الشریعہ — مئی ۲۰۲۵ء

فاتحینِ جنگِ عظیم کی اجارہ داری اور اقوامِ متحدہ کی جانبداریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بیت المقدس، اقوام متحدہ اور مسلم ریاستیںڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
عالمی اداروں کا سقوط، کثیر قطبی دنیا کا ظہور اور اسرائیل کی داداگیریڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
ظلم و جبر کے شکار مسلمان: حکمت عملی کیا ہو؟ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
اقوامِ متحدہ کی بے بسی، مسلم حکومتوں سے نا امیدی، اسرائیل کا معاشی بائیکاٹروز نیوز 
سلامتی کونسل کی ویٹو پاور کی سیاست نے اقوام متحدہ کے اعتبار کو کیسے مجروح کیا ہےعرب نیوز 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
United Nations: Concerns and Demands of the Muslim Worldمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

ماہانہ بلاگ

شملہ معاہدے سے نکلنے کے فوائدڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
بھارت کا وقف ترمیمی ایکٹ: جب بیوروکریٹس موجود ہوں تو بلڈوزرز کی کیا ضرورت؟الجزیرہ 
پاکستان کا ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا طریقہ خطرناک ہے۔الجزیرہ 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرفس: وائیٹ ہاؤس کا موقف اور وزیراعظم سنگاپور کی تقریرسی بی ایس نیوز 

قضیۂ فلسطین

جہاد فرض ہے اور مسلم حکومتوں کے پاس کئی راستے ہیںمولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
المیۂ فلسطین اور قومی کانفرنس اسلام آباد کا اعلامیہمولانا مفتی منیب الرحمٰن 
فلسطین پاکستان کا اساسی مسئلہ ہےمولانا فضل الرحمٰن 
امریکہ کا عالمی کردار، اسرائیل کی سفاکیت، اہلِ غزہ کی استقامت: ہماری ذمہ داری کیا ہے؟حافظ نعیم الرحمٰن 
فلسطینی پاکستان کے حکمرانوں سے توقع رکھتے ہیںلیاقت بلوچ 
اہلِ فلسطین کی نصرت کے درست راستےعلامہ ہشام الٰہی ظہیر 
قومی فلسطین و دفاعِ پاکستان کانفرنس: تمام جماعتوں کا شکریہ!مولانا قاری محمد حنیف جالندھری 
فلسطین کے ہمارے محاذمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا زاہد الراشدی کا ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور آزادکشمیر کے فلسطین سیمینار سے خطابمفتی محمد عثمان جتوئی 
غزہ کی تازہ ترین صورتحال اور نیتن یاہو کے عزائممولانا فتیح اللہ عثمانی 
حالیہ فلسطین جنگ میں شہید ہونے والے جرنلسٹسالجزیرہ 

پروفیسر خورشید احمدؒ

’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘پروفیسر خورشید احمد 
پروفیسر خورشید احمدؒ کی رحلت: صدی کا بڑا انسانڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
پروفیسر خورشید: جہانگیر و جہانبان و جہاندار و جہاں آراڈاکٹر شہزاد اقبال شام 
پروفیسر خورشید احمدؒ کی وفاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

کتابیات

’’آسان تفسیرِ قرآن‘‘مولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
حکمران کے دس حقوقمولانا مفتی عبد الرحیم 
رسالتِ محمدیؐ کی تئیس سالہ کامیاب تبلیغعلامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ 
اسلامی نظریاتی کونسل، دستوری تاریخ کے آئینے میںاسلامی نظریاتی کونسل 

فاتحینِ جنگِ عظیم کی اجارہ داری اور اقوامِ متحدہ کی جانبداری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(اس شمارہ میں اقوامِ متحدہ کی تنظیم اور کردار کے بارے میں چند مضامین شامل کیے گئے ہیں، اس سلسلہ میں رئیس التحریر کی تحریروں کا ایک انتخاب یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)


تاریخی پس منظر

مغرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے جو تاریخ بیان کی جاتی ہے اس کا آغاز ’’میگنا کارٹا‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ ۱۲۱۶ء میں برطانیہ کے کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ اس عنوان سے ہوا تھا جس کا اصل مقصد تو بادشاہ اور جاگیرداروں کے مابین اختیارات اور حدودکار کی تقسیم تھا لیکن اس میں عام لوگوں کا بھی کسی حد تک تذکرہ موجود تھا، اس لیے اسے انسانی حقوق کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں (۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔ ان میں مختلف مراحل میں آپس میں کشمکش بھی رہی ہے لیکن عام شہری اس تکون کے درمیان، جو دراصل جبر اور ظالمانہ حاکمیت کی تکون تھی، صدیوں تک پستے رہے ہیں۔ مغرب خود اس دور کو جبر و ظلم اور تاریکی و جاہلیت کا دور کہتا ہے اور اس تکون سے نجات حاصل کرنے کے لیے مغربی دنیا کے عوام کو طویل جدوجہد اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ بہرحال ان حکمران طبقات کی باہمی کشمکش کے پس منظر میں کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان حقوق و اختیارات کی باہمی تقسیم کے معاہدہ کو ’’میگناکارٹا‘‘ کہا جاتا ہے اور مغربی دنیا اسے انسانی حقوق کی ابتدائی دستاویز قرار دیتی ہے جو ۱۲۱۵ء میں ۱۵ جون کو طے پایا تھا۔

اس کے بعد ۱۶۸۴ء میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں انقلابی فوج نے پارلیمنٹ کے اقتدارِ اعلیٰ کا قانون پیش کیا اور ۱۶۸۹ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ’’بل آف رائٹس‘‘ (حقوق کے قانون) کی منظوری دی جو اس سمت پیشرفت کا اہم مرحلہ تھا۔

ادھر امریکہ میں تھامس جیفرسن نے ۱۲ جولائی ۱۷۷۶ء کو برطانوی استعمار کے تسلط سے امریکہ کی مکمل آزادی کا اعلان کیا اور ۱۷۸۹ء میں امریکی کانگریس نے دستور میں ترامیم کے ذریعے عوامی حقوق کو دستور کا حصہ بنایا۔

فرانس میں زبردست عوامی جدوجہد اور بغاوت کے ذریعے ۱۷۸۹ء کو جاگیرداری، بادشاہت اور ریاستی معاملات میں چرچ کی مداخلت کو مسترد کر کے قومی اسمبلی سے شہری حقوق کا قانون ’’ڈیکلریشن آف رائٹس آف مین‘‘ منظور کرایا اور پورے سیاسی اور معاشرتی نظام کی کایا پلٹ دی۔ اسے ’’انقلابِ فرانس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مغرب میں ظلم و جبر اور حقوق کے درمیان اسے حدِ فاصل قرار دیا جاتا ہے۔

انقلابِ فرانس کے ذریعے نہ صرف بادشاہت اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ ہوگیا بلکہ اقتدار میں مذہبی قیادت کی شرکت کی بھی نفی کر دی گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ چرچ، پوپ اور مذہبی قیادت نے عوام پر بادشاہ اور جاگیرداروں کی طرف سے ہونے والے دوہرے مظالم اور شدید جبر و تشدد میں عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تھا اور مذہب عملاً بادشاہت اور جاگیرداری کا پشت پناہ بن کر رہ گیا تھا۔ اس لیے بادشاہ اور جاگیردار کے ساتھ ساتھ پوپ کی سیاسی قیادت کا بوریا بستر بھی لپیٹ دیا گیا اور نئے نظام میں ہمیشہ کے لیے طے کر دیا گیا کہ مذہب اور چرچ کا تعلق انسان کے عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات کے ساتھ رہے گا جبکہ سیاسی و معاشرتی معاملات میں رائے دینے، راہنمائی کرنے اور مداخلت کرنے کا مذہب، پادری اور چرچ کو کوئی حق نہیں ہوگا۔ اسی کو آگے چل کر ’’سیکولرازم‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور معیاری نظام قرار دے کر پوری دنیا سے اسے اختیار کرنے اور اس کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے عشرہ میں یورپی ممالک یعنی برطانیہ اور جرمنی وغیرہ کے درمیان جنگ ہوئی جس میں پوری دنیا بالواسطہ یا بلا واسطہ لپیٹ میں آگئی، اس لیے اسے ’’جنگِ عظیم اول‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں عالمِ اسلام کی نمائندہ حکومت ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا چنانچہ جرمنی کے ساتھ ساتھ وہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی اور نتیجے میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ جنگِ عظیم اول میں لاکھوں انسانوں کے قتل ہو جانے کے بعد اقوام و ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’’لیگ آف نیشنز‘‘ (League of Nations) قائم کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقوام و ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو جنگ کی صورت اختیار نہ کرنے دی جائے اور اس بین الاقوامی فورم کے ذریعے ان تنازعات کا حل نکال کر قوموں اور ملکوں کی باہمی جنگ کو روکا جائے، لیکن ’’لیگ آف نیشنز‘‘ اپنے اس مقصد میں ناکام ہو گئی اور بیسویں صدی کے چوتھے اور پانچویں عشرے کے درمیان پھر عالمی جنگ بپا ہوئی جس میں جرمنی اور جاپان ایک طرف جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس وغیرہ دوسری طرف تھے۔ اس جنگ نے پہلی جنگ سے زیادہ تباہی مچائی اور اس کے آخری مراحل میں امریکہ نے اتحادیوں کی حمایت میں جنگ میں شریک ہو کر جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا جس پر جنگِ عظیم کا خاتمہ ہوا۔

اقوامِ متحدہ کا آغاز اور نظم

اس کے بعد ۱۹۴۵ء میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم ’’اقوامِ متحدہ‘‘ (United Nations) کے نام سے وجود میں آئی جو اب تک نہ صرف قائم ہے بلکہ بین الاقوامی معاملات کا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تنظیمی اور پالیسی سازی کے اختیارات اور معاملات پر اجارہ داری کی وجہ سے اقوامِ متحدہ پر مغربی ممالک کی بالادستی قائم ہے اور اسے عام طور پر انہی کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تنظیمی صورتحال یہ ہے کہ اس کی ایک ’’جنرل اسمبلی‘‘ ہے جس میں تمام ممبر ممالک برابر کے رکن ہیں اور سال میں ایک بار تمام ممالک کے حکمران یا ان کے نمائندے جمع ہو کر عالمی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔ لیکن ان قراردادوں کی حیثیت صرف سفارش کی ہوتی ہے ان کا نفاذ ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی سینکڑوں سفارشی قراردادیں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ کی فائلوں میں دبی پڑی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پالیسی سازی، فیصلوں اور ان کے نفاذ کی اصل قوت ’’سلامتی کونسل‘‘ ہے جس کے گیارہ ارکان میں سے پانچ ارکان (۱) امریکہ (۲) برطانیہ (۳) فرانس (۴) روس اور (۵) چین مستقل ممبر کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ چھ ارکان دنیا کے مختلف ممالک میں سے باری باری دو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ یہ گیارہ رکنی سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کی اصل قوت اور اتھارٹی ہے لیکن ان میں سے پانچ مستقل ارکان کو حقِ استرداد (veto power) حاصل ہے کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس میں سے کوئی ایک ملک بھی سلامتی کونسل کے کسی فیصلے کو مسترد کر دے تو وہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس طرح پوری دنیا کے نظام پر اقوامِ متحدہ کے نام سے اصل حکمرانی اور کنٹرول ان پانچ ممالک کا ہے اور یہ پانچ ممالک جس بات پر متفق ہو جائیں پوری دنیا کو وہ فیصلہ بہرحال تسلیم کرنا ہوتا ہے۔

منشور، دائرہ کار، مقاصد

اقوامِ متحدہ کا اصل مقصد قوموں اور ملکوں کے درمیان ہونے والے تنازعات کا حل تلاش کرنا اور جنگ کو روکنا تھا لیکن ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمگیر منشور منظور کر کے اور اس کی پابندی کو تمام ممالک و اقوام کے لیے لازمی قرار دے کر دنیا کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں راہنمائی اور مداخلت کو بھی اپنے دائرۂ کار میں شامل کر لیا۔ اور اس کے بعد سے ممالک و اقوام کے درمیان جنگ کو روکنے کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے سیاسی اور معاشرتی نظاموں کو کنٹرول کرنا بھی اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ اس سلسلہ میں مسلسل کردار ادا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اور اس کے تحت متفقہ طور پر یا اکثریت کے ساتھ طے ہونے والے فیصلے ’’بین الاقوامی معاہدات‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن تاریخ اور سماج کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے اس سے اختلاف ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے جن فیصلوں کو دنیا پر نافذ کرنا چاہتی ہے وہ عملاً نافذ ہوتے ہیں، ان کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کو سزا دی جاتی ہے، حتیٰ کہ خلاف ورزی کرنے والے ملکوں پر فوج کشی بھی کی جاتی ہے اور انہیں اقوامِ متحدہ کا فیصلہ تسلیم کرنے پر بزور مجبور کیا جاتا ہے۔ اس لیے انسانی حقوق کا منشور اور اقوامِ متحدہ کے دیگر فیصلے صرف ’’معاہدات‘‘ نہیں بلکہ عملاً ’’بین الاقوامی قانون‘‘ بن چکے ہیں، اور خود اقوامِ متحدہ صرف بین الاقوامی تنظیم نہیں بلکہ عملًا ایک عالمی حکومت کا درجہ رکھتی ہے جس کے ذریعے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک عملاً پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اس عملی کردار کو سامنے رکھنا بالخصوص عالمِ اسلام کے ان حلقوں کے لیے انتہائی ضروری ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ، اسلامی معاشرہ کے قیام، اور خلافتِ اسلامیہ کے اَحیا کے لیے دنیا کے کسی بھی حصہ میں محنت کر رہے ہیں، تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ اس سلسلہ میں ان کا مقابلہ اصل میں کس قوت سے ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ایسی جدوجہد کرنے والے حلقے اور طبقے اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں اپنے مقتدر حلقوں سے نفاذِ اسلام کا مطالبہ کر رہے ہیں، یا ان سے نفاذِ اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقی صورتحال یہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں نفاذِ اسلام یا شریعت کے قوانین کی ترویج کی جدوجہد ہو، اس کا سامنا اصل میں ایک بین الاقوامی نظام سے ہے اور ایک مضبوط عالمی نیٹ ورک سے ہے، جو ساری دنیا میں ’’انسانی حقوق کے منشور‘‘ کے عنوان سے مغرب کا طے کردہ سیاسی اور معاشرتی نظام نافذ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

عالمِ اسلام کے کم و بیش سبھی ممالک اقوامِ متحدہ کا حصہ ہیں اور اس کے معاملات میں شریک ہیں، لیکن عالمِ اسلام کے نظریاتی اور باشعور حلقوں کو دو حوالوں سے واضح طور پر تحفظات کا سامنا ہے:

  1. ایک یہ کہ اقوام متحدہ کی فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کی اتھارٹی میں عالمِ اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور مسلمانوں کا کوئی ملک بھی ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہیں فیصلے مسترد کر دینے اور معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا اختیار اور حق حاصل ہے۔ اس طرح اقوامِ متحدہ کے فیصلہ سازی اور فیصلوں کی تنفیذ کے معاملات سے عالمِ اسلام کلیتہً بے دخل ہے اور اس کا کردار دنیا کے ان پانچ بڑوں کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینے اور کرتے چلے جانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
  2. ہمارا دوسرا تحفظ انسانی حقوق کے منشور کے حوالے سے ہے جو صرف مغربی ممالک کی باہمی کشمکش اور انقلابِ فرانس کے پس منظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے، بلکہ اس کی بہت سی دفعات اسلامی شریعت کے احکام و قوانین سے متصادم ہیں۔ اور عملی صورتحال یہ ہے جس کی ہم آئندہ سطور میں وضاحت کریں گے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کو من و عن قبول کر لینے کی صورت میں مسلم ممالک اور حکومتوں کو قرآن و سنت کے بیسیوں احکام اور شریعتِ اسلامیہ کے سینکڑوں ضابطوں سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ جبکہ عالمِ اسلام کی صورتحال یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران طبقات خدانخواستہ اس کے لیے کسی درجہ میں تیار بھی ہوں مگر مسلم عوام کی اکثریت دنیا کے کسی بھی خطے میں اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجنوں مسلم ممالک کی رائے عامہ جمہوری و سیاسی ذرائع سے اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین اور ریاست و حکومت کے معاملات میں مذہب کے کردار سے دستبردار ہونے کے لیے وہ کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ عالمِ اسلام کو اقوامِ متحدہ کے فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کے نظام میں شریک کیا جائے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظرِثانی کی جائے۔ اگر اس وقت عالمِ اسلام کی دیگر حکومتیں ان کا ساتھ دیتیں تو اس سلسلہ میں مؤثر پیشرفت ہو سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور موجودہ صورتحال میں اب بھی اس کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

دسمبر ۱۹۴۸ء میں جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا یہ منشور منظور کیا تھا اس وقت دنیا میں مسلم ممالک کا کوئی عالمی فورم موجود نہیں تھا، خلافتِ عثمانیہ کا اس سے قبل خاتمہ ہو چکا تھا اور اس کی جگہ لینے کے لیے کوئی عالمی فورم سامنے نہیں آیا تھا بلکہ اب تک یہی صورتحال ہے، دنیا کے بیشتر مسلم ممالک آزاد نہیں تھے اور کسی نہ کسی استعماری قوت کی نو آبادی شمار ہوتے تھے، اس طرح جنرل اسمبلی میں عالم اسلام کی مکمل نمائندگی موجود نہیں تھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ اقوامِ متحدہ کی تشکیل اس کے نظام کے تعین اور اس کے معاہدات کی تدوین میں عالمِ اسلام برابر کا شریک ہے، درست نہیں ہے اور انصاف کی بات نہیں ہے، اس لیے آج بھی مسلم حکومتوں بالخصوص او آئی سی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے فرائض کو محسوس کریں اور اقوامِ متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کے تحت ہونے والے بین الاقوامی معاہدات پر نظرِثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام اور عالمِ اسلام کی صحیح نمائندگی کا فرض پورا کریں۔

اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ خود مذہبی آزادی، لوگوں کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق اور علاقائی ثقافتوں کے تحفظ کی علمبردار ہے تو اسے کسی مذہب کی حدودِ کار متعین کرنے اور اہلِ مذہب کو اس مذہب کے کچھ حصوں پر عمل سے روکنے کا حق نہیں ہے، اور نہ ہی علاقائی ثقافتوں کو انسانی حقوق کے منشور کے نام پر بلڈوز کر کے ایک ہی تہذیبی فلسفہ کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کا اس کے پاس کوئی جواز ہے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۲۰ دسمبر ۲۰۱۷ء)

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو تیس نکات پر مشتمل انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری دیتے ہوئے تمہید میں ان کے مندرجہ ذیل مقاصد بیان کیے تھے کہ:

’’چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
چونکہ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔
چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے، اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں۔
چونکہ اقوامِ متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے چارٹر میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کے حرمت اور قدر، اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کر دی ہے، اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اشتراکِ عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔
چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں۔
جنرل اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصولِ مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ان حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرے اور انہیں قومی اور بین الاقوامی کارروائیوں کے ذریعے ممبر ملکوں میں اور ان قوموں میں جو ممبر ملکوں کے ماتحت ہوں، منوانے کے لیے بتدریج کوشش کر سکے۔‘‘

مگر آج چھپن سال کے بعد جب انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو دنیا کی صورتحال پر اور بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش پر ایک نظر ڈال لیں کہ ۱۹۴۵ء میں قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ اور ۱۹۴۸ء میں منظور ہونے والے انسانی حقوق کے عالمی منشور نے دنیا کے تنازعات میں کس حد تک کمی کی ہے اور دنیا کی اس وقت موجودہ چھ ارب کی آبادی کی اکثریت کو کون سے حقوق دلوائے ہیں؟

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء)

عالمِ اسلام کی بے حیثیتی

عالم اسلام کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں گزشتہ نصف صدی کے دوران عالمِ اسلام کی داخلی صورتحال پر ایک نظر ڈالنا ہو گی اور ان توقعات کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا جو معروضی حالات میں ملتِ اسلامیہ کو اقوامِ متحدہ سے فطری طور پر ہونی چاہیے تھیں۔ اقوامِ متحدہ جس وقت تشکیل و تنظیم کے مراحل طے کر رہی تھی اور انسانی حقوق کی سربلندی اور عالمی سطح پر انصاف اور رواداری کے فروغ کو اپنی منزل قرار دے کر سفر کا آغاز کر رہی تھی، اس وقت عالمِ اسلام کے بہت سے ممالک استعماری قوتوں کی غلامی سے تازہ تازہ آزاد ہوئے تھے اور بعض مسلم ممالک ابھی آزادی کے لیے جانگسل جدوجہد کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ جبکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران عالمِ اسلام کے بیشتر ممالک آزاد ہو کر اپنی خودمختار حکومتیں قائم کر چکے ہیں، مگر بہت سے ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں مسلم اقوام آزادی اور خودمختاری کے لیے ابھی تک جدوجہد میں مصروف ہیں۔

اس دوران مسلم اقوام و ممالک کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ وہ سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر استحکام حاصل کریں، نوآبادیاتی دور کے غلامی کے اثرات سے نجات پائیں، اور اقتصادی خود کفالت کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوں۔ جبکہ مسلم ممالک کو عرصۂ دراز تک اپنی غلامی میں رکھنے والے ممالک، عالمِ اسلام میں اپنے اثرات کو قائم رکھنے اور مسلم ممالک کو سیاسی خودمختاری اور اقتصادی خود کفالت کی منزل سے روکنے کے لیے مسلسل مصروفِ کار چلے آ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مختلف مسلم علاقوں پر نوآبادیاتی تسلط قائم رکھنے والے استعماری ممالک برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال (اور اب روس بھی) اس مقصد کے لیے امریکہ کی زیرقیادت متحدہ محاذ قائم کر چکے ہیں کہ عالمِ اسلام ان کے دائرہ اثر سے نکلنے نہ پائے اور مسلم ممالک بدستور ان کی ریموٹ کنٹرول نوآبادیات بنے رہیں۔

اس حوالے سے انسانی حقوق، انصاف اور مساوات کی علمبردار اقوامِ متحدہ سے بجاطور پر یہ توقع ہونی چاہیے تھی کہ وہ بیرونی تسلط قائم رکھنے اور اس سے آزادی حاصل کرنے کی اس کشمکش میں آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کرنے والی اقوام کا ساتھ دیتی۔ لیکن گزشتہ نصف صدی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اقوامِ متحدہ انصاف اور انسانی حقوق کی ان توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ موجودہ عالمی تناظر یہ ہے کہ مغربی ممالک اور عالمِ اسلام کے درمیان تسلط قائم رکھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کی یہ کشمکش واضح محاذ آرائی کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں مغربی ممالک کے اہداف و مقاصد متعین طور پر سامنے ہیں کہ:

یہ ساری تگ و دو عالم اسلام کو مغرب کا دستِ نگر بنائے رکھنے اور مسلم ممالک پر مغرب کے سیاسی و اقتصادی تسلط کو دوام دینے کے لیے ہے۔ اور اس کشمکش کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے کردار کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو انسانی حقوق، اقوامِ عالم کے درمیان مساوات، آزادی اور عالمی سطح پر انصاف کے تمام تر دعووں کے باوجود اس کشمکش میں اقوامِ متحدہ مغربی استعمار کی مکمل طور پر حلیف بلکہ آلۂ کار نظر آتی ہے۔ اس سے ہٹ کر گزشتہ نصف صدی کے دوران عالمِ اسلام کو درپیش واقعاتی مسائل و مشکلات کے حوالے سے بھی اقوامِ متحدہ کی کارکردگی پر ایک نظر ڈال لی جائے:

اور اس نظریاتی اور فکری جنگ کا ذکر بھی نامناسب نہ ہوگا جو اقوامِ متحدہ کے نام پر بلکہ اس کے ذریعے اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف لڑی جا رہی ہے، اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو بنیاد بنا کر نہ صرف اسلام کے عقائد و احکام کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے معاشرتی و خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس عنوان سے مغربی لابیاں اور عالمی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مسلسل مہم جاری رکھے ہوئے ہے اس کا نقشہ کچھ یوں ہے:

اور اس طرح عالمِ اسلام کے خلاف مغربی استعمار کی اعتقادی، فکری اور تہذیبی جنگ میں بھی اقوامِ متحدہ مغرب کی حلیف اور آلہ کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔

(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ نومبر ۱۹۹۵ء)

اب سے ایک صدی قبل دنیا کے نقشے پر اسرائیل کا وجود نہیں تھا اور فلسطین سلطنتِ عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے موقع پر خلافتِ عثمانیہ کا تیاپانچہ کرنے کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا، اور دنیا بھر سے یہودیوں کو ترکِ وطن کر کے فلسطین میں آباد ہونے کی سہولتیں فراہم کیں، تا آنکہ برطانوی ترغیب اور تحفظ کی چھتری تلے یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد فلسطین میں آباد ہو گئی۔ پھر اقوامِ متحدہ کے ذریعے فلسطین کو ان کا وطن تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کے ایک حصے کو یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کے نام سے قیام کا جواز فراہم کر دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے اپنی قرارداد (نمبر ۱۸۱/ ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ء) میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسرائیلی اور فلسطینی دو الگ الگ ریاستوں کا اصول طے کیا اور دونوں کی حد بندی بھی کر دی۔ لیکن نہ صرف یہ کہ فلسطینی ریاست ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھی تک قائم نہیں ہو سکی، بلکہ اسرائیل نے کئی بار مسلح جارحیت کر کے فلسطین کے بہت سے مزید علاقوں پر بھی قبضہ جما لیا، ۱۹۴۹ء اور ۱۹۶۷ء میں فوج کشی کر کے بہت سے فلسطینی علاقے اپنے مقبوضات میں شامل کر لیے، لاکھوں فلسطینی اس جارحیت کا شکار ہو کر مہاجر بن گئے اور کیمپوں میں دربدر ہوئے۔ فلسطینیوں نے اپنے وطن کے تحفظ اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، مگر اسرائیل کی عسکری قوت اور اس کی پشت پر امریکہ کی دیوہیکل طاقت نے فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کو آگے نہ بڑھنے دیا۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ ۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء)

کشمیری عوام اس وعدہ کی تکمیل اور اپنا یہ مسلّمہ جائز حق حاصل کرنے کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر مسلسل مصروفِ پیکار ہیں، ہزاروں نوجوان جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور اس جدوجہد میں اب چوتھی نسل آگے بڑھتی نظر آرہی ہے، لیکن اقوام متحدہ اور عالمی رائے عامہ کے وعدے سلامتی کونسل کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں۔ اور اقوامِ متحدہ کی جس سلامتی کونسل نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عوامی ریفرنڈم کرا کے انہیں الگ ریاستیں بنوانے میں عملی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے، کشمیری عوام کو آزادانہ ریفرنڈم کا حق دلوانے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عالمی راہنماؤں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ کشمیری عوام کو یہ حق دینے میں سوسائٹی کی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کا رجحان بڑھے گا، جبکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی تقسیم انہی عالمی راہنماؤں کی نگرانی میں مذہبی بنیادوں پر ہوئی ہے، اور یہ دونوں ریاستیں مسیحی اکثریت کی بنیاد پر دنیا کے نقشے کا حصہ بنی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام نے، جن میں مقبوضہ کشمیر، آزاد ریاست جموں و کشمیر، اور گلگت و بلتستان کے علاقوں کے عوام شامل ہیں، آزادانہ رائے کے ذریعے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام اور بھارت کی تقسیم کے موقع پر جن ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا حق دیا گیا تھا، ان میں جموں و کشمیر کی ریاست بھی شامل ہے اور اس کے راجہ نے اپنی ریاست کے عوام سے رائے لیے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔ جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا کشمیری عوام کا کام ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کون سے ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ چنانچہ بھارت ڈوگرہ راجہ کے جس فیصلہ کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی بنیاد قرار دیتا ہے اسے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری مسترد کر چکی ہے، اور اقوامِ متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کے بعد بھارت کے پاس بھی راجہ کے فیصلے کو الحاق کا جواز قرار دینے کا کوئی حق باقی نہیں ہے۔

کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنے فیصلے کے مطابق کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا آزادانہ حق دے اور خود اپنی نگرانی میں ریفرنڈم کرا کے جنرل اسمبلی کے فیصلے پر عملدرآمد کا اہتمام کرے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی اور دنیا کے ہر منصف مزاج شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حمایت کرتا رہے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۵ فروری ۲۰۱۶ء)

این این آئی کے حوالے سے ’’پاکستان‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ نے برما (میانمار) سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کی شہریت اور طویل مدتی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معاملات کا تعین کیا جائے جن میں لاکھوں افراد نسلی تشدد کے واقعات کے نتیجے میں پناہ گزین خیموں میں رہائش پر مجبور ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق ادارے نے بتایا ہے کہ برما کی مغربی ریاست راکھین (اراکان) میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد بے گھر ہیں۔ ایک برس سے جاری (حالیہ) بودھ مسلمان فسادات کے باعث تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ خطہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر بٹ چکا ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورتمندوں کو اب روزانہ کی بنیاد پر خوراک تقسیم ہوتی ہے اور اکہتر ہزار سے زائد افراد کو پناہ دینے کے لیے عارضی خیمے قائم ہیں۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں کم و بیش آٹھ لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے تعین کے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

میانمار (برما) کی مغربی ریاست اراکان کے بارے میں اس قسم کی رپورٹیں کم و بیش ایک سال سے تسلسل کے ساتھ اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) سمیت عالمی اداروں کی طرف سے احتجاج اور برما کی حکومت سے اصلاحِ احوال کے مطالبات بھی نظر سے گزرتے رہتے ہیں، لیکن صورتحال میں بہتری کی کوئی صورت سامنے نہیں آرہی بلکہ اراکانی مسلمانوں کی اس بے رحمانہ خونریزی کو بودھ مسلم فسادات یا نسلی فسادات کا عنوان دے کر فریقین کے درمیان کشمکش بتایا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ یکطرفہ ہے، قتل بھی صرف مسلمان ہو رہے ہیں، مکانات صرف ان کے جل رہے ہیں، وہی جلا وطن ہو رہے ہیں، پناہ گزینوں کے کیمپوں میں صرف ان کا بسیرا ہے، اور انہی پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے … 

ہم سمجھتے ہیں کہ اراکان کے ان مسلمانوں کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ایک اسلامی ریاست کا پس منظر رکھتے ہیں، اور بد قسمتی سے بودھ اکثریت کے ملک برما (میانمار) کا حصہ بن گئے ہیں۔ جبکہ ان کا اس سے بھی بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے ان سے اس کی درخواست بھی کر دی جو بوجوہ قبول نہ کی جا سکی۔ اس لیے ہمارے خیال میں یہ مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ سے مختلف نہیں ہے۔

گزشتہ برس ہم نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن سے، جو اس وقت پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے، ملاقات کر کے درخواست کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ اراکان کے مسئلہ کو بھی حکومتِ پاکستان کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے اور اس کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں اور مختلف بین الاقوامی اداروں میں برما کے ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آئے ہیں، لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ

اراکانی مسلمان صدیوں تک ایک آزاد اسلامی ریاست کا پس منظر رکھنے کے باوجود آج مسلسل مظالم اور بے بسی کا شکار ہیں تو ان کے حق میں آواز اٹھانا اور عالمی رائے عامہ اور اداروں کو برما (میانمار) کی حکومت پر مؤثر دباؤ ڈالنے کے لیے آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ مظلوم مسلمانوں کی امداد کا اہتمام کرنا بہرحال ہماری دینی اور قومی ذمہ داری بنتی ہے۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ ۲۲ جون ۲۰۱۳ء)

اسلامی تعلیمات سے روگردانی کا دباؤ

مسلم حکومتوں پر بین الاقوامی طور پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں عمومی قوانین اور خاص طور پر پرسنل لاء یعنی نکاح و طلاق اور وراثت سے متعلقہ قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے قرآن و سنت کے بیان کردہ ضابطوں میں تبدیلی کریں اور انہیں عالمی معیار کے مطابق بنائیں۔

اس سلسلہ میں بین الاقوامی معیار سے مراد اقوامِ متحدہ کا بنیادی حقوق کا چارٹر اور اس کی تشریح میں اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں اور کانفرنسوں کی قراردادیں ہیں جن کی بہت سی باتیں نکاح و طلاق اور وراثت کے بارے میں قرآن و سنت کے صریح احکام سے متصادم ہیں۔ اسی لیے بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کی طرف سے مسلم ممالک سے یہ کہا جا رہا ہے کہ جب وہ اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر چکے ہیں تو انہیں اس کے مطابق اپنے قوانین میں ترمیم کرنی چاہیے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور اس کے اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر مروجہ بین الاقوامی قوانین اور قرآن و سنت کے شرعی احکام میں کیا فرق اور تضاد ہے؟ اس کو واضح کرنے کے لیے دو تین باتوں کو بطور مثال ذکر کرنا چاہوں گا:

  1. بین الاقوامی قوانین کے مطابق کوئی بھی مرد اور عورت رنگ و نسل اور مذہب کے کسی امتیاز کے بغیر آپس میں آزادانہ مرضی سے شادی کر سکتے ہیں، مگر اسلام میں مسلمان عورت کا نکاح کسی غیر مسلم مرد سے نہیں ہو سکتا، اسی طرح مسلمان مرد بھی اہلِ کتاب کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک بنیادی فرق ہے جس کا اظہار آپ کے سامنے اس وقت ہوتا ہے جب یہاں کسی مغربی ملک میں کوئی مسلمان لڑکی کسی غیر مسلمان نوجوان کے ساتھ عدالت کے ذریعے شادی کر لیتی ہے، لیکن جب آپ عدالت سے رجوع کرتے ہیں کہ اسلام اس شادی کی اجازت نہیں دیتا تو یہاں کی عدالت آپ کا اعتراض سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ صرف اس شادی کو جائز قرار دے دیتی ہے بلکہ یہاں کا سسٹم اس شادی کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
  2. اسی طرح نکاح کا رشتہ ختم کرنے میں مروجہ بین الاقوامی قانون خاوند اور بیوی کا یکساں حق تسلیم کرتا ہے کہ دونوں میں سے جو بھی چاہے اس رشتہ کو ختم کر سکتا ہے۔ جبکہ اسلام نے نکاح کا رشتہ غیر مشروط طور پر ختم کرنے کا حق خاوند کو دیا ہے جسے قرآن کریم نے ’’بیدہ عقدۃ النکاح‘‘ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جبکہ عورت کو یہ حق براہ راست اور غیر مشروط طور پر نہیں دیا گیا بلکہ خلع کے عنوان سے عورت کا یہ حق عدالتی پراسیس کے ذریعے تعلیم کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ کچھ بھی ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ اسلام عورت کو نکاح کا رشتہ ختم کرنے کا حق غیر مشروط طور پر نہیں دیتا اور یہ بات مروجہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں برطانیہ میں کوئی مسلمان خاتون اپنے خاوند کو طلاق دے دے تو کوئی عدالت خاوند کا یہ اعتراض سننے کے لیے تیار نہیں ہو گی کہ چونکہ شرعی قوانین کی رو سے طلاق دینے کا حق صرف اسے ہے اس لیے یہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ چنانچہ قانونی طور پر وہ طلاق واقع ہو جائے گی اور یہاں کا سسٹم اس طلاق کا تحفظ بھی کرے گا۔
  3. اس کے علاوہ وراثت کے معاملہ میں بھی قرآن کریم نے حصوں کی جو تقسیم کی ہے وہ واضح طور پر غیر مساویانہ ہے۔ خاوند کے فوت ہو جانے کی صورت میں بیوی کو ایک صورت میں آٹھواں اور دوسری صورت میں چوتھا حصہ ملتا ہے، اور بیٹی کا حصہ ہر صورت میں بیٹے سے نصف ہوتا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی قانون اس سلسلہ میں برابری کا متقاضی ہے اور قرآن کریم کے بیان کردہ غیر مساویانہ حصوں کو غیر منصفانہ قرار دیتا ہے۔ لہٰذا جب وراثت کے قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ حصوں پر نظرِ ثانی کر کے ان میں ترمیم کی جائے۔

یہ تین مثالیں میں نے اس لیے دی ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ نکاح، طلاق اور وراثت کے باب میں قرآن و سنت کے بیان کردہ قوانین آج کے مروجہ بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں سمیت بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے مسلم ممالک پر یہ دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں ردوبدل کر کے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائیں۔

اس پر مسلم ممالک اور حکومتوں کا رد عمل تین طرح کا ہے:

  1. ایک ردعمل ترکی کا ہے کہ اس نے پون صدی قبل ہی قرآن و سنت کے احکام سے اعلانیہ دستبرداری اختیار کر کے مغربی قوانین کو قبول کر لیا تھا اور وہ اپنے اس فیصلہ پر سختی کے ساتھ قائم ہے۔ بلکہ اگر ترکی میں اس حوالے سے قرآن و سنت کے احکام کی طرف واپسی کا معمولی سا رجحان بھی نظر آنے لگتا ہے تو ریاستی قوانین اور ادارے اسے روکنے کے لیے پوری طرح سرگرم ہو جاتے ہیں۔
  2. دوسرا ردِ عمل امارتِ اسلامی افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کا ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکام کے ساتھ بے لچک وابستگی قائم رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور اس کی بنیاد پر تشکیل پانے والے مروجہ بین الاقوامی قوانین کو قبول کرنے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ اور ان کا یہ انکار بھی اس بات کی ایک بڑی وجہ ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول اور دارالحکومت کا قبضہ حاصل کرنے اور اپنے زیر تسلط علاقے میں مکمل امن قائم کر لینے کے باوجود ان کی حکومت کو اقوامِ متحدہ میں تسلیم نہیں کیا جا رہا اور انہیں اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نشست سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
  3. ترکی اور افغانستان کے فیصلے تو دوٹوک اور غیر مبہم ہیں جو سب کے سامنے ہیں۔ لیکن ایک تیسرا ردِ عمل بھی ہے جو پاکستان سمیت بیشتر مسلم ممالک کا ہے کہ قرآن و سنت پر عملدرآمد کا ٹائٹل بھی ہاتھ میں رہے اور مغرب کو بھی مطمئن رکھا جائے۔ اس کے لیے ایک الگ راستہ اختیار کیا گیا کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی ایسی تعبیر و تشریح کی جائے جس سے قوانین کو مغرب کے معیار کے قریب تر لایا جائے۔ ہمارے ہاں اس سلسلہ میں سب سے پہلی کوشش صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس یعنی عائلی قوانین کے نفاذ کی صورت میں ہوئی تھی جس کی متعدد دفعات کو ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر قرآن و سنت سے متصادم قرار دیا، لیکن اس کے باوجود وہ نافذ ہوئے اور ابھی تک ریاستی قوت کے بل بوتے پر مسلسل نافذ العمل ہیں۔ ان قوانین میں سے صرف ایک کی مثال دوں گا کہ نکاح کے فارم میں خاوند کی طرف سے عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دینے کا خانہ رکھ کر ہم نے مغرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے پاکستان میں عورت کو بھی طلاق کا حق دے دیا ہے۔ اسی سے باقی قوانین کے رخ کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۹ء)

اس کشمکش میں جب ہم اسلام کے عقائد و احکام پر مغربی دانشوروں کے حملوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ یلغار عقائد و احکام اور معاشرت کے تمام شعبوں پر محیط نظر آتی ہے۔ اگر آپ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا تجزیہ کریں گے تو آپ کو صورتحال کا نقشہ کچھ یوں نظر آئے گا:

یہ ہے ایک سرسری خاکہ مغرب کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سامنے آنے والے اعتراضات اور تقاضوں کا جو گزشتہ ایک عشرہ کے دوران منظم مہم اور مربوط نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور جن کے سامنے مسلم ممالک کی بیشتر حکومتیں سپر انداز ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یہ کہہ کر مسلم حکمرانوں کے اسی رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ وہ ’’انٹرنیشنلزم پر یقین رکھتی ہیں‘‘۔ اس انٹرنیشنلزم کا تصور مغرب کے نزدیک یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کو پوری دنیا کا مشترکہ دستور تسلیم کر کے تمام ممالک اقوام متحدہ کی بالادستی کے سامنے جھک جائیں، اور اقوامِ متحدہ کو کنفیڈریشن طرز کی مشترکہ حکومت قرار دے کر ساری دنیا ایک عالمی برادری کی شکل اختیار کر لے۔ گویا وہ مغرب جس نے گزشتہ ایک سو سال کے دوران نیشنلزم اور قومیت کے نام پر عالمِ اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اب انہی ٹکڑوں کو انٹرنیشنلزم کے نام پر وہ اپنی بالادستی میں ویسٹرن سولائزیشن میں ضم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس اسکیم کے تانے بانے پوری طرح بنے جا چکے ہیں۔

(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ مئی ۱۹۹۵ء)

مسلم حکومتوں کا طرزِ عمل

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے بارے میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر غیرت کے نام پر قتل، حدود آرڈیننس، اور توہینِ رسالتؐ کے قانون کا ذکر چھیڑا، اور مروجہ قوانین پر نظرِ ثانی کی حمایت کرتے ہوئے ایک بااختیار قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لے گا اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرے گا۔ اس پر ملک کے مختلف طبقات کی طرف سے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ متحدہ مجلسِ عمل اور دیگر دینی جماعتوں نے حدود آرڈیننس اور توہینِ رسالتؐ کے قانون میں ردوبدل کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مزاحمت کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری اعتزاز احسن نے حدود آرڈیننس کو سرے سے منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

جہاں تک انسانی حقوق کے بارے میں ایک آزاد اور خودمختار قومی کمیشن کے قیام کی بات ہے، اگر وہ واقعی آزاد اور خودمختار ہو اور اس میں ایک ہی طرح کا ذہن رکھنے والے دانشوروں کی یکطرفہ بھرتی نہ ہو، تو ہمارے خیال میں اس کے قیام میں کوئی حرج نہیں، بلکہ انسانی حقوق کے عنوان پر اصولی جنگ لڑنے والوں کے لیے یہ ایک بہتر فورم ثابت ہو گا۔ البتہ اس کے قیام کے ساتھ ہی ایک بات اصول اور بنیاد کے طور پر طے کرنا ہو گی کہ انسانی حقوق کی فکری اور علمی بنیاد کیا ہے؟ اور ہم نے کس فلسفہ و تہذیب کے دائرے میں انسانی حقوق کی تعبیر و تشریح کو قبول کرنا ہے؟

اس لیے کہ اس وقت کنفیوژن کی اصل بات یہی ہے کہ ہمارے ہاں انسانی حقوق کی بات کرنے والے بیشتر دانشور اس سلسلہ میں ہمیشہ اسلام کی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہیں، صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے مذکورہ خطاب میں جناب نبی اکرمؐ کے خطبۂ حجۃ الوداع کا ذکر کیا ہے، لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی انسانی حقوق کے کسی مسئلہ پر عملی تعبیر و تشریح اور دوٹوک فیصلے کا وقت آتا ہے تو ہمارے ان دانشوروں کے موقف اور فیصلوں کی بنیاد قرآن و سنت کی تعلیمات کے بجائے اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور جنیوا کے انسانی حقوق کی قراردادیں ہوتی ہیں۔ جبکہ یہ بات واضح طور پر طے ہے کہ متعدد انسانی حقوق کے تعین اور تشریح و تعبیر میں اقوامِ متحدہ کا منشور اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادیں اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن کی اب سے صرف ایک ماہ قبل کثرتِ رائے سے منظور ہونے والی اس قرارداد پر نظر ڈال لیجیے جس میں انسانی حقوق کمیشن نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مرد اور عورت کی باہمی رضامندی سے جنسی تعلق کو سنگین جرائم کی فہرست سے خارج کر دیں۔ اس کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ رضامندی سے قائم کیا گیا ایسا تعلق اقوامِ متحدہ کے اس ادارے کے نزدیک کوئی سنگین جرم نہیں ہے۔ حالانکہ باقاعدہ نکاح کے بغیر جنسی تعلق خواہ رضامندی سے ہو یا جبر سے، دونوں صورتوں میں نہ صرف اسلام کے نزدیک سنگین ترین جرم ہے، بلکہ بائبل بھی اسے سنگین جرائم میں شمار کرتی ہے، اور دونوں نے اس کے لیے کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کی سزا مقرر کی ہے۔

اسی طرح چند روز قبل امریکہ کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کے جواز کو ایک بار پھر توثیق کی سند فراہم کر دی ہے، اور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے کہ اگر کوئی مرد دوسرے مرد سے تعلق کو باقاعدہ نکاح اور شادی کا درجہ دینا چاہتا ہے، یا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ تعلق کو شادی اور نکاح قرار دیتی ہے، تو ان کے اس تعلق کو باقاعدہ شادی تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنا ان کے حقوق کے منافی ہو گا۔

رضامندی سے بداخلاقی اور ہم جنس پرستی کو جواز کی سند فراہم کرنے کی یہ باتیں کسی این جی او کا مطالبہ نہیں ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انسانی حقوق کمیشن آف جنیوا کی قرارداد، امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے اور رولنگ کی صورت میں سامنے آئی ہیں، اور پرانی باتیں نہیں بلکہ گزشتہ ایک ماہ کے دورانیہ کی باتیں ہیں۔ اس سے قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کا تصور کیا ہے اور رضامندی سے بداخلاقی اور لواطت و ہم جنس پرستی کو باقاعدہ حقوق کی فہرست میں شامل کر کے ہم سے انسانی حقوق کا کون سا فریم ورک قبول کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف بداخلاقی اور ہم جنس پرستی دونوں اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین جرم ہیں، دونوں کے لیے سنگین سزا مقرر کی گئی ہے اور دونوں کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کا مستحق گردانا گیا ہے۔ یہ صرف ایک بات ہم نے بطور نمونہ اور مثال پیش کی ہے، ورنہ اگر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر، جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں، اور اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام قاہرہ، بیجنگ اور نیویارک میں منعقد ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنسوں کی سفارشات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو ایسے بیسیوں تضادات سامنے آئیں گے جو قرآن و سنت کی تعلیمات اور اقوامِ متحدہ کے ان اداروں کے فیصلوں میں پائے جاتے ہیں۔

ہم ایک عرصہ سے ملک کے دینی اور علمی حلقوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ وہ اس نقطۂ نظر سے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور، اس کے ذیلی اداروں اور کانفرنسوں کی سفارشات کا مطالعہ کریں اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ان کے تضادات کی نشاندہی کریں، کیونکہ ہمارے ساتھ مسلسل یہ دھاندلی ہو رہی ہے کہ ہمارے حکمران اور بہت سے دانشور انسانی حقوق کے بارے میں حوالہ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا دیتے ہیں اور سائن بورڈ اسلامی تعلیمات کے آویزاں کرتے ہیں، لیکن جب عملی طور پر کوئی بات طے کرنے کا موقع آتا ہے تو خاموشی کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کو سامنے کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ اب بھی یہی ہونے جا رہا ہے، قومی کمیشن قائم ہو گا، اس کے افتتاحی اجلاس سے ملک کی مقتدر ترین شخصیت خطاب کرے گی، جس میں قرآن کریم کی بہت سی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات کا بڑی عقیدت کے ماحول میں ذکر کیا جائے گا۔ مگر جب کمیشن کام شروع کرے گا تو اس کے ہاتھ میں اقوامِ متحدہ کا منشور اور جنیوا کنونشن کی سفارشات تھما دی جائیں گی۔ اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں، اسلام کی مالا جپنے والوں کے ہاتھوں، اسلام کے نام پر مغربی فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کا ایک مورچہ سر کر لیا جائے گا۔

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ عوام کے سیاسی حقوق پیہم پامال ہو رہے ہیں، شہری آزادیوں کی صورتحال تسلی بخش نہیں، جمہوریت کی گردن ابھی تک وردی کے پٹے سے آزاد نہیں ہو سکی، عام لوگوں کو جان و مال، آبرو اور روزگار کا تحفظ حاصل نہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے نام پر سیاسی عمل پر شبخون مارنے کی روایت نے تسلسل اختیار کر لیا ہے، محنت کشوں، مزدوروں اور عام ملازمین کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، جسم اور جان کا رشتہ قائم رکھنا عام آدمی کے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، عورتیں قبائلی اور خاندانی روایات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، لاکھوں بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں اور کھلونوں کی بجائے محنت مزدوری کے آلات ہیں، اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کو چھت نہیں ہے۔ یہ سب انسانی حقوق کے مسائل ہیں جن کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ہمیں ان میں سے کسی پہلو کی اہمیت سے انکار نہیں ہے، اگر کوئی قومی کمیشن واقعتاً آزادانہ اور خودمختارانہ ماحول میں قائم ہوتا ہے اور انسانی حقوق کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے، اسباب کا تعین کرتا ہے، عوامل کا سراغ لگاتا ہے، اور اصلاح کے لیے قابلِ عمل سفارشات کرتا ہے تو ہمیں اس سے خوشی ہو گی، ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور اس سے تعاون کو اپنے لیے باعثِ اجر و ثواب سمجھیں گے۔ لیکن اس کمیشن کو پہلے انسانی حقوق کی فکری بنیاد اور تہذیبی فریم ورک کا تعین کرنا ہو گا، اور یہ واضح کرنا ہو گا کہ اس کا فکری اور تہذیبی قبلہ نیویارک اور جنیوا نہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ اور اس کے فیصلوں کی اساس اقوام متحدہ کا منشور اور جنیوا کنونشن کی قراردادیں نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و ہدایات ہیں۔ اس کے بغیر یہ کمیشن ملک کے دینی حلقوں اور قرآن و سنت پر بے لچک ایمان رکھنے والے عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکے گا، اور نہ ہی اس کی سفارشات قابلِ قبول ہوں گی۔

باقی رہی بات حدود آرڈیننس اور توہینِ رسالتؐ کے قانون کے غلط استعمال کی، تو اس کے بارے میں اس کالم میں پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ کسی قانون کے غلط استعمال کی ذمہ داری قانون پر نہیں بلکہ معاشرے کے عمومی رویے پر ہوتی ہے۔ اور ایسا صرف ان دو قوانین کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ ملک میں رائج دیگر بہت سے قوانین بھی غلط استعمال کی اس عمومی روش کا شکار ہیں۔ صرف اس بنیاد پر ان دو قوانین کی مخالفت کرنے والے قانون دانوں اور دانشوروں سے گزارش ہے کہ وہ سنگین سزاؤں والے دوسرے قوانین کے استعمال کی صورتحال کا بھی جائزہ لے لیں، اور سارا غصہ توہینِ رسالتؐ کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نکالنے کے بجائے غلط استعمال ہونے والے دیگر قوانین کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار فرمائیں۔ اگر وہ اپنے اس استدلال پر مطمئن ہیں کہ کسی قانون کا کثرت کے ساتھ غلط استعمال ہونا اس قانون کو ختم کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے، تو پھر اس کلہاڑے کی زد میں آنے والے دیگر قوانین کو رعایت دینے کی وجہ بیان فرما دیں۔ کیونکہ یہ کسی طرح بھی انصاف کی بات نہیں ہے کہ غلط استعمال ہونے والے دیگر بہت سے قوانین تو اس کلہاڑے کی ضرب سے محفوظ رہیں اور توہینِ رسالتؐ کا قانون اور حدود آرڈیننس صرف اس لیے اس کی زد میں آ جائیں کہ اس سے مغربی آقاؤں کے ریکارڈ میں ہمارے کچھ نمبر بڑھ جائیں گے۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ ۲۲ مئی ۲۰۰۴ء)

اسرائیل کے قیام کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران اسرائیل جس سینہ زوری سے فلسطینیوں کے جائز حقوق اور آزادی کو دبائے ہوئے ہے، اور عالمی برادری کے مطالبات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو جس دیدہ دلیری کے ساتھ مسترد کرتا آ رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہ بات سب پر واضح ہے کہ اسرائیل کو یہ حوصلہ صرف اور صرف امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے حاصل ہے۔ ورنہ اگر امریکہ اسرائیل کی ناجائز حمایت چھوڑ دے، اور فلسطینی قوم کے جائز قومی موقف کی حمایت نہ سہی، بلکہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور فیصلوں کا ہی لحاظ کر لے، تو اسرائیل کی اس دہشت گردی اور درندگی کو بریک لگ سکتی ہے جو وہ فلسطینیوں اور عرب عوام کے خلاف نصف صدی سے مسلسل اختیار کیے ہوئے ہے۔ لیکن امریکہ نے اس بات کی قسم کھا رکھی ہے کہ اس نے ہر حال میں یہودیوں کو تقویت دینی ہے، اسرائیل کی پشت پناہی کرنی ہے، اور اس کی ہر جائز و ناجائز بات کی حمایت کرنی ہے۔ اس کے لیے اسے نہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پروا ہے، نہ ہی اپنے ’’عرب دوستوں‘‘ کے جذبات و مفادات کا لحاظ ہے، اور نہ ہی مظلوم فلسطینیوں کی کسمپرسی کا کوئی پاس ہے۔

اس صورتحال میں دو باتیں بطور خاص قابلِ توجہ ہیں:

  1.  ایک عرب ممالک کے لیے کہ کیا یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’’دوستی‘‘ کے زمرے میں ہی شمار کرتے ہیں؟ اور کیا اب بھی انہیں اقوامِ متحدہ سے کوئی توقع ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت و دہشت گردی کی روک تھام اور عرب ممالک نیز فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی اور کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ یہ انتہائی اہم بات ہے، اور شاید اس سے زیادہ سنجیدہ مرحلہ اس کا جائزہ لینے کے لیے پھر سامنے نہ آئے۔  
    اس لیے اگر عرب حکمرانوں میں حس اور سنجیدگی نام کی کوئی چیز باقی رہ گئی ہے تو انہیں مل بیٹھ کر امریکہ کی دوستی اور اقوامِ متحدہ سے وابستہ توقعات کا ازسرِنو جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت کوئی متبادل سامنے نہیں ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ متبادل خودبخود سامنے نہیں آیا کرتے، انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے اور ہمت و حوصلہ کے ساتھ ان کے لیے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ پھر مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ جب مسلمان حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور پیشرفت کا عزم کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کامیابی کی راہیں بھی سجھا دیا کرتے ہیں، مگر اس کے لیے پہلے ارادہ اور اس کے بعد عزم شرط ہے۔
    اس لیے عرب حکمرانوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ایک بار پھر مل بیٹھیں، اور صرف معروضی حالات کو سامنے رکھ کر نہیں، بلکہ گزشتہ ایک صدی کے تسلسل پر نظرثانی کر کے اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کا ازسرِنو تعین کریں۔ بظاہر یہ بہت مشکل ہے لیکن اس کے سوا عزت و وقار کا کوئی بھی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے جتنی جلد یہ راستہ اختیار کیا جائے گا اتنا ہی عربوں کے حق میں بہتر ہو گا۔
  2.  دوسری بات جو ہم پاکستان کے حکمرانوں کے گوشگزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں، وہ یہ کہ ہم نے بھی کشمیر میں مسلح جدوجہد کی نفی کر کے مذاکرات کی میز بچھنے کا فیصلہ کیا ہے، یاسر عرفات کے نقشِ قدم پر چلنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، اور جنوبی ایشیا کے تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکہ اور اقوامِ متحدہ پر اعتماد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور امریکہ کے حوالے سے کشمیر کا تنازع حل کرنے کی طرف عملی پیشرفت سے قبل فلسطین کی تحریکِ آزادی اور یاسر عرفات کے ساتھ کھلے بندوں روا رکھے جانے والے امریکی طرزِ عمل کا ایک بار مطالعہ ضرور کر لینا چاہیے، ہو سکتا ہے ہدایت کا کوئی راستہ نظر آجائے۔ اور اگر سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہمارے مہربانوں نے اسی راستے پر چلنے کا تہیہ کر لیا ہے تو اس قومی خودکشی سے انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے؟

(روزنامہ پاکستان، لاہور۔ ۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء)

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف عائد کردہ پابندیوں پر سختی کے ساتھ عمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور سرحدات پر مانیٹرنگ کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ جن کے بارے میں طالبان حکومت کے سربراہ ملا محمد عمر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے افراد کو دشمن تصور کیا جائے گا، اور نہ صرف افغانستان بلکہ قبائلی علاقہ کے عوام بھی انہیں برداشت نہیں کریں گے۔ ادھر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر اقوامِ متحدہ کی ٹیموں کے بھیجے جانے کو ہم اپنے ملکی معاملات اور خود مختاری میں مداخلت تصور کرتے ہیں، لیکن چونکہ یہ اقوامِ متحدہ کا فیصلہ ہے اس لیے اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد۔ ۷ اگست ۲۰۰۱ء)

کم و بیش نصف صدی قبل انڈونیشیا کے صدر عبد الرحیم احمد سوئیکارنو نے بغاوت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی تھی مگر کسی طرف سے بھی حمایت نہ پا کر ’’پہلی تنخواہ پر گزارہ‘‘ کرنے میں ہی عافیت محسوس کی تھی۔ اس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد مغرب کے اس معاہداتی جبر اور اقوامِ متحدہ کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف اپنے دورِ حکومت میں آواز بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ اب ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان اس میدان میں آئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس کھلی دھاندلی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ چنانچہ سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی ۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء کی رپورٹ کے مطابق :

’’ترکی کے صدر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے ذریعے دنیا کو جھنجھوڑنے کی بہت کوشش کی، یہاں تک کہہ دیا کہ دنیا پر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کی اجارہ داری ہے اور پوری دنیا کی قسمت کا فیصلہ ان کی مٹھی میں ہے۔ ان کے اختیارات نہایت ہی غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہیں۔ ان کی بدولت انہوں نے پوری دنیا کو غلام بنا رکھا ہے اور اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔ یہ پانچ ممالک کبھی بھی کسی دوسرے ملک کو اپنے مفادات کے خلاف قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ان تمام قراردادوں کو ویٹو کر دیتے ہیں جو ان کے یا ان کے حامی ملکوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان پانچ ویٹو پاور رکھنے والے ملکوں نے اقوامِ متحدہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کی ذرہ برابر بھی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ حل کرنے کی بجائے اور الجھا دیا جاتا ہے جبکہ عیسائیت کے معاملہ میں ان کا رویہ دوسرا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو جن حالات میں اقوامِ متحدہ کو تشکیل دیا گیا تھا بعد میں اس کے ذیلی ادارے اور ممبران بھی وقت کے لحاظ سے بڑھائے جاتے رہے، وہ حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اب دنیا کے تقاضے دوسرے ہیں اس لیے اقوامِ متحدہ کو بھی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنا چاہیے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کے ذریعے دنیا میں امن کے قیام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘

جناب طیب اردگان کا اقوامِ متحدہ کے نظم کے بارے میں یہ تبصرہ بالکل حقیقت پسندانہ ہے اور کم و بیش یہی باتیں مہاتیر محمد کرتے رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلمان حکمرانوں کو اس جائز اور مصنفانہ موقف کی تائید کی ابھی تک توفیق نہیں ہوئی اور یہی اس وقت اس حوالے سے عالمِ اسلام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۴ نومبر ۲۰۱۶ء)

امریکہ اور با اثر ممالک کی اجارہ داری

اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر منظور ہونے کے بعد آزادی کے مغربی علمبرداروں نے اعلان کیا تھا کہ اب غلامی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے اور دنیا میں آج کے بعد غلامی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اقوامِ متحدہ کے منشور میں شخصی آزادی کی ضمانت دیتے ہوئے غلامی کی ہر قسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور اقوام و ممالک کی آزادی و خودمختاری کی حرمت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بیرونی مداخلت سے تحفظ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ لیکن شخصی اور قومی آزادی کا یہ اعلان اور گارنٹی نصف صدی گزرنے کے بعد آج بھی اس طرح تشنۂ تکمیل ہے جیسے اقوامِ متحدہ کے قیام کے وقت تھی۔ اور نہ صرف اقوام و ممالک کی آزادی و خود مختاری کو طاقتوروں کی طرف سے مجروح کرنے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ انسانوں کی خرید و فروخت اور ان سے جبری مشقت لینے کے عمل میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ صرف نام بدلے ہیں، اصطلاحات کا فرق پڑا ہے، طریق کار میں تبدیلی آئی ہے، اور عنوانات نئے اختیار کر لیے گئے ہیں۔ ورنہ قوموں اور ملکوں پر طاقت کے زور سے قبضہ جمانے کا عمل بھی جاری ہے اور اشخاص و افراد کی خرید و فروخت کی منڈیوں کا حجم بھی کسی کمی سے روشناس نہیں ہوا۔

اقوامِ متحدہ کا ہیڈ کوارٹر امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ہے۔ ماضی میں امریکہ غلامی کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ ایک دور میں افریقہ سے بحری جہاز بھر بھر کر غلاموں کو امریکہ لایا جاتا تھا اور ان سے جبری مشقت لینے کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی۔ جانوروں کی طرح ان کے سودے ہوتے تھے اور جانوروں کی طرح ہی ان سے کام لیا جاتا تھا۔ پھر ایک دور ایسا آیا کہ جب اس جبر اور ظلم کے خلاف آواز اٹھی، احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور ردِ عمل سامنے آیا تو غلامی کے خاتمہ کے لیے جدوجہد منظم ہوئی۔

اس طویل جدوجہد کے بعد انسان کی شخصی آزادی کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس کے خاتمہ کا اعلان ہوا اور اس کے ساتھ ہی اقوام و ممالک کی آزادی کا حق بھی تسلیم کیا گیا اور اس کی گارنٹی کے لیے اقوامِ متحدہ وجود میں آئی۔ لیکن آج اقوام و ممالک کی آزادی کا جو حشر ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے امریکی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اپنے ملک میں غلاموں اور غلامی کے خاتمے کا بدلہ ساری دنیا سے لینے کا تہیہ کر رکھا ہے اور انسانوں سے طاقت اور جبر کے ذریعے کام لینے اور ان پر آقائی جتانے کے صدیوں پرانے جذبہ کی تسکین کے لیے پوری دنیا کو طاقت کی حکمرانی آماجگاہ بنا لیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا ایک ’’گلوبل ویلج‘‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے مشترک اور مربوط عالمی سوسائٹی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات کسی اور حوالے سے درست ہو یا نہیں مگر اس حوالے سے بالکل درست اور حقیقت ہے کہ ساری دنیا ایک ایسے گاؤں کی طرح دکھائی دے رہی ہے جس پر ایک طاقتور جاگیردار نے قبضہ جما لیا ہے اور قوت و طاقت کے بل پر اس نے گاؤں کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی کو اس کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے، اس کے لٹھ بردار چاروں طرف گھوم رہے ہیں جن (کی نگرانی) سے کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی چار دیواری بچی ہوئی ہے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر جب میں سوچتا ہوں کہ امریکا میں غلامی کے جواز کے دور میں کسی بڑے جاگیردار یا نواب کے ڈیرے کا منظر کیا ہوگا؟ تو آج کی دنیا کا مجموعی حصہ دیکھ کر اس کا عملی نقشہ ذہن میں آنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور تخیل کی سکرین پر ایک واضح نقشہ فوراً نمودار ہو جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ دنیا بھر کے انسانوں کی شخصی آزادی اور اقوام و ممالک کی سالمیت و خود مختاری کا پرچم اٹھائے ہوئے نیویارک میں ڈیرہ لگائے بیٹھی ہے۔ لیکن اس پرچم کے سائے میں قوموں اور ملکوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک منظر افغانستان میں دیکھا جا چکا ہے اور دوسرا منظر عراق میں دیکھنے کے لیے پوری دنیا آنکھیں جھپکے بغیر عراق کی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑی ہے۔

ایک طرف فلسطین اور کشمیر کے باشندوں کا قتلِ عام جاری ہے اور ان کا حقِ خود ارادیت اسی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیے جانے کے باوجود کے اس حق کو صرف اس لیے پس پشت ڈالا جا رہا ہے کہ ’’گلوبل ویلج‘‘ کے بڑے زمیندار کا مفاد اس میں نہیں ہے۔ یا ایسا کرنے سے اس کی چودھراہٹ اور انا کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ گاؤں میں دوسرے چودھری بھی ہیں مگر اس بڑے چودھری کے مقابلہ میں ان کے ڈیرے اجڑ چکے ہیں اور انہیں عافیت اسی میں نظر آرہی ہے کو وہ اس بڑے چودھری کے سامنے نگاہیں جھکا لیں اور مونچھیں نیچی کر لیں۔ بڑا چودھری ہاتھ میں لاٹھی لیے گاؤں کی پنچایت میں غصے سے بھرا ہوا کھڑا ہے۔ اس کے لٹھ بردار چاروں طرف لاٹھیاں اٹھائے گاؤں کے کسی بھی گھر میں داخل ہونے کے لیے اس کی آنکھوں کے اشارے کے منتظر ہیں۔ چودھری اور کمیوں سمیت ساری آبادی تھرا رہی ہے اور بڑا چودھری منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے للکار رہا ہے کہ میں ’’گلوبل ویلج‘‘ کا بڑا چودھری ہوں، میں اس گاؤں کا بڑا مالک ہوں، یہاں صرف میری مرضی چلے گی اور گاؤں کی پنچایت سمیت سب کو وہی کچھ کرنا ہوگا جو میں چاہوں گا۔

تاریخ کا کوئی بھی طالب علم تین سو سال قبل یورپ کے کسی جاگیردار کے ڈیرے اور ڈیڑھ سو سال قبل کے کسی امریکی زمیندار کی جاگیر کا منظر نگاہوں میں لا کر آج کے ’’گلوبل ویلج‘‘ کا مجموعی منظر دیکھ لے۔ اسے یورپی جاگیرداروں اور امریکی زمینداروں کے کردار، نفسیات اور طرزِ عمل کے بارے میں مزید کسی تحقیق و جستجو کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اقوام و ممالک کے اس منظر سے ہٹ کر اشخاص و افراد کی آزادی کے منظر پر بھی ایک نگاہ ڈالیں، آپ کو خلیج عرب کے بہت سے ملکوں میں اکیسویں صدی میں رہنے والے کروڑوں انسان ایسے نظر آئیں گے جو شہری آزادیوں، ووٹ اور بنیادی حقوق سے صرف اس لیے محروم ہیں کہ انہیں رائے اور ووٹ کا حق اور اپنے معاملات خود طے کرنے کا اختیار دینے سے اس خطہ میں ’’گلوبل ویلج‘‘ کے بڑے چودھری کے مفاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اور اس کے ساتھ ہی انسانوں کی خرید و فروخت کی صورتحال بھی دیکھ لیں کہ خود امریکہ کے محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال چالیس سے ساٹھ لاکھ تک انسانوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن میں زیادہ تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہے جنہیں جبری مشقت اور عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے سے یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ خرید و فروخت کا شکار ہونے والے ان مجبور افراد کو مغربی یورپ، عرب ممالک، تھائی لینڈ اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر خطے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان لاکھوں افراد میں زیادہ تعداد کمسن لڑکیوں کی ہوتی ہے جنہیں نائٹ کلبوں، ریستورانوں اور قحبہ خانوں میں عصمت فروشی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور انہیں ایسے تمام کاموں کے لیے کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔ ایسے افراد کا زیادہ تر تعلق جنوب مشرقی ایشیائی اور افریقی ممالک سے ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ’’غلامی اور جبری مشقت‘‘ کی اس ترقی یافتہ صورت کی روک تھام کے لیے متعدد قوانین نافذ کیے گئے ہیں اور ایک مستقل محکمہ بھی بنایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اور یورپ سمیت پوری دنیا میں یہ کاروبار جاری ہے۔

یہ ہے اقوامِ متحدہ کی نصف صدی کی کارکردگی کا خلاصہ جس کی بنیاد پر اس کا اصرار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی حکومت تسلیم کی جائے اور اس کے کسی فیصلے سے اختلاف یا انحراف کی جرأت نہ کی جائے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۱۱ جنوری ۲۰۰۳ء)

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء کے ایک ادارتی شذرہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی دنیا میں غربت کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں دنیا کے امیر ترین ممالک پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ امیر ممالک دنیا میں غربت اور افلاس کو کم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیسویں صدی کے اختتام پر جس پیمانے پر غربت پائی جاتی ہے وہ انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے، اس لیے امیر ملکوں کو چاہیے کہ وہ غریب ملکوں کے قرضے معاف کر دیں۔

ہمارے نزدیک دنیا میں غربت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی یہ سالانہ رپورٹ ان جھوٹے دلاسوں کا ایک حصہ ہے جو کمزور اور غریب ممالک کو تسلی دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر سے وقتاً فوقتاً جاری ہوتی رہتی ہیں، اور دنیا کی کمزور اور غریب اقوام اور ممالک کے حوالے سے اس قسم کی بیسیوں رپورٹیں اور قراردادیں اقوامِ متحدہ کے شو روم میں ہر وقت سجی رہتی ہیں۔ ورنہ جہاں تک اصل صورتحال کا تعلق ہے غریب ممالک اور اقوام کی موجودہ غربت خود ان امیر ممالک کی پیدا کردہ ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا سبب وہ غیر متوازن سرمایہ دارانہ عالمی معاشی نظام ہے جو سیاسی بالادستی اور سائنسی و عسکری فوقیت کے سہارے بڑے ممالک نے پوری دنیا پر مسلط کر رکھا ہے۔ اور اس کے ذریعے دنیا بھر کا ظالمانہ استحصال کر کے یہ نام نہاد ترقی یافتہ ممالک اپنی چودھراہٹ اور بالادستی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس عالمگیر استحصال اور جبر کو جاری رکھنے کے لیے انہیں اسی اقوام متحدہ کی چھتری میسر ہے جس کے عالمی اداروں اور سسٹم نے غریب ممالک اور اقوام کو ہر طرف سے جکڑ کر ان امیر ملکوں کے سامنے ڈال رکھا ہے۔

ورنہ اگر اقوامِ متحدہ دنیا میں غربت ختم کرنے کے لیے فی الواقع سنجیدہ ہے تو اس کا راستہ یہ ہے کہ یہ عالمی ادارہ امیر ملکوں اور نام نہاد بڑی طاقتوں کی اجارہ داری سے باہر نکلے، اور ان کی ترجیحات اور تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دنیا کو ظالمانہ استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لیے غریب ممالک اور اقوام کی عملی راہنمائی کرے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام کلیتاً ناکام ہو چکا ہے اور اس کے دامن میں انسانی آبادی کی اکثریت کے لیے غربت و افلاس اور فقر و محرومی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ استحصال اور اجارہ داری سے پاک مالیاتی نظام تلاش کیا جائے، اسے دنیا میں متعارف کرایا جائے، اسے اپنانے میں غریب ملکوں کی مدد کی جائے، اور اس کے لیے امیر ملکوں پر دباؤ ڈالا جائے۔ ورنہ خالی قراردادوں اور رپورٹوں سے اقوامِ متحدہ کے نمبر شاید بنتے رہیں، مظلوم اور غریب ممالک و اقوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ ۔ نومبر ۱۹۹۸ء)

مغرب کے اہلِ دانش سے جب بات کی جائے گی تو یہ نکتہ بھی زیر بحث آئے گا کہ وہ مسیحیت اور اسلام کو ان کے علمی اور معاشرتی کردار میں اس قدر واضح فرق کے باوجود ایک ہی پلڑے میں کیوں رکھ رہے ہیں اور اس معاملے میں بھی مغرب کا مخصوص پس منظر مسلمانوں پر مسلط کرنے کی تگ و دو میں کیوں مصروف ہیں؟

گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ گواہ ہے کہ اسلام اور مسیحیت کا علمی کردار ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے اور ان کا معاشرتی کردار بھی جداگانہ اور ایک دوسرے سے قطعی طور پر الگ رہا ہے۔ اس لیے اگر اہلِ مغرب کو ان کا مذہب اپنے مخصوص پس منظر اور کردار کی وجہ سے راس نہیں آیا تو اس کی بنیاد پر انہیں اس بات کا حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسرے مذاہب کو بھی مسترد کر دیں اور ساری دنیا کے پیچھے اس دستبرداری کو منوانے کے لیے لٹھ لے کر گھومتے پھریں۔ اگر کسی شخص کو اس کے عوارض اور بیماری کی وجہ سے گوشت راس نہیں آتا تو وہ نہ کھائے، لیکن اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ باقی لوگوں کے ہاتھوں سے بھی یہ کہہ کر گوشت چھیننا شروع کر دے کہ چونکہ مجھے گوشت موافق نہیں ہے اس لیے تم سب بھی گوشت کھانا چھوڑ دو؟ اسے اپنی بیماری کا علاج کرانا چاہیے تاکہ وہ بھی اس نعمت سے کبھی مستفید ہو سکے، نہ یہ کہ وہ دوسروں کو بھی اس نعمت سے محروم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہو جائے۔

اب رہی بات مغرب کے اہلِ سیاست کی تو ان سے گفتگو کا ایجنڈا الگ ہے اور ان سے مکالمہ میں جن امور پر بات کرنے کی ضرورت ہے، ان میں زیادہ اہم امور یہ ہیں:

ہمارے نزدیک مغرب کے اہلِ سیاست و اقتدار سے مسلمانوں کے مکالمہ کے اہم نکات یہ ہونے چاہئیں۔ ہمیں مکالمہ کے لیے مغرب کے پیش کردہ نکات پر بات چیت کرنے سے بھی انکار نہیں ہے، لیکن بات یکطرفہ ایجنڈے پر نہیں ہونی چاہیے، مکالمہ ایجنڈا ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ مغرب اس معاملے میں بھی اجارہ داری کے یکطرفہ طرزِ عمل پر قائم ہے اور مسلمانوں سے ان کے مسائل اور شکایات پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس حوالے سے ہم ملک کے دینی اداروں اور علمی مراکز سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اس صورتحال سے خود واقف ہونے اور اپنے اساتذہ، طلبہ اور دانشوروں کو واقف کرانے کی ضرورت ہے، رائے عامہ کو بیدار کرنے اور اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اور اس احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ مکالمہ جس مسئلہ پر بھی ہو اس کے اصل فریق سے اور حقیقی ایجنڈے پر ہو گا تو فائدہ مند ہو گا، ورنہ وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔

(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۶ء)

فلسفہٴ جہاد کی تائید

مغرب نے سوسائٹی کی بنیاد نیشنلزم، سولائزیشن اور تہذیب و ثقافت کو قرار دیا جو مذہب کا متبادل ہیں، اور قوم و ملک اور سولائزیشن کے لیے طاقت کے استعمال کو نہ صرف مغرب نے جائز قرار دے رکھا ہے بلکہ کئی بار اس کا خوفناک مظاہرہ بھی کر چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے اپنے قوانین میں نیشنلزم کی بنیاد پر سرحدوں کو جائز قرار دے کر ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکا ہے، مگر کسی ایک طرف سے طاقت کے استعمال کی صورت میں دوسرے کو دفاع میں ہتھیار اٹھانے کا حق دیا ہے۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ (۱) امن کو لاحق خطرہ (۲) امن وامان کو توڑنے اور (۳) ظلم و تعدی کے کسی واقعہ کی صورت میں وہ کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے، اور اگر ان پابندیوں سے کام نہ چلے تو سلامتی کونسل کو فوج کشی کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ فوج کشی سلامتی کونسل کا حق ہے اور سلامتی کونسل کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی نمائندہ کہلاتی ہے لیکن پانچ ملکوں کے ویٹو پاور کے حق نے اسے عملاً صرف پانچ ملکوں کی اجارہ داری کی علامت بنا دیا ہے۔

چنانچہ اقوامِ متحدہ کی اجازت سے امریکہ نے افغانستان کے خلاف جو فوج کشی کی، اور عراق پر امریکی اتحاد کا پہلا حملہ بھی سلامتی کونسل کی اجازت سے ہوا تھا، ان حملوں کے جواز کے بارے میں مغربی لیڈروں نے جو کچھ کہا، وہ تاریخ کے ریکارڈ میں ثبت ہو چکا ہے۔ ان میں سے صرف دو باتوں پر غور کر لیجیے:

  1. ایک یہ کہ افغانستان اور عراق اقوامِ متحدہ کے طے کردہ نظام سے بغاوت کر رہے ہیں اور اس کی پابندیوں سے انحراف کے مرتکب ہوئے ہیں،
  2. اور دوسرا یہ کہ جمہوریت اور سولائزیشن کے تحفظ کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔

سوال یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کا نظام اور مغرب کی سولائزیشن دنیا بھر سے خود کو منوانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے۔، یہ ورلڈ سسٹم اور مغربی سولائزیشن دونوں یکطرفہ اور جانبدارانہ ہیں جن کی تشکیل اور کنٹرول میں مسلمانوں کو کوئی قابلِ ذکر حیثیت حاصل نہیں ہے۔ کیا اس نظام اور ثقافت کے فروغ اور تسلط کے لیے طاقت کا استعمال فکر اور عقیدے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں ہے؟ فرق صرف تعبیر کا ہے۔ ہم سے مذہب کے لیے قوت کا استعمال ترک کرنے کا مطالبہ کرنے والا مغرب خود مذہب کے اس متبادل کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے، جسے اس نے سوسائٹی کی فکری بنیاد کے طور پر مذہب سے دستبرداری کے بعد اختیار کر رکھا ہے۔

مگر ہم سے مغرب کا تقاضا کیا ہے؟ اس کی ایک جھلک یورپین مستشرق اینڈرسن کی اس گفتگو میں دیکھی جا سکتی ہے جس کا ذکر عرب دنیا کے معروف عالمِ دین اور دانشور استاذ وہبہ زحیلی نے اپنے ایک مقالے میں کیا ہے، اور جس میں اینڈرسن نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ جہاد کو اسلامی احکام کی فہرست سے نکال دیں اس لیے کہ جہاد آج کے عالمی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے قوانین و ضوابط سے ہم آہنگ نہیں ہے، اور فکر و عقیدے کو طاقت کے زور سے فروغ دینے کا وسیلہ ہے جو حریت اور عقلی ارتقا کے عالمی ماحول کے منافی ہے۔

لیکن جس عالمی نظام اور عقلی ارتقا کو مغرب نے مذہب کے لیے طاقت کے استعمال سے روکنے کا باعث قرار دیا ہے، وہ دونوں آج پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ نے افغانستان، عراق اور دوسرے متعدد ممالک پر امریکہ کی فوج کشی کو جواز کی سند دے کر ان کی اخلاقی حیثیت ختم کر دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مغرب اپنے اس عقیدے سے منحرف ہو گیا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف دفاع کے لیے ہو سکتا ہے، فکر و عقیدے کے لیے ہتھیار کا استعمال ناجائز ہے۔ یہ صرف نظری بات ہے اور خوشنما فکری دھوکہ ہے، جبکہ امریکہ کے دفاع کے لیے سات سمندر پار پیشگی فوجی حملوں اور سولائزیشن کے تحفظ کے لیے عسکری قوت کے بے محابا استعمال نے اس کو صرف ایک کھوکھلے نعرے کی حیثیت دے دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مغرب نے اسلام کے اس فلسفے کو عملاً تسلیم کر لیا ہے کہ قوت کا استعمال صرف دفاع کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی عقیدے اور تہذیب کی بالادستی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے بھی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جایا کرتا ہے۔ میرے نزدیک یہ آج کے دور میں اسلام کی اخلاقی فتح ہے۔

(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ ستمبر ۲۰۰۴ء)

اصلاحِ احوال اور متبادل راستہ

اب سے کم و بیش ساٹھ برس قبل جب اقوامِ متحدہ وجود میں آئی تھی تو بیشتر مسلم ممالک آزاد نہیں تھے، اس لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل میں عالمِ اسلام کی متوازن نمائندگی اور شرکت موجود نہیں تھی۔ اس وجہ سے انسانی حقوق کے چارٹر میں مسلم دنیا کے عقائد، تہذیبی تشخص و روایات کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس کا نتیجہ ہے کہ انسانی حقوق کے موجودہ چارٹر کی متعدد دفعات اسلامی احکام و قوانین سے متصادم ہیں اور ان کی بنیاد پر مسلمانوں کے معتقدات، دینی احکام اور تہذیبی روایات کی مسلسل نفی کی جا رہی ہے، اس لیے اس حوالے سے اس چارٹر پر نظرِ ثانی ناگزیر ہو گئی ہے۔

عسکری ٹیکنالوجی اور جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے استحقاق پر چند ممالک کی اجارہ داری اور باقی تمام ممالک کے لیے اس کی ممانعت اقوام و ممالک کے مابین برابری اور مساوات کے اصول کے منافی ہے اور اس کی زد سب سے زیادہ مسلم دنیا پر پڑ رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس اجارہ دارانہ، غیرمساویانہ، اور غیرمنصفانہ قانون و فلسفہ پر نظرِ ثانی کی جائے اور طاقت کے عالمی توازن پر چند ممالک کی اجارہ داری کے قوانین و ضوابط کو ختم کر کے برابری اور مساوات کے اصول پر نیا نظام وضع کیا جائے۔
    اقوامِ متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ارکان میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی یعنی عالمِ اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اسے عملاً اس سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے اقوامِ متحدہ کے نظام میں انصاف اور توازن کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ارکان میں مسلم امہ کو دنیا میں اس کی مجموعی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔
    اقوامِ متحدہ کا موجودہ سسٹم، طریق کار، اور پالیسیاں دنیا بھر کی غریب، پسماندہ، غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام و ممالک کے مفادات، ضروریات اور مجبوریوں کا لحاظ اور پاسداری کرنے کی بجائے امیر ترین ممالک اور ترقی یافتہ اقوام کی اجارہ دارانہ اور استحصالی مفادات کی محافظ و نگران بن کر رہ گئی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ غریب اور پسماندہ ممالک کو الگ سے اعتماد میں لینے کا اہتمام کیا جائے اور ان کی تجاویز و سفارشات کی روشنی میں پورے نظام پر نظرِ ثانی کی جائے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۱۹ ستمبر ۲۰۰۵ء)

ہمارے خیال میں مسلم لیڈر شپ کو اس سلسلے میں اپنے معذرت خواہانہ رویے پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی اور اقوامِ متحدہ کے ان قواعد و ضوابط کو جرأت اور حوصلہ کے ساتھ چیلنج کرنا ہوگا جو تیسری دنیا، بالخصوص مسلم ممالک کو جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے حصول سے روکتے ہیں۔ اگر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم):

کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کر سکے تو اقوامِ متحدہ کا فورم ایک عالمی ادارے کی صورت میں مسلم دنیا کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے، ورنہ یہ یکطرفہ تسلط اور طاقت کی اجارہ داری کی ایک منظم شکل ہے جس سے پیچھا چھڑانا ہی عالمِ اسلام کے مجموعی مفاد کے لیے واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا کے لیڈر حقیقت پسندی سے کام لیں اور سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کریں کہ یا تو وہ اقوامِ متحدہ کے نظام میں توازن قائم کرنے کی عملی جدوجہد کریں، اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو اس سے دامن چھڑانے کا کوئی قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جائے۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور ۔ ۳۰ اگست ۲۰۰۵ء)

آج اقوامِ متحدہ کے قیام کو سات عشرے مکمل ہونے کو ہیں مگر اس کے عملی کردار کا جائزہ لیا جائے تو ایک مسلمان کو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اس عالمی فورم نے عالمِ اسلام میں بین الاقوامی معاہدات کے ذریعے نفاذِ اسلام کا راستہ روک رکھا ہے، فلسطین و کشمیر کے سنگین مسائل کو حل کرانے میں ناکامی بلکہ زیادہ واضح الفاظ میں انہیں ’’حل نہ کرانے میں کامیابی‘‘ کا تمغہ اپنے سینے پر سجایا ہوا ہے، اور یہ بین الاقوامی پلیٹ فارم دنیا میں مغربی فکر و فلسفہ کی یلغار اور ویٹو پاور رکھنے والے ملکوں کی سیاسی بالادستی کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بن کر رہ گیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس پس منظر میں سعودی عرب کا سلامتی کونسل میں نشست قبول کرنے سے انکار زمینی حقائق کے صحیح ادراک کے ساتھ ساتھ اسلامیانِ عالم کے جذبات کی ترجمانی بھی ہے اور ہم سعودی عرب کے اس موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ:

’’گزشتہ ۶۵ برس سے مسئلہ فلسطین کا کوئی مستقل حل دریافت نہیں کیا جا سکا، اس مسئلہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کئی جنگوں کو جنم دیا اور دنیا بھر کے امن اور سلامتی کے لیے یہ مسئلہ ایک خطرہ بنا رہا۔ سلامتی کونسل اب تک اس کا کوئی ایسا حل نہیں نکال سکی جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کونسل اپنے اصل فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔ سلامتی کونسل میں جس طرح کام ہوتا ہے، اس کے دوہرے معیار جس طرح کے ہیں، وہ اس ادارے کو اپنے فرائض ادا کرنے سے روکتے ہیں اور دنیا میں امن قائم رکھنے کی ذمہ داریاں نباہنے نہیں دیتے۔ اس بنا پر ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں کہ ہم سلامتی کونسل کی اس نشست کو قبول کرنے سے انکار کر دیں اور اس وقت تک اس نشست کو قبول نہ کریں جب تک اس روش کو بدلا نہیں جاتا اور جب تک سلامتی کونسل عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے قابل نہیں ہو جاتی۔‘‘

ہمیں خوشی ہے کہ سعودی عرب کے اس فیصلے پر فرانس نے ہمدردانہ ردِ عمل کا اظہار کر کے اسے صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہنے دیا۔ روزنامہ دنیا لاہور میں ۲۰ اکتوبر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فرانس کے دفتر خارجہ کے ترجمان رومین ندال نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل سے متعلق سعودی احساسات کو درست اور جائز سمجھتے ہوئے ان کی تائید کرتے ہیں کیونکہ سلامتی کونسل کے عملاً مفلوج ہو کر رہ جانے کے بعد ان احساسات کا پیدا ہو جانا بلا جواز نہیں ہے۔

فرانس کے دفتر خارجہ کے یہ ریمارکس سلامتی کونسل کے حقیقی کردار کی نشاندہی کر رہے ہیں جس پر ہمارے ذہن میں اردو شعر کا یہ مصرعہ گونجنے لگا ہے کہ

؏  لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء)


بیت المقدس، اقوام متحدہ اور مسلم ریاستیں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت اور اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری

 پچھلی نشست میں ہم نےاس پر گفتگو کی تھی کہ بیت المقدس کے متعلق بین الاقوامی قانون کی رو سے کیا اصول ہیں اور ان اصولوں کی روشنی میں اس تنازع کی کیا حیثیت بنتی ہے۔ اب ہم اس پر گفتگو کریں گے کہ بین الاقوامی قانون اور خود اقوام متحدہ کے منشور کی رو سے اقوام متحدہ کی اس ضمن میں کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں اور کیا اس نے وہ ذمہ داریاں پوری بھی کی ہیں یا نہیں کیں۔ 

ہم بات اس سے شروع کریں گے کہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جب نیا عالمی نظام تشکیل پایا اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم بنائی گئی اور اس کے منشور پر جنگ کی جو فاتح طاقتیں تھیں ان کا اتفاق ہوا۔ تو اس منشور کی رو سے اس عالمی نظام میں بنیادی اہمیت حاصل ہو گئی اقوام متحدہ کی تنظیم کے اندر سلامتی کونسل کی۔ سکیورٹی کونسل کی یہ ذمہ داری طے پائی اس منشور کی رو سے، اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے، کہ اس نے بین الاقوامی امن کی حفاظت کرنی ہے، اور اگر کہیں امن کو نقصان پہنچے تو بین الاقوامی امن کو واپس ری سٹور  ہے، بحال کرنا ہے۔ 

to maintain and restore international peace  یہ  بنیادی ذمہ داری قرار پائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کہ ایک تو جنگ ہونے نہیں دینی، بین الاقوامی امن کو نقصان نہ پہنچے، اور اگر کہیں جنگ ہو تو پھر واپس امن بحال کرنا، یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اختیارات دیے گئے اور ذمہ داریاں اس پر عائد کی گئیں چارٹر کے چیپٹر سیون کے تحت، باب ہفتم کی رو سے۔ لیکن بابِ ہفتم تک جانے سے پہلے میں اقوام متحدہ کے منشور کی جو دفعہ 2 ہے، آرٹیکل 2، اس میں سے کچھ اہم نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ 

سب سے پہلے میں حوالہ دوں گا آرٹیکل 2 سب آرٹیکل 3 کا، یعنی دفعہ 2 ذیلی دفعہ 3، جس میں یہ قرار پایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جتنی بھی رکن ریاستیں ہیں، تمام ممبر سٹیٹس، وہ آپس کے تنازعات پر اَمن ذرائع سے حل کریں گے، یہ ان کی ذمہ داری ہے، یہ ان کا فریضہ ہے۔ یہ ایجابی پہلو سے positively ان پر ذمہ داری عائد کی گئی۔ negatively سلبی پہلو سے آرٹیکل 2(4) میں، دفعہ 2 ذیلی دفعہ 4 میں یہ قرار پایا کہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف، یا اس کی سیاسی خودمختاری کے خلاف، یا اقوام متحدہ کے مقاصد کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر ےگی، نہ ہی اس کی دھمکی دے گی۔ یعنی آرٹیکل 2 (3) میں قرار پایا، تمام تنازعات پر امن ذرائع سے حل کریں گے، آرٹیکل 2(4) میں قرار پایا کہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، دھمکی نہیں دیں گے۔ جنگ کو، یو کہیں، اس پر ایک مستقل پابندی عائد کی گئی۔ پھر آگے آرٹیکل 2 سب آرٹیکل 7 میں،دفعہ 2 ذیلی دفعہ 7 میں یہ قرار پایا کہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ 

(۱) پر امن ذرائع سے تنازعات حل کریں گے (۲) جنگ نہیں کریں گے (۳) اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ 

اندرونی معاملات میں مداخلت (کے حوالے سے) اقوام متحدہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، لیکن اس سے ایک استثنا ہے اور وہ آرٹیکل 39 کے تحت ہے، دفعہ 39 جہاں سے اقوام متحدہ کے چارٹر کا ساتواں باب شروع ہوتا ہے۔ اس کی طرف میں آؤں گا لیکن میں پہلے سلامتی کونسل کی کمپوزیشن کے متعلق، اس کے اسٹرکچر کے متعلق کچھ باتیں عرض کروں۔ 

جیسے ہم جانتے ہیں اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان ہیں، جن میں پانچ مستقل ہیں اور دس کا انتخاب دو سال کے لیے جنرل اسمبلی کرتی ہے۔  یہ جو پانچ مستقل ارکان ہیں ان کے پاس vetoکا اختیار بھی ہے ، یعنی فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار۔ یہ پانچ ریاستیں امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین، ان کو یہ اختیار کیوں دیا گیا، یہ تسلیم کیوں کیا گیا ان کے لیے؟ یہ اصل میں دوسری جنگِ عظیم میں فتح پانے والی اقوام تھیں۔ اور چونکہ نیا نظام انہوں نے بنانا تھا تو انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو  اقوام متحدہ کی تنظیم وہ فیصلہ نافذ نہیں کرے گی۔ اور یوں ہم بڑی جنگ سے، آپس میں لڑنے سے بچ جائیں گے۔ تو یہ جو ویٹو کی طاقت ہے،  یہ ان بڑی ریاستوں کو آپس میں جنگ سے روکنے کے لیے، یوں کہیں کہ ان کو دیا گیا۔ اس کا کوئی تعلق ظاہر ہے انصاف کے ساتھ حقوق کے ساتھ نہیں ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ امن کو یقینی بنانے کے لیے ہے نہ کہ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے۔ حالانکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انصاف یقینی نہ ہو تو امن بھی یقینی نہیں ہو سکتا۔ 

پھر مزید یہ ہوا کہ، دوسری جنگ عظیم میں تو یہ طاقتیں آپس میں مل کر ایک مشترک دشمن کے خلاف لڑ رہی تھیں، ہٹلر، مسولینی وغیرہ کے خلاف، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد ان کے آپس کے بھی بہت سارے جو مسائل تھے وہ سامنے آئے،  تو ایک سرد جنگ بھی شروع ہو گئی کہ لڑ بھی نہیں رہے لیکن ایک مسلسل ٹینشن اور کانفلِکٹ کی  سچویشن بھی موجود ہے۔ تو اس کے بعد کچھ ریاستیں ایک بلاک میں شامل ہو گئیں، کچھ دوسری بلاک میں شامل ہو گئیں۔ اب ان بڑی طاقتوں نے اپنی اور اتحادی ریاستوں کو بھی بچانے کے لیے ویٹو کا استعمال شروع کیا۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ویٹو کا استعمال سب سے زیادہ امریکی ریاست نے قابض اسرائیلی طاقت کے لیے کیا ہے۔   یوں یہ جو ویٹو کا اختیار ہے، یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا اصل جو اسکیم تھی اس کو نافذ کرنے کی راہ میں۔ 

اب آئیے سلامتی کونسل کے اختیارات کی طرف اور اس کی ذمہ داریوں کی طرف، جو بابِ ہفتم ہے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا۔ اس میں جو پہلی دفعہ ہے آرٹیکل 39، اس میں تین اسباب ذکر کیے گئے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک سبب بھی موجود ہو تو پھر سلامتی کونسل یہ کاروائی کر ےگی، جس کو collective use of force کہتے ہیں، یعنی اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے مشترکہ طور پر طاقت کا استعمال جارح ریاست کے خلاف، یا اس ریاست کے خلاف جو سسٹم کو ڈسٹرب کر رہی ہے۔ تین اسباب، ان میں سے کوئی ایک بھی موجود ہو۔ 

ایک کو کہا گیا ہے threat to international peace  بین الاقوامی امن کو خطرہ ہو۔ ابھی جنگ شروع ہوئی نہیں ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر ہم نے نہیں روکا تو بہت بڑی تباہی پھیلے گی، تو فوری طور پر preemptively ہمیں ایکٹ کرنا چاہیے اور اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے، جیسے میں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے  امن کو برقرار رکھنے کی۔ تو جب اسے محسوس ہو کہ کہیں سے امن کے خلاف کچھ ہو رہا ہے تو اس کو روکنے کی اور فوری طو رپر روکنے کی ذمہ داری سلامتی کونسل کی ہے۔ اس کے بعد breach of international peace کہ امن کی خلاف ورزی ہو گئی۔ یا act of aggression جارحیت کا ارتکاب کیا کسی ریاست نے۔  تو ان تین صورتوں میں کوئی ایک بھی صورت ہو تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پھر اس پر کاروائی کر سکتی ہے بلکہ اس کو کرنی چاہیے۔ 

عارضی طور پر کچھ اقدامات دفعہ 40 کے تحت لیے جا سکتے ہیں فوری نوعیت کے، لیکن اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ضروری سمجھے تو وہ متعلقہ ریاست پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے، اقتصادی پابندیاں، ان کے ساتھ خریدو فروخت اور ان کی تجارت وغیرہ پر مختلف پابندیاں لگا سکتی ہے، جیسے وقتاً‌ فوقتاً‌ مختلف ریاستوں پر عائد ہوتی رہی ہیں۔ یہ دفعہ 41 کے تحت ہوتا ہے۔ دفعہ 42 کی رو سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کر سکتی ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہو، یا جس نے بین الاقوامی امن کی خلاف ورزی کی ہو، یا جارحیت کا ارتکاب کیا ہو۔ 

اب اس مقصد کے لیے دفعہ 43، آرٹیکل 43 کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ اقوام متحدہ کی جتنی بھی ممبر اسٹیٹس ہیں، ان میں سے ہر اسٹیٹ اقوام متحدہ کو اپنی فوج کا کچھ حصہ دے گا اور اس کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرے گا، اور اس طرح ایک بین الاقوامی فوج وجود میں آئے گی۔ ایسا عملاً‌ ہو نہیں پایا اور سلامتی کونسل کے کمانڈ کے تحت باقاعدہ کوئی بین الاقوامی فوج  ہو، یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پہلی دفعہ اس سسٹم کو دیکھا گیا 51-1950ء میں کوریا کی جنگ کے موقع پر، جب شمالی کوریا کو روس سپورٹ کر رہا تھا اور امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے تھے کہ شمالی کوریا کے خلاف کاروائی ہو۔ تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف قرارداد منظور ہو گئی کیونکہ روس اس وقت بائیکاٹ کر رہا تھا، سلامتی کونسل میں نہیں بیٹھا تھا، تو سلامتی کونسل نے اس کی عدم موجودگی میں قرارداد منظور کی کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد جب اس کےخلاف طاقت کے استعمال کے متعلق قرارداد آئی تو روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا، روس واپس آ گیا تھا اور اس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ 

اب یہاں معلوم ہو گیا کہ سسٹم کام نہیں کر رہا۔ تو امریکی تو بڑے چالاک ہیں، انہوں نے ایک اور راستہ تلاش کر لیا بلکہ یوں کہیں devise کر لیا، گڑھ لیا ، کیونکہ چارٹر میں اس کا کوئی ذکر صراحتاً‌ نہیں تھا۔ امریکیوں نے یہ کہا کہ چارٹر میں یہ ذکر ہے کہ بین الاقوامی امن کو برقرار رکھنا اور اس کو بحال کرنا یہ primary responsibility ہے سلامتی کونسل کی۔ تو انہوں نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر وہ نہیں کر سکے تو کوئی اور بھی کر سکے گا، یعنی اس کی sole responsibility نہیں ہے، صرف سلامتی کونسل کی ذمہ داری نہیں ہے، primarily اسی کی ہے، لیکن اگر وہ نہیں کر سکے تو پھر ہم جنرل اسمبلی کی طرف جائیں گے۔ جنرل اسمبلی میں تمام ممبر سٹیٹس موجود ہوتے ہیں، کسی کے پاس ویٹو کا اختیار نہیں ہوتا۔ تو امریکی آئے جنرل اسمبلی میں، ایک قرارداد انہوں نے وہاں پیش کی، اس قرارداد کو کہا جاتا ہے uniting for peace resolution کہ ہم سارے اکٹھے ہو رہے ہیں امن کے لیے، امن کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ یہ جو ریزولوشن تھی اس کے تحت ایک دفعہ پھر یہ قرار پایا کہ شمالی کوریا نے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ اب اس کے بعد امریکہ نے اپنے ساتھ اتحادیوں کو ملا لیا اور شمالی کوریا کے خلاف جنگی کاروائی شروع کی۔ حالانکہ چارٹر کے تحت یہ اختیار سلامتی کونسل کا تھا، لیکن سلامتی کونسل کو تو روس نے بلاک کر دیا تھا ویٹو کے ذریعے۔ اب جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کی اور اس قرارداد کی روشنی میں امریکہ نے کہا چونکہ جنرل اسمبلی نے کہہ دیا ہے کہ بین الاقوامی امن کی بحالی ضروری ہے، تو اب ہم اس بحالی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں اور جو ہمارے ساتھ اتحادی ہیں  وہ شامل ہو جائیں۔ روس ظاہر ہے اس کی مخالفت کر رہا تھا، چین مخالفت کر رہا تھا، اور وہ جنگ ایک خاص مرحلے کے بعد روک دی گئی کیونکہ ظاہر ہے جب ایک جانب روس ہو دوسری جانب امریکہ ہو تو ایک خاص حد کے بعد انہوں نے رکنا ہی تھا۔ 

اچھا، اس طرح کا مرحلہ 1956ء میں بھی آیا جب مصر کے جمال عبد الناصر نے سوئس کینال کو قومیانے کا اعلان کیا، نیشنلائز  کرنے کا اعلان کیا تو فرانس نے اور برطانیہ نے کہا کہ اس کینال پر تو 1969ء تک ہمارا حق ہے اور ہم اپنا حق زبردستی چھینیں گے، اور اسرائیل بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا کیونکہ اس نے کہا کہ سوئس کینال کو اگر مصر نے قومیا لیا تو ہماری تجارت کے لیے اور ہماری معیشت کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ تو ان تین ممالک نے، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر سوئس کینال کو چھڑانے کے لیے اور اس پر قبضے کے لیے حملہ کیا۔ اس موقع پر جب سلامتی کونسل میں قرارداد آئی تو  اس کو برطانیہ اور فرانس دونوں نے ویٹو کر دیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف قرارداد لے آیا جنرل اسمبلی میں  uniting for peace resolution ایک دفعہ پھر۔ اور جنرل اسمبلی نے ریزولوشن منظور کی اور اسرائیل کی مذمت بھی ہوئی اور چونکہ ایک بہت بڑی تعداد نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا  اسرائیل کےخلاف، برطانیہ کے خلاف، فرانس کے خلاف، بہت زیادہ جنرل اسمبلی میں باتیں بھی ہوئیں، تو یوں کہیں ایک بین الاقوامی پریشر ڈیویلپ ہوا  اور برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کو اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں۔ اور یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اب برطانیہ اور فرانس کی وہ حیثیت نہیں رہی جو دوسری جنگِ عظیم تک تھی۔ اور اب آگے کی جتنی بھی کہانی تھی بین الاقوامی تعلقات کی تو اس میں اصل اہمیت روس اور امریکہ کو حاصل ہو گئی۔  بہرحال یہ طریقہ یوں کہیں کہ جو سرد جنگ کا دور تھا، اس میں اپنایا گیا uniting for peace کا۔ 

1989ء میں جب روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں اور اس کو ایک ہزیمت اٹھانی پڑی، بڑی ہزیمت، اور اس کے بعد دیکھا گیا کہ روس اب چونکہ انتشار کی طرف جا رہا تھا، امریکہ نے موقع غنیمت جانا اور اس نے بین الاقوام معاملات میں اپنا کردار مزید آگے بڑھانا شروع کیا۔ اس موقع پر جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا اگست 1990ء میں تو سلامتی کونسل نے عراق کے خلاف اسی چیپٹر کے تحت قرارداد منظور کی کہ اس نے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، اس سے کہا گیا کہ فوجیں واپس کر لے اور کویت سے واپس چلا جائے۔ عراق واپس نہیں گیا تو جنوری 1991ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سلامتی کونسل نے باقاعدہ منظوری دے کر عراق پر حملے کی اجازت دے دی۔ اس کو کہا جاتا ہے authorization of the use of force  کہ کچھ ریاستوں نے آپس میں اتحاد بنا لیا جس کو coalition of the willing   کہا جاتا ہے کہ جو ریاستیں اتحا دبنانے کے لیے راضی تھیں انہوں نے آپس میں اتحاد بنا لیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی فوج تو ہے نہیں، تو ہمارا جو اتحا دہے وہ یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہے، لیکن ہمارے پاس اختیار نہیں، جس کے پاس اختیار ہے اس کے پاس طاقت نہیں، جس کے پاس طاقت ہے اس کے پاس اختیار نہیں، تو سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کر کے اس اتحاد کو اپنا اختیار تفویض کر دیا، ڈیلیگیٹ کر دیا، آتھورائز کر دیا ان کو۔ اس کو کہا جاتا ہے authorization of the use of force۔ 

1990ء کی دہائی میں اس کی اور بھی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ سلامتی کونسل نے ریاستوں کے کسی اتحاد کو باقاعدہ طور پر طاقت استعمال کرنے کی منظوری دی ہو اور اختیار اس کو تفویض کیا ہو۔ بلکہ یہ بھی ہوا کہ نیٹو کا جو اتحاد ہے، جو یورپی اقوام کا اتحاد ہے امریکہ کی سربراہی میں، اس نے جب سربیا میں بمباری کی تو اس وقت اس نے بمباری کی جب اس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ابھی منظوری نہیں دی تھی کیونکہ روس اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا، لیکن نیٹو نے کہا کہ وہاں انسانیت خطرے میں ہے اور ہم وہاں جا کر لوگوں کو بچانے کے لیے بمباری کریں گے چاہے آپ ہمیں اجازت دیں یا نہ دیں۔ اس کو ایک برطانوی پروفیسر نے نام دیا ہے bombing in the name of humanity انسانیت کےنام پر بمباری۔ تو انہوں نے انسانیت کو بچانےکے لیے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم وہاں جا کر humanitarian intervention کر رہے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم جائیں گے اور ہم وہاں لوگوں کو بچائیں گے۔ انہوں نے جب حملے شروع کیے ،اس کے بعد امریکہ اور روس کا اور دیگر طاقتوں کا آپس میں ایک سمجھوتہ بھی ہوا تو پھر سلامتی کونسل نے منظوری بھی دے دی، یہ  وقوعے کے بعد منظوری تھی،   یعنی انہوں نے طاقت استعمال کر لی تھی، اس کے بعد سلامتی کونسل نے اس کی منظوری دے دی۔ 

یہ سلسلہ نائن الیون تک چلتا رہا، نائن الیون کے بعد تو امریکہ نے پورا سسٹم ہی تلپٹ کر کے رکھ دیا اور سب کچھ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل اور ان کو بائی پاس کر کے یوں کہیں اپنی مدد آپ کے تحت ساری کاروائی کی، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا سلسلہ شروع کیا، اور دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی اتحاد بنایا، اور کہا کہ یہ ایسی جنگ ہے جس کے لیے سرحدیں بے معنی ہیں، اور یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔ 

اس وقت اس ساری بحث کی روشنی میں، میں آپ کے سامنے یہ نکتہ رکھناچاہ رہا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے یہ ذمہ داری سلامتی کونسل کی ہے کہ وہ ریاستِ اسرائیل، جو قابض ہے، جو جارح ہے، اس کو روکے اور اس کےخلاف کاروائی کرے، اور اگر سلامتی کونسل کو بلاک کر دیا جاتا ہے ویٹو کے ذریعے، جیسے امریکہ نے کر دیا ہے، تو پھر دوسرا راستہ جنرل اسمبلی کا ہے کہ وہاں سے آپ uniting for peace resolution کی طرز پر قرارداد لا سکتے ہیں، لیکن وہ صرف ایک قرارداد ہی ہو گی، اس کے بعد اصل میں عملدرآمد کے لیے ایسی ریاستوں کا اتحاد چاہیے ہو گا جو اسرائیل کے خلاف کاروائی کے لیے تیار ہوں۔ کیا ایسا اتحاد بن سکتا ہے، یا بننا چاہیے؟ کیا سلامتی کونسل اسے آتھورائزیشن دے گی، یا نہیں دے گی، یا اسے دینی چاہیے؟ یہ الگ مستقل سوالات ہیں، ان پر ہم الگ سے بحث کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت آپ کے سامنے یہ پوزیشن رکھنی تھی کہ ذمہ داری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی ہے، وہ اگر اپنی ذمہ داریاں نہیں پوری کر رہے تو پھر کیا کیا جائے گا، اس پر ان شاء اللہ ہم اگلی نشست میں گفتگو کریں گے، بہت شکریہ۔ 

youtube.com/watch?v=ZV8Q573BkFY

بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلمان ریاستوں کے لیے قانونی امکانات

اب ہم اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا اس کے دیگر ادارے  جارح  اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہے یا اس میں دلچسپی کا اظہار نہ کریں تو پھر بین الاقوامی قانون کی رو سے دیگر ریاستوں کو انفرادی سطح پر یا اجتماعی سطح پر اور کونسے راستے  دستیاب ہیں، کونسے آپشنز ان کے پاس اویلیبل ہیں جن کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔   اس ضمن میں ظاہر ہے ہم مسلمانوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے اور ہمارے لیے تو قرآن کریم کا حکم ہے: 

’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنسآء والولدان الذین یقولون ربنآ اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا واجعل لنا من لدنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیرا‘‘   (النساء 75)
(آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایاہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔)

تو یہ تو ہم پر ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم لوگ جو پکار پکار کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی طلب کر رہے ہیں اور مسلسل ظلم کا شکار ہیں، ہم ان کے لیے کیوں نہیں لڑ رہے؟ یہ تو ہماری ذمہ داری ہے۔ اب اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے موجودہ سسٹم کے اندر ہمارے پاس کیا امکانات موجود ہیں، ان پر گفتگو ضروری ہے۔ 

انفرادی طور پر بھی کوئی ریاست اگر اس پوزیشن پر ہے بالخصوص جو پڑوس کی ریاستیں ہیں، ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، فقہاء کرام نے بھی ذکر کیا ہے کہ اگر ایک علاقے کے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں، وہ اتنی استطاعت نہیں رکھتے، تو دفاع کی ذمہ داری ان کے قریب کے لوگوں پر آتی ہے، پھر ہوتے ہوتے دائیں بائیںٖ مشرق مغرب ہر طرف جو دیگر مسلمان ہیں ان پر یہ ذمہ داری بتدریج عائد ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح کن کے پاس وسائل زیادہ ہیں، کون زیادہ بہتر پوزیشن پر ہے تو اس لحاظ سے اس پر ذمہ داری بھی زیادہ عائد ہوتی ہے۔ تو اگر قریب کی ریاستیں مثال کے طور پر یہ موقف اپنائیں کہ فلسطین، بیت المقدس، القدس اور وہاں کے مظلوم لوگ، یہ ہمارے لیے پرایا جھگڑا نہیں ہے، یہ ہمارے لوگ ہیں اور ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اور یہ ہماری ریاست کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، اور اس وجہ سے خوا یہ ہماری ریاست  کی سرحدوں سے باہر ہوں ، جغرافیائی حدود سے باہر ہوں، لیکن ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، تو اس تصور کے لیے بین الاقوامی قانون میں گنجائش موجود ہے۔ 

اقوام متحدہ کے وجود میں آنے سے پہلے بھی کئی ریاستیں اس طرح کے اقدامات کیا کرتی تھیں، اور اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس نظریے کو کہا جاتا ہے protection of interests abroad  کہ میرے مفادات ہیں جو باہر ہیں، میری ریاستی حدود سے باہر ہیں، لیکن میں نے ان کی حفاظت کرنی ہے، میں اپنی ریاست کے دفاع میں اسے شامل سمجھتا ہوں۔ 

اس کی ایک مثال ابھی پچھلی نشست میں بھی ہم نے ذکر کی کہ جب مصر نے 1956ء میں سوئس کینال کو قومیانے کا اعلان کیا تو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے اس کو اپنے آپ پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ہماری ملکی حدود سے باہر ہے یہ جگہ، لیکن ہم اپنی حفاظت کے لیے اور اپنے دفاع کے لیے وہاں جائیں گے اور حملہ کریں گے۔ 

اس کی ایک اور مثال بھی آپ کو ملتی ہے کہ جب اسرائیل کا ایک طیارہ ہائی جیک  کر کے یوگنڈا لے جایا گیا تو پھر اسرائیل نے یوگنڈا میں جا کر وہاں آپریشن کیا اور ہائی جیکرز کو مارا اور اپنے شہریوں کو واپس لے آئے۔ 

اچھا اس کو تو آپ چلیں کہیں گے کہ وہ ان کے شہری تھے، لیکن یہ جو سوئس کینال والا ایشو تھا یہ شہریوں کا ایشو نہیں تھا  بلکہ ایک زیادہ وسیع تصور تھا مفادات (کا)، ہمارے مفادات جن کا تحفظ ہم ضروری سمجھتے ہیں، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں، چاہے وہ ملک کے باہر ہوں، ان کی حفاظت کے لیے ہم کہیں بھی جا سکتے ہیں۔  تو اگر کوئی ریاست یہ کرتی ہے تو اس کے لیے گنجائش بین الاقوامی قانون کے اس نظریے کے تحت موجود ہے جس کو کہا جاتا ہے protection of interests abroad  ۔

اس کے علاوہ میں یہ ضرور اس میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ کوئی ریاست تنہا یہ اقدام کرے تو اس کے لیے بہت سارے، ظاہر ہے، مسائل ہو سکتے ہیں موجودہ سچویشن اور جو عالمی منظرنامہ ہے اس کو دیکھتے ہوئے، اس لیے زیادہ بہتر تو یہی ہو گا کہ مسلمان ریاستیں، یا کم از کم وہ ریاستیں جو اس میں حصہ لینا چاہتی ہیں اور اس میں زیادہ وہ کردار کر سکتی ہیں، وہ ریاستیں آپس میں مل کر humanitarian intervention کے نظریے سے فائدہ اٹھائیں یعنی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم مداخلت کر رہے ہیں۔ جیسے پچھلی نشست میں، میں نے سربیا پر نیٹو کی بمباری کی مثال دی تھی، کہا کہ اصل ذمہ داری تو سلامتی کونسل کی ہے کہ وہ ظلم کا راستہ روکے، ظالم کا ہاتھ روکے، اور وہاں انسانیت خطرے میں ہے ان کو بچانے کے لیے اقدام کرے، لیکن سلامتی کونسل کو ویٹو (veto) نے معذور بنا دیا ہے، معطل کر دیا ہے اس کو، وہ کام نہیں کر سکتی، لیکن ہمارے پاس طاقت ہے، ہمارے پاس اختیار ہے، ہم لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، وہاں اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے، ہم یہ ظلم دیکھتے ہوئے کیوں منہ دوسری طرف پھیر لیں، بلکہ ہم جا کر ظالم کا ہاتھ روکیں گے۔

اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ماضی قریب میں ملتی ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک اور نظریے کو آپ ملا کر اس پر غور کریں۔ اس نظریے کو کہا جاتا ہے responsibility to protect  یعنی ایک وہ دور تھا جب ریاست کی ساورنٹی کو، اس کی خودمختاری کو، اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو اس زاویے سے دیکھا جاتا تھا کہ ریاست کو اپنے لوگوں پر اپنے علاقے پر مکمل اختیار حاصل ہے، کوئی اور اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔ لیکن پچھلے سو سوا سو سال میں جس طرح بین الاقوامی قانون میں ڈیویلپمنٹ ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں اب ریاست کی ساورنٹی کو اس کی ذمہ داری قرار دیا جاتا ہے، کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں اور وہاں موجود لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اب اگر کوئی ریاست اس ذمہ داری  کو پوری نہیں کر رہی بلکہ الٹا وہ وہاں اپنے علاقے میں یا مقبوضہ علاقے میں لوگوں پر ظلم کر رہی ہے، تو جو بڑی طاقتیں ہیں، اصولاً‌ تو چاہیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاروائی کرے، لیکن اس کو روک دیا گیا ہے اور وہ بالکل paralyze  ہو کر رہ گئی ہے، تو ایسی صورت میں وہ بڑی طاقتیں جو طاقت بھی رکھتی ہیں، وسائل بھی رکھتی ہیں، جو ظالم کا ہاتھ روک بھی سکتی ہیں، وہ یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے آگے بڑھیں، humanitarian intervention کو responsibility to protect کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو جو ریاستیں یہ ذمہ داری پوری کر سکتی ہیں وہ آ کر یہ ذمہ داری اٹھائیں۔  

یعنی ایک تو میں نے یہ کہا کہ protection of interests abroad اس کے ساتھ آپ humanitarian intervention  اور responsibility to protect کو بھی ملا سکتے ہیں۔ اس پر بھی یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ تو بڑی طاقتوں کے چونچلے ہیں یا نخرے ہیں اور وہ یہ نخرہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس طاقت ہے اور طاقت خود اپنے لیے دلیل ہوتی ہے، اور ہمارے خلاف تو پوری دنیا کھڑی ہو جائے گی۔ تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ظاہر ہے انٹرنیشنل پالیٹکس کوئی اتنی آسان چیز نہیں ہے، سادہ چیز نہیں ہے کہ آپ یا اِدھر ہوتے ہیں یا اُدھر ہوتے ہیں، اس میں کئی امکانات ہیں، اور آپ ایسا کرنے کا سوچیں یا اعلان کریں یا اس کی پلاننگ کریں تو ظاہر ہے equation اچانک تبدیل ہو جاتی ہے اور بہت سارے امکانات مزید بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر اس بات کو جوں کا توں ہم لے لیں تو ایک اور امکان موجود ہے جو باقاعدہ قانونی امکان ہے اور موجودہ معاصر بین الاقوامی قانونی نظام میں بھی اس کی گنجائش ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی اس کی تصریح موجود ہے،  اس کو کہا جاتا ہے ’’اجتماعی حقِ دفاع‘‘ right to collective self defense  ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر سیون کا میں نے حوالہ دیا تھا کہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے جارح  ریاست کو روکنے کی، لیکن جس ریاست پر حملہ ہوا ہو   اس کو دفاع کا حق حاصل ہے۔ اور جس آرٹیکل کے تحت اقوام متحدہ کے چارٹر میں اس کے لیے دفاع کا حق تسلیم کیا گیا ہے، آرٹیکل 51، دفعہ اکیاون، اس میں یہ بھی صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ ریاست تنہا بھی اپنا دفاع کر سکتی ہے اور کئی ریاستیں مل کر بھی حقِ دفاع مشترکہ طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ اور اس کی ایک بڑی مثال نیٹو  NATO کی تنظیم ہے North Atlantic Treaty Organization کی تنظیم جو ’’معاہدہ  شمالی اوقیانوس‘‘ کے تحت وجود میں آئی، یورپ میں کمیونزم کو روکنے کے لیے امریکہ نے یہ تنظیم کھڑی کی۔ اور اس تنظیم کے معاہدے میں یہ طے پایا کہ کسی ایک ریاست پر حملہ ہو تو  وہ سب پر حملہ تصور ہو گا۔ اسی طرح روس نے مشرقی یورپ میں اپنے اتحادیوں کو ملا کر ’’وارسا معاہدے‘‘ Warsaw Pact کے تحت ایک تنظیم بنائی۔ اس طرح امریکہ نے اور بھی تنظیمیں بنائیں CENTO اور SEATO کے نام سے۔ 

 تو اس طرح مشترکہ دفاعی معاہدے کیے جا سکتے ہیں اور کسی ایک ریاست پر حملہ پھر اس معاہدے میں شامل تمام ریاستوں پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اور جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا فیصلہ ہے Nicaragua vs US  اس میں بھی اور دیگر مقدمات میں بھی یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر ہر ریاست پر الگ الگ حملہ ہو، بلکہ اس معاہدے میں جو ریاستیں شامل ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی حملہ ہو تو باقی ریاستیں حقِ دفاع  کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ 

اس لیے سب سے بہتر آپشن تو میرے نزدیک یہی مسلمان ریاستیں آپس میں اجتماعی دفاع کا معاہدہ کریں اور پھر اس میں خصوصی طور پر بیت المقدس اور القدس کی مرکزی  حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ قرار دیں کہ اس پر حملہ سب پر حملہ تصور ہو گا اور اس کا دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ دینی لحاظ سے بہت بڑا اہم فریضہ ہے اور اس فریضے کے لیے بین الاقوامی قانون  میں یہ طریقہ ہے معاہدات کا۔ اگرچہ معاہدے کی عدم موجودگی میں بھی ہم پر یہ ذمہ داری ہے کیونکہ القدس ہمارا ہے، بیت المقدس ہمارا ہے، اور ان پر حملہ ہم پر حملہ ہے، چاہے ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ اس نوعیت کا ہو یا نہ ہو۔ لیکن معاصر بین الاقوامی نظام کی پیچیدگیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے بہتر یہ ہو گا کہ ہم آپس میں اس طرح کا معاہدہ بھی کر لیں۔ 

اس کے علاوہ بھی بہت سارے آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ایک اہم آپشن بین الاقوامی فوجداری عدالت کو استعمال کرنے کا ہے International Criminal Court جو  1998ء میں ایک معاہدے کے تحت وجود میں آئی، 2002ء سے اس نے کام شروع کیا ہے۔ اس بین الاقوامی فوجداری عدالت میں آپ کسی مخصوص فرد کے خلاف جنگی جرائم اور دیگر جرائم کے  تحت مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ مقدمہ دائر کرنے کے لیے تین طریقے ہیں:

(۱)  یا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کسی بندے کے خلاف اس عدالت کو شکایت بھیج دے۔ ظاہر ہے سلامتی کونسل تو یہ نہیں کرنے والی۔ 

(۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ ریاستیں جنہوں نے اس عدالت کے منشور پر دستخط کیے ہیں اور اس کی توثیق کی ہوئی ہے، ان میں سے کوئی ریاست مقدمہ لے آئے کسی فرد کے خلاف، مثال کے طور پر کسی اسرائیلی کمانڈر کے خلاف یا وزیر اعظم کے خلاف کہ اس نے اتنا بڑا جرم کیا ہے، انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں، یہ جو بچوں کا قتلِ عام ہے، یہ جو شہریوں پر مسلسل حملے ہیں، یہ جو مسلسل ظلم ہے۔ تو کوئی ریاست جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور پر دستخط کیے ہوں، اس کی توثیق کی ہوئی ہو، وہ اس کے خلاف مقدمہ لائے۔ اس کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور چاہے مقدمہ منطقی انجام تک نہ پہنچے یا اسے پہنچنے میں کئی سال لگ جائیں لیکن یہ مقدمہ اگر دائر ہو جائے تو اس کے اثرات بہت دوررس ہو سکتے ہیں۔  اور اہم بات یہ ہے کہ فلسطین سمیت کئی مسلمان ریاستیں اس وقت ایسی ہیں جنہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور پر دستخط بھی کیے ہیں، اس کی توثیق بھی کی ہوئی ہے، جیسے افغانستان ہے، بنگلہ دیش ہے، بوسنیا ہے، اور بھی ہیں، فلسطین بھی اس میں شامل ہے۔ تو اگر اس طرح کا مقدمہ آجائے تو ظاہر ہے اس کا بھی اپنا بہت بڑا اثر ہو سکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ بھی بہت سارے امکانات ہیں لیکن میں نے یہ چند امکانات آپ کے سامنے رکھنے اس لیے ضروری سمجھے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ بین الاقوامی قانون کی وجہ سے ہمارے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں اور ہم کچھ کر نہیں سکتے۔ ایک آخری بات میں عرض کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا،  ہم مسلمان ریاستوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم بجائے اس کے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو درخواست کریں یا جنرل اسمبلی میں جا کر وہاں درخواست کریں، یا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے درخواست کریں، کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ خود ہم نے اس طرح کی عدالت بنائی ہوئی ہوتی، یا اگر اب تک نہیں بنائی تو اب بنائیں، یا اس طرح کا فورم ہم نے پہلے نہیں بنایا تو اب بنائیں، جس کی طرف ہم اس طرح کے مقدمات بھیج سکیں، اور اس طرح کے مسائل ان فورمز پر اٹھا سکیں۔  Organization of Islamic Cooperation کو ہم نے بالکل عضوِ معطل بنا دیا ہے، اگر وہ کام نہیں کر رہی تو ہمیں متبادل کوئی نظام کھڑا کرنے کی طرف کیوں نہیں سوچنا چاہیے، یہ بھی دیکھیے کہ یہ جو تنظیم بنی تھی یہ بھی مسجدِ اقصیٰ پر حملے کے نتیجے میں بنی تھی۔ تو کیا پتہ یہ جو اس وقت ظلم ہو رہا ہے، اس کے نتیجے میں ہم کچھ اور کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ 

(۳) اور ایک آخری بات جو میں کرنا بھول گیا تھا، ابھی یاد آ گئی ہے، اس کو میں پورا کروں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ اگر ریاستیں بھی وہاں مقدمہ نہیں لا رہیں تب بھی یہ ہو سکتا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا جو پراسیکیوٹر ہے، اگر اس کے پاس اتنے شواہد آجائیں، اتنی شکایتیں آجائیں، اتنا مواد آجائے کہ وہ مجبور ہو جائے کہ ہاں اس بندے کے خلاف تو بہت زیادہ مواد آگیا ہے، اس پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے، تو یہ ہم میں سے ہر فرد کر سکتا ہے۔ جس کے پاس شواہد موجود ہیں، بچوں پر حملوں کے  اور اس طرح عام شہریوں پر حملوں کے  اور دیگر مظالم کے، وہ ان کے شواہد اکٹھے کر کے، شکایات اکٹھی کر کے، باقاعدہ ہم ICC  انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر کے آفس کو، یو کہیں، شکایات سے اور شواہد سے بھر دیں، تو وہ مجبور ہو کر بھی مقدمہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بات میں نے اس لیے کی کہ ہم جیسے افراد جو انفرادی سطح پر کڑھتے ہیں دل میں اور سوچتے ہیں کہ ہم کچھ کر نہیں سکتے، تو کرنے کے ہمارے پاس بھی بہت سارے آپشنز ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف فورمز بھی اویلیبل ہیں، ان کی اپنی رسٹرکشنز بھی ہیں لیکن امکانات بھی ہیں۔ تو بندہ سوچنے پہ آئے تو اللہ تعالیٰ  بھی مزید راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 

youtube.com/watch?v=zvIpssf-U1c

اقوامِ متحدہ سے پہلے اور بعد کا عالمی نظام

ہمارے علمی حلقوں میں اس سوال پر شاید ہی کہیں بحث ہوتی ہو کہ جب مسلمانوں نے خلافت کا نظام قائم کیا تھا، تو وہ نظام کیسے کام کرتا تھا۔ مثلاً جب دور دراز علاقوں کے حکمران بغداد کے خلیفہ سے سند لیتے تھے اور جمعہ و عیدین کے خطبوں میں خلیفہ کا نام لیتے تھے، تو ان علاقوں کے حکمرانوں اور بغداد میں موجود خلیفہ کے تعلق کی آئینی و قانونی حیثیت کیا تھی؟ اس پہلو پر بھی شاید ہی کہیں گفتگو ہو کہ ’قرونِ وسطیٰ‘ میں یورپ میں جو نظام لایا گیا، اس میں دراصل اس نظام کی نقل کی کوشش کی گئی تھی۔

معلوم امر ہے کہ رومی سلطنت پانچویں صدی عیسوی میں تقسیم ہو گئی تھی اور رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں ساتویں صدی عیسوی میں مشرقی رومی سلطنت، جسے بازنطینی سلطنت کہا جاتا تھا، کا مسلمانوں کے ساتھ ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں کئی ایسے علاقے جو پہلے بازنطینی سلطنت کے حصہ تھے، مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگئے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم شام و فلسطین کے علاقے تھے۔ مغربی روم کی حالت زیادہ بری تھی۔ خانہ جنگیوں اور اختلافات کے طویل سلسلے کے بعد بالآخر 25 دسمبر 800ء کو رومن کیتھولک چرچ اور مغربی یورپ کے سیاسی اشرافیہ نے مل کر ’مقدس رومی سلطنت‘ (Holy Roman Empire) کی بنیاد رکھی اور شارلیماں کو اس کا پہلا بادشاہ مانا گیا جو عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا ہم عصر تھا ۔ اگر کسی کو مسلمانوں کے عالمی خلافت کے نظام کے متعلق تفصیلات چاہئیں اور متعلقہ مصادر تک رسائی نہ ہو تو وہ کم از کم اس مقدس رومی سلطنت کی تاریخ پڑھ سکتا اور اس کے نظام کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ اس سلطنت اور مسلمانوں کی خلافت میں کئی جوہری فروق بھی تھے لیکن اپنی اساس میں اس کا سیاسی نظام دراصل خلافت کی نقل پر مبنی تھا۔

نقل بہرحال بمطابقِ اصل نہیں تھی اور اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ مسلمانوں کے ہاں فقہاے کرام کی کاوشوں سے قانون کا تفصیلی ڈھانچہ مرتب ہو چکا تھا اور فقہی مذاہب نے تنازعات کے فیصلوں کو نہایت آسان کردیا تھا۔ چنانچہ نکاح، طلاق اور میراث سے لے کر تجارت اور معیشت کے پیچیدہ مسائل تک بالعموم لوگوں کو مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور خواہ کوئی شخص فارس سے عرب آیا ہو، یا عرب سے ترکستان گیا ہو، قانونی نظام میں اسے وہی سہولت حاصل تھی جو اسے اپنے مقامی علاقے میں میسر تھی۔ یہ مسلمانوں کے ’بین الاقوامی نجی قانون‘ (private international law) کا کمال تھا ۔ مقدس رومی سلطنت میں اس سہولت کی عدم موجودگی بہت بڑا مسئلہ تھی۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد اور اس کے مختلف عناصر کے باہم دست و گریباں ہونے اور نتیجتاً سارا نظام درہم برہم کرنے کے بعد سترھویں صدی عیسوی میں یورپ نے اس نظام کو ’معاہدۂ ویسٹ فالیہ‘ کے ذریعے تبدیل کیا ۔ اس معاہدے کی رو سے مقدس رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا اور اس کی مختلف اکائیوں کو مستقل ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اسی کو جدید ’قومی ریاست‘ کے نظام کا آغاز سمجھا جاتا ہے ۔

اس معاہدے کی رو سے جو خود مختار ریاستیں یورپ میں وجود میں آگئیں، ان کے اوپر کوئی بالادست طاقت موجود نہیں تھی۔ تاہم معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ کوئی بھی ریاست اس نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی تو دیگر ریاستیں مل کر اس کے خلاف کارروائی کریں گی۔ البتہ عملاً ’اپنی مدد آپ‘ کا اصول نافذ ہوگیا۔

بیسویں صدی کی ابتدا میں ایک نئے نظام کی تشکیل کے لیے پہلی کوشش ’مجلسِ اقوام‘ کی صورت میں کی گئی لیکن اس کی ناکامی کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر ’اقوامِ متحدہ کی تنظیم‘ وجود میں لائی گئی اور اس کی ’سلامتی کونسل‘ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی ایسی ریاست کے خلاف فوجی اقدام کرے جس سے ’عالمی امن کو نقصان کا خطرہ‘ ہو ۔ اس کونسل میں پانچ ریاستوں کو ، جو دوسری جنگِ عظیم میں فاتح تھیں، مستقل رکنیت دی گئی اور انھیں ’نہ‘ کہنے کا حق بھی دیا گیا۔ اس نظام نے تین صدیوں قبل کے ’ویسٹ فالیہ نظام‘ کی جگہ لے لی۔

بیسویں صدی کی ابتدا میں اوپن ہائم نے بین الاقوامی قانون پر اپنی کتاب میں لکھا کہ اس قانون کا اطلاق صرف ’یورپی مسیحی اقوام‘ پر ہوتا ہے۔ امریکا کو اس نے مسیحی یورپ کی وسعت قرار دیا ۔ ایتھوپیا ، گو مسیحی ریاست تھی ، لیکن اوپن ہائم کے مطابق ابھی وہ تہذیب کی اس سطح تک نہیں پہنچی تھی کہ اسے مہذب اقوم کے ساتھ بیٹھنے کا حق ملتا! اس نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر بین الاقوامی معاہدات یا رواج میں کسی مسئلے کے بارے میں رہنمائی نہ ملے ، تو اس خلا کو ’مسیحی اخلاقیات‘ کے اصولوں سے پر کیا جائے گا۔ غیر مسیحی اور غیر یورپی اقوام تک اس نظام کی توسیع کے لیے اوپن ہائم نے تین شرائط بیان کیں: 

(۱) وہ قوم تہذیب کی ایک خاص سطح تک پہنچی ہوئی ہو؛ 

(۲) وہ قوم اس نظام میں آنے سے قبل اس کی شرائط تسلیم کر کے خود پر اس کے قانون کی پابندی لازم کرے؛ اور 

(۳) اس نظام میں پہلے سے موجود اقوام بھی اس نئی قوم کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر راضی ہو۔ 

یہ شرائط بین الاقوامی قانون میں اس تصور کی بنیاد بن گئیں جنھیں ’کسی ریاست کو تسلیم کرنا‘ کہا جاتا ہے۔ بعد میں اگر کسی قوم کو تسلیم کرنے کے متعلق اس نظام میں پہلے سے موجود اقوام کے درمیان اختلاف ہوا، تو تسلیم کرنے کی دو قسمیں مان لی گئیں: کسی ریاست کا وجود بطور امر واقعہ تسلیم کرنا (de facto recognition) اور کسی ریاست کے وجود کو قانوناً بھی جائز تسلیم کرنا (de jure recognition)۔ بعض اوقات یہ بھی ہوا کہ ریاست تو تسلیم شدہ ہے لیکن وہاں کی حکومت کو ناجائز مانا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد ریاستوں نے اس کی رکنیت ضروری سمجھی۔ سویٹزرلینڈ بعض مخصوص قانونی اور تاریخی وجوہات کی بنا پر اس کی رکنیت سے گریز کرتا رہا لیکن آخرکار وہ بھی اس کا رکن بن گیا ۔ اب اقوامِ متحدہ کی رکنیت ایک طرح سے ’تسلیم کیے جانے‘ کی علامت ہوتی ہے، اگرچہ اس کے بعض ارکان نے ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کیا۔ یہاں ٹھہر کر دو سوالات پر غور کی ضرورت ہے: ایک یہ کہ کیا اس تسلیم کیے جانے ، یا اقوام متحدہ کا رکن بننے ، میں آپ کو اس ’سند‘ سے مشابہت نظر آتی ہے جو بغداد کا خلیفہ، مثال کے طور پر، دہلی کے سلطان کو دیتا تھا؟ دوسرا یہ کہ خلافت کے عالمی نظام میں خلیفہ کی جو حیثیت تھی، کیا بیسویں صدی کے عالمی نظام میں میں وہ حیثیت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی؟

سوویت یونین کے بکھر جانے، نائن الیون کے بعد کی دنیا اور انٹرنیٹ کے انقلاب کے بعد اقوامِ متحدہ تقریباً غیر متعلق ہوگئی ہے۔ قومی ریاستوں کا دور ختم ہو رہا ہے اور دنیا نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ہمارے دانشور ابھی تک قومی ریاست کے تصور میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔

(روزنامہ ۹۲ نیوز، ۲۸ مارچ ۲۰۲۵ء)


عالمی اداروں کا سقوط، کثیر قطبی دنیا کا ظہور اور اسرائیل کی داداگیری

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

جنگِ عظیم ثانی کے بعد جو عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر یا جس کو امریکی Rule-based order کہتے ہیں) وجود میں آیا، اُس میں پانچ بڑوں کے ہاتھوں میں گویا دنیا کے باقی ممالک کی قسمت دے دی گئی۔ یہ ممالک تھے: امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین۔ ان میں چین کو چھوڑ کر بقیہ چار اِس جنگ کے فاتحین تھے۔

برطانیہ نے اپنے مقبوضات میں غیر منصفانہ تصفیے کیے جس میں تقسیمِ ہند کے علاوہ فلسطین کی تقسیم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعہ کروا کر اسرائیل کی ایک ناجائز ریاست مشرقِ وسطیٰ میں بنا دی، اور یوں نہ صرف مغربی سامراج کی ایک چوکی قائم کر دی بلکہ اُس کے ذریعہ اِس خطہ میں ایک مسلسل نزاع کی بنیاد رکھ دی۔ برطانیہ عظمیٰ کا زوال ہوا اور اُس کی جگہ بتدریج امریکہ نے لے لی۔ امریکہ سرمایہ دارانہ قوتوں کا بڑا نمائندہ بن کر سامنے آیا جس کا مقابلہ سوویت روس کر رہا تھا اور اس بلاک کے ساتھ بھی یوروپ و ایشیا کے بہت سے ممالک آگئے۔ لیکن دنیا کے بعض ممالک نے ان دونوں بلاکوں کے ساتھ چلنا پسند نہیں کیا اور ناوابستہ ممالک کی تنظیم وجود میں آئی جس میں کبھی ہندوستان کے وزیراعظم جواہرلال نہرو اور مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔

امریکہ سپر پاور بنا اور جلد ہی اس نے برطانیہ عظمیٰ کی جگہ لے لی۔ یعنی وہ امریکی صہیونی لابی (AIPAC امیرکن اسرائیلی پبلک افیئرس کمیٹی، ماونٹ ورنن، واشنگٹن، ڈی سی) اور ورلڈ جیوز کانگریس کے زیر اثر ایک صہیونی مقتدرہ بن گیا۔ اِس لابی کی جڑیں امریکی ثقافت، تعلیمی اداروں، بزنس و تجارت، میڈیا، سیاست اور امریکی اسلحہ مارکیٹ میں اتنی دور تک اور اتنی گہرائی سے پیوست ہیں کہ اِس کے بغیر کوئی امریکی حکومت نہ بن سکتی ہے اور نہ ہی چل سکتی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اِس کی جڑیں بیک وقت دو بڑی سیاسی پارٹیوں رپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں میں ہیں۔ اور جو امریکی سیاست داں اس کے چنگل سے نکلنا چاہتا ہے یا اس کے خلاف جانے کی ہمت کر پاتا ہے اُس کا سیاسی کیریر ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اس کی عبرت انگیز کہانی سابق امریکی سینیٹر پال فنڈلے کی کتاب They Dare to Speak میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔ صہیونی لابی کے زیر اثر موجودہ امریکی سیاسی نظام پر صیہونی ایسے مسلط ہیں کہ چاہے ڈیموکریٹ برسر اقتدار آئیں یا رپبلکن، اسرائیل امریکہ سے جو چاہتا ہے وہ منوا لیتا ہے۔ چنانچہ جوبائڈن نے خود اپنے صہیونی ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اُس کا وزیرخارجہ بلنکن یہودی تھا، اُس کا وزیردفاع بھی صیہونی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جوبائڈن کی حکومت نے غزہ کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرانے میں اپنا پورا حصہ ڈال دیا۔

اس کے بعد ٹرمپ حکومت میں آتے ہیں اور نہلے پر دہلا رکھ دیتے ہیں کہ غزہ کو پوری طرح فلسطینیوں سے خالی کرا کر وہاں ایک ساحلی تفریح گاہ (Riviera) بنانے کا ظالمانہ و سفاکانہ منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔ شخصی طور پر ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کوئی نظریاتی کمٹمنٹ صہیونیت کے لیے نہ رکھتے ہوں مگر اُن کی ٹیم پوری طرح ایپیک کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔1

ٹرمپ چونکہ ایک نرگسی شاہانہ مزاج رکھتے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ وہ سفاکیت کے پتلے نتن یاہو کو اُس کی اوقات میں رکھیں، مگر ان کی ٹیم کام وہی کر رہی ہے اور کرے گی جو بہرطور اسرائیل کے حق میں ہو گا۔ امریکی ماہر معاشیات پروفیسر جیفری شاس یہی کہتے ہیں۔2

ظلم و جبر، رعونت، عیاری اور سوداگری جب جمع ہو جائیں تو وہاں عقل و منطق کام نہیں کرتی۔ یہ آمرِ مطلق جب کہتا ہے کہ غزہ اب ایک ڈیمولیشن سائٹ بن گیا ہے اور رہنے کے قابل نہیں رہ گیا تو کوئی اُس کو بتانے والا نہیں کہ جناب والا آپ ہی نے تو ایسا کرایا ہے۔ دس ہزار ملین ڈالر کے بم آپ نے ہی تو اسرائیل کو فراہم کیے جس نے ان کا بے دریغ استعمال کر کے آج غزہ کو قبرستان میں بدل دیا ہے۔ پریزیڈنٹ یوکرین زیلنسکی اپنے آپ میں کیسا ہی آدمی ہو اُس نے کم از کم ’بادشاہ کو ننگا‘ بتانے کی جرأت تو دکھائی۔ خلیج کے مالدار عرب جاگیردار تو ٹرمپ کے ایک اشارہ پر ہزاروں ٹریلین ڈالرز امریکہ میں انویسٹ کرنے کی دوڑ میں لگ گئے ؏

حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے

اب صدر ٹرمپ نے پہ در پہ دنیا کے بہت سے ملکوں پر ٹریڈ ٹیرف لگا دیے ہیں اور ایک نئی سرد جنگ چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا خیال یہ ہے کہ دنیا امریکی دولت کا استحصال کرتی آئی ہے، یوروپ نے اور دوسرے ملکوں نے امریکی دولت اور مراعات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے جس کی وجہ سے خود امریکیوں کی نوکریاں، مواقع اور مراعات خطرہ میں پڑ گئے ہیں۔ اس لیے معاملہ ریورس کر کے اب دنیا کے ان ملکوں کو بھی امریکہ کو کچھ دینا چاہیے۔

یہ تاریخ کا پہیہ الٹا چلانے کے مترادف ہے۔ امریکہ کے سسٹم کو گھن لگ چکا ہے، ملمع کاری سے اس کا کوئی مداوا نہیں ہو سکے گا۔ کٹی ناک کی پلاسٹک سرجری سے اصل خوبصورتی واپس نہیں ملا کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ مقروض ملک ہے، ڈالرکی داداگیری (Bretton Woods) سے اس معیشت کو سہارا دے کر رکھا گیا تھا۔ مگر اب چین امریکہ کا سب سے بڑا معاشی مد مقابل بن کر کھڑا ہو گیا ہے، اور نئی کرنسیاں ڈالر کی جگہ لے لیں گی۔

بائڈن انتظامیہ کا خیال تھا کہ روس مغرب کے لیے بڑا خطرہ ہے، یوروپ میں بھی ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جغرافیائی طور پر یوروپ و ایشیا دونوں کا حصہ ہوتے ہوئے بھی روس آرتھوڈکس مسیحیت کا نمائندہ ہونے کی بنیاد پر مذہبی و فکری طور پر کبھی بھی بازنطینی یوروپ کا حصہ نہیں بن پایا۔ بیسویں صدی کی شروعات میں زار ملوکیت کے بندے تھے، مغرب میں لبرل جمہوریت کی لہر آرہی تھی، پھر زار کے سقوط کے بعد روس بڑی تیزی سے کیمونزم کی گود میں جا گرا اور سرمایہ دار مغرب نے اس کو نظری طور پر اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر اس سے جنگ چھیڑ دی۔ مغربی کیپیٹل ازم نے افغان جہاد کا استحصال کر کے کیمیونزم کو شکست دے دی اور سوویت روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد روس پھر اٹھ کھڑا ہوا، اب اس میں اور مغرب میں دوبارہ مفادات کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس لڑائی میں روس کو مردِ آہن ولادمیر پیوتن کی مدبرانہ قیادت حاصل ہے جبکہ یوروپ قیادت کے نام پر بانجھ ہو چکا ہے کہ وہ چھ دہائیوں سے امریکہ کے پیچھے چلتا آیا ہے۔ بائڈن نے ناٹو کے ذریعہ روس کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی تو روس نے یوکرین پر حملہ کر کے ناٹو کو روک لیا۔

مگر اب ٹرمپ نے یوروپ کے اِس گیم کو پلٹ دیا ہے، اُس کی ڈاکٹرین یہ ہے کہ روس مغرب کا دشمن نہیں بلکہ بڑا چیلنج چین ہے۔ چین معیشت میں، AI ٹیکنالوجی میں اور سفارت کاری میں امریکہ کو ٹکر دے رہا ہے۔ آج افریقہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں چین کے سفارتی اور تجارتی اثرات بڑھ رہے ہیں، چین اور روس کا بھی اتحاد مضبوط ہے جس میں صدر ٹرمپ سیندھ لگانا چاہتے ہیں۔

اس جنگ میں یوکرین مغرب اور امریکہ پر اندھا دھند بھروسہ کرنے کی قیمت ادا کر چکا ہے۔ سوویت روس کے بکھر جانے کے بعد یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ رہ گیا تھا، امریکہ اور مغرب نے اس کو سمجھایا اور یقین دہانی کروائی کہ تمہیں کسی سے خطرہ ہو گا تو ہم تمہارے تحفظ کی گارنٹی دیتے ہیں، اپنا ایٹمی ذخیرہ ہمارے حوالہ کردو۔ اُس نے کر دیا اور اب نتیجہ یہ کہ یوکرین کے بڑے حصہ پر روس قابض ہو چکا ہے۔ امریکہ اس کو بے یارومددگار چھوڑ کر محاذ سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور یوروپ میں اتنی سکت نہیں کہ وہ بغیر امریکہ کے روس کا مقابلہ کر لے۔ اور اسی سے سبق لے کر ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

بہرحال ٹرمپ کی ٹریڈوار سے دنیا میں جو معاشی بھونچال آرہا ہے، ڈالر کی قیمت گر رہی ہے، اسٹاک مارکیٹ کا گراف نیچے آرہا ہے، امریکہ اور دوسری جگہوں پر معاشی مندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، چین پوری طرح مقابلہ میں اترچکا ہے، امریکہ کے روایتی حلیف کناڈا، فرانس اور یوروپی یونین وغیرہ بھی ٹیرف کا جواب دینے کے لیے تیاری میں ہیں۔ اس سے عالمی طور پر نئی صف بندیاں ظہور میں آئیں گی اور امریکی یونی پولر ورلڈ (یک قطبی دنیا) کا خاتمہ ہوگا۔

اب دنیا میں نیا سیاسی سیناریو یہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے کہ ترکی بلقان کے خطہ میں ایک پاور رہے گا، ناٹو کا حجم کم ہو گا اور اس کا دائرہ سکڑ جائے گا، چین اور روس کا اتحاد مزید قوت حاصل کرے گا، مشرقِ وسطی میں اسرائیل اب پہلے سے کہیں زیادہ بالادست قوت بن چکا ہے۔ اب وہ لبنان، سیریا میں مزید علاقے ہڑپ کر چکا ہے جبکہ گولان کی اونچائیوں کو وہ پہلے ہی اسرائیل میں ضم کر چکا ہے، مغربی کنارہ میں بھی توسیع کر رہا ہے۔ بظاہر وہ اپنی جگہ رہے گا کیونکہ عرب ملکوں کی بزدلی اور حماقت سے ایران نے جو مزاحمت کا محور کھڑا کیا تھا وہ اب بہت کمزور ہو چکا ہے۔ ایران کے لیے فی الحال survive کر جانا ہی بنیادی مسئلہ ہے، اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرنے میں اس کو دیر لگے گی۔

عقل و منطق کے لحاظ سے بھی ٹرمپ کی بُدھی پھِری ہوئی ہے، اُن کو سفارتی آداب کی بھی کوئی سمجھ نہیں۔ پہلے اُس نے ایران کو چاروں طرف سے B-2 بمبار طیاروں اور ہنری ٹرومین جیسے جنگی جہاز بردار بیڑوں سے گھیر لیا، اُس کے بعد ایران کو کہہ رہا ہے کہ آؤ ہمارے ساتھ ہماری شرائط پر بات کرو۔ اس محاذ پر سعودی عرب، روس اور چین کی ایران کو حمایت اور بولڈ ڈپلومیسی ہی اس کو بچا سکتی ہے، ورنہ اسرائیل تو اس کی نیوکلیر صلاحیت برباد کرنے پر بالکل تلا ہوا ہے۔

اسرائیل نے غزہ، مغربی کنارہ اور لبنان و شام میں سب کو برباد کر ڈالا ہے۔ امریکہ کی زبردست معاشی و فوجی امداد نے اُس کو خطہ میں سب سے بڑی پاور بنا دیا ہے۔ترکی اس کو روک سکتا تھا مگر وہ صرف زبانی جمع خرچ کرتا رہا، غزہ کو تو چھوڑیے شام میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی وہ لفظی گولہ باری سے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل شام پر سینکڑوں فضائی حملے کر کے اس کو دہائیوں پیچھے پہنچا چکا ہے۔ شام و ترکی کو اپنے دفاع میں فوجی قوت سے جواب دینا تھا جو اُن سے اب تک نہیں ہو پایا ہے۔ سب امریکہ و اسرائیل کی دھمکیوں سے خوف زدہ ہیں۔ ترکی نے عملاًً‌ کچھ نہیں کیا یہاں تک کہ اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات بھی نہیں توڑے۔ اسی طرح مصر، اردن اور متحدہ عرب امارا ت اور بحرین نے بھی۔ حالانکہ ان ممالک کو اسرائیل سے کچھ ملنے والا نہیں مگر کرسی چلے جانے کا خطرہ ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر نے اپنے ممالک میں امریکی فوجیوں کو خود ہی بٹھا رکھا ہے۔ ایسے میں یمن کی پامردی لائقِ صد ستائش ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ نتن یاہو کو داخلی طور پر جو بھی چیلنج ہوں، خارجی طور پر اب اس کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، خطہ میں وہ سب کو کاٹ کھانے کے لیے دوڑتا ہے اور سبھی ملک اُس سے بری طرح ڈرے ہوئے ہیں۔ اسلام پسند میڈیا نے یہ پروپیگنڈا کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ اسرائیل کو شکست ہوئی اور حماس کو فتح مبین۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل نے اپنے جنگی مقاصد حاصل نہیں کیے یعنی حماس کا خاتمہ اور اپنے قیدیوں کو چھڑانا وغیرہ۔ مگر یہ صرف الٹی منطق ہے، پورے خطہ پر اسرائیل کی وحشیانہ کشت و خون کی دہشت بیٹھ گئی ہے۔ حزب اللہ اور حماس کی کمر اس نے توڑ دی ہے، دونوں کی ٹاپ قیادت کو ختم کر دیا ہے اور اب عسکری قوت بھی بس دکھانے کی رہ گئی ہے، جوابی کاروائیوں کی سکت اب ان میں نہیں ہے۔ اسرائیل نے یہ جنگ AI اور ائرفورس سے لڑی ہے جس کا کوئی توڑ سارے عرب ممالک کے پاس بھی کچھ نہیں ہے۔ رہ گئے حماس کے پاس اسرائیلی یرغمالی تو وہ اس کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ اور حماس کے خاتمہ سے بھی بڑھ کر اُس نے غزہ ہی کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب امریکہ کے تعاون سے عملاً فلسطینیوں کا وہاں سے انخلا شروع کروایا جا چکا ہے جس کی پہلی کھیپ انڈونیشیا جا چکی ہے۔ غالباً مصر اور اردن خفیہ طور پر امریکہ سے اس ڈیل میں شامل ہو چکے ہیں، اور جن لوگوں سے اس کی شدید مخالفت کا اندیشہ تھا وہ مصر میں تو پہلے ہی سے کالعدم ہیں اور اب اردن میں بھی ان پر پابندی کی تیاری ہو رہی ہے۔

عالمی اداروں کا سقوط

جیسا کہ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ موجودہ سیاسی دنیا جنگِ عظیم دوم کے فاتحین کی دنیا ہے، ان فاتحین نے ہی اقوام متحدہ کو کھڑا کر کے اپنے بنائے ہوئے نظام کو حتمی شکل دی۔ اقوام متحدہ کے تحت اور بہت سے سیاسی، ثقافتی، ماحولیاتی اور معاشی ادارے بنائے گئے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک قائم کیے گئے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں قائم کی گئیں۔ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) بنائی گئیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے اِن اداروں کے اخراجات امریکہ ہی پورے کرتا آیا ہے لہٰذا منطقی طور پر اقوام متحدہ اپنے تمام اداروں سمیت امریکہ کی دست نگر بن کر رہ گئی۔ خود امریکہ نے اپنے ہی بنائے ہوئے ہومین رائٹس اداروں کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے حق میں اس کا مسلسل ویٹو اس کو ننگِ اخلاقیات بنانے کے لیے کافی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اُس نے خود کو اور اسرائیل کو عالمی فوجداری عدالت اور عالمی اٹامک انرجی اور ماحولیات کے معاہدوں سے مستثنیٰ رکھا۔ الغرض اتنے سارے استثناءات کے ساتھ وہ دنیا کے پولیس مین کی طرح باقی دنیا سے معاملہ کرتا آیا ہے۔

البتہ بہت چھوٹی اقوام نے بھی جب جب راہِ عزیمت اختیار کی تو اُس کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ ویتنام، صومالیہ اور حال ہی میں افغانستان، تینوں جگہ اُس کی رُسوائی ہوئی، اسی طرح حوثیوں کا غریب اور تباہ حال یمن بھی اس کی ایک مثال ہے۔ اِس لیے یہ کہنا ہمارے خیال میں درست نہیں کہ امریکہ بہادر سے دنیا میں کوئی لڑ نہیں سکتا اور کوئی جیت نہیں سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اُس کے فوجی اڈے، بحری بیڑے اور ایٹمی ذخیرے اب اس کے لیے ہی بوجھ بن رہے ہیں۔ دنیا کے ملکوں میں اس کی مداخلتوں کا معاشی حجم اتنا بڑھ گیا ہے کہ ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اُسے مختلف کمپنیوں سے قرض لینے پڑ رہے ہیں جن میں چین کی کمپنیاں بھی ہیں۔

صدر ٹرمپ کی ٹیرف وار کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اس طرح امریکی اکانومی کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ گرتی معیشت کے ساتھ دنیا میں اس کی داداگیری کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ مگر ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ان کو معیشت کی کوئی سمجھ نہیں ہے اور آخری تجزیہ میں وہ اس کے معاشی زوال کا سبب بن کر رہ جائیں گے۔ جو لوگ ان کی ٹیم میں شامل ہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں، خود کوئی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان کے مقابلہ میں ولادمیر پوتن زیادہ شاطر کھلاڑی ہیں جو ابھی تک ٹرمپ کے بھلاؤں اور رجھاؤوں میں نہیں آئے ہیں اور یوکرین کو شکست دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ غریب یوکرین پس گیا ہے۔ ٹرمپ کی نگاہیں یوکرین کی معدنیات (Gas and minerals) پر ہیں جن پر زیلنسکی پر دباؤ ڈال کر معاہدہ کروایا جا رہا ہے۔ یوروپ والے اُس کو بچانا چاہتے ہیں مگر امریکہ کے بغیر روس کے آگے کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتے۔

دنیا میں کل بھی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس (Might is right) کا قانون چل رہا تھا، آج بھی وہی دنیا کی حقیقت ہے۔ سیکولر ویلوز، ہیومن رائٹس، روشن خیالی سب کھوکھلے نعرے ہیں۔ اسی لیے قرآن پاک نے انسانوں کی اس نفسیات کے مد نظر حکم دیا تھا کہ ’’واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ‘‘ ان کے مقابلہ میں جتنی قوت حاصل کر سکتے ہو کرو (انفال: ۶۰)۔

امریکہ اور مغرب کی جمہوریت نوازی اور حقوقِ انسانی کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ مغرب کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں اتنے بڑے بڑے مظاہرے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہوئے ہیں جن میں کروڑوں لوگ نکل کر آئے مگر ان ملکوں میں مسلط صہیونی ٹولوں نے اس رائے عامہ کی سِرے سے کوئی پرواہ ہی نہیں کی نہ ان کو کوئی اہمیت دی اور اسرائیل کی بے لگام اور اندھی حمایت جاری رکھی۔ لہٰذا جس قدر جلد امریکہ کو زوال ہو گا اُسی قدر دنیا کے دبے کچلے لوگوں کا بھلا ہو گا اور اسرائیل کو بھی نکیل ڈالی جا سکے گی۔ سردست تو ایسا بہت جلد ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب حکمران وسائل ہوتے ہوئے بھی بے حوصلہ اور بے تدبیر ہیں اور کوئی بھی عملی قدم اٹھانے کی صلاحیت سے یکسر عاری۔ ان کی کانفرنسیں اور بیانات بس عالمی برادری کی دہائی پر ختم ہو جاتے ہیں جس کا عنقاء کی طرح کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

امریکی زوال، نوم چامسکی کی نظر میں

نوم چامسکی موجودہ دور کے ایک اہم امریکی مفکر ہیں، ان کا اصل میدان تو لسانیات ہے لیکن انہوں نے موجودہ عالمی سیاست، معیشت اور نظامِ تہذیب کے سلسلہ میں بھی بڑا کام کیا ہے۔ حقیقی دانشوری کی عین روایت کے مطابق وہ سرمایہ دارانہ اور جابر نظامِ حاضر کے مخالف اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے شدید ناقد ہیں۔ اپنی گفتگوؤں، مذاکروں، انٹرویوز اور پبلک لیکچروں کے ذریعہ امریکہ اور مغرب کے عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوششوں میں ان کا اہم رول ہے۔ راقم سطور نے کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کتاب Understanding Power پڑھی تھی3۔ مناسب معلوم ہوا کہ اردو قارئین کو بھی اس فکر انگیز مطالعہ میں شریک کیا جائے اور مصنف کے بعض اہم خیالات و تصورات کی اپنے الفاظ میں تلخیص کر دی جائے۔ اسی احساس کی بنیاد پر آئیندہ سطور میں ان کے بعض نکات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ یہ خیالات اب سے تین دہائیوں قبل ظاہر کیے گئے تھے۔

امریکہ اور یوروپ کا اتحاد و اختلاف

موجودہ صورت حال میں امریکہ اور یوروپ کے درمیان بھی واضح اختلافات اور ٹریڈوار کے امکانات نظر آرہے ہیں، چامسکی نے اس بارے میں بہت پہلے کہا تھا کہ:

یہ ایک امریکی زمینی و سیاسی روایت رہی ہے کہ امریکہ یوروپ سے الگ تھلگ رہ کر ’’جزیرۂ قوت‘‘ بنے اور بنا رہے۔ خود یورپ اور برطانیہ کی اپنی سیاسی ریت یہی رہی ہے کہ برطانیہ نے ہمیشہ اپنے آپ کو یوروپ سے الگ تھلگ رکھنے اور ’’مرکز قوت‘‘ بننے کی کوشش کی ہے۔ اسی برٹش پالیسی کی نقل امریکہ کا یورپ کے تئیں رویہ ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ برطانیہ اپنی پوری تاریخ میں اس بات کی کوشش کرتا رہا ہے کہ یوروپ کو متحد ہونے سے روکے۔ اس دلیل سے کہ ہم پورے یورپ کی ایک منفرد قوت ہیں۔ اگر یوروپ متحد ہوتا ہے تو ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔ یہی نظریہ امریکہ کا ایشیا اور یوروپ کے اتحاد کے سلسلہ میں رہا ہے۔ اس کی دلیل بھی یہی ہے کہ ان دونوں کے اتحاد کے نتیجہ میں ہم دنیا میں دوسرے درجہ کی طاقت بن کر رہ جائیں گے اور جب تک یہ دونوں متحد نہیں ہوتے ہمارا نسبۃً چھوٹا نظام برقرار اور دنیا پر مسلط رہے گا۔ (صفحہ 59 کتاب مذکور)

امریکی معیشت

نوم چامسکی کہتے ہیں:

امریکہ سب سے زیادہ مالدار اور سب سے زیادہ غریب ملک ہے۔ یہاں معاشی اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ 1930ء میں ایسا ہی ایک اتار آیا تھا۔ اور آج (15 اپریل 1989ء) پھر عام امریکی آدمی معاشی تنگی کا شکار ہے۔ لیکن یہ مایوسی پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ 1930ء میں آئے ڈیپریشن اور آج کے ڈیپریشن میں یہی فرق ہے کہ اس وقت بے روزگاری شدید تھی لیکن پھر بھی ہر آدمی کا حوصلہ برقرار تھا، مستقبل کی امید تھی۔ لیکن اِس وقت ایک عام مایوسی چھائی ہوئی ہے اور یہ احساس عام ہے کہ اب کچھ نہیں کر سکتے۔ اس وقت ہمارے دیہات میں اسکولی بچے یا استاد بھوکے اسکول نہیں جاتے تھے، استادوں کو یہ خوف نہ تھا کہ وہ ہال میں جائیں گے تو کوئی نشہ کا عادی طالب علم انہیں شوٹ کر دے گا۔ آج کی صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ (ملاحظہ ہو صفحہ 45)

(یہ واضح رہے کہ اپنے نظامِ سیاست سے مایوسی نے ہی عام امریکی ووٹر کو اس جانب راغب کیا کہ وہ نئے تجربہ کی طرف جائیں اور ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب کریں۔غ)

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے بنیادی طور پر اپنے آپ کو ایک عالمی معاشی نظام کی حیثیت دی تھی اور وہ ایک ’’ورلڈ بینکر‘‘ کا رول ادا کر رہا تھا۔ خاص طور پر 1944ء میں اقوام متحدہ کی مانیٹری اور فینانشل بریٹن وڈس کانفرنس میں امریکہ نے اپنی شناخت عالمی معاشی چودھری کے بطور کرائی۔ چنانچہ امریکن ڈالر محفوظ عالمی کرنسی قرار دیا گیا، جو سونے کے مقابل تھا۔ جبکہ دوسرے ملکوں کی کرنسیاں ڈالر کے مقابلہ میں متعین ہو رہی تھیں۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں جو خاص معاشی افزونی دیکھنے میں آئی اس کے پس پشت یہی سسٹم کام کر رہا تھا۔ لیکن 1970ء کی دہائی میں بریٹن وڈس والا یہ نظام پائیدار نہ رہ سکا۔ اور معاشی طور پر امریکہ اتنا مضبوط نہیں رہ سکا کہ وہ ورلڈ بینکر کا رول نبھائے۔ جس کی خاص وجہ ویت نام جنگ میں اس کے زبردست اخراجات تھے۔ لہٰذا اس وقت صدر رچرڈ نکسن نے اس پورے سسٹم کو ہی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے امریکہ سے سونے کے معیار کو ختم کر دیا، امپورٹ ڈیوٹیز میں اضافہ کیا اور بتدریج اس پورے نظام کو ختم کر دیا۔ اور جب عالمی سطح کا یہ ریگولیٹری ضابطہ ختم ہوا تو بڑے پیمانے پر کرنسیوں کے مقابل اصل زر کی بجائے زر کا تخمینہ سسٹم شروع ہوا جو آج تک چل رہا ہے۔ (صفحہ 379)

(واضح رہے کہ اب معیشت کے کئی ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگار ڈالر کی موت اور اس کے نتیجہ میں امریکہ کے زوال کی خبر دے رہے ہیں۔غ)

1990ء کی دہائی میں ایک لیکچر میں چامسکی سے سوال کیا گیا کہ بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں ملٹی نیشنل سرمایہ امریکہ کے اندر زیادہ استعمال کیا گیا ہے کہ ایسا لگنے لگا کہ امریکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے اداروں اور تنظیموں کے رحم و کرم پر قائم ایک کالونی بن کر رہ گیا ہے۔ عالمی منظر نامہ میں اس ظاہرہ (Phenomenon) کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ تو چامسکی نے سائل کے اس خیال سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا: ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کو (بشمول میرے) الفاظ کے استعمال میں محتاط ہونا چاہئے۔ ہم ریاستہائے متحدہ جیسے الفاظ کیوں بولتے ہیں۔ کیوں کہ، فی الواقع ریاستہائے متحدہ یا برطانیہ یا جاپان جیسے ناموں کا کوئی وجود (آزاد ملک کے بطور) نہیں ہے۔ (یہ سب اصلاً‌ کارپوریٹ مفادات کی کالونیاں ہیں) یہ تو ممکن ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں رہنے والوں کو قابو میں کر لیا جائے۔ لیکن امریکہ میں قائم کارپوریٹ مفادات کو ’’قابو‘‘ نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی کبھی آپ سنتے ہوں گے کہ ’’امریکہ زوال پذیر‘‘ ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ دنیا کے مینوفیکچرنگ پروڈکشن میں امریکہ کا کتنا حصہ ہے تو یہ کہنا سچ ہوگا کہ وہ زوال پذیر ہے۔ لیکن اگر آپ یہ دیکھیں کہ دنیا کی صنعتی پیداوار میں امریکہ میں واقع عالمی کارپوریشنوں کا حصہ کتنا ہے تو یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ امریکہ زوال پذیر ہے۔ اس کے برعکس وہ بالکل ٹھیک چلتا ہوا محسوس ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب پیداوار زیادہ تر تیسری دنیا میں ہو رہی ہے۔ البتہ امریکہ کے جغرافیائی وجود کے بارے میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ روبہ زوال ہے۔ یعنی آپ کی یہ بات اس معنی میں صحیح ہے کہ امریکہ کی بیشتر آبادی کو استعمار زدہ تیسری دنیا کی سی صورت حال سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ تاہم دنیا کو کنٹرول کرنے اور امورِ عالم کو چلانے میں یہ چیز زیادہ معنی نہیں رکھتی (کیوں کہ یہ کام امریکی عوام نہیں بلکہ کارپوریٹ ادارے کرتے ہیں) اسی طرح ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں ایک اور عامل ہے۔ اور وہ ہے کارپوریشن اور ان کے چلانے والے سرمایہ دار۔ ان کے شکار بالعموم تیسری دنیا کے لوگ ہیں اور یہ مافیا گروپوں کے ذریعہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ (صفحہ 398)

(یاد رہے کہ اب اس طرح کے خیالات امریکہ اور یوروپ کے کئی اور مصنفین بھی پیش کر رہے ہیں اور ایشیا میں بھی ایسے مفکرین کی کمی نہیں جو امریکہ کے زوال کی پیش قیاسیاں کر رہے ہیں۔غ)

امریکہ اور ماحولیاتی بحران

دنیا میں اس وقت جو عالمی ماحولیاتی بحران درپیش ہے اور بڑی طاقتیں اس کے لئے جس حد تک ذمہ دار ہیں اس سلسلہ میں نوم چامسکی کہتے ہیں:

میرے خیال میں دو بڑی چیزیں پیش آنے والی ہیں۔ ایک عالمی معیشت میں تبدیلی، دوسری بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران جس کو اب زیادہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے مزید نظر انداز کیا گیا تو یہ عالمِ انسانیت کے لئے خطرہ ہوگا۔ ماحولیات کے مسئلہ میں حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ حالات کے تحت، جس میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کا رجحان ہوتا ہے، آپ آخرکار عالمی ماحولیات کو تباہ کر دیں گے۔ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑے پیمانہ پر سماجی تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔ اب تمام انسانوں کو یہ سمجھنے کا وقت آگیا ہے کہ حرص و آز پر مبنی معاشی نظام دنیا کے لئے تباہ کن ہے۔ چند ہی دنوں میں آپ اوزون کی سطح تباہ کر کے دنیا کو غیر قابلِ رہائش بنا لیں گے۔ لہٰذا اگر انسانوں کو زندہ رہنا ہے تو انہیں بہت بڑی سماجی و نفسیاتی تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔ آگے وہ کہتے ہیں: اسی اثناء میں امریکہ بھی ایک مقابل بلاک کو مضبوط بنا رہا ہے۔ شمالی امریکہ میں فری ٹریڈ معاہدے وجود میں آرہے ہیں۔ جن سے کناڈا اس کے لئے معاشی کالونی اور شمالی میکسیکو سستی لیبر منڈی میں تبدیل ہو کر رہ جائیں گے۔ ان کے علاوہ دوسرے ایشیائی علاقائی بلاک بھی ہیں جو ابھی معاشی وسائل کے لحاظ سے کافی پیچھے ہیں اس لئے ان کا موازنہ کرنا ابھی مشکل ہے۔

(صدر ٹرمپ کا کناڈا کو امریکہ کا ۵۱ واں صوبہ بنانے اور پناما کنال پر قبضہ کرنے کی بات کو اسی سیاق میں سمجھنا چاہیے۔غ)

امریکہ اور اقوامِ متحدہ

امریکہ کے بجائے کیا اقوامِ متحدہ کوئی مثبت کردار دنیا میں ادا کر سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں نوم چامسکی کہتے ہیں:

یقیناً‌ اقوام متحدہ ایک مثبت رول ادا کر سکتا ہے اگر بڑی طاقتیں اسے ایسا کرنے دیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جہاں بڑی طاقتیں تھوڑا بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لئے کسی ادارے کی ضرورت پڑتی ہے تو اقوام متحدہ ان کے لئے مفید ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ طاقتیں، مثلاً امریکہ، کچھ نہ کرنا چاہیں تو پھر اقوام متحدہ بے کار ہو جاتا ہے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اچھا اگر یو این او میں سیکیوریٹی کونسل نہ ہو، یا 5 طاقتوں کو ویٹوپاور نہ دیا جائے تو؟

(واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں 15 سیٹیں ہوتی ہیں جن میں 5 ارکان مستقل ہیں یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین، بقیہ 10 ارکان میعادی اور غیر مستقل ہوتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے پانچوں کی منظوری ضروری ہوتی ہے، اگر کوئی ایک بھی راضی نہ ہو (یعنی ویٹو کر دے) تو ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ جبکہ جنرل اسمبلی ایک خطابی پلیٹ فارم ہے اس کو کوئی تنفیذی قوت حاصل نہیں ہے۔ اسرائیل کے معاملہ میں یہ قانون بھی توڑ دیا گیا کیونکہ اسرائیل کا قیام سلامتی کونسل کی منظوری سے نہیں بلکہ جنرل اسمبلی کے ذریعہ کروایا گیا تھا۔غ)

چامسکی کہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں سلامتی کونسل یا ویٹوپاور کو ختم ہونے نہیں دیں گی کیونکہ وہ اپنے معاملات میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کرتیں۔ مثلاً‌ امریکہ کی مثال لیجئے جو 1970ء سے لے کر اب تک سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو کرنے میں سب سے آگے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کوئی اقدام کرنا چاہے اور امریکہ اسے پسند نہ کرتا ہو تو امریکہ اس سے سرد مہری برتے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کام نہ ہو سکے گا کہ اقوام متحدہ خود سے کچھ نہیں کر سکتا۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کے سلسلہ میں امریکہ کا رویہ اب تک کیا رہا ہے۔ 1940ء کی دہائی میں امریکہ تنہا اسے چلاتا رہا۔ امریکہ احکام جاری کرتا اور طاقت کے دوسرے محور ممالک کو (اقوام متحدہ کے ذریعہ) ان پر عمل کرنا ہوتا۔ اسی لئے دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب باقی دنیا دبی کچلی اور بھوک سے مر رہی تھی، اس وقت امریکہ میں سب لوگ اقوام متحدہ کو پسند کرتے اور اس کی مدح سرائی کرتے کیونکہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ چلتا تھا اور جیسے ہم چاہتے تھے ویسے ہی سب لوگ (ارکان اقوام متحدہ) ووٹ دیتے تھے۔

آگے نوم چامسکی نے لکھا ہے کہ اس وقت صرف روس ہمیشہ نفی میں ووٹ دیتا تھا اور امریکہ میں سارے لوگ سائنس داں، اساتذہ، صحافی اور ماہرین اجتماعیات سب روس کے اس رویہ کو اس کی پیدائشی (بالیشوک) منفی ذہنیت کا عکاس قرار دیتے اور عوامی سطح پر اس کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ کیا جاتا، رائے عامہ کو اس کے خلاف بھڑکایا جاتا، اس پر مضامین شائع ہوتے اور ان مفروضوں کو لوگ سنجیدگی سے لیا کرتے۔

وہ مزید لکھتے ہیں: اس کے بعد وقت کے ساتھ ہی اقوام متحدہ پر امریکی اجارہ داری کم ہونی شروع ہو گئی، کم از کم بولنے کی حد تک۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک اقوام متحدہ میں داخل ہوئے، بطور خاص صدی (بیسویں) کی چھٹی دہائی میں۔ اور یہ نتیجہ تھا استعماریت کے خاتمہ کا۔ جس سے بہت سے ملک آزاد ہوئے۔ اور اس کے بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ امریکہ کا رویہ یو این او کے تئیں زیادہ سے زیادہ منفی ہوتا چلا گیا۔ امریکہ نے اسے کنٹرول سے باہر سمجھنا شروع کر دیا، اب اقوام متحدہ میں اکثریت کی رائے کو تحکم قرار دیا جانے لگا، جبکہ پہلے اسی کو جمہوریت سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ 1970ء کے آس پاس امریکہ اقوام متحدہ میں اکثریت سے منظور کردہ قراردادوں کو ویٹو کرنے لگا۔ یہ قراردادیں جنوبی افریقہ، اسرائیل، اور تخفیف اسلحہ سے متعلق ہوا کرتی تھیں۔

(عراق پر جارج ڈبلیو بش نے حملہ بغیر کسی قانونی بنیاد کے کیا تھا، یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے بھی اس کی اجازت نہیں دی تھی، مگر اُس نے اقوام متحدہ کو بائی پاس کر کے انفرادی طور پر یہ فیصلہ لے لیا تھا۔غ)

واضح رہے کہ جب امریکہ اکثریت کی رائے کو ویٹو کر رہا تھا اس وقت روس مین اسٹریم کے ساتھ ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت نیویارک ٹائم میگزین میں امریکہ کے نمائندہ برائے اقوام متحدہ رچرڈ برنسٹان کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ دنیا امریکہ کے ساتھ کیوں نہیں چل رہی ہے۔ سارا زور اس پر دیا گیا تھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، وہ ہماری بات کیوں نہیں سمجھتے! اس کے بعد یو این او کی کمزوریاں بیان کی گئی تھیں۔ لیکن یہ سوال ایک بار بھی نہیں اٹھایا گیا کہ ہمیشہ ہی امریکہ اقوام متحدہ کی اکثریت کے خلاف کیوں جاتا ہے۔ میں ذرا بھی مبالغہ سے کام نہیں لے رہا ہوں مضمون بالکل اسی طرح کا تھا اور جو کچھ کہا گیا تھا بغیر کسی لاگ لپیٹ کے صاف صاف کہا گیا تھا۔ یہی معاملہ اقوام متحدہ کے عدالتی شعبہ ورلڈ کورٹ کے سلسلہ میں پیش آیا (جسے عام طور پر بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس کہا جاتا ہے) جون 1986ء میں مذکورہ کورٹ نے امریکہ کے خلاف ایک قانون پاس کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ طاقت کا ناجائز استعمال اور نکاراگوا کے خلاف ناجائز معاشی جنگ بند کرے۔ مگر امریکہ نے اس حکم کو فوراً نظر انداز کر دیا۔ اور محض ایک ہفتہ بعد ہی امریکی کانگریس نے نکاراگوا میں (امریکہ کے حمایت یافتہ) باغیوں کی امداد میں مزید 100 ملین ڈالروں کا اضافہ کر دیا۔ اور ایک بار پھر امریکہ کا میڈیا نیویارک ٹائمز واشنگٹن پوسٹ اور بین الاقوامی قانون کے بڑے بڑے ماہرین یک زبان ہو کر بولنے لگے کہ ورلڈ کورٹ نے امریکہ کے خلاف فیصلہ دے کر محض اپنا کریڈٹ کھویا ہے، اس لئے ہمیں اس پر کسی توجہ کی ضرورت نہیں۔ ورلڈ کورٹ کو زیبا نہیں دیتا کہ وہ امریکہ پر تنقید کرے (صفحہ 85، 86)

(یہ قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اب بھی یہی بدمعاشی کر رہا ہے چنانچہ اسرائیل کو عالمی عدالتِ انصاف لے جانے والے ملکوں کے خلاف امریکی انتظامیہ اور خود آئی سی سی پر اس وجہ سے پابندیاں لگانا کہ اس نے سفاک اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، اسی کا شاخصانہ ہے۔غ)

امریکہ اور ذرائع ابلاغ

ذرائع ابلاغ کے دو کردار ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عوام کے ’جاننے اور سیاسی پراسس پر کنٹرول کے حق‘ کی حفاظت کرتا ہے۔ میڈیا کا یہی کردار عوام کے ذہنوں میں ہے۔ اور ذرائع ابلاغ کے لوگ بھی اسے مسلّمہ امر سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرا تصور یہ ہے کہ میڈیا دنیا کی وہ تصویر پیش کرتا ہے جو مخصوص گروپوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی مفادات کا تحفظ کرے۔ یہ مخصوص گروپ ہی قومی معیشت اور اس کے ذریعہ ملک کی سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں (اسی لئے ہر ملک میں مین اسٹریم میڈیا دراصل کارپوریٹ میڈیا ہوتا ہے) نوم چامسکی نے میڈیا کے اس کردار پر بہت جم کر لکھا ہے، وہ مسلسل امریکہ کے قومی میڈیا کو اپنی شدید تنقیدوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ بلکہ اس موضوع پر ان کی کئی کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے مطابق: اسی پروپیگنڈا ماڈل کے مطابق میڈیا کارپورٹ گروپوں کے مفادات کا تحفظ یوں کرتا ہے کہ وہ مخصوص موضوعات کو لیتا ہے، موافق ایشوز کھڑے کرتا ہے اور معاملات کے تجزیے پیش کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرے طریقے اپنا کر ان گروپوں کے تصورات کو فوکس کرتا ہے (صفحہ 15 تا 36)

چامسکی کے خیال میں امریکن میڈیا اشرافیہ کا ترجمان ہے۔ سی بی ایس اور نیویارک ٹائمز وغیرہ ملک کے بڑے کارپوریشنوں میں سے ہیں۔ ان کے لئے امریکن عوام اتنے اہم نہیں جتنے ’’جنرل موٹرز‘‘ وغیرہ اہم ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ امریکہ میں عوام اور میڈیا بالکل متضاد سمتوں میں چلتے ہیں۔ (صفحہ 19)


حوالہ جات

  1. https://tinyurl.com/trtworld-aipac-trump-cabinet
  2. https://tinyurl.com/trump-tariffs-jeffrey-sachs
  3. Understanding Power (انٹریوز اور گفتگوؤں کا مجموعہ، شائع کردہ دی نیوز پریس نیویارک 2002ء)

ظلم و جبر کے شکار مسلمان: حکمت عملی کیا ہو؟

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

قومیت کا جدید سیاسی تصور مخصوص جغرافیائی خطوں میں بسنے والے انسانوں کے لیے اپنی سرزمین پر سیاسی خود مختاری کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے اور بلاشبہ اس تصور نے دنیا میں قوموں اور ممالک کے مابین جارحیت پر مبنی تنازعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی یا نظریاتی تصور کی طرح اس کی عملی تنفیذ بھی بالادست سیاسی قوتوں کے ارادے اور طاقت کی وساطت سے ہی ممکن ہوئی ہے اور جہاں یہ ارادہ مفقود ہے، وہاں اس تصور کی عملی تنفیذ بھی نہیں ہو سکی۔ بدقسمتی سے اس دوسری نوعیت کی صورت حال کا سامنا دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی ہے اور فلسطین، کشمیر اور برما کے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اس نوعیت کے عالمی تنازعات کی فہرست میں نمایاں ہیں۔

دور جدید کے سیاسی تغیرات کو گہرائی کے ساتھ نہ سمجھنے یا انھیں بطور ایک امر واقعہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے مذکورہ تنازعات سے دلچسپی اور مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے بعض عناصر میں حکمت عملی کے حوالے سے جو عمومی رجحان پیدا ہوا، وہ پر تشدد تصادم کا رجحان تھا اور اسے دور جدید سے ماقبل کے سیاسی تصورات یا کچھ مذہبی ہدایات کے تناظر میں ایک آئیڈیل حکمت عملی تصور کیا گیا۔ اس کی ابتدا پہلے مقامی سطح پر، پر تشدد تحریکوں کی صورت میں ہوئی اور پھر جب تجربے سے یہ واضح ہوا کہ اصل مقابلہ مقامی سیاسی طاقتوں سے نہیں، بلکہ پورے عالمی سیاسی نظام کے ساتھ ہے تو اسی جوش و جذبہ کے ساتھ محاذ جنگ کو براہ راست عالمی طاقتوں کی سرحدوں پر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، اور یہ سبق سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ جب مقامی سطح پر غالب نظام طاقت کے مقابلے میں یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوئی تو پورے عالمی سیاسی نظام کے مقابلے میں کیونکر ہوگی، جبکہ معروضی حالات میں فیصلہ کن حیثیت سیاسی و عسکری طاقت ہی کو حاصل ہے۔

طاقت کے توازن کو نظر انداز کرنے کے علاوہ تشدد اور تصادم کی مذکورہ حکمت عملی کے نتیجے میں کئی اہم مذہبی و اخلاقی اصول بھی مجروح ہوئے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر مثالوں میں عسکری تصادم کے فیصلے کو قوم کی اجتماعی نمائندگی حاصل نہیں تھی، بلکہ چند گروہوں نے اپنے تئیں یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر کے اس کے نتائج کو پوری قوم پر مسلط کر دیا، حالانکہ اسلامی شریعت کی رو سے کسی علاقے میں مسلح مزاحمت کا حق چند افراد یا کسی ایک گروہ کا حق نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی حق ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کے جواز کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی تائید اور پشت پناہی حاصل ہو اور قوم اس کے لازمی نتائج کا سامنا کرنے اور اس کے لیے درکار جانی و مالی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ اگر قوم اپنی مجموعی حیثیت میں ایسے کسی فیصلے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو یا اس کے لیے آمادہ نہ ہو تو کسی گروہ کا ازخود کوئی فیصلہ کر کے اسے عملی نتائج کے اعتبار سے ساری قوم پر تھوپ دینا شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر مقبوضہ علاقے کے مسلمان داخلی طور پر اتحاد اور یک جہتی سے محروم اور باہم برسرپیکار ہوں تو دین و شریعت کا تقاضا یہ نہیں ہوگا کہ کوئی ایک گروہ اٹھ کر ازخود مسلح جدوجہد کا آغا زکر دے۔ دین اور عقل عام دونوں کا پہلا مطالبہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ مسلمان باہمی اختلاف و عناد اور نزاعات کو ختم کر کے ایک متحد قوم کی شکل اختیار کریں اور اس کے بعد ’امرھم شوریٰ بینھم‘ کے اصول کے تحت حصول آزادی کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جو میسر حالات میں زیادہ قابل عمل، مفید اور نتیجہ خیز ہو اور اسے قوم کی اجتماعی تائید بھی حاصل ہو۔ محکوم قوم کی باہمی تقسیم و افتراق کی معروضی صورت حال کو نظر انداز کر کے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ نہ تو مذکورہ شرعی و اخلاقی اصول کے لحاظ سے درست ہوگا، نہ عملی طور پر ایسی کسی کوشش کے مفید نتائج نکل سکتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایسی صورت میں نصرت اور تائید کی توقع کی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۵۲ (حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر) اور سورۂ انفال کی آیت ۴۶ (لا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم) میں نصرت الٰہی کے اس اخلاقی اصول کی وضاحت کی ہے۔

ارد گرد کے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف سے ان مسلح تحریکات میں شرکت اور ان کی نصرت و تعاون کا عمل بھی متعدد شرعی و اخلاقی قباحتوں پر مشتمل تھا۔ قرآن مجید نے سورۂ انفال میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے ضمن میں یہ شرط عائد کی ہے کہ اس کے لیے مسلمانوں کی طرف سے کیے گئے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ جب غزوۂ بدر کے زمانے میں سیدنا حذیفہ اور ان کے والد کو مشرکین نے مدینہ جانے سے روک دیا اور صرف اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ان کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گے تو مدینہ پہنچنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ انھیں اپنے کیے ہوئے معاہدے کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے یہ دین و شریعت کا ایک لازمی تقاضا ہے کہ جو لوگ اپنی انفرادی حیثیت میں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ لڑنا چاہتے ہوں، وہ یہ دیکھیں کہ وہ جس ملک کے شہری ہیں، آیا ریاست کی سطح پر اس کی طرف سے ایسا کوئی معاہدہ تو موجود نہیں جو اس کے شہریوں کو جنگ میں شریک ہونے سے روکتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو پھر اس ملک کے کسی شہری کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس ملک کا شہری ہوتے ہوئے نظم اجتماعی کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو اخلاقی اور شرعی طور پر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی شہریت سے دست بردار ہو کر وہاں کی سکونت چھوڑ دے تاکہ اس کے کسی فعل کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہ ہو۔ تاہم عسکری حکمت عملی میں اس اصول کی عموماً پاس داری نہیں کی گئی جس سے چند در چند اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں نے جنم لیا۔

اس پوری صورت حال میں سب سے اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کسی بھی دور میں سیاسی نوعیت کے تنازعات میں اس وقت کے غالب نظام طاقت اور رائج سیاسی تصورات سے باہر نکل کر کوئی اقدام کرنے یا ان کے ساتھ تصادم اختیار کرنے کا راستہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ یہ نظام طاقت اور سیاسی تصورات فی نفسہ منصفانہ ہیں یا نہیں یا نظریاتی بنیادوں پر کسی گروہ کے لیے قابل قبول ہیں یا نہیں، یہ ایک بالکل الگ بحث ہے جس کے ساتھ حکمت عملی کو نتھی نہیں کیا جا سکتا۔ حکمت عملی کا بنیادی اصول نتیجہ خیزی کے بہترین امکانات کو مد نظر رکھنا اور ان امکانات کو وقوع میں بدلنے کے بہترین وسائل کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں دو متوازی حکمت عملیوں کی بحث میں ہاں عموماً مکی دور اور مدنی دور کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ دونوں نقطہ ہائے نظر کا اپنا اپنا استدلال اور حالات کے تجزیے کا اپنا اپنا پیراڈائم ہے۔ ہمارے خیال میں پون صدی کے تجربات اپنا وزن مکی دور والے استدلال کے پلڑے میں ڈالتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، اہم بات یہ ہے کہ مکی دور کا تصور اس استدلال میں ادھورا ہے۔ اس کا مطلب عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ظلم و جبر کو تقدیر الٰہی سمجھ کر خاموشی سے اسے برداشت کیا جائے اور دفاع اور تحفظ کے لیے نیک اعمال پر توجہ مرکوز کرنے اور دعا کرنے کے علاوہ کوئی اقدام عمل میں نہ لایا جائے، حالانکہ سیرت نبوی کے سرسری مطالعہ سے بھی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی اس دور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی ہرگز نہیں تھی۔ اس دور میں بھی ظلم سے تحفظ اور مظلوموں کی نصرت کے لیے وہ تمام وسائل اور تدابیر استعمال کی گئیں جو اس صورت حال میں ممکن اور موثر تھیں۔ ان میں مظلوموں کے لیے سماج کے بااثر افراد (جو عموماً مشرکین تھے) کی امان اور پناہ حاصل کرنا اور ظلم کے خلاف اجتماعی اخلاقی ضمیر کو اپیل کرنا بہت اہم تدابیر تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی حکمت کے ساتھ عرب سماج کی اس اعلیٰ اخلاقی روایت سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ مظلوم مسلمانوں کے لیے سکونت کے متبادل مقامات تلاش کرنا اور انھیں ہجرت پر آمادہ کرنا بھی مکی دور کی حکمت عملی میں بہت نمایاں ہے۔ حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں اسی حکمت عملی کے تحت وقوع پذیر ہوئیں۔

عالم اسلام کی مذہبی و سیاسی قیادت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک طرف مختلف خطوں کے مظلوم مسلمانوں کی نہ صرف خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ درست راہ نمائی کرے، اور دوسری طرف طاقت کے عالمی ایوانوں میں ان کا مقدمہ حکمت اور دانائی کے ساتھ پیش کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات کا حصہ بنائے۔ اس ضمن میں قرآن مجید کا یہ ارشاد ہر حال میں ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے: الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر (اگر تم مظلوموں کی مدد نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد رونما ہو جائے گا)۔

اقوامِ متحدہ کی بے بسی، مسلم حکومتوں سے نا امیدی، اسرائیل کا معاشی بائیکاٹ

روز نیوز

آصف محمود: السلام علیکم جی آصف محمود حاضر خدمت ہے، ناظرین، فلسطین کے اوپر بات کریں گے، کیا کرنا چاہیے؟ کیا کیا جا سکتا ہے؟ شرعی نقطۂ نظر کیا ہے؟ انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟ سیاست کیا کہتی ہے؟ ان  ساری چیزوں کے اوپر اِن سارے پہلوؤں کے اوپر آج ہم بات کرنے کی کوشش کریں گے۔

  1.  ڈاکٹر محمد مشتاق احمد خان صاحب ہمارے ساتھ تشریف رکھتے ہیں، استاد ہیں، دانشور ہیں، انٹرنیشنل لاء کے ایکسپرٹ ہیں، ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ۔ 
  2. اجمل بلوچ صاحب، صدر ہیں آل پاکستان انجمنِ تاجران کے، آج میں دیکھ رہا تھا فلسطین کے حوالے سے احتجاج میں بھی شامل تھے، دھرنے میں بھی شامل تھے، ہمارے ساتھ بھی تشریف رکھتے ہیں، بلوچ صاحب آپ کا بہت شکریہ۔ 
  3. مولانا زاہد الراشدی صاحب معروف عالمِ دین ہیں، ان سے ہم سیکھیں گے، سمجھیں گے کہ اس کے بارے میں شرعی رہنمائی کیا ہو سکتی ہے۔ 

زاہد الراشدی صاحب آپ کا، ڈاکٹر مشتاق صاحب آپ کا، اجمل بلوچ صاحب آپ کا، میں سب کا شکرگزار ہوں کہ آپ تشریف لائے۔ 

ڈاکٹر مشتاق صاحب، آپ سے آغاز کرتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ہم سب ظاہر ہے کہ اپنی اپنی جگہ پر دکھی ہیں، لیکن کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جو ایک پریکٹیکل اپروچ ہے اس کے ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، محض جذباتیت سے تو کچھ نہیں ہو گا، کیونکہ فرق بہت زیادہ ہے طاقت کا۔  آپ کیسے دیکھ رہے ہیں، جذباتی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں؟ اور مصلحت کی حدود بھی تو ظاہر ہے کہیں ختم ہونی چاہئیں نا، کوئی راستہ تو نکلنا چاہیے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: جی بالکل، دیکھیں، میری ناقص رائے میں تو یہ سوال غلط طریقے سے فریم کیا جاتا ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں عملیت پسندی اختیار کرنی چاہیے اور جذباتیت سے گریز کرنا چاہیے، یہ اپروچ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے اور وہ محض مشین نہیں ہے۔  یعنی میں نے کچھ دن پہلے چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی (مصنوعی ذہانت کے)  جو ٹولز ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے کچھ مشقیں کیں، کچھ ایکسرسائزز کیں، کچھ ایکسپیری منٹس کیں، تو ان میں اس طرح کی بحث بھی آ گئی کہ کیا مثال کے طور پر جو اے آئی ہے، اس کو ندامت محسوس ہوتی ہے، کیا اس کو گِلٹ محسوس ہوتی ہے، کیا اس کو روحانی تسکین ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں ہوتی۔ 

چند سال پہلے جنیوا میں جنگ کے قانون کے متعلق دنیا بھر سے یونیورسٹی پروفیسرز کو اکٹھا کیا گیا تھا، میں بھی اس میں گیا تھا، تو اس میں ہم جنگ کے دوران میں اے آئی کے استعمال پر بات کر رہے تھے، اور پھر اس میں آپ کیسے انسانیت کی حدود اور اخلاقی حدود کی پابندی کروائیں گے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کچھ ہی عرصہ میں یہ چیزیں ہماری پریکٹیکل لائف میں اور غزہ میں ہم دیکھیں گے کہ وہ استعمال ہو رہی ہیں۔ 

اس وقت بھی ایک بنیادی سوال یہی تھا کہ انسانیت کے تقاضوں کی پابندی تو آپ انسانوں سے کرتے ہیں۔ وہ جو فٹ بال میچز میں بھی اور کرکٹ میچز میں بھی آپ کہتے ہیں کہ ایمپائر سے غلطی ہوئی کیونکہ وہ جو ہیومن فیکٹر ہے وہ تو اس میں ہوتا ہے۔ اچھا وہ ہیومن فیکٹر صرف غلطی میں نہیں ہوتا، وہ ندامت کے پہلو سے بھی ہوتا ہے، وہ پشیمانی کے پہلو سے بھی ہوتا ہے، اور وہ روحانی تسکین کے پہلو سے بھی ہوتا ہے۔ اس لیے خالص عقلی بنیاد پر اور جذبات سے بالکل ماورا ہو کر کوئی فیصلہ کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ 

آصف محمود: یعنی کہیں کہیں جذباتی ہونا چاہیے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: یہ ہونا بھی چاہیے اور یہ لازماً‌ ہوتے ہیں۔

آصف محمود: میں نے یہ عقل کا بھاشن چونکہ آج تواتر کے ساتھ سنا ہے اس لیے میں نے آغاز اسی سے کیا ہے کہ میں آپ سے اس کے اوپر رائے لے لوں۔ کہیں کہیں تھوڑا سا جذباتی ہونا چاہیے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل، اقبال نے کہا تھا  ؎ ’’بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل، لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے‘‘۔ تو یہ عین عقل کا تقاضا ہوتا ہے۔ 

آصف محمود: اچھا، جذبات اور عقل اور اس کے ساتھ انٹرنیشنل لاء۔ ڈاکٹر صاحب، دنیا میں انٹرنیشنل لاء نام کی کوئی چیز اب باقی ہے؟  یا international law means no law   (اس کا مطلب لا قانونیت ہے) ؟ اس پر آپ کا بھی بڑا کام ہے، میرے جیسا طالب علم بھی اس پر لکھتا ہے، لیکن اب لوگ آگے سے سوال پوچھتے ہیں کہ یہ کن چیزوں میں وقت ضائع کر رہے ہو؟ اقوام متحدہ کی، انٹرنیشنل لاء کی اب عملاً‌ کوئی افادیت نہیں رہی، بلکہ بعض لوگ تو  یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے متبادل کسی فورم کے بارے میں بھی اب سوچ لینا چاہیے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل، یعنی یہ جو آخری بات ہے اس سے تو مجھے اتفاق ہے کہ اقوامِ متحدہ بلکہ پورا جو عالمی، بین الاقوامی نظام جس طرح وجود میں آ چکا ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد،   اب ہم اس کے آخری مرحلے پر ہیں اور یہ دنیا اب تبدیلی ہونی ہی ہونی ہے۔ یعنی غزہ سے پہلے اور غزہ کے بعد یہ  اب دو الگ ادوار ہیں، اس میں تو مجھے بالکل ان لوگوں سے اتفاق ہے، بلکہ آپ کا جو کالم آج پبلش ہوا ہے بہت ہی زبردست، اس میں بھی یہ جو آپ کا تھیسس ہے مجھے اس سے بالکل اتفاق ہے کہ اقوامِ متحدہ اب اپنی موت کے قریب پہنچ چکی ہے، بس صرف اس کا اعلان باقی ہے۔ 

البتہ یہ بات کہ بین الاقوامی قانون۔ دیکھیں، بین الاقوامی قانون جو ہمارے سامنے جس طرح کتابوں میں بیان کیا جاتا ہے اور جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تو وہ قانون تو ظاہر ہے بنایا مغربی طاقتوں نے تھا اور ایک مخصوص اس کا سیاسی تاریخی پس منظر تھا۔ اور پھر بالخصوص دوسری جنگِ عظیم کے بعد چونکہ وہ فاتح اقوام تھیں دوسری جنگِ عظیم میں جنہوں نے فتح حاصل کی، تو نظام بھی ان کی مرضی کا بنا۔ اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ  وہ اب قصۂ پارینہ بننے جا رہا ہے۔ لیکن یہ کہ بین الاقوامی قانون بالخصوص جنگ میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے، یا کرنا ہے کیا نہیں کرنا، یہ تمام انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے، آفاقی چیزیں ہیں۔ 

دیکھیں، اسلام، یہودیت، مسیحیت، تمام مذاہب ، یہاں تک کہ وہ مذاہب جن کو ہم غیر سماوی مذاہب کہتے ہیں ان کی تعلیمات بھی آپ دیکھیں، کون کہے گا آپ کو کہ جو نہتا ہے اس کو بھی آپ نشانہ بنائیں، جو بچے ہیں معصوم، ان کو بھی  نشانہ بنائیں، ہسپتالوں کوبھی نشانہ بنائیں وغیرہ۔ یہ کچھ چیزیں ہیں جو آفاقی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کو دنیا نے معاہدات کی صورت میں باقاعدہ مدون بھی کیا۔ تو اب ان کی پامالی ہوتی ہے، خلاف ورزی ہوتی ہے، تو یہ کہنا کہ یہ سرے سے بےمعنی ہو گئی ہیں، میرے خیال میں یہ اپروچ مناسب نہیں ہے۔ یوں کہنا چاہیے، کیونکہ ہمارے پاس تو اسٹینڈرڈ یہ ہے کہ بھئی آپ لوگوں نے معاہدات بنائے ہیں آپ نے ان میں یہ چیزیں لکھی ہیں آپ اپنے ہی بنائے ہوئے معاہدات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے پاس اخلاقی بنیاد ہے۔

آصف محمود: اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، ایک سوال اس گفتگو میں سے اور بھی آ گیا تھوڑا سا، اس پر بھی بات کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ اگر متروک ہونے جا رہی ہے اور  عملاً‌ فرسودہ ہو چکی ہے اور نیا فورم، آپ نے کہا کہ دنیا بدلنے جا رہی ہے، تو اس بدلتی دنیا میں ہم کہاں ہوں گے؟ یعنی لیگ آف نیشنز میں بھی ہم کہیں نہیں تھے، لیگ آف نیشنز فارغ ہوئی، اقوامِ متحدہ بنی، اس میں بھی ہم کہیں نہیں تھے۔ اب اگر اقوامِ متحدہ بھی فارغ ہوتی ہے اور ایک نیا ادارہ بنتا ہے تو مجھے تو لگ رہا ہے کہ ہم اس میں بھی کہیں نہیں ہوں گے، ہم نے پھر بھی مزارع بن کر ہی شاید رہنا ہے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بڑی حد تک یہ خدشہ ہے مجھے بھی، اور ظاہر ہے پریشانی کی بات تو ہے کہ ہم کس قطار شمارمیں ہیں۔ لیکن بہرحال بہت زیادہ مایوس ہونے کی میرے خیال سے ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسلم امہ کے نام سے جو لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے امہ کہاں ہے، اب دیکھیں فلسطین کے مسئلے پر چاہے مسلمان ہندوستان میں ہو، پاکستان میں ہو،  امریکہ میں ہو، یورپ میں ہو، وہ تڑپ رہا ہے اور وہ آواز اٹھا رہا ہے، کہیں اسے طریقہ نہیں سوجھ رہا کہ وہ کیا کرے، کہیں وہ کوارڈینیٹڈ ایفرٹ نہیں ہے، لیکن دکھ تکلیف ہر جگہ ہے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم میں وہ فاتح تھے اور پوری دنیا پر ان کا غلبہ تھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں بھی صورتحال یہ تھی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یوکرین کی وجہ سے روس اور یورپ آپس میں لڑ پڑے ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکہ کی پچھلی انتظامیہ نے جس طرح انویسٹ کیا، ٹرمپ اس سے پیچھے جا رہا ہے، تو یورپ اور امریکہ کے درمیان بھی خلیج بڑھ چکی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بھی مسائل بڑھ رہے ہیں ۔ بظاہر تو دنیا بہت بڑی تبدیلی کی طرف جا رہی ہے جس میں بہت زیادہ تخریب کے امکانات بھی ہیں، لیکن اس میں بہرحال ہمارے لیے کرنے کے امکانات بھی ان شاء اللہ زیادہ پیدا ہو جائیں گے۔ 

آصف محمود: اجمل صاحب! میں نے آپ کو آج دھرنے میں دیکھا تو مجھے تھوڑی سی حیرت ہوئی، میں معافی چاہتا ہوں، مجھے بدگمانی نہیں کرنی چاہیے، ایک جنرل پرسیپشن میں ہے کہ تاجر فلسطین کے اوپر نکل آئے، میں نے بہت ساروں کو شرم بھی دلائی کہ دیکھو یار پاکستان انجمن تاجران کاصدر بھی دھرنے میں کھڑا ہوا ہے ، یہ تو ایک انسانی مسئلہ ہے نا، اس کو صرف آپ مولویوں کے ساتھ تو بریکٹ نہیں کر سکتے، مجھے آپ سے اب سمجھنا یہ ہے، پوچھنا یہ ہے کہ تاجر برادری کے تو دنیا بھر میں تعلقات ہوتے ہیں، تو کیا راستہ نکل سکتا ہے کہ غزہ تک کوئی چیز پہنچائی جائے، یہ چیزوں کو بھیجنے، چیزوں کو منگوانے میں جو  آپ لوگوں کی ایکسپرٹیز ہیں ہمیں تو پتہ ہی نہیں ہیں، اس کی بلاکیڈ ہے،اندر کوئی چیز نہیں جا سکتی، تو کوئی صورت نکل سکتی ہے ایسی؟  

اجمل بلوچ: بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا بارڈر فلسطین کے ساتھ نہیں لگتا، افغانستان کے ساتھ لگتا ہے۔ دنیا کو پتہ ہونا چاہیے۔  میں ذرا تھوڑی سی ہٹ کر بات کروں گا کہ افغانستان میں سارے نیٹو ممالک، بیالیس لوگ آئے تھے، ہر چیز لے کر، الحمد للہ پاکستان کا بارڈر ان کے ساتھ، میں سچ بول رہا ہوں ،  سچ بولنا چاہیے کہ ان کو شکست ہوئی اور وہ یہاں سے۔ انہوں نے کہا تھا افغانستان ختم کر دیں گے ہم، اس وقت کے امیرکن صدر کی آپ سن لیں بات، بش تھے یا کوئی بھی تھا، اس نے کہا تھا افغانستان کو ختم کر دینا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ الحمد للہ آج وہ سب سے دنیا کی بہترین حکومت چلا رہے ہیں وہاں پر۔ 

فلسطین کے اندر دیکھیں، ایک معاہدہ طے پایا ہے کہ غزہ کے لوگ واپس آجائیں، ان کو واپس لا کر مارا گیا ہے۔ ایک معاہدہ قرآن مجید میں ہے، پہلے بھی کیا تھا، ڈاکٹر صاحب  بہتر بتا سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے معاہدہ توڑ دیا ہے ان سے جنگ کرو۔ جو معاہدہ توڑ دے اس سے جنگ ہوتی ہے۔  قرآن مجید میں اگر لکھا ہے تو پھر یہ سچ ہے، پھر کسی انسان کی یا کسی دانشور کی یا کسی عالم سے ہمیں  پوچھنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ جو معاہدہ توڑ دے۔  کتنا ظلم کیا ہے انہوں نے معاہدہ توڑ کے کہ جنگ بندی کی ، ان لوگوں کو واپس بلایا اور ان کو مارنا شروع کر دیا۔ 

بات یہ ہے،  میں تو گلہ کروں گا عربوں سے، ان کا بارڈر عربوں کا بارڈر ہے۔ عرب، دیکھیں،  قرآن وہاں نازل ہوئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے، تمام پیغمبر وہاں پہ آئے ، تمام صحابہؓ وہاں پہ تھے، جن کی بائیس بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت تھی، خانہ کعبہ وہاں پہ ہے،  مسجدِ اقصیٰ وہاں پہ ہے، او  بھائی عربو! تمہاری زبان بھی وہی ہے، تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ اس وقت کس مصیبت میں ہیں، اور تم کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ کل میں غزہ کی ایک خاتون کی  دعا سن رہا تھا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی تھی کہ ان کی شفاعت نہ کرنا عربوں کی۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے کہ اللہ کے سچے رسول! ان کی شفاعت نہ کرنا اللہ سے۔ تو خدا کے لیے عربوں کو کچھ سوچنا چاہیے،  یار آپ لڑ نہیں سکتے تو ان سے بات تو کر دیں یار، ان کا تیل بند کر دیں، وہ آپ کی بات سنیں گے۔ آپ تیل بھی انہیں دیے جا رہے ہیں، باتیں بھی ساری انہی کی مانے جا رہے ہیں، پھر ہم اسلام لے کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ 

دیکھیں، اللہ کے رسول جب نکلے تھے، ظلم وہ کر رہے ہیں، اللہ کا حکم ہے کہ جب وہ آپ سے لڑنے آئے ہیں تو ان کے حملوں کو روکو۔ اللہ نے یہ تو نہیں کہا کہ پہلے جا کر ان سے لڑ جاؤ، جب وہ آپ پر حملہ کریں تو ان کے حملوں کو روکو۔ ان کو چاہیے کہ ان کے حملوں کو روکیں۔ اور اگر یہ روک نہیں سکتے تو ان کو تیل پانی تو دے دیں، ان کو روٹی تو دے دیں، ان کو دلاسہ تو دے دیں ، آپ آواز بھی نہیں بلند کر رہے۔ میں تو کل بھی ڈی چوک میں تھا، عربوں سے گلہ کیا میں نے کہ بھئی خدا کا واسطہ کچھ تو خیال کر لو، تمہاری زبان ہے، تمہارے پاس قرآن ہے، تمہارے پاس رسول ہے، تمہارے پاس خانہ کعبہ ہے۔

 اور جب اس وقت بھی لوگوں نے کہا، اے اللہ کےسچے رسول! ہم حاجیوں کو پانی پلائیں گے، ہم خانہ کعبہ کی صفائی کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے وحی اتار دی کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! ان کو چھوڑ دیں، یہ صفائی کر لیں اور حاجیوں کو پانی پلائیں، ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ آج بھی عربوں کا وہی حال ہے کہ یہ لوگوں کو حج کرا رہے ہیں، یہ عمرہ کرا رہے ہیں اور مسلمان ذبح ہو رہے ہیں۔ جو حالت وہاں پہ ہو رہی ہے بچوں کی عورتوں کی بزرگوں کی، مریضوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، یار تم کیا کر رہے ہو؟ کل اللہ کے پاس کیا جواب دیں گے؟ 

میں تاجر ہوں، میں نے اعلان کیا ہے پورے پاکستان میں، کہ ہم جو مصنوعات ، تاجروں سے اپیل کی ہے کہ جن مصنوعات سے فائدہ اسرائیل کو ہوتا ہے وہ بند کر دیں یار بیچنا، اس کو باہر پھینک دیں، ایسے سمجھیں کہ ہمارا نقصان ہو گیا تھا۔ 

آصف محمود: کیا آپ انجمنِ تاجران کی طرف سے ایک فہرست جاری کر دیں گے؟  کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کون سی ہماری چیزیں ہیں، کون سی باہر کی چیزیں ہیں، تو اگر آپ بھی اس کا اعلان کر دیں تو لوگوں کو ذرا سمجھ آجائے گی۔ 

اجمل بلوچ: جی جی کر دوں گا، میں نے اعلان کیا ہے کل ڈی چوک میں۔جاری کرنی چاہیے کہ وہ ظلم کر رہے ہیں ہمارے اوپر اور ہم اسی کی چیزیں اس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کوک بھی پی رہے ہیں اور بھی کئی چیزیں۔ او بھئی خدا کا واسطہ ہے ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں نا ، بھوکے تو نہیں مر جائیں گے۔ 

آصف محمود:مولانا زاہد الراشدی صاحب، میں آپ کی طرف آتا ہوں، ذرا رہنمائی فرمائیے، لوگ یہ جاننا سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ مسلم ممالک کمزور بھی ہیں، مسلم ممالک اس پوزیشن میں بھی نہیں ہیں کہ جو سوپر پاور سے ٹکرا سکیں، لیکن مسلم ممالک بالکل خاموش بھی ہیں، اس سے بھی ظاہر ہے بہت تکلیف اور صدمے کی کیفیت ہے۔ تو ان حالات میں شرعی رہنمائی کیا ہے؟ مسلم ممالک کو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ عام آدمی کو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ بائیکاٹ بھی ہو رہا ہے مولانا صاحب، لیکن بائیکاٹ کے ساتھ کچھ تشدد کی چیزیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تو اس سارے معاملے میں آپ ہمارے رہنمائی فرمائیے کہ دینی احکام کیا ہیں؟ 

مولانا زاہد الراشدی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بہت بہت شکریہ، گزارش یہ ہے کہ شرعی پوزیشن تو یہ ہے کہ ایک مسلم آبادی پر حملہ ہوا ہے اور مسلسل جاری ہے، وہ ذبح ہو رہے ہیں وہ جل رہے ہیں وہ مر رہے ہیں، اور اس پوزیشن میں جو فقہاء نے ہمیشہ لکھا ہے   کہ باقی مسلمانوں پر ان کو چھڑانا اور ان کے وطن کی آزادی کے لیے ، ان کی خودمختاری کے لیے  اور ان کے تحفظ کے لیے خود میدان میں آنا ، یہ فرض ہو جاتا ہے۔ ’’الاقرب فالاقرب‘‘  قریب کے لوگ جیسے ابھی میرے بھائی فرما رہے تھے کہ عربوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد ہماری ذمہ داری ہے۔ شرعی پوزیشن تو یہ ہےکہ جہاد، جیسے کل ہماری قومی فلسطین کانفرنس میں تمام دینی مکاتب فکر کی متحدہ قیادت نے اعلان کیا کہ جہاد اصولاً‌ تو فرض ہو گیا ہے۔  قرآن پاک کہتا ہے کہ ’’مالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء‘‘ (النساء ۷۵) یہ کمزور لوگ دہائی دے رہے ہیں اور ہم تماشائی بنے ہوئے ہیں، شرعی پوزیشن تو یہ ہے کہ جہاد تو اصولاً‌ فرض ہو چکا ہے، اس کا اعلان بھی ہمارے پاکستان کی حد تک قومی دینی قیادت نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاد کرنا تو ریاستوں نے ہے، حکومتوں نے ہے، فوجیں موجود ہیں، ریاستیں موجود ہیں۔ یہ تو اس کا شرعی پہلو ہے، اب یہ کب آپس میں بیٹھتے ہیں۔ مجھے سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) اور عرب لیگ اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کے لیے،  طے کرنے کے لیے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں، یہ انتہا کی بے حسی ہے کہ اکٹھے بیٹھنے کو اور سوچنے کو تیار نہیں، نہ عرب لیگ  تیار ہے، نہ او آئی سی تیار ہے کہ ہم بیٹھیں ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ 

سیاسی طور پر دیکھیےمیں نہیں سمجھتا کہ عالمِ اسلام کمزور ہے،  ٹھیک ہم ہتھیار میں ٹیکنالوجی میں کمزور ہیں، لیکن آج بھی دنیا میں مذہب کے اعتبار سے   سیاسی وحدت اگر کسی میں ہے تو مسلمانوں میں ہے۔ تین سو سال کی فکری جنگ میں مسلمانوں کو ان کے مذہب سے دستبردار نہیں کروایا جا سکا۔ سب محاذوں پر مغرب نے فتح پائی ہے لیکن مسلمان کی کمٹمنٹ قرآن پاک کے ساتھ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، دین کے ساتھ،  کعبہ کے ساتھ آج بھی کمزور نہیں ہے۔ یہ ہماری کمٹمنٹ جو ہے ، اللہ کی ذات کے ساتھ، قرآن پاک کے ساتھ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے ساتھ اور بیت اللہ کے ساتھ،  یہ کمٹمنٹ اتنی بڑی قوت ہے کہ اگر ہم اس کو منظم کر سکیں اور اس کو صحیح طور پر اپنے دینی مفاد کے لیے ملی مفاد کے لیے متحرک کر سکیں تو اس سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہے۔ 

ہم نے ہمیشہ نظریاتی قوت سے، عقیدے کی قوت سے ، اسباب کی قوت پر فتح پائی ہے، کوئی بھی تاریخ کا موقع دیکھ لیں، بدر میں کیا ہوا تھا، خندق میں کیا ہوا تھا، ہماری قوت ہمیشہ ایمان اور کمٹمنٹ اور دینی جذبات، یہ رہے ہیں۔ وہ آج بھی موجود ہیں، کمزوری حکمرانوں اور ریاست کے ذمہ دار حضرات کی ہے کہ وہ اس کی طرف آنے کو تیار نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ او آئی سی، عرب لیگ اور دینی قیادتیں آج بھی منظم ہو کر مسلمانوں کو متحد کر لیں تو ہم باقی اسباب پر، میں کمزوری کا انکار نہیں کر رہا، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہوں، لیکن اپنی وحدت کی قوت سے، اپنی کمٹمنٹ کی قوت سے ہم ان پر قابو پا سکتے ہیں۔  لیکن سوال قابو پانے کا نہیں، کیا ہم قابو پانے کے لیے سوچنے کو تیار ہیں؟ کیا اس کے لیے کوئی فورم بیٹھنے کو تیار ہے؟ ہمیں سب سے پہلے اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے، ہمیں سے مراد دینی قیادت بھی، سیاسی قیادت بھی، حکمران بھی، ہمارے عسکری رہنما بھی پوری دنیا کے مسلمانوں کے، جتنی بھی عسکری قیادتیں ہیں، ہمیں اپنے آپ کو سیریس تو کرنا چاہیے۔ میرا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم سیریس نہیں ہیں۔

آصف محمود: اچھا مولانا صاحب، ایک اور ایشو پر رہنمائی کیجیے گا کہ کچھ صاحبِ علم یہ رہنمائی دیتےہیں اور اس سے آدمی اچھا خاصا کنفیوژ ہو جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس جوابی طاقت نہ ہو دشمن سے ٹکرانے کی، ظالم سے ٹکرانے کی، تو پھر اگر آپ ٹکرائیں گے تو اس سے آپ کی مصیبتوں کا دورانیہ بڑھ جائے گا، اور آپ مسلمانوں کو مزید عذاب سے دوچار کر دیں گے، اس لیے جب تک آپ کے پاس برابر کی قوت نہیں ہے تب تک آپ صبر کریں، اور ان کا یہ کہنا ہے کہ یہی شرعی حکم بھی ہے۔ 

مولانا زاہد الراشدی: یہ دانشور حضرات  بہت لیٹ یہ بات کر رہے ہیں، ان کو یہ مشورہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا چاہیے تھا کہ جب آپ کے پاس برابر کی قوت نہیں ہے تو کیوں سامنے آئےہیں؟ ان کو یہ مشورہ خلافتِ راشدہ کے دور میں رومی سلطنت کے مقابلے پر ، بہت لیٹ آئے ہیں یہ، یہ مشورہ اس وقت ہونا چاہیے تھا۔  ہم تو ہمیشہ اسباب کی کمزوری کے باوجود ٹکرائے ہیں، اپنے سے دس گنا طاقتوں سے ٹکرائے ہیں، ہم نے فتح پائی ہے، ہم اپنی روایات کو بھول کر چند مفروضوں پر کیوں کھڑے ہیں؟ یہ مفروضے ہیں۔ ہماری پوری  تاریخ دیکھ لیجیے، یہاں  برصغیر میں مسلمان حکومت قائم ہوئی ہے، یہ طاقت کے توازن پہ قائم ہوئی ہے یا برابر کی قوت پر قائم ہوئی ہے؟ یا خلافتِ راشدہ کے دور میں فارس کی سلطنت کو ہم نے شکست دی ہے، روم کو شکست دی ہے، کیا یہ طاقت کے مقابلے (توازن) پر تھی؟ یہ مفروضات ہیں میرے بھائی۔ یہ بات نہیں۔ ایمان، وحدت اور اللہ کی مدد کے وعدے پر یقین، یہ ہماری قوت ہے اور یہ آج بھی موجود ہے اگر ہمیں اس پر یقین آ رہا ہو۔ یہ فلسفہ کہ برابر کی طاقت ہو تو ٹکراؤ، یہ فلسفہ ہماری پوری چودہ سو سال کی تاریخ سے ٹکراتا ہے۔ 

آصف محمود: مولانا یہ جو بائیکاٹ کی بات چل رہی ہے، اس میں اب کہیں کہیں کچھ کچھ شہروں میں تشدد کی خبریں بھی آ رہی ہیں، اس پہ کیا رہنمائی کریں گے آپ؟

مولانا زاہد الراشدی: تشدد تو خیر نہیں ہونا چاہیے لیکن پر امن بائیکاٹ۔ یہ بائیکاٹ سنتِ رسولؐ بھی ہے ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بائیکاٹ بھی ہوا ہے اور حضورؐ نے بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ معاشی جنگ ایک مستقل جنگ ہے، اس میں قانونی اور اخلاقی حدود کو سامنے رکھتے ہوئے اس کمپین کو زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانا چاہیے اور اس کو منظم کرنا چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آج کی (بلکہ) ہر دور کی معاشی قوت رہی ہے، اس کو ہم صحیح طور پر مینج کریں اور اس کو طریقے سے منظم کر کے لوگوں کو تیار کریں۔ اس میں تشدد کو میں درست نہیں سمجھتا، لیکن بہرحال ہمیں اپنا کردار تو ادا کرنا چاہیے، تاجروں کو بھی، علماء کو بھی، اور لوگوں کو بھی۔

آصف محمود: مولانا صاحب میں واپس آپ کی طرف آؤں گا، دوسرے مہمانوں کا موقف لے لیں۔ ایک سوال میں بلوچ صاحب سے پوچھنا چاہ رہا ہوں۔ بائیکاٹ پر  بعض لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ہم بائیکاٹ تو کرنے کو تیار ہیں لیکن جو ہماری مقامی مصنوعات ہیں اس میں اگر خالص دودھ ہے تو وہ پھر کم از کم خالص تو ہو۔ پہلے خالص دودھ ہوتا تھا، پھر لکھا ہوا ہوتا تھا کہ ٹیکے سے بھی پاک خالص دودھ، اور پھر بھی وہ خالص نہیں ہوتا۔ یہ جو ہماری ایتھکس ہیں ہمارے کاروباری طبقے کی، ظاہر ہے آپ برا نہیں منائیں گے، ہم سب کا یہی حال ہے، پورے ملک کا یہی حال ہے، صرف آپ کا نہیں ہے۔  یہ شکوہ لوگوں کا کہاں تک ہے کہ بھئی ہم تو چاہتے ہیں کہ ہم مقامی مصنوعات لیں لیکن مقامی مصنوعات کا معیار ٹھیک نہیں ہے، پرائس بہت زیادہ ہے۔  حالانکہ یہ کوئی کوالٹی کا موقع نہیں ہے، یہاں تو اگر ناقص بھی ہے تو میری رائے میں وہی لینا چاہیے، یہ بحث ہی سرے سے نہیں ہے کہ اس وقت کوالٹی کیا ہے۔ لیکن ایک شکوہ تو ہے، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اچھا متبادل نہیں دے پاتے؟

اجمل بلوچ: ہمیں اصل میں مغرب نے ا پنی چیزوں سے دور کر کے، اور انہوں نے کہا یہ جو ڈبے میں دودھ  ہو گا یہ جو ڈبے میں دہی ہو گی، یہ سب سے اچھا ہو گا، ہمارے لوگوں نے اس کو کھانا۔ میں دعوے سے کہہ رہا ہوں، جو ڈبے میں دہی کھاتا ہے وہ زیادہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، جو ڈبے کا دودھ پیتا ہے وہ بڑے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ جو عام آدمی ہے، جو ستارہ مارکیٹ سے دودھ لے کر پیتا ہے وہ کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا۔ یہ پیدا کر دیا گیا ہے یقین کریں، ایسا ہے نہیں۔ میں عام آدمی ہوں، عام زندگی گزارتا ہوں، یقین کریں جتنی عام زندگی میں گزارتا ہوں، میرے گھر میں ایک سالن پکتا ہے، او یار کچھ بھی نہیں ہوتا ہے، یہ ہمارے ذہنوں میں ڈال دیا گیا ہے کہ ہم دودھ میں پانی ڈالتے ہیں ہم فلاں کرتے ہیں۔ دیکھیں جو ایسا کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے، وہ تاجر نہیں ہے اگر کوئی پانی ڈالتا ہے اگر کوئی ملاوٹ کرتا ہے ، ہو سکتا ہے دنیا میں اور بھی لوگ کرتے ہوں۔ یہ جو ہمیں پلاتے ہیں مغربی ڈبے، ان میں ملاوٹ نہیں ہوتی ہے؟ ان میں کیا ہوتا ہے، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ خالص بھینس کا دودھ ہوتا ہے؟ یہ خالص گائے کا دودھ ہوتا ہے؟ 

آصف محمود: وہ کہتے ہیں کہ یہ تو وہائٹنر ہوتا ہے۔

اجمل بلوچ: اور سر یہ نہیں ہوتا، یہ ظلم ہوتا ہے اور اس کا فائدہ اسرائیل کو ہوتا ہے، ہم یہ پی کر بیمار بھی ہوتے ہیں ، فائدہ اسرائیل کو پہنچاتےہیں۔ 

آصف محمود: اچھا ایک اور چیز سمجھائیں، بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جو چیزوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، یہ  اصل میں جن کے لیے ہم بائیکاٹ کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، اس میں اجمل بلوچ جیسے دوست کاروبار کر رہے ہیں، یہ مقامی لوگ ہیں، لہٰذا بائیکاٹ نہ کریں، نقصان مقامی لوگوں کا ہی ہو رہا ہے، باہر کی قوتوں کا تو نہیں ہو رہا۔ یہ بھی جھوٹ ہے، اس میں کوئی صداقت ہے؟

اجمل بلوچ: دیکھیں بات یہ ہے کہ لوگ باتیں کرتے رہیں۔ میں اپنے تاجروں سے، پورے پاکستان میں سو کروڑ سے زیادہ تاجرہے، دیکھیں وہ مسلمان تاجر ہے، وہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ مجھے۔ دیکھیں، اس کا مال اس کی جان عزیز نہیں ہے اللہ کی راہ سے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لیے، یا اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے، یا اللہ کی راہ میں مدد کرنے کے لیے، یہ کوئی چیزیں نہیں ہیں یقین کریں، ان ساری چیزوں کو سائیڈ پہ رکھا جا سکتا ہے، پھینکا جا سکتا ہے۔ کیا وہ لوگ بھوک سے مر گئے تھے؟ آج تک کوئی بھوک سے مرا ہے؟ 

ہمارے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ ہم اگر یہ مال نہیں بیچیں گے تو پتہ نہیں کمزور ہو جائیں گے۔ پچھلے تین سالوںمیں کیا ہو گیا ہے؟ کوئی امپورٹ نہیں ہے ہماری، ہمارے پاس پیسےہی نہیں ہیں، ہمارے پاس ڈالر ہی نہیں ہیں، نہیں ہیں نا، تو اگر امپورٹ نہیں ہوئی ہیں چیزیں تو ہم مر گئے ہیں؟ 

آصف محمود: امپورٹ نہیں ہے، ڈالر نہیں ہے، باہر سے چیزیں نہیں آئیں تو اس سے کچھ مقامی معیشت بہتر ہوئی ہے، مقامی تاجروں نے اپنی کچھ چیزیں ، موقعے سے فائدہ اٹھایا ہے؟ 

اجمل بلوچ: بالکل اٹھایا ہے، دیکھیں، آج جو کچھ ہو رہا ہے، جو کچھ چل رہا ہے، جو کچھ لوگ کھا پی رہے ہیں، کچھ تو ہو رہا ہے نا۔ ایویں تو نہیں ہو گیا خدا نخواستہ۔ اس سے فائدہ ملکی چیزوں کو ہوا ہے، اور اگر یہ ایسا کر لیں گے۔  دیکھیں بات یہ ہے میں کہتا ہوں جی ہم بھوکے مر جائیں، ہمیں درخت کے پتے کھانے پڑیں، ہم ان کو نہ نفع پہنچائیں جو ہمیں ذبح کر رہے ہیں، جو ہمارے مسلمانوں کو مار رہے ہیں، ہمیں یہ قربانی دینا ہو گی کسی بھی صورت میں۔ 

آصف محمود: اور آپ کے تاجر بھی اس بات سے متفق ہیں؟

اجمل بلوچ: میں کہتا ہوں عربوں کے علاوہ، عرب نزدیک بیٹھے ہیں نا، وہ جنگ کریں، قرآن کہتا ہے وہ جنگ کریں، وہ لڑیں، ان کی مدد کریں۔  ہم  کم از کم ان کا بائیکاٹ تو کریں۔ ہم اپنی چیزیں توڑنا شروع کر دیتے ہیں، یہ میری اپیل ہے کہ اپنی چیزیں نہ توڑو، اپنی چیز کو آگ نہ لگاؤ، ان کی جو چیزیں ہیں ان کو پرے پھینک دو بھئی۔ 

آصف محمود: ان کو لینے سے انکار کر دو۔

اجمل بلوچ: ہاں، ان کو لینے سے انکار۔ نہ کھاؤ نہ بیچو۔ نقصان نہیں ہو گا۔ میں حلف دے کر کہتا ہوں کہ جو ذہنی طور پر کہے گا میں مسلمان ہوں، علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت تو مسلمان کا اس میں خسارہ ہے۔ 

آصف محمود: ایسی تجارت میں مسلمان کا خسارہ ہے۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب میں آپ کی طرف آتا ہوں۔ آپ نے کچھ بڑے اچھے سوالات مرتب کیے ایک دون پہلے، مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اس میں، جس طرح زاہد الراشدی صاحب نے بھی کہا،    تقی عثمانی صاحب نے بھی کہا کہ جہاد اب واجب ہو چکا ہے۔ دو سوال ہیں جو میرے ذہن میں آئے۔ 

ایک تو یہ ہے کہ اگر ہمارے علماء کرام کو ساٹھ ہزار لاشوں کے بعد خبر ملی ہے کہ جہاد واجب ہو چکا ہے، تو پھر حکمرانوں کو تو کم از کم بیس پچیس سال مزید لگیں گے یہ سمجھنے میں کہ جہاد واجب ہو چکا ہے۔ لہٰذا یہ بڑا بنیادی سوال ہےکہ اس کنونشن کا اور اس کنونشن میں ’’جہاد واجب ہو چکا ہے‘‘  کا شانِ نزول کیا ہے؟ ڈیڑھ سال کے بعد اگر آپ  کو خبر ملی ہے ، ساٹھ ہزار لوگ قربان کرنے کے بعد۔ ایک سوال تو یہ ہے۔ 

دوسرا یہ کہ نیشن سٹیٹس جب جنگ کرتی ہیں یا نہیں کرتی ہیں تو اس میں وہ ظاہر ہے علماء سے تو پوچھتے ہی نہیں ہیں، تو علماء نے تو اپنی ذمہ داری دیر سے ہی ادا کی لیکن کر دی، اس سے بھی ظاہر ہے کہ میسج جاتا ہے، ورنہ علماء تو امریکہ میں اور مصر میں ایسے بھی بیٹھے ہیں کہ جو کہہ رہے ہیں کہ جہاد یہاں پہ ہے ہی نہیں، موقع ہی نہیں ہے۔ تو یہ بھی غنیمت ہے، ہم انہیں اس پر بھی خراجِ تحسین ہی پیش کرتے ہیں ظاہر ہے۔ لیکن نیشن سٹیٹس تو شاید ان کی طرف سے ایسے کسی اعلان سے بے نیاز ہیں۔ یا کچھ اثر پڑتا ہے اس چیز کا؟ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: دونوں سوالات بہت اہم ہیں اور آپ نے جو دوسرے سوال میں بعض ممالک کے علماء کی طرف اشارہ کیا تو مجھے بھی کہنے دیں۔  ہمارے زمانۂ طالب علمی میں ایک عرب ملک سے ہمارے بعض اساتذہ آتے تھے تو ان کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ کسی پروگرام میں جاتے تھے اگر کہیں، جیسے ٹی وی پروگرام میں، کسی موضوع پر ان سے پوچھا جا رہا ہے، تو وہ جانے سے پہلے پوچھتے تھے ’’مخالف ام موافق؟‘‘  کیا ہم نے مخالفت کرنی ہے یا موافقت کرنی ہے، تو اس کے مطابق ہم رائے دے لیں گے۔ 

لیکن الحمد للہ کم از کم یہ جو خطہ ہے، اور پتہ نہیں (کیوں) ہمارے لوگوں میں ایک خودملامتی کی کیفیت ہوتی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو زیادہ برا بھلا کہتے ہیں۔  حالانکہ اس خطے کی تاریخ یہ رہی ہے، یہاں کے علماء کی، اچھے برے تو ہر جگہ ہوتے ہیں، اور تناسب بھی کہیں کم کہیں زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہاں کے علماء کی ہمیشہ سے تاریخ یہ رہی ہے کہ انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ہے کہ حاکمِ وقت کا موقف کیا ہے، بلکہ انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ جو دین کا صحیح موقف ہے وہ لوگوں کے سامنے رکھیں، چاہے اس کے نتیجے میں ان کو  کتنے ہی نتائج بھگتنے پڑیں۔   یہاں تک کہ ایک بڑے مشہور رائیٹر ہیں ڈاکٹر قاسم زمان، آکسفورڈ نے ان کی کتاب پبلش کی ہے، برصغیر کے علماء پر ان کا بڑا اعلیٰ معیار کا کام ہے، اس کتاب کا نام ہے 

The Ulama in Contemporary Islam: Custodians of Change

یعنی اس خطے میں اگر کوئی آپ تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس تبدیلی کے کسٹوڈینز، اس کے محافظ اور نگران علماء ہیں۔ یعنی علماء کو ساتھ لے کر  آپ چلیں گے تو آپ ایک دور رس تبدیلی لا سکتے ہیں سسٹم میں بھی اور لوگ اس کو قبول بھی کر لیں گے۔ ورنہ آپ نے سرکاری جتنے بھی ادارے بنائے ہیں ، اور سرکاری مناصب پر جتنے بھی آپ نے علماء کو وہاں منصب دیے ہیں، ان کا  احترام اور مقام اپنی جگہ، لیکن عام آدمی کو، مسجد کے مولوی سے اور مدرسے کے مفتی سے بات آجائے تو وہ اسے مانتا ہے، سرکاری منصب پر بیٹھے آدمی سے آئے اس کو وہ نہیں مانتے۔ 

اس لیے یہ جو کل علماء کا کنونشن ہوا ہے، کانفرنس ہوئی ہے، میں تو اس سے بہت خوش ہوں کہ  الحمد اللہ اس میں کئی خوش آئند باتیں ہیں کہ تمام مکاتب فکر کے علماء آئے اور انہوں نے جو اعلامیہ جاری کیا،  بہت دقت کے ساتھ اسے مرتب کیا گیا ہے اور اس میں اہم ایشوز پر فوکس کیا گیا ہے۔ ان کا کام تو ڈکلیریشن ہے کہ حکمِ شرعی ہے کیا؟ اب اس کی تنفیذ، اصل میں یوں کہیں انہوں نے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری بھی یاد دلائی ہے، اور فواد چودھری جیسے لوگ اور بعض دیگر لوگ اگر مذاق اڑاتے ہیں کہ فلاں مولوی کیوں نہیں جا رہا، فلاں کیوں نہیں جا رہا وغیرہ، یہ تو غلط بات ہے۔  علماء کا کام یہ ہے کہ وہ آپ کو بتائیں کہ شرعی حکم کیا ہے۔ اب شرعی حکم میرے لیے کیا ہے، آپ کے لیے کیا ہے، مختلف جو پوزیشنوں پر جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔

آصف محمود: لیکن ڈاکٹر صاحب علماء سے تو ان کا شکوہ ہی یہی تھا کہ جہاد کرنا آپ کا کام نہیں ہے، آپ  کو صرف اصولِ شرعی بتانا ہے، باقی کرنا ریاست کا کام ہے۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: لیکن مسئلہ یہ ہے جب وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا کام صرف اصولِ شرعی بیان کرنا ہے تو  وِد اِن بریکٹس ان کے ذہن میں یہ ہوتا تھا کہ وہ اصولِ شرعی جو ہماری خواہش کے مطابق ہو۔ یعنی ورنہ اگر انہیں واقعی صحیح اصولِ شرعی معلوم کرنا تھا تو ان کو تو اس کو ویلکم کرنا چاہیے تھا کہ علماء نے ہمیں ہماری دینی ذمہ داری یاد دلائی ہے۔   

اچھا، آپ کا دوسرا سوال نیشن سٹیٹس کے حوالے سے تھا۔ پاکستان باقی نیشن سٹیٹس سے بالکل مختلف ہے، اس کا آغاز بھی مختلف ہے، اس کی بنیاد بھی مختلف ہے، اور اس کاآئین بھی مختلف ہے، اس کا نظام بھی مختلف ہے۔ دیکھیں، پاکستان بننے سے بھی پہلے ۱۹۳۰ء کی دہائی سے دیکھیں مسلم لیگ کے ہر اجلاس میں آپ کو فلسطین کے حوالے سے خصوصی قرارداد ملتی ہے۔ قائد اعظم کے خطوط میں، ان کی سپیچز میں، فلسطین کا آپ کو خصوصاً‌ ذکر ملتا ہے۔ اچھا، پاکستان بننے کے بعد بھی ہم نے اپنے آئین میں بھی اور قراردادِ مقاصد میں بھی اور ہر جگہ ہم نے اسلام کی بات کی ہے اور یہ کہا ہے کہ یہاں جو سٹیٹ کی پالیسی ہو گی وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی، فارن پالیسی میں بھی ہم نے اس بات پر زور دیا ہے۔  

کچھ دیر پہلے مولانا صاحب نے ایک بہت اہم بات کہی کہ مسلمانوں کے ہاں دین ابھی تک ایک اہم فیکٹر ہے اور تین سو سال کی تاریخ اس پر شاہد ہے۔ میں اس کی تائید کرتے ہوئے برنارنڈ لوئس کی ایک بات کی طرف اشارہ کروں گا، برنارڈ لوئس آپ جانتے ہیں مشہور یہودی پروفیسر تھا، پہلے برطانیہ میں ملٹری انٹیلی جنس کے لیے بھی اس نے کام کیا دوسری جنگِ عظیم میں، پھر وہ امریکہ چلا گیا وہاں وہ نیو کنزرویٹوز کا گرو کہلایا، بش وغیرہ کا، سب کا۔ اچھا، اس کی کتابیں ہیں نائن الیون سے پہلے بھی نائن الیون کے بعد بھی۔ اس کی ایک بڑی مشہور کتاب ہے The Crisis of Islam کے نام سے۔ What Went Wrong ایک اور اس کی کتاب ہے۔ ان کتابوں میں وہ کہتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں عیسائیت کے نام پر ریاستوں کی تنظیم نظر نہیں آتی، فلاں مذہب فلاں مذہب کے نام پر نہیں، لیکن اس جدید دنیا میں بھی آپ کو ستاون ریاستوں کا ایک پلیٹ فارم نظر آتا ہے، اس کو انہوں نے نام دیا ہے Organization of Islamic Cooperation ۔ ہم اسے مردہ گھوڑا کہیں، ہم اس پر لاکھ تنقید کریں، لیکن یہ بذاتِ خود ایک بڑی اچیومنٹ ہے کہ اس وقت بھی ستاون ریاستیں ایسی ہیں جو مسلمان ریاست کے طور پر مانتی ہیں کہ ہم مسلمان ریاستیں ہیں۔ 

آصف محمود: لیکن ڈاکٹر صاحب بات لوگ کہتے ہیں کہ یہ صفر جمع صفر اِز ایکول ٹو صفر والی بات ہے، یہ ستاون کی بجائے ایک سو ستاون بھی ہوں تو اگر ان کے پاس طاقت نہیں ہے تو انہوں نے مار ہی کھانی ہے۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: نہیں، اصل میں طاقت تو ہے،  مسئلہ یہ ہے کہ  at the helm of affairs  جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں کیا اس طاقت کا ان کو احساس ہے اور کیا اس طاقت کو وہ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے اندرونی مسائل سے نبرد آزما بھی ہیں، بہت سارے مسائل یقیناً‌ موجود ہیں، لیکن اس آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن کے چارٹر میں ایک مستقل مسئلہ اس کے ایجنڈا پر موجود ہے، وہ القدس کا ہے،  اور اس میں یہاں تک تصریح کی گئی ہے کہ اس وقت تو اس آرگنائزیشن کا ہیڈکوارٹر عارضی طور پر جدہ میں ہے لیکن جب القدس کو ہم آزاد کرائیں گے تو  پھر مستقل وہی اس کا ہیڈکوارٹر ہو گا۔ یہ بہت بڑا اعلان ہے۔  میرے خیال میں ہمیں اس کو انڈرمائن کرنے کی بجائے اس کو مزید ری انفورس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

آصف محمود:  جو علماء کی رائے آئی ہے اس کا کچھ اثر پڑے گا دنیا میں؟ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: یقیناً‌ پڑے گا، دیکھیں مفتی تقی عثمانی صاحب کو صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں۔ 

آصف محمود: ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا سے زیادہ اسرائیلی میڈیا نے اس کو  (دکھایا ہے)۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: ظاہر ہے ان کو تکلیف تو ہے، ان کو پتہ ہے، وہ بہت بڑی شخصیت ہیں اور عرب دنیا میں بھی ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے، ان کی شخصیت بڑی قد آور ہے، فقہ میں، اسلامی قانون میں ان کو پوری دنیا اتھارٹی مانتی ہے۔ اس طرح باقی جو علماء کرام ہیں، تو اپنے حلقے میں بھی، پاکستان میں بھی، پاکستان سے باہر بھی۔ اور ویسے بھی دنیا بھر میں لوگ پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں کہ یہاں سے کیا ہو گا۔ دیکھیں، مصر سے کیا جواب آئے گا،  وہاں کے علماء کا موقف کیا ہو گا؟ میں بھی جانتا ہوں، آپ بھی جانتے ہیں، لوگ پہلے سے پریڈِکٹ بھی کرتے ہیں کہ وہاں سے کیا ہو گا۔ لیکن سب کی نظر اس پر ہوتی ہے کہ پاکستان سے کیا کوئی آئے گا کچھ؟ اس وجہ سے یہاں جو خاموشی تھی وہ بڑی ہی اندوہناک تھی ، وہ خاموشی جو ٹوٹی ہے تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔  

آصف محمود: مولانا زاہد الراشدی صاحب، دو سوال آپ کی خدمت میں رکھوں گا۔ ایک تو یہ کہ اگر اقوامِ متحدہ غیر فعال نظر آ رہی ہے تو پھر اسی اصول کا اطلاق او آئی سی پر بھی ہونا چاہیے۔ او آئی سی بھی اگر فلسطین پر نہیں بولتی تو پھر او آئی سی کے باقی رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ ایک تو اس پہ رہنمائی فرمائیے گا۔ 

مولانا زاہد الراشدی: پہلی گزارش یہ ہے کہ میں اس سوال کے جواب سے پہلے آپ کی پہلی  بحث سے اصولی اختلاف کروں گا کہ علماء کو اب کیوں یاد آیا ہے؟ انہی علماء نے گزشتہ سال بھی اسی اسلام آباد میں کانفرنس کی تھی اور یہ ساری باتیں اسی لہجےمیں کہی تھیں،  اب تھوڑا سا لہجہ بڑھایا ہے، ورنہ پچھلے سال جو کانفرنس کنونشن سنٹر میں ہوئی تھی ، اس دفعہ چائنا سنٹر میں ہوئی ہے، آپ دونوں کی تقریریں پڑھ لیں، دونوں کا اعلامیہ پڑھ لیں، صرف اتنا فرق پڑا ہے میرے نزدیک کہ پچھلی کانفرنس میں علماء نے اپنی اور طبقات کی ذمہ داریاں بیان کی تھیں، اس دفعہ حکمران چونکہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اس لیے انہوں نے حکمرانوں کو خطاب کیا ہے کہ جناب آپ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ اس بات سے تو میں اختلاف کروں گا کہ یہ پہلا موقع ہے، علماء کرام شروع سے کہہ رہے ہیں اور یہ دوسری کانفرنس ہے جو تسلسل ہے پچھلی کانفرنس کا۔ 

اس کے بعد میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ ہمارے تحفظات ہیں، اختلافات ہیں، میں اس پر ایک بات یاد دلانا چاہوں گا کہ اب سے پچیس سال پہلے پچاس سالہ تقریبات تھیں جب اقوامِ متحدہ کی تو مہاتیر محمد وزیر اعظم ملائیشیا جو بعد میں او آئی سی کے صدر بھی رہے، انہوں نے مسلم ممالک کے سامنے سوال اٹھایا تھا کہ ہمارے تحفظات ہیں، اقوامِ متحدہ کے معاہدات کے حوالے سے بھی، دینی تحفظات ہیں، تہذیبی تحفظات ہیں، سیاسی تحفظات ہیں، اور اقوامِ متحدہ کی جو فیصلے کی پاور کی قوت ہے، ویٹو پاور، اس پر بھی ہمارے تحفظات ہیں۔ میں چاہوں گا کہ مہاتیر محمد نے آج سے پچیس سال پہلے جو کمپین کی تھی اس کمپین کو دوبارہ سامنے لایا جائے۔ 

ہم یہ بات کافی عرصے سے کر رہے ہیں  اقوامِ متحدہ کی یہ جو متضاد پالیسیاں، دوغلا پن،  میں کم از کم لفظ یہی بولوں گا۔ دیکھیں، اتنا بڑا دوغلا پن کہ وہی اقوامِ متحدہ جو کشمیر میں ریفرنڈم نہیں کر وا رہی کہ یہ مذہب کے نام پر ہے، اسی نے مشرقی تیمور میں ایک ریفرنڈم کروایا ہے، اسی اقوامِ متحدہ نے جنوبی سوڈان میں مذہب کے نام پر ریفرنڈم کروایا ہے، یہ دوغلاپن اور متضاد پالیسیاں، ہمارے تحفظات پہلے سے موجود ہیں، اظہار کر رہےہیں، میں مہاتیر محمد کا بطور خاص حوالہ دینا چاہوں گا اور گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے جو ہمارا رویہ تھا اس حوالے سے۔

تو میں یہ عرض کروں گا کہ  ہمیں پہلے مرحلے پر اقوامِ متحدہ کے سامنے، او آئی سی اگر نہیں آتی تو مسلمان دینی قیادتیں، پرائیویٹ بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، ہم پہلے بھی ہوئے ہیں، تو ہمیں علماء کرام کو، دینی قوتوں کو، جو اپنے اس فریضے کو سمجھتے ہیں،  یہ آواز اجتماعی طور پر اٹھانی چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کے معاہدات کے بارے میں بھی ہمارے تحفظات ہیں، اس کی بیلنس آف پاور کی قوت پر ہمارے تحفظات ہیں،  اور اس کے فیصلوں پر بھی ہمارے تحفظات ہیں، ہمیں یہ کمپین کرنا ہو گی، اگر حکومتیں نہیں کریں گی ان شاء اللہ ہم کریں گے، ہمیں یہ کرنا ہو گی، ان کے تضادات واضح کرنا ہوں گے، ان تضادات کو جب واضح کریں گے تو او آئی سی کو خود بخود واضح ہو جائیں گے۔

آصف محمود: مولانا زاہد الراشدی صاحب، ایک سوال اور کہ یہ جو فلسطین میں ظلم ہو رہا ہے، اس ظلم کے خلاف ہم نے دیکھا کہ ویسٹ میں مغرب میں لوگ نکلے، ہم نے دیکھا کہ خود یہودی نکلے اسرائیل کے خلاف، ایک یا دو نہیں بیسیوں مظاہرے خود یہودیوں نے اسرائیل کے خلاف کیے۔ لیکن مولانا زاہد الراشدی صاحب، ہم نے مسلمان معاشروں میں اس کے اوپر مظاہرے بہت کم سنے بہت کم دیکھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ 

مولانا زاہد الراشدی: اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستوں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے   انہوں نے عوام کو کنفیوژ کر رکھا ہے، ہمارے ریاستی رویے نے، تمام ممالک کے، ریاستی رویوں نے عوام کو کنفیوژ کر رکھا ہے، تھوڑا بہت جو ان کو حوصلہ ملتا ہے دینی قیادتوں کے حوصلے سے، جرأت سے اور استقامت سے کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں، کوشش کیجیے کہ اس کو مزید قوت فراہم کیجیے تاکہ۔  امت کو سنبھالنا  مستقل کام ہے، ریاستوں کو سنبھالنا حکمرانوں کا کام ہے، امت کو سنبھالنا علماء کا کام ہے، اور وہ الحمد للہ میں سمجھتا ہوں کہ جس حد تک بھی ان کے بس میں ہے وہ کر رہےہیں۔ 

آصف محمود: اجمل صاحب، آپ کی طرف آتا ہوں میں۔ یہ جو بائیکاٹ ہو رہاہے، اس کا کچھ اثر بھی پڑ رہا ہے؟ 

کتنا   اثر پڑ رہا ہے،پڑ رہا ہے یا نہیں پڑ رہا، یہ آپ ہی بتا سکتے ہیں۔ 

اجمل بلوچ: بات یہ ہے کہ پڑے یا نہ پڑے، پڑے یا نہ پڑے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ۔

آصف محمود: فرض تو بالکل بنتا ہے، لیکن ویسے ذرا لوگوں کو تسلی ہو جاتی ہے کہ بھئی کچھ فرق بھی پڑ رہے ہیں۔

اجمل بلوچ: میں تھوڑی سی ہٹ کر بات کرنا چاہتا ہوں۔ اب جیسے دیکھیں علماء کی بات ہوتی ہے، علماء کیوں دلیر ہوتے ہیں، کیوں دلیری سے ایسی بات کرتے ہیں؟ 

آصف محمود: سارے نہیں ہوتے، سارے نہیں ہوتے۔

اجمل بلوچ: ہو سکتا ہے سارے نہ کریں، لیکن میں چونکہ قرآن مجید کا طالب علم ہوں، پچھلے پچیس سال سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں نے یہ دیکھا ہے، جو ہسٹری ہے، جو تاریخ ہے، قرآن مجید سے دوری جو ہے، اس وجہ سے ہم کمزور ہو گئے ہیں۔ جب تک لوگوں نے، جو پہلے تھے، جب قرآن مجید کے نزدیک تھے، ہر جنگ جیتی ہے انہوں نے، کوئی ان کو شکست نہیں دے سکا،  یہ روٹی کو، یہ پانی کو، یہ معاشی حالات کو نہیں دیکھتے ہوتے تھے، یقین کریں  جب وہ دلیری کے ساتھ آگے بڑھتے تھے، اللہ ان کی مدد کرتا تھا۔ اللہ نے تین سو تیرہ کی مدد کی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم علماء کو بھی دیکھتے رہتے ہیں کہ وہ نکلیں گے تو ہم نکلیں گے۔ ہم قرآن مجید کو کیوں نہیں سمجھتے؟ 

دیکھیں پاکستان جب بنا، آپ ہسٹری پڑھ لیں، کہ مدرسوں سے نعرہ لگا، پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ۔ وہ اتنی آواز بلند ہوئی کہ لوگوں نے ایسے سمجھا کہ پاکستان کے اندر لا الٰہ الا اللہ ہے۔ کتنے لوگ شہید ہو گئے لیکن پاکستان بن گیا۔ ایک اور تاریخ ہے کہ پاکستان جونہی بنتا گیا، اسرائیل وجودمیں آگیا۔ اس سے پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا، آپ پڑھ لیں، یہ ڈاکٹر اسرار صاحب بھی اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چھوڑ دیں معیشت کو، چھوڑے دیں سارے کام، آپ قرآن مجید کو اپنا لیں، قرآن مجید کا اردو ترجمہ، ہر مسلمان قرآن مجید کو سمجھ لے، خدا کی قسم یہ دنیا ہمیں کچھ نہیں کہے گی یہ پیچھے ہٹ جائے گی۔ اس وقت بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیسے گئے تھے؟ ایک گھوڑے کے آگے آگے چل رہے تھے، ملازم اوپر بیٹھا تھا۔ فلسطین فتح ہو گیا تھا۔ او بھئی! کیا تھا؟ یہ قرآن مجید تھا۔ اللہ کی مدد اس کے ذریعے سے آتی ہے۔ یہ کتاب عربوں کو پتہ ہے۔ عربوں کو ہو کیا گیا ہے؟ عرب ہی تو دلیر ہوتے تھے، عرب ہی تو لڑتے ہوتے تھے۔ 

آصف محمود: غزہ میں عرب ہی لڑ رہے ہیں، اور ان شاء اللہ باقی بھی اٹھیں گے۔

اجمل بلوچ: میں جو باقی عرب بیٹھے ہوئے ہیں، اب ستاون اسلامی ممالک کے جو سربراہان ہیں وہ کمزور ہیں، اگر وہ دلیر ہوں، وہ قرآن مجید کو سمجھتے ہوں تو میرے خیال میں خالی ستاون ممالک کے حکمران آواز لگا دیں نا تو ان کو سننا پڑے گی۔ 

آصف محمود: ڈاکٹر صاحب، آپ فقہ کے استاد بھی ہیں۔ یہ ایک رائے آ رہی ہے مذہبی حلقے کی طرف سے، ایک مذہبی حلقے کی طرف سےیوں کہہ لیجیے کہ جی جب تک اتنی پرسنٹیج آپ کی نہیں ہو گی دشمن کو جواب دینے کی تب تک آپ نہ لڑیں، اگر آپ لڑیں گے تو اپنے ہی لوگ مروائیں گے۔ اور اگر آپ میں طاقت نہیں ہے تو پھر آپ صبر کریں، صبر بڑی اچھی چیز ہے۔ اور پھر وہ کہتے ہیں کہ جہاد ریاست کرے گی، اور ریاست کو تو جہاد کرنا ہی نہیں چاہیے، ریاست کو تو ویسے ہی جنگ کر لینی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ 

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: میں جانتا ہوں کہ آپ کن کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں اور جو استدلال میرے علم میں ہے۔ تو اس میں کئی مسائل ہیں دینی لحاظ سے، یعنی اس دلیل میں کافی سارے جھول پائے جاتے ہیں، خلا پائے جاتے ہیں۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم نے کسی کے ساتھ لڑنا ہو تو  چلیں ہم اس کو دیکھیں گے کہ بھئی لڑنے کی سکت ہم میں ہے یا نہیں، یا ہم ابھی لڑائی شروع کریں یا اس کو تھوڑا مؤخر کریں او رتھوڑی تیاری کر لیں۔ یہاں تو معاملہ یہ نہیں ہے، لڑائی تو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ اور سوال اب یوں ہونا چاہیے کہ جب آپ پر کوئی حملہ آور ہو تو آپ اس کا مقابلہ کریں گے یا لیٹ جائیں گے؟ اچھا ٹھیک ہے کہیں آپ کو حتی الامکان اپنی طاقت بچانی چاہیے اور اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، غیر ضروری تصادم نہیں کرنا چاہیے۔ اور جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ بات چیت ہو سکتی ہے  اور ہو سکتا ہم حملے کو تھوڑا ٹال دیں، جتنی آپ کوششیں کر سکتے ہیں وہ تو کریں، لیکن جب اس نے لڑنا ہی لڑنا ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا، صحیح مسلم کی روایت ہے، کہ اگر کوئی بندہ آئے مجھ سے لڑے اور مجھ سے زبردستی میرا مال چھیننا چاہتا ہے تو میں اسے دوں؟ آپؐ نے فرمایا، نہیں، نہ دو۔ اس نے پوچھا، اگر وہ مجھ سے لڑے؟ آپؐ نے کہا تم بھی لڑو۔ اس نے پوچھا، اگر میں مال بچاتے ہوئے اسے قتل کر دوں؟ انہوں نے کہا، وہ جہنم میں ہو گا۔ اگر مجھے قتل کر دے؟ کہا، آپ جنت میں ہوں گے۔  اچھا اس طرح کی بہت ساری اور احادیث ہیں کہ جو مال بچاتے ہوئے قتل کیا گیا وہ شہید ہے، جو جان بچاتے ہوئے قتل کیا گیا وہ شہید ہے۔ اسی طرح اور قرآنی آیات اور احادیث جن میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نے اس کو چھوڑنا نہیں ہے۔ اچھا پھر یہ جو مخصوص خطہ ہے جس کی ہم بات کر رہے ہیں، اس کے تو چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

اور پھر کیا ہم نے اس لڑائی میں یہ دیکھنا ہے کہ اہلِ غزہ کی تعداد کتنی ہے اور ان کے خلاف لڑنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ یا یہ پوری امت کا مسئلہ ہے تو ہم نے پوری امت کی قوت کا حساب لگانا ہے؟ یعنی اس لحاظ سے بھی تو دیکھنا ہے نا۔  

آصف محمود: یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: اور اہلِ غزہ نے دکھایا کہ ڈیڑھ سال تک انہوں نے جس طرح اس کو رزِسٹ کیا۔

آصف محمود: اگر اکیلا اسرائیل ہوتا تو غزہ والے اس کو تو لے گئے تھے، وہ تو پیچھے سے پورا ویسٹ سے اس کو (سپورٹ ہے)۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل، اس کو ختم کر چکے ہوتے۔ اور اس کے باوجود بھی دیکھیں ڈیڑھ سال سے وہ جمے ہوئے ہیں، وہ مورچے پر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ نہیں ہل رہے۔ اور ہم ان سے کہہ رہے ہیں یار لیٹ جاؤ اور بات کرو۔ اچھا، پھر یہ کہ جن سے بات کرنی ہے۔ آپ دیکھیں مصر نے ان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا ۱۹۷۹ء میں، اس کو اب تک کیا ملا ہے؟ اچھا،  امارات والے اور دیگر ان کے ساتھ کچھ کر رہے ہیں۔ یہ بھی تو دیکھیں نا کہ جو آپ سے کہہ رہے ہیں آپ نے نہیں لڑنا اور بات ان کی ماننی ہے، تو ان کی جنہوں نے مانی ہے وہ کہاں بچ گئے ہیں؟ 

آصف محمود: وقت ختم ہو رہا ہے، زاہد الراشدی صاحب، میں آخر میں آپ کی طرف آتا ہوں، آپ نے کہا کہ علماء اپنے طور پر بھی بات کر سکتے ہیں اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے آپ نے کہا تھا کہ علماء اپنے طور پر بھی بروئے کار آ سکتے ہیں دنیا بھر کے۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ جس طرح کا غزہ کا بلاکیڈ ہوا ہوا ہے، کیا اس میں بھی پوری اسلامی دنیا کے علماء مل کر، ساتھ ویسٹ کی سول سوسائٹی کے لوگوں کو بھی لے لیں، ظاہر یہ کوئی جہاد تو نہیں ہے کہ یہ ریاستیں ہی کریں، یہ تو ایک انسانی بنیادوں پر کوئی فریڈم فلوٹیلا کی طرح کا کوئی ایک امداد لے کر انسانی حقوق کے تحت غزہ کی طرف کوئی قافلہ جائے، علماء دنیا بھر کے اس کو دیکھیں، اس میں سول سوسائٹی کے لوگ بھی شامل ہوں،  اس میں صہیونیت کے خلاف بہت سارے یہودی بھی ہیں، وہ بھی  شاید آپ لوگوں کے ساتھ شامل ہوں، کوئی ایسی بڑی موو انسانی حقوق کے نام پر غزہ کو امداد پہنچانے کے لیے، ریاستیں نہیں کر رہیں تو کوئی سول سوسائٹی کی سطح پر علماء  کی سطح پر ہو سکتی ہے؟  

مولانا زاہد الراشدی: میری گزارش تو یہی ہے کہ یہ ہو سکتی بھی ہے اور ہونی چاہیے بھی، کہ ہم جو بات پاکستان کے دائرے میں کر رہے ہیں، دینی قیادتیں، اگر ہم تھوڑا سا آگے بڑھیں اور دوسرے ملکوں کی دینی قیادتوں سے بات کر کے رابطہ کر کے اس آواز کو عالمی سطح پر منظم کرنے کی کوشش کریں تو ہم اس آواز کو طاقتور بھی بنا سکتے ہیں اور یہ ہمیں کرنی چاہیے، ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر یہ کام حکومتیں نہیں کر رہیں، ہم کر سکتے ہیں تو ہمیں وہ کرنا چاہیے۔ اور جب بین الاقوامی تنظیمیں اور بن سکتی ہیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل بنی ہے، تو ہم اس طرز کی اپنی کوئی تنظیم نہیں بنا سکتے؟ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے کوئی منظم فورم تشکیل دے کر، علماء کی سطح پر، ہمارے پاس بہت اچھا میدان موجود ہے، چلو حرمین شریفین میں ہم اکٹھے ہوتے ہی ہیں، یا  اور کسی جگہ اکٹھے ہوں تو علماء کرام کو، دینی قوتوں کو، دینی سیاسی جماعتوں کو، بین الاقوامی سطح پر کوئی فورم تشکیل دینے کے لیے کردارا دا کرنا چاہیے، اور میرے خیال میں  یہی راستہ ان معاملات کو آگے بڑھائے گا، اس کے نتیجے میں شاید ہم کسی متبادل اقوام متحدہ کے تصور پر بھی پہنچ جائیں۔ 

آصف محمود: اچھا بلوچ صاحب، اس طرح کی کوئی ہو سکتی ہے موو تاجروں کی سطح پہ، علماء کی سطح پہ، کچھ تو ان تک کسی طریقے سے پہنچا یا جائے۔ 

اجمل بلوچ: دیکھیں میں تاجروں کے حوالے سے حاضر ہوں۔ ہر وقت علماء کے ساتھ ہوتا ہوں میں، جہاں بھی ان کی کوئی کانفرنس ہوتی ہے، کوئی احتجاج ہوتا ہے، اس حوالے سے دیکھیں ہمارا فرض ہے  بطور مسلمان، ہم کیوں دیکھتے رہتے ہیں کہ علماء ہی آگے ہوں، ہم کیوں نہیں خود آگے بڑھ جاتے ہیں؟ ہر مسلمان کو پتہ ہے کہ یہ ظلم ہو رہا ہے، ہر شخص کو پتہ ہے۔ جیسے میرے بھائی نے کہا، عیسائی اور یہودی بھی تو احتجاج کر رہے ہیں، وہ کیوں کر رہے ہیں کہ انسانیت کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ بھئی ہمیں تو پتہ یہ ظلم ہو رہا ہے، ہم کیوں نہیں سارے نکل پڑتے ہیں؟ اور ہمارے مسلمان حکمران کیوں نہیں ایسا کرتے ہیں؟ ان کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے کہ بات بھی نہیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

آصف محمود: حکمرانوں کا تو خیر سب کو پتہ ہے کہ کیوں سانپ سونگھ گیا ہے۔ 

اجمل بلوچ: نہیں، اللہ کے ہاں یہ کیا جواب دیں گے؟ 

آصف محمود: ڈاکٹر مشتاق صاحب، کوئی فریڈم فلوٹیلا کی طرح کا موو ہو سکتا ہے؟ 

اجمل بلوچ: اچھا، اس میں ہم گئے تھے، یہ جو فریڈم فلوٹیلا ہے نا، یہ ہم نے سامان اکٹھا کیا تھا، ہمارے کچھ دوست گئے تھے، وہ قید ہو گئے تھے، اسرائیلیوں نے انہیں پکڑ کر بند کر دیا تھا۔ 

آصف محمود: ہاں وہ جو اس کے کیپٹن تھے جو شہید ہو گئے تھے، ان کے صاحبزادہ پاکستان جب تشریف لائے تو انہوں نے مجھے وہ گفٹ بھی کیا تھا وہ فریڈم فلوٹیلا۔ 

اجمل بلوچ: ہمارے طلعت حسین صاحب بھی تھے، ہمارے جو خبیب فاؤنڈیشن کے ندیم صاحب تھے، یہ بھی سارے  ۔

آصف محمود: ندیم صاحب کے ساتھ ہی ہماری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل ہو سکتا ہے، اور میرے خیال میں جیسے مولانا صاحب نے بھی فرمایا۔

آصف محمود: دنیا بھر کی بار ایسوسی ایشنز یہ کر لیں، دنیا بھر کے قانون کے اساتذہ کر لیں، کچھ۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل ہو سکتا ہے اور میرے خیال میں صرف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے باقی لوگ خود بخود اکٹھے ہو جائیں گے کیونکہ یہ جتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے، جیسے میں نے کچھ دیر پہلے کہا، غزہ سے پہلے کی دنیا اور غزہ کے بعد کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اب صرف اس کی ضرورت ہے کہ کوئی اس بات کو اٹھائے اور لوگوں کو منظم کرنے کی کوشش کرے، لوگ اکٹھے ہو جائیں گے۔ 

ایک بات آپ نے صبر کے متعلق کہی تھی، میں وہ بھول گیا تھا، ضروری ہے وہ، کہ صبر صرف جنگ سے گریز کا نام نہیں ہے، جنگ کے دوران میں جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے، اس پر ثابت قدم رہنا، اسے برداشت کرنا، اس کے لیے دل بڑا رکھنا، یہ بھی صبر ہے۔ جیسے تجارت پہ نقصان ہو، لیکن تاجروں کے رہنما فرما رہے ہیں کہ ہمیں وہ قابل قبول ہے، یہ صبر ہے۔ 

اجمل بلوچ: ’’یا ایھا الذین اٰمنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ، ان اللہ مع الصابرین‘‘ (البقرہ ۱۵۳)۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:  اور یہ کہ ’’ولنبلونکم بشیءٍ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات‘‘ (البقرہ ۱۵۵)  یہ کچھ مال میں کچھ ثمرات میں کچھ جان میں کمی، یہ تو ہو گی، اس پر ثابت قدم رہیں، صبر یہ ہے۔ 

آصف محمود: بہت شکریہ، ڈاکٹر صاحب آپ کا ، بلوچ صاحب آپ کا، مولانا صاحب آپ کا بہت شکریہ، آپ ہمارے ساتھ شریکِ گفتگو رہے اور بہت اچھی رہنمائی فرمائی آپ نے اس اہم نکتے کے اوپر۔ بہت ساری چیزیں میرے جیسے طالب علم کے لیے بالکل نئی تھیں۔ اور یقیناً‌ آپ لوگوں میں سے بھی بہت سوں کے لیے بہت ساری چیزیں نئی ہوں گی، یہی چیزیں اصل میں سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے اور یکسو ہونے کی ضرورت ہے، اجازت چاہتا ہوں آپ سے، اللہ حافظ۔ 

youtu.be/zOphMfpD9R8

سلامتی کونسل کی ویٹو پاور کی سیاست نے اقوام متحدہ کے اعتبار کو کیسے مجروح کیا ہے

عرب نیوز

جب امریکہ نے نومبر کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک اور قرارداد کو ویٹو کیا، جس میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تو اس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا۔ 

ناقدین نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ، جو سلامتی کونسل کے دیگر 14 ارکان کے خلاف تھا، اس علاقے میں شہریوں کے مصائب کو طول دے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کو بڑھائے گا۔

لیکن اس کا ایک اور وسیع تر اثر ہوا جو واشنگٹن کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ ویٹو نے سلامتی کونسل کے اعتبار کو مزید مجروح کیا جس سے اس کی تنظیمِ نو کے مطالبات نئے سرے سے سامنے آئے ہیں۔

یہ ادارہ، جسے بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے دنیا کا اولین ادارہ ہونا چاہیے، اپنے مستقل ارکان کے مفادات کی وجہ سے مفلوج ہو چکا ہے، جس سے عالمی بحرانوں سے نمٹنے کی اس کی صلاحیت میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 

دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد 1946ء میں قائم ہونے والی سلامتی کونسل کی تشکیل بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ رہی ہے۔ پانچ مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قراردادوں کو ویٹو کر سکتے ہیں، اگرچہ ان کی مخالفت میں بہت زیادہ ووٹ ہوں۔

اب اسے عمومی طور پر جنگِ (عظیم دوم) کے بعد کے عالمی نظام کے ایک ناکام جزو کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دنیا کی آبادی کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرتا، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے تنازعات کے دوران ان لوگوں کی مدد کرنے میں ناکام رہتا ہے جو سب سے زیادہ مصیبت میں ہوتے ہیں۔ 

اعداد و شمار

لینکاسٹر یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے تحقیقی مرکز SEPAD کے ڈائریکٹر سائمن میبن نے عرب نیوز کو بتایا، ’’ہم نے غزہ میں جو کچھ دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ ایک بہت زیادہ سیاسی ادارہ بن گیا ہے، جو جغرافیائی سیاسی رقابتوں کے ذریعے مفلوج ہو چکا ہے۔‘‘

’’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے اقوام متحدہ قائم ہوئی ہے یہی سلسلہ رہا ہے۔  ویٹو پاور پر مشتمل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس کے ارکان انسانی مقاصد کے وسیع تر عزم کی بجائے فیصلوں کو اپنی تزویراتی ترجیحات کے حوالے سے دیکھیں۔‘‘

پانچ مستقل ارکان کے پاس ویٹو کا اختیار امریکہ، سوویت یونین اور برطانیہ کو دوسری جنگِ عظیم کے مرکزی فاتحین کے طور پر تسلیم کرنے کی بدولت ہے۔ 

عرب نیوز میں اقوام متحدہ کے امور کے صحافی افرائیم کوسیفی نے کہا، ’’امریکہ نے چین کی شمولیت کے لیے زور دیا، جبکہ برطانیہ نے ممکنہ جرمنی یا سوویت خطرات کے پیش نظر یورپی توازن کے طور پر فرانس کی وکالت کی۔‘‘

’’تاہم یہ ڈھانچہ تب سے غیر تبدیل شدہ رہا ہے، نتیجتاً‌ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے ڈھیروں مطالبات سامنے آئے ہیں تاکہ وہ آج کے عالمی نظام کے حقائق کی عکاسی کر سکے۔‘‘

سلامتی کونسل امن برقرار رکھنے کے لیے تمام 193 رکن ممالک پر ایسے فیصلے نافذ کر سکتی ہے جن پر عملدرآمد لازمی ہے۔ اس کے 5 مستقل ارکان، جنرل اسمبلی کے منتخب کردہ 10 غیر مستقل ارکان کے ساتھ مل کر، سلامتی کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں (سلامتی کونسل کے) ارکان کے ایک دوسرے سے متضاد مفادات نے شام کی جنگ، کوویڈ 19، یوکرین پر روس کے حملے، اور حال ہی میں اسرائیل حماس تنازعہ جیسے عالمی بحرانوں کے حوالے سے مؤثر پیشرفت کرنے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔

سلامتی کونسل کو اپنی تشکیل کے فوراً‌ بعد ہی اس مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا کے سرد جنگ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی امریکہ اور سوویت یونین کی دشمنی عالمی سطح پر ہاٹ سپاٹس (اتحادیوں/مفادات کی جگہوں) کے ذریعے پھیل گئی۔

نتیجے کے طور پر بہت کم کام ہوا۔ سوویت یونین نے 1991ء میں تحلیل ہونے تک 120 ویٹو استعمال کیے جو باقی ارکان سے بہت زیادہ تھے۔ ’’دی کونسل آن فارن ریلیشنز‘‘ کے مطابق 1948ء اور 1989ء کے درمیان صرف 18 امن مشنوں کی اجازت دی گئی۔

اس کے برعکس 1991ء سے سلامتی کونسل نے 48 امن مشنوں کی منظوری دی ہے۔

1970ء کے بعد امریکہ اپنے پہلے ویٹو کے استعمال کے بعد سے سلامتی کونسل کے ووٹوں کو ویٹو کرنے والا اولین مستقل رکن بن گیا ہے، جس نے کم از کم 85 بار یہ اختیار استعمال کیا ہے، ان میں سے نصف سے زیادہ ویٹو کا استعمال اسرائیل سے متعلق قراردادوں کو روکنے کے لیے تھا۔

حالیہ برسوں میں روس نے بھی اپنا ویٹو مسلسل استعمال کیا ہے، خاص طور پر شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے، جہاں اس نے صدر بشار الاسد کا دفاع کیا، اور یوکرین تنازعہ میں بھی۔

ویٹو ایک طاقتور ہتھیار ہے جو اکثر (مستقل ارکان کے) قومی مفادات، اتحادوں، اور جغرافیائی سیاسی حکمت عملیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ اور روس کے لیے ویٹو کا استعمال اپنے تزویراتی اتحادیوں کی حفاظت اور اپنے وسیع تر خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے ایک اور بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ 1946ء کے بعد سے دنیا کی آبادیاتی صورتحال بدل گئی ہے۔ اس کے قیام کے وقت پانچ مستقل ارکان دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے تھے، اب وہ صرف 26 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یوں یہ ادارہ یورپ اور مغرب کی طرف بہت زیادہ جھکا ہوا ہے۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادیوں، دولت؛ اور ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثر و رسوخ کو نظر انداز کر رہا ہے۔

فلسطین پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سابق خصوصی نمائندے مائیکل لنک نے عرب نیوز کو بتایا، ’’سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان کی طرف سے ویٹو کا استعمال دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کی (ناکام) باقیات ہے۔‘‘

’’یہ آج کی طاقت کی تقسیم یا جنرل اسمبلی میں موجود گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) کی غیر معمولی طور پر بڑی موجودگی کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔‘‘

غزہ تنازعہ سے یہ عدمِ توازن واضح ہو گیا ہے، جس کے بارے میں لنک نے کہا کہ اس نے گہری عالمی تقسیم کو اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’غزہ پر اسرائیلی جنگ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر کے درمیان ایک غیر معمولی چپقلش کو بے نقاب کرتی ہے۔‘‘ ’’ترقی پذیر اقوامِ متحدہ کے ووٹوں میں زبردست طور پر فلسطین کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ اس سے گریز یا مخالفت کرتے ہیں۔‘‘

’’فلسطین کی حمایت میں عالمی اکثریت موجود ہے، لیکن امریکہ اسرائیل اتحاد کی قیادت میں ترقی یافتہ قوتوں کی طاقتی سرگرمیاں اس اکثریت کو نظر انداز کرتی ہیں۔‘‘

غزہ کے معاملے میں، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اہم اتحادی اسرائیل کی حمایت میں 20 نومبر کو جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کیا۔ جیووِش ورچوئل لائبریری کے مطابق یہ 49 واں موقع تھا جب امریکہ نے اسرائیل سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کیا۔

سفارتی حمایت کے علاوہ امریکہ اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

لیکن ویٹو سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے دیگر اہم اتحادیوں کے ناراض ہونے اور واشنگٹن کے سفارتی موقف کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، خاص طور پر گلف کواپریشن کونسل کے ساتھ، جس نے حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

قرارداد میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے دوران پکڑے گئے تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی، اور بلاروک ٹوک انسانی امدادی سرگرمیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس کا مقصد خوراک، پانی اور طبی دیکھ بھال جیسی ضروری خدمات تک رسائی کو یقینی بنا کر انسانی بحران سے نمٹنا تھا۔ یہ اسرائیل کو اس علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے سے روکتی، جسے 14 ماہ کی فوجی کارروائیوں سے تباہ کر دیا گیا ہے جس میں جنگجوؤں سمیت تقریباً 45,000 فلسطینی مارے گئے ہیں۔

قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے امریکہ نے استدلال کیا کہ شرائط کے بغیر جنگ بندی حماس کو دوبارہ منظم ہونے اور اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے قرارداد پر یہ تنقید کی کہ جنگ بندی کو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ خاص طور پر مشروط نہیں کیا گیا۔

لنک نے کہا، ’’یہ غلط ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد نے یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ جنگ بندی کو مشروط کیا تھا بلکہ اسی پیراگراف میں ایسا کیا گیا تھا۔ ویٹو کے استعمال کے بعد امریکہ پر غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو سہولت دینے کا الزام لگایا گیا۔

تنازعہ شروع ہونے کے بعد سلامتی کونسل نے 12 قراردادوں پر ووٹ دیا۔ ان میں سے آٹھ کو ویٹو کیا گیا، چھ امریکہ کی طرف سے، اور چار مواقع پر امریکہ واحد مستقل رکن تھا جس نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

لنک نے کہا، ’’یہ سلسلہ اسرائیل کے لیے امریکہ کے سفارتی ڈھال کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔‘‘ ’’عملی طور پر یوں ہوتا ہے کہ اسرائیل مخالف قراردادوں کو امریکہ روک دیتا ہے، یا پھر ایسی صورت میں منظور ہونے دیتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔‘‘

خلیج میں، سعودی عرب اور قطر نے کہا کہ ویٹو نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ظاہر کی ہے۔

غزہ کے متعلق فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ادارے کی ناکامی عالمی قیادت کو متاثر کرنے والے وسیع تر مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ 

یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس تجزیہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ستمبر میں انہوں نے عرب نیوز کو بتایا: ’’سچ کہوں تو ہمارے پاس کوئی حقیقی طاقت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کا وہ ادارہ جس کے پاس کچھ طاقت ہے وہ سلامتی کونسل ہے، اور آپ جانتے ہیں، سلامتی کونسل مفلوج ہے۔‘‘

کوسیفی نے خبردار کیا کہ اس طرح کی بے بسی اقوام متحدہ پر عوام کے اعتماد کو ختم کرتی ہے۔ 

انہوں نے کہا، ’’جب سڑک پر چلنے والا شخص دیکھتا ہے کہ سلامتی کونسل امن اور سلامتی کو خطرہ بننے والے انتہائی دباؤ والے حالات میں، ایک رکن کے استحقاق (ویٹو) کے استعمال کی وجہ سے، کارروائی کرنے میں ناکام ہے، تو پوری تنظیم پر سے اس کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔‘‘

لینکاسٹر یونیورسٹی کے میبن نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے میں سلامتی کونسل کی نااہلی سے واضح ہو گیا ہے کہ تزویراتی فیصلے انسانی ضروریات اور مفادات پر غالب آ رہے ہیں، جو میرے خیال میں اس وقت عالمی سیاست کی نوعیت (جو بن گئی ہے، اس) کی علامت ہے۔

’’یہ عالمی منصوبے کی ایک بڑی ناکامی، عالمی قوموں کی ایک بڑی ناکامی، اور انسانیت پر ایک دھبہ ہے۔‘‘

غزہ پر بین الاقوامی برادری کا ردعمل اس بڑھتے ہوئے اتفاقِ رائے کو اجاگر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے کثیر الجہتی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

آنے والے برسوں میں اقوام متحدہ کی اثرانگیزی اور قانونی حیثیت پر بحث جاری رہے گی، کیونکہ عالمی سفارت کاری کو تشکیل دینے میں بڑی طاقتوں کے کردار کا اب مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

لنک نے ایسی اصلاحات تجویز کیں جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو، انتہائی اکثریتی ووٹ کے ذریعے سے، سلامتی کونسل کے ویٹو کو کالعدم کرنے کے قابل بنائیں گی  اور یوں ’’پانچ مستقل ارکان کے شکنجے کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوری نگرانی‘‘ متعارف کرائیں گی۔

ان مستقل پانچ ارکان کو ان اصلاحات پر رضامند کرانا یقیناً‌ ایک مسئلہ ہے، جو ان کے ویٹو اختیارات کو کمزور یا ختم کرتی ہیں۔ لنک نے کہا، ’’لیکن اس طرح کی اصلاحات کے لیے لڑنا فائدہ مند ہو گا۔‘‘

جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ آج کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں، غزہ میں جانوں کے تحفظ میں سلامتی کونسل کی ناکامی سے، ممکنہ طور پر بین الاقوامی امن کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار اس ادارے کی اصلاحات کی طرف تیزی سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔

www.arabnews.com


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(588) باء کا ترجمہ

قرآن مجید میں باء بغضب جیسی عبارتوں کے عام طور سے تین طرح ترجمے کیے گئے ہیں۔ مستحق ہونا، گھِر جانا، مبتلا اور گرفتار ہوجانا۔ باء کے سلسلے میں لغت کی تحقیقات اور استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ باء کے اندر واقع ہوجانے کا مفہوم ہوتا ہے نہ کہ محض مستحق ہونے یا گھِر جانے کا۔

باء یبوء کا مطلب ہوتا ہے لوٹنا۔ بائَ إِلَی الشَّیْئِ یَبُوئُ بَوْء اً: رَجَعَ۔(لسان العرب)

 یہ فعل جب ب کے ساتھ آتا ہے تو باء بشیء میں رجع بشیء کی طرح کسی چیز کے ساتھ لوٹنے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔

 لیکن ایسا لگتا ہے کہ استعمالات کی سطح پر باء بشیء میں سے لوٹنے کا مفہوم خارج ہوگیا اور کسی چیز میں مبتلا ہونے اور گرفتار ہونے کا مفہوم رائج ہوگیا۔

لسان العرب میں ہے: وبائَ بذَنْبِہ وبإِثْمِہ یَبُوئُ بَوْءاً وبَواءً‌: احتمَلہ وَصَارَ المُذْنِبُ مأْوَی الذَّنب۔

قرآن اور عربی زبان کے بڑے عالم اخفش کہتے ہیں:

وأما قولہ، وَبَآئُ و بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّہ یقول: رَجَعُوا بِہِ أی صار علیہم، وتقول: باء بِذَنْبِہِ یَبُوئُ بَوْءاً. وقال: إِنِّی أُرِیدُ أَن تَبُوئَ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ، مثلہ۔ (معانی القرآن)

اسی طرح مفسر و ماہر لغت زجاج کہتے ہیں:

یقال بْؤت بکذا وکذا أی احتملتہ۔ (معانی القرآن)

البتہ یہاں زمخشری نے کچھ دور کی تاویل کی اور مستحق ہونے کا مفہوم نکالنے کی کوشش کی، وہ لکھتے ہیں:

وَبَآئُ و بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ من قولک: باء فلان بفلان، إذا کان حقیقاً بأن یقتل بہ، لمساواتہ لہ ومکافأتہ، أی صاروا أحقاء بغضبہ۔ (الکشاف)

لیکن زمخشری نے جو مثال دی ہے یعنی باء فلان بفلان اس  میں مستحق ہونے کی بات نہیں بلکہ برابری پائے جانے کی بات ہے۔ یہاں قتل کے معاملے میں برابری کی بات ہے۔ بواء کا معنی برابری ہوتا ہے، لسان العرب میں ہے: وبائَ فُلانٌ بِفُلانٍ بَوائً، مَمْدُودٌ، وأَبائَ ہ وباوَأَہ: إِذَا قُتِل بِہِ وَصَارَ دَمُہ بِدَمِہ۔ یعنی وہ فلاں کے بدلے قتل ہوا اور معاملہ برابری سے نپٹ گیا۔

قرآنی استعمالات کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن میں باء (ثلاثی مجرد) ہر جگہ شر میں مبتلا ہونے کے لیے آیا ہے۔ اس لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف شر کے سیاق میں آتا ہے۔ ابو حیان کہتے ہیں: وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: بَائَ لَا تَجِیئُ إِلَّا فِی الشَّرِّ۔ (البحر المحیط)

البتہ اس حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ باء  جب مبتلا ہونے کے معنی میں آتا ہے تو شر کے سیاق میں آتا ہے۔ جیسے باء بالفشل اور باء بالخیبۃ۔ البتہ باء جب  اقرار و اعتراف کرنے کے معنی میں آتا ہے تو شر اور خیر دونوں کے سیاق میں آتا ہے۔ جیسے مشہور حدیث ہے: أَبُوئُ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوئُ بِذَنْبِی۔

درج ذیل آیتوں کے ترجموں میں ہمیں مختلف طرح کی باتیں ملتی ہیں۔ کہیں مستحق یا سزاوار ہونا ترجمہ کیا گیا ہے۔ مستحق ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابھی وہ ان پر واقع نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح گھِر جانا بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ گھِر جانے میں بھی واقع ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ جب کہ لغت کے لحاظ سے  باء کا مطلب ہے کہ وہ چیز مذکورہ شخص یا گروہ پر واقع ہوگئی ہے۔ جیسے باء بالفشل کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ ناکام ہوگیا۔ بعض مقامات پر بعض لوگوں نے لوٹنا یا پلٹنا بھی ترجمہ کیا ہے۔ حالاں کہ لوٹنے اور پلٹنے کا نہ وہاں مفہوم ہے اور نہ اس کا محل ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے باء بالفشل کی مثال مدد کرتی ہے۔ اس میں بھی لوٹنے یا پلٹنے کا مفہوم نہیں بس ناکام ہوجانے کا مفہوم ہے۔

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل آیتوں کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

(۱)  وَبَائُ وا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ۔ (البقرۃ: 61)

’’اورمستحق ہوگئے غضب الٰہی کے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’اور خدا کے غضب میں لوٹے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وہ لوٹے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور کمالائے غصہ اللہ کا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’اور وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گئے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔

(۲)  فَبَائُ وا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ۔ (البقرۃ: 90)

’’پس وہ اللہ کا غضب در غضب لے کر لوٹے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

’’تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اس کے باعث یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’سو کمالائے غصے پر غصہ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔

(۳)  وَبَائُ وا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ۔ (آل عمران: 112)

’’یہ غضبِ الٰہی میں رہیں گے‘‘۔ (ذیشان جوادی، مستقبل کا ترجمہ درست نہیں ہے، یہاں فعل ماضی ہے۔)

’’یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

’’یہ غضب الٰہی کے مستحق ہو گئے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور کمالائے غصہ اللہ کا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔

(۴)  أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّہِ کَمَنْ بَائَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّہِ۔ (آل عمران: 162)

’’بھلا وہ شخص جو ہمیشہ خدا کی رضا پر چلنے والا ہو۔ وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گھر گیا ہو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)

’’کیا پس وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے درپے ہے، اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’سو ایسا شخص جو کہ رضائے حق کا تابع ہو، کیا وہ اس شخص کے مثل ہوجاوے گا جو کہ غضب الٰہی کا مستحق ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’کیا ایک شخص جو تابع ہے اللہ کی مرضی کابرابر ہے اس کے جو کمالایا غصہ اللہ کا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا‘‘۔ (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔

(۵) وَمَنْ یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَیِّزًا إِلَی فِئَۃٍ فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ۔ (الانفال: 16)

’’جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دُوسری فوج سے جا ملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا‘‘۔ (سید مودودی)

’’وہ غضب الٰہی کا حق دار ہوگا‘‘۔ (ذیشان جوادی)

’’تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’وہ اللہ کے غضب میں آجاوے گا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔

(۶)  إِنِّی أُرِیدُ أَنْ تَبُوئَ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ۔ (المائدۃ: 29)

’’میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ اپنے سر پر رکھ لے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے‘‘۔ (سید مودودی)

’’میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اور اپنے دونوں کے گناہوں کا مرکز بن جائیے‘‘۔ (ذیشان جوادی، گناہوں کا مرکز بن جانے کی تعبیر بہت کم زور ہے۔)

(589) بِمُزَحْزِحِہِ مِنَ الْعَذَابِ کا ترجمہ

زحزحۃ کا مطلب ہے دور کرنا۔ والزحزحۃ: التبعید والإنحاء (الکشاف)۔ درج ذیل آیت میں عذاب سے دور کرنے کی بات ہے نہ کہ عذاب سے چھڑانے کی۔ لمبی عمر سے عذاب کو دور کرنے کی مناسبت سمجھ میں آتی ہے نہ کہ عذاب میں واقع ہوجانے کے بعد اسے چھڑانے کی۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:  

وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ یُعَمَّرَ۔ (البقرۃ: 96)

’’حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی‘‘۔ (سید مودودی، دور نہیں کرسکتی ترجمہ ہوگا، نہ کہ دور نہیں پھینک سکتی۔)

’’مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’گویا یہ عمر دیا جانا بھی انہیں عذاب سے نہیں چھڑا سکتا ‘‘۔(محمد جوناگڑھی) 

یہاں’ گویا ‘ بے محل ہے۔ مذکورہ بالا ترجموں میں چھڑانا زحزح کا درست ترجمہ نہیں ہے۔

’’اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا‘‘۔ (احمد رضا خان، یہاں ’ھو‘ کا ترجمہ ’وہ‘ کرنا فصاحت کے خلافت ہے۔ ھو یہاں ضمیر مبہم ہے جس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ہے۔ )

’’حالاں کہ اگر یہ عمر بھی ان کو ملے تو بھی وہ اپنے آپ کو (خدا کے) عذاب سے بچانے والے نہیں بن سکتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمے میں کم زوری یہ ہے کہ أن یعمّر کو فاعل بنانے کے بجائے اس شخص کو فاعل بنایا گیا ہے۔ یہ ترجمہ قوی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ زحزح  کا مطلب بچانا نہیں بلکہ دور کرنا ہے۔)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: 

’’حالانکہ لمبی عمر پانا بہرحال اُسے عذاب سے دور نہیں کرسکتا‘‘۔

 (590) عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے تراجم سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں اور ان کے عہد حکومت میں شیاطین سحر وغیرہ پڑھتے پڑھاتے تھے۔ عام طور سے لوگ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ کو ظرف بناتے ہیں یعنی سلیمان کی بادشاہت میں۔ ان کے نزدیک یہاں علی، فی کے معنی میں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے عہد حکومت میں ایسا نہیں ہوتا تھا بلکہ بعد میں ہونے لگا۔ ان کے نزدیک یہاں تضمین ہے اور افتراء  محذوف ہے جب کہ علی اس پر دلالت کررہا ہے۔ یفترون عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ۔ یعنی شیاطین جو کچھ پڑھتے پڑھاتے ہیں اسے سلیمان کی بادشاہت کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔ ترجمے ملاحظہ ہوں: 

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّیَاطِینُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ۔ (البقرۃ: 102)

’’اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’’اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے‘‘۔ (سید مودودی)

آخری ترجمہ بہتر ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

’’اور ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جو سلیمان کے عہد حکومت کی طرف منسوب کرکے شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے‘‘۔

(591) خَالِدِینَ فِیہَا کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں خَالِدِینَ فِیہَا سے پہلے جہنم کا یا عذاب کا ذکر نہیں بلکہ اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اس لیے ضمیر کا مرجع لعنت ہونا چاہیے۔ تاہم بعض مترجمین نے اس کا مرجع جہنم کو بنادیا ہے۔ ترجمے ملاحظہ ہوں:

خَالِدِینَ فِیہَا۔ (البقرۃ: 162)

’’اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (سید مودودی)

’’وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) 

’’جاودانہ در دوزخ اند‘‘ (خرمشاہی)

آخری دونوں ترجمے درست نہیں ہیں۔ دوزخ عین لعنت نہیں بلکہ لعنت کا ایک جز ہے۔

(592) إِذَا عَاہَدُوا کا ترجمہ

وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُوا۔ (البقرۃ: 177)

’’اور جب معاہدہ کر بیٹھیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

’معاہدہ کربیٹھیں‘ سے ایسا لگتا ہے کہ معاہدہ کرنا کوئی غلط کام ہے۔ ’معاہدہ کریں‘ درست تعبیر ہے۔

’’اور جو بھی عہد کرے اسے پورا کرے‘‘۔ (ذیشان جوادی)

إِذَا عَاہَدُوا کا ترجمہ ’جو بھی عہد کرے‘ نہیں ہوگا، ’جب عہد کرے‘ ہوگا۔

’’جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

وعد اور عھد میں لطیف فرق بتایا جاتا ہے۔ اس لیے عھد  کا ترجمہ وعدہ کرنے کے بجائے عہد اور معاہدہ کرنا چاہیے۔ خاص طور سے جب عھد باب مفاعلہ سے ہو، جیسے یہاں إِذَا عَاہَدُوا  ہے۔

’’اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(593) الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں القواعد کا لفظ آیا ہے۔ یہ دراصل دیوار کے نیچے کی نیو اور بنیاد کے لیے آتا ہے۔ جب بنیاد اٹھائی جاتی ہے تو وہ دیوار کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بعض لوگوں نے القواعد کا ترجمہ دیوار کردیا ہے۔ القواعد یعنی بنیادوں کے ذکر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم واسماعیل نے پہلے سے موجود بنیادوں پر دیوار نہیں کھڑی کی تھی بلکہ بنیاد بھی انھوں نے ہی رکھی تھی اور بنیاد کے پتھر سے کام شروع کیا تھا۔

وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ۔ (البقرۃ: 127)

’’اور جب کہ اٹھارہے تھے ابراہیم علیہ السلام دیواریں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل علیہ السلام بھی‘‘۔

’’اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے‘‘۔ (سید مودودی)

’’ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم علیہ السّلام و اسماعیل علیہ السّلام خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے‘‘۔ (ذیشان جوادی)

’’اور جب اٹھانے لگا ابراہیم بنیادیں اس گھر کی اور اسماعیل‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’وآنگاہ کہ بلند میکردند ابراہیم واسماعیل بنیاد ہائے خانہ را‘‘۔ (شاہ ولی اللہ)

آخری دونوں ترجمے مناسب ہیں۔


United Nations: Concerns and Demands of the Muslim World

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

Why Is the Muslim World Powerless in the United Nations?
The initial purpose of the United Nations was to find solutions to conflicts between nations and prevent war. However, on December 10, 1948, the UN General Assembly, by adopting the Universal Declaration of Human Rights and making its adherence mandatory for all countries, also included reform and intervention in the world's political and social systems within its purview. Since then, alongside preventing war between nations, overseeing the political and social systems of countries worldwide has been considered a responsibility of the United Nations, and the UN continuously plays a role in this regard.
It is often said that the United Nations is an international organization and that decisions adopted unanimously or by majority vote are considered "international treaties." However, as a student of history and society, I disagree with this. The decisions that the United Nations Security Council seeks to enforce globally are, in fact, implemented. Countries that violate these decisions are punished, and some are even subjected to military intervention and forcibly made to accept the decisions of the United Nations. Therefore, the Declaration of Human Rights and other decisions of the United Nations are not merely "treaties" but have become "international law." Consequently, the United Nations itself is not just an international organization but functions as a world government through which the five countries holding veto power in the Security Council are effectively ruling the entire world.
Almost all countries within the Islamic world are members of the United Nations and participate in its affairs. However, the ideologically aware and thoughtful segments of the Islamic world clearly harbor reservations:
  • In December 1948, when the UN General Assembly adopted the Universal Declaration of Human Rights, a unified global forum of Muslim countries did not exist. The Ottoman Caliphate had dissolved prior to this, and no comparable global entity had emerged to succeed it, a situation that continues to the present day. At that time, the majority of Muslim-majority countries were not independent, existing instead as colonies of various imperial powers. Consequently, the Islamic world lacked effective representation in the General Assembly. Therefore, asserting that the Islamic world was an equal participant in the formation of the United Nations, the establishment of its system, and the drafting of its treaties is inaccurate and unfair.
  • The Islamic world lacks representation in the decision-making and enforcement bodies of the United Nations, and no Muslim-majority country is among the five permanent members holding veto power. Consequently, the Islamic world is excluded from the primary decision-making and enforcement processes of the United Nations, and its role is largely limited to accepting the decisions of these five major global powers.
  • The Universal Declaration of Human Rights was formulated considering the internal conflicts of Western countries and the historical context of the French Revolution; consequently, many of its articles are in conflict with the injunctions and laws of Islamic Sharia. In practical terms, if Muslim countries and governments were to accept the UN's Universal Declaration of Human Rights verbatim, they would be compelled to disregard numerous commands from the Quran and Sunnah, as well as hundreds of regulations within Islamic Sharia. Furthermore, even if the ruling classes in Muslim countries were inclined to such a renunciation, public opinion across numerous Muslim nations over the past three-quarters of a century has consistently demonstrated, through democratic and political expressions, a resolute unwillingness to abandon the commands and laws of the Quran and Sunnah, and the role of religion in state and governmental affairs.
  • The United Nations, the champion of human rights, justice, and equality, should rightly be expected to engage with nations struggling to maintain independence or to liberate themselves from foreign domination. The record of the past indicates that the United Nations has failed to live up to these expectations of justice and human rights. Moreover, the current global context is that this conflict between Western countries and the Islamic world has taken the form of a clear confrontation, in which the West wants to maintain its dominance over the Islamic world, while the Islamic world is engaged in a struggle to get rid of it, and in this conflict, the goals and objectives of Western countries seem to be determined as:
    • Muslim countries should not be allowed to move towards ideological and political unity.
    • Nuclear technology and the most advanced military resources should be kept out of the reach of Muslim countries.
    • By trapping Muslim countries' economies in the name of aid and loans, they should be prevented from achieving economic self-sufficiency.
    • Muslim rulers who protect Western interests should be protected at all costs, and the ideological forces in Muslim countries should be labeled as "fundamentalists" and prevented from reaching power under all circumstances.
    • The religious and cultural continuity of the Islamic world should be declared contradictory to alleged "human rights," and social rebellion against it should be encouraged.
  • A century ago, Israel did not exist on the world map, and Palestine was a province of the Ottoman Empire. After dismantling the Ottoman Caliphate during World War I, Britain occupied Palestine and provided facilities for Jews from around the world to immigrate and settle in Palestine, until a significant number of Jews had settled in Palestine under British encouragement and protection. Then, through the United Nations, recognizing Palestine as Jew homeland provided justification for the establishment of a part of Palestine as a Jewish state under the name of Israel. In its resolution (No. 181/November 29, 1947), the United Nations decided on the principle of two separate states, Israeli and Palestinian, by dividing Palestine into two parts and also demarcating their borders. However, not only has the Palestinian state not yet been established as a sovereign country, but Israel has also occupied many more Palestinian territories through repeated armed aggression. By launching military offensives in 1949 and 1967, it annexed many Palestinian areas to its occupied territories. Millions of Palestinians became refugees as a result of this aggression and were displaced in camps. Palestinians began an armed struggle to protect their homeland and reclaim the occupied territories, but Israel's military power and the immense power of the United States behind it prevented the Palestinian liberation struggle from progressing. In this regard as well, the role of the United Nations, from the establishment of the Israeli state to the present day, has not gone beyond mere rhetoric.
  • The Kashmiri people are continuously engaged in struggle on both political and military fronts to fulfill the United Nations' promise of allowing them to decide their own fate through a referendum under the right to self-determination, and to obtain this recognized legitimate right. Thousands of young people have sacrificed their lives, and now a fourth generation is seen continuing this struggle. However, the promises of the United Nations and global public opinion remain frozen in the Security Council's freezer. The same UN Security Council that demonstrated practical progress in conducting public referendums in East Timor and South Sudan, leading to their establishment as separate states, shows no interest in granting the Kashmiri people their right to a free referendum. Global leaders are concerned that granting this right to the Kashmiri people will increase the tendency for society to be divided on religious grounds, while the division of East Timor and South Sudan occurred under the supervision of these same global leaders on religious grounds, and these two states became part of the world map based on a Christian majority.
This is the eighth decade since the establishment of the United Nations, but an examination of its practical role reveals nothing to a Muslim except that this global forum has blocked the path to the implementation of Islam in the Islamic world through international treaties, has failed to resolve, or rather, to put it more clearly, has "succeeded in not resolving" serious issues like Palestine and Kashmir, and this international platform has become the biggest weapon for the onslaught of Western thought and philosophy and the political dominance of the veto-wielding countries. A realistic analysis of the UN's role in this struggle reveals that, despite all claims of human rights, equality among nations, freedom, and global justice, the United Nations appears to be a complete ally, even a tool, of Western colonialism in this struggle, and all this effort seems to be aimed at keeping the Islamic world dependent on the West and perpetuating Western political and economic dominance over Muslim countries.
How Can the United Nations Do Justice to the Muslim World?
  • In the organizational structure of the United Nations and among the permanent members of the Security Council with veto power, there is no representation for a quarter of the world's population, the Islamic world; in fact, it is practically kept away from it. Therefore, to restore justice and balance in the UN system, it is necessary that the Muslim Ummah be given representation in the permanent membership of the Security Council with veto power, in proportion to its total population in the world.
  • The Charter of Human Rights has, unfortunately, overlooked the beliefs, cultural identity, and traditions of the Muslim world. Consequently, several articles within the current charter conflict with Islamic teachings and laws. As a result of this charter, the beliefs, religious commands, and cultural traditions of Muslims are consistently being disregarded. It is also noteworthy that while the United Nations champions religious freedom, the right of individuals to practice their own religion, and the protection of regional cultures, it arguably lacks the authority to define the scope of any religion or to prevent religious individuals from adhering to certain aspects of their faith. Furthermore, it seems unjustified for the UN to disregard regional cultures in the name of a human rights charter and impose a singular cultural philosophy globally. Therefore, a revision of this charter in this regard has become indispensable.
  • The monopoly held by a few countries over the right to develop military technology and the most advanced weaponry, coupled with the prohibition of this for the majority of other nations, stands in opposition to the principle of equality among nations. The Muslim world is particularly affected by this situation. Therefore, it has become necessary to revise this monopolistic, unequal, and unjust framework. The laws and regulations that perpetuate a few countries' control over the global balance of power must be abolished, and a new system founded on the principle of equality should be established.
  • The United Nations should play its role in liberating Palestine from Israeli occupation and aggression, however, achieving this goal likely hinges on finding a way to revise the organizational structure of the United Nations and remove it from the control of a few influential countries.
  • Regarding Kashmir, the only viable solution appears to be for the United Nations to grant the Kashmiri people the independent right to a plebiscite, in accordance with its own resolutions. Furthermore, the UN should arrange for the implementation of the General Assembly's decision by conducting a referendum under its direct supervision. Until this occurs, the struggle of the Kashmiri people will persist, and it is the responsibility of every fair-minded person globally to support their cause.
  • The current system, procedures, and policies of the United Nations, rather than considering and respecting the interests, needs, and urgent requirements of poor, backward, underdeveloped, and developing nations worldwide, have unfortunately become the protector and guardian of the monopolistic and exploitative interests of the wealthiest and most developed nations. Therefore, it has become necessary to specifically engage the poor and backward countries and to review the entire system in light of their proposals and recommendations.
Time for Action: Reform or Disengagement?
In this context, it is the responsibility of Muslim governments, especially the Organization of Islamic Cooperation (OIC), to recognize their duties and fulfill the obligation of properly representing Islam and the Islamic world. This includes demanding a review of the organizational structure of the United Nations and the international treaties concluded under its auspices. Furthermore, if, after seven decades, no viable path to address these reservations is apparent, then the only remaining course for the collective benefit of the Islamic world is to break free from this unilateral dominance and monopoly of power. We believe that the time has come for the leaders of the Muslim world to act realistically and seriously consider whether to actively strive to establish balance within the United Nations system. If this proves impossible, then finding a viable way to disengage from it becomes necessary.

شملہ معاہدے سے نکلنے کے فوائد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

الجزیرہ نے مجھ سے پوچھا، تو میں نے شملہ معاہدے سے قبل اور شملہ معاہدے کے بعد کی قانونی پوزیشن پر تین نکات ذکر کیے:

تاہم جب 5 اگست 2019ء کو بھارت نے کشمیر کے متعلق اپنے آئین کی دفعہ 370 ختم کی اور پھر کشمیر میں شہریت اور رہائش کے قوانین بھی تبدیل کیے، تو یہ اس شق کی خلاف ورزی تھی۔ پاکستان کو اسی وقت اس معاہدے کی معطلی یا منسوخی کا اعلان کرنا چاہیے تھا، لیکن پاکستان نے وہ موقع ضائع کر دیا۔

اب جبکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کر کے 25 کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے، تو یہ قانون کی رو سے جارحیت ہے جس کے خلاف پاکستان کو حقِ دفاع کے تحت مناسب کارروائی کا حق حاصل ہے۔

ایسی صورت میں سندھ طاس کے معاہدے کی معطلی کے جواب میں شملہ معاہدے کی معطلی کی بات ایک بہترین اقدام ہے۔

الجزیرہ کی خبر کے لیے دیکھیے: Kashmir attack: Why Pakistan’s threat to suspend Simla Agreement matters



بھارت کا وقف ترمیمی ایکٹ: جب بیوروکریٹس موجود ہوں تو بلڈوزرز کی کیا ضرورت؟

الجزیرہ

آج کل بھارتی ریاست مسلمانوں کی ملکیت پر تشدد کے ذریعے نہیں، بلکہ محض کاغذی کارروائی کے ذریعے قبضہ کر رہی ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ نے 3 اپریل 2025ء کو مسلم اراضی کی ملکیت کے حامل اداروں میں اصلاحات کے لیے ایک بل منظور کیا ہے۔


ذرا تصور کریں: ایک سو سال پرانا بنگلہ، جو آپ کے پردادا نے تعمیر کیا تھا – ایک خاموش، پرسکون جگہ جو کئی دہائیوں سے ایک ہی نیک مقصد کے لیے وقف تھی: فلاحی کام۔ اس کے دروازے ہمیشہ ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہے، جو ہمدردی اور خدمت کی ایک پناہ گاہ تھی۔ یہ محض ایک عمارت نہیں؛ یہ آپ کے خاندان کی میراث ہے، ایک ذمہ داری جو آپ کے دادا سے آپ کے والد، اور بالآخر آپ تک منتقل ہوئی۔

پھر راتوں رات سب کچھ بدل جاتا ہے۔

ایک نیا قانون۔ حذف شدہ شق۔ ایک دور دراز پہاڑی پر کھڑا ایک تنہا سرکاری اہلکار، اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر زمین کا جائزہ لیتا ہے، اور بے پروائی سے اشارہ کرتا ہے۔ ’’وہ والا‘‘۔ وہ کہتا ہے۔ ’’مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ یہ زمین یا اس پر موجود جائیداد آپ کو سونپی گئی تھی، یا ان مقاصد کے لیے جن کے لیے آپ نے اسے وقف کیا ہے۔‘‘ وہ بیوروکریٹک بڑے اطمینان کے ساتھ اس زمین کو سرکاری ملکیت قرار دے دیتا ہے۔ اب آپ ایک تجاوزات کرنے والے بن گئے ہیں۔ بس اسی لمحے سے یہ زمین آپ کی سرپرستی میں نہیں رہتی۔ ریاست مداخلت کرتی ہے اور کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔ اور اس طرح وہ بنگلہ جس کی آپ کے خاندان نے نسلوں سے دیکھ بھال کی اور جو نیک نیتی کے لیے استعمال ہوتا رہا، اب آپ کی سرپرستی میں نہیں رہی۔

کوئی باقاعدہ قانونی عمل نہیں ہے۔ وہ کہتے تو ہیں کہ آخر کار اس کی تحقیقات ہوں گی۔ وہ کوئی تاریخ، کوئی دورانیہ نہیں بتاتے۔ جب تک آپ کو ان کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملتی، آپ صرف انتظار کر سکتے ہیں، وہ بھی باہر رہ کر، کیونکہ اب آپ کو اس عمارت میں داخل ہونے کے لیے ریاست سے اجازت درکار ہے جسے آپ کے آباؤ اجداد نے تعمیر کیا تھا اور آپ کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی تھی۔

کیا یہ کوئی فرضی دنیا لگتی ہے؟ بھارتی مسلمانوں کے لیے نہیں، جن کے لیے یہ وقف ترمیمی ایکٹ کے تحت ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے – ایک ایسا قانون جو ملکیت، قانونی عمل، اور مذہبی غیر جانبداری کے بنیادی اصولوں کو الٹ دیتا ہے۔

وقف، اپنی تعریف کے مطابق، خدا کے نام پر ایک دائمی عطیہ ہے – جس کا مقصد تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسی خدمات فراہم کر کے کمیونٹی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یہ کسی فرد کی ’’ملکیت‘‘ نہیں ہے۔ اسے ایک امانت قرار دیا جاتا ہے، ایک متولی (نگران) کے ذریعے حفاظت مہیا کی جاتی ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ریاست اس سارے عمل کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

لیکن وقف ترمیمی ایکٹ 2025ء اس مفروضے کو الٹ دیتا ہے۔

وہ ’’پریشان کن‘‘ شق ختم کر دی گئی ہے جس کے تحت زمین کو اس کا استعمال کنندہ (مالک) ’’وقف‘‘ قرار دے سکتا تھا، جس کا روایتی تصور یہ ہے کہ فلاحی مقاصد کے لیے امانت میں رکھی گئی یہ زمین اب اس کے (فلاحی) استعمال کی بنیاد پر من مانے دعووں سے محفوظ ہو جانی چاہیے۔ اس کی بجائے اب ہمارے لیے یکطرفہ ایگزیکٹو کنٹرول ہے۔ یعنی ایک واحد سرکاری اہلکار اب ہاتھ کے اشارے سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف ہے یا سرکاری ملکیت۔ اور اس فیصلے کو ثابت کرنے کے لیے اسے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہو گی، وہ قانونی عمل کی پابندی جواز پیش کرنے کی ضرورت سے بھی آزاد ہوگا۔ محض ایک رائے، ایک نوٹیفکیشن، ایک بالکل قانونی اقدام کے ذریعے سے۔ اور اپیل کا عمل؟ ’’خوش کن‘‘ حد تک مبہم، آپ اسی مشینری سے اپیل کریں گے جس نے آپ پر الزام لگایا ہے۔

سیکولر ڈرامے کا ایک شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ترمیم شدہ قانون اب وقف بورڈز میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک ایسا مطالبہ جس کا کسی دوسرے مذہبی ٹرسٹ کو سامنا نہیں ہے۔ مندر کے ٹرسٹ سے اماموں کو شامل کرنے کے لیے نہیں کہا جاتا۔ چرچ کی کمیٹیوں کو کسی ملحد کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن مسلم اوقاف کو اس مبہم اور ترمیم شدہ قانون کے تحت اپنی انتظامیہ میں ان لوگوں کے لیے جگہ رکھنی ہو گی جن کا ان کی الٰہیات، روایت یا علمیت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ شمولیت کس حد پر آ کر کمزوری میں بدل جاتی ہے؟ اس طرح کی برابری صرف ایک خاص قسم کی مداخلت دکھائی دیتی ہے۔

پھر آڈٹ کی باری آتی ہے۔ مرکزی حکومت اب اپنے مقرر کردہ آڈیٹرز کے ذریعے وقف املاک کے آڈٹ کا حکم دینے کا حق رکھتی ہے۔ وہ اسے شفافیت کہتے ہیں۔ وقف بورڈز کے اندر بدعنوانی کی جانچ کرنا۔ لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو یہ ’’نگرانی‘‘ کا ایک مشکوک طریقہ لگتا ہے جس میں ضروری جانچ اور توازن نہیں ہے۔ آخر کار کوئی نگران شاذ و نادر ہی غیر جانبدار ہوتا ہے جب وہ اپنے ہی ادارے کو رپورٹ کرتا ہے۔

یہ کوئی براہ راست حملہ نہیں ہے، بس نرمی سے مٹانے کا عمل ہے۔

کوئی بلڈوزر نہیں، کوئی خبری سرخیاں نہیں، بس نوٹس، چھوٹی تحریریں، اور بدلتی ہوئی تعریفیں ہیں، اور یہ سب بالکل قانونی ہے۔

تو جناب، بنگلہ اب بھی کھڑا ہے، اس کی دیواریں برقرار ہیں، اس کے دروازے اب بھی کھلتے ہیں۔ لیکن ان کے پیچھے کا معنی، وقف کا مقدس تصور، جو کبھی خدا کے نام پر عطیہ تھا، اب ریاست کے موڈ اور صوابدید پر منحصر ہے۔

ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ اندھیرے میں کوئی ڈاکہ نہیں ہے، یہ اس سے کہیں زیادہ نفیس چیز ہے۔ ملکیت کی ایک نئی تشکیل، جو کسی خفیہ ایجنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ خود ریاست کی مشینری کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے۔ یہاں کوئی لینڈ مافیا نہیں ہے، صرف قانون سازی ہے۔ کوئی پس پردہ سودے نہیں، صرف پالیسی ہے۔ اور اس طرح، سرکاری یقین دہانی کے ساتھ ایک ایسا نظام جو کبھی فلاحی ٹرسٹ کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، اب اسے نگلنے کے لیے بالکل تیار ہے۔ ایک دستخط، ایک تعین، کسی پہاڑی کی چوٹی سے ایک نظر میں۔

یہ اصلاحات نہیں ہیں، یہ اثاثوں کی ضبطگی ہے۔ آہستہ، خاموش، اور مکمل۔ پستولوں سے نہیں بلکہ کاغذی کارروائی کے ذریعے سے۔ کیونکہ آخر کار، یہ کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہیں، یہ جائیداد کا مسئلہ ہے۔

www.aljazeera.com


پاکستان کا ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا طریقہ خطرناک ہے۔

الجزیرہ

بغاوتوں کی وجوہات جاننے سے انکار کرنا، 'دہشت گردی' کے عنوانات استعمال کرنا، اور ہمسایوں کو قربانی کا بکرا بنانا جیتنے کی حکمتِ عملیاں نہیں ہیں۔

11 مارچ کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے جنگجوؤں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کر لیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز 36 گھنٹے کے محاصرے کے بعد بی ایل اے کے جنگجوؤں کو مارنے اور سینکڑوں یرغمالیوں کو رہا کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ حکومت کے مطابق آپریشن کے دوران کم از کم آٹھ عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستانی حکام نے فوری طور پر افغانستان اور بھارت کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جسے انہوں نے ’’دہشت گردی کا واقعہ‘‘ قرار دیا۔ یہ اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ پاکستانی حکام کس طرح اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کرتے جا رہے ہیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔

ٹرین ہائی جیکنگ سے تقریباً تین ماہ قبل پاکستانی لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے خوست اور پکتیکا صوبوں پر بمباری کی تھی جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 46 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر پاکستان کے خیبرپختونخوا کے علاقے سے بے گھر ہونے والے لوگ تھے۔

پاکستان نے افغان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا جواز اس دعوے سے دیا کہ وہ افغان سرزمین پر چھپے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اسلام آباد کابل پر ’’دہشت گردوں‘‘ کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے جنہوں نے پاکستانی سرزمین پر حملے کیے ہیں۔

یہ وہی منطق ہے جو امریکہ نے اپنی نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے دوران پوری مسلم دنیا میں فضائی حملوں، اغوا، ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کرنے کے لیے استعمال کی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے ان تمام معاہدوں کو پامال کیا جن کی دنیا نے ریاستی خودمختاری، شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق، متناسب ردعمل، اور جنگی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے توثیق کی تھی۔

امریکی فوج اور انٹیلیجنس نے عام شہریوں کو فعال جنگجو یا ’’ضمنی نقصان‘‘ کے طور پر دیکھا جو ’’بڑے ہدف‘‘ کا تعاقب کرتے وقت ضروری تھا۔ مسلح گروہوں کی طرف سے کیے گئے ’’دہشت گرد‘‘ حملوں کی قیمت پورے کے پورے ملکوں اور شہری آبادیوں نے چکائی، اور وہ اب بھی چکا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ شاید افغانستان اور عراق سے نکل گیا ہو لیکن اس کے طریقے یہاں رہ گئے ہیں اور خطے کی حکومتیں انہیں اسی طرح اپنا رہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت ان میں سے ایک ہے۔

افغانستان پر 20 سالہ امریکی قبضے کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کو ’’دہشت گرد‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اس گروپ کو پناہ اور حمایت فراہم کرتا رہا۔ تاہم آج پاکستانی حکام ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو ’’دہشت گرد‘‘ گروہ اور افغان طالبان حکومت کو ’’دہشت گردی‘‘ کے معاون قرار دیتے ہیں۔

وہ ان مقامی بغاوتوں کو ایسے سیاسی کرداروں کے طور پر دیکھنے سے انکار کرتے ہیں جن کے ساتھ دلیل سے بات کی جا سکتی ہے یا جن کی شکایات سنی جانی چاہئیں۔

پاکستان ان گروہوں سے کیسے نمٹتا ہے، یہ ایک داخلی معاملہ ہے، لیکن حالیہ امریکی مہم جوئی سے جو چند سبق سامنے آئے ہیں ان پر توجہ دینا ضروری ہے۔

امریکہ نے ’’دہشت گردی‘‘ کی ایک وسیع تعریف پیش کی جس میں اندرون اور بیرون ملک مسلمان مشکوک ہو گئے۔ افغانستان میں اس نے اپنے دشمن القاعدہ کو طالبان اور بعض اوقات افغان شہریوں کے ساتھ ملا دیا۔

طالبان کے مبینہ ارکان کی قید اور تشدد نے محض طالبان جنگجوؤں کا جوش بڑھایا ہے اور تشدد میں اضافہ کیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں شہری آبادیوں پر اندھا دھند ڈرون حملوں نے نہ صرف خودمختاری کی خلاف ورزی کی، بلکہ نوجوانوں کو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں شامل ہونے کی ترغیب بھی دی۔

طالبان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں 2021ء تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، جب دو دہائیوں کے قبضے اور جنگ سے تھک کر واشنگٹن نے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور بنیادی طور پر شکست تسلیم کی۔

تحریکوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینا اور مفاہمت کا کوئی راستہ دیکھنے سے انکار کرنا آسان ہے لیکن، جیسا کہ امریکی مثال سے ظاہر ہوتا ہے، یہ نقطۂ نظر اچھے انجام پر نہیں پہنچتا۔

امریکہ کو ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف ایک اور جنگ میں پھنسانے کی بجائے، جیسا کہ امریکی میڈیا کمپنی ’’ڈراپ سائٹ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے، پاکستانی حکام کو امریکی تجربے سے سیکھنا چاہیے۔ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں سے لاعلمی کا بہانہ نہیں کر سکتے کہ انہیں اپنے ہی شہریوں کا سامنا ہے جن کو واضح شکایات ہیں۔

پاکستانی حکومت کو ان گروہوں کے مطالبات سننے ہوں گے اور ان سے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اسے ان علاقوں میں شہری آبادیوں کے مصائب کو تسلیم کرنا ہوگا جہاں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سرگرم ہیں۔ اسے اپنی سکیورٹی کی ناکامی پر ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور طالبان حکومت کو قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ بھی ختم کرنا ہو گا۔

اگر پاکستانی فوج حالیہ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کا فیصلہ کرتی ہے اور امریکہ کے نقشِ قدم پر چلتی ہے تو ایسا ممکن ہے کہ اسے بھی ایسے ہی انجام کا سامنا کرنا پڑ جائے۔

www.aljazeera.com


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرفس: وائیٹ ہاؤس کا موقف اور وزیراعظم سنگاپور کی تقریر

سی بی ایس نیوز

لارنس وانگ

وائیٹ ہاؤس کا موقف

مائیکل جارج: نیٹلی برانڈ وائٹ ہاؤس سے ہمارے ساتھ شامل ہو رہی ہیں اس سلسلہ میں۔ نیٹلی، صبح بخیر، مارکیٹوں میں اتنے اتار چڑھاؤ کی صورتحال میں صدر اپنے ٹیرفس (اعلان کردہ محصولات) کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟

نیٹلی برانڈ: صبح بخیر مائیکل، جی ہاں، صدر اپنی ٹیرفس کی حکمتِ عملی کا مضبوطی سے دفاع کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ امریکہ اور دیگر ممالک چین اور یورپی یونین وغیرہ کے درمیان بڑے تجارتی خسارے کو دور کرنے کے لیے ہے۔ صدر نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا ہے، آپ کو معلوم ہے مارکیٹ میں وہ گراوٹ جو ہم نے گزشتہ ہفتے بڑے ٹیرفس کے اعلان کے بعد دیکھی، ان سے ایک رپورٹر نے ایئرفورس ون پر واشنگٹن واپس جاتے ہوئے یہ بھی پوچھا کہ کیا کوئی ایسی خاص لمٹ ہے جس سے آگے وہ مارکیٹوں کے حوالے سے نہیں جانا چاہیں گے؟ انہوں نے یہ کہا:

’’میں نہیں چاہتا کہ کچھ بھی نیچے جائے، لیکن بعض اوقات کسی چیز کو ٹھیک کرنے کے لیے دوا لینی پڑتی ہے۔ ہمارے ساتھ دوسرے ممالک نے بہت برا سلوک کیا ہے کیونکہ ہماری قیادت بے وقوف تھی جس نے ایسا ہونے دیا۔‘‘

صدر نے امریکہ سے باہر چلی جانے والی ملازمتوں اور صنعتوں کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد یہاں انہیں واپس لانا، سرمایہ کاری واپس لانا، اور ان ٹیرفس کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوجود بالآخر صورتحال سیدھی ہو جائے گی۔ لیکن مائیکل، اس کے باوجود معاشی ماہرین، کاروباری اداروں اور تجارتی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ یہ محصولات تجارتی جنگ کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مائیکل جارج: میرے خیال میں بہت سے امریکی جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ کیا صدر اس نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں؟

نیٹلی برانڈ: جی ہاں، انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اعلان کے بعد 50 سے زائد ممالک نے رابطہ کیا ہے۔ صدر ایشیا اور یورپ کے رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔ لیکن بنیادی طور پر انتظامیہ اور صدر کا کہنا ہے کہ ٹیرفس (کا مسئلہ) کم از کم چند ہفتوں کے لیے موجود رہے گا۔

جیسا کہ میں نے کہا، ان کا مقصد عالمی تجارتی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ اور جبکہ ماہرینِ معیشت پُرامید ہیں کہ معاہدے وجود میں آئیں گے، صدر نے ایئر فورس ون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک معاہدے نہیں کریں گے جب تک کہ امریکہ اور ان ممالک کے درمیان تجارتی خسارے کی (کمی کی) طرف پیشرفت نہ ہو، وہ ممالک جو تجارتی خسارے کے اعداد و شمار کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ لہٰذا، بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ یاد رہے، نئے دوطرفہ ٹیرفس اس ہفتے کے دوران 9 اپریل کو نافذ ہونے والے ہیں۔

مائیکل جارج: ٹھیک ہے، وائٹ ہاؤس سے نیٹلی برانڈ، ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لیے شکریہ۔

www.youtu.be/3glJdm0ILYc

وزیر اعظم سنگاپور کی تقریر

جناب اسپیکر! کچھ عرصہ سے یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ دنیا تبدیلی سے دوچار ہو رہی ہے، مانوس علامات مدھم ہو رہی ہیں، اور نئے عالمی نظام کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہوئے۔ اس لیے ہم ایک عبوری دور میں ہیں جو غیر یقینی ہے، غیر مستحکم ہے اور مسلسل ناپائیدار ہو رہا ہے۔ 

امریکہ کی طرف سے ’’یومِ آزادی ٹیرفس‘‘ (درآمدی ٹیکس) کے حالیہ اعلانات اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ قواعد پر مبنی عالمگیریت اور آزاد تجارت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ یہ ایک بڑا موڑ ہے، ہم عالمی معاملات میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جو زیادہ من مانی والا، تحفظ پسندانہ اور خطرناک ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد تقریباً 80 سالوں تک امریکہ دنیا کی آزاد منڈی کی معیشتوں کا محور رہا۔ اس نے آزاد تجارت اور کھلی منڈیوں کی حمایت کی اور کثیر الجہتی تجارتی نظام کی تعمیر کے لیے کوششوں کی قیادت کی۔ اس WTO (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے نظام نے دہائیوں پر مشتمل عالمی ترقی اور استحکام کا آغاز کیا۔ اس نے تجارت کو قابلِ فروغ بنایا اور لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔ اس نے دنیا کو فائدہ پہنچایا اور امریکہ کی اپنی اقتصادی قوت میں حصہ ڈالا۔ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اب بھی بے مثال اقتصادی طاقت سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور حقیقت میں امریکہ کوویڈ وبا سے دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بحال ہوا۔ وہ ترقی یافتہ صنعتی دنیا میں اپنے تمام بڑے حریفوں سے آگے نکل چکا ہے۔

لیکن تمام امریکی اپنی معیشت کے بارے میں ایسا محسوس نہیں کرتے ہیں۔ وہاں ایسے ویران شہر ہیں جو کبھی امریکہ کے پھلتے پھولتے صنعتی مراکز ہوا کرتے تھے۔ ایسے کارکن ہیں جن کی ملازمتیں غائب ہو گئی ہیں اور جن کی آمدنی جمود کا شکار ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی معیشت بنیادی طور پر ختم چکی ہے۔ یہ عدمِ اطمینان 1990ء کی دہائی میں ہی نظر آ رہا تھا جب مظاہرین نے سیاٹل میں WTO کے اجلاس میں خلل اندازی کی۔ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد اور حال ہی میں کوویڈ وبا کے بعد مایوسیوں میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ عالمی اقتصادی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سنگاپور اور بہت سے دوسرے ممالک نے تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے اور ہم WTO میں ہم خیال ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس کے طریقہ ہائے کار میں اصلاحات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکہ کے لیے ایک بڑی تشویش چین ہے۔ یہ احساس کہ امریکہ نے چین کو WTO میں شامل ہونے کی اجازت دے کر کچھ زیادہ ہی کر دیا ہے، اور یہ کہ چین غیر منصفانہ بنیادوں پر مقابلہ کرتا ہے، مثال کے طور پر، اپنی کمپنیوں کو بھاری سبسڈی دے کر، بغیر ٹیکس کا نظام قائم کر کے، اور امریکی فرموں کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو محدود کر کے۔ ان خدشات کو WTO کے فریم ورک کے اندر حل کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر (اس تناظر میں کہ) ماضی میں چین عالمی معیشت کا صرف 5 فیصد تھا، تب کیے گئے تجارتی انتظامات اور مراعات کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے، کیونکہ اب چین عالمی جی ڈی پی کا 15 فیصد ہے۔ اور اگر اختلافات ہیں تو انہیں WTO کے تنازعات کے تصفیے کے نظام کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، جو کہ جامد ہو چکا ہے اور اسے فوری طور پر بحال کرنے اور اس کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن امریکہ جو اَب کر رہا ہے وہ اصلاح نہیں ہے، وہ اس نظام کو ہی مسترد کر رہا ہے جسے اس نے خود بنایا تھا۔ امریکہ نے تقریباً تمام ممالک کے لیے درآمدات پر 10% کا عمومی ٹیرف نافذ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے منتخب ممالک پر 50% تک زیادہ ٹیرف بھی لگائے ہیں،  خاص طور پر وہ ممالک جن کا امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس ہے (جو برآمد زیادہ کرتے ہیں اور درآمد کم)۔ انتظامیہ کے مطابق امریکہ کے تجارتی عدمِ توازن کو ٹھیک کرنے کے لیے یہ وسیع ٹیرف ضروری ہیں۔

حالانکہ تجارتی خسارہ ہونا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے، اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکی صارفین دنیا سے جتنا خرید رہے ہیں، امریکہ سے دنیا اس سے کم خرید رہی ہے۔

اس کے علاوہ توجہ صرف اشیاء کی تجارت پر مرکوز کی گئی ہے، جو صرف ایک جزوی تصویر پیش کرتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنے بہت سے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ سروسز کے شعبے میں سرپلس رکھتا ہے۔ وہ سافٹ ویئر سروسز، تعلیم، تفریح، مالیات اور کاروباری سروسز برآمد کرتا ہے، لیکن اس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

سنگاپور کے معاملے میں، امریکہ کے ساتھ ہمارا FTA (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) ہے۔ ہم امریکی درآمدات پر صفر ٹیرف لگاتے ہیں اور درحقیقت ہمارا امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارہ ہے، یعنی ہم ان سے جتنا خریدتے ہیں وہ ہم سے اس سے کم خریدتے ہیں۔ اگر ٹیرف واقعی دو طرفہ ہوتے اور ان کا ہدف بس وہی ممالک ہوتے جن کا تجارتی سرپلس ہے، تو سنگاپور کے لیے ٹیرف صفر ہونا چاہیے تھا، لیکن پھر بھی ہم پر 10 فیصد ٹیرف لگایا جا رہا ہے۔ ہم امریکہ کے اس اقدام سے بہت مایوس ہیں، خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان ہماری گہری اور دیرینہ دوستی کو دیکھتے ہوئے یہ وہ اقدامات نہیں ہیں جو کسی دوست کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔

امریکہ کے ٹیرف میں اضافے کا بوجھ ایشیا پر پڑ رہا ہے جہاں چین سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، اور اس بار اسے 34 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہ پچھلے دو مہینوں میں لگائے گئے 20 فیصد ٹیرف میں اضافہ اور پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے 20 فیصدکے علاوہ ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر چینی مصنوعات پر اوسط امریکی ٹیرف اب 60 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ٹیرف کی شرحیں 10 سے 49 فیصد تک ہیں۔

یہ اقدامات عالمی معیشت کو کمزور کرنے کا عمل تیز کریں گے۔ سرمایہ اور تجارت، اقتصادی کارکردگی کی بنیاد پر فروغ پانے کے بجائے سیاسی صف بندی اور تزویراتی تحفظات کی بنیاد پر طے پانا شروع ہو جائیں گے۔

متعدد اراکین نے سنگاپور میں مخصوص صنعتوں پر ٹیرف کے اثرات کے بارے میں پوچھا ہے۔ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، لیکن ہماری زیادہ تر تشویش ان کاروباروں کو درپیش براہ راست اثرات نہیں ہیں، بلکہ عالمی تجارتی نظام اور عالمی معیشت کے لیے وسیع تر مضمرات ہیں۔ تو آئیے میں وضاحت کرتا ہوں۔

اول، دوطرفہ ٹیرف بنیادی طور پر WTO کے قواعد کو مسترد کرنا ہے۔ WTO کے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک اصول ’’پسندیدہ ترین قوم‘‘ یا MFN ہے۔ بظاہر اس کا مطلب ایسی قوم کو خصوصی مراعات دینا لگتا ہے، درحقیقت اس کا مطلب الٹ ہے، کہ ہر رکن کو دوسرے تمام اراکین کے ساتھ مساوی سلوک کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر کوئی ملک کسی تجارتی شراکت دار کو زیادہ سازگار شرائط فراہم کرتا ہے، یا اضافی پابندیاں عائد کرتا ہے، تو اسے دوسرے تمام WTO اراکین کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ MFN کے اصول میں کچھ استثنیٰ اور مستثنیات ہیں، مثال کے طور پر آزاد تجارتی معاہدوں کی اجازت دینا، لیکن یہ اصول طویل عرصے سے کثیر الجہتی تجارتی نظام کی بنیاد رہا ہے۔ یہ مساوی میدان کو یقینی بناتا ہے، امتیازی سلوک کو روکتا ہے، اور بڑے یا چھوٹے ممالک کو عالمی منڈیوں میں منصفانہ طور پر مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس نے 100 سے زائد WTO اراکین کے درمیان آزاد تجارت قائم کرنے میں مدد دی ہے، جن میں سے ہر ایک کے مختلف اقتصادی، سیاسی اور سماجی رجحانات ہیں۔

امریکہ کا نیا ٹیرف نظام MFN اصول کی مکمل تردید ہے۔ یہ یکطرفہ ترجیحات پر مبنی ہر ملک کے ساتھ الگ تجارتی تعلقات کا سلسلہ ہے۔ اگر دوسرے ممالک بھی امریکہ کی طرح کا نقطہ نظر اپناتے ہیں تو قواعد پر مبنی تجارتی نظام ختم ہو جائے گا۔ یہ تمام ممالک کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا، لیکن سنگاپور جیسے چھوٹے ممالک کو زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ چھوٹے ممالک کے پاس دو طرفہ (بغیر تنظیمی قواعد) مذاکرات میں سودے بازی کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ اس طرح بڑی طاقتیں شرائط کا تعین کریں گی اور ہمارے لیے محدود اور نظر انداز ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

دوم، ایک بڑی عالمی تجارتی جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ سنگاپور نے جوابی ٹیرف نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سنگاپوریوں کی قیمت خرید میں اضافہ ہوگا۔ لیکن ضروری نہیں کہ دوسرے ممالک بھی انہی تحفظات کو پیش نظر رکھیں، ان کے تصورات اور خیالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ چین نے پہلے ہی امریکی سامان پر جوابی ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ یورپی یونین جیسے دوسرے ممالک اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نئے ٹیرف دراصل دوسرے شعبوں میں مفادات کے حصول کے لیے امریکہ کا مذاکراتی حربہ ہیں۔ 1971ء میں صدر رچرڈ نکسن نے یہی کیا تھا۔ انہوں نے جرمنی اور جاپان پر دباؤ ڈالنے کے لیے درآمدات پر 10 فیصد سرچ چارج لگایا تاکہ وہ اپنی کرنسیوں کی قدر کم کریں، اور جب انہوں نے ایسا کر دیا تو ٹیرف ہٹا دیے گئے۔

اگرچہ ممالک کے پاس بڑے ٹیرف کے نافذ ہونے سے پہلے مذاکرات کرنے اور امریکہ سے کچھ رعایت حاصل کرنے کا کچھ موقع ہے، اور یہ ممکن ہے کہ کچھ شرحوں کو کم کر دیا جائے، لیکن ہمیں حقیقت پسندانہ ہونا پڑے گا، ایک بار جب تجارتی پالیسیاں نافذ ہو جائیں تو وہ برقرار رہتی ہیں، انہیں واپس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، چاہے ان کے نفاذ کی اصل وجہ موجود نہ رہے، چاہے کچھ جزوی مسائل بالآخر طے پا جائیں۔

ایسے سخت اقدام سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال عالمی اعتماد اور ترقی کو کمزور کرے گی، سابقہ کیفیت کو بحال کرنا بہت مشکل ہوگا، اور بالخصوص ایسا نہیں لگتا کہ 10 فیصد کی بین الاقوامی شرح پر مذاکرات کی گنجائش موجود ہے، یہ کسی بھی ملک کے تجارتی توازن یا موجودہ تجارتی انتظامات سے قطع نظر کم از کم ٹیرف معلوم ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ ایسی دیگر قوتیں بھی ہیں جو ٹیرف کا یہ سلسلہ اپنا سکتی ہیں۔ خاص طور پر  بہت سے یورپی ممالک اپنی اہم صنعتوں جیسے الیکٹرک گاڑیاں، گرین ٹیکنالوجیز، اور سیمی کنڈکٹرز کو چین کے مقابلے سے بچانے کے لیے فکرمند ہیں۔ وہ چین یا دیگر ممالک کی طرف سے درآمدات کا ڈھیر نہیں لگانا چاہتے۔ مغرب میں اپنی مقامی صنعتوں کی کارکردگی مضبوط کرنے اور عالمی رسد پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک بڑھتا ہوا دباؤ موجود ہے، خاص طور پر تزویراتی صنعتوں میں۔

اس لیے امریکہ کی طرف سے ٹیرف میں اضافے کا یہ حالیہ سلسلہ عالمی سطح پر مزید اضافے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ہم نے یہ پہلے بھی ہوتے دیکھا ہے۔ امریکہ نے 1930ء میں ’’سموتھ ہولی ایکٹ‘‘ کے ذریعے وسیع پیمانے پر ٹیرف میں اضافہ کیا۔ بہت سے ممالک نے احتجاج کیا اور متعدد نے اپنی تجارتی پابندیوں اور ٹیرف کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ یہ سلسلہ کساد بازاری میں اضافے اور طوالت کا باعث بنا۔ آج کا یہ خطرہ کچھ حوالوں سے اور زیادہ ہو سکتا ہے۔ نئے امریکی ٹیرف اگر مکمل طور پر نافذ کیے جاتے ہیں تو ’’سموتھ ہولی‘‘ کے ٹیرف سے زیادہ ہیں۔ 1930ء کی دہائی کے مقابلے میں تجارتی سرگرمیاں اب امریکی اور عالمی معیشت کا بہت بڑا حصہ ہے، سپلائی چینز بھی اس وقت کے مقابلے میں زیادہ مربوط ہیں، اس لیے تجارتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا دنیا پر وسیع اثر پڑے گا۔

اب میں تیسرے نکتے پر آتا ہوں جو کہ عالمی معیشت پر اس کے اثرات ہیں۔ ٹیرف سے کاروباروں اور صارفین کے اعتماد کو پہلے ہی ٹھیس پہنچی ہے، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارے اقتصادی اداروں نے ٹیرف کے اعلان کے بعد متعدد بین الاقوامی اداروں اور مقامی کاروباروں سے رابطہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو براہ راست ٹیرف سے متاثر نہیں ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے صارفین کی طرف سے کاروبار کم ہونے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ کچھ لوگوں نے نئے منصوبوں کو روک دیا ہے اور ٹیرف کے مکمل مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ ردعمل یہاں کی کمپنیوں کے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ دیگر (ممالک کی کمپنیوں کے) دفاتر میں بھی یہی کچھ زیر بحث ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیز منفی ردعمل دیکھا ہے۔ فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے اثرات اصل معیشت میں پھیل جائیں گے، لیکن منفی خطرات واضح طور پر بڑھ رہے ہیں۔

پریشان کن بات صرف ٹیرف ہی نہیں ہیں، جو کہ اپنی جگہ نقصان دہ ہیں، بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ تحفظ پسندی کی یہ نئی لہر غیر متوقع اور غیر مستحکم ہے۔ تحفظ پسندی پہلے ہی بری چیز ہے، غیر مستحکم تحفظ پسندی اس سے بھی بدتر ہے۔ کاروبار نہیں جانتے کہ کیا توقع کرنی ہے، بہت سے لوگ خوفزدہ ہیں کہ بدلتے ہوئے قوانین کی وجہ سے وہ اپنے اثاثوں کے ساتھ پھنس جائیں گے۔ اور یہ ساری صورتحال بہت غیر یقینی ماحول پیدا کرتی ہے جو امریکہ اور عالمی معیشت دونوں کو کساد بازاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اس کے نتائج معیشت سے کہیں آگے ہیں۔ دو طرفہ تعاون اور گہری شراکت داری سے منہ موڑنے والے ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کے بجائے ہمیں ’’میں پہلے‘‘ اور ’’ہار جیت‘‘ کی بڑھتی ہوئی ذہنیت نظر آ رہی ہے جس میں ہر ملک اپنی فکر کرے گا۔ کچھ لوگ دوسروں کے سر پر اپنی مرضی پوری کرنے کی غرض سے جارحانہ یا جبر کے ذرائع استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، جبکہ عالمی ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور تعاون کے دیرینہ اصول ٹوٹ رہے ہیں۔

ایک بڑی تشویش امریکہ اور چین کے تعلقات ہیں۔ امریکہ چین کو ایسا تزویراتی حریف اور خطرہ سمجھتا ہے جس سے ابھی نمٹنا اس کے نزدیک ضروری ہے کہ امریکہ کو ابھی بھی برتری حاصل ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ ٹیرف جنگ، تجارتی جنگ، یا کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے تیار ہے۔ امریکہ نے اب چین پر اضافی 50 ٹیرف کی دھمکی دی ہے، اور چین کا کہنا ہے کہ وہ آخر تک لڑے گا۔ جبکہ باہمی بات چیت کے ایسے ذرائع کم ہیں جو تعلقات کو سنبھالنے کے لیے محفوظ فریم ورک فراہم کر سکیں۔ چنانچہ اگر تنازعات بڑھتے ہیں اور امریکہ چین تعلقات کو غیر مستحکم کرتے ہیں تو دنیا کے لیے اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے، ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔

قابلِ یقین اور قواعد پر مبنی نظام، جسے ہم کبھی جانتے تھے، اب وہ مدھم ہو رہا ہے۔ نیا دور زیادہ اتار چڑھاؤ والا ہوگا جس میں بار بار اور غیر متوقع جھٹکے اور زیادہ آئیں گے۔ ہمیں مضبوطی سے کھڑے ہونے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار رہنا چاہیے، چاہے بیرونی ہوائیں کیسی ہی چلیں۔

سنگاپور کے لیے یہ سب کیا معنی رکھتا ہے؟ قریبی مدت میں ہمیں عالمی سطح پر تجارت کے کم ہونے کا خدشہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہماری اشیاء اور خدمات کی بیرونی مانگ کم ہو جائے گی۔ ہماری معیشت کے برآمداتی حوالوں سے قائم شعبے ان اثرات کا زیادہ تر بوجھ برداشت کر لیں گے۔ ان میں مینوفیکچرنگ، خاص طور پر الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبے، بائیو میڈیکل سائنس، جن کی امریکہ کو برآمدات زیادہ ہیں، تھوک پیمانے کی تجارت اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوں گے۔ عالمی سطح پر غیر یقینی اور مایوسی کی صورتحال سے سروسز کی کچھ صنعتیں بشمول فنانس اور انشورنس بھی متاثر ہوں گی۔

سنگاپور اس سال کساد بازاری کا شکار ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، لیکن مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ترقی نمایاں طور پر متاثر ہوگی۔ ہم نے اصل میں 2025ء کے لیے GDP کی شرح نمو 1 سے 3 فیصد تک پیشگوئی کی تھی۔ MTI (وزارت تجارت اور صنعت) ترقی کی پیشگوئی کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ طور پر اسے کم کر دے گی۔ سست ترقی کا مطلب ملازمین کے لیے ملازمت کے مواقعوں اور اجرت میں اضافوں کی کمی ہو گی۔ اور اگر مزید کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا وہ اپنا کاروبار واپس امریکہ منتقل کرتی ہیں تو زیادہ بیروزگاری ہو گی اور ملازمتوں کا نقصان ہوگا۔

فی الحال اس سال کے بجٹ میں اعلان کردہ اقدامات کسی بھی قلیل مدتی دباؤ کو سنبھال لیں گے۔ ہمارے پاس گھرانوں اور افراد کے لیے اقدامات کا ایک جامع پیکیج ہے۔ انہیں CDC واؤچرز، SG60 واؤچرز، اور U-Save ریبیٹس (ری فنڈ) ملیں گے، تاکہ ان کے زندگی کے اخراجات میں مدد کی جا سکے۔ اور زیادہ کمزور طبقات کے لیے ComCare امداد میں اضافے جیسے مخصوص اقدامات ہیں۔ ہم SkillsFuture میں سرمایہ کاری کے ذریعے ملازمین کی بھی مدد کر رہے ہیں، اور جو لوگ بے روزگار کر دیے جاتے ہیں انہیں سکلز فیوچر کے تحت ملازمت کی تلاش پروگرام کے ذریعے اپنے پیروں پر واپس کھڑے ہونے میں مدد ملے گی، جو کہ اس مہینے کے آخر میں شروع ہو گا۔

ہم نے بجٹ میں کاروباروں کی مدد کے لیے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔ کارپوریٹ انکم ٹیکس ریبیٹس کے ذریعے قلیل مدتی امدادی اقدامات کے ساتھ ساتھ ان کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بڑھانے اور نئی منڈیوں کی طرف رخ کرنے کے لیے اسکیمیں بھی موجود ہیں۔ ہماری اقتصادی ایجنسیاں ٹیرف سے متاثرہ فرموں سے بھی رابطہ کر رہی ہیں تاکہ ان کے ردعمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور دیکھ سکیں کہ ہم ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں اور انہیں درپیش مخصوص مسائل میں کیسے ان کے کام آ سکتے ہیں۔

بہرحال صورتحال غیر یقینی ہے اور تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم نائب وزیر اعظم گان کم یونگ کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کریں گے تاکہ کاروباروں اور ملازمین کو فوری غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے، ان کی قوتِ بحالی کو مضبوط بنانے، اور نئے اقتصادی ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے۔ ہماری اقتصادی ایجنسیوں کے علاوہ ٹاسک فورس میں سنگاپور بزنس فیڈریشن، سنگاپور نیشنل ایمپلائرز فیڈریشن، اور این ٹی یو سی (نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس) شامل ہوں گے۔ ہم پیشرفت پر گہری نظر رکھیں گے۔ حکومت ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے وسائل موجود ہیں کیونکہ ہم نے دہائیوں سے مالیاتی نظم و ضبط اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس نئے ماحول میں، سنگاپور کو عالمی نظام میں ایک اہم اکائی اور ایک قابل اعتماد کاروباری مرکز کے طور پر رہنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا ہو گا۔ ان ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ ہم قریبی روابط قائم کریں گے جو کھلی اور آزاد تجارت کے ساتھ ہماری طرح کی وابستگی رکھتے ہیں۔

امریکہ نے ہو سکتا ہے کہ تحفظ پسند بننے کا فیصلہ کر لیا ہو، لیکن باقی دنیا کو اس راستے پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کثیر الجہتی نظام کی بحالی کو یقینی بنانا اور اس کے حساس شعبوں کو برقرار رکھنا، جبکہ ایک ممکنہ نئے اور مختلف عالمی نظام کی بنیادیں رکھنا جو بعد میں قابل تشکیل ہو، ہم دیکھیں گے کہ کون سے شراکت دار اس مقصد کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اور اسی لیے میں نے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں سے رابطہ کرنے اور ان سے ملنے کی کوشش کی ہے۔

میں نے کل برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر سے رابطہ کیا، اور آنے والے ہفتوں میں بات چیت کے چند مزید رابطے طے ہیں۔ وہ سب سنگاپور کے ساتھ مزید کام کرنے اور ڈیجیٹل اور گرین اکانومیز جیسے نئے شعبوں سمیت اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرجوش ہیں۔

ہم خاص طور پر آسیان (ASEAN) کے اندر اپنے تعاون اور انضمام کو مضبوط کریں گے۔ گزشتہ جمعہ کو میں نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے بات کی۔ ملائیشیا اس سال آسیان کا سربراہ بھی ہے۔ ہم نے اپنے خطے کو مزید پرکشش اور مسابقتی بنانے کے لیے آسیان کو منظم کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ہفتے کے آخر میں اقتصادی وزراء کا ایک خصوصی آسیان اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ وہ مزید ایسے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے جن سے آسیان (کے ارکان) آسیان کی اندرونی تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، اور علاقائی اقتصادی انضمام کے ساتھ آسیان کی وابستگی کا مضبوط اظہار کر سکتا ہے۔ ایک گروپ کے طور پر آسیان باہمی دلچسپی کے شعبوں میں ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط بنانا بھی جاری رکھے گا۔

جناب اسپیکر، ہم ایک تبدیل شدہ دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، سنگاپور کے لیے اس بڑھتے ہوتے طوفان سے گزرنے کا واحد راستہ متحد رہنا، اپنے وسائل، اپنی قوتِ بحالی اور اپنے عزم کو مجتمع کرنا ہے۔ سنگاپور کو ان طوفانی پانیوں سے نکالنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ کوئی پیچھے نہ رہے۔ ہم اپنی معیشت کو کھلا، اپنے معاشرے کو مربوط اور اپنے اداروں کو مضبوط رکھیں گے۔ ہم کاروباروں اور سرمایہ کاروں کے لیے معیارات کو بہتر کرنے کی نئی تجاویز تیار کریں گے۔ ہم ضرورت پڑنے پر جرأتمندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کریں گے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سنگاپور کامیابی حاصل کرتا رہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سنگاپور اور سنگاپوریوں کے مفادات کو ہمارے ہر کام میں مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔ آگے کا راستہ زیادہ مشکل ہوگا، خطرات حقیقی ہیں، لیکن ہمارا عزم بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔

60 سال پہلے جب ہم آزاد ہوئے تھے، اس کے مقابلے میں ہم کئی حوالوں سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ ہم نے ایک مشکل حالات کے لیے خاطر خواہ ذخائر تیار کر رکھے ہیں۔ ہم نے یکجہتی اور باہمی اعتماد پر مبنی ایک مضبوط اور مربوط ڈھانچہ بنایا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارے پاس ہماری ذہانت اور سوچ، ہماری ہمت اور حوصلہ ہے۔ اور ہمارے اعتماد نے ہمیں ہر بحران سے نکالا ہے اور آنے والے بحرانوں سے بھی نکالے گا۔

لہٰذا، جناب اسپیکر، میں اس ایوان اور ساتھی سنگاپوریوں سے کہتا ہوں کہ خوفزدہ نہ ہوں۔ پہلے سے کہیں زیادہ ہم پرعزم اور متحد رہیں گے، ہمارا چھوٹا سرخ نقطہ چمکتا رہے گا۔ سنگاپور ایک تاریک اور پریشان کن دنیا میں استحکام، مقصد اور امید کی علامت کے طور پر اپنی جگہ پر قائم رہے گا۔

شکریہ جناب والا۔

youtu.be/pTO5pi-FIGs


جہاد فرض ہے اور مسلم حکومتوں کے پاس کئی راستے ہیں

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

’’قومی کانفرنس: فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ سے خطاب جو مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیراہتمام ۱۰ اپریل ۲۰۲۵ء کو پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا و نبینا و حبیبنا و شفیعنا و مولانا محمد خاتم النبیین وامام المرسلین وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین وعلیٰ کل من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین اما بعد۔

حضرات علماء کرام، زعماء ملت اور معزز حاضرین! 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

آج اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایک مرتبہ پھر قضیۂ فلسطین کے سلسلہ میں اسلام آباد میں جمع ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، دینی جماعتوں کے سربراہان اور ملت کے اصحابِ فکر ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں آپ حضرات کی خدمت میں فلسطین کا قضیہ لے کر آئے ہیں۔

مجھے اس لحاظ سے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ آج سے سال بھر پہلے کنونشن سنٹر میں ہم نے ایک ایسا ہی اجتماع منعقد کیا تھا، اور اس میں بھی ہمارے ملک کے چیدہ چیدہ اصحابِ فکر جمع تھے، اس میں بھی ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم اہلِ فلسطین کے ساتھ ہیں، اس میں بھی ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ فلسطین کی مدد، جسمانی، مالی، جانی، ہر طرح کی مدد ، جس کی استطاعت میں ہو، وہ اس کا فریضہ ہے۔

اس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ آج ہم یہاں جمع ہونے کے بجائے غزہ کے میدان میں جمع ہوئے ہوتے، لیکن ہماری شامتِ اعمال ہے کہ آج سال بھر گزرنے کے بعد بھی اب ہم اسی کانفرنس کے طریقے کو اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اور کوئی عملی قدم ان مجاہدین کی امداد کے لیے ابھی تک ہم نہیں اٹھا سکے جو بیت المقدس کے دفاع کے لیے، امتِ مسلمہ کے دفاع کے لیے، اسلام کی غیرت کے دفاع کے لیے، اپنی جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔

آج سے سال پہلے جب ہم جمع تھے تو اس جہاد کا آغاز تھا، بیچ میں ایسا وقت آیا کہ دوستوں کے بیچ میں پڑنے کے نتیجے میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا۔ اس بندی کے معاہدے کے نتیجے میں غزہ کے بے گناہ شہریوں پر جو آفت کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، بمباری کی جو بارش ہو رہی تھی، وہ کچھ دیر کے لیے بند ہوئی۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ کسی انسانی قدر کا پاس ہے، نہ کسی عقیدے کا پاس ہے، نہ کسی اخلاق کی قدر کا پاس ہے، نہ ان کو کسی معاہدے اور کسی وعدے کا احساس ہے۔ ساری دنیا کے سامنے غیر ملکی ضمانتوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کو توڑ کر آج یہ پھر دوبارہ ان معصوم بچوں پر، عورتوں پر، بوڑھوں پر، مسجدوں پر، ہسپتالوں پر بمباری کر کے اس کو ملبے کا ڈھیر بنا رہے ہیں۔ اور یہ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا تھا ’’وان نکثوا ایمانھم من بعد عہدھم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم‘‘ (التوبۃ ۱۲) یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن نے کہا تھا کہ جب یہ اپنے عہد و پیمان کے باوجود اس سے پیچھے پھریں ’’فقاتلوا ائمۃ الکفر‘‘ تو ان کفر کے اماموں کے ساتھ قتال کرو۔ جہاد نہیں، قتال فرمایا ۔ ’’فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم‘‘۔

لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے عالمِ اسلام اور اس کی حکومتیں یہ سارا نظارا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور تماشائی بنی ہوئی ہیں، اور یہ تماشائی بن کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں، مذمتی بیانات جاری کر رہی ہیں، اور مذمتی بیانات بھی معدودے چند ملکوں نے جاری کیے ہیں، ورنہ بیشتر وہ ہیں کہ جو اپنے بچوں کو ذبح ہوتے ہوا دیکھ کر، ان کو خون میں لت پت دیکھ کر ان کی حمیت نہیں جاگتی، ان کی غیرت کو کوئی چیز نہیں جگاتی، بیشتر تو وہ ہیں۔ الحمد للہ ہمارا ملک اس میں شامل نہیں ہے، کم از کم زبانی طور پر اس مذمت کر چکا ہے۔ لیکن بات ہماری مذمت کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آج غزہ کو قبضہ کرنے کے لیے، نہ صرف قبضہ کرنے کے لیے بلکہ اس کو مسلمانوں کا قبرستان بنانے کے لیے ، اور امتِ اسلامیہ کو ذبح کرنے کے لیے ارادے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ صاحب کہہ رہے ہیں کہ غزہ کو ہم ان فلسطینیوں سے خالی کریں گے، وہ فلسطینی جو صدیوں سے اس جگہ آباد ہیں، ان کو خالی کریں گے، ان کو خالی کر کے وہاں پر تفریح گاہیں بنائیں گے، وہاں پر عیاشی کے اڈے قائم کریں گے۔ یہ کہتے ہوئے ان کو شرم نہیں آتی؟ یہ وہ ہیں جنہوں نے بچوں کی اور عورتوں کی حرمت کے نعرے لگا کر مسلمانوں کو بدنام کیا۔ جو خواتین کی تعلیم کے نام پر فحاشی اور عریانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو وہ خواتین نظر نہیں آتیں جن کے دودھ پیتے بچوں کو ان سے چھین لیا گیا، جن کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، وہ نظر نہیں آتیں؟ وہ ہزارہا انسان جو اس بربریت والی بمباری کا نشانہ بنے ہیں وہ ان کو نظر نہیں آتے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پوری دنیا پر میری بادشاہت قائم ہو گئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ کینیڈا کو، وہ گرین لینڈ کو، وہ پانامہ کو، وہ غزہ کو، وہ فلسطین کو، سب کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور پھر ملکیت سمجھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ صاحب! ایک دن آپ کو بھی موت آنے والی ہے، ایک دن آپ کو بھی مرنا ہے۔ اور خدائی آپ کے ہاتھ میں نہیں آگئی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ملک ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی زمین ہے ’’ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ‘‘ (الاعراف ۱۲۸)۔ آپ کے ارادے آپ کے عزائم مسلمانوں کے خلاف کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ آپ کے دل میں مسلمانوں کا بغض ہے۔ آپ کے دل میں مسلمانوں کے ساتھ کینہ ہے۔ آپ کسی مسلمان کی جان کو، اس کے مال کو، اس کی عزت کو، کسی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ آپ صرف اس شخص کی جان کو سمجھتے ہیں جس کی چمڑی گوری ہو، جو یورپ کا یا امریکہ کا باشندہ ہو۔ اور جن کی چمڑی گوری نہیں ہے وہ آپ کے نزدیک غلام ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا برتاؤ غلاموں جیسا برتاؤ ہے۔ لیکن یاد رکھو کہ غلام بھی، جب اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو طاقت دیتا ہے تو بڑے بڑے فرعونوں کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جس استقامت کا جس بہادری کا جس شجاعت کا مظاہرہ حماس کے جانبازوں نے کیا ہے وہ بذاتِ خود ایک تاریخ بن رہی ہے۔ بے شک پچپن ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہو گئے، بے شک ان میں عورتیں بھی بچے بھی شامل ہیں، لیکن حماس کے لیڈروں، حماس کے قائدین کو دیکھو کہ وہ آج بھی اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے موت ناچ رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

آپ کو معلوم ہے کہ یہ دوبارہ بد عہدی کس طرح شروع ہوئی۔ ایک معاہدہ ہوا تھا، ساری دنیا کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا، اور اس ساری دنیا کے معاہدے کے اندر یہ بات طے ہوئی تھی قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، تبادلے کی شرح بھی متعین ہو گئی تھیں۔ اب یہ مطالبہ ہے کہ ہمارے ان پچاس قیدیوں کو اس معاہدے سے ہٹ کر یعنی مفت ان کو آزاد کرو، ورنہ ہم تمہارے شہریوں پر بمباری کریں گے۔ اس معاہدے کے خلاف پچاس قیدیوں کو، معاہدے سے باہر ان کو مفت آزاد کرو ورنہ تمہارے اوپر بمباری کی جائے گی۔ اس بنیاد پر، بد عہدی پر مبنی بمباری کی جا رہی ہے اور ساری دنیا خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے۔ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک، ہم جو کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں ، اس کے نام لیوا ہیں، وہ یہ سارا منظر آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

میں آج کی اس محفل میں پہلے ہی شرمندگی کا اظہار کر چکا ہوں کہ اب تک ہمارا جو کچھ جمع خرچ ہے وہ کچھ مالی مدد کی حد تک ہے، کچھ سامانی مدد کی حد تک ہے، اور ہم نے اپنی حکومتوں سے کھل کر یہ مطالبہ اب تک نہیں کیا کہ آج آپ کے اوپر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ ساری اسلامی حکومتوں کے پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ اپنے حسبِ استطاعت ہر مسلمان حکومت پر جہاد فرض ہے۔ اب صرف زبانی جمع خرچ سے ہم اللہ کے سامنے کوئی جواب دینے کے قابل نہیں ہیں۔ اب صرف زبانی مذمتوں سے ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ تمام مسلمان حکومتوں پر درجہ بدرجہ یہ جہاد فرض ہے۔ آنکھوں سے اپنے سامنے پچپن ہزار سے زائد کلمۂ توحید کے ماننے والوں کو ذبح ہوتے دیکھ کر بھی اگر ان پر جہاد فرض نہ ہو ۔ پھر ان کے اسلحہ کس کام کے، ان کی فوجیں کس کام کیں، اگر وہ اپنے مسلمانوں کو اس ظلم و ستم سے نجات نہ دلا سکیں؟

یہاں ایک مغالطہ پیش کیا جاتا ہے، اور وہ مغالطہ پھیلایا جا رہا ہے، بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے ’’وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر‘‘ جب لوگ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں، تمہارے اوپر مدد کرنا فرض ہے۔ ’’فعلیکم النصر‘‘ یہ قرآن کہتا ہے۔ لیکن آگے قرآن نے کہا ہے ’’اِلا علیٰ قوم بینکم و بینھم میثاق‘‘ (الانفال ۷۲) البتہ اگروہ مدد ایسی قوموں کے خلاف ہو جن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے، تو پھر اپنے مظلوم مسلمانوں کی اس وقت مدد نہیں کر سکتے۔ اس کو خوب سمجھ لیجیے۔ یہ آیتِ کریمہ درحقیقت نازل ہوئی ہے اس وقت جب کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے مکہ مکرمہ کے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا تھا کہ وہ ہجرت کریں، مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئیں۔ ہجرت فرض ہو گئی تھی اور اس ہجرت نہ کرنے پر قرآن کریم میں بڑی سخت وعیدیں نازل ہوئی تھیں۔ کہا گیا تھا کہ جو ہجرت نہیں کر رہے وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جو مکہ مکرمہ میں بیٹھے ہیں اور ان پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، اس کے باوجود وہ اگر ہجرت نہیں کرتے تو وہ مجرم ہیں۔ ان مجرم مسلمانوں کے بارے میں قرآن نے کہا تھا کہ اگر وہ، اے مسلمانو، تم سے مدد مانگیں تو تمہارے اوپر مدد کرنا فرض ہے۔ یعنی اگر کوئی ایسی قوم ان پر ظلم کر رہی ہو کہ جن سے تمہارا کوئی معاہدہ نہیں ہے، تو تمہارے اوپر نصرت کرنا فرض ہے۔ لیکن اگر کسی ایسی قوم کے خلاف وہ تمہیں دعوت دے رہے ہیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ قرآن یہ کہتا ہے۔ 

تو بعض لوگ اس استثنا کو آڑ بنا کر یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور علمی دنیا میں یہ پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ چونکہ مسلمان ممالک کے معاہدے ہیں غیر مسلم ملکوں کے ساتھ، اس لیے اگر مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ قومیں ان پر ظلم کر رہی ہیں جن کے ساتھ ہمارے معاہدے ہیں تو ہمیں پھر ان کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خوب سمجھ لیجیے کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اولاً‌ تو اس لیے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ پاکستان کا یا اکثر بیشتر مسلمانوں ملکوں کا اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ہمارے پاکستان کے بانی نے پاکستان بننے سے پہلے اسرائیل کے وجود کو ’’ولد الحرام‘‘ قرار دیا تھا ’’ناجائز بچہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اور آج بھی ہم اسی موقف پر قائم ہیں، آج بھی اس موقف پر قائم ہیں۔ اسرائیل کتنا طاقتور ہو جائے، اسرائیل کے پاس کتنے اسلحہ آجائیں، اسرائیل کو امریکہ کی جتنی حمایت حاصل ہو جائے، ہمارا یہ موقف تبدیل نہیں ہو گا، نہیں ہو گا، نہیں ہوگا۔ 

لہٰذا اول تو ہمارا اسرائیل سے کوئی معاہدہ نہیں، اور جب اسرائیل سے معاہدہ نہیں ہے،سارے معاہدات توڑ کر اس وقت ہمارے بچوں کو وہ قتل کرنے پر آمادہ ہے اور یہ چاہتا ہے، جان بوجھ کر نسل کشی کا اور قتلِ عام کا اقدام کر رہا ہے۔ امریکہ کا وزیر خارجہ، اس سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ اسرائیل کی حمایت کرتے ہو، جبکہ وہ ہزارہا انسانوں کے قتلِ عام کا مرتکب ہو چکا ہے؟ تو کہتا ہے کہ چاہے وہ سارے مسلمانوں کو قتلِ عام کر دے ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ یہ اعلان برملا اس نے کیا ہے۔ وزیرخارجہ نے برملا یہ اعلان کیا ہے۔ لعنت ہو اس اعلان پر، لعنت ہو اس اعلان پر۔ وہ کہتا ہے ہم اسرائیل کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، ہم کہتے ہیں ہم فلسطین کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری گردنیں اڑا دو ہمارے گھر تباہ کر دو لیکن ہم فلسطین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ اور جب ہمارا کوئی معاہدہ نہیں تو قرآن کا یہ حکم ہم پر فرض ہے ’’ان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر‘‘۔

اور اگر اقوامِ متحدہ کی بات کرتے ہو، وہ اقوامِ متحدہ جو تمہارے ہاتھ کا کھلونا ہے، وہ اقوامِ متحدہ جو تم نے صرف اپنے مفاد کی خاطر بنائی ہے، جس کا کوئی کام تمہارے مفادات کی خدمت کرنے کے سوا نہیں ہے، اس اقوامِ متحدہ کی بات کرتے ہو؟ تو اس اقوامِ متحدہ نے ۱۹۶۷ء میں متفقہ قرارداد منظور کی کہ اسرائیل نے بیت المقدس پر جو قبضہ کیا ہے، اور اس وقت جو نئے اس نے قبضے کیے ہیں، اور یہودیوں کو وہاں پر بسانے کے جو اقدامات کیے ہیں، وہ غیر قانونی ہیں، ضابطے کے خلاف ہیں۔ یہ اعلان، تمہاری خود اپنی پیدا کردہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد ہے یہ، کہ وہ ظالم ہے، وہ غاصب ہے، بیت المقدس پر اس کا قبضہ غیر قانونی ہے۔

لہٰذا ہمارا اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اور اس معاملے میں چونکہ امریکہ بھی یہ سب باتیں دیکھنے کے باوجود، اور عالمی عدالت کا فیصلہ سننے کے باوجود، جو یہ کہہ رہا ہے کہ میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا رہوں گا، اور جو انجام اس کا ہو گا وہ میرا بھی ہو گا۔ جو یہ کہہ رہا ہے۔ وہ معاہدہ اپنا توڑ چکا، وہ اپنے معاہدہ کے توڑنے کا مجرم ہے۔ لہٰذا یہ قرآن کریم کی جو آیت ہے ’’اِلا علیٰ قوم بینکم و بینھم میثاق‘‘ اس کا ہم سے کوئی تعلق اس معاملے میں نہیں ہوتا۔ ہر معاہدہ وہ اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی توڑ چکے ہیں، اب کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ لہٰذا اب امتِ مسلمہ کے حکمرانوں پر یہ فرض ہے کہ جتنی ان کی استطاعت ہے اس استطاعت کے مطابق وہ اہلِ فلسطین کا ساتھ دیں اور اسرائیل کا مقابلہ کریں۔

آپ ذرا غور تو کرو، اسرائیل کیا ہے؟ ایک چھوٹی سی پٹی ہے دنیا کے نقشے پر۔ بتیس دانتوں کے درمیان ایک زبان ہے۔ چاروں طرف مسلمان ملک حاوی ہیں، اور اس میں ایک جو چھوٹی سی زبان ہے، وہ امریکہ کی پشت پناہی سے، امریکہ کے اسلحہ کے بل پر، امریکہ کی حمایت کے بل پر، وہ ان سارے مسلمان ملکوں کو مرعوب/ ملغوب کیے ہوئے ہے۔ اس کے سوا اور کیا کہیں جو رسول کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آجائے گا کہ مسلمانوں کی حالت (ایسی ہو جائے گی) مسلمان جہاد چھوڑ دیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا، یا رسول اللہ! کیا ان کی تعداد کم ہو جائے گی، اس لیے جہاد چھوڑ دیں گے؟ آپؐ نے فرمایا، نہیں۔ ان کی تعداد بہت ہو گی ’’ولکنکم غثاء کغثاء السیل‘‘ وہ ایسے ہوں گے جیسے کہ سیلاب میں پھیلتے ہوئے تنکے ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد بہت ہے لیکن وہ کسی سیلاب کا رخ موڑنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ایسے ہو جائیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا، یا رسول اللہ! کیسے؟ صحابہ کرامؓ کو یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ کوئی شخص مسلمان ہو ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو مانتا ہو اور پھر بھی وہ جہاد کو چھوڑ دیں گے۔ پوچھا ، یا رسول اللہ! یہ کیوں ہو گا، کیسے ہو گا؟ فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔ دو چیزیں جب آ جائیں گی، دنیا کی محبت اور موت کا خوف، تو پھر مسلمان جہاد چھوڑ بیٹھے گا، اور جہاد چھوڑ بیٹھے گا تو اس کی تعداد جتنی بھی ہو جائے، وہ سیلاب میں بہتے ہوئے تنکوں کی طرح ہو گی۔ آج یہ منظر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، گویا کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشینگوئی جو فرمائی تھی اس کا مظاہرہ ہمیں اپنی آنکھوں سے آج کے حالات میں نظر آ رہا ہے۔

لیکن میرے بھائیو! میں صرف مایوس کرنے کی بات نہیں کر رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اور خود نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے، آپؐ نے ہمیں مایوسی کا درس نہیں دیا، آپؐ نے ہمیں امیدیں دلائی ہیں، آپؐ نے ہمیں یہ وعدہ کیا ہے، اور یہ وعدہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ ہے کہ آج کے بعد ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ جو پہلی امتوں کی طرح کا خیر القرون والا زمانہ ہو گا۔ فرمایا ’’مثل امتی مثل المطر‘‘ میری امت کی مثال بارش کی سی ہے، ’’لا یدری اولہ خیر ام آخرہ‘‘ یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ بہتر تھا یا آخری والا حصہ زیادہ بہتر ہو گا۔ تو وہ وقت تو آنے والا ہے، آئے گا، ضرور آئے گا، اللہ کا وعدہ، اللہ کے رسول کا وعدہ، وہ وقت تو ضرور آئے گا جب خیر القرون کا دور لوٹے گا، جب پورے عالم پر اسلام ہی سرفراز ہو گا۔ ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘‘ (الصف ۹)کوئی جتنا بھی اس کو برا سمجھے لیکن وہ وقت آنے والا ہے، آنے والا ہے۔ ہم اس وقت کے آنے کے درمیان کے لوگ ہیں۔ یہ ہم بے شک ایک تاریک رات سے گزر رہے ہیں لیکن تاریک رات میں بھی جو چراغ جلا دے گا، جو جس طرح کا چراغ جلا دے گا، وہ اس قافلے کا ساتھی بن جائے گا جو آخر القرون کے اندر اول القرون کی یاد دلانے والا ہے۔

اگر ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں، ہم سے جو اللہ اور اس کے رسول کا مطالبہ ہے اس کو پورا کرتے رہیں، تو ہم چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں، چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں، یہ روشنی دیتے رہیں گے، یہ روشنی دیتے رہیں گے، یہاں تک کہ صبح کا اجالا نمودار ہو جائے گا۔ اور ہم یہ کہہ سکیں گے کہ

ہمیں   خوشی   ہے   کہ   ہم     ہیں     چراغِ      آخرِ     شب
ہمارے          بعد           اندھیرا            نہیں           اجالا          ہے 

لہٰذا اپنے کو کمزور نہ سمجھو ’’لا تھنوا ولا تحزنوا‘‘ کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو ’’انتم الاعلون ان کنتم مومنین‘‘ (اٰل عمران ۱۳۹) اگر تم واقعی مومن ہو گے، تم ہی تم سربلند ہو گے ’’انتم الاعلون ان کنتم مومنین‘‘۔

لہٰذا آج کے اعلامیہ میں، جو ابھی آپ کے سامنے حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھ کر سنایا، اس میں الحمد للہ ایک واضح راہِ عمل دی گئی ہے۔ مسلم حکمرانوں کو بھی، اور ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ کے سر پر یہ ذمہ داری آ گئی ہے، پہلے اس کا ادراک تھا یا نہیں تھا، اب ادراک ہو جانا چاہیے، اور وہ اس ذمہ داری کو ادا کریں۔ حکومتوں کے پاس ہزار راستے ہوتے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ آج ہی جا کر کوئی ایٹمی حملہ کر دیں، لیکن ان کے ذہن میں یہ بات پختہ ہونی چاہیے کہ جہاد ہمارا فریضہ ہے۔ ہماری افواج کا جو موٹو ہے وہ تین چیزیں ہیں: ایمان، تقویٰ اور جہاد۔ یہ موٹو ہے ہماری افواج کا۔ جب یہ موٹو ہے تو پھر پوچھو ان لوگوں سے جو جہاد کا فتویٰ دے رہے ہیں، ان سے پوچھو کہ آج جہاد کا وقت ہے یا نہیں ہے۔ اگر ہے اور آپ کو اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ واقعتاً‌ جہاد کا وقت ہے تو آپ کے پاس جہاد کے لیے ہزار راستے ہیں۔ آپ نے وہ راستے مختلف مواقع پر استعمال کیے ہیں، آپ نے بوسنیا میں استعمال کیے ہیں، آپ نے مختلف مقامات پر استعمال کیے ہیں، آپ کے پاس آج بھی راستے موجود ہیں، اور مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں کہ کیسے راستے ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کو اختیار کرنا آپ کا فریضہ ہے، یہ پوری قوم آپ سے منتظر ہے اس بات کی کہ آپ اس فریضے کو ادا کریں۔

اور دوسرے عالمِ اسلام کے مسلمانوں حکمرانوں کو بھی آج کا یہ اجتماع یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور ان مرتے ہوئے بچوں کا خوف کریں، ان مرتی ہوئی عورتوں کا، ان چلاتی ہوئی عورتوں کا، اس ڈاکٹر کا جو یہ پیغام بھیج رہا ہے کہ غزہ آخری سانس لے رہا ہے۔ ڈاکٹر یہ پیغام دے رہا ہے کہ غزہ آخری سانس لے رہا ہے، ہم نے تمہارا بہت انتظار کیا، تم نہیں آئے، اللہ حافظ۔ یہ پیغام ایک ڈاکٹر نے بھیجا ہے، میرے پاس موجود ہے۔

تو میرے بھائیو! کب تک ہم اس بے غیرتی کی زندگی گزاریں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دینی ایمانی حمیت اور غیرت عطا فرمائے۔ اور آج جو اعلان کیا گیا ہے اس میں تمام قوم سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ اس موضوع کو مرنے نہیں دینا، اس کو زندہ رکھنا ہے، اور زندہ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اسرائیل کے حامیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، ہاتھ اٹھاؤ، مکمل بائیکاٹ۔ اسرائیلی مصنوعات ہی کا نہیں، اسرائیل کو مدد دینے والی مالی کمپنیوں کا بھی بائیکاٹ۔ اور جو اپنی دکانوں پر ایسی مصنوعات رکھے اس کا بھی بائیکاٹ۔

لیکن خوب سمجھ لو کہ اسلام ہمارے پاس اعتدال کا دین ہے، یہ محض جذبات میں آ کر توڑ پھوڑ کرنے والا دین نہیں ہے، یہ جذبات میں آ کر کسی کو نقصان پہنچانے والا دین نہیں ہے، لہٰذا یہ پتھر مارنا پتھر برسانا اور جا کر کسی کی جان کو کسی کے مال کو نقصان پہنچانا، یہ شریعت میں حرام ہے۔ لہٰذا احتجاج کرو بائیکاٹ کرو مگر پر امن طریقے پر کرو، اس کے اندر کوئی بداَمنی کا عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ جو میں کہہ رہا ہوں حکمرانوں کو متنبہ کرو، ان کو آمادہ کرو کہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ یہ متنبہ کرنا بھی پُرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔ جو لوگ اس نام پر اپنی مسلمان حکومتوں سے لڑنے پر آمادہ ہیں، جو اُن کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں، یہ کوئی قابلِ قبول طریقہ نہیں ہے، ہم بارہا اس کا اعلان کر چکے ہیں۔ لہٰذا جو کچھ کرنا ہو وہ پُر امن طریقے سے، ورنہ غزہ میں تو جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے، مسلمان ملکوں کے اندر اگر خانہ جنگی شروع ہو گئی تو مسلمان تتر بتر ہو جائیں گے۔ لہٰذا اس سے ہمیشہ پرہیز کیا جائے۔

آخری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اب کچھ عرصہ سے ایک عجیب ہوا چلی ہے، وہ ہے علماء کرام کو قتل کرنا، جگہ جگہ بے مقصد، کوئی بے ضرر انسان کہیں اللہ کا نام لے رہا ہے، کسی مسجد میں اللہ کا نام لے رہا ہے، کسی مدرسے میں پڑھا رہا ہے، اور اچانک لوگ آتے ہیں اور اس کو فائرنگ کر کے شہید کر دیتے ہیں۔ ابھی متعدد ہمارے علماء کرام اس میں حال ہی میں شہید ہوئے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ جیسا عظیم ادارہ، اتنا بڑا عظیم ادارہ جس کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کہتے ہیں میرا مادرِ علمی ہے، اس مدرسہ کے اندر گھس کر اس کی مسجد کے پاس جا کر وہاں حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے، حضرت مولانا سمیع الحق صاحب شہید کے بیٹے، مولانا حامد الحق کو شہید کیا گیا، اور آج تک پتہ نہیں چلتا کہ وہ کون تھا، اس کا سر بھی مل گیا، اس کی سب چیزیں مل گئیں لیکن پتہ نہیں چلتا۔ تو یہ بھی تو درحقیقت ہم سے بدلہ لیا جا رہا ہے، ہم جو فلسطین کے نام پر آواز اٹھاتے ہیں، تو ہم سے یہ بدلہ لیا جا رہا ہے کہ تم بھی ہمارے نشانے پر ہو۔ لیکن ہماری حکومت اور ہماری ایجنسیاں ، ان کو تو کم از کم اس کا نوٹس لینا چاہیے ، اور جو لوگ اس سازش میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے ان کو کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے۔

تو میرے بھائیو! میری بات شاید کچھ زیادہ لمبی ہو گئی لیکن بات ایسی ہے کہ دل بے چین ہے، دل بے چین ہے۔ اور میں تو پھر بھی کچھ تھوڑا بہت مسئلے سے تعلق رکھتا ہوں لیکن ایک عام چلتا ہوا آدمی بھی مجھ سے آ کر کہتا ہے کہ حضرت رات کو نیند نہیں آتی، جب میں غزہ کی تصویریں دیکھتا ہوں، غزہ کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھتا ہوں، تو مجھے نیند نہیں آتی۔ عام انسانوں کے یہ جذبات ہیں، لہٰذا ان جذبات کی وجہ سے یہ اجتماع کرنا بھی ضروری سمجھا، اور اس کے ساتھ ان اعلانات کو بھی، جو ابھی آپ نے حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی زبانی سنے ہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ آواز بے اثر نہیں ہو گی، یہ آواز پھیلے گی، عالمِ اسلام میں پھیلے گی۔ اس کا اعلامیہ ان شاء اللہ عربی میں، اردو میں، انگریزی میں، ہر زبان میں ترجمہ کر کے ان شاء اللہ پھیلایا جائے گا۔ آپ حضرات اس کو پھیلانے میں ہماری مدد کریں گے؟ ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

www.facebook.com


المیۂ فلسطین اور قومی کانفرنس اسلام آباد کا اعلامیہ

مولانا مفتی منیب الرحمٰن

المیۂ فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری

سات اکتوبر 2023ء سے تقریبا ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، امریکہ اور اہلِ مغرب کی مکمل اشیرباد، تائید و حمایت اور مادی و عسکری امداد کے ساتھ اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں پر اس صدی کے سب سے ہیبتناک، المناک اور اذیتناک مظالم ڈھا رہا ہے۔ تقریباً پچپن ہزار مرد، خواتین، بچے اور بوڑھے جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں، دو لاکھ کے لگ بھگ شدید زخمی ہیں۔ ان کا شہری ڈھانچہ کارپیٹ بمباری کے ذریعے زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال، تعلیمی ادارے اور خیمہ بستیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ حربی امداد تو دور کی بات ہے، خوراک اور طبی امداد کی ترسیل پر بھی پابندی عائد ہے۔ بچے بِلَک بِلَک کر اور تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔

اہلِ مغرب کے منافقین جو آج تک دنیا کو حقوقِ انسانی، حقوقِ نسواں، حقوقِ اطفال، حقوقِ حیوانات، جنگلی حیات اور ماحولیاتی تطہیر کے درس دیتے رہے ہیں، یہ سب مظالم ان کی نظروں کے سامنے ہیں، لیکن اہلِ غزہ ان تمام حقوق سے محروم ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے یا تو بے بس ہیں یا حقائق سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ انسانیت کا عالمی ضمیر مر چکا ہے اور نفرت و درندگی کا مجسمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مظلوم فلسطینیوں کو غزہ خالی کرنے کی کبھی دھمکی اور کبھی ترغیب دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو حالیہ صدیوں میں انسانیت کا سب سے بڑا قصاب بن کر دندنا رہا ہے اور امریکی صدر اسے ان مظالم پر داد و تحسین دے رہا ہے۔

ایسے حالات میں قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ پر بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اور ( اے مسلمانو!) آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے، حالانکہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے (پکار پکار کر) کہہ رہے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کی اس بستی سے نکال دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی کارساز بنا دے اور کسی کو اپنے پاس سے ہمارا مددگار بنا دے‘‘ (النساء: 75)۔

غور کا مقام ہے کہ یہ کارساز اور مددگار کس نے بننا تھا؟ یہ تو امتِ مسلمہ اور ملتِ اسلامیہ نے بننا تھا۔ کم و بیش ستاون مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں، نیز پونے دو، دو ارب مسلمان دنیا میں موجود ہیں، لیکن مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی کے لیے لبّیک کہنے والا اور آگے بڑھ کر مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ فلسطین کے اردگرد مسلم اور عرب ممالک ہیں، مگر وہ فلسطینیوں کی عملی مدد کے لیے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔ مسلم ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ یقیناً‌ موجود ہے، مگر اس کی اعانت کا سارا اثاثہ چند بے جان اور قوتِ ایمانی سے عاری قراردادیں ہیں اور بس۔

احتجاج کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلم ممالک اتفاقِ رائے سے ان عالمی تنظیموں کی رکنیت سے باہر نکل آئیں یا ان کا بائیکاٹ کریں۔ اور سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنی تنظیم قائم کریں، اسلامی کانفرنس کی تنظیم کو مؤثر بنائیں، حادثات و سانحات اور مظالم کے سدباب کے لیے اپنا اجتماعی فنڈ قائم کریں۔ مسلم ممالک اپنے اجتماعی تحقیقی اور ایجاداتی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نَم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

اسلامی تعلیمات کی رو سے عملی اعانت کی ذمہ داری بالترتیب ’’الاقرب فالاقرب‘‘ پر عائد ہوتی ہے، لیکن قریب والے ہوں یا دور والے ہوں، دینی و مِلی بے حمیّتی میں سب برابر ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ننھے سے پھول سے بچے کی تصویر دیکھی، اس پر عمارت کا ملبہ گرنے ہی والا تھا کہ ایک کتے نے اسے اپنے منہ میں پکڑا اور ملبے تلے دفن ہونے سے بچا لیا۔ کسی نے اس اندوہناک منظر کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر یہ جملہ لکھا: ’’اس دور کے مسلمانوں سے تو یہ کتا ہی بہتر ہے۔‘‘

بعض حضرات سوشل میڈیا پر گھنٹوں اور منٹوں کے حساب سے پوسٹیں لگا رہے ہیں، ارسال کر رہے ہیں، یقیناً‌ وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ دوسروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر وہ اپنے فریضے سے عہدہ برآ ہو رہے ہیں، لیکن مظلوموں کو تو عملی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک جواں عمر عرب کو سنا: وہ علماء کو منافق گردان رہا تھا۔ اتفاق سے اس نے حکمرانوں کو مخاطب نہیں کیا۔ احادیثِ مبارکہ کی رو سے اہلِ اقتدار اور حکمرانوں کی ذمہ داری عملی اقدامات کرنا ہوتی ہے اور علماء کی ذمہ داری صدائے احتجاج بلند کرنا اور حکمرانوں اور عوام کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مسلم حکومتوں اور حکمرانوں پر تو ہمارا بس نہیں چلتا، پس بہتر ہے کہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں اور اس کی چند صورتیں درجِ ذیل ہیں:

  1. مالی وسائل جمع کریں اور مظلومین و متاثرین تک بحفاظت ان کی ترسیل کا انتظام کریں۔
  2. خالص غذائی اجناس اور بچوں کے لیے دودھ اور دیگر سامانِ ضرورت کا اہتمام کریں۔
  3. بچوں اور خواتین سمیت ہر عمر کے لوگوں کے لیے ملبوسات کی ترسیل کا انتظام کریں۔
  4. کاررواں کی شکل میں بڑے کنٹینروں پر موبائل ہسپتال روانہ کریں، ان میں میڈیکل و پیرا میڈیکل سٹاف، آپریشن تھیٹر، ایکسرے و ٹیسٹنگ لیبارٹری اور تمام ضروری ادویات شامل ہوں۔
  5. ہمیں کامل امید ہے کہ اگر ڈاکٹروں کو رضاکارانہ بنیاد پر اس مہم میں شرکت کی دعوت دی جائے تو وہ اپنی خدمات فراہم کرنے کو اپنے لیے سعادت سمجھیں گے۔

مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کی جانب سے آج (جمعرات دس اپریل) کو ’’پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر‘‘ اسلام آباد میں ’’فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے قومی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، اس میں تمام دینی تنظیمات کے قائدین خطاب فرمائیں گے اور اتفاقِ رائے سے کوئی قابلِ عمل لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ امید ہے کہ اس اجتماع سے کوئی خیر کی صورت برآمد ہو گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

  1. ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے مصیبت میں بے یار و مددگار چھوڑتا ہے، جو (کسی مشکل میں) اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرے گا، (جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوگا) تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی سے کسی مصیبت کو دور کرے گا، تو (اس کے انعام کے طور پر) اللہ تعالیٰ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کو کسی مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا، اور جو کسی مسلمان (کے عیوب) کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس (کے عیوب) کی پردہ پوشی فرمائے گا‘‘ (صحیح مسلم: ۶۵۷۸)۔
  2. ’’ایک دوسرے سے محبت کرنے، ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب (جسم کے) ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۶۵۸۶)۔
  3. ایک مومن دوسرے مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے کہ جس کی اینٹیں ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (دونوں ہاتھوں کی) انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کر کے اس کی عملی مثال پیش کی‘‘ (بخاری: ۲۴۴۶)۔
  4. ایک وقت آئے گا کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے پوچھا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہؐ! وہن کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کا ڈر‘‘ (سنن ابی داؤد: ۴۲۹۷)۔
www.dunya.com.pk

قومی کانفرنس اسلام آباد کا اعلامیہ

سرورق: مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیر اہتمام ’’قومی کانفرنس‘‘ بعنوان ’’فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘۔ اعلامیہ۔ جمعرات ۱۰ اپریل ۲۰۲۵ء ۔ پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر، اسلام آباد۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر اسلام آباد میں مجلس اتحادِ امت پاکستان کے زیر اہتمام ’’فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے قومی کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں پاکستان بھر سے دینی جماعتوں اور دینی تنظیمات کے صفِ اول کے قائدین شریک ہوئے۔ اجلاس میں اتفاقِ رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ کی منظوری دی گئی:

★ امریکہ اور اہلِ مغرب کی آشیرباد اور مکمل مادی، مالی اور حربی امداد کے ساتھ اسرائیل نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر رواں صدی کے سب سے تباہ کن مظالم ڈھائے ہیں، ماضی قریب کی تاریخ میں پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں سمیت تقریبا 55 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، کم و بیش 2 لاکھ افراد شدید زخمی اور معذور ہو چکے ہیں اور 70 فیصد سے زائد علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، شہری خدمات کا پورا ڈھانچہ تباہ و برباد ہو چکا ہے، بیشتر اسپتال، تعلیمی ادارے، انتظامی اور رفاہی خدمات کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ محض ایک جنگ نہیں، بلکہ فلسطینیوں کی کھلی اور منظم نسل کشی (Genocide) ہے۔

ایسا لگتا ہے عالمی ضمیر مر چکا ہے، اپنے وطن کی آزادی و خود مختاری کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد اور قاتلوں، ظالموں اور جابروں کو حق پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل غیر مؤثر ہو چکے ہیں، امریکہ غیر مشروط جنگ بندی کی ہر قرارداد کو ویٹو کر رہا ہے۔ حقوقِ انسانی، حقوقِ نسواں، حقوقِ اطفال، عالمی عدالتِ انصاف اور دیگر عالمی ادارے مفلوج اور بے بس ہو چکے ہیں۔

ایسی صورت حال میں شرعاً‌ ’’الاقرب فالاقرب‘‘ کے اصول پر تمام مسلم حکومتوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی نصرت امتِ مسلمہ پر واجب ہو چکی ہے، قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور مسلّمہ فقہی اصول اس پر شاہد عدل ہیں۔

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (النساء 75)

مسلم حکمران اور پوری امت اس کے لیے عند اللہ جوابدہ ہو گی اور اللہ کریم کے ہاں اس حوالے سے کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہو گا۔

★ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے ذریعے 1967 میں بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کو ناجائز، غاصبانہ اور غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اسلام اور مسلّمہ عالمی قوانین کی رو سے اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا فلسطینیوں کا شرعی، قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف غزہ میں اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دے چکی ہے اور جو ممالک اس وقت اسرائیل کی تائید و حمایت اور پشت پناہی کر رہے ہیں، وہ سب عالمی معاہدات اور عالمی میثاق کو توڑنے کے مجرم ہیں۔ لہٰذا فلسطین کے معاملے میں کوئی معاہدہ کسی مسلمان ملک کے لئے اس جہاد میں شرکت سے مانع نہیں ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ اہلِ فلسطین کی مدد کے نام پر مسلم ممالک میں اصلاحِ احوال اور تبدیلی کے لیے حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد فساد فی الارض اور غیر شرعی، غیر آئینی اور غیر قانونی فعل ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی کارروائیوں کا نتیجہ ہمیشہ امت میں تفریق اور زوال کا باعث بنا ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 

★ یہ اجلاس صدر امریکہ کے اس بیان کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو اپنا آبائی وطن غزہ چھوڑنے اور وہاں سے ہجرت کرنے کا کہا ہے، نیز اشاروں کنایوں میں غزہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ہم ببانگِ دہل کہنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل سمیت پورا خطہ فلسطینیوں کا آبائی وطن ہے، اس پر ان کا قانونی اور فطری حق ہے، امریکہ چاہے تو اسرائیلیوں کو کہیں اور آباد کر سکتا ہے۔

www.fb.com/MuniburRehman55


فلسطین پاکستان کا اساسی مسئلہ ہے

مولانا فضل الرحمٰن

’’قومی کانفرنس: فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ سے خطاب جو مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیراہتمام ۱۰ اپریل ۲۰۲۵ء کو پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

الحمد للہ الحمد للہ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لا سیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ و من بھدیھم اھتدی، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یا أیہا الذین آمنوا إن تطیعوا الذین کفروا یردوکم علیٰ أعقابکم فتنقلبوا خاسرین بل اللہ مولاکم وہو خیر الناصرین صدق اللہ العظیم۔

حضرات گرامی قدر، اکابر علماء کرام، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو، آج کا یہ اجتماع نہایت مختصر نوٹس پر بلایا گیا اور ظاہر ہے کہ جو صورتحال فلسطین میں اور غزہ میں برپا ہوئی اس کا تقاضا تھا کہ بغیر کسی مہلت کے ہم فوری طور پر اکٹھے ہوں اور اہلِ فلسطین کے ساتھ اہلِ غزہ کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان کا مسلمان ہو یا عالم اسلام کا کوئی فرد آج وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

جیسے کہ حضرت شیخ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ارشاد فرمایا اور ان سے قبل حضرت گرامی مفتی منیب الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم نے اجلاس کا جو اعلامیہ پیش کیا جس میں صراحت کے ساتھ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں شامل ہونے کا فتویٰ جاری کیا، یہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے لیے ہے اور آج آپ کا یہ اجتماع صرف ایک روایتی قسم کا اجتماع نہیں ہے بلکہ ان حالات میں اس کی جو اہمیت ہے تاریخ کبھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکے گی، جو اعلان کرتا ہے کہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ عملی جہاد میں شریک ہونا اب امت پر فرض ہو چکا ہے لیکن تکلیف ما لا یطاق تو ہے نہیں جہاں جہاں کا مسلمان جس جس راستے سے وہاں شریک ہو سکتا ہو مسلمان پر فرض ہے کہ ان حالات میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ صہیونی جارحیت کا مقابلہ کریں۔

اسرائیل ایک ریاستی دہشت گرد ہے، اسرائیل آج کا قاتل نہیں ہے یہ یہود انبیاء کے قاتل ہیں، ان کی تاریخ قتل و غارت گری ہے، ان کے علاوہ ان کا کوئی مشغلہ نہیں اور اللہ رب العزت نے ان کے چہرے سے نقاب اٹھایا  کلما أوقدوا نارا للحرب أطفأہا اللہ   جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی اللہ نے بجھائی یعنی جب وہ جنگ کی آگ بھڑکانے کا سوچتے تھے سازش کرتے تھے تو اس سازش کو اللہ ناکام بنا دیتا تھا۔ اور میں تو بڑے صاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا، میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا، میں کیسے صلح کر لوں قتل کرنے والوں سے۔ آج بھی وہ قاتل ہیں اور اپنی قتل و غارتگری کی تاریخ کو تسلسل دے رہے ہیں۔

ایک صدی قبل کرہ ارض پر اسرائیل نامی کسی بھی ریاست کا وجود تک نہیں تھا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے صرف خیبر سے نہیں نکالا بلکہ اعلان فرمایا  اخرج الیہود من جزیرۃ العرب  کہ یہود کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دو۔ فلسطین ارضِ عرب ہے اور ارضِ عرب پر ان کو قبضہ کرنا، وہاں ریاست بنانا، وہاں آبادی کرنا، اس کا کوئی حق اسلام کے دائرے میں ان کے لئے موجود نہیں ہے۔ کیا کیا قصے دنیا میں پھیلائے جا رہے ہیں، فلسطینیوں نے تو خود زمینیں بیچی، فلسطینیوں کے مرضی سے بیچی ہوئی زمینوں پر یہ آباد ہو گئے، اب گلا کس سے؟ آپ ذرا ریکارڈ درست کیجئے! 1917ء میں جب بالفور اسرائیلی ریاست کی تجویز پیش کر رہا تھا اور قرارداد دے رہا تھا، اس وقت پورے فلسطین کی سرزمین کے صرف دو فیصد علاقے پر یہودی آباد تھا، صہیونی آباد تھا، 98 فیصد علاقے پر صرف مسلمان فلسطینی آباد تھا۔ اور جب 1948ء میں اسرائیل کی ریاست کا باقاعدہ اعلان کیا تو 1947ء کے اعداد و شمار دیکھئے فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کی آبادکاری صرف 6 فیصد علاقے پر ہے، 94 فیصد علاقہ صرف فلسطینیوں کا تھا۔ پھر کہتے ہیں اسرائیل کو مسلمانوں نے خود جگہ دی، کیوں جھوٹ بولتے ہو، کیوں تاریخ کو جھٹلاتے ہو؟

اور ہم پاکستان کے موقف کو بھی جاننا چاہتے ہیں جو پاکستان کی اساس کا حصہ ہے کہ 1940ء کی قراردادِ پاکستان، اسی میں کہا گیا کہ فلسطین کی سرزمین پر یہودی بستیوں کا قیام، یہ ناجائز قبضہ ہے۔ اور بانی پاکستان نے کہا تھا کہ ہم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اور پھر جب اسرائیل وجود میں آیا تو پاکستان نے کہا کہ یہ برطانیہ کا ناجائز بچہ ہے۔ یہ پاکستان کا موقف ہے ان کے بارے میں، بعد میں نہیں، قیامِ پاکستان کی اساس کا حصہ ہے۔ اور جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسرائیل کے پہلے صدر نے جو اپنا خارجہ پالیسی بیان دیا، اپنے خارجہ پالیسی بیان میں اس نے واضح طور پر آنے والے وقت میں اپنے اہداف کا تعین کیا اور کہا کہ کرہ ارض پر نمودار ہونے والی نوزائیدہ مسلم ریاست کا خاتمہ، یہ اسرائیل کا ہدف ہوگا۔ نوزائیدہ مسلم ریاست صرف اور صرف پاکستان کی ریاست تھی۔

آج پاکستان کو جس جہت سے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس کے پیچھے یہودی سازشیں کار فرما ہوتی ہیں اور پھر ہمارے ملک میں ایسے ایسے فلاسفر وجود پاتے ہیں، ایسے ایسے فلاسفر اٹھتے ہیں، صاحب! ہم نے تو ملک کو چلانا ہے، پچیس کروڑ آبادی کی معیشت کا مسئلہ ہے، جب تک ہم یہود کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں کریں گے پاکستان کی معیشت کیسے چلے گی، پاکستان کی معیشت کیسے چلے گی! یہ سنی سنائی بات نہیں کر رہا ہوں آپ سے! یہ کوئی ایسی بات نہیں کر رہا ہوں کہ سیاسی دنیا میں خبریں چلتی ہیں میرے کان تک بھی کوئی بات پہنچ گئی۔ یہ وہ باتیں میں آپ سے کہہ رہا ہوں جو یہ طبقہ براہ راست مجھ سے کہہ چکا ہے، براہ راست مجھ سے کہہ چکا ہے۔ اور جب یہ حالات پیدا ہوئے ٹی وی پر یہ لوگ آکر فلسفے جھاڑتے تھے، فلسفے بگھارتے تھے۔ پھر ہمیں سیمینار بھی کرنے پڑے، کراچی میں ملین مارچ بھی کرنا پڑا اور اللہ کے فضل سے ہم نے ان کا ایسا منہ بند کیا کہ ان شاء اللہ پھر دوبارہ یہ منہ نہیں کھل سکے گا۔

اور میں آج بھی حکمرانوں کو کہنا چاہتا ہوں، ہمارے ملک کی حکومت عجیب ہے، پھٹی ہوئی قمیص ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کر رہی ہے، صدر اپوزیشن میں ہے۔ اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے صدر کی مانیں، پتہ نہیں کس کی مان رہے ہیں۔

ان حالات میں قیامِ پاکستان کے مقصد کو بھی سمجھنا چاہیے، مسلم امہ کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پوری دنیا کے مسلمانوں کی جنگ لڑنے کی ذمہ دار ہے۔ اگر پاکستان آج فلسطین کی مسلمانوں کی جنگ نہیں لڑتا تو پھر وہ قیامِ پاکستان کے مقصد کی نفی کر رہے ہیں۔ پھر مسلم لیگ حکومت کرے لیکن میں اس مسلم لیگ کو کہنا چاہوں گا کہ آپ ہی تو ہیں جو قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کو جھٹلا رہے ہیں۔ واضح موقف ہونا چاہیے! ڈرنا کیا ہے؟

اور قرآن کریم ہمارا رہنماء ہے۔ جب اللہ رب العزت نے مکہ مکرمہ میں مشرکین کے داخلے پر پابندی لگا دی۔  یا أیہا الذین آمنوا إنما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا ۔ سوال پیدا ہوا یا نہیں؟ کہ یہ تو تجارتی مرکز ہے، یہاں تو دنیا کا مال آتا ہے، یہاں خرید و فروخت ہوتی ہے، یہاں کی معیشت متاثر ہو جائے گی۔ تو اللہ رب العزت نے کیا فرمایا؟  وإن خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ إن شاء  اگر تمہیں بھوک پیاس کا خطرہ ہو جائے، تجارتی نقصان ہو جائے گا، معاشی بربادی ہو جائے گی، تو ہمارے فلسفی لوگ پھر اپنا فلسفہ بگھارتے ہیں، یہ مولوی صاحبان صدیوں پرانی باتیں کرتے ہیں، ان کو کیا پتا ہے حالات کا، دنیا کے حالات۔

یہ آج کی باتیں نہیں ہیں، یہ اس وقت مکہ میں بھی ہوئی لیکن اللہ نے فرمایا  إن اللہ علیم حکیم ۔ تم کیا مجھے سمجھاؤ گے؟ میں خود جانتا ہوں۔ پھر فلسفے ۔۔۔ صاحب اس کی ذرا حکمتِ عملی دیکھئے، حکمتِ عملی کے لحاظ سے عقلی لحاظ سے ہمیں سوچنا چاہیے، گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہیے، یہ لوگ تو سادے لوگ ہیں سادی گفتگو کرتے ہیں، اللہ نے کہا  إنی علیم حکیم ۔ وہ حکمت والا بھی تو میں ہوں! تم سے زیادہ حکمت جانتا ہوں۔ میں ہی تو علیم ہوں۔ میں ہی تو حکیم ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ کے علم اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس وقت بھی یہی تھی کہ اس کے حکم کو مانو اور اس خطے پر غیر مسلموں کا داخلہ بند کر دو۔ اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جزیرۃ العرب سے نکالا تو ہمیں کبھی اس خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ پھر اس کا تو ہمیں معاشی نقصان ہوگا۔ میں اس معیشت پر لعنت بھیجتا ہوں جو یہودیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

خود پاکستان کو پاکستان بناؤ، خود پاکستان کو پاکستان بناؤ، پاکستان کے وسائل کو ملک کے لئے استعمال کرو، اپنے وسائل کو ملک کے لئے استعمال کرو۔ 77 سال ہم نے گزارے ہم نے اپنے وسائل کو استعمال نہیں کیا، ساری زندگی ہم نے بھیک مانگ کر گزاری ہے، قرضے مانگ کر گزارے ہیں۔ جب 77 سال تم نے پاکستان کو پاکستان نہیں سمجھا، پاکستان کے وسائل کو اپنے لئے استعمال نہیں کیا، تو پھر سمجھ لو کہ تمہارا دماغ تمہارا دل اندر سے آج بھی غلامانہ ہے اور تم کل بھی غلام تھے تم آج بھی غلامی کر رہے ہو۔

میں یہ بات کئی اجتماعات میں کر چکا ہوں اور آج پھر یاد دلانا چاہتا ہوں آپ کو کہ جنرل مشرف صاحب کے ساتھ ایک میٹنگ تھی، مجھے کہتا ہے آپ امریکہ کے خلاف جلوس جلسے نکال رہے ہیں، ہم امریکہ کی غلامی نہیں مانتے، مولانا صاحب مان لو ہم امریکہ کے غلام ہیں۔ یہ آرمی چیف کہہ رہا ہے مجھے، مان لو ہم غلام ہیں۔ آپ کیا یہ کہتے ہیں غلامی نہیں مانتے۔ میں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم غلام ہیں، میں بھی مانتا ہوں غلام ہیں، آپ بھی کہتے ہیں، غلامی کو مانتا ہوں۔ لیکن ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی کو قبول کر کے اس کے سامنے سرنگوں ہو جاتا ہے، اور ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی کے سامنے ڈٹ جاتا ہے، سر اٹھا کے چلتا ہے گردن کٹوا دیتا ہے لیکن اس کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تو میں نے کہا جنرل صاحب! یہاں پر بات تقسیم ہو جاتی ہے، ایک آپ ہیں اور ایک آپ کے اکابر کی تاریخ، ایک میں ہوں اور ایک میرے اکابر کی تاریخ، تجھے اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ مبارک، مجھے اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ مبارک۔

میرے محترم دوستو، ان سارے حالات میں ہمیں اپنے فرض کو سمجھنا ہے۔ مسلمان کا مسلمان کے اوپر حق ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:  المسلم أخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ  نا اس پر خود ظلم کرتا ہے نا کسی کے ظلم کی سپرد کرتا ہے۔ آج ہم امتِ مسلمہ کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کو آپ نے کس کے ظلم میں چھوڑ دیا ہے، کس کے حوالے کر دیا ہے؟ اور جب آپ ان کے حوالے کریں گے تو پھر مسلمان ہونے کا دعویٰ کیسے کرو گے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:  مثل المؤمنین فی توادہم وتعاطفہم وتراحمہم کمثل الجسد الواحد إذ اشتکی عینہ اشتکی کلہ وإذ اشتکی رأسہ اشتکی کلہ وإذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحم  ایمان والوں کی مثال ایک دوسرے پر مہربان ہونے، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی میں ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں بالکل ایسی ہے جیسے ایک جسم، اگر جسم کے سر میں درد تو پورا جسم بے قرار، اگر اس کے آنکھ میں درد پورا جسم بے قرار، اگر جسم کے کسی حصے میں درد مچل رہا ہے ساری رات جاگتے بخار کی حالت میں گزر جاتی ہے۔

ہم کس طرح قرار کی زندگی گزار رہے! ہیں ہم کس طرح اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں! ہم کس طرح سکون سے سو رہے ہیں! اس احساس کو اجاگر کرنا ہے، اس احساس کو ہم نے بیدار کرنا ہے۔ الحمد للہ میرا اطمینان ہے امتِ مسلمہ آج ایک صف ہے، امتِ مسلمہ کے جذبات ایک ہیں، اور امتِ مسلمہ کے جذبات کے سامنے اگر کوئی رکاوٹ ہے تو امتِ مسلمہ کے حکمران ہیں، چاہے پاکستان کے حکمران ہوں اور چاہے دوسری اسلامی دنیا کے حکمران، وہ اپنے مفادات کیلئے سوچ رہے ہیں۔ کسی کا 2030ء کا ویژن ہے، کسی کا 2050ء کا ویژن ہے اور سارے ویژن انہوں نے اسرائیل کے ساتھ وابستہ کیے ہیں۔ یہ خس و خاشاک ہو جائیں گے، ان کے کوئی حیثیت نہیں ہوگی، ایک خواب ہوگا جو خوابِ پریشان ہی رہے گا جس کی تعبیر نہیں ہو سکے گی کبھی۔

اپنے فرض کو پہچانو! پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، ملیشیا، انڈونیشیا، یہ امتِ مسلمہ کے وہ بڑے ممالک ہیں کہ اگر وہ مل کر ایک متفقہ فیصلہ کر لیں کوئی امتِ مسلمہ کا حکمران ان کی مخالفت نہیں کر سکے گا۔ ان کو قیادت کرنی چاہیے! ان کو میدان میں آنا چاہیے! ہم ان کے احساس کو بیدار کر رہے، یہ مجلس کسی کے لعن طعن ملامت کے لیے نہیں ہے، یہ احساس کو بیدار کرنے کی ہے، امت کے اندر اس وقت بیداری کی ضرورت ہے۔

میں جانتا ہوں ہر جگہ پر کچھ مذہب بیزار بھی ہوتے ہیں، لفظ جہاد سن کر مذاق بھی اڑاتے ہیں، مسجد اقصیٰ کا نام لے کر مذاق بھی اڑاتے ہیں (کہ) پھر اسلام کو استعمال کر رہے ہیں۔ تو اسلام، بیت المقدس، آزادئ فلسطین، یہ ہمارا کارڈ نہیں ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں کو بھی جگائیں، ان کو احساس دلائیں کہ امتِ مسلمہ آج آپ سے کیا تقاضہ کرتی ہے، امتِ مسلمہ کی آرزوئیں کیا ہیں، امتِ مسلمہ آپ سے کیا چاہتی ہے؟ اور اس طرح ہم بھی پھر آپ کو آرام سے سونے نہیں دیں گے، ہم بھی آرام سے سونے نہیں دیں گے۔ تو یہ جو دین بیزار قسم کے لوگ مذاق اڑاتے ہیں، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی بندگی کی بجائے امریکہ کی خدائی پہ یقین رکھتے ہیں، ہم تو چاہیں کہ تو بھی اللہ کے سامنے آجائے، انسان آزاد ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے جب کسی مسئلہ پر اپنے ایک گورنر کو جھنجھوڑا تو آپ کے الفاظ کیا تھے،  متی استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا  تم نے انسان کو کب اپنے غلام سمجھ رکھا ہے، ان کو تو اپنی ماؤں نے آزاد جنا ہے۔ تو آزادی یہ انسان کا پیدائشی حق ہے۔ اور یہ پیدائشی حق نا کشمیری سے چھینا جا سکتا ہے، نا فلسطینی سے چھینا جا سکتا ہے، نا دنیا کے کسی اور مسلمان سے چھینا جا سکتا ہے۔ تو اس محاذ پر ہم چل رہے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔

معاہدہ ہوا، جنگ بندی ہوئی، تین مراحل میں اکتالیس اکتالیس دن کا معاہدہ۔ ایک معاہدہ سے دوسرے معاہدہ، دوسرے سے تیسرے معاہدے میں چلنا تھا، قیدیوں کی رہائی کے معاملات وغیرہ وغیرہ۔ اس بیچ میں کیا جواز تھا کہ آپ نے حملہ کیا دوبارہ! تم نے وعدہ خلافی کی، اپنی تاریخ دہرائی ہے، تم نے یہود و صہیون کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

اور ان شاء اللہ العزیز آج جمعرات ہے، اتوار کو 13 اپریل کو ان شاء اللہ کراچی میں اسرائیل مردہ باد کے عنوان سے ملین مارچ ہوگا ان شاء اللہ العزیز۔ اور کل جمعہ ہے میں پوری قوم سے کہتا ہوں، جماعت سے کہتا ہوں، تمام دینی تنظیموں سے کہتا ہوں، ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں کل مظاہرے ہونے چاہئیں، ان شاء اللہ اسرائیلی مظالم کے خلاف اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے۔ تو یہ متفقہ فیصلہ ہے۔ اور پھر کراچی کے جلسے میں ہم اگلے اقدام کا اعلان کریں گے۔ نہ آپ کو آرام سے بیٹھنے دیں گے نا خود آرام سے بیٹھیں گے ان شاء اللہ۔ پورے عزم کے ساتھ یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے اور جو ہماری استطاعت میں ہے اللہ نے اسی حد تک ہمیں مکلف بنایا ہے، ان شاء اللہ اس میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

www.teamjuiswat.com


امریکہ کا عالمی کردار، اسرائیل کی سفاکیت، اہلِ غزہ کی استقامت: ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

حافظ نعیم الرحمٰن

(امیر جماعت اسلامی کی دو حالیہ پریس کانفرنسز کی گفتگو)


آپ نے دیکھا کہ لاہور میں اور پھر کراچی میں جس طرح عوام نکل کر آئے ہیں اور سڑکیں انسانی سروں سے بھر گئیں۔ اور لوگوں کا جوش و جذبہ ہے، اپنے غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے، ان سے محبت ہے، ان کے دکھوں میں لوگ شریک ہیں۔ اور جس طرح لوگ نفرت کا اظہار نہ صرف اسرائیل سے کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل کے سرپرست امریکہ سے بھی کر رہے ہیں۔ اور یہ نفرت اب امریکی ایما پر کام کرنے والے ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتی چلی جا رہی ہے جو پاکستان میں بھی اسی طرح کی سیاست کرتے ہیں اور امریکہ کا دم بھرتے ہیں، انہی کی آشیرباد حاصل کر کے اقتدار میں آتے ہیں اور انہی سے اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں۔ 

اور یہ ایک لہر ہے جو پوری دنیا میں اس وقت موجود ہے اس لیے کہ اس لہر کو پیدا کرنے میں خود امریکہ نے اور اسرائیل نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے نسل کشی کو فروغ دیا ہے، وہ مسلسل بمباری کر رہے ہیں، وہ ٹارگٹ کر کے، ان کے جو نشانے باز ہیں ماہر، وہ نشانے لے لے کر بچوں کو ، چھوٹے شیر خوار بچوں کو، چھوٹے چھوٹے بچوں کو، ان کے سروں پر گولیاں مار رہے ہیں۔ اور یہ رپورٹس اقوامِ متحدہ کے ڈاکٹرز بتا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنا سفاک یہ دشمن ہے اور یہ سمجھ لیں کہ ان کے مزاج میں اتنی سفاکی ہے کہ انہیں خون پسند ہے، انہیں بچوں کا خون بہانا پسند ہے، انہیں عورتیں مارنا پسند ہے، انہیں نہتے لوگوں کے اوپر بمباری کرنا اور فارسفورس بم پھینکنا پسند ہے، انسانوں کو جلانا پسند ہے۔ اس طرح کے سفاک جو لوگ ہیں ان سے محبت تو نہیں پیدا ہو سکتی۔ 

تو امریکہ نے اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر  دہشت گرد ریاست کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جس کی ہسٹری میں ریڈ انڈینز کا خون شامل ہے، جس کی تعمیر میں ہی ایک خرابی کی صورت مضمر ہے، اور وہ جگہ ہے جہاں پر یورپی اقوام افریقہ سے لوگوں کو لا کر انہیں غلام بنایا تھا اور اپنی جنگوں کے لیے استعمال کیا تھااور اس کی بنیاد پر امریکہ آگے بڑھا۔ پھر یہ وہی امریکہ ہے جس نے ہیروشیما، ناگاساکی پہ بم پھینکا اور تین دن میں لاکھوں لوگوں کو لمحوں میں، ایک بم پھینکا پہلے چھ اگست کو اور پھر دو دن کے گیپ سے دوسرا بم بھی پھینک دیا، کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ اور یہ وہی امریکہ ہے جس نے ویتنام پہ لشکرکشی کی، جس نے عراق پر لشکرکشی کی، جھوٹ بولا پوری دنیا کے سامنے، اور افغانستان پہ لشکرکشی کی۔ یہ وہ امریکہ ہے جو دنیا بھر میں حکومتوں کے تختے الٹتا ہے، کہیں کہتا ہے ہمیں جمہوریت چاہیے جب اسے اپنی مرضی کی حکومتیں بنانی ہوں، اور کہیں وہ بادشاہتوں کو طاقتور بناتا ہے اور جمہوری قوتوں کو سبوتاژ کرتا ہے۔ 

آپ نے دیکھا کہ مغربی ممالک کا یہ چہرہ کس طرح بے نقاب ہوتا ہے کہ الجزائر میں، یہ نوے کی دہائی کی بات ہے کہ وہاں کا جو اسلامک سالویشن فرنٹ تھا، اس نے اَسی فیصد سیٹیں اور ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ان کی حکومت نہیں بننے دی گئی، ان پر پابندی لگا دی گئی۔ حماس نے ۲۰۰۶ء میں تاریخی کامیابی حاصل کی، ایک ڈیموکریٹک فورس کے طور پر سامنے آئے، جمہوری انداز میں کامیابی حاصل کی۔ آج حماس کو یہ دہشت گرد قرار دیتے ہیں، وہ جمہوری طریقے سے جیتے تھے لیکن امریکہ نے اور اسرائیل نے ان کی حکومت نہیں بننے دی۔ اور امریکہ کہتا ہے کہ حماس دہشت گرد ہے جبکہ حماس تو اپنا وہ قانونی حق استعمال کر رہے ہیں کہ جو انہیں اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر دیتا ہے، کہ اگر کسی جگہ پر کوئی قابض فوج موجود ہو تو اسلحے کے ساتھ اس سے لڑا جا سکتا ہے۔ 

اور اب افسوسناک بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اسرائیل کا راستہ روکیں، انہیں پیشکش یہ کی جا رہی ہے، جو پہلے جنگ بندی کے اصول طے ہو چکے تھے، پہلی جنگ بندی کا مرحلہ طے ہو چکا تھا، دوسرے مرحلے پر گفتگو ہو رہی ہے، اور حماس کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر رہی سہی کوئی کسر رہ گئی ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے اور وہ سارے ملینز کی تعداد میں انسانوں کو قتل کر دیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ کوئی غیرت مند فورس تو یہ کام نہیں کر سکتی اور حماس تو کبھی بھی یہ کام نہیں کریں گے، ختم ہو جائیں گے لیکن وہ ہتھیار تو نہیں ڈالیں گے۔ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ پیشکش وہ mediators  کر رہے ہیں کہ جنہیں یہ بات convey  ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ 

اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو  ساری صورتحال ہے اس میں ہر باضمیر انسان کو فلسطینیوں کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے اور امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کرنی چاہیے۔ جب تک انسانوں کا سمندر سڑکوں پر نکل کر بار بار نہیں آئے گا اور پوری دنیا میں یہ کام بیک وقت نہیں ہو گا ، جب تک لوگ اپنے عمل سے اپنی یکجہتی کا اظہار نہیں کریں گے، اور ایک ایسا زبردست قسم کا نیٹ ورک نہیں بنے گا جو اِن طالع آزما قوتوں کا راستہ روک سکے، تب تک یہ اسی طرح سے قتلِ عام کرتے رہیں گے۔ آج ایک جگہ کریں گے کل دوسری جگہ کریں گے۔ 

نتن یاہو نے تو واضح کر دیا ہے، اس کے وزراء بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ معاملہ صرف یہاں غزہ کا نہیں ہے، معاملہ تو یہ ہے کہ وہ جو نقشہ لہراتے ہیں اس نقشے میں جورڈن بھی شامل ہے، اس میں شام کے علاقے بھی شامل ہیں، بلکہ خاکم بدہن، اس میں تو حجاز مقدس کے بھی علاقے شامل ہیں، مدینہ منورہ تک شامل ہے اس میں۔ تو وہ تو یہ عزائم رکھتے ہیں ۔

اور میں عرب ممالک سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ صرف اس سے بات نہیں چلے گی کہ آپ اصولی موقف اختیار کریں یا آپ میڈیئشن کرائیں۔ اب وہ وقت ہے کہ جس میں لوگوں کو سامنے آنا پڑے گا، مسلم حکمرانوں کو۔ اسرائیل کو، میں بار بار یہ بات کہتا ہوں کہ، یہ طاقت کس نے دی ہے؟یہ طاقت امریکہ نے دی ہے یا مسلم حکومتوں نے دی ہے جن کی خاموشی کے نتیجے میں وہ طاقتور بنا ہوا ہے۔  جنگ میں تو اسرائیل ہار چکا ہے حماس سے، وہ تو بچوں کو مار رہا ہے، وہ تو عورتوں کو مار رہا ہے۔

اس لیے ہم پاکستان کی حکومت سے بھی بار بار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لیڈنگ رول ادا کریں۔ پاکستان ایسی مملکت کا نام نہیں ہے کہ جو صرف ایک اصولی موقف اختیار کر لے، یا امداد کو روانہ کر دے اور اس پر خوش ہو جائے کہ جناب ہم نے تو امداد دے دی ہے۔ یہ تو بہت minimum چیز ہے جو ہم کر سکتے ہیں جو  ہمیں کرنی ہی چاہیے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ کرنا پڑے گا کہ اب فوجی سطح پر بھی strategy  بنانی پڑے گی اور پیش قدمی کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑیں گے، اس کے بغیر بات بنے گی نہیں، ورنہ سب کا نمبر آئے گا کوئی بچے گا نہیں۔ یہ ظالم ایسے عناصر ہیں یہ صیہونی اور یہودی،  جن کی تاریخ یہ ہے کہ یہ اپنے محسنوں کو قتل کرتے رہے ہیں، یہ تو انبیاء کو قتل کرتے رہے ہیں، یہ اپنے کسی آلۂ کار کو کیسے بخشیں گے، ان کی یہ ہسٹری نہیں ہے۔ 

اس لیے ان سے بچنا ہے تو ان کے خلاف آنا پڑے گا ، منظم ہونا پڑے گا، متحد ہونا پڑے گا، لیڈ کرنا پڑے گا۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو بنیاد بنا کر ہمیں عوام الناس میں ایک زبردست بیداری بھی پیدا کرنی ہے اور انہیں مثبت طریقے سے میدانِ عمل میں لے کر آنا ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے جماعتِ اسلامی اس میں کامیاب بھی ہو رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اللہ کا شکر ہے کہ عوام کی شرکت اس پورے عمل میں بڑھ رہی ہے۔ اور بھی دینی جماعتیں اور بہت سارے گروپ ایسے ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں، ہم سب کو appreciate کرتے ہیں۔ اور ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ چونکہ جماعتِ اسلامی کا دعویٰ یہی ہے کہ ہم تو مسلک اور  فرقہ اور قوم اور برادری اور جغرافیہ سے بڑھ کر انسانیت کے لیے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے، اور قبلۂ اول کے ایک ادنیٰ سے خادم اور محافظ ہونے کی حیثیت سے یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس میں میزبانی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور تمام لوگوں کو اس پورے عمل میں شرکت کی دعوت بھی دیتے ہیں۔   …… 

یہ جذبہ ہے لوگوں کا اور لوگ اب بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ اور میں اپیل بھی کرتا ہوں کہ بائیکاٹ کریں ان تمام مصنوعات کا جس سے ان صیہونیوں کو فائدہ ملتا ہے، جس سے اسرائیل کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جب ہم اس طرح کی بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہیں، لوگوں میں جذبہ پیدا ہوتا ہے، تو بعض عناصر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مغرب کا تو سب کچھ ہے امریکہ کا تو سب کچھ ہے۔ ہم بھی جانتے ہیں کہ ہمارے جو حالات ہیں وہ ہمارے حکمران طبقے نے اتنے خراب کیے ہیں کہ ہمیں اس قابل نہیں چھوڑا ہے کہ ہم اپنی ایجادات زیادہ کریں اور ٹیکنالوجی میں ہم آگے بڑھ سکیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عقل و شعور ہی ہمارا ختم ہو جائے، ہمیں معلوم ہے کہ کون سی چیز استعمال کرنی ہے اور کون سی استعمال نہیں کرنی۔ یہ کامن سینس سب کا موجود ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ پر وہ بالادست ہیں تو ہم ذرائع ابلاغ تو نہیں چھوڑیں گے۔ اور یہ تو جنگ کا اصول ہوتا ہے کہ دشمن کا ہتھیار دشمن کے خلاف بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ہم ان سب چیزوں کو استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ وہ تو اس پر بھی پابندیاں لگاتے ہیں، وہ تو فیس بک پر بھی ہماری reach کم کر دیتے ہیں، وہ تو ٹویٹر پر بھی ہماری reach کم کر دیتے ہیں۔ وہ تو اور بہت سارے کام اس طرح کے کرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کن پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا ہے۔ 

اور الحمد للہ اب تو پاکستان میں بہت ساری پروڈکٹس ایسی ہیں خود کفیل ہیں ہم جس میں۔ اور اس میں ہمارے تاجروں کو منافع خوری نہیں کرنی چاہیے اس موقع پر۔ میں اپنی تاجر برادری سے بھی کہنا چاہتا ہوں، آپ کی بغیر کسی مارکیٹنگ کے، آپ کی بغیر کسی کوشش کے، لوگ اربوں روپے بجٹ لگاتے ہیں بڑی بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے۔  جہاں ملٹی نیشنل موجود ہوں، ان کے مقابلے میں لوکل پروڈکٹ لانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ایک طرف ہمارے فلسطینی قربانی دے رہے ہیں اور دوسری طرف لوگ لوکل برانڈ کی طرف آ رہے ہیں، تو اس پر تو شکر ادا کرنا چاہیے اللہ کا، subsidize کرنا چاہیے ہماری لوکل پروڈکٹس کو۔ تو اس موقع پر کوئی منافع خوری نہ کرے بلکہ subsidize کرے۔  

اور ایک بہت بڑا avenue اس پہ کھل گیا ہے کہ جس میں ہم اپنے برانڈز کو مزید ڈویلپ کریں۔ اور اس میں ہمارے جو مسلم ممالک ہیں اس تک ہم پہنچائیں۔ ہم نے کراچی  میں دو مرتبہ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ کے نام سے یہ پورا کام کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی پروڈکٹس پروموٹ ہوئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب یہ اسلام آباد میں بھی ہو، لاہور میں بھی ہو، اور پھر اس کے بعد بنگلہ دیش میں ہو، ترکی میں ہو، ملائیشیا میں ہو۔ ہم  ایک ایسا انٹرنیشنل معاشی نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ہماری اپنی پروڈکٹس آگے بڑھیں تاکہ ہم مقابلہ کر سکیں ہر میدان میں، اسی طرح ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، حکومتوں کے کرنے کا یہ کام ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتیں یہ کام انجام نہیں دیتی ہیں۔  لہٰذا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس بائیکاٹ کی کمپین کو بھی بھرپور طریقے سے چلایا جائے، ہمارے بچے اس میں participate کریں، اس میں خواتین بہت بڑے پیمانے پر رول ادا کر رہی ہیں الحمد للہ۔ وہ یہ شعور پیدا کریں اور اسی طرح سے mass level پر اس کام کو ہونا چاہیے۔……

لوگ پاکستان کو چند پارٹیوں یا پارٹی لیڈروں کا پاکستان سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ پاکستان کسی لیڈر کسی جرنیل کسی بیوروکریٹ کا پاکستان نہیں ہے، پاکستان، پاکستان کے عوام کا ہے۔ اور پاکستان کے عوام بے عمل ہو سکتے ہیں، کمزور ہو سکتے ہیں، گناہگار ہو سکتے ہیں لیکن ان کی حمیت اور غیرت ابھی باقی ہے اور وہ نفرت کرتے ہیں ان سب لوگوں سے جو ہمارے بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں پاکستان کے عوام اپنے فلسطینی بچوں سے، عورتوں سے، اپنے جوانوں سے، اپنے بزرگوں سے۔ 

اس لیے بائیس اپریل کو کوئی کنفیوژن نہیں ہے، واضح میں اعلان کر رہا ہوں، اعلان ہو چکا ہے، اب ایک ایک تاجر کے پاس جائیں، ایک ایک دکاندار کے پاس جائیں، اور مجھے یقین ہے کہ بات پتہ چلتے ہی لوگ۔ اس میں کوئی سیاست بازی بھی نہ کرے۔  کوئی تنظیمیں آپس میں سیاست بازی نہ کریں اس میں۔ بس بائیس تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے ان شاء اللہ سب عمل کریں گے۔ پولیٹیکل پارٹیز اسی طرح سے جو جینوئن ایشوز ہوتے ہیں ان کو لے کر آگے چلتی ہیں، اور یہ تو سب سے بڑا ایشو ہے اس وقت کا۔ پوری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ صرف ہمارے ذاتی مفادات کا بھی نہیں، اس میں کسی کا فائدہ نہیں، نقصان ہی تھوڑا بہت ہونا ہے۔ لیکن اس نقصان میں بھی اللہ برکت ڈال دے گا ان شاء اللہ۔ اور جو لوگ بھی اس عمل میں شریک ہوں گے، اللہ نے چاہا تو ان کا اللہ تعالیٰ روزگار بھی اور اچھا کرے گا، ان کا کاروبار بھی اچھا ہو گا ان شاء اللہ۔  اس لیے بائیس تاریخ کو ہمیں ایسی یکجہتی کا اظہار کرنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہ ہوا ہو۔ 

 اسی طرح سے یہ بات صرف یہاں تک نہیں ہے۔ اس وقت ہم پوری دنیا کی موومنٹس کے ساتھ رابطے میں ہیں، اسلامی موومنٹس کے ساتھ بھی اور ہیومن رائٹس موومنٹس کے ساتھ بھی۔ ہم نے خطوط بھی لکھے ہیں، بات چیت بھی ہو رہی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ ایک گلوبل احتجاج اس دن بائیس تاریخ کو ہو جائے گا۔ اور اس میں خاص طور پر ہمارے جو ایشیائی ممالک ہیں ، یہ ہمارا بنگلہ دیش ہے، ملائیشیا ہے، انڈونیشیا ہے، اسی طرح ترکی ہے، ان سب ممالک کو بھی ہم آن بورڈ لے رہے ہیں۔ اور یہ ایک زبردست قسم کی چیز ہو گی جو پریشر ڈویلپ کرے گی انٹرنیشنل سطح پر۔ 

ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ، اس کا کام ہے کہ جنگ بندی کروائے، اس لیے کہ جو کچھ ہو گیا ہے اسی کے ایما پر ہوا ہے، اور وہی ویٹو کر رہا ہے ساری قراردادوں کو۔ تو یہ امریکہ کا کام ہے، ٹرمپ اتنے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، تو کروائیں نا جنگ بندی۔ تو اس لیے اس دباؤ کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اور ہم حکومت پاکستان سے اور تمام مسلم ممالک کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ امریکہ سے ڈرنا بند کر دیں اور اس سے خوف کھانا بند کر دیں۔ اور پاکستان کی تو میں تمام سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں، چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ہو۔ یہ کیا لائن لگا کے لوگ کھڑے ہوئے ہیں امریکہ کے لیے، کہ وہ اگر نظرِ کرم فرما دے گا تو اس کے نتیجے میں جو ہے ان کا بیڑا پار ہو جائے گا ان کی نَیا پار ہو جائے گی۔ امریکہ خدا نہیں ہے اور امریکہ کی تاریخ یہ ہے کہ ہر جگہ شکست کھاتا ہے وہ۔ جو مزاحمت کرنے والے ہوتے ہیں وہ اس کی طاقت کو اس کے نشے کو چور چور کر دیتے ہیں، لیکن جو ڈرنے والے ہوتے ہیں وہ مزید ذلیل و خوار ہوتے ہیں، یہ ہسٹری ہے۔ پڑھنا ہے،  مطالعہ کر لیجیے ابھی پچھلے جتنے بھی امریکہ نے حملے کیے ہیں اور جہاں جہاں اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔  اس لیے امریکہ سے مت ڈریں، خدا سے ڈریں۔ 

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہر وقت تصادم کا راستہ اختیار کریں، سر ٹکرائیں، لیکن ہم اپنے ایمان اور غیرت کا سودا بھی تو نہیں کر سکتے۔  ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ہم ڈٹ کر بات کریں، اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں حکمران، پارٹیاں اس میں لیڈنگ رول ادا کریں۔ ہمیں تو کوئی شوق نہیں ہے، یہ جو بڑی بڑی پارٹیاں ہیں جنہیں کروڑوں ووٹ ملے ہیں، وہ کیوں نہیں امریکہ کی مذمت کرتے؟ وہ کیوں نہیں امریکہ سے کہتے کہ تم یہ خون مت بہاؤ، اسرائیل کا ساتھ مت دو، اس کو بم مت دو، اس کو گولیاں مت دو۔ اس کو اس اس طرح کی ٹیکنالوجی دے رہے ہو کہ جس کے نتیجے میں اس نے برباد کر کے رکھ دیا ہے پورے کے پورے غزہ کو۔ 

اسی طرح سے ابھی تک وہ سوال ہمارا موجود ہے کہ جو لوگ گئے تھے اسرائیل، پاکستان کے پاسپورٹ ہولڈر، ان کے خلاف حکومت نے کیا کاروائی کی؟ حکومت نے اس میں وضاحت تو ضرور کی ہے کہ ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ چلے گئے اور آ گئے اور آپ کوئی کاروائی بھی نہیں کر رہے۔ اس سے ہم کیا مطلب سمجھیں؟ اس لیے ایک مرتبہ پھر میں مطالبہ کر رہا ہوں کہ حکومت اس میں ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرے اور اپنی پوزیشن کو واضح کرے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے کیا کام کیا ہے۔ اس لیے کہ اس وقت اس پوزیشن کا ہم سوال نہیں کر رہے کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ اسرائیل کے خلاف ہیں۔ یہ تو پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی ہے، یہ تو ہم بار بار ہم دہرا رہے ہیں۔ قائد اعظم سے لے کر اب تک، بلکہ پاکستان بننے سے پہلے جو پاکستان بنانے والے تھے، ان کی واضح پالیسی ہے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال، ۱۹۳۱ء میں انہوں نے دورہ کیا فلسطین کا۔ ۱۹۲۹ء میں انہوں نے کانفرنس کی۔ ۱۹۳۷ء کی کانفرنس سے پہلے انہوں نے خطوط لکھے ، طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ کلکتہ میں شریک نہیں ہو سکے۔ 

اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حماس کی وجہ سے وہاں کے حالات خراب ہو رہے ہیں، تو چھیانوے سال پہلے علامہ اقبال نے جو تقریر کی تھی اس کانفرنس میں ، اس میں کہا تھا کہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔ چھیانوے سال پہلے بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔  یہ علامہ اقبال نے اس میں کوئی شاعری نہیں کی تھی۔  ایسا ہو رہا تھا۔ ۱۹۴۸ء میں لاکھوں لوگوں کو بے دخل کیا تھا اور ہزاروں انسانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت تو کوئی حماس نہیں تھی، حماس تو ۱۹۸۷ء میں بنی ہے۔ اس سے پہلے کیا تھا؟ یہ جو مسلسل ہماری زمینوں کے اوپر قبضے ہوئے ہیں، حماس کا کنٹرول تو غزہ میں ہے، یہ ویسٹ بینک میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو گھروں سے بے گھر کر دیا، ابھی پچھلے مہینوں میں، اسرائیل نے۔ تو ویسٹ بینک میں تو وہ ہے، فلسطینی اتھارٹی نام نہاد۔ تو وہ کیوں ہو رہا ہے پھر؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ حماس کا نام لے کر درحقیقت اسرائیل کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ۔  

پاکستان میں بھی ایسی لابیز میں سے کچھ نہ کچھ لوگ آپ کو مل جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو ٹھیک سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے بچوں کو یہ باتیں بتانے کی ضرورت ہے ، پوری ہسٹری بتانے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے اسرائیل کو قائم کیا گیا ہے۔ ۱۸۹۷ء میں بنی ہے یہ zionist movement (صیہونی تحریک) ، آج سے ایک سو اٹھائیس سال پہلے، اس وقت تک حماس نہیں تھی۔ اس کے بعد ۱۹۱۷ء میں اعلانِ بالفور میں ان کو یہ کہا گیا کہ آ کر یہاں پر بیٹھ جاؤ۔ اور یورپ جو یہودیوں سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان سے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ سب کو یہاں لا لا کر بسا دو۔  تو یہ تو اتنی پرانی باتیں ہیں۔  پھر جا کر ۱۹۴۸ء میں اس کو اقوامِ متحدہ نے ایک ملک کی صورت میں مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

تو پاکستان نے پاکستان بننے سے پہلے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہر قرارداد میں یہ بات آئی کہ فلسطینیوں کو حق حاصل ہے کہ ان کی آزاد ریاست بننی چاہیے۔ اور قائد اعظم نے تو اسرائیل کو استعمار کی ناجائز اولاد قرار دیا۔ اور قائد اعظم نے کہا ہم کبھی بھی   تسلیم نہیں کریں گے۔ لیاقت علی خان نے کہا کہ ہم اپنی روح کو نہیں بیچ سکتے تمہاری مراعات کے چکر میں، ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ علامہ اقبال نے ۱۹۲۹ء اور ۱۹۳۱ء اور ۱۹۳۷ء میں سب کچھ کہہ دیا۔ پھر اس کے بعد پاکستان کی سٹیٹ پالیسی بالکل یہی ہے آج تک کی تاریخ میں۔ 

تو جو بھی انحراف کرنے کی کوشش کرے گا، عبرت کا نشان بن جائے گا، پاکستان کے عوام کے غیظ و غضب سے نہیں بچ سکے گا۔ اس لیے حکومت میں شامل یا اپوزیشن میں شامل ایسے عناصر جو اسرائیل کے لیے soft corner رکھتے ہیں اور امریکہ کے لیے تو بہت زیادہ رکھتے ہیں، ان سے میں ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ کم از کم ہسٹری کا مطالعہ کریں، جو جانتے بوجھتے کر رہا ہے تو وہ تو کر رہا ہے، اس کا تو  الگ حساب ہے، لیکن جو اگر نادانی میں اس طرح کی باتیں کر رہا ہے تو اسے مطالعہ کرنا چاہیے۔  تو یہ آج چونکہ ghaza specific (بطور خاص غزہ کے متعلق) ہماری یہ سب بات ہے اس لیے میں نے تفصیل سے آج اس پر گفتگو کی ہے۔ 

ان شاء اللہ اٹھارہ تاریخ کو ملتان میں اور پھر بیس تاریخ کو اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہو گا۔ اور بائیس تاریخ کو پورے ملک میں ہڑتال ہو گی، اور اس ہڑتال کا momentum بنانے کے لیے پورے پاکستان میں یہ درخواست کر رہا ہوں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں سے بھی اور عوام سےبھی اپیل کر رہا ہوں کہ وہ ابھی سے اس کی تیاریاں شروع کر دیں تاکہ ایسا یکجہتی کا اظہار ہو کہ پھر دنیا کو پتہ چل جائے کہ یہ زندہ قوم ہے۔ بہت سے مسائل ہیں ہمارے، بہت پریشانیاں ہیں ہماری، ہم جانتے ہیں مہنگائی ہے بے روزگاری ہے، ہم جانتے ہیں یہاں بہت ساری قانون کی عملداری نہیں ہے، حکومت کے بہت سے مسائل ہیں، لیکن ہم ایک بات ضرور جانتےہیں کہ ہم فلسطینیوں کے خون کا سودا نہیں ہونے دیں گے اور ہر وہ کام کریں گے جو ہم کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستانی قوم اس کے لیے تیار ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ پاکستان کے حالات بھی درست کرے گا، یہ میرا ایمان ہے کہ جب آپ غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کریں گے، مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تو ہمارے مسائل بھی حل ہوں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ 

سوال کا جواب:اگر ہم مارچ کرنا چھوڑ دیں اور احتجاج کرنا چھوڑ دیں اور ہڑتال کرنا چھوڑ دیں تو اس سے تو پھر ان قوتوں کو اور فائدہ ملتا ہے کہ جو اسرائیل نواز اور امریکہ نواز قوتیں ہیں، پھر کون بات کرے گا؟ اور یہ تو ہم اپنے ایمان اور غیرت کا مظاہرہ کر کے ان قوتوں کو دھکیلتے ہیں پیچھے کی طرف، جو امریکہ نواز اور اسرائیل نواز ہیں۔ 

سوال کا جواب: جی الحمد للہ آپ کو معلوم ہے جماعتِ اسلامی نے ان کے لیے فنڈنگ بھی کی ہے، اور جو ذرائع ہو سکتے ہیں امداد پہنچانے کے ہم نے پہنچائی ہے۔ میں آپ کو اس وقت سچوئشن بتا دیتا ہوں، اس وقت انہوں نے ناکہ بندی کی ہوئی ہے، رفح کراسنگ کے اوپر بالکل کنٹرول کیا ہوا ہے اور وہ مزید امداد نہیں آنے دے رہے۔ لیکن جن دنوں میں جنگ بندی تھی تو ان دنوں میں جو بھی امداد اندر جا سکی تھی اور وہاں کے جو لوکل تاجر تھے، مصر کے بھی اور خود فلسطین کے بھی، تو انہوں نے کچھ نہ کچھ اسٹور وہاں پر چیزوں کو کیا تھا، تو جس سے یہ گزارا ابھی اس وقت ان بیچاروں کا ہو رہا ہے ورنہ تو برے حالات ہیں۔ 

سچی بات ہے کہ انسان کا دل دہل جاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے بارے میں سوچیں کہ اگر ان کو ان کیفیات سے گزرنا پڑے، لیکن وہ عظیم قوم ہے جو ان سب حالات کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کر رہی ہے اور استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں، مزاحمت کا راستہ نہیں چھوڑ رہے۔ اور ایک بے غیرت وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے لڑنے کی اور کیا ضرورت ہے ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی، تو یہ تو اپنی اپنی غیرت کی اور ایمان کی بات ہے۔ تو میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ ہم اس پوری طرح سے جو ممکن ہو سکتا ہے کر رہے ہیں۔ اور خود اب تو حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ جتنی حکومت کی امداد گئی ہے اس میں میجر پورشن جماعتِ اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کا تھا۔ اور ابھی بھی ہمارے پاس چیزیں بالکل تیار ہیں، جونہی کوئی ذرا سا سنگل ملے گا  ، ان شاء اللہ کریں گے۔ مصر میں بھی ہمارا ایک پورا آفس کام کر رہا ہے، جو لوگ وہاں ہیں فیملیز، ان کو بھی ہم سپورٹ کر رہے ہیں۔  جو ہم سے ہو سکے گا، ہم کیا کر رہے ہیں، یہ تو حقیر سے کوشش ہے، وہ ہم کریں گے، اور میں سب لوگوں سے اپیل بھی کرتا ہوں کہ اس میں کنٹریبیوٹ کریں۔ 

سوال کا جواب: دیکھیں بات سنیں، تو اس کا مطلب ہے بائیکاٹ کی اپیل نہ کریں۔  اگر دو لوگوں نے توڑ پھوڑ کر دی تو آپ ایک کروڑ لوگوں کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ توڑ پھوڑ نہیں ہونی چاہیے، سیدھی بات ہے، لیکن بائیکاٹ تو ہونا چاہیے نا۔ تو اس سے کنفیوژ نہیں کرنا چاہیے۔ توڑ پھوڑ کرنے والوں کی مذمت کر کے آپ بائیکاٹ کا راستہ نہ روکیں۔ یہ ہماری اصولی بات ہے۔ انسان مر رہے ہیں، بچے قتل ہو رہے ہیں، اس کے مقابلے میں دو پتھر گر جاتے ہیں تو لوگ اس کو بنیاد بنا کر اسرائیل کی حمایت کرنا شروع کر دیں، یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت تو اس طرح کی جتنی بھی گفتگو کنفیوژن پھیلانے کی ہے وہ امریکہ اور اسرائیل کو فائدہ پہنچانے والی ہے، اس سے ہم سب کو اجتناب کرنا چاہیے۔  یہ صحافی اور غیر صحافی  اور سیاسی اور غیر سیاسی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔  

دوسری بات یہ ہے کہ جہاد کا جو فتویٰ ہے وہ بہت واضح ہے۔ میں نے خود یہ اپیل کی تھی مفتی تقی عثمانی صاحب کا نام لے کر اور مفتی منیب الرحمٰن صاحب کا نام لے کر کہ آپ لوگوں کو اس حوالے سے فتویٰ دینا چاہیے چونکہ  علماء کرام جو عرب کے ہیں جید علماء کرام انہوں نے یہ فتویٰ دیا تھا۔ یہ فتویٰ عام انسانوں کے لیے نہیں تھا، یہ فتویٰ مسلم حکمرانوں کے لیے ہے، حکومتوں کے لیے ہے۔ عام انسان تو ہر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے، ایسے حالات میں کوئی بھی جذباتی آدمی سوچتا ہے کہ میں بھی جا کر لڑ لوں۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس طرح تو لڑائی نہیں ہو سکتی جس طرح کی سچوئشن ہے۔ یہ تو حکومتوں کے کرنے کا کام ہے۔ ہاں ہمارا جہاد یہ ہے کہ ہم حکومتوں پر دباؤ ڈالیں۔ ہمارا جہاد یہ ہے کہ ہم احتجاج کریں۔ وہ جو آپ پوچھتے ہیں نا کہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارا جہاد یہ ہے کہ ہم سڑک پر آئیں، ہم بائیکاٹ کریں، ہم بات کریں، ہم تقریر کریں، ہم کھڑے ہو جائیں، ہم سوال کریں ان سے، ان کا گھیراؤ کریں، ان سے پوچھیں کہ تم کیا کر رہے ہو۔ یہ ہمارا جہاد ہے، وہ ہم کریں گے ان شاء اللہ۔ 

سوال کا جواب: اچھا دیکھیں، میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ دباؤ امریکہ کی طرف سے مختلف ممالک پہ آتا ہے چونکہ امریکہ ہی والد محترم ہے نا اس ناجائز بچے کا، اسرائیل کا، تو  یہ دباؤ آتا ہے کہ اس کو تسلیم کیا جائے۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ اگر یہ سات اکتوبر کا واقعہ نہ ہوتا، جو حماس نے کام کیا وہ تو بہت عظیم کام ہے، تو یہ تو بہت سارے لوگ لائن میں لگ گئے تھے، کچھ نے شروع کر دیا تھا، دو تین لوگوں نے تو قبول کر ہی لیا تھا۔ اور بھی اس پر پیشرفت ہو رہی تھی، اس کا راستہ رک گیا۔ 

ابھی بھی پاکستان پر دباؤ آ سکتا ہے اور وہ کسی عرب ملک کے ذریعے سے آ سکتا ہے، پاکستان پہ اور ترکی پہ خاص طور پر اور سعودی عرب پہ۔یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کسی نہ کسی درجے میں کہ اسرائیل کی طرف پیشرفت کی جائے۔ لیکن یہ جو عوامی قسم کا احتجاج ہے اس کے نتیجے میں ہمت نہیں کر پا رہا کوئی۔ اور بس یہی ہمارا چیلنج ہے کہ ہم اپنے اس دباؤ کو برقرار بھی رکھیں اور کسی کی جرأت ہی نہ ہو کہ اس پر سوچ بھی سکے، عمل تو چھوڑیے۔ تو یہ کوششیں تو ہوتی ہیں، سفارتی محاذ پر بھی ہوتی ہیں، معیشت کے ذریعے سے بھی کی جاتی ہیں، لیکن میرا نہیں خیال ہےکہ سعودی عرب بھی یہ کام کر سکے گا، اور ان شاء اللہ پاکستان بھی کبھی نہیں کر سکے گا بلکہ ہمیں تو proactive role ادا کرنا چاہیے، aggressive role ادا کرنا چاہیے۔ اب تو جن ممالک نے تسلیم کیا ہوا ہے ان سے بات ہونی چاہیے کہ آپ ان سے تعلقات منقطع کریں۔ 

سوال کا جواب: بس ہم کوشش کریں گے۔ ہم کس چیز کے مکلف ہیں؟ ہم اپنی کوشش کے مکلف ہیں۔ ہم حالات خراب نہیں کرنا چاہتے، ہم پاکستان سے ایسا کوئی میسج نہیں دینا چاہتے جس میں اسرائیل کی نفرت  اور امریکہ کی نفرت کے حوالے سے کوئی اختلاف نظر آئے، اور فلسطینیوں سے محبت میں کوئی اختلاف نظر آئے۔ لیکن اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لیے راستہ متعین کرے، اور امن کی ضمانت ہم لیتے ہیں، اور وہ صحیح راستہ متعین کریں اور ہم ان شاء اللہ احتجاج کریں گے۔ پھر ہمیں بائیس کی ہڑتال بھی تو کرنی ہے، اس کے لیے بھی تو کام کرنا ہے۔ 

سوال کا جواب: دیکھیں بات یہ ہے کہ ہر چیز سے ہم بچ سکتے ہیں۔ یہ ہمارا انحصار ان پر ہوا کیسے؟ اس لیے کہ ہم نے خود اپنے آپ کو ڈیویلپ نہیں کیا نا۔ بعض اوقات حالات اس طرح کے ہوتے ہیں کہ جب آسرے ختم ہو جاتے ہیں تو خود انحصاری پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے کہتے ہیں blessing in disguise تو اس طرح کے جو حالات ہوتے ہیں وہ قوموں کو اٹھا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ تو اس لیے اس پریشانی میں مبتلا نہ ہوں کہ ہم کیسے جئیں گے۔ رازق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور پاکستان جب بنا تھا تو پاکستان کے پاس کیا تھا؟ یہ سارے لوگوں نے ہمیں بتایا، جمیل الدین عالی نے بتایا، قدرت اللہ شہاب نے بتایا، مختار مسعود نے بتایا، ببول کے کانٹوں سے فائلیں جوڑ کر رکھتے تھے۔ پاکستان یہ تھا اور پھر پاکستان کہاں چلا گیا تھا۔ اور اس وقت لیاقت علی خان کو یہ پیشکش کی گئی کہ آپ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ اور کس نے کی؟ امریکہ جب وہ وزٹ کرنے گئے تھے، وہاں امریکی کانگریس کے اسپیکر نے کہا ہم آپ کو یہ یہ مراعات دیں گے۔ انہوں نے کہا our sole is not for sale  (ہماری روح قابلِ فروخت نہیں ہے)۔ ٹھیک ہے؟  تو غیرتمند لوگ جو ہوتے ہیں نا، اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے نکالتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ آپ حق کے لیے کھڑے ہوں گے اور آپ کے راستے بند ہو جائیں گے۔ 

سوال کا جواب:  حکومت کا موڈ بنانا پڑتا ہے، حکومت کو جب دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو حکومتیں مجبور ہوتی ہیں، ورنہ تو وہ مزے کر رہے ہوتے ہیں۔ 

  سوال کا جواب: اب دیکھیں بہت لمبی بات ہے یہ، میں نے تو اپنی گفتگو میں یہ بات کہی ہے ، بحیثیت مجموعی مسلمانوں میں یہ پرابلم ہے کہ جو حکمران طبقہ ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہماری حکومتیں امریکہ کی مرہونِ منت ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات ہوتے ہیں نا، جب یہ سوالات آپ لوگ کر رہے ہوتے ہیں تو یہ سوالات reflection ہوتے ہیں ان چیزوں کا، کہ جو ہمارا دماغ بنا دیا گیا ہے کہ امریکہ کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے، امریکہ کے بغیر ہم جی نہیں سکتے۔ تو حکمران سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر ہم حکومت نہیں کر سکتے، تو جس کے نتیجے میں وہ ان کی باتیں قبول کرتے چلے جاتے ہیں، اور پھر اپنے اپنے معاشروں کو ایک طرح سے ان کا غلام بنا دیتے ہیں۔ حکومت تو حکومت، پاکستان میں تو اپوزیشن بھی لائن لگا کے کھڑی ہوئی ہے۔ بہت شکریہ!

www.youtu.be/DXIFgFXuVDY
www.youtu.be/GL4YajIydTo

غزہ کی صورتحال اور پاکستان کے مسائل

ہم نے پرائم منسٹر سے ملاقات کی ہے، سب سے پہلے تو ہم نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر حکومتِ پاکستان کو متوجہ بھی کیا ہے کہ جو رول پاکستان کا بنتا ہے اس کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چل پڑا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی حالات خراب ہیں لہٰذا ہم وہ رول ادا نہ کریں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں بھی اس لیے خراب ہیں کہ ہم لیڈنگ رول ادا نہیں کرتے۔

اس وقت جو مسئلہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، اور برننگ ایشو ہے، انسانیت کے اوپر حملے ہو رہے ہیں، فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، اور نہ صرف اسرائیل پوری طرح سے عیاں ہو کر سامنے آ گیا ہے بلکہ اس کا سرپرست امریکہ اور پورا ویسٹ، وہ اپنی پوری، نقابیں ان کے چہروں سے ہٹ گئی ہیں۔ اور واضح ہو گیا ہے کہ ان کو نہ انسانیت سے کوئی ہمدردی ہے، نہ وہ کوئی اخلاقی اقدار رکھتے ہیں، بلکہ اس بڑے قتلِ عام پر بھی ٹرمپ اپنی گود میں بٹھا کر نیتن یاہو کو پوری دنیا کو یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

لہٰذا ایسے موقعے پر پاکستان کو اور اس کی حکومت کو صرف موقف کی سطح تک بات نہیں کرنی ہو گی بلکہ وہ رول ادا کرنا ہو گا جو واقعی پاکستان کے شایانِ شان ہے۔ ہم نے تجویز کیا کہ پارلیمنٹیرین اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک گروپ بنایا جائے کہ جو فوری طور پر وہ ممالک جو میٹر کرتے ہیں اس پوری سچویشن میں، ترکی ہے، مصر ہے، سعودی عریبیہ ہے، اور قطر ہے، جورڈن ہے، اور انڈونیشیا ہے، ملائیشیا ہے، ان کا دورہ کریں اور ایک متفقہ لائحہ عمل کے طور پر آگے بڑھیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ فریڈم فلوٹیلا کی طرز پر ایک کانوائے بنایا جائے اور اس میں ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا کی نیویز ساتھ طور پر کردار ادا کریں اور اس محاصرے کو توڑیں کہ جس کو کر کے لاکھوں انسانوں کو اس وقت وہ اذیت میں مبتلا کر کے رکھے ہوئے ہیں یہ صیہونی۔ ہم نے حکومتِ پاکستان کو متوجہ کیا ہے کہ اس میں آگے بڑھ کر اپنا رول ادا کریں، لیکن معاملہ صرف اتنا سا نہیں رہ گیا کہ ہم چند اقدامات کر کے اپنا نام لکھوا دیں کہ ہم بھی کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا پڑے گا ورنہ تاریخ ہمیں یاد رکھے گی کہ ہم مجرموں کی زد میں کھڑے ہو جائیں گے کہیں جا کر۔ اور ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دے سکیں گے؟

ہم اس موقعے پر حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافی جنہوں نے وزٹ کیا ہے اور ان کے نام آئے ہیں ان کے خلاف انکوائری بھی کی جائے اور ان کو فکس بھی کیا جائے، کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سے کوئی جائے اور جا کر آ جائے جبکہ پاکستان کا پاسپورٹ ہی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اسرائیل کوئی جا سکتا ہے۔

ہم اس موقعے پر اس کو بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی ہے کہ ہم کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم توڑ دیا جائے گا، ان شاء اللہ ، ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا، اور کوئی تصور بھی نہ کرے کہ اس کی طرف کوئی پیش قدمی کرے گا۔ پوری دنیا بھی اگر تسلیم کر لے گی تو پاکستان نہیں کرے گا، ان شاء اللہ۔ اس لیے کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے، پاکستان کسی قیمت پر بنا ہے، کسی نظریے پر بنا ہے۔

پھر اس کے بعد ہم نے جو بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے اس پر بات کی، اور یہ ٹھیک ہے، ہم نے اس کو ویلکم کیا ہے، خیر مقدم کیا ہے جو سات روپے اکتالیس پیسے کم ہی ہےلیکن ہم نے پرائم منسٹر سے بہت واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ بنیادی ٹیرف میں کمی ہونی چاہیے، جس کو انہوں نے (قبول) کیا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ یہ کمی بالکل ابتدائی ہے اور مزید بہت گنجائش موجود ہے، اتنی آئی پی پیز ہیں، ان سب سے نیگوشییٹ کریں اور اس کا جو اثر ہے وہ بجلی کے بلوں میں آنا چاہیے، بجلی کے بل درست ہو جائیں گے تو معیشت کو جینوئن استحکام ملے گا۔

صحیح بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت جتنے بھی اعداد و شمار پیش کر دے، جب آپ بازار میں جاتے ہیں اور گھر کا سودا خریدتے ہیں اور اپنی تنخواہ کو دیکھتے ہیں اور اپنے بلوں کو دیکھتے ہیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح کیا ہے، یہ حکومت کے بتانے سے شرح کم نہیں ہوتی مہنگائی کی، یہ ہماری قوتِ خرید اور جو حالات ہوتے ہیں گروسری سٹور پر اس سے پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی ہےیا کچھ چیزیں سستی ہو گئی ہیں؟

ہم نے بہت واضح طور پر یہ بات کہی کہ ہمارا بہت واضح مطالبہ ہے، کور ایشو ہے اور یہ پاکستان کے لوگوں کا مسئلہ ہے کہ تنخواہ دار طبقے سے آپ اتنی کٹوتی کر رہے ہیں، بڑے بڑے جاگیردار، ان کو کچھ نہیں کہا جاتا، عام کسانوں کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے، بڑے جاگیردار مزے کر رہے ہوتے ہیں، ان سے انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا، اور تنخواہ دار آدمی، پروفیشنل آدمی، اس کی تنخواہوں سے اتنے ڈائریکٹلی جو ہے وہ ٹیکس کٹ جاتا ہے۔ اس لیپ کو ریوائز کریں۔ انہوں نے ہم سے کہا تو ہے کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارا یہ واضح مطالبہ ہے، اور جماعت اسلامی اپنی اس عوامی جدوجہد کے اوپر قائم ہے۔

تیسری چیز جو بہت امپورٹنٹ ہے تمام ہی چیزوں کے ساتھ وہ اس وقت ملک کے حالات ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے ہم نے حکومت کو تجاویز بھی دی ہیں کہ ان کو کس طرح اِمپاور کریں، اور سی پیک میں جو بلوچستان کا مقام ہونا چاہیے وہ اس کو ملنا چاہیے، جو منصوبے پہلے سے طے ہیں وہ مکمل ہونے چاہئیں۔ ہم نے پرائم منسٹر کو یہ کہا ہے، یہ مطالبہ بھی کیا ہے، تجویز بھی دی ہے کہ بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کی ضرورت ہے، اور ایک اچھا جسچر اس وقت قائم ہو گا جب پرائم منسٹر اپنا ایک آفس باقاعدہ کوئٹہ میں قائم کریں گے۔

خیبرپختونخوا پر بات ہوئی کہ وہاں جس طرح افراتفری ہے اور خیبرپختونخوا کے حالات کی کنجی افغانستان سے بامعنی مذاکرات اور امن کے قیام میں ہے، اس میں پیشرفت ہونی چاہیے۔ افغان حکومت سے بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ یہ دونوں ملک افورڈ ہی نہیں کر سکتے کہ یہ آپس میں لڑیں۔ بیٹھ کر بات کرنی ہو گی، امن کو قائم کرنا ہو گا، دیرپا امن کو تلاش کرنا ہو گا۔

ہم نے کراچی پر بھی بات کی کہ وہ مِنی پاکستان ہے اور اس کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ کچھ پراجیکٹس جن کا تعلق وفاق سے ہے وہ وفاق کو کرنے چاہئیں۔ ویسے بھی یہ تو PDM کی حکومت ہے۔ پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے تو یہ بیان بھی دیا کہ پی ڈی ایم قائم ہے اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا ہیں، اور پی ڈی ایم میں وہ اپوزیشن میں ہیں اور باقی پارٹیاں حکومت میں ہیں۔

یہ جو چولستان والا معاملہ ہے اور نہروں والا معاملہ ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرنا چاہیے، یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام لوگوں کا اعتماد حاصل ہو ۔ اور کسی نئی جگہ کو بسانا کسی پرانی آباد جگہ کو بے آباد کرنے کی قیمت پر، یہ درست نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو ری وزٹ کیجیے اور سی سی آئی کی میٹنگ کیجیے، کونسل آف کامن انٹرسٹ کی میٹنگ کیجیے۔ کون اس مسئلے کو ایڈریس کرے گا۔ اس مسئلے کو ایڈریس حکومت کو ہی کرنا ہوتا ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسی چیز جو اتفاقِ رائے کو ختم کرے، تعصبات کو بڑھائے، وہ تو ملک کی یکجہتی کے لیے بھی بہت خطرناک ہے۔ تو یہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ایسی چیزوں سے باز رہے، اور کنسینس ڈیولپ ہوتا ہے تو چیز کو آگے بڑھایا جائے ورنہ نہیں بڑھایا جائے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم میٹنگ بھی کرتے ہیں، ایگریمنٹ بھی کرتے ہیں، اس کا تعاقب بھی کرتے ہیں، اس کا فالو اپ بھی کرتے ہیں، چیزیں منواتے بھی ہیں، لیکن ہم اپنے جمہوری آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوتے۔ اس لیے ہم احتجاج اور دھرنے، یہ جتنی چیزیں بھی ہیں، یہ ہمارا آئینی حق ہے، یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے، اور اگر حکومت نے آگے چل کر بھی کوئی لیت و لعل سے کام لیا تو ہم یہ سب استعمال کریں گے۔

www.facebook.com


فلسطینی پاکستان کے حکمرانوں سے توقع رکھتے ہیں

لیاقت بلوچ

(۲۷ اپریل ۲۰۲۵ء کو مینار پاکستان لاہور کے میدان میں منعقدہ قومی فلسطین و دفاعِ پاکستان کانفرنس سے خطاب)

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 

مجلسِ اتحادِ امت کے قائدین، تمام جماعتوں کے معزز زعماء اور قائدینِ محترم، میں بالخصوص جمعیۃ علماء اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے عظیم راہنما حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور اس کے ساتھ ان کی پوری ٹیم اور قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آج مینارِ پاکستان پر اس عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ فلسطینیوں سے بھی یکجہتی کا اظہار ہے، یہ مقبوضہ جموں کشمیر کے بہادر عوام کے ساتھ بھی اظہار ہے، اور پاکستان کے ازلی دشمن انڈیا کے مقابلے میں پوری قوم کی طرف سے متحد آواز ہے۔

پاکستان کے عوام نے فلسطین کے ساتھ، بیت المقدس کے ساتھ، ارضِ انبیاء کی آزادی کے لیے حماس کے غزہ کے لوگوں کے ساتھ لازوال عقیدت اور محبت کا اظہار کیا ہے۔ اور آج یہ کانفرنس اس موقع پر ہو رہی ہے کہ پاکستان پہلگام کے ایک false اور ایک جھوٹے واقعہ کے بعد، انڈیا جو پاکستان فوبیا کا شکار ہے اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے، لیکن وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ پاکستان میں فلسطین سے یکجہتی کا اظہار، یہ پوری ملت کی طاقت اور اتحاد کا ذریعہ بنا ہے۔

میرے بھائیو! سات اکتوبر ۲۰۲۳ء ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ آپریشن کو آج پانچ سو پچھتر دن ہو گئے، پینسٹھ ہزار غزہ اور فلسطینی شہید ہو گئے، ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو گئے، لیکن سوال کرنے والے پوچھتے تھے یہ کیوں کیا؟ اس قربانی کے لیے کیا ضرورت تھی؟ لیکن غزہ کے مجاہدوں نے حماس کے مجاہدوں نے یہ ثابت کر دیا کہ انہوں نے تقویٗ استقامت سے لازوال قربانیاں دیں، دنیا کو بیدار کیا، بزدل حکمرانوں پر بریک لگائی، اور آج پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ نیتن یاہو اور مودی اور امریکی صدر یہ جنگی مجرم ہیں، اور ان کے مقابلے میں پوری دنیا کی انسانیت پسند اقوام کو اٹھنا ہو گا۔

میں اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں، جہاد فرض ہو گیا ہے، علماء کے جہاد کے فتوے نے نئی بیداری دی ہے، اس سے بڑا جہاد کے علاوہ کون سا موقع ہو سکتا ہے؟ لیکن پاکستان میں بعض بزدل امریکی اور ہندوستان کی ذہنیت کے پروردہ اس فتوے کے بارے میں بات کرتے ہیں، یہ لوگ میدانِ بدر کے موقع پر بھی ہوتے، ایسی بات کرتے، تعداد کم ہے، اسلحہ کم ہے، کیوں مقابلہ کیا جائے؟ لیکن آج ملتِ اسلامیہ جہاد کے لیے تیار ہے۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں، کشمیر شہ رگ ہے، فلسطین امت کی رگِ جاں ہے۔ قائد اعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان نے جو پالیسی فلسطین اور کشمیر پہ بنائی وہی آج بھی زندہ حقیقت ہے، یہی پالیسی پاکستان کو زیب دیتی ہے۔ ہم پاکستان حکومت کی طرف سے پہلگام کے سانحہ اور واقعہ کے بعد قومی سلامتی کی کمیٹی کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکمرانو! بزدلی سے نہیں، تھڑ دلی سے نہیں، کمزوری سے نہیں، امریکہ اسرائیل ہندوستان سے ڈر کر نہیں، اللہ پر اعتماد کرو، تقویٰ اور استقامت دکھاؤ، پچیس کروڑ عوام پر اعتماد کرو، فلسطینی آج پاکستان کے حکمرانوں سے توقع رکھتے ہیں۔

میں آج کی اس کانفرنس کے ذریعے یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل کا وجود ناپاک ہے، ناجائز ہے۔ کشمیر کشمیریوں کا ہے، نیتن یاہو اسرائیل کو بھی غرق کرے گا، اور مودی بھی ہندوستان کے لیے گورباچوف ثابت ہو گا۔ ان شاء اللہ جہاد کی طاقت سے ہم امت کے دشمنوں کو شکست دیں گے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

اہلِ فلسطین کی نصرت کے درست راستے

علامہ ہشام الٰہی ظہیر

’’قومی کانفرنس: فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ سے خطاب جو مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیراہتمام ۱۰ اپریل ۲۰۲۵ء کو پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

معزز سامعین گرامی قدر، میں اپنی تقریر کی ابتدا فلسطین کی مسجد اقصیٰ کی اس پکار سے کرنا چاہتا ہوں کہ آج مسجد اقصیٰ پھر کسی صلاح الدین ایوبیؒ کی منتظر ہے، آج مسجد اقصیٰ پھر کسی عمرؓ کی منتظر ہے، مسلمانو اٹھو زمانہ تمہارے قدموں کی چاپ کا منتظر ہے   ؎
فضائے  بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

آندھی بن کر نکلو، طوفان بن کر چھا جاؤ، بکھرے ہوئے ذرات ہو تو مل جاؤ کہ صحرا نظر آئے، بکھرے ہوئے قطرات ہو تو مل جاؤ کہ دریا نظر آئے۔ کیا آندھی بن کر نکلنے کے لیے تیار ہو؟ ہاتھ اٹھا کر وعدہ کرو، آندھی بن کر نکلنے کے لیے تیار ہو؟ صلاح الدین ایوبیؒ کی للکار بننے کے لیے تیار ہو؟ عمرؓ کی یلغار بننے کے لیے تیار ہو؟ 

اور یہ جو پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، چار باتیں کہنا چاہتا ہوں صرف، اور اپنی بات کو ختم کروں گا۔ اسرائیل کو شکست نہیں دی جا سکتی، اسرائیل کو شکست نہیں دی جا سکتی، یہ پراپیگنڈا تاتاریوں کے دور میں بھی ہوا تھا، مسلمانوں کے اندر یہ سوچ اور فکر پیدا کی گئی،  تاتار کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ امام ابن تیمیہؒ نے اس وقت یہ کردار ادا کیا ، مسلمان حکمرانوں کے گھروں کے اندر، درباروں کے اندر، ان کے محلوں کے اندر جا جا کے یہ بات کہی، آپ کو کس نے مغالطہ ڈال دیا کہ تاتاریوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ 

آج وقت آ چکا ہے کہ امت کے یہ اکابرین مولانا فضل الرحمٰن، مفتی منیب، مفتی تقی عثمانی، اسی طرح ابن تیمیہؒ کے کردار کو دہراتے ہوئے حکمرانوں کو اس بات کا پیغام دیں، اللہ کی قسم، اللہ کی قسم، اگر تم آگے لگ جاؤ اور  اگر تم ہمیں جہاد کا میدان کھول دو، تو اللہ کے فضل و کرم سے چند دنوں کے اندر اسرائیل کو شکست ہو سکتی ہے۔  مجھے ایک بات بتائیے، یہ کونسا فلسفہ ہے، اسرائیل کو شکست نہیں ہو سکتی۔ آج علماء کو مل بیٹھ کے۔ 

امام احمد بن حنبلؒ کا ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جب اذان ہوتی تھی مسجد کی، جیل کے باہر سے، امام احمد بن حنبلؒ اٹھتے تھے، وضو کرتے تھے، جیل کے دروازے پر پہنچ جاتے تھے۔ اہلکار روکتے تھے اور پھر وہ واپس آجاتے تھے۔ پھر اذان ہوتی، پھر وضو کرتے، پھر جاتے۔ اہلکار کہتے ہیں آپ  اتنا عرصہ بیت گیا ہے ہر اذان کے اوپر اٹھتے ہیں اور دروازے پر آتے ہیں، ہم آپ کو واپس بھیج دیتے ہیں۔ تو امام احمد بن حنبلؒ کے اس جملے کو اگر امت یاد کر لے تو اللہ کی قسم آج تو بچوں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں، ہم اس فرض کو، اس واجب کو بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے کہا، میں جتنی چیز کا مکلف ہوں، اذان ہو گی، اگر مجھے پکارا جائے گا، رب تعالیٰ کی آواز  میرے کانوں میں گونجے گی، حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کی آواز آئے گی، میں جیل کے دروازے پر جاؤں گا۔ او مسلمانو، کمزور مسلمانو، مسجد اقصیٰ پکار رہی ہےاور میرے اور آپ کے اوپر اتنا بھی واجب نہیں کہ ہم حکمرانوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کے مردہ ضمیروں کو جگائیں کہ نکلو۔

اللہ کے بندو! تیار ہو کہ نہیں؟ حکمرانوں کے دروازوں پر جانے کے لیے تیار ہو کہ نہیں؟ جہاد مینڈیٹ ہے۔ بعض لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، عجیب و غریب فلسفہ، سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی چند باتیں ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ مولوی صاحب، جہاد کا فتویٰ کب دیں گے؟ مولوی صاحب، جہاد کا فتویٰ کب دیں گے؟ اللہ کے بندو چودہ سو سال پہلے اللہ نے جہاد کو واجب قرار دے دیا،  رسول اللہ نے فرض قرار دے دیا، دوبارہ فتویٰ لینے کی ضرورت ہے؟ یہ مولویوں سے کون سا فتویٰ مانگتے ہیں؟ یہ مولوی اور علماء کا تمسخر، یہ جو لبرل اور سیکولر لوگ ہیں نا، اس طرح اڑاتے ہیں۔ خود موم بتی مافیا جو اونٹ کے پاؤں کے کٹنے کے اوپر تو چیخ و پکار کرتی ہے، آج مسجد اقصیٰ کے اندر  بچوں کے چیتھڑے اڑے ہیں، کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ یہ اسلام آباد انسانی حقوق کی تنظیموں کا گڑھ ہے۔ کہاں ہے موم بتی مافیا؟ کہاں ہیں انسانیت کے چیمپئن؟ کیا غزہ کے اندر،  مسجد اقصیٰ کے اندر انسان نہیں مر رہے؟ مولوی صاحب کب فتویٰ دیں گے؟ مولوی نے جیسے فتویٰ دینا ہے تو موم بتی مافیا نے سب سے پہلے جا کر جہاد شروع کر دینا ہے۔ یہ ان کی اصلیت ہے، یہ ہم سے فتوے مانگتے ہیں۔ 

فتوے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے، اللہ کا حکم آ چکا ہے، علماء کی جو بات ہے وہ انہوں نے نہیں سمجھنی۔ اگر یہ چاہتے ہیں کہ علماء پرائیویٹ جہاد کا اعلان کر دیں، یہاں سے ہم لشکر کشی کر دیں تو علماء اس چیز کے قائل نہیں ہیں، یہ جہاد فرض ہوا ہے کن کے اوپر؟ مسلمان حکمرانوں کے اوپر فرض ہوا ہے۔ 

اور دوسری بات یہ بھی میں کہنا چاہتا ہوں، میرے بھائیو، اللہ کے بندو، اللہ کے بندو، یہ جو پاکستان کے اندر مختلف برانڈز ہیں، مختلف فرنچائزز ہیں، اور میں (مجلس) اتحادِ امت کی کمیٹی کو  یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ ایک کمیٹی بنائی جائے۔ دو المیے ہیں اس بارے میں۔ 

پہلا المیہ یہ ہے،  فرانس گستاخی کرتا ہے،  ساری پروڈکٹس فرانس کی ہو جاتی ہیں۔ نیدرلینڈز سے گستاخی ہوتی ہے، ساری پروڈکٹس نیدرلینڈز کی ہو جاتی ہیں۔ ڈنمارک گستاخی کرتا ہے،  ساری پروڈکٹس ڈنمارک کی ہو جاتی ہیں۔ آج کل ہر پروڈکٹ اسرائیل کی ہو گئی ہے۔ ایک کمیٹی بیٹھے، جو حقیقت میں اسرائیل کی پروڈکٹس ہیں، ان کے بار ےمیں فیصلہ کیا جائے۔ ڈنمارک کے اندر گستاخانہ خاکے چھپے، یہ ساری پروڈکٹس جی ڈنمارک کی ہیں۔ فرانس میں گستاخانہ خاکے چھپے، یہ جی ساری پروڈکٹس فرانس کی ہیں۔ اب اسرائیل کے ساتھ تنازعہ ہے، ساری پروڈکٹس اسرائیل کی ہو گئی ہیں۔ اللہ کے بندو، جو پروڈکٹس اسرائیل کی ہیں، یہ لوگ بیٹھیں، ماہرین کی کمیٹی یہاں علماء تشکیل کریں، اور جو حقیقی پروڈکٹس ہیں ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ 

اور بائیکاٹ کا مطلب حملے نہیں ہیں، جلاؤ گھیراؤ نہیں ہے، اللہ کے بندو، یہ بات بھی ذہن نشین رکھو۔ کل میں نے ایک ٹی وی کے اوپر یہ کہہ دیا کہ یہ جو کے ایف سی یا مختلف برانچوں کو جلانا، اسلام کے اندر تو دورانِ جہاد عورتوں، بچوں، املاک کو، درختوں کو جلانے کی اجازت نہیں ہے، یہ تو ہمارے پاکستانی بھائیوں کی انویسٹمنٹ ہے، ان کا بائیکاٹ ہو گا، ان کو جلایا نہیں جائے گا۔ ان کا کیا ہو گا؟ بائیکاٹ ہو گا۔ اگر اسرائیلی پروڈکٹس ہیں، جو ان کا بائیکاٹ علماء کریں۔

اور آخر میں ایک تجویز ہے وہ میں دینا چاہتا ہوں ۔ یہ علماء امت بیٹھے ہیں، ایک کمیٹی بنائیں کہ آئی ٹی کے ماہرین۔  سوشل میڈیا پر آج آپ اس کانفرنس کا کوئی کلپ چلائیں گے، آپ کی آئی ڈی بلاک ہو جائے گی۔ فلسطین کے اندر جو مظالم آپ دکھائیں گے، آئی ڈیز بلاک، پیج اڑ گئے۔ اس کا مقابلہ کس نے کرنا ہے؟ یہ جو سوشل میڈیا کی دہشت گردی ہے، آپ کی آواز کو اٹھانے ہی نہیں دیا جاتا۔ وہ جو ویڈیو ہے جہاں پر بچوں کے چیتھڑے اڑے ہیں، وہ جس بندے نے آئی ڈی سے لگائی ہے اس کی آئی ڈی بلاک ہو جاتی ہے۔ 

تو اس کا حل یہ ہے کہ پاکستان کے جو حکمران ہیں آگے بڑھیں، جو گرے ٹِک ویری فیکیشن ہوتی ہے، اس کے اوپر اگر یہ پوسٹیں لگیں گی تو ان کو اڑایا نہیں جا سکتا۔ لیکن ہمارے حکمران بھی بڑے سیانے ہیں۔ عمران خان صاحب کا دور تھا، شہباز شریف صاحب ہر روز یہ مفلر پہن کر اسمبلی میں تشریف لے آتے تھے۔ آج اپنی حکومت ہے اور فلسطین کے حق میں، اقصیٰ کے حق میں زبان سے بات نکالنا بھی گوارا نہیں ہے۔  اللہ کے بندو! 

آ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

آپ اپنے اکابرین کے ساتھ بیت المقدس کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں؟ ہاتھ اٹھا کر وعدہ کریں، جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں؟ اور میں جمعیت اہلِ حدیث کی طرف سے اعلان کرتا ہوں، آصف منیر صاحب اور پاکستان کے حکمران جہاد کا اعلان کریں، روٹ کا تعین کریں۔  افغانستان جو جہاد کی بنیاد کے اوپر حکومت بنی، شام جو جہاد کی بنیاد کے اوپر آج حکومتیں قائم ہیں، رستے بنانے ہوں بن سکتے ہیں اللہ کے فضل و رحمت سے۔ شام، افغانستان، پوری دنیا کے عرب ممالک اگر سنجیدگی سے غور کریں تو یہ  رستے جہادی قافلوں کے اللہ کی قسم بن سکتے ہیں۔ اور یہ بنیں گے تو جمعیت اہلِ حدیث دس ہزار نوجوان جہاد کرنے کے لیے اسرائیل کے خلاف تیار ہے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ 

قومی فلسطین و دفاعِ پاکستان کانفرنس: تمام جماعتوں کا شکریہ!

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری

پیشکش : مولانا حافظ نصر الدین خان عمر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ فرزندانِ توحید، فرزندانِ اسلام، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آج مینارِ پاکستان پر یہ عظیم الشان، فقید المثال اجتماع جو غزہ اور فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار، ملتِ اسلامیہ کی بیداری، عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو جگانے، اور اسرائیل کی ظالم صیہونی حکومت کے ظالمانہ اور وحشیانہ ظلم و ستم کے خلاف صدائے احتجاج کے لیے منعقد ہو رہا ہے۔

یہ اجتماع اس لحاظ سے اس موضوع پر ہونے والے تمام اجتماعات سے منفرد اور مثالی ہے کہ یہ الحمد للہ اتحادِ امت کا مظہر ہے، یہ متحدہ اجتماع ہے، اور میں شکرگزار ہوں قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا، انہوں نے اس اجتماع کا اعلان جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام کرنے کا کراچی میں اعلان کیا تھا لیکن جب ہم نے ان سے ملاقات میں عرض کیا اور یہ بات جب مشورے میں آئی تو شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی موجود تھے، ہمارے پاکستان اور عالمِ اسلام کی ممتاز علمی شخصیت حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ بھی موجود تھے، تو ہم نے حضرت مولانا سے درخواست کی کہ لاہور کا یہ اجتماع جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام منعقد کرنے کی بجائے اتحادِ امت کے عنوان سے جو ایک مجلس آپ حضرات نے قائم کی ہے اس مجلس اتحادِ امت کے نام سے اس کے زیر اہتمام منعقد کیا جائے۔ تو حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہ صرف یہ کہ اس تجویز کو قبول فرمایا بلکہ اس کی تحسین فرمائی، چونکہ مجلس اتحادِ امت پاکستان کے بھی وہ روحِ رواں ہیں، اس کے بھی مؤسسین اور بانیوں میں شامل ہیں، اور انہوں نے اپنے واقعتاً‌ قائدِ ملتِ اسلامیہ ہونے کا اپنے اس عمل سے ثبوت دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ فلسطین اور غزہ کے مظلوموں کے لیے ہماری مشترکہ اور متفقہ آواز بلند ہو۔

چنانچہ میں نے پھر حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب دامت برکاتہم سے درخواست کی کہ اس اجتماع میں آپ ضرور تشریف لائیے گا۔ اپیلیں بھی جاری کریں۔ میں نے اس سلسلہ میں محترم پروفیسر ساجد میر صاحب سے درخواست کی، قائد ملت اسلامیہ نے درخواست کی، اور پھر میں نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن صاحب سے درخواست کی کہ آپ نے بھی ما شاء اللہ آواز بلند کی ہے، ملک میں مظاہرے کر رہے ہیں، مگر یہ مشترکہ متفقہ متحدہ اجتماع ہونے جا رہا ہے، آپ اس میں تشریف لائیں۔ میں نے مولانا محمد احمد لدھیانوی صاحب سے درخواست کی۔ تنظیمِ اسلامی سے درخواست کی۔ جمعیت اہلِ حدیث سے درخواست کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے عرض کیا۔ میں نے مجلس احرار اسلام سے درخواست کی۔ میں نے تمام مدارس کی تنظیموں سے درخواست کی۔ رابطۃ المدارس الاسلامیہ، وفاق المدارس السلفیہ، اور تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان، اور بہت سی جماعتوں کے تنظیموں کے نام وقت کے اختصار سے میں نہ لے سکا، وہ محسوس نہ فرمائیں۔ میرا فرض بنتا ہے کہ میں ان سب کا شکریہ ادا کروں کہ انہوں نے ہماری اس درخواست کو قبول فرمایا اور آج کے اس عظیم الشان اجتماع کو رونق بخشی۔ اور نہ صرف پاکستان کو بلکہ عالم اسلام کو متفقہ آواز دی ہے۔ یہ اجتماع پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کا نمائندہ اجتماع ہے۔

میں یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسجدِ اقصیٰ کی عزت و حرمت، فلسطین کی آزادی، یہ صرف عربوں کا مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف اہلِ غزہ اور فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ تمام امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے، یہ عالمِ اسلام کا مسئلہ ہے، یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، یہ سعودی عرب کا مسئلہ ہے، یہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کا مسئلہ ہے، یہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ چونکہ مسجد اقصیٰ ہمارا قبلۂ اول رہا ہے، مسجدِ اقصیٰ کو ہمارے پیغمبر کی امامت کا شرف حاصل ہوا ہے، مسجدِ اقصیٰ سے ہمارے نبی معراج پر روانہ ہوئے ہیں، یہ ارضِ انبیاء ہے، یہ سرزمینِ انبیاء ہے، یہ وحئ الٰہی کے اترنے کی سرزمین ہے، اس لیے مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اور حرمت، فلسطین کی آزادی اور حرمت، یہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ ہے، یہ صرف حماس کا مسئلہ ہے، نہیں یہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔

دوسری بات کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسرائیل صرف غزہ پر قبضہ نہیں چاہتا، وہ صرف فلسطین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، وہ تمام عرب ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اسرائیل نعوذ باللہ نعوذ باللہ مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، وہ گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہا ہے، اس نے صرف غزہ اور فلسطین پر حملے نہیں کیے، وہ یمن پر حملہ کر رہا ہے، وہ شام پر حملہ کر رہا ہے، وہ لبنان پر بھی حملہ کر رہا ہے، وہ سعودی عرب کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے، وہ کتنے ممالک کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے اور عالمی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ اور مجھے اس بات کا دکھ ہے افسوس ہے کہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) نے، پاکستان کی حکومت نے ہیومن رائیٹس کونسل میں فلسطینیوں کے حقِ دفاع کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے جو جدوجہد کی، اس کی مخالفت کی ہے۔ میں اس پر حکومتِ پاکستان کی مذمت کرتا ہوں۔ اور آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی جھنڈے لہرا کر، ہاتھ لہرا کر حکومتِ پاکستان کے اس اقدام کی مذمت کریں۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے اور نیتن یاہو جنگی مجرم ہے، عالمی فوجداری عدالت نے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، اس لیے ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔

اور میرے دوستو اور بھائیو! جو ہم نے اعلان کیا تھا اسلام آباد میں، تو اس کے بعد مذاق اڑایا گیا، اور کہا گیا کہ یہ لوگ غزہ میں فلسطین میں کیوں نہیں جاتے۔ یہ علماء اور مفتی وہاں جا کر اس جہاد کا حصہ کیوں نہیں بنتے۔ میں آج کے اس اجتماع میں اعلان کرنا چاہتا ہوں اور آپ کھڑے ہو کر تائید کریں کہ ہم سب جانے کے لیے تیار ہیں۔ کہو ’’تیار ہیں تیار ہیں، ہم سب جانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ تم راستے میں رکاوٹ مت ڈالو، ہم جانے کے لیے تیار ہیں۔ ہم تو تمنا کرتے ہیں کہ بستر کی موت نہ آئے، میدانِ جہاد کی موت آئے، ہم تو شہادت کی تمنا کرتے ہیں، ’’اللھم ارزقنا شہادۃً‌ فی سبیلک، اللھم ارزقنا شہادۃً‌ فی سبیلک‘‘ اور تم ہمیں راستہ نہیں دے رہے، ان کو راستہ دے رہے ہو جو اسرائیل کی بولیاں بولتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان سے جو لوگ گئے ہیں ان کے خلاف اب تک کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟ کیوں مقدمہ نہیں چلایا گیا؟

قائدین تشریف فرما ہیں، میں آپ سے یہ عہد لینا چاہتا ہوں کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو گے ان شاء اللہ۔ اسرائیل کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ کرو گے۔ اور ان شاء اللہ اس کا ساتھ دینے والے ملکوں کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔

اور آج ہندوستان پاکستان پر بے بنیاد الزام لگا رہا ہے، پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے، یہ جہاں غزہ اور فلسطین کا دفاع کریں گے یہ ان شاء اللہ ابابیل پاکستان کا دفاع بھی کریں گے۔ ہم اپنے ملک کے دفاع کے لیے اپنی افواج کے ساتھ ہیں۔ قومی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تائید کرتے ہیں۔ اور میں ایک دفعہ پھر آپ کا شکرگزار ہوں کہ ایک ہفتے کے نوٹس پر، چند دن کے نوٹس پر آپ تشریف لائے ہیں، بالخصوص جمعیۃ علماء اسلام، وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور تمام تنظیموں کا تمام جماعتوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ کرتا ہوں اور یہ متحدہ اجتماع حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے اتفاق اور تائید کی بنا پر ہے، اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

فلسطین کے ہمارے محاذ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام آباد کی قومی فلسطین کانفرنس اور ہماری ذمہ داری

(۱۴ اپریل پیر کو بعد نماز عصر جامع مسجد رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دو روز قبل اسلام آباد میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ قائدین مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا مفتی منیب الرحمٰن اور دیگر راہنماؤں نے غزہ کی آبادی پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شرعی طور پر عالمِ اسلام پر جہاد فرض ہونے کا جو اعلان کیا ہے اس کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات کی بات کی جا رہی ہے، اس حوالہ سے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

(۱) یہ کہا جا رہا ہے کہ غزہ کی جنگ ڈیڑھ سال سے جاری ہے اور ان علماء کرام کو اب جہاد کی بات یاد آئی ہے؟ یہ بات غلط ہے، انہی اکابر علماء کرام نے غزہ کی موجودہ جنگ کے آغاز میں بھی یہیں اسلام آباد میں اسی سطح پر جمع ہو کر یہی آواز لگائی تھی اور اس موقع پر بھی جہاد کی بات کی تھی۔ دو تین روز قبل کی حالیہ قومی فلسطین کانفرنس اسی کا تسلسل اور یاددہانی ہے۔ اور اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے مختلف طبقات اور عوام نے تو اس آواز پر لبیک کہا تھا اور بیداری پیدا ہوئی تھی مگر مسلم ممالک کی حکومتوں نے اس طرف توجہ نہیں دی اور مسلسل سرد مہری کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کو یاد دلانے کے لیے دوبارہ کانفرنس کرنا پڑی، خدا کرے کہ مسلم حکومتیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور غزہ کے مظلوم عوام کو اسرائیلی درندگی سے نجات دلانے کے لیے اپنا فریضہ ادا کریں۔

(۲) یہ کہا جا رہا ہے کہ جہاد میں طاقت کا توازن دیکھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مغالطہ ہے جو بعض لوگوں کی طرف سے مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔ طاقت کا توازن وہاں دیکھا جاتا ہے جہاں کسی پر حملہ کرنا ہو کہ ہمارا حملہ کامیاب ہو گا یا نہیں۔ جہاں خود پر حملہ ہو وہاں طاقت کا توازن نہیں دیکھا جاتا اور جس پر حملہ ہو وہ خود کو بچانے کے لیے دفاع میں جو کچھ اس کے بس میں ہو وہ اس سے گریز نہیں کیا کرتا۔

پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی یہی ہے۔ بدر کی جنگ میں قوت کا پلڑا مشرکین کے حق میں تھا اور مسلمانوں کی ظاہری قوت برابر کی بھی نہیں تھی مگر یہ بات غزوہ بدر میں رکاوٹ نہیں بنی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔ خندق کی جنگ کے موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق تمام موجود مسلمانوں کی تعداد پندرہ سو تھی۔ اسی افرادی قوت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف قبائل عرب کی اجتماعی قوت کا ایک ماہ تک سامنا کیا بلکہ اس کے بعد یہود کے قبیلہ بنو قریظہ پر خود آگے بڑھ کر محاصرہ کر کے انہیں جلاوطن بھی کر دیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ قوت برابر کی نہ ہو تو مقابلہ نہیں کرنا چاہیے، محض مغالطہ ہے جس کو خواہ مخواہ پھیلایا جا رہا ہے۔

(۳) اس کے ساتھ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ معاشی بائیکاٹ اور تجارت کا جہاد کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ گزارش ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی معاشی جنگ ہوتی تھی ، آپؐ کے پیروکاروں کا تین سال تک شعب ابی طالب میں جو محاصرہ کیا گیا اس میں تجارتی بائیکاٹ بھی شامل تھا جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں نے پورے حوصلہ کے ساتھ سامنا کیا۔ جبکہ خیبر کی جنگ میں اور بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کے معرکوں میں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا جس میں تجارتی سامان لانے لے جانے میں رکاوٹ بھی شامل تھی۔ بلکہ ایک موقع پر بنو حنیفہ کے سردار حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے یمامہ سے مکہ مکرمہ کی طرف گندم کی سپلائی روک دی جس کی شکایت مکہ کے سرداروں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور آپؐ نے صلح حدیبیہ کے باعث حضرت ثمامہؓ کو یہ تجارتی بائیکاٹ ختم کر دینے کی تلقین فرمائی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تجارتی بائیکاٹ بھی جہاد کی ایک صورت ہے جو ضرورت کے موقع پر استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔

(۴) اس کے ساتھ میڈیا وار بھی جہاد کی ایک صورت ہے۔ غزوہ احزاب کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ایک اجتماع میں اعلان فرمایا کہ قریش مکہ اب تلوار کی جنگ نہیں لڑ سکیں گے، اس میں وہ ناکام ہو گئے ہیں، اب یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائیں گے۔ جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین پر خطیبِ اسلام حضرت ثابت بن قیسؓ اور تین بڑے شعراء حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت ابی بن کعبؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے یہ محاذ سنبھالا، جسے آج کے دور میں ’’میڈیا وار‘‘ کہا جاتا ہے اور اس محاذ پر بھی مشرکینِ عرب کو شکست دی۔

اس حوالہ سے بخاری شریف میں ایک دلچسپ واقعہ مذکور ہےکہ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں مشرکین کا ماحول تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار انہی میں سے ایک شاعر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کے ہاتھ میں تھی جو تلبیہ یعنی لبیک اللہم لبیک کی بجائے جنگی ترانے پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں اس سے منع کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر انہیں روک دیا ’’دعہ یا عمر‘‘ عمر اسے چھوڑ دو، اس کے شعر دشمنوں کے سینوں میں تمہارے تیروں سے زیادہ نشانے پر لگ رہے ہیں۔

اس لیے اسلام آباد کی قومی فلسطین کانفرنس میں اکابر علماء اسلام نے جہاد کا جو اعلان کیا ہے وہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے اور تمام طبقات اور عوام کو اس پر عمل کے لیے جو کچھ وہ کر سکتے ہوں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

فلسطین کی صورتحال اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری

(۶ اپریل ۲۰۲۵ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا جاری کردہ ویڈیو پیغام)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ غزہ کی صورتحال، فلسطین کی صورتحال، دن بدن نہیں لمحہ بہ لمحہ گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی جا رہی ہے اور اسرائیل تمام اخلاقیات، تمام قوانین، تمام معاہدات کو پامال کرتے ہوئے اس درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس پر دنیا کی خاموشی بالخصوص عالمِ اسلام کے حکمرانوں پر سکوتِ مرگ طاری ہے۔ مجھے تو بغداد کی تباہی کا منظر نگاہوں کے سامنے آ گیا ہے، جب تاتاریوں کے ہاتھوں خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ ہوا تھا، بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی، اور اس وقت بھی کم و بیش یہی صورتحال تھی، آج پھر ’’بغداد‘‘ کی تباہی کا منظر ہمارے سامنے ہے، اسرائیل اور اس کے پشت پناہ، آج وہ چادر جو انہوں نے اوڑھ رکھی تھی، مغرب نے، امریکہ نے، یورپی یونین نے، عالمی طاقتوں نے، انسانی حقوق کی، بین الاقوامی معاہدات کی، انسانی اخلاقیات کی، وہ آج سب کی چادر اسرائیلی درندگی کے ہاتھوں تار تار ہو چکی ہے۔

لیکن اس سے زیادہ صورتحال پریشان کن، اضطراب انگیز یہ ہے کہ مسلم حکمران بھی اسی مصلحت کا، مصلحت نہیں بے غیرتی کا شکار ہو گئے ہیں۔ آج او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کو، عرب لیگ کو، مسلم حکمرانوں کو، جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ اس کے لیے مل بیٹھ کر سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ اور امتِ مسلمہ، عالمِ اسلام سناٹے کے عالم میں اپنے حکمرانوں کو دیکھ رہی ہے کہ یہ ہمارے ہی حکمران ہیں، کون ہیں یہ؟

لے دے کے دینی حلقوں کی طرف سے دنیا بھر میں کچھ نہ کچھ آواز اٹھ رہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملتِ اسلامیہ بحیثیت ملتِ اسلامیہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ نہیں، اپنی دینی قیادتوں کے ساتھ ہے جو کسی نہ کسی انداز میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، اس آواز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

میں اس موقع پر دنیا بھر کے دینی حلقوں سے، علماء کرام سے، یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ آج کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے تاتاریوں کی یلغار اور بغداد کی تباہی کا ایک دفعہ پھر مطالعہ کر لیں، کیا ہوا تھا؟ کس نے کیا کیا تھا؟ اور کون سے حلقے تھے جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی تباہی کی راہ ہموار کی تھی اور کون سے لوگ تھے جنہوں نے اس وقت ملتِ اسلامیہ کو سہارا دیا تھا؟ مجھے اس وقت کی دو بڑی شخصیتیں ذہن میں آ رہی ہیں (۱) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور (۲) شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ تعالیٰ، دینی قیادت تھی، سامنے آئے تھے، امت کو سنبھالا تھا، مقابلہ کر سکے یا نہ کر سکے، امت کو سنبھالنا، امت کا حوصلہ قائم رکھنا، اور اپنے مشن کے تسلسل کو قائم رکھنا، یہ تو بہرحال بہرحال دینی قیادتوں کی ذمہ داری ہے، علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ حمیت کو باقی رکھیں، غیرت کو باقی رکھیں۔

تو میری پہلی درخواست تو علماء کرام سے ہے، کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی فقہی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، کہ آج شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ کے کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ویسے تو فقہاء نے لکھا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمان مظلوم ہوں، ذبح ہو رہے ہوں، تو دنیا بھر کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے، ہماری فقہی صورتحال تو یہ ہے، درجہ بدرجہ ’’   علی الاقرب فالاقرب‘‘  ،   ’’الاول فالاول‘‘۔ لیکن بہرحال مجموعی طور پر ہم امتِ مسلمہ پر جہاد کی فرضیت کا اصول اس وقت لاگو نہیں ہو گا تو کب لاگو ہو گا۔ لیکن بہرحال ہمیں اپنے اپنے دائرے میں امتِ مسلمہ کا حوصلہ قائم رکھنے کے لیے، بیدار رکھنے کے لیے، فکری تیاری کے لیے۔

اور دو تین محاذ ہمارے ہیں:

  1. ایک تو یہ ہے کہ علماء کرام ہر علاقے میں ہر طبقے میں ہر دائرے میں اپنے کردار کو اپنے حوصلے کو قائم رکھتے ہوئے امت کا حوصلہ قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ آج ایک محاذ میڈیا وار کا بھی ہے، لابنگ کا بھی ہے، اس میں جو لوگ صلاحیت رکھتے ہیں ان کو کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  3. اور تیسرا محاذ بائیکاٹ کا ہے، اب تو یہ مرحلہ آ گیا ہے، اسرائیل نہیں، اس کے سرپرستوں کے معاشی بائیکاٹ کی بھی ضرورت پیش آ رہی ہے، اور یہ معاشی بائیکاٹ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معاشی بائیکاٹ حضورؐ کا بھی ہوا ہے، حضورؐ نے بھی کیا ہے۔ شعبِ ابی طالب میں حضورؐ کا ہوا تھا، غزوہ خندق میں حضورؐ نے کیا تھا۔ اور اس کی مختلف مثالیں موجود ہیں۔

تو لابنگ کی جنگ، میڈیا کی جنگ، حوصلہ قائم رکھنے کی جنگ، اور معاشی بائیکاٹ، اس میں جس قدر ہم زیادہ توجہ دے سکیں۔ کوئی لکھ سکتا ہے تو لکھے، بول سکتا ہے تو بولے، خرچ کر سکتا ہے تو خرچ کرے، کوئی لوگوں کے ساتھ رابطے کر سکتا ہے تو رابطے کرے۔ جو بھی کسی میں صلاحیت ہے، آج یہ وقت ہے، جو بھی کسی کے پاس موقع ہے، توفیق ہے، صلاحیت ہے، وہ اس کو اپنے فلسطینی بھائیوں کے لیے، فلسطین کی آزادی کے لیے، اسرائیلی درندگی کی مذمت کے لیے، اس میں رکاوٹ کے لیے، مسجد اقصیٰ بیت المقدس کی آزادی کے لیے، جو بھی کر سکتا ہے وہ کرے۔

ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ ایک مثال دیا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ایک چڑیا چونچ میں پانی ڈالتی تھی، ایک پرندہ تھا، اس سے کسی نے پوچھا، تیرے پانی ڈالنے سے کیا ہو گا؟ اس نے کہا، ہو گا یا نہیں ہو گا، میری جتنی چونچ ہے اتنا پانی تو میں ڈالوں گی۔ یہ کم از کم کہ جو ہم کر سکتے ہیں وہ تو کریں، میں دیانت داری کے ساتھ (کہوں گا) کہ مجھے، سب کو اپنے اپنے ماحول کو دیکھنا چاہیے، اپنی اپنی توفیقات کو دیکھنا چاہیے اور جو کر سکتے ہیں اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے مظلوم فلسطینی بھائیوں پر رحم فرمائے، ہم پر رحم فرمائے۔ مولا کریم! فلسطین کی آزادی، غزہ کے مسلمانوں کی اسرائیلی درندگی سے گلوخلاصی، اور اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی بدمعاشی سے نجات دلانے کے لیے اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائیں اور خود مہربانی فرمائیں، فضل فرمائیں کہ اس مرحلے پر عالمِ اسلام کی، امتِ مسلمہ کی دستگیری فرمائیں، ان کو اس عذاب سے نجات دلائیں۔ اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الامی واٰلہ واصحابہ وبارک وسلم۔



مولانا زاہد الراشدی کا ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور آزادکشمیر کے فلسطین سیمینار سے خطاب

مفتی محمد عثمان جتوئی

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر اور فلسطین کے بارے میں اپنے فیصلوں اور قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہو گئی ہے اس لیے مسلم ممالک کو کوئی متبادل راستہ ہی تلاش کرنا ہو گا اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے عالم اسلام کے مستقبل کے حوالے سے جلد از جلد کوئی متبادل لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ وہ آج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور آزادکشمیر کے زیر اہتمام ’’فلسطین سیمینار‘‘ سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت بار کے صدر جناب چوہدری محمود پلاکوی نے کی۔

مولانا راشدی نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدہ کے بعد اور قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو جانے کے بعد غزہ پر اسرائیل کے پے در پے حملے اور ہونے والی تباہی کر سراسر اسرائیلی درندگی کے سوا کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا جس کے لیے اس نے تمام اخلاقی، قانونی اور سیاسی حدود پامال کر دی ہیں اور امریکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور عالمی عدالت کے فیصلوں کی پامالی کے بعد خود اقوام متحدہ کا کردار ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب مغرب کو بہرحال دینا ہو گا اور تاریخ کبھی اسے معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلہ میں مسلم حکمرانوں کی مسلسل خاموشی اور او-آئی-سی کی بے حسی آج کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اور مسلم حکمرانوں کی اس مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کے بعد عالم اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے حوالہ سے دینی حلقوں اور علماء کرام کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امتِ مسلمہ کی راہ نمائی کے لیے آگے آنا چاہیے اور امتِ مسلمہ کو سنبھالنا چاہیے۔

مولانا راشدی نے آزادکشمیر کی عدالتوں میں جج صاحبان اور قاضی صاحبان کے مشترکہ فیصلوں کے ماحول پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ علماء کرام اور وکلاء مل کر معاشرے کو سنبھالیں گے تو حالات میں بہتری آئے گی اور دونوں کا یہ مشترکہ ماحول ملک کے دیگر حصوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طبقہ کو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے جو بھی ماحول کے مطابق کیا جا سکتا ہے اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

(۸ اپریل ۲۰۲۵ء)


غزہ کی تازہ ترین صورتحال اور نیتن یاہو کے عزائم

قائد ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی خدمت میں

مولانا فتیح اللہ عثمانی

 پس منظر

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑ کر غزہ پر دوبارہ بھرپور حملے شروع کیے ہیں۔ یہ حملے 471 دن کے تباہ کن جنگی تسلسل کے بعد اس وقت شروع کیے گئے جب اسرائیل عسکری طور پر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

موجودہ صورتحال (اعداد و شمار)

شہادتیں: 60,000+ (جن میں 18,000 بچے اور 12,000 خواتین شامل)۔

زخمی: 115,000+

تباہ شدہ عمارتیں: 3 لاکھ سے زائد (اسکول، اسپتال، مساجد، رہائشی عمارات، گرجا گھر)۔

معاشرتی و اقتصادی تباہی: غزہ مکمل طور پر مفلوج، پانی، بجلی، غذا، دوا کی قلت شدید ترین۔

نتن یاہو کے عزائم

ذاتی کرپشن کیسز سے توجہ ہٹانا، شدت پسند اتحادیوں کو خوش رکھنا، حماس کا مکمل خاتمہ، غزہ کو غیر مسلح و خالی کرنا، پورے فلسطین پر مکمل قبضے کی راہ ہموار کرنا، اسرائیل کو ’’یہودی قوم پرست ریاست‘‘ کے طور پر مضبوط کرنا۔

ناکامیوں کا اعتراف

صہیونی ریاست کی تمام تر قوت، عالمی حمایت اور مظالم کے باوجود فلسطینی مزاحمت کمزور نہیں ہوئی۔ اسرائیلی معاشرہ اندرونی خلفشار کا شکار، جنگ کے خلاف رائے عامہ میں اضافہ۔ نیتن یاہو کی پالیسیز کو خود اسرائیلی تجزیہ کار “شخصی مفادات کی جنگ” قرار دے چکے ہیں۔

مزاحمت کا کردار

حماس اور جہاد اسلامی صرف عسکری نہیں، بلکہ فکری، نظریاتی اور عوامی بنیادوں پر استوار تحریکیں ہیں۔ فلسطینی عوام کا اعتماد ان تحریکوں پر قائم ہے، جو اسلامی فکر اور مزاحمتی قوت کی علامت ہیں۔

عرب و عالمی رویہ

بیشتر عرب حکومتیں حماس و مزاحمت کی مخالفت میں اسرائیل کی خاموش یا عملی حمایت کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف بیانات تک محدود ہیں۔ عوامی سطح پر عالمی ضمیر بیدار ہے مگر حکومتیں مصلحتوں کا شکار۔

تجاویز 

  1. قومی سطح پر مضبوط آواز بلند کریں: قائد جمعیت کا جاندار موقف امت کے ضمیر کی آواز بن سکتا ہے۔ ریاستی پالیسی پر سیاسی دباؤ ضروری ہے۔
  2. پارلیمانی سطح پر قرارداد لائیں: غزہ کے مظالم کے خلاف قومی اسمبلی و سینیٹ میں قراردادیں پیش کی جائیں۔
  3. عالمی فورمز پر سفارتی کوششیں: او آئی سی، یو این اور دیگر عالمی اداروں میں غزہ پر جنگی جرائم کے مقدمات کے لیے عملی دباؤ۔
  4. عوامی بیداری مہم: خطبات جمعہ، سیمینار، اور میڈیا کے ذریعے فلسطینی کاز کے حق میں عوامی شعور پیدا کیا جائے۔
  5. اسلامی قیادت سے رابطے: سعودیہ ترکی، ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک کی مذہبی قیادت سے مشاورت و ہم آہنگی۔
  6. مزاحمت کے اخلاقی و فکری پہلو پر روشنی: حماس و مزاحمت کو دہشتگردی کے بجائے جدوجہدِ آزادی اور ایمانی غیرت کے مظہر کے طور پر اجاگر کیا جائے۔

اختتامی کلمات

حضرت قائد محترم، آپ کی بصیرت اور اسلامی موقف نے ہمیشہ امت کے لیے رہنمائی فراہم کی ہے۔ یہ وقت ہے کہ فلسطین کے مظلوموں کی صدائے درد کو عالم اسلام کے ایوانوں تک پہنچایا جائے۔ پاک فلسطین فورم اس راہ میں آپ کی قیادت کا منتظر اور معاون ہے۔

حالیہ فلسطین جنگ میں شہید ہونے والے جرنلسٹس

الجزیرہ

۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد دو سو سے زیادہ جرنلسٹس، جن میں زیادہ تر فلسطینی ہیں، اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران جاں بحق ہو چکے ہیں۔


محمد سامي عبد الله جرغون (Mohamed Samy Abd Allah Jarghoun)

محمد تهامي عبد السلام السلحي (Mohamed Tohamy Abd Al-Salam Al-Salhi)

إبراهيم محمد عبد الله لافي (Ibrahim Muhamed Abd-Allah Lafy)

محمد تشرين صبحي ياغي (Mohamed Teshren Subhy Yaghe)

أسعد عبد الناصر أسعد شملخ (Asaad Abd Al-Nasser Asaad Shamlakh)

أنس إبراهيم حسين أبو شمالة (Anas Ibrahim Hussein Abu Shamala)

أنغام أحمد محمد عدوان (Angham Ahmed Mohamed Adwan)

محمد رزق محمود صبح (Mohamed Rizq Mahmoud Sobh)

سعيد رضوان سعيد الطويل (Saeed Radwan Saeed Al-Taweel)

هشام محمد فخري النواجحة (Hisham Mohamed Fakhri Al-Nawajah)

رجب محمد رجب النقيب (Rajab Mohamed Rajab Al-Naqeb)

مصطفى محمد رجب النقيب (Mustafa Mohamed Rajab Al-Naqeb)

محمد فايز يوسف أبو مطر (Mohamed Fayez Youssef Abu Matar)

عبد الرحمن ربيع عبد الرحمن شهاب (Abd Al-Rahman Rabie Abd Al-Rahman Shehab)

أحمد عبد الرحمن أحمد شهاب (Ahmed Abd Al-Rahman Ahmed Shehab)

علي عبد الله حسن نسمان (Ali Abd Allah Hassan Nasman)

سلام خليل محمد ميمة (Salam Khalil Mohamed Mema)

يوسف ماهر يوسف دواس (Youssef Maher Youssef Dawas)

حسام محمود حسن مبارك (Hossam Mahmoud Hassan Mubarak)

عبد الهادي سعد الله رشاد حبيب (Abd Al-Hadi Saadallah Rashad Habib)

عصام محمد صبحي بحر (Essam Mohamed Sobhi Bahar)

محمد جميل محمد أبو الجليل (Mohamed Jamil Mohamed Abu Al-Jalil)

محمود جمال محمود أبو ظريفة (Mahmoud Jamal Mahmoud Abu Zarifa)

سميح عبد الرزاق خميس النادي (Sameeh Abd Al-Razzaq Khamis Al-Nady)

عبد الرحمن سامر عبد الفتاح الطناني (Abd Al-Rahman Samer Abd Al-Fatah Al-Tanany)

محمد محمد عبد الرحمن علي (Mohamed Mohamed Abd Al-Rahman Ali)

خليل إبراهيم علي أبو عذرة (Khalil Ibrahim Ali Abu Azrah)

إيمان جمال أحمد العقيلي (Eman Gamal Ahmed Al-Aqili)

عايد إسماعيل النجار (Ayed Ismail Al-Najjar)

هاني إبراهيم سليم المدهون (Hany Ibrahem Salim Al-Madhoun)

رشدي يحيى رشدي السراج (Rushdi Yahya Rushdi Al-Sarraj)

محمد عماد سعيد لبد (Mohamed Imad Saeed Labad)

محمد محمد خالد الشوربجي (Mohamed Muhamed Khaled Al-Shorbagy)

مصعب محمد عوني عاشور (Musab Mohamed Aouny Ashour)

سلمى حمادة مصباح مخيمر (Salma Hamada Mesbah Mekhaimer)

جمال عارف سالم الفقاو (Jamal Arif Salem Al-Faqawi)

محمد فايز عبد الحسني (Mohamed Faiz Abd Al-Hassani)

سائد سمير محمود الحلبي (Saed Samir Mahmoud Al-Halabi)

أحمد عبد الحي عبد الله أبو مهادي (Ahmed Abd Al-Hay Abd Allah Abu Mhadi)

دعاء بشير خليل شرف (Doaa Bashir Khalil Sharaf)

ياسر صبحي حسن أبو ناموس (Yasser Sobhi Hassan Abu Namous)

نظمي سعدي نظمي النديم (Nazmi Saadi Nazmi Al-Nadeem)

حذيفة تيسير عايش النجار (Huzifa Tayseer Ayesh Al-Najjar)

عماد عبد المهدي زراعي الوحيدي (Emad Abd Al-Mahdi Zarai Al-Wahidi)

ماجد أحمد هاشم كشكو (Majed Ahmed Hashem Kashko)

إياد تايه جميل مطر (Iyad Tayeh Jamil Matar)

مجد فضل محمد أرنداس (Majd Fadl Mohamed Arandas)

محمد حسن حسن البياري (Mohamed Hasan Hasan Al-Bayari)

محمد سالم سلامة أبو حطب (Mohamed Salem Salama Abu Hatab)

هيثم شريف حمدي حرارة (Haitham Shareef Hamdy Harara)

يحيى عمر عامر أبو منيعة (Yahya Omar Amer Abu Manea)

محمد غنام توفيق الجاجة (Mohamed Ghanam Tawfiq Al-Jaja)

محمد أبو حصيرة (Mohamed Abu Hasira)

أحمد محمود محمد القرة (Ahmed Mahmoud Mohamed Al-Qara)

يعقوب عنان محمد البورش (Yaqoub Annan Mohamed Al-Borsh)

أحمد أمين رضوان فاطمة (Ahmed Amin Radwan Fatima)

موسى البورش (Musa Al-Borsh)

محمود سامي حسن مطر (Mahmoud Sami Hassan Matar)

ساري جمال محمد منصور (Sari Jamal Mohamed Mansour)

عبد الحليم عوض (Abd AL-Halem Awad)

مصطفى حسني محمود صواف (Mustafa Hosni Mahmoud Sawaf)

عمرو صلاح أبو حية (Amr Salah Abu Hayyah)

بلال جد الله حسن سالم (Bilal Jadallah Hassan Salem)

آمال حسن أحمد زهد (Amal Hassan Ahmed Zuhd)

حسونة ياسر حسونة سالم (Hassouna Yasser Hassouna Salem)

علاء الدين عاطف النمر (Alaa Al-Dine Atef Al-Nimr)

آيات عمر خضورة (Ayat Omar Khadoura)

خميس سامر خميس سالم ديب (Khamis Samer Khames Salem Deeb)

محمد نبيل الزق (Mohamed Nabil Al-Zaq)

عاصم عدلي البرش (Assem Adly Al-Barash)

جمال محمد هنية (Gamal Mohamed Haniyah)

محمود مشتهى (Mahmoud Mashtahe)

محمد معين محمود عياش (Mohamed Moin Mahmoud Ayyash)

مصطفى كمال عبد القادر بكير (Mustafa Kamal Abd Al-Qader Bakir)

حذيفة سمير لولو (Huzaifa Samir Lulu)

نادر محمود النزلي (Nader Mahmoud Al-Nazli)

عبد الله درويش (Abd Allah Darwish)

أدهم حسونة (Adham Hassouna)

منتصر مصطفى الصواف (Montaser Mustafa Al-Sawaf)

محمد عامر فرج الله (Mohamed Amer Faraj Allah)

مروان مصطفى الصواف (Marwan Mustafa Al-Sawaf)

حسن عبد الفتاح فرج الله (Hassan Abd Al-Fattah Farag Allah)

شيماء زايد خميس الجزار (Shaima Zayed Khamis Al-Jazzar)

عبد الحميد سليمان سالم القرناوي (Abd Al-Hameed Soliman Salem Al-Qarinawi)

محمود محمد أحمد سالم (Mahmoud Mohamed Ahmed Salem)

حمادة محمد وليد اليازجي (Hamada Mohamed Waleed Al-Yaziji)

سالم مصطفى النفر (Salem Mustafa Al-Naffar)

دعاء سند محمود الجبور (Doaa Sanad Mahmoud Al-Jabour)

علا عطا الله (Ola Ata Allah)

حسام عمر محمود عمار (Hossam Omar Mahmoud Ammar)

محمد عارف أبو سمرة (Mohamed Aref Abu Samra)

علي كدر خالد عاشور (Ali Kedr Khaled Ashour)

نرمين قواس (Nermin Qawas)

أحمد حمدي أبو عبسة (Ahmed Hamdi Abu Absa)

حنان بسام عبد الحميد عياد (Hanan Bassam Abd Al-Hameed Ayad)

عبد الكريم محمد عودة (Abd Al-Karim Mohamed Odah)

سامر خليل سلمان أبو دقة (Samer Khalil Salman Abu Daqah)

محمد نصر كامل أبو هويدي (Mohamed Nasr Kamel Abu Huwaidi)

رامي هشام محمد بدر (Rami Hisham Mohamed Beder)

عاصم كمال صبحي موسى (Assem Kamal Sobhi Musa)

مشعل أيمن نظمي شهوان (Mishal Ayman Nazmi Shahwan)

حنين علي حسن القطشان (Haneen Ali Hassan Al-Qatshan)

عبد الله علوان (Abd Allah Alwan)

عادل أحمد محمد زروب (Adel Ahmed Mohamed Zoroub)

علاء سليمان حمد أبو معمر (Alaa Suleiman Hamad Abu Muammar)

محمد رمضان خليفة (Mohamed Ramadan Khalifa)

أحمد جمال المدهون (Ahmed Jamal Al-Madhun)

محمد يونس صالح الزيتونة (Mohamed Younis Saleh Al-Zaytouna)

محمد عبد الخالق العف (Mohamed Abd Al-Khaleq Al-Aff)

أحمد ماهر أحمد خير الدين (Ahmed Maher Ahmed Khair El-Din)

محمد أحمد محمود خير الدين (Mohamed Ahmed Mahmoud Khair El-Din)

جبر محمود جبر أبو هدروس (Jabr Mahmoud Jabr Abu Hadros)

نرمين نصر عبد الوهاب حبوش (Nermin Nasr Abd Al-Wahab Haboush)

أكرم أحمد خليل الشافعي (Akram Ahmed Khalil Al-Shafii)

حمزة وائل حمدان الدحدوح (Hamza Wael Hamdan Al-Dahdouh)

مصطفى سعيد زهدي ثريا (Mustafa Saeed Zohdi Thuraya)

علي سالم أبو عجوة (Ali Salem Abu Ajwa)

عبد الله إياد العبد باريس (Abd Allah lyad Alabd Baris)

محمد مصباح أبو داير (Mohamed Mesbah Abu Dayer)

هبة فؤاد العبادلة (Heba Fouad Al-Abadla)

أحمد نعيم حسين بدر (Ahmed Naeem Hussein Beder)

فؤاد أحمد محسن أبو خماش (Fouad Ahmed Mohsen Abu Khammash)

شريف نافذ مصطفى عكاشة (Sherif Nafez Mustafa Okasha)

محمد جمال صبحي الثلاثيني (Muhamed Jamal Sobhi Al-Thalathiini)

يزن عماد الزويدي (Yazan Emad Al-Zwaidi)

وائل رجب أبو فنونة (Wael Rajab Abu Fununa)

كرم أحمد عطا أبو عجرم (Karam Ahmed Atta Abu Ajerm)

إياد أحمد سلمان الرواغ (lyad Ahmed Salman Al-Rawag)

محمد عبد الفتاح راشد عطا الله (Mohamed Abd Al-Fattah Rashed Atallah)

عصام حيدر هاشم اللولو (Essam Haidar Hashem Al-Lulu)

ظاهر ظاهر محمد الأفغاني (Zaher Zaher Mohamed Al-Afghani)

نافذ محارب محمود حمدان (Nafez Muhareb Mahmoud Hamdan)

ياسر ممدوح يوسف الفاضي (Yasser Mamdouh Youssef Al-Fadi)

علاء حسن حمود الهمص (Alaa Hassan Ahmoud Al-Hams)

معتز مصطفى الغفري (Mutaz Mustafa Al-Ghafri)

محمد رسلان رشاد شنيورة (Mohamed Raslan Rashad Shanioura)

زيد محمد زايد أبو زايد (Zaid Muhamedd Zayed Abu Zayed)

مصعب محمد زايد أبو زايد (Mussab Mohamed Zayed Abu Zayed)

محمد خضر أحمد سلمى (Mohamed Khadr Ahmed Salma)

رزق محمد غازي الغرابلي (Rizq Muhamed Ghazi Al-Gharabli)

محمد رشاد رشدي الرفي (Mohamed Rashad Rushdi Al-Reffy)

عبد الرحمن علي محمد صايمة (Abd Al-Rahman Ali Mohamed Saimah)

محمود عماد عطية عيسى (Mahmoud Emad Atiyah Esa)

عبد الوهاب عوني حامد أبو عون (Abd Al-Wahab Aouny Hamed Abu Oun)

مصطفى خضر عبد بحر (Mustafa Khedr Abd Bahr)

محمد عادل سعيد أبو سخل (Mohamed Adel Said Abu Skheel)

محمد السعيد إسماعيل أبو سخل (Mohamed Al-Said Ismail Abu Skheel)

طارق السعيد إسماعيل أبو سخل (Tareq Al-Said Ismail Abu Skheel)

آمنة محمود حسن حميد (Amenah Mahmoud Hassan Hommid)

محمد بسام أحمد الجمل (Mohamed Bassam Ahmed Al-Gamal)

أيمن محمد عبد الله الجرابوي (Ayman Mohamed Abd Allah Al-Garabawy)

إبراهيم محمد عبد الله الجرابوي (Ibrahim Mohamed Abd Allah Al-Garabawy)

سالم حسني سالم أبو طيور (Salem Hassani Salem Abu Toyour)

مصطفى حاتم عياد (Mustafa Hatem Ayyad)

بهاء روحي محمود عكاشة (Baha Rouhi Mahmoud Okasha)

هائل ديب النجار (Hael Deeb Al-Najjar)

محمود محمد جهجوح (Mahmoud Mohamed Jahjouh)

عبد الله أحمد يوسف الجمل (Abd Allah Ahmed Youssef Al Gamal)

أحلام عزت مصاد العجلة (Ahlam Ezzat Mosad Al-Agalah)

دينا عبد الله محمود البطانيجي (Dina Abd Allah Mahmoud Al-Batanigi)

محمود إياد إبراهيم قاسم (Mahmoud Eyad Ibrahim Qassem)

سليم محسن سليم الشرفة (Saleem Mohsen Saleem Al-Sharfa)

محمد محمود أبو شريعة (Mohamed Mahmoud Abu Shariaa)

محمد يوسف السكني (Mohamed Youssef Al-Sakanni)

صدي محمد صدي مدوخ (Sadde Mohamed Sadde Madoukh)

أمجد عبد الرحمن عبد القادر جهجوح (Amjad Abd Al-Rahman Abd Al-Kader Jahjouh)

وفاء خالد شحدة أبو دعبان (Wafaa Khalid Shehdah Abu Dabaan)

رزق باسم رزق أبو شكيان (Rizq Bassem Rizq Abu Shakian)

محمد منهل أبو أرمانة (Mohamed Manhal Abu Armanah)

محمد عبد الله مشمش (Mohamed Abd Allah Meshmesh)

محمد سعيد عبد الرحمن جاسر (Mohamed Saeed Abd Al-Rahman Jasser)

معتصم محمود عبد الرحمن غراب (Motassem Mahmoud Abd Al-Rahman Ghourab)

حيدر إبراهيم المصدر (Haidar Ibrahim Al-Masdar)

محمد ماجد إسماعيل أبو دقة (Mohamed Majid Ismail Abu Daqah)

إسماعيل ماهر خميس الغول (Ismail Maher Khemais Al-Ghoul)

رامي إياد شعبان الرفي (Rami Eyad Shaban Al-Refy)

محمد عيسى محمد أبو سعادة (Mohamed Esa Mohamed Abu Saadah)

تميم أحمد محمد أبو معمر (Tameem Ahmed Mohamed Abu Mammar)

عبد الله ماهر أحمد الصوصي (Abd Allah Maher Ahmed Alsossi)

إبراهيم مروان سالم محارب (Ibrahim Marawan Salem Mohareb)

حمزة عبد الرحمن مصطفى مرتاجة (Hamza Abd Al-Rahman Mustafa Martage)

حسام منال سعدي الدبكة (Hossam Manal Sadi Al-Dabakah)

علي نايف حسن تيمة (Ali Nayef Hassan Taimah)

محمد عبد الفتاح نظمي عبد ربه (Mohamed Abd Al-Fatah Nazmy Abd Rabbeh)

عبد الله عمر إسماعيل كشك (Abdallah Omar Ismail Keshek)

وفاء علي عبد ربه العضيني (Wafaa Ali Abd Rabbeh Al-Odini)

حسن عبد الرحيم علي حماد (Hassan Abd Al-Rahem Ali Hammad)

عبد الرحمن خضر بحر (Abd Al-Rahman Khedr Bahr)

محمد روحي مصطفى الطناني (Mohamed Rouhi Mustafa Al-Tanani)

أيمن محمد رويشد (Ayman Mohamed Roweshed)

ناديا عماد يوسف السعيد (Nadya Emad Youssef Al-Said)

حنين محمود سلمان بارود (Haneen Mahmoud Salman Barrod)

حمزة ماجد أبو سلمية (Hamza Majid Abu Selmeia)

سعيد سعيد رضوان (Saeed Saeed Radwan)

عمرو ناهد أبو عودة (Amr Nahed Abu Ouda)

بلال محمد رباح رجب (Belal Mohamed Rabah Rajab)

براء علي دغيش (Baraa Ali Daghesh)

خالد وليد محمود أبو زر (Khalid Walid Mahmoud Abu Zer)

زهراء محمد إسماعيل أبو سخل (Zahra Mohamed Ismail Abu Skheel)

أحمد محمد إسماعيل أبو سخل (Ahmed Mohamed Ismail Abu Skheel)

مهدي حسن المملوك (Mahdi Hassan Al-Mamlouk)

محمد صالح الشريف (Mohamed Saleh Al-Sharif)

أحمد يوسف أبو شرية (Ahmed Youssef Abu Shariya)

عبد الرحيم عبد ربه الطهراوي (Abd Al-Rahem Abd Rabbeh Al-Tahraoui)

محمود سعيد الخطيب (Mahmoud Saeed Al-Khateb)

وائل إبراهيم أبو كوفه (Wael Ibrahim Abu Koffah)

ممدوح إبراهيم كنيطة (Mamdoh Ibrahim Knita)

ميسرة أحمد صلاح (Misrah Ahmed Salah)

إيمان حاتم الشنطي (Eman Hatim Al-Shante)

محمد حمد بلوشة (Mohammed Hamad Baloosha)

محمد جبر القرناوي (Mohammed Jabr Al-Qarinawi)

أحمد بكر اللوح (Ahmed Bakr Al-Louh)

أيمن الجدي (Ayman Al-Jady)

فيصل أبو القمصان (Faisal Abu Al-Qomsan)

فادي حسونة (Fady Hassouna)

إبراهيم الشيخ علي (Ibrahem Al-shaikh Ali)

محمد اللدا (Mohamed Al-Ladaa)

فرح عمر (Farah Omar)

ربيع المعماري (Rabih al-Maamari)

عصام عبد الله (Issam Abdallah)

www.aljazeera.com

’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘

پاکستان کو سیکولر / سوشلسٹ ریاست بنانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

پروفیسر خورشید احمد

انٹرویو نگار : اظہر نیاز

اظہر نیاز: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میں ہوں اظہر نیاز اور پروگرام ہے ہمارا ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ ۔ ہمارے آج کے مہمان ہیں جناب پروفیسر خورشید احمد صاحب، ہمارے لیے بہت ہی سعادت کی بات ہے، انہوں نے بہت ہی مصروف وقت سے ہمارے لیے وقت نکالا، میں سر آپ کا بہت نہایت ممنون ہوں، آپ نے وقت دیا، آپ کی صحت بھی ٹھیک نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی آپ نے وقت دیا جس کے لیے میں آپ کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے۔ 

پروفیسر خورشید احمد: جزاک اللہ جی، بس ٹھیک ہے، میں حاضر ہوں۔

اظہر نیاز: ۲۳ مارچ ۱۹۳۲ء غالباً‌ آپ کی جو ہے تاریخِ پیدائش ہے اور دلی وہ جگہ ہے۔ جب پاکستان بنا تو اس وقت آپ تھے کوئی۔

پروفیسر خورشید احمد: میں پندرہ سال (کا تھا)۔ 

اظہر نیاز: پندرہ سال، آپ کو تو اچھی طرح یاد ہو گا۔

پروفیسر خورشید احمد: ہر چیز، ہر چیز، بالکل۔

اظہر نیاز: تو ہمارے لیے تو یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ آپ وہ شخصیت ہیں جو یہ کہہ سکتے ہیں کہ  میں نے پاکستان بنتے دیکھا۔ 

پروفیسر خورشید احمد: کوئی شبہ نہیں، میں نے بنتے بھی دیکھا اور ایک نوجوان  کی حیثیت سے اس میں حصہ بھی لیا۔ 

اظہر نیاز: اچھا اب پہلے تو میں تھوڑا سا آپ کے بچپن کے حوالے سے، دلی اس وقت کیسا تھا؟ 

پروفیسر خورشید احمد: دلی، ہندوستان کا قلب، مسلمانوں کی سلطنت کا  دارالخلافہ تقریباً‌ ایک ہزار سال رہا ہے۔ اور ہماری تہذیب، ہماری تاریخ، ہماری روایات،  ان کا امین تھا۔ اور گو مسلمان اکثریت میں نہیں تھے، دلی کی آبادی کا تقریباً‌ ایک تہائی مسلمان تھے، لیکن اس کے چپے چپے پر  مسلمان تہذیب، اسلامی روایات کی چھاپ تھی۔ البتہ سوسائٹی میں سب موجود تھے، متمول طبقہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ، کرخندار جو دلی کی روایتی آبادی کہی جاتی تھی، اپنے زبان  کے اعتبار سے وہ بڑے معتبر تھے لیکن ان کا خاص انداز تھا۔ دلی میں (پنجابیوں) کی ایک بڑی آبادی تھی، جن کا اوریجن پنجاب سے تھا لیکن وہ سیٹلڈ دلی میں تھے۔ تو دلی کو سیاسی، معاشی، ادبی، تہذیبی، ہر اعتبار سے مرکز کہا جا سکتا ہے۔ 

اور پھر یہ زمانہ جسے میں نے بہرحال دیکھا بھی اور ایک حد تک شریک بھی ہوا، وہ بڑا ہنگامہ خیز زمانہ تھا۔  میرا اپنا گھرانہ الحمد للہ ایک اچھا متمول گھرانہ تھا، اعلیٰ تعلیم یافتہ میری فیملی کے ممبر تھے، ہماری عورتوں کی بھی تعلیم کا رواج تھا۔ میری والدہ نے، جو دلی کا سب سے اچھا انگلش میڈیم سکول تھا، اس سے میٹرک کیا تھا، میرے والد نے علی گڑھ یونیورسٹی سے  بی اے کیا تھا، میں نے خود اپنی پوری تعلیم جو ہے، وہ کسی privileged ادارے میں نہیں، پرائمری سکول سے شروع کیا میں نے، اس کے بعد پھر قرول باغ جہاں ہم رہتے تھے، مڈل سکول سے مڈل کیا۔ اور  مڈل کے بعد پھر میں اینگلوعریبک سکول  اجمیری گیٹ۔ 

اظہر نیاز: اچھا سر، میں چاہوں گا کہ تھوڑا سا اسکولنگ جو ہے، ہمارے   اس وقت کی سکولنگ ہے، اس زمانے میں آپ پرائمری میں جا کر داخل ہوئے سکول میں، پانچویں جماعت تک آپ گھر  ہی پڑھتے رہے ؟

پروفیسر خورشید احمد: بالکل، میرے زمانے میں چار سال تک پرائمری ہوا کرتی تھی،  بعد میں پانچ ہوئی ہے، اور پرائمری کا باقاعدہ امتحان ہوتا تھا، اس کے بعد مڈل تھا۔ تو پانچ سے آٹھ تک مڈل میں، اور پھر نو، دس اور گیارہ سیکنڈری سکول، یہ تھا ہمارا، اس کے بعد پھر کالج۔ 

اظہر نیاز: اسکول یاد ہے آپ کو پہلا اپنا، کون سا تھا، کیسا تھا، اس کے ٹیچر۔ 

پروفیسر خورشید احمد: خوب اچھی طرح، پرائمری سکول جو تھا، وہ بہت سمپل لیکن صاف ستھرا، اور پرائمری سکول کے جو ہمارے استاذ تھے، وہ میرے استاذ سے زیادہ اَتالیق  بھی تھے، ماسٹر اکرم عثمانی، حافظ قرآن تھے، پانی پت سے ان کا تعلق تھا، ابتدائی تعلیم ہم نے ان کی زیرنگرانی شروع کی۔ قرآن کی تعلیم گھر پر رہی۔ اس کے بعد پھر جب مڈل سکول میں آیا ہوں،  تو یہ مڈل سکول مکس تھا، اس میں مسلمان بھی تھے، ہندو بھی تھے، مسٹر پٹیل ہمارے ہیڈماسٹر تھے، کرشن چندر ہمارے انگریزی کے استاذ تھے۔

اظہر نیاز: اچھا معروف کرشن چندر جو ہیں، یا اور آدمی؟ ایک بہت مشہور آدمی بھی ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد: نہیں نہیں، وہ نہیں۔ اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ وہاں پر فارسی کے استاذ تھے، اور مولانا ادریس ؒ عربی کے استاذ تھے۔ احتشام صاحب اردو بھی پڑھاتے تھے، فارسی بھی پڑھاتے تھے۔ میں نے ان سے فارسی پڑھی ہے چند دن، دو ہفتے، پھر میں عربی میں آگیا، لیکن وہ میرے استاذ رہے ہیں، یہ مڈل سکول میں ہمارے۔ تو آٹھویں تک میں نے وہاں تعلیم پائی۔ یہ اس حیثیت سے بڑا اچھا تھا کہ ایک طرف ہمارا اپنا یعنی مذہبی اور دینی تشخص تھا، لیکن ساتھ ہی ہمارا اٹھنا بیٹھنا ہندوؤں میں، سکھوں میں۔ عیسائی بہت کم تھے، یعنی دری جسے کہتے ہیں، وہ بھی بہت کم تھے، لیکن ایک دو طالب علم۔ 

لیکن میں آپ کو بتلاؤں کہ گو اچھے استاذ ہندوؤں میں بھی تھے، اور میں نے تعلیم کی حد تک ان میں تعصب نہیں دیکھا، لیکن اپنی ذاتی زندگی میں اور معاملات کے اندر بلاشبہ ہم اور وہ بالکل دو مختلف دنیائیں تھیں، ہمارے لیے مسلمان پانی الگ ہوتا تھا، ہم لوگ ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے تھے ، تو فطری طور پر مسلمان طلبہ مسلمانوں میں ہی زیادہ اٹھتے بیٹھتے تھے، لیکن ایک انٹریکشن رہتا تھا۔ 

لیکن پھر جب میں اینگلو عریبک کالج میں آگیا، اسکول میں آگیا، تو وہ دراصل پھر پورا مسلمانوں کا ادارہ تھا  اور یہ   تاریخی ادارہ تھا، جس طرح علی گڑھ، اسی طرح سر سید نے دلی میں یہ قائم کیا تھا۔ تو میرے زمانے میں اینگلو عریبک ہائر سیکنڈری سکول اجمیری گیٹ، جہاں میں پڑھتا تھا،  یہ ہمارے گھر سے کوئی تقریباً‌ ساڑھے تین چار میل کے فاصلے پر تھا۔ اسی طریقے سے اینگلو عریبک دریا گنج کے علاقے میں بھی تھا۔ 

اور قرول باغ میں جہاں ہم رہتے تھے اس کے قریب جامعہ ملیہ بھی تھی۔ اور جامعہ ملیہ کا جو دسویں تک تعلیم  (کا سلسلہ تھا) وہ یہاں تھا، اور دسویں تک اور اس سے آگے تک پھر اوکھلے میں، وہاں سے کوئی تقریباً‌ سات آٹھ میل دور، اپنا بہت بڑا خوبصورت کیمپس تھا …… ڈاکٹر ذاکر حسین اس کے ہیڈ تھے، جامعہ ملیہ کے۔ ڈاکٹر محمود حسین کے بڑے بھائی۔ 

اور جامعہ میں مسلمان طلبہ کے کمپی ٹیشن ہوا کرتے تھے، خاص طور سے ایک محمد علی ٹرافی کمپی ٹیشن  تھا، مولانا محمد علی جوہرؒ کے نام پر۔ اور میں جب پرائمری میں تھا یعنی چوتھی جماعت میں، اس وقت سے ہم اس میں شرکت کرتے تھے۔ سال میں تین دن کا وہ پروگرام ہوتا تھا، اس میں کیمپنگ بھی تھی، اس میں ڈیبیٹس بھی تھیں، ایکسٹمپورز  بھی تھے، نظم پڑھنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا، اور میں نے ایکسٹمپور سپیچز کے اندر اور نظم پڑھنے کے اندر، مناظرہ کہتے تھے اس کو، ان سب میں شرکت کی۔ 

میرے خیال سے تعلیم کا معیار بہت اچھا تھا، آج میں دیکھتا ہوں تو، کوالٹی کے اعتبار سے ۔ اور سب سے اہم  بات یہ ہے کہ استاذ اور طالب علم کا جو پرسنل ریلیشن شپ تھا، وہ صرف علم کا ٹرانسفر نہیں تھا  بلکہ ایک اٹیچمنٹ تھی۔ شخصیت سازی اور پھر استاذ کی عزت و احترام۔ یعنی ماسٹر اکرم کے بارے میں میں کہہ سکتا ہوں کہ ماں باپ کے بعد سب سے بڑا انفلوئنس میری زندگی میں انہی کا رہا ہے۔ اور پھر چونکہ میرے والد صاحب کا ایک خاص تصور بھی تھا، تو انہوں نے ان کے لیے گھر ہمارے گھر کے پاس لے کر دیا ہوا تھا۔ اور اسکول کے شام کے اوقات میں وہ ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھے، ہمیں پڑھاتے بھی تھے، اور کھیل کے لیے بھی وہی ساتھ لے کر جاتے تھے۔ تو  اس طرح گویا کہ ایک (اظہر نیاز: فیملی  جو ہے) ایزیکٹلی، وہ ریلیشن شپ تھا۔  اور یہ سلسلہ میرا جب میں مڈل تک تھا، اس وقت تک کا رہا ہے۔ اس کے بعد پھر زیادہ انڈیپنڈنس ہو گئی تھی۔ 

میرے والد صاحب علمی اعتبار سے بھی ایک بڑا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے پرانے ترین دوستوں میں سے تھے۔ ہندوستان کی جو سیاسی قیادت تھی ان سب کے ڈائریکٹ تعلقات تھے ان سے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ سے، مولانا ابوالکلام آزادؒ سے، مولانا شوکت علیؒ تھے۔ مولانا شوکت علیؒ ہمارے گھر بھی آتے تھے۔ 

اظہر نیاز: یہ میں چاہ رہا تھا پوچھنا کہ بچپن میں بلکہ جوانی کہیں، گھر میں آپ کے، آپ کے بڑے بھائی تھے، والد تھے، تو جو پاکستان موومنٹ چل رہی تھی اس وقت۔ 

پروفیسر خورشید احمد: جی میں اس طرف آتا ہوں ابھی۔ یعنی میرے والد صاحب بہت ایکٹِو تھے سیاست میں، خلافت کی موومنٹ میں بھی تھے ایکٹو، اور جتنی بھی علمی شخصیات تھیں ان سے تعلقات رہتے تھے۔ ’’نگار‘‘ جب نیاز فتح پوری نے نکالا ہے تو اس کے بانی احباب میں سے تھے۔ ’’بزمِ نگار‘‘ نگار نے اس کو کہا تھا۔ اور پہلے سال کا نگار جب مکمل ہوا ہے تو اس پر انہوں نے ایک تصویر بھی چھاپی تھی جس میں میرے والد کی تصویر بھی تھی۔ اس زمانے میں میرے والد نے  نگار میں مارکس  (Marx)  اینگلز   (Engels) پر مضامین لکھے ہیں، مطبوعہ موجود ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے مضامین بھی نگار میں اس زمانے میں آتے تھے۔ تو مجھے بڑا اچھا ماحول دینی اعتبار سے بھی اور ادبی اعتبار سے بھی ملا۔ 

مسلم لیگ میں میرے والد بہت ایکٹِو تھے اور دلی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے وہ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے ممبر تھے جس میں دلی سے غالباً‌ پندرہ افراد کی نمائندگی تھی، ان پندرہ میں سے ایک میرے والد صاحب بھی تھے۔ 

اظہرنیاز: ما شاء اللہ۔

پروفیسر خورشید احمد: پاکستان کا جو ریزولوشن تھا ۳ جنوری والا، امپیریل ہوٹل میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہوا تھا، اس میں میرے والد شریک تھے، اور میں خود بھی اس میں ایک ینگ رضاکار کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ میں بھی، میرے بڑے بھائی  ایڈمرل ضمیر اور چھوٹے بھائی ممتاز طارق، ہم تینوں نے شرکت کی۔ اسی طرح مسلم لیگ کے جو بھی اجتماعات ہوتے تھے، ریلیز ہوتی تھیں، الیکشن کمپین ۱۹۴۶ءکی، اس وقت میں چودہ سال کا تھا۔ ڈاکٹر عبد الغنی دلی سے ہمارے کینڈیڈیٹ تھے، ان کے لیے دن رات ہم نے کام کیا۔

اظہر نیاز: قائد اعظم کو دیکھنے کا موقع آپ کو (ملا)؟

پروفیسر خورشید احمد: قائد اعظم کو نہ صرف دیکھنے کا موقع ملا، سننے کا موقع ملا، بلکہ جب دلی میں اپریل ۱۹۴۶ء  لیجسلیٹرز  کنونشن ہوئی، جس میں مرکزی اور صوبائی سطح پر جتنے لوگ بھی منتخب ہوئے تھے انتخابات میں ۴۶۔۱۹۴۵ء کے، تو بہت اہم کنونشن تھا یہ۔ اور جتنا اہم ۱۹۴۰ء کا ریزولوشن ہے، اتنا ہی اہم یہ اپریل ۱۹۴۶ء کا ریزولوشن ہے کہ جس میں پاکستان کا نام، اور پاکستان ہم کیوں قائم کر رہے ہیں، اور اس کے بعد حلف نامہ کہ ہم وفادار رہیں گے اس کے  اور سرِمو انحراف نہیں کریں گے۔ اور یہ حلف نامہ جو لکھا گیا تھا، اس کے اوپر قرآن پاک کی جو آیت تھی وہ  ’’ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین‘‘  (الانعام ۱۶۲) کہ میری زندگی اور  موت اور میری عبادت اور میری قربانی اللہ کے لیے ہے۔  اور چند ارکان نے اس پر اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ 

میں اس میں ایک ورکر کی حیثیت سے شریک تھا، دن رات، اور نوجوانوں کی طرح، کیونکہ ہمارے اپنے سکول میں ہو رہی تھی۔ اور یہ وہ موقع  تھا جب قائد اعظم سے میں نے ان کے آٹوگراف لیے  (ورنہ تو ہم نے انہیں) دور سے ہی دیکھا  ہے۔ اور سب آٹوگراف لے رہے تھے آٹوگراف بکس کے اوپر، تو میں نے یہ جدت کی تھی کہ آٹوگراف بک پر دستخط لیے اور میں قائد اعظم کا ایک فوٹو لے گیا، اور میں نے وہ ان کو دیا اس پر آٹو گراف کرنے کے لیے، تو انہوں نے آٹوگراف کرنے سے پہلے آنکھ اٹھا کر میری طرف دیکھا  اور پھر دستخط کر دیے۔   وہ ہمارے پاس ہے کہیں محفوظ۔  تو مطلب  کہ میں نے اتنے قریب سے دیکھا ہے قائد اعظم کو۔

اظہر نیاز: ما شاء اللہ،  تو وہ کہیں نکالیے گا جی۔  اس طرح سے آپ کی جو ایجوکیشن ہے وہ مڈل تک اور میٹرک تک، پھر کالج جو ہے۔ 

پروفیسر خورشید احمد: دسویں جماعت تک میں نے پڑھا تھا، گیارہویں میں تھا، گیارہویں کا امتحان میں نہیں دے سکا تھا، اس لیے کہ پھر آزاد ہو گئے تھے۔ تو مجھے سکول نے آفیشلی جو  مارکس شیٹ کہتے تھے اس کو، وہ انہوں نے سائن کر کے مہر لگا کر دی تھی، جس کی بیس پر پھر میں نے پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تو میری گیارہ سال تعلیم دلی میں ہوئی ہے، بارہویں سال لاہور میں ہوئی ہے، اور اس کے بعد سے میں نے کراچی میں تعلیم حاصل کی ہے۔ 

اظہرنیاز: اچھا میں جاننا چاہوں گا  کہ آپ کا گھرانہ تو ما شاء اللہ اس طرح سے بہت ہی ایکٹِو اس میں شامل تھا، مسلم لیگ جو ہے وہ کس طرح کا پاکستان چاہتی تھی؟

پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے، بڑا بنیادی سوال ہے آپ کا۔ اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ کا جو نقطۂ آغاز ہے، وہ ہے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ۔

 یعنی بریفلی آپ یوں سمجھیں کہ برطانوی اقتدار کو جنہوں نے چیلنج کیاوہ مسلمان تھے۔  تحریکِ مجاہدین گو بالاکوٹ میں تھی لیکن اس کی تنظیم پورے ہندوستان میں تھی۔ یعنی صوبہ سرحد جو اس وقت  تھا، اس سے لے کر بنگال تک، اور اللہ تعالیٰ غلام رسول مہر کو اجر دے، انہوں نے یہ پوری تاریخ لکھی ہے جو ڈاکومنٹڈ موجود ہے۔  پھر ۱۸۵۷ء کا واقعہ ہوا جس میں گو غیر مسلم بھی شریک تھے  لیکن اس میں لیڈرشپ، قربانیاں اور عظیم اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 

لیکن اس کے بعد پھر مسلمانوں نے محسوس کیا کہ ہم قوت سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے، عدمِ مساوات ہے قوت کی۔ تو ایک طرف انہوں نے کوشش کی کہ جو کچھ اسلامی تہذیب اور علوم ہیں ان کو محفوظ کر لیں، یہ کام دینی مدارس نے کیا  اور اس میں دیوبند، مظاہر العلوم، ندوہ، ہر ایک نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ 

دوسرا ردعمل سرسید مرحوم کا تھا، جنہوں نے کہا کہ انگریز سے لڑنا فائدہ مند نہیں ہے، مفاہمت کا راستہ اختیار کرو، انگریزی تعلیم حاصل کرو، ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرو، اور مسلمان اپنی قوت بنائیں۔  

لیکن عام مسلمانوں کا ذہن ان دونوں چیزوں کے ساتھ ساتھ یہ تھا کہ ہم اس ملک میں ایک  ہزار سال تک فرمانروا رہے ہیں، اور وہ ذہناً‌ انگریز کی حکمرانی کو اور بالادستی کو قبول نہیں کر رہے تھے۔ اس کا ایک دم مظاہرہ ہوا خلافت کی تحریک میں۔ اور یہ تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ خلافت کی تاریخ کا ڈائریکٹ فائدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو نہیں پہنچنا تھا۔ برطانیہ، جو اُن پر حکمران تھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے مقابلے پر تھا، لڑ رہا تھا ان سے، یورپی اقوام جو فوج کشی کر رہے تھے ان کے اوپر، لیکن مسلمانوں نے دولتِ عثمانیہ کے مسلمانوں کا ساتھ دیا  اور خلافت کی موومنٹ نے بالکل نیا جذبہ بغاوت کا، اسلامیت کا پیدا کیا۔ ۱۳۔۱۹۱۲ء سے لے کر   ۲۴۔۱۹۲۳ء تک یہ تحریک، یعنی برصغیر کی آزادی کی تحریک بھی تھی اور مسلمانوں کی بیداری کی تحریک بھی تھی۔ 

۱۹۰۵ء میں بنگال کی تقسیم کا واقعہ ہوا ہے اور اس تقسیم کا فائدہ مسلمانوں کو پہنچ رہا تھا، لیکن ہندوؤں نے اسے  رزِسٹ کیا۔ اور یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ انہیں اپنے حقوق کے لیے، اپنے تہذیبی تشخص، دینی تشخص کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کچھ سیاسی کام کرنا ہو گا، لیکن مکمل آزادی ان کے سامنے اس وقت نہیں تھی۔ 

کانگریس، آپ کو پتہ ہے کہ انگریزوں نے قائم کی تھی، ایک سیاسی محاذ بنانے کے لیے۔ اور مسلم لیگ کے قیام کرنے والوں میں بھی وہی لوگ آگے آ گئے تھے جو انگریزوں کے ساتھ تعاون کر رہے تھے، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ ضرور رکھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔ اس لیے ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی ڈھاکہ میں۔ اور پھر اس وقت کے بعد ان کا اصل اِمفَسِس  یہ رہا ہے کہ مسلمان پسماندہ نہ رہیں، اور چونکہ نظر آ رہا تھا کہ مغربی جمہوریت یہاں آ رہی ہے  تو اس میں اکثریت کی حکمرانی ہو گی۔ اور مسلمانوں کی برصغیر میں صرف ایک چوتھائی آبادی تھی، تو فطری طور پر وہ دیکھ رہے تھے کہ تین چوتھائی ہم پر غالب رہیں گے۔ لیکن اس کے باوجود علیحدگی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ 

خلافت کی تحریک نے مسلمانوں کو یہ احساس دیا کہ ہم تعداد میں چاہے کم ہیں لیکن پولیٹیکلی ہم اتنے مضبوط ہیں، موبلائزڈ ہیں، اور پھر اسے آپ چاہے تھیوریٹیکل بات کہیں، لیکن تاریخ میں ہوتا یہی رہا ہے کہ بیرونی قوت کبھی  گئی ہے، تو جس قوت سے انہوں نے اقتدار چھینا تھا، وہی وہاں آیا کرتے تھے، وہی بادشاہ، وہی فیملی۔  تو مسلمانوں کے ذہن میں بھی یہ بات تھی کہ ہمیں ہوں گے۔ لیکن خلافت کی تحریک سے جس طرح کانگریس نے غداری کی۔  اور سول ڈِس اوبیڈیئنس کی موومنٹ، یا نان کواپریشن کی موومنٹ۔  چوراچوری کے مقام پر ایک حادثہ ہوا، اور یوں لٹرلی گاندھی نے اس کو کال آف کر دیا۔ اس سے مسلمان شاک ہوئے۔ انہیں نظر آیاکہ ہندوؤں اور کانگریس کے مقاصد الگ ہیں، ہمارے الگ ہیں۔ 

تو آپ یہ دیکھیے، ۱۹۰۶ء سے لے کر  ۱۹۲۸ء تک کوشش مسلمان کرتے رہے کہ ہندوؤں کے تعاون سے کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جس میں مسلمانوں کے حقوق محفوظ ہو سکیں۔  سیپریٹ الیکٹرویٹس، ویٹیج یعنی مسلمانوں کو ان کی تعداد سے زیادہ ہر جگہ ان کو، اور سب سے اہم پھر یہ کہ فیڈریشن، یونیٹی حکومت نہ ہو، تاکہ جن علاقوں میں صوبوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں فیڈرلی وہ اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر اپنے معاملات کے بارے میں زیادہ اہم سیاسی کردار ادا کر سکیں۔ یہ پوری چیز رہی ہے۔ 

قائد اعظم نے بہت کوشش کی ہے، ان کے چودہ نکات ۱۹۱۴ء کے جو ہیں، ان کا فریم ورک یہی ہے۔ لیکن ۱۹۲۸ء میں سائمن کمیشن کی رپورٹ جب آئی ہے، اور پنڈت نہرو نے جو اس پر ردعمل کا اظہار کیا ہے، اس نے مسلمانوں کو بالکل یکسو کر دیا کہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر ان کی دین، ان کی تہذیب، ان کی زبان، ان کی ثقافت، ان کی معیشت، ان کے سیاسی مفادات، یہ محفوظ نہیں رہ سکتے۔ 

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ۱۹۳۰ء میں اقبال نے کہا کہ تقسیم ہو، اور جن علاقوں میں مسلمان کی اکثریت ہے وہاں انہیں اختیار ملے، اور …… Centralization of Islam in the sub continent ۔ ۱۹۳۰ء سے لے کر ۱۹۴۰ء تک، پھر تقسیمِ ملک، یا   Reordering and restructuring of the political landscape حالانکہ کچھ لوگوں نے تقسیم کی بات اس سے پہلے شروع کردی تھی، اور غالباً ۲۵۔۲۴۔۱۹۲۳ء کے دوران بہت سے لوگوں نے اس قسم کے ……  تحریکِ خلافت سے متعلق تھے (علی)  برادرز، تو انہوں نے تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ لیکن یہ پیریڈ ذہنی خلفشار کا تھا، یکسوئی نہیں تھی۔ ۱۹۳۰ء میں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اب مسلمان اور ہندو ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے نہیں رہ سکتے، مسلمانوں کو کوئی نیا راستہ نکالنا پڑے گا۔ 

اظہر نیاز: جیسے ابھی کہا جاتا ہے کہ ہم اکٹھے ہی  رہتے تو کیا تھا، Why Pakistan کا سوال جو آتا ہے کہ کیوں پاکستان؟ تو غالباً‌ یہاں سے۔ 

پروفیسر خورشید احمد: ایگزیکٹلی، یہی وہ مقام ہے جہاں یہ۔ یعنی دیکھیے Total migration of population  تو ممکن نہیں تھا لیکن مسلمانوں کی کوشش یہ تھی کہ ان کو اتنا سیاسی اقتدار رہے۔ کانگریس کی پوری پالیسی یہ تھی کہ صرف کانگریس ریپریزنٹ کرتی ہے، اور چونکہ وہ ہندو میجارٹی ہے، ہندو لیڈرشپ، ہندو مفادات، چند مسلمان ان کے ساتھ ضرور تھے، اس لیے متحدہ قومیت کا تصور انہوں نے پیش کیا جسے مسلمان امت نے کبھی قبول نہیں کیا۔ 

مولانا مودودیؒ نے بھی اسی کانٹیکسٹ میں ۳۹۔۱۹۳۸ء میں تین اسکیمز پیش کی تھیں اور سر شریف الدین پیرزادہ کی جو کتاب ہے Evolution of Pakistan اس میں اس نے یہ پوری ہسٹری پیش کی ہے، ایک اچھی کتاب ہے اس پر وہ۔ بہرحال قصہ مختصر، ۱۹۳۰ء کے بعد مسلمانوں کے لیے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ان کے لیے اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ تقسیم کریں ملک کو، جن علاقوں میں انہیں اکثریت حاصل ہے، وہاں کےمسلمانوں کو اپنا اقتدار مل سکے۔ 

یہ پھر ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو مسلم لیگ یکسو ہوئی ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ مسلمانوں کی ایک نمائندہ جماعت تو تھی لیکن مسلمان عوام، ان کا موبلائزیشن نہیں تھا، جینٹری تھی، اور وہ لوگ بھی تھے جو انگریزوں کے ساتھ تعاون چاہتے تھے، ہندوؤں سے تعاون چاہتے تھے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا، وہ بھی تھے جو اس پر پریشان تھے اور یہ چاہتے تھے کہ نہیں ہمیں اپنی آئیڈنٹٹی کو محفوظ رکھنا ہے۔ 

تو میری نگاہ میں ۱۹۳۰ء کا جو عشرہ ہے اس پہلو سے فیصلہ کن ہے۔ اقبال نے جو تصور دیا وہ آہستہ آہستہ پختہ ہوا۔ اور اسی زمانے میں پھر مسلم لیگ نے بھی اس کو اپنایا۔ سب سے پہلے مسلم لیگ کی صوبہ سندھ کی برانچ نے یہ ریزولوشن پاس کیا کہ تقسیم ہونی چاہیے اور  پاکستان بننا چاہیے۔ 

پاکستان کا لفظ بھی گو چودھری رحمت علی نے استعمال کیا تھا، مسلم لیگ نے آفیشلی اسے استعمال نہیں کیا تھا، حتیٰ کہ ۱۹۴۰ء کی قرارداد میں بھی لفظ پاکستان نہیں ہے، اس کے بعد آیا ہے۔ 

اظہر نیاز: جب قائد اعظم نے کہا کہ چلیں پاکستان ہے تو پھر پاکستان ہی سہی۔ 

پروفیسر خورشید احمد: بالکل، آفیشلی تو مسلم لیگ کی تقاریر میں قراردادوں میں ۱۹۴۱ء کے بعد سے پاکستان (کا نام) آنا شروع ہوا ہے۔ اور ۱۹۴۶ء کی قرارداد میں آفیشلی، لیجسلیٹرز (کنونشن) میں بہت کلیئرلی آیا ہے کہ پاکستان، اور ایک ملک، دو نہیں۔ 

تو یہ ہے وہ پس منظر۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں گو شروع ہی سے اِنوالو رہا ہوں سیاست کے اندر اپنے گھرانے کی وجہ سے، لیکن بہرحال بچہ تھا میں پہلے، بچوں کی انجمن، ادبی ایکٹیویٹیز زیادہ تھیں، سپورٹس۔ لیکن ۴۲۔۱۹۴۱ء سے ایک سیاسی شعور پیدا ہونا شروع ہوا۔ ۱۹۴۲ء میں جب کانگریس نے بائیکاٹ کی مہم کی ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح ایجیٹیشن ہوتے تھے، اور ہم اس میں شریک نہیں ہوتے تھے  لیکن دیکھتے تھے۔ اور انگریزوں نے اسے کنٹرول کرنے کے لیے جس طرح فائرنگ کی، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے وہ۔ 

۱۹۴۳ء کا جو دلی میں اجتماع تھا مسلم لیگ کا، وہ میرے لیے سیاسی زندگی کا آغاز ہے  اور اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔ اس میں پہلی مرتبہ میں نے شرکت کی ہے ایک والنٹیئر کی حیثیت سے۔ پھر اس کے بعد انتخابی مہم شروع ہوئی ہے ۱۹۴۵ء میں۔ اس میں ایکٹِولی انوالو ہوا ہوں میں اور نوجوانوں کے ساتھ۔ اور ہمارے سکول کے بچے بہت ایکٹِو تھے اس کے اندر، ہم نے بزمِ ادب وہاں بنائی ہوئی تھی، میں اس بزمِ ادب کا سیکرٹری تھا` اور جو صاحب بعد میں جسٹس نعیم الدین سپریم کورٹ کے جج بنے ہیں، یہ اس کے پریزیڈنٹ تھے۔ ہماری ٹیم تھی۔ اور نام بزمِ ادب تھا لیکن ہم اسی کے ذریعے سے پولیٹیکل ایکٹیویٹی میں حصہ لیا کرتے تھے۔ 

اظہر نیاز: اور جو ماحول تھا یعنی مسلمان جتنے بھی تھے، دلی میں تو خاص طور پر مسلمان بہت زیادہ ہوں گے تعداد میں اس وقت۔ 

پروفیسر خورشید احمد: جی میں نے کہا نا کہ تقریباً‌ %30 آبادی تھی۔ 

اظہر نیاز: تو کیا Atmosphere تھا کہ جس طرح سے ابھی ہم جب دیکھتے ہیں، میں انصار ناصری صاحب کی کتاب پڑھ رہا تھا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ انہوں نے لکھا ہے گلیوں میں نعرے لگ رہے تھے۔

پروفیسر خورشید احمد: بالکل، ایک عجیب کیفیت تھی۔ 

اظہرنیاز: خاص طور پر میں جاننا چاہتا ہوں جی کہ آپ نے  جو یہ نعرہ ہے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟‘‘،  آپ نے کب سنا یہ؟ 

پروفیسر خورشید احمد: میں نے یہ سنا الیکشن کے موقع پر  ۴۶۔۱۹۴۵ء۔ ہم خود کہتے تھے یہ کہ 

’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ 

’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘

’’بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘

تو یہ ساری چیزیں ہم نے ۔

اظہر نیاز:  …… کیونکہ ابھی بہت سارے لوگ اس کو کہتے ہیں، نہیں یہ تو بعد میں اس کو گڑھ لیا گیا ہے، پاکستان بننے سے پہلے تو یہ نعرہ۔

پروفیسر خورشید احمد: یہ قطعاً‌ غلط ہے، غالباً‌ یعنی پنجاب کی کسی جگہ کے ایک صاحب تھے جنہوں نے یہ سب سے پہلے انٹرڈیوس کیا ہے اور انہیں پچھلے سال انتقال کے بعد پاکستان کا کوئی اعزاز بھی ملا ہے۔ تو یہ ۱۹۴۳ء میں آیا ہے لیکن میں نے خود اس کو ۱۹۴۵ء کے آخیر میں سنا بھی ہے لگایا بھی ہے۔ 

تو آپ کے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلم لیگ کی جدوجہد کا آغاز تو ہوا تھا مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی اور ثقافتی تہذیبی حقوق کے تحفظ کے لیے، ایک اسپیس پولیٹیکل پیدا کرنے سے۔ لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ نہیں، یہ ساتھ رہ کر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی اور کونسل کی قراردادیں اور  …… دیکھیں تو آپ یہ پائیں گے کہ ۱۹۳۶ء کے بعد سے آئیڈیالوجیکل رنگ بڑھنا شروع ہوا ہے اور ۱۹۴۰ء کے بعد بہت نمایاں ہوا ہے یہ۔ 

اس موقع پر انہوں نے کمیٹیاں قائم کی ہیں کہ تعلیم میں کیا اصلاحات ہونی چاہئیں؟ اسلام کا سیاسی نظام کیا ہے؟  اس کے لیے کمیٹی نواب چھتاری کی دعوت کے اوپر بنائی گئی مسلم لیگ کی طرف سے آفیشلی۔ اور مولانا سید سلیمان ندویؒ کو دعوت دی گئی کہ وہ اس کے صدر ہوں۔ مولانا مودودیؒ، مولانا عبد الماجد دریابادیؒ،  ندوہ کے ایک مولانا تھے، اور صوبہ بنگال سے ایک صاحب تھے، یہ پانچ افراد پر مشتمل کمیٹی بنی، اس کی ایک میٹنگ ہوئی لکھنؤ کے اندر۔ اور پھر جو اس میں ڈسکشن ہوا تھا اس کی روشنی میں ایک کتاب ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ تیار ہوئی۔ 

اس کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی فراست سے محسوس کر کے یہ بات کہی کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اسلام کی قوت کے لیے مسلم لیگ جو جدوجہد کرے گی یہ ضروری ہے۔ اور ان کا انتقال تھا جس کے اوپر مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے یا کونسل نے آفیشلی قرارداد پاس کی ہے  اور یہ کہا ہے کہ آج ہمارا سب سے بڑا حامی جو ہے  وہ اللہ کو پیارا ہوا ہے۔ تو علماء نے اس میں شرکت کی، لیکن جو دینی رنگ تھا اس کا وہ نمایاں ہوا ہے ۴۵۔۱۹۴۴ء۔ 

پھر اسی زمانے میں چونکہ کانگریس کو سپورٹ کر رہے تھے جمعیۃ علماء ہند، تو اس کے مقابلے میں جمعیۃ علماء اسلام وجود میں آئی۔ ان کا پہلا کنونشن ۱۹۴۵ء میں ہوا ہے جس میں تقریباً‌ تین ہزار علماء نے شرکت کی ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، مولانا آزاد سبحانیؒ، مولانا اکرم خانؒ، مفتی شفیعؒ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، یہ تمام لوگ اس کے اندر۔ تو پھر اس پوری ان کی شرکت سے دینی  ( رنگ) بڑھتا گیا۔  

اور پھر انتخاب کے موقع پر تو سچی بات یہ ہے کہ ہم نے وہ جذبہ دیکھا ہے لوگوں کے اندر کہ جس کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ یعنی میں خود تو اس کا گواہ نہیں ہوں لیکن پروفیسر شرافت ہاشمی جو میرے سینئر استاذ تھے اردو کالج کے اندر، اور یعنی کہ پاکستان (کی تحریک میں) سرگرم تھے،  انہوں نے مجھے خود بتایا ہے کہ الیکشن میں ایک گاؤں سے لوگ آئے اور وہ کفن کا کپڑا ساتھ لے کر آئے۔  انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے آئےہیں ، ہم اب واپس نہیں جا سکتے اپنے گاؤں میں، ہم جائیں گے تو ہمیں مار دیا جائے گا، لیکن ہم ووٹ دیں گے پاکستان اور اسلام کے لیے۔ یہ جذبہ تھا لوگوں کا۔  تو جو موبلائزیشن ہوا عوام کے اندر اسی پر ہوا ہے۔ 

اور اس معنی میں قائد اعظم بالکل یکسو تھے، اس لیے کہ قائد اعظم کا خود ذہنی سفر ہے،  ۱۹۳۶ء کے بعد وہ آہستہ آہستہ اس طرف آئے ہیں، اور ۱۹۳۹ء میں انہوں نے ایک بڑی انسپائرنگ تقریرکی ہے کونسل میں۔ انہوں نے کہا، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے، دولت بھی دی ہے، عزت بھی دی ہے، سیاست میں میرا مقام ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کروں، اور جس وقت میں اللہ کے حضور حاضر ہوں تو یہ گواہی دی جا سکے کہ جناح نے اسلام کے لیے اپنی جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے الفاظ تھے۔  ایک سو تین تقاریر ہیں ان کی تقسیم سے پہلے، اور تیرہ ہیں قیامِ پاکستان کے بعد۔ جس میں انہوں نے کلیئرلی یہ کہا ہے کہ پاکستان کا مقصد ایک نظریہ۔  اپنے دین اپنی ثقافت اپنے قانون اور اپنی شریعت کا تحفظ۔ ہم ایک جدا قوم ہیں عقیدے کی بنیاد پر، نظریۂ حیات کی بنیاد کے اوپر، اور اس طرزِ زندگی کی حفاظت کے لیے، اور اپنے دین اور اپنی ثقافت اور اپنے مفادات کے مطابق اپنے کلچر کے مطابق زندگی  گزرنے کے لیے ہم ایک ملک قائم کر رہے ہیں۔

اظہر نیاز: ہاں ان سے کئی مرتبہ پوچھا گیا کہ یہاں کا قانون کیا ہو گا تو انہوں نے۔ 

پروفیسر خورشید احمد: انہوں نے کہا کہ جو قانون اسلام نے ہمیں دیا ہے، قرآن کا جو قانون ہے، یہی ہمارا قانون ہے اور وہ آج بھی اتنا ہی ویلِڈ ہے جتنا تیرہ سو سال پہلے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا میں کوئی عالمِ دین نہیں ہوں لیکن بہرحال میں نے اپنے دین کا اتنا مطالعہ کیا ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، وہ مغرب کا جو تصور ہے مذہب کا، اس معنی میں کوئی مذہب نہیں ہے کہ   جو صرف فرد اور اللہ کے تعلق کا نام ہے، بلکہ اس کا تمام انسانوں، انسان کی پوری زندگی، اس کے سارے معاملات سے تعلق ہے۔ اور بڑی پیاری بات انہوں نے حیدر آباد دکن میں وہاں کی عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ سے بات کرتے ہوئے کہی کہ اسلام کے سیاسی نظام کا جو بنیادی اصول ہے، وہ یہ ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے، اور عوام کے نمائندے فیصلہ کریں گے لیکن ان حدود کے اندر کریں گے جو قرآن و سنت نے مرتب کیے ہیں،  وہ خود یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ حق اور ناحق کیا ہے۔ یہ (ویلیوز) جو اللہ اور اس کے رسول نے دی ہیں، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس کے مطابق کام کریں، اس کو ڈیویلپ کریں، اس کے تقاضوں کو سمجھیں، لیکن فریم ورک وہ ہے۔ تو صاف لفظوں میں یہ بات کہی۔

اظہر نیاز: اچھا ان کی ایک تقریر کو لے کر عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جی انہوں نے یہ تقریر کی جس میں کہا گیا کہ یہ اقلیتوں کو سارے حقوق دیے جائیں گے، اور اس کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 

پروفیسر خورشید احمد: یہ قائد اعظم کے ساتھ میرا خیال یہ ہے کہ اس سے بڑا ظلم نہیں ہو سکتا۔ گیارہ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر ہے جس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ پس منظر یہ ہے کہ ہندو مسلم فسادات ہو رہے تھے، اَسی ہزار سے ایک لاکھ مسلمان اس وقت تک شہید کیے جا چکے تھے، اور اس کے بعد تقریباً‌ دو ڈھائی لاکھ ہوئے۔ یعنی کم از کم، کم از کم بھی تین سے چار لاکھ مسلمان شہید ہوئے ہیں اور تقریباً‌ ڈیڑھ دو کروڑ کی نقل مکانی ہوئی ہے۔ یہ تھا وہ پس منظر۔ 

اور جہاں تک اقلیتوں کے حقوق کا تعلق ہے، قائد اعظم نے ہمیشہ جہاں یہ کہا کہ پاکستان کا قیام اسلامی نظریہ اور اسلامی نظامِ زندگی کا قیام ہے، وہیں یہ بھی کہا کہ اسلام غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور انہیں شہریت کے پورے حقوق حاصل ہوں گے۔ اگر آپ ۱۹۴۶ء کی قرارداد دیکھیں تو جہاں اس وقت پاکستان کا پورا وژن دیا گیا ہے، وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں جو بھی غیر مسلم ہوں گے جو ریاست کے ساتھ وفادار ہوں گے ان کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔  یہی چیز وہ ہے جیسے میثاقِ مدینہ میں خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کے یہودیوں کو اور عیسائیوں کو دیا تھا۔ تو گیارہ اگست کی تقریر میں ریاست کی کیا نیچر ہو گی، اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس میں ذکر اس بات کا ہے کہ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ ہو گا اور شہریت میں سب شریک ہوں گے، وہ برابر کے شہری ہوں گے، اور یہ اسلام نے ان کو حق دیا ہے۔ 

اور یہی وجہ ہے کہ اس تقریر کے تین دن کے بعد جب چودہ  اگست کو قائد اعظم نے حلف لیا، لارڈ ماؤنٹ بیٹن آیا تھا، تو اس نے چھیڑنے کے لیے، میرا خیال سے تو، یہ بات کہی کہ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں شہنشاہ اکبر نے بڑی اونچی مثال قائم کی ہے۔ تو قائد اعظم نے برملا اسی وقت کہا کہ اکبر نہیں ہمارے لیے صحیح مثال نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ہے، یہی ہمارا ماڈل ہے۔ 

تو وہاں مسئلہ شہریت کا تھا، اور اس تقریر میں قائد اعظم نے خود یہ کہا ہے کہ، چونکہ یہ پیپرڈ تقریر نہیں ہے، آف ہینڈ بات کر رہے ہیں وہ۔ سب سے پہلے انہوں نے کرپشن کو لیا، نیپوٹزم کو لیا،  (پرووِنشلزم) کو لیا، تفریق لوگوں کے درمیان۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ میں اشوؤر کرنا چاہتا ہوں کہ غیر مسلموں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔  اور حکومت جو ہے وہ  محض، کوئی مسلمان ہے یا ہندو ہے، اس بنیاد پر ان میں معاملات نہیں کرے گی، اور یہ خالص اسلام کا اپنا اصول ہے۔  لیکن اس کے ساتھ قائد اعظم نے، ریاست کیا ہو گی، ریاست کا دستور کیسا ہو گا۔ 

حد یہ ہے کہ جب امریکہ کو قائد اعظم نے ان کے یومِ آزادی پر بیان دیا، تو اس میں کہا ہے کہ پاکستان کا دستور کیا ہو گا، یہ دستورساز اسمبلی طے کرے گی، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ان اصولوں پر مبنی ہو گا جو جمہوریت کے اصول ہیں اور جو اسلام   نے ہم کو دیے ہیں۔ 

اظہر نیاز: اچھا، اتنے لوگ جو ہیں شہید ہو گئے، اتنی قربانیاں ہم نے دیں پاکستان حاصل کرنے کے لیے، کیا ان ساری قربانیوں کو اب ہمارے ادب میں، میڈیا میں ، نصاب میں   ریفلیکٹ ہونا چاہیے یا ہمیں کسی مصلحت کی خاطر اس کو ذرا سا پیچھے کر دینا چاہیے؟

پروفیسر خورشید احمد: یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے کہ ہم اپنی تاریخ، جو قربانیاں دی ہیں، یعنی نئی نسلوں کو وہ منتقل نہیں کر رہے۔ اور میری نگاہ میں اس وقت جو ملک میں کنفیوژن پایا جاتا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ  ہر سطح پر، ہمارے نصاب میں، ہمارے میڈیا میں، محض چودہ اگست منانا اصل چیز نہیں ہے، چودہ اگست کا پیغام ہی یہ ہے کہ آپ سمجھیں کہ تحریکِ پاکستان تھی کیا؟ کیوں اتنی قربانیاں مسلمانوں نے دیں؟ 

اور ذرا آپ سوچیے کہ انہوں نے تو قربانیاں دی ہیں جنہوں نے پاکستان میں آنا تھا، یا پاکستان میں رہنا تھا، لیکن جو جانتے تھے کہ ہم پاکستان میں نہ جا سکتے ہیں نہ جائیں گے، لیکن انہوں نے بھی پاکستان بنانے کے لیے قربانیاں دیں، اپنا ووٹ دیا، سفر کیا، اور صرف اس بنیاد پر دیا کہ ہمیں چاہے مشکلات ہوں، ہماری چاہے دنیا عذاب بن جائے، لیکن اگر ایک خطۂ زمین ایسا ہے کہ جہاں اسلام کا بول بالا ہو سکے  اور ایک مدینے کی ریاست قائم ہو سکے  تو ہماری یہ قربانی جو ہے یہ ضروری ہے۔ کوئی ان کا موٹیویشن اس کے علاوہ نہیں تھا، اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟ 

اظہرنیاز: میں بات کرنا چاہ رہا تھا، قائد اعظم کی شخصیت پہ آپ نے بڑی اچھی گفتگو کی، ان کی جو ٹیم ہے، اس پہ جو میں نے سنا ہے کہ سردار عبد الرب نشتر جو ہیں وہ ان کی ٹیم کے سب سے اہم ان کے قریب  ترین ساتھیوں میں سے ہیں، آپ کوئی وجہ بتا سکتے ہیں اس کی، کہ کیا وجہ تھی؟ 

پروفیسر خورشید احمد: سردار عبد الرب نشتر قائد اعظم کے بہت قریب تھے اور حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کے وژن کے امین تھے۔ اسی طریقے سے محمد اسماعیل، وہ انڈیا میں رہے، پاکستان نہیں آئے، لیکن وہ قائد اعظم کے بہت قریب تھے، قائد اعظم بہت ان کی عزت کرتے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ وژن کو پورے طریقے سے، اس کے علمبردار تھے۔ لیاقت علی خان بھی، تھوڑا سا ان کے اندر ایک ماڈرن پہلو تھا، لیکن بیسیکلی وہ کمٹڈ تھے اور انہوں نے ہمیشہ یہی بات کہی، امریکہ کے دورے میں بھی ان کی تقاریر کو آپ دیکھ لیجیے، قراردادِ مقاصد کو پیش کرتے وقت جو تقریر انہوں نے کی ہے، انہوں نے اپنا ذہن بہت کلیئرلی پیش کیا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قائد اعظم کی ٹیم میں بے شمار افراد وہ تھے جو یہ دیکھ کر، کہ ہوا کا رخ اُدھر ہے، شامل ہو گئے تھے، اور حقیقی تصور پاکستان کا ان کے رگ و پے میں نہیں سمایا تھا۔ …… کمٹڈ تھے بالکل۔

اس پہلو سے یعنی مراد یہ ہے کہ یہ ایک ٹریجڈی ہے اور اس میں جہاں یہ بہت بڑا معجزہ تھا کہ سات سال میں یہ تحریک کامیاب ہو گئی، وہیں اس کے اندر یہ تشویش کا پہلو بھی ہے کہ جو لوگ تحریک میں آئے تھے ان کی تربیت، ان کا اورینٹیشن، وہ نہیں ہو سکی۔ قائد اعظم فیتھ، یونیٹی، ڈسپلن، برابر کہتے رہے لیکن یہ ہےکہ نہ فیتھ اتر سکا، نہ ڈسپلن قائم ہو سکا۔ اور اسی کے ثمرات ہم دیکھ رہے ہیں کہ قائد اعظم کے انتقال کے بعد کس طریقے سے دوسرے لوگوں نے قبضہ کیا، اور بالآخر تو سارا قبضہ انہوں نے کیا جن کا کوئی دخل نہیں تھا۔ یعنی غلام محمد، جو بالکل دوسرا ذہن ہے۔ اسکندر مرزا، ایوب خاں، یعنی ان کا پاکستان کے تصور سے، پاکستان کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا۔  قائد اعظم نے غلام محمد کو ایک ٹیکنوکریٹ کی حیثیت سے لیا تھا۔ اور اس وقت یہ تین افراد تھے جو بہت ایک دوسرے کے قریب بھی تھے، غلام محمد، چودھری محمد علی، اور زاہد حسین۔ ان میں سب سے اچھے زاہد حسین تھے، آئیڈیالوجی کے اعتبار سے بھی، اپنے کردار کے اعتبار سے بھی۔ چودھری محمد علی صاحبِ کردار آدمی تھے اور ان کا دین سے کمٹمنٹ تھا لیکن تھے بیوروکریٹ۔ اور غلام محمد کا کوئی دین سے تعلق نہیں تھا  اور شاطر آدمی تھا جس نے مینی پولیٹ کیا۔  تو بدقسمتی سے غلام محمد اور اسکندر مرزا اور ایوب خاں کو اَپرہینڈ مل گیا۔ 

اور ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ ہندوستان نے قیامِ پاکستان کو ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کیا تھا  تو وہ اپنی ریشہ دوانیوں میں لگے رہے، جس میں یعنی معاشی، سیاسی، عسکری دباؤ، کشمیر کا مسئلہ، جوناگڑھ   … پر قبضہ، حیدرآباد کا معاملہ، اور پھر مشرقی پاکستان میں ان کی ریشہ دوانیاں۔ اور اس میں بدقسمتی سے وہاں کے غیر مسلموں کا، کانگریس کا کردار۔ 

پھر مغربی پاکستان کے بھی بیوروکریٹس نے، حقیقت یہ ہے کہ یعنی آزادی کے بعد جو رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا ایک دوسرے کے ساتھ، وہ نہیں اختیار کیا، بلکہ بیوروکریسی نے تحکمانہ انداز اختیار کیا، جس سے مشرقی پاکستان کے اندر ایک ردعمل پیدا ہوا اور ہم بگاڑ کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ 

تو یہ سارے اسباب ہیں اس کے، اس میں نظریاتی، انتظامی، نئے ایکٹرز جو ریئل سٹیک ہولڈرز نہیں تھے، اور جو اس امانت کے صحیح امین نہیں تھے۔

اظہرنیاز: آپ نے ایک پرچہ نکالا ’’چراغِ راہ‘‘ اس کا ایک نظریۂ پاکستان نمبر تھا۔ 

پروفیسر خورشید احمد: جی، یہ ۱۹۶۳ء میں میں نے نکالا ہے اور یہ ایوب صاحب کےجواب میں ہی تھا،  اس لیے کہ انہوں نے جو کوشش کی تھی کہ نظریہ اوجھل کیا جائے۔

اظہر نیاز: اس میں جو مضامین ہیں، ان مضامین کی آج کتنی ضرورت ہے نئی نسل کو؟

پروفیسر خورشید احمد: بے پناہ ضرورت ہے اور اس کے ایک حصے کو میں نے ’’پاکستان اور اسلامی نظریے‘‘ کے عنوان سے ایک نئی کتاب کی شکل میں مرتب کیا جو شائع ہو گئی ہے۔ 

اظہر نیاز: اچھا، ما شاء اللہ۔ آخر میں صرف میں چاہوں گا نئی نسل کے لیے اس پاکستان کے حوالے سے کوئی پانچ منٹ آپ کچھ کہنا چاہیں۔

پروفیسر خورشید احمد: پاکستان اللہ کا ایک انعام ہے، پاکستان ہماری ایک تاریخی اچیومنٹ، پاکستان ہمارے مستقبل کا نشان ہے، لیکن پاکستان محض ایک جغرافیائی حصے کا نام نہیں ہے، پاکستان نام ہے ایک وژن کا، ایک نظریے کا، ایک منزل کا، ایک تصورِ حیات کا، بلاشبہ اس کے لیے زمین کی ضرورت ہے، اس کے لیے وسائل کی ضرورت ہے، لیکن محض دو پیسے کمانے کے لیے نہیں، بلکہ جیسے قائد اعظم نے کہا کہ پاکستان ہم نے حاصل کیا ہے تاکہ اسلام کی تجربہ گاہ ہو، تاکہ یہاں وہ نمونہ بنا سکیں۔ 

تو نظریۂ پاکستان، تحریکِ پاکستان، اور پاکستان کا وجود اور پاکستان کا مستقبل میری نگاہ میں ایک دوسرے سے بالکل جڑے ہوئے ہیں۔ اور میرا پیغام یہی ہے کہ اس امانت کے آپ امین ہیں، لیکن آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اصل تصور، اس کے مشن اور منزل، اس کے وژن کو رگ و پے میں سما لیں، اور پھر اس کے لیے علمی، عملی، انفرادی، اجتماعی، انسٹیٹیوشنل، ہر سطح پر جدوجہد کریں۔ کامیابی کا انحصار جس چیز پر ہے اس میں  پہلی چیز: ایمان، اللہ پر بھروسہ۔ دوسری چیز: منزل کا صحیح شعور، اس کا وژن۔ اور پھر تیسری چیز: اس کے لیے جدوجہد اور کوشش۔

یہ کہ میں ان چیزوں کو میں اچھا سمجھتا ہوں، گھر بیٹھا ہوا ہوں، اس سے کام نہیں ہو گا۔ تبدیلی کے لیے ہمیں اٹھنا پڑے گا، قربانی دینی ہو گی، جدوجہد کرنی ہو گی۔ تو یہ تینوں چیزیں (۱) ایمان، اللہ پر بھروسہ (۲) صحیح وژن (۳) اور پھر اس وژن کو حاصل کرنے کے لیے عملی جدوجہد ہر میدان میں۔ یہ ہے کرنے کا کام، اور مجھے یقین ہے کہ پاکستانی قوم میں بڑی جان ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’والذین جاھدو فینا لنھدینھم سبلنا‘‘  (العنکبوت ۶۹)  جو ہماری طرف جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کے لیے اس راستے کو آسان بنا دیتے ہیں۔ تو بس اس راستے پر آپ اٹھیے اور پھر دیکھیے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے گا اور آپ دنیا کے سامنے ایک اچھی مثال قائم کریں گے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

اظہر نیاز: بہت شکریہ جی، آج ہم نے بھی پاکستان بنتے دیکھا، اللہ حافظ۔

www.youtu.be/Y7T7dfJb6iY

پاکستان کو سیکولر/سوشلسٹ ریاست بنانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

۱۹۵۶ء کا جو دستور بنا اس دستور کا نفاذ بھی ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو ہوا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ ایوب خان نے اکتوبر ۱۹۵۸ء میں اس دستور کو منسوخ کر دیا۔ لیکن ۱۹۵۶ء کا دستور آج بھی Pacesetter ہے اور بعد کے جتنے  دساتیر بھی بنے ہیں وہ اس سے ہٹ نہیں سکے، ہٹائے جانے کی ہر کوشش کے باوجود۔ 

ایوب نے جب دستور کو منسوخ کیا تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اب پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گا، اسلامی ریاست نہیں ہو گا۔ بلکہ اسکندر مرزا نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ سب لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھا کر بحیرہ عرب میں ڈال دو۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔  لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ تو یہیں رہے لیکن اسکندر مرزا کو ایک ماہ کے اندر ہی اس ملک سے جانا پڑا۔ 

پھر ایوب نے ۱۹۶۲ء میں جو I Muhammad Ayub Khan  فیلڈ مارشل ایوب خان کے نام سے یہ دستور دیا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اس کا نام Islamic Republic of Pakistan  کے بجائے Republic of Pakistan رکھا ۔اور اس میں سے قراردادِ مقاصد کے جو دینی پہلو تھے وہ نکال دیے گئے۔ اور ۱۹۵۶ء کے دستور میں جو یہ فقرہ تھا کہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گی، یہ نکال دیا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں اس نے دستور نافذ کیا ہے، اس کے تین مہینے میں اسمبلی بنی ہے، اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی Debate ہوئی ہے بڑی،   وہ  Political Parties Act پر ہوئی ہے۔ اور اس پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں اس اسمبلی نے لڑ کر یہ شق قانون کا حصہ بنائی کہ پاکستان کی ہر پولیٹیکل پارٹی کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھے اور اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔ بڑی اس پر بحث ہوئی، سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اور واضح رہے کہ اس وقت جسٹس منیر لاء منسٹر تھے اور یہ پائلٹ (قیادت) کر رہے تھے اس لاء کو۔ اور شرمناک بات ہے، ہماری جوڈیشری کا اتنا اونچا فرد، اس شخص نے اپنی کتاب  From Jinnah to Zia  میں لکھا ہے کہ  اسلامک آئیڈیالوجی اور پاکستان آئیڈیالوجی کا لفظ جنرل ضیاء الحق نے انٹروڈیوس کیا ہے۔  اور اس کے بعد سے لبرل لیفٹسٹ لابی (بائیں بازو کے لبرل) ہے جو یہ بکواس کرتی ہے۔ 

آپ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی کی کاروائی نکال کر پڑھ لیں، میں نے اسے کوٹ کیا ہے ہر جگہ، اپنی حالیہ تقاریر کے اندر کہ اس شخص نے پہلے Oppose کیا اسلامک آئیڈیالوجی کے لفظ کو وہاں پر ، وہ اس قانون کا حصہ ہے، اور پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ نہیں، ہم یہ رکھیں گے، تو اس نے یہ کہا کہ میں بہت دکھی ہوں لیکن بہرحال میں نے غور کیا ہے اور آپ اگر اصرار کرتے ہیں تو ہم اس کو شامل کر لیتے ہیں۔ یہ اس کے الفاظ ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے ۔

پھر اس کے بعد جب ۱۹۶۲ء کے دستور میں Amendment  آئی ہے تو پہلی  ترمیم یہ تھی کہ پاکستان کا نام اسلامک ریپبلک آف پاکستان ہو گا۔ قراردادِ مقاصد کو ان الفاظ کے ساتھ، جس میں وہ پاس ہوئی تھی، بحال کیا گیا۔ اور دستور کی یہ شق کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو گی، یہ بحال کی گئی۔ یہ تینوں چیزیں ۱۹۶۴ء میں، جبکہ ہم جیل میں تھے، اس وقت اسمبلی نے منظور کیں۔ تو فرار کی پوری پوری کوششیں ہوئیں۔ ۱۹۵۶ء کا دستور آج بھی Prevail کر رہا ہے ان تمام (کوششوں کے باوجود)۔ 

پھر یہی چیز آپ کو ۱۹۷۳ء کے کانسٹیٹیوشن میں ملے گی، اس کا پہلا ڈرافٹ جو آیا ہے، اس میں اس کو  Socialist Republic of Pakistan قرار دیا گیا ہے۔ اس کا آرٹیکل ۳ یہ تھا کہ State would be a socialist state۔  پیپلز پارٹی میجارٹی میں تھی لیکن اس زمانے کی اسمبلی کے لوگوں نے جس ہمت سے، اور عوام نے جو اُن کی تائید کی، اس پوری جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ دستور ان تمام شقوں کو لایا جو ۱۹۵۶ء کے دستور میں تھیں، اس سے بہتر شکل میں لایا، اور  Consensus کی شکل میں لایا، اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور بنیادی طور پر ایک اسلامی دستور ہے، ایک جمہوری دستور ہے، ایک فلاحی دستور ہے،  اور ایک وفاقی دستور ہے۔ یہ چاروں خوبیاں اس کے اندر ہیں۔ 

www.facebook.com/share/v/16Unukr5Af


پروفیسر خورشید احمدؒ کی رحلت: صدی کا بڑا انسان

آمد: ۲۳ مارچ ۱۹۳۲ — رفت: ۱۳ اپریل ۲۰۲۵ء

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

تیرہ اپریل کو جماعتِ اسلامی پاکستان کے سب سے بزرگ رہنما، ادیب و مصنف و مفکر اور بانئ جماعت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکری جانشین پروفیسر خورشید احمد لیسٹر (یوکے) میں 93 سال کی عمر میں رحلت کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ طویل عرصہ سے بیمار تھے پھر بھی ان کے گہر بار قلم سے وقفہ وقفہ سے مختلف تحریریں آتی رہتی تھیں۔ وہ صدی کے آدمی تھے۔ انہوں نے مولانا مودودی کی صحبتیں پائی تھیں بلکہ عرصۂ دراز تک ان کے دست راست رہے تھے۔ مولانا مودوی کی کئی ابتدائی تحریروں کی دوبارہ تدوین و ترتیب کا شرف بھی انہیں حاصل ہوا۔ مثلاً مولانا مودودی کی تقسیمِ ہند سے پہلے کی مشہور کتاب ’’مسلمان اور سیاسی کشمکش‘‘ (سہ جلد) کو انہوں نے ’’تحریکِ آزادئ ہند اور مسلمان‘‘ کے نام سے مدون کیا اور اس پر ایک بہترین مقدمہ لکھا۔ اسی طرح مولانا کی کئی اور سیاسی تحریروں کی تدوینِ جدید کر کے اس کو اسلامی ریاست کے نام سے شایع کرایا۔ اور جماعتِ اسلامی کی تاریخ پر ان کی کتاب ’’تحریکِ اسلامی: ایک تاریخ، ایک داستان‘‘ ہی اصل اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔

پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور انٹر تک تعلیم دہلی کے قدیم ذاکر حسین کالج میں حاصل کی، اور پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان مملکتِ خداداد میں منتقل ہو گیا۔ تھوڑے دنوں ان کا قیام لاہور میں رہا جہاں انہوں نے پہلے گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں بزنس اور اقتصادیات کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کراچی چلے گئے، وہاں 1950ء میں سندھ یونیورسٹی سے بی اے اور بعد میں ایم اے اسلامیات کیا اور اس کے علاوہ انہوں نے 1954ء میں کراچی یونیورسٹی سے معاشیات کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور اسی یونیورسٹی میں لیکچرر تعینات ہوئے۔ یاد رہے کہ انہوں نے 1958ء میں ایل ایل بی بھی کیا تھا۔ اس طرح قانون، معاشیات اور اسلامیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر تینوں میدانوں میں بہت کچھ لکھا بھی۔

تحریکی زندگی کی ابتداء جماعت کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت سے ہوئی جس کے وہ ناظمِ اعلیٰ بھی رہے۔ اور انہوں نے جمعیت کو ملک میں طلبہ کی ایک بڑی اور منظم اسلامی قوت بنانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ 1956ء میں باضابطہ جماعتِ اسلامی پاکستان میں شامل ہو گئے اور تاوفات اس کے فعال رکن رہے اور خاصے عرصہ تک جماعت کے نائب امیر کے فرائض بھی انجام دیے۔

طالب علمی ہی میں مولانا مودودی کی رہنمائی میں اسلامی لٹریچر کی تصنیف و تالیف اور مختلف جرائد و رسائل کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے تھے اور جمعیت کے انگریزی آرگن پندرہ روزہ ’’اسٹوڈنٹس وائس‘‘ کے ایڈیٹر رہے تھے۔ مزید برآں انہوں نے ’’اقبال ریویو‘‘ اور ’’دی وائس آف اسلام‘‘ میں بھی ادارت کی خدمات انجام دیں۔

انہوں نے ’سنتِ یوسفی’ بھی ادا کی جب 1964ء میں صدر ایوب خان کی حکومت نے جماعتِ اسلامی پر پاپندی لگائی اور جماعتِ اسلامی کے امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سمیت جماعت کی مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے ارکان کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں خورشید صاحب بھی شامل تھے اور انہوں نے زمانۂ جیل کی آپ بیتی کو ’’تذکرۂ زندان‘‘ کے نام سے کتاب میں ادبی انداز سے بیان کیا ہے۔

پروفیسر خورشید احمد نے بڑا شاداب اور زرخیز قلم پایا تھا۔ خاص طور پر مختلف بڑی شخصیات کی وفیات، عالمی سیاست و معیشت، پاکستان کی داخلی سیاست، اسلامی تحریکات کی پیشرفت وغیرہ پر ان کا قلم موتی لٹاتا تھا۔ مذہبی فکر میں وہ مولانا مودودی کے سچے وفادار تھے، اور فکرِ مودودی کے سب سے بڑے شارح و ترجمان۔ اس پہلو سے یکسو ہو کر انہوں نے دوسرے موضوعات کو اپنے غور و فکر کا مرکز بنایا۔

سنہ 1990ء میں ان کو مسلم دنیا کے سب سے بڑے اعزاز فیصل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، یہ مشترکہ ایوارڈ تھا اور ان کے شریکِ انعام شام کے علی طنطاوی تھے۔ پاکستان میں مولانا مودودی کے بعد غالباً وہ دوسرے آدمی ہیں جنہیں یہ انعام ملا ہے۔ فیصل ایوارڈ کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 2010ء میں اعلیٰ سول ایوارڈ نشانِ امتیاز عطا کیا۔

جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں جب جماعتِ اسلامی حکومت کا حصہ بنی تھی وہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی بھی رہے۔ پھر 1985ء اور 1997ء نیز 2002ء تک مختلف وقفوں میں برابر سینٹ کے رکن منتخب ہوتے رہے اور 18 سال تک ایوانِ بالا میں خدمات انجام دیتے رہے اور اس کی قائمہ کمیٹی برائے امور اقتصادی و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر کام بھی کیا اور سینٹ میں مثالی کارکردگی پر وہ کئی بار بہترین پالیمنٹیرین بھی قرار دیئے گئے۔

پروفیسر خورشید احمد نے مولانا علی میاں کی تحریروں سے بھی فیض اٹھایا تھا اور صاحبِ تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی سے بھی خصوصی استفادہ کیا تھا۔ مولانا اصلاحی جب مولانا مودودی سے اختلاف کر کے جماعت چھوڑ گئے تب بھی خورشید صاحب ان کو ایک محسن و مربی کی حیثیت سے یاد کرتے رہے یہاں کہ جب مولانا اصلاحی کی وفات ہوئی تو مارچ و اپریل 1988ء کے ترجمان القرآن کے دو شماروں میں ان کا ذکرِ خیر کیا اور ان کے تعلق سے اپنی یادداشتیں اور جماعت سے وصل و فصل کی داستان بڑے خوبصورت انداز میں لکھی۔ جماعت سے نکلنے کے بعد مولانا اصلاحی نے فکرِ مودودی پر جو مدلل تنقیدیں کیں اور انہوں نے جمہور سے ہٹ کر بھی اپنی تحقیقات تدبرِ قرآن اور دوسری کتابوں میں پیش کیں، جن کے بارے میں خورشید صاحب نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ میرا دماغ تو ان کو تسلیم کرتا ہے مگر دل نہیں مانتا۔

شخصیات پر لکھنے کا ایک خاص ملکہ ان کو حاصل تھا۔ مولانا علی میاں کی وفات پر بھی انہوں نے ایک جاندار مضمون تحریر کیا جسے ندوہ کے ترجمان ’’تعمیرِ حیات‘‘ نے مولانا علی میاں پر اپنے خصوصی نمبر میں بھی شایع کیا۔ مولانا مودودی اور مولانا علی میاں ندوی کے درمیان تقابل کرتے ہوئے وہ کہا کرتے تھے کہ مولانا مودودی عقل کو اپیل کرتے ہوئے دل میں سما جاتے ہیں جبکہ مولانا علی میاں ندوی دل کے راستہ سے انسان کے اندر داخل ہوتے اور دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔

راقم کا خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی میں مولانا مودودی کے بعد اصل اوریجنل تھنکر دو ہی ہوئے ہیں: ایک پروفیسر نجات اللہ صدیقی اور دوسرے پروفیسر خورشید احمد۔ خورشید صاحب کے علمی اور محبت بھرے روابط مشہورِ عالم مسلم اسکالر و محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ سے بھی رہے جن کی وفات پر انہوں نے جس طرح ان کو یاد کیا وہ ایک اعلیٰ درجہ کی تحریر ہے۔

انہوں نے چھوٹی بڑی کوئی ستر کتابیں تصنیف کیں جن میں اردو اور انگریزی دونوں شامل ہیں۔ راقم نے ان کی تحریریں اردو اور انگریزی دونوں میں پڑھی ہیں۔ وہ اردو کے ساتھ ہی انگریزی بھی شگفتہ اور شستہ لکھتے تھے اور انہوں نے مولانا مودودی کی کئی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ مغرب میں جن لوگوں نے جماعتِ اسلامی و فکرِ مودودی کا وسیع پیمانہ پر تعارف کروایا ان میں سرفہرست پروفیسر خورشید احمد ہیں۔ انہوں نے ہی پہلی بار ’’ادبیاتِ مودودی‘‘ لکھی اور مولانا مودودی کو اردو کا ایک صاحبِ اسلوب ادیب و نثرنگار قرار دیا اور ایک نئے دبستان کا بانی۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں نے اس بات کو کہنا شروع کیا۔

وہ پہلے کافی عرصہ تک ’’چراغِ راہ‘‘ کراچی کے مدیر اور پھر ’’عالمی ترجمان القرآن‘‘ کے مدیر رہے، ان کی تحریریں بڑی دل چسپی اور شوق سے پڑھی جاتی تھیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کے عالمی کردار اور مسلمان ملکوں میں اس سے اضطراب و بے چینی کے اسباب پر ان کی ایک کتاب بہت مقبول ہوئی جس کا عنوان ہے ’’امریکہ: مسلم دنیا کی بے اطمینانی (۱۱ ستمبر سے پہلے اور بعد)‘‘۔ ان کا اسلوبِ تحریر بڑا رواں دواں، بہت معلوماتی، مؤثر اور تجزیاتی ہے۔

ان کے ایک شاگرد جناب عارف الحق عارف کے بقول: ’’اگرچہ وہ کئی سالوں سے صاحب فراش تھے اور خود لکھ نہیں سکتے تھے لیکن ان کا ذہن پوری طرح طرح حاضر اور چاک و چوبند کام کر رہا تھا اور ان کی یادداشت حیرت انگیز طور پر تازہ رہتی تھی کہ وہ اس حال میں بھی ماہ نامہ ترجمان القرآن کے لئے اشارات اسی طرح قلمبند کرتے تھے جس طرح وہ پہلے ہمیشہ علمی حوالوں اور واقعات کی ترتیب کے ساتھ سپرد قلم کرتے تھے‘‘۔

پروفیسر خورشید احمد نے کئی سالوں تک تدریس بھی اور کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا، جن میں کراچی یونیورسٹی کے علاوہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، جہاں وہ بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین رہے، اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی جدہ، جس کے وہ وائس پریزیڈنٹ رہے، شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے معروف عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی ان سے معاشیات پڑھی تھی۔

خورشید صاحب ان چھ لوگوں میں شامل تھے جو مولانا مودودی کے بے حد قریب رہے اور ان سے خصوصی استفادہ و تربیت پائی، جن میں:

اول شاعر و ادیب و انشاء پرداز اور خطیب نعیم صدیقی جو مولانا مودودی کے نمبر ایک ترجمان اور دفاع کرنے والے تھے۔ بعد میں جماعت کے امیر قاضی حسین احمد سے اختلافات کے نتیجہ میں وہ جماعت سے الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے ’’تحریکِ احیاء فکرِ مودودی‘‘ قائم کی تھی جو غالباً ان کے انتقال کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔

دوسرے خرم جاہ مراد جنہوں نے مولانا مودودی کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانوی کی تحریروں سے خاص طور پر استفادہ کیا۔

تیسرے پروفیسر عبد الحمید صدیقی نے مدتوں ترجمان القرآن کے اشارات لکھے اور مولانا مودودی کی زندگی میں لکھے۔

چوتھے خورشید صاحب کے ہم درس و ہم مشرب انگریزی کے ادیب ظفر اسحاق انصاری تھے جو قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری اور اعلیٰ پائے کے دانشور مولانا ظفر احمد انصاری کے بیٹے تھے۔ ظفر اسحاق انصاری نے ’’تفہیم القرآن‘‘ کو انگریزی میں منتقل کیا ہے۔ راقم نے 2011ء میں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقِ اسلامی کی عالمی سیرۃ کانفرنس میں شرکت کے لیے جب پاکستان کا سفر کیا تھا تو اس وقت ادارہ تحقیقِ اسلامی کے سربراہ پروفیسر ظفر اسحاق انصاری ہی تھے۔ اس موقع پر ان سے نیاز حاصل ہوئی۔ بڑے خلیق، متواضع اور نفیس انسان تھے۔

اس حلقہ کی پانچویں کڑی ڈاکٹر اسرار احمد تھے جو متحرک تحریکی آدمی اور خطیب تھے مگر جماعت کی انتخابی سیاست سے غیر مطمئن ہو کر جلد ہی اُس سے نکل آئے تھے اور اپنی الگ جماعت تنظیمِ اسلامی قائم کر لی تھی۔

اسی کہکشاں کے چھٹے ستارے پروفیسر خورشید احمد تھے۔ مولانا مودودی کے مکاتیب میں خورشید صاحب کے نام جو مکتوبات ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا ان پر بہت زیادہ اعتماد کرتے تھے اور ان کو بہت عزیز رکھتے تھے۔

پاکستان میں انہوں نے اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ پالیسی اسٹڈیز بنایا جو ملک کا بڑا تھنک ٹینک ہے اور اس ادارہ سے کئی اعلیٰ درجہ کے جرنل شایع ہوتے ہیں۔ یوکے میں پروفیسر خورشید احمد نے اسلامک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جو آج اس ملک میں مسلمانوں کا بڑا دعوتی، سماجی اور تحقیقی ادارہ ہے اور ایک تِھنک ٹینک کے بطور کام کر رہا ہے۔ بین المذاہب مذاکرات کی طُرح بھی خورشید صاحب نے اس ادارہ کے ذریعہ ڈالی۔ اسی ادارہ نے مارک فیلڈ میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا ہے جو مغرب میں اسلامی معاشیات اور فائنانس کی تعلیم دینے والا پہلا ادارہ ہے۔ یہ ادارے ملت کو اُن کی سب سے بڑی دَین ہیں اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ۔ ان دونوں اداروں کے علاوہ وہ ملک و بیرونِ ملک کے متعدد اداروں، تنظیموں اور مجلات کے مشیر یا ایڈوائزری بورڈ کے رکن تھے۔

ہمارے ایک فاضل دوست جو اِن دنوں ترکی میں پڑھا رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پروفیسر خورشید احمد پر ایک ترکی اسکالر نے، جو اس وقت جرمنی میں ہیں، پی ایچ ڈی کی ہے۔ مزید معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ ان پر ملائشیا، ترکی اور جرمنی کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے گئے ہیں۔ 1970ء میں تعلیم پر لیسسٹر یونیورسٹی (برطانیہ) نے، 1982ء میں ان کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ملائے یونیورسٹی آف ملائشیا نے، اور 2006ء میں نیشنل یونیورسٹی ملائشیا نے انھیں اسلامی معاشیات پر پی ایچ ڈی کی اعزازی سندیں دیں۔

پاکستان ہی کے ایک بڑے قد کے عالم و دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے اور ان کو بھائی خورشید اور ’’مجاہد‘‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے۔ کیونکہ وہ بے پناہ مجاہدہ کرتے تھے، ان کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ محض پانچ منٹ کا قیلولہ کر کے پھر کام میں لگ جاتے تھے۔

پروفیسر خورشید احمد 1970ء میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے جہاں لیسٹر میں ان کی رہائش گاہ تھی۔ انہوں نے لیسٹر یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کو جوائن کر لیا تھا جس میں انہوں نے معاصر فلسفہ کی تعلیم کے فرائض انجام دیے۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولانا مودودی نے جماعت کی امارت سے معذوری ظاہر کی تو کسی نے سوال کر دیا کہ مولانا آپ نے اپنے پیچھے قیادت کے لیے کسی کو تیار نہیں کیا؟ مولانا نے پُرمزاح جواب دیا: دو تیار کیے تھے ایک اللہ کو پیارے ہو گئے دوسرے لندن کو۔ (پہلے سے ان کی مراد خرم مراد تھے اور دوسرے سے خورشید صاحب)

خورشید صاحب تین بھائیوں میں منجھلے تھے۔ ان سے بڑے بھائی ضمیر احمد ایڈمیرل تھے اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر انیس احمد اسلام آباد کی رفاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ خورشید صاحب کے تین بیٹے اور تین صاحبزادیاں ہیں۔ ان کی وفات پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، ملائشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اور افغانستان کے رہنما فضل الہادی وزین نے ان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پروفیسر خورشید احمد کی رحلت ایک بڑے آدمی کی رحلت ہے اور امت کی سطح پر بڑا خسارہ۔ کسی عربی شاعر کا یہ شعر ان پر پوری طرح فٹ آتا ہے: وماکان قیس ہلکہ ہلک واحد ولکنہ بنیان قوم تہدما کہ ان کا جانا کسی ایک آدمی کا جانا نہیں بلکہ اس سے ایک قوم کی عمارت ڈھ گئی ہے۔ یعنی خورشید صاحب جیسے لوگوں کا خیر صرف جماعتی دائرہ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے معاشرے کو محیط ہوتا ہے اور ایک عہد کو متاثر کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ ؎

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائیں، آمین۔

پروفیسر خورشید: جہانگیر و جہانبان و جہاندار و جہاں آرا

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

پروفیسر خورشید رحمہ اللہ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر رہے۔ ان کے سینے پر سجے اس تمغے کی قدر وہی کچھ ہے جو عبد الستار ایدھی کو ملے حکومتی تمغے کی ہو سکتی ہے۔ ایدھی مرحوم کی اپنی مستقل شناخت کسی تمغے کی محتاج نہیں ہے۔ 100-50 سال بعد کے پروفیسر خورشید کی جھلک میں آج ہی دکھا دیتا ہوں جو نائب امیر والی نہیں بلکہ وہ ہے جس نے کل عالم میں اسلامی نظامِ معیشت اور بلا سود بینکاری متعارف کرائے ہیں۔ ادھر جماعت اسلامی کی بطور ایک عالمگیر اسلامی تحریک کے اپنی مستقل حیثیت ہے۔ مرحوم کا کمال یہ ہے کہ سیاسی راہنما ہو کر بھی اپنی ہیولہ سازی میں وہ یوں اوجِ کمال پر رہے کہ جیسے وہ سبھی جماعتوں کے عام سے کارکن ہیں۔ وہ طویل عرصہ سینیٹر رہے۔ قائدِ ایوان یا قائدِ حزبِ اختلاف نہ ہو کر بھی وہ تا دمِ رحلت ان دونوں حیثیتوں کے احترام سے بہرہ مند رہے۔

اس سے یہ نہ سمجھیے کہ اسلام کا کوئی اور قد آور عالمی راہنما شاید اب باقی نہیں ہے۔ اجتہادی بصیرت لیے اور نصوص (قرآن و سنت) سے نکتہ سنجی والے اپنے مولانا زاہد الراشدی متبحر عالمِ دین ہیں، ان کی صفاتِ حمیدہ کا پہلے کبھی تذکرہ کر چکا ہوں، آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ مفتی تقی عثمانی بھی عالمی سطح کے ماہرِ اقتصادِ اسلامی ہیں۔ بلا سود بینکاری میں ان کا اپنا مکتبِ فکر ہے جسے نکھرنے اور قبولیتِ عام حاصل کرنے میں ابھی خاصی طاقتور کششِ ثقل چاہیے۔ اب مجھے ان محترمین میں ذرا سے موازنے کی اجازت دے ہی دیجئے۔ پروفیسر صاحب نے جماعت اسلامی کا عہدے دار ہو کر بھی ہمیشہ جماعتی سیاست سے بالا ہو کر کام کیا اور کامیاب بھی رہے۔ مفتی صاحب محترم بھی عالمی مدبر ماہرِ اقتصاد اسلامی ہیں، لیکن انتخابی سیاست کے مواقع پر کسی سیاسی جماعت میں نہ ہو کر بھی وہ ایسے سیاست دان بن کر رہے کہ گویا وہ اتھلے پانیوں کے شناور ہوں جبکہ پروفیسر خورشید ایسے مواقع پر غیر محسوس طریقے پر دامن بچا کر ہمیشہ گہرے پانیوں کی طرف نکل جاتے رہے۔

پروفیسر خورشید فلموں ڈراموں کے آدمی نہیں تھے کہ ذرائع ابلاغ ان کی رحلت پر تعزیت کریں۔ ماتم میت کے گھر میں ہوتا ہے، پڑوس میں زندگی جوں کی توں رہتی ہے۔ اندرونِ ملک سے حزن و ملال بھرے درجنوں تعزیتی پیغام آج کا موضوع نہیں ہیں۔ مرحوم کے کام وطنی حد بندیوں سے ماورا کل عالم کو منور کر رہے ہیں۔ چنانچہ ملائشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے پیغامِ تعزیت کا اختصار یوں ہے:

’’پروفیسر خورشید محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ فی الاصل وہ جدید تصورات پر قائم اقتصاد اسلامی کے معمار تھے……... ان کی رحلت دنیائے اسلام کے لیے بحیثیت مجموعی ایک سانحہ کبریٰ ہے۔ تاہم ان کی علمی میراث ہماری اگلی نسلوں کو روشنی فراہم کرتی رہے گی‘‘.

ترکیہ کے سابق وزیراعظم (16- 2014) اور فیوچر پارٹی کے سربراہ احمد داؤد اولو کا نوحہ چند سطری نہیں ہے۔ انہوں نے مرحوم کی معمارِ اول اقتصادِ اسلامی والی حیثیت اور اتحادِ امتِ مسلمہ سے ان کی گہری وابستگی یاد کرتے ہوئے ایک طویل مضمون لکھا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سابق ترک وزیراعظم کے اس طویل مضمون کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’پروفیسر صاحب پاکستان کے چند اہم سیاست دانوں میں سے ایک اور اقتصادِ اسلامی میں قائدانہ کردار کے حامل تھے‘‘. اور یہ کہ: ’’اپنے قابلِ قدر دوست اور اقتصادِ اسلامی کے چند قائدین میں سے ایک پروفیسر خورشید کی رحلت کی خبر میں نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ سنی‘‘. یہ سابق وزیراعظم ترکیہ عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے پروفیسر صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے. یہ بات وہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’ان بہت سے کاموں میں جو ہم نے مل کر کیے, میں ان کے اخلاص کا گواہ ہوں. میں اس کا بھی گواہ ہوں کہ عالمِ اسلام کے مسائل حل کرنے اور اس کے اتحاد کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی‘‘.

افغانستان کے معروف صدارتی امیدوار اور میرے دیرینہ دوست ڈاکٹر فضل الہادی وزین آج کل ترکیہ میں مقیم ہیں۔ کبھی بات کرنا ہو تو پہلے ہم بذریعہ واٹس ایپ وقت طے کر لیتے ہیں۔ لیکن پروفیسر صاحب کی رحلت پر روہانسے ہو کر انہوں نے مجھے براہ راست فون کر دیا: ’’شہزاد، میں آپ سے تعزیت کرتا ہوں اور تم مجھ سے کرو. بتاؤ یہ کیا ہو گیا۔ ترکی میں ہوں اور بد قسمت ہوں کہ ان کے جنازے میں نہیں جا سکتا۔ وقت بتاؤ، میں اپنا نمائندہ بھیجوں گا‘‘. میں نے انہیں برطانیہ میں نماز جنازہ اور پاکستان میں غائبانہ نماز جنازہ کے اوقات بتائے تو انہوں نے اپنے نمائندے بھیجے۔

ترکیہ میں مقیم یہ سابق افغان صدارتی امیدوار ڈاکٹر وزین عالمی اتحاد علمائے مسلمین اور مسلم ورلڈ فورم برائے فکر و تہذیب کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے مجھے عربی، اردو، ترکی اور انگریزی میں پروفیسر صاحب پر طویل تعزیت نامہ بھیجا ہے۔ بخوفِ طوالت چنیدہ اقتباسات کچھ یوں ہیں:

’’عظیم دانشور و اسلام شناس، ممتاز مفکر، نجیب و شریف سیاستدان، حکیم دعوت گر، ماہر محقق، زبردست مصنف، معاصر اسلامی بیداری کی تحریک کے درخشاں ستاروں میں سے ایک، الحمد للہ کئی بار ملاقات کر کے ان سے علمی و روحانی فیض پایا، ہر ملاقات پر ان کی علمی گہرائی، فکری وسعت اور روحانی عظمت سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا۔ میں اپنی، اپنے خاندان اور افغانستان کے عوام کی طرف سے پوری امتِ مسلمہ، برصغیر کے مسلمانوں، پاکستانی قوم، عالمِ اسلام کے علمی و دعوتی حلقوں، اسلامی بیداری تحریک کے رہنماؤں، دوستوں، محسنوں، جماعت اسلامی پاکستان، بنگلہ دیش و ہند کے تمام قائدین سے تعزیت کرتا ہوں‘‘۔

اس مضمون کی تیاری میں مجھے ترکی سے انگریزی اردو ترجمے کی ضرورت رہی۔ ترکیہ ہی میں مقیم میرے دوست اور مقبوضہ کشمیر کے نامور صحافی اور سید علی گیلانی رحمہ اللّٰہ کے داماد جناب افتخار گیلانی نے مجھے بھرپور مدد دی۔ محترم ڈاکٹر فضل الہادی وزین نے بھی موقع بموقع رہنمائی کی۔ میں اپنے ان دونوں بھائیوں کا شکر گزار ہوں۔ اخباری مضمون زیادہ پیغامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید ہے مرحوم کا ادارہ تمام اہم پیغامات کو کتابی شکل میں مرتب کرے گا۔ مرحوم کی نور بھری زندگی کے چند اہم گوشوں کا ذکر انشاء اللہ اگلی دفعہ کروں گا۔

پروفیسر خورشید احمدؒ کی وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

ملک کے معروف دانشور اور پارلیمنٹیرین جناب پروفیسر خورشید احمد صاحب کی وفات ہم سب کے لیے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب ملک کے نہ صرف معروف دانشور تھے، پارلیمنٹیرین تھے، بلکہ ملی اور قومی مسائل پر بڑی مضبوطی کے ساتھ اظہارِ خیال کرنے والے راہنماؤں میں سے تھے اور انہوں نے پارلیمنٹ میں اور علمی اسٹیج پر، فکری محاذ پر اور عوامی محاذ پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ میری ان سے تقریباً‌ نصف صدی سے نیاز مندی رہی ہے، وہ جماعت اسلامی میں تھے، میں جمعیۃ علماء اسلام میں تھا، لیکن بہت سے مسائل پر فکری ہم آہنگی، قومی مسائل اور ملی مسائل پر مشترکہ جدوجہد، یہ ہمیشہ باعث بنی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے ملیں، ایک دوسرے سے استفادہ کریں، ایک دوسرے سے کام لیں اور ایک دوسرے کو کام دیں۔

پروفیسر صاحب کی زندگی کے مختلف کارناموں میں تین باتیں اس وقت میرے سامنے بہت زیادہ نمایاں ہیں:

(۱) ایک یہ کہ انہوں نے اپنے کراچی کے قیام کے دوران سرگرمیوں کے دوران سود کے مسئلے پر جس طرح فکرمندی کے ساتھ، حکمت و دانش کے ساتھ محنت کی ہے، سود کو حرام تو ہر مسلمان سمجھتا ہے، سود کی نحوستوں سے سب آگاہ ہیں، لیکن علمی بنیاد پر، فکری دائرے میں اور ٹیکنیکل حوالوں سے سود کی نحوستوں کو اور اس کی لعنت کو اجاگر کرنا اور قوم کو بالخصوص نئی نسل کو تیار کرنا، یہ بہت بڑے معرکے کی بات تھی، اور پروفیسر خورشید احمد صاحب نے ایک طویل عرصہ اس جدوجہد میں گزارا اور آخر وقت تک اس میں مصروف رہے۔

(۲) دوسری بات کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر انہوں نے قومی اور ملی مسائل پر مشترکہ سوچ بچار کا ایک فورم قائم کیا ’’انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘‘، مجھے اس میں متعدد بار حاضری کا اتفاق ہوا، کئی پروگراموں میں شرکت کا اتفاق ہوا، اور یہ بہت اچھی بات تھی کہ کسی قومی مسئلے پر، کسی ملی مسئلے پر مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ مل کر بیٹھیں اور ایک اجتماعی سوچ بیدار ہو۔ یہ ایک تھنک ٹینک کا کام ہوتا ہے جو پروفیسر خورشید احمد صاحب کے اس ادارے نے ایک طویل عرصے سے سنبھال رکھا تھا اور اب بھی وہ اپنے دائرے میں مصروفِ کار ہے۔

(۳) تیسرے نمبر پر مجھے یہ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، برطانیہ میں لیسٹر میں ’’اسلامک فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے پروفیسر خورشید احمد صاحب کا ادارہ، وہ بھی عالمی سطح پر اور یوکے کے ماحول میں انہی مقاصد کے لیے کہ لوگوں کو ملی اور قومی مسائل کی طرف توجہ دلائی جائے، بریف کیا جائے، ان کو اسٹڈی فراہم کی جائے، اور ان کو تیار کیا جائے کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ مجھے وہاں بھی بہت دفعہ جانے کا اتفاق ہوا، کئی پروگراموں میں شرکت ہوئی، کئی سال میں جاتا رہا ہوں ’’اسلامک فاؤنڈیشن‘‘ میں، پروفیسر صاحب کی موجودگی میں بھی، ان کی غیر موجودگی میں بھی، اور میں نے بہت سے پروگراموں میں شرکت کی ہے۔

مجھے اس بات پر بہت خوشی ہوئی کہ ملک کے اندر ’’انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘‘ کے نام سے اور یوکے میں ’’اسلامک فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے پروفیسر خورشید احمد صاحب نے مختلف مکاتبِ فکر کے دانشوروں کو بٹھانے اور اجتماعی سوچ بچار کے لیے تیار کرنے کی طویل خدمت کی، طویل محنت کی۔

آج مجھے وہ ساری باتیں یاد آ رہی ہیں اور پروفیسر خورشید احمد صاحب کی محنت پر دل سے دعا نکل رہی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی خدمات کو، محنت کو قبول فرمائیں، ان کے اداروں کو پہلے سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اجتماعی سوچ بچار کے ان فورموں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ترقیات، برکات، ثمرات سے نوازیں، اور پروفیسر خورشید احمد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، اور ان کے تمام متعلقین کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الاُمی وعلیٰ اٰلہ واصحابہ و بارک وسلم۔

youtu.be/rsUwelW96RE


’’آسان تفسیرِ قرآن‘‘

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بندے کے حاشیۂ خیال میں کبھی نہیں آیا تھا کہ میں کوئی مفصل تفسیر لکھنے کی جرأت کروں۔ اس کی پہلی وجہ تو تفسیر کی نزاکتوں کا ادراک تھا، اور اپنی کم علمی کے ساتھ اس نازک اور مقدس کام کے لئے اپنے آپ کو نااہل پاتا تھا۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ بفضلہ تعالیٰ ہمارے اکابر کی متعدد تفسیریں پہلے سے موجود ہیں۔ اور ان میں میرے والد ماجد (فداہ نفسی) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ اس قدر جامع اور عام فہم ہے کہ اُس نے لوگوں کا یہ عذر تقریباً‌ ختم کر دیا تھا کہ اکابر کی تفسیریں اُن کی سمجھ سے باہر ہیں۔ اس تفسیر میں ایک مسلمان کی زندگی کے مختلف شعبوں میں قرآنی ہدایات اور ان کے معارف کو جس دقتِ نظر اور تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ چنانچہ الحمد للہ تعالیٰ یہ تفسیر پورے عالمِ اسلام میں نہایت مقبول ہوئی۔ اور اس کا فائدہ بہت عام ہوا، اور انگریزی، فارسی، بنگالی، پشتو، سندھی، ٹامل وغیرہ زبانوں میں اس کا ترجمہ قرآنی ہدایات کا فیض پھیلا رہا ہے۔ اس کے بعد مجھ جیسے نااہل کے لئے کوئی تفسیر لکھنے کی ضرورت بھی معلوم نہیں ہوتی تھی، بلکہ یہ ایک جسارت معلوم ہوتی تھی۔

البتہ انگلش میڈیم اسکولوں اور سرکاری اسکولوں کے انحطاط نے یہ مشکل ضرور پیدا کر دی ہے کہ ان کا رابطہ فصیح اور معیاری اردو سے بڑی حد تک کٹ گیا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی یہ خیال ضرور آیا کہ جہاں آج کے لوگوں کو بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، وہاں کچھ تشریحی نوٹ بڑھا دیئے جائیں، خود حضرت والد صاحب قدس سرہ نے ’’عوارف القرآن‘‘ کے نام سے ’’معارف القرآن‘‘ کی تلخیص و تسہیل کا ایک سلسلہ شروع فرمایا تھا جو تھوڑا سا ہوا، پھر نا مکمل رہ گیا۔

اُدھر قرآنِ کریم کے مروّجہ تراجم بھی بہت سے لوگوں کے لیے سمجھ سے باہر ہو گئے تھے، اس لیے مجھ پر اصرار تھا کہ میں قرآن کریم کا کوئی آسان اور سلیس ترجمہ لکھوں، چنانچہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمے (The Noble Quran) کے بعد میں نے ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ کے نام سے ایک ترجمہ شائع کیا جو بفضلہ تعالیٰ بحیثیت مجموعی پسند کیا گیا، لیکن وہ ترجمہ ہی تھا، کوئی تفسیر نہیں تھی، صرف کہیں کہیں وضاحت کے لیے تشریحی نوٹ لکھے گئے تھے۔

اس موقع پر بعض حضرات نے مشورہ دیا کہ آج کل لوگ کتابیں پڑھنے سے زیادہ سمعی آلات مثلاً آڈیو سننے کو آسان سمجھتے ہیں اور اس کا ریکارڈ لگا کر سفروں کے درمیان بھی سن سکتے ہیں، لہٰذا آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے اگر کوئی درسِ قرآن آجائے تو فائدے کی امید ہے۔ اس تجویز کے پیشِ نظر بندہ نے تجربۃً‌ یہ ریکارڈنگ شروع کر دی۔ شروع میں اسے کتابی شکل میں لانے کا ارادہ نہیں تھا، لیکن متعدد احباب نے جن میں جناب رشید سلیم صاحب نہایت نمایاں ہیں، یہ زور دیا کہ اس ریکارڈنگ کو ضبطِ تحریر میں لا کر اسے شائع کیا جائے، چنانچہ سورۂ فاتحہ کی تفسیر اسی طرح الگ شائع ہوئی۔ اب جناب رشید سلیم نے اسی تفسیر کی تکمیل اور بہتر اشاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

مجھے تأمل اس لیے تھا کہ ریکارڈنگ میں خطابی انداز از خود تصنیف کرنے سے مختلف ہوتا ہے، نیز اس میں بہت سی باتیں مکرر بھی آجاتی ہیں، چنانچہ جناب رشید سلیم صاحب نے میرے ایک قابل ساتھی مولانا راشد حسین صاحب کو اس کام کے لیے تیار کیا کہ انہوں نے تقریروں کو بڑی حد تک تحریری اسلوب میں تبدیل کیا، اور پھر مجھے پورا کام دکھایا جس پر میں نے نظر ثانی کی اور بہت سی تبدیلیاں کیں، بالآخر یہ مسودہ تیار ہو گیا جو بحیثیتِ مجموعی ایک کتابی تفسیر کی شکل میں آگیا۔

سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی ضخیم جلد آپ کے سامنے آرہی ہے، اس پر میں نے تین بار نظر ڈالی ہے اور جہاں کوئی اشکال تھا یا بات مکمل نہ تھی اس کو مکمل کیا ہے۔

اس سارے کام کا سہرا برادرِ مکرم جناب رشید سلیم صاحب اور میرے عزیز بھائی مولانا راشد حسین صاحب کے سر ہے جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت کو اپنا مقصدِ زندگی بنا لیا، پہلے میرے جو درس ریکارڈنگ کی شکل میں تھے، انہیں لفظ بہ لفظ قلم بند کروایا، پھر میری ہدایات کے مطابق ان کو خطابی شکل سے کتابی شکل دی اور مجھے مسودہ دکھایا۔ میں نے اس کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرے کو پڑھ کر اس میں جوہری تبدیلیاں کیں، اور بہت سے مضامین ازسرِنو لکھے۔

مولانا راشد حسین صاحب نے اس ترمیم شدہ مسودے کو نہ صرف ترتیب دیا، بلکہ اس میں جن آیات و احادیث یا فقہی مسائل کے حوالوں کی ضرورت تھی ان کی تخریج کر کے حواشی میں ان کا اضافہ کیا۔ نیز جہاں ضرورت سمجھی، قوسین میں الفاظ کی تشریح بھی کی، اور مضامین پر عنوانات قائم کئے۔ اس کے بعد پھر آخری نظر کے لیے مجھے یہ مرتب شدہ مسودہ دیا۔ میں نے اسے ایک بار پھر مکمل پڑھا۔ ما شاء اللہ اب کام ایسا ہو گیا تھا کہ بہت کم مقامات پر مجھے مزید ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس طرح سورۂ بقرہ بفضلہٖ تعالیٰ پوری ہو گئی اور اب اس انداز میں آپ کے سامنے ہے کہ گویا یہ خود میری لکھی ہوئی ہے۔

جو دروس اب تک ریکارڈ ہو چکے ہیں، ان میں بفضلہٖ تعالیٰ سات پارے مکمل ہیں، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء، سورۂ مائدہ اور سورۂ انعام کا بیشتر حصہ پورا ہو چکا ہے، اور ریکارڈنگ مزید جاری ہے۔ سورۂ بقرہ کے بعد باقی سورتوں پر مولانا راشد حسین صاحب مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اور امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ کام بھی رفتہ رفتہ سامنے آتا رہے گا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے معارف و اسرار ایک ناپیدا کنار سمندر کی طرح ہیں، اور چودہ صدیوں سے اس سمندر سے موتی نکالے جا رہے ہیں، لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے اس کلامِ الٰہی کے تمام گوشوں کا احاطہ کر لیا ہے۔ لیکن اپنی اپنی سمجھ اور اپنی اپنی سطح کے مطابق جو کوششیں ہوتی رہی ہیں، یہ کتاب بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔ اگر اس میں کوئی بات صحیح اور اچھی ہے تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے، اور اگر کوئی بات خدانخواستہ غلط یا کمزور ہے تو وہ اس بندۂ عاجز کی نااہلی کی بنا پر ہے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرما کر اس بندۂ عاجز کی مغفرت کا ذریعہ بنا دے، اور یہ پڑھنے والوں کو فائدہ پہنچا کر قرآن کریم کی تعلیم عام کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ آمین۔

بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنہ

۵ رجب ۱۴۴۲ھ

۱۷ فروری ۲۰۲۱ء

دعا

یا اَرحم الراحمین…! میں اس عاجز وجود کے ساتھ آپ کے کلامِ مجید کا ترجمہ اور اس کی تشریح آپ کے اُن بندوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو آپ کے کلام کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ حقیقت میں آپ کے اس عظیم کلام کا ترجمہ اور تشریح کسی بندے کے بس کی بات نہیں۔ جب تک آپ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو، کوئی بھی بندہ آپ کے کلام کی عظمت اور اس کی حقیقت کو اپنے ناقِص لفظوں میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کوشش اور کاوش کا اصل مقصود، محض آپ کی رضا کا حصول اور آپ کے کلام کو آپ کے بندوں تک پہنچانے کی نیت ہے۔

یا اللہ…! اسے شرفِ قبولیت سے نواز کر اس کا پورا پورا اجر عطا فرما۔

یا اَرحم الراحمین…! اپنے فضل و کرم سے مجھے اس کام میں اخلاص بھی عطا فرما اور اس کو ٹھیک ٹھیک اپنی رضا کے مطابق انجام دینے کی توفیقِ کامل بھی عطا فرما۔ آپ ہی انسان کو توفیق دینے والے ہیں اور آپ ہی اس کو ایسے کام کرنے کی صلاحیت عطا فرمانے والے ہیں، جو آپ کی رضا کے مطابق ہو۔ آپ کی توفیق کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔

اے اللہ…! اپنے فضل و کرم سے مجھے اس کی توفیق عطا فرما اور پڑھنے والوں کے لیے اس کو نافع و مفید بنا دے اور اس کو میرے لیے اپنی رضائے کامل کے حصول اور صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بنا دے۔ آمین ثم آمین

میں قرآنِ کریم کی یہ ناچیز خدمت اس احساس کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ اس بے مثال کلام کی خدمت کے لیے جس علم کی ضرورت ہے، میں اس سے تہی دامن ہوں، لیکن جس مالکِ کریم کا یہ کلام ہے، وہ جس ذرۂ بے مقدار سے جو کام لینا چاہے، لے لیتا ہے، لہٰذا اگر اس خدمت میں کوئی بات اچھی اور درست ہے تو وہ صرف اسی کی توفیق سے ہے اور اگر کوئی کوتاہی ہے تو وہ میری نا اہلی کی وجہ سے ہے۔

اسی مالک کریم کی بارگاہ میں یہ التجا ہے کہ وہ اس خدمت کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما کر اسے مسلمانوں کے لیے مفید اور اس ناکارہ کے لیے آخرت کا ذخیرہ بنا دے، آمین۔ وما توفیقی الا باللہ۔


رابطہ: مکتبہ معارف القرآن، کراچی

923122592838

mm.q@live.com



(نوٹ: یہ تحریر ۲۰۲۱ء کی ہے، اس کے بعد مزید جلدیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ادارہ الشریعہ)


حکمران کے دس حقوق

افادات : مولانا مفتی عبد الرحیم

مصنف : مفتی عبد المنعم فائز

جس طرح حکمران پر عوام کے حقوق ہیں اسی طرح عوام کے ذمے بھی حکمران کے 10 بڑے حقوق ہیں۔ ہم سوشل میڈیا اور اپنی نجی گفتگو میں اپنے حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر حکمران کے جو حقوق قرآن و حدیث نے ہم پر لازم کیے ہیں، ان کو ادا کرنے کی فکر نہیں کرتے۔ ذیل میں ان حقوق کی تفصیل مذکور ہے:

(1) جائز امور میں حکمران کی اطاعت کرنا

جب امیر یا حکمران کسی جائز کام کا حکم دے تو اس کو سرانجام دینا عوام پر واجب ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ کام حکم دینے سے پہلے جائز اور مباح تھا، مگر امیر اور حکمران نے چونکہ اس کا حکم دے دیا ہے، اس لیے اب اس کو کرنا واجب ہو گیا ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر امام یا حکمران کہے کہ آج کے دن سب روزہ رکھیں تو عوام پر اس دن روزہ رکھنا واجب ہو جائے گا۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ متعدد فقہائے کرام کے حوالے سے فرماتے ہیں:

طاعۃ الامام فی غیر معصیۃ واجبۃ، فلو امر بصوم یوم وجب۔
’’جو کام گناہ نہ ہو، اس میں امام کی اطاعت کرنا واجب ہے، چنانچہ اگر وہ کسی دن روزہ رکھنے کا حکم دے دے تو روزہ رکھنا واجب ہو جائے گا۔‘‘

اسی طرح اگر امام کسی مباح اور جائز کام سے رکنے کا حکم دے دے تو اس سے رکنا بھی واجب ہو جاتا ہے، یعنی وہ مباح کام ناجائز بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مباح کی شرعی حیثیت تبدیل ہو گئی، اصل شریعت کی رو سے وہ اب بھی مباح ہے، لیکن اطاعتِ امام کی وجہ سے وہ واجب اب ناجائز ہو گیا ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے ٹریفک کے جو قواعد نافذ کیے جاتے ہیں، شہریوں پر ان کی پابندی کرنا شرعی طور پر بھی لازم اور واجب ہے۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، ہم اس خیر کی حالت میں ہیں، کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: کیا اس شر کے بعد بھی خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے پیچھے پھر شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: وہ کس طرح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایسے امام (حکمران) ہوں گے جو زندگی گزارنے کے میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور میری سنت کو نہیں اپنائیں گے اور جلد ہی ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی وضع قطع انسانی ہو گی، مگر دل شیطانوں کے دل ہوں گے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں (تو کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امیر کا حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا، چاہے تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی سننا اور اطاعت کرنا۔‘‘

(2) حکمران کی خیر خواہی چاہنا

احادیث میں بہت واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے، یعنی کوئی بھی شخص اس وقت تک دین پر عمل کا دعویدار نہیں ہو سکتا جب تک وہ دوسروں کی خیر خواہی چاہنے والا نہ بن جائے۔ خیر خواہی ایک ایسا لفظ ہے جس میں تمام حقوق العباد آجاتے ہیں۔ جب انسان کسی کا خیر خواہ ہوتا ہے تو اسے عوام میں طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بناتا، اس کے خلاف نفرت نہیں پھیلاتا، اس کے لیے برے الفاظ و القاب استعمال نہیں کرتا، اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا ہے۔ ہر ہر مسلمان کی خیر خواہی چاہنے سے متعلق بہت سی احادیث ہیں مگر کچھ طبقات کو بڑی وضاحت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین فرما دیا کہ ان کے لیے تو بہرحال خیر خواہی کا رویہ اپنانا چاہیے، ان میں سے حکمران کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ آج کے دور میں جب ہر شخص کے ہاتھ سوشل میڈیا آچکا ہے، شاید ان حالات میں ان احادیث کو بارہا پڑھنے کی ضرورت ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:

عن تمیم الداری قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الدین النصیحۃ إن الدین النصیحۃ إن الدین النصیحۃ، قالوا: لمن یا رسول اللہ؟ قال للہ وکتابہ ورسولہ وائمۃ المؤمنین وعامتہم، او ائمۃ المسلمین وعامتہم۔
’’حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، بے شک خیر خواہی کا نام ہے، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام انسانوں کے لیے۔‘‘

(3) حکمران کے ساتھ محبت و الفت کا تعلق قائم رکھنا

حکمرانوں سے عوام کا تعلق محبت و الفت کا ہونا چاہیے۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے محبت کریں اور ان کے لیے دعا کریں، جبکہ یہی رویہ حکمرانوں کی طرف سے بھی ہونا چاہیے۔

عن عوف بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال خیار أئمتکم الذین تحبونہم ویحبونکم ویصلون علیکم وتصلون علیہم وشرار أئمتکم الذین تبغضونہم ویبغضونکم وتلعنونہم ویلعنونکم قیل یا رسول اللہ أفلا ننابذہم بالسیف فقال لا ما أقاموا فیکم الصلاۃ وإذا رأیتم من ولا تکم شیئا تکرھونہ فاکرھوا عملہ ولا تنزعوا یدا من طاعۃ۔
’’عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم ان کے حق میں دعائے خیر کرو اور وہ تمہارے حق میں دعائے خیر کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہم ان کی بیعت توڑ کر ان کے خلاف بغاوت نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ناگوار چیز دیکھو تو اس کے برے عمل کو ناپسند کرو، لیکن اس کی اطاعت کرنا ہرگز نہ چھوڑو۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی بھی قوم کا بڑا، امام اور حکمران آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو عزت سے نوازتے تھے۔ وہ شخص چاہے مسلمان ہو یا کافر ہو، کسی بھی قوم کے بڑے کو عزت دینا سیرت کی تعلیم ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ جو شخص جاہلیت کے زمانے میں سردار ہوگا، اسلام لانے کے بعد اس کی سرداری چھینی نہیں جائے گی، وہ پھر بھی سردار ہی رہے گا۔ لوگوں کے رتبے اور عہدے کے مطابق ان سے سلوک کرنا اسلام کی واضح تعلیمات میں سے ہے۔ اس لیے حکمران کو عزت دینا اسلام کی اہم تعلیم ہے۔

عن أبی موسیٰ الأشعری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن من إجلال اللہ إکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القرآن غیر الغالی فیہ والجافی عنہ وإکرام ذی السلطان المقسط۔
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ان تین لوگوں کی عزت و توقیر کرنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی تعظیم کرنا ہے: بوڑھے مسلمان کی عزت کرنا، قرآن مجید کے حافظ کی تعظیم کرتا جو قرآن میں غلو کرنے والا نہ ہو اور نہ ہی اس سے روگردانی کرنے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کے مرتبے کا خیال رکھ کر انہیں عزت سے نوازنا بھی شریعت کا حکم ہے۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنزلوا الناس منازلہم۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ رویہ ان کے رتبے کے مطابق کیا کرو۔‘‘

(4) حکمران کو ڈھال سمجھنا اور اسے مضبوط کرنا

حکمران کسی بھی قوم کا محافظ ہوتا ہے، ممکن ہے اس کی کچھ باتیں ناپسندیدہ ہوں، لیکن بے شمار ایسے پہلو ہوتے ہیں جن کی وجہ سے حکمران کی موجودگی غنیمت ہوتی ہے۔ بے شمار شرعی اور انتظامی احکام ایسے ہیں جن کی وجہ سے حکمران کی قدر کرنی چاہیے اور اس کو اپنی ڈھال سمجھتے ہوئے اس کو مضبوط کرنا چاہیے۔

عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إنما الإمام جنۃ یقاتل من ورائہ ویتقی بہ فإن أمر بتقوی اللہ عز وجل وعدل کان لہ بذلک أجر وإن یأمر بغیرہ کان علیہ منہ۔
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک امام ڈھال ہوتا ہے، اس کی اوٹ میں جہاد کیا جاتا ہے، اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اللہ سے ڈرنے اور انصاف کا حکم دے تو اسے اجر ملتا ہے اور اگر اس کے خلاف کچھ کیا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا۔‘‘

(5) نفیر عام پر تمام کام چھوڑ کر نکلنا

عام حالات میں جہاد فرضِ کفایہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت (ان دنوں باقاعدہ افواج اسی فرضِ کفایہ کی تکمیل کرتی ہیں) جب تک اس فرض کو ادا کر رہی ہے تو دیگر مسلمان اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب امیر یہ حکم دے دے کہ اب نفیر عام ہے اور ہر شخص جنگ کے لیے نکلے تو پھر کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ امیر کی بات نہ مانے اور جہاد کے لیے نہ نکلے۔ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جہاد تین صورتوں میں فرضِ عین ہو جاتا ہے:

1۔ جب مسلمانوں کا لشکر کافروں کے روبرو ہو جائے اور صف بندی ہو جائے تو اب اس لشکر میں موجود کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ جنگ سے پیچھے ہٹ جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اے ایمان والو جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ فلاح پاؤ۔

2۔ جب کافر کسی اسلامی ملک پر حملہ کر دیں تو وہاں کے شہریوں پر بھی لازم ہو جاتا ہے کہ وہ جنگ لڑیں اور اپنے ملک کا دفاع کریں۔

3۔ جب حکمران کسی جگہ پر نفیر عام کا اعلان کر دے، تو اب وہاں موجود ہر شخص پر لازم ہو جاتا ہے کہ اپنے امیر کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

یا ایھا الذین اٰمنوا ما لکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض ارضیتم بالحیٰوۃ الدنیا من الاٰخرۃ۔
’’اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ راہِ خدا میں کوچ کرو تو تم بوجھ مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو، کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کر لی۔‘‘

فقہائے کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ عام حالات میں والدین کا حکم ماننا ضروری ہے، لیکن اگر نفیر عام ہو جائے تو اس حالت میں امیر کا حکم ماننا ہوگا اور جہاد کے لیے نکلنا ہوگا۔ امام سرخسی لکھتے ہیں:

وعند النفیر العام لا بأس لہ أن یخرج وإن کرہ ذلک أبواہ لأنہ بالخروج یدفع عن نفسہ وعنہما وإذا لم یکن النفیر عاما، وأمرہ الإمام بالخروج فلیخبرہ خبر أبویہ فإن أمرہ بالخروج مع ذلک، فلیطعہ۔

المحیط البرہانی میں ہے:

إذا جاء النفیر، فقیل لأھل مدینۃ أو مصر قریب من العدو، وقد جاء العدو یریدون أنفسکم وذراریکم وأموالکم، فلا بأس بأن یخرج الرجل بغیر إذن والدیہ وإن نھیاہ فلا بأس بأن یعصیہما إذا کان ممن یقدر علی الجہاد۔

فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے:

وإذا أراد الرجل أن یخرج للجہاد، ولہ أب أو أم فلا ینبغی لہ أن یخرج إلا بإذنہ إلا من النفیر العام۔

(6) حکمران کی ناگوار باتوں پر صبر کرنا

حکمران کو شریعت نے اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کی ناگوار باتوں پر صبر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ناروا کاموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے یا بغاوت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ بہت واضح ہے کہ حکمران اگر اپنی رعایا کے ایک ایک شخص کو وضاحتیں پیش کرتا اور مطمئن کرتا رہے گا تو وہ حکمرانی کبھی نہیں کر سکے گا۔ بہت سے مسائل اور معاملات ایسے ہوں گے جن کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوں گے یا حالات کی نزاکت کی بنیاد پر عوام کو ان کی تفصیلات بتانا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ حکمران جو چاہے کرتا پھرے، اس سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں ہو گی، کیونکہ اللہ کے دربار میں حکمران کی جواب دہی ہو گی اور اپنے غلط اقدامات کی صفائی اسے بہرحال روزِ قیامت پیش کرنا ہو گی۔

عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من کرہ من أمیرہ شیئا فلیصبر فإنہ من خرج من السلطان شبرا مات میتۃ جاھلیۃ۔
’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اپنے امیر کی کوئی بات ناپسند لگے تو اسے چاہیے کہ صبر کرے، کیونکہ جو شخص اپنے بادشاہ کی اطاعت سے ایک بالشت بھی باہر نکل گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے:

سمعت ابن عباس رضی اللہ عنہما، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، قال: من رای من امیرہ شیئا یکرھہ فلیصبر علیہ، فإنہ من فارق الجماعۃ شبرا فمات إلا مات میتۃ جاہلیۃ۔
’’میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناپسند لگے، تو اسے چاہیے کہ اس پر صبر کرے۔ کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو جائے اور پھر اسی حال میں مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔’’

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کی نافرمانی کرنے والے اور اس کے خلاف بغاوت کرنے والے کی موت کو جاہلیت کی موت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کے مطلب میں لکھا ہے کہ دورِ جاہلیت میں لوگ بغیر کسی امیر اور حکمران کے رہتے تھے اور اپنے قبیلے یا قوم کے لیے لڑتے تھے، دوسرے قبیلوں کو اپنے ماتحت لانے اور محکوم بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے، بالکل اسی طرح حکمران کی اطاعت سے نکل جانے والا اور اس کی نافرمانی کرنے والا بھی ہے۔

(7) حکمت و بصیرت کے ساتھ حکمران کو نصیحت کرنا

معاشرے میں موجود علمائے کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے امیر و حکمران کو اچھے مشورے دیں، حکمت و بصیرت کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں، ان کی غلط باتوں پر تنبیہ کریں اور ان کے اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی کریں۔ ہر دور میں علمائے کرام نے اس فرض کو نبھایا ہے اور حکمرانوں کو وعظ و نصحت کرتے رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پر بے شمار علمائے کرام کے واقعات رقم ہیں اور عامر شعبی اور امام زہری سے لے کر امام الہند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تک تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جس سے قدم بہ قدم رہنمائی ملتی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے عہدے اور مرتبے کے اعتبار سے عزت دیں۔ کسی بھی قوم کا سردار اپنے رتبے کے اعتبار سے عام افراد سے زیادہ عزت و احترام کا مستحق ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح حکمرانوں کو نصیحت کے لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے رتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نصیحت کی جائے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کی طرف حکمت اور بصیرت سے دعوت دو، انداز ایسا رکھو کہ دشمن بھی دوست بن جائے۔ پھر حکمران کے لیے تو حدیث میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ حکمرانوں کی خیر خواہی چاہو۔ ظاہری بات ہے کہ نصیحت کرنا، برے کاموں سے روکنا اور درست مشورے دینا ایک بہت بڑی خیر خواہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ثلاث لا یغل علیھن قلب امرئ مسلم: إخلاص العمل للہ، ومناصحۃ ولاۃ الأمر، ولزوم جماعۃ المسلمین فإن دعوتہم تحیط من ورائہم۔
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان شخص کا دل تین کاموں میں خیانت نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کے اخلاص سے کام کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی چاہنا اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہنا کہ ان کی دعا سب طرف سے گھیر لیتی ہے۔‘‘

(8) حکمران کو علیحدگی میں نصیحت کرنا

حکمران کو نصیحت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں کی جائے۔ حکمران جب کسی بھی قوم کا سرکردہ شخص ہے تو ضروری ہے کہ اس کی عزت کا خیال رکھا جائے، اس کی خیر خواہی کی جائے، عزت اور خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ اسے تنہائی میں سمجھایا جائے۔ لوگوں کے سامنے اسے ذلیل کرنا، منبر پر بیٹھ کر اس کی مذمت کرنا، یا سوشل میڈیا کو اس کام کے لیے استعمال کرنا اہلِ سنت والجماعت کا طریقہ نہیں رہا۔ دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت واضح حدیث ہے:

فقال عیاض بن غنم یا ہشام بن حکیم قد سمعنا ما سمعت و رأینا ما رأیت أولم تسمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من أراد أن ینصح لسلطان بأمر فلا یبد لہ علانیۃ ولکن لیأخذ بیدہ فیخلو بہ فإن قبل منہ فذاک وإلا کان قد أدی الذی علیہ لہ۔
’’عیاض بن غنمؓ نے جواب دیا: اے ہشام! جو آپ نے سنا وہ ہم نے بھی سنا تھا اور جو آپ نے دیکھا وہ ہم بھی دیکھ چکے تھے، لیکن کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: جو شخص بادشاہ کو کسی مسئلے سے متعلق نصیحت کرنا چاہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے سامنے نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑے اور تنہائی میں لے جائے۔ اگر بادشاہ اس نصیحت کو قبول کر لے تو بہت اچھا، ورنہ اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا۔‘‘

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ مبارک میں جب بلوائیوں نے حملہ کر دیا اور ہر طرف شورش پھیل گئی تو صحابہ کرامؓ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ حضرت عثمانؓ سے کیوں نہیں جا کر ملتے اور ان کو نصیحت کرتے؟ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے حضرت عثمانؓ سے بات نہیں کی؟ کیا میں تمہیں بھی وہ نصیحت سناؤں؟ میں ان سے جو بات کرتا ہوں، وہ میرے اور ان کے درمیان رو جاتی ہے، میں وہ دروازہ نہیں کھولنا چاہتا، جس کو سب سے پہلے میں کھولنے والا بن جاؤں۔‘‘

اسی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تو یہ فرماتے تھے کہ جس کے دل میں آئے، وہی امام اور حکمران کو نصیحت کرنے کے لیے نہ چل پڑے، بلکہ ایسے عالمِ دین کو نصیحت کرنی چاہیے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطلب سمجھتا ہو، جس کام کا حکم دینا ہے اسے نرمی سے کہہ سکتا ہو، جس کام سے منع کرتا ہے اسے بھی نرمی سے بتا سکتا ہو، جس کا حکم دے رہا ہے اس میں انصاف سے کام لے، جس کام سے منع کرنا ہے، اس میں بھی انصاف سے کام لے۔ حد سے تجاوز نہ کرے۔

عن سفیان الثوری، قال: لا یأمر السلطان بالمعروف إلا رجل عالم بما یأمر عالم بما ینھی، رفیق فیما یأمر رفیق فیما ینھی، عدل فیما یأمر عدل فیما ینھی۔

برائی کیسے روکیں؟

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ برائی کو روکنے کا بھی حکم ہے۔ اس لیے حکمران کو غلطی پر اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ اسے تنہائی میں حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھایا جائے۔ اس طریقہ کو اپنانے سے حکمران کی اصلاح کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد بھی اگر برائی جاری ہو تو اس کے خلاف حکمت و بصیرت سے بولنا بھی ضروری ہے۔ اس انداز میں برائی کی نشان دہی کرنی ہو گی کہ اس کے نتیجے میں اصلاح کے امکان بڑھ جائیں، ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا جس کی وجہ سے مزید تباہی و بربادی آئے، یا حکمران اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لے، یا بات ذاتی مخاصمت تک پہنچ جائے۔ اسی کو حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر آپ حکمران یا نگران ہیں تو برائی کو ہاتھ سے روک دیں، ورنہ اس کے خلاف زبان سے بات کریں، اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو پھر دل سے برا جائیں۔ اگر یہ تمام کوششیں بھی ناکام ہو جائیں اور حکمران کے ظلم و ستم یا دین سے دوری اور بے راہ روی کی وجہ سے کوئی کوشش کارگر نہیں ہو رہی اور یہ خطرہ ہے کہ بادشاہ کو اس برے کام سے روکا تو وہ نصیحت کرنے والے کو قتل کر دے گا، تو اس صورت میں حکمران کے سامنے اعلانیہ بولنا بھی ضروری ہے اور اس کو حدیث شریف میں سب سے عظیم جہاد بھی قرار دیا گیا ہے۔ مشکوۃ کی شرح مرقاۃ میں لکھا ہے:

(وعنہ) ; أی عن أبی سعید (قال: قال رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم-: أفضل الجہاد من قال) أی جہاد من قال، أو أفضل أھل الجہاد من قال: (کلمۃ حق) أی قول حق ولو کان کلمۃ واحدۃ، وضدہ ضدہ (عند سلطان جائر) ; أی صاحب جور وظلم، قال الطیبی: أی من تکلم کلمۃ حق ; لا کلمۃ حق تحملہ، قال الخطابی: وإنما صار ذلک أفضل الجہاد لأن من جاھد العدو وکان مترددا بین الرجاء والخوف، لا یدری ھل یغلب، أو یغلب؟ وصاحب السلطان مقھور فی یدہ، فھو إذا قال الحق وأمرہ بالمعروف، فقد تعرض للتلف، فصار ذلک أتلف أنواع الجھاد: من أجل غلبۃ الخوف وقال المظھر: وإنما کان أفضل، لأن ظلم السلطان یسری فی جمیع من تحت سیاستہ، وھو جم غفیر، فإذا نھاہ عن الظلم فقد أوصل النفع إلی خلق کثیر۔

لیکن یہ بات بہر حالسمجھ لینی چاہیے کہ حکمرانوں پر سب و شتم کرنا، ان کی کردار کشی کرنا ، ان پر طعن و تشنیع کرنا اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا کسی بھی طور مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ ایسا سلوک کسی عام شخص سے روا رکھنا جائز نہیں، مسلمان حکمران کے ساتھ تو بالکل ہی نامناسب ہے۔ آگے اس کی تفصیل بھی آ رہی ہے۔ ان شاء اللہ۔

عوام پر حکمران کا یہ بھی حق ہے کہ اس کی طرف سے مقرر کردہ نگران حضرات کی کارکردگی سے حکمران کو باخبر بھی رکھیں۔ ہمارے ہاں رواج ہو چکا ہے کہ حکمرانوں کی برائیوں کو تو ہائی لائٹ کیا جائے، سوشل میڈیا اور ہر ہر طریقے سے وائرل کیا جائے، لیکن اگر کوئی نیک کام کرتا ہے، اچھے اقدام کرتا ہے تو نہ اسے ہائی لائٹ کیا جاتا ہے، نہ ہی کوئی کوشش کرتا ہے کہ اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے اس کو وائرل کرے۔ یہ طریقہ کار عدل و انصاف کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتا اور نہ ہی شریعت کے احکام پر۔

’’صحابہ کرامؓ جب کسی مہم یا سفر سے واپس تشریف لاتے تو اپنے سفر کے امیر کی کارگزاری اور حالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتے۔‘‘

(9) کارِ خیر میں حکمران کے ساتھ تعاون کرنا

حکمران جب کوئی نیک کام کرے تو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارے ہاں ہر طاقت ور سے نفرت اور حکمرانوں سے بدظنی عروج پر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے حکمران کے اچھے کاموں کی تعریف نہیں کی جاتی۔ عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی ذاتی وابستگیوں اور مفادات سے بالاتر ہو کر حکمران کے اچھے کاموں کی حمایت کرے۔ لوگوں کے نیک کاموں کو سراہنا چاہیے تاکہ معاشرے میں نیکی کرنے والوں میں اضافہ ہو۔ اس کے برعکس جب برے کاموں پر تنقید تو کی جاتی ہو، تو کام کرنے والا بھی مایوس ہو جاتا ہے اور لوگوں کی تعریف و مذمت سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔

ارشاد خداوندی ہے:

وتعاونوا علی البر والتقویٰ۔
’’نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘

(10) حکمران کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرنا

ہر دور میں اہلِ علم کی عادت رہی ہے کہ وہ اپنے حکمران کے لیے دعا کا اہتمام کرتے تھے۔ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ خوارج اور اہلِ سنت والجماعت میں چار بنیادی چیزوں کا فرق ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اہلِ سنت اپنے حکمران کے لیے دعا کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ خوارج اس کے قائل نہیں ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

من قال: الصلاة خلف كل بر و فاجر، والجھاد مع كل خليفۃ، ولم ير الخروج علی السلطان بالسيف، ودعا لھم بالصلاح، فقد خرج من قول الخوارج أولہ وآخرہ۔
’’جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز جائز ہے، ہر خلیفہ کے ساتھ جہاد درست ہے، وہ بادشاہ کے خلاف تلوار سے خروج کا قائل نہ ہو اور حکمران کی اصلاح کے لیے دعا کرتا ہو، وہ مکمل طور پر خوارج سے نکل جاتا ہے۔‘‘

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ عباسی حکمرانوں نے انہیں نہ صرف جیل میں ڈالا بلکہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا، لیکن اس کے باوجود وہ فرماتے تھے کہ حکمران کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ یہی علمائے حق کی علامت ہے کہ اپنے ذاتی اختلافات یا رنجشوں کی باعث دین کے احکام میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے فرما رہے ہیں۔

أخبرنی علی بن عیسی بن الولید، أن حنبلا، حدثہم وأخبرنی عصمۃ بن عصام، قال: ثنا حنبل، فی ھذہ المسألۃ، قال: وإنی لأدعو لہ بالتسدید، والتوفیق، فی اللیل والنہار، والتأیید، وأری لہ ذلک واجبا علی۔
’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: میں حکمران کے لیے راہِ راست و درستگی، توفیق اور تائیدِ خداوندی کی رات دن دُعائیں مانگتا ہوں اور ایسا کرنے کو میں اپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں۔‘‘

حضرت فضیل بن عیاضؒ زہد و تقویٰ اور علم و فضل میں ایک جداگانہ مقام رکھتے تھے، امام سفیان بن عیینہؒ جیسے عظیم محدث ان کو ثقہ کہتے اور ان کے ہاتھ چومتے تھے۔ حضرت فضیل بن عیاضؒ کا یہ فرمان ہمارے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے:

عن فضيل بن عياض أنہ قال: لو كانت لی دعوۃ ما جعلتھا إلا فی السلطان قیل لہ: یا أبا علی! فسر لنا ھذا؟ (وأبو علی کنیۃ الفضیل بن عیاض) قال: إذا جعلتہا فی نفسی لم تعدنی، وإذا جعلتھا فی السلطان صلح فصلح بصلاحہ العباد والبلاد۔
’’حضرت فضیل بن عیاضؒ نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو کہ میری ایک ہی دعا قبول ہو گی تو میں وہ دعا بادشاہ کے لیے مانگوں گا۔ ان سے کہا گیا کہ ابو علی! اس کی مزید وضاحت فرمائیے۔ انہوں نے جواب دیا: اگر میں اپنے لیے دعا مانگوں گا تو اس کا میرے علاوہ کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔ جب میں بادشاہ کے لیے دعا مانگوں اور وہ ٹھیک ہو جائے تو بادشاہ کی اصلاح سے سارے عوام اور ملک ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

امام احمد بن حنبل اور خلیفہ متوکل باللہ عباسی کا واقعہ

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنے دور کے عظیم ترین عالمِ دین تھے۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دور میں فتنہ خلقِ قرآن شروع ہوا اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ پر حکمرانوں کی سختیاں شروع ہو گئیں۔ خلیفہ معتصم باللہ نے تو امام احمدؒ کو جیل میں ڈال دیا، پابجولاں کر دیا اور نہایت اذیت سے دو چار کیا۔ اس کے بعد واثق باللہ بھی یوں ہی ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتا رہا۔ پھر متوکل باللہ کے دور میں جا کر یہ آزمائش ختم ہوئی۔

کسی بدخواہ نے خلیفہ متوکل باللہ کے کان بھرے اور یہ کہا کہ علویین میں سے کوئی شخص امام احمد بن حنبلؒ کے پاس گیا اور اب امام احمد بن حنبلؒ خفیہ طور پر علویوں کے لیے بیعت لے رہے ہیں۔ خلیفہ نے بغداد کے گورنر کو حکم دیا کہ رات کے وقت امام احمد بن حنبلؒ کے گھر پر چھاپہ مارے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچے۔ گورنر نے رات کو امام صاحبؒ کے گھر کا محاصرہ کیا، امام احمد بن جنبلؒ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ گورنر جا کر استفسار کیا کہ کیا آپ علویین کے لیے بیعت لے رہے ہیں؟ تو امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا: مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، نہ ہی ایسا کوئی ماجرا پیش آیا ہے۔ نہ یہ میری نیت ہے بلکہ میں تو امیر المومنین کی اطاعت خفیہ اور اعلانیہ دونوں طرح ضروری سمجھتا ہوں۔ اسی طرح تنگی اور سختی میں، دل کی خوشی اور دلی رنجش میں، یہاں تک کہ اگر مجھ پر کسی کو ترجیح دی جائے تب بھی امیر المومنین کی اطاعت ضروری ہے۔ بے شک میں تو امیر المومنین کے لیے توفیق اور کامیابی کی دعا دن رات مانگتا ہوں۔ اسی پر آپ نے تفصیلی گفتگو فرمائی۔ گورنر نے آپ کے گھر، خواتین کے کمروں اور چھت تک کی تلاشی لی، لیکن انہیں کچھ نہ ملا۔

إن رجلا من المبتدعۃ یقال لہ ابن الثلجی وشی إلی الخلیفۃ شیئا، فقال: إن رجلا من العلویین قد ضوی إلی منزل أحمد بن حنبل، وھو یبایع لہ الناس فی الباطن۔ فأمر الخلیفۃ نائب بغداد أن یکبس منزل الإمام أحمد من اللیل۔ فلم یشعروا إلا والمشاعل قد أحاطت بالدار من کل جانب حتی من فوق الأسطحۃ فوجدوا الإمام أحمد جالسا فی دارہ مع عیالہ، فسألوہ عما ذکر عنہ، فقال: لیس عندی من ھذا علم، ولیس من ھذا شیء، ولا ھذا من نیتی، وإنی لأری طاعۃ أمیر المؤمنین فی السر والعلانیۃ، وفی عسری ویسری، ومنشطی ومکرھی وأثرۃ علی، وإنی لأدعو اللہ لہ بالتسدید والتوفیق فی اللیل والنہار۔ فی کلام کثیر، ففتشوا منزلہ حتی مکان الکتب وبیوت النساء والأسطحۃ وغیرھا فلم یروا شیئا۔ فلما بلغ المتوکل ذلک، وعلم براءتہ مما نسب إلیہ، علم أنھم یکذبون علیہ کثیرا۔

علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص بادشاہ کو بددعائیں دے رہا ہو، تو سمجھ جانا چاہیے کہ یہ شخص اپنی خواہشات کی پوجا کرنے والا ہے۔ جب ایسا کوئی شخص دکھائی دے جو بادشاہ کی درستگی کے لیے دعا کر رہا ہو تو سمجھ جانا چاہیے کہ یہ شخص سنت کے رستے پر چلنے والا ہے۔

قال الإمام أبو محمد البربھاری رحمہ اللہ: وإذا رأیت الرجل یدعو علی السلطان، فاعلم أنہ صاحب ھوی، وإذا رأیت الرجل یدعو للسلطان بالصلاح، فاعلم أنہ صاحب سنۃ إن شاء اللہ۔

معروف فقیہ، بلند پایہ مصنف اور محدث امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امیر المومنین اور سرکاری عہدیداروں کے لیے درستگی، حق کا ساتھ دینے، انصاف کرنے وغیرہ سے متعلق دعا کرنا اور اسلامی افواج کے لیے دعا کرنا، تمام فقہائے کرام کے نزدیک مستحب ہے۔

وقال النووی عن حکم الدعاء لولاۃ أمور المسلمین فی خطبۃ الجمعۃ: الدعاء لأئمۃ المسلمین وولاۃ أمورھم بالصلاح والإعانۃ علی الحق والقیام بالعدل ونحو ذلک، ولجیوش الإسلام، فمستحب بالاتفاق۔

حوالہ جات

  1. رد المحتار، کتاب الدعوی، دار الفکر، بیروت، جلد 5، ص :422
  2. اسلام اور سیاسی نظریات، ص: 278
  3. صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین، 1847، جلد سوم، صفحہ: 1476، داراحیاء اللغۃ العربیۃ، بیروت
  4. صحیح مسلم حدیث نمبر :196
  5. صحیح مسلم حدیث نمبر : 4804
  6. سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، حدیث نمبر: 4843
  7. سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، حدیث نمبر: 4842
  8. صحیح البخاری: 2957 باب یقاتل من وراء الامام
  9. الفقہ الاسلامی، وادلتہ للزحیلی أ۔ د۔ وھبۃ بن مصطفی الزحیلی، الباب الرابع، الجھاد و توابعہ، ان کان النفیر عاما، دارالفکر، دمشق، المجلد: 8، ص: 5850
  10. سورۃ الانفال: 45
  11. سورۃ التوبۃ: 38
  12. شرح السیر الکبیر، شمس الائمۃ السرخسی، باب الامارۃ، الشرکۃ الشرقیۃ للاعلانات، ص: 60
  13. المحیط البرھانی، برھان الدین بن مازہ البخاری، کتاب الاستحسان والکراھیہ، الفصل الثامن والعشرون، ج: 5، ص: 393
  14. الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب الاول فی تفسیرہ، المطبعۃ الکبری الامیریۃ ببولاق مصر، المجلد: 2، ص: 189
  15. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی ﷺ سترون بعدی امور اتنکرونھا، حدیث نمبر: 7053
  16. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی ﷺ سترون بعدی امور اتنکرونھا، حدیث نمبر: 7053
  17. کنز العمال، علی المتقی الھندی، کتاب المواعظ، الترغیبات، الثلاثی، موسسۃ الرسالۃ، رقم الحدیث: 44272، ج: 16، ص: 230
  18. مسند احمد، مسند مکیین، و من حدیث ھشام بن حکیم بن حزام، رقم الحدیث: 14909
  19. تفسیر القرآن الکریم، ابن کثیر الدمشقی، سورۃ البقرۃ: 44
  20. حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، ابو نعیم الاصبھانی، ذکر طوائف من جماھیر النساک سفیان الثوری و مہم الامام مطبعۃ السعادۃ، مصر، ج: 6
  21. مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضاء، ط: المکتب الاسلامی، ج: 6، ص: 2412
  22. صحیح البخاری: 7375
  23. سورۃ المائدۃ: 2
  24. شرح السنۃ للبربھاری ص 132 رقم 159
  25. السنۃ لابی بکر ابن الخلال، اول کتاب المسند، ما يبتدا بہ من طاعۃ الامام، وترك الخروج عليہ، وغير ذلك، المجلد الاول، ص: 83، رقم الحدیث: 14
  26. شرح کتاب السنۃ للبربھاری، عبد العزیز الراجحی، ص: 6
  27. کتاب البدایۃ والنھایۃ، من توفی من الاعیان فی سنۃ احدی واربعین ومائتین الامام احمد بعد المحنۃ، جلد: 14، ص: 413
  28. شرح کتاب السنۃ، ص: 113
  29. المجموع شرح المھذب 391/4

(’’ریاست، بغاوت اور شریعت‘‘ کا ایک باب ۔ amunemfaiz@gmail.com)



رسالتِ محمدیؐ کی تئیس سالہ کامیاب تبلیغ

حجۃ الوداع میں تاریخی اظہارِ اسلام

علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدنی زندگی میں ایک ہی حج کیا اور ایک حج ہی بشرطِ استطاعت امت پر فرض بتلایا تاکہ امت پر کسی سنت حج کی مشقت نہ آئے۔ مسلمانوں پر ایک سال پہلے سے حج کے دروازے کھل چکے تھے لیکن آپؐ نے اس حج کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو مسلمانوں کا امیر بنایا اور خود اگلے سال حجۃ الوداع پر تشریف لائے اور اپنی ۲۳ سالہ ذمہ داری پوری کرنے کا اپنی امت سے اس طرح اقرار لیا:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس دن خطبہ دیا:

الا ان اللہ حرم علیکم دمائکم واموالکم کحرمۃ یومکم ہذا فی بلدکم ہذا فی شہرکم ہذا الا ہل بلغت؟ قالوا نعم قال اللہم اشہد اللہم اشہد (ثلثا) ویلکم او ویحکم۔ انظروا لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح بخاری جلد ۲، ص ۶۳۲) (صحیح بخاری کی ایک روایت میں ’’فان دمائکم واموالکم واعراضکم علیکم حرام‘‘ بھی مروی ہے۔ دیکھئے کتاب الحج باب الخطبۃ ایام المنیٰ جلد ا، ج ۲۳۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن خطبہ دیا اور فرمایا: اچھی طرح سن لو کہ تمہارے خون اور تمہارے اموال اسی طرح تمہارے لیے لائقِ احترام ہیں جیسا کہ یہ عرفات کا دن تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں لائقِ حرمت ہے۔ کیا میں نے یہ بات (تم تک) پہنچا دی؟ سب نے اقرار کیا ہاں۔ آپؐ نے (اللہ کی طرف دھیان کر کے) فرمایا اے اللہ تو اس پر گواہ رہ۔ ایسا تین دفعہ ہوا۔ پھر آپؐ نے کہا افسوس تم پر، یا ہائے تم پر۔ دھیان رکھنا میرے بعد پھر کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں توڑنے لگو۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں امام بخاریؒ لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’دماءکم و اموالکم‘‘ کے ساتھ ’’واعراضکم‘‘ کے الفاظ بھی کہے اور یہ بھی فرمایا تھا:

وستلقون ربکم فسیألکم عن اعمالکم الا فلا ترجعوا بعدی ضلالا یضرب بعضکم رقاب بعض الا لیبلغ الشاہد الغائب فلعل بعض من یبلغہ ان یکون اوعیٰ لہ من بعض من سمعہ … ثم قال ہل بلغت ہل بلغت (صحیح بخاری جلد ۲، ص ۸۳۳)
ترجمہ: تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کا پوچھے گا۔ دھیان رکھنا میرے بعد میرا رستہ نہ بھول جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں توڑنے لگو۔ دھیان کرو جو یہاں موجود ہیں وہ اس تک یہ بات پہنچائیں جو یہاں نہیں آیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا ہو جس کو یہ حاضر پہنچا رہا ہے اس سے زیادہ جاننے والا اس یقین سے جس نے اسے سنا۔ اور آخر میں آپؐ نے دو دفعہ پوچھا کیا میں نے بات پہنچا دی؟ کیا میں نے بات پہنچا دی؟

صحیح مسلم میں آپؐ کا یہ بین الاقوامی خطاب اور بھی زیادہ واضح پیرائے میں ملتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

(فخطب الناس وقال) ان دماءکم واموالکم حرام علیکم کحرمۃ یومکم ہذا فی شہرکم ہذا فی بلدکم ہذا الا کل شئی من امر الجاہلیۃ تحت قدمی موضوع ودماء الجاہلیۃ موضوعۃ … وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ وأنتم تسألون عنی فما انتم قائلون قالوا نشہد انک قد بلغت و ادیت ونصحت فقال بأصبعہ السبابۃ یرفعہا الی السمآء وینکتہا الی الناس اللہم اشہد اللہم اشہد (ثلث مرات) (صحیح مسلم جلد ۱، ص ۳۹۷)
ترجمہ: اور آپؐ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور کہا بے شک تمہارے خون تمہارے اموال تم پر اسی طرح لائقِ احترام ہیں جس طرح یہ آج کا دن (عرفات کا دن) تمہارے لیے لائقِ احترام ہے اس ماہ ذوالحج میں تمہارے اس شہر میں۔ خبردار رہو کہ دورِ جاہلیت کی ہر چیز میرے ان قدموں کے نیچے دب چکی اور جاہلیت کے تمام خون بھی اپنی جگہ ختم ٹھہرے … اور میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ تم اگر اسے تھامے رہو تو تم کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ کتاب اللہ ہے۔ اور تم سے میرے بارے میں سوال ہوگا سو تم کیا کہو گے؟ حاضرین نے کہا ہم شہادت دیں گے کہ آپ نے اپنی رسالت ہم تک پہنچا دی، اسے ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی کی۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف رخ کر کے کہا، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، آپؐ نے ایسا تین دفعہ کہا۔

ان بیانات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ آپؐ یہ اقرار اپنی تئیس سالہ تبلیغِ رسالت پر لے رہے ہیں کہ اللہ رب العزت نے جو ذمہ داری آپؐ پر ڈالی تھی، آپؐ نے اسے پورا کیا اور اللہ کی یہ امانت مسلمانوں تک پہنچ گئی۔ پھر یہ بات اس پر اور مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ آیتِ تکمیل دین بھی اسی دن میدانِ عرفات میں اتری۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (پ ۶، المائدہ ۳)
ترجمہ: آج میں نے پورا کر دیا تمہارے لیے دین تمہارا اور پوری کی تم پر میں نے اپنی نعمت اور پسند کیا میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین۔

اب اس پس منظر کی روشنی میں کوئی صاحبِ علم کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو حجۃ الوداع میں نہیں ۱۸ ذوالحجہ کو بمقام غدیر خم مکمل فرمایا تھا؟ ہرگز نہیں! حجۃ الوداع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۸۱ دن اپنی دنیوی زندگی میں رہے اور پھر ربیع الاول میں آپؐ نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا۔ حجۃ الوداع کے بعد آپؐ پر جو وحی بھی آئی وہ انتظامی اور اخلاقی امور کی ہی رہی، اسلام کے اصول و عقائد سب آیتِ تکمیلِ دین سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو مل چکے تھے۔

حجۃ الوداع کے بعد کسی یہودی سے یہ بات سنی گئی کہ اگر آیتِ تکمیلِ دین کی طرح کوئی آیت ہم میں آتی تو ہم اس دن کو اپنی عید کا دن ٹھہراتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً‌ کہا:

انی لاعلم ای مکان انزلت … انزلت و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقف بعرفۃ (صحیح بخاری جلد ۲، ص ۶۳۴)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری تو ہماری دو عیدیں تھیں، ایک یومِ جمعہ اور ایک یومِ عرفہ۔

سو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع آپؐ کے پورے تئیس سالہ دورِ وحی کی کامیاب تبلیغ کا اظہار تھا، صرف ایک دو جزئیات کے ملنے ملانے کی تصدیق نہ تھا۔ دو دو تین تین دفعہ بات دہرا کر اپنی پوری تبلیغِ رسالت کا اقرار لیا جا رہا تھا، کوئی اصولی اور اعتقادی بات ایسی نہ تھی جو اس دن آیتِ تکمیلِ دین سے خارج رہی ہو۔ امورِ شریعت سب طے پا چکے تھے، اس کے بعد آپؐ نے صرف انتظامی امور، سیاسی نصائح اور مکارمِ اخلاق اور آسمانی بشارات تو بیان فرمائیں لیکن اصولِ دین اور شرعِ متین میں کسی بات کا اضافہ نہ فرمایا۔

اثنا عشریوں کا یہ عقیدہ صحیح نہیں کہ تکمیلِ دین ۹ ذوالحج کو نہ ہوئی تھی، ۱۸ ذوالحج کو ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف واپس لوٹے تو رستے میں غدیر خم کے پاس قیام فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان فرمایا۔ یہ ہرگز درست نہیں۔ انہوں نے یہ عقیدہ کس لیے بنایا؟ صرف اس لیے کہ ۱۸ ذوالحجہ کے اس ارشاد سے کہ ’’میں جس کا دوست ہوں علیؓ بھی اس کا دوست ہے جس کی اس سے محبت نہیں اس کی مجھ سے محبت نہیں‘‘ اس روایت سے چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل ثابت نہ ہوئی تھی اس لیے انہوں نے عقیدہ اختیار کیا کہ دین کی تکمیل ۹ ذوالحجہ کو نہیں ۱۸ ذوالحجہ کو مقام غدیر خم ہوئی تھی۔ حالانکہ اہلِ سنت کتابوں کی رو سے بہ مقام غدیر خم کسی آیت کا نزول نہیں ہوا۔

جب آپؐ پر آیتِ تبلیغِ دین اتری تو یہ وہ موقع تھا جس میں آپ کے پورے تئیس سالہ دورِ وحی کے کامیاب ہونے کی خبر دی گئی تھی اور آپؐ کو اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے مخالفین کے ہر حیلہ و حجت سے پوری طرح آپؐ کو اپنی پوری حفاظت میں رکھیں گے۔

آپ اس آیت کو پھر سے مطالعہ فرمائیں۔ کیا اسے کسی بھی صورت میں آیتِ تکمیل دین ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کے بعد اتری آیت سمجھا جا سکتا ہے؟ اور ’’الیوم‘‘ (آج) کے لفظ کی وجہ سے اسے دو بار اتری قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آیتِ تبلیغِ رسالت میں آپؐ پر اس طرح اپنی حجت تمام کی کہ اب آپؐ کے مخالفین کی کوئی بات آپؐ کے خلاف نہ چلے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ان کے ہر حیلہ و حجت سے بچانے کی ضمانت دے دی ہے:

یایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین (پ ۶، المائدہ ۶۷)
ترجمہ: اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا (اس کی کوئی وحی نہ پہنچائی) اور اللہ تجھ کو بچائے گا لوگوں سے بے شک اللہ راستہ نہیں دکھاتا قوم کفار کو۔

اس آیت میں یہ تین صورتیں سامنے رہیں۔ اس آیت پر شیخ الاسلامؒ نے یہ نفیس حاشیہ لکھا ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر کوششوں اور قربانیوں کا مقصدِ وحید ہی یہ تھا کہ آپؐ خدا کے سامنے فرضِ رسالت کی انجام دہی میں اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کریں لہٰذا یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک پیغام کے پہنچانے میں بھی آپؐ ذرا سی کوتاہی کریں۔
عموماً‌ یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں انسان چند وجوہ سے مقصر رہتا ہے (۱) یا تو اسے اپنے فرض کی اہمیت کا کافی احساس اور شغف نہ ہو (۲) یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصان شدید پہنچنے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو (۳) یا مخاطبین کے عام تمرد و طغیان کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہلِ کتاب کی نسبت بتلایا گیا ہے کہ تبلیغ کے مثمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو۔
پہلی وجہ کا جواب ’’یایہا الرسول‘‘ سے ’’فما بلغت رسالتہ‘‘ تک، دوسری کا ’’واللہ یعصمک من الناس‘‘ میں، اور تیسری کا ’’ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین‘‘ دے دیا گیا۔ یعنی تم اپنا فرض ادا کیے جاؤ، اللہ تعالیٰ آپؐ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپؐ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی قوم جس نے کفر و انکار پر ہی کمر باندھ لی ہے اگر راہِ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہدایتِ ربانی اور آئینِ آسمانی کے موافق امت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی۔ نوعِ انسانی کے عوام و خواص میں جو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی، آپؐ نے بلا کم و کاست اور بے خوف و خطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کر دی۔‘‘ (ص ۱۵۸ طبع سعودی عرب)

اس کے بعد آپؒ لکھتے ہیں، جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع سے پہلے کسی وقت نازل ہوئی تھی، حج سے واپسی پر بمقام غدیر خم نہیں۔ غدیر خم میں کوئی آیت نہیں اتری۔ آپؐ لکھتے ہیں:

’’وفات سے دو ڈھائی مہینہ پہلے حجۃ الوداع کے موقعہ پر جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمانِ اسلام اور عاشقانِ تبلیغ کا اجتماع تھا آپؐ نے علیٰ رؤس الاشہاد اعلان فرما دیا کہ: ’’اے خدا تو گواہ رہ، میں تیری امانت پہنچا چکا‘‘۔‘‘

اس آیتِ تبلیغ (بلغ ما انزل الیک) کے سیاق و سباق میں اہلِ کتاب کا ہی ذکر ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت بنیادی طور پر مسلمانوں کے تخاطب میں نہیں، اہلِ کتاب کے تخاطب میں ہے، اور وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سب سے بڑی طاقت تھے۔ اس وقت مشرکین اور مجوسی اور دہریہ کوئی بڑی طاقت نہ رہے تھے۔ اس سلسلہ آیات میں شیعہ کے اس دعویٰ میں کوئی جان نہیں کہ یہ آیتِ تبلیغ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم کرنے کے لیے تھی۔

ان ۲۳ سالہ مختلف مراحلِ وحی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح ان کے مکر سے نکل جانا اور مدینہ میں آپ کا جس عقیدت اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا وہ عبد المطلب کے اس یتیم پوتے کی آسمانی نصرت کا ایک ایسا ڈنکا تھا کہ اس کے پیچھے کسی دنیوی سبب اور حیلے کا کوئی تصور تک نہیں کیا جا سکتا، پہلے پیغمبروں میں سے کسی کے ساتھ اس حیرت ناک پیرائے میں سچائی کے پھول کھلتے نہیں دیکھے گئے، یہ ایک قیامت تک رہنے والی نبوت کی شان تھی جس سے اس دورِ وحی کا آغاز ہوا۔

یہ سب حالات گو آپؐ سے پردے میں تھے لیکن اس دوران آپؐ کبھی کسی پریشانی میں نہیں دیکھے گئے، غار میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو بہت پریشان اور فکر مند تھے لیکن آپؐ کا دستِ شفقت اس یقین و الفت سے آپ کو تھپکی دے رہا تھا کہ گویا آپؐ کے سامنے آپؐ کی رسالت کا مستقبل ایک کھلی کتاب کی طرح روشن ہے اور آپؐ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس یقین سے نہیں نکلے کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو اپنی رسالت کے ساتھ سب ادیان و نظریات پر غالب کریں گے اور یہ پیشگوئی ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ ہر صورت میں آپؐ پر پوری ہو کر رہے گی۔

یہ وہم نہ کیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں اپنے اس موضوع میں ناکام ہو گئے تھے جیسا کہ ایرانی سربراہ خمینی نے گمان کیا ہے کیونکہ اس آیت سے پہلی آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کے اس مشن (اظہارِ رسالت) کو کامیاب کرنے کا بڑے زوردار لفظوں میں اعلان کیا ہوا ہے:

یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (پ ۲۸، الصف ۸)
ترجمہ: (بے انصاف) لوگ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کی روشنی اپنی افواہوں سے اور اللہ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برا مانیں منکر۔

اس پر حضرت شیخ الاسلامؒ لکھتے ہیں:

’’یعنی منکر پڑے برا مانا کریں اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ مشیتِ الٰہی کے خلاف کوئی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے کوئی احمق نورِ آفتاب کو منہ سے پھونک مار کر بجھانا چاہے۔ یہی حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کا اور ان کی کوششوں کا ہے۔ شاید ’’بافواہہم‘‘ کے لفظ سے یہاں اس طرف بھی اشارہ کرنا ہو کہ بشارات کے انکار و اخفاء کے لئے جو جھوٹی باتیں بناتے ہیں وہ کامیاب ہونے والی نہیں۔ ہزار کوشش کریں کہ فارقلیط آپؐ نہیں ہیں لیکن اللہ منوا کر چھوڑے گا کہ اس کا مصداق آپؐ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘ (تفسیرِ عثمانی ص ۷۳۲ طبع سعودی عرب)

اس کا حاصل یہی ہے کہ آپ کی تئیس سالہ کامیاب تبلیغ میں کسی شک کو کوئی راہ نہیں دی سکتی۔

مکہ سے نکلنے سے پہلے آپؐ کو اپنے پھر مکہ آنے کا اس قدر یقین تھا کہ اللہ کے حضور دعا کرتے آپؐ کی زبان مبارک سے پھر سے مکہ آنے کے الفاظ پہلے نکلے اور نکلنے کے الفاظ بعد میں صادر ہوئے۔ اس یقین سے دعا کرنے کے الفاظ اللہ رب العزت ہی نے آپ کے منہ میں ڈالے:

وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا (پ ۱۵، بنی اسرائیل ۸۰)
ترجمہ: اور کہہ اے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا (کہ ساتھ صدق ہو) اور نکال مجھ کو سچا نکال(کہ پھر ساتھ صدق ہو) اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کا والی مدد۔

تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ جب آپ مکہ سے نکلے تو بھی صدیق ساتھ تھے اور جب فتح پا کر مکہ آئے تو بھی صدیق ساتھ تھے۔

قرآن کریم کا آخر کا بیان بھی اس بین الاقوامی غلبے کا ضامن رہا

قرآن کریم کی کل ۱۱۴ سورتیں ہیں، آخری سورت ۱۱۴ یہ ہے کہ لوگ فوج در فوج دائرہ اسلام میں آئیں تو آپ جان لیں کہ آپ کا سفرِ آخرت آ پہنچا:

اذا جاء نصر اللہ۔ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔ فسبح بحمد ربک واستغفرہ۔ انہ کان توابا۔
ترجمہ: جب پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فتح اور تو دیکھے لوگوں کو فوج در فوج دین میں داخل ہوتے تو پاکی بول اپنے رب کی اور اس سے استغفار کر بے شک وہ معاف کرنے والا ہے۔

اس میں بھی آپؐ کو بتلا دیا گیا کہ آپؐ کا دین سب ادیان و نظریات پر غالب آنے والا ہے اور لوگ ہر طرف سے فوج در فوج اسلام میں آجائیں گے۔

سورۃ توبہ اور سورۃ الفتح کے بعد یہ اسلام کے بین الاقوامی غلبے کی تیسری بشارت ہے۔ علمی اور فکری غلبہ تو رسالتِ محمدیؐ کو نزولِ قرآن کے ساتھ ہی مل گیا تھا، اور حقیقی اور عملی غلبہ میں بھی اس دین کو اس وقت مل جائے گا جب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام شریعتِ محمدیؐ  کی پیروی اور اس کی عالمی اشاعت کے لیے کھلے طور پر نزول فرمائیں گے، جہاد کریں گے اور دجالِ اکبر قتل ہو گا۔ اس پر اللہ کی اپنی گواہی کافی ہے:

وکفیٰ باللہ شہیدا (پ ۲۶، الفتح ۲۸)

اس پر ہم حدیث عالمی غلبہ رسالت کا موضوع ختم کرتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ حدیثِ ولایت کے گذشتہ موضوع میں ہم نے جو اس حدیث کی روایتی حیثیت پر کلام کیا ہے، اس پر ایک دفعہ پھر نظر کر لیں۔

ایک ضروری نوٹ:

اہلِ سنت اور شیعہ میں اب تک جو احادیث عام زیربحث رہی ہیں، ان میں حدیث عالمی غلبہ رسالت آپ نے کہیں دیکھی نہ ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پہلی زیربحث احادیث میں تو شیعہ علماء کو کسی نہ کسی راہ سے بحث کرنے کا موقع مل جاتا ہے، گو انہیں اس کا جواب بھی پورا مل جاتا ہے، لیکن عالمی غلبہ رسالت کی حدیث گو شیعہ علماء پر ایک نہایت سنگِ گراں ہے، گو وہ اس کے انکار پر سرعام آنے کی بھی کبھی ہمت اور جرأت نہیں رکھتے۔

ہم اہلِ سنت حدیث عالمی غلبہ رسالت کو اپنے لیے وہ بقعہ نور، سچ کا ظہور اور دل کا سرور سمجھتے ہیں کہ اب تک اس کے سہارے پورے عالمِ اسلام خصوصاً‌ حرمین شریفین میں ہم ہی اسلام کی سب سے بڑی قوت سمجھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ شیعہ علماء بھی جب کبھی اہلِ سنت کی بات کرتے ہیں تو انہیں اپنا بڑا بھائی کہہ کر ان کا ذکر کرتے ہیں۔

اس صورت حال میں راقم الحروف نے دوازدہ احادیث کی اس علمی دستاویز میں اس حدیث کو درمیان میں رکھا ہے۔ یہ حدیث اس پورے عہد میں ہار کے درمیانے موتی کی سی ہے جس کی جتنی بھی قدر اور شہرت کی جائے کم ہے۔

اس عالمی غلبہ رسالت کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب دکھایا اور ظاہر ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور نیند کی حالت میں ان کا دل جاگتا اور وہ اپنے قریب ہوئی باتوں کو سنتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خواب کیا تھا، اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں دیکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بینما انا قائم رایتنی اتیت بمفاتیح خزائن الارض فوضعت فی یدیّ (صحیح بخاری ج ۲، ص ۱۰۸۰)
ترجمہ: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو نیند کی حالت میں دیکھا کہ مجھے پوری دنیا کے خزائن کی چابیاں دی گئی ہیں اور میں نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں محسوس پایا۔

اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی حالت میں بھی اپنے قریب ہونے والی باتوں کو سنتے ہیں اور یہ بات کتنی غلط ہو گی کہ آپؐ اپنے روضہ انور کے پاس عرض کئے گئے درود و سلام کو نہ سن سکیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے اور اس میں کوئی راوی مجروح نہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عالمی غلبہ مل کر رہے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ آپؐ لوگوں کو جوق در جوق اللہ کے دین میں فوجی پیرائے میں (عالمی غلبہ میں) داخل ہوتا پائیں گے:

ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔

جب آپ یہ صورت حال دیکھ پائیں تو سمجھ لیں کہ آپؐ کا آخری وقت آن لگا ہے اور اب تسبیح و تحمید میں لگ جائیں۔ اس سے زیادہ آپؐ کے عالمی غلبہ رسالت کی بشارت اور کیا ہو سکتی ہے۔ اللہ کا فیصلہ ہے کہ اس کے رسول غالب آ کر رہتے ہیں:

کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی ان اللہ قوی عزیز۔
ترجمہ: اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول، بے شک اللہ زورآور ہے زبر دست۔ (پ ۲۸، المجادلہ ۲۱)

اس پر ہم عالمی غلبہ رسالت کی بحث ختم کرتے ہیں۔

یتقبل اللہ منا و منکم۔

(دوازدہ احادیث۔ اشاعت ۲۰۱۹ء۔ رابطہ: جامعہ ملیہ، شاہدرہ، لاہور 03006332387)


اسلامی نظریاتی کونسل، دستوری تاریخ کے آئینے میں

اسلامی نظریاتی کونسل

مختصر تعارف

مارچ ۱۹۴۹ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی قیادت میں قرار دادِ مقاصد منظور کی جو ۱۹۵۶ء کے آئین میں تمہید کے طور پر شامل کی گئی۔ ۱۹۸۵ء میں اس قرارداد کو آئین کے آرٹیکل ۲ الف کے طور پر دستور کا با قاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ قوانین کی اسلامی تشکیل کے لیے اس قرارداد کے مندرجہ ذیل اقتباسات اساسی اہمیت رکھتے ہیں:

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہو گا ، وہ ایک مقدس امانت ہے۔
چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشا ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے، جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر ، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔
جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔
لہٰذا، اب ہم جمہوریہ پاکستان کے عوام …… بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہو گی۔

دستور سازی کے عمل میں طویل تاخیر ہماری تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔ تاہم ۱۹۵۶ء میں پاکستان کا پہلا و ستور مَنصّۂ شُہود پر آیا تو قراردادِ مقاصد کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل ۱۹۸(۱) میں طے کیا گیا:

ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے منافی ہو ……اور موجودہ قوانین کو ان احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔

اسی آرٹیکل (۱۹۸) کی ذیلی شق (۳) میں مندرجہ بالا حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قرار دیا گیا کہ:

جنابِ صدر دستور کے نفاذ کے دن سے ایک سال کے اندر ایک کمیشن مقرر کریں گے۔
(الف) کہ وہ سفارشات پیش کرے۔
(i) موجودہ قوانین کو احکامِ اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات کے بارے میں،
(ii) ان مراحل سے متعلق جن میں ایسے اقدامات نافذ العمل کیے جائیں ؛ اور
(ب) کہ وہ قومی اور صوبائی مجالسِ مقننہ کی راہنمائی کی غرض سے احکامِ اسلام ایسی موزوں شکل میں مدوِّن کرے جس میں انہیں قانونی شکل دی جا سکے۔

اکتوبر ۱۹۵۸ء میں جنرل محمد ایوب خان کے اقتدار پر قبضہ ، مارشل لاء کے نفاذ اور ۱۹۵۶ء کے دستور کی تنسیخ کے بعد بالآخر ۱۹۶۲ء میں جو نیا دستور آیا اس میں بھی آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت اسلامی نظریہ کی مشاورتی کونسل کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ آرٹیکل ۲۰۴(۱) میں اس کو نسل کے مندرجہ ذیل فرائضِ منصبی طے کیے گئے:

مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو ایسی سفارشات کرنا جن کے ذریعے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں ہر لحاظ سے اسلامی نظریات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنایا جا سکے، نیز اس کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اور دستور کی پہلی ترمیم کے قانون ۱۹۶۳ء کے نافذ ہونے سے فوراً پہلے نافذ العمل تمام قوانین کا جائزہ لینا تاکہ انہیں قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔

۱۹۶۲ء کے آئین کے تحت مؤرخہ ۱۴ اگست ۱۹۶۲ء کو وزارتِ قانون و پارلیمانی امور کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ اسلامی نظریہ کی مشاورتی کونسل کی اوّلین تشکیل کی گئی۔ اس پہلی کو نسل کے چیئرمین جناب جسٹس ابو صالح محمد اکرم تھے۔ ارکان میں جسٹس (ر) محمد شریف، مولانا اکرم خان، مولانا عبد الحمید بدایونی، مولانا حافظ کفایت حسین، ڈاکٹر ٹی ایچ قریشی اور مولانا عبد الہاشم شامل تھے۔

۱۹۷۳ء کے دستور کے آرٹیکل ۲ میں اسلام کو ریاستِ پاکستان کا دین قرار دیا گیا ہے اور آرٹیکل ۲۲۷ تا ۲۳۱ میں قوانین کی اسلامی تشکیل اور اس مقصد کے لیے کونسل کے کردار کی وضاحت سے تصریح کر دی گئی ہے۔ آرٹیکل ۲۲۷(۱) میں بصراحت قرار دیا گیا ہے کہ:

تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے، اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔ اسی آرٹیکل کی ذیلی شق (۲) میں مزید تصریح کر دی گئی ہے کہ ذیلی شق (۱) کے احکام کو عملی شکل دینے کے لیے وہ طریق اختیار کیا جائے گا جو دستور کے اس حصے [یعنی جزء ۹ بعنوان اسلامی احکام] میں بیان کیا گیا ہے۔ 

آرٹیکل ۲۲۸ میں اس کی تعبیر و تصریح کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ:

یومِ آغاز سے نوے دن کی مدت کے اندر ایک اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی جائے گی جس کا اس حصے میں بطور اسلامی کو نسل حوالہ دیا گیا ہے (۱) ۔

اسی آرٹیکل ۲۲۸ کی ذیلی شق (۲) میں اسلامی نظریاتی کونسل کی ہیئتِ ترکیبی کی وضاحت کی گئی ہے:

اسلامی کو نسل کم از کم آٹھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ایسے ارکان پر مشتمل ہو گی جنہیں صدر ان اشخاص میں سے مقرر کرے، جو اسلام کے اصولوں اور فلسفے کا، جس طرح کہ قرآن پاک و سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے ، علم رکھتے ہوں یا جنہیں پاکستان کے اقتصادی، سیاسی، قانونی اور انتظامی مسائل کا فہم و ادراک حاصل ہو۔

آرٹیکل ۲۲۸ کی اگلی ذیلی شق (۳) کی رو سے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کونسل کے کم از کم دو ارکان سپریم کورٹ یا کسی ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا سابق حج ہوں گے۔ اسی طرح کم از کم ایک خاتون رکن کا ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے اور کو نسل کے ارکان میں کم از کم چار اسلامی علوم کی تدریس و تحقیق کے کم از کم پندرہ سالہ تجربہ کے حامل ہونے چاہئیں۔

آرٹیکل ۲۲۹ کے مطابق صدرِ پاکستان یا کسی صوبے کے گورنر کسی معاملے میں یہ سوال کہ : آیا کوئی مروّجہ قانون احکامِ اسلام کے منافی ہے یا نہیں ؟ کو نسل کو ریفر کر سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی یا سینٹ یا کوئی صوبائی اسمبلی بھی ایسا کوئی مسئلہ کو نسل کو ریفر کر سکتی ہے بشرطیکہ اس کے ارکان کا کم از کم ۲/۵ حصہ اس کا تقاضا کرے۔

آرٹیکل ۲۳۰ میں کو نسل کے جو فرائض منصبی بیان کیے گئے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

(الف) مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے،
(ب) کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع کیا گیا ہو کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں،
(ج) ایسی تدابیر کی، جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، نیز ان مراحل کی جن سے گزر کر محولہ تدابیر کا نفاذ عمل میں لانا چاہیے ، سفارش کرنا، اور
(د) مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں کی راہنمائی کے لیے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزوں شکل میں تدوین کرنا جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا جا سکے۔
(۲) جب آرٹیکل ۲۹۹ کے تحت، کوئی سوال کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کی طرف سے اسلامی کو نسل کو بھیجا جائے، تو کو نسل اس کے بعد پندرہ دن کے اندر اس ایوان، اسمبلی، صدر یا گورنر کو جیسی بھی صورت ہو، اس مدت سے مطلع کرے گی جس کے اندر وہ مذکورہ مشورہ فراہم کرنے کی توقع رکھتی ہو۔
(۳) جب کوئی ایوان، کوئی صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر جیسی بھی صورت ہو ، یہ خیال کرے کہ مفادِ عامہ کی خاطر اس مجوزہ قانون کا وضع کرنا جس کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا مشورہ حاصل ہونے تک ملتوی نہ کیا جائے، تو اس صورت میں مذکورہ قانون مشورہ مہیا ہونے سے قبل وضع کیا جا سکے گا۔
مگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی قانون اسلامی کو نسل کے پاس مشورے کے لیے بھیجا جائے اور کو نسل یہ مشورہ دے کہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے تو ایوان، یا جیسی بھی صورت ہو ، صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر اس طرح وضع کردہ قانون پر دوبارہ غور کرے گا۔
(۴) اسلامی کو نسل اپنے تقرر سے سات سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی اور سالانہ عبوری رپورٹ پیش کیا کرے گی۔ یہ رپورٹ خواہ عبوری ہو یا حتمی، موصولی سے چھ ماہ کے اندر دونوں ایوانوں اور ہر صوبائی اسمبلی کے سامنے برائے بحث پیش کی جائے گی اور مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور اسمبلی، رپورٹ پر غور و خوض کرنے کے بعد حتمی رپورٹ کے بعد دو سال کی مدت کے اندر اس کی نسبت قوانین وضع کرے گی۔

کونسل کی رپورٹیں اور مجلسِ شوریٰ

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۳۰ کے مطابق اپنے قیام کے سات سال بعد قوانین کے جائزہ پر مبنی ایک حتمی رپورٹ پیش کرنا کونسل کے فرائض میں شامل تھا۔ اس کی شق (۴) میں یہ بھی لازم قرار دیا گیا تھا کہ کونسل کی سالانہ عبوری رپورٹ یا فائنل رپورٹ مجلسِ شوریٰ یا صوبائی اسمبلی کو پیش کی جائے گی جو فائنل رپورٹ کے ملنے کے دو سال کے اندر اس پر قانون سازی کرے گی۔

۱۹۸۰ء میں سات سال پورے ہو گئے لیکن بوجوہ حتمی رپورٹ تیار نہ ہو سکی تھی۔ اس اثناء میں کو نسل سالانہ رپورٹیں پیش کرتی رہی جن میں ۱۹۷۳ء تک نافذ شدہ قوانین کا جائزہ مکمل کر لیا گیا تھا۔ ۱۹۷۳ء کے بعد کے قوانین کے جائزہ پر مشتمل دو رپورٹیں ’’قوانین کی اسلامی تشکیل: سلسلۂ دوم‘‘ (جلد اول اور جلد چہارم) کے نام سے پیش کی گئیں جن میں بالترتیب ۱۵؍ اگست، ۱۹۷۳ء تا ۴؍ جولائی، ۱۹۷۷ء اور ۱۲ ؍ اکتوبر ، ۱۹۹۹ء تا ۳۱ ؍ دسمبر ، ۲۰۰۲ء کے عرصوں میں نافذ کئے جانے والے قوانین کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ نظامِ تعلیم، نظامِ معاشرت اور ذرائع ابلاغِ عامہ کے موضوعات پر تین رپورٹیں ۱۹۸۲ء میں پیش کی گئیں۔

قوانین کی اسلامی تشکیل اور دیگر موضوعات کے بارے میں رپورٹوں کے سلسلے میں کونسل نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۸۲ء میں حسبِ ذیل قرار داد منظور کی:

’’طے پایا کہ کونسل متذکرہ بالا رپورٹوں کو یہ اغراض آرٹیکل ۲۳۰ (۴) دستورِ پاکستان مجریہ ۱۹۷۳ء موضوع وار حتمی رپورٹیں قرار دیتی ہے۔ مزید برآں طے پایا کہ قانون کے موضوع پر پاکستان کوڈ کی جلد وار رپورٹیں جوں جوں مرتب ہوں گی حکومت کو بھیجی جاتی رہیں گی، یہ رپورٹیں بھی حتمی ہوں گی۔ علاوہ ازیں کونسل قانون کے موضوع پر حسبِ ہدایت صدرِ مملکت قوانینِ حدود، قانونِ قصاص و دیت، قانونِ شہادت، قانونِ انسداد فحاشی، قانونِ نفقہ اقارب، نظامِ حکومت، قانونِ احترامِ رمضان، رپورٹ زکوٰۃ و عشر ، رپورٹ بلا سود بنکاری اور قانونِ شفعہ سے متعلق مسودات حکومت کو پیش کر چکی ہے۔ یہ بھی بہ اغراض آرٹیکل ۲۳۰ (۴) دستورِ پاکستان حتمی رپورٹیں شمار ہوں گی‘‘۔ ( کو نسل کی سالانہ رپورٹ ، ۸۳-۱۹۸۲)

حتمی رپورٹ ۱۹۹۶ء میں پیش کر دی گئی۔ اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں کو نسل کا یہ موقف طے پایا:

’’آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۳۰ (۴) کی رو سے اسلامی نظریاتی کونسل کو اپنے تقرر سے سات سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ اور اس دوران میں سالانہ عبوری رپورٹیں پیش کرنا تھیں۔ اس آئینی تقاضے کے مطابق کونسل ہر سال اپنی عبوری رپورٹ پیش کرتی رہی۔ اس سلسلے کی آخری رپورٹ ۹۳ - ۱۹۹۲ء میں شائع کی گئی۔ مزید برآں متعدد موضوعاتی رپورٹیں بھی اس مدت میں اشاعت پذیر ہوئیں اور دسمبر ۱۹۹۶ء میں کونسل نے نافذ العمل قوانین کے اسلامی نقطۂ نظر سے جائزہ کے بارے میں اپنی فائنل رپورٹ بھی پیش کر دی۔‘‘

آئین کے آرٹیکل ۲۲۷(۱) کے مطابق

’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں دیے گئے اسلامی احکامات کے مطابق بنایا جائے گا۔‘‘

’’تمام موجودہ قوانین ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے دستور کے آرٹیکل ۲۶۸ (۷) میں کہا گیا ہے کہ ان سے وہ قوانین اور آرڈینینسز وغیرہ مراد ہیں، جو پاکستان یا اس کے کسی حصے میں دستور کے یومِ آغاز ( یعنی ۱۴؍ اگست ۱۹۷۳ء) سے عین پہلے نافذ تھے۔

ان قوانین کے اسلامی نقطۂ نظر سے جائزہ کا عمل کو نسل کی تشکیل ( آرٹیکل ۲۲۸ کے مطابق) کے سات سال کے اندر کو نسل کی فائنل رپورٹ پیش ہونے کے ساتھ مکمل ہونا تھا۔ اس دوران میں سالانہ عبوری رپورٹیں پیش کی جانی تھیں۔ دستور کے آرٹیکل ۲۳۰ (۴) کے مطابق کونسل کی رپورٹ ، خواہ عبوری ہو یا حتمی ( فائنل)، کا بحث کے لیے دونوں ایوانوں ( یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ) اور ہر صوبائی اسمبلی میں رپورٹ موصول ہونے کے چھ ماہ کے اندر اندر پیش کیا جانا لازم تھا۔

آرٹیکل ۲۲۷(۱) کا بقیہ حصہ حسبِ ذیل ہے:

’’…اور کوئی ایسا قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو ایسے احکامات [ یعنی قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام] کے منافی ہو‘‘

اس لحاظ سے کو نسل کی کوئی بھی رپورٹ اس معنی میں حتمی رپورٹ نہیں ہے کہ اس کے بعد کو نسل کوئی رپورٹ جاری نہیں کرے گی۔ کیونکہ تمام قوانین جیسے اور جب وضع کئے جائیں گے ، ان کے بارے میں کونسل کی نظر ثانی کا کام جاری رہنا ہے۔ چونکہ آئین میں کونسل کی مدت کا تعین کئے بغیر کونسل کے فرائضِ منصبی بیان ہوئے ہیں۔

اس بناء پر کونسل کی جانب سے قوانین کی نظر ثانی ایک مستقل جاری کام ہے لہٰذا اس کی سفارشات / رپورٹیں مجالسِ قانون ساز کو پیش کرنا بھی لازمی ہے ، بصورتِ دیگر کو نسل کے فرائضِ منصبی بے معنی ہو جاتے ہیں۔

کونسل کا انتظامی ڈھانچہ

دستور کے آرٹیکل ۲۲۸(۴) کے تحت صدرِ پاکستان کو نسل کے ارکان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر فرماتے ہیں، جن کے عہدہ کی میعاد دوسرے ارکان کی طرح تین سال ہوتی ہے۔ البتہ اس میعاد کے اختتام پر ان کا دوبارہ تقرر بطور رُکن / چیئرمین کیا جا سکتا ہے۔ کو نسل کا چیئرمین کو نسل کا پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ہوتا ہے اور انہیں منجملہ دیگر اختیارات کے گریڈ - ۲۲ کے فیڈرل سیکرٹری کے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ کونسل کے شعبہ انتظامیہ کی سربراہی کونسل کے سیکرٹری (گریڈ ۲۱/۲۰) کرتے ہیں، جن کا تقرر کونسل کے ریکروٹمنٹ رولز (۱۹۸۴ء) کے مطابق وفاقی / صوبائی حکومتوں کے کسی موزوں افسر کے تبادلہ / ڈیپوٹیشن کے ذریعے یا پریس میں اشتہار کے بعد براہ راست انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے۔ ریکروٹمنٹ رولز کے قاعدہ نمبر ۳ کے تحت کو نسل کی تمام اسامیوں (بشمول سیکرٹری / ڈائریکٹر جنرل وغیرہ) پر تقرر کا اختیار کو نسل کے چیئرمین کو حاصل ہوتا ہے، جو انہی قواعد کے قاعدہ ۹ (۱) کے تحت قائم شدہ بورڈ / کمیٹی کی سفارش پر کیا جاتا ہے۔ کو نسل کے شعبہ تحقیق کی سربراہی اس کے ڈائریکٹر جنرل (گریڈ ۲۰) کرتے ہیں۔ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) دونوں براہ راست چیئرمین کو رپورٹ کرتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر بتایا گیا، کونسل کی اوّلین تشکیل ۱۹۶۲ء میں ہوئی۔ چنانچہ یکم ؍اگست ۱۹۶۲ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جناب جسٹس ابو صالح محمد اکرم، ۱۹۶۲ء کے دستور کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت، اسلامی نظریہ کی مشاورتی کونسل کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ ان کے بعد جناب پروفیسر علامہ علاؤ الدین صدیقی، جناب جسٹس حمود الرحمٰن، جناب جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ ، جناب جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن، جناب پروفیسر ڈاکٹر عبد الواحد جے ہالیپوتہ ، جناب جسٹس (ر) محمد حلیم، جناب مولانا کوثر نیازی، جناب اقبال احمد خان، جناب ڈاکٹر شیر محمد زمان، جناب ڈاکٹر محمد خالد مسعود اور جناب مولانا محمد خان شیرانی کو نسل کی سربراہی کی خدمت پر مامور ہوئے۔ جناب پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، ۸ ؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو تین سال کے لیے چیئر مین کو نسل مقرر کیے گئے۔

یکم ؍ اگست، ۱۹۶۲ء سے ۲۶؍ ستمبر ۱۹۷۷ء تک کو نسل کا مستقر لاہور میں رہا۔ اس کے بعد اسے اسلام آباد میں منتقل کیا گیا۔ ۱۹۹۵ء میں سٹیٹ بنک آف پاکستان سے متصل، ۴۶- اتاترک ایونیو، سیکٹر جی فائیو ٹو میں اپنی عمارت مکمل ہونے پر کو نسل مستقل طور پر یہاں منتقل ہو گئی۔ اولاً‌ کو نسل کے صدر نشین جزء وقتی بنیاد پر مقرر ہوتے تھے۔ جسٹس محمد افضل چیمہ (۲۶ ؍ ستمبر ۱۹۷۷ء تا۲۶ ؍مئی ۱۹۸۰ء) ہمہ وقتی بنیاد پر مقرر ہونے والے پہلے چیئر مین تھے۔

کونسل کی مطبوعات

کونسل کی مطبوعات کی کل تعداد ۱۱۰ ہے، ان میں سالانہ رپورٹیں بھی ہیں اور موضوعاتی رپورٹیں بھی۔ سالانہ رپورٹوں (بشمول سالانہ رپورٹ ۰۵-۲۰۰۴ء کی سمری رپورٹ) کی کل تعداد ۳۷ ہے۔ ۳۷ رپورٹیں اسلامی قوانین کی تشکیل کے موضوع پر ہیں، ۸ رپورٹیں معیشت کی اسلامی تشکیل کے موضوع پر ہیں، ایک رپورٹ تعلیمی اصلاحات پر ، ۴ رپورٹیں معاشرتی اصلاحات پر، ایک رپورٹ ذرائع ابلاغِ عامہ کی اصلاح پر اور ۲ رپورٹیں استفسارات پر مشتمل ہیں۔ ’’ دہشت گردی اور اسلام‘‘ کے عنوان سے نیز حدود آرڈیننس ۱۹۷۹ء پر دو مختصر عبوری رپورٹیں بھی شائع کی گئی ہیں۔ آزادئ نسواں، عہدِ رسالت میں ( ترجمہ ) چار جلدوں میں شائع کیا گیا۔ نیز اجتہاد کے عنوان سے بارہ شمارے بھی شائع ہوئے۔ ان کے علاوہ کئی دیگر متفرق مطبوعات بھی شائع کی گئیں۔

(اسلامی قانونِ وراثت ۲۰۱۹ء: ص ۷ تا ۱۴)