جڑی ہوئی تھی اور یہ خواتین طب کے مختلف شعبوں میں ماہر بھی تھیں، انھیں میں ایک نمایاں نام ''حضرت سلمیٰ'' رضی اللہ عنہا کا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ باندی تھیں، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھرانہ کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر رکھا تھا؛ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی آلِ بیتِ رسولﷺ کی خدمت کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔

یہ ''دایہ گیری'' کے شعبہ میں مہارت رکھتی تھیں، جسے آج کی زبان میں Midwifery کہا جاتا ہے، یہ ایک پیشہ ورانہ اور طبی شعبہ ہے، جس میں دایہ (Midwife) حاملہ خاتون کی دیکھ بھال، زچگی کے دوران مدد اور بچہ کی پیدائش کے بعد ماں اور نومولود کی نگہداشت کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ عام نرسنگ بھی کر لیا کرتی تھیں۔ آئیے! یہاں ہم ان کے تعلق سے جانتے ہیں۔

نام و تعارف

ان کا نام ''سلمیٰ'' ہے، یہ نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ باندی ہیں، ابتداء یہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب کی باندی تھیں، انھوں نے نبی کریم ﷺ کو ہبہ کر دیا تو آپﷺ نے انھیں آزاد کر دیا۔ محمد الحسون اورام علی مشکور لکھتے ہیں:

سلمیٰ: مولاۃ رسول اللہ ﷺ، کانت أولاً مولاۃ لصفیۃ بنت عبد المطلب، فوہبتہا لرسول اللہ ﷺ، فأعتقہ (أعلام النساء المؤمنات، ص: ۵۱۵)
''سلمیٰ: رسول اللہﷺ کی خادمہ، یہ پہلے صفیہ بنت عبدالمطلب کی خادمہ تھیں، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں آزاد کردیا''۔

یہی وہ خاتون ہیں، جنھوں نے حضرت خدیجہؓ اور ماریہ قبطیہؓ کی ولادت کے موقع پر ان کا خیال رکھا اور ان کی دیکھ بھال کی۔ ابن سعد لکھتے ہیں: یہی وہ خاتون ہیں، جنھوں نے حضرت خدیجہؓ کے بطن سے پیدا ہونے والی نبی کریم ﷺ کی تمام اولاد کی پیدائش کے وقت ان کی دیکھ بھال کی اور دایہ گیری کا فریضہ انجام دیا، پہلے سے ہی ان کی ضروریات کا انتظام کر رکھتی تھیں، انھوں نے حضرت ماریہ قبطیہ کو بھی حضرت ابراہیم کی پیدائش کے وقت سنبھالا تھا (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۱۶، نمبر شمار: ۴۹۸۷)۔

ازواج و اولاد

حضرت سلمیٰ کا نکاح نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ''ابو رافع'' کے ساتھ ہوا۔ ان کے نام کے سلسلہ میں کئی قول ہیں: (۱) ابراہیم (۲) اسلم (۳) ہرمز (۴) ثابت (۵) سنان (۶) یسار (۷) صالح (۸) عبدالرحمٰن (۹) قزمان (۱۰) یزید؛ تاہم اسلم نام دیگر ناموں کی بہ نسبت زیادہ مشہور ہے۔ 

حافظ ابن عبد البر کہتے ہیں: وہو (أسلم) أشہر ما قیل فیہ ''تمام ناموں میں ''اسلم'' زیادہ مشہورہے''۔

یہ قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے، نبی کریمﷺ کے پاس کیسے پہنچے؟ اس سلسلہ میں دو باتیں ملتی ہیں:

(۱) رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کے یہ غلام تھے، انھوں نے آپﷺ کو ہبہ کر دیا؛ چنانچہ جب حضرت عباسؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تو انہی ابو رافع نے رسول اللہ ﷺ کو یہ خوش خبری سنائی، جس کی خوشی میں نبی ﷺ نے انھیں آزاد کر دیا۔

(۲) یہ سعید بن العاص کے غلام تھے، جن کی وفات کے بعد ان بیٹے وارث بنے، یہ آٹھ یا دس تھے، ان میں سے بعض نے ابو رافع کو آزاد کر دیا، جب کہ بعض نے آزاد نہیں کیا تو یہ نبی کریم ﷺ کے پاس مدد کے لئے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے گفتگو کی تو ان لوگوں نے ابو رافع کو آپﷺ کو ہبہ کر دیا، پھر آپ ﷺ نے انھیں آزاد کر دیا۔ ابو رافع کا انتقال صحیح قول کے مطابق حضرت علی کے دورِ خلافت میں ہوا۔

حضرت سلمیٰ کے بطن سے حضرت ابو رافع کا ایک لڑکا: عبیداللہ بن أبی رافع پیدا ہوئے، جنھوں نے اپنے والد اور حضرت علیؓ سے روایت نقل کی ہے اور یہ حضرت علی کے کاتب تھے (الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۱۲، نمبر شمار: ۳۳۴۶/ص:۸۰۵، نمبر شمار: ۲۹۲۵/ ص: ۶۰، باب أسلم، نمبر شمار: ۷۳، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۵؍۳۸، نمبرشمار: ۳۸۰۵)۔

اسلام اور غزوات میں شرکت

یہ بات ابھی گزر چکی ہے کہ حضرت سلمیؓ نے حضرت خدیجہ کی ساری اولاد کی دایہ گیری کی ہے تو اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ انھوں نے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا، یہ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ بھی گئیں اور پھر خصوصیت کے ساتھ غزوۂ خیبر میں انھوں نے شرکت بھی کی۔ 

ابن سعد لکھتے ہیں: وقد شہدت سلمیٰ خیبر مع رسول اللہ ﷺ (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۱۶، نمبر شمار: ۴۹۸۷) ''سلمیٰ غزوۂ خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھیں''۔

غزوۂ حنین میں بھی شرکت کا ذکرہ ملتا ہے؛ چنانچہ شیخ محمد صادق کرباسی لکھتے ہیں: ویذکر أنہا شہدت وقعۃ حنین سنۃ ۸ ھ (معجم أنصار الحسین، ص:۸۴) ''ذکر کیا جاتا ہے کہ آٹھ ہجری میں انھوں نے غزوۂ حنین میں شرکت کی ہے''۔

طبابت

یہ دایہ گیری اور ڈیلوری کرانے میں مہارت تو رکھتی ہی تھیں، ساتھ میں نرسنگ بھی کیا کرتی تھیں، محمد الحسون لکھتے ہیں:

وہی قابلۃ وممرضۃ ... وہی التی کانت تقبل فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا فی نفاسہا وتمرضہا، وقیل: إنہا مرضتہا فی مرضہا التی توفیت فیہ (أعلام النساء المؤمنات، ص: ۵۱۵).
’’وہ ایک دایہ اور نرس تھیں...انھوں نے ہی حضرت فاطمہ زہراءؓ کے نفاس کے دوران ان کی دیکھ بھال اور تیمارداری کی تھی، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے حضرت فاطمہؓ کی تیمارداری ان کے مرض الوفات میں کی تھی‘‘۔

ڈاکٹر حسین فلاح کساسبہ لکھتے ہیں:

ومنہن من مارست مہنۃ التولید کسلمی مولاۃ صفیۃ بنت عبد المطلب التی قبلت ماریۃ قبطیۃ حینما ولدت إبراہیم (Educational & Social Science Journal, Vol:6(1) January 2019، عنوان: الطب والأطباء فی صدر الاسلام للدکتور حسین فلاح الکساسبۃ، ص: ۶۸۲)۔
’’ان میں بعض ایسی بھی تھیں، جو زچگی اور ولادت کے پیشے سے وابستہ تھیں، جیسے: سلمیٰ، جو صفیہ بنت عبد المطلب کی آزاد کردہ باندی تھیں، انھیں کی نگرانی میں ماریہ قبطیہ نے حضرت ابراہیم کو جنم دیا‘‘۔

ڈاکٹر امیمہ ابوبکر اور ڈاکٹر ہدی سعدی نے انھیں ''جراحۃ حروب'' (Battlefield Surgeon) قرار دیا ہے، جسے اردو میں ''جنگی جراح'' یا ''میدان جنگ کا سرجن'' کہہ سکتے ہیں (النساء ومہنۃ الطب فی المجتمعات الاسلامیۃ، ص:۱۹)۔

اس تعلق سے خود ان کی حدیث ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں:

ما کان یکون برسول اللہ ﷺ قرحۃ ولانکبۃ؛ إلا أمرنی رسول اللہ ﷺ أن أضع علیہا الحناء (سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۰۵۴، قال أبوعیسی: ہذا حدیث حسن غریب).
’’رسول اللہ ﷺ کو جب بھی کوئی زخم یا چوٹ لگتی تو مجھے مہندی لگانے کا حکم فرماتے‘‘۔

کیوں کہ زخم پر مہندی لگانے کے کئی فائدے ہوتے ہیں:

(۱) مہندی میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات ہوتی ہیں، جو زخم کو انفیکشن سے بچانے میں معاون ہوتی ہیں۔

(۲) مہندی قدرتی طور پر ٹھنڈک پہنچاتی ہے، جس کی وجہ سے آرام دہ اثر محسوس ہوتا ہے۔

(۳) اس کے اندر اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے زخم کے درد اور سوجن میں کمی واقعی ہوتی ہے۔

(۴) یہ قدرتی اینٹی سیپٹک ہے، یہی وجہ ہے کہ جڑی بوٹیوں کے علاج میں اسے استعمال کیا جاتا ہے؛ تاکہ جلدی بیماریوں اور زخموں کو جلد ٹھیک کیا جا سکے، انھیں وجوہات کی بنا پر نبی کریم ﷺ زخموں پر مہندی لگانے کی تاکید فرماتے تھے۔

وفات

ان کی وفات کس سن میں ہوئی؟ اس سلسلہ میں زیادہ تر کتابوں میں کوئی ذکر نہیں ہے؛ البتہ محمد صادق کرباسی نے ان کی سن وفات ۲۰ھ نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:  قد توفیت سنۃ ۲۰ھ (معجم أنصار الحسین:۲؍۹۵) ''ان کی وفات سن بیس (۲۰) ہجری میں ہوئی''۔

رضی اللہ عنہا وأرضاہا، وجعل مثواہ برداً وسلاماً۔

سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے نتائج

مولانا مفتی عبد الرحیم

کسی بات کو سننا، اس پہ غور کرنا اور حق بات کو قبول کرنا، اس میں رکاوٹ سات آٹھ چیزیں ہوتی ہیں۔ اور وہ سات آٹھ چیزیں اس سوشل میڈیا سے نہ صرف پیدا ہوتی ہیں بلکہ وہ بڑی تیزی کے ساتھ بڑھتی ہیں۔ وہ سات آٹھ چیزیں کیا ہیں؟

ایک تو آپ دیکھیں جو عصبیت ہمارے ہاں چل رہی ہے، تو عصبیت سوشل میڈیا سے بہت زیادہ بڑھتی ہے۔ اور عصبیت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جب آپ کسی تعصب میں مبتلا ہو جائیں، چاہے وہ قوم پرستی کا تعصب ہو، یا صوبائیت کا تعصب ہو، یا زبان کا ہو، یا کسی خانقاہ کا ہو، یا حتیٰ کہ کسی مذہب کا بھی ہو؛ کیونکہ عصبیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حق بات کا انکار کرنا اپنی قوم کی وجہ سے، اور غلط بات کی تائید کرنا اپنی قوم کی وجہ سے؛ اگر مسلمان ہونے کی وجہ سے، اسلام کی وجہ سے آپ اقلیتوں پر ظلم کر رہے ہیں، یہ بھی اسلامی مذہبی عصبیت ہے، جائز نہیں ہے، یہ بھی حرام ہے۔ اگر آپ اپنی خانقاہ کی وجہ سے کسی صحیح بات کا انکار کر رہے ہیں، یہ بھی عصبیت ہے۔ تو ایک عصبیت ہے۔

دوسری عقیدت، جب عقیدت اپنی حد سے بڑھ جاتی ہے اور اندھی عقیدت جسے کہتے ہیں، اور اندھی عقیدت کیسے ہوتی ہے کہ کسی چیز کو مسلسل آپ دیکھ رہے ہیں، مسلسل اس کو پڑھ رہے ہیں، مسلسل اس کو شیئر کر رہے ہیں، اس کو لائک کر رہے ہیں، اس کو آگے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں؛ ایسی اندھی محبت، کسی سے عشق اور محبت جب ہو جاتی ہے تو وہ آدمی اس کے خلاف سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں نا کہ نوجوان سن ہی نہیں رہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں اندھی عقیدت میں بھی مبتلا کر دیا ہے، ہمیں اندھی محبت میں بھی مبتلا کر دیا ہے، ہمیں عصبیت میں مبتلا کر دیا ہے، اور ہمیں ضد اور ہٹ دھرمی میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔

اور اسی طریقے سے ایک پانچویں چیز ہے، جب آپ کسی چیز کو مشن بنا لیتے ہیں، زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں کہ مجھے یہی کام کرنا ہے، رات دن یہ کام کرنا ہے۔ تو جو آدمی ایک مشنری بن جاتا ہے، اس کے بعد پھر کسی اور کی بات سننا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔

پھر ان سب کے ساتھ جذباتیت، جب آدمی جذبات میں آجاتا ہے تو جذباتی ہو کر پھر کسی بات کو دھیان سے سن لے، غور کرے، یہ نہیں کر سکتا۔ جذباتیت کے ساتھ پھر سطحیت، کہ ریسرچ نہیں ہے، تحقیق نہیں ہے، سنی سنائی باتیں ہیں، اور اس کو آپ لے کر چل رہے ہیں۔ تو جذباتیت کو چھٹے نمبر پر ملا لیں، پھر سطحیت کو ملا لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدمِ برداشت۔ یہ سوشل میڈیا آدمی کو برداشت سے باہر نکال دیتا ہے۔ آپ دیکھیں چھوٹے چھوٹے بچے، وہ کتنی ضد کر رہے ہوتے ہیں، یہ سوشل میڈیا کے وہ اثرات ہیں۔

تو سوشل میڈیا کے ان سات اثرات نے، سات چیزوں نے ہمیں وہاں تک پہنچا دیا ہے کہ ہم نہ کسی حق بات کو سننے کے قابل رہے ہیں، نہ اس پہ غور کر سکتے ہیں، نہ ہم اس کو قبول کر سکتے ہیں۔ تو سب سے پہلے اس کی ضرورت ہے کہ ان ساتوں چیزوں سے ہم بچنے کی کوشش کریں۔ اور اگر ان سات چیزوں کے ساتھ آپ اس کو بھی ملا لیں کہ ہمارے ملک میں حکومت کی رِٹ نہیں ہے۔ صوبائی حکومتیں ہوں، مرکزی حکومت ہو، بیوروکریسی ہو، پولیس کا محکمہ ہو، یا ہمارا میڈیا ہو، تو وہ جس طریقے سے چل رہے ہیں اس کی روشنی میں یہ ہر بیماری اتنی آگے [چلی جاتی ہے] پھر اس کو ضرب دیتے چلے جائیں۔ 

اس لیے ہمیں اپنا خیال رکھنا چاہیے اور جیسے مولانا عبد الودود صاحب نے کہا کہ نعمت تو بہت بڑی ہے لیکن اس کی کوئی ضمانت ہے کہ تمہارے پاس یہ نعمت رہے گی؟ اگر ہم ناشکری کریں گے اور ان چیزوں میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس نعمت کو چھین نہ لے۔ قرآن مجید میں آتا ہے ’’وان تتولوا یستبدل قوماً‌ غیرکم، ثم لا یکونوا امثالکم‘‘ کہ اگر تم باز نہیں آئے تو اللہ تعالیٰ کسی اور قوم کو لے آئیں گے جو تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔ دو شکلیں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے: ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نعمت کو چھین کر کسی اور کو دے دیتے ہیں۔ اور دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نعمت سے بالکل محروم کر دیتے ہیں، کسی اور کو بھی نہیں دیتے۔ آپ دیکھیں کہ اندلس میں چھ سات سو سال ہماری حکومت رہی، خلافت رہی، آج وہاں کھنڈرات ہیں، کچھ بھی نہیں ہے وہاں۔ تو ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کہیں ہم سے یہ نعمت نہ چھین لے۔ 

تو اس میں، میں یہ عرض کر رہا تھا کہ مولانا طارق مسعود صاحب نے جو سوشل میڈیا کی بات کی، تو سوشل میڈیا، جب یہ چیز ہمارے ملک میں آئی، یا جب اس کو لایا گیا، تو جنرل مشرف کے بارے میں بہت سارے لوگ باتیں کرتے ہیں نا، تو میرے ذہن میں جو انہوں نے بہت بڑا اس ملک کا نقصان کیا، وہ یہ کہ یہ میڈیا لے کر آئے اور پورے کا پورا لے لیا انہوں نے۔ اس کے لیے یہ منصوبہ بندی نہیں کی کہ یہ آئے گا تو اس کے لیے کیا ہمیں بندوبست کرنا ہو گا، اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اگر گاڑی آپ لے رہے ہیں اور اس گاڑی میں بریکیں ہیں ہی نہیں، اور گیئر بھی پانچ ہی کا لگ رہا ہے، تو پھر آپ تباہ کریں گے، گاڑی بھی تباہ ہو گی، آپ بھی تباہ ہوں گے اور لوگ بھی تباہ ہوں گے۔ تو جب یہ چیز آ رہی تھی، میڈیا، اس وقت ہمارے اداروں کو، ان لوگوں کو، ہماری حکومتوں کو، اس پہ سوچنا چاہیے تھا کہ اس کو کتنا لینا ہے اور کتنا نہیں لینا، اور جتنا لینا ہے اس کو بہتر کیسے استعمال کرنا ہے۔ 

تو میرے خیال میں اگر سو بیماریوں کی ایک بیماری ہم کہیں تو آج کے زمانے میں یہ سوشل میڈیا کا فتنہ، جس طریقے سے ہم استعمال کر رہے ہیں، فتنہ کا مطلب ہے کہ اس کا غلط استعمال۔ اگر اسی کا آپ حب الوطنی کے لیے استعمال کریں، اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے آپ استعمال کریں، اللہ کا شکر کرنے کے لیے آپ استعمال کریں، عصبیت کو ختم کرنے کے لیے آپ اس میڈیا کو استعمال کریں تو یہی چیز ہمارے ملک کے لیے نجات دہندہ بھی بن سکتی ہے۔ 

https://youtu.be/7mGz3i7xaeQ


خواتین کا مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سوالات:

  1. عورتوں کے لیے مسجدوں میں جاکر نماز پڑھنا افضل ہے یا اپنے گھروں میں؟ اگر عورتوں کا اپنے گھروں میں نماز پڑھنا افضل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں مسجد کی نماز میں کیوں شریک ہوتی تھیں؟
  2. جن احادیث میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورتوں کے لیے افضل یہی ہے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، ان سے یہ استدلال کرنا کہ شریعت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی ٹک کر رہیں اور باہر نکلنے سے پرہیز کریں کس حد تک درست ہے؟
  3. رسول اللہ کے زمانے میں بھی اور آج بھی جو عورت با جماعت نماز کے لیے مسجد جاتی ہے کیا اس کے مقابلہ میں گھر میں رہ کر نماز پڑھنے والی خاتون زیادہ افضل کام کرتی ہے اور زیادہ اجر کی مستحق ہوتی ہے؟

جواب:

تمام احادیث کو سامنے رکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصولاً خواتین کے لیے، احتیاطی آداب کی پابندی کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز میں شرکت کی گنجائش واضح فرمائی اور صحابہ کو انھیں اس سے روکنے سے منع فرمایا، اور دوسری طرف شخصی سطح پر خواتین کو ترغیب دی کہ وہ اگر گھر میں ہی نماز ادا کریں تو یہ زیادہ باعث اجر ہے۔ اس کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کی شریعت سے امتیاز قائم ہو جائے جس میں خواتین کا عبادت گاہ کے مرکزی حصے میں جانا ممنوع ٹھہرایا گیا تھا۔ یعنی قانون یہ نہ سمجھا جائے کہ خواتین مسجد میں نہیں آ سکتیں، البتہ انفرادی طور پر گھر میں نماز ادا کرنے کی فضیلت واضح کی گئی تاکہ ایک تو سبھی خواتین باجماعت نماز کا التزام نہ شروع کر دیں اور دوسرا جو گھر میں پڑھنا چاہیں، انھیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ زیادہ اجر سے محروم ہو رہی ہیں۔

مذکورہ وضاحت سے یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ شریعت کی نظر میں خواتین کی صنفی نزاکتوں اور گھریلو ذمہ داریوں کے پیش نظر گھر میں عبادت افضل ہونے کے باوجود اگر ان کے لیے مسجد میں آنے جانے کی اجازت کو اصولاً قائم رکھا گیا ہے اور کئی ظاہری موانع کے باوجود اس کو ختم نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کو گھر تک محدود رکھنا بنیادی مقصد نہیں ہے۔ تمدن کے لحاظ سے جو بھی عمومی سماجی ضرورتیں اور تقاضے ہوں، ان کے لیے بیرون خانہ سرگرمیاں بھی وہی حیثیت بلکہ ان سے زیادہ عملی ناگزیریت رکھتی ہیں جو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی ہے۔

جہاں تک گھر میں یا مسجد میں نماز کے افضل ہونے کا تعلق ہے تو کسی عمل کی افضلیت کوئی مطلق چیز نہیں ہوتی، بلکہ مختلف حالات میں مختلف امور کے لحاظ سے اضافی ہوتی ہے۔ مثلاً‌ جہاد ایک بہت افضل عمل ہے، لیکن اگر والدین خدمت کے طلبگار ہوں تو ان کی خدمت زیادہ افضل ہے۔ خواتین کی نماز کو گھر میں افضل قرار دینے میں بھی کئی امور کا لحاظ ہے، مثلاً‌ راستے میں یا مسجد میں مردوں کے لیے مرکز نگاہ بننے کا امکان اور گھر کی ذمہ داریوں میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ وغیرہ۔ ان پہلووں سے عورت کا گھر میں نماز ادا کرنا افضل ہے۔ لیکن اگر عبادت گاہ کے تقدس، باجماعت نماز کے اجر اور مسجد میں درس اور وعظ وغیرہ سننے کے پہلووں کو مدنظر رکھا جائے تو مسجد میں عبادت کرنا زیادہ موجب فضیلت ہے۔

ان دونوں پہلووں میں ترجیح خواتین کی صورت حال کے لحاظ سے قائم ہو سکتی ہے۔ اگر خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں، مسجد آنے جانے میں کوئی عملی مشکل حائل نہ ہو اور مسجدوں میں بھی ان کے لیے کوئی الگ جگہ مخصوص کر دی گئی ہو تو ان کے لیے مسجد میں باجماعت نماز کا اجر حاصل کرنا زیادہ افضل ہوگا۔ اگر مذکورہ موانع میں سے کوئی مانع پایا جاتا ہو تو پھر خود کو یا اہل خانہ کو کسی مشکل میں ڈالنے کے بجائے گھر میں ہی نماز ادا کرنا زیادہ باعث فضیلت ہوگا۔ حدیث میں دراصل انھی پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ عام حالات میں گھروں میں ہی نماز ادا کر لیا کریں تو اس کا انھیں زیادہ اجر ملے گا۔


خطبہ، تقریر اور نمازِ جمعہ میں لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال

مفتی سید انور شاہ

بعض خطیب حضرات جمعہ کے دن تقریر، خطبہ اور نماز کے دوران مسجد کا بیرونی لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہیں، جس کی آواز دور دراز تک پہنچتی ہے، جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف نماز و خطبہ کی بے احترامی لازم آتی ہے، وہاں دوسری طرف معذور، مریضوں اور ہمارے بوڑھے حضرات کو بھی اذیت پہنچتی ہے۔ یہی صورتِ حال سیاسی اور مذہبی جلسوں میں بھی عام طور پر نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی شخص اپنے گھر میں آرام سے نہ سو سکتا ہے، نہ یکسوئی کے ساتھ اپنا کوئی اور کام کر سکتا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی آواز دور [متعلقہ لوگوں] تک پہنچانا برحق ہے، لیکن مسجدوں میں جو وعظ و نصیحت، تقریر و بیان یا خطبہ اور ذکر و تلاوت لاؤڈ اسپیکر پر ہوتی ہے، ان کی آواز دور دور تک اور گھر گھر تک پہنچانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مسجد میں بہت تھوڑے لوگ تقریر و بیان سننے کے لیے بیٹھے ہیں، جن کو آواز پہنچانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے، یا صرف اندرونی مائیک سے بآسانی کام چل سکتا ہے، لیکن بیرونی لاؤڈ اسپیکر پوری قوت سے کھلا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ آواز محلے کے گھر گھر میں اس طرح پہنچتی ہے کہ کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خاص کر جب ایک ہی وقت میں مختلف مسجدوں کے بیرونی لاؤڈ اسپیکر استعمال ہوتے ہیں تو ایک کی آواز دوسرے کی آواز سے ٹکرانے کی وجہ سے جو شور و شغب پیدا ہوتا ہے، آس پاس رہنے والے لوگ اذیت اور بے چینی کے عالم میں رہتے ہیں۔ کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کی آواز کو صرف ضرورت کی حد تک محدود رکھا جائے اور آس پاس کے ان ضعیفوں اور بیماروں پر رحم کیا جائے جو یہ آواز سننا نہیں چاہتے۔

پھر خطبہ و نماز کے دوران اسپیکر استعمال کرنے کا شریعت نے کوئی حکم بھی نہیں دیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک سہولت اور انتظامی ضرورت کی چیز ہے، لہٰذا اس کا استعمال صرف بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت کیا جائے، اس سے آگے نہیں۔ جن حضرات کو اس سلسلے میں کوئی غلط فہمی ہو، ان کی خدمت میں کچھ اہم نکات عرض کیے دیتا ہوں۔

(1) مشہور محدث حضرت عمر بن شیبہؒ نے مدینہ منورہ کی تاریخ پر چار جلدوں میں بڑی مفصل اور محقق کتاب لکھی ہے، جس کا حوالہ بڑے بڑے علما و محدثین ہمیشہ دیتے رہتے ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک واعظ صاحب حضرت عائشہؓ کے مکان کے بالکل سامنے بہت بلند آواز سے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ زمانہ لاؤڈ اسپیکر کا نہیں تھا، لیکن ان کی آواز بہت بلند تھی اور اس سے حضرت عائشہؓ کی یکسوئی میں فرق آتا تھا۔ یہ حضرت عمر فاروق اعظمؓ کی خلافت کا زمانہ تھا، اس لیے حضرت عائشہؓ نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ ایک صاحب بلند آواز سے میرے گھر کے سامنے وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں، جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، کسی اور کی آواز مجھے سنائی نہیں دیتی۔ حضرت عمرؓ نے ان صاحب کو پیغام دے کر انہیں وہاں وعظ و نصیحت کرنے سے منع کر دیا، لیکن کچھ عرصے کے بعد اس نے دوبارہ وعظ کا وہی سلسلہ شروع کیا۔ حضرت عمرؓ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے خود جا کر ان صاحب کو پکڑا اور ان پر تعزیری سزا جاری کی۔ (أخبار المدينۃ لعمر بن شیبہ /1/15/)

بات صرف اتنی نہیں تھی کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنی تکلیف کا ازالہ کرنا چاہتی تھیں، بلکہ دراصل وہ اسلامی معاشرت کے اصول کو واضح اور نافذ کرنا چاہتی تھیں کہ کسی کو کسی سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ نیز یہ بتانا چاہتی تھیں کہ وعظ و نصیحت، بیان و تقریر اور دین کی دعوت و تبلیغ کا پُر وقار طریقہ کیا ہے۔

(2) حضرت عطاء بن ابی رباحؒ بڑے اونچے درجے کے تابعین میں سے ہیں۔ علمِ تفسیر و حدیث میں ان کا مقام مسلّم ہے۔ ان کا مقولہ ہے کہ: عالم کو چاہیے کہ اس کی آواز اس کی اپنی مجلس سے آگے نہ بڑھے۔ (أدب الاملاء والاستملاء للسمعانی /5)

(3) فقہائے کرامؒ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر کی چھت پر بلند آواز سے تلاوت کرے، جبکہ لوگ سو رہے ہوں تو تلاوت کرنے والا گناہ گار ہو گا۔

وعلى هذا لو قرأ على السطح ‌والناس نيام يأثم۔ (رد المحتار: كتاب الصلاة / 2/ 329 / ط: رشيدية)

اس کے علاوہ فقہائے کرامؒ نے بغیر لاؤڈ اسپیکر کے بھی امام کو اپنی آواز میں اعتدال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

‌الإمام ‌إذا ‌جهر فوق حاجة الناس فقد أساء۔ (البحر الرائق : كتاب الصلاة/ آداب الصلاۃ /1/637/ ط : دار إحياء التراث العربي)

بیرونی بڑے اسپیکر کی آواز سے قریب کے آس پاس بسنے والے حضرات میں سے خاص کر خواتین، بوڑھوں، مریض اور معذوروں کو نماز پڑھنا، ذکر و تلاوت اور دیگر عبادات ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا مشاہدہ ہم کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے اکثر و بیشتر مقامات پر آس پاس رہنے والے لوگوں کو یہ شکایت رہتی ہے، مگر وہ بیچارے شرما شرمی میں زبان سے مسجد کے متعلقہ افراد سے اظہار نہیں کر سکتے۔

ظاہر ہے کسی نماز یا دیگر عبادات میں خلل ڈالنا گناہ ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ یہ اور اس جیسی دیگر خرابیوں اور فسادات کی وجہ سے نماز اور خطبہ کے دوران بیرونی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ وعظ و نصیحت اور خطبہ و نماز وغیرہ کی آواز کو ضرورت کی حد تک محدود رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔


کُل جماعتی دفاعِ شعائر اللہ سیمینار: اعلامیہ، سفارشات، قراردادیں

قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان

اعلامیہ

الحمد اللہ رب العالمین، والعاقبۃ للمتقین، والصلاۃ والسلام علیٰ خاتم الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد:

آج بتاریخ 3 اگست 2025، بروز اتوار، بمقام: مرکز قرآن و سنہ (53 لارنس روڈ) لاہور، پاکستان ’’رسول کریم ﷺ، صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام اور شعائر اسلامیہ کی توہین، تنقیص اور تعریض کی شرعی و قانونی حیثیت‘‘ کے عنوان پر تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اور تمام جماعتوں کے قائدین کا یہ متفقہ اعلامیہ پیشِ خدمت ہے:

اسلام کتاب و سنت کا نام ہے۔ کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونا، اس کی نشر و اشاعت اور غالب کرنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان کا بنیادی دینی فریضہ ہے۔ فروغِ اسلام اور حفاظتِ دین کے لیے کتاب و سنت کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر ملتِ اسلامیہ کا منہاج ہے۔ حفاظتِ دین کے پیشِ نظر تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، دفاعِ صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور تعظیمِ شعائرِ اسلام کی جدوجہد واجباتِ شرعیہ میں سے ہے۔

1- ناموسِ رسالت ﷺ اور منصبِ نبوت کا تحفظ

(۱) خاتم الرسل والانبیاء ﷺ کو ہر قسم کے نظریات و شخصیات پر مقدم رکھنے اور غیر مشروط محبوب و مطاع ماننے اور ثابت کرنے کی جدوجہد؛ ناموسِ رسالت و منصبِ رسالت پر ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔

(۲) حدیثِ نبوی کی حجیت کا واضح انکار کرنا، کلی انحراف یا استہزا، توہینِ نبوت کے مترادف اور منصبِ نبوت پر ڈاکہ زنی ہے۔ ایسا کرنے والا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت کے مسلّمات اور اجماعِ امت کے خلاف محاذ آرائی سراسر گمراہی ہے۔ اس کے بالمقابل کنایۃ جزوی طور پر انکار کرنے والا گمراہ ہے۔

(۳) شانِ رسالت میں صراحۃً‌ و اِرادۃً‌ توہین، تنقیص اور تعریض1 کرنا کفر، ارتداد، عہد شکنی اور دین دشمنی ہے جس کا مرتکب شرعی اعتبار سے سزائے موت2 کا حق دار ہے، البتہ اس سزا کا اختیار عدالت اور حکومت کو حاصل3 ہے۔

2- توہینِ رسالت کے مجرموں کی فوری سزا

(۱) حالیہ بلاسفیمی سازش کا سدباب کرنا، پاکستان مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے۔

(۲) توہینِ ناموسِ رسالت ﷺ کو روکنے اور عالمی سطح پر اسے جرم تسلیم کروانے کے لئے حکومت کو اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے۔

(۳) جن مجرموں کو سزا سنائی جا چکی ہے، اس پر فوری عمل کیا جائے۔

(۴) توہینِ مقدسات سے متعلقہ زیر سماعت مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے۔

(۵) قانون توہینِ رسالت کو غیر مؤثر بنانے اور ترمیم کرنیوالے پروٹیکشن گروپ کی اندرونی و بیرونی فنڈنگ کو بند کیا جائے اور سوشل میڈیا وغیرہ پر ایسے توہین آمیز مواد اور اس کو پھیلانے والے عناصر پر فوری پابندی لگائی اور قرار واقعی سزا دی جائے۔

(۶) اس مسئلے کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر بین المسالک تحفظِ شعائر اللہ فورم قائم کر کے متحرک کیا جائے۔

3- مقامِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ

(۱) انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد جملہ صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم واجب الاحترام اور افضل ترین4 نفوسِ قدسیہ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے سید المرسلین ﷺ کی رفاقت5، تبلیغ اور اقامتِ دین کے لیے چنا۔

(۲) وہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا بہترین ثمر، اللہ کی جماعت6 اور معیارِ ایمان7 ہیں۔

(۳) ان کو مغفرتِ ذنوب8 اور جنت کی حتمی بشارتیں، الفائزون، المفلحون، رضی اللہ عنہم، وکلا وعد اللہ الحسنیٰ9 کی سندیں حاصل ہیں۔

(۴) اگرچہ ان کے ایمانی اور اُخروی درجات میں تفاوت ہے، جیسا کہ خلفائے راشدین10، عشرہ مبشرہ11، اہلِ بیت12، اصحابِ بدر اور اصحابِ شجرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ۔ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ سے راضی اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔

(۵) وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اور علم و عمل کے ہر شعبہ میں سب سے بڑے اور اولین امام13 ہیں۔

(۶) صحابہ کرام و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم نبوت کے عینی گواہ اور سفیر ہیں، نزولِ قرآن کے اولین مخاطب، حاضرینِ مجلس اور براہ راست دین سمجھنے والے اور عدالت و امانت کے ساتھ اسے آگے نقل کرنے والے ہیں۔

(۷) ملتِ اسلامیہ کو انہی کی بیان کردہ روایاتِ دین کے ذریعے اسلام اور اس کے جملہ احکام و اعمال کی نعمت ملی۔ لہٰذا ان کے بعد ہونے والی تمام نیکیوں کا اجر ان کو ملتا14 ہے۔

(۸) صحابہ کرام و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی اتباع کرنے والے محدثین، مفسرین، فقہاء، زہاد؛ اہل السنہ والجماعہ اور ملتِ اسلامیہ کے مقتدیٰ اور رہنما ہیں۔

(۹) صحابہ کرام و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا روایتِ دین اور فکر و عمل میں منہج اختیار کرنا اسلام کی اساس ہے۔

(۱۰) جنتی گروہ صرف وہی ہے جو صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کے راستے15 پر رہے۔

4- صحابہؓ و اہلِ بیتؓ کے متعلق اہل السنہ والجماعہ کا اجماعی عقیدہ

(۱) تمام صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم عادل16 اور امین ہیں۔

(۲) ان سے محبت کرنا دین17، ایمان، احسان18 اور شرعی فریضہ ہے۔

(۳) وہ رسول کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب19 ہیں، ان سے بغض رکھنا اللہ کے غیظ و غضب اور قہر و عذاب کا موجب ہے۔

(۴) سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا حسن، سیدنا حسین، سیدنا ابو سفیان، سیدنا معاویہ، سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابو موسیٰ اشعری، سیدہ عائشہ و دیگر اُمہات المومنین اور جمیع صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی شان میں کسی بھی پلیٹ فارم پر صراحۃً‌ یا اشارۃً‌ توہین، تنقیص اور تعریض کرنا کفر، نفاق، طغیان اور اسلام میں طعنہ زنی و دین دشمنی ہے۔

(۵) ان پر تبرا کرنا، تہمت لگانا20، تکفیر کرنا، اعتراضات اٹھانا اور ان کی عدالت و ثقاہت کی بابت شبہات21 پیدا کرنا؛ ایمان کے منافی، امتِ مسلمہ کے اجماعی عقیدہ سے انحراف، موجبِ فسق و نفاق اور بدعت و ضلال ہے۔

(۶) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات کو بنیاد بنا کر ان میں سے کسی کی توہین و تنقیص اور تعریض کرنا سراسر باطل عمل اور واضح گمراہی22 ہے اور اپنے اختلافات میں ہر دو طرف کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم علم، اخلاص اور خیر خواہی کی بنیاد پر مجتہد ہونے کے ناطے سے اکہرے یا دوہرے اجر سے کبھی محروم23 نہیں رہے۔

5- صحابہ کرامؓ و اہلِ بیتؓ کی توہین و تنقیص کرنے والا سنگین سزا کا مستحق ہے!

(۱) صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کی صراحۃً‌ و کنایۃً‌ توہین و تنقیص؛ شرعی24 قانونی سزا کی موجب ہے۔

(۲) تاریخِ اسلامیہ میں ایسے بدبختوں کو ہمیشہ سنگین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

(۳) اکثر بلادِ اسلامیہ میں نافذ العمل قوانین کی طرح پاکستان میں قانونی عمل کو مکمل کیا جائے۔

(۴) پاکستانی اسمبلیوں میں ناموسِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ بل 1993، تحفظِ بنیادِ اسلام بل 2020 پیش ہوئے ہیں۔ تحفظِ ناموسِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ ایکٹ 2023 وغیرہ منظوری کے بعد ایوانِ صدر میں دستخط نہ ہونے کی بنا پر دو سالوں سے التوا کا شکار ہے، جس کو مکمل کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں پر شرعی اور قانونی سزا فوری نافذ کی جائے۔

6- صحابہؓ و اہلِ بیتؓ کی توہین، تنقیص اور تعریض کرنے والا

(۱) صحابہؓ و اہلِ بیتؓ کی توہین، تنقیص اور تعریض کرنے والا؛ اہل السنہ کے منہج، مسلّمات، اجماعی عقائد سے منحرف ہے اور گمراہ ہے، اس کا اہلِ سنت سے کوئی تعلق نہیں! خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا کوئی خطیب و واعظ اور ذمہ دار ہو، یا کسی ادارے، تنظیم اور جماعت کا فرد ہو۔

(۲) ایسے ہر شخص کی تمام سُنی مکاتبِ فکر ہر مجلس میں خوب سرزنش اور مکمل بائیکاٹ کریں۔

(۳) نصیحت کے لوازمات مکمل کر کے توبہ پر آمادہ کیا جائے، بصورت دیگر شرعی و قانونی سزا کے اقدامات کریں۔

7- اہل السنہ و الجماعہ کا منہاج افراط و تفریط سے پاک ہے!

(۱) ہم رافضیوں (شیخینؓ یا کسی بھی صحابیؓ سے بغض و عداوت رکھنے والوں) اور ناصبیوں (اہلِ بیت سے بغض اور دشمنی رکھنے والوں) اور ان کے ہم نواؤں کے فکر و عمل سے کھلا اظہارِ براءت25 کرتے ہیں اور ان کی مجلسوں میں شرکت کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔

(۲) نواسۂ رسول اور نوجوانانِ جنت کے سردار سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر ظلم و بربریت ڈھانے والوں کے بارے میں ہمارا وہی موقف ہے جو اہلِ سنت کے سرخیل شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے:

’’واما من قتل الحسین او اعان علیٰ قتلہ او رضی بذٰلک فعلیہ لعنۃ اللہ و الملائکۃ والناس اجمعین، لا یقبل اللہ منہ صرفاً‌ ولا عدلًا۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 487/4)

’’جس نے بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، یا ان کی شہادت میں کسی طرح کی کوئی مدد کی، یا ان کی شہادت پر وہ کسی درجے میں خوش ہوا؛ تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہ فرمائے۔‘‘

8- تحفظِ شعائرِ اسلام

(۱) شعائر اللہ اسلام کے ستون اور نظریاتی سرحدیں ہیں۔ قرآن، حرمین شریفین، مساجد، ارکانِ اسلام، قربانی، داڑھی اور حجاب و پردہ وغیرہ؛ دینِ اسلام کی پہچان اور امتیازی علامتیں ہیں، جن کی تعظیم تقویٰ کا تقاضا26 اور ان کی بے حرمتی صریحاً‌ گمراہی اور بہت بڑی نافرمانی ہے۔

(۲) شعائرِ اسلام میں سے کسی ایک کی بھی صراحۃً‌ و ارادۃً‌ تحقیر و تضحیک اور استہزا و تمسخر27؛ اسلام کی اساسیات پر حملہ اور انہیں مسمار کرنا ہے، جو کہ موجبِ ارتداد و کفر یا باعثِ فسق و نفاق ہے۔

(۳) بالخصوص قرآن کریم کی اہانت کرنا صریح کفر ہے28، جیسے اسے گندگی میں پھینکنا، روندنا، مذاق اڑانا، شرمناک جگہوں پر لکھنا وغیرہ۔

(۴) اسی طرح مساجد میں فلمیں بنانا، انہیں تفریحی مقام سمجھنا29 اور ان میں مردوزن کا فحش حرکات کرنا30 مسجد کے تقدس کے منافی ہے۔

(۵) موجودہ عالمی ماحول میں آزادئ اظہار کے نام پر اسلام اور اس کے شعائر کو تضحیک، تحقیر اور تمسخر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو دراصل امتِ مسلمہ کی دینی شناخت پر حملہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں نے ہر دور میں شعائرِ دین کے تحفظ کو جان و مال سے مقدم رکھا؛ یہ صرف جذباتی غیرت نہیں بلکہ ایمانی ذمہ داری اور اسلامی شعور کا مظہر ہے31۔ لہٰذا اس کا دفاع واجب ہے، کیونکہ ان کی بے حرمتی سے تعلیماتِ شرعیہ کے تشخص کا خاتمہ ہوتا ہے، تہذیبِ اسلامی کا وقار ختم ہوتا ہے اور دین کے اصولوں اور اساسیات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔


تجاویز و سفارشات

(۱) تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، دفاعِ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور تعظیمِ شعائرِ اسلام کی جدوجہد واجباتِ شرعیہ میں سے ہے اور ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔

(۲) رسول کریم ﷺ کی توہین، تنقیص اور تعریض کرنا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہونے کا سبب ہے، مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور وطنِ عزیز کے امن کو خراب کرنے کا باعث ہے۔

(۳) صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم اور شعائرِ اسلام کی توہین، تنقیص اور تعریض کرنا صریحاً‌ گمراہی ہے اور بین المسالک فساد پیدا کرنے کی ناپاک کوشش ہے۔

(۴) حدیثِ نبوی کی حجیت کا واضح انکار کرنا، کلی انحراف یا استہزاء؛ توہینِ نبوت کے مترادف اور منصبِ نبوت پر ڈاکہ زنی ہے۔ ایسا کرنے والا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہے، اس طرح کتاب و سنت کے مسلّمات اور اجماعِ امت کے خلاف محاذ آرائی سراسر گمراہی ہے۔

(۵) حالیہ بلاسفیمی کیسز میں سازش کا سدباب کرنا پاکستان مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے۔

(۶) توہینِ ناموسِ رسالت کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر اسے جرم تسلیم کروانے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

(۷) بلاسفیمی کیسز میں جن مجرموں کو سزا سنائی جا چکی ہے، اس پر فوری عمل کیا جائے۔

(۸) توہین سے متعلقہ زیر سماعت مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے۔

(۹) قانونِ توہینِ رسالت کو غیر مؤثر بنانے اور ترمیم کرنے والے پروٹیکشن گروپ کی اندرونی و بیرونی فنڈنگ کو بند کیا جائے اور سوشل میڈیا وغیرہ پر ایسے توہین آمیز مواد اور اس کو پھیلانے والے عناصر پر فوری پابندی لگائی جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔

(۱۰) اس مسئلے کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر بین المسالک ’’تحفظِ شعائر اللہ فورم‘‘ قائم کر کے متحرک کیا جائے۔

(۱۱) حکومت سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس مسئلے کی حساسیت کے پیشِ نظر اسی قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور شعائر اللہ کی تعظیم و تقدیس کو یقینی بنایا جائے۔

(۱۲) بین المسالک تحفظِ شعائرِ اسلام فورم بنایا جائے جو شرعی قانون سازی کروانے اور پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کی مؤثر تحریک چلائے۔

(۱۳) اس حوالے سے عوامی سطح پر موجود شکوک و شبہات کے تدارک کے لئے علماء و داعیانِ دین کی تحقیقی مجالس کا انعقاد کرے۔

(۱۴) علمائے کرام رفعِ شبہات کی بابت علمی و تحقیقی کتب، مضامین اور تعلیمی اداروں کے لیے نصابی لٹریچر تیار کریں۔

(۱۵) جبکہ داعیانِ دین دفعِ شبہات کے لیے تمام اسباب و ذرائع؛ خصوصاً‌ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ریلیز، شارٹ کلپس اور پوڈکاسٹس کے ذریعے مضبوط جدوجہد کریں۔


متفرق قراردادیں


قرآن و سنت، آثار صحابہ کرامؓ اور اقوالِ ائمہ اسلاف مع حوالہ جات

  1. شیخ الاسلام ابن تیمیۃ: ما ہو السب؟: ’’الکلام الذی یقصد بہ الانتقاص والاستخفاف وہو ما یفہم منہ السب فی عقول الناس علیٰ اختلاف اعتقاداتہم کاللعن والتقبیح ونحوہ… (الصارم المسلول لابن تیمیہ: ص 561) والکلمۃ الواحدۃ تکون فی حال سبا وفی حال لیست بسب فعلم ان ہذا یختلف باختلاف الاقوال والاحوال واذا لم یکن للسب حد معروف فی اللغۃ ولا فی الشرع، فالمرجع فیہ الی عرف الناس فما کان فی العرف سبا للنبی فہو الذی یجب ان ننزل علیہ کلام الصحابۃ والعلماء وما لا فلا۔ (ص 541)
    +
    قاضی عیاض (م544ھ) نے بھی الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی ﷺ میں ’توہین‘ کی ایک تعریف درج کی ہے۔ (932/2) تاہم مذکورہ تعریف زیادہ بہتر ہے۔
  2. ابن المنذر: ’’اجمع عوام اہل العلم علی ان من سب النبی ﷺ القتل۔‘‘ (الاشراف لابن المنذر: 60/8)
    + ابوبکر الفارسی: ’’اجمعت الامۃ علیٰ ان من سب النبی ﷺ یقتل حدا‘‘ (السیف المسلول للسبکی: 156)
  3. الامام الشافعی: ’’لا یقیم الحد علی الاحرار الا الامام ومن فوض الیہ الامام۔‘‘
    + الامام النووی: لا یقیم الحد علی الاحرار الا الامام ومن فوض الیہ الامام، لانہ لم یقم حد علیٰ حر علیٰ عہد رسول اللہ ﷺ الا باذنہ ولا فی ایام الخلفاء الا باذنہم، ولانہ حق للہ تعالیٰ یفتقر الی الاجتہاد ولا یؤمن فی استیفائہ الحیف فلم یجز بغیر اذن الامام۔ (’المجموع‘ للنووی: 34/20، اور 448/18)
    + ابوبکر الکاسانی الحنفی: ’’واما شرائط جواز اقامتہا یعنی الحدود … فہو الامامۃ ان یکون المقیم للحد ہو الامام او من ولاہ الامام۔ (بدائع الصنائع: 57/7)
    + ابن تیمیۃ: ’’خاطب اللہ المؤمنین بالحدود والحقوق خطابا مطلقا … ہو فرض علی الکفایۃ من القادرین و ’’القدرۃ‘‘ ہی السلطان؛ فلہٰذا: وجب اقامۃ الحدود علیٰ ذی السلطان ونوابہ۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 176/34)
    +
    نابینا صحابی کا اپنی باندی کو خود توہین کرنے پر سزائے قتل دینے کی شیخ ابن تیمیہ نے چھ توجیہات پیش کی ہیں۔ ( الصارم المسلول: ص 285)
  4. قال النبی ﷺ: «انتم خیر اہل الارض» وکنا الفا واربع مائۃ …» (صحیح البخاری: رقم 4186)
    + قال النبی لاہل بدر: «من افضل المسلمین…» (صحیح البخاری: رقم 2992)
    + ای الناس خیر؟ فقال النبی ﷺ: «القرن الذی انا فیہ، ثم الثانی، ثم الثالث» (صحیح مسلم: 6478)
  5. عبد اللہ بن مسعود: ’’فوجد قلوب اصحابہ خیر قلوب العباد، فجعلہم وزراء نبیہ، یقاتلون علی دینہ‘‘ (مسند احمد: 379/1، رقم 3600)
    + شیخ الاسلام ابن تیمیۃ: ’’وخیار ہذہ الامۃ ہم الصحابۃ، فلم یکن فی الامۃ اعظم اجتماعا علی الہدی ودین الحق، ولا ابعد عن التفرق والاختلاف منہم، وکل ما یذکر عنہم مما فیہ نقص، فہٰذا اذا قیس الی ما یوجد فی غیرہم من الامۃ کان قلیلا من کثیر، واذا قیس ما یوجد فی الامۃ الی ما یوجد فی سائر الامم کان قلیلا من کثیر، وانما یغلط من یغلط انہ لینظر الی السواد القلیل فی الثوب الابیض وینظر الی الثوب الاسود الذی فیہ بیاض۔‘‘ (منہاج السنۃ: 242/3)
  6. ﴿رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ، اولئک حزب اللہ، الا ان حزب اللہ ہم المفلحون﴾ (المجادلۃ: 22)
  7. ﴿فان آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اہتدوا﴾ (البقرۃ: 137)
  8. «لعل اللہ ان یکون قد اطلع علی اہل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم» (صحیح البخاری: 3028)
  9. ﴿لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل، اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا وکلا وعد اللہ الحسنیٰ﴾ (الحدید: 10)
    + ﴿الذین آمنوا وہاجروا وجاہدوا فی سبیل اللہ باموالہم وانفسہم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ہم الفائزون﴾ (التوبۃ: 20)
  10. عن محمد بن الحنفیۃ قال قلت لابی: ای الناس خیر بعد رسول اللہ ﷺ قال: ابوبکر قلت ثم من قال ثم عمر … (صحیح البخاری: 3698)
    + سمع النبی ﷺ یقول یوم خیبر: لاعطین الرایۃ رجلا یفتح اللہ علی یدیہ، فقاموا یرجون لذلک ایہم یعطی، فغدوا وکلہم یرجو ان یعطی، فقال: این علی؟…» (البخاری: 2942)
  11. قال رسول اللہ ﷺ: «ابوبکر فی الجنۃ وعمر فی الجنۃ وعثمان فی الجنۃ وعلی فی الجنۃ وطلحۃ فی الجنۃ والزبیر فی الجنۃ وعبد الرحمٰن بن عوف فی الجنۃ وسعد فی الجنۃ وسعید فی الجنۃ وابو عبیدۃ بن الجراح فی الجنۃ۔ (سنن الترمذی: 3747)
  12. عن ابی بکر رضی اللہ عنہم قال ارقبوا محمدا ﷺ فی اہل بیتہ (صحیح البخاری: 3741)
  13. الامام ابن ابی العز الحنفی: فانہم لم ینقلوا نظم القرآن وحدہ، بل نقلوا نظمہ ومعناہ، ولا کانوا یتعلمون القرآن کما یتعلم الصبیان، بل یتعلمونہ بمعانیہ۔ ومن لا یسلک سبیلہم فانما یتکلم برایہ… (شرح العقیدۃ الطحاویۃ: ص (120)
    + عبد اللہ بن عمر: اولئک اصحاب محمد ﷺ کانوا خیر ہذہ الامۃ ابرہا قلوبا واعمقہا علما واقلہا تکلفا، قوم اختارہم اللہ لصحبۃ نبیہ ولاقامۃ دینہ… (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم احمد الاصبہانی: 305/1، وجامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر: ص 948/2)
  14. «من دعا الیٰ ہدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلک من اجورہم شیئا» (مسند احمد بن حنبل: 397/2)
  15. «تفترق امتی علیٰ ثلاث وسبعین ملۃ کلہم فی النار الا ملۃ واحدۃ قالوا ومن ہی یا رسول اللہ قال ما انا علیہ واصحابی»۔ (جامع ترمذی: 2641)
  16. ’’الصحابۃ کلہم عدول من لابس الفتن وغیرہم باجماع من یعتد بہ۔‘‘ (تقریب النواوی مع تدریب: 214/2 و ’مقام صحابہ‘ از مفتی محمد شفیع عثمانی: ص 77)
  17. قال رسول اللہ ﷺ: «الانصار لا یحبہم الا مؤمن، ولا یبغضہم الا منافق فمن احبہم احبہ اللہ، ومن ابغضہم ابغضہ اللہ» (صحیح البخاری: 3783)
    + قال انس: فانا احب اللہ ورسولہ وابا بکر وعمر، فارجو ان اکون معہم (صحیح مسلم: 3639)
  18. الامام ابو جعفر الطحاوی (م321ھ): ’’ونحب اصحاب رسول اللہ ﷺ، ولا نفرط فی حب احد منہم، ولا نتبرا من احد منہم ونبغض من یبغضہم، وبغیر الخیر یذکرہم ولا نذکرہم الا بخیر وحبہم دین وایمان واحسان، وبغضہم کفر ونفاق وطغیان۔‘‘ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ: 57)
  19. قال النبی ﷺ: «اللہم انتم من احب الناس الی قالہا ثلاث مرار» (صحیح البخاری: 3785)
  20. قال رسول اللہ ﷺ: «لا تسبوا احدا من اصحابی، فان احدکم لو انفق مثل احد ذہبا، ما ادرک مد احدہم، ولا نصیفہ»۔ (صحیح مسلم: رقم 6488 واللفظ لمسلم، وصحیح البخاری رقم 3700)
    + عن عبد اللہ بن عباس، قال النبی ﷺ: «من سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین» (المعجم للطبرانی: 12541، صحیح الجامع: 5111
    + عن عبد اللہ بن مسعود قال النبی ﷺ: «اذا ذکر اصحابی فامسکوا» (المعجم الکبیر للطبرانی: 10296 وتخریج الاحیاء للعراقی 50/1، حسن)
  21. الحافظ ابن حجر: ’’وقد اتفق اہل السنۃ علی ان الجمیع عدول، ولم یخالف فی ذلک الا شذوذ من المبتدعۃ۔‘‘ (الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ: 131/1)
  22. ابن تیمیۃ: ’’فمن تکلم فیما شجر بینہم - وقد نہی اللہ عنہ: من ذمہم او التعصب لبعضہم بالباطل - فہو ظالم معتد۔‘‘ (مجموع الفتاوی: 432/4)
  23. الامام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیۃ: ’’اما مجتہدون مصیبون واما مجتہدون مخطئون… ان اصابوا فلہم اجران وان اخطئوا فلہم اجر واحد والخطا مغفور لہم۔‘‘ (مجموع الفتاوی: 155/3)
    + الامام یحییٰ بن شرف النووی: ’’واما الحروب التی جرت، فکانت لکل طائفۃ شبہۃ اعتقدت تصویب انفسہا بسببہا، وکلہم عدول ومتاولون فی حروبہم وغیرہا، ولم یخرج شیء ذلک احدا منہم من العدالۃ؛ لانہم مجتہدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتہاد…‘‘ (شرح مسلم للنووی: 118/8) (بحوالہ مجلۃ شہریۃ ’الداعی‘ تصدر من دارالعلوم دیوبند، الہند، مقالۃ علمیۃ ’’موقف الامۃ المسلمۃ من مشاجرۃ الصحابۃ‘‘ لمدیرہا نور عالم امینی)
  24. امام احمد بن حنبل: ’’کسی کے لیے صحابہ کرامؓ کا ذکرِ سو، یا اُن پر طعن و تشنیع کرنا جائز نہیں۔ حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ ایسا کرنے والے کو سزا دے، کیونکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ سزا دینے کے بعد اس سے توبہ کروائی جائے، اگر توبہ کرے تو بہتر وگرنہ اسے دوبارہ سزا دی جائے اور اسے قید میں رکھا جائے جب تک کہ وہ توبہ کر کے اس فعلِ مذموم سے باز نہ آئے۔‘‘ (الصارم المسلول: و رسالہ قیرانویہ: ص 419)
  25. الامام ابن تیمیۃ: الاصل الخامس: 156 ۔ وفی اصحاب رسول اللہ ﷺ بین الروافض والخوارج… (العقیدۃ الواسطیۃ لابن تیمیۃ: ص 82)
  26. ﴿ومن یعظم شعائر اللہ فانہا من تقوی القلوب﴾ (الحج: (32)
  27. ﴿قل اباللہ وآیاتہ ورسولہ کنتم تستہزئون o لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم…﴾ (التوبہ: 65، 66)
  28. وقد اتفق المسلمون علی ان من استخف بالمصحف مثل ان یلقیہ فی الحش او یرکضہ برجلہ اہانۃ لہ انہ کافر۔ (مجموع الفتاوی 425/8)
  29. ﴿وما کان صلاتہم عند البیت الا مکآء وتصدیۃ﴾ (الانفال: 35)
  30. ﴿ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین آمنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والآخرۃ﴾ (النور: 19)
  31. یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ہزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء﴾ (المائدۃ: 57)

الداعیان

علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر (چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان)

شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی (مفتی جماعت)

ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی (وائس چیئرمین)

ڈاکٹر حافظ انس مدنی (ناظم دعوت و تبلیغ)

ڈاکٹر حافظ شفیق الرحمٰن زاہد (چیئرمین پنجاب)


غزہ پر اسرائیل کا نیا حملہ: فلسطین کا مستقبل کیا ہو گا؟

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

اگست کے دوسرے عشرے میں قطر اور مصر کی کوششوں سے ایک اور ڈرافٹ سیز فائر کا تیار کیا گیا جو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ وہی ڈرافٹ تھے جسے اسیٹووٹکوف نے جولائی میں پیش کیا تھا اور جس میں حماس نے تھوڑی ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ اب کی بار حماس نے بغیر کسی شرط و ترمیم کے اس کو مان لیا مگر اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا کہ اب ہم حماس کو ختم کر دینے کے بالکل قریب ہیں۔ چنانچہ اس نے اس سیز فائر کو مسترد کر کے غزہ پر مکمل قبضہ کا اعلان کر دیا۔

غزہ میں یہ مذاکرات بار بار صرف نتن یاہو کی ضد کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے دو ملین (بیس لاکھ سے زائد) فلسطینی بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ غزہ میں وحشت ناک حد تک بھک مری، دواؤں کی قلت اور خوراک کی کمی ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے بچے اور بوڑھے اور مریض بلک بلک کر جان دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اب باضابطہ غزہ میں بھک مری کا اعلان کر دیا ہے۔ چاروں طرف سے اسرائیل کا محاصرہ ہے۔ چھ ہزار امدادی ٹرک مختلف کراسنگس (رفح بارڈر، معبر کرم ابو سالم، فلاڈلفیا کاریڈور وغیرہ) پر مہینوں سے امدادی سامان لیے اسرائیلی اجازت کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ان پر جو غذائی سامان لدا ہوا ہے وہ اب خراب ہونے لگا ہے۔

یو این او کی امدادی ایجنسی اونروا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کم از کم دو ملین لوگوں کی غذائی ضرورت دو مہینے تک پوری کرنے کا سامان موجود ہے مگر اس کو امریکہ اور اسرائیل امدادی خدمات انجام ہی دینے نہیں دیتے اس بہانہ سے کہ اس کے ذریعہ حماس کے لوگوں تک یہ سامان پہنچ جائے گا۔ اونروا پر حماس کا ساتھ دینے کا یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ یہاں تک کہ 26 جولائی کو خود امریکہ کی متعین کردہ تفتیشی ایجنسی نے اونروا کو کلین چٹ دی اور کہا کہ اسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ حماس نے بین الاقوامی امدادی سامان کی چوری کی ہو یا اونروا کسی غلط مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہو۔ اس کے مقابلہ میں غزہ ہیومینٹیرین ایڈ (GHA) نامی جس ادارے کو امریکہ اور اسرائیل نے سیٹ کیا ہے، وہ غزہ کے لیے لوگوں کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے۔ وہ وہاں امداد لینے جاتے ہیں اور ان پر اسرائیلی فوجی فائر کھول دیتے ہیں۔ اب تک ایک ہزار لوگوں کو اس طرح سے شہید کیا جا چکا ہے۔ مصر کی شقاوت اور جنرل سیسی کی بدبختی کہ اُس نے اسرائیلی کنٹرول سے باہر واحد کراسنگ رفح بارڈر کو بھی بند کر رکھا تھا۔ اور شیخ الازہر نے اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے حق میں جو فتویٰ جاری کیا تھا اُس کو بھی سیسی کے دباو میں واپس لینا پڑا۔

مصریوں کی اس بے حسی و بے غیرتی پر شدید دکھ کا اظہار عرب سوشل میڈیا پر جب شروع ہوا تو سیسی کے خلاف ہیش ٹیگ مہم چلی، نیز مظاہرین نے نعرے لگائے: حکومات عربیۃ یا للعار باعوا غزۃ بالدولار (عرب حکومتیں ہائے ہائے، انہوں نے غزہ کو ڈالر کے لیے بیچ ڈالا) تو شاید مصریوں کو کچھ غیرت آئی اور انہوں نے رفح بارڈر سے 167 امدادی ٹرک غزہ کے اندر بھجوائے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مصداق تھے۔ بعض لوگوں نے سمندر میں کچھ اشیاء خورد و نوش پھینکیں۔

دنیا بھر میں، یورپ و امریکہ میں، افریقہ کے عرب مسلم ملکوں تیونس، الجزائر وغیرہ میں لوگ اب بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر آ رہے ہیں، اگر کہیں سکوت طاری ہے تو وہ ہیں ترکی، پاکستان، سعودی عرب، امارات، اردن، بحرین، انڈونیشیا اور ملیشیا وغیرہ۔ قطر اور مصر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مزاحمت کی قوتوں نے پوری شدت سے اسرائیل کا راستہ روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کو پہلے ہی گرین سگنل دے چکا ہے۔ اسرائیل کے اندر جو شدید ردعمل غزہ پر قبضہ کے اعلان کے خلاف نظر آیا وہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ اس میں بائیں بازو کے اسرائیلی ہیں یا اسرائیلی یرغمالیوں کے کنبے والے۔ اسرائیل کسی پریشر میں نہیں آ رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب ممالک میں حالات نارمل ہیں بقیہ مسلم دنیا میں سب عیش کی کاٹ رہے ہیں عوام کے دل بس غزہ والوں کے لیے دھڑکتے ہیں مگر وہ کچھ کر نہیں رہے ہیں۔ آذربائیجان (جو مسلم ملک ہے) سے براہ ترکی اسرائیل کو گیس کی سپلائی پورے طور پر جاری ہے۔ یورپی ممالک (جرمنی فرانس، یوکے اور کینیڈا وغیرہ آنے والے ستمبر میں آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں) مگر جب کسی ریاست کے مکینوں کا ہی خاتمہ کر دیا جائے گا تو اس کا تسلیم کر لینا چہ معنی دارد؟ اسی کو کہتے ہیں کہ ؏ ’’بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے‘‘۔

اگر یہی ممالک اب سے ایک سال پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیتے تو اسرائیل پر یقیناً اس کا بڑا پریشر پڑتا۔ اب اس قدم سے اسرائیل کو بہت زیادہ فرق اس لیے نہیں پڑے گا کہ شرق اوسط میں اسرائیل اب خود ایک امپیریل پاور بن چکا ہے۔ نتن یاہو کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔ وہ تو اب گریٹر اسرائیل کے اپنے منصوبہ کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ اب وہ اور اس کے دائیں بازو والے وزیر تورات کے حوالہ سے بات کرتے ہیں۔ نتن یاہو خود کو یہود کا ایک تاریخ ہیرو سمجھتا ہے جس کا ’’روحانی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ اسرائیل عظمیٰ قائم کرے‘‘۔ حماس اس کے راستہ کی آخری چٹان ہے۔ جسے خود عرب ممالک اپنی پھسپھسی اور غلامانہ خارجہ پالیسی کے تحت برباد کر چکے ہیں۔ حالانکہ حماس کی اب تک کی تاریخ رہی ہے کہ اُس نے کبھی عرب ممالک کی اندرونی پالیسیوں میں کوئی مداخلت نہیں کی نہ ان کے خلاف کبھی کوئی بیان دیا۔ الٹے سعودی اور اماراتی پیرول پر رہنے والے سلفی مدخلیوں نے زہریلا پروپیگنڈا اس کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔ شروع میں بعض ایسے بھی شقی، بے شرم اور بے حس تھے کہ حماس کے قائدین کی شہادت پر خوشیاں مناتے تھے! اب لہجہ میں تو تبدیلی آئی ہے، اب بھی غزہ میں جو قتل عام عورتوں بچوں بوڑھوں کا ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار یہ بے خبر اور فریب خوردہ لوگ اسرائیل کے بجائے حماس کو بتا رہے ہیں!

اب اسرائیل نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ غزہ پر مکمل قبضہ کے لیے حملہ کر دیا ہے جس کو اس نے Gidion Chariot 2 کا نام دیا ہے۔ جواب میں مزاحمتی فورسز نے حجارۃ داؤد کے ذریعہ ان کا مقابلہ شروع کیا ہے اور انہوں نے گوریلا اور استشہادی سرگرمیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ جن میں صہیونیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، گو جانی نقصان ابھی کم ہے۔ مگر اسرائیلی بڑے بزدل لوگ ہیں اس لیے ایک فوجی بھی مرتا ہے تو اس کا ماتم ساری قوم مناتی ہے۔ اسرائیل اپنے نقصانات چھپاتا بھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دو سال میں اس کے صرف 90 فوجی مارے گئے ہیں۔ لیکن امور فلسطین کے ماہر اور سابق سفیر پروفیسر آفتاب عالم پاشا میڈیا اسٹار ورلڈ کے محمد احمد کاظمی کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جو گنتی کی ہے اس کے حساب سے اسرائیل کے 2500 فوجی اب تک واصل جہنم ہوئے ہیں جبکہ شدید زخمیوں کی تعداد بھی 22 ہزار تک پہنچتی ہے۔ ان میں بہت سے لوگ اپاہج ہیں اور بہت سے نفسیاتی مریض۔ اسرائیلی سماج Introvert (اپنے آپ میں بند اور گم) سماج ہے۔ اس نقصان کا بڑا اثر پڑ رہا ہے۔

نتن یاہو کی سب سے بڑی حمایت امریکہ کے وہ صہیونی عیسائی کرتے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو حصار میں لیا ہوا ہے اور ان کی مرضی کے بغیر وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔ جہاں تک غزہ میں اسرائیل کی نئی فوجی کارروائی کی بات ہے تو پہلے ہی سے 75 فیصد غزہ پر قابض ہے اور اس کو برباد کر چکا ہے۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا؟ جو باقی ماندہ غزہ بچا ہے اس کو بھی تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو کا اصل پلان یہی ہے کہ غزہ کو پوری طرح برباد اور خالی کرا کر قتل عام سے بچے ہوئے لوگوں کو دوسرے ملکوں میں منتقل کر دیا جائے جن میں انڈونیشیا، لیبیا، سوڈان اور صومالی لینڈ وغیرہ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اس کے بعد فلسطینی مسئلہ سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا لیا جائے گا۔

ایسے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ مزاحمتی قوتیں کس طرح مقابلہ کرتی ہیں اور اگر وہ 'عربات جدعون اول' کی طرح اسرائیل کے اس حملے کو بھی ناکام کر دیتی ہیں تو پھر نتن یاہو اپنے منصوبوں میں ناکام ہو جائے گا۔ خدانخواستہ اگر حماس ناکام ہوتی ہے تو پھر لبنان اور شام کی طرح مصر اور اردن کو جان لینا چاہیے کہ اسرائیل کا اگلا ہدف وہی ہوں گے۔ اور اگر اسرائیل ان پر حملہ آور ہوتا ہے تو ان میں اتنا دم خم نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اقوام متحدہ کچھ نہیں کرے گا۔ عرب لیگ مذمت کے بیانات جاری کرے گی، سعودی عرب اور امارات ٹرمپ کی بارگاہ میں فریاد کریں گے اور جواب میں وہ تانا شاہ ان سے مزید دولت بٹورے گا اور ان سے کہے گا کہ اسرائیل نے مغربی کنارے اردن، شام اور لبنان و مصر کے جتنے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے سیکورٹی کے لحاظ سے وہ اسرائیل کے لیے اہم ہیں لہٰذا ان کو ان علاقوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ جیسا کہ وہ Territory for Peace کے بے ہودہ نام سے یوکرین کو مجبور کر رہا ہے کہ اس کے جتنے علاقہ پر روس نے قبضہ کر لیا ہے اب وہ ان پر کمپرومائز کر لے۔

اسی مہینے نیویارک میں ہونے والی سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ ’’فلسطین کانفرنس‘‘ امریکہ کی شدید مخالفت کی وجہ سے اعلامیہ جاری کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دینے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی اور ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئی۔ کیونکہ دکتور محسن ابو صالح کہتے ہیں کہ ’’اس کے مقاصد اچھے تھے مگر نظامِ عمل کا فقدان تھا‘‘۔

اقبال نے کہا تھا: ؏ ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔ اس دنیا میں طاقت ہی فیصلہ کن قوت ہوتی ہے۔ اہل ایمان کو: ’’واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ‘‘ (انفال: 60) کا حکم اسی لیے دیا گیا تھا۔ موجودہ زمانہ کی مزعومہ روشن خیالی، جدتِ فکر، ترقی اور ریسرچ و ٹیکنالوجی کی تمام تر بلندیوں کے باوجود دنیا جیسی کل تھی ویسے ہی آج بھی ہے۔ بس طاقت کے سورسز اور رسورسز بدل گئے ہیں۔ جو قوم طاقت ور ہے اور طاقت کے سورسز پر قابض ہے اُسی کی حکمرانی ہے۔ یہودیوں نے اس حقیقت کو سمجھا اور تعداد میں بہت تھوڑے ہوتے ہوئے بھی وہ آج بائی پراکسی پوری دنیا پر رول کر رہے ہیں۔ ان کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مزاحمتی قوتوں کو بھی اپنے اندر وہی طاقت پیدا کرنی ہو گی۔

بظاہر عرب ملکوں میں کسی بدلاؤ اور انقلاب کی امید بہت کم ہے۔ عرب اسپرنگ کو خلیج کے ثروت مند حکمرانوں نے اپنی مداخلت سے جس طرح سبوتاژ کیا تھا اُس سے عوام میں فرسٹریشن ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ ممالک زیادہ تر پولیس اسٹیٹ ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ انقلاب کبھی بتا کر نہیں آتا، اُس کے لیے بسا اوقات ایک ہی چنگاری کافی ہو جاتی ہے۔ غزہ میں معصوموں کا اتنا خون بہہ گیا ہے کہ عرب عوام اب بھی نہ اٹھے تو پھر ان کو بس امریکہ اور اسرائیل کی بدترین غلامی کے لیے تیار رہنا چاہیے!

غزہ میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو رہی؟ — ایک نظر میں

1۔ اسرائیلی سیاسی قیادت کے اہداف

اسرائیل کی موجودہ حکومت، بالخصوص وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو، اپنے سیاسی مستقبل اور اندرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے جنگ کو طول دے رہا ہے۔ نتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور اسے عوامی احتجاجات کا سامنا ہے، اور جنگ کی موجودگی اس کے لیے "قومی سلامتی" کے نام پر سیاسی بقا کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔

2۔ مکمل ہدف کا حصول (حماس کا خاتمہ)

اسرائیل کا سرکاری موقف یہ ہے کہ جنگ کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ جب تک یہ ہدف پورا نہیں ہوتا، اسرائیل جنگ بندی کو ایک "ادھورا کام" تصور کرتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ حماس جیسی تنظیم کو مکمل طور پر ختم کرنا زمینی حقائق کے برعکس ایک خواب ہے۔

3۔ امریکی حمایت اور بین الاقوامی دوہرا معیار

اگرچہ دنیا کے کئی ممالک جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اب تک اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کر رہا ہے اور سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو بھی کرتا رہا ہے۔ یہ عملی حمایت اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ وہ کتنا ہی انسانیت کے خلاف جرائم کرے فوری طور پر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

4۔ حماس کے مطالبات اور اسرائیلی انکار

حماس کی طرف سے مستقل جنگ بندی کے لیے شرائط رکھی گئی ہیں — مثلاً غزہ سے فوجی انخلا، معاشی محاصرہ ختم کرنا اور اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کی رہائی — جنہیں اسرائیل فوری طور پر ماننے کو تیار نہیں۔ جبکہ موجودہ سیز فائر مسودہ میں یہ شرطیں بھی حماس نے حذف کر دی تھیں مگر اسرائیل نے پھر بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔

ان وجہوں سے جنگ بندی کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں کی نیت کسی اچھے ارادہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ وہ دونوں بس اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس کی قید سے رہا کروانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد لاکھ امریکی وعدوں اور ضمانتوں کے باوجود سب جانتے ہیں کہ اسرائیل فوراً غزہ پر دوبارہ حملے کرے گا اور اپنے اہداف یعنی حماس کا خاتمہ اور یوں فلسطینی جدوجہد آزادی سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

5۔ خطے میں بڑی طاقتوں کا مفاد

امریکہ، روس اور چین سب ہی اس خطہ میں اپنے مفادات کا حصول چاہتے ہیں مگر ابھی امریکہ کو سب پر اَپرہینڈ ملا ہوا ہے کیونکہ خطہ کی تمام بڑی عرب حکومتیں امریکی چھتری کے نیچے ہیں۔ وہ اگرچہ روس اور چین کے ساتھ بھی تعلقات استوار کر رہی ہیں تاہم امریکہ اپنی فوجی قوت کے ذریعہ بالکل ان کے سروں پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس لیے وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی طور پر امریکہ یا اسرائیل دونوں کے لیے کچھ خطرہ بن سکیں یا ان کی مخالفت ہی کر سکیں۔

امریکہ تو بہت کھل کر اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ ہی رہتا ہے مگر روس اور چین دونوں کی پالیسی گومگو کی ہے، وہ نہ کھل کر اس کی حمایت کرتے ہیں اور نہ کھل کر مخالفت۔ مخالفت کرتے بھی ہیں تو بس بیان بازی کی حد تک۔ ورنہ چین سے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بڑے پیمانہ پر ہوتی ہے، اور روس کی حمایت بھی اس کو حاصل ہے کیونکہ اسرائیل میں روسی نژاد یہودی بیس فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کے علاوہ خطہ کی دو بڑی معیشتیں سعودی عرب اور امارات میں سے امارات تو کھل کر اسرائیل کے پا لے میں جا چکا ہے۔

سعودی عرب ابھی پس و پیش میں ہے مگر یہ سب جانتے ہیں کہ خفیہ طور پر اس کے تعلقات اسرائیل سے کب کے قائم ہو چکے ہیں، وہ تو عوامی ردعمل کا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے ردعمل کا خوف ہے جو ابھی سعودی عرب کو اس کا باضابطہ اعلان کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ باقی خطہ کے دوسرے چھوٹے ممالک یا تو سعودی کیمپ میں ہیں یا امارات کے دست نگر۔ قطر ان دونوں سے آزاد ہے مگر امریکہ کی بیڑیوں میں کسا ہوا ہے اور ویسے بھی اس کا رقبہ چھوٹا، دفاعی صلاحیت نہ کے برابر لہٰذا اس کی بہت زیادہ تزویراتی اہمیت نہیں ہے۔ البتہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ عرب ممالک میں صرف وہی ہے جو کھل کر فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اور غزہ پر مسلط اس جنگ کو رکوانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

6۔ انسانی بحران کو نظر انداز کرنا

غزہ میں بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، لیکن چونکہ فلسطینیوں کو عالمی سیاست میں انسان نہیں بلکہ صرف "سیکورٹی مسئلہ" سمجھا جاتا ہے، اس لیے انسانی ہمدردی کے تقاضے پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ بڑی عرب معیشتیں سعودی عرب اور امارات امریکہ پر (اس سے مہنگے معاشی سودے کرنے کی وجہ سے) کچھ دباؤ بنا سکتی تھیں مگر انہوں نے خاموشی کو ہی ترجیح دی ہے۔ سعودی عرب کو غزہ کے انسانوں کی نہیں اپنے منصوبہ ویژن 2030ء کی کامیابی کی فکر ستا رہی ہے اور امارات کو اپنے ملک میں AI (مصنوعی ذہانت) کے منصوبہ کی تکمیل کی فکر ہے!

7۔ ثالثی کی کوششوں میں سنجیدگی کا فقدان

مصری، قطری اور امریکی ثالثی کے باوجود اب تک کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا۔ ہر فریق اپنے مفادات کے مطابق ثالثی کرتا ہے، نہ کہ فلسطینی عوام کی زندگی بچانے کی نیت سے۔ قطر ایک بہت چھوٹا اور کمزور کھلاڑی ہے جو اپنی حفاظت کے لیے بھی امریکہ پر ہی منحصر ہے۔ مصر امریکہ سے زبردست معاشی امداد سالانہ وصول کرتا ہے جو اس کی فوج کی جیب میں جاتی ہے اور فوج ہی ملک پر قابض ہے۔ لہٰذا مصر امریکی خواہشات کے برخلاف نہیں جا سکتا ہے، اور امریکہ خود جانبدار ثالث ہے۔

نتیجہ

عرب اور اسلامی ممالک کی اسرائیل کی مخالفت صرف زبانی جمع خرچ ہے اور عملاً وہ کچھ نہیں کرتے نہ غالباً کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس حقیقت کو اسرائیل اور امریکہ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں۔ خود اسرائیل کے اندر جنگ کے خلاف جو آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ بہت کمزور ہیں اور زیادہ تر بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ اسرائیلی سماج پوری طرح دائیں بازو کے جنونی صہیونیوں کے زیر اثر ہے جو حقیقتاً تمام فلسطینیوں کو ختم کرنے اور مغربی کنارہ اور غزہ پر اسرائیل کے مکمل قبضہ کی حمایت کرتا ہے۔ اور اس کے دباؤ میں ہی 25 جولائی 2025ء کو اسرائیلی کنیست نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کر لیا جائے۔ اس کوشش کو امریکی صدر ٹرمپ کی پہلے ہی سے حمایت حاصل ہے۔ غزہ میں جنگ بندی نہ ہونے کی بنیادی وجہ صرف "جنگ" نہیں، بلکہ عالمی سیاست، مفادات کی جنگ، اور انسانی جان کی بے توقیری ہے۔ جب تک اس طرز فکر میں تبدیلی نہیں آتی، جنگ بندی کی تمام کوششیں عارضی اور ناکام ہی رہیں گی۔ اب بظاہر جنگ بندی کا زیادہ امکان اس چیز میں دکھائی دیتا ہے کہ حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیمیں گوریلا حملوں سے اسرائیلی فوج اور اہداف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائیں۔ ایک یہی چیز ہے جو اسرائیلی سماج کو جنگ بندی کے لیے تیار کر سکتی ہے۔

ایک دوسرا امکان یہ ہو سکتا تھا کہ فرانس، انگلینڈ اور دوسرے مغربی ممالک فلسطینی ریاست کو فوراً اور غیر مشروط طور پر تسلیم کر لیں جس سے اسرائیل مزید پریشر میں آئے۔ اور امریکہ خود کسی اور علاقہ میں زیادہ شدت کے ساتھ انوالو ہو جائے۔ بظاہر اب یہ امکان دم توڑتا نظر آ رہا ہے۔ بہرحال مسلم دنیا پر ایسا ہی موت کا سکوت طاری ہے جیسے کبھی

افسوس کہ غزہ کے مسلمان تو یورپ میں بھی نہیں بلکہ عین اسلامی دنیا کے قلب میں ہیں۔ اگر وہ یورپ میں ہوتے تو شاید ناٹو ان کو بچا لیتا مگر وہ عربوں اور مسلمانوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ جن کی، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، اخلاقی صورت حال بالکل وہی ہو گئی ہے جس کا اقبال نے ماتم کیا تھا یہ کہہ کر ؎

قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات


East and West: Different Futures for Different Pasts

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

When the West detached itself from the social role of religion, there was a specific historical context that made it impossible for the West to bring religion along on its journey of social evolution.
One aspect of this context is that for centuries during the Dark Ages in the West, when kings and feudal lords ruled, it was an era of tyranny and oppression. The common citizen was forced to live a life worse than that of animals. In this system of oppression, religion, as an institution, was an accomplice to the king and the feudal lords and supported their atrocities. Therefore, when the public revolt against the monarchy and feudal lords succeeded, the religion that supported them was also expelled from social life along with them.
The second aspect is that when the era of scientific evolution began in the West and scientific study and inventions progressed, religion became an adversary. It issued fatwas of apostasy and heresy against scientists and ordered their deaths, leading to the killing of thousands. I have personally seen the place in Oxford where religious courts were held during that era, and those who researched science, technology, and geography were declared heretics and apostates and sentenced to death. Therefore, for science to advance, it became necessary to get rid of religion, which was an obstacle in its path, and that's what happened.
Our question to Western intellectuals is this: when they rejected the social role of religion, it was due to a specific historical context with its own causes and reasons. This makes the West's renunciation of religion understandable. But why does the West want to impose its own historical context on us Muslims? Our history is not the same. In our 1400-year past, it has never been the case that religion became a partner of coercion and power instead of reason, truth, and principles. As a religion, Islam has always been a companion of principles, truth, and reason. It has been a supporter of the oppressed, and it has never, as an institution, supported oppression, tyranny, and power. The history of our scholars is full of imprisonments, martyrdoms, and sacrifices. They gave their lives and accepted the loneliness of prisons, but they never bowed their heads before the oppressor and tyrant. The role of our religious leaders in this regard has always been magnificent.
Similarly, Islam has never stood in the way of science and has never been an obstacle to the evolution of technology. In fact, all the scientific progress of the West is due to the educational institutions of Muslim Spain, which paved the way for the evolution of their society in science and technology. However, our real tragedy is that Muslim Spain, having been defeated on the battlefield, lost the ability to make progress in this field itself. It was based on their research that the West began its journey of scientific evolution.
In this context, our complaint to the West is that it is making an unjust attempt to impose its specific historical context on the whole world, especially on Muslims. It is trying to force us to abandon our bright past by showing us its own dark past.
The second point to discuss with the West is to examine the effects and consequences of its religion-averse philosophy and culture on Western society, which began with the French Revolution. This religion-averse philosophy, despite the support and backing of science and technology, has not played a positive role in the evolution of human society. As a result of this anti-religious sentiment, the Western family system has been destroyed, the sanctity of relationships has been trampled upon, and relationships barely exist anymore. This Western philosophy of "individualism" has shaken the foundations of mutual cooperation and solidarity in human society, has led to the death of spiritual and moral values, and today, even Western intellectuals themselves are worried about the results of this anti-religious philosophy and are searching for a way back.
We should discuss this point with Western intellectuals: seeing the negative consequences of their religion-averse secular philosophy, why do they still demand that we Muslims, like them, abandon the social role of religion, lose our secure family system, bid farewell to mutual relationships and social ties, and turn away from spiritual and moral values to seek mental peace and inner tranquility through drugs and psychiatrists?
Here, I feel it is necessary to clarify one thing: the role that religion played in the West during the Dark Ages, which even today makes Westerners shudder and which they are so afraid of that whenever the social role of religion is discussed anywhere in the world, the West considers itself an adversary, also has a specific historical context and reasons. One of them is that Christianity did not, and still does not, have a preserved and authentic collection of the Torah and the Gospel. As a result, the ultimate authority for the interpretation of religion was given to the Pope and the Church. And instead of reason, an individual or a group of people became the final authority in the interpretation and exegesis of religion. This was the reason for their absolute power.
However, in Islam, reason and argumentation have always been given precedence. The Holy Quran and the sayings of the Holy Prophet (peace be upon him) are available in a preserved and authentic form. Therefore, in Islam, after the revered personality of the Holy Prophet (peace be upon him), no individual or group has the ultimate authority to interpret religion. Everyone has to speak with reason and support their position and opinion with arguments from the Quran and Sunnah. Even the views and opinions of the Rightly Guided Caliphs and the Jurist Imams have been disagreed upon on hundreds of matters based on reason. Therefore, in Islam, there is absolutely no possibility for an individual or a group to achieve the status of final authority in the interpretation of religion, deviating from reason and argumentation.
When we talk to Western intellectuals, this point will also be discussed: why are they putting Christianity and Islam in the same boat despite such a clear difference in their intellectual and social roles? And why are they busy trying to impose the West's specific historical context on Muslims in this matter as well?
The history of the last 1500 years is a witness that the intellectual role of Islam and Christianity has been different from each other, and their social roles have also been distinct and completely separate from each other. Therefore, if the people of the West did not find their religion suitable due to its specific historical context and role, they cannot be given the right to reject other religions as well and force the whole world to abandon their faith and religion.


’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۳)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

اسلام کا خاندانی نظام اور عصرِ حاضر (1)

خطبہ نمبر 2: مؤرخہ 28 ستمبر 2016ء

حضرات محترم! یہ نشستیں جن کا اہتمام جامعہ فتحیہ کی طرف سے ہو رہا ہے۔ ان میں اس سال گفتگو کے لیے عمومی موضوع یہ منتخب کیا گیا ہے کہ قرآن پاک کے معاشرتی احکام کیا ہیں؟ سوسائٹی کے لیے، سماج کے لیے، معاشرے کے لیے، قرآن پاک کیا احکام، ضوابط اور قواعد ارشاد فرماتا ہے؟ لیکن میں پہلے مرحلے میں یہ بیان کرنا چاہوں گا کہ خاندانی نظام (Family System) کے حوالے سے قرآن پاک ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔

انسانی سوسائٹی کا آغاز فیملی سسٹم (خاندان) سے ہوا

اس لیے کہ دنیا میں انسانی سوسائٹی کا آغاز جوڑے سے ہوا، خاندان سے ہوا۔ اللہ رب العزت نے جہاں نسلِ انسانی کے آغاز کی بات کی وہاں ایک جملہ ارشاد فرمایا:

خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا کثیرا ونساء (سورۃ النساء: 4، آیت: 1)
(تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)

پوری انسانی سوسائٹی اسی جوڑے کی برکت سے ہے۔ جو سب سے پہلے جنت سے زمین پر اتارا گیا۔ انسانی سوسائٹی کا آغاز جوڑے سے ہوا ہے، یہ فیملی ہر زمانے اور ہر قوم میں رہی ہے، ہر مذہب میں رہی ہے، بغیر مذہب والوں کی بھی فیملی رہی ہے اور اب تک چلی آرہی ہے۔

فیملی سسٹم کے چار دائرے

پہلا دائرہ: فیملی کیا ہے؟ فیملی کے احکام کیا ہیں؟ قوانین کیا ہیں؟ ہر ملک، ہر قوم اور ہر مذہب کے اپنے اپنے ضابطے اور قوانین ہیں، اسلام کے اپنے ضابطے ہیں۔ اس حوالے سے بات آگے چلانے سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ خاندانی نظام (Family System) سے متعلقہ قوانین کو آج کل کی اصطلاح میں خاندانی قوانین (Personal Laws) کہتے ہیں۔ آج قانونی اصطلاح میں پبلک لاء ہے، پرسنل لاء ہے، فوجداری قانون ہے، دیوانی قانون ہے، یہ دائروں میں تقسیم ہیں۔ تو ان قانونی دائروں کی تقسیم میں فیملی کے لیے اصطلاح پرسنل لاء کی ہے۔ ان متعلقہ قوانین و احکام کو پرسنل لاء کہا جاتا ہے۔

دوسرا دائرہ: اس میں تین چار بنیادی باتیں ہیں: نکاح کیا ہوتا ہے؟ نکاح کی تعریف کیا ہے؟ نکاح کے احکام و ضوابط کیا ہیں؟ نکاح کے بعد طلاق کیا چیز ہے؟ طلاق کے احکام اور اس کے مختلف دائرے کیا ہیں؟

تیسرا دائرہ: اولاد اور ماں باپ کے حقوق کیا ہیں؟ ماں باپ پر اولاد کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اور اولاد پر ماں باپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟

چوتھا دائرہ: ماں باپ اور اولاد میں سے کوئی فوت ہو جائے تو وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ یہ چار بڑے دائرے ہیں۔ ان سے متعلقہ قوانین کو (Personal Laws) یعنی خاندانی قوانین کہا جاتا ہے۔

دورِ جاہلیت اور ’’روشنی کے دور‘‘ کی حدِ فاصل

نکاح مرد اور عورت کا وہ جائز ملاپ ہے جس کے نتیجے میں اولاد ہوتی ہے اور خاندان تشکیل پاتا ہے۔ اس کی تھوڑی سی وضاحت کے لیے میں یوں عرض کروں گا: خاتم النبیین ﷺ کے زمانے سے پہلے کا دور، جسے ہم ’’دورِ جاہلیت‘‘ کہتے ہیں، یہ ہماری تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں نبی پاک ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری سے پہلے کا زمانہ کیا کہلاتا ہے؟ ہم تو اس کو دورِ جاہلیت کہتے ہیں۔ رسول ﷺ سے پہلے کی جو کوئی بات ہوتی ہے اس کو دورِ جاہلیت کہتے ہیں اور حضور ﷺ کے بعد دورِ علم کی بات ہوتی ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ آج کے عالمی فلسفہ میں، آج کی تہذیب میں انقلابِ فرانس 1789ء سے پہلے کے دور کو تاریکی کا دور (Dark Ages) اور بعد کے دور کو روشنی کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ اُن کی تقسیم ہے اور وہ ہماری تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں ایک دورِ جاہلیت اور دوسرا دورِ اسلام ہے۔ اور درمیان میں حدِ فاصل جناب نبی اکرم ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ سے پہلے جاہلیت کا دور اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد اسلام کا دور کہلاتا ہے۔ جب بھی حوالہ دیں گے تو ان ادوار کے حوالے سے دیں گے کہ یہ جاہلیت کے دور کی بات ہے اور یہ اسلام کے دور کی بات ہے اور یہ تقسیم ہمارے ذہنوں میں رچ بس گئی ہے۔

بالکل اسی طرز پر مغربی دنیا میں بھی ایسی ہی تقسیم ہے۔ فرانس میں 1789ء کو انقلاب آیا تھا۔ اب اس کو سوا دو سو سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ انقلاب پھیلتے پھیلتے پورے یورپ میں پھیلا، اس وقت سے بادشاہت، جاگیر داری اور پاپائیت ختم ہوئی۔ سوسائٹی میں نئے دور کا آغاز اس بنیاد پر ہوا کہ اب ہم خود فیصلہ کریں گے۔ خدا سے، رسول سے، کتاب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ یہ 1789ء تھا اور اب 2016ء ہے تو اس طرح اس انقلاب کو تقریبا سوا دو سو سال ہو گئے ہیں۔

مغربی دنیا میں آپ اگر کسی سے اس دور کی بات پوچھیں گے تو کہے گا ظلمت کے دور کی بات ہے، تاریکی کے دور کی بات ہے۔ انقلابِ فرانس کے بعد روشن خیالی کے دور کی بات ہے۔ تو یہ اُن کی تقسیم ہے، پہلی بات تاریک زمانوں کی ہے۔ حتیٰ کہ آپ بھی جب دنیا میں قرآن کے حوالے سے، شریعت کے حوالے سے، سنت کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور خلافتِ راشدہ کی بات کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سنت کی یا معاشرتی قوانین کی بات کرتے ہیں۔ تو پہلا جملہ یہ سننے کو ملتا ہے یہ ’’تاریک دور‘‘ (Dark Edge) کی بات ہے۔ یہ دنیا کو واپس تاریکی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ ہم دنیا کو روشنی کی طرف لا رہے ہیں، یہ معاملہ الٹا کر رہے ہیں، واپس تاریک دور کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بس اس طرح سمجھیے مغرب میں روشن خیالی کی بات ہوتی ہے تو کون سا دور مراد ہوتا ہے؟ انقلابِ فرانس کے بعد کا۔ اس میں روشنی ہے یا نہیں، یہ الگ بات ہے۔ اور اس سے پہلے ان کے لیے تاریکیوں کا دور، ظلمتوں کا دور، جہالت کا دور ہے۔

ہمارے ہاں تقسیم دوسری ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے پہلے کا دور کیا کہلاتا ہے؟ جاہلیت کا دور۔ اور حضور ﷺ سے جس نئے دور کا آغاز ہوا وہ کون سا دور کہلاتا ہے؟ اسلام کا دور۔ یہ بات خود نبی اکرم ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ ایک خطبہ نہیں تھا بلکہ کئی خطبے تھے۔ منیٰ میں کھڑے ہو کر ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘: (آج جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں)۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کا تاریخی جملہ ہے اور یہ بہت بڑی بات بلکہ مین پوائنٹ یہی ہے۔اور یہیں سے تاریخ اپنا رخ بدل دیتی ہے۔

کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی (صحیح مسلم، باب حجۃ النبی ﷺ، حدیث نمبر 1218)
(جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔)

آج کے دن جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ میں اس کا ترجمہ یوں کرتا ہوں، حضور ﷺ نے فرمایا میں جاہلیت کی ساری قدروں کو پاؤں کے نیچے روند کر انسانیت کو علم، روشنی اور نور کے دور کی طرف لے جا رہا ہوں۔

دورِ جاہلیت کے طریقۂ نکاح میں نبی اکرم ﷺ کی اصلاحات

میں نے یہ فرق اس لیے واضح کیا تاکہ یہ بتاؤں کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے نکاح کے حوالے سے جاہلیت کی کون سی قدر میں ختم کی تھیں اور کون سی نئی چیز میں داخل کی تھیں۔ نکاح تو جاہلیت کے زمانے میں بھی تھا، خاندان بھی تھا، بچے بھی ہوتے تھے، میاں بیوی بھی ہوتے تھے، ان میں طلاق بھی ہوتی تھی، سب کچھ ہوتا تھا۔ خاتم النبیین ﷺ نے جاہلیت کے خاندانی نظام میں کیا اصلاحات کیں؟ پہلے کیا تھا اور آپ ﷺ نے کیا کیا؟ پہلے مرحلے میں نبی اکرم ﷺ نے جاہلیت کے فیملی سسٹم (خاندانی نظام) میں کیا تبدیلیاں کیں۔ اس کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کا عالمی فلسفہ خاندانی نظام میں کیا تبدیلیاں چاہتا ہے۔

دورِ جاہلیت میں رائج نکاح کی مختلف صورتیں

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی تشریح فرماتی ہیں:

(صحیح بخاری کی طویل روایت ہے: عروۃ بن الزبیر، ان عائشۃ، زوج النبی اخبرتہ ان النکاح فی الجاہلیۃ کان علی اربعۃ انحاء … الخ۔ (صحیح بخاری، باب من قال لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر 5127))

جاہلیت کے دور کے مرد اور عورت کے جو تعلقات ہوتے تھے، جن کو نکاح سے تعبیر کیا جاتا تھا، کون سے تعلق کو جائز سمجھا جاتا تھا، جس کو نکاح سمجھا جاتا تھا اور جس کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کا نسب ثابت ہوتا تھا؟ اس زمانے میں یہ قانون تھا کہ کوئی بھی مرد اور عورت اگر رضامند ہیں تو یہ زنا کی ایک جائز صورت سمجھی جاتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: جاہلیت کے زمانے میں جو طریقے رائج تھے اور جو جائز سمجھے جاتے تھے، ان میں ایک طریقہ تو یہی تھا جو ہمارے ہاں ہے کہ مرد عورت ایک معاہدے کے تحت زندگی بھر کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اعلان کر دیا کہ ہم میاں بیوی ہیں اور زندگی بھر کے لیے یہ نکاح کافی ہے۔ اس کے علاوہ بھی تین چار صورتیں تھیں۔

متعدد افراد سے تعلق: ایک عورت کا بیک وقت آٹھ نو اور دس افراد سے تعلق ہوتا تھا، یہ سب کی مشترکہ بیوی ہوتی تھی۔ سب کو معلوم ہوتا تھا کہ اس عورت کا تعلق اس سے بھی ہے، اس سے بھی ہے، سوسائٹی بھی جانتی تھی۔ جب بچہ پیدا ہوتا تھا تو اس بارے میں قانون کیا تھا، ضابطہ کیا تھا؟ وہ یہ تھا کہ عورت ان میں سے کسی ایک کو بلاتی تھی اور کہتی کہ یہ بچہ تمھارا ہے اور اس متعلقہ مرد کو تسلیم کرنا پڑتا تھا وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔

دوسری یہ صورت ہوتی تھی کہ تعداد کی کوئی تعیین نہیں تھی۔ دروازے پر جھنڈا لگا ہوتا تھا، یہ خاص قسم کی علامت ہوتی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ جس کا جی چاہے وہ آ جائے۔ اس میں مردوں کی کوئی تعداد متعین نہیں، نہ دس کی، نہ بیس کی، نہ چالیس کی۔ اس زمانے میں یہ جائز صورت سمجھی جاتی تھی۔ اور آج بھی مغرب میں جنسی مزدور (Sex Workers) کے طور پر جائز ہی سمجھی جاتی ہے۔ اصطلاح بدل گئی ہے۔ پہلے طوائف کہا جاتا تھا، اب سیکس ورکرز کہلاتی ہیں۔

عہدِ جاہلیت میں جب اس قسم کے نکاح کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوتا تو یہ سوال کہ اس کے نسب کا کیا کریں؟ وہ خاتون اندازے سے لوگوں کو بلاتی تھی اور قیافہ شناس آتا تھا۔ اسے آپ آج کا ڈی این اے ٹیسٹ سمجھ لیں۔ اس زمانے میں یہ کام قیافہ شناس کرتا تھا۔ وہ بچے کا ناک نقشہ دیکھ کر فیصلہ کرتا تھا کہ یہ بچہ اس مرد کا ہے۔ اور اس شخص کو یہ بچہ قبول کرنا پڑتا تھا، وہ انکار نہیں کر سکتا تھا۔ مجلس میں جرگے میں پنچایت میں یہ قیافہ شناس جس کے نقش و نگار دیکھ کر کہتا کہ یہ بچہ اس کا ہے، اس کو ماننا پڑتا کہ یہ بچہ میرا ہے، اس طرح سے نسب ثابت ہوتا تھا۔

نکاحِ استبضاع: ایک نکاح کی صورت یہ تھی کہ میاں بیوی آپس میں رضامندی سے فیصلہ کرتے تھے کہ کسی اچھے خاندان کا بیج حاصل کرتا ہے، نسل حاصل کرنی ہے۔ جیسے نسل حاصل کرنے کے لیے گائے کو بھیجتے ہیں، تو میاں بیوی کی رضا مندی (Understanding) سے خاتون کسی اچھے خاندان میں جاتی تھی اور اس وقت تک وہاں رہتی تھی جب تک اسے حمل نہ ہو جائے۔ دونوں میاں بیوی راضی ہیں انڈرسٹینڈنگ ہے، جب وہ بات مکمل ہو جاتی تو واپس آ جاتی تھی، وہ بچہ اس کا سمجھا جاتا تھا اور مقصد پیچھے یہ ہوتا تھا کہ بہادر ہے، شاعر ہے، یہ ہے، وہ ہے۔ یہ بھی نکاح کا طریقہ تھا جو سوسائٹی میں جائز سمجھا جاتا تھا۔

نکاحِ مؤقت: ایک یہ صورت تھی کہ وقت طے کر کے نکاح کرنا، دو مہینے کے لیے، چھ مہینے کے لیے، سال دو سال، پانچ سال کے لیے۔ وہ دو گھنٹے ہوں یا بیس سال، وہ نکاح مؤقت ہے۔ اسلام نے باقاعدہ نکاح، یعنی زندگی بھر کا معاہدہ، صرف اسی صورت کو جائز رکھا۔ باقی نکاح مؤقت، نکاح استبضاع، بدکاری وغیرہ ساری صورتیں منع فرما دیں۔ بس آج سے یہ نکاح ہوگا اس کے علاوہ کسی کو نکاح نہیں سمجھا جائے گا۔ اور قرآن پاک نے اس کا اعلان فرما دیا:

والذین ہم لفروجہم حٰفظون، الا علیٰ ازواجہم او ما ملکت ایمانہم فانہم غیرملومین (سورۃ المومنون: 23، آیت: 5، 6)
(اور جو اپنی شرم گاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں کیونکہ ایسے لوگ قابلِ ملامت نہیں ہیں)

قرآن نے اس کا اعلان کیا، باقاعدہ زندگی بھر کی بیوی ہو گی۔ اور رہی لونڈی، تو لونڈی کی بات میں اپنے مقام پر کروں گا کہ لونڈی کیا چیز ہے، مگر یہاں نکاح کے حوالے سے بات کر رہا ہوں۔ نکاح میں قرآن پاک نے بھی کیا ہے۔

والذین ہم لفروجہم حٰفظون (سورۃ المومنون: 23، آیت: 5)
(اور جو اپنی شرم گاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔)

کہ ایمان والوں کا وصف یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یا باقاعدہ بیویاں ہوں یا لونڈیاں بس۔

فمن ابتغٰی ورآء ذٰلک فاولئک ہم العٰدون (سورۃ المومنون: 23، آیت: 7)
(ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔)

اس کے علاوہ کوئی جو بھی صورت اختیار کرے گا وہ گناہ کی ہے، تو نکاح کے جو بھی دوسرے طریقے جاہلیت میں رائج سمجھے جاتے تھے وہ حضور ﷺ نے منع فرما دیے۔

پہلی اصلاح، زنا سببِ نسب نہیں

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ (بخاری شریف کی بڑی تفصیلی روایت ہے) حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بھائی نے وصیت کی تھی وہ لڑکا جو فلاں کے گھر میں پیدا ہوا وہ میرا ہے۔ جب تمھیں موقع ملے اسے قابو کر لینا۔ فتح مکہ کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو موقع ملا انھوں نے اسے قابو کر لیا۔ فرمایا یہ میرا بھتیجا ہے۔ وہ ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے باپ کی لونڈی سے تھا۔ اس رشتے سے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی لگتا تھا۔ جبکہ دوسرے دعوے سے وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بھتیجا لگتا تھا۔ دونوں کا جھگڑا ہو گیا۔

جو بات میں کہنے لگا ہوں وہ یہ ہے، کوئی آدمی دعویٰ کر دیتا کہ فلاں عورت کے گھر میں جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ میرا ہے۔ اور عورت تصدیق کر دیتی تو بچہ اس کا شمار ہوتا تھا۔ میرے خیال میں ڈی این اے ٹیسٹ کی صورت میں آج بھی مغرب میں یہی طریقہ ہے۔ نبی پاک ﷺ نے یہ سلسلہ ختم کیا اور بنیادی قاعدہ بیان کیا۔ جو اصول کے طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا:

الولد للفراش وللعاھر الحجر (صحیح بخاری، باب من قضیٰ بحق اخیہ، حدیث نمبر: 7182)
(بچہ شوہر کا ہوگا اور زانی کے لیے پتھر ہے۔)

زنا سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور زانی کو پتھر پڑیں گے۔ نسب اس سے ثابت ہوگا جس کے بستر پر بچہ ہے۔ اس کا قانونی زبان میں ترجمہ کرتا ہوں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ زنا آج کے بعد نسب کا سبب نہیں ہوگا۔ جب (کہ) زمانہ جاہلیت میں زنا نسب کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ اور صاف اعلان کر دیا: ’’الولد للفراش وللعاھر الحجر‘‘ نسب اس سے ثابت ہو گا جس کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے۔ اور کوئی زنا کا دعویٰ کرے گا تو اس کو نسب نہیں ملے گا، اس کو پتھر ملیں گے، سنگسار کر دیا جائے گا۔ حضور ﷺ نے نسب کے ثبوت کو واضح کر دیا کہ اگر زنا ثابت بھی ہو جائے تب بھی نسب کسی طرح ثابت نہیں ہوگا۔ تو بنیادی اعلان حضور ﷺ نے یہ کیا کہ زنا آج کے بعد نسب کے ثبوت کا سبب تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری اصلاح، بیویوں کی تحدید

جناب خاتم النبیین ﷺ نے ایک تبدیلی یہ کی جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں بیویوں کی تعداد کے بارے میں کوئی پابندی نہیں تھی۔ دس دس، پچاس پچاس، سو سو، کوئی حد نہیں تھی۔ طاقتور آدمی، مالدار آدمی جتنی مرضی چاہے کر لے، کوئی پرسان حال نہیں۔ لطف کی بات یہ کہ ایسی اکثر روایات کی راویہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ پوچھا کہ اماں جان قرآن کی ایک آیت سمجھ نہیں آرہی۔

(عروۃ بن الزبیر، انہ سال عائشۃ رضی اللہ عنہا، عن قول اللہ تعالیٰ: وان خفتم الا تقسطوا۔ (صحیح بخاری، باب باب شرکۃ الیتیم واہل المیراث، حدیث نمبر: 2494))

قرآن پاک کی بہت سی آیات لوگوں کو بظاہر سمجھ نہیں آتی تھیں تو بڑوں سے رجوع کرتے تھے۔ اماں جان سے ان کی قرآن فہمی کی وجہ سے زیادہ رجوع ہوتا تھا۔ ان کے بھانجے نے کہا: اماں جان مجھے آیت سمجھ نہیں آئی۔ قرآن پاک کی ایک آیت ہے:

وان خفتم الا تقسطوا فی الیتٰمٰی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنٰی وثلٰث وربٰع (سورۃ النساء: 4، آیت: 3)
(اگر تمھیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکو گے پھر شادیاں کرو جو عورتیں اچھی لگیں دو سے تین سے چار سے۔)

سوال یہ کیا ہے: یتیموں سے انصاف نہ کر سکو تو شادیاں کرو، اس کا کیا مطلب ہے؟ اماں جان دونوں جملوں کا جوڑ سمجھ نہیں آتا کہ اگر تمھیں خوف ہو کہ یتیموں سے انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر دو شادیاں کرو، تین کرو، چار کرو۔ کیا مطلب ہے اس کا؟ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمام تر پس منظر بیان کیا تب حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کو بات مکمل طور پر سمجھ آئی۔

قرآن پاک کی بیسیوں ایسی آیات ہیں جب تک آپ اس کا پس منظر نہیں سمجھیں گے آیت سمجھ نہیں آئے گی۔ ہماری زبان میں پس منظر (Background) ہے اور مفسرین کی اصطلاح میں ہے ’’شانِ نزول‘‘۔ ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے جو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کو سمجھ میں نہیں آئی۔ اماں جان نے فرمایا: بیٹا اس کا ایک خاص پس منظر ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں قبائلی سسٹم تھا، برادریاں اور قبیلے تھے۔ قبیلوں کا یہ سسٹم تھا کہ کوئی بچی یتیم ہو جاتی تھی جو خوبصورت ہے یا مال دار ہے، قبیلے کا سردار یہ چاہتا تھا یہ باہر نہیں جانی چاہیے۔ اس کی یا تو وجہ مال ہوتی تھی یا حسن۔ لڑکی خوبصورت ہے تو وہ کہہ دیتا میری بیوی ہے، سردار کا فیصلہ آخری ہوتا تھا۔ یہ جاہلیت کے کلچر کی ایک تصویر ہے۔ سرداری نظام تھا، قبائلی سسٹم تھا۔ لڑکی کا باپ فوت ہو گیا، وہ یتیم ہو گئی ہے، خوبصورت ہے، تب سردار کی نیت خراب ہو گئی، بس یہ اس کی بیوی ہے، خرچہ ورچہ نہیں دیتے تھے، مال ہڑپ کرتے تھے، اور تعداد کی پابندی نہیں تھی اپنا اختیار سمجھا جاتا تھا۔

اللہ پاک نے یہ حکم اس جاہلیت کی رسم کو توڑنے کے لیے نازل کیا، دو باتیں نازل کیں: ایک یہ کہ یتیم بچی کو گھر میں داخل کر کے انصاف نہیں کر سکتے تو اس کو چھوڑ دو اور آزاد عورتیں تلاش کرو تاکہ تمھیں کوئی پوچھنے والا ہو۔ ایک پابندی یہ لگائی کہ لڑکی یتیم ہے اور تمھارا شادی کا ارادہ بنتا ہے تو کرو لیکن شرط کیا ہے؟ اگر ان کے حقوق پورے نہیں کر سکتے، ان کا خرچہ پورا نہیں کر سکتے، انصاف فراہم نہیں کر سکتے، تو یتیم بچی کو خراب نہ کرو۔ آزاد عورتوں سے نکاح کرو تاکہ کوئی پیچھے پوچھنے والا تو ہو کہ میاں کیا کر رہے ہو؟ یہ بھی بڑی حکمت ہے۔ ان غریبوں کو پیچھے کون پوچھے گا؟

یہاں ایک تجزیئے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ خاندان کے سسٹم میں اسلام نے اس بات کا بھی لحاظ رکھا ہے کہ لڑکی کو نکاح میں لائے ہیں تو اس کے پیچھے پوچھنے والے بھی ہونے چاہئیں۔ ہماری بہن کس حال میں ہے؟ ہماری بیٹی کس حال میں ہے؟ اور اگر کوئی زیادتی کی ہے تو پوچھ سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ میاں بیوی جن کا نکاح ہوا ہے۔ جہاں میاں رہے گا وہاں بیوی بھی رہے گی ۔ لیکن کوئی خاوند اپنی بیوی کو اس کے خاندان سے اتنی دور نہیں لے جا سکتا کہ میل ملاپ کے واسطے ہی ختم ہو جائیں۔ ’’لان الغریبۃ توذیٰ‘‘ (ہدایہ، باب المہر، ج ۱، ص 206) (مسافر عورت کو اذیت دی جائے گی) کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، یہ پوچھنا بھی ایک حق ہے۔ اتنا دور نہیں لے جا سکتا کہ ماں باپ کے ساتھ میل جول کے اسباب ہی ختم ہو جائیں۔ وجہ کیا بیان کی ’’لان الغریبۃ توذیٰ‘‘ مسافر عورت کو اذیت دی جائے گی اور پوچھنے والا کوئی ہوگا نہیں۔ تو قرآن پاک نے کہا کہ نکاح آزاد عورتوں سے کرو، دو ہوں، تین ہوں، چار ہوں، لیکن کسی کو تنگ نہ کرو، اس کی بے بسی سے فائدہ مت اٹھاؤ۔

چار بیویوں تک مشروط اجازت ہے

دوسری پابندی یہ لگا دی کہ چار سے زیادہ نہیں، یہ چار کی پابندی ہے، چار کا حکم نہیں ہے۔ چار سے زیادہ کی ممانعت ہے کہ زیادہ سے زیادہ چار کر سکتے ہو اگر کرنا چاہو۔ یہ امتدادِ حکم کے لیے نہیں، یہ اسقاط ماوراء کے لیے ہے۔ یہ زیادہ (Maximum) کی حد ہے، کم (Minimum) کی نہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قرآن پاک نے پابندی لگا دی۔ چار سے زیادہ کی ممانعت کے لیے اور یتیم بچیوں کو ظلم سے بچانے کے لیے۔ اور یہ جاہلیت کے نظام میں تبدیلی تھی کہ چار سے زیادہ نہیں۔ اور چار بھی مشروط ہیں، ایک سے زیادہ کی اجازت ہے لیکن مشروط ہے۔ ’’فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ‘‘ (سورۃ النساء: 4، آیت: 3) اگر تمھیں ڈر ہو کہ میں انصاف نہیں کر سکوں گا تو پھر ایک پر ہی گزارا کرو۔ ایک سے زیادہ کی اجازت انصاف اور عدل کی شرط پر ہے۔ ایک سے زیادہ میں انصاف کرنا ویسے بھی مشکل کام ہوتا ہے۔

آپ ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کی تعداد پر وارد اعتراض اور اس کا جواب

جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس بیک وقت نو بیویاں تھیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ حضور ﷺ پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب چار کی پابندی لگی تو باقی سب سے حضور ﷺ نے زائد بیویاں چھڑوا دیں کہ چار سے زائد بیویوں کو چھوڑ دو اور خود کیوں نہیں چھوڑیں؟ نو بیویاں آخری وقت تک تھیں۔ یہ مغرب کے اعتراضات میں سے ایک بڑا اعتراض ہے کہ خود کیوں نہیں چھوڑیں باقیوں سے چھڑوا دیں؟ آسان سی بات عرض کر دیتا ہوں۔ باقیوں نے جو چھوڑیں ان کا کوئی نہ کوئی ٹھکانہ بن گیا۔ حضور ﷺ کی بیویوں کو قرآن پاک نے کہا کہ ’’وازواجہ امہٰتہم‘‘ (سورۃ الاحزاب: 33، آیت 26) کہ نبی کی بیویاں تمھاری مائیں ہیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ’’ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا‘‘ (سورۃ الاحزاب: 33، آیت: 53) تو یہ پانچ کدھر جاتیں؟ تو ان کے مقام و مرتبے (Status) کا تقاضا یہ تھا، ان کے احترام کا تقاضا یہ تھا۔ فرمایا: ’’لا یحل لک النسآء من بعد‘‘ ان کے بعد نئی کی اجازت نہیں ہے۔ باقیوں کے لیے چار کے بعد نہیں، آپ ﷺ کے لیے نو کے بعد نہیں۔ نئی شادی آپ ﷺ نہیں کر سکتے ۔ ’’لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من‘‘ (سورۃ الاحزاب: 33، آیت 52) اور پھر حضور ﷺ پر یہ پابندی بھی لگی کہ ان میں سے کوئی تبدیل بھی نہیں کر سکتے، یعنی ان کو چھوڑ کر کسی اور سے نکاح کر لیں۔ یہ پانچ جن کو چھوڑنا تھا وہ کدھر جاتیں؟ وہ تو امت کی مائیں ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا تھا، ان کے پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یہ نو کی نو رہیں اور اسی نبویؐ نسبت کی شان سے رہیں۔

میں نے یہ عرض کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن پاک نے چار سے زیادہ پر پابندی لگا دی کہ بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کر سکتے۔ ایک بنیادی تبدیلی قرآن پاک نے یہ کی۔

تیسری اور چوتھی اصلاح، نکاح میں اعلان اور نان نفقہ کی ذمہ داری

ایک اور تبدیلی کی جاہلیت کے نظام میں کہ جہاں نکاح کا ذکر کیا ہے وہاں دو تین شرطیں رکھی ہیں۔ اس کا میں اپنی زبان میں ترجمہ کیا کرتا ہوں۔ فرمایا کہ:

فما استمتعتم بہ منہن فاٰتوہن اجورہن (سورۃ النساء: 4، آیت: 24)
(چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔)

قرآن پاک نے مالی ذمہ داریاں قبول کرنے کا کہا۔ مالی ذمہ داریوں کے بغیر نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔

ایک پابندی یہ لگائی کہ خفیہ تعلق نہیں ہوگا۔

ولا متخذٰت اخدان (سورۃ النساء: 4، آیت: 25)
(اور نہ خفیہ طور پر ناجائز آشنائیاں پیدا کریں۔)
ولا متخذی اخدان (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 5)
(اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔)

نہ گرل فرینڈ (Girl Friend) نہ بوائے فرینڈ (Boy Friend) جو ہوگا کھلا (Open) اور عام ہوگا۔ اور ان کی مالی ذمہ داریاں قبول کر کے ہو گا۔ نکاح کے لیے قرآن پاک نے چند شرطیں لگا دیں۔ ایک شرط یہ کہ ان کی مالی ذمہ داریاں نفقہ کی (مہر کی نہیں) زندگی بھر کی مالی ذمہ داری قبول کرتے ہو تو اجازت ہے۔ خفیہ نہیں اعلانیہ ’’محصنین غیر مسٰفحین ولا متخذی اخدان‘‘ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 5)

قرآن نے چار باتیں کہی ہیں: ایک یہ کہ مالی ذمہ داری قبول کرو۔ دوسری بات ہے کہ گھر بسانا مقصد ہو، محض خواہش پوری کرنا نہیں، ’’محصنین‘‘ یعنی گھر بساؤ گے، ’’غیر مسافحین‘‘ یعنی محض خواہش پوری نہیں کرو گے۔ تیسرے خفیہ تعلق نہ ہو، اعلانیہ ہو، اس لیے کم از کم دو گواہوں کی شرط رکھی ہے، فقہائے کرام نے کہا ہے کہ اس سے کم میں نکاح کی اجازت نہیں ہے، خاتون سے خفیہ تعلق نہیں ہوگا اعلانیہ ہوگا۔ چوتھی مالی ذمے داریوں کے ساتھ ہوگا، گھر بسانا ہوگا۔

اس معاملے میں قرآن پاک نے اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے چند بنیادی تبدیلیاں کی تھیں جن میں سے میں نے تین چار کا ذکر کیا ہے کہ جاہلیت کے نظام میں یہ تھا اور اسلام نے آکر یہ یہ تبدیلیاں کی ہیں۔ یوں چند تبدیلیاں میں نے ذکر کی ہیں۔ اور نکاح میں جاہلیت کے زمانے میں کی جانے والی اصلاحات کا ذکر کیا ہے۔ جبکہ آج کا عالمی نظام ہم سے جن تبدیلیوں کا تقاضا کر رہا ہے وہ اسلام کے نظام سے خاصی مختلف ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۴)

ڈاکٹر محمد سعد سلیم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول — مسیح کی آمد

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ دیگر پیشگوئیوں کی طرح، اِس نزول کو علامتی طور پر ایک ریاست سمجھا گیا ہے۔ یہ علامتی تشریح کتابِ دانیال میں پیش کیے گئے رویا سے مطابقت رکھتی ہے، جہاں بابل کی سلطنت کے آخر کے دَور کو ایک انسان سے تشبیہ دی گئی ہے۔142

یہ ریاست، انسانیت کے نجات دہندہ یا خدا کی طرف سے 'چنے گئے'، یعنی ایک مسیح کی مانند، یاجوج و ماجوج کے مابین عظیم معرکے میں ایک فیصلہ کُن کردار ادا کرتی ہے۔ جرمنی کی فاشسٹ ریاست کے نتیجے میں یورپی اقوام کا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونا، جسے سورۂ کہف143 میں صور پھونکنے سے پہلے یاجوج اور ماجوج کے "ایک دوسرے پر موجوں کی طرح ٹکرانے" سے تعبیر کیا گیا ہے، اِسی ہولناک تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید برآں، یہ ریاست دجال (جھوٹے مسیحا)، یعنی سوویت یونین، کے خلاف بھی صف بندی کرتی ہے — وہ طاقت جو انسانیت کو مصائب سے نجات کے جھوٹے وعدے دیتی رہی، مگر درحقیقت یہ الحاد، ریاستی ظلم و ستم اور مذہبی جبر کو فروغ دینے کا ذریعہ بنی۔ دوسری جنگِ عظیم سے لے کر سرد جنگ کے اختتام تک، امریکہ نے اِس پس منظر میں اِس علامتی کردار کو ادا کیا۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا دائرۂ کار حدیث میں بیان کیا گیا ہے، جہاں اُن کے دجال سے جنگ کرنے اور یاجوج و ماجوج کا مقابلہ کرنے کا ذکر ہے۔ ہمیں اپنی توقعات کو اِنہی واقعات تک محدود رکھنا چاہیے، جو احادیث میں بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ یہ واپسی حقیقی معنوں میں نبی کی واپسی نہیں بلکہ ایک علامتی مظہر ہے۔ اگر دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ کے دوران امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر نمایاں کردار ادا نہ کرتا، تو دنیا سائنسی ترقی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں نہایت خوفناک حد تک مختلف ہوتی، کیونکہ فاشسٹ اور کمیونسٹ ریاستوں کا تسلط عالمی حالات کو شدید متاثر کر سکتا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے خلاف دلائل

اِس مضمون کا مقصد یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو جسمانی یا علامتی طور پر ثابت کیا جائے۔ معروف اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی نے اِس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔144

قرآن سے دلائل

جاوید احمد غامدی کے دلائل، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے خلاف ہیں، کئی قرآنی حوالوں پر مبنی ہیں:

قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی تفصیل: قرآن، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو بیان کرتا ہے — اِن کی معجزاتی پیدائش سے لے کر اِن کی وفات، رفع اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے تک۔ تاہم، قرآن میں قیامت سے پہلے اِن کے نزول کا کوئی ذکر نہیں ملتا، جو جسمانی نزول کے تصور کے خلاف ایک اہم دلیل ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور رفع کا ذکر: قرآن واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے بچانے145 اور اِن کی وفات کے بعد اِن کے رفع146 کرنے کا واضح بیان موجود ہے۔

رفع کے بعد الوہیت کی لاعلمی: سورۂ المائدہ147 میں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی لوگوں کو اپنی یا اپنی والدہ (علیہا السلام) کی عبادت کا حکم نہیں دیا۔ وہ مزید واضح کرتے ہیں کہ اِن کے رفع کے بعد انسانوں کے اعمال کا گواہ اللہ ہے، اور اُنھیں اِن کے بعد کے حالات کا علم نہیں تھا۔

یہ لاعلمی اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ زمین پر واپس نہیں آئے تاکہ اِن واقعات کا مشاہدہ کر سکیں۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ یہ بیان صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے۔ تاہم، تاریخی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو الٰہی حیثیت دینے کا واقعہ 431ء میں مجمعِ افسس (Council of Ephesus) میں پیش آیا، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے صدیوں بعد کا واقعہ ہے۔

عیسائیت کی ابتدائی صدیوں میں اُن کی والدہ (علیہا السلام) کو الٰہی حیثیت میں نہیں پوجا گیا تھا، اور یہ تصور بعد میں ارتقا پذیر ہوا۔ یہ حقائق اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جو سوال کیا جائے گا، وہ صرف اُن کے رفع سے پہلے کے پیروکاروں تک محدود نہیں بلکہ اُن کے بعد آنے والے تمام عیسائیوں کے لیے بھی متعلق ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی وفات اور رفع کے بعد اِس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔

جسمانی نزول کے خلاف اسلامی علما کی آرا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی واپسی پر بھی کئی علما نے سوال اُٹھائے ہیں۔ اِن میں سے کچھ آرا یہاں بیان کی جا رہی ہیں:148

عمومی غلط فہمی کا ازالہ

سورۂ النساء، آیت 159:

"اِن اہلِ کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔"

یہ آیت اکثر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے حق میں پیش کی جاتی ہے۔

تاہم، اِس آیت کا سیاق و سباق واضح کرتا ہے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کے وقت کے اہلِ کتاب کے بارے میں ہے۔ یہ ایک انتباہ کے طور پر پیش کی گئی ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلے قرآن کو اللہ کی کتاب کے طور پر تسلیم کریں گے، چاہے وہ اِس کا اقرار نہ کریں۔ قیامت کے دن یہ اعتراف اُن کے خلاف شہادت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

صحیح احادیث کا علامتی مفہوم

اِس مضمون میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق صحیح احادیث کو مستند تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اِن احادیث میں بیان کردہ قیامت سے پہلے کے واقعات کو جسمانی واپسی کے بجائے تشبیہات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے واقعات

اس مضمون میں دجال کے لیے ایک علیحدہ باب مختص کیا گیا ہے؛ چنانچہ اس حصے میں دجال کی صرف وہی تفصیلات شامل کی گئی ہیں جو سابقہ باب میں بیان نہیں ہوئیں۔

نزول کا منظر

حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام زعفرانی لباس میں ملبوس، اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے زمین پر اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے شبنم کی مانند قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو ان سے موتیوں کی طرح شبنم کے قطرے جھڑیں گے۔149

یہاں فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر نزول اُن عوامل کی علامت ہے جو امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں لے آئے — جن میں جاپان کا امریکہ پر حملہ اور جرمنی و اٹلی کی جانب سے اعلانِ جنگ شامل ہیں۔ ان واقعات کے بعد امریکہ نے اپنی تنہائی پسندانہ پالیسی ترک کرتے ہوئے عالمی سطح پر عملی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح، نبی عیسیٰ علیہ السلام کے سر جھکانے اور پھر اٹھانے کے ساتھ پسینے کے موتیوں کی طرح بکھرنے کا منظر، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی باوقار شمولیت کی علامت ہے، جبکہ زعفرانی لباس امریکہ کی اقتصادی عظمت اور بے پایاں وسائل کا استعارہ ہے۔

دجال کا نوجوان کو قتل کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق میں نزول–دوسری جنگ عظیم میں نومبر 1942ء کے واقعات

حدیث کے مطابق دجال ایک نوجوان کو قتل اور پھر زندہ کرے گا، اور وہ خوشی سے ہنستا ہوا واپس آئے گا، اور اسی وقت اللہ عیسیٰ علیہ السلام کو مشرقی دمشق میں سفید مینار پر نازل کرے گا۔150

جیسے پہلے بیان کیا گیا، دجال کا لوگوں کو قتل کرنا اور پھر انہیں دوبارہ زندہ کرنا درحقیقت کمیونسٹ انقلابات کی علامت ہے، جہاں طاقت کے ذریعے سابقہ حکومتوں کا تختہ الٹایا جاتا ہے اور ان کی جگہ نئی حکومتیں قائم کی جاتی ہیں۔ یہ نوجوان یوگوسلاویہ کی نمائندگی کرتا ہے، جو 1918 میں قائم ہوا اور 1929 میں سلطنت یوگوسلاویہ کے طور پر جانا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یوگوسلاویہ میں جرمن حملے کے بعد کمیونسٹ تحریک نے زور پکڑا۔ نومبر 1942 میں، کمیونسٹوں نے یوگوسلاویہ کی آزادی کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے اینٹی فاشسٹ کونسل برائے قومی آزادی (AVNOJ) کی بنیاد رکھی, جس نے اس وقت یوگوسلاویہ کے کچھ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ یوگوسلاویہ کے کئی علاقوں نے نئے کمیونسٹ اقتدار کو رضاکارانہ طور پر قبول کیا، جو اُس نوجوان کی خوشی سے واپسی کی مانند ہے جسے "قتل" کیا گیا اور پھر "زندہ" کیا گیا۔

اسی دوران، نومبر 1942ء میں، امریکہ نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر اپنا پہلا بڑا زمینی آپریشن — آپریشن ٹارچ — شروع کیا۔ حدیث میں مذکور "مینار" عام طور پر کسی خطے میں مسلم آبادی اور اسلامی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور "سفید مینار پر نزول" کو علامتی طور پر امریکہ کے ان مسلم اکثریتی علاقوں—جیسے الجزائر اور مراکش—میں داخل ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے، جہاں یہ فوجی کارروائی انجام دی گئی۔ یہ علاقے اُس وقت عیسائی نوآبادیاتی قوتوں کے زیرِ تسلط تھے، اور یورپی جنگی محاذوں کے بعد یہ خطے ایک اہم عسکری میدان بن چکے تھے۔ اسی لیے حدیث میں مسجد کو دمشق میں دکھایا گیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے حضرت محمد ﷺ کے دور میں دمشق بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیرِ حکومت ایک اہم عسکری مرکز تھا۔

دمشق کا مشرقی حصہ تاریخی طور پر صحرا کی جانب کھلتا تھا، جہاں سے بازنطینی دور میں اکثر عرب قبائل یا ایرانی افواج حملہ آور ہوا کرتی تھیں۔ بعینہٖ، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے بھی بحیرہ روم کے راستے شمالی افریقہ میں داخل ہو کر اپنی پہلی بڑی زمینی فوجی کارروائی اسی جانب سے کی—اُسی سمت سے جہاں سے تاریخ میں بارہا بیرونی حملہ آور گزر چکے تھے۔

نبی عیسیٰؑ کا امامت سے انکار – مسلمانوں کو آزادی کے لیے خود قیادت کی ترغیب دینا (جنوری 1943ء)

نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کا مسلمانوں کی امامت سے انکار احادیث میں بیان ہوا ہے، جہاں وہ مسلمانوں کو نماز کی امامت کی دعوت پر فرمائیں گے: "امام تم میں سے ہوگا"151 اور "تم میں سے بعض دوسروں پر حاکم ہیں۔"152

یہ بیان مسلمانوں کے رہنماؤں کی آزادی کی کوششوں کے تناظر میں علامتی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ تشریح الجیریا ، مراکش، اور تیونس، جہاں امریکہ کا پہلا بڑا زمینی آپریشن، آپریشن ٹارچ کیا گیا، کے مسلم رہنماؤں کی امریکی مداخلت سے یورپی استعمار سے آزادی کی درخواست کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر، جنوری 1943 میں منعقد ہونے والی کاسا بلانکا کانفرنس کے دوران، امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور مراکش کے سلطان محمد پنجم کے درمیان ملاقات مراکش کی آزادی کے لیے امید کی علامت بنی۔ سلطان محمد پنجم نے مراکش کی خودمختاری کے خواب کا اظہار کیا اور اس مقصد کے لیے امریکی حمایت کی درخواست کی۔ صدر روزویلٹ نے مراکش کی آزادی کے لیے مستقبل میں حمایت کا عندیہ دیا، لیکن فوری مداخلت کا وعدہ نہیں کیا کیونکہ امریکہ اُس وقت اپنے جنگی اتحادیوں، بشمول فرانس کے ساتھ تعلقات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا۔ مراکشی قوم پرستوں نے اس ملاقات کو ایک امید افزا قدم کے طور پر دیکھا اور امریکہ کو اپنی آزادی کی جدوجہد میں ممکنہ حلیف کے طور پر تصور کیا۔153

یہ امریکی موقف 1941 کے اٹلانٹک چارٹر154 میں درج استعمار مخالف اصولوں سے ہم آہنگ تھا، جہاں اقوام کی آزادی اور خودمختاری کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کے امامت سے انکار کی تشبیہ مسلمانوں کے رہنماؤں کو ان کی اپنی آزادی کی قیادت کرنے کی ترغیب دینے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے، جبکہ امریکی کردار معاون اور بالواسطہ رہا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس کی خوشبو اور کفار کی موت – دوسری جنگ عظیم میں اخلاقی بیانیہ اور مخالفین کی شکست

حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جو بھی کافر نبی عیسیٰ علیہ السلام کے سانس کی خوشبو پائے گا، زندہ نہ رہ سکے گا بلکہ ہلاک ہو جائے گا، اور نبی عیسیٰ علیہ السلام کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نگاہ جاسکتی ہو۔155

یہ بیان صحیح مسلم کی جس حدیث156 میں آیا ہے، اُس میں دجال کے ظہور اور انجام کو یاجوج و ماجوج کے واقعات سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ سوویت یونین (دجال) کا ظہور نازی جرمنی (یاجوج و ماجوج) سے پہلے ہوا، اس لیے حدیث میں اس کا تذکرہ اور خاتمہ بھی پہلے آیا۔ یہ ترتیب متوازی بیانیے کی اُس روایتی ساخت کی عکاس ہے جس میں ایک موضوع کو مکمل بیان کر کے دوسرے متوازی موضوع کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے — خواہ دونوں واقعات تاریخی طور پر ایک ہی دور میں واقع ہوئے ہوں۔ دجال سے متعلق دوسری جنگِ عظیم کے اہم واقعات کو اختصار کے ساتھ "حضرت عیسیٰؑ کے سانس کی خوشبو اور کفار کی ہلاکت" جیسے علامتی بیان میں سمیٹ دیا گیا، اور حدیث کا بیانیہ دجال کی ہلاکت پر مکمل ہوا۔ اس کے بعد حدیث میں یاجوج و ماجوج کے واقعات کو الگ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا، جو اسی دور کے متوازی مگر جداگانہ تاریخی پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس سیاق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے "سانس کی خوشبو" علامتی طور پر اُس اخلاقی بیانیے کی نمائندگی کرتی ہے جو نسل پرستی، جارحیت اور فسطائیت کے خلاف تھا، اور جسے امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں اختیار کیا۔ یہاں "کافر" سے مراد وہ مخالف محور طاقتیں ہیں — یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان — جو اس بیانیے کی منکر تھیں۔ ان کا ہلاک ہونا نہ صرف جنگ میں ان کی فیصلہ کن شکست کا علامتی اظہار ہے، بلکہ اس "سانس" کے دور رس اثرات کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جو اُس اخلاقی بیانیے کی کامیابی کا ثبوت ہے، جس نے جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق اور عالمی امن جیسے نظریات کی صورت میں ایک نئے عالمی اتفاقِ رائے کی بنیاد رکھی۔

دجال کی تلاش – سوویت چالوں کی کھوج لگانا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حدیث میں دجال کو ڈھونڈنا157 اس بات کی علامت ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سرگرمی سے کمیونسٹ سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے، ان کے اثر و رسوخ اور کمزوریوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی اور بعض اوقات ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوجی اور خفیہ طاقت کا استعمال کیا۔ اس میں کوریا (1950-1953) اور ویتنام (1955-1975) میں فوجی مداخلت کے علاوہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں مجاہدین کی سوویت مخالف جدوجہد کی حمایت بھی شامل تھی۔

دجال کا پگھل جانا اور نیزے پر خون – سوویت یونین کی اقتصادی ناکامیاں اور افغانستان میں ہزیمت

حدیث 158 میں دجال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کے بعد پگھل جانے کا ذکر ہے۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ سوویت یونین سرد جنگ کے آغاز سے ہی داخلی طور پر پگھلنا شروع ہو گیا تھا، کیونکہ اقتصادی ناکامیاں، سیاسی جبر، اور نظریاتی مایوسی نے اس کے مضبوط ڈھانچے کو بتدریج کمزور کر دیا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نیزے پر خون کی تعبیر کو افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ مجاہدین کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں امریکہ کی بالواسطہ مدد نے سوویت یونین پر ایک کاری ضرب لگائی، جس کے نتیجے میں سوویت یونین معاشی اور دفاعی لحاظ سے شدید زخمی ہوگیا۔

دجال کا باب لد پر قتل – دیوار برلن کا گرنا اور کمیونسٹ پارٹی کی اجارہ داری ختم

حدیث 159 کے مطابق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام باب لُد پر دجال کو قتل کریں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کے پاس آئیں گے جو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھی گئی ہوگی، اور وہ ان پر شفقت فرماتے ہوئے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت میں ان کے درجات کے بارے میں ان سے بات کریں گے۔

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں لُد بازنطینی سلطنت کے تحت ایک اہم انتظامی و تجارتی مرکز تھا، جو یروشلم کے دفاع میں کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔ بازنطینی-ساسانی جنگ (602-628 عیسوی) کے دوران ساسانیوں نے پہلے لُد پر قبضہ کیا اور پھر یروشلم کی طرف پیش قدمی کی، جس سے اس کی اسٹریٹیجک اہمیت واضح ہوتی ہے۔ یہی اسٹریٹیجک حیثیت دیوارِ برلن کو حاصل تھی، جو سرد جنگ میں سوویت دفاعی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی ستون تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مغربی برلن کو سرمایہ دارانہ کامیابی کی علامت بنا دیا، جس کے نتیجے میں ایسا معاشی فرق پیدا ہوا جو سوویت یونین کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ بالآخر 1989 میں دیوارِ برلن کے انہدام نے سوویت کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور مشرقی یورپ میں کمیونزم کے زوال کا آغاز ہوا۔ افغان جنگ نے سوویت یونین کو اندرونی طور پر شدید کمزور کر دیا، اور دیوارِ برلن کا انہدام وہ فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا جب یہ زخم جان لیوا ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں 1990 میں کمیونسٹ پارٹی کی وہ اجارہ داری ختم ہو گئی، جو 1917 ء میں لینن کی روس واپسی کے بعد ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھری تھی اور 1922 میں سوویت یونین کے قیام کے بعد مسلسل بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کرتی رہی۔ بالآخر، یہ زوال 1991 میں سوویت یونین کے مکمل انہدام پر منتج ہوا۔

مغربی جرمنی، اور بالخصوص مغربی برلن، نے دجال — یعنی سوویت یونین — کے فتنے سے محفوظ رہتے ہوئے، کئی دہائیوں تک صبر و استقامت کے ساتھ سخت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کیا۔ جب دیوارِ برلن گری تو دنیا کی کئی بڑی طاقتوں کو، دوسری جنگِ عظیم کی یادوں کے تناظر میں، ایک متحد جرمنی کے حوالے سے تحفظات لاحق تھے۔ تاہم، امریکہ نے ان خدشات کے باوجود متحدہ جرمنی کی عملی حمایت کی — جو دراصل مغربی جرمنی کی اصلاح اور سوویت نظام کے مقابلے میں ان کی استقامت کا اعتراف تھا۔ یہی وہ صفات ہیں جن کا ذکر احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُن لوگوں پر شفقت کرنے اور جنت میں ان کے اعلیٰ درجات کے بتانے کی صورت میں آیا ہے۔

دجال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیچھے کعبہ کا طواف کرنا – سرد جنگ میں عالمی برتری کی کوشش

حضرت محمد ﷺ نے خواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، جبکہ دجال ان کے پیچھے چل رہا تھا۔160

اس خواب میں علامتی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا خلاصہ بیان ہوا ہے۔ یہاں کعبہ عالمی طاقت کے مرکز کی نمائندگی کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اسلامی روایت میں یہ خدا کے گھر کے طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح مسلمان خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کعبہ کا طواف کرتے ہیں، اسی طرح اس خواب میں طاقت کے اس علامتی مرکز کا طواف عالمی غلبے کی جستجو کو ظاہر کرتا ہے۔

اس حدیث کی علامتی تعبیر سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان عالمی طاقت کے مقابلے کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امریکہ کی نمائندگی کرتے ہیں، جو عالمی قیادت سنبھالے ہوئے تھا، جبکہ دجال سوویت یونین کی علامت ہے، جو ہمیشہ امریکہ کے پیچھے رہ کر برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ناکام رہا۔ کعبہ کا طواف امریکہ اور سوویت یونین کے عالمی اثر و رسوخ کی علامت ہے، جہاں امریکہ نے اپنی برتری قائم رکھی۔ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کا طواف کے دوران براہِ راست ایک دوسرے سے نہ لڑنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جتنی بھی جھڑپیں یا معرکے ہوئے، وہ سب بالواسطہ تھے، براہِ راست جنگ کبھی نہ ہوئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لے کر طواف کرنا سرد جنگ کے دوران امریکہ کے اہم اتحادیوں، یعنی برطانیہ اور مغربی جرمنی، کی حکمت عملی کے تحت صف بندی اور فیصلہ کن سیاسی حمایت کی علامت ہے۔

احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یاجوج و ماجوج اور بعد کے واقعات

اس مضمون میں یاجوج و ماجوج کے لیے ایک الگ باب مختص کیا گیا ہے، لہٰذا اس حصے میں صرف وہی تفصیلات شامل کی گئی ہیں جن کا ذکر پچھلے باب میں نہیں ہوا۔ جیسا کہ اس مضمون میں پہلے وضاحت کی جا چکی ہے، چونکہ سوویت یونین کا ظہور نازی جرمنی سے قبل ہوا تھا، اس لیے حدیث میں اس کا تذکرہ اور انجام پہلے بیان کیا گیا، جبکہ یاجوج و ماجوج کے واقعات کو بعد میں تفصیل سے پیش کیا گیا — یہ اس طرزِ بیان کے مطابق ہے جو متوازی بیانیوں میں عام طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ مزید وضاحت اور تعبیر سے متعلق نکات کے لیے "یاجوج و ماجوج" کے باب میں موجود "تعبیر سے متعلق سوالات" ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ ذیل میں احادیث کے واقعات کو زمانی ترتیب کے مطابق بیان کیا جا رہا ہے۔

یاجوج و ماجوج کا کوہِ طور کو گھیرنا – دوسری جنگ عظیم میں اتحادی تعاون کے ذریعے مزاحمت

حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کوہِ طور پر یاجوج و ماجوج کے محاصرے میں آ جائیں گے، جن کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہ ہوگی۔ اس وقت حالات اتنے سنگین ہوں گے کہ بیل کے سر کی قیمت سو دینار سے زیادہ ہو جائے گی۔ اس کٹھن گھڑی میں نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعا کریں گے۔161

محاصرہ: یاجوج و ماجوج کا کوہِ طور کے گرد گھیراؤ جرمنی کی دوسری جنگ عظیم کے دوران جارحانہ توسیع پسندی اور اتحادی افواج کے گھیراؤ کی علامت ہے۔ جس طرح یأجوج و مأجوج کے سامنے کسی میں مقابلے کی طاقت نہ ہوگی، اسی طرح ابتدا میں فاشزم کا سیلاب بھی ناقابلِ مزاحمت محسوس ہوتا تھا۔

کوہِ طور: کوہِ طور تاریخی طور پر عہد کے مقام کی علامت ہے، جیسا کہ نبی موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کوہِ طور پر عہد لیا۔162 یہ عالمی معاہدوں اور حکمت عملیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کے تحت اتحادی افواج نے دوسری جنگ عظیم میں ظالم طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ متعدد معاہدوں اور حکمت عملیوں پر اتفاق کیا گیا، جیسے کہ:

کاسابلانکا کانفرنس (جنوری 1943)

کویبیک معاہدہ (اگست 1943)

تہران کانفرنس (نومبر-دسمبر 1943)

بریٹن ووڈز کانفرنس (جولائی 1944)

یالٹا کانفرنس (فروری 1945)

بیل کے سر کی قیمت: حدیثِ نبویؐ163 میں بیان "بیل کے سر کی قیمت سو دینار سے زیادہ ہو جانا" دوسری جنگ عظیم میں افراطِ زر، معاشی زبوں حالی اور خوراک کی شدید قلت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسی طرح کی منظرکشی بائبل کی کتابِ مکاشفہ میں بھی ملتی ہے، جہاں اجناس کی قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ ایک عام فرد کے لیے بنیادی خوراک کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔164 مثال کے طور پر، دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ میں بِلِٹز کے دوران، جب جنگی وسائل کو اولیت دی گئی، عوام کو خوراک اور روزمرہ کی ضروری اشیاء کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ حالات تھے جب وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور مہنگائی نے عام زندگی کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

اللہ سے دعا: "اللہ سے دعا" امریکی قیادت کی جانب سے خدا سے کامیابی کی التجا کا اظہار ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی-ڈے کی شام (جون 1944) صدر روزویلٹ نے قوم سے ریڈیو پر خطاب کیا اور اتحادی افواج کی کامیابی اور حفاظت کے لیے دل سے دعا کی۔ اس دعا کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں165:

"۔۔۔اے قادر مطلق خداوند! آج ہمارے بیٹے، جو ہماری قوم کا فخر ہیں، ایک عظیم جدوجہد پر نکلے ہیں۔ یہ جدوجہد ہماری ریاست، ہمارے دین اور ہماری تہذیب کی حفاظت کے لیے ہے، اور ایک مصیبت زدہ انسانیت کو آزاد کرنے کے لیے ہے۔۔۔انہیں سیدھے اور سچے راستے پر رکھ؛ ان کے بازوؤں کو قوت دے، ان کے دلوں کو مضبوط کر، اور ان کے ایمان میں پختگی عطا فرما۔۔۔انہیں رات دن، بغیر کسی آرام کے، سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے، یہاں تک کہ فتح حاصل ہو جائے۔۔۔ جنگ کی شدت سے انسانوں کی روحیں لرز جائیں گی۔۔۔تیری برکت سے ہم اپنے دشمنوں کی ناپاک قوتوں پر غالب آئیں گے۔ ہمیں لالچ اور نسلی غرور کے پیروکاروں پر فتح عطا فرما۔۔۔بے شک تیری مرضی پوری ہوگی، اے قادر مطلق خداوند۔ آمین۔"

یاجوج اور ماجوج کے بعد زمین کی صفائی – جنگ کی باقیات کا خاتمہ

حدیث 166 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے اور زمین میں ایک بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہ پائیں گے جو یاجوج و ماجوج کی لاشوں کی گندگی اور بدبو سے بھری نہ ہو۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے، تو اللہ پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں دو کوہان والے اونٹ کی گردنوں کی طرح ہوں گی، اور وہ ان لاشوں کو اٹھا کر اللہ کی مرضی کے مطابق کہیں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ ایسی بارش نازل کرے گا جسے نہ مٹی کے گھر روک سکیں گے اور نہ ہی اونٹ کے بالوں کے خیمے، اور وہ زمین کو دھو ڈالے گی یہاں تک کہ وہ آئینے کی طرح صاف ہو جائے گی۔

بدبو: یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا زمین پر اُترنے پر ایک بالشت بھر جگہ بھی لاشوں سے خالی نہ پانا، دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں یورپ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی کی علامت ہے۔ پورے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے، کروڑوں افراد لقمۂ اجل بنے، اور پورا براعظم تباہی، لاشوں اور مصیبت زدہ آبادیوں سے بھر گیا۔

اللہ سے دعا: اللہ سے دعا جنگ عظیم دوم کے بعد امن، بھائی چارے، اور دنیا کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنا ہے- مثال کے طور پر امریکہ کے صدر نے جنگ جیت کر کہا167:

" ۔۔۔اب، لہٰذا، میں، --- 19 اگست 1945، کو یومِ دعا کے طور پر مقرر کرتا ہوں۔ میں ریاست ہائے متحدہ کے تمام مذاہب کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہو کر خدا کا شکر ادا کریں اس فتح کے لیے جو ہمیں حاصل ہوئی، اور دعا کریں کہ وہ ہمیں امن کے راستوں کی طرف راہنمائی اور حمایت عطا فرمائے۔۔۔"۔

اونٹ کی گردن والے پرندے: دو کوہانوں والے اونٹ عربوں کے نزدیک اپنی شاندار وجاہت اور غیرمعمولی برداشت کے لیے مشہور تھے، جو اپنی مضبوط گردنوں اور گھنے بالوں کی بنا پر نمایاں ہوتے تھے۔ حدیث میں مذکور پرندے، جن کی گردنیں دو کوہانوں والے اونٹ کی مانند تھیں اور جو لاشوں کو اٹھا کر لے گئے، جنگ کے بعد کی اجتماعی اور وسیع پیمانے پر کی گئی کوششوں کی علامت ہیں۔ یہ اس تاریخی مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں جب جنگ کے ملبے کو صاف کیا گیا، انسانی ہمدردی کی کوششیں کی گئیں، اور جنگی جرائم کے ٹرائلز کے ذریعے ظلم و بربریت کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت مثال قائم کی گئی۔ نازی نظریات کے خاتمے اور جنگ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عمل بھی اسی بڑے پیمانے پر کی گئی "صفائی" کا حصہ تھا۔

بارش: اس کے بعد ہونے والی بارش ان عالمی تبدیلیوں کی علامت ہے جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور نظریات کو دھو کر ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھی—جہاں نازیت، فسطائیت، اور استعماری تسلط کو منظم انداز میں ختم کیا گیا۔ امریکہ کے مارشل پلان کے ذریعے تباہ حال یورپ کو معاشی اور صنعتی امداد فراہم کی گئی، جبکہ اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، اور عالمی بینک جیسے ادارے تشکیل دیے گئے تاکہ سیاسی اور معاشی مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے، اور عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اونٹ کے بالوں کے خیموں کا حوالہ — جو عربوں میں اپنی پائیداری، خاص طور پر بارش برداشت کرنے کی صلاحیت کے لیے مشہور تھے — اور مٹی کے گھروں کا ذکر، جو ان کی مستقل بستیوں میں عام تھے، ان کا بہہ جانا، اس غیر معمولی تبدیلی کی شدت کو اجاگر کرتا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد واقع ہوئی اور جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا؛ یہ تبدیلی اس زمین کی طرح ہے جو گویا آئینے کی طرح صاف کر دی گئی ہو۔

مال و دولت کی فراوانی – جنگ کے بعد کا دور (1945ء – 1973ء)

حدیث168 169 میں ذکر ہے کہ زمین اس قدر برکت والی ہو جائے گی کہ پھل، مویشی، اور دیگر وسائل بڑی جماعتوں، قبیلوں، اور خاندانوں کے لیے کافی ہوں گے۔

یہ منظرنامہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور سے مشابہت رکھتا ہے، جسے گولڈن ایج آف کیپیٹلزم (1945–1973)170 کہا جاتا ہے۔ اس دور میں دنیا بھر میں بے مثال اقتصادی ترقی ہوئی، جس میں صنعتی ترقی، تکنیکی جدت، عالمی تجارت میں اضافہ، اور زندگی کے معیار میں بہتری شامل تھی۔ مغربی دنیا اور ایشیا کے کئی ممالک نے خوشحالی کے اس دور سے بے پناہ فوائد حاصل کیے۔

اس کے برعکس، وہ علاقے جو کمیونسٹ پالیسیوں پر عمل پیرا تھے، خوشحالی میں تاخیر کا شکار رہے اور بعد میں آزاد معاشی حکمت عملیوں کو اپنانے کے بعد ترقی کر سکے۔ اس مادی فراوانی کے دور کو ایک برکت والے زمانے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو دولت اور مواقع سے بھرپور تھا۔

ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا – جنگ کے بعد کی آزادی پسندی کے دور میں عبادت کی اہمیت (خصوصاً 1960ء کی دہائی میں)

حدیث171 میں کہا گیا ہے کہ ایک سجدہ دنیا کی تمام مال و دولت سے زیادہ قیمتی ہوگا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تیزی سے آنے والی آزادی پسندی کی طرف اشارہ ہے، جس کی نمایاں علامات میں روایتی اخلاقی اقدار کا زوال، فردیت کا فروغ، اور قائم شدہ اقتدار و روایات کا وسیع پیمانے پر انکار شامل ہے۔ جنگ کے بعد کا دور، اگرچہ مادی خوشحالی کا تھا، لیکن صارفیت اور مادیت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے ساتھ اخلاقی بحران بھی پیدا ہوا۔ اس لئے یہ حدیث دنیاوی آسائشوں اور دولت کی کثرت کے ہوتے ہوئے خدا کی عبادت کی اہمیت کے بڑھ جانے کو ظاہر کرتی ہے۔

احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بقیہ واقعات

ذیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد پیش آنے والے باقی تمام واقعات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

سور کو قتل کرنا – جاپان کی سامراجیت کا خاتمہ

حدیث172 میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سور کو قتل کریں گے۔

جیسا کہ زمین کے جانور کی نشانی کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جانور مستقبل کی پیشگوئیوں میں سلطنتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اس سیاق و سباق میں سور جاپان کے سامراجی رویے اور حکمت عملی کی علامت ہے۔ "سور کو قتل کرنے" کی علامت جاپان کی شاہی سلطنت کی شکست کے مترادف ہے، جس میں امریکہ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ جاپان کی سامراجیت کو سور کی شکل میں پیش کرنے کی تین بنیادی وجوہات ہیں:

جاپان کا دوغلا پن: جاپان نے "ایشیا ایشیائیوں کے لیے" کے نعرے کے ساتھ ایشیا کو آزاد کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن اس کی اپنی سامراجی پالیسیاں انتہائی استحصالی تھیں۔ یہ تضاد سور کی عکاسی کرتا ہے، جو بظاہر بھیڑ بکری کی نسل سے دکھتا ہے لیکن گوشت بھی کھاتا ہے۔

لالچ اور وسائل کی بھوک: جاپان کی سامراجی توسیع کے پیچھے اس کی صنعتی اور فوجی ضروریات کے لیے وسائل کی شدید ضرورت تھی۔ فتح کیے گئے علاقوں سے خام مال اور انسانی وسائل کا استحصال اس کی حکمت عملی کا حصہ تھا، جو سور کی شدید بھوک کی علامت ہے۔

بحری اور زمینی توسیع: جاپان نے بحرالکاہل اور بحرہند میں متعدد جزائر اور خطوں پر قبضہ کیا۔ یہ دلدلی، گرم اور نم علاقوں میں جنگوں کی نمائندگی کرتا ہے، جو سور کے قدرتی مسکن سے مشابہ ہیں۔

"سور کو قتل کرنا" اس عمل کی علامت ہے جب امریکہ نے جاپان کی سامراجی امنگوں کو ختم کر دیا، اس کی فتوحات روکی، اور اسے ایک جدید، غیر توسیع پسند قوم میں تبدیل کیا۔

جزیہ ختم کرنا – قومی ریاستوں میں مساوات کا اصول

حدیث173 میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جزیہ کو ختم کریں گے۔ جزیہ کے خاتمے کی علامت ایک ایسے نظام کے قیام کی ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، امریکہ نے ایک نیا عالمی نظام قائم کیا جو مساوات اور خود ارادیت کے اصولوں پر قومی ریاستوں کے قیام پر مبنی تھا۔ یہ فلسفہ اقوام متحدہ کے منشور جیسے فریم ورک کے ذریعے باضابطہ طور پر اپنایا گیا، جس نے مساوات اور خودمختاری پر زور دیا۔ مسلم اکثریتی ممالک میں بھی اس فلسفے نے جزیہ کے خاتمے میں بالواسطہ طور پر کردار ادا کیا، کیونکہ مسلم حکومتیں بھی مذہب سے بالاتر ہو کر مساوات کو فروغ دینے کی طرف مائل ہوئیں۔

صلیب توڑنا – عیسائی دنیا میں سیکولرزم کا فروغ

حدیث174 میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے۔ "صلیب توڑنے" کی علامت ان سیکولر تبدیلیوں کی ہے جو امریکہ نے عیسائی اکثریتی ممالک میں چرچ اور ریاست کی علیحدگی کو فروغ دینے کے لیے کیں۔ امریکہ کی سفارتی کوششوں اور سرمایہ کاری نے ان ممالک میں چرچ کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کیا اور سیکولر حکومتوں کے قیام کو ممکن بنایا۔ یہ تبدیلی ان ممالک میں حکمرانی کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کا باعث بنی۔ آج، عیسائی اکثریتی ممالک، خاص طور پر مغربی دنیا، سیکولر حکومتوں کے تحت کام کرتے ہیں، جہاں چرچ ریاستی معاملات میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتا۔ یہ صلیب کے علامتی خاتمے کے مترادف ہے۔

عادل حکمران کے طور پر نزول – جنگ کے بعد عالمی اداروں کا قیام

حدیث175 میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل حکمران کے طور پر نازل ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک عادل حکمران کے طور پر پیش کرنے کی علامتی تشریح دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی اداروں کی تشکیل میں امریکہ کے کردار سے مماثلت رکھتی ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا، تنازعات کو حل کرنا، اور مستقبل کی جنگوں کو روکنا تھا۔ بعد میں اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کی تشکیل دی گئی، جس کا مقصد نوآبادیاتی تسلط کے خاتمے کو یقینی بنانا اور نوآزاد ممالک کو خودمختاری اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کی تنظیم عالمی امن اور انصاف قائم کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک کے طور پر ابھری، جو عادل حکمرانی کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔

جنگ کے بعد امریکی قیادت نے مارشل پلان جیسے اقدامات متعارف کرائے، جن کا مقصد جنگ سے متاثرہ یورپ کی تعمیر نو کرنا تھا۔ اسی طرح، جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرفس اینڈ ٹریڈ جیسے ادارے قائم کیے گئے، جو بعد میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں تبدیل ہو گئے، تاکہ عالمی تجارت کو منصفانہ اور کھلا بنایا جا سکے۔ اور بریٹن ووڈز نظام (آئی ایم ایف اور عالمی بینک) عالمی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا، تاکہ معاشی بحران کے باعث ممالک دوبارہ جنگ میں نہ الجھیں۔ یہ اقدامات زمین پر امن، انصاف، اور معاشی استحکام کے قیام کی احادیث میں بیان کردہ عادل حکمران کے کردار سے ہم آہنگ ہیں۔

احادیث میں دجال کے بعد کے واقعات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کا ذکر صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں ہے۔ البتہ، دجال کی موت کے بعد حدیث میں ذکر کردہ سات سالہ176 پرامن دور 1991 سے 1998 تک کے عرصے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان سات سالوں میں، دنیا نے نسبتاً عالمی استحکام دیکھا، اور امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا۔

شام اور یمن کی ٹھنڈی ہوائیں — مغرب اور مشرق بعید کی آسائشیں (1998ء کے بعد)

حدیث کے مطابق، دجال کی ہلاکت کے سات برس بعد اللہ تعالیٰ شام177 اور یمن178 کی سمت سے ایک نہایت نرم و لطیف ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، جو بغلوں کے نیچے سے انہیں پکڑے گی179۔ یہ خوشگوار ہوا ہر اس انسان کو موت دے گی جس کے دل میں رتی برابر ایمان یا بھلائی باقی ہوگی، اور زمین پر صرف بدکار لوگ بچیں گے۔ یہ لوگ گدھوں کی طرح زنا کریں گے، پرندوں کی مانند ہلکے پھلکے ہوں گے، درندوں جیسے خواب دیکھیں گے، بتوں کی عبادت کریں گے، اور اچھائی و برائی کی تمیز سے عاری ہو جائیں گے — حالانکہ ان کے پاس آسائشوں اور رزق کی فراوانی ہوگی۔ اسی حال میں قیامت واقع ہوگی۔

دجال کی موت — یعنی سوویت یونین کا خاتمہ — دسمبر 1991 میں وقوع پذیر ہوا، جس کے بعد کا سات سالہ دور 1990 کی دہائی کے آخر سے جڑتا ہے۔ اس حدیث کی تشریح درج ذیل میں بیان کی گئی ہے:

"شام کی ٹھنڈی ہوا" مغربی عیسائی دنیا کے اثر و رسوخ کی علامت ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں شام بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیر تسلط تھا۔ جس طرح ٹھنڈی ہوائیں عرب کے تپتے صحرا میں راحت و سکون کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اسی طرح جدید دور میں مغربی دنیا کی صارفیت، ماپدر آزادی، اور مادی ترقی نے، گلوبلائزیشن اور انٹرنیٹ کے ذریعے، دنیا کے ہر خطے میں اپنے اثرات پہنچائے اور دلوں کو ایک مخصوص قسم کے فریبِ سکون میں مبتلا کر دیا۔

"یمن سے ریشم سے زیادہ نرم ہوا" مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین اور دیگر صنعتی اقوام، کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جیسے عہدِ رسالت میں یمن کو ایک بڑا تجارتی مرکز اور عیش و عشرت کی اشیاء کا منبع سمجھا جاتا تھا، اسی طرح آج کے مشرقی ایشیائی ممالک دنیا کے لیے مادی فراوانی اور صارفیت کی فراہمی کے بڑے مراکز بن چکے ہیں۔ ان کا عالمی تجارتی راستوں پر غلبہ، خصوصاً جنوبی بحیرہ چین پر کنٹرول، قدیم عدن اور یمنی تجارتی عظمت کی جدید مثال پیش کرتا ہے۔

"ہوا کا زیربغل مومنوں کو پکڑنا اور روح نکالنا" — زیربغل جسم کا ایک نہایت حساس حصہ ہے، اور مومنوں کی روح کو اسی مقام سے نکالے جانے کا مطلب ہے کہ انسان کی باطنی خوبیوں اور لطافتوں کا زوال اُس کی مسلسل حسی تھکن (sensory overload) کی وجہ سے ہو رہا ہے—جس میں آنکھوں، ذہن، اور بدن کو جدید ٹیکنالوجی، تفریحات، موسیقی اور لذیذ کھانوں کی مسلسل محرکات نے گھیر لیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل تحریک اور لذت کی فراوانی نے انسان کی حِسی قوتوں کو مضمحل کر دیا ہے۔

"گدھوں کی طرح زنا" شرم و حیا کے زوال کی علامت ہے۔

"پرندوں کی پھرتی" انسانوں کی بے فکری، جلد بازی اور عمل کی سطحیت کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ "درندوں جیسے خواب" ان کی خواہشات میں درندگی اور اخلاقیات سے بیگانگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

"بتوں کی پوجا" الحاد (Atheism)، دہریت (Materialism) اور عملی دیئت (Functional Deism) کو ظاہر کرتی ہے، جو جدید دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر مختلف صورتوں میں شرک اور بت پرستی کی تجدید کی مثالیں ہیں، جہاں انسان بت پرستی کی ہی طرح اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں— جیسے نفس، مادہ، یا انسانی خواہشات — کو اپنی زندگی کا محور اور مرکزِ امید بناتا ہے۔

یوں احادیث ایک ایسی دنیا کا منظرنامہ پیش کرتی ہیں جہاں قیامت سے پہلے عیش و عشرت، مادی ترقی کی بت پرستی، اور خدا سے بیگانگی غالب ہوں گی۔ ایک ایسی دنیا جس میں اہلِ ایمان کا خاتمہ اور بدکاروں کا غلبہ ہوگا۔

تعبیر سے متعلق سوالات

دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ میں سوویت یونین کا کردار

دوسری جنگِ عظیم کے دوران، سوویت یونین اتحادی افواج کے ساتھ تھا اور نازی جرمنی کی مخالفت کر رہا تھا (جسے احادیث میں یاجوج و ماجوج سے تعبیر کیا گیا ہے)۔ تاہم، جنگ کے بعد سرد جنگ کے دوران، سوویت یونین ایک کمیونسٹ طاقت کے طور پر مذہبی عقائد اور اخلاقی اقدار کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیے رہا، کمیونزم اور الحاد کو فروغ دیا، اور عالمی اثر و رسوخ میں امریکہ کا حریف بنا۔ اس طرح اس نے دجال جیسے کردار کا مظاہرہ کیا، جس سے اس کے کردار میں ایک بظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے۔

احادیث میں بیان کردہ واقعات میں ایک ہی قوت مختلف تاریخی سیاق و سباق میں مختلف علامتی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح کی مثال ہمیں آسمانی کتب میں بھی نظر آتی ہے۔ مثلاً بابل کی سلطنت کو کتاب دانیال میں ایک ظالمانہ اور بت پرست طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے حضرت سلیمانؑ کے ہیکل کو تباہ کیا۔180 لیکن قرآن (سورہ بنی اسرائیل) میں انہی بابلیوں کو "میرے بندے" کہا گیا ہے، جب اللہ نے انہیں بنی اسرائیل پر بطور عذاب مسلط کیا۔181 قرآن کا یہ بیان بابلیوں کے عقائد کی تائید نہیں کرتا، بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ جابر قوتیں بھی مخصوص حالات میں الٰہی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں — جس طرح سوویت یونین، جو دجالی صفات کا حامل تھا، دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کا حصہ تھا۔

یہ مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علامات کو ان کے تاریخی اور دینی سیاق و سباق میں سمجھنا چاہیے، اور انہیں جامد یا مستقل کرداروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے دوران اخلاقی مسائل

حدیث میں مستقبل کی پیشگوئیوں کے واقعات میں مختلف ریاستوں کے عمومی کردار کی نشاندہی کی گئی ہے، مگر ان میں بیان کردہ کرداروں کے ہر عمل کی اخلاقی منظوری کی ضمانت نہیں دی گئی۔

مثال کے طور پر، امریکہ کی فسطائیت اور کمیونزم مخالف کوششوں کے باوجود، جاپان پر ایٹم بم گرانا، کوریا میں بے دریغ بمباری، اور ویتنام میں جنگی جرائم تاریخی حقائق ہیں، جن میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ دینی نقطہ نظر سے، ان اقدامات کو اخلاقی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حدیث ان کی اخلاقی درستگی یا منظوری کا عندیہ نہیں دیتی۔

امریکہ کے اپنے مفادات

کیا امریکہ نے یہ سب کچھ محض اپنے مفادات کے تحت کیا، یا اس نے شعوری طور پر ایک مسیحا کا کردار ادا کیا؟ یہ مضمون یہ تجویز کرتا ہے کہ تاریخ میں پیش آنے والے واقعات صرف انسانی ارادوں کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ خدائی تقدیر کا حصہ بن کر قیامت کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ میں امریکہ کی مداخلت بظاہر اس کے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے تحت تھی، مگر اس کے اقدامات نادانستہ طور پر ایک بڑے، پیش گوئی شدہ عالمی بیانیے کی تکمیل کا ذریعہ بنتے چلے گئے۔

یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں مسیح کے آنے کے تصورات

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق جو احادیث بیان ہوئی ہیں، وہ یہودی اور عیسائی تصورات سے بالکل مختلف اور جداگانہ ہیں اور ایک بالکل منفرد حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں پہلے یہودیوں اور پھر عیسائیوں کی پیشگوئیوں سے متعلق چند بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں:

یہودی پیشگوئیاں: بنی اسرائیل کے انبیاء نے پیشگوئی کی تھی کہ پہلے معبد (ہیکل) کی تباہی کے بعد یہود دوبارہ یروشلم لوٹیں گے، معبد کی دوبارہ تعمیر ہوگی، شمالی اقوام اس معبد کی بے حرمتی کریں گی، اور آخرکار اللہ تعالیٰ یہود کو ان اقوام پر فتح عطا فرمائے گا۔ انہی پیشگوئیوں کے تسلسل میں اللہ کی طرف سے ایک "مسیح" — یعنی مسح شدہ اور منتخب نبی — کے ظہور کی بشارت دی گئی۔

تاریخی تکمیل: یہ پیشگوئیاں تاریخ میں پوری ہو چکی ہیں: دوسرا معبد 516 قبل مسیح میں تعمیر ہوا، پھر یونانی دور میں خصوصاً سلوقی یونانیوں نے یروشلم میں مداخلت کی، اور 167 قبل مسیح میں معبد کی بے حرمتی کی۔ اس کے بعد یہود کو ان اقوام پر غیر معمولی فتح حاصل ہوئی، جسے تاریخ میں "مکابی بغاوت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہی حالات کے کچھ عرصے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔

مسیح کے تصور میں بگاڑ: وقت گزرنے کے ساتھ، اکثر یہودیوں نے ان پیشگوئیوں کو تاریخی واقعات سے جوڑنے کے بجائے، مختلف پیشگوئیوں کو ملا کر مسیح کے تصور کو ایک برگزیدہ اللہ کے رسول کی بجائے ایک عالمی فاتح اور بادشاہ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ مسیح کے اس نئے تصور کی بنیاد درحقیقت ان کے ذاتی مفروضات اور مذہبی تشریحات پر تھی، نہ کہ وحی کی روشنی میں حاصل ہونے والے کسی درست فہم پر۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد یہود دنیا کی امامت سے معزول کر دیے گئے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی بعثت کے دوران اس کا واضح اعلان فرمایا،182 اور قرآن مجید نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی ہے۔183

دوسری طرف، عیسائیوں کا ماننا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے اور ان کے پیروکار ہزار سال تک دنیا پر حکومت کریں گے۔ یہ تصور، یہود کی مانند، مختلف پیشگوئیوں کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں عیسائی پیشگوئیوں سے متعلق چند بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں:

مسیح کی واپسی: انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا جو ذکر ملتا ہے، وہ درحقیقت یہودیوں کے انکارِ مسیح کے نتیجے میں 66 سے 70 عیسوی کے دوران ان پر نازل ہونے والے عذابِ الٰہی کی پیشگوئی کا ایک علامتی بیان ہے، جس کا انجام 70 عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی تباہی اور معبد کی بے حرمتی کی صورت میں ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس عذاب کی وضاحت اس انداز سے فرمائی کہ ان کے انکار کرنے والوں کی موجودہ نسل کے ختم ہونے سے پہلے یہ واقعات پیش آئیں گے۔ اس میں ہیکل کے ایک ایک پتھر کے دوسرے پر باقی نہ رہنے کی پیشگوئی بھی شامل ہے، جو تاریخی حقائق سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔184

ایک ہزار سالہ حکومت:حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب مکاشفہ میں دنیا پر لوہے کے عصا سے حکومت کرنے کا اختیار ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا ہے جسے "صادق" اور "امین" کے القابات سے پکارا گیا ہے۔185 یہ القابات واضح طور پر رسول اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کے ذریعے وہ طاقتیں زوال پذیر ہوئیں جنہیں کتابِ مکاشفہ میں علامتی طور پر پیش کیا گیا تھا: سمندر کا جانور، جس کی تعبیر رومن سلطنت کے طور پر کی جاتی ہے؛ زمین کا جانور، جو کلیسا کی نمائندگی کرتا ہے؛ اور سرخ جانور، جسے فارسی سلطنت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان فتوحات نے ایک عالمی مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ مسلم خلافت — جو خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ تک پھیلی — تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے رہی، اور یہ بالکل اسی پیشگوئی کی تکمیل تھی جو کتابِ مکاشفہ میں بیان کی گئی تھی۔186 سترہویں صدی میں یورپی اقوام کا "عہدِ دریافت" اپنے اختتام کو پہنچا اور اس کے بعد یورپی نوآبادیاتی طاقتیں، جنہیں مکاشفہ میں یاجوج و ماجوج کہا گیا ہے،187 مسلم دنیا سمیت کئی خطوں پر تسلط قائم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئیں۔ اس نوآبادیاتی یلغار کے نتیجے میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی زوال پذیر ہوئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور "مردِ فتنہ": حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا سب سے واضح ذکر عہدِ جدید میں اُس وقت سامنے آتا ہے جب "مردِ فتنہ" کے ظہور کا بیان کیا جاتا ہے — یہ ایک ایسا کردار ہے جو اسلامی تصورِ دجّال سے بہت قریب تر ہے۔188 یہ نمایاں مشابہت احادیث کے اُس بیانیے کے مطابق ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا سامنا کرتے اور اُسے شکست دیتے ہیں۔ اس تصور کو اس مضمون میں علامتی طور پر سوویت یونین کی نمائندگی اور سرد جنگ کے دوران امریکہ کے کلیدی کردار سے تعبیر کیا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور مردوں کا زندہ ہونا: عہدِ جدید کی متعدد آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کو مردوں کے اٹھنے کے ساتھ جوڑتی ہیں، جس دوران انہیں گواہی دینے والے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔189 یہ تصور قرآن مجید کی سورہ مائدہ میں موجود قیامت کے دن کے اس بیانیے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنے ماننے والوں کے سامنے شہادت دیں گے۔190

مختصراً یہ کہ یہود و نصاریٰ کے مسیح کی آمد سے متعلق تصورات قرآن، احادیث اور خود ان کی اپنی کتابوں کی تعلیمات سے متضاد ہیں، کیونکہ ان کے یہ تصورات مختلف پیشگوئیوں کے امتزاج، مذہبی قیاس آرائیوں کے ذریعے ان کی تشریح کرنے، اور ان کے تاریخی تناظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی کتب میں اس موضوع سے متعلق تمام پیشگوئیاں تاریخ کے صفحات میں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔

یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ مستقبل کی پیشگوئیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے، ماضی کے واقعات کو کھلے دل و دماغ اور گہری بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور جب کسی پیشگوئی کی تکمیل کی علامات ظاہر ہوں، تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے نہ صرف ہمیں اُن نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع عطا فرمایا، بلکہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی پیشگوئیوں کی روشنی میں اُنہیں پہچاننے کی توفیق بھی دی.


حوالہ جات

142) Daniel 7:4: https://www.bible.com/bible/111/dan.7.4.NIV
143) Quran 18:99: https://quran.com/18/99
144) نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر ۲۰۲۳، غامدی انسٹیٹیوٹ آف اسلامک لیئرننگ
145) Quran 4:157: https://quran.com/4 /157
146) Quran 3:55: https://quran.com/3/55
147) Quran: 5:116-117: https://quran.com/5/116-117
148) نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر ۲۰۲۳، غامدی انسٹیٹیوٹ آف اسلامک لیئرننگ
149) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
150) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
151) Sahih Bukhari 3449: https://sunnah.com/bukhari:3449
152) Sahih Muslim 156: https://sunnah.com/muslim:156
153) آزادی کے منشور کی پیشکش: مراکش کی آزادی کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل: https://www.maroc.ma/en/news/presentation-independence-manifesto-milestone-moroccos-struggle-independence
154) https://en.wikipedia.org/wiki/Atlantic_Charter
155) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
156) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
157) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
158) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897
159) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
160) Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
161) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
162) Quran 7:171: https://quran.com/7/171
163) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
164) Revelation 6:5–6: https://www.bible.com/bible/111/REV.6.5-6.111
165) https://www.nationalww2museum.org/war/articles/franklin-d-roosevelts-d-day-prayer-june-6-1944
166) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
167) https://www.trumanlibrary.gov/library/proclamations/2660/victory-day-prayer
168) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
169) Sahih Bukhari 2476: https://sunnah.com/bukhari:2476
170) https://en.wikipedia.org/wiki/Post%E2%80%93World_War_II_economic_expansion
171) Sahih Bukhari 3448: https://sunnah.com/bukhari:3448
172) Sahih Bukhari 2476: https://sunnah.com/bukhari:2476
173) Sahih Bukhari 2476: https://sunnah.com/bukhari:2476
174) Sahih Bukhari 2476: https://sunnah.com/bukhari:2476
175) Sahih Bukhari 2476: https://sunnah.com/bukhari:2476
176) Sahih Muslim 2940a https://sunnah.com/muslim:2940a
177) Sahih Muslim 2940a: https://sunnah.com/muslim:2940a
178) Sahih Muslim 117: https://sunnah.com/muslim:117
179) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
180) Daniel 7:1–28: https://www.bible.com/bible/111/DAN.7.1-28.NIV
181) Quran 17:5: https://quran.com/17/5
182) Matthew 21:43: https://www.bible.com/bible/111/MAT.21.43
183) Quran 3:55: https://quran.com/3/55
184) Matthew 24: https://www.bible.com/bible/111/MAT.24
185) Revelation 19:15: https://www.bible.com/bible/111/REV.19.15.NIV
186) Revelation 20.4-6: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.4-6.NIV
187) Revelation 20:7-9: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.7-9.NIV
188) Thessalonians 2:3-8: https://www.bible.com/bible/111/2TH.22.3-8.NIV
189) John 5:28-29: https://www.bible.com/bible/111/JHN.5.28-29.NIV
190) Quran 5:116–117: https://quran.com/5/116-117


(جاری)


’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۷)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : ڈاکٹر ثمینہ کوثر

مسلم زاویہ فکر

اسلام اور نظریہ ارتقا کے علمی و تحقیقی مباحث میں جیسے جیسے وسعت اور ترقی آ رہی ہے، متعدد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ اس موضوع پر دنیا کے مختلف خطوں جیسے کہ امریکہ، ہندوستان، پاکستان، ترکی، مشرقِ وسطیٰ، ملیشیا اور ایران کے اہل علم کی آرا پر مشتمل تحریری سرمایہ دستیاب ہے (Ziadat 1986; Nadvi 1998; Hanioğlu 2005; Riexinger 2009; Howard 2011; Kaya 2011; Elshakry 2013; Bigliardi 2014; Ibrahim, and Baharuddin 2014; Bilgil 2015; Determann 2015; Varisco 2018; Ibrahim et al. 2019; Qidwai 2019; Daneshgar 2020)۔ چونکہ دائرہ بحث محدود ہے، اس سارے لٹریچر کا احاطہ ممکن نہیں۔ اس باب (اور باب دہم جہاں ان آرا کو امام غزالی کے ہرمنیوٹک فریم ورک کے تحت پرکھا جائے گا) میں کن اہلِ فکر کی آراء کو شامل کیا جائے، اس کے لیے تین اصول متعین کیے گئے۔

اوّل، معاصر اہلِ فکر کو ترجیح دی گئی۔ دوم، صرف ان اہل علم کا انتخاب کیا گیا جن کے نام سے اس موضوع پر خاطر خواہ علمی سرمایہ موجود ہے (سوائے ذاکر نائیک کے جنہیں ایک خاص وجہ سے استثنا دیا گیا)۔ بعض اہلِ علم نے ارتقا پر اپنی رائے محض ایک پیراگراف یا حاشیے میں بیان کی ہے، جس سے یہ متعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس پہلو سے اتفاق یا اختلاف کر رہے ہیں (کیا عمومی ارتقا سے؟ انسانی ارتقا سے؟ طویل زمانی تسلسل سے؟ یا مکینزم سے؟)۔ سوم، ان اہلِ فکر کو ترجیح دی گئی جن کے اندازِ استدلال یا طرزِ فکر میں نسبتاً انفرادیت پائی جاتی ہے، خواہ وہ ارتقا کو کسی درجے میں قبول کریں یا رد کریں۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک ہی موضوع پر اہلِ علم مختلف طرزِ استدلال سے کسی موقف تک پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ آگے دیکھیں گے، بعض اوقات اہلِ فکر ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں لیکن ان کی بنیادیں اور طریقہ استدلال مختلف ہوتا ہے، اور وہ تطبیق یا عدمِ تطبیق کے الگ الگ طریقے اختیار کرتے ہیں۔

ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے کل بیس اہل فکر کا انتخاب کیا گیا ہے جیسا کہ اصل کتاب کے صفحہ 113 پر موجود جدول 4.3 میں درج ہے۔ ان میں تخلیقیت (Creationism) اور "کسی استثنا کے بغیر" (No Exceptions) کے زاویے میں آٹھ آٹھ اہلِ فکر شامل ہیں۔ انسانی استثنا (Human Exceptionalism) میں تین اہلِ فکر اور آدمی استثنا (Adamic Exceptionalism) میں ایک اہلِ فکر شامل ہیں۔ اس وضاحت کے بعد اب ان تمام زاویہ ہائے فکر کے نمائندہ اہلِ علم کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

تخلیقیت (Creationism)

اس مکتبِ فکر کے حامی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ تمام جانداروں کی کوئی مشترکہ اصل (Common Ancestry) سرے سے موجود ہی نہیں۔ لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچے ہیں، جن میں سے بعض کا ذکر باب اوّل میں آ چکا ہے۔ بعض اہلِ فکر ارتقا کے رد میں کئی دلائل فراہم کرتے ہیں، جب کہ کچھ صرف ایک یا دو بنیادی باتیں پیش کرتے ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لیے یہاں جب ہم مختلف اہلِ فکر کی آرا کا جائزہ پیش کریں گے تو ایک مفکر کے اعتراضات کو دوسرے کے ضمن میں دہرانے سے گریز کیا جائے گا، سوائے اس کے کہ کسی مشترک رجحان کو نمایاں کرنا مقصود ہو۔

ابتداءً بعض افراد ارتقا کو محض اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ وہ اسے "بس ایک نظریہ" سمجھتے ہیں۔عالمی شہرت یافتہ مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں۔ وہ یہ فرض کرتے ہیں کہ لفظ "نظریہ" کا عام مفہوم اور سائنسی مفہوم ایک ہی ہے (Samuel and Rozario 2010; Gardner et al. 2018, 383) ۔ بظاہر اس کی بنیاد یہ سوچ ہے کہ ارتقا اسلامی نصوص سے ہم آہنگ نہیں۔ اس لیے اگرچہ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ارتقا ایک غیرمضبوط یا خام مفروضہ ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ مذہبی اسباب بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ دیگر تخلیقیت پسند یا توذاکر نائیک کے طرزِ استدلال کو دہراتے ہیں یا پھر ارتقا کو ایک ناقابلِ اعتبار سائنسی نظریہ قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔ ان کے اعتراضات زیادہ تر امریکی تخلیقیت پسندوں کے اعتراضات سے مشابہ ہیں، جن پر باب دوم میں بحث ہو چکی ہے، لہٰذا انہیں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کچھ اہلِ فکر ارتقا کو اس لیے رد کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ سائنسی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ ایرانی و امریکی مفکر سید حسین نصر اور ان کے شاگرد، ملائشین مذہبی اسکالر عثمان بکر ارتقا کے سائنسی پہلوؤں پر تنقید کرتے ہیں۔ مثلاً اس میں موجود اتفاقی میکانزم، نظریے میں پائے جانے والے خلا، بار بار ہونے والی تاریخی ترامیم جن سے یہ نظریہ مسلسل بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے، اور حیات کے آغاز سے متعلق سائنسی مشکلات وغیرہ۔ تاہم ان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ارتقا کو ما بعد الطبیعیاتی بنیادوں پر بھی رد کرتے ہیں۔ دونوں ایک Neoplatonic تصورِ کائنات کے حامی ہیں جس کے مطابق ماہیات جامد اور غیر متبدل ہیں۔ اس بنا پر ارتقا ممکن ہی نہیں۔ حسین نصر اس کی وضاحت ایک مثلث کی مثال دے کر کرتے ہیں: "مثلث مثلث ہی ہے اور کوئی چیز تدریجی طور پر مثلث میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔ جب تک ایک مثلث مکمل طور پر مثلث نہ ہو جائے، وہ مثلث نہیں ہے۔ اسی طرح جانداروں کی بھی اپنی اپنی حتمی صورت ہے"  Nasr (2006, 183) ۔ عثمان بکر اس پیرا ڈائم کو مزید کھولتے ہیں:

ایک نوع (Species) دراصل خدا کے ذہن میں موجود ایک ’’خیال‘‘ ہے جو اپنی تمام ممکنات کے ساتھ ازل سے موجود ہے۔ یہ کوئی انفرادی حقیقت نہیں بلکہ ایک مثالی صورت (archetype) ہے، اور اسی لیے یہ نہ تو کسی حد کا پابند ہے اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ مثالی صورت سب سے پہلے لطیف درجے میں ظاہر ہوتی ہے، جہاں ہر فرد ایک ’’صورت‘‘ (form) اور ایک لطیف مادے کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے۔ یہ ’’صورت‘‘ اس نوع کی بنیادی خصوصیات کا مجموعہ ہے جو اس کی غیر متبدل ماہیت کی جھلک ہوتی ہے۔Bakar (1984)

چنانچہ حسین نصر اورعثمان بکر کے نزدیک ہر شے کی ایک مقررہ اور غیر متبدل مثالی صورت (archetype) ہے۔ اسی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ ارتقا ممکن نہیں۔ البتہ واضح رہے کہ ان کا نقطہ نظر صغروی ارتقا (microevolution) کو تو رد نہیں کرتا، لیکن کبروی ارتقا (macroevolution) کو ناممکن قرار دیتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

مائیکرو ایوولیوشن (micro-evolution) کا امکان ضرور ہے، لیکن میکرو ایوولیوشن (macro-evolution) کا نہیں۔ مائیکرو ایوولیوشن دراصل کسی نوع کی مثالی صورت archetype یا form کے اندر ہی رہتے ہوئے تبدیلی ہے۔ جیسے کہ آپ اور میں انسان ہیں، اور چینی یا جاپانی لوگ بھی انسان ہیں۔ ہماری آنکھوں کی ساخت کچھ مختلف ہے، ان کی کچھ اور۔ اگر ہم زمبابوے جائیں تو ہماری جلد کا رنگ زیادہ سیاہ ہو جائے گا، اور اگر ہم سویڈن جائیں تو کچھ زیادہ سفید ہو جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ انسان کی بنیادی صورت کے اندر رہتے ہوئے ممکن ہے۔ اس طرح کی چھوٹی تبدیلیاں مائیکرو ایوولیوشن ہیں۔ اسی طرح مکھیوں کا کچھ بڑی ہو جانا، یا روشنی کے مختلف اثرات کے تحت پودوں کا ردعمل ظاہر کرنا، ان کو بعض لوگ انواع کی تبدیلی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ یہ نوع کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ہی نوع کے اندر ہونے والی ارتقائی تبدیلی ہے۔ہر نوع کی ایک وسعت اور دائرہ ہے جو اس نوع کے انفرادی وجود سے بڑا ہے۔ اسی لیے اس نوع میں مختلف افراد نئی خصوصیات کے ساتھ ظاہر ہو سکتے ہیں یا ماحولیاتی حالات کے مطابق بدل سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو گئی۔ (Nasr 2006, 184–185)

ان اعتراضات کے علاوہ، ان کے نزدیک ارتقا کے نظریے میں فلسفیانہ مسائل بھی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے بنیادی نکات naturalism اور reductionism کے مسائل ہیں۔ ارتقا ایک مادیت پرستانہ نظریہ ہے جو تخلیقی عمل میں خدا کے ہاتھ کو خارج کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ انسان کو، جو محض مادی وجود سے کہیں بڑھ کر ہے، صرف جینز اور ماحول کی پیداوار بنا دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام چیزیں ارتقا کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں:

یقیناً انسان کی زندگی بندر کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے، لیکن انسان میں وہ کچھ خصوصیات بھی ہیں جو ہمیں بندر میں نظر آتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بندر سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ اگر آپ اس کائناتی تصور میں کام کریں جہاں صرف مادی دنیا ہی موجود ہے جیسا کہ جدید سائنس دعویٰ کرتی ہے، تو پھر کوئی چارہ نہیں کہ اعلیٰ حیات کو نچلی حیات کا ارتقا مانا جائے اور بالآخر سب کو مادی اجزا تک محدود سمجھا جائے۔ لیکن اگر آپ اس کائنات میں رہتے ہیں جہاں خدا کی منفرد تخلیقی قوت کو مانا جاتا ہے… تو پھر یہ تسلیم کرنا آسان ہے کہ وہی الٰہی قوت کسی بھی چیز کو پیدا کر سکتی ہے، زندگی بخش سکتی ہے اور انسانوں کو روح سے نواز سکتی ہے (Nasr 2006, 190–191۔

تاہم ان تمام اعتراضات کے باوجود، ارتقا بنیادی طور پر اس لیے مشکل ہے کہ سید حسین نصر اور عثمان بکر نے ایک Neoplatonic نقطہ نظر اختیار کیا ہے (Bagir 2005, 49)۔ لہٰذا خواہ اس نظریے کے حق میں کتنا ہی سائنسی دباؤ موجود ہو، اور چاہے وہ سائنسی اعتراضات بھی کسی طور حل کر لیے جائیں جو انہوں نے ارتقا پر کیے ہیں، ان کا فکری تناظر اصلاً انواع کی کسی قسم کی تبدیلی کو ماننے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔

مظفر اقبال ، جو ایک کیمیا دان سے متکلم بنے، حسین نصر اور عثمان بکر کی یہی تشویش دہراتے ہیں۔ تاہم مظفر اقبال اسلامی روایت میں رائج نظم کے تصور پر بھی زور دیتے ہیں جو ارتقا کے کے نظریے میں پیش کیے گئے اتفاق پر مبنی تصور کے برعکس ہے۔ ان کے بقول:

ارتقا کے مختلف نظریات کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اتفاق پر انحصار کرتے ہیں، نہ کہ نظم (Design) پر۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انواع (یا ان کے اعضا) کے ظہور میں کوئی ڈیزائن موجود نہیں اور ہر نوع اور ہر عضو تدریجاً کامل ہوتا گیا جیسا کہ ڈارون نے کہا، تو پھر نہ صرف ڈیزائن کو بلکہ اس ڈیزائن کے خالق کو بھی رد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس یہ دکھایا جائے کہ کامل اعضا اور انواع کا اتفاقی ارتقا ان کی پیچیدگی کی وجہ سے ممکن ہی نہیں، تو ڈارون کا نظریہ منہدم ہو جائے گا۔ ڈیزائن کے خلاف دلائل میں عموماً فطرت سے جمع کیے گئے بعض ’’حقائق‘‘ کو پیش کیا جاتا ہے اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ سب حال ہی میں دریافت ہوئے ہیں۔ لیکن جب ان ’’حقائق‘‘ کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں تو یہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ چاہے کتنا ہی باریک تجزیہ کر لیا جائے، بال ہمیشہ بال ہی رہے گا۔ بلاشبہ آج ہماری معلومات جسمانی دنیا کے بارے میں آٹھ سو برس پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہیں، لیکن ان میں زیادہ تر اضافہ مقداری نوعیت کا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے سائنسدان ان حقائق سے ناواقف نہیں تھے جنہیں آج کل کی نئی دریافتیں کہا جاتا ہے۔ صرف ایک ماخذ "کتاب الدلائل" نباتات، حیوانات، انسانی جسمانیات اور نفسیات سے سینکڑوں تفصیلات فراہم کرتی ہے جو ڈیزائن کے تصور کے حق میں بطور دلیل جمع کی گئی ہیں۔ اس روایت سے غایت درجہ کے دلائل لامحدود طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی علمی روایت نہ صرف اس ضرورت سے واقف تھی کہ ڈیزائن کے تصور کو اسلام کے بنیادی عقائد سے ہٹ کر ایک آزاد دلیل کے طور پر مرتب کیا جائے بلکہ اس نے اسے نہایت باریکی اور تکمیل تک پہنچایا Muzaffar Iqbal (2008; 2009)۔

یہ حیرت کی بات نہیں کہ مظفر اقبال فطرت میں پائی جانے والی پیچیدگی کو بنیاد بنا کر "نظم و حکمت" کے دلائل کو مضبوط کرنے کے لیے Michael Behe اور William Dembski جیسے اہلِ فکر کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہیں جن کا ذکر ہم باب دوم میں کر چکے ہیں۔

وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی ایسی تعبیرات جو ارتقا کے حق میں پیش کی جاتی ہیں، ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ خاص طور پر وہ ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں جو قرآن میں آدم کی تخلیق کو استعارہ یا علامتی طور پر بیان کیا ہوا سمجھتے ہیں (Iqbal 2009, 28)۔ اسی طرح وہ اس رویے پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ ارتقا کو قرآن کی کسی ایک آیت میں ڈال کر سمجھنے کی کوشش کی جائے، بغیر اس کے کہ پورے قرآن کو مجموعی طور پر سامنے رکھا جائے (Iqbal 2009, 33–34)۔ مثال کے طور پر یہ آیت دیکھیے:

جبکہ اُس نے تمہیں پیدا کیا درجہ بدرجہ (اَطواراً)" (القرآن 71:14)

بعض لوگوں نے اس آیت کو اس بات کے ثبوت کے طور پر لیا ہے کہ قرآن میں ارتقا کا تصور موجود ہے۔ لیکن اس طرزِ فکر پر سخت تنقید کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک جامع اور ہمہ گیر نصی شواہد پر مبنی نہیں ہے اور مسلمانوں کے گزشتہ چودہ سو سال کے متفقہ عقائد کے خلاف ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر وہ ارتقا کی کسی بھی دینی تعبیر، مثلاً theistic evolution (جس کا ذکر ہم نے باب دوم میں کیا تھا)، کی صحت پر سوال اٹھاتے ہیں (Iqbal 2010)۔ شیخ معبود بھی اس بحث میں تفسیری پہلو پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن بالکل واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ پودے، جانور اور انسان الگ الگ اور غیر تدریجی تخلیقات ہیں۔ پودوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

قرآن کے مطابق تمام قسم کے پودے، چاہے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی مشابہ کیوں نہ ہوں، الگ الگ پیدا کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ وقت کے طویل عرصے میں ایک دوسرے سے ارتقا پذیر نہیں ہوئے، کیونکہ قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جو ارتقا کی طرف براہِ راست یا بالواسطہ اشارہ کرتی ہو۔(Mabud 1991, 71)

وہ اپنے مؤقف کے ثبوت میں قرآن کی ان آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو الگ اور منفرد تخلیقات کے پیدا کیے جانے کو بیان کرتی ہیں۔ مثلاً یہ آیت:

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھایا اور اس میں راستے بنائے، اور اس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی کے ذریعے ہم نے ہر قسم کے پودے اگائے۔ (القرآن 20:53)

جانوروں کے معاملے میں بھی شیخ معبود اسی طرح دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں کہیں بھی تدریجی تخلیق کا ذکر نہیں۔ یہ ان کے فکری ڈھانچے کا حصہ ہے جس کے مطابق قرآن کو عمومی اور مسلسل طور پر غیر ارتقائی انداز میں سمجھا جانا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:

اگر ہم حیوانات کی دنیا میں ارتقا کو مان لیں، تو پھر ہمیں انسان کو بھی حیوانی سلسلے کا حصہ ماننا پڑے گا۔ لیکن اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ قرآن کے خلاف ہوگا… [اسی طرح] جب قرآن نے صراحت کے ساتھ نہ تو یہ کہا ہے کہ انسان ارتقا پذیر ہوا اور نہ یہ کہ پودے ارتقا پذیر ہوئے، تو پھر ہم جانوروں کے معاملے میں ارتقا کو کیوں قبول کریں (Mabud 1991, 73

ایک اور جگہ وہ تخلیقیت کے ایک اور ثبوت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور جنّات کی مثال دیتے ہیں، جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ دھوئیں سے پیدا کیے گئے (القرآن 55:15)۔ اس پر لکھتے ہیں:

یہ ایک بالکل واضح مثال ہے ایسی مخلوق کی جو الگ اور منفرد طور پر پیدا کی گئی، کسی پہلے سے موجود نوع کے ذریعے ارتقا کے عمل سے نہیں بلکہ براہِ راست مادّے سے ایک غیر مسلسل (discontinuous) طریقے سے۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی theistic evolution کا حامی جنّات کی اصل کو امیبا سے جوڑنے کی کوشش نہیں کرے گا (Mabud 1991, 74

چنانچہ شیخ معبود کے نزدیک یہ بالکل واضح ہے کہ قرآن کسی بھی طرح کی تدریجی تخلیق کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ ایک واضح تخلیقیت پر مبنی تصورِ کائنات پیش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں وہ آدمؑ کی تخلیق کو ایک معجزہ مانتے ہیں، جو والدین کے بغیر ہوئی اور جس سے انسان وجود میں آئے۔

شامی سنّی عالم محمد سعید رمضان البوطی بھی نظریہ ارتقا کے سخت ناقد کے طور پر مشہور ہیں۔ ان کے نزدیک اس نظریے پر دو بنیادی اعتراضات ہیں: ایک نقلی (scriptural) اور دوسرا سائنسی (2017 , 311–342) ۔ سائنسی پہلو سے وہ وہی نکات دہراتے ہیں جو پہلے بھی بیان ہوئے ہیں، مثلاً یہ کہ ارتقا محض ایک نظریہ ہے۔ نقلی پہلو سےالبوطی آدمؑ کی تخلیق کے قصے کو، جس پر باب سوم میں گفتگو ہو چکی ہے، حرفِ آخر مانتے ہیں۔ وہ قرآن میں انسان کی انفرادیت اور شرافت کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے:

اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا، اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا، اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی۔(القرآن 17:70)

بیشک ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔(القرآن 95:4)

البوطی ان آیات کو ایسے دلائل کے ساتھ جوڑتے ہیں جیسے انسانی روح کی انفرادیت اور وہ عقلی صلاحیتیں جو صرف انسان کو حاصل ہیں Al-Būṭī (2017, 314) ۔ مزید برآں، وہ دیگر آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات اور اس کی تمام چیزیں انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں:

اور اُس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے، یہ سب کچھ اُس کی طرف سے تمہارے لیے عطیہ ہے۔ بیشک اس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔(القرآن 45:13)

مجموعی طور پر یہ باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان ایک برتر مخلوق ہے، اور اسی بنیاد پر البوطی انسان کی اصل کو ارتقائی عمل سے خارج قرار دیتے ہیں، خصوصاً جب وہ نظریہ ارتقا کو ایک سائنسی نظریہ کے طور پر منفی انداز میں جانچتے ہیں۔

بھارت کے معروف متکلم محمد شِہابُ الدین ندوی نے دعویٰ کیا کہ ارتقا محض ایک افسانہ ہے (1998، ص 20-22)۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ ارتقا دراصل یہودی ذہن کی پیداوار ہے جو ایک خفیہ صیہونی ایجنڈے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ لکھتے ہیں:

سائنس دانوں سے بڑھ کر دہریت کے حامی اور ان کی تنظیمیں نظریہ ارتقا کی پشت پناہی میں سرگرم رہی ہیں۔ یہاں تک کہ مارکسسٹ، صیہونی اور فری میسن بھی اس کام کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہے۔ یہود ہمیشہ سے مذہب اور مذہبی اقدار کو جڑ سے اکھاڑنے کے خواہاں رہے ہیں۔ دنیا پر حکمرانی کی خفیہ تمنا وہ مدتوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں۔ ان کے پروٹوکول اس دیرینہ خواب کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی مقصد نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مذہبی اور اخلاقی اقدار کو ختم کرنے اور تمام الحادی و لادینی عقائد، مادی فلسفوں اور مختلف ”ازموں“ کو فروغ دینے میں سرگرم ہوں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر قوم کی اخلاقی بنیادوں پر کاری ضرب لگانا ضروری ہے۔اگر عالمی فکری منظرنامے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں یہود اس پر حاوی رہے ہیں۔ کارل مارکس، جو مارکسزم کا بانی تھا؛ فرائڈ، جس نے جنسی آزادی کی حمایت کی؛ اور ڈرکھائم، جس نے اجتماعی مادیت کا تصور پیش کیا، یہ سب یہودیوں میں سے اٹھے۔ اگرچہ ڈارون یہودی نہیں تھا، لیکن اس کا نظریہ ارتقا یہودی منصوبے میں بخوبی فٹ بیٹھتا تھا۔ اسی لیے یہود اس کے سب سے بڑے مبلغ بن گئے۔ ڈارون ازم اور مارکس ازم کی ترویج صیہونی ایجنڈے میں اعلیٰ ترین ترجیح کی حیثیت رکھتی تھی اور اسے ان کے پروٹوکول میں بطور لازمی شق شامل کیا گیا (1998، ص 20-24)۔

انہوں نے آدمؑ کی تمثیلی (allegorical) تعبیرات کے خلاف بھی استدلال کیا۔ ان کے نزدیک آدم ایک تاریخی شخصیت ہیں اور قرآن اس حقیقت کو بالکل واضح کرتا ہے ۔ اس کے برعکس کہنا ایسے نتائج کو جنم دیتا ہے جن میں اسلام کے دیگر انبیا کو بھی محض اساطیری حقیقت قرار دینا شامل ہے(ندوی 1998، ص 107–116)۔

ذیل کی آیات پر غور کیجیے جن میں آدم کا ذکر نوح، ابراہیم اور عیسیٰ کے ساتھ آیا ہے:

اللہ نے آدم کو، نوح کو، آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر چن لیا۔(القرآن 3:33)

بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے: اللہ نے اسے مٹی سے بنایا، پھر اس سے کہا ’ہو جا‘ تو وہ ہو گیا۔(القرآن 3:59)

ندوی اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اگر آدم کو تمثیل کے طور پر تعبیر کیا جائے، تو پھر ان آیات میں مذکور دیگر انبیاء کو تمثیل ماننے سے کیا چیز روکے گی؟ آدم کو تمثیل کہنا اور باقی انبیاء کو تاریخی ماننا ایک بے اصول، وقتی اور من مانی تعبیر ہوگی جو فکری تضاد اور عدمِ تسلسل کو جنم دیتی ہے (1998، ص 99–106

آخر میں، ہارون یحییٰ، جو عدنان اوکطار "Adnan Oktar" کا قلمی نام ہے، ایک خود ساختہ ترک مبلغ ہیں جو ارتقا اور اس کی اسلام سے عدم مطابقت پر کئی مشہور کتابیں شائع کرنے کے بعد شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔ ان کی کتابوں میں The Atlas of Creation اور The Evolution Deceit (Solberg 2013) شامل ہیں۔

اب تک زیرِ بحث آنے والے تمام مفکرین میں، ہارون یحییٰ ارتقا کو تسلیم نہ کرنے کے سب سے زیادہ متنوع دلائل پیش کرتے ہیں۔ وہ سائنس کو سرے سے رد کر دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ارتقا کے حق میں دیے جانے والے ہر ثبوت، چاہے وہ فوسل ریکارڈ ہوں ، مالیکیولر بایولوجی ہو یا ہمولوجی "homology" وغیرہ، اپنے معیار پر بار بار ناکام ثابت ہوتے ہیں(Yahya 2001a; 2003a; 2006a)۔ مزید یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ارتقا بذاتِ خود ایک "قدرت پرستانہ" (naturalistic) نظریہ کائنات ہے جو اسلامی زاویہ نظر کے خلاف ہے۔

یحییٰ ارتقا کے فکری ماخذ پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس نظریے کی بنیاد دراصل یونانی فلاسفہ کے pagan origins سے جڑتی ہے، جہاں زندگی کی ابتدا کو ماورائی یا الوہی تناظر میں نہیں بلکہ خالصتاً مادی اصولوں کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ یحییٰ کے نزدیک اس تاریخی تناظر سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ارتقا کا فکری ڈھانچہ ابتداء ہی سے ایک naturalistic worldview پر قائم ہے، جو اسلامی تصورِ کائنات کے ساتھ بنیادی طور پر ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے وہ واضح طور پر اس امر پر اصرار کرتے ہیں کہ chance-like mechanisms یعنی محض اتفاقیہ عوامل کے ذریعے حیات اور کائنات کی تشکیل، اسلامی عقیدے سے سرِے سے متناقض ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

ایک صاحبِ ایمان مسلمان کے نقطۂ نظر سے جب اس مسئلے پر غور کیا جائے اور قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو رہنما بنایا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ کوئی بھی ایسا نظریہ جو اپنی اساس میں chance پر مبنی ہو، اسلامی تصورِ تخلیق کے ساتھ کسی درجے میں بھی ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔ نظریۂ ارتقا کے مطابق زندگی کی تشکیل و ارتقاء میں chance، وقت اور بےجان مادہ فیصلہ کن عناصر ہیں، اور یوں انہیں عملاً خالق کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک pagan-based theory ہے جو مادی اور غیر شعوری عوامل کو تخلیقی حیثیت عطا کرتی ہے، اور یہ بات کسی بھی مسلمان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتی، کیونکہ اسلامی عقیدہ اس بنیاد پر استوار ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد خالق ہیں جو عدم سے وجود میں لاتے ہیں۔ اس تناظر میں ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سائنس اور عقل دونوں کو بطورِ آلہ استعمال کرتے ہوئے ہر اس نظریے اور فکر کی تردید کرے جو اس بنیادی ایمانی حقیقت سے متعارض ہو (Yahya 2003b, 33–34

اس نکتے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، ہارون یحییٰ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نظریہ ارتقا دراصل چارلس ڈارون کی اختراع ہے، جو ایک دہریہ تھا۔ ہارون یحییٰ یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ ڈارون نے اپنے عدمِ ایمان کو اس لیے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی تاکہ اس کا نظریہ خدا کے انکار کی روشنی میں کسی رکاوٹ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ یہ پہلو ہارون یحییٰ کے نزدیک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ دہریت اور ارتقا کو ایک ہی سکے کے دو رُخ سمجھتے ہیں، اس طرح کہ ڈارون کے نظریے کی حمایت دراصل دہریت کی تائید کے مترادف ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:

حقیقت یہ ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سو برس سے دہریہ مفکرین ڈارون کے حامی رہے ہیں اور لادینی نظریات نے محض اس کی دہریت کی وجہ سے ڈارون ازم کو تقویت بخشی ہے۔ اس لیے ڈارون کے دہریہ ہونے کے اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کو یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ اسے مذہبی یا کم از کم مذہب کے مخالف نہ سمجھیں، اور پھر اس کی ذات، اس کے نظریے یا اس جیسے دوسرے خیالات کی حمایت کرتے رہیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو عملاً اپنے آپ کو دہریوں کی صف میں شامل کر لیں گے (Yahya 2003, 54–56

اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ ہارون یحی نے اپنی بعض تصانیف میں Intelligent Design (ID) کی تحریک سے متعلق لٹریچر سے استدلال کیا ہے۔ مظفر اقبال کی طرح وہ بھی اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لیے Michael Behe کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہارون یحی کا کہنا ہے کہ ارتقا نے ماضی کے مختلف سماجی و سیاسی "ازموں" کو جنم دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ تقریباً ایک صدی کے فکری و سماجی رجحانات، جن میں کمیونزم، فاشزم، کیپٹلزم اور نسلی امتیاز شامل ہیں، کو ہارون یحیٰ ارتقائی فکر کی پیداوار قرار دیتے ہیں اور اسی کو دنیا میں اخلاقی زوال کا بنیادی سبب بھی بتاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہارون یحی تخلیق پر مبنی قرآنی بیانیے کے مطالعہ پر زور دیتے ہیں اور اس میں ارتقائی تصور کو تلاش کرنے کی کسی بھی کوشش کو رد کردیتے ہیں۔ تاہم یہ پہلو خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ وہ ارتقا کے سخت ناقد ہیں، پھر بھی وہ اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہیں تو زندگی کو ارتقائی عمل کے ذریعے بھی تخلیق کر سکتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک موجودہ دلائل ،خواہ وہ وحی سے ماخوذ ہوں یا سائنسی تحقیق سے، اس نتیجے تک پہنچنے کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتے (Yahya 2003, 108–109

تخلیق پسند مکتبِ فکر کے اس جائزے کو ہم یہیں سمیٹتے ہیں۔ اس مختصر بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختلف مفکرین نے ارتقا کو رد کرنے کے لیے نہایت متنوع دلائل پیش کیے ہیں۔ ان میں کہیں سائنسی دلائل ہیں، کہیں فلسفیانہ و الٰہیاتی استدلال، کہیں تفسیری توضیحات، اور بعض اوقات سماجی و سیاسی بنیادیں بھی۔ بعض نکات پر ان کے افکار میں اشتراک پایا جاتا ہے، مثلاً آدم کی تمثیلی تعبیر کو ناقابلِ قبول قرار دینا؛ جبکہ کئی مواقع پر وہ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک ہی علمی دائرے میں استدلال کرنے والے مفکرین کے مابین بھی زاویۂ نظر اور ترجیحات میں فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ اہلِ فکر ارتقا کو محض اس بنیاد پر رد کرتے ہیں کہ یہ صرف "ایک نظریہ" ہے، جیسا کہ ذاکر نائیک؛ جبکہ دیگر، جیسے ہارون یحییٰ، اس کے خلاف سائنسی اعتراضات کا ایک منظم اور تفصیلی مجموعہ پیش کرتے ہیں۔

(جاری)

اداریہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ جمعۃ المبارک (۱۵ اگست) کو برادرِ عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارنؒ اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک عرصہ سے بیمار تھے مگر معمولات مسلسل جاری رہے، جمعرات کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حسبِ معمول اسباق پڑھائے اور جمعۃ المبارک کو صبح نمازِ فجر پڑھائی۔ جمعہ سے قبل خطبۂ جمعہ کی تیاری کر رہے تھے، غسل کیا اور کپڑے پہنے، اسی دوران اجل کا بلاوا آ گیا، حرکتِ قلب بند ہوئی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے۔ مجھے مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد اس سانحہ کی اطلاع ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب نے دی، فوری ان کے گھر حاضر ہوا تو وہ سوگوارانِ خاندان کے حصار میں ایسے گھرے ہوئے تھے کہ چہرے پر بلا کا سکون تھا، یوں جیسے آرام سے سو رہے ہوں، ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کلمہ طیبہ اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، بیٹوں سے تعزیت کی اور ہم ان کی تجہیز و تکفین کے انتظامات کے مشورہ میں مصروف ہو گئے۔

ان کا سنِ ولادت ۱۹۵۲ء ہے، اس لحاظ سے انہوں نے تہتر سال کی عمر پائی ہے اور وہ ساری عمر پڑھنے پڑھانے اور درس و تدریس میں مصروف رہے۔ حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کے خصوصی تلامذہ اور تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی و تدریسی اور تصنیفی معاملات میں ان کے معاون بھی تھے، اعلیٰ پائے کے مدرس تھے، معقولات و منقولات دونوں پر یکساں دسترس رکھتے تھے، ابتدا سے دورہ حدیث تک ہر درجہ کی کتابیں پڑھائیں، تفہیم کا ذوق بہت عمدہ تھا، شاگردوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے اور بے تکلف گفتگو کا مزاج تھا جس سے ان کے شاگرد بہت محظوظ ہوتے تھے۔

میں نے فراغت کے بعد کم و بیش بیس سال تک مدرسہ انوار العلوم میں تدریس کے فرائض انجام دیے جبکہ قارن صاحبؒ ابتدا سے ہی جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریس سے وابستہ ہو گئے اور کم و بیش نصف صدی کے لگ بھگ مسلسل تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ ایک عرصہ تک جامعہ نصرۃ العلوم کے ناظم بھی رہے۔ حضرت والد محترم اور عمِ مکرم رحمہما اللہ تعالیٰ جب زیادہ بیماری اور معذوری کے دور میں داخل ہوئے تو ان کے حکم پر میں نے بھی جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سنبھال لیں جو بحمد اللہ تعالیٰ اب تک جاری ہیں۔ بزرگوں کی وفات کے بعد دورۂ حدیث میں بخاری شریف ہم دونوں بھائیوں کے سپرد چلی آ رہی ہے، اس ترتیب کے ساتھ کہ ایک سال بخاری اول میرے پاس اور دوم ان کے پاس ہوتی تھی، جبکہ دوسرے سال اول ان کے پاس اور دوم میرے پاس ہوتی تھی۔ اس سال بھی اسی ترتیب سے اول ان کے پاس اور ثانی میرے پاس رہی، مگر وہ اپنے وقت پر بارگاہِ ایزدگی میں پیش ہو گئے اور اساتذہ کے مشورہ سے بخاری اول جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کے سپرد کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل ترمذی شریف اول پڑھاتے چلے آ رہے تھے۔

تدریس میں ان دونوں کا ذوق فقہی مباحث کا ہے، دونوں حضرت والد محترم رحمہ اللہ کی طرز پر فقہاء کے اختلافات پر محدثانہ بحث کرتے ہیں اور بزرگوں کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مگر میرا مزاج مختلف ہے، اس لیے بخاری شریف کے سبق کے آغاز میں طلبہ سے عرض کر دیا کرتا ہوں کہ میرے ہاں آپ کو سبق میں صرف تین چیزیں ملیں گی: حدیث کا مفہوم و ترجمہ کیا ہے، ترجمۃ الباب کے ساتھ حدیث کا تعلق کیا ہے، اور آج کے عصری ماحول میں یہ حدیث ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے؟ فقہی مباحث آپ کو قارن صاحب اور فیاض صاحب کے ہاں ملیں گے اور میں تھوڑی بہت یہ خدمت طحاوی شریف میں کرتا رہوں گا، وہ بھی ایک عرصہ سے میرے زیر تدریس چلی آ رہی ہے۔

قارن صاحبؒ اول درجہ کے مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین خطیب بھی تھے اور پیپلز کالونی گوجرانوالہ کی جامع مسجد تقویٰ میں گزشتہ کم و بیش پینتیس سال سے جمعہ کی خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی وہیں خطبہ جمعہ کے لیے جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ وقت آگیا اور وہ خاموشی کے ساتھ اس دنیا کو خیرباد کہہ گئے۔ عشاء کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جو اُن کے بڑے فرزند اور پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا حافظ نصر الدین خان عمر نے پڑھائی اور ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام، دینی کارکنوں اور شہریوں نے اس میں شرکت کی۔ اس کے بعد انہیں قبرستان کلاں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور ان کے خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی روایات قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

(۲۲ اگست ۲۰۲۵ء)

بونیر میں امدادی سرگرمیاں اور مدارس کے طلباء

مولانا مفتی فضل غفور

مولانا عبد الرؤف محمدی

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 

آج ہم نے سیلابی ریلوں کی وجہ سے جو ریپ بھرا ہوا ہے گھروں میں اور دکانوں میں، مارکیٹوں میں اور بازاروں میں، اس کی صفائی کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے، ہم نے تو ایک ہزار رضاکاروں کا بتایا تھا، لیکن ابھی تک جو ہمارے ساتھ رپورٹ ہوئے ہیں وہ ساڑھے تین ہزار تک رضاکار ہیں۔ آپ یہ سلسلہ دیکھ سکتے ہیں۔ 

الحمد للہ دینی مدارس طلباء کرام اور علماء کرام اور دیندار لوگ یہاں پر آئے ہیں، لوگوں کی گلیوں میں کوچوں میں گھروں میں دکانوں میں بازاروں میں مارکیٹوں میں وہ صفائی کرنے میں مصروف تھے، الحمد للہ، علماء کرام اور دیندار طبقہ کسی بھی موقع پر دکھی انسانیت کی خدمت سے پیچھے نہیں رہتا، ہم دکھ کی اس گھڑی میں اپنے پیر بابا کے عوام کے ساتھ، بچھونئے اور قدرنگر بٹئی کے عوام کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ ان شاء اللہ العزیز ہمارا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 

یہاں تک کہ ہمارے یہاں پر جو اقلیتی برادری ہے ان کے گھروں بلکہ ان کی جو عبادت گاہ ہے اس کی صفائی کے لیے بھی ہم نے مولانا تاج الرحمٰن صاحب کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے، ہم نے سو سو بندوں کی ایک ایک ٹیم تشکیل دی ہے، ان کے لیے کھانے کا بندوبست بھی موجود ہے، ہمارے پاس الحمد للہ مشنریاں بھی موجود ہیں، ایکسکیویٹرز بھی ہیں، ٹریکٹرز بھی ہیں، ڈمپ ٹرکس بھی ہیں، ٹرالیاں بھی ہیں، الحمد للہ، اور ساتھ ہی اپنے بیلچوں اور کدالوں سمیت وہ یہاں پر تشریف لائے ہیں، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور مقامی آبادی سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ تعاون کریں جی، جزاکم اللہ خیراً‌۔

(ویڈیو گفتگو: مولانا مفتی فضل غفور، نائب امیر جمعیۃ علماء اسلام خیبرپختونخوا)


پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک کسی قدرتی آفت یا آزمائش سے دوچار ہوا، دینی مدارس کے طلباء اور مذہبی جماعتوں کے رضاکار سب سے پہلے میدان عمل میں اترے۔ آج بونیر کے متاثرین کی امداد کے لیے جو عظیم انسانی خدمت دیکھنے کو ملی ہے، وہ اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آج بونیر میں 3000 رضاکار پہنچے ہیں، جن میں اکثریت دینی مدارس کے طلباء کی ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں تھیں آج بیلچے، کدالیں اور دیگر اوزار لیئے وہ بونیر پہنچے ہیں، انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دین کا سچا طالب علم صرف مساجد و مدارس تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانیت کی خدمت کے ہر موقع پر پیش پیش ہوتا ہے۔

اس وقت بونیر کے مقامی لوگوں کے گھر اور دکانیں بارش کے پانی کے ساتھ آنے والی مٹی اور ملبے سے بھرے ہوئے ہیں۔ رہائش، کاروبار اور روزمرہ زندگی اس آفت کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔ ایسی گھڑی میں متاثرین کی سب سے بڑی ضرورت ملبے کی صفائی اور گھروں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔ یہ مشکل اور محنت طلب کام وہ ذمہ داری ہے جسے ان رضاکاروں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔

ان رضاکاروں کا یہ جذبہ اور قربانی دراصل اسلام کی اس بنیادی تعلیم کا عملی اظہار ہے جس میں کہا گیا ہے:

الخلق کلہم عیال اللہ، فأحب الخلق إلی اللہ أنفعہم لعیالہ
(تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔)

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی فضل غفور صاحب کی خدمات اور کردار کو خاص طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے، جو مسلسل کئی دنوں سے متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ وہ نہ صرف خود اس کارِ خیر میں عملی حصہ لے رہے ہیں بلکہ دیگر فلاحی اداروں اور رضاکاروں کو بھی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت اور رہنمائی سے یہ کاروانِ خدمت مزید منظم اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ سب منظرنامہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے رضاکار محض عبادت گزار نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کے حقیقی خادم ہیں۔ جب قوم پر مشکل آتی ہے تو یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے وسائل، وقت اور محنت کو نچھاور کر کے میدان عمل میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

لہٰذا آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان رضاکاروں اور دینی مدارس کے طلباء کو نہ صرف خراجِ تحسین پیش کریں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ ان کے کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

یہ نوجوان محض آج نہیں بلکہ کل بھی اس ملک کے ہر بحران میں امید کی کرن اور سہارا ہیں۔ ان کا یہ جذبہ اس بات کا اعلان ہے کہ مدارس اور مذہبی جماعتوں کی یہ کاوشیں پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہیں۔

(مولانا عبد الرؤف محمدی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل)


اسلام ایک عالمی مذہب کیسے بنا؟

ایپک ہسٹری

یہ ایک ویڈیو کی گفتگو ہے جو اسلام کی تاریخ، اس کے ارتقاء، اور دنیا پر اس کے اثرات کے حوالے سے ایک جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں آغازِ اسلام یعنی حضرت محمد ﷺ کی دعوت، خلفائے راشدین کے ادوار، اموی اور عباسی سلطنتوں کے عروج، علمی و تہذیبی ترقی، صوفیانہ تحریکوں؛ اور اسلام کے افریقہ، ایشیا، اور یورپ تک پھیلاؤ کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منگولوں کی یلغار، صلیبی جنگوں، عثمانی اور صفوی سلطنتوں، برصغیر کے ماضی اور بعد میں یورپی نوآبادیاتی دور تک کے مراحل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ گفتگو واضح کرتی ہے کہ اسلام محض ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور سیاسی قوت رہا ہے جس نے علم، فنون، معاشرت اور سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ جدید دور میں بھی یہ مذہب نہ صرف مسلم دنیا کی تشکیلِ نو کا ذریعہ ہے بلکہ مغرب میں بھی اپنی موجودگی اور اثرات کے باعث عالمی مکالمے کا حصہ بن چکا ہے۔

اسلام آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ مانا جانے والا مذہب ہے جو ساتویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے صحرائی خطے سے ابھرا۔ اس کے بانی حضرت محمد ﷺ تھے، جو غالباً‌ 570 عیسوی میں مکہ میں پیدا ،ہوئے اور 610 عیسوی میں غارِ حرا میں حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے وحی کا آغاز ہوا جو قرآن مجید کی صورت میں مرتب ہوئی۔ یہ وحی روحانی اعتبار سے ایمان کا معاملہ ہے مگر اس کا تاریخی اثر بہت گہرا ثابت ہوا۔ ابتدا میں آپ ﷺ نے خفیہ طور پر قریبی لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس میں توحید، اخلاقی اصلاح اور خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا پیغام شامل تھا۔ آہستہ آہستہ آپ ﷺ نے علی الاعلان دعوت دینا شروع کی تو صحابہ کرامؓ نے آپ کی حمایت کی، مگر قریش کی مخالفت نے کشمکش اور پھر جنگ کی صورتحال بنا دی۔ اسی دور میں جہاد کا تصور سامنے آیا جس کے دو معانی تھے: ایک، نفس اور اخلاقی تقاضوں کے ساتھ جدوجہد؛ اور دوسرا، اللہ کی اجازت سے مسلح جدوجہد۔ طویل کشمکش کے بعد مسلمانوں کو غلبہ ملا اور آپ ﷺ کی وفات تک بیشتر عرب اسلام کے دائرے میں آچکے تھے۔

آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ پہلے خلیفہ منتخب ہوئے اور ان کے بعد کے خلفاء نے اسلام کو عرب سے باہر پھیلایا۔ ساسانی اور بازنطینی سلطنتیں صدیوں کی لڑائیوں سے اتنی طاقتور نہ رہی تھیں۔ مسلمان لشکروں نے شام، مصر اور ایران کو فتح کیا۔ ان علاقوں کے زیادہ تر لوگ مسیحی، یہودی اور زرتشتی تھے جنہیں جزیہ دینا پڑتا مگر انہیں اپنے مذہب پر قائم رہنے کی آزادی تھی۔ 

اسلام کا پھیلاؤ ابتدا میں سست تھا اور زیادہ تر زبانی روایت پر مبنی تھا، یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں پہلا خانہ جنگی کا فتنہ شروع ہوا جس سے شیعہ اور سنی مذاہب کی بنیاد پڑی۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد اموی خاندان نے اقتدار سنبھالا اور دارالحکومت دمشق منتقل کیا۔ کربلا میں حضرت حسینؓ کی شہادت نے شیعیت کو ایک الگ مذہبی شناخت مہیا کر دی۔

اموی خلافت کی توسیع نے شمالی افریقہ اور اندلس تک اسلام کو پھیلا دیا۔ طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا اور اموی سلطنت کا دائرہ وسیع ہو کر پاکستان تک پہنچ گیا۔ غیر عرب نومسلم (موالی) امتیازی سلوک کا شکار رہے جس سے بغاوتیں ہوئیں۔ 750 میں عباسیوں نے امویوں کو شکست دے کر بغداد کو دارالخلافہ بنایا۔ یہ اسلام کا سنہری دور تھا جس میں علم و فنون، طب، فلکیات اور ریاضی میں بڑی ترقی ہوئی۔ اس دور میں شیعہ و صوفی تحریکیں بھی ابھریں۔

وقت کے ساتھ ساتھ اسلام افریقہ، وسطی ایشیا، اور جنوبی ایشیا میں تجارت اور صوفیاء کے ذریعے پھیلا۔ سلجوق ترکوں نے اسلام قبول کیا اور خلافت کے عملی حکمران بن گئے۔ صلیبی جنگوں کے باوجود صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس واپس لیا۔ بعد میں منگولوں کی یلغار نے بغداد کو تباہ کیا مگر بالآخر انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کے اثر سے ملایہ اور انڈونیشیا میں مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں۔

چودھویں صدی میں عثمانی سلطنت ابھری جس نے بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ فتح کیا اور یورپ تک اپنے اقتدار کو بڑھایا۔ اس دوران ایران میں صفوی سلطنت نے اثنا عشری تشیع کو سرکاری مذہب قرار دیا۔ جبکہ برصغیر میں مغل سلطنت نے ہندو اکثریت پر حکومت قائم کی۔ لیکن رفتہ رفتہ مسلم طاقتیں اندرونی تقسیم اور بیرونی حملوں سے کمزور ہوتی گئیں۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپی نوآبادیات نے مسلم دنیا پر قبضہ کیا۔ اس کے خلاف مزاحمت میں اسلام اہم قوت بن کر ابھرا۔ اسی دوران وہابی اور سلفی تحریکیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے ابتدائی اسلام کی طرف واپسی پر زور دیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد خلافتِ عثمانیہ ختم ہوئی۔ بیسویں صدی میں آزادی کی تحریکوں، ایران کے انقلاب اور مسلم دنیا میں نئی ریاستوں کے قیام نے نقشہ بدل دیا۔

جدید دور میں اسلام نے مغربی دنیا کے اندر بھی بڑی آبادیوں کے ذریعے نمایاں حیثیت حاصل کی ہے، مگر نائن الیون کے حملوں جیسے واقعات نے اسے مغرب میں شکوک و شبہات اور خوف کے تناظر میں پیش کیا۔ اس کے باوجود اسلام اپنی 1400 سالہ تاریخ میں بار بار یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ معتدل، پائیدار اور تہذیبوں کی بنیاد بننے والا مذہب ہے۔ آج تقریباً دو ارب مسلمان دنیا بھر میں اس کی میراث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

https://youtu.be/p-G6dZw3k_U


پاکستان اور عالمِ اسلام: فکری و عملی رکاوٹیں کیا ہیں؟

عبد اللہ الاندلسی

انٹرویو نگار : پال ولیمز

استاذ عبداللہ الاندلسی کے بارے میں

(’’البلاغ اکیڈمی‘‘ کی ویب سائیٹ سے حاصل کردہ استاذ عبد اللہ الاندلسی کے تعارف کا ترجمہ)


استاذ عبداللہ الاندلسی ایک نمایاں بین الاقوامی مقرر، مفکر، اور فکری رہنما ہیں جو اسلامی فکر کو فروغ دینے اور مسلمانوں معاملات پر گفتگو کے حوالے سے وسیع پیمانے پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا کام ایسے عقلی دلائل پیش کرنے پر مرکوز ہے جو اسلامی نظامِ عقیدہ کی فکری بنیادوں کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ وہ اسلامی طرزِ زندگی اور موجودہ معاشرتی مسائل کے لیے اسلامی حل کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔ استاذ عبداللہ کے نقطۂ نظر کی بنیادیں روایتی اہل سنت والجماعت کے فکری مکاتب میں پیوست نظر آتی ہیں، اور وہ اپنے عوامی خطابات، تحریروں، اور مباحثوں میں روایتی اسلامی علمی ورثے سے وسیع استفادہ کرتے ہیں۔

پرتگالی اور فرانسیسی نوآبادیات کے شمالی افریقی نسل سے تعلق رکھنے والے استاذ عبداللہ نے 14 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، جبکہ انہوں نے 10 سال کی عمر سے ہی سنجیدگی مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ سابقہ عیسائی ہونے کی حیثیت سے ان کا اسلام کا سفر الٰہیات اور فلسفے کی متجسس تلاش سے ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی فکر، فلسفہ، اور سماجی علوم کی تعلیم جاری رکھی۔

اہم شعبہ جات میں مہارت

استاذ عبداللہ الاندلسی نے مختلف موضوعات پر بات کی ہے، جن میں شامل ہیں:

ان کی فکری سرگرمیاں صرف الٰہیاتی مباحثوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ سیاسی فلسفہ، نفسیات، بشریات اور طبعی علوم سے متعلق کلیدی مسائل کو بھی حل کرتے ہیں۔ وہ اکثر اس بات پر گفتگو کرتے ہیں کہ اسلام کس طرح جدید دور کے معاشرتی چیلنجز کے حل پیش کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کس طرح ایک متوازن اور منصفانہ معاشرے کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

عوامی تقریریں اور مباحثے

ایک بین الاقوامی مقرر کی حیثیت سے استاذ عبداللہ الاندلسی نے دنیا بھر کے متعدد کمیونٹی سینٹرز، یونیورسٹیوں، اور کالجوں میں لیکچرز اور تقاریر دی ہیں۔ وہ بڑے ٹی وی چینلز پر بھی نمودار ہوئے ہیں، جن میں شامل ہیں: بی بی سی، آئی ٹی وی، بی بی سی عربی، بی بی سی ریڈیو 4، الجزیرہ، پریس ٹی وی، اسلام چینل، اقرا ٹی وی۔ وہ سرکردہ ملحدین، سیکولرسٹ، ایگناسٹکس، لبرلز، اور عیسائیوں کے ساتھ اپنے مباحثوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ مباحثے الہیات سے لے کر سیاسی فلسفہ تک مختلف موضوعات پر محیط ہوتے ہیں، جو کلیدی فکری مسائل پر مسلم نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔

مسلم ڈیبیٹ انیشی ایٹو

2009 میں استاذ عبداللہ نے مسلم ڈیبیٹ انیشی ایٹو (MDI) کی مشترکہ بنیاد رکھی، جو ایک عوامی فورم ہے جو متنوع پس منظر کے لوگوں کے درمیان کھلے مکالمے اور تنقیدی بحث کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے۔ جس میں مفکرین، ماہرینِ تعلیم، سیاست دان، اور عوامی مقررین شامل ہیں۔ ایم ڈی آئی اسلامی فکری سوچ کے لیے ایک پلیٹ فارم پیش کرتا ہے تاکہ وہ وسیع پیمانے پر نظریاتی رجحانات کے ساتھ شریک ہو، جو باہمی احترام کے ماحول میں عقلی گفتگو کے ذریعے افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔

اسلامی فکر میں شراکت

اسلامی فکر میں استاذ عبداللہ کی شراکت ان کی عوامی تقریروں سے آگے بڑھ کر ہے۔ وہ تحقیق، تحریر، اور کمیونٹی آؤٹ ریچ میں شامل ہیں، جو اسلامی تہذیب کی فکری اَحیا (نہضہ) پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کا کام سیکولرازم اور لبرل جمہوریت جیسی مغربی نظریات پر ایک عقلی تنقید فراہم کرنے کی سعی ہے، اور جدید دور کے چیلنجز کو حل کرنے میں اسلامی فلسفہ کی مسلسل مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو مغربی فکر پر تنقیدی نقطۂ نظر سے اس طور کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ساتھ ہی اسلامی علمی ورثے کو بھی برقرار رکھا جائے۔

اشاعتیں اور میڈیا میں شمولیت

استاذ عبداللہ نے متعدد مضامین اور مقالے لکھے ہیں جن میں شامل ہیں:

میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے ذریعے وہ وسیع تر سامعین تک پہنچتے ہیں، اور موجودہ عالمی مسائل، فلسفہ، اور معاشرتی ڈھانچوں پر ہونے والی گفتگو میں اسلامی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔

ذاتی فلسفہ اور اثر و رسوخ

ایک ذاتی نوٹ پر، استاذ عبداللہ اپنے اسلامی نظریات کلاسیکی اہل سنت والجماعت کے فکری مکاتب سے لیتے ہیں، جو اسلامی قانون، اخلاقیات، اور الٰہیات کے حوالے سے ان کے نقطۂ نظر کو تشکیل دیتا ہے۔ وہ اسلام کی عقلی بنیاد کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلام کا عالمی نقطۂ نظر جدید دنیا کے فکری اور روحانی چیلنجز کو پورا کر سکتا ہے۔ ان کا کام ایسے مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت رکھا ہے جو اپنے عقیدہ میں فکری مضبوطی اور اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

albalaghacademy.org

بلاگنگ تھیالوجی کا انٹرویو

(یوٹیوب چینل ’’بلاگنگ تھیالوجی‘‘ کے پال ولیمز کی طرف سے لیے گئے استاذ عبد اللہ کے ایک انٹرویو کی روئیداد)

عبداللہ، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، ایک بین الاقوامی مقرر، مفکر اور اسلام اور مسلمانوں کے معاملات کے فکری وکالت کرنے والے ہیں۔ وہ قرآن انسٹیٹیوٹ میں ایک انسٹرکٹر اور شعبہ ’’آکسیڈنٹالوجی‘‘ کے سربراہ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مسلم ڈیبیٹ انیشی ایٹو کے شریک بانی بھی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے وہ اسلام کے فکری اساسیات کو واضح کرنے اور ان کا دفاع کرنے، اسلامی طرزِ زندگی کو جدید چیلنجز کا حل ثابت کرنے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے حقوق کی وکالت کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تدریس کی ہے اور لیکچرز دیے ہیں، لیکن انہیں زیادہ شہرت ان کے متعدد ٹی وی پروگرامز اور نمایاں عوامی مباحثوں سے ملی ہے جو یوٹیوب پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

دورۂ پاکستان کا تعارف

حالیہ دنوں میں وہ ایک طویل دورے کے بعد پاکستان سے واپس آئے ہیں جہاں انہوں نے ملک بھر کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور کئی دلچسپ تجربات حاصل کیے جنہیں وہ سامعین کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان آنے کی بنیادی وجہ کیا تھی کیونکہ وہ خود لندن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی مسلم ممالک جا چکے ہیں، جہاں عام طور پر انہیں لیکچرز اور دوروں کے لیے بلایا جاتا رہا ہے، جیسا کہ لبنان یا مراکش میں، لیکن ان دوروں کا دورانیہ زیادہ نہیں ہوتا تھا اور زیادہ تر وہ ایک سیاح کی حیثیت سے آتے جاتے رہے۔ ان کے خیال میں یہ مسلم دنیا کا صرف سطحی تجربہ تھا، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ کہیں جا کر مقامی زندگی کو گہرائی سے دیکھیں اور اس کا حصہ بنیں، نہ کہ صرف مہمان یا سیاح کی حیثیت سے۔ اس کا موقع تب ملا جب پاکستان کے کئی پوڈکاسٹرز نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں مدعو کیا۔ اسی دوران ان کے ایک شاگرد، جو کینیڈا سے تعلق رکھتے تھے، لاہور میں شادی کر رہے تھے اور انہوں نے بھی دعوت دی۔ اکثر دوست فاصلوں کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے لیکن انہوں نے سوچا کہ یہ اچھا موقع ہے۔ چنانچہ پاکستان میں موجود خاندانوں نے انہیں اپنے ہاں قیام کی دعوت دی اور ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے ایک مہینے کے لیے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ زندگی کو قریب سے دیکھ سکیں۔

ابتدا میں ان کا ارادہ صرف ایک مہینے کے قیام کا تھا لیکن وہ ڈھائی ماہ تک پاکستان میں رہے۔ اگرچہ کچھ مواقع پر انہیں پوڈکاسٹ کے لیے لاہور بلایا گیا اور وہاں ہوٹل میں قیام بھی ہوا لیکن مجموعی طور پر وہ اپنے ذاتی اخراجات پر پاکستان آئے اور قیام کیا۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی آمد کسی پر بوجھ بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انہوں نے یہ بھی سیکھا کہ لوگ خاص طور پر غیرملکیوں کو بھرپور مہمان نوازی دیتے ہیں، اور اکثر مہمانوں کو اپنے اخراجات خود نہیں اٹھانے دیتے، لیکن انہوں نے اصرار کر کے مجموعی طور پر اپنا خرچ خود کیا تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔

ڈھائی مہینے کے دوران وہ شادی اور چند پوڈکاسٹس کے علاوہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ انہوں نے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کا مشاہدہ کیا جسے دیکھ کر انہیں یورپ کے خوبصورت مقامات یاد آئے۔ خاص طور پر شمالی علاقے اور پہاڑوں کی دلکش وادیوں نے انہیں جنت کی مثال جیسا منظر فراہم کیا۔ دریاؤں، سبزہ زاروں اور کھیتوں کی فراوانی نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ پنجاب کے پانچ دریاؤں نے زمین کو زرخیز بنایا ہے اور یہ علاقہ ملک کے لیے خوراک کا خزانہ ہے۔

انہوں نے مختلف تنظیموں کے افراد سے بھی ملاقاتیں کیں جو اسلامی اَحیا اور تجدیدی کاموں میں مصروف ہیں، اگرچہ یہ زیادہ تر چھوٹے پیمانے پر سرگرم ہیں۔ ان میں ’’تنظیمِ اسلامی‘‘ کا ذکر بھی آیا جسے انہوں نے ایک نمایاں اصلاحی و احیائی گروہ قرار دیا۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ مسلم دنیا میں مسلمانوں کا ذہنی رویہ اور فکری نقطۂ نظر کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا، کیونکہ یہ ایک بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے، ایٹمی طاقت ہے اور اس کی فوج بھی ایک ملین سے زیادہ سپاہیوں پر مشتمل ہے۔

پاکستان کی مسلم دنیا میں حیثیت

عبداللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نہایت دلچسپ ملک ہے، خاص طور پر اس کی تاریخ اور اس کے وجود میں آنے کا سبب، جب برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ تشکیل پایا۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں جا کر میں مسلمانوں کے ذہنی رویوں کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک پہلو تھا، کیونکہ مسلم دنیا میں دیگر ممالک بھی ہیں جیسے ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، وسطی ایشیائی ریاستیں اور دیگر غیر عرب مسلم ممالک۔ میں پہلے عرب دنیا کے کئی ممالک جا چکا تھا، لیکن یہ پہلا غیر عرب مسلم ملک تھا جہاں میں نے اس طرح کا قیام کیا۔

بہت سے لوگ پاکستان کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ مستقبل میں یہ مسلم دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں مقامی صنعتی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس پہلو سے یہ ملک میرے لیے بہت پرکشش تھا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہاں اسلامی احیا کی تحریک کی کیفیت کیا ہے؟ اور ساتھ ہی اس چیز کا بھی مطالعہ کرنا چاہتا تھا جسے اسلامی اصطلاح میں ’’جہالت‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی مسلمانوں کی تہذیبی زوال پذیری کی حالت۔ میرا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ وہ کون سے فکری رکاوٹیں ہیں جو مسلمانوں کو براہِ راست قرآن و سنت سے رہنمائی لے کر ایک متحرک، طاقتور اور مکمل اسلامی تہذیب قائم کرنے سے روک رہی ہیں، حالانکہ قرآن و سنت تو ان میں موجود ہیں۔

میری نظر میں سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو لے کر آگے بڑھایا، لیکن آج کے مسلمان پیچھے کیوں ہٹ گئے ہیں؟ میں اس سوال کا جواب براہِ راست مشاہدے اور عملی تجربے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اسلامی احیا سے مراد صرف چند عبادات یا اخلاقی اصلاح نہیں بلکہ مکمل اسلامی طرزِ زندگی اور تہذیب کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کا تجربہ میرے لیے نہایت اہم تھا تاکہ میں جان سکوں کہ یہاں کے مسلمان کس طرح اسلام کو سمجھتے اور اپناتے ہیں اور یہ کیفیت مغرب یا ترکی جیسے ممالک سے کس طرح مختلف ہے۔

پاکستان کا خطہ اور عوام

پاکستان کئی خطوں پر مشتمل ہے جن کی اپنی جداگانہ لسانی اور نسلی شناخت ہے۔ پنجاب سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، خیبر پختونخوا جہاں پشتون رہتے ہیں، بلوچستان جو نسبتاً کم آبادی والا ہے، جبکہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مالک سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر بھی ملک کا حصہ ہے۔ میں نے زیادہ وقت پنجاب میں گزارا لیکن خیبر پختونخوا اور شمالی پہاڑی علاقوں کا بھی دورہ کیا۔ سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میرے سفر کا حصہ رہے۔ اسلام آباد ایک منصوبہ بند شہر ہے جو باقی پاکستان سے بالکل الگ سا محسوس ہوتا ہے، جیسے ایک جدید اور منظم علاقہ۔ مغربی میڈیا پاکستان کو زیادہ تر منفی انداز میں پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے میرے ذہن میں ابتدا میں جھگیاں اور غربت کا تصور تھا، جیسا کہ بھارت کے شہروں میں دیکھا جاتا ہے، لیکن یہاں حقیقت اس سے مختلف نکلی۔

پاکستان کے عوام نہایت عاجزی اور انکساری کے حامل ہیں۔ اگرچہ میں غیر ملکی تھا لیکن جب میں شلوار قمیض پہنتا تو لوگ مجھے پختون سمجھ لیتے اور یہ میرے لیے اچھی بات تھی کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ الگ تھلگ لگوں۔ خاص طور پر شمالی علاقوں میں مجھے حیرت ہوئی کہ کئی پشتون نیلے اور سبز آنکھوں والے تھے، کچھ کے سرخ بال تھے جو بالکل قدرتی تھے، اور یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ کیونکہ پہلے میں نے سوچا کہ شاید یہ لوگ مہندی لگاتے ہیں۔ اس سب سے یہ ظاہر ہوا کہ پاکستان واقعی مختلف نسلوں اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے۔

اسلام سے محبت: مقتدرہ اور عوام کا تضاد

پاکستانیوں کی عاجزی کے ساتھ ساتھ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان میں اسلام سے بے پناہ محبت پائی جاتی ہے۔ یہ کیفیت اتنی مضبوط ہے کہ سیکولر اور لبرل حکمران طبقے کو بھی عوامی سطح پر اسلام کے خلاف بات کرنے سے احتراز کرنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد اور بڑے شہروں کے ریستورانوں میں مجھے موقع ملا اور میں نے بالائی طبقے کے لوگوں کو قریب سے دیکھا۔ یہ لوگ زیادہ تر مغربی انداز میں رہتے ہیں، بعض اسلام کے حوالے سے شکوک رکھتے ہیں یا پوشیدہ طور پر ملحد ہوتے ہیں، لیکن کھلے عام اسلام کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اپنی محفلوں میں یہ شراب نوشی اور مغربی انداز کی محفلیں کرتے ہیں، حالانکہ پاکستان میں شراب پر پابندی ہے۔

پاکستان میں شراب کھلے عام کہیں نہیں بکتی، یہ ایک ایسی چیز ہے جو عام دکانوں یا ہوٹلوں پر دستیاب نہیں۔ یہ میرے لیے کافی حیران کن اور خوشگوار بات تھی کہ عام سطح پر ایسا کوئی منظر نظر نہیں آتا۔ لیکن اس کے باوجود اشرافیہ اور بااختیار طبقے کو معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے اور کیسے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے، اور وہ اپنی محفلوں میں اس کا انتظام کرتے ہیں۔ مجھے اس حقیقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں اسلام آباد میں ایک دوست کے ساتھ رات گئے گاڑی میں گھوم رہا تھا۔ ہم نے فجر کی نماز پڑھ لی تھی اور شہر کی سڑکیں تقریباً سنسان تھیں۔ پولیس نے ہمیں روکا اور گاڑی کی تلاشی لی، حالانکہ ہمارے پاس صرف کھجوروں کا ایک تھیلا تھا۔ پولیس اہلکار نے کہا کہ کچھ نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جو گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور ان کے پاس منشیات یا شراب ہوتی ہے، اس لیے وہ شک کی بنیاد پر چیک کر رہے تھے۔ بعد میں میرے دوست نے بتایا کہ اسلام آباد چونکہ سیاستدانوں، بڑے کاروباری خاندانوں اور ان کے بچوں کا مرکز ہے، اس لیے پولیس خاص طور پر اس طبقے کو نظر میں رکھتی ہے، کیونکہ ان کے نوجوان اکثر نشہ آور اشیا اور شراب کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔

میرے لیے سب سے دلچسپ انکشاف یہ تھا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ مجموعی طور پر اسلامی نہیں ہے۔ اگرچہ عوام کے سامنے انہیں مذہب کا تاثر دینا پڑتا ہے، خاص طور پر سیاست میں، لیکن ذاتی طور پر ان میں سے بہت سے لوگ اسلام سے دور یا اس کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کی ایک چھوٹی سی سورہ بھی صحیح طور پر نہیں پڑھ سکتے تھے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حکمران طبقے کا بڑا حصہ مذہب سے نابلد ہے، بلکہ کچھ تو اپنے ملک اور اسلام کے بارے میں تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان کو کمتر، پسماندہ اور تیسرے درجے کا ملک سمجھتے ہیں، جبکہ مغرب کے ممالک کو معیار بناتے ہیں۔ میرے لیے یہ تضاد نہایت حیران کن تھا کہ ایک ملک جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے، وہاں حکمران طبقے کا بڑا حصہ سیکولر یا لامذہب سوچ کا حامل ہے، لیکن عوامی دباؤ کے باعث اسلام کے خلاف کھل کر نہیں بول سکتا۔

یہ صورتِ حال نئی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جیسے مصر اور برصغیر میں یورپی تعلیم کے ذریعے ایسے افراد تیار کیے گئے جو شکل و صورت میں مقامی تھے مگر سوچ اور اقدار میں مغربی تھے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو آگے چل کر حکمران بنا۔ پاکستان میں بھی یہی کیفیت نظر آئی کہ حکمران طبقے کا بڑا حصہ اسلام اور اپنی تہذیب سے دور ہے اور مغرب کو بہتر سمجھتا ہے۔ البتہ عوامی سطح پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عام لوگوں میں اسلام سے محبت اور وابستگی بہت گہری ہے، بلکہ کئی عرب ممالک کی نسبت زیادہ نمایاں ہے۔ جمعے کے خطبات اور اسلامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں بار بار امتِ واحدہ کا ذکر سننے کو ملا اور یہ بات بہت کھل کر بیان کی جاتی ہے کہ مسلمان صرف روحانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ایک ہونا چاہتے ہیں۔

پاکستانی عوام میں ترکی سے خاص محبت بھی دیکھنے کو ملی۔ یہ محبت خلافتِ عثمانیہ کے زمانے سے جڑی ہوئی ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے لیے خلافت تحریک چلائی تھی، حالانکہ وہ براہِ راست عثمانیوں کے زیرِ اقتدار نہیں تھے۔ یہ تاریخی تعلق آج بھی پاکستانیوں کے دلوں میں موجود ہے، اور اسی لیے ترک پرچم اکثر پاکستانی پرچم کے ساتھ لہراتا نظر آتا ہے۔ سیاسی اور عسکری سطح پر بھی پاکستان اور ترکی کے تعلقات مضبوط ہیں، دونوں ممالک باہمی تعاون کرتے ہیں اور دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ حالیہ جنگی تصادم

میری آمد کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، پلوامہ حملے کے بعد میزائلوں کا تبادلہ ہوا لیکن عام زندگی میں کچھ زیادہ تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اگر میڈیا کو دیکھنا چھوڑ دیا جائے تو یوں لگتا تھا جیسے سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ البتہ فوجی نقل و حرکت ضرور نظر آتی تھی، جو کہ پاکستان کے شہروں میں فوجی چھاؤنیوں کے اردگرد عام بات ہے۔ فوجی چھاؤنیوں میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے ہر وقت چیک پوسٹوں پر فوجی کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ سب کی شناختی دستاویزات دیکھتے ہیں اور کندھوں پر بندوقیں لٹکائے ہوتے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے عام دنوں میں وہ ہلکے کپڑوں میں ہوتے ہیں، لیکن اس دوران انہوں نے ہیلمٹ اور بکتر پہننا شروع کر دیا تھا۔ رات کے وقت پورے علاقے کی لائٹیں بند کر دی جاتیں، گویا دوسری جنگِ عظیم کی کوئی پرانی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہو۔ یہ واحد اشارہ تھا کہ کوئی مسلح کشمکش یا جنگ جاری ہے، ورنہ عام لوگ ایسے ہی اپنی زندگی گزار رہے تھے جیسے کوئی عام دن ہو۔ میں عین اسی وقت وہاں موجود تھا۔ میں نے سنا کہ پچھلے پچاس برسوں سے زیادہ عرصے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر براہِ راست جنگ نہیں ہوئی تھی۔ زیادہ تر جھڑپیں کشمیر یا سمندر میں ہوتی رہیں۔ میرے قیام کے دوران خبر ملی کہ سیالکوٹ کے قریب ایک چھوٹے سے فوجی ہوائی اڈے پر حملہ ہوا ہے، لیکن مجھے کوئی دھماکہ سنائی نہیں دیا۔

اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور مغربی تاریخ

میں شروع میں چار ہفتوں کے لیے آیا تھا لیکن ساڑھے دو ماہ تک رک گیا۔ وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا یہاں سیکھنے کے بے شمار مواقع ہیں اور ایک مہینے میں سب کچھ ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ، یہاں آ کر مجھے اندازہ ہوا کہ کئی لوگ میرا کام پہلے سے دیکھتے رہے ہیں اور مجھے مختلف پوڈکاسٹس پر بلانے لگے۔ میں نے سوچا کہ اگر زیادہ رکوں تو شاید کچھ مثبت کام کر سکوں۔ مجھے ایسے افراد سے بھی ملایا گیا جنہیں اسلام کے بارے میں شکوک تھے اور وہ علماء یا مقامی اسکالرز سے مطمئن جواب نہیں پا سکے تھے۔ ان میں چند مشہور شخصیات بھی شامل تھیں جنہوں نے مجھ سے اپنے سوالات پر بات کی۔

ان کے شبہات زیادہ تر یوٹیوب پر موجود اسلام مخالف مواد اور لادینی و الحادی دلائل سے پیدا ہوئے تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ تقدیر اور اللہ کی مشیت کا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر سب کچھ پہلے سے اللہ نے طے کر رکھا ہے تو پھر انسان کے اعمال پر سزا اور جزا کی منطق کیا ہے؟ اگر کوئی برائی واقع ہوتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اسے پسند کیا؟ اس طرح کے سوالات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ کئی مسلم ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ ایک تقدیر پرستی کے تصور سے جڑتا ہے کہ کچھ بھی انسان کے ہاتھ میں نہیں، سب کچھ ویسے ہی ہونا ہے جیسا اللہ چاہے، لہٰذا کوشش بے فائدہ ہے۔

اس سوچ نے مجھے مغرب کی تاریخ کی یاد دلائی، جہاں گیارہویں صدی تک عیسائی دنیا بھی اسی طرح کے عقیدے پر تھی کہ دنیا شیطان کے قبضے میں ہے اور اس میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں، بس کلیسا کے احکام پر چلتے رہو یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ واپس آ کر سب کچھ درست کر دیں۔ لیکن جب یورپ نے مسلمانوں سے نیا علم، یونانی فلسفے کے تراجم، اور سائنس و ٹیکنالوجی کا سامنا کیا تو ان میں ترقی کا تصور پیدا ہوا۔ انہیں احساس ہوا کہ دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور انسانی کردار کو نکھارا جا سکتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کی امانت داری، رحم دلی، اور جنگ میں بھی اصولوں کی پابندی نے عیسائیوں کو حیران کیا۔

مغربی معاشرے میں اس تبدیلی کے پیچھے پروٹسٹنٹ اصلاحات نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ مارٹن لوتھر اور جان کیلون جیسے مصلحین نے یہ تصور پھیلایا کہ ہر پیشہ عبادت بن سکتا ہے اگر نیک نیتی سے کیا جائے۔ اس سوچ سے ’’پروٹسٹنٹ ورک ایتھک‘‘ پیدا ہوا جس میں محنت، روزی اور دولت کو تقدس مل گیا۔ یہی رویہ آگے چل کر سرمایہ داری، ٹیکنالوجی اور سیاسی طاقت کا محرک بنا۔ کیلون کی تقدیر پر ایمان رکھنے کے باوجود، اس کے ماننے والوں نے محنت اور دنیاوی ترقی کو مذہبی رنگ دیا۔ پھر ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی تجارتی کمپنیاں وجود میں آئیں جنہوں نے دولت اور طاقت کے لالچ میں پورے خطوں کو غلام بنا لیا، جن میں برصغیر بھی شامل تھا۔ اس نے دکھایا کہ مغرب میں انسانی حرص کو بڑے پیمانے پر آزاد چھوڑ دیا گیا تھا، جس نے ان کی معیشت اور سلطنت کو طاقتور بنایا۔

اس کے برعکس مسلم دنیا میں ایک ایسا عقیدہ عام ہے کہ دنیاوی حالات امام مہدی کے آنے سے پہلے نہیں بدلیں گے، اس لیے کوئی سنجیدہ کوشش کرنا بے فائدہ ہے۔ یہی سوچ کئی مسلم معاشروں کو جمود اور تقدیر پرستی کی طرف لے جاتی ہے۔

یورپ جب مسلمانوں سے ٹیکنالوجی، نئی تحریریں، دریافتیں، کیمیا، فلکیات اور دیگر علوم سے متعارف ہوا تو ان کی سوچ میں بنیادی تبدیلی آئی۔ انہیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، حالات میں بہتری ممکن ہے اور اس کا اثر انسان کے اخلاق و آداب پر بھی پڑتا ہے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ مالدار لوگ زیادہ مہذب نظر آتے ہیں جبکہ غریبوں میں یہ بات کم پائی جاتی ہے۔ خیال یہ تھا کہ مفلسی انسان کو بدتہذیبی کی طرف دھکیلتی ہے اور جب معاشرے کے مادی حالات بہتر ہوں تو لوگ زیادہ بااخلاق اور شائستہ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ مایوسی یا مجبوری کی وجہ سے غلط رویے کے مرتکب نہیں ہوتے۔

جہالت کی علامات اور رویے

یہ سوچ میرے اپنے مشاہدات سے ملتی ہے جنہیں میں نے ’’جہالت کی علامات‘‘ کہا ہے۔ میں نے ایسے رویے دیکھے جو عام طور پر مسلم دنیا کے باہر دیکھے جاتے ہیں، لیکن یہاں مسلمانوں کے اندر ہی نظر آئے۔ ان میں بھائی چارے، محبت اور باہمی رحم دلی کی وہ کیفیت کم نظر آتی ہے جس کا قرآن ہمیں حکم دیتا ہے۔ بعض اوقات مسلمان ہی ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں۔

قطار توڑنے کا رجحان

ایک نمایاں چیز جو میں نے پاکستان اور بعض عرب ممالک میں دیکھی، وہ قطار (queue) کا معاملہ تھا۔ انگلینڈ اور جاپان جیسے ممالک میں لوگ منظم انداز میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن کئی مسلم ممالک میں لوگ دھکم پیل کرتے ہیں، اور جو زیادہ دھکا دے یا کاٹ کر آگے بڑھ جائے، وہ پہلے اپنا کام کروا لیتا ہے۔ میں خود ایک پیزا بوفے پر گیا تو دیکھا کہ جیسے ہی پیزا رکھا جاتا، لوگ ٹوٹ پڑتے، جیسے کوئی اپنی بھوک مٹانے کے لیے جنگ کر رہا ہو۔ اور صرف ایک ٹکڑا نہیں لیا جاتا بلکہ جتنا ممکن ہو پلیٹ بھر لی جاتی ہے، اس خوف سے کہ شاید دوبارہ موقع نہ ملے، کیونکہ باقی سب بھی یہی کر رہے ہیں۔ یہ دراصل اعتماد کی کمی ہے، ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سب نہ لیا تو دوسرا سب کچھ لے جائے گا۔

یہ رویہ صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ عمومی رویوں میں بھی نظر آتا ہے۔ لوگ قطار میں آپ کے بالکل قریب کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ کوئی بیچ میں گھس نہ سکے۔ ورنہ اکثر لوگ آہستہ آہستہ سامنے آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ میں نے ہر ملک میں نہیں دیکھا۔ مثلاً ترکی، قطر یا مصر میں مجھے ایسی صورتحال کچھ زیادہ نظر نہیں آئی۔ لیکن پاکستان، لبنان، الجزائر اور مراکش جیسے ملکوں میں یہ عام ہے۔

اس کے برعکس کچھ معاشرے انتہا کی دوسری طرف ہیں، جیسے جرمنی۔ وہاں لوگ سڑک پار کرنے کے لیے ٹریفک سگنل پر سبز بتی کا انتظار کرتے ہیں، چاہے میلوں تک کوئی گاڑی نہ آ رہی ہو۔ سب قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور قانون توڑنے کا تصور ہی نہیں کرتے۔ ایک ’’انگریز‘‘ کے طور پر مجھے یہ حد سے زیادہ لگتا ہے، جہاں کوئی خطرہ ہی نہیں وہاں بھی منٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

میرے خیال میں بہترین راستہ اعتدال ہے، نہ تو ایسا کہ سب دھکم پیل کر کے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں، اور نہ ہی ایسا کہ عقل کے استعمال کے بغیر سخت قوانین کے پیچھے اندھا دھند کھڑے رہیں۔ 

ٹریفک میں جنگل کا قانون

بدقسمتی سے کئی مسلم معاشروں میں ’’جنگل کا قانون‘‘ زیادہ نظر آتا ہے، خواہ قطار میں کھڑے ہونے کا معاملہ ہو یا سڑک عبور کرنے کا۔ بعض شہروں میں تو واقعی یوں لگتا ہے جیسے سڑک پار کرنے سے پہلے وصیت لکھ لینی چاہیے، کیونکہ ٹریفک میں قانون اور نظم کا فقدان کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔ زیبرا کراسنگ نظر ہی نہیں آتی، اور اگر ٹریفک لائٹس موجود بھی ہوں، جیسے قاہرہ میں ہیں، تو وہ زیادہ کارآمد نہیں لگتیں کیونکہ سب لوگ اپنی مرضی سے چلتے ہیں۔ منظر کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی تباہ کن یا ہنگامی فلم کا حصہ ہو۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ زیادہ تر مسلم دنیا میں ڈرائیونگ کا حال ایسا ہے کہ اگر ’’میڈ میکس‘‘ فلموں کو ڈرائیونگ کی تربیت کے لیے تعلیمی فلمیں بنا دیا جائے تو شاید کچھ بہتری آ جائے۔ میں جانتا ہوں اس بات پر بہت سے لوگ ناراض ہوں گے، مگر یہ تجربہ میں نے بار بار مختلف مسلم ممالک میں دیکھا ہے۔

پاکستان میں طویل عرصہ سڑکوں پر وقت گزارنے کے بعد جب میں نے انگلینڈ سے اس کا موازنہ کیا تو فرق بہت نمایاں لگا۔ انگلینڈ میں لوگ لین کی پابندی کرتے ہیں۔ اگر کوئی مخالف سمت والی لین پر چلا بھی جائے تو وہ محض اوور ٹیک کرنے کے لیے، اور وہ بھی چند لمحوں کے لیے۔ ہارن بھی صرف ضرورت کے وقت استعمال ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص ٹریفک سگنل گرین ہونے کے باوجود فون پر مصروف ہو تو پیچھے والا ہارن بجا کر اسے متوجہ کرتا ہے۔ لیکن پاکستان، الجزائر اور مراکش جیسے ممالک میں ہارن کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ میں بجانے کے لیے ہوں۔ لوگ اکثر ایک ساتھ دو لینوں پر گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں اور پیچھے سے آنے والے کو ہارن دے کر یاد دلانا پڑتا ہے کہ براہِ کرم اپنی لین میں آ جاؤ تاکہ میں گزر سکوں۔

موٹر سائیکل سوار تو بعض اوقات بغیر شیشوں کے چلتے ہیں، اس لیے پیچھے سے آنے والے کو بار بار ہارن بجا کر اپنی موجودگی ظاہر کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ اچانک سائیڈ نہ مار دیں۔ عمومی اصول یہی ہوتا ہے کہ جیسے بھی ہو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاؤ۔ اس رویے کے باعث بعض اوقات ناقابلِ یقین حد تک عجیب حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بار میں شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقے نان جا رہا تھا۔ راستہ عام طور پر ڈیڑھ گھنٹے کا ہے مگر ہم پانچ گھنٹے ایک ہی جگہ پھنسے رہے۔ حادثہ نہیں ہوا تھا، بلکہ لوگوں نے جلد بازی میں مخالف سمت کی لین پر گاڑیاں چلا دیں اور پھر دونوں طرف سے آنے والی گاڑیاں آمنے سامنے آ کر پھنس گئیں۔ یوں مکمل جام ہو گیا، جسے صاف کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ ہر ڈرائیور نے صرف اپنی فوری سہولت کو ترجیح دی اور اجتماعی حکمتِ عملی کا خیال نہیں رکھا۔

معیاری خدمات کا فقدان

میں نے یہ بھی دیکھا کہ مسلم دنیا کے کئی ممالک میں خدمات فراہم کرنے کا معیار یہی ہے کہ کم سے کم کام کیا جائے، یا اتنا کیا جائے جتنا گاہک کو ٹالنے کے لیے کافی ہو۔ اس کی ایک مثال پشاور میں مجھے پیش آئی۔ وہاں میں رات گئے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے گیا تو مشین نے کارڈ واپس کر دیا مگر رقم نہیں دی۔ پھر دوسرے دن ایک اور اے ٹی ایم پر کارڈ اندر ہی پھنس گیا اور مشین رک گئی۔ بینک کا عملہ یہی کہتا رہا کہ کارڈ تو اندر ہے ہی نہیں شاید آپ کے بٹوے میں ہے۔ حالانکہ سی سی ٹی وی فوٹیج صاف دکھا رہی تھی کہ کارڈ مشین میں گیا اور واپس نہیں نکلا۔ بالآخر جب میں نے سختی کی اور پولیس کی بات کی تو انہوں نے دوبارہ مشین چیک کی اور کارڈ مل گیا۔ ان کا رویہ ایسا تھا جیسے کوئی بڑا مسئلہ ہوا ہی نہیں۔

نرمی دکھانا، کمزوری کی علامت

ایسے تجربات سے یہ بات واضح ہوئی کہ بہت سی جگہوں پر لوگوں کو نرم لہجے میں بات سمجھانا کارگر نہیں ہوتا۔ مقامی لوگوں نے بھی مجھے کہا کہ اگر آپ نرمی دکھائیں تو لوگ اسے کمزوری سمجھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس سب نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک طرف وہ معاشرے ہیں جہاں دین کو مانا نہیں جاتا، پھر بھی وہ زیادہ منظم اور مؤثر ہیں۔ دوسری طرف مسلمان ہیں جن کے پاس قرآن اور حکمت ہے، مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بدانتظامی اور بدنظمی نمایاں ہے۔ یہ تضاد نہ صرف روزمرہ زندگی میں مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ اسلام کی شبیہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ اگر آپ نرمی دکھائیں یا دوستانہ انداز اختیار کریں تو لوگ اسے کمزوری سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہاں اکثر یہ ضروری ہوتا ہے کہ سخت اور مطالبہ کرنے والے لہجے میں بات کی جائے تاکہ سامنے والے کو لگے کہ اگر اس نے صحیح خدمت نہ دی تو اس کی زندگی مشکل بن سکتی ہے۔ ورنہ وہ یہ تاثر لیتے ہیں کہ آپ آسانی سے نظر انداز کیے جا سکتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ انسانی فطرت یہی ہے کہ کوئی بھی ضرورت سے زیادہ کام نہیں کرتا، لیکن فرق یہ ہے کہ مختلف معاشروں میں ’’ضرورت‘‘ کی تعریف مختلف ہے۔ مثال کے طور پر مسلم دنیا میں وقت کی پابندی کو زیادہ ضروری نہیں سمجھا جاتا، وہاں کسی ملاقات میں دیر سے آنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا، سوائے ترکی کے جہاں لوگ وقت کے پابند ہیں۔ یورپ میں، خاص طور پر جرمنی میں، ایک منٹ کی تاخیر کو بھی سماجی گناہ سمجھا جاتا ہے۔

ملازمین کے ساتھ رویہ

پاکستان میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ درمیانے طبقے کے لوگ بھی گھریلو ملازم، ڈرائیور یا خادم رکھ سکتے ہیں۔ انگلینڈ میں یہ صرف اشرافیہ یا امیر طبقے کے لیے ممکن ہے۔ لیکن پاکستان میں معاشی تفاوت کے باعث یہ عام ہے۔ جب میں نے وہاں دیکھا کہ لوگ اپنے ملازموں یا مزدوروں سے سختی سے بات کرتے ہیں تو مجھے یہ برا لگا اور میں نے کہا کہ یہ بھی ہمارے بھائی بہن ہیں، ان سے اس طرح نہیں بولنا چاہیے۔ مگر مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر آپ نرمی سے بات کریں گے تو وہ آپ کا فائدہ اٹھائیں گے، کام میں لاپرواہی کریں گے، یا چوری بھی کر سکتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک عمومی الزام لگتا ہے، لیکن ان کے خیال میں یہ حقیقت تھی۔ البتہ میرے اپنے تجربے میں اس طبقے کے کئی لوگ نہایت مخلص، عاجز اور نیک نیت تھے۔

ریسٹورنٹس میں بھی یہی رویہ نظر آیا کہ گاہک سخت لہجے میں حکم دیتے ہیں تاکہ ویٹر پوری توجہ دے، ورنہ وہ سروس میں کوتاہی کر سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ جیسے ممالک میں معاملہ الٹ ہے۔ وہاں گاہک پر اتنی توجہ دی جاتی ہے کہ بار بار پوچھا جاتا ہے کہ سب ٹھیک ہے یا نہیں؟ یہاں تک کہ یہ بھی جھنجھلاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ یعنی ایک طرف خدمت میں کمی کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف ضرورت سے زیادہ خدمت کا۔

یہ بات میں نے صرف ایک ملک میں نہیں بلکہ کئی مسلم ممالک میں دیکھی ہے، البتہ ترکی اور ملیشیا اس سے مختلف لگے۔ مزید یہ کہ غیر عرب مسلم ممالک میں جمہوری یا جمہوریت سے ملتے جلتے نظام زیادہ ہیں، جبکہ زیادہ تر عرب ممالک میں قبائلی یا آمرانہ طرزِ حکومت غالب ہے۔ پاکستان میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہاں اسلام اور سیاست پر کھل کر گفتگو ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ حکمرانوں کی کرپشن پر بھی، جبکہ سعودی عرب جیسے ممالک میں یہ ممکن نہیں۔ پاکستان میں سیاسی عمل میں عوامی شمولیت ایک سطح پر ضرور موجود ہے، چاہے نظام کرپٹ ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت کو بھی بعض اوقات گرفتاری کے لیے کسی باضابطہ الزام کا سہارا لینا پڑتا ہے، جیسا کہ عمران خان کے معاملے میں ہوا۔ عرب دنیا میں اس کے برعکس براہِ راست گرفتاری اور تشدد کیا جا سکتا ہے بغیر کسی قانونی جواز کے۔

ملکی ترقی کے امکانات

پاکستان کی ایک اور انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں ایسا لگتا ہے جیسے ملک فوج کے پاس ہے، نہ کہ فوج ملک کے پاس۔ ہر شہر میں چھاؤنیاں اور فوجی علاقے ہیں اور فوج کو وہاں عوام کی طرف سے محبت اور نفرت کا ملا جلا رویہ ملتا ہے، لیکن بھارت کے مقابلے میں ملک کے دفاع کی وجہ سے فوج کے لیے عزت بھی ہے۔ پاکستانی فضائیہ کے پائلٹ نہ صرف بھارت کے خلاف بلکہ اسرائیل کے خلاف عرب جنگوں میں بھی کامیاب رہے ہیں، ان کی مہارت پر عوام فخر کرتے ہیں۔

پاکستان میں بڑی آبادی، زراعتی وسائل، فوجی صنعت اور ایٹمی صلاحیت اسے طاقتور امکانات والا ملک بناتے ہیں۔ اسلام کے ساتھ محبت اور جوش بھی نمایاں ہے۔ میں نے مختلف شہروں کا دورہ کیا، لاہور کی ٹریفک بے حد پریشان کن تھی، اسلام آباد جدید اور منظم لگا، جبکہ پہاڑی علاقے خوبصورت اور پرسکون تھے۔ ہر جگہ کچھ نہ کچھ مسائل ہیں، جیسے بجلی کے بار بار جانے کا، لیکن مجموعی طور پر پاکستان میں بڑی صلاحیت اور امکانات نظر آتے ہیں۔

شلوار قمیص کا لباس

میں دراصل سال کے سب سے زیادہ گرم حصے میں گیا تھا۔ اُس وقت درجہ حرارت 42 ڈگری تک تھا اور کئی جگہوں پر نمی پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ یہ گرمی کی ایک بالکل الگ سطح تھی، ایسی کہ جیسے ہی باہر نکلیں تو ایک منٹ میں پسینہ آنے لگے۔ لیکن سبحان اللہ، میں نے محسوس کہ شلوار قمیص اس موسم کے لیے بہترین لباس ہے۔ عربی جبہ بھی ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے مگر شلوار قمیص نہ صرف آرام دہ ہے بلکہ اس کے شگاف اور پائجامہ چلنے، دوڑنے اور نماز کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ یہ اتنا آرام دہ ہے کہ لوگ اسے سوتے وقت بھی پہن لیتے ہیں۔ میں نے خود بھی کم از کم ایک بار اسے پاجامہ کے طور پر پہنا اور یہ انتہائی موزوں لگا۔ گرم علاقوں کے لیے شلوار قمیص واقعی بہترین انتخاب ہے۔

مسلم دنیا میں بدعنوانی اور دنیا داری

اب ذرا ایک اور اہم پہلو کی طرف آتا ہوں، کہ آخر مسلم دنیا میں کرپٹ سیاستدانوں کی کثرت کیوں ہے؟ یہ صرف بدقسمتی نہیں ہے، اور نہ ہی یہ صرف مغرب کی سازش ہے کہ ہر خرابی کا ذمہ دار انہیں ٹھہرا دیا جائے۔ دراصل ایک ذہنی کیفیت ہے جو مسلم دنیا کو بیرونی اثرات کے لیے زیادہ کمزور بنا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب یا مشرقِ بعید کے لوگ جو قرآن، سنت یا آخرت پر یقین نہیں رکھتے، پھر بھی اُن کی سوسائٹیاں زیادہ منظم اور خوشحال کیوں ہیں؟ جبکہ ہمارے پاس قرآن ہے جو ہدایت دینے والا ہے۔ اس کا بنیادی جواب یہ ہے کہ مسلم دنیا نے اپنا مقصد کھو دیا ہے۔

مغرب نے اپنے لیے ایک مقصد تلاش کیا۔ اگرچہ وہ مقصد جھوٹا ہے، مگر مقصد ہونے کی وجہ سے ان کی سوسائٹی کو سمت مل گئی۔ نشاۃ ثانیہ اور روشن خیالی کے بعد انہوں نے یہ نظریہ اپنایا کہ انسانی خواہشات اور خوشی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے، دکھ درد کو کم کرنا ہے، اور انسانی ترقی کو بہتر بنانا ہے۔ چاہے وہ فلسفے کے مختلف مکاتبِ فکر ہوں، سب نے اس مقصد کو اپنا لیا۔ اسی لیے وہاں سب ایک مشترکہ ضابطے پر متفق ہیں۔ جیسے ٹریفک قوانین، لوگ جانتے ہیں کہ اگرچہ تھوڑی دیر رکنا پڑے گا، لیکن نتیجتاً‌ سب کے لیے یہ زیادہ مفید ہے۔

میں اکثر کہتا ہوں کہ مغرب کے پاس وحی کی اصل تعلیم نہیں مگر انہوں نے حکمت سیکھ لی۔ جبکہ مسلمانوں کے پاس اصل وحی موجود ہے لیکن حکمت کا فقدان ہے۔ حکمت یہ جاننا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے۔ چونکہ مقصد واضح نہیں اس لیے مسلم معاشرے اپنی پوری صلاحیت کے مطابق منظم نہیں ہوتے۔ مغرب میں ہر چیز خوشی بڑھانے اور تکلیف کم کرنے کے مقصد کے تحت ہوتی نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ کاروبار میں مقابلہ بھی اسی اصول پر ہوتا ہے کہ کون بہتر سہولت فراہم کرتا ہے۔ قرآن ہمیں نیکی میں مقابلہ کرنے کا حکم دیتا ہے، جبکہ مغرب میں لوگ ذاتی مفاد میں مقابلہ کرتے ہیں۔

مسلم دنیا میں مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کو زندگی کا ایک جزو سمجھا جاتا ہے، نہ کہ زندگی کا مقصد۔ ایک مسلمان بچے کو بتایا جاتا ہے کہ اچھی نوکری لو، خاندان کی عزت رکھو، والدین کی اطاعت کرو، اچھا گھر بناؤ، شادی ایسی کرو کہ شرمندگی نہ ہو، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ نماز پڑھنا نہ بھولو، روزہ رکھو، حج کر لو، زکوٰۃ دے دو۔ یعنی اسلام زندگی کے اصل مقصد کے طور پر نہیں بلکہ ایک فہرست کے چھوٹے حصے کے طور پر سکھایا جاتا ہے۔ اگر کہیں جھوٹ بولنا پڑے یا دھوکہ دینا پڑے تاکہ خاندان کا مالی فائدہ ہو، یا عزت برقرار رہے، تو یہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ اسی سوچ نے معاشرتی مسائل پیدا کیے۔

مثال کے طور پر رشوت لینا اور دینا اسلام میں حرام ہے، لیکن لوگ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔ ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ایک نیک نظر آنے والا ٹیکسی ڈرائیور ہمیں مانسہرہ سے پشاور لے کر گیا۔ ہم نے اس کے لیے ہوٹل کا انتظام بھی کیا کیونکہ رات بہت دیر ہو گئی تھی۔ لیکن وہ واپس نہیں آیا۔ بعد میں پتا چلا کہ پولیس نے رات کے وقت اس پر جھوٹا الزام لگا کر پکڑ لیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی جھلک ہے کہ کرپشن اور بے انصافی کتنی عام ہیں۔ ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ایک بہت دیندار ٹیکسی ڈرائیور کو پولیس نے جھوٹے الزام میں پکڑ لیا کیونکہ اس نے رشوت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس والا چاہتا تھا کہ وہ تھوڑا سا پیسہ دے دے تاکہ معاملہ ختم ہو جائے، لیکن ڈرائیور نے اصولی موقف اختیار کیا اور نتیجتاً اسے رات جیل میں گزارنی پڑی۔ اس واقعے کو لوگ یہ کہہ کر جواز فراہم کرتے ہیں کہ چلو تھوڑے پیسے دے دو، پولیس سے پنگا لینے کا کوئی فائدہ نہیں، اللہ دیکھ لے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سب لوگ رشوت دینے لگیں تو رشوت خوروں کے لیے یہ عمل اور بھی جائز اور عام ہو جاتا ہے۔ یہی رویہ مسلم معاشروں میں عام ہے جہاں اسلام کو بس ایک ’’فہرست‘‘ سمجھا گیا ہے: یہ کرو، یہ نہ کرو۔ لیکن اگر کبھی ان اصولوں پر عمل کرنے سے دنیاوی فائدہ یا عزتِ نفس متاثر ہو تو لوگ ان اصولوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ لوگ اچھے اخلاق اور سچائی کو ایک کمزوری سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی ان اصولوں پر ڈٹ جائے تو اُسے کمزور، بے وقوف یا آسانی سے استحصال کا شکار سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مجھے کسی نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ اردو میں ’’برائے مہربانی‘‘ کہیں تو لوگ آپ کو بے وقوف سمجھ کر آپ کے ساتھ زیادتی کریں گے۔ اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ ایک فرد اکیلا اخلاقی نہیں رہ سکتا، کیونکہ پورا معاشرہ انسان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے کرپٹ سیاستدان اپنے عوام کو کمتر سمجھتے ہیں اور ملک کے مستقبل پر اعتماد نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک اصل مقصد صرف اپنے خاندان کے آرام اور مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، چاہے اس کے لیے ملک کے وسائل بیچنے پڑیں، بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کھیلنا پڑے، یا عوام کو اندھیروں میں چھوڑ دینا پڑے۔ پاکستان میں بجلی کی بندش کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وسائل طاقتور خاندانوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں لیکن ان کے پاس کارکردگی بہتر بنانے کا کوئی محرک نہیں، کیونکہ انہیں ویسے ہی حکومت سے پیسہ مل جاتا ہے۔

ایسے معاشرے میں کوئی بلند مقصد باقی نہیں رہتا۔ لوگ صرف عزتِ نفس، شہرت، یا خاندان کی ’’عزت‘‘ کے لیے جیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عزت کے نام پر خاندان کے اپنے افراد کو قتل کر دیا جاتا ہے کیونکہ اگر شہرت گئی تو معاشرہ آپ کو ختم سمجھ لیتا ہے۔ اس صورتحال کو ایک طرح کی انارکی کہا جا سکتا ہے جہاں کوئی اعلیٰ اصول باقی نہیں رہتے بلکہ صرف طاقت ہی قانون بن جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کا واحد مطلب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ باقی سب چیزوں کی کوئی اصل حیثیت نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں وہ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں اگر وہ انسان کو اللہ کی رضا سے دور لے جائیں۔

اسلام کیا سکھاتا ہے؟

اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کائنات میں اصل صرف خالق ہے اور اس کی رضا ہے۔ نہ جھنڈے، نہ بت، نہ خاندان کی جھوٹی عزت، نہ دنیاوی شہرت، کسی چیز کی اصل میں کوئی حیثیت نہیں۔ اگر مسلمان یہ سمجھ لیں کہ زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہے تو ان کی ریاستیں بھی اسی بنیاد پر چلیں گی۔ لیکن آج مسلم دنیا میں ریاستوں کا کوئی واضح مقصد نہیں۔ لوگ بس اس سوچ کے ساتھ جیتے ہیں کہ کسی طرح زندگی گزر جائے اور عزت بچی رہے۔ اس کے برعکس مغرب یا جاپان جیسے ملکوں نے اپنے لیے مقصد بنا لیا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اپنی خوشی، اپنی ترقی اور اپنی صلاحیت کے کمال تک پہنچنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔ مسلمان دنیا میں عمومی رویہ یہ ہے کہ بس اتنا کام کرو کہ زندہ رہ سکو، خاندان چل جائے اور بدنامی نہ ہو۔

اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان بہترین کارکردگی دکھائیں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ اسی جذبے سے ماضی میں مسلمان سائنس، طب اور علم میں نئی نئی دریافتیں کرتے تھے، تاکہ ہر فائدہ اٹھانے والا ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے۔ دراصل ایک مومن کی اصل تجارت یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کمائے، اللہ کے قریب ہو، اور دنیا کو بھی فائدہ پہنچائے۔ لیکن جب سے یہ جذبہ کم ہوا، مسلمان زوال کا شکار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا تھا کہ مجھے اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ خوف دولت اور آسائش کا ہے کیونکہ یہی انسان کو مقصد سے غافل کر دیتی ہے۔

آج مسئلہ یہ ہے کہ چاہے مسلمان خود کو مذہبی کہیں یا سیکولر، دونوں اسلام کو سیاست اور اجتماعی زندگی سے الگ کر چکے ہیں۔ سیکولر طبقہ کہتا ہے کہ یہ پرانی باتیں ہیں اور ہمیں مغرب کی نقالی کرنی چاہیے تاکہ شرمندگی نہ ہو۔ جبکہ بعض مذہبی طبقے سمجھتے ہیں کہ سیاست چونکہ گندی اور کرپٹ ہے اس لیے دین کو اس سے دور رکھنا چاہیے اور بس لوگوں کو نماز، روزے اور چند عقائد پر قائم رکھنا کافی ہے۔ یوں دونوں طبقے مل کر دین کو اجتماعی زندگی سے الگ کر رہے ہیں۔ یہی اصل المیہ ہے۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین داری کا مطلب ہے دنیا کے معاملات اور سہولتوں سے الگ رہنا، اور آسائش یا عیش و عشرت کو برا سمجھنا۔ مثال کے طور پر کسی نے مجھے کہا کہ تم یہاں علم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے آئے ہو لیکن تم تو ایک اچھے ہوٹل میں ٹھہرے ہو، کیا صحابہ کرام ایسے ہوٹلوں میں رہتے تھے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ میرا ذاتی پیسہ ہے، کسی نے مجھے اس کے لیے کچھ نہیں دیا، بلکہ اس سفر میں میرا اپنا بہت خرچ ہوا۔ پھر میں نے کہا کہ آخر آرام یا کسی حد تک آسائش میں کیا برائی ہے؟ یہ کہاں حرام ہے؟ لیکن مذہبی طبقے میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ زیادہ سہولت یا آسائش لینا اسلام کے خلاف ہے اور انسان کو بس معمولی زندگی پر راضی رہنا چاہیے۔ اس کی دلیل وہ صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے دیتے ہیں کہ وہ جہاد کے موقع پر کم وسائل کے ساتھ نکلتے تھے۔ لیکن آج اگر کوئی یہ کہے کہ مسلمان ٹینک یا جہاز استعمال نہ کریں کیونکہ صحابہؓ کے پاس یہ نہیں تھے، تو یہ عجیب بات ہوگی۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غربت میں صبر کرنا اور اسی پر راضی رہنا ہی تقویٰ ہے، چاہے انسان حلال ذرائع سے اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش کر بھی سکتا ہو۔ اس سوچ کو ایک طرح کی تقدیر پرستی کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کی مرضی ہے اور ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یوں دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے، زیادہ سے زیادہ دعا کر لیں یا تھوڑا سا صدقہ دے دیں تاکہ مظلوموں کو کھانے یا کپڑے مل جائیں، لیکن اصل صورتحال نہ بدلے۔ یہ رویہ دراصل دین کی غلط تعبیر ہے۔

میں نے خود ایک موقع پر دیکھا کہ صرف تین گھنٹے رابطے میں نہ رہنے پر ایک پوڈکاسٹ کو یہ کہہ کر منسوخ کیا گیا کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے۔ حالانکہ اصل وجہ انسانی فیصلہ تھا، تقدیر کا بہانہ بنا کر اس کو جواز دے دیا گیا۔ یہ مجھے اس واقعے کی یاد دلاتا ہے جب سیدنا عمرؓ نے شام کا سفر اس لیے منسوخ کیا کہ وہاں طاعون پھیل چکا تھا۔ کسی نے کہا کہ کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ تو عمرؓ نے فرمایا کہ میں اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جا رہا ہوں۔ مطلب یہ کہ انسان کے پاس انتخاب ہے، اگر ہم کاہلی اور سستی کو ’’تقدیر‘‘ کہہ کر جواز دیں گے تو یہ ہماری اپنی کوتاہی ہوگی، اور اللہ نے چاہا کہ ہم اپنی کاہلی کی وجہ سے پسماندہ رہیں۔

مسلمان دنیا میں تقدیر کے اس غلط تصور نے سستی، بے عملی اور بے حسی کو عام کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اکثر یہ جملہ استعمال کرتے ہیں: ’’ان شاء اللہ کل ہو جائے گا‘‘، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل میں وہ کام کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ اس رویے نے مسلمانوں کو اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ زندگی کو بس پیدائش سے موت تک کا سفر سمجھ لیا گیا ہے، جس میں کم سے کم محنت اور دقت ہو۔ دعاؤں میں بھی اکثر یہی کہا جاتا ہے کہ ’’اللہ آسانی کرے‘‘، حالانکہ اصل دعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ ہمارے حالات کو بہتر کرے اور ہمیں اپنی رضا کے مطابق مقاصد پورے کرنے کی توفیق دے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھول چکے ہیں۔ اَحیا اور بیداری کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کو محض وراثت یا والدین کی روایت کے طور پر نہیں بلکہ دلیل اور یقین کی بنیاد پر دوبارہ پہنچوایا جائے۔ جیسے کہ قرآن میں کفار کے بارے میں آیا ہے کہ وہ کہتے تھے ہم تو وہی کرتے ہیں جو اپنے باپ دادا سے پایا۔ حالانکہ اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم خود سوچیں کہ انسان کا مقصد کائنات میں کیا ہے؟ اسلام سچا کیوں ہے؟ اور جب یقین حاصل ہو جائے تو پھر زندگی کو اللہ کی بندگی کے مطابق ترتیب دیا جائے۔

پاکستان میں، میں نے بہت سے ایسے نوجوان اور بھائی دیکھے جو بیداری کی جدوجہد کر رہے ہیں، علمی و فکری محنت کر رہے ہیں، اجتماعات اور مطالعہ کے حلقے منعقد کرتے ہیں، اور کچھ نے اور منصوبے شروع کیے تاکہ امت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اسلام ہمیں بہترین کارکردگی، محنت اور خیر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ سبقت دشمنی یا مقابلے بازی نہیں بلکہ نیکی میں آگے بڑھنے کی صحتمندانہ مسابقت ہے تاکہ سب ایک دوسرے کو مزید بہتر کام پر ابھاریں اور یوں پورا معاشرہ بلند ہو۔

میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اگر صحیح معنوں میں بیداری آئے تو پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جو پوری امتِ مسلمہ کی قیادت کر سکتا ہے اور ایک نئی اسلامی تہذیب کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان میں بڑا امکان ہے کہ یہ امت کو دوبارہ متحد کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے۔ اسی لیے میرا دل چاہتا ہے کہ یہاں زیادہ وقت گزاروں اور مختلف اسلامی ممالک میں بھی یہی تجربہ حاصل کروں تاکہ مزید گہرائی سے اس حقیقت کو سمجھا جا سکے۔

https://youtu.be/RnYlXZc6R80


ردِ عمل پر قابو پانے کی ضرورت

محسن نواز

ایک دفعہ سقراط اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لیے ایک بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص نے اچانک راستہ روک کر اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ سقراط نے اس کی طرف دیکھا، مسکرایا اور آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ جب سقراط آگے بڑھا تو اس شخص نے پیچھے سے گالیاں دینی شروع کر دیں، بہت بدزبانی کرنی شروع کر دی، لیکن سقراط چلتا رہا۔

جب کافی دور تک آگے چلے گئے تو شاگرد نے پوچھا کہ وہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا، بہت برا بھلا کہہ رہا تھا، آپ مسکرا کر آگے چلتے گئے، تو آپ نے کوئی جواب نہیں دیا؟ اچھا، اس بات کا بھی سقراط نے کوئی جواب نہیں دیا اور شاگرد کو اپنے پیچھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا، وہ اپنے گھر لے گیا، اور سقراط نے اپنے سٹوڈنٹ کو کہا کہ بس میں دو منٹ میں آیا۔ اندر سے سقراط نے میلے کچیلے کپڑے اور ایک بہت ہی میلا سا تولیہ باہر لا کر اس اپنے شاگرد کو تھمایا اور کہا کہ تم اپنے کپڑے بدل لو، نہا لو، اس تولیے سے اپنا جسم پونچھنا اور یہ کپڑے پہن لینا۔

ان کپڑوں سے اور تولیے سے بہت ہی بری بدبو آرہی تھی، بہت ہی گندے تھے۔ اس سٹوڈنٹ نے اپنی ناک کو بند کیا اور ان کپڑوں کو اور تولیے کو دور پھینک دیا، اور کہنے لگا کہ یہ بات تو مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی کہ میں انہیں کیوں پہنوں؟ یہ تو پہلے ہی بڑے میلے کچیلے ہیں، اور میرے تو بڑے صاف ستھرے سے کپڑے ہیں۔

سقراط نے کہا کہ بس یہی ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے صاف ستھرے، اجلے مزاج، اجلے رویے، صاف ستھرے اور ایک چمکتے ہوئے روحانی state (کیفیت) کے ساتھ ہوتے ہیں تو کوئی دوسرا آتا ہے پراگندہ خیال، کوئی ایسا شخص جس کے اندر جذبات کی بو ہوتی ہے، ناخوشگوار تجربات کی گندگی سے وہ بھرا ہوتا ہے اور وہ آپ پر اپنی وہ گندگی انڈیلنا چاہتا ہے، آپ کو بھی اپنی طرح خراب کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم اس وقت اس کی باتوں میں آ جائیں، اگر ہم اس کی بات کا اثر لے لیں، تو ہم بھی اسی کی طرح گندے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا کسی کو، جو کہ غصے میں ہو، negative thoughts (منفی خیالات) کے ساتھ ہو، جواب دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ آپ کو اپنے جیسا کرنا چاہے گا۔ لیکن آپ کا اس جیسا ہو جانا بنتا نہیں ہے کیونکہ آپ تو اجلی شخصیت کے مالک ہیں نا۔ تو آپ نے اپنے جذبات کو کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے دینا۔ آپ نے یہ نہیں کرنا کہ کوئی بھی آپ کے پاس سے گزرے، آپ کے جذبات میں ہلچل مچا دے، اور آپ اس مچلی ہوئی ہلچل کو بعد میں ڈسکس کرتے رہیں، پہلے سوچتے رہیں پھر دوسروں کو بتاتے رہیں، وہ تو آپ کو برا بھی بنا گیا، جذبات بھی خراب کر گیا، آپ کا ٹائم بھی capture کر گیا اور آپ کے گزر جانے کے باوجود آپ کی سوچوں پر اس نے قبضہ سا کر لیا ہے۔

چنانچہ کبھی بھی دوسروں کے ہاتھ میں اپنے جذبات نہ دیں، کوئی دوسرا برے جذبات کے ساتھ ہے، اپنے آپ کو بچانا ہے۔ کوئی دوسرا منفی خیالات کے ساتھ ہے، اپنے آپ کو اس کے منفی خیالات کی لہروں سے خراب نہیں ہونے دینا۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ آپ کو اپنے جذبات کی ماسٹری عطا کر دے، اور آپ اپنے جذبات کو اس درجہ بہترین انداز سے چینللائز کرنا اور استعمال کرنا سیکھ جائیں کہ جدھر جائیں جس سے ملیں جس سے بات کریں اس پر آپ کی شخصیت کا بہت اچھا پیارا سا influence ہو۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

www.facebook.com

کوئی ایگریسولی، اونچی ٹون میں، لاؤڈر سکیل پر بات کرتا ہے تو دوسرے اس کی بات کو حق مان لیتے ہیں۔ دیکھیں اس کی اگر ہم ریزنز پر بات کریں، تو جو کسی کا کانفیڈنس سے بات کرنا ہے نا، ہم کانفیڈنس کو بھی سچائی سے کنفیوژ کرتے ہیں۔ اس کے کانفیڈنس کی وجہ سے ہمیں یہ لگنے لگتا ہے کہ یہ جو اتنے کانفیڈنس سے اونچا ہو کر بول رہا ہے تو سچ ہی کہہ رہا ہو گا۔

اچھا، کئی دفعہ ہم کسی خوف کی وجہ سے اس کی بات کو سچ مان لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم تمام انسانوں کو یہ خدشہ ہوتا ہے یا خوف ہوتا ہے کہ اگر اُس کا رخ ہماری طرف ہو گیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں بھی روند دے۔ تو یہ بھی ایک اس کے پیچھے ریزن ہے۔ کئی دفعہ اس کی طرف سے اتھارٹی ہونا، اس کی کسی پوزیشن کا ہونا، یہ بھی ہمیں مجبور سا کر دیتا ہے کہ ہم اس کی غلط بات کو بھی بجا سمجھنے لگیں اور مان لیں۔

اچھا، اسی طرح سے ہمارے دماغ کا ایسا سسٹم ہے کہ ہم جب کسی کے پریشر سے اوورلوڈ ہوتے ہیں تو ہم جلدی سے اس کو فکس کرنا چاہتے ہیں، اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انسان زیادہ دیر تک اس طرح کی کیفیت کو سہہ نہیں پاتا، چنانچہ وہ اس سے نکلنا چاہتا ہے۔

میری دانست میں اس میں آپ کا calm رہنا، آپ کا بالکل اطمینان سے، اس کی ٹون سے اپنی ٹون کا نہ ملانا، سب سے پہلا ٹول تو یہ ہو گا۔ اگر کوئی دوسرا agressive ہے، اگر آپ بھی ایگریسو ٹون میں چلے جائیں گے تو کانفلکٹ بڑھے گا۔ آپ نے جلتی پر تیل ڈال دیا۔ چنانچہ آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ کو اپنی ٹون کی ذمہ داری خود رکھنی ہے۔ آپ نے اس سے اپنی ٹون کو میچ نہیں ہونے دینا۔

اچھا، پھر اس پر بہت ممکن ہے کہ اس کی انڈرسٹینڈنگ، کسی وجہ سے اس کا بلڈ فلو اس وقت ایموشنل برین کی طرف ہو، جس کی وجہ سے اس کا لاجیکل برین اتنا کام ہی نہ کر رہا ہو۔ اس کو بیدار کرنے کے لیے، اگر وہ آپ سے کوئی براہ راست تعلق رکھتا ہے، کوئی فیملی ممبر ہے یا کوئی کولیگ ہے یا فیلو ہے، تو اس کے ساتھ آپ کو جو چیز مدد دے گی وہ questioning ہے۔ بہت اچھے طریقے سے کیے ہوئے سوالات جو کہ دراصل اس کی توجہ مبذول کروا رہے ہوں گے اس جانب کہ جو وہ بات کہہ رہا ہے اس میں لاجک کہاں ہے؟ تو جب آپ لاجک کی طرف اس کی بات کا رخ موڑیں گے تو آہستہ آہستہ تھوڑی دیر میں بلڈ فلو ایموشنل برین سے نکل کر لاجیکل برین کی طرف جائے گا، اور لاجکس آن ہونے لگیں گی۔

لہٰذا آپ نے جوابی طور پر وہی انداز نہیں اپنانا ایگریسو بندے کے ساتھ، جو اس نے اپنا رکھا ہے۔

www.facebook.com


غزہ کو بھوکا مارنے کے اسرائیلی اقدامات کو کیسے روکا جائے؟

الجزیرہ

حال ہی میں ’’الجزیرہ‘‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) اور سِیبِل فیراس (Sybil Fares) نے اسرائیل اور امریکہ کی ملی بھگت سے غزہ میں فلسطینی عوام کو بھوکا مارنے اور اجتماعی قتلِ عام کے اقدامات کی وضاحت کی ہے۔ جیفری ساکس کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے معروف ماہر ہیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرلز کو بھی مشاورت فراہم کی ہے، جبکہ سِیبِل فیراس مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی اور پائیدار ترقی کے امور میں مہارت رکھنے والی ماہر ہیں۔ دونوں مصنفین نے اس مضمون میں بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ان اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر عملی اقدامات کرے۔

الجزیرہ کے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں عوام کو بھوکا مار کر اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے نسل کشی کر رہا ہے، اور اس سب میں امریکہ براہ راست شریک ہے۔ اسرائیل یہ کام عملی طور پر کرتا ہے جبکہ امریکی حکومت اسے فنڈ فراہم کرتی ہے اور اقوامِ متحدہ میں اپنے ویٹو کے ذریعے سفارتی تحفظ دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس جرم میں شامل ہیں، جیسے پالانٹیر نے "لیونڈر" نامی مصنوعی ذہانت فراہم کی ہے جو اجتماعی قتلِ عام میں مدد دیتی ہے۔ مائیکروسافٹ کے ایژور کلاؤڈ سروسز کے ذریعے اور گوگل اور ایمازون کے نِمبس منصوبے کے ذریعے اسرائیلی فوج کو بنیادی تکنیکی ڈھانچہ مہیا ہو رہا ہے۔

یہ اکیسویں صدی کے جنگی جرائم ہیں جو اسرائیل اور امریکہ کی شراکت سے سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ریڈ کراس، سیو دی چلڈرن، اور دیگر اداروں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کو بھوک سے مارنے کی پالیسی کی تصدیق کی ہے۔ ناروے ریفیوجی کونسل اور سو سے زیادہ تنظیمیں بھی اس غیر انسانی عمل کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اجتماعی بھوک کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

آرٹیکل کے مطابق بھوک کی شدت خوفناک ہے۔ اسرائیل بیس لاکھ سے زیادہ افراد کو منظم طور پر خوراک سے محروم کر رہا ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد فلسطینی تباہ کن بھوک کا شکار ہیں اور ایک لاکھ بتیس ہزار سے زیادہ بچے جو پانچ سال سے کم عمر ہیں، شدید غذائی قلت کے باعث موت کے خطرے میں ہیں۔ اسرائیلی فوج ان لوگوں پر بھی گولیاں چلاتی ہے جو کسی طرح خوراک کے مراکز تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایک سابق امریکی سفیر کے مطابق ابتدا ہی سے اسرائیل کی نیت فلسطینی عوام کو بھوکا مارنے کی تھی۔ اسرائیل کے وزیرِ وراثت امیخائی ایلیاہو نے حال ہی میں کہا کہ ’’کوئی قوم اپنے دشمنوں کو کھانا نہیں کھلاتی۔‘‘ اسی طرح وزیر بیزالیل سموترچ نے کہا کہ ’’جو نہیں نکلے انہیں نہ نکلنے دو۔ نہ پانی، نہ بجلی، وہ بھوک سے مر جائیں یا ہتھیار ڈال دیں، یہی ہم چاہتے ہیں۔‘‘

اس سب کے باوجود امریکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ 2024ء میں امریکہ نے اکیلے فلسطین کی رکنیت کو ویٹو کیا اور اب فلسطینی رہنماؤں کو اقوامِ متحدہ میں شرکت کے لیے ویزے دینے سے انکار کر رہا ہے، جو ایک اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دنیا اسرائیل اور امریکہ کی اس قتل و غارت پر ششدر ہے مگر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ عالم کے پاس عمل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ دسمبر میں 172 ممالک نے فلسطین کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی تھی اور اسرائیل و امریکہ اپنی مخالفت میں تنہا رہ گئے تھے۔ امریکہ کے اندر بھی عوامی رائے اسرائیل کے خلاف جا رہی ہے، ایک سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی اسرائیل کے غزہ میں اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔

آرٹیکل میں اس سلسلہ میں عملی اقدامات تجویز کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:

  1. سب سے پہلے ترکی نے درست راستہ اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی، فضائی اور بحری تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ دیگر ممالک کو بھی فوراً اسی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔
  2. اقوامِ متحدہ کے وہ تمام رکن ممالک جنہوں نے اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا، انہیں یہ قدم اٹھانا چاہیے۔ ابھی تک 147 ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں اور مزید درجنوں ممالک کو 22 ستمبر کو فلسطین سے متعلق اجلاس میں ایسا کرنا چاہیے، چاہے امریکہ مخالفت کرے۔
  3. ابراہیم معاہدے (Abraham Accords) پر دستخط کرنے والے عرب ممالک – بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات – اسرائیل کے ساتھ تعلقات معطل کریں جب تک کہ غزہ کا محاصرہ ختم نہ ہو اور فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی رکنیت نہ مل جائے۔
  4. جنرل اسمبلی (UNGA) دو تہائی اکثریت سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرے، جیسا کہ نسلی امتیاز کے دور میں جنوبی افریقہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ جنرل اسمبلی میں امریکہ کے پاس ویٹو کا اختیار نہیں ہے۔
  5. اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو چاہیے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں مدد دینے والی ٹیکنالوجی اور سروسز کی برآمدات روک دیں۔ ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں سے اگر اسرائیلی فوج کو مدد ملنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا تو ان کا عالمی سطح پر بائیکاٹ ہونا چاہیے۔
  6. جنرل اسمبلی کو غزہ اور مغربی کنارے میں اقوامِ متحدہ کی ایک پروٹیکشن فورس بھیجنی چاہیے تاکہ انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔ اگر سلامتی کونسل (UNSC) میں امریکہ ویٹو کا استعمال کرے تو ’’یونائٹنگ فار پیس‘‘ (Uniting for Peace) طریقہ کار کے ذریعے جنرل اسمبلی کو اس کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ 1956ء میں بھی جنرل اسمبلی نے اسی طریقے سے مصر میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس (UNEF) بھیجی تھی۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی دعوت پر یہ فورس غزہ جا سکتی ہے جو امداد پہنچانے کے عمل کو محفوظ بنائے گی۔ اگر اسرائیل اس فورس پر حملہ کرے تو یہ فورس اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کا بھی تحفظ کرے گی۔

الجزیرہ کے آرٹیکل کے مطابق اسرائیل نے اب وہ لکیر پار کر دی ہے جس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ وہ بھوک سے مرنے والے کمزور عوام پر گولیاں چلا رہا ہے۔ اب وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں، اقوامِ عالم کو آزمایا جا رہا ہے اور فوری اقدام کی ضرورت ہے۔

(الجزیرہ — ۴ ستمبر ۲۰۲۵ء)


گلوبل صمود فلوٹیلا: غزہ کی جانب انسانی ہمدردی کا سمندری سفر

ادارہ الشریعہ

تیونس سے 4 ستمبر 2025ء کو 70 سے زائد امدادی جہازوں پر مشتمل ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کا قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہوا۔ اس قافلے میں 44 ممالک کے انسانی حقوق کے کارکنان شامل ہیں، جن کا مقصد محصور فلسطینی عوام تک خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا ہے۔ اس مشن کو اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی سب سے بڑی سمندری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ (اردو پوائنٹ — 4 ستمبر 2025ء)

قافلے کے شرکا نے اسرائیلی فوج کی ممکنہ کارروائی کے خلاف عدمِ تشدد کی تربیت حاصل کی ہے۔ منتظمین نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں جسمانی یا زبانی مزاحمت نہیں کی جائے گی تاکہ دوسروں کی جان خطرے میں نہ پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں اپنی زندگیوں کا خطرہ ہے، تاہم وہ غزہ میں جاری نسل کشی کو رکوانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ (انڈپینڈنٹ اردو — 4 ستمبر 2025ء)

پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد اس مشن میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فلوٹیلا کے تین بڑے مقاصد ہیں: غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا، امداد کے لیے ہیومن کوریڈور قائم کرنا، اور جاری نسل کشی کا خاتمہ۔ اس قافلے میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو، اور ہالی وڈ اداکارہ سوزن سرینڈن بھی شامل ہیں۔ (اردو پوائنٹ — 4 ستمبر 2025ء)

31 اگست کو بارسلونا سے روانہ ہونے والی کشتیاں خراب موسم کے باعث واپس لوٹ گئی تھیں، تاہم یکم ستمبر کو دوبارہ روانگی اختیار کی گئی۔ اس وقت قافلہ سپین کے جزیرے مینورکا میں عارضی توقف پر ہے، جہاں ایندھن بھروانے اور حفاظتی جانچ کے بعد کشتیاں دوبارہ روانہ ہوں گی۔ منتظمین کے مطابق قافلہ 14 یا 15 ستمبر تک غزہ پہنچنے کی توقع ہے۔ (انڈپینڈنٹ اردو — 4 ستمبر 2025ء)

شرکاء نے عالمی ریاستوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے اور امدادی بیڑوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جدوجہد رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہے اور اس کا مقصد صرف انسانیت کو بچانا ہے۔ (ایکسپریس نیوز — 4 ستمبر 2025ء)

العربیہ کے مطابق سپین سے روانہ ہونے والا یہ فلوٹیلا اہلِ غزہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی سب سے بڑی کوشش ہے۔ اس میں 44 ممالک کے کارکنان شامل ہیں، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور دیگر نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں۔ العربیہ نے یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیلی فوج نے اسی نوعیت کے ایک مشن میں 9 ترک کارکنوں کو ہلاک کیا تھا، جس سے اس مشن کے خطرات واضح ہوتے ہیں۔ (العربیہ — 30 اگست 2025ء)

ڈان نیوز نے مغربی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فلوٹیلا بارسلونا سے روانہ ہوا، جس میں آئرش اداکار لیام کننگھم، اسپین کے ایڈورڈ فرنانڈیز، اور بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو شامل ہیں۔ گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ یہ مشن صرف امداد پہنچانے کا نہیں بلکہ دنیا کو جھنجوڑنے کا ہے کہ وہ غزہ میں جاری مظالم پر خاموش کیوں ہے۔ (ڈان نیوز — 6 ستمبر 2025ء)

ایکسپریس نیوز کے مطابق، اطالوی فنکاروں نے وینس فلم فیسٹیول کے دوران ایک کھلا خط جاری کیا جس میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے اور صمود فلوٹیلا کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا۔ اس خط پر مارک رفالو، سوزن سرنڈن، اور دیگر عالمی شخصیات کے دستخط موجود ہیں۔ (ایکسپریس نیوز — 27 اگست 2025ء)

یہ مشن تین عالمی اتحادوں کا مشترکہ اقدام ہے: فریڈم فلوٹیلا کولیشن، گلوبل موومنٹ فار غزہ، اور مغرب صمود قافلہ۔ ان کا مقصد اسرائیل کے سمندری، فضائی اور زمینی محاصرے کو توڑنا ہے تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ (ایکسپریس نیوز — 27 اگست 2025ء)

صمود (استقامت) فلوٹیلا میں پاکستان کی نمائندگی

مولانا عبد الرؤف محمدی

غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے حقِ آزادی کے لئے دنیا بھر کے انسان دوست کارکنان نے ایک نیا سمندری قافلہ "صمود فلوٹیلا" تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد غزہ کے محاصرے کو توڑنا اور انسانی امداد وہاں تک پہنچانا ہے۔ یہ قافلہ صرف سامانِ امداد لے کر نہیں جا رہا، بلکہ یہ دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ فلسطین کے مظلوم تنہا نہیں ہیں۔

پاکستان سے جناب مشتاق احمد خان صاحب کی قیادت میں ایک وفد بھی تیونس پہنچ کر اس عزیمت کے قافلے میں شریک ہو گیا ہے۔

پاکستان اور بالخصوص دینی طبقات کے لئے یہ باعثِ فخر ہے کہ ہمارے وطن عزیز کے جید عالمِ دین، وفاق المدارس کے فاضل، راولپنڈی کی ایک جامع مسجد کے خطیب، معروف خطاط مولانا خطیب الرحمٰن صاحب بھی اس عظیم فلوٹیلا میں شامل ہیں۔ مولانا خطیب الرحمٰن انتہائی باصلاحیت اور جہدِ مسلسل کا استعارہ ہیں، وہ عربی، ترکی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، ان کی شخصیت سے متعارف لوگ جانتے ہیں کہ وہ نہ صرف ایک باعمل عالمِ دین اور خطیب ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے درد رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ ان کا یہ قدم اس بات کا واضح اعلان ہے کہ پاکستان کے عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

محاصرے اور ظلم کے باوجود فلسطینی عوام کی "صمود" (استقامت) پوری امت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ امتِ مسلمہ کی وحدت اور آزادی کی تحریکیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مولانا خطیب الرحمٰن اور ان کے وفد کی صمود فلوٹیلا میں شرکت تمام اہلِ پاکستان کی نمائندگی اور سب کی طرف سے فرضِ کفایہ کی ادائیگی کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے یہ پیغام دے دیا کہ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ فلسطین کے مظلوم بھائیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اور دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں کے ساتھ مل کر غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم


فلسطینی ریاست کی ممکنہ تسلیم کا برطانوی فیصلہ اور اس کی مخالفت

ادارہ الشریعہ

29 جولائی 2025ء کو برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ستمبر تک غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے میں قبضے سے گریز، اور دو ریاستی حل کی جانب سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو برطانیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔ اسٹارمر نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ فلسطینی ریاست کا اعتراف ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور موجودہ حالات میں، جب غزہ میں انسانی بحران ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے، یہ اقدام امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کی یہ پالیسی اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنائی جا رہی ہے، نہ کہ فلسطینیوں کو رعایت دینے کے لیے۔

اسرائیل کے لیے شرائط

حماس کے لیے شرائط

اس اعلان پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے شدید ردعمل دیا، اسے "حماس کے لیے انعام" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے اسٹارمر سے اس معاملے پر کوئی گفتگو نہیں کی، اور برطانیہ کو اس پالیسی پر عمل کرنے سے کوئی اعتراض نہیں، اگرچہ وہ خود اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

اسٹارمر نے اپنی ٹی وی تقریر میں غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جہاں امداد کی ناکامی کے باعث بچے بھوک سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ فضائی اور زمینی راستوں سے امداد پہنچانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے تحت روزانہ کم از کم 500 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے چاہئیں۔

برطانیہ کی یہ پالیسی تبدیلی ایک تاریخی نوعیت کی تبدیلی ہے۔ ماضی میں فلسطینی ریاست کے اعتراف کو سفارتی حد تک رکھا گیا لیکن اب اسے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر اسرائیل اور حماس مقررہ شرائط پوری نہ کر سکے تو ستمبر میں برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، جس سے عالمی سطح پر اسرائیل پر سیاسی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بہتری کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے لیے ایک نیا دروازہ کھول سکتا ہے۔

theguardian.com

فلسطین کو تسلیم کرنے کے برطانوی عندیہ کی مخالفت

’’ٹاک‘‘ کے زیر اہتمام ایک آن لائن انٹرویو کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادہ کی مخالفت کی گئی ہے:

میزبان:

یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ برطانیہ کی حکومت ایسے وقت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہے جب اب بھی پچاس سے زائد اسرائیلی یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں۔ غزہ کا علاقہ مکمل طور پر ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں کے لوگ اب بھی دھمکی دے رہے ہیں کہ اکتوبر ۷ جیسے مزید حملے ہوں گے۔ لیکن شرائط صرف اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہیں، حماس پر نہیں۔ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سر کیر سٹارمر کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مہمان ڈینیئل برک (ڈائریکٹر، یوکے لائرز فار اسرائیل):

میں سمجھتا ہوں یہ محض اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ قانونی ناکامی بھی ہے۔ بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنا ہے۔ ۴۳ معزز ارکانِ ہاؤس آف لارڈز نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر یہی کہا ہے کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا مونٹی ویڈیو کنونشن ۱۹۳۳ء کی خلاف ورزی ہے۔ اس کنونشن کے مطابق ریاست کے لیے چار شرائط ہیں: واضح سرحد، مؤثر حکومت، مستقل آبادی، اور بیرونی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت۔ فلسطینی ان میں سے کوئی شرط پوری نہیں کرتے۔ نہ مؤثر حکومت ہے، نہ واضح سرحدیں، نہ ہی وہ دنیا کے ساتھ قانونی تعلقات قائم کر سکتے ہیں، کیونکہ خود ان کے سب سے طاقتور گروہ کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔

مزید یہ کہ پچھلے بیس برسوں میں فلسطینی قیادت نے کوئی ریاستی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے بجائے صرف سرنگیں اور اسلحہ خانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ہولوکاسٹ سے بچنے والے افراد اور جلاوطن یہودیوں نے اپنا ملک تعمیر کیا اور آج دنیا کی سب سے ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کو بے شمار امداد ملی مگر انہوں نے اسے ریاستی مستقبل بنانے کے بجائے جنگ میں جھونک دیا۔

میزبان:

بالکل درست کہا آپ نے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مغربی میڈیا اسرائیل کو ملزم ٹھہرانے میں تیزی دکھاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ حماس نے شروع کی تھی۔ ہمارے سامنے ثبوت ہیں کہ امدادی ٹرک بھی حماس قبضے میں لے کر اپنی مرضی سے بانٹتی ہے جبکہ ان کے لیڈر قطر میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں لیکن نئی رہائش گاہیں یا معیشت نہیں بناتے، صرف اسلحے اور پروپیگنڈے پر پیسہ لگاتے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کو بار بار موردِ الزام ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔

ڈینیئل برک:

ہمارا مطالبہ صرف یہی ہے کہ بین الاقوامی قانون کو صحیح معنوں میں لاگو کیا جائے۔ وزیرِاعظم نے فلسطینی ریاست کو "فطری حق" کہا، لیکن یہ قانونی طور پر درست نہیں۔ یہ صرف سیاسی دکھاوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی قیادت مل کر وہی رویہ اپنا رہی ہے جو کبھی ۱۹ویں صدی کے نوآبادیاتی حکمرانوں کا تھا۔ خوشی کی بات ہے کہ امریکا نے کھل کر کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس سے کم از کم یہ پیغام ضرور ملتا ہے کہ اسرائیل اکیلا نہیں۔

میزبان:

لیکن یہاں برطانیہ میں عوام اور میڈیا کا ایک حصہ اسرائیل کے بطور اتحادی اسٹریٹجک کردار کو بھولتا جا رہا ہے۔ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے جہاں وزیرِاعظم تک کو عدالت میں لایا جا سکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف حماس جیسی تنظیمیں عام شہریوں کو انسانی ڈھال بناتی ہیں۔

ڈینیئل برک:

جی ہاں، اصل مسئلہ صرف بھولنے کا نہیں بلکہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنے کا ہے۔ کئی بڑے فوجی ماہرین جنہوں نے اسرائیل اور غزہ کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ حماس صرف اسرائیل کی دشمن نہیں بلکہ مغربی طرزِ زندگی کی مخالف ہے۔ اسرائیل اس جنگ کی اگلی صف پر ہے، مگر یورپ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ خطرہ سب کے دروازے پر موجود ہے۔

https://youtu.be/9nTbOu7UZRs


فلسطین کے متعلق آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کا بدلتا ہوا رجحان: ایک مذاکرہ کی روئیداد

اے بی سی نیوز آسٹریلیا

یہ مذاکرہ بنیادی طور پر آسٹریلیا کی حالیہ سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی صورتحال کے اہم پہلوؤں پر مرکوز ہے۔ اس میں حکومت کی ٹیکس پالیسی، معیشت کی اصلاحات، نوجوان نسل کے مسائل، اور عوامی توقعات جیسے داخلی موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں، جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر غزہ کی صورتحال، اسرائیل و فلسطین تنازع، یوکرین جنگ، امریکہ و آسٹریلیا کے تعلقات، اور آکس (AUKUS) معاہدے کے اثرات پر بھی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے خطرات، گھروں سے کام کرنے کے بدلتے رجحانات، اور سماجی انصاف کے معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ ساری گفتگو ایک ایسے جامع مکالمے کی شکل میں سامنے آتی ہے جو آسٹریلیا کے اندرونی و بیرونی چیلنجز اور پالیسی فیصلوں کی سمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

غزہ کا بحران اور مغربی دنیا کا بدلتا ہوا رجحان

اس مذاکرے میں اس پہلو پر بھی گفتگو کی گئی کہ مغربی دنیا میں اسرائیل کے بارے میں عوامی رائے تیزی سے بدل رہی ہے۔ غزہ کی صورتحال اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب اسرائیل کو حمایت کی بجائے تنقید مل رہی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور سول سوسائٹی میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن دوسری طرف اپنے عوام کے دباؤ کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت کو ایک نازک توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے تاکہ وہ نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو سنبھال سکیں بلکہ اندرونی سطح پر عوامی جذبات کا بھی احترام کریں۔

آسٹریلیا نے اسرائیل کے غزہ سے متعلق منصوبوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس راستے پر نہ بڑھا جائے۔ تاہم یہ سوال موجود ہے کہ کیا محض بیانات اور مذمتی الفاظ کسی بڑی تبدیلی کا باعث بن سکیں گے۔ دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد اسرائیل اب غزہ میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر ہونے والی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے غزہ پر کنٹرول، باقی ماندہ حماس کو ختم کرنے، اور پھر یہ علاقہ کسی عرب قوت کے حوالے کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ملکوں کو خدشہ ہے کہ اس سے انسانی بحران مزید بگڑے گا اور یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، مگر اب تک یہ بیانات اسرائیلی حکومت کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ سب سے زیادہ اثر رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ فیصلہ اسرائیل نے خود کرنا ہے۔

نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل پورے غزہ پر عسکری کنٹرول حاصل کرے گا، لیکن ان کے مطابق مقصد اسے رکھنا نہیں بلکہ کسی عرب انتظامیہ کے سپرد کرنا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ فوجی قیادت خود کو پہلے ہی دباؤ میں محسوس کر رہی ہے۔ بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے ساتھ نیتن یاہو کے منصوبے میں کچھ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ کئی ممالک نے اس اقدام کو غلط قرار دیا ہے۔ جرمنی نے مزید اسلحہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور آسٹریلوی وزیرِخارجہ پینی وونگ نے بھی اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے گریز کرے کیونکہ اس طرح کے قبضے سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔

سڈنی ہاربر برج پر گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا جسے آسٹریلوی سیاست کے لیے ایک انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام اور بین الاقوامی برادری غزہ میں جاری تباہی سے شدید پریشان ہیں۔ کئی سیاست دان اسرائیل کی حمایت کے باوجود سوال کر رہے ہیں کہ اس جنگ کا آخری ہدف کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر دنیا نے بروقت اقدام نہ کیا تو فلسطین کے وجود ہی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا رفتہ رفتہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے کیونکہ اس کے نزدیک بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کا دارومدار دو ریاستی حل پر ہے۔

ادھر اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہلِ خانہ تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے جمع ہو گئے اور جنگ کے پھیلاؤ کے خلاف احتجاج کیا، انہیں ڈر ہے کہ کارروائیوں میں ان کے اپنے لوگ مارے جائیں گے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے بھی مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا۔ جرمنی، جو اسرائیل کو اسلحے کا بڑا سپلائر ہے، نے ہتھیاروں کی ترسیل روک دی ہے۔ دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنی زمین روس کو دینے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ نے امن کے لیے زمین کے تبادلے کی تجویز دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے منصوبوں میں اس وضاحت کی کمی ہے کہ قبضہ کب شروع ہوگا، کب ختم ہوگا اور بعد ازاں کن قوتوں کے سپرد کیا جائے گا۔ یہ مزید ایک فوجی حکمتِ عملی تو ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی واضح سیاسی منصوبہ نہیں دکھائی دیتا۔ بین الاقوامی ردعمل میں جرمنی جیسے ملکوں کی جانب سے اسلحے کی فراہمی روکنے جیسے اقدامات شاید کچھ اثر ڈال سکیں لیکن اب تک بیانات یا قراردادیں اسرائیل کے طرزِعمل میں تبدیلی نہیں لا سکیں۔

آسٹریلوی سیاست میں بھی اس مسئلے پر تقسیم نظر آتی ہے۔ حکومت اسرائیل کی مذمت کر رہی ہے جبکہ اپوزیشن کے کئی رہنما اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم بعض قدامت پسند سیاست دان بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا۔ افغانستان کی طویل جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ بغیر کسی اختتامی حکمتِ عملی کے ایسی کارروائیاں نہ ختم ہونے والی جنگ میں بدل جاتی ہیں۔

اس دوران آسٹریلوی حکومت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے پر غور کر رہی ہے۔ وزیرِخارجہ پینی وونگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے وقت پر قدم نہ اٹھایا تو فلسطین کے وجود کو ہی شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ لیکن مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور اسرائیل اور حماس دونوں اپنی ایسی شرائط پر قائم ہیں جنہیں دوسرا کبھی قبول نہیں کرے گا۔ نتیجتاً یہ تنازعہ جمود کا شکار ہے اور کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

فرانس اور عرب لیگ کی جانب سے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن اس کے بعض غیر ارادی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اقدامات بظاہر نیتن یاہو کو اس سمت دھکیل رہے ہیں جس کے برعکس ان ممالک کی امیدیں تھیں۔ موجودہ حالات میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ جمود خطرناک حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان اس جمود کو توڑ سکے گا؟ اس کا امکان تو کم ہے، لیکن آسٹریلیا یہ سمجھتا ہے کہ ستمبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے یہ قدم ایک وسیع تر عالمی دباؤ کا حصہ بن سکتا ہے۔

اسی دوران آسٹریلوی سیاست میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض تسلیم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، پابندیاں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہیں۔ جرمنی نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آسٹریلوی وزیراعظم پابندیوں کے سوال پر محتاط ہیں کیونکہ آسٹریلیا کے پاس جرمنی جیسی عملی طاقت نہیں۔ البتہ آسٹریلیا کچھ پرزے ضرور فراہم کرتا ہے جو امریکی ایف-35 جنگی طیاروں میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن حکومت کہتی ہے کہ یہ ایک وسیع تر سپلائی چین کا حصہ ہے اور اسرائیل کو براہِ راست ہتھیار فراہم نہیں کیے جا رہے۔

اسی دوران یہ بھی کہا گیا کہ فرانسیسی صدر میکرون کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد حماس نے سیز فائر مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ ایسے اقدامات حماس کو مزید حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ جنگ بندی نہ کرے کیونکہ اس کے بغیر بھی اسے سیاسی فائدہ مل رہا ہے۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیراعظم اور وزیردفاع رچرڈ مارلز نے اس خیال کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت ایک دو ریاستی حل کی پالیسی کا حصہ ہے، اور کسی بھی پائیدار امن کا انحصار اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ ساتھ رہنے پر ہے۔ تاہم آسٹریلوی مؤقف یہ ہے کہ مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حماس کی کارروائیوں نے ہی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ آسٹریلیا نے ہمیشہ حماس کی مزاحمتی سرگرمیوں اور یرغمالیوں کے اغوا کی مذمت کی ہے اور اسے امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

مارلز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے، انسانی امداد کو غزہ تک پہنچنے دیا جائے اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق خوراک اور طبی امداد کو روکنا براہِ راست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسی لیے آسٹریلیا اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہے۔

جہاں تک اسلحے یا دفاعی سازوسامان کی فراہمی کا تعلق ہے، آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہی۔ ایف-35 پروگرام میں شامل ہونا ایک بین الاقوامی انتظام ہے جس کی سپلائی چین امریکہ سے منسلک ہے اور آسٹریلیا کا اس میں براہِ راست اختیار نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بعض حلقوں میں پھیلائی جانے والی معلومات درست نہیں۔ آسٹریلیا کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہو، انسانی امداد پہنچے اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔ ہم اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہے اور نہ ہی ہمارے پاس ایسا کوئی قدم ہے جو جرمنی جیسے اثرات مرتب کر سکے۔ جو بکتر بند اسٹیل آسٹریلیا سے اسرائیل کی کمپنی کو جاتا ہے، وہ بکتر بند گاڑیوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی اقدام نہیں جو اسرائیل کی سرگرمیوں پر نمایاں اثر ڈال سکے۔ جرمنی کی صورتحال بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ اسرائیل کو براہِ راست دفاعی سامان فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کو ختم کیا جائے اور اس کے لیے ہم اپنی بین الاقوامی آواز استعمال کر رہے ہیں۔

روس اور یوکرین کے تنازع پر آسٹریلیا کا مؤقف واضح ہے۔ یہ تنازع روسی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے شروع ہوا۔ اس جنگ میں اصولوں پر مبنی عالمی نظام داؤ پر لگا ہوا ہے اور اسی لیے آسٹریلیا یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ یہ تنازع یوکرین کی شرائط پر حل ہونا چاہیے۔ ہم جنگ کے خاتمے کے لیے ہر مثبت اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امریکہ و برطانیہ کی ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو امن کے راستے ہموار کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے داخلی و خارجی مسائل

امریکہ اور آسٹریلیا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ سالانہ اوسمین مذاکرات ہوں گے، وقت اور طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے اور اس میں لچک رکھی جاتی ہے۔ جہاں تک دفاعی اخراجات بڑھانے کا سوال ہے، آسٹریلوی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اخراجات کسی ہدف کی بنیاد پر نہیں بلکہ تزویراتی خطرات اور ضرورتوں کو دیکھ کر طے کیے جائیں۔ اسی پالیسی کے تحت آسٹریلیا نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی سرمایہ کاری کی ہے۔

آکس (AUKUS) معاہدے کے جائزے پر آسٹریلیا نے کہا کہ یہ جائزہ ایک فطری عمل ہے اور نئی امریکی حکومت کا حق ہے کہ وہ اس بڑے دفاعی منصوبے کو پرکھے۔ امریکہ اور آسٹریلیا مسلسل رابطے میں ہیں اور اس معاہدے کو دونوں ملکوں کے اسٹریٹجک مفاد میں سمجھا جاتا ہے۔ سابق وزیرِاعظم کی تجویز کے برعکس آسٹریلیا نے واضح کیا کہ یہاں غیر ملکی فوجی اڈے قائم نہیں ہوں گے، البتہ امریکی افواج کی موجودگی مشترکہ انتظامات کے تحت بڑھ رہی ہے جیسے ڈارون میں میرین فورس کی موجودگی اور 2027ء سے سب میرین روٹیشنل فورس کا قیام۔ آسٹریلیا میں کسی بھی غیر ملکی فوجی سرگرمی کے لیے حکومت کی پیشگی منظوری لازمی ہے۔

پاپوا نیو گنی کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس ملک کے فوجی بھی مستقبل میں آسٹریلوی دفاعی فورس کا حصہ بن سکیں گے۔ پہلے یہ موقع نیوزی لینڈ اور دیگر اتحادی ممالک کے شہریوں کو دیا گیا تھا اور اب پیسفک خطے کو بھی شامل کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ اس سے آسٹریلوی دفاعی فورس کی وسعت بڑھے گی۔

آئندہ ہفتے کے وسط میں ہونے والے راؤنڈ ٹیبل پر تو ہم پہنچیں گے ہی، لیکن فی الحال بات دوبارہ پینل پر لوٹتی ہے جہاں اسرائیل کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر نیتن یاہو اپنے اعلان اور سیکیورٹی کابینہ کے فیصلے پر عمل کرتے ہیں تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ رچرڈ مارلز کے بیانات سے ایسا نہیں لگتا کہ آسٹریلیا مزید دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی نیا قدم اٹھانے والا ہے۔ حکومت کا مؤقف بار بار یہی رہا ہے کہ آسٹریلیا مشرق وسطیٰ میں کوئی مرکزی کردار ادا نہیں کرتا اور اس کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ دوسری طرف دوسرے ممالک جیسے فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور عرب لیگ کی کوششیں اہم ہیں۔ تاہم امریکہ کی طرف سے کسی دباؤ کے بغیر نیتن یاہو کو پالیسی بدلتے دیکھنا مشکل ہے، خاص طور پر جب وہ اپنے فوجی کمانڈرز کی اپیلوں پر بھی کان نہیں دھرتے۔ دراصل یہ اقدامات اسرائیل کے لیے کم اور امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو حرکت میں لانے کے لیے۔

رچرڈ مارلز نے کہا کہ حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا مطلب عملی طور پر کیا ہے؟ وزیر ٹونی برک نے توجہ دلائی کہ دنیا میں کئی ملکوں کے کچھ حصے دہشت گرد گروہوں کے قبضے میں رہے ہیں لیکن پھر بھی ان ممالک کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے، جیسا کہ شام اور عراق میں داعش کی موجودگی کے باوجود۔ تو اگر فلسطین کو تسلیم کرنے کی بات ہے تو حماس کے کردار سے انکار کا مطلب کیا ہوگا؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اسرائیل یا آسٹریلیا جیسے ممالک حماس کو کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہیں، اسی لیے کچھ حلقے فلسطینی اتھارٹی کی اصلاح کی بات کرتے ہیں لیکن وہ بھی اسرائیل کے لیے قابلِ قبول حل نہیں بنتا۔ یوں معاملہ جمود کا شکار ہے اور سب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ شاید بہترین حل نہیں بلکہ کم سے کم نقصان والا حل تلاش کرنا پڑے گا۔ آسٹریلیا بھی یہی سوچ رہا ہے کہ کچھ تلخ فیصلے قبول کیے بغیر کوئی وسیع تر سمجھوتہ ممکن نہیں۔

اب توجہ اس راؤنڈ ٹیبل کی طرف ہے جو مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر ہوگا۔ اگرچہ ابھی یہ ٹیکنالوجی ہمارے درمیان موجود ہے لیکن یہ سوال زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے کہ اس کو کیسے قابو میں رکھا جائے اور اس کے لیے کون سے اصول بننے چاہئیں۔ فنکاروں، لکھاریوں، موسیقاروں اور میڈیا کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو اجازت دی گئی کہ وہ ان کے کام سے سیکھے اور اس پر مبنی نیا مواد تخلیق کرے تو یہ کاپی رائٹ قوانین کو بے اثر کر دے گا۔ ایک متعلقہ کمیشن کا خیال ہے کہ اگر AI کو یہ آزادی ملے تو معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن آرٹس کمیونٹی اور لیبر پارٹی کے اندر کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فنکاروں اور مقامی مواد کے لیے خطرناک ہوگا۔ خودکار آوازیں پہلے ہی Spotify جیسے پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ ہو رہی ہیں، جہاں AI انسانی فنکاروں کی آوازوں کی نقل بنا رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ قوانین کافی ہیں یا ایک نیا جامع AI قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے کہ حکومت کو مضبوط حفاظتی اصول وضع کرنے چاہییں تاکہ مقامی مواد محفوظ رہے، لیکن خود اپوزیشن کے اندر بھی اختلاف ہے کہ زیادہ قوانین بنانا درست حل ہے یا نہیں۔

لیبر پارٹی اور کولیشن دونوں کے اندر اس بات پر اختلاف ہے کہ کیا ہمیں ایک علیحدہ AI قانون بنانا چاہیے یا صرف موجودہ قوانین جیسے پرائیویسی ایکٹ اور ہیومن رائٹس ایکٹ کو جدید بنانا کافی ہوگا۔ بعض ماہرین اور حکومتی ادارے کہتے ہیں کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کیونکہ AI نے پہلے ہی فنکاروں کے کام سے سیکھ کر نئی تخلیقات شروع کر دی ہیں۔ ٹریژری کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین میں ترمیم ہی کافی ہوگی، لیکن کچھ حلقے چاہتے ہیں کہ بالکل نیا قانون بنایا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں تیزی سے دنیا کو بدل رہی ہیں اور حکومتوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ان کے ساتھ قدم ملا سکیں۔ جس وقت پارلیمنٹ قوانین پر غور کرے گی، AI کے نئے ورژن آ چکے ہوں گے۔ اس دوران حزبِ اختلاف سمجھتی ہے کہ یہ ایک اہم سیاسی موقع ہے جس سے وہ لیبر کو یونینز اور فنکاروں کے دباؤ کے درمیان پھنسا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک بڑھتا ہوا عالمی چیلنج ہے جس سے اب حکومتیں آنکھ نہیں چرا سکتیں۔

گزشتہ ہفتے ایک برطانوی رکنِ پارلیمنٹ نے اپنی ایک AI شکل بنا کر اسے عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے پیش کیا۔ یہ ٹیکنالوجی جدت کی ایک مثال ہے جو روایتی حدود سے آگے نکل جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے لیے کون سا فریم ورک بنایا جائے۔ کیا موجودہ قوانین اور ریگولیٹر کافی ہیں یا پھر ایک نیا AI ایکٹ بنانا ہوگا؟ اگر پارلیمنٹ اس پر فیصلہ نہ کرے تو معاملہ عدالتوں میں جا سکتا ہے اور پھر یہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوگا۔

ٹیکس پالیسی پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف تجاویز سامنے آئیں جیسے نیگیٹو گیئرنگ، کیپیٹل گین ٹیکس، فرنج بینیفٹس ٹیکس، اور جی ایس ٹی۔ پروڈکٹیویٹی کمیشن نے کمپنی ٹیکس پر بھی بات کی۔ مگر وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اس راؤنڈ ٹیبل سے کسی بڑے ٹیکس ریفارم کی توقع نہ رکھی جائے کیونکہ یہ کابینہ کے اختیارات کی جگہ نہیں لے گا۔ فی الحال حکومت صرف وہی ٹیکس پالیسی نافذ کرے گی جو انتخابی مہم کے دوران وعدہ کی گئی تھی۔ ہاں، مستقبل کے انتخابات کے لیے نئی تجاویز پر غور ممکن ہے۔

وزیراعظم اور خزانہ کے وزیر میں فرق زیادہ تر اندازِ نظر اور اہداف کا ہے، نہ کہ پالیسی کا۔ وزیرِ خزانہ زیادہ پرجوش ہیں کہ اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر اہم فیصلے کیے جائیں۔ لیکن وزیراعظم احتیاط برت رہے ہیں، وہ عوامی اعتماد کو ترجیح دیتے ہیں اور اچانک فیصلے کرنے کے بجائے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے موجودہ بحث مستقبل کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے، فوری عمل درآمد نہیں۔

ٹریژری نے جاری کردہ اعدادوشمار میں دکھایا ہے کہ مستقبل میں آمدنی پر ٹیکس کا بوجھ بڑھتا جائے گا اور موجودہ ٹیکس رعایتیں زیادہ تر امیر طبقے کو فائدہ دیتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریفارم کی ضرورت ہے تاکہ نظام زیادہ منصفانہ ہو۔ نوجوانوں کے حوالے سے بھی بحث تیز ہو رہی ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ موجودہ ٹیکس اور تعلیمی قرضوں کا نظام ان کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے، جبکہ پچھلی نسلوں کے لیے حالات بہتر تھے۔ اسی تناظر میں حکومت کے حالیہ اقدامات، جیسے تعلیم کے قرضوں میں نرمی، عوام میں مقبول ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی حالات پیچیدہ ہیں۔ غزہ میں بڑھتے مظاہروں نے رائے عامہ کو متاثر کیا ہے اور کارٹونوں کے ذریعے اس صورتحال کو طنز و مزاح کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف احتجاج کرنے والوں کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے تو دوسری طرف لاکھوں لوگ امن کے لیے مارچ کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی پوزیشن بھی ایک نازک توازن ہے جہاں انہیں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے درمیان محتاط رہنا پڑتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ کارٹونوں اور تبصروں میں دکھایا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں فنکاروں اور لکھاریوں کی محنت سے مواد لے کر بغیر اجازت اس سے کمائی کر رہی ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ضابطے نہ بنے تو یہ معاملہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ملازمتوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ ماحولیات، دانشورانہ حقوق اور معاشرتی توازن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔

گھروں سے کام کرنے کے کلچر پر بھی مزاحیہ انداز میں تبصرے سامنے آئے ہیں، جیسے دفتر کے بجائے گھر بیٹھے میٹنگز میں شریک ہونا، روزمرہ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا یا توجہ بٹنے کے مسائل۔ یہ سب اشارہ کرتا ہے کہ کام کرنے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے اور اس پر بھی پالیسی کی بحث جاری ہے۔

آخر میں، آسٹریلیا کے اندرونی معاملات جیسے چائلڈ کیئر کے نظام پر نظر ڈالی گئی ہے جہاں لیبر پارٹی میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ موجودہ منافع پر مبنی نظام بچوں کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کے حقوق اور انصاف کے نظام میں خامیوں پر بھی توجہ دی گئی ہے، جسے اقوامِ متحدہ تک نے نوٹ کیا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات میں بھارت اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے بھی آسٹریلیا کے لیے خدشات بڑھا دیے ہیں کیونکہ اگر کواڈ (Quad) اتحاد کمزور پڑتا ہے تو آسٹریلیا کا عالمی سطح پر اثر بھی گھٹ سکتا ہے۔ یہ ایک اور چیلنج ہے جس سے حکومت کو نمٹنا ہوگا۔

https://youtu.be/KseHn3gX6xQ




’’سیرتِ مصطفیٰ ﷺ (۱)‘‘

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

مولانا ڈاکٹر حافظ ملک محمد سلیم عثمانی

تعمیرِ کعبہ اور آپ ﷺ کی تحکیم

ابتدائے عالم سے اس وقت تک خانہ کعبہ کی تعمیر پانچ مرتبہ ہوئی۔

اول بار حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی۔ دلائل بیہقی میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کے پاس تعمیرِ بیت اللہ کا حکم دے کر بھیجا۔ جب آدم علیہ السلام اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حکم ہوا کہ اس گھر کا طواف کرو۔ اور یہ ارشاد ہوا کہ تم پہلے انسان ہو اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے۔ (ابن حجر فتح الباری ۶ ص ۲۸۵)

(کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراھیم خلیلاً‌)

جب نوح علیہ السلام کے زمانے میں طوفان آیا تو بیت اللہ کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک یہی حالت رہی۔ اسی وقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا کیونکہ بنیادوں کے نشان بھی باقی نہ رہے تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے آ کر بنیادوں کے نشان بتلائے تو حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام کی اعانت و امداد سے تعمیر شروع کی۔ مفصل قصہ کلام اللہ میں مذکور ہے۔ زیادہ تفصیل اگر درکار ہو تو فتح الباری، ابن کثیر اور تفسیر ابن جریر کی جانب مراجعت کریں۔ (ابن حجر فتح الباری ج ۶ ص ۲۸۴، ۲۹۲)

تیسری بار بعثتِ نبویؐ سے پانچ سال قبل جب آپؐ کی عمر شریف پینتیس سال کی تھی، قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ بناء ابراہیمیؑ میں خانہ کعبہ غیر مسقّف (بغیر چھت کے) تھا، دیواروں کی بلندی کچھ زیادہ نہ تھی۔ قدِ آدم سے کچھ زائد نو ہاتھ کی مقدار میں تھی۔ مرورِ زمانہ کی وجہ سے بہت بوسیدہ ہو چکا تھا، نشیب میں ہونے کی وجہ سے بارش کا تمام پانی اندر بھر جاتا تھا، اس لیے قریش کو اس کی ازسرِنو تعمیر کا خیال پیدا ہوا۔

جب تمام روساء قریش اس پر متفق ہو گئے کہ بیت اللہ کو منہدم کر کے ازسرِنو بنایا جائے تو ابو وہب بن عمرو مخزومی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کے ماموں) کھڑے ہوئے اور قریش سے مخاطب ہو کر یہ کہا کہ دیکھو بیت اللہ کی تعمیر میں جو کچھ بھی خرچ کیا جائے وہ کسبِ حلال ہو اور زنا، چوری اور سود وغیرہ کا کوئی پیسہ اس میں شامل نہ ہو، صرف حلال مال اس کی تعمیر میں لگایا جائے۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک ہی کو پسند کرتا ہے، اس کے گھر میں پاک ہی پیسہ لگاؤ۔ اور اس خیال سے کہ تعمیرِ بیت اللہ کے شرف سے کوئی محروم نہ رہ جائے، اس لیے تعمیرِ بیت اللہ کو مختلف قبائل پر تقسیم کر دیا کہ فلاں قبیلہ بیت اللہ کا فلاں حصہ تعمیر کرے اور فلاں قبیلہ فلاں حصہ تعمیر کرے۔

دروازے کی جانب بنی عبد مناف اور بنی زہرہ کے حصہ میں آئی، حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا درمیانی حصہ بنی مخزوم اور دیگر قبائل قریش کے حصہ میں آیا، بیت اللہ کی پشت بنی جمح اور بنی سہم کے حصہ میں آئی، اور حطیم بنی عبد الدار بن قصی، بنی اسد اور بنی عدی کے حصہ میں آیا۔

اسی اثناء میں قریش کو یہ خبر لگی کہ ایک تجارتی جہاز جدہ کی بندرگاہ سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا ہے۔ ولید بن مغیرہ سنتے ہی جدہ پہنچا اور اس کے تختے خانہ کعبہ کی چھت کے لیے حاصل کر لیے۔ اس جہاز میں ایک رومی معمار بھی تھا جس کا نام باقوم تھا۔ ولید نے تعمیرِ بیت اللہ کے لیے اس کو بھی ساتھ لے لیا۔ قال الحافظ فی الاصابۃ رجالہ ثقات مع ارسالہ۔ (ابن حجر الاصابہ (۸۵۳) ج ۱ ص ۱۳۷)

ان مراحل کے بعد جب قدیم عمارت کے منہدم کرنے کا وقت آیا تو کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ بیت اللہ کے ڈھانے کے لیے کھڑا ہو۔ بالآخر ولید بن مغیرہ پھاؤڑا لے کر کھڑا ہوا اور یہ کہا کہ (اللھم لا نرید الا الخیر) ’’اے اللہ! ہم صرف خیر اور بھلائی کی نیت رکھتے ہیں‘‘۔ معاذ اللہ ہماری نیت بری نہیں۔ اور یہ کہہ کر حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کی طرف سے ڈھانا شروع کیا۔

اہلِ مکہ نے کہا کہ رات انتظار کرو کہ ولید پر کوئی آسمانی بلا تو نازل نہیں ہوتی، اگر اس پر کوئی بلائے آسمانی اور آفتِ ناگہانی نازل ہوئی تو ہم بیت اللہ کو پھر اصلی حالت پر بنا دیں گے، ورنہ ہم بھی ولید کے معین و مددگار ہوں گے۔ صبح ہوئی تو ولید صحیح و سالم پھر پھاؤڑا لے کر حرم محترم میں آ پہنچا۔ لوگوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے اس فعل سے اللہ راضی ہے اور سب کی ہمتیں بڑھ گئیں اور سب مل کر دل و جان سے اس کام میں شریک ہو گئے اور یہاں تک کھودا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادیں نمودار ہو گئیں۔ ایک قریشی نے جب بنیادِ ابراہیمیؑ پر پھاؤڑا چلایا تو دفعتاً‌ تمام مکہ میں ایک سخت دھماکہ ظاہر ہوا جس کی وجہ سے آگے کھودنے سے رک گئے اور انہیں بنیادوں پر تعمیر شروع کر دی۔ تقسیمِ سابق کے مطابق ہر قبیلہ نے علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کر کے تعمیر شروع کی۔

جب تعمیر مکمل ہو گئی اور حجرِ اسود کو اپنی جگہ پر رکھنے کا وقت آیا تو سخت اختلاف ہوا۔ تلواریں کھنچ گئیں اور لوگ جنگ و جدال اور قتل و قتال پر آمادہ ہو گئے۔ جب چار پانچ روز اسی طرح گزر گئے اور کوئی بات طے نہ ہوئی تو ابو امیہ بن مغیرہ مخزومی نے، جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور سن رسیدہ تھا، یہ رائے دی کہ کل صبح کو جو شخص سب سے پہلے مسجدِ حرام کے دروازے سے داخل ہو، اسی کو اپنا حَکم بنا کر فیصلہ کروا لو۔ سب نے رائے کو پسند کیا۔ صبح ہوئی اور تمام لوگ حرم میں پہنچتے ہی سب کی زبانوں سے بے ساختہ یہ لفظ نکلے ھذا محمد الامین رضینا ھذا محمد الامین ’’یہ تو محمدؐ امین ہیں، ہم ان کے حَکم بنانے پر راضی ہیں، یہ تو محمدؐ امین ہیں۔‘‘

آپؐ نے ایک چادر منگوائی اور حجرِ اسود کو اس میں رکھ کر یہ فرمایا کہ ہر قبیلہ کا سردار چادر کو تھام لے تاکہ اس شرف سے کوئی قبیلہ محروم نہ رہے۔ اس فیصلہ کو سب سے پسند کیا اور سب نے مل کر چادر اٹھائی۔ جب سب کے سب اسی چادر کو اٹھائے اس جگہ پہنچے جہاں اس کو رکھنا تھا تو آپؐ بہ نفسِ نفیس آگے بڑھے اور اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھ دیا۔ (زرقانی، شرح مواہب، ج ۱: ص ۲۰۳ تا ۲۰۶۔ سیرۃ النبویہ ج ۱ ص ۲۰۱۔ ابن ہشام، سیرۃ النبی، ج ۱: ص ۲۱۰۔ سہیلی، روض الانف، ج ۱: ص ۱۲۷۔ طبری، تاریخ الامم والملوک، (۱/۱۱۳۹) ج ۲: ص ۲۹۰)

چوتھی بار عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں بیت اللہ کو شہید کر کے ازسرِنو تعمیر کرایا۔

پانچویں بار اس کو حجاج بن یوسف نے بنایا کہ اولین اور آخرین میں جس کے جور و ستم اور ظلم و تعدی کی نظیر نہیں۔ تفصیل کے لیے کتبِ تاریخ ملاحظہ ہوں۔

حافظ عراقی رحمہ اللہ الفیۃ السیر میں فرماتے ہیں:

واذ بنت قریش البیت اختلف
مــــلاھم تنــــازعا حتی وقــف
امــرھــم فیمـن یکون یضــع
الحجر الاســود حیث یوضـع
اذ جـــاء قالوا کلھم رضیـنـا
لوضــعہ مـحــــمـــــد الامینا
فحـط فی ثـوب و قال یرفـع
کل قبـیــــل طــرفـا فرفعــوا
ثمۃ اودع الامین الحـــجــرا
مکانۃ وقد رضوا بما جرٰی
(عراقی، الفیۃ السیرۃ)
’’اور جب قریش نے بیت اللہ کو بنایا تو ان کا اختلاف شدت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ متفق ہو گئے اس شخص کے متعلق کہ حجرِ اسود کو جب رکھنے کا وقت آئے تو کون رکھے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سب نے یک زبان کہا ہم سب راضی ہیں آپؐ کے رکھنے پر جو کہ امین ہیں۔ آپ علیہ السلام نے حجرِ اسود کو ایک کپڑے میں رکھا اور فرمایا ہر قبیلے کا سردار اس کی ایک طرف کو تھام لے تو سب نے پکڑ کر اٹھایا حجرِ اسود کے مقام تک۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ جو طریقہ آپ علیہ السلام نے اپنایا اس پر سب راضی ہو گئے۔‘‘ 




’’سیرتِ مصطفیٰ ﷺ‘‘

از افاضات: حضرت العلامہ مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ

مفید اضافہ و جدید ترتیب: مولانا ڈاکٹر حافظ ملک محمد سلیم عثمانی

ناشر: مکتبہ عمر فاروقؓ، بالمقابل صدف پلازہ، اردو بازار، محلہ جنگی قصہ خوانی، پشاور 

03118845717


’’مطالعۂ سیرتِ طیبہ ﷺ : تاریخی ترتیب سے‘‘

ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن


تعارفِ سیرتِ طیبہ

سیرت

سیرتِ طیبہ کے موضوع کو ذاتِ رسالت مآب سے نسبت کے طفیل جو اہمیت، مقام، قدر و منزلت اور قبولیت حاصل ہے، وہ یقیناً‌ محتاجِ بیان نہیں۔ اگر ہم اپنے اس مذہبی لٹریچر کا جائزہ لیں جو کسی بھی زبان میں مسلمانوں نے اب تک پیش کیا ہے، تو اس کا ایک بہت بڑا حصہ ان مباحث، موضوعات اور عنوانات پر مشتمل ہوگا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات وصفات سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے علوم و فنون میں فنِ سیرت کو یہ ایک عجیب امتیاز اور اس اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ 

مطالعۂ سیرت کی وسعتوں کے حوالے سے سیرت کے چند پہلوؤں کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ لفظ سیرت کے معانی و مفاہیم کو متعین کر لیا جائے، تا کہ پھر اس کی روشنی میں دیکھا جا سکے کہ عہدِ حاضر میں اس موضوع نے کیا کیا وسعتیں اختیار کی ہیں؟ 

لفظ سیرت ساریسیر سے مشتق ہے، جو باب ضرب يضرب  سے آتا ہے، اس کے معنیٰ چلنے پھرنے، چال چلن، کردار، سنت، طریقے، روش، شکل وصورت، ہیئت وغیرہ کے آتے ہیں۔

لفظ سیرت آغاز میں ہر ایک کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، چناں چہ عوانہ بن حکیم کلبی (م ۱۴۷ ھ )  کی کتاب سیرۃ معاویہ و بنی اُمیہ، اور واقدی (م ۲۰۷ھ ) کی کتاب سیرۃ ابی بکر و وفاتہ اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ بعد میں بھی لفظ سیرت کا یہ عمومی استعمال جاری رہا، چناں چہ اُردو میں بھی اس کی روایت نظر آتی ہے، علامہ شبلی کی سیرت النعمان اور سید سلیمان ندوی کی  سیرتِ عائشہ معروف کتب ہیں، البتہ اب ہمارے عرف اور عام محاورے میں جب لفظ صرف سیرت کا استعمال ہوتا ہے، تو اس سے مراد سیرتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سید عبداللہ فنِ سیرت کی نہایت جامع تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

سیرت کا مفہوم طریقے و مذہب، سنت، ہیئت، حالت اور کردار تک محدود نہیں، بل کہ اس سے مراد داخلی شخصیت، اہم کارنامے اور اکابر کے حالاتِ زندگی بھی ہیں۔

یہاں اگر چہ ڈاکٹر صاحب نے سیرت کے مطلق مفہوم کا ذکر کیا ہے، لیکن دوسرے مقام پر وہ اس مؤقف کو کہ سیرت سے مراد صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہے، بالکل واضح اسلوب میں بیان کرتے ہیں: 

تمام اشخاص کی بایوگرافی (سوانح) کو سیرت کہنا زیادتی ہے، کیوں کہ سیرت کے لفظ کو اُصولی طور پر آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات ہی سے مخصوص سمجھنا چاہیے۔

اسی مفہوم کے حوالے سے ایک بات اور بھی ہے، خود قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، چناں چہ قرآنِ حکیم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

خذھا ولا تخف سنعیدھا سیرتہا الاولیٰ۔ (طہ: ۲۱)
’’اسے پکڑ لو، اور خوف نہ کرو، اسے ہم پھر پہلی والی ہیئت پر لے آئیں گے۔ ‘‘

یہاں پر دیکھیے سیرت سے مراد ہیئت، شکل وغیرہ ہے۔

حدیث میں اس سے بھی واضح استعمال ملتا ہے، ایک روایت میں ہے: 

قام علی رضی اللہ عنہ علی المنبر، فذکر رسول اللہ ﷺ فقال، قبض رسول اللہ ﷺ و استخلف ابوبکر رضی اللہ عنہ فعمل بعملہ وسار بسیرتہ حتیٰ قبضہ اللہ عز وجل علیٰ ذالک، ثم استخلف عمر رضی اللہ عنہ علیٰ ذٰلک فعمل بعملہما وسار بسیرتہما حتیٰ قبضہ اللہ عز و جل علیٰ ذٰلک۔
’’ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ  ﷺ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے آپ کی ہی طرح اپنے فرائض انجام دیے، اور وہ آپؐ کی سیرت پر چلے، حتیٰ کہ اللہ نے اُن کی روح کو بھی قبض کر لیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، اُنہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے طریقے پر عمل کیا، اور اُن کی سیرت پر چلے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی روح کو بھی قبض کر لیا۔‘‘

دیکھیے یہاں بسیرتہ اور سیرتہما دونوں الفاظ خاص وہی مفہوم دے رہے ہیں، جس مفہوم میں آج لفظ سیرت مستعمل ہے۔

سیرت نگاری کا آغاز 

فنِ سیرت کا آغاز اسلام میں مغازی سے ہوا، ابتدا میں مغازی سے مراد غزوات و سرایا سے متعلق تفاصیل ہوتی تھیں۔ لیکن بعد میں اس میں وسعت پیدا ہوگئی، اور مغازی کے عنوان کے تحت لکھی جانے والی کتب میں سیرتِ طیبہ کا بڑا حصہ بیان ہونے لگا، چناں چہ مغازی کی مشہور کتب اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں، اور مغازی عروہ بن زبیر، مغازی ابان بن عثمان، مغازی ابن شہاب زہری، موسیٰ بن عقبہ، ابن اسحاق اور واقدی وغیرہ میں سے جو کتب دست یاب ہیں، یا جو کتب دست یاب تو نہیں ہیں، لیکن ان کے حوالے قدیم کتب میں ملتے ہیں، ان سے یہی علم ہوتا ہے کہ ان تمام کتب میں محض غزوات و سرایا کا بیان نہیں ہے، بل کہ سیرتِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حیاتِ طیبہ کا بہت سا حصہ بیان ہوا ہے۔

ابتدائی سیرت نگار

مغازی کے حوالے سے ابتدائی کتب کے مؤلفین میں عروہ بن زبیرؓ (م ۹۴ ھ )، ابان بن عثمان بن عفان (م ۱۰۵ھ )، عاصم بن عمر بن قتاده (م۱۲۰ ھ )، شرحبیل بن سعد مدنی (م ۱۲۳ھ )، ابن شہاب زہری (م ۱۲۳ھ ) اور عبداللہ بن ابی بکر بن حزم (۱۳۵ھ ) کے نام ملتے ہیں۔ ان کے بعد آنے والوں میں چار نام بڑے نمایاں ہیں اور ان چاروں نے جو کتب  مغازی کے عنوان سے تحریر فرما ئیں، اُن کا زمانۂ تحریر بھی تقریباً ایک ہی ہے، یہ چار نام ہیں : موسیٰ بن عقبہ (م۱۴۱ھ )، محمد بن اسحاق (م ۱۵۱ھ)، معمر بن را شد (م ۱۵۴ ھ ) اور ابو معشر نجیع بن عبد الرحمٰن سندی (م ۱۷۰ ھ)۔ ان میں ابو معشر زیادہ قابلِ غور ہیں، ایک تو وہ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، دوسرے ان کی کتاب کا زمانۂ تحریر موسیٰ بن عقبہ سے زیادہ دور نہیں ہے، لیکن وہ شاگر دموسیٰ بن عقبہ کے ہی تھے، اور موسیٰ بن عقبہ کو محدثین بھی تسلیم کرتے ہیں، حال آں کہ وہ عام طور پر مغازی نگاروں کو اپنے معیار کا قرار نہیں دیتے، چناں چہ امام مالک محمد بن اسحاق کے سخت ناقد ہیں۔ لیکن وہ بھی موسیٰ بن عقبہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔

ابو معشر کے سوا اس عہد کی تمام اہم ترین کتب، کسی نہ کسی صورت میں شائع ہو چکی ہیں اور ہمارے سامنے موجود ہیں۔

سیرت کے نام سے پہلی کتاب جو شائع شدہ ہمارے درمیان موجود ہے، وہ سلیمان بن طر خان التیمی (م ۱۴۳ھ) کی سیرت الرسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

مجالسِ سیرت 

سیرت نگاری کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام کے دورِ اول میں جب کہ مسلمانوں میں قرآن حکیم اور اس سے متعلقہ علوم وفنون نیز احادیثِ نبویہ کے حوالے سے شغف اور دل چسپی بڑھ رہی تھی، اور جا بہ جا ان کے حلقے قائم تھے، خلفائے راشدین بہ ذاتِ خود ان حلقوں کو قائم اور اُن کی سر پرستی فرماتے تھے، اور ان علوم کے ماہرین کی بڑی تعداد صحابۂ کرام میں موجود تھی، اسی دور میں مغازی کے زیرِ عنوان سیرتِ طیبہ پڑھنے اور پڑھانے کا رجحان بھی موجود تھا، اور یہ رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا تھا، جس کا ایک سبب ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسلمانوں کے تعلقِ خاص کے علاوہ یہ بھی تھا کہ اسلام سے قبل بھی اہلِ عرب کے ہاں خاندانی وقبائلی فخر و مباہات کے اظہار کا خاص اہتمام تھا، اور چوں کہ ان کے ہاں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا، اس لیے وہ ان کاموں کے لیے اپنے خداداد بے مثال حافظے سے فائدہ اُٹھاتے تھے اور اس مقصد کے لیے خاص مجالس آراستہ کرتے تھے۔

خیال کیا جاسکتا ہے کہ عربوں کی یہی روایت اسلام کی آمد کے بعد غزوات وغیرہ کے بیان کی صورت اختیار کرگئی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تفسیر و فقہ کے بڑے اور جید ترین امام ہیں، آپؓ نے اپنی مجالس کے لیے مختلف ایام کے لیے مختلف موضوعات مقرر فرمائے تھے۔ ان میں وہ ایک دن صرف سیرتِ طیبہ کا درس دیا کرتے تھے، جس کے لیے اس وقت کے محاورے کے مطابق سیرت نگار مغازی کا لفظ استعمال کرتے تھے۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ مغازی وغیرہ کے بیان سے صحابۂ کرام کا مقصد سننے والوں کو شوق دلانا اور انہیں ثابت قدمی، شجاعت اور جواں مردی کی تلقین ہوتا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کے صاحب زادے محمد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ہمارے والد ہمیں غزوات و سرایا کی تعلیم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے بیٹو! یہ تمہارے آبا کا شرف و افتخار ہیں، سو تم انہیں ہرگز ضائع نہ کرنا (بل کہ انہیں یا درکھنا)۔

غزوات و سرایا سے مسلمانوں کی اس دل چسپی کا اثر تھا کہ خواتین میں بھی یہ موضوع پسند کیا جا تا تھا، اور وہ بھی اس سلسلے میں خاصے ذوق وشوق کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ اُمِ سعد جمیلہ بنتِ سعد بن ربیع اپنی والدہ عمرہ بنتِ حزم بن زید کا واقعہ یوں بیان کرتی ہیں کہ میں غزوۂ خندق کے روز دو سال کی تھی، اور میری والدہ میرے ہوش سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کے غزوۂ خندق کے حوالے سے واقعات مجھے سناتی تھیں۔

اس سلسلے کے اور بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ اسلامی حکومت خصوصاً خلفائے راشدین اور اُن کے متصل بعد کے حکم رانوں نے بھی مغازی کو خاصی توجہ دی۔ ہشام بن عبدالملک نے اپنے بیٹے کے معلم سلیمان کلبی کو یہ ہدایت جاری کی تھی کہ اسے حلال و حرام، خطبات اور مغازی کے بارے میں صاحبِ نظر بناؤ۔

مغازی کا یہ درس دینے والے صحابہ و تابعین پھر بڑے جوش اور جذبے سے یہ درس دیا کرتے تھے، اور اس دوران اُن پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی تھی۔ سفیان بن عینیہ کہتے ہیں کہ حضرت عکرمہ جب غزوات کا بیان کرتے تھے تو سننے والا شخص یہ کہتا تھا کہ گویا وہ خود مجاہدین کو جہاد میں مصروف دیکھ رہا ہے۔ 

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مغازی کے زیرِ عنوان مطالعۂ سیرت، صحابۂ کرام اور تابعین کے عہد میں ہی مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا، جسے بعد میں مزید وسعت حاصل ہوئی، اور پہلے سیرت کے جامع انداز میں بیانات تحریری شکل میں آنا شروع ہوئے، اور بعد میں سیرت نگاری مزید وسعتیں اختیار کرتی چلی گئی۔

مطالعۂ سیرت

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ (الاحزاب : ۲۱)
یقیناً‌ تمہارے لیے رسول اللہ ( کی ذات مبارکہ) میں عمدہ نمونہ ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کو عام طور پر ہم شاید وہ توجہ نہیں دے پاتے جو اس کا مقام اور اس کا حق ہے، جس کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں، لیکن ایک چیز واضح ہے کہ اس کو ہم نے کبھی سبق اور درس کے طور پر نہیں، صرف سعادت کے طور پر لیا ہے۔ پھر اس میں بھی ہمارے پیشِ نظر انتخاب ہوتا ہے اور ذہن میں یہ خیال رہتا ہے کہ اگر سیرتِ طیبہ کے کسی ایک پہلو پر بھی بات کر دی گئی، یا اس کے کچھ حصے کا مطالعہ کر لیا گیا تو شاید اس کا حق ادا ہو گیا۔ سیرتِ طیبہ کو کہیں سے بھی بیان کر دیا جائے، اس کے سعادت ہونے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں، لیکن اس کو ’’سیرت پڑھنا پڑھانا‘‘  نہیں کہہ سکتے، جب تک کہ پورے علمِ سیرت کو کم از کم ایک بار پورے تسلسل کے ساتھ نگاہوں سے نہ گزار لیا جائے۔

پھر یہ محض مطالعہ بھی کافی نہیں، بل کہ دورانِ مطالعہ چند مزید پہلو بھی پیش نظر رہنے چاہئیں:

الف : مطالعۂ سیرت کی اسانید —  مطالعۂ سیرت کے دوران اس کی استنادی حیثیت بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔ 

ب : مصادر و ماخذ شناسی  — سیرت کے بنیادی مصادر کیا ہیں، کس کا کیا مقام ہے، کون کس سے استفادہ کرتا ہے۔ 

ج: درایتی مسائل  —  اگر روایتی اعتبار سے بیان درست بھی ہو، تب بھی یہ غور و فکر کہ کیا در ایتی اعتبار سے یہ روایت قابلِ حجت ہے؟

د:  اختلافِ روایت اور مشکلاتِ سیرت۔

ھ:  اسباقِ سیرت  —  واقعاتِ سیرت سے حاصل ہونے والے اسباق اور ان کی عصری تطبیق۔ 

سیرت کا بہ طور خاص مطالعہ کیوں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ جب ہم قرآن کریم یا احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں، تو پھر علیحدہ سے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیوں کیا جائے ؟ ان سوالات کے جوابات سے پہلے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ غور کریں کہ مطالعۂ سیرت کی ضرورت اور اہمیت کیا ہے؟ آخر سیرتِ طیبہ کو پڑھنا ہمارے لیے کیوں اتنا اہم ہے؟

ذاتِ رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والتسلیم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک تعارف قرآن کریم نے رحمۃ للعالمین کروایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کی حیثیت سے ہماری نظر میں اس کی افادیت اور ضرورت کیا ہے؟ اسی طرح قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ ایک ’’مثالی نمونہ‘‘ ہیں۔ اس کی حیثیت سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو دیکھنا، پڑھنا اور سمجھنا یہ بھی سیرت کی اہمیت ہے۔ رول ماڈل ایسی ذات ہوتی ہے جو عملی زندگی میں راہ نمائی کا فریضہ انجام دے۔ پھر عملی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں، انسان کو اپنی پیدائش سے لے کر وفات تک انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس جس حوالے سے راہ نمائی کی ضرورت پیش آسکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں وہ تمام پہلو اجمالاً موجود ہیں۔ اس لیے آپؐ کی ذات میں اسوۂ حسنہ ہونے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو مثالی نمونہ بنانے کے بعد ہمیں کسی اور جانب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو سکتی، بل کہ بہ طور مسلمان ہمیں تو کسی اور جانب دیکھنے کی اجازت بھی نہیں ہو سکتی۔

آج کے دور میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت

قرآن کریم میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مثالی نمونہ کہا گیا ہے، اس پر غور کرتے ہوئے ایک سوال یہ ذہن میں آسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ کی حیاتِ مبارکہ میں کچھ مسائل موجود تھے۔ ان میں سے کچھ مسائل بعد کی دنیا میں ختم ہو گئے اور کچھ نئے مسائل پیدا ہو گئے۔

چناں چہ ان تمام مسائل کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :

ا۔ وہ مسائل جو حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی تھے اور آج بھی اسی طرح ہیں۔

۲۔ وہ مسائل جو اس وقت تھے، آج موجود نہیں۔

۳۔ وہ مسائل جو اس زمانے میں نہیں تھے، آج موجود ہیں۔

چناں چہ عام انسانی ذہن یہ کہتا ہے کہ جو مسائل اس زمانے میں تھے اور آج بھی اسی طرح موجود ہیں، ان میں تو سیرتِ طیبہ سے راہ نمائی مل سکتی ہے، لیکن وہ مسائل جو آپؐ کے زمانے میں نہیں تھے، بعد میں کسی وقت پیدا ہوئے اور آج بھی موجود ہیں، ان معاملات میں سیرت سے راہ نمائی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ رہے وہ مسائل جو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھے، اب ختم ہو گئے، اس میں ہمیں راہ نمائی کی کیا ضرورت ہے؟

غور کیا جائے تو قرآن کریم میں چند انبیاء کا ذکر بڑے تکرار کے ساتھ ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا، حضرت عیسیٰ، حضرت شعیب، حضرت ابراہیم، حضرت نوح علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے۔ ہر دوسری تیسری سورت میں کہیں اختصار اور کہیں تفصیل سے، کہیں پہلا ٹکڑا اور کہیں واقعے کا آخری ٹکڑا، لیکن تسلسل کے ساتھ یہ ذکر قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔ 

دراصل قرآن حکیم ہمیں یہ ذہن نشین کروانا چاہتا ہے کہ جو مسائل مختلف انبیائے کرام کے زمانے میں تھے اور وہ مسائل جو آج ہمیں درپیش ہیں، حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر انسان تبدیل نہیں ہوا۔ انسان پر مادیت کا غلبہ ہے، انسان چمک کی طرف دوڑتا ہے، انسان حاصل زیادہ کرنا چاہتا ہے اور دینا کم چاہتا ہے، انسان کے اندر حسد ہے، بغض ہے، لڑنے کا مادہ ہے اور انسان کے اندر کا ہلی ہے۔ یہی چیزیں پہلے لوگوں میں بھی موجود تھیں، اور آج ہمارے اندر بھی تھوڑے فرق سے موجود ہیں۔ گویا اس حوالے سے اس قدر زمانہ گزر جانے کے باوجود آج کے انسان اور ماضی بعید کے انسان میں کچھ فرق نہیں آیا۔

چناں چہ قرآن کہتا ہے کہ وہ کیفیتیں جو مزاج کو تعمیر کرتی ہیں یا اس کو بگاڑتی ہیں، وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان میں موجود ہیں، ان میں تبدیلی نہیں آئی۔ انسان آسائش میں خوش ہوتا ہے، اور اگر آسائش چھین لی جائے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ  فرق اُس زمانے میں بھی تھا، اِس زمانے میں بھی ہے۔ اس زمانے میں آسائشیں الگ تھیں، آج کی آسائشیں الگ ہیں۔ چناں چہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا زمانہ ہو یا آج کا عہد ہو، اس میں فرق اس لیے نہیں ہے کہ انسان وہی ہے، اس کی نفسیات اور خواہشات وہی ہیں۔ نفس کے تقاضے، شیطان کے وساوس، جذبات کے دھو کے یہ سب اُس عہد میں بھی موجود تھے، اور اِس عہد میں اسی طرح موجود ہیں، البتہ کہیں کہیں تقاضوں میں فرق ضرور واقع ہو چکا ہے، لیکن بنیادی مزاج اور انسانی تقاضے ایک جیسے ہیں۔

اس لیے قرآن کریم کو ماننے والا ہر شخص یہ تسلیم کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں اسوۂ حسنہ کا ہونا بھی قیامت تک کے لیے ہے، اس کو کسی محدود دائرے میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد سے لے کر چودہویں صدی تک مشینی زندگی کا آج والا تصور نہیں تھا۔ فضائی، ماحولیاتی آلودگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ آلودگی کب آئی ؟ جب مشین آئی ہے۔ 

مشین آنے کے بعد وہ کام جو چند مہینوں میں ہوتا تھا، وہ چند لمحوں میں ہونے لگا۔ یہ تو اس عمل کا فائدہ ہوا، لیکن اسی مشین کے ذریعے دوسرے نقصانات بھی ہوئے کہ انسانی زندگی مصنوعیت کی طرف چلی گئی۔ انسانی زندگی کے اندر دوسرے غیر معمولی قسم کے وہ خطرات آگئے کہ انسان آج صرف اپنی بیماریاں شمار کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ یہ سب مشینی زندگی کا تحفہ ہے، اور اس کے جو دوسرے نقصانات سامنے آرہے ہیں، آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ پڑھنے اور پڑھانے والوں نے جب ماحولیات کا جائزہ لیا، حال آں کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی تک ماحولیات نام کا کوئی مضمون دنیا میں موجود نہیں تھا، پھر رفتہ رفتہ پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی سطح تک یہ مضمون وسیع ہو گیا۔

ماحولیات اور سیرتِ طیبہ کے موضوع پر درجنوں مضامین اور کتب موجود ہیں۔ یہ سیرتِ طیبہ کا اعجاز ہے، چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قیامت تک کے لیے پیغمبر و راہ نما بنا کر بھیجا گیا ہے، لہٰذا اگر اس سے ہزار گنا مشکل معاملہ بھی انسانیت کو درپیش ہو تو سیرتِ طیبہ میں اس کا بھی حل ضرور موجود ہو گا۔ صرف سیرتِ طیبہ پڑھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ہر شخص کو کام یابی کی تلاش ہوتی ہے، یہ ایک فطری جذبہ ہے، پھر کام یابی کے حصول کے لیے کام یاب شخصیات کی طرف نظر اٹھنا اور ایسے لوگوں کو تلاش کرنا بھی فطرت کا تقاضا ہے، جو اپنے اپنے مقام پر کام یاب قرار پائے۔ ہر دور میں انسان نے کام یابیوں کے سفر کے لیے کام یاب لوگوں کے حالات جاننے کی کوشش کی، اور ان کی خدمات اور سوانحی اشاروں کو توجہ سے پڑھا اور ان سے اپنے لیے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہر دور اور ہر عہد کے انسان کی ضرورت ہے، ایسی ضرورت جس میں کسی کو کلام نہیں۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات اور سیرت کے اوراق خود اس بات کی گواہی ہیں کہ کام یاب سے کام یاب ترین شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ نمائی کا محتاج ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس کس کو کہاں کہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راہ نمائی مل سکتی ہے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قائدانہ صلاحیتیں ہمارے قائدین کی کیسے راہ نمائی کرتی ہیں؟ طائف کے سفر میں جب آپ لہولہان ہو جاتے ہیں تو رحمتِ حق جوش میں آتی ہے، ملک الجبال کو بھیجا جاتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو دونوں اطراف کے پہاڑوں کو ملا کر اس شر پسند، مقامِ نبوت سے نا آشنا اور ظالم آبادی کو صفحۂ ہستی سے نابود کر دیں۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تجویز قبول نہیں فرمائی۔ 

دیکھیے ہمیں یہاں کیا درس ملتے ہیں؟ تحمل، صبر، برداشت، عفو، درگزر، انتقام کے بجائے معاف کرنا۔ مگر سب سے بڑا درس یہ ملتا ہے کہ قائدین کو ہمیشہ حوصلہ بلند اور ہمتیں جوان رکھنی چاہئیں۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ مایوسی سے نا امیدی جنم لیتی ہے اور نا امید شخص قوم کی تو کیا اپنی راہ نمائی سے بھی قاصر رہتا ہے۔ یہ نا امیدی ہی ہے جو انسان کو خود کشی جیسے انتہائی اور آخری اقدام پر مائل کرتی ہے، اور یہ امید ہی ہے جو انسان میں آگے بڑھنے کی امنگ پیدا اور کچھ کرنے کا جذبہ جوان رکھتی ہے۔ یہ وہ درس ہے جو مطالعۂ سیرت سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

ایک مدبر اور سیاست کار کی حیثیت سے کسی کو راہ نمائی درکار ہے تو دیکھیے کہ حدیبیہ کے مقام پر کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کی بنیا د رکھی۔ نتائج کے حوالے سے دیکھیں تو یہ وہ لمحہ  ہے جب اسلام اپنی پوری قوت سے ابھر کر سامنے آیا۔ قریش نے اسی لمحے شکست پا لی تھی جب اہلِ مکہ کا آزادانہ میل جول مسلمانوں کے ساتھ شروع ہو گیا تھا، انہوں نے مسلمانوں کے رہن سہن کا قریب سے مشاہدہ کیا تو ان کے حسنِ سلوک وحسنِ معاشرت سے گھائل ہو گئے اور بالآخر اجنبیت نے اسلام کے رشتے میں بدل کر مودت و محبت کی عظیم مثالیں قائم کر دیں۔

 دوسری جانب یہود کی بڑھتی ہوئی سرکشی سے نمٹنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یک سوئی ملی تو مسلمانوں کو ہر محاذ پر کام یابی ملتی چلی گئی، اور بالآخر انا فتحنالك فتحا مبينا (سورة فتح، جو صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی) کا آسمانی وعدہ زمینی حقیقت بن کر سامنے آگیا۔ یہ تھا نبوت کا تدبر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دور اندیشی، جو ہمارے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ 

مشکلات میں جینے کا حوصلہ درکار ہو تو دربارِ نبوت سامنے رکھیے اور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کیجیے، دیکھیے دشمن چہار جانب سے حملہ آور ہے، جان لینے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے، مگر آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے سکون سے ہجرت کرتے ہیں۔ اپنے رب پر بھروسے کا یہ عالم ہے کہ جب آپ کے ہم سفر اور یارِ غار صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دشمن کو دیکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو ظاہر ہے کہ خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے حوالے سے تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس قدر وضاحت سے فرماتے ہیں کہ ان الله معنا (سورۃ توبہ: ۴۰ ) الله ہمارے ساتھ ہے۔

یہ ایک واقعہ نہیں، حوادث کی تسبیح ہے جو ٹوٹ چکی ہے، اور حادثات دانے دانے کی طرح گرتے چلے آرہے ہیں۔ بدر کا میدان ہو یا احد کا، خندق کی سختیاں ہوں یا خیبر کی، تبوک کا معرکہ ہو یا حنین کا عزم وثبات کے کوہ گراں، یہ ایک ایسے شجر سایہ دار ہیں، جس کے نیچے سب ہی کو پناہ ملتی ہے، سب ہی اس دامنِ رحمت کے طالب نظر آتے ہیں۔ کس قدر عمدہ وضاحت اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول میں ملتی ہے کہ ہمیں جب کبھی جنگ کی شدت میں پناہ ملتی تو دامنِ رحمت ہی میں ملتی تھی۔  یعنی شجاعوں کے شجاع اور بہادروں کے بہادر صرف آپ تھے، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔  

انصاف کے داعیوں کو اگر ہدایت درکار ہے تو بھی دامنِ رحمت سے وابستہ ہونے کے سوا کوئی چارہ کا رنہیں کہ ظلم و جبر کے لیے طرح طرح کے خود ساختہ قوانین کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسانوں کو پہلی بار زبانِ رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے یہ خوش خبری سننے  کو ملی تھی کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا، یعنی فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا فاطمہ بنت فلاں میں کوئی فرق نہیں۔ یہی اعلان زبانِ نبوت نے حجۃ الوداع میں بھی فرمایا تھا کہ لا فضل لعربی علیٰ عجمی آگاہ ہو جاؤ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔

انسانی رویوں کے لیے راہ نمائی ڈھونڈنے والوں کو بھی صحیح معنیٰ میں راہ نمائی سیرتِ طیبہ کے مطالعے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے، کیوں کہ انسانی تاریخ میں ایسا اس سے پہلے کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ کسی شخص نے اپنے غلام کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار د یا ہو اور وہ اپنے اہلِ خانہ اور والدین کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہنے پر مصر ہو۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ایسے ہی صحابی ہیں۔ 

نہ کسی نے یہ گواہی سنی ہو گی کہ گھر یلو خادم، جو نو عمر بھی ہے، یہ کہتا ہے کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا ؟ یہ گواہی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی اوراقِ سیرت میں محفوظ ہے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل خواتین کو وہ آزادی بھی حاصل نہ تھی، جو آپؐ کی برکت سے انہیں میسر آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل لڑکی کی پیدائش باعثِ ننگ  و عار تھی، مگر زبانِ نبوت نے اسے گھر بھر کے لیے رحمت قرار دیا۔ یہ تفصیل بھی سیرت ہی کے مطالعے سے انسان کو میسر آسکتی ہے۔ 

اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ سیرت انسانی ضرورتوں کی تمام ممکنہ جہتوں میں راہ نمائی کرتا ہے۔


(’’مطالعۂ سیرتِ طیبہ ﷺ: تاریخی ترتیب سے‘‘۔ اشاعت: دسمبر ۲۰۲۲ء۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی۔ فون: 923072446688۔ ویب سائیٹ: www.rahet.org)


’’اکبر بنام اقبال: ایک صدی کے بعد 133 غیرمطبوعہ خطوط کی دریافت‘‘

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

(’’اکبر بنام اقبال‘‘ سے منتخب خطوط)

۲۷ مارچ ۱۹۱۲ء

الٰہ آباد ۲۷ مارچ ۱۲ء

عزیز مکرم، سلمہ اللہ تعالیٰ!

میں نے اس سے پہلے آپ کو ایک نیاز نامہ لکھا ہے۔ یاد نہیں کہ [کیا خیالات] ظاہر کیے تھے۔ امید ہے کہ کوئی غلط فہمی نہ ہوئی ہو۔ بلحاظ حالات موجودہ میں خیال کرتا ہوں کہ اب آپ کے حدِ امکان میں باہمی مصالحت نہ رہی۔ بہ ہر کیف دعا ہے کہ خدا اپنا فضل کرے۔ ذاتی کدوکاوش سے گزر کر اس ہنگامے نے ایک وہ بحث پیدا کر دی ہے جو مسلمانوں کی گزشتہ پالیسی کے ترک سے متعلق ہے۔ اور جس کی نسبت بڑے بڑے دماغ حرکت میں آئے ہیں۔ اگر زمانے نے کوئی نہایت غیر معمولی اور شدید انقلاب نہ پیدا کر دیا تو مغربی دانشمندانہ اور خاموش لیکن نہایت زبردست اور با اثر پالیسی بتدریج اس مذاق ہی سے ہم کو بے گانہ کر دے گی۔ لوکل معاملات اور پراونشل بجٹ پر نظر رہ جائے گی۔ غریب غربا پیٹ کے دھندے میں لگے رہیں گے۔ لیکن ابھی تو ہسٹری اور لٹریچر کی جھلک سامنے ہے اور جب تک یہ ہے زندگی سوہانِ روح ہے۔

میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تصادم دونوں صاحبوں کو دانشمند تر بنا دے گا۔ بنانا چاہیے۔ نہ بنیں تو افسوس ہے۔ لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اٰذان لا یسمعون بھا ۱۳۷۔

اللہ کوئی ایسی جماعت ہم میں پیدا کر دے جو اللہ ہی کے واسطے آپس میں محبت رکھیں اور جن کا مقصود یہ ہو کہ ذوق و شوق سے اللہ کو یاد کرتے رہیں۔

اپنی خیریت سے مطلع فرمائیے

نیازمند

اکبر حسین

۱۷ دسمبر ۱۹۱۶ء

الٰہ آباد ۱۷ دسمبر ۱۹۱۶ء

مکرمی، السلام علیکم!

کل ملک محمد دین صاحب۲۲۹ منیجر ریاست کرنال مجھ سے ملے۔ غالباً‌ یہ وہی بزرگ ہیں جن کی نسبت آپ نے مجھ کو تحریر فرمایا تھا۔ میں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا۔ گریجوایٹ ہیں۔ باوجود اس کے مذاق مذہبی سے اُن کا دل لبریز ہے۔ بہت خوش عقیدہ ہیں۔ آپ کی بہت مدح کرتے تھے اور مجھ کو شگفتگی ہوتی تھی۔ فرماتے تھے کہ اقبال کو قرآن پڑھتے اور زار زار روتے دیکھا۔ منشاء مثنوی یہ ہے کہ مسلمان اپنی ابتدائی اور اصلی حالت پر رجوع کریں۔ سبحان اللہ! سچ یہ ہے کہ صرف تفصیل ہی کرنے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ خدا کرے آپ سے ملاقات ہو سکے۔ مرا حال تو مرے اس شعر سے ظاہر ہوگا۲۷۰:

جان مردہ ہے، بدن افسردہ ہے مانندِ خاک
میں رہا ہوں گا کبھی، لیکن اب اپنی قبر ہوں

اپنی خیریت لکھیے۔

خاکسار دعا گو

اکبر حسین

۷ا مئی ۱۹۱۷ء

الٰہ آباد ۷ا مئی ۱۹۱۷ء

مکرمی، زاد لطفہ! آپ کے اشعار کی لذت اب تک لے رہا ہوں۲۹۲۔

؏ عشق ہے مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

ایک جہانِ معنی اس مصرعے کے اندر آباد ہے۔

اپنے والد ماجد صاحب کی خدمت میں مرا سلام شوق عرض کر دیجیے۔ اللہ تعالیٰ اُن کو مدتِ دراز تک زندہ رکھے۔

عشرت سلمہ نے کل میرا ایک مطلع بہت پسند کیا۔ سرسری طور پر کہہ دیا تھا۲۹۳۔

زباں سے دل میں صوفی ہی خدا کا نام لایا ہے
یہی مسلک ہے جس میں فلسفہ اسلام لایا ہے

غنیمت ہے کہ عشرت کو مذاقِ تصوف ہے۔

بحث کی کوئی حد نہیں۔ الفاظ بے شمار ہیں۔ خیالات کے پہلو لاتعد و لاتحصیٰ۲۹۴ ہیں جس کے ذہن میں کافی قوت ہوئی اُس نے ایک سسٹم بنا لیا۔ حقیقت وہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں۔ ’’الصوفی لا مذہب لہ‘‘۲۹۵۔ میں اس کی تصدیق کروں گا۔ لیکن مذہب کی تعریف و تشریح کروں گا۔ بہ ہر حال اللہ پر نظر اور خودداری بڑی نعمت ہے۔ خدا جس کو نقیب (کذا، نصیب) کرے۔ آپ کو یہ نعمت عطا ہوئی ہے۔

یہاں میں اسلامی سوسائٹی میں نہایت غفلت اور ابتری پاتا ہوں۔ نہ علما کے شاگرد نہ مشائخ کے مرید۔ پھر کیا ہوگا۔ غور کیجیے۔ شیعہ کا مرکز مجتہدین سے قائم تھا لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ وہ برائے نام رہ جائیں گے۔ پروفیسر مرکز بن جائیں گے۔

اکبر حسین

۲۵ جنوری ۱۹۱۸ء

الٰہ آباد ۲۵ جنوری ۱۹۱۸ء

ڈیر ڈاکٹر صاحب، سلمہ اللہ تعالیٰ! مجھ سے تو وہ صاحب بہ وثوق بیان فرماتے تھے کہ پندرہ سو کی منظوری ہو گئی۔ اور آپ دکن جا رہے ہیں ۔ پندرہ سو نہ سہی۔ ہزار بارہ سو بھی منظوری کے لائق ہے۔ میں خوش ہوں گا اگر آپ کو یہ تعلق ہو جائے۴۰۵۔ زر کا فائدہ ہے لیکن اصلی بات یہ ہے کہ آپ ایک شغل میں مشغول ہو جائیں۔ اور آپ کے علم و حکمت کا صَرف صحیح ہو سکے۔

میں تو خوش ہوا کہ ظفر علی خاں صاحب نے اڈیٹری کی کشمکش سے نجات پائی۔ اور خدمتِ سابقہ پر بحال ہو گئے۴۰۶۔

آدمی خود خوش نہیں رہتا تو مشکل ہے کہ اوروں کو خوش رکھ سکے۔ بڑی مصیبتوں کا کام ہے کہ باوجود مغموم ہونے کے فراغِ خاطر و سکونِ طبع حاصل رہے۔ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں۴۰۷۔ اس کے سوا آپ کی عمر، آپ کی ضرورتیں، ان کا اقتضا نیچرل ہے۔ بہ ہر حال اگر وہاں متعلق ہو جائیے۔ نہایت خوشی۔ شکرِ خدا۔ اگر نہ ہو یا کوئی امر آپ کو اعراض پر مجبور کرے۔ جب بھی شکرِ خدا۔ اقبال بہ ہر حال اقبال ہیں۔

لسانُ العصر آپ نے بنا رکھا ہے۔ لیکن میں بنا نہیں۔ آپ لسان القدم ہو جائیں گے۔ وقت گزرنے دیجیے۔ ’’لترکبن طبقًا عن طبق‘‘۴۰۸

اکبر حسین

۱۶ مارچ ۱۹۲۰ء

الٰہ آباد ۱۶ مارچ ۱۹۲۰ء

برادرم! نظموں کی فرمائشوں پر مجھے طویل معذرت کرنا پڑتی تھی۔ پرسوں ایک امرتسری بزرگ جو امراؤتی ملک برار میں کہیں ہیڈ ماسٹر ہیں مجھ سے ملنے آئے تھے انھوں نے فرمایا کہ ڈاکٹر اقبال صاحب نے ایک موقع پر کہہ دیا تھا۵۵۶۔

I am not a poet to order

میں نہایت خوش ہوا۔ بہت مختصر فقرہ ہاتھ آیا۔ اطلاعاً لکھتا ہوں۔

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں۔ اس مہینے کی جنون انگیز ہوا کا سامنا اور یادِ رفتگاں کچھ نہ پوچھیے دل پر کیا گزرتی ہے۔ آئے دن کی علالت الگ۔

دعا گوئے شما

اکبر

زمانے کا عجیب رنگ ہے۵۵۷ ؎

گائے کا تو بھائی گاندھی نے کیا کچھ بندوبست
شیخ جی کا اونٹ کس کل بیٹھتا ہے دیکھیے

۱۸ اپریل ۱۹۲۰ء

الٰہ آباد ۱۸ اپریل ۱۹۲۰ء

قدر افزائے اکبر، سلمہ اللہ تعالیٰ! میرے خط کا جواب نہیں آیا۔ جس میں ’’کعبے کو پھر شریف نے بت خانہ کر دیا‘‘۵۵۸ پر داد دی گئی تھی۔

بڑا انقلاب سامنے ہے۔ اللہ فضل کرے۔ آپ سکرٹری ہوئے ہیں۔ خدا مبارک کرے۵۵۹۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ملت پر شفقت اور درگزر کی نظر رہے۔ بمرور ایام طرح طرح کے طریقے نکل آئے ہیں۔ مناسب و ملائم نصیحت کے ساتھ چلنے دیجیے۔ حریفوں ہی کے مقابلے میں حفظِ ایمان کی فکر ضروری ہے۔ طریقِ تعلیم کی اصلاح فرض ہے۔ قناعت کا سبق ضروری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ ممدوح انام ہیں۔ آپ کے دوست حضرتِ ظفر ہیں۔ امید ہے کہ وہ بھی حلم سے کام لیں۔

میں پرتاب گڑھ گیا تھا۔ لکھنؤ کا ارادہ تھا۔ ضعف و ناتندرستی سے نہ جا سکا۔ معلوم نہیں زندگی کس وقت ختم ہو جائے۔ آپ کی محبت اور دعا سے دلی قوت کی امید ہے۔

نیازمند

اکبر


ماجد صاحب مصنف فلسفہ جذبات مجھ سے ملنے پرتاب گڑھ آئے تھے۔ ہنوز وہ نماز و دعا تک نہیں پہنچے۔ ہندو فلسفہ دیکھ رہے ہیں۵۶۰۔




(’’اکبر بنام اقبال: ایک صدی کے بعد 133 غیر مطبوعہ خطوط کی دریافت‘‘۔ ناشر: ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم کیمپس، لاہور۔ بار اول: ۲۰۲۴ء۔ zahidmuniramir@gmail.com)



’’فہمِ اقبال — کلامِ اقبال کا موضوعاتی انتخاب‘‘

رانا محمد اعظم

(’’فہمِ اقبال‘‘ سے چند منتخب نظمیں)


دانائے سبل ختم الرسل

گراں جو مجھ پر یہ ہنگامہ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
قیودِ شام و سحر میں بسر تو کی لیکن
نظامِ کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیۂ رحمت میں لے گئے مجھ کو
کہا حضورؐ نے، اے عندلیب باغ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز
ہمیشہ سرخوشِ جام وِلا ہے دل تیرا
فتادگی ہے تیری غیرت سجودِ نیاز
اُڑا جو پستی دنیا سے تو سوئے گردوں
سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعتِ پرواز
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا؟
حضورؐ دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاض ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تیری اُمت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
(بانگِ درا، ص ۲۴۳)

عندلیب: بلبل۔ جامِ وِلا: محبت کا پیالہ

تشریح

علامہ اقبالؒ نے یہ نظم ۱۹۱۱ء میں جنگ بلقان کے موقع پر بادشاہی مسجد لاہور میں پڑھی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا عمل کے لیے بنائی ہے۔ دنیا میں انسان کو تکالیف اور طرح طرح کے مسائل بھی ہیں۔ ان سب سے نبرد آزما ہونا ہی مومن کی شان ہے۔ اس کی جزا اللہ تعالیٰ آخرت میں دے گا۔

میں نے اپنی زندگی تو بہتر کر لی ہے لیکن دنیا میں وہی پرانا نظام ہے۔ اس کو کوئی بدلنا نہیں چاہتا۔ اصل میں علامہ اقبالؒ نے کہا ہے کہ لوگ غلامی سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ میں نے اپنی بھرپور کوشش کی۔

فرشتے مجھے اللہ کے نبی ﷺ کی محفل میں لے گئے۔ آپ ﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺ نے کہا اے اقبالؒ! تو نے اپنی شاعری سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ تیری اس آواز سے لوگوں کے دل نرم ہوئے ہیں۔

اقبال میری محبت میں تیرے جام کا پیالہ بھرا رہتا ہے۔ یعنی تیرا دل میری محبت سے سرشار رہا۔ جس عاجزی سے تو نے رب کے سامنے سجدے کیے ہیں وہ رشک کے قابل ہے۔ تو نے اپنی شاعری سے بلندی کا درس دیا ہے۔ لوگوں کو تو نے پستی سے نکالنے کی کوشش کی۔

دنیا سے تو میری طرف ایسے آیا جیسے پھول سے خوشبو نکل آتی ہے۔ میرے لیے کیا تحفہ لے کر آیا ہے؟

اقبالؒ نے کہا میرے آقا ﷺ دنیا کے اندر سکون نہیں ہے۔ وہ زندگی جو آپ ﷺ کی اطاعت میں گزر جائے آپ ﷺ کی محبت میں گزر جائے تلاش کرنے سے نہیں ملی۔

دنیا میں ہزاروں طرح کے پھول ہیں۔ لوگ ہیں۔ آپ ﷺ سے وفا کرنے والے لوگ نہیں ملتے۔

اس گئے گزرے دور میں بھی آپ ﷺ کے لیے اک شیشی میں تحفہ لایا ہوں۔ جو بہت قیمتی ہے۔ میرے آقا ﷺ تری اُمت کی عزت اسی میں ہے۔ طرابلس کے شہیدوں کا لہو اس شیشی میں لایا ہوں۔ میرے آقا ﷺ جب تک آپ کی اُمت خون دیتی تھی عزت تھی۔ خون نہ دینے کی وجہ سے ذلت کا شکار ہے۔


بلال رضی اللہ عنہ

لکھا ہے ایک مغربی حق شناس نے
اہلِ قلم میں جس کا بہت احترام تھا
جولاں گہِ سکندر رومی تھا ایشیا
گردوں سے بھی بلند تر اس کا مقام تھا
تاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے
دعویٰ کیا جو پورس و دارا نے، خام تھا
دنیا کے اِس شنہشہِ انجم سپاہ کو
حیرت سے دیکھتا فلکِ نیل فام تھا
آج ایشیا میں اس کو کوئی جانتا نہیں
تاریخ دان بھی اسے پہچانتا نہیں
لیکن بلالؓ، وہ حبشی زادۂ حقیر
فطرت تھی جس کی نورِ نبوت سے مستنیر
جس کا امین ازل سے ہوا سینۂ بلالؓ
محکوم اس صدا کے ہیں شاہنشہ و فقیر
ہوتا ہے جس سے اَسود و احمر میں اختلاط
کرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیر
ہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز
صدیوں سے سن رہا ہے جسے گوشِ چرخِ پیر
اقبال! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے
(بانگِ درا ۲۹۶)

جولاں گہ: میدان۔ مستنیر: روشن۔ اختلاط: ملاپ

تشریح

مغرب کا ایک مصنف جو سچ کہنے والا تھا اور اس کی تحریر کا لوگ احترام کرتے تھے، نے کہا کہ سکندراعظم روم کا رہنے والا تھا۔ اُس کا مقام مرتبہ بہت اونچا تھا۔ جس نے دنیا کو فتح کیا جس کی فوج ستاروں کے برابر تھی۔ پورس جو ہندوستان کا بادشاہ تھا، اس کو شکست دی۔ اور دارا جو ایران کا مشہور بادشاہ تھا اس کو شکست دے کر ایران پر قبضہ کر لیا۔ اتنی بڑی طاقت رکھنے والا جس نے دنیا کو فتح کیا، آج اس کو ایشیا میں کوئی نہیں جانتا، تاریخ دان بھی اس کو نہیں جانتے۔

لیکن اس کے مقابلے میں وہ بلالؓ ایک خدام حبشی جس کا معاشرے میں معمولی مقام تھا، لیکن دل اس کا اسلام کی روشنی سے منور تھا۔ شروع سے بلالؓ نے ہی اذان دی۔ اس کی اذان کے ہر چھوٹے اور بڑے طبقہ کے لوگ شیدائی تھے۔ اسلام میں ہی یہ بات ہے کہ نماز کے وقت سب کو ایک کر دیتی ہے۔ امیر غریب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ پیارے آقا ﷺ سے عشق کی وجہ سے بلالؓ کا نام زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ طاقت ور رومی آج ختم ہو گیا ہے۔


امارت کیا، شکوہِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانیؓ
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلّی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراجِ مسلمانی
(بالِ جبریل، ص ۴۹۶)

تشریح

اے مسلماں تجھ کو موجودہ دور میں سرداری، خسرو پرویز بادشاہ کی سی شان و شوکت دے دی جائے تو اس کا بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تیرے اندر ابھی حضرت علیؓ جیسی ایمان کی قوت نہیں، اور نہ حضرت سلمان فارسیؓ جیسی بے نیازی ہے۔ ان چیزوں کو مغربی تہذیب میں تلاش نہ کر کہ مسلمانوں کو عظمت شانِ بے نیازی سے حاصل ہوتی ہے۔


اخوتِ مومن

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
(بانگ درا ۷۶۱)

تشریح

علامہ اقبالؒ نے اپنے علما کرام کو کہا کہ آپ کا مقصد لوگوں کو دین کی تعلیم دینا ہے تو پھر ترکِ دنیا کی تعلیم نہ دینا، جیسے راہب سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں میں عبادت کرتے ہیں۔ یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے۔

دوسری احتیاط یہ کرنی ہے کہ اپنی زبان کو نئے فرقے بنانے کے لیے استعمال نہ کرنا۔ آپ کو پتہ نہیں اس کے پیچھے بہت بڑا فساد ہے۔

قوم کو اخوت کا پیغام دینا ہے۔ قوم کو پیار و محبت کے ذریعے اکٹھا کریں۔ کوئی ایسی تقریر نہ کر کہ دوسری فقہ کے لوگوں کی دل آزاری ہو۔


پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میں
کہ میں داغِ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا
(بانگِ درا ص ۹۸)

شغل سینہ کاوی: سخت کوشش

تشریح

قوم کو تسبیح کے دانوں کی طرح اکٹھا کرنا ہے جو لوگ مختلف قوموں میں بٹ گئے ہیں۔ یہ کام تو بظاہر مشکل ہے لیکن اس مشکل کو آسان کر کے ہی دم لوں گا۔ میرے دوست! سخت محنت کی لگن سے میں لوگوں کے اندر آپس میں محبت پیدا کر کے ہی دم لوں گا۔


ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغِ حرم! اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیلِ تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
(بانگِ درا ص ۳۳۴)

تشریح

تمام انسانوں کو لالچ نے قوموں، قبیلوں اور فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس حالت میں محبت اور بھائی چارہ کا درس دینے والا ہو جا۔

مختلف قوموں میں تعصب ہوتا ہے۔ ان نظریات کو چھوڑ دے۔ کناروں میں محدود رہنے والے! کناروں سے آزاد ہو کر تمام قوموں اور انسانیت کی بات کرنے والا بن جا۔

یعنی رنگ و نسل کے تعصب میں گھرے ہوئے تری ترقی کی صلاحیتیں قوموں کے تعصب میں گرد آلود ہیں۔ اے مسلمان ان تعصبات کی مٹی اپنے پروں سے جھاڑ لے۔

خودی کو پہچان کر ہر قسم کے تفرقات سے پاک ہو جا۔ یہ اصل زندگی ہے۔

زندگی کے میدان میں فولاد جیسی مضبوط فطرت پیدا کر۔ مسلمانوں کی محبت میں، آپس کی محبت میں ریشم کی طرح نرم ہو جا۔

پانی کے سیلاب کی طرح دنیا کی مصیبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گزر جا۔ مسلمانوں کی محفل میں بیٹھ کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا بن جا۔


(’’فہمِ اقبال [کلامِ اقبال کا موضوعاتی انتخاب]‘‘۔ ناشر: محمد عابد۔ اہتمام: مثال پبلشرز، امین پور بازار، فیصل آباد۔ 923006668284)