الشریعہ — نومبر ۲۰۲۵ء

مسئلہ کشمیر کا مختصر جائزہ اور ممکنہ حلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
غزہ کی جنگ بندی     /     تحریک لبیک کا معاملہڈاکٹر محمد امین 
کلامِ الٰہی کو سمجھنے کا ایک اُصولالشیخ متولی الشعراوی 
قرآن سے راہنمائی کا سوالڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
حدیثِ نبوی ﷺ: شُبہات اور دِفاع کے درمیان، مسلمانوں پر کیا لازم ہے؟الدکتور محمد طلال لحلو 
فارغینِ مدارس کے معاشی مسائل و مشکلات اور حلڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
مروّجہ نعت خوانی اور ہمارے نعت خواںسید سلمان گیلانی 
محمد نام رکھنے کے متعلق فضائل کی حقیقتمفتی سید انور شاہ 
محمد نام کے فضائلجامعۃ العلوم الاسلامیۃ 
متاعِ مطيعپروفیسر میاں انعام الرحمٰن 
اقوام عالم کی تہذیبوں کا تقابلی جائزہمولانا حافظ واجد معاویہ 
حقوق الإنسان: فروق أساسية بين المنظور الإسلامي والغربيمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
The Kashmir Issue: A Brief Overview and Possible Solutionمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

سلسلہ وار

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۵)مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۹)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 

ماہانہ بلاگ

پاکستان اور افغانستان کا ناخوشگوار تصادم — اہم نکاتمولانا مفتی منیب الرحمٰن 
پاک افغان تعلقات اور ہماری یکطرفہ قومی پالیسیاںمولانا فضل الرحمٰن 
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء کا فتویٰ نمبر ۱۹۴۰۲ اور ابراہیمی ہاؤساُمّہ ڈاٹ کام 
قواعد و ضوابط برائے تحقیق و تصنیف اور اشاعتاسلامی نظریاتی کونسل 
تعلیمی کیریئر کب اور کیسے منتخب کرنا چاہیے؟ڈاکٹر ناصر محمود 
+LGBTQ تحریک کا نظریاتی تجزیہ: جماعتِ اسلامی ہند کا سیمینارالسیرۃ 
انڈیا  -  مڈل ایسٹ  -  یورپ   اقتصادی راہداری   (IMEC)ادارہ الشریعہ 

غزہ امن معاہدہ کا مقامی و عالمی تناظر

کسے گواہ کریں کس سے منصفی چاہیںمولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ منصوبہ اور مسلم حکمرانوں کا بیانیہحامد میر 
غزہ میں حماس کی جنگ: دو سال میں کیا کھویا کیا پایا؟مشاہد حسین سید 
فلسطین:    غاصبانہ قبضہ اور حقِ خود ارادیت کا معاملہفاطمہ بھٹو 
صہیونی ریاست زوال کے قریب — جنگ بندی معاہدے میں کیا طے پایا؟ضیاء الرحمٰن چترالی 
سات اکتوبر کے حملہ کے حوالے سے حماس پر الزامات کی حقیقتدی کیٹی ہالپر شو 
غزہ کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کا اصل پلاندی ینگ ٹرکس 
امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور غزہ کے بارے میں اسرائیل کا اصل منصوبہبریکنگ پوائنٹس 
غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادتورلڈ نیوز میڈیا 
’’دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک‘‘ کا نعرہویکی پیڈیا 
صمود فلوٹیلا: آغاز و مراحل اور اختتام و نتائجادارہ الشریعہ 

مسئلہ کشمیر کا مختصر جائزہ اور ممکنہ حل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ہونے والی ایک گفتگو کا خلاصہ)

مسئلہ کشمیر کیا ہے، اس کا پس منظر کیا ہے، اور اس کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے، ہماری نئی پود کی اکثریت اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ اس کی وابستگی محض جذباتی ہے۔ میں آپ کے سامنے آج مسئلہ کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ موجودہ صورتحال کیا ہے اور اس حوالے سے ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے۔ 

بین الاقوامی دستاویزات کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ اس خطے کا حدود اربعہ کچھ اس طرح ہے کہ اس میں: جموں کی ریاست ہے۔ وادئ کشمیر ہے۔ گلگت، بلتستان اور سکردو وغیرہ ہیں جنہیں ہم شمالی علاقہ جات کہتے ہیں۔ اور چین کی سرحد پر لداخ کا علاقہ ہے۔ یہ پورا خطہ کشمیر کہلاتا ہے۔

کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کا آغاز ۱۹۴۷ء میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ پر مشتمل یہ سارا خطہ متحدہ ہندوستان کہلاتا تھا اور یہاں انگریزوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں نے ایک سو نوے سال پہلے ۱۷۵۷ء میں مغلوں سے حکومت چھیننا شروع کی تھی اور ۱۸۵۷ء تک قبضہ مکمل کر لیا تھا۔ اس کے بعد نوے سال تک تاجِ برطانیہ نے یہاں براہ راست حکومت کی ہے۔ جب انگریز ہندوستان سے رخصت ہونے لگے تو مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نے یہ کہہ کر الگ ملک کا مطالبہ کیا کہ ہم تہذیبی اور ثقافتی طور پر ہندوؤں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ اس پر تحریکِ پاکستان چلی اور بالآخر یہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ 

اس تقسیم میں ایک اصول یہ طے ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت ہے وہ پاکستان میں شامل ہوں گے اور جن علاقوں میں غیر مسلم اکثریت ہے وہ ہندوستان میں رہیں گے۔ موجودہ بنگلہ دیش چونکہ مسلم اکثریت کا علاقہ تھا تو اس تقسیم میں وہ مشرقی پاکستان کے نام سے پاکستان کا حصہ بنا تھا اور ۱۹۷۱ء تک اس کی یہ حیثیت رہی۔ اسی طرح سندھ، بلوچستان، سرحد (خیبرپختونخوا)، اور مغربی پنجاب مسلم اکثریت کے علاقے ہونے کی وجہ سے پاکستان میں شامل ہوئے۔ پنجاب کا معاملہ یہ تھا کہ مغربی پنجاب تو مسلم اکثریت کا صوبہ تھا جبکہ مشرقی پنجاب میں ہندو سکھ سب ملے جلے تھے، چنانچہ پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ مغربی پنجاب جس میں لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شکرگڑھ وغیرہ ہیں، یہ پاکستان کے حصے میں آئے۔ اور مشرقی پنجاب جس میں امرتسر، لدھیانہ اور ہریانہ وغیرہ ہیں، یہ بھارت کے حصے میں آئے۔

متحدہ ہندوستان میں سینکڑوں چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں۔ ایسی ریاستیں بھی تھیں جن پر انگریزوں کی براہ راست حکومت تھی، اور ایسی ریاستیں بھی تھیں جو نیم خودمختار ریاستیں کہلاتی تھیں جن کے ساتھ انگریزوں کے معاہدے تھے۔ ان معاہدوں کی عمومی نوعیت یہ تھی کہ داخلی خودمختاری ریاست کے نواب یا مہاراجہ کی، جبکہ وفاقی اختیارات مثلاً‌ کرنسی، خارجہ پالیسی، مواصلات، دفاع وغیرہ انگریز حکومت کے ذمے تھا۔ پاکستان میں جو چند ریاستیں شامل ہوئیں ان میں بہاولپور، سوات، قلات، خیرپور، چترال اور دیر وغیرہ شامل ہیں، جن میں انگریزوں کے زمانے میں بھی شرعی عدالتی نظام نافذ تھا جیسے سوات، بہاولپور، اور دیر کی ریاستیں وہ ہیں جن میں قضاء کا نظام رائج تھا۔  متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت یہ طے ہوا کہ ان ریاستوں کے سربراہ پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں کر لیں۔ پاکستان کے ساتھ جن علاقوں کا الحاق ہوا وہ اسی اصول کے تحت ہوا۔ 

کشمیر کا معاملہ کچھ مختلف تھا جہاں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی لیکن حکومت ڈوگرا ہندو خاندان کی تھی۔ کشمیر کا پورا خطہ جو اَب مختلف حصوں میں تقسیم ہے، اس پر ڈوگرا خاندان کی حکومت تھی، تو مہاراجہ ہری سنگھ نے تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مسلم اکثریت کے رجحانات کے برعکس بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اور بھارتی فوج نے کشمیر میں داخل ہو کر قبضہ جما لیا۔  اس پر کشمیر کے مسلمانوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ ڈوگرا حکمران پہلے بھی بہت ظلم کرتے آ رہے تھے جس کی لمبی داستان ہے، لیکن ڈوگرا مہاراجہ کے بھارت کے ساتھ الحاق نے مسلمانوں میں بغاوت پیدا کر دی جس سے تحریکِ آزادی کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے گلگت والوں نے لڑائی کا آغاز کیا جس میں علماء اور عوام سب شریک ہوئے۔ اسی طرح وادئ کشمیر کے علاقوں میں بھی علماء نے جہاد کے فتوے پر جدوجہدِ آزادی کا آغاز کیا، یہاں بھی علماء کرام اور قومی سرداروں نے مل کر جہاد میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں کے مجاہدین اور پاکستان فوج نے بھی اس لڑائی میں حصہ لیا اور اس کے نتیجے میں مجاہدینِ آزادی سری نگر کے دروازے تک جا پہنچے۔ موجودہ آزاد علاقے میرپور، مظفر آباد، راولاکوٹ وغیرہ، یہ سب ڈوگرا حکومت کے خلاف اسی بغاوت کے دوران آزاد ہوئے تھے۔ 

سری نگر جب فتح ہونے کے قریب تھا تھا ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ جا پہنچے اور یہ وعدہ کیا کہ اقوام متحدہ جو فیصلہ کرے گی ہم اسے منظور کریں گے۔ چنانچہ اقوامِ متحدہ نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر جنگ بند کر وا دی اور اپنی قراردادوں کے ذریعے یہ وعدہ کیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام استصوابِ رائے کے ذریعے کریں گے۔ اس سلسلہ میں مختلف وقتوں میں اقوامِ متحدہ کی قراردادیں سامنے آتی رہی  ہیں لیکن پون صدی گزرنے کے باوجود یہ رائے شماری آج تک نہیں ہو سکی جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کا اثر و رسوخ اور دباؤ ہے۔ 

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ اِس دور میں آپ مذہبی بنیادوں پر خطے کی تقسیم کی بات کیسے کر رہے ہیں۔ اس پر میری گزارش ہوتی ہے کہ اسرائیل کی تقسیم کس بنیاد پر ہوئی ہے اور کس نے کی ہے؟ اقوام متحدہ نے ہی کی ہے نا۔ اسی طرح انڈونیشیا کے جزیرے تیمور کے مشرقی خطے کو الگ عیسائی ریاست کس نے بنوایا ہے؟ اور پھر جنوبی سوڈان میں عیسائی اکثریت کے علاقے کو الگ ریاست کا درجہ کس نے دیا ہے؟ یہاں کشمیر میں آپ کہتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر کیسے تقسیم ہو گی، جبکہ پاکستان تو بنا ہی مذہب کی بنیاد پر ہے۔

مسئلہ کشمیر کے متعلق اقوامِ متحدہ کا کردار تو ہمارے سامنے ہے لیکن مسلمان حکومتوں کی مشترکہ تنظیم او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) نے بھی اب تک کوئی کردار ادا نہیں کیا اور فلسطین، کشمیر، اراکان، سنکیانگ وغیرہ خطوں میں بھی مسلمانوں پر ظلم اور جبر رکوانے میں او آئی سی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

یہ کشمیر کا مقدمہ ہے جو مختصراً‌ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی گزارش تو میں اپنی ریاست سے کرنا چاہوں گا کہ اس مقدمہ میں پاکستان کا کردار محض ایک حمایتی کا نہیں ہے بلکہ اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان ایک فریق ہے اور ہمیں اسی کردار کا تسلسل قائم رکھنا ہے۔ دوسری گزارش آزاد کشمیر کے علماء کرام اور وہاں کی حکومت سے کرنا چاہوں گا کہ کشمیر کے جو خطے اس وقت آزادکشمیر میں شامل ہیں وہ جہاد کے فتوے اور جہاد کے عمل کے نتیجے میں آزاد ہوئے ہیں۔ تو میرا سوال جہاد کے اس فتویٰ کے متعلق ہے کہ اس وقت اس کی کیا حیثیت ہے؟ اگر وہ قائم ہے تو اس کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ میں آزادکشمیر کی حکومت اور وہاں کے علماء کرام سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اس حوالے سے اصولی موقف اور لائحہ عمل طے کریں، اور سلسلہ میں پاکستان کے حکومتی اداروں کو بھی اعتماد میں لیں اور انہیں نظر انداز نہ کریں۔

( تفصیلی خطاب:  https://zahidrashdi.org/5736)


غزہ کی جنگ بندی     /     تحریک لبیک کا معاملہ

ڈاکٹر محمد امین

غزہ: مسلم ممالک کو حماس کی حمایت کرنی چاہیے

ملی مجلس شرعی، جو تمام دینی مکاتب فکر کی مشترکہ مجلسِ علمی ہے، اس کا ایک اجلاس ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو صدر مجلس مولانا زاہدالراشدی صاحب کی زیر صدارت ۱۲۷-علی ٹاؤن، ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور میں ہوا۔ اجلاس میں راقم کے علاوہ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان، مولانا فرقان احمد، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی، حافظ محمد نعمان حامد، صاحبزادہ محمد فاروق قادری، مولانا مزمل بھکر، مولانا مبشر اقبال، مولانا محمد عمران طحاوی، حافظ عثمان رمضان اور دیگر موجود تھے جبکہ مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبدالرؤف فاروقی اور مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب سے آن لائن مشاورت ہوئی۔ شرکا نے بحث و مناقشے کے بعد مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی:

غزہ میں جنگ بندی قابل ستائش ہے۔ جو امور طے ہوئے تھے حماس کی تحریک اس کی پابندی کر رہی ہے لیکن اسرائیل ہمیشہ کی طرح وعدہ خلافی کرتے ہوئے اب بھی وقتاً فوقتاً حملے کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے اسے پرہیز کرنا چاہیے۔ مصر، قطر، ترکیہ جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا اور دیگر مسلم ممالک کو امریکی صدر ٹرمپ کی غیر مشروط حمایت کرنے کی بجائے حماس کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اس سے مشورے کے بعد اپنا مؤقف طے کرنا چاہیے۔ انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صدر ٹرمپ غیر جانبدار نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کے حمایتی ہیں لہٰذا مسلم ممالک کا فرض ہے کہ وہ فلسطین کاز کی حمایت کریں، حماس کو اعتماد میں لیں اور آنکھیں بند کر کے صدر ٹرمپ پر اعتماد نہ کریں کہ الکفر ملۃ واحدۃ۔

تحریک لبیک: عدالتی کمیشن بنایا جائے

ملی مجلس شرعی، جو تمام دینی مکاتب فکر کی مشترکہ مجلسِ علمی ہے، اس کا ایک اجلاس ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو صدر مجلس مولانا زاہدالراشدی صاحب کی زیر صدارت ۱۲۷-علی ٹاؤن، ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور میں ہوا۔ اجلاس میں راقم کے علاوہ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان، مولانا فرقان احمد، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی، حافظ محمد نعمان حامد، صاحبزادہ محمد فاروق قادری، مولانا مزمل بھکر، مولانا مبشر اقبال، مولانا محمد عمران طحاوی، حافظ عثمان رمضان اور دیگر موجود تھے جبکہ مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبدالرؤف فاروقی اور مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب سے آن لائن مشاورت ہوئی۔ شرکا نے بحث و مناقشے کے بعد مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی:

ا۔ مجلس ’’تحریک لبیک‘‘ کے احتجاج کے دوران مریدکے میں جو کچھ ہوا اس پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ چونکہ افواہوں کا بازار گرم ہے، بے یقینی کی فضا ہے اور مصدقہ اطلاعات میسر نہیں لہٰذا مجلس حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور ایک اعلٰی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ صورتحال واضح ہو سکے اور صحیح حالات سامنے آسکیں۔
۲۔ مجلس نے انتہا پسندی کی مذمت کی خواہ وہ کسی مذہبی جماعت کی طرف سے ہو یا ریاست کی طرف سے۔ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لیے دونوں طرف سے تحمل، برداشت اور اعتدال کا مظاہرہ ہونا چاہیے اور تصادم کی بجائے گفت و شنید اور ڈائیلاگ سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر محمد امین

جنرل سیکرٹری


کلامِ الٰہی کو سمجھنے کا ایک اُصول

الشیخ متولی الشعراوی

سوال

قرآن مجید کی وہ عظیم آیت ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے: ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، قل یا عبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ، ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا، انہ ھو الغفور الرحیم‘‘۔ حضرت! کیا یہاں ذنوب (گناہوں) سے مراد بڑے گناہ ہیں یا چھوٹے؟

جواب

اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کا ایک اصول یہ ہے کہ جب ہم کسی آیت کو دیکھیں تو اس کے ساتھ دوسری آیات کو بھی دیکھیں، شاید کوئی اور آیت اس کے معنی کو واضح کرے، اس کی تحدید یا تخصیص کر دے۔ یہ آیت کہتی ہے: ’’اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ اب یہاں لفظ ’’الذنوب جمیعا‘‘ (تمام گناہ) آیا ہے، مگر اس میں شرک شامل نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ شرک دراصل گناہ نہیں، یہ اس سے کہیں بڑھ کر چیز ہے۔ گناہ تو یہ ہے کہ انسان کسی ایسے عمل کا ارتکاب کرے جس کے بارے میں ایمان کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے سزا کا علم ہو۔ لیکن شرک تو ایمان ہی سے خارج کر دیتا ہے؛ یہ دراصل خیانتِ عظمیٰ ہے۔

قرآن مجید کی دوسری آیت میں خود وضاحت موجود ہے: ’’ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ، ویغفر ما دون ذٰلک لمن یشاء‘‘ یعنی اللہ شرک کو نہیں بخشتا، مگر اس کے سوا جو کچھ ہے، جس کے لیے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ لہٰذا جب فرمایا گیا کہ ’’اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘ تو اس سے مراد وہ سب گناہ ہیں جنہیں قرآن گناہ کہتا ہے، لیکن شرک اس میں شامل نہیں، کیونکہ شرک گناہ سے بڑھ کر جرم ہے۔ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر ایمان رکھتا ہے، مگر اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ لیکن جب بندہ خود اللہ کے وجود یا اس کے حقِ عبادت ہی کو نہیں مانتا، تو وہ اس دائرے سے باہر نکل جاتا ہے، اور ایسی حالت آیت کے معنی میں داخل نہیں۔ اسی لیے تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ’’ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا‘‘ کا مطلب ہے: اللہ تمام گناہوں کو، سوائے شرک کے، بخش دیتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مغفرت صرف اللہ کی مشیت (مرضی) پر موقوف ہے؟ آیت کے اگلے حصے میں خود جواب موجود ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ’’وانیبوا الیٰ ربکم واسلموا لہ‘‘  یعنی اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے آگے جھک جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محض اس امید پر نہ بیٹھ جاؤ کہ اللہ سب کچھ معاف کر دے گا، بلکہ توبہ کرو، اس کی طرف پلٹو، اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرو، قبل اس کے کہ اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ آگے فرمایا: ’’ان تقول نفس یا حسرتٰی علیٰ ما فرطت فی جنب اللہ…‘‘ یعنی ایسا نہ ہو کہ کوئی جان پکار اٹھے: ہائے افسوس! میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی۔ پس جب اللہ فرماتا ہے کہ وہ تمام گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے ’’وانیبوا الیٰ ربکم‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مغفرت توبہ کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر بندہ توبہ کرے تو توبہ اس کے پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے، لیکن اگر توبہ نہ کرے تو پھر مغفرت کی ضمانت نہیں۔ 

لہٰذا بندے کو محض آیت کے ظاہر پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے پورے مفہوم کو سمجھنا چاہیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اگر تم نے گناہ کیے ہیں تو مایوس نہ ہو، کیونکہ گناہ تمہارے ساتھ چمٹ نہیں جاتے، بلکہ توبہ انہیں مٹا دیتی ہے۔ اور نیکی، بدی کو بدل دیتی ہے؛ برائی کو نیکی میں تبدیل کر دیتی ہے۔

مگر اگر کوئی شخص گناہوں پر اصرار کرتا رہے، توبہ نہ کرے، نیکیوں کے ذریعے انہیں مٹانے کی کوشش نہ کرے، اور صرف امیدوں پر ٹکا رہے کہ اللہ سب کچھ معاف کر دے گا، تو ایسا (اعتقاد رکھنا) ممنوع ہے۔

https://youtu.be/0D1igWKa-Ag


قرآن سے راہنمائی کا سوال

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

ایک صاحب دانش سے، جو سیکولر انداز فکر رکھتے ہیں، کل تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا ایک بڑا محور یہ سوال تھا کہ آج کے دور میں ہم سماجی اخلاقیات اور قانون وغیرہ کے باب میں قرآن سے کیوں راہنمائی حاصل کریں جب کہ قرآن کی ہدایات واضح طور پر اس دور کے تمدن میں embedded دکھائی دیتی ہیں اور ادھر انسانی سماج اور سیاست ومعیشت کے ارتقا کے ساتھ آج ہمارے پاس سماج کی تنظیم کے لیے اس سے بہتر اور ترقی یافتہ اخلاقی اصول موجود ہیں۔

سیکولر فریم ورک میں یہ سوال درست ہے۔ مولانا وحید الدین خانؒ نے غالباً‌ نہرو کے حوالے سے بھی اسی قسم کا سوال کہیں نقل کیا ہے۔ اس سوال میں قوت پیدا کرنے کا کام دو طرح کے مذہبی مواقف بھی کرتے ہیں۔ ایک، ’’اسلامی نظام’’ کا بیانیہ جو یہ باور کراتا ہے کہ تاریخ اور تمدن کے تغیرات سے پیدا ہونے والے ہر سوال اور ہر مسئلے کا ایک ریڈی میڈ حل پہلے سے اسلامی نظام میں موجود ہے، اور بس اس کو اختیار کر لینے کی ضرورت ہے۔ اور دوسرا، قرآن کی ہدایات کو دیکھنے کا وہ مذہبی زاویہ جو یہ کہتا ہے کہ جو معاملہ ’’نص’’ میں آ گیا ہے، وہ تو گویا متحجر ہو گیا ہے اور اس میں انسانی فہم وبصیرت کے لیے کرنے کا کوئی کام باقی نہیں رہا۔ تاہم یہ تو مذہبی فکر کی ایک داخلی بحث ہے۔

سیکولر انداز فکر کے حاملین کے لیے غور وفکر کا اصل سوال یہ ہے کہ ایک مذہبی معاشرے اور مذہبی تہذیب سے اپنے عقیدے، عبادات، اور انفرادی اخلاقیات کا ماخذ اپنی دینی روایت کو اور اجتماعی وسماجی اخلاقیات کا ماخذ سیکولر عقلی روایت کو بنانے کا مطالبہ کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ یہاں اصل سوال اطلاقی اور تطبیقی نہیں بلکہ اصولی ہے، یعنی سوال یہ نہیں کہ دینی روایت، جدید دور کے ’’ترقی یافتہ’’ اخلاقی اصولوں اور اقدار کے ساتھ حسب ضرورت ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہے یا نہیں۔ بنیادی سوال اصولی ہے، یعنی دینی روایت خود اپنے معیارات پر ہم آہنگی پیدا کرنے یا نہ کرنے کا عمل چھوڑ کر سیکولر فکر کا یہ مطالبہ کیوں تسلیم کرے کہ اجتماعی اخلاقیات کا اصل مصدر اسے ہی تسلیم کیا جائے؟ اور ایسا کرتے ہوئے دینی فکر اور روایت اپنی داخلی وحدت کو کیسے برقرار رکھے جو ہدایت الٰہی کو صرف فرد سے نہیں، بلکہ اجتماع سے بھی متعلق مانتی ہے؟ اس سوال پر کوئی سنجیدہ غور وفکر مجھے سیکولر اہل فکر کے ہاں دکھائی نہیں دیتا جو مذہبی فکر کے ساتھ کوئی بامعنی مکالمہ کرنا چاہتے ہوں۔

یہ سوال نہرو اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ وہ دینی روایت کے ساتھ کوئی مکالمہ کر ہی نہیں رہے۔ کسی موقع پر دیکھیں گے کہ فکری سفر کی ابتدا میں قائد اعظم کے ہاں بھی یہی رجحان تھا، لیکن جیسے جیسے وہ مسلم تشخص اور مسلم شناخت کے نمائندہ بنتے چلے گئے اور جدید دور میں مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کے سوال نے ان کے ذہن میں ایک واضح شکل اختیار کرنا شروع کی، ان کا انداز فکر اس سوال کے حوالے سے بھی تبدیل ہوتا چلا گیا۔ وہ زاویہ فکر کیا تھا اور مذہبی فکر کے مذکورہ دونوں رجحانات سے (یعنی ’’اسلامی نظام ہر مسئلے کا حل ہے’’ اور ’’نص میں زیربحث معاملہ تاریخ میں متحجر ہو گیا ہے’’) کیسے مختلف تھا، اس پر بھی بات کریں گے۔

حدیثِ نبوی ﷺ: شُبہات اور دِفاع کے درمیان، مسلمانوں پر کیا لازم ہے؟

الدکتور محمد طلال لحلو

مرتب : طارق علی عباسی

حدیث نبوی ﷺ جو کہ شریعتِ اسلام کا دوسرا بنیادی مصدر و ماخذ ہے، اسے آج بعض مدعیانِ جدت اپنی تنقید اور شکوک و شبہات کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی تاریخ کے مختلف ادوار میں کچھ لوگ، دین کے احکامات سے جان چھڑانے اور شہرت حاصل کرنے کی خواہش میں حدیث کی بنیادی ضرورت کو ختم کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ہر دور کی طرح آج بھی ایسے لوگ پُر فریب عنوانات کے تحت اپنے مکروہ خیالات و نظریات پھیلاتے ہیں، جس سے معاشرے میں فکری اور علمی افراتفری پھیلتی ہے۔

تشکیک پھیلانے کی وجوہات

غور کیا جائے تو منکرینِ حدیث کے اس رجحان کے پیچھے کئی محرکات ہیں، جن میں بنیادی وجہ ان کی علم سے دوری ہے۔ تشکیک پیدا کرنے والوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو علمِ حدیث کی اصطلاحات، فلسفہ یا طریقہ کار کو جانتا ہو۔ گویا علم ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ 

منکرینِ حدیث کو مادیت پسندی نے بھلا ڈالا، انہیں معلوم ہی نہیں کہ کچھ علوم بغیر لکھے بھی محفوظ کیے جاتے ہیں، قرآن مجید کے حفظ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ منکرین غلط سمجھتے ہیں کہ محدثین حدیث کے متن پر توجہ نہیں دیتے، حالانکہ اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ ابن الجوزیؒ نے کہا ہے کہ کیا ہی خوب کہا ہے کسی کہنے والے نے: ہر وہ حدیث، جسے تم عقل کے خلاف، نقل کے برخلاف اور اصولِ شریعت سے متناقض پاؤ تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔ (کتاب الوسیط فی علوم و مصطلح الحدیث: ٣٣٧)

بیرونی دباؤ اور مغربی اثرات

جہالت کے بعد دیگر وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کچھ مخصوص مراکز اور بیرونی رپورٹس (جیسے ۲۰۰۷ء کی رینڈ رپورٹ) مخالفینِ حدیث کے لیے بجٹ مختص کرنے کی سفارش کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ یہی لوگ مادی کامیابی ہی کو معیار بنا کر مغربی ترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور دین کی ان چیزوں کو باطل کرنا چاہتے ہیں جو ان کی نظر میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ بقول ابن خلدونؒ: مغلوب کا غالب سے مرعوب ہونا ہے۔ (تاریخ ابن خلدون: ج: ۱ ص: ۱۸۴)

منکرین صرف شہرت حاصل کرنے کے لیے عجیب و غریب آراء اپناتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی ذاتی خواہشات کو جائز قرار دینے کے لیے دین میں کمزوریاں ڈھونڈتے ہیں اور شرعی احکام کو واضح کرنے والی احادیث کو کمزور بتاتے ہیں۔ جب کہ منکرین کی طرف سے حدیث کو رد کرنے کے تمام دعوے عقلی اصولوں کے خلاف ہیں۔ آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں، فلسفیانہ طور پر اسے Postmodernism یعنی مابعد جدیدیت کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز قابلِ تغیر ہے، کوئی مضبوط معیار باقی نہیں رہا۔ تمام آراء کا احترام ضروری ہے۔ (کیا تسلیم شدہ عقائد کے مقابلہ و مخالفت میں اس باطل فلسفہ پر مبنی نظریات و ہفوات کو معیاری اور قابلِ احترام مانا جا سکتا ہے؟ جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ مگر افسوس کہ یہ باطل فلسفہ اسی نقطۂ نظر پر کھڑا ہے)

تخصص اور مہارتِ فن کا احترام

عقل کہتی ہے کہ ہمیں متخصصین و ماہرینِ فن کا احترام کرنا چاہیے۔ اس بنا پر دیکھیے تو محدثین نے اپنی پوری زندگیاں احادیث کی تصحیح، تحقیق اور جانچ میں لگا دیں۔ (کسی نے اپنی بصارت کھو دی، کسی نے اپنا گھر بار چھوڑا تو کسی نے اپنی جان تک قربان کر دی)۔ اگر ہم ڈاکٹر یا انجینئر کے لیے ماہر کی تلاش کرتے ہیں تو دین کے معاملے میں بھی تخصص کا احترام ضروری ہے۔ مگر منکرینِ حدیث کی طرف سے یہاں تخصصات کے احترام میں تضاد پایا جاتا ہے۔ موضوع احادیث کی جانچ پڑتال کے لیے حضرت عبد اللہ بن المبارکؒ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اس کے لیے جہابذہ یعنی ماہرین موجود ہیں۔ (الوسیط فی علوم و مصطلح الحدیث، ۳۵۸)

منکرینِ حدیث نے اپنی عقلوں کو معطل کر رکھا ہے، ان کی باتیں اور دعوے ان کی اپنی ذاتی خواہشات پر مبنی آراء ہیں، لیکن یہ عوام کے بنیادی اصولوں کو ہلا دیتے ہیں، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عقلیت چاہتے ہیں، لیکن جب تحقیق کی جاتی ہے تو ان کے ہاں کوئی عقل نظر نہیں آتی، ان کی اس (جھوٹی عقلیانہ) دعوت میں بہت زیادہ تضادات کیوں ہیں؟ اس لیے کہ عقل اپنے ماحول کی پیداوار ہوتی ہے۔

قرآن و حدیثِ رسول ﷺ کا باہمی تعلق

اس متعلق ام یعقوب کا واقعہ پڑھنا چاہیے جس میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمانِ رسول ﷺ کی اطاعت کا درس؛ قرآن مجید کی آیت: ومآ اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا (الحشر: ۷) جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو؛ سے دیا۔ (صحیح البخاری/کتاب تفسیر القرآن/حدیث: ۴۸۸۶)

جن سندوں سے قرآن ہم تک پہنچا ہے، تقریباً‌ انہی سندوں سے حدیث بھی ہم تک پہنچی ہے۔ لہٰذا حدیث کو رد کرنے سے بالواسطہ طور پر قرآن کو بھی زد پہنچتی ہے اور یہ راستہ اکثر لوگوں کو الحاد یعنی دین سے مکمل انکار کی طرف لے جاتا ہے۔ جب آپ کسی منکرینِ حدیث سے کہیں کہ آپ قرآن میں کوئی خاص قرأت کیسے پڑھتے ہیں، تو وہ خاموش ہو جائے گا، کیونکہ اس کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں، وہ اسانید کو نہیں سمجھتا، وہ قرأتوں کو نہیں سمجھتا۔ علماء کا اجماع ہے کہ جو شخص صرف قرآن کو لے (اور حدیث کو رد کر دے) وہ کافر ہے، جیسا کہ ابن حزمؒ نے فتویٰ دیا تھا (الاحکام فی اصول الاحکام، ج: ۲، ص: ۸۰) یہ ایمان و عقیدہ کے لیے انتہائی خطرناک بات ہے۔ یہ ’’معلوم من الدین بالضرورۃ‘‘ کا انکار ہے۔

احکاماتِ قرآنی کی وضاحت، احادیثِ رسول ﷺ سے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم (النحل: ۴۴) ہم نے تیری طرف قرآن نازل کیا تاکہ لوگوں کے لیے واضح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ سنت کی اہمیت بتاتے ہوئے حضرت عمرؓ بن خطاب نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جو تم سے قرآن کے شبہات کے متعلق بحث کریں گے، تم ان سے سنت کے ذریعہ حجت قائم کرو، کیونکہ سنت کے حامل لوگ اللہ کی کتاب کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں۔ (الابانۃ الکبری لابن بطۃ، ۲۵۱)

حدیث کے بغیر مسلمان اپنے بنیادی فرائض ادا نہیں کر سکتے:

چونکہ حدیث قرآن کے معانی کی وضاحت کرتی ہے، اس لیے قرآن کے معانی کی حفاظت کے لیے حدیث کا محفوظ رہنا بھی ضروری ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انی اوتیت الکتاب ومثلہ معہ (سنن ابی داؤد: ۴۶٠۴) مجھے کتاب (قرآن) اور اس کے ساتھ اس کی مثل چیز دی گئی ہے۔


(حوالہ و اصل ماخذ: ۱۶ ستمبر ۲۰۲۵ء الجزیرۃ AJ360-360 یوٹیوب چینل پر عربی میں "السنۃ النبویۃ بین التشکیک والدفاع وما واجب المسلم نحوہا؟" عنوان کی مکمل گفتگو ملاحظہ فرمائیں)

https://youtu.be/Fb_FgwCZl5Q


فارغینِ مدارس کے معاشی مسائل و مشکلات اور حل

ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(نوٹ: اِس مقالہ میں زیادہ تر بحث ہندوستانی مدارس کے تناظر میں کی گئی ہے۔ غ)

تمہید

برصغیر کے دینی مدارس نے صدیوں سے امتِ مسلمہ کی فکری، علمی اور روحانی قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ اِن مدارس نے اسلامی تہذیب کے تسلسل، مسلمانوں کی مذہبی و ثقافتی شناخت کی بقا، دین کے تحفظ، اور قرآنی و حدیثی علوم کے فروغ میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے1۔ پہلے فارغین مدارس کے سامنے اتنے معاشی چیلنج نہیں ہوتے تھے اور مسلم معاشرہ میں ان کی کھپت کسی نہ کسی طرح ہو جاتی تھی۔ تاہم عصرِ حاضر میں جب دنیا کی معیشت، تعلیم، اور روزگار کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں، تو مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ ایک نئے بحران سے دوچار ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے کے بعد اکثریت کو آگے کے لیے گائیڈ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اس لیے فارغین کی اکثریت پریشان رہتی ہے۔ ان میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو جدید تعلیم کا رخ کر پاتے ہیں، زیادہ تر نئے مکتب و مدرسے کھول لیتے ہیں یا مساجد میں مؤذنی و امامت کے مناصب سنبھال لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مساجد و مکاتب معاشرہ کی ضرورت سے کہیں زیادہ تناسب میں وجود پذیر ہو جاتے ہیں اور معاشرہ ان کی اچھی طرح کفالت کرنے میں ناکام ہے۔ اس مقالہ میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ فارغینِ مدارس کی اصل صورت حال کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کن واقعی اقدامات کی ضرورت ہے جن سے مستقبل میں خوش آئند نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ 

فارغین کے اس معاشی بحران پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ مدرسہ کے فارغین سماج میں کیا کردار کرتے رہے ہیں اور اب کیا کر سکتے ہیں۔

فارغینِ مدرسہ کا سماج کی تعمیر و ترقی میں کردار
مختصر تاریخی جائزہ

مدارسِ اسلامیہ کا تعلق محض مذہبی تعلیم یا عبادتی زندگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان اداروں کے فارغ التحصیل علما نے ہر دور میں علمی، فکری، سماجی اور سیاسی سطح پر امتِ مسلمہ اور انسانی معاشرے کی رہنمائی میں فعال کردار ادا کیا۔

ابتدائی دور: علم و تہذیب کی بنیاد

اسلام کے ابتدائی صدیوں میں جب بغداد، نیشاپور، قرطبہ، قاہرہ، دہلی، سمرقند و بخارا جیسے علمی مراکز وجود میں آئے، تو یہ ہی "مدارس" تھے جنہوں نے انسانی فکر و علم کو سمت دی۔ امام غزالی، امام رازی، ابن تیمیہ، ابن خلدون، نظام الملک طوسی اور دیگر مفکرین انہی دینی مدارس کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کی علمی و فکری خدمات نے اسلامی تہذیب کو ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کی۔

برصغیر میں مدارس کا احیائی کردار

برصغیر ہند میں مدارس نے صرف دینی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ قوم کی فکری اور سیاسی بیداری میں بھی مرکزی کردار ادا کیا2:

سماجی و اصلاحی خدمات

مدرسہ کے علماء نے تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، اور خدمتِ خلق کے میدان میں بھی نمایاں کام کیے:

اور بہت سے علماء و مفکرین نے فکری و سیاسی میدان میں اسلامی نظام کے عملی تصور کو پیش کیا۔ بعض نے نئے تعلیمی افکار پیش کیے اور بعض نے سماجی خدمات انجام دیں:

جدید دور: سماجی تنظیمات اور رفاہی کام

آج کے دور میں بھی مدرسہ کے فارغین صرف مساجد یا مدارس تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ تعلیمی، سماجی، رفاہی اور بین المذاہب مکالمے کے میدانوں میں سرگرم ہیں۔

یعنی کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ مدارس کے فارغین نے ہمیشہ حالات کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور سماج کے ارتقا میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ صرف پیشوا ہی نہیں بلکہ اصلاحی، تعلیمی، اور فکری رہنما بھی رہے ہیں۔ آج کے نوجوان علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھائیں تاکہ مدرسہ، ماضی کی طرح مستقبل میں بھی سماجی ترقی کا محور بن سکے۔

موجودہ دور کی معاشی صورتحال: وجوہات اور ممکنہ حل

موجودہ صورتِ حال بہت مخدوش ہے کہ مدارس کے ہزاروں فارغین ہر سال میدانِ عمل میں آتے ہیں لیکن ان کے لیے خاص طور پر ہندوستان میں معاشی امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مدارس کے نصاب میں چونکہ عصری تعلیم، سائنسی علوم، یا جدید اقتصادی نظام کے تقاضے شامل نہیں ہوتے، اس لیے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے روزگار کے دروازے محدود ہو جاتے ہیں۔ 

فارغین کے لیے میسر شعبے

چنانچہ موجودہ وقت میں اکثر فارغین درج ذیل شعبوں تک محدود رہتے ہیں:

یہ شعبے نہ صرف محدود ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی غیر مستحکم۔ چنانچہ فارغ التحصیل عالم کو اکثر معمولی تنخواہ پر گزارہ کرنا پڑتا ہے، جو کہ جدید معاشی تقاضوں کے مقابلے میں بالکل ناکافی ہے۔

بنیادی معاشی مسائل

کم آمدنی اور عدمِ استحکام

اکثر مدارس میں اساتذہ کی تنخواہیں 15 / 20 اور حد سے حد 25 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ بعض علاقوں میں اس سے بھی کم۔ اس صورتحال میں فارغین کے لیے شادی، رہائش، علاج، یا بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا ایک مسلسل جدوجہد بن جاتا ہے۔

محدود روزگار کے مواقع

مدارس کے نصاب میں عصری مضامین کی عدم شمولیت فارغین کو دوسرے شعبوں میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ بینکنگ، معاشی مشیر، کارپوریٹ سیکٹر، یا سول سروس جیسے میدان ان کے لیے تقریباً بند ہیں۔

سماجی تفاوت

معاشرتی سطح پر بھی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کو کمتر نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عام معاشرہ کو تو چھوڑیے خود مسلم سماج میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ فارغینِ مدارس کے علمی سرمایہ کی قدر نہیں کرتا، اور انہیں "غیر مفید" سمجھتا ہے۔ اس ذہنی فاصلے نے بھی ان کی معاشی حیثیت کو مزید کمزور کیا ہے۔

تنظیمی و ادارہ جاتی غفلت

اکثر دینی ادارے اپنے فارغین کے لیے Career Guidance یا Placement کا کوئی نظام نہیں رکھتے۔ نہ ہی کوئی ایسا فنڈ یا اسکیم ہے جو بے روزگار علماء کو معاشی سہارا دے سکے۔

معاشی بحران کی وجوہات

نصابِ تعلیم کا جمود

مدارس کا نصاب درسِ نظامی صدیوں پرانا ہے جس میں فقہ و نحو کی بھرمار تو ہے، رٹا لگوایا جاتا ہے، اس وجہ سے عربی زبان کو دسیوں سال پڑھتے رہنے کے باوجود زیادہ تر مدارس کے فارغین آج کی اچھی عربی لکھنے، بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس پر مستزاد سیاسیات، معاشیات، نفسیات، تاریخ، سماجیات اور جدید زبانوں کے علم کا فقدان ہے۔ درس نظامی کی تاریخ دیکھیں تو پہلے یہ درس بہت متحرک اور فعال تھا۔ خود دارالعلوم دیوبند میں باقاعدہ طب پڑھائی جاتی تھی9۔ قدیم قاسمی لوگوں میں بہت سے اطباء اور حکیم ملتے ہیں۔ ان سب نے یہیں طب پڑھی تھی۔ اس کے علاوہ دارالعلوم میں دارالصنائع بھی قائم کیا گیا تھا جس کی تفصیل تاریخ دارالعلوم از محبوب رضوی ص ۳۱۲ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ بعد میں اس پہلو میں زبردست زوال آیا اور درس نظامی خود ایک جامد اور غیر مفید منہج تعلیم بن کر رہ گیا۔

نظامِ فنڈنگ کی کمزوری

مدارس عوامی عطیات و صدقات پر چلتے ہیں۔ اس غیر مستحکم نظام کے باعث وہ اپنے اساتذہ اور عملے کو معقول اجرت دینے سے قاصر رہتے ہیں۔

ذہنی اور فکری تنہائی

مدارس نے خود کو معاشرے کے عمومی دھارے سے الگ کر رکھا ہے۔ اس علیحدگی نے ان کے طلبہ کو عملی زندگی کی مشکلات کے لیے غیر تیار رکھا ہے۔

ریاستی عدمِ توجہ

حکومتیں مدارس کو قومی ترقی کے منصوبوں میں شامل نہیں کرتیں۔ نتیجتاً مدارس کے فارغین کے لیے روزگار کے سرکاری مواقع ناپید ہیں۔ اس وجہ سے خاص طور پر ہندوستان میں فارغین مدارس کو بڑے معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بنگلادیش اور پاکستان میں غالباً صورتِ حال کچھ بہتر ہو۔ اس کی ایک وجہ اہل ِمدارس اور ملی قیادت کی عمومی زود حسی ہے، وہ گورنمنٹ سے کوئی مراعات لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ اس طرح سے ان کے نزدیک حکومت مدارس کے معاملات میں دخیل ہو جائے گی اور ان کے نصاب و نظام میں مداخلت کرے گی۔ اسی لیے حکومتِ ہند نے ابھی تک جتنے بھی مرکزی یا ریاستی مدرسہ بورڈ بنائے ان کی ملت کی طرف سے شدید مزاحمت ہوئی۔ اس کے باوجود چھوٹے مدارس کی ایک معتد بہ تعداد ان سرکاری مدرسہ بورڈوں سے جڑ گئی ہے اور سرکاری مراعات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ البتہ ان میں تعلیمی معیار یقیناً بہت سطحی ہے۔

ممکنہ حل اور تجاویز

نصابِ تعلیم میں اصلاح

جدید تعلیم (انگلش، کمپیوٹر، سیاسیات، اکنامکس، سوشیالوجی) کو دینی تعلیم کے ساتھ شامل کیا جائے۔ آج دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعۃ الفلاح و مدرسۃ الاصلاح، جامعہ سلفیہ و جامعہ اشرفیہ مبارکپور اور جامعۃ الہدایہ وغیرہ نے ان میں سے بعض مضامین کو کسی نہ کسی حد تک اپنے نصابوں میں جگہ دے دی ہے۔ لیکن ان بڑے اداروں کی ہزاروں شاخوں میں ابھی ان کا بندوبست کرنا باقی ہے۔ فارغ علماء کو عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ وہ میدانِ عمل میں باعزت طور پر داخل ہو سکیں۔

تربیتی و پیشہ ورانہ کورسز

فارغین کے لیے ایک یا دو سالہ Skill Development کورسز متعارف کرائے جائیں جیسے: ترجمہ و تفسیر، میڈیا ورک، صحافت، تدریس، اور آن لائن فتویٰ سروسز۔

مالیاتی تعاون و مائیکرو فنانس

زکوٰۃ و وقف فنڈز کے ذریعے علماء کے لیے چھوٹے کاروبار یا اسٹارٹ اَپس کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ "علماء ویلفیئر فنڈ" کے تحت ان کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں۔

ادارہ جاتی سطح پر اقدامات

ذہنی و سماجی تبدیلی

علماء کو خود بھی پیشہ ورانہ کام کو عیب سمجھنے کی ذہنیت بدلنی ہو گی۔ انہیں یہ احساس پیدا کرنا ہو گا کہ خدمتِ دین صرف مدرسے یا مسجد میں نہیں، بلکہ میڈیا، علمی و تحقیقی اور سماجی میدانوں میں بھی ممکن ہے۔ مدرسہ فارغین کا معاشی بحران صرف ان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی و فکری چیلنج ہے۔ اگر مدارس اصلاحِ نصاب، تربیت، اور مالیاتی منصوبہ بندی کی سمت میں قدم نہیں اٹھاتے تو آنے والے وقت میں یہ طبقہ علمی وقار کے باوجود معاشی غلامی کا شکار ہو جائے گا۔ اسلامی معاشرت کی تعمیر میں علماء کا کردار کلیدی ہے، اس لیے ان کی معاشی آزادی اور وقار کی بحالی دراصل امت کے فکری احیاء کی بنیاد ہے۔

فارغینِ مدارس کے لیے برج کورس کے فوائد

مدارسِ اسلامیہ نے صدیوں سے امتِ مسلمہ کے علمی و دینی تشخص کو محفوظ رکھا ہے۔ تاہم آج کے جدید دور میں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، سوشل سائنسز، اور لسانیات جیسے مضامین کی اہمیت بڑھ گئی ہے، وہاں مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کو عصری میدانوں میں قدم رکھنے کے لیے ایک پل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے "برج کورس" (Bridge Course) کا تصور سامنے آیا، یعنی ایک ایسا تربیتی و تعلیمی پروگرام جو دینی تعلیم اور عصری علوم کے درمیان رابطہ کا کام کرے۔

برج کورس کے بنیادی اہداف

  1. مدرسہ اور یونیورسٹی کے تعلیمی نظاموں کے درمیان فاصلہ کم کرنا۔
  2. فارغین مدارس کو عصری زبانوں (انگریزی، ہندی وغیرہ) میں مہارت دینا۔
  3. کمپیوٹر، ابلاغیات، اور سوشل میڈیا کے استعمال کی عملی تربیت فراہم کرنا۔
  4. فارغین کو اعلیٰ تعلیم (بی اے، بی یو ایم ایس، ایل ایل بی، ایم اے، پی ایچ ڈی) میں داخلے کے قابل بنانا۔
  5. پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہونے کے لیے اعتماد اور فکری وسعت پیدا کرنا۔

علمی و فکری فوائد

  1. علمی وسعت: برج کورس فارغین کو جدید علوم جیسے سوشیالوجی، پولیٹیکل سائنس، اکنامکس، اور تاریخ سے روشناس کراتا ہے، جس سے اُن کی سوچ محدود نہیں رہتی بلکہ ہمہ گیر بنتی ہے۔
  2. تحقیقی شعور: تحقیق کے اصول، ریفرنس لکھنے کا طریقہ، اور جدید علمی اصطلاحات کی سمجھ پیدا ہوتی ہے، جو آگے چل کر یونیورسٹی یا ریسرچ کیریئر میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔
  3. زبان و بیان کی بہتری: انگریزی، ہندی اور اردو تحریر و تقریر دونوں میں بہتری آتی ہے، جس سے طلبہ علمی و صحافتی دنیا میں اعتماد کے ساتھ اظہار کر سکتے ہیں۔

معاشی و پیشہ ورانہ فوائد

  1. روزگار کے نئے مواقع: برج کورس مکمل کرنے والے طلبہ مختلف پیشوں میں جا سکتے ہیں، جیسے:
    • قانون و وکالت
    • ترجمہ و تحقیق (خاص کر فارن لینگویجز فرنچ، اسپانوی، چائنیز وغیرہ میں)
    • میڈیا، صحافت، اور تدریس
    • این جی اوز اور سماجی ادارے
    • بین الاقوامی اداروں میں مذہبی و ثقافتی مشیر بن سکتے ہیں۔
    • اے آئی (AI) یا مصنوعی ذہانت نے بھی بہت سے مواقع پیدا کر دیے ہیں، ان سے استفادہ کی ضرورت ہے۔
  2. خود روزگاری کا رجحان: فارغین کو فری لانسنگ، آن لائن تدریس، اور تحریری و تحقیقی کاموں کے ذریعے خود کفیل بننے کا موقع ملتا ہے۔
  3. اعتماد اور پیشکش کی صلاحیت: کورس کے دوران سیمینارز، پریزنٹیشنز اور مکالماتی سیشنز طلبہ میں اعتماد، قیادت، اور پبلک اسپیکنگ کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

سماجی و فکری انضمام

  1. بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمہ: برج کورس طلبہ کو مختلف معاشرتی اور فکری گروہوں کے ساتھ مکالمہ کرنے کی تربیت دیتا ہے تاکہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر مؤثر انداز میں اسلام کا پیغام پیش کر سکیں۔
  2. قوم و ملت کی رہنمائی: فارغینِ مدارس میں جدید دنیا کے مسائل جیسے معیشت، سیاست، ماحولیاتی بحران، اور سماجیات کے بارے میں شعور بیدار کیا جاتا ہے تاکہ وہ صرف مساجد کے نہیں بلکہ معاشرت کے بھی رہنما بن سکیں۔
  3. تعلیمی نظام میں شمولیت: برج کورس کے بعد فارغین آسانی سے اوپن یونیورسٹیوں یا عام یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکتے ہیں (جیسے IGNOU، Jamia Millia Islamia، AMU، مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی وغیرہ)۔

مثالیں اور کامیاب ماڈلز

برج کورس کی سب سے بڑی مثال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پیش کی جہاں یہ کورس سنہ 2013ء میں اس وقت کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی سرپرستی اور پروفیسر راشد شاز کی رہنمائی میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس نے کوئی دس بیچ فارغ کر دیے ہیں۔ اور اس کے فارغین انگریزی، لا، سوشل سائنسز کے علاوہ فارن لینگویجز میں بھی گئے ہیں11۔

اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia) نے مدرسہ فارغ التحصیل طلبہ کے لیے "بیسک برج کورس" کا آغاز کیا، جس سے ہر سال سینکڑوں طلبہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ اور مولانا آزاد اردو قومی یونیورسٹی، حیدرآباد میں بھی ایسے کورسز کامیابی سے چل رہے ہیں جن میں ذریعۂ تعلیم بھی اردو ہے۔

مدرسہ فارغ التحصیل طلبہ کے لیے برج کورس دراصل ایک علمی و فکری انقلاب کا دروازہ ہے۔ یہ کورس اُنہیں ماضی کی روایتی فضا سے نکال کر جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ یوں وہ صرف عالمِ دین نہیں بلکہ فکر و سماجی ترقی و تعلیم کے جدید نمائندے بن کر ابھرتے ہیں جو امت کی فکری و معاشی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فارغینِ مدرسہ کے لیے لائحہ عمل

یہ جتنی معروضات پیش کی گئی ہیں ان کا انطباق کیسے ہو گا یہ ایک نہایت اہم اور دور اندیشانہ سوال ہے۔ کیونکہ آج کے دور میں مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ (Madrasa Passouts) امتِ مسلمہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں، اگر اُن کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں ترقی دی جائے۔ ذیل میں ایک جامع، عملی اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق تفصیلی خاکہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اپنی شناخت کو مسجد سے آگے بڑھانا

مدارس کا بنیادی مقصد علما، خطبا اور ائمہ، دین کے معلم اور مدرس تیار کرنا تھا، جو آج بھی نہایت اہم ہے۔ لیکن آج کے زمانے میں فارغین مدارس کو اپنی خدمت کے دائرے کو وسعت دینی چاہیے:

یعنی "میں صرف تفسیر پڑھاتا ہوں"، "میں صرف فقہ پڑھاتا ہوں" یا "صرف حدیث پڑھاتا ہوں" کے بجائے "میں تفسیر، حدیث یا فقہ کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتا ہوں" کا مطمحِ نظر اپنائیں۔

عصری علوم اور جدید مہارتوں کا حصول

دین کے ساتھ دنیا کی زبان بھی آنی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فارغین:

ایک ایسا عالم جو نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت یا تعلیم پر ورکشاپس کرے، وہی آج کا مؤثر داعی ہے۔

موجودہ دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے درس نظامی اور ندوۃ العلماء یا سلفی مدارس کے منہاجِ درس کے پہلو بہ پہلو ایک اور تجربہ مختلف اوقات میں اور مختلف پیرایوں میں کیا۔ جو گرچہ بڑے چھوٹے پیمانے پر ہوا مگر اس کے نتائج حیرت انگیز طور پر بڑے مثبت نکلے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ابتداء میں عصری تعلیم دینے کے بعد ذہین طلبہ و نوجوانوں کو دین کی اعلیٰ تعلیم دی جائے، عربی زبان کی بنیادی تعلیم اور قرآن و حدیث و فقہ وغیرہ کی تحقیقی تعلیم۔ اس میدان میں کہیں تو بعض اداروں اور جماعتوں نے یہ تجربہ کیا اور کہیں پر بعض طلبہ و نوجوان خود اپنے شوق سے اس تجربہ سے گذرے۔ اس تجربہ سے گذر کر جن لوگوں نے خدمتِ دین کو اپنا مطمح نظر بنایا وہ روایتی فارغینِ مدارس کے مقابلہ میں زیادہ کارگر ثابت ہوئے، اور عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر انہوں نے کہیں زیادہ بہتر طور پر دین کی خدمت انجام دی ہے۔ اس تجربہ سے بڑے اچھے رجال کار پیدا ہوئے اور مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ اس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ، ڈاکٹر عبدالحق انصاری، استاد جاوید احمد غامدی، مولانا طارق جمیل، ڈاکٹر ذاکر نائک، ڈاکٹر اسرار احمد، جناب خالد مسعود مرحوم و شہزاد سلیم غیر ہم کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں16۔

فکر و تحقیق کے میدان میں جدت

مدارس کو علم و تحقیق کے مراکز ہونا چاہیے، المیہ یہ ہے کہ ان کے اکثر فارغین اور طلبہ تقلیدِ جامد کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔ ضرورت ہے کہ وہ:

امت کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جو "مسائلِ زمانہ" پر دینی بصیرت کے ساتھ بات کریں۔ آج کل مغرب میں ایسے بہت سے علماء اور یوٹیوبرز موجود ہیں جو اس بصیرت کے ساتھ اپنے سننے والوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ حمزہ یوسف، شیخ یاسر قاضی، جاوید احمد غامدی اور استاد نعمان علی خاں وغیرہ۔

سماجی خدمت اور عملی اصلاح

ایمان کا اصل مظہر خدمت ہے۔ مدرسہ فارغین ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں:

جب لوگ علماء کو سماج کی بھلائی کے لیے متحرک دیکھیں گے تو دین پر ان کا اعتماد بڑھے گا۔

عالمی فہم اور بین المذاہب ہم آہنگی

دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے، لہٰذا مفتیان و علماء اور نئے فارغین کو چاہیے کہ وہ:

معاشی خودمختاری اور کاروباری شعور

علماء کی خدمت کا دائرہ تبھی پھیل سکتا ہے جب وہ معاشی طور پر خودمختار ہوں۔ اس کے لیے:

خودکفیل عالم زیادہ با اعتماد اور آزاد ہوتا ہے۔ اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کے ذریعہ آج کے علماء خودکفیل بن سکتے ہیں۔

سیرتِ نبوی سے عملی رہنمائی

نبی اکرم ﷺ صرف مذہبی رہنما نہیں بلکہ معلم، مصلح، سیاستدان، تاجر، اور انسان دوست بھی تھے17۔ فارغینِ مدارس کو چاہیے کہ اسی ہمہ گیر سیرت کو اپنا ماڈل بنائیں۔

عملی منصوبے جنہیں مدارس کے فارغین شروع کر سکتے ہیں

  1. کمیونٹی اسٹڈی سرکلز : نوجوانوں کے لیے دین و عصری علوم پر گفتگو۔
  2. سائنس و ایمان فورمز : قرآن و سائنس کے ربط پر مباحثے۔
  3. ڈیجیٹل دعوتی پلیٹ فارم: شارٹ ویڈیوز، پوڈکاسٹس، بلاگز۔
  4. اسلامی اخلاقیات پر سیمینارز: ٹیکنالوجی، انسانی حقوق، ماحولیات جیسے موضوعات پر۔
  5. انسانی فلاح کے منصوبے: تعلیم، صحت یا قدرتی آفات کے موقع پر امدادی سرگرمیاں۔

ذہنیت کی تبدیلی — "فارغ التحصیل" سے "تبدیلی لانے والا"

سب سے بڑی تبدیلی سوچ میں لانے کی ضرورت ہے: "میں نے تعلیم مکمل کر لی" کے بجائے "میں معاشرے میں علم و اخلاق سے انقلاب لانے جا رہا ہوں" کا شعور پیدا ہو۔

اکیسویں صدی کا مثالی عالم

ایسا عالمِ دین جو: قرآن و سنت کا عمیق فہم رکھتا ہو۔ دنیا اور زمانے کی نبض پہچانتا ہو۔ مصنوعی ذہانت اور کمیونیکیشن ٹولز کی جانکاری رکھتا ہو۔ نرمی، محبت، اور بصیرت سے بات کرتا ہو۔ عدل و خیر کے لیے کام کرتا ہو۔ اپنی زندگی سے دوسروں کو امید دیتا ہو۔ فرقہ وارانہ اور محدود سوچ سے اوپراٹھ گیا ہو۔

خلاصہ

مدرسہ کے فارغین کے معاشی مسائل کا حل محض نوکری یا مالی امداد سے نہیں نکل سکتا، بلکہ اس کے لیے خود اہلِ مدارس کو سوچ کے ایک نئے زاویے سے کام لینا ہو گا۔ آج کے زمانے میں معیشت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اکانومی، اسٹارٹ اَپس، فری لانسنگ، اور سماجی کاروبار جیسے نئے میدان سامنے آ چکے ہیں۔ اگر مدرسہ کے فارغین اپنی علمی اور فکری قوت کو ان جدید میدانوں سے جوڑ لیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ امت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

اہلِ مدارس کو چاہیے کہ وہ محض روایتی تدریسی یا خطابت کے دائرے میں محدود نہ رہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اختراع (Innovation) کا راستہ اختیار کریں یعنی اپنے علمِ دین کو عصرِ حاضر کی ضروریات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر اسلامی تعلیمات پر مبنی جدید آن لائن پلیٹ فارم بنائے جائیں جو نوجوان نسل کو دین سے جوڑیں۔ اسلامی فنانس، حلال بزنس، اور ایتھیکل انویسٹمنٹ جیسے موضوعات پر ریسرچ سینٹرز قائم کریں۔

نئے فارغین اکیسویں صدی کے مثالی عالم بننے کی کوشش کریں۔ فارغینِ مدارس نبی ﷺ کی ہمہ گیر سیرت کو اپنا ماڈل بنائیں۔ وہ خود کفیل عالم اور یوں با اعتماد اور آزاد ہونے کی کوشش کریں۔ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ 

نئے فارغین کو چاہیے کہ وہ بین المذاہب مکالمے میں حصہ لیں اور اسلام کی امن و انصاف کی تعلیمات کو عام کریں۔ نیز دیگر مذاہب و نظریات کے لوگوں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر تعاون کریں۔

وہ عالمی زبانیں سیکھیں: انگلش، عربی (ماڈرن عربی)، ہندی یا فرنچ، جرمن، اسپانوی وغیرہ اور مقامی زبانیں بھی۔ وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بنیادی استعمال سیکھیں: تحقیق، تحریر، ڈیجیٹل کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت سے کام لینا وغیرہ۔ اسی طرح سوشیالوجی، سائیکالوجی اور ایجوکیشن جیسے مضامین کا مطالعہ کریں تاکہ انسان اور معاشرے کی سمجھ پیدا ہو۔ انہیں یہ احساس پیدا کرنا ہو گا کہ خدمتِ دین صرف مدرسے یا مسجد میں نہیں، بلکہ میڈیا، علمی و تحقیقی اور سماجی میدانوں میں بھی ممکن ہے۔

حواشی 

  1. وارث مظہری ، مدارس کا آغاز و ارتقا اور ان کی معنویت مشمولہ جے ایس راجپوت ، ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم (Education of Indian Muslims) (ترجمہ غطریف شہباز ندوی شایع شدہ قومی کونسل ) ص 149
  2. مظفر عالم ، جدید دور میں مدرسوں کی معنویت ایضاً مشمولہ جے ایس راجپوت ، ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم، (Education of Indian Muslims) صفحہ 187
  3. ملاحظہ ہو محبوب رضوی ، تاریخ دارالعلوم دیوبند شایع کردہ المیزان لاہور اشاعت 2005ء
  4. مولانا اشرف علی تھانوی کی خدمات کے لیے دیکھیں: عبدالماجد دریابادی ، حکیم الامت نقوش و تاثرات ایم شمس الدین تاجرانِ کتب مسلم مسجد لاہور
  5. مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کے لیے دیکھیے: غطریف شہباز ندوی ، عالم اسلام کے مشاہیر شایع کردہ فاؤنڈیشن فار اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی طبع مارچ 2014 ص 276
  6. وارث مظہری ؛ مدارس کا آغاز و ارتقا اور ان کی معنویت مشمولہ جے ایس راجپوت، ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم صفحہ 175-174
  7. دیکھیے غطریف شہباز ندوی، سر سید کے تعلیمی و تہذیبی افکار شایع شدہ فاؤنڈیشن فار اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی اشاعت 2023
  8. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو شاہ عمران حسن ، اوراق حیات (مولانا وحید الدین خان کی تحریروں پر مشتمل سوانح حیات) رہبر سروس نئی دہلی ۔
  9. دیکھیے محبوب رضوی ، تاریخ دارالعلوم دیوبند، المیزان لاہور ص ۱۸۸
  10. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: Could Darul Huda Islamic University be a model for other big Madrasas in India? https://muslimmirror.com/could-darul-huda-islamic-university-be-a-model-for-other-big-madrasas-in-india/
  11. اس کی مفصل رپورٹ کے لیے دیکھیے : دستک، مرتب غطریف شہباز ندوی شایع کردہ مرکز فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)
  12. Ismail Raji al-Faruqi, Islam and Other Faiths (Islamic Foundation, 1998).
  13. محمد ارشد، ہندوستان میں صوفی خانقاہیں اور جدید تعلیم، مشمولہ جے ایس راجپوت، (Education of Indian Muslims ) ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم، ترجمہ غطریف شہباز ندوی شایع شدہ قومی کونسل ص 397)
  14. بین المذاہب اور بین المسالک مذاکرات کا موضوع آج نہ صرف علمی سطح پر دنیا بھر میں پڑھا پڑھایا جاتا ہے اور یونیورسٹیوں میں اس پر کورس کیے جاتے ہیں بلکہ عملی سطح پر بھی مختلف الخیال انسانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں اس کا بڑا رول ہے۔
  15. ملاحظہ ہو راقم کا مقالہ ، اسلامی تہذیب مذاکرات کی داعی ہے ۔ مطالعات ، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نئی دہلی جلد ششم (مشترکہ شمارہ بر ہند اسلامی تہذیب و ثقافت ص 75 )
  16. ملاحظہ ہو اشراق اردو امریکہ شمارہ ستمبر 2025
  17. دیکھیے سیرت کی کتابیں، خاص کر غطریف شہباز ندوی، محمد ﷺ سب کے لیے (انگریزی کتاب : Follow Me God Will Love You: by Hamid Muhsin کا اردو ترجمہ شایع کردہ مکتبہ قاسم العلوم اردو بازار لاہور پاکستان)

مروّجہ نعت خوانی اور ہمارے نعت خواں

سید سلمان گیلانی

’’مجھے تو آج تک کسی عالم یا کسی مفتی نے نہیں روکا، بلکہ مجھ سے مکرر مکرر یہ نعتیں سنی جاتی ہیں۔ علماء ان نعتوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ آپ کون ہوتے ہیں اِن نعتوں کے پڑھنے سے روکنے والے؟ آپ تو عالم بھی نہیں ہیں۔ اور پھر اگر اصلاح ہی مقصود ہے تو جلسہ عام میں سب کے سامنے سرزنش کوئی صحیح طریقہ ہے؟‘‘

یہ ہیں ایک نوجواں نوآموز نعت خواں کے الفاظ جس کو عرصہ تین چار سال سے میں اسٹیج پر نعت خوانی کے جوہر دکھاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ کئی مرتبہ سوچا کہ عزیزم کو اُس کے اس انداز سے روکوں لیکن اس کی ناراضگی کے ڈر سے نہ روک سکا۔ سوچا کہ کوئی مفتی صاحب یا کوئی عالم دین خود روک دے گا کہ میاں نعت کا ایک تقدس ہوتا ہے، حمد کا ایک مقام ہوتا ہے، ایسا کلام معروف گانوں کی طرز میں پڑھنا ممنوع اور ناجائز ہے۔ آوازوں کی لہروں سے موسیقی کے سُر پیدا کرنا یا سانس کی صدا اور اُس کے زیروبم سے موسیقی کی دُھن پیدا کر کے حمد و نعت گناہ اور فسق؛ لیکن وائے افسوس ہے کہ آج علماء کی خاموشی اس کے لیے وجہ جواز بن گئی ہے۔

اور طرہ یہ کہ علماء کا مکرر مکرر کہہ کر سننا اور ایسے نعت خوانوں کو اپنے جلسوں اور محافلِ نعت میں بلانا اُن کے لیے سند کا درجہ ہو گیا ہے۔ انتہا تو یہ کہ نعت میں قرآن کی آیات یا آیات کے ٹکڑے گانوں کی طرز میں پڑھے جانے لگے۔ ’’وتعز من تشاء وتذل من تشاء‘‘ اور ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کے الفاظ موسیقی کی صدا اور روم پیدا کر کے پڑھنا نعت کی مقبولیت کا سبب بن گیا ہے۔

ان محافل کے سامعین جو خود ابھی مدارس کے طالب علم ہیں اور تربیت سے محروم ہیں وہ اِن نعتوں کو سنتے اور سر دھنتے ہیں، اِن نعت خوانوں کو پسند کرتے ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کو اگر اِسم تصغیر سے بالڑا کہہ دیا تو دانستہ کہنے والا کافر ہو جائے گا، اور نادانستہ کہنے والا بھی توبہ کرے اور کثرت سے درود شریف پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم راضی کر لے۔

گزشتہ پندرہ بیس سال سے ہمارے ملک میں حمد و نعت کی محافل عروج پر ہیں۔ پہلے یہ رواج صرف بریلوی فکر کے ماحول میں دیکھا جاتا تھا لیکن اب ہر مکتبہ فکر اس کو پذیرائی بخش رہا ہے۔ علماء دیوبند کے اسٹیج پر جذبہ حریت کی بیداری، تحفظِ ختمِ نبوتؐ، ناموسِ صحابہؓ، توحید و سنت کا پرچار، اور اصلاحِ معاشرت جیسے موضوعات پر تقاریر ہوتی تھیں۔ علماء خطباء ایک سے بڑھ کر ایک تشریف لاتے تھے۔ ان کے ساتھ ایک یا دو شاعر جذبے اور سرشاری کے ساتھ نظریاتی و فکری شاعری کرتے تھے، پانچ یا سات شعر پڑھ کر جلسہ کا رنگ بدل دیتے تھے۔ بسا اوقات خطباء کو موضوع شعراء کے کلام سے مل جاتا تھا۔

آج معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اسٹیج پر نعت خوانوں کی کثرت ہوتی ہے، ایک ایک گھنٹہ ہر نعت خواں نعت پڑھتا ہے۔ اور خطیب صاحب طفیلی ہوتے ہیں، درمیان میں کہیں کوئی تقریر وزنِ بیت کے طور پر رکھی جاتی ہے، مقرر بھی اگر سر ہلائے تو فبھا ورنہ لوگ اُکتا جاتے ہیں اور مجمع سے اُٹھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر جب کوئی نعت خواں آتا ہے تو دوبارہ جلسہ گاہ میں آ جاتے ہیں۔

میں چونکہ کافی عرصہ سے اسٹیج سے وابستہ ہوں، میری تربیت بڑے بڑے بزرگوں نے کی ہے، حضرت حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت بنوریؒ، حضرت نور الحسن بخاریؒ، حضرت دین پوریؒ، حضرت دوست محمد قریشیؒ، حضرت لعل حسین اخترؒ، حضرت نفیس شاہؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت سعد، مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا حکیم محمد اختر صاحبؒ جیسے بزرگوں کی توجہات رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ والد محترم مرحوم سید امین گیلانی، جو امیر شریعتؒ کے تربیت یافتہ اور حضرت لاہوریؒ کی چشمِ معرفت سے فیض یافتہ تھے، نے مجھے خوب نکھارا اور سنوارا۔ 

اس لیے مجھے چند ایک نعت خوانوں کو چھوڑ کر باقی سب پر افسوس ہے، کوئی تربیت نہیں، کوئی اصلاح نہیں، کوئی محنت کا جذبہ نہیں، کوئی سیکھنے کا شوق نہیں، غیر معیاری انتخابِ کلام، معروف گانوں کی طرز میں پڑھنا، سانس لے کر رِدھم پیدا کر کے تک دِھن تک دِھن کی آواز نکالنا سامعین کے ذوقِ سماعت کی تسکین بنتا جا رہا ہے۔ ہر چند کہ سنجیدہ سامعین یہ سب کچھ سن کر دل میں کڑھ رہے ہوتے ہیں، کبھی کبھی کہیں کہیں اس سے اعلانِ بیزاری بھی کر لیتے ہیں، لیکن نعت خواں مست ہیں، اکثر اوقات حمد اور نعت کے مضامین نہایت سطحی اور ہلکے ہوتے ہیں کہ توہین اور ذم کا پہلو نکلتا ہے، کچھ مثالیں عرض کرتا ہوں۔

قارئین کرام! یہ چند نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ آپ انصاف سے بتائیں کیا یہ محافل باعثِ ثواب ہیں یا مستوجبِ گناہ۔ ان نعت خوانوں کو اگر بغرضِ اصلاح منع کریں تو ناراض ہو جاتے ہیں حالانکہ ضابطہ یہ ہے کہ اگر جلسہ میں کوئی ایسا کلمہ کہا گیا ہے تو اس کی اصلاح جلسہ اور مجمع میں کی جائے، اور اگر تنہائی میں کہا گیا ہو تو خلوت میں کی جائے۔ اپنی اَنا کا تو اتنا کرب محسوس کرتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا معاملہ ہے اُن کو کتنی تکلیف ہوئی ہو گی۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ آپ ضرور ایسی محفلیں منعقد کروائیں لیکن لِلّٰہ ایسے نعت خوانوں کی حوصلہ شکنی کریں جو یہ شعور نہیں رکھتے کہ نعت کس کو کہتے ہیں، نعت اور حمد کیسے پڑھتے ہیں۔ اپنے اکابر شعراء کا کلام پڑھا کریں۔ جناب سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ، سید امین گیلانیؒ، حفیظ تائبؒ، حافظ لدھیانویؒ، قاری محمد طیب صاحبؒ، ذکی کیفی صاحب، جناب اقبال عظیم صاحب مرحوم؛ جن کا بے شمار کلام پڑھا جا سکتا ہے، اس میں سے انتخاب کریں۔ اللہ توفیق نصیب فرمائے، آمین، وما علينا الا البلاغ۔

(پاکستان نعت کونسل کے تعارفی کتابچہ سے ماخوذ)


محمد نام رکھنے کے متعلق فضائل کی حقیقت

مفتی سید انور شاہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس اعلیٰ، ارفع اور ممتاز ہے ایسے ہی آپ کا نام نامی اور اسمِ گرامی بھی اعلیٰ، افضل، ارفع، اشرف اور ممتاز ہے۔ اور بچوں کے لئے آپ کا نام مبارک ’’محمد‘‘ رکھنا باعثِ خیر و برکت ہے اور آپ سے عشق و محبت کا اظہار ہے۔ مگر لوگوں میں محمد نام رکھنے کے متعلق مختلف فضائل اور باتیں مشہور ہیں۔ اسی طرح بعض کتابوں میں محمد نام تجویز کرنے کے فضائل پر متعدد روایات نقل کی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر روایات کو حضرات محدثین نے موضوع قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں چند مشہور روایات ملاحظہ فرمائیے:

محمد نام رکھنے والا باپ اور بیٹا جنت میں جائیں گے

محمد نام رکھنے کی فضیلت میں ایک روایت جو لوگوں میں بھی مشہور ہے اور بعض کتابوں میں بھی نقل کی گئی ہے کہ جس شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور وہ میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس بچے کا نام ’’محمد‘‘ رکھے تو وہ شخص اور اس کا بچہ دونوں جنتی ہوں گے۔ اس حدیث کو محدثین نے من گھڑت اور موضوع قرار دیا ہے۔ چنانچہ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:

وحدیث من ولد لہ مولود فسماہ محمدا تبرکا کان ہو ووالدہ فی الجنۃ وحدیث ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حبلت منہ ان یسمیہ محمدا الا رزقہ اللہ ولدا ذکراوفی ذلک جزء کلہ کذب۔ (الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ: ۱/۴۳۵/ دارالامانہ بیروت)

اللؤلؤالمرصوع میں ہے:

حدیث: من ولد لہ مولود فسماہ محمدا تبرکا کان ہو وولدہ فی الجنۃ۔ موضوع۔ (اللؤلؤالمرصوع: ۱/۲۰۲/حرف المیم)

لہٰذا مذکورہ روایت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

پیٹ میں بچے کا نام محمد رکھنے سے لڑکا پیدا ہو گا

ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حبلت منہ یسمیہ محمدا الا رزقہ اللہ ولدا ذکرا۔
جو کوئی مسلمان اپنی بیوی سے ہمبستری کرتے وقت یہ نیت کر لے کہ اگر اس ہمبستری سے حمل ٹھہر گیا تو اس کا نام محمد رکھا جائے گا۔ ایسا کرنے سے اللہ تعالی اس کو بیٹا عطاء فرمائیں گے۔

اس روایت کو ملا علی قاریؒ اور علامہ محمد بن خلیل بن ابراہیمؒ، ابو المحاسن القاوقجی الطرابلسی الحنفی نے موضوع قرار دیا ہے۔

ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حبلت منہ یسمیہ محمدا الا رزقہ اللہ ولدا ذکرا۔ موضوع قال ابن قیم الجوزیۃ: وفی ذلک جزء کلہ کذب۔ ( اللؤلؤ المرصوع:۱/۱۶۴حرف المیم) (الموضوعات الکبری : ۳۱/رقم ۱۱۹۳)

علامہ حافظ ذہبیؒ مذکورہ روایت کے متعلق لکھتے ہیں:

حدیث موضوع و سندہ مظلم۔ (تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ:۱/۱۷۴)

اس سلسلے میں ایک اور موضوع روایت کے الفاظ یہ ہیں:

ما سمی مولود فی بطن امہ محمدا الا اذکر۔
جس بچے کا نام اس کی ماں کے پیٹ میں محمد رکھا جائے تو وہ بچہ بیٹا ہی پیدا ہو گا۔

علامہ سخاویؒ نے اس روایت کو بے سند کہہ کر مردود قرار دیا ہے۔

ہل ورد انہ من اراد ان یکون حمل زوجتہ ذکرا فلیضع یدہ علی بطنہا ولیقل: ان کان ہذا الحمل ذکرا سمیتہ محمدا، فانہ یکون؟ 
فالجواب: لا اصل لہ فی المرفوع۔ نعم، روینا فی جزء ابی شعیب عبد اللہ بن حسن الحرانی عن عطاء الخراسانی انہ قال: ما سمی مولود فی بطن امہ محمدا الا اذکر۔ (الاجوبۃ المرصیۃ: ۱/۳۸۱)

محمد نام کی برکت کی وجہ سے جنت سے نہیں روکا جائے گا

اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد: یا محمد قم فادخل الجنۃ بغیر حساب فیقوم کل من اسمہ محمد ویتوہم ان النداء لہ، فلکرامۃ محمد لا یمنعون۔
قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا! اے محمد! اٹھ جائیے اور جنت میں بغیر حساب کے تشریف لے جائیں، اس پر محمد نامی ہر شخص اس وہم کی بناء پر اٹھ جائے گا کہ اس کا نام بھی محمد ہے۔ لہٰذا ان کو محمد نام کی برکت کی وجہ سے جنت جانے سے نہیں روکا جائے گا۔

علامہ ابن عراق کنانی اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں: ھذا حدیث موضوع۔ بلاشک، اس حدیث کے من گھڑت ہونے شک و شبہ نہیں۔

اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد: یا محمد قم فادخل الجنۃ بغیر حساب فیقوم کل من اسمہ محمد ویتوہم ان النداء لہ، فلکرامۃ محمد لا یمنعون (ابو المحاسن عبد الرزاق ابن محمد الطبسی) فی الاربعین بسند معضل سقط منہ عدۃ رجال۔ (قلت) قال بعض اشیاخی: ہذا حدیث موضوع بلا شک واللہ اعلم۔ تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ: ۱/۲۲۶)

علامہ سیوطیؒ نے بھی مذکورہ روایت کو مردود قرار دیا ہے۔

احمد بن ابی القرانی، سمعت ابا الحسن محمد بن یحیی بن محمد الخطیب یقول سمعت جدی محمد بن سہل بن اسحاق الفرایضی یقول اخبرنا ابی یرفع الحدیث الی النبی انہ قال: اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد یا محمد قم فادخل الجنۃ بغیر حساب فیقوم کل من اسمہ محمد فیتوہم ان النداء لہ فلکرامۃ محمد لا یمنعون۔ ہذا معضل سقط منہ عدۃ رجال واللہ اعلم۔ (اللآلیء المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ:۱/۹۷/ کتاب المبتدء)

محمد نام رکھنے سے گھر نقصان سے محفوظ ہو گا

ما ضر احدکم لو کان فی بیتہ محمد ومحمدان وثلاثۃ۔
اگر تم میں سے کسی کے گھر میں ایک، دو یا تین محمد نام سے آدمی ہوں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
ما ضر احدکم لو کان فی بیتہ محمد ومحمدان وثلاثۃ۔ (فیض القدیر: ۵/۴۵۳/ صرف المیم)

اس کو روایت کو بھی محدثین نے مردود قرار دیا ہے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد:۵/۴۰/ط:دارالکتب العلمیہ، بیروت)

محمد نام کے کچھ خاص فضائل کے متعلق اہلِ علم کی تصریحات

جیسے کہ ماقبل میں یہ بات تفصیل کے ساتھ گزر چکی کہ انبیاء کرامؑ کے نام سب سے افضل اور عمدہ نام ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ سید الانبیاء والمرسلین کا نام کتنا ہی اشرف و برتر ہے۔ مگر محمد نام رکھنے کے متعلق بعض خاص فضائل اور فوائد بعض روایات میں منقول اور لوگوں میں مشہور ہیں، محدثین نے ان روایات کو موضوعات (من گھڑت احادیث) میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن الجوزیؒ لکھتے ہیں:

وقد روی فی ہذا الباب احادیث لیس فیہا ما یصح۔
یعنی اس باب میں بیان کئے جانے والے روایات صح نہیں ہیں۔
حدیث آخر: انبانا ابن ناصر قال انبانا ابو القاسم بن مندہ قال انبانا محمد ابن محمد بن المہتدی قال حدثنا الحسین بن احمد بن بکیر قال حدثنا احمد بن عبد اللہ بن الفتح قال حدثنا صدقۃ بن موسی بن تمیم قال حدثنی ابی عن حمید الطویل عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یوقف عبدان بین یدی اللہ تعالی فیامر بہما الی الجنۃ۔
فیقولان ربنا بما نستاہل الجنۃ ولم نعمل عملا تجازینا؟ فیقول لہما: عبدی ادخلا الجنۃ فانی آلیت علی نفسی ان لا یدخل النار من اسمہ احمد ولا محمد۔
ہذا حدیث لا اصل لہ۔
قال ابن حبان صدقۃ بن موسی لا یحتج بہ لم یکن الحدیث من صناعتہ کان اذا روی قلب الاخبار۔
حدیث آخر: انبانا ابو بکر محمد بن عبد الباقی البزاز، وابو محمد یحیی بن علی المدبر قالا انبانا ابو الحسن محمد بن احمد بن المہتدی باللہ قال حدثنا الحسین ابن احمد بن عبد اللہ بن بکیر قال حدثنا حامد بن حماد بن المبارک العسکری، قال حدثنا اسحاق بن سیار ابو یعقوب النصیبی قال حدثنا حجاج بن المنہال قال حدثنا حماد بن سلمۃ عن برد بن سنان عن مکحول عن ابی امامۃ الباہلی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " من ولد لہ مولود فسماہ محمدا تبرکا بہ کان ہو ومولودہ فی الجنۃ " فی اسنادہ ہذا الحدیث من قد تکلم فیہ۔
حدیث آخر: انبانا ابن ناصر قال انبانا عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ بن مندہ قال انبانا عبد الصمد بن محمد العاصمی قال انبانا ابراہیم بن احمد المستملی قال حدثنا محمد بن احمد بن شبیب قال حدثنا محمد بن عتاب قال حدثنا سلیمان ابن داود قال حدثنا عبثر بن الحسن قال حدثنا یحیی بن سلیم الطائفی عن ابن ابی نجیح عن مجاہد عن المسور بن مخرمۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول " ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حملت منہ یسمیہ محمدا الا رزقہ اللہ تعالی ذکرا، وما کان اسم محمد فی بیت الا جعل اللہ تعالی فی ذلک البیت برکۃ" وہذا لا یصح۔
قال ابو حاتم الرازی: یحیی بن سلیم لا یحتج بہ وسلیمان مجروح وعبثر مجہول۔
وقد روی فی ہذا الباب احادیث لیس فیہا ما یصح۔ (الموضوعات لابن جوزی:کتاب المبتدء/۱/۱۵۸)

حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں: وھذہ الاحادیث مکذوبۃ۔ یہ تمام روایتیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ (میزان الاعتدال: ۱/۱۲۹)

حافظ ابن قیم الجوزیؒ لکھتے ہیں: و فی ذالک جزء، کلہ کذب۔ ان روایات کے متعلق ایک کتابچہ لکھا گیا ہے جو سارا جھوٹ کا پلندہ ہے۔ وکحدیث "آلیت علی نفسی ان لا یدخل النار من اسمہ احمد ولا محمد"۔

وکحدیث "من ولد لہ مولود فسماہ محمدا تبرکا بہ کان ہو والولد فی الجنۃ"۔
وکحدیث "ما من مسلم دنا من زوجتہ -وہو ینوی ان حبلت منہ ان یسمیہ محمدا- الا رزقہ اللہ ولدا ذکرا" وفی ذلک جزء کلہ کذب۔ (المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف: ۱/۶۱/ الناشر: مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں:

وذکر بعض الحفاظ انہ لم یصح فی فصل التسمیۃ بمحمد حدیث۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ: ۷/۳۰۷)
بعض حفاظ حدیث فرماتے ہیں کہ محمد نام رکھنے کی فضیلت کے متعلق کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔ 

علامہ ابن عراق کنانی لکھتے ہیں:

لم یصح فی فضل التسمیۃ بمحمد حدیث، بل قال الحافظ ابو العباس تقی الدین الحرانی: کل ما ورد فیہ فہو موضوع۔
محمد نام رکھنے کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے، بلکہ حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں بیان کی جانے والی روایات من گھڑت ہیں۔
[حدیث] "لا یدخل الفقر بیتا فیہ اسمی" (عد) من حدیث ابی ہریرۃ، ولا یصح فیہ عثمان بن عبد الرحمن ومحمد بن عبد الملک الانصاری۔
[حدیث] "ما اجتمع قوم فی مشورۃ فیہم رجل اسمہ محمد لم یدخلوہ فی مشورتہم الا لم یبارک لہم فیہ" (عد) من حدیث علی وفیہ عثمان الطرائفی (قلت) عثمان الطرائفی وثقہ ابن معین، وروی لہ ابو داود والنسائی وابن ماجہ، وقال الحافظ ابن حجر فی التقریب صدوق اکثر من الروایۃ عن الضعفاء والمجہولین فضعف بسبب ذلک، والحدیث قال الحافظان الذہبی وابن حجر: انہ کذب، لکنہما ذکراہ فی ترجمۃ احمد بن کنانۃ الشامی شیخ الطرائفی وقضیتہ اتہام احمد بہ، لا الطرائفی واللہ اعلم، قال السیوطی: وجاء من حدیث علی مرفوعا: "ما من قوم کانت لہم مشورۃ فحضر معہم من اسمہ احمد ابو محمد فشاوروہ الا خیر لہم، "اخرجہ الدیلمی لکنہ من طریق ابی بکر المفید فلا یصلح شاہدا، قلت واخرجہ ابن بکیر من طریق احمد بن عامر، فلا یصلح ایضا شاہدا واللہ اعلم۔
[حدیث] "ما من امتی من احد رزقہ اللہ ولدا ذکرا فسماہ محمدا وعلمہ {تبارک الذی بیدہ الملک} الا حشرہ اللہ علی ناقۃ من نوق الجنۃ مدبجۃ الجنبین خطامہا من اللؤلؤ الرطب علی راسہا تاج من نور واکلیل یفتخر بہ فی الجنۃ" (ابن الجوزی) من حدیث انس وقال لا یصلح فیہ محمد بن محمد بن سلیمان المعدانی وہو المتہم بہ، وقال السیوطی: قال الذہبی فی المیزان: موضوع [حدیث] "یوقف عبدان بین یدی اللہ تعالی فیامر بہما الی الجنۃ فیقولان ربنا بم استاہلنا الجنۃ ولم نعمل عملا تجازینا بہ، فیقول لہما عبدی ادخلا الجنۃ فانی آلیت علی نفسی ان لا یدخل النار من اسمہ محمد ولا احمد" (ابن بکیر) فی جزء من اسمہ محمد واحمد من حدیث انس، وفیہ صدقۃ بن موسی، وقال السیوطی: قال الذہبی والآفۃ فیہ من شیخ ابن بکیر، وہو الدارع راویہ عن صدقۃ بن موسی وصدقۃ وابوہ لا یعرفان، ومثلہ ما رواہ صاحب مسند الفردوس من طریق ابی نعیم عن اللکی عن احمد بن اسحق بن ابراہیم ابن نبیط بن شریط مرفوعا: "یا محمد لا اعذب بالنار من سمی باسمک، "وہی نسخۃ قال الذہبی سمعناہا من طریق ابی نعیم عن اللکی عنہ، لا یحل الاحتجاج بہ لانہ کذاب انتہی واقرہ فی اللسان، قال الابی: لم یصح فی فضل التسمیۃ بمحمد حدیث، بل قال الحافظ ابو العباس تقی الدین الحرانی: کل ما ورد فیہ فہو موضوع۔
(تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ: الفصل الاول/۱/۱۷۴/ دار الکتب العلمیۃ - بیروت)

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اس قسم کی روایات کے متعلق قاموس الفقہ میں لکھتے ہیں: تاہم رسول اللہ ﷺ کے نام پر رکھنے سے متعلق جو روایات بعض کتب احادیث میں نقل کی گئی ہیں ،وہ حد درجہ ضعیف اور نامعتبر ہیں۔ مثلاً‌:

اذا سمیتم الولد محمدا فعظموہ و وقروہ وبجلوہ ولاتذلوہ ولاتحقروہ۔
جب بچہ کا نام محمد رکھو تو اس کی توقیر اور تعظیم و احترام کرو اور اس کی تحقیر و تذلیل نہ کرو۔

یہ حدیث محققین کے نزدیک موضوع اور بالکل ساقط الاعتبار ہے۔

یا حضرت انسؓ کی روایت: اذا سمیتم الولد محمدا فلا تضربوہ ولاتحرموہ۔ اہل علم کے نزدیک سند کے اعتبار سے یہ بھی ضعیف ہے۔

اسی طرح وہ روایت کہ جس کے تین بچے ہوں اور کسی کا نام محمد نہ رکھے، اس نے جہالت کا ثبوت دیا۔

غایت درجہ ضعیف بلکہ بعض اہلِ فن کے نزدیک موضوعات میں سے ہے اور کیوں ضعیف نہ ہو کہ خود سید عمر فاروقؓ کے تین صاحبزادے ہوئے اور کسی کو ’’محمد‘‘ سے موسوم نہیں فرمایا، یہی حال اس روایت کا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو صاحبِ اولاد بنے اور وہ اس کو از راہ تبرک ’’محمد‘‘ سے موسوم کر دے تو وہ اور اس کا وہ بچہ دونوں جنتی ہوں گے۔ (قاموس الفقہ : ۱/۴۲۶۔۔۔۴۲۷)

محمد نام کے فضائل

جامعۃ العلوم الاسلامیۃ

سوال

بچے کا نام محمد رکھنے کی فضیلت کس حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

امام نوویؒ نے احادیث کی روشنی میں یہ بات لکھی ہے کہ "محمد" نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں (دادا وغیرہ) کو الہام کیا گیا تھا، گویا کہ یہ اللہ کا منتخب کردہ نام ہے، اس نام کی فضیلت کے لیے یہی ایک بات کافی ہے کہ اس نام کا انتخاب اللہ تعالی نے فرمایا۔

1- "شرح مسلم للنووی" میں ہے:

"قال اہل اللغۃ یقال رجل محمد ومحمود اذا کثرت خصالہ المحمودۃ وقال بن فارس وغیرہ وبہ سمی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم محمدا واحمد ای الہم اللہ تعالی اہلہ ان سموہ بہ لما علم من جمیل صفاتہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم"۔ (کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ، ج:15، ص:104،ط: داراحیاء التراث العربی)

2۔ اسی طرح حضور ﷺ نے محمد نام رکھنے کی ترغیب دی، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

"سموا باسمی، ولا تکنوا بکنیتی"۔ (صحیح مسلم، کتاب الآداب، ج:3، ص:1682، ط: داراحیاء التراث العربی)
"میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو"۔

3۔ آپ ﷺ نے خود بھی کئی بچوں کا نام ”محمد“ رکھا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب نومولود بچے لائے جاتے تھے تو آپ ﷺ تحنیک (گھٹی) کے بعد ان کا نام بھی تجویز فرماتے، چناں چہ ان میں سے کئی بچوں کا نام آپ ﷺ نے ”محمد“ رکھا۔ اسی طرح آپ ﷺ کا معمول تھا کہ نومسلموں میں سے بھی اگر کسی کا نام صحیح نہ ہوتا تو آپ ﷺ اس کا نام تبدیل فرما دیتے، چناں چہ کچھ صحابہ کا نام آپ ﷺ نے خود تبدیل کر کے ”محمد“ رکھا۔

"الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ" میں ہے:

محمد بن الجد بن قیس الانصاری۔ 
"ذکرہ ابن القداح، وقال: ‌سماہ ‌النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‌محمدا، وشہد معہ فتح مکۃ، حکاہ ابن ابی داود عنہ، واخرجہ ابن شاہین، واستدرکہ ابو موسی، وذکر محمد بن حبیب فی کتابہ «المحبر» انہ اول من سمی محمدا فی الاسلام من الانصار"۔ (محمد بن الجد، ج:6، ص:6، ط:العلمیۃ)

4۔ ایک حدیث شریف میں آپ ﷺ نے امت کو ”محمد“ نام رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"ما ضر احدکم لو کان فی بیتہ محمد ومحمدان وثلاثۃ"۔ (فیض القدیر، ج:5، ص:435، حرف المیم، ط: المکتبۃ التجاریہ الکبری، مصر)
ترجمہ: تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے (یعنی کوئی نقصان نہیں) اس بات میں کہ اس کے گھر میں ایک، دو یا تین محمد (نام والے) ہوں۔

کتابوں میں ”محمد“ نام رکھنے کے فضائل پر متعدد روایات نقل کی گئی ہیں، لیکن چوں کہ ان پر شدید جرح ہوئی ہے اور بعض روایات کو موضوع اور بعض کو کذب بھی لکھا گیا ہے؛ اس لیے یہاں صرف چند ایسی احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جو بعض محدثین کے یہاں صحیح یا ثابت ہیں:

5۔ ”العرف الشذی“ (جو کہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تقریر درس ترمذی ہے) میں "معجم الطبرانی" کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے کہ "جس نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا، میں اس کی شفاعت کروں گا"۔

" وفی روایۃ فی المعجم للطبرانی: "من سمی ولدہ محمدا، انا شفیعہ۔ وصححہا احد من المحدثین وضعفہ آخر"۔ (کتاب الآداب، باب ما جاء یستحب من الاسماء، ج:4، ص:181، ط: داراحیاء التراث العربی، بیروت)

6۔ "سیرت حلبیہ" میں ایک اور معضل روایت نقل کی گئی ہے کہ "قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے محمد! اٹھیے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو جائیے، تو ہر وہ آدمی جس کا نام ”محمد“ ہو گا یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اسے کہا جا رہا ہے وہ (جنت میں جانے کے لیے) کھڑا ہو جائے گا تو حضرت محمد ﷺ کے اکرام میں انہیں جنت میں جانے سے نہیں روکا جائے گا۔"

"وفی حدیث معضل: "اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد: یا محمد! قم فادخل الجنۃ بغیر حساب! فیقوم کل من اسمہ محمد، یتوہم ان النداء لہ؛ فلکرامۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لا یمنعون"۔ (باب تسمیتہ ﷺ محمدا واحمد، ج:1، ص:121، ط: دارالکتب العلمیۃ)

7۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "میں نے اہلِ مکہ سے سنا ہے کہ جس گھر میں ”محمد“ نام والا ہو تو اس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیا جاتا ہے۔"

"سمعت اہل مکۃ یقولون: ما من بیت فیہ اسم محمد الا نمی ورزقوا ورزق جیرانہم"۔ (کتاب الشفاء، الباب الثالث، الفصل الاول، ج:1، ص:176، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


متاعِ مطيع

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے دینِ اسلام پر گہرے غور و فکر اور اس کے معانی و مفاہیم کی تہ در تہ پرتوں کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ لیکن یہ تفکیری و تدبیری عمل تقریباً بے معنی ہو جاتا ہے اگر دنیا اور اس کے متعلقات دھیان میں نہ رہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی گہری تیکھی تفہیم کے بغیر دین کے منشائے حقیقی کی تحصیل تو دور کی بات، اس کی مطلوب و مقصود تنقیح بھی نہیں ہو پاتی۔ اس لیے عالم وہ نہیں جو مخصوص دینی علوم کا درک رکھتا ہو اور اس بنیاد پر فضل و مرتبت کا دعویدار ہو۔ فرد، معاشرہ، ثقافت، مسائل، وسائل، جذبات، نفسیات وغیرہ سینکڑوں دنیاوی امور ہیں جو انسانی زندگی کی ٹھوس حقیقتیں ہیں۔ کوئی دین یا کسی دین کا کوئی عالم ان حقیقتوں سے بے خبر ہے یا انھیں خاطر میں نہیں لاتا تو نہ اس دین کی کوئی وقعت ہے اور نہ ہی اس کے عالم کی کوئی توقیر باقی رہ جاتی ہے۔

ہمارا معاشرہ دینی معاشرہ ہے لیکن ہمارے ہاں دین کی معروف و رائج تعبیر، زندگی کے ٹھوس زندہ مظاہر سے بالکل الگ تھلگ کھڑی ہے۔ روزہ مرہ امور، خاندانی مسائل، نیز متغیر معاشرتی تقاضے کچھ اور ہیں، اور دین کے عالموں کے غور و فکر اور تحریر و تقریر کے موضوعات کچھ اور۔ اس لیے ایک منافقانہ فضا ہے جس میں گزر بسر ہو رہی ہے۔ کہنے میں دکھانے میں دین، لیکن عملی طور پر بے دینی۔ زندگی کی ٹھوس حقیقتوں سے چوں کہ مفر نہیں اور دوسری طرف دین کا لپکا بھی ہے، تو خواہی نخواہی کھینچ تان کر اپنے اعمال کو دینی جواز دینا عام ہو گیا ہے۔ یہ طور طریقہ خودفریبی ہے یا نفسیاتی تسکین۔ 

اس سنگین صورتِ حال کی بنیادی وجہ دنیاوی امور سے لاعلمی، کم علمی، یا معاملاتِ دنیوی کی غیر حقیقی غیر واقعی تفہیم ہے۔ ہم یہ سامنے کی بات سمجھ نہیں پا رہے کہ ثمر آور دینی تعبیر، دنیا کی ناقدانہ درست تفہیم سے مشروط ہے۔ اسی وجہ سے دین اصلاً غیر متعلق ہو گیا ہے اور اس کے اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے برعکس وہ معاشرے جن پر بے دینی کا ٹیگ لگا ہوا ہے، دنیاوی امور کے عادلانہ ناقدانہ تجزیے کی بدولت ایسے بیشتر فوائد سمیٹ رہے ہیں۔

’’حرز: قرآنِ حکیم سے راہ یابی کے چند اسفار‘‘ — اس اعتبار سے لائقِ صد تحسین اور قابلِ توجہ ہے کہ اس میں دینی تفہیم کے ضمن میں قرآنی اساس کا پورا لحاظ کرتے ہوئے معاصرانہ مسائل کو دھیان میں رکھا گیا ہے۔ حرز کے بالاستیعاب مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مطیع الرحمٰن سید نے رواروی میں لکھنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو قرآنی آئینے میں دیکھنے اور پاک صاف کرنے کی جو مخلصانہ کوشش کی ہے، اس میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر مطیع کے ہاں عمدہ زبان و بیان تو ہے ہی، اس پر طرہ تحقیقی متانت اور اسلوب کی ندرت۔ موصوف نے نہایت خوبی سے نشان دہی کی ہے کہ عرفانِ دین کی مسافت طے کرنی ہو یا معرفتِ الٰہی کے سفر پر روانہ ہونا ہو، راستہ بہرحال زمین اور زمین زادوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جس ذوق و شوق، صبر و استقامت اور محنت لگن سے اس کتاب کو آراستہ کیا گیا ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اس قابلِ قدر وقیع و صبیح کاوش کو متاعِ مطیع قرار دینا مبالغہ نہ ہو گا۔

اقوام عالم کی تہذیبوں کا تقابلی جائزہ

مولانا حافظ واجد معاویہ

اسلامی ثقافت و تہذیب اسلامی معاشرت کے وہ جزو لاینفک ہیں جو عالم انسانیت میں انسانی فطرت و طبیعت کے تقاضوں کے حسین امتزاج ہیں۔ جہاں بھر میں اس وقت کئی تہذیبیں متعارف و آباد ہیں جو بزعم خود ترقی یافتہ ہیں۔ لیکن ان کی ظاہری ترقی و ترویج کے باوجود ان میں ایسے مہلک عناصر موجود ہیں جو نہ صرف اطراف عالم میں ان کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں بلکہ انہی بنیادوں پر یہ نام نہاد تہذیبیں انسانی فطرت و جبلت کے بھی خلاف ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان تہذیبوں کے سکان و علم بردار شعوری یا لا شعوری طور پر ان عناصر کا شکار ہونے کی وجہ سے فطرت انسانی کی مخالف سمت پر رواں رہتے ہیں اور وہ اس بے راہ روی کو دورِ جدید کا تقاضہ قرار دیتے ہیں۔

مغربی تہذیب اس وقت اپنے غلبے اور عروج کے زمزے گا رہی ہے لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ان کی تہذیب انسانی فطرت کا امتزاج نہیں بلکہ انسانی خواہشات کا شاہکار ہے۔ وہاں مذہب و خدا پرستی سے بے زار نفس پرستی کے وہ چوراہے موجود ہیں جہاں سے مرد و زن اپنی خواہشات کے طبلے بجاتے ہوئے انسانی معاشرت میں چاروں اوڑ پھیلتے جاتے ہیں اور وہاں مذہب پسندوں کی آزادانہ خدا پرستی کو سامان طنز و مزاح بنایا جاتا ہے۔

اگر ہندو تہذیب پر نظر ڈالی جائے تو وہاں خدائے برتر و بالا کے سوا متعدد معبودانِ باطلہ کی پرستش کے رواج پر مذہبی لیبل چسپاں ہے اور بدعات و خرافات کی وہ شاہراہیں متعارف ہیں جن کی وسعتیں فطرت انسانی کی مخالف سمت پر دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ذات پات کے نظام نے اتحاد انسانیت کا شیرازہ بکھر کے اسے مختلف ذاتوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔

یہودی تہذیب تو مظلوم انسانیت کے خون سے سینچی ہوئی وہ تہذیب ہے جس کے بارے میں تاریخ انسانیت کی شہادت یہ ہے کہ اس تہذیب نے مذہبی انتہاء پسندی اور قومیت پرستی کے لیے انسانیت کو تہہ تیغ کیا ہے۔ جناب موسیٰ و عزیز علیہم السلام کے نظریہ توحید سے یوں انحراف کیا کہ اپنے پیشواؤں کو ہی ابنیت خدا کا درجہ دے دیا جو حقیقت میں ان کی تعظیم نہیں بلکہ مذہبی لبادے میں بدترین توہین ہے۔

اور پھر عیسائی تہذیب بھی اپنی اخوات تہذیبوں سے پیچھے نہ رہ سکی۔ اس نے بھی نسل پرستی کا وہ بازار گرم کیا جو خود ان کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ الف ثانی کے اواخر میں نوآبادیاتی نظاموں کے قیام کے دوران دیگر ادیان و اقوام پر ظلم و تعدی پر مبنی قائم کردہ تسلط بھی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ عبادت گاہوں اور کلیساؤں میں نفس پرستی کا مداوا ملنا اور مذہبی پیشواؤں کی خدا کاریوں میں مداخلت بھی کسی سے مخفی نہیں۔

دوسری جانب تہذیب اسلام کا جائزہ لیجیے جہاں اگرچہ فرقہ واریت کا عنصر بظاہر ایک مہلک عنصر ہے لیکن وہیں یہ بات بھی مخفی نہیں کہ اس فرقہ واریت کی اصولیات متحد ہیں اور انہی متحدہ اصولیات اور حقائق تک پہنچنے کے لیے ان کی تعبیر و تشریح میں مختلف شخصیات و گروہوں کا باہمی اختلاف پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ”اختلاف العلماء رحمۃ“ کہا گیا اور اختلاف کا یہ رخ ہر دور میں ممدوح رہا ہے اور فطرت انسانی اس کی متقاضی بھی ہے۔ اور یہی اختلاف اتباع مذہبیت کی دلیل بھی ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بڑھ کر مذہب کا پیروکار بننا چاہتا ہے۔ ہاں! یہ بات بجا ہے کہ فروعی اختلافات کو رواج دے کر انہیں مذہبیت کا درجہ دینا غلط ہے۔ ماسوائے اس عنصر کے اسلامی تہذیب میں اسلامی اصولوں اور تعلیم و تربیت کا رواج اس کی امتیازیت کو دوبالا کرتا ہے۔

یہاں فن و ثقافت اور فقہ و شریعت بھی حیات انسانی کو صحیح نہج پر گزارنے کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اور اسلام کا امتیازی نظام عدالت و معیشت بھی اسلامی تہذیب کے وہ عناصر ہیں جنہوں نے امیر و غریب، حکمران و گداگر کی تفریق کو ختم کر کے انسانیت کو ایک ہی قالب میں یکجان ہونے کا تصور دیا۔ اور اسی پر مزید اتفاق و اتحاد کا تصور اسلامی تہذیب کا وہ عظیم عنصر ہے جس نے انسانیت کی انفرادیت کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کے فروغ کی وہ مثالیں پیش کیں جو کوئی اور تہذیب نہ کر سکی۔ اس کی بنیاد ”انما المؤمنون اخوۃ“ اور "المسلم أخ المسلم" جیسے عظیم ارشادات ربانی و پیغمبری ہیں اور اس کا نتیجہ ہے ؎

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

یہاں خواتین کو مختلف حیثیتوں کے ساتھ وہ حقوق مہیا کیے گئے جو تاریخ عالم میں آج تک کہیں مہیا نہ ہوئے۔ جنہوں نے عورت کو سامانِ تلذذ و خواہش قرار دینے کے بجائے کہیں ثقف جنت درجہ دیا تو کہیں اس کی پرورش باپ کے لیے ذریعہ نجات ٹھہری اور کہیں اس کا تعاون و اشتراک ایک مرد کے کامیابیوں کا راز بنا اور اسے جنتی حوروں کی سربراہی کا مقام ملا۔

حقوق الإنسان: فروق أساسية بين المنظور الإسلامي والغربي

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مترجم : مولانا حافظ فضل الہادی سواتی

ينظم معهد الصفّة بکوجرانوالا خلال شهر رمضان المبارك، بعد صلاة الفجر يوميًا، محاضرات تحت عنوان "دورة هدی للناس" حول موضوعات متنوعة، يشارك فيها عدد كبير من الرجال والنساء، ويعبّر فيها علماء وأصحاب فكر من مختلف المدارس الفكرية عن آرائهم. وفي 28 أكتوبر، دُعيتُ لتقديم بعض الملاحظات تحت عنوان "حقوق الإنسان والتعاليم الإسلامية"، وأقدم هنا ملخص ما عرضته في تلك المناسبة.

بعد الحمد للہ والثناء لہ والصلاة والسلام على رسول الله وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ...

 يُعدّ حقوق الإنسان موضوعًا مهمًا في عالم اليوم، وربما يكون الموضوع الأكثر طرحًا للنقاش، وهناك العديد من الجوانب المتعلقة بحقوق الإنسان في ضوء التعاليم الإسلامية التي يحتاج النقاش حولها. ولكن في هذا المجلس، أود أن أقدّم ملاحظات حول جانب واحد فقط، وهو: ما الفرق بين فلسفة حقوق الإنسان اليوم وفلسفة حقوق الإنسان الإسلامية؟

أما فيما يتعلق بحقوق الإنسان، فقد تطرق القرآن الكريم إلى العديد من جوانبه، ووضح رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرات الجوانب المتعلقة به، ولكن هناك بعض الفروق الأساسية والمبدئية بين فلسفة حقوق الإنسان في العصر الحاضر وبين تعاليم القرآن والسنة في هذا الشأن، والتي من الضروري فهمها.

(1) الفرق الأول في هذا الصدد هو الاصطلاح؛ فالحقوق المتبادلة بين البشر، التي يُعبّر عنها في الفلسفة الحديثة بـ "حقوق الإنسان" أو "Human Rights"، قد ذكرها الإسلام تحت عنوان "حقوق العباد". فهناك نطاق واسع من التوجيهات والأحكام في القرآن الكريم والسنة النبوية فيما يتعلق بحقوق الله وحقوق العباد، وهو نطاق منظم ومترابط بحيث قلّما يوجد نظام آخر يوضح تفاصيل وأولويات حقوق الإنسان كما أشار إليها القرآن والسنة.

(2) الفرق الثاني هو أن الفلسفة المعاصرة تحصر قائمة الحقوق في إطار المجتمع البشري فقط، ولا تناقش حقوق الخالق والمالك الذي خلق الإنسان ورزقه ومنحه نعمًا لا تحصى. فهي لا تهتمام أصلًا بمسألة وجود الله من عدمه، أو وجوب الإيمان به من عدمه، أو ما إذا كان له كخالق ومالك أي حق على عباده. بينما الإسلام على العكس من ذلك، لا يقر فقط بضرورة الإيمان بوجود الله تعالى، بل يعدّ الإقرار بتوحيده ثم الاعتراف بحقوقه أمرًا لا مفر منه. لذلك يتحدث الإسلام عن كل من حقوق الله وحقوق العباد، ويجعل التوازن بينهما أساسًا للدين. وقد نفى الإسلام في هذا الصدد الطرفين المتطرفين:

فالتطرف الأول هو الانشغال الكلي بعبادة الله تعالى وعدم الالتفات إطلاقًا لحقوق البشر. وقد عبّر الإسلام عن هذا بـ "الرهبانية" ونفاه القرآن الكريم صراحة.

أما التطرف الثاني فهو تركيز الاهتمام بالكامل على حقوق العباد وتعاملات البشر، واعتبار عبادة الله تعالى وطاعته غير ضروريين. وقد وصف الإسلام هذا بـ "الانشغال بالدنيا" ونفاه أيضًا. تعاليم الإسلام في هذا الشأن واضحة؛ فالإيمان بالله تعالى كخالق ومالك، واتباع تعاليم رسله، والإقرار بوحدانيته، وعبادته وطاعته كلها ضرورية، كما أن مراعاة حقوق البشر الذين يعيشون معنا في المجتمع البشري ضرورية أيضًا.

لقد قدم القرآن والسنة نظامًا متكاملًا للتوازن والترتيب في الأولويات بينهما، وفي هذا الصدد فإن قول سلمان الفارسي رضي الله عنه الذي نصح به أبا الدرداء رضي الله عنه - والذي وفقًا للرواية في صحيح البخاري صدّقه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقره - يعد أساسًا وقاعدة:

"إن لربك عليك حقًا، ولنفسك عليك حقًا، ولأهلك عليك حقًا، فأعط كل ذي حق حقه."

(3) الفرق الثالث الأساسي بين التعاليم الإسلامية وفلسفة العصر الحالية فيما يتعلق بحقوق الإنسان هو أن الإسلام يحدد الحقوق على أساس التعاليم السماوية والوحي الإلهي. بينما الأساس الوحيد لتحديدها في الفلسفة الحديثة هو رغبات المجتمع البشري. فما تعتبره أغلبية المجتمع البشري حقًا يُدرج في قائمة الحقوق، وما تستبعده تُستبعد من القائمة. والديمقراطية والتصويت هما وسيلة لمعرفة رغبة المجتمع البشري، فالأساس هو رغبات المجتمع البشري. ونحن نرى أنه بما أن رغبات المجتمع البشري لا تتوقف وليس لها كابح، فإن قائمة الحقوق هذه في تغير مستمر. بل يحدث أن أمرًا ما كان يُعد في الماضي من الجرائم، يصبح في عصر آخر خارجًا عن قائمة الجرائم ويدخل في قائمة الحقوق. أود أن أوضح هذا بمثالين:

الأول: أن عيش الرجل والمرأة معًا بدون زواج، وإقامة علاقة جنسية وإنجاب الأطفال، كان يُعتبر في الماضي جريمة. وما يزال يعتبر جريمة في نظر الإنجيل، ولكن في عصرنا هذا لم يُخرج هذا الفعل من قائمة الجرائم فحسب، بل إن العديد من القوانين في الدول الغربية قد اعترفت بمشروعيته وأدرجته في قائمة الحقوق.

وبالمثل، فإن المثلية الجنسية كانت حتى عهد قريب تعتبر جريمة، ولا تزال الآيات التي تذمها وتقرر عقوبة شديدة لها موجودة في الإنجيل. ولكن مع تغير الفكر الجمعي في المجتمع، أُخرجت من قائمة الجرائم وأُدرجت في قائمة الحقوق، وتقوم برلمانات الدول الغربية باستمرار بتشريع القوانين في هذا الشأن. بينما الإسلام لا يعترف بذلك، وموقفه هو أن المبادئ التي حددها الوحي الإلهي والتعاليم السماوية في هذا الشأن، والدوائر التي حددت قطعياً فيما يتعلق بالحقوق والمعاملات والحلال والحرام، لا يحق للمجتمع البشري تجاوزها، وله فقط الصلاحية لترتيب أموره ضمن إطار هذه الحدود. وبالمثل، فإن الإسلام ليس مستعداً لإدراج تلك الأمور في قائمة حقوق الإنسان التي اعتبرها المجتمع البشري حقوقاً وهو يتجاوز الوحي الإلهي والتعاليم السماوية.

(4) الفرق الرابع المهم بين التعاليم الإسلامية والفلسفة الحديثة حول حقوق الإنسان هو أن الإسلام يركز أكثر على أداء حقوق الآخرين، ويذكر قائمة طويلة بأن عليك لله هذا الحق، وللرسول هذا الحق، وللوالدين هذا الحق، وللزوجة والأولاد هذا الحق، وللأقارب هذا الحق، وللجيران هذا الحق، وغير ذلك. ويتجه معظم تعاليم الإسلام نحو أنك إذا أديت حقوق الآخرين فإن حقوقك سوف تؤدى تلقائياً. بينما يبدو أن اتجاه وأسلوب الفلسفة والنظام الحديثين هو أن حقوقك على الآخرين هي كذا وكذا، فهو يعرض على الإنسان قائمة بحقوقه ويحثه على المطالبة بها.

لا يخفى على أهل البصيرة الفرق في النتيجة بين هذين المنهجين. عندما يوجه الإنسان همته لأداء حقوق الآخرين، فإنه سينال حقوقه أيضاً، وفي نفس الوقت ستتولد في المجتمع أجواء المحبة المتبادلة والثقة والأخوة. ولكن عندما يكون كل شخص مشغولاً بالمطالبة بحقوقه من الآخرين، ستسود أجواء من التنافس والصراع تؤدي إلى حالة من "الأنانية" (الفوضى والتنافس السلبي)، ولن تتحقق تلك الأجواء من الترابط والمحبة الضرورية للتوحد في مشاركة الآلام والمصاعب.

هناك مجال وحاجة للحديث عن العديد من جوانب حقوق الإنسان والتعاليم الإسلامية، ولكن نظراً لقصر الوقت سأكتفي بهذه الملاحظات الأساسية. نسأل الله تعالى أن يوفقنا جميعاً للعمل بها، آمين ثم آمين.

(جريدة "باكستان"، لاهور - 31 أكتوبر 2005م)


The Kashmir Issue: A Brief Overview and Possible Solution

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

"What is the Kashmir issue, what is its background, and what could be its possible solution? The majority of our new generation knows little about it, and their connection with the Kashmir issue is merely emotional. Today, I want to present the case of Kashmir before you so that we can understand the current situation and what our responsibilities are in this regard.
According to international documents, Kashmir is a disputed territory. The boundaries of this region are such that it includes: the state of Jammu, the Kashmir Valley, Gilgit, Baltistan, and Skardu, etc., which we call the Northern Areas, and the Ladakh region on the Chinese border. This entire region is called Kashmir.
The dispute between Pakistan and India over Kashmir began in 1947. Before that, this entire region comprising Pakistan, India, Bangladesh, etc., was known as 'India' (Muttahida Hindustan) and was ruled by the British. The British had begun to seize power from the Mughals 190 years earlier in 1757 AD and completed their occupation by 1857 AD. After that, the British Crown ruled directly here for ninety years. When the British began to leave India, a large majority of Muslims demanded a separate country, arguing that they could not live together with Hindus due to cultural and civilizational differences. This led to the Pakistan Movement, and eventually, the country was divided into two parts.
In this partition, one principle was agreed upon: the areas with a Muslim majority would join Pakistan, and the areas with a non-Muslim majority would remain in India. Since present-day Bangladesh was a Muslim-majority area, it became a part of Pakistan named East Pakistan in this partition and maintained this status until 1971. Similarly, Sindh, Balochistan, the Frontier (Khyber Pakhtunkhwa), and West Punjab joined Pakistan because they were Muslim-majority areas. The situation with Punjab was such that, West Punjab was a Muslim-majority part of the province, while East Punjab had a mixed population of Hindus and Sikhs, so the division of Punjab was decided. West Punjab, which includes Lahore, Sialkot, Narowal, Shakargarh, etc., came to Pakistan's share. And East Punjab, which includes Amritsar, Ludhiana, and Haryana, etc., came to India's share.
United India had hundreds of small and large princely states. There were states directly ruled by the British and those called semi-autonomous states with which the British had treaties. The general nature of these treaties was that internal autonomy belonged to the Nawab or Maharaja of the state, while federal powers such as currency, foreign policy, communications, defense, etc., were the responsibility of the British government. The few states that joined Pakistan included Bahawalpur, Swat, Kalat, Khairpur, Chitral, and Dir, among others. In some of the joining states a Sharia judicial system was also in force even during the British era, such as in the states of Swat, Bahawalpur, and Dir, where the Qada (Islamic justice) system was prevalent. At the time of the partition of United India, it was decided that the rulers of these states could choose to accede to either Pakistan or India. The accession of the areas to Pakistan took place under this very principle.
The case of Kashmir was somewhat different, where the majority was Muslim, but the government was that of a Dogra Hindu family. The entire region of Kashmir, which is now divided into different parts, was ruled by the Dogra dynasty. Thus, Maharaja Hari Singh, against the inclination of Kashmir's Muslim majority, announced accession to India at the time of the partition, and the Indian army entered Kashmir and occupied it. This led to the Muslims of Kashmir declaring a rebellion against the government. The Dogra rulers had been committing much cruelty even before, which is a long story, but the Dogra Maharaja's accession to India sparked a rebellion among the Muslims, which started a new phase of the freedom movement. The people of Gilgit were the first to begin the fighting, in which scholars (Ulama) and the general public all participated. Similarly, in the areas of the Kashmir Valley, scholars initiated the struggle for freedom based on the Fatwa (religious decree) of Jihad. Here too, scholars and tribal chiefs collectively participated in the Jihad. Besides this, Mujahideen (freedom fighters) from the tribal areas and the Pakistan Army also participated in this fighting, and as a result, the freedom fighters reached the gates of Srinagar. The current liberated areas like Mirpur, Muzaffarabad, Rawalakot, etc., were all liberated during this rebellion against the Dogra government.
When Srinagar was close to being conquered, the Indian Prime Minister, Pandit Jawaharlal Nehru, went to the United Nations for a ceasefire and promised that they would accept whatever decision the United Nations made. Consequently, the United Nations put pressure on Pakistan to stop the fighting and, through its resolutions, promised that the decision regarding Kashmir would be made by the people of Kashmir through a plebiscite. UN resolutions in this regard have appeared at various times, but despite three-quarters of a century having passed, this plebiscite has not yet been held, the main reason being India's influence and pressure at the international level.
One thing often said about the Kashmir issue is, "How can you talk about the division of a region on religious grounds in this era?" To this, my submission is: on what basis was the division of Israel done, and who did it? The United Nations did, didn't it? Similarly, who orchestrated the separation of the Eastern region of the Indonesian island of Timor into a separate Christian state? And who later granted separate statehood to the Christian-majority area in South Sudan? Yet, here in Kashmir, you ask how the division can be based on religion, while Pakistan itself was created on the basis of religion.
The role of the United Nations regarding the Kashmir issue is before us, but the common organization of Muslim governments, the OIC (Organization of Islamic Cooperation), has also played virtually no role in preventing oppression and tyranny against Muslims in regions like Palestine, Kashmir, Arakan, Xinjiang, etc.
This is the case of Kashmir that I have briefly presented to you. In this regard, the first request I would make is to our own state: Pakistan's role in this case is not merely that of a supporter; rather, Pakistan is a party against India in the United Nations, and we must maintain the continuity of this role. My second request is to the scholars and the government of Azad Kashmir: the regions of Kashmir that are currently part of Azad Kashmir were liberated as a result of the Fatwa of Jihad and the act of Jihad. So, my question concerns the status of that Fatwa of Jihad today. If it still holds, whose responsibility is it to carry it forward? I would request the government and scholars of Azad Kashmir to formulate a principled stance and a plan of action in this regard, and to take the government institutions of Pakistan into confidence and not overlook them."

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۵)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

غلامی سے متعلق اسلام کا تصور

خطبہ نمبر 4: مؤرخہ 23 اکتوبر 2016ء

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء و المرسلین خصوصاً‌ علیٰ سید الرسل و خاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین اما بعد!

حضرات علمائے کرام! محترم بزرگو، دوستو اور عزیز طلباء!

ہماری گفتگو اسلام کے خاندانی نظام کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ کسی زمانے میں غلام لونڈی موجود تھے، تصور بھی تھا، قرآن پاک اور احادیث میں بھی ان کا ذکر ہے۔ فقہائے کرام نے بھی جزئیات کا ذکر کیا ہے۔ آج کے عالمی فکری و تہذیبی تنازعات میں اور اسلام کے بارے میں سیکولر حضرات کے اعتراضات میں سے ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُس دور میں غلامی کی نوعیت کیا تھی اور اب کیا ہے؟ اور اب تک غلامی کی کیا شرعی پوزیشن رہی ہے؟ اس موضوع پر تعارفی انداز میں گفتگو ہو گی۔

غلامی کا وجود قبل از اسلام سے جاری ہے

یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ لونڈی، غلام، جناب خاتم النبیین ﷺ کے زمانے میں بھی تھے۔ حضور ﷺ کے گھر میں بھی تھے، عام معاشرے میں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو خریدے جاتے تھے، بیچے جاتے تھے اور گھروں میں رہتے، خدمت کے کام کرتے تھے۔ آغاز کیسے ہوا اور غلام بنتے کیسے تھے اور غلام بننے کے جو اسباب تھے ان اسباب میں اسلام کا کیا دخل ہے؟

پہلی بات عرض کرنا چاہوں گا کہ اس کا آغاز اسلام سے نہیں ہوا، اسلام کو یہ نظام پہلے سے موجود ملا ہے۔ پہلی بات یہ ذہن میں رکھیں کہ ہم نے آغاز نہیں کیا۔ پہلے ایک سسٹم موجود تھا، چلا آرہا تھا، ہمارے ہاں بھی چلتا رہا۔ جناب خاتم النبیین ﷺ جب مبعوث ہوئے، تشریف لائے، تو خود حضور ﷺ کے گھر میں بھی غلام تھے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے غلام تھے جن کو آپؐ نے آزاد کر کے متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا۔ حضور ﷺ کی انّا (آپ کو دودھ پلانے والی) حضرت ام ایمن برکہ رضی اللہ عنہا بھی باندی تھیں، انھوں نے حضور ﷺ کو اپنی گود میں کھلایا ہے۔

غلام بنانے کے چند ذرائع

غلام بنتے کیسے تھے؟ یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک آزاد اچھا خاصا انسان ہے، یہ غلام کیسے بن گیا؟ غلام بنانے کے اس زمانے میں تین ذریعے تھے جن سے لوگ غلام ہو جاتے تھے۔

پہلا ذریعہ، آزاد آدمی کو پکڑ کر غلام بنانا

ایک تو تھا بردہ فروشی جو کہ طویل عرصہ تک دنیا میں جاری رہی ہے اور امریکہ کی پوری تاریخ غلاموں کے خریدنے بیچنے کی اور غلاموں کی منڈیوں کی ہے۔ غلام بیچے جاتے تھے، منڈیاں لگتی تھیں۔ کسی کمزور آدمی کو طاقتور آدمی پکڑ کر بیچ دیتا تھا اور وہ غلام ہو جاتا تھا، یہ عام چلن تھا عام رواج تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو حضور ﷺ کے غلام تھے، آزاد ہوئے، پھر حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے بنے۔ یہ غلام خاندان کے نہیں تھے، راہ چلتے کچھ طاقتور لوگوں نے پکڑا پھر بیچ دیا تھا، یوں یہ مکہ پہنچ گئے۔ اس کو آج کل بردہ فروشی کہتے ہیں اور یہ آج بھی دنیا میں ہے۔ طاقتور کمزور آدمی کو پکڑ کر بیچتے تھے، پیسے کھرے کرتے تھے۔ بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تھا۔

وشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ (سورۃ یوسف: 4، آیت: 20)
( پھر) اُنھوں نے یوسف علیہ السلام کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہموں کی شکل میں تھی۔

حضرت یوسف علیہ السلام آزاد تھے، آزاد خاندان کے فرد تھے۔ کنویں میں بے یار و مددگار پڑے ہوئے تھے، بے سہارا تھے۔ قافلہ آیا، انھوں نے پکڑا، آگے بیچ دیا۔ کسی بھی بے سہارا شخص کو پکڑ کے یا کمزور کو پکڑ کر بیچ دینا غلامی کا ذریعہ تھا اور قدیم سے چلا آ رہا تھا۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فارس کے رہنے والے تھے آزاد خاندان کے فرد تھے۔ اپنا مذہب چھوڑا، عیسائی ہوئے، راستے میں کسی نے پکڑا اور بیچ دیا۔ کہتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے میں دس سے زیادہ مالک بھگت چکا تھا۔ ایک نے بیچا، دوسرے نے بیچا، تیسرے نے بیچا، اس طرح مدینہ منورہ کے یہودی خاندان میں پہنچ گئے اور یہ غلامی ان کے لیے رحمت بن گئی۔ میں دو آدمیوں کے بارے میں کہا کرتا ہوں کہ اگر غلام نہ ہوتے تو یہ مقام نہ ملتا: عالمِ اسباب میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کا نام قرآن پاک میں موجود ہے، جن کو حضور ﷺ نے منہ بولا بیٹا بنایا۔ غلامی ان کے لیے نعمت بن گئی، کچھ لوگوں نے پکڑ کر بیچ دیا، بکتے بکاتے مکہ مکرمہ میں حضور ﷺ کے گھر آئے۔ یہ ان کے لیے تھی تو غلامی لیکن اللہ کی نعمت کا بہت بڑا ذریعہ بن گئی۔ یہی معاملہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ بکتے بکاتے حضور ﷺ کے در تک پہنچے، بالآخر اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے۔ 

ایک طریقہ یہ تھا کہ کمزور کو پکڑ کر بیچ دیتے تھے، وہ بے چارہ کمزور ہوتا بے سہارا ہوتا کچھ نہ کر سکتا تھا۔

دوسرا ذریعہ، مقروض و مفلس کو غلام بنانا

ایک طریقہ اور تھا جو قدیم دور سے چلا آ رہا تھا۔ کوئی آدمی تاوان میں، قرض میں پھنس گیا، قرضہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تاوان پڑ گیا اس پر، ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، یہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ ادا نہیں کر سکتا۔ پھر دو صورتیں ہوتیں تھیں: ایک صورت یہ ہوتی تھی کہ وہ خود کہتا تھا کہ میں تمھارا غلام ہوں۔ خود پیشکش کر کے غلام ہو جاتا تھا۔ میں تاوان نہیں دے سکتا، قرضہ نہیں دے سکتا، میں تمھارا غلام ہوں۔ وہ گلے میں رسی ڈال لیتا تھا۔ یہ بھی ایک طریقہ عام رائج تھا۔ اس کی دوسری صورت یہ تھی کہ قرضہ ہے، تاوان ہے، پیسے دینے ہیں۔ پنچایت بیٹھتی تھی، عدالتیں لگتیں، وہ اس کے خلاف فیصلہ کر دیتی تھیں کہ یہ قرضہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس کو غلام بنا لو۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ ابوداؤد شریف میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مذکور ہے۔

[اہمیت کے پیش نظر مکمل روایت درج کی جا رہی ہے۔ قال ما کان لہ شیء کنت انا الذی الی ذلک منہ منذ بعثہ اللہ الی ان توفی وکان اذا اتاہ الانسان مسلما فرآہ عاریا یامرنی فانطلق فاستقرض فاشتری لہ البردۃ فاکسوہ واطعمہ حتی اعترضنی رجل من المشرکین فقال یا بلال ان عندی سعۃ فلا تستقرض من احد الا منی ففعلت فلما ان کان ذات یوم توضات ثم قمت لاؤذن بالصلاۃ فاذا المشرک قد اقبل فی عصابۃ من التجار فلما ان رآنی قال یا حبشی قلت یا لباہ فتجہمنی وقال لی قولا غلیظا وقال لی اتدری کم بینک وبین الشہر قال قلت قریب قال انما بینک وبینہ اربع فآخذک بالذی علیک فاردک ترعی الغنم کما کنت قبل ذلک فاخذ فی نفسی ما یاخذ فی انفس الناس حتی اذا صلیت العتمۃ رجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی اہلہ فاستاذنت علیہ فاذن لی فقلت یا رسول اللہ بابی انت وامی ان المشرک الذی کنت اتدین منہ قال لی کذا وکذا ولیس عندک ما تقضی عنی ولا عندی وہو فاضحی فاذن لی ان آبق الی بعض ہؤلاء الاحیاء الذین قد اسلموا حتی یرزق اللہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ما یقضی عنی فخرجت حتی اذا اتیت منزلی فجعلت سیفی وجرابی ونعلی ومجنی عند راسی حتی اذا انشق عمود الصبح الاول اردت ان انطلق فاذا انسان یسعی یدعو یا بلال اجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانطلقت حتی اتیتہ فاذا اربع رکائب مناخات علیہن احمالہن فاستاذنت فقال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابشر فقد جاءک اللہ بقضائک ثم قال الم تر الرکائب المناخات الاربع فقلت بلی فقال ان لک رقابہن وما علیہن فان علیہن کسوۃ وطعاما اہداہن الی عظیم فدک فاقبضہن واقض دینک ففعلت فذکر الحدیث ثم انطلقت الی المسجد فاذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاعد فی المسجد فسلمت علیہ فقال ما فعل ما قبلک قلت قد قضی اللہ کل شیء کان علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلم یبق شیء قال افضل شیء قلت نعم قال انظر ان تریحنی منہ فانی لست بداخل علی احد من اہلی حتی تریحنی منہ فلما صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العتمۃ دعانی فقال ما فعل الذی قبلک قال قلت ہو معی لم یاتنا احد فبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المسجد وقص الحدیث حتی اذا صلی العتمۃ یعنی من الغد دعانی قال ما فعل الذی قبلک قال قلت قد اراحک اللہ منہ یا رسول اللہ… (سنن ابی داؤد، کتاب، باب الامام یقبل ھدایا، رقم الحدیث 3055)]

مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ کے گھر کے اخراجات اور معاملات کے انچارج حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہوا کرتے تھے۔ گھر کا نظام، سارا لین دین، خرچہ، قرضہ، ادائیگی، یہ سارے معاملات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سپرد تھے۔ گھر کے افراد کو خرچہ پہنچانا ہے، کوئی مہمان آ گیا تو اس کو سنبھالنا ہے، حضورؐ کا کوئی لین دین ہے، یہ سارے معاملات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے امورِ خانہ داری کے معاملات بھی ان کے ہاتھ میں تھے۔ حضور ﷺ ان میں اس حوالے سے فارغ تھے کہ یہ بلال کی ذمہ داری ہے، گھر میں خرچہ دینا ہے، پاس ہے تو دے دیں، وگرنہ قرضہ لے کر دے دیں اور بعد میں یہ حساب کتاب کرتے رہیں کہ ذمہ داری ان کی تھی۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے محلے میں یہودی تھا میں اس سے قرضہ لے لیا کرتا تھا۔ کوئی مہمان آ گیا ہے کسی کو دینا ہے تو میں اس سے قرض لے لیا کرتا تھا اور وہ دے دیا کرتا تھا۔ بعد میں جب کہیں سے پیسے وغیرہ آتے تو ادا کر دیتا تھا۔ ایک دفعہ قرضہ لیتے لیتے بہت قرضہ چڑھ گیا۔ ادائی کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی، اس نے کہا کہ پیسے دے دو وگرنہ تین دن بعد گلے میں رسی ڈال دوں گا۔ مطلب یہ کہ اپنے پیسوں کے بدلے میں تمھیں غلام بنا کر بیچ دوں گا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جناب خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں آئے، یا رسول اللہ! اس یہودی نے آج یہ دھمکی دے دی ہے اور میرے پاس رقم نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا میرے پاس بھی نہیں ہے۔

ایک دن گذرا، دو دن، تین دن گذرے، پیسوں کا کوئی انتظام نہیں ہو رہا تھا، نہ حضورؐ کے پاس نہ حضرت بلالؓ کے پاس۔ تین دن پورے ہو گئے۔ تیسرے دن شام کو حضرت بلالؓ نے کہا، کچھ کیجیے یا رسول اللہ! میں دوبارہ گلے میں رسی ڈلوانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا، کوئی صورت نہیں بن رہی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہا، یارسول اللہ! اجازت دیجیے میں شام کو کہیں چلا جاتا ہوں جب انتظام ہو گا تو آ جاؤں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، ٹھیک ہے۔ حضرت بلالؓ کو اجازت مل گئی۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سواری کے لیے خچر تھا، رات کو ساری تیاری مکمل کی، سامان تیار کر کے لیٹ گیا کہ آدھی رات کے بعد جب لوگ تہجد کے لیے اٹھیں گے تب خاموشی سے اٹھوں گا اور چپکے سے نکل جاؤں گا۔ میں ابھی سامان تیار کر کے لیٹا ہی تھا اس خیال سے کہ دو تین گھنٹے سوتا ہوں پھر چلا جاؤں گا۔ اتنے میں کسی نے آواز دی بلال! رسول اللہ ﷺ یاد فرما رہے ہیں۔ میں حاضر ہوا۔ چار اونٹ ساز و سامان سمیت کھڑے تھے، ان پر غلہ وغیرہ لدا ہوا تھا، کپڑے، غلہ غرض پورا سامان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، بلال! نظر ڈالو اور دیکھ کر بتاؤ کہ قرضہ ادا ہو جائے گا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سامان میں سے کچھ بچ بھی جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ یہ لے جاؤ۔ یہ مجھے فلاں قبیلے کے سردار نے ہدیہ بھیجا ہے یہ چار اونٹ ساز و سامان سمیت۔ اب جاؤ اپنا قرضہ پورا کرو۔ اللہ پاک نے تمھیں جانے سے بھی بچا لیا، غلام ہونے سے بھی بچا لیا۔ اگر قرضہ ادا ہونے کے بعد کچھ بچ جائے تو میرے گھر نہ لانا، تقسیم کر دینا۔

اس زمانے میں غلام بننے بنانے کا یہ بھی ایک طریقہ تھا۔ تاوان میں، قرضے میں، یا زبردستی، یا پنچایت کے ذریعے غلام بنا دیے جاتے تھے۔

تیسرا ذریعہ، جنگی قیدی کو غلام بنانا

تیسرا طریقہ اس زمانے میں غلام بنانے کا یہ تھا کہ جنگ ہوئی اور اس میں جنگی قیدی بنا لیے جاتے۔ اس دور کا عمومی عرف اور رواج یہ تھا کہ جنگوں کے قیدی کے لیے چار طریقے با اختیار (Options) ہوتے تھے:

پہلے دو آپشن، کہ چھوڑ دیں، اگر ضروری سمجھتے ہوں تو قتل کر دیں۔ خاتم النبیین ﷺ نے بڑے مجرم قسم کے جنگی قیدی قتل بھی کیے ہیں، کچھ ویسے بھی چھوڑے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑے ہیں، غلام بھی بنائے ہیں۔ چاروں آپشن خاتم النبیین ﷺ کے زمانے میں استعمال ہوئے ہیں۔

بدر کے قیدی فدیہ لے کر چھوڑے تھے جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے (سورۃ الانفال: 8، آیت: 67)۔ مشورہ ہوا تھا فدیہ لے کر چھوڑے تھے۔ غزوہ بنی مصطلق کے قیدی صحابہ کرام ﷺ نے ویسے ہی چھوڑ دیے تھے۔ ہوا یوں کہ قیدی آئے، جنگ ہوئی، فتح ہوئی، قیدی بنے۔ خاتم النبیین ﷺ نے بنی مصطلق کے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔ جب شادی کر لی تو صحابہ کرامؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اب تو آپؐ نے شادی کر لی ہے، اب جتنے بھی قیدی آپؐ کے سسرالی خاندان میں سے ہیں ہم انھیں آزاد کرتے ہیں۔ تو اس شادی کی برکت سے سارے قیدی چھوڑ دیے گئے۔

[ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد تزوج جویریۃ، ‏‏‏‏‏‏فارسلوا ما فی ایدیہم من السبی، ‏‏‏‏‏‏ (سنن ابی داؤد، باب فی بیع المکاتب اذا فسخت الکتابۃ، حدیث نمبر 3931)]

جبکہ بنو قریظہ کے لوگ عہد شکنی اور فتنہ پروری کے سبب قتل بھی کیے ہیں (صحیح بخاری، باب اذا نزل العدو علی حکم رجل، حدیث نمبر: 3043)۔ ویسے بھی چھوڑے ہیں، ایک دلچسپ واقعہ ابوداؤد شریف میں ہے (سنن ابی داؤد ، باب الرخصۃ فی المدرکین یفرق بینہ، حدیث نمبر: 2699)۔ قیدیوں کے تبادلے کے حوالہ سے ایک معرکہ میں ایک عورت گرفتار ہو کر آئی، بڑی خوبصورت عورت تھی، وہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھی۔ حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا، اے سلمہ! یہ مجھے دے دو۔ اب وہ پریشان کہ وہ کیوں مانگ رہے ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، یہ مجھے دے دو۔ انھوں نے دے دی۔ حضور ﷺ نے اس عورت کے عوض اپنے بعض قیدیوں کا تبادلہ کروایا۔ کفار سے کہا کہ قیدی چھوڑ دو اور اپنے قیدی لے جاؤ۔ قیدیوں کا تبادلہ بھی حضور ﷺ نے کیا۔

ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جنگ میں جو قیدی آئے ہیں ان قیدیوں کو اگر اور کوئی آپشن موجود نہیں کوئی اور صورت موجود نہیں ہے، قیدی ہی رکھنا ہے، تو قیدی رکھنے کے لیے قید خانے موجود نہیں ہوتے تھے، جیلیں نہیں ہوتی تھیں۔ جب قیدی ہی رکھنے ہیں تو ان کا کیمپ بنانے کی بجائے تقسیم کر دو۔ یہ ہوتے تھے اس دور کے غلام۔

اب اگلے مراحل میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس آپشن کو باقی رکھا۔ میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور یہ حکم نہیں ہے آپشنز ہیں۔ ان آپشنز میں سے ایک آپشن کو باقی رکھا لیکن اس میں بھی اصلاحات کیں۔ پھر ان کا معاشرتی مقام طے کیا، معاشرتی حیثیت باقی رکھی۔ اس کے دو حوالے موجود ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا، یہ بھی تمھاری طرح انسان ہیں۔ تقدیر کے تحت تمھارے قبضے میں آگئے ہیں۔

اخوانکم خولکم، جعلہم اللہ تحت ایدیکم (صحیح بخاری، باب المعاصی من امر الجاہلیۃ، حدیث نمبر: 30)
(تمھارے بھائی ہیں جو اللہ نے تمھارے قبضے میں دے دیے۔)

ان کے ساتھ معاشرتی معاملہ وہی کرنا ہے جو آپس میں کرتے ہو۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ہدایات جاری کر دیں کہ اگر کسی کے ماتحت غلام ہو تو جو خود کھاتے ہو ان کو بھی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو بھی پہناؤ۔ ان کی طاقت اور حیثیت سے زیادہ ان پر بوجھ مت ڈالو، جو کام خود نہیں کر سکتے ان کے کھاتے میں مت ڈالو بلکہ خود ساتھ مل کر ان سے تعاون کرو۔

ایک دفعہ ایک صاحب آئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس۔ جیسا لباس حضرت سلمان فارسیؓ نے خود پہنا ہوا ہے ویسا ہی غلام نے پہنا ہوا ہے۔ آنے والے نے پوچھا کہ حضرت، غلام کو بھی یہی پہنایا ہوا ہے، اچھا لباس تھا کام آسکتا تھا۔ فرمایا، نہیں۔ اور حدیث سنائی کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمھارے بھائی ہیں تقدیر کی وجہ سے تمھارے ماتحت آگئے ہیں۔

جعلھم اللہ تحت ایدیکم۔
(اللہ نے تمھارے قبضے میں دے دیے۔)

نبی ﷺ نے یہ حکم دیا کہ اپنے گھر کے ماحول میں انھیں گھر والوں کی طرح رکھو، وہ کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہ پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔ ان کی صلاحیت اور استعداد سے زیادہ کام مت ڈالو۔ اگر کوئی کام ان کی طاقت سے زیادہ ہے تو خود ان کے ساتھ مل کر کام کرو۔

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں پہاڑ پر جا رہا تھا جہاں میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی، میرے دیکھتے دیکھتے ایک بھیڑیا آیا، اس نے بکری ٹانگ سے پکڑی اور کھینچ کے لے گیا، میں جلدی سے گیا اور جا کر اس لونڈی کو تھپڑ لگایا کہ تو یہاں کیا کر رہی ہے، بھیڑیا بکری لے گیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے زور سے تھپڑ مارا اس کوتاہی پر کہ تمھارے ہوتے ہوئے بھیڑیا بکری کیوں لے گیا ہے؟ اچانک پیچھے سے آواز آئی، ابو مسعود (رضی اللہ عنہ)!

اعلم، ابا مسعود، ان اللہ اقدر علیک۔ (صحیح مسلم، باب صحبۃ الممالیک، حدیث نمبر: 35)
(جان لے ابو مسعود! تو اس لونڈی پر جو قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتے ہیں۔)

اس بڑی قدرت والے کو بھی دیکھ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، آواز دینے والے جناب نبی اکرم ﷺ تھے۔ آپؐ نے فرمایا، اس کو تھپڑ کیوں مارا ہے؟ عرض کیا کہ یارسول اللہ! اس سے غلطی ہوئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا، ہو گئی غلطی لیکن تھپڑ کیوں مارا ہے؟ حضرت ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، اس معاملے میں مجھ سے غلطی ہو گئی، یا رسول اللہ! اللہ کے لیے اس کو آزاد کرتا ہوں، تھپڑ کی وجہ سے اللہ کی رضا کے لیے اس کو معاف کرتا ہوں۔ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا، اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو (للفحتک النار) جہنم کی آگ تمھیں گھیرے میں لے لیتی۔ حضور ﷺ نے اس قدر اہتمام کے ساتھ لونڈی، غلام کے معاشرتی مقام کا تعین کیا، ان کی حدود متعین کیں۔

میں موضوع کے حوالے سے عرض کروں گا کہ یہ قیدی کو عزت سے گھر رکھنے کا آپشن حضور ﷺ نے باقی رکھا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا کون تھا؟ ابولؤلو مجوسی۔ یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تبصرہ بھی کیا۔ حضرت عمرؓ مدینہ میں غلاموں کو زیادہ رکھنے کے حق میں نہیں تھے۔

غلامی کے تین طریقے میں نے عرض کیے: (1) کمزور آدمی کو پکڑ کے بیچ دینا (2) آزاد آدمی کو قرضے یا تاوان میں غلام بنا لینا (3) جنگی قیدیوں کو اگر قیدی رکھنا ہے تو تقسیم کر دینا، یہ تین طریقے تھے۔

جناب خاتم النبیین ﷺ نے پہلے دو طریقے تو مکمل طور پر منع فرما دیے۔ دو کھڑکیاں ہمیشہ کے لیے بند کر دیں۔ وہ راستے جو باقی دنیا نے ہزار سال بعد بند کیے ہیں، حضور ﷺ نے اسی وقت بند فرما دیے۔ فرمایا: ’’ثلاثۃ انا خصمھم یوم القیامۃ … و رجل باع حرا فاکل ثمنہ‘‘ (قیامت کے دن تین آدمیوں کا فریقِ مخالف میں ہوں گا … ایسا آدمی جو کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھا لے)۔

[مکمل روایت یہ ہے: عن النبی قال: قال اللہ تعالیٰ: ثلاثۃ انا خصمھم یوم القیامۃ، رجل اعطی بی ثم غدر، ورجل باع حرا فاکل ثمنہ۔ ورجل استاجر اجیرا فاستوفی منہ و لم یعط اجرہ (صحیح بخاری، باب اثم من منع اجر الاجیر، حدیث نمبر 2270)]

کسی آزاد کو بیچنا یا کسی آزاد آدمی کی قیمت لینا کسی بھی حوالے سے حرام ہے۔ یہ پہلا طریقہ حضور ﷺ نے مکمل طور پر حرام کر دیا۔ اور تاوان و قرضے میں بھی کسی کو غلام بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کے اعلان کے ساتھ یہ دونوں راستے بند ہو گئے۔ اس کے بعد نہ حضور ﷺ کے زمانے میں، نہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں، اور آج تک اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملی کہ آزاد کو پکڑ کر بیچنا اور قرضے اور تاوان کے بدلے میں غلام بنا لینا، اس کے بعد سے یہ دونوں راستے اب تک بند ہیں۔

تیسرا راستہ جنگی قیدیوں کے حوالے سے تھا، یہ کب تک باقی رہا؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ دو صدیوں میں اسلام کے نام پر جہاد کے عنوان سے جتنی باضابطہ جنگیں لڑی گئی ہیں۔ جمہور علماء کی تائید کے ساتھ، فلسطین کا جہاد ہو، افغانستان کا جہاد ہو، کشمیر کا جہاد ہو، ہندوستان کا جہادِ آزادی ہو۔ یہ سب تقریباً‌ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں جمہور علماء کی تائید کے ساتھ لڑے گئے ہیں۔ نہ کسی کو غلام بنایا ہے نہ کسی کو لونڈی۔ آج بھی جو شرعی مسلّمہ جہاد ہے ان میں نہ کسی کو غلام بنایا جاتا ہے نہ کسی کو لونڈی، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

ایک اعتراض کا جواب

حیران ہوں کہ آج مغرب ہم پر یہ اعتراض کر رہا ہے۔ اس کا اعتراض یہ ہے کہ عملاً‌ تو تم نے تسلیم کر لیا کہ غلامی نہیں، غلامی کا وجود نہیں ہے، کتابوں میں کیوں پڑھاتے ہو؟ پھر قرآن میں ہے، قرآن تبدیل کرو، حدیثیں بدلو، فقہی احکام میں ترمیم کرو۔

ہمارے دینی مدارس کے نصاب پر مغرب کے جو اعتراض ہیں ان میں ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ’’تحریر رقبہ‘‘ کا ذکر ہے، ’’فتحریر رقبۃ مؤمنۃ‘‘ کا ذکر ہے ’’ما ملکت ایمانکم‘‘ (سورۃ النساء: 4، آیت: 92) کا ذکر ہے، ’’ولا تکرہوا فتیٰتکم علی البغآء‘‘ (سورۃ النور: 24، آیت: 33)

(اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو۔)

بیسیوں آیات ہیں جو ہم پڑھاتے ہیں۔ مغرب کا ایک جھگڑا ہمارے ساتھ یہ ہے کہ جب عملاً‌ تم غلام نہیں بناتے تو علماء کو کیوں پڑھاتے ہو؟ اس پر ہمارے ہاں یہ سوال ہے کہ اگر یہ شرعی تھا تو اب کیوں نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر پہلے کیوں تھا؟ دونوں بڑے مستقل سوال ہیں۔ اگر یہ شرعاً‌ درست ہے جائز ہے تو اب کیوں نہیں کر رہے؟ اور حقیقت ہے کہ کوئی بھی نہیں کر رہا، نہ فلسطینی کر رہے ہیں، نہ ہم کر رہے، نہ افغانی کر رہے ہیں۔ ہم نے آزادی کی جتنی جنگیں لڑی ہیں اس میں کیوں نہیں کیا، یہ بہت بڑا سوال ہے۔ جب ایک شرعی ضابطہ تھا تو کیوں نہیں کیا، کسی نے منسوخ کیا ہے اس کو؟

تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ یہ حکم نہیں آپشن تھا۔ قرآن پاک کا یہ حکم نہیں ہے، چار پانچ آپشنز میں سے ایک آپشن ہے کہ یہ بھی کر سکتے ہو۔ حکم کی نوعیت اور ہوتی ہے، آپشن کی نوعیت اور ہوتی ہے۔

  1. آزاد کر دو۔
  2. قتل کرنا ہے قتل کر دو۔
  3. فدیہ لے لو۔
  4. قیدی بنا لو۔ اور قیدی بنانے کے آپشن بھی دو ہیں: اجتماعی قید خانے یا پھر تقسیم کرنا۔

اب ہم اس لیے نہیں کر رہے کہ اُس زمانے کا عالمی عُرف یہ تھا کہ قیدی تقسیم کر دیے جاتے تھے۔ اب دنیا میں قیدیوں کے بارے میں اقوام کا آپس میں سمجھوتا ہو چکا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے۔ بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں ایک اصولی بات یاد رکھیں۔ بہت سے معاہدات کے بارے میں، میں بھی عرض کروں گا کہ ہمیں معاہدات میں کیا کیا نقصان ہیں اور کیا کیا فائدے ہیں۔

بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت دنیا میں حکومت معاہدات کی ہے، حکومتوں کی نہیں ہے۔ ستائیس معاہدات بتائے جاتے ہیں جو پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں، نہ آپ خلاف ورزی کر سکتے ہیں، نہ کوئی اور کر سکتا ہے (معاہدات کی بات اپنے مقام پر تفصیل سے عرض کروں گا)۔ اصولی بات ذہن میں رکھیں کہ بین الاقوامی معاہدات میں ہمارے لیے اصول یہ ہے کہ نصِ صریح اور نصِ قطعی کے خلاف کوئی بات ہو گی تو ہم اس کے پابند نہیں ہیں۔ لیکن اجتہادی معاملات میں جہاں ہمیں اجتہادی طریقے سے معاملات کو سیٹ کرنے کا اختیار ہے وہاں ہم بین الاقوامی معاہدات کی پابندی کریں گے۔

بین الاقوامی معاہدات کی حدود

قرآن پاک کی نصِ صریح کے خلاف کوئی بات ہوئی تو وہاں ہم ضرور آواز اٹھائیں گے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن جو معاملات اجتہادی ہیں جہاں آپس میں حالات کے تغیر کی وجہ سے تبدیلی کر سکتے ہیں وہاں بین الاقوامی معاہدات کو قبول کر لیں گے۔ بین الاقوامی معاہدات کا احترام خاتم النبیین ﷺ نے بھی کیا ہے۔ یہ فرق ضرور ذہن میں رکھیں کہ یہ قرآن پاک کی نصِ صریح اور نصِ قطعی کے خلاف تو نہیں ہے۔ وہاں ہم اپنے تحفظ کا اظہار کریں گے اور اپنے احکام پر عمل کا راستہ نکالیں گے۔ اور ایک بات پر ایک عرصے سے زور دے رہا ہوں کہ ہمارے علمی اداروں کو آج کے بین الاقوامی معاہدات کا تجزیہ کرنا چاہیے اور معاہدات کو سامنے رکھ کر یہ تعیین کر دینی چاہیے کہ یہ باتیں ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں کیونکہ یہ نصوص کے خلاف ہیں، اور یہ باتیں ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں۔ یہ فرق ہمیں واضح کر دینا چاہیے جو ہم نہیں کر رہے۔ اصول میں نے عرض کر دیا کہ نصوصِ قطعیہ کے خلاف بات نہیں مانیں گے، البتہ اجتہادی معاملات کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔

بین الاقوامی معاہدات کا احترام خود حضور ﷺ نے کیا ہے، اس کی اجازت دی ہے۔ دو حوالے ہیں، بخاری شریف میں مذکور ہیں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے جب دنیا کے مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھنے کا ارادہ کیا تو حضور ﷺ کو بتایا گیا کہ آج کا طریقہ یہ ہے کہ سادہ خط قبول نہیں کرتے، مہر کے بغیر خط قابلِ اعتنا نہیں سمجھے جاتے۔ حضور ﷺ تم نے قیصر روم کو، کسریٰ فارس کو، نجاشی کو، مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے، تاریخ میں موجود ہے۔

حضور ﷺ کو بتایا گیا تھا کہ مہر کے ساتھ خط قبول ہوتا ہے سادہ خط نہیں لیتے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں (صحیح بخاری، باب نقش الخاتم، حدیث نمبر: 5534)۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے انگوٹھی بنوائی، انگوٹھی میں مہر کندہ تھی، وہ مہر حضور ﷺ استعمال کرتے تھے۔ سرکاری مہر کے طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہی مہر استعمال کرتے تھے جو سرکاری ہونے کی دلیل ہوتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہی مہر استعمال کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی چھ سال وہی مہر استعمال کرتے رہے اور چھ سال کے بعد ان کے ہاتھ سے کہیں گری تو پھر نہیں ملی۔ غرض یہ کہ اس زمانے کا جو عالمی عُرف تھا، اس میں کسی قسم کی کوئی شرعی خلاف ورزی نہیں تھی، اس سے دینی امور میں کوئی حرج نہیں ہو رہا تھا، حضور ﷺ نے اس کو قبول کیا۔ آپ ﷺ نے مہر بنوائی اور مہر مدت تک آپ کے استعمال میں رہی۔ بین الاقوامی معاہدات اور بین الاقوامی عُرف میں وہ باتیں جن سے ہمارے اصول متاثر نہیں ہوتے، ان کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور حضور ﷺ نے بھی قبول کیے ہیں۔ ایک بات مہر کی عرض کی، ایک بات اور عرض کرتا ہوں، بخاری شریف کی روایت ہے۔ (صحیح بخاری، باب قصۃ الاسود العنسی، حدیث نمبر: 4378)

مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضور ﷺ کو نبی مانتا تھا۔ خود بھی نبوت کی بات کی۔ اس نے حضور ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کیا تھا، وہ پہلے حضورؐ کی نبوت کا اقرار کرواتا تھا، پھر کہتا تھا ’’انی رسول اللہ‘‘۔ اس پر بے شمار شواہد ہیں۔ اذان بھی اسی طرح دلواتا تھا، پہلے ’’اشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘ پھر ’’ان مسیلمۃ رسول اللہ‘‘۔ مسیلمہ کے پاس جو آدمی جاتا تھا پہلے پوچھتا: ’’اتشہد ان محمدا رسول اللہ؟‘‘ (سنن دارمی، باب فی النہی عن قتل الرسل، حدیث نمبر: 2545)۔

حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ پہلے صحابی ہیں جو ختمِ نبوت کے لیے شہید ہوئے۔ مسیلمہ کی فوج کے ہاتھوں پکڑے گئے، مسیلمہ کے سامنے پیش ہوئے، ان سے پوچھا گیا: ’’اتشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے کہا: ’’اتشہد انی رسول اللہ‘‘۔ حضرت حبیب رضی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، نہیں، میں تمھیں اللہ کا رسول نہیں مانتا۔ پہلے حضور ﷺ کا پوچھا، پھر اس نے اپنا پوچھا کہ مجھے بھی اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انھوں نے بڑا پُر حکمت جواب دیا: میرے یہ کان تمھاری یہ آواز نہیں سن رہے۔ ورنہ سادہ سا جواب ہو سکتا تھا کہ نہیں مانتا۔ اس پر شہید کر دیے گئے۔

میں یہ بتا رہا ہوں کہ وہ حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتا تھا، حضورؐ کی نبوت میں حضورؐ کی پیروی میں اپنی نبوت کا دعوے دار تھا۔ پہلے حضور ﷺ کا اقرار کرواتا، اس نے نبی اکرم ﷺ کے نام اپنے خط میں بھی یہی لکھا۔

قادیانی مغالطہ

ایک بات درمیان میں عرض کر دوں کہ قادیانی حضرات مغالطہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب، حضور ﷺ کے مقابلے کے نہیں حضور ﷺ کے تابعدار نبی ہیں۔ یہ بہت بڑا مغالطہ ہے۔ ہم مقابلے پر تھوڑی ہیں، ہم حضور ﷺ کو نبی مانتے ہیں، بس اپنی بات بھی کرتے ہیں۔ مسیلمہ بھی یہی کہتا تھا۔ مرزا قادیانی کے مؤقف میں اور مسیلمہ کے مؤقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مسیلمہ بھی یہی کہتا تھا، محمد اللہ کے رسول ہیں، میں بھی ہوں۔ اس کے خط کا متن یہ ہے:

فان اشرکت فی الامر معک فلی نصف الارض ولک نصفہا، ولٰکن قریشا یعتدون (شعب الایمان، فصل فی بیان النبی ﷺ، حدیث نمبر: 1370)
(مجھے نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے اور لیکن قریشی سخت لوگ ہیں بات نہیں مانا کرتے۔)

اس نے یہی پیش کش کی اور کہا کہ آپ کے ساتھ میری کوئی جنگ نہیں ہے، اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ نامزد کر دیں۔ یا یہ کر دیں کہ شہروں کے نبی آپ، دیہاتوں کا نبی میں، تو اس طرح نبوت کو تقسیم کر دیں۔

یہ ساری بات اس لیے کی کہ مسلیمہ کذاب کا دعویٰ حضور ﷺ کے مقابل نبی کا نہیں تھا، امتی نبی کا تھا، پیروکار اور تابع نبی کا تھا، شریک نبی کا تھا۔ قادیانی یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ ہم مقابل نبی نہیں بلکہ تابع نبی ہیں۔ دونوں جھوٹوں کی ایک ہی قسم کی دجالی نفسیات ہے۔

مسیلمہ کے دو قاصد خط لے کر آئے: ’’مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام۔ مجھے آپ کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے مگر قریش مانتے نہیں ہیں۔ آپ ایسا کریں کہ مجھے اپنا خلیفہ بنا دیں، یا پھر شہر اور دیہات کی تقسیم کر دیں۔‘‘

یہ خط جناب خاتم النبیین ﷺ نے پڑھا اور ان دونوں قاصدوں سے پوچھا: ’’اتشہد انی رسول اللہ‘‘ مجھے اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انھوں نے کہا، مانتے ہیں۔ پھر آپ نے پوچھا: ’’اتشہد ان مسیلمۃ رسول اللہ‘‘ مجھے رسول ماننے کے بعد مسیلمہ کو بھی رسول مانتے ہو؟ انھوں نے کہا، مانتے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے ایک جملہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

اما واللہ لو لا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما (سنن ابی داؤد، باب فی الرسل، حدیث نمبر 2761)
(اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا۔)

عام دنیا کا قاعدہ ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا اور سفیروں کا قتل اعلانِ جنگ تصور ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، ہمارے ضابطے کے مطابق تم قتل کے مستحق تھے لیکن یہ بین الاقوامی ضابطہ تمھیں بچا رہا ہے کہ سفیروں کو قتل کرنا درست نہیں، اگر جائز ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔ یعنی سفیروں کا قتل کرنا جائز نہیں ہے، تو حضور ﷺ نے اس ضابطے کا خیال رکھا۔ جو بین الاقوامی ضوابط جن سے ہمارے اصولوں پر کوئی فرق نہ پڑے، حضور ﷺ ان ضوابط کا خیال فرماتے تھے۔

اُس زمانے میں قیدیوں کو تقسیم کرنے کا رواج تھا، ہم نے اس کو قبول کیا۔ اب عالمی عُرف بدل گیا ہے، قیدیوں کے بارے میں قوانین ہیں کہ قیدیوں کو کیسے سنبھالنا ہے، مکمل نظام موجود ہے۔ ہمیں اس کو مسترد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہماری نصوص کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے بحیثیت امت اس کو قبول کر لیا ہے۔ قیدیوں کے بارے میں جو آج کا عُرف ہے اس سسٹم کو ہم نے قبول کر رکھا ہے، اس لیے اِس زمانے میں غلام نہیں ہیں۔

میں اگلے سوال کا جواب دے رہا ہوں کہ پڑھاتے کیوں ہو؟ اس لیے پڑھاتے ہیں کہ وہ احکام منسوخ نہیں ہوئے۔ کل اگر وہ ماحول پھر آجائے گا تو قوانین موجود ہیں۔ قوانین منسوخ کسی نے نہیں کیے۔ اس کی ایک مثال دوں گا، بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے، سمجھنا ضروری ہے۔

مَحل پائے جانے پر حکم کے لوٹ آنے کا اصول

ایک ہے حکم، ایک ہے حکم کا محل۔ قرآن کریم میں صلاۃ الخوف کا ذکر ہے:

واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوٰۃ فلتقم طآئفۃ منہم معک (سورۃ النساء: 4، آیت: 102)
(اور (اے پیغمبرؐ) جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں اور انھیں نماز پڑھائیں تو (دشمن سے مقابلے کے وقت اس کا طریقہ یہ ہے کہ) مسلمانوں کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔) 

قرآن کریم نے جنگ کی حالت میں نماز کی ترتیب بیان کی ہے۔ یہ ترتیب علماء کرام کے ذہن میں آگئی ہو گی کہ ایک گروہ وہاں الگ کھڑا ہو، ایک جنگ کرے۔   ایک رکعت پڑھے، دو رکعت پڑھے۔ یہ ترتیب قرآن پاک نے بیان کی ہے۔ لیکن کیا آج اس ترتیب سے میدانِ جنگ میں نماز پڑھیں گے؟ اب صفوں کی جنگ نہیں مورچوں کی جنگ ہے۔ سب کو مورچوں سے بلا کر دس بارہ ہزار فوجیوں کو سامنے کھڑا کریں گے؟ قرآن پاک کہتا ہے کہ صف میں کھڑا کرو! تو کیا یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے؟ حکم بھی منسوخ نہیں ہوا، آپ کریں گے بھی نہیں۔ حکم آج بھی ہے لیکن محل نہیں ہے۔ کل اگر دوبارہ صفوں کی جنگ لوٹ آئی پھر وہی حکم ہے۔ حکم اپنی جگہ محل اپنی جگہ، فی الحال اس حکم کا محل نہیں ہے۔

صلاۃ الخوف کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔ آج بھی ہم اس کے احکام پڑھتے پڑھاتے ہیں، حدیثوں میں، فقہ میں بھی پڑھاتے ہیں۔ البتہ محل نہ ہونے کی وجہ سے ہم حکم پر عمل نہیں کریں گے۔ لیکن منسوخ اس لیے نہیں کر رہے اور نہ کر سکتے ہیں کہ کل اگر سابقہ ماحول بحال ہو گیا تو حکم تو باقی ہے۔ 

غلامی کے حوالے سے بھی میں عرض کروں گا کہ آج کے حالات غلامی کے ان قوانین کا محل نہیں ہیں۔ جس طرح صلاۃ الخوف کا محل نہیں ہے ایسے ہی غلامی کے احکام کا محل نہیں ہے۔ آج ہم اسی طرح عالمی عرف کی پابندی کریں گے جس طرح بہت سے معاملات میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے عالمی عُرف کی پابندی کی ہے۔ غلامی اپنے زمانے میں تھی، آج اس کی شرائط موجود نہیں ہیں، اب اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ کل وہ ماحول پیدا ہو گیا تو احکام باقی ہیں، احکام منسوخ نہیں ہوئے۔ 

یہ غلامی ہم نے نہیں شروع کی بلکہ ہم نے غلامی کے دو آپشن بالکل بند کر دیے: بردہ فروشی بھی اور تاوان بھی۔ ایک کو بطور آپشن کے باقی رکھا، اگر باقی آپشن پر عمل ہو سکتا ہے تو اس آپشن پر عمل کی ضرورت نہیں ہے، یعنی تبادلے پر، رہائی پر۔ اس لیے گذشتہ ڈیڑھ دو صدی سے اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ احکام بھی منسوخ نہیں ہوئے، اس لیے کل اگر دوبارہ وہ ماحول آجائے گا تو احکام ویسے کے ویسے موجود ہیں تو اس ماحول کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا۔ یہ میں نے مختصر وضاحت کی ہے کہ غلامی کا مسئلہ ہے کیا، اور اس وقت اس کی موجودہ صورت حال کیا ہے۔

(جاری)

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۹)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : ڈاکٹر ثمینہ کوثر

اختصاصِ آدم
(Adamic Exceptionalism)

داؤد سلیمان جلاجل (David Solomon Jalajel) وہ واحد مفکر ہیں جنہوں نے اختصاصِ آدم (Adamic exceptionalism) کی اصطلاح پر مبنی موقف پیش کیا ہے۔ ان کی یہ تجویز نہایت باریک بینی کے ساتھ وضاحت کی متقاضی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، مالک (2018؛ 2019) اور گیسوم (2011b؛ 2016) کا خیال تھا کہ جلاجل کو تخلیق پسند (creationist) مکتبِ فکر میں شامل کیا جانا چاہیے، مگر جلاجل کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان بیک وقت اسلام اور نظریہ ارتقا کے مابین تطابق پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ تاہم، مالک (2020) نے بعد میں جلاجل کی تجویز سے متعلق اپنی سابقہ رائے واپس لے لی۔ جلاجل واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی رائے اہلِ سنت کے کلامی مکاتبِ فکر، یعنی اشعریت، ماتریدیت اور اثریت کے منہجی اصولوں سے ماخوذ کر رہے ہیں (جلاجل 2009، ص 3–8)۔ اگر انہی مکاتبِ فکر کو بحث کا زاویہ نظر بنایا جائے تو جلاجل کے مطابق ہم ایک ایسے نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں جو ارتقا کی اس قدر سخت اور بظاہر غیر ضروری تردید کا تقاضا نہیں کرتا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمؑ کے معاملے میں کیا کہا جائے؟

جلاجل کے مطابق اہلِ سنت کے تاویلی اصول جو وہ زیرِ بحث لاتے ہیں، اس بات کی کوئی گنجائش فراہم نہیں کرتے کہ آدمؑ کو والدین کے ساتھ تصور کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، آدمؑ ایک معجزانہ تخلیق ہیں اور ان کی پیدائش والدین کے بغیر ہوئی ہے۔ یہ موقف اہلِ سنت کے ہاں غیر متنازع ہے، کیونکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ معجزات ممکن ہیں اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اب یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر آدمؑ ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے، تو اسے ارتقا کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے؟ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں جلاجل اپنی اصل علمی جدت یعنی توقف کو بروئے کار لاتے ہیں۔

لفظ توقف کے معنی ہیں ’’فیصلہ یا عقیدہ معطل رکھنا‘‘۔ مثال کے طور پر، جب کسی شخص کے سامنے کوئی ایسا سوال آئے جس کے متعدد ممکنہ جوابات ہوں اور وہ یقینی علم نہ ہونے کے باعث کسی ایک کا انتخاب نہ کرے، تو یہ عمل توقف کہلاتا ہے۔ اسلامی متون کے تناظر میں توقف کے دو بنیادی استعمالات ہیں:

(1) فقہ اور علمِ حدیث میں،

(2) عقائد اور کلام میں۔

فقہ اور حدیث کے تنقیدی مباحث میں توقف کا مطلب ہے کسی مسئلے پر فیصلہ نہ دینا جب تک متعارض دلائل میں ترجیح نہ مل جائے۔ یہ عارضی حالت ہے، یعنی فیصلہ موخر رکھا جاتا ہے تاکہ بعد میں کوئی قوی دلیل یا نیا محقق اسے حل کر سکے (فرحات 2019، ص 177)۔

مثلاً، اگر دو احادیث ایک دوسرے کے متضاد معلوم ہوں اور محدث فوری طور پر فیصلہ نہ کر سکے کہ کس کو ترجیح دی جائے، تو وہ توقف اختیار کرتا ہے۔ تاہم، ممکن ہے بعد میں کوئی دوسرا عالم اس تضاد کو رفع کر دے۔ اس کے برعکس، کلامی توقف ایک مستقل اور واجب علمی رویہ ہے ، یعنی کسی ایسے معاملے کو ’’نامعلوم‘‘ قرار دینا جس پر وحی خاموش ہے (غامدی 2016، ص 32)۔ مثال کے طور پر، ڈائنو سارز (dinosaurs) کا معاملہ لے لیجیے۔ قرآن و سنت میں ان کے وجود یا عدمِ وجود پر کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ لہٰذا شریعت کی رو سے کسی مسلمان کے لیے یہ کہنا کہ ’’اسلام ڈائنو سارز کو رد کرتا ہے‘‘ یا ’’ان پر ایمان لانا واجب ہے‘‘ دونوں غلط اور گناہ کے زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرنا ہے جو اللہ نے خود نہیں کہی۔

یہ اصول واضح کرتا ہے کہ اگر کسی معاملے میں وحی خاموش ہو، تو اس کی بابت اثبات یا نفی دونوں حرام ہیں۔ یعنی ڈائنو سارز پر ایمان لانا بھی شرعاً لازم نہیں اور انکار بھی لازم نہیں۔ ایسے معاملات میں تمام ممکنہ آرا برابر طور پر درست اور قابلِ قبول ہیں کیونکہ وہ قرآن و سنت سے متعارض نہیں۔ اسی اصولی تصورِ توقف کو جلاجل اپنی بنیادی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ چونکہ وحی آدمؑ کے سوا دیگر انواعِ انسانی کی تخلیق کی تفصیلات پر خاموش ہے، اس لیے مسلمان کے لیے ارتقا کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا دونوں موقف دینی طور پر ممکن اور قابلِ قبول ہیں۔ یوں جلاجل کے نزدیک اسلام اور نظریہ ارتقا کے مابین کوئی حقیقی تصادم نہیں رہتا، اور یہی ان کے تصورِ اختصاصِ آدم کی علمی بنیاد ہے۔

کلامی توقف کو تفویضِ معنی سے بھی الگ سمجھنا چاہیے۔ تفویضِ معنی اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی نص کا ظاہری مفہوم کسی وجہ سے محلِ اشکال ہو اور اسے قابلِ قبول مفہوم تک پہنچانے کے لیے دوبارہ تعبیر یا تاویل کی ضرورت پیش آئے۔ ایسی صورت میں مفسر دو راستے اختیار کر سکتا ہے: یا تو وہ ایک معقول اور غیر متعارض تاویل تجویز کرے جو اشکال کو دور کر دے، یا پھر وہ نص کے ظاہری معنی کو رد کرتے ہوئے، اس کے حقیقی معنی کو اللہ کے سپرد کر دے اور ایمان رکھے کہ جو مفہوم اللہ نے مراد لیا، وہی درست ہے۔ یہ طرزِ عمل اُن متشابہ یا پیچیدہ نصوص کی تعبیر کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جن کا ظاہری مفہوم کسی عقلی یا ایمانی اشکال کا باعث بن سکتا ہو۔ اس کے برعکس، توقفِ کلامی (جسے یہاں اختصاراً توقف کہا گیا ہے) کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے معاملے میں بالکل بھی رائے قائم نہ کی جائے جس پر نصوصِ شرعیہ مکمل طور پر خاموش ہوں۔ یعنی یہاں توقف تاویل یا تفویض کا متبادل نہیں بلکہ ایک لاعلمی پر مبنی ایمانی احتیاط ہے کہ جب وحی کسی امر کے بارے میں کچھ نہیں کہتی، تو انسان بھی اس بارے میں کچھ نہ کہے۔ (اس تفریق کی مزید وضاحت آئندہ ابواب 9 اور 10 میں آئے گی۔)

ان بنیادی تصورات کی روشنی میں اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جلاجل اپنی علمی جدت کو کس طرح پیش کرتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان یہ مفروضہ رکھتے ہیں کہ حضرت آدمؑ ہی پہلے انسان تھے، چنانچہ انسانی نسل کی ابتدا بھی ان ہی سے ہوئی۔ یہی تصور مالک کیلر (2011)، اور یاسر قاضی و نذیر خان (2018) جیسے مفکرین کے ہاں پایا جاتا ہے، جنہیں ہم پہلے زیرِ بحث لا چکے ہیں۔ یہ سب دراصل اختصاصِ آدم کے قائل ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک آدمؑ کی پیدائش معجزانہ تھی اور اسی لیے انسانوں کا ارتقائی ماخذ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

جلاجل (2018) اس روایت سے ہٹ کر ایک منفرد موقف پیش کرتے ہیں۔ وہ حضرت آدمؑ کی تخلیق اور انسانی نسل کی ابتدا کے مابین لازم تعلق کو منقطع کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب آدمؑ آسمان سے زمین پر اُتارے گئے (جیسا کہ اکثر علما کا موقف ہے)، تو قرآن نے نہ یہ کہا کہ زمین پر اُس وقت انسان موجود نہیں تھے، اور نہ ہی یہ کہا کہ موجود تھے۔ یعنی قرآن اس معاملے میں خاموش ہے۔ لہٰذا اگر نصوص میں کوئی صریح بیان نہیں، تو اس موضوع پر توقفِ کلامی لازم ہے، یعنی دونوں امکانات یکساں طور پر ممکن ہیں۔ یہ بھی کہ آدمؑ کے نزول سے قبل زمین پر انسان موجود تھے، اور یہ بھی کہ نہیں تھے۔ چونکہ وحی اس بارے میں خاموش ہے، اس لیے دونوں امکانات شرعاً درست اور قابلِ قبول ہیں۔

اگر اس استدلال کو مانا جائے، تو ایک قابلِ تصور مفروضہ یہ ہو سکتا ہے کہ آدمؑ زمین پر اُترے اور وہاں پہلے سے ارتقائی عمل سے پیدا ہونے والے انسان موجود تھے۔ آدمؑ کی نسل نے ان انسانوں سے اختلاط کیا ہو یا نہ کیا ہو، اس پر بھی توقف واجب ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس بارے میں کوئی تصریح نہیں۔ پہلی صورت میں یہ ممکن ہے کہ بعد کی تمام نسلِ انسانی بیک وقت دو نسبتوں کی حامل ہو۔ یعنی ایک نسبت آدمؑ سے (بطور معجزانہ تخلیق)، اور دوسری نسبت مشترکہ حیاتیاتی ارتقا سے، جو تمام جانداروں کو ایک ارتقائی زنجیر میں جوڑتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ آدمؑ کا معجزہ وحی کی بنیاد پر یقینی ہے لیکن قرآن اس امکان کی نفی نہیں کرتا کہ آدمؑ کے نزول کے وقت زمین پر ارتقائی عمل سے پیدا شدہ انسان موجود رہے ہوں۔ لہٰذا جلاجل کے موقف کو تخلیقیت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ غیرِ انسانی ارتقا کے قائل ہیں۔ اسی طرح اسے "انسانی استثنائیت" (human exceptionalism) بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وہ اس امکان کو مانتے ہیں کہ آج کے تمام انسانوں کی ایک حیاتیاتی نسبت ایسی بھی ہو سکتی ہے جو آدمؑ سے پہلے تک جاتی ہو۔

تاہم، اسے "کلی ارتقا پسندی" (no exceptions camp) بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ آدمؑ کی تخلیق ایک معجزانہ استثنا ہے۔ اسی لیے جلالجل کے موقف کو اختصاصِ آدم کہنا زیادہ درست اور جامع ہے۔ یعنی ایسا نظریہ جو آدمؑ کی معجزانہ تخلیق کو تسلیم کرتے ہوئے ارتقا کے دیگر پہلوؤں سے ہم آہنگی کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ جلاجل کے نزدیک حضرت آدمؑ سائنسی تحقیق کا نہیں بلکہ ایمان کا موضوع ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ ایک معجزانہ وجود ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ماقبل تاریخ کی ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن کا ذکر صرف وحی کے ذریعے ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے وجود کو سائنسی ذرائع سے ثابت نہیں کیا جا سکتا،اور نہ ہی ان کی معجزانہ تخلیق کو ارتقائی نظریے کے سائنسی دعووں پر اثر انداز ہونا چاہیے۔ آدمؑ کی تخلیق ایک ایماناً مسلم معجزہ ہے، مگر اس کا انسانی ارتقا سے سائنسی طور پر کوئی تصادم نہیں، کیونکہ ان کے اولین ذریت کے نکاح یا ارتقائی ملاپ کے بارے میں وحی خاموش ہے، اور اسی وجہ سے یہاں توقف اختیار کرنا لازم ہے۔ چنانچہ جلاجل کے مطابق مسلمان انسان کے ارتقائی نظریے کو اس کے سائنسی شواہد کی بنیاد پر قبول یا رد کر سکتے ہیں، لیکن اسے آدمؑ کی داستان سے جوڑنا نہ ضروری ہے، نہ واجب۔

اس مکتبِ فکر کے حامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ارتقائی عمل سے کسی کو استثنا حاصل نہیں۔ ان کے نزدیک غیرِ انسان، انسان اور کم از کم اُن لوگوں کے لیے جو حضرت آدمؑ کے تاریخی وجود کے قائل ہیں، آدمؑ بھی مشترک نسب (common ancestry) کا حصہ ہیں۔ یوں یہ گروہ سائنسی نظریات کو بنیادی طور پر درست تسلیم کرتا ہے، جو تخلیقیت پسند مکتب کے برعکس موقف ہے۔البتہ انہیں یہ چیلنج درپیش ہوتا ہے کہ باب سوم میں بیان کردہ قرآنی تخلیقی بیانیے کے ساتھ اپنے اس نظریے کو ہم آہنگ کس طرح کیا جائے۔

کچھ مفکرین اس چیلنج کا جواب استعاراتی یا تمثیلی قرات (metaphorical interpretation) کے ذریعے دیتے ہیں۔ اردن کی حیاتیاتی ماہر اور محقق رنا دَجّانی اس طرزِ فکر کی نمایاں نمائندہ ہیں۔ وہ اپنی بات دو بنیادی اصولوں پر قائم کرتی ہیں:

(الف) قرآن سائنس کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کے اصولوں کی رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔

ان کے الفاظ میں:

قرآن سائنسی نظریات کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے نہیں اترا بلکہ یہ اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کیسے گزارے۔ لہٰذا ہر سائنسی دریافت کے لیے ہم قرآن میں ثبوت تلاش کرنے کے پابند نہیں۔(Dajani 2016, 146)

(ب) انسان کی تفسیری صلاحیت محدود ہے۔ چونکہ تفسیر ایک انسانی عمل ہے اور انسان زمان و مکان کے دائرے میں مقید ہے، اس لیے وہ ہمیشہ خطا کا امکان رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ علم میں اضافہ نئی بصیرتیں پیدا کرتا ہے، لہٰذا تفسیر میں جمود نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اجتہاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث نقل کرتی ہیں:

"جب قاضی فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے، پھر درست ثابت ہو تو اسے دو اجر ملیں گے، اور اگر اجتہاد میں غلطی کرے تو بھی اسے ایک اجر ملے گا۔"(Bukhārī 7352)

ان اصولوں سے دجانی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ قرآن میں بیان کردہ آدمؑ کا قصہ اور دیگر کہانیاں لفظی طور پر نہیں لی جانی چاہییں۔ یہ محض تمثیلیں ہیں جن کے ذریعے اخلاقی اور فکری اسباق دیے گئے ہیں۔ انسانی ارتقا ایک تدریجی عمل تھا جو مختلف انسانی گروہوں میں وقوع پذیر ہوا، جو سابقہ نسلوں سے ارتقا کے ذریعے وجود میں آئے۔(Dajani 2016, 146)

اپنے نظریے کے حق میں وہ دو مزید لسانی نکات پیش کرتی ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اگر درست طور پر سمجھے جائیں تو ارتقا اور اسلام کے درمیان موجود بظاہر تنازع ختم ہو جاتا ہے۔

(1) لفظ "خَلَقَ" (خلق)

دجانی کے مطابق "خلق" کا مطلب ہمیشہ "فوری تخلیق" نہیں ہوتا، بلکہ اسے "تدریجی ارتقا" کے مفہوم میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق

"لفظ ‘خلق’ لازماً دفعی تخلیق کے لیے نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تخلیق ایک طویل زمانی مدت میں انجام پائی ہو۔ مسلمانوں کو یہ ماننے میں تو کوئی مسئلہ نہیں کہ سورج اور ستاروں کو بننے میں اربوں سال لگے، مگر جب جانداروں خاص طور پر انسان کے ارتقائی عمل کی بات آتی ہے تو وہ اعتراض کرتے ہیں۔ وقت ایک جہت ہے اور اللہ تمام جہات سے بلند ہے، اس لیے وہ وقت کے تابع نہیں۔ لہٰذا کسی شے کی تخلیق میں طویل عرصہ لگنا اللہ کے اختیار کے خلاف نہیں۔ (دجانی 2016، ص 145–146) ان کے مطابق لفظ "خلق" کا مفہوم وسیع ہے، جو فوری تخلیق اور ارتقائی عمل دونوں کو محیط کر سکتا ہے۔

(2) لفظ "أَحْسَن" (اَحسن)

وہ دو قرآنی آیات کی مثال دیتی ہیں: جس نے ہر چیز کو جو اُس نے پیدا کی، اَحسن بنایا: اُس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا مٹی سے کی۔ (السجدہ 32:7)

بیشک ہم نے انسان کو اَحسنِ تقویم میں پیدا کیا۔ (التین 95:4)

دجانی کے نزدیک یہاں "اَحسن" کا مطلب سب سے زیادہ مناسب ہے، نہ کہ"سب سے اعلیٰ"۔ وہ لکھتی ہیں:

اللہ نے تمام مخلوقات کو ان کے ماحول کے لیے سب سے زیادہ مناسب حالت میں پیدا کیا۔ انسان بھی مٹی سے بنا، جو تمام مخلوقات کی اصل ہے۔ اَحسنِ تقویم کا مطلب یہ نہیں کہ انسان تمام مخلوقات سے افضل ہے، بلکہ یہ کہ وہ اپنے ماحول کے لیے بہترین موزونیت رکھتا ہے۔ یہ دراصل ارتقائی موافقت (evolutionary adaptation) کی قرآنی تائید ہے۔(Dajani 2012, 349)

اسی طرزِ فکر کے ایک اور حامی مشہور پاکستانی شاعر اور فلسفی علامہ محمد اقبال ہیں۔ وہ دیگر تہذیبوں کی مثالوں سے رہنمائی لیتے ہیں اور قرآن مجید میں مذکور واقعہ آدم کو ایک تاریخی یا لفظی واقعہ سمجھنے کے بجائے علامتی اور استعاراتی معنی میں تعبیر کرتے ہیں (اقبال 2012، ص 65)۔

اقبال لکھتے ہیں:

لیکن ہمارے مسئلے کی بہتر تفہیم کی کنجی اُس روایت میں پوشیدہ ہے جسے سقوطِ انسان (Fall of Man) کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں قرآنِ مجید نے اگرچہ قدیم علامات کے بعض اجزا کو برقرار رکھا ہے، مگر اس میں بنیادی تبدیلی کر کے اس کو بالکل نیا معنوی رخ عطا کیا گیا ہے۔ قرآن کا یہ طریقہ کہ وہ بعض روایات و اساطیر کو جزوی یا کلی طور پر نئے فکری معانی سے ہمکنار کرتا ہے تاکہ انہیں زمانے کی ترقی یافتہ روح کے مطابق ڈھال سکے ، یہ نہایت اہم نکتہ ہے جسے عموماً مسلم اور غیر مسلم دونوں محققینِ اسلام نے نظر انداز کیا ہے۔ درحقیقت، قرآن کا مقصد ان روایات کو بیان کرنا تاریخی نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ انہیں اخلاقی یا فلسفیانہ معنویت دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ ہر زمانے کے انسان کے لیے آفاقی پیغام بن جائیں۔(Iqbal 2012, 65)

وہ مزید لکھتے ہیں:

قرآن جب انسان کی تخلیق کا ذکر کرتا ہے تو وہاں بشر یا انسان کے الفاظ استعمال کرتا ہے، نہ کہ 'آدم'۔'آدم' قرآن میں دراصل انسان کی خلافتِ ارضی کی علامت ہے، نہ کہ کسی ایک تاریخی فرد کا نام۔(Iqbal 2012, 66)

کچھ مفکرین صرف استعاراتی تعبیر پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُنہیں قرآن میں ارتقائی مفاہیم کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک قرآن کی بعض آیات میں انسان اور حیات کی تدریجی تخلیق کے ایسے اشارات موجود ہیں جنہیں نظریۂ ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

الجزائری ماہرِ فلکیات نضال قسوم (Nidhal Guessoum) اس طرزِ فکر کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ وہ اسلام اور نظریۂ ارتقا کے درمیان تطبیق کے لیے تین بنیادی تفسیری اصول پیش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ ابنِ رشد کے "عدمِ تعارض" (no possible conflict) کے اصول کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ اصول کہتا ہے کہ وحی اور حقیقت کے درمیان کسی بھی قسم کا تصادم ممکن نہیں۔ یعنی اگر کوئی سائنسی حقیقت ثابت ہو جائے، تو اس کی تردید دین کی نفی نہیں بلکہ فہمِ دین میں خامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسرے اصول میں وہ حرفی (Literal) سوچ سے گریز پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تخلیق پر ظاہری یا حرفی انداز میں یقین رکھنے والی ذہنیت ہی اصل رکاوٹ ہے، جو ہر بات کو صرف لفظی مفہوم میں محدود کر دیتی ہے اور قرآن کو نئی علمی تاویلات سے روک دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

آج مسلمانوں کے لیے ارتقا کا سب سے بڑا مسئلہ آدمؑ کی ذات ہے۔ بہت سے علما یہ ماننے کو تیار نہیں کہ آدمؑ سے پہلے بھی کوئی مخلوق ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ارتقا کو یکسر ردّ کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ صرف ایک حرفی ذہنیت کا نتیجہ ہے جو تخلیق کو ایک سادہ تاریخی واقعہ سمجھتی ہے۔(Guessoum 2010, 828)

تیسرے اصول میں وہ مختلف قراتوں کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔ نضال قسوم کے نزدیک قرآن کی ایک سے زیادہ علمی و فکری تعبیرات ممکن ہیں، بشرطیکہ وہ عقلی اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہوں۔

ان کے الفاظ میں:

میں انتہاپسندانہ فکری رویّوں کے خلاف ہوں۔ میں ہمیشہ قرآن کی متعدد اور تہہ دار تعبیرات کی حمایت کرتا ہوں تاکہ انسان مختلف علمی ذرائع، بشمول سائنس، سے مدد لے کر متن کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔(Guessoum 2011a, 64)

نضال قسوم کے مطابق بعض احادیث مثلاً آدمؑ کے ساٹھ ہاتھ قد والی روایت سائنسی حقائق سے بظاہر متصادم دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کی تمثیلی تعبیر ممکن ہے۔ جہاں روایت اور علم میں تضاد محسوس ہو، وہ یہی طرزِ عمل وہ تجویز کرتے ہیں کہ اگر کسی حدیث کا ظاہری مفہوم سائنس سے متصادم لگے،

تو اس کی تاویل علامتی طور پر کرنی چاہیے۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو۔ کیونکہ یہ وہی طریقہ ہے جو مسلمانوں نے ہمیشہ نص و عقل کے ظاہری تعارض میں اختیار کیا ہے۔ (Guessoum 2010, 829) اسی طرح وہ قرآن میں بشر اور انسان کے الفاظ کے درمیان ایک ارتقائی درجہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو انہوں نے محمد شحرور سے اخذ کی ہے۔ شحرور کے مطابق: "بشر‘ ارتقا کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جب انسان حیاتیاتی اعتبار سے موجود تو تھا مگر ذہنی و روحانی بیداری سے محروم تھا، اور 'انسان' اُس مرحلے کو ظاہر کرتا ہے جب اللہ نے اُس میں اپنی روح پھونکی اور وہ شعور و ادراک کا حامل بنا۔" (Guessoum 2011a, 313–314)

یوں شحرور اور قسوم کے نزدیک قرآن میں بشر اور انسان کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے، اور یہی فرق ارتقا کے حق میں ممکنہ ہم آہنگ قرات مہیا کرتا ہے۔

ان تمام مفکرین دجانی، اقبال اورقسوم کا اتفاق اس بات پر ہے کہ قرآن کو جامد یا محض لفظی انداز میں نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی علمی و فکری بصیرتوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک قرآن کا مقصد تخلیق کے سائنسی مراحل بیان کرنا نہیں، بلکہ انسانی وجود کے اخلاقی، فکری اور روحانی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔ چنانچہ قرآن کو نظریہ ارتقا سے متصادم سمجھنا دراصل نصوص کے محدود فہم کا نتیجہ ہے، نہ کہ مذہب اور سائنس کے درمیان کسی حقیقی تضاد کی علامت۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف مفسر قرآن ڈاکٹر اسرار احمد بھی بشرو انسان کی قرآنی تفریق کو قبول کرتے ہیں (Arien 2019)۔ ان کے نزدیک انسان دراصل روحِ غیر مادی (immaterial soul) اور جسمِ انسانی (physical body) کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اس تصور کو قرآنِ مجید کے الفاظ"بشر" اور"انسان" کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق، "بشر" کا اطلاق حیاتیاتی اعتبار سے کسی بھی نوع (species) پر ہو سکتا ہے جو جنسِ "ہومو (Homo) " سے تعلق رکھتی ہو جس میں ہومو سیپیئنز (Homo sapiens) یعنی موجودہ انسان بھی شامل ہیں۔ جبکہ"انسان" اس بشر پر بولا جاتا ہے جس میں روح پھونک دی گئی ہو، یعنی جو حیوانی وجود سے ماورائی شعور کی سطح پر پہنچ گیا ہو۔ اس مفہوم کی تائید میں وہ درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ (القرآن 38:71)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں خشک بجتی ہوئی مٹی، جو سیاہ گارے سے بنی ہے، سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ (القرآن 15:28)

ڈاکٹر اسرار احمد ان آیات کی تفسیر میں یوں تبصرہ کرتے ہیں:

ان آیات میں آنے والا لفظ "بشر" عام طور پر انسانی نوع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اسے"ہومو (Homo)" نسل کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے، یعنی جانداروں کا وہ حیاتیاتی خاندان جس سے آج کا انسان، ہومو سیپیئنز (Homo sapiens)، تعلق رکھتا ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق ہومو نسل کم از کم بیس لاکھ سال سے زمین پر موجود ہے، جبکہ جدید انسان (modern humans) سب سے پہلے بالائی عہدِ حجری (Upper Palaeolithic) دور میں ظاہر ہوئے۔ اسی بنیاد پر"بشر" کا لفظ ہومینِڈ (hominid) یا ہومینائیڈ (hominoid) مخلوق کے لیے بھی بولا جا سکتا ہے، یعنی ایسے جانداروں کے لیے جو حیاتیاتی طور پر انسانوں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، جن میں انسان (بطور جسمانی وجود، روحِ الٰہی کے نفخ سے پہلے) انسانوں کے فوسل شدہ آبا و اجداد، اور دیگر دو پاؤں پر چلنے والے جاندار (bipeds) شامل ہیں۔(Ahmad 2013, 46)

ڈاکٹر اسرار احمد اس مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک "بشر" کو منتخب کیا گیا اور اسی میں روح پھونک کر اسے "آدم" بنایا گیا:

قرآن میں اس بات کا نہایت واضح اشارہ موجود ہے کہ آدمؑ دراصل ایک منتخب بشر تھے، اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنی روح اُن میں پھونک دی تو وہ آدم بن گئے۔ یہی وہ بنیادی اور ازلی حقیقت ہے جسے ملحد ارتقائی مفکرین دانستہ طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں۔(Ahmad 2013, 46–47)

ڈاکٹر اسرار احمد اپنے موقف کو قرآن کی ان آیات سے تقویت دیتے ہیں جن میں "بشر" کی نوع میں سے بعض مخصوص افراد کے قدرتی انتخاب کا ذکر ہے، یعنی وہ افراد جنہیں نبوت کے لیے چنا گیا:

بے شک اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا۔(القرآن 3:33)

ہم نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری ساخت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا،

سوائے ابلیس کے، جو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔(القرآن 7:11)

ڈاکٹر اسرار احمد اپنے موقف کو ان الفاظ پر سمیٹتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کی جانب سے آدمؑ کا منتخب کیا جانا، اور اسی طرح انسانی نوع کے متعدد حیوانی جانداروں کی تخلیق کے بعد ایک مخصوص فرد کو 'آدم' کا لقب اور مقام عطا کیا جانا، نہایت معنی خیز اور بنیادی واقعہ ہے۔ یہ امتیاز دراصل روحِ الٰہی کے نفخ سے پیدا ہوا ۔ یعنی انسان کے حیوانی وجود میں ایک نیا اور بلند ترین مابعدالطبیعی عنصر شامل کیا گیا، جسے روحِ انسانی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑ میں اپنی روح پھونکی اور یوں ان کے وجود میں روحانی عنصر سرایت کر گیا۔ اسی زاویے سے ہم اس قرآنی تعبیر کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جہاں اللہ فرماتا ہے کہ اُس نے آدمؑ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ یہ غالباً اس لطیف اشارے کی طرف اشارہ ہے کہ آدمؑ کا وجود دراصل دو مختلف حقیقتوں، ایک مادی جسمانی قالب اور دوسرا روحانی و معنوی حقیقت کا حسین امتزاج ہے۔(Ahmad 2013, 47)

بعض مفکرین نہ تو بشر اور انسان کی قرآنی تفریق کو مانتے ہیں اور نہ ہی تمثیلی یا استعاراتی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ قرآنِ مجید کو اس طرح پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں ارتقائی فہم کی گنجائش نکل آئے۔

بھارتی نژاد امریکی ماہرِ اطفال ٹی۔ او۔ شناوس (T. O. Shanavas) اس سلسلے میں ایک مختلف نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی تخلیق کے بارے میں روایتی تصور، یعنی اس بات کا کہ پوری انسانیت ایک ہی جوڑےآدم اور حوا سے پیدا ہوئی، جینیاتی اصولوں کے لحاظ سے مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ وہ اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر انسانیت کا آغاز صرف ایک جوڑے سے ہوا ہوتا تو جینیاتی تنوع (genetic diversity) ممکن نہ رہتا، جس کے نتیجے میں نسلوں میں کمزوری اور بیماریوں کا پھیلاؤ یقینی تھا۔ اسی بنا پر وہ اس تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ انسانیت کی ابتدا ایک ہی جوڑے سے ہوئی۔ شناوس کے نزدیک قرآن کا قصہ آدمؑ دراصل ایک ذہنی و روحانی حالت کی وضاحت کرتا ہے، نہ کہ ایک حیاتیاتی واقعہ کی۔ ان کے مطابق زمین پر انسان پہلے ہی موجود تھے، اور انہی میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو اپنی خاص عنایت سے منتخب کیا۔ یہی منتخب فرد آدمؑ کہلایا۔ اس مفہوم میں آدمؑ پہلے روحانی باپ (spiritual father) ہیں، نہ کہ حیاتیاتی اعتبار سے پہلے انسان (Shanavas 2010, 153160)۔ وہ اس مؤقف کی تائید اس بات سے بھی کرتے ہیں کہ قرآن میں جنت کو ایک زمینی مقام کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور ان کے نزدیک یہ "آدم کے زمین سے اخراج" کے مادی مفہوم کے بجائے ایک شعوری تبدیلی کا استعارہ ہے۔ اسی طرح وہ آیت"اور اس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں تدریجی مراحل سے گزارا (القرآن 71:14) کو ارتقائی تسلسل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شناوس کا نتیجہ کسی حد تک ڈاکٹر اسرار احمد کے نظریے سے مشابہ ہے۔ دونوں کے نزدیک انسان کی ابتدا ایک روحانی انتخاب کے ساتھ جڑی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمدبشر اور انسان میں واضح امتیاز قائم کرتے ہیں، جبکہ شناوس کے نزدیک یہ مرحلہ زیادہ علامتی اور نفسیاتی نوعیت رکھتا ہے۔

اسی موضوع پر ایک اور جدید مفکر، عراقی ماہرِ طبیعیات باسل الطائی (Basil Altaie)، بھی قرآن میں انسانی ارتقا کے اشارے تلاش کرتے ہیں۔ وہ تخلیقِ آدم کے قرآنی بیانیے کو لفظی طور پر لیتے ہیں لیکن اسے تین ارتقائی مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔

پہلا مرحلہ اس وقت کا ہے جب انسان کی تخلیق کے بنیادی اجزا یعنی مٹی، پانی اور دیگر عناصر زمین میں طویل عرصے سے موجود تھے۔ الطائی (2018، 131) کے مطابق قرآن میں مٹی اور گارے جیسے الفاظ کا ذکر اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان انہی قدرتی عناصر کے طویل کیمیائی و حیاتیاتی ارتقا سے وجود میں آیا۔ دوسرا مرحلہ انسان کی جسمانی ساخت کے ارتقا سے متعلق ہے، جس میں حیاتیاتی تشکیل اور مادی جسم کی تکمیل ہوئی (Altaie 2018, 132)۔ تیسرا اور آخری مرحلہ وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی، جس کے نتیجے میں انسان کو شعور، ارادہ اور اخلاقی آگہی عطا ہوئی۔ الطائی کے نزدیک یہی لمحہ انسانی تہذیب کی ابتدا اور حیوانی وجود سے روحانی انسان بننے کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

انسان کی تخلیق کے تیسرے مرحلے میں جب اللہ نے اپنی روح پھونکی تو یہ ارتقائی عمل کا نقطہ انقلاب تھا۔ اس وقت انسان ایک غیر مہذب، غیر باشعور مخلوق سے ایک فہم رکھنے والی، سوچنے اور سمجھنے والی ہستی میں بدل گیا۔ یہ عقل اور شعور دراصل اللہ کے روحانی نفخ کا نتیجہ ہے۔ اسی سانس نے انسان کو محض ایک بلند درجہ حیوان سے ایک مکمل انسان میں تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد فرشتوں کو،جو دراصل قوانین فطرت کی علامت ہیں، انسان کے تابع کر دیا گیا تاکہ وہ دنیا کو سمجھے، دریافت کرے اور اسے اپنی بھلائی کے لیے مثبت طور پر استعمال کرے۔ (Altaie 2018, 134)

یوں شناوس اور الطائی دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں انسان کے مادی اور روحانی دونوں ارتقا کے اشارے موجود ہیں۔ شناوس کے نزدیک آدمؑ ایک روحانی طور پر منتخب انسان ہیں، جبکہ الطائی کے نزدیک نفخِ روح وہ مرحلہ ہے جب انسان شعور و ارادہ کی سطح پر حیوانی ارتقا سے آگے بڑھ گیا۔ دونوں کے نزدیک اسلام اور نظریہ ارتقا میں کوئی حقیقی تضاد نہیں، بلکہ قرآن کا بیانیہ ارتقائی تسلسل اور روحانی انقلاب دونوں کو ایک وحدت کے طور پر پیش کرتا ہے ، یعنی انسان ایک حیوانی نوع سے ابھرتا ہے، مگر انسان بنتا ہے جب اس میں روحِ الٰہی پھونکی جاتی ہے۔ تاہم، باسل الطائی اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ آدمؑ کی تخلیق کے بارے میں قرآن و سنت میں ایسے پہلو بھی موجود ہیں جو مخفی یا ماورائی (mystical / metaphysical) نوعیت رکھتے ہیں، اور جنہیں پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ قرآن میں آدمؑ کی تخلیق کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، ہم اسے پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔ اس کے برعکس، اس میں لازماً ایک نامعلوم اور مابعدالطبیعی (metaphysical) پہلو بھی شامل ہے، جو جنت میں آدمؑ کی تخلیق کے مرحلے سے متعلق ہے۔ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ آدمؑ کا جنت سے زمین پر اتارا جانا صرف ایک روحانی علامت تھا۔ دراصل قرآن کے ان غیر واضح اور پیچیدہ مقامات پر مزید غور و فکر اور علمی تحقیق کی ضرورت ہے، تاکہ ان میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھا جا سکے اور ان کے راز و اسرار کی عقدہ کشائی ہو سکے۔ (Altaie 2018, 135

ملیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک مفکر داؤد عبد الفتاح بیچلر (Daud Abdul-Fattah Batchelor) نے درجِ ذیل آیت کی ایک نہایت نئی اور بصیرت افروز تعبیر پیش کی ہے:

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان (نَفْسٍ وَاحِدَةٍ) سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو مت توڑو۔ بے شک اللہ تم پر نگرانی کرنے والا ہے۔ (القرآن، 4: 1)

بیچلر کے نزدیک اس آیت کا مفہوم محض آدم اور حوّا کی تخلیق تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی وحدت کے ایک گہرے روحانی اصول کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق "نفس واحدۃ" کسی ایک مادی فرد کے بجائے انسانی نوع کی مشترکہ روحانی اصل کی علامت ہے۔ یعنی قرآن یہاں انسانیت کے مشترکہ ماخذ اور باہمی ربط کی طرف متوجہ کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی روحانی سرچشمے سے پیدا ہوئے ہیں، خواہ ان کی حیاتیاتی تخلیق مختلف زمانی مراحل سے گزری ہو۔

بیچلر (Batchelor 2017, 496–497) کے مطابق، سورۃ النساء کی آیت "نفس واحدۃ" میں مذکور "ایک جان" سے مراد کسی ایک شخص (یعنی آدمؑ) کے بجائے ایک ہی نطفے یا بارور شدہ بیضے (fertilised egg) سے پیدا ہونے والے جڑواں بچے ہو سکتے ہیں۔ وہ اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ ممکن ہے وہ ابتدائی زائیگوٹ (zygote) ایک نادر جینیاتی تبدیلی (rare genetic mutation) سے گزرا ہو، جس کے نتیجے میں ایک جڑواں لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے ، یعنی آدم اور حوّا۔ بیچلر کے نزدیک یہ تعبیر سائنسی طور پر ممکن ہے اور قرآن کے بیان سے مطابقت رکھتی ہے۔ یوں وہ اس آیت کو اس طرح سمجھتے ہیں کہ آدم اور حوّا دراصل ایسے دو جڑواں بچے تھے جو پہلے سے موجود انسانی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے، نہ کہ بالکل مافوق الفطرت طور پر پیدا کیے گئے۔

یہ موقف بیچلر کو دوسرے جدید مسلم مفکرین سے ممتاز بناتا ہے، کیونکہ وہ پہلی بار قرآن میں آدم اور حوّا کے والدین کی موجودگی کی صریح تائید دیکھتے ہیں۔ جبکہ دیگر مفکرین، جو ارتقا کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ مانتے ہیں ،صرف اشارۃً (implicitly) یہ امکان تسلیم کرتے ہیں کہ آدم اور حوّا ایک ارتقائی سلسلے کے تسلسل سے آئے تھے اور ان کے حیاتیاتی والدین موجود تھے۔

ترک مفکر کانر تسلیمان (Caner Taslaman) ایک منفرد نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جسے وہ "الٰہیاتی لاادریت" (theological agnosticism) کا نام دیتے ہیں۔ یہ تصور دراصل وہی ہے جسے پہلے ڈیوڈ سلیمان جلاجل نے توقف (tawaqquf) کے اصول کے طور پر پیش کیا تھا، البتہ تسلیمان اس تصور کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جلاجل کے نزدیک توقف صرف اُن انسانوں کے بارے میں ہے جو آدمؑ سے پہلے یا اُن کے ساتھ زمین پر موجود ہو سکتے تھے، یعنی وہ اس بات پر فیصلہ معطل رکھنے کا کہتے ہیں کہ آدمؑ سے پہلے انسانی نوع موجود تھی یا نہیں۔ جبکہ تسلیمان کے نزدیک توقف خود آدمؑ کی تخلیق پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، تسلیمان کا کہنا ہے کہ اسلامی وحی میں کوئی ایسی حتمی بات موجود نہیں جو ارتقا کو مکمل طور پر تسلیم یا رد کرتی ہو، بلکہ یہ اصول خود حضرت آدمؑ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اپنے مؤقف کے حق میں وہ تین نکات پیش کرتے ہیں۔

پہلا نکتہ احادیثِ ارتقا سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق، وہ تمام روایات جن میں کائنات یا جانداروں کی تخلیق کے بارے میں ایسے بیانات ملتے ہیں

جو سائنسی یا ارتقائی مباحث سے متعلق ہیں، وہ تمام روایات موضوع (fabricated) ہیں۔ تسلیمان لکھتے ہیں:

احادیث کا وہ ذخیرہ جس میں نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال جمع کیے گئے ہیں، اس میں کائنات اور جانداروں سے متعلق بعض ایسے اقوال بھی شامل ہو گئے ہیں جو دراصل من گھڑت ہیں اور انہیں غلط طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا۔ یہ جھوٹی روایات زیادہ تر اس وقت اسلامی ذخیرے میں شامل ہوئیں جب مسلمانوں کا یہودی و عیسائی روایات (اسرائیلیات و مسیحیات) سے اختلاط ہوا اور ان کے بیانیے اسلامی لٹریچر میں شامل ہوگئے۔ (Taslaman 2020, 29–30)

تسلیمان احادیث کے حوالے سے ایک نہایت اہم فقہی و کلامی امتیاز بھی قائم کرتے ہیں، یعنی متواتر احادیث اور آحاد احادیث کے درمیان فرق۔

ان دونوں کی تفصیل باب 9 میں بیان ہوگی، لیکن یہاں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ متواتر حدیث مضبوط اور یقینی روایت کہلاتی ہے، جبکہ آحاد حدیث نسبتاً کم درجے کی اور ظنّی روایت ہوتی ہے۔ یہ فرق تسلیمان کے نزدیک اس لیے فیصلہ کن ہے کہ اس کے عقیدے پر براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق، ایمان اور عقائد کے بنیادی اصول صرف قوی (متواتر) احادیث پر قائم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کمزور یا آحاد روایات کو اس درجے کی حیثیت حاصل نہیں۔ چونکہ تخلیقِ کائنات، غیرِ انسانی حیات اور انسان کی ابتدا سے متعلق تمام تفصیلات زیادہ تر آحاد روایات پر مبنی ہیں، اس لیے تسلیمان کے نزدیک احادیث کا یہ ذخیرہ ارتقا کے مسئلے میں کوئی حتمی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں:

ارتقا کے بارے میں اسلامی عقائد سے مطابقت یا عدمِ مطابقت کا فیصلہ کرنے کے لیے قرآن کا متن ہی کافی ہے، کیونکہ اس باب میں احادیث اپنی کمزور سند اور غیر متواتر نوعیت کی وجہ سے اعتقادی بنیاد فراہم نہیں کر سکتیں۔ (Taslaman 2020, 30)

کانر تسلیمان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں تخلیقِ انسان اور ارتقا سے متعلق آیات صریح نہیں بلکہ قابلِ تاویل ہیں، یعنی ان کے معنی مختلف زاویوں سے سمجھے جا سکتے ہیں۔

مثلاً وہ آیت جس میں ارشاد ہے کہ "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان (نفس واحدۃ) سے پیدا کیا" (القرآن، 4: 1) اس آیت میں "نفس واحدۃ" کے بارے میں بیچلر نے کہا تھا کہ اس سے مراد ایک زائیگوٹ (zygote) یعنی بارور شدہ بیضہ ہے، لیکن تسلیمان (Taslaman 2020, 66) کے نزدیک یہاں مراد کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ایک نوع یا جماعت (genus) ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہے کہ انسان کسی ایک فرد سے پیدا کیے گئے، بلکہ یہ کہ تمام انسان ایک ہی نسلی مآذ یا حیاتیاتی نوع سے پیدا ہوئے۔ یوں آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ "جس نے تمہیں ایک ہی نوع (ایک ہی مخلوقی صنف) سے پیدا کیا"۔ اس تعبیر کے مطابق، قرآن انسانیت کو کسی ایک فرد (یعنی آدمؑ) سے منسوب نہیں کرتا بلکہ ایک ہی حیاتیاتی نوع سے پیدا ہونے والی مخلوق کے طور پر بیان کرتا ہے۔ مزید برآں، تسلیمان (2020, 72–75) کے مطابق، قرآن میں آدمؑ کی جنت کوئی ماورائی جگہ نہیں بلکہ زمین پر ایک باغ تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ زمین پر ہی پیش آیا، اور اس کا مقصد روحانی تربیت اور اخلاقی آزمائش کا بیان تھا، نہ کہ کسی آسمانی جنت سے نزول کا۔ اسی طرح وہ اس آیت کی بھی نئی تعبیر پیش کرتے ہیں، جس میں عیسیٰؑ اور آدمؑ کے درمیان تشبیہ دی گئی ہے: بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی مانند ہے۔ (القرآن، 3: 59) عام طور پر مفسرین اس آیت سے آدمؑ کی معجزانہ تخلیق پر استدلال کرتے ہیں کہ جیسے عیسیٰؑ باپ کے بغیر پیدا ہوئے، ویسے ہی آدمؑ بغیر والدین کے پیدا ہوئے۔ لیکن تسلیمان اس تعبیر کو الٹ زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن خود بیان کرتا ہے کہ: "عیسیٰؑ کی ماں تھیں اور وہ حمل اور ولادت کے عام انسانی عمل کے ذریعے پیدا ہوئے۔" (Taslaman 2020, 63) لہٰذا، اگر قرآن نے عیسیٰؑ اور آدمؑ کو ایک دوسرے سے تشبیہ دی ہے ،تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمؑ کی پیدائش بھی فطری عمل کے ذریعے ہوئی ہو ، یعنی وہ بھی ایک ماں سے پیدا ہوئے ہوں اور حیاتیاتی اعتبار سے ارتقائی سلسلے کا حصہ ہوں۔

یوں تسلیمان عام قرآنی فہم کے برعکس یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ قرآن نہ تو آدمؑ کی معجزانہ تخلیق کا اثبات کرتا ہے، اور نہ ہی اسے قطعی طور پر رد کرتا ہے، بلکہ وحی اس معاملے میں خاموش ہے، اور یہی الٰہیاتی توقف (theological agnosticism) کا اصول ہے ،جو ان کے نزدیک اسلام اور نظریہ ارتقا میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

تسلیمان کا تیسرا اور آخری استدلال معجزات کے بارے میں ایک لاادری (agnostic) مؤقف اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق قرآنِ مجید معجزات کی نوعیت کے بارے میں خاموش ہے۔ یعنی یہ واضح نہیں کرتا کہ معجزات قدرت کے قوانین کو معطل کر کے پیش آتے ہیں یا انہی قوانین کے دائرے میں رونما ہوتے ہیں۔ تسلیمان کا کہنا ہے کہ چونکہ اللہ کی نیت یا طریقہ عمل ہمارے لیے براہِ راست معلوم نہیں، اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے معجزہ ظاہر کرتے وقت قدرتی قوانین کو منسوخ کیا یا نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو چیزیں ماضی میں ماورائی یا غیر معمولی سمجھی جاتی تھیں، ممکن ہے وہ دراصل قدرتی قوانین کے تحت ممکن ہوں، بس اُس وقت انسان ان قوانین سے واقف نہیں تھا (Taslaman 2020, 92

ان تمام نکات کو جمع کر کے تسلیمان (2020, 93) اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ معجزات کے بارے میں ایک غیر یقینی مگر کھلا موقف اختیار کرنا ہی سب سے معقول ہے۔ وہ کہتے ہیں: اہلِ ایمان اس بات پر تو متفق ہو سکتے ہیں کہ اللہ کی مداخلت یا تو قدرت کے قوانین کو معطل کر کے ہو سکتی ہے یا انہی قوانین کے اندر رہتے ہوئے۔ دونوں امکانات درست اور قابلِ قبول ہیں۔ کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ قدرت کے قوانین کو معطل کیے بغیر نئی انواع پیدا نہیں کر سکتا، اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ ان قوانین کو معطل کر کے نئی انواع پیدا نہیں کر سکتا۔ دونوں صورتیں ممکن ہیں، اور چونکہ ہمیں اللہ کی نیت یا طریقہ تخلیق تک علم کی رسائی حاصل نہیں، اس لیے ہمیں کسی ایک امکان کو قطعی نہیں مان لینا چاہیے۔ قرآن کا متن ہمیں کسی ایک موقف کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اسی طرح معجزات کے معاملے میں بھی ہمیں الٰہیاتی لاادریت (theological agnosticism) کا رویہ اپنانا چاہیے۔

کمزور احادیث کے انکار، ارتقا سے متعلق قرآنی آیات کے تاویلی امکانات، اور معجزات کے بارے میں لاادری رویے، ان تینوں پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے کانر تسلیمان اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن و سنت کے دائرے میں نظریہ ارتقا کوئی عقیدہ شکن مسئلہ نہیں۔ ان کے نزدیک یہ تمام دلائل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ارتقا کا نظریہ اسلامی وحی کے کسی بنیادی تصور سے متصادم نہیں، کیونکہ قرآن نے تخلیق کے تفصیلی طریقے پر خاموشی اختیار کی ہے۔ یہی خاموشی اس امر کی دلیل ہے کہ مسلمان کے لیے اس بارے میں کسی ایک موقف پر اصرار ضروری نہیں۔ تسلیمان اس موقف کو "الٰہیاتی لاادریت" (theological agnosticism) کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب وحی کسی مسئلے پر قطعی حکم نہیں دیتی، تو انسان کو چاہیے کہ وہ توقف اختیار کرے، نہ اسے ایمان کا جزو بنائے اور نہ انکار کا۔ اسی اصول کی روشنی میں وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ارتقا کا نظریہ قرآن کے کسی بیانیے کو چیلنج نہیں کرتا، لہٰذا اس کی اسلام سے فکری ہم آہنگی ممکن ہے۔ یوں "No Exceptions Camp" یعنی وہ گروہ جو ارتقا کو کسی استثنا کے بغیر تسلیم کرتا ہے، اپنی فکری بنیاد مکمل کرتا ہے۔ یہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے تخلیق پسند مکتبِ فکر میں مختلف جہتوں سے دلائل موجود ہیں، ویسے ہی اس کی دوسری انتہا پر موجود مفکرین جو ارتقا کو مکمل طور پر قابلِ قبول سمجھتے ہیں ، بھی نہایت متنوع اور فکری طور پر پیچیدہ دلائل پیش کرتے ہیں۔

آئندہ باب میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان مختلف آرا میں سے کون سی آرا امام غزالی کے تفسیری و تاویلی منہج سے مطابقت رکھتی ہیں، اور وہ علمی و کلامی بنیادیں کیا ہیں جن کے تحت غزالی کا فہمِ قرآن جدید سائنسی مباحث سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔

References

1. Al-Jāḥiẓ. 1938a. Kitāb Al Ḥayawān. Volume 4. Cairo: Muṣṭafā al-Bābī al-Ḥalabī. Al-Jāḥiẓ.

2. 1938b. Kitāb Al Ḥayawān. Volume 1. Cairo: Muṣṭafā al-Bābī al-Ḥalabī.

3. Bayrakdar, Mehmet. 1983. “Al-Jāḥiẓ and the Rise of Biological Evolutionism.” Islam Quarterly, 21: 149–155.

4. Chittick, William C. 2013. “The Evolutionary Psychology of Jalal al-Dīn Rumī.” In Peter J. Chelkowski, ed. Crafting the Intangible: Persian Literature and Mysticism. University of Utah Press: Salt Lake City, 70–90.

5. Chittick, William C. 2017. “RUMĪ, JALĀL-AL-DĪN vii. Philosophy,” Encyclopædia Iranica. Accessed 5th February 2019. Available at: http://www.iranicaonline.org/ articles/rumi-philosophy.

6. Cook, Michael. 1999. “Ibn Qutayba and The Monkey.” Studia Islamica, 89: 43–74.

7. Dajani, Rana. 2016. “Evolution and Islam: Is There a Contradiction?” Paper Presented at Islam and Science: Muslim Responses to Science’s Big Questions, London and Islamabad.

8. de Boer, Tjitze J. 1903. The History of Philosophy in Islam. London: London Luzac. Draper, John William. 1875. History of the Conflict between Religion and Science. New York, NY: D. Appleton and Company.

9. Egerton, Frank N. 2002. “A History of the Ecological Sciences, Part 6: Arabic Language Science: Origins and Zoological Writings.” Bulletin of the Ecological Society of America, 83(2): 142–146.

10. Old texts, new masks 175 El-Bizri, Nader. 2014. The Ikhwan al-Safa and Their Rasail. Oxford: Oxford University Press.

11. Elshakry, Marwa. 2014. Reading Darwin in Arabic, 1860–1950. Chicago, IL: The University of Chicago Press.

12. Fakhry, Majid. 2004. A History of Islamic Philosophy. New York, NY: Columbia University Press.

13. Futuyma, Douglas J., and Mark Kirkpatrick. 2017. Evolution. Sunderland: Sinauer Associates, Inc.

14. Ghafouri-Fard, Soudeh, and Seyed Mohammad Akrami. 2011. “Man Evolution: An Islamic Point of View.” European Journal of Science and Theology 7(3), 17–28.

15. Goodman, Lenn E., and Richard McGregor. 2012. The Case of Animals Versus Man: Before the King of the Jinn – A Translation from the Epistles of the Brethren of Purity. Oxford: Oxford University Press.

16. Guessoum, Nidhal. 2011. Islam’s Quantum Question: Reconciling Muslim Tradition and Modern Science. London: I.B. Tauris.

17. Hakim, Khalifa Abdul. 1959. The Metaphysics of Rumi: A Critical and Historical Approach. Lahore: The Institute of Islamic Culture.

18. Hamad, Mawieh. 2007. “Islamic Roots to the Theory of Evolution: The Ignored History.” Rivista di Biologia, 100(2): 173–178.

19. Hameed, Salman. 2011. “Evolution and Creationism in the Islamic World.” In Thomas Dixon, Geoffrey Cantor, and Stephen Pumfrey, eds. Science and Religion: New Historical Perspective. Cambridge: Cambridge University Press, 133–154.

20. Hameed, Salman. 2014. “Evolution of Species, Islamic Ideas.” In Amils R. et al. eds. Encyclopedia of Astrobiology. Berlin: Springer.

21. Ibn Khaldūn, Abū Zayd ʿAbd ar-Raḥmān Ibn Muḥammad. 2005. The Muqaddimah. trans. by Franz Rosenthal. New Jersey, NY: Princeton University Press.

22. Iqbal, Muzaffar. 2003.“Biological Origins: Traditional and Contemporary Perspectives.” Islamic Herald. Accessed 1st of October 2019. Available at: http://saif_ w.tripod.com/curious/evolution/muz/biological_origins.htm.

23. Iqbal, Muhammad. 2012. The Reconstruction of Religious Thought in Islam. New Delhi: Kitab Bhavan.

24. Kartenegara, Mulyadhi. 2016. “Rumi on the Living Earth: A Sufi Perspective.” In Mohammad Hashim Kamali, Osman Bakar, Dauf Abul-Fattah Batchelor, and Rugayah Hashim, eds. Islamic Perspectives on Science and Technology: Selected Conference Papers. Singapore: Springer.

25. Kaya, Veysel. 2011. “Can the Quran Support Darwin? An Evolutionist Approach by Two Turkish Scholars after the Foundation of the Turkish Republic.” The Muslim World, 102: 357–370.

26. Kruk, Remke. 1995. “Traditional Islamic Views of Apes and Monkeys.” In Frank Spencer, Raymond Corbey, and Bert Theunissen, eds. Ape, Man, Apeman: Changing Views Since 1600. Leiden: Leiden University.

27. Lovejoy, Arthur Oncken. 2009. The Great Chain of Being: A Study of the History of an Idea. New Jersey, NY: Transaction Publishers.

28. Malik, Amina H., Janine M. Ziermann, and Rui Diogo. 2017. “An Untold Story in Biology: The Historical Continuity of Evolutionary Ideas of Muslim Scholars From the 8th Century to Darwin’s Time.” Journal of Biological Education, 52(1): 1–15.

29. Mansūr, Saʿīd H. 1977. The Worldview of al-Jāḥiẓ in Kitāb al-Ḥayawān. Alexandria: Dār al-Maʿārif.

30. Mojaddedi, Jawid. 2017. The Masnavi: Book Four. Oxford: Oxford University Press.

31. Montgomery, James E. 2013. Al-Jāḥiẓ: In Praise of Books. Edinburgh: Edinburgh University Press.

32. Morewidge, Parviz. 1992. “The Neoplatonic Structure of Some Islamic Mystical Doctrines.” In Parviz Morewedge, ed. Neoplatonism in Islamic Thought. Albany, NY: State University of New York Press.

33. Nasr, Seyyed Hossein. 1978. An Introduction to Islamic Cosmological Doctrines. Bath: The Pitman Press.

34. Netton, Ian R. 1991. Muslim Neoplatonists: An Introduction to the Thought of the Brethren of Purity. Edinburgh: Edinburgh University Press.

35. Netton, Ian R. 2003. “The Brethren of Purity (Ikhwān Al-Ṣafā).” In Seyyed Hossein Nasr and Oliver Leaman, eds. The History of Islamic Philosophy. New York, NY: Routledge.

36. Pollock, Sheldon. 2009. “Future Philology? The Fate of a Soft Science in a Hard World.” Critical Inquiry, 35(4): 931–961.

37. Principe, Lawrence M. 2016. “Scientism and Religion of Science.” In Richard N. Williams and Daniel N. Robinson, eds. Scientism: The New Orthodoxy. London: Bloomsbury, 41–62.

38. Rūmī, Jalāl ad-Dīn. 2003. The Mathnawi. Volume IV. trans. by Reynold A. Nicholson. Karachi: Darul Ishaat.

39. Russel, Colin A. 2002. “Conflict of Science and Religion.” In Gary B. Ferngren, ed. Science and Religion: A Historical Introduction. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press, 3–12.

40. Shah, Muhammad Sultan. 2010. Evolution and Creation: Islamic Perspective. Mansehra: Society for Interaction of Religion, Science and Technology.

41. Shanavas, T. O. 2010. Islamic Theory of Evolution: The Missing Link between Darwin and the Origin of Species. USA: Brainbow Press.

42. Stearns, Stephen C., and Rolf F. Hoekstra. 2005. Evolution: An Introduction. Oxford: Oxford University Press. Stott, Rebecca. 2012. Darwin’s Ghost’s: The Secret History of Evolution. New York, NY: Spiegel and Grau.

43. Twetten, David. 2017. “Arabic Cosmology and the Physics of Cosmic Motion.” In Richard C. Taylo, and Luis Xavier López-Farjeat, eds. The Routledge Companion to Islamic Philosophy. Abingdon: Routledge, 156–167.

44. Ungureanu, James C. 2019. Science, Religion, and the Protestant Tradition: Retracting the Origins of the Conflict. Pittsburgh, PA: University of Pittsburgh Press.

45. Wehr, Hans, and Cowan, J. Milton. 1976. A Dictionary of Modern Written Arabic. New York: Spoken Language Services, Inc.

46. Wilczynski, Jan Z. 1959. “On the Presumed Darwinism of Alberuni Eight Hundred Years Before Darwin.” History of Science Society, 50(4): 459–466.

47. Wildberg, Christian. 2016. “Neoplatonism.” The Stanford Encyclopaedia of Philosophy. Accessed 3rd of November 2020. Available at: https://plato.stanford. edu/archives/spr2016/entries/neoplatonism/.


پاکستان اور افغانستان کا ناخوشگوار تصادم — اہم نکات

مولانا مفتی منیب الرحمٰن

(مکمل مضمون: روزنامہ دنیا، ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۵ء)


پاک افغان تعلقات اور ہماری یکطرفہ قومی پالیسیاں

مولانا فضل الرحمٰن

افغانستان کی سرزمین ہو یا پاکستان کی سرزمین، کسی کے خلاف اسے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ کیا ہم یہ تردید کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں جب بیس سال تک جنگ رہی تو پاکستان سے مجاہدین نہیں گئے؟ اور کیا اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں نہیں گئے؟ کیا کرزئی صاحب نے یا اشرف غنی نے وہاں سے احتجاج کیا کہ پاکستان سے مداخلت ہو رہی ہے افغانستان کے اندر؟ کیا بیس سال کی اس جنگ میں ہم نے امریکہ کو اڈے نہیں دیے؟ ہم نے امریکہ کو فضائیں نہیں دیں؟ ان اڈوں اور فضاؤں سے گزر کر افغانستان پر حملے نہیں کیے گئے؟ وہاں کی طالبان حکومت نہیں پلٹی گئی؟ بیس سال تک بمباریاں ہوئیں، کیا وہاں سے کوئی شکایت آئی کہ آپ کی سرزمین سے جہاز اڑ رہے ہیں، آپ کی فضائیں استعمال ہو رہی ہیں، ہم پر بمباریاں ہو رہی ہیں؟

تو اگر آدمی خود مضبوط ہو، ان کے اعصاب مضبوط ہوں اور خود اعتمادی اندر موجود ہو تو پھر مسئلہ بنانے کے لیے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔ کیا آج تک اگر یہاں افغانی پکڑے گئے ہیں یا افغانی مارے گئے ہیں، کوئی افغانستان کی امارتِ اسلامیہ سے احتجاج آیا ہے کہ ہمارے لوگوں کو کیوں مارا ہے، یا ہمارے لوگوں کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے، یا ان کے خلاف آپریشن کیوں کیا گیا ہے؟

تو اس لیے یکطرفہ طور پر، سوائے اس کے کہ ہم افغانستان میں دوبارہ ایک بے قراری کی طرف جائیں گے۔ اور کیا ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ افغانستان میں استقلال نہیں چھوڑنا، وہاں ہمیشہ بے قراری رکھنی ہے؟ اور پھر اپنا دامن صاف رکھنا ہے اور سارا گند دوسرے کے دامن میں پھینکنا ہے۔ خود صاف اور شفاف بن کر بے گناہ بن کر دوسروں کو گنہگار قرار دینا، یہ ایک پالیٹکس ہے اور ہمیں اس پولیٹکس سے نکلنا چاہیے۔ بے قرار اور غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے کبھی بھی مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور افغانستان کے اور بھی پڑوسی ہیں لیکن سب سے طویل ترین سرحد پاکستان سے ملتی ہے، کوئی ڈھائی ہزار کلومیٹر پاکستان کے ساتھ مل رہے ہیں اُس کے۔ جس کے دونوں طرف ایک ہی قوم آباد ہے اور وہ پشتون قوم ہے۔ تو کیا ان طریقوں سے ہم پشتون قوم کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ ساری وہ پالیسیاں ہیں کہ جس پر میں یہ سمجھوں گا کہ ہمیں نظرثانی کرنی چاہیے۔ 

پاکستان کا چپہ چپہ ہمیں عزیز ہے۔ ہم پاکستان کے چپے چپے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اگر انڈیا کے خلاف جنگ ہوتی ہے، ہم نے ایک صف ہو کر فوج کی پشت پر کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اور آج بھی ہم اسی جذبے سے بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ جب معاملات پیچیدہ ہوں تو اس کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور ہم اپنے ملک کے ساتھ ہیں، ملک کے وفادار ہیں، ملک کی بہتری کے لیے سوچیں گے۔ اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کوئی غلط فیصلے کرتی ہے، یا وہ ملکی مفاد کے خلاف ہمیں نظر آتے ہیں، ہم اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور نشاندہی کرنا ہمارا حق ہے۔ 

facebook.com/reel/829829006223953

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء کا فتویٰ نمبر ۱۹۴۰۲ اور ابراہیمی ہاؤس

اُمّہ ڈاٹ کام

صید الفوائد

یہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے: پہلے حصے میں ’’امہ ڈاٹ کام‘‘ کے آن لائن فورم پر ہونے والے ایک مباحثہ کے اہم نکات پیش کیے گئے ہیں جو عنوان ’’سعودی فتویٰ ہاؤس نمبر ۱۹۴۰۲: ابراہیمی ہاؤس یا وحدتِ مذاہب‘‘ کے تحت ستمبر ۲۰۲۴ء سے جولائی ۲۰۲۵ء تک چلا۔ جبکہ دوسرے حصے میں سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی ’’اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء‘‘ کے مذکورہ فتویٰ کے اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔ (ادارہ الشریعہ)

اُمّہ فورم کا مباحثہ

مباحثہ میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں شرکاء نے فتوے کے مفاد، اس کے شرعی دلائل، اور اس کے ممکنہ سیاسی و مذہبی مضمرات پر گفتگو کی۔ بنیادی طور پر اس فتوے نے اس خیال کی مخالفت کی ہے کہ مختلف الہامی مذاہب کو ایک ہی مشترک مذہبی ڈھانچے (مثلاً باہم مل کر عبادت گاہیں یا مشترکہ صحیفہ شائع کرنا) کے تحت لایا جائے۔ ذیل میں مباحثے کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔

فتویٰ اور اس کی شرعی بنیاد

شرکاء نے فتویٰ کے اغراض اور دلائل بیان کیے، جن میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ اسلام کو آخری دین قرار دیا جاتا ہے اور سابقہ صحائف (تورات، انجیل وغیرہ) کو تبدیل شدہ قرار دیا گیا ہے، اور اس بنیاد پر تینوں مذاہب کو مساوی طور پر ایک ہی مذہبی فریم میں لانے والی سوچ کو علماء نے شرعی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں سمجھا۔

’’یہ دعوتِ وحدتِ مذاہب ایک مکر، فریب اور وہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا ہے اور اس کی بنیادوں کو ہلانا ہے۔‘‘

فتویٰ کا ’’ابراہیمی ہاؤس‘‘ سے تعلق

کچھ شرکاء نے اس فتوے کو خاص طور پر Abrahamic Family House کے متعلق قرار دیا، جو ابوظبی میں ایک ایسا مرکز ہے جس کے ایک ہی کمپلیکس کے اندر مسجد، چرچ اور سنیگاگ تعمیر کیے گئے ہیں اور اس کا مقصد بین المذاہب مکالمے کا فروغ بتایا گیا ہے۔ فورم کے مباحثے میں متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض نے اسے خدشہ کی نگاہ سے دیکھا جبکہ بعض نے اس کا مقصد سمجھوتہ اور ہم آہنگی بتایا۔ کچھ نے فتویٰ کی حمایت کی اور کہا کہ مشترکہ عبادت گاہ یا مشترکہ صحیفوں کا خیال شرعی نقطۂ نظر سے قابلِ قبول نہیں۔ دیگر نے استدلال کیا کہ مذہبی رواداری اور مکالمہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں، اور فتوے کو سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بعض نے خدشہ ظاہر کیا کہ سخت مواقف بات چیت کی راہیں بند کر سکتے ہیں۔ جبکہ بعض نے کہا کہ عقیدہ کے حساس مسائل پر احتیاط ضروری ہے۔

غور و فکر کے نکات

مباحثے کے آخر میں چند عمومی نکات زیرِ غور آئے:  فتوے کو بغیر تحقیق قبول نہیں کرنا چاہیے، اس معاملے میں علمی و معتدل بحث زیادہ فائدہ مند ہے، اور عقائد کے حساس مسائل پر تند روی سے گریز کیا جانا چاہیے، وغیرہ۔ الغرض اُمہ فورم کے اس مباحثہ نے اس موضوع کو عصرِ حاضر کے تناظر میں جانچنے کا ایک ہمہ جہت خاکہ پیش کیا ہے۔

مباحثہ : امہ فورم

فتویٰ کے اہم نکات

یہ فتویٰ سعودی عرب کی اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات اور فتویٰ) نے جاری کیا ہے اور اس میں بنیادی طور پر ’’وحدتِ ادیان‘‘ (Unity of Religions) کی دعوت کو مسترد کیا گیا ہے۔ ذیل میں اہم نکات کا اردو ترجمہ پیش ہے:

دینِ حق صرف اسلام ہے

مسلمانوں کے اجماعی عقائد میں سے ہے کہ روئے زمین پر دینِ حق صرف دینِ اسلام ہے اور یہ تمام سابقہ ادیان، ملتوں اور شرائع کا خاتمہ کرنے والا اور ان کو منسوخ کرنے والا ہے۔ اب اللہ کی عبادت کا واحد دین صرف اسلام ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا، تو وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا‘‘ (آل عمران ۸۵)۔

قرآن کریم کا مقام اور توراۃ و انجیل کا حکم 

اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم ہے، جو کہ توراۃ، زبور اور انجیل سمیت تمام سابقہ کتب کو منسوخ کرنے والی اور ان پر حاکم ہے۔ اب اللہ کی عبادت کے لیے صرف قرآن ہی منزل کتاب ہے۔ یہ ضروری ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ توراۃ اور انجیل کو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا ہے اور ان میں تحریف (ردوبدل)، زیادتی اور کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کتب میں جو کچھ صحیح تھا، وہ اسلام سے منسوخ ہو چکا ہے اور باقی سب محرف یا بدلا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے ایک نسخہ کو دیکھ کر غصے کا اظہار فرمایا تھا اور کہا تھا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ 

نبی اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت اور رسالت کی عالمگیریت

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی رسول کی اتباع واجب نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام انسانوں کے لیے عام ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام بھی آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے۔

اسلام نہ قبول کرنے والوں کا حکم

اسلام کے اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر، جو اسلام میں داخل نہیں ہوئے، ان کے کافر ہونے کا اعتقاد رکھنا اور انہیں کافر کہنا ضروری ہے۔ جو شخص یہود و نصاریٰ کو کافر نہ سمجھے وہ خود کافر ہو جاتا ہے، شرعی قاعدہ کے مطابق: ’’جو کافر کو کافر نہ سمجھے وہ کافر ہے‘‘۔

’’وحدتِ ادیان‘‘ کی دعوت کے مضمرات

ان بنیادی شرعی اصولوں کی روشنی میں ’’وحدتِ ادیان‘‘ (تینوں ادیان کو ایک سانچے میں ڈھالنے) کی دعوت ایک خبیث اور مکار سازش ہے۔ اس کا مقصد حق کو باطل سے ملانا، اسلام کو منہدم کرنا، اور مسلمانوں کو ارتداد کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ دعوت اسلام اور کفر، حق اور باطل کے درمیان کے فرق کو مٹاتی ہے، اور مسلمانوں اور کفار کے درمیان کی نفرت (تفریق) کی دیوار کو گراتی ہے۔ یہ دعوت ولاء (مسلمانوں سے دوستی) اور براء (کافروں سے بیزاری) کو ختم کرتی ہے اور اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جہاد اور قتال کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اگر یہ دعوت کسی مسلمان کی طرف سے ہو تو یہ اسلام سے واضح ارتداد (کفر) سمجھی جائے گی، کیونکہ یہ اسلامی عقائد کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتی ہے اور یہ اللہ عزوجل کے کفر پر رضامندی، قرآن کی صداقت کو باطل کرنے، اور اسلام کے ناسخ ہونے کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا یہ فکر شرعاً قطعی طور پر حرام اور مردود ہے۔

عملی اقدامات کی ممانعت

کفار کو اسلام کی دعوت

کفار کو بالخصوص اہلِ کتاب کو اسلام کی دعوت دینا مسلمانوں پر واجب ہے، لیکن یہ صرف مناسب بحث و مباحثہ کے ذریعے ہونا چاہیے، اور اس سلسلہ میں شریعتِ اسلامیہ سے کسی قسم کا تنزل نہیں ہونا چاہیے۔ درج بالا مطالبات پورے کرنے یا ان کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسی ملاقاتیں اور مباحثے باطل ہیں جن سے اسلام کی مضبوط کڑیوں اور ایمان کے عہد پر زد پڑتی ہو۔

فتویٰ کا متن : صید الفوائد


قواعد و ضوابط برائے تحقیق و تصنیف اور اشاعت

اسلامی نظریاتی کونسل

تقدیم

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی اور تحقیقی ادارہ ہے جو ۱۹۶۲ء میں دستورِ پاکستان کے تحت قائم ہوا۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کے آرٹیکل ۲۳۰ میں کونسل کے مندرجہ ذیل فرائض منصبی بیان کئے گئے ہیں۔

(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے،
(ب) کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع کیا گیا ہو کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں،
(ج) ایسی تدابیر کی، جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، نیز ان مراحل کی جن سے گزر کر محولہ تدابیر کا نفاذ عمل میں لانا چاہئیے، سفارش کرنا، اور 
(د) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں کی راہنمائی کے لئے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزوں شکل میں تدوین کرنا جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا جا سکے۔

(۲) جب آرٹیکل ۲۲۹ کے تحت، کوئی سوال کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے، تو کونسل اس کے بعد پندرہ دن کے اندر اس ایوان، اسمبلی، صدر یا گورنر کو جیسی بھی صورت ہو، اس مدت سے مطلع کرے گی جس کے اندر وہ مذکورہ مشورہ فراہم کرنے کی توقع رکھتی ہو۔

(۳) جب کوئی ایوان، کوئی صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر جیسی بھی صورت ہو، یہ خیال کرے کہ مفادِ عامہ کی خاطر اس مجوزہ قانون کا وضع کرنا، جس کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا، مشورہ حاصل ہونے تک ملتوی نہ کیا جائے، تو اس صورت میں مذکورہ قانون مشورہ مہیا ہونے سے قبل وضع کیا جا سکے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی قانون اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس مشورے کے لئے بھیجا جائے اور کونسل یہ مشورہ دے کہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے تو ایوان، یا جیسی بھی صورت ہو، صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر اس طرح وضع کردہ قانون پر دوبارہ غور کرے گا۔

(۴) اسلامی نظریاتی کونسل اپنے تقرر سے سات سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی اور سالانہ عبوری رپورٹ پیش کیا کرے گی۔ یہ رپورٹ خواہ عبوری ہو یا حتمی، موصولی سے چھ ماہ کے اندر دونوں ایوانوں اور ہر صوبائی اسمبلی کے سامنے برائے بحث پیش کی جائے گی اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور اسمبلی، رپورٹ پر غور و خوض کرنے کے بعد حتمی رپورٹ کے بعد دو سال کی مدت کے اندر اس کی بابت قوانین وضع کرے گی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مندرجہ بالا آئینی دائرہ کار کے مطابق کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا لٹریچر تیار کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے لوگوں میں اسلام اور اسلامی اقدار سے متعلق شعور پیدا ہو اور معاشرہ ترقی کرے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کونسل اپنے شعبہ تحقیق و ترجمہ کے فاضل حضرات سے، نیز ملکی اور غیر ملکی ماہرین کے ذریعے تحقیقی منصوبوں پر کام کرواتی ہے جسے بعد میں شائع بھی کیا جاتا ہے۔

ان مطبوعات کی تیاری میں علمی تحقیقی معیار برقرار رکھنے کے لیے اصولِ تحقیق و تصنیف اور اشاعت کے بارے میں قواعد و ضوابط تیار کئے گئے ہیں۔ امید ہے ان کی پابندی سے کونسل کی مطبوعات بین الاقوامی تحقیقی معیار پر پورا اتریں گی۔

اللہ جل شانہ سے دعا ہے کہ اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کی کوششوں کو قبول فرمائے۔

ڈاکٹر محمد خالد مسعود

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
(تیاری کا لائحہ عمل)

آئین کے آرٹیکل ۲۳۰ میں درج دستوری فریضہ کی انجام دہی کے لیے کونسل نے سفارشات کی تیاری کے بارے میں اجلاس ۱۵۴ منعقدہ 12-13 اگست 2004ء میں مندرجہ ذیل لائحہ عمل طے کیا۔

۱۔ کونسل کو مختلف اداروں کی طرف سے استفسارات، تجاویز اور اپیلیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ چونکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حیثیت دارالافتاء کی نہیں ہے اس لئے وہ صرف انہی استفسارات پر غور کی پابند ہے جو آئین کی رو سے کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کی جانب سے کسی مجوزہ قانون کے بارے میں موصول ہو جس میں کونسل محض یہ مشورہ دے گی کہ مجوزہ قانون، یا اس کی کوئی دفعہ، اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں؟ (آئین آرٹیکل ۲۲۹ ب)۔ چنانچہ کونسل ایسے تمام استفسارات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہے جو آئین میں مذکور اداروں یا حکام کی جانب سے جاری نہ ہوئے ہوں یا وہ آئین میں مذکور امور سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔

۲۔ ارکان کی منظوری کے بعد دیگر استفسارات کے بارے میں کونسل کی سفارشات وزارتِ مذہبی امور کی وساطت سے متعلقہ ادارے کو بھیج دی جائیں گی۔ سفارشات کی ایک نقل براہ راست متعلقہ ادارے کو بھی بھیجی جائے گی۔

۳۔ کونسل کی سفارشات کی نوعیت مشاورتی ہے، تاہم کونسل کی کارکردگی کے بارے میں رائے عامہ کی آگاہی کیلئے کونسل گاہے بگاہے پریس ریلیز جاری کرے گی۔ کونسل کی کارروائی سے متعلق بوقت ضرورت، پریس ریلیز، صحافتی بیان کا اجراء یا کسی بھی فورم پر کونسل کی نمائندگی صرف جناب چیئرمین کا خصوصی استحقاق ہوگا یا جس کو چیئرمین اس کام کے لیے مامور کریں۔

۴۔ کونسل زیادہ نازک اور غور طلب سفارشات کی تیاری میں وسیع تر مشاورت کے اصول کو اپنائے گی تاکہ مجوزہ قانون کے نفاذ کے مختلف پہلوؤں اور نتائج و عواقب کو پیش نظر رکھا جا سکے۔ ایسے غور طلب امور پر کونسل ارکانِ کونسل پر مشتمل کمیٹی/کمیٹیاں مقرر کرے گی جو اپنی آراء اور تجاویز مرتب کر کے کونسل میں بحث اور منظوری کے لئے پیش کریں گی۔ نیز ایسے پیچیدہ امور پر غور کے دوران مختلف مسالک کے علماء، فنی ماہرین، سائنس دانوں اور ماہرینِ قانون کو کونسل کے اجلاس میں دعوت دی جائے گی۔ پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات، اداروں اور دانشوروں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ خصوصاً‌ زیرِ غور قوانین کے اطلاق سے متاثر ہونے والے طبقات سے بھی مشورہ کیا جائے گا تاکہ جامع اور قابلِ تنفیذ سفارشات تیار کی جا سکیں۔

۵۔ کونسل کسی اہم مسئلے پر سفارشات تیار کرنے کے لیے ورکشاپ، راؤنڈ ٹیبل یا بحث و مباحثے کا اہتمام بھی کرتی ہے جس میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کو دعوت دی جاتی ہے۔

کونسل میں تحقیقی کام

اسلامی نظریاتی کونسل میں شعبہ تحقیق میں ہونے والے تحقیقی کام کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ استفسارات

۲۔ ایجنڈا، ورکنگ پیپرز اور ریسرچ نوٹ

۳۔ روداد

۴۔ سالانہ رپورٹیں

۵۔ جائزہ رپورٹیں

۶۔ مقالہ جات

۷۔ کتب

ان کاموں میں شعبہ تحقیق کی رہنمائی کے لئے قواعد و ضوابط آئندہ صفحات میں دیئے گئے ہیں۔

استفسارات
(ریفرنس)

کونسل میں آنے والے استفسارات تین طرح کے ہیں:

۱۔ آئین (دفعہ ۲۲۸، ۲۳۰) میں مذکور تفصیل کے مطابق صدرِ پاکستان، صوبہ کے گورنر یا اسمبلی کی طرف سے آنے والے استفسارات

۲۔ حکومت کے مختلف محکموں کی طرف سے آنے والے استفسارات

۳۔ عوام کی طرف سے آنے والے استفسارات

پہلی قسم یعنی صدرِ پاکستان، گورنر یا پارلیمنٹ کی طرف سے وصول شدہ استفسارات کے جواب کا طریقہ کار آئین میں درج کیا گیا ہے۔ اس کی رو سے کونسل اس بات کی پابند ہے کہ ۱۵ روز کے اندر اس استفسار پر اپنی رائے پیش کرنے کی تاریخ کا تعین کرے گی۔

دوسری قسم یعنی حکومتِ پاکستان کے محکموں کے استفسارات کا جواب کونسل کے آئینی فرائض میں شامل نہیں ہے۔ البتہ استفسار کی نوعیت اور اہمیت کے پیش نظر کونسل اس کا جواب دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ چنانچہ ان استفسارات کے وصول ہوتے ہی کونسل (انتظامیہ) اس کی رسید سے متعلقہ محکمہ کو مطلع کرے گی کہ یہ استفسار کونسل کی منظوری کے لیے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں کونسل کی منظوری کے بعد اس استفسار پر غور کیا جائے گا۔ کونسل کی منظوری پر شعبہ تحقیق اس پر ریسرچ نوٹ تیار کر کے کونسل میں پیش کرے گا۔

تیسری قسم کے استفسارات بھی کونسل کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ تاہم کونسل کو یہ اختیار ہے کہ وہ سوال کی نوعیت کے اعتبار سے اس پر غور کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ استفسارات وصول ہوتے ہی سوال بھیجنے والے کو رسید سے فوری طور پر مطلع کیا جائے گا کہ ان کا سوال کونسل کے آئندہ اجلاس میں کونسل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اگر کونسل نے اس پر غور کرنا منظور کیا تو اس کے لیے باقاعدہ ریسرچ نوٹ تیار کر کے کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

ان تینوں صورتوں میں کونسل کی منظوری کے بعد شعبہ تحقیق ریسرچ نوٹ تیار کرے گا۔ جس کی تفصیل ریسرچ نوٹ کے تحت دی جا رہی ہے۔

کونسل کے اجلاس کے لیے مطلوبہ کاغذات
(ایجنڈا اور ورکنگ پیپرز)

(ا) ایجنڈا

ایجنڈا کی ترتیب مندرجہ ذیل انداز سے ہو گی:

۱۔ گذشتہ اجلاس کی روداد اور توثیق

۲۔ گذشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ

۳۔ مروجہ قوانین پر نظر ثانی

۴۔ نئی قانون سازی کے لیے سفارشات

۵۔ استفسارات

ایجنڈا کی چیئرمین سے منظوری کے بعد ورکنگ پیپرز ایجنڈا کی ترتیب سے تیار کئے جائیں گے۔ ایجنڈا اور اجلاس کے انعقاد کی اطلاع تمام ارکان کو اجلاس سے ایک ماہ پہلے اور ورکنگ پیپرز پندرہ روز پہلے ارسال کر دیے جائیں گے۔

(ب) ریسرچ نوٹ

ایجنڈا کے ۳، ۴، ۵ اور دیگر امور کے لیے شعبہ تحقیق ریسرچ نوٹ تیار کرے گا۔ ریسرچ نوٹ کا مقصد کسی استفسار یا زیر بحث مسئلے پر کونسل کے غور کے لیے مطلوبہ مواد مہیا کرنا ہے تاکہ کونسل اس کے بارے میں غور و خوض کے بعد رائے دے سکے ۔ ریسرچ نوٹ میں مندرجہ ذیل امور شامل ہونگے:

۱۔ مسئلے کا پس منظر جس میں متعلقہ استفسار کا حوالہ اور مسئلے کا تعین کر کے اس کا خلاصہ درج ہو۔

۲۔ مسئلہ زیر بحث کے بارے میں حقائق کی تفصیل۔ اس ضمن میں اگر اخبارات میں یا تجزیاتی رپورٹوں میں حقائق پیش کیے گئے ہوں تو ان کا خلاصہ۔

۳۔ مسئلہ زیر بحث سے متعلقہ قرآنی آیات اور تفاسیر کا مختصر جائزہ۔

۴۔ مسئلہ زیر بحث سے متعلقہ احادیث نبی ﷺ اور شروح احادیث کا مختصر جائزہ۔ اس ضمن میں صحاح ستہ کے علاوہ دیگر اہم احادیث کے مجموعوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

۵۔ تمام مکاتب فکر خصوصاً‌ حنفی فقہ اور جعفری فقہ کی آراء اور اختلافات کا خلاصہ۔

۶۔ مسئلہ زیر بحث پر کونسل کی گذشتہ سفارشات کا حوالہ۔

۷۔ مسئلہ زیر بحث پر پاکستان اور عالم اسلام میں حالیہ قانون سازی کا جائزہ۔

مندرجہ بالا جائزوں کے ساتھ متعلقہ مواد کو شامل کرتے ہوئے اس مواد کی فہرست ریسرچ نوٹ کے آخر میں شامل کی جائے گی۔ ممکنہ مآخذ و مراجع کی فہرست اس کتابچے میں شامل ہے۔ ریسرچ نوٹ میں حوالہ جات کے طریقہ کار کے لیے اسی کتابچہ میں درج حوالہ جات کے طریقہ کار کی پابندی کی جائے گی۔

اجلاس کی روداد

روداد اجلاس کے ختم ہونے کے ایک ہفتہ کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔

روداد اجلاس کے ایجنڈا آئٹم کی ترتیب کے مطابق مرتب ہو گی۔ سب سے پہلے ایجنڈا آئٹم کی تفصیل جس میں اس کا پس منظر، مسئلہ زیربحث کا خلاصہ اور کونسل کے غور و خوض کی پیش رفت درج ہو گی۔ اس کے بعد اجلاس میں اتفاقِ رائے سے تشکیل پانے والی سفارش درج کی جائے گی۔ اگر اس آئٹم پر کوئی خصوصی کمیٹی مقرر کی گئی تھی تو اس کے تفصیلی فیصلے اور روداد کا خلاصہ شامل کیا جائے گا۔

آخر میں روداد کے تیار کرنے والے اور نظرثانی کرنے والے آفِسر کے دستخط ہوں گے۔ روداد چیئرمین کی منظوری کے بعد ہر صفحہ پر دستخط کے بعد ارکانِ کونسل کو بھجوا دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ 15 روز میں اس کی توثیق حاصل کر لی جائے گی۔ توثیق کے بعد اسے ریکارڈ میں محفوظ کر لیا جائے گا۔

سالانہ رپورٹ

کونسل سہ ماہی اور دیگر خصوصی اجلاسوں کی رودادوں اور سفارشات پر مبنی ایک سالانہ رپورٹ شائع کرتی ہے۔ عام طور پر رپورٹ کو مندرجہ ذیل پانچ اجزا میں ترتیب دیا جاتا ہے:

ا۔ جزء اول: اسلامی نظریاتی کونسل کا مختصر تعارف

۲۔ جزء دوم: کونسل کے اجلاسوں کی روداد۔ اس جزء میں مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت کونسل کے ہر اجلاس کی الگ رپورٹ پیش کی جاتی ہے:

(۱) اجلاس کا نمبر اور تاریخ
(۲) ایجنڈا
(٣) گذشتہ اجلاس کی روداد
(۴) گذشتہ اجلاس کی روداد پر عملدرآمد کی رپورٹ
(۵) مختصر روداد
(۶) ملحقات: جس میں ایجنڈا میں شامل امور سے متعلق دستاویزات کی نقول شامل ہوتی ہیں۔

۳۔ جزء سوم: کونسل کی قرارداد میں اور سفارشات۔ اس جزء میں کونسل کے اجلاسوں میں منظور شدہ قراردادوں اور سفارشات کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔

۴۔ جزء چہارم: کونسل کی سرگرمیاں

جزء پنجم: کونسل کا گوشوارہ بجٹ

کونسل کی دیگر مطبوعات
تحقیقی منصوبہ جات، جائزہ رپورٹیں، مقالہ جات، کتب

کونسل کی مطبوعات میں منصوبے کے اعتبار سے مندرجہ ذیل امور شامل ہوتے ہیں:

۱۔ زیر غور مسئلے کی وضاحت

۲۔ مسئلے پر گذشتہ تحقیقات کا تجزیاتی جائزہ

۳۔ مسئلے کے بارے میں ممکنہ اعداد و شمار اور واقعات کا جائزہ

۴۔ مسئلے سے متعلق قرآن و سنت کی تعلیمات کا جائزہ

۵۔ مسئلے سے متعلق کونسل کی سفارشات کا جائزہ

۶۔ مسئلے سے متعلق اسلامی ممالک میں قانون سازی کا جائزہ

۷۔ مراجع و مصادر

۸۔ اشاریہ

حوالہ جات کا طریقہ کار

کونسل کی سفارشات اور تحریریں مکمل استدلال اور حوالوں سے پیش کی جاتی ہیں۔ حوالہ جات کا طریق کار درج ذیل ہے۔

اقتباس

۱۔ جو عبارت، اقتباس یا خیال بطور ثبوت یا تائید پیش کیا جائے وہ اگر طویل ہو تو اصل لفظوں یا کُل عبارت کی صورت میں نہ درج کریں بلکہ اس کُل عبارت یا اقتباس کو اپنے لفظوں میں اختصار کے ساتھ تحریر کریں اور اس عبارت یا اقتباس کا مکمل حوالہ نیچے حاشیے میں درج کریں۔

متن کے اندر اقتباس کے طور پر کسی عبارت کو لکھتے ہوئے ان امور کا خیال رکھا جائے:

۲۔ اقتباس اگر تین سطروں سے کم ہو تو متن کے اندر ہی واوین میں لکھ دیا جائے۔ اگر اقتباس تین یا اس سے زائد سطروں پر مشتمل ہو تو اسے متن سے باہر الگ اور نئی سطر سے شروع کیا جائے اور دونوں طرف سے متن سے پونے انچ کے برابر حاشیہ چھوڑا جائے۔ اس صورت میں واوین لگانے کی ضرورت نہیں۔

۳۔ اقتباس کی عبارت میں علامتِ حذف کے طور پر صرف تین نقطے لگائیں۔

حواشی اور حوالے

۴۔ حواشی اور حوالے اسی صفحے پر صفحے کے نیچے درج کیے جائیں۔

۵۔ مکمل حوالہ سے مراد: مصنف کا نام، کتاب کا عنوان (خطِ نسخ میں)، مقامِ اشاعت: ناشر اور سنِ طباعت (تینوں معلومات قوسین میں)، جلد، صفحہ۔

مثالیں

ابن قدامہ، المغنی (بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ھ)، جلد ۱۰، ص ۵۱۵۔

شہاب الدین القرافی، الاحکام فی تمیز الفتاوی عن الاحکام [تحقیق: عبد الفتاح ابوغدہ]، (حلب: مطبوعاتِ اسلامیہ، ۱۹۶۷ء)، صفحات ۱۴۔۱۸۔

۶۔ رسالے، انسائیکلوپیڈیا یا کسی مجموعہ میں شائع ہونے والی تحریر کا حوالہ: مصنف کا نام، مضمون/ مقالہ/ باب کا عنوان، ایڈیٹر رسالہ/ انسائیکلوپیڈیا/ مجموعہ کا عنوان (مقامِ اشاعت: ناشر، سنِ طباعت)، جلد، صفحات۔

مثالیں

جوزف شاخٹ، ’’ثلاث محاضرات فی تاریخ الفقہ الاسلامی’’، صلاح الدین المنجد (مرتب) المنتقی من دراسات المستشرقین (قاہرہ: لجنۃ التالیف، ۱۹۵۵ء)، ص ۹۷۔

محمد نجات اللہ صدیقی، ’’مقاصد شریعت کی روشنی میں اجتہاد کی حالیہ کوششیں‘‘، فکر و نظر، (۲۰۰۷ء)، جلد ۴۴، شمارہ ۴، صفحات ۳۔۲۴۔

محمد خالد مسعود، ’’فتاوٰی دارالعلوم دیوبند‘‘، ترکی دیانت وقف اسلام انسائیکلو پیڈیا (ترکی زبان) (استنبول: ترکی دیانت وقف، ۱۹۹۵ء)، جلد ۱۲، صفحات ۴۴۰-۴۴۱۔

۷۔ اسی ماخذ کا دوبارہ حوالہ دیتے وقت صرف مصنف کا معروف نام اور کتاب کا سنِ اشاعت اور صفحہ درج کریں۔

شاخٹ ۱۹۵۵ء، ص ۹۶

صدیقی ۲۰۰۷ء، ص ۲۲

مسعود ۱۹۹۵ء، ص ۴۴۰

قرآن و تفسیر

۱۔ قرآنی آیات کے حوالے دیتے وقت بہتر ہے کہ اصل عربی متن نقل کیا جائے اور سورۃ کا نمبر، سورۃ کا نام اور آیت کا نمبر لکھا جائے:

مثال:  اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن (القرآن: الفاتحہ ۱:۱)

۲۔ ترجمہ کی صورت میں مترجم کا نام دیں اور ترجمہ قرآن کا مکمل حوالہ درج کریں۔

مثال:  قرآن کریم، ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی، النساء (۳:۴) (مدینہ منورہ: مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف، ۱۴۱۷ھ)، ص۲۲۔

۳۔ تفسیر کے حوالے کی صورت میں تفسیر کا مکمل حوالہ درج کریں اور اگر تفسیر حاشیے کی صورت میں ہو تو حاشیے کا نمبر بھی درج کریں۔

مثال:  قرآن کریم، تفسیر و حواشی مولانا صلاح الدین یوسف، النساء (۳:۴) (مدینہ منورہ: مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف، ۱۴۱۷ھ)، ص ۲۵، حاشیہ نمبر ۲۔

۴۔ تفسیر کے حوالے میں قرآنی سورۃ اور آیت کا حوالہ بھی درج کریں۔

مثال: ابن جریر الطبری، جامع البیان، البقرہ (بیروت: دارالفکر، ۱۴۱۵ھ)، جلد اول صفحہ ۴۶۸۔

۵۔ احادیث کے حوالے میں بھی مندرجہ بالا امور کے علاوہ باب اور کتاب کا عنوان درج کریں۔

مثال: محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب ۴۲ لاینکح الاب، حدیث رقم ۵۱۳۶، (ریاض: دارالسلام، ۱۹۹۹ء)، ص ۹۱۹۔

۶۔ کونسل کی سالانہ رپورٹوں کا حوالہ اس طرح دیں:

(ا) اگر صرف کونسل کی رائے یا فیصلے کا حوالہ دینا ہو تو موضوع یا سوال کا ذکر کرنے کے بعد کونسل کی رائے یا فیصلہ لکھیں اور یوں حوالہ دیں:
اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ ۲۰۰۵ء-۲۰۰۶ء (۲۰۰۶ء)، ص ۳۱۱۔
(ب) اگر خصوصی رپورٹ کا حوالہ دینا ہو تو یوں دیں:
اسلامی نظریاتی کونسل، خصوصی رپورٹ حدود و تعزیرات (۲۰۰۷ء)، ص ۱۳۰۔

۷۔ قانونی دستاویزات کا حوالہ اس طرح دیا جائے:

مجموعہ تعزیرات پاکستان، باب ۱۶، دفعہ ۲۹۹

۸۔ عدالتی مقدمات کا حوالہ اس طرح دیں:

محمد عثمان بنام حکومت پاکستان، 39 PLD 1991 ،FSC

۹۔ یوروپی زبانوں میں لکھے گئے مصادر کے لئے متن میں مصنف کا نام صوتی اعتبار سے اردو حروف میں لکھا جائے گا۔ مقالے یا کتاب کے عنوان کا اردو ترجمہ درج کریں گے۔ البتہ حوالہ جات میں مکمل حوالہ یوروپی زبان میں ہی دیا جائے گا۔

۱۰۔ عربی، اردو اور فارسی سے انگریزی زبان میں نقل حرفی کے لئے ایک چارٹ صفحہ ۳۲ پر الگ سے دیا گیا ہے۔

کتابیات

۱۱۔ تحریر کے آخر میں ان تمام کتابوں/ مراجع/ مصادر کی فہرست درج کریں جن سے اس تحریر میں استفادہ کیا گیا ہے۔ مختصرا یہ کہ

(۱) یہ فہرست الف بائی ترتیب سے ہو گی۔ ترتیب مصنف کے نام کے اعتبار سے ہو گی۔
(۲) مصنف کا نام دیتے وقت سب سے پہلے وہی نام دیا جائے گا جو حوالہ/ حواشی میں دیا گیا ہے۔ اس کے بعد مصنف کے نام کے باقی حصے درج ہوں گے۔
(۳) اس کے بعد بالترتیب کتاب/ مقالہ کا عنوان اور دیگر معلومات اسی ترتیب سے درج ہوں گی جس طرح حوالے میں دی گئی ہیں۔
(۴) اگلے صفحے پر چند مآخذ و مراجع بطور مثال درج کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد انگریزی کتابیات کی مثالیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

فہرست کتب

(جن کتابوں میں سن اشاعت نہیں دیا گیا وہاں 'ت۔ندارد‘ لکھا گیا ہے)

علوم القرآن

۱۔ الزرقانی، محمد عبد العظیم، مناہل العرفان (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۳ھ)

۲۔ الزرکشی، بدر الدین محمد بن عبد اللہ، البرہان فی علوم القرآن (بیروت: دارالفکر، ۱۴۲۰ھ)

۳۔ السیوطی، جلال الدین، الاتقان فی علوم القرآن (بیروت: دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۲۰ھ)

۴۔ الحجتی، ڈاکٹر باقر، تاریخ القرآن (قم: مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۲۰۰۳ء)

کتب تفسیر

۱۔ الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، جامع البیان (بیروت: دار المعرفۃ، ۱۴۰۹ھ)

۲۔ الجصاص، ابوبکر احمد بن علی الرازی، احکام القرآن (لاہور: سہیل اکیڈمی، ۱۴۰۰ھ)

۳۔ الزمخشری، جار اللہ محمود بن عمر، الکشاف (بیروت: دارالکتب العلمیہ ، ۱۴۱۵ھ)

۴۔ ابن العربی، ابوبکر محمد بن عبد اللہ، احکام القرآن (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۴۰۸ھ)

۵۔ الطبرسی، شیخ ابو علی فضل بن حسن، مجمع البیان (ایران: انتشارات ناصر خسرو، ۱۴۰۶ھ)

۶۔ الجوزی، ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد، زادالمسیر (بیروت: المکتب الاسلامی، ۱۴۰۷ھ)

۷۔ الرازی، فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر، التفسیر الکبیر (بیروت: دارالفکر، ۱۳۹۸ھ)

۸۔ القرطبی، ابو عبد اللہ محمد بن احمد، الجامع الاحکام القرآن (ایران: انتشارات ناصر خسرو، ۱۳۸۷ھ)

۹۔ البیضاوی، قاضی ابوالخیر عبد اللہ بن عمر، انوار التنزیل (مصر: دارفراس للنشر والتوزیع، ۱۴۱۴ھ)

۱۰۔ ابن تیمیہ، تقی الدین محمد، التفسیر الکبیر (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۰۹ھ)

۱۱۔ ابوحیان، محمد بن یوسف الاندلسی، البحر المحیط (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۰۹ھ)

۱۲۔ ابن کثیر، عماد الدین اسماعیل عمر، التفسیر العظیم (بیروت: دارالاندلس، ۱۳۸۵ھ)

۱۳۔ ابوسعود، محمد بن محمد عمادی، التفسیر (بیروت: دارالفکر، ۱۳۹۸ھ)

۱۴۔ ملاجیون، علامہ احمد جونپوری، التفسیرات الاحمدیۃ (کوئٹہ: مکتبہ حقانیہ، ت ندارد)

۱۵۔ الصاوی، احمد بن محمد صاوی، حاشیۃ علی الجلالین (قاہرہ: داراحیاء الکتب العربیۃ، ۱۴۲۱ھ)

۱۶۔ پانی پتی، قاضی ثناء اللہ، تفسیر مظہری (کوئٹہ: بلوچستان بک ڈپو، ۱۴۱۲ھ)

۱۷۔ الشوکانی، شیخ محمد بن علی، فتح القدیر (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۴۰۲ھ)

۱۸۔ الآلوسی، ابو الفضل سید محمد، روح المعانی (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۱ھ)

۱۹۔ بھوپالی، نواب صدیق حسن خان، فتح البیان (دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۰ھ)

۲۰۔ رضا، محمد رشید، المنار (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۴۰۹ھ)

۲۱۔ مراد آبادی، سید محمد نعیم، خزائن العرفان (لاہور: تاج کمپنی، ۱۴۱۴ھ)

۲۲۔ شفیع، مفتی محمد، معارف القرآن (کراچی: ادارۃ المعارف، ۱۳۹۷ھ)

۲۳۔ مودودی، سید ابوالاعلیٰ، تفہیم القرآن (لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، ۱۳۹۷ھ)

۲۴۔ المراغی، احمد مصطفیٰ، تفسیر المراغی (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۹۸۵ء)

۲۵۔ الشیرازی، آیت اللہ ناصر مکارم، تفسیر نمونہ (ایران: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۱۵ھ)

۲۶۔ الازھری، پیر محمد کرم شاہ، ضیاء القرآن (لاہور: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، ت ندارد)

۲۷۔ اصلاحی، شیخ امین احسن، تدبر قرآن (لاہور: فاران فاؤنڈیشن، ۱۴۲۷ھ)

۲۸۔ الزحیلی، ڈاکٹر وھبہ، التفسیر المنیر (بیروت: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۱۳ھ)

کتب احادیث

۱۔ امام مالک، مالک بن انس، المؤطا (کراچی: نور محمد اصح المطابع، ۱۹۹۵ء)

۲۔ الصنعانی، عبدالرزاق بن ھمام، المصنف (کراچی: ادارۃ القرآن، ۱۳۹۰ھ)

۳۔ ابن ابی شیبہ، ابوبکر عبد اللہ بن محمد، المصنف (کراچی: ادارۃ القرآن، ۱۴۰۶ھ)

۴۔ امام حنبل، احمد بن حنبل، المسند (بیروت: المکتب الاسلامی، ۱۳۹۸ھ)

۵۔ البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح (کراچی: نور محمد اصح المطابع، ۱۳۸۱ھ)

۶۔ مسلم، ابوالحسین مسلم بن حجاج القشیری، الجامع الصحیح (کراچی: نور محمد اصح المطابع، ۱۳۷۵ھ)

۷۔ ابن ماجہ، ابو عبد اللہ محمد بن یزید، السنن (کراچی: نور محمد کارخانہ تجارت کتب، ۱۳۹۶ھ)

۸۔ ابوداؤد، سلیمان بن اشعث، السنن (لاہور: مطبع مجتبائی، ۱۴۰۵ھ)

۹۔ الترمذی، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ، السنن (کراچی: نور محمد کارخانہ تجارت کتب، ۱۳۹۶ھ)

۱۰۔ الدارقطنی، علی بن عمر، السنن (ملتان: نشر السنۃ، ت۔ ندارد)

۱۱۔ النسائی، ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب، السنن (کراچی: نور محمد کارخانہ تجارت کتب، ۱۳۹۶ھ)

۱۲۔ النسائی، ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب، السنن الکبریٰ (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ)

۱۳۔ الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد، شرح مشکل الآثار (بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۵ھ)

۱۴۔ الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد، شرح معانی الآثار (بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۵ھ)

۱۵۔ الطبرانی، ابو القاسم سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۹۸۵ء)

۱۶۔ نیشاپوری، ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم، المستدرک (مکہ مکرمہ: دارالباز، ۱۴۱۲ھ)

۱۷۔ البیہقی، ابوبکر احمد بن حسین، السنن الکبریٰ (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۳ھ)

۱۸۔ البیہقی، ابوبکر احمد بن حسین، معرفۃ السنن الآثار (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۳ھ)

۱۹۔ البیہقی، ابوبکر احمد بن حسین، دلائل النبوۃ (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۴ھ)

۲۰۔ المنذری، زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقی، الترغیب والترہیب (قاہرہ: دارالحدیث، ۱۴۰۷ھ)

۲۱۔ التبریزی، امام ولی الدین الخطیب، مشکوٰۃ المصابیح (کراچی: محمد سعید اینڈ سنز، ت-ندارد)

۲۲۔ الہیثمی، نورالدین علی بن ابی ابوبکر، مجمع الزوائد (بیروت: دارالکتب العربی ۱۴۰۲ھ)

۲۳۔ الزیلعی، جمال الدین عبداللہ بن یوسف، نصب الرأیۃ (سورت ہند: مجلس علمی، ۱۳۷۵ھ)

۲۴۔ الماردینی، علاء الدین بن علی بن عثمان، الجوہر النقی (ملتان: دارالنشر، ت ندارد)

۲۵۔ عسقلانی، شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر، فتح الباری (لاہور: دار نشر الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۱ھ)

۲۶۔ العینی، بدرالدین محمود بن عینی، عمدۃ القاری (قاہرہ: ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، ۱۳۴۸ھ)

۲۷۔ المناوی، عبدالرؤف، فیض القدیر (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۳۹۱ھ)

۲۸۔ دہلوی، محدث عبد الحق، اشعۃ اللمعات (لکھنؤ: مطبع تچ کمار، ت۔ندارد)

۲۹۔ مبارک پوری، شیخ عبدالرحمٰن، تحفۃ الأحوذی (ملتان: نشر السنۃ، ۱۴۱۴ھ)

۳۰۔ کشمیری، انور شاہ، فیض الباری (قاہرہ: مطبعۃ الحجازی، ۱۳۷۵ھ)

۳۱۔ عثمانی، شیخ تقی، فتح الملہم (کراتشی: مکتبۃ دارالعلوم، ۱۴۰۹ھ)

۳۲۔ عثمانی، محمد تقی، تکملۃ فتح الملہم (کراتشی: مکتبۃ دارالعلوم، ۱۴۱۴ھ)

کتب فقہ

فقہ حنفی:

۱۔ السرخسی، شمس الائمۃ، المبسوط (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۳۹۸ھ)

۲۔ السمرقندی، ابواللیث نصر بن محمد، تحفۃ الفقہاء (مکہ: مکتبہ دارالباز، ۱۴۱۳ھ)

۳۔ الکاشانی، ابوبکر بن سعود، بدائع الصنائع (کراچی: ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی، ۱۴۰۰ھ)

۴۔ الزیلعی، جمال الدین عبداللہ بن یوسف، تبیین الحقائق (بیروت: دارالفکر، ۱۴۱۲ھ)۔

۵۔ ابن الہمام، کمال الدین محمد بن عبدالواحد، فتح القدیر (سکھر: مکتبہ نوریہ، ت۔ندارد)

۶۔ نظام الدین، ملا، فتاویٰ عالمگیری (قاہرہ: مکتبہ کبریٰ امیریہ بولاق، ۱۳۰۱ھ)

۷۔ الحصکفی، علاء الدین محمد بن علی بن محمد، الدر المختار (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۷ھ)

۸۔ ابن عابدین، سید محمد امین ابن عابدین شامی، ردالمختار (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۷ھ)

۹۔ مرغینانی، ابو الحسن علی بن ابی بکر، الہدایۃ (کراچی: مکتبہ بشریٰ، ۱۴۲۹ھ)

۱۰۔ ابن نجیم، البحر الرائق (مصر: مصطفیٰ البابی الحلبی، ۱۳۳۴ھ)

۱۱۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر (قاہرہ: دارالطباعۃ العامرۃ، ۱۳۹۰ھ)

فقہ مالکی

ا۔ امام مالک، المدونۃ الکبریٰ، روایۃ سحنون (قاہرہ: مطبعۃ السعادۃ، ۱۳۲۳ھ)

۲۔ الباجی، ابو الولید الاندلسی، المنتقیٰ شرح المؤطا (مصر: مطبعۃ السعادۃ، ۱۳۳۲ھ)

۳۔ ابن رشد الحفید، بدایۃ المجتہد (بیروت: دارالفکر، ت۔ندارد)

۴۔ الدسوقی، شمس الدین محمد بن عرفۃ، حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر (بیروت: دارالفکر، ت-ندارد)

۵۔ الحطاب، ابو عبد اللہ محمد بن، مواہب الجلیل (لیبیا: مکتبۃ النجاح، ت-ندارد)

۶۔ الدردیر، ابوالبرکات، الشرح الکبیر بحاشیۃ الدسوقی (بیروت: دارالفکر، ت-ندارد)

۷۔ علیش، الشیخ محمد، شرح منح الجلیل علی مختصر خلیل (مصر: المکتبہ الکبریٰ، ۱۲۹۴ھ)

فقہ شافعی

۱۔ امام شافعی، محمد بن ادریس، کتاب الأم (بیروت: دارقتیبۃ، ۱۴۱۶ھ)

۲۔ الشیرازی، ابو اسحاق، المہذب (بیروت: دارالمعرفۃ، ۱۳۹۳ھ)

۳۔ النووی، شرف الدین یحیٰی، روضۃ الطالبین (بیروت: المکتب الاسلامی، ۱۴۰۵ھ)

۴۔ الخطیب، الشیخ محمد الشربینی، مغنی المحتاج شرح المنہاج (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۴۱۴ھ)

۵۔ الرملی، شمس الدین محمد بن ابی العباس، نہایۃ المحتاج (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۴ھ)

۶۔ السیوطی، جلال الدین، الاشباہ والنظائر (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۷ھ)

فقہ حنبلی

۱۔ ابن قدامہ، موفق الدین عبداللہ بن احمد، المغنی (بیروت: دارالفکر، ۱۴۰۵ھ)

۲۔ البہوتی، منصور بن یونس بن ادریس، کشاف القناع عن متن الاقناع (مکہ مکرمہ: مطبعۃ الحکومۃ، ۱۳۹۴ھ)

۳۔ ابی القاسم، عبد السالم بن عبداللہ بن، المحرر فی الفقہ ابن تیمیۃ (الریاض: مکتبہ المعارف، ۱۴۰۴ھ)

۴۔ ابن تیمیۃ، ابوالعباس تقی الدین، مجموعۃ الفتاویٰ (مطبوعۃ ریاض، ۱۴۱۴ھ)

۵۔ ابن القیم، شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن ابی بکر، اعلام المؤقعین (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۷ھ)

فقہ ظاہری

ا۔ الاندلسی، ابن حزم، المحلی (مصر: ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، ت۔ندارد)

فقہ جعفری

الکلینی، محمد بن یعقوب، الکافی (الاصول والفروع) (ایران: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۹۱ھ)

۲۔ الطوسی، ابوجعفر محمد بن حسن الشیخ، تہذیب الأحکام (طہران: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۹۰ھ)

۳۔ الطوسی، ابوجعفر محمد بن حسن الشیخ، الاستبصار (طہران: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۹۱ھ)

۴۔ الشیخ الصدوق، من لا یحضرہ الفقیہ (طہران: دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۹۲ھ)

۵۔ الحر العاملی، وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ (طہران: مکتبۃ الاسلامیۃ، ۱۳۷۷ھ)

۶۔ الشہید الثانی، زین الدین الجبعی، شرح اللمعۃ (قم: منشورات دارالحکمۃ، (حجری)، ۱۴۲۰ھ)

۷۔ الجواہری، شیخ محمد حسن نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۹۸۱ء)

۸۔ جواد مغنیۃ، آیۃ اللہ محمد جواد، فقہ الامام جعفر الصادق (بیروت: دارالتیار الجدید، ۱۴۰۴ھ)

۹۔ الخمینی، روح اللہ الامام، تحریر الوسیلۃ (قم: مؤسسۃ مطبوعات دارالعلم، ت-ندارد)

۱۰۔ الخوئی، ابوالقاسم، مصباح الفقاہۃ (نجف: المطبعۃ الحیدریۃ، ۱۳۷۴ھ)

۱۱۔ الخوانساری، سید احمد، جامع المدارک فی شرح المختصر النافع (طہران: مکتبۃ الصدوق، ۱۳۶۴ھ)

فقہ زیدیہ

۱۔ الامام زید بن علی بن الحسین، مجموع الفقۃ (طبع میلانو: Eugenio Grittini)، ۱۹۱۹ء)

۲۔ المرتضیٰ، الامام احمد، شرح الازہار (صعدۃ، یمن: النور للدراسات والبحوث والتحقیق، ت-ندارد)

۳۔ الصنعانی، شرف الدین الحسین بن احمد، الروض النضیر شرح مجموع الفقہ الکبیر (القاہرہ، ۱۳۳۷ھ)

۴۔ عزان محمد، حیّ علی خیر العمل (صعدۃ، یمن: النور للدراسات والبحوث والتحقیق، ۱۴۱۹ھ)

احادیث کی تخریج و تحقیق

۱۔ الزیلعی، جمال الدین الحافظ، نصب الرأیۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ (ادارالمأمون، ۱۳۵۸ھ)

۲۔ وینسک، المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی (لیدن: مکتبۃ بریل، ۱۹۳۶ء)

۳۔ الالبانی، شیخ ناصر الدین، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (الریاض: مکتبۃ المعارف للنشر والتوزیع، ۱۴۱۵ھ)

۴۔ بسیونی، ابو طاہر محمد السعید بن زغلول، موسوعۃ اطراف الحدیث النبوی (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۴ھ)

۵۔ الشوکانی، محمد بن علی بن محمد، نیل الاوطار (مصر: الطبعۃ المنیریۃ، ۱۴۰۲ھ)

۶۔ بریلوی، امام احمد رضا خان، جامع الاحادیث (لاہور: شبیر برادرز، ۱۴۲۴ھ)

تقابل فقہ

۱۔ الوزیر، ابن ہبیرۃ الشیبانی، ابی المظفر یحیٰی بن محمد، اختلاف الأئمۃ العلماء (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۳ھ)

۲۔ الزحیلی، دکتور وہبہ، الفقۃ الاسلامی وادلتہ (کوئٹہ: مکتبہ رشیدیہ، ۲۰۰۷ء)

۳۔ الجزیری، عبدالرحمٰن، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۶ھ)

۴۔ جواد مغنیۃ، محمد، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ (بیروت: دارالتیار الجدید، ۱۴۰۴ھ)

یورپی زبانوں میں کتابیات

یورپی زبانوں میں کتابیات کی فہرست کی تیاری کے لیے مندرجہ ذیل مثالوں سے مدد لی جائے گی۔

1. A book by a single author
Ruddock, J., Innovation and Change: Developing Involvement and Understanding (Milton Keynes: Open University Press, 1991), 30-35.
2. A translation of an author's work
Rousseau, J.J., The Confessions of Jean-Jacques Rousseau. Trans. J.M. Cohen (Harmondsworth: Penguin Books, 1953).
3. An article in a Journal/periodical
Kaye, M. and Taylor, W.G.K., "Expartriate Culture Shock in China: A Study in the Beijing Hotel Industry", Journal of Managerial Psychology, (1997), Vol. 12, No. 8, 496-510.
4. An article in a book
Taylor, W.G.K., "Management Consultancy Interfaces in India: A Perspective", In Prasad, R.R., Shukla, S.R.P. and Kumar, A. (Eds.), Indian Management: Emerging Responses (New Delhi: Tata McGraw-Hill Publishing, 1995).
5. A newspaper article
Bishop, J., 'Mental Maps', Times Educational Supplement, (1997), No. 3161, 2 January, 14.
6. A thesis or dissertation
Kaye, M., 'Expatriate Culture Shock: Investigating a Role for Training', Unpublished M. Ed. dissertation, University of Sheffield, (1997)
7. A conference paper
Taylor, W.G.K. and Lowe, E.A., "Management of Research in the Life Sciences", Paper given at the International Conference on Research Management (Manchester Business School, Manchester, 1985).

ہدایات برائے کمپوزنگ

(اسلامی نظریاتی کونسل (۲۰۰۹ء) سلسلہ مطبوعات نمبر ۸۱)


تعلیمی کیریئر کب اور کیسے منتخب کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر ناصر محمود

انٹرویو نگار : فخر الاسلام

فخر الاسلام: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم ناظرین۔ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اور جب ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ایک بڑا ہی ضروری معاملہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کس قسم کی تعلیم حاصل کریں اور کون سی تعلیم حاصل کریں۔ ہمارا جو اکیڈمک کیریئر ہوتا ہے اس کے اندر ہمیں ایک وقت میں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مجھے سائنس میں جانا ہے، مجھے آرٹس میں جانا ہے، مجھے کامرس میں جانا ہے، مجھے کمپیوٹر میں جانا ہے، مجھے آئی ٹی کی فیلڈ میں جانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس وقت ہمیں کرنا چاہیے؟ یا بچے کے لیے کس وقت یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے یا اس کے والدین یہ فیصلہ کریں؟ اور جب انسان فیصلہ کرتا ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ یہ فیصلہ کس طرح کیا جائے؟ اس کے بارے میں جو اس کی پروفیشنل گائیڈنس ہے اور جو اس کے بارے میں معلومات ہیں یقیناً ہر والدین کا مسئلہ ہے۔ جن کے بچے بھی تعلیم کے اندر آ چکے ہیں یا پڑھنے کا انہوں نے آغاز کر دیا ہے، ان کو کسی نہ کسی مرحلے میں جا کے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہمیں کس فیلڈ میں جانا ہے۔

تو آج ہم نے سٹوڈیو میں ایک ایسی شخصیت کو دعوت دی ہے جو کہ اپنی فیلڈ کے ایکسپرٹ ہیں، اکیڈمک کے بہت بڑے استاد ہیں اور انہوں نے اکیڈمک کے میدان میں اتنے شاندار کام کیے ہیں کہ ہم ان سے یہ بات ضرور جان سکتے ہیں کہ آپ ہمیں اس بارے میں گائیڈ کریں۔ ہمیں گائیڈ کریں، ہمارے والدین کو گائیڈ کریں کہ کس طرح ہم اپنے بچوں کی فیلڈ کا انتخاب کر سکیں، ان کے اکیڈمک کیریئر کا انتخاب کر سکیں۔ ہمارے ساتھ آج موجود ہیں پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود صاحب۔ آپ وائس چانسلر ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اور ریکٹر ہیں ورچوئل یونیورسٹی کے، ان سے جانتے ہیں کہ When and how to decide academic career السلام علیکم سر۔

ڈاکٹر ناصر محمود: وعلیکم السلام، جی بہت شکریہ۔

فخر الاسلام: سر، آپ کا بہت شکریہ آپ نے وقت دیا۔ میں نے جیسے اپنے اِنٹرو میں کہا، ڈاکٹر صاحب، کہ بچے کو ایک وقت میں یہ انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ میں کس فیلڈ میں جاؤں گا یا مجھے کس فیلڈ میں جانا چاہیے۔ تو آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کب بچے کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے یا اس کے والدین کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے بچے کو کس فیلڈ میں بھیجنا ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: دیکھیں یہ بڑا ایک سینس میں کریٹیکل سوال ہے بہت کہ یہ اوورنائٹ آپ کو نظر نہیں آتا کہ کسی بھی بچے کا یا ایڈلٹ کا رجحان کس طرف ہوگا۔ یہ فیصلہ آپ اس کے ایپٹیٹیوڈ کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ آپ اس کی پرفارمنس مختلف سبجیکٹس میں، یا اس کا انٹرسٹ کسی چیز میں۔ اچھا، یہ چیزیں ہمیں اوور دی پیریڈ نظر آتی ہیں۔ اگر آپ ہمارے موجودہ نظام کو دیکھیں تو ہم پہلا میجر فیصلہ کسی بچے کی تعلیم کی سمت کا، سبجیکٹ چوائس کے لحاظ سے، میرا خیال ہے گریڈ ایٹ میں جا کے یا آٹھویں کے بعد کرتے ہیں جب وہ نویں دسویں میں آجاتے ہیں، یا دوسرے سینس میں او لیول، اے لیول۔ میری اگر آپ ذاتی رائے اس میں پوچھیں تو ہم اپنے ان معاملات میں بہت زیادہ ریجڈ ہیں۔ ہم نے یہ طے کر رکھا ہوا ہے کہ انجینیئر بننا ہے تو آپ میتھ فزکس پڑھ لو، آپ نے میڈیسن کی طرف جانا ہے یا کوئی بائیو ٹیکنالوجی ریلیٹڈ فیلڈ ہے تو بائیولوجی وغیرہ پڑھو۔ اور اب ہم نے آئی ٹی اور کامرس اور یہ کچھ سٹریمز تھوڑی سی ایڈ کر دی ہیں۔ 

اچھا یہ بہت ارلی ایج ہے، آٹھویں جماعت جو ہے۔ بہت دفعہ اس میں آپ کو درست سمجھ نہیں آ پاتی یا بچوں کا اپنا انٹرسٹ اوور دی پیریڈ چینج ہو جاتا ہے۔ جب وہ ایک سٹریم میں انٹر ہو گیا تو پھر آگے ہمیں کیریئر پاتھ ویز کو بہت ریجڈ نہیں رکھنا چاہیے کہ میں غلطی سے اگر ایک سائیڈ پہ آ گیا تو اب مجھے کسی سٹیج پہ ایسے خیال آئے کہ نہیں یار یہ سوٹیبل نہیں تھا یا مجھے کوئی اور آپشن دیکھنی چاہیے۔ تو آپ کا جو اکیڈمک پاتھ ہے وہ اس کو بڑی مشکل سے الاؤ کرتا ہے۔ پہلے تو الاؤ ہی نہیں کرتا تھا۔ اب تھوڑا بہت گنجائش پیدا کی تو راستہ بہت مشکل بنایا ہوا ہے کہ اس کو شفٹ کرنا بڑا مشکل ہے۔ اور خاص طور پہ آپ دیکھیے کہ اگر آپ ٹیکنیکل سٹریم سے جنرل سٹریم، اور جنرل سٹریم سے ٹیکنیکل سٹریم میں جانا چاہیں تو پریکٹیکلی پوسیبل ہی نہیں ہم نے رکھا ہوا اس کو، آج کے دور میں بھی۔ 

سو کیریئر کا پہلا فیصلہ میرے نزدیک جب ہم گریڈ ایٹ کی سٹیج پہ کرتے ہیں تو اس وقت دو باتوں کے پیش نظر عموماً ہم کرتے ہیں: ایک ایپیٹیوڈ کے لحاظ سے، دوسرا اس کی اکیڈمک پرفارمنس کے لحاظ سے، تیسرا اس کا جو انٹرسٹ ڈویلپ ہوا ہوتا ہے۔ ان میں دو چیزوں کی میژرمنٹ ہم کوئی نہیں کر رہے: نہ ایپیٹیوڈ کی میژرمنٹ کرتے ہیں، نہ ہی اس کے انٹرسٹ کی کرتے ہیں۔ انٹرسٹ کا معیار یہ بنا ہوا ہے کہ جیسے آج کے دور میں آئی ٹی کا رجحان ہے تو پاکستان کا ہر بچہ ادھر جانا چاہتا ہے اور ہر والدین بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ ادھر چلا جائے، ارریسپیکٹو کے اس چیز کا ایپیٹیوڈ ہے یا نہیں ہے۔ ارریسپیکٹو آف دی فیکٹ کہ وہ اس میں پرفارم بھی کر رہا ہے یا نہیں کر رہا۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، میں اس میں ایک سوال پہلے کرلوں آپ سے۔ آپ نے فرمایا کہ ٹیکنیکل سٹریم سے جنرل سٹریم میں، اور جنرل سٹریم سے ٹیکنیکل سٹریم میں۔ اس کی میں مثال دے دیتا ہوں کہ آپ نے پری میڈیکل کر لیا ایف ایس سی کے اندر، اب آپ کو ایک اسٹیج پہ جا کے اندازہ ہوا کہ نہیں یار مجھے تو انجینئرنگ میں جانا تھا، یا میرا انٹرسٹ کمپیوٹر میں ہے، تو چونکہ آپ نے میتھمیٹکس نہیں پڑھا ہوا اِنٹر میں، اب یا تو آپ کو کوئی ایڈیشنل ایگزیم دینا پڑے گا میتھمیٹکس کا، یا کوئی اور۔ اچھا ایسی سچوئشن میں آپ کیا سمجھتے ہیں ایز اکیڈمک ایکسپرٹ، کیا ہمیں اس کو تھوڑا سا زیادہ فلیکسیبل نہیں رکھنا چاہیے کہ اگر آپ کو لگتا ہے تو کوئی بات نہیں آپ اس فیلڈ میں آجائیں اور آگے آپ اس میں میتھمیٹکس بھی پڑھ لیں گے، چیزیں آپ کی آہستہ آہستہ ڈیویلپ ہو جائیں گی۔

ڈاکٹر ناصر محمود: جی بالکل ایسے ہی ہے۔ دیکھیے یہ جو ابتدائی سال ہیں نا سکول کے، آپ اس کو بے شک میٹرک تک بھی سمجھ لیں تو میں اس کو یہاں تک بھی گن لوں گا۔ یہ فیکلٹیز آف مائنڈ کی ڈویلپمنٹ کے سال ہیں۔ یعنی آپ کمپارٹمنٹلائز نہیں کرتے۔ مجھے ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے، سکسیس فل لائف کے لیے، فرض کر لیں میرے اندر کریٹیکل تھنکنگ ہونا ضروری ہے، میرے اندر پرابلم سالونگ کی سکل ہونی چاہیے، میرے اندر نیگوسیشن کی سکل ہونی چاہیے، میرے اندر کمیونیکیشن کی سکل ہونی چاہیے۔ یہ سکلز سبجیکٹ یا ڈسپلن باؤنڈ نہیں ہیں، یہ زندگی کے ہر شعبے میں کام آتی ہیں۔ سو ابھی جب میں گریڈ ایٹ کی بات کروں تو ابھی تو مجھے صرف اور صرف یہ ڈویلپ کرنا تھا کہ یہ جو بیسک فیکلٹیز آف مائنڈ ہیں، ذہن کے ان معاملات میں تربیت کر دی جائے۔ پھر اس کے بعد موقع ملنا چاہیے کہ آپ یہ تعین کریں کہ آپ نے کس فیلڈ میں جانا ہے۔ اور اس کا تعین کرنے کے لیے بھی سب سے اہم نہیں، بلکہ میں کہوں گا ایک ہی چیز میٹر کرتی ہے، جس کا کیریئر ہے وہ کیا چاہتا ہے؟ ہم آپ اس کی رائے کو سنیں۔ مطلب میں چاہتا ہوں میرا بیٹا یہ بنے، تو یہ لازم نہیں ہے کہ وہ بھی وہ بننا چاہتا ہے۔

فخر الاسلام: ہاں، میرا انٹرسٹ تو ہے لیکن شاید بچے کا انٹرسٹ ہے کہ نہیں۔

ڈاکٹر ناصر محمود: اس کا انٹرسٹ ہونا ضروری نہیں ہے اس کے اندر۔ اچھا اب میں یہ فیصلہ کروانے کے لیے اساتذہ سے، بچے سے، اپنے آپ کے اس فیصلے کو توثیق دینے کے لیے، میں یہ کرتا ہوں کہ اس کو اس کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا ہوں، اس کو معاشرتی طور پہ اس کا مقام سمجھانا شروع کر دیتا ہوں، کیریئر اپورچونٹیز جوڑ کے دکھانا شروع کر دیتا ہوں۔

فخر الاسلام: ایک لحاظ سے اس کو پرسوئیڈ کر رہے ہوتے ہیں ہم۔

ڈاکٹر ناصر محمود: بالکل۔ ہم اس کو پرسوئیڈ کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کا دل چاہے یا نہ چاہے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کے لیے اچھا ہو جائے گا، تو آپ یہ کر لیجیے۔ کیریئر اپورچونٹیز کا تعلق لوگوں کو فورس کر کے کسی کیریئر میں پہنچانے سے نہیں ہوتا۔

فخر الاسلام: اس کے اپنے انٹرسٹ کی وجہ سے ہو گا، اس کے ایپٹیٹیوڈ کی وجہ سے ہو گا۔

ڈاکٹر ناصر محمود: مثال کے طور پہ ایک بچہ شیف بننا چاہتا ہے۔ کوئی ہے آج کے طور میں پیرنٹ جو کہتا ہو کہ میں اپنے بچے کو شیف بناؤں گا۔ کیا آپ کی نظر میں دنیا میں ایسے شیف نہیں ہیں جو اپنی اس صفت کی وجہ سے ریسپیکٹ کیے جاتے ہیں، جانے جاتے ہیں، مشہور ہیں۔

فخر الاسلام: اور فائنیشلی بھی سٹرونگ ہوں گے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: اور فائنیشلی بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔ لیکن میں کسی کو بائی پلان یہ کیریئر نہیں بنانے دیتا۔ کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ میرے معاشرے میں یہ کیریئر قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے ساتھ مثلاً اداکاری ہے۔ کیا مضائقہ ہے اگر کوئی بندہ پڑھ کے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، اگر کوئی اپنا باربر یا یا سیلون بناتا ہے تو اس میں کیا ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: تو کیا حرج ہے اس کے اندر جی؟ آپ کو بے شمار لوگ ملیں گے (مثلاً‌) جو بائی پروفیشن انجینئر تھا، بعد میں سیلون کھول لیا۔ بائی پروفیشن انجینئر تھا، بزنس آئی ٹی کا کر رہا ہے۔ سو اس کا مطلب ہے لوگ کر سکتے ہیں ایکسل۔ کیونکہ کسی بھی کاروبار میں، کسی بھی کیریئر میں، ایکسل کرنے کا تعلق ان چیزوں سے نہیں ہے کہ معاشرے میں۔ وہ آپ کے اندر کی ایک لگن ہے اس چیز کے ساتھ جس سے آپ ڈسٹنکٹ ہوتے ہیں۔ تو کیریئر پاتھ میری رائے میں اوپن کرنے چاہئیں بہت سارے۔ اور ایک سٹیج پہ کیے ہوئے فیصلے کو دوسرے سٹیج پہ کریکٹ کرنے کی ضرورت پڑے کسی انڈیویجول کو، تو فیسیلیٹیٹ کرنا چاہیے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب آپ نے When کا تو آنسر کیا کہ آپ کے خیال میں ایٹ گریڈ کے اندر، ایٹ گریڈ سے پہلے اس کے اندر بیسک سکلز پیدا کرنی چاہئیں، اس کے بعد پھر اس کو۔

ڈاکٹر ناصر محمود: ہائی سکول کے بعد۔

فخر الاسلام: ہائی سکول کے بعد۔ اور تھوڑا اس کو بھی اوپن رکھنا چاہیے کہ اگر اس کے بعد بھی کوئی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ میرے لیے یہ فیلڈ نہیں، یہ فیلڈ بہتر ہے، اس کے پاس آپشن ہو کہ اس میں جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب، میرا اگلا سوال یہ کہ اپٹیٹیوڈ اور انٹرسٹ کی بات آپ نے کی کہ آپ بچے کا ایپٹیٹیوڈ دیکھتے ہیں، اس سبجیکٹ میں یا فیلڈ میں، یا اس کا انٹرسٹ دیکھتے ہیں۔ اچھا ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اگر استاد اچھا مل گیا کسی کو، میتھمیٹکس کا اچھا استاد مل گیا، تو اس سے اس کا انٹرسٹ ڈیولپ ہو گیا اس کے اندر۔

ڈاکٹر ناصر محمود: بالکل ایسا ہی ہے۔

فخر الاسلام: کسی کو انگلش کا اچھا استاذ مل گیا تو اس کا انگلش میں انٹرسٹ ڈیویلپ ہو گیا۔ تو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آپ کے اندر کی اِنٹرنل ٹینڈنسی ہے، انٹرسٹ جو ہے، یا جو آپ کی انوائرمنٹ ہے وہ آپ کو اس میں سپورٹ کرتی ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: دیکھیے، بالکل انوائرمنٹ کا بڑا امپارٹنٹ رول ہے اس کے اندر، لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ دیکھیے جن لوگوں کو میں نے دیکھا زندگی میں کہ وہ اس طرح کا رجحان رکھتے تھے اور ہم نے انہیں ان کے رجحان سے ہٹ کے کوئی کام کروانے کی کوشش کی، تو آپ دیکھیے گا لانگ رن میں اوور دی پیریڈ وہ جا کے واپس ادھر ہی آتے ہیں جس طرف ان کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو، یہ جو بنیادی صفات آپ نے بتائی ہیں، کریئیٹیویٹی ہے، پرابلم سالونگ ہے، کمیونیکیشن ہے اینڈ سو آن۔ یہ سب لوگوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک پوٹینشل رکھا ہوا ہے۔ یہ بات میرا ذہن نہیں مانتا کبھی بھی کہ وہ لوگوں کو بناتے وقت یہ تفریق رکھتا کہ میں کسی کو تو یہ زیادہ دے دوں اور کسی کو کم۔ ہاں، اللہ تعالیٰ نے وہ پوٹینشل دے دیا۔ اس پوٹینشل کا کتنا حصہ آپ یوٹیلائز کرتے ہیں اور کون سا حصہ یوٹیلائز کرتے ہیں؟ یہ ماحول ہے۔ یہ نرچر ہے آپ کا۔ ایک استاد کے گھر میں اگر آپ پیدا ہو گئے تو آپ کے استاد بننے کے امکانات ایز اے کیریئر بڑھ جاتے ہیں۔ آپ ڈاکٹر فیملی میں پیدا ہو جائیں، آپ کے ڈاکٹر بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ اپنے اردگرد ماحول میں اس کو دیکھتے ہیں۔ آپ کا ایکسپوژر آپ کے اندر وہ انٹرسٹ اور ایپٹیٹیوڈ پیدا کر دیتا ہے۔ سو انوائرمنٹ جو ہے وہ آپ کی ان بنیادی چیزوں میں سے چوز کرنے میں، انٹرسٹ ڈویلپ کرنے میں بہت سارا رول پلے کرتا ہے۔ اگر آپ کسی کی فری چوائس کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کو ان تمام چیزوں کا ایکسپوژر پرووائیڈ کر دیں۔ اور سکول جو ہیں وہ اس کام کے لیے مناسب جگہ ہیں۔ سکول کو کسی ایک طرف، کسی ایک کیریئر کی طرف لوگوں کو نہیں لے جانا چاہیے، آپ کو تمام کیریئرز کی پاسبیلیٹی کا ایکسپوژر ملنا چاہیے، اور پھر آپ فریلی چوز کریں۔ اور اس صورتحال میں جو آپ چوز کریں گے وہ آپ کے ایکسل کرنے کے لیے بہترین ہو گا۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، آپ کی اس بات سے میرے ذہن میں ایک اور سوال بھی آ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ انٹرسٹ جو ہوتا ہے، یہ جو سوفٹ سکلز ہوتی ہیں، جیسے آپ نے بتایا، کریئیٹیویٹی ہے، کمیونیکیشن سکلز ہیں، پرابلم سالونگ ہے، ڈیسیژن میکنگ ہے۔ یہ سوفٹ سکل، آپ نے فرمایا کہ، آپ کا خیال ہے کہ بالکل یہ ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ لیکن یہ جو آرٹس کے اندر انٹرسٹ ہے، یا کامرس میں انٹرسٹ ہے، یا آپ کا میڈیکل کے اندر انٹرسٹ ہے، انجینئرنگ کے اندر انٹرسٹ ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایسے ہی ہوتا ہے کہ ایکولی ڈسٹریبیوٹ ہوتا ہے اور پھر بعد میں اس کا انٹرسٹ انوائرمنٹ کے تحت ڈیسائیڈ ہوتا ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: دیکھیے، بنیادی فیکلٹیز جو چاہیے ہوتی ہیں ان میں سے کسی بھی سبجیکٹ کو پرسُو کرنے میں، وہ سیم ہیں۔ لیکن آپ کا انٹرسٹ ان میں سے کسی ایک پرٹیکولر پروفیشن کی طرف ہو جائے گا، اس کا تعلق آپ کے انوائرمنٹ سے ہے، آپ کے ایکسپوژر سے ہے، ضرورت سے ہے، معاشرے کے اندر ایکسیپٹیبلٹی سے ہے۔ سو آپ کی صحبت سے ہے۔ جس طرح کے دوستوں میں آپ اٹھتے بیٹھتے ہیں، اسی طرح کے کاموں کی طرف آپ کا رجحان بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ سو یہ اس سے متعلق چیز ہے۔

اب دیکھیے اداکاروں کے بچے اداکار بنتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟ اساتذہ کے بچے اساتذہ، لائیرز کے بچے لائیر، ڈاکٹرز کے بچے ڈاکٹر۔ تو کیا وہ پیدائشی طور پہ یہ ایپٹیٹیوڈ لے کے پیدا ہوتے ہیں سارے؟ یہ اتفاق کی بات ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹرز کی فیملی میں پیدا ہو جائے گا تو وہ ڈاکٹر کا کچھ رجحان لے کے پیدا ہوتا ہے۔ نہیں، رجحان جو وہ لے کے پیدا ہوتا ہے وہ وہی بنیادی باتیں ہیں جو میں نے آپ سے عرض کیں۔ ہاں وہ ماحول پھر اس کو اپنی طرف اٹریکٹ کر لیتا ہے۔ اچھا، اس میں بہت سارے فیصلے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔ مثلاً لائیرز کی فیملی میں پیدا ہو گیا، ہر وقت میرے اردگرد جو گفتگو ہے وہ لاء سے ریلیٹڈ ہوتی ہے، میں وہی سنتا ہوں، تو میرا رجحان اس کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ کیوں؟ کہ مجھے اور کسی چیز کا ایکسپوژر ہی نہیں ہے۔ اگر مجھے وہ ایکسپوژر مل جاتے تو میں ہو سکتا ہے کہ ادھر آنے کی بجائے کسی اور طرف چلا جاتا۔ جو میں ابھی عرض کر رہا تھا کہ فیملی ایک انفلوئنس ہے، مختلف پوسیبیلٹیز کا ایکسپوزور، یہ سکولوں کا کام ہے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، یہاں سے میرے ذہن میں سوال آ رہا ہے، ایکسپوژر۔ بچہ ایٹ گریڈ سے نائنتھ گریڈ میں آیا۔ اچھا، اس کو کس طرح سمجھایا جائے، یا آپ اپنے پرسنل ایکسپیرئنس سے، یا آپ کے نالج کے حوالے سے بتائیے ہمیں، کس طرح اس کو بتایا جائے کہ بیٹا یہ کامرس ہوتا ہے، یہ میڈیکل ہوتا ہے، یہ فلاں ہوتا ہے، آپ کس میں جانا چاہتے ہیں؟ کیا وہ نائنتھ گریڈ کے اندر یہ ڈسائیڈ کر رہا ہے کہ میں نے سائنس پڑھنی ہے، میں نے کمپیوٹر کے ساتھ پڑھنا ہے، یا میں نے آرٹ کے ساتھ پڑھنا ہے۔ تو یہ کس طرح اس کو ایکسپوز کروایا جائے ان چیزوں کے ساتھ؟

ڈاکٹر ناصر محمود: ہم آلریڈی یہ کرواتے ہیں۔ دیکھیے، مختلف طرح کے مضامین جو ہم پڑھاتے ہیں، آپ کو فرض کر لیجیے کہ آئی ٹی کے فیلڈ میں جانا ہو، بغیر آپ میتھمیٹکس کی ساونْڈ بیس کے، آپ اس میں ایک لمٹ سے آگے ایکسل نہیں کر سکتے۔ آپ کو یہ بتانا، یا اس بات کی وضاحت آپ پہ کرنا کہ آپ کو اگر کسی ایک پرٹیکولر فیلڈ کو چوز کرنا ہے تو آپ اس کے لیے سوٹیبل ہیں یا نہیں ہیں، یہ دیکھنا ہے تو آپ یہ بنیادی سکلز دیکھیے کہ آپ کی کیسی ہیں؟ اگر آپ یہ ججمنٹ ٹھیک کر لیں گے تو آپ اس فیلڈ میں چلے جائیں آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ آپ ان کی ججمنٹ کیے بغیر چلے جائیں گے تو ممکن ہے آپ پھر بھی چلتے رہیں لیکن آپ اس کی اس کلاس میں نہیں پہنچ سکیں گے جہاں پہ وہ بنیادی ضرورت ہے پہنچنے کے لیے۔ 

سو، جب میں کہتا ہوں ایکسْپوزر دینا ہے تو ایکسْپوزر یہ نہیں ہے کہ میں ایک کورس رکھ دوں اور اس کورس کے ہر روز ایک لیکچر دیا کروں کہ اکاؤنْٹینٹ بننا ہو تو اس کے یہ فوائد ہیں یہ نقصان ہے، آپ نے لائیر بننا ہو تو یہ فوائد ہیں اور یہ نقصانات ہیں۔ یہ بتانے سے نہیں ہے بات۔ یہ ماحول کے اندر ایکسْپوزر موجود ہوتا ہے۔ اور ان چیزوں سے اویئرنیس کہ اگر آپ نے فیصلہ کر لیا کہ آپ اچھے کرکٹر بننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بنیادی سکلز کون سی چاہئیں؟ آپ اپنے آپ کو اسیس کریے کہ وہ سکلز آپ کے اندر ہیں یا نہیں ہیں۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں وہ ہیں، تو پھر اداروں کا کام ہے کہ ان سکلز کو پالش کرنے کے لیے، بہتر بنانے کے لیے، مدد کرنے کا نظام ادارے میں موجود ہونا چاہیے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، آپ کا چونکہ ایکسْپوزر جاپان کا بھی ہے اور باقی ممالک کا بھی ہے۔ ہم جو سبجیکٹ پڑھاتے ہیں یہاں پہ، ہمارے یہاں اردو ہے، انگلش ہے، اسلامیات ہے، مطالعہ پاکستان ہے، سائنس ہے، اور اگر سائنس پہ آتے ہیں تو فزکس ہے، کیمسٹری ہے، بائیو ہے، کمپیوٹر سائنس ہے۔ وہاں پہ بھی سبجیکٹ یہی پڑھائے جاتے ہیں یا وہاں پہ کچھ اور سبجیکٹ بھی اس کے اندر ایڈیشن میں ہوتے ہیں، یا اس سے کچھ اور سبجیکٹ ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: ہم جس طرح کے سوشیو کلچرل یا جیوگرافیکل سیٹ اپ میں بیٹھے ہوئے ہیں، پاکستان بننے کے بعد ہمیں یہ لگا کہ ہماری سرحدوں کا تحفّظ اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ ہمارے بچے آئیڈیالاجی آف پاکستان، ہسٹری آف میکنگ آف پاکستان، اور اس سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کا جو دور گزرا، ان چیزوں کو جتنا اچھا جانیں گے بلکہ اچھا نہیں ہمارا پرسْپیکٹیو جتنا اچھا سمجھیں گے، تو شاید ہم ایْز اے قوم انٹیگریٹڈ رہیں گے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ اسی طرح آپ اسلامیات کو لے لیجیے، باقی مضامین کو لے لیجیے۔ 

عمومی طور پہ جب آپ بڑے گریڈز میں چلے جاتے ہیں پرٹیکولرلی 12 سے 14 وغیرہ گریڈ، سکول کے بیونْڈ، تو لوگ ان مضامین پہ بہت زیادہ وقت نہیں صَرف کرتے۔ اس امّید کے ساتھ کہ میں نے دس سال ان کو پڑھا دیا، اب ان کی ایک بیس بن گئی ہوئی ہے۔ اب یہ اس کے بارے میں اپنی رائے رکھنے اور اس کو مزید پڑھنے کے قابل ہو چکے ہوئے ہیں۔ ہم نے سم ہاؤ ایون انڈر گریڈ کورسز چھوڑ دیں، ہم ایم ایْس کے کورسز میں بھی یہ چاہتے ہیں کہ اسلامیات بھی مسلسل پڑھی جانی چاہیے، بلکہ ایک صورت میں نہیں، تفہیم القرآن بھی ہونا چاہیے، اسلامیات بھی ہونی چاہیے، حدیث کا علم بھی ہر ایک کو پڑھنا چاہیے۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ پھر پاکستان سٹڈیز بھی پڑھنی چاہیے، کانسٹیٹیوشن آف پاکستان کا بھی کورس پڑھنا چاہیے۔ 

جب آپ پروفیشنل ڈگریز میں جاتے ہیں تو وہاں آپ کو اچھا پروفیشنل بننا چاہیے۔ میری اَزمپشن یہ ہے کہ یہ جو پہلے میں نے جتنی باقی چیزیں بتائیں، یہ انشور کر لیں کہ یہ اس سٹیج میں انٹر ہونے سے پہلے پہلے ان کے متعلّق ہم جس طرح کی بھی رائے بنانا چاہ رہے تھے، بن چکی ہو۔ اب آپ انجینیئرنگ میں آ جائیں تو کیا انجینیئرنگ یونیورسٹی میں پہنچ کے میں نے پھر کوئی تیس کریڈٹ کی اسلامیات یا مجھے تیس کریڈٹ کے یا اس سے کم کریڈٹس کے پاک سٹڈیز اور اس طرح کے مضامین پڑھنے کی ضرورت ہونی چاہیے؟ سو میری رائے میں پروفیشنل ڈگریز میں، یا ایون انڈر گریڈ کورسز تک پہنچ جائے، تو پھر ان مضامین پہ ہمیں وقت نہیں لگانا چاہیے۔ یہ پہلے سے ڈیولپ ہو چکے ہونے چاہئیں۔ نہیں ہو رہے، آپ کو کوئی کمی کوتاہی نظر آتی ہے، آپ بھلے ہی ان کو ری وائز کر لیجیے۔ یہاں آ کے پھر صرف پروفیشنل کورسز کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔ اور باقی جو لائف سے متعلّق کورسز، سوشل سائنسز ہیں، لینگویجز ہیں، وہ ضرور آپ سب کو کچھ نہ کچھ پڑھائیے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، ہمارے اس پروگرام کا مقصد تو یہ ہے کہ ہم والدین کو آپ کی وساطت سے گائیڈ کریں کہ وہ اپنے بچوں کے کیریئر کو ڈسائیڈ کرتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھیں؟ آپ نے ذکر فرمایا کہ بچے کا انٹرسٹ آپ دیکھیں، اس کا ایپٹیٹیوڈ دیکھیں، اور اس کا رجحان دیکھیں کہ وہ کس طرف ہے، کس سبجیکٹ میں ہے، کس فیلڈ میں ہے۔ اچھا، آپ فرمائیے کہ وہ کیا میتھڈ ہے اور کیا پروسیجر ہے جس سے کوئی ایک عام والد ہے یا والدہ اس بات کو انڈرسٹینْڈ کر سکے کہ میرے بچے کا کس سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے، یا اس کا رجحان کس طرف ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: میرا سنگل لائن آنسر اس پہ یہ ہو گا کہ بچے کو ڈسائیڈ کرنے دیں کہ اس کو کیا اچھا لگتا ہے زندگی میں، وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ اور بینگ اے پیرنٹ میرا رول صرف یہ ہے کہ میں اس کی مدد کروں کہ جو وہ بننا چاہتا ہے وہ اچّھے طریقے سے بن سکتا ہو۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، اس میں ایک اور پریکٹیکل مسئلہ ہے، جو میں سمجھتا ہوں کہ ہر والدین کا مسئلہ ہے، اور میں بھی ایْز اے فادر یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ہے۔ آپ بچے کو یا تو اتنی لبرٹی دیں، اتنا کانفیڈنس دیں، اور اتنا اس کے اندر ایپٹیٹیوڈ ہو کہ وہ یہ بات کہے کہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔ اور اس کو اعتماد ہو کہ میں اپنا فیصلہ کر سکتا ہوں اور میرے پیرنٹ مجھے سپورٹ کریں گے۔ ہمارا جو سوشیو کلچرل بیک گراؤنْڈ ہے ہمارا جو ایک فیبرک ہے اس کے اندر تو ہوتا ہے کہ بچہ، ایون میرے بچے کہتے ہیں کہ جی آپ بتائیں کیا کرنا ہے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: اس لیے کہ میں ڈے ون سے ایْز اے معاشرہ ان کی تربیت یہی کرتا ہوں، تربیت میں یوں کرتا ہوں کہ دیکھیے، جس دن وہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، تو اس نے اپنے لیے کپڑے خریدنے ہوں تو کتنی دفعہ ہم اس کی چوائس سے خریدنے دیتے ہیں؟ اس کی امّاں فیصلہ کرتی ہیں کہ اس کو کیا پہننا چاہیے، کون سا رنگ پہننا چاہیے، کس فارم کے کپڑے پہننے چاہئیں اس کو، یہ فیصلہ اس کے والدین کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ چھوٹا سا ایک فیصلہ ہے۔ آپ کوئی بھی اس سے بڑے فیصلے لینے شروع کریں۔ ہمیشہ ہم یہ فورس کرتے ہیں کہ ہم جو جانتے ہیں آپ کے لیے اچھا ہے، وہی اچھا ہوتا ہے۔ تو جب یہ تربیت یوں ہو گئی ساری زندگی کی تو اس کے بعد اب آپ کہتے ہیں کہ وہ میٹرک میں پہنچے تو اس کو یقیناً یہ بتانا چاہیے کہ اس کو کون سا مضمون اچھا لگتا ہے۔ جو آپ نے پہلے بات کی، تربیت کرنے والی بات، اسی کو میں آگے بڑھاتا ہوں۔ دیکھیے آپ پورے ماحول کو ایسے کنسٹرکٹ کریں، جسے کہتے ہیں لبرٹی دوں۔ اگر میں لبرٹی دوں اور بغیر کسی کییپیبلٹی کے دے دوں، جو کییپیبلٹیز چاہئیں اس فیصلے کے لیے وہ تو ڈیولپ ہونے کا موقع نہ دوں، اور پھر یہ لبرٹی دے دوں کہ آپ خود کچھ کر لو۔ تو وہ خود تو پھر کچھ نہیں کرے گا، اور جو کرے گا امکان ہے کہ ٹھیک نہ ہو۔ اس کے اپنے لیے بھی ٹھیک نہ ہو۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، اس کا پھر میں یہ مطلب سمجھ رہا ہوں آپ کی بات سے کہ یہ تو بچوں سے پہلے والدین کو ٹرین کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: پورے معاشرے کو ضرورت ہے جی۔ صرف گھر کی بات نہیں ہے، سکول چلے جائیں، میرے کلاس کا ٹیچر فیصلہ کرے گا کہ میں نے کیا پڑھنا ہے۔ کس وقت پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے، وہ فیصلہ کرے گا۔ میں دوستوں میں چلا جاؤں تو جو میرے دوستوں میں سب سے افلیوئنٹ دوست ہے وہ فیصلہ کرے گا کہ آج ہم نے کیا کھانا ہے۔ سو آپ کو اگر اپنا آپ اَسرٹ کرنا ہے، اپنی رائے بیان کرنی ہے، تو بیان کرنے کی جو کیپیبلٹی پیدا کی جاتی ہے انسان میں، وہ معاشرے کے مختلف حصے مل کر کرتے ہیں۔ اور یہ کرنے دینی چاہیے۔ خاص طور پہ ابتدائی عمر میں جن فیصلوں کی کوئی لانگ ٹرم امپلیکیشنز بھی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پہ کسی بچے نے ایک کپڑے اپنے لینے تھے اور غلط لے لیے ہیں۔ تو کیا ہو گا، یہ کپڑے ہیں، چار مہینے استعمال ہونے تھے نہیں ہوں گے ضائع ہو جائیں گے، نئے آ جائیں گے۔ لیکن میں یہ بھی برداشت نہیں کرتا۔ والدہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس کو آج فرض کر لیں تین نمبر کے جوتے پورے آتے ہیں تو چار نمبر کے لوں گی تاکہ اگلے سال تک چل جائیں، ابھی یہ تو اس کو چھوٹے ہو جانے ہیں۔ یار اگر اس کو پسند ہے کہ وہ پوری چیز پہنے تو کتنا فرق پڑتا ہے کہ اگر آپ اس کو اس کی مرضی سے کر لینے دیں۔ غلط ہو جائے گا نا، تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اس سے وہ یہ لرن کر لے گا کہ مجھے اپنا فیصلہ کرنا ہے خود۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، یہ بہت امپورٹنٹ بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک ایسی چیز ہے کہ والدین کو سیکھنی چاہیے یہ بات کہ ہمیں بچوں کو لبرٹی بھی دینی چاہیے فیصلہ کرنے کی، اور اگر وہ فیصلہ کر لیں تو اس پر آپ کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ چاہے اس کا نتیجہ صحیح نکلے یا غلط نکلے۔ اور اسی اعتماد کے ساتھ پھر وہ کسی سٹیج پہ جا کے اس بات کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا کہ میں نے کون سے فیلڈ میں جانا ہے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: آپ کے بتانے سے وہ اچھائی نہیں سیکھتا۔ وہ خود غلط کر کے جب سیکھے گا کہ یہ غلط ہے، اور اچھا یہ ہوتا ہے، وہ ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گا۔ آپ کا بتایا ہوا اچھا، یا آپ کا بتایا ہوا برا آپ کا ہی ہے، وہ اس کا کبھی نہیں بنتا۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، اب مجھے یہ بتائیے کہ اس سوسائٹی جس میں ہم رہتے ہیں، اور اس میں ہم اپنے بچوں کی تربیت ایسے کر رہے ہیں جس طرح ابھی آپ نے ذکر فرمایا کہ اس کے فیصلے ہم کر رہے ہیں، بچپن سے لے کے ڈے ون سے لے کے جب وہ چوائس کرنا شروع کی تھی، اس وقت سے لے کے اس سٹیج تک کہ جب اس کے کیریئر کا وقت آ گیا ہے۔ اب اتنی اس کو ہم نے یہ لبرٹی نہیں دی ہے یا اس کو ہم نے یہ موقع نہیں دیا ہے۔ آج ہم اگر اس کو موقع دیتے ہیں تو ظاہر بات ہے وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ اب شروع کہاں سے کریں؟ اگر آج کوئی بندہ ہماری بات سن رہا ہے تو اس کو آپ کیا سَجسٹ کرتے ہیں کہ وہ کس طرح سے اس بات کو لے کے چلے کہ آپ بچوں کے اندر یہ اعتماد پیدا کریں؟

ڈاکٹر ناصر محمود، دیکھیے، جیسے ہم نے خود ہی ابتدا میں کہا کہ یہ امیجیٹلی کریکٹ ہونے والی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی رویہ ہے جس کو وقت لگتا ہے ٹھیک ہونے میں۔ ہمیں اپنے انسٹیٹیوشنز، جن میں فیملی ہے، جن میں آپ کا سکول ہے، جس میں فرینڈشپس ایک انسٹیٹیوشن ہے، ان اداروں کے بیسز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کانشیسلی اگر ہم بدلیں گے تو بدل جائیں گے۔ آج جو بچہ اس وَرج پہ کھڑا ہے کہ اس نے اپنا کیریئر چوز کرنا ہے۔ آج آپ اس کو کہہ بھی دیں گے نا تو وہ شاید فیصلہ نہ کر پائے آپ کے کہنے پہ۔ سو یہ جتنی بھی ہم گفتگو کر رہے ہیں یہ ایسی نہیں ہے کہ آج ہم اٹھیں گے اور کل سے لوگ ایسا کرنا شروع کر دیں تو یہ ہو جائے گا ٹھیک شکل میں۔ لیکن غلط فیصلوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، فیصلہ اس کو کرنا چاہیے جس کا رائٹ بنتا ہے کرنے کا، اور اس کے غلط ہو جانے کے خوف سے ایسے فیصلے نہیں مسلط کرنے چاہئیں جو اُن کے نہ ہوں۔ یہ کام تو میں آج سے شروع کر سکتا ہوں۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، میرے پاس ایک کیس آیا، میرے دوست ہیں، انہوں نے کہا جی چونکہ آپ میڈیا میں ہیں تو ذرا ہمیں اس بارے میں ہیلپ کریں۔ کسی انجینئرنگ یونیورسٹی میں ان کے بچے کا ایڈمیشن ہو رہا تھا، تو انہوں نے جب آپشن مانگے تو انہوں نے دو آپشن سلیکٹ کر دیے: انٹیریئر ڈیزائن کا اور بزنس اینالیٹکس کا۔ اچھا، اب جب اس کا میرٹ بنا تو اس کا بزنس اینالیٹکس کے اندر ایڈمیشن ہو گیا۔ ایڈمیشن ہو گیا تو اس کو چالان فارم مل گیا، انہوں نے اس کی فیس جمع کروا دی۔ اچھا جب انٹیریئر ڈیزائن کی لسٹ لگی تو اس میں بھی اس کا نام آ گیا۔ تو انہوں نے کہا جی کہ ہم آپ کا ایڈمیشن اس میں شفٹ کر رہے ہیں، آپ نے اس کا آپشن بھی رکھا ہوا تھا کہ یہ میرا پہلا آپشن ہے اور یہ میرا سیکنڈ آپشن ہے، تو چونکہ آپ کا سیکنڈ آپشن میں پہلے ایڈمیشن ہوا ہے، تو اب ہم آپ کو فرسٹ آپشن کا ایڈمیشن دے رہے ہیں۔ ان کے والدین اتنے پریشان ہوئے اس معاملے میں۔ اچھا، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ جو فیصلہ کر رہے ہیں کہ ہم نے بزنس اینالیٹکس میں جانا ہے، انٹیریئر ڈیزائن میں نہیں جانا، جب بچہ فارم فل کر رہا تھا تو اس نے تو انٹیریئر ڈیزائن کو ٹک کیا تھا کہ یہ میرا فرسٹ آپشن ہے، لیکن آپ چاہ رہے ہیں کہ نہیں بزنس اینالیٹکس کہ اِس کی تو آگے سکوپ ہے، اُس کی تو آگے سکوپ نہیں ہے۔ تو اب یہ والے فیصلے یعنی بچہ جب فارم فل کرتا ہے تو انٹیریئر ڈیزائن کو اپنا فرسٹ آپشن لکھتا ہے، لیکن جب والدین فیصلہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں آپ کے لیے بہتر یہی (بزنس اینالیٹکس) ہے۔ تو اب ایسی سچوئیشن میں ہم کس طرح سے اس کو جو ہے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: دیکھیے، اس میں ایک بڑا اہم نکتہ آپ نے بیان کیا کہ اس کا آگے کیریئر اچھا ہے۔ آج سے دس سال پہلے، پندرہ سال پہلے بی کام کا بڑا اچھا کیریئر تھا۔ یاد ہو گا کہ ایک وِیو آئی تھی، جب پورے پاکستان کے بچے اُدھر جانے لگے۔ اس سے بھی تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو بزنس ایڈمنسٹریشن کا بڑا بوم تھا اور ہر بچہ ادھر جانا شروع ہو گیا۔ پھر جس وقت یہ بچے پڑھ کے اپنے فیلڈ میں جاب کرنے والی جگہ پر پہنچے تو کیا انجینئرنگ کا وہی آج کل سکوپ ہے جو اس سے پانچ چھ سال پیچھے تھا؟ آج سے دو تین پانچ سال پہلے جن بچوں نے، فرض کر لیں سول انجینئرنگ میں آرکیٹیکٹ میں داخلہ لیا ہو گا، یہ سوچ کے کہ اس کا بڑا کیریئر ہے۔ پانچ سال بعد تو وہ نہیں رہا۔ 

سو یہ ایک بہت ہی نائیو سی بیس ہے کہ اس کا کیریئر کیسا ہے۔ کیریئر کسی پروفیشن کا نہیں ہوتا۔ کیریئر آدمی کا ہوتا ہے جو اس کو پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے فیلڈ میں ٹاپ پہ ہیں چاہے وہ فیلڈ کوئی بھی ہو، اگر آپ اس کے ٹاپ پہ ہیں تو آپ کا کیریئر ہے۔ اگر آپ بہت ہی کسی ’’مارکیٹ میں اِن سو کالڈ‘‘ فیلڈ میں ہیں اور باٹم پہ ہیں تو آپ کا کوئی کیریئر نہیں ہے۔ میں آپ کو بہت سارے ڈاکٹرز، انجینئرز بتا سکتا ہوں جن کا کوئی کیریئر نہیں بنا۔ اور میں بہت سارے ایسے لوگ بتا سکتا ہوں جنہیں ہم عمومی زبان میں کہتے ہیں کہ یار یہ اردو پڑھ لیا تو کیا پڑھا؟ یار یہ فارسی پڑھ لیا، فلسفہ پڑھ لیا، انگریزی پڑھ لی، کیا پڑھ لیا آپ نے؟ اس کا کیا کیریئر؟ لیکن وہ لوگ اس پہ بہت پیک پہ پہنچے ہوئے ہیں۔ سو کیریئر کو کس طرح آپ دیکھتے ہیں، یہ بڑا میٹر کرتا ہے۔

اچھا پھر فرض کر لیں بہت زیادہ پیسے ملتے ہوں اور بڑا اچھا کیریئر ہو اور آپ کو کہا جائے کہ آپ کرکٹر بن جائیں اور آپ میں کرکٹ کا ایپٹیٹیوڈ نہ ہو، آپ اس کو شوق سے کرتے بھی نہ ہوں، تو آپ کتنے دن اس کو کنٹینیو کر سکتے ہیں؟ بندے کو کیریئر وہ اپنانا چاہیے کہ روز صبح اٹھ کر اس نے جانا ہے اور اس کو یہ یقین ہو کہ میں اس کو انجوائے کروں گا۔ مجھے کچھ ملے گا یا نہ ملے گا، پیسے ملیں گے یا کم ملیں گے زیادہ ملیں گے لیکن مجھے مزہ آتا ہے اس کام کو کرنے میں۔ تو اس میں تو آپ ایکسل کریں گے۔ سو یہ ان چیزوں کی جو بنیادی ڈیفینیشنز ہم نے بنا رکھی ہیں، کسی بھی سبجیکٹ کا سکوپ، کسی بھی سبجیکٹ میں پیسے کمانے کے امکانات، یہ میرے خیال میں بیسز ہی نہیں ہو سکتے کسی بھی کیریئر چوئس میں۔

فخر الاسلام: میرا خیال یہ ہے کہ ایک وجہ یہ سکوپ کی اور یہ کیریئر کی بات اس لیے بھی ہوتی ہے کہ ہمارے یہاں جو اکیڈمکس ہیں، یا ہمارے یہاں جو ایجوکیشن ہے، وہ الٹیمیٹلی تو ہم کہیں جاب کے لیے کر رہے ہوتے ہیں، ہم الٹیمیٹلی اپنے فائنانشلز کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ہم جس کے اندر سولہ سال لگائیں گے، کیا اس کے بعد ہم اس قابل بھی ہو سکیں گے کہ ہم کچھ کما سکیں یا نہ کما سکیں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: میری اپنی انڈرسٹینڈنگ میں یہ پھر ایک مغالطہ ہے۔ دیکھیں، تعلیم میں نے حاصل کرنی ہے، میں پہلے بھی بہت دفعہ یہ بات کہہ چکا ہوں، تعلیم انسان کی تربیت کا ذریعہ تھا، آپ اس کو مذہب کے اینگل سے لے لیں یا آپ اس کو دنیاوی اینگل سے لے لیں۔ کبھی کسی نے کہا ہو کہ یار تعلیم جو ہے وہ پیسے کمانے کے لیے ہوتی ہے۔ تعلیم آپ کی شخصیت بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ اس شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ آپ کو اپنی زندگی کے متعلق آداب سکھانا، دوسروں کے حقوق سکھانا، معاشرے میں رہنے کی تمیز سکھانا، کلیکٹِو گڈ کی تعلیم دینا، یہ تعلیم کرتی ہے۔ اچھا یہ آپ ٹھیک طریقے سے کر لیں تو ان کے ثمرات میں سے جو ایک ثمر آپ کو ملے گا نا، وہ اچھا کیریئر ہو گا۔ جو ان چیزوں میں اچھا ہو جائے گا، اس کی زندگی میں کمانے کے راستے بھی اچھے اس کو مل جائیں گے۔ یہ شعور اس کو سمجھ دے گا کہ اس نے کیریئر کون سا اپنانا ہے۔ لیکن اگر میں تعلیم سے یہ توقع کروں، اور یہ کارپوریٹ ماڈل ہے تعلیم کا، جو یہ کہتا ہے کہ آپ فلاں چیز پڑھو اتنی تنخواہ ہوتی ہے، آپ فلاں مضمون پڑھیں گے یہ والی جاب مل جائے گی۔ جتنے لوگ وہ پڑھتے ہیں سب کو مل جاتی ہے؟ نہیں ملتی۔ اور جتنے لوگ وہ نہیں پڑھتے کیا وہ پیسے نہیں کماتے؟

فخر الاسلام: ان سے اچھے بھی کما رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ناصر محمود: ان سے اچھے بھی کما رہے ہوتے ہیں۔ سو پھر یہ کیا بنیاد ہوئی اس بات کی کہ آپ یہ پڑھو تو اتنے پیسے ملیں گے، یہ پڑھو تو فلاں نوکری ملے گی۔ اور نوکری مل جائے گی یہ والی تو شاید زندگی کے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ اپنے شوق کے اپنے انٹرسٹ کے بغیر کسی فیلڈ میں چلے جاتے ہیں وہ اس سے وہ انجوائے منٹ جنریٹ نہیں کر پاتے زندگی کے لیے، جو ایک ان سے کم کمانے والا کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ اس کو انجوائے کر رہا ہوتا ہے ہر وقت۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، میں سمجھتا ہوں اس پہ تھوڑا سا ہمیں ذرا مزید بات کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کیریئر ہوتا ہے۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے نا کہ ایک ہے ایجوکیشن اور ایک ہے کیریئر۔ اچھا، ایجوکیشن کے اینڈ پہ آپ کا کیریئر ہوتا ہے کہ ہم جب ایک خاص ڈگری کر لیتے ہیں اس کے بعد ظاہر ہے اس میں کوئی جاب کرتے ہیں یا اس کے اندر کچھ کام کرتے ہیں چاہے اپنا کوئی انٹرپرینیور شپ کر رہے ہوں۔ تو یہ فیصلہ کرنا کہ جب میں ایک سولہ سال کی ایجوکیشن حاصل کر لوں گا کسی ایک سبجیکٹ میں یا کسی ایک ڈسپلن میں، تو اس کے بعد کام کچھ اور کر رہا ہوں گا۔ یعنی ممکن ہے کہ ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہ ٹھیک ہے ایجوکیشن کسی اور فیلڈ میں، کام آپ کوئی اور کر رہے ہیں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: بہت سارے مضامین کی تعلیم ایسی ہے جو آپ کے اندر بنیادی سکلز پیدا کرتی ہے، کیریئر نہیں بتاتی کون سا ہو گا۔ مثلاً‌ آپ نے سوشیالوجی میں کر لیا تو تھیوریٹیکلی سپیکنگ آپ اس پوزیشن میں آ جاتے ہیں کہ آپ اپنے معاشرے کے اندر جو سوشیولوجیکل ایسپیکٹس ہیں ان کی سمجھ بہتر رکھتے ہیں۔ اب اس کے آگے کیریئر ایک تو نہیں ہے۔ یہ کیریئر نہیں ہے اٹسیلف۔ اس کے آگے کیا ہے؟ آپ کے پاس جابز آتی ہیں مختلف محکموں میں، مثلاً سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں آتی ہے، مثلاً کمیونٹی سروسز ڈیپارٹمنٹ میں آتی ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ یار میرا سیٹ آف سکلز جو ہے نا مجھے ایلیجیبل کرتا ہے کہ میں اس جاب کو اچھا پرفارم کر سکتا ہوں۔ سو پڑھائی آپ کے اندر وہ بنیادی سکلز ڈیولپ کرتی ہے جو تعین کرے گی کہ آپ کا کون سا کیریئر ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ ایک طرح کی پڑھائی سے ایک طرح کا کیریئر اوپن نہیں ہوتا۔ ملٹیپل طرح کے کیریئر اس کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ 

اور ہمارا بھی آپ دیکھیے جابز کا سٹرکچر یہی ہے۔ اکثر اوقات جب مختلف محکموں کی جابز آتی ہیں یا پرائیویٹ سیکٹر کی جابز آتی ہیں تو وہ یہ تھوڑی کہتے ہیں کہ یہ ایک پرٹیکولر ڈگری والا بندہ، وہ کہتے ہیں یار جس نے سولہ سال ان مضامین میں سے کوئی بھی پڑھا ہو۔ اس کے پیچھے آئیڈیا یہ ہوتا ہے کہ جنہوں نے بھی یہ مضامین پڑھ رکھے ہوں گے، یا اس کے اندر انہوں نے پڑھائی کو جاری رکھا ہو گا، ان میں وہ بنیادی سیٹ آف سکلز آ جاتا ہے۔ یہ جنرل جابز ہو گئیں ہماری۔ 

پھر دوسرے کیریئر پاتھ ہمارے وہ ہوتے ہیں جو بالکل سپیسیفک ہیں۔ جیسے میڈیسن ہے، اس کی ایک سپیسیفک ڈگری ہے، آپ پہلے ڈیسائیڈ کرتے ہیں کہ میں نے میڈیسن کے فیلڈ میں جانا ہے۔ پھر آپ ان سبجیکٹس کو چوز کرتے ہیں، وہ جنرل سبجیکٹس نہیں ہیں، وہ پروفیشنل سبجیکٹس ہیں، آپ ان میں آ جاتے ہیں۔ میں ٹیچنگ اس میں گنتا ہوں، اس میں لاء کو گنتے ہیں ہم، اس میں آپ انجینئرنگ کو لیتے ہیں۔ سو یہ مختلف طرح کے پروفیشنز ہیں جو آپ ڈے ون سے ڈیسائیڈ کرتے ہیں کہ میرا کیریئر ہو گا اسی میں ہی، لیکن اس کے اندر بھی جا کے کیریئر ایک نہیں ہوتا، میڈیسن پڑھنے والے کا ایک کیریئر نہیں ہے آگے جا کے، اس کے بھی آگے ملٹیپل فیلڈز ہیں۔

فخر الاسلام: یعنی جس نے پری میڈیکل میں ایف ایس سی کی ہوئی ہے اس کے پاس اَسی سے زیادہ کیریئر آپشنز ہیں کہ آپ اس میں سے جا سکتے ہیں۔ اچھا، لیکن ہمیں ایک دو کا پتہ ہے جی کہ یہ ایم بی بی ایس ہے، یہ ڈینٹسٹری ہے، یہ بی فارمیسی ہے، یا ایک آدھ ہمیں اور پتہ ہو گا اس کے علاوہ نہیں۔ اور اتنی اس کے اندر ویئریشن ہے، آپ کی بات بالکل درست ہے۔ اچھا، ڈاکٹر صاحب، ہمارا سوسائٹی کا جو ایک فیبرک ہے، والدین بہت پڑھے لکھے نہیں ہے، ہم تو بڑی پڑھی لکھی باتیں کر رہے ہیں کہ جی اس میں آپ کا سکوپ ہوتا ہے اور یہ اس طرح سے اس کو آپ ڈیسائیڈ کر سکتے ہیں، بڑے آپشن ہوتے ہیں اس کے اندر۔ والدین کو تو اتنا ہی پتہ ہے کہ یہ میرا بچہ ہے اور یہ اگر یہ پڑھ لے گا تو اس میں اس کو نوکری مل جائے گی۔ ہم والدین کو کیا ایجوکیٹ کریں یا کیا سمجھائیں؟ ابھی جو ہم یہ والی ساری بات کر رہے ہیں کہ ایک ایسا بندہ جو کہ بالکل لے مین ہے اس کو کس طرح سے یہ بات ہم سمجھائیں کہ اپنے بچے کے بارے میں آپ کیا فیصلہ کریں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: یہ والدین کی تشویش کا نکتہ ہی نہیں ہے کہ میرے بچے نے کیریئر کون سا اپنانا ہے۔ یہ اس بچے کا کرنے کا فیصلہ ہے۔ والدین جب کرنے پہ آتے ہیں ناں، آپ تو کہتے ہیں جو پڑھے لکھے نہیں ہوتے، جو بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں وہ بھی اپنی زندگی میں جو نہیں کر پائے ہوتے اور کرنا چاہتے تھے، جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کا دل چاہتا ہے کہ جو میں نہیں کر پایا تھا وہ ان سے کروا لوں۔ ان کو اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ وہ آپ کی وہ والی زندگی گزارنے کے لیے مجبور نہیں ہیں جو آپ چاہتے تھے کہ آپ گزاریں اور آپ نہیں گزار سکے۔ سو میں اپنی نامکمل خواہشات کی خاطر اپنے بچوں کی زندگی کی سمت تو خراب نہیں کر سکتا اور نہ مجھے کرنی چاہیے۔ 

سو، والدین پڑھے لکھے ہیں یا نہیں پڑھے لکھے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بچے کی آواز سن لیں، وہ جو کرنا چاہتے ہیں ان کو وہ کر لینے دیں۔ اس بات کی فکر ذہن سے نکال دیں کہ کل کو اس کا آگے کیریئر پتہ نہیں فائنینشلی پے کرے گا یا نہیں کرے گا، اس کے پاس جاب اپورچونٹی بنے گی یا نہیں بنے گی۔ جس دن وہ لگن کے ساتھ کسی چیز کے پیچھے پڑ جائے گا، تو اس کے اندر کیریئر ہر ایک کے اندر موجود ہے۔ جن پروفیشنز کو میں سمجھتا ہوں نا کہ ان کا کوئی کیریئر نہیں ہے، ان کے اندر بھی ہے، آپ اپنے اردگرد دیکھ لیجیے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، کیریئر اور ایجوکیشن، یہ دو الگ الگ ہیں۔ اچھا، ہم پہلے اس کی بات کر لیتے ہیں کہ ہمارا الٹیمیٹ گول۔ یہ تو آپ نے بڑی خوبصورت باتیں کی ہیں نا کہ اس کے اندر سے آپ کے اندر سوسائٹی کے لیے گڈ کی ایک صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور آپ کے اندر ایک سوِک سینس ڈویلپ ہوتی ہے اور آپ کے اندر ایک شعور آتا ہے، بڑی خوبصورت بات ہے۔ لیکن والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انویسٹمنٹ کر رہے ہیں جو ہم نے اتنا پیسہ لگایا، چونکہ اب جتنا پرائیویٹ سیکٹر میں آ گئی ہیں چیزیں، تو آپ ملینز آف روپیز لگاتے ہیں خاص سٹیج تک، اور اس کے بعد آپ کے ہاتھ میں ڈگری کا ایک وہ کاغذ آتا ہے، تو اس سے کس طرح ہم یہ ایکسپیکٹ کریں کہ اس سے اگر اس کو بہت زیادہ پیسے نہیں بھی ملیں گے تو کوئی بات نہیں خیر ہے، اس نے ایجوکیشن تو حاصل کر لی ہے اس کے لیے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: یہ بات ابھی آپ نے بھی کہی کہ آپ نے جو سوچ کے کسی سبجیکٹ کو پڑھا تھا، یہ ضروری نہیں کہ اس کے اینڈ پہ آپ کو تمام لوگ جو اس کو پڑھ رہے تھے، ایک ہی جیسے پیسے مل جائیں، ایک ہی جیسی نوکریاں مل جائیں، یہ تو میں انشور نہیں کر پاتا۔ مجھے بہت انویسٹمنٹ کرنی چاہیے بچوں کی پڑھائی پے۔ ہر آدمی اپنی سکت سے بڑھ کے کرتا ہے۔ الٹیمیٹ جو میں اس سے چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ اچھا انسان بن جائے۔ اچھے انسان سے مراد نہیں ہے کہ صبح اٹھے، نمازیں پڑھے، لوگوں کے ساتھ فلاح کام کرے، یہ اس کا ایک پہلو ہے۔ اچھے سے مراد یہ ہے کہ اس کو اپنی زندگی کی، اپنے زندگی کے مقاصد کی سمجھ آ جائے۔ جو بھی اس کو سمجھ آنی ہے وہ اس کو سمجھ آ جائے۔ اور یہ زندگی کو ان چیزوں کے گرد بلڈ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ اس کے بعد جو بھی کیریئر اس نے اپنانا ہو گا یہ اس کے گرد اپنے آپ کو بلڈ کر لے گا۔ اور میں آپ کو پوری گارنٹی سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی لائف میں دیکھیے، میری میں دیکھیے۔ جن لوگوں کو میں زندگی میں سمجھتا تھا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں کر سکے، ان میں بہت ساروں کی زندگیاں اس سے بہت اچھی ہیں جیسے میں سوچتا تھا۔ اور جن کے بارے میں مجھے لگتا تھا کہ انہوں نے جھنڈے گاڑ دیے ہیں، ان کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے آگے کیریئر میں کچھ بھی، ان میں سے بھی بے شمار ملتے ہیں جو نہیں پرفارم کر سکے کیریئر میں آکے۔ 

سو میرا یہ انتظام اور یہ فکر کہ میں ہی کچھ طے کروں گا تو ان کا کیریئر بنے گا، اس سے مجھے اپنے آپ کو آزاد کرنا ہے۔ میری ذمہ داری جو ہے نا ایز اے پیرنٹ، اتنی بہت ہے کہ میں اس کو ایک با شعور، سمجھدار انسان بنا دوں اپنی تعلیم کے بعد۔ وہ بن جائے گا نا تو کیریئر اس کا بن جائے گا۔ ہاں کیریئر کونسلنگ کی اہمیت اس سے ختم نہیں ہوتی۔ کیریئر کونسلنگ کی اہمیت یہ ہے کہ میں نے جب اس کو یہ تمام صلاحیتیں دے دیں تو اب اس کا سکوپ یا پوسیبیلٹی بڑھانے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ میں اس کو وقت کے ساتھ ساتھ سمجھاتا جاؤں کہ یار جو تمہارے اندر سکلز ہیں نا میرے نزدیک تم یہ اچھا بن سکتے ہو۔ 

مجھے اس کی بات یاد آئی وہ جو لڑکا ہمارا نیزہ بازی میں، ارشد ندیم، آپ نے اس کا انٹرویو سنا ہو گا، وہ کہتا ہے مجھے تو کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا اور میرا جسم بھی کیونکہ بڑا مضبوط تھا اور قد بھی اونچا تھا تو میں تو بالنگ کرتا تھا، اور بڑے دن کرتا رہا کرتا رہا کسی کے کہنے پہ، مجھے نہیں سمجھ آ پائی۔ اچھا، میں اس میں ایکسل نہیں کر سکا۔ پھر مجھے ایک دوست نے یا انہوں نے بتایا جو بعد میں اس کے کوچ بھی رہے، انہوں نے مجھے بتایا کہ یار تم جس طرح کی بلڈ میں ہو تم اس گیم میں آؤ۔ اس میں تمہیں ایک تھرو کرنی ہے اور تمہارا نام ہے۔ ادھر تم ٹیم کے گیارہ لوگوں میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہو اور تمہاری جگہ نہیں بن پائے گی۔ ادھر تم کرو اور تمہاری فزیک، تمہارا لائف سٹائل، تمہاری ایفرٹ تمہیں یہاں زیادہ پے آف کرے گی۔ یہ رہنمائی تھی۔ اس کے کہنے سے تو پے آف نہیں ہونا تھا نا۔ محنت تو پھر اسی کو ہی کرنی تھی۔ لیکن یہ آڈینٹیفائی کر کے کسی شخص کو یہ گائیڈ کر دینا کہ تمہارے اندر جو میں چیزیں دیکھتا ہوں وہ تمہیں فلاں طرح کے کیریئر میں مدد دیں گی، ادھر چلے جاؤ۔ تو یہ رہنمائی ہے جو ہمیں اداروں میں دینی ہے۔ ابھی انڈیویجول اپنے تئیں دیتے ہیں نا۔ یہ انتظام اداروں کو کرنا چاہیے کہ وہ ہر آدمی کو اس کے پوٹینشل کے مطابق، اس کے انٹرسٹ کے مطابق بیسٹ پوسیبیلٹیز میں رہنمائی کر سکتا ہوں۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، یہ تھرڈ ورلڈ کنٹری کے جو اپنے شیکلز ہیں، فرسٹ ورلڈ کنٹریز اس چیز کو کیسے دیکھتے ہیں، کیریئر کے ڈسیژن کو؟ وہ اپنے بچوں کا کیریئر کس طرح سے ڈیسائیڈ کرتے ہیں، یا ان کے بچے کس طرح سے کرتے ہیں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: جس طرح سے بھی کرتے ہیں، جو فرسٹ ورلڈ کنٹریز ہیں، امریکہ لے لیجیے، ساری کام کی ٹیکنیکل فورس دوسرے ملکوں سے آئی ہوئی ہے۔ مجھے کوئی امریکیوں کی، جو بائی برتھ امریکنز ہیں، وہاں کے رہنے والے ہیں، ان کی تعداد بتائیے کتنی ہے جو آئی ٹی میں بہت ایکسل کرتی ہے۔ ان کی آئی ٹی فرمز ساری کی ساری یا پاکستانیوں سے یا انڈینز سے یا اس طرح کے علاقوں کے لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اچھا سپورٹس کو لے لیجیے، کتنے لوگ اوریجنلی امریکن نیشنلز تھے جنہوں نے امریکہ کے لیے ٹائٹلز جیتے؟ کوئی کسی ملک سے آکر وہاں سیٹل ہوا تھا، کوئی کسی ملک سے، لیکن وہاں انہوں نے انشور کیا کیا؟ انہوں نے اپورچونٹی ٹو لائف کو انشور کیا۔ فیئرنیس کو، کمپیٹیٹیونیس کو، لوگوں کے لیے راستے کھولنے کے طریقوں کو انشور کیا اس نے۔ اس کو کہتے بھی لینڈ آف اپورچونٹیز ہے۔ تو لینڈ آف اپورچونٹیز کیوں تھی؟ کہ آپ وہاں چلے جائیں، آپ کے اندر جو چیز ہے جو خواہش ہے نا، آپ کو کرنے کے لیے ہر طرف سے مدد ملے گی کرنے میں۔ سو یہ چیز اگر اپنے لوگوں کو یہاں میں دے دوں نا، تو یہ ہو جائے گی۔ سو یہ بات کہ وہ معاشرے اس کو کیسے کر لیتے ہیں۔ ہم ٹیلنٹ میں کم نہیں، نہ سوچ میں۔ بلکہ جتنا کنٹری ساؤتھ کی طرف ہے نا، آج کل کی زبان میں، تو جن کو زندگی گزارنے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے، جن کو فار گرانٹڈ کچھ نہیں ملتا، ان کے لوگوں میں سکل زیادہ ہوتی ہے۔ میراتھان میں ہمیشہ افریقہ کا بندہ جیتتا ہے۔ کبھی امریکی نہیں جیتا آج تک۔

فخر الاسلام: ٹفنس زیادہ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ناصر محمود: ٹفنس زیادہ ہوتی ہے لائف میں۔ اس کو محنت مشقت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ یہ اپورچونٹی ہمارے پاس زیادہ ہے۔ وہاں پہ ہمارے ہی لوگ جاتے ہیں اور کیوں ایکسل کرتے ہیں؟ انوائرمنٹ، ماحول ملتا ہے، اپورچونٹی ملتی ہے۔ وہ ہمیں یہاں کریئیٹ کرنی چاہیے۔ باقی اَدروائز میرے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے ان میں اور ہم میں۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، آپ کا تعلق چونکہ یونیورسٹی کے ساتھ ہے، ماشاء اللہ آپ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں، ایک یونیورسٹی کے آپ ریکٹر ہیں، یونیورسٹیز میں بچے آتے ہیں اور جب وہ آ کے آپشنز دیکھتے ہیں اپنے پاس بی ایس کے دوران کہ ایک لمبی فہرست ہوتی ہے، اگر آپ سوشل سائنسز کی بات بھی کریں تو اس کے اندر بھی۔ ابھی میں کیونکہ ایک جگہ پڑھاتا بھی ہوں یونیورسٹی کے اندر تو میں نے بچوں سے پوچھا یار تم لوگ میڈیا میں پڑھ رہے ہو، کیونکہ آپ کا چھٹا سمسٹر ہے تو آپ نے ایک سال کے بعد پروفیشنل میڈیا میں چلے جانا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ کو کچھ بیسک چیزیں بتاؤں تاکہ اس کو آپ کر سکیں۔ ایک بچہ کہتا ہے سر میں نے تو میڈیا میں نہیں جانا۔ تو میں نے کہا آپ ڈگری کیوں کر رہے ہیں؟ کہتا ہے وہ تو بس ایسے ہی کسی نے کہا تو میں ایڈمیشن لے لیا، میں نے تو کچھ اور کام کرنا ہے۔ ایسا بچہ جو تین سال پڑھ چکا ہے اور تقریباً‌ پندرہ سال ایجوکیشن اس نے حاصل کر لی ہے اور ابھی وہ ایک سال کے بعد جب یہاں سے پاس آؤٹ ہو گا تو وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے اس فیلڈ میں نہیں جانا مجھے تو کسی اور فیلڈ میں جانا تھا۔ تو آپ کو لگتا ہے کہ اس کا فیصلہ اُس کو سٹیج پہ کرنا چاہیے تھا جب وہ بی ایس کے اندر ایڈمیشن لے رہا تھا کہ میرا انٹرسٹ کیا ہے اور مجھے کس فیلڈ میں جانا چاہیے؟

ڈاکٹر ناصر محمود: بالکل کرنا چاہیے تھا، اور اگر وہ کسی کے کہنے پر یہاں آیا ہے تو وہ زندگی سے جو اپنی مرضی کی چیز کر کے حاصل کر سکتا تھا، وہ یہ کر کے حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس بچے کا جو بھی تھا کیریئر۔ اور دوسرا یہ بھی بہت امکان ہے،  آپ اس کو کوئی پانچ سال چھ سال فالو کریے، الٹیمیٹلی اس کی اسی فیلڈ میں آگے جانے کی پروبیبلٹی اس کو سمجھ آ جائے گی۔ فیلڈ چینج کرنے کی خواہش وہ رکھتا ہے لیکن جب وہ گریجویٹ ہو گا تو آپ دیکھیے گا کہ اِدھر اُدھر جا کے جب وہ دیکھے گا نا تو اس کو جو بیسٹ اپورچونٹی ملنی ہے وہ اسی میں مل پانی ہے جس پہ اس کی ٹریننگ ہوئی ہوئی ہے۔ ٹھیک ہے؟ 

ہاں، اگر اس فیلڈ میں آنے کا فیصلہ اس نے اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا، جس وجہ سے وہ ابھی بھی خواہش رکھتا ہے کہ میں بس زبردستی ادھر آ گیا ہوا ہوں، تو یہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ آپ نے اس کا پوٹینشل جو تھا وہ ضائع کر دیا تھا۔ یونیورسٹیز کو لوگوں کی اپورچونٹیز کو بہتر بنانے کی جگہ ہونا چاہیے، لوگوں کو فورس کرنے کی جگہ نہیں ہونا چاہیے۔ جو جس فیلڈ میں آ گیا آپ اس کی سکسیس کو اس فیلڈ میں انشور کریں۔

فخر الاسلام: یہ بھی ہوتا ہے کہ بچے، یہ بھی ہوتا ہے کہ میرا اُس میں میرٹ نہیں آیا، یہاں میرٹ آیا تو میں نے یہاں پہ ایڈمیشن لے لیا۔ اس بات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر ناصر محمود: بالکل پریکٹیکل سی مجبوری ہے جی کہ وہ ایک جگہ کچھ پڑھنا چاہ رہا تھا تو وہاں نہیں ہوا تو یہاں اس نے داخلہ لے لیا۔ اِس کا تو اب ویسے آنے والے دنوں میں حل میرے نزدیک نکل چکا ہے۔ اب وہ جو بالکل ایک سٹرنجنٹ سا ہوتا تھا نا کہ چار یونیورسٹیاں ہیں: پہلی یہ ہے، دوسری یہ ہے، تیسری یہ ہے، میرٹ آئے گا تو ادھر ہو جائے گا، یا اُدھر۔ اب وہ چکر نہیں رہا۔ اب تو یونیورسٹیاں اتنی زیادہ ہو گئی ہوئی ہیں کہ ہر آدمی اگر چاہتا ہے نا کہ میں اپنی ہی فیلڈ میں رہ کے پڑھوں تو اس کے پاس کہیں نہ کہیں اپورچونٹی اس کی موجود ہو گی، یا آنے والے دنوں میں ہو جائے گی۔ یہ جو ایک یونیورسٹیز کا ایلیٹزم ہمارے اندر تھا نا کہ یہ فلانی ہے جی اکیڈمیکلی نمبر ون ہے، وہ والا آہستہ آہستہ ٹرینڈ بدلنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن پھر بھی اگر کسی بچے نے اس فیلڈ میں داخلہ لیا جو اس کی چوائس کا نہیں تھا مجبوراً لینا پڑ گیا اس کے اندر جانے کے لیے، اگر وہ اس کو پسند نہیں آتا تو جونہی اس کو موقع ملے وہ کیریئر میں پہنچ کے اس کو بدل لینا اس کو چینج کر لینا چاہیے۔ اس کو میرے نزدیک ادھر ہی کام کرنا چاہیے جس کو کرنے میں اس کا دل راضی ہوتا ہے۔

فخر الاسلام: ڈاکٹر صاحب، بہت شکریہ آپ کا۔ آپ تشریف لائے، وقت دیا۔ میں سمجھتا ہوں ڈاکٹر صاحب، یہ وہ ٹاپک ہے کہ جس کے اوپر ہمیں مسلسل بات کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے بہت ہی اہم اور بڑی انٹرسٹنگ بات بتائی ہے کہ والدین کو بچوں کو فریڈم آف چوائس دینی چاہیے، شروع میں دینی چاہیے، آغاز میں دینی چاہیے، اس کو بلڈ اپ کرنا چاہیے، تاکہ کسی ایک سٹیج پہ آکے جب بچے اپنے کیریئر کو ڈیسائیڈ کرنے لگیں تو انہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کے اندر بھی اعتماد ہو، اور اس بات کا بھی اعتماد ہو کہ جو ہم فیصلہ کریں گے، کچھ بھی ہو گا تو ہمارے والدین ہمارے ساتھ ہوں گے۔ تو یہ والی بات اگر ہمارے بچوں میں آ جائے اور یہ کانفیڈنس ان کے اندر موجود ہو تو مجھے لگتا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارے ہاں ایک بہت سٹرانگ قسم کا ہیومن ریسورس ہمارا ڈویلپ ہو گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور اللہ کا شکر ہے ابھی بھی ہمیں اپنے اس یوتھ پر ہمارے نوجوان پر بڑا اعتماد ہے، تو یہ اور ایک مضبوط یوتھ کے طور پر سامنے آئے گی۔ ڈاکٹر صاحب، آپ کا بہت شکریہ۔ آپ تشریف لائے۔

ڈاکٹر ناصر محمود، آپ کا بہت شکریہ جناب۔

فخر الاسلام: ناظرین ہمارے ساتھ موجود تھے آج پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود صاحب۔ بڑی خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم سب جو بھی والدین ہیں یا جو ٹو بی پیرنٹس ہیں ان کے لیے میری گزارش یہ ہے کہ اپنے بچوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ وہ اپنا انتخاب کر سکیں اور اس انتخاب پر وہ اعتماد کر سکیں۔ اسی طرح سے جب وہ کیریئر کے کسی سٹیج پر آکے، بھلے وہ ایٹ گریڈ کے بعد ہو، وہ ہائر سیکنڈری سکول کے بعد ہو، یا کسی یونیورسٹی کے اندر ایڈمیشن لیتے وقت ہو، جب وہ اپنے لیے کسی سبجیکٹ کا کسی ڈسپلن کا فیصلہ کریں گے تو یقیناً یہ فیصلہ ان کا ایک بڑا پُراعتماد فیصلہ ہو گا اور ان شاء اللہ وہ جب اپنے اس کیریئر میں آئیں گے تو بہت ایکسل کریں گے۔ اس امید کے ساتھ کہ ہمارا آج کا پروگرام بھی آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا، اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔

https://youtu.be/Pq50nmb8t8k


+LGBTQ تحریک کا نظریاتی تجزیہ: جماعتِ اسلامی ہند کا سیمینار

السیرۃ

ایل جی بی ٹی کیو پلس (LGBTQ+) کی اصطلاح ان افراد کے حقوق اور سماجی قبولیت کے لیے عالمی سطح پر استعمال کی جاتی ہے جو اپنی جنسی شناخت (sexual orientation) یا صنفی شناخت (gender identity) کے لحاظ سے روایتی معاشرتی ماحول سے مختلف ہیں، یا ایسا محسوس کرتے ہیں، یا اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس اصطلاح میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

(ادارہ الشریعہ)


جماعتِ اسلامی ہند نے ۱۸ اگست (۲۰۲۴ء) کو دہلی میں ’’ایل جی بی ٹی کیو پلس تحریک کا نظریاتی تجزیہ‘‘ کے عنوان سے ایک جامع سیمینار منعقد کیا، جس میں مختلف علمی و فکری جہتوں سے اس تحریک کا جائزہ لیا گیا۔ اس ایک روزہ پروگرام کا اہتمام جماعت کے شعبۂ تحقیق و تصنیف نے کیا، اور اس میں ماہرینِ تعلیم، فکری رہنما، اور محققین نے نظریاتی، نفسیاتی، طبی، سماجی اور سیاسی زاویوں سے اپنی آراء پیش کیں۔

افتتاحی خطاب جماعتِ اسلامی ہند کے سیکرٹری محی الدین غازی نے کیا، جنہوں نے پروگرام کے بنیادی تصور اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ ان کے بعد امریکا کے ’’امل انسٹیٹیوٹ‘‘ کے ڈین ڈاکٹر آصف حیرانی نے ’’ایل جی بی ٹی کیو پلس تحریک کی نظریاتی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ تحریک دراصل 1960ء اور 1970ء کی دہائی کے ’’جنسی انقلاب‘‘ سے ابھری، جس نے مرد و عورت کے بارے میں روایتی اخلاقی معیارات کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ مابعد جدیدیت (Postmodernism) نے اخلاقیات کی معیاری بنیاد کو کمزور کر کے انسانی شناخت کو ایک قابلِ تبدیل اور ذاتی رجحان میں بدل دیا، جس کے نتیجے میں ’’جنسی آزادی‘‘ اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ جیسے رجحانات کو عام کیا گیا۔ ڈاکٹر حیرانی نے کہا کہ مذہب سے دوری اور الحاد پر مبنی رویے نے ان تصورات کو مزید تقویت دی ہے اور یہ رویے اب سماجی اقدار اور خاندانی نظام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

محی الدین غازی نے اپنے خطاب میں ’’قرآنی زاویے سے اخلاقیات‘‘ کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن انسان کی فطرت کے خلاف کسی عمل کو قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے حضرت لوطؑ کی قوم کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم جنس پرستی کو قرآن نے سختی سے ممنوع قرار دیا ہے، اور قرآن کی اخلاقیات کا بنیادی پیغام عفت، پاکدامنی اور ازدواجی زندگی کے تقدس کے گرد گھومتا ہے۔ اسلام میں نکاح صرف مرد اور عورت کے درمیان ممکن ہے، اور اس سے باہر ہر قسم کا تعلق گناہ شمار ہوتا ہے۔

جماعتِ اسلامی ہند کے اسسٹنٹ سیکرٹری ڈاکٹر شاداب منور موسیٰ نے ’’ایل جی بی ٹی کیو پلس: ایک تہذیبی چیلنج‘‘ کے عنوان سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تحریک مغربی تہذیب اور سیکولر نظریات سے جنم لینے والا ایک رجحان ہے جو اسلامی اقدار سے براہِ راست متصادم ہے۔ مغرب نے اپنی معاشرت کو لامذہبیت اور فرد کی خودمختاری کے اصول پر استوار کیا ہے، جس کے نتیجے میں جنس اور خاندان کے تصورات بری طرح بکھر گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم معاشرہ مغربی ماڈلز کی نقالی سے پرہیز کرے اور اپنی تہذیبی اساس کو محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی تعلیمات سے رہنمائی لے۔

ڈاکٹر محمد رضوان، ڈائریکٹر ’’سی ایس آر‘‘ نے ’’ایل جی بی ٹی کیو پلس پر نفسیاتی و حیاتیاتی زاویے‘‘ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسئلہ سائنسی بنیادوں سے زیادہ سماجی و فکری تشکیل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی رجحان اور صنفی شناخت کو اکثر فطری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ ماحول، پرورش، اور ثقافتی اثرات کا امتزاج ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بھارت میں ’’اصلاحی معالجات‘‘ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے مزید فکری ابہام پیدا ہوا ہے۔

جماعت کے نائب امیر امین الحسن نے ’’اسلامی زاویے سے تربیتِ اولاد‘‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے معاشرے میں بچوں کو جنسی طور پر بگاڑنے والی تصویری، ادبی اور ڈیجیٹل یلغار اپنے عروج پر ہے۔ والدین کے لیے یہ ایک سخت آزمائش کا دور ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو ان اثرات سے بچائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی تربیت میں اسلامی طرزِ فکر پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ وہ ان بے راہ روی کے رجحانات کا شعوری طور پر مقابلہ کر سکیں۔

معروف صحافی عبدالسلام پُتھیگے نے ’’ایل جی بی ٹی کیو پلس تحریک کے سماجی و سیاسی اثرات‘‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک محض ایک سماجی رجحان نہیں بلکہ عالمی سطح پر اخلاقی اقدار پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا، کارپوریٹ دنیا، اور سیاسی ادارے اس تحریک کو فروغ دینے میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کو فعال ردِعمل دینا چاہیے، جذباتی نہیں بلکہ شعوری اور مہذب انداز میں، تاکہ اخلاقی اور خاندانی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔

’’دی کمپینین‘‘ کے مدیر خوشحال احمد نے ’’بھارت میں ایل جی بی ٹی کیو پلس اور معاشرہ‘‘ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے ہندوستانی تہذیب میں ہم جنس تعلقات کی تاریخی و ثقافتی جڑوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض قدیم متون مثلاً مہا بھارت اور ویدک کہانیوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں آج کے ہم جنس پرست گروہ اپنی حمایت میں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ بیانیہ جدید دور میں نوآبادیاتی اثرات، مغربی نظریات، اور سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ اثر تشکیل پایا ہے۔ انہوں نے ’’پنک کیپیٹلزم‘‘ (Pink Capitalism) کا ذکر کیا جس کے ذریعے کارپوریٹ ادارے اس تحریک کو مالی اور تشہیری سطح پر تقویت دے رہے ہیں۔

اختتامی خطاب جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نقطۂ نظر میں جنسی رجحان اور اخلاقیات کا تعین اللہ تعالیٰ کے احکامات سے ہوتا ہے، نہ کہ انسانی خواہشات سے۔ اسلام میں جنسی تعلق صرف مرد و عورت کے جائز ازدواجی رشتے کے اندر ہی درست ہے، جبکہ مغرب نے اسے فردی آزادی اور ذاتی حق کے نام پر بگاڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل جی بی ٹی کیو پلس تحریک نہ صرف خاندانی ڈھانچے بلکہ بچوں کے بنیادی حقوق کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ حسینی صاحب نے زور دیا کہ مسلمانوں کو اس فکری یلغار کے مقابلے میں مضبوط علمی و اخلاقی بنیادوں پر کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ یہ محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی جنگ ہے۔

پروگرام کے اختتام پر تمام مقررین کے افکار کو سراہتے ہوئے یہ عہد کیا گیا کہ جماعتِ اسلامی ہند آئندہ بھی اس نوع کے فکری مباحث کو جاری رکھے گی تاکہ امتِ مسلمہ کو عصری چیلنجز کا شعوری طور پر سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اس موقع پر یہ پیغام دیا گیا کہ مسلمان اس تحریک کے اثرات سے باخبر رہیں، اپنی خاندانی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کریں، اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے میں عفت و حیا کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔

(السیرۃ — ۲۵ اگست ۲۰۲۴ء)


انڈیا  -  مڈل ایسٹ  -  یورپ   اقتصادی راہداری   (IMEC)

ادارہ الشریعہ

منصوبہ کی ابتدا

انڈیا   - مڈل ایسٹ  -  یورپ اقتصادی راہداری (India-Middle East-Europe Economic Corridor) ایک نیا بین الاقوامی منصوبہ ہے جو حالیہ برسوں میں عالمی سیاست اور معیشت کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد بھارت، خلیجی عرب ممالک اور یورپ کے درمیان تجارت، توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں کو ایک منظم اور جدید نظام کے تحت استوار کرنا ہے۔ 

آئی میک (IMEC) منصوبہ پہلی مرتبہ ستمبر 2023ء میں بھارت میں ہونے والے جی ٹوئنٹی (G20) سربراہی اجلاس میں باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا، جہاں امریکہ، یورپی یونین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اٹلی، فرانس اور جرمنی سمیت کئی بااثر ممالک نے اس کی حمایت کی۔ اس راہداری کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو، خصوصاً سی پیک (CPEC) کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ عالمی تجارتی راستوں میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔

اغراض و مقاصد

آئی میک کے قیام کا بنیادی خیال یہ ہے کہ بھارت کو یورپ تک پہنچنے کے لیے ایک نیا محفوظ اور مختصر راستہ دیا جائے جو خلیجی ممالک سے گزرتا ہوا بحیرۂ روم کے راستے یورپ سے جا ملے۔ اس راہداری میں سمندری اور زمینی دونوں ذرائع شامل کیے گئے ہیں۔ اس پورے نظام میں بجلی، انرجی پائپ لائنز، فائبر آپٹک نیٹ ورک، اور جدید لاجسٹک نظام شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ تجارت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اور توانائی کے تبادلے بھی آسان ہوں۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق:

چین بمقابلہ مغرب

یہ منصوبہ جغرافیائی لحاظ سے اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو، خاص طور پر سی پیک کے مقابلے میں بھارت اور مغربی طاقتوں کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ:

ممالک کا ردعمل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس منصوبے کے بڑے حامی ہیں، کیونکہ وہ تیل پر انحصار کم کرکے خود کو تجارتی اور تزویراتی مرکز کے طور پر منوانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ اور یورپی ممالک بھی اس منصوبے کو ایک اسٹریٹجک موقع سمجھتے ہیں جس کے ذریعے وہ چین کے اثر سے الگ ایک مستحکم سپلائی چین قائم کر سکیں۔ 

تاہم، ترکی اور مصر جیسے ممالک نے اس منصوبے کے روٹ پر اعتراضات یا تحفظات ظاہر کیے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی روایتی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصر شامل نہ ہوا تو سوئز کینال کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے، جو اس وقت دنیا کی سب سے مصروف تجارتی گزرگاہ ہے۔ غزہ کی جنگ کی وجہ سے مصر نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے بغیر کسی بڑے علاقائی منصوبے کی کامیابی کا تصور محض مفروضہ ہے۔ 

اس کے باوجود بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک نے سفارتی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دوبارہ ملاقاتوں اور پالیسی بیانات کے ذریعے اس منصوبے کو ’’زندہ‘‘ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

منصوبہ کی عملی صورتحال

یہ منصوبہ اگرچہ سیاسی طور پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے لیکن عملی طور پر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ جی ٹوئنٹی کے موقع پر معاہدے پر دستخط کے بعد اس پر تکنیکی اور مالیاتی حوالے سے غوروخوض چل رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینکس اس کی معاشی افادیت، ممکنہ راستوں، اور سرمایہ کاری کے طریقوں پر رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔ البتہ منصوبے کی پیشرفت کو خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال نے خاصا متاثر کیا ہے۔ غزہ کی جنگ، اسرائیل اور ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی، بحیرہ احمر میں حوثی حملے، اور مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال نے اس راہداری کے مجوزہ راستے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

ابھی تک اس منصوبے کے تحت کسی بڑی تعمیر یا انفراسٹرکچر کا آغاز نہیں ہوا۔ 2024ء اور 2025ء کے دوران مختلف اعلیٰ سطح کی میٹنگز اور پالیسی ورکشاپس تو ہوئیں، جن میں تکنیکی پہلوؤں، سرمایہ کاری کے فریم ورک، اور ریلوے و بندرگاہی تعاون پر بات چیت کی گئی، لیکن حقیقی مالی سرمایہ کاری کے فیصلے ابھی باقی ہیں۔ مغربی تھنک ٹینکوں جیسے Atlantic Council اور بھارتی تحقیقی ادارے RIS نے اس منصوبے پر تفصیلی جائزے شائع کیے ہیں جن میں اسے ’’مستقبل کے اقتصادی ربط کا خواب‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم انہی رپورٹس میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ جب تک مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی استحکام نہیں آتا، منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو IMEC فی الحال ایک کاغذی اور سفارتی منصوبہ ہے جس کا مقصد مستقبل میں عالمی تجارتی راستوں کو نئے زاویوں سے ترتیب دینا ہے۔ اسے اس وقت چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں مغربی بلاک کا سب سے منظم جواب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب تک اس کے لیے سرمایہ کاری، سلامتی کی ضمانت، اور خطے کے ممالک کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی، یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکے گا۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ آئی میک نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا بیانیہ پیدا کیا ہے جس کے ذریعے بھارت اور مغربی دنیا اپنے جغرافیائی اور اقتصادی اثر کو ازسرِنو منظم کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں اگر حالات سازگار ہوئے تو یہ راہداری مشرق سے مغرب تک تجارتی روابط کا نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔

Sources:

کسے گواہ کریں کس سے منصفی چاہیں

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شرم الشیخ میں غزہ کی جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہو گئے اور بے اختیار بقول شاعر:

؏ دل خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے

اول تو ان ستر ہزار شہداء کو یاد کر کے جنہوں نے اپنی موت کو گلے لگا کر فلسطین کو زندہ رکھا۔

دوسرے یہ یاد کر کے کہ اس امن کا سہرا لاکھوں جانوں کے نقصان کے بعد اس کے سر بندھ رہا ہے جس نے قدس میں سفارت خانہ قائم کر کے اسے اسرائیل کا مرکز قرار دیا تھا اور دو سال تک غزہ کے قتلِ عام میں برابر کا شریک رہ کر جنگ بندی کی ہر قرارداد کو ویٹو کرتا رہا۔

تیسرے اس لئے کہ غزہ میں فی الحال الحمد للہ امن قائم ہو گیا مگر ہم اپنے گھر میں امن قائم نہ کر سکے۔ فلسطین کا جو مسئلہ حل ہونے لگا تھا اس کے بارے میں ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا کیا موقع تھا؟ اور اگر کچھ لوگوں کو اس پر اصرار بھی تھا تو آخر وہ پاکستانی مسلمان تھے، کیا حکومت کے لئے یہ ایسا مسئلہ تھا کہ اس پر قابو پانے کے لئے گولیاں چلا کر کئی خاندانوں کو اجاڑنا ضروری ہو؟

چوتھے اس لئے کہ عین اس موقع پر جب بھارت پاکستان سے کھلی دشمنی پر آمادہ ہے اور پاکستان کے باغیوں کی حمایت کر رہا ہے اور اس سے مار بھی کھا چکا ہے، ہمارے ایک پڑوسی بھائی نے قیامِ امن کے لئے پاکستان سے بات کرنے کے بجائے بھارت سے پینگیں بڑھانی شروع کر دیں اور پھر دو مسلمان پڑوسیوں میں جنگ شروع ہو گئی جو امتِ اسلامیہ کے کسی بھی دردمند کے لئے تشویشناک خبر ہے:

؏ کسے گواہ کریں کس سے منصفی چاہیں
x.com/muftitaqiusmani/status/1977836102041125311

ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ منصوبہ اور مسلم حکمرانوں کا بیانیہ

حامد میر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم۔

پاکستان سمیت بہت سے جو مسلم ممالک ہیں ان کے حکمرانوں کے لیے ایک نئی مشکل پیدا ہو چکی ہے۔ ان حکمرانوں کو اس مشکل کا ابھی تک احساس تو نہیں ہو رہا لیکن ہم پہلے بھی ان کو اس مشکل سے آگاہ کر رہے تھے، اب مشکل پیدا ہو چکی ہے، دوبارہ آگاہ کر رہے ہیں۔ یہ مشکل نہ تو ان کے لیے کسی دہشت گرد تنظیم نے پیدا کی ہے، یعنی نہ تو القاعدہ نے کی ہے، نہ ٹی ٹی پی نے کی ہے، نہ ہی یہ مشکل جو ہے پاکستان کے حکمرانوں کے لیے پی ٹی آئی نے پیدا کی ہے، نہ ہی ٹی ایل پی نے پیدا کی ہے۔ یہ مشکل جو ہے یہ پیدا کی ہے بنجمن نیتن یاہو پرائم منسٹر آف اسرائیل نے۔ اور یہ مشکل کیسے پیدا کی ہے؟ یہ میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں۔

غزہ امن معاہدہ کتنا پائیدار؟

جب کچھ دن پہلے مصر کے شہر شرم الشیخ میں ڈونلڈ ٹرمپ صاحب جو ہیں ان کو بلا کر غزہ کے امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تو بہت سے جو مسلم ممالک کے حکمران ہیں انہوں نے بڑے فتح کے شادیانے بجائے اور پوری دنیا کو یہ بتایا جی کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جی ہزاروں سال پرانا جو مسئلہ فلسطین ہے وہ حل کی طرف جا رہا ہے۔ 

لیکن آپ یاد کریں کہ اس وقت بھی میں نے آپ کو خبردار کیا تھا کہ یہ غزہ امن معاہدہ جو ہے، ایک مثبت پیشرفت ہے، پازیٹو ڈیویلپمنٹ ضرور ہے، ہم سب غزہ میں سیزفائر چاہتے ہیں، ہم سب غزہ میں امن چاہتے ہیں، لیکن میں نے آپ کو بار بار یہ کہا تھا کہ نیتن یاہو کا جو ٹریک ریکارڈ ہے اس کو سامنے رکھیں تو لگتا نہیں کہ اس پہ عملدرآمد ہوگا۔ اور میں نے یہ بھی بار بار کہا کہ جو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں یہ ایک ناقابل اعتبار شخص ہے۔ 

اور یاد کریں جب اسرائیلی پارلیمنٹ کی جو کاروائی ہے وہ براہ راست پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز پہ دکھائی گئی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ جو ہیں وہ نیتن یاہو کی تعریفیں کر رہے ہیں، نیتن یاہو سامنے بیٹھ کر تالیاں بجا رہے ہیں ڈیسک بجا رہے ہیں، تو وہ تقریر تھی جو ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ مستقبل کا منظر سمجھنے کے لیے کافی تھی۔ اور پتہ چل رہا تھا کہ جیسے ہی حماس اسرائیل کے یرغمالیوں کو رہا کرے گی تو اس کے بعد نیتن یاہو جو ہے وہ اس غزہ امن پلان یا سیزفائر کی ایسی تیسی کر دے گا۔

اب آپ وہ جو پرانے وی لاگز ہیں وہ نکال کے دیکھ لیجیے، لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں یہ بات کیوں کر رہا تھا؟ اس لیے کہ میں بہت ریگولرلی جو اسرائیلی اخبارات ہیں اور ٹی وی چینلز ہیں ان کو مونیٹر کرتا ہوں۔ تو یہ دیکھیے یہ ٹائمز آف اسرائیل جو ہے یہ کیا کہہ رہا تھا، ٹائمز آف اسرائیل نے صاف صاف کہا:

Forging a durable peace for Gaza? Obviously impossible … but Trump did get all 20 living hostages back.

ٹائمز آف اسرائیل جو ہے اس نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی، اس نے صاف صاف کہا کہ غزہ میں امن ومن تو کوئی نہیں ہونا لیکن ٹرمپ صاحب جو ہیں ان کا کمال یہ ہے کہ وہ جو اسرائیل کے 20 یرغمالی ہیں ہوسٹیجز ہیں وہ ان کو واپس لے آئے ہیں۔

نیتن یاہو کا بیان اور غزہ میں مسلم فوج کا امکان

اور پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کے بعد نیتن یاہو صاحب جو ہیں انہوں نے ایک بیان دیا، بڑا واضح بیان تھا، جس کو کہ مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ یہ میرے پاس دی گارڈین، لندن سے شائع ہوتا ہے دی گارڈین، یہ اس کی سٹوری ہے، ہیڈ لائن ہے، یہ کیا کہہ رہی ہے:

Israel will disarm Hamas and demilitarise Gaza, says Netanyahu.

یعنی غزہ امن پلان میں جو کام ٹرمپ صاحب نے کہا تھا کہ انٹرنیشنل فوج آئے گی، اسلامی ممالک کی فوج آئے گی، وہ غزہ کو ڈی ملیٹرائز کرے گی اور وہ وہاں پہ امن قائم کرے گی، نیتن یاہو نے اس کی بھی ایسی تیسی پھر دی۔ اس نے کہا نہیں بھئی، یہ جو بھی کرنا ہے نا یہ اسرائیلی فوج نے کرنا ہے اور یہ ہم کریں گے۔ تو اس کے بعد تو کوئی شک کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی کہ جو ٹرمپ کا غزہ پیس پلان ہے اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے اس نے کامیاب نہیں ہونا۔

لیکن آپ دیکھیں کہ پاکستان سمیت بہت سے جو مسلم ممالک ہیں، ان کے جو حکمران ہیں، وہ اپنے عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، یہ دعوے کرتے رہے ان کے سامنے کہ جناب ہم نے ٹرمپ کے ساتھ مل کے ایک بہت بڑا کام کر دیا ہے اور ہم نے تو غزہ والے جو ہیں ان کو امن دے دیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اب جب کہ غزہ والے جو ہیں، حماس والے جو ہیں، انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ایک پیس ڈیل کر لی ہے تو بھئی آپ پاکستان میں شور کیوں مچا رہے ہیں؟ کیا ضرورت ہے آپ کو، انہوں نے تو صلح کر لی، حماس نے۔

جبکہ کوئی صلح ولح نہیں ہوئی تھی اور اس سو کالڈ جو شرم الشیخ میں معاہدہ ہوا تھا اس پہ عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس پہ جب دستخط ہو گئے اس کے بعد بھی سب کو پتہ تھا کہ اس پہ کوئی عملدرآمد نہیں ہونا۔ اب یہ جو صورتحال تھی اس کے باوجود کچھ لوگ اس امید کا اظہار کرتے رہے کہ جناب ہو سکتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بریک تھرو ہو جائے، کوئی اس غزہ کے امن معاہدے پہ عملدرآمد ہو جائے۔ 

مسلم حکمرانوں کا بیانیہ

لیکن جناب اب نیتن یاہو نے ایک ایسا کام کر دیا ہے کہ اس کے بعد تو اب ٹرمپ کے اس غزہ پیس پلان سے کوئی امید قائم رکھنا جو ہے وہ بے وقوفی کے سوا تو کچھ نہیں ہو گی۔ نیتن یاہو صاحب نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے ٹرمپ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے جو سربراہان ہیں جو حکومتیں ہیں ان کے لیے ایک مشکل پیدا کر دی ہے۔ مشکل کیا پیدا کی ہے کہ یہ جو پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک کی حکومتیں تھیں، یہ ایک نیریٹو، ایک بیانیہ بنا رہی تھیں کہ جناب حماس نے تو اسرائیل سے دوستی کر لی، غزہ والوں نے تو اسرائیل سے امن معاہدے پہ دستخط کر دیے، تو اب یہ آپ لوگ جو ہیں پاکستان میں بنگلہ دیش میں انڈونیشیا میں، آپ لوگ ان مسلم ممالک میں بیٹھ کے کیوں جناب فلسطینیوں کے لیے آنسو بہا رہے ہیں؟ یہ تھا نا نیریٹو؟ ابھی بھی آپ کے پاکستان کی حکومت کے بہت سے جو وزراء ہیں، ابھی بھی وہ یہ بات کرتے ہیں کہ غزہ والوں نے تو اسرائیل سے دوستی کر لی، انہوں نے تو ان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا، یہ آپ کیوں شور مچا رہے ہیں؟ 

اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے کی خودمختاری کا بل

تو بھئی اب آپ کو یہ بتانا ہے کہ شاید آپ کو نہیں پتہ کہ اسرائیل کی جو پارلیمنٹ ہے اس نے ایک بل منظور کر لیا ہے۔ دوبارہ میں آپ کو دی گارڈین کی ایک ہیڈ لائن دکھانا چاہتا ہوں۔ یہ ہے جی ہیڈ لائن۔ وہ کیا کہہ رہی ہے:

Israel's West Bank annexation moves threatening Gaza Peace Deal, says Marco Rubio.

کون کہہ رہا ہے؟ ٹرمپ کا سیکرٹری آف سٹیٹ، ٹرمپ کا وزیر خارجہ۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ویسٹ بینک پر جو قبضے کے لیے فیصلہ کیا ہے، ایک ریزولیوشن منظور کر لیا ہے، ایک بل منظور کر لیا ہے، اس سے غزہ  پیس ڈیل خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ مارکو روبیو صاحب کہہ رہے ہیں۔

تو جناب یہ ایکچوئلی ہوا کیا ہے؟ ہوا یہ ہے کہ جو دریائے اردن کا مغربی کنارہ ہے اس کو ویسٹ بینک کہا جاتا ہے۔ اور ویسٹ بینک جو ہے یہ اس فلسطینی ریاست میں شامل ہونا تھا جس فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصر، تمام مسلم ممالک جو ہیں انہوں نے پچھلے دنوں ایک قرارداد منظور کی، یونائٹیڈ نیشنز میں بھی قرارداد منظور کی گئی، برطانیہ، فرانس، یہ تمام جو ویسٹرن کنٹریز ہیں یہ بھی اس فلسطینی ریاست کو سپورٹ کر رہے ہیں جناب کہ جس میں غزہ بھی شامل ہوگا اور ویسٹ بینک بھی شامل ہوگا۔

ایک آپ نے نعرہ سنا ہوگا ’’فرام دی ریور ٹو دی سی‘‘ (from the river to the sea)۔ ریور کا مطلب ہے دریائے اردن کا مغربی کنارہ۔ اور سی کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کی پٹی پر جو سمندر ہے، غزہ ایک ساحلی شہر ہے۔ تو وہاں تک فلسطین ہے۔ یہ جو فلسطینی ہیں ان کا نعرہ بھی ان کی ایک آزاد جو ریاست ہے وہ اس کی نمائندگی کرتا تھا۔

تو اسرائیل جو ہے پہلے تو اس نے غزہ پیس پلان کی دھجیاں بکھیریں۔ پہلے یہ کہا کہ ہاں ہم اپنی فوج واپس بلا لیں گے۔ جب حماس نے ان کے یرغمالی چھوڑ دیے تو اب نیتن یاہو کہہ رہا ہے کہ ہم نے تو غزہ سے واپس نہیں جانا، ہم تو خود حماس کو ڈی ملیٹرائز کریں گے۔ اور اب اسرائیل کی پارلیمنٹ نے، دریائے اردن کا جو مغربی کنارہ ہے، وہاں پر اس نے قبضہ کرنے کے لیے ایک فیصلہ کر لیا ہے، اپنی پارلیمنٹ کے فورم پہ یہ فیصلہ کیا ہے، جس پہ کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو صاحب بھی پریشان ہو گئے ہیں۔

تو یہ ایک بہت ہی تشویشناک صورتحال ہے اور یہ جو مارکو روبیو کی سٹیٹمنٹ ہے یہ صرف ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی پریشانی ظاہر نہیں کرتی، یہ آپ ذرا سوچیں کہ آنے والے دنوں میں جب اسرائیل غزہ کے بعد اب ویسٹ بینک پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا، وہاں پر بھی وہ قتل عام کرے گا، وہاں پر بھی وہ ہولوکاسٹ شروع کرے گا، تو اس کے بعد ہوگا؟ کیا پاکستان اور جو دیگر مسلم ممالک ہیں، وہاں کی جو حکومتیں ہیں، انہوں نے جو ایک بیانیہ بنایا تھا اس بیانیہ کی بھی دھجیاں نہیں بکھر جائیں گی؟ یہ ہے وہ مشکل جو نیتن یاہو پیدا کرنے والا ہے۔

اسرائیل کے متعلق مغربی ممالک میں عوامی رائے کی تبدیلی

اور ابھی کچھ مزید مشکلات بھی میں ذکر کروں گا لیکن پہلے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے لیے کیا مشکلات پیدا ہو گئی ہیں؟ ٹرمپ کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ جو امریکہ کا پبلک اوپینین ہے وہ اسرائیل کے خلاف ہو گیا ہے۔ تو اب یہ جو پبلک اوپینین خلاف ہو گیا ہے اسرائیل کے، اس کی خبر ہمیں کون دے رہا ہے؟ اس کی خبر ہمیں دے رہا ہے نیویارک ٹائمز۔ نیویارک ٹائمز کہہ رہا ہے:

American's support for Israel dramatically declines.

یہ ہے جی، میں نے اس کا پرنٹ نکالا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ایک سروے کیا ہے اور اس سروے میں نیویارک ٹائمز یہ بتا رہا ہے جی کہ

In the aftermath of the Hamas-led attacks on Israel on Oct. 7, 2023, American voters broadly sympathised with Israelis over Palestinians, with 47 percent siding with Israel and 20 percent with Palestinians. In the new poll, 34 percent said they sided with Israel, and 35 percent with Palestinians. 31 percent said they were unsure or backed both equally.

7 اکتوبر 2023ء کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو اس وقت 47 پرسنٹ جو امریکی ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے اور 20 فیصد امریکی جو ہیں وہ فلسطینیوں کے ساتھ تھے۔ لیکن اب 2025ء میں سروے کیا ہے نیویارک ٹائمز نے کہ اب اسرائیل کی حمایت 34 فیصد ہے اور فلسطینیوں کی حمایت 35 فیصد ہے (اور 31 تذبذب میں ہیں یا دونوں کے ساتھ ہیں)۔ کہاں پہ؟ امریکہ میں۔ اب یہ نیویارک ٹائمز کی خبر ہے۔

لیکن امریکہ میں ایک پیو ریسرچ سینٹر ہے (Pew Research Center) جو پبلک اوپینین کو مونیٹر کرنے والا اور اس کا اندازہ لگانے والا سب سے کریڈیبل ادارہ ہے۔ یہ پیو کی رپورٹ بھی میرے پاس ہے۔ میں آج آپ کو ساری ایویڈنس بھی ساتھ ساتھ دکھا رہا ہوں۔ پیو کہہ رہی ہے جی کہ 

39% now say Israel is going too far in its military operation against Hamas. 
59% now hold an unfavourable opinion of the Israeli government.

59 پرسنٹ امریکنز جو ہیں ان کی اوپینین اسرائیلی حکومت کے بارے میں اَن فِیوریبل (غیرحمایتی) ہو گئی ہے۔ تو اس لیے مارکو روبیو صاحب جو ہیں وہ پریشان ہیں، وہ کہہ رہے ہیں جی کہ یہ جو ویسٹ بینک پر قبضہ کرنے کی اسرائیلی خواہش ہے اس سے تو امن پلان تباہ و برباد ہو جائے گا۔

اور اس کے ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی پبلک اوپینین جو ہے وہ بہت زیادہ اینٹی اسرائیل ہو گئی ہے۔ اور اسی لیے آپ نے دیکھا کہ یورپ سے لے کے آسٹریلیا تک اسرائیل کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اتنے بڑے مظاہرے کسی مسلم ملک میں نہیں ہوئے لیکن مغربی ممالک یورپ میں خاص طور پہ بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے جو وہاں کی حکومتیں ہیں وہ بھی پریشر میں آ رہی ہیں اور اس کا اثر بھی ٹرمپ پہ پڑ رہا ہے۔

جنگی جرائم کے بارے میں رپورٹس

اب اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو یونائٹیڈ نیشنز ہے، جس کو ٹرمپ کچھ نہیں سمجھتا، یونائٹیڈ نیشنز نے غزہ میں اور دیگر فلسطینی علاقے ہیں وہاں پر جو اسرائیلی مظالم ہیں اس کے بارے میں ایویڈنس کلیکٹ کرنے کی شروع کی، تو یونائٹڈ نیشنز کی جو ہیومن رائٹس کونسل ہے جنیوا بیسڈ، اس کو یہ پتہ چلا ہے کہ

More than a human can bear, Israel's systematic use of sexual reproductive and other forms of gender-based violence since October 2023.

یونائٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کونسل کی جو رپورٹ ہے وہ کہہ رہی ہے کہ اسرائیلی فوج جو ہے وہ ریپ کو فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہی ہے۔ اچھا، اب یہاں پر میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب اکتوبر 2023ء میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو اس وقت کچھ جو مغربی نشریاتی ادارے ہیں وہ یہ کہہ رہے تھے کہ حماس نے بھی اسرائیل کے اندر گھس کے وہاں پہ جو اسرائیلی عورتیں ہیں ان کا ریپ کیا ہے۔ اور یہ اس وقت کی بی بی سی کی ایک رپورٹ ہے۔ یہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ حماس پہ بھی الزام لگایا گیا تھا اور بی بی سی نے کہا تھا کہ

Israel Gaza: Hamas raped and mutilated women on 7 October, BBC Hears.

اور بی بی سی نے کہا جی کہ ہمارے پاس اس کی ایویڈنس موجود ہے۔ لیکن بی بی سی نے یہ نہیں کہا کہ یہ سسٹمیٹک طریقے سے ہوا۔ حماس والے جو ہیں وہ ادھر گئے انہوں نے اگر یہ کام کیا تو یہ انتہائی قابل مذمت کام تھا لیکن ان میں سے اکثر وہاں پہ مارے گئے۔

اب جو امریکن میڈیا ہے وہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ دیکھیں جی، این بی سی جو ہے وہ امریکہ کا ایک نشریاتی ادارہ ہے۔ این بی سی جو ہے وہ یو این کو کوٹ کر کے کہہ رہا ہے کہ

U.N. finds 'clear and convincing' information that hostages have been raped in Gaza.

اسرائیلی فوج جن فلسطینی عورتوں کو گرفتار کرتی ہے، اپنی حراست میں لیتی ہے، تو ان کا سسٹمیٹک طریقے سے گینگ ریپ ہوتا ہے۔ یہ این بی سی نے کہا ہے، ایک امریکی نشریاتی ادارہ ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم حکمرانوں کی مشکل

اس وجہ سے ٹرمپ صاحب کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ اور یہ خبریں جب مڈل ایسٹ میں پہنچتی ہیں، عرب ممالک میں پہنچتی ہیں، تو پھر یہ عرب نیوز بھی آپ کو یہ بتاتا ہے کہ

The tide of public opinion in Europe is turning against Israel.

عرب نیوز کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ ’’دی ٹائیڈ آف پبلک اوپینئن اِن مڈل ایسٹ اینڈ مسلم ورلڈ اِز آلسو اگینسٹ اسرائیل‘‘۔ اور پاکستان کا تو آپ کو پتہ ہی ہے۔ تو یہ ایک فرق ہے اور ایک مشکل ہے جو کہ پیدا ہو گئی ہے۔ اس وقت نہ صرف ٹرمپ کے لیے بلکہ بہت سے مسلم ممالک کے جو سربراہان ہیں ان کے لیے ایک مشکل پیدا ہو گئی ہے، انہوں نے ایک نیریٹو بنایا تھا کہ جناب حماس کی اور غزہ والوں کی تو اسرائیل کے ساتھ پیس ڈیل ہو گئی ہے تو یہ آپ لوگ فلسطینیوں کے لیے آنسو کیوں بہاتے ہیں؟ نیتن یاہو نے نہ صرف اس پیس ڈیل کو تباہ و برباد کر دیا ہے بلکہ اس نے اب ویسٹ بینک پر بھی قبضے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ جس پہ کہ مارکو روبیو صاحب بھی بڑے پریشان ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا امکان

اب ہو کیا رہا ہے؟ اب ہو یہ رہا ہے کہ جو یورپین کنٹریز ہیں اسپیشلی یورپین یونین میں جو ممالک شامل ہیں، ان کی ایک پارلیمنٹ ہے برسلز میں، اس پارلیمنٹ میں ایک بل آگیا ہے، اور بل یہ ہے کہ اسرائیل جو ہے اس نے پوری دنیا کے سامنے ایک پیس پلان پر عملدرآمد کا وعدہ کیا لیکن اب وہ اس پہ عملدرآمد نہیں کر رہا، اس نے پوری دنیا کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ وہ غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے گا، وہ غزہ سے فوج واپس نہیں بلا رہا، تو آپ کیا کریں؟ تو کیونکہ وہاں پر بھی پبلک اوپینین بہت خلاف ہو رہی ہے اسرائیل کے، تو اب وہ یہ کہہ رہے ہیں جی کہ اب ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، سیکشنز لگائیں۔ کسی زمانے میں یہ ممالک جو ہیں انہوں نے ایران پر پابندیاں لگائی تھیں، پھر انہوں نے رشیا پر پابندیاں لگائیں، اب یہ اسرائیل پر پابندیاں لگانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اور ٹرمپ صاحب جو ہیں وہ بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

اب یہ ایک تو میں نے آپ کو بتایا کہ نیتن یاہو کی وجہ سے جو پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک کے حکمران ہیں ان کو یہ مشکل پیش آئے گی کہ انہوں نے شرم الشیخ میں جو ایک معاہدہ ہوا تھا اس کے بعد ایک نیریٹو بنایا ایک بیانیہ بنایا کہ جناب وہ غزہ والوں نے تو صلح کر لی اسرائیل سے تو یہ آپ پاکستان کے مسلمان جو ہیں آپ کیوں فلسطینیوں کے لیے آنسو بہاتے ہیں؟ ایک تو یہ مشکل ہو گئی۔ اب دوسری مشکل کیا ہونے والی ہے؟ وہ ابھی ہونے والی ہے، ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے۔

پہلی مشکل تو پیدا ہو چکی ہے، دوسری ابھی پیدا ہونے والی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر یورپین پارلیمنٹ نے اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کر لیا تو ٹرمپ صاحب بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے کیونکہ ٹرمپ صاحب تو کسی بھی صورت میں اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے حامی نہیں ہیں۔ اور اس کے بعد وہ مسلم ممالک بھی مشکل میں پڑ جائیں گے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور یہ جو غزہ میں ہولوکاسٹ ہو رہا ہے، فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے، فلسطینی عورتوں کا ریپ ہو رہا ہے، اس کے بعد بھی ان مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے تو ان کے لیے بھی مشکل ہو جائے گی کہ جناب اب تو یورپین ممالک جو ہیں انہوں نے پابندیاں لگا دی ہیں۔

اور ہو سکتا ہے کہ کچھ جو مغربی ممالک ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع بھی کر لیں جیسا کہ کچھ ملک ہیں اس دنیا میں جنہوں نے یہ جو حالیہ اسرائیلی ظلم و ستم ہے اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کیے۔ تو یہ مغربی ممالک کی جو پبلک اوپینین ہے یہ ان کو فورس کرے گی کہ وہ بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کریں۔ تو یہ بڑی مشکل پڑ جائے گی اور پھر کیا کریں گے آپ؟

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی خواہشمندی

پھر وہ پاکستان میں صاحبانِ علم و دانش جو یہ کہتے ہیں جناب کہ ’’عربوں نے تو دوستی کر لی، عربوں نے تو اسرائیل کو تسلیم کر لیا، تو پاکستان کی اسرائیل سے کیا لڑائی ہے تو آپ بھی کر لیں‘‘، ان کے لیے بھی بڑی مشکل ہو جائے گی۔ اور جن لوگوں نے ٹرمپ کے ساتھ بہت تصویریں کھنچوائیں اور شرم الشیخ میں انہوں نے بڑی تقریریں کیں کہ جناب ایک بہت بڑا بریک تھرو کر دیا اور ٹرمپ جو ہیں وہ امن کے بہت بڑے پیامبر بن کر سامنے آئے ہیں اور ان کو اب ایک واقعی نوبل پیس پرائز مل جانا چاہیے۔ تو ان کے یہ جو دعوے ہیں اور ان کی جو نومینیشن ہے، وَنس اگین پاکستان کی حکومت نے شرم الشیخ میں کھڑے ہو کے ٹرمپ صاحب کو پھر نومینیٹ کر دیا نوبل پیس پرائز کے لیے، تو وہ کون سا پیس پرائز ہے جو اب آپ ٹرمپ کو دلوائیں گے؟ کیونکہ نیتن یاہو نے تو اس غزہ پیس پلان کا بھی خانہ خراب کر دیا اور اب تو وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے ویسٹ بینک پہ بھی قبضہ کرنا ہے۔

تو میں کہنا صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنی جو فارن پالیسی ہے اس کو احتیاط سے آگے بڑھانا چاہیے اور صرف ایک سپرپاور کے صدر کو خوش کرنے کے لیے ایسی سٹیٹمنٹس نہیں دینی چاہئیں جس کے بارے میں آپ کو صرف پاکستان کے اندر سے نہیں، پاکستان کے باہر سے بھی بہت سے لوگ وارن کر رہے تھے کہ ٹرمپ صاحب جو ہیں وہ ناقابل اعتبار ہیں، ان پر آپ بہت زیادہ ٹرسٹ کر رہے ہیں، آپ ضرورت سے زیادہ ان کی تعریفیں کر رہے ہیں، کہیں آپ کو مہنگی نہ پڑ جائیں۔ تو اب وہ مہنگی تو پڑیں گی نا، کیونکہ نیتن یاہو نے اگر ٹرمپ کی عزت کا خیال نہیں کیا تو ایک عام امریکن اس کی عزت کا کیا خیال کرے گا؟ اب تو نیویارک ٹائمز کہہ رہا ہے جی کہ ’’اسرائیلیز لوزنگ امریکن سپورٹ‘‘۔

اور میں آپ کو یہاں پہ ایک آرٹیکل جو ہے آخر میں وہ بھی دکھانا چاہتا ہوں۔ یہ سی این این کا آرٹیکل ہے، تھوڑے دن پہلے شائع ہوا ہے، یہ کہہ رہا ہے جی

With rare earths, deft diplomacy (and ample flattery), Pakistan shows how to deal with Trump 2.0

فلیٹری کا لفظ استعمال کیا ہے۔ آرٹیکل میں یہ کہا گیا ہے جی کہ پاکستانی جو ہیں نا، یعنی پاکستان کی حکومت، اس کو پتہ ہے ٹرمپ کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ کیسے کرنا ہے؟ خوشامد سے۔ تو ہم نے جو ٹرمپ صاحب کو خوش کرنے کے لیے ان کی خوشامد کی، کاش کہ وہ خوشامد ہمارے کام آ جاتی، لیکن وہ ہمارے کسی کام نہیں آ رہی، اور وہ تو ٹرمپ صاحب کے بھی کسی کام نہیں آ رہی۔ تو اس لیے گزارش صرف یہ ہے بہت ادب کے ساتھ کہ آئندہ ٹرمپ صاحب کی تعریف کرنے یا ان کی خوشامد کرنے سے پہلے یہ جو سی این این میں آرٹیکل لکھا ہے صوفیہ سیفی نے، اور آرٹیکل میں ٹرمپ کے ساتھ شہباز شریف صاحب بھی نظر آ رہے ہیں، تو آئندہ کسی انٹرنیشنل فورم پہ ٹرمپ صاحب کی تعریف کرنے سے پہلے اس آرٹیکل کو ضرور ذہن میں رکھیے گا، بہت بہت شکریہ۔

https://youtu.be/miRbzZzVJFo

(۲۳ اکتوبر ۲۰۲۵ء)

غزہ میں حماس کی جنگ: دو سال میں کیا کھویا کیا پایا؟

مشاہد حسین سید

انٹرویو نگار : عاصمہ شیرازی

عاصمہ شیرازی: آپ سکالر بھی ہیں، آپ کی نظر بھی ہے ان سارے معاملاے کے اوپر، کیا دیکھ رہے ہیں آپ، دو سال میں کیا ہوا ہے اس پورے محاذ کے اوپر اسرائیل کے اور فلسطین کے؟

مشاہد حسین سید: جی بالکل دو سال پورے ہو گئے ہیں۔ پہلے تو میں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں فلسطینی مجاہدین کو، بچے، بچیاں، خواتین، مرد، جنہوں ظلم سہا ہے، جنہوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جب یہ شروع ہوا تھا سلسلہ ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ سات اکتوبر کو، تو ایک بڑا تکبر والا وار کریمینل ہے، نیتن یاہو نے کہا تھا کہ میرا ایک مقصد ہے اس جنگ کا کہ میں حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹا دوں، اور یہ میرا ایک ٹارگٹ ہے۔ دو سال پہلے۔ اللہ کی شان دیکھیں کہ آج اسرائیل اور حماس کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

عاصمہ شیرازی: جی، کل ایک راؤنڈ ہوا۔

مشاہد حسین سید: کل ایک راؤنڈ ہوا ہے۔ اور امریکہ کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس کا ٹویٹ ری ٹویٹ کر رہے ہیں۔ جس میں انہوں نے … کی بات بھی کی ہے، جس میں انہوں نے زائنسٹ آکوپیشن (صہیونی تسلط) کی بات بھی کی ہے۔ اور جی ڈی وینس (امریکی نائب صدر) نے بھی ری ٹویٹ کیا ہے۔ ایگزیکٹلی وہ جو پورا۔

آپ دیکھیں عاصمہ صاحبہ کہ سات اکتوبر سے پہلے کیا نقشہ تھا؟ تھوڑا سا، مختصر سا ذرا دیکھ لیں۔ میٹنگ ہوئی دلی میں بائیس ستمبر کو۔ بائیڈن اور مودی نے اناؤنس کیا کہ ایک نیا کوریڈور بن رہا ہے ’’اسرائیل، انڈیا، مڈل ایسٹ کوریڈور‘‘ (IMEC)۔ جو سی پیک (CPEC) کو اور چائنیز کوریڈور کو کاؤنٹر کرے گا۔ ٹھیک ہے جی۔ چوبیس ستمبر کو نیتن یاہو نے یونائیٹڈ نیشنز جنرل اسمبلی میں نقشہ دکھایا، دا نیو مڈل ایسٹ، جس میں فلسطین کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹھیک ہے جی۔

عاصمہ شیرازی: گریٹر اسرائیل۔

مشاہد حسین سید: گریٹر اسرائیل، پورا میپ دکھایا بڑے، کہ دیکھیں یہ ہے۔ فلسطین کا تو ہے ہی نہیں تھا نا۔ اور اٹھائیس ستمبر کو مجھے یاد ہے امریکہ کے اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر تھے جیک سَلِوان، انہوں نے کہا کہ جتنا پرسکون مشرقِ وسطیٰ اس وقت ہے، تاریخ میں نہیں ہوا۔ بالکل سب خیریت ہے۔ سب اچھا ہے۔ اور خیال تھا کہ ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ آ رہے ہیں، اب لمبی لائن لگ جائے گی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی۔ اور کسی نے فلسطین کا ذکر نہیں کیا۔

دو سال بعد پیلسٹائن ایشو اِز پیراماؤنٹ، ایون ٹرمپ مان رہا ہے پوائنٹ نمبر 19 میں کہ فلسطین کا حقِ خود ارادیت ہو، ایک ریاست بننی چاہیے، ٹائم نہیں دیا لیکن اصول … ہے۔ سعودی عریبیہ نے بھی کہا ہے، پاکستان، جتنے بھی ملک ہیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کا، وہ بات چھوڑیں۔ ابھی تو ایشو امیجیئٹ ہے کہ قتلِ عام کا خاتمہ ہو۔ جو زندہ رہنے کا حق ہے وہ تو آپ دیں نا۔ ریاست اس کے بعد بنتی ہے۔ اور ابھی یہ بھی ہو گیا کہ انیکسیشن نہیں ہو گی، آکوپیشن نہیں ہو گی، تو ایک مشرقِ وسطیٰ کا پورا نقشہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اور اس میں دو تین جنگیں بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان نے ہندوستان کو ہرایا ہے۔ ہندوستان کے پیچھے کون، اسرائیل تھا۔ ایران نے اسرائیل کو ہرایا ہے، اس کے پیچھے ہندوستان تھا۔ ایک سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے۔

عاصمہ شیرازی: تو اس میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ جو پورا سیناریو ہے جو کہ آپ کہہ رہے تھے کہ یہ حماس کے ساتھ اب بات چیت ہو رہی ہے، جس کو کہ انہوں نے کہیں کبھی شامل ہی نہیں کیا تھا۔ تو اس پہ پایا کیا ہے اور کھویا بھی کچھ ہو گا۔ اس کے اوپر میں دیکھ رہی تھی کہ آپ نے بڑا اچھا اس کے اوپر اینالسس لکھا ہوا تھا۔

مشاہد حسین سید: جی، جو کھویا ہے وہ تو جانیں جو ضائع ہوئیں، جو ظلم ہوا ہے، جو بربریت ہوئی ہے، جو لائیو جینوسائیڈ ہسٹری میں ہوا ہے بہت۔ جو برٹش فگرز ہیں، دو لاکھ چھیاسی ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ جس میں جو فیمن (قحط) سے بھی، جو قتلِ عام سے بھی، جو ہاسپیٹل میں بھی ہوئے ہیں۔ ٹوٹل فگرز۔ اور ہر ایک گھنٹے میں، پچھلے دو سالوں میں، ایک بچہ شہید ہوا ہے۔ انسانی جانیں، ہیومن لاسز۔ اور تباہی جو ہوئی ہے۔ وہ کھویا ہے۔ لیکن جو سیاسی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ پیلسٹائن کاز زندہ ہو گیا ہے۔

عاصمہ شیرازی: اور پیرالل اسرائیل اور حماس اب ایک جگہ کھڑے ہو گئے ہیں۔

مشاہد حسین سید: ایک سطح پر آ گئے ہیں۔ اور ایک چیز بہت بڑی ہوئی ہے۔ آپ خود ابھی یورپ سے ہو کے آئی ہیں۔ میں ابھی پچھلے دنوں گیا ہوا تھا۔ مغربی رائے اب تبدیل ہو گئی ہے۔

عاصمہ شیرازی: بدل گئی ہے، بالکل، جی۔

مشاہد حسین سید: یہ بہت بڑی بات ہے۔ آپ دیکھیں کہ ایمسٹرڈیم میں تین لاکھ لوگوں کا نکلنا اسرائیل کے خلاف۔ تل ابیب میں بھی دو لاکھ لوگ نکلے۔ واشنگٹن، لندن، پیرس، برلن، میڈرڈ، سڈنی۔ سڈنی میں دو لاکھ لوگ نکلے تھے۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ مغربی رائے عامہ تبدیل ہوئی ہے۔

مجھے یاد ہے جب میں سٹوڈنٹ تھا، امریکہ میں جارج ٹاؤن میں، تو یاسر عرفات صاحب آئے تو ایک امریکن پروفیسر تھا پالیسٹینین، ایڈورڈ سعید، بڑا مشہور تھا، اس نے کہا تھا عرفات صاحب کو کہ جس دن مغربی رائے عامہ تبدیل ہوئی بشمول امریکہ، اس دن آپ اپنے مقاصد کے قریب پہنچیں گے۔ وہ دن آج آگیا ہے۔

عاصمہ شیرازی: لیکن مشاہد صاحب، اس پورے دو سال میں لبنان میں حزب اللہ کو بہت نقصان پہنچا، ایران کے اندر اسماعیل ہنیہ اور حماس کی ٹاپ لیڈرشپ کو شہید کیا گیا۔ آپ دیکھیں کہ پورے ریجن کے اندر، سیریا پہ اٹیکس کر رہا ہے اسرائیل، یمن، قطر۔

مشاہد حسین سید: سیریا، یمن، قطر۔ چھ ممالک پر حملہ کیا ہے نا انہوں نے۔

عاصمہ شیرازی: جی، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس کی بھی گریٹر اسرائیل کی جو خواہش ہے وہ اس معاہدے یا اس بات چیت سے وہ دم توڑ جائے گی یا وہ مزید بڑھے گی ابھی؟

مشاہد حسین سید: دیکھیں نا، گریٹر اسرائیل کا تو۔ دو ممالک ہیں جو توسیع پسند ہیں۔ ایک ہمارے پڑوس میں ہندوستان جو اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہیں، ہندوتوا سوچ کے۔ اور اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھی انہوں نے چپکا دیا ہے لوک سبھا میں۔ جس میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، تاجکستان، میانمار شامل ہیں۔ ان کا پلان ہے جو ان کی زبان یدیش میں کہتے ہیں ایرٹس اسرائیل، گریٹر اسرائیل۔ یہ جو آپ بات کر رہی ہیں، جس میں خدانخواستہ وہ مکہ کا بھی ذکر ہے۔ تو اس حوالے سے ان کی سوچ تو یہ تھی۔ اور اب تو وہ جان بچائے اپنی نیتن یاہو کہ وہ جیل جانے سے کیسے بچے گا۔ یا تو جیل جائے گا اسرائیل کا، یا ہتھکڑی لگ کے اس کو ہیگ لے جانا پڑے گا کیونکہ he is a war criminal تو وہ میرا خیال ہے شاید ٹرمپ گارنٹی دے دے گا ان کی حفاظت کے لیے۔ لیکن یہ ابسولوٹلی گریٹر اسرائیل کا پلان نہیں ہو سکا۔

دوسری بات ہے کہ جو ’’ابراہیم اکارڈز‘‘، جس کا خیال تھا ایک لائن لگے گی۔ میرا صرف ایک تھوڑا سا ہے، شق ایڈ کرنی چاہیے، میری تجویز ہو گی کہ ٹرمپ کے تین سال ہیں۔ وہ گارنٹر ہے۔ اس کے بعد تو وہ صدر نہیں ہوں گے نا۔ ہم جو آٹھ مسلم ممالک ہیں وہ ان سے یہ یقین دہانی کروا لیں کہ 2028ء سے پہلے فلسطینی ریاست کا قیام جس کا کیپیٹل یروشلم ہو۔ یہ ضروری ہے۔ اور یہ ٹائم لائن دینا پڑے گا آپ کو۔

عاصمہ شیرازی: یہ ہو پائے گا؟ کیونکہ ظاہر ہے کہ یروشلم کی ہی تو جنگ ہے جو کہ اس وقت جاری ہے۔

مشاہد حسین سید: دیکھیں نا، آپ کوشش کرتے ہیں۔ یہ ممکن تھا کہ خلیل الحیا نیگوشیٹ کرے گا ان کو۔ جن کے بیٹے کو شہید کیا جو سارا کچھ کیا۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے، دنیا کا اپنا نظام ہے۔

عاصمہ شیرازی: اور اس میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ابھی بہت ذکر رہا، پاکستان جو ہے وہ بیس نکات کے حوالے سے بھی دیکھیں، ٹرمپ کے ساتھ جو آٹھ ملک ملے ان میں بھی پاکستان شریک تھا، تو کہاں دیکھتے ہیں؟

مشاہد حسین سید: پاکستان پہ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ آپ پانچ مختلف کیپیٹلز دیکھیں: ریاض، تہران، بیجنگ، ماسکو، واشنگٹن۔ بیک وقت ہمارا ان پانچوں کیپیٹلز میں ایک امپیکٹ ہے ایک اثر ہے ایک مقام ہے اور ایک رسائی ہے۔ رہبر ہوں سید آیت اللہ خامنہ ای صاحب، یا ایم بی ایس ہوں سعودی عریبیہ کے رہنما، یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں، یا شی جن پنگ ہوں، یا پیوٹن ہوں۔ سب پاکستان کی طرف عزت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کا ایک نیا مقام پیدا ہوا ہے، ایز اے میجر مسلم پاور، جو اپنے خطے میں، اور اب تو میں کہتا ہوں، پاکستان اِز پارٹ آف دی گریٹر مڈل ایسٹ، جو سعودی عربیہ معاہدہ کے بعد ان کی حفاظت کی بھی بات، اب سکیورٹی بھی۔

عاصمہ شیرازی: یہ پیراڈائم شفٹ نہیں ہے کہ پاکستان جو کہ الائنڈ وِد افغانستان اینڈ ہندوستان تھا، اب وہ مڈل ایسٹ کی طرف زیادہ۔

مشاہد حسین سید: جی بالکل، یہ آپ نے بڑا صحیح لفظ استعمال کیا پیراڈائم شفٹ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی ہے، شکر ہے یہ افغانستان کا جو بوجھ رکھا ہوا تھا، ایک غلط اور ناقص افغان پالیسی میں، وہ ہمیں نیچے دھکیل رہا تھا۔ تیس سالوں سے ہم کیا کرتے رہے؟ افغان وار، افغان جہاد، افغان دِس۔ اس کو لے کے آؤ، اس کو لے کے آؤ، اس کو بٹھاؤ، ہمارا بندہ آئے گا۔ تباہی ہوئی ہے ہمارے لیے، نقصان پہنچا ہے ہمیں۔ شکر ہے اس میں جان چھڑائی ہے۔ اب جو افغانستان جانے، ان کے کام جانیں۔ ہمارا تعلق نہیں ہے ان سے انٹرفیئر کرنے کا کیا کرنے کا۔ لیکن اس سے یہ ہوا کہ ہمیں آزادی مل گئی۔ ہمارا ایک رول ابھرا۔

اور وہ پیراڈائم شفٹ یہ ہوا ہے کہ پہلی دفعہ مڈل ایسٹ میں، پچاس سال کے بعد، بھٹو صاحب کے زمانے میں تھا، 1973ء وار میں بھی ہم نے حصہ لیا تھا۔ لوگ دیکھ رہے ہیں ہماری طرف کہ پاکستان میں جان ہے یار، یہ تو بڑے دبنگ لوگ ہیں، دے کین بی دا نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر، کیونکہ امریکہ سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے قطر (پر حملے) کے بعد۔ پھر سعودیہ عریبیہ سے بھی جو ان کے وعدے تھے پورے نہیں ہوئے۔ یہ ایک واقعی۔

عاصمہ شیرازی: تو آپ کو لگتا ہے کہ جو غزہ امن معاہدہ ہے اس کے اندر جو پیس کیپنگ فورسز ہوں گی اس میں پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے؟

مشاہد حسین سید: میرا خیال ہے بالکل، وی شوڈ ویلکم دیٹ، جس میں کہتے ہیں کہ نان عرب مسلم فورس، پاکستان بھی ہے، انڈونیشیا بھی ہے، ترکی بھی ہے۔ دیکھیں جی اگر غزہ کے لوگ باہر نکلیں گے اور پاکستانی کو دیکھیں گے تو کہیں گے ’’السلام علیکم‘‘۔ کم سے کم وہ گولی تو نہیں مارے گا ان کو، تنگ تو نہیں کرے گا۔ کتنی بڑی تبدیلی ہو گی، اِٹ وِل بی اے سی چینج، کہ وہ مسلمان پیس کیپنگ فورس ہے۔ اور ہمیں ان کو ویلکم کرنا چاہیے اور ہمیں اس میں شامل ہونا چاہیے۔

عاصمہ شیرازی: اور حماس کا اس کے اوپر کیا ردعمل ہو گا کیونکہ ’’مائنس حماس‘‘ ہے اِس وقت جو چل رہا ہے۔

مشاہد حسین سید: مائنس حماس کیسے؟ ہمارے ہاں کئی فارمولے آئے مائنس ون کے سب فیل ہو گئے۔ مائنس شائنس کیسے نہیں کر سکتے۔ دنیا کا اپنا نظام ہے۔ آپ ختم کریں نا حماس کو۔ نہیں ختم کر سکے۔ جو کام آپ جنگ میں نہیں ختم کر سکے، آپ چاہتے ہیں کانفرنس ٹیبل میں ختم کریں، وہ کیسے ممکن ہے؟ حماس اِز اے پلیئر، حماس سے تو آپ بات کر رہے ہیں۔ ابھی تک حماس نے ہوسٹیجز پکڑے ہوئے ہیں جناب۔

عاصمہ شیرازی: لیکن اس پورے اس میں، چونکہ آپ۔

مشاہد حسین سید: اور حماس، ایک چیز میں خود واضح کر دوں عاصمہ صاحبہ، دے آر اے سیاسی تنظیم، ڈیموکریٹکلی الیکٹڈ 2006ء کے الیکشن میں۔ آپ کو یاد ہو گیا آپ تو اتنی سینئر رپورٹر ہیں کہ 2006ء میں مشرف صاحب کا دور تھا، شوکت عزیز پرائم منسٹر تھا، اس وقت میں چیئرمین تھا خارجہ امور کمیٹی، میں نے حماس کے فارن منسٹر کو بلایا تھا محمود ظہار صاحب کو، پارلیمنٹ میں انہوں نے خطاب کیا تھا، اور ہم نے سب سے پہلے ان کو فائنانشل سپورٹ بھی دی تھی۔

عاصمہ شیرازی: بالکل بالکل پاکستان نے اس میں کافی رول۔

مشاہد حسین سید: پاکستان، تو ہمارا فلسطین کے ساتھ بڑا پرانا رشتہ ہے۔ پاکستان کا۔

https://youtu.be/KrsrlLmd8Vk


فلسطین:    غاصبانہ قبضہ اور حقِ خود ارادیت کا معاملہ

فاطمہ بھٹو

فاطمہ بھٹو ایک دانشور اور سماجی راہنما کے طور پر معروف ہیں جنہوں نے پاکستان اور خطے کو درپیش مسائل کے حوالے سے متعدد مواقف اختیار کیے ہیں۔ ان کا تعلق بھٹو سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی ہیں، جبکہ بے نظیر بھٹو ان کی پھوپھی تھیں۔ سیاسی وراثت کے باوجود فاطمہ بھٹو نے خود کو سیاست سے دور رکھا اور زیادہ تر ادب، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے موضوعات پر اپنی تحریروں اور خطابات کے ذریعے اظہارِ خیال کیا۔ وہ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی سماجی و سیاسی صورتحال، بالخصوص خواتین کے حقوق، جمہوریت، اور مشرقِ وسطیٰ کے انسانی بحرانوں پر اپنی جرأتمندانہ آراء کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ چنانچہ مسئلہ فلسطین کو وہ محض ایک جغرافیائی یا سیاسی کشمکش نہیں بلکہ انسانی، اخلاقی اور تاریخی اعتبار سے دیکھتی ہیں۔ 

فلسطین ایک ریاست ہے

فاطمہ بھٹو کا فلسطین کے بارے میں ایک واضح موقف ہے اور یہ وہی موقف ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے پیش کیا تھا کہ ہم اسرائیلی ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے: 

“All of Palestine is occupied territory. Stop talking about the genocide-defending Europe ‘recognizing a Palestinian state’.”

’’پورا فلسطین ایک مقبوضہ علاقہ ہے‘‘ کا جملہ ان کے پورے نظریے کا نچوڑ ہے، اس طرح وہ یہ مانتی ہیں کہ انصاف کو جزوی نہیں ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام کا حق صرف چند سرحدوں یا کاغذی معاہدوں سے پورا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مکمل قوم کی آزادی سے وابستہ ہے۔ جبکہ ٹویٹ کے دوسرے حصے میں وہ یورپ پر تنقید کر رہی ہیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی کو ہر طرح کی امداد کے ذریعے سپورٹ کرتا آرہا ہے اور اب عوامی دباؤ میں آ کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات کر رہا ہے۔ 

دو ریاستی حل دھوکہ ہے

دو ریاستی حل کے بارے میں ان کا مؤقف غیر مبہم ہے اور وہ اسے ایک ناکام تصور قرار دیتی ہیں جو کہ مسئلے کی اصل بنیادوں کو نظر انداز کرتا ہے:

“2 state solution? That was never a possibility. Palestine is the home of Palestinians.”

اس ٹویٹ کا پہلا جملہ ’’دو ریاستی حل؟ اس کا کبھی امکان نہیں رہا‘‘ ان کے اس موقف کو واضح کرتا ہے کہ دو ریاستی حل پر عملدرآمد کبھی ممکن نہیں رہا۔ اور اس ۱۹۴۷ء میں سامنے آنے والے اقوامِ متحدہ کے اس دو ریاستی حل (قرارداد نمبر ۱۸۱) پر ابھی تک عملدرآمد نہ ہو پانا اور کسی فلسطینی ریاست کا وجود نہ ہونا فاطمہ بھٹو کے اس دعوے کی دلیل سمجھی جا سکتی ہے۔ جبکہ اس ٹویٹ کا دوسرا جملہ ’’فلسطین فلسطینیوں کا گھر ہے‘‘ یہ بتاتا ہے کہ اگر دو ریاستی حل پر عملدرآمد ممکن بھی ہو تب بھی یہ ناانصافی پر مبنی ہے اور فلسطین کے علاقے پر زبردستی اسرائیل ریاست قائم کرنا ظلم اور جبر کے سوا کچھ اور نہیں کہلا سکتا کیونکہ فلسطین کی سرزمین پر حکومت صرف فلسطینیوں کا حق ہے۔ 

پاکستان کے بدلتے موقف پر تنقید

پاکستان کے ایک وفاقی عہدیدار کی ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“This is a shameful tweet for Pakistan. 2 state solution? That was never a possibility …”

دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ’’سیاسی لین دین‘‘ کے ماحول میں ممکنہ طور پر پاکستان کے بدلتے ہوئے موقف پر انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ایک طرح سے حکومت کو پاکستان کے دیرینہ موقف سے انحراف پر شرم دلائی ہے کہ اگر پاکستان بین الاقوامی حالات سے متاثر ہو کر دو ریاستی حل قبول کرتا ہے تو اس کا واضح مطلب اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا ہو گا جو کہ پاکستان کے لیے شرمناک بات ہو گی۔ فاطمہ بھٹو کی نظر میں دو ریاستیں اس مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہے اور وہ اس منصوبے کو تاریخی اور عملی طور پر ناقابل عمل قرار دیتی ہیں اور اس کے بجائے اس پر زور دیتی ہیں کہ فلسطین کا حقِ ملکیت فلسطینی لوگوں کا ہے۔ 

فلسطینی احتجاج پر لگنے والی پابندیوں پر تبصرہ

وہ مغربی حکومتوں تنقید کرتی ہیں جو اپنے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں پر پابندیوں کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے فرانس کے صدر میکرون پر تنقید کرتے ہوئے کہا:

“This tweet is actual satire when Macron has banned Palestinian protests in France and supported Israel’s genocide against Palestine.”

یہ جملہ سیاسی طنز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی احتجاج بھی ہے جو عالمی طاقتوں کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے جو آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کے نعرے تو لگاتی ہیں مگر جب بات فلسطین کی آتی ہے تو خاموش ہو جاتی ہیں۔ 

فاطمہ بھٹو فلسطین کے مسئلے کو ایسے انسانی المیے کے طور پر بیان کرتی ہیں جس میں ظلم و جبر اور جلاوطنی کے ساتھ ساتھ حق تلفی کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو وہ دراصل ظلم کی پرورش بن جاتی ہے۔ چنانچہ وہ عالمی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں:

“Meta is censoring anyone who posts on Palestine — I’m seeing it on my feed.”

یہ جملہ سوشل میڈیا کی اس یکطرفہ روش کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں فلسطینی مظلوموں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فاطمہ بھٹو کے نزدیک یہ محض سیاسی مداخلت نہیں بلکہ ایک فکری سنسرشپ ہے جو حقائق کو چھپانے کے مترادف ہے۔ اس ٹویٹ کے مطابق وہ اپنے اکاؤنٹ کی فیڈ کی صورتحال دیکھ کر یہ جان چکی ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فلسطین کے حوالے سے بات کرنے والوں کو کیسی پابندیوں کا سامنا ہے۔ چنانچہ وہ مغربی لابیوں اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور ٹیکنالوجی کی طاقت اور اس کے استعمال پر بھی سوال اٹھا رہی ہیں۔

فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین

ایک موقع پر وہ فلسطینی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے لکھتی ہیں:

“Palestine can never be surrendered. No matter how many craven governments back their terrorist oppressors, the people will never betray.”

فلسطینیوں کی حمایت میں جذبے سے لبریز ان الفاظ میں وہ اس بات کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتی ہیں کہ حکومتیں بزدلی یا مفاد پرستی کے باعث دباؤ میں آ سکتی ہیں مگر عوام کے دلوں میں جو مزاحمت اور ایمان ہے اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ 

“Palestine can never be surrendered. No matter how many craven governments back their terrorist oppressors, the people will never betray …”

یہ ٹویٹ ایک عزم کا اظہار ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف علاقائی جنگ یا سیاسی ڈیل نہیں بلکہ عوامی جدوجہد ہے اور معاشرتی سطح پر سب سے اہم موقف فلسطینی عوام کا بیانیہ ہے۔ فاطمہ بھٹو نے ’’بزدل حکومتیں‘‘ کہہ کر ان ریاستوں پر تنقید کی ہے جو طاقتور اتحادات اور معاشی منصوبوں کا حصہ بن کر مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کرتی ہیں اور یوں وہ دہشت گرد غاصبوں کی پشت پناہی کا باعث بنتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو فلسطینی عوام کبھی اپنے حق سے دستبردار ہوں گے چاہے عالمی طاقتیں مفاد پرستی اور مصلحت کوشی میں اس مسئلے کو کتنا ہی نظرانداز کر لیں۔

تین بنیادی مواقف

فاطمہ بھٹو کی مذکورہ بالا ٹویٹس کی روشنی میں فلسطین کے بارے میں ان کا موقف دوٹوک ہے کہ مسئلہ فلسطین محض سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ غاصبانہ قبضہ کے مقابلے میں حق خودارادیت کا معاملہ ہے۔ فاطمہ بھٹو کے بیانات میں تین واضح پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں:

  1. فلسطین ایک ریاست ہے جس کی آزادی کے لیے جاری جدوجہد کو کسی سفارتی معاہدے کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔
  2. ’’دو ریاستی حل‘‘ ایک سیاسی نعرہ ہے جو اصل مسئلہ یعنی غصب اور ظلم کی حقیقت کو چھپاتا ہے۔
  3. میڈیا، عالمی ادارے اور طاقتور ممالک اکثر اس مسئلے کی سچائی کو دبانے کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں یا کنٹرول شدہ بیانیہ استعمال کرتے ہیں۔

ماخذ

https://x.com/fbhutto 


صہیونی ریاست زوال کے قریب — جنگ بندی معاہدے میں کیا طے پایا؟

ضیاء الرحمٰن چترالی

صہیونی ریاست زوال کے قریب

پچھلی ایک پوسٹ میں ہم نے غزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی عالمی تنہائی پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ قدسیوں کی نسل کشی نے دجالی ریاست کے اندر بھی تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب خانہ جنگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور خود اسرائیلی تجزیہ کار و ماہرین ناجائز ریاست کے وجود پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ آیئے اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ساری تفصیلات خود اسرائیلی میڈیا سے اخذ شدہ ہیں۔

اسرائیلی ریاست کی اندرونی صورتحال

غزہ پر اسرائیلی جارحیت نے خود اسرائیلی ریاست کے اندر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ اس جنگ نے اسرائیلی معاشرے میں پہلے سے موجود دراڑوں کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ عوامی رائے اور حکومت کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسرائیلی سماج مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے، دائیں بازو اور بائیں بازو کے مابین، سیکولر اور مذہبی (حریدی) گروہوں کے درمیان اختلافات انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ ان تقسیمات کا مظہر مسلسل احتجاجات، فوجی خدمت سے انکار کے بڑھتے ہوئے واقعات، سیاست دانوں اور فوجی قیادت کے مابین اختلافات، اور آخرکار ممکنہ خانہ جنگی کے انتباہات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

جنگ کے دوران اسرائیل کی اپنے "فوجی غلبے" پر یقین بھی بری طرح متزلزل ہو گیا۔ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی سیاسی بقا کے لیے جنگ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں عوام کے اعتماد میں مزید کمی واقع ہوئی۔ اب جبکہ جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، داخلی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ نیتن یاہو کی سخت گیر دائیں بازو کی جماعتیں اس معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں اور اعلان کر چکی ہیں کہ وہ پارلیمان میں اس کے حق میں ووٹ نہیں دیں گی، جبکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ افواج کا انخلا حکومت کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

سیاسی منظرنامہ اس وقت مکمل انتشار کا شکار ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹر دِفنا لیئل کے مطابق، نیتن یاہو اپنی کرسی بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے۔ وہ یہ بخوبی جانتا ہے کہ اُس کے ووٹر اب اُس کی کارکردگی سے سخت مایوس ہیں۔ آئندہ انتخابات 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہیں، اس لیے نیتن یاہو عوامی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کے لیے اسرائیلی معاشرے میں مزید انتشار پیدا کرنے کی راہ اختیار کر رہا ہے۔

وہیں "ویلا" ویب سائٹ کی نامہ نگار تال شالیو کے مطابق، موجودہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنی سب سے بڑی سلامتی کی ناکامی یعنی 7 اکتوبر کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ حماس کے قبضے میں تاحال درجنوں اسرائیلی قیدی موجود ہیں، ہزاروں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں اور عوام جسمانی و نفسیاتی طور پر اس جنگ کے زخموں سے اب تک نہیں سنبھلے۔ تاہم حکومت کو ان تمام انسانی المیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اس کی زیادہ تر توجہ سیاسی اہداف پر مرکوز رہی ہے۔ تال شالیو کے مطابق، حکومت کی کارکردگی درج ذیل نکات میں سمٹ آئی ہے:

1- عدالتی نظام پر حملہ

حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے "قانونی انقلاب" کی مہم جاری رکھی۔ اٹارنی جنرل اور داخلی سلامتی کے ادارے (شاباک) کے سربراہ سمیت ریاستی نگہبان اداروں پر دباؤ ڈالا گیا اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی میں سیاسی مداخلت کی گئی۔

2- میڈیا پر قدغنیں

حکومت نے سرکاری نشریاتی اداروں کی خودمختاری محدود کرنے اور فوجی ریڈیو بند کرنے کے لیے قوانین متعارف کرائے، تاکہ میڈیا کی آواز کو کنٹرول کیا جا سکے۔

3- فوجی خدمت سے استثناء کا تنازعہ

"یدیعوت احرونوت" کے تجزیہ کار یووال کارنی کے مطابق، حکومت نے جنگ کے دوران ایک طرف فوجیوں کو غزہ میں موت کے منہ میں دھکیلا اور دوسری طرف مذہبی طبقے (حریدیم) کو فوجی خدمت سے استثناء دینے کے قانون پر کام جاری رکھا۔ اس مقصد کے لیے سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلانٹ کو برطرف کر کے یسرائیل کاٹس کو مقرر کیا گیا۔

4- یرغمالیوں کے اہل خانہ کے خلاف مہم

حکومت نے اُن خاندانوں کے خلاف سخت رویہ اپنایا جو اپنے عزیزوں کی رہائی کے لیے کنسٹ (پارلیمان) تک پہنچے۔ اسپیکر امیر اوحانا نے ایک ہفتے تک ان کے داخلے پر پابندی عائد کی، کمیٹیوں نے ان کے مطالبات پر غور کرنے سے انکار کیا، اور بعض مواقع پر پارلیمانی محافظوں سے ان خاندانوں کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔

5- تحقیقات سے گریز

7 اکتوبر کی ناکامی کی تحقیقات کے لیے باضابطہ کمیشن بنانے سے مسلسل انکار کیا گیا۔ اس کے بجائے کینسٹ کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ سرکاری سطح پر آزادانہ تحقیقات کا راستہ بند کیا جا سکے۔

تال شالیو کے بقول یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ نے نہ صرف اسرائیل کے بیرونی دشمنوں سے تصادم بڑھایا بلکہ داخلی طور پر بھی اسرائیلی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عوامی اعتماد متزلزل ہے، فوجی ادارے اور سیاسی قیادت ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں اور اسرائیلی سماج ایک خطرناک داخلی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، ایسا بحران جو محض سیاسی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کا ہے۔

یدیعوت احرونوت کے کالم نگار موتی شلخ اس صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ

"حکومت نے حقائق سے اغماض، پردہ پوشی، بدعنوانی اور گستاخی کے سلسلے میں ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، ایسے بدنام اور شرمناک طرزِ عمل کے ذریعے جس نے ریاست کو مزید زوال کی طرف دھکیل دیا ہے اور ایسی کوئی قوت نظر نہیں آتی جو اسے اس پستی سے روک کر گہرے گڑھے سے نکال سکے۔"

اسرائیلی اکیڈیمک ابراہام فرانس نے ٹائمز آف اسرئیل (Times of Israel) کے پلیٹ فارم پر شائع تحریر میں شدید سوال اٹھایا:

"حکمراں پارٹی لیکوڈ نے دو سال سے نتن یاہو کو کیوں آزاد چھوڑ رکھا ہے کہ وہ آبادکاری علاقوں کے مذہبی قومی سخت گیر رہنماؤں جن کا پس منظر مسییحی نظریات سے میل کھانے والا ہے، کی دھنوں پر اپنی پالیسی چلائے، اس کے نتائج یعنی ''یہودی ریاست'' کی تباہی اور اس کے انحطاط کے بارے میں سوچے بغیر؟"

اس نے آگے پوچھا:

"کیا اس حکومت کو وہ سیاسی راستہ اپنانے کی اجازت دی جانی چاہیے جو برسوں تک جنگوں کو جاری رکھے، ایک ایسا راستہ جس نے سولہ برس سے زائد عرصے سے اسی حکومت کی قیادت میں اسرائیلی عوام کو کڑوا گھونٹ ہی پلایا، ان کے وجود کو خطرے میں ڈالا اور ریاست کو ایسے سنگین سوالات کے سامنے کھڑا کر دیا ہے جن کے جوابات نہیں مل رہے؟"

پروفیسر یدیڈیا شٹرن، جو ''یہوڈی پیپل پالیسی انسٹیٹیوٹ'' (JPPI) کا صدر ہے، نے خبردار کیا کہ حکومت کے فیصلے اندرونی محاذ پر آتش گیر ثابت ہو رہے ہیں اس ''آٹھویں محاذ'' کو، یعنی "اسرائیل بمقابلہ اسرائیل" اور اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جنگ کے دوران "تندرست گوشت کو کاٹتی" جا رہی ہے۔ یدیعوت احرونوت میں اپنے مضمون میں اس نے مزید لکھا کہ

"یہ پالیسیاں عوام کے اکثریتی حصہ میں شدید بے چینی اور ہنگامی کیفیت پیدا کر رہی ہیں اور یہ وجودی، اخلاقی اور سیکورٹی نوعیت کے اہم سوالات جنم دے رہی ہیں، ایسے سوالات جو کہ بالآخر تمام اسرائیلیوں کے سر پر منڈلاتے ہوئے ''ہیکل کی تباہی" کی مانند نتائج لا سکتے ہیں، جیسا کہ کہاوت ہے: ''میرے لیے اور میرے دشمنوں کے لیے۔"

ریاست کے وجود پر سنجیدہ سوالات

غزہ پر دو سالہ جنگ کے دوران اسرائیل نے نہ صرف عسکری اور سیاسی ناکامیاں برداشت کیں بلکہ اپنے وجود کے بارے میں بھی گہرے سوالات کو جنم دیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور ماہرین کے نزدیک اب یہ سوال محض تجریدی نہیں رہا کہ آیا یہ ریاست اپنی بقا برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل تیزی سے ایک ایسی سمت بڑھ رہا ہے جہاں "ریاست بے نگہبان" ہو جائے گی، ایک ایسی صورتِ حال جس میں اقتدار چند انتہا پسند قوتوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے گا اور ریاست اپنے جمہوری و اخلاقی توازن کو کھو بیٹھے گی۔

اسرائیلی خفیہ ادارے "موساد" کے سابق اعلیٰ افسر حائیم تومار نے یدیعوت احرونوت میں شائع اپنے مضمون میں خبردار کیا کہ موجودہ حالات "انتہائی خطرناک موڑ" کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جو ریاست کے وجودی ڈھانچے میں سنگین تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اُس کے مطابق اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو اسرائیل ایک ایسے راستے پر چل پڑے گا جو اسے اندرونی طور پر کھوکھلا کر دے گا۔ اس نے چند اہم خدشات کا اظہار کیا:

1- مذہبی جبر میں اضافہ

حکومت مکمل طور پر بے لگام ہو چکی ہے اور ایسے قوانین لانے کی راہ ہموار کر رہی ہے جو ریاست کے قیام سے قائم سماجی توازن کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ اسرائیل رفتہ رفتہ ایک مذہبی ریاست کے قالب میں ڈھل رہا ہے۔

2- اظہارِ رائے کی آزادی میں کمی

ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ حکومت جانتی ہے کہ میڈیا عوامی رائے پر کس قدر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے وہ خبروں کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے سیاسی نظام پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔

3- عدالتی نظام کی کمزوری

حکومت "قانونی انقلاب" کے نام پر عدلیہ کو بے اثر کر رہی ہے، تاکہ وہ سیاسی سطح پر اپنے فیصلوں کے تابع نہ رہے۔ اس سے اقتدار میں جواب دہی کا تصور تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔

4- استبدادی نظام کی تشکیل

اقتدار پر قابض گروہ اب کھلے عام مخالفین کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیل ان عالمی طاقتوں سے قربت بڑھا رہا ہے، جن کے نظام استبدادی یا نیم فاشسٹ نوعیت کے ہیں، خصوصاً یورپ کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں سے۔

5- نظریاتی ضد کو قومی مفاد پر فوقیت

نیتن یاہو اور اس کے اتحادی غزہ میں کسی بھی قیمت پر جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں، خواہ اس کی انسانی قیمت کچھ بھی ہو۔ وہ اسے اپنی نظریاتی برتری کی جنگ سمجھتے ہیں، نہ کہ قومی سلامتی کی۔

یہ داخلی بحران اسرائیلی ریاست کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ اپس فلائر (AppsFlyer) کے سی ای او اورن کانئیل نے چینل 12 میں شائع اپنے مضمون میں لکھا کہ "سات اکتوبر کے حملے کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے عدمِ اعتماد کے طوفان نے ریاست کے وجود، معیشت اور سلامتی تینوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔" اس نے اسرائیلی عوام سے براہِ راست سوال کیا: “کیا آپ اس ریاست میں رہنا چاہتے ہیں؟”

اس کے مطابق، یہ سوال اسرائیل کے قیام کے 77 سال بعد پیدا ہوا ہے اور اس بار خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے۔ ریاست اپنے عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور یہی اندرونی بحران اس کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ بحران سرحدوں سے ماورا ہے اور اب وجودی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اب عدمِ اعتماد ہر سطح پر پھیل چکا ہے، عوام کے درمیان، قیادت میں، فوج اور سیکورٹی اداروں کے اندر، ہر جگہ۔ جنگ کے بعد تقسیم، نفرت اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کا طوفان اُمڈ آیا ہے۔ متحد ہونے کے بجائے اسرائیلی معاشرہ بکھرتا جا رہا ہے اور اپنے فوجیوں کو عزت دینے کے بجائے اُنہیں ایک لاحاصل جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ

"یہ تمام علامتیں ایک ایسے بڑے زوال کی نشاندہی کرتی ہیں جس کے اثرات طویل المیعاد ہوں گے اور ہمیں اُس بنیادی سوال پر واپس لے آتی ہیں: کیا اسرائیل واقعی اپنی سو سالہ عمر تک پہنچ پائے گا؟"

اسی تناظر میں اسرائیلی پائلٹس یونین کے صدر میدان بار نے معاریو میں لکھا کہ دو برس کی جنگ کے بعد، جب سینکڑوں فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک تاریخی موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس کے الفاظ میں:

“یہ حکومت اسرائیل کی تاریخ کا وہ موڑ بن چکی ہے جو اُس کی آئندہ شناخت متعین کرے گا۔ اس ریاست نے 77 سال تو گزار لیے، لیکن کس نے کہا کہ یہ ایک صدی مکمل کرے گی؟”

یوں اسرائیل کے اندر اب سوالات اس کے وجود، نظریاتی شناخت اور سیاسی بقا کے گرد گھومنے لگے ہیں اور یہ سوالات کسی دشمن ملک کی نہیں بلکہ خود اسرائیلیوں کی زبان سے اٹھ رہے ہیں۔

سیاسی نظام کا انہدام

اسرائیلی تجزیہ کار رونین تسور نے چینل 12 میں شائع اپنے مضمون میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے آغاز کی دوسری برسی ایسے نئے اشارے لے کر آئی ہے جو اسرائیلی سیاسی نظام کے بکھراؤ اور اندرونی توازن کے خاتمے کی طرف واضح پیش رفت دکھا رہے ہیں۔ اس کے مطابق، حکومت اب "ریاست کے گہرے اداروں" (Deep State) کو اپنی خدمت میں لانے کے لیے عدالتی نظام کو مسخ کر رہی ہے۔ یہ عمل اگر جاری رہا تو ایک ایسا مصنوعی توازن پیدا ہوگا جو دیرپا نہیں رہ سکتا اور ریاست رفتہ رفتہ اپنے سلامتی، معیشت اور داخلی ہم آہنگی کے نظام سے محروم ہو جائے گی۔ تسور نے اسرائیلی فیصلہ سازوں کی بصیرت کے فقدان کو انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ

"موجودہ سیاسی نظام ایک ایسی بس کی مانند ہے جس کا ڈرائیور ایک خطرناک ڈھلان پر تیز رفتاری سے گاڑی دوڑا رہا ہے، بغیر بریک کے، جبکہ اندر اونچی آواز میں موسیقی بجائی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کی خوفناک چیخیں دبائی جا سکیں۔"

تسور کے نزدیک یہ منظر اسرائیلی سیاست کی موجودہ کیفیت کی مکمل تمثیل ہے یعنی قیادت اندھی، راستہ کھائی کی طرف اور عوام کو فریب میں مبتلا رکھا جا رہا ہے۔

اسی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شوکی فریڈمین، جو یہودی پیپل پالیسی انسٹیٹیوٹ (JPPI) کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہے، نے ویلا (Walla) ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں لکھا کہ حکومتی رہنماؤں کا طرزِ عمل پچھلے دو برسوں میں ایسی صورتحال پیدا کر چکا ہے جس سے افراتفری ایک مستقل حکومتی پالیسی بنتی جا رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نئی حقیقت کی خصوصیات درج ذیل ہیں: روزمرہ زندگی میں تشدد کے واقعات میں اضافہ۔ کرپشن اور بدعنوانی کا کھلم کھلا پھیلاؤ۔ قانون کی حکمرانی کا خاتمہ۔ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں شدید کمی جو اب محض 41 فیصد رہ گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی عوام کے ذاتی تحفظ کے احساس میں بھی گراوٹ آچکی ہے، جو 45 فیصد پر آ گیا ہے۔

فریڈمین کے مطابق، عدلیہ، پارلیمان (کنیسٹ) اور حکومت کے درمیان کشمکش اسرائیل میں کوئی نئی بات نہیں، مگر پچھلے دو برسوں کے دوران جو کچھ ہوا وہ ایک خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بقول، دائیں بازو کے سیاست دانوں نے وزیر اعظم نتن یاہو کی قیادت میں عدالتی نظام کو "پِٹنے والا تھیلا" بنا دیا ہے، اب ہر حکومتی ناکامی، بدانتظامی اور بحران کی ذمہ داری عدلیہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس کے الفاظ میں:

"یہ صورتحال صرف ایک سیاسی گراوٹ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی نئی سطح ہے، جس نے ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔"

اس طرح اسرائیل کے اندر یہ احساس تقویت پکڑ رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے جمہوری توازن، ریاستی اداروں کی خودمختاری اور سماجی یکجہتی تینوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ داخلی انتشار، زوالِ اعتماد اور بڑھتی نفرت کے ساتھ اسرائیل اب بظاہر ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں اس کا اپنا نظامِ سیاست ہی اس کی تباہی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

آمرانہ نظام اور ریاست کی تباہی کی طرف

سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک نے اسرائیلی نیوز چینل 12 کی ویب سائٹ پر شائع اپنے مضمون میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ ملک کو ایک آمریت میں تبدیل کر رہا ہے۔ باراک کے مطابق نیتن یاہو نے پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنے قابو میں لے کر اپوزیشن کو غیر مؤثر بنا دیا ہے اور ریاستی اداروں یعنی “نگہبانوں” کو ان کے اصل کردار سے محروم کر دیا ہے۔ باراک نے کہا کہ نیتن یاہو ایک ایسی حکومت چاہتا ہے جو کسی تنقید یا احتساب کے بغیر چلے، جسے وہ اکیلا شخصی طور پر کنٹرول کرے۔ اس کے اردگرد ایسے لوگ ہیں جو اقتدار اور دولت کے پجاری ہیں اور اسی سوچ کے باعث اسرائیل ایک فساد زدہ، قوم پرست اور فاشسٹ آمریت کی طرف بڑھ رہی ہے، جو جلد یا بدیر عالمی تنہائی اور مکمل تباہی کا شکار ہو جائے گی۔

ادھر اسرائیلی ویب سائٹ زمان اسرائیل کے سیکورٹی رپورٹر آریہ ایگوزی نے اپنے تجزیئے میں لکھا کہ آج اسرائیل پر "حماقت کا بادل" چھا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے گرد نااہل مگر وفادار افراد کا گھیرا بنا لیا ہے، جو روزانہ اپنی غلطیوں سے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ زوال صرف 7 اکتوبر کے واقعات سے نہیں، بلکہ حکومت کے روزانہ کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی انسٹیٹیوٹ برائے مستقبل کی اسٹرٹیجک حکمتِ عملی (ISFI) کے بانی ماہرین یوجین کینڈل اور رون تسور نے ایک مشترکہ مضمون میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں گہرے شگاف پیدا ہو چکے ہیں اور اگر نظامِ حکومت میں بنیادی تبدیلی نہ کی گئی تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق "وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے" اور موجودہ نظام اب ریاست کا مستقبل محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے خطرات کو چار بنیادی نکات میں بیان کیا:

1- سماجی تقسیم

اسرائیلی معاشرہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ نظریاتی تصادم کا شکار ہے، جس سے اندرونی تصادم اور "اقدار کی جنگ" کا خدشہ ہے۔

2- معاشی بحران

ایک طبقہ دوسرے طبقے کے مالی سہارے پر جی رہا ہے، جس سے فی خاندان لاکھوں شیکل سالانہ بوجھ بڑھ رہا ہے اور یہ آنے والے برسوں میں دگنا ہو سکتا ہے۔

3- سیکورٹی بحران

اسرائیل کا روایتی "عوامی فوجی ماڈل" ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ہزاروں فوجیوں کی کمی ہے، جو مستقبل میں فوج کی صلاحیت کو کمزور کر دے گی۔

4- صہیونی شناخت کا بحران

ایک گروہ “ایک ریاست” کا نظریہ مسلط کرنا چاہتا ہے، جس سے ملک مزید تقسیم ہو گا اور “یہودی خواب” ختم ہو جائے گا۔

اسی تناظر میں چینل 13 کی ایڈیٹر بیلا ایلیزیروف نے لکھا کہ نیتن یاہو اپنے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کو سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ جنگ اور افراتفری کے ماحول کو وہ اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ اس کی کابینہ کے ارکان، نقصان جانتے ہوئے بھی، اس کی مخالفت کی ہمت نہیں کرتے۔

سابق لیکوڈ وزیر لیمور لیونات نے یدیعوت احرونوت میں لکھا کہ ریاستی اداروں پر حملے خود وزیر اعظم کی سطح سے شروع ہوتے ہیں۔ وزراء ایک دوسرے سے بڑھ کر عدلیہ، میڈیا اور قانونی اداروں پر حملے کر رہے ہیں، ریاستی راز افشا کر رہے ہیں اور قانونی استثنیٰ کو ذاتی ڈھال بنا چکے ہیں، تاکہ “وزیراعظم کے خاندان نما حلقے” کو خوش رکھا جا سکے۔

ان تمام تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر خود اس کی نخبہ طبقہ بھی ملک کے مستقبل سے خوف زدہ ہے۔ سیاست دان، صحافی، سابق وزراء اور ماہرین سب اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل اپنی تاریخ کے خطرناک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ 77 سالہ یہ ریاست اب اندرونی آمریت، سماجی تقسیم اور ادارہ جاتی زوال کے ایسے دائرے میں پھنس چکی ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں لگتی اور شاید وہ اپنی صدی مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔

فوج کی ساکھ تباہ اور صلاحیت پر عوامی اعتماد کا بحران

غزہ پر دو سال طویل جنگ کے بعد اسرائیل کے اندر یہ احساس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ فوج نے سات اکتوبر کے حملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ معاریو اخبار میں وکیل اوریئیل لِن کے مطابق جنگ نے فوج کی کارکردگی میں سنگین خامیاں اور کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں، جن کی بھاری قیمت سیکڑوں فوجیوں کی جانوں کی صورت میں چکانی پڑی۔ اگرچہ فوجی قیادت بار بار اعلان کرتی رہی کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے گا، لیکن ہزاروں فوجیوں کی جانب سے جنگ جاری رکھنے سے انکار اور احتجاجی دستخطی مہم نے ادارے کو براہِ راست سیاسی تنازعات میں گھسیٹ لیا ہے۔ اسرائیل ڈیفنس کے عسکری تجزیہ کار دان اَرکین کے مطابق یہ اقدام فوج کے اندر ممکنہ بغاوت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جس میں فضائیہ، پیرا ٹروپرز، انفنٹری، بکتر بند دستے، انٹیلی جنس اور یونٹ 8200 کے اہلکار شامل ہیں۔

یروشلم کے شالوم ہارتمان انسٹیٹیوٹ سے وابستہ پروفیسر آوی ساگیہ نے یدیعوت احرونوت میں لکھا کہ فوج کی جانب سے ان اہلکاروں کو برخاست کرنا درست قدم نہیں، کیونکہ وہ ریاست کے دفاع کے لیے تیار ہیں مگر “کسی سیاسی مہم کے مہرے بننے” سے انکار کرتے ہیں۔

فوجی اور سیاسی قیادت میں خطرناک تصادم

فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات اب کھلے تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ زمان اسرائیل کے سیکورٹی رپورٹر آریہ ایگوزی کے مطابق نیا چیف آف اسٹاف ایال زامیر بخوبی سمجھتا ہے کہ وہ جلد یا بدیر قربانی کا بکرا بنایا جائے گا، کیونکہ وزراء نااہل، سطحی اور ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ اس نے کہا کہ اسرائیل ایک کمزور، خوف زدہ اور بلیک میل شدہ وزیراعظم کے ہاتھوں میں ہے۔

جامعہ حیفا کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اوری بار یوسف کے مطابق نیتن یاہو نے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں سے ذاتی وفاداری کا تقاضا شروع کر دیا ہے، جس سے ادارہ جاتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم کے دفتر میں ایک علیحدہ انٹیلی جنس سیل قائم کیا گیا ہے جو نیتن یاہو کو صرف وہی رپورٹس فراہم کرتا ہے جو وہ سننا چاہتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان سنگین سطح تک پہنچ گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب نیتن یاہو نے شاباک کے سربراہ رونین بار اور وزیرِ دفاع یوآف گیلانٹ دونوں کو برطرف کیا۔

فوج کے سابق ترجمان رونین مانلیس نے چینل 12 سے گفتگو میں کہا کہ "ان برطرفیوں کے لیے 'شرم' کا لفظ بھی کم ہے"۔ اس کے بقول نیتن یاہو اب اداروں کے تمام “نگہبانوں” کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر وہ اس کی مرضی کے مطابق نہ چلے تو انہیں معزول کر دیا جائے گا۔

صورتحال اب انتہائی خطرناک اور بے مثال تناؤ کی سطح تک جا پہنچی ہے، جس کی چند جھلکیاں یوں ہیں:

  1. چینل 12 کے عسکری مبصر نیر دفوری کے مطابق وزراء کابینہ کے اجلاسوں میں چیف آف اسٹاف جنرل زامیر سے توہین آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔
  2. معاریو کے صحافی بن کاسپت کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر اور شاباک سربراہ رونین بار کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، بن گویر نے اسے "غدار" اور "مجرم" کہہ کر جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
  3. زمان اسرائیل کی صحافی برنیت گورین کے مطابق وزیرِ دفاع اسرائیل کاتس نے سابق آرمی چیف جنرل ہرتسی ہالِیوی پر دباؤ ڈالا کہ وہ انٹیلی جنس چیف شلومی بائندر کو سرِعام ڈانٹے اور بن گویر کے کہنے پر اسے برخاست کرے۔
  4. فوج کے سابق ترجمان نحمان شای نے معاریو میں لکھا کہ کاتس کا یہ رویہ “شرمناک” ہے، جس کا مقصد سیکورٹی اداروں کی قیادت کو عوامی طور پر ذلیل کر کے ہٹانا ہے۔
  5. ویللا کے کالم نگار نیر کیپنس کے مطابق نیتن یاہو نے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کو برطرف کر کے رون ڈرمر کو اس کی جگہ مقرر کیا، جو محض “ربڑ اسٹمپ” کا کردار ادا کرتا ہے۔
  6. اسرائیل ڈیفنس کے ایڈیٹر دان اَرکین کے مطابق اختلافات اب فوج کے اندر بھی پھیل چکے ہیں، جہاں وزیرِ دفاع، سابق چیف آف اسٹاف، ریاستی محتسب اور فوجی ترجمان آپس میں شدید محاذ آرائی میں ہیں، جو فوجی ادارے کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی علامت ہے۔

ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف سیاسی طور پر منقسم ہے بلکہ فوجی ادارے کی ساکھ اور فیصلہ کن قوت پر اعتماد بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اب اسرائیلی ماہرین خود سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایسی حالت میں فوج آئندہ کسی جنگ میں واقعی “فیصلہ کن کامیابی” حاصل کر سکتی ہے؟

نتن یاہو اور اقتدار میں رہنے کی ضد

اسرائیلی صحافی یارون ابراہام (چینل 12) کے مطابق، بنیامین نتن یاہو نے اقتدار سے چمٹے رہنے کی ایسی ضد دکھائی ہے جس نے خود اسرائیلی عوام کو یقین دلا دیا ہے کہ وہ اپنی کرسی بچانے کے لیے قوم تک کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ اس نے لکھا کہ اسرائیلی عوام کے ذہن میں ایک سوال بار بار گونج رہا ہے: "آخر نتن یاہو اب تک اقتدار میں کیسے موجود ہے؟" جب کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے اور اکتوبر 2023 میں پیش آنے والی "یہودی قوم کی سب سے بڑی تباہی" کے ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ہر موقع پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے وہ ہر چیز قربان کر دے گا۔

دوسری جانب نداو تامیر، جو اسرائیل میں قائم امریکی لابنگ تنظیم "جے اسٹریٹ" کا سربراہ ہے، نے ویب سائٹ "زمان اسرائیل" پر اپنے مضمون میں لکھا کہ نتن یاہو خود کو فرانسیسی بادشاہ لوئی چہاردہم (Louis XIV) سمجھتا ہے اور ہر بحران کے وقت یہ پیغام دیتا ہے کہ "میں ہی ریاست ہوں"۔ تامیر کے مطابق، یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے کرپٹ لیڈر کے ہاتھوں یرغمال ہے جس نے پورے ملک کو اپنی ذاتی خواہشات اور خاندانی مفادات کے تابع کر دیا ہے۔

معروف عسکری تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ (چینل 13) نے بھی اخبار معاریو میں اپنے مضمون میں لکھا کہ نتن یاہو اس وقت اپنی ناکامیوں کے سیاسی نتائج سے بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، وہی ناکامیاں جنہوں نے اسرائیلی ریاست کو پے در پے جھٹکے دیئے۔ الون بن ڈیوڈ کے مطابق، نتن یاہو کی مصنوعی مسکراہٹ، چہرے پر گہرا میک اپ اور بیرونی دنیا سے پڑنے والی طنزیہ چپتیں اب اس کی اصل حالت کو چھپانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ وہ ایک ایسا سیاست دان بن چکا ہے جو اقتدار کے نشے میں حقیقت سے کٹ چکا ہے اور اس کے لیے ریاست سے زیادہ اپنی کرسی کی حفاظت اہم ہو چکی ہے۔

اسرائیل سے فرار کا رجحان

اسرائیل کے مرکزی ادارۂ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کی آبادی اگرچہ ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے، مگر اس میں سے 82 ہزار افراد کو حساب سے خارج کیا گیا ہے کیونکہ وہ ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اسرائیلی میڈیا میں سرخیوں کا مرکز اور سیاسی بحث کا نیا موضوع بن گئے۔

اخبار یدیعوت احرونوت کے لکھاری عکیفا لام کے مطابق، ان اعداد و شمار نے اسرائیلی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر جانے والے افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ ور، ڈاکٹر اور تکنیکی ماہر ہیں یعنی وہ طبقہ جو ملک کی ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

یوناتان یاکوبووِچ، جو “مرکز برائے پالیسیِ ہجرت” کا بانی ہے، نے کہا کہ بڑھتی ہوئی الٹی ہجرت (Reverse Migration) دراصل اُن لوگوں کی آواز ہے جنہوں نے اسرائیل سے امید کھو دی ہے۔ یہ لوگ جنگ کے خوف اور معاشرتی بے یقینی کا شکار ہیں اور اُن کے نزدیک اب اسرائیل میں زندگی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی فلسفۂ سیاست کی لیکچرار کوتی شوہام نے اخبار اسرائیل ہیوم میں اپنے مضمون میں متنبہ کیا کہ ٹیکنالوجی، معیشت، طب اور ثقافت کے باصلاحیت افراد اب اپنے لیے ملک میں کوئی محفوظ مستقبل نہیں دیکھتے۔ حکومت کی جانب سے آزادیِ رائے کو محدود کرنے والے قوانین، تخلیقی سوچ کو دبانے اور نجی ملکیت پر قدغنوں نے باصلاحیت نوجوانوں کو نقلِ مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ غزہ جنگ، غیرمنصفانہ معاشی پالیسیاں، حریدی مذہبی طبقے کی لازمی فوجی بھرتی کی مخالفت اور عدلیہ کے خلاف مہم نے ان طبقات میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر وہ ابھی نہ گئے تو مستقبل میں شاید کبھی اسرائیل واپس بھی نہ آ سکیں۔

اسی دوران، تنظیم "اسرائیل فار دی نیگیو" کی صدر استیر لوزاتو نے اخبار معاریو میں خبردار کیا کہ اگر ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل کو “دماغی فرار” (Brain Drain) کے خطرناک نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اس کے مطابق، 2024ء کے اختتام تک اسرائیل کی آبادی کا تخمینہ 1 کروڑ 27 ہزار لگایا گیا، جس میں 76.9٪ یہودی، 21٪ فلسطینی اور 2.1٪ دیگر اقلیتیں شامل ہیں۔ تاہم، بیرونِ ملک جانے والوں میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جو اعلیٰ ٹیکنالوجی، میڈیکل اور سائنسی شعبوں سے وابستہ ہیں، جو ریاستی نظام کی اخلاقی اور تعلیمی ناکامی کی علامت ہے۔ ان کے بقول، معاشرتی تقسیم بڑھ رہی ہے اور انتہا پسند عناصر اندرونی خلفشار کو ہوا دے رہے ہیں۔

پروفیسر آریئے اِلداد نے بھی اخبار معاریو میں لکھا کہ 2024ء میں اسرائیل چھوڑنے والوں کی تعداد اُن لوگوں سے کہیں زیادہ رہی جو واپس لوٹے۔ ان کے مطابق 83 ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ گئے جبکہ صرف 24 ہزار واپس آئے، جس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اسرائیلی قوم اپنی ریاست سے دستبردار ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے؟

یدیعوت احرونوت کی صحافی عنات لیف-اَدلر کے مطابق، یہ اعداد و شمار ایک نئی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف 2024ء میں، جب جنگ جاری تھی، 82 ہزار 700 اسرائیلی ملک چھوڑ کر گئے، جبکہ واپس آنے والوں کی تعداد صرف 23 ہزار 800 رہی۔ اس طرح 58 ہزار 900 افراد کے فرق کے ساتھ اسرائیل کو منفی ہجرت کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ مارچ 2023ء سے مارچ 2025ء کے درمیان بیرونِ ملک مقیم اسرائیلیوں کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف 2024ء کے پہلے چھ ماہ میں 4800 اسرائیلیوں نے اپنی مستقل رہائش ختم کرنے کی درخواستیں جمع کرائیں، جو 2022ء کی اسی مدت کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل آج نہ صرف جنگ اور سیاسی بحران سے دوچار ہے، بلکہ اس کے شہریوں کے ذہنوں میں ریاست سے فرار کا رجحان بھی تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ اس وقت جب کہ ریاست اسرائیل اندرونی مسائل اور بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ہجرت کے حوالے سے مطالبات بڑھ رہے ہیں اور لوگ اس سے مستقل طور پر چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی سماجی تشکیل، کام کرنے کی صلاحیت اور خوشحالی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جیسا کہ متعدد اسرائیلی تجزیئے اور تخمینے ظاہر کرتے ہیں۔

صحافی شموئیل روزنیر نے اخبار معاریو میں لکھا کہ

"اس سال یہودیوں کی اسرائیل آنے میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ ہر وہ شخص جو یہاں ہجرت کے بارے میں سوچ رہا ہے، اسے اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک جنگ کی حالت میں ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہجرت کا وقت بالکل مناسب نہیں ہے۔ اگر ہجرت کو جنگ کے بعد مؤخر کیا جا سکے تو لوگ اس کے بعد آئیں گے، سوائے اس کے کہ جنگ کا نتیجہ ان کے فیصلے کو بدل دے۔"

اس نے مزید کہا کہ

"اس سال ملک چھوڑنے والوں کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے بیشتر سالوں کے مقابلے میں بڑی تعداد ہے اور یہ حیران کن نہیں بلکہ ایک زیادہ مشکل اور خطرناک صورتحال ہے۔ ان حالات میں واضح ہے کہ اسرائیلیوں میں فرار کی خواہش بڑھے گی اور یہاں رہنے کی خواہش کم ہوگی۔ کچھ لوگ عارضی طور پر جا رہے ہیں تاکہ حالات ٹھیک ہونے کے بعد واپس آئیں، کیونکہ وہ مایوس ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی نیا لیڈر جنگ میں کامیاب ہو اور زندگی کو درست راستے پر لے آئے اور اگر حالات بہتر ہوئے تو وہ واپس آئیں گے۔"

اس نے بتایا کہ

"کچھ اسرائیلی ملک اس لیے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملک ان کے لیے مناسب نہیں رہا اور یہ ایک انتہائی مشکل، متنازع اور ثقافتی طور پر غیر آرام دہ احساس ہے۔ اگرچہ ملک سالانہ 80 ہزار اسرائیلیوں کے جانے کو آسانی سے سہہ سکتا ہے کیونکہ آبادی بڑھ رہی ہے، لیکن یہ تمام 80 ہزار کے جانے کو آسانی سے نہیں سنبھال سکتا، خاص طور پر اگر یہ تمام لوگ ڈاکٹر ہوں، کیونکہ ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد کم ہے اور اگر ان کے ساتھ 30 ہزار نرسیں بھی جائیں، تو واضح ہے کہ اس کا منفی اثر آبادیاتی طور پر بہت شدید ہوگا۔"

روزنیر نے کہا کہ

"یہ ہجرت دیگر حوالوں سے بھی بہت خطرناک ہے، کیونکہ صحت کا نظام ڈاکٹرز اور نرسوں کے بغیر کام نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی موجودہ صورتحال میں یہ 80 ہزار کا ہجرت کرنا بڑا خطرناک ہے۔ 70 فیصد سے زائد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اعلیٰ ڈگری، ڈاکٹریٹ یا اس کے برابر تعلیم حاصل کی ہے۔

اسرائیل کے اندرونی انقسامات

غزہ کی جنگ نے اسرائیلی معاشرے کے اندر چھپے ہوئے تضادات اور نسلی تعصبات کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، مشرقی یہودی یا سفاردی، جو اسرائیل کی آبادی کا اہم حصہ ہیں، اب بھی ثقافتی، تعلیمی، اقتصادی اور عدالتی نظام میں نمایاں طور پر کم نمائندگی رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، مغربی نژاد اشکنازی یہودی ریاست کی تمام طاقت اور وسائل پر قابض ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر خود یہودی قوم کے درمیان بھی نسلی امتیاز گہرا ہے۔ اخبار یدیعوت احرونوت میں شائع مضمون میں دو معروف لکھاریوں یفعات بیتون اور سیغال ناغار رون نے لکھا کہ سفاردی یہودی ریاست میں منظم تعصب کا شکار ہیں اور انہیں بعض اوقات ’’نسلی شیطان‘‘ بھڑکانے کا الزام دیا جاتا ہے۔

اخبار معاریو میں لیؤرا مینکا جو مذہبی صہیونی خواتین تنظیم “ایمونا” کی سابق سربراہ ہے، نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے حریدی (انتہائی مذہبی) تعلیمی اداروں میں امتیاز ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ ہر تعلیمی سال میں درجنوں طلبہ کو ان کی سفاردی نسل کی بنیاد پر داخلے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ اسرائیل دو برسوں سے غزہ میں جاری خونی جنگ میں مصروف ہے اور سینکڑوں فوجی مارے جا چکے ہیں، وہیں دوسری طرف احتیاطی فوجی (ریزرو سروس) میں شامل کئی اہلکار جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس حریدی طبقہ بدستور فوجی خدمت سے انحراف کرتا رہا ہے اور اپنی بھرتی کے خلاف طرح طرح کے مذہبی بہانے پھیلا رہا ہے، جیسا کہ صحافی صوفی رون موریا نے معاریو میں لکھا۔

جنگ کے بعد فوج میں اہلکاروں کی شدید کمی کے پیش نظر، اسرائیلی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حریدیم کو لازمی طور پر فوجی خدمت کے دائرے میں لایا جائے۔ حتیٰ کہ بعض تجزیہ کاروں نے انکار کرنے والوں پر ذاتی سزائیں عائد کرنے کی تجویز دی ہے، تاکہ معاشرتی خلیج کو کم کیا جا سکے اور سیکورٹی کی ضروریات پوری ہوں۔ عالیزا بالوخ، جو اسرائیلی مرکز برائے تعلیمی امتیاز کی سربراہ ہے نے چینل 12 پر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں کوئی بھی طبقہ خود کو ’’نیلے خون‘‘ والا یعنی اعلیٰ نسل کا نہ سمجھے۔

دوسری جانب، ایتائی لینڈزبرگ نیوو نے زمان اسرائیل میں لکھا کہ ملک میں مذہبیت کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ اس کے مطابق، مذہبی شدت پسند گروہ عبادت گاہوں کی تعمیر میں اضافہ، خواتین کو پبلک مقامات سے ہٹانے، بسوں اور فٹ پاتھوں پر مردوں اور عورتوں کی علیحدگی جیسے اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ بعض جگہوں پر خواتین کے لباس اور چہروں پر پردہ کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہ رجحان اسرائیل کو خودکشی کی راہ پر لے جا رہا ہے۔ ایریت روزنبلوم، جو تنظیم “دے فیملی” (The Family) کی بانی ہے، نے ویب سائٹ ویللا پر لکھا کہ مذہبیت میں اضافہ دراصل سیکولر اور مذہبی طبقے کے درمیان تقسیم کو خطرناک حد تک بڑھا رہا ہے۔ اس کے مطابق، اسرائیل کی شناخت ایک کثیر الثقافتی قومی شناخت سے بدل کر ایک مذہبی الگ تھلگ ریاست میں ڈھلتی جا رہی ہے۔

عامی باخار نے زمان اسرائیل میں تبصرہ کیا کہ دو سال کی جنگ کے بعد اسرائیل ایک ایسے جسم کی مانند ہو گیا ہے جس کے خلیات بکھر چکے ہیں، کچھ حریدی ہیں، کچھ کاہانی (انتہا پسند مذہبی قوم پرست)، کچھ لبرل اور یہ سب اب ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی معاشرہ ایک بیمار جسم کی طرح ہے جو اپنی شناخت اور وحدت کھو چکا ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیلی خود اپنے درمیان بڑھتی نفرت اور سیاسی تقسیم کو ’’تیسرے ہیکل کی تباہی‘‘ سے تشبیہ دینے لگے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر یہ داخلی کشمکش یونہی بڑھتی رہی، تو وہ دن دور نہیں جب خود اسرائیلی ریاست اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ خدا کرے کہ وہ دن جلد دیکھنا نصیب ہو۔ آمین۔

(۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء)

حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے میں کیا طے پایا؟

شرم الشیخ میں پیر سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر جمعرات کی صبح امریکہ کی ثالثی میں تحریکِ مزاحمت (حماس) اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ غزہ میں دو برس سے جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم سمجھا جا رہا ہے۔

معاہدے کا اعلان اور پس منظر

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو سرگوشی میں یہ اطلاع دی کہ "غزہ کے لیے پہلا مرحلہ طے پا گیا ہے۔" اس کے بعد صدر ٹرمپ نے فوری طور پر اعلان کیا کہ "یہ معاہدہ ایک مضبوط اور دائمی امن کی ابتدا ہے، جو تمام فریقوں کے لیے انصاف پر مبنی ہوگا۔"

ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات مصر، قطر، ترکی اور امریکہ کی مشترکہ نگرانی میں ہوئے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کے بعد تمام مغوی اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کو بیک وقت عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

معاہدے کی بنیادی شرائط

1- فائر بندی

فریقین نے مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کے نفاذ کا حتمی وقت جلد اعلان کیا جائے گا۔

2- قیدیوں کا تبادلہ

تحریکِ مزاحمت پیر کے روز تک 20 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ حالت میں رہا کرے گی، جب کہ اس کے بدلے اسرائیل 2000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔ ان میں 250 عمر قید کی سزا پانے والے اور 1700 جنگ کے دوران گرفتار شدگان شامل ہوں گے۔

3- لاشوں کی واپسی

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، فریقین کے درمیان 28 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی پر بھی اتفاق ہوا ہے، جو مرحلہ وار عمل میں لائی جائے گی کیونکہ بعض کی شناخت اور مقامات کی تصدیق میں وقت درکار ہے۔

4- امدادی سامان کی فراہمی

معاہدے کے مطابق 400 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوں گے جو خوراک، پانی، دوائیں اور تعمیراتی مواد لائیں گے۔ یہ تعداد ابتدائی پانچ دن کے بعد مزید بڑھائی جائے گی۔

5- بے گھر شہریوں کی واپسی

جنوبی غزہ سے بے دخل کیے گئے ہزاروں خاندانوں کو اپنے علاقوں میں فوری واپسی کی اجازت دی جائے گی، خاص طور پر شمالی اور وسطی غزہ میں۔

6- اسرائیلی انخلا

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج کا انخلا 24 گھنٹے کے اندر مکمل کر لیا جائے گا اور فوجی اہلکار "طے شدہ حدِ فاصل" تک پیچھے ہٹ جائیں گے۔

معاہدے کی تصدیق اور عالمی ردعمل

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ تمام فریقین نے پہلے مرحلے کے تمام نکات اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کے تسلسل کو یقینی بنائے گا، جب کہ آئندہ مراحل کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔"

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کے روز کابینہ کا اجلاس بلا کر معاہدے کی منظوری دینے کا اعلان کیا، جب کہ واشنگٹن نے بتایا کہ صدر ٹرمپ چند روز میں مصر کا دورہ کریں گے اور امکان ہے کہ وہ اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) سے خطاب بھی کریں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا: "یہ دن دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے، عربوں، مسلمانوں، اسرائیلیوں اور امریکیوں سب کے لیے۔"

عوامی ردِ عمل

تل ابیب میں اسرائیلی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا، قیدیوں کے اہلِ خانہ نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر جشن منایا۔ اسرائیلی میڈیا نے اسے "طویل ترین جنگ کے خاتمے کی امید" قرار دیا۔

دوسری طرف غزہ میں رات بھر تکبیر اور تسبیح کی صدائیں بلند رہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود شہری سڑکوں پر نکل آئے، ایک دوسرے کو معاہدے کی خبر دیتے رہے۔ کئی صحافیوں نے جذباتی مناظر میں خوشی کے آنسو بہائے۔

اگلے مراحل

ابھی یہ واضح نہیں کہ غزہ کی انتظامیہ کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کو بعد ازاں بین الاقوامی نگرانی میں حکومت سونپی جائے۔ اگلے مرحلے میں مذاکرات کا مرکز تحریکِ مزاحمت کے غیر مسلح ہونے، ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام اور بین الاقوامی امن کونسل کی نگرانی جیسے امور ہوں گے، جس کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بلاشبہ دو برسوں سے جاری خونی جنگ میں پہلی حقیقی پیش رفت ہے۔ اگر طے شدہ نکات پر عمل درآمد ہو گیا تو غزہ میں امن اور بحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہے۔ تاہم خطے کے ماہرین کے مطابق، اعتماد کی کمی، سیاسی بے یقینی اور زمینی حقائق اس عمل کے لیے اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔ غزہ کے عوام کے لیے یہ لمحہ محض ایک وقفہ نہیں بلکہ امید کی کرن ہے، اس امید کی جو ملبوں کے درمیان اب بھی زندہ ہے۔ اللہ کرے کہ یہ امید بر آئے اور انہیں مستقل چین سکون نصیب ہو۔ آمین۔

(۹ اکتوبر ۲۰۲۵ء)


سات اکتوبر کے حملہ کے حوالے سے حماس پر الزامات کی حقیقت

دی کیٹی ہالپر شو

شرکاء

  1. کیٹی ہالپر معروف امریکی صحافی، پوڈکاسٹ ہوسٹ اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو اپنے شو ’’دی کیٹی ہالپر شو‘‘ میں سماجی و سیاسی موضوعات پر بے باک گفتگو کے لیے جانی جاتی ہیں۔
  2. پروفیسر جان میرشائمر ممتاز امریکی ماہرِ سیاسیات ہیں جو اسرائیل، امریکہ اور عالمی طاقتوں کی سیاست پر اپنی تنقیدی آراء کے لیے معروف ہیں۔
  3. سوزان ابوالہویٰ فلسطینی نژاد امریکی ادیبہ، شاعرہ اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں جن کا کام فلسطین کے مسئلے اور سامراجی بیانیوں کے خلاف مزاحمت پر مرکوز ہے۔

مذاکرہ

یہ ایک ویڈیو کی گفتگو ہے جس کا آغاز میزبان کیٹی ہالپر نے اس سوال سے کیا کہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد دو سال مکمل ہونے پر آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

سوزان ابوالہویٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر دن خوفناک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اس پروپیگنڈا کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہی پرانے جھوٹے بیانیے بار بار دہرائے جا رہے ہیں جنہیں کئی مرتبہ جھٹلایا جا چکا ہے، جیسے کہ ’’بچوں کے سر قلم کیے گئے‘‘، ’’حماس نے بچوں کو جلایا‘‘ اور ’’مرد و عورتوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا‘‘۔ سوزان نے کہا کہ حتیٰ کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو بھی ان ہی من گھڑت کہانیوں کو دہراتے ہیں، جبکہ مین اسٹریم میڈیا اور سیاسی شخصیات ان الزامات کو بغیر کسی تحقیق کے آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کے بقول، یہ یا تو جان بوجھ کر بولا جانے والا جھوٹ ہے یا جہالت ہے، اور دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو سال گزر گئے مگر اب تک نہ کوئی آزاد تحقیق ہوئی، نہ کوئی شفاف رپورٹ سامنے آئی۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیل تباہ شدہ گھروں اور گاڑیوں کو جو حماس کی دہشت گردی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے وہ دراصل اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے تباہ ہوئیں۔ ان کے مطابق کم از کم 28 اپاچی ہیلی کاپٹروں نے اُس دن شدید گولہ باری کی اور کئی بار اپنے ہتھیار دوبارہ لوڈ کیے۔ اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کے مطابق ان ہیلی کاپٹروں کی گولیوں سے سینکڑوں لوگ مارے گئے۔

سوزان نے بتایا کہ اسرائیل نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار بھی بار بار بدلے۔ پہلے 2200، پھر 2000، پھر 1200، اور آخر میں 1139۔ لیکن عوامی تاثر کو قائم رکھنے کے لیے اسے دوبارہ 1200 پر گول کر دیا گیا۔ ان کے بقول یہی غلط اعداد و شمار اِس فلسطینی نسل کشی کے جواز کے طور پر استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سر قلم کیے گئے بچوں اور اجتماعی عصمت دری جیسی داستانیں عوامی رائے کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے تراشی گئیں کہ غزہ کے بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام دراصل ایک جنگ ہے۔ سوزان کے الفاظ میں، یہ ظلم اور درندگی انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔

اس کے بعد کیٹی ہالپر نے پروفیسر جان میرشائمر سے سوال کیا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کے بارے میں اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق اصل تصویر کیا ہے؟ اور پچھلے سال جب اس حوالے سے آپ کے ساتھ میری بات ہوئی تھی، اس کے بعد سے اب تک کیا تبدیلی آئی ہے؟

میرشائمر نے جواب میں کہا کہ سوزان کی تمام باتیں درست ہیں۔ ان کے مطابق اب ہمارے پاس اس واقعے کی عمومی صورتِحال کا ایک واضح نقشہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے اسرائیلی دراصل اسرائیلی افواج ہی کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان کے بقول یہ صرف "ہنیبال ڈاکٹرائن" (Hannibal Doctrine) کی بات نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی فوجی بوکھلاہٹ بھی شامل تھی۔ اسرائیلی فوج اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی، اس لیے اس نے فوری ردعمل میں بڑے پیمانے پر فائر پاور استعمال کی، توپ خانے، ہوائی حملے، اور ہیلی کاپٹرز۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ عام اسرائیلی شہری بھی اس فائرنگ کی زد میں آگئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہنیبال ڈاکٹرائن‘‘ کے تحت اسرائیل اپنے اغوا شدہ شہریوں کو دشمن کے قبضے میں جانے سے پہلے ہی مارنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے، اس لیے کچھ اسرائیلی اسی پالیسی کے نتیجے میں مارے گئے۔

میرشائمر کے مطابق، بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے فلسطینیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک قید خانے (یعنی غزہ کی محصور پٹی) سے نکلنے کی کوشش کریں اور قابض افواج کے خلاف مزاحمت کریں۔ اس لیے اگر انہوں نے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا تو یہ ’’قتل‘‘ نہیں بلکہ جنگی تصادم تھا۔ البتہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جو عام شہری مارے گئے ہیں، وہ جس نے بھی مارے ہیں، اس نے جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اسرائیلی یا تو فوجی تھے جو جنگ میں جائز ہدف بنتے ہیں، یا وہ شہری تھے جنہیں خود اسرائیلی فورسز نے مارا۔ ہمیں یہ اندازہ لگانے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ اسرائیل کی اپنی فائر پاور نے اپنے ہی شہریوں کو کتنا نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی میڈیا میں ان حقائق کو جگہ نہیں دی گئی، کیونکہ وہاں کی خبریں اسرائیلی پروپیگنڈا کی بازگشت ہوتی ہیں۔ 

آخر میں میرشائمر نے کہا کہ اصل حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ سب کیوں ہوا؟ کیوں فلسطینیوں نے ایک دن اس دیوار کو توڑنے کی کوشش کی جس کے پیچھے وہ سترہ سال سے قید تھے؟ ان کے مطابق غزہ ایک concentration camp بن چکا تھا جہاں لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا تھا، اور آخرکار وہاں سے ایک بغاوت کا ابھرنا ہونا بالکل ظاہر بات تھی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے اکتوبر 7 کو ’’ہولوکاسٹ‘‘ سے تشبیہ دی، جیسے فلسطینی گویا نازی ہوں، مگر یہ موازنہ لغو اور گمراہ کن ہے۔ جرمنوں نے یہودیوں کے ساتھ جو کیا، وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو فلسطینیوں نے اسرائیلیوں کے ساتھ کیا۔ فلسطینی تو خود مظلوم ہیں جو ایک محصور قید خانے میں زندگی گزار رہے تھے، اور 7 اکتوبر ان کے اسی جبر کے خلاف ردِعمل کی ایک شکل تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں ہرگز شہریوں کے قتل کو درست نہیں کہتا، مگر یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ پوری تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اور جتنا ہم اس پر گہرائی سے بات کرتے ہیں، اتنا ہی واضح ہوتا جاتا ہے کہ اس دن کے واقعات کی بڑی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

https://youtu.be/5NiJqduiBvA

غزہ کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کا اصل پلان

دی ینگ ٹرکس

’’دی ینگ ٹرکس‘‘ کی میزبان اینا کیسپرین نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک حالیہ بیان کے بعد غزہ کی صورتحال کے حوالے سے امریکی انتظامیہ، اسرائیل اور عرب حکمرانوں کے بارے میں ایک تنقیدی گفتگو کی ہے جو یہاں قارئین کے لیے شائع کی جا رہی ہے۔

اس ویڈیو کا آغاز امریکی نائب صدر کے کلپ سے ہوتا ہے جس میں وہ غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حماس کے بارے میں خطرناک ارادے ظاہر کرتے ہیں۔ ابتدائی حصے میں نائب صدر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ حماس کو معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو بہت بُرے نتائج ہوں گے‘‘۔ وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اس عمل کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کریں گے کیونکہ حالات غیر متوقع اور پیچیدہ ہیں۔ پھر وہ غزہ کے دو حصوں کا ذکر کرتے ہیں: ایک نسبتاً محفوظ، اور دوسرا نہایت خطرناک، اور کہتے ہیں کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ محفوظ علاقے کی حد کو وسیع کیا جائے۔

اس کلپ کے ختم ہوتے ہی اینا کیسپرین اپنی گفتگو کا آغاز کرتی ہیں اور ان کا لہجہ بتدریج تنقیدی اور تلخ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں سب سے خطرناک چیز اسرائیلی قبضہ ہے جو امریکی پشت پناہی کے ساتھ جاری ہے، اور یہ کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی باتیں محض ’’فضولیات کا ڈھیر‘‘ ہیں کیونکہ زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ 

اینا کیسپرین انکشاف کرتی ہیں کہ اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ارب پتیوں کا ایک گروہ، جس میں ایلون مسک، پیٹر تھیل، اور اسٹیو وٹکوف جیسے نام شامل ہیں، غزہ کی زمین پر قبضہ کر کے وہاں ٹیکس فری زونز اور اے آئی مراکز بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اس منصوبے کی جزوی تصدیق کی ہے۔

اینا کے بقول اسرائیل اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ زیرِ غور ہے جس کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو صرف انہی علاقوں میں ہوگی جو فی الحال اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔ فی الوقت تقریباً 53 فیصد غزہ پر اسرائیلی افواج کا کنٹرول ہے اور امکان ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ قبضہ مزید پھیل جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جیرڈ کشنر، جو کہ ٹرمپ کے داماد اور غیر سرکاری مشیر ہیں، کا مؤقف ہے کہ چونکہ حماس ہتھیار نہیں ڈال رہی، اس لیے اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں پر تعمیراتی منصوبے شروع کرے گا تاکہ ’’امن کی راہ ہموار‘‘ ہو۔ اینا کیسپرین طنزاً کہتی ہیں کہ یہ گویا اُن لوگوں کو دوبارہ اُسی ملبے میں زندگی گزارنے کا کہہ رہے ہیں جن کے گھروں کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے بمباری کے ذریعے ملبہ بنایا گیا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے حماس کمزور ہوگی۔

اینا نے کہا کہ کہ امریکی، اسرائیلی، اور عرب حکام کے بیانات میں تضاد ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ تعمیرِ نو فلسطینی عوام کے لیے ہو گی، حالانکہ دراصل یہ تعمیر اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔ اینا کیسپرین نے سخت لہجے میں عرب قیادت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ تمام عرب حکمران شرمناک طور پر ایک نسل کش حکومت کے سامنے جھکے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ انہیں ’’رشوت‘‘ دے رہا ہے۔ اور اس وقت امریکہ کے عوام کا پیسہ تباہی، زمین پر قبضے، اور ناانصافی پر مبنی مہاجر آبادکاری کے منصوبوں میں استعمال ہو رہا ہے، جبکہ خود امریکی عوام صحت، روزگار، اور بچوں کی پرورش جیسے مسائل کے حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق کشنر اور اسٹیو وٹکوف اس تقسیم شدہ تعمیراتی منصوبے کے مرکزی منصوبہ ساز ہیں۔ اینا کہتی ہیں کہ یہ امن کے نہیں بلکہ فلسطینیوں کو غزہ سے مکمل طور پر بےدخل کرنے اور دیگر مسلم ممالک میں بسانے کے خواہشمند ہیں تاکہ اِس زمین سے منافع کمایا جا سکے۔

وہ عرب ممالک کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ حکومتیں صرف ’’فکرمندی ظاہر کرنے‘‘ تک محدود ہیں، عملی اقدام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ غزہ پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہے، 53 فیصد حصہ اسرائیلی قبضے میں ہے، اور باقی بھی وہ حاصل کر لیں گے کیونکہ عرب کمزور ہیں اور امریکہ یا تو خریدا جا چکا ہے یا بلیک میل ہو رہا ہے۔

اینا کیسپرین اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے حالیہ اقدام کا حوالہ دیتی ہیں کہ جس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی ابتدائی منظوری دی گئی ہے۔ یہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقہ ہے جس کا حماس سے کوئی تعلق نہیں، پھر بھی اسرائیل اس پر اپنی خودمختاری جتانے جا رہا ہے۔

وہ امریکی پالیسی پر بھی شدید تنقید کرتی ہیں کہ واشنگٹن مسلسل اسرائیلی قبضوں اور جارحیت کی حمایت کر رہا ہے، اس لیے امریکہ کے پاس دنیا میں انسانی حقوق پر بولنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر اینا کہتی ہیں کہ یہ محض زمینی قبضہ نہیں بلکہ ایک طویل المیہ ہے، اسرائیل کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ غزہ، مغربی کنارے اور اب جنوبی لبنان تک نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ جو کچھ وہ تعمیر کرنے کا کہہ رہے ہیں وہ دراصل ملبے پر سامراجی محلات کھڑے کرنے کی تیاری ہے۔ آخر میں وہ طنزیہ انداز میں کہتی ہیں کہ وہ بارہا یہ پیش گوئیاں کرتی ہیں اور ہر بار وہ درست ثابت ہوتی ہیں لیکن کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ ان کے بقول یہ ایک مسلسل توسیع پسند منصوبہ ہے جس میں اسرائیل نے اب مزید توسیع کر لی ہے۔

https://youtu.be/ezkJtLNWLXo


امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور غزہ کے بارے میں اسرائیل کا اصل منصوبہ

بریکنگ پوائنٹس

ساگر انجیٹی اور کرسٹل بال ’’بریکنگ پوائنٹس‘‘ کے اس پروگرام کے میزبان ہیں جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی حالیہ نوعیت اور غزہ کے بارے میں اسرائیل کے اصل عزائم کے حوالے سے اپنے تجزیے پیش کیے ہیں۔

اسرائیل کا امریکی تابعدار ریاست ہونے کا تاثر اور نیتن یاہو کا رد عمل

ویڈیو کا آغاز ایک کلپ سے ہوتا ہے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’’کیا اسرائیل امریکہ کی محض تابعدار ریاست (vassal state) یا زیر حفاظت ریاست (protectorate) بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف امریکی مشورے پر عمل کرتا ہے بلکہ امریکی احکامات کی تعمیل بھی کرتا ہے‘‘۔ نیتن یاہو نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے، اور اگلے ہی ہفتے کہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو کنٹرول کرتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری اور اتحادی تعلق ہے جو مشترکہ اقدار اور مشترکہ اہداف پر مبنی ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار معمولی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر گزشتہ برس کے دوران دونوں فریقین کے درمیان اہداف اور ان کو حاصل کرنے کے طریقوں پر اتفاق رہا ہے اور وہ کامیابی سے اس میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

نائب امریکی صدر کے دورہ کے دوران مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے بل کی منظوری

تجزیہ کاروں کی گفتگو کا آغاز نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی موجودگی کے دوران ہونے والے ایک بڑے اسرائیلی اقدام کے حوالے سے ہوتا ہے کہ کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) نے ایک بل کی منظوری دی جس میں مغربی کنارے (west bank) پر اسرائیلی خودمختاری (sovereignty) لاگو کرنے کی بات کی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ اسرائیل کے قوانین، عدالتی نظام، انتظامیہ اور خودمختاری کو یہودیہ اور سامریہ (judea and samaria) کے تمام آبادکاری کے علاقوں پر لاگو کیا جائے گا۔ یہ بل 25-24 کے ووٹ سے منظور ہوا تھا۔ اگرچہ تکنیکی طور پر اس کی سرکاری سطح پر فوری عملدرآمد متوقع نہیں تھا لیکن اسے امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی پیغام سمجھا گیا۔ ساگر نے اسے ’’سفارتی سطح کا سب سے بڑا ایف یو‘‘ قرار دیا جو نیتن یاہو کی حکومت نے امریکہ کو دیا ہے کیونکہ اسی عرصہ کے دوران اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل سے جنگ بندی کا ماحول بنانے کی درخواست کر رہے تھے۔

اسرائیل کے حکومتی اراکین کے غیر مصالحانہ بیانات

مکالمے میں اسرائیلی حکومت کے اندر موجود بنیادی حرکیات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی یا فلسطینی ریاست کے حق میں نہیں ہیں۔ حکومت کے دو اہم ارکان سموٹریچ اور بن گویر کے بیانات کا حوالہ دیا گیا۔ وزیرِ خزانہ سموٹریچ نے سعودی عرب کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معمول کے تعلقات کے بدلے فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسرائیل کہے گا: ’’…تم سعودی صحرا میں اونٹ پر سواری جاری رکھ سکتے ہو‘‘۔ 

ساگر اور کرسٹل دونوں اس بات پر متفق تھے کہ یہ بیان ان عرب ممالک کے لیے توہین آمیز ہے جن کے دستوں کو غزہ میں گشت کرنا ہے اور جن کے پیسوں سے تعمیر نو ہونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ایک خواب جیسی حالت میں ہے جو یہ سمجھ رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت واقعی جنگ بندی چاہتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل بھی جنگ بندی نہیں چاہتے۔ تجزیہ کاروں نے امریکی سیاستدانوں کی نمائشی سیاست پر تنقید کی جو نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو کچھ اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وہ غزہ کو فلسطینیوں کے حوالے کبھی نہیں کریں گے بلکہ وہاں بستیاں بنائیں گے اور فلسطینیوں کو نکال دیں گے۔

جے ڈی وینس کا رد عمل اور مغربی کنارے کے متعلق موقف

جے ڈی وینس نے اسرائیل سے رخصت ہونے سے پہلے کنیسٹ کے ووٹ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے ناخوش تھے، اور اگر یہ پولیٹیکل سٹنٹ تھا تو بے وقوفانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اس بل سے خوش نہیں ہیں۔ 

تاہم کرسٹل نے نشاندہی کی کہ حقیقت میں یکطرفہ قبضہ (de facto annexation) ہو چکا ہے، اور بڑے پیمانے پر بستیوں کی تعمیر (mass settlements) ہو چکی ہے، جس نے دو ریاستی حل (two-state solution) کے امکان کو بنیادی طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے لیے ’’ویسٹ بینک‘‘ کی اصطلاح کو بھی ترک کر کے ’’یہودیہ اور سامریہ‘‘ کی بائبل کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کر دی ہے تاکہ اس علاقے پر اپنی خودمختاری کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر اسرائیلیوں کے کنٹرول میں ہے، چاہے بظاہر کچھ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول ہی کیوں نہ ہوں۔

غزہ کے لیے امریکی منصوبہ مغربی کنارے جیسا ہے

کرسٹل نے وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق امریکہ کا فیز 2 منصوبہ دراصل غزہ کو ایک نئے مغربی کنارہ میں بدلنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ’’ماسٹر پلان‘‘ دو سال سے تیار کیا جا رہا ہے، جیسا کہ وِٹکوف (Steve Witkoff) نے ایک انٹرویو میں بتایا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک پہلے سے موجود منصوبہ ہے۔ ان تمام عوامل کے پیش نظر اس منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہے کیونکہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے کسی حقیقی امن کی خواہش نظر نہیں آتی۔

اس کے بعد تجزیہ کاروں نے اس پر گفتگو کی کہ اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کس طرح کا ماحول چاہتا ہے اور اب مغربی کنارہ کی طرح غزہ میں بھی اسرائیل اپنا من مرضی کا ماحول قائم کرنا چاہتا ہے جس میں فلسطینیوں کی زندگی کے حوالے سے ہر طرح کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہو۔ 

بحران سے نکلنے کا راستہ: ایک ریاستی حل؟

کرسٹل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ چونکہ اسرائیل عملی طور پر مغربی کنارے پر قبضہ کر چکا ہے، اس لیے بہت سے لوگ اب دو ریاستی حل سے ہٹ کر ایک ریاستی حل (one-state solution) کی طرف مائل ہو رہے ہیں، یعنی اگر اسرائیل سب کچھ ضم کرنا چاہتا ہے تو اسے تمام لوگوں کو شہری حقوق (citizenship rights) دینے ہوں گے۔ تاہم اسرائیلی سیاستدانوں اور شدت پسند عناصر کے لیے یہ آبادیاتی خطرہ (demographic threat) ہونے کی وجہ سے قطعی طور پر ناقابل قبول ہو گا کیونکہ فلسطینیوں کو حقوق دینے سے اسرائیل کی آبادیاتی اور سیاسی حقیقت بدل جائے گی۔ تجزیہ کار کے مطابق اسی لیےنسل کشی (genocide)، نسلی صفائی (ethnic cleansing)، اور قبضے (occupation) کی یہ پوری مہم چلائی جا رہی ہے کہ اسرائیلی کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو اپنے سیاسی نظام میں کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔

امریکی انتظامیہ کا غیر یقینی طرز عمل

ساگر نے امریکی سیاست کی غیر مستقل مزاجی (inconsistency) اور عدمِ توجہی (lack of focus) پر تشویش کا اظہار کیا۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ نائب صدر، امریکی ایلچی، اور صدر کے داماد کو مسلسل اسرائیل میں موجود رہنا پڑ رہا ہے تاکہ جنگ بندی کو اس طریقے سے برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو ہر دھماکے کی نگرانی کرنی پڑ رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دوبارہ جنگ کے لیے اسرائیلی جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔ جبکہ یوکرین کے ساتھ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے متضاد معاملات کا ذکر کرتے ہوئے ساگر نے بتایا کہ خود امریکی انتظامیہ کا طرزعمل بھی غیر یقینی اور ناقابل بھروسہ ہے، کسی وقت کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے، جبکہ امریکی صدر نہیں جانتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، کیونکہ صدر اپنی وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش اور ذاتی منصوبوں میں مگن ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ یوکرین اور وینزویلا کے معاملات میں بھی ملوث ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ ہر طرف پوری توجہ نہیں دے پائے گی اور یہ صورتحال بھی اسرائیلی عزائم کے حوالے سے تشویشناک ہے۔

https://youtu.be/fsT0oXSBOxI


غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت

ورلڈ نیوز میڈیا

غزہ کی پٹی میں جاری دو سالہ جنگ کے بعد اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدہ کے مطابق ہونے والی جنگ بندی کے باوجود صورتحال کی نزاکت میں کمی نہیں آئی اور گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور سیزفائر کی کھلی خلاف ورزیوں نے علاقے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں اور شدید گولہ باری کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اسرائیلی افواج نے ان حملوں میں خاص طور پر خان یونس اور رفح جیسے گنجان آباد جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جہاں پہلے ہی جنگ سے متاثرہ لاکھوں بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس ایجنسیوں نے ان حملوں میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کی تصدیق کی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ متعدد لاشیں اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق ۲۹ اکتوبر کی شب اور ۳۰ اکتوبر کی صبح کے درمیان ہونے والی کارروائیوں میں کم از کم ۱۰۴ فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں ۴۶ بچے اور ۲۰ خواتین شامل تھیں۔

اسرائیلی حکام نے ان پرتشدد کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں دفاعی کارروائی قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف حماس کے ٹھکانے اور کمانڈرز تھے۔ اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ حملے مبینہ طور پر ایک اسرائیلی فوجی کے قتل کے جواب میں کیے گئے تھے، جبکہ حماس نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی پر دوبارہ عملدرآمد شروع کرنے کا بیان جاری کیا گیا ہے، تاہم غزہ کی گلیوں اور محلوں کا زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔ مقامی فلسطینی رہائشیوں نے امن کی امید کھونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب انہیں ’’مزید یقین نہیں رہا‘‘ کہ جنگ بندی قائم رہ سکے گی۔

اس دوران بین الاقوامی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک، جن میں امریکہ اور قطر شامل ہیں، نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم نے بھی ایک بیان میں حماس کی جانب سے مبینہ حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب غزہ کی وسیع تباہی جس میں ستر فیصد سے زیادہ شہری ڈھانچہ ملیامیٹ ہو چکا ہے، وہاں تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی کا عمل ان نئی جھڑپوں کی وجہ سے شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔ رفح کراسنگ کے ذریعے ’’انسان دوستانہ امداد‘‘ کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں بھی جنگ بندی کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہیں۔

مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے پورے علاقے میں امن کی بحالی کی کوششیں شدید تعطل کا شکار ہیں۔ 

پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکوائیں۔ جنگ بندی کا مطلب صرف فائر بندی نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی بھی ہے، جس کا بحران اب غزہ میں واضح طور پر پیدا ہو چکا ہے۔

حوالہ جات

’’دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک‘‘ کا نعرہ

ویکی پیڈیا

یہ تحریر ’’دریائے اردن سے سمندر تک’’ کے نعرے کے بارے میں ہے جسے انگریزی میں From the river to the sea اور عربی میں ’’من النھر الى البحر‘‘  کہا جاتا ہے۔ اس کا اشارہ دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان واقع پورے علاقے کی طرف ہے، جسے تاریخی طور پر فلسطین (Palestine) کہا جاتا تھا اور جو پہلی جنگِ عظیم میں خلافتِ عثمانیہ اور جرمنی کی شکست کے بعد برطانوی مینڈیٹ کے تحت آیا تھا۔ آج اس علاقے میں موجودہ اسرائیل کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی آتے ہیں۔ 

یہ نعرہ اور اس کی مختلف شکلیں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں نے استعمال کی ہیں اور یہ عام طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس پورے علاقے میں دو ریاستوں (two states) کی بجائے ایک ریاست (one state) ہونی چاہیے۔

فلسطینی نقطۂ نظر

1960ء کی دہائی میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) نے اس نعرے کو برطانوی مینڈیٹ والے فلسطین کو استعماریت سے آزاد (decolonized) ریاست کے قیام کے لیے استعمال کیا۔ 1969ء تک PLO نے اس سے مراد ایک جمہوری سیکولر ریاست (one democratic secular state) کا قیام لیا، جو اسرائیل کی یہودی مذہبی ریاست کی جگہ لے گی۔

حالیہ تناظر میں بہت سے فلسطینی کارکنان اس نعرہ کو دہائیوں کی اسرائیلی فوجی حکمرانی کے خلاف ’’امن اور مساوات کی پکار‘‘ سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں یہ نعرہ استعمال ہو رہا ہے۔

حماس نے بھی اپنے 2017ء کے چارٹر میں اس نعرے کو استعمال کیا جس کی وجہ سے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی تحلیل (dismantling) اور وہاں کی یہودی آبادی کو ہٹانے یا ختم کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ جبکہ ’’اسلامی جہاد‘‘ نے ’’دریائے اردن سے سمندر تک عرب اسلامی زمین‘‘ کا نعرہ اختیار کیا ہے۔

اسرائیلی نقطۂ نظر

کچھ مؤرخین کے مطابق یہ نعرہ دراصل ایک ابتدائی صیہونی نعرے کے طور پر شروع ہوا تھا جو ’’ارضِ اسرائیل‘‘ (Eretz Israel) کی حدود کو ظاہر کرتا تھا۔ ریویژنیسٹ صیہونیت کے بانی زیوی جابوتنسکی کا ایک ترانہ بھی تھا جس میں کہا گیا تھا: ’’اردن کے دو کنارے ہیں؛ یہ بھی ہمارا ہے اور دوسرا بھی‘‘۔

1977ء میں اسرائیلی دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی (Likud Party) کے انتخابی منشور میں کہا گیا تھا: ’’سمندر اور اردن کے درمیان صرف اسرائیلی خودمختاری ہوگی‘‘۔

حالیہ برسوں میں دیگر اسرائیلی سیاستدانوں بشمول وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اس علاقے میں صرف اسرائیلی خودمختاری کی بات کی ہے۔

بہت سے یہودیوں کے لیے بشمول اینٹی ڈیفامیشن لیگ (ADL) جیسے وکالتی گروپس اس نعرے کو یہودیوں سے نفرت (antisemitic)، نفرت انگیز بیان (hate speech)، اور نسل کشی پر اکسانے (incitement to genocide) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے اس نعرہ کا استعمال اسرائیل کو ختم کرنے کی وکالت کرتا ہے۔

بین الاقوامی استعمالات اور تشریحات

بعض کا کہنا ہے کہ یہ نعرہ (ایک ریاست کی صورت میں) تمام باشندوں (یہودیوں اور فلسطینیوں) کی آزادی، انسانی حقوق، اور مساوی شہریت کی بات کرتا ہے۔

اس نعرے کو بین الاقوامی سطح پر القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن اور حزب اللہ کے راہنما حسن نصر اللہ نے بھی فلسطین کی مکمل آزادی کے تناظر میں استعمال کیا ہے۔

     کچھ مغربی ممالک میں اسے دہشت گرد تنظیموں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس پر قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اینڈی میکڈونلڈ کو اس نعرے کے استعمال پر لیبر پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کی جو اس نعرے کو یہودی مخالف (antisemitic) قرار دیتی ہے۔ نیدرلینڈز کی عدلیہ نے پہلے اسے آزادئ اظہار کے تحت محفوظ قرار دیا تھا لیکن بعد میں پارلیمنٹ نے اسے تشدد کی پکار قرار دینے کی تحریک منظور کی۔

     سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس نعرہ کے استعمال کو اعتدال میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ یہ کب نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں آتا ہے۔ میٹا (Meta) کے نگران بورڈ نے 2024ء میں فیصلہ دیا کہ یہ نعرہ بذاتِ خود ’’نفرت انگیز تقریر‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔

نعرہ کا تاریخی پس منظر

اس نعرے کے تاریخی استعمال کے اصل ماخذ پر اختلاف ہے۔ فلسطینی عالم ایلیوٹ کولا کا کہنا ہے کہ اس نعرے کو سمجھنے کے لیے فلسطین کی تقسیم اور اس پر اسرائیلی قبضے کی تاریخ کو دیکھنا ضروری ہے، جیسے:

ایک اور مؤرخ ماہا نصر کے مطابق 1967ء سے پہلے بھی اس نعرے کا استعمال نہ صرف اسرائیل بلکہ مغربی کنارے میں اردن اور غزہ کی پٹی میں مصر کی حکمرانی سے بھی آزادی حاصل کرنے کی فلسطینی امید کا اظہار کرتا تھا۔

مختصراً یہ کہ اردو میں ’’دریائے اردن سے سمندر تک‘‘، انگریزی میں From the river to the sea، اور عربی میں ’’من النھر الى البحر‘‘  کا یہ نعرہ  ایک متحرک اور کثیر الجہتی جملہ ہے جو فلسطین کے اِس تاریخی علاقے کے آئندہ سیاسی حل کے مطالبات اور تصورات کی عکاسی کرتا ہے، البتہ اس کی تشریح کرنے والے گروہوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

ماخذ

https://en.wikipedia.org/wiki/From_the_river_to_the_sea


صمود فلوٹیلا: آغاز و مراحل اور اختتام و نتائج

ادارہ الشریعہ

غزہ کی پٹی پر عائد اسرائیل کے طویل اور غیر انسانی محاصرہ کو توڑنے اور وہاں کے مصیبت زدہ عوام تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے ایک بڑے سمندری مشن نے گزشتہ تین چار ماہ کے دوران عالمی توجہ حاصل کی، جسے ’’عالمی قافلہ صمود‘‘ (Global Sumud Flotilla) کا نام دیا گیا۔ یہ قافلہ دراصل دنیا بھر کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان، اور مختلف ممالک کے وفود کی جانب سے فلسطینی عوام کی استقامت (صمود) کے ساتھ یکجہتی کا ایک عملی اظہار تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی قیادت میں چلائی جانے والی بحری مہم تھی۔

آغاز: عالمی ضمیر کی بیداری

گلوبل صمود فلوٹیلا کا خیال غزہ میں جاری نسل کشی اور سخت پابندیوں کے جواب میں جولائی 2025ء میں ابھرا۔ اسے چار بڑے بین الاقوامی گروپوں نے منظم کیا جن میں ’’فریڈم فلوٹیلا کولیشن‘‘ اور ’’گلوبل موومنٹ ٹو غزہ‘‘ شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد محض امداد پہنچانا ہی نہیں تھا بلکہ غزہ کے لیے ایک محفوظ انسانی راہداری قائم کرنا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے محاصرے کو غیر قانونی قرار دلوانا تھا۔ 

منتظمین کے مطابق اس میں 44 سے زائد ممالک کے وفود اور 50 سے زائد بحری جہاز شامل ہوئے جن میں ڈاکٹرز، فنکار، پارلیمانی ارکان، اور سماجی کارکنان شامل تھے۔ سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ جیسی اہم شخصیات بھی اس میں شامل تھیں۔ ذیل میں چند اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں جو مختلف ذرائع ابلاغ پر تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔

عنوان اعداد و شمار
شریک ممالک کی تعداد 44 سے زائد ممالک
بحری جہاز/کشتیوں کی تعداد 50 سے 70 تک
شرکاء کی تعداد 500 سے زائد افراد
اندراج کروانے والے رضاکار 15,000 سے زائد
روانگی کے بڑے مقامات بارسلونا (سپین)، تیونس، جینوا (اٹلی)
اسرائیلی مداخلت پر روکے گئے جہاز    13 سے 42 تک
حراست میں لیے گئے کارکنان کی تعداد  200 سے 450 تک
ایک بڑی کشتی پر حملہ 9 ستمبر 2025ء کو تیونس کے قریب ڈرون حملہ
امدادی سامان خوراک، ادویات، طبی آلات

مراحل: مشکل سفر، غیر متزلزل عزم

اس تاریخی سفر کا آغاز اگست اور ستمبر 2025ء میں ہوا۔ ابتدائی قافلے 31 اگست کو سپین کے شہر بارسلونا اور اس کے بعد اٹلی کی بندرگاہوں جیسے جینوا اور اوٹرانٹو سے روانہ ہوئے۔ موسمی خرابی اور دیگر رکاوٹوں کے باوجود یکم ستمبر کو یہ کشتیاں دوبارہ سفر پر روانہ ہو سکیں۔ اس مہم کا ایک اہم مرحلہ تیونس کے ساحل سیدی بوسعید پر تھا، جہاں 4 ستمبر کو افریقی اور عرب ممالک سے مزید جہاز اس قافلے میں شامل ہوئے۔ تیونس سے روانگی کے بعد قافلے کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

ستمبر کے اوائل میں تیونس کے ساحل کے قریب اس قافلے کے مرکزی جہازوں میں سے ایک پر مشتبہ طور پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے آگ لگ گئی۔ اس حملے کے باوجود فلوٹیلا کے شرکاء نے عدمِ تشدد کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔ یہ بحری قافلہ بحیرہ روم سے ہوتا ہوا یونان کے قریب جزائر کی طرف بڑھا، جہاں مزید کشتیاں اس میں شامل ہوئیں اور عملے نے حفاظتی تربیت حاصل کی۔ 28 ستمبر کو کریتی (Crete) سے حتمی روانگی غزہ کی طرف ہوئی۔ کارکنان نے اسرائیلی فوج کی ممکنہ مداخلت کے خلاف کسی بھی قسم کی جسمانی مزاحمت نہ کرنے کا عہد کیا۔

اختتام: اسرائیلی جارحیت اور قبضہ

جیسے ہی صمود فلوٹیلا یکم اور 2 اکتوبر 2025ء کو غزہ کے قریب ’’خطرناک زون‘‘ میں داخل ہوا، اسرائیلی بحریہ نے حرکت میں آ کر اس قافلے کو روک لیا۔ بین الاقوامی پانیوں میں ہونے کے باوجود اسرائیلی فورسز نے متعدد کشتیوں کو قبضے میں لے لیا اور ان پر سوار سینکڑوں کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ کم از کم 21 جہاز روکے گئے اور کارکنوں کو اشدود کی بندرگاہ پر لے جا کر حراست کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔

نتائج: عالمی یکجہتی کا اظہار

اگرچہ قافلہ غزہ کا محاصرہ توڑ کر ساحل تک پہنچنے میں جسمانی طور پر کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن اس کے نتائج دور رس اور گہرے تھے:

صمود فلوٹیلا ایک یادگار قصہ بن گیا جس نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی پابندیوں کے باوجود ظلم کے سامنے انسانیت کا ضمیر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ غزہ کے عوام کی ’’صمود‘‘ یعنی استقامت کو دنیا بھر سے ملنے والی عملی حمایت کی علامت ہے۔


استفادہ