پاکستان میں سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا عدالتی سفر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رپورٹ : ادارہ الشریعہ
قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، دستوری طور پر معیشت کو اسلامی قوانین و تعلیمات کے مطابق چلانے اور غیر اسلامی سودی نظام کو جلد از جلد ختم کر دینے کی ضمانت موجود ہے، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت نے متعدد بار سودی نظام کے خاتمہ اور ملک کے معاشی نظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تبدیل کرنے کے واضح احکام جاری کیے ہیں، حتیٰ کہ غیر سودی بینکاری کے قابلِ عمل بلکہ زیادہ محفوظ اور نفع بخش کا سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جا چکا ہے اور بین الاقوامی ادارے بلاسود بینکاری کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ لندن اور پیرس جیسے معاشی مراکز غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں اور روس میں ۲۰۲۳ء کے دوران غیر سودی بینکاری کا عملاً آغاز ہو چکا ہے۔
اس فضا میں ہمارا حال یہ ہے کہ ملک میں رائج سودی قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں واضح طور پر دستور کے منافی قرار دیے جانے کے باوجود ان سے پیچھا چھڑانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی اور گزشتہ تین عشروں سے ہماری عدالتوں میں سودی قوانین کے حوالہ سے آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے اور ہم سود کو لعنت قرار دیتے ہوئے بھی اس کا جوا گردن سے اتارنے کے لیے عملاً تیار نہیں ہیں جبکہ سودی معیشت کے پیدا کردہ معاشی تفاوت اور اقتصادی لوٹ کھسوٹ نے ملک کے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں ہمارے ہاں سودی نظام کے خلاف ہونے والی عدالتی جدوجہد کے بارے میں ایک رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جو امید ہے اس حوالہ سے صورتحال کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو گی۔
پاکستان میں سودی نظام کے خلاف عدالتی جدوجہد کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا جب مختلف افراد اور تنظیموں نے وفاقی شرعی عدالت میں درخواستیں دائر کیں کہ سودی قوانین قرآن و سنت کے منافی ہیں۔ ان درخواستوں کی بنیاد دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 203-ڈی اور دیگر دفعات پر رکھی گئی جن کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کو برقرار نہ رکھے۔ سودی نظام کے خلاف کئی دہائیوں پر مشتمل اس عدالتی جدوجہد میں متعدد شخصیات اور اداروں نے نمایاں کردار ادا کیا:
- وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ کے سامنے مقدمات میں جماعتِ اسلامی پاکستان نے مستقل طور پر درخواست گزار کی حیثیت سے آواز بلند کی۔
- اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سفارشات اور رپورٹس کے ذریعے سودی معیشت کے خلاف ٹھوس قانونی بنیادیں فراہم کیں۔
- ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، جسٹس تنزیل الرحمٰنؒ اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے عدالتی دلائل اور علمی رہنمائی کے ذریعے اس جدوجہد کو تقویت بخشی۔
- تنظیمِ اسلامی نے سودی معیشت کے خاتمے کے لیے فکری و تحریکی سطح پر عدالتی اور عوامی توجہ مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
- ان کے علاوہ بہت سی علمی شخصیات اور اداروں نے اپنے اپنے دائرے میں اس سلسلۂ جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا۔
ان سب کاوشوں کے نتیجے میں عدالتوں نے مختلف اوقات میں سود کے خلاف فیصلے دیے، جو پاکستان کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں کے قریب لانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
اس سلسلے کی فیصلہ کن اور باقاعدہ ابتدا 14 نومبر 1991ء کو ہوئی جب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے (10 PLD 1991 FSC) میں قرار دیا کہ ہر قسم کا سود، خواہ کم ہو یا زیادہ، قرآن و سنت کے مطابق ناجائز اور حرام ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ 30 جون 1992ء تک تمام سودی قوانین ختم کیے جائیں اور اسلامی مالیاتی متبادل جیسے مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ اور اجارہ وغیرہ رائج کیے جائیں۔ یہ مقدمہ جسے عموماً ’’مقدمہ سود‘‘ یا Riba Case کہا جاتا ہے، پاکستان کی آئینی اور قانونی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس میں علماء، ماہرینِ معیشت اور وکلاء نے تفصیلی دلائل دیے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ریاست پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مالیاتی نظام کو سود سے پاک کرے۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف حکومتِ پاکستان اور بعض مالیاتی اداروں نے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل دائر کر دیں۔
طویل سماعت کے بعد 23 دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے 1991ء کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور تفصیلی فیصلہ دیا (PLD 2000 SC 225)۔ اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سودی قوانین قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ 30 جون 2001ء تک سودی نظام ختم کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام صرف ایک نظریاتی خاکہ نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ عمل ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں مختلف دائروں میں نافذ ہے۔
لیکن 2002ء میں حکومت کی نظرثانی درخواست پر سپریم کورٹ نے اپنے ہی 2000ء کے فیصلے (PLD 2000 SC 225) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پورا معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا۔
اس کے بعد سود کے خلاف عدالتی جدوجہد تعطل کا شکار ہو گئی اور مکمل نفاذ کے بجائے پاکستان میں ایک متوازی اسلامی بینکاری کا نظام وجود میں آیا، جبکہ روایتی سودی نظام بھی برقرار رہا۔ اس عرصے کے دوران ’’اسلامی بینکاری‘‘ کے نام سے ادارے قائم ہوئے اور اسلامی مالیاتی مصنوعات متعارف ہوئیں، مگر ریاستی سطح پر سودی نظام کا خاتمہ مؤخر ہوتا رہا۔
2019ء میں وفاقی شرعی عدالت میں ایک بار پھر سماعتیں شروع ہوئیں اور بالآخر 14 اپریل 2022ء کو عدالت نے ایک اور فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں سودی نظام مکمل طور پر غیر اسلامی ہے اور حکومت کو ہدایت کی گئی کہ 2027ء تک ملک کو سود سے پاک کر دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی یقین دہانی کرائی کہ معیشت کو مرحلہ وار بلا سود بنایا جائے گا۔
یوں یہ پوری عدالتی جدوجہد چار دہائیوں پر محیط ہے۔ 1991ء کا فیصلہ اس سفر کا نقطہ آغاز تھا، 1999ء/2000ء کے فیصلے نے اس کی توثیق کی، 2002ء میں نظرثانی نے عمل درآمد کو مؤخر کر دیا، اور 2022ء کے فیصلے نے ایک بار پھر اس جدوجہد کو زندہ کیا۔ اس عرصے میں نظریاتی سطح پر بار بار سود کو حرام قرار دیا گیا مگر عملی نفاذ مسلسل آئندہ تاریخوں سے مشروط رہا۔ پاکستان کی معیشت آج بھی ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں سودی اور اسلامی بینکاری دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ریاست آئندہ برسوں میں اپنے وعدے کے مطابق مکمل طور پر بلا سود نظام قائم کر سکے گی یا نہیں۔
وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 1991ء
14 نومبر 1991ء کا وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ (10 PLD 1991 FSC) اہم نکات کی صورت میں یوں ہے:
سود (ربا) کی تعریف اور حرمت
عدالت نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ قرض پر لیا جانے والا ہر اضافہ، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، سود ہے اور شریعت کے مطابق حرام ہے۔ ہر قسم کا سود، خواہ وہ بینکوں کے قرضوں کی شکل میں ہو یا تجارتی معاہدوں کی صورت میں، قرآن و سنت کے مطابق ناجائز اور قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا۔
بینکاری اور مالیاتی قوانین: ریاست کی ذمہ داری
بینکوں اور مالیاتی اداروں میں سود پر مبنی لین دین (interest-based transactions) اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیے گئے۔
ریاست کی ذمہ داری
آئینِ پاکستان کے تحت حکومت پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ سودی نظام ختم کرے اور مالیاتی ڈھانچے کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے۔
مدتِ عمل درآمد
حکومت کو ہدایت دی گئی کہ 30 جون 1992ء تک تمام سودی قوانین ختم کر کے اسلامی مالیاتی متبادل رائج کرے۔
اسلامی متبادل کی نشاندہی
عدالت نے مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ، اجارہ، سلم اور استصناع جیسے اسلامی مالیاتی طریقوں کو متبادل کے طور پر اپنانے کی تجویز دی۔
مرحلہ وار تبدیلی
عدالت نے کہا کہ نظام کو اچانک ختم کرنے کے بجائے مرحلہ وار تبدیلی لائی جائے تاکہ معیشت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔
قانونی ترامیم کی ہدایت
حکومت کو تمام ایسے قوانین میں ترامیم کرنے کی ہدایت کی گئی جو سودی لین دین کو تحفظ دیتے ہیں، تاکہ وہ شریعت کے مطابق ہو جائیں۔
آئینی جواز اور فیصلہ کی حیثیت
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ یہ حکم دستور کی روح کے مطابق ہے کیونکہ دستورِ پاکستان کی دفعات (خصوصاً آرٹیکل 203۔ڈی اور 38۔ایف) ریاست کو پابند کرتی ہیں کہ وہ معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی قانونی اور آئینی تاریخ میں سود کے خلاف پہلا جامع اور باضابطہ عدالتی حکم ہے جس نے اسلامی بینکاری کے نظام کی بنیاد فراہم کی۔
سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کا فیصلہ 2000ء
سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کا فیصلہ (PLD 2000 SC 225) جو 23 دسمبر 1999ء کو محفوظ اور 2000ء میں شائع ہوا، اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی توثیق
سپریم کورٹ نے 1991ء کے فیصلے (10 PLD 1991 FSC) کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ سود (ربا) قرآن و سنت کے مطابق ہر صورت میں حرام ہے۔
سودی قوانین کالعدم
عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان میں رائج سود پر مبنی قوانین، جیسے بینکنگ قوانین، فنانس ایکٹس اور سودی معاہدات، سب قرآن و سنت کے منافی ہیں اور ان پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔
ریاست کی ذمہ داری اور مدتِ عمل
حکومتِ پاکستان پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ معیشت کو سود سے پاک کرے اور اسلامی مالیاتی ڈھانچہ قائم کرے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ 30 جون 2001ء تک سودی نظام مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
اسلامی متبادل پر تفصیل
فیصلے میں اسلامی مالیاتی طریقے جیسے مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ، اجارہ، سلم اور استصناع تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے اور کہا گیا کہ یہ طریقے معیشت کو چلانے کے لیے کافی ہیں۔
عملی امکان اور تعلیم و تربیت کی ہدایت
عدالت نے کہا کہ اسلامی نظامِ معیشت محض نظری نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ عمل ہے اور کئی ممالک اس کے اصولوں پر کسی نہ کسی حد تک عمل پیرا ہیں۔ حکومت سے کہا گیا کہ وہ بینکنگ و مالیاتی اداروں کے ماہرین اور تعلیمی اداروں میں اسلامی مالیات کی تعلیم و تربیت کو فروغ دے تاکہ عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
مرحلہ وار تبدیلی کا اصول
عدالت نے زور دیا کہ معیشت کو یکدم بدلنے کے بجائے مرحلہ وار تبدیلی کی جائے تاکہ نظام کو نقصان نہ پہنچے اور متبادل ڈھانچہ آسانی سے کھڑا ہو سکے۔
بین الاقوامی پہلو
فیصلے میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ سود کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی معاہدات اور مالیاتی تعلقات کو دیکھتے ہوئے متوازن حکمتِ عملی اپنانی ہو گی۔
سپریم کورٹ کا کالعدمی فیصلہ 2002ء
سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کا 2000ء کا فیصلہ پاکستان میں سودی نظام کے خلاف عدالتی جدوجہد کی سب سے مضبوط توثیق تھا، لیکن بعد میں حکومت کی نظرِ ثانی درخواستوں کے باعث 2002ء میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا۔
وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 2022ء
14 اپریل 2022ء کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے (Shariat Petition No. 30-L of 1991 & all other 81 connected matters relating to Riba/Interest) کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- سود (ربا) ہر صورت میں غیر اسلامی ہے، چاہے وہ نجی معاملات ہوں یا بینکنگ لین دین۔
- موجودہ سودی بینکاری نظام کو شریعت کے خلاف تسلیم کیا گیا۔
- وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ قوانین میں ترامیم کریں تاکہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوں۔
- Interest Act 1839 جیسی قدیم قانونی دفعات جو سود کی سہولت دیتی ہیں، غیر شرعی قرار دی گئیں۔
- تمام قرضوں (loans) پر جو اصل رقم کے علاوہ کوئی اضافی رقم وصول کرتے ہیں، انہیں ربا کی تعریف میں شامل کیا، چاہے اضافہ کم ہو یا زیادہ۔
- سودی لین دین یا نجی سود دونوں ہی ربا کے زمرے میں آتے ہیں؛ صرف بینکنگ نہیں بلکہ کوئی بھی سود پر مبنی معاہدہ شریعت کے منافی ہے۔
- پورے نظامِ مالیات کو 31 دسمبر 2027ء تک مکمل طور پر سودی نظام سے پاک کیا جائے۔
- اسلامی بینکاری کے نظام قابلِ عمل ہیں، ان کو فروغ دیا جائے تاکہ مالیاتی نظام میں منصفانہ، شفاف اور استحکام لایا جائے۔
- ربا کی ممانعت اسلامی معیشت کا بنیادی جز ہے، جو استحصال اور منافع خوری سے محفوظ رکھتا ہے۔
- حکومت اس فیصلے پر عمل کرنے کے لیے رہنما لائحہ عمل بنائے، اور قانون سازی، انتظامی اقدامات اور بینکاری نظام میں اصلاحات کرے تاکہ مستقبل میں سود پر مبنی لین دین نہ ہوں۔
References
- Federal Shariat Court, Pakistan. (2022, April 28). *Judgment in the matter of Riba (Usury) case (Shariat Petition No. 30/L of 1991)*. Retrieved from https://www.federalshariatcourt.gov.pk/Judgments/S-P 30-L1991 Riba Case-28.04.2022.pdf
- Mansoori, T., & Ayub, M. Federal Shariah Court’s judgement on Ribā: An appraisal and some suggestions. Journal of Islamic Business and Management. https://doi.org/10.26501/jibm/2022.1201-001
- Bhatti, H. (2022, April 28). Federal Shariat Court rules laws related to interest are contrary to Islam in landmark verdict. Dawn. Retrieved September 24, 2025, from https://www.dawn.com/news/1687237
۷ ستمبر — یومِ تحفظِ ختمِ نبوت
حضرت مولانا اللہ وسایا
انٹرویو نگار : عامر عثمانی
عامر عثمانی: السلام علیکم ناظرین، درسِ قرآن پوڈ کاسٹ کی اس خصوصی نشست سے اپنے میزبان عامر عثمانی کا سلام قبول کیجیے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت بلاشبہ ہماری زندگیوں میں، ہمارے ایمان میں، وہ کلیدی اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ جس کے بغیر یقیناً ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا، اور وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو عقیدۂ ختمِ نبوت پر کامل اور مکمل ایمان نہ رکھتا ہو۔ اس سے پہلے کہ میں پوڈ کاسٹ میں آگے بڑھوں آپ نے ہائی لائٹس میں دیکھ لیا ہوگا، تھمب نیل پر آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ آج کون شخصیت اس سٹوڈیو میں ہمارے ساتھ موجود ہیں اور جن سے ہم نے ان تمام موضوعات پر آج بات کرنی ہے۔ یہ موضوع چونکہ بہت زیادہ حساس ہے بہت sensitive ہے اور یہ ہمارا معاشرہ جس طرف چل پڑا ہے ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پہلے مجھے چھوٹا سا ایک disclaimer دے دینا چاہیے اور وہ ڈسکلیمر یہ ہے کہ
’’میں عامر عثمانی الحمد للہ ایک مسلمان ہوں اور عقیدۂ ختمِ نبوت پر کامل ایمان رکھتا ہوں اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتا ہوں اور اُن کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘
یہ میں نے اپنی طرف سے ایک وضاحت اس لیے دی ہے کہ اس پوڈ کاسٹ میں آگے جا کے ہو سکتا ہے کہ کچھ سوالات ایسے ہوں کہ جہاں سے ’’چونکہ چنانچہ‘‘ کے کوئی دروازے کھلیں اور اس کے بعد بہت ساری ایسی چیزیں جو ہماری طرف؛ یہ جس کرسی پر میں بیٹھا ہوں یہ بہت حساس ہے اور سوال کرنے کے پروٹوکولز ہوتے ہیں، مگر میں ایک جرنلسٹ یا ایک صحافی ہونے سے پہلے ایک مسلمان ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ تمام پروٹوکولز جو اس کرسی کے ہیں، میں شاید اس کا حق تو نہ ادا کر پاؤں لیکن کوشش ضرور کروں گا کہ وہ تمام سوالات ایڈریس ہوں، ان تمام سوالات پر یہاں گفتگو ہو بات چیت ہو کہ جو آپ کے دل و دماغ میں ابھرتے ہیں۔
آج میرے ساتھ درسِ قرآن ڈاٹ کام کے سٹوڈیو میں عالمی مجلسِ تحفظ ختمِ نبوت کے عظیم رہنما جنہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی، اور کیا جوانی کیا بڑھاپا، اور آج تک وہ آپ کو اس عمر میں پیرانہ سالی میں ختمِ نبوت کے سٹیجز پر نظر آتے ہیں، ختمِ نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی جوانی ان کے مشن میں رکاوٹ نہیں بنی، ان کا بڑھاپا، ان کی بیماری، کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی۔ میں بہت اپنے آپ کو خوش نصیب محسوس کر رہا ہوں کہ آج میں ان کے ساتھ موجود ہوں اور ان سے گفتگو کی سعادت اور یہ موقع مجھے نصیب ہو رہا ہے۔ میں خوش آمدید کہوں گا جناب مولانا اللہ وسایا صاحب کو۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
مولانا اللہ وسایا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
عامر عثمانی: مولانا صاحب، بہت شکریہ آپ نے وقت دیا اور یہ موقع ہمیں عنایت کیا کہ ہم اس تحریک کے بارے میں جان سکیں جو ایک بہت عظیم تحریک ہے۔ میں چاہوں گا کہ آپ کی اجازت سے میں اس انٹرویو کا باقاعدہ آغاز کروں۔ اس سے قبل کہ میں موضوعات کی طرف آگے جاؤں، آپ کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر میں چاہوں گا کہ دیکھی جائے۔ کیا بچپن، کیا جوانی، کیا تعلیم تربیت، کس ماحول میں آنکھ کھولی اور کیسے پھر یہ زندگی کا سفر آگے بڑھا؟
مولانا اللہ وسایا: برادر، میرے والدین زراعت پیشہ ہیں اور میری تاریخ پیدائش دسمبر 1945ء ہے، اس حوالے سے 80 سال اس وقت میری عمر ہے جی۔ تو ابتدائی تعلیم میں نے سکول کی میٹرک تک، وہ تو اپنے علاقہ میں حاصل کی، میرا علاقہ بہاولپور کے دیہات میں ہے، وہاں پر حاصل کی۔ اور اس کے بعد پھر دینی تعلیم جامعہ خیر المدارس، جامعہ قاسم العلوم، جامعہ مخزن العلوم عیدگاہ خانپور سے میں نے 1967ء کے آخر میں اور 1968ء کے اوائل میں دورہ حدیث شریف کی تکمیل کی۔ اسی طرح ہمارے بہاولپور میں ایک جامعہ عباسیہ ہوتا تھا جو اس زمانے کی بہاولپور ریاست کی وہ یونیورسٹی شمار ہوتا تھا، اس سے میں نے ’’مولوی فاضل‘‘ بھی کیا جسے ’’ثالثہ فاضل‘‘ اس زمانے میں کہتے تھے۔ تو یہ میری دنیوی اور دینی تعلیم ہے۔ اور اس کے بعد دینی تعلیم سے فارغ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔
عامر عثمانی: کس سن میں آپ کی فراغت ہوئی؟
مولانا اللہ وسایا: یہ 1967ء کے آخر اور 1968ء کے اوائل میں۔ اور اس کے بعد پھر میں مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے اندر شامل ہو گیا۔ تو اس زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے ایک فاضل تھے، فیجی آئی لینڈ کے مولانا عبدالمجید صاحب۔ تو مولانا لال حسین اخترؒ مناظر اِسلام، وہ فیجی آئی لینڈ گئے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان مولانا کو فیجی سے دارالعلوم دیوبند بھجوایا۔ دورہ حدیث شریف کرنے کے بعد اسپیشلی طور پر وہ ملتان آئے، تو ان کے لیے ایک کلاس کا اہتمام کیا گیا کہ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت سے متعلق مناظرانہ تربیت دی جائے۔ تو دو تین پاکستان کے علماء کرام جن میں میں بھی شامل تھا، تو استاذ مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے وہ ہمیں پڑھایا اور ہمیں تربیت دی۔
اس کے بعد وہ مولانا تو فیجی آئی لینڈ چلے گئے اور مجھے حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ نے میرٹ پر، میرے استاذوں کی سفارش پر مجھے مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے اندر کام کرنے کے لیے آپ نے انتخاب فرمایا۔ تو بحیثیت مبلغ کے میری 1969ء کے اوائل میں تقرری ہوئی فیصل آباد کے اندر اور پھر میں 1984ء تک وہاں رہا۔ 1984ء میں حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد؛ ان کے پاس دو عہدے تھے، ایک تو وہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری تھے، اور دوسرا مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے ناظم اعلیٰ۔ تو مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے ناظمِ اعلیٰ کا جو اُن کا منصب تھا وہ تو ہمارے مخدوم حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے سپرد کیا گیا۔ اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کے وہ رابطہ سیکرٹری تھے، تو یہ عہدہ انہوں نے مجھے تفویض کیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے میری تقرری کی اور پھر یوں میں ملتان آیا جی۔
عامر عثمانی: اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے جو سربراہ تھے وہ خواجہ خان محمد صاحبؒ تھے؟
مولانا اللہ وسایا: وہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ تھے، یہ 1984ء میں۔ اور جو 1968ء میں تقرری ہوئی اس وقت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ تھے۔ تو حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندرؒ اور موجودہ ہمارے امیر حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی، ان تمام اپنے اکابر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے کام کرنے کی سعادت سے نوازا ہے۔
عامر عثمانی: بہت شکریہ حضرت، یہ آپ نے تحریکی اور تعلیمی دونوں زندگیوں پر اپنی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ یہ جو تحریک ختمِ نبوت کا جو آغاز ہے تھوڑا سا اس طرف بھی میں چاہوں گا کہ اس پر بھی آپ تھوڑی سی گفتگو کریں، کس وقت باقاعدہ طور پر اس تحریک کا آغاز ہوا اور کب یہ محسوس ہوا کہ یہ جو قادیانی ہیں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے؟ اس تحریک کے اگر کچھ بنیادی نکات پر آپ روشنی ڈالنا چاہیں۔
مولانا اللہ وسایا: برادر، میری پہلی درخواست یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے 1880ء میں وہ کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھنی شروع کی اور اس میں اس نے مہدی ہونے کا، مسیح ہونے کا، معمور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور 1901ء میں آکر اس نے واضح طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ تو اس کا جو ابتدائی دعویٰ ہے، جس زمانے میں مہدی مسیح ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا اور یہ اپنی ابتدائی کتاب لکھی تو اس کی کتاب کے سیاق و سباق کو دیکھ کر اس وقت کی ہماری دینی قیادت نے اپنی ایمانی بصیرت سے بھانپ لیا کہ غلام احمد قادیانی کا جو سفر ہے یہ انتہائی خطرناک ہے اور اس نے آگے چل کر دعوائے نبوت کرنا ہے۔ چنانچہ ان حضرات نے ابتدا میں ہی مرزا غلام احمد کو کہا کہ تیرے یہ الہامات قرآن کے بھی خلاف ہیں سنت کے بھی خلاف ہے اور امتِ مسلمہ کے 1400 سالہ تعامل کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ اس زمانے میں۔ اور یہ 1901ء سے پہلے کی بات ہے، 1880ء اور 1901ء کے درمیان کی۔ تو اس زمانے میں ایک قصور کے بزرگ عالم دین تھے مولانا غلام دستگیر قصوریؒ، لدھیانہ کے حضرات علماء کرام مولانا عبداللہ لدھیانویؒ، مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبدالقادر لدھیانویؒ، اور اسی طرح مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا نذیر حسین دہلویؒ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ، اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، ان حضرات نے اس زمانے میں؛ دارالعلوم دیوبند کے استاذ ہوتے تھے مولانا سہول خان صاحبؒ، انہوں نے ایک فتویٰ مرتب کیا تو اس پر 600 علماء کرام نے؛ اس میں دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، حنفی، غیرحنفی کی کوئی قید نہیں تھی؛ تمام مسالک کے ایک چوٹی کی دینی قیادت نے مرزا غلام قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ اور وہی فتویٰ آگے چل کر مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کے ثبوت میں تمام عدالتوں کے اندر پیش ہوا۔ چنانچہ مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے بھی بہاولپور کی عدالت میں بطور دستاویز کے اس فتوے کو جمع کرایا تھا۔
تو وہاں سے اس تحریک کا آغاز ہوا۔ اور اس فتوے کے اندر بہت ہی؛ آج تقریباً سوا ڈیڑھ سو سال گزرنے کے باوجود اتنا اعتدال پر مبنی معتدل فتویٰ، جانچ تول کر، ناپ پرکھ کر وہ فتویٰ مرتب کیا گیا کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی اس کے اندر ایک لفظ کی کمی یا بیشی کی ضرورت نہیں ہے اس فتویٰ کے اندر۔ اور اتنا جاندار اور معتدل فتویٰ تھا مبنی بر حقائق۔ اور پھر اس کے بعد تاریخ گواہ ہے کہ بہاولپور کی عدالت ہو، بھاگلپور کی عدالت ہو، الٰہ آباد یا مدراس کا ہائی کورٹ ہو، جوہانسبرگ کی عدالت ہو، مصر یا شام کی عدالت ہو، عرب امارات کی عدالت ہو، جہاں کہیں بھی، اور خود پاکستان کی مقامی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک جن جن عدالتوں میں قادیانیت اور اسلام کا کیس پیش ہوا وہ فتویٰ بطور بنیادی دستاویز کے ہمیشہ اُن تمام عدالتوں کے کیسوں کی سماعت کے دوران پیش ہوتا رہا۔ اور واقعہ ہے کہ پھر اس ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد میں جہاں کہیں بھی قادیانیت سے متعلق، قادیانیت اور اسلام کا آپس کے اندر تقابل ہوا اور کیس پیش ہوا، ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ کفر ہارا ہے اور اسلام جیتا ہے۔
اور یہ ہماری اس تحریک کا بالکل آغاز تھا جس میں حضرات علماء کرام نے متفقہ طور پر بمبئی سے لے کر کراچی تک، کراچی سے کابل اور کلکتہ تک، کلکتہ سے کوئٹہ تک، اس پورے خطے کی دینی قیادت نے متفقہ طور پر کہا کہ مرزا قادیانی کی ان عبارات کی رو سے، یہ مرزا غلام محمد خود اور اس کے ماننے والے وہ مسلم سوسائٹی کا حصہ نہیں، ان کا اسلام یا مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ وہ فتویٰ میں سمجھتا ہوں کہ وہی ابتدائی طور پر، جو مرزا قادیانی کے عقائد سے متعلق بنیادی دستاویز مرتب کی گئی تھی، وہی ہماری تحریک کا حصہ ہے۔ اور اس کی بنیاد پر، وہ دن جائے آج کا دن آئے، قادیانیت کے متعلق ہمیشہ۔
عامر عثمانی: اس میں حضرت میں یہاں ایک سوال ایڈ کرنا چاہوں گا آپ کی اجازت سے، وہ جو فتویٰ تھا یا اس کے بعد جو بھی دستاویزات تیار ہوئے اس میں قادیانی کا اسٹیٹس کیا ہے؟ آپ قادیانی کو اقلیت ڈکلیئر کرتے ہیں، ظاہر ہے اگر آپ اقلیت کہیں گے تو ’’اقلیت‘‘ تو ایک یورپ سے اڈاپٹ کیا ہوا ایک لفظ ہے۔ نمبر دو، یہ سوال اصل میں اس لیے کر رہا ہوں کہ گزشتہ سال جب مینار پاکستان پر اس تاریخی دن کی گولڈن جوبلی منائی گئی 50 سال مکمل ہونے پر اس میں مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل نے؛ ان کے بیان میں جو چیز سامنے آئی پھر نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے اس کو لیا؛ اپنے بیان میں انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ قادیانی مرتد ہیں اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ یہ ان کے بیان کے as it is شاید الفاظ نہ ہوں لیکن اس کا ٹوٹل مدعا یہی تھا۔ اس کے بعد یہ ڈیبیٹ شروع ہوئی اور لوگوں نے اس پر بات چیت شروع کی۔ پھر جب ہم نے اپنے طور پر اس پر ریسرچ کرنے کی کوشش کی تو یہ تین چیزیں ہمارے سامنے آئیں کہ (۱) اقلیت ہے (۲) مرتد ہے (۳) یا زندیق ہے۔ اگر آپ اس فتویٰ اور اس کے بعد والے تمام دستاویزات کی روشنی میں اس پر گفتگو کرنا چاہیں تو وہ کیا ہو گی؟
مولانا اللہ وسایا: میں درخواست کرتا ہوں کہ ابتدا میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد اور نظریات کا مطالعہ کرنے کے بعد حضرات علماء کرام نے یہی کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے مسلم امت کا حصہ نہیں، وہ غیر مسلم ہیں۔ اور جو شخص اب قادیانیت کو اختیار کرتا ہے تو گویا وہ اسلام کو ترک کر کے قادیانیت کو قبول کر رہا ہے۔ اور قادیانیت کو وہ حضرات کفر قرار دے چکے ہیں۔ تو اسلام کو ترک کر کے کفر کو اختیار کرنا، تو یہی ارتداد کہلاتا ہے۔
عامر عثمانی: یعنی 1974ء کے فیصلے کے بعد، جو قومی اسمبلی سے یا پاکستان کے آئین میں جو چیز شامل ہوئی ہے، اس کے بعد ہم بات کر رہے ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: میرے خیال میں ہم تو بہت پہلے کی بات کر رہے ہیں، یہ 1974ء تو ابھی آیا ہی نہیں تھا۔
عامر عثمانی: نہیں، ظاہر ہے میں نے اپنے سوال میں بھی یہ چیز شامل کی کہ تمام دستاویزات میں۔
مولانا اللہ وسایا: میں یہی درخواست کرتا ہوں کہ جس وقت کوئی قادیانی اسلام ترک کر کے قادیانیت کو قبول کرتا ہے، اور علماء قادیانیت کو کفر قرار دے چکے ہیں، تو اسلام کو ترک کر کے کفر اختیار کرنا، یہی ارتداد ہے۔ جس وقت ارتداد کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ارتداد ہے اور ارتداد کی سزا شریعت کے اندر قتل ہے اور بخاری شریف کے اندر بھی روایت موجود ہے کہ ’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘۔ اور مسٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن آپ کے یہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے تھے انہوں نے بھی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے، اور تقریباً کوئی پچیس تیس حضرات نے اس عنوان پر کہ قادیانی مرتد ہیں اور مرتد کی شریعت کے اندر سزا یہ ہے، یہ انہوں نے فتاویٰ جات مرتب کیے، دستاویزات، وہ ایک ساتھ چھپ چکی ہیں اور ریکارڈ کا حصہ ہے۔
اس سے یہ معنیٰ نہیں ہے کہ شریعت یہ کہتی ہے کہ جہاں کہیں تمہیں کوئی مرتد مل جائے، پبلک قانون کو ہاتھ میں لیں اور ان کا قتلِ عام شروع کر دیں۔ وہ حضرت مولانا مینگل صاحب ہوں، یا میں، یا آپ۔ اگر کوئی اس کا یہ معنیٰ کرتا ہے تو یہ بالکل اسلام کی روح کے منافی ہے، قطعاً شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ لینے کی اجازت نہیں۔ ایک اسلامی مملکت، جو اسلامی مملکت ہو، وہاں پر اگر کوئی شخص ارتداد اختیار کرے تو جو اسلام کی عدالت ہے جب وہ فیصلہ دینے لگے گی تو اس جرم کی، مجرم کی سزا سوائے سزائے موت کے اور کوئی نہیں۔ یہ معنیٰ ہے۔
عامر عثمانی: لیکن ظاہر ہے یہ اختیار قانون کے پاس ہے، مملکت کے پاس ہے۔
مولانا اللہ وسایا: مملکت کے پاس ہے اور مملکت بھی باقاعدہ ان مراحل سے گزار کر کہ کیس درج ہو گا، اس کو توبہ کا موقع دیا جائے گا، اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو عدالت کے اندر جرم کو ثابت کیا جائے گا۔ عدالت فیصلہ دے گی اور حکومت اس کے اوپر عمل کرے گی۔ پبلک کے کسی آدمی کا قانون ہاتھ میں لے کر اس کو نافذ کرنا، یہ اسلام کی روح کے بھی منافی ہے اور آج تک کسی نے یہ نہیں کہا۔ اور میرے خیال میں خود حضرت مینگل صاحب کی بھی قطعاً یہ مراد نہیں تھی، ممکن ہے الفاظ میں، گفتگو کے اندر کوئی جملہ ایسا آگیا ہو، تو ان کے بھی پیشِ نظر یہ بات نہیں ہو گی۔ یہ حکومتی معاملہ ہے، حکومت ہی اس پر عمل کر سکتی ہے، پبلک کو ایسے کرنے کی قطعاً شریعت اجازت نہیں دیتی۔
عامر عثمانی: بہت شکریہ۔ حضرت، ایک چیز یہ کہی جاتی ہے کہ؛ ظاہر ہے جس محاذ اور جس مشن پر آپ حضرات کام کر رہے ہیں؛ اگر اُن کی آپ محنت دیکھیں، نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اُن کی آپ لابنگ دیکھیں، دیگر چیزیں دیکھیں، اور پھر اس سے آپ اپنے کام کو کمپیئر کریں، تو میں بڑے حدِ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کا نیشنل انٹرنیشنل لابنگ میں کیا کردار ہے کتنا کردار ہے؟ نمبر ایک۔ اور نمبر دو، عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ہر سال ستمبر کے مہینے میں ختمِ نبوت پر جلسے جلوس ریلیاں کانفرنسز کے علاوہ پورا سال کیا ان کا مشغلہ رہتا ہے؟
مولانا اللہ وسایا: میں درخواست کرتا ہوں، قادیانی ساری دنیا کے اندر جتنے بھی متحرک ہوں، ان کے تمام تر تحرک کے باوجود، یا ان کی کوشش اور کاوش کے باوجود، واقعہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایک بھی کام ایسا نہیں بتایا جا سکتا کہ جس میں قادیانیوں نے کامیابی حاصل کی ہو۔ امت کو، اسلام یا اہلِ اسلام کو شکست ہوئی ہو۔ کوئی ایک بطور سیمپل کے بھی ایک واقعہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اب میں سب سے پہلے آنا چاہتا ہوں اپنے ملکِ عزیز پاکستان کی طرف۔ ایک وقت تھا کہ قادیانی فتنہ سے متعلق اگر ہم یہاں پر کوئی گفتگو کرتے تھے منبر و محراب پر تو ہم پر کیس چلتے تھے کہ تم نے قادیانیوں سے متعلق ایسی گفتگو کیوں کی؟ اور آج پوزیشن یہ ہے کہ ہماری مملکتِ پاکستان کا پریزیڈنٹ اور پرائم منسٹر اپنے عہدے پر اس وقت تک وہ فائز نہیں ہو سکتا، صدارت اور وزارت کی کرسی نہیں سنبھال سکتا، جب تک کہ اپنے حلف نامہ میں عقیدۂ ختمِ نبوت کا اقرار، اور مرزا قادیانی کے کفر سے متعلق حلف نامے کے اندر وہ اس کا اقرار اور اس پر دستخط نہ کرے۔
عامر عثمانی: مگر اس میں سوال تو یہ ہے کہ یہ تو وہ کام تھا جو بڑے کر کے چلے گئے۔ یہ تو ظاہر ہے اگر آج صدرِ مملکت اس اقرار کے بغیر اپنی کرسی پر نہیں جا سکتے تو یہ وہ کام تھا جو آئین میں بڑے کر کے چلے گئے، اس کے بعد کیا ہوا؟
مولانا اللہ وسایا: جزاک اللہ۔ میں یہی درخواست کرتا ہوں کہ یہ اسی تسلسل کا نتیجہ ہے کہ لوئر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک یہ 1974ء کے بعد ہوا۔ 1974ء میں آئین کی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اندر ایک نہیں اٹھارہ بیس کیس آئے اور سنگل بینچ نہیں پانچ رکنی لارجز بینچ نے بیٹھ کر قادیانیوں کے متعلق فیصلے دیے۔ اس کے بعد انڈونیشیا میں قادیانیوں سے متعلق سرکاری سطح پر فیصلہ آیا، بنگلہ دیش کی عدالت نے قادیانیوں کے خلاف فتویٰ دیا ہے، جوہانسبرگ میں۔
اور اس وقت روئے زمین پر پوزیشن یہ ہے کہ کوئی مسجد، مدرسہ، خانقاہ، دینی ادارہ، پوری دنیا کے اندر انٹرنیشنل لیول پر کام کرنے والے جتنے دینی ادارے ہیں، کسی بھی مسلک اور عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں مسلم، تو وہ تمام قادیانی کفر سے آگاہ ہیں۔ اور پوری دنیا میں اب قادیانیوں کے ساتھ معاملہ یہی کیا جا رہا ہے کہ کوئی ان کو مسلمانوں کی کیٹاگری میں قبول نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ خود برطانیہ کی گورنمنٹ کو بھی پتہ ہے کہ قادیانی وہ لابی ہیں کہ جن کو مسلمان اپنے بدن کا، اپنی تحریک کا، یا اسلام کی تنظیم کا حصہ نہیں سمجھتے۔ تو قادیانیت کو ہر جگہ شکست ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے۔
آپ کا یہ ارشاد فرمانا کہ اس کے بعد کیا ہوا۔
مجلس تحفظ ختمِ نبوت نے ایک تو کام یہ کیا کہ ابتدا سے قادیانیوں کے متعلق جو تحریری کام شروع ہوا ہے اِس وقت تک، اُس کی ایک سو جلد اور چودہ پندرہ سو کے لگ بھگ کتابیں وہ ’’احتسابِ قادیانیت‘‘ اور ’’محاسبۂ قادیانیت‘‘ کے نام پر ان کو شائع کیا اور یہ انسائیکلوپیڈیا تیار کیا۔ اور یہ اس تحریک کے بعد ہوا ہے۔
قادیانیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی جو کارروائی تھی اس ساری کارروائی کو وہاں نیشنل اسمبلی سے سرکاری سطح پر گورنمنٹ نے اس کو پرنٹ کیا۔ اس کو ری پرنٹ کر کے ساری دنیا کے اندر تقسیم کرنا، انگریزی کے اندر اس کا ترجمہ ہو جانا، عربی کے اندر اس کا ترجمہ ہو رہا ہے، اردو کے اندر چھپ جانا، بنگلہ زبان کے اندر اس کا ترجمہ ہو جانا، یہ وہ اقدامات ہیں کہ کل تک جو قادیانی کہتے تھے کہ کہاں پر ہے قومی اسمبلی؟ تو ہم نے ان کے چیلنج کو بھی قبول کیا، امت کی ایک ضرورت کو بھی پورا کیا۔
اسی طرح میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں قادیانیت سے متعلق دنیا کی کسی عدالت میں کیس پیش ہوا تو وہاں پر مجلس تحفظ ختمِ نبوت نے اپنے نمائندگان کو بھیج کر اسلام اور مسلمانوں کی صرف نمائندگی کا اعزاز حاصل نہیں کیا بلکہ امت اور مسلمانوں کو کامیابی کی چٹان پر اور یقین پر بھی جا کھڑا کیا ہے۔
عامر عثمانی: اس وقت آپ کے پاس، اگر پاکستان کی سطح پر بات کی جائے یا انٹرنیشنلی، کوئی اعداد و شمار، فیکٹس اینڈ فگرز ہیں؟ اس چیز کے کہ کتنے لوگ وہاں سے یہاں کنورٹ ہو رہے ہیں یا یہاں سے وہاں کنورٹ ہو رہے ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: اس کے لیے مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی خدمت میں یہ درخواست کروں کہ یہ تو ہمیشہ سے ہو رہا ہے۔ کوئی فگر بتانی متعین، یہ تو بہت مشکل ہوگا، اس لیے کہ بہت سارے قادیانی ایسے ہیں کہ جو قادیانی نہیں رہے، لیکن ان کے شادی بیاہ کے، ان کے رشتوں کے، کاروبار کے؛ قادیانیت کا سسٹم ایسا ہے کہ اگر وہ علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں، مسلمان ان کو قبول کریں نہ کریں، قادیانی تو ان کو باہر نکال کریں گے، پھر وہ نہ یہاں کے رہیں گے نہ وہاں کے۔ تو کچھ ایسے ہیں کہ وہ قادیانی نہیں لیکن یہ کہ علی الاعلان انہوں نے ایمان اور اسلام کا اعلان بھی نہیں کیا، ایک ضرورت کے تحت۔
عامر عثمانی: اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ ان پسماندہ اور دیہی علاقوں کے اندر جا کر ان لوگوں نے محنت کی ہے مسلمانوں پر؟
مولانا اللہ وسایا: کنہوں نے؟
عامر عثمانی: قادیانیوں نے، ظاہر ہے ان کی لابیز نے، ان کی تو لابنگ مختلف حوالوں سے؛ مثال کے طور پہ اگر انٹیریئر سندھ کے کسی اندر کے علاقے کے اندر کسی مسلمان کو گھر کی ضرورت ہے، اس کے پاس پہننے کے لیے کپڑا نہیں ہے، کھانے کے لیے روٹی نہیں ہے، نیچے پہننے کے لیے اس کے پاس چپل نہیں ہے، سائے کے لیے گھر نہیں ہے، اگر یہ ساری چیزیں اس کو فراہم کر دی جائیں تو میرا خیال ہے ایک بھوکا ننگا انسان، اگر اس کو جو آدمی یہ چیزیں مہیا کرے گا، اس کا خدا تو وہی ہو گا۔
مولانا اللہ وسایا: میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ دو چیزیں بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ایک یہ ہے کہ جتنی رفاہی۔
عامر عثمانی: اچھا میں نے جو یہ سوال کیا اس میں، معذرت قطع کلامی کے لیے، یہ بھی ساتھ بتا دیجیے کہ کیا اس لیول پہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کا بھی ان علاقوں کے اندر کوئی نیٹ ورک، کوئی کام کی ترتیب، فلاحی رفاہی جو ہوتے ہیں طریقے، اگر یہ لوگ جا کے کرتے ہیں تو کیا آپ حضرات کا بھی ہے سسٹم کوئی؟
مولانا اللہ وسایا: میں یہی درخواست کرتا ہوں کہ یہ بالکل علیحدہ علیحدہ سوالات ہیں اور ہم نے تین چار سوالوں کو گڈمڈ کر لیا۔
پہلی میری بات یہ ہے کہ قادیانیت کے تبلیغ کا انداز کیا ہے؟ same ان کا انداز وہی ہے جو عیسائی مشنریوں کا تھا۔ ہسپتالوں کے نام پر، لوگوں کے رفاہِ عامہ کے نام پر۔ اور یہ قادیانی کی کوئی نئی ترتیب نہیں، ہمیشہ کفر یہ حربے استعمال کرتا ہے۔ مسیحی تنظیموں کا یہاں پر، مسیحی اداروں کا، خود متحدہ ہندوستان میں تقسیم سے پہلے جس وقت یہاں پر انگریز کی حکومت تھی، اُس وقت سے لے کر اِس وقت تک رفاہی کاموں کے نام پر انہوں نے عیسائیت کو آگے پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ قادیانی بھی اسی ڈگر پر اپنی تبلیغ کرتے ہیں، میں اس سے انکار نہیں کر رہا۔ باہر کی دنیا میں قادیانی رفاہی سکولوں کے نام پر، ہیلتھ کے نام پر لوگوں کی مدد وغیرہ کرتے ہیں۔
مجلس تحفظ ختمِ نبوت یا ہمارے جتنے رفاہی ادارے ہیں یہ تمام تر رفاہی ادارے اللہ کے فضل و کرم سے مشرق سے لے کر مغرب تک کہیں پر یہ بے خبر نہیں ہیں کہ ان غریب لوگوں کی مدد نہ کی جائے۔ سیلاب زدگان ہیں ان کی مدد نہ کی جائے۔ یہ فلسطین کے مسلمانوں پر آفت آئی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں پر آفت آئی ہے۔ کہیں پر انہوں نے شدھی کی تحریک چلائی ہو اور ان کو مرتد بنانے کی کوشش کی ہو۔
عامر عثمانی: مگر حضرت کیا وجہ ہے کہ ان کی ایکٹیویٹی سرگرمیاں تو نظر آ جاتی ہیں، مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی سرگرمیاں اس انداز میں نظر نہیں آتیں۔
مولانا اللہ وسایا: میرے خیال میں آپ مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی بجائے امت کا لفظ استعمال کریں، اس لیے کہ میں اس وقت مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی نمائندگی نہیں کر رہا … کام کرنے کے حوالے سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ جب بھی کبھی اس طرح کفر نے یلغار کی ہے تو اس وقت کے اہلِ اسلام اس سے کبھی بھی بے خبر نہیں رہے۔ ایک ایک عنوان کو آپ لے لیں تو جو اس کے تقاضے تھے، عنوان چاہے کچھ ہو، ٹائٹل چاہے کچھ ہو، لیکن امت کبھی اس سے بے خبر نہیں رہی اور امت نے ہمیشہ مسلمانوں کے ایمان اور اسلام کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ اور قادیانی اپنی تمام تر سرگرمیوں کے باوجود، نمایاں طور پر انہوں نے کوئی ایسا اقدام کیا ہو کہ جس کی وجہ سے علاقوں کے علاقے قادیانی ہو گئے ہوں؟ یا یہ کہ ان کی اس کارروائی کی وجہ سے امت کے لیے کوئی مشکل کھڑی ہو گئی ہو، ان کے لیے راستہ بند کر دیا گیا ہو، امت کو کسی بند گلی کے اندر دھکیل دیا گیا ہو؟ کبھی ایک سیکنڈ کے لیے بھی اللہ کے فضل سے امت کے لیے یہ مشکل وقت کبھی نہیں آیا؟
ہمارے حضرت مولانا سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا قادیانیوں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ فرمایا، میرا قادیانیوں کے ساتھ مقابلہ نہیں، میرا ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ ہے جو قادیانیت کی پشت پر ہیں، کہ میں قادیانیت کی دُم پر پاؤں یہاں رکھتا ہوں، ان کی چیخ امریکہ یا برطانیہ کے اندر سنائی دیتی ہے، فرانس کے اندر سنائی دیتی ہے، ساری سپر پاور طاقتیں ان کی پشت پر کھڑی ہیں۔ تو ان کو اتنی سپورٹ کے باوجود۔
یہ ہمارے ملک کے نامور سائنسدان تھے جناب اپنا عبدالقدیر خان، ان کی کتاب کے اندر بھی یہ حوالہ موجود ہے۔ اور خود جناب بھٹو صاحب بھی۔ بھٹو صاحب نے بھی کہا تھا، ان کا انٹرویو بھی موجود ہے، ان سے متعلق جو کتابیں چھپیں، آخری دنوں میں جن دنوں جیل کے اندر تھے، انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’میں ایک دفعہ امریکہ گیا تھا اس وقت قادیانی سے متعلق کیس ہمارے ملک کے اندر چل رہا تھا تو امریکہ نے واضح طور پر مجھے یہ کہا تھا کہ قادیانی ہماری لابی ہے ان کا خیال رکھنا۔‘‘
اور اسی طرح ان طاقتوں کی قادیانیوں کو سپورٹ ہونی اور اس کے باوجود قادیانیوں کا ہر میدان کے اندر شکست کھانا، تو آپ صرف اسی ایک نکتے پر غور کریں، تو اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ٹائٹل چاہے کچھ ہو قادیانیت کے مقابلے میں امت نے کبھی شکست نہیں کھائی، ہر محاذ پر کامیاب ہوئی۔ مثلاً اسی آپ پارلیمنٹ کے فیصلے کو لے لیں کہ پارلیمنٹ کا فیصلہ سات ستمبر 1974ء کو ہوا۔ آج آپ میں بیٹھے ہیں 2025ء میں، 51 سال ہو گئے۔ اور وہ زمانہ تھا جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا۔ بھٹو صاحب کے بعد ضیاء صاحب آئے، جونیجو صاحب آئے، محترمہ بے نظیر آئیں، جناب نواز شریف آئے،
عامر عثمانی: درجنوں لوگ آئے اور چلے گئے۔
مولانا اللہ وسایا: معین قریشی آئے اور خاقان عباسی صاحب آئے، ریاض گیلانی صاحب آئے، جمالی صاحب آئے، فلاں صاحب آئے، وہ جناب نیازی صاحب آئے، کاکڑ صاحب آئے، شہباز شریف صاحب ہیں، آج کوئی ہے کل کوئی۔ تو اس 50 سال میں ایک بھی لمحہ ایسا نہیں آیا کہ روئے زمین کی کافر مملکتوں کے اقتدار کے دروازے پر قادیانیوں نے ناک نہ رگڑا ہو، اپنی پیشانی زخمی نہ کرائی ہو، اور ان مملکتوں سے منت معذرت کر کے پاکستان پر دباؤ نہ ڈالا ہو۔ جتنے حکمران ہیں ان سب کو کہتے رہے کہ آپ پاکستان گورنمنٹ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس قانون کو ختم کر دیں۔ اس قانون سے متعلق ترمیم کر دیں۔ الفاظ باقی رہ جائیں اس کی روح نکال دی جائے۔ اس کا پروسیجر تبدیل کر دیا جائے۔ یہ اس کی بجائے یوں کر لیا جائے۔ ہزار کوشش کرتے رہے۔
اور میں آج کی مجلس میں آپ کے سامنے یہ عرض کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ایک آدھ دن کی بات نہیں نصف صدی کی یہ لڑائی ہے، اکاون سال کی یہ لڑائی ہے، اور دنیا کا ایک کافر ملک نہیں روئے زمین کے پورے کفر نے مل کر کوشش کی کہ یہ قانون ختم ہو جائے، اور قادیانی نے لابنگ کی۔ لیکن نتیجہ آپ کے سامنے ہے، قانون ختم کرنا تو رہا درکنار، آج تک کوئی ماں کا لال اس کی زیر اور زبر، مد اور شد کے اندر بھی تبدیلی نہیں کرا سکا۔ تو یہ جو قانون؛ اور آج تک کے ہمارے مذہبی مطالبات میں سے کسی بھی دینی ادارے، جماعت کے اتنے مطالبات نہیں مانے گئے جتنے اس پلیٹ فارم کے مانے گئے۔
اور جس وقت میں کہتا ہوں کہ ختمِ نبوت کے عنوان پر مانے گئے، یہ مطالبات تسلیم کیے گئے، اس وقت میری مراد مجلس تحفظ ختمِ نبوت نہیں ہوتی، اس لیے کہ میں کریڈٹ کا بھی بھوکا نہیں، ساری دنیا کے کام کو مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے کھاتے میں ڈالوں ایسے بھی نہیں، مجلس کا یہ مزاج بھی نہیں۔ ہم نے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، اس عنوان پر کام کرنے والے تمام تر مسلمانوں کو ایک ساتھ لے کر جدوجہد کی ہے اور اس کے نتیجے میں حق تعالیٰ نے ہمیں ان کامیابیوں سے نوازا کہ آج آپ کے اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی جا سکتی ہے کہ اس وقت حالات ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو قانون کو ختم کرنے والے تو شاید نہ رہیں، قانون رہے گا، اس وقت یہ پوزیشن ہے۔
عامر عثمانی: میں جو اگر بارہا عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کا یہ لفظ استعمال کر رہا ہوں، وہ ظاہر ہے اس لیے کر رہا ہوں کہ آپ کا ایک تعلق، ایک واسطہ، تحریکی زندگی تو اسی سینس میں ہے۔ باقی تو ظاہر ہے کہ کون مسلمان ہو سکتا ہے کہ جو نعوذ باللہ قادیانیت کے بارے میں یا قادیانی کے بارے میں کوئی ایسا عقیدہ رکھے، یا ختمِ نبوت کے حوالے سے اس کے دل و دماغ میں کوئی چیز ہو۔ بہرحال آپ نے جو گفتگو کی اسی کے اندر میں ایک اور سوال یہ بھی شامل کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ملکِ پاکستان کے اندر قادیانیت کے حوالے سے مزید کسی قانونی چارہ جوئی کی اس وقت ضرورت ہے، آپ کو محسوس ہوتا ہے؟
مولانا اللہ وسایا: میں درخواست کرتا ہوں کہ جس وقت قادیانیوں سے متعلق ترمیم پارلیمنٹ کے اندر منظور ہوئی اور وہ 50 سال سے لاگو ہے، تو یہ آئین کے اندر تو ترمیم کر دی گئی، اس پر قانون سازی نہیں ہو سکی تھی۔ وہ قانون سازی پھر جنرل ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں ہوئی۔ یہ فیصلہ پارلیمنٹ نے جو دیا تھا متفقہ وہ سات ستمبر 1974ء کا تھا۔ ضیاء صاحب کے زمانے میں 26 اپریل 1984ء کو امتناعِ قادیانیت آرڈیننس منظور ہوا، جس کو تحفظ پھر اٹھارہویں ترمیم کے اندر دیا گیا۔ تو اب آئینی طور پر قادیانیوں سے۔
عامر عثمانی: امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کا کیا خلاصہ تھا؟ میں چاہتا ہوں ناظرین کے لیے یہ بھی سامنے آئے۔
مولانا اللہ وسایا: جی، اس کا یہ تھا کہ قادیانیوں پر پابندی لگا دی گئی کہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ قادیانیوں پر پابندی لگا دی کہ مرزا غلام محمد قادیانی کو تم نبی، رسول، علیہ السلام نہیں کہہ سکتے۔ مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو تم صحابی نہیں کہہ سکتے۔ مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کے لیے تم رضی اللہ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے کہ یہ اصطلاح اسلام کی ہے، قادیانیوں کی نہیں۔ مرزا غلام احمد کی بیویوں کو تم امہات المومنین نہیں کہہ سکتے۔ قادیانیت کی اسلام کے نام پر تم تبلیغ نہیں کر سکتے۔
عامر عثمانی: شعائرِ اسلامی کا استعمال بھی قادیانی نہیں کر سکتے۔
مولانا اللہ وسایا: تمام تر یہ چیزوں پر پابندی لگ گئی اور ایک دو نہیں؛ خود اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی سفارشات مانگی گئیں۔
عامر عثمانی: اس میں بنیادی تمام شعائرِ اسلام شامل ہیں۔ ظاہر ہے قربانی، عید، نماز، یہ ساری چیزیں اس کے اندر شامل ہیں۔
مولانا اللہ وسایا: بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اس آرڈیننس کے اندر وضاحت اور صراحت کے ساتھ الفاظ موجود ہیں۔
عامر عثمانی: جیسا کہ؟
مولانا اللہ وسایا: جیسا کہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جیسا کہ قادیانی۔
عامر عثمانی: وہ جو صراحت کے ساتھ موجود نہیں ہے، کنایتاً ہے، تو وہ کیا ہے، مسلمانوں کا نام رکھ سکتے ہیں قادیانی؟
مولانا اللہ وسایا: نہیں، میں یہی عرض کرتا ہوں کہ اس کے اندر ایک لفظ یہ بھی ہے کہ قادیانی کوئی ایسی تحریر، مرئی نقوش کے ذریعے، کوئی ایک ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے جس سے کہ ان کا مسلمان ہونا سمجھا جائے۔ ہے قادیانی (لیکن) کوئی ایسی علامت، نشانی، مرئی نقوش یا غیر مری نقوش کے ذریعے، کوئی ایسا وہ اپنا اقدام کرتا ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ مسلمان ہے۔ مثلاً مسلمانوں والا نام، مثلاً یہ کہ جو السلام علیکم کہنا، مثلاً یہ کہ علی الاعلان قربانی کرنا۔ تو یہ ساری چیزیں اس کے اندر، اس لیے کہ یہ چیزیں مسلمانوں کے شعائر ہیں۔
عامر عثمانی: یہ قانون کا حصہ بن چکی ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: بالکل بن چکی ہیں جی۔ اور جب کبھی بھی عدالت میں یہ چیزیں زیر بحث آئیں کہ ’’اِس چیز کا تو تذکرہ نہیں ہے، تو آپ اِس کو کیسے شامل کرتے ہیں؟‘‘ تو انہوں نے کہا کہ جناب یہ۔
عامر عثمانی: اصل میں جب یہ بات ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اور بہت سارے ایسے وِنگ کے لوگ بھی تو ہیں جو تھوڑا سا سپورٹ میں جا کر کہتے ہیں کہ جی اس میں کیا مسئلہ ہے، اگر وہ قربانی کر رہے ہیں تو اس سے مسلمانوں کو کیا تکلیف ہونی چاہیے؟ لیکن ظاہر ہے ایک چیز پاکستان کے آئین کا حصہ، قانون کا حصہ ہے، تو پھر کیسے؟
مولانا اللہ وسایا: میں یہی تو درخواست کرتا ہوں کہ انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کوئی ہندو قربانی کا نام نہیں لیتا، کوئی سکھ جو ہے وہ قربانی کا نام نہیں لیتا، کوئی پارسی قربانی کا نام نہیں لیتا۔ قربانی کرنا یہ تو صرف اسلام اور اہلِ اسلام کا شعار ہے، کفر کا نہیں۔ تو قادیانی جب کافر ہیں تو مسلمانوں کے شعار کو استعمال کر کے وہ مسلمانوں کی حیثیت کو مجروح کر رہے ہیں، مسلمانوں کے ٹائٹل کو وہ مجروح کر رہے ہیں۔ تو قانون کے اعتبار سے ان کو اجازت نہیں۔
اور یہی بات مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے فیصلے میں بھی ڈسکس ہو کر آگئی اور انہوں نے کہہ دیا۔ اس کے اندر ایک جملہ ہے، آپ اس کو دیکھیں تو تمام تر ان سوالات کے جوابات کے اندر وہی ایک کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اقلیتوں کے حقوق تو مانگتے ہیں، خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا فرض بنتا ہے کہ جو آئین نے ان کی حیثیت متعین کی ہے اپنی آئینی حیثیت کو متعین کریں۔ اس آئینی حیثیت کے مطابق جو آئین ان کو رعایات دیتا ہے سہولتیں دیتا ہے، وہ ساری مملکت بھی سٹیٹ بھی ان کو دینے کے لیے تیار ہے، ان کا حق ہے۔
عامر عثمانی: یہ جو شعائرِ اسلامی اور ان تمام چیزوں کی امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کے حوالے سے جو ہم نے بات کی، اس میں اگر کہیں سے کوئی چیز آتی ہے سامنے، جیسے مثال کے طور پہ گزشتہ سال بھی ہوا، کراچی کے اندر واقعات ہوتے ہیں، دیگر جگہوں کے اندر ہوتے ہیں، تو کیا آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں؟ یا اس کی کسی صورت میں آپ اجازت دیں گے کہ کسی mob (جتھے) کی شکل میں جائیں لوگ اور آگ لگا دیں، جلا دیں، چیزیں کر دیں؟ یا یہ بھی قانونی راستے سے ان چیزوں کو روکنا چاہیے؟
مولانا اللہ وسایا: پہلے تو آپ یہ سمجھیں، جہاں کہیں اس طرح کی کوئی اشتعال انگیزی ہوتی ہے، پبلک اکٹھی ہوئی، انہوں نے کسی پر دھاوا بول دیا، کوئی عبادت گاہ گرا دی، قادیانیوں کا محاصرہ کر لیا۔ ہمیشہ سے اِس وقت تک تاریخ؛ ایک بھی واقعہ اس سے میرے خیال میں مستثنیٰ نہیں ہوگا کہ جہاں پر بھی اس طرح کا کوئی واقعہ ہوتا ہے ابتدا میں قادیانی حضرات کی شر انگیزی اور قانون شکنی اور ان کے فساد کی بنیاد رکھنے کی بنیاد پر ردعمل میں یہ ہوتا ہے۔
عامر عثمانی: یعنی آغاز اُن کی طرف سے ہوتا ہے۔
مولانا اللہ وسایا: آغاز اُن کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً ان کو کہا گیا کہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ پندرہ بیس مسلمان بیٹھے ہیں اور قادیانی دھڑلے کے ساتھ جا کر کہتا ہے کہ ’’تم تو آئینی مسلمان ہو، ہم حقیقی مسلمان ہیں‘‘۔ اب جب یہ گفتگو کرے گا تو وہاں پر فساد تو کھڑا ہوگا۔ اور پھر قادیانی پراپیگنڈا۔ اور قادیانی یہ محض اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے متعلق تحریک چلتی رہے، کہیں نہ کہیں کوئی فتنہ فساد کا دھواں اٹھتا رہے اور ہم باہر کے ویزے حاصل کر سکیں۔ خود قادیانی عیار قیادت وہ محض اپنے ٹکے کھرے کرنے کے لیے قادیانیوں کو انگیخت کرتی ہے کہ تم کوشش کرو، کوئی ایسا اقدام کرو کہ تمہارے خلاف کوئی کیس بنے، ایف آئی آر ملے، اور اس کی بنیاد پر تمہیں باہر کا ویزہ لے کر دیں۔ تو ان تمام تر؛ جہاں کہیں بھی اس طرح کی کوئی ہنگامہ آرائی ہوئی اس کے پیچھے؛ تاریخ یہ ہے کہ اس کے پیچھے ابتدا میں قادیانی سازش ہوتی ہے۔ ردِعمل میں مسلمان اکٹھے ہوئے، تو مسلمان اکثریت میں ہیں تو قادیانیوں کا رگڑا زیادہ لگ جاتا ہے، پھر وہ چیخنے لگ جاتے ہیں، لیکن شرارت کی ابتدا وہ کرتے ہیں۔ نمبر ایک۔
چاہے شرارت کی ابتدا وہ کریں، چاہے اس کا کوئی سبب بنے، لیکن یہ بات بہرحال اپنی جگہ مسلّم ہے کہ قادیانیوں کے متعلق جو بھی مسلمانوں نے قدم اٹھانا ہے، یا اٹھانا چاہیے، یا اٹھاتے ہیں، انہیں ہمیشہ قانون کو سامنے رکھ کر اٹھانا چاہیے۔ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پبلک کھڑا کرے، ان کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ اس ملک کو مستحکم دیکھنا، قانون کی پاسداری کرنی، یہ ایک مملکت کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارے ذمہ ہے، اس سے بالکل نہ انکار کیا، نہ کرتے ہیں۔
عامر عثمانی: بہت شکریہ، یہ بتائیے گا حضرت کہ کیا اس وقت آپ پوری surety کے ساتھ، اطمینانِ قلبی کے ساتھ، یا شرح صدر کے ساتھ یہ بات کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی تعلیمی اداروں کے نصاب کے اندر کوئی ایسی چیز ہمارے بچوں کو نہیں پڑھائی جا رہی جو اس طرف لے کے جا رہی ہے؟
مولانا اللہ وسایا: میں یہ تو نہیں کہتا کہ پاکستان کا سارا نصابِ تعلیم خالصتاً اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔ آپ میرے خیال میں۔ یہ ’’آپ‘‘ کا لفظ میں غلط استعمال کر رہا ہوں، ہم سب مل کر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان کے سارے قانون اسلام کے مطابق ہیں۔ مملکت اسلامی ہے، اصولی طور پر طے ہے کہ یہاں کا کوئی قانون۔
عامر عثمانی: میں صرف specifically اس عنوان پہ بس۔
مولانا اللہ وسایا: میں اسی پہ؛ یہ طے ہے کہ کوئی قانون قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔ لیکن ساتھ اس وقت یہ مسلمانوں کی حکومت ہے، یہ تو ہم سبھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ کہ یہاں پر اسلام کی حکومت ہے سو فیصد، یہ تو شاید حکومت بھی دعویٰ نہ کرتی ہو۔ بہت ساری چیزیں ہماری قابلِ اصلاح ہیں۔ سو قادیانیت کے متعلق بھی ہماری یہی پوزیشن ہے۔ علی الاعلان کوئی ایسی نصابِ تعلیم کے اندر بات ہو جو خالصتاً ختمِ نبوت کے خلاف ہو، ہمارے، امت کے نوٹس میں آئی ہو اور امت نے اس پر احتجاج کر کے اس مصیبت پر قابو نہ پایا ہو، اس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔
عامر عثمانی: علی الاعلان تو ظاہر ہے کیسے ہو سکتی ہے اسلامی مملکت کے اندر، لیکن ظاہر ہے خفیہ کا بھی تو۔
مولانا اللہ وسایا: میرے خیال میں نصاب تو کبھی بھی خفیہ نہیں ہوتا، ذرا سوال میں ترمیم کر لیں تو بہت اچھا رہے گا۔
عامر عثمانی: نہیں، کوئی اگر ایسی چیز ہے۔
مولانا اللہ وسایا: نصاب جو پڑھایا جاتا ہے، آپ اسے خفیہ کیسے کہہ سکتے ہیں، یا میں کیسے کہہ سکتا ہوں؟
عامر عثمانی: اچھا یہ آپ شورٹی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کلیدی عہدے ہوں، یا غیر کلیدی عہدے ہوں، وہاں پر کوئی قادیانی اس وقت براجمان نہیں ہے؟
مولانا اللہ وسایا: میں نے تو اس کا دعویٰ نہیں کیا۔ قادیانی ہوں گے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قادیانی نہیں ہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ قادیانی اپنی آبادی سے زیادہ عہدے لے رہے ہیں۔ اور قادیانیوں کی جتنی تعداد ہے وہ اپنی اس تعداد کے اعتبار سے زیادہ عہدے لے رہے ہیں، زیادہ ملازمتیں کر رہے ہیں، زیادہ ان کو حقوق حاصل ہیں، زیادہ وہ اپنا کاروبار کر رہے ہیں دھڑلے کے ساتھ۔ پاکستان کے اندر کوئی ان کے اوپر قدغن نہیں۔ لیکن یہ بات میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ بڑے سے بھی بڑا قادیانی ہو، اب وہ چاہے کسی بھی ادارے کے اندر ہو، وہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر مرزا غلام احمد کی وکالت کا کردار ادا نہیں کر سکتا، علی الاعلان۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور ہم یہی چاہتے ہیں۔
عامر عثمانی: تھوڑا سا میں حضرت ان سوالات کی طرف آؤں گا، جب ہم نے آپ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لکھا۔ تو سوالات ہیں، میں as it is وہ پڑھ کر آپ کو سناؤں گا، آپ اس میں سے کسی پر بات کرنا چاہیں۔
مولانا اللہ وسایا: ایک ایک کرتے جائیں۔
عامر عثمانی: جی جی، ایک ایک، ون بائی ون۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ آج کے دور میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو نئی نسل کے دلوں میں راسخ کرنے کے لیے علماء اور والدین کو کیا عملی اقدامات کرنے چاہئیں؟
مولانا اللہ وسایا: یہی ہے کہ جو ابتدائی بنیادی آگاہی ہوتی ہے، اپنے بچوں کو ہم دینِ اسلام کے متعلق دیتے ہیں، ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت بھی ان پر واضح کرے۔
عامر عثمانی: میں نام نہیں لوں گا، ایک دوسرے صاحب لکھتے ہیں کہ سوال تو نہیں تاہم نیاز مندانہ مؤدبانہ دست بستہ التماس ہے کہ شاہینِ ختمِ نبوت بن کر صرف قادیانیوں کی ہی بوٹیاں نوچیں، حضرت بعض دفعہ اپنوں کے خلاف ہی بلڈ پریشر ہائی کر بیٹھتے ہیں، اور ایسا ہائی کرتے ہیں کہ حیرانگی ہوتی ہے۔
مولانا اللہ وسایا: ہاں، ان کی اس تمام تر محبت بھری زبان کے باوجود، میں اس وقت بھی بڑے صبر اور تحمل کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ یہ قادیانیوں کی ہم بالکل بوٹیاں نہیں نوچتے۔ ہم قادیانی عقائد اور نظریات کے دشمن ہیں، قادیانیوں کے نہیں۔ قادیانیوں کو ہم تبلیغ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دن کو اگر ان کے خلاف ہم تبلیغ کرتے ہیں، اللہ توفیق دے تو رات کو ان کی ہدایت کی دعا بھی کرتے ہیں۔ اور اگر قادیانیت کی ہم بوٹیاں نہیں نوچتے اور کوئی مجھ پر یہ کہے کہ مسلمانوں کی نوچتے ہیں، تو میرے خیال میں انہیں اس کرم فرمائی پر خود گھر میں بیٹھ کے غور و فکر کر لینا چاہیے کہ وہ مجھ مسکین پر کیا الزام لگا رہے ہیں۔
عامر عثمانی: ایک صاحب لکھ رہے ہیں کہ ختمِ نبوت کا منکر کئی طرح سے عقیدہ ختمِ نبوت پر وار کرتا ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، اس حوالے سے حضرت کیا کہیں گے؟
مولانا اللہ وسایا: میں درخواست کرتا ہوں کہ ہمیشہ سے ہمارے اکابر نے کام کی تقسیم کی ہے۔ مثلاً ایک تبلیغ کا کام ہے۔ تعلیم کا کام ہے۔ تعلیم کا کام ہمارے دینی مدارس وفاق المدارس کے ساتھ ہے۔ اس ملک کے اندر اسلامی نظام کے حوالے سے کوشش کرنی یہ جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ ہے۔ اور دیگر جو فتنے ہیں دیگر جو غلط نظریات ہیں اسلام کے خلاف، ان کے خلاف بھی کام کرنے کے لیے جماعتیں اور ادارے ہیں۔ مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی بھی تقسیم کار کر کے انہی اکابر نے، جنہوں نے تبلیغ جماعت کی بنیاد رکھی، جنہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی بنیاد رکھی، اس سے کہیں پہلے انہوں نے مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے لیے بھی ایک لائن متعین کر دی، ہمارے کام کی ایک ترتیب بیان کر دی۔ تو جن دوستوں کے ذمے جو کام ہے وہ اپنا کام نہ کر پائیں اور ہمیں کہیں کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر اس طرف آجائیں، تو میرے خیال میں وہ اُس کام کی طرف ہمیں متوجہ نہیں کر رہے، اِس کام سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
عامر عثمانی: ایک صاحب لکھ رہے ہیں کہ؛ پہلے تو انہوں نے سلام کیا ہے، پھر وہ لکھتے ہیں ایک مرتبہ حضرت، گولڑہ کے جانشین گدی نشین کے قدموں میں بیٹھے تھے، اس کی کیا وجہ تھی؟ حالانکہ وہ تو علم سے تقریباً خالی ہیں۔
مولانا اللہ وسایا: برادر، برادر، ہمارے حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم، یا حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ، یا حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب، یا کوئی اور، مجھ سے عمر میں بڑے ہوں یا چھوٹے، اللہ رب العزت نے؛ اللہ تعالیٰ ریاکاری سے بچائے؛ میں تو ہر ایک کے ساتھ نیاز مندی کے ساتھ پیش آتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تواضع میرے مزاج کے اندر رکھی ہے۔ اور کبھی زندگی بھر میں نے کوئی تعلِّی کا جملہ عمداً نہیں کہا ہو گا، اگر کہا ہے بحیثیت انسان ہونے کے تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، میں کوئی دعویٰ بھی نہیں کر رہا۔ اِن دوستوں کا یہ کہنا کہ ان کے قدموں کے اندر بیٹھے تھے، میں ان کے قدموں کی بات نہیں کر رہا، میں اُن کو نہیں دیکھ رہا، میں تو مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو دیکھ رہا ہوں۔ اور میں آپ سے ایک درخواست کرتا ہوں کہ میں سکہ بند دیوبندی ہوں، مجھے اپنے دیوبندی ہونے پر ناز ہے، دیوبندی ہونے کے لیے کسی بندۂ خدا سے مجھے سرٹیفیکیٹ لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن جب امت نے میری ڈیوٹی لگائی ہے عقیدۂ ختم نبوت کی تو میں پھر دیوبند، بریلوی، لکھنؤ اور دہلی کی بات نہیں کروں گا، میں تو گنبدِ خضریٰ کی بات کروں گا۔
عامر عثمانی: واہ واہ، واہ واہ، کیا بات ہے۔
مولانا اللہ وسایا: اور الحمد للہ میں اس کے اوپر قائم ہوں، قائم ہوں۔ تمام تر مکاتبِ فکر، دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں، شیعہ ہوں، اہلِ حدیث، خانقاہیں ہوں۔
عامر عثمانی: اس مشن کے لیے سب کے ساتھ۔
مولانا اللہ وسایا: جس شخص نے بھی ایک لمحہ ملعونِ قادیاں اور اس کے ماننے والوں کے خلاف کوئی کام کیا ہے، میں انہیں اپنا مخدوم اور مُتاع سمجھتا ہوں اور ان کا احترام کرنا میں اپنی اخلاقی اور جماعتی ذمہ داری سمجھتا ہوں، یہ میرے لیے عیب نہیں۔ جو میرے لیے فخر کی بات ہے اُسے اگر کوئی صاحب میری خوبی کو عیب بنانا چاہتے ہیں تو اللہ ان کو جزائے خیر دے۔
عامر عثمانی: بہت شکریہ۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ اپنے اسٹیج پر اپنوں کو کیوں نہیں بلاتے اگرچہ ختمِ نبوت کا عقیدہ متفقہ ہے؟
مولانا اللہ وسایا: اللہ کا فضل ہے ہمیشہ بلاتے ہیں، تمام مکاتبِ فکر کو بلاتے ہیں۔ جس طرف انہوں نے اشارہ کیا، ہم ان حضرات کو بھی بلاتے تھے۔ ہماری کوئی کانفرنس ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں مولانا حق نواز مرحوم نہ آئیں، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ نہ آئیں، یا مولانا علی شیر حیدریؒ نہ آئیں۔ تمام تر حضرات ان کے تشریف لاتے تھے۔ ایک جلسے کے موقع پر جان بوجھ کر انہوں نے ہمارے جلسے کو الٹنے کی کوشش کی، اور وہ چناب نگر میں قادیانیوں کے شہر کے اندر۔ عقیدۂ ختمِ نبوت کے پلیٹ فارم کو قادیانیوں کے شہر میں اگر وہ اس طرح الٹ پلٹ کر شکار بنائیں تو اس پر احتجاج کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ اور ہم نے ان کو واضح طور پر کہا کہ آپ حضرات نے یہ کر کے زیادتی کی ہے، آپ اس کے اوپر معذرت کریں۔ ان کی قیادت آمادہ ہوئی کہ ہاں ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر انہوں نے کہا زبانی، علی الاعلان کہا کہ ہم اس کے اوپر معذرت کرتے ہیں۔ ہم نے ان کو کہا کہ معذرت ایسی نہیں، آپ تحریری طور پر لکھ کر دیں کہ آپ نے یہ زیادتی کی ہے۔ انہوں نے آج تک تحریر نہیں دی اور ہم نے ان کو بلیک آؤٹ کر دیا۔ اور بلیک آؤٹ ہم نے کیا، اس کے اوپر اب ہم یقین کے ساتھ کھڑے ہیں کہ بہت اچھا فیصلہ ہو گیا۔ اس لیے کہ یہ بندگانِ خدا جہاں پر جاتے ہیں یہ اپنا ٹھپا لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اصولی طور پر یہ ہے کہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں جمعیۃ کے سٹیج پہ جاؤں تو اسلامی نظام کی بات کروں، وہ ہمارے سٹیج پر آئیں تو ختمِ نبوت کی بات کریں۔ میں اِن کے سٹیج پہ جاؤں تو عظمتِ صحابہؓ کی بات کروں، وہ ہمارے سٹیج پر آئیں تو ختمِ نبوت کی بات کریں۔ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ان کے پاس جاؤں تو میرا فرض بنتا ہے کہ وہاں پر انہی کی بات کرنی چاہیے۔ ان کے اوپر میں اپنا ٹھپا لگاؤں، ان کے جلسوں میں جا کر میں اپنے جھنڈوں کے نمائش کروں، تو یہ میرے خیال میں کہیں بھی مستحسن نہیں ہوگا۔ تو جو اخلاقی قدریں ہیں، اگر ان کے دوست اس کا خیال نہیں کر رہے تو ہمیں ملزم گرداننے کی بجائے پیار اور محبت کے ساتھ؛ کوئی ان کا ایسا موقع نہیں کہ کوئی فوتگی ہوئی ہو ہم تعزیت کے لیے نہ گئے ہوں، کوئی ایسا نہیں کہ ان پر کوئی مشکل وقت۔
عامر عثمانی: میرا خیال ہے یہ چیزیں صرف سوشل میڈیا پر سامنے نظر آتی ہیں، باقی تو سب ایک ہی ہے۔
مولانا اللہ وسایا: ان کی ساری قیادت کے ساتھ ادب و احترام کا، باہمی پیار اور محبت کا تعلق کل بھی قائم تھا آج بھی قائم ہے۔ یہ ان کے جو نوجوان، جو نہ تین میں نہ تیرہ میں، چاچا خوامخواہ، یہ حضرات ان چیزوں کو اچھالتے ہیں، ان سے ہمارا؛ بس ٹھیک ہے وہ لگے رہیں، ہم ان کو کچھ کہتے بھی نہیں۔
عامر عثمانی: حضرت، آپ کا بہت شکریہ۔ سوالات کی میرے پاس لسٹ بہت طویل ہے، آپ کی بھی آگے ظاہر ہے کمٹمنٹس ہیں، آپ نے وہاں بھی پہنچنا ہے۔ میں مختصر کر کے بس یہ چاہوں گا کہ ہماری نوجوان نسل کے لیے آپ کی طرف سے کوئی پیغام آنا چاہیے۔
مولانا اللہ وسایا: وہ تو ٹھیک ہے۔ نہیں، اگر سوالات کے سلسلے میں میری مصروفیت کا خیال نہ کریں، اِن سوال کرنے والوں کی کوئی حسرت باقی نہیں رہنی چاہیے، میں بالکل تیار بیٹھا ہوں ایک ایک سوال کا جواب دینے کے لیے۔ باقی یہ نوجوان نسل، میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب اس طرح کی رپورٹیں ہیں، کئی بستیاں قادیانیوں سے پاک ہو گئی ہیں۔ قادیانیت بڑی تیزی کے ساتھ اللہ کے فضل سے اپنے انجام کی طرف جا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ امت کو کامیابی سے سرفراز کر رہے ہیں۔ ہر مسلمان عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے اپنا فرض سمجھ کر اس کام کو آگے بڑھائے۔ رب کی رحمت بھی ان کے ساتھ ہو، محمدِ عربیؐ کی شفاعت بھی ان کے ساتھ ہو۔
عامر عثمانی: بہت بہت شکریہ مولانا اللہ وسایا صاحب۔
ناظرین، آپ نے یہ گفتگو سنی، ظاہر ہے ہم نے تحریک کے حوالے سے، ان کی زندگی کے حوالے سے، اور بہت سارے موضوعات کو ڈسکس کیا۔ even وہ تلخ سوالات بھی ہم نے کرنے کی یہاں جرأت اور کوشش کی جو آپ حضرات نے بھیجے اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اور بڑے کھلے دل کے ساتھ اور بڑی اعلیٰ ظرفی کے ساتھ ان تمام سوالات کو ایڈریس کیا، ان کے جوابات دیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ جوابات کافی ہونے چاہئیں۔ اور یہاں بیٹھ کر ان سوالوں کو کرنے کا ہرگز ہرگز ہرگز یہ مقصد نہیں تھا، نہ ہے، کہ خدانخواستہ کوئی انتشار کی فضا قائم کی جائے۔ بلکہ یہ چند وہ سوالات جو بارہا سوشل میڈیا پر ڈسکس کیے گئے، آپ حضرات نے بھیجے، ہم نے کیے، اور وہاں سے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ جواب آیا۔
اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی جہاں تک بات کی جائے، ان حضرات نے اپنی زندگیاں لگائیں، قربانیاں دی ہیں، اور ظاہر ہے ان کے سامنے یہ سوالات کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن ایک روایت ہے، ہم نے اسی روایت اور تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اس پوری کہانی کو محفوظ کرنے کے لیے اس پوڈ کاسٹ کی ریکارڈنگ کا فیصلہ کیا کہ ان حضرات کی یہ کاوشیں، یہ کوششیں، یہ تاریخ، یہ کسی طور پر زندہ رہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی یہ چیزیں پہنچ سکیں۔ اختتام اسی پر کہ
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
اجازت دیجیے اپنے میزبان عامر عثمانی کو، اگلی پوڈ کاسٹ میں ان شاء اللہ آپ سے ملاقات ہوتی ہے، اللہ کی امان میں۔
سپریم کورٹ کا غیر شرعی فیصلہ
ڈاکٹر محمد امین
سپریم کورٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور چونکہ پاکستان کے دستور میں لکھا ہے کہ یہاں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا لہٰذا ہم اپنی عدالتوں خصوصاً ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ خلاف قرآن و سنت اور خلافِ آئین نہیں کریں گے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کی چھوٹی بڑی عدالتیں خلافِ اسلام فیصلے کرتی رہتی ہیں اور علماء اس پر احتجاج بھی کرتے ہیں لیکن معاملہ عموماً صحیح صورت میں حل نہیں ہوتا جس سے معاشرے میں اور خصوصاً دینی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک فیصلہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کیا ہے جس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی نے ایک ایسی خاتون کو نان و نفقہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی نہ رخصتی ہوئی تھی اور نہ وہ خاوند سے ملی تھی کہ اس کو طلاق دے دی گئی۔ یہ فیصلہ قرآن کی سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۳۳ کے صریحاً خلاف ہے۔ حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے جو پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے یہ قرار دیا ہے کہ یہ فیصلہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ نیز اس فیصلے میں مرد کے عورت پر قوام ہونے اور اس کے ایک درجہ زیادہ رکھنے کے قرآنی احکام کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
ملی مجلس شرعی، جو پاکستان کے مختلف دینی مکاتبِ فکر کا ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم ہے، اس کے صدر مولانا زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین اور دیگر علماء کرام مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا عبدالمالک، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا اظہر خلجی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مفتی شاہد عبید، حافظ حسن مدنی، مولانا غضنفر عزیز ، مولانا محمد عمران طحاوی اور دیگر نے اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اسے قرآن و سنت کے مطابق بنائے۔ نیز اسلام پسند وکلاء سے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کریں۔
۲۷ ستمبر ۲۰۲۵ء
مروّجہ نعت خوانی — چند قابلِ اصلاح پہلو
مولانا زبیر احمد صدیقی
حمد و ثناء ربِ لَم یَزل کے واسطے، جس نے کائناتِ عالم کو بنایا۔ درود و سلام سیّد کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور جنھوں نے کائنات و عالم کو سنوارا۔ اما بعد!
حمد و نعت: اسلامی ادب کی ایمان افروز صِنف
حمد و نعت اسلامی ادب کی روح پرور، ایمان افروز اور وجد آفرین صنف ہے، یہ صنف عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی جاری ہو گئی تھی، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمد و نعت پر مشتمل اشعار کو پسند فرماتے اور بعض شعراء کے توحید پر مشتمل مضمون کے اشعار آپؐ تکلم بھی فرماتے۔ مثلاً: صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سچا ترین کلمہ (شعر) وہ ہے جسے لبید نامی شاعر نے یوں کہا ہے:
الا کل شیءٍ ما خلا اللہ باطل (صحیح بخاری: ۳۸۴۱)
’’اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔‘‘
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے رجزیہ اشعار (جو حمد مشتمل تھے) کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ جواب بھی مرحمت فرمایا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ غزوہ احزاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا اٹھا کر منتقل کر رہے تھے اور عبد اللہ بن رواحہ ؓ کے یہ اشعار بھی پڑھ رہے تھے:
واللہ لولا اللہ ما اھتدینا
ولا تصدقنا ولا صلینا
فانزلن سکینۃ علینا
وثبت الاقدام ان لا قینا
ان الاولی قد بغوا علینا
اذا ارادوا فتنۃ ابینا
’’اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نہ ہوتے تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، ہم نماز پڑھتے نہ صدقہ کرتے، ہم پر سکینہ نازل فرما دیجیے، اگر ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو ثابت قدم رکھیے، ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا، انہوں نے جب بھی فتنہ چاہا ہم نے انکار کیا، ہم نے انکار کیا، ہم نے انکار کیا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۴۱۰۴)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے اس شعر کو بھی سنا:
نحن الذین بایعوا محمدا
علی الجہاد ما حیینا ابدا
’’ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی بیعت کی ہے، جب تک جئیں گے ہمیشہ جہاد کریں گے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ شعر ارشاد فرمایا:
اللہم لا عیش الا عیش الآخرہ
فاغفر للانصار والمہاجرہ
’’اے اللہ! زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین صحابہ کرامؓ کی مغفرت فرما۔‘‘
دیگر بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نہ صرف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی فرماتے تھے، بلکہ کفار کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر کی جانے والی ہَجو کا بہترین پیرایہ میں جواب ارشاد فرماتے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھتے۔ آپ علیہ السلام نے ان کے کلام پر خوش ہو کر ان کے لیے ان الفاظ سے دعا فرمائی:
اللہم ایدہ بروح القدس۔
’’یا اللہ! حسان کی جبرائیل امین کے ساتھ تائید فرما۔‘‘
حمد و نعت گوئی نیز شجاعت پر مشتمل اشعار گوئی تو صحابہ کرامؓ میں مروّج تھی۔ علاوہ ازیں شعر و سخن کی کچھ مزید اصناف قرونِ اولیٰ سے اگرچہ ثابت ہیں، لیکن حمد و نعت کی صنف کو ہمیشہ امتیاز حاصل رہا۔ بیشتر محدثین، مفسرین، فقہاء عظام اور صوفیاء کرام کے شعری مجموعے بالخصوص حمد و نعت اور معرفت باری تعالیٰ پر مشتمل دیوان بکثرت موجود ہیں۔
بلاشبہ حمد و نعت کے ذریعے شاعر اور حمد و نعت گو جہاں حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت و فریفتگی کا اظہار کرتا ہے، وہاں سامعین و قارئین تک معرفت و عشق کا پیغام پہنچا کر ان کے دلوں پر دستک بھی دیتا ہے۔ حمد و نعت قوتِ فکری کو مضبوط تر کر کے قوتِ عملی میں بھی جوش پیدا کرتے ہیں۔ اعلیٰ کلام اور خوبصورت آواز کے ذریعے سنے جانے والے کلام کی تاثیر کی بدولت عملی طور پر بھی زندگی میں انقلاب بپا ہوتا ہے، لوگوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی اور اصلاح کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔
حمد و نعت اور منقبت میں حدِ اعتدال
جملہ دینی امور کی طرح حمد و نعت اور منقبت میں بھی حدِ اعتدال اور افراط و تفریط سے اجتناب ضروری ہے۔ افراط و تفریط کے پیدا ہو جانے سے نہ صرف مقصد فوت ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات میں یہ مستحسن اور مستحب عمل معصیت اور گناہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے آخرت سنورنے کے بجائے خراب و برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا نعت گو اور شاعر دوسروں کے گناہوں میں ابتلا کا ذریعہ بن کر سب کے گناہوں کا بوجھ اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ اس گناہ میں جلسہ اور محفل کے منتظمین و معاونین بھی غیر محسوس طور پر مبتلا ہو کر خسارے کا سودا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں رفتہ رفتہ یہ مبارک صنف منکرات اور معاصی کی سرحدوں کو چھو رہی ہے اور یہ منکرات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان منکرات پر نکیر بھی نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے مقدس مقامات و مواقع اور مقدس و مقبول اوقات میں بھی منکرات کا ارتکاب ہو رہا ہے، جو نہایت خطرناک ہے۔
اہلِ علم کا فریضہ ہے کہ وہ ان منکرات کی نشاندہی فرمائیں، اور دینی طبقہ اور شعراء کرام ان منکرات سے اپنے آپ کو محفوظ کریں، تاکہ یہ مبارک سلسلہ مؤثر اور مفید بھی ہو اور اُخروی نجات کا ذریعہ اور سبب بھی۔ عاجز نے حمد و نعت کی بعض محافل میں چند منکرات محسوس کی ہیں جن کا ذکر برائے اصلاح ضروری سمجھتا ہے، اس کا مقصد خدانخواستہ کسی کی تنقیص ہرگز نہیں بلکہ صرف اور صرف اس مقدس صنف کے آداب کی طرف متوجہ کرنا اور نہی عن المنکر ہے۔ ذیل میں ایسی چند منکرات کا ذکر کیا جا رہا ہے:
دینی اجتماعات اور جلسہ جات کی اصل غرض
میرے شیخ حکیم العصر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ ارشاد فرماتے تھے کہ سلف میں دینی اجتماعات اور دینی جلسہ جات کی غرض تعلیمِ بالغاں ہوا کرتی تھی۔ یعنی جو لوگ مساجد و مدارس میں باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، ان کے عقائد کی تعلیم و اصلاح، نیز اعمالِ صالحہ کی ترغیب و تعلیم کے لیے جلسے کیے جاتے تھے۔ بیان کرنے والوں اور سامعین دونوں کے ذہن میں یہی مقصد ہوتا تھا۔ بسا اوقات تین روز یا دو دو روز کے جلسے ہوتے۔ لوگ بغرضِ تعلیم ان جلسوں میں باوضو اور باادب شریک ہوتے، وہ اہلِ علم و تقویٰ کے بیانات سن کر دین سمجھتے تھے۔ اس لیے اجتماعات میں مقصود بیان ہوا کرتے تھے، جبکہ نعت خوانی یا حمد و منقبت؛ تشویق، ترغیب اور نشاط کے لیے ضمناً ہوتی تھیں، مقصدِ اصلی اوّل الذکر ہوتا۔ اس طرح ایک یا دو اچھے قاری صاحبان کی تلاوت بھی کرائی جاتی تھی، جس سے مقصد برکت اور تعلیمِ قرآن کا شوق پیدا کرنا ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر کے زمانہ میں الگ سے محافلِ حسنِ قرأت کا اہتمام ہوتا، نہ محافل حمد و نعت کا۔ یہ چیزیں ضمناً ہوتی تھیں۔
دورِ حاضر میں معاملہ برعکس ہو گیا، اب کثرت سے محافلِ حسنِ قرأت و حمد و نعت کرائی جا رہی ہیں، جن میں بیانات یا تو ہوتے ہی نہیں یا ضمناً، جنہیں سامعین و منتظمین بوجھ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ مجالس بے غرض اور بے مقصد ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان محافل سے نہ تو اصلاحِ عقیدہ ہوتی ہے، نہ ہی تعلیمِ عقیدہ، اور نہ ہی تعلیمِ اعمال اور نہ ترغیبِ اعمال اور نہ ہی اصلاحِ اعمال۔ کوئی شخص پوری رات نعتیں سنتا رہے تو عمومی مشاہدہ ہے کہ اعمال کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی، نماز تک کی جانب توجہ نہیں رہتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محافل کو با مقصد بنایا جائے، تقاریر اور نعت خوانی وغیرہ میں تعلیمِ دین کا عنصر غالب رہے، نعت خوانی ضرور ہو لیکن ساتھ تعلیمِ اصلاح کا پہلو بھی غالب رہے۔
بامعنی شعرگوئی کی ترویج
نعت خوانی ہو یا اشعار کی دیگر اصناف، اس کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ بامعنی ہوں۔ حمد میں کمالاتِ باری تعالیٰ، صفاتِ خداوندی، توحیدِ الٰہی جیسے مضامین؛ اور نعت خوانی میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، سنتِ نبویؐ کی اہمیت، شمائلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نمایاں کیا جائے۔ مستند اور معتمد مضامین ان اشعار کا حصہ ہوں۔ اس سے سامعین کو پیغام ملتا ہے اور ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے، دین کی جانب رغبت پیدا ہوتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اکثر کلام بے مقصد اور بے معنی محض لفاظیت پر مشتمل ہوتے ہیں، نیز مخصوص لہجوں پر چند الفاظ پڑھنے سے زیادہ نہیں ہوتے، جو فقط وقت گزاری اور مجمع سے رقم بٹورنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بامعنی شعر گوئی کی ترویج کی جائے، تاکہ نعت خوانی سے حقیقی عشقِ نبویؐ کا احیا ہو اور عملی زندگی میں اتباعِ سنت اور اتباعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پہلو شاہد ہو۔
خلافِ شریعت اصطلاحات اور غلُو سے اجتناب
بعض کلام غیر شرعی مضامین، فاسد اور خلافِ شریعت اصطلاحات سے مرکب سننے کو بھی ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ تشبیہ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اس قدر غلو کہ خدائی صفات اور توحید کی اصطلاحات کا آپ پر کھلے بندوں اطلاق کیا جاتا ہے۔ نیز جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں دوسرے انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرامؓ و اہلِ بیت اطہارؓ کی منقبت کرتے کرتے دیگر شخصیات کی تنقیص یا منقبت میں غلو؛ نیز ایسے مضامین ذکر کیے جاتے ہیں جو جملہ مسالک کے محققین کے نزدیک غلط ہیں۔ ان پر ہزاروں کا مجمع عش عش کر اٹھتا ہے، اور یہ غلط مضامین لوگوں کو دین سے دور کروا کر انہیں گمراہی پر پکا کرتے ہیں۔
یہ امر بھی نہایت خطرناک ہے۔ نعت خواں حضرات کو چاہیے کہ وہ کسی مستند عالم، بزرگ یا معتمد شاعر کے کلام کا انتخاب کریں، اور کسی ماہرِ شریعت سے اس کی توثیق کروا کر پھر مجالس میں گوش گزار کریں۔ قوالیوں کا اکثر حصہ مذکورہ بالا مفاسد پر مشتمل ہوتا ہے، اور نعت خواں حضرات قوالوں کا کلام پڑھ کر عوامی داد سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گویّوں اور گانوں کی طرز کے مفاسد
بہت سے نعت خواں حضرات ما شاء اللہ اپنی فکر اور ذاتی نظریے کو اشعار کی صورت میں پیش کرتے ہیں، جو یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ایسے نعت خوانوں کی بھی کمی نہیں جو باقاعدہ گانے سنتے ہیں اور ان عشقیہ گانوں میں چند کلمات بدل کر انہیں گانوں کی طرز و انداز میں دینی کلام یا گانے سے ملتا جلتا کلام، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی یا صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی منقبت پڑھتے ہیں، جو یقیناً قابلِ مذمت ہے۔ یہ طرز عمل بہت سے مفاسد پر مشتمل ہے۔ ایک تو ایسے شعراء حقیقت میں منقبت، نظم و شعر گوئی سے نابلد ہوتے ہیں اور گانے کا سہارا لے کر کلام تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو بذاتِ خود کبیرہ گناہ اور حرام ہے۔ حدیث میں گانے سننے پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔ گانے کے یہ رسیا نعت خواں دینی محافل کی زینت بن کر ماحول میں فساد بپا کرنے کا ذریعہ ہیں، ان کا کلام بھی بے ادبیوں اور خرافات پر مشتمل ہوتا ہے، لوگ اس کلام کو سن کر بجائے روحانیت محسوس کرنے کے؛ جس گانے کے طرز پر کلام پڑھا جاتا ہے، اس گانے کو یاد کر کے نقل کی بجائے اصل کو ترجیح دیتے ہیں، اسی گانے کا تذکرہ کرتے ہیں اور گانے گنگنانے لگ پڑتے ہیں۔ بجائے اصلاح کے یہ عمل عوام کے فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے، پڑھنے والے کا گویوں کی طرح کا انداز محفل کو مزید بدبودار بناتا ہے، اور عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر قائم ہو جاتا ہے کہ نعت خواں حضرات گانے سنتے اور فلمیں دیکھتے ہیں، اسی لیے تو یہ گانے ہی کی طرز پر نظم بنا کر لائے ہیں۔ نیز یہ تاثر خود دین دار طبقے کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے یہ عمل نہایت قبیح اور واجب الترک ہے۔
شرعی وضع قطع اور دینی معاشرت کے حاملین
نعت خواں حضرات بھی ایک لحاظ سے دین کے داعی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی وضع قطع، نشست و برخواست، گفتگو اور معاشرت میں داعیوں کی صفات چھلکتی ہوں۔ اس کے علی الرغم بیشتر نعت خوانوں کی معاشرت اور وضع قطع شریعت کے بالکل خلاف محسوس ہوتی ہے، اہلِ فکر اس اجمال کی تفصیل خوب جانتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی اسٹیج پر باعمل لوگوں کو ہی بلایا جائے، تاکہ قولی دعوت کے ساتھ فعلی دعوت بھی عوام تک پہنچ سکے۔ خلافِ شرع لباس، مقطوع اللحیہ، غیر مسنون بالوں کے حامل اور غیرمہذب انداز میں اسٹیج پر جولانی دکھانے والے حق نہیں رکھتے کہ منبر و محرابِ رسولؐ کو داغدار کریں۔
ضروریات کا خیال اور پیشہ واریت سے پرہیز
عوام الناس، نعت خواں اور خطباء سبھی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دینی طبقہ کی مالی خدمت کی جائے۔ ان کی ضروریات، آمد و رفت کے اخراجات کی تکمیل ان کا حق ہے، لیکن کسی بھی دینی طبقہ کو رقم بٹورنے، تبلیغِ دین کے جلسوں میں شرکت کے لیے پیشگی بھاری رقوم طے کرنے، یا دورانِ نعت اداکارانہ طرز پر پیسے ڈالنے یا نوٹ نچھاور کرنے یا کروانے کا شرعی طور پر کوئی حق نہیں۔ ان خرافات کی سلف میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نعت خواں حضرات کی اسٹیج پر ضرور خدمت کی جائے لیکن نوٹ نچھاور کرنے کا طریقہ نہایت غیر مہذب اور دینی وقار کے خلاف ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔ دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا نہایت خطرناک عمل ہے، جس کی احادیث میں سخت وعیدیں بیان کی گئیں ہیں۔
(پاکستان نعت کونسل کے تعارفی کتابچہ سے ماخوذ)
ابنِ خلدون: مسئلہ عصبیت ، ایک تجزیہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ابن خلدون نے بیان کیا ہے کہ تاریخ میں کسی گروہ کو ابتداءً عصبیت کے اسباب میسر ہونے اور کچھ اوصاف کی وجہ سے ایک خاص حیثیت اور شرف حاصل ہو جاتا ہے، تاہم تہذیب کے آگے بڑھ جانے سے یہ شرف تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس گروہ میں اس کا ’’وسواس’’ باقی رہ جاتا ہے، حالانکہ اس شرف کے تاریخی اسباب مفقود ہو چکے ہوتے ہیں۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ عرب وعجم میں بہت سے گروہ اس کی مثال ہیں۔ اس میں وہ خاص طور پر بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہیں جن کو انبیاء ورسل کی وجہ سے اور پھر قبائلی عصبیت کی بدولت حکومت واقتدار حاصل ہوا، لیکن یہ سب کچھ ختم ہو جانے اور ذلت اور غلامی مسلط ہو جانے کے باوجود یہ ’’وسواس’’ ان کے قومی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔
ابن خلدون کے اس بیان میں ایک نکتے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ ایسے کسی گروہ کا پہلا دور وہ ہوتا ہے جب وہ تاریخی اسباب سے میسر ہونے والے ’’وسائل شرف’’ کو ایک تاریخی عصبیت میں بدلنے اور اس کی بقا وتسلسل کے لیے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ اسی دور میں تمام تر تہذیبی وسائل کو تخلیقی اور اجتہادی انداز میں استعمال کرنے اور نئے سے نئے وسائل پیدا کرنے کا عمل ظہور میں آتا ہے۔ پھر یہ صلاحیت مدھم پڑتی چلی جاتی ہے اور تدریجاً گروہ کے تمام طبقوں پر ’’طفیلیت’’ (parasitism) کی نفسیات غالب آنا شروع ہو جاتی ہے۔
طفیلیت کا مطلب یہ ہے کہ جو وسائل پچھلی نسلیں تخلیق کر گئی ہیں، ان کو تقدس کا درجہ دے کر ان کی بنیاد پر اپنے ’’وسواس’’ کو قائم رکھنے کی کوشش کی جائے۔ بالفاظ دیگر طفیلیت، نئے تہذیبی وسائل پیدا کرنے کے لیے درکار محنت اور جدوجہد سے گریز کی کیفیت ہوتی ہے جو بحیثیت مجموعی قوم پر غالب آ جاتی ہے۔ عوام کلچرل سطح پر اس کا شکار ہوتے ہیں، اہل علم ودانش یاد ماضی (nostalgia) میں مبتلا ہو کر اس کو فکری اور نظریاتی قالب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور حکمران طبقات مجبور ہوتے ہیں کہ ہوشیاری سے اس ’’وسواس’’ کو اپنے اقتدار کے تسلسل کے لیے استعمال کریں۔
تنبیہ:
قال: ⸨وقد یکون للبیت شرف (۱۶۲) اول بالعصبیۃ والخلال، ثم ینسلخون منہ لذھا بھا بالحضارۃ، ویختلطون بالغمار (۱۶۳)، ویبقی فی نفوسھم وسواس ذلک الحسب، ولیسوا من ذلک فی شیء لذھاب العصبیۃ جملۃ، وکثیر من اھل الامصار الناشئین فی بیوت العرب والعجم (۱۶۴) لاول عہدھم، موسومون بذلک (۱۶۵)⸩۔
قال: ⸨واکثر ما رسخ الوسواس فی ذلک لبنی اسرائیل، لما سبق لھم من شرف البیت بتعدد (۱۶۶) الانبیاء والرسل، ثم بالعصبیۃ، والملک الذی وعدوا بہ، و بعد انسلاخھم عن جمیع ذلک، وضرب الذلۃ، وانفرادھم بالاستعباد (۱۶۷) آلافا من السنین، ما زال ھذا الوسواس مصاحبا لھم، فیقولون: ھذا ھارونی، او من قبائل یوشع او من سبط (۱۶۸) کذا (۱۶۹) مع ذھاب ما اوجب ذلک اولا ورسوخ ما عفا بعد علی اثرہ (۱۷۰)⸩۔
295C — قانونِ توہینِ رسالت — حد یا تعزیر؟
اہلِ رائے کی خدمت میں ایک طالب علمانہ رائے
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
پاکستان کی عدالتیں جس طرح آئین و قانون کو موم کی ناک بنا کر لبرل انتہاپسندوں کی منشا کے مطابق اس کی تعبیر و تشریح کر کے انھیں مسلسل سپورٹ کر رہی ہیں، کیا یہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی عدلیہ کے شایانِ شان ہے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ دین مخالف لابیاں پاکستان میں کتنی متحرک ہیں اور کس زور و شور سے پروپیگنڈہ کرتی نظر آتی ہیں۔ دینی طبقے کو انتہاپسند اور متشدد ثابت کرنے کے لیے قسم قسم کے شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔
اباحت پسند متجددین کی طرف سے ایک مشہور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے، بڑے بڑے دشمنوں کو معاف فرمانے والے تھے، تو کیسے ممکن ہے کہ اپنی ذات کے لیے بدلہ لے لیں؟ اور یہی خوے عفو و احسان کئی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ مسلمانوں کی دینی و علمی روایت اور تراث کے بالکل متوازی تصورات، اصطلاحات اور تشریحات کی بنیاد رکھنے والے معروف اسکالر جاوید احمد غامدی صاحب عہدِ نبوی میں توہینِ رسالت کے جرم میں سزا یافتہ مجرموں کے واقعات کو جزئی اور غیر متعلق مانتے ہیں، یعنی ان مجرموں کو سزا توہینِ رسالت کے جرم میں نہیں ہوئی، کیونکہ توہینِ رسالت تو سرے سے قابلِ مواخذہ جرم نہیں، بلکہ یہ لوگ توہینِ رسالت کے علاوہ بڑے بڑے ناقابلِ معافی جرائم کے مرتکب ہوئے تھے، یعنی غامدی صاحب اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف، ابو رافع یا ابن خطل کو گستاخی کے جرم میں قتل کر دیا گیا ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب بغاوت، قتل و غارت، عہد شکنی یا خیانت کے جرم میں قتل ہوئے ہیں۔ اپنی اس بات کی دلیل میں سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۳۲ پیش کرتے ہیں:
من قتل نفسًا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا۔
اس آیت سے یوں استدلال کرتے ہیں کہ آیت میں "فساد فی الارض" کو عدالتی قتل کے جواز کا واحد سبب قرار دیا گیا ہے، یعنی اگر کوئی شخص زمین میں فساد کرے یا قتل کرے تو اس کو سزاے موت دی جائے گی، اس کے علاوہ زنا ہو یا ارتداد، ڈکیتی ہو یا کوئی اور بڑے سے بڑا جرم و گناہ، کسی کا خون بہانے کا جواز پیدا نہیں کر سکتا۔
یہ ہوا ان متجددین کا استدلال، پتہ نہیں "فساد" کا کونسا خود ساختہ پیمانہ ان کے ہاں مقرر ہے کہ یہ نہ تو توہینِ رسالت جیسے انسانیت سوز گھناؤنے جرم کو فساد کہتے ہیں اور نہ مسلح رہزنی کو، حالانکہ فقہاء فساد کا دائرہ حرابہ سے بھی وسیع مانتے ہیں۔ حرابہ کی مخصوص سزا جو سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت میں ذکر ہے، یہ صرف حرابہ کی سزا ہے جو اسلحہ بردار رہزنوں پر لاگو ہو گی، اس کے علاوہ فساد کرنے والوں کے لیے احناف کے ہاں تعزیری سزائیں ہیں۔ محاربہ (قطع الطریق / رہزنی) ایک خاص شکل ہے فساد کی، لیکن فساد کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔
امام ابوبکر الجصاص (المتوفیٰ ۳۷۰ھ) اپنی کتاب احکام القرآن میں سورۃ المائدہ کی مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں:
فاما من افسد فی الارض بوجہ لیس فیہ محاربۃ فلا یدخل تحت ھذا الحکم۔
ترجمہ: جو شخص زمین میں فساد کرے، لیکن محاربہ (یعنی قتال اور رہزنی) کی صورت کے بغیر، تو وہ سورۃ المائدہ آیت ۳۳ کے تحت نہیں آئے گا۔
یہاں امام جصاصؒ فساد فی الارض کو حرابہ کے بغیر بھی ممکن مانتے ہیں، تاہم ساتھ یہ فرق بھی بیان کرتے ہیں کہ جہاں فساد فی الارض ہو لیکن حرابہ (قتل اور رہزنی) نہ ہو تو وہاں پر آیت ۳۳ کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ یعنی وہ محاربہ کے بغیر بھی فساد کو مستقل جرم مانتے ہیں۔ پھر ایسا گھناؤنا جرم جو گواہوں کے سامنے برسرِعام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نہ صرف ذاتِ مبارکہ کو نشانہ بنائے، بلکہ ذاتِ مبارکہ سے جڑے ہوئے دین کے حصار کو توڑنے کی کوشش کرے اور تمام امتِ مسلمہ کے دلوں کو چیر کے رکھ دے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان متجددین کے ہاں فساد نہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ اگر فساد صرف امنِ عامہ کو خراب کرنے کا نام ہے، تو کیا انسانیت کی لکیر سے گرے ہوئے توہین کرنے والے درندے امنِ عامہ کو بڑھاوا دے رہے ہیں؟ یا ایمان و اسلام جو امن و سلامتی کے ضامن ہیں، کی بیخ کنی کر رہے ہیں؟
امام سرخسیؒ المبسوط میں گویا زمانہ حاضر کے ڈیجیٹل آلات اور میڈیا کے ذریعے توہین آمیز مواد نشر کرنے کے جرم ہی کو فساد کہتے ہیں:
ومن أظھر الفسق، ونشر الفاحشۃ، وأبطل الحق، وزين الباطل، فقد أفسد فی الأرض۔
ترجمہ: جس نے فحاشی پھیلائی، حق کو مٹایا، باطل کو مزین کیا، اس نے زمین میں فساد کیا۔
الغرض توہینِ رسالت فساد تو ہے ہی، چاہے محاربہ نہ بھی ہو۔ کیونکہ یہ فتنہ اور بغاوت ہے۔ یہ معاشرے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت، دینی سلامتی اور امنِ عامہ کو نقصان دیتی ہے۔ فقہائے احناف کے ظاہر مذہب و روایت کی بنیادی علت یہی بغاوت ہے۔ وہ توہینِ رسالت کو ارتداد یعنی دین سے بغاوت قرار دیتے ہیں۔
- اور توہین کرنے والا اگر مسلمان مرد ہے تو وہاں بغاوت کا معنیٰ پایا جاتا ہے۔ اور مسلمان مرد کی بغاوت بغیر قتل و قتال کے زائل نہیں ہوتی۔ اگر پورا جتھہ توہین کرے تو سب سے جنگ کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر جتھہ اتنا مضبوط ہو کہ جنگ میں اسلامی ریاست کو فائدے سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہو تو اسلامی ریاست عارضی طور پر مصالحت بھی کر سکتی ہے۔
- عورت کی بغاوت کو جیل میں رکھنے سے دبایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے احناف توہین کرنے والی مسلمان عورت کے قتل کے قائل نہیں۔
- توہین کرنے والے کافر مرد و عورت کو حالات کی مناسبت سے تعزیری سزا تو دی جا سکتی ہے، تاہم توہین کے جرم کی وجہ سے اسلامی ریاست میں ایسے کافروں سے رہائش کا حق (عہد ذمہ) سلب نہیں ہوتا۔
یہ حنفی مذہب کی رو سے احکام کی تفصیل ہے، لیکن پاکستان میں تمام معتبر مفتیان کرام حنفی ہونے کے باوجود توہینِ رسالت کے معاملے میں حنفی مذہب کے مطابق فتویٰ نہیں دیتے، اس لیے کہ پاکستان کا آئین و قانون ہر حال میں توہین کرنے والے کو سزائے موت دیتا ہے، جو جمہور امت کا مذہب ہے۔ اور اصول یہ ہے کہ آئین و قانون چار مذاہب میں سے کسی بھی مذہب کے موافق ہو، تو فتویٰ اسی مذہب کے مطابق دیا جائے گا، اگرچہ مفتی کے اپنے مذہب کے خلاف ہو۔ کیونکہ آئین و قانون کو اسلامی تسلیم کرنے کی انتہائی کوشش شریعت کو مطلوب ہے۔
قرآنی لغت کے امام راغب اصفہانی اپنی معروف کتاب المفردات میں فساد کا معنیٰ یوں فرماتے ہیں:
الفساد يُطلق علی ما تجاوز حدود الاعتدال…وعمل الخروج عن صلاح الدين يُعد فسادا۔
ترجمہ: فساد وہ ہے جو دین، اعتقاد یا نظمِ معاشرہ کی حدود سے تجاوز کرے، خلافِ اعتدال ہو اور اصلاح سے بعید ہو۔
الغرض دین کی بنیادی حدود کو پامال کرنا فساد کی سب سے پہلی قسم ہے۔ باقی اخلاقی انحطاط اور اجتماعی برائی کو غیر مسلم ماہرینِ لغت نے بھی فساد کا معنیٰ قرار دیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ توہینِ رسالت سے زیادہ اخلاقی انحطاط اور کیا ہو سکتا ہے۔ اب ذرا امتِ مسلمہ کے معتبر و مستند علماء کا موقف بھی ملاحظہ فرمائیں۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وسب النبی ﷺ ھو اکبر انواع الفساد فی الارض، فیجب قتلہ حتی ولو اسلم بعد ذلک۔ (الصارم المسلول، ص ۳، دار ابن حزم)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین زمین میں سب سے بڑا فساد ہے، اس لیے توہین کرنے والے کو قتل کرنا واجب ہے، چاہے وہ بعد میں توبہ کر لے یا اسلام قبول کرے۔
علامہ خفاجی حنفی فرماتے ہیں:
وسبہ ﷺ من افحش الفساد فی الارض، ومن فعل ذلک فقد اشاع الفتنۃ، وتعین حدہ۔
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین زمین میں بدترین فساد ہے، جو ایسا کرے وہ فتنے کو پھیلانے والا ہے، اور اس پر حد (سزا) واجب ہے۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
"شاتمِ رسول ﷺ کے عمل سے جو فساد فی الارض پیدا ہوتا ہے، وہ قتال، ڈاکہ، اور قتل جیسے جرائم سے کہیں زیادہ ہے۔" (ماہنامہ البلاغ، جامعہ دارالعلوم کراچی)۔
علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ عشقِ رسول سے لبریز اپنی کتاب "الشفا" میں فرماتے ہیں کہ
من سب النبی ﷺ فقد کفر، وقتل، ولا یستتاب، لانہ طعن فی النبوۃ، وافسد فی الارض۔
ترجمہ: جس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی، وہ کافر ہے اور قتل کیا جائے گا، اس سے توبہ کا مطالبہ نہ ہو گا، کیونکہ اس نے نبوت پر طعن کیا اور زمین میں فساد پھیلایا۔
دین کے اسرار و مقاصد کا تھوڑا سا بھی ادراک و شعور ہو تو دل یہ بات ماننے میں ایک لمحے کو بھی تامل نہیں کرتا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی ناموس بلکہ ہر گوشہ حیات کی حفاظت میں دینِ اسلام کی بقا ہے، کیونکہ اس میں دو رائے نہیں کہ دینِ اسلام کا مرکز و محور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ اونہ رسیدی، تمام بولہبی است
اگر دین کو ایک جسم تصور کیا جائے تو ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی روح ہے، جس کے بغیر سارا دین حیات سے محروم ہے۔ میرِ حجاز ہی میرِ کارواں ہیں، ان کا ہر قول و فعل اور ادا و اشارہ دین ہے، وہ مرکزِ ایمان ہیں۔ پاکستان کا آئین بھی اپنی بنیاد اسی سے اٹھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مبارک زندگی میں جہاں خونخوار دشمن معاف فرما دیتے ہیں، وہاں ہجو و گستاخی اور ہرزہ سرائی کرنے والوں کے بارے میں انتہائی حساس ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں گستاخئ رسالت کی سزا قتل رہی ہے۔
عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عہدِ خلفائے راشدینؓ اور بعد کے جمہور فقہاء نے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سزا قتل ہی مقرر کی ہے۔ ابنِ خطل، ابو رافع، کعب بن اشرف، عقبہ بن ابی معیط جیسے لوگ یقیناً دوسرے بڑے جرائم کی وجہ سے قتل کے مستحق تھے، لیکن بہت سے مواقع پر اور بالخصوص فتحِ مکہ کے موقع پر بغاوت و خیانت اور قتل و سازش کے سب مجرموں کے لیے سرِ عام اور باعزت معافی کا اعلان ہوا، تو پھر کیا وجہ تھی کہ گستاخ ابن خطل کو رحمۃ للعالمین کی بارگاہِ رحمت سے معافی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ اسی رحمت کی ناقدری کر کے حرماں نصیب ہوا۔ کس قدر سخت حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر کعبہ کے غلاف سے بھی چمٹ جائے تو بھی قتل کر دیا جائے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس دین کا محافظ حصار ہے، اگر یہ حصار ٹوٹے گا تو دین کے بقیہ احکام پر عمل درآمد باقی نہیں رہے گا۔
آج کل ایک خاص سیکولر طبقہ قانونِ توہینِ رسالت کے خلاف نہ صرف مسلسل آواز بلند کر رہا ہے بلکہ بعض حکومتی شخصیات، صحافی، وکلاء اور جج برادری کی حمایت حاصل کر کے اس قانون کو ہیومن رائٹس کے خلاف بلکہ ظالمانہ قرار دے کر ملت کے اس عقیدے اور وحدت پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ قانون غلط استعمال ہو رہا ہے اور ذاتی دشمنی یا کسی اور پلاننگ کے تحت بے گناہ لوگوں پر قانون کا یہ شکنجہ کسا جا رہا ہے۔
اس مشہور اعتراض کا ہم تحقیقی جائزہ لیں گے اور دکھائیں گے کہ شریعت کے بے مثال عادلانہ نظام میں یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ شریعت کا کوئی قانون، الٰہی ہونے کے باوصف؛ ظالمانہ ہو یا اُس میں ظلم و ستم کو روا رکھنے کے لیے چور دروازے کھلے چھوڑ دیے گئے ہوں۔ بالخصوص حضور کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری شریعت میں تو ہر شرعی حکم میں اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ برائی کا کوئی ایسا دروازہ کھلا نہ رہے جس سے قیامت تک کسی برائی کے در آنے کا امکان ہو۔
یعنی یہ بات قطعی اور بدیہی طور پر ناممکن ہے کہ شریعت نے پہلے سے مس یوز یعنی غلط استعمال ہونے سے بچنے کی کوئی تدبیر نہ کی ہو۔ اگر خدانخواستہ ہمیں اس کے خلاف کہیں نظر آتا ہے تو دو باتیں ممکن ہیں: یا تو شریعت کے قانون پر پوری طرح (As it is) عمل نہ ہوا ہو گا، یا اس کی تنفیذ و اجرا (پروسیجر) میں کوئی خامی رہی ہو گی۔ ورنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون شریعت کا ہو اور اس کا پروسیجر بھی درست ہو پھر بھی کسی ظالم کو اس کے غلط استعمال کا موقع مل جائے۔ اس لیے شریعت کے کسی قانون پر تنقید کرنے سے پہلے ہمیں ہزار بار سوچنا پڑے گا کہ کیا ہم نے اس قانونِ شریعت پر صحیح طرح عمل کیا ہے اور کیا جو پروسیجر شریعت نے اس کے لیے وضع کیا ہے ہم نے اس میں کہیں غلطی تو نہیں کی ہے۔ اگر قانونِ شریعت اپنا عادلانہ نتیجہ نہیں دے رہی، تو کہیں نہ کہیں غلطی ضرور ہے۔
اسی بنیادی نکتے کی وضاحت کے لیے اب ہم توہینِ رسالت کے قانون پر ہونے والی تنقید کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں کہ ناقدین کی تشویش کی اصل وجہ:
- شرعی قانون اور اس کا شریعت میں وضع کردہ پروسیجر ہے؟
- یا قانون اور اُس کا پروسیجر کامن لاء جیوریسپروڈنس کا لے کر الزام شریعت پر لگایا جا رہا ہے؟
- یا شرعی حدود و قوانین سے جان چھڑانے کے لیے منظم لابنگ اور پلاننگ کی جا رہی ہے؟
سرِ دست عرض یہ ہے کہ دفعہ C۔295 توہینِ رسالت کے جرم کی دفعہ ہے اور شریعت و آئین کی روح کے عین مطابق ہے۔ آئینِ پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 227 کا سب آرٹیکل 1 کہتا ہے کہ
"پاکستان میں تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے احکام کے مطابق بنایا جائے گا، اور ایسے احکام کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا۔"
نیز توہینِ رسالت کے اس قانون کو نہ صرف فیڈرل شریعت کورٹ بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اپنی تفصیلی عدالتی تشریحات میں اسلامی، آئینی اور ضروری قرار دیا ہے۔ جب یہ بات واضح ہوئی کہ یہ شریعت کے عین مطابق قانون ہے، اب ہمیں اس کی شرعی حیثیت واضح کرنا ضروری ہے کہ C۔295 حد ہے یا تعزیر؟ نیز پاکستان میں بطورِ حد نافذ ہے یا بطور تعزیر؟ اور اگر بطورِ حد نافذ ہے تو کیا حد کے شرائط و تقاضے بھی پورے کیے جاتے ہیں؟ یوں واضح ہو جائے گا کہ غلطی قانون میں نہیں بلکہ شرائط و تقاضے پورے نہ کرنے میں ہے۔
C۔295 حد ہے یا تعزیر؟
اس نکتے پر غور کئی اشکالات کو رفع کر سکتا ہے۔ نہ قانون کے غلط استعمال کا شکوہ ہو گا اور نہ تحقیقاتی کمیشن کی جھنجھٹ میں پڑنے کی ضرورت ہو گی۔ قانون و شریعت پر ٹھیک ٹھاک عمل ہو گا، ظلم کا سدِ باب ہو گا اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ تو آئیے ایک نظر دیکھ لیتے ہیں۔
اسلامی فقہ، شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ — تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سزا قتل (موت) ہے اور یہ سزا تعزیر نہیں بلکہ "حد" ہے۔ (مقدمہ: مجیب الرحمٰن بنام حکومت پاکستان C۔295 پر شریعت ریویو کیس)
عدالت نے C۔295 کو شریعت سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی سزا صرف موت ہے۔ اس میں کسی معافی، جرمانے یا تخفیف کی گنجائش نہیں۔"
اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ: "توہینِ رسالت ایک ایسا جرم ہے جو حد کے درجے میں آتا ہے، نہ کہ تعزیر کے۔" حنفی مذہب کے خاتمۃ المحققین علامہ شامی رحمہ اللہ نے اگرچہ تعزیر ہونے پر اپنی تحقیق ختم کی ہے، لیکن "قضاء القاضی رافع للخلاف" کی رو سے پاکستان کے تمام اکابر مفتیان کرام فتویٰ حد کا جاری کرتے ہیں اور یہی ہر لحاظ سے مناسب اور مضبوط موقف بھی ہے۔
اصل غور و فکر کے لائق مقام یہ ہے کہ "آدھا تیتر آدھا بٹیر" کی طرح جرم کو حد قرار دینا، سزا حد کی دینا اور اثباتِ جرم میں تعزیر کا پروسیجر اور شرائط کافی سمجھنا غیر معقول، غیر قانونی اور غیر شرعی ہیں۔ اس بات کا لازمی تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ توہینِ رسالت کے جرم کے ثبوت کے لیے شہادت کا معیار ثبوتِ حد کے شایانِ شان ہو۔ قانونِ شہادت کا دیباچہ (Preamble) بالکل واشگاف الفاظ میں کہتا ہے:
Qanun-e-Shahadat Order, 1984, Application Clause;"Provided that the provisions of this Article shall not apply to the trial of cases under the laws relating to the enforcement of Hudood"
یعنی "اس آرڈر کی کوئی بھی شق اُس مقدمے میں لاگو نہیں ہو گی جو 'Hudood Laws' کے تحت چلایا جائے گا۔"
قانونِ شہادت آرڈیننس 1984ء کا (45 Article) واضح قرار دیتا ہے کہ 'Hudood Laws' کے تحت آنے والی عدالتی کارروائیوں میں یہ آرڈر بالکل لاگو نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ زنا، چوری، قذف، شراب نوشی، یا جب کبھی توہینِ رسالت صاف طور پر ’حد‘ شمار ہوتی ہے — ان مقدمات میں عام شہادت کے اصول نافذ نہیں کیے جاتے، بلکہ شرعی حدود کی مخصوص شرائط ہی قابلِ اطلاق ہیں۔
تعجب کی بات ہے کہ قانونِ شہادت کے ماتھے پر لکھی گئی ان ہدایات کے بالکل برعکس کئی اعلیٰ عدالتوں نے حد کی سزا قانونِ شہادت کی ان دفعات کی رو سے دی ہے جو عام دیوانی یا فوجداری مقدمات سے متعلق ہیں۔ مثلاً آرٹیکل 17 (Law of Evidence) کی 'Explanation' ان الفاظ میں ہے:
"Explanation: This Article shall apply to all proceedings except proceedings relating to Hudood".
ترجمہ: "وضاحت: یہ آرٹیکل تمام کارروائیوں پر لاگو ہو گا سوائے اُن کارروائیوں کے جو حدود سے متعلق ہوں"۔
واضح رہے کہ 'Explanation' قانون کا جزوِ لازم ہوتی ہے، اور عدالت میں اس کی حیثیت کسی بھی 'Substantive' حصے کے برابر ہوتی ہے۔ عدالتیں قانون کی 'Explanation' کو قانون کی تشریح اور دائرہ کار (Scope) متعین کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں C۔295 میں حد کی شرائط کہیں بھی پوری نہیں ہوئیں اور یہی شریعت کے فلسفۂ جرم و سزا کا تقاضا ہے کہ سزا عبرتناک دی جائے، مگر جرم کا معیارِ ثبوت شک وشبہ سے بالاتر ہو ۔ یہاں تک کہ غلطی سے سزا نہ ہوئی تو معاف ہے، لیکن سزا دینے میں غلطی نہ ہو۔ اقرار یا دو عادل گواہ نہ ہوں تو معاملہ حد سے تعزیر کی طرف جائے گا۔ عدالتوں نے C۔295 کے تحت جتنی سزائیں سنائی ہیں، سب کی سب کو تعزیر و سیاست کے خانے میں ڈالنا بھی ممکن نہیں کیونکہ تعزیر میں موت کی سزا صرف مخصوص حالات میں دی جا سکتی ہے، اور یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تمام کیسز ہی اس مخصوص نوعیت کے تھے۔
پھر یہ بھی ایک طرفہ تماشہ ہے کہ پاکستانی عدالتوں نے اب تک C۔295 کے تحت جتنی بھی موت کی سزائیں سنائی ہیں؛ کم و بیش ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے حد کی سزائیں سنائی ہیں، جو شریعت اور قانون دونوں کی رو سے محلِ نظر ہے۔ یہ فلسفۂ شریعت اور احتیاط کے خلاف ہے جس کا لحاظ رکھنا حدود میں فرض ہے۔
بعض عدالتوں نے اپنی تفصیلی ججمنٹ میں وضاحت کی ہے کہ ڈیجیٹل ایویڈیفنس کو پرائمری سورس آف ایویڈینس کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اس لیے ہم اس کی بنیاد پر موت کی سزا سنا رہے ہیں۔ ایسے عدالتی فیصلوں کی پشت پر کوئی قانون نہیں بلکہ قانون کی واضح تصریحات اس کے برعکس ہیں، جن کا ٹیکسٹ ہم نے پیش کیا، نیز شرعی اصول کے بالکل خلاف ہے۔ ابھی تک کسی فقیہ و مجتہد نے ڈیجیٹل ایویڈینس کو ثبوتِ حد کے لیے کافی نہیں مانا۔ تاہم سپورٹیو ایویڈینس کے طور پر سب مان رہے ہیں؛ جس پر زیادہ سے زیادہ تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ قانونِ شہادت آرٹیکل 164 کے تحت جدید آلات سے دستیاب شہادت (مثلاً ویڈیو، ڈیجیٹل ریکارڈ، DNA وغیرہ) قبول کی جا سکتی ہے، لیکن اس حصے کا اطلاق حدود کے مقدمات پر نہیں ہوتا، جیسا کہ قانون کے آرٹیکل 17 کی وضاحت میں واضح ہے۔
اب سوچا جائے کہ شریعت اور قانون کے ان واضح احکامات پر عمل ہو؛ تو غلط استعمال (Misuse) کی نہ ٹلنے والی مصیبت، خواہ واقعی ہے یا سازشی، سے کس آسانی سے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ ابھی تک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل پر مُصر ہیں، ان کا یہ اصرار بھی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
اس اہم اور بنیادی نکتہ کو کامن لاء جیوریسپروڈیفنس کے ماہر ججز اور عدالتیں اب تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انٹرنیشنل لاء کے بالکل برعکس فقہاءِ مجتہدین تو حد کے نفاذ میں اتنی احتیاطیں برتتے ہیں کہ غیر معقول (unreasonable)، کمزور (weak) یا over-stretched شک بھی — اگر ثبوت کی قوت کو مجروح کرے — تو حد کے نفاذ میں رکاوٹ بنے گا۔ علامہ ابن قدامہ، نووی، کاسانی، مرغینانی، شامی، زیلعی اور شوکانی رحمہم اللہ نے یہ ضابطہ بارہا بیان کیا کہ ہر قسم کا شک، چاہے وہ کمزور کیوں نہ ہو، حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ بعض ائمۂ فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
امام زیلعی حنفی لکھتے ہیں:
وان حصلت شبہۃ فی موجب الحد، سقط الحد وان کانت الشبہۃ واھیۃ۔
ترجمہ: "اگر حد کے موجب میں شبہ پیدا ہو جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے، چاہے وہ شبہ کمزور ہی کیوں نہ ہو۔" (نصب الرایۃ، للزیلعی ، جلد ۳، ص ۳۳۹)
علامہ ابن الہمام الحنفی فرماتے ہیں:
واذا وجدت شبہۃ، لم یجز اقامۃ الحد، ولو کانت الشبہۃ بعیدۃ او متاولۃ۔
ترجمہ: "جب شبہ موجود ہو تو حد قائم کرنا جائز نہیں، خواہ وہ شبہ دور از کار ہو یا تاویلی ہو۔" (فتح القدير ، للامام ابن الھمام، جلد ۴، ص ۵۴)
الموسوعۃ الفقھیۃ الكويتیۃ نے تمام فقہاء کا اجماع ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
واتفق الفقھاء علی ان الحدود تدرا بالشبھات، سواء کانت قویۃ او ضعیفۃ۔
ترجمہ: "فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ حدود شبہات کے ذریعے ساقط ہو جاتی ہیں، خواہ وہ شبہ قوی ہو یا ضعیف۔" ( ج ۱۷، ص ۱۵۲)۔
فقہاء و مجتہدین کی ان تصریحات کے بعد آئیے پاکستانی قانون پر بھی اس حوالے سے ایک نظر ڈالتے ہیں۔
پاکستان کا قانون
آرٹیکل 17 قانونِ شہادت واضح کرتا ہے کہ: "حد کے مقدمات میں عام شہادت کا قانون لاگو نہیں ہوتا"۔ اس طرح weak, unreasonable یا circumstantial evidence قابلِ قبول نہیں۔
آرٹیکل 164 صرف تعزیرات میں digital/forensic evidence تسلیم کرتا ہے۔ حدود کے مقدمات میں ایسے شواہد مُمِد (تائیدی) ہو سکتے ہیں، لیکن کافی نہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ کا واضح حکم ہے کہ حد صرف اس وقت نافذ ہو گی جب:
- شہادتِ شرعیہ (دو عادل، بالغ، مرد مسلمان گواہ) ہو۔
- بلاشک و شبہ جرم کا ارتکاب ہو۔
- کسی شک یا قیاس کی گنجائش نہ ہو۔
خلاصہ یہ کہ C۔295 چونکہ حد ہے اس لیے اس میں حدود آرٹیکل 17 اور 164 لاگو نہیں ہوں گے۔
Circumstantial Evidence یا Weak or Irresistible Evidence کی بنیاد پر حد نہیں لگائی جا سکتی۔ البتہ تعزیر ہو سکتی ہے اور معاملے کی نوعیت دیکھتے ہوئے مخصوص حالات میں جج موت کی سزا بھی دے سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور اسلامی قانونِ نکاح و طلاق
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نفقہ کے متعلق ایک تازہ فیصلہ جاری کیا ہے جسے جسٹس سید منصور علی شاہ نے لکھا ہے اور بنچ کے دوسرے جج جسٹس عقیل احمد عباسی نے ان کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ فیصلے میں اسلامی قانون کی وہ تعبیر پیش کی گئی ہے جو مغربی نظریات بالخصوص فیمینزم کے زیرِ اثر لوگوں، جیسے امینہ ودود، کی آرا پر مبنی ہے اور صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہائے کرام کے کام کو "پدر سری" کا اثر قرار دے کر ہلکا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس فیصلے پر تفصیلی تنقید کروں گا، ان شاء اللہ، لیکن سرِ دست ایک نکتے سے اندازہ لگائیے کہ اسلامی قانون کے متعلق بنیادی معلومات نہ رکھنے کے باوجود فاضل جج صاحبان کتنے بڑے دعوے کرتے ہیں!
اس مقدمے میں جس عورت کے لیے نفقے کا سوال تھا، اس کی نکاح کے بعد کبھی رخصتی ہوئی ہی نہیں تھی اور اسے اس کے شوہر نے رخصتی سے قبل ہی طلاق دے دی تھی، لیکن اس کے باوجود فاضل جج صاحبان نے اس کے لیے "عدت کی مدت کے لیے بھی" نفقہ اس کے سابق شوہر پر عائد کر دیا، یہ سوچے بغیر، بلکہ شاید یہ جانے بغیر، کہ جب رخصتی ہوئی ہی نہیں، دخول ہوا ہی نہیں، تو عدت کہاں سے آگئی، اور جب عدت ہی نہیں ہے تو عدت کے دوران کا نفقہ کہاں سے آگیا؟
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!
(قرآن کریم نے سورۃ الاحزاب کی آیت 49 میں تصریح کی ہے کہ دخول سے پہلے طلاق ہو، تو عدت نہیں ہے۔)
شاہ صاحب چیف جسٹس نہ بن سکے، مجھے اس کا افسوس ہے، لیکن پچھلے کچھ عرصے میں انھوں نے اسلامی قانون کے متعلق جس طرح کے فیصلے دینے شروع کیے ہیں، ان کے بعد میرے افسوس میں کافی کمی آئی ہے، بلکہ میں ان کے چیف جسٹس نہ بننے کو ملک کے لیے، خصوصاً اسلامی قانون کی رہی سہی نشانیاں باقی رکھنے کے لیے، نیک شگون سمجھے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست بھی فوراً ہی عائد کرنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام کیا اس فیصلے کے مضمرات پر غور کر کے، خصوصاً نکاح و طلاق جیسے امور میں، اسلامی قانون کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوشش کریں گے؟
فیصلے کا متن سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ دیکھیے:
کسبِ معاش سے صوفیہ کی وابستگی: مشائخ تیغیہ کے حوالے سے
ڈاکٹر محمد ممتاز عالم
اللہ تعالی نے جن جانداروں کو سمجھ اور شعور کے ساتھ اعضائے متحرکہ کی دولت سے نوازا ہے اسے اپنے رزق کے اہتمام کر نے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کا نظارہ ہمیں ہر چہار دانگ عالم میں دیکھنے کو ملتا ہے؛ بحری جاندار پانی میں، بری جاندار زمین پر، کوئی رات کے اندھیرے میں اور کوئی دن کے اجالے میں اسی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ سارے جانداروں میں اشرف ہو نے کا شرف انسان کو حاصل ہے اس لئے اس کے معاش کے ہزاروں ذرائع بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے ہے، کائنات کے جس چپہ پر نگاہ ڈالئے ہر طرف نعمتِ الٰہی بکھری پڑی ہے جسے انسان معمولی تگ و دو کر کے بہ آسانی حاصل کر سکتا ہے اور اپنی ضروریات کی تکمیل کر سکتا ہے۔
ظاہری طور پر عوام الناس کو لگتا ہے کہ دنیا کمانے کی فکر کوئی قابلِ قدر چیز نہیں ہے مگر اسلام کی تعلیمات سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام نے کسبِ حلال کی بڑی تاکید کی ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں جانے والے کھانے میں سب سے بہتر کھانا اسے قرار دیا ہے جس کی حصولیابی میں انسان کی اپنی محنت شامل ہو۔
اب دنیا کمانے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک وہ ہے جو پورے طور سے دنیا کمانے میں لگ جاتے ہیں، نہ انہیں احکام اسلام کی بجا آوری کا خیال رہتا ہے اور نہ ہی خدا کی عبادت کا؛ وہ حرام و حلال کی تمیز بھول جاتے ہیں، جہاں جیسی دولت مل جائے دامن بھر نے کے فراق میں رہتے ہیں ظاہر ہے کہ ایسی دنیا کمانے کی تائید اسلام ہر گز نہیں کرتا۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو کاروبار کے وقت کاروبار اور عبادت کے وقت عبادت پروردگار میں مصروف رہتے ہیں، یہی لوگ مردِ میدان ہیں اور انہیں کی تعریف قرآن کریم نے کیا: ’’رجال لا تلہیہم تجارۃ و لا بیع عن ذکر اللہ و اقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ‘‘۔
معاشی تگ ودو سے باز رہنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک وہ لوگ ہیں جو بالکل کاہلی اور سستی کے شکار ہیں، نہ انہیں دنیا کی فکر ہے اور نہ ہی آخرت کی پرواہ۔ ایسا آدمی گھر، خاندان، سماج، ملک اور مذہب پر بوجھ ہے۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو دنیا کو مردار و حقیر جانتے ہیں، وقت کو قیمتی گمان کرتے ہیں، وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے اس لئے ہر آن خدائے تعالی کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، ایسے صاحبِ ہمت کے پاس اگر اپنی ضروریات کے مطابق آمدنی کے حلال ذرائع ہوں تو پھر کیا کہنا! اگر نہیں ہے اور ان کے اسبابِ حیات کا انتظام دوسرے لوگ کرتے ہیں تو پھر اس عابد و زاہد کا رتبہ اس آدمی سے بہت کم ہے جو ان کی ضروریات کی تکمیل کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔
امام غزالی نے کسب و توکل کے اس مسئلے پر وضاحت سے لکھا ہے آپ فرماتے ہیں:
یہاں ایک بحث پیدا ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کا بغیر کسی پیشے اور ذریعہ آمدنی کے شہر میں بیٹھے رہنے کا کیا حکم ہے؛ حرام ہے، مباح ہے، یا مستحب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کرنا حرام نہیں ہے اس لئے کہ جب جنگل میں زاد راہ کے بغیر گھومنے والا اپنی جان تلف کرنے والا نہیں مانا گیا تو یہ شخص اپنے نفس کو ہلاک کر نے والا کیسے کہا جائے گا اور اس کے عمل کو حرام کس طرح کہا جائے گا؟ ہو سکتا ہے اسے کسی ایسی جگہ سے رزق مل جائے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو تاہم اس میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کے لئے اس وقت تک صبر کرنا ممکن ہے کہ کوئی اسے کھانے پینے کا سامان دے۔ لیکن اگر کوئی شخص گھر کا دروازہ اس طرح بند کر کے بیٹھ جائے کہ نہ خود باہر نکلے اور نہ کسی دوسرے کو اندر آنے دے تو یہ حرام ہے۔ البتہ اگر وہ گھر کا دروازہ کھولے بیکار بیٹھا ہے عبادت میں مشغول نہیں ہے تو اس سے بہتر ہے باہر نکلے اور کوئی ذریعہ آمدنی تلاش کرے، حرام اس کے فعل کو بھی نہیں کہا جا سکتا اِلا یہ کہ موت قریب ہو جائے اس صورت میں گھر سے باہر نکل کر سوال کرنا اور کمانا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مشغول ہو اور لوگوں پر نظر نہ رکھتا ہو اور نہ کسی ایسے شخص کا منتظر ہو جو اس کے لئے کھانا لے کر آئے بلکہ اس کی نظر صرف اللہ تعالیٰ پر ہو اور اس کی عبادت میں مشغول ہو تو یہ توکل کے مقامات میں سب سے افضل ترین مقام ہے۔ (۱)
دنیا میں بہت سے ایسے صاحبِ یقین گذرے ہیں جنہیں خدا کی رزاقیت پر اتنا بھروسہ ہو گیا کہ انہوں نے رزق کا خیال یکسر بھلا دیا اور رازق کے ذکر و فکر کو ہی اپنا محبوب ترین مشغلہ بنا لیا، ان کے اخلاص کے نتیجے میں خدائے تعالیٰ کی رحمت بھی ان پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسی، بے موسم کے پھلوں کا لطف انہیں میسر آیا، جس مسموم فضا میں زندگی اپنی آب و تاب کھو دیتی ہے اسی فضا میں انہیں عیشِ حیات اور تحفظات فراہم ہوئے۔ جہاں نہر و تالاب کا نام و نشان نہیں اسی مقام پر شفاف پانی ان کے مٹکوں میں چھلکتے رہے
؏ یہ رتبہ بلند ملا جن کو مل گیا
حضرت امام غزالی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے: توکل کر نے والوں کا رزق ان کی مشقت کے بغیر بندوں کے ہاتھوں میں گردش کرتا رہتا ہے اور دوسرے لوگ رزق کی فکر میں مشغول رہتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں۔ (۲)
ایسے ہی صاحبِ یقین و توکل کے پیکر حضرت ابراہیم ہروی گذرے ہیں ان کے یقین کی کیفیت ملاحظہ کیجئے۔ آپ نے ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی نماز کے بعد امام نے پوچھا کہ آپ نہ تو کوئی کام کرتے ہیں نہ کسی سے کچھ لیتے ہیں پھر کھاتے کہاں سے ہیں؟ فرمایا کہ پہلے مجھ کو دوبارہ نماز کی قضا ادا کر لینے دو، ایسے شخص کی اقتدا میں نماز جائز نہیں جو روزی دینے والے کو بھی نہیں جانتا۔
توکل کے اس افضل ترین مقامات پر اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندے ہی فائز ہو سکتے ہیں جنہیں خدا کے قرب کے ساتھ ساتھ ضروریات دنیا بھی مل جاتی ہیں۔ حضرت شقیق بلخی ابتداءً تاجر تھے، ترکی کے سفر میں ایک بت پرست کو اس کے عقائدِ فاسدہ کی عار دلائی اور کہا کہ خدائے تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ کس کی عبادت کر رہے ہو؟ اس نے کہا: آپ کا خدا تو گھر بیٹھے روزی دے سکتا ہے پھر تجارت کے لئے کیوں مارے مارے پھر رہے ہیں؟ اس واقعہ نے آپ کو متاثر کیا، دل سے تجارت اور کاروبار سے اچاٹ ہو نے لگا۔ اسی اثنا میں بلخ میں قحط سالی پڑی، لوگ بھوک و پیاس سے پریشاں حال تھے، ہر طرف فکرِ فردا کا منظر تھا، اتنے میں آپ نے ایک غلام کو دیکھا جو بڑا خوش ہے، آپ نے پوچھا زمانہ قحط سالی کا ہے اور تو اس قدر خوش نظر آرہا ہے؟ تو اس غلام نے کہا میرے مالک کے پاس بہت غلہ ہے وہ مجھے بھوکا نہیں رکھے گا تو پھر مجھے قحط سالی کی کیا پرواہ؟ اس غلام کا اپنے آقا پر ایسا اعتماد دیکھ کر آپ کے دل کی دنیا بدل گئی، ایک عزمِ مصمم کے ساتھ آپ نے تجارت اور کاروبار دنیا سے بالکل کنارہ کشی اختیار کر لی، آپ کے بار میں عطار نے لکھا ہے ’’آپ کا توکل معراجِ کمال تک پہنچا‘‘۔
دنیا میں بہت سے ایسے صوفیا گذرے ہیں جو توکل کے مقام پر فائز رہے ہیں جنہوں نے کسی معاشی ذریعہ کو ہاتھ نہیں لگا یا جنگلوں میں زندگی گذار دی مگر اس کے باوجود ان اصفیا کے صف میں ایسا کوئی نظر نہیں آتا جنہوں نے کسبِ حلال کی سعی کو مذموم قرار دیا ہو بلکہ ان الجھنوں کے ساتھ سلوک کی راہ پر چلنے والے کے مقام کی بلندیوں کا اعتراف سارے اولیاء اللہ نے کیا ہے۔ صفِ اول کے اولیاء اللہ میں شمار کئے جانے والے حضرت شیخ بایزید بسطامی جب خرقان میں قدم رنجہ ہوتے تو احتراماً کھڑے ہو کر سانس بھرتے، لوگوں نے اس معمول کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں اس جگہ ایک مردِ خدا کی خوشبو پاتا ہوں جو تین درجہ مجھ سے آگے ہو گا، وہ عیال کا بار اٹھائے گا اور کھیتی باڑی کرے گا۔(۳) بایزید بسطامی کی یہ بشارت توقیر حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی کے لئے تھی جن کی شریکِ حیات بڑی تنک مزاج اور آپ کے ولایت کی سخت منکر تھی مگر آپ اس کی ان تمام بدزبانیوں کو صرف رضائے الٰہی کے لئے برداشت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے مقامات اور تصرفات اسی صلے میں عطا فرمائے تھے۔ جو لوگ ان الجھنوں کو جھیل کر اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہیں اور یادِ الٰہی سے دل کی دنیا آباد کرتے ہیں ان پر توکل و استغنا اور تجرد کی زندگی گزارنے والے اہل اللہ بھی رشک کیا کرتے ہیں۔
حضرت محمد سماک سے جب شادی کرنے کی فرمائش کی جاتی تو فرماتے کہ دو ابلیسوں کی مجھ میں ہمت نہیں۔ بعد وفات لوگوں نے خواب میں دیکھ کر آپ سے کیفیت دریافت کی تو فرمایا مغفرت ہو گئی ہے لیکن جو مرتبہ بال بچوں کی اذیت برداشت کر نے سے حاصل ہوتا ہے وہ حاصل نہ ہو سکا۔(۴)
حضرت بشر حافی کے ارادتمندوں میں ایک معتبر نام امام احمد ابن حنبل کا ہے، آپ روزانہ بعد عصر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتے تھے، مگر خود بشر حافی کہا کرتے تھے امام احمد ابن حنبل مجھ سے بدرجہا افضل ہیں کیوں کہ میں صرف اپنے ہی واسطے اکلِ حلال کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ اپنے اہل و عیال کے لئے بھی حلال رزق حاصل کرتے ہیں(۵)
ضروریات زندگی کے حصول کے لئے کاروبار دنیا میں مصروف ہو نا صوفیا کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ یہ محض نفس کا دھوکہ ہے کہ کاروبار میں مصروف رہ کر احکامِ اسلام کی بجاآوری دشوار ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر روزی کے ساتھ ساتھ رازق کی تلاش بھی جاری رکھے تو دارین کی سعادتوں سے سرفراز ہو سکتا ہے اور اکثر اولیاء اللہ ایسے ہی ہوئے ہیں۔
دنیا کے پہلے صوفی حضرت حسن بصری جواہرات کی تجارت کرتے تھے اور دور دراز ممالک کا بھی سفر اس سلسلے میں کرتے تھے، ساتھ ہی ساتھ راہِ احسان کے اول راہرو و راہبر تصور کئے جاتے ہیں۔
ہر شخص واقف ہے کہ تصوف کے مدون حضرت جنید بغدادی کی شیشہ فروشی کی دوکان تھی جہاں وہ کاروبار بھی کرتے تھے اور اس پر پردہ ڈال کر چار سو رکعت نفل ادا کیا کرتے تھے، آپ نے خود کفیل لوگوں کی کیا شاندار تعریف کی ہے، فرماتے ہیں: جوانمرد وہ ہے جو اپنا بوجھ دوسرے پر نہ رکھے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو بھی راہِ سلوک کا سراغ اس وقت ملا تھا جب وہ اپنے ترکہ کے باغ (جس کی آمدنی وافر تھی) کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔
ابو حفص حداد کو حداد اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ لوہار تھے اور لوہے کا اوزار بناتے تھے، آپ ایک دینار روزانہ کما کر فقرا میں تقسیم کر دیتے تھے اور بیوہ عورتوں کے گھروں میں چپکے سے پھینک آتے تھے تاکہ کسی کو علم نہ ہو۔
حضرت شیخ فرید الدین عطار دوا فروشی کرتے تھے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم نے جب تخت و تاج تج کر راہِ سلوک پہ قدم رکھا تو ادھر ادھر کی سیاحی کے بعد مکہ شریف کی سر زمین پر اقامت پذیر ہوئے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد ان کے شہزادے چار ہزار آدمیوں کو اپنی جانب سے اخراجات دے کر حج کر نے کے لئے مکہ شریف آئے، وہاں کے مشائخ سے اپنے والد کے متعلق دریافت کیا تو مشائخ نے کہا: وہ ہماے مرشد ہیں اور اس وقت اس نیت سے جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہیں کہ اپنے اور ہمارے لئے کھانے کا انتظام کریں۔ شہزادہ جب جنگل کی جانب گیا تو دیکھا ایک بوڑھا سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے آرہا ہے، احتراماً پیچھے پیچھے ہو لیا، بازار پہنچ کر حضرت ابراہیم ادہم نے آواز لگائی کون ہے جو پاکیزہ مال کے عوض میں پاکیزہ مال خریدے؟ یہ سن ایک شخص نے روٹیوں کے عوض لکڑیاں خریدیں۔ انہوں نے اپنے پیر کی اتباع میں کاغذ بنان خرید لیں جس کو آپ نے ارادتمندوں کے سامنے رکھ دیا اور خود نماز میں مشغول ہو گئے۔ آپ کے معمولات کے بارے میں عطار نے لکھا ہے: آپ کو دن بھر مزدوری کے بعد جو رقم ملتی وہ سب اپنے ارادتمندوں پر صرف کر دیتے۔(۵)
سچ کہا ہے ابو سلیمان دارائی نے: تمام دن کی عبادت سے رات کو رزقِ حلال کا ایک لقمہ زیادہ بہتر ہے۔(۶)
حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: ہر عمل جو موافقِ شریعت ہے ذکر میں داخل ہے اگرچہ خرید و فروخت ہو۔(۷)
تصوف کے بنیادی سلاسل میں ایک سہروردیہ ہے جس کے مشہور بانی حضرت شہاب الدین سہروردی ہیں، آپ کے بارے میں جملہ سوانح نگار کا اتفاق ہے کہ وہ صاحبِ جائداد تھے اور اس کے انتظام و انصرام میں بہت زیادہ مصروف رہتے تھے، ان کے اصطبل کا حال یہ تھا کہ تمام گھوڑے سنہری زنجیروں سے چاندی کی میخ میں بندھے رہتے تھے۔ ایک بزرگ نے یہ شاہانہ طمطراق دیکھ کر کہا: یہ فقیری نہیں شہنشاہی ہے۔ آپ نے جواب دیا: یہ میخیں میرے دل میں نہیں زمین میں گڑی ہیں۔ اس سلسلہ کی خصوصیت ہے کہ ترکِ دنیا کا اس میں کوئی تصور نہیں ہے، اس کا اصول ہے اچھا کھاؤ، اچھا پہنو، دولت کماؤ، سب کچھ کرو، مگر اللہ کو نہ بھولو، گناہوں سے دامن بچائے رکھو۔ یہ سلسلہ دنیا میں رہ کر اور اس میں پھنس کر طاعت و عشق کے مظاہرے کی تعلیم دیتا ہے۔
سلسلہ تیغیہ؛ سلسلہ قادریہ آبادانیہ فریدیہ کی شاخ ہے جس کے شیخ حضرت تیغ علی شاہ ہیں۔ اس سلسلے کی نہر قادری بحر سے پھوٹتی اور مجمع السلاسل حضرت مجدد الف ثانی کے مجددیہ موجوں سے فیضیاب ہوتے ہوئے آبادانیہ نہر نکالتا ہے، پھر پانچ واسطوں کو طے کر کے حضرت شیخ المشائخ سے منسوب ہو کر تیغیہ کہلاتا ہے۔
آبادانیہ کے پہلے شیخ صوفی شاہ آبادانی ہیں، یہ مرید و خلیفہ ہیں امیر الملۃ والدین میر محمد زکریا کے۔ صاحبِ ثروت آدمی تھے، اپنے شیخ حضرت شاہ میر محمد سندھی کی بارگاہ میں پہلی بار امیرانہ شان و شوکت کے ساتھ حاضر ہوئے۔ فقیروں کو اگرچہ یہ بات پسند نہیں آتی مگر شاہ امیر محمد سندھی نے ان کی امیرانہ شان کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، ان پر اپنا خصوصی خوب فیضان جاری کیا، جب روحانی لذتوں سے شاد کام ہوئے تو دوبارہ خود ہی فقیرانہ لباس میں بارگاہِ مرشد میں حاضر ہوئے۔ شیخ نے دیکھتے ہی کہا: اب ٹھیک ہے۔ انہوں نے شیخ سے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو کاروبارِ دنیا کو یکسر ترک کر دوں اور خدمتِ عالیہ میں حاضر رہوں؟ شیخ نے فرمایا: دنیا بمعنی مشغول ہونا غیر حق کے ہے، اسبابِ ظاہری مانعِ حق پرستی و خدا شناسی نہیں۔(۸)
جس مرید کو پیر نے کارِ دنیا کو یکسر ترک کر نے کی اجازت نہیں دی اور ”دستِ بکار دلِ بیار“ کے ہنر کے ساتھ زندگی گذارنے کی نصیحت کی انہی کے مرید و خلیفہ حضرت صوفی شاہ آبادانی ہیں۔ سلسلہ تیغیہ کے شجرہ میں آبادانی اسمِ مبارک اور روایات میں نیلگو رومال انہی کی یاد دہانی کراتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں اس سلسلے کا آغاز ہی ایسی ذات سے ہوا ہے جنہوں نے دین اور دنیا دونوں کو تھامے رہنے کی تعلیم دی تاکہ نہ مفلسی دنیا میں منہ چڑا سکے اور نہ غفلت آخرت میں رسوائی کا سبب بن سکے۔ حضرت صوفی شاہ آبادانی کو آبادانی نام رکھنے کی تاکید ایک بزرگ نے کی تھی اور کہا تھا کہ اس شخص سے ایک رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری ہو گا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں اس ذات کی عبادت و ریاضت اور ذکر و فکر کا کیا عالم ہو گا، موضوع کی مناسبت سے توجہ طلب گوشیہ یہ ہے کہ جہاں انہوں نے اپنے مرشد شیخ زکریا کی ذکر و اذکار اور یادِ الٰہی میں جم کر پیروی کی، وہیے کا پیشہ بھی اختیار کیا۔ حضرت شاہ آبادنی کے معمول کو دیکھئے:
آپ ہر شب آدھی رات کے بعد خواب استراحت سے بیدار ہوتے، وضو فرماتے اور دو رکعت نماز تحیۃ الوضو پڑھ کر تہجد پڑھتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جاتے۔ صبح کے اول وقت میں فجر کی نماز پڑھ کر مراقبہ فرماتے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو جاتا۔ اس کے بعد اشراق کی نماز پڑھ کر دربارِ خاص فرماتے یعنی آپ کے جو مریدین، متوسلین اور طالبانِ حق حاضر ہوتے ان کے حال کی کیفیت فرما کر اس کی اصلاح فرماتے، جب ان کاموں سے فراغت حاصل کر لیتے تو صنعتِ کاغذ گری میں مشغول ہو جاتے۔(۹)
صوفی شاہ آبادانی کے دس خلفا ہوئے۔ خلیفہ ششم شاہ حافظ احسان علی پاک پٹنی ہیں۔ ان کے چار خلفا میں خلیفہ سوم شاہ عبد العلیم لوہاروی ہیں۔ انہوں نے شمالی ہندوستان کا خوب دورہ فرمایا۔ آپ کے مرید و خلیفہ حضرت حاجی دیدار علی غازیپوری ہیں اور ان کے خلفا میں شاہ فرید الدین آروی ہیں۔ شاہ فریدالدین آروی کے خلفا میں حضرت تیغ علی کو تاجدارِ ولایت بنانے والی دو شخصیتیں شامل ہیں: ایک وہ جن سے شرفِ بیعت حاصل کیا اور دوسرے وہ جن سے خلافت پائی۔ اول الذکر مولانا محمد سمیع مونگیری اور ثانی الذکر حضرت سید جلال الدین جڑھوی ہیں اور بیچ کی کڑی مولا علی لال گنجوی ہیں، انہی کے ذمہ آپ کی بقیہ تربیت و سلوک کا کام سونپ کر مرشدِ برحق راہئ ملکِ عدم ہوئے تھے۔
جب قادریہ مجددیہ کی نئی نہر نکلی تھی تو مرشد نے دستِ بکار دلِ بیار کی تعلیم دی تھی اور جب تیغیہ نہر پھوٹنے کو ہے تو دیکھئے جتنے مشائخ اس کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں سب کا کوئی نہ کوئی اپنا ذریعہ معاش ہے اور سب دستِ بکار دلِ بیار کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ اور جس ذات سے یہ نہر روا ہونے والی ہے وہ بھی والد کے انتقال کے بعد گاؤں کے کھیتی باڑی کو سنبھال کر تلاشِ معاش کے لئے عمِ محترم کے ساتھ کلکتہ آئے ہوئے ہیں۔
مولانا محمد سمیع مونگیری کا امانت کا کاروبار تھا، انہوں نے نہ صرف دنیاوی امانت کا بوجھ بحسن خوبی اٹھایا بلکہ عالمِ ارواح کی امانت و عہد پر ہزاروں لوگوں کو عمل پیرا کروایا، جن کے حوالے انہوں نے حضرت تیغ علی کو کیا تھا یعنی مولا علی لال گنجوی۔ ان کی بھی اپنی صباغی کی دوکان تھی، دن بھر کپڑے پر رنگ و روغن چڑھاتے تھے اور رات کو دلوں پر محبت الٰہی کا نقش بٹھاتے تھے، بیقراروں کو قرار اور مردہ دلوں کی مسیحائی فرماتے تھے۔
حضرت تیغ علی شاہ کو روحانی لطف کا چسکا بچپن ہی سے لگا تھا، فکر و قلب میں یادِ الٰہی سب پر مقدم رہتی، جہاں کہیں اللہ والے اور اہلِ دل کی بھنک لگی فوراً ان کی مجلس میں حاضر ہو گئے۔ کلکتہ آئے تھے حصولِ معاش کے لئے مگر کام سے فراغت کے بعد تمام معمولات ادا کرتے، کتابیں دیکھتے۔ ایک دن انہیں اطلاع ملی کہ ایک بڑے بزرگ برئی پارہ میں ہیں، مونگیر سے تعلق رکھتے ہیں، سنتے ہی دل میں ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا اور بغرضِ ملاقات وارد ہوئے۔ حضرت مولانا محمد سمیع مونگیری نے احوال دریافت کی، تعلیم کے متعلق پوچھا، شوق دیکھ کر داخلِ بیعت کیا، اوراد و وظائف اور مجلس میں حاضر ہو نے کا حکم دیا، مگر وہ خود اپنی عمر کے آخری حصے میں تھے اس لئے جلد ہی مونگیر کو واپس ہو گئے اور تربیت کی ذمہ داری شاہ مولا علی لال گنجوی کے حوالے کیا۔ مرشد کے حکم کے مطابق آپ دل و جان سے مولا علی لال گنجوی کی خدمت میں لگ گئے۔ آپ کا معمول تھا:
دن بھر آپ اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے اور شام کو بعد نمازِ مغرب روزانہ حضرت شاہ صاحب موصوف کے حلقے میں شامل ہو کر عشا تک ریاضتِ شاقہ کیا کرتے۔ بعد نمازِ عشا اپنی قیام گاہ پر آتے اور کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر رات کے پچھلے پہر بستر سے اٹھ جاتے اور ضروریات سے فارغ ہو کر وضو کر کے نمازِ تہجد ادا فرماتے اور فوراً قیام گاہ پر آجاتے اور باقی اوراد وظائف پورا کر کے فاتحہ خوانی و ایصالِ ثواب کرتے پھر ناشتہ چائے سے فارغ ہو کر کسبِ معاش میں لگ جاتے۔(۱۰)
بعد میں آپ نے ذاتی کام بالکل موقوف کر دیا اور مرشد ہی کی دوکان میں صباغی کا کام کر نے لگے اور جو کچھ دنیاوی دولت کمایا تھا سب مرشد پر نچھاور کر دیا، جب ان کی خانقاہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو سب سے زیادہ حصہ آپ نے لیا تھا، آپ نے آگے چل کر کسبِ معاش سے قدرے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ان کا ترکِ کسب بھی توکل تھا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں: جب اس آیت پر میری نظر پڑی ’’وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقہا‘‘ تو مجھ کو اس طرف سے یکسوئی ہوئی کہ آخر میں بھی انہی چلنے پھرنے والوں میں سے ایک ہوں جن کی روزی کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہے، میں نے حصولِ رزق کے جنون کو چھوڑا اور عبادت میں مشغول ہو گیا۔
آپ کے مرشد مجاز حکیم سید جلال الدین جڑھوی ہیں، آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ کے جامع تھے، طبابت میں شہرت رکھتے تھے، آپ کا مطب مظفرپور میں تھا، انہوں نے اسے خدمتِ خلق کا ذریعہ بنا رکھا تھا، فی سبیل اللہ علاج و معالجہ کرتے تھے، ان کا یہ کام مخلصانہ تھا پیشہ وارانہ نہیں، لوگ جو کچھ خوشی سے نذر کرتے قبول کر لیتے، فرمائش کچھ بھی نہ کرتے تھے۔
جن لوگوں کو حضرت تیغ علی شاہ سے اجازت و خلافت ملی ہے وہ لوگ بھی ایسے ہوئے جنہوں نے پیری مریدی کو پیشہ نہیں بنایا بلکہ خود کسی پیشہ سے وابستہ رہے۔ حضرت کے کلکتہ قیام کے دوران آپ کے اکثر عقیدتمند اور مرید جوٹ میل اور دوسرے چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ آپ کے چہیتے خلیفہ جنہیں آپ نے صوفی کا لقب دیا تھا حضرت یوسف تیغی کو ہی دیکھئے، جب وہ آپ کو شیرامپور اسٹیشن پر ملتے ہیں تو آپ پوچھتے ہیں کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کام کی تلاش میں گھر سے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تو سمجھ تیرا کام ہو گیا، آپ نے جوٹ میل میں کام کر نے والوں سے کہا اسے بھی وہاں کام میں لگا لیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ چند سکوں کی خاطر کلکتہ آنے والا اس قدر عالی مرتبت ہو جائے گا مگر آپ کی صحبت کا اثر تھا کہ جب وہ گھر گئے تو اس قدر سنت و شریعت اور لباسِ طریقت میں ملبوس ہو چکے تھے کہ والد محترم کو بھی پہچاننے میں دشواری ہوئی اور پہچاننے کے بعد مسرتوں کی انتہا نہ رہی کہ کیسا عظیم مرشد میرے بیٹے کو ملا ہے جنہوں نے دنیا سے کنارہ کش کئے بغیر روحانی کمال عطا فرما دیا ہے۔
اس سلسلے کے مشہور بزرگ حضرت صوفی ضمیر الدین صاحب بھی فیضان یوسفی سے مال مال ہیں، اسی سلسلہ کا فیض ہے کہ معمولی خیاط آج روحانی اور جسمانی امراض کا طبیبِ حاذق ہے۔ حضرت صوفی یوسف تیغی نے اپنی آخری وصیت میں کہا ہے: دینی اور دنیاوی کاموں میں جدوجہد کرنا چاہئے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے۔
حضرت شیخ المشائخ کے عقیدت کیش اب پورے ملک اور حرمین شریفین تک پھیل گئے ہیں اور آپ ایک مشہور شیخ طریقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ۱۹۴۰ سے قبل جب بھی کلکتہ جاتے تو قیام مرشد برحق کی صباغی کی دوکان پہ کرتے، یا پھر نور محمد چین پوری کی دوکان پہ فروکش ہوتے، بعد میں حاجی صدر علی مظفر پوری کی کوٹھی پہ قیام رہنے لگا۔ آپ نے جس کام سے وابستہ رہتے ہوئے صدق و صفا کی دولت حاصل کبھی اس کے خلاف نہیں رہے، ہمیشہ صنعت اور ہنر مندی کی حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ بقول حضرت صوفی ضمیر الدین صاحب قبلہ لوگوں سے کہتے کالا سونا پکڑو یا گاڑی کے پہیہ کا کام کرو۔ جس زمانے میں انہوں نے اس کی ترغیب دی تھی کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ملک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی حالت بھی بدل سکتی ہے اور شاہراہوں پر جہاں دن بھر میں ایک دو گاڑی بمشکل نظر آتی ہے اسے پار ہونا بھی دشوار ہو جائے گا۔ ان عقیدت کیشوں نے اس پیشہ کو اختیار کیا اور دنیاوی اعتبار سے خوشحال بھی ہوئے اور مطمئن بھی ہیں کہ دادا حضور کی نصیحت پر عمل پیرا ہیں اور خلق کی راحت کا سامان کر رہے ہیں۔
حضرت دادا حضور نے سب کو صرف جوٹ میل یا چھوٹے موٹے کاموں میں ہی نہیں لگایا ہے بلکہ جو جس میدان کا آدمی ہوتا اسے اسی کام میں لگاتے۔ مولانا علاء الدین طالب القادری فارسی میں ثانی سعدی کہے جاتے تھے، کچہری میں کتابت کا کام کرتے تھے، آپ نے انہیں درس و تدریس سے وابستہ ہو نے کا مشورہ دیا اور وہ کتابت چھوڑ کر درس و تدریس سے وابستہ ہوئے۔ آپ سلسلہ تیغیہ میں علامہ جید القادری کے بعد پہلے خلیفہ و مجاز ہیں جنہوں نے درس و تدریس کو زینت بخشی۔ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اگر دین فروشی کسی کا مقصد نہ ہو یقین جانئے جب دنیاوی کام ذکر الٰہی کے ساتھ خیر کا باعث ہے تو جو کام ہی ذکرِ الٰہی ہو جیسے قرآن و حدیث پڑھانا، وعظ و نصیحت کرنا، دینی امور کو انجام دینا، یہ بھلا کیوں کر رضائے الٰہی کے ساتھ ساتھ دنیوی آسودگی کا ذریعہ نہیں ہو سکتا؟ آج کل عوام کی ذرا سی غلط فہمی اور واعظین کی قدرے کجروی نے فضا کو مکدر کر دیا۔ علما و خطبا کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس فن کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت ہے، اور غیر خطبا کو خیال رکھنا چاہئے کہ عوام کی ضروریات کو پوری کر نے والے فن کار کی جیب ہمیشہ بھری رہتی ہے۔
حضرت یحی معاذ کو واعظ کہا جاتا ہے، آپ کو خلفائے راشدین کے بعد سب سے پہلے برسرِ منبر وعظ گوئی کا شرف حاصل ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے فقرا، نمازی، حاجی اور صوفیا کو خوب قرض لا کر لا کر دیا جس کی وجہ سے ایک لاکھ دینار کے مقروض ہو گئے۔ قرض کے خیال سے پریشان ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور فرمایا تم وعظ کہو میں ایک شخص کو حکم دوں گا کہ وہ اکیلے تمہارا قرض ادا کر دے۔ آپ نیشاپور گئے وعظ گوئی کا مقصد بیان کیا اور وعظ دیا، تین آدمی نے مل کر نذر پیش کی جو مل کر ایک لاکھ دینار ہو گیا، مگر آپ نے لینے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ مجھے حکم ہے کہ ایک آدمی ہی قرض ادا کرے گا۔ بلخ آئے تو تونگری کی فضیلت بیان کی، ایک آدمی نے ایک لاکھ دینار دیا مگر وہ مال لٹ گیا۔ ملک ہری آئے اور اپنے وعظ کا مقصد بیان کیا تو حاکم ہری کی لڑکی نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرض کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس نے قرض کی ادائیگی کے مطابق مال حضرت یحی معاذ کو دیا۔
سیر الاولیا میں ہے کہ ایک مولانا نے آکر محبوبِ الٰہی سے اپنی تنگدستی کی شکایت کی، آپ نے کہا جاؤ آج سے تمہاری تقریر خوب جمے گی، چند سالوں میں وہ اتنے مالدار ہو گئے کہ آسائش زندگی کے معاملے میں اپنے تمام ہمعصروں میں ممتاز ہو گئے۔
آج شیخ سرکانہی کے مریدوں کا حلقہ اس روایت کے فروغ میں بڑا اہم کر دار ادا کر رہا ہے۔ حضرت شیخ المشائخ کی دعاؤں کی برکت سے اس سلسلے کے لوگ خوب پھل پھول رہے ہیں اور اپنے جاء کار سے لے کر پیدائشی دیار تک ذکر و فکر کی تیغی بزم سجا کر علما و شعرا اور مشائخ کا دامن نذر و نیاز سے بھر رہے ہیں جس سے سلسلے کی بھی خوب تشہیر بھی ہو رہی ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے حضرت عبد العلیم لوہاری نے حاجی دیدارعلی کو جو ملک وراثت میں دیا تھا اس کی تعبیر حضرت تیغ علی شاہ کے ذریعے ہوئی آج پورے ملک میں دیکھ لیجئے جس سڑک یا شاہراہ سے گذر گئے ہر دس پندرہ کیلو میٹر کی دوری پر ہر ڈھابے اور ہوٹل کے کنارے پر کوئی نہ کوئی تیغی بورڈ آپ کو مل جائے جو زبان حال سے کہہ رہا ہو گا
’’تیغی ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘
اور کیوں نہ ہو اہل اللہ جس کام میں لگا دے اس میں انسان کے لئے خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ حلال کام تو حلال کام ہے اگر وہ کوئی دوسرا کام بھی کہے تو کرنے میں جھجھک محسوس نہیں ہونی چاہئے، موقع سے سن لیجئے۔ حضرت احمد حضرویہ آپ حضرت حاتم اصم کے مرید ہیں اور بہت سے اہلِ دل کے شیخ ہیں، ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ کے سامنے افلاس کا رونا رویا، آپ نے کہا: جتنے پیشے دنیا میں ہو سکتے ہیں الگ الگ پرچے پر اس کا نام لکھ کر لوٹے میں رکھ کر میرے سامنے لاؤ۔ آپ نے لوٹے میں ہاتھ ڈالا تو چوری کا پیشہ نکلا، آپ نے فرمایا تمہیں یہی کر نا ہوگا۔ تعمیلِ حکم میں چوروں کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ چور نے وعدہ لیا جیسے میں کہوں تمہیں ویسے ہی کر نا ہوگا۔ گروہ نے ایک مالدار کو لوٹا اور اسے قتل کرنے ذمہ داری انہیں سونپی۔ انہوں نے سوچا اس طرح نہ معلوم انہوں نے کتنوں کو قتل کر دیا ہو گا۔ کیوں نہ اس کے سردار کو ہی قتل کر دیا جائے چنانچہ اس نے سردار کو قتل کر دیا۔ سردار کے قتل ہوتے ہی سارے چور ڈر کے مارے فرار ہو گئے۔ آپ نے اس مالدار کو چھوڑ دیا، اس عوض میں مالدار نے انہیں اتنی دولت دی کہ خود ہی امیر کبیر ہو گئے۔
حضرت شیخ المشائخ نے تو وہ کام بتایا ہے جس میں دولت کی فراوانی ہے اور مخلوقِ خدا کی راحت رسانی بھی؛ ساتھ ساتھ مختلف اقوام کے افراد سے میل جول بھی۔ اگر ایمان داری سے اسے انجام دیا جائے تو نہ معلوم کتنے لوگوں کو ایمان کی دولت بھی نصیب ہو جائے۔ کام کا یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیئے بلکہ دراز تر ہونا چائے۔ تیغیہ کے مشائخ کے احوال ہم سے کہتے ہیں کہ سعادت کے لئے کوئی خواص مقام یا مخصوص کام نہیں؛ آدمی اگر باخلوص ہو تو رب کا جتنا قرب مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کی چہار دیواری میں پا سکتا ہے اتنا ہی قرب کسبِ حلال کے لئے سرگرداں شخص شاہراہوں اور بازاروں میں پا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی اس طرح بسر کرنی چاہئے کہ ہاتھ کام میں لگا ہو اور دل خدا کی یاد میں لگا ہو۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔
حوالے
(۱) احیاء العلوم جلد ۴، ص۴۰۳، اردو ترجمہ، ندیم الواجدی، شکیل پرنٹنگ پریس لاہور۔
(۲) احیاء العلوم ص۴۰۳، جلد ۴۔
(۲) جہان اولیا ۱۸۱، غلام مصطفی مجددی، سال ۲۰۰۴، مطبع ندارد۔
(۳) تذکرۃ الاولیاء ص ۱۵۹، اے این پرنٹر لاہور، سال ۱۹۹۷۔
(۴) تذکرۃ الاولیا ص ۱۴۶۔
(۵) تذکرۃ الاولیا ص ۱۰۷۔
(۶) تذکرۃ الاولیا ص ۱۵۷۔
(۷) انوار صوفیہ المعروف تحفہ قادریہ، مولانا علی احمد جید القادری، ناشر خانقاہ آبادانیہ مظفرپور، ص ۱۸۱۔
(۸) انوار صوفیہ ص ۱۷۶۔
(۹) انوار صوفیہ ص ۱۰۸۔
(۱۰) مظاہر قطب الانام المعروف انوار قادری ص ۶۲۔ حافظ محمد حنیف قادری۔
مہذب دنیا کے غیر مہذب کھیل
ڈاکٹر عرفان شہزاد
انسانی شعور تشدد کا روادار نہیں۔ ذاتی دفاع کے لیے لڑنے کو تو کبھی معیوب نہیں گردانا گیا، مگر تشدد برائے تشدد انسانی ضمیر گوارا نہیں کرتا۔ رہا تشدد برائے تفریح تو اس کی قباحت میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ تشدد کرنا اور کرانا اور اس کا تماشا دیکھنا دونوں ہی انسانیت کی توہین، وحشت و بربریت ہیں۔ انسانی ضمیر ہمیشہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلیڈی ایٹرز کے خونریز تماشے تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گئے اور جنگوں کو لگام ڈالی گئی۔ مگر اس اس تہذیبی ارتقا کے باوجود دورِ وحشت کی کچھ یادگاریں آج بھی پرتشدد کھیلوں کی صورت میں زندہ ہیں۔ آج کا مہذب انسان بھی انھیں معمول کی چیز سمجھ کر نہ صرف قبول کرتا، ان سے لطف اندوز ہوتا، بلکہ ان کی وکالت بھی کرتا ہے۔
طاقت اور چستی کے بعض کھیل ایسے ہیں جن میں چوٹ کا امکان تو ہوتا ہے مگر چوٹ لگانا مقصود نہیں ہوتا، مقصد محض جسمانی برتری یا مہارت دکھانا ہوتا ہے، جیسے فٹ بال، جوڈو کراٹے اور کبڈی وغیرہ۔ لیکن بعض کھیل ایسے ہیں جن کا اصل ہدف ہی حریف کو زخمی کرنا اور تشدد کے ذریعے سے فتح حاصل کرنا ہے، جیسے باکسنگ اور ایم ایم اے۔ یہاں چوٹ لگانے پر پوائنٹس ملتے ہیں اور ناک آؤٹ کرکے یقینی فتح حاصل کی جاتی ہے۔ ان کھیلوں کے قواعد کے تحت ایک کھلاڑی دوسرے کے ہاتھوں قتل بھی ہو جائے تو اسے نہ قتل عمد سمجھا جاتا ہے نہ قتلِ خطا۔
وحشت اور درندگی انسان کی فطرت میں ایک حیوانی میلان کے طور پر موجود ہے، جسے "تھرل" سے بھی تعبیر کرتے ہیں، مگر ہر شخص میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ خود اس عمل سے گزرے۔ اس لیے انسان اپنی اس جبلت کی تسکین کے لیے کبھی جانوروں اور کبھی انسانوں کو لڑواتا ہے۔ وہ جانوروں کے لیے بھی ماحول پیدا کرتا ہے تاکہ وہ لڑنے پر آمادہ ہوں، اور انسانوں کے لیے بھی شہرت و دولت جیسے محرکات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بھی ایک دوسرے کو مارنے اور مرنے کے لیے رضامند ہو جائیں۔ ان کھیلوں کے فاتح ہیرو کہلاتے ہیں، دولت و شہرت ان کے قدم چومتی ہے، اور جو ان میں اپنی جان سے جائیں، انھیں شہید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی تفریح کی خاطر قربان ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسے پرتشدد کھیلوں کا کوئی جواز ہو سکتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ کھلاڑیوں کی رضامندی اور مقررہ قواعد کے تحت منعقد ہوتے ہیں، اس لیے یہ جائز ہیں۔ مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایک غیر اخلاقی عمل محض باہمی رضامندی اور ضابطوں کے ذریعے سے کیسے اخلاقی اور جائز ہو سکتا ہے؟ ایک دوسرے کو مارنا، چوٹ اور نقصان پہنچا کر جیتنا، کیا یہ اپنی اصل میں غیر اخلاقی نہیں؟ اگر ہے، تو پھر یہ انسانوں کی رضامندی اور ضابطوں کی چھتری تلے کیسے جواز پا سکتا ہے؟ انسانوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ دل فریب محرکات پیدا کر کے ان سے کوئی بھی جائز و ناجائز کام لیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان میں ستی کی رسم اس کی مثال ہے۔ ایک وقت میں ستی ہونا وفا اور اعزاز کی علامت تھا۔ عورتیں ستی ہو جانا باعثِ افتخار سمجھتی تھیں۔ انگریزوں کو اسے ختم کرنے میں بڑی تگ و دو کرنا پڑی۔ وہ ستی ہونے کی خواہش مند عورتوں کو بہت سی ترغیبات دے کر اس سے روکنے کی کوشش کرتے، مگر عورتیں اس کے باوجود ستی ہونے کو ترجیح دیتیں۔ اس عمل میں ان کی رضامندی شامل ہوتی تھی۔ مگر انسانی ضمیر نے اسے گوارا نہ کیا۔ آج کوئی اس میں اخلاقی جواز تلاش نہیں کرتا۔ اگر انسان کی رضا سے اس کی خودکشی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تو انسانوں کو ایک دوسرے کو جان بوجھ کر مارنے پیٹنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ یہ کیسے معقول ہو سکتا ہے کہ زیادہ تشدد ناجائز ہو مگر "کم تشدد" جائز ہو؟
پرتشدد کھیلوں کے بارے میں لوگوں کی بے حسی کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمدن میں ایک معمول بن چکے ہیں۔ انسانی نفسیات یہ خاصیت رکھتی ہے کہ کسی چیز کی عادی ہو جائے، تو پھر بڑی سے بڑی برائی کا قبح محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن جب توجہ دلائی جائے تو فطرتِ سلیم بیدار ہو جاتی ہے۔
پرتشدد کھیلوں کو ظلم و تعدی قرار دے کر اخلاقاً معیوب اور قانوناً ممنوع قرار دینا چاہیے۔ مسلمانوں کے لیے تو ویسے بھی یہ کھیل ناجائز ہیں کیونکہ ان کا خدا انھیں ظلم و زیادتی سے منع کرتا اور اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے سے روکتا ہے۔
Z-10ME جنگی ہیلی کاپٹرز کی پاکستان آرمی میں شمولیت
ابرار اسلم
ڈان نیوز
حال ہی میں پاک فوج کے فضائی بیڑے میں ایک نیا اور طاقتور اضافہ ہوا جب 2 اگست کو ملتان چھاؤنی میں Z-10ME ہیلی کاپٹرز کی شمولیت کی باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس تاریخی موقع کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر نے کی۔ یہ دن پاک فوج کی ایوی ایشن کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ جدید ترین Z-10ME ہیلی کاپٹر، جسے چین نے تیار کیا ہے، ایک ایسا جنگی اثاثہ ہے جو دن رات اور ہر موسم میں انتہائی درستگی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹرز جدید ریڈار، برقی جنگی نظام، اور ہدف شکن ہتھیاروں سے لیس ہیں، جو انہیں نہ صرف فضائی بلکہ زمینی خطرات کا بھی مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
تقریب کے بعد آرمی چیف نے مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینج میں ان ہیلی کاپٹرز کی فائرپاور کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔ Z-10ME نے اپنی برق رفتار پرواز اور فائرنگ صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ یہ میدانِ جنگ کا ایک منظر بن گیا۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے ’’کمبائنڈ آرمز ٹیکٹکس‘‘ کا بھی شاندار مظاہرہ کیا، جس میں بری اور فضائی قوتوں کے درمیان بے مثال ہم آہنگی دکھائی گئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر جوانوں کے بلند مورال اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید ہتھیاروں کی شمولیت پاک فوج کو بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں بھی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔ یہ شمولیت پاک فوج کی ایوی ایشن کی جدیدیت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، جو نہ صرف ملک کے دفاع کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ممکنہ دشمن کے خلاف ایک مؤثر جوابی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔
1958ء میں قائم ہونے والی پاک فوج ایوی ایشن کور، جو کہ پاکستان آرمی کا ایک نہایت اہم اور فعال حصہ ہے، یہ کور زمینی افواج کو فضائی مدد فراہم کرنے کا بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا کام صرف دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا ہی نہیں، بلکہ اس کی سرگرمیوں میں فضائی نگرانی، جاسوسی، فوجیوں کی نقل و حمل، اور رسد پہنچانے جیسے کلیدی آپریشنز بھی شامل ہیں۔ اس کور کے پائلٹ اور عملہ انتہائی سخت تربیت سے گزرتے ہیں تاکہ وہ ہر طرح کے موسمی حالات اور جنگی صورتحال میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا سکیں۔ اور یہ کور فوجی کارروائیوں کے دوران زمینی دستوں کو بروقت فضائی مدد فراہم کر کے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل سکتی ہے۔
جنگی ہیلی کاپٹرز کے حصول کے متعلق ابرار اسلم اور ڈان نیوز کی دو رپورٹس قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں جو امید ہے اس حوالے سے معلومات افزا ثابت ہوں گی۔
(ادارہ الشریعہ)
جنگی ہیلی کاپٹرز کے حصول کا سفر
پاکستان کئی سالوں سے یہ ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ پاکستان کے پاس جدید جنگی ہیلی کاپٹرز ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے پاکستان نے سب سے پہلے امریکہ سے رابطہ کیا اور پاکستان نے کوشش کی کہ امریکہ سے جو اُن کے AH-1Z Viper جدید جنگی ہیلی کاپٹرز ہیں ان کو حاصل کیا جا سکے۔ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ بھی طے پا گیا اور یہ ہیلی کاپٹرز بن کر تیار بھی ہو گئے۔ امریکہ نے 2015ء میں ہیلی کاپٹرز پاکستان کو فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی لیکن 2018ء میں امریکہ اس بات سے پھر گیا اور پاکستان کو یہ ہیلی کاپٹرز دینے سے دستبردار ہو گیا۔
امریکہ کے بعد پاکستان نے ترکیہ کا رخ کیا اور پاکستان نے یہ کوشش کی کہ جو ترکی کے T129 ATAK ہیلی کاپٹرز ہیں ان کو حاصل کر سکے، لیکن ان ہیلی کاپٹرز کے جو انجن ہیں وہ امریکہ بناتا ہے، امریکہ نے ان انجنز کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی۔ لہٰذا پاکستان کے لیے وہ راستہ بھی بند ہو گیا اور پاکستان ترکی کے جو T129 ہیلی کاپٹرز ہیں، ان کو بھی حاصل کرنے میں ناکام ہوا۔
اس کے بعد پاکستان نے چائنہ کا رخ کیا اور پاکستان نے چائنہ سے Z-10ME جو جدید جنگی ہیلی کاپٹرز ہیں ان کو اب حاصل کیا۔ اور اب یہ 30 ہیلی کاپٹرز پاکستان کو ملے ہیں اور پاکستان کے ایئرفورس میں باقاعدہ سے ان کو انڈکٹ کر لیا گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ پاکستان نے کوئی کمپرومائز کیا اور پاکستان نے امریکن اور ترکی ہیلی کاپٹرز کے مقابلے میں کوئی ایسا ورژن ہیلی کاپٹر کا حاصل کیا ہے جو ان کے مقابلے میں کم پرفارمنس کا ہے۔
پاکستان نے 2015ء میں تین ہیلی کاپٹرز چائنہ کی طرف سے وصول کیے تھے آزمائشی بنیادوں کے اوپر، ٹرائلز کی بیسز کے اوپر۔ پاکستان نے ان کے ٹرائلز کیے اور پاکستان نے ان کو پھر ریجیکٹ کر دیا۔ چائنہ نے پاکستان کے اس فیڈ بیک کو بہت سیریس لیا اور ہیلی کاپٹر کے اندر پھر پاکستان کی فیڈ بیک کے مطابق بہت ساری موڈیفیکیشنز (تبدیلیاں) کیں اور اسے ایک جدید شکل دی۔ اب یہ جو ہیلی کاپٹر پاکستان کے پاس آیا ہے یہ ایک موڈیفائڈ ہے، کسٹمائزڈ ہے، اور یہ پاکستان کی ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اس میں بہت ساری موڈیفیکیشنز کی گئی ہیں۔ جیسا کہ
- اس میں پہلے کے مقابلے میں ایک زیادہ طاقتور انجن کا استعمال کیا گیا ہے، اس لیے پاکستان کے میدانی علاقوں سے لے کر پاکستان کے جو سرد پہاڑی علاقے ہیں وہاں پر ایکولی گڈ یہ پرفارم کر سکتا ہے۔
- اس کے اندر جو اس کا ہیٹ سگنیچر ہے اس کو کم کرنے کے لیے اس کے اندر موڈیفیکیشن کی گئی ہے (تاکہ آسانی سے سینسرز اور میزائلوں کی زد میں نہ آ سکے)۔
- اس کا جو آرمر (حفاظتی حصار) ہے اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔
- اور پھر اگر یہ ہیلی کاپٹر لاک ہوتا ہے (نشانے کی زد میں آجاتا ہے) تو اس سے بچنے کے لیے اس کے پاس جو کاؤنٹر میئرز ہیں وہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ امپروو کیے گئے ہیں۔
- اور اس کے علاوہ پاکستان کے پاس الریڈی جو ویپنز کا سٹاک پائل (پہلے سے موجود ہتھیاروں کا ذخیرہ) ہے وہ اس کے اندر انٹیگریٹ کیا جا سکتا ہے، ان ہیلی کاپٹرز کے اندر لگایا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ ایک ایسا ہیلی کاپٹر اب پاکستان کی ضرورتوں کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے جو پاکستان کے کسی بھی ایڈورسری (دشمن) کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
نئے ہیلی کاپٹر کی پاکستان آرمی میں شمولیت
پاک فوج نے ’’میدانِ جنگ کے مربوط ردِعمل‘‘ کو مضبوط بنانے کے لیے Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹرز کو اپنے نظام میں شامل کر لیا ہے، یہ بات انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کو بتائی۔
روئٹرز کے مطابق چائنہ کی ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن نے فروری 2024ء میں سنگاپور ایئرشو میں پہلی بار اپنے Z-10 اٹیک ہیلی کاپٹر کی نمائش اپنے ملک سے باہر کی تھی۔ روئٹرز نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اس وقت تک اس ماڈل کا واحد معلوم بیرونی گاہک پاکستان تھا، لیکن ایئرشو میں کوئی فروخت کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شمولیت کی تقریب کی صدارت کی اور بعد میں مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں ’’نئے شامل کیے گئے Z-10ME ہیلی کاپٹرز‘‘ کی فائر پاور کا مظاہرہ دیکھا۔ آئی ایس پی آر نے حاصل کیے گئے ہیلی کاپٹرز کی تعداد نہیں بتائی۔
فوج کے میڈیا امور کے شعبے نے کہا کہ
’’اس طاقتور نظام کی شمولیت آرمی ایوی ایشن کی جدیدکاری میں ایک بڑا اقدام ہے جو اس کے مربوط میدانِ جنگ کے ردعمل اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔‘‘
2021ء میں ڈیفنس نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ چین نے اپنے تین Z-10 ہیلی کاپٹر گن شپ پاکستان میں تجربے کے لیے بھیجے تھے لیکن وہ حکام کو متاثر کرنے میں ناکام رہے اور واپس کر دیے گئے۔ تاہم اسلام آباد میں سابق آسٹریلوی دفاعی اتاشی برائن کلوگلی نے کہا تھا کہ
’’امکان ہے کہ پاک فوج چینی Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹر کا جائزہ لے گی۔‘‘
آئی ایس پی آر نے مزید کہا:
’’یہ جدید اور ہر موسم میں کام کرنے والا ہیلی کاپٹر دن اور رات میں بھی درستگی کے ساتھ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘
’’راڈار کے جدید نظام اور جدید ترین الیکٹرانک جنگی نظام سے لیس Z-10ME فوج کی مختلف فضائی اور زمینی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔‘‘
مظفرگڑھ فائرنگ رینجز میں فوجیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر نے ان کے غیر معمولی حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت، اور جنگی صلاحیت کی تعریف کی۔ انہوں نے ہتھیاروں کی مربوط تکنیکوں کو سراہا، جو جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت میں فوج کی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خصوصاً ’’ہمہ نوع خطرات‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور فوج اور عوام کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملتان چھاؤنی کے دورے کے بعد ایک براہ راست نشست میں ماہرینِ تعلیم اور سماجی ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تبصرے کیے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ
’’انہوں نے مربوط خطرات کا مقابلہ کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے قومی اتحاد، فوج و عوام کی ہم آہنگی، اور اجتماعی قومی سوچ کی اہمیت پر زور دیا۔‘‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چھاؤنی میں چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر کو فارمیشن (فوج کے مختلف حصوں کے مشترکہ گروپ) کی عملی تیاریوں اور رواں تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فوج کے غیر متزلزل عزم‘‘ کی توثیق کی۔ آرمی چیف نے تیاریوں کے اعلیٰ معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
Khatm-e-Nubuwwat Conferences: A Referendum of Our Stance
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
"Assalamu Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatuh. (Peace, mercy, and blessings of God be upon you.)
Following the praise of God and salutations (to the Prophet). A magnificent Khatm-e-Nubuwwat (Finality of Prophethood) Conference is being held under the auspices of the Aalmi Majlis Tahaffuz-e-Khatm-e-Nubuwwat (International Council for the Protection of the Finality of Prophethood) the day after tomorrow, Sunday, September 28th, at the Mini Stadium, Sheikhupura Mor, Gujranwala. Senior scholars (Akabir Ulema-e-Kiram) will attend and leaders from various schools of thought and political parties will address the gathering. The religious circles in Gujranwala are busy with preparations for this conference, which is highly commendable.
This issue of the Finality of Prophethood is a matter of our faith, a matter of the unity of our Ummah (global Muslim community), and it is also the greatest issue for the expression of religious sentiments, upon which the Ummah has always remained united. Whenever any problem arises concerning it, all schools of thought unite, becoming one body, to face the situation. They stand guard over the laws of Khatm-e-Nubuwwat, and the cases, laws, and all requirements related to the protection of the Finality of Prophethood. May Allah, the Exalted, accept everyone's efforts.
I often say that other issues remain ongoing, but the issue of the Finality of Prophethood and the protection of the honor (namoos) of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) — the issue of Namoos-e-Risalat (Honor of Prophethood) — is an expression of our faith-based zeal (Emani Hamiyyat) and an expression of our state that Muslims are alert and aware of every conspiracy. Many conspiracies are being hatched on these fronts, and international lobbies, secular lobbies, and other lobbies are attempting to influence and change laws and related circumstances.
Therefore, it is our religious, national, and communal duty to strive to make such gatherings as successful as possible. Attend not with the intention of merely listening to a sermon, but with the intention of expressing a referendum—that the Pakistani nation, today as in 1953, 1974, and 1984, is united for the Protection of the Finality of Prophethood and the Protection of the Honor of Prophethood (PBUH), and is ready to confront any conspiracy.
I request all friends in Gujranwala and the Gujranwala Division to participate in the conference as much as possible, mobilize people, and definitely do whatever is within their capacity to ensure the conference's success. May Allah grant us all the ability to do so.
"Allahumma Salli Ala Sayyidina Muhammadin Nabiyyil Ummi Wa Aalih Wa Ashaabih Wa Barik Wa Sallam." (O Allah, send blessings upon our Master Muhammad, the unlettered Prophet, and upon his family and companions, and grant them peace and blessings.)
’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
اسلام کا خاندانی نظام اور عصر حاضر (2)
خطبہ نمبر 3: مؤرخہ 19 اکتوبر 2016ء
حضرات علمائے کرام! محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
گزشتہ نشست میں اس موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ تین مرحلوں میں بات ہوگی:
- پہلے مرحلے میں یہ کہ نبی اکرم ﷺ نے جاہلیت کے خاندانی نظام میں کیا کیا تبدیلیاں کیں تھیں۔ فیملی سسٹم (خاندان) تو زمانہ جاہلیت میں بھی تھا، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے اور ہر ملک میں ہے، ہر قوم میں ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے جاہلیت کے نظام میں کیا تبدیلیاں کی تھیں۔
- پھر دوسرے مرحلے میں یہ عرض کروں گا کہ آج کا عالمی نظام ہم سے ہمارے ’’خاندانی نظام‘‘ کے بارے میں کن تبدیلیوں کا تقاضا کر رہا ہے۔
- تیسرے مرحلے میں اس پر گفتگو ہوگی (ان شاء اللہ العزیز) کہ ہمارا مؤقف کیا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔
جاہلیت کے نظام میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے جو تبدیلیاں کیں ان میں سے دو تین کا ذکر میں نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ جاہلیت کے زمانے میں نکاح کی اور مرد و عورت کے جنسی تعلق کی کتنی صورتیں تھیں۔ نکاح کے نام پر یا کسی بھی عنوان سے، نبی اکرم ﷺ نے ان دو صورتوں کے سوا باقی سب کی ممانعت فرمائی۔ پانچ، چھ صورتیں میں نے عرض کی تھیں۔ یہ زنا کی مختلف صورتیں تھیں، جن پر رواج کا ٹائٹل چڑھایا ہوا تھا۔ جتنی بھی نکاح کی صورتیں جاہلیت کے زمانے میں مروّج تھیں، جن کو زمانہ با امرِ مجبوری قبول کر رہا تھا، یا جن کا معاشرے میں وجود تھا، نبی اکرم ﷺ نے ان سب کی نفی فرما دی۔ صرف دو صورتیں باقی رکھیں:
الا علیٰ ازواجھم او ما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین (سورۃ المؤمنون: 23، آیت: 6)
(سوائے اپنی بیویوں کے اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔)
اس کے بعد فرمایا:
فمن ابتغیٰ ورآء ذٰلک فاولئک ھم العٰدون (سورۃ المؤمنون: 23، آیت: 7)
(ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔)
اس کے سوا جتنی صورتیں بھی جنسی تعلق کی یا شہوت پوری کرنے کی ہیں سب حرام ہیں۔ یہ دو: ’’الا علیٰ ازواجھم او ماملکت ایمانھم‘‘ یہ تو نکاح کی صورت ہے۔ ابھی میں بات کر رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے جاہلیت کے نکاح کے طریقوں میں سے سارے رائج طریقے ختم کر دیے۔ صرف دو باقی رہنے دیے تھے جن کو جائز تسلیم کیا گیا، جن کو حضور ﷺ نے قبول کیا۔
تیسری تبدیلی یہ تھی کہ جاہلیت کے زمانے میں زنا کی بنیاد پر بھی نسب تسلیم ہوتا تھا۔ اگر مرد عورت اقرار کرتے تھے کہ ہمارا تعلق ہے تو بچے کا نسب ثابت ہو جاتا تھا۔ میں نے گزارش کی کہ جاہلیت کے زمانے میں نسب کے ثبوت کے بہت سے طریقے تھے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے سب کی نفی فرما دی۔ فرمایا:
الولد للفراش، وللعاہر الحجر (صحیح بخاری، باب تفسیر المشبھات، حدیث نمبر: 2053)
(بچہ بیوی والے کے لیے ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے۔)
زانی کے لیے بچے کا نسب تسلیم نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کو سنگسار کیا جائے گا۔
پانچویں اصلاح، جاہلیت کی رسم تبنّی اور تاَخی کی نفی
نسب کی بات ہوئی ہے تو جاہلیت کے زمانے میں ’’تبنّی، ’’تأخی‘‘ یہ جائز ذرائع تھے بیٹا بنانے کے، بھائی بنانے کے۔ کسی نے کسی کو بیٹا کہہ دیا وہ بیٹا ہو گیا۔ بھائی کہہ دیا وہ بھائی ہو گیا۔ یہ منہ بولا بیٹا، منہ بولا بھائی۔ ’’ظہار‘‘ بھی اسی قسم کی چیز ہے کہ بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دی تو وہ حرام ہو گئی ہے۔ وہ اپنے مقام پر الگ مسئلہ عرض کروں گا۔ تبنی اور تأخی یعنی کسی کو بھائی بنا لیا، کسی کو بیٹا بنا لیا، کسی کو باپ بنا لیا، کسی کو بہن بنا لیا۔ یہ جاہلیت کے زمانے میں چلتا تھا۔ اسلام نے نفی فرما دی اور نفی بھی کہاں سے کی؟ خود جناب خاتم النبیین ﷺ کی ذات گرامی سے۔ رسول اللہ ﷺ نے پرانے رواج کے مطابق اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بیٹا بنا لیا تھا۔ خود حضور ﷺ ابوزید کہلاتے تھے۔ زید ابن حارثہ، زید ابن محمد کہلاتے تھے۔
قرآن پاک میں صرف حضرت زید رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور کسی صحابی کا نام نہیں ہے لیکن رب العزت نے ایسے مقام پر جا کے نفی کی کہ پھر کوئی گنجائش نہیں رہ گئی۔ خاتم النبیین ﷺ نے تو بیٹا بنا لیا تھا، زید بیٹا بن گئے تھے، کنیت تبدیل ہو گئی تھی، سب کچھ ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں:
ادعوہم لاٰبآئہم ھو اقسط عند اللہ (سورۃ الاحزاب: 33، آیت: 5)
((تم ان منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔)
بیٹا اپنے باپ کا ہی ہوتا ہے، منہ کے کہنے سے نہ کوئی بیٹا بنتا ہے نہ کوئی بھائی بنتا ہے۔ آج کل یہ ہمارے ہاں عام طور پر چلتا ہے، دو جگہوں پر ہم عموماً مغالطہ کھاتے ہیں:
یہ لاولد (بے اولاد) جوڑے جو ہیں کسی بچے کو لے کر بیٹا بیٹی بنا لیتے ہیں اور اپنا نسب لکھوا دیتے ہیں، جو شرعاً درست نہیں ہے۔ بچہ لے کے پال لیا، بچہ پالنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نسب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ حضور ﷺ کو اجازت نہیں ملی۔ زید بن محمد رضی اللہ عنہ نہیں بن سکے تو اور کوئی بھلا کیا بنے گا؟ ایک یہاں ہم گڑبڑ کرتے ہیں کہ بچہ لے کر پالا تو اپنا بیٹا لکھوا لیا۔
ایک گڑبڑ اور جگہ کرتے ہیں کہ عمرے پر یا حج پر جانے کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تو محرم اگر نہیں ہوتا تو وہ کسی اور کو محرم بنا لیتی ہیں۔ میرے پاس کئی کیس آئے ہیں کہ جی میں نے بھائی بنا لیا ہے، آپ تصدیق کر دیں۔ مولوی صاحب! خدا کی قسم میں نے بھائی بنا لیا ہے۔ میں نے کہا بہن، بھائی بنانے سے نہیں بنتے، یہ بنے بنائے آتے ہیں۔ تبنی، تأخی، میں آج کل یہ دو باتیں زیادہ چلتی ہیں۔
دورِ جاہلیت میں یہ بیٹا بنانا، بھائی بنانا چلتا تھا، وارث بھی ہوتے تھے۔ خاتم النبیین ﷺ نے بیٹا بنایا تھا، اللہ نے قبول نہیں کیا۔ ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار میں خاتم النبیین ﷺ نے مواخات کرائی تھی۔ بھائی بھائی بن گئے تھے، کچھ عرصہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے تھے لیکن یہ پرانے رواج تھے۔ اسلام نے وراثت کے احکام بتا کر ان سب کی نفی کر دی۔ ایک تبدیلی یہ کی کہ منہ بولا بیٹا، منہ بولا باپ، منہ بولا بھائی یا معاہدے کے تحت بھائی۔ اسلام نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ ایک تبدیلی کا ذکر ہے۔
چھٹی اصلاح، رضاعت کو سببِ حرمت قرار دیا
ایک تبدیلی یہ کی کہ رضاعت کو حرمت کے اسباب میں شمار کیا۔ رضاعت پہلے بھی ہوتی تھی لیکن قبائل کے الگ الگ ضابطے تھے، رضاعت کو قرآن پاک نے حرمت کے مستقل اسباب میں شمار کیا:
امہٰتکم الٰتی ارضعنکم واخوٰتکم من الرضاعۃ (سورۃ النساء: 4، آیت: 23)
(اور تمھاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے، اور تمھاری دودھ شریک بہنیں)
دودھ پینے کی مدت میں بچے نے کسی عورت کا دودھ پی لیا ہے تو وہ ماں بیٹا بن گئے ہیں۔
یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب (صحیح مسلم، باب تحریم ابنۃ الاخ من الرضاعۃ، حدیث نمبر: 3657)
(جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے وہ رضاعت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔)
اس کی بڑی تفصیلات ہیں لیکن میں نے اُصولی بات عرض کی ہے کہ رضاعت کو حرمت کے اسباب میں، محرم غیر محرم کے اسباب میں ایک مستقل سبب قرار دیا اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے خود بھی اس کی پابندی کی اور دوسروں سے بھی پابندی کروائی۔
آپ ﷺ کا دو موقعوں پر حرمتِ رضاعت پر عمل
بخاری شریف کی روایت ہے خاتم النبیین ﷺ کو پیشکش کی گئی کہ حضرت حمزہ سید الشہداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی مکے سے آگئی تھی، جوان تھیں، کسی نے خاتم النبیین ﷺ کو پیشکش کی یارسول اللہ! یہ آپ کی چچا زاد ہے، حضرت حمزہؓ کی بیٹی ہے، جوان لڑکی ہے، اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپؐ اس سے شادی کر لیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں بھائی وہ تو میرے لیے جائز نہیں ہے۔ کیوں؟ حمزہؓ اور میں چچا بھتیجا بھی ہیں، ٹھیک ہے مگر حمزہؓ اور میں رضاعی بھائی بھی ہیں۔ ہم دونوں نے ثوبیہؓ کا دودھ پیا تھا تو اس رشتے سے یہ میری بھتیجی لگتی ہے، یہ میں نہیں کر سکتا، کرنا چاہوں بھی تو بھی نہیں کر سکتا۔ (صحیح بخاری، باب الشھادۃ علی الانساب والرضاع، حدیث نمبر: 2645)
یہی پیشکش حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، نکاح میں ساتھ آئی تھیں۔ وہ بھی، ان کے بیٹے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی، دونوں بہن بھائی ساتھ آئے تھے۔ تو کسی نے پوچھ لیا خاتم النبیین ﷺ سے۔ زینبؓ حضور ﷺ کے گھر میں ربیبہ کے طور پر پلی ہے، بیٹی کے طور پر۔ بیوی کی بیٹی، بیٹی ہوتی ہے۔ تو کسی نے پوچھ لیا کہ کیا آپؐ زینبؓ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا نہیں بھائی زینبؓ تو دو وجہ سے مجھ پر حرام ہے۔ ایک اس حوالے سے کہ وہ میری ربیبہ ہے۔
و ربآئبکم الٰتی فی حجورکم من نسآئکم الٰتی دخلتم بہن (سورۃ النساء: 4، آیت: 23)
(اور تمھاری زیر پرورش تمھاری سوتیلی بیٹیاں جو تمھاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔)
وہ میری ربیبہ ہے۔ میری بیوی کی بیٹی ہے تو میری بھی بیٹی ہے۔ اور دوسرا اس کے باپ ابوسلمہ نے اور میں نے ثویبہ کا دودھ پیا ہوا ہے، ہم دونوں رضاعی بھائی بھی ہیں۔ یہ میری بھتیجی لگتی ہے، میری ربیبہ بھی ہے۔
[فقال: لو انہا لم تکن ربیبتی فی حجری ما حلت لی، انہا لابنۃ اخی من الرضاعۃ، صحیح بخاری، باب ویحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب، حدیث نمبر: 5101]
ان دو وجہ سے مجھ پر حرام ہے۔ تو میں نے عرض یہ کیا کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے رضاعت کو حرمت کے اسباب میں مستقل سبب قرار دیا ہے۔ خود بھی اس پر پابندی کی اور دوسروں کو اس کا بھی حکم دیا۔
آج کل رضاعت کے بارے میں بے احتیاطی
یہاں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل ہمارے ہاں اس مسئلے پر بھی بہت بے پرواہی برتی جاتی ہے۔ مسئلے کا علم نہیں ہوتا، نہ ہی ہم بیان کرتے ہیں۔ ہم زیادہ تر یہ مسائل عام لوگوں میں نہیں بیان کیا کرتے۔ تو لوگوں میں گھروں میں مائیں ایک دوسرے کے بچوں کو دودھ پلا دیتی ہیں اور وہ دودھ پی کر رشتہ تو قائم ہو جاتا ہے۔ لیکن حرمت، محرم غیر محرم، نکاح غیر نکاح وغیرہ اس طرح کے بعد میں بڑے لمبے مسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہمارے ہاں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب پردے کے احکام آئے، تو ان کے رضاعی چچا تھے افلح رضی اللہ عنہا، یعنی جس عورت کا دودھ پیا تھا اس کے دیور تھے۔ جس عورت کا دودھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیا ہوا تھا تو وہ ان کی ماں لگی، خاوند باپ لگا، اور خاوند کا بھائی کیا لگا؟ چچا لگا۔ تو اس رشتے سے وہ رضاعی چچا بنتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب پردے کے احکام آگئے کہ کوئی اجازت کے بغیر اندر نہیں آئے گا، تو ایک مرتبہ افلحؓ آئے تو میں نے باہر سے واپس کر دیا، آپ جائیں، اب پردہ ہے۔ اور خاتم النبیین ﷺ کو خبر دی، یارسول اللہ! افلحؓ آئے تھے میں نے انہیں واپس کر دیا۔ فرمایا: واپس کیوں کر دیا؟ یارسول اللہ! پردہ کا حکم تھا۔ فرمایا: تمھارا چچا ہے۔ یارسول اللہ! وہ کیسے چچا بن گیا؟ فرمایا: تمہارا رضاعی باپ اُن کا بھائی نہیں ہے؟ چچا ہے نا تمھارا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر تعجب کیا اور کہا یا رسول اللہ! دودھ تو میں نے عورت کا پیا ہے، یہ تیسری جگہ کا چچا کیسے بن گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا، چچا ہے، وہ تمھارے پاس آسکتا ہے، اس کا تم سے پردہ نہیں ہے۔ تمھارے پاس آ سکتا ہے اس لیے کہ تمہارا چچا لگتا ہے۔ (صحیح بخاری، باب قولہ ان تبدوا شیئاً او تخفوہ، حدیث نمبر: 4796)
یہ دو تین باتیں اس لیے عرض کی ہیں کہ رضاعت کو جناب خاتم النبیین ﷺ نے حرمت کے مستقل اسباب میں شمار کیا ہے۔ اور اسلام کے خاندانی نظام میں آج بھی یہ شرعاً تو موجود ہے جب کہ عملاً ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تبدیلی جناب خاتم النبیین ﷺ نے خاندانی نظام میں کی اور رضاعت کو باہمی حرمت کے اسباب میں شامل کیا۔
ساتویں اصلاح، محرّمات کا تعین
ایک اور تبدیلی کی جو بڑی بنیادی تبدیلی ہے کہ رشتوں کی حدود متعین کیں۔ کس سے نکاح جائز ہے کس سے نہیں۔ پوری فہرست دے دی:
حرمت علیکم امہٰتکم وبنٰتکم واخوٰتکم وعمٰتکم وخٰلٰتکم (سورۃ النساء: 4، آیت: 23)
(تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمھاری مائیں، تمھاری بیٹیاں، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں۔)
یہ پوری فہرست ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اس سے بھی نکاح حرام ہے، اس سے بھی حرام ہے۔ مائیں، بیٹیاں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، یہ سارے رشتے گن کر فہرست دے دی کہ ان کا آپس میں نکاح کرنا جائز نہیں۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن اصولاً عرض کیا ہے کہ محرمات کی تفصیل بتا دی ہے کہ یہ رشتے آپس میں جائز ہیں اور یہ رشتے اسلام میں جائز نہیں ہیں۔
حتیٰ کہ جاہلیت کے زمانے میں یہ بھی ہوتا تھا (اس کا بھی قرآن پاک میں ذکر ہے) کوئی حد بندی نہیں تھی، جہاں موڈ (جی چاہا) ہوا نکاح کر لیا۔ حتیٰ کہ باپ کی منکوحہ، مطلقہ یا بیوہ سے بھی نکاح کر لیتے تھے۔ باپ کی منکوحہ وراثت میں بھی آجاتی تھی۔ باپ کی منکوحہ بیٹے کے نکاح میں بھی آجاتی تھی۔ قرآن پاک نے حکم دیا:
ولا تنکحوا ما نکح اٰبآؤکم من النسآء الا ما قد سلف (سورۃ النساء: 4، آیت: 24)
(اور جن عورتوں سے تمھارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کر چکے ہوں تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ، البتہ پہلے جو کچھ ہو چکا وہ ہو چکا۔)
باپ کی منکوحہ کیا ہے؟ باپ کی منکوحہ ماں ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی ہے تو ماں ہی ہے۔ یہ حرمت کے رشتے طے کیے کہ آپس میں یہ رشتے حلال ہیں۔ دو مسئلے قرآن پاک نے اتنی وضاحت سے بیان کیے ہیں کہ کوئی گنجائش چھوڑی نہیں ہے۔ ایک محرمات کا مسئلہ، اس کی پوری فہرست دی ہے۔ یہ حرام ہے، یہ حرام ہے، یہ حرام ہے۔ اور دوسرا وراثت کے حصے۔ اس کا تیسرا حصہ ہے، اس کا چوتھا حصہ ہے۔ حالانکہ یہ قرآن پاک کا عام اسلوب نہیں ہے۔ قرآن پاک کا عام اسلوب یہ کہ قرآن پاک زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے لیکن اس کا نصاب بیان نہیں کرتا، قرآن پاک نماز کی رکعتیں بیان نہیں کرتا، لیکن یہاں محرمات کی پوری فہرست دی ہے۔ اور وراثت کے پورے حصے جیسے کہ پہاڑے پڑھ کر بیان کیے ہیں۔ اس کا چوتھا حصہ ہے، اس کا چھٹا ہے، اس کا آٹھواں ہے، اس کا آدھا ہے، اس کا ثلث ہے۔ پوری تفصیل کے ساتھ یہ دو مسئلے قرآن پاک نے کسی ابہام کے بغیر بیان کیے ہیں کہ کن کن محرمات سے نکاح حرام ہیں۔ اور دوسرا مسئلہ وراثت کے احکام ہیں۔
میں نے کہا، ایک تبدیلی قرآن پاک نے نکاح کے مسائل میں یہ کی کہ حلال حرام کی فہرست متعین کر دی، کس عورت سے نکاح جائز ہے کس عورت سے ناجائز ہے، کون محرمات میں سے ہے۔
واحل لکم ما ورآء ذٰلکم (سورۃ النساء: 4، آیت: 23)
(اور اس کے علاوہ تمھارے لیے حلال کر دیے گئے۔)
اور کن سے نکاح کرنا جائز ہے، محرمات کی پوری فہرست دے کر بتا دیا ہے کہ ان کی پابندی لازماً کرنی ہو گی۔
حرمت علیکم امہٰتکم وبنٰتکم واخوٰتکم وعمٰتکم وخٰلٰتکم و بنٰت الاخ و بنٰت الاُخت وامہٰتکم الٰتی ارضعنکم واخوٰتکم من الرضاعۃ و امہٰت نسآئکم و ربآئبکم الٰتی فی حجورکم من نسآئکم الٰتی دخلتم بہن فان لم تکونوا دخلتم بہن فلا جناح علیکم و حلآئل ابنآئکم الذین من اصلابکم و ان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ان اللہ کان غفورا رحیما (سورۃ النساء: 4، آیت: 23)
(تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمھاری مائیں، تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے، اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں، اور تمھاری زیر پرورش تمھاری سوتیلی بیٹیاں جو تمھاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انھیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہو گیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا، بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا ہے۔)
یہ پوری فہرست دے کر ’’واحل لکم ما ورآء ذٰلکم‘‘ اس فہرست سے باہر سب جائز ہے۔ لیکن ’’محصنین غیر مسٰفحین ولا متخذی اخدان‘‘ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 5) میں نے عرض کیا کہ ایک تبدیلی یہ کی کہ محرمات کی فہرست، حلال اور حرام رشتے متعین کر دیے کہ یہ رشتہ حلال ہے اور یہ حرام۔
آٹھویں اصلاح، کافر اور مسلمان کے درمیان نکاح کی نفی
ایک تبدیلی اور کی جو بنیادی تبدیلی ہے اور آج تک جھگڑے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس وقت بھی عالمی سطح پر سب سے بڑا جھگڑا خاندانی نظام میں اس تبدیلی پر ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم کا باہمی نکاح، جاہلیت کے زمانے میں یہ موجود تھا۔ ایسی خواتین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھر تھیں (تب یہ تعلق ناجائز نہیں تھا)۔ خود خاتم النبیین ﷺ کی بیٹی جناب ابو العاصؓ کے نکاح میں تھیں، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے۔ حضور ﷺ کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضرت ابو العاص ابن ربیعؓ کے نکاح میں تھیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، آپس میں خالہ زاد تھے، نکاح ہوا تھا۔ یہ بہت دیر سے مسلمان ہوئے ہیں۔ آپ غزوۂ بدر کے قیدیوں میں تھے، ان کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔
غزوۂ بدر میں حضرت زینبؓ حضور ﷺ کے گھر میں ہیں اور خاوند کافر قیدیوں میں ہے۔ نکاح باقی ہے، نکاح قائم ہے۔ تو فدیہ کا فیصلہ ہوا۔ حضرت ابوالعاصؓ کے پاس کچھ دینے کو تھا نہیں۔ اُنھوں نے سوچا میں فدیے میں کیا دوں گا؟ تو اہلیہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی وہیں مدینہ منورہ میں ہیں، ان کو پتہ چلا کہ میرا خاوند قیدی ہے، فدیے کا فیصلہ ہوا ہے، فدیے کے پیسے نہیں ہیں۔ تو اپنا ہار گلے سے اُتارا اور کسی ذریعے سے بھجوایا کہ وہ اس ہار کے ذریعے اپنا فدیہ ادا کر کے رہا ہو جائیں۔ تو حضرت ابوالعاصؓ نے دیکھ لیا کہ میری بیوی کا ہار ہے، بیوی نے بھیجا ہے۔ جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اسے دیکھ کر حضور ﷺ کی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ ہار اصل میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، انھوں نے شادی کے موقع پر بیٹی کو ہدیہ کیا تھا۔ حضور ﷺ کو وہ پرانا دور یاد آ گیا یہ تو خدیجہ کا ہار ہے بیٹی کے پاس تھا بیٹی نے خاوند کو بھیجا ہے اس کو آزاد ہونے کے لیے۔ تو حضور ﷺ نے سفارش کی۔ عام طور پر اس قسم کی سفارشیں حضور ﷺ نہیں کیا کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا، یہ خدیجہؓ کا ہار ہے، بیٹی کے پاس ماں کی نشانی ہے، اگر تم اجازت دو تو یہ بیٹی زینبؓ کو واپس کر دوں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ جیسے آپ چاہیں۔
[’’ان رایتم ان تطلقوا لہا اسیرہا، وتردوا علیہا الذی لہا‘‘ سنن ابی داؤد، باب فی فداء الاثیر بالمال، حدیث نمبر 2692]
یہ میں بتا رہا ہوں کہ جاہلیت میں کافر و مسلم کا نکاح ہوتا تھا۔ بلکہ ایک اور واقعہ بھی بخاری شریف میں ہی ہے۔
[قال: حدثنی فصدقنی، ووعدنی فوفی لی‘‘ صحیح بخاری، باب ذکر اصہار النبیؓ، حدیث نمبر: 3729]
حضور ﷺ حضرت ابوالعاصؓ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے کہ بڑا وفادار نوجوان ہے، ابھی اسلام نہیں لایا تھا، اس نے پھر بھی وفاداری نبھائی۔ ایک دفعہ حضرت ابوالعاصؓ کسی معرکے میں قیدی ہو کر مدینہ منورہ آگئے۔ خاتم النبیین ﷺ کا ضابطہ یہ تھا کہ فیصلہ ہونے تک قیدی کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا جاتا تھا۔ انھیں ستون سے باندھ دیا کہ صبح فیصلہ کریں گے۔ بیوی کو پتہ چل گیا کہ میرا خاوند قید ہو کر آیا ہے اور وہ ستون سے بندھا ہوا ہے، صبح اس کے مقدر کا فیصلہ ہونا ہے، فیصلہ قتل بھی ہو سکتا تھا، رہائی بھی ہو سکتی تھی، جرمانہ بھی ہو سکتا تھا، فیصلہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ صبح نماز کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا گھر سے آئیں، دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوئیں، اور اعلان کیا کہ لوگو! میں زینب بنت رسول اللہ ہوں، میں نے ابوالعاص کو پناہ دے دی ہے۔ قیدی کون ہے؟ اُن کا خاوند ہے۔ حضور ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمايا: ’’یجیر علی المسلمین ادناہم‘‘ (ایک عام مسلمان بھی کسی کو پناہ دینے کا حق رکھتا ہے۔)
[عن ام سلمۃ، زوج النبیؓ: ان زینب بنت رسول اللہ تارسل الیہا ابو العاص بن الربیع ان خذی لی امانا من ابیک، فخرجت فاطلعت راسہا من باب حجرتہا والنبی ﷺ فی الصبح یصلی بالناس، فقالت: ایہا الناس، انی زینب بنت رسول اللہ، وانی قد اجرت ابا العاص، فلما فرغ النبی ﷺ من الصلاۃ قال: ’’ایہا الناس، انہ لا علم لی بہٰذا حتی سمعتموہ، الا وانہ یجیر علی المسلمین ادناہم۔‘‘ مستدرک حاکم: ذکر بنات رسول اللہ ﷺ، حدیث نمبر: 6843]
ضابطہ اور قانون یہ تھا کہ کسی قیدی کو، کسی کافر دشمن کو عام آدمی بھی اگر پناہ دے دے تو وہ پناہ مؤثر ہو جاتی تھی۔ ان کو مسئلے کا پتہ تھا کہ اگر میں پناہ دوں گی تو میرا خاوند بچ جائے گا ورنہ پتہ نہیں کیا فیصلہ ہوگا اس کے بارے میں، آخر وہ میرا خاوند ہے۔
یہ بات ہوتی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں کافی عرصہ تک بلکہ ابتدائے اسلام میں بھی کافی عرصہ تک مسلمان اور کافر کا نکاح رہا ہے اور بھی بہت سی مثالیں ہیں میں نے ایک مثال دی ہے۔ لیکن ایک وقت آیا جب حکم ہو گیا:
ولا تنکحوا المشرکٰت حتٰی یؤمن … ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 221)
(اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں)
کسی مشرک کافر عورت سے تم نکاح نہیں کرو گے اور کسی کافر مرد کے نکاح میں مسلمان عورت نہیں دو گے کہ ایمان لائیں گے تو پھر گنجائش کی کوئی صورت صحیح ہوگی، ورنہ ایمان لائے بغیر مسلمان اور کافر کا نکاح آپس میں درست نہیں۔ مسلمان اور کافر کا نکاح آپس میں کیوں درست نہیں ہے؟ ( تفصیل اپنے مقام پر آئے گی)
آج دُنیائے کفر کے ساتھ ہمارا ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ بہت سے ملکوں میں مسلمان اور غیر مسلم آپس میں نکاح کرتے ہیں، اور عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ ٹھیک ہے بھائی تمھیں کیا اعتراض ہے؟ کیوں کہ نکاح کی تعریف اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق یہ کی گئی ہے کہ کوئی مرد عورت آپس میں رضامندی سے نکاح کر لیں تو مذہب کی کوئی قید نہیں ہے۔ میں آج کی عالمی تبدیلی بتا رہا ہوں۔
کتابیہ عورت کا مسلمان مرد سے نکاح درست ہے
ایک تبدیلی جناب خاتم النبیین ﷺ نے کی، وہ بڑی بنیادی اور اہم تھی کہ اب تک جھگڑا چل رہا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم کے نکاح کا، لیکن اس میں ایک استثناء رکھا کہ اہلِ کتاب کے ساتھ، یک طرفہ، دوطرفہ نہیں، مسلمان مرد کا کتابیہ عورت کے ساتھ نکاح درست ہے۔ اس استثناء کے ساتھ بقیہ تمام مسلمان غیر مسلموں کے باہمی نکاح ختم کر دیے گئے۔ جو خواتین موجود تھیں وہ فارغ کر دی گئیں، ان کو بھجوا دیا گیا، ان کو خرچے دیے گئے، یہ ایک مستقل تفصیل ہے۔ لیکن یہ بنیادی تبدیلی تھی خاندانی نظام میں کہ مسلمان اور غیر مسلم کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ کوئی کتابیہ عورت کسی مسلمان مرد کے نکاح میں ہو، یہ بھی خاندانی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی تھی۔
نویں اصلاح، عورت کو اظہارِ رائے کا حق
یہ تو قانونی اور ضابطے کی تبدیلیاں تھیں کہ اس طرح کا نکاح درست ہے یا نہیں ہے؟ یہ بیوی ہے یا نہیں ہے؟ لیکن ایک معاشرتی تبدیلی بھی کی۔ معاشرتی ماحول کی تبدیلی حضرت عمر رضی اللہ عنہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ ہم جب ہجرت کر کے ’’مدینہ منورہ‘‘ آئے تو ہمارے ہاں قریش کا ماحول یہ تھا کہ عورت کو مرد کی کسی بات کا جواب دینے کا حق نہیں تھا۔ خاوند نے جو بات کہہ دی سو کہہ دی۔ عورت آگے سے ٹوکے، عورت کسی بات سے کہہ دے کہ یوں نہیں یوں ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ خاوند کی بات کے جواب میں یا ٹوکنے کا عورت کا حق نہیں ہوتا تھا۔ یہ قریش میں چلتا تھا۔ انصارِ مدینہ میں آزادی تھی کہ عورتیں جواب دیتی تھیں، بسا اوقات انکار بھی کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم، باب فی الایلاء، واعتزال النساء، حدیث نمبر 31)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں گھر میں تھا، بیوی کو کوئی بات کہی تو اس نے کہا یوں نہیں یوں ہے۔ مجھے غصہ آیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تم کون ہو بولنے والی؟ میں تو پرانے ماحول کے مطابق کہہ رہا تھا کہ تم کون ہو بولنے والی کہ یہ بات یوں نہیں یوں ہے۔ تم نے مجھے ٹوکا ہے۔ میں سخت غصے میں تھا۔ اس نے مجھے آگے سے پھر ٹوکا کہ جناب غصے مت ہوں اپنی بیٹی کو جا کے دیکھیں۔ اپنی بیٹی سے جا کر پوچھیں، یہ تو ہوتا ہے۔ اگر بات غلط ہے تو میں غلط کہوں گی۔ مجھے پسند ہے تو کہوں گی، نہیں پسند تو نہیں کہوں گی۔ مجھے مت ڈانٹیں بیٹی سے جا کے پوچھیں، وہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
بیٹی کون؟ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ حضور ﷺ کے گھر میں ایسا ہوتا ہے؟ کہنے لگی، جا کر پوچھ لو۔ بیوی نے مجھے ٹوک دیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے چادر کندھے پر ڈالی اور سیدھا بیٹی کے گھر میں چلا گیا اور کہا کہ بیٹی! میں یہ کیا سن رہا ہوں، بیوی خاوند کو کسی بات پر جواب دے! تو بیٹی نے کہا کہ یہاں تو ایسے ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا بیٹی کیا کہہ رہی ہو؟ ابا جی یہاں تو ہوتا ہے کہ کوئی بات پسند نہ ہو تب بھی کہہ دیتی ہیں۔ ہم میاں بیوی ہیں تو میاں بیوی کبھی آپس میں ناراض بھی ہو جاتے ہیں اور کبھی جواب بھی دے دیتے ہیں۔ کسی بات پر نہ بھی کر دیتے ہیں اور کبھی ٹوک بھی دیتے ہیں، یہ تو ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بیٹی کو سمجھایا کہ بیٹی آئندہ ایسا نہ کرنا۔
مجھے خیال ہوا کہ ساتھ اس کی پڑوسن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے، حضور ﷺ کی لاڈلی بیوی ہے، شاید یہ اس کی موازنہ کرتی ہو۔ میں نے کہا کہ بیٹی نہ نہ، اپنی پڑوسن کو نہ دیکھنا، وہ ابوبکرؓ کی بیٹی ہیں۔ میں خبردار، خبردار کہتا رہا۔ بیٹی کیا کہتی، وہ خاموش ہو کر بیٹھی رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیٹی کو سمجھا بجھا کے نہیں بلکہ ڈانٹ ڈپٹ کر کے اٹھا۔ اب مجھے پتا چلا کہ گھر کے ماحول میں ایسا ہوتا ہے۔
میں پھر اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا (وہ بڑی سمجھدار خاتون تھیں، حضرت عمرؓ کزن لگتی تھیں) میں نے ام سلمہؓ سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ میاں بیوی میں کبھی جھگڑا ہو جاتا ہے، لڑائی ہو جاتی ہے؟ کہنے لگی، جی ہو جاتا ہے گھر کا معاملہ ہے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہؓ کو تھوڑا سمجھانا شروع کیا، انہوں نے مجھے آگے سے ڈانٹ دیا کہنے لگیں ’’یا ابن الخطاب دخلت فی کل شئی‘‘ (اے خطاب کے بیٹے! ہر معاملے میں دخل اندازی کرتے ہو، حتیٰ کہ ازواجِ مطہراتؓ کے درمیان بھی دخل دینے آگئے ہو۔) حضرت عمرؓ نے کہا کہ ان کے اس تبصرے نے میری کمر ہی توڑ دی، نجانے میں نے کس کس کو سمجھانا تھا۔ وہ تو بیٹی تھی چپ کر کے بیٹھی رہیں۔ حضرت ام سلمہؓ برابر کی تھیں، کزن تھیں، انہوں نے مجھے کہہ دیا کہ ہر معاملے میں دخل دیتے ہو، حتیٰ کہ حضورؐ اور ان کی بیویوں کے معاملے میں بھی دخل دینے آگئے ہو؟ جاؤ اپنا کام کرو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ’’کسرت ظھری‘‘ (انہوں نے میری کمر ہی توڑ دی) کہ کسی تیسری کے پاس جانے کا مجھے حوصلہ نہیں ہوا۔ میں وہاں سے واپس آیا جناب خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ آج بڑا عجیب واقعہ ہوا ہے۔ جب میں نے یہ کہا تو حضورؐ نے بہت ہی خوبصورت تبصرہ فرمایا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ بیٹی کو تو میں نے ڈانٹ دیا تھا، اُم سلمہؓ کو میں نہیں ڈانٹ سکا، اس نے یہ یہ کہا مجھ سے۔ حضورؐ مسکرائے، فرمایا: ’’ھی ام سلمۃ‘‘ وہ تو امِ سلمہ ہے، وہاں کیا کرنے گئے تھے۔ یہ میں ترجمہ کر رہا ہوں۔
میں نے عرض کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں قریش کے ماحول میں عورت کو کسی بات کا جواب دینے کا، کسی بات کے ٹوکنے کا، یا کسی بات کا انکار کرنے کا ہمارے ہاں ماحول نہیں تھا ’’فلما جاء الاسلام‘‘ جب اسلام آیا تو پتا چلا کہ عورت کو بھی کسی بات سے انکار کرنے کا حق ہوتا ہے، عورت کی بھی کوئی رائے ہوتی ہے، عورت کا بھی کوئی حق ہوتا ہے، وہ بھی کسی بات پر لڑ سکتی ہے، کسی بات پر ٹوک سکتی ہے، کسی بات کا جواب دے سکتی ہے۔
تو میں عرض کرتا ہوں کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے معاشرتی نظام میں ایک تبدیلی یہ بھی کی کہ عورت کو رائے کا حق دیا، عورت کی آزادی کرائے بحال کی اور عورت کو یہ حق دیا کہ اگر اس کو کسی بات پر اختلاف ہو تو کہہ سکے کہ جناب! یہ بات یوں نہیں یوں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق کم از کم قریش کے ماحول میں یہ بات نہیں تھی۔ جب اسلام آیا تو پتا چلا کہ عورت کا بھی کوئی حق ہوتا ہے، عورت کی بھی کوئی رائے ہوتی ہے۔
زمانۂ نبوی ﷺ میں عورتوں کے اظہارِ رائے کی ایک مثال
اس پر ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کر کے آج کی بات سمیٹوں گا۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کی تھی بریرہ رضی اللہ عنہا۔ حدیثِ بریرہؓ صحیح بخاری کی طویل روایتوں میں سے ہے۔
[عروۃ بن الزبیر، ان عائشۃ، زوج النبی اخبرتہ: ان النکاح فی الجاہلیۃ کان علی اربعۃ انحاء … الخ، صحیح بخاری، باب من قال لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر 5127]
حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ حدیثِ بریرہؓ سے فقہاء نے ایک سو سے زائد مسائل مستنبط کیے ہیں۔ مشہور روایت ہے، لمبے قصے میں نہیں جاتا، متعلقہ حصے کو عرض کرتا ہوں۔ بریرہؓ لونڈی تھیں اور لونڈی ہونے کی حیثیت سے حضرت مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہؓ کو خریدا اور آزاد کر دیا۔ پھر وہ حضرت عائشہؓ کے پاس خادمہ کے طور پر رہیں۔ پہلے وہ لونڈی تھیں اب خادمہ کے طور پر یعنی آزاد عورت کے طور پر حضرت عائشہؓ کی خدمت میں رہیں۔
یہ ایک مستقل قانون ہے کہ لونڈی جب آزاد ہو جاتی ہے تو اس کو حق مل جاتا ہے کہ اگر اس کے مالک نے اس کا نکاح کہیں کر دیا تھا، اب آزادی کے بعد وہ اس شخص کے نکاح میں رہے یا نہ رہے۔ یعنی آزادی کے وقت جو حقِ رائے ہوتا ہے کہ وہ نکاح کرے یا نہ کرے، آزادی کے بعد وہ حق بحال ہو جاتا ہے کہ وہ خاوند کے ساتھ نکاح میں رہے یا نہ رہے۔ اس کو ’’خیارِ عتق‘‘ (آزادی کا اختیار) کہتے ہیں۔ حضرت بریرہؓ آزاد ہو گئیں، حضرت مغیثؓ خاوند تھے۔ بریرہؓ کو پتہ تھا مسئلے کا کہ مجھے ’’خیارِ عتق‘‘ حاصل ہوا ہے، میں خاوند کے نکاح میں رہوں یا نہ رہوں۔ انہوں نے خاوند کے ساتھ ترکِ تعلق کر لیا۔ جبکہ وہ کہہ رہا تھا کہ اللہ کی بندی ہم میاں بیوی ہیں، اب وہ بہت پریشان ہو گئے۔ وہ اتنے پریشان تھے کہ مدینہ کی گلیوں میں دیوانہ وار گھومتے تھے، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوتے اور کہتے کہ کوئی ہے جو بریرہؓ کو منائے۔ حضور ﷺ نے خود دیکھا کہ گلیوں میں پھر رہا ہے۔ حضرت بریرہؓ کسی کی بات سن نہیں رہیں تھیں۔ کہتی ہیں کہ میرا حق تھا میں نے چھوڑ دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے خود دیکھا کی ’’فی سکک المدینۃ‘‘ مدینہ کی گلیوں میں روتا پھر رہا ہے، دیوانہ وار گھوم رہا ہے اور آواز دے رہا ہے کوئی ہے جو بریرہؓ کو منا دے۔ یہ حالت جو دیکھی تو قابلِ ترس حالت تھی۔ کیوں کہ یہ حالت ترس کی ہوتی ہے اور ترس کھانا بھی چاہیے، یہ سنت ہے۔ خاتم النبیین ﷺ نے بلا کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: وہ نہیں مان رہی۔ اچھا ٹھیک ہے۔ آپؑ تشریف لے گئے، بریرہؓ کو بلایا اور پوچھا کہ بریرہؓ کیا قصہ ہے؟ کہنے لگی یا رسول اللہ میں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ فرمایا: بریرہؓ وہ بڑا پریشان ہے، وہ روتا پھرتا ہے۔ بریرہؓ کہہ رہی تھیں کہ میں کیا کروں میں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اِس کا حال یہ ہے کہ نام نہیں سننا چاہتی اور اُس مغیثؓ کا حال یہ ہے کہ نام لے لے کر بازاروں اور گلیوں میں گھوم رہا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: بریرہؓ! اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتی ہو؟ اس غریب کا برا حال ہے۔ بریرہؓ نے آپ سے ایک سوال کیا، یہ بڑا بنیادی سوال تھا۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ جو آپ فرما رہے ہیں کہ میں مغیثؓ کے پاس واپس چلی جاؤں، یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے؟ بہت بڑی اور بنیادی بات بیان کی کہ یارسول اللہ! حکم ہے؟ کیونکہ حکم کے مخالف چلنے کی مجال کس کو ہے۔
وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرھم (سورۃ الاحزاب: 33، آیت: 36)
(اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کر دیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔)
اللہ یا اللہ کا رسول ﷺ کوئی فیصلہ کر دے پھر کسی کے لیے اختیار نہیں۔ یا رسول اللہ! اتنی بات فرما دیں، یہ حکم ہے؟ فرمایا، یہ حکم نہیں ہے، مشورہ ہے۔ انہوں نے کہا اگر مشورہ ہے تو پھر میرا اختیار باقی ہے، اگر حکم ہے تو کس کو مجال ہے۔ اگر مشورہ ہے تو مشورے میں تو اختیار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، ہاں، یہ میرا حکم نہیں ہے۔ بریرہؓ نے کہا ’’لا حاجۃ لی‘‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔
میں وہ بات بیان کر رہا ہوں کہ خاتم النبیین ﷺ نے گھر کی چار دیواری کے اندر رائے کا جو حق دیا، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم بیوی کو رائے کا حق نہیں دیتے تھے، اب لونڈی کو بھی وہ حق مل رہا ہے۔ عورت کا یہ رائے کا حق معاشرتی تبدیلی تھی۔
خاندانی نظام میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے عورت کو صرف رائے کا حق نہیں دیا بلکہ فیصلے کا بھی حق دیا، علم کا بھی حق دیا۔ میں تو عرض کیا کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کا تو اپنا گھر یونیورسٹی بن گیا تھا، تعلیم گاہ بن گیا تھا اور حضور ﷺ کی تعلیمات کے ایک بڑے حصے کو اُمت کی ماؤںؓ نے منتقل کیا۔ سب سے بڑے حصے کو کس نے منتقل کیا؟ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے۔ میں نے یہ عرض کیا ہے کہ خاتم النبیین ﷺ نے جاہلیت کے خاندانی نظام میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سے چند کا میں نے ذکر کیا:
- محرمات کی فہرست متعین کی۔
- رضاعت کو حرمت کے اسباب میں شامل کیا۔
- مسلم غیر مسلم کا نکاح ختم کیا۔
- تبنی اور تأخی کا جو پرانا جاہلیت کا اصول تھا وہ ختم کیا۔
- عورت کی رائے اور اس کے اختیار کو بحال کیا۔
نکاح کے باب میں یہ جو تبدیلیاں حضور ﷺ نے کی ہیں، بتانا ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں خاندانی نظام کا دائرہ کیا تھا اور اسلام کے بعد خاندانی نظام کا دائرہ کیا ہے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۵)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم
دھواں
حدیث میں دھوئیں کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے بارے میں مزید وضاحت موجود نہیں ہے۔ دیگر مذہبی صحیفوں میں بھی اس کا واضح ذکر نہیں ملتا۔ ایک بڑی نشانی ہونے کے لیے، یہ واقعہ عالمی سطح پر نمایاں ہونا چاہیے۔
صنعتی انقلاب کے بعد انسانی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافے نے نامیاتی ایندھن کے بے تحاشا استعمال کو فروغ دیا، جو دھوئیں اور فضائی آلودگی کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا سبب بنے۔ یہ انقلاب انسانی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا، جس نے ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
دھواں، سموگ، اور فضائی آلودگی آج کے شہروں کا ایک تلخ حصہ ہیں، جہاں یہ صحت کے مسائل، ماحولیاتی خرابی، اور معیارِ زندگی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ مظاہر عالمی سطح پر اربوں انسانوں کو متاثر کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر حدیث میں بیان کردہ دھوئیں کی علامت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
مشرق، مغرب، اور جزیرہ عرب میں زمین کا دھنس جانا
حدیث میں قیامت کی تین بڑی نشانیوں کے طور پر مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں زمین کے دھنسنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان نشانیوں کی تفصیلات محدود ہیں، لیکن انہیں صرف زمین کے دھنسنے تک محدود کرنے کے بجائے، ان کا مفہوم سماجی اور سیاسی بحرانوں کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ بحران ایسے حالات کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں کوئی قوم داخلی تنازعات اور خانہ جنگی کی وجہ سے اپنے ہی وزن تلے دب کر تباہ ہو جاتی ہے۔
کتاب مکاشفہ میں سات مہریں، سات نرسنگے اور سات غضب کے پیالے تاریخی واقعات کی نمائندگی کرتے ہیں، جو شدت میں بتدریج بڑھتے ہیں۔ یہ واقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے شروع ہو کر حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں اپنے عروج پر پہنچے۔ ساتویں گرہ کھولنے کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے اور ساتواں نرسنگا خدا کی بادشاہت کے اعلان کی علامت ہے196، جو ساتویں صدی میں حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کے ذریعے مسلمانوں کی ریاست کے قیام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی طرح، ساتواں غضب کا پیالہ197 زلزلوں، شہروں، پہاڑوں اور جزیروں کے خاتمے کا ذکر کرتا ہے، جو روم اور فارس کی حکمران تہذیبوں کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔
چونکہ سماجی اور سیاسی ڈھانچوں کے خاتمے کی قدرتی حادثات سے تشبیہ کی مثال موجود ہے، اس لئے یہ پیش گوئیاں ارضیاتی حادثات کے بجائے سماجی اور سیاسی بحرانوں کی عکاسی کر سکتی ہیں، جہاں قومیں اندرونی تنازعات کے باعث تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں، ان پیش گوئیوں کے تین ممکنہ مظاہر درج ذیل ہیں:
مشرق (عراق–2006)
عراق 2003 میں امریکی حملے اور 2006 میں خانہ جنگی کے دوران سماجی اور سیاسی انتشار کا شکار ہوا۔ ان واقعات سے نہ صرف سیاسی ڈھانچہ ٹوٹا بلکہ تعلیم، معیشت، صحت، زراعت، اور دیگر بنیادی شعبے بھی تباہ ہو گئے ، جو حدیث میں "زمین کا دھنس جانے" کے بیان سے مشابہت رکھتا ہے۔
مغرب (لیبیا–2011)
عرب میں مغرب کو تاریخی طور پر شمالی افریقہ سے جوڑا جاتا ہے، اور یہ 2011 کے عرب بہار کے دوران لیبیا کے زوال کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام سے لیبیا میں نہ صرف سیاسی ادارے منہدم ہوئے بلکہ ملک کی اقتصادی پیداوار، تیل کی صنعت، تعلیمی نظام، اور دیگر شعبہ جات بھی مفلوج ہو گئے۔
جزیرہ عرب (یمن–2014)
یمن تاریخی طور پر عرب کا حصہ نہیں ہے البتہ، جزیرہ نما عرب198 کا حصہ ہے۔ یمن 2011 کے عرب بہار کے بعد بڑھتی ہوئی شورش اور 2014 میں مکمل خانہ جنگی کا شکار ہوا۔ یمن میں 2014 میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے بدترین انسانی بحران جاری ہے۔ یہاں نہ صرف حکمرانی کا فقدان ہے بلکہ قحط، بے روزگاری، صحت کے نظام کی تباہی، اور تعلیمی اداروں کی بندش جیسے مسائل نے زمین کو بظاہر "بنجر" بنا دیا ہے—ایک ایسا خطہ جو اب نہ صرف سیاسی بلکہ عملی طور پر "غیر پیداواری" ہو چکا ہے۔
ان تینوں مقامات پر "زمین کا دھنس جانا" زندگی کے ہر شعبے میں ہمہ جہتی ناکامی میں ظاہر ہوا ہے۔ عراق کے انہدام کے بعد، لیبیا اور پھر یمن میں عدم استحکام پیدا ہوا، جو حدیث میں بیان کردہ زمین کے دھنس جانے کی نشانیوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
یمن سے آگ
حدیث کے مطابق، جزیرہ نما عرب میں زمین دھنسنے کے واقعے کے بعد یمن، خصوصاً عدن کے نچلے علاقوں سے ایک آگ نکلے گی،199 جو لوگوں کو محشر — یعنی جمع ہونے کی آخری جگہ — کی جانب لے جائے گی۔200 یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی؛ جہاں وہ قیام کریں گے، یہ بھی وہیں رکے گی۔201
حدیث میں بیان کردہ یہ نشانی غالباً ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ دیگر نشانیوں کی طرح، اس کا مقصد پیشگوئی نہیں۔ ان نشانیوں کو مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی کے بجائے موجودہ یا ماضی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے-
قیامت کی نشانیاں: دیگر اہم حوالہ جات
فتنہ اول سے متعلق احادیث
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متعدد احادیث ایسی موجود ہیں جو فتنہ اول سے متعلق پیش گوئیاں بیان کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں مدینہ کے گھروں کے درمیان فتنوں کے گرنے کی جگہیں اسی طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔202 یہ مضمون ان تمام احادیث کا مکمل احاطہ نہیں کرتا، تاہم ان میں سے چند اہم اور منتخب احادیث ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔
دریائے فرات سے سونے کے پہاڑ کا ظہور – عراق کی دولت اور و سائل
رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ عنقریب دریائے فرات ایک سونے کے پہاڑ کو ظاہر کرے گا، اور جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے203۔ لیکن جو لوگ اس خزانے کے قریب موجود ہوں گے، وہ کہیں گے: اگر ہم نے ان لوگوں کو (اس خزانے میں سے) لینے دیا تو یہ سارا لے جائیں گے۔ چنانچہ وہ آپس میں جنگ کریں گے اور سو میں سے ننانوے افراد مارے جائیں گے۔ آپ ﷺ نے خبردار فرمایا کہ جو بھی اُس وقت موجود ہو، اُسے اس خزانے میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے۔ 204
کتابِ مکاشفہ میں ذکر کردہ " خدا کے چھٹے غضب کے پیالے"205 کے نتیجے میں "فرات کے خشک ہونے" کی پیش گوئی ملتی ہے، تاکہ "مشرق کے بادشاہ" آسانی سے اس سے گزر سکیں۔206 یہ منظرنامہ بازنطینی-ساسانی جنگوں (602-628ء) کی علامت ہے، جن میں ساسانی افواج دریائے فرات عبور کرکے بازنطینی علاقوں پر حملہ آور ہوئیں۔ یہاں "فرات کے خشک ہونے" سے مراد حقیقت میں ایک بڑی رکاوٹ کا خاتمہ ہے، جو ساسانیوں کے لیے فوجی پیش قدمی کو آسان بنانے کی علامت بنتا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں شدید نقصان اٹھانے کے بعد کمزور ہو گئیں، جس نے مسلمانوں کی فتح کی راہ ہموار کی۔
اسی تناظر میں، دریائے فرات سے "سونے کے پہاڑ" کا ظہور ساسانی سلطنت کی بے پناہ دولت، وسائل اور زرخیز زمینوں کا مظہر ہے، جس کا ظہور مسلمانوں کے ہاتھوں ساسانی سلطنت کی حتمی شکست اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کی صورت میں ہوا۔ یہ تعبیر تین اہم وجوہات پر مبنی ہے:
پہلی یہ کہ "سونے کا پہاڑ" ایسی دولت یا خزانے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہو، بالکل اسی طرح جیسے جنگ کے بعد مالِ غنیمت کو قبضے میں لینا ممکن ہوتا ہے۔ ساسانی سلطنت کے زوال کے بعد، اس کے وسائل تیزی سے مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے، جس نے اسے "سونے کا پہاڑ" بننے کی تعبیر دی۔
دوسری یہ کہ فتنہ اوّل میں ہونے والی مہلک جنگیں بنیادی طور پر سیاسی اور معاشی تنازعات کی شکل میں رونما ہوئیں ۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد قیادت کا حق قریش کو سونپا تھا،207 اِس لیے بنو اُمیہ اور قریش کے وہ بااثر سردار، جنھیں قبائلی نظم، خاندانی اثر و رسوخ اور ابتدائی مہاجرین کی اکثریتی حمایت حاصل تھی، سب سے پہلے یہ دولت اور اقتدار حاصل کرنے والے بنے۔ اِسی وجہ سے اُنھیں اِس حدیث میں "خزانے کے قریب" موجود افراد کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، "خزانے کی طرف لپکنے والوں" میں عراق و مصر کے سپاہی، کوفہ کے ناراض جنگجو، اور نو مسلموں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی ۔ یہ گروہ خلافت میں مساوی سیاسی و مالی شرکت کے خواہاں تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی حمایت اختیار کر لی ۔ خصوصاً کوفہ کے جنگجوؤں کی حمایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے کوفہ ہجرت کی اور وہیں اپنی حکومت کا مرکز قائم فرمایا ۔
تیسری یہ کہ فتنہ اول کی دو بڑی جنگیں—جنگِ جمل (656ء) اور جنگِ صفین (657ء)— دریائے فرات کے قرب و جوار میں لڑی گئیں۔ یہ خونریز جنگیں اسلامی تاریخ کے سنگین ترین تصادم میں شمار ہوتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی "سو میں سے ننانوے افراد مارے جائیں گے" ان جنگوں میں ہونے والے بے پناہ جانی نقصان کی واضح تصویر کشی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، جنگِ جمل میں تقریباً 10,000 سے 20,000 افراد شہید ہوئے، جبکہ جنگِ صفین میں شہادتوں کی تعداد 70,000 تک جا پہنچی۔
یہ تمام حالات اس حدیث کی علامتی تعبیر کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جس میں "خزانے کے قریب " موجود افراد اور " خزانے کی طرف دوڑنے والوں" کے درمیان پیدا ہونے والے خوف اور بے یقینی نے سیاسی اور اقتصادی تنازعات کو جنم دیا، جہاں "خزانے کے قریب" لوگ سوچنے لگے کہ "اگر ہم دوسروں کو اس میں سے لینے دیں، تو وہ سب کچھ لے جائیں گے"، اور یہی اندیشہ شدید کشمکش کا باعث بنا۔ ان واقعات کی شدت اور نتائج نبی کریم ﷺ کی تنبیہات اور پیش گوئیوں کے عین مطابق ثابت ہوئے۔
شیطان کے سینگ کا ظہور — نجد کا کردار
احادیث میں نبی کریم ﷺ نے شام اور یمن کے لیے دعائے برکت فرمائی، جبکہ نجد کے بارے میں فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ظاہر ہوں گے،208 اور یہ کہ شیطان کا سینگ اسی جانب سے طلوع ہوگا — یعنی مدینہ کے مشرق کی سمت سے، جہاں نجد واقع ہے۔209
نجد کے قبائل، جو اپنی جنگی صلاحیتوں کے لیے مشہور تھے، کو خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی سرحدوں پر بطور فوجی آبادکار آباد کیا، تاکہ اسلامی فتوحات میں ان کی مہارتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم، اسی خطے کے بعض گروہوں کا کردار فتنوں میں نمایاں رہا۔ جیسا کہ:
مسیلمہ کذاب جیسے جھوٹے مدعیانِ نبوت کی حمایت، جو کہ یمامہ (نجد کا ایک علاقہ) سے تعلق رکھتاتھا؛
کوفہ، جو عراق میں واقع تھا اور جہاں نجد سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہوئی تھی، وہیں سے اٹھنے والے گروہوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف بغاوت اور بعد میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے تنازعات میں نمایاں اور فعال کردار ؛ اور
بعد ازاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے علیحدگی اختیار کر کے خوارج کی صورت میں نمودار ہونا۔
ان تمام تاریخی واقعات کو نبی کریم ﷺ کی احادیث میں کی گئی تنبیہات اور پیش گوئیوں کا فتنہ اول میں عملی ظہور سمجھا جا سکتا ہے، جن میں نجد کو فتنوں کا مرکز اور "قرن الشیطان" کی سرزمین قرار دیا گیا تھا۔
ماضی میں موت کی تمنا — ندامت اور فتنہ کے سائے میں
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایسا وقت آئے گا کہ ایک شخص، دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش میں اس کی جگہ ہوتا۔210
یہ تمنا در حقیقت محض موت کی خواہش نہیں بلکہ شدید ندامت، اضطراب، اور فتنہ و فساد سے نجات کی آرزو کو ظاہر کرتی ہے۔ فتنہ اول میں ایسے واقعات حقیقتاً پیش آئے، جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فتنہ اول کے معرکوں کے بعد شدید رنج و افسوس لاحق ہوا۔ مثال کے طور پر، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ، جنگ جمل کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے — جو اس وقت شہید ہو چکے تھے — تو آپؓ نے سواری سے اتر کر اُن کا چہرہ صاف کیا، ان پر رحمت کی دعا کی اور فرمایا:211
"کاش میں اس دن سے بیس سال پہلے وفات پا چکا ہوتا۔"
یہ جملہ حضرت علیؓ کے دل میں موجود درد، ندامت، اور فتنہ سے نفرت کا عکاس ہے — ایک ایسا احساس جو محض سچے اور مخلص لوگوں کے دلوں میں جنم لیتا ہے۔
فتنہ دوم سے متعلق احادیث
فتنہ دوم سے متعلق چند اہم احادیث کا انتخاب ذیل میں درج ہے۔
صحابہ میں سے آخری حکمران — عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ
کئی احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی اور حالات سے بہت مشابہت رکھتے ہیں، جو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) میں سے آخری خلیفہ تھے۔ ذیل میں یہ احادیث زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں، اور ہر ایک عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے اہم مراحل کی عکاسی کرتی ہے:
ایک قریشی شخص کا کعبہ میں پناہ لینا
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ان کی امت کے کچھ لوگ ایک قریشی شخص کے لیے بیت اللہ کی طرف آئیں گے، جو کعبہ میں پناہ لیے ہوگا۔ لیکن جب وہ لوگ بیداء (مدینہ کے قریب کا علاقہ) میں پہنچیں گے تو زمین ان کو نگل لے گی۔ نبی اکرم ﷺ نے مزید فرمایا کہ قیامت کے دن اس لشکر کے ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔212
یہ حدیث عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی سے حیرت انگیز مشابہت رکھتی ہے:
قریش کا شخص: عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ ایک قریشی صحابی تھے ۔
کعبہ میں پناہ لینا: جب یزید بن معاویہ نے 680 عیسوی میں اقتدار سنبھالا تو عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ مدینہ سے مکہ چلے گئے، جہاں کعبہ کے پاسانہیں خلیفہ تسلیم کیا گیا۔
شام کے لشکر کا زمین میں دھنس جانا: 683 عیسوی میں، جب امویوں نے مکہ کا پہلی بارمحاصرہ کیا ہوا تھا، یزید کی اچانک موت کی خبر محاصرہ کرنے والی فوج تک پہنچی، جس سے قیادت کا بحران اور سیاسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس واقعے نے فوج کو محاصرہ چھوڑ کر شام واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ اگرچہ فوج کو حقیقتاً زمین نے نہیں نگل لیا تھا، لیکن علامتی طور پر فوج کا اچانک ٹوٹ جانا اور بغیر مقصد حاصل کیے پیچھے ہٹ جانا اس نبوی پیش گوئی کی عکاسی کرتا ہے کہ گویا زمین نے انہیں نگل لیا ہو، جو کہ الٰہی مداخلت اور بغیر کسی بیرونی مزاحمت کے فوج کے خود بخود پیچھے ہٹنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
بیداء کا مقام: جس طرح مدینہ منورہ، نبی اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک میں مسلم ریاست کا مرکز تھا، اُسی طرح حضرت عبد اللہ بن الزبیرؓ نے مکہ مکرمہ کو اپنی خلافت کا دارالحکومت مقرر کیا۔ اس سیاق و سباق میں، اگرچہ بیداء جغرافیائی لحاظ سے مدینہ کے قریب واقع ہے، لیکن علامتی طور پر یہ پیش گوئی شامی فوج کے اُس وقت کی خلافت کے دارالحکومت — مکہ مکرمہ — کے قریب زوال کی نمائندگی کرتی ہے۔
عراق اور شام کی آمدنی سے محرومی اور بغیر گِنے دینے والا خلیفہ
ایک اور حدیث میںبیان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب عراق کو اس کی معمول کی گندم اور چاندی کی آمدنی نہیں ملے گی، کیونکہ فارسی (العجم) اس پر پابندی لگا دیں گے۔ اسی طرح ، رومیوں کی مداخلت کی وجہ سے، شام کو اس کے دینار اور خوراک کی فراہمی سے محروم کر دیا جائے گا ۔ اور امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ آئے گا جو اس طرح دولت دے گا کہ وہ اس کی گنتی نہیں کرے گا۔213
یہ پیش گوئیاں عبد اللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں پیش آنے والے انتشار کی عکاسی کرتی ہیں:
عراق کی آمدنی کی بندش: عراق میں، مختار الثقفی نے 685 عیسوی میں فارسی موالی کی حمایت سے کوفہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کی علوی حامی انقلابی تحریک نے مؤثر طور پر عبد اللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کی عراق (بصرہ) میں انتظامیہ کو وسطی عراق کی آمدنی اور افرادی قوت سے محروم کر دیا۔
شام کی آمدنی کی بندش: اسی عرصے میں جب اموی حکومت کو اندرونی خانہ جنگی میں الجھی ہوئی تھی، بازنطینی (رومی) سلطنت نے اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انطاکیہ، طرسوس اور قبرص جیسے شمالی سرحدی علاقوں پر حملے تیز کر دیے۔ ان کارروائیوں کے باعث شام کے روایتی مالیاتی ذرائع، جو اناطولیہ اور مغربی سرحدی علاقوں سے وابستہ تھے، منقطع ہو گئے، اور شام کی حکومت کو دفاع کے ساتھ ساتھ اقتصادی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
بغیر گِنے دینے والا خلیفہ: حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اُن کے تمام قرض ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے ذمے لی، اور اپنی ذاتی جائیداد فروخت کر کے ہر حقدار کو اس کا حق دیا۔ اپنے ہی دور خلافت میں، انہوں نے مسلسل چار حج کے دوران عوامی طور پر اعلان کیا کہ جس کا کوئی حق ہو وہ سامنے آئے، اور ہر دعویدار کو اس کا حق ادا کیا—نہ دینے والے نے کوئی حساب کتاب کیا اور نہ ہی کوئی شرط رکھی۔214 یہ طرزِ عمل اس حدیث کے مفہوم کی حقیقی علامت ہے جس میں نبی اکرم ﷺ نے "بغیر گِنے دینے والاخلیفہ" کا ذکر فرمایا؛ ایسا خلیفہ جو حساب کتاب کے بغیر حقدار کو اس کا حق دیتا ہے۔
امت کا آخری زمانہ: امت کے آخری زمانے کا ذکر یہاں علامتی طور پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے آخری دور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن الزبیرؓ صحابہ میں سے آخری حکمران تھے، اور اسی حیثیت سے اس حدیث کے مصداق ہیں۔
عراق، شام اور مصر سے دولت کا روک لیا جانا
تیسری حدیث میں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عراق، شام اور مصر اپنے درہم، دینار اور غلہ روک لیں گے اور تم (صحابہ) وہیں لوٹ جاؤ گے جہاں سے تم نے آغاز کیا تھا۔215
یہ حدیث عبد اللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زوال سے متعلق ہے:
عراق، شام اور مصر کے وسائل کا روک لیاجانا: اگرچہ عراق اور مصر نے ابتدائی طور پر ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، لیکن بالآخر یہ علاقے امویوں کے دوبارہ قبضے میں چلے گئے، جس کے نتیجے میں اہم مالی معاونتبند ہو گئی۔ نتیجتاً، عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں صرف مکہ اور حجاز کے کچھ حصے ہی ان کے زیرِ کنٹرول رہ گئے تھے۔
"تم وہیں لوٹ جاؤ گے جہاں سے تم نے آغاز کیا تھا": یہ عبارت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اُس دور میں خلافت کا دائرہ محدود ہو کر صرف مکہ مکرمہ تک رہ گیا تھا، جو کچھ اس طرح تھا جیسے ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ابتدائی حکومت صرف مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح تک محدود تھی۔
اگرچہ بعض دیگر احادیث کی کتب میں ان واقعات کو امام مہدی سے منسوب کیا گیا ہے، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں امام مہدی کا نام لے کر کوئی حدیث موجود نہیں ہے۔
حبشی، قحطانی اور جھجاہ – حجاج بن یوسف
صحیح مسلم کی درج ذیل تین احادیث ایک تصوراتی اور علامتی منظرنامہ پیش کرتی ہیں، جن کے مطابق قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک (1) قحطان قبیلے کا ایک شخص ظاہر نہ ہو جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا،216 (2) ایک حبشی شخص جس کی پنڈلیاں پتلی ہوں گی، خانہ کعبہ کو منہدم نہ کر دے،217 اور (3) جَھجَاہ نامی شخص کسی مقامِ اقتدار پر غالب نہ آ جائے۔218
اگرچہ یہ روایات تفصیلات میں مختصر ہیں، مگر ان کا مرکزی موضوع سیاسی انتشار، مقدس روایات کی پامالی، اور جابرانہ قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تینوں روایات میں ایک تمثیلی تسلسل ہے: ایک علامتی شخصیت کا ذکر اور پھر اس کا اثر یا عمل۔ ان احادیث کی تفسیری گفتگو میں جو شخصیت اکثر سامنے آتی ہے وہ الحجاج بن یوسف ہے، جو عراق کا اُموی گورنر تھا ، جس نے فتنہ دوم میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان احادیث میں اس کا نام صراحت سے نہیں آیا، لیکن اس کی حکومت اور متنازع شہرت ان روایات کی علامتی تصویر سے گہری مطابقت رکھتی ہے۔
لوگوں کو لاٹھی سے ہانکنا
پہلی حدیث، جو قحطان کے ایک شخص کی پیش گوئی کرتی ہے جو "لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا"، خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ یہ ایک ایسے آمرانہ شخص کی طرف علامتی اشارہ ہے جو خوف اور جبر کے ذریعے اقتدار قائم کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں قحطانی قبائل اپنی جنگی مہارت، فخر اور مضبوط قیادت کے لیے مشہور تھے۔ اگرچہ الحجاج قحطانی نسب سے نہ تھا، اس کا طرزِ حکومت اس حدیث میں بیان کردہ صفات سے بہت مماثلت رکھتا ہے: وہ آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتا، اختلاف کو برداشت نہ کرتا، اور خوف و ہیبت کا پیکر سمجھا جاتا۔ مکہ اور عراق میں اس کی فوجی کارروائیاں، جہاں اُس نے اُموی اقتدار کو سختی سے نافذ کیا، حدیث میں "لاٹھی سے ہانکنے" کی تمثیل سے بخوبی میل کھاتی ہیں—یہ علامت مشورے یا اخلاقی برتری کی نہیں بلکہ طاقت سے غلبے کی ہے۔
کعبہ کو منہدم کرنا
دوسری حدیث میں "پتلی پنڈلیوں والے حبشی" کے ہاتھوں کعبہ کی تباہی کا ذکر ایک گہرا علامتی مفہوم رکھتا ہے۔ اگرچہ تاریخی اعتبار سے حجاج بن یوسف نسلاً حبشی نہیں تھا، تاہم حدیث میں "حبشی" کا ذکر دراصل اس طرزِ حکمرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے عرب قبائلی روایات اور آزادی کے خلاف سمجھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں حبشہ کا نظام حکومت ایک مرکزی اور مطلق العنان نظم پر قائم تھا، جو عربوں کے غیر مرکزی، قبائلی اور مشاورت پر مبنی مزاج سے مختلف تھا۔ اسی طرح "پتلی پنڈلیاں" جیسی جسمانی علامت ایک ایسے شخص کی نشاندہی کرتی ہے جو نہ کسی معزز قبیلے سے تعلق رکھتا ہو اور نہ روایتی سرداری کا حامل ہو — ایک کمزور سماجی مقام رکھنے والا فرد، جسے معاشرہ عام طور پر قیادت کے لیے موزوں نہ سمجھے۔ یہ تمام علامتی اشارات حیرت انگیز طور پر حجاج بن یوسف پر صادق آتے ہیں — ایک ایسا شخص جو غیر ممتاز نسب کا حامل تھا، مگر اپنی آہنی حکمرانی، سخت گیر طرزِ عمل، اور منجنیقوں کے ذریعے کعبہ پر حملے جیسے سنگین اقدام کے باعث تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک متنازع کردار کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
جھجاہ کی حکومت
تیسری حدیث میں "جھجاہ" نامی شخص کے تخت پر قابض ہونے کا ذکر ایک لسانی اور شعری کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ نام براہِ راست الحجاج سے منسلک نہیں، لیکن "جھجاہ" اور "حجاج" کے مابین صوتی مشابہت قابلِ غور ہے، جو سننے والے کے ذہن میں ایک علامتی ربط قائم کرتی ہے۔ مستقبل کی پیش گوئیوں میں اکثر علامتی زبان استعمال کی جاتی ہے، تاکہ حقیقت اللہ کی حکمت کے تحت جزوی طور پر پردے میں رہے ۔ اسی طرز کی مثال کتابِ مکاشفہ میں "666" کے عدد کی صورت میں ملتی ہے، جو "زمین کے جانور" کی چھاپ کے طور پر بیان ہوا۔ یہاں "زمین کا جانور" دراصل کلیسا کی ایک علامتی تعبیر تھی۔ بعد میں آنے والے عیسائی مفکرین219 نے اس عدد کو حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں یہودیوں میں رائج "گیمطریا"220 کے طریقِ حساب کے ذریعے پوپ کے سرکاری لقب سے جوڑا۔221 اس طرح پیش گوئی کا اصل مفہوم عام لوگوں سے اوجھل رہا، لیکن غور و فکر کرنے والوں پر اس کی حقیقت آشکار ہو گئی۔
متفرق پیش گوئیاں
نبی کریم ﷺ کے وصال اور اس کے بعد کے اہم واقعات
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے چھ نشانیاں گنوائیں: (1) میری وفات، (2) بیت المقدس کی فتح، (3) ایک وبا جو تم میں ایسی پھیلے گی جیسے بکریوں میں خارش کی بیماری پھیلتی ہے، (4) مال و دولت کی کثرت یہاں تک کہ کسی کو سو دینار دیے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض رہے گا، (5) ایک فتنے کا ظہور جس سے کوئی عرب گھر محفوظ نہیں رہے گا، (6) تمہارے اور بنی اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی، وہ اس میں خیانت کریں گے اور تم پر حملہ آور ہوں گے 80 جھنڈوں کے نیچے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔222
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے وصال سے لے کر صلیبی جنگوں کے آغاز تک کے اہم واقعات کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ ان نشانیوں کی تفصیل ذیل میں بیان کی گئی ہے:
نبی کریم ﷺ کی وفات
یہ آپ ﷺ کی 632 عیسوی میں وفات کی طرف اشارہ ہے جو قیامت کی ابتدائی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
بیت المقدس کی فتح
رسول اللہ ﷺ کی اس پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں نے خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور (636-637) میں بیت المقدس فتح کیا۔
ایک وبا جو تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں خارش
اس سے مراد 639 کا طاعونِ عَمواس ہے جو شام و فلسطین کے علاقوں میں پھیلا۔ اس وبا نے ہزاروں مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی جماعت مثلاً ابو عبیدہ بن الجراح، معاذ بن جبل، شرحبیل بن حسنہ اور دیگر جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں۔ یہ وبا فتحِ بیت المقدس کے تقریباً دو سال بعد پھیلی اور تاریخِ اسلام کے اولین بڑے سانحات میں سے ایک ہے۔
مال و دولت کی بےپناہ فراوانی
اس نشانی کی تعبیر فارس ، روم اور مصرکے علاقوں کی فتح سے مسلمانوں کے پاس بےانتہا مال و دولت کی آمد ہے۔
ایک فتنے کا ظہور جس سے کوئی عرب گھر محفوظ نہ رہے گا
اس سے مراد پہلا اور دوسرا فتنہ ہے، جو حضرت عثمانؓ کی شہادت (656ء) سے شروع ہو کر حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ کی شہادت (692ء) پر منتج ہوا۔ ان 36 برسوں میں امت مسلمہ کو خانہ جنگی، قیادت کی شدید کشمکش، جلیل القدر صحابہؓ کی شہادتوں، کعبہ پر حملے، مکہ و مدینہ کے محاصروں، اور بالخصوص حضرت حسینؓ کی کربناک شہادت جیسے دل سوز سانحات سے گزرنا پڑا۔ یہ ایسا دورِ آزمائش تھا جس نے تقریباً ہر عرب خاندان کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کیا۔
رومیوں کے ساتھ صلح، خیانت اور پھر 80 جھنڈوں کے تحت حملہ
678ء میں حضرت معاویہؓ نے رومی شہنشاہ قسطنطین چہارم کے ساتھ ایک تاریخی صلح نامہ کیا، جو مسلم و رومی تعلقات میں ایک نیا باب تھا۔ تاہم، جب مسلمان فتنہ دوم (680–692ء) کے شدید داخلی خلفشار کا شکار ہوئے، رومیوں نے اس خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔ فتنہ دوم کے خاتمے پر، 692ء میں جنگِ سباستوپولس لڑی گئی، جس میں مسلمانوں نے رومیوں کی بدعہدی کو ظاہر کرنے کے لیے ٹوٹا ہوا معاہدہ بطور پرچم جنگ میں استعمال کیا۔223 اگرچہ بعد میں جزوی معاہدے ہوتے رہے، مگر اس درجے کی صلح دوبارہ نہ ہو سکی، یہاں تک کہ وہ منظر سامنے آ گیا جس کی پیش گوئی حدیث میں کی گئی تھی: رومیوں نے مغربی عیسائی اقوام سے مدد طلب کی، اور 1096ء میں صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا۔ یہ وہی "رومی لشکر" تھا جس کا ذکر حدیث میں "80 جھنڈے، ہر جھنڈے کے تحت 12 ہزار" کے الفاظ میں آیا ہے — ایک بڑی عیسائی یلغار، جس میں یورپ کی مختلف اقوام اپنے اپنے پرچموں کے ساتھ شریک ہوئیں۔ یہ صلیبی جنگیں کئی صدیوں پر محیط رہیں، اور ان میں لاکھوں عیسائی جنگجو شریک ہوئے، خصوصاً ابتدائی نو صلیبی مہمات جو عیسائیوں کے مقدس مقامات پر قبضے کے لیے شروع کی گئیں۔
حجاز سے آگ جو بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کرے گی
ایک حدیث224 حجاز سے آگ کے بارے میں بیان کرتی ہے جو بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کرے گی۔ اس واقعے کا اکثر یمن کی آگ کی بڑی نشانی کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ واقعہ پہلے ہی پیش آ چکا ہے۔
حدیث میں بیان کردہ یہ نشانی 1256 عیسوی (654 ہجری) میں پیش آ چکی ہے، جب مدینہ کے قریب حجاز کے علاقے میں ایک بڑا آتش فشاں پھٹا۔ اس آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی روشنی دور دراز تک دیکھی گئی، حتیٰ کہ بصریٰ میں رات کے وقت اونٹوں کی گردنیں روشن ہو گئیں۔ یہ واقعہ معاصر علماء اور مورخین جیسے امام نووی اور ابن کثیر نے دستاویزی طور پر درج کیا225۔ ان کے بیانات اس حدیث کے پورا ہونے کی تصدیق کرتے ہیں، جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
غالباً اس حدیث میں "مدینہ" کے بجائے "حجاز" کا ذکر اس لیے کیا گیا تاکہ اسے مدینہ سے متعلق باقی قیامت کی نشانیوں کی طرح پوری امت کی عمومی علامت نہ سمجھا جائے۔
ذوالخلصہ کی عبادت
ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کی کمر ذوالخلصہ کے ارد گرد نہ گھومنے لگیں۔226
ذو الخلصہ ایک معبد تھا جس کی عبادت زمانہ جاہلیت کے عرب میں کی جاتی تھی، اور یہ خاص طور پر قبیلہ بنو دوس سے منسوب تھا۔ اس مندر کو حضرت جریر بن عبداللہ البجلیؓ نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر منہدم کیا، جس کے نتیجے میں یہ مزار کھنڈر بن کر رہ گیا۔
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے آغاز میں ذو الخلصہ کے عقیدے میں دوبارہ کچھ حد تک احیاء ہوا۔ جب جزیرۂ عرب میں امن و امان کا شیرازہ بکھر گیا، اور اس کے رہنے والے راحت و سکون سے محروم ہو گئے، اور ملک میں غربت اور تنگ دستی چھا گئی ۔چنانچہ کچھ لوگ اپنی پرانی جاہلیت کی زندگی کی طرف لوٹ گئے — بدعات اور خرافات کو اپنایا، اور پتھروں و درختوں سے برکت حاصل کرنے لگے۔ دَوس قبیلہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اس رجعت میں پیش پیش تھے، اور ذو الخلصہ کی طرف لوٹ گئے — اس سے تبرک حاصل کرنے لگے، اور اس کے لیے نذریں چڑھاتے اور قربانیاں کرتے۔ آخرکار، 1925 ء میں جدید سعودی ریاست کے بانی، شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور میں اس مندر کے مقام کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔227 228
غیر جاندار چیزوں کا یہودیوں کی جگہوں کو ظاہر کرنا - دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کا قتل عام
حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان، اللہ کے بندے، یہودیوں سے لڑیں گے، اور غیر جاندار چیزیں جیسے پتھر اور درخت یہودیوں کی چھپنے کی جگہوں کو ظاہر کریں گی، سوائے غرقد کے درخت کے۔229
جیسا کہ حدیث میں یاجوج و ماجوج کو اللہ کے ایسے بندے کہا گیا ہے جن سے کوئی مقابلہ نہ کر سکے گا230—اور اس مضمون میں نازی جرمنی کو اس کا علامتی مصداق قرار دیا گیا ہے—اسی تسلسل میں، یہودیوں سے متعلق حدیث میں مذکور "مسلمان" اور "اللہ کے بندے" بھی نازی جرمنی کے علامتی کردار کی طرف اشارہ ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے سورۂ بنی اسرائیل میں بابل کے مشرکوں کو بھی "عِبَادًا لَّنَا" (ہمارے بندے) کہا گیا ہے۔231 یہ تعبیرات کسی قوم کی مدح، حمایت یا تائید کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ صرف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بعض اقوام ایک مخصوص وقت میں الٰہی منصوبے کے تحت بطور وسیلہ یا آلہ کار استعمال ہوتی ہیں، چاہے ان کے اپنے اعمال ناپسندیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔
تاریخی طور پر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نازیوں نے یہودیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور وسیع پیمانے پر تلاشیاں کیں، اکثر مخبروں، معاونین، اور مقبوضہ علاقوں میں مقامی حکام کا استعمال کرتے ہوئے یہودیوں کو گھروں، بنکروں اور جنگلات میں چھپنے سے نکالنے کے لیے۔ غرقد کا درخت، جو عام طور پر مشرق وسطیٰ میں اگتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ظلم ایسے علاقوں میں ہوگا جہاں غرقد کے درخت عام طور پر نہیں اگتے ، جیسے یورپ کے ٹھنڈے علاقے۔
ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس چرواہے بلند عمارتوں کی تعمیر میں مقابلہ کریں گے اور لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی232
یہ نشانی ایک اہم مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی حدیث میں بیان ہوئی ہے جس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے دین کے بنیادی اصول سکھائے۔
حدیث کے پہلے حصے میں "ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس چرواہوں" کا ذکر ہے جو بلند عمارتوں کی تعمیر میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ یہ منظرنامہ خلیجی ممالک میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں تاریخی طور پر بدو عرب چرواہے کے طور پر جانے جاتے تھے، لیکن تیل کی دولت کی بدولت وہ دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنانے میں مشغول ہیں۔ دبئی کا برج خلیفہ اور سعودی عرب کا جدہ ٹاور اس تبدیلی کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ حدیث ان کی عاجزانہ طرز زندگی سے عیش و عشرت کی جانب تبدیلی کی پیشگوئی کی عکاسی کرتی ہے۔
حدیث کے دوسرے حصے میں "لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی" سماجی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر غلامی کے خاتمے کے بعد۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور 1948 کے ذریعے غلامی کی باضابطہ مذمت اور مساوات کے فروغ نے سابقہ غلاموں اور ان کی نسلوں کو آزادی اور مساوی حقوق فراہم کیے۔ اس تشریح کے مطابق، یہ فقرہ غلاموں کی آزادی اور معاشرتی مساوات کی علامت ہے۔
اللات اور العزّی کی دوبارہ عبادت
ایک حدیث کے مطابق دن اور رات ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ اللات اور العزّی کی دوبارہ عبادت نہ کی جائے۔233
دور جدید میں جزیرۂ عرب کی قبل از اسلام تاریخ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے نتیجے میں قدیم عرب معبودوں کی جانب ایک محدود مگر قابلِ ذکر رجحان دوبارہ سامنے آیا۔ جیسے مغربی دنیا میں قدیم دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی طرف رجوع دیکھا گیا،234 ویسے ہی کچھ افراد اور آن لائن حلقے ایسے بھی ہیں جو ان قبل از اسلام خداؤں کی عبادت کی جستجو یا اس کے جزوی احیاء میں مصروف ہیں۔ اس رجحان کو "وثن پرستی" کہا جاتا ہے، جس میں اللات اور العزّی جیسی دیویوں کی عبادت شامل ہے۔235
رومیوں کی اکثریت قیامت کے وقت – دنیا میں عیسائیوں کی اکثریت
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب رومی لوگ سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ آپ ﷺ نے ان کی خصوصیات بیان فرمائیں: وہ آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، مصیبت کے بعد فوراً سنبھل جاتے ہیں، پسپائی کے بعد دوبارہ حملہ کرتے ہیں، یتیموں، مساکین اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، اور آخری خوبی یہ ہے کہ وہ ظالم بادشاہوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔236
نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بازنطینی عیسائیوں کو "رومی" کہا جاتا تھا اور عیسائیت ان کی شناخت کا بنیادی جزو تھی۔ اس لیے یہ پیش گوئی — کہ قیامت کے وقت رومی سب سے بڑی تعداد میں ہوں گے — اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا میں عیسائی اقوام اکثریتی حیثیت رکھیں گی۔ آج کے دور میں بھی عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، اور قیامت کے وقت بھی یہی صورتِ حال ہوگی۔237
بیان کردہ دیگر خصوصیات بھی آج کے کئی مغربی ممالک میں واضح طور پر نظر آتی ہیں: عسکری قوت اور استقامت، یتیموں اور مساکین کے لیے منظم فلاحی نظام، بادشاہوں اور آمر حکمرانوں کے ظلم کے خلاف مزاحمت، اور معاشرتی ڈھانچوں میں جمہوریت یا آئینی بادشاہتوں کا فروغ۔ یہ اوصاف اس پیش گوئی کی عملی جھلک ہیں، جو چودہ سو سال پہلے بیان کی گئی تھی۔
اصلاحات
یہاں اُن اصلاحات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو پچھلے شماروں میں شائع ہونے والے مضامین سے متعلق ہیں:
زمین کا جانور
حصہ: لال جانور
شمارہ: الشریعہ، جون 2025
اصلاح: جانور کے دس سینگھ
تصحیح: اس جانور کے دس سینگ اُن دس ساسانی بادشاہوں کی علامت ہیں،238 جو صحابۂ کرامؓ اور ساسانیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں سے قبل، کتابِ مکاشفہ کے مطابق ’ایک گھڑی‘ یعنی نہایت مختصر مدت کے لیے اقتدار میں آئے۔239
دجال – جھوٹے مسیح کی آمد
حصہ: دجال کے ظہور سے پہلے کے واقعات
شمارہ: الشریعہ، جولائی 2025
اصلاح: مسلمانوں کے دس گھڑ سوار
تصحیح: حدیث میں ان دس گھڑ سواروں کی تعبیر مصطفیٰ کمال اتاترک کی سربراہی میں قائم ہونے والی ترک قومی اسمبلی کی پہلی کابینہ ہے، جس میں دس وزراء شامل تھے۔240
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول — مسیح کی آمد
حصہ: احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے واقعات
شمارہ: الشریعہ ستمبر 2025
اصلاح: نبی عیسیٰؑ کا امامت سے انکار
تصحیح: درج ذیل میں یہ حصہ دوبارہ لکھا گیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مسلمان اور دجّال کے خلاف جدوجہد
احادیث میں اِن مسلمانوں کے بارے میں دو بظاہر متضاد روایات ملتی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجّال کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ خود نماز کی امامت کریں گے ، جبکہ دوسری میں ذکر ہے کہ آپ امامت کی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے ۔ بظاہر یہ دونوں روایات ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں، لیکن تاریخی پس منظر میں اِن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دراصل دو الگ الگ سیاسی حقائق کی ترجمانی کرتی ہیں جو سرد جنگ کے دوران مسلم ریاستوں کے تجربات سے نہایت قریب ہیں۔
یہ اُس روش کے برعکس ہے جس کا ذکر حدیث میں اُن لوگوں کے بارے میں کیا گیا ہے جو مدینہ میں تین بڑے زلزلوں کے بعد دجّال کی طرف لپکیں گے۔ (اِن کے تفصیلی ذکر کے لیے باب دجّال ملاحظہ کریں۔)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امامت — نیٹو ( NATO)میں شمولیت کے ذریعے ترکی کی امریکی بلاک کے ساتھ وابستگی (1952ء سے آگے)
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب نماز کا وقت آتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور امامت کریں گے۔241
اِس روایت میں ترک مسلمانوں کے تاریخی حوالہ جات موجود ہیں: رومیوں کے خلاف معرکہ ’’اَلعَماق‘‘ (جس کا تعلق پہلی صلیبی جنگ کے دوران انطاکیہ کی لڑائی سے ہے، جس میں زیادہ تر ترک مسلمان شامل تھے)، 1453ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح، اور آخر میں ’’تلواریں لٹکا دینا‘‘ جو 1918ء میں عثمانیوں کے ہتھیار ڈالنے کی یاد دلاتا ہے۔ اِن حوالوں کو یکجا دیکھا جائے تو یہ حدیث ترک مسلمانوں کے تجربے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔ (دجّال کے باب میں اُن واقعات کا ذکر ملاحظہ کریں جو اُس کی آمد سے پہلے ہوں گے۔)
یہاں "نماز کا وقت" اُس فیصلہ کن لمحے کی نمائندگی کرتا ہے جب قومیں ایک ہی قیادت کے پیچھے صفوں میں ترتیب سے کھڑی ہوتی ہیں، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے مراد دوسری عالمی جنگ کے دوران ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا عالمی منظرنامے پر داخل ہونا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ترکی نے فیصلہ کن طور پر امریکہ کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا—پہلے 1947ء میں ٹرومین ڈاکٹرائن کے تحت، اور پھر 1952ء میں نیٹو میں شمولیت کے ساتھ۔ اِس طرح ترکی نے عملاً اور علامتی طور پر اپنی جگہ اُس جماعت میں بنا لی جو امریکہ کی قیادت کے پیچھے صف بستہ کھڑی تھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امامت سے انکار — امریکہ کا بغداد پیکٹ کی قیادت کرنے سے اجتناب (1955ء–1959ء)
ایک اور حدیث کے مطابق مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دے گا لیکن آپ انکار کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے: ’’تم میں سے بعض دوسروں پر حاکم ہیں‘‘۔242 ایک اور روایت میں ہے: ’’تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘۔243
اِن احادیث کو سرد جنگ کے ابتدائی دور کے تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ اُس وقت امریکہ نے جان بوجھ کر مسلم ممالک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے سے احتراز کیا اور اُنھیں یہ ترغیب دی کہ وہ خود سوویت یونین کے مقابلے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔
جماعت کی نماز: یہاں جماعت کی نماز ایک ایسے منظم ادارے یا اجتماع کی علامت ہے جس میں ایک متعیّن قائد کے پیچھے کھڑا ہوا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز میں امام کے پیچھے منظم صفوں میں کھڑے ہو کر اطاعت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اُسی طرح یہ حدیث اجتماعی نظم، اتحاد اور قیادت کے تحت صف بندی کا استعارہ پیش کرتی ہے۔
مسلمانوں کا امیر: اِس پس منظر میں یہ امیر پاکستان ہے۔ آزادی (1947ء) کے بعد پاکستان نے شعوری طور پر خود کو مسلم دنیا کی پیش رو اور صفِ اوّل کی ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔ پاکستان کے بانی، محمد علی جناح اور اُن کے بعد میں آنے والے حکمرانوں نے ریاست کے اسلامی اور اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے ابتدائی ’’اسلامی کانفرنسوں‘‘ کے انعقاد اور عرب ریاستوں سے تعلقات کے فروغ کے ذریعے اپنی قیادتی سوچ کو عملی جامہ پہنایا۔ اِسی طرح امریکی پالیسی سازوں نے بھی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک وسیع تر مسلم بلاک کے لیے ’’مرکزِ ثقل‘‘ کے طور پر دیکھا۔244
امامت کی دعوت: 1950ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا، SEATO (1954ء) اور بغداد پیکٹ (1955ء، بعد میں CENTO) میں شمولیت اختیار کی، اور اپنے آپ کو کمیونزم کے خلاف فطری مسلم اتحادی کے طور پر پیش کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دینا دراصل پاکستان کی اِس اپیل کی علامت ہے کہ امریکہ بغداد پیکٹ کی قیادت سنبھالے — ایک ایسا اتحاد جس میں ترکی، ایران، عراق، پاکستان اور برطانیہ شامل تھے۔245 246 پاکستان نے اِس معاہدے کو نیٹو کے نمونے پر تصور کیا جہاں امریکہ نے قیادت سنبھالی، افواج کو مربوط کیا اور ایٹمی چھتری فراہم کی۔
امامت سے انکار: اِس انکار کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ نے پاکستان کی بارہا اپیلوں کے باوجود بغداد پیکٹ کا باقاعدہ رکن بننے سے اجتناب کیا۔ نیٹو میں اپنے فعال اور فیصلہ کن کردار کے برعکس، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایسی ذمہ داری لینے سے گریز کیا۔ امریکی قیادت کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ کھلم کھلا قیادت سنبھالے تو یہ اتحاد مغربی غلبے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا اور مسلم ریاستیں متنفر ہو جائیں گی۔247
یہ طرزِ عمل، جس میں مسلم ممالک کو آگے بڑھا کر قیادت سونپی گئی اور امریکہ پس منظر میں رہا، نمایاں طور پر 1980ء میں افغانستان کے مسئلے پر او آئی سی کے غیرمعمولی اجلاس میں دکھائی دیا۔ اِس نازک موقع پر پاکستان اور سعودی عرب نے مسلم ممالک کو سوویت یونین کے خلاف متحد کیا، جبکہ امریکہ نے اتحادیوں کے ذریعے بالواسطہ تعاون پر اکتفا کیا اور خود کو کسی براہِ راست کردار سے دور رکھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول — مسیح کی آمد
حصہ: احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے واقعات
شمارہ: الشریعہ ستمبر 2025
اصلاح: دجال کا پگھل جانا اور نیزے پر خون
تصحیح: درج ذیل میں یہ حصہ دوبارہ لکھا گیا ہے۔
دجّال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی پگھل جانا — کیوبا میزائل بحران کے بعد سوویت یونین کی معاشی کمزوری (اکتوبر 1962ء سے آگے)
حدیث میں آتا ہے کہ دجّال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں۔248
اِس حدیث کی ایک مماثلت کیوبا میزائل بحران سے جوڑی جا سکتی ہے، جو سرد جنگ کا وہ واحد لمحہ تھا جب امریکہ اور سوویت یونین براہِ راست آمنے سامنے آئے۔
اِس ٹکراؤ کا نتیجہ سوویت فتح نہیں تھا، بلکہ اُس کی ساختی کمزوریوں کا انکشاف تھا۔ کیوبا میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کا اقدام دراصل اِس بات کا اعتراف تھا کہ سوویت یونین کے پاس وہ طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت نہیں تھی جو امریکہ کو پہلے ہی بین البرِّاعظمی میزائلوں اور اسٹریٹیجک بمبار طیاروں کے ذریعے حاصل تھی۔ کیوبا پر امریکی بحری ناکہ بندی نے سوویت بحریہ کی کمزوری کو مزید بے نقاب کیا، جو امریکی بحری طاقت کو چیلنج کرنے کے قابل نہ تھی۔ معاشی طور پر بھی سوویت یونین کمزور تھا، کیونکہ اُس کا سخت گیر نظام طویل تنازعہ برداشت نہیں کر سکتا تھا، جبکہ امریکی معیشت لچکدار اور حالات کے مطابق بڑھنے کی اہل تھی۔ سیاسی طور پر، بحران کے حل نے سوویت یونین کی کمزوری کو نمایاں کر دیا۔ اگرچہ سوویت یونین نے خاموشی سے ایک رعایت حاصل کی (ترکی سے امریکی میزائلوں کا انخلا)، مگر عوامی تاثر ایک پسپائی کا تھا۔ سوویت یونین کی عظیم طاقت کی برابری کا تاثر ٹوٹ گیا اور پروپیگنڈے اور حقیقت کے درمیان خلیج سب پر عیاں ہو گئی۔
اِس کے جواب میں، سوویت قیادت نے دوبارہ ایسی ذلت سے بچنے کے لیے فوجی صلاحیتوں پر بھاری سرمایہ کاری کی۔ تاہم یہ کوشش وسیع وسائل کو چوسنے کا باعث بنی اور یوں سوویت یونین کا بتدریج ’’پگھلنا‘‘ شروع ہو گیا — ایک ایسا عمل جو حدیث میں دجّال کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی گھلنے کی علامتی تصویر سے مشابہ ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نیزے پر دجّال کا خون — امریکی اسلحے کے ذریعے افغانستان میں سوویت نقصانات (1986ء–1989ء)
حدیث کے مطابق، اگر اللہ دجّال کو اپنی حالت پر چھوڑ دیتا تو وہ آہستہ آہستہ پگھل کر فنا ہو جاتا، لیکن اللہ نے یہ طے کیا کہ دجّال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجّال کا خون اپنے نیزے پر لوگوں کو دکھائیں گے۔249
نیزے پر خون کا یہ منظر 1980ء کی دہائی کی افغان جنگ میں ایک واضح مماثلت پاتا ہے۔ ابتدا میں مجاہدین نے سوویت یلغار کا مقابلہ زیادہ تر قبضہ شدہ یا خفیہ طور پر فراہم کردہ سوویت اسلحے سے کیا، جو CIA کے ذریعے اِس طرح پہنچایا گیا کہ امریکی کردار پوشیدہ رہے۔ بعد میں امریکہ نے اپنا جدید اسلحہ فراہم کیا — سب سے مشہور ’’اسٹنگر میزائل (Stinger missile)‘‘ — جو سوویت فضائی طاقت کو چیرنے والا حقیقی ’’نیزہ‘‘ ثابت ہوا۔ اِس نیزے پر خون صرف طیاروں اور فوجیوں کے نقصان کی علامت نہ تھا بلکہ اُس سے کہیں گہرا مطلب رکھتا تھا: سوویت یونین کے حوصلے، معیشت اور جنگی عزم کا زوال۔ سوویت ہیلی کاپٹروں کو آسمان سے گرتے دیکھنا اِس جنگ کا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا، اور اِسی کے ساتھ سوویت ساکھ بھی بکھرنے لگی۔
تاہم، جیسا کہ حدیث خود اشارہ کرتی ہے، اگر یہ ہتھیار کبھی فراہم نہ بھی کیے جاتے تو بھی سوویت یونین اپنی داخلی کمزوریوں اور معاشی ناکامیوں کے بوجھ تلے پہلے ہی پگھل رہا تھا۔ نیزہ صرف اِس عمل کو تیز کرنے اور اُس کی قیمت کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کا ذریعہ بنا، اور یوں امریکی ہتھیار سوویت شکست کی علامت بن گئے۔
خلاصہ اور اعترافِ خدمات
قیامت کی اہم نشانیوں کا خلاصہ
زمین کا جانور: یہ ایک ایسی ظالم طاقت کی علامت ہے جو اپنی فتوحات اور اثرورسوخ کو زمینی راستوں کے ذریعے پھیلاتی ہے، برخلاف اُن قوتوں کے جو بحری راستوں سے وسعت اختیار کرتی ہیں۔ اس کی تعبیر منگول سلطنت ہے، جو 13ویں صدی میں وسطِ ایشیا سے ابھری اور اپنے عروج پر وسیع و عریض علاقوں میں تباہی اور خوف کی علامت بن گئی۔
مغرب سے سورج کا طلوع: یہ علامت مغربی تہذیب کے عروج کی علامت ہے، جس کا آغاز قرونِ وسطیٰ میں 12 ویں صدی کے نشاۃ ثانیہ سے ہوا۔
دجال (جھوٹا مسیح): یہ ایک ایسی گمراہ کن قوت کی علامت ہے جو انسانیت کو فلاح و نجات کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے بہکاتی ہے، جبکہ درحقیقت یہ الحاد، ظلم و ستم اور مذہبی جبر کو فروغ دیتی ہے۔ تاریخ میں کمیونسٹ ریاستیں ان تیس (30) دجالوں کی نمائندگی کرتی ہیں، جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے، اور ان میں سب سے نمایاں اور مرکزی کردار سابق سوویت یونین نے ادا کیا، جو "الدجال" یعنی سب سے بڑا فریب بن کر سامنے آیا۔
یاجوج اور ماجوج: یہ اقوام شمالی اور مغربی یورپ کی نمائندگی کرتی ہیں، جنہوں نے 16ویں سے 20ویں صدی تک دنیا بھر میں نوآبادیاتی تسلط، استحصال، اور وسائل کی لوٹ مار کی۔ تاہم، ان کے استعماری غلبے کا خاتمہ انہی کے باہمی ٹکراؤ—دوسری عالمی جنگ—کے نتیجے میں ہوا۔ اس جنگ نے نہ صرف فاشزم کو شکست دی بلکہ نوآبادیاتی نظام کے زوال کی بنیاد بھی رکھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام (مسیح) کا نزول: دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے یورپی طاقتوں—یاجوج و ماجوج—کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کیا، خصوصاً فاشزم کے خلاف ایک نجات دہندہ قوت کے طور پر ابھر کر۔ بعد ازاں، سرد جنگ کے دوران اس نے دجال (سوویت یونین) کے خلاف نظریاتی، عسکری اور سفارتی محاذ پر مرکزی قوت کی حیثیت اختیار کی۔ اس طرح، ان دو عظیم عالمی معرکوں کے تناظر میں، امریکہ ایک علامتی 'مسیحا' کے طور پر سامنے آیا۔
دھواں: دھواں صنعتی انقلاب کے بعد فضائی آلودگی اور ماحولیاتی بحران کا استعارہ ہے، جس نے اربوں افراد کو متاثر کیا۔
زمین کا دھنس جانا (مشرق، مغرب اور جزیرہ نما عرب میں): ان کو یکلخت سماجی زوال کے علامتی مظاہر سمجھا گیا ہے، جو مختلف خطوں میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگیوں کے باعث ہوئے۔ مشرق میں عراق (2006)، مغرب میں لیبیا (2011)، اور جزیرہ نما عرب میں یمن (2014) کے واقعات اس کے ممکنہ مظاہر ہیں۔
یمن سے آگ: یہ بڑی نشانی تاحال ظاہر نہیں ہوئی۔ ایسی علامتوں کو پیشین گوئی کے بجائے ایک سوچنے کی دعوت کے طور پر لینا چاہیے۔
اعترافِ خدمات
اس فریم ورک کی تشکیل اور تفصیلی تجزیے کی ابتدا اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی کی اس جانب توجہ دلانے سے ہوئی کہ قیامت کی بہت سی نشانیاں رسول اللہ ﷺ کو رویا میں دکھائی گئیں۔250 بعد ازاں، عدنان اعجاز کے قیامت کی دس بڑی نشانیوں پر کام نے اس تحقیق کو ایک نئی سمت دی،251 جہاں اُنہوں نے بائبل کی پیشگوئیوں کے مطالعے کی بنیاد پر احادیث کی پیشگوئیوں کی تعبیر کے لیے ایک منفرد زاویۂ نظر پیش کیا۔252
مزید براں، اس مضمون کا جدید ترین نسخہ https://scripturehistorian.wordpress.com ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
191) Revelation 20.4-6: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.4-6.NIV
192) Revelation 20:7-9: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.7-9.NIV
193) 2 Thessalonians 2:3-8: https://www.bible.com/bible/111/2TH.2.3-8.NIV
194) John 5:28-29: https://www.bible.com/bible/111/JHN.5.28-29.NIV
195) Quran 5:116–117: https://quran.com/5/116-117
196) Revelation 11:15-19: https://www.bible.com/bible/111/REV.11.15-19.NIV
197) Revelation 16:17-21: https://www.bible.com/bible/111/REV.16.17-21.NIV
198) https://en.wikipedia.org/wiki/Arabian_Peninsula
199) Sahih Muslim 2901b https://sunnah.com/muslim:2901b
200) Sahih Muslim 2901a https://sunnah.com/muslim:2901a
201) Sahih Muslim 2901c https://sunnah.com/muslim:2901c
202) Sahih Muslim 2885a: https://sunnah.com/muslim:2885a
203) Sahih Muslim 2895: https://sunnah.com/muslim:2895
204) Sahih Bukhari 7119: https://sunnah.com/bukhari:7119
205) کتاب مکاشفہ میں ساتواں اور آخری خدا کے غضب کا پیالہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ہاتھوں روم اور فارس کی سلطنتوں کی تباہی ہے، جبکہ چھٹا خدا کا غضب کا پیالہ، اس سے پہلے ساسانی سلطنت کی طرف سے شروع کی گئی جنگیں ہیں جو کتاب مکاشفہ میں بتائی گئی تفصیلات سے مطابقت رکھتی ہیں۔
206) Revelation 16:12: https://www.bible.com/bible/111/REV.16.12.NIV
207) Sahih Bukhari 3495: https://sunnah.com/bukhari:3495
208) Sahih Bukhari 7094: https://sunnah.com/bukhari:7094
209) Sahih Bukhari 7092: https://sunnah.com/bukhari:7092
210) Sahih Bukhari 7115: https://sunnah.com/bukhari:7115
211) الحافظ الطبرانی، المعجم الکبیر، حدیث نمبر: 202۔ آن لائن دستیاب https://hadithunlocked.com/tabarani:202
212) Sahih Muslim 2884: https://sunnah.com/muslim:2884
213) Sahih Muslim 2913a: https://sunnah.com/muslim:2913a
214) Sahih Bukhari 3129: https://sunnah.com/bukhari:3129
215) Sahih Muslim 2896: https://sunnah.com/muslim:2896
216) Sahih Muslim 2910: https://sunnah.com/muslim:2910
217) https://sunnah.com/muslim:2909a Sahih Muslim 2909a:
218) Sahih Muslim 2911: https://sunnah.com/muslim:2911
219) https://en.wikipedia.org/wiki/Andreas_Helwig
220) https://en.wikipedia.org/wiki/Gematria
221) https://en.wikipedia.org/wiki/Vicarius_Filii_Dei
222) Sahih Bukhari 3176: https://sunnah.com/bukhari:3176
223) https://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_Sebastopolis
224) Sahih Bukhari 7118: https://sunnah.com/bukhari:7118
225) https://preciousgemsfromthequranandsunnah.wordpress.com/2021/01/21/the-fire-in-hijaaz-illuminated-the-necks-of-the-camels-in-busra-authentic-stories/
226) https://sunnah.com/bukhari:7116 Sahih Bukhari 7116:
227) https://alithnainya.com/tocs/default.asp?toc_id=8612
228) الأزْرَقِي، أخبار مكة وما جاء فيها من الآثار، ج 1، ص 381–382، تحقیق: رشدي الصالح ملحس، دار الثقافة، بیروت: https://lib.eshia.ir/42059/1/381
229) Sahih Muslim 2922: https://sunnah.com/muslim:2922
230) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
231) Quran 17:4-5 : https://quran.com/17/4-5
232) Sahih Muslim 8a: https://sunnah.com/muslim:8a
233) Sahih Muslim 2907a: https://sunnah.com/muslim:2907a
234) https://en.wikipedia.org/wiki/Modern_paganism
235) https://www.reddit.com/r/Wathanism
236) Sahih Muslim 2898a: https://sunnah.com/muslim:2898a
237) https://www.britannica.com/story/what-is-the-most-widely-practiced-religion-in-the-world
238) Revelation 17:12–14: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.12-14
239) قباد دوم (شیرویہ) (628)
اردشیر سوم (628–630)
شہروراز (630)
بوران 630)، 631632–)
خسرو سوم 630))
شابور بن شہروراز (630)
آزرمی دخت (630–631)
ہرميز شسشم (630–632)
فیروز دوم (632)
۱فرخزاد (معروف بہ خسرو پنجم) (632)
240) ترک قومی اسمبلی کی پہلی کابینہ، جس کی صدارت مصطفیٰ کمال اتاترک نے کی (3 مئی 1920)۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وزارتِ تعمیراتِ عامہ بعد میں شامل کی گئی تھی:
مصطفیٰ فہمی (گرچیکر) – وزیرِ شرعیہ و اوقاف، جو مذہبی امور اور خیراتی اوقاف کی نگرانی کرتے تھے۔
جلال الدین عارف – وزیرِ انصاف، جو عدالتی نظام اور قانونی اصلاحات کے ذمہ دار تھے۔
عصمت (اینونو) – وزیرِ جنرل اسٹاف، جو فوجی حکمت عملی اور آپریشنز کی نگرانی کرتے تھے۔
فوزی (چاقماق) – وزیرِ دفاع، جو وزارتِ دفاع اور فوجی سازوسامان کے انتظام کے ذمہ دار تھے۔
جامی (بایکورت) – وزیرِ داخلہ، جو انتظامی و داخلی امور اور سکیورٹی سنبھالتے تھے۔
بکیر سامی (قندوح) – وزیرِ خارجہ، جو خارجہ تعلقات اور بین الاقوامی مذاکرات کی قیادت کرتے تھے۔
یوسف کمال (تنگیرشک) – وزیرِ معیشت، جو معاشی پالیسیوں اور مالی معاملات کی نگرانی کرتے تھے۔
حقّی بہیچ (بایئیچ) – وزیرِ خزانہ، جو خزانے اور مالیاتی پالیسیوں کے نگران تھے۔
رضا نور – وزیرِ تعلیم، جو تعلیمی اصلاحات اور اداروں کی سربراہی کرتے تھے۔
عدنان (آدیور) – وزیرِ صحت و سماجی بہبود، جو عوامی صحت اور فلاحی امور کے نگران تھے۔
241) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897
242) Sahih Muslim 156: https://sunnah.com/muslim:156
243) Sahih Bukhari 3449: https://sunnah.com/bukhari:3449
244) https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1950v05/d837
245) https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v12/d145
246) https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v08/d219
247) https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1955-57v12/d169
248) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897
249) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897
250) نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر ۲۰۲۳، غامدی انسٹیٹیوٹ آف اسلامک لیئرننگ، صفحہ 217-185
251) https://youtu.be/YmUt_7wXz1s
252) https://youtu.be/cnM5JIyz8fg
(مکمل)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : ڈاکٹر ثمینہ کوثر
انسانی امتیاز
(Human Exceptionalism)
جدول 4.3 میں ہم نے تین مختلف مفکرین کا ذکر کیا ہے جو انسانی امتیاز (Human Exceptionalism) کے قائل ہیں۔ نوح میم کیلر (Nuh Ha Mim Keller)، یاسر قاضی اور نذیر خان ۔ بعد کے دونوں مصنفین نے اس موضوع پر ایک مشترکہ مقالہ بھی تحریر کیا ہے، اس لیے یہاں ہم تینوں مصنفین کی دو تحریروں کا جائزہ لیں گے جو انسانی امتیاز کے حق میں ہیں۔ ابتدا ہم کیلر سے کرتے ہیں۔
1995 میں، سلیمان علی نامی ایک ماہرِ حیاتیات ایک پمفلٹ پڑھ کر متأثر ہوئے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارتقا شرک کے مترادف ہے۔ (شرک سے مراد اللہ کے ساتھ کسی اور کو الوہیت میں شریک کرنا ہے، جیسے بت پرستی، جو اسلامی فکر میں سب سے بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔) اس صورتحال میں انہوں نے ایک فیکس نوح میم کیلر کو بھیجا، جو ایک مسلمان متکلم ہیں، اور ان سے اسلام اور ارتقا کے بارے میں اپنی رائے دریافت کی (Keller 2011, 350)۔ اسی سوال کے جواب میں کیلر نے ارتقا پر اپنی تنقید پیش کی۔
کیلر نے ارتقا پر کئی اعتراضات کیے ہیں، مگر سہولت کے لیے انہیں تین بڑے زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا اعتراض سائنس کے حوالے سے ہے۔ کیلر تسلیم کرتے ہیں کہ ایک وقت میں انہیں لگا کہ ارتقا ناقابلِ رد ہے، لیکن چارلس ڈارون کی کتاب On the Origin of Species پڑھنے کے بعد ان کی رائے بدل گئی۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو نکات اٹھائے۔ ان کا پہلا اعتراض ارتقا کے نظریے کی قابلِ ابطالیت (falsifiability) پر ہے (Keller 2011, 351–352):
ڈارون کی کتاب کا نواں باب … جسے ڈارون نے نہایت عاجزی کے ساتھ ‘the great imperfection of the geological record’ کہا ہے، یہ واضح کرتا ہے کہ یہ نظریہ اصولی طور پر قابلِ ابطال (falsifiable) نہیں تھا۔ حالانکہ ماہرین منطق جیسے کارل پوپر (Karl Popper) کے مطابق کسی نظریے کے سائنسی ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اصولی طور پر کوئی نہ کوئی شہادت اسے غلط ثابت کر سکے۔ لیکن فطری طور پر ایسے فوسلز جو درمیانی انواع (intermediate forms) کو ثابت یا رد کر سکیں، نہ تو ملے ہیں اور نہ ہی مل سکتے ہیں۔ جب میں نے یہ پڑھا تو مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ ایسے نظریے کو 'سائنسی' کیسے کہا جا سکتا ہے۔ اگر ارتقا سائنسی نہیں ہے تو پھر یہ کیا ہے؟ میرے نزدیک یہ ایک انسانی تعبیر ہے، ایک کاوش، ایک صنعت، ایک لٹریچر، جو دراصل اس طریقہ استدلال پر قائم ہے جسے امریکی فلسفی چارلس پیئرس (Charles Peirce) نے abductive reasoning کہا ہے، یہ طرزِ استدلال درج ذیل طریقے سے کام کرتا ہے:
1. ایک حیران کن حقیقت A سامنے آتی ہے۔
2. اگر نظریہ B درست ہو تو A فطری طور پر اس کے نتیجے میں سمجھ میں آتی ہے۔
3. لہٰذا B درست ہے۔
یہاں (1) بالکل یقینی ہے، (2) محض محتمل ہے (کیونکہ یہ حقائق کو بیان کرتا ہے، مگر دوسرے ممکنہ نظریات کو خارج نہیں کرتا)، جبکہ (3) کی صداقت صرف اتنی ہی ہے جتنی (2) کی۔ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسان کے ارتقا کا مقدمہ کتنا مضبوط ہے تو اب تک دریافت ہونے والے تمام فوسلز کی ایک فہرست بنائیں جنہیں 'انسان کے ارتقا' کا ثبوت کہا جاتا ہے، ان کی تاریخیں نوٹ کریں، اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا واقعی یہی abductive reasoning ہے جو اس نظریے کو آگے بڑھاتی ہے؟ اور کیا یہ امکان رد کر دیتی ہے کہ نظریہ ارتقا کی جگہ پر بالکل مختلف (2) پیش کی جا سکتی ہے؟
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیلر کے نزدیک ارتقا ایک ہمہ گیر نظریہ ہے جس کے اندر کوئی داخلی معیارِ ابطال (internal falsification criteria) موجود دکھائی نہیں دیتا۔ کارل پوپر کا حوالہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کیلر کے ذہن میں غالباً سگمنڈ فرائڈ اور الفریڈ ایڈلر کے نفسیاتی نظریات ہیں، جو کسی بھی قسم کے ڈیٹا کی وضاحت کر سکتے تھے کیونکہ وہ حد سے زیادہ وسیع اور مبہم تھے (Popper 2002a, 43–77)۔ ان دونوں یعنی فرائڈ اور ایڈلر کے نظریات کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ پوپر نے اپنے مشہور "معیارِ ابطال" (falsification criterion) کو سائنسی اور غیر سائنسی نظریات کے درمیان امتیاز قائم کرنے کے لیے وضع کرتے وقت انہی نظریات کا تقابل زیادہ مضبوط سائنسی نظریات، مثلاً آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت، کے ساتھ کیا تھا (Popper 2002b, 57–73)، یہ بحث باب اوّل میں کی جا چکی ہے۔
کیلر کا دوسرا سائنسی اعتراض ارتقا پر بڑی ارتقائی تبدیلی (macroevolution) کے ثبوت کی کمی سے متعلق ہے۔ خطیبانہ انداز میں وہ اپنے شکوک اس طرح بیان کرتے ہیں (Keller 2011, 352):
کیا ایک نوع (species) کے اندر ہونے والی چھوٹی ارتقائی تبدیلیوں (micro-evolution) کی مثالیں، جو گھوڑوں اور کبوتروں کی افزائش، یا مفید پودوں کی نئی اقسام کے ذریعے کافی حد تک ثابت ہوتی ہیں، واقعی macro-evolution یعنی ایک نوع سے دوسری نوع میں تبدیلی کے لیے بھی قابلِ اطلاق ہیں؟ کیا اس بات کی کوئی ایک بھی مثال موجود ہے کہ ایک نوع حقیقتاً دوسری نوع میں تبدیل ہوئی ہو، اور اس کی درمیانی صورتیں فوسل ریکارڈ میں محفوظ ہوں؟
ان دونوں نکات میں یہ بات واضح ہے کہ کیلر کے نزدیک ارتقا علمی اعتبار سے مضبوط نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ نظریہ محض ایک مفروضہ ہے، اس لیے یقینی نہیں۔ مزید یہ کہ یہ نظریہ حقائق سے استنباط کے بجائے، پہلے سے طے شدہ ڈیٹا پر مسلط (masked onto the data) معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا، کیلر ارتقا سے متعلق مابعد الطبیعیاتی (metaphysical) اعتراضات بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مابعد الطبیعیات کی سطح پر ارتقا اس لیے مسئلہ پیدا کرتا ہے کہ اس کی اساس فطرت پرستی (naturalism) اور اس عمل کو چلانے والی بے ربطی (randomness) پر ہے۔ کیلر کے مطابق دو ایسے دعوے ہیں جو انسان کو اسلام کے دائرے سے باہر لے جاتے ہیں (Keller 2011, 359–360):
غیر انسانی انواع (non-human species) میں بڑی ارتقائی تبدیلی (macro-evolutionary transformation) اور تنوع پر ایمان رکھنا بذاتِ خود میرے نزدیک کفر یا شرک نہیں بنتا، الاّ یہ کہ کوئی شخص یہ بھی مانے کہ یہ تبدیلیاں اتفاقی جینیاتی تغیر (random mutation) اور قدرتی انتخاب (natural selection) کے ذریعے واقع ہوئی ہیں،اور ان اوصاف کو اس معنی میں سمجھے کہ یہ سب اللہ کی مشیّت سے بالکل آزاد (causal independence) ہیں۔ آپ کو اپنے دل میں جھانک کر یہ سوال کرنا ہوگا کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ توحید کے نقطہ نظر سے یہ بالکل واضح ہے کہ کچھ بھی اتفاقاً نہیں ہوتا، کوئی خودمختار فطرت (autonomous nature) نہیں ہے، اور جو بھی شخص ان دونوں باتوں پر ایمان رکھے گا وہ لازماً اسلام کے دائرے سے خارج ہوگا۔
تیسرا، کیلر کے نزدیک اسلامی متون میں بیان کردہ تخلیق کا تصور انسان کے ارتقائی نظریے سے صریحاً متصادم ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ انسانوں کے ارتقا اور دیگر انواع کے ارتقا کے درمیان فرق ہے۔ اس سلسلے میں وہ دو نکات بیان کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آدمؑ کی تخلیق جنت میں ہوئی تھی، زمین پر نہیں (Keller 2011, 355):
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آیا قرآن میں تخلیق کا بیان انسان کے ارتقا کے ساتھ متعارض ہے، اگر ارتقا، جیسا کہ ڈارون کا خیال تھا، اس بات کو شامل کرتا ہے کہ 'شاید تمام جاندار جو کبھی اس زمین پر رہے ہیں ایک ہی ابتدائی مخلوق سے وجود میں آئے ہیں، جس میں سب سے پہلے زندگی پھونکی گئی تھی' تو میرا فہم یہ ہے کہ یہ قرآن کے بیانِ تخلیق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارے پہلے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا فرمایا تھا، زمین پر نہیں۔
کیلر کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تخلیق کا طریقہ کار بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، جو آدمؑ (اور ان کے توسط سے تمام انسانوں) اور باقی حیاتیاتی دنیا کے درمیان نمایاں فرق کو ظاہر کرتا ہے (Keller 2011, 355):
آدمؑ کو ایک خاص طریقے سے پیدا کیا گیا، جسے اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے:
یہ اُس وقت کی بات ہے، جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک آدمی پیدا کرنے والا ہوں۔ پھر جب میں اُسے ٹھیک بنا لوں اور اُس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم اُس کے آگے گر پڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتے سجدہ ریز ہوئے، سب کے سب۔ ابلیس کے سوا، اُس نے تکبر کیا اور کافروں میں شامل ہو گیا۔ (اللہ نے فرمایا:) اے ابلیس، تجھے کس چیز نے اُس کے آگے سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا؟ کیا تو غرور میں آ گیا یا (واقعی) بڑوں ہی میں سے ہے؟ اُس نے کہا: میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (القرآن 38 : 71 - 76)
اب رہا خدا تو وہ ہر طرح کے تشبیہی تصورات سے بالاتر ہے۔ فخر الدین رازی اس آیت کے الفاظ، جسے میں نے اپنے [لفظاً: دو] ہاتھوں سے پیدا کیا' کو مجازی تعبیر قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ اور التفات ہے جو اس مخصوص مخلوق یعنی پہلے انسان کے لیے ظاہر کی گئی ہے، کیونکہ ایک عظیم الشان ذات کسی کام کو اپنے "ہاتھوں" سے تب ہی انجام دیتی ہے، جب وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو۔ میں نے "پہلا انسان" اس لیے کہا کہ آیت میں جو عربی لفظ بشر آیا ہے ، اس کا لغوی مفہوم بالکل واضح ہے: یہ صرف "انسان" ہی کے معنی دیتا ہے اور اس کا کوئی دوسرا لغوی مفہوم نہیں۔
اسی بنا پر کیلر نتیجہ اخذ کرتے ہیں (Keller 2011, 356):
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ قرآن کے مطابق انسان اپنی اصل کے اعتبار سے، یعنی جنت میں اپنی پیدائش کی بنا پر، اپنے مخصوص تخلیقی طریقہ کار کی بنا پر، اور اپنی روح کی وجہ سے جو اس کے اندر پھونکی گئی، اللہ کی نگاہ میں دیگر زمینی حیات سے بالکل مختلف مرتبے پر ہے۔ خواہ ان کے جسموں میں بعض جسمانی مشابہتیں دوسری مخلوقات کے ساتھ موجود کیوں نہ ہوں، مگر ان سب کو پیدا کرنا خالق ہی کا اختیار ہے۔
مختصر یہ کہ کیلر کے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ غیر انسانی مخلوقات ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آ سکتی ہیں، اگرچہ وہ سائنسی پہلوؤں پر اپنے تحفظات رکھتے ہیں، لیکن انسانوں کو وہ اس عمل سے صریحاً خارج کرتے ہیں۔ یوں ارتقا کے بارے میں کیلر کے خیالات کا جائزہ یہاں ختم ہوتا ہے۔
اب آتے ہیں یاسر قاضی اور نذیر خان کی طرف۔ یاسر قاضی اور نذیرخان نے ایک امریکی ادارے ، یقین انسٹی ٹیوٹ کے لیے ایک مشترکہ مقالہ لکھا ہے، جس میں انہوں نے اسلام اور ارتقا کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اگرچہ ان کے افکار میں کئی پہلو کیلر کے نقطہ نظر سے ملتے جلتے ہیں، لیکن کئی معاملات میں نمایاں فرق بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خیالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مقالے کے بالکل آغاز میں یاسرقاضی اور نذیر خان نے اس موجودہ صورتِ حال کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ وہ اس علمی مکالمے کے شرکا کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلا گروہ ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے اس موضوع پر روایتی اسلامی علمی روایت کی ہر چیز کو یکسر چھوڑ دیا ہے (Qadhi and Khan 2018, 4):
ایک گروہ نے ارتقائی ماہرین کے نتائج کو من و عن قبول کرنے کے لیے تمام روایتی دینی وابستگیوں کو ترک کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتہاپسندانہ تاویل (radical hermeneutical gymnastics) کے ذریعے انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کی بعض آیات گویا قدرتی انتخاب (natural selection)، خودبخود حیات کا آغاز (abiogenesis) اور اس جیسے دیگر تصورات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ لیکن اس طرزِ استدلال کا نتیجہ یہ ہے کہ وحی کی صداقت مشتبہ ہو جاتی ہے اور وہ لامحدود طور پر من چاہے معنی میں ڈھل سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ماضی میں ایسی کسی کوشش کو کبھی مثبت نظر سے نہیں دیکھا گیا۔
اس پیراگراف سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یاسر قاضی اور نذیر خان کے نزدیک ارتقا کو وحی میں داخل کرنے کی تمام کوششیں اشکال پیدا کرنے والی ہیں۔ ان کی رائے میں یہ طرزِ فکر دراصل قاری کی طرف سے اسلامی متون پر اپنی رائے مسلط کرنا ہے، نہ کہ متن کو اپنے طور پر بولنے دینا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کہیں بھی کسی کا نام نہیں لیتے، تاہم غالب گمان ہے کہ ان کے ذہن میں کچھ ایسے افراد ضرور ہیں جو "بلا استثنا" (no exceptions camp) کے زمرے میں آتے ہیں، جن کا ہم آگے چل کر جائزہ لیں گے۔
یاسر قاضی اور نذیر خان اس کے برعکس ایک دوسرے انتہاپسندانہ موقف کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جو حیاتیاتی تنوع (biological diversity) پر سائنس کی تمام آرا کو رد کرنے پر مشتمل ہے (Qadhi and Khan 2018, 5):
دوسری انتہا پر وہ مسلم تخلیقیت پسند (Muslim creationists) ہیں جو ارتقائی سائنس کی ہر چیز کو باطل قرار دیتے ہیں اور جینیات (genetics)، آبادیاتی حرکیات (population dynamics)، اور قدیم حیاتیات (paleontology) میں پیش کیے گئے، ہر ثبوت کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ موقف محض غیر معقول ہی نہیں، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان یہ مانیں کہ پوری سائنسی برادری ایک بڑی عالمی سازش میں شریک ہے، بلکہ یہ دینی طور پر بھی غیر ضروری ہے، کیونکہ اسلامی متون میں ایسی کسی روش کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ مزید یہ کہ یہ عام مسلمان کو نہایت پیچیدہ سائنسی تحقیقات کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے اور اسے یہ باور کراتا ہے کہ ایک سچا مسلمان بننے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ ان تمام سائنسی ماہرین کو چیلنج کرے جو اپنی تخصیص کے میدان میں برسوں کی محنت سے تحقیق کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ موقف بہت سے مسلمان سائنس دانوں کو بھی اس فرضی تناؤ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ گویا ان کے دینی عقائد اور ان کی سائنسی تحقیق ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
یہاں یاسر قاضی اور نذیر خان اپنی فکرمندی کو واضح کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرہ سازشی نظریات کے جال میں نہ پھنسے اور ایسا مؤقف اختیار نہ کرے جو پوری سائنسی برادری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہو۔ ان کا اصل محرک یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ایمان کو سائنس اور مذہب کے مابین کسی بھی بظاہر پیدا ہونے والے تصادم سے محفوظ رکھا جائے۔ تاہم، ان کی تحریر سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے سائنس کے مذہبی یا الٰہیاتی معاملات سے متعلق تمام دعوؤں کو بلا تنقید قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مختلف انتہاؤں کو واضح کرنے کے بعد یاسر قاضی اور نذیر خان یہ بات بالکل واضح کرتے ہیں کہ ایک متوازن نقطہ نظر کی سخت ضرورت ہے، اور غالباً یہی خلا ان کا مذکورہ مضمون پُر کرنا چاہتا ہے (Qadhi and Khan 2018, 5):
جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور جو اب تک مفقود رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وحی اور سائنس کے تعلق پر ایک سنجیدہ اور تنقیدی جائزہ لیا جائے اور اکیڈمک سطح پر مکالمہ کیا جائے۔ اس متوازن طرزِ فکر کا تقاضا یہ ہوگا کہ جہاں سائنسی تحقیق کی علمی ساکھ کو تسلیم کیا جائے، وہیں عوامی سطح پر پھیلائی جانے والی نام نہاد سائنس (pseudoscience) اور اس کی مبالغہ آمیز تعبیرات پر تنقید بھی کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی متون پر مزید گہرے غور و فکر کے ذریعے یہ طے کیا جائے کہ انسان کی ابتدا اور دیگر مخلوقات کے مقابلے میں اس کے مقام و مرتبے سے متعلق کون سے الٰہیاتی نتائج اعتماد کے ساتھ اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
منظرنامے کا خلاصہ کرنے کے بعد یاسر قاضی اور نذیر خان تین مختلف تاویلی طریقوں پر بات کرتے ہیں جو کلاسیکی اسلامی روایت میں پائے جاتے ہیں۔ یعنی ابنِ سینا، امام غزالی اور ابنِ تیمیہ کے طریقے۔
ابتدا وہ ابنِ سینا سے کرتے ہیں، جو اسلامی فکری تاریخ میں فلسفیانہ روایت نیو افلاطونی-ارسطوی (Neoplatonic-Aristotelian) کے نمائندہ ہیں۔ یاسر قاضی اور نذیر خان کے نزدیک ابنِ سینا کا زاویہ نظر تاویل کے باب میں ایک "پنڈورا بکس" کی مثال رکھتا ہے۔ ابنِ سینا کے مطابق انبیا کی زبان دراصل فلسفیانہ حقائق کا بیان ہے جو زیادہ تر علامتی اور تمثیلی اسلوب میں عوام کی فہم کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔ جنت اور دوزخ ، جنہیں مسلمان حقیقی مانتے ہیں، ابنِ سینا کے نزدیک ایسی حقیقتوں کی علامت ہیں جو انسانی تخیل سے ماورا ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کبھی فلسفیانہ حقائق (جن میں سائنسی معلومات بھی شامل ہیں) اسلامی متون سے متصادم دکھائی دیں تو ان متون کو لازماً مجازی انداز میں سمجھا جانا چاہیے (Qadhi and Khan 2018, 8–9)۔ اسی بنا پر یاسر قاضی اور نذیر خان (2018, 9) لکھتے ہیں: "اس نقطہ نظر میں تاویل کی کوئی حد باقی نہیں رہتی، اس طریقے کو آگے بڑھا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ نماز، روزہ، بلکہ خدا کا تصور بھی محض علامتیں ہیں۔"
اس کے بعد یاسر قاضی اور نذیر خان امام غزالی کی طرف آتے ہیں، جو علمِ کلام کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں۔ امام غزالی ابنِ سینا کے متعدد پہلوؤں پر ناقد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا ایک خاص اعتراض ابنِ سینا کی قرآن میں مذکور معجزات کی مجازی تاویلات پر بھی ہے۔ امام غزالی بظاہر متون اور عقل کے درمیان پائے جانے والے تصادم میں عقل کے استعمال کے مکمل حامی ہیں، کیونکہ انہی کے نزدیک قرآن کی صداقت کا تعین عقل ہی کے ذریعے ممکن ہے (اس پر تفصیل باب 9 میں آئے گی)۔ تاہم جہاں تک قرآن کی تعبیر کا تعلق ہے، ان کا اصول یہ ہے کہ اسلامی متن کو ظاہری مفہوم (literal face value) پر ہی لیا جائے، الا یہ کہ کوئی مضبوط اور منطقی برہانی استدلال موجود ہو جو مجازی تاویل کو ناگزیر بنا دے (Qadhi andKhan 2018, 9)۔ اس پر بھی باب 9 میں مزید تفصیل آئے گی۔
مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ کے "ہاتھ" کا ذکر۔ امام غزالی کے نزدیک یہ الفاظ حقیقی معنوں میں ہاتھ کی طرف اشارہ نہیں کرتے، کیونکہ خدا نہ تو زمان و مکان کا پابند ہے اور نہ ہی مادی جسم رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ خدا کے پاس حقیقی ہاتھ ہیں، غیر منطقی ہوگا۔ لیکن وہ چیزیں جنہیں ابنِ سینا علامتی مانتے تھے جیسے جنت اور دوزخ، امام غزالی کے نزدیک اپنے ظاہری معنی پر ہی لی جائیں گی، کیونکہ انہیں رد کرنے کی کوئی عقلی بنیاد موجود نہیں۔ یاسر قاضی اور نذیر خان امام غزالی پر کسی نکتہ نظر سے تنقید کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس طرزِ فکر کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
آخر میں یاسر قاضی اور نذیر خان امام ابنِ تیمیہ کی طرف آتے ہیں۔ ان کے فکری سانچے میں نہ تو تخییل کی ضرورت ہے اور نہ ہی تاویل کی۔ تصادم کی صورت میں ابنِ تیمیہ وحی کو ترجیح دیتے ہیں۔ غزالی کی طرح وہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عقل وحی کے اثبات کا ذریعہ ہے، لیکن اس کے بعد انسان کو چاہیے کہ وحی کے بیان کو بغیر کسی شرط کے تسلیم کرے اور اسے انسانی عقل کی ناقص اور محدود آرا کی بنیاد پر چیلنج نہ کرے (Qadhi and Khan 2018, 10)۔
ابنِ تیمیہ کے نزدیک وحی کی تائید فلسفیانہ دلائل کے بجائے فطرت سے بھی ہوتی ہے، اور یہی ان کے فکری نظام کا ایک نمایاں اور مخصوص پہلو ہے۔ اس طرح ابن تیمیہ کے ہاں وحی عقل سے زیادہ وزنی اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یاسر قاضی اور نذیر خان یہ بھی بتاتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے ہاں عقل اور وحی کی دوئی موجود ہی نہیں، کیونکہ عقل دین کا جزوِ لاینفک ہے۔ یہی ابنِ تیمیہ اور ابنِ سینا و غزالی کے درمیان ایک بڑا امتیازی فرق ہے۔ چنانچہ ان کے بقول اہم یہ ہے کہ دلیل قطعی ہو، خواہ وہ نقلی ہو یا عقلی۔ جب کوئی نقلی شہادت واضح اور غیر مبہم ہو تو وہاں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں (Qadhi and Khan 2018, 10)۔ البتہ جہاں کسی نص میں ابہام ہو اور اس کے متعدد ممکنہ معانی نکلتے ہوں، وہاں کسی بھی ایسے مفہوم کو اختیار کیا جا سکتا ہے جو زبان، عقل اور سائنس کے دائرے میں آتا ہو۔
تاہم یاسر قاضی اور نذیر خان (2018, 10) یہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ مجازی تاویل نہیں ہے، بلکہ کسی لفظ کے متعدد لغوی معانی میں سے ایک ایسے معنی کو اختیار کرنا ہے جو قطعی دلائل کی روشنی میں زیادہ موزوں ہو۔ اس کی مثال کے طور پر وہ قرآن میں "ستۃ ایام (چھ دن)" کے ذکر کو پیش کرتے ہیں، جسے عام طور پر چھ دنوں کے طور پر ترجمہ کیا جاتا ہے۔ لیکن لفظ ایام اپنے مفہوم میں وسیع ہے اور یہ کسی بھی مدتِ زمانہ پر دلالت کر سکتا ہے۔ لہٰذا اسے چھ چوبیس گھنٹوں کے دن بھی سمجھا جا سکتا ہے اور چھ مختلف ادوارِ وقت بھی (Qadhi and Khan 2018, 11)۔
یاسر قاضی اور نذیر خان کے نزدیک ان مختلف نقطہ ہائے نظر کے مضمرات نہایت اہم ہیں (Qadhi and Khan 2018, 11):
انسان کی ابتدا کے قصے کے معاملے میں ہمارے پاس ایک بالکل واضح بیان موجود ہے، جو قرآن کے بے شمار مقامات اور ان گنت نبوی بیانات (احادیث) میں نہایت گہرائی کے ساتھ رچا بسا ہے۔ اس لیے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اسے ہی وہ بات مانیں جس پر اللہ نے ہمیں ایمان لانے کے لیے کہا ہے۔ الفاظ، صفات اور افعال کی جو کثرت اور تنوع یہاں استعمال ہوا ہے، وہ کسی بھی قسم کی لسانی تاویل کو ناقابلِ قبول بنا دیتا ہے۔ اسی دوران، اس پورے بیان کو علامتی یا تمثیلی قرار دینے کی کوشش بعض معاصر مسلم سائنس دانوں کے لیے پرکشش ہو سکتی ہے، لیکن یہ طرزِ فکر منطقی طور پر غیر مربوط الٰہیاتی نتائج پیدا کرتا ہے اور قرآن کے اپنے اس اصرار کی نفی کرتا ہے کہ یہ بیانات بالکل حقیقی واقعات ہیں (3:62)۔ اس کے برعکس، ایک ایسی علمی و معرفتی مضبوط بنیاد قائم کرنا جس پر وحی اور سائنس دونوں کی صداقتیں ہم آہنگی کے ساتھ کارفرما ہوں، کہیں زیادہ نتیجہ خیز کوشش ہے۔
اس عبارت میں یاسر قاضی اور نذیر خان کھل کر بیان کرتے ہیں کہ نہ تاویل اور نہ ہی تخییل قرآن کی ایسی تعبیر میں مدد دے سکتے ہیں جس کے ذریعے ارتقا کو متن میں داخل کیا جا سکے، کیونکہ یہ دونوں طریقے داخلی طور پر غیر مربوط ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ یاسر قاضی اور نذیر خان دراصل ابنِ سینا اور غزالی کو براہِ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہے، بلکہ ان کے ایسے تاویلی طریقوں پر تنقید کر رہے ہیں جنہیں ارتقائی تعبیرات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یاسر قاضی اور نذیر خان کے نزدیک تخلیق کا بیانیہ، جیسا کہ باب 3 میں بیان ہوا ہے، ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ مجموعی طور پر قرآنی شہادتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ آدمؑ کے لیے کسی بھی قسم کے "والدین" کے تصور کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ارتقا کو مکمل طور پر رد کر دیا جائے۔ اگرچہ آدمؑ اور ان کی اولاد کے ارتقا کو تسلیم کرنا خارج از امکان ہے، لیکن وہ نہایت وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ مسلمان ارتقا کے دیگر کئی پہلوؤں کو قبول کر سکتے ہیں: اسلامی متون میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جو ابایوجینیسس (abiogenesis)، جینیاتی تغیر و تنوع (genetic mutation and diversification)، قدرتی انتخاب (natural selection)، ہومینڈ انواع (hominid species) کے وجود، یا زمین پر تمام حیاتیاتی زندگی کے ایک مشترکہ جدِ امجد (common ancestor) کے تصور کی صریح نفی کرتی ہو۔ استثنا صرف یہ ہے کہ آدم اور ان کی نسل اس عمومی قاعدے سے الگ ہیں (Qadhi and Khan 2018, 12)۔
چونکہ قرآن آدم کی تخلیق کو ایک معجزہ کے طور پر بیان کرتا ہے، اس لیے قاضی اور خان بھی کیلر کی طرح human exceptionalism (انسانی امتیاز) کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، کیلر کے برعکس وہ اسلام اور انسانی ارتقا کے درمیان کسی ممکنہ ہم آہنگی کے امکان کو سرے سے رد نہیں کرتے، اور یہی پہلو ان کے مؤقف کو منفرد بناتا ہے۔
یاسرقاضی اورنذیر خان کی فکر کی کلید سائنسی حقیقت پسندی (scientific realism) پر فلسفیانہ غور و فکر ہے۔ یہ فلسفہ سائنس میں ایک نہایت اہم بحث ہے جو اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ سائنسی مساوات اور نظریات ہمیں کیا بتاتے ہیں اور ہم ان پر کس حد تک یقین کر سکتے ہیں۔ اس بحث کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے جو وہ براہِ راست مشاہدہ (direct observation) اور غیر مستقیم مشاہدہ (indirect observation) کے درمیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی بھی دعویٰ جو براہِ راست مشاہدے پر قائم ہو، وہ تجرباتی طور پر درست ہے اور اسی بنا پر اسے "حقیقت" مانا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس غیر مستقیم مشاہدے ایسے ہیں جو مختلف تفسیروں، استدلالوں، نمونوں، قیاس آرائیوں، اور مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں، اور ان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ وہ تجرباتی طور پر مناسب دکھائی دیں (Qadhi and Khan 2018, 15)۔ اس لیے ایسے دعووں کا علمی وزن کم ہوتا ہے، اور چاہے کوئی سائنسی حقیقت پسندی کے کسی بھی درجے کا قائل ہو، وہ براہِ راست مشاہدے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ "جہاں تک غیر مشاہدہ شدہ حقائق کا تعلق ہے، وہاں سچائی کے طور پر ہم جو کچھ مان سکتے ہیں، وہ نہایت محدود ہے" (Qadhi and Khan 2018, 15)۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے سائنسی حقیقت پسندی پر بحث کا آغاز ہو جاتا ہے، اور یہ ہمارے مکالمے کے لیے نہایت اہم ہے: سوال یہ ہے کہ کسی شے کے وجود کو کس حد تک تسلیم کیا جا سکتا ہے، یا ہم کس بنیاد پر کسی غیر مشاہدہ شدہ چیز کے وجود پر ایمان قائم کر سکتے ہیں جسے سائنس پیش کرتی ہے؟ اس مسئلے پر آرا کا ایک وسیع سلسلہ پایا جاتا ہے، جسے ایک سپیکٹرم (spectrum) کی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے۔
اس فکری سپیکٹرم کے ایک سرے پر سائنسی حقیقت پسندی ہے، جو یہ موقف رکھتی ہے کہ سائنسی نظریات اور مساوات جو کچھ پیش کرتے ہیں، ان پر مضبوط یقین کیا جائے، خواہ وہ ابھی تک تجرباتی طور پر ثابت نہ ہوئے ہوں۔ اس کے برعکس، سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر مختلف اقسام کی سائنسی غیر حقیقت پسندی موجود ہے۔ ان میں سے ایک نمایاں مثال انسٹرومنٹل ازم (instrumentalism) کا نظریہ ہے، جس کے مطابق سائنس محض ایسے اوزار فراہم کرتی ہے جو کارآمد تو ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حقیقت کی درست نمائندگی بھی کرتے ہوں۔ جب تک "یہ کام کر رہا ہے"، یہی کافی ہے۔ البتہ اس سے کائنات کی کسی جامع اور حتمی تفہیم تک نہیں پہنچا جا سکتا (Chakravartty 2017)۔
اسی تناظر میں کثرتِ کائنات (multiverses) پر ہونے والی بحث کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو بعض اوقات سٹرنگ تھیوری کی پیداوار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں صرف اس بنا پر کثرتِ کائنات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ ایک نظریاتی امکان ہے، حالانکہ اس کے ثبوت موجود نہیں؟ یا پھر اسے محض ریاضیاتی فرضی ڈھانچے (mathematical artefacts) کے طور پر سمجھا جائے؟ (Wolt 2007; Kragh 2011)۔ ان مختلف پوزیشنوں کے درمیان جوں جوں حرکت کی جاتی ہے، بحث مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے (Chakravartty 2017; Ladyman 2020)۔ کیا سائنس ہمیں چیزوں (entity realism) کا انکشاف کرتی ہے یا صرف ڈھانچوں (structural realism) کا؟ اور کیا یہ وابستگیاں محض علمی (epistemic) ہیں یا وجودی (ontological) بھی؟ ان سب مختلف آرا کو سامنے رکھتے ہوئے یاسر قاضی اور نذیر خان نہایت وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سائنسی حقیقت پسندی کی کسی سخت اور جازم صورت کے حامی نہیں ہیں (2018, 15):
جب براہِ راست مشاہدہ کی جانے والی چیزوں کی بات ہو تو تجرباتی درستی (empirical adequacy) ہی سچائی کے مترادف ہے۔ لیکن جب غیر مشاہدہ شدہ امور کی بات آتی ہے تو ہم محض تفسیروں، استدلالوں، نمونوں، قیاس آرائیوں اور مفروضوں پر انحصار کرتے ہیں، جن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ تجرباتی طور پر درست دکھائی دیں۔ سائنسی حقیقت پسندی کی غیر ضروری مابعد الطبیعیاتی زیادتیوں سے بچنے کی کوشش میں اس کی مختلف ذیلی صورتیں سامنے آئیں، جیسے امپریکل اسٹرکچرل ریئلزم (empirical structural realism)، آنٹک اسٹرکچرل ریئلزم (ontic structural realism)، سیمی ریئلزم (semi-realism) وغیرہ۔ تاہم تقریباً تمام گروہوں کا ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ جب غیر مشاہدہ شدہ امور کی بات آتی ہے تو حقیقت کے طور پر ہم جو کچھ مان سکتے ہیں وہ نہایت محدود ہے۔
اس وضاحت کے بعد یاسر قاضی اور نذیر خان غیب (unseen) سے متعلق الٰہیاتی بحث کی طرف بڑھتے ہیں، مثلاً جنت، دوزخ اور خدا سے متعلق۔ انسانی وجود کی ابتدا کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ "کوئی انسان ماضی میں واپس جا کر یہ طے نہیں کر سکتا کہ آدم اور حوا کے وقت بالکل کیا ہوا تھا، لہٰذا یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو تجرباتی طور پر ناقابلِ مشاہدہ ہے، اور اسی لیے یہ غیب کے زمرے میں آتا ہے" (Qadhi and Khan 2018, 15)۔
اس بیان کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہاں غیب سے کیا مراد ہے۔ ابنِ تیمیہ کی بحث کے مطابق غیب کی دو قسمیں کی جا سکتی ہیں، اگرچہ یاسر قاضی اور نذیر خان نے ان اقسام کا ذکر نہیں کیا۔ پہلی قسم ہے غیبِ مطلق، یعنی وہ چیزیں جو سب سے پوشیدہ ہیں، جیسے جنت اور دوزخ۔ دوسری قسم ہے غیبِ مقید، یعنی وہ حقائق جنہیں بعض لوگوں نے براہِ راست دیکھا لیکن دوسروں تک وہ صرف وحی کے ذریعے پہنچے دیکھیے: (Jalajel 2018)۔ اس میں ماضی بعید کے وہ واقعات شامل ہیں جن کے کوئی مادی شواہد موجود نہیں، مثلاً انبیائے سابقین کے قصے۔ ہمارے لیے موجودہ دور میں آدمؑ کی تخلیق بالکل غیب کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ ہم انسانی ذرائع سے کسی مخصوص فرد "آدم" اور اس کی معجزانہ تخلیق کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ البتہ یہ اس کے اہل خانہ، بیوی اور اولاد کے لیے غیب نہیں تھا، جنہوں نے انہیں دیکھا اور ان کے ساتھ زندگی بسر کی۔ اس اعتبار سے آدمؑ غیبِ مقید کے ذیل میں آتے ہیں۔
یاسر قاضی اور نذیر خان سائنس میں حقیقت پسندی اور غیب کے اس تصور کو جوڑ کر یہ مقدمہ قائم کرتے ہیں کہ آدمؑ کا معاملہ سائنسی لحاظ سے غیر متعلق (empirically irrelevant) لیکن دینی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ چونکہ آدمؑ غیبِ مقید کے زمرے میں ہیں، لہٰذا تعریف کے لحاظ سے سائنس انہیں جان ہی نہیں سکتی۔ اس لیے سائنس نہ آدمؑ کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے اور نہ رد کر سکتی ہے: (Qadhi and Khan 2018, 1518)
جب ہم ہزاروں یا لاکھوں سال پہلے کے کسی غیر مشاہدہ شدہ زمانے کے بارے میں نظریات تشکیل دیتے ہیں، تو ہم صرف ان شواہد کی تفسیروں کی بنیاد پر نتائج اخذ کر سکتے ہیں جو آج تک محفوظ ہیں۔ ہم ایسا کوئی تجربہ ترتیب نہیں دے سکتے جو ہزاروں سال پیچھے جا کر یہ براہِ راست متعین کرے کہ وہاں کیا ہوا تھا۔
یہ نکتہ ڈیوڈ سولومون جَلالجل (David Solomon Jalajel) بھی بیان کر چکے ہیں، جن کا ہم آگے جا کر جائزہ لیں گے۔ اگر صورتحال یہی ہے تو پھر ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟ اس مقام پر یاسر قاضی کا مشہور ڈومینو استعارہ (domino analogy) سامنے آتا ہے، جس کا ذکر وہ اپنے کئی وڈیو لیکچرز میں کر چکے ہیں (Moran 2020)۔ اس مثال کا تصور کچھ یوں ہے کہ ایک قطار میں رکھے ڈومینوز ہیں۔ اگر آپ پہلے ڈومینو کو گرا دیں تو باقی تمام ڈومینوز ترتیب وار گر جاتے ہیں۔ لیکن اب فرض کریں کہ ایک قطار پہلے سے گری ہوئی ہے اور کوئی شخص آخر میں ایک اور گرا ہوا ڈومینو لا کر شامل کر دیتا ہے۔ کوئی تیسرا شخص جو اس پوری گری ہوئی قطار کو دیکھے گا، یہ اندازہ نہیں کر سکے گا کہ آخری ڈومینو اس سلسلہ وار گرنے کا حصہ نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح یاسر قاضی اور نذیر خان استدلال کرتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ ارتقائی عمل جاری تھا، اور اسی دوران جب انسانوں کے ظاہر ہونے، نمودار ہونے یا ارتقا پذیر ہونے کا مرحلہ آیا، تو آدمؑ معجزانہ طور پر نمودار ہوئے، جیسا کہ جدول 4.1 میں دکھایا گیا ہے، یہ جدول اصل کتاب کے صفحہ 131 پر موجود ہے۔ یہ تعبیر الٰہیاتی اعتبار سے بالکل ممکن ہے اور سائنسی نقطہ نظر سے ناقابلِ ابطال ہے (Qadhi and Khan 2018, 12):
یقیناً ایک ایسا منظرنامہ سوچا جا سکتا ہے جس میں ہومینڈ انواع (hominid species) زمین پر بتدریج ارتقا پذیر ہو رہی ہوں، اور بالکل اسی مرحلے پر جب ارتقائی ماہرین جدید انسان کے نمودار ہونے کی پیش گوئی کریں، اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر آدم کی اولاد کو وجود بخش دے۔ فرض کیجیے کہ یہ "آدمی نوع" (Adamic species) حیاتیاتی، جسمانی، فزیولوجیکل اور جینیاتی طور پر بالکل انہی انواع سے غیر ممیز ہوں جس کی ارتقائی تاریخ میں پہلے سے موجود آبادی کے تسلسل کی بنیاد پر سامنے آنے کی توقع تھی۔ وہ ارتقائی شجرہ نسب میں بالکل اسی مقام پر دکھائی دیں۔ ایسے منظرنامے کا واقع ہونا الٰہیاتی طور پر بالکل ممکن ہے، اور چونکہ یہ ایک ما بعد الطبیعیاتی دعویٰ ہے، اس لیے تجرباتی طور پر اس کی تردید ناممکن ہے۔
اس بیان کے مطابق آدمؑ کو بالکل صحیح حیاتیاتی ساخت کے ساتھ بالکل صحیح وقت پر پیدا کیا گیا، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ارتقائی عمل کا ایک مربوط حصہ ہوں۔
تاہم یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا یہ کسی قسم کی خدائی فریب دہی (divine deception) تو نہیں؟ یاسر قاضی اور نذیر خان اس سوال کو پہلے سے بھانپ لیتے ہیں اور اس کے دو جوابات پیش کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر یہ اصل اختلاف کا نقطہ ہے تو پھر یہ سائنس کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک الٰہیاتی سوال بن جاتا ہے جو سائنس دانوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ البتہ ان کا یہ جواب براہِ راست سائنس دانوں کے لیے نہیں بلکہ اُن لوگوں کے لیے ہے جنہیں وہ مذہب دشمن کہتے ہیں (Qadhi and Khan 2018, 13):
کوئی مذہب مخالف یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ خدا نے انسانوں کو اس طرح کیوں پیدا کیا کہ وہ دیگر حیاتیاتی انواع سے مشابہ نظر آئیں اور ارتقا کے مطابق دکھائی دیں۔ لیکن یہ اعتراض دراصل ایک کمزور الٰہیاتی اعتراض ہے (کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا) نہ کہ کوئی سائنسی اعتراض۔
مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں مراد دراصل بعض ایسے ملحدین ہیں جو مذہب کے خلاف موقف رکھتے ہیں اور ارتقا کو مذہب کے لیے ایک فیصلہ کن رد کے طور پر پیش کرتے ہیں، مثلاً رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) اور ڈینیئل ڈینیٹ (Daniel Dennett)۔ جب وہ خدا پر ایمان ہی نہیں رکھتے تو پھر وہ الٰہیات میں دخل اندازی کر کے یہ طے کیوں کر رہے ہیں کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں؟
یاسر قاضی اور نذیر خان کا دوسرا جواب اس اعتراض کو براہِ راست مخاطب کرتا ہے۔ ان کے نزدیک اس میں کوئی مسئلہ نہیں کہ خدا وحی کے ذریعے انسانوں کو انسانی تاریخ کے معجزانہ آغاز سے باخبر کرے، اگرچہ یہ بات سائنس کے ذریعے دریافت نہ ہو سکے۔ دونوں کو وہ علم کے درست ذرائع سمجھتے ہیں جو ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی سابقہ بحث میں سائنسی حقیقت پسندی اور غیب کے بارے میں آیا، انسانی صلاحیتیں لازمی طور پر ان امور تک نہیں پہنچ سکتیں جو غیب کا حصہ ہیں، الا یہ کہ وحی کے ذریعے ان کا علم دیا جائے۔ اس لیے وحی میں ایسے قطعی بیانات شامل ہیں جو خدا نے انسانوں کو عطا کیے اور جو وہ محض اپنی عقل یا تجربے سے نہیں جان سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ "الٰہیاتی نقطہ نظر سے اس میں کوئی دھوکہ دہی نہیں کہ خدا ہمیں وحی کے ذریعے ہماری آسمانی اصل کی خبر دے، جبکہ ہماری حیاتیاتی ساخت ہمیں زمینی سفر کی یاد دہانی کراتی رہے" (Qadhi and Khan 2018, 13)۔
وہ قرآن میں بیان کردہ ایسے معجزات کی مثال دیتے ہیں جنہیں جدید سائنس اپنی موجودہ حدود میں شاید کبھی تسلیم نہ کرے، مثلاً حضرت موسیٰؑ کا عصا سانپ میں بدل جانا، حضرت ابراہیمؑ کا آگ میں ڈالے جانے کے باوجود سلامت رہنا، یا نبی اکرم ﷺ کا چاند کو شق کرنا۔ اسی طرح فرشتے، جنات، جنت اور دوزخ ، جو زمان و مکان کی دنیا کا حصہ نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے سائنس کے دائرۂ کار سے باہر ہیں، لیکن اسلامی عقیدے کا بنیادی جزو ہیں۔ سائنسی نقطۂ نظر سے یہ سب چیزیں یا تو ناقابلِ فہم ہیں یا پھر ناممکن سمجھی جاتی ہیں، لیکن مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک یہ بالکل حقیقی اور برحق ہیں۔
چنانچہ وحی اُن 'اندھی جگہوں' (blind spots) کو پُر کرتی ہے جہاں سائنس خاموش یا بے بس ہے (Yazicioglu 2013)۔ یہی نکتہ یاسر قاضی اور نذیر خان کی سائنسی حقیقت پسندی سے متعلق بحث کو مزید تقویت دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ یاسر قاضی اور نذیر خان کا موقف قرآن میں بیان کردہ آدمؑ کے بیانیے کو محفوظ رکھتا ہے اور ساتھ ہی فطری علوم کو ان کی جائز علمی حدود سے آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس طرح، اگرچہ وہ بھی کیلر کی طرح human exceptionalism کے قائل ہیں، لیکن وہ یہ نہیں مانتے کہ اس کے نتیجے میں ارتقا کو مکمل طور پر رد کرنا لازمی ہے۔ یہ اس تیسرے اصول کی نمایاں مثال ہے جو پہلے ذکر کی گئی درجہ بندی میں شامل ہے۔ یعنی کوئی مفکر ارتقا کو کلی طور پر یا جزوی طور پر مسترد کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی ایسی تطبیقی صورتیں تجویز کر سکتا ہے جو مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں۔
(جاری)
صد سالہ زندگی کا سفرِ رواں
مہاتیر محمد
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد، جو اِس سال 10 جولائی کو اپنی عمر کے ایک سو سال مکمل کر چکے ہیں، ان کا شمار دنیا کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی قوم کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک منفرد اور توانا آواز کے طور پر اپنی پہچان قائم کی۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط سیاسی کیریئر میں وہ ملائیشیا کو زرعی معیشت سے ایک جدید صنعتی اور تجارتی طاقت میں تبدیل کرنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پیٹروناس ٹاورز جیسے منصوبے ان کے وژن کی علامت ہیں، جبکہ ان کی سخت گیر پالیسیوں اور غیر لچکدار مؤقف نے انہیں کچھ متنازع بھی بنایا۔ سو برس کی عمر کو پہنچنے کے قریب ہونے کے باوجود وہ بدستور ذہنی و عملی طور پر متحرک ہیں اور مختلف انٹرویوز میں اپنی زندگی، سیاست، صحت اور عالمی حالات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
’’چینل نیوز ایشیا‘‘، ’’میڈیکل چینل ایشیا‘‘، ’’دی اسٹریٹس ٹائمز‘‘ اور ’’آئی ٹی وی نیوز‘‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویوز اس بات کی جھلک پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنی طویل عمر کو نظم و ضبط، متوازن غذا اور مسلسل ذہنی و جسمانی سرگرمی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے روزمرہ معمولات، کھانے پینے کی احتیاط، ورزش اور مطالعہ و تحریر کے شوق کو صحت مند زندگی کا راز قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انٹرویوز میں ان کی سیاست کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ سامنے آتا ہے۔ وہ کبھی ویژن 2020ء اور ’’ایشین ٹائیگر‘‘ سے ’’کلپٹو کریسی‘‘ میں بدلتے ملائیشیا پر تبصرہ کرتے ہیں، کبھی انور ابراہیم کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور داخلی امور کے حوالے سے پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، اور کبھی ملائیشیا کے نسلی تنوع کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے بلکہ عالمِ اسلام میں بھی مہاتیر محمد اپنی جرأت مندانہ آراء کے لیے مشہور ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اکتوبر 2003ء میں ملائیشیا کے وزیراعظم کی حیثیت سے تنظیم برائے اسلامی تعاون (OIC) کی دسویں سربراہی کانفرنس کی صدارت کی جو کہ پٹراجایا، ملائیشیا میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر وہ OIC کے صدر منتخب ہوئے۔ تاہم یہ عہدہ صرف اگلے تین سالوں کے لیے تھا جب تک کہ اگلی سربراہی کانفرنس نہ ہو جائے۔ یہ ایک روایتی عمل ہے جس کے تحت میزبانی کرنے والا ملک خودبخود OIC کا صدر بن جاتا ہے۔
مہاتیر محمد نے امریکہ، چین، تائیوان، یوکرین جنگ اور خاص طور پر فلسطین کے مسئلے پر بھی کھل کر رائے دی ہے۔ وہ اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دیتے ہیں اور امریکہ کو اس میں برابر کا شریکِ جرم ٹھہراتے ہیں۔ وہ جہاں مغربی دنیا کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہیں، وہاں مسلم دنیا کی کمزوری کو قرآن کی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو یہ ظاہر کرتی ہے کہ عمرِ طویل کے باوجود وہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی سیاست کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔
یہ انٹرویوز مجموعی طور پر مہاتیر محمد کی شخصیت کے دونوں رخ دکھاتے ہیں: ایک طرف وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے ملائیشیا کو ترقی کے نئے راستوں پر ڈالا، اور دوسری طرف ایک ایسے سیاست دان بھی جنہیں آمرانہ رجحانات اور سخت گیر فیصلوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال ان کے بیانات اور خیالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اس عمر میں بھی جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست میں ایک ایسی آواز ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
’’میڈیکل چینل ایشیا‘‘ کا انٹرویو
29 جنوری 2024ء کو نشر ہونے والا یہ انٹرویو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پردانا لیڈرشپ فاؤنڈیشن میں ہوا جہاں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہاتیر محمد جنوب مشرقی ایشیا خصوصاً ملائیشیا میں ایک معروف نام ہیں جنہوں نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ملک کی ترقی کے راستے متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس انٹرویو میں ان کی ذاتی زندگی، سیاسی سفر اور طبی شعبے سے وابستگی پر بات کی گئی۔
مہاتیر محمد، جو اس وقت 98 برس کے ہیں، نے بتایا کہ طویل عمر کا کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ یہ بڑی بیماریوں سے بچ جانے اور محتاط طرزِ زندگی اختیار کرنے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان زیادہ نہ کھائے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور عمر گھٹ سکتی ہے۔ ساتھ ہی جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رہنا بھی لازمی ہے، یعنی پڑھنا، لکھنا، بات کرنا اور بحث مباحثہ دماغ کو متحرک رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کم کھانے کی عادت انہیں اپنی والدہ سے ملی جنہوں نے نصیحت کی تھی کہ جب کھانا بہت مزیدار لگے تو وہیں رک جانا چاہیے، کیونکہ اسی وقت زیادہ کھانے کا رجحان بڑھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عادت ابتدا میں مشکل تھی لیکن وقت کے ساتھ خود پر قابو پانا ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فارغ بیٹھنا نقصان دہ ہے، اس لیے انسان کو کوئی نہ کوئی مصروفیت تلاش کرنی چاہیے تاکہ جسم اور دماغ دونوں سرگرم رہیں۔
اپنے روزمرہ معمولات میں انہوں نے بتایا کہ وہ ہلکی ورزش کرتے ہیں اور ٹریڈمل پر چلتے ہیں۔ ناشتہ ہلکا رکھتے ہیں اور جلدی دفتر چلے جاتے ہیں۔ ان کے دن کا بڑا حصہ لوگوں سے ملاقات اور ان کے مسائل سننے یا مشورہ دینے میں گزرتا ہے۔ یہی مصروفیات انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر متحرک رکھتی ہیں۔
ذہنی دباؤ اور تناؤ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ انسان کو خود پر قابو پانا سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے مثال دی کہ انہوں نے خود کو یہ سکھایا ہے کہ کسی مسئلے پر بلاوجہ غصہ نہ کریں بلکہ سکون اور بردباری کے ساتھ معاملہ حل کریں۔ ان کے مطابق شروع میں یہ مشکل لگتا ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک عادت بن جاتی ہے اور پھر انسان فطری طور پر پُرسکون رہنے لگتا ہے۔ ان کے خیال میں روزمرہ مسائل پر قابو پانے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ انسان صبر کرے اور انتظار کرے، کیونکہ اکثر مسائل وقت کے ساتھ خود ہی حل ہو جاتے ہیں۔
’’آئی ٹی وی نیوز‘‘ کا انٹرویو
21 جون 2025ء کو نشر ہونے والا یہ انٹرویو مہاتیر محمد کی سو سالہ زندگی کے سنگِ میل کے قریب ریکارڈ کیا گیا، جس میں ان کی سیاسی کامیابیوں، ذاتی نظریات، عالمی سیاست پر خیالات، اور ان کے متنازع پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ مہاتیر محمد جنوب مشرقی ایشیا کی سیاست میں کئی دہائیوں تک ایک فیصلہ کن شخصیت رہے۔ وہ 22 سال تک مسلسل ملائیشیا کے وزیراعظم رہے جس دوران انہوں نے ملک کی معیشت کو زراعت اور اجناس پر انحصار کرنے والے نظام سے ایک جدید صنعتی و تجارتی طاقت میں بدل دیا۔ پیٹرول ٹاورز جیسے منصوبے ان کی ترقیاتی وژن کی علامت بنے۔ 2018ء میں 92 برس کی عمر میں دوبارہ اقتدار میں آکر وہ دنیا کے سب سے معمر منتخب رہنما قرار پائے۔
مہاتیر نے اپنی طویل عمر کا راز نظم و ضبط اور متحرک زندگی کو قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر جان لیوا بیماریوں سے بچا جائے تو انسان کو فعال رہنے کی ضرورت ہے، ورنہ دماغ اور جسم کمزور پڑ جاتے ہیں۔ وہ آج بھی مطالعہ، تحریر، ملاقاتوں اور لیکچرز کے ذریعے ذہن کو سرگرم رکھتے ہیں اور اپنی صحت کو متوازن غذا اور وزن پر قابو سے بہتر بنائے رکھتے ہیں۔
معاشی ورثے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا نے ان کی قیادت میں تیزی سے صنعتی ترقی کی اور نجکاری کے ذریعے برآمدی طاقت بن گیا۔ لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں پر انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہائی ٹیرف (بہت زیادہ درآمدی ٹیکس) آخرکار امریکی عوام کو ہی نقصان پہنچائیں گے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ کے ساتھ تجارت محدود ہوئی تو ہم دنیا کے باقی ممالک چین، روس اور دیگر ریاستوں کے ساتھ نئے تجارتی راستے تلاش کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور چین کے تعلقات کے حوالے سے ان کا ماننا ہے کہ وقت بدل رہا ہے اور اب چین دنیا کی نمبر ون طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہزاروں سال سے ملائیشیا کا تجارتی شریک رہا ہے اور کبھی قابض نہیں ہوا، جبکہ یورپی طاقتیں چند برسوں میں ہی نوآبادیاتی تسلط قائم کر گئیں۔ تائیوان کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ چین اگر چاہتا تو کب کا حملہ کر چکا ہوتا، مگر اس کے لیے تائیوان کی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی زیادہ قیمتی ہے، جبکہ امریکہ جان بوجھ کر تنازعہ بڑھا کر ہتھیار فروخت کرتا ہے۔
مہاتیر نے امریکی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نسل کشی ہے جسے امریکہ مالی اور عسکری مدد دے رہا ہے، لہٰذا امریکہ بھی اتنا ہی قصوروار ہے جتنا اسرائیل۔ انہوں نے بنیامین نیتن یاہو کو جانور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانوں کی طرح نہیں سوچتا۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلم دنیا کی کمزوری کو بھی تسلیم کیا کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے ہیں۔
یوکرین جنگ کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ روس کو نیٹو کے پھیلاؤ نے اشتعال دلایا، اس لیے وہ روس کو مکمل قصوروار نہیں سمجھتے۔ اسرائیل کے مقابلے میں وہ روس کے اقدامات کو ’’اشتعال کے جواب‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب مہاتیر محمد سے کہا گیا کہ ناقدین انہیں دوہرے معیار کا حامل قرار دیتے ہیں، تو انہوں نے اسے مسترد کیا اور کہا کہ اسرائیل 70 سال سے فلسطین کی زمین ہتھیا رہا ہے اور بہت سے لوگوں کو بغیر ٹرائیل کے جیل میں ڈالتا رہا ہے اور بہت سوں کو اس نے قتل کیا ہے۔
برطانیہ کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ اب وہ طاقتور ملک نہیں رہا بلکہ امریکہ کے تابع ہے۔
روہنگیا بحران پر ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا پہلے ہی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو پناہ دے چکا ہے، مزید بوجھ اٹھانا ممکن نہیں، اس کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔
ان کی شخصیت کے متنازع پہلو بھی زیر بحث آئے۔ ناقدین انہیں آمرانہ رویے، مخالفین پر کریک ڈاؤن (خصوصاً انور ابراہیم کے خلاف اقدامات)، ملائیشیا میں نسلی بالادستی کو فروغ دینے اور قریبی کاروباری حلقوں کو نوازنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ مہاتیر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کبھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ وہ جانتے ہیں کہ حکومت انہیں جیل میں ڈالنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہی ہے، مگر اپنی زندگی کو وہ ملک کے مفاد سے کم اہم سمجھتے ہیں۔
اپنے ورثے اور میراث کےمتعلق وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ لوگ انہیں یاد رکھیں یا بھلا دیں۔ انہوں نے کبھی نہیں چاہا کہ ان کا نام منصوبہ جات پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے فیصلے بھی کیے جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے بائیس سال اقتدار میں رہنے کے بعد جب دوسروں کے لیے جگہ چھوڑی تو اس سے نقصان ہوا اور اس نے ان کی پالیسیوں کو غیر مستحکم ہونے کا راستہ دیا۔ حالانکہ آج بھی وہ خود کو ملک اور اپنی قوم کے لیے سرگرم رکھتے ہیں۔
یہ انٹرویو ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ مہاتیر محمد کا کردار بیک وقت عظیم کامیابیوں، سخت گیر نظریات، عالمی سیاست پر جرات مندانہ تنقید، اور داخلی سطح پر تنازعات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہیں چاہا بھی جاتا ہے اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، مگر انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
’’چینل نیوز ایشیا‘‘ کا انٹرویو
10 جولائی 2025ء کو نشر ہونے والے اس انٹرویو کے آغاز میں مہاتیر محمد کو سو سال کی عمر تک پہنچنے پر مبارک دی گئی اور ان سے پوچھا گیا کہ ان کی سالگرہ کی خواہش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ وہ حقیقتاً سو سال کی عمر کو پہنچیں، کیونکہ ان چند دنوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اس کے بارے میں تب تک نہیں سوچنا چاہیں گے جب تک وہ اس عمر کو نہ پہنچ جائیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ سو سال کی عمر کو پہنچنا ایک خوف بھرا احساس ہے کیونکہ بہت کم لوگ اس عمر تک پہنچتے ہیں۔ لوگوں کی ان سے بڑی توقعات ہیں لیکن وہ خود نہیں جانتے کہ وہ یہ توقعات پوری کر سکیں گے یا نہیں۔ پھر بھی وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ سو سال کے بعد بھی وہ کارآمد رہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان اور دنیا کے کئی حصوں میں لوگ طویل عمر پاتے ہیں، خاص طور پر کیوشو اور اوکیناوا جیسے مقامات پر۔ وہاں لوگ اپنی طویل عمر کو ایک کڑوے مشروب سے منسوب کرتے ہیں۔ جب ان سے ان کی لمبی عمر کے راز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سب ان کی کوشش سے نہیں بلکہ قسمت سے ہوا ہے۔ انہیں بڑی بیماریوں نے متاثر نہیں کیا، سوائے ایک دل کے مرض کے جو جدید علاج کے ذریعے قابو میں آ گیا۔ اس کے بعد وہ صرف عام نزلہ، زکام یا فلو جیسی چیزوں میں مبتلا ہوئے جو جان لیوا نہیں ہوتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ کھانے پینے میں محتاط رہے ہیں تاکہ وزن نہ بڑھے۔ وہ ذہنی طور پر متحرک رہنے کو بھی بہت ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق پڑھنا، لکھنا، سوچنا، بات کرنا اور دلائل دینا دماغ کو سرگرم رکھتا ہے، ورنہ دماغ بھی باقی پٹھوں کی طرح کمزور ہو جاتا ہے اگر استعمال نہ کیا جائے۔ یہی چیز ان کی طویل عمر میں مددگار رہی۔
کتابوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ زندگی میں بیس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں اور اب بھی کچھ نیا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ وہ لمبا عرصہ وزیراعظم رہے ہیں اور تقریباً اَسی سال سے سیاست سے وابستہ ہیں اس لیے اپنے تجربات دوسروں تک منتقل کرنا ان کے نزدیک اہم بات ہے۔
سوشل میڈیا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی زیادہ تر کاغذ پر لکھتے ہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ ایک بورڈ اور کچھ خالی کاغذ موجود رہتے ہیں۔ جب بھی کوئی خیال آتا ہے وہ لکھ لیتے ہیں اور بعد میں وہ چیزیں سوشل میڈیا پر منتقل کر دی جاتی ہیں۔ زیادہ تر لکھائی وہ رات کو سکون کے وقت کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی روزمرہ زندگی کے بارے میں بتایا کہ وہ نوجوانی کے معمولات ہی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سات گھنٹے کی نیند لیتے ہیں، ناشتہ کرتے ہیں، دفتر جاتے ہیں، ملاقاتیں کرتے ہیں، تقاریر بھی کرتے ہیں اور رات کو وقت ملے تو لکھنے میں مشغول رہتے ہیں۔ گزشتہ رات وہ ایک پروگرام میں مصروف تھے اس لیے کچھ نہ لکھ سکے۔
اپنے وزن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عام طور پر وہ اسے 62 کلوگرام کے قریب رکھتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں یہ تھوڑا بڑھ گیا ہے، شاید ڈاکٹر کی دی گئی کچھ دواؤں کی وجہ سے۔
ان کا پسندیدہ مشروب کوکو ہے جو وہ صبح پیتے ہیں لیکن ایک بجے کے بعد کسی قسم کا کیفین والا مشروب نہیں لیتے تاکہ نیند پر اثر نہ پڑے۔ وہ عام طور پر رات ساڑھے دس یا گیارہ بجے سونے کے لیے بستر پر جاتے ہیں اور بارہ بجے تک وہ سوئے ہوتے ہیں۔
ورزش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ گھر کے آس پاس چکر لگاتے ہیں اور بعض اوقات ٹینڈم بائیک (دوہری سواری والی سائیکل) بھی چلاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو وہ اسے اپنی جسمانی سرگرمی کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ گھڑ سواری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ انہیں بہت پسند ہے لیکن سائیکل کے برعکس گھوڑے کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اچانک اچھل سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تین بار گر بھی چکے ہیں، اگرچہ شدید چوٹ نہیں آئی۔
کھانے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں کیلا پسند ہے لیکن ڈاکٹرز نے منع کیا ہے کیونکہ یہ فاسفیٹ بڑھاتا ہے، اس لیے وہ دوسرے پھل کھاتے ہیں۔ عام طور پر وہ سب کچھ کھا لیتے ہیں لیکن کم مقدار میں۔
’’دی سٹریٹس ٹائمز‘‘ کا انٹرویو
10 جولائی 2025ء کو نشر ہونے والا یہ انٹرویو مہاتیر محمد کے سو سال کی عمر مکمل کرنے کے موقع پر کیا گیا، جس میں انہوں نے اپنی سیاسی زندگی، ملائیشیا کی ترقی کے سفر، اور ذاتی طرزِ زندگی سے متعلق کئی اہم خیالات بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ان کے طویل تجربے کی وجہ سے اب بھی ان کے پاس آتے ہیں، کچھ ذاتی مسائل کے ساتھ لیکن زیادہ تر سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ چونکہ وہ اَسی برس سے زیادہ عرصہ سیاست میں رہے ہیں، اس لیے لوگ ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اب بھی خود کو ذہنی اور عملی طور پر متحرک رکھتے ہیں اور فارغ بیٹھنے کو اپنے مزاج کے خلاف سمجھتے ہیں۔
ویژن 2020ء کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ منصوبہ بنایا گیا تو ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور معیشت 7 سے 8 فیصد تک بڑھ رہی تھی۔ لیکن بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسی حکمت عملی کو جاری نہیں رکھا اور اپنی ذاتی طاقت کو استعمال کرنے پر زیادہ توجہ دی، جس سے کئی قیمتی سال ضائع ہو گئے۔ ایک وقت میں ملائیشیا کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ کہا جاتا تھا لیکن بعد میں بدعنوان حکمرانی نے اسے ایک ’’کلپٹو کریسی‘‘ میں بدل دیا، جو باعثِ شرمندگی ہے۔
انور ابراہیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ غیر ملکی دوروں میں بڑے بڑے سرمایہ کاری کے وعدے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ملک میں اس کا کچھ اثر نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق اگر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آتی ہے تو اس کا عملی اظہار زمین پر کارخانوں اور منصوبوں کی شکل میں ہونا چاہیے۔ تاہم حکومت انہیں مخالف سمجھتی ہے اور ان کی تجاویز صرف اس وجہ سے رد کر دیتی ہے کہ وہ اُن سے آتی ہیں۔
ملائیشیا کے نسلی تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں تین بڑی قومیتیں ہیں لیکن اس کے باوجود ملک مستحکم ہے اور ترقی کر رہا ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باوجود یہ استحکام اس بات کا ثبوت ہے کہ ملائیشیا نے تنوع کو خوش اسلوبی سے سنبھالا ہے، جو دنیا کے کئی یک نسلی ممالک سے زیادہ کامیابی ہے۔
صحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جسم اور دماغ دونوں کو متحرک رکھنا ضروری ہے۔ اگر انسان فارغ بیٹھے تو نہ صرف جسم کمزور ہوتا ہے بلکہ دماغ بھی یادداشت کھونے لگتا ہے۔ وہ خود مسلسل پڑھتے، لکھتے، گفتگو کرتے، لیکچر دیتے اور انٹرویوز میں حصہ لیتے ہیں تاکہ دماغ ہمیشہ فعال رہے۔ ان کے مطابق یہی طرزِ زندگی انہیں صحت مند رکھتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا پچیسواں سربراہی اجلاس — نیو ورلڈ آرڈر؟
ادارہ الشریعہ
یکم ستمبر 2025ء کو شنگھائی تعاون تنظیم (Shanghai Cooperation Organisation) کا سربراہ اجلاس چین کے شہر تیانجِن میں ایسے وقت میں منعقد ہوا جب کہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے دور کا آغاز ہو رہا ہے جس میں عالمی سطح پر امریکہ کی بالادستی کم ہو رہی ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا کا منظر سامنے آ رہا ہے۔ ایسا دور جس میں ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے ممالک
- مغرب اور امریکی اتحاد کے سیاسی اثر و رسوخ اور اجارہ داری سے نکلنے کا واضح فیصلہ کر چکے ہیں۔
- مغربی مالیاتی اداروں کے حصار سے نکلنا چاہتے ہیں اور ڈالر کے علاوہ کرنسیوں میں تجارت کرنا چاہتے ہیں۔
- اپنی سلامتی کے لیے امریکہ اور نیٹو جیسے مغربی اتحادوں پر انحصار ختم کرنا چاہتے ہیں۔
- عالمی مسائل اور اقوام متحدہ کے فیصلوں پر اپنے نقطۂ نظر کو مؤثر طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
- مغربی بلاک کے مقابلے میں ایک مضبوط سفارتی بلاک کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں۔
- اپنی ترجیحات خود طے کرنا چاہتے ہیں اور عالمی نظام میں زیادہ متوازن اور منصفانہ نمائندگی کے خواہاں ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم جو 2001ء میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، اور معاشی تعاون کے لیے قائم ہوئی تھی، آج روس، چین، بھارت، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایک وسیع پلیٹ فارم پر یکجا کرتی ہے۔ اس اجلاس کے لیے تیانجِن کا انتخاب اس لیے بھی اہم تھا کہ یہ شہر چین کی جدیدیت اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا علامتی مرکز سمجھا جاتا ہے، اور چین نے اسی پس منظر میں اس اجلاس کو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تعاون کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔
اجلاس کے متعلق میڈیا رپورٹس کے حوالہ جات کچھ اس طرح ہیں:
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا 25واں سربراہ اجلاس چین کے شمالی شہر تیانجِن میں یکم ستمبر 2025ء کو صدر شی جن پنگ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ نمائندگان شریک ہوئے۔ اجلاس کو یوریشیائی خطے میں سلامتی، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی تعلقات کے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے افتتاحی خطاب میں کہا: ’’ہم کسی بھی طرح کی اجارہ داری اور طاقت کی سیاست کے خلاف ہیں اور ایک کثیر قطبی نظام کو فروغ دیں گے۔‘‘ (رائٹرز — یکم ستمبر 2025ء)
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’SCO دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہم یکطرفہ اقدامات کی بجائے اجتماعی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ (اے پی — 2 ستمبر 2025ء)
اس اجلاس میں تنظیم کے ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ تین نئے مراکز قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جن کا تعلق منشیات، اطلاعات، اور منظم جرائم سے ہے۔ اس موقع پر لاؤس کو باضابطہ طور پر ’’ڈائیلاگ پارٹنر‘‘ کے طور پر شامل کیا گیا، نیز ڈائیلاگ پارٹنر کے موجودہ درجوں کو ختم کرکے ایک نیا درجہ ’’پارٹنر‘‘ کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ (سرکاری چینی خبر رساں ادارہ — 2 ستمبر 2025ء)
اجلاس میں تین اہم دستاویزات پر دستخط ہوئے۔ ان میں ’’تیانجِن اعلامیہ‘‘، ’’ایس سی او کی ترقیاتی حکمتِ عملی 2035ء تک‘‘، اور دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر روس اور چین کا مشترکہ ’’اعلان‘‘ شامل ہے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے اس موقع پر کہا: ’’یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ SCO علاقائی سلامتی اور عالمی تعاون کا سب سے معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔‘‘ (آستانہ ٹائمز — 2 ستمبر 2025ء)
چین نے اجلاس کے دوران اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔ صحافیوں اور وفود کی معاونت کے لیے ایک جدید ہومینائڈ روبوٹ ’’شیاوہی‘‘ متعارف کرایا گیا جس نے شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس روبوٹ کے متعلق کہا گیا کہ یہ چین کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت ہے۔ (ٹائمز آف انڈیا — 2 ستمبر 2025ء)
اختتامی اعلامیہ میں رکن ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کثیر الجہتی نظام کو فروغ دیتے ہوئے عالمی جنوب کے مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش رہیں گے۔ صدر شی نے کہا: ’’SCO کو دنیا کے لیے متبادل عالمی حکمرانی کا ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے گا جو انصاف، شراکت داری اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہو۔‘‘ (سی ایس آئی ایس — 2 ستمبر 2025ء)
چینی صدر نے اجلاس کے دوران ایک نئے ترقیاتی بینک کے قیام کا اعلان کیا جسے ’’SCO ڈیولپمنٹ بینک‘‘ کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ’’رکن ممالک کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی ترقی کے منصوبوں کو مالی اعانت فراہم کرے گا‘‘۔ چین نے اس بینک کے لیے 1.4 بلین ڈالر کے ابتدائی قرض کی پیشکش کی اور ’’الیکٹرویوان‘‘ نظام کے فروغ کا اعلان بھی کیا تاکہ توانائی کے شعبے میں تجارتی لین دین چینی کرنسی کے ذریعے ہو سکے۔ (رائٹرز — 3 ستمبر 2025ء)
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر زور دیا اور کہا: ’’بھارت نے دہشت گردی کا بدترین چہرہ پہلگام میں دیکھا جہاں حالیہ حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس خطرے کا مقابلہ ہم سب کو مل کر کرنا ہوگا۔‘‘ (اکنامک ٹائمز — 3 ستمبر 2025ء)
اجلاس کے دوران ایک اہم لمحہ اس وقت سامنے آیا جب صدر شی جن پنگ، صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیراعظم نریندر مودی ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑے نظر آئے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’’ہم نے بھارت اور روس کو چین کے سب سے تاریک سائے میں کھو دیا ہے۔‘‘ (رائٹرز — 5 ستمبر 2025ء)
اس منظر کو عالمی میڈیا نے ‘‘نئے اتحاد کی علامت‘‘ قرار دیا۔ (انڈیا ٹوڈے — 5 ستمبر 2025ء)
اس طرح تیانجِن اجلاس نے نہ صرف علاقائی تعاون کو ایک نیا رخ دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئے توازن کی بنیاد رکھنے کی جانب بھی ایک نمایاں قدم اٹھایا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم
شنگھائی تعاون تنظیم (Shanghai Cooperation Organization - SCO) ایک بین الاقوامی اور علاقائی تنظیم ہے جس کا قیام 15 جون 2001ء کو چین کے شہر شنگھائی میں عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کے چھ بانی ممالک تھے: چین، روس، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان۔ 2017ء میں بھارت اور پاکستان کو بھی مستقل رکنیت دے دی گئی، جس سے یہ دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیموں میں شامل ہوگئی۔ حالیہ برسوں میں ایران بھی مستقل رکن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور بیلاروس کی شمولیت پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔
اس تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس میں سلامتی کے حوالے سے تعاون، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اقدامات، علاقائی استحکام اور معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی، انفراسٹرکچر اور باہمی روابط کے فروغ جیسے نکات شامل ہیں۔ ’’تین برائیوں‘‘ (دہشت گردی، علیحدگی پسندی، انتہاپسندی) کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اس تنظیم کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی اور وسیع ترین جغرافیائی علاقے پر محیط ہیں۔ اس کے تحت مختلف ماہرین، وزارتی اجلاس، دفاعی مشقیں، اور اقتصادی تعاون کے منصوبے زیرعمل رہتے ہیں۔ تنظیم کی مستقل سیکرٹریٹ بیجنگ میں ہے، جبکہ ایک اہم ادارہ ’’ریجنل اینٹی ٹیرر اسٹرکچر‘‘ (RATS) تاشقند، ازبکستان میں قائم ہے۔
یہ تنظیم محض سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اب آہستہ آہستہ اقتصادی تعاون، توانائی کے اشتراک، ٹیکنالوجی کے تبادلے، تعلیمی اور ثقافتی راوبط کا بھی مرکز بن رہی ہے۔ چین اور روس اس کے بڑے محرک ہیں لیکن وسطی ایشیائی ممالک اسے اپنی خودمختاری اور ترقی کے لیے ایک متوازن پلیٹ فارم سمجھتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی شمولیت نے اسے جنوبی ایشیا تک وسیع کر دیا ہے، جبکہ ایران اور بیلاروس کی موجودگی سے یہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔
یوں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ایک ایسا فورم بنتا جا رہا ہے جو مغربی اداروں خصوصاً نیٹو اور جی سیون کے متبادل یا توازن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسے ’’یوریشیا کا سیاسی، معاشی اور سلامتی کا پل‘‘ کہا جاتا ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی نظام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایک نیا عالمی نظام (New World Order)؟
2025ء کا تیانجِن اجلاس بظاہر ایک علاقائی ملاقات تھا لیکن حقیقت میں یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیوں کا مظہر تھا۔ مودی، شی اور پیوٹن کی مشترکہ تصویر کو عالمی میڈیا نے ’’ایک نیا اتحاد‘‘ قرار دیا اور اسے مغربی دنیا کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا۔ امریکی مبصرین نے لکھا کہ یہ لمحہ ’’امریکہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑانے کے لیے کافی ہے‘‘ اور سوال اٹھایا کہ ’’کیا یہ نیا عالمی نظم ہے؟‘‘ (ٹائمز آف انڈیا — 2 ستمبر 2025ء)
صدر شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں مغرب کے خدشات کو بالواسطہ درست بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ’’بین الاقوامی تعلقات کا نیا ماڈل‘‘ ہے اور یہ کہ دنیا کو اب ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جو برابری اور شراکت داری پر مبنی ہو، نہ کہ طاقت کے یکطرفہ استعمال پر۔ ان کے الفاظ کو کئی مبصرین نے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے ایجنڈے کی کھلی نشاندہی قرار دیا۔ (رائٹرز — یکم ستمبر 2025ء)
ایشیائی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو SCO کو مغرب کی بالادستی کے متبادل کے طور پر خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ چین اور روس کے لیے یہ پلیٹ فارم امریکی اثرورسوخ کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک اسے اپنی خودمختاری، معاشی ترقی اور سلامتی کے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس اس بات کا اعلان تھا کہ دنیا اب ’’یک قطبی نظام‘‘ سے نکل کر ’’کثیر القطبی نظام‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (ایسوسی ایٹڈ پریس — 2 ستمبر 2025ء)
دوسری طرف مغربی دنیا میں خدشات گہرے ہیں۔ فائنانشل ٹائمز نے لکھا کہ اگرچہ ایک نئے عالمی نظم کی ضرورت ہے، لیکن یہ خطرہ موجود ہے کہ یہ نظم شی کے چین کے ماڈل پر مبنی ہوگا جو جمہوری اقدار اور انفرادی آزادیوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اس تجزیے میں واضح کیا گیا کہ مغرب اس نئے ابھرتے ماڈل کو اپنی اقدار اور سیاسی اثرورسوخ کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے۔ (فائنانشل ٹائمز — 2 ستمبر 2025ء)
اس طرح جہاں ایشیا اور یوریشیا کے لیے یہ اجلاس ایک نئے دور کا آغاز ہے، وہیں مغرب کے لیے یہ ایک گہری فکری اور سیاسی تشویش کا باعث ہے۔ ایک طرف اسے ’’متبادل عالمی حکمرانی‘‘ کا اعلان کہا جا رہا ہے تو دوسری طرف ’’آمرانہ بلاک‘‘ کے قیام کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ دو رُخی ہی دراصل اس اجلاس کو عالمی سیاست میں ایک نئے موڑ کی حیثیت دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے اجلاس کی اہمیت
پاکستان کے سفیر برائے چین خلیل ہاشمی نے پاکستان اور چین کے درمیان ’’آہنی بھائی چارے‘‘ کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ تیانجن کا اجلاس علاقائی امن، خوشحالی اور ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ سے متعلق اجتماعی عزم کو ایک نئے جذبہ کے ساتھ تازہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) دراصل اعتماد، مساوات، مکالمہ، اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر قائم ہے اور انہی بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اسے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک اہم فورم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے اس پلیٹ فارم پر بھرپور کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ نیز سی پیک (CPEC) کو صرف دو طرفہ منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی روابط اور اشتراک کے ایک اہم ذریعہ کی حیثیت دی جانی چاہیے۔ مزید یہ کہ چین کی قیادت میں یہ تنظیم اب نئے شعبوں جیسے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، گرین ڈیویلپمنٹ اور خطے میں روابط کے فروغ پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ (ڈان — 23 اگست 2025ء)
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں اہم مسائل اجاگر کیے جن میں دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق تنازعہ اور دہشت گردی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر دو صورتوں میں یکطرفہ اقدام نہیں قبول کرتا۔ وزیراعظم نے بامقصد مذاکرات پر زور دیتے ہوئے جمہوریت، عالمی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام، اور علاقائی تعاون پر زور دیا۔ (ڈان / بزنس ریکارڈر — یکم ستمبر 2025ء)
وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کیا، یہاں تک کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے حالیہ دہشت گرد حملوں میں مخصوص غیر ممالک کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد حاصل کیے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کی پابندی ایس سی او کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ (دی نیوز — یکم ستمبر 2025ء، ڈان — 2 ستمبر 2025ء)
چینی صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو یاد دلایا کہ چینی کارکنوں کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سی پیک سے منسلک علاقوں میں۔ صدر شی کی طرف سے یہ یاددہانی چینی اہلکاروں کی سلامتی کے حوالے سے چین کی تشویش اور پاکستان پر اس سلسلے میں دباؤ کی علامت تھی۔ (رائٹرز — 2 ستمبر 2025ء)
یہ اجلاس پاکستان کے لیے اس لیے بہت اہم تھا کہ اِس نے اُسے عالمی اور علاقائی اثرورسوخ کا ایک مؤثر سٹیج فراہم کیا۔ پاکستان نے اس فورم سے اپنے اہم مقاصد کے سلسلہ میں فائدہ اٹھایا، جس میں سب سے نمایاں ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘‘ (سی پیک) کے ضمن میں تجارتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر عملدرآمد دکھائی دیتا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان نے SCO کے ساتھ اپنے اقتصادی اور جغرافیائی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش ظاہر کی، خاص طور پر سی پیک کو ایس سی او کے اقتصادی اہداف کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا۔ (پاکستان ٹوڈے — 3 ستمبر 2025ء)
خلاصہ یہ کہ پاکستان اس اجلاس کو اپنے قومی مقاصد کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں سی پیک اور تجارتی تعلقات کو SCO سے منسلک ممالک کے اقتصادی ایجنڈوں کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ تنازعات، خصوصاً پانی اور دہشت گردی کے امور کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کی بات کرتے ہوئے علاقائی استحکام اور پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا۔ اور صدر شی جن پنگ کی یاددہانی کے جواب میں پاکستان نے چینی سرمایہ کاری اور سلامتی کے تحفظ کو اپنا اولین وفاقی مقصد قرار دیا۔
قطر میں اسرائیلی حملہ: سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کا موقف اور پاکستان کا جواب
عاصم افتخار احمد
گیارہ ستمبر کو ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی نمائندہ ڈینی ڈنون نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے قائدین کے خلاف حملے کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ دہشت گرد کہیں بھی چھپ نہیں سکتے، چاہے وہ غزہ ہو، تہران ہو یا دوحہ۔ اور اسرائیلی حملے کو ایک بہادرانہ اور درست آپریشن قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قاتل اور منصوبہ ساز عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مثلاً مطالبہ کیا کہ قطر حماس کی مذمت کرے، انہیں نکالے، یا پرامن حل کے لیے جوابدہ بنائے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کا دفاع کرتے ہوئے ڈینی ڈنون نے امریکہ کی اس کارروائی کی مثال دی جس میں معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان کے اندر کارروائی کی گئی تھی، اور سوال اٹھایا کہ جب وہ کارروائی ہوئی تھی تب عالمی برادری نے اتنی شدید تنقید کیوں نہیں کی جتنی اب قطر میں اسرائیلی حملے پر ہو رہی ہے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ جناب اعظم افتخار احمد نے جو گفتگو کی اس کا ترجمہ درج ذیل پیش کیا جا رہا ہے-
(ادارہ الشریعہ)
’’جناب صدر!
میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے پاکستان کو دوبارہ بات کرنے کا موقع دیا۔ مجھے اس لیے مداخلت کرنا پڑ رہی ہے تاکہ کچھ بے بنیاد باتوں کا جواب دیا جا سکے۔ اسرائیل کے نمائندے نے شاید توجہ سے آج کے مباحثے میں تمام اراکین اور مقررین کی گفتگو نہیں سنی۔ ہماری نظر میں یہ بالکل ناقابلِ قبول بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک جارح، ایک قابض، ایک ایسا ملک جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزی کرتا ہے — یعنی اسرائیل — اس ایوان کا غلط استعمال کرے اور اس کونسل کے تقدس کی توہین کرے۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
دوسروں پر انگلیاں اٹھانا اور بے بنیاد الزامات لگانا دراصل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ لیکن یہ کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ ایک قابض قوت کسی کی بات نہیں سنتی، وہ کسی کی نصیحت پر کان نہیں دھرتی، حتیٰ کہ اپنے دوستوں کی بات پر بھی نہیں۔اگر کوئی دوست باقی بچا ہو۔ وہ صرف انکار نہیں کرتی بلکہ بین الاقوامی برادری، عالمی میڈیا، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو دھمکاتی ہے۔ وہ عالمی عدالتِ انصاف اور عالمی فوجداری عدالت کو بھی نہیں مانتی اور اقوامِ متحدہ اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں تک کو دھمکاتی ہے۔ یہ سب وہ بلا روک ٹوک اس لیے کرتی ہے کیونکہ اس کے پشت پناہ موجود ہیں، جو بار بار عالمی برادری کے برخلاف اس کی غیر قانونی حرکتوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔
اور اسرائیل ہر قابض کی طرح، خود جارح ہونے کے باوجود، مظلوم بننے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ مگر آج یہ بالکل بے نقاب ہو چکا ہے۔ جناب صدر! اس کونسل نے دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ اور فلسطینی مسئلے پر بات کی ہے۔ اجلاس پر اجلاس، گھنٹوں ہم نے اس ایجنڈے پر صَرف کیے ہیں۔ یہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اسرائیل کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اپنے غیر قانونی قبضے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتا ہے اور اس کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے، اسی لیے یہ مباحثے ہوتے ہیں۔
اسرائیل نے ایک غیر متعلقہ واقعے کا حوالہ دے کر پاکستان کے بارے میں گمراہ کن باتیں بھی کی ہیں، تاکہ اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کر سکے۔ پاکستان کا موقف اس واقعے پر بالکل واضح ہے اور عوامی سطح پر موجود ہے۔ عالمی برادری اچھی طرح جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے آگے رہ کر قربانیاں دی ہیں۔ پوری دنیا، بشمول ہمارے شراکت دار، اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ القاعدہ کا ڈھانچہ زیادہ تر پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے ختم ہوا۔ ہم آج بھی اس اجتماعی عالمی جدوجہد کے لیے پرعزم ہیں۔
ہم کسی ایسی غیر ذمہ دار اور باغی ریاست کے اشاروں کو قبول نہیں کر سکتے جو دراصل بدترین ریاستی دہشت گردی کی مرتکب ہے۔ جیسا کہ آج غزہ میں اور دہائیوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہو رہا ہے۔ ہم کسی بھی جھوٹے موازنہ کو مسترد کرتے ہیں، جیسا کہ قطر نے بھی کیا ہے۔ قابض قوت کو آج سلامتی کونسل کا جاری کردہ بیان غور سے پڑھنا چاہیے۔ ایسا بیان عام طور پر اس سے زیادہ سخت ہوتا ہے، بہرحال یہ کونسل کا متفقہ بیان ہے، مجھے با آواز بلند اسے یہاں پڑھنے دیجیے:
”سلامتی کونسل کے اراکین نے 9 ستمبر کو ایک کلیدی ثالث کے علاقے دوحہ میں ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے عام شہریوں کی ہلاکت پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔ کونسل کے اراکین نے کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کو اجاگر کیا۔ کونسل کے اراکین نے یہ بھی یاد دلایا کہ قطر، مصر اور امریکہ خطے میں ثالثی کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ کونسل کے اراکین نے زور دیا کہ یرغمالیوں کی رہائی، بشمول ان کے جو حماس کے ہاتھوں مارے گئے، اور غزہ میں جنگ اور انسانی المیے کے خاتمے کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس حوالے سے انہوں نے قطر، مصر اور امریکہ کی جاری سفارتی کوششوں کی اہمیت دہراتے ہوئے فریقین پر امن کے موقع کو غنیمت جاننے پر زور دیا۔“
یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے ہم آج اس اجلاس میں موجود ہیں۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
(ڈی ڈبلیو ایس نیوز، ۱۲ ستمبر ۲۰۲۵ء)
غزہ و قطر پر اسرائیلی جارحیت اوراُمتِ مسلمہ کی بے بسی وبے حسی
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
قرآن جو کہتا ہے ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدیکم خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی فساد پھیلا ہوا ہے۔ خشکی میں بھی فساد پھیلا ہوا ہے اور سمندر میں بھی فساد پھیلا ہوا ہے بما کسبت ایدیکم تمہارے ہاتھ کی کمائی کی وجہ سے۔ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا نتیجہ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہاری خشکی میں بھی فساد ہے تمہارے سمندر میں بھی فساد ہے۔ یعنی جہاں خشکی میں لوگ رہتے ہیں تو وہاں پر اللہ کی نافرمانی کر کے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیمات کی خلاف ورزی کر کے تم نے اپنے آپ کو تباہی تک پہنچا دیا ہے۔
وہی امتِ مسلمہ، علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام، جس نے آدھی سے زیادہ دنیا پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کی تھی۔ آج وہ اس طرح ذلیل اور خوار ہو کر زندگی گزار رہی ہے کہ اسرائیل جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے آ کر حملہ کر کے چلا جاتا ہے۔ اور ہماری امتِ مسلمہ کے لیڈروں کی زبان پر مذمت کے الفاظ کے سوا کوئی اس کا مداوا نہیں ہوتا۔ بہت بڑی مذمت، بھئی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ کس بات کی مذمت کرتے ہیں کہ اسرائیل نے آ کر دوحہ کے اوپر حملہ کر دیا اور بہت سے لوگ شہید ہو گئے، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی۔ جواب میں امتِ مسلمہ کیا کہہ رہی ہے؟ ہم اس کی بڑی مذمت کرتے ہیں۔
اور ٹرمپ صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ یہ میرے علم کے بغیر ہو گیا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایسا ہو گا۔ اور آئندہ نہیں کریں گے۔ یعنی بے وقوف بھی بنائیں اور ہماری بے وقوفی کا مذاق بھی اڑائیں کہ آئندہ نہیں ہو گا۔
اور جو کرنے والا وہ کہہ رہا ہے، نہیں، میں آئندہ بھی کروں گا، میں چھوڑوں گا نہیں۔ روز پٹائی ہو رہی ہے۔ ایک مست ہاتھی ہے درندہ، جو کبھی غزہ پہ حملہ آور ہوتا ہے، کبھی شام پر حملہ آور ہوتا ہے، کبھی لبنان پر حملہ آور ہوتا ہے، کبھی یمن پر کرتا ہے، کبھی عراق پر کرتا ہے، کبھی شام پر کرتا ہے۔ اور اب دوحہ پر بھی کر دیا جس کے پاس سب سے بڑا امریکی اڈہ موجود ہے۔ کس لیے موجود ہے؟ اربوں ڈالر دے کر یہ اڈہ اس لیے لیا گیا ہے تاکہ اگر کوئی حملہ آور ہو تو یہ اس کے حملے کو روک سکے۔ مگر وہ اڈہ اپنی جگہ پر قائم ہے، کھربوں ڈالر اس کو دے دیے ہوئے ہیں، اور آ کر حملہ کر کے چلا جاتا ہے۔
اور ساری امتِ مسلمہ کہتی بھئی بہت خراب کام ہوا بہت برا کام ہوا۔ کوئی اس کے جواب دینے کے اوپر تیار نہیں ہوتا۔ یہ کیا ہو رہا ہمارے ساتھ؟ کھلواڑ ہو رہی ہے۔ ہمیں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں رسوا کیا جا رہا ہے سرِ بازار۔ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس لیے کہ تم نے محمدؐ سے وفا نہیں کی، صلی اللہ علیہ وسلم …
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
لیکن جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا نہ کرے۔ جو غیر لوگوں کو اپنا مقتدا اپنا امام بنا لے۔ جو یہ کہے کہ حضورؐ کی سنت پر جو عمل کر رہا ہے وہ معاذ اللہ رجعت پسند ہے، دقیانوسی ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لو کہ جو سنت پر عمل کر کے زندگی گزار رہا ہے، جنہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے، جنہوں نے پگڑی پہنی ہوئی ہے، جنہوں نے ٹوپی رکھی ہوئی ہے، وہ ساری دنیا میں الگ؛ یہ میں؛ یہ پچھلے، اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو۔
اور ساری امتِ مسلمہ، اول سے لے کر آخر تک، اسلام کا نام لینے والے، کلمہ پڑھنے والے، انہوں نے امام بنا لیا ہے انگریز اور امریکہ کو۔ اس کی نقل اتاریں گے۔ اس جیسا لباس پہنیں گے۔ اس جیسے طور طریقے اپنائیں گے۔ اور اسی کو اپنا مقتدا سمجھیں گے۔ ہر چیز میں اس کی طرف دیکھیں گے۔ اس کی زبان بولیں گے۔ اپنی زبان بولنے میں شرمائیں گے۔ اور اس کی زبان بول کر فخر محسوس کریں گے۔
یہ سارا نظام ہمارے عالمِ اسلام کا اس طرح چل رہا ہے۔ جب تم نے ان کو امام بنا لیا، جو درحقیقت تمہارے دشمن ہیں، جن کو تم ایک آنکھ نہیں بھاتے، جو تمہیں انسان ہی نہیں سمجھتے۔ ان کی نظر میں انسان صرف وہ ہے جو گوری چمڑی والا ہے، جو انگریزی نسل رکھتا ہے، جو امریکہ اور یورپ میں پروان چڑھا ہے، وہی انسان ہے، اس کی جان کی قیمت ہے۔ اور تم جو اللہ کا نام لینے والے ہو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے والے ہو، تمہاری کیڑے مکوڑے سے بھی زیادہ حقیقت نہیں ہے۔ دیکھ لو غزہ کے اندر، اسی ہزار مسلمان بچے، عورتیں، جوان، اور مریض، بیمار، بوڑھے۔
کس طرح فاقہ کشی کا شکار ہیں، دنیا تماشا دیکھ رہی ہے کہ محاصرہ کیا ہوا ہے، امداد پہنچنے کے راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ وہ جو انسانیت کا نام لینے والے وہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ بچے، دودھ پیتے بچوں کو دودھ میسر نہیں ہے۔ اور اسرائیل نے ڈنکے کی چوٹ محاصرہ ایسا قائم کیا ہوا ہے کہ کوئی امداد کا ٹرک وہاں سے گزر نہ سکے۔
اور ساری دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔ امریکہ بھی، یورپ بھی، چین اور روس بھی، اور خود افسوس یہ ہے کہ پورا عالمِ اسلام بھی تماشا دیکھ رہا ہے، مذمت کر رہا ہے، بہت برا کام ہو رہا بہت برا کام ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا کوئی مداوا، اس اژدھے کے اوپر کوئی ہاتھ مارنا، اس کو قتل کرنے کی کوئی کارروائی، اور اس پر حملہ کرنے کی کوئی کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کر رہا۔ کیوں نہیں کر رہا؟ ارے بھئی تم نے خود ان کو امام بنایا تھا، تم نے خود ان کو اپنا مقتدا بنایا تھا، تم نے ان جیسی شکل و صورت اپنی بنا لی، ان جیسے اخلاق و اعمال تم نے اپنا لیے، بلکہ ان کی اچھی چیزوں کو تو اپنایا نہیں، بری چیزیں تم نے اپنا لیں، اور پھر کہتے ہو کہ اللہ کی مدد آنی چاہیے، کیوں نہیں آ رہی؟
تو یہ سارا کچھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ نتیجہ ہے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے بغاوت کا۔
(جامعہ دارالعلوم کراچی میڈیا آفیشل)
https://youtu.be/VfOcENEjpdc
مشرقِ وسطیٰ میں تیز تر تبدیلیاں: مستقبل کیا ہو گا؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
قطر پر حملہ کا پسِ منظر
نو ستمبر 2025ء کو اسرائیل نے فضائی دہشت گردانہ حملہ قطر کے دارالحکومت دوحہ پر کر دیا جس کا ہدف حماس کی قیادت تھی۔ شہید ہونے والوں میں پانچ حماس کے اراکین اور ایک قطری سیکورٹی آفیسر شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہشت گرد تنظیم کی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش تھی، حالانکہ وہ قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ہی پیش کردہ نئے مسودۂ جنگ بندی پر غور کر رہے تھے۔ قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان دو سالوں سے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، جن کا حصہ امریکی اہلکار بھی رہے ہیں۔ اسی طرح حماس کی قیادت کی میزبانی بھی قطر نے امریکہ کے کہنے پر ہی کی تھی۔ قطر امریکہ کا بہت بڑا اتحادی ہے، امریکہ کا سب سے بڑا بیرونی عسکری اڈا قطر کے العدید میں ہے۔ یہ جارحیت ایک آزاد ملک کی سالمیت پر حملہ تھا دوسرے سفارتی کوششوں پر حملہ بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملہ کرنا ہی تھا تو اسرائیل خود کیوں اِن سفارتی کوششوں کا حصہ بنا ہوا تھا اس کے وفود بات چیت کے لیے کیوں دوحہ اور مصر آ جا رہے تھے؟
قطر اور باقی دنیا کا ردعمل
قطر نے اس حملے کو ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ کہا، اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، اور بین الاقوامی قانون کی پامالی ہونے پر شدید مذمت کی۔ عالمی اور خطہ کے ممالک کا رد عمل بھی شدید رہا۔ بہت سے مسلم اور عرب ممالک نے حملے کی مذمت کی، اقوام متحدہ اور حقوقِ انسانی تنظیموں نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہا۔
غزہ پر اثرات
دوحہ میں ہونے والی اس بمباری کا براہِ راست غزہ پر بھی گہرا اثر پڑا چاہے وہ فوری طور پر محسوس ہوا ہو یا مختلف سطحوں پر بعد میں ظاہر ہوا ہو۔ سب سے پہلے تو مذاکرات کا عمل ہی متاثر ہو کر رہ گیا۔ یہ حملہ اُس وقت ہوا جب حماس کی ٹیم جنگ بندی کے نئے مسودہ پر غور کر رہی تھی۔ اس سے مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے، اِس بات کا شبہ پیدا ہوا کہ اسرائیل مذاکرات سے پہلے یا دورانِ مذاکرات بھی حملے کر سکتا ہے۔ اس جارحیت سے ثالثوں کے اعتماد میں کمی آئی اور ان کو سلامتی کی تشویش لاحق ہوئی ہے۔ کہ قطر جیسے قابلِ اعتماد ثالث پر حملہ ہونے سے یہ لگا کہ خطّے کی تقدیر بدل رہی ہے، اور اب وہ اسرائیل کے ہاتھوں میں گروی رکھ دی گئی ہے۔ فلسطینی قیادت سمیت لوگوں کے عام خدشات ہیں کہ کہیں بھی کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہی۔ اسرائیل کے جارحانہ بیانات خود اسی کی تصدیق کر رہے ہیں۔
قطر پر حملہ کے فوراً بعد صہیونیوں نے خوشی کے شادیانے بجائے اور دعویٰ کیا کہ ’’اب ہم شرق اوسط کے حکمراں ہیں، ہم جہاں چاہیں اور جس کو چاہیں جب چاہیں مار سکتے ہیں‘‘۔ جنگی جرائم کے مجرم اور دہشت گرد بنجمن نتن یاہو نے بار بار دھمکیاں دیں کہ ’’ہم حماس کی قیادت کے پیچھے ہر جگہ جائیں گے قطر میں بھی اور بیجنگ میں بھی اور جہاں بھی وہ ہوں یا تو خود قطر وغیرہ ان کو خود عدالت کے حوالہ کر دیں ورنہ تو ہمیں کریں گے‘‘۔ اس پورے مسئلہ میں جب پوری دنیا قطر کے ساتھ کھڑی تھی چودھری بہادر امریکہ کا کردار سب سے زیادہ شرمناک تھا۔ پہلے تو ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا کہ حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا مگر جب یہ اسرائیلی دہشت گردی ناکام ہو گئی تو اُس نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ ’’اسرائیل نے ہم سے پوچھ کر یہ حملہ نہیں کیا۔ البتہ حماس کو مارنا قابلِ تعریف بات ہے۔‘‘ اس نے قطر کے امیر سے فون پر بات کی اور یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔
عالمی سطح پر رائے عامہ میں فلسطینی موقف کو تقویت
اس جارحانہ حملے نے عالمی رائے کو تقویت دی ہے کہ اسرائیل کا رویّہ صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سلامتی، مذاکرات اور خطّے کی سیاسی صورتِ حال کو بھی ہدف بنا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی رہنماؤں نے اسے ’’مذاکرات کے پردے کے پیچھے کا حربہ‘‘ کہا کہ مذاکرات کے بعد بھی حملے ہو سکتے ہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں رد و بدل
دوحہ حملے سے قطر اور دوسرے عرب ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو زبردست دھکہ لگا ہے۔ اب یہ سب پر ظاہر ہو گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل امن مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ یوروپ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف جو اقدامات شروع کر دیے ہیں ان سے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے لیے مجبور کریں۔ علاوہ ازیں، خطّے کے ممالک میں اتحاد کی ضرورت اور ‘‘بڑھتے ہوئے خطرے’’ کا احساس بھی زیادہ ہوا۔ پناہ گزینوں اور داخلی نقل مکانی اور جبری بے دخلی کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے — لوگ محفوظ مقام کی تلاش کر رہے ہیں، مگر محفوظ مقامات ہیں کہاں؟ غزہ میں کچھ نہیں بچا ہے جس کو محفوظ سمجھا جا سکے۔ اور بین الاقوامی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں بہت زیادہ آ رہی ہیں۔
میڈیا اور عالمی رائے عامہ پر اثر: جو رپورٹیں اور تصاویر غزہ سے نکل کر آ رہی ہیں وہ دل دہلا دینے والی ہیں، دنیا بھر کے عوام کے جذبات بھڑک رہے ہیں اور وہ بے اختیار سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ جس سے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ سیاسی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ یہ دباؤ بعض صورتوں میں مذاکرات اور جنگ بندی کی راہیں کھولے گا۔ ہاں سرد مہری اور بے حسی عرب اور مسلمان ملکوں میں ضرور چھائی ہوئی ہے ۔ انسانی حقوق کے کیسز اور بین الاقوامی قانون: حملے کی نوعیت اور ضمنی نقصانات کی بنا پر ممکن ہے کہ ذمہ داران کو بین الاقوامی عدالتوں میں جوابدہ ٹھہرایا جائے یا کم از کم تحقیقات شروع ہوں۔ افسوس کہ عالمی عدالتوں کا پراسِس اتنا سلو ہے کہ ان کا فیصلہ آنے میں برسوں لگ جائیں گے۔
؏ خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
عرب و اسلامی چوٹی کانفرنس
9 ستمبر 2025ء کو اسرائیل نے دوحہ، قطر میں جو حملہ کیا جس کا ہدف حماس کے قائدین تھے، اس حملے کے بعد قطر نے ایک ایمرجنسی عرب و اسلامی چوٹی کانفرنس بلائی۔ جس میں عرب لیگ اور تنظیمِ اسلامی تعاون (OIC) کے تقریباً 60 ممالک نے شرکت کی۔
کانفرنس سے کیا نکلا؟
اس کانفرنس کے نتائج اور قراردادوں کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا لیکن افسوس کہ اس سے مذمت کے گرم گرم بیانات کے علاوہ کچھ نہیں نکلا! الجزیرہ کے مطابق اس چوٹی کانفرنس میں قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے حملے کو ''بغیر کسی رحم کے''، ''غدر'' اور ''بزدلانہ'' قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل مذاکرات کو تباہ کرنا چاہ رہا ہے، اور یہ حملہ، بظاہر، امن بحالی کی کوششوں کو بے اثر بنانا ہے۔ اتحاد و یکجہتی کی چوٹی کانفرنس کا مرکزی پیغام دوحہ اور قطر کے ساتھ پوری عرب و اسلامی دنیا کی یکجہتی تھا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلامی دنیا اسے معمولی واقعہ نہیں سمجھے گی، اور زور دیا کہ اسرائیل کی پالیسیوں کی شدت سے مزاحمت کی جائے۔ کانفرنس میں ترکی کے علاوہ ایران اور ملیشیا نے بہت دل چسپی دکھائی۔ وزیراعظم انور ابراہیم نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ کوشش کریں کہ اسرائیل کی اقوام متحدہ سے رکنیت ختم کر دی جائے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ غیر عرب ممالک نے تو جوش و خروش کا مظاہرہ کیا مگر خلیج کے عرب ممالک جو اس دہشت گردی کا شکار ہوئے وہ صرف علامتی مذمتیں کر کے رہ گئے۔ امارات، بحرین، مصر اور مراکش نے نہ اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا عندیہ دیا نہ اس کے سفیروں کو بلانے اور احتجاج درج کرانے کا علامتی سا اقدام ہی کیا۔ ترکی اور ایران نے ایک متحدہ اسلامی و عربی ناٹو کی پیش کش کی جس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ کانفرنس کی قراردادوں کو دیکھا جائے تو دوسری عرب کانفرنسوں کی طرح یہ بھی گفتند و نشستند و برخواستند کے علاوہ کچھ ثابت نہ ہو سکی۔ امریکی اڈے کی موجودگی میں حملہ کیوں ہوا اور ہوا تو امریکیوں نے اُسے روکا کیوں نہیں یہ سوال قطر نے امریکی قیادت سے نہیں پوچھا! اس کے علاوہ خود عرب ملکوں سے بھی سوال ہونا چاہیے تھا کہ قطر پر حملہ کے لیے سعودی اور اردن کا خلائی اسپیس استعمال ہوا تو ان ملکوں نے اسرائیل کو اِس کی اجازت کیوں دی؟ یمن سے کوئی میزائل اسرائیل پر مارا جاتا ہے تو سب سے پہلے اردن ہی اس کو انٹرسیپٹ کرتا ہے یہاں وہ یہ تیزی کیوں نہیں دکھا سکا؟
البتہ چند ایسی چیزیں ہوئیں جن کو اگر کامیابی سمجھا جا سکے تو ان کو اِس کانفرنس کی اچھی باتیں کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
موقف کی ہم آہنگی
عرب اور اسلامی ممالک نے اتحاد کا مظاہرہ کیا — کم از کم الفاظ کی حد تک ہی سہی — کہ ریاستی خودمختاری پر اسرائیل کا حملہ ناقابل قبول ہے۔
دفاعی تعاون کا عندیہ
خلیج کے GCC رکن ممالک نے مشترکہ دفاعی میکینزم کو فعال کرنے اور خطے کی سلامتی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی بات کی گرچہ اس کا کوئی میکینزم سامنے نہیں آیا نہ یہ معلوم ہوا کہ کوئی فالو اپ بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔
امن مذاکرات کی اہمیت کا اقرار
چوٹی کانفرنس نے یہ تسلیم کیا کہ قطر جیسے ثالث کی کوششیں اہم ہیں، اور اسرائیل کی بے محابا عسکری کارروائیوں سے مذاکرات کو نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ تو یک طرفہ بات ہے یک طرفہ طور پر کوئی مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔ جبکہ دوسرا فریق یعنی اسرائیل کوئی مذاکرات چاہتا ہی نہیں اُسے تو یہی ضد ہے کہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دے گا۔ حماس و دیگر فلسطینی مزاحمت کاروں کے وجود کو برداشت نہیں کرے گا اور غزہ سے تمام اسلحہ خالی کرائے گا۔ بلکہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل منصوبہ تو غزہ کو مکینوں سے خالی کرانا ہے۔ جس کو گو پوری دنیا نے مسترد کر دیا ہے مگر دونوں عالمی دہشت گرد (امریکہ و اسرائیل) اپنی طاقت کے نشہ میں چور طاقت سے ہی اس منصوبہ کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ثالثی یا امن مذاکرات کو محفوظ بنایا جائے، اور ایسے حملے جو مذاکرات کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں، بین الاقوامی ردِ عمل کے دائرے میں آئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کسی امن مذاکرات کی بات کرتے بھی ہیں تو غزہ میں ہزارہا انسانی جانوں کا ضیاع اس کی وجہ نہیں بلکہ ان کی سوئی صرف اور صرف اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی میں اٹکی ہوئی ہے۔
عملی اقدامات کا فقدان
چوٹی کانفرنس میں حالانکہ سخت بیانات دیے گئے، مگر اقتصادی پابندیاں لاگو کرنے، سفارتی تعلقات ختم کرنے یا کوئی خاص عملی قدم اٹھانے کے مسئلہ پر کوئی واضح اتفاق نہیں ہوا۔ کچھ ممالک، خاص طور پر جو اسرائیل کے ساتھ معمولی تعلقات رکھتے ہیں یا امریکی دباؤ کے زیراثر ہیں، نے نرم موقف اختیار کیا۔ اس لیے متحد اور مؤثر ردِ عمل ممکن نہ ہو سکا۔ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ آیا اس چوٹی کانفرنس کے نتائج طویل المدتی ہوں گے۔ کیا یہ واقعتاً اسرائیل کی عسکری یا خارجہ پالیسیوں کو بدلنے پر مجبور کریں گے؟ یا صرف بیانات تک محدود رہیں گے؟
آگے کی راہ
اگر اتحاد کو واقعی معنی خیز ہونا ہے تو ان ساری مملکتوں کو مشترکہ اقتصادی پابندیاں اسرائیل پر عائد کرنے یا سیاسی دباؤ بنانے پر غور کرنا چاہیے تھا۔ GCC کے مشترکہ دفاعی میکینزم کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ردِ عمل کی تیز رفتار اور ریاستوں کے مابین فوجی تعاون کا واضح منصوبہ ہونا چاہیے تھا۔ اسرائیل کی کارروائیوں کو بین الاقوامی عدالتوں یا اقوام متحدہ کے فورمز پر اٹھانا، اور جرائمِ جنگ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو قانونی دائرہ میں لانا اسرائیل کو سزا دینے کے عمل کا ناگزیر حصہ بننا چاہیے تھا مگر عرب حکمرانوں کی طرف سے ان چیزوں کا زبردست فقدان رہا ہے۔ انہوں نے غزہ کی بازآبادکاری کا منصوبہ پیش کیا تھا جو بس کاغذ پر ہی رہ گیا، اس کی انہوں نے دنیا میں مارکیٹنگ نہیں کی نہ کوئی فالو اپ ہوا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں کوئی رائے عامہ ہموار نہیں کی جا سکی۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ
عرب و اسلامک چوٹی کانفرنس سے بظاہر تو کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی البتہ اِس چوٹی کانفرنس کا ایک مؤثر نتیجہ سامنے یہ آیا ہے کہ سعودی عرب نے آگے بڑھ کر امریکی چھتری کے تلے رہنے کے بجائے سیدھا پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ اور یہ معاہدہ دوطرفہ ہے۔ پاکستان ایک مضبوط فوج کے علاوہ ایٹم بم رکھتا ہے اور خطہ میں ہندوستان جیسی بڑی قوت اور بڑی اکانومی کی جارحیت کے جواب میں اپنی دفاعی کامیابی سے اُس نے نہ صرف ہندتوا کے بڑھتے قدم روک دیے بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی پے در پے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن سعودی اور پاک معاہدہ پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ سعودی عرب میں اب تک خطرہ کس کو سمجھا جاتا رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یمن کو، جس پر سعودی عرب نے کئی سال پہلے بمباری بھی کی تھی، اور ایران کو۔ اسرائیل کے خلاف سعودی عرب نے کبھی غلیل بھی نہیں چلائی تو آخر اِس دفاعی معاہدہ کا مطلب کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے آقا امریکہ بہادر کے اشارہ پر ہی پاکستان کو برادر ممالک ایران اور یمن کے خلاف استعمال کرنے کے لیے سعودیوں نے یہ قدم اٹھایا ہو؟ جو بھی ہو بہرحال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی بھی دفاعی معاہدے کے دور رس نتائج ہوں گے، اور یہ صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی اسٹرٹیجک سمت کو بھی متاثر کریں گے۔ چند اہم پہلو یہ ہیں:
امریکہ کو ایک واضح پیغام
اس دفاعی معاہدہ سے امریکہ کو بھی ایک واضح پیغام سعودی عرب کی طرف سے گیا ہے کہ وہ محض امریکی امداد اور امریکی فوجی چھتری پر اب بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ قطر کے معاملہ میں اپنے گومگو کے رویہ سے اس نے عربوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا دی ہے۔ سعودی عرب کی دفاعی پالیسی بڑی حد تک امریکا کے ساتھ منسلک رہی ہے۔ اگر پاکستان کو سعودی دفاعی حصار کا حصہ بنایا جاتا ہے تو واشنگٹن بھی اس پر اثر انداز ہو گا۔ البتہ یہ ممکن ہے امریکا اس معاہدے کو ایران اور چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے سپورٹ کرے، لیکن ساتھ ہی پاکستان کو امریکا کی پالیسی لائن پر چلنے کے لیے دباؤ بھی بڑھے گا۔
بھارت کے لیے نیا توازن
بھارت خطے میں سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات مضبوط کر رہا ہے، لیکن اگر سعودی عرب اور پاکستان دفاعی طور پر قریب آتے ہیں تو یہ نئی اسٹریٹجک صف بندی بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی۔ خاص طور پر کشمیر کے معاملے میں پاکستان سعودی حمایت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسی کا اہم ستون چین ہے۔ سعودی عرب اگر پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا ہے تو اس میں چین کا پہلو بھی شامل ہو گا، کیونکہ پاکستان دفاعی اور ٹیکنالوجیکل لحاظ سے زیادہ تر بیجنگ پر انحصار کرتا ہے۔ اور بھارت میں ایک بہت بڑی لابی چین کو اپنا دشمن نمبر ایک مانتی ہے۔
ایران پر دباؤ میں اضافہ
سعودی عرب اور ایران کی رقابت مسلکی، تاریخی اور اسٹریٹجک تینوں حوالوں سے گہری ہے۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو رسمی شکل دیتا ہے تو یہ براہِ راست ایران کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج بنے گا۔ ایران کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، لہٰذا تہران کو یہ خدشہ ہو گا کہ پاکستان کی سرزمین سعودی مفادات کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اس سے ایران-پاکستان تعلقات میں مزید تناؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر اگر امریکی شاطر اس پاک سعودی معاہدے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں، جس کا غالب امکان ہے۔ کل ملا کر پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ خطے میں نئی اسٹریٹجک صف بندی کو جنم دے سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں: یہ معاہدہ پاکستان کو ایک بڑے علاقائی شطرنج کے کھیل کا اہم مہرہ بنا دے گا، لیکن ساتھ ہی خطرہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کے بجائے دوسروں کے ایجنڈے کا حصہ بن جائے۔
غزہ پر نئے اسرائیلی حملہ کے بعد
اب غزہ پر اسرائیل نے Gidon Chariot 2 کے عنوان سے بڑا حملہ کر دیا ہے جس میں یومیہ کئی سو فلسطینی شہید ہو رہے ہیں اور امریکہ نے پوری ڈھٹائی سے سلامتی کونسل میں چھٹی بار سیز فائر کی قرارداد کو ویٹو کر کے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے، تو اس کے سبب انسانی جانوں کا یہ بے محابا ضیاع رکتا دکھائی نہیں دیتا۔
عرب چوٹی کانفرنس کی ناکامی کے بعد اب مصر اور ترکیے بھی اسرائیلی جارحیت کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو امریکی آشیرواد سے اسرائیل اپنے اسرائیل عظمیٰ کے ناپاک منصوبہ کی طرف عملاً قدم بڑھائے گا۔ صہیونیوں نے امریکی مدد و حمایت سے پہلے عراق، پھر سیریا اور لیبیا کو برباد کر کے اپنے اطراف میں مضبوط عرب قوتوں کا خاتمہ پہلے ہی کر دیا ہے۔ خلیج کی ریاستیں اس کے لیے نرم چارہ ہیں۔ البتہ سعودی پاکستانی دفاعی پیکٹ ضرور اس کے راستہ کی رکاوٹ بنے گا۔ مصر اور ترکیے اب بھی بس خاموش تماشائی بنے رہے تو وہ دن دور نہیں جب بے لگام اور منہ زور اسرائیلی دہشت گرد انقرہ اور قاہرہ کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں آئیں گے۔
غزہ پر اسرائیل کے حملوں سے اور فضائی اور زمینی آپریشن کی وجہ سے شہری ہلاکتیں، زخمی اور بڑے پیمانے پر بے گھری (displacement) تیزی سے بڑھ رہی ہے غزہ سے آنے والے اعداد و شمار اور تازہ رپورٹس اسی سمت اشارہ کر رہی ہیں۔ گارجین نے خبردار کیا ہے کہ ’’اس کا نتیجہ فوری غزہ میں انسانی بحران، ہسپتالوں کا بریک ڈاؤن اور غذائی و وسائلِ صحت کی قلت ہو گا‘‘۔ اس نے یہ تجزیہ بھی کیا ہے کہ ’’اسرائیل کو بین الاقوامی تنقید اور سیاسی تنہائی کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور بڑے پیمانے پر شہری نقصان اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے اسرائیل کو سفارتی دباؤ، بین الاقوامی تنقید، اور ممکنہ سیاسی و اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘‘۔
خطہ میں عدم استحکام اور مزاحمت میں شدت
اگرچہ محسوس طور پر حماس اور مزاحمتی قوتوں کا ظاہری انفرااسٹرکچر بالکل تباہ ہو گیا ہے۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ اب نئی مزاحمتی جہتیں سامنے آئیں گی۔ انتقامی حملے ہوں گے اور اسرائیل کی مقامی و علاقائی بیگانگی بڑھے گی یعنی اس کی "فوری جیت" کا مطلب اس کے لیے مستقل امن نہیں ہوگا؛ بلکہ آزادی کی جدوجہد گوریلا وار کی شکل میں جاری رہے گی جس کے دشمن پر معاشی و سماجی اثرات تباہ کن اور دیرپا ہوں گے۔ اس کی معیشت روزگار اور تعلیمی و صحت کے نظام متاثر ہوں گے؛ نسلِ نو پر شدید ذہنی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ جس سے اُسے نکالنے کے لیے امریکہ بہت بڑے پیمانہ پر معاشی اور عسکری امداد پھر دے رہا ہے۔ جبکہ ٹرمپ کے تاجرانہ ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے شروع میں امید یہ کی جا رہی تھی کہ وہ بوڑھے کھوسٹ بائڈن کی طرح بے محابا امداد جنونی صہیونیوں کو شاید نہ دے۔ مگر ٹرمپ سے لوگوں نے جتنی امیدیں لگائی تھیں وہ سب کے خلاف ہی اتر رہا ہے۔ یہی اُس کی دجالیت کا نیا روپ ہے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معنی
حالیہ دنوں میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور پرتگال نے ‘‘ریاستِ فلسطین’’ کو باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔ اس کو گزشتہ مہینہ نیویارک میں منعقد سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ حل الدولتین (دو ریاستی حل) کانفرنس کا ثمرہ بتایا جا رہا ہے۔ تاہم فرانس مانتا ہے کہ مجوزہ فلسطینی ریاست ایک غیر مسلح ریاست ہو گی جس کو پولیس رکھنے کی اجازت ہو گی۔ مغربی ممالک کا یہی دوغلا پن ہے جو وہ فلسطین کے بارے میں روا رکھے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کا آپ کو اِس قدر خیال ہے کہ اس کے پڑوس میں فلسطینی ریاست کو غیر مسلح آپ رکھنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیل جیسے وحشی درندے سے جو شرق اوسط میں جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے بمباری کر گزرتا ہے اِس عذر سے کہ ہماری سلامتی کو خطرہ ہے جس کے لیے ہم کچھ بھی کریں گے، کوئی جواب دہی نہیں ہوتی! تو جناب کیا اسرائیلی دنیا میں کوئی اسپیشل مخلوق ہیں جن کو تمام حقوق حاصل ہیں۔ ان کے مقابلہ میں عرب اور فلسطینی حقیر مخلوق ہیں ان کو کوئی حقوق حاصل نہیں! ان پر اسرائیل مسلسل حملے کرتا رہتا ہے تو ان کا حقِ دفاع کہاں چلا گیا! افسوس کہ عرب قیادتیں خود اپنے اِس حق کی پُرزور وکالت نہیں کرتیں۔ اور جو لوگ یعنی مزاحمت کار اِس حق کا علم اٹھاتے ہیں الٹا ان کو ارہابی اور دہشت گرد بتاتی ہیں کیونکہ ان سے ان کی کرسیٔ اقتدار کو صحیح یا موہوم خطرہ محسوس ہوتا ہے ؎
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ قدم عالمی دباؤ، خاص طور پر غزہ کی تباہی اور انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ اعترافات بنیادی طور پر علامتی ہیں، مگر علامتیں اکثر بڑے اثرات لا سکتی ہیں۔ فلسطینی عوام کے لیے یہ ایک حوصلہ افزا اقدام ہے: ان کو ’’ہم ایک ملک بن رہے ہیں، ہماری شناخت تسلیم ہو رہی ہے‘‘ کا احساس ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ ایک دباؤ بنانے کی کوشش ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر نظر ثانی ہو، خاص طور پر فلسطینی زمینوں پر ناجائز اسرائیلی بستیوں (settlements) کی توسیع اور جنگ کے انسانی نقصانات پر۔
سفارتی اور قانونی اثرات
کسی ریاست کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون اور سفارتی تعلقات کے لحاظ سے پہلے سے تسلیم شدہ یا متنازع ریاست کی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔ اس سے اقوامِ متحدہ میں فلسطینی موقف مضبوط ہو جائے گا — اکانومک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ’’زیادہ ممالک کے اعترافات سے فلسطین کا موقف ‘معمولی’ یا ‘غیر مستحکم’ نہیں رہے گا‘‘۔ اس کے باوجود، عملی مشکلات ہیں۔ ریاست تسلیم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فلسطینیوں کو زمینی کنٹرول، سرحدیں، اقتدار یا خود مختاری فوراً مل جائے گی۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن میں فریقین کے درمیان مذاکرات، بین الاقوامی ثالثی، اور فوجی و سکیورٹی حالات اہم کردار ادا کریں گے۔
مغربی ملکوں میں سیاسی اور عوامی دباؤ
انڈیا ٹوڈے کا تجزیہ یہ ہے کہ ‘‘عوامی رائے اور میڈیا میں شدت سے انسانی حقوق کے مسائل زیر بحث آئے ہیں، خاص طور پر غزہ میں قابو سے باہر تباہی۔ شہری امتیازات، تصاویر، اور خبر رساں اداروں نے مغربی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ صرف زبانی حمایت سے آگے بڑھیں‘‘۔ بائیں بازو کے سیاستدان، سلامتی کے تجزیہ کار، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فلسطین کے اعتراف کی حمایت کر رہی ہیں کہ یہ ایک اخلاقی اور قانونی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، دائیں بازو کے ماہرین خدشات جتا رہے ہیں کہ یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ شراکت داری و سکیورٹی مفادات پر اثر ڈالے گا۔
اسرائیل اور امریکہ کا ردِعمل
دنیا کے یہ دونوں دہشت گرد ملک (جن کو جارح صہیونی قوتیں چلا رہی ہیں) فلسطین کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے خلاف خوب چیخ و پکار اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اسرائیل و امریکہ دونوں نے اسے ’’دہشت گردی کو انعام‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے، کہ اس سے مزاحمتی گروہوں کو مزید حوصلہ ملے گا۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ ’’ امریکہ نے اسے کچھ معاملات میں‘‘performative’’ یا محض دکھاوے کا قدم قرار دیا ہے، کہ حقیقی طاقت، فیصلے، یا زمینی حقائق پر اثر کم ہو گا‘‘۔
دنیا کی رائے عامہ میں یہ تبدیلی ایک رجحان ہے، کیا یہ مستقل ہو گا؟ ہاں، ممکن ہے کہ یہ نقطۂ آغاز ہو — مزید مغربی ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف جائیں، خاص طور پر وہ جہاں زندہ و بیدار فلسطینی ڈائسپورا، طلبہ اور اساتذہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مسلسل فلسطین کی حمایت میں ایک تحریک چلا رکھی ہے۔ لیکن اس رجحان کا فائدہ تبھی ممکن ہے جب زمینی حقیقت بدل جائے — یعنی، مذاکرات کا عمل شروع ہو، جنگ بندی ہو جائے، اسرائیل غزہ سے نکلے، انسانی قوانین کا احترام ہو، فلسطینی اتھارٹی کو مؤثر کردار ملے، اور غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے جس کے لیے ایک بڑا عالمی فریڈم فلوٹیلا (صمود) اسپانیہ سے شروع ہو کر اب لیبیا پہنچ چکا ہے اور غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور جس کے شرکاء کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے اگرچہ اسرائیلی دہشت گرد ریاست اُس پر ڈرونوں سے مسلسل حملے بھی کر رہی ہے۔ مزید فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی بستیوں کی توسیع وغیرہ جیسے معاملات حل ہوں۔
چیلنجز اور خدشات
فلسطینی عوام کو شک ہے کہ فلسطین کو عالمی اعتراف ملنے کے بعد بھی حالات وہی رہیں گے — دہشت گردی، جنگ، نقل مکانی وغیرہ کم نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کے سخت ردِ عمل کا خطرہ ہے، ممکنہ فوجی اقدامات میں مزید تیزی اور سفاکیت یا مزید بستیوں کی توسیع۔ دو ریاستی حل (Two-state solution) کے مفہوم میں اختلافات بھی ہیں۔ یہ ابھی واضح نہیں کون سی سرحدیں مانیں جائیں گی، نئی ریاست کس حد تک خود مختار ہو گی، پناہ گزینوں کا مسئلہ، مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی سیٹلمنٹس کا خاتمہ یا انضمام وغیرہ۔ اِن بنیادی مسائل کو طے کرنا بہت ضروری ہے کہ ان کے بغیر اوسلو معاہدہ چند سالوں بعد ہی برباد ہو کر رہ گیا کیونکہ بنیادی اہمیت کے اِن مسائل کو اُس وقت ٹال دیا گیا تھا کہ آئندہ کے مذاکرات میں یہ حل ہوتے رہیں گے مگر وہ کبھی حل نہیں ہوئے۔ اُس معاہدہ کے فوراً بعد ہی معاہدہ کرنے والے اسرائیلی رہنما یتزاک رابین کو ایک مذہبی شدت پسند صہیونی نے قتل کر دیا اور تب سے آج تک اسرائیل میں لیکود (یعنی مذہبی جنونیوں کی) حکومت چلی آ رہی ہے جس نے اپنے ہر قدم سے اوسلو اکارڈ کو برباد کیا ہے۔
اگر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عمل صرف زبانی تسلیم ہو کر رہ جائے اور اس کا فالو اپ نہ ہو یعنی اس کی بین الاقوامی امداد یا سیاسی پسِ منظر مضبوط نہ ہو، تو یہ عمل کاغذی ہی رہ جائے گا۔ فلسطین کو ملنے والے یہ اعترافات ایک سنگِ میل ہیں — اخلاقی، سفارتی اور عالمی سطح پر یہ بتاتے ہیں کہ دنیا میں غزہ و فلسطین کے حالات سے ’’بیچینی’’ بڑھتی جا رہی ہے۔ فلسطینی ریاست کے حوالے سے عالمی رائے عامہ ہموار ہو چکی ہے مگر یہ کافی نہیں — عملی اقدامات، عدل و انصاف، اور سلامتی کی ضمانتوں کے بغیر یہ صرف ایک قدم ہے، پورا سفر نہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس سے فلسطینی مقتدرہ کے صدر محمود عباس نے انٹرنیٹ کے ذریعہ خطاب کیا۔ کیونکہ امریکہ نے ان کو اور ان کے وفد کو ویزا نہیں دیا۔ جبکہ ان کو ویزا دینے نہ دینے پر ہوئی ووٹنگ میں پوری دنیا ایک طرف تھی اور امریکہ اور اسرائیل تنہا ایک طرف۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ وہ خطاب کریں گے چنانچہ انہوں نے کیا اور بودا خطاب کیا اور اس میں پھر طوطے کی طرح وہی مطالبہ دہرا دیا کہ مزاحمت کی قوتوں کو اپنا اسلحہ فلسطینی مقتدرہ کے حوالہ کر دینا چاہیے۔
یہ بھی خبر آئی کہ اس کانفرنس کی سائڈ لائن میں ڈونالڈ ٹرمپ خاص مسلم اور عرب ممالک کے سربراہان سے ملے جن میں سعودی عرب، مصر، ترکی، پاکستان اور قطر و انڈونیشیا اور امارات وغیرہ ہیں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی اور بازآبادکاری پر مثبت بات ہوئی ہے اور شرق اوسط کے لیے خصوصی امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف 21 نکاتی امن منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، سیز فائر اور اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلاء شامل ہے۔ جنگ کے بعد غزہ کے انتظام میں فلسطینی مقتدرہ کو شریک کیا جائے گا، حماس کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ اور اس کے بعد غزہ کی بازآبادکاری کا عمل شروع ہو گا۔ لیکن اس میٹنگ میں اسرائیل شامل نہیں تھا۔ اور گرچہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ امید بلکہ یقین کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ جنگ کو رکوانے میں کامیاب ہوں گے۔ تاہم ایسا کئی بار ہو چکا ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور اس کی ٹائم لائن بھی دے دی مگر اسرائیل نے صاف انکار کر دیا اور اپنی دہشت گردانہ جارحیت جاری رکھی۔ ٹرمپ جس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں اور جس بے باکی سے جھوٹ بولتے ہیں اُس نے دنیا کی سیاسی لغت میں بہت کچھ اضافہ کر دیا ہے۔ اس لیے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
؏ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
پاک سعودی دفاعی معاہدہ: اہم شخصیات کے تبصرات
میڈیا
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترک دفاع کا معاہدہ مدت کے بعد ایک خوشی کی خبر ہے جس کا گرم جوش خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دونوں ملکوں کی حفاظت فرمائیں اور انہیں پوری امت کے لیے بہترین مثال بننے کی توفیق بخشیں آمین۔
(۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
مولانا مفتی منیب الرحمٰن
بدھ ۱۷ ستمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سعودی عرب میں ’’تزویری شراکت داری‘‘ کا ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ہے، اس پر عام روش سے ہٹ کر وزیر اعظم پاکستان اور ولی عہد سعودی عرب جناب محمد بن سلمان نے بذاتِ خود دستخط کیے اور قرار دیا:
’’دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ متصور ہو گا‘‘۔
یہ بلاشبہ بارش کا پہلا قطرہ اور امتِ مسلمہ کے دل کی آواز ہے۔ مگر لازم ہے کہ یہ معاہدہ ’’تصویری مظاہر (Optics)‘‘ تک محدود نہ رہے بلکہ عملی شکل اختیار کرے، یعنی لفظاً، معنیً و عملاً یہ ایک تاریخی میثاق ثابت ہو، جو امتِ مسلمہ کے لیے تعمیرِ عہدِ نَو کی خشتِ اول قرار پائے۔ اس میں آگے چل کر شرقِ اوسط کے دیگر ممالک، خلیجی، ریاستیں اور ’’ترکیے‘‘ وغیرہ بھی شامل ہوں۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے اس کی شروعات کی ہیں، ہماری خواہش ہے کہ اس کی تکمیل تک وہ کمربستہ رہیں اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں تاکہ امتِ مسلمہ کی آس نہ ٹوٹے۔ خاص طور پر متموّل اور تیل و گیس کی دولت سے مالامال مسلم ممالک کو چاہیے کہ پاکستان کو داخلی اور خارجی قرضوں کے بار سے نجات دلائیں اور حالیہ سیلاب نے پاکستان میں بے پناہ تباہی مچائی ہے، تمام سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے ایک مشترکہ فنڈ قائم کریں تاکہ پاکستان یکسو ہو کر اپنی معیشت کی بحالی اور عالمِ اسلام کے دفاعی استحکام پر توجہ دے سکے۔ ہم چاہیں گے کہ ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی مُمِد و معاون ثابت ہوں۔
(۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
مولانا ثمیر الدین قاسمی
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد۔
آج خبروں میں دیکھا کہ سعودی عرب کی حکومت نے پاکستانی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ دفاعی معاہدہ کا مطلب یہ ہے کہ اب اِن کی فوج یعنی پاکستان کی فوج حرمین شریفین کی حفاظت کرے گی، حکومت کی حفاظت کرے گی۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں دونوں حکومتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پورے عالم کو اس کی خوشی ہوئی ہے۔ پورے اسلامی مملکت کو اس کی خوشی ہوئی ہے۔ اور یہ کام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ بہت دیر ہوئی ہے لیکن بہرحال ہو گئی ہے۔
البتہ دو گزارش کرنا چاہتا ہوں:
- ایک گزارش تو پاکستانی حکومت سے میں کر رہا ہوں کہ اس کو پیسہ بنانے کا ذریعہ آپ نہ بنائیے گا۔ اخلاص کے ساتھ کام کیجیے گا۔ پیسہ تو آئے گا ہی، لیکن اخلاص کے ساتھ کام کیجیے گا۔ اس لیے کہ حرمین کی حفاظت ہماری سب کی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے آپ کو اس کے لیے منتخب فرمایا، آپ کے پائلٹ کو اس کے لیے منتخب فرمایا، یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس لیے آپ ان کو اپنے دل سے کام کیجیے گا، اور پوری قوت کے ساتھ کام کیجیے گا۔ یہ میری ایک گزارش ہے۔
- اور ایک گزارش ہے حکومتِ سعودی سے بھی کہ آپ حضرات ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کے کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ پاکستانی حکومت غریب ہے، پریشان حال ہے، اس کے باوجود بھی انہوں نے دفاعی کام کیا، اپنے ہتھیار بنائے، اپنا پائلٹ بنایا، اپنی ساری چیزیں بنائیں۔ آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ خود کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ آپ خود بھی کیجیے، خود بھی ٹریننگ کیجیے، ہتھیار بنائیے۔ غریب ملک ہتھیار بنا رہے ہیں، آپ کیوں نہیں بنا رہے ہیں؟ اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ حرمین کی حفاظت کے لیے۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، حرمین کی حفاظت کے لیے، کیونکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حرمین کی حفاظت کے لیے آپ یہ کام بھی کیجیے۔
بہرحال آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے دونوں ملکوں نے۔ میں مبارکبادی پیش کرتا ہوں۔ میں ثمیر الدین قاسمی بول رہا ہوں، کوئی غلطی ہوئی تو معاف کرنا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
(۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
مولانا مفتی عبد الرحیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ جو معاہدہ ہے اس کی اہمیت، اس کی گہرائی کتنی ہے، اس کی وسعتیں کتنی ہیں؟ ہمارے ملک کے لیے، پاکستانیوں کے لیے، ہماری آرمی کے لیے، ایئرفورس کے لیے، نیوی کے لیے۔ ایس پی ڈی جو ہمارا پروگرام ہے، ایٹمی پروگرام، اس کے لیے۔ امتِ مسلمہ کے لیے۔ برصغیر کے لیے اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے لیے۔ اور بالخصوص حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد کی کتنی برکتیں ہوتی ہیں۔ ستاون اسلامی ممالک میں کتنے ملک ایسے ہیں جن کی خواہش ہے کہ ہم ایٹمی طاقت بن جائیں۔ اٹامک انرجی کے لیے لوگ کتنی کوششیں کرتے ہیں، ایٹمی پاور بننے کے لیے۔ خواہشات تو بہت ہیں۔ لیکن آپس کے اتفاق و اتحاد سے سعودی عرب ایک ہی جست میں، ایک ہی چھلانگ میں ایٹمی پاور بن گیا۔ اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اور شاید یہ نیٹو کے بعد یہ پہلا ایک ایگریمنٹ ہے جس میں ایٹمی پاور کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گئی۔
تو اس حوالے سے اس کو دیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جس طریقے سے عراق، شام اور لیبیا اور پڑوسی ممالک کو جس طریقے سے اسرائیل نے بالکل تہس نہس کر دیا اور دو تین ہفتوں میں ہی چھ سات ملکوں پر ان کا حملہ ہوا۔ ان کا جو وزیر اعظم ہے، اسرائیل کا وزیر اعظم، وہ پارلیمنٹ میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ خود لے کر کھڑا ہوا تھا۔ اور اس میں آدھا سعودی عرب آتا ہے۔ اور ان کی بانچھیں اتنی کھلی ہوئی تھیں کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ ہر چیز کو روندتے چلے جائیں گے۔ ان کے سامنے نہ مسلمانوں کی، غزہ کے فلسطین کے نہ بچوں کی کوئی قیمت ہے، نہ خواتین کی، نہ بوڑھوں کی، نہ ان کے جان مال عزت کی، نہ دنیا کے قانون کی، نہ بین الاقوامی قوانین کی، نہ انسانیت کی۔ تو ایسے جب وہ بالکل بے لگام ہو گئے اور انہوں نے باقاعدہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ جہاں بھی لوگ ہوں گے ہم ان کو ہٹ کریں گے۔
تو ایسے وقت میں مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان اور خاص طور پر حرمین شریفین کے اور بلادِ حرمین شریفین کے جو مسلمان تھے جو وہاں کی حکومت اور وہاں کی جو ریاست تھی وہ ایک بہت بڑے پریشر میں تھی۔ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے ملک کی اس طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے صدیاں بلکہ دہائیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ اور اس کے لیے دنیا نے اپنے آپ کو اتنا منظم کر لیا اور اتنا شکنجے میں کسا ہوا ہے کہ اب کسی مسلمان ملک کے لیے ایٹمی پاور بننا بہت مشکل ہے۔ آپ نے دیکھا ایران کے ساتھ کیا ہوا؟ بغداد کے ساتھ کیا ہوا؟ لیبیا کے ساتھ کیا ہوا؟ تو جس ملک نے بھی کوشش کی ہے اس کو وہیں انہوں نے دبوچا ہے جا کر۔ تو سعودی عرب کی، خواہش سب کی ہوتی تھی لیکن یہ کہ محمد بن سلمان اور وہاں کی جو قیادت ہے ان کو میں شاباش دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اور بہت بروقت فیصلہ کیا ہے۔ اور ایک ایسا فیصلہ کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سطح پر اس کو تاریخی سمجھا جائے گا۔ اور تاریخی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
(۲۰ ستمبر ۲۰۲۵ء)
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں ہوا۔ سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی گفتگو۔ کہا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ تاریخی ہے۔ مزید کہا کہ معاہدے سے دونوں ممالک بہت خوش ہیں اور دونوں جانب سے اظہارِ تشکر کیا جا رہا ہے۔ لندن میں گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ فائنل کرنے میں کئی ماہ لگے۔ دیگر ممالک بھی ایسے ہی معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
اسحاق ڈار: It's a due process یہ اوورنائٹ سائن نہیں ہو گیا، اس پر کئی مہینے لگے ہیں۔ It's premature to say something but کافی کنٹریز کا ڈیزائر ہے اس ڈیولپمنٹ کے بعد کہ وہ بھی اس طرح کی کوئی ارینجمنٹ کریں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ آج مسلمان ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعاون ہمیشہ سے موجود تھا۔ پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی۔
اسحاق ڈار: ہم ہمیشہ سے، ہمارا جو انفارمل ارینجمنٹ رہا ہے سعودی عریبیہ کے حوالے سے اور حرمین شریفین کے حوالے سے، وہ وہی ہے جو اس ایگریمنٹ میں جو کہ ’’اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘ پر جو سائن ہوا ہے۔ سعودیہ نے بھی کبھی پاکستان کے اوپر مشکل وقت جب آیا سعودیہ ہمارے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا ہے۔ اور آپ کو یاد ہے کہ سینکشنز کے بعد ان کی جو سپورٹ تھی بڑی، یو ناؤ، ریلیونٹ تھی اور بڑی امپورٹنٹ تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ کو ہونے والے کنونشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
(۲۰ ستمبر ۲۰۲۵ء)
مولانا فضل الرحمٰن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف بن سعید المالکی کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا جس میں اعلیٰ سطحی شخصیات نے شرکت کی، جن میں سینٹ کے صدر یوسف رضا گیلانی، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر، خیبر پختونخوا کے رکنِ اسمبلی فیصل کریم کنڈی، اور دیگر نمایاں سیاسی رہنما اور علماء شامل تھے۔ اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمٰن نے اعادہ کیا کہ
- امت مسلمہ کا اتحاد شروع ہی سے جمعیت علمائے اسلام کے منشور کا حصہ رہا ہے۔
- پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کی جانب ایک نقطہ آغاز بنے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرے گا اور اجتماعی سلامتی کے لیے ایک مضبوط ستون کا کام کرے گا۔
- حرمین شریفین کی دیکھ بھال کے اعزاز کی وجہ سے سعودی عرب تمام مسلمانوں کے دلوں میں ایک بلند مقام رکھتا ہے۔
- پاکستانی عوام حرمین شریفین کا دفاع کرنا اپنے لیے ایک بڑا اعزاز اور مقدس فریضہ سمجھتے ہیں۔
- انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ اسلامی مقدس مقامات کے دفاع اور اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، اور امت کے اتحاد اور وقار کی بحالی کی نمائندگی کرتا ہے۔
سعودی سفیر نواف المالکی نے مولانا فضل الرحمٰن کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے‘‘۔ انہوں نے اس تاریخی معاہدے پر پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کی۔
تقریب میں دیگر ممتاز سیاسی و مذہبی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں مولانا راشد سومرو، مولانا سعید یوسف، انجینئر ضیاء الرحمٰن، مولانا اسجد محمود، سینیٹر احمد خان، سینیٹر دلاور خان، اور نور عالم خان کے علاوہ شیخ مفتی اویس عزیز، شیخ مفتی ابرار، اور ایڈووکیٹ جلال الدین شامل تھے۔
یہ تاریخی معاہدہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دین و ملت کی خدمت میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بابرکت قدم ہے۔
(۲۳ ستمبر ۲۰۲۵ء)
پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
دیر آید، درست آید۔ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ اب بھی ہوا، تو بہت ہی اچھا ہوا۔ الحمد للہ۔ حرمین کا دفاع، امتِ مسلمہ کے ہر فرد کا دفاع اور دارالاسلام کے ہر ٹکڑے کا دفاع پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایسا ہی معاہدہ تیسرے حرم، حرمِ اقصی، کے دفاع کے لیے بھی ہونا لازم ہے۔ ایسا معاہدہ تمام مسلمان ریاستوں کے درمیان ہونا چاہیے۔ تاہم ابتدا پاکستان اور سعودی عرب نے کر لی۔ اس پر دونوں داد کے مستحق ہیں؛ باقی اس میں شامل ہوں لیکن "سبقت عکاشہ نے حاصل کر لی"!
برسوں پہلے میں نے اس موضوع پر یہ لکھا تھا۔ میری کتاب "جہاد، مزاحمت اور بغاوت" کے پہلے ایڈیشن (2008ء) سے اقتباسات:
دفاع نہ صرف ایک فطری حق ہے بلکہ شرعی فریضہ بھی ہے۔ ایک مسلمان گروہ پر حملہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ تصور ہوگا اور سب پر دفاع کا فریضہ عائد ہوگا۔ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ حملے کی زد میں آئے ہوئے علاقے کے لوگ اگر حملے کے خلاف دفاع نہ کر سکتے ہوں تو ان کے پڑوس کے علاقوں پر یہ فریضہ عائد ہوگا۔ پھر اگر وہ بھی دفاع کی اہلیت نہ رکھتے ہوں یا وہ فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو ان کے بعد کے علاقوں پر فریضہ عائد ہوگا، یہاں تک کہ یہ فریضہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر عائد ہو جائے گا۔
ان الجھاد اذا جاء النفیر انما یصیر فرض عین علی من یقرب من العدو۔ فأما من ورائھم ببعد من العدو فھو فرض کفایۃ علیھم حتی یسعھم ترکہ اذا لم یحتج الیھم۔ فان احتیج الیھم بأن عجز من کان یقرب من العدو عن المقاومۃ مع العدو، أو لم یعجزوا عنھا لکنھم تکاسلوا و لم یجاھدوا ، فانہ یفترض علی من یلیھم فرض عین کالصلوٰۃ و الصوم لا یسعھم ترکہ ثم و ثم الی أن یفترض علی جمیع أھل الاسلام شرقاً و غرباً علی ھذا التدریج۔ نظیرہ الصلوٰۃ علی المیت، ان کان الذی یبعد من المیت یعلم أن أھل محلتہ یضیعون حقوقہ أو یعجزون عنہ کان علیہ أن یقوم بحقوقہ، کذا ھنا۔
نفیر عام کی صورت میں جہاد ہر اس شخص پر فرض عین ہو جاتا ہے جو دشمن سے قریب تر ہو۔ اور جو دشمن سے دور ہوں تو ان کے لیے یہ اس وقت تک فرض کفایہ ہوتا ہے جب تک جنگ میں ان کی شرکت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس وجہ سے ان کے لیے اس جنگ سے الگ رہنے کا موقع ہو۔ پس اگر اس وجہ سے ان کی ضرورت پڑے کہ دشمن کے قریب کے لوگ کمزور ہیں یا کمزور نہیں ہیں مگر دفاع میں کوتاہی کر رہے ہیں تو ان کے بعد ّنے والوں پر یہ نماز اور روزے کی طرح فرض عین ہو جاتا ہے جس کا تک کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح دوسروں کی باری آئے گی یہاں تک کہ بتدریج شرقا و غربا تمام اہل اسلام پر یہ فرض عین ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال میت کی نماز جنازہ کی ہے۔ اگر میت سے دور رہنے والا جانتا ہو کہ اس کے پڑوس کے لوگ اس کے حقوق ضائع کریں گے یا وہ ان کی ادائیگی سے عاجز ہیں تو اس پر فرض عین ہو جاتا ہے کہ اس کے حقوق ادا کرے۔ بعینہ اسی طرح اس صورت میں بھی ہوگا۔
گویا اسلامی ملک پر حملے کو کوئی مسلمان پرایا جھگڑا نہیں سمجھے گا، بلکہ دفاع کو اپنا فریضہ سمجھ کر ہوشیار اور بیدار رہے گا، کیونکہ کسی بھی وقت یہ امکان ہو سکتا ہے کہ یہ فریضہ اس کے حق میں فرضِ عین ہو جائے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسلامی ملک پر حملے کی صورت میں پوری امتِ مسلمہ میں ایک ایمرجنسی کی سی کیفیت پیدا ہو۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پڑوس کے علاقوں پر فریضہ عائد ہونے کا سبب یہ ہے کہ دور کے علاقوں کی بہ نسبت وہ حملے کے خلاف دفاع کی زیادہ بہتر پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ پس اگر قریب کے علاقے یہ فریضہ احسن طریقے سے نہیں نبھا سکتے یا وہ اس کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو دور کے علاقے اس فرض کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔
موجودہ دور میں جبکہ ذرائع مواصلات نے بہت ترقی کی ہے قرب و بعد کے پیمانے بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب تو شاید زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کس مسلمان ملک کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار پائے جاتے ہیں؟ کس ملک کی معاشی پوزیشن زیادہ مستحکم ہے؟ کونسا ملک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہے؟ جو جتنی زیادہ اہلیت رکھے گا اس پر فریضہ دوسرے کی بہ نسبت زیادہ جلدی عائد ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ عین ممکن ہے کہ مجاور ملک کی بہ نسبت ایک دور دراز کے ملک، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہوں اور وہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی آگے ہو ،پر دفاع کا فریضہ جلدی عائد ہو۔
یہاں ایک بار پھر اس امر کی طرف توجہ ہو کہ دفاع کا فریضہ عام حالات میں فرضِ کفائی ہے جو بعض اوقات فرضِ عین بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان ملک اور ہر مسلمان فرد کو خود غور کر کے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس کے حق میں اس کی حیثیت فرضِ کفائی کی ہے یا یہ اس کے حق میں فرضِ عین کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دفاع کا فریضہ احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان باہمی رابطے بہتر ہوں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی اور معاشی بندھنوں میں بندھ جائیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین اور معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے تجربات سے بہت کچھ دروس و عبر حاصل ہو سکتے ہیں۔ نیٹو ممالک نے آپس میں دفاعی معاہدہ کر کے ’’اجتماعی دفاع‘‘ کے تصور کو ایک بہترین عملی شکل دے دی ہے۔ ایک رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے اور سب مل کر حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں۔
اس طریق کار کو بین الاقوامی قانون نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 نے مختلف ممالک کے اجتماعی حق دفاع کو سند جواز دی ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے بھی اس طریق کار کو جائز ٹھہرایا ہے۔ اس اجتماعی حقِ دفاع کے متعلق ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں قرب و بعد کی بات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ کوئی سے دو یا زائد ممالک، جو مشترکہ مفاد رکھتے ہوں، آپس میں دفاعی معاہدہ کر کے اجتماعی حق دفاع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بحر شمالی اوقیانوس حائل ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس طریق کار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
امتِ مسلمہ کے اجتماعی حقِ دفاع کے متعلق البتہ یہاں یہ بات واضح ہو کہ اس کی بنیاد کسی دفاعی معاہدے پر نہیں، بلکہ امت کے تصور پر ہے اور یہ امت پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے عائد کردہ فریضہ ہے۔ اس لیے اگر دو اسلامی ممالک میں دفاعی معاہدہ نہ بھی ہو تو ان پر لازم ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ تاہم موجودہ بین الاقوامی نظام اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مسلمان ممالک آپس میں دفاعی معاہدات بھی کر لیں تو وہ بہت سی پیچیدگیوں سے بچیں گے۔
پاک سعودی تعلقات اور مشترکہ دفاعی معاہدہ
ادارہ الشریعہ
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی مضبوط، دوستانہ اور بھائی چارے پر مبنی رہے ہیں جو برصغیر میں پاکستان کے قیام کے فوری بعد ہی شروع ہو گئے تھے۔ یہ رشتہ محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے دلوں میں گہرائی تک پیوست ہے۔ دونوں ملک اسلامی اخوت، مشترکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اپنے تعلقات کی بنیاد مانتے ہیں۔ پاکستانی فوجی اہلکاروں نے سعودی عرب کی فوجی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک دفاعی شعبے میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں اور متعدد معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے بھی یہ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کے تیل کی درآمد کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اکثر ادائیگی کے لیے نرم شرائط پیش کرتا ہے۔ جبکہ لاکھوں پاکستانی شہری سعودی عرب میں کام کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر جیسے اہم مسائل پر۔ سعودی عرب نے پاکستان پر آنے والے اقتصادی و سیاسی بحرانوں میں مالی امداد فراہم کرکے اسے سنبھلنے میں مدد دی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی سے تعبیر کیا ہے اور اس کے دفاع میں ہر ممکن تعاون کا عہد کیا ہے۔
مشترکہ دفاعی معاہدہ
اس تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025ء کو ریاض، سعودی عرب میں ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے ’’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے آیا ہے۔ اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ معاہدہ کا مقصد صرف خطرے کا جواب دینا نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور مشترکہ صلاحیتوں کو بڑھا کر خطے میں بازدار قوت قائم کرنا ہے۔ اگرچہ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ اقدام کسی ایک واقعے کا فوری ردِعمل نہیں بلکہ برسوں سے جاری مذاکرات اور پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کا تسلسل ہے، تاہم خطے میں حالیہ کشیدگی اور خاص طور پر اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد جب خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے کردار پر سوال اٹھایا تو سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس معاہدے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف یہ ایک واضح پیغام ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی یا بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ ردِعمل کے لیے تیار ہیں۔ اور دوسری طرف بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک اس کے اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ بھارت نے خصوصاً اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس سے اس کی علاقائی پالیسیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔مجموعی طور پر یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی سمت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی مزید مربوط ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی تزویراتی صورتِ حال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب نے اس کے ذریعے اپنی دفاعی خودمختاری کو نئی بنیادیں دی ہیں، جبکہ پاکستان نے خطے میں اپنے کردار کو مزید نمایاں اور مؤثر بنا لیا ہے۔
حوالہ جات
’’العریبیہ‘‘ کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان 17 ستمبر 2025ء کو ریاض کے قصر الیمامہ میں ایک تاریخی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا مرکزی نکتہ ایک تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کرنا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے یہ عہد کیا کہ ایک پر ہونے والی کسی بھی جارحیت کو دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اس تاریخی معاہدے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کیا بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ان کے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کی۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ (۱۷ ستمبر ۲۰۲۵ء)
ڈان اخبار کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے مذہبی، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر مضبوط رہے ہیں۔ سعودی تیل اور مالی امداد پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی تعلقات میں بھی مزید گہرائی آنے کی توقع ہے۔ (۱۷ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق معاہدے کے بعد خلیجی ریاستوں میں پاکستان کے کردار پر دوبارہ نظر ڈالی جا رہی ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا انہیں بھی پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات بڑھانے چاہئیں تاکہ خطے میں توازن قائم رکھا جا سکے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ اگر کسی ایک پر حملہ ہوا تو وہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اسے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ’’بڑا اسٹریٹجک قدم‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ اتحاد نہ صرف دفاعی بلکہ سیاسی تعلقات کو بھی نئی سطح پر لے گیا ہے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’رائٹرز‘‘ کے مطابق یہ معاہدہ کسی فوری بحران یا ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ برسوں پر محیط مذاکرات اور دفاعی تعلقات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی مشقوں کی شقیں بھی شامل ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے فوجی اداروں کو مزید قریب لے آئیں گی۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق معاہدے کے پس منظر میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور اسرائیل کے حالیہ حملے اہم محرک بنے۔ خلیجی ریاستوں میں امریکہ کی دفاعی ضمانتوں پر اعتماد کم ہونے کے بعد سعودی عرب نے پاکستان جیسے شراکت دار کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کو ترجیح دی۔ یہ معاہدہ اسی نئی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دفاعی شراکت داری کے ساتھ ساتھ تجارتی امکانات بھی کھلیں گے۔ معاہدے کے بعد سعودی سرمایہ کار پاکستان کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں زیادہ دلچسپی لے سکتے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
’’عرب نیوز‘‘ نے اس معاہدے کو پاکستان کی فوجی صلاحیت اور خطے میں اس کے بڑھتے کردار کے اعتراف کے طور پر دیکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے پاکستان کو صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک محافظ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ البتہ ماہرین نے معاہدے کی زبان میں ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے ابہام کو بھی اجاگر کیا ہے، جو مستقبل میں کئی اشکالات پیدا کر سکتا ہے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
دی گارڈیئن نے لکھا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک نیا سوال پیدا کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ سعودی عرب کی سلامتی پالیسی میں یہ تبدیلی عارضی ہے یا مستقل، اور اس کے خطے میں ان کے مفادات پر کیا اثرات ہوں گے۔ دفاعی صنعت اور فوجی اتحادوں میں بھی اس پیشرفت کے بعد نئے امکانات جنم لے رہے ہیں۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
گلف نیوز کے مطابق پاکستان کے لیے یہ معاہدہ مواقع اور خطرات دونوں لے کر آیا ہے۔ مواقع اس لحاظ سے کہ پاکستان عالمی سکیورٹی کے فریم ورک میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن خطرات اس اعتبار سے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو پاکستان کو زیادہ عسکری اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین پاکستان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دفاع اور سفارتکاری کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ (۱۸ ستمبر ۲۰۲۵ء)
برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال وغیرہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کی تسلیم
ادارہ الشریعہ
ستمبر کے تیسرے عشرے میں کئی مغربی ممالک نے فلسطین کو ایک باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک صدی پرانے تنازعے اور بحث کے تناظر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے 21 ستمبر 2025ء کو اس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ان ممالک نے اپنے اس فیصلے کی بنیاد کے طور پر غزہ کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور مغربی کنارے پر آبادکاریوں کے وسیع پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی تشویش کو قرار دیا۔ اگلے ہی دن 22 ستمبر کو مزید یورپی ممالک نے شمولیت اختیار کی جب فرانس نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور اسی طرح انڈورا، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، اور مونا کارو نے بھی اس فیصلے میں ساتھ دیا۔ اس تازہ ترین پیشرفت کے بعد اب اقوام متحدہ کے تقریباً 159 رکن ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کر چکے ہیں اور یہ تسلیمات زیادہ تر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خطوط پر مبنی ہیں۔
فلسطینی، علاقائی اور اسرائیلی ردِعمل
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے برطانیہ، کینیڈا، اور آسٹریلیا کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے انصاف اور دیرپا امن کی طرف ایک ضروری اور اہم قدم قرار دیا۔ عرب ممالک اور تنظیموں نے بھی اس رجحان کو سراہا ہے۔ سعودی عرب نے اس اقدام کو دو ریاستی حل کی راہ میں سنجیدہ عزم کا ثبوت قرار دیا۔ کویت، عمان، اردن، اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے بھی مثبت ردعمل ظاہر کیا، جسے قطر نے فلسطینی عوام کے قانونی حقوق کی فتح قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے اندر ایک جائز اقدام کے طور پر تسلیم کیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ان تسلیمات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور انہیں دہشت گردی کے لیے ایسا ’’انعام‘‘ کہا ہے جو دو ریاستی حل کے امکان کو کم کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے یہاں تک عندیہ دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں آبادکاریوں کی پھیلاؤ کی کاروائیوں کو تیز کرنے یا دیگر علاقائی ضمّات کی منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حکومتی اتحاد کے اندر بھی اس ردعمل پر اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں بعض وزراء مغربی کنارے کے مستقل الحاق کی بات کر رہے ہیں جبکہ کچھ محتاط رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی محاذ پر اثرات اور چیلنجز
البتہ مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ اقدام زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، یعنی اس سے عملی طور پر فلسطین کی سرحدوں یا داخلی حکومتی معاملات فی الفور کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، لیکن بہرحال اس سے عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کے موقف اور حل کو مضبوط کرنے اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے میں مدد ملے گی۔
مغربی ممالک کے اندر اس فیصلے پر سیاسی تقسیم بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانیہ میں وزیر اعظم کی پارٹی اور حزبِ اختلاف کی طرف سے تنقید سامنے آئی ہے کہ یہ قدم دہشت گردی کو ’’انعام دینے‘‘ جیسا ہے۔ یورپی یونین کے بعض ممالک مثلاً جرمنی اور اٹلی نے ابھی تک تسلیم کا اعلان نہیں کیا اور ان کا موقف ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کے فروغ کے بعد ہی تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔ کچھ یورپی رہنماؤں نے آئندہ تسلیمات کو حماس کا اثر کم ہونے، یا یروشلم اور دیگر حساس علاقوں کے حوالے سے قابلِ قبول حل کے ساتھ مشروط کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر جذبات کی لہر دیکھی گئی جہاں بہت سوں نے اسے دیر سے سہی مگر انصاف کی طرف پیشرفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے محض علامتی اقدام کہہ کر تنقید کی۔ عوامی حمایت کے حوالے سے ایک حالیہ سروے کے مطابق 58 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک فلسطین کو تسلیم کریں۔ یہ حمایت ڈیموکریٹس میں زیادہ (78 فیصد) اور ریپبلکنز میں کم (41 فیصد) ہے۔
مسئلہ فلسطین کی پیچیدگیاں اور مستقبل کے امکانات
یہ بات واضح ہے کہ چند بڑے مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کی یہ تسلیم بین الاقوامی دباؤ کا اظہار ضرور ہیں مگر محض اس سے مسئلہ حل ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔ عالمی برادری کے نقطۂ نظر سے بنیادی چیلنجز یہ ہیں:
- اقوامِ متحدہ کے 1947ء کے تقسیمی منصوبہ پر درست عملدرآمد۔
- 1967ء کی سرحدوں کی بحالی۔
- اہلِ مذاہب کے ہاں ارضِ مقدس کی قابلِ قبول حیثیت۔
- مقامی آبادیوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات کا ازالہ۔
اگر باقی ممالک بھی فلسطین کو تسلیم کریں اور عوامی رائے اس سمت میں مزید تبدیل ہو تو اس کے ممکنہ اثرات میں (1) عالمی دباؤ میں اضافہ (2) دو ریاستی حل کا دوبارہ اجاگر ہونا (3) اور اسرائیل کی سیاسی تنہائی میں اضافہ شامل ہے۔ یہ تبصرہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی پیشرفت کے ذریعے مغربی ممالک ایک بار پھر عرب ممالک کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے حوالے سے ان کی پالیسیوں سے اٹھ چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ موجودہ قبولیت کا عمل فلسطینی ریاست کے بین الاقوامی تسلیم کی سمت ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ اپنی علامتی اہمیت کے ساتھ بین الاقوامی برادری کو مزید واضح موقف اختیار کرنے پر مجبور کرے گا۔ البتہ جب تک زمینی حقائق، سلامتی صورتحال اور داخلی اصلاحات کے حوالے سے پیشرفت نہ ہو، یہ تسلیمات ایک حد سے زیادہ اثر نہیں دکھا سکتیں۔
حوالہ جات
سب سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ ان ممالک نے کہا کہ یہ قدم غزہ میں انسانی بحران اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی آبادکاریوں کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔ (رائٹرز — ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ء)
اسی دوران فلسطینی ریاست کے صدر محمود عباس نے اس اعلان کو ’’انصاف اور دیرپا امن کی طرف ایک اہم قدم‘‘ قرار دیا۔ (ڈان — ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ء)
اس کے اگلے دن فرانس نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، اور اس کے ساتھ اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور موناکو نے بھی شمولیت اختیار کی۔ ان ممالک نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ قدم دو ریاستی حل اور خطے میں امن کی طرف ایک نیا آغاز ہو۔ (اے پی — ۲۲ ستمبر ۲۰۲۵ء)
عرب دنیا نے ان فیصلوں کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب نے اسے ایک ’’سنگِ میل‘‘ کہا۔ جبکہ عمان، کویت اور اردن نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اسے دو ریاستی حل کی مضبوطی قرار دیا۔ (اے اے — ۲۲ ستمبر ۲۰۲۵ء)
قطر نے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے قانونی اور جائز حقوق کی توثیق ہے۔ (ڈان — ۲۲ ستمبر ۲۰۲۵ء)
دوسری طرف اسرائیل نے ان تسلیمات کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ یہ اقدام دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیلی حکومت کے کچھ وزراء نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی بات کی، جبکہ کچھ نے محتاط رویہ اختیار کرنے کی تجویز دی۔ (رائٹرز — ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ء؛ اے اے — ۲۳ ستمبر ۲۰۲۵ء)
یورپی یونین کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے۔ جرمنی اور اٹلی نے کہا کہ وہ ابھی تک تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پہلے اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان باضابطہ مذاکرات ہوں۔ (ای این ایس اے — ۲۵ ستمبر ۲۰۲۵ء)
عوامی سطح پر بھی اس فیصلے پر بڑی بحث ہوئی۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے کہا کہ اگرچہ یہ دیر سے ہوا لیکن یہ انصاف کی جیت ہے، جبکہ کچھ نے اسے صرف علامتی قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک باضابطہ امن مذاکرات نہ ہوں۔ (رویا نیوز — ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ء)
امریکہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 58 فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ تمام ممالک کو فلسطین کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ڈیموکریٹس میں یہ شرح 78 فیصد ہے جبکہ ریپبلکنز میں 41 فیصد لوگ اس کے حامی ہیں۔ (الجزیرہ — ۲۰ اگست ۲۰۲۵ء)
ایک اور سروے کے مطابق 55 فیصد امریکی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ (گیلپ — ۲۰۲۵ء)
فی الحال دنیا کے 159 سے زیادہ ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں، اور حالیہ لہر نے اس تعداد کو مزید بڑھا دیا ہے۔ (اے اے — ۲۳ ستمبر ۲۰۲۵ء)
ابداء الفرح والسرور وتقدیم الشکر والتحیۃ بمناسبۃ توقیع الاتفاق الدفاعی بین المملکۃ العربیۃ السعودیۃ وجمہوریۃ باکستان الاسلامیۃ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مترجم : مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے پر خوشی و مسرت کا اظہار اور شکر و تحسین کے کلمات
مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب، امیرِ پاکستان شریعت کونسل، مولانا زاہد الراشدی نے جمعہ کے خطبے میں فرمایا:
"پہلے ہمیں پریشانی ہو گئی تھی کہ قطر میں ہمارے مسلم سربراہوں کی کانفرنس مذمت کر کے چلے گئے تھے۔۔۔ یہی ہوا تھا نا؟ سارے مسلم سربراہ اکٹھے ہوئے: "ہم اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں!" مایوسی ہوئی۔۔۔ میں نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔۔۔ لیکن کل رات اللہ پاک نے توفیق دی کہ سعودیہ عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔۔۔ سارے عالمِ اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔۔۔ آپ بھی خوش ہیں یا نہیں ہیں؟
سعودی عرب اور پاکستان نے اکٹھ کر لیا ہے کہ: "سعودیہ پر حملہ۔۔۔ پاکستان پہ حملہ تصور ہوگا! پاکستان پہ حملہ۔۔۔ سعودیہ پر حملہ تصور ہوگا! اور ہم اکٹھے مل کر دفاع کریں گے۔۔۔" اتنی بڑی خبر ہے۔۔۔ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے آپ! اس خبر کی اہمیت کا اندازہ آپ کو کچھ دنوں کے بعد ہوگا۔۔۔
میں صرف اس کے صرف ایک پہلو عرض کرتا ہوں۔۔۔ اتنی بات بھی میں کل رات سے بہت خوش ہوں۔۔۔ کہ سعودی عرب پر حملے میں دفاع کون کرے گا؟۔۔۔ سعودی عرب پر حملے میں دفاع کون کرے گا؟۔۔۔ پاکستان! اور حرمین شریفین کا دفاع کون کرے گا؟۔۔۔ یا اللہ! حرمین شریفین کے دفاع کی ذمہ داری میں ہمیں بھی شریک کر دیا۔۔۔ میں تو اس اعزاز کو ہضم نہیں کر پا رہا۔۔۔
جنگ تو ہوگی۔۔۔ دفاع بھی ہوگا۔۔۔ سب کچھ ہوگا۔۔۔ لیکن حرمین شریفین۔۔۔ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ۔۔۔ روضۂ اطہر اور کعبۃ اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری میں ہمارا نام بھی آ گیا۔۔۔ یا اللہ! سچی بات ہے۔۔۔ میں تو بالکل اپنے میں نہیں ہوں یار۔۔۔ اتنا بڑا اعزاز!
اللہ پاک ہمیں اس اعزاز کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ حرمین شریفین کے دفاع کی ذمہ داری ہم پر آ گئی ہے۔۔۔ اللہ ہمیں اس کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ اللہ پاک حوصلہ عطا فرمائے۔۔۔ کہ ہم حرمین شریفین کا بھی دفاع کریں۔۔۔ اور بیت المقدس کا بھی دفاع کریں۔۔۔ یہ ہمارے مقامات ہیں۔۔۔ آج خطرے میں ہیں۔۔۔ دشمن ایک نہیں۔۔۔ کئی دشمن ہیں۔۔۔ اس نے ہمیں یہ اعزاز بخشا ہے۔۔۔
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔۔۔ یا اللہ! تیرا شکر ہے۔۔۔ ہمیں یہ اعزاز بخشا ہے۔۔۔ مولیٰ کریم! ہمیں یہ اعزاز پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔۔۔
اللّٰھم صلِّ علی سیدنا و مولانا محمد و آلہ و اصحابہ وسلم۔۔۔"
إبداء الفرح والسرور وتقديم الشكر والتحية بمناسبة توقيع الاتفاق الدفاعي بين المملكة العربية السعودية وجمهورية باكستان الإسلامية
قال خطيب المسجد الجامع المركزي في غوجرانوالا، رئيس مجلس الشريعة الباكستاني، مولانا زاهد الراشدي، في خطبته يوم الجمعة:
أوَّلاً أصابَنا القلقُ حين اجتمعَ قادةُ المسلمين في مؤتمر قطر، فاكتفَوا بالاستنكار ثم انصرفوا... أليس كذلك؟ اجتمعَ جميعُ القادةِ وقالوا: "نستنكرُ إسرائيل!" فحصل الإحباط، وأنا أيضاً عبَّرتُ عن إحباطي... ولكن في ليلة البارحة وفَّقنا اللهُ تعالى، فتمَّ توقيعُ اتفاقٍ دفاعيٍّ بين المملكة العربية السعودية وباكستان... فانتشرت موجةُ فرحٍ في العالم الإسلاميِّ كلِّه... أنتم أيضاً مسرورون أم لا؟
لقد اتفقت السعوديةُ وباكستانُ أن: "الاعتداءَ على السعودية يُعَدّ اعتداءً على باكستان، والاعتداءَ على باكستان يُعَدّ اعتداءً على السعودية، وسندافعُ معاً"... خبرٌ عظيم! لا تستطيعون أن تتصوَّروا عظمتَه... وستعرفون أهميَّته بعد أيَّام...
أُشيرُ فقط إلى جانبٍ واحد... منذ ليلة البارحة وأنا فرِحٌ جدّاً... مَن سيدافعُ إذا اعتُديَ على السعودية؟ مَن سيدافعُ إذا اعتُديَ على السعودية؟ باكستان! ومَن سيدافعُ عن الحرمين الشريفين؟ يا الله! لقد أشركتَنا في مسؤوليَّة الدفاع عن الحرمين الشريفين... لا أستطيع أن أستوعبَ هذا الشرف...
ستكون هناك حرب... سيكون هناك دفاع... سيكون كلُّ شيء... لكن الحرمين الشريفين، المدينة المنوَّرة ومكَّة المكرَّمة، الروضة المطهَّرة والكعبة المشرَّفة... مسؤوليَّةُ حمايتِها صار اسمُنا فيها! يا الله! والله إنّي لستُ في وعيي من شدَّة الفرح... إنَّه شرفٌ عظيم!
اللهمَّ وفِّقْنا لحفظِ هذا الشرف... لقد أصبحت مسؤوليَّةُ الدفاع عن الحرمين الشريفين على عاتقِنا... اللهمَّ أعنَّا على حفظِها... اللهمَّ ارزقنا قوَّةً لنحمي الحرمين الشريفين... ولنحمي المسجد الأقصى أيضاً... هذه مقاماتُنا... وهي اليوم في خطر... والأعداء ليسوا واحداً، بل أعداءٌ كثيرون... وقد منحتَنا هذا الشرف...
يا الله! لك الحمد... يا الله! لك الحمد... منحتَنا هذا الشرف... يا مولاي الكريم! وفِّقْنا لأداء هذه الأمانة...
اللهمَّ صلِّ على سيِّدنا ومولانا محمدٍ، وعلى آله وأصحابِه وسلِّم...
مسئلہ فلسطین اور ٹرمپ ازم: مولانا راشدی کا جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں خطاب
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
صرح أمير المجلس الشرعي الباكستاني، فضيلة الشيخ مولانا زاهد الراشدي، بأنّ الكيان الصهيوني منذ قيامه لم يعترف بأيّ حدود ثابتة مع فلسطين، بل ظلّ على الدوام يطرح مشروعه التوسّعي المعروف باسم "إسرائيل الكبرى"، وهو مشروع يتجاوز الأراضي الفلسطينية المغتصبة إلى مناطق من دول الجوار، وتشمل خرائطه والعياذ بالله حتى المدينة المنوّرة، أقدس بقاع الأرض بعد مكة المكرمة.
وأوضح فضيلته أنّ الاعتراف الرسمي بإسرائيل من قِبَل أي دولةٍ إسلامية لا يقتصر على مجرد إقامة علاقات سياسية أو دبلوماسية، بل يُعدّ من الناحية العملية إقرارًا ضمنيًا بمطامعها التوسعية، وهو ما يعني قبولًا لمزاعمها الباطلة في أرض الحرمين الشريفين، الأمر الذي لا يمكن للأمة الإسلامية أن تتحمّله أو تقبل به بأي حال من الأحوال.
جاءت هذه التصريحات في كلمةٍ مؤثرة ألقاها فضيلته أمام جمعٍ من العلماء والطلبة في الجامعة المحمدية بمدينة فيصل آباد، يوم الثلاثاء الموافق الأول من أكتوبر. وأكد خلال كلمته أنّ الواجب الشرعي والتاريخي يفرض على الحكّام والمسؤولين في العالم الإسلامي أن يتحرروا من الضغوط الخارجية، ولا سيّما من الهيمنة الأمريكية وسياسة "الترامبية"، وأن يتخذوا موقفًا واضحًا وحازمًا ينسجم مع المصلحة العليا للأمة، ومع مقتضيات حماية المقدسات الإسلامية، وفي مقدمتها القدس الشريف.
وأضاف أمير المجلس أنّ الأمة الإسلامية قدّمت عبر تاريخها الطويل تضحياتٍ جسامًا في سبيل عقيدتها وحماية أرضها ومقدساتها، وأنّ أي تفريطٍ في هذا الجانب سيكون خيانةً لدماء الشهداء وتاريخ الأمة وميراثها النبوي. وشدّد على أنّ القدس ليست قضية الفلسطينيين وحدهم، بل هي قضية عقائدية للأمة جمعاء، وأنّ تجاهلها أو السكوت عن تهديداتها سيكتب على من يفعل ذلك لعنة التاريخ وغضب الأجيال القادمة.
وقد انعقد الاجتماع برئاسة نائب أمير المجلس الشرعي الباكستاني، فضيلة الشيخ مولانا عبد الرزاق، وحضره عدد كبير من العلماء والطلبة والعاملين في المجال الديني والدعوي، حيث اتفقت كلماتهم على ضرورة رفع الوعي الشعبي بهذه المخاطر، والضغط على الحكومات الإسلامية لاتخاذ الموقف الصائب. كما جرى التأكيد على أن التضامن مع الشعب الفلسطيني ومقاومته واجب شرعي وسياسي وأخلاقي، وأنّ التفريط فيه لا يخدم إلا أجندات الأعداء.
صادر عن:
مولانا فضل الهادي السواتي: نائب خطيب الجامع المركزي، غوجرانواله.
مولانا حافظ أمجد محمود معاوية: سكرتير الإعلام لمجلس الشريعة الباكستاني (بنجاب)
پاکستان شریعت کونسل کے امیر فضیلۃ الشیخ مولانا زاہد الراشدی نے واضح طور پر کہا ہے کہ صیہونی وجود (اسرائیل) نے اپنے قیام کے وقت سے لے کر آج تک فلسطین کے ساتھ کسی بھی طے شدہ سرحد کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ وہ ہمیشہ " عظیم اسرائیل " کے نام سے جانے والے اپنے توسیع پسندانہ منصوبے پر ڈٹا رہا ہے۔ یہ منصوبہ غصب شدہ فلسطینی علاقوں سے بھی تجاوز کر کے ہمسایہ ممالک کے کچھ خطوں تک پھیلا ہوا ہے، اور اس کے نقشوں میں -والعیاذ باللہ- مدینہ منورہ، جو کہ مکہ مکرمہ کے بعد زمین کا مقدس ترین حصہ ہے، بھی شامل ہے۔
فضیلۃ الشیخ نے مزید وضاحت کی کہ کسی بھی اسلامی ملک کی طرف سے اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا محض سیاسی یا سفارتی تعلقات کے قیام تک محدود نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر یہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا ضمنی اعتراف ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ (اسلامی ملک) حرمین شریفین کی سرزمین سے متعلق اس (اسرائیل) کے باطل دعووں کو قبول کر رہا ہے، جسے امت مسلمہ کسی بھی صورت میں برداشت کر سکتی ہے اور نہ ہی قبول کر سکتی ہے۔
یہ گفتگو انہوں نے جامعہ محمدیہ فیصل آباد میں علماء اور طلباء کے ایک مجمع کے سامنے یکم اکتوبر بروز منگل کو ایک پُر اثر خطاب میں کی۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی دنیا کے حکمرانوں اور ذمہ داران پر شرعی اور تاریخی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ، خصوصاً امریکی غلبے اور " ٹرمپ ازم" کی پالیسی سے آزادی حاصل کریں۔ انہیں ایک واضح اور مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے جو امت کے وسیع مفاد اور اسلامی مقدسات، جن میں قدس شریف سرفہرست ہے، کے تحفظ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر نے مزید کہا کہ امت مسلمہ نے اپنی طویل تاریخ میں اپنے عقیدے اور اپنی زمین و مقدسات کے تحفظ کی خاطر عظیم قربانیاں دی ہیں، اور اس پہلو میں کوئی بھی غفلت یا کوتاہی شہداء کے خون، امت کی تاریخ اور اس کے نبوی ورثے کے ساتھ خیانت ہو گی۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ القدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پوری امت کا ایک عقائدی مسئلہ ہے۔ اس سے لاپرواہی یا اس کے خطرات پر خاموشی اختیار کرنے والوں پر تاریخ کی لعنت اور آنے والی نسلوں کا غضب لکھا جائے گا۔
یہ اجلاس پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الرزاق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں علماء، طلباء اور دینی و دعوتی میدان میں کام کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے عوامی بیداری کو بڑھانے اور اسلامی حکومتوں پر صحیح موقف اپنانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کے ساتھ یکجہتی ایک شرعی، سیاسی اور اخلاقی فریضہ ہے، اور اس میں کوتاہی صرف دشمنوں کے ایجنڈوں کو تقویت دیتی ہے۔
جاری کردہ:
مولانا فضل الہادی السواتی: نائب خطیب مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ: سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل (پنجاب)
پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ضبطِ تحریر : ایمل صابر شاہ
(آسٹریلیا مسجد لاہور میں ۵ ستمبر ۲۰۲۵ء کو خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ہم سب کی طرف سے شکریہ و تبریک کی مستحق ہے کہ تحریک ختم نبوت کے تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلہ میں عوامی بیداری کے لیے مختلف سطحوں پر اجتماعات کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ آج کی یہ کانفرنس بھی اسی مہم کا حصہ ہے جو اس موقع پر ہو رہی ہے کہ ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ کو نصف صدی مکمل ہونے پر پوری قوم ’’یومِ دفاعِ پاکستان‘‘ جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے اور سرحدوں پر کشیدگی کے ساتھ ساتھ بھارتی کمانڈر انچیف کی طرف سے متوقع جنگ کی دھمکی نے قوم کے جوش و خروش میں اضافہ کر دیا ہے۔
مجھ سے پہلے فاضل مقرر انور گوندل آپ کو بتا رہے تھے کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے حوالہ سے اس وقت قوم کو کن خدشات کا سامنا ہے، اور انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے ریاستی کردار اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کا بھی ذکر کیا ہے۔ میں انہی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور مغرب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس محاذ آرائی کو کس وجہ سے مسلسل بڑھاتا جا رہا ہے؟
قرآن کریم نے مختلف مقامات پر یہود و نصاریٰ کی طرف سے اسلام کی مخالفت کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ان کے اسلام قبول نہ کرنے اور اسلام کے فروغ میں رکاوٹیں ڈالتے رہنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اسلام کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ وہ اسلام اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے ہیں، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا انتظار کرتے رہے ہیں اور تشریف آوری کے بعد انہوں نے پیغمبر آخر الزمانؐ کو پہچان بھی لیا تھا مگر قبول نہیں کیا۔ اس کی وجہ قرآن کریم نے ’’حسداً من عند أنفسہم‘‘ بتائی ہے کہ وہ اس بات پر حسد کا شکار ہو گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں کیوں پیدا ہو گئے ہیں؟
اس کا اظہار اس وقت کے سب سے بڑے مسیحی حکمران قیصر اور ہرقل کے اس مکالمہ میں بھی موجود ہے جو قریش کے سردار حضرت ابو سفیانؓ کے ساتھ اس نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوتِ اسلام کا مکتوب موصول ہونے پر اپنے دربار میں کیا تھا۔ حضرت ابوسفیانؓ خود یہ واقعہ نقل کرتے ہیں جو بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ ہرقل نے حضرت ابوسفیانؓ سے کہا کہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو معلومات انہوں نے فراہم کی ہیں اگر وہ درست ہیں تو پھر وہ وہی نبی ہیں جن کا مجھے بھی انتظار تھا، میں پیغمبر آخر الزمانؐ کا خود منتظر ہوں اور علامات بھی سمجھ میں آرہی ہیں لیکن مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ پیغمبرؐ تم میں (عربوں میں) آجائیں گے۔
یہ تاریخی شہادت ہے قرآن کریم کے اس ارشاد پر کہ یہود و نصاریٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے سے انکار بے علمی اور بے خبری کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ پیغمبر آخر الزمانؐ کو پہچان لینے کے بعد حسد کی وجہ سے کیا ہے۔
اس پس منظر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تو اس دور کا حسد تھا جو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے اسلام کی مخالفت کا سبب بنا۔ آج بھی ان کی مخالفت اور مخالفانہ مہم کا سبب حسد ہی ہے، لیکن آج کے حسد کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ آج کا حسد یہ ہے کہ مغرب نے سوسائٹی کو مذہب سے لا تعلق کر لینے اور مذہب کے معاشرتی کردار کو سرے سے ختم کر دینے کے بعد گزشتہ دو صدیوں میں انسانی معاشرے کو جن مسائل سے دوچار کر دیا ہے، اور فکری و تہذیبی افراتفری کی جو صورتحال پیدا کر دی ہے، اس نے انسانی معاشرہ کی مذہب کی طرف واپسی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، اور انسانی دانش آہستہ آہستہ پھر سے مذہب کے معاشرتی کردار کی ضرورت محسوس کرنے لگی ہے۔ مگر مغرب کا المیہ ہے کہ مذہب اپنی اصل شکل میں صرف مسلمانوں کے پاس موجود ہے اور وہ قرآن و سنت کی صورت میں ہے جو محفوظ و مسلّم حالت میں دنیا کے سامنے ہے۔ مسلمانوں کے عمل کی کیفیت کچھ بھی ہو مگر ان کا یہ کارنامہ ہے جس کا سب سے بڑا ذریعہ دینی مدارس ہیں کہ قرآن کریم کی صورت میں آسمانی تعلیمات اور حدیث و سنت کی شکل میں ان کی نبویؐ تشریحات پورے استناد اور اعتماد کے ساتھ نہ صرف محفوظ و موجود ہے بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں مدارس میں اس کی تعلیم جاری ہے اور اس پر عملدرآمد کے نمونے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
یہ سہولت یہودیوں اور عیسائیوں کو میسر نہیں ہے ان کے پاس نہ توریت، زبور اور انجیل کا کوئی محفوظ و مستند نسخہ پایا جاتا ہے، اور نہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء کرام حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرمودات اور سیرت و واقعات کے بارے میں کوئی مستند مواد ان کے پاس محفوظ ہے۔ اور انہیں اندر ہی اندر سے یہ حسد کھائے جا رہا ہے کہ اگر انسانی سوسائٹی نے مذہب کے معاشرتی کردار سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا، اور حالات بتا رہے ہیں کہ ایسا ہونے جا رہا ہے، تو یہ اعزاز صرف اسلام ہی کو ملے گا کہ وہ وحئ الٰہی اور انبیاء کرام علیہم السلام کی ہدایات و فرمودات کے مطابق نسلِ انسانی کو راہنمائی فراہم کرے۔ چنانچہ انہوں نے مشترکہ طور پر یہ طے کر کھا ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں دین سے دور رکھا جائے، اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں شکوک و شبہات کو اس قدر فروغ دیا جائے کہ انسانی معاشرے کو اسلام سے متنفر اور بیزار کرنے کی مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ جو ادارے، جماعتیں اور حلقے اسلامی تعلیمات کے تحفظ و فروغ کے لیے کسی بھی محاذ پر کام کر رہے ہیں، وہ سب ہمارے محاذ ہیں، ان کی حمایت و معاونت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہم اسی سلسلہ کے ایک محاذ کے اجتماع میں اس وقت شریک ہیں، عقیدۂ ختم نبوت کا دفاع اسلام کی بنیادوں کا تحفظ و دفاع ہے اور پاکستان کی نظریاتی شناخت اور سرحدوں کا دفاع ہے۔ جس طرح وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ضروری ہے اور ہم سب اس کے لیے پاک فوج کے ساتھ ہیں، اسی طرح ملک کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی ضروری ہے جس کے لیے تمام طبقوں اور اداروں کو متحد ہونا چاہیے۔
قاد_یانی گروہ جس طرح اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف کو فروغ دے رہا ہے، اسی طرح پاکستان کے نظریاتی شناخت کے خلاف بھی سرگرمِ عمل ہے اور دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے محنت کرنے والے افراد، طبقات اور اداروں کو چاہیے کہ وہ منکرینِ ختمِ نبوت کی مختلف النوع سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور مسلمانوں کو ان سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے بچاؤ کی تدبیریں کرتے رہیں۔ جبکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے اپنے دائروں میں اس مہم کو آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کارِ خیر میں حصہ لیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین
جامعہ نصرۃ العلوم میں پیغامِ پاکستان سیمینار اور مولانا راشدی کا خطاب
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سالمیت و استحکام اور ترقی کے لیے دستور کی بالادستی کا احترام کرتے ہوئے تمام دینی و سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور قومی طبقات کو اپنی اپنی ترجیحات چھوڑ کر دستور کے دائرے میں واپس آنا ہوگا۔ اس کے بغیر موجودہ فکری، سیاسی اور معاشرتی بحران کو کنٹرول نہیں کیا جا سکے گا۔
وہ گزشتہ شب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں "پیغامِ پاکستان سیمینار" سے خطاب کر رہے تھے، جس کی صدارت جامعہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے کی اور اس سے مولانا عبدالواحد رسولنگری، مولانا شاہنواز فاروقی، مولانا جواد محمود قاسمی اور مولانا مفتی فضل الہادی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جامعہ نصرۃ العلوم کے سہ ماہی امتحانات میں مختلف درجات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں کسی سیاسی و دینی جدوجہد کے لیے ہتھیار اٹھانا بغاوت ہے، اور ہم اس کو کسی صورت میں درست نہیں سمجھتے اور نہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انگریزوں کے دور میں بہت سی مسلح جنگیں لڑی ہیں جو اپنے اپنے وقت میں سب درست تھیں۔ ان میں نواب سراج الدولہ، ٹیپو سلطان، شہدائے بالاکوٹ، بنگال کی فرائضی تحریک، سندھ میں حروں کی جدوجہد، پنجاب میں سردار احمد خان کھرل کی جنگ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں حاجی صاحب ترنگزئی اور فقیر ایپی کی جنگیں شامل ہیں۔ یہ سب ہمارے بزرگ تھے اور ہیں، ان میں سے کسی کی جنگ پر شرمندگی نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے یہ سب قابلِ فخر ہیں۔
لیکن جنگ عظیم اول کے بعد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی قیادت میں ہم نے مسلح جنگ کا طریقہ چھوڑ کر سیاسی جدوجہد اور سٹریٹ پاور کی جدوجہد کا راستہ اختیار کر لیا تھا، جس پر پہلی تحریک "تحریکِ خلافت" تھی۔ اس کے بعد تمام دینی و سیاسی تحریکیں سیاسی محاذ پر چلائی گئی ہیں۔ ہم نے پاکستان بننے کے بعد قرآن و سنت کی بالادستی، شریعت کے نفاذ، عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور ناموسِ رسالت کی پاسداری سمیت ہر جدوجہد سیاسی میدان میں کی ہے، اور آج بھی وہی ہمارا دائرہ اور محاذ ہے۔
ملک کے اندر کسی بھی دینی، سیاسی اور قومی ایجنڈے کے لیے مسلح جدوجہد کو جائز نہیں سمجھتے اور ایسا کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتے۔ لیکن اس کے ساتھ ہماری یہ بھی گزارش ہے کہ جس طرح مسلح جنگ جائز نہیں ہے، اسی طرح دستوری تقاضوں سے انحراف اور قرآن و سنت کی بالادستی سے گریز بھی درست نہیں ہے، اور ایسا کرنے والوں کو بھی اپنے منفی طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
مولانا راشدی نے کہا کہ ہم سے بعض حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ہم اپنے خطابات میں فلاں فلاں موضوعات پر بات کریں۔ یہ بات ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم نے خطبہ جمعہ، دینی بیانات اور درس و تدریس میں کبھی کسی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا اور نہ آئندہ منبر و محراب کی آزادی کے خلاف کوئی بات قبول کریں گے۔
مولانا راشدی نے مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلباء سے کہا کہ وہ اپنی اجتماعیت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ وابستگی کو پختگی کے ساتھ قائم رکھیں، اور کوئی الگ انفرادی رائے یا موقف اختیار کرنے کی بجائے جمہور علماء کرام کے دائرے میں رہیں۔
مولانا عبدالواحد رسولنگری نے اپنے خطاب میں اسی بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی ضروری ہے، اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
مولانا شاہنواز فاروقی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے تحفظ اور ملک کی سالمیت کی پاسداری کے لیے ہم حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اپنے وطن عزیز کے ایک ایک چپہ کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔ پاکستان کے قیام کے مقصد کو بھی پورا کرنا ہوگا اور تمام طبقات کو اس کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
21 ستمبر 2025ء
قطر اجلاس، پاک سعودی معاہدہ، صمود فلوٹیلا، ختم نبوت کانفرنس : مولانا راشدی کا تبصرہ
مولانا حافظ عاطف حسین
مولانا حافظ دانیال عمر
قطر اجلاس کے فیصلے اور امتِ مسلمہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی نے آج طلبہ کی ایک مجلس میں قطر میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اجلاس سے اس سے زیادہ کوئی توقع نہیں تھی اس لیے کہ اب سے ایک صدی قبل خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ پر نئی عرب ریاستیں جن معاہدات کے تحت قائم ہوئی تھیں وہ انہی کے مطابق چل رہی ہیں اور ان معاہدات سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس وجہ سے جمہوریت کا علمبردار مغرب ان میں سے کسی سے ملک میں جمہوری حکومت اور انسانی حقوق کا مطالبہ نہیں کر رہا۔
ہم ان عرب حکمرانوں بلکہ دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں سے صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں جتنا پاس مغرب کے حکمرانوں سے کیے گئے معاہدات کا کرنا پڑ رہا ہے اتنا اس معاہدہ کا بھی کر لیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کر رکھا ہے اور قرآن کریم نے ’’واوفوا بعہد اللہ اذا عاھدتم‘‘ کی صورت میں اس کی یاددہانی بھی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ امتِ مسلمہ کے ایمان و عقیدہ اور قرآن و سنت کی راہنمائی کا ہے۔ جب تک ہم بحیثیت امت اور ہمارے تمام مسلم حکمران اس پر واپس نہیں آتے، یہ بحران حل ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا اور پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دیں اور اس دلدل سے نجات دلائیں، آمین یا رب العالمین۔
منجانب: حافظ عاطف حسین (شریک دورۂ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
۱۷ ستمبر ۲۰۲۵ء
پاکستانی قوم کا بہت بڑا اعزاز
استاذ محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ پر تبصرہ کیا اور فرط جذبات سے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اکبر! ہم حرمین شریفین کے دفاع کی ذمہ داری میں شریک ہو گئے۔ بخدا اتنے بڑے اعزاز کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پوری قوم کو اللہ پاک کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کریم ہمیں اس کی لاج رکھنے اور حرمین شریفین و بیت المقدس کی حفاظت و دفاع میں اپنا کردار بہتر طور پر سرانجام دینے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
منجانب: حافظ دانیال عمر
۱۹ ستمبر ۲۰۲۵ء
گلوبل صمود فلوٹیلا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج صبح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ترجمہ قرآن کریم کے سبق کے دوران استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے صمود فلوٹیلا قافلے کے شرکاء کو ان کے حوصلے اور جرأت و استقامت پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ پوری امتِ مسلمہ اور نسلِ انسانی کے جذبات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کے لئے مسلسل دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اللہ پاک ان کی حفاظت فرمائیں اور ان کی اس عظیم محنت اور قربانی کو امتِ مسلمہ کی بیداری کا ذریعہ بنا دیں آمین یارب العالمین۔
۲۴ ستمبر ۲۰۲۵ء
آج ۲۸ ستمبر کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے سبق کے بعد استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے اہلِ غزہ کی امداد کے لیے جانے والے فلوٹیلا مشن اور آج گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کرائی اور کہا کہ ہم سب کو ان ملی و دینی کاموں کی بھرپور کامیابی کے لیے ہر وقت دعا گو رہنا چاہیے۔ اللہ پاک خصوصی فضل و کرم سے نوازیں اور کامیابی و کامرانی سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
منجانب: حافظ عاطف حسین
۲۸ ستمبر ۲۰۲۵ء