مسئلہ رؤیتِ ہلال کے چند توجہ طلب پہلو
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہماری عبادات کے نظام کا ایک بڑا حصہ چاند کی گردش کے ساتھ متعلق ہے اور چاند کا مہینہ چاند کی رؤیت پر طے پاتا ہے۔ اگر انتیس دن کے بعد چاند نظر آجائے تو اگلا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ورنہ گزشتہ ماہ کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں۔ پہلی رات کا چاند اس قدر باریک ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے فقہاء اسلام نے ضابطے طے کیے ہیں جن میں فقہی اختلاف فطری امر ہے اور اس کے باعث رمضان المبارک اور عیدین کے تعیّن میں بسا اوقات فرق پڑتا ہے جو بحث و مباحثہ کا مستقل موضوع بن جاتا ہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران اپنے مختلف مضامین میں راقم الحروف نے اس کے بہت سے فقہی اور معاشرتی پہلوؤں پر لکھا ہے جن کا انتخاب فرزند عزیز حافظ ناصر الدین خان عامر نے زیرنظر مضمون کی صورت میں مرتب کیا ہے جو امید ہے کہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں مفید ہو گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
قانونی و فقہی تجزیہ کی ضرورت
رؤیتِ ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث و مباحثہ اور اختلاف و تنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں۔ اور میڈیا کی وسعت، پالیسی اور مزاج کے باعث قومی اجتماعیت کی وہ صورت نہیں بن رہی جس کی مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے وجود میں آنے کے بعد توقع ہو گئی تھی۔
اس کے اسباب کسی حد تک فقہی اور شرعی ہونے کے ساتھ بڑی حد تک سیاسی اور معاشرتی بھی ہیں کہ حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان شرعی معاملات میں اعتماد کی وہ فضا وجود میں نہیں آ سکی جو اس قسم کے معاملات میں حکومتی احکام کی عملداری قائم کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے۔ ایک اسلامی یا کم از کم مسلم ریاست میں بہت سے معاملات میں حکومت ہی اتھارٹی ہوتی ہے جس کی فقہاء کرام نے مختلف معاملات میں صراحت کی ہے، لیکن اس اتھارٹی کے عملی اظہار کے لیے باہمی اعتماد کی فضا ناگزیر ہوتی ہے۔
بیرونی استعمار کے تسلط سے قبل مسلم ریاستوں میں سیاسی اور گروہی اختلافات و تنازعات کے باوجود یہ اعتماد پایا جاتا تھا کہ حکومت خود جیسی بھی ہو، شرعی معاملات میں گڑبڑ نہیں کرے گی اور علماء کرام کے مشورہ سے ہی شرعی مسائل کو طے کرے گی، حتیٰ کہ اکبر بادشاہ کے ’’دینِ الٰہی‘‘ کے عروج کے دور میں بھی عام لوگوں کے شرعی معاملات ان کے قاضیوں کے ذریعے ہی طے کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ اعتماد بیرونی استعمار کے تسلط کے زمانے میں قائم نہیں رہا، جس کا تسلسل آزادی کے بعد کے دور میں بھی جاری ہے، اور اسی وجہ سے اس قسم کی بہت سی معاشرتی الجھنیں موجود ہیں جن میں سے ایک رؤیتِ ہلال کا مسئلہ بھی ہے۔
اکابر علماء کرام کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ایسے معاملات میں اجتماعیت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور تفرقہ و انتشار سے قوم کو ہر ممکن حد تک بچایا جائے، چنانچہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا قیام اکابر علماء کرام کی توجہ اور مساعی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا اور کسی حد تک مرکزیت و اجتماعیت کی صورت سامنے آ گئی تھی۔ خود میرا مشاہدہ ہے کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے باضابطہ قیام سے پہلے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کو علاقہ میں وہی پوزیشن حاصل تھی جو پشاور کی مسجد قاسم علی خان کو اس سلسلہ میں حاصل چلی آ رہی ہے۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کا شمار ملکی سطح پر اکابر علماء کرام میں ہوتا تھا اور وہ میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ محترم تھے۔ انہیں پورے علاقہ میں مرکزیت و مرجعیت حاصل تھی۔ چاند دیکھنے کے لیے مرکزی جامع مسجد میں اس رات شہر کے بڑے بڑے علماء کرام جمع ہوتے تھے، رات گئے تک شہادتوں کا انتظار رہتا تھا، اور بسا اوقات سحری کے وقت فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ اردگرد کے علماء کرام جامع مسجد کے فیصلے کے انتظار میں ہوتے تھے۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بار بار پوچھتے تھے کہ جامع مسجد گوجرانوالہ میں کیا اعلان ہوا ہے؟ لیکن جب مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی بن گئی اور اس نے کام شروع کر دیا تو جامع مسجد کی چاند رات کی رونقیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر خود میں نے حضرت مفتی صاحبؒ سے پوچھا کہ رؤیتِ ہلال کا فیصلہ کرنے کے لیے علماء کرام کو بلانا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا، کوئی ضرورت نہیں ہے، جو فیصلہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کرے گی، ہم اس پر عمل کریں گے۔
مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اگرچہ اس سلسلہ میں مجاز اتھارٹی ہے، مگر اس کے فیصلوں اور طرز عمل سے علمی بنیاد پر اختلاف کی گنجائش ہر دور میں موجود رہی ہے، جس کا اظہار مرکز گریز حلقوں کی طرف سے مسلسل ہوتا آ رہا ہے اور بحث و مکالمہ کے مختلف پہلو اس حوالے سے سامنے آتے رہتے ہیں۔
اس پس منظر میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کوئی صاحبِ علم اس مسئلہ کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا فقہی اور علمی بنیاد پر جائزہ لے کر اس کے مجموعی تناظر کو سامنے لائیں تاکہ اس سلسلہ میں کوئی رائے آسانی کے ساتھ قائم کی جا سکے۔ بہت سے اصحابِ علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور ان کی کاوشیں مسئلہ کو سمجھنے میں یقیناً مددگار ہیں، لیکن بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ قانون کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے زیادہ وسیع تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لیا ہے اور اس کی فقہی و فنی ضروریات کا احاطہ کرنے کے ساتھ معاشرتی ماحول اور قانونی صورتحال کو بھی سامنے رکھا ہے۔ وہ ایک مسلّمہ علمی خاندان کے فرد ہیں، دینی اور عصری علوم پر یکساں نظر رکھتے ہیں، قانونی پیچیدگیوں اور موشگافیوں سے بخوبی آگاہ ہیں، اور معاشرتی ماحول کے تقاضوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں۔ چنانچہ ان کی اس علمی کاوش (رویتِ ہلال: قانونی وفقہی تجزیہ) میں ان کی یہ تمام خصوصیات جھلک رہی ہیں۔ انہوں نے جس عرق ریزی کے ساتھ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے وہ لائقِ تحسین ہے اور اس کے حل کے لیے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ معروضی حالات میں بہت مناسب بلکہ ضروری ہیں۔ اور ہم صرف ایک گذارش کے ساتھ ان کی تمام تجاویز کی تائید کرتے ہیں کہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے ریاستی اداروں، عوام اور دینی حلقوں کے درمیان باہمی اعتماد کی ایسی فضا کا قائم کرنا بھی ضروری ہے جو شرعی معاملات میں حکومتی اقدامات کی عملداری کو یقینی بنا سکے۔
شرعی عبادات و معاملات میں ایام و اوقات کا تعیّن
دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں:
- سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری، مارچ وغیرہ اسی کے مہینے ہیں۔ مروّجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے۔ اور ۲۰۲۵ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں اور ان کی عمر اب دو ہزار پچیس سال کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔
- چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروّج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے جس کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہوتا ہے، یعنی آنحضرتؐ نے مکہ مکرمہ سے جس سال مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تھی وہاں سے ہجری سن شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ ۱۴۴۶ھ کا مطلب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہجرت کو چودہ سو چھیالیس سال ہو چکے ہیں۔ ہجری نبویؐ سے اسلامی سن کے آغاز کا حکم سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے دیا تھا اور اس کے بعد سے ہماری اسلامی تاریخ اسی حساب سے چلی آرہی ہے۔
چنانچہ اوقات اور ایام کے تعیّن کے لیے سورج اور چاند دونوں کی گردش کا حساب چلتا ہے۔ البتہ سورج کی گردش والا سال چاند کی گردش والے سال سے چند دن بڑا ہوتا ہے اور گرمی سردی کے موسم بھی اس کے ساتھ چلتے ہیں، اس لیے چاند کی گردش والا سال موسم کے حساب سے بدلتا رہتا ہے۔ ہماری عبادات اور شرعی معاملات میں سورج اور چاند دونوں کی گردش کا اعتبار ہے۔ شریعت میں دِنوں کا تعیّن چاند سے اور اوقات کا تعیّن سورج سے ہوتا ہے۔
ہم جب مہینے اور ایام طے کرتے ہیں تو ان میں چاند کا اعتبار ہوتا ہے مثلاً رمضان کا مہینہ، محرم کا مہینہ۔ اسی طرح شبِ برأت، شبِ معراج، شبِ قدر،ایامِ بیض ، ایامِ عشورہ ، ایامِ حج وغیرہ۔ روزہ کے دن کا تعیّن چاند سے کرتے ہیں کہ یہ پہلا روزہ ہے، یہ آخری روزہ ہے۔ جبکہ اوقات کا تعلق سورج سے ہےکہ طلوعِ فجر سورج کے طلوع سے پہلے ہو گی اور مغرب سورج کے غروب ہونے کے بعد، اس طرح روزہ کے آغاز و اختتام کا وقت اور اس کے دورانیہ کا تعیّن بھی سورج کی گردش سے ہے۔
حج کے ایام چاند کے اعتبار سے طے ہوتے ہیں کہ آج یوم الترویہ ہے، آج یوم الحج ہے، آج یوم الاضحیٰ ہے۔ لیکن حج کے اوقات اور اعمال کا تعیّن سورج سے ہے کہ رمی کس وقت کرنی ہے، مزدلفہ کب جانا ہے، عرفات سے کب آنا ہے۔
ہم نمازوں کے اوقات بھی سورج کی گردش سے طے کرتے ہیں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء سب نمازوں کے اوقات کا تعلق سورج کی گردش سے ہے۔ سورج کا دورانیہ بڑھ جائے گا تو نمازوں میں وقفہ زیادہ ہو جائے گا اور سورج کا دورانیہ کم ہو گا تو نمازوں میں وقفہ کم ہو جائے گا۔
چنانچہ ایسا نہیں ہے کہ ہم سورج کی گردش کو نہیں مانتے بلکہ ہم تو روزمرہ اسی کو مانتے ہیں کہ ہمارے اعمال اور اوقات سورج کی گردش کے حساب سے چلتے ہیں، اور ایام اور مہینے چاند کی گردش کے اعتبار سے چلتے ہیں۔ البتہ چاند کا مہینہ سورج کے مہینے سے چھوٹا ہے، تقریباً دس دن کا فرق پڑ جاتا ہے۔ مفسرین اس میں بہت سی حکمتیں بیان فرماتے ہیں۔ ایک حکمت یہ کہ چاند کا مہینہ ہر تین سال کے بعد سورج کا مہینہ بدل لیتا ہے اور سورج کے تینتیس سالوں میں چاند کا مہینہ چاروں موسموں میں گردش پوری کر لیتا ہے۔ اگر ایک مسلمان کو بالغ ہونے کے بعد طبعی عمر کو پہنچنے تک تیس پینتیس سال مل جائیں تو وہ سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے، ٹھنڈے روزے، گرم روزے، لمبے روزے، درمیانے روزے، چھوٹے روزے، گویا اس نے پورا سال روزے رکھے ہیں۔
ضمناً یہ عرض کر دیتا ہوں کہ فقہاء یہ مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کا حساب چاند کے مہینوں کے مطابق کرنا شرعاً ضروری ہے ورنہ سورج کے تینتیس سال میں ایک سال کی زکوٰۃ رہ جائے گئی کیونکہ یہ چاند کے چونتیس سال ہوں گے۔ الغرض شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند دونوں کی گردش کا لحاظ رکھا گیا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ ماہ و ایام کی تعیین چاند کے ساتھ جبکہ اوقات کی تعیین سورج کے ساتھ ہے۔
رؤیتِ ہلال اور اختلافِ مطالع
رؤیتِ ہلال کے سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی۔
پہلی بات یہ ہے کہ رمضان اور عید کا چاند آنکھوں سے دیکھنے پر کیوں زور دیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں سائنسی آلات اور حساب کا اعتبار کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ صوموا لرؤیتہ و افطروا لرؤیتہ‘‘ (رواہ مسلم) کہ چاند دیکھ کر رمضان شروع کرو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ۔ ورنہ سائنسی آلات اور سائنسی حساب سے علماء کرام کو کوئی ضد نہیں ہے اور وہ سورج کے طلوع و غروب کے اوقات، نمازوں کے اوقات کے تعیّن، اور دیگر معاملات میں سائنسی حساب کتاب کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ البتہ چاند کے مہینہ کے آغاز کے لیے ’’رؤیت‘‘ کو ضروری سمجھتے ہیں جس میں ان کی اپنی رائے کا کوئی دخل نہیں بلکہ جناب رسول اللہؐ کے ارشاد کی وجہ ہے کہ جہاں انہوں نے رؤیت کا حکم دیا ہے وہاں رؤیت ضروری ہے اور جہاں اس کا حکم نہیں دیا وہاں معروف اور مروّجہ حساب کتاب کا لحاظ رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔
آخر سورج کے غروب اور طلوع کے ساتھ بھی تو شرعی احکام اور عبادات کا تعلق ہے، کیا علماء کرام کے کسی طبقے نے کبھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم سورج کو اپنی آنکھوں سے ڈوبتا دیکھ کر روزہ کے افطار اور نمازِ مغرب کے وقت کے آغاز کا فتویٰ دیں گے؟ وہاں وہ ماہرینِ فلکیات کے مرتب کردہ نقشوں اور مروجہ گھڑیوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح انہیں چاند کے بارے میں ماہرینِ فلکیات کے نقشوں کو فیصلے کا مدار قرار دینے میں بھی کوئی انکار نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ اس کے بارے میں آنحضرتؐ کا حکم باقی معاملات سے مختلف اور جداگانہ ہے کہ آپؐ نے چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے آغاز اور چاند دیکھ کر ہی عید کرنے کا حکم دے رکھا ہے، اس لیے علماء کرام رمضان اور عید کے لیے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام میں ایک روز عید ممکن ہے؟ اس سلسلہ میں اصولی طور پر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پورے عالمِ اسلام کا مطلع ایک نہیں ہے۔ مثلاً پاکستان اور سعودی عرب کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق ہے اور سعودی عرب میں سورج پاکستان سے دو گھنٹے بعد غروب ہوتا ہے۔ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ چاند ایسے وقت میں طلوع ہو کہ پاکستان میں نظر نہ آئے اور سعودی عرب میں نظر آجائے، لہٰذا پاکستان اور سعودی عرب میں ایک دن یا بسا اوقات دو دن کا فرق بھی ہو سکتا ہے اور یہ بات سائنسی حساب کتاب میں تسلیم شدہ ہے۔ اسی طرح پورے عالمِ اسلام میں اوقات کے فرق کو دیکھ کر اندازہ کر لیجیے کہ انڈونیشیا سے مراکش تک اوقات کے فرق کی ترتیب کیا ہے۔ لہٰذا یہ بات تو طے شدہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کا مطلع ایک نہیں ہے اور ایک دن یا کبھی کبھار دو دن کا فرق پڑ جانا معمول کی بات ہے۔
چنانچہ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ چاند کے طلوع ہونے میں سائنسی طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں وقت کا فرق موجود ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک علاقے میں ایک روز چاند نظر آتا ہے اور اس سے دور دوسرے علاقے میں دوسرے روز پہلی رات کا چاند دکھائی دیتا ہے، تو یہ بات بطور ایک واقعہ کے درست ہے۔ چاند کی گردش کے حوالے سے ایسا ہونا ممکن ہے بلکہ اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے، لیکن کیا شرعاً اس کا اعتبار ضروری ہے؟ اور کیا ایسا کرنا درست نہیں ہے کہ ایک جگہ چاند نظر آجائے تو باقی دنیا کے لوگ اسی کا اعتبار کرتے ہوئے ایک ہی دن روزہ اور عید کا اہتمام کر لیں؟
سوال یہ ہے کہ مطلع کے اس اختلاف کا شرعاً اعتبار ہے یا نہیں؟ اسے فقہی اصطلاح میں اختلافِ مَطالع کا اعتبار کرنے یا نہ کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں فقہائے امت کے دو گروہ ہیں۔ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ نے ’’فتاویٰ محمودیہ‘‘ میں اور حضرت مولانا زوار حسین شاہ آف کراچی نے ’’عمدۃ الفقہ‘‘ میں اس کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کے مطابق:
- حنفی، حنبلی اور مالکی مذاہب کے ائمہ اختلافِ مَطالع کا اعتبار نہیں کرتے اور ان کا یہ ارشاد ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کا ثبوت ہو جائے تو باقی دنیا کے لیے اس کی پابندی ضروری ہو جاتی ہے۔
- البتہ شافعی فقہ کے ائمہ اور احناف میں سے امام زیلعیؒ اور سید انور شاہ کشمیریؒ اختلافِ مَطالع کا اعتبار کرتے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ جہاں چاند دیکھنے میں ایک دن کا فرق پڑ جائے وہاں مَطالع کا اختلاف معتبر ہے اور ایک جگہ چاند نظر آنے سے دوسری جگہ کے لوگوں پر روزہ اور عید لازم نہیں ہوتے۔
ہمارے ہاں پاکستان میں اگرچہ عمل اب تک دوسرے قول پر ہو رہا ہے لیکن اہلِ سنت کے تینوں مکاتبِ فکر یعنی بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث کے اکابر علماء کرام نے صراحت کی ہے کہ ان کے نزدیک مَطالع کا اختلاف شرعاً معتبر نہیں ہے اور دنیا میں کسی ایک جگہ بھی چاند کا شرعی ثبوت مل جانے کی صورت میں باقی ساری دنیا کے مسلمان اس کے پابند ہو جاتے ہیں، چنانچہ:
- بریلوی فکر کے ممتاز مفتی حضرت مولانا امجد علی اعظمیؒ ’’بہارِ شریعت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک جگہ چاند ہو تو وہ صرف وہیں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہان کے لیے ہے، مگر دوسری جگہ اس کا حکم اس وقت ہے کہ ان کے نزدیک اس کی تاریخ میں چاند ہونا شرعاً ثابت ہو جائے۔
- دیوبندی مکتبِ فکر کے ایک بڑے مفتی حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰنؒ نے ’’فتاویٰ دارالعلوم دیوبند‘‘ میں صراحت کی ہے کہ مَطالع کا اختلاف عملاً موجود ہے لیکن احناف کے نزدیک شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہے، اور اگر مغرب میں چاند نظر آجانے کا ثبوت شرعی ہو جائے تو اہلِ مشرق اس کے مطابق روزہ رکھنے اور عید کرنے کے پابند ہیں۔
- اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے ہاں قاضی شوکانیؒ کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے اور ’’فتاویٰ محمودیہ‘‘ میں مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ نے قاضی شوکانیؒ کی ایک طویل عبارت نقل کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مَطالع کے اختلاف کا شرعاً اعتبار نہیں ہے۔
فقہائے احناف کا معتبر قول یہ ہے کہ رؤیتِ ہلال میں اختلافِ مَطالع کا اعتبار نہیں ہے، چنانچہ فتاویٰ دارالعلوم مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ دیوبند حصہ سوم صفحہ ۴۹ میں حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰنؒ فرماتے ہیں کہ
’’صحیح و مختار مذہب کے موافق اختلافِ مَطالع ہلالِ صوم و فطر میں معتبر نہیں، اہلِ مغرب کی رؤیت سے اہلِ مشرق پر حکم ثابت ہو جاتا ہے‘‘۔
اس کے ساتھ ہی حضرت مفتی صاحب نے ’’درِّمختار‘‘ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حنابلہ اور مالکیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ چنانچہ اگر اس قول کو اختیار کر لیا جائے تو کوئی الجھن باقی نہیں رہ جاتی اور عالمِ اسلام میں کسی جگہ بھی چاند نظر آجائے تو پورے عالمِ اسلام میں رمضان المبارک اور شوال المکرم کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور عید ایک روز منائی جا سکتی ہے۔
مولانا مفتی منیر احمد اخون ہمارے فاضل دوست ہیں اور نیویارک میں ایک علمی مرکز قائم کر کے فتویٰ اور اصلاح و ارشاد کے میدان میں مسلمانوں کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس پر کتاب لکھی ہے کہ مکہ مکرمہ کی رؤیت پر اعتماد کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس کے مطابق ایک ہی دن روزہ کا آغاز کرنا چاہیے اور ایک ہی دن عید منانی چاہیے۔ اور برصغیر پاک و ہند کے دو بڑے مذہبی مکاتبِ فکر دیوبندی اور بریلوی کے اکابر علماء کرام کے فتاویٰ کو اس تجویز کی بنیاد بنایا ہے۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا یہ ارشاد انہوں نے ’’الکوکب الدری‘‘ سے نقل کیا ہے کہ
’’اگر کلکتہ (ہندوستان) میں چاند جمعہ کی رات میں نظر آیا اور مکہ میں خمیس (جمعرات) کی رات کو، اور کلکتہ والوں کو پتہ نہ چل سکا کہ مکہ میں رمضان خمیس (جمعرات) سے شروع ہو چکا ہے، تو جب ان کو اس بات کا پتہ چلے گا تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ عید مکہ والوں کے ساتھ منائیں اور پہلا روزہ قضا کریں‘‘۔
حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کا فتویٰ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ سے انہوں نے اس طرح نقل کیا ہے کہ
’’عمرو کا قول، کہ ہندوستان سے دور دراز ملک مکہ معظمہ میں ۲۹ کا چاند ہوگیا ہے تو پھر بہرائچ والوں کو ان کے ساتھ روزہ نہ رکھنے کی بنا پر ایک روزے کی قضا کرنا لازم ہے، صحیح ہے۔ ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح معتمد یہی ہے‘‘۔
جبکہ ’’فتاویٰ رحیمیہ‘‘ کے حوالہ سے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا فتویٰ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ
’’اگر مکہ یا مدینہ میں شرعی ثبوت کے ساتھ خبر آجائے کہ وہاں یہاں سے پہلے چاند ہوا ہے تو ہندوستان والوں پر اس خبر کی وجہ سے ایک روزہ رکھنا فرض ہوگا‘‘۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہور فقہائے احناف کے ساتھ ساتھ حنبلی اور مالکی فقہ کے ائمہ کرام کے درمیان اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے قاضی شوکانیؒ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں پہلی رات کا چاند نظر آنے کے اوقات میں فرق موجود ہونے کے باوجود مَطالع کے اس اختلاف کا شرعاً اعتبار کرنا ضروری نہیں ہے، اور دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کی صورت میں باقی دنیا کے مسلمان بھی اسی روز عید اور روزہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان بزرگوں کی بات مان کر نہ صرف ملک بھر میں ایک ہی روزے اور عید کا اہتمام ممکن ہے بلکہ عرب ممالک کے ساتھ عید اور روزہ میں ہم آہنگی بھی ہو سکتی ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ جب جمہور فقہائے احناف، مالکیہ، حنابلہ کے نزدیک اختلافِ مَطالع کا اعتبار نہیں ہے اور کسی ایک جگہ چاند کا ثبوت ہو جائے تو باقی دنیا کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے، تو پھر اس سلسلہ میں لمبے بکھیڑے میں پڑنے اور عام مسلمانوں کو خواہ مخواہ پریشانی میں ڈالنے کی بجائے وحدتِ امت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا زیادہ بہتر ہے، اور اکابر علماء کرام کو اس سلسلہ میں باہمی مشاورت کے ساتھ کوئی اجتماعی اجتہادی فیصلہ کرنا چاہیے۔
ایک موقع پر سرحد اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کو توڑ دیا جائے اور رمضان المبارک اور عیدین وغیرہ کے نظام کو سعودی عرب کے ساتھ منسلک کر کے جس روز سعودیہ میں چاند کا اعلان ہو اُس کے مطابق روزہ اور عید کا پاکستان میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ ہمارے نزدیک سرحد اسمبلی کی یہ قرارداد ملک بھر کے دینی حلقوں اور اربابِ حل و عقد کی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کے عوام کی ایک مدت سے خواہش ہے کہ وہ سب ایک ہی دن عید منائیں اور اکٹھے روزہ رکھیں، ان کی یہ خواہش ناجائز نہیں ہے، اسے پورا کرنے میں شرعاً بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور فقہائے امت کی بڑی تعداد ان کے اس حق کی حمایت کر رہی ہے، تو پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے، ان کے مل بیٹھ کر نیا اجتہادی فیصلہ کرنے سے عوام کو یہ خوشی مل سکتی ہے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
مغربی ممالک کی صورتحال، فلکیاتی حسابات، سعودی عرب کا اعلان
مسلمانوں میں وحدت کا اہتمام اور متفقہ فیصلہ بہت زیادہ ضروری ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں ایک ہی شہر میں کچھ لوگوں کا روزہ ہوتا ہے اور کچھ کا نہیں ہوتا اور عید کے موقع پر بھی کچھ مسلمان عید منا رہے ہوتے ہیں اور کچھ روزے سے ہوتے ہیں۔ بالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں بعض ذمہ دار حضرات کے بقول حکومت مسلمانوں کو عیدین کے لیے سرکاری چھٹی کی سہولت دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس اختلاف کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پا رہا۔ اجتہادی مسائل میں اختلافِ رائے اور مختلف اقوال کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ اجتماعی حالات اور ضروریات کے تحت ان میں سے کوئی قول بھی اختیار کیا جا سکتا ہے اور علماء کرام باہمی مشاورت و اتفاق سے کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے علماء کرام اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے جو اس مسئلے کا افسوسناک پہلو ہے۔
مغربی ممالک میں اِن دنوں علمی و دینی مجالس میں چاند کا مسئلہ ہی زیربحث رہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جو فلکیات کے حساب کی بنیاد پر پہلے سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے دن کا اعلان کر دیتا ہے۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ چونکہ فلکیات کا حساب اس قدر سائینٹفک ہو چکا ہے کہ اس کے اندازوں میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا، اس لیے جس طرح ہم نمازوں کے اوقات کے تعیّن میں فلکیات کے حساب اور سائنسی اداروں کی تحقیقات پر اعتماد کر کے پورے سال کا نقشہ پہلے سے چھپوا لیتے ہیں کہ فلاں دن اس وقت سورج طلوع ہوگا، اس وقت زوال ہوگا، اس وقت سورج غروب ہوگا، اور اس وقت شفقِ احمر یا شفقِ ابیض غائب ہوگی، اور اس کے لیے ہم سورج کو دیکھنے اور اس کی چال پر نظر رکھنے کا اہتمام نہیں کرتے، اسی طرح چاند کے معاملے میں بھی سائنسی اداروں کی تحقیقات پر اعتماد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ان کے بنائے ہوئے نقشوں کے مطابق ہمیں پہلے سے روزے، عید اور قربانی وغیرہ کے ایام کا تعیّن کر لینا چاہیے۔ چنانچہ وہ عملاً ایسا ہی کرتے ہیں۔
دوسری طرف علماء کرام کی ایک بڑی تعداد اور دینی تنظیموں کا موقف یہ ہے کہ چاند کے معاملے میں چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ خاص رؤیت کا حکم دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ اس لیے رمضان، عید الفطر اور حج وغیرہ کے ایام کے تعیّن کے لیے چاند کی رؤیت ضروری ہے اور صرف اسی بنیاد پر روزے اور عید کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ سورج کی رفتار کے ساتھ ہماری نمازوں کے اوقات کا تعیّن وابستہ ہے لیکن اس کے بارے میں رؤیت کے اہتمام کا اس طرح کا حکم نہیں ہے، اس لیے اس میں ہم سائنسی اداروں کی تحقیقات کو بنیاد بنا لیتے ہیں اور روزانہ سورج کی رفتار دیکھے بغیر پہلے سے نمازوں کے اوقات کا تعیّن کر لیتے ہیں، مگر چاند کے بارے میں رؤیت کا بطور خاص حکم ہے اس لیے اس معاملے میں رؤیت کو ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
ایک موقع پر امریکہ میں ایک دوست نے سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کا ہفت روزہ ایشیا ٹربیون میں شائع ہونے والا ایک بیان دکھایا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی بنیاد پر رمضان اور شوال سمیت دیگر اسلامی مہینوں کی تاریخ کا تعیّن نہیں کیا جا سکتا، اور نیا چاند دیکھے بغیر قبل از وقت پیشگوئی غیر اسلامی ہے۔ اس دوست کا مقصد یہ تھا کہ جب سعودی عرب کے مفتی اعظم رؤیت کو شرعاً ضروری قرار دے رہے ہیں تو سعودی عرب کے رؤیت کے اعلان پر تحفظات کی بنیاد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ تحفظات تو بہرحال بہت سے علماء کرام کو ہیں اور خود مجھ سے بعض ثقہ اور جید علماء کرام نے مختلف ممالک میں ان تحفظات کا ذکر کیا ہے، لیکن اس سلسلہ میں سعودی حکومت سے بات ہونی چاہیے بلکہ خود سعودی عرب کو عالمِ اسلام کے علماء کرام کو اعتماد میں لے کر رؤیتِ ہلال کا کوئی ایسا نظام طے کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو، اور سعودی حکومت کو حرمین شریفین کے حوالے سے اسے دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
امتِ مسلمہ کے جمہور علماء کرام کا موقف یہی ہے اور امریکہ میں بھی دینی حلقوں کی اکثریت اسی پر عمل کرتی ہے، البتہ اصولی طور پر رؤیت کی بنیاد پر روزے اور عید وغیرہ کا فیصلہ ضروری سمجھنے کے باوجود اس کی تفصیل پر اختلاف ہے۔ ایک حلقہ یہ کہتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی چاند دیکھے جانے کی خبر شرعی اصولوں کے مطابق مل جائے تو روزے اور عید کا اعلان کر دینا چاہیے۔ چنانچہ عرب حلقے اور ان کے دینی مراکز چاند دیکھنے کا اہتمام نہیں کرتے بلکہ سعودی عرب میں چاند کا اعلان ہوجانے پر روزے اور عید کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ مگر بہت سے دینی حلقے بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور دینی مراکز امریکہ میں الگ سے چاند دیکھنے کے اہتمام کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر روزے اور عید کے دن کا تعیّن کرتے ہیں۔
اس وجہ سے کم و بیش ہر سال یہ کیفیت ہوتی ہے کہ دو عیدیں تو یقینی ہیں، کبھی کبھار بعض علاقوں میں تین عیدیں بھی ہو جاتی ہیں۔ ایک مرتبہ واشنگٹن (ڈی سی) میں ایک پاکستانی فیملی سے تعلق رکھنے والے دوست مجھے بتا رہے تھے کہ بعض گھروں میں بھی ایسا ہو جاتا ہے کہ میاں عید کر رہے ہیں اور بیوی روزے سے ہے، باپ کا روزہ ہے اور بیٹے عید کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں، بعض حضرات اپنے رشتہ داروں سے عید ملنے جاتے ہیں تو وہ آگے روزے سے ہوتے ہیں۔
چند سال قبل ہیوسٹن (ٹیکساس ) کے جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا حافظ محمد اقبال نے، جو چشتیاں سے تعلق رکھتے ہیں اور علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل ہیں، اس مسئلہ پر میرے ساتھ ایک مستقل نشست کی کہ ہمارے مرکز میں نمازیوں کی اکثریت عرب حضرات کی ہے جو سعودی عرب کے اعلان پر روزہ اور عید کرتے ہیں، جبکہ ہم امریکہ میں چاند دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں، اس لیے ہمارے ہاں ہر سال خلفشار کی صورت ہوتی ہے، عرب حضرات ہماری بات نہیں مانتے اور ہم ان کی بات کو قبول نہیں کرتے۔ حافظ محمد اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ وہ عمل تو ان حضرات کے ساتھ کرتے ہیں جو امریکہ میں چاند کی رؤیت کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن ان کے خیال میں اب یہ ہوتا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کے لیے اور مسلمان حلقوں اور خاندانوں کو اس خلفشار سے نجات دلانے کے لیے سعودی عرب کے اعلان پر آجانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں خاصا مواد جمع کر رکھا تھا کہ جب احناف متقدمین کے نزدیک اختلافِ مَطالع کا اعتبار نہیں ہے اور ہمارے بڑے اکابر کی صراحت موجود ہے کہ اہلِ مغرب کی رؤیت اہلِ مشرق کے لیے حجت ہے، تو پھر ہمیں مسلمانوں کی وحدت کے لیے اسی قدیمی موقف کی طرف واپس چلے جانا چاہیے۔
ایک سال بالٹیمور (میری لینڈ) میں مولانا محمد عرفان صاحب کے دارالعلوم میں بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں دوست مجھ سے پوچھتے کہ آپ کا فتویٰ کیا ہے؟ میں نے ہر جگہ یہ عرض کیا کہ میں مفتی نہیں ہوں اور نہ ہی فتویٰ دیا کرتا ہوں، البتہ ایسے مسائل پر یہ رائے ضرور رکھتا ہوں کہ جس معاملے میں فقہی اور شرعی طور پر ایک سے زیادہ آرا کی گنجائش موجود ہو اور اجتہادی بنیاد پر فقہاء کے اقوال مختلف ہوں، وہاں مسلمانوں کی اجتماعیت اور عمومی مصلحت کو فیصلے کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
مثال کے طور پر میں نے ایک مسئلہ کا حوالہ دیا کہ بٹائی یعنی حصے پر زمین کاشت کے لیے دوسروں کو دینے کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے، مگر صاحبین یعنی امام ابویوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس پر فقہاء احناف نے تفصیلی بحث کی ہے۔ ایک دور میں اس مسئلہ پر میں نے بھی کچھ کام کیا تھا اور ہفت روزہ ترجمانِ اسلام لاہور میں اس موضوع پر میرا ایک مقالہ کئی قسطوں میں شائع ہوا تھا۔ اس دوران فقہاء احناف کی بحث کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت ملا علی قاریؒ کا یہ قول میری نظر سے گزرا، جس کا میں نے اپنے مضمون میں حوالہ بھی دیا، کہ مزارعت کے مسئلہ پر دلائل تو حضرت امام ابوحنیفہؒ کے ساتھ ہیں لیکن عمومی مصلحت چونکہ صاحبین کے قول پر عمل کرنے میں ہے اس لیے فتویٰ انہی کے قول پر دیا جاتا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے بھی اسی طرح کی بات لکھی ہے۔ چنانچہ اس نوعیت کے مسائل میں میرا طالب علمانہ رجحان یہی پختہ ہوگیا ہے کہ اجتہادی مسائل میں جہاں دونوں طرف گنجائش موجود ہو، فیصلہ کرتے وقت مسلمانوں کی اجتماعیت اور عمومی مصلحت کو ترجیح دینی چاہیے۔
ایک سال رمضان المبارک کا آغاز دارالحکومت واشنگٹن کے علاقے میں کیا اور دارالہدیٰ (ورجینیا) میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں تراویح پڑھی، لیکن واشنگٹن میں ہمارے ہی حلقے کی دوسری مساجد میں نہ تراویح ہوئی اور نہ ہی اگلے دن لوگوں کا روزہ۔ وہاں مولانا عبد الحمید اصغر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہےتو میں نے عرض کیا کہ سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ یہاں کے علماء کرام اور دینی حلقے باہمی مشاورت سے اجتماعی فیصلہ کریں، البتہ اس فیصلے میں وہ کسی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ وہ اختلافِ مَطالع کا اعتبار کرتے ہوئے چاند کی علاقائی رؤیت کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کریں تو یہ بھی شرعاً درست ہے۔ اور اختلاف مَطالع کا اعتبار نہ کرتے ہوئے سعودی عرب یا کسی دوسری جگہ چاند نظر آنے کے اعلان پر روزہ اور عید کا فیصلہ کریں تو اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔ مگر اجتماعیت ضروری ہے اور مسلمانوں کو خلفشار سے نکالنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اعلان پر علماء کرام کے تحفظات ہیں کہ وہاں رؤیت پر فیصلہ ہوتا ہے یا کیلنڈر کی بنیاد پر اعلان کیا جاتا ہے، اس لیے ہم اس اعلان پر فیصلہ نہیں کرتے۔
پاکستان کی صورتحال اور مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی
جہاں تک مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا تعلق ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور تک صورتحال یہ تھی کہ اگرچہ سرکاری طور پر چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کیا جاتا تھا لیکن چونکہ اس کا نظم صرف سرکاری ہوتا تھا اس لیے عام طور پر اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا تھا اور ہر علاقے میں علماء کرام اپنے طور پر چاند دیکھنے کا اہتمام کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اس صورت میں اکثر ایسے ہو جاتا تھا کہ
- ایک شہر میں عید ہو رہی ہے مگر اس سے تھوڑے فاصلے پر دوسرے شہر میں عید نہیں ہے۔
- یہ بھی ہوتا تھا کہ ایک مسلک کے لوگ روزے رکھے ہوئے ہیں مگر دوسرے مسلک کے لوگوں کی عید ہے۔
- یہ بھی ہوتا تھا کہ ایک شہر کے کچھ لوگ عید منا رہے ہیں اور اسی شہر کے باقی لوگوں کا روزہ ہے۔
- بلکہ ایک بار گوجرانوالہ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ خود ہمارے دیوبندی مسلک کے بعض علماء کرام نے عید کی اور اسی مسلک کے دوسرے علماء عوام کو روزہ رکھوائے ہوئے تھے۔
پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی طرح ہمارے ہاں گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد اس سلسلے میں سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی اور روزے یا عید کا چاند دیکھنے اور اس سلسلے میں شہادتیں لے کر فیصلہ کرنے کے لیے علماء کرام استاد العلماء حضرت مولانا مفتی عبدالواحدؒ کے پاس جمع ہو جایا کرتے تھے۔ بسا اوقات ساری ساری رات بحث و مباحثے میں گزر جایا کرتی تھی اور فیصلہ نہیں ہو پاتا تھا۔ یہ صورتحال پریشان کن ہو گئی تھی اور ہر طرف افراتفری کی کیفیت ہو جایا کرتی تھی۔ اور ایک بار ایسا بھی ہوا کہ عید کے سرکاری اعلان کو قبول نہ کرنے پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ اور مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ جیسے اکابر علماء کرام گرفتار کر لیے گئے اور انہیں کم و بیش ایک ماہ جیل میں رہنا پڑا۔
اس پس منظر میں کچھ اصحابِ فکر نے دونوں وجوہ کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کا حل پیش کیا کہ روزے یا عید کا اعلان تو سرکاری طور پر ہی ہونا چاہیے تاکہ باہمی خلفشار سے بچا جا سکے، لیکن یہ اعلان سرکاری اہلکاروں کی طرف سے نہ ہو بلکہ اس کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کر دی جائے جو چاند کے دیکھے یا نہ دیکھے جانے کا شرعی اصولوں کے مطابق فیصلے کرے اور اس کا اعلان بھی وہی کرے، لیکن اس کے اعلان کو سرکاری اعلان کی حیثیت حاصل ہو تاکہ اس پر ملک بھر میں یکساں طور پر عملدرآمد ہو سکے۔
مجھے یاد ہے کہ مسئلہ کے اس حل کو عملی صورت میں لانے کے لیے حضرت مولانا مفتی محمودؒ سب سے زیادہ فکرمند تھے، انہی کی کوششوں سے مختلف مکاتب کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا سرکاری طور پر قیام عمل میں لایا گیا تھا اور علماء کرام کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا کہ رؤیتِ ہلال کا نظام تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ اور نمائندہ علماء کرام کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے اور حکومت اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری قبول کرے۔ اس طرح مختلف مکاتبِ فکر کے ذمہ دار حضرات کو مشورہ میں شریک کرنے کی روایت قائم ہوئی اور بڑے بڑے علماء کرام کی موجودگی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اعتماد کی یہ فضا قائم ہوتی گئی کہ ملک کے اکثر حصوں میں رؤیتِ ہلال کا کوئی متبادل انتظام کرنے کی بجائے مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کو قبول کیا جانے لگا اور خوشگوار صورت سامنے آنے لگی کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کو اس سلسلے میں فیصلہ کن اور مجاز اتھارٹی کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی چند مخصوص علاقوں میں اس سے الگ عمل ہوتا رہا مثلاً پشاور اور مردان وغیرہ میں اس سے ہٹ کر فیصلہ کیا جاتا تھا اور اس پر عمل بھی ہوتا تھا لیکن باقی پورے ملک میں مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی پر اعتماد کرتے ہوئے مجموعی طور پر رمضان المبارک، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کا تعیّن متفقہ طور پر ہونے لگا۔
اس صورتحال میں رخنہ تب پیدا ہوا جب ایک سال صوبہ سرحد کی رؤیتِ ہلال کمیٹی نے رمضان المبارک کے چاند کے سلسلے میں مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا جس سے صوبہ سرحد کے ایک بڑے حصے میں رمضان اور عید کا نظام باقی ملک سے الگ ہو گیا۔ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا موقف یہ تھا کہ چونکہ وہ حکومت کی طرف سے مجاز اتھارٹی ہے اور اس نے رؤیتِ ہلال کی کوئی تسلی بخش شہادت نہ ملنے کی وجہ سے ۲۹ شعبان کی شام کو چاند نظر نہ آنے اور شعبان کے تیس دن مکمل کرنے کا اعلان کر دیا تھا، اس لیے پورے ملک کو اس فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے تھی۔ جبکہ سرحد کی صوبائی حکومت اور رؤیتِ ہلال کمیٹی کا یہ کہنا تھا کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی نے چاند نہ ہونے کے فیصلے میں جلد بازی کی تھی اور فیصلے کے اعلان کے بعد موصول ہونے والی شہادتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے اسے شرعی اصولوں کے مطابق شہادتوں کی بنیاد پر رمضان المبارک کے شروع ہو جانے کا اعلان کرنا پڑا۔ یہی صورتحال عید الفطر پر پیش آئی اور دو متضاد اعلانات کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے پریشانی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رؤیتِ ہلال کے بارے میں اعلان کا حتمی اختیار صرف مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کو حاصل ہے یا علاقائی رؤیتِ ہلال کمیٹیاں بھی الگ طور پر یہ اختیار رکھتی ہیں؟ اور اگر علاقائی کمیٹیاں بھی یہ اختیار رکھتی ہیں تو جب صوبہ سرحد کی کمیٹی شہادتوں کی بنیاد پر رؤیتِ ہلال کا فیصلہ کر لیتی ہے تو کیا مرکزی کمیٹی کو اسے قبول کرنے میں کوئی تامل ہونا چاہیے؟ کیا صوبہ سرحد کی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے فیصلہ کی بنیاد پر ملک بھر میں عید کا اعلان نہیں کیا جا سکتا؟
صوبہ سرحد کے قدیمی دارالافتاء نجم المدارس کلاچی (ضلع ڈیرہ اسماعیل خان) کی طرف سے ۲۰۰۶ء کے دوران یہ اعلان کیا گیا تھا کہ روزے، اعتکاف اور عید کے سلسلہ میں مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا اعلان ہی معتبر ہے، اور چونکہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی تمام مسالک کے جید علماء کرام پر مشتمل ہے، اس لیے اس سلسلہ میں اسی کے اعلان کو قبول کیا جانا چاہیے اور سب کو اسی پر عمل کرنا چاہیے۔
اجتہادی مسائل کے حوالے سے اصول یہ ہے کہ علماء کرام مل بیٹھ کر حالات اور ضروریات کی روشنی میں ان میں سے جس موقف پر بھی فیصلہ کر لیں وہی درست ہے، لیکن اس کا فیصلہ اجتماعی طور پر اور قومی سطح پر ہونا چاہیے۔ اگر قومی سطح پر باہمی مشاورت اور اعتماد کے ساتھ یہ فیصلہ ہو جائے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ روزے اور عید کا نظام وابستہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے، پھر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی، لیکن اس فیصلے کی اصل جگہ اسلام آباد ہے اور تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کے ساتھ قومی سطح کی مشاورت کے بعد ہی ایسا فیصلہ ممکن ہے۔ مگر جب تک ایسا کوئی فیصلہ اجتماعی طور پر نہیں ہو جاتا اور اسے قومی فیصلے کا درجہ حاصل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک جو نظام رؤیتِ ہلال کے حوالے سے قومی سطح پر موجود ہے اس کا احترام کرنا ضروری ہے۔ اس کے طرزعمل اور فیصلوں سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، اگر کوئی اختلاف دلیل کے ساتھ ہے تو وہ ضرور ہونا چاہیے، لیکن اس سے پہلے اس نظام سے بغاوت کرنا اور لوگوں کو خلفشار کا شکار بنانا درست نہیں ہے۔
ہمارے خیال میں اس معاملہ کو اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس ساری صورتحال کا جائزہ لے کر رؤیتِ ہلال کمیٹی کے لیے کوئی ایسا نظامِ کار اور ضابطۂ اخلاق طے کر دیں جس کی پابندی مرکزی اور صوبائی کمیٹیوں کے لیے ضروری ہو، ان کمیٹیوں کا باہمی اختلاف ایک ہی ملک بلکہ ایک ہی صوبہ اور علاقہ میں دو یا تین عیدوں کا باعث نہ بنتا رہے، اور کم از کم پاکستان کے تمام مسلمان تو ایک ہی دن متفقہ طور پر عید منا سکیں۔
ایک بات عام ذہنوں میں الجھن کا باعث بنتی ہے کہ پاکستان تو ایک ملک ہے، یہاں ایک روز متفقہ عید کیوں نہیں ہوتی؟ جبکہ مرکزی سطح پر رؤیتِ ہلال کمیٹی بھی قائم ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام موجود ہیں اور انہی کے فیصلے پر چاند کے دیکھے یا نہ دیکھے جانے کا اعلان ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پرواہ نہیں کی جاتی اور عام طور پر ایک روز قبل عید منائی جاتی ہے۔
اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اس کا تھوڑا سا پس منظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان کے اس علاقہ کے لوگ جہاں زیادہ تر پشتون آباد ہیں، اپنے آپ کو کلچر اور ثقافت کے لحاظ سے افغانستان کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں اور اپنی روایات و اقدار میں اپنے افغان بھائیوں کے قریب رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ افغانستان میں ہمیشہ سے ایک روز پہلے عید ہوتی ہے ۔ جس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ وہاں کی غالب اکثریت حنفی ہے اور وہ احناف کے اصول کے مطابق اختلافِ مَطالع کا اعتبار نہ کرتے ہوئے سعودی عرب میں رؤیتِ ہلال کے اعلان پر عید کر لیتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ افغانستان کی مغربی سرحد کا پاکستان کے ساتھ وقت کا اتنا فرق موجود ہے کہ پاکستان میں نظر نہ آنے والا چاند افغانستان کے مغربی حصے میں اسی روز نظر آ سکتا ہے، اس لیے وہ ایک روز پہلے چاند دیکھ لیتے ہیں۔ اس لیے جب افغانستان میں عید ہو جاتی ہے تو افغانستان کی سرحد سے ملنے والے پاکستانی علاقوں میں عید نہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عالمِ اسلام کی سطح پر رؤیتِ ہلال کا نظام
عالمِ اسلام کی سطح پر رؤیت کے نظام اور اس کے فیصلہ کے طریق کار کا مسئلہ حل طلب ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا اور اس فیصلے کا نفاذ کس کی ذمہ داری ہوگی، کیونکہ خلافتِ عثمانیہ اور مغل حکومت کے خاتمہ کے بعد سے پورے عالمِ اسلام میں کوئی ایسا نظام اور ادارہ موجود نہیں ہے جو عالمِ اسلام کے حوالے سے کسی اجتماعی فیصلے کا مجاز ہو یا کسی فیصلے کے عملی نفاذ کی اتھارٹی رکھتا ہو۔ اس لیے میرے نزدیک عید ایک دن نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ کوئی مرکزی نظام اور اتھارٹی موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہر مسلک اور علاقہ کے علماء کرام اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ چنانچہ اس صورتحال کا خاتمہ اس سے پہلے ممکن نظر نہیں آتا کہ خلافتِ اسلامیہ کا باقاعدہ قیام ہو اور وہ شرعی اتھارٹی کے طور پر رؤیتِ ہلال کا انتظام کر کے اس کے اعلان کی ذمہ داری قبول کرے، کیونکہ پھر کسی علاقہ کے علماء کرام کے لیے جداگانہ فیصلے کا جواز باقی نہیں رہ جائے گا اور پورا عالمِ اسلام ایک روز عید منا سکے گا۔
رویتِ ہلال میں اختلاف پر شرمندگی کا حل اور قانون سازی کی ضرورت
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

رویتِ ہلال میں اختلاف پر شرمندگی کا حل
ہمارے ایک محترم دوست نے کہا کہ رویتِ ہلال میں اختلاف کی وجہ سے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو غیر مسلموں کے سامنے اس پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ رویت کے بجاے فلکی حسابات پر رمضان و عیدین کا فیصلہ کیا جائے۔
مغربی ممالک میں مقیم اہلِ علم عموماً یہ بات کرتے ہیں اور اس میں نئی کوئی بات نہیں ہے۔اس دلیل پر کچھ تبصرہ میں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا، وہی یہاں پیش کرتا ہوں۔
یہ دلیل بھی عموماً ذکر کی جاتی ہے کہ امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے ضروری یہ ہے کہ روزہ و عید مختلف دنوں میں نہ ہوں۔ ڈاکٹر مظفر اقبال بجا طور پر فرماتے ہیں کہ روزہ و عید میں وحدت کا امت کی وحدت کے ساتھ جو تعلق جوڑا جاتا ہے وہ بالکل مصنوعی ہے اور ان دو امور کا آپس میں کوئی لازمی تعلق نہیں ہے۔ تاہم مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے مسائل کے ضمن میں ڈاکٹر ذو الفقار علی شاہ اس دلیل کا بڑی شد و مد سے ذکر کرتے ہیں:
ھناک أمر آخر غایۃ فی الأھمیۃ وھو وحدۃ المسلمین، وکم ھو مخزٍ ومؤسف أن نری المسلمین متفرقین حتی فی أعیادھم، وکم ھو محرج ومؤلم للمسلمین وخصوصاً الذین یعیشون فی الغرب عندما یری أولادھم الصغار کیف أن المسلمین الکبار۔ الذین ھم قدوۃ لھم۔ یرونھم متفرقین۔ فتری فی البلد الواحد فی الغرب فی کل مسجد یصوم ویفطر علی ھواہ، فھذا یتبع اختلاف المطالع، وذاک یعتمد وحدۃ المطالع، وھذا یصوم مع السعودیۃ والآخر یحتفل بالعید مع بلدہ الأم، وکل مسجد یعیب علی الآخر، وکل مسجد یری أنہ یطبق أمر اللہ، وأنہ ھو الذی علی الحق۔
(ایک اور پہلو بھی غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کا اتحاد۔ یہ بات کتنی باعث شرم اور باعث افسوس ہے کہ ہم مسلمانوں کو اپنی عیدوں کے معاملہ میں بھی تفرقہ کا شکار دیکھتے ہیں، اور یہ بات مسلمانوں، بالخصوص ان کے لیے جو مغرب میں رہتے ہیں، کتنی باعث حرج اور کتنی اذیتناک ہے کہ ان کے چھوٹے بچے اپنے مسلمان بزرگوں کو، جو ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف کرتا دیکھتے ہیں۔ پس آپ دیکھتے ہیں کہ مغرب میں ایک ہی شہر میں ہر مسجد روزہ و فطر کا فیصلہ اپنی خواہشات پر کرتی ہے۔ کوئی اختلافِ مطالع کی اتباع کرتا ہے تو کوئی وحدۃ المطالع پر یقین رکھتا ہے، کوئی سعودیہ کے ساتھ روزہ رکھتا ہے تو کوئی اپنے آبائی وطن کے ساتھ، اور ہر مسجد دوسروں کو برا کہتی ہے اور ہر مسجد کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی تطبیق کررہی ہے اور یہ کہ جو کچھ وہ کررہی ہے وہی حق ہے۔)
بابِ سوم میں ہم اس مسئلہ کے ایک پہلو پر تفصیلی بحث کرکے دکھائیں گے کہ یہ وحدت اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پوری دنیا کے مسلمانوں میں سیاسی وحدت قائم نہ ہو کیونکہ مہینہ شروع ہونے کا فیصلہ جو ہیئتِ مقتدرہ کرتی ہے وہ فیصلہ اس ہیئتِ مقتدرہ کی حدودِ ولایت تک ہی نافذ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان کی حکومت فیصلہ کرلے تو وہ افغانستان کی حدود میں نافذ العمل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ہم ایک اور مقام پر فقہا کی یہ تصریح بھی نقل کرچکے ہیں کہ جن مقامات پر مسلمانوں کی حکومت نہ ہو وہاں کے مسلمانوں کو جن اہلِ علم پر اعتماد ہو انھی کے فیصلہ پر روزہ و عید کے معاملہ میں اعتماد کریں۔
عملاً بھی اس وقت یہی ہورہا ہے۔ اگر تمام مسلمانوں یا ان کی اکثریت کا اتفاق ایک شخصیت یا ایک رائے پر نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ جسے جس شخصیت ، یا جس رائے ، پر اعتماد ہو ، وہ اسی کی اتباع کرے گا۔ ایک اور مقام پر ڈاکٹر صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ جب نصوص کے ایک ہی مجموعے سے بعض فقہا اختلافِ مطالع کے اعتبار کے لیے اور بعض دیگر فقہا اس کے عدمِ اعتبار کے لیے استدلال کرتے ہیں تو کس کو حق پر سمجھا جائے؟
وإذا کان واحد من القولین صحیحاً ممثلاً لرأی النبی ﷺ، فھل معنی ذلک أن کل من اتبع الرأی الآخر أخطأ فی صیامہ وأخطأ فی فطرہ؟ وإذا کان مقصد النبی ھو واحد من القولین، فلماذا لم یوضحہ بقول واضح الدلالۃ وضوحاً قطعیاً یوفر فیہ علی المسلمین الاختلاف والوقوع فی الخطأ؟
(اگر ان دو اقوال میں ایک ہی صحیح اور رسول اللہ ﷺ کی رائے کی صحیح ترجمانی کرتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس نے دوسری رائے کی اتباع کی اس نے اپنے روزہ اور فطر میں غلطی کی؟ اور اگر نبی کا مقصد ان دونوں اقوال میں کوئی ایک ہی تھا تو کیوں نہ انھوں نے اسے ایسے واضح الدلالۃ اور قطعی الفاظ میں واضح کیا کہ جس کے بعد مسلمانوں کے لیے اختلاف یا غلطی میں پڑنے کی گنجائش ہی نہ ہوتی؟)
اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے اس اعتراض کو مان لیا جائے تو یہی سوال ہر اس مسئلہ کے متعلق اٹھایا جاسکے گا جس میں اختلاف ہوا ہے۔ بات پھر رویتِ ہلال اور اختلافِ مطالع یا رفع الیدین اور قراء ت الفاتحہ خلف الامام تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ جہاد کے متعلق بھی یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں کیوں نہ قرار دیا کہ جہاد کی علت محاربہ ہے یا کفر؟ اموال ربویہ کے متعلق بھی پوچھا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے قطعی طور پر کیوں نہ بیان فرمایا کہ ان کی حرمت کی علت ان کا موزون اور مکیل ہونا ہے، یا ثمن اور مطعوم ہونا؟ یہ الجھن بھی پیدا ہوگی کہ رسول اللہ ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں کیوں نہ واضح کیا کہ مسلمان سے ذمی کا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟ وقس علی ذلک! یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا اختلافِ مطالع کے اعتبار یا عدمِ اعتبار کے مسئلہ یا کسی بھی اور مسئلہ میں اختلاف کو کسی مصنوعی طریقہ سے ختم کیا جاسکتا ہے؟
کیا اختلاف ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک اور اختلافی مسئلہ پر بحث اٹھائی جائے؟ کیا بعینہ ڈاکٹر شاہ کے انداز میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بعض مسلمان فلکی حسابات کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں اور بعض اسے ناجائز سمجھتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اس اختلاف کو کس طرح رفع کیا جاسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اختلافی مسائل میں جو فریق جس رائے کو صحیح سمجھے گا وہ اسی کی اتباع کرے گا اور اپنے اس فعل کو اللہ کے امر کی تطبیق سمجھے گا۔ یہ بھی فطری امر ہے کہ اختلافی مسائل میں ایک فریق دوسرے فریق کی رائے پر، جسے وہ غلط سمجھتا ہے، تنقید کرے گا۔ البتہ ظاہر ہے کہ عیب جوئی اور طعنہ زنی کو کسی صورت مستحسن نہیں قرار دیا جاسکتا اور اختلاف کے اظہار کے اپنے آداب ہیں۔ ڈاکٹر صاحب یقینا جانتے ہیں کہ کسی بھی نص کی تعبیر میں اختلاف کی وجہ صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس نص کے الفاظ ”قطعی الدلالۃ“ ہیں یا نہیں؟
بلکہ کئی دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں،مثلاً دو یا زائد نصوص کا آپس میں تعلق، ایک نص کا دوسری نص کو مقید یا مخصوص کرنا، کسی خاص نص کا مخصوص سیاق و سباق اور پس منظر، کسی نص سے اخذ و استنباط کے اصول، نص سے استنباط کرنے والے کی مخصوص ذہنی تربیت اور اٹھان وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف کسی بھی قانونی نظام میں لازماً موجود ہوتا ہے اور اس کو کسی بھی مصنوعی طریقہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی ممالک میں تو جمہوریت کی وجہ سے تکثیر، تنوع اور اختلاف رائے کو مستحسن سمجھا جاتا ہے اور اختلاف رائے کی صورت میں اکثریتی رائے پر عمل کے باوجود اقلیت کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دیا جاتا ہے۔ نیز اقلیت کا یہ حق بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ اکثریت کو قائل کرنے کی کوشش کرے۔ ہر مغربی ملک میں کتنے ہی قانونی اصول ایسے ہیں جن پر لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے۔
پس اختلاف کوئی اتنی بھی ”قابل شرم“چیز نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے مسلمان خواہ مخواہ احساس کمتری میں مبتلا ہوں۔ اگر مسلمان بزرگ اپنے بچوں کو اختلاف کی حقیقت سے آگاہ کریں اور انھیں یہ بھی سمجھائیں کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے تو یہ مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں رہے گا۔ ساتھ ہی اگر وہ ان کو فقہا کا یہ اصول بھی سمجھائیں تو ان کی تمام الجھنیں دور ہوجائیں گی کہ اختلافی مسائل میں حق پر ایک ہی فریق ہوتا ہے لیکن اس حق کا قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتا ہے۔ اس لیے اختلافی مسائل میں ہر مجتہد کو اس رائے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے جسے وہ اپنے اجتہاد کی رو سے صحیح سمجھتا ہے اور ہر مجتہد کو اس کے اجتہاد کا ثواب ملے گا اگرچہ حق تک پہنچنے والے مجتہد کا اجر دگنا ہوگا۔
باقی رہا اس مسئلہ کا اصولی جواب تو وہ ہم پہلے ہی ذکر کرچکے ہیں کہ مزعومہ مصالح کی بنیاد پر منصوص احکام کو معطل نہیں کیا جاسکتا بلکہ مصالح کو نصوص کے تابع کرنا ہوگا۔
(۷ فروری ۲۰۲۵ء)
رویتِ ہلال کے لیے قانون سازی کی ضرورت
رمضان قریب آگیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ رویت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں پھر ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بن جائے گا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر جگت بازی بھی ہوگی، تنقید بھی ہوگی، لیکن اس امر پر شاید ہی کوئی سنجیدہ بحث ہو کہ اس مسئلے پر ہمارے ہاں کوئی قانون کیوں ابھی تک نہیں بنایا جا سکا؟
برطانوی راج کے دور میں خیبر پختونخوا کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی مرکزیت کسی طرح حد تک قائم رہی ، جیسے ریاستِ سوات اور ریاستِ دیر، وہاں عوام رمضان و عیدین کے معاملے میں ریاست کی حکومت کا فیصلہ مانتے رہے اور آج بھی وہ مرکزی کمیٹی کے ساتھ جڑے ہیں؛ لیکن جہاں ایسی مرکزیت باقی نہیں رہی تھی ، جیسے میدانی اور قبائلی علاقے، وہاں لوگ حکومت کے بجائے مقامی علمائے کرام کے فیصلوں پر عمل کرتے تھے۔ خیبر پختونخوا میں کے بعض علاقوں میں افغان مہاجرین کی آمد کے بعد سعودی عرب کے فیصلے کی طرف بھی دیکھا جانے لگا کیونکہ افغان حکومت اس معاملے میں سعودی عرب کے فیصلے کی پابندی کرتی رہی ہے۔ گویا خیبر پختونخوا میں یہ تین رجحان پائے جاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان میں ”اختلافِ مطالع“ کا مسئلہ بھی اٹھا۔
رویت ہلال کے مسئلے پر 1954ء میں علمائے کرام ایک طویل مباحثے کے بعد کسی حد اتفاقِ رائے تک پہنچ گئے لیکن ان کے فتوے کو ریاستی سطح پر عملاً نافذ نہیں کیا گیا۔ جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے دوران میں”ترقی پسند“ اور ”جدید“ اسلام کا ماڈل پیش کرنے کی کوشش میں رویت ہلال کے مسئلے پر بھی ایسے فیصلے کیے جن کی وجہ سے عوامی سطح پر بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتی سطح پر پہلی سنجیدہ کوشش ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوئی اور 23 جنوری 1974ء کو قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے نتیجے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا نظام وجود میں لایا گیا۔ البتہ چونکہ یہ صرف قرارداد تھی اور اس موضوع پر باقاعدہ قانون سازی نہیں کی گئی، اس لیے اس قرارداد سے بعد میں بہت انحراف بھی کیا گیا۔ مثلاً قرارداد میں کمیٹی کے ارکان کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو اکثریتی ووٹ کے ذریعے ایک سال کے چیئرمین منتخب کرے۔ یہ بھی طے کیا گیا ہر سال اسی طرح نئے چیئرمین کا انتخاب ہوگا۔ معلوم امر ہے کہ اب ایسا نہیں ہوتا۔
مرکزی کمیٹی کے فیصلوں کو اب بھی خیبر پختونخوا کے میدانی اور قبائلی علاقوں میں نہیں مانا جاتا اور یہ معاملہ صرف پشاور کی مسجد قاسم علی خان اور مولانا پوپلزئی تک محدود نہیں ہے، بلکہ مردان، چارسدہ، صوابی وغیرہ میں بھی لوگ مقامی علماء کی پرائیویٹ کمیٹیوں کا فیصلہ مانتے ہیں۔ ان علاقوں کے علمائے کرام کی جانب سے عام طور پر یہ گلہ بھی کیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آنے والی شہادتوں کو کمیٹی قبول نہیں کرتی۔
اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے رمضان کی رویت پر ”روایت“ کے احکام لاگو ہوتے ہیں، جبکہ شوال و ذی الحجہ اور دیگر 9 مہینوں پر ”شہادت“ یعنی گواہی کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس فرق کا قانونی اثر یہ ہے کہ رمضان کی رویت کی قبولیت میں کمیٹی کو بہت زیادہ شدت سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر بظاہر رویت کی روایت کرنے والا قابلِ اعتماد ہو تو بہت زیادہ چھان پھٹک اور غیر ضروری جرح نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح اس روایت کے راوی کا مجلسِ قضاء (کمیٹی کی میٹنگ) میں خود آنا بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ”شہادۃ علی الشہادۃ“ کا طریقِ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پھر چونکہ مواصلات کا نظام بہت ترقی کر گیا ہے، اس لیے ضلعی یا صوبائی کمیٹی تک رویت خبر پہنچ جائے، تو اور وہ اس کے نزدیک قابلِ اعتبار ہو، تو اس خبر کی مرکزی کمیٹی تک رسائی بہ آسانی ممکن ہے۔
عیدین کی رویت چونکہ گواہی ہے، اس لیے اس کے گواہ کا مجلسِ قضا میں آنا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ مرکزی کمیٹی اس ضمن میں صوبائی اور ضلعی کمیٹیوں کے فیصلوں پر اعتماد کرے اور اس پر اصرار نہ کرے کہ اس نے خود گواہوں کی گواہی سننی ہے۔ اس شہادت کی قبولیت کے سلسلے میں شاہد پر مناسب جرح بھی کی جاسکتی ہے لیکن اس ضمن میں بھی اختیار صوبائی اور ضلعی کمیٹیوں کو منتقل کرنا چاہیے۔
مرکزی کمیٹی کے ناقدین عموماً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اتنی شہادتیں آئیں لیکن انھیں مسترد کیا گیا ۔ اصولاً جب تک قاضی گواہی کو قبول نہ کرے ، اس کی حیثیت محض ایک خبر کی ہے اور دلائل و قرائن کی بنیاد پر قاضی گواہی کو مسترد بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے سچی بات یہ ہے کہ اس امر میں جانبین بے جا حساسیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جب مذہبی جماعتوں کے اتحاد ، متحدہ مجلسِ عمل ، کی حکومت تھی تو صوبائی اسمبلی نے قرارداد منظور کی تھی کہ پاکستان میں وحدتِ رمضان و عیدین کو یقینی بنانے کے لیے رویت کے معاملے میں سعودی عرب کا فیصلہ قبول کرنا چاہیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ جمہور فقہائے کرام کے مطابق ”اختلافِ مطالع“ کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ، اس لیے سعودی عرب کی رویت پاکستان میں قبول کی جا سکتی ہے۔
اس موقف کی بنیاد سعودی عرب کے متعلق یہ خوش گمانی ہے کہ وہاں فیصلے اسلامی قانون کے مطابق ہوتے ہیں، لیکن کئی اہلِ علم نے رویت کے متعلق سعودی عرب کے نظام پر یہ تنقید کی ہے کہ وہاں فیصلے کی بنیاد رویت نہیں، بلکہ فلکی حسابات ہوتے ہیں اور جب ان حسابات کی رو سے چاند کی پیدائش ہو چکی ہو تو اس کے بعد ملنے والی رویت کی خبر کو وہ قبول کر لیتے ہیں۔
شرعاً فلکی حسابات کی بنیاد پر چاند کی پیدائش کو مہینے کے آغاز کے لیے معیار نہیں بنایا جا سکتا، نہ ہی محض اختلافِ مطالع کے عدمِ اعتبار کی راے قبول کر کے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ اصل مسئلہ مطالع کے اختلاف کا نہیں بلکہ قانونی اختیار کی حدود کا ہے ۔ سعودی عرب کی عدالت کا فیصلہ پاکستان میں نافذ نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان کی عدالت اسے باقاعدہ طور پر قبول نہ کر لے۔ اس لیے ایسا تبھی ممکن ہو سکے گا جب حکومتِ پاکستان بعض دیگر مسلمان ممالک کی حکومتوں کی طرح یہ فیصلہ کر لے کہ وہ رویت کے متعلق سعودی عرب کا فیصلہ اپنے ملک میں نافذ کرے گی۔ تاہم اس فیصلے کا ایک ناپسندیدہ اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پھر مقامی سطح پر رویت کا اہتمام کرنے میں بہت زیادہ تساہل برتا جائے گا۔
رویت ہلال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔ ایسی کسی قانون سازی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی 2009ء میں سپریم کورٹ نے ، جبکہ افتخار محمد چودھری صاحب چیف جسٹس تھے، اس سلسلے میں پٹیشن کی سماعت سے معذوری ظاہر کی ۔ 2016ء میں حکومت نے اس مقصد کے لیے قانون کا ایک مسودہ تیار کیا تھا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ تا حال وہ مسودہ سرد خانے میں پڑا ہے۔
(۱۷ فروری ۲۰۲۵ء)
مسئلہ رؤیتِ ہلال، فقہ حنفی کی روشنی میں
مولانا مفتی محمد ایوب سعدی

(شعبہ نشر و اشاعت جامعہ عربیہ سراج العلوم لکی مروت کے شائع کردہ رسالہ ’’جرعۃ الزلال فی مسئلۃ رؤیۃ الہلال‘‘ طبع ۱۴۳۸ھ کا ایک حصہ)
سوال: بابت رؤیتِ ہلالِ رمضان و عید الفطر
رمضان شریف اور عید الفطر کے وقت ہمارے لکی مروت کے ضلع میں تقریباً دو سالوں سے کافی انتشار اور خلفشار پیدا ہو چکا ہے جس میں عوام اور نوجوان علماء طبقہ کافی پریشان ہے۔ بعض عوام علماء کے ایک خاص طبقہ کی شہادت پر روزہ رکھ کر، بعض دوسرے علماء زبردستی عوام کو روزہ افطار کرا کے مذکورہ شہادت کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پورے پاکستان میں روزہ نہیں ہے تو آپ کا روزہ بھی معتبر نہیں۔ اور جب عید الفطر کی شہادت لے کر علماء عید کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے مقابل علماء اس شہادت کی تردید کر کے کہتے ہیں کہ کل روزہ رکھنا فرض ہے، جب تک مرکزی رؤیتِ ہلال اور اس کے چیئرمین کی طرف سے عید کا اعلان نہ ہو عید منانا حرام ہے کیونکہ رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت شرعی قاضی کی ہے۔ اس میں فقہاء احناف کی فقہ کی روشنی میں مدلل فتویٰ کیا ہے؟ بینوا و توجروا۔
الجواب باسم الموفق الصواب
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے عوام بہ نسبت دوسرے صوبوں کے صوم و صلوٰۃ کے زیادہ پابند ہیں، وہ عبادات میں فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں، اسی طرح رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں عوام اور خواص کے گھروں میں نفلی روزوں کا اتنا اہتمام ہوتا ہے کہ بعض گھروں میں تو جشن کا سماں ہوتا ہے کہ آج شبِ معراج ہے اور آج شبِ برأت ہے آج بارہ وفات ہے وغیرہ وغیرہ۔ بعض دیندار عوام کے گھروں میں خوشیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارنا شروع کر دیتا ہے تو ایسے لوگوں کو چاند تلاش کیے بغیر کیسے قرار ہو سکتا ہے جب کہ حکم بھی یہی ہے۔
يجب ان يلتمس الناس الهلال فى التاسع والعشرين من شعبان وقت المغرب فان رأوه صاموا وان غم اكملوه ثلاثين يوما كذا فی الاختيار شرح المختار (عالمگیری ج ا ص ۱۹۷)
ترجمہ: لوگوں پر لازم ہے کہ وہ انتیس شعبان کے مغرب کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں، اگر چاند دیکھ لیا تو روزہ رکھ لیں ورنہ تیس دن (شعبان) کے پورے کر لیں۔
یہ کسی ایک عالم کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ پانچ سوجید علماء ہند کا فتویٰ ہے جنہوں نے عالمگیری مرتب کی ہے۔ نیز آلاتِ جدیدہ سے مدد لینے والے ماہرین کی بات چاند کے وجود و عدمِ وجود کے بارے میں غیر مقبول ہے جیسا کہ عالمگیری میں سراج الوھاج کے حوالے سے لکھا گیا ہے:
وهل يرجع الى قول اهل الخبرة العدول ممن يعرف علم النجوم الصحيح انه لا يقبل كذا فی السراج الوهاج (عالمگیری ج ا ص ۱۹۷)
ترجمہ: کیا اس بارے میں ستاروں کی مدد سے اوقات کا حساب کرنے والے ماہرینِ علمِ نجوم کی بات قابلِ اعتماد ہے؟ صحیح یہ ہے کہ ان کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔
علامہ حصکفیؒ کا فتویٰ بھی یہی ہے:
ولا عبرة بقـول الـمـوقـتين۔
علامہ شامی کہتے ہیں:
اى فى وجوب الصوم على الناس بل فی المعراج لا يعتبر قولهم بالاجماع
اور تھوڑا سا آگے لکھتے ہیں:
و فی النهر فلا يلزم بقول الموقتين انه اى الهلال يكون فی السماء بعلة كذا وان كانوا عدولا فى الصحيح كما فی الايضاح (ردالمحتار ج ۲ ص ۳۸۷)
فقہ حنفی میں ردالمحتار کا ایک مقام ہے، مفتیان کرام کے پاس اس کی بات آخری بات ہوتی ہے۔ رؤیتِ ہلال کا ثبوت شہادت پر موقوف ہے اور امورِ شہادت میں شہادت ہی معتبر ہوتی ہے۔ اور فرماتے ہیں:
لان الشهادة نزلها الشارع منزلة اليقين
(شارع علیہ السلام نے شہادت کو یقین کا قائم مقام قرار دیا ہے)
شرعی نقطہ نظر سے پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ رکھنا یا ایک ہی دن عید منانا نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ شرعاً ضروری ہے۔ قرآن و حدیث کے پورے ذخیرے سے کہیں یہ معلوم نہیں ہوتا۔
رؤیتِ ہلال کے مسئلہ میں مندرجہ ذیل چیزوں کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(۱) ذیلی کمیٹیوں کی شرعی حیثیت۔
(۲) ذیلی کمیٹیوں کی شہادت لینے کے بعد اعلان کی حیثیت۔
(۳) گورنمنٹ کے مقرر کردہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اور اس کے چیئرمین کی شرعی حیثیت اور ان کے اختیارات۔
(۴) مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اگر ذیلی کمیٹیوں کی شہادت علی الرؤیۃ قبول نہ کرے تو ذیلی کمیٹی سے ملحق اطراف و اکناف کیلئے یہ شہادت معتبر ہے یا نہیں؟
اس مسئلہ کے مذکورہ چار اجزاء کا بالترتیب حل مندرجہ ذیل ہے:
(۱) رؤیتِ ہلال کے بارے میں ذیلی کمیٹیوں کی شرعی حیثیت
اگر کسی ملک میں فیصلے قرآن و حدیث پر ہونا محال ہو اور وہاں کوئی شرعی قاضی بھی نہ ہو اور عوام اپنی دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے علماء کرام مفتیان عظام کی رہنمائی کے محتاج ہوں وہاں پر فقہاء کرام نے ثقہ، معتمد علیہ اور متدین علماء کرام کو شرعی قاضی کے قائم مقام قرار دیا ہے اور کسی بھی ضرورت کے وقت ان کا مدلل فتویٰ شرعی حکم کے قائم مقام قرار دیا ہے۔
چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رؤیتِ ہلال کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے پاکستانی عوام خصوصاً خیبرپختون خواہ کے دینی جذبہ سے سرشار اور دینی حمیت کے حامل عوام چاند دیکھنے کے بعد چاند کی شہادت پیش کرنے کیلئے علماء کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ اور یہ صرف عید الفطر کے وقت نہیں ہوتا بلکہ رمضان کے ثبوت کے وقت بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کو دیندار عوام ایک شرعی فریضہ کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور ذیلی کمیٹی سے متعلق علماء کرام بھی اس کو شرعی امر سمجھتے ہوئے شہادت لے کر روزہ یا فطر کا حکم سناتے ہیں جو عین شرعی حکم ہی ہوتا ہے۔
لما فی الشامیة لان الشهادة نزلها الشارع منزلة اليقين (ردالمحتار )
(یعنی شارع نے شہادت کو یقین کے قائم مقام قرار دیا ہے)
اما فی السواد اذا رأى احدهم هلال رمضان يشهد فی مسجد قريته وعلى الناس ان يصوموا بقوله بعد ان يكون عدلا اذا لم يكن هناك حاكم يشهد عنده كذا فی المحيط ( عالمگیری ج ا ص ۱۹۷)
یعنی مصر کے علاوہ دیہاتوں میں اگر کوئی دیہاتی رمضان شریف کا چاند دیکھے تو اپنے گاؤں کی مسجد میں گواہی دے تو ان لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی گواہی قبول کر کے روزے رکھیں۔
محیط کی عبارت میں اما فی السواد کی قید احترازی نہیں بلکہ قید واقعی ہے یعنی دیہاتوں میں شرعی قاضی کا وجود واقعۃً مفقود ہے تو اسی طرح جن شہروں میں شرعی قاضی نہ ہو تو وہاں پر فقہاء کرام جید علماء کرام کے حکم کو قاضی کے حکم کے قائم مقام قرار دیتے ہیں۔
علامہ قاضی خان کا فتویٰ یہ ہے:
ومن رأى هلال رمضان في الرستاق وليس هناك وال ولا قاض فان كان الرجل ثقة يصوم الناس بقوله۰
یعنی اگر کسی نے دیہات میں چاند دیکھا اور وہاں پر کوئی شرعی والی یا قاضی نہیں تھا تو لوگ ثقہ ہونے کی وجہ سے اس کے اس قول (کہ میں نے چاند دیکھ لیا) پر روزے رکھنے شروع کر دیں۔
نوٹ: فقہاء کرام نے شرعی قاضی کی ضرورت محسوس کیے بغیر لوگوں کو اس بات کا پابند بنا دیا کہ لوگ اس کی بات کا اعتبار کر کے روزہ رکھیں۔
وفی الفطر ان اخبر عدلان برؤية الهلال لا بأس بان يفطروا۔
ترجمہ: اور عید الفطر میں اگر دو عادل آدمی رؤیتِ ہلال کی خبر دیں (تو ان کی بات مانتے ہوئے) لوگوں کو روزہ افطار کرنے (اور عید منانے میں) کوئی حرج نہیں۔
(۲) ذیلی کمیٹیوں کا شہادت لینے کے بعد اعلان کی شرعی حیثیت
شہادت کی اہلیت کیلئے مسلمان ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، عادل ہونا شرط ہے جو خیبر پختون خواہ کے عوام میں کامل درجہ میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ شہادت پر مبنی امور میں شہادت ہی معتبر ہے تو متشرع عادل گواہوں کی شہادت کا اعتبار کیوں نہیں کیا جاتا اور مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین سماعِ شہادت یا شہادت علی الرؤیۃ کی تکلیف کیوں گوارا نہیں کرتے؟ جب کہ فقہاء کرام نے قاضئ وقت کے علاوہ بھی ذیلی کمیٹیوں کیلئے شہادت لینے اور رمضان، عید کا اعلان کرنے کی گنجائش چھوڑی ہے۔ امام فخر الدین حسن بن منصورؒ جو کہ قاضی خان کے نام سے مشہور ہے، لکھتے ہیں:
وروى انه يقبل فيه شهادة اهل محلة وان جاء الواحد من خارج المصر و شهد برؤية الهلال ثمه روى انه تقبل شهادته واليه اشار فی الاصل وكذا لو شهد برؤية الهلال فی المصر على مكان مرتفع واما هلال شوال فان كان بالسماء علة لا يقبل الا شهادة رجلين او رجل وامرأتين و يشترط فيه الحرية وكما تشترط فيه الحرية و العدد ينبغی ان يشترط فيه لفظ الشهادة۔ ( قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ج ا ص ۱۹۶)
ترجمہ: اور منقول ہے کہ رمضان شریف کے بارے میں اہلِ محلہ کی شہادت قبول کی جائے گی اور اگر کوئی ایک آدمی شہر کے باہر سے آئے اور وہاں چاند دیکھنے کی گواہی دے دے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اور اسی کی طرف مبسوط میں اشارہ ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چاند دیکھنے کی گواہی شہر میں کسی اونچی جگہ دے (تو اس کی گواہی بھی قبول کی جائے گی) اور شوال کا چاند دیکھنے میں اگر آسمان پر کوئی علت ہو تو دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اور اس شہادت دینے میں حریت شرط ہے اور جس طرح شہادت میں حریت اور عددِ شہادت شرط ہے اسی طرح لفظ شہادت کا شرط ہونا مناسب ہے۔
خارج المصر کی قید سے دیہاتیوں کی اہمیت اور بڑھ گئی کیونکہ وہاں پر چاند دیکھنے کیلئے کھلی فضا کا ہونا زیادہ معاون ہے جیسا کہ قاضی خان کا مذکورہ حوالہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
ومن رأى هلال رمضان فی الرستاق وليس هناك وال ولا قاض فان كان الرجل ثقة يصوم الناس بقوله
یعنی جس نے دیہات میں رمضان کا چاند دیکھ لیا اور وہاں پر والی اور قاضی نہیں تھا پس اگر آدمی ثقہ تھا تو لوگ اس کے کہنے پر روزے رکھنے (شروع کر دیں)۔
اسی طرح عید الفطر میں دو عادل گواہوں کی شہادت پر عید کا اعلان شرعاً معتبر ہے۔
جاننا چاہئے کہ ذیلی کمیٹیوں کا وجود تواتر کے ساتھ چلا آرہا ہے اور دیگر دینی مسائل میں عموماً اور چاند کی شہادت میں خصوصاً لوگ اپنے اپنے علاقے کے جید اور نامور علماء کرام ہی پر اعتماد کرتے ہیں اور انہی مواقع میں ان کی طرف رجوع کر کے انہی کے اعلانات کا انتظار کرتے ہیں۔ عرفِ عام یہ ہے کہ عوام جید اور نامور علماء کو شرعی قاضی کے حکم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کو شرعی قاضی کا درجہ دیتے ہیں اس لئے تو تمام دینی مسائل میں انہی کی راہنمائی حاصل کیے بغیر مطمئن نہیں ہوتے۔
جید اور نامور علماء کرام کے تحت چلنے والی ذیلی کمیٹیوں کا وجود ایک جگہ نہیں ہوتا بلکہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں پشاور، مردان، میرانشاہ ، بنوں اور لکی مروت کے شہروں اور ان کے مضافات میں جگہ جگہ ہوتا ہے جہاں پر شرعی شہادتوں کی بنیاد پر رمضان اور عید الفطر کے اعلانات ہوتے ہیں۔ ان تمام شہروں میں رمضان اور عید الفطر کے چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں کئی شہروں کے کمیٹیوں کے پاس شرعی شہادتیں موصول ہو جاتی ہیں۔ کئی شہروں میں مختلف گواہوں کا جھوٹ پر اجتماع ناممکن ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ایسی شہادتوں کے قبول ہونے کی اجازت دی ہے:
وقال ابویوسف انما تقبل شهادة رجلين على هلال شوال اذا اخبرا انهما رأياه فی غير البلد وان كانت شهادتهما انهما رأياه في البلد و البلد كثير الاهل لا يقبل فيهما قول الواحد والاثنين وانما يقبل قول جماعة لا يتصور اجتماعهم على الكذب (قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ج ا ص ۱۹۷)
ترجمہ: امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ بیشک شوال کے چاند کے بارے میں دو مردوں کی شہادت قبول کی جائے گی جب کہ وہ اس کے دیکھنے کی خبر شہر کے علاوہ میں دیں۔ اور اگر وہ گواہی دیں کہ انہوں نے شہر میں چاند دیکھ لیا ہے اور شہر کے باشندے زیادہ ہوں تو ایک یا دو کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی بلکہ ایک ایسی جماعت کی گواہی ضروری ہے جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔
یہ ہے امام ابو یوسفؒ کا حکم کہ شوال کی چاند دیکھنے کیلئے دو دیہاتوں کی گواہی قبول کی جائے گی اور ان کو اپنی شہادت کی بنیاد پر عید منانے کی اجازت دے دی۔
ایک ضروری وضاحت:
چاند دیکھنے میں تفصیل ہے۔ پہلی رات کی چاند ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا جب کہ افق گرد آلود بھی ہو، اس لئے تو فقہاء کرام نے رمضان کیلئے ایک آدمی کی شہادت کو بھی معتبر قرار دیا ہے۔ حوالہ ملاحظہ ہو:
ان كان بالسماء علة فشهادة الواحد على هلال رمضان مقبولة اذا كان عدلا مسلما عاقلا بالغا الخ (عالمگیری ج ا ص ۱۹۷)
ترجمہ: جب آسمان پر کوئی علت (گرد و غبار) ہو تو ہلالِ رمضان کے بارے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی جبکہ وہ عادل، مسلمان، عاقل اور بالغ ہو۔
عالمگیری مرتب کرنے والے پانچ سو علماء کرام کا اس فتویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے۔
اسی طرح عیدالفطر کے بارے میں فقہاء کرام کا فتویٰ یہ ہے:
واذا اخبر رجلان فى هلال شوال فى السواد والسماء متغيمة وليس فيه وال ولا قاض فلا بأس للناس ان يفطروا كذا فی الزاهدى و تشترط العدالة هكذا فی النقاية۔ (عالمگیری ج ا ص ۱۹۸)
ترجمہ: جب ہلالِ شوال کے بارے میں دیہات کے دو آدمی گواہی دیں جبکہ آسمان ابرآلود ہو اور وہاں کوئی والی یا قاضی نہ ہو تو لوگوں کا افطار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اسی طرح زاہدی میں لکھا ہے جب کہ نقایہ میں عدالت کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
افق گرد آلود ہونے کی صورت میں عید الفطر کیلئے پورے آبادی میں صرف دو آدمیوں کی گواہی کو کافی قرار دیا گیا۔ وليس فيه وال ولا قاض کے جزئیہ نے تو اور بھی مسئلہ سے پردہ ہٹالیا اور دیہات سے شہر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ سواد شہروں کے آس پاس ہوتے ہیں، اسلامی حکومت میں شہروں میں تو ضرور شرعی قاضی موجود ہوتا ہے۔
قاضی خان کے مذکورہ حوالہ (یصوم الناس بقوله) نے ذیلی کمیٹیوں کی طرف شہادت اور ان کے اعلانات کو تقویت بخشی، اسی طرح عالمگیری نے خلاصتہ الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے:
وان جاءوا من مكان بعيد جازت شهادتهم لانتفائا لتهمة (عالمگیری ج اس ۱۹۸)
ترجمہ: اگر گواہ کسی دور جگہ سے آجائیں تو انتفاء تہمت کی وجہ سے ان کی شہادت (قبول کرنا) جائز ہے۔
نوٹ: بہت افسوس ہے کہ فقہاء کرام دور سے آنے والے گواہوں سے تہمت ہٹاتے ہیں اور ہم تہمت لگاتے ہیں۔
اسی طرح عالمگیری نے شمس الائمہ الحلوانی کا فتویٰ نقل کیا ہے:
قال لو رأى اهل مغرب هلال رمضان يجب الصوم على اهل مشرق كذا فی الخلاصة۔ (عالمگیری ج اص ۱۹۹)
ترجمہ: اگر اہلِ مغرب نے رمضان کا چاند دیکھ لیا تو اہلِ مشرق پر روزہ واجب ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اہلِ مغرب اور اہلِ مشرق کیلئے ایک ہی قاضی ہوگا؟ اور اگر امامِ وقت اور حاکمِ وقت مشرق میں ہے اور ذیلی کمیٹی کی شہادت مغرب میں ہے تو جس طرح مشرق میں دیگر باشندوں پر روزہ واجب ہے اسی طرح حاکمِ وقت اور دیگر قضاۃ پر بھی واجب ہے؟
تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں خیبرپختونخواہ کے شرعی شہادت کی وجہ سے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے عوام اور خواص پر بھی روزہ فرض ہوا۔ روزہ نہ رکھنا فرض رمضان اور شہادت کی تردید کے مترادف ہے جو کہ سخت گناہ اور شرعی جرم ہے۔
اسی طرح شمس الائمہ الحلوانی کا ایک دوسرا فتویٰ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:
قال شمس الائمة الحلوانى الصحيح من مذهب اصحابنا ان الخبر اذا استفاض و تحقق فيما بين اهل البلدة الأخرى يلزمهم حكم هذه البلدة ومثله فی الشر نبلالية عن المغنى (ردالمختار ج ۲ ص۳۹۰)
ترجمہ: شمس الائمة الحلوانی فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء کا صحیح مذہب یہ ہے کہ جب خبر دوسرے شہر کے لوگوں میں مشہور اور ثابت ہو جائے تو ان پر اس شہر کا حکم لازم ہوگا۔
اس فتویٰ میں کسی ایک شہر کی شائع شدہ خبر حکم کے قائم مقام قرار دے کر دوسرے شہروں پر اس حکم کا ماننا لازم قرار دیا، اگر کوئی اس حکم سے انکار کرے تو کیا یہ شرعی حکم کا انکار نہیں ہے؟ جو کہ شرعی جرم ہے۔
علامہ شامیؒ مزید فرماتے ہیں کہ صرف خبرِ مشاع معتبر نہیں بلکہ خبرِ مستفاض کا متحقق ہونا شرط ہے۔ اور لکھا ہے کہ خبرِ مستفاض کے متحقق ہونے کے بعد حلِ فطر اتفاقی ہے۔ علامہ نوح آفندیؒ کے فتویٰ (کہ حلِ فطر اتفاقی ہے) سے علامہ شامیؒ نے اس کی توثیق کی ہے اور بدائع الصنائع، سراج الوهاج اور جوہرۃ النیرۃ کا حوالہ دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اتفاق سے مراد ہمارے تین اماموں (امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ) کا متفق ہونا ضروری ہے۔
تنویر الابصار ص ۳۹۰ میں لکھا ہے:
و بـعـد صــوم ثلاثين بقول عدلين حل الفطر۔
یعنی دو عادل گواہوں کے قول پر جب رمضان شریف کا حکم سنایا گیا ہو تو تیس روزے پورے ہونے کے بعد عید الفطر منانا جائز ہے۔
تو کیا شریعت میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ پورے خیبرپختونخواہ کے خواص اور عوام کا عید ہو اور چند ایک علماء انتشار پھیلانے کیلئے بضد ہو کر رمضان شریف کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے رہیں اور اکتیسواں روزہ شروع کر دیں؟ کیونکہ پہلا روزہ تو شرعی شہادت کی بنیاد پر لوگوں نے رکھا تھا۔
علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں:
تقدم انهم لو كانوا فی بلدة لا قاضى فيها ولا وال فان الناس يصومون بقول الثقة ويفطرون باخبار عدلين للضرورة (بحرالرائق ج ۲ ص ۲۶۷)
یعنی یہ بات پہلے گزر چکی کہ اگر وہ ایک ایسے گاؤں میں تھے کہ وہاں پر کوئی (گورنمنٹ کی طرف سے مقرر کردہ) قاضی یا والی نہیں تھا پس وہ لوگ کسی بھی ثقہ گواہ کے قول پر روزے رکھیں اور دو عادل گواہوں کی خبر پر عید منائیں ( کیونکہ یہ) شرعی ضرورت ہے۔
آگے لکھتے ہیں:
واما اذا صاموا بشھادۃ اثنین فانهم يفطرون اتفاقا۔
یعنی اگر دو گواہوں کی گواہی پر لوگوں نے روزہ رکھا تھا تو بلا خلاف ان کیلئے عید منانا جائز ہے۔
اور تھوڑا سا آگے لکھتے ہیں:
و اعلم ان ما كان من باب الديانات فانه يكتفى فيه بخبر الواحد العدل كهلال رمضان وما كان من حقوق العباد و فيه الزام محض كالبيوع والاملاك فشرطه العدد والعدالة ولفظ الشهادة مع باقى شروطها ومنه الفطر الخ (بحر ج ۲ ص ۲۶۷)
یعنی یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ دیانات کے باب سے جو مسائل متعلق ہوں اس میں رمضان کی طرح عدالت سے موصوف خبرِ واحد کی گواہی کافی ہے۔ اور جو مسائل حقوق العباد کی باب سے متعلق ہوں اور اس میں بیوع اور املاک کی طرح الزامِ محض ہے اس گواہی میں باقی شروط سمیت شہادت کے تین اہم شرائط عدد، عدالت اور لفظ شہادت کا ہونا ضروری ہے، اور ان حقوق العباد میں سے ایک عید الفطر بھی ہے۔
اور علامہ ابن نجیم مصریؒ آگے لکھتے ہیں:
و روى الحسن عن ابی حنيفة انه يقبل فيه شهادة رجلين او رجل و امرأتين سواء كان بالسماء علة اولم يكن كما روى عنه فى هلال رمضان كذا فی البدائع ولم ار من رجحها من المشائخ و ينبغى العمل عليها فی زماننا لان الناس تكاسلت عن ترائى الاهلة الخ
حسن بن زیاد امام اعظم ابوحنیفہؒ سے نقل کرتے ہیں کہ عید الفطر میں دو آدمیوں یا ایک آدمی اور دو عورتوں کی گواہی کافی ہے اگر مطلع صاف ہو یا نہ ہو جیسا کہ ہلالِ رمضان کے بارے میں ان سے روایت ہے۔ اسی طرح بدائع میں لکھا ہے: علامہ ابن نجیمؒ فرماتے ہیں کہ مشائخ میں سے کسی نے اس قول کو ترجیح نہیں دی لیکن ہمارے زمانے میں اس قول پر عمل کرنا مناسب ہے کیونکہ چاند دیکھنے میں لوگ سست ہو گئے۔
آگے لکھتے ہیں:
وان لم يكن بالسماء علة فيهما يشترط ان يكون فيها الشهود جمعا كثيرا يقع العلم بخبرهم اى علم غالب الظن لا اليقين۔
یعنی اگر مطلع صاف ہو اور آسمان گرد آلود نہ ہو تو گواہوں کا جمع کثیر ہونا شرط ہے (جمع کثیر کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر) ان کے خبر پر یقین کے ساتھ نہیں بلکہ غلبہ ظن کے ساتھ تو علم ضرور واقع ہوگا۔
(۳) مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اور اس کے چیئرمین کی شرعی حیثیت
جیسا کہ لکھا گیا کہ عرفِ عام میں عوام نے علماء کرام کو شرعی قاضیوں کا درجہ دیا ہے تو یہ عرفِ عام شریعت میں(۴) مرکزی رویت معتبر ہے۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ الثابت بالعرف کالثابت بالنص تو عرفِ عام کی مخالفت نصِ صریح کی مخالفت ہے جو کہ جائز نہیں۔ تنویر اور اس پر درمختار نے لکھا ہے کہ:
(شهدوا انه شهد عند قاضى مصر كذا شاهدان برؤية الهلال) فی ليلة كذا (وقضى) القاضی (به ووجد استجماع شرائط الدعوى قضى) اى جاز لهذا (القاضی) ان يحكم (بشهادتهما) لان قضاء القاضی حجة قد شهدوا به لا لو شهدوا برؤية غيرهم لانه حكاية۔
ترجمہ: لوگوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے ہاں دو گواہوں نے فلاں رات چاند دیکھنے کی گواہی دی اور قاضی نے اس پر فیصلہ کیا اور دعویٰ کے تمام شرائط موجود تھے۔ تو اس قاضی کیلئے جائز ہے کہ ان کی گواہی پر فیصلہ دے کیونکہ قاضی کا فیصلہ (شرعی) حجت ہے اور لوگوں نے اس کی گواہی دی، لیکن کسی اور کے دیکھنے پر گواہی دینا صحیح نہیں کیونکہ یہ حکایت ہے۔
جاز لہٰذا القاضی نے ثابت کر دیا کہ ملک کے کسی بھی صوبے میں عوام الناس کے ہاں معتمد علیہ جید علماء کرام کے رؤیۃ ہلال کے احکامات صادر ہونے کے بعد مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شرعاً یہ جواز موجود ہے کہ ذیلی کمیٹیوں کے احکامات کو قبول کر کے اس شہادت کی شرعی اطمینان حاصل کر کے پورے ملک میں رمضان یا عیدالفطر کا اعلان کرے۔ تو یہ انتشار سے بچنے کی بہترین صورت ہے۔ اور قبول نہ کرنے کی صورت میں الٹا صوبے کے گواہوں کی شرعی شہادت کا مذاق اڑانا شرعاً ناجائز ہے بلکہ گناہِ کبیرہ اور حرام ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال ایسا ہوا کہ مرکزی کمیٹی نے پشاور کے دس پندرہ عادل گواہوں کو مسترد کیا، اور کل بلوچستان کے صرف تین گواہوں کی شہادت پر پورے ملک میں عید کا اعلان کیا گیا حالانکہ کل کو مغرب کے بعد تقریباً ہر کسی نے چاند دیکھ لیا جب کہ پہلی رات کا چاند ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا چند ایک لوگ دیکھتے ہیں۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ بلوچستان کے تین گواہوں کے بارے میں آسمان سے وحی آگئی کہ ان کو قبول کیا گیا؟ اور پشاور کے دس پندرہ گواہ کیا شرعاً مردود الشھادۃ تھے یا ان میں شہادت کی اہلیت نہیں تھی؟ اور حقیقت یہ ہے کہ یہی ایک نقطہ ہے جو پورے ملک میں باعثِ انتشار بنا ہوا ہے۔
فقیہ ِملت مفتی محمود رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حکومتِ وقت نے جو موجودہ ہلال کمیٹی مقرر کی ہے اس کے ارکان پر علماء وقت کو چونکہ اعتماد نہیں ہے کہ یہ ارکان شرعی احکام کی رعایت رکھ کر ہی فیصلہ فرماتے ہیں اس لئے موجودہ کمیٹی کے فیصلہ کے اعلان پر عمل کرنا سب پر لازم نہ ہو گا۔ تھوڑا آگے حضرت مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ چونکہ موجودہ حکومت نے ابھی تک ثقہ علماء کی جماعت کو ہلال کمیٹی میں نہیں لیا ہے اور حکومت قواعدِ شرع کی پابندی نہیں رکھتی اس لئے اس کا فیصلہ واجب العمل نہ ہوگا اور محض اس پر اعتماد کر کے روزہ توڑنا جائز نہ ہو گا۔ (فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۴۲۱-۴۲۰)
حضرت مفتی صاحبؒ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ ہلال کمیٹی کے ارکان شرعی احکام کی رعایت نہیں کرتے اس لئے علماء وقت کو اس پر اعتماد نہیں ہے اور قواعدِ شرع کی پابندی نہیں رکھتی اس لئے اس کا فیصلہ واجب العمل نہ ہوگا اور محض اس پر اعتماد کر کے روزہ توڑ نا جائز نہ ہوگا۔ کچھ سمجھ آگئی کہ جو علماء کئی درجن علماء کے رمضان کا اعلان مسترد کر کے استہزاء کرتے ہیں اور روزہ داروں کو روزہ توڑواتے ہیں تو اس ناجائز عمل کا آخرت میں کیا جواب دیں گے؟ تو حضرت مفتی صاحبؒ نے کہا کہ علماء وقت کو اس پر اعتماد نہیں ہے تو کیوں خیبرپختونخواہ کے عادل گواہوں کی شہادت لینے والے جید علماء کرام کے حکم پر عمل نہ کیا جائے اور اس کو نافذ العمل نہ مانا جائے۔ فوا اسفا۔
تھوڑا سا داد دیجئے ان علماء کو جو پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے ہوئے جگہ جگہ اپنی علمی دبدبہ چمکاتے ہوئے ان سادہ لوح عوام کو روزہ افطار کراتے ہیں جنہوں نے پورے خیبرپختونخواہ میں نافذ ہونے والے شرعی شہادت کے اتباع میں روزہ رکھا ہو۔ کیا یہ دین ہے یا کہ بے دینی؟ خود انصاف کیجئے اور شرعی شہادت کی استہزاء اور تمسخر اڑانے پر بھی غور کیجئے۔
فتاویٰ مفتی محمود رحمہ اللہ میں ایک سوال درج ہے، موضع لساوری تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ (کے) پانچ آدمیوں نے کہا اور قسم اٹھائی کہ ہم نے چاند پیر کی رات شام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ اطلاع کیلئے ڈھول بجوا دیں۔ اطلاع کیلئے ڈھول بجوایا گیا جہاں تک ڈھول کی آواز پہنچی، لوگوں نے روزہ بروز سوموار نہیں رکھا۔ لیکن جب آس پاس کے علماء کی طرف رجوع کیا گیا تو علماء علاقہ نے اس کی شہادت کا اعتبار نہیں کیا اور کہا کہ تمام بڑے بڑے شہروں میں چاند نہیں دیکھا گیا الخ۔ سوال کے آخر میں لکھتے ہیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ چونکہ صرف پانچ آدمیوں نے چاند دیکھا اور اکثر شہروں میں چاند نہیں دیکھا گیا ہے اس لئے علاقہ کے لوگ ان پانچ آدمیوں کو برا اور مجرم جانتے ہیں حالانکہ انہوں نے مسجد میں بیٹھ کر قسم اٹھائی ہے، شرعی فیصلہ تحریر فرمایا جائے۔
اس کا جواب قاسم العلوم کے نائب مفتی مولانا احمد جان صاحب نے دیا ہے اور مفتی قاسم العلوم مولانا عبد اللہ صاحب نے اس کی تصحیح کی ہے اور فتاویٰ مفتی محمود میں اس کی اشاعت ہوئی۔ جواب ملاحظہ ہو۔ صورتِ مسئولہ میں اگر ان پانچ گواہوں میں سے دو عادل گواہ تھے اور ان کی گواہی علاقہ کے ذمہ دار علماء نے محض اس بنا پر نہیں لی کہ دوسرے بڑے شہروں میں چاند نہیں دیکھا گیا اور عید نہیں کی گئی تو یہ کوئی وجہ صحیح نہیں ہے بلکہ از روئے فتویٰ ان پر لازم تھا کہ ان کی گواہی پر اعتبار کر کے عید منانے کا حکم کرتے۔ ( فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۴۲۱-۴۲۰)
شرعی شہادت قبول نہ کرنے والے تھوڑا سا فتاویٰ مفتی محمود کے اس خط کشیدہ عبارت کا ٹھنڈے دل سے سوچ کر مطالعہ کر لیں اور اپنے متعصبانہ رویہ پر بھی سوچ کر لیں۔ جبکہ جو لوگ اپنی مدعا کیلئے اسی فتاویٰ مفتی محمود کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، خیبرپختونخواہ میں وقت کے جید علماء کرام کی معتمد علیہ ذیلی کمیٹیوں کی حیثیت فتاویٰ مفتی محمود کے فتویٰ سے اجاگر ہو گئی اور فتوے میں مندرج مرکزی کمیٹی پر عدمِ اعتماد کے فتوے سے موجودہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کا حشر بھی دیکھ لیا۔
ایک تحقیقی نوٹ
فقہی نقطہ نظر سے مطالعہ کی حد تک میرا اپنا فتویٰ یہ ہے کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کسی دینی امور میں، ہتکِ رمضان میں منکرات کے مرتکبین کو شرعی سزا دینے کا نہ مجاز ہے اور نہ سزا دے سکتا ہے، تو برائے نام رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے ان کو شرعی قاضی کا درجہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیز رؤیتِ ہلال کا مسئلہ قضاء کے بجائے شہادت سے متعلق ہے جس میں فقہاء کرام نے قضاء قاضی کیلئے گنجائش نہیں چھوڑی۔
(۴) مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اور ذیلی کمیٹیوں کی شہادت
مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اگر ذیلی کمیٹیوں کی شہادت علی الرؤیۃ قبول نہ کرے تو ذیلی کمیٹی سے ملحق اطراف و اکناف کیلئے یہ شہادت معتبر ہے یا نہیں؟
ابھی آپ فتاویٰ مفتی محمود کے حوالے سے پڑھ چکے کہ صورتِ مسئولہ میں ان پانچ گواہوں میں دو عادل گواہ تھے اور ان کی گواہی علاقہ کے ذمہ دار علماء نے محض اس بنا پر نہیں لی کہ دوسرے بڑے شہروں میں نہیں دیکھا اور عید نہیں کی گئی۔ تو یہ کوئی وجہ صحیح نہیں بلکہ از روئے فتویٰ ان پر لازم تھا کہ ان کی گواہی پر اعتبار کر کے عید منانے کا حکم کرتے۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب بھی کوئی گرد باقی ہے کہ پانچ گواہوں میں سے دو عادل کی گواہی اتنی معتبر قرار دی گئی کہ دیگر ذمہ دار علماء کرام کا اس عادل گواہوں کی گواہی پر اعتبار نہ کرنا اور عید منانے کا حکم نہ کرنا صحیح نہیں قرار دیا، تو کیا خیبرپختونخواہ کے باشرع عادل آدھا درجن یا ایک درجن گواہوں کی گواہی کا اعتبار نہ کرنا مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے حق میں صحیح ہے؟ ولله در القائل کیا خوب لکھا: مگر افسوس ہے کہ آج تک حکومت نے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی میں اب تک معتمد علماء کونہیں لیا گیا ہے۔ اس لئے علماء کرام حکومت کے فیصلے سے اختلافِ رائے رکھتے ہیں، اگر حکومت مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی میں معتمد علماء کرام کو لے لے اور وہ احکامِ شرع کے تحت ہلال کی شہادتیں لے کر فیصلہ کر لیں (الی آخرہ)۔
اور اس کے بعد والے فتوے میں لکھتے ہیں: مگر افسوس ہے کہ آج تک حکومتِ پاکستان نے معتبر علماء کی مرکزی ہلال کمیٹی قائم نہیں کی ہے اور نہ ہی شرعی اصول و ضوابط کی کماحقہ رعایت رکھی ہے، اس لئے علماء پاکستان سرکاری اعلان کو قطعی فیصلہ قرار نہیں دیتے۔ یہ حضرت اقدس مولا نا عبد اللطیف صاحبؒ معین مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان کا فتویٰ ہے شوال ۱۳۸۶ھ کا۔ اور اس فتویٰ کی تصحیح الجواب صحیح سے حضرت اقدس مفتی محمودؒ نے کی ہے۔
معلوم ہوا کہ صرف خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے علماء سرکاری اعلان کو قطعی فیصلہ اس لئے قرار نہیں دیتے کہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی شرعی اصول و ضوابط کی کما حقہ رعایت نہیں رکھتے۔ اس لئے ذیلی کمیٹیوں کے جید اور نامور علماء کرام شرعی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے شہادۃ علی الرؤیۃ اور شھادۃ علی الشھادۃ کے اصولوں پر عمل کر کے امضاء کر کے شہادت کو منتقل کر دیتے ہیں۔ اور چونکہ معتمد علماء کے ہاں مرکزی کمیٹی کے ارکان پر اعتماد مجروح ہے اور ان کے فیصلہ کو قطعی فیصلہ قرار نہیں دیتے اس لئے رؤیتِ ہلال کے بارے میں معتبر علماء کرام کا فیصلہ عام مسلمانوں کیلئے موجبِ عمل ہوگا۔
رؤیتِ ہلال کے دو مسئلے اور بھی ہیں جن کا اس رسالہ میں موجود ہونا اشد ضروری ہے اس لئے کسی دوست کے مشورہ سے ان پر بھی بحث کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مسئلہ نمبر ۱: اختلافِ مطالع کی بحث
حضرت اقدس علامہ ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنے رسالہ ’’الاتمام والاکمال فی رویۃ الہلال‘‘ میں لکھا ہے کہ تمام ممالکِ اسلامیہ میں یا کسی ایک اسلامی ملک میں بیک وقت عید منانا یا رمضان المبارک کا شروع ہونا شرعاً ضروری نہیں ہے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کے زمانے میں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ شام میں حضرت معاویہؓ اور دیگر صحابہ کرام نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا تھا لیکن مدینہ منورہ میں حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرام نے چونکہ اس تاریخ میں نہیں دیکھا تھا اس لئے ان کا روزہ ایک دن بعد شروع ہوا۔ اور بقول شیخ الہند (کما فی معارف السنن) اس فرق کا اثر مہینہ کے اختتام پر بھی پڑ رہا تھا یعنی مدینہ والوں کی عید بھی شام والوں سے ایک دن بعد بھی تھی کما فی سنن الترمذی ص ۱۴۸ ج ۱ ’’باب ما جاء لكل اهل بلد رؤیتھم‘‘۔ اس لئے اس تصور کو ختم کرنا چاہئے کہ تمام مسلمانوں کی عید ایک دن ہونی چاہئے، یہ شرعی تصور نہیں ہے، جیسے کہ نماز کے اوقات مختلف ممالک میں یا ایک ملک کے مختلف شہروں میں الگ ہوتے ہیں اور اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ بُعدِ مسافت اور دیگر اسباب کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح عید الاضحیٰ اور یومِ عرفہ سب ممالک میں یکساں تاریخ میں نہیں ہوا کرتے۔ ہم اپنے ملک کی تاریخ کے اعتبار سے یومِ عرفہ کا منتخب روزہ رکھتے ہیں اور دیگر ممالک کے مسلمان اپنی تاریخوں کے اعتبار سے رکھتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح عید الفطر اور یکم رمضان بھی شرعاً ایک دن ہونا ضروری نہیں۔ اور یہ غلط فہمی کہ (مسلمانوں کی عید یا روزہ ایک تاریخ میں ہونا چاہئے) اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ہم نے عید کو، رمضان کو، عام اقوام کی تہوار کی طرح ایک تہوار سمجھا ہے، جیسے عیسائیوں یا آتش پرستوں کے تہوار ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ تہوار نہیں ہیں بلکہ خصوصی عبادت کے اوقات ہیں، جیسے دیگر عبادات میں وقت یا وحدتِ تاریخ شرعاً ضروری نہیں تو یہاں بھی یہی حکم ہوگا ( کما فی معارف السنن س ۳۴۰ ج ۵)۔
اس کے بعد حضرت علامہ ڈاکٹر شامزئی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس میں شبہ نہیں کہ اختلافِ مطالع کے معتبر ہونے نہ ہونے میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں معتبر ہے اور امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے یہاں معتبر نہیں ہے۔ یہ اختلاف اسی طرح شامی وغیرہ میں منقول ہے لیکن بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کے معتبر ہونے پر ابن رشد نے اجماع نقل کیا ہے، جیسا کہ معارف السنن ص ۳۳۷ ج ۵ میں موجود ہے اور فقہاء احناف میں علامہ کاسانیؒ، صاحبِ بدائع اور علامہ زیلعیؒ شارح کنز کی رائے بھی یہی ہے۔ ملاحظہ ہو معارف السنن ص ۳۳۷ ج ۵ اور بدائع ص ۸۳ ج ۲۔ رد المحتار شرح درالمختار میں علامہ شامیؒ نے لکھا ہے کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر ۲۸ میل بنتا ہے، جیسے کہ سفر کے مسائل میں فقہاء نے لکھا ہے تو اس حساب کے مطابق چار سو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ چوبیس فرسخ کے فاصلے پر مطلع بدل جاتا ہے (شامی کتاب الصوم ص ۳۹۳ ج ۲) اور معارف السنن میں لکھا ہے کہ ہر پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے و حققوا وقوع الاختلاف فی المطلع بنحو خمسمأة ميل (ص ۳۴۰ ج ۵)
ان عبارات سے ثابت ہوا کہ ایک ہی ملک جو پانچ سو میل سے زائد مسافت پر واقع ہو اس میں مطلع مختلف ہوسکتا ہے۔
نوٹ: اپنے دور کے مفتی اعظم پاکستان کا فتویٰ یہ ہے کہ ہر پانچ سومیل کے بعد مطلع مختلف ہو سکتا ہے، تو پھر ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم پشاور اور کراچی کا مطلع ایک ہونے کی کوشش میں اپنی توانائی خرچ کریں۔
مسئلہ نمبر۲: جمِ غفیر (گواہوں کی بڑی تعداد) کی بحث
جمع کثیر کے بارے میں لکھتے ہیں:
ولم يقدر الجمع الكثير فى ظاهر الرواية بشیء عن ابی يوسف انه قدره بعدد القسامة خمسين رجلا و عن خلف بن ايوب خمس مائة ببلخ قلیل وقيل ينبغی ان يكون من كل مسجد جماعة واحد او اثنان وعن محمد انه يفوض مقدار القلة والكثرة الى رأى الامام كذا فی البدائع وفی فتح القدير و الحق ما روى عن محمد و ابی يوسف ايضا ان العبرة لتواتر الخبر و مجيئه من كل جانب۔
ترجمہ: جمع کثیر کے بارے میں ظاہر الروایۃ میں کوئی تقدیر یا مقرر تعداد نہیں ہے، صاحبین میں سے دونوں کی رائے الگ الگ ہے، امام ابویوسفؒ نے قسامۃ کے عدد کے مطابق ۵۰ آدمیوں کا اندازہ مقرر کیا ہے اور خلف بن ایوب کا کہنا ہے کہ بیچ میں ۵۰۰ آدمی کم ہیں وہ کہتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ ہر ایک مسجد سے ایک یا دو آدمیوں کی جماعت ہو، امام محمدؒ کی رائے یہ ہے کہ قلت اور کثرت کی مقدار امامِ وقت کی رائے پر موقوف ہے، علامہ کمال الدین ابن ہمامؒ فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ حق وہ ہے جو امام محمدؒ سے مروی ہے اور اسی طرح امام ابو یوسفؒ کی رائے حق معلوم ہوتی ہے کہ خبر تو اتر اور ہر طرف سے خبر آنا معتبر ہے۔
اب اسی بارے میں علامہ ابن نجیمؒ فتاویٰ ظہیریہ کی عبارت نقل کر کے فیصلہ فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ :
و فی الفتاوى الظهيرية وان كانت السماء مصحية لا تقبل شهادة الواحد فی ظاهر الرواية بل يشترط العدد واختلفوا فی تقديره وظاهره ان ظاهر الرواية لا يشترط الجمع العظيم وانما يشترط العدد وهو يصدق على اثنين فكان مرجح الرواية الحسن التی اخترناها آنفا (بحر ص ۱۹۶ ج۲)
چند سطر بعد لکھتے ہیں:
ثم اذا لم تقبل شهادة الوحد و احتيج الى زيادة العدد عن ابی حنيفة انه تقبل شهاد رجلين او رجل وامرأتين وعن ابی يوسف انه لاتقبل ما لم يشهد على ذالك جمع عظيم وذالك مقدر بعدد القسامة وعن خلف بن ایوب خمس مأة ببلخ قليل وعن ابى حفص الكبير انه شرط الوفا وعن محمد ما استكثره الحاكم فهو كثير وما استقله فهو قليل هذا اذا كان الذی شهد بذالك فى المصر اما اذا جاء من مكان اخر خارج المصر فانه تقبل شهادته اذا كان عدلا ثقة لانه يتيقن فى الرواية في الصحارى ما لم يتيقن فی الامصار لما فيها من كثرة الغبار وكذا اذا كان فی المصر فی موضع مرتفع وهلال الفطر اذا كانت السماء مضحية كهلال رمضان ۱ھ فهذا يدل على ترجيح رواية الحسن وان ظاهر الرواية اعتبار العدد لا الجمع الكثير لكن فرقه بين من كان بالمصر وخارجه وبين المكان المرتفع وغيره قول الطحاوى اما ظاهر الرواية فلا يقبل فيه خبر الواحد مطلقا کما فى غاية البيان و فتح القدير۔ (بحر ص ۲۶۹ ج ۲)
یعنی فتاویٰ ظہیریہ میں ہے کہ اگر مطلع صاف ہو تو ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ ایک گواہ کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی بلکہ متعدد گواہوں کی گواہی شرط ہے، اور گواہوں کی تعداد کے اندازے میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ فتاویٰ ظہیریہ کی بات انتہاء کو پہنچ گئی۔
اب علامہ ابن نجیمؒ لکھتے ہیں کہ فتاویٰ ظہیریہ سے ظاہر مستفاد یہ ہے کہ ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ جمع عظیم شرط نہیں ہے بلکہ متعدد گواہ شرط ہیں اور عدد دو گواہوں پر بھی صادق آتی ہے، پس یہ قول حسن بن زیاد کے قول کی مرجح ہے جو ہم نے ابھی اختیار کیا۔
اور اس کے کچھ بعد فتاویٰ ولوالجیہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: پس جب ایک گواہ کی گواہی قبول نہیں اور متعدد گواہوں کی گواہی درکار ہے (تو اس میں ائمہ احناف کی رائیں مختلف ہیں)۔
امام اعظم ابوحنیفہؒ سے منقول یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔
امام ابو یوسفؒ سے منقول یہ ہے کہ جب تک جمع عظیم گواہی نہ دے اور اس کے اندازے کا معیار قسامہ کی مقدار کے مطابق ہو گی (اس سے کم قبول نہیں کی جائے گی)۔
اور خلف بن ایوب سے منقول یہ ہے کہ بلخ میں (اور اس جیسے دوسرے شہروں میں) پانچ سو گواہ قلیل ہیں۔
اور ابو حفص کبیر نے تو ہزاروں گواہوں کی تعداد کو شرط قرار دیا ہے۔
امام محمدؒ سے منقول یہ ہے کہ قلیل اور کثیر کا معیار حاکمِ وقت کے حکم پر موقوف ہے، حاکمِ وقت جب حکم لگائے کہ یہ کثیر ہے تو یہ کثیر ہے اور جب وہ حکم لگائے کہ یہ قلیل ہے تو قلیل ہے۔ یہ حکم تب ہو گا جب جائے شہادت مصر ہو اور اگر کوئی گواہ خارج المصر سے دوسری جگہ سے آجائے پس جب گواہ ثقہ ہوتو اس کی گواہی قبول کی جائے گی کیونکہ صحراؤں میں رؤیت یقینی ہوتی ہے شہروں میں اتنی یقینی نہیں ہوتی اس لئے کہ شہر میں فضاء زیادہ گرد آلود ہوتی ہے اسی طرح اگر شہر ہی میں ہو لیکن گواہ اونچی جگہ پر ہو اور جب مطلع صاف ہو تو عیدالفطر کی چاند رمضان کی چاند جیسا ہے۔ فتاوی ولوالجیہ کی عبارت مکمل ہوئی۔
علامہ ابن نجیمؒ فرماتے ہیں کہ فتاویٰ ظہیریہ اور فتاوی ولوالجیہ کی بات حسن بن زیاد کی بات کو ترجیح دینے پر دلالت کرتی ہے اور ظاہر الروایۃ جمع کثیر کی نہیں بلکہ متعدد گواہوں کو معتبر قرار دیتی ہے لیکن فرق صرف مصر اور خارج مصر میں ہے اور اونچے مکان اور پست مکان میں ہے۔
علامہ ابن نجیمؒ نے جمِ غفیر اور جمعِ کثیر کا فیصلہ کر دیا اور مسئلہ حل کر دیا اور دو معتبر فتاویٰ کی تائید حاصل کرتے ہوئے حسن بن زیادؒ کے قول کہ — متعدد گواہ دو ہی ہیں — کو جمِ غفیر کا معیار قرار دے دیا۔ اور اس قول کا اعتبار کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کل اس قول پر عمل کرنا مناسب ہے کیونکہ لوگ (عوام الناس اور اسی طرح خواص) چاند دیکھنے میں سست ہو گئے ہیں، نیز حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’يسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا‘‘ کہ دین میں (ممکن حد تک) لوگوں کیلئے آسانی پیدا کیا کرو اور تنگی سے اجتناب کرو اور لوگوں کو دین سے متنفر کرنے کے بجائے (دین و دنیا کی بھلائیوں اور دین پر عمل کرنے کی جزاؤں کا اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے صلہ کی) خوشخبریاں سنایا کرو۔ اور اسی طرح قرآن کریم کی ہدایات بھی یہی ہیں۔
ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا ان الله مع الصابرين۔ (پ ۵ سورة الانفال آیت نمبر ۴۵)
ترجمہ: آپس میں جھگڑا مت کرو پس تم پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا نکل جائے گی (یعنی اسلامی دنیا میں تمھارا رعب اور وقار ختم ہو جائے گا جیسا کہ ماضی قریب میں ہمارے بہت سے دوستوں کا عوام میں حشر ہو گیا۔ اور اگر کوئی بضد ہو کر تم سے خواہ مخواہ جھگڑا کرنا چاہے تو تم جھگڑا کرنے کے بجائے) صبر کرو کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اللہ تعالی ہماری حفاظت فرما کر اپنی رضاء نصیب فرمائے، آمین، فقط والله اعلم۔
محض اللہ کی رضا کیلئے اپنی شرح صدر کے مطابق خیبرپختونخواہ میں عموماً اور لکی مروت میں خصوصاً انتشار اور خلفشار سے بچنے کی خاطر چند اوراق سیاہ کر دیے۔ امید ہے علماء کرام کا سنجیدہ طبقہ رسالہ ’’جرعۃ الزلال‘‘ پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کو خود سمجھیں گے اور دوسروں کو سمجھائیں گے اور عام مسلمانوں کو انتشار سے بچانے کی کوشش کریں گے اور انتشار کو ہوا دینے کی بجائے انتشار کی مدافعت کریں گے کیونکہ موجود وقت امت کی مزید انتشار کا متحمل نہیں اور بیرونی سازشوں کا متحمل نہیں افسوس خیبرپختونخواہ میں سالہا سالوں کا چلنے والا متفقہ مسئلہ کو اختلافات کا نذر کر دیا گیا۔ اللہ تعالی امتِ مسلمہ کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرماویں، آمین، و اٰخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔
انتشار پھیلانے والوں کی خدمت میں علامہ اقبال کی وصیت:
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کیلئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہے کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
مراد مانصیحت بود گفتیم
حوالت با خدا کردیم و رفتیم
مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی پر اعتراضات کا جواب
اویس حفیظ

(۳۱ مئی ۲۰۲۰ء کو humsub.com.pk پر شائع ہونے والی تحریر)
ویسے تو اس بار چاند کے معاملہ پر مفتی منیب بمقابلہ فواد چودھری کا ’’ٹرینڈ‘‘ زیر گردش رہا مگر معاملہ فواد چودھری تک محدود نہیں ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن کا نجانے اس معاملے پر کس کس سے مقابلہ ہوتا ہے۔ کبھی یہ ٹرینڈ مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی ہو جاتا ہے، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سلیم صافی، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سوشل میڈیا، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سائنس اور جانے کیا کیا۔ اگر بات مفتی منیب الرحمٰن سے شروع کی جائے تو مفتی منیب الرحمٰن کی ذات نہ صرف مسلکی، علاقائی و گروہی عصبیتوں سے پاک نظر آتی ہے بلکہ بارہا ایسے مواقع آئے جب تمام مسالک کی قیادت نے مفتی منیب الرحمٰن پر نہ صرف مکمل اعتماد کا اظہار کیا بلکہ ان کی تقرری بطور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کو بھی جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اگر کوئی محض تعصب کا شکار ہو کر مفتی صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو یہ اس کی تربیت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔ اگر دین و شریعت اور رویت ہلال سے متعلق چند بنیادی اصولوں کا سرسری سے بھی مطالعہ کر لیا جائے تو علم ہو جاتا ہے کہ اس ساری لڑائی میں کون درست ہے اور کون غلط، کون شرعی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھ رہا ہے اور کون اپنی خواہش نفس اور انا کی تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں رؤیتِ ہلال کمیٹی پر ہونے والے عمومی اعتراضات کی۔
ایک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پچاس سال پرانی دوربین سے چاند کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ اب یہاں دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کہ کیا جدید اور جدید ترین دوربین اس چاند کو بھی لا حاضر کرتی ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا؟ یا جس کے نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں؟ دوم، اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ دوربین پچاس سال پرانی ہے (اگرچہ ایسا نہیں ہے) تو کیا پچاس سال پرانی چیز کام نہیں دے سکتی؟ دوربین خواہ سو سال پرانی ہو، اس کا کام دور کی چیز کو نزدیک کر کے دکھانا ہے۔ دوربین کے معاملے میں تاحال کوئی جدت نہیں ہوئی، ماسوائے یہ کہ کتنی دور کی چیز دکھا سکتی ہے۔ اگر پچاس سال پہلے اس سے چاند دیکھا جا سکتا تھا، تو آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ چاند کو ایک مخصوص سمت میں تلاش کیا جا رہا ہوتا ہے، ممکن ہے کہ وہ فلک پہ کہیں اور موجود ہے۔ یہ نہایت بودا اعتراض ہے، چاند کے نظر آنے کے امکانات اور جگہ کا تعین متعلقہ محکموں کی طرف سے کیا جاتا ہے، اسی لیے دوربین کا رخ ایک مخصوص جگہ پر ہوتا ہے۔
تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مفتی صاحبان خود چشمے لگا کر دور نزدیک کی چیزیں دیکھتے ہیں، وہ آسمان میں چاند کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ ایسے اور اس قسم کے اعتراضات کو جس قدر چاہیں بڑھا لیں، ان پر کسی کی کبھی تشفی نہیں ہو سکتی۔
اب آتے ہیں مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی پر۔ اگر مفتی پوپلزئی کے دلائل کا جائزہ لیا جائے تو اس حد تک تو ان کی بات درست ہے کہ جب کوئی رؤیتِ ہلال کی شہادت آ جاتی ہے تو شریعت یہی کہتی ہے کہ کم از کم ایک یا دو شہادتوں کو تسلیم کرتے ہوئے رمضان/عید کا اعلان کر دیا جائے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مفتی پوپلزئی کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ چاند دیکھیں، رمضان عید کا اعلان کریں، اور ریاست کے متوازی ادارہ قائم کریں؟ اگر کل کو کوئی شخص پشاور میں قاضی عدالت لگا کر بیٹھ گیا اور لوگوں کے فیصلے کرنے لگا تو کیا ریاست اسی طرح تماشا دیکھے گی جیسے ابھی دیکھ رہی ہے؟ یا یہ معاملہ صرف رؤیتِ ہلال کے لئے ہی مخصوص ہے؟ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ پیسوں کے لیے جھوٹی گواہیاں اور حلف دیتے ہوں، جو جھوٹ اور بددیانتی میں آخری حدود کو چھوتا ہو، وہاں ہر ایرے غیرے کی گواہی قبول کرنا چے معنے دارد؟ وہ بھی ایسے حالات میں جب تمام تر سائنسی شواہد چاند کے پیدا نہ ہونے یا نظر نہ آنے پر متفق ہوں، خالی گواہی کو ماننا بھی درست نہیں بلکہ اس پر جرح کی جاتی ہے اور یہی کام مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کرتی ہے۔
یہاں اگر میڈیا ذرا سی ہوشیاری کا مظاہرہ کرے تو آن سکرین جھوٹ کا پردہ چاک کیا جا سکتا ہے۔ چاند دیکھنے کی شہادت دینے والوں تمام افراد کا انٹرویو ریکارڈ کیا جائے کہ انہوں نے چاند کس وقت اور کس جگہ دیکھا، پھر ان تمام بیانات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو علم ہو جائے گا کہ یہ سب جھوٹ کا پلندا ہے۔ ہمارے یہاں اس حوالے سے ایک جھوٹ بڑا تواتر سے بولا جاتا ہے کہ میں نے غروبِ آفتاب کے فوری بعد چھت پر جا کر چاند دیکھا، درست وقت کوئی نہیں بتاتا، سب کا ایک ہی بیان ہوتا ہے کہ غروبِ آفتاب کے فوری بعد۔ ایسے میں بھی اگر سمت کا تعین ہو جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
یہ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق (انتیسویں رات) چاند اس وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ اس کی عمر غروبِ آفتاب کے وقت کم از کم 19 گھنٹے اور غروبِ شمس و غروبِ قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40 منٹ نہ ہو جائے۔ اس کے بعد بھی چاند کا زمین اور سورج دونوں سے مخصوص زاویے پر ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہاں عالم یہ ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو تو اس وقت بھی جبکہ چاند پیدا ہی نہ ہوا تھا (22 مئی کو جب باقی پاکستان کا اٹھائیسواں روزہ تھا) صرف حیدر خیل سے ہی 9 شہادتیں مل گئیں جن کی تصدیق مفتی صاحب کی ’’ذیلی کمیٹی‘‘ کے پانچ علماء حضرات نے کی۔
وہ الگ بات کہ جب سعودی عرب نے روزے کا اعلان کر دیا تو مفتی پوپلزئی نے بھی ان تمام شہادتوں کو رد کرتے ہوئے چاند نظر نہ آنے کی بنیاد پر تیس روزے کرنے کا اعلان کر دیا۔ حالانکہ (بروز) ہفتہ 18 اگست 2012ء کو میرانشاہ اور بعض دوسرے علاقوں میں ایسی ہی ’’شہادتوں‘‘ پر عید الفطر کی گئی تھی جبکہ اس دن سعودی عرب سمیت پورے ریجن میں روزہ تھا۔ مخصوص علاقے کے لوگوں کی شہادت رد کرنے کا جو اعتراض مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اور مفتی منیب پر کیا جاتا ہے، وہی اعتراض مفتی پوپلزئی پر کیوں نہیں کیا گیا؟ یا مفتی منیب پر تنقید کوئی قومی شغل ہے کہ جس کا دل کرتا ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ کچھ تو ایسے کوڑھ ہوتے ہیں کہ اس معاملے میں واجبی سا علم بھی نہیں رکھتے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر مفتی منیب پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔
جو لوگ رؤیت کے معاملے میں مفتی پوپلزئی کی اقتدا اختیار کرتے ہیں انہیں بھی علم ہونا چاہیے کہ ’’روزہ کا دن وہی ہے جس دن تم روزہ رکھو، افطار (عید کا) دن وہی ہے جس دن تم افطار کرو‘‘۔ امام ترمذیؒ اس حدیث کی روایت کے بعد فرماتے ہیں کہ بعض اہلِ علم نے اس حدیث کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ روزہ اور عید کا معاملہ جماعت اور امت کی اکثریت (کے) ساتھ ہے۔ امام صنعانیؒ، امام ابن القیمؒ، امام ابو الحسن سندھیؒ، امام البانیؒ سمیت جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود اپنی آنکھوں سے چاند دیکھتا ہے مگر امام اس کی گواہی کو رد کر دیتا ہے تو اس کے حق میں بھی یہ امور یعنی روزہ رکھنا، عید منانا اور قربانی کرنا ثابت نہ ہوں گے اور اس بارے میں جماعت کی اتباع ہی واجب ہو گی۔
اس ضمن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت عبد اللہؓ بن مسعود کا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تو حضرت عبد اللہؓ بن مسعود نے ان پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت ہی پڑھتے رہے اور حضرت عثمانؓ کے ابتدائی دورِ خلافت میں بھی دو ہی رکعت پڑھتے رہے اور اب وہ پوری نماز (چار رکعت) پڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو یہ پسند ہے کہ میری دو ہی رکعتیں جو اللہ کو مقبول ہو جائیں وہ چار رکعتوں سے بہتر ہیں۔‘‘ لیکن جب خود حضرت عبد اللہؓ بن مسعود نے نماز پڑھی تو چار رکعت ہی پڑھیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ ایک طرف آپ حضرت عثمانؓ پر اعتراض کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ خود بھی چار رکعت ہی پڑھ رہے ہیں؟ حضرت عبد اللہؓ بن مسعود کا جواب تھا کہ ’’الخلاف شر‘‘ یعنی اختلاف بری چیز ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ دورِ عثمانی میں ابتدائی نو برس تک منیٰ میں قصر نماز ہی ادا کی جاتی رہی، البتہ دسویں برس حضرت عثمانؓ نے پوری نماز یعنی چار رکعات پڑھائیں۔ اور لوگوں کے استفسار پر فرمایا کہ میں نے مکہ میں نکاح کیا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو کسی شہر میں نکاح کر لے وہ مقیم جیسی نماز پڑھے (مسند احمد)۔ اسی طرح ایک جگہ آتا ہے کہ آپؓ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! سنت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں اصحاب (سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ) سے ثابت ہے۔ لیکن اس سال لوگوں کی وجہ سے رش ہوا ہے، (یعنی کافی تعداد میں نو مسلم بھی نماز میں شریک ہیں) لہٰذا مجھے یہ خوف ہوا کہ یہ لوگ اسے (مستقلاً) ہی نہ اپنا لیں (یعنی اپنے گھروں میں بھی چار کے بجائے دو فرض پڑھنے نہ لگ جائیں)، اسی لیے میں نے چار رکعات پڑھائیں (السنن الکبریٰ للبیہقی)۔
جب ریاست نے کسی معاملے میں اہتمام کر رکھا ہو، جیسے چاند دیکھنے کا، تو اس میں بہرصورت ریاست کی اتباع ہی لازم و ملزوم ہے۔ جو لوگ ’’طاغوتی ریاست‘‘ کی اصطلاح سے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں، انہیں باقی معاملات میں بھی پھر ’’طاغوت‘‘ والا رویہ ہی روا رکھنا چاہیے۔
کچھ طبقات کا خیال ہے کہ ہمیں چاند کے معاملے میں سعودی عرب کی تقلید کرنی چاہیے حالانکہ حدیث شریف میں صریحاً یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر شہر (ملک) کی اپنی رؤیت ہوتی ہے۔
حضرت کریبؓ بیان کرتے ہیں: میں شام میں تھا تو اسی درمیان رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا۔ پھر میں مہینے (رمضان) کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباسؓ نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے، پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا اور لوگوں نے روزے رکھے۔ اس پر ابن عباسؓ نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کر لیں یا ہم 29 کا چاند دیکھ لیں۔ تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہؓ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے (صحیح مسلم 2528، سنن ابی داود 2332، سنن النسائی 2113، مسند احمد)۔
اس حدیث کی تشریح میں امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ اہلِ علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔ موجودہ دور میں ایک رؤیت پر ایک ملک کے لوگوں کے اکتفا کا اجتہاد کیا گیا ہے۔ بعض لوگ رمضان/عید کے بعد چاند دیکھ کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ چاند فلاں تاریخ کا تھا، یعنی رؤیتِ ہلال کمیٹی نے غلط عید کرائی یا غلط روزہ رکھوایا۔ تو عرض یہ ہے کہ حدیث سے رجوع کریں، ایسے تمام مسائل کا حل وہاں موجود ہے۔
ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ کو نکلے اور جب بطن نخلہ پہنچے (ایک مقام کا نام) تو سب نے چاند دیکھنا شروع کیا اور بعض نے دیکھ کر کہا کہ یہ تین رات کا چاند ہے (یعنی بڑا ہونے کے سبب) اور بعض نے کہا دو رات کا ہے، پھر ہم سیدنا ابن عباسؓ سے ملے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے کون سی رات میں دیکھا؟ تو ہم نے کہا: فلاں فلاں رات۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دیکھنے کے لیے بڑھا دیا اور وہ اسی رات کا تھا جس رات تم نے دیکھا (صحیح مسلم 2529)۔
یہ حدیث امام مسلمؒ نے جس باب میں باندھی ہے، اس کا عنوان ہی یہ رکھا ہے کہ ’’چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لیا کرو‘‘۔
اس حوالے سے گزشتہ برس مفتی طارق مسعود کا بھی ایک بیان سننے کو ملا تھا، اس میں بھی مفتی صاحب نے یہی بتایا کہ لوگ مجھے فون کر کے کہتے ہیں کہ ہلال تو اتنی دیر نظر ہی نہیں آتا، ہم اسے اتنی دیر سے دیکھ رہے ہیں، ہماری عید غلط کرا دی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں مفتی طارق مسعود کا بھی یہی جواب تھا کہ چاند کو انتیس کو نظر آنا تھا لیکن اگر وہ کسی وجہ سے نظر نہیں آ سکا تو جو چاند تیس کی رات کو نظر آئے گا وہ پہلی کا نہیں بلکہ (اپنی پیدائش کے اعتبار سے) دوسری رات کا ہو گا۔ یہ کامن سینس کی بات ہے مگر لوگ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے۔
اب تو اس کی سائنسی توضیح بھی موجود ہے۔ امسال شوال کا چاند 22 مئی کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 10 بج کر 39 منٹ پر پیدا ہوا۔ ہفتہ 23 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 20 گھنٹوں سے کچھ زائد تھی۔ ایسے چاند کا نظر آنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہوتا ہے۔ بہرحال اسے چند لوگوں نے دیکھا اور ایک مقام پر جمِ غفیر نے اسے دیکھا، جس کی بنیاد پر رؤیتِ ہلال کمیٹی نے عید کا اعلان کیا۔ لیکن اگر بالفرض یہ چاند دکھائی نہ دیتا تو جو چاند 24 مئی کی رات کو ہمیں دکھائی دیتا، اس کی عمر غروبِ آفتاب کے وقت پاکستان کے تمام شہروں میں 44 گھنٹوں سے بھی زائد ہو چکی ہوتی۔ پھر غروبِ شمس اور غروبِ قمر کا درمیانی فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے وہ 95 سے 98 منٹ تک ہوتا اور چاند پورے ملک میں واضح طور پر دکھائی دیتا (ہوا بھی ایسا ہی) جس پر لوگ شک میں مبتلا ہو جاتے کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے، حالانکہ مذہبی و سائنسی لحاظ سے وہ یکم ہی کا ہلال ہوتا۔ اسی کلیہ پر اگر مفتی پوپلزئی کو پرکھا جائے تو جو چاند انہیں 22 کو نظر نہیں آ سکا، وہ 23 مئی کو پورے ملک کو نظر آنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، 23 مئی کو بھی خال خال ہی چاند نظر آیا، جس سے علم ہوتا ہے کہ مسجد قاسم کی دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
باقی بچے فواد چوہدری صاحب، تو ہفتہ 23 مئی کو سب سے بڑے اردو اخبار ’’جنگ‘‘ میں بیک پیج پر خبر کی سرخی ہی یہ تھی: ’’فواد چوہدری کا دعویٰ مسترد، عید پیر کو ہو گی۔ محکمہ موسمیات‘‘۔ چونکہ چاند نظر آنے کے امکانات بہت محدود تھے، اسی وجہ سے محکمہ موسمیات سمیت متعلقہ اداروں کا خیال تھا کہ عید 25 مئی کو ہو گی۔ بہتر ہوتا اگر فواد چوہدری پہلے سے ٹویٹ کرنے کے بجائے جیوانی اور پسنی جا کر میڈیا کو چاند دکھاتے، چاند کی کوئی وڈیو، کوئی تصویر میڈیا میں جاری کرتے، آخر کو وہ ایک وفاقی وزیر ہیں، اتنے تو ان کے ریسورسز ہوں گے، اگر وہ یہ کچھ نہیں کر سکتے تو بہتر ہو گا کہ نت نئے شوشے چھوڑنے کے بجائے وہ سپارکو، محکمہ موسمیات، اور پاکستان نیوی کی طرح رؤیتِ ہلال کمیٹی کی معاونت کریں۔ ویسے شاید انہیں علم نہ ہو، ان کے محکمے کے چند افراد پہلے سے کمیٹی کی معاونت کا کام کر رہے ہیں۔ ویسے ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جو ’’رؤیت ایپ‘‘ انہوں نے یا ان کی وزارت (نے) بنائی تھی، اس میں بھی 23 مئی کو چاند کے نظر آنے کا امکان نہیں بتایا جا رہا تھا۔
جو لوگ رؤیتِ ہلال کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا طعنہ مارتے ہیں، انہیں علم ہونا چاہیے کہ فلکیات میں مسلمانوں کا علم کسی کا محتاج نہیں رہا، عبد الرحمٰن الصوفی جیسے افراد کا کام ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی چمک رہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قمری کلینڈر کس بنیاد پر بنایا جائے گا؟ کیونکہ عام طور پر دنیا میں نئے چاند کی رؤیت یا امکانِ رؤیت کے حوالے سے قمری ماہ کی 29 تاریخ کو تین ریجن ہوتے ہیں: ریجن اے: جس میں ہلال کی واضح رؤیت کا امکان ہوتا ہے۔ ریجن بی: جہاں صورتحال غیر یقینی ہوتی ہے۔ ریجن سی: جس میں ہلال کی رؤیت کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مبنی کوئی مستقل کیلنڈر بنایا جاتا ہے اور ہمارا ملک ریجن بی میں آتا ہوا تو یہ کیلنڈر ناکام ہو جائے گا۔ لیکن اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مبنی کیلنڈر نہیں بنایا جاتا تو یہ شریعت کے احکام کے منافی ہے جس میں نہ صرف چاند دیکھنے کا حکم دیا گیا بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس روزے رکھو، یعنی چاند کی پیدائش کے امکان پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ رہو۔ جدید سائنس و ٹیکنالوجی صرف یہ بتا سکتی ہے کہ 29 تاریخ کو ہمارا ملک کون سے ریجن میں آتا ہے، لیکن کوئی قطعی پیش گوئی رؤیت سے ہی ممکن ہے۔
نظام ہائے کیلنڈر: ایک جائزہ
ترجمان

کیلنڈر ہزاروں سالوں سے انسانی تہذیب کا حصہ چلے آ رہے ہیں جو گزرنے والے وقت کا حساب رکھنے کے ساتھ ساتھ موسموں کی نشاندہی کرنے اور واقعات کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے زیر استعمال رہے ہیں۔ تاریخ میں مختلف ثقافتوں اور علاقوں میں سورج اور چاند کی نقل و حرکت کی بنیاد پر ایسے کیلنڈر بنائے گئے جن میں شمسی کیلنڈر، قمری کیلنڈر اور قمری شمسی کیلنڈر سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ کیلنڈر اس طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ آیا وقت کی پیمائش
- زمین کے سورج کے گرد گھومنے کے حوالے سے کی جائے،
- چاند کے مختلف مراحل کی بنیاد پر کی جائے،
- یا پھر ان دونوں کے مجموعہ کو سامنے رکھتے ہوئے؟
مروّجہ کیلنڈروں پر ایک نظر
آئیے مختصراً کیلنڈر کے ان نظاموں کا طریقہ کار اور خصوصیات دیکھتے ہیں۔
شمسی کیلنڈر
شمسی کیلنڈر اس بنیاد پر بنایا گیا ہے کہ زمین کتنے عرصہ میں سورج کے گرد ایک چکر پورا کرتی ہے۔ یہ عرصہ تقریباً 365.24 دن ہے۔ اعشاریہ کے بعد جو اضافی حصہ ہے اسے ایڈجسٹ کرنے کے لیے ہر چار سال بعد فروری کے مہینے میں ایک اضافی دن شامل کیا جاتا ہے۔
اسی طرح زمین خود اپنے محور کے گرد بھی گھومتی ہے جس سے دن اور رات وجود میں آتے ہیں، کیونکہ زمین کا جو حصہ گھومتے ہوئے سورج کے سامنے آجاتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور دوسرے حصہ میں رات ہوتی ہے۔
شمسی کیلنڈر کے ایک سال میں 365 دن اور لیپ سال میں 366 دن ہوتے ہیں۔ سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔ ہر مہینے کے دنوں کی مخصوص تعداد مثلاً 30 یا 31 دن ہوتی ہے۔
گریگوریئن کیلنڈر (Gregorian Calendar) دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا شمسی کیلنڈر ہے جسے 1582ء میں پوپ گریگوری XIII نے پہلے سے چلے آنے والے جولین کیلنڈر (Julian Calendar) کو تبدیل کرنے کے لیے متعارف کرایا تھا۔ جولین کیلنڈر میں اگرچہ لیپ سال کا شمار موجود تھا لیکن بعض دیگر حوالوں سے اس میں درستگی کی ضرورت تھی۔
شمسی کیلنڈر اس حوالے سے اہم ہے کہ اس کی مدد سے موسموں کی درست طور پر نشاندہی کی جا سکتی ہے جس سے سال بھر کی مختلف سرگرمیوں کی منصوبہ بندی آسان ہو جاتی ہے خصوصاً زراعت کے نظام کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
قمری کیلنڈر
قمری کیلنڈر چاند کے مراحل کی بنیاد پر طے پاتا ہے۔ ایک نئے چاند سے دوسرے نئے چاند تک تقریباً 29.5 دن ہوتے ہیں جو کہ ایک قمری مہینہ ہے۔ قمری کیلنڈر کا ایک سال تقریباً 354 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ شمسی سال سے تقریباً 11 دن کم ہوتا ہے۔ چنانچہ قمری مہینے اپنا موسم تبدیل کرتے رہتے ہیں اور کسی خاص موسم کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے۔
چاند کے مراحل کیا ہوتے ہیں؟ چاند زمین کے گرد چکر کاٹتا ہے اور یہ دونوں مل کر سورج کے گرد چکر کاٹتے ہیں۔ چنانچہ جیسے زمین پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اسی طرح چاند پر بھی سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ البتہ چاند کے جس رخ پر سورج کی روشنی پڑتی ہے وہ زاویہ مختلف ہونے کی وجہ سے زمین سے روزانہ مختلف نظر آتا ہے۔ مثلاً پہلا چاند جو ہلال کہلاتا ہے، وہ اُس رخ کا زمین سے سب سے کم نظر آنے والا حصہ ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد کے دنوں میں یہ روشنی والا حصہ بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ چودہ دنوں بعد زمین سے چاند کا وہ رخ مکمل نظر آتا ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد روزانہ روشنی کا یہ حصہ کم ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ مہینے کے آخر میں بالکل غائب ہو جاتا ہے یعنی زمین سے چاند کا روشنی والا رخ نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ چاند کا مہینہ شروع ہوتے وقت اس پر سورج کی روشنی کا یہ حصہ دائیں طرف نظر آتا ہے، جبکہ درمیان مہینہ سے آخر مہینہ تک یہ چاند کے بائیں طرف ہوتا ہے۔
اسلامی کیلنڈر خالصتاً قمری کیلنڈر ہے جس میں ہر مہینے کا آغاز پہلے چاند یعنی ہلال کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، اور کیلنڈر کے سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔ جبکہ قمری کیلنڈر کی ایک اور مثال عبرانی کیلنڈر بھی ہے جو روایتی طور پر خالصتاً قمری تھا لیکن بعد میں موسموں کی نشاندہی کے لیے اس میں ایڈجسٹمنٹ کر دی گئی، چنانچہ اب یہ قمری شمسی کیلنڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک خالص قمری کیلنڈر شمسی سال کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قمری مہینے موسموں میں پیچھے کی طرف آتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی کیلنڈر کا مہینہ رمضان وقت کے ساتھ مختلف موسموں میں آتا ہے کیونکہ قمری سال زمین کے سورج کے گرد گھومنے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
قمری شمسی کیلنڈر
ایسا کلینڈر جو قمری اور شمسی دونوں کیلنڈروں کی خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ اصل میں قمری کیلنڈر ہے جو چاند کے مراحل کی بنیاد پر طے پاتا ہے، جبکہ موسموں کی نشاندہی کے لیے اسے شمسی سال کے ساتھ بھی ہم آہنگ بنایا جاتا ہے۔ قمری شمسی کیلنڈر میں عام طور پر 12 مہینے اور لیپ سال میں 13 مہینے ہوتے ہیں۔ سال کی کل لمبائی شمسی کیلنڈ رکی طرح تقریباً 365.24 دن ہوتی ہےلیکن مہینے چاند کے مراحل کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ 354 دن کے قمری سال اور 365 دن کے شمسی سال کے درمیان فرق کو پورا کرنے کے لیےہر 2 سے 3 سال بعد ایک لیپ مہینہ شامل کیا جاتا ہے۔
روایتی چینی کیلنڈر ایک قمری شمسی کیلنڈر ہے جو نئے چینی سال جیسے تہواروں کی تاریخوں کے تعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً ہر تین سال بعد ایک لیپ مہینہ شامل کیا جاتا ہے۔
عبرانی کیلنڈر میں قمری مہینے اور شمسی سال دونوں شامل ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس کی تاریخیں زرعی موسموں اور مذہبی رسومات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
ہندو کیلنڈر بھی قمری شمسی کیلنڈر ہے جو مذہبی تہواروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی مختلف علاقائی شکلیں ہیں۔
مختصراً یہ کہ شمسی کیلنڈر زمین کے سورج کے گرد چکر پورا کرنے پر طے پاتا ہے اور موسموں کی نشاندہی کے لیے بہترین ہے۔ قمری کیلنڈر صرف چاند کے مراحل پر طے پاتا ہے جس کے مہینوں کے موسم بدلتے رہتے ہیں۔ قمری شمسی کیلنڈر چاند کے مراحل اور سورج کے سال دونوں کا لحاظ رکھتے ہوئے طے پاتا ہے۔ ہر کیلنڈر کوئی خاص مقصد پورا کرتا ہے۔ مثلاً شمسی کیلنڈر سالانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ قمری کیلنڈر تاریخی طور پر مذہبی تہواروں اور رسومات کے حوالے سے اہم رہے ہیں۔ اور قمری شمسی کیلنڈر ان دونوں خصوصیات کو یکجا کرنے کا مقصد پورا کرتے ہیں۔
اسلامی ہجری کیلنڈر
اسلامی کیلنڈر خالصتاً قمری ہے اور اسے ہجری کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔ وقت کی پیمائش کا یہ نظام زمین کے سورج کے گرد گھومنے کے بجائے چاند کے مراحل پر مبنی ہے۔ یہ کیلنڈر اسلامی روایت میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور بنیادی طور پر عبادات، تاریخی واقعات اور تعطیلات و رسومات کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
آغاز اور تاریخ
اسلامی کیلنڈر کا آغاز 622 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت سے ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اتنا اہم ہے کہ اسلامی تاریخ کے نقطہ آغاز کا باعث بن گیا ہے۔ ہجرت کے سال کو 1 ہجری کہا جاتا ہے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطابؓ نے 638 عیسوی میں اسلامی ہجری کیلنڈر قائم کیا تاکہ اسلامی واقعات کی تاریخوں کو ریکارڈ میں لایا جا سکے۔
اسلام کے ظہور سے پہلے جزیرہ نما عرب میں مختلف قسم کے قمری اور قمری شمسی کیلنڈر استعمال ہوتے تھے۔ شمسی کیلنڈر زمین کے سورج کے گرد چکر مکمل کرنے کی بنیاد پر طے پاتا ہے، قمری کیلنڈر چاند کے مراحل کی بنیاد پر طے پاتا ہے، جبکہ قمری شمسی کیلنڈر اس طرح طے پاتا ہے کہ قمری کیلنڈر میں اضافی مہینوں کا اندراج کر کے اسے شمسی کیلنڈر سے ہم آہنگ بنایا جاتا ہے۔ اسلامی کیلنڈر نے ان اضافی مہینوں کا اندراج ترک کر کے خالصتاً قمری کیلنڈر اپنایا۔
ساخت اور خصوصیات
اسلامی کیلنڈر چونکہ خالصتاً قمری ہے جو کہ چاند کے مراحل پر مبنی ہے اس لیے اس میں سورج کے گرد زمین کی گردش کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ اسلامی سال 12 قمری مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چاند کو زمین کے گرد چکر پورا کرنے پر تقریباً 29.5 دن لگتے ہیں جو کہ ایک قمری مہینہ ہے۔ ایک قمری سال تقریباً 354 یا 355 دن طویل ہوتا ہے جو کہ شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔
اسلامی کیلنڈر کا سال ان مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ۔ ان میں سے ہر مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے جو کہ چاند کے زمین کے گرد چکر پر منحصر ہے۔
ہر قمری مہینے کا آغاز نیا چاند یعنی ہلال دیکھنے سے ہوتا ہے، جسے اصطلاحاً رؤیتِ ہلال کہتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات و روایات کی رو سے اس کے لیے آسمان میں اصل چاند کا مشاہدہ ضروری ہے۔ اگرچہ مختلف تنظیمیں اور ادارے قمری کیلنڈر کی تشکیل کے لیے فلکیاتی حساب کتاب کی جدید ٹیکنالوجیز بھی استعمال کرتے ہیں۔
اسلام میں اہمیت اور موجودہ استعمال
قمری کیلنڈر اسلامی عبادات اور مذہبی تہواروں کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ ثقافتی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے، مثلاً:
- رمضان جو کہ روزہ اور عبادات کا مہینہ ہے، اس کا آغاز ہلال کے نظر آنے سے ہوتا ہے، یہ مہینہ 29 یا 30 دن تک جاری رہتا ہے، جس کا اختتام شوال کا ہلال نظر آنے پر ہوتا ہے اور یکم شوال عید الفطر کا دن ہے۔ اس مہینے کے دوران صبح سے شام تک روزہ رکھنا اسلام کے پانچ ستونوں (بُنی الاسلام) میں سے ایک ہے۔
- حج جو کہ مکہ مکرمہ میں ذوالحجہ کے مہینے میں ہوتا ہے، یہ بھی اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور جسمانی اور مالی طور پر استطاعت رکھنے والے ہر مسلمان پر فرض ہے۔ عید الاضحیٰ کا اسلامی تہوار بھی اسی مہینہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو قربان کرنے کی رضامندی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
- محرم کا مہینہ متعدد وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ یکم محرم جو کہ اسلامی سال کا پہلا دن ہے اسے شمسی سال کی طرح جشن کے ساتھ تو نہیں منایا جاتا البتہ یہ اسلامی تاریخ خصوصاً پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ کو عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کے مختلف واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
- ربیع الاول کا مہینہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی اور دنیا بھر کے مسلمان اس حوالے سے مختلف طریقوں سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
اگرچہ موجودہ دور میں تقریباً تمام مسلم ممالک انتظامی اور روزمرہ کے کاموں کے لیے شمسی کیلنڈر استعمال کرتے ہیں، البتہ بعض ممالک میں قمری کیلنڈر کی تاریخوں کا اندراج بھی سرکاری دستاویزات پر کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کا سرکاری کیلنڈر قمری ہے، جبکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی قمری کیلنڈر مذہبی مقاصد کے لیے سرکاری نظام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قمری کیلنڈر عالمی سطح پر روزمرہ زندگی کے لیے استعمال نہیں ہوتا لیکن یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مذہبی عبادات و رسومات کے تعین کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اسی کی رو سے اسلامی تعطیلات، روزہ اور حج وغیرہ کی تاریخوں کا تعین کیا جاتا ہے۔
شمسی اور قمری کیلنڈر میں فرق
بنیادی فرق یہ ہے کہ شمسی کیلنڈر کے سال کا دورانیہ 365.24 دن ہے جس میں زمین سورج کے گرد اپنا چکر پورا کرتی ہے۔ اس کے برعکس قمری کیلنڈر چاند کے مراحل پر مبنی ہے جس کا سال شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔
شمسی کیلنڈر عالمی سطح پر زیادہ تر غیر مذہبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہےجیسے زراعت، کاروبار، حکومتی اور بین الاقوامی معاملات وغیرہ۔ جبکہ قمری کیلنڈر بنیادی طور پر مذہبی تہواروں اور عبادات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
چونکہ قمری سال چھوٹا ہوتا ہے اس لیے خاص اسلامی دن جیسے آغازِ رمضان، عید الفطر اور عید الاضحیٰ وغیرہ شمسی کیلنڈر میں ہر سال تقریباً 10-12 دن پہلے آتے ہیں، یعنی یہ دن سالوں کے دوران مختلف موسموں میں منائے جاتے ہیں۔
فلکیاتی حسابات کی بحث
اگرچہ قمری کیلنڈر ایک پائیدار نظام ہے جو 1400 سال سے زائد عرصہ سے روایتی طریقے سے استعمال ہو رہا ہے، البتہ جدید دور میں فلکیات اور ٹیکنالوجی میں ترقی نے قمری مہینے کے آغاز کا تعین کرنے کے نئے طریقے وضع کیے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ایک بحث یہ ہے کہ آیا فلکیاتی حساب کتاب کی بنیاد پر قمری مہینوں کے آغاز کو معیار مانا جائے؟ تاکہ اس سے ان اختلافات کا سدباب کیا جا سکے جو رؤیتِ ہلال یعنی چاند کو دیکھ کر مہینے کا آغاز کرنے کے حوالے سے سامنے آتے ہیں۔ کیونکہ تقریباً ہر سال ایسا ہوتا ہے کہ اسلامی مہینوں کا آغاز مختلف ممالک میں ایک دن کو نہیں ہو پاتا۔ بہرحال اس سلسلہ میں اسلامی نقطۂ نظر رؤیتِ ہلال پر زور دیتا ہے کہ چاند دیکھ کر مہینے کا آغاز کیا جائے کیونکہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ایسا کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ اور اگر مسلم ممالک کی کوئی متفقہ مرکزی اتھارٹی ایسی طے ہو جائے جو نئے چاند کا اعلان کرے تو یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی

(567) وصیۃ لأزواجہم کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں وَصِیَّۃً لِأَزْوَاجِہِمْ کی تفسیر میں مشہور رائے یہ ہے کہ یہاں شوہر کی طرف سے وصیت مراد ہے یعنی شوہر کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کردے۔اس کے علاوہ مفسرین نے مجاہد کی رائے ذکر کی ہے کہ یہاں اللہ کی طرف سے وصیت مراد ہے۔ شوہر وصیت کرے یا نہ کرے، بیوہ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک سال شوہر کے چھوڑے ہوئے گھر میں رہے اور شوہر کے اولیا اس کا خرچ ادا کریں۔ درج ذیل ترجمے مشہور تفسیر کے مطابق ہیں:
وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لِأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ۔ (البقرۃ: 240)
’’اور جو لوگ تم میں مرجاویں اور چھوڑ جاویں عورتیں وصیت کردیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک نہ نکال دینا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، اُن کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے لیے وصیت کرجائیں سال بھر تک نان نفقہ دینے کی بے نکالے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
سید قطب اور شیخ ابوزہرہ وغیرہ نے مجاہد کی رائے کو اختیار کیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے بھی یہی تھی، وہ ترجمہ کرتے ہیں:
’’تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑی ہوں، اُن کی بیویوں کے بارے میں وصیت کی جاتی ہے کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں‘‘۔
اس ترجمے کی رو سے شوہر وصیت کرے یا نہ کرے اللہ کی طرف سے بیوہ عورت کو ایک سال کی رہائش مع نان نفقہ کا یہ حق حاصل ہے۔ قرآن میں اللہ کے ساتھ وصیت کا لفظ آیا ہے، جیسے: وَصِیَّۃً مِنَ اللَّہِ (النساء: 12) اور: یُوصِیکُمُ اللَّہُ (النساء: 11)۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ہر شوہر کو یہ موقع حاصل نہیں ہوتا ہے کہ وہ مرتے وقت وصیت کرسکے۔ اللہ تعالی نے اس حکم کو جس اہتمام اور تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے اس کا تقاضا تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسے حکم الٰہی سمجھ کربہرحال عمل پذیر ہونا چاہیے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے کئی احکام جن کی قرآن مجید میں بڑی تاکید آئی ہے، مسلمانوں کی زندگی میں وہ بالکل نظر نہیں آتے۔ ان میں سے ایک حکم یہ بھی ہے۔
(568) وأن تعفوا کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں بعض مترجمین نے وَأَنْ تَعْفُوا کا مخاطب مردوں کو قرار دیا ہے۔ حالاں کہ اس سے پہلے اسی آیت میں مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف سے معاف کرنے کی بات آئی ہے۔ درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دونوں کی طرف سے معاف کرنے کے ذکر کے بعد یہاں تمام اہل اسلام (مرد و عورت) کو معاف کرنے کی فضیلت کی طرف متوجہ کیا گیاہے۔
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ یَعْفُونَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِی بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔ (البقرۃ: 237)
’’اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لیے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں یا وہ زیاد ہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اے مرَدو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور تم مرد درگزر کرو تو قریب ہے پرہیزگاری سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور اگر تم مرد لوگ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
(569) ولا تنسوا الفضل بینکم کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں فضل سے مراد کیا ہے؟
عربی میں فضل کا مطلب فضیلت یعنی بڑائی اور بزرگی بھی ہوتا ہے اور فضل کا مطلب احسان و کرم بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں فضل دونوں معنوں میں آیا ہے لیکن بڑی کثرت کے ساتھ احسان و کرم کے معنی میں آیا ہے۔ درج ذیل آیت میں (ہمارے علم کی حد تک) تمام مفسرین نے فضل سے احسان و کرم مراد لیا ہے، لیکن نہ جانے کیسے بعض مترجمین نے فضل کا ترجمہ بڑائی اور بزرگی کردیا۔ یہاں یہ ترجمہ بے محل معلوم ہوتا ہے۔ سیاق کلام ایک دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے، نرمی برتنے اور فراخ دلی سے کام لینے کا ہے، نہ کہ اپنی یا دوسرے کی فضیلت کو یاد کرنے کا۔
وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ۔ (البقرۃ: 237)
’’اور نہ بھلادو بڑائی رکھنے آپس میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور تمہارے درمیان ایک کو دوسرے پر جو فضیلت ہے اس کو نہ بھولو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درج ذیل ترجمے مناسب معلوم ہوتے ہیں:
’’آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بُھلا نہ دو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
جس طرح وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی کا مخاطب مرد و عورت سبھی ہیں، اسی طرح وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ کا مخاطب بھی مرد و عورت سبھی ہیں۔
(570) استبشر کا مطلب
عربی لغت کے ماہرین کے مطابق استبشر کا مطلب ہے خوش ہونا۔ لسان العرب میں ہے: اسْتَبْشَر: فَرِحَ۔
استبشر باب استفعال سے ہے، لیکن باب استفعال میں ہمیشہ طلب کا مفہوم نہیں ہوتا۔ بلکہ فعل میں زور پیدا کرنا بھی اس باب کی ایک خاصیت ہے۔ قاضی ابن عطیۃ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: یَسْتَبْشِرُونَ معناہ: یسرون ویفرحون، ولیست استفعل فی ہذا الموضع بمعنی طلب البشارۃ، بل ہی بمعنی استغنی اللہ واستمجد المرخ والعفار۔ (المحرر الوجیز)
قرآن مجید میں یہ لفظ متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ سبھی جگہوں پر اس کا ترجمہ خوش ہونا اور خوشی منانا کیا گیا ہے۔ البتہ صاحب تدبر نے تین جگہوں پر اس کا ترجمہ ’’بشارت حاصل کرنا‘‘ کیا ہے:
فَرِحِینَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ۔ یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّہَ لَا یُضِیعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ (آل عمران: 170، 171)
’’فرحاں و شاداں ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل میں سے ان کو دے رکھا ہے اور ان لوگوں کے باب میں بشارت حاصل کر رہے ہیں جو ان کے اَخلاف میں سے اب تک ان سے نہیں ملے ہیں کہ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ بشارت حاصل کر رہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی اور اس بات کی کہ اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا فَزَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ۔ (التوبۃ: 124)
’’وہ جو سچ مچ ایمان لائے ہیں وہ ان کے لیے ایمان میں اضافہ کرتی ہے اور وہ اس سے بشارت حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
جب کہ دیگر مقامات پر انھوں نے اس لفظ کا ترجمہ خوش ہونا کیا ہے۔
فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ۔ (التوبۃ: 111)
’’سو تم اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے خوشی مناؤ‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
وَجَاءَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ یَسْتَبْشِرُونَ۔ (الحجر: 67)
’’اور شہر والے خوش خوش آپہنچے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
فَإِذَا أَصَابَ بِہِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ إِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ۔ (الروم: 48)
’’پس جب وہ اس کو نازل کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
ضَاحِکَۃٌ مُسْتَبْشِرَۃٌ۔ (عبس: 39)
’’ہشاش بشاش!‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
قرآنی استعمالات اور ماہرین لغت کی تصریحات کی روشنی میں راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ تمام مقامات پر استبشر کا ترجمہ خوش ہونا کیا جائے۔
(571) رءوف کا ترجمہ
درج ذیل ترجمے میں رَءُوفٌ کا ترجمہ ’نہایت خیر خواہ‘ لغت کے مطابق نہیں ہے۔
وَاللَّہُ رَءوفٌ بِالْعِبَادِ۔ (آل عمران: 30)
’’اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
دیگر مقامات پر صاحب تفہیم نے بھی یہی ترجمہ کیا۔
إِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِیمٌ۔ (لبقرۃ: 143)
’’یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(572) القصص الحق کا ترجمہ
قَصَص (قاف پر زبر) ہو تو اس کا معنی قصہ گوئی خبر گوئی بھی ہوتا ہے اور خود قصہ یا خبر کے لیے بھی یہ لفظ آتا ہے۔ جب کہ قِصَص (قاف کے نیچے زیر) قصۃ کی جمع ہے یعنی قصے اور خبریں۔
لسان العرب میں وضاحت ہے: والقِصّۃ: الْخَبَرُ وَہُوَ القَصَصُ۔ وَقَصَّ عَلَیَّ خبَرہ یقُصُّہ قَصّاً وقَصَصاً: أَوْرَدَہ۔ والقَصَصُ: الخبرُ المَقْصوص، بِالْفَتْحِ، وُضِعَ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ حَتَّی صَارَ أَغْلَبَ عَلَیْہِ۔ والقِصَص، بِکَسْرِ الْقَافِ: جَمْعُ القِصّۃ الَّتِی تُکْتَبُ۔
درج ذیل آیت میں یا تو ترجمہ ہوگا صحیح قصہ یا صحیح بیان واقعہ۔ جمع کے صیغے میں ’’صحیح واقعات‘‘ ترجمہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ۔ (آل عمران: 62)
’’یہ سب حقیقی واقعات ہیں‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’یہ تمام بیانات صحیح ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’یہ بالکل صحیح واقعات ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
درج بالا تینوں ترجموں میں یہ کم زوری موجود ہے، جب کہ ذیل کے ترجمے مناسب ہیں:
’’بیشک یہی سچا بیان ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’یہی بیشک سچا بیان ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’یہ بالکل صحیح بیان واقعہ ہے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(573) اشتروا الکفر بالإیمان کا ترجمہ
إِنَّ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالْإِیمَانِ۔ (آل عمران: 177)
’’بیشک جنہوں نے ایمان سے کفر کو بدلا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درج بالا ترجمے میں کم زوری ہے۔ یہاں کفر کو ایمان سے بدلنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنے کی بات ہے۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
(574) ببعض ما کسبوا کا ترجمہ
إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا۔ (آل عمران: 155)
’’تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے اُن کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے‘‘۔ (سید مودودی)
درج بالا ترجمے میں کسبوا کا ترجمہ’’ کمزوریوں‘‘ کیا گیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ کم زوری کے لیے کسب کا لفظ نہیں آئے گا۔ درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث‘‘۔ (احمد رضا خان)
(575) سنن کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں سنن کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں:
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ۔ (آل عمران: 137)
’’تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
آخر الذکر ترجمے میں سنن کا ترجمہ ’’دور‘‘ کیا گیا ہے۔ لغت کی رو سے اس کی گنجائش معلوم نہیں ہوتی۔
(576) إصرا کما حملتہ کا ترجمہ:
درج ذیل آیت میں یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ وہ خاص بوجھ جو پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا وہ ہم پر نہ ڈال۔ بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ پہلے کے لوگوں نے تو بوجھ اٹھائے تھے مگر ہمارے اوپر کوئی بوجھ نہ ڈال۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا۔ (البقرۃ: 286)
’’ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے‘‘۔ (سید مودودی)
’’ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
درج بالا ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ کسی خاص بوجھ کو نہ ڈالنے کی دعا کی جارہی ہے۔
’’اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی امتوں پر ڈالا گیا ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
درج بالا تینوں ترجموں میں بھی خاص نوعیت والے بوجھ کا مفہوم نکلتا ہے۔
درج ذیل ترجمہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
’’اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا‘‘۔ (احمد رضا خان)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈال، جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘۔
درج ذیل ترجمے میں اصر کا ترجمہ حکم کیا گیا ہے۔ اصر کی تفسیر میں تو یہ بات کہی جاسکتی ہے لیکن اصر کا ترجمہ حکم کرنا درست نہیں ہے۔
’’ہم پر کوئی سخت حکم نہ بھیجئے جیسے ہم سے پہلے لوگوں پر آپ نے بھیجے تھے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
(577) إلی أجلہ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں إِلَی أَجَلِہِ کا ترجمہ کرنے میں لوگوں کو دشواری پیش آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ إِلَی کا مشہور معنی ’’تک‘‘ ہے لیکن یہاں اس معنی سے بات واضح نہیں ہوتی ہے۔ البتہ إلی معیت کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس جملے میں وہ معنی لینے سے مفہوم بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَکْتُبُوہُ صَغِیرًا أَوْ کَبِیرًا إِلَی أَجَلِہِ۔ (البقرۃ: 282)
’’اور کاہلی نہ کرو اس کے لکھنے سے چھوٹا ہو یا بڑا اس کے وعدے تک‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو ‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری، إِلَی أَجَلِہِ کا ترجمہ چھوٹ گیا۔)
’’اور خبردار لکھا پڑھی سے ناگواری کا اظہار نہ کرنا چاہے قرض چھوٹا ہو یا بڑا مّدت معین ہونی چاہیے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا جس کی میعاد مقرر ہے۔ اس کے لکھنے میں سہل انگیزی نہ کرو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
موخر الذکر تینوں ترجموں میں إِلَی أَجَلِہِ کا ترجمہ اصل الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔ ’’مدت متعین ہونی چاہیے یا ’’مدت مقرر ہے‘‘، الفاظ سے آزاد ترجمہ ہے۔
إِلَی أَجَلِہِ کا درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہل نہ کرو‘‘۔ (سید مودودی)
یعنی قرض چھوٹا ہو یا بڑا، اسے اس کی طے شدہ مدت ادائیگی کے ساتھ لکھو، تاکہ بعد میں کوئی نزاع پیدا نہ ہو۔ قرض کے نظام کو منضبط کرنے کے لیے یہ بہت اہم ہدایت ہے۔ امت میں اس قرآنی حکم کے سلسلے میں بھی عام تساہل اور لاپرواہی نظر آتی ہے۔
(578) سنۃ ولا نوم کا ترجمہ
سِنَۃٌ کا ترجمہ اونگھ اور نَوْمٌ کا ترجمہ نیند ہے۔ ترجمے کو اسی ترتیب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لیکن بعض مترجمین سے تسامح ہوا اور ترتیب الٹ گئی۔ نیچے درج ترجمے دیکھیں:
لَا تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ۔ (البقرۃ: 255)
’’وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اُونگھ‘‘۔ (ذیشان جوادی)
درج ذیل ترتیب درست ہے:
’’اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند‘‘۔ (احمد رضا خان)
باجماعت نماز، قرآن و سنت کی روشنی میں
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام ایک جامع دین ہے، جو نہ صرف انسان کی انفرادی اصلاح کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے بھی بہترین اصول وضع کرتا ہے۔ اس میں عبادات کو نہ صرف انفرادی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا گیا بلکہ انہیں اجتماعی طور پر ادا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ نماز، جو دین کا ستون ہے، اگر باجماعت ادا کی جائے تو اس کے روحانی، اجتماعی اور اخلاقی اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
باجماعت نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ صرف فرض نمازوں کی بہترین ادائیگی قرار دیا بلکہ اس کے ذریعے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کی بھی خوش خبری دی۔ احادیثِ مبارکہ میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ باجماعت نماز میں شریک ہونے والے شخص کے پچھلے گناہوں کی بخشش کی جاتی ہے اور اس کا مقام اللہ کے نزدیک بلند کر دیا جاتا ہے۔ یہ عبادت نہ صرف گناہوں کا کفارہ بنتی ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد، محبت اور بھائی چارے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
با جماعت نماز کی اہمیت
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے اور سینکڑوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور پابندی کے ساتھ نمازِ باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ نماز میں کوتاہی اور سستی کرنے والوں کو منافقین کی صف میں شمار کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالی کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۲۳۸)
دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘ (سورۃ البقرۃ: ۴۳)
یہ آیات نمازِ باجماعت ادا کرنے کی فرضیت پر واضح اور صریح دلائل ہیں۔ اگر مقصود صرف نماز قائم کرنا ہی ہوتا تو آیت کے آخر میں ’’اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘ کے الفاظ نہ ہوتے، جو نمازِ باجماعت ادا کرنے کی فرضیت پر واضح نص ہیں۔
میدانِ جنگ میں با جماعت نماز
اللہ تعالیٰ نے میدانِ جنگ میں بھی نمازِ باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حالتِ امن میں بالاولیٰ نمازِ باجماعت فرض ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لئے کھڑی ہو پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آجائے اور تمہارے ساتھ نماز ادا کرے اور اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔‘‘ (سورۃ النساء: ۱۰۲)
اگر کسی کو نمازِ باجماعت نہ ادا کرنے کی اجازت ہوتی تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو اجازت دیتے جو میدانِ جنگ میں دشمن کے سامنے صفیں بنائے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ (بخاری: ۲۴۲۰، مسلم: ۶۵۱)
نابینا شخص اور با جماعت نماز
نابینا شخص کے لیے بھی جماعت سے غیر حاضری کی اجازت نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ’’اللہ کے رسول! (صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں)؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا تم حی علی الصلاۃ، اور حی علی الفلاح کی آواز سنتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’جی ہاں، (سنتا ہوں)‘‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر تو مسجد آ‘‘۔ اور آپؐ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ (صححہ الالبانی فی صحیح النسائی: ۸۵۰)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ہم نے ایسے وقت بھی دیکھے ہیں جب صرف وہی شخص نماز سے پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہوتا یا بیمار ہو۔ اور (بسا اوقات) بیمار بھی دو آدمیوں کے سہارے سے چل کر آ جاتا یہاں تک کہ نماز میں شامل ہو جاتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۴۸۷)
لہٰذا کسی مسلمان کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ نماز جیسے عظیم الشان اور اہم ترین فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی یا سستی کرے۔
نمازِ با جماعت گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سے انسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لئے اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے ذرائع اور اسباب اختیار کرنا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اصل محروم تو وہی ہے جو ایمان اور اللہ کی مغفرت و رحمت سے محروم رہ گیا۔ اور جو گناہوں کی مغفرت اور برائیوں کے کفارے کے اسباب اپنانے سے محروم رہا وہ بھی محروم ہے۔
درج ذیل سطور میں با جماعت نماز اور گناہوں کی مغفرت کے عنوان پر چند احادیث پیش کی جا رہی ہیں تاکہ مسلمانوں کو باجماعت نماز ادا کرنے میں رغبت و دلچسپی ہو اور باجماعت نماز میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ ہو۔
(۱) وضو اور نماز کی تیاری
وضو کر کے نماز کی تیاری کرنے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا، تو اس کے جسم سے اس کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم : ۵۷۸)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:
’’جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷)
(۲) با جماعت نماز کا اہتمام کرنا
جماعت کے ساتھ نماز کی پابندی کرنے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں حد (سزا) کا مرتکب ہوگیا ہوں، مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا بھلا تو نے آتے وقت وضو کیا تھا؟‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں!’’ آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تو نے ہمارے ساتھ مل کر نماز پڑھی ہے؟’’ اس نے کہا: ’’جی ہاں!’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جاؤ اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۷۶۵)
(۳) با جماعت نماز کی نیت بھی باعثِ ثواب
باجماعت نماز کی نیت بھی باعثِ ثواب ہے۔ یعنی کوئی شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی نیت کے ساتھ مسجد آیا لیکن پھر بھی جماعت نہ مل سکی تو اس کی نیت اور کوشش کی وجہ سے اسے جماعت کے ساتھ نماز کا ثواب ملے گا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔‘‘ (صححہ الالبانی فی صحیح النسائی: ۸۵۴)
(۴) خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا
نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی بھی مسلمان فرض نماز کا وقت پائے پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، تو وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ عمل ہمیشہ کے لیے ہے۔’’ (صحیح مسلم: ۲۲۸)
(۵) با جماعت نماز کے لئے چل کر جانا
با جماعت نماز کے لیے چل کر جانے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۳۲)
(۶) مسجد سے واپسی بھی کارِ ثواب
جس طرح با جماعت نماز کے لئے مسجد کی طرف چل کر جانا باعثِ مغفرت و کارِ ثواب ہے اسی طرح مسجد سے واپسی بھی باعثِ مغفرت اور کارِ ثواب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جو شخص جماعت کی نماز کے لیے مسجد جاتا ہے، اس کا ایک قدم اس کا گناہ مٹاتا ہے اور دوسرا قدم اس کے لیے نیکی لکھتا ہے، یہ اجر مسجد جاتے اور مسجد سے واپس آتے دونوں وقت حاصل ہوتا ہے۔ (حسنہ الالبانی فی صحیح الترغیب: ۲۹۹)
یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وسعت کا نتیجہ ہے، اگرچہ اس (شخص) نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی لیکن چونکہ وہ شخص جماعت کے ساتھ نماز کی نیت سے چل کر مسجد آیا تھا تو اس کے لیے جماعت کے برابر اجر ملے گا۔ ایک مسلمان نمازی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے۔ (بخاری: ۴۷۷، مسلم: ۶۴۹)
(۷) مسجد میں با جماعت نماز کا انتظار
مسجد میں با جماعت نماز کے لئے انتظار کرنے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ کیونکہ زیادہ دیر بیٹھنے اور انتظار کے دوران فرشتے انتظار کرنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر کے اندر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور اس کے آداب کا لحاظ رکھے پھر مسجد میں صرف نماز کی غرض سے آئے تو اس کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ ایک درجہ اس کا بلند کرتا ہے اور ایک گناہ اس سے معاف کرتا ہے۔ اس طرح وہ مسجد کے اندر آئے گا، مسجد میں آنے کے بعد جب تک نماز کے انتظار میں رہے گا اسے نماز ہی کی حالت میں شمار کیا جائے گا۔ اور جب تک اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمتِ خداوندی کی دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر۔ (فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں) جب تک وہ بے وضو نہ ہو جائے۔‘‘ (بخاری: ۶۵۱، مسلم: ۶۶۲)
اجر و ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا انسان
با جماعت نماز ادا کرنے والا اجر و ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا انسان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ شخص ہوتا ہے جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے۔ اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے۔‘‘ (بخاری: ۶۵۱، مسلم: ۶۶۲)
(۸) امام کے پیچھے آمین کہنا
نمازِ جہری میں امام کے پیچھے آمین کہنے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب امام ’’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘ کہے تو تم ’’آمین‘‘ کہو کیونکہ جس کا آمین کہنا ملائکہ کے آمین کہنے کے ساتھ ہو جائے اس کی تمام پچھلی خطائیں معاف ہو جاتی ہیں۔‘‘ (الترغیب والترہیب، کتاب الصلوٰۃ، ج: ۱، ص: ۱۳۰)
(۹) رکوع سے اٹھنے کے بعد اللہم ربنا لک الحمد کہنا
رکوع سے اٹھنے کے بعد امام کے ساتھ ذکر میں شریک ہونے کی وجہ سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو تم ’’اللہم ربنا ولک الحمد‘‘ کہو۔ کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہوگا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ (صححہ الالبانی فی صحیح الترمذی: ۲۶۷)
(۱۰) نماز میں پہلی اور دوسری صف میں کھڑا ہونا
نمازِ با جماعت میں پہلی اور دوسری صف میں کھڑے ہونے سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے پہلی صف والوں کے لیے تین بار اور دوسری صف والوں کے لیے ایک بار مغفرت طلب کرتے تھے۔‘‘ (صححہ الالبانی فی صحیح ابن ماجہ: ۸۲۲)
جب ایک مومن مسلمان کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بخشش طلب کریں تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور بخش دیتے ہیں۔ لہٰذا پہلی صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو دوسری صف میں کھڑا ہو کر بخشش کا مستحق بننا چاہئے کیونکہ پہلی صف کی فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔‘‘ (صححہ الالبانی فی صحیح ابن ماجہ: ۹۹۷)
(۱۱) تشہد میں مغفرت طلب کرنا
تشہد میں دعائے مغفرت مانگنے سے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک شخص (کو دیکھ کر) جس کی نماز ختم ہونے کے قریب تھی اور وہ تشہد میں یہ دعا کر رہا تھا:
’’اے اللہ! بے شک میں آپ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! تو ایک ہے، تو بے نیاز ہے، تو وہ ذات ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ ہی وہ جنا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ (یہ کہ) تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، بے شک تو بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘
محجن بن ادرع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:
’’اس کو بخش دیا گیا، اس کو بخش دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا۔‘‘ (صححہ الالبانی فی صحیح النسائی: ۱۳۰۰)
قارئین کرام! درج بالا احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو مسلمان اپنے گھر میں اکیلا نماز پڑھتا ہے، اس نے جماعت چھوڑ کر کس عظیم فضیلت سے خود کو محروم کر دیا ہے۔ اور نمازِ باجماعت کے ذریعے جو گناہوں کی مغفرت نصیب ہوتی ہے، اس سے وہ کس قدر دور ہے۔ وہ یہ بھی سوچے کہ یہ عبادت روزانہ پانچ مرتبہ دہرائی جاتی ہے۔ ہر نماز میں ان فضائل کا سلسلہ جاری رہتا ہے، کیونکہ وہ پانچ بار مسجد جاتا ہے اور سترہ رکعات پڑھتا ہے۔ تو ہفتے، مہینے اور سال میں کتنی رکعات بن جائیں گی؟ ہر رکعت میں امام کے ساتھ سورۃ الفاتحہ اور رکوع کے بعد ذکر میں شامل ہو کر اس کے لیے مغفرت کا ایک نادر موقع موجود ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فرشتوں کی دعاؤں کا بھی مستحق بن سکتا ہے اور اس طرح اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ مسلسل ایسی حالت میں رہے تو ممکن ہے کہ جب وہ اللہ سے ملے تو گناہوں سے پاک ہو۔
اس طرح مسلمان کے لیے مؤذن کے الفاظ ’’حی علی الفلاح‘‘ (آؤ کامیابی کی طرف) کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان کا بھی مطلب سمجھ آتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بھلا بتاؤ تو سہی، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہؓ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑی بھی میل نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (بخاری: ۵۲۸، مسلم: ۶۶۷)
بہت افسوس کی بات ہے کہ آج کل بہت سے مسلمان جماعت کی نماز سے غافل رہتے ہیں اور اس عظیم اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ درحقیقت بغیر کسی عذر کے جماعت کی نماز چھوڑنا ایک گناہ ہے۔ بغیر عذرِ شرعی باجماعت نماز نہ پڑھنے کو منافقت کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’جس گاؤں یا بستی میں تین آدمی ہوں اور جماعت نہ قائم کریں تو شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا جماعت کو ضروری سمجھو کیونکہ بھیڑیا بچھڑی ہوئی بکری کو کھاتا ہے۔‘‘ (حسنہ الالبانی فی صحیح ابی داؤد: ۵۴۱)
قارئین کرام! احادیثِ مبارکہ سے نمازِ باجماعت کی اہمیت اور فوائد معلوم ہوگئے، لہٰذا ہمیں با جماعت نماز سے غائب اور پیچھے رہنے سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ مساجد میں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں اور جن لوگوں کی ذمہ داری ہم پر ہے، ان کی بھی اس بارے میں تربیت کرنی چاہیے، کیونکہ ہم ان کے بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔
نیز اللہ پاک کا پیارا بننے کے لئے، درجات کی بلندی کو پانے کے لئے، جنت میں داخلے کے لئے، جہنم سے آزادی کے لئے، منافقت سے نجات پانے کے لئے، شیطان سے حفاظت کے لئے، اور اسی طرح اللہ پاک کی رحمت، مغفرت اور بہت سے فوائد حاصل کرنے کے لئے، نمازِ باجماعت کی پابندی کیجئے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دے کر باجماعت نماز پڑھنے کی ترغیب دلایئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو نمازِ باجماعت کا پابند بنائے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

تمہید
علامہ شوق نیموی عالم اسلام کے معروف عالم دین ہیں، ان کی کتاب آثار السنن فقہ حنفی کا مستند مرجع ہے، وہ عظیم آباد کے دبستان علم و ادب کے باکمال اور قابل فخر فرزند اور ہندوستان کے سرمایۂ ناز محقق ہیں۔ ایک زمانہ تک ان کی شخصیت پر گمنامی کا پردہ پڑا رہا، اگرچہ اس دوران ان پر ایک اہم کام سامنے آیا لیکن اس کے علاوہ ان کے علمی کاموں کی طرف وہ توجہ نہ ہو سکی جس کے وہ مستحق ہیں، لیکن اب ان کے علمی و ادبی دونوں پہلوؤں پر اہل علم متوجہ ہوئے ہیں، ایک طرف پٹنہ میں ان کی ادبی خدمات پر کئی کاوشیں منظر عام پر آئی ہیں، وہیں ملکی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی طرف توجہ ہوئی ہے، ان کی کتاب آثار السنن عالم عربی میں اہتمام سے شائع ہوئی ہے، پاکستان میں اس کی کئی شرحیں لکھی گئیں، ایران میں اس کا فارسی ترجمہ ہوا۔ ان کے تمام رسائل کا مجموعہ بھی پاکستان سے شائع ہوا ہے۔
مآخذ سوانح
علامہ شوق نے اپنی خود نوشت سوانح خود اپنے اہل وطن کے تذکرہ کے ضمن میں اپنی کتاب یادگارِ وطن میں تفصیل سے لکھی ہے، لیکن اس سے بھی قبل ان کے ایک شاگرد جناب بشیر صاحب ساکن پکاکوٹ ضلع بلیا [یوپی، انڈیا] نے ان کے حالات پر تذکرۃ الشوق کے نام سے ایک مختصر رسالہ لکھا تھا جس میں ان کے ابتدائی حالات اور شاعری کا اجمالی تذکرہ ہے، اس کا ذکر خود حضرت شوق نے اپنے شاگردوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب بشیر کے حال میں کیا ہے، ان کے نام پر حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’رسالہ تذکرۃ الشوق جو سرمۂ تحقیق کے ساتھ چھپا ہے انہیں کی تالیفات سے ہے‘‘۔1
یہ کتاب سرمۂ تحقیق کے حاشیہ پر شائع ہوئی ہے۔2 جس کا سرورق یہ ہے:
’’تذکرۃ الشوق موسوم بہ اسم تاریخی ظہیر المحاسن، ۱۳۰۵ھ، رقم زدہ کلک فصاحت سلک جناب منشی محمد بشیر صاحب ساکن پکا کوٹ ضلع بلیا‘‘۔
کتاب کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ … حقیر فقیر محمد بشیر پکا کوٹی شاگرد فاضل جلیل عالم نبیل، شاعر نازک خیال، محقق بے مثال، لوذعی والمعی جناب مولانا ظہیر احسن صاحب شوق نیموی دامت برکاتہم جناب ممدوح کا کچھ حال قلمبند کرتا ہے، کہ لوگوں کو بخوبی آپ کے حالات سے اطلاع ہو جائے، اور آئندہ تذکرہ لکھنے والوں کو آسانی ہو … آپ کے پدر بزرگوار جناب شیخ سبحان علی صاحب ادخلہ اللہ فرادیس الجنان وافاض علیہ شآبیب الرحمۃ والغفران نیمی پرگنہ غیاث پور متعلقہ تھانہ فتوحہ ضلع عظیم آباد کے رہنے والے صدیقی النسب وسنی المذہب تھے، ۱۲۹۱ھ ہجری ۲۶ ماہ ذی الحجہ روز پنچ شنبہ قریب غروب آفتاب اس جہان فانی سے رحلت فرما ہوئے‘‘۔
اس کے بعد حضرت شوق کی ولادت اور تعلیم کا ذکر ہے، اور تقریباً وہی باتیں ہیں جو خود حضرت شوق نے اپنی خود نوشت میں لکھی ہیں، اور ان کی تصانیف پر جو تقریظات لکھی ہیں ان سب کا تذکرہ ہے، اور اخیر میں ان کے چند اشعار اور ان کی مختصر تشریح ہے، یہ چند ورقی رسالہ آج کل کے مضمون کی طرح ہے۔
اس کے بعد حضرت شوق نے خود اپنے مفصل حالات لکھے جو ان کی کتاب یادگار وطن میں شامل ہے۔ اور الفبائی ترتیب کے مطابق لفظ ظ کے ذیل میں ہے۔ بعد میں ان کے فرزند مولانا عبد الرشید فوقانی نیموی نے مختلف رسائل و مجلات میں ان پر مضمون لکھا، اور تذکار الشوق اور القول الحسن فی الرد علی ابکار المنن میں بھی ان کے حالات لکھے، تذکار الشوق3 میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ بشیر صاحب کی کتاب پر استدراک ہے، بعد میں اسی کو انہوں نے مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری کی تنقیدی کتاب ابکار المنن فی تنقید آثار السنن کے جواب میں لکھی ہوئی اپنی کتاب القول الحسن فی الرد علی ابکار المنن کے اخیر میں شائع کر دیا۔ اس کتاب کا قلمی نسخہ کتب خدا بخش میں خود مصنف کی تحریر میں موجود ہے، جو شاید مسودہ کتاب ہے، دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ مباحث تو القول الحسن کے اخیر میں شائع ہوئے تھے لیکن مزید مباحث اس میں رہ گئے تھے۔ میرے خیال میں یہ کتاب الگ سے شائع نہیں ہوئی ہے، البتہ اس کا خلاصہ مختلف اخبار و رسائل ہفتہ وار نقیب، پھلواری شریف اور پندرہ روزہ ہماری آواز، علی گڑھ میں شائع ہو چکا ہے۔ علامہ نیموی کے سوانح نگار مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمٰن عظیم آبادی (ت ۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ) نے اپنی سوانح میں جابجا اسی مضمون کا حوالہ دیا ہے۔
یہ مذکورہ بالا کتابیں ان کی سوانح کے اصل مآخذ ہیں، کچھ جزوی اطلاعات عظیم آباد کے دیگر تذکروں میں بھی ملتی ہیں، جن سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمٰن نے اپنی کتاب علامہ شوق نیموی حیات و خدمات لکھی، اور لوگوں نے دیگر کتابوں میں ان کے حالات پیش کئے۔
وطن و خاندان
مضافات عظیم آباد کا ایک قریہ نیمی (ضلع پٹنہ تحصیل دنیاواں) حضرت شوق کا آبائی وطن ہے، ان کا تعلق یہاں کے صدیقی النسب خانوادہ سے تھا، جس کی تفصیل اور شجرۂ نسب ان کی سوانح میں موجود ہے۔4
حضرت نیموی نے اپنے صدیقی النسب ہونے کی ایک شہادت بھی اپنے سفرنامۂ بنگال میں ذکر کی ہے، لکھتے ہیں:
’’یہ بات مشہور چلی آتی ہے کہ شیوخ صدیقی بعد غاری کے خاندان میں چند پشت کے بعد کسی شخص کے دہنے پاؤں کے انگوٹھے میں سیاہ تل ضرور ہوتا ہے، اور اس سانپ کے کاٹنے کا داغ نمایاں ہو جاتا ہے، راقم الحروف بھی اسی خاندان سے ہے، حسنِ اتفاق سے فقیر کے داہنے پاؤں کے انگوٹھے میں ایک سیاہ تل داغ نما موجود ہے، مگر چوں کہ یہ کوئی کتابی بات نہیں لہٰذا یہ امر چنداں قابل اعتبار ولائق وثوق نہیں، اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوسرے خاندان والے کے انگوٹھے میں بھی حسنِ اتفاق سے تل کا وجود ہو‘‘۔5
انہیں کے ہم نسب (و غالباً ہم جد بھی) مشہور محدث علامہ شمس الحق عظیم آبادی بھی علامہ نیموی کے قریب الوطن ہیں، اور دونوں ایک ہی وقت میں اپنے اپنے وطن میں اہل حدیث اور حنفی نقطۂ نظر کے مطابق علمِ حدیث کی خدمت میں مشغول تھے۔ حضرت شوق مسلک اہلِ حدیث کے سلسلہ میں سختی و شدت کے باوجود علامہ شمس الحق عظیم آبادی سے احترام و محبت کا تعلق رکھتے تھے، ایک جگہ انہوں نے یادگار وطن میں برادری کی بستیوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ڈیانواں، جو نیمی سے دکھن مائل بغرب تین کوس کے فاصلے پر ہے، یہاں جناب مولوی گوہر علی مرحوم ایک نامی رئیس گذرے ہیں، جن کی جود و سخاوت کا ڈنکا بجتا ہے، اھل الخیرات (۱۲۷۸ھ) تاریخ وفات ہے، ان کے صاحبزادے جناب مولوی محمد احسن مرحوم بھی اپنے پدر بزرگوار کے ہم قدم تھے، ان کے نواسے جناب مولوی شمس الحق صاحب بھی اسی بستی میں رہتے ہیں، جن کی تالیفات سے دینیات میں بعض رسائل چھپ کر شائع ہوچکے ہیں، حال میں ان کی التعلیق المغنی علی الدارقطنی بھی چھپی ہے، آج کل ابوداود کی شرح غایت المقصود نام لکھ رہے ہیں‘‘۔6
حضرت شوق کے والدین کا ذکر خود ان کی تحریر میں ملتا ہے، ان کے شاگرد منشی بشیر نے بھی ان کا ذکر کیا ہے جو اوپر گذر چکا ہے، نیز اپنے حالات کے آغاز میں بھی اپنے والد کا ذکر کیا ہے، اور حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق حرف سین کے ذیل میں بھی ان کے حالات لکھے ہیں، جو حسبِ ذیل ہیں۔
’’حضرت والدی جناب شیخ سبحان علی صدیقی مرحوم
۱۲۲۱ھ میں نیمی میں پیدا ہوئے، صاف ضمیر تاریخ ولادت ہے، جب جوان ہوئے، جناب مولانا مولوی محمد فصیح غازی پوری مرحوم کے ہاتھ پر بیعت کی، کتابوں سے اس قدر شوق تھا کہ کچھ تو خود لکھیں اور اکثر دوسرے سے لکھوائیں، شاہنامہ فردوسی جلد سوم، دیوان حافظ، قصہ حاتم طائی اردو، دیوان جوشش وغیرہ کتابیں ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئیں [کذا] اب تک میرے کتب خانہ میں یادگار ہیں۔ جناب مولانا مولوی محمد ابراہیم نگرنہسوی مرحوم سے ان کو نہایت ہی ربط و اتحاد تھا، جناب مولانا موصوف دل سے ان کو مانتے تھے، اور نہایت قدر کے ساتھ پیش آتے تھے، چونکہ اکثر علماء کی صحبت بابرکت اٹھائی تھی، علم و فضل کی فضیلت اس قدر دل پر نقش تھی کہ ہمیشہ ان کی یہی آرزو رہی کہ میرے فرزندوں میں سے کوئی عالم ہوتا، جناب مرحوم کے دو محل تھے، محل اول سے اخی مولوی حکیم محمد نذیر احسن صاحب اور منشی ظہور احسن صاحب اور دوسرے محل سے دو لڑکیاں اور میں اور میرے چھوٹے بھائی محمد فرید حسن پیدا ہوئے، جناب والد مرحوم نے اپنے بڑے بیٹے جناب مولوی محمد نذیر احسن صاحب کی تعلیم میں بہت کوشش کی، قریب فضیلت کے پہنچ چکے تھے کہ بھائی صاحب دنیا کے بکھیڑوں میں پھنس گئے، پھر جناب مرحوم نے میری تعلیم میں کوشش کی، اللہ کی عنایت سے بہت جلد فارسی کی ضروری کتابیں پڑھ کے عربی پڑھنے لگا، میرے انداز کو دیکھ کر ہونہار سمجھ کے نہایت خوش ہوئے، ۱۲۹۶ھ میں یکایک مرض لقوہ میں مبتلا ہوئے، لاکھ علاج کیا گیا کچھ سود مند نہ ہوا، دو ایک روز بیمار رہے، آخر ذی الحجہ کی چھبیسویں تاریخ پنج شنبہ کے دن قبل مغرب رحلت فرمائی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور شب جمعہ کو ملک الاولیا حضرت بخش شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی بغل میں پچھم جانب میری والدہ مرحومہ کی قبر کے سرھانے مدفون کئے گئے۔ جناب مرحوم پچھتر (۷۵) برس اس عالم فانی میں رہے، غسل کے وقت روشن چہرہ، ہنستی پیشانی نظر آتے تھے، بعد وفات جناب مرحوم طرح طرح کے الجھاؤ ہوئے جو مانع تحصیل علوم تھے، مگر میں ان کی دلی آرزو کو خیال کر کے ہمہ تن تکمیل علوم میں مشغول رہا ۔جب اللہ تعالی جل شانہ کی عنایات سے ۱۳۰۴ھ میں کل علوم عربیہ درسیہ سے فارغ التحصیل ہو کر میں لکھنؤ سے مع الخیر نیمی پہنچا تو اسی ہفتے میں جناب مرحوم کو خواب میں دیکھا کہ نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے حج کر کے تشریف لاتے ہیں، اور بے شمار کتابیں ان کے ساتھ ہیں، جب میں ملا تو ارشاد فرمایا کہ یہ کتابیں عرب سے تمہارے لئے لایا ہوں، اور ایک تفسیر عربی میرے ہاتھ میں دی جس کو میں پڑھنے لگا، اتنے میں آنکھیں کھل گئیں، اس خواب سے دل نہایت خوش ہوا کیوں کہ سفید کپڑے پہنے موتیٰ کا خواب میں نظر آنا، اس کے بہشتی ہونے کی علامت ہے‘‘۔7
تفسیر کی کتاب دینے کی تعبیر علامہ نیموی یہ کرتے ہیں کہ
’’والد مرحوم نے جو خواب میں تفسیر عنایت فرمائی اس کی تعبیر بھی ظاہر ہو گئی کہ ایک مدت سے مؤلف علاوہ اور علوم کے طلبہ کو روزانہ تفسیر کا بھی ایک سبق پڑھاتا ہے، اور جمعہ و وعظ کے خیال سے مختلف تفسیریں دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے، بیشک وہ خواب رویائے صالحہ سے تھا‘‘۔8
آگے انہوں نے والدین کے نام حسن سلوک اور والدہ کے خواب میں دیکھنے کا ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’جب جناب والد مرحوم نے انتقال فرمایا ہے، بفحوائے حدیث ولد صالح یدعو لہ راقم الحروف اکثر اوقات بعد نماز اپنے آباواجداد کے واسطے خصوصاً جناب مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتا ہے، اور کبھی کبھی ان کے لئے صدقات و خیرات بھی دیا کرتا ہے۔ مجھ کو ایک دفعہ عجب تشویش ہوئی کہ والد مرحوم کو تو کبھی کبھی خواب میں دیکھتا ہوں مگر والدہ مرحومہ کی زیارت سے کبھی خواب میں مشرف نہ ہوا، چنانچہ ۲۷ جمادی الآخرہ روز پنچ شنبہ کو ۱۳۰۶ھ میں نہایت خلوص سے کچھ زر نقد فقرا کو دیا، اور اس کا ثواب جناب مرحومہ کو بخشا اور بارگاہ الہی میں زیارت کے لئے دعا کی، اس کی شان کریمی کے صدقے کہ اس کے دوسرے روز قبل نماز جمعہ عالم رویا میں جناب مرحومہ کو اہل جنت کی عمر میں سونے کے زیورات اور نہایت عمدہ کپڑے پہنے ہوئے رونق افروز پایا، بعد بیداری شکر خدا بجا لایا، اور نہایت ہی خوش ہوا، فالحمد للہ علی ذلک‘‘۔9
آگے پھر والد کے متعلق فرماتے ہیں:
’’بہر کیف حضرت والد مرحوم گندمی رنگ، چھریرا بدن، کچھ دراز قد تھے، ماتھے پر سجدے کا داغ چمکتا تھا‘‘۔10
اپنے ذکر میں بھی والد اور والدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’خدا بخشے میرے والد ماجد کا نام شیخ سبحان علی تھا، وہ مرحوم جناب شیخ دھومن مغفور بن شیخ فتح علی بن شیخ محمد وزیر بن شیخ محمد ولی بن شیخ غلام بدر بن شیخ عبد الہادی زاہدی مرحوم ومغفور صدیقی غفر اللہ لہم کے بیٹے تھے۔ اور میری والدہ مرحومہ کا نام، خدا بخشے، بی بی مصرن تھا، اور ان کے پدر بزرگوار کا نام شیخ روشن علی تھا، وہ موضع بایزید پور علاقہ باڑھ کے رہنے والے تھے، جناب شیخ حسن علی ابن شیخ جعفر علی مرحوم کے بیٹے تھے‘‘۔11
الغرض حضرت نیموی نے ایسے گھرانہ میں نشوونما پائی جو آسودہ حال اور فارغ البال ہونے کے ساتھ علم و تعلیم سے بخوبی آشنا تھا، اور مذہبی قدروں کا حامل تھا، حضرت نیموی نے اپنے دادا شیخ دھومن علی کا بھی ذکر کیا ہے لیکن ان کے بارے میں کوئی ایسا جملہ نہیں لکھا ہے جس سے ان کی علمی لیاقت کا علم ہو، البتہ اپنے والد اور تین چچا کی علمی حیثیت پر کسی قدر روشنی ڈالی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ماحول علم آشنا تھا، یہ الگ بات ہے کہ خاندان میں عربی تعلیم جو اس وقت اعلیٰ تعلیم تھی اس کا سراغ نہیں ملتا، فارسی کی تعلیم جسے دور حاضر کے گریجویشن کے مساوی تسلیم کیا جا سکتا ہے ان کے گھر میں پوری طرح موجود تھی۔ ان کی درج کردہ تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے والد خود بھی فارسی اور اردو شعر وادب کا ذوق رکھتے تھے، اور علماء سے بھی تعلق تھا۔
نام
علامہ شوق نیموی کا اصل نام ظہیر احسن ہے، اسی وزن پر ان کے بھائی کا نام نذیر احسن ہے، اور شوق تخلص ہے، اور وہ اپنے نام کے بجائے عام دنیا میں تخلص ہی سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے جب آثار السنن لکھی تو اپنے ہندوستان نام کے بجائے عربی نام لکھا ہے یعنی محمد ظہیر احسن سے صرف محمد اور والد کے نام سبحان علی سے صرف علی اخذ کر کے عربوں کے ذوق کے مطابق محمد بن علی النیموی لکھا، جس سے کچھ لوگوں سمجھ نہیں پاتے اور نام کے اختلاف کی وجہ سے دو الگ الگ شخصیت سمجھتے ہیں، یہی طریقہ ان کے معاصر اور استاد بھائی شیخ محسن بن یحییٰ ترہٹی مصنف الیانع الجنی نے بھی اختیار کیا، جن کا اصل نام محمد محسن بن غلام یحییٰ تھا، لیکن انہوں نے اپنی کتاب میں اپنا نام محمد المدعو بمحسن بن یحیٰی لکھا۔ حضرت نیموی نے جابجا اپنے نام کے ساتھ اپنی کنیت ابوالخیر بھی لکھی ہے، گرچہ ان کی اولادوں میں خیر کسی کا نام نہیں تھا۔
ولادت
حضرت شوق کے شاگرد منشی بشیر کے بقول:
’’مولانا شوق ۱۲۷۸ہجری میں ماہ جمادی الاولیٰ کی چوتھی تاریخ بدھ کے دن بوقت چاشت پیدا ہوئے، ظہیر الاسلام مادہ تاریخ ہے‘‘۔12
یہ ان کی ابتدائی سوانح عمری کے الفاظ ہیں جو ان کی خو نوشت سے پہلے لکھی گئی ہے، بعد میں انہوں نے جب اپنی خود نوشت لکھی تو اس میں تفصیل سے اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا:
’’راقم الحروف ۱۲۷۸ھ میں جمادی الاولیٰ کی چوتھی تاریخ بدھ کے روز کچھ دن چڑھے صالح پور میں اپنی خالہ کے گھر پیدا ہوا، محمد ظہیر احسن نام رکھا گیا، ابوالخیر کنیت اور ظہیر الاسلام مادہ تاریخ ہے‘‘۔13
تعلیم
حضرت شوق نے لکھا ہے کہ
’’جب میں پانچ چھ برس کا ہوا تو بسم اللہ ہوئی، اور مکتب میں بیٹھا، فارسی کی دو چار کتابیں پڑھ کے عربی بھی شروع کی، مختلف حضرات سے تعلیم ہوئی‘‘۔14
یہ مختلف حضرات کون تھے اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا، نہ ان کے سوانح نگار کے یہاں نہ ان کے فرزند کی تحریر میں ملتا ہے، اس وقت ان کے وطن میں ایسے علماء کا سراغ تو نہیں ملتا البتہ ان کے قرب و جوار کی بستیوں میں کئی بستیاں اہلِ علم سے آباد تھیں، جن میں مشہور بستی نگرنہسہ کا نام سب سے نمایاں ہے، ممکن ہے انہوں نے وہیں تعلیم حاصل کی ہو، علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے بھی وہاں تعلیم حاصل کی تھی۔
گلستان کی تعلیم کے وقت سے ہی وہ اشعار موزوں کرنے لگے تھے، اور بیت بازی میں شریک ہوتے تھے، جس سے اس دور کے شعری و ادبی ذوق و رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے بقول:
’’جب عربی کی پانچ چھ کتابیں نکل گئیں تو شوقِ دل نے ابھارا کہ دیہات میں کب تک رہو گے، ذرا قدم باہر نکالو، اور شہر کی ہوا کھاؤ، پھر دیکھو تم کو تمہاری محنت کہاں سے کہاں پہنچاتی ہے، پہلے میں عظیم آباد پہنچا، اور استاد الفضلاء حضرت شمس العلما جناب مولانا محمد سعید حسرت نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا، بعض کتابیں ان سے اور بعض اور حضرات سے پڑھیں‘‘۔15
بعض اور حضرات کون تھے، صاحب سوانح نے ان کا نام نہیں لیا ہے، ممکن ہے اس دور کے مشہور مدرس ملا کمال عظیم آبادی بھی اس میں شامل ہوں لیکن جب تک صراحت نہ ملے کوئی قطعی بات کہنا ناممکن ہے۔
البتہ علامہ سعید حسرت عظیم آبادی کے بارے میں کئی پہلو قابلِ ذکر ہیں، وہ خود ایک باکمال استاد تھے، علومِ اسلامیہ اور نقد و ادب و شعر سب میں کامل دستگاہ رکھتے تھے، عظیم آباد کی علمی رونق ایک مدت تک ان کے دم سے قائم اور یہاں کی گلیاں ایک عرصہ تک ان کے ہنگامہائے تدریس سے پرشور رہیں، تشنگانِ علم کھنچ کھنچ کر ان کی خدمت میں آتے اور ان سے سیراب ہوتے رہے، وہ جامع الفنون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال مدرس، کامیاب استاد اور مردم ساز شخصیت کے مالک تھے، انہوں نے تصنیف کتب سے زیادہ تصنیف رجال پر توجہ دی ہزاروں نوجوانوں نے ان سے فیض پایا، اور دسیوں باکمال ان کی درس گاہ سے اٹھے۔
علامہ شوق نیموی نے اگرچہ ان کے بارے میں بہت زیادہ نہیں لکھا ہے، صرف ان کی حوصلہ افزائی کا ایک مکتوب نقل کیا ہے جس سے ان کی علمی قدردانی اور اپنے تلامذہ کی حوصلہ افزائی کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ حضرت شوق نیموی نے متوسطات تک کے علوم انہیں سے پڑھے ہوں گے اور اس کمال پختگی سے کہ اس کے بعد اونچی کتابوں کا سرسری مطالعہ یا کسی بڑے استاد کے سامنے ایک بار پڑھ لینا بھی کافی ہوتا ہے۔ اس صوبہ کے ایک دوسرے نامور محدث شیخ محسن بن یحییٰ خضر چکی ترہٹی مونگیری بھی انہیں کے شاگرد ہیں، افسوس کہ حضرت سعید عظیم آبادی کی شخصیت کے بہت سے پہلو ابھی تشنۂ تحقیق ہیں۔
لکھنؤ کے دوران قیام بھی وہ مولانا عظیم آبادی سے وابستہ رہے، ان کو ایک بار اپنی غزلیں اصلاح کے لیے بھیجیں جس پر انہوں نے بہت حوصلہ افزا خط لکھا، لکھتے ہیں:
’’اسی زمانہ [لکھنؤ کے دوران قیام] میں شمس العلماء جناب مولانا محمد سعید حسرت قدس سرہ کی خدمت بابرکت میں لکھنؤ سے یہ چند غزلیں میں نے بھیجیں، جن کی رسید میں حضرت مولانا عجب عزت افزائی فرمائی‘‘۔
اس کے بعد اپنی چار غزلیں نقل کر کے لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا قدس سرہ نے ان غزلوں کی رسید میں مجھ کو اس نامہ سے سرفراز فرمایا۔
یگانۂ زمن بلبل نغمہ سرائے شعر و سخن سلمہ اللہ ذو المنن
پس از سلام مسنون ممنون الاسلام و ادعیہ و افیہ حصول مقصد و مرام واضح ضمیر محبت ارتسام باد کہ نامۂ محبت طراز و رقیمہ دل از غم پرواز با غزلہائے آبدار در نثار بتاریخ چہارم ربیع الآخر روز شنبہ گوی گریبان و رود گردیدہ را نور و سینہ را سرور بخشیدہ ذوقی کہ بدیدین کلام حلاوت انضمام آن عزیز نصیب این مستہام گردید خارج از شرح و بیان و بیرون از احاطہ تقریر قلم و زبان است۔ بندہ ہر چہ از کوچہ اشعار اردو نابلد ہستم، لیکن این قدر می توانم گفت کہ لطف زبان و ادا بندی و نازک خیالی و تلاش مضامین ہمہ درین اشعار فراہم آمدہ آفرین بر قاطع و قاد و ذہن نقاد آن صاحب استعداد خداداد باد کہ درین کم عمری چندین علوم و فنون حاصل کردند، و آن چہ در بارہ دیوان پریشان فقیر نوشتہ اند مقتضائے محبت ایشان است، بالجملہ تمنائے راقم ہمین است کہ آن دیوان از اول تا آخر از نظر آن عزیز بگزرد، و ای برجان سخن گر بہ سخن دان نہ رسد۔ و این خط از کمال شغف خاطر بآن عزیز بدست خود نوشتہ ام، فقط۔
اس وقت تک میری شاعری صرف غازی پور اور لکھنؤ تک ہی محدود تھی، اور تو اور، دو ایک کے سوا وطن کے حضرات بھی واقف نہ تھے کہ اس کو شعر و سخن کا بھی مشغلہ ہے‘‘۔16
علامہ نیموی کے بقول وہ عظیم آباد سے غازی پور چلے آئے، یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ تھی، بہرحال انہوں نے یہاں چند دن مولانا محمد رحمت اللہ فرنگی محلی کے یہاں قیام کیا، پھر غازی پور کے مشہور مدرس مولانا عبداللہ غازی پوری سے آغاز تحصیل کیا، یہیں ان کے ذوقِ شعر و ادب نے بال و پر نکالے، طبیعت تو موزوں تھی ہی، فرنگی محل لکھنؤ کے ایک نامور شاعر مدرسہ چشمہ رحمت غازی پور میں فارسی کے مدرس اول تھے، مولانا عبد الاحد شمشاد لکھنوی، ان سے شاعری میں اصلاح لینی شروع کی۔17
حضرت شوق نے عظیم آباد اور غازی پور میں تحصیل علم کی توقیت و تفصیل نہیں لکھی ہے، اور وہاں کن اساتذہ سے کیا پڑھنے کا موقع ملا اس کا بھی ذکر نہیں ہے، ہاں اپنے شعر و ادب کے استاد حضرت شمشاد لکھنوی بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے، اور وہاں کی ادبی و شعری سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے وہاں انہوں نے حضرت شمشاد سے فارسی نثر کی اعلیٰ درجہ کی کتابیں جو اس وقت رائج تھیں مکمل پڑھیں، ان کے بقول:
’’لطف یہ کہ حضرت شمشاد سے میں نے فارسی بھی شروع کر دی، سہ نثری ظہوری، قصائد عرفی، قصائد خاقانی، حدائق البلاغت ان سے پڑھنے کا اتفاق ہوا، غرض کہ عربی، فارسی کی تحصیل میں، نظم و نثر اردو کی مشق میں ہمہ تن مصروف ہوگیا، اکثر بارہ بجے رات تک اور کبھی دو ایک بجے تک کتابیں دیکھا کرتا، دماغ سوزی کیا کرتا، اللہ دے، بندہ لے، ادھر استاد کی شفقت ادھر اپنی محنت دن دونی رات چوگنی ترقی ہونے لگی‘‘۔18
اس کا صحیح علم تو نہیں ہوتا کہ وہ کتنے سال غازی پور میں رہے، لیکن وہاں شعر و ادب کی دنیا میں وہ شہرت حاصل کر چکے تھے، وہیں سے انہوں نے لکھنؤ کے مشاعروں میں شرکت کی، وہیں سے حضرت تسلیم لکھنوی کی شاگردی اختیار کی، اور اصلاح کے لئے ان کی خدمت میں اپنا کلام رامپور بھیجا جہاں وہ اس وقت نواب رامپور کے دربار سے وابستہ تھے، لیکن اصل حضرت شمشاد ہی کی رہی، یہاں تک کہ ان کا اعتماد ان کو حاصل ہوگیا، خود بھی مشاعرے میں شریک ہوئے اور خود مشاعروں کی مجلسیں بھی منعقد کیں، استاد کی جگہ پر طلبہ کو درس بھی دیا، انہوں نے وہاں کے قیام کا دورانیہ نہیں لکھا ہے لیکن بہ ظاہر وہ چار پانچ سال سے کم وہاں نہیں رہے، اس دوران انہوں نے اردو اور فارسی کے شعر و نثر میں کمال حاصل کر لیا، اور ادباء کے حلقہ سے انہیں سند قبولیت حاصل ہو گئی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’فیض صحبت زیادہ تر مجھے حضرت شمشاد کی نصیب رہی، اور ان کی مجھ پر کچھ ایسی عنایت خاص تھی کہ بارہا خلعت نیابت سے سرفراز فرمایا، جب کبھی کہیں تشریف لے جاتے تو دوسرے طلبہ کی تعلیم میرے ہی سپرد کر جاتے، اور لوگوں کا حسن ظن کچھ ایسا میرے ساتھ بڑھا ہوا تھا کہ بارہا بعض تلامذۂ استاد نے اولا مجھ ہی کو دوستانہ کلام اپنا دکھایا، پھر حضرت استاد سے اصلاح لی‘‘۔19
ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے غازی پور میں فارسی و اردو کی تحصیل ہی میں زیادہ وقت صرف کیا، عربی کی متوسطات شاید مولانا سعید عظیم آبادی سے پڑھ چکے تھے، بہرحال وہ ۱۳۰۰ھ سے قبل گھر واپس آگئے، کیوں کہ اسی سال انہوں نے اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’جب ۱۳۰۰ھ نے اپنا جلوہ دکھایا تو جناب خالو شیخ بشارت علی عرف شیخ بودھائی صاحب صالح پوری بن شیخ منگا مرحوم بن شیخ پیر علی مرحوم کی بڑی لڑکی سے جمادی الآخرہ کی بارہویں تاریخ شب جمعہ کو میری شادی ہوئی، جس کی تاریخ شمس العلماء جناب مولانا محمد سعید حسرت عظیم آبادی نور اللہ مرقدہ نے یوں ارشاد فرمائی:
مشفقی مولوی ظہیر احسن کتخدا گشت چون بفضل خدا
سال تاریخ شد بروے جمیل ازدواج ظہیر احسن ما‘‘۔20
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استاد مولانا سعید عظیم آبادی کی ان پر اخیر وقت تک خاص عنایت رہی، اس سے میرے مذکورہ بالا تصریحات کی توثیق ہوتی ہے۔
اس وقت تک ان کی عمر تقریباً بیس بائیس سال کی ہو گی جو علومِ متوسطہ کی تکمیل کا زمانہ ہوتا ہے، اس دور کے عام مذاق کے مطابق علمِ حدیث کی تحصیل سب سے اخیر میں کی جاتی تھی، اور ایک ڈیڑھ سال میں اس کی تکمیل پر سند فراغت حاصل ہو جاتی تھی۔ چنانچہ شادی کے بعد انہیں بھی اس کا خیال آیا، خود ان کے بقول:
’’شادی کے بعد یہ قصد ہوا کہ اب لکھنؤ چل کے تحصیل علم کیجئے، اور وہاں کی بہار لوٹیے، یہ قصد کر کے میں نیمی سے غازی پور پہنچا، اور دوچار روز رہ کے وہاں سے رخصت ہوا، احباب غازی پور گنگا کنارے تک پہنچانے آئے۔ برسات کا زمانہ تھا، … المختصر جوں توں وہاں سے بیڑا پار ہوا، اور ریل پر سوار ہوا، رمضان پور علاقہ بہار کے رہنے والے مولوی محمد ابراہیم صاحب ساتھ تھے، دونوں آدمی خدا خدا کر کے لکھنؤ پہنچے، شب بھر وہاں رہ کے اور کل اسباب ان کے سپرد کر کے میں پھر ریل گاڑی میں سوار ہوا، اور سنبھل، مراد آباد ہوتا ہوا رامپور پہنچا، اور حضرت استادی جناب تسلیم کی ملازمت سے مشرف ہوا، ہفتہ عشرہ وہاں رہ کے مراجعت کی، ایک زمانے سے جامع شریعت غرا مجمع طریقت بیضا، مخزن عرفان، معدن ایقان حضرت سیدنا مولانا فضل رحمن مدظلہ کی قدم بوسی کی تمنا تھی، سندیلہ میں ریل گاڑی سے اتر گیا، اور وہاں سے قصبہ گنج مراد آباد پہنچا، زیارت سے مشرف ہو کر حضرت اقدس کے دست مبارک پر بیعت کی، پھر وہاں سے میں لکھنؤ پہنچا، اور زبدۃ المحدثین عمدۃ المتفقہین حضرت مولانا ابوالحسنات محمد عبدالعلی فرنگی محلی نور اللہ مرقدہ کے حلقۂ تعلیم میں قراءۃ و سماعاً علومِ عربیہ کی تکمیل کرنے لگا‘‘۔21
ان کے شاگرد کے منشی بشیر کے بقول انہوں نے
’’۱۳۰۱ھ میں عارف کامل جناب مولانا شاہ فضل الرحمن مدظلہم متوطن قصبہ مرادآباد من مضافات لکھنؤ کے ہاتھ پر بیعت کی‘‘۔22
گویا ۱۳۰۲ھ میں انہوں نے مولانا عبدالحی فرنگی محلی کی خدمت میں حاضری دی اور تحصیل کی، انہوں نے اس کی تفصیل نہیں لکھی ہے کہ کتنے سال ان کی خدمت میں رہے، انہوں نے وہاں طب کی بھی تحصیل کی، ایک شیعہ حکیم سید باقر حسین ساکن محلہ پاٹا نالہ سے طب پڑھی، اس کی سند کی اسانید کے مجموعہ میں موجود ہے۔
مولانا فرنگی محلی کے ذکر میں انہوں نے بہت اجمال سے کام لیا ہے، اس سے صحیح اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے علم و فکر سے وہ کس قدر متاثر ہوئے، اور کتنی مدت تک ان کی صحبت اٹھائی۔ اسی دوران مولانا عبدالحی فرنگی محلی نے ۱۳۰۴ھ میں اچانک عین عالمِ شباب میں وفات پائی، اس لئے بہت ممکن ہے کہ علامہ نیموی کو ان کے آخری دور کے افکار و آراء سے بھی مستفید ہونے کا موقع ملا ہو گا، جس کو انہوں نے آگے بڑھایا، لیکن اس کی تفصیل نہیں ملتی۔ ویسے اہلِ نظر کی رائے ہے کہ وہ فنِ حدیث میں اپنے استاد مولانا عبدالحی فرنگی محلی سے ممتاز ہیں، نیز علامہ فرنگی محلی نے بہت سی جگہ فقہ حنفی کے برعکس دوسری آراء قبول کر لی ہیں جب کہ علامہ شوق نیموی کے یہاں ایسا نہیں نظر آتا، وہ ہر حال میں فقہ حنفی کی عظمت ثابت کرتے ہیں، اس کی تفصیل اپنی جگہ آگے آئے گی۔
حضرت شوق لکھنؤ میں چار پانچ سال رہے، اس دوران وہاں کی ادبی فضا ان کے نغموں سے معمور رہی، اساطین فن اور استاد ان سخن نے ان کی خوب پذیرائی کی، ان کی تخلیقات کی دھوم مچ گئی، یہیں انہوں نے اپنی مشہور زمانہ مثنوی نغمۂ راز لکھی، جس کی پوری اردو دنیا میں دھوم مچ گئی۔ اسی دورانیہ میں ان کی تین معرکہ آرا لسانی و ادبی کتابیں منظرِ عام پر آئیں اور ملک میں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں، جس نے پوری اردو دنیا میں جلد ہی ان کو متعارف کرایا اور شہرت کے بامِ عروج تک پہنچایا۔ اردو کے مشہور و معروف رسائل و اخبارات نے ان پر تقریظیں لکھیں، تبصرے کئے، اور دل کھول کر ان کی پذیرائی کی۔ ان کے تینوں لسانی رسائل، ازاحۃ الاغلاط، اصلاح، اور اس کے حواشی ایضاح اسی دور میں شائع ہوئے۔ ان کا یہی رسالہ ازاحۃ الاغلاط جلال لکھنوی اور ان کے درمیان اس تاریخی ادبی معرکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جس میں انہیں فتح حاصل ہوئی، اور اس کی گونج ایک مدت تک دنیائے ادب میں سنائی دیتی رہی، اور یہ معرکہ ہمیشہ کے لئے اردو کی ادبی تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔ اس کی تفصیل خود حضرت شوق نے بہت تفصیل سے لکھی ہے، اور ادب کی تاریخ میں معروف ہے اس لئے اس کی تفصیل یہاں قلم انداز کی جاتی ہے۔
منشی بشیر کے بقول:
’’لکھنؤ کے بڑے بڑے نامی شاعر مولانا شوق سے نہایت تپاک سے ملتے اور کمال شوق سے آپ کا کلام سنتے، جناب امیر وغیرہ سے نہایت ارتباط تھا‘‘۔23
ان رسائل کے شائع ہوتے ہی دسیوں اہل کمال نے انہیں مبارک بادی اور تہنیت و قدردانی کا خط لکھا، اور اس کاوش پر ان کا شکریہ ادا کیا، حضرت شوق کے بقول:
’’یہ کل ریویو اور تحریریں ان حضرات کی ہیں جن سے نہ تو صاحب سلامت تھی اور نہ ان کو مجھ سے کسی قسم کا تعلق تھا، ان لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے محض آزادی سے لکھا ہے‘‘۔24
انہوں نے لکھا ہے کہ:
’’اگر حضرات ناظرین مجھ کو حقیقت نگاری کی اجازت دیتے ہیں تو مجھے اس امر کے اظہار میں ذرا تامل نہیں کہ خدا کے فضل سے ہندوستان میں شاید کوئی ایسا شہر ہوگا جہاں میری تالیف و تصنیف نے جلوہ نہ دکھایا ہو، اور اپنا رنگ نہ جمایا ہو‘‘۔
اخیر میں انہوں نے اپنے لکھنؤ کے قیام کا خلاصہ ان الفاظ میں ذکر کیا ہے:
’‘المختصر میں جب تک لکھنؤ میں رہا، تحصیلِ علومِ عربیہ میں سرگرم رہا، مگر جب کچھ فرصت ملتی تو اردو فارسی کا بھی مشغلہ رکھتا تھا‘‘۔25
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پورا زمانہ تحصیلِ علم میں ہی گذرا، البتہ دوسری سرگرمیاں بھی اس کے ساتھ رہیں، لیکن انہوں نے کیا کیا پڑھا اور کن اساتذہ سے پڑھا اس کی تفصیل نہ انہوں نے ذکر کی ہے نہ ان کے سوانح نگار نے۔
البتہ خود انہوں نے اس کی تصریح کی ہے کہ اسی دوران انہوں نے لکھنؤ کے محلہ پاٹا نالہ کے ایک قدیم حکیم اور شیعی فاضل سید باقر حسین لکھنوی سے علمِ طب کی تحصیل کی۔26 انہوں نے حضرت نیموی کو تکمیلِ طب کی جو سند یا شہادت دی تھی وہ ان کے کاغذات میں محفوظ تھی، ان کے فرزند نے یہ سند درج کی ہے، لکھتے ہیں:
’’آپ نے مولانا شوق کو جو علمِ طب کی سند عطا فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے:
یا فتاح … بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ الذی علمنا علوم الادیان والابدان، ونزل علینا القرآن لتداوی بہ امراض الجنان، والصلاۃ والسلام علی الحاذق الذی بعث الینا وحمانا عن آفات الکفر والضلال، وشفانا عن الاسقام، التی تسری فی صدور الجہال، وعلیٰ آلہ الطاھرین والائمۃ المطہرین رضوان اللہ علیھم اجمعین۔ اما بعد، فیقول العبد المعتصم بحبل اللہ القوی خادم الاطباء السید باقر حسین اللکنوی ان جامع العلوم العقلیہ وواقف الفنون النقلیہ الذکی اللوذعی الفطین الیلمعی، المولوی محمد ظہیر احسن النیموی العظیم آبادی حفظہ اللہ ذو الایادی الولد الرشید للشیخ سبحان علی غفر اللہ ذنبہ الخفی والجلی، حضر عندی وقرا لدي الکتب الطبیہ المتداولۃ باحثاً عن غوامضھا ومشکلاتھا وغائراً فی تدقیقاتھا ومعضلاتھا، وجلس فی مطبی مدۃ مدیدۃ، واخذ منی فوائد عدیدۃ، فاستجاز منی کما ھو داب المحصلین، فاجزتہ مشترطاً بان لایجیز [؟] بمجرد رایہ علی المداوات والمعالجات غافلاً عما فی اسفارالاکابر وکتب الثقات بل یحتاط فی ھذ االباب غایۃ الاحتیاط، ویسلک بامعان النظر والفکر سواء الصراط۔
والمسؤول عن الحکیم الوھاب ان یفیض علینا وعلیہ الھام الصدق والصواب وھوعلی کل شیئ قدیر وباجابۃ الادعیۃ جدیر۔
اقل الاطبا باقر حسین ۱۳۰۴ھ
باقر حسین ۱۲۹۴ھ(مہر)’’27
۱۳۰۴ھ میں انہوں نے تکمیلِ تعلیم کی اور لکھنؤ سے عظیم آباد واپس ہوئے، ۱۳۰۵ھ میں شوال کے مہینہ میں مع الخیر وطن پہنچے، ان کو ازاحۃ الاغلاط کے جواب میں حضرت جلال لکھنؤی کی ردِ تردید واپسی سے قبل ہی مل چکی تھی، لیکن وہ وطن کے لئے رختِ سفر باندھ چکے تھے اس لئے اس کو ساتھ لے آئے اور یہاں آکر اس کا جواب لکھا، جو سرمۂ تحقیق کے نام سے شائع ہوا، اسی کے حاشیہ پر ان کے حالات پر ان کے شاگرد منشی بشیر کا رسالہ بھی شائع ہوا، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس وقت تک ان کی شخصیت اتنی نمایاں ہو چکی تھی کہ وہ کسی رسالہ کا موضوع بن سکیں۔
جلال لکھنوی اس جوابی رسالہ کا جواب تو نہ دے سکے البتہ انہوں نے اپنی خجالت دور کرنے کے لئے حضرت شوق کے نام سے ایک جعلی معذرت نامہ گلدستہ نغمۂ بہار میں شائع کروایا، اس کے جواب میں حضرت شوق نے لکھنؤ کے اخبارات میں کئی مضامین لکھے، اور اپنا مدعا ثابت کیا، اس معرکہ میں دونوں طرف سے بہت سے دیگر اہلِ علم نے بھی حصہ لیا، اکثر حضرات شوق کی تائید میں تھے، اس طرح اس ادبی معرکہ میں انہیں فتح حاصل ہوئی، اور یہ معرکہ اردو کی ادبی تاریخ کا ایک یادگار بن گیا۔
عظیم آباد کا قیام اور علمی خدمات
۱۳۰۵ھ میں وطن واپس آئے تو اپنے شہر عظیم آباد میں طرح اقامت ڈالی، یہاں کے علمی و ادبی حلقوں سے بھی ربط رہا، وہ اپنی تمام ادبی سرگرمیوں اور نظریات کی تفصیل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’اب میں اپنے دوسرے حالات مجملاً لکھتا ہوں کہ جب میں فارغ التحصیل ہو کر لکھنؤ سے نیمی پہنچا تو کچھ دنوں وہاں رہ کے شہر عظیم آباد میں جو نیمی سے چھ کوس کے فاصلہ پر ہے طرح اقامت ڈالی، طبابت کے ساتھ کتب عربیہ، معقولات و منقولات پڑھانا شروع کیں، اور دینیات میں تالیفات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا، چنانچہ ان میں سے بعض رسائل چھپ کر شائع ہوچکے ہیں، چنانچہ تقلید کی بحث میں اوشحۃ الجید اور آمین کے باب میں حبل المتین یہ دو رسالے ایسے پرزور لکھے کہ جو لوگ تقلید کو مذموم سمجھے تھے یا آمین بالجہر کی قوت کے قائل تھے ان میں سے اکثر غیر متعصب حضرات کے خیالات پلٹ گئے۔ آج کل بطور مشکاۃ شریف حدیث میں آثار السنن نام ایک کتاب کی بنائے تالیف ڈالی ہے، جس کے لئے بلاد مختلف خصوصاً مصر و روم و حرمین شریفین کا سفر درکار ہے، السعی منی والاتمام من اللہ، اگر یہ کتاب تیار ہو گئی تو ان شاء اللہ تعالیٰ حنفیہ کے لئے نہایت بکار آمد ہوگی‘‘۔28
’’کئی سال سے اکثر جمعہ کو وعظ کہنے کا اتفاق ہوتا ہے، آج تک چھ پارے ہوچکے ہیں، اگر حیات مستعار باقی ہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ قرآن مجید و فرقان حمید کو سر منبر تمام کروں گا‘‘۔29
حضرت شوق نے یادگار وطن ۱۳۱۲ھ میں شائع کی ہے، اس کے بعد وہ وفات تک عظیم آباد ہی میں رہے، اور یہیں ان کی سرگرمیاں جاری رہیں، تقریباً سترہ اٹھارہ سال کا یہ عرصہ انہوں نے علم و ادب کی خدمت ہی میں بسر کیا۔ اس دوران عجب نہیں کہ ایک بار نہیں کئی بار انہیں قرآن پاک کی تفسیر مکمل کرنے کا موقع ملا ہو، یہ درس قرآن کا نظام بھی اس دور میں خال خال ہی نظر آتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس شہر میں جو خدمات انجام دیں ان میں قرآن پاک کو عام کرنے کا کام بھی تھا، جو حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان میں نظر آتا ہے۔ حضرت شوق نے تدریسی خدمت کس جگہ انجام دی، آیا وہ جہاں مطب کرتے تھے وہیں تدریس کی خدمت بھی انجام دیتے تھے، یا پھر عظیم آباد میں جو مدرسے یا مدرسین تھے ان کے یہاں تعلیم دیتے تھے، جن میں کئی نام ملتے ہیں، اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی، نہ ان کے علوم اسلامیہ کے شاگردوں کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے تلامذۂ شاعری کا ذکر تو کیا ہے لیکن علومِ اسلامیہ کے تلامذہ کا ذکر نہیں کیا ہے، نہ ان کی سندِ حدیث کے سلسلہ کا کہیں سراغ ملتا ہے کہ وہ جاری ہے کہ نہیں، ان کے فرزند بھی اس سلسلہ میں خاموش نظر آتے ہیں۔ ان کے ایک معاصر مورخ بدرالحسن عظیم آبادی نے ان کے طبابت کا مشاہدہ ذکر کیا ہے جس سے ان کی بعض خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے، لکھتے ہیں:
’’مولوی ظہیر احسن صاحب نیموی … سالار پور [نیمی کا نام] کے رہنے والے ہیں، اور شاہ کی املی [محلہ عظیم آباد، موجودہ پٹنہ سیٹی،] میں رہتے ہیں، … مطب میں پورا فروغ تو نہ تھا، لیکن غرباء ان کے زیر علاج رہے، امیروں میں ان کا علاج کم رہا، ان کو شغل پڑھانے اور شاعری کا زیادہ رہا‘‘۔30
ان کے تقریباً دس سال کے قیام عظیم آباد کی تفصیل کسی شاگرد یا اہلِ تعلق نے قلمبند نہیں کی، جس سے ان کی سوانح زندگی کا اصل ورق ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے، البتہ ان کی ادبی سرگرمیوں کا جابجا کچھ ذکر مل جاتا ہے۔
حوالہ جات
- یادگار وطن، ص ۱۱۷۔
- ص ۱۴ سے اس کا آغاز ہوتا ہے، (مطبوعہ قومی پریس لکھنؤ۔)
- یہ کتاب خدابخش لائبریری کی اردو مخطوطات کی مطبوعہ فہرست کنزالعلوم (مطبوعہ خدابخش) میں مطبوعہ بتائی گئی ہے، لیکن میرے علم کے مطابق اب تک پوری کتاب نہیں شائع ہوئی۔
- دیکھئے یادگار وطن، ص ۱۵۶
- سیر بنگال، ص ۱۲، طبع اول
- حوالہ سابق، ص ۷ ۔القول الحسن میں مولانا عبدالرحمن مبارکپوری کا جواب دیتے ہوئے حضرت نیموی کے فرزند مولانا عبدالرشید فوقانی نے بھی جابجا علامہ شوق نیموی سے اپنے تعلق کا اظہار کیا ہے۔
- حوالہ سابق، ص ۲۹، ۔۳۔
- حوالہ سابق ص ۳۱
- حوالہ سابق
- حوالہ سابق ص۳۳
- حوالہ سابق ص ۴۹۔
- تذکرۃ الشوق، ص ۴۱
- یادگاروطن ص ۴۹
- حوالہ سابق۔
- حوالہ سابق ص ۵۰
- یادگاروطن، ص ۶۳
- حوالہ سابق ص ۵۱
- حوالہ سابق ص۵۳
- ص ۵۹
- حوالہ سابق۔
- حوالہ سابق،
- تذکرہ الشوق، ص ۴۳
- تذکرۃ الشوق، ص ۴۴
- یادگاروطن، ص ۷۲
- حوالہ سابق۔
- حوالہ سابق۔
- القول الحسن ص ۱۶۶۔ مطبوعہ لکھنؤ ۱۹۶۲۔
- حوالہ سابق ص ۱۱۹۔
- حوالہ سابق۔
- یادگارروزگار از بدرالحسن، خدا بخش لائبریری پٹنہ، ص ۷۵۲
(جاری)
فحاشی و عریانی اور لباس و نظر کا نفسیاتی مطالعہ!
محمد عرفان ندیم

psychology of gaze یا ’’نظر کی نفسیات‘‘ ایسا علم ہے جس میں لباس اور نظر کے باہمی تعلق کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ علم انسانی نظر کے رویے، توجہ اور دیکھنے کا مطالعہ کرتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ لوگ کس طرح دیکھتے ہیں، کس چیز کو دیکھتے ہیں، کس چیز کو دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کس چیز پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ان کی نظروں کا اثر دوسروں پر کیسا پڑتا ہے۔
ایک معروف مغربی یونیورسٹی میں خواتین کے لباس کے حوالے سے تحقیق کی گئی، تحقیق سے پتا چلا خواتین کا لباس نہ صرف لوگوں کے رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ یہ خواتین کی شخصیت کے بارے تاثرات قائم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ مطالعے کے دوران دو خواتین کو ایک جیسے حالات میں مختلف لباسوں میں عوامی مقامات پر بھیجا گیا، ایک عورت نے عبایا پہنا ہوا تھا اور دوسری عورت نے جدید اور مختصر لباس۔ عبایا میں ملبوس خاتون کو زیادہ تر افراد نے احترام کی نظر سے دیکھا اور ان کا دیکھنے کا دورانیہ بھی کم رہا۔ لوگوں نے خاتون سے فاصلہ برقرار رکھا اور اس کے قریب جانے سے گریز کیا۔ جبکہ مختصر لباس والی خاتون کی طرف لوگوں نے زیادہ دیر تک دیکھا اور لوگوں کی نظروں میں زیادہ ’’جانچنے اور تجسس‘‘ کا عنصر پایا گیا۔
لباس کا تعلق محض ظاہری شکل و صورت سے نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کی باطنی شخصیت، تہذیبی پس منظر اور دینی عقائد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اسلام میں حیا کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے اور حیا کا واضح اظہار انسان کے لباس سے ہوتا ہے۔ جب جنت میں آدمؑ و حواؑ بے لباس ہوئے تو انہوں نے فوراً درختوں کے پتوں سے اپنے جسم کو چھپانا شروع کر دیا۔ حضرت آدم و حوا کو کسی نے بتایا نہیں تھا کہ ان کا ستر واضح ہو گیا ہے بلکہ ان کی فطرت نے انہیں اپنے جسم کو چھپانے کی طرف متوجہ کیا۔ آدم و حوا کا یہ واقعہ انسانی فطرت میں ستر اور حیا کے جذبے کی گواہی دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی بچہ جب چار پانچ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو سب کے سامنے بے لباس ہونے کو معیوب سمجھتا ہے، اسے بھی کسی نے بتایا نہیں ہوتا کہ تمہارا ستر عیاں ہو رہا ہے بلکہ اس کی فطرت اسے ایسا کرنے سے منع کرتی ہے۔
شرم و حیا کا تصور اللہ تعالی نے ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا ہے وہ الگ بات ہے کہ آج ہماری فطرت مسخ ہو چکی ہے اور ہم بطور فخر جسم کی نمائش کرتے اور اسے ’’فن‘‘ سمجھتے ہیں۔ فطرت مسخ ہونے سے ہمارا تصورِ حسن تک بدل گیا ہے اور جو جتنا برہنا ہوتا ہے اسے اتنا خوبصورت سمجھا جاتا ہے ۔ جو جتنا ’’شارٹ‘‘ لباس پہنتا ہے اسے اتنا حسین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عمل مذہب کے خلاف تو ہے ہی لیکن بنیادی انسانی فطرت کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لباس اور پردے کے حوالے سے خواتین کو واضح ہدایات دی ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ باریک کپڑوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تشریف لائیں تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے اسماءؓ! جب عورت بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھوں کے۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک وہ خواتین ہیں جو لباس پہن کر بھی ننگی ہیں (یعنی تنگ اور باریک لباس پہنتی ہیں) وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور تک آ رہی ہوگی ۔‘‘
جب ہم تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں طالبات کے لباس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں تو اس کا مقصد کسی طبقے کو نشانہ بنانا نہیں ہوتا بلکہ معاشرے میں ان اقدار کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جو نہ صرف ہماری دینی تعلیمات کا حصہ ہیں بلکہ بنیادی انسانی فطرت کا بھی تقاضا ہیں۔ آج کل یونیورسٹیز میں مغربی طرزِ لباس اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی مغربی ملک کی جامعہ میں کھڑا ہے یا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہے۔ جامعات میں طالبات کا غیر مناسب لباس نہ صرف ان کی اپنی شخصیت کو منفی طور پر پیش کرتا ہے بلکہ تعلیمی ماحول میں غیر ضروری تفریح اور غیر اخلاقی رجحانات کو بھی فروغ دیتا ہے۔
باریک، تنگ یا غیر مناسب لباس نہ صرف طالبات کو غیر ضروری توجہ کا مرکز بناتا ہے بلکہ بسا اوقات ان کی عزت اور تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری مڈل کلاس ایلیٹ کلاس کو فالو کرتی ہے اور ایلیٹ کلاس مغرب کو فالو کرتی ہے۔ مغرب میں جو بھی نیا فیشن اور رجحان سامنے آتا ہے اسے ایلیٹ کلاس کے ذریعے فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے۔ اور فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ چیزیں مڈل کلاس میں فروغ پانا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس طرح نوجوان نسل کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ ہو جاتا ہے کہ ترقی اور ماڈرن طرزِ زندگی اپنانے کے لیے اپنی ثقافت اور دینی اصولوں کو ترک کرنا اور مغربی طرزِ زندگی کو اپنانا ضروری ہے۔
مخلوط تعلیم میں لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھنے کا تجربہ انہیں ایک ایسی عادت کا شکار بنا دیتا ہے جو عموماً ازدواجی زندگی میں مسائل کا سبب بنتی ہے۔ مسلسل ایک ساتھ بیٹھنے اور بے تکلفی اختیار کرنے سے ایک خاص طرح کی لذت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ لذت دراصل ’’ڈوپا مین‘‘ جیسے کیمیکلز کے اخراج سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل جب پہلی بار خارج ہوتا ہے تو ایک خاص لطف کا احساس دیتا ہے۔ مسلسل مخلوط ماحول میں رہنے سے لڑکے لڑکیاں اس کیمیکل کے اخراج کے عادی ہو جاتے ہیں اور نکاح کے بعد لطف کی یہ کمی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ نکاح کے بعد جو رشتہ بنتا ہے، مخلوط ماحول میں بننے والے تعلقات کی وجہ سے اس میں لطف اور احترام کی کمی محسوس ہوتی ہے جس سے ازدواجی زندگی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
مخلوط تعلیم میں جنم لینے والی اخلاقی برائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ طلباء کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر غیر ضروری باتوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں تعلیم کے بجائے ایک دوسرے پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے لیے لباس، بات چیت کے انداز اور رویوں میں مصنوعی پن لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی اصلی شخصیت کو نظرانداز کرتے ہوئے مصنوعی طور پر جنس مخالف کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کے کردار اور اخلاقیات میں منفی رویے جنم لیتے ہیں۔ اس طرح ان کی زندگی میں ایک طرح کی بے سکونی اور کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے، اور ان کا وقت حقیقت پر مبنی رویے سیکھنے کے بجائے غیر ضروری باتوں اور بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع ہونے لگتا ہے۔ تعلیم کے بجائے ان کی توجہ بات چیت، دوستی، ایک دوسرے کو متاثر کرنے، اور غیر ضروری سرگرمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے، جس سے ان کا تعلیمی ہدف پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
مخلوط اداروں میں پڑھنے والی لڑکیوں میں ایک رجحان یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو لڑکیاں عموماً پہلے سمسٹر میں عبایا پہنتی ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے لباس اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لے آتی ہیں۔ ان پر فیشن اور جدید رجحانات کا اثر غالب آنے لگتا ہے اور صرف چند سمسٹر بعد ان کا عبایا اتر جاتا اور وہ بھی فیشن کی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہیں۔
پاکستان میں یونیورسٹیوں کی نگرانی اور پالیسیاں بنانے میں ایچ ای سی اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم طالبات کے لباس اور اسلامی اقدار کے فروغ کے حوالے سے ایچ ای سی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ بیشتر یونیورسٹیوں میں لباس کے حوالے سے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں ہے۔ بعض یونیورسٹیوں نے اپنے طور پر لباس کے حوالے سے اصول و ضوابط بنانے اور اپنانے کی کوشش کی لیکن انہیں شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور ایچ ای سی نے ان اداروں کی حمایت کے بجائے خاموشی اختیار کی جو افسوسناک رویہ ہے۔ بحیثیت قومی ادارہ ایچ ای سی کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف معیاری تعلیم کو فروغ دے بلکہ تعلیمی ماحول کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے میں بھی کردار ادا کرے۔ ایچ ای سی نہ صرف لباس کے ضابطے کے لیے پالیسی وضع کرے بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو پابند بھی کرے۔
اس سلسلے میں سماج کو بھی اپنا کردار ادا کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، مثلاً یونیورسٹی سطح پر ایسی مہمات چلائی جائیں جو طلبہ و طالبات کو حیا، پردے اور اسلامی لباس کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔ اساتذہ کو اس بات کی تربیت دی جائے کہ وہ اپنے طرزِ عمل اور لباس کے ذریعے طلبہ کے لیے ایک مثال بن سکیں۔ اسلامی اخلاقیات، حیا اور لباس کے اصولوں کو نصاب میں شامل کیا جائے۔
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ چیزیں نارمل ہو چکی ہیں اور ہمارا تصورِ گناہ تک مسخ ہو چکا ہے۔ اور ہم گناہ کو گناہ سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو چکے ہیں، گویا ہم ایمان کے آخری درجے سے بھی نیچے جا چکے ہیں۔ اور اگر ہمارا یہ حال ہے تو ہماری آئندہ نسلوں کا کیا حال ہو گا؟ بحیثیت مسلمان آج ہمارے لیے یہ سب سے اہم اور سنجیدہ سوال ہے۔
psychology of gaze کی طرح psychology of dress ’’ لباس کی نفسیات‘‘ کا علم بھی اس مسئلے میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ لباس کی نفسیات میں انسانی لباس کے انتخاب، سماج پر اس کے اثرات؛ اور اس کے پیچھے موجود ذہنی، سماجی اور ثقافتی عوامل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس علم کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا جب نفسیات اور سماجیات کے ماہرین نے لباس اور سماج کے باہمی تعلق کا مطالعہ شروع کیا۔ مغربی دنیا میں اس موضوع پر ابتدائی کام مشہور نفسیات دان ولیم جیمز اور ماہر سماجیات تھارن اسٹائن ویبلین نے کیا۔ بعد میں بیسویں صدی کے وسط میں فیشن اور نفسیات کے باہمی تعلق پر مزید تحقیق کی گئی، جس میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ کس طرح لوگ لباس کے ذریعے اپنی شناخت، رویے اور سماجی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
psychology of dress پر غور کیا جائے تو کچھ اہم حقائق سامنے آتے ہیں۔ مثلاً یہ علم ہمیں بتاتا ہے کہ لباس انسانی نفسیات اور رویوں پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ صاحبِ لباس کی شخصیت اور رویے کا اظہار کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دیکھنے والوں کے ذہن میں ایک تاثر پیدا کر رہا ہوتا ہے۔ اپنے جسم کو چھپانا بنیادی انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اور اگر کوئی مرد و عورت اپنی فطرت سے ہٹ کر کوئی لباس پہنتا اور اپنے جسم کی نمائش کرتا ہے تو اس کے لباس کی نفسیات سماج کو ایک پیغام دے رہی ہوتی ہیں۔ یہ پیغام جب سماج سے ٹکراتا ہے تو سماج کا وہ طبقہ جو جنسی خواہشات پر قابو نہیں رکھتا وہ جرائم کے ارتکاب کی کوشش کرتا ہے، اور یہ کوشش عموماً کسی گھناؤنے جرم کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی ہے ۔
یہ بات تسلیم کہ صرف لباس ہی جنسی جرائم کی وجہ نہیں بنتا ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات مثلاً اخلاقی تربیت کی کمی، جنسی بے راہ روی کی ترویج، میڈیا کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فراہمی، قانون کی کمزوری، جرائم کی عدمِ سزا، اور مرد اور عورت کے درمیان حدود کا ختم ہونا بھی ان جرائم کی اہم وجوہات ہیں، لیکن لباس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جذبات کو برانگیختہ کرنے کا اہم اور ابتدائی عامل ہوتا ہے اور یہیں سے جنسی جرائم کی نفسیات پروان چڑھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورت کی حیا اور مرد کی فطرت کے بارے میں جو رہنمائی فراہم کی ہے وہ انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ سورۃ الاحزاب میں نبی اکرم کی ازواجِ مطہرات کو ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی آوازوں کو نیچا رکھیں تاکہ کوئی شخص جس کے دل میں مرض ہے وہ بہک نہ جائے اور آپ میں دلچسپی لے کر نہ بیٹھ جائے۔ یہ آیت صرف ازواجِ مطہرات کے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان خواتین کے لیے رہنما اصول ہے۔ یہ آیت ایک طرف خواتین کی عفت و حیا کی نشان دہی کرتی ہے اور دوسری طرف مرد کی نفسیات اور مرد کے سماجی رویوں کو سمجھنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے۔ مرد کی فطرت کو اللہ نے عورت کی طرف مائل پیدا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عورت کی آواز کو بھی مرد کے بہکنے کا سبب ٹھہرایا ہے ۔ اگر عورت کی صرف آواز سے مرد بہک سکتا ہے تو اس کے غیر مناسب لباس کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
آج بحیثیت مجموعی سماج میں خواتین کے لباس کے نام سے جس چیز کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، یہ نہ صرف مردوں کی فطرت کو آزمانے کے مترادف ہے بلکہ معاشرے میں اخلاقی زوال کا اہم سبب بھی ہے۔ ۲۰۲۳ء میں خواتین کے خلاف ہراسانی کے ۴۵۰۰ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے ایک بڑی تعداد تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے متعلق تھی۔ یہ اعداد و شمار ہمارے تعلیمی اداروں میں خواتین کے لباس اور مخلوط ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔ غیر مناسب لباس، مخلوط ماحول اور دینی تعلیمات سے دوری ان مسائل کے بڑے عوامل ہیں۔
دوسری طرف عالمی سطح پر ایسے تجربات کیے گئے ہیں جنہوں نے لباس اور انسانی رویوں کے درمیان تعلق کو واضح کیا ہے اور ہم پچھلے کالم میں اس پر بات کر چکے ہیں۔ اسلام نے عورت کی عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے پردے کا جو نظام متعارف کروایا ہے اس کا مقصد عورت کو صرف جسمانی طور پر محفوظ رکھنا نہیں بلکہ اسے اخلاقی تحفظ بھی فراہم کرنا ہے۔ معاشرتی اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کا غیر مناسب لباس صرف مردوں کی فطرت کو ہی نہیں بلکہ پورے معاشرتی توازن کو متاثر کرتی ہے۔
جب عورتوں کے لباس پر بات کی جاتی ہے تو عموماً یہ استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ کیا چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ بھی ان کے لباس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ ہم پہلے تسلیم کر چکے ہیں کہ جنسی زیادتی جیسے جرائم کبھی بھی صرف عورت کے لباس یا اس کے جسمانی ظہور کی وجہ سے نہیں ہوتی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح کے جرائم کی مختلف وجوہات میں سے ایک اہم وجہ عورت کا غیر مناسب لباس ہی ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور دنیا بھر کے حقوق انسانی کے اصول یہ تسلیم کرتے ہیں کہ معاشرتی ماحول، عورت کا غیر مناسب لباس، مرد و عورت کے مابین حدود کو ختم کرنا اور ان کی اخلاقی تربیت کی کمی ایسے جرائم کی اہم وجہ ہوتی ہے۔ معاشرے کی اخلاقی تربیت اور اصولوں کا اثر سماج کی بنت پر بھی پڑتا ہے۔
اگر ایک معاشرہ اسلامی اقدار، اخلاقی تعلیمات اور پردہ جیسے اصولوں کو اہمیت دیتا ہے تو یہ مرد و عورت دونوں کے لیے ایک اخلاقی اور محفوظ ماحول کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ جنسی جرائم کی شرح میں لباس کا کوئی تعلق نہیں ایک غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہے کیونکہ معاشرے میں لباس شخصیت اور معاشرتی رویوں کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب سماج میں رہنے والے مرد و عورت مخصوص لباس پہنتے یا مخصوص رویہ اپناتے ہیں تو وہ ایک خاص پیغام دے رہے ہوتے ہیں جو معاشرے میں رہنے والے انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی لباس کو اس لیے اہمیت دی گئی ہے تاکہ مرد و عورت اپنی فطری حیا اور وقار کو محفوظ رکھ سکیں اور ناپسندیدہ رویوں سے بچ سکیں۔
پیمرا، ایچ ای سی اور دیگر انتظامی ادارے اگر اس مسئلے پر توجہ دیں تو سماج میں ایک مثبت تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ خصوصاً میڈیا اور تعلیمی اداروں میں لباس کے اسلامی اصولوں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق مرتب کرنا اور اس پر عمل درآمد کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
یونیورسٹی سطح پر کیے جانے والے مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ و طالبات کی اکثریت مخلوط ماحول اور مرد و خواتین کے غیر مناسب لباس کی وجہ سے تعلیمی ماحول میں سنجیدگی کی کمی محسوس کرتی ہے۔ ۶۵ فیصد طلبہ نے کہا کہ لباس کے حوالے سے واضح اور راہنما اصول ہونے چاہئیں تاکہ تعلیمی ماحول میں غیر ضروری عوامل سے بچا جا سکے۔ آج ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو صرف تعلیم نہ دے بلکہ طلبہ کے اخلاق و کردار کو بھی سنوارے۔ لباس کے اسلامی اصولوں کو اپنانے سے نہ صرف خواتین کی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ تعلیمی اداروں کا ماحول بھی پاکیزہ اور علم دوست بنے گا۔
مسجد اقصیٰ کے ایک مسافر کی تڑپ
عقیل دانش

مسجدِ اقصیٰ! اے خوابوں کی زمیں
کوئی دنیا میں حسیں تجھ سا نہیں
اس زمیں پر قبلۂ اوّل ہے تو
دہر کی ظلمت میں اک مشعل ہے تو
تو بلاشبہ حاصلِ معراج ہےاور امت کے لئے منہاج ہے
ہے مقدس سرزمیں سب کے لئے
تو ہے خاتم کا نگیں سب کے لئے
قلبِ مسلم کی رواں دھڑکن ہے تو
جو ہر بے باک کا مدفن ہے تو
مسلم امہ کے لئے تو خواب ہے
دہر میں تیرا بدل نایاب ہے
خون سے تیری سرزمیں لبریز ہے
اب یہ وادی کیا ہے رستاخیز ہے
بہہ رہا ہے تیرے فرزندوں کا خون
بے محابا ہے یہودی کا جنون
سجدہ بندوقوں کے سائے میں یہاں
ہے ستم کا بحرِ بے کراں
ہے ہر اک لب پہ دعا اللہ سے
ہیں مخاطب بے نوا اللہ سے
اس زمیں کو ظلم سے تو پاک کر
ظلم کا پردہ جہاں پہ چاک کر
لاج اب سجدوں کی تیرے ہاتھ ہے
بے نوا ہیں دولتِ ایمان اپنے ساتھ ہے
ظلم سے آزاد اس وادی کو کر
شاد اور آباد اس وادی کو کر
پوری دنیا آئے سجدہ گاہ میں
کوئی مشکل بھی نہ آئے راہ میں
اے خدا اب پوری یہ فریاد ہو
بیتِ اقدس ہر طرح آباد ہو
دانش مضطر کی یہ فریاد سن
اے خدا تو قصۂ بیداد سن
(’’فلسطین کی ڈائری‘‘ شائع کردہ ’’ختمِ نبوت اکیڈمی، لندن‘‘ طبع فروری ۲۰۲۰ء)
ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وہائٹ ہاؤس میں: مشرق وسطیٰ اور دنیا پر اس کے متوقع اثرات؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

بیس جنوری کو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار صدارتی عہدے کا حلف لے لیا۔ اس بار ان کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت حاصل ہے، اِس طرح وہ دنیا کے سب سے طاقت ور شخص بن کر سامنے آئے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ میں بھی رپبلکنز کے گہرے اثرات ہوتے ہیں اس لیے وہاں سے بھی ان کے اقدامات کو کلین چٹ ملنے کے پورے امکانات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ جیت میں سب سے بڑا فیکٹر جوبائڈن انتظامیہ سے عوام کی ناراضگی تھی جس کو سیاسیات کی زبان میں Anti Incumbency کہتے ہیں۔ عرب نژاد مسلمانوں نے بھی بائڈن کی اسرائیل کے لیے اندھی حمایت سے تنگ آکر اس کو سزا دینے کے لیے ٹرمپ کو ووٹ کیا اور اس غلط فہمی میں کہ ٹرمپ شاید ان کے ووٹوں کی قدر کرتے ہوئے اس معاملہ میں بائڈن سے بہتر ثابت ہوں، چھوٹے شر سے بڑے شر کی طرف چلے گئے۔ کچھ مقامی مصلتحیں بھی رہی ہوں گی۔
امریکی انتخابی تاریخ کے مطابق رپبلکن ہمیشہ دائیں بازو کے ایوانجلیکل مسیحیوں کی حمایت پاتے رہے ہیں، ان کا مجموعی ووٹ فیصلہ کن انداز میں رپبلکنز کو ہی پڑتا ہے۔ اور اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ایوانجلیکل مسیحی اسرائیل کی تقدیس کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ پہلے اسرائیل میں تمام یہودی جمع ہوں گے، دوسرے سولومن ٹیمپل (ہیکل سلیمانی) کو مسجد اقصیٰ کے ملبہ پر بنائیں گے، تبھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمدِ ثانی (Second Coming) کی راہ ہموار ہو گی، جس کے بعد دنیا بھر میں مسیحیوں کا غلبہ ہو گا۔ یہ ان کے عقیدہ کا خلاصہ ہے۔ مسلمان بھی اسی سے ملتا جلتا عقیدہ رکھتے ہیں، اِس فرق کے ساتھ کہ حضرت مسیحؑ کی آمد سے اسلام کا غلبہ ہو گا۔
کل ملا کر سیناریو یہ بن رہا ہے کہ اس وقت بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اپنے شیطانی منصوبوں کو پورا کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک اخلاق باختہ، متواتر جھوٹ بولنے کا عادی، نرگسیت زدہ، سفید فام نسل کے تفوق کا نمائندہ اور صہیونیوں کا پروردہ انسان ہے۔ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں اسکول آف جرنلزم کے ڈین رہ چکے ٹوم گولڈاسٹائن واشنگٹن پوسٹ کے حوالہ سے بتاتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے دوران 30573 جھوٹے یا گمراہ کن بیانات دیے۔ گویا اکیس جھوٹ یومیہ بولے (The Indian Express: Saturday, February 8, 2025)۔ اگر ان اعداد و شمار کو مبالغہ پر مبنی بھی مان لیا جائے تب بھی ٹرمپ کی شخصیت کے ایک نہایت تاریک پہلو کو سامنے لانے کے لیے یہ بالکل کافی ہیں۔
امریکہ اور دوسرے ملکوں میں ہندوستان کے سفیر رہے سردار نوتیج سرنا کے مطابق ٹرمپ کے کام کرنے کے دو پہلو ہیں: ریالٹی شو ہوسٹ اور ریل اسٹیٹ ڈیویلپر۔ داخلی طور پر امریکہ میں اور بیرونی طور پر دنیا خاص کر مشرق وسطی میں اُس کے اقدامات سے اس شخص کے یہی دو پہلو سامنے آرہے ہیں۔
مسلمانوں میں بہت سے دانشور اور صحافی اور تجزیہ کار ٹرمپ سے متعلق بڑی عجیب سی خوش فہمیاں پالے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدارتی انتخابی میں یہودیوں نے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا ہے۔ لیکن یہ بات اپنے آپ میں غلط ہے اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو انتخابات سے پہلے سے ہی سفاک اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو ٹرمپ کی متوقع صدارت سے کیوں بڑی توقعات وابستہ کیے بیٹھا تھا؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کو معلوم تھا کہ ٹرمپ جیت رہا ہے اور صہیونی لابی کی زبردست حمایت اس کو حاصل ہے اور اس کے بیت ابیض میں آجانے کے بعد ہی دائیں بازو کے اسرائیلیوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ چونکہ وہ اس کے اقتدار کی پہلی باری کے فائدے بٹور چکے تھے۔
ان مسلمان لال بجھکڑوں کی دلیل ہے کہ ٹرمپ بنیادی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے، وہ ڈیپ اسٹیٹ سے لڑ رہا ہے وغیرہ۔ ہمارے نزدیک تو یہ دعوا ہی صحیح نہیں۔ یہ تو اپنے اقدامات کو جواز دینے کے لیے متواتر کیا جانے والا ایک پروپیگنڈا ہے جس سے بڑی آسانی سے اختلافی آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے۔ ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی فسطائی راہ پر چلنے والے نریندر مودی اس ہتھیار کو کامیابی سے استعمال کرتے آرہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ’’چائے والا‘‘ جھولا چھاپ اور ایشور کا اوتار اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین پر ’’شہزادہ‘‘ ہونے کی پھبتی کستے رہتے ہیں۔ حالانکہ تیرہ سال سے Lutyan Delhi (دہلی میں انگریزوں کا آباد کیا ہوا سب سے پوش علاقہ) میں وہ رہتے ہیں۔ ملک کے بڑے بزنس مینوں (جو ہندوتوا کے وفادار ہیں) کی سرپرستی کرتے ہیں۔ غریبوں اور کسانوں کا سب سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔ یہی کام امریکہ میں ٹرمپ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے ان لوگوں کی سزائیں معاف کر دیں جو ان کے وفادار تھے اور جنہوں نے ٹرمپ کی شکست پر کیپٹل ہل پر احتجاج میں ہلہ بول دیا تھا۔ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنا دونوں کا من پسند مشغلہ ہے۔ ذرا سا فرق یہ نظر آتا ہے کہ انڈیا میں میڈیا پہلے سے ہی برہمن وادی اور ہندوتوا کا اسیر ہے اور مسلم دشمنی اس کے ڈی این اے میں ہے۔ اس لیے اس نے مودی کو کام کا آدمی سمجھ کر اس کی نازبرداری پہلے ہی دن سے کی ہے۔ امریکہ کا میڈیا لبرل رجحان رکھتا ہے اس لیے اس کو ٹرمپ کے غیر لبرل اقدامات سے پریشانی ہے۔ٹرمپ بہت بڑا تاجر اور بلینائر ہے بھلا ڈیپ اسٹیٹ کے بغیر اتنا بڑا بزنس مین کیسے چل سکتا ہے؟
ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ بڑا بنانے (Make America Great Again) کے نعرہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اقتدار میں آئے ہیں۔ مودی نے بھی اس کی نقل میں میک انڈیا گریٹ اگین کا احمقانہ نعرہ بلند کر دیا ہے۔ عوام کا حافظہ بڑا کمزور ہوتا ہے اور وہ پاپولر جذباتی نعروں میں جیتے ہیں۔ ٹرمپ قدیم زمانے کے بادشاہوں اور شہنشاہوں کی ذہنیت رکھتے ہیں، ان کے لیے کسی اخلاقی، سفارتی روایت یا قانون کے کوئی معنی نہیں۔ پرانے زمانہ میں بھی یہی ہوتا تھا کہ نیا نظام پرانے نظام کو اکھاڑ کر اپنے وفادار لوگوں کو ہر جگہ مسلط کرتا تھا چاہے ان میں اس کی صلاحیت ہو یا نہ ہو۔ یہی داخلی طور پر امریکہ میں ٹرمپ آج کل کر رہے ہیں، اس کا ڈیپ اسٹیٹ سے ان کی مزعومہ لڑائی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور اگر ہو بھی تو بس اتنا کہ پرانی بیوروکریسی اور ڈیپ اسٹیٹ کو ہٹا کر اس کی جگہ نئی اور اپنی وفادار ڈیپ اسٹیٹ ملک پر مسلط کر رہے ہیں۔ کیونکہ نرگسیت زدہ لوگ پہلے سے بنے بنائے قوانین، سول اداروں اور مہذب روایات یا اخلاقیات کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے۔ ٹرمپ نے بھی عہدے کا حلف لیتے ہی تابڑ توڑ ایسے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں جن سے لگے کہ وہ ’’روایت‘‘ کے مخالف ہیں۔ وہ اپنے غیر روایتی کاموں کو انجام دینے کے لیے جتنی جلدی میں ہیں اس سے لگتا ہے کہ آخری تجزیہ میں وہ امریکہ کو دنیا میں نکو بنا کر چھوڑیں گے۔
یوروپ جس کو وہ اپنی اکانومی کے لیے پہلے سے بوجھ سمجھتے ہیں ان پر ٹیرف لگا دیے ہیں، ناٹو کے معاشی اخراجات (جس کا بڑا حصہ امریکہ اٹھاتا تھا) وہ کم کر دیے ہیں۔ اپنا فوجی بجٹ بھی کم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ روس سے بھی یوکرین کے معاملہ میں ایک ڈیل کر کے معاملہ کو رفع دفع کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ چین سے بھی کوئی ڈیل کر لیں۔ گویا ان کے کام کرنے کا انداز (Modus Operandi) یہ ہے کہ بڑی طاقتوں سے پنگا نہ لے کر چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کر لیا جائے۔ چنانچہ پانامہ کنال، کناڈا پر بری نظر ڈالنے کے علاوہ غزہ میں تفریحی مقام (Reveria) بنانے کا شیطانی منصوبہ اسی ذہنیت کی غمازی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ٹیم کے خاص لوگ یہ ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری آف اسٹیٹ (وزیرخارجہ) مارکوروبیو، ڈیفنس سیکریٹری ہیٹ بیگ سیتھ، مشرقی وسطیٰ کے لیے خاص نمائندہ مارکوس ہوکسٹائن، اسرائیل میں امریکی سفیر ہکابی مائکے، دنیا کا سب سے امیر شخص ایلون مسک، انڈین نژاد تلسی گبارڈ جو مسلم مخالف کمنٹ کرتی رہی ہے اور ہندوتوا لابی سے اس کے رشتے ڈھکے چھپے نہیں یہاں تک کہ آر ایس ایس کے بڑے بڑے ذمہ دار اس کی قصیدہ خانی کر رہے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ۲۲ فروری 2025ء کے انڈین ایکسپریس میں رام مادھو کا مضمون: Rise and rise of Tulsi Gabbard)
گبارڈ کو چھوڑ کر یہ سب کے سب یہودی یا اعلانیہ صہیونی ہیں۔ سابق صدر جوبائڈن اور اس کی انتظامیہ جھوٹوں کو ہی فلسطین کا نام لے لیا کرتی تھی مگر اِن لوگوں کے لیے فلسطین کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ غزہ میں سیزفائر کا ڈرامہ سراسر ایک اسٹریٹیجک گیم ہے جس کے تحت تمام اسرائیلی مغویوں کو رہا کروا لیا جائے گا، اس کے بعد اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی جائے گی کہ وہ غزہ سے جبراً تمام فلسطینیوں کو باہر نکال دے اور پھر وہاں ٹرمپ اپنے ڈویلپرز بھیجے گا۔ یوں اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے فلسطین کے کابوس سے نجات مل جائے گی۔ نتن یاہو کو اتنی جلدی ہے کہ وہ اب بھی مختلف حیلوں بہانوں سے سیزفائر سے نکل جانا چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نتن یاہو کے درمیان یہی طے پا چکا ہے۔
باقی رہے عرب حکمراں وہ تھوڑا بہت شور مچائیں گے اس کے بعد قسمت کا لکھا اور مجبوری کا سودا سمجھ کر اس کو قبول کر لیں گے۔ رہا انٹرنیشنل لا اور اقوام متحدہ اور نام نہاد عالمی برادری تو اسرائیل امریکی آشیرباد سے ہمیشہ ان سب کو جوتے کی نوک پر رکھتا آیا ہے، اب وہ کون سا اُس کا کچھ بگاڑ لیں گے!
مارکو روبیو نے ابھی حال ہی میں خطہ کا دورہ کیا، وہ سب سے پہلے اسرائیل گیا، پریس کانفرنس کے دوران بنجمن نتن یاہو اس سے بار بارمعانقہ کرتا رہا۔ روبیون نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے پلان کو بولڈ بتایا، اُس کی خبثِ نیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس پریس کانفرنس میں مسلسل ایران کے خلاف بولتا رہا اور اُس نے یہاں تک کہہ دیا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک دو اسرائیل اور ہو جائیں تو پورے خطہ میں امن ہی امن آجائے۔ وہ اسرائیل جس نے پچاس ہزار بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو مار دیا! عربوں کے منہ پر اس سے بڑا تماچا اور کیا ہو گا؟
ٹرمپ کے صدارت کا حلف لیتے ہی سب سے پہلا ملک جس کے سربراہ کا وہائٹ ہاؤس نے پُرتپاک خیرمقدم کیا وہ اسرائیل تھا۔ نتن یاہو پہلے سے ہی ٹرمپ سے بڑی توقعات لگائے بیٹھا تھا۔ چنانچہ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کے سبھی لوگ بڑے فخر سے اس کا اعلان کرتے رہتے ہیں کہ امریکہ میں ان سے پہلے اسرائیل کا اتنا بڑا خیرخواہ اور دوست اور کوئی نہیں آیا۔ بائڈن نے 2000 پاؤنڈ کے جن بموں کی سپلائی روک دی تھی وہ ٹرمپ نے فوراً جاری کر دی۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار سے وہ جتنے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ جلدی حاصل کر لے۔ چنانچہ اس کا سارا زور اس پر ہے کہ ایران کے نیوکلر ری ایکٹر کو برباد کر دینے کی امریکہ اسے اجازت دے دے۔ تاہم تجزیہ کار نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ
’’غالباً ٹرمپ ابھی اس حد تک جانا نہیں چاہے گا کیونکہ اِس پر اگرچہ بہت کم بات ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خود امریکہ کی اکانومی اب بہت مضبوط نہیں رہ گئی ہے۔ اس کی آمدن کے برابر ہی اس کے بیرونی مصارف ہوگئے ہیں جن کو ٹرمپ کم کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ زیادہ معاملات میں ڈیل کرے گا، دھمکیاں دے گا مگر معاملات وہ مذاکرات کی میز پر ہی طے کرنا چاہے گا۔‘‘
اس تجزیہ میں دم لگتا ہے کیونکہ ٹرمپ کی اعلان کردہ پالیسی America First کی ہے اور وہ اس نظریہ کا قائل ہے کہ ہم نے دنیا بھر کا ٹھیکہ نہیں لیا ہے، جو چیز امریکہ کے مفاد میں ہو گی وہ ہم کریں گے دوسرے جائیں بھاڑ میں۔ بیرونی دنیا میں امریکی مداخلت اور اس کے مصارف کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ اس کی معیشت اس کا بوجھ سہار نہیں پا رہی ہے۔ ماہرین معیشت کا خدشہ ہے کہ اگر کسی بھی طرح امریکی ڈالر کی قیمت نیچے گری تو وہ اس کی معیشت کو گہرا زخم لگائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ جی ٹونٹی یا برکس جیسے معاشی گروپ کو گوارا کرنے کیے لیے تیار نہیں ہے جو اس کی نظر میں ڈالر کو چیلنج دے گا۔
ٹرمپ کا طریقہ ٔواردات یہ ہے کہ وہ دوسروں کی طرف سے خود ہی الٹے سیدھے بیان دے کر ان کو دباؤ میں لے لیتا ہے۔ چنانچہ اُس نے بار بار کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کے لیے تیار ہے اور سعودیوں سے بات ہو چکی ہے۔ اب سعودیہ بے چارہ لاکھ اس کی تردید کرے اور صفائیاں دے مگر ٹرمپ کا حربہ اپنا کام کر چکا ہے۔ آج عربوں، مسلمانوں اور غیر مسلموں میں بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو سعودی عرب کی کسی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ابھی حال ہی میں ٹرمپ نے یہی کھیل اردن کے بادشاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ بھی کھیلا۔ اُس غریب کو دھمکانے اور اپنا پلان بتانے کے لیے وہائٹ ہاؤس طلب کیا گیا۔ اپنی انگریزی دانی کے بل بوتے پر کنگ عبد اللہ کو بھروسہ رہا ہو گا کہ وہ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کر لیں گے کہ ان کے منصوبہ سے پورے خطہ میں جو پہلے ہی فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے مزید آگ لگ سکتی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اس کا موقع ہی نہیں دیا۔ مختصر وقت میں اپنی بات کر کے پریس بریفنگ کے لیے اٹھ گیا اور پریس کے لوگوں کے سامنے روایتی طور پر کنگ کی تعریف کر کے اپنا پلان دہرا دیا کہ ہم مصر اور اردن کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں ان کو بھی ہمارے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اردن کو خاصی امریکی امداد ملتی ہے اور مصر کو تو دنیا میں اسرائیل کے بعد شاید سب سے زیادہ۔ پریس بریفنگ میں غریب کنگ کے چہرہ پر ہوائیاں اڑتی رہیں اور بہت مشکل سے اتنا کہہ پایا کہ ہماری بات چیت مثبت رہی اور سعودی عرب اور مصر بھی غزہ کی آباد کاری کا ایک پلان بنا رہے ہیں ان کو بھی ہمیں سننا چاہیے اور مل جل کر مسئلہ کا ایسا حل نکالا جانا چاہیے جس میں سب کا فائدہ ہو۔ البتہ لوٹنے کے بعد اس نے ایکس (سابق ٹویٹر) کے پلیٹ فارم سے اپنی بات رکھی اور ٹرمپ کے پلان پر تنقید کی۔
مصری صدر کو بھی امریکہ کا دورہ کرنا تھا مگر اس موقع پر اس نے دانشمندی دکھائی اور اپنا دورہ کینسل کر کے وہ مشترکہ عرب منصوبے کے لیے حمایت جٹانے کے لیے دوسرے ملکوں کے دورہ پر نکل گیا۔ عرب حکمرانوں کو شاید یہ امید نہیں تھی کہ امریکہ میں ٹرمپ اتنی طاقت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آجائے گا اور آتے ہی خطہ میں طاقت کا سارا توازن اسرائیل کے حق میں ڈال دے گا۔
غزہ کے لوگوں نے بے مثال صبر و پامردی کا مظاہرہ کر کے اسرائیل کو شرمسار تو کر دیا مگر اصل کھیل تو اب ہو رہا ہے۔ جس میں خدشہ یہ ہے کہ خاکم بدہن غزہ کو چھوڑنے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہوگا! سعودی عرب، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات بظاہر ابھی تک ٹرمپ کے پلان کی مخالفت کر رہے ہیں، انہوں نے چار مارچ کو عرب لیگ کی میٹنگ بلائی ہے، اس کے بعد ہو سکتا ہے جلد ہی او آئی سی کا اجلاس بھی طلب کیا جائے۔
عرب ممالک کا غزہ پر پندرہ مہینے سے مسلط کردہ جنگ کے دوران اس کے تئیں، فلسطینیوں کے تئیں اور خاص کر حماس کے ساتھ جو دشمنانہ رویہ سامنے آیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ عرب ممالک کچھ خاص کر پائیں گے۔ بھلا جو حکمراں عین اُس وقت جب غزہ میں قتل ِعام جاری ہو موسم الریاض کی ناچ رنگ کی محفلوں میں لگے رہیں، جو عین اسی دوران جینیفر لوپیز کے عریاں کنسرٹ منعقد کرانے کی شقاوت دکھا جائیں، جو اپنا ’’شکیرا‘‘ نہ رکنے دیں، اُن سے کوئی اچھی امید کی جا سکتی ہے!
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا!
اس شیخ حرم سے کوئی کیا امید کر لے اور کیوں کر کر لے! سعودی عرب اور اسرائیل میں لفظی جنگ بھی چھڑ گئی ہے۔ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کے بیانات ہی سونے پر سہاگہ تھے کہ وہائٹ ہاؤس کی آشیرباد کے بعد اپنے آپے سے باہر نتن یاہو نے ایک انٹرویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ اگر سعودی عرب کو لگتا ہے کہ فلسطینیوں کو الگ ملک ملنا چاہیے تو سعودی عرب کے پاس بڑا رقبہ ہے وہ اس میں ان کے لیے الگ ملک بنا دے۔ یہ سعودی عرب کی سالمیت پر حملہ تھا، اس نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ فوراً سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان باہر آئے اور صحافیوں سے کہا These are the words of an occupying mindset (یہ قبضہ کرنے والی ذہنیت کے الفاظ ہیں)۔ سعودی عرب میں سارا پریس اور میڈیا بادشاہت کا غلام ہے، فوراً ہی سب کا لہجہ بدل گیا۔
اب سے چند برس پہلے تک عرب میڈیا میں گویا ایک اجماع تھا اور سب اسرائیل کو العدو الصہیونی (صہیونی دشمن) کہتے تھے۔ مگر چند سال سے سعودی میڈیا کے لب و لہجہ میں فرق آگیا تھا اور نتن یاہو کے لیے وزیراعظم اسرائیل کا لفظ استعمال کرتا تھا۔ حماس کو ارہابی (دہشت گرد) کہتا تھا۔ اتنا ہی نہیں اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تو روزنامہ المدینہ نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن بادشاہ کے تیور بدلے تو سب کے لہجے بدل گئے، چنانچہ عکاظ، الریاض اور المدینہ تینوں بڑے اخبارات میں اب کیان الاحتلال الاسرائیلی (اسرائیلی قبضہ گیر ریاست) کے لفظ کا استعمال شروع ہو گیا۔ نتن یاہو کے نام سے رئیس الوزراء کا نام غائب ہوگیا۔ تینوں کو فلسطینیوں کے حقوق یاد آگئے۔ ایک سعودی بلاگر نے آگے بڑھ کر اس بات کی وکالت بھی کی کہ سعودی عرب کو حماس اور اخوان پر سے حج و عمرہ پر پابندی اٹھا لینی چاہیے۔
سفیر نوتیج سرنا کہتے ہیں کہ
’’ٹرمپ نے بنجمن نتن یاہو کو اپنی بغل میں کھڑا کر کے پریس کے سامنے کہا تھا کہ وہ مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، ان کے یہ اقدامات انسانیت کے خلاف ہیں۔ یہ اقدامات اسرائیلی دائیں بازو کی خواہشات پوری کرتے ہیں۔ ان بیانات سے مسئلہ کے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کل کو یہ کسی بھی دوسرے ملک کے لیے نظیر بن جائے گی۔ کوئی بڑا ملک چھوٹے ملک پر جارحیت کرے گا تو آپ اس کو کس طرح روک سکیں گے۔‘‘
اکیس فروری کو جی سی سی کے ممالک کا ریاض سعودی عرب میں اجلاس ہوا جس میں مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے غزہ کی تعمیرِ نو کا اپنا پلان پیش کیا جس پر تمام عرب ممالک کا اتفاق ہو گیا ہے۔ اس پلان کے مطابق غزہ کی تعمیرِنو کے لیے بڑی رقمیں یہی ممالک ادا کریں گے اور ورلڈ کمیونیٹی سے بھی اس میں تعاون کی اپیل کی جائے گی۔ فلسطینیوں کی کوئی بے دخلی نہیں ہو گی اور غزہ میں نئی انتظامیہ لائی جائے گی جس میں حماس شامل نہ ہو گی۔
عربوں کے اس متحدہ اعلامیہ کا فوری اثر دیکھا گیا کہ فوکس نیوز کو ریڈیو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ اردن اور مصر نے ان کے پلان سے اتفاق نہیں کیا۔ دوسرے انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنے پلان کے نفاذ کی سفارش کریں گے تاہم وہ اس کو impose نہیں کریں گے اور جبراً نہیں تھوپیں گے۔ خدا کرے یہ سچ ہو اور عرب ممالک اتحاد کے ساتھ اپنے اس منصوبہ پر آگے بڑھ سکیں اور دو ریاستی حل کی طرف کوئی پیش قدمی ممکن ہو سکے۔
فلسطین کی جنگ بندی اور پیکا ایکٹ کی منظوری
مولانا فضل الرحمٰن
رپورٹ : مولانا حافظ نصر الدین خان عمر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ پندرہ ماہ تک اسرائیل اور صہیونی قوت غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں پر جو آگ برساتی رہی ہے اور جس سے کہ ساری کی ساری آبادیاں منہدم ہو گئیں، پچاس ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہوئے، جس میں چھوٹے بچے، خواتین، بوڑھے۔ اور اب جو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے وہ چونکہ فلسطینیوں کی شرائط پہ ہوا ہے اور اس میں ان کو کامیابی ملی ہے تو یقیناً وہ مبارکباد کے بھی مستحق ہیں، اور ہمیں اللہ پر مکمل بھروسہ ہے کہ فلسطینیوں کا یہ خون اور یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور یہ ساری جدوجہد فلسطین کی مکمل آزادی اور مسجد اقصیٰ کی مکمل آزادی پر منتج ہو گی۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو مصر میں آباد کر دیا جائے، تو فلاں ملک میں آباد کیا جائے، تو فلاں ملک میں آباد کیا جائے۔ ٹرمپ جیسی شخصیت کے ساتھ اسی طرح کی باتیں جچتی ہیں جس کا عقل کوئی تقاضا نہ کرتی ہو۔
بنیادی بات یہ ہے کہ جنگِ عظیم اول کے بعد جب یورپ میں یہودیوں نے مار کھائی اور وہ دربدر ہوئے تو اس وقت بین الاقوامی جو قوانین سامنے آئے اقوام متحدہ کے۔ اور ان کی نئی آباد کاری کے بارے میں ایک بین الاقوامی ذمہ داری قرار دی گئی تھی کہ ان لوگوں کو پوری دنیا میں جگہ جگہ آباد کیا جائے۔ پھر کیوں صرف فلسطین میں آباد کیا گیا؟ صرف فلسطین کی سرزمین کیوں اس کے لیے خاص کر دی گئی؟ اور ۲۰۱۷ء میں جو دارفور معاہدہ تھا وہ کس منصوبے کے تحت ہوا جس میں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی گئی؟ تو اس حوالہ سے ہم یہ سوچتے ہیں کہ آپ فلسطینیوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے کا مشورہ نہ دیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ آپ اسرائیل میں جتنے یہودی اور صہیونی لوگ ہیں ان کو امریکہ میں آباد کر لیں یا کسی بھی یورپی ملک میں آباد کر لیں۔ اور یہ بین الاقوامی ذمہ داری کے تحت اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری امریکہ پر ہے کہ وہ اسرائیل کو یہاں سے اٹھائے اور تمام یہودیوں کو اور صہیونیوں کو امریکہ میں جگہ دے اور وہاں ان کو آباد کر دے۔
دوسری بات جو میں آپ حضرات کے سامنے کرنا چاہتا ہوں کہ ابھی جو نیا قانون پیکا (PECA) پاس ہوا ہے، تو میں ذرا آپ کے نوٹس میں یہ بات لے آؤں کہ اسلام آباد میں آپ کا ایک وفد مجھے ملا تھا اور ان کا موقف میں نے سنا اور ان کے ساتھ میں نے مذاکرہ بھی کیا اور اس کے فائدے اور نقصانات کے پہلوؤں پر بحث بھی کی۔ مجھے ان کی بات میں وزن نظر آیا اور ان کی بات معقول تھی کہ یکطرفہ طور پر قانون پاس کرنے کی بجائے اگر صحافیوں کے ساتھ ذرا مشورہ کر لیا جاتا اور ہماری کچھ تجاویز اس میں لے لی جاتیں تو کیا بری بات تھی؟ اور اس میں تو یہ ہے کہ ایسا قانون کہ جب چاہے جس کو چاہے جس وقت اٹھا لیں۔ اور ہر ہمارا ایک بیان، اس کو آپ اس زمرے میں فوراً لے آئیں، کون پوچھنے والا ہے، اس کی کوئی تشریح تو ہے نہیں۔
تو اس اعتبار سے میں نے صدر مملکت سے فون پر رابطہ کیا۔ اور میں نے ان سے کہا کہ آپ دستخط نہ کریں اور ان کے ساتھ آپ رابطہ کر کے ان کی تجاویز لے لیں ان سے۔ مجھ سے انہوں نے اتفاق کیا، اور یہ بھی کہا کہ محسن نقوی صاحب اب پہنچے ہیں، اور ایک آدھ دن میں میرے پاس پہنچنے والے ہیں۔ میں ان کی ذمہ داری لگاتا ہوں کہ وہ صحافیوں کے ساتھ رابطے میں آجائیں اور پھر ان کی کچھ جو تجاویز ہوں گی وہی میں پھر گورنمنٹ کو بھیج دوں گا کہ اس میں آپ شامل کر لیں۔
لیکن صبح ہوتے ہی دیکھا کہ انہوں نے دستخط بھی کر دیے۔ اب اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ انداز کہ آپ ایک شریف آدمی کے طور پر صدر مملکت کی حیثیت سے ایک بات کر لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد آپ اس پر دستخط کر کے اس کو گزٹ کر لیتے ہیں۔ تو میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ صحافیوں کی اس میں تجاویز لی جائیں، ان سے بات چیت کی جائے، جو معقول تجاویز ہوں ان کو قبول کر لیا جائے، اور ترمیم کے ذریعے سے اس کو اس قانون کا حصہ بنا دیا جائے۔
تو یہ دو باتیں اس وقت میرا خیال تھا کہ میں آپ کے گوش گزار کر لوں۔
(31 جنوری 2025ء کو گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب)
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کی گوجرانوالا آمد
مولانا حافظ خرم شہزاد

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب (امیرِ مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان) مفکر اسلام حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب اور مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالا، حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب کی دعوت پر جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالا کی سالانہ تقریب دستارِ فضیلت میں بطورِ مہمانِ خصوصی 31 جنوری 2025ء بروز جمعۃ المبارک گوجرانوالا تشریف لائے۔ جامعہ کی سالانہ تقریب برائے دستارِ فضیلت جمعہ کے دن منعقد ہوتی ہے، لہٰذا حضرت قائدِ جمعیۃ سے جمعۃ المبارک کے خطاب کی درخواست کی گئی۔ تاریخی جامع مسجد نور میں حضرت قائدِ جمعیۃ نمازِ جمعہ سے قبل تشریف لے آئے اور تقریباً پون گھنٹہ علمی و فکری خطاب فرمایا۔
حضرت قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اپنے خطاب میں علم اور علماء کے مقام اور ان کے فرائض پر قرآن کریم کی روشنی میں فاضلانہ گفتگو فرمائی۔ جامعہ نصرۃالعلوم، اکابرِ جامعہ امام اہل سنہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی رحمہما اللہ، شیخ الحدیث مولانا زاہدالراشدی صاحب اور مہتمم جامعہ مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب کا بطورِ خاص تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ نصرۃ العلوم اور اس کے اکابر سے میرا بچپن سے فکری اور روحانی تعلق ہے اور ان شاء اللہ یہ تعلق ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء کو عملی میدان میں نصائح کرتے ہوئے بطورِ خاص اپنے شیخ اور استاد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ نصیحت بیان فرمائی کیا کہ آٹھ دس سال پڑھنے کے بعد تم عالم نہیں بنے ہو، بلکہ تمہارے اندر اب عالم بننے کی استعداد پیدا ہو گئی ہے لہٰذا اب تم مزید مطالعہ اور تحقیق کرکے عالم بن سکتے ہو۔
قائدِجمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء اسلام کا پروگرام اور نظریہ قرآن سے ماخوذ ہے کیونکہ قرآن ہمیں آزادی و حریت، استحکامِ معیشت اور مفلوک الحالی کے خاتمے کی جدوجہد کی دعوت دیتا ہے اور یہی دعوت جمعیۃ علماءاسلام کے پروگرام اور منشور کا حصہ ہے۔
جمعہ کے خطاب کے بعد مہتمم جامعہ حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب نے خطبہ ارشاد فرمایا اور قائدِجمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے امامت کی درخواست کی۔ اس موقع پر ہزاروں افراد اور علماء کرام نے قائدِجمعیۃ کی امامت میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔
نمازِجمعہ کے بعد قائدِجمعیۃ جامعہ کے مہمان خانہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران راقم (خرم) سمیت اہم ذمہ داران کو حضرت قائدِ محترم سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر حضرت مہتمم صاحب اور اُن کے صاحبزادہ حافظ خزیمہ خان سواتی بھی موجود تھے۔ حافظ خزیمہ سواتی نے قائدِ جمعیۃ کو اپنا ایم۔فل کا مقالہ پیش کیا جو ماہنامہ نصرۃالعلوم گوجرانوالا میں "افکارِ شاہ ولی اللہ" کے عنوان سے خاص نمبر کے طور پر شائع ہوا ہے۔ قائدِجمعیۃ نے مقالہ ملاحظہ کیا اور بڑی خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔
اسی دوران شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم بھی تشریف لے آئے۔ قائد جمعیۃ کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، حضرت زاہدالراشدی صاحب کو دیکھتے ہی چائے کا کپ نیچے رکھا اور اٹھ کھڑے ہوئے اور پرتپاک انداز سے گلے لگ کر ملے۔ کچھ دیر دونوں بزرگوں میں گفتگو کا تبادلۂ خیال ہوا اس موقع پر مجلسِ خاص میں راقم سمیت حاجی بابر رضوان باجوہ، قائد محترم کے سیکرٹری جناب طارق بلوچ بھی موجود تھے۔ بعد میں حضرت شیخ الحدیث صاحب نے درخواست کی کہ طلباء کرام نے اپنے سروں پر پگڑیاں باندھ لی ہیں، اب آپ ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھ دیں۔ لہٰذا قائدِجمعیۃ دوبارہ اسٹیج پر تشریف لائے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے اُن کے سروں پر دستِ شفقت رکھا۔
قائدِجمعیۃ کی موجودگی میں شیخ الحدیث مولانا زاہدالراشدی صاحب نے بھی مختصر خطاب فرمایا اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ جبکہ جامعہ نصرۃالعلوم کے فاضل استاد حضرت مولانا فضل الہادی صاحب نے قائد جمعیۃ کی خدمت میں منظومہ (سپاس نامہ) پیش کیا اور جامعہ کے متعلم یحییٰ زکریا صاحب نے عربی کلام پڑھ کر سنایا۔
تقریب ابھی جاری تھی کہ قائدِ جمعیۃ نے جامعہ کے منتظمین سے رخصت چاہی اور جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالا کے رہنما حاجی محمد شاہ زمان کے گھر تشریف لے گئے جہاں پریس کانفرنس کی اور میڈیا سے عالمی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کی۔
نمازِ عصر کے بعد قائدِجمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپنے دیرینہ بزرگ اور جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالا کی شان حضرت مولانا سید عبدالمالک شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادے سے ملاقات کے لیے جامع مسجد حاجی مراد، تشریف لے گئے، فرزندانِ گرامی سید حفیظ الرحمٰن شاہ، مولانا سید فضل الرحمٰن شاہ اور سید اسد شاہ نے قائدِجمعیۃ کا استقبال کیا۔ جماعتی کارکنان بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ نمازِ مغرب قائدِ محترم کی امامت میں ادا کرنے کی سعادت ہوئی۔ اور نماز کے بعد قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب گوجرانوالا شہر میں پورا دن گزارنے کے بعد لاہور تشریف لے گئے۔
جماعتی کارکنان بالخصوص چوہدری بابر رضوان باجوہ، مولانا حافظ احمداللہ گورمانی، پیر قاری سمیع الحق، سید حفیظ الرحمٰن شاہ، حافظ خرم شہزاد (امیر تحصیل کامونکی)، حافظ فضل الرحمٰن (امیر سٹی گوجرانوالا)، حافظ زاہداللہ خان، حافظ فاروق گادی(امیر نوشہرہ ورکاں)، حافظ فضل اللہ گورمانی، چوہدری اکمل گجر، حافظ عبدالجبار، حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا پیر محمد ریاض اور دیگر احباب نے قائدِجمعیۃ کو گوجرانوالا سے رخصت کیا جبکہ قائد جمعیۃ کی آمد سے کئی دن پہلے سے مختلف امور اور انتظامات میں جمعیۃ علماء اسلام سٹی، تحصیل کامونکی اور تحصیل نوشہرہ ورکاں کے عہدیدار مستعد اور مصروف تھے۔
جامعہ نصرۃ العلوم میں قائدجمعیۃ کی سیکورٹی کے انتظامات جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالا کے سینئر راہنما جناب حاجی بابر رضوان باجوہ کی مشاورت اور نگرانی میں حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب نے مرتب کیے۔
قائدِجمعیۃ کے دورۂ گوجرانوالا سے مخلص اور نظریاتی کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص نصیب فرمائے، جماعت کے ساتھ مخلص بنائے اور قائد جمعیۃ کے دورۂ گوجرانوالا کے نتائج کو دور رس بنائے۔ آمین یارب العالمین
پاکستان شریعت کونسل کی تشکیلِ نو
پروفیسر حافظ منیر احمد
قاری محمد عثمان رمضان

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مولانا عبد الرؤف فاروقی کو آئندہ پانچ سال کے لئے کونسل کا مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب کیا ہے اور رمضان المبارک کے بعد مرکزی نظام شریعت کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں دستور کی منظوری دی جائے گی اور مرکزی مجلس شوریٰ اور عہدیداروں کا چناؤ مکمل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ آج راولپنڈی میں امیر مرکزیہ مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی اور مولانا عبد القیوم حقانی کو پاکستان شریعت کونسل کا سرپرست چنا گیا اور مولانا عبد الرؤف محمدی کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل، مولانا شبیر احمد کشمیری کو رابطہ سیکرٹری، پروفیسر منیر احمد کو سیکرٹری اطلاعات، مفتی محمد سعد سعدی کو ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا گیا، جبکہ باقی عہدہ داروں کا چناؤ مرکزی کنونشن میں کیا جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اجلاس کے فیصلوں اور دیگر تفصیلات کی رپورٹ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے کل جاری کی جائے گی۔
(۲۴ فروری ۲۰۲۵ء)
ممتاز دینی شخصیت مولانا عبد الرؤف فاروقی کو پاکستان شریعت کونسل کا سیکرٹری جنرل، مولانا عبد الرؤف محمدی کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا۔ مفتی اعظم آزاد کشمیر مفتی محمد رویس خان ایوبی اور شیخ الحدیث مولانا عبد القیوم حقانی سرپرست، پروفیسر حافظ منیر احمد سیکرٹری اطلاعات، مولانا شبیر احمد کاشمیری مرکزی رابطہ سیکرٹری، مفتی محمد سعد سعدی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور سابق سیشن جج چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ قانونی مشیر ہوں گے، جبکہ ممتاز دینی رہنما مولانا عبد الحسیب خوستی کو شریعت کونسل بلوچستان کا امیر نامزد کر دیا گیا۔ یہ انتخاب ۲۵ فروری کو اسلا م آباد میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں عمل میں لایا گیا۔
اجلاس میں فیصل آباد سے مولانا عبدالرزاق، کراچی سے مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا قاری اللہ داد، کہوٹہ سے مولانا محمد امین، اسلام آباد سے مولانا رمضان علوی، حافظ علی محی الدین، سعید احمد اعوان، ٹیکسلا سے حاجی صلاح الدین فاروقی، پنجاب سے مفتی محمد نعمان، مولانا قاری عثمان رمضان، خیبرپختونخوا سے مولانا عبدالحفیظ محمدی، مفتی جعفر طیار مقبول اعوان، گلگت بلتستان سے مولانا ثناء اللہ غالب، مری سے مولانا قاسم عباسی کو مرکزی شوریٰ کا ممبر منتخب کر لیا گیا، جبکہ سابق سیشن جج چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ایک قانونی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس کے رکن ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ اور مولانا وجیہ اللہ ایڈووکیٹ رکن ہوں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عید الفطر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے بڑے کنونشن کے موقع پر دیگر عہدیداروں کا اعلان کیا جائے گا، اس موقع پر مولانا شبیر احمد کاشمیری کو آزاد کشمیر میں جبکہ مولانا عبد الحسیب خوستی کو بلوچستان میں تنظیم سازی کا ٹاسک بھی دیا گیا۔ اجلاس میں کونسل کے دستور کے حوالے سے بھی بحث کی گئی اور بعض شقوں کو حتمی شکل دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ نظام شریعت کنونشن میں ترمیم شدہ دستور کو بھی حتمی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
(۲۵ فروری ۲۰۲۵ء)
Pakistan and Turkiye: The Center of Hope for the Muslim Ummah
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

According to a report published in the media on February 14th, Turkish President Recep Tayyip Erdoğan, while addressing an event at the Prime Minister House in Islamabad, stated that Quaid-e-Azam and Allama Iqbal are our heroes also, and that Allama Iqbal's poetry sparked a revolution throughout the world. He emphasized that helping Palestinians is our duty and that our efforts will continue until an independent Palestinian state is established. He stressed the need to resolve the Kashmir conflict through dialogue and in accordance with UN resolutions. He expressed his happiness in visiting Pakistan, stating that it is our second home.
The visit and activities of the President of Turkey, Mr. Hafiz Recep Tayyip Erdoğan, to Pakistan are both welcome and encouraging for us. At this critical juncture in our nation's history, our friends are not only concerned about us but are also cooperating to help us overcome this crisis. The details of the agreements reached between the rulers of Turkey and Pakistan will gradually come to light, but just this fact is reassuring enough for us that President Erdoğan has visited Pakistan at this stage. The gathering of friends itself is significant, as the remaining matters naturally progress. We are confident that these discussions will yield far-reaching results, leading to further improvements in the internal affairs of Turkey and the Islamic Republic of Pakistan. Additionally, we hope that these discussions will pave the way for the fulfillment of the expectations that the Islamic world and the Muslim Ummah have placed on these two nations.
A century ago, Turkey, under the title of the Ottoman Caliphate, held the position of leadership and representation of the Muslim Ummah for nearly four centuries. Nations experience ups and downs in their lives, and the Ottoman Caliphate also went through such phases several times. Even during its decline, it maintained this status, which was acknowledged by former Pakistani Prime Minister, the late Benazir Bhutto, during an interview amidst the severe crisis in Bosnia and Serbia. She stated:
"There isn't even an Ottoman Empire now to whom we can express our sorrows."
The emotional attachment of the Muslims of the subcontinent to the Ottoman Caliphate can be gauged from the fact that a century ago, when the conspiracies and activities of European countries to dismantle the Ottoman Caliphate were at their peak, the Muslims of the subcontinent, under the leadership of Maulana Muhammad Ali Jauhar, took to the streets from Peshawar to Calcutta. When Maulana Muhammad Ali Jauhar was arrested and imprisoned, his esteemed mother stepped into the field, and her slogan echoed in the streets of Pakistan, India, and Bangladesh:
"Says the mother of Muhammad Ali, sacrifice your life for the Caliphate."
These emotions and feelings of the Muslims of the subcontinent were not merely for Turkey but for the unity and centrality of the Muslim Ummah, which was then titled the Ottoman Caliphate.
These emotions and feelings still exist and are re-emerging in the hearts of Muslims in every region of the world. Therefore, whenever they witness any aspect of Turkey's return from secularism to Islam and hear the mention of the Ottoman Caliphate on the lips of any of Turkey's rulers, the warmth in their hearts is rekindled, and they revive many expectations in their minds. Today's Muslim world, observing the geographical importance and ideological, cultural identity and distinction of the Islamic Republic of Pakistan, along with Turkey's gradual journey back to its past, undoubtedly witnesses the rekindling of new hopes in their hearts.
We also view President Hafiz Recep Tayyip Erdoğan's arrival in Pakistan with the same perspective and, while expressing our gratitude to him, pray to God Almighty: "O Allah! Grant Pakistan and Turkey the ability to guide the Muslim Ummah correctly at this most critical stage and to lead it out of the whirlpool of crisis. Ameen, O Lord of the Worlds."
https://zahidrashdi.org/5614
حضرت لیلٰی غفاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
عہدِ نبوی کی خاتون جنگی سرجن
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی
تمہید
عہدِ نبوی کی باکمال خواتین میں سے ایک ’’لیلیٰ غفاریہ‘‘ ہیں، جو ’’السابقون الأولون‘‘ میں سے ہیں، انھوں نے نہ صرف یہ کہ غزوات میں شرکت کی؛ بل کہ زخمیوں کے علاج میں پیش پیش رہیں اور اسی وجہ سے ان کا نام تاریخ کی کتابوں کا جلی عنوان ہے؛ لیکن بدقسمتی سے اہل سیر و تاریخ نے ان کی زندگی کے تعلق سے بہت زیادہ نہیں لکھا؛ بل کہ اگر یوں کہا جائے کہ کچھ نہیں لکھا تو بے جانہ ہوگا، شاید تقشفانہ زندگی کی وجہ سے خود یہ نمایاں نہیں ہونا چاہتی ہوں گی، ان کا تعلق اس ’’غفار‘‘ قبیلہ سے تھا، جس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: غفار: غفر اللہ لہا۔1 ’’غفار: اللہ اس کی مغفرت فرمائے‘‘، گویا بخشے بخشائے قبیلہ سے ان کا تعلق ہے اور دوسروں سے ممتاز کرنے کے لئے یہی نسبت کافی ہے۔
نام و نسب
ان کا نام ’’لیلیٰ‘‘ تھا، قبیلۂ غفار سے تعلق رکھتی تھیں، غفار کا نسب اس طرح ہے: بنو غفار بن ملیل بن ضمرۃ بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانۃ۔2 اسی لئے ان کی نسبت ’’غفاریہ‘‘ ہے، یہ ان جلیل القدر صحابیات میں سے ہیں، جنھوں نے میدان جنگ میں بھی دادِ شجاعت دی ہے، حضور اکرم ﷺ کے ساتھ میدان کارزار میں جایا کرتی تھیں اور مریضوں کی دیکھ بھال اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، وہ خود فرماتی ہیں:
کنت امرأۃ أخرج مع النبی ﷺ أداوی الجرحی۔3
’’میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زخمیوں کے علاج کے لئے جایا کرتی تھی‘‘۔
خلیل بن ایبک صفدی رقم طراز ہیں:
’’الغفاریۃ الصحابیۃ‘‘ لیلی الغفاریۃ: کانت تخرج مع النبی ﷺ فی مغازیہ تداوی الجرحی، و تقوم علی المرضی، قالت لعائشۃ رضی اللہ: ہذا علی بن أبی طالب أول الناس إیماناً۔4
’’غفاریہ صحابیہ لیلیٰ غفاریہ: زخمیوں کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں، انھوں نے حضرت عائشہؓ سے کہا تھا: یہ علیؓ بن ابی طالب ہیں، لوگوں میں پہلے ایمان لانے والے۔‘‘
تراجم و رجال کی کتابوں میں ’’لیلیٰ الغفاریۃ‘‘ کے تعلق سے سیر حاصل حالات قلم بند نہیں کئے گئے ہیں، بس جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ صحابیہ ہیں، جنگ کے میدان میں جایا کرتی تھیں اور زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں، باقی کچھ بھی تفصیل نہیں ملتی، طالب الہاشمی صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’مشہور صحابی ابوذر غفاریؓ کی اہلیہ کا نام بھی لیلیٰ تھا، اہل سیر نے یہ تصریح نہیں کی ہے کہ یہ لیلیٰ (یعنی غفاریہ) ان کی زوجہ تھیں یا کوئی اور۔‘‘5
تلاش بسیار کے بعد ایک دو جگہ یہ صراحت ملی کہ یہی ’’لیلیٰ‘‘ حضرت ابوذر غفاریؓ کی بیوی تھیں؛ چنانچہ ڈاکٹر عبد الصبور شاہین اور اصلاح عبد السلام رفاعی کی مشترکہ تالیف ’’صحابیات حول الرسولﷺ‘‘ میں ہے:
ھی الصحابیۃ لیلی الغفاریۃ، امرأۃ جندب بن جنادۃ: أبی ذر الغفاری۔6
’’یہ لیلیٰ غفاریہ صحابیہ ہیں، جو جندب بن جنادہ ابوذر غفاری کی بیوی ہیں۔‘‘
اسی طرح ایک معروف عربی پورٹل ’’اسلام ویب۔نیٹ‘‘ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے، اس میں لکھا ہے:
وثبت أن أم عطیۃ و أم سلیم و حمنۃ بنت جحش و لیلی الغفاریۃ زوجۃ أبی ذر، و أم أیمن والربیع بنت معوذ، کن یغزون مع النبی ﷺ7
’’یہ ثابت ہے کہ ام عطیہ، ام سلیم، حمنہ بنت جحش، ابوذر کی بیوی لیلیٰ غفاریہ، ام ایمن اور ربیع بنت معوذ (رضی اللہ عنہن) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں‘‘۔
ان دونوں صراحتوں سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ’’لیلیٰ غفاریہ‘‘ حضرت ابوذرؓ کی اہلیہ محترمہ ہیں، جو تاریخ و سیر کی کتابوں میں ’’أم ذر الغفاریۃ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، لہٰذا اب ہم ’’ام ذرغفاریہ‘‘ اور ’’لیلیٰ غفاریہ‘‘ کے تحت مذکور معلومات کو قلم بند کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسلام
حضرت ابوذرؓ جب اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے قبیلہ میں واپس آئے اور دین کی دعوت دینی شروع کی تو گھر کے افراد نے سب سے پہلے ان کی دعوت پر لبیک کہا؛ چنانچہ ان کی والدہ مسلمان ہوئیں اور ان کی اہلیہ بھی مسلمان ہوگئیں، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
…لکن وقفت علی حدیث فیہ التصریح بأنہا أسلمت مع أبی ذر فی أول الإسلام۔8
’’…مجھے ایک ایسی حدیث مل گئی ہے، جس میں صراحت ہے کہ وہ اسلام کے آغاز میں ہی ابوذر کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔‘‘
حضرت ابوذرؓ سابقین الاولین میں سے ایک ہیں؛ بل کہ اسلام لانے والوں میں سے پانچویں نمبر پر ہیں، مکہ آکر نہ صرف وہ مسلمان ہوئے؛ بل کہ علی رؤوس الاشہاد صدائے حق بلند کی، پھر وہ اپنے قبیلہ میں گئے اور وہاں دعوت و تبلیغ کا کام سرانجام دیا، جس کی وجہ سے قبیلہ کے آدھے سے زیادہ لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
قلت: أحد السابقین الأولین، من نجباء أصحاب محمدﷺ، قیل: کان خامس خمسۃ فی الإسلام، ثم رُد إلی بلاد قومہ، فأقام بہا بأمر النبیﷺ لہ بذلک۔9
’’میں کہتا ہوں: وہ سابقین الاولین میں سے ایک ہیں شرفائے اصحاب محمد میں سے ہیں، کہا گیا ہے: وہ اسلام لانے والوں میں سے پانچویں نمبر پر ہیں، انھیں اپنی قوم میں واپس بھیج دیا گیا تھا؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے حکم سے وہاں انھوں نے قیام کیا۔‘‘
اپنے شوہر کی دعوت پر ان کی اہلیہ نے بھی اسلام قبول کیا، محمود طعمہ لکھتے ہیں:
وعاد أبو ذر إلی قومہ بإسلامہ، فأخبر زوجتہ أم ذر بما حدث معہ فی مکۃ، فما ترددت فی متابعتہ، وأعلنت إسلامہا۔10
’’ابوذر اسلام کے ساتھ اپنی قوم میں واپس آئے، اپنی بیوی کو مکہ کا ماجرا سنایا، تو انھوں نے ان کی متابعت میں کوئی تردد نہیں کیا، فوراً اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔‘‘
شعر و شاعری
ام ذر غفاریؓ عرب کی شاعرات میں سے ایک تھیں، اس سلسلہ میں حافظ ابن حجرؓ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ جب نبی کریم ؓﷺ کا ارادہ تبسم فرمانے کا ہوتا تو ابوذرؓ سے کہتے: یا أباذر! حدثنی ببدء إسلامک ’’اے ابوذر! اسلام کی طرف مائل ہونے کا قصہ بیان کرو‘‘، حضرت ابوذرؓ پھر قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے:
کان لنا صنم یقال لہ: نہم، فأتیتہ، فصببت لہ لبناً، وولیت، فحانت منی التفاتۃ، فإذا کلب یشرب ذلک اللبن، فلما فرغ، رفع رجلہ، فبال علی الصنم، فأنشأت أقول:
ألا یانہمُ! إنی قد بدا لی
مدی شرف یبعد منک قربا
رأیت الکلب سامک خط خسف
فلم یمنع فقاک الیوم کلبا
فسمعتنی أم ذر، فقالت: لقد أتیت جرماً، وأصبت عُظماً، حین ہجوت نہماً، فخبرتہا الخبر، فقالت:
ألا فأبننا رباً کریماً
جواداً فی الفضائل یابن وہب
فما من سامہ کلب حقیر
فلم تمنع یداہ لنا برب
فما عبدالحجارۃ غیر غاو
رکیک العقل لیس بذات لب
قال: فقال النبیﷺ: صدقت أم ذر، فما عبد الحجارۃ غیر غاو۔11
’’’’نہم‘‘ نام کا ہمارا ایک بت تھا، ایک دن میں اس کے پاس آیا اور اس کے لئے دودھ انڈیلا اور واپس چلا گیا، پھر مڑ کر دیکھا تو ایک کتا وہ دودھ پی رہا تھا، جب کتا دودھ پی چکا تو اپنی ٹانگ اٹھائی اور بت پر پیشاب کر دیا، تو میں یہ گنگنانے لگا: سنو اے نہم! میرے سامنے یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ عزت تم سے کتنی دور ہے، میں نے ایک کتے کو دیکھا کہ اس نے تم پر گرہن کی لکیر پھیر دی؛ لیکن تم ایک کتے کو بھی نہیں روک سکے۔ ام ذر نے جب یہ سنا تو کہا: تم نے نہم کی برائی کر کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر میں نے قصہ بتایا تو اس نے یہ اشعار کہے: اے ابن وہب! تو نے ہمارے سامنے فضائل سے بھرپور ایک کریم رب کو واضح کیا ہے، جس کے قریب کوئی حقیر کتا نہیں جا سکتا، نہ کوئی ہمیں اس تک پہنچنے سے روک سکتا ہے، لہٰذا پتھر کی پوجا وہی کرے گا، جو بے عقل، مجنون اور گمراہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ام ذر! تم نے سچ کہا، گمراہ شخص ہی پتھر کی پوجا کرے گا۔‘‘
ہجرت اور غزوات میں شرکت
جب حضرت ابوذرؓ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ آگئیں، پھر مختلف غزوات میں شریک رہیں، وہ خود فرماتی ہیں:
أتیت رسول اللہ ﷺ فی نسوۃ من بنی غفار، فقلنا: یارسول اللہ! أردنا أن نخرج معک إلی وجہک ہذا- وہو یسیر إلی خیبر- فنداوی الجرحی، ونعین المسلمین بما استطعنا، فقال: علی برکۃ اللہ۔12
’’میں (خیبر کے موقع سے) بنو غفار کی چند خواتین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ارادہ آپ کے ساتھ خیبر جانے کا ہے، ہم زخمیوں کا علاج کریں گی اور بقدر استطاعت مسلمانوں کی مدد کریں گی، تو اللہ کے رسول ﷺ نے ’’علی برکۃ اللہ‘‘ کہہ کر اجازت دیدی۔‘‘
خیبر جب فتح ہو گیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے اس میں شریک خواتین کو بھی مالِ غنیمت میں سے کچھ کچھ عطا کیا تھا، وہ اپنے تعلق سے فرماتی ہیں:
فلما فتح رسول اللہ خیبر، رضخ لنا من الفیٔ، و أخذ ہذہ القلادۃ التی ترین فی عنقی فأعطانیہا، وعلقہا بیدہ فی عنقی، فواللہ لا أفارقنی أبداً۔13
’’جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کر کے مال غنیمت عطا کیا تو انھوں نے یہ ہار، جسے تم میرے گلے میں دیکھ رہے ہو، مجھے عطا کیا اور اپنے ہاتھوں سے میرے گلے میں ڈالا، بس خدا کی قسم! میں کبھی اسے اپنے سے جدا نہیں کرتی ہوں۔‘‘
غزوۂ ذی قرد (جسے غزوۂ غابہ بھی کہا جاتا ہے) کے بارے میں آتا ہے کہ اِنھیں میاں بیوی کے سبب پیش آیا، قصہ کچھ یوں ہے کہ: یہ دونوں مدینہ کے اطراف میں (جسے: غابہ کہا جاتا تھا) رسول اللہ ﷺ کے بیس اونٹ چرا رہے تھے، جب مداینہ کی چراگاہ خشک ہو گئی تو یہ حدود مدینہ سے باہر عیینہ بن حصن کی چراگاہ کے قریب پہنچ گئے، رسول اللہ ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو انھیں اس سے روکا؛ لیکن اِن کا اصرار تھا سرسبز و شاداب چراگاہ کی اجازت لے لی جائے، بہرحال! یہ آگے بڑھتے رہے اور عیینہ بن حصن کی چراگاہ میں چراتے رہے، ایک دن عیینہ بن حصن نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کیا، ابوذر کے بیٹے ’’ذر‘‘ کو قتل کیا، ان کی بیوی کو باندی بنایا اور کچھ جانور ہانک کے لے گیا، مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ ایک دستہ کے ساتھ نکلے اور ذی قرد تک جا پہنچے، اِدھر ام ذر کو ایک رات موقع ملا تو وہ ناقۂ رسول پر سوار ہو کر قید سے بھاگ نکلیں۔14
طبابت
ام ذر، جن کا نام لیلیٰ تھا، ایک ماہر آرتھوپیڈک سرجن تھیں، ڈاکٹر امیمہ ابوبکر اور ڈاکٹر ہدی سعدی نے انھیں’’جَرَّاحَۃُ حُرُوْب‘‘(جنگی سرجن War Surgeon) قرار دیا ہے۔15 وہ خود کہتی ہیں:
کنت أغزو مع النبیﷺ، فأداوی الجرحی، وأقوم علی المراضی۔16
’’میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھی اور زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔‘‘
باقی دیگر تراجم کی کتابوں میں بھی اسی طرح ان کا تذکرہ ہے؛ چنانچہ ڈاکٹر عبد السلام ترمانینی لکھتے ہیں:
لیلیٰ الغفاریۃ: من کرام المسلمات الصحابیات، کانت تخرج مع النبیﷺ فی مغازیہ تداوی الجرحی، وتقوم علی المرضی۔17
’’لیلیٰ غفاریہ باعزت مسلمان صحابیہ تھیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں، زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔‘‘
ڈاکٹر عمر رضا کحالہ لکھتے ہیں:
لیلی الغفاریۃ: مجاہدۃ غازیۃ، کانت تخرج مع النبیﷺ فی مغازیہ فتداوی الجرحی، وتقوم علی المرضی۔18
لیلیٰ غفاریہ مجاہدہ اور غازیہ تھیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں، زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
وفات
حضرت ام ذرؓ اپنے شوہر حضرت ابوذرؓ کے ساتھ عہد عثمانی میں مقام ’’ربذہ‘‘ منتقل ہو گئی تھیں، جہاں ان کے شوہر حضرت ابوذرؓ کی وفات ۳۲ھ میں ہوئی، شوہر کی وفات کے بعد ویکی پیڈیا کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ان کو مدینہ لے کر آگئے تھے، کتب تراجم میں ان کی وفات کی تاریخ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے؛ البتہ ’’منتدیات قبیلۃ کنانۃ‘‘ میں لیلیٰ غفاریہ کی سن وفات ۴۰ھ لکھا ہوا ہے19، اس لحاظ سے وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد تقریباً آٹھ سال بقید حیات رہیں اور اغلب یہی ہے کہ مدینہ کی سرزمین میں ہی ان کا انتقال ہوا، رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ العظیمۃ و رضی عنہا۔
حواشی
- (البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۵۱۳، القشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۱۸)
- (العسقلانی، ابن حجر، احمد بن علی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، باب ذکر أسلم و غفار و مزینۃ و جہینۃ و أشجعۃ: ۶؍۵۴۳، تصحیح و تحقیق و اشراف علی مقابلۃ النسخ: عبد العزیز بن عبداللہ بن باز، ناشر: دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان)
- (الطبرانی، سلیمان بن احمد، ابو القاسم، المعجم الکبیر، لیلیٰ الغفاریۃ: ۲۵؍۲۸، حدیث نمبر: ۴۵، تحقیق و تخریج: حمدی عبدالمجید السلفی، ناشر: مکتبۃ ابن تیمیۃ، القاہرۃ )
- (الصفدی، خلیل بن أیبک، صلاح الدین، الوافی بالوفیات: ۲۵؍۶، تحقیق: احمد ارناؤوط و تزکی مصطفی، ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، الطبعۃ الأولیٰ ۲۰۰۰ء)
- (طالب الہاشمی، تذکار صحابیات، ص: ۲۹۲، ناشر: البدر پبلیکیشنز، راحت مارکیٹ، اردو بازار، لاہور چوبیسواں ایڈیشن جولائی ۲۰۰۲ء)
- (شاہین، عبدالصبور، صحابیات حول الرسول ﷺ، ص: ۱۴۳، نمبرشمار: ۴۲، عنوان: أم ذر الغفاریۃ، ناشر: نہضۃ مصر للطباعۃ والنشر والتوزیع)
- (https://www.islamweb.net عنوان: من ممرضات الإسلام الأوائل)
- (العسقلانی، ابن حجر، احمد بن علی، ابوالفضل، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۳۵۲، نمبر شمار: ۱۲۱۵۱، تحقیق: الدکتور عبداللہ بن عبد المحسن الترکی، ناشر: مرکز ہجر للبحوث والدراسات العربیۃ والإسلامیۃ، القاہرۃ، الطبعۃ الأولیٰ ۲۰۰۸ء)
- (الذہبی، محمدبن احمدبن عثمان، شمس الدین، سیر أعلام النبلاء: ۲؍۴۶، تخریج حدیث و اشراف علی التحقیق: شعیب الأرنؤوط، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۸۲ء)
- (حلبی، محمود طعمۃ، المائۃ الأوائل من صحابیات رسول اللہ ﷺ، ص:۳۶۵، ناشر: دارالمعرفۃ، بیروت، لبنان الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۶ء)
- (العسقلانی، ابن حجر، احمد بن علی، ابو الفضل، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۳۵۲-۳۵۳، نمبر شمار: ۱۲۱۵۱، تحقیق: الدکتور عبداللہ بن عبد المحسن الترکی، ناشر: مرکز ہجر للبحوث والدراسات العربیۃ والإسلامیۃ، القاہرۃ، الطبعۃ الأولیٰ ۲۰۰۸ء، عبد مہنّا، معجم النساء الشاعرات فی الجاہلیۃ والإسلام، ص:۲۹۳، نمبرشمار: ۳۸۲، ناشر: دارالکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۹۰ء، شاہین، عبدالصبور، صحابیات حول الرسول، ص:۱۴۳، نمبر شمار: ۴۲، عنوان: أم ذر الغفاریۃ، ناشر: نہضۃ مصر للطباعۃ والنشر والتوزیع)
- (ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند احمد: ۱۸؍۴۴۳، حدیث نمبر: ۲۷۰۱۴، ناشر: دارالحدیث، قاہرہ، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۹۵ء)
- (الحمیری، المعافری، ابن ہشام، عبدالملک، السیرۃ النبویۃ، حدیث المرأۃ الغفاریۃ: ۲؍۱۹۹، تخریج احادیث و حاشیہ نگار: الشیخ فؤاد بن علی حافظ، ناشر: دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
- (شاہین، عبد الصبور، صحابیات حول الرسول، ص:۱۴۳-۱۴۴، نمبر شمار: ۴۲، عنوان: أم ذر الغفاریۃ، ناشر: نہضۃ مصر للطباعۃ والنشر والتوزیع)
- (النساء و مہنۃ الطب فی المجتمعات الإسلامیۃ، ص:۲۲، ناشر: مؤسسۃ المرأۃ والذاکرۃ، القاہرۃ، الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۴ء)
- (العسقلانی، ابن حجر، احمد بن علی، ابوالفضل، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۴؍۱۸۶، نمبر شمار: ۱۱۸۶۷، تحقیق: الدکتور عبداللہ بن عبد المحسن الترکی، ناشر: مرکز ہجر للبحوث والدراسات العربیۃ والإسلامیۃ، القاہرۃ، الطبعۃ الأولیٰ ۲۰۰۸ء)
- (الترمانینی، عبدالسلام، الدکتور، أحداث التاریخ الإسلامی بترتیب السنین: ۱؍۳۸۴، ناشر: المجلس الوطنی للثقافۃ والفنون والآداب، کویت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۸۲ء، القرطبی، النمری، ابوعمریوسف بن عبداللہ بن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۳۶، نمبر شمار: ۳۴۵۲، صححہ وخرج احادیثہ: عادل مرشد، ناشر: دارالاعلام، اردن، عمان، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۲ء)
- (کحالہ، عمر رضا، أعلام النساء فی عالمی العرب والإسلام: ۴؍۳۳۶، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الخامسۃ ۱۹۸۴ء)
- (www.kinanah.net/vb/t9015.html)
شورائیت اور ملوکیت
ڈاکٹر عرفان شہزاد
نظم اجتماعی انسان کی سماجی ضرورت ہے۔ سماجی تعامل کے حدود و قوانین اور تنازُعات کے فیصلے کے لیے متفقہ اتھارٹی کا قیام ناگزیر ہے، جس کے فیصلوں کے آگے خواہی نہ خواہی سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ یہ نہ ہو تو دوسری صورت انارکی ہے، جسے معقولیت گوارا نہیں کر سکتی۔ نظم اجتماعی کے قیام کا تقاضا کچھ انسانوں کا اختیار دوسرے انسانوں پر قائم کرنے کا سبب ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یہ اختیار ان کی مرضی اور انتخاب سے ان پر قائم کیا جائے ۔ شورائیت یا جمہوریت کی اصل حقیقت یہی ہے۔ اسی کو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔
قرآ ن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (شوری، 42: 38)
’’اور اُن کا نظام اُن کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔‘‘
شورائیت سے ماورا یا بے پروا ہو کر اقتدار کو کسی فرد، خاندان یاجماعت میں محدود کرنا صاحبان اقتدار کا تجاوز ہے ۔ اس سے نہ صرف عوام کا حق انتخاب غصب ہوتا ہے، بلکہ دیگر باصلاحیت لوگوں کو اقتدار میں آکر اپنے جوہر دکھانے کے مواقع بھی مسدود ہو جاتے اور اقتدار کے حریفوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ بادشاہتو ں کے دور میں طالع آزماؤں کے درمیان کشا کش کی ساری تاریخ اسی کا نتیجہ ہے۔ حکم رانوں کے عزل و نصب کے کسی متفقہ دستور کے بغیر صدیوں تک یہی ہوتا رہا، یہاں تک کہ دستوری حکومتوں کا دور آیا اورانتخابات کی راہ سے حصول اقتدار کے مسئلے کا سیاسی حل عمل میں آگیا۔
شورائیت کی اس اہمیت کے باوجود اللہ تعالی نے اسے شرعی حکم کا درجہ نہیں دیا۔چناں چہ اس کی خلاف ورزی کسی شرعی حد کی پامالی نہیں کہلائے گی۔حالات کا تقاضا ہو تو شرعی احکام میں بھی رخصت دے دی جاتی ہے، شورائیت کا معاملہ تو شرعی بھی نہیں، حکمت عملی سے متعلق ہے، چناں چہ اگر حالات کے تقاضے سے حکومت کی کوئی دوسری صورت اختیار کر لی جائے تو اس پر کفر و ضلالت کا فتوی نہیں لگایا جا سکتا، اور نہ جان و مال کی قربانیاں دے کر مثالی صورت قائم کرنے کی کوشش کوئی دینی جواز رکھتی ہے۔ خود بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالی نے ملوکیت ہی کو اختیار کیا تھا، کیوں کہ ان کے حالات کا تقاضا یہی تھا۔ بنی اسرائیل کے درمیان قبائلی رقابت انھیں کسی متفقہ قیادت پر مجتمع نہیں ہونے دے سکتی تھی، انھیں تو طالوت کے انتخاب پر اعتراض تھا، جسے اللہ نے خود ان کے لیے منتخب کیا تھا۔ اللہ کو ان کی اجتماعیت مقصود تھی جو شورائیت کی صورت میں حاصل نہیں ہو سکتی تھی، چناں چہ انبیا کی موجودگی میں ان کےہاں موروثی بادشاہت جاری رہی۔
گویا، انتخاب اگر شورائیت اور ملوکیت میں ہو تو شورائیت کو منتخب کرنا ہی علم و عقل کا فیصلہ ہونا چاہیے، لیکن انتخاب اگر ملوکیت اور انارکی میں ہو تو ملوکیت کا انتخاب ناگزیر ہے۔ جمہوریت کے جدید دور میں بھی ہنگامی حالات کے دوران میں جمہوری اقدارمعطل کر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
حکومت منتخب ہو یا غیر منتخب، اگر ظلم اور ناانصافی سے کام لے،تو اس کی مذمت اور اصلاح فقط زبانی طور پر ہی کی جا سکتی ہے۔ انفرادی جہاد کا یہی میدان ہے۔ یہاں کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ اس میں جان بھی چلی جائے تو افضل شھادت کہلاتی ہے۔ اس سے زیادہ کسی اقدام کا کوئی حکم نہیں دیا گیابلکہ دین کی رو سے کسی غیر عادل حکومت کے خلاف بغاوت کرنا یا اسے بزور بازو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع ہے،کیوں کہ اس سےنظم اجتماعی مختل ہو سکتا ہے، جو انارکی اور فساد فی الارض پر منتج ہوگا۔ البتہ حکومت کے غیر اخلاقی احکام میں اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ پر امن احتجاج کا حق یہیں تک ہے۔
حکومت کا ظلم فساد فی الارض کی نوعیت اختیار کرلے تو اس صورت میں ہجرت کر جانے کا حکم ہے۔ یہ چارہ بھی میسر نہ ہو ہابیل کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئےاپنی جان دے کر بھی دوسرے کی جان نہ لینے کو زیادہ بہتر عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں رسول اللہ کے ارشادات نقل ہوئے ہیں۔
حدثني ابو كامل الجحدري فضيل بن حسين، ، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا عثمان الشحام ، قال: انطلقت انا وفرقد السبخي إلى مسلم بن ابي بكرة وهو في ارضه، فدخلنا عليه، فقلنا: هل سمعت اباك يحدث في الفتن حديثا؟، قال: نعم سمعت ابا بكرة يحدث، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنها ستكون فتن، الا ثم تكون فتنة القاعد فيها خير من الماشي فيها، والماشي فيها خير من الساعي إليها، الا فإذا نزلت او وقعت، فمن كان له إبل فليلحق بإبله، ومن كانت له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له ارض فليلحق بارضه "، قال: فقال رجل: يا رسول الله، ارايت من لم يكن له إبل ولا غنم ولا ارض؟، قال: " يعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر، ثم لينج إن استطاع النجاء، اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت " قال: فقال رجل: يا رسول الله، ارايت إن اكرهت حتى ينطلق بي إلى احد الصفين او إحدى الفئتين، فضربني رجل بسيفه او يجيء سهم، فيقتلني، قال: " يبوء بإثمه وإثمك ويكون من اصحاب النار " (صحیح مسلم، 7250)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"عن قریب فتنے برپا ہوں گے سن لو! پھر (اور) فتنے برپا ہوں گے، ان (کےدوران) میں بیٹھا رہنے و الا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا یاد رکھو! جب وہ نازل ہوگا یا واقع ہوں گے تو جس کے (پاس) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلاجائے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔" (حضرت ابو بکر ۃ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ایک شخص نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کےبارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس یہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں، نہ زمین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ اپنی تلوار لے، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے (کند کر دے) اورپھر اگر بچ سکےتو بچ نکلے!‘‘
پھر آپ نے فرمایا: ’’اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا‘‘۔ ایک شخص نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر مجھے مجبور کردیا جائے اور لے جا کر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کردیا جائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنا دے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(اگر تم نے وار نہ کیا ہوا) تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا۔‘‘
مسلمانوں کی حکومت اگر ظالم نہیں، اپنے دینی فرائض سے غافل نہیں، یا کسی بڑے انحراف یا کھلم کھلا کفر پرپر مُصر نہیں، تو کسی فرد یا جتھے کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے تئیں نظم اجتماعی کی کسی بہتری یا اسے کسی مثالی صورت میں بحال کرنے کے لیے ہتھیار اٹھا لے اور نظم اجتماعی کومختل کرنے کی کوشش کرے، اگرچہ اسے اکثریت کی حمایت بھی حاصل ہو، اس لیے کہ یہ کوئی دینی فریضہ یا خدا کا مطالبہ نہیں ہے، جس کے لیے لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالا جائے، بلکہ یہ فساد فی الارض کے جرم عظیم کا ارتکاب ہے، خواہ یہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے۔
کسی مصلح کو اپنے اصلاحی اقدام کے لیے اگر اکثریت کی حمایت بھی حاصل نہیں تو اسے خدائی فوج دار بننے کا خبط سرے سے پالنا ہی نہیں چاہیے۔ حکومت کی اصلاح یا کسی مثالی صورت میں اس کی بحالی کے لیے تعلیم اور ابلاغ کےپر امن طریقوں سے راے عامہ ہم وار کرنےکے سوا کسی کارروائی کی کوئی گنجایش دین میں نہیں ہے۔
ارباب حکومت سے مثالی رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اختیار ات کے ساتھ تجاوزات کا ہونا غیرمتوقع نہیں ہوتا۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ کوئی دوسرا شخص یا سیاسی گروہ اختیارات کے تجاوزات سےمبرا رہے گا، یا اس کے جان نشین لازماً ایسے نیک لوگ ہوں گے جو کوئی تجاوز نہیں کریں گے۔ اس خوش گمانی کی جب کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی تو حکومت کی تبدیلی کے لیے براہ ِ سازش یا بزور بازواسے تبدیل کا کوئی عقلی جواز بھی دستیاب نہیں رہتا۔
مسلمانوں سے مطلوب سیاسی رویے کے سلسلے میں رسول اللہﷺ کے ارشادات درج ذیل ہیں:
(مرفوع) حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن الجعد ابي عثمان، حدثني ابو رجاء العطاردي، قال: سمعت ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" من راى من اميره شيئا يكرهه فليصبر عليه، فإنه من فارق الجماعة شبرا فمات إلا مات ميتة جاهلية". (بخاری، 7054)
’’رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:" جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسندہ چیز دیکھی تو اسے چاہیے کہ صبر کرے ،اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔‘‘
حدثنا احمد بن عبد الرحمن بن وهب بن مسلم ، حدثنا عمي عبد الله بن وهب ، حدثنا عمرو بن الحارث ، حدثني بكير ، عن بسر بن سعيد ، عن جنادة بن ابي امية ، قال: دخلنا على عبادة بن الصامت وهو مريض، فقلنا حدثنا: اصلحك الله بحديث ينفع الله به، سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: دعانا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبايعناه، فكان فيما اخذ علينا، " ان بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا ويسرنا، واثرة علينا، وان لا ننازع الامر اهله، قال: إلا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان ". (مسلم، 4471)
عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ ہم خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی اطاعت کریں گے، اور یہ کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’البتہ، اگر تم کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے خلاف تمہارے پاس واضح دلیل موجود ہو، (تو اس صورت میں معصیت کے کاموں میں حکم رانوں کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔)‘‘
تاہم، اس بنا پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت یا حکم نہیں دیا گیا۔
ایک روایت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ برائی کو ہاتھ سے روکنےکا حکم دیا گیا ہے، اس لیےحکومت کی کسی برائی یا فسق کو روکنے کےلیے ہاتھ اور ہتھیار اٹھائے جا سکتے ہیں۔
روایت یہ ہے:
فقال ابو سعيد : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من راى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الإيمان ". (مسلم، 117)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جوشخص منکر (ناقابل قبول کام) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اسے برا کہے، اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو، اپنے دل سے اسے برا سمجھے،اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔‘‘
اس ارشاد میں برائی کو روکنے یا بدلنے کی ہدایت انسان کی استطاعت سے مشروط ہے۔ یعنی انسان کے دائرہءِ اختیار کے اندر منکر یابرائی کو روکنے کی ہدایت اور اس سے اغماض برتنے پر ایمان کی کمی کا الزام دیا گیا ہے۔ اپنے دائرہءِ اختیار سے باہر کسی کام کاانسان کو مکلف نہیں ٹھیرایا گیا۔ ہر شخص یا جتھا اگر اصلاحی ایجنڈا لے کر حکومتیں تبدیل کرنے نکل کھڑا ہو تو یہ خانہ جنگی اور فساد کا سبب بنے گا۔
اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد سیاسی تبدیلی کی کوشش میں فتنے پیدا کرنے والوں سے خبردار کرتے ہوئےمسلمانوں کو تاکید کی تھی کہ وہ کسی جتھے کا حصہ بن پر ہتھیار نہ اٹھائیں۔
اصول سازى اور غامدى صاحب
حسان بن علی
غامدى صاحب چاہے اپنی تعریفات اور اصطلاحات وضع کر لیں (لكل واحد ان يصطلح أو لا مشاحة فی الاصطلاح) لیکن اختلاف صرف اصطلاحات كی تعریفات تک محدود نہیں بلکہ قولِ رسول كی حجیت كو تسلیم کرنے یا نہ تسلیم کرنے کا ہے۔
تو جب غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ دین قرآن و سنت میں محصور ہے تو ان کے پیشِ نظر ان كا اپنا تصورِ قرآن و سنت ہوتا ہے، لہٰذا قرآن کے لیے لازم ہے کہ وه حفص کی قراءت (روايۃ حفص عن عاصم) کے مطابق ہو اور سنت کے لیے لازم ہے کہ وہ ايسا عمل ہو جو تواتر کے ساتھ جاری ہو نیز ملتِ ابراہیمی میں کسی شکل میں موجود ہو۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول جسے اگرچہ تواتر بھی حاصل ہو یعنی ثبوت (authenticity) کے لحاظ سے قطعی ہو (جیسے قربِ قیامت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بیان)، اور اس کے معنی (عیسیٰ علیہ السلام کی قربِ قیامت دوبارہ تشریف آوری) پر بھی امت کا اجماع ہو یعنی معنی کے لحاظ سے بھی قطعی ہو، تب بھی وہ غامدی صاحب کی سنت کی کیٹگری میں شرفِ قبولیت نہیں پا سکتا۔
اسی طرح غامدی صاحب اجماع کی اصطلاح کو تواتر کے ہم معنی استعمال کرتے ہیں، یعنی کسی عمل کا متواتر طور پہ ہم تک منتقل ہونا، نہ کہ اتفاق کے نتیجے میں کسی بیان (نص) کے حتمی معنی (definite meaning) كا متعین ہو جانا، جو کہ اجماع کی اصل تعریف ہے، اور غامدی صاحب کے نزدیک ایسے اجماع کی حجيت کو تسلیم کرنا بدعت ہے۔
مطلب دین کے کسی عمل کی اتفاقی صورت تو ان کے نزدیک اجماع کی تعریف کے تحت آتی ہے، اور ملتِ ابراہیمی میں کسی بھی شکل میں موجود ہونے سے سنت کی تعریف کے تحت بھی، لیکن رسول کے کسی بیان پر اتفاقی حكم ان کی وضع کردہ اجماع کی تعریف سے خارج ہے۔ لہٰذا سنت اور دین کی تعریف سے بھی (اگرچہ یہ بیان ثبوت کے لحاظ سے بھی متواتر يعنی قطعی ہو) آخر اس بلا دلیل تفریق پر کیا دلیل ہے کہ عمل کی اتفاقی صورت کو تو دین مانا جائے ليكن کسی (متواتر) قول کے بارے میں اتفاقی معنی پائے جانے کے باوجود اسے دین کی کیٹگری سے باہر ركھا جائے.
اور غامدی صاحب کا یہ کہنا کب ٹھیک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داری صرف قرآن کو پہنچانا اور متواتر عمل (غامدی صاحب کی تعریفِ سنت) کو جاری کرنا تھا جب کہ قرآن عموم (حرف ما) کے ساتھ کہتا ہے کہ پہنچا دیجیے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا (بلغ ما انزل اليك من ربك)۔ رہی ہم پر قبول کرنے کی ذمہ داری، تو اسی عموم (حرف ما) کے ساتھ ارشاد باری تعالیٰ ہے، جو رسول دے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز آ جاؤ (ما اتاكم الرسول فخذوہ وما نھاكم عنہ فانتھوا)۔ اور ان کا یہ کہنا کہ ہم دین صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو ایک بڑی تعداد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن اور اپنے عمل کی صورت میں منتقل کیا، رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول بیان جسے اگرچہ قولی تواتر بھی حاصل ہو تب بھی وہ دین کا حصہ قرار نہیں پا سکتا بلکہ عملاً اسے بھی وہ اخبارِ احاد کی کیٹگری میں ڈالتے ہیں۔
باقی رہا اخبارِ احاد کا معاملہ تو ان کے نزدیک وہ آپ صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوہ حسنہ کا بیان ہے جس سے دین میں نہ کوئی اضافہ ہو سکتا ہے نہ کوئی کمی بلکہ وہ اسی دین کا تفصیلی بیان ہے جو کہ ان کے تصورِ قرآن و سنت کے اندر محصور ہے۔ یعنی ایسے احکام جو ان کے مطابق قرآن و سنت میں بیان نہیں ہوئے وہ اخبارِ احاد کے ذریعے دین کا حصہ نہیں بن سکتے، جیسے داڑھی کے حکم کو دین سے خارج قرار دیا جاتا ہے، مطلب نہ اس کا وجوب مانا جاتا ہے نہ استحباب۔ جبکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ کسی چیز کے دین ہونے کے لیے اس كا متواتر منتقل ہونا نہ شرعاً ضروری ہے اور نہ ہی عادتاً ایسا ہو سکتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہ تو ممکن نہیں تھا کہ مسلمان سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکلتے تاکہ دین میں بصیرت پیدا کرتے (فلولا نفر من كل فرقۃ منھم طائفۃ)۔
اسی طرح مکتب ھذا کی طرف سے یہ شبہ بھی وارد کیا جاتا ہے کہ حنفیہ بھی خبرِ واحد کی حجیت کو اس طرح نہیں مانتے۔ تو اس پر یہ عرض ہے کہ حنفیہ بخلاف مكتب ھذا، خبر واحد کے ذریعے دین میں کمی اور زیادتی کے قائل ہیں۔ رہی بات خبرِ واحد کے ذریعے قرآن کے حكم پر زیادتی کی تو وہ حنفیہ کے نزدیک درست نہیں جبکہ شافعیہ کے نزدیک درست ہے۔ کیونکہ حنفیہ کے نزدیک خبرِ واحد کے ذریعے قرآن پر زیادتی نسخ ہے نہ کہ تخصیص یا بیان، اور تنسیخ خبرِ متواتر کے ذریعے تو ہو سکتی ہے لیکن خبرِ واحد کے ذریعے نہیں۔ اس کی مشہور مثال غیر شادی شدہ زنا کاروں کے لیے قرآن پاک میں 100 کوڑوں کی سزا كا بیان ہے اور اس پر خبرِ واحد کا یہ اضافہ کہ انہیں ایک سال کے لیے جلا وطن بھی کیا جائے۔ تو اصولِ حنفیہ کے پیشِ نظر خبرِ واحد میں بیان شدہ ایک سالہ جلا وطنی بطورِ حد نہیں بلکہ بطورِ تعزیر ہے، بر خلاف شافعیہ کہ ان کے نزدیک ایک سالہ جلاوطنی ضروری ہے یعنی حدود میں سے ہے یہاں تک کہ اگر ایک سالہ جلاوطنی سے فساد لازم آئے تو مجرم كو محبوس کیا جائے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک اس باب میں جملہ اصول سازی، نصوص کے درمیان ظاہری تعارض کو رفع کرنے کے لیے ہے نہ کہ تعارض کو تشکیل دینے کے لیے۔ جبکہ غامدی صاحب کے ہاں اصول سازی نصوص کے مجمع علیہ فہم کے ساتھ تعارض ایجاد کرنے پر مبنی ہیں۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حنفیہ يا شافعیہ نے نصوص کے مجمع علیہ فہم کے مقابلے میں اصول وضع کیا ہو، بلکہ حدیث کی بابت تو حنفیہ کا یہ قابلِ قدر اضافہ ہے کہ انہوں نے متواتر اور احاد کے مابین خبرِ مشہور جیسی اصطلاح متعارف کروائی اور ان کے نزدیک خبرِ مشہور کے ذریعے قرآن پر زیادتی جائز ہے۔ لہٰذا ایسا اصول سراسر بے اصولی پر مبنی ہے جس میں شارع کے مجمع علیہ قطعی الدلالہ بیان (نص) کو ٹھکرا دیا جائے، چاہے وہ بیان (نص) ثبوت کے لحاظ سے قطعی (متواتر) ہو یا ظنی (بطريق احاد)، کیونکہ اجماع کے تحقق کا مطلب ہی یہ ہے کہ بيان اب اپنے مجمع علیہ معنی کے علاوہ کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں رکھتا اور ایسی صورت میں کسی دوسرے احتمال کا قصد کرنا اجتہاد فی الدین نہیں بلکہ فساد فی الدین ہے۔
مکتبِ غامدی میں جہاں اصطلاحات کے ساتھ اپنی مرضی سے کھینچا تانی کی جاتی ہے وہاں قدیم فقہاء کی عبارات کو اپنی مرضی سے اپنی چاہت کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے، جیسے غامدی صاحب نے امام شاطبی کے اس کلام کو کہ ’’سنت کا وظیفہ قرآن میں موجود احکام کی شرح (بيان) ہے‘‘ كو اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی جیسے امام شاطبی بھی ان کی طرح سنت کے ذریعے قرآن کی تخصیص کے قائل نہیں۔
اسی طرح امام شافعی کے اس موقف کہ ’’سنت قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی‘‘ كو غامدی صاحب کے اس موقف کہ ’’سنت قرآن کی شرح تو کر سکتی ہے لیکن اس میں کسی قسم کی تغيير یا تبدیلی نہیں کر سکتی’‘ کی تائید کے لیے استعمال کرنا۔ حالانکہ امام شافعی کے ہاں سنت کے ذریعے قرآن کی تخصیص جائز ہے چاہے وہ خبرِ واحد سے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک عام کی دلالت ظنی ہے۔ اس کے بجائے غامدى صاحب خبرِ مشہور و متواتر کے ذریعے بھی قرآن کی تخصیص کے قائل نہیں۔
ياد رہے کہ غامدی صاحب اپنے اسی خود ساختہ اصول کے تحت شادی شدہ زناکار کے لیے رجم کی سزا کا انکار کرتے ہیں، اور ان کے نزدیک سنت کا وظیفہ ’’بیان‘‘ احکام ہے یعنی قرآن میں موجود احکامات کا بیان ہے، اور یہاں اس ’’بیان‘‘ کو بھی انہوں نے خود ہی بیان کیا ہے، لہٰذا ان کے بیان سے وہ شرح مراد ہے جو کہ کلام میں ابتدا ہی سے مراد تھی۔ رہا معاملہ تخصیص کا تو وہ ان کے نزدیک بیان کی کیٹگری سے باہر کی چیز ہے۔ حالانکہ تخصیص بھی شافعیہ کے ہاں اسی امر کی وضاحت ہے کہ ابتدا کلام میں کون سی چیز مراد تھی اور کون سی چیز مراد نہیں تھی کیونکہ شافعیہ کے ہاں تخصیص کی دلیل موخر ہو سکتی ہے۔ رہا معاملہ حنفیہ کا تو ان کے نزدیک تخصیص کی دلیل عام سے متاخر نہیں ہو سکتی کیونکہ عام اگر بغیر تخصیص کی مقارن دلیل کے وارد ہو تو یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ شارع کی مراد عام کا شمول ہے، لہٰذا اگر تخصیص کی دلیل عام سے متاخر ہو تو وہ تخصیص نہیں بلکہ نسخ ہے۔ لہٰذا حنفیہ کے اصول کو مانا جائے تو سورۃ نور کی آیت (متعلق زنا) کا نسخ (في حق المتزوج) خبرِ مشہور یا اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ اور امام شافعی کے اصول کو اگر مانا جائے تو سورۃ نور کی آیت (متعلق زنا) کی تخصیص سنت کے ذریعے ثابت ہے۔ اور اگر بالفرض ایسی دلیل موجود ہے جو کہ تقاضا کرے کہ ابتدائے کلام سے ہی سورۃ نور کی آیت شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے تب بھی اصولِ شافعی کے تحت قرآن کی آیت (لیکن کیا کیجیے کہ صاحبِ تدبرِ قرآن کے نزدیک یہ ایک بیہودہ روایت ہے) جس کی تلاوت منسوخ ہے، اس سے بھی اس کا نسخ ثابت ہے۔ لہٰذا امام شافعی کے اصول کو لیا جائے یا حنفیہ کے اصول کو دونوں کے نتیجے میں نص کا اجماعی فہم متاثر نہیں ہوتا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اجماعی فہم کو سامنے رکھتے ہوئے اصول کے ٹھیک اور غلط ہونے کا حال معلوم کیا جاتا لیکن لگتا یوں ہے کہ غامدی صاحب اپنے سوچے سمجھے نتائج کو سامنے رکھ کے اصول و تعريفات وضع کرتے ہیں۔ غرض غامدی صاحب کی فکر تلفیقات کا ايسا ملغوبہ ہے جس میں اصولی فکر مغلوب ہے اور بے اصولی غالب، لہٰذا اس میں ہم آہنگی سے زیادہ بے ہنگمی دکھائی دیتی ہے۔
جب احراری اور مسلم لیگی اتحادی بنے
عامر ریاض
تاریخ کو لکھتے ہوئے تشریحات کا اپنا مقام ہوتا ہے مگر بنیادی اور مسلّمہ اہمیت حقائق کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ تاریخ اس وقت مسخ قرار دی جاتی ہے جب یا تو حقائق کو بدل دیا جائے یا پھر ان کا تذکرہ ہی نہ کیا جائے۔ تاریخ کی کتاب وہی زیادہ قابلِ تحسین کہلائے گی جس میں مستند حوالوں کے ساتھ تمام اہم حقائق بیان کرنے کے ساتھ اپنی تشریحات الگ سے دی جائیں۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ درباری مؤرخ ہی نہیں بلکہ نظریاتی لکھاری بھی حقائق سے انصاف کرتے نظر نہیں آتے۔
جو واقعہ آپ پڑھیں گے یہ 1930ء کی دہائی کی سیاست کا واقعہ ہے کہ جب پنجاب کی سیاست میں ایک نومولود سیاسی پارٹی ’’مجلسِ احرار السلام‘‘ کا غلغلہ تھا۔ 1930ء سے 1935ء کے درمیان اس پارٹی نے نہ صرف کشمیر میں ڈوگرہ راج مخالفت سمیت لاتعداد تحریکیں چلائیں بلکہ اس دوران تین ضمنی انتخابات اور دو مرکزی اسمبلی کی نشستیں بھی جیت لی تھیں۔ بس اب 1936ء تو انتخابات کا سال تھا کہ اب پنجاب کے انتخابی معرکہ میں اس نومولود کو اہمیت حاصل تھی۔ دسمبر کے مہینہ میں انتخابات تھے اور انتخابی سیاست میں تو اصل ہدف مدمقابل کو ہرانا ہی ہوتا ہے۔
پنجاب سرکار کو یونینسٹ پارٹی آف پنجاب اور میاں سر فضل حسین چلا رہے تھے۔ مسلم لیگ کے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح مرکزی اسمبلی میں’’ انڈیپینڈنٹ پارٹی‘‘ کے ممبر کی حیثیت میں بیٹھے تھے کہ یہیں مختلف مسائل پر احرار کے مرکزی اسمبلی میں ممبر نے حمایت کی تو دونوں پارٹیوں میں برف پگھلنے لگی۔
اپریل 1936ء کو مسلم لیگ نے قائد اعظم کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ غیر لیگی مسلمانوں کو شامل کر کے انتخابات کے حوالے سے مرکزی مسلم پارلیمانی بورڈ بنائیں۔ 26 اپریل 1936ء کو دہلی میں اس ضمن میں جناح صاحب نے جو اجلاس بلایا اس میں دو احراری رہنماؤں چوہدری افضل حق اور مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایک سے زیادہ اختلافی امور بھی سامنے آئے۔ جناح صاحب نے دعوت دی کہ احراری مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے تحت انتخابات میں حصہ لیں۔ احراریوں نے کہا کہ پہلے آپ مسلم لیگ سے احمدیوں کو نکالیں۔ جناح صاحب نے کہا اس بارے فیصلہ مسلم لیگ کی کونسل ہی کر سکتی ہے۔ تاہم مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
مئی میں جناح صاحب لاہور آئے۔ انہوں نے میاں سر فضل حسین کو دعوت دی مگر یونینسٹ پارٹی کا تو پنجاب بھر میں زور ہی بہت تھا اس لیے یہ بیل منڈھے نہ چڑھی۔ علامہ اقبال کی مدد سے مولانا ظفر علی خان کی مجلسِ اتحادِ ملّی اور احرار سے ملاقاتیں بڑھیں۔ لاہور ہی میں عبد القوی لقمان کے گھر احراری رہنماؤں اور جناح صاحب میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس دوران احرار کے ایک عوامی جلسہ میں جناح صاحب تشریف لے گئے جہاں کلہاڑی بردار احراری نوجوان سلامی دے رہے تھے۔
یہاں سے جناح صاحب کشمیر چلے گئے جہاں میر وعظ محمد یوسف نے بھی انہیں کشمیر کے حوالے سے احراریوں کی جدوجہد بارے بتایا۔ سری نگر ہی میں جناح صاحب نے مسلم پارلیمانی بورڈ کے لیے چار احراری رہنماؤں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ ان میں عبد العزیز بوگیوال، چوہدری افضل حق، شیخ حسام الدین اور غلام حسین شامل تھے۔
یہ اتحاد چار ماہ سے زیادہ نہ چل سکا کہ دونوں پارٹیوں میں اس اتحاد کے حمایتی کم اور مخالف زیادہ تھے، جب کہ حکمران جماعت بھی مدمقابل قوتوں کو منقسم رکھنے کا گُر بروقت استعمال کرنا بخوبی جانتی تھی۔
یہ سب باتیں احرار بارے چھپنے والی انگریزی کتاب ’’نوآبادیاتی پنجاب میں سیاسی اسلام: مجلسِ احرار 1929-1949ء‘‘ میں مستند حوالوں سے لکھی ہیں جسے آکسفوڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے چھاپا ہے۔ اس کی مصنفہ پروفیسر ثمینہ اعوان ہیں جن کا تعلق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ہے۔ کتاب میں جو حوالے دئیے گئے ہیں ان میں عاشق حسین بٹالوی کی کتاب بھی ہے، اس اتحاد سے متعلق ماسٹر تاج الدین لدھیانوی (انصاری) کا وہ پمفلٹ بھی جسے خود مجلسِ احرار نے چھاپا تھا اور جانباز مرزا کی کتاب ’’کاروانِ احرار‘‘ بھی۔
پاکستان بننے کے بعد احرار اور مسلم لیگ دونوں ہی کے دانشوروں نے کوشش کی کہ اس چار پانچ ماہ کے اتحاد کے واقعہ کو بیان ہی نہ کیا جائے۔ مگر تاریخ کے واقعات کو کوئی چھپا نہیں سکتا، وہ ایک نہ ایک دن سامنے آ ہی جاتے ہیں۔ تاریخی واقعات کو دبانے سے سب سے زیادہ نقصان اسی جماعت کا ہوتا ہے کہ جب ان کے کارکنوں کو حقائق بارے علم ہوتا ہے تو ان کا اعتبار ان تمام کتب سے ہی اٹھ جاتا ہے جو انہیں پڑھائی گئی ہوتی ہیں۔
(روزنامہ دنیا، ۱۰ اکتوبر ۲۰۱۳ء)
غزہ میں رمضان: تباہی اور غیر متزلزل ایمان
الجزیرہ
اسرا ابو قمر
ہم نے اپنے پیاروں، گھروں، روزگار، مساجد کو کھو دیا ہے، لیکن ہمارا ایمان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
تباہ حال غزہ میں رمضان آ پہنچا ہے۔ جب باقی دنیا روزے اور دعا کے مہینے کا ’’تہوار‘‘ کے موڈ میں آغاز کر رہی ہے، وہیں ہم غم اور دکھ کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔
جنگ کی بازگشت اب بھی زور سے سنائی دیتی ہے۔ اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں ہے کہ یہ جنگ بندی قائم رہے گی۔ لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ انہیں ڈر ہے کہ جنگ واپس آ سکتی ہے۔
گزشتہ سال جو کچھ ہم نے دیکھا اور تجربہ کیا اس کی یاد اور صدمہ ہمارے ذہنوں کو بوجھل بنائے ہوئے ہے۔ اور یہ ہمارے لیے جنگ کے دوران رمضان منانے کا پہلا موقع نہیں تھا۔ میں 2014ء میں صرف نو سال کی تھی لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہماری رمضان کی راتیں فضائی حملوں اور تباہی سے بھری ہوتی تھیں اور اپنے محلے پر بمباری سے فرار ہوتے ہوئے ہمیں اندھیرے میں اپنے گھر سے بھاگنا پڑتا تھا۔
لیکن گزشتہ سال کا رمضان مختلف تھا کہ یہ ناقابلِ تصور حد تک بدتر تھا۔ ہر طرف بھوک تھی۔ ہم پورا دن روزہ رکھتے تھے اور چھ لوگوں کے درمیان بانٹے گئے حمص یا بینز کے ڈبے سے روزہ افطار کرتے تھے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم تاریکی میں ڈبہ بند بے ذائقہ کھانا چباتے تھے۔ ہمیں میز کے دوسری طرف ایک دوسرے کے چہرے بمشکل نظر آتے تھے۔
ہم اپنے باقی خاندانوں سے دور تھے۔ میری دادی، خالائیں اور کزن جن کے ساتھ میں رمضان گزارتی تھی، وہ سب مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے، کچھ خیموں میں بے گھر تھے اور کچھ شمال میں پھنسے ہوئے تھے۔ یوں یکجہتی کا مہینہ علیحدگی اور تنہائی کا مہینہ بن گیا تھا۔
رمضان اپنی خوشی کی روح سے محروم ہو گیا۔ ہم افطار سے پہلے مغرب کے وقت یا سحری سے پہلے فجر کے وقت اذان سننے کے لیے ترس گئے تھے لیکن وہ آوازیں کبھی نہیں آئیں۔ ہر مسجد تباہ ہو چکی تھی۔ ایسے لوگ تھے جو اذان دینا چاہتے تھے لیکن وہ ڈرے ہوئے تھے۔ یہ ڈر کہ ان کی آوازوں کی گونج فضائی حملے لائے گی اور انہیں نشانہ بنائے گی۔ قریب کی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر مؤذن کی مانوس آواز پر روزہ افطار کرنے کے بجائے ہم میزائلوں اور گولیوں کی خوفناک بازگشت پر روزہ افطار کرتے تھے۔
جنگ سے پہلے میں اپنے خاندان کے ساتھ افطار کے بعد مسجد جاتی تھی تاکہ نماز ادا کر سکوں اور اپنے پیاروں سے مل سکوں۔ اس کے بعد ہم غزہ کی گلیوں میں گھومتے، رمضان کے پرجوش ماحول سے لطف اندوز ہوتے اور پھر گھر واپس آکر تازہ بنائے گئے قطائف کھاتے۔ لیکن پچھلے سال نسل کشی کے درمیان ہمارے پاس تراویح پڑھنے کے لیے جانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔
یہاں تک کہ عظیم عمری مسجد، غزہ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی مساجد میں سے ایک، جہاں میرے والد اور بھائی رمضان کی آخری 10 راتیں گزارتے تھے، خوبصورت ترین آوازوں میں قرآن کی تلاوت سنتے تھے، وہ بھی غائب ہو چکی تھی، بمباری سے کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی تھی اور ناقابل شناخت حد تک ٹوٹ چکی تھی۔ وہ جگہ جو کبھی دعاؤں اور امن سے گونجتی تھی، مٹی اور ملبے میں بدل گئی۔
اِس سال کا رمضان جنگ بندی کے دوران شروع ہو رہا ہے۔ جب ہم روزہ افطار کرتے ہیں تو فضائی حملے زمین کو نہیں ہلا رہے ہیں۔ فجر کی خاموشی میں کوئی دھماکے نہیں گونج رہے ہیں۔ اپنے گھروں کو سجانے، رنگ برنگی لائٹس لٹکانے کا خوف نہیں جو ہمیں نشانہ بنا سکتی ہیں۔ درد اور تباہی کے درمیان زندگی، جو اتنے عرصے سے رکی ہوئی تھی، غزہ کی گلیوں میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو دکانیں اور بازار تباہ نہیں ہوئے وہ دوبارہ کھل گئے ہیں اور گلیوں کے دکاندار واپس آ گئے ہیں۔
یہاں تک کہ نصیرات کا بڑا سپر مارکیٹ، ہائپر مال، ایک بار پھر اپنے دروازے کھول چکا ہے۔ رمضان سے پہلے میرے والد مجھے اور میری بہن کو وہاں لے گئے۔ روشنیوں والے مال میں قدم رکھتے ہوئے ہم اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ سکے۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے ہم وقت میں پیچھے چلے گئے ہوں۔ شیلف دوبارہ بھر گئے تھے، ان تمام چیزوں سے جن کی ہمیں خواہش تھی۔ مختلف قسم کے چاکلیٹ، بسکٹ اور چپس۔ رمضان کی سجاوٹ، ہر شکل اور سائز کے لالٹین، کھجور کے ڈبے، رنگ برنگے خشک میوہ جات تھے اور ہم تھے۔
لیکن یہ فراوانی فریب ہے۔ شیلفوں کو بھرنے والی زیادہ تر چیزیں تجارتی ٹرکوں پر آتی ہیں جو انسانی ہمدردی کی امداد کے طور پر غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ نیز یہ مصنوعات ان بیشتر لوگوں کے لیے ناقابل خرید ہو گئی ہیں جنھوں نے اپنی روزی روٹی اور گھر کھو دیے ہیں۔
تو اس سال زیادہ تر خاندان کس چیز سے روزہ افطار کریں گے؟ یہ ڈبہ بند خوراک سے تھوڑا زیادہ ہوگا: چاول یا ملوخیا کا سادہ کھانا، یا جو بھی سبزیاں وہ خرید سکیں۔
پہلی افطاری کے لیے میرے خاندان میں مسخن کا ارادہ ہے، ایک فلسطینی ڈش جو مرغی، ساج روٹی اور بہت سے پیاز سے بنتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں۔ غزہ میں اکثریت ان تازہ مرغیوں کو نہیں خرید سکتے جو جنگ سے پہلے کی قیمت سے دوگنی قیمت پر بازاروں میں دوبارہ مل رہی ہیں۔
لیکن غزہ میں رمضان کے دسترخوانوں سے صرف ایک بھرپور روایتی افطار ہی غائب نہیں ہوگا۔ جنگ کے دوران 48,000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پورے خاندان سول رجسٹری سے مٹا دیے گئے ہیں جو اس سال رمضان نہیں منائیں گے۔ بہت سے افطار کے دسترخوانوں پر ایک خالی نشست ہو گی، ایک باپ کی آواز جو اپنے بچوں کو دسترخوان پر بلاتی تھی، وہ اب کبھی نہیں سنی جائے گی۔ ایک بیٹا جس کی روزہ کھولنے کی بے صبری اب کبھی نہیں دیکھی جائے گی۔ یا ایک ماں جس کے ماہر ہاتھ اب کبھی مزیدار کھانا نہیں بنائیں گے۔
میں نے بھی اپنے پیارے کھوئے ہیں۔ میری خالہ کے شوہر جو ہر سال ہمیں افطار کے لیے مدعو کرتے تھے، انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ میری دوست شائما، لینا اور رووا جن سے میں تراویح کی نماز کے بعد مسجد میں ملتی تھی، وہ سب شہید ہو گئیں۔
تہوار کی روح غائب ہو گئی ہے لیکن رمضان کا جوہر یہاں ہے۔ یہ مہینہ عام زندگی کی پریشانیوں اور خدشات سے دور ہونے اور اپنے ایمان سے دوبارہ جڑنے کا موقع ہے۔ یہ معافی کا وقت ہے۔ یہ خدا سے قربت اور روحانی پختگی حاصل کرنے کا وقت ہے۔
ہماری مساجد تباہ ہو چکی ہیں لیکن ہمارا ایمان نہیں ٹوٹا ہے۔ ہم اب بھی آدھے تباہ شدہ گھروں اور خیموں میں تراویح پڑھیں گے، اپنی تمام خواہشات کی دعاؤں میں سرگوشی کریں گے اور قرآن کی تلاوت میں سکون حاصل کریں گے، یہ جانتے ہوئے کہ اللہ ہمارے تمام مصائب کا بدلہ دے گا۔
مولانا حامد الحق حقانی کی المناک شہادت
پاکستان شریعت کونسل
مولانا عبد الرؤف فاروقی
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر نے جامعہ حقانیہ میں دھماکے اور مولانا حامد الحق حقانی سمیت بے گناہ افراد کی شہادت پر گہرے رنج و غم، دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک دینی اور تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانا سوچی سمجھی سازش ہے۔ جامعہ حقانیہ کی ایک قدیم تاریخ ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس عظیم دینی درسگاہ سے متعلق ہیں جبکہ محبت رکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ خود کش دھماکے کے لئے جامعہ حقانیہ کا انتخاب کر کے کروڑوں لوگوں کو اشتعال دلانے اور ان کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔
شریعت کونسل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مولانا حامد الحق حقانی ایک بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے، ان کی دینی، سیاسی، سماجی اور علمی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ حقانیہ کے حوالے سے دینی و مذہبی جماعتوں کے رہنما جو بھی لائحہ عمل دیں گے پاکستان شریعت کونسل ان کی مکمل تائید و حمایت کرے گی اور ہر میدان میں ان کے شانہ بشانہ رہے گی۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے سرپرست مولانا مفتی رویس خان ایوبی، حضرت مولانا عبد القیوم حقانی، نائب امیر مولانا عبد الرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کاشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا ثناءاللہ غالب، مولانا عبد الحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصر الدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اکوڑہ خٹک جامعہ حقانیہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے شہداء کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ہے۔
(۲۸ فروری ۲۰۲۵ء)
پاکستان شریعت کونسل کی اعلیٰ قیادت، جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی کی المناک شہادت پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ پاکستان شریعت کونسل دارالعلوم حقانیہ اور حقانی خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مولانا پر خود کش حملے کو ملکی سیکورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ اس قتل کے منصوبہ سازوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کر انہیں عبرتناک سزا دی جائے۔ نیز کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جلد کونسل کا اعلیٰ سطحی وفد امیر مرکزیہ کی قیادت میں حقانی خاندان سے تعزیت کے لیے اکوڑہ خٹک جائے گا۔ کونسل نے ملک بھر کے علماء سے اپیل کی ہے کہ 7 مارچ کے خطبات جمعہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ علماء کرام کی سیکورٹی کو یقینی بنائے۔ علاوہ ازیں کونسل نے محترمہ ام حسان صاحبہ کی رہائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دانشمندی کا اظہار کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے وفاقی دارالحکومت میں بے چینی اور افراتفری کی فضاء پیدا ہو۔
(۶ مارچ ۲۰۲۵ء)
فلسطین کے سوال کا حل اور پاک افغان تعلقات کی ازسرِنو تعریف
آئی پی ایس کی دو نشستیں
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز
فلسطین کے سوال کا حل
اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے نتائج نے فلسطین کے مسئلے کو خود اسرائیل کے لیے ایک موجودہ سوال کے طور پر دوبارہ تشکیل دیا ہے، جس سے اس کی تزویراتی ناکامیوں اور کمزوریوں کا پردہ فاش ہو گیا ہے جبکہ اس کے آباد کار استعماری صہیونی نظریے پر عالمی تشویش میں شدّت پیدا ہوئی ہے ۔ چونکہ یہ نظریہ نسلی بالادستی اور خارجیت پر مبنی ہے، اس لیے دو ریاستی حل ناقابل عمل ہے۔ اس کا واحد حل صہیونی منصوبے کو ختم کرکے انصاف اور فلسطینی عوام کی خودمختاری کے قیام کے میں مضمر ہے۔
یہ بات استنبول صباحتین زیم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسلام اینڈ گلوبل افیئرز (سی آئی جی اے) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیع الآریان نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں منعقدہ امن کا راستہ: فلسطین کے سوال کا حل کے عنوان پر 24 جنوری 2025 کو ہونے والے ایک پالیسی ڈائیلاگ کے دوران کہی ۔ اس سیشن سے آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن نے بھی خطاب کیا۔
ڈاکٹر سمیع الآریان نے دلیل دی کہ صیہونیزم کنٹرول کرنے اور حکومت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی بھی ریاست کو کچھ ایسا کرنے سے روکتا ہے جس سے اسے خطرہ محسوس ہو۔ انہوں نے کہا کہ صیہونیت کو ختم کرنا یہودیوں کے مذہب کی مخالفت کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ جارحانہ اور جابرانہ نظام کے خلاف مزاحمت سے متعلق ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ جدوجہد انصاف پر مرکوز رہے۔
اس تناظر میں انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طویل عرصے سے جاری ان جارحانہ پالیسیوں کے نتیجے کے طور پر سمجھنا چاہیے جنہوں نے غزہ کو 16 سال محاصرے میں رکھا ، اسے کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کھلے عام فلسطینیوں کو محکوم بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہی ہے، اور انہیں یا تو قبضہ قبول کرنے، بھاگ جانے یا موت کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی ریاست نے انتہا پسند دھڑوں کو مسلح کرکے، اور فلسطینی علاقوں پر یہودی دعووں کا ساتھ دینے والے اقدامات پرعمل دوآمد کرتے ہوئے آباد کاروں کے تشدد کی حمایت کی ہے۔
ڈاکٹر الآریان نے کہا کہ یہ فلسطینیوں کے لیے ان کی خود ارادیت اور آزادی کا معاملہ بن چکا ہے۔ تاہم مسلسل جاری فلسطینی مزاحمت نے اسرائیل کے دیرینہ یکطرفہ تسلط کو چیلنج کیا ہے۔ یہ خاص طور پر اس وقت واضح ہوا جب اسرائیل کی فوجی طاقت غزہ میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی، اوراب صیہونیت کو ایک آباد کار نوآبادیاتی نظریے کے طور پر اپنی قانونی حیثیت اور جارحانہ عزائم کے باعث چیلنجوں کا سامنا ہے۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے اسرائیل کی دفاعی حکمت عملیوں میں تیزی سے کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، جن میں انٹیلی جنس کی ناکامیاں، ڈیٹرنس کی ناکامیاں، سیکورٹی کی خلاف ورزیاں، اور فوری حل حاصل کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے نوٹ کیا کہ اس تنازعہ کے نتیجے نے روایتی طاقت کی حرکیات کو بھی چیلنج کیا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے عالمی اداروں کی موروثی خامیاں بے نقاب ہوئی ہیں، جو کہ 1945 کے بعد کے ویٹو پاور والے بین الاقوامی نظام کی پائیداری کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ فلسطینی جدوجہد اب میدان جنگ سے آگے نکل کر بیانیوں تک پھیل چکی ہے۔ یہ بھی ایک نیاعنصر یہ ہے کہ اس تنازعہ پر پہلے سے کہیں زیادہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر بحث کی گئی اور اس میں حصہ لیا گیا، اس کے اثرات کو بڑھایا اور یہ عالمی بیانیہ حقیقی وقت میں تشکیل پایا۔
مسلم امہ کی آزادی اور گفتگو کو فعال طور پر تشکیل دینے میں اس کے کردار پر زور دیتے ہوئے رحمٰن نے نوٹ کیا کہ جہاں ڈیجیٹل دور نے غالب بیانیے کو چیلنج کرنا آسان بنا دیا ہے، اصل امتحان مسلمانوں کے عالمی تاثرات پر اثر انداز ہونے کے اس موقع کا مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے اور اپنی مزاحمت کےمقاصد کو مضبوط کرنےکے کی متحد ہ کوششوں میں ہے۔
(۲۴ جنوری ۲۰۲۵ء)
پاک افغان تعلقات کی ازسرِنو تعریف
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تنظیم نو کے لیے قلیل مدتی پالیسیوں کی بجائے ایک جامع، اسٹریٹیجک اور گورننس پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ قانون کی حکمرانی کی کمزوری اور تفرقہ انگیز بیان بازی سے بداعتمادی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس نقطہ نظر میں ایک دوسرے کی خودمختاری کو تسلیم کرنے، فرقہ وارانہ بیانیوں کی نفی، قانون کی حکمرانی کی بحالی، قانون کے نفاذ میں عوامی ملکیت اور اور ادارہ جاتی نظام کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار افغانستان میں پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے سفیر (ر) آصف درانی نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) میں 31 جنوری 2025 کو جیو پولیٹیکل امپریٹیوز: طالبان کے بعد کے دور میں پاکستان-افغانستان تعلقات کی ازسرِ نو تعریف کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب میں اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔
اس نشست سےچئیرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن، ، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعد نذیر، جی آئی زی میں پالیسی ایڈوائیزر نورالعیٰن نسیم، یونیورسٹی آف ٹرومسو، ناروے کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرحت تاج، ایمبیسیڈر (ر) سیّد ابرار حسین، ایمبیسیڈر (ر) ایاز وزیر، تجزیہ نگار ڈاکٹر لطف الرحمٰن ، اور دیگر تعلیمی ماہرین، سابق افسران اور پالیسی ماہرین نے خطاب کیا۔
سفیر (ر) آصف درانی نے اجاگر کیا کہ پاکستان-افغانستان تعلقات میں پیچیدہ قبائلی تعلقات، سرحدی تجارت کے مسائل اور پناہ گزینوں کے انتظام جیسے جغرافیائی سیاسی چیلنجز کو روایتی سفارتکاری یا فوجی نقطہ نظر سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائےاس کے حل کے لیے ایک حکومتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو باہمی خودمختاری کو تسلیم کرنے اور علاقائی پیچیدگیوں کے ایک جامع فہم پر مبنی ہو تاکہ اس دوطرفہ تعلقات میں دیرپا استحکام حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا خاتمہ، جو 1990 کی دہائی کی جنگی معیشت کی وجہ سے ہوا تھا اور جس نے صدیوں پرانے تجارتی اور کمیونٹی تعلقات کو متاثر کیا، پاکستان-افغانستان تعلقات میں عدم استحکام کا ایک اہم عنصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی ناکامیوں، بدعنوانی، اور مہاجرین کی پالیسیوں، سرحدی حفاظت، اور ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے شعبوں میں بدانتظامی نے لاقانونیت کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے ادارہ جاتی تنظیم نو ضروری ہو گئی ہے۔ استحکام بحال کرنے کے لیے انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات، پولیس فورس کو بااختیار بنا کر قانون نافذ کرنے میں بہتری، اور حکومتی میکانزم میں عوامی ملکیت کو فروغ دینے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دورانی نے سیاسی بیانیوں کے منفی اثرات پر بھی روشنی ڈالی جو عدم اعتماد کو بڑھاتے ہیں، جس کے نمایاں اثرات عوامی تعلقات اور اقتصادی تعاون پر پڑتے ہیں۔ افغانستان کی پاکستان کے ذریعے تجارت پر انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے قیادت اور عوامی سطح پر ایک عملی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جو فرقہ وارانہ بیانیوں کی نفی کرے اور دوطرفہ تعلقات کو ایک اسٹریٹیجک طاقت کے طور پر دیکھے۔
اس کی توثیق کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات طویل عرصے سے محاذ آرائی اور خوشامد کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جن میں سے کسی نے بھی پائیدار استحکام نہیں دیا۔ اس کے لیے ایک زیادہ متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ڈیٹرنس، ترقی اور روابط کو مضبوط کرے۔
پینلسٹس نے علاقائی نقطہ نظر کی اہمیت پر بھی زور دیا جس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک تجارت، سرحدی انتظام اور عوامی رابطے میں زیادہ کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ افغانستان ایک وسیع تر علاقے کے ساتھ تعمیری طور پر منسلک رہے۔
مقررین نے پاکستان-افغانستان پالیسی پر منظم عوامی بحث کی کمی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے تعلیمی مشغولیت اور تحقیق پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ طویل مدتی اور معلومات پر مبنی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو کسی بھی پالیسی فریم ورک میں تاریخی پیچیدگیوں کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ ایک عوامی نقطہ نظر اپنایا جا سکے جو ردعمل کے سیاسی چالاکی سے آگے بڑھے اور باہمی اعتماد کو فروغ دے۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے کہا کہ الزام تراشی کا کھیل غیر نتیجہ خیز ہے اور یہ طویل المدتی مسائل کو حل نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ خراب حکمرانی دوطرفہ چیلنجز کی جڑ ہے اور اگر اس بنیادی مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو پالیسی کے اقدامات غیر موثر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہمی طاقتوں پر مرکوز ایک مثبت بیانیہ تشکیل دینا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اچھی حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام اور واضح قومی بیانیہ کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ علاقائی استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
(۳۱ جنوری ۲۰۲۵ء)