الشریعہ — جون ۲۰۲۵ء

’’ابراہام اکارڈز‘‘ کا وسیع تر تناظرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
خواتین کی شادی کی عمر کے تعین کے حوالے سے حکومت کی قانون سازی غیر اسلامی ہےڈاکٹر محمد امین 
مسئلہ فلسطین: اہم جہات کی نشاندہیڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
آسان حج قدم بہ قدممولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی 
عید و مسرت کا اسلامی طرز اور صبر و تحمل کی اعلیٰ انسانی قدرقاضی محمد اسرائیل گڑنگی 
تعمیرِ سیرت، اُسوۂ ابراہیمؑ کی روشنی میںمولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد 
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۱)ڈاکٹر محمد سعد سلیم 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۴)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 
شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگان (۱)مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی 
مولانا واضح رشید ندویؒ کی یاد میںڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)مولانا طلحہ نعمت ندوی 
مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ: علم کا منارہ، قرآن کا داعیحافظ عزیز احمد 
President Trump`s Interest in the Kashmir Issueمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

ماہانہ بلاگ

احیائے امت کا سفر اور ہماری ذمہ داریاںڈاکٹر ذیشان احمد 
بین الاقوامی قانون میں اسرائیلی ریاست اور مسجد اقصیٰ کی حیثیتڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
فلسطین کا جہاد، افغانستان کی محرومی، بھارت کی دھمکیاںمولانا فضل الرحمٰن 
عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے غزہ کے معاملے میں تاخیرمڈل ایسٹ آئی 
پاک چین اقتصادی راہداری کی افغانستان تک توسیعٹربیون 
سنیٹر پروفیسر ساجد میرؒ کی وفاتمیڈیا 
قومی وحدت، دستور کی بالادستی اور عملی نفاذِ شریعت کے لیے دینی قیادت سے رابطوں کا فیصلہمولانا حافظ امجد محمود معاویہ 

’’بنیانٌ مرصوص‘‘

’’جہانِ تازہ کی ہے افکارِ تازہ سے نمود‘‘وزیر اعظم میاں شہباز شریف 
پاک بھارت جنگی تصادم، فوجی نقطۂ نظر سےجنرل احمد شریف 
بھارت کے جنگی جنون کا بالواسطہ چین کو فائدہ!مولانا مفتی منیب الرحمٰن 
اللہ کے سامنے سربسجود ہونے کا وقتمولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
ہم یہود و ہنود سے مرعوب ہونے والے نہیں!مولانا فضل الرحمٰن 
جنگ اور فتح کی اسلامی تعلیمات اور ہماری روایاتمولانا طارق جمیل 
مالک، یہ تیرے ہی کرم سے ممکن ہوامولانا رضا ثاقب مصطفائی 
بھارت نے اپنا مقام کھو دیا ہےحافظ نعیم الرحمٰن 
دس مئی کی فجر ایک عجیب نظارہ لے کر آئیعلامہ ہشام الٰہی ظہیر 
 قومی وحدت اور دفاع کے چند تاریخی دنمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بنیانٌ مرصوص کے ماحول میں یومِ تکبیرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاک بھارت کشیدگی کے پانچ اہم پہلوجاوید چودھری 
پاک بھارت تصادم کا تجزیہ: مسئلہ کشمیر، واقعہ پہلگام، آپریشن سِندور، بنیانٌ مرصوص، عالمی کردارسہیل احمد خان 
بھارت نے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن کمزوری دکھا کر رہ گیاالجزیرہ 
پاک بھارت کشیدگی کی خبری سرخیاںروزنامہ جنگ 

مسئلہ کشمیر

مسئلہ کشمیر پر پہلی دو جنگیںحامد میر 
مسئلہ کشمیر کا حل استصوابِ رائے ہے ظلم و ستم نہیںبلاول بھٹو زرداری 
پہلگام کا واقعہ اور مسئلہ کشمیرانسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز 
مسئلہ کشمیر میں صدر ٹرمپ کی دلچسپیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسئلہ کشمیر اب تک!الجزیرہ 
کشمیر کی بٹی ہوئی مسلم آبادیڈی ڈبلیو نیوز 

’’ابراہام اکارڈز‘‘ کا وسیع تر تناظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرتب : مولانا حافظ کامران حیدر

ایک صدی قبل جب ’’اسرائیل‘‘ کے نام سے یہودی سلطنت کے قیام کے لیے ’’اعلان بالفور‘‘ ہوا تو فلسطین پر برطانیہ کے قبضہ، دنیا بھر سے یہودیوں کو وہاں لا کر آباد کرنے، اسرائیل کے نام سے نئی ریاست قائم کروانے اور اسے امریکہ اور یورپ کی طرف سے ہر طرح کا تحفظ اور قوت فراہم کر کے مسلمانوں، عربوں اور فلسطین کے خلاف ایک جارح اور قابض قوت کے طور پر آگے بڑھانے کے مختلف مراحل کے بعد اسے جواز فراہم کرنے اور عربوں اور مسلمانوں سے اسے تسلیم کرانے کے لیے ’’ابراہیمی‘‘ کی بحث چھیڑی گئی، تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ عقیدت و محبت کے شیلٹر تلے یہودیوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کو اکٹھا بٹھا کر اب تک اس حوالے سے جو کچھ ہو چکا ہے اسے ’’قابلِ قبول‘‘ قرار دیا جائے۔ علمی حلقوں میں یہ بحث ایک عرصہ سے جاری تھی مگر اسے عملی منصوبہ اور مہم کی شکل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابقہ دورِ صدارت میں دی جس کا پہلا عملی اظہار ۱۵ ستمبر ۲۰۲۰ء کو وائٹ ہاؤس واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللطیف راشد، اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبد اللہ بن زید کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا کر اس کے اعلان سے ہوا، اس معاہدہ کی کچھ تفصیلات وائس آف امریکہ اردو کی ۱۷ ستمبر ۲۰۲۰ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ہیں:

’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی صبح کی بنیاد رکھ رہے ہیں، یہ بات انہوں نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اس وقت کہی جب متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے وزیراعظم کے ساتھ مل کر ’’ابراہم اکارڈز‘‘ نامی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دو عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’اسرائیل کی پوری تاریخ میں اس سے پہلے صرف دو ایسے معاہدے ہوئے ہیں اور اب ہم نے ایک ہی مہینے میں ایسی دو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے‘‘۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’’یہ معاہدہ یہودیت، اسلام اور مسیحیت میں یکساں طور پر معزز سمجھی جانے والی مذہبی شخصیت کے نام پر رکھا گیا ہے جنہیں تینوں عقائد کے ماننے والوں میں اتحاد کی نمائندگی کرنے والا مانا جاتا ہے‘‘۔ یہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں پر اَمن معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔‘‘

حالیہ دنوں ایک اہم واقعہ ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا ہے اور اس سے صورتحال میں جو تبدیلی آ رہی ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کر کے سعودی حکومت کے ساتھ تجارت و معیشت کے حوالہ سے معاملات طے کیے۔ اس موقع پر ان کی طرف سے دو باتیں سوشل میڈیا میں گردش کرتی رہیں جو بہرحال توجہ طلب ہیں۔  ایک یہ کہ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان ہوا تو وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھیں گے اور دوسرا یہ کہ انہیں امید ہے کہ سعودی عرب ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ میں شامل ہو جائے گا۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالہ سے ہم اپنا موقف متعدد بار واضح کر چکے ہیں اور ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کی بات بظاہر عرب اسرائیل سفارتی تعلقات کے حوالے سے کی جاتی ہے لیکن اس کا جو درپردہ پہلو ہے اس پر ہم کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک عرصہ سے عالمی سطح پر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ مذاہب کو آپس میں ہم آہنگی بلکہ اتحادِ مذاہب کے عنوان سے باہمی ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکالنی چاہیے جس کی وجہ ہمارے خیال میں یہ ہے کہ چونکہ مذہب کو معاشرتی کردار اور سیاسی و تہذیبی ماحول سے الگ کر کے صرف عقائد اور اخلاقیات کے دائرے میں محدود رکھنے کا فلسفہ عالمی قوتوں نے آپس میں طے کر لیا ہے اور اس کو قبول کرانے میں رکاوٹ صرف مسلم معاشرہ میں پیش آ رہی ہیں کہ حکمران طبقوں سے قطع نظر دینی و عوامی ماحول میں مسلم امت اور عوام مذہب کے معاشرتی و تہذیبی کردار سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت میں آمادہ نہیں ہیں اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ، ہم آہنگی اور یکجہتی کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے مسلم دنیا کو بھی مذہب کے بارے میں آج کے عالمی فلسفہ کے دائرے میں محصور کیا جا سکے۔

اس کا ایک دائرہ ’’ابراہیمی مذاہب‘‘ کو یکجا کرنے اور ایک میز پر بٹھانے کی یہ کوشش بھی ہے کہ چونکہ مسیحی، یہودی، مسلمانوں اور بعض دانشوروں کے نزدیک ہندو بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے انہیں ایک چھت کے نیچے جمع کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے بین الاقوامی ماحول میں محنت کا ایک میدان گرم ہے اور ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بھی اسی کا ایک حصہ دکھائی دیتا ہے، اور اس کے لیے ابوظہبی میں ’’خاندان ابراہیم ہاؤس‘‘ تعمیر بھی کیا جا چکا ہے۔ اس پر علمی حلقوں کے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اور ہم بھی اس سلسلہ میں کچھ طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مگر سرِدست ایک دو پرانی یادوں کو گفتگو کے آغاز کے طور پر قارئین کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔

نصف صدی قبل کی بات ہے، ۱۹۷۰ء میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے موضوع پر ایک عالمی کانفرنس میں لیبیا کے حکمران جناب معمر قذافی نے اپنے صدارتی خطاب میں یہ بات کہہ دی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات گرامی چونکہ بیشتر آسمانی مذاہب کا مرکز و محور ہے اور انہوں نے ہی اپنے ماننے والوں کو ’’مسلم‘‘ ہونے کا خطاب دیا تھا ’’ملۃ ابیکم ابراہیم ہو سماکم المسلمین‘‘ (الحج ۷۸) اس لیے مسلمان کہلانے کے لیے یہ نسبت ہی کافی ہے اور انہیں اپنا مرکز و محور ماننے والوں کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان کے عنوان سے الگ تشخص قائم کرنا ضروری نہیں ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ اس وقت مصر کے نائب صدر جناب حسین الشافعی بھی کانفرنس میں شریک تھے اور انہوں نے صدر قذافی کی اس بات کو موقع پر ہی ٹوک دیا تھا کہ ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور ’’مسلمان‘‘ کہلانے کے لیے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور انہیں آخری نبی کے طور پر اپنا پیشوا تسلیم کرنا بھی لازمی ہے، اس کے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان کہلانے کا حقدار نہیں ہے اور نہ کسی کو مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہم ایک مشاہدہ بھی شامل کرنا چاہتے ہیں جو اسی تناظر یں شکاگو کے ایک سفر میں ہمارے سامنے آیا تھا۔ امریکہ کے ایک سفر میں حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے ساتھ رفاقت تھی اور ہم دونوں شکاگو میں چنیوٹ کے ایک تاجر دوست ریاض وڑائچ صاحب مرحوم کے مہمان تھے۔ شکاگو میں مرزا بہاء اللہ شیرازی کے پیروکار ’’بہائیوں‘‘ کا بہت بڑا مرکز ہے جسے دیکھنے اور وہاں کی شب و روز کی سرگرمیاں معلوم کرنے کا مجھے تجسس تھا۔ مولانا چنیوٹیؒ سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ چھوڑو وہاں کون ہمیں اندر جانے دے گا (کون وڑن دیسی؟)۔ میں نے اصرار کیا تو آمادہ ہوگئے اور ہم اپنے میزبان ریاض وڑائچ صاحب کے ہمراہ وہاں جا پہنچے۔ منتظمین نے ہمیں پہچان لیا اور بڑے احترام کے ساتھ اپنے مرکز کا وزٹ کرایا۔ بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں موجود سب مذاہب برحق ہیں اور وہ سب کے جامع ہیں۔ اس کے اظہار کے لیے انہوں نے شکاگو کے اس مرکز کے مین ہال میں، جو بہت بڑا ہال ہے، ایک چھت کے نیچے چھ مذاہب کی عبادت گاہوں کا الگ الگ ماحول بنا رکھا ہے۔ ایک کونے میں مسجد ہے، دوسرے میں چرچ ہے، تیسرے میں مندر ہے اور چوتھے کونے میں یہودیوں کا سینی گاگ ہے جبکہ ہال کے وسط میں گوردوارہ اور بدھوں کی عبادت گاہ ہے اور ہر عبادت گاہ کو اس کا پورا ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ مسجد اس کونے میں ہے جدھر مکہ مکرمہ ہے، اس میں صفیں بچھی ہوئی ہیں، محراب ہے اور اس میں منبر ہے۔ مسجد کے ایک کونے کی الماری میں قرآن کریم کے چند نسخے رکھے ہوئے ہیں۔ مرکز کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ہر مذہب والے کو اپنی عبادت گاہ میں آنے اور اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہے اور بہت سے لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر ان میں سے ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ ایک چھت کے نیچے مسجد، مندر اور چرچ کو دیکھ کر آپ کو کیسا لگا؟ میں نے کہا کہ مسجد اور چرچ تو آپ نے ایک چھت کے نیچے اور ایک چار دیواری کے اندر بنا دیے ہیں لیکن ایک خدا اور تین خداؤں کو کیسے جمع کر لیا ہے؟ مسکرا کر بولے کہ چھوڑیں یہ فلسفہ کی باتیں ہیں۔ میں نے کہا کہ فلسفہ کی نہیں بلکہ یہ عقیدہ اور ایمان کی بات ہے۔

ہمارے خیال میں یہی تصور ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کے پیچھے بھی کارفرما ہے جو اہلِ علم اور دینی قیادتوں کی فوری توجہ کا طالب ہے۔ اور ابھی ابوظہبی میں نیا ’’بيت العائلۃ الابراہيمیۃ‘‘ بنا ہے، خاندانِ ابراہیم کا گھر۔ اب اس کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ صاحب نے سعودیہ سے کہا ہے کہ تم بھی آؤ، مسجد کی امامت تم سنبھالو۔ سعودیہ ابھی تک اس طرف نہیں آ رہا اور سعودیہ کی علماء کونسل نے کہا ہے کہ یہ کفر ہے۔ ہم تو کافی عرصہ سے پڑھ رہے ہیں لیکن یہ بات اب منظر عام پر آ رہی ہے جسے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کہتے ہیں اور اس پر امریکہ کا صدر سعودی عرب کو دعوت دے رہا ہے کہ تم بھی اس میں شامل ہو۔ یہ کیا ہے؟

قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تذکرے میں تفصیل سے یہ بات ذکر کی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کیونکہ بنی اسرائیل کے بھی باپ بھی ہیں، بنی اسماعیل کے باپ بھی ہیں، اللہ پاک نے ان کو یہ اعزاز بخشا تھا، قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے ’’واذ ابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات فاتمہن قال انی جاعلک للناس اماما‘‘ (البقرۃ ۱۲۴) ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو بہت سی آزمائشوں میں ڈالا، وہ پورے اترے، ہم نے ان سے کہا کہ ہم آپ کو نسلِ انسانی کی امامت عطا فرمائیں گے۔

یہ نسلِ انسانی کی امامت کیا ہے؟ تمام مذاہب کا سر چشمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات ہے۔ بیت اللہ بھی ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی دعا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی کہ ’’ربنا وابعث فیہم رسولاً‌‘‘ (البقرۃ ۱۲۹) یا اللہ! ہماری اولاد میں ایک رسول پیدا کر۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں ’’انا دعوۃ ابی ابراہیم و بشریٰ عیسیٰ‘‘ میں اپنے دادا جی ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ثمرہ ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا نتیجہ ہوں۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام، جن کا لقب اسرائیل ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں۔ ان سے بنی اسرائیل پھر آگے چلی، تورات، انجیل، زبور، موسیٰ علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، یہ سارے نبی انہی میں آئے ہیں۔ یہ دونوں خاندان جو دنیا کے بڑے مذہبی خاندان تھے ان دونوں کے دادا جی ابراہیم علیہ السلام تھے۔ ایک پہلو تو یہ ہے۔

اللہ رب العزت نے ابراہیم علیہ السلام کو جو عظمت عطا فرمائی ہے قربانیوں پر پورا اترنے کے نتیجے میں، اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں مبعوث ہوئے اور آپ کو نبوت ملی تو نبی کریمؐ کو اپنے پہلے دائرہ جزیرۃ العرب میں جن مذاہب سے سامنا تھا، وہ سارے خود کو ابراہیمی کہتے تھے ۔ سب سے پہلا سامنا مکہ کے مشرکین سے ہوا، وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیمی ہیں۔ نجران میں عیسائی تھے، وہ کہتے تھے ہم ابراہیمی ہیں۔ مدینہ منورہ میں اور خیبر میں یہودی تھے، وہ کہتے تھے ہم ابراہیمی ہیں۔ اور کچھ صابئین بھی تھے، وہ بھی کہتے تھے کہ ہم ابراہیمی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تئیس سالہ نبوی زندگی میں جن قوموں کا سامنا کرنا پڑا وہ خود کو ابراہیمی کہتے تھے۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں دو ٹوک الفاظ میں تینوں کے دعوے کی تردید کی، فرمایا ’’ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلماً‌ و ماکان من المشرکین‘‘ (اٰل عمران ۶۷) ابراہیم علیہ السلام یہودی بھی نہیں تھے، عیسائی بھی نہیں تھے، مشرک بھی نہیں تھے، موحد مسلمان تھے۔ قرآن مجید نے اس کی ایک واقعاتی ترتیب بھی بیان کی ہے تمہارے مذہب تو بعد میں آئے ہیں۔ یہودی مذہب کا آغاز کہاں سے ہوا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات سے۔ عیسائی مذہب کا آغاز کہاں سے ہوا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل سے۔ فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام تو دو ہزار سال پہلے گزرے ہیں، ان کو یہودی کیسے بنا دیا تم لوگوں نے؟ اور عیسائی تو اس سے بھی دو ہزار سال بعد میں آئے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ تم نے پہلے آنے والی شخصیت کو بعد والے مذاہب کے ساتھ کیسے نتھی کر دیا۔

اور ساتھ ہی اصل ابراہیمیوں کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ’’ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وہذا النبی والذین اٰمنوا‘‘ (اٰل عمران ۶۸) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل ساتھی وہ ہیں جو ان کے دور میں ان پر ایمان لائے تھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان پر ایمان لانے والے ہیں۔قرآن مجید نے صاف کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کے اپنے پیروکار اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ابراہیمی ہے۔ قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ آیا ہے اور اس میں کوئی ابہام کوئی اشکال نہیں ہے کہ کوئی تاویل کیا جا سکے۔

قرآن کریم کی بعض دیگر آیات میں اس کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بنیادی مشن اللہ تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ اور شرک کی تمام صورتوں کی نفی کے ساتھ بت شکنی کا عملی کردار تھا۔ جبکہ ان کی طرف نسبت کے ان دعویداروں میں سے کچھ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا، بعض نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’ابن اللہ‘‘ کا خطاب دیا، اور بعض نے بت پرستی کو فروغ دیا حتیٰ کہ خود ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے تعمیر کردہ حرمِ مکہ کو بتوں کی آماجگاہ بنا دیا۔ اس لیے یہ تینوں گروہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے مشن، عقیدہ اور دین سے ہٹ جانے کے باعث ’’ابراہیمی‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں ہیں اور یہ اعزاز اب صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کے پاس ہے۔

جو دعوت اب دی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں جو پیغمبر اور مذاہب ہیں وہ سب ٹھیک ہیں، سب ابراہیمی ہیں۔ یہ آواز تو کافی عرصے سے لگ رہی ہے، اب ذرا عالمی سطح پر بلند ہوئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے مذہب اکٹھے ہو جائیں، یہ بڑی پرانی آواز ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں جزیرۃ العرب میں جن مذاہب سے واسطہ تھا وہ سب ابراہیمی کہلاتے تھے۔ مشرکینِ مکہ اور مشرکینِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے، وہ بھی ابراہیمی کہلاتے تھے۔ یہودی بھی ابراہیمی کہلاتے تھے، عیسائی بھی ابراہیمی کہلاتے تھے، اور مسلمان تو ابراہیمی تھے ہی۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ’’ابراہیمیوں‘‘ کی طرف سے مختلف مواقع پر پیشکشیں ہوئی ہیں، وہی جو آج بھی کی جا رہی ہے۔ حضورؐ کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں جو پیشکشیں ہوئی ہیں ان میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہتا تھا ۔

ایک پیشکش یہ ہوئی کہ ’’ودوا لو تدہن فیدہنون‘‘ (القلم ۹) تھوڑی سی آپ اپنے عقیدے میں لچک پیدا کر لیں، تھوڑی سی لچک یہ پیدا کر لیں گے۔ سیرت میں کتابوں میں آتا ہے کہ جناب ابو طالب کی وفات سے کچھ دن پہلے قریش کے سرداروں نے یہ محسوس کیا کہ جناب ابو طالب کی موجودگی میں اگر کوئی آپس میں مصالحت ہو گئی تو ہو جائے گی، بعد میں نہیں ہوگی، تو وہ اکٹھے ہو کر جناب ابو طالب کے پاس آئے کہ اپنے بھتیجے سے ہماری بات کروائیں۔ انہوں نے حضورؐ کو بلا لیا۔ مذاکرات میں دو فارمولے تھے اور تین پیشکشیں تھیں۔

فارمولے یہ تھے کہ جناب آپ اپنی توحید کی بات کریں اور اللہ کی صفات بیان کریں لیکن ہمارے بتوں کو کچھ نہ کہیں، ان کی نفی نہ کریں کہ یہ کچھ نہیں کر سکتے، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور حرم میں کریں ہم نہیں روکتے، لیکن ہم اپنے بت خانوں میں جو کرتے ہیں وہ ہمیں کرنے دیں، کبھی ہم آپ کے پاس آ جایا کریں گے، کبھی آپ بھی ہمارے پاس آجایا کریں۔ یہ دو فارمولے تھے ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کے۔

جبکہ پیشکشیں تین تھیں کہ اگر یہ آپ کو فارمولا قبول کر لیں تین باتوں میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔ (۱) بتائیں کتنے پیسے چاہئیں، ہم اکٹھے کر دیتے ہیں۔ (۲) نشاندہی کریں کہ عرب کی کون سی خاتون سے شادی کرنی ہے، ہم کروائیں گے ۔ (۳) آپ فرمائش کریں، ہم آپ کو علاقے کا سردار بنا دیتے ہیں۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ وہ مشہور جواب اسی موقع کا ہے کہ میرے دائیں ہاتھ پہ سورج اور بائیں ہاتھ پہ چاند رکھ دو تب بھی میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ اور قرآن مجید نے بھی اس کا دو مقامات پر ذکر کیا ہے۔ ایک یہ کہ ’’ودوا لو تدہن فیدہنون، ولا تطع کل حلاف مہین‘‘ (القلم ۹، ۱۰) اور دوسرا ’’قل یا ایہا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون‘‘ میں تمہارے بت خانے میں عبادت کے لیے نہیں آؤں گا، تم سے ایک اللہ کی عبادت نہیں ہو گی ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ تم اپنے گھر، میں اپنے گھر۔

یہ ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ تھی اور اس کی حضورؐ کو پیشکش ہوئی تھی۔ قرآن کریم نے مشرکینِ مکہ کی طرف سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیشکش کا اور ذکر کیا ہے۔ فرمایا ’’واذا تتلیٰ علیہم اٰیاتنا بینات قال الذین لا یرجون لقائنا ائت بقرآن غیر ہذا او بدلہ‘‘ آپ جو قرآن کریم پڑھ کر سناتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہیں مان لیں گے لیکن یہ قرآن نہیں، یا تو متبادل لے کر آئیں یا اس میں ردوبدل کر لیں۔ اللہ پاک نے اس کا جواب بھی قرآن مجید میں دلوایا ’’ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاءِ نفسی ان اتبع الا ما یوحیٰ الی‘‘ (یونس ۱۵) آپ فرما دیجیے کہ مجھے قرآن میں ردوبدل کا سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں ہے، میں تو وحی کا پابند ہوں۔

پھر ایک موقع آیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل کے پاس گئے۔ انہی مذاکرات کے نتیجے میں انصارِ مدینہ آئے تھے اور بیعت کی تھی۔ اس زمانے میں ایک بڑا قبیلہ تھا جس کا ایک سردار تھا عامر بن طفیل، عرب کے بڑے سرداروں میں سے تھا۔ اس نے حضور کے ساتھ مذاکرات کی فضا میں یہ پیشکش بھجوائی کہ ٹھیک ہے ہم آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہیں، دو شرطوں میں سے ایک شرط مان لیں۔ (۱) یا تو تقسیم کر لیں کہ میدانی علاقے آپ کے، شہری علاقے ہمارے۔ (۲) یا پھر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ نامزد کر دیں۔ ورنہ تیار ہو جائیں میں بنو غطفان کے بندے اکٹھے کروں گا اور آپ سے لڑوں گا۔ اس کو تو اللہ پاک نے اسی سفر میں سنبھال لیا راستے میں ایک جگہ ٹھہرا، طاعون کا پھوڑا نکلا، وہیں ہلاک ہو گیا۔ بہرحال پیشکش یہ تھی کہ یا علاقہ تقسیم کر لو یا خلافت دے دو تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔

یہی پیشکش مسیلمہ کذاب نے کی تھی، بنو حنیفہ کا بہت بڑا اور جنگجو قبیلہ تھا۔ پہلا لشکر جو مسیلمہ کا مقابلے پر آیا تھا وہ اَسی ہزار کا بتایا جاتا تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود آیا مدینہ منورہ میں حضور سے اس ملاقات ہوئی۔ پھر ایک دفعہ وفد اور خط بھیجا۔ اس کا کہنا بھی یہی تھا، اس کے خط کا مضمون بخاری شریف میں موجود ہے۔ ’’اشرکت معک فی الامر ولکن قریشاً‌ قوم یعتدون‘‘ کہ مجھے آپ کے ساتھ شراکت دار بنایا گیا ہے لیکن یہ قریشی مانتے نہیں ہیں۔ وہ مقابلے کا نبی نہیں بنا تھا، اس نے شراکت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے وہی عامر بن طفیل والی پیشکش کی کہ (۱) شہری نبی آپ، دیہاتی نبی میں، (۲) یا پھر اپنے بعد مجھے خلیفہ نامزد کر دیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ حضورؐ نے مسترد فرما دی۔

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ پیشکشیں حضورؐ کو بھی ہوئی تھیں، سیاسی بھی ہوئی تھیں، اعتقادی بھی ہوئی تھیں، احکام کی بھی ہوئی تھیں۔ ایک پیشکش کا اور ذکر کر دیتا ہوں۔ مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد جب طائف کا محاصرہ کامیاب نہیں ہو سکا اور حضورؐ واپس آ گئے تو طائف کے بنو ثقیف وفد لے کر حضورؐ کے پاس آئے۔ کہا کہ ٹھیک ہے ہم کلمہ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ہماری شرطیں ہیں۔ آپ کہتے ہیں شراب حرام ہے، ہمارا علاقہ انگوروں کا ہے، شراب ہی بنتی ہے اس سے، ہم شراب نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کہتے ہیں سود حرام ہے، ہمارا سارا کاروبار سود پر ہے، یہ بھی نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کہتے ہیں پانچ وقت کی نماز فرض ہے، ٹھیک ہے لیکن اوقات ہم خود طے کریں گے۔ آپ کہتے ہیں زنا حرام ہے، ہمارے ہاں شادیاں دیر سے کرنے کا رواج ہے، گزارا نہیں ہوتا اس لیے یہ بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور آپ ہمارا بت ’’لات‘‘ نہیں گرائیں گے۔ میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا کرتا ہوں کہ انہوں نے کہا کہ یہ پانچ کام تو ہم نہیں کریں گے، اگر کلمے میں کچھ اور باقی رہ گیا ہو تو ہمیں پڑھا دیں۔ حضورؐ نے مسترد فرما دیں۔

تین دائروں کی پیشکشیں ہیں۔ سیاسی دائرے کی، جب مکے والوں نے سردار بنانے کی پیشکش کی تھی۔ عامر بن طفیل نے پورے صحرائی علاقوں کا حکمران ماننے کی پیشکش کی تھی۔ مسیلمہ کذاب نے شہری علاقوں کا حاکم ماننے کی پیشکش کی تھی۔ مکے والوں نے ایک دوسرے کے پاس آ جا کر عبادت میں شریک ہونے کی پیشکش کی تھی۔ اور بنو ثقیف نے احکام میں ردوبدل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی پیشکش قبول نہیں فرمائی اور صاف اعلان فرما دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اعلان کروایا ’’قل یا ایہا الکافرون۔ لا اعبد ما تعبدون۔ ولا انتم عابدون ما اعبد۔ ولا انا عابد ما عبدتم۔ ولا انتم عابدون ما اعبد۔ لکم دینکم ولی دین‘‘۔ فرمایا کوئی سودے بازی نہیں، کوئی سمجھوتہ نہیں، کوئی اتحاد نہیں۔ میں نے یہ گزارش کی ہے کہ آج بھی ہمیں یہی پیشکش ہو رہی ہے جو عالمی سطح پر ہے اور امریکی صدر ٹرمپ صاحب کی طرف سے ہے۔ ہمارا جواب بھی وہی ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔

میں نے یہ عرض کیا ہے کہ یہ جو نیا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سب مذہب سچے ہیں، ایک اللہ کی بات بھی سچی ہے، تین خداؤں کی بات بھی سچی ہے، نو کروڑ خداؤں کی بات بھی سچی ہے۔ نہیں بھئی، دھوکہ نہیں دو۔ ایک ایک ہوتا ہے، تین تین ہوتے ہیں۔ توحید توحید ہے، شرک شرک ہے۔ یہ بہت بڑے فتنے کا آغاز ہے جو پوری دنیا میں پھیلے گا، اور پھیلانے کے لیے قیادت جناب ٹرمپ فرما رہے ہیں جو خود جا کر جگہ جگہ دعوت دے رہے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے میں شریک ہوں۔ ہم نے کبھی یہ معاہدہ تسلیم نہیں کیا، آج بھی نہیں تسلیم کرتے اور کبھی نہیں تسلیم کریں گے۔ ابھی ہمیں اس کی دعوت نہیں ملی ، ان شاء اللہ اس کی جرأت بھی نہیں کریں گے، وہ پاکستان کو جانتے ہیں۔ لیکن میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ یہ دعوت کہ سارے اکٹھے ہو جاؤ اور جھگڑے چھوڑ دو، یہ کفر ہے۔ ورنہ اسلام کو الگ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ پھر ابوبکرؓ اور ابوجہل میں فرق کیا رہ جائے گا؟ اس لیے جو کچھ ہو رہا ہے غلط ہو رہا ہے، قرآن مجید کے خلاف ہو رہا ہے، اور ہم ان شاء اللہ العزیز کبھی اس فلسفے کو قبول نہیں کریں گے، اور نہ ہی پاکستان کو قبول کرنے دیں گے، ان شاء اللہ العزیز۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(594) ظلمات کا ترجمہ

ظلمات جمع ہے، اس کا واحد ظلمۃ ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی ظلمات کا واحد نہیں آیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں نور ہمیشہ واحد آیا ہے، اس کی جمع نہیں آئی ہے۔ ترجمے میں بھی اس کا لحاظ عام طور سے رکھا گیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں کچھ لوگوں سے تساہل بھی ہوگیا ہے۔ بعض مثالیں ملاحظہ ہوں:

(۱)  وَتَرَکَہُمْ فِی ظُلُمَاتٍ لَا یُبْصِرُونَ۔ (البقرۃ: 17)

’’اور ان کوایسی تاریکی میں چھوڑدیا جس میں ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجمہ میں تاریکی کی جگہ تاریکیوں ہونا چاہیے۔ ’ایسی‘ کا بھی یہ محل نہیں ہے۔ صرف ’تاریکیوں‘ کہیں گے۔ 

درج ذیل ترجموں میں بھی کچھ کسر رہ گئی ہے:

’’اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا‘‘۔ (سید مودودی)

تاریکیوں میں چھوڑا نہ کہ اس حال میں کہ تاریکیوں میں نظر نہ آئے۔

’’ اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

یہاں ’جو‘ کا محل نہیں ہے۔

’’اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا اب انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا‘‘۔ (محمد حسین نجفی)

یہاں ’اب‘ کا محل نہیں ہے۔

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲)  أَوْ کَصَیِّبٍ مِنَ السَّمَائِ فِیہِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ۔ (البقرۃ: 19)

’’یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’ان کی دوسری مثال آسمان کی اس بارش کی ہے جس میں تاریکی اور گرج چمک سب کچھ ہو‘‘۔ (ذیشان جوادی)

’’یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو۔ اس میں تاریکی ہو، کڑک اور چمک ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

درج بالا ترجموں میں تاریکی واحد آیا ہے، جمع آنا چاہیے۔ اس کے علاوہ رعد کا صحیح ترجمہ کڑک نہیں بلکہ گرج ہے۔ درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک‘‘۔ (احمد رضا خان)

(۳)  اللَّہُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُہُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیَاؤُہُمُ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَہُمْ مِنَ النُّورِ إِلَی الظُّلُمَاتِ۔ (البقرۃ: 257)

’’جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

اس ترجمے میں ظلمات کی رعایت سے اندھیرے کے بجائے اندھیروں ہونا چاہیے تھا۔

(۴) یَہْدِی بِہِ اللَّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلَامِ وَیُخْرِجُہُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ۔ (المائدۃ: 16)

’’جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

اس ترجمے میں ظلمات کی رعایت سے اندھیرے کے بجائے اندھیروں ہونا چاہیے تھا۔

(۵)  وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ۔ (الانعام: 1)

’’اور اندھیرا اوراجالا بنایا‘‘۔ (احمد علی)

’’اور اندھیرا اور روشنی بنائی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ غلطی یہاں بھی ہے۔

(۶)  أَمْ ہَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ۔ (الرعد: 16)

’’ یا کہیں اندھیرا اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں‘‘۔ (احمد علی)

’’یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’یا نورو ظلمت برابر ہوسکتے ہیں‘‘۔ (ذیشان جوادی)

مذکورہ غلطی یہاں بھی ہے۔

(۷) فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ۔ (الانبیاء: 87)

’’آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ غلطی یہاں بھی ہے۔ جب کہ درج ذیل ترجمے میں دوسری غلطی ہے۔ وہ یہ کہ تاریکیوں میں آواز دی نہ کہ تاریکیوں میں جاکر آواز دی۔ 

’’اور پھر تاریکیوں میں جاکر آواز دی‘‘۔ (ذیشان جوادی)

(595)  الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا ترجمہ

بر کا اطلاق خشکی پر ہوتا ہے، جس میں جنگل صحرا میدان سب شامل ہیں۔ اسی طرح بحر تری کو کہتے ہیں جس میں سمندر دریا سب شامل ہیں۔ خاص طور سے جب بحر اور بر ایک دوسرے کے مقابلے میں بولے جاتے ہیں تو خشکی اور تری ہی مراد ہوتے ہیں۔ درج ذیل آیتوں میں  بحر اور بر کا ترجمہ خشکی اور تری ہونا چاہیے۔ 

درج ذیل آیت میں سبھی لوگوں نے بحر اور بر کا ترجمہ خشکی اور تری کیا ہے:

(۱)  ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الروم: 41)

’’خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

البتہ درج ذیل آیتوں کے تحت بر کا ترجمہ کسی نے جنگل کیا ہے تو کسی نے صحرا، اسی طرح بحر کا ترجمہ کسی نے سمندر تو کسی نے دریا۔ لیکن ان تمام ہی آیتوں میں بحر اور بر سے خشکی اور تری مراد ہیں:

(۲)  قُلْ مَنْ یُنَجِّیکُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الانعام: 63)

’’تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’کہہ دو تمہیں جنگل اور دریا کے اندھیروں سے کون بچا تا ہے‘‘۔ (احمد علی)

’’اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟‘‘۔ (سید مودودی)

’’کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’ان سے پوچھو: خشکی اورتری کی تاریکیوں سے تم کو کون نجات دیتا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) 

(۳)  وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ النُّجُومَ لِتَہْتَدُوا بِہَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الاانعام: 97)

’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا کیا، تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں بھی راستہ معلوم کرسکو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں‘‘۔ (احمد رضا خان)

(۴)  أَمَّنْ یَہْدِیکُمْ فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (النمل: 63)

’’اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’بھلا کون ہے جو تمہیں جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتاہے‘‘۔ (احمد علی)

’’بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(۵)  وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا۔ (المائدۃ: 96)

’’اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور تم پر جنگل کا شکار کرنا حرام کیا گیا ہے‘‘۔ (احمد علی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے، ظاہر ہے کہ جنگل ہو یا صحرا، ہر طرح کا شکار منع ہے۔

’’البتہ خشکی کا شکار جب تک احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے‘‘۔ (سید مودودی)

(۶)  وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الانعام: 59)

’’اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے وہ سب جانتا ہے‘‘۔ (احمد علی)

’’اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہے اور اسے بھی جانتا ہے جو تری میں ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)

(۷) ہُوَ الَّذِی یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (یونس: 22)

’’وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے‘‘۔ (احمد علی)

’’وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے‘‘ (احمد رضا خان)

(۸)  وَحَمَلْنَاہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الاسرائ: 70)

’’اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دی‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(596)  یَأْتِ بِکُمُ کا ترجمہ

أَیْنَ مَا تَکُونُوا یَأْتِ بِکُمُ اللَّہُ جَمِیعًا۔ (البقرۃ: 148)

أتی بہ کا معنی لے آنا ہے۔ جمیعًا کا مطلب سب کو۔ یعنی سب کو ۔

’’جہاں کہیں ہوگے تم لے آوے گا تم کو اللہ سب کو‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

’’تم خواہ کہیں ہوگے لیکن اللہ تعالی تم سب کو حاضر کردیں گے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

مذکورہ بالا ترجمے الفاظ کے مطابق ہیں۔

’’جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، جمیعًا کا معنی چھوٹ گیا)

’’تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا‘‘۔ (احمد رضا خان، یہاں اکٹھا فاضل ہے)

’’اور تم سب جہاں بھی رہوگے خدا ایک دن سب کو جمع کردے گا‘‘۔ (ذیشان جوادی، جمع کرنا نہیں بلکہ لے آنا)

’’تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری، جمع کرنا نہیں بلکہ لے آنا)

’’جہاں کہیں بھی تم ہوگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، جمع کرنا نہیں بلکہ لے آنا) 

’’جہاں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں پا لے گا‘‘۔ (سید مودودی، پالینا نہیں بلکہ لے آنا)

(597)  یَرْغَبُ عَنْ کا ترجمہ

رغب عن الشیء کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز سے بے رغبت اور بے زار ہونا۔ جس طرح رغب فی الشیء کا مطلب کسی چیز میں رغبت رکھنا ہوتا ہے۔ 

بے زاری الگ چیز ہے اور اعراض، روگردانی اور نفرت اس سے مختلف چیز ہے۔ 

اسی طرح سَفِہَ نَفْسَہُ ایک محاورہ ہے۔ جب کوئی نری حماقت میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے سَفِہَ حِلْمَہ ورأْیَہ ونَفْسَہ کہتے ہیں۔

درج ذیل آیت کے کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں: 

وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ إِبْرَاہِیمَ إِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ۔ (البقرۃ: 130)

’’اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو‘‘۔ (سید مودودی)

’’اور ابراہیم کے دین سے کون منھ پھیرے سوا اس کے جو دل کا احمق ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور کون ہے جو ابراہیم (ع) کی ملت (و مذہب) سے روگردانی کرے سوا اس کے جو اپنے کو احمق بنائے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)

’’اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے اعراض کرسکے، مگر وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

درج ذیل ترجمے میں رغب عن اور سَفِہَ نَفْسَہُ دونوں کی رعایت کی گئی ہے:

’’دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بے وقوف ہو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

’’اور کون ہے جو ابراہیم کے راستے سے بے زار ہو، مگر وہی جو بالکل ہی حماقت میں مبتلا ہو‘‘۔


خواتین کی شادی کی عمر کے تعین کے حوالے سے حکومت کی قانون سازی غیر اسلامی ہے

ڈاکٹر محمد امین

ملی مجلسِ شرعی، جو تمام دینی مکاتب فکر کی مشترکہ مجلسِ علمی ہے، اس کے صدر جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خواتین کی شادی کی عمر کے شرعی نقطۂ نظر سے تعین کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں مولانا مفتی شاہد عبید (جامعہ اشرفیہ)، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (جامعہ لاہور الاسلامیہ)، مولانا محمد عمران طحاوی (خطیب جامع مسجد قباء)، سیدہ عظمی گیلانی (ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ) اور راقم ڈاکٹر محمد امین (پی ایچ ڈی فقہ و اصولِ فقہ) شامل تھے۔ کمیٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہونے والے اس بل کو غیر شرعی قرار دیا جس میں ۱۸ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کرنے پر والدین کو ۲ سے ۳ سال قید اور نکاح خواہ کو ایک سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے اور اس حساس موضوع پر قانون سازی اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورے کے بغیر کی گئی ہے۔

علماء کرام نے قرار دیا کہ خواتین کی شادی کی عمر ۱۸ سال مقرر کرنے میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ اس میں بعض استثناءات رکھے جائیں جو شرعاً‌ ضروری ہیں مثلاً یہ کہ والدین کی طرف سے ۱۸ سال سے کم عمر کی لڑکی کا نکاح قانوناً‌ صحیح ہوگا لیکن ۱۸ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد لڑکی اور لڑکے کو حق ہو گا کہ وہ اس نکاح کو برقرار رکھے یا فسخ کر دے۔ والدین اگر ۱۸ سال کی عمر سے پہلے کسی وجہ سے بیٹی کی شادی کرنا چاہیں تو وہ فیملی کورٹ کی اجازت سے ایسا کر سکتے ہیں۔

علماء و مفتیان نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ کا جج ایسا شخص ہونا چاہیے جو شادی شدہ ۳۵ سالہ مرد ہو اور جس نے قانون کی ڈگری کے علاوہ ایک سالہ خصوصی ڈپلومہ کورس فیملی لاز میں کیا ہو جس میں اسلام کے عائلی قوانین کا مطالعہ بھی شامل ہو۔

علماء کرام نے قرار دیا کہ کوئی مسلمان کنواری لڑکی اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی تاہم اس اصول میں بھی کچھ استثناءات ہونے چاہئیں جیسے اگر لڑکی کی عمر ۱۸ سال یا اس سے زیادہ ہو اور والدین کسی وجہ سے اس کا نکاح نہ کریں جبکہ وہ نکاح کرنا چاہتی ہو، یا اس کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کسی شخص سے کرنا چاہیں، یا جہاں وہ نکاح کرنا چاہتی ہو والدین وہاں اس کا نکاح نہ کرنے پر اصرار کریں، تو ان حالات میں وہ فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے اور کورٹ کو اسے ریلیف دینا چاہیے۔

علماء کرام نے کہا کہ اب جبکہ یہ بل اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے، صدر مملکت سے پُرزور درخواست ہے کہ وہ اس کی منظوری دینے کی بجائے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو مشورے کے لیے بھیجیں۔

ڈاکٹر محمد امین، جنرل سیکرٹری

۲۱ مئی ۲۰۲۵ء

مسئلہ فلسطین: اہم جہات کی نشاندہی

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

فلسطین کے موضوع پر گفتگو کئی جہتیں رکھتی ہے اور یہ مناسب ہے کہ ان جہتوں کی نشان دہی کر کے نکات کی تنقیح کر لی جائے تاکہ اختلاف اور اتفاق کے دائرے زیادہ واضح طور پر متعین ہو جائیں۔ ہمارے خیال میں اس کی تین جہتیں اہم ہیں:

۱۔ اسرائیلی ریاست کی قانونی حیثیت

۲۔ اہل فلسطین یا خطے کی مسلم حکومتوں کی اب تک کی اور آئندہ حکمت عملی کا تجزیہ

۳۔ عالم اسلام (خصوصاً‌ برصغیر) کی داخلی سیاست میں اس مسئلے کا استعمال

ان میں سے تیسرا نکتہ ایک مستقل بحث یعنی ’’مسلم معاشروں کی داخلی سیاست’’ کا حصہ ہے اور اس بڑے سوال کے تحت اور اس کے ذیل میں ہی اس پر زیادہ بامعنی گفتگو ہو سکتی ہے۔ دوسرے نکتے سے متعلق ہمارا خیال یہ ہے کہ اس قضیے کا تاریخی موازنہ بارہویں اور تیرہویں صدی میں صلیبی ریاستوں کے قیام اور پھر انہدام سے کر کے دیکھا جائے تو زیادہ بہتر تفہیم ہو سکتی ہے۔ دونوں واقعات میں جزوی مماثلتیں بھی ہیں اور فروق بھی، لیکن ایک بنیادی اور گہرا اشتراک بھی ہے۔ یہ چونکہ قدرے تفصیل طلب موضوع ہے، اس لیے ارادہ ہے کہ اس پر ایک تفصیلی گفتگو ریکارڈ کر کے نشر کر دی جائے۔

البتہ جہاں تک پہلے اور سب سے بنیادی نکتے کا تعلق ہے، ہمیں درج ذیل تکییف سے جوہری طور پر اتفاق ہے جو خورشید ندیم صاحب نے آج کی تحریر میں بیان کی ہے:

’’کچھ لوگ اس حق کا تعین جدید سیاسی حقائق کی روشنی میں کرتے ہیں۔جو قوم جس علاقے میں آباد ہے،وہ اسی کا حق ہے۔ فلسطین فطری طور پر فلسطینوں کا ہے۔ اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ باہر سے اجنبی لوگوں کو یہاں آباد کرے اور اہلِ فلسطین کو ان کے گھروں سے نکالے۔ یہ مذہبی مقدمہ نہیں ہے، اسی لیے بہت سے غیر مسلم بھی اس موقف کو درست سمجھتے اور اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کا مقدمہ یہ ہے کہ مذہبی اور جدید سیاسی حقائق، دونوں کی روشنی میں یہ فلسطینی مسلمانوں کا ملک ہے۔’’

یہ ایک بہت درست اور ضروری ’’تصحیح’’ ہے۔ مسئلے کا عملی انجام تو ایک (خدا معلوم کتنے) لمبے تاریخی عمل سے سامنے آئے گا، لیکن جدوجہد کے لیے بنیادی موقف اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا اور نہ ہونا چاہیے کہ اسرائیل فی نفسہ ایک ناجائز ریاست ہے۔ سیاسی مجبوریوں اور حالات کے اتار چڑھاو کے ساتھ عملی سمجھوتے اب تک بھی اہل فلسطین اور عرب ممالک کو کرنے پڑے ہیں اور شاید مزید کرنے پڑیں گے، لیکن تاریخی حقائق اسرائیل کے ساتھ مستقل بقائے باہمی کے کسی امکان کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔ یہ قضیہ جب بھی اور جتنے بھی کشت وخون کے بعد ’’حل’’ ہونا ہے، اس ناجائز وجود کے خاتمے کی صورت میں ہی حل ہونا ہے۔ اس بنیادی نکتے کو تسلیم کرنے پر ہی کسی بھی معروضی حکمت عملی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔


آسان حج قدم بہ قدم

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جس نے حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور اس میں نہ تو گالی گلوچ سے کام لیا اور نہ کسی فسق کا ارتکاب کیا، یہ گناہوں سے یوں پاک ہو گیا جیسے نوزائیدہ بچہ۔‘‘

آپ کو مبارک ہو کہ آپ کا نام ان لوگوں میں شامل ہو گیا ہے جنہیں عنقریب اللہ کے گھر کے حج اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ پاک کی زیارت نصیب ہو گی۔ اللہ نے آپ کو کتنے بڑے احسان سے نوازا ہے، آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ اس کا اندازہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو حج کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں لیکن اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ 

آج سے ہی حج کی تیاری شروع کر دینی ہے۔ سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ دو نفل شکرانہ ادا کریں۔ آپ کے جذبات تشکر سے اتنے لبریز ہو جائیں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑیں۔ حج کی تیاری یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ حج کے معنی کیا ہیں۔ حج کے معنی ہیں ’’ارادہ کرنا‘‘۔ حج ِ بیت اللہ یعنی مخصوص اعمال کی بجا آوری کے لیے بیت اللہ شریف کا ارادہ کرنا۔

حج کی تیاری یہ ہے کہ پہلی فرصت میں کتابیں خریدنی ہیں۔ یاد رکھیے کہ حج کے بارے میں آپ کا مطالعہ جتنا وسیع ہو گا آپ کو حج کا اتنا ہی زیادہ لطف آئے گا۔ آپ کے پاس قرآنی اور مسنون دعاؤں کی کتاب بھی ہونی چاہیے۔ جتنی بھی دعائیں آپ یاد کر سکتے ہیں کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی مناسکِ حج کی تربیت حاصل کریں۔ 

حج تین قسم کے ہوتے ہیں اور ان کو    (۱)    حج    قِران،     (۲)    حج    اِفراد    اور  (۳)    حج تمتُع کہتے ہیں۔ پاکستانی حجاج عموماً‌    حجِ تمتُع    کرتے ہیں لہٰذا اس کا آسان مختصر طریقہ یہ ہے:


عمرہ کا تفصیلی طریقہ

اِحرامِ عمرہ کی نیت  (فرض)

ایئرپورٹ پہنچ کر اِحرام کی چادریں پہن لیں، پھر دو رکعت نفل ادا کریں، پھر آپ عمرہ کے اِحرام کی نیت کریں کہ میں اب عمرہ کا اِحرام باندھتا ہوں، نیت دل کے ارادے کا نام ہے اور زبان سے بھی نیت کے یہ الفاظ کہیں: 

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمُرَۃَ فَیَسِّرْھَا لِیْ وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ‘‘۔
ترجمہ: اے اللہ! میں عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور اس کو میری طرف سے قبول فرما۔ 

اس کے بعد تلبیہ پڑھیں:

’’لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ‘‘۔
ترجمہ:  میں حاضر ہوں، اے اللہ، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔

ایک مرتبہ تلبیہ پڑھنا ضروری ہے اور تین مرتبہ پڑھنا سنت ہے۔ مرد بلند آواز سے اور خواتین آہستہ آواز سے پڑھیں- تلبیہ کے بعد درود شریف اور یہ دعا پڑھنا بھی مستحب ہے:

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ‘‘۔
ترجمہ: اے اللہ میں آپ سے آپ کی خوشنودی اور جنت مانگتا ہوں، اور آپ کے غصہ اور دوزخ سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔

اب آپ کا اِحرام بندھ گیا اور آپ پر اِحرام کی پابندیاں لگ گئیں۔ اِحرام چادروں کا نام نہیں بلکہ نیت کر کے تلبیہ پڑھنے کا نام ہے۔ اور یہ چادریں اِحرام کا لباس کہلاتی ہیں۔

نیز نیت اور تلبیہ اس وقت پڑھیں جس وقت جہاز پرواز کر جانے کا یقین ہو جائے۔

خواتین کے اِحرام کا طریقہ

خواتین غسل کر کے سلے ہوئے کپڑے جس رنگ کے چاہیں پہن لیں۔ اوپر کوئی ڈھیلا عباء یا برقع پہن لیں، اور سرکے اوپر سکارف پہن کر بالوں کو چھپا لیں۔ 

دو رکعت نفل ادا کرے، پھر تین بار تلبیہ پڑھے اور عمرہ کی نیت کر لے۔ 

خواتین میں یہ مشہور ہے کہ سر کے اوپر جو رومال لپیٹتی ہیں، اسی رومال کے اوپر مسح کر لیتی ہیں۔ یاد رکھیے! اگر کسی خاتون نے بالوں کی بجائے اس رومال یا سکارف پر مسح کیا تو اس کا وضو نہیں ہو گا۔ اور جب وضو نہیں ہو گا تو نماز بھی نہیں ہو گی۔ اس لیے خواتین وضو کرتے وقت اس رومال کو کھول کر بالوں پر مسح کریں، پھر دوبارہ رومال باندھ لیں، اس سے اِحرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر کوئی خاتون ناپاکی کی حالت میں ہے تو اِحرام باندھتے وقت مستحب یہ ہے کہ نظافت اور صفائی کے لیے غسل کر لے، یہ غسل طہارت کے لیے نہیں۔ اِحرام کے نوافل نہ پڑھے۔ یہ بھی اِحرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھے، اب اس کا بھی اِحرام بندھ گیا اور اِحرام کی پابندیاں لگ گئیں۔ 

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد جب تک پاک نہ ہو جائے مسجد حرام میں نہ جائے، نہ نمازیں پڑھے، نہ قرآن کریم پڑھے، نہ بیت اللہ کا طواف کرے، بلکہ اپنی قیام گاہ پر ہی رہے، البتہ ذکر کر سکتی ہے، تسبیحات اور درود شریف وغیرہ پڑھ سکتی ہے، پاک ہونے کے بعد سب کام انجام دے۔

اِحرام کی پابندیاں

جب کسی مرد نے اِحرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیا تو اس پر اِحرام کی یہ پابندیاں لگ گئیں:

(۱)      پہلی پابندی یہ ہے کہ مرد اِحرام کی حالت میں کسی قسم کا سلا ہو اکپڑا نہیں پہنیں گے۔ البتہ چادر تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے تو چادر کی جگہ دوسری چادر ہی استعمال کریں۔ اس لیے اپنے ساتھ ایک دو چادریں زائد لے جائیں۔ 

البتہ خواتین ہر قسم کا سلا ہوا کپڑا پہن سکتی ہیں۔ عورت کو سر کے بال چھپانا بھی ضروری ہے۔  لہٰذا اِحرام کے وقت دوپٹہ کی جگہ رومال بندھوایا جاتا ہے تاکہ کپڑا چہرہ کو نہ لگے۔ اس رومال کے اتارنے اور کھولنے سے اِحرام نہیں ٹوٹتا، اس لیے خواتین وضو کرتے وقت رومال کھول کر بالوں پر مسح کریں۔

(۲)     دوسری پابندی یہ ہے کہ مرد اِحرام کی حالت میں اپنا چہرہ اور سر نہیں ڈھانپے گا۔  رات کو سوتے وقت بھی سر اور چہرہ کھلا رہے گا۔ 

جبکہ خاتون صرف چہرہ پر کپڑا نہ لگنے دے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواتین کو پردہ نہ کرنا چاہیے۔ خواتین پردہ کریں، بلکہ خواتین کو حج میں پردہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے کہ حرم کے اندر جس طرح نیکی کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے، اس طرح وہاں گناہ کرنے کا وبال بھی بڑھ جاتا ہے۔ بے پردگی کی وجہ سے خواتین مردوں کی بد نگاہی کا سبب بنتی ہیں، اس طرح خواتین خود بھی گناہ میں مبتلا ہوتی ہیں اور دوسروں کے لیے بھی گناہ کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے خواتین کو وہاں پردے کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، لیکن پردہ اس طرح کریں کہ کپڑا چہرے کو نہ چھوئے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سر کے اوپر کوئی چھجا نما چیز رکھ کر اس کے اوپر کپڑے کو چہرے کے سامنے اس طرح لٹکائیں کہ وہ کپڑا چہرے سے دور رہے اور پردہ بھی ہو جائے۔ دھوپ سے بچنے کے لیے جو ٹوپیاں (P-Cap)  وغیرہ بازار میں ملتی ہیں وہ بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

(۳)      تیسری پابندی یہ ہے کہ اِحرام کی حالت میں مرد و عورت بدن کے کسی حصے کے بال نہ کاٹیں گے، نہ مونڈیں گے، اور نہ توڑیں گے۔ مرد وضو کرتے وقت چہرے پر آہستہ ہاتھ پھیریں۔ اِحرام کی حالت میں وضو یا غسل کرتے وقت بدن اور سر کو زور سے نہ رگڑیں، اگر رگڑنے کی وجہ سے بال ٹوٹیں گے تو صدقہ دینا ہو گا۔ پس اگر تین بال سے زیادہ ہو تو صدقہ میں پونے دو سیر گیہوں (گندم)   دے دیں۔ اور اگر تین بال یا اس سے کم ہو تو پھر کوئی معمولی صدقہ بھی کافی ہے۔ اگر کسی شخص کے بال خودبخود گر جاتے ہوں تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے، احتیاطاً‌   کچھ دے دے تو بہتر ہے۔

(۴)     چوتھی پابندی یہ ہے کہ حالت اِحرام میں مرد و عورت ناخن نہیں کاٹیں گے۔

(۵)     پانچویں پابندی یہ ہے کہ حالت اِحرام میں مرد و عورت دونوں کے لیے ہر قسم کی خوشبو لگانا منع ہے۔ البتہ نیت کرنے اور تلبیہ پڑھنے سے پہلے ہلکی سی خوشبو بدن اور کپڑوں پر لگا سکتے ہیں، بلکہ اس وقت خوشبو لگانا مستحب ہے، لیکن اس کا نشان اور دھبہ باقی نہ رہے۔ حتیٰ کہ خوشبودار میوے کو سونگھنا بھی مکروہ ہے۔ 

(۶)       چھٹی پابندی یہ ہے کہ حالت اِحرام میں مرد حضرات دستانے اور موزے استعمال نہیں کریں گے۔ اس طرح ایسا بند جوتا بھی نہیں پہنیں گے جس میں پاؤں کے اوپر کی درمیانی ہڈی اور دائیں اور بائیں طرف کا حصہ چھپ جائے۔ اس لیے یا تو کھلا جوتا پہنیں یا ہوائی چپل پہنیں۔  البتہ خواتین دستانے ، موزے اور بند جوتا پہن سکتی ہیں۔

(۷)      اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہے تو اِحرام کی حالت میں بیوی کے ساتھ شہوت کی بات کرنا حرام ہے۔ 

مندرجہ بالا تمام پابندیاں اِحرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لینے کے بعد فوراً‌ لگ جائیں گی۔

عمرہ کا پہلا کام:    طواف اور اس کا طریقہ    (فرض)

عمرہ کا سب سے پہلا کام طواف ہے، طواف کے لیے وضو ضروری ہے، اس لیے مسجد حرام میں باوضو آئیں۔ طواف شروع کرنے کے لیے آپ بیت اللہ کے اس کونے کے سامنے آجائیں جس میں حجرِ اسود لگا ہوا ہے، اور وہاں آ کر اس طرح کھڑے ہوں کہ حجرِ اسود کا کونا آپ کے داہنی طرف رہے اور آپ کا چہرہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ آپ نیت کریں کہ میں عمرہ کے طواف کے سات چکر اللہ تعالیٰ کے لیے لگاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس کو آسان فرمائے اور قبول فرمائے۔ نیت کرنے کے بعد اب آپ اپنا سیدھا مونڈھا کھول لیں اور احرام کی چادر دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں مونڈھے پر ڈال لیں۔ اس کو ’’اضطباع‘‘ کہتے ہیں۔ اس طواف کے ساتوں چکروں میں یہ مونڈھا کھلا رکھنا سنت ہے۔ جب سات چکر پورے ہو جائیں تو پھر چادر کو دونوں مونڈھوں پر ڈال لیں۔

حجرِ اسود کا استقبال

نیت اور اضطباع کرنے کے بعد اب آپ حجرِ اسود کے سامنے آجائیں۔ اس وقت آپ کا سینہ بالکل حجرِ اسود کے سامنے ہو گا۔ یہاں کھڑے ہو کر پہلے آپ حجرِ اسود کا استقبال کریں۔  اس کا طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں جس طرح نماز میں تکبیرِ تحریمہ میں اٹھاتے ہیں۔ اور تکبیر یہ کہیں: ’’بِسْمِ اللہِ، اَللہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَ لِلہِ الْحَمْدُ، والصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ‘‘۔ تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ چھوڑ دیں، یہ حجرِ اسود کا استقبال ہو گیا۔

حجرِ اسود کا   ’’استلام‘‘

اس کے بعد آپ حجرِ اسود کا ’’استلام‘‘ کریں۔ استلام یہ ہے کہ حجرِ اسود کو بوسہ دیں۔ دوسرا یہ کہ حجرِ اسود کو ہاتھ لگا کر ہاتھوں کو چوم لیں۔ 

لیکن آپ آج ان دونوں طریقوں سے استلام نہ کریں، اس لیے کہ اس وقت آپ حالت اِحرام میں ہیں اور حالت اِحرام میں خوشبو لگانا جائز نہیں، اور حجرِ اسود پر عام طور پر خوشبو لگی ہوتی ہے۔ اس لیے آج آپ حجرِ اسود کا استلام صرف اشارہ سے کریں اور یہ طریقہ بھی سنت ہے۔ حجرِ اسود کے سامنے جہاں کھڑے ہیں وہیں سے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے ایک بار حجرِ اسود کی طرف اس طرح اشارہ کریں جیسے آپ حجرِ اسود پر ہاتھ رکھ رہے ہوں۔ اشارہ کرتے وقت ’’بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘ کہیں اور پھر ہتھیلیوں کو چوم لیں۔ یہ حجرِ اسود کا استلام ہو گیا۔

طواف میں ان باتوں کا خیال رکھیں

اس کے بعد آپ حجرِ اسود کے سامنے کھڑے کھڑے سیدھے ہاتھ کی طرف اپنے پاؤں کا رخ موڑ لیں اور دائیں طرف سے بیت اللہ کا طواف کرنا شروع کر دیں۔ طواف کے دوران ان باتوں کا خیال رکھیں:

(۱)      ایک طواف میں سات چکر ہوتے ہیں، ہر چکر حجرِ اسود سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو گا۔ اس طرح سات چکر لگائے جائیں گے۔ 

(۲)      شروع کے تین چکروں میں مرد ’’رمل‘‘     کریں گے۔ اس طواف میں رمل کرنا سنت ہے۔ رمل کا مطلب یہ ہے کہ سینہ نکال کر مونڈھے ہلاتے ہوئے اکڑ کر پہلوانوں کی طرح چلیں۔ بعد کے چار چکروں میں اطمینان سے چلیں۔ اگر کوئی شخص پہلے چکر میں رمل کرنا بھول جائے تو بعد کے صرف دو چکروں میں رمل کرے۔ خواتین رمل نہیں کریں گی۔

(۳)      ہر چکر میں جب حجرِ اسود کے سامنے پہنچیں تو اسی طرح استلام کریں جس طرح طواف شروع کرتے وقت کیا تھا۔

(۴)      حجرِ اسود والے کونے سے پہلے کونے کو ’’رکنِ یمانی‘‘ کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ طواف کے دوران جب رکنِ یمانی پر پہنچتے ہیں تو اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں۔ یاد رکھیے!    اس طرح ہاتھ سے اشارہ کرنا مکروہ اور بدعت ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر رکنِ یمانی کو ہاتھ لگا سکتے ہوں اور اس پر خوشبو لگی ہوئی نہ ہو تو اس صورت میں رکنِ یمانی کو دونوں ہاتھ لگائیں، یا صرف دایاں ہاتھ لگائیں۔ مگر صرف بایاں ہاتھ نہ لگائیں اور نہ سامنے کھڑے ہو کر اس کی طرف اشارہ کریں، اور نہ رکنِ یمانی کو بوسہ دیں۔

(۵)      رکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک ’’رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً‌ وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً‌ وَّقِنَا عَذَابَ النَّار‘‘ پڑھیں۔ 

(۶)      طواف کے دوران حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے علاوہ بیت اللہ کے دوسرے حصوں کو ہاتھ لگانا مکروہ ہے۔

(۷)      طواف کے دوران بیت اللہ کی طرف دیکھنا یا پشت کرنا بھی مکروہ ہے۔

(۸)      جب سات چکر پورے ہو جائیں تو ساتویں چکر کے ختم پر حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر آٹھویں مرتبہ حجرِ اسود کا استلام کریں۔ یاد رکھیے!     پہلا استلام اور آٹھواں استلام سنتِ مؤکدہ ہے، اور درمیان کے استلام سنت یا مستحب ہیں۔ اب آپ کے عمرہ کا پہلا کام یعنی ’’طواف‘‘     مکمل ہو گیا۔

طواف کے بعد کے تین ضمنی کام

طواف سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو تین ضمنی کام کرنے ہیں۔ یہ تینوں کام ہر طواف کے بعد کرنے ہیں چاہے وہ عمرہ کا طواف ہو یا حج کا، یا نفلی طواف ہو۔

(۱)     ’’ملتزم‘‘ پر حاضری اور دعا

طواف کے بعد پہلا کام یہ ہے کہ آپ ملتزم شریف کے سامنے آجائیں۔ بیت اللہ کے دروازے اور حجرِ اسود والے کونے کے درمیان کے حصہ کو ’’ملتزم‘‘ کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر لوگ ملتزم پر بھی خوشبو لگا دیتے ہیں اور آپ اس وقت حالت اِحرام میں ہیں، اس لیے آپ اس وقت ملتزم کو ہاتھ نہ لگائیں اور نہ اس سے چمٹیں، بلکہ ملتزم کے سامنے جتنا قریب ممکن ہو کھڑے ہو کر خوب الحاح و زاری سے دعا کریں، یہ قبولیتِ دعا کا خاص مقام ہے۔

لوگ ملتزم سے چمٹنے کے لیے اور حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے دھکم پیل کرتے ہیں۔ ایسا کرنا جائز نہیں، کسی مسلمان کو ایذاء پہنچا کر یہ کام کرنا خسارہ کا سودا ہے۔ اور بڑی شرم و غیرت کی بات یہ ہے کہ مردوں کے ہجوم میں خواتین بھی حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے گھس جاتی ہیں اور ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ نامحرم مردوں کے درمیان بھنچ رہی ہیں، نا محرموں کے جسم سے جسم لگانا بدترین گناہ ہے۔

(۲)      طواف کا دوگانہ پڑھنا      (واجب)

دوسرا ضمنی کام کہ طواف کا دوگانہ پڑھیں۔ یہ دو رکعتیں مقامِ ابراہیم کے قریب (جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا      ’’   نقشِ پا‘‘      شوکیس میں رکھا ہے)      پڑھنا    افضل ہے۔ اس کے قریب جگہ نہ ملے تو پیچھے ہٹ کر اس کی سیدھ میں پڑھ لیں۔ اور نیت یہ کریں کہ میں طواف کا دوگانہ پڑھتا ہوں۔ پہلی رکعت میں ’’قل یا ایہا الکافرون‘‘   اور دوسری رکعت میں ’’قل ھوا اللّٰہ احد‘‘ پڑھنا    افضل ہے۔  ان کے علاوہ دوسری سورتیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ 

(۳)     زم زم پینا اور دعا کرنا     (سنت)

تیسرا کام یہ ہے کہ آپ زم زم     پیئں اور دعا کریں۔ اگر یاد ہو تو یہ دعا پڑھیں: ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّ عَمَلًا صَالِحًا وَّ شِفَآءً‌ مِّنْ کُلِّ دَآءٍ‘‘۔

عمرہ کا دوسرا کام :    صفا    مروہ  کی سعی  (واجب)

سعی شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر حجرِ اسود کا استلام کریں۔ یہ حجرِ اسود کا نواں استلام ہو گا۔ طواف کے دوران آٹھ مرتبہ آپ پہلے استلام کر چکے ہیں۔ 

استلام کرنے کے بعد صفا پہاڑی کی طرف آئیں اور یہ پڑھیں: ’’اَبْدَءُ بِمَا بَدَا اَللہُ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘‘۔ صفا پہاڑی پر اتنا چڑھیں کہ وہاں سے بیت اللہ شریف نظر آئے، بعض لوگ اوپر پیچھے دیوار تک چلے جاتے ہیں، یہ صحیح نہیں۔ آپ کو بعض محرابوں کے درمیان سے بیت اللہ شریف  نظر آئے گا وہاں کھڑے ہو کر بیت اللہ شریف کو دیکھ کر تین بار ’’اللّٰہ اکبر‘‘     کہیں اور پھر ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘  پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں اور دعا کریں۔ یہ قبولیتِ دعا کی خاص جگہ ہے۔ 

دعا کرنے کے بعد نیت کریں کہ میں اللہ کے لیے عمرہ کی صفا مروہ کی سعی کرتا ہوں۔  اور صفا سے مروہ کی طرف چلیں۔ درمیان میں دو ہرے رنگ کے ستون آئیں گے جن کو ’’مِیْلَیْنِ اَخْضَرَیْن‘‘ کہتے ہیں۔ ان پر ہرے رنگ کی لائٹیں لگی ہوئی ہیں۔ مرد حضرات ان دونوں ستونوں کے درمیان جھپٹ کر چلیں۔ اور خواتین ان ستونوں کے درمیان بھی اطمینان کے ساتھ چلیں۔ مروہ پہنچ کر آپ کا ایک چکر پورا ہو گیا۔ مروہ پر بھی بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں اور دعا کریں۔ مروہ سے بیت اللہ کی عمارت نظر نہیں آتی، لیکن اُدھر منہ کر کے دعا کریں۔ 

دعا کرنے کے بعد پھر صفا کی طرف آئیں، یہ آپ کا دوسرا چکر ہو گیا۔ پھر صفا پر دعا کرنے کے بعد مروہ کی طرف چلیں۔ یہ تیسرا چکر ہو گیا۔ اس طرح سات چکر لگائیں۔ ساتواں چکر مروہ پر پورا ہو گا۔ ہر چکر میں صفا پر بھی دعا کریں اور مروہ پر بھی۔ اور ہرے ستونوں کے درمیان مرد تیز چلیں۔

صفا اور مروہ کے درمیان کی ایک مختصر سی جامع دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: ’’رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ‘‘۔

صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر پورے ہو جانے کے بعد شکرانہ کی دو رکعت پڑھ لیں۔ ان کے لیے مقامِ ابراہیم پر جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ عمرہ کا دوسرا کام ہو گیا۔

عمرہ کا تیسرا کام :    سر کے بال منڈوانا    یا    کترانا    (واجب)

صفا، مروہ   کی سعی کے بعد عمرہ کا تیسرا کام سر کے بال منڈوانا یا کتروانا ہے۔ 

کتنے بالوں سے قصر کروانا    (یا کتروانا)     ضروری ہے؟ بال کتروانے میں لوگ بہت غلطی کرتے ہیں، اس لیے اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ پورے سر کے بالوں میں سے انگلی کے ایک پورے کے برابر کتروانا افضل ہے۔ لوگ ذرا ذرا سے بال ایک طرف سے کتروا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہمارا واجب ادا ہو گیا، حالانکہ اس طرح کٹوانے سے نہ تو چوتھائی سر کے بالوں میں سے بال کٹتے اور نہ ہی ایک پورے کے برابر کٹتے ہیں۔ یاد رکھیے!    اس طرح بال کٹوانے سے واجب ادا نہیں ہوتا اور ایسے لوگوں پر دم واجب ہوتا ہے۔ اس میں احتیاط کیجیے۔

آپ سنت کے مطابق یا تو پورے سر کے بال منڈوا لیں، جس کو حلق کہتے ہیں۔ یا اگر بال لمبے ہیں یا پٹے ہیں اور اس میں سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائے جا سکتے ہیں تو پھر پورے سر کے بالوں میں سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائیں تاکہ سنت کے مطابق قصر ہو جائے۔

خواتین بھی بال کتروانے میں غلطی کرتی ہیں

خواتین کے لیے بھی کم از کم سر کے چوتھائی حصے کے بالوں میں سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوانا واجب ہے۔ وہ بالوں کی ایک لٹ پکڑ کر اس میں سے ذرا سے بال کاٹ لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ہمارا واجب ادا ہو گیا۔ یاد رکھیے!    ایک لٹ میں سے بال کاٹنے کی صورت میں چوتھائی سر کے بالوں میں سے نہیں کٹتے۔ 

اس لیے خواتین کے لیے بال کٹوانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ بال کھول کر لٹکائیں، اور تمام بالوں میں سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائیں، تاکہ سنت کے مطابق قصر ہو جائے۔ اور اپنے محرم سے کٹوائیں، یا خود کاٹ سکتی ہوں تو خود کاٹ لیں اور کسی نامحرم سے نہ کٹوائیں۔

یہ عمرہ کا تیسرا کام ہو گیا اور آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا۔ اِحرام کی جو پابندیاں آپ پر لگی تھیں وہ بال کٹوانے کے بعد سب ختم ہو گئیں۔ اب آپ غسل کر کے سلے ہوئے کپڑے پہن لیں اور خوشبو وغیرہ لگا لیں۔

بعض حضرات جب بال کٹوانے کے لیے حجام کی دکان پر جاتے ہیں تو بال کٹوانے سے پہلے اپنے ناخن تراشنا شروع کر دیتے ہیں یا اپنی مونچھیں کترنے لگتے ہیں۔ یاد رکھیے!     اگر کسی شخص نے سر کے بال کٹوانے سے پہلے ایک ہاتھ یا پاؤں کی پانچوں انگلیوں کے ناخن کاٹ لیے تو اس پر ایک دم واجب ہو گا۔ 

اب آپ مکہ مکرمہ میں آٹھ ذی الحجہ تک بغیر احرام کے رہیں گے۔ اس عرصہ میں نفلی طواف کریں، اس کے لیے اِحرام نہیں ہو گا، نہ رمل ہو گا، اور نہ اس کے بعد صفا مروہ کی سعی ہو گی۔ بس حجرِ اسود کا استقبال اور استلام کرنے کے بعد سات چکر لگائیں۔ ہر چکر میں استلام کریں، پھر وہی تین ضمنی کام کریں۔ یعنی ملتزم پر دعا، مقامِ ابراہیم پر طواف کا دوگانہ، اور زم زم پی کر دعا کرنا۔


حج کا تفصیلی طریقہ

اِحرامِ حج   (فرض)

۸ ذی الحجہ کو بعد نمازِ فجر یہ ارادہ کیجیے کہ ’’اب میں حج کا اِحرام باندھ رہا ہوں‘‘۔ ’’نیت‘‘ دل کے ارادے کا نام ہے، البتہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بھی مستحب ہے: ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ‘‘۔ اے اللہ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، آپ اس کو میرے لیے آسان فرما دیجیے اور میری طرف سے قبول کر لیجیے۔

نیت کرنے کے بعد آپ تلبیہ پڑھیں: ’’لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ‘‘۔

احرام باندھتے وقت ایک مرتبہ تلبیہ پڑھنا ضروری ہے، اور تین مرتبہ تلبیہ پڑھنا سنت اور افضل ہے۔  مرد اونچی آواز سے پڑھیں اور خواتین آہستہ آواز سے پڑھیں۔ تلبیہ پڑھنے کے بعد درود شریف پڑھیں اور یہ دعا پڑھیں: ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ‘‘۔ 

آپ کے حج کا اِحرام شروع ہو گیا اور آپ پر وہی پابندیاں لگ گئیں جو عمرہ کا اِحرام باندھتے وقت لگی تھیں۔ ہو سکے تو مسجد حرام میں جا کر اِحرام باندھنا    افضل صورت ہے، لیکن اگر آپ وہاں نہ جا سکیں تو اپنی قیام گاہ پر اِحرام باندھ لیں۔ نفلی طواف کا موقع مل جائے تو طواف کر کے قیام گاہ پر آجائیں۔ او رنفلیں پڑھ کر اِحرام کی چادریں باندھ کر نیت کریں۔

اگر خواتین معذوری کی حالت میں ہوں تب بھی ان کے لیے ۸ ذی الحجہ کو حج کا اِحرام باندھنا ضروری ہے۔ البتہ ایسی خواتین نہ تو مسجد حرام میں جائیں اور نہ ہی نفلیں پڑھیں۔ بلکہ اپنی قیام گاہ پر قبلہ رخ بیٹھ کر حج کے اِحرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیں۔ اِحرام باندھنے سے پہلے ان کے لیے غسل کرنا بہتر ہے، یہ غسل طہارت کے لیے نہیں بلکہ نظافت اور صفائی کے لیے ہے۔

حج کا پہلا دن  :   ۸  ذی الحج  :    یوم الترویہ

منیٰ میں پانچ نمازیں

۸   ذی الحجہ منیٰ میں آج پانچ نمازیں ادا کرنا سنت ہے۔ یعنی آٹھ ذی الحجہ کی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور نویں تاریخ   کی فجر۔ بعض اوقات ۸ تاریخ کی بجائے ۷ تاریخ   کو ہی منیٰ لے جاتے ہیں، ایسی صورت میں ۷ تاریخ   کو ہی منیٰ روانہ ہونے سے پہلے اِحرام باندھ لیں۔

حج کا دوسرا دن:   ۹   ذی الحجہ  :   یومِ عرفہ  (فرض)

نویں تاریخ   کو فجر کی نماز کے بعد سورج چڑھے منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہوں گے۔ عرفات پہنچتے پہنچتے دوپہر ہو جائے گی۔ وقوفِ عرفات جو کہ فرض ہے اس کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یاد رکھیے!   نویں تاریخ کو عرفات کے میدان میں حاضری حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ میدانِ عرفات میں حاضر نہ ہوا تو اس کا حج نہیں ہو گا۔

وقوف کی نیت سے غسل کر لیں

اگر آسانی سے ممکن ہو تو وقوفِ عرفہ کی نیت سے آپ غسل کر لیں۔ غسل کرنا سنت ہے۔ اس میں بہت زیادہ وقت صَرف نہ کریں۔

عرفات میں ظہر اور عصر  دونوں نمازیں اکٹھی پڑھیں

میدانِ عرفات میں جو مسجد نمرہ ہے اس کے امام صاحب آج نویں تاریخ   کو ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر ہی کے وقت میں ایک ساتھ پڑھائیں گے۔ جو حجاج کرام مسجد نمرہ میں امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھیں، ان کو یہ دونوں نمازیں اکٹھی ملا کر پڑھنی ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص مسجد نمرہ کے امام صاحب کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا بلکہ وہ اپنی نماز اپنے خیمے میں اکیلا یا علیحدہ جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس صورت میں وہ دونوں نمازیں اکٹھی ملا کر نہیں پڑھے گا، بلکہ ظہر کو ظہر کے وقت میں اور عصر کو عصر کے وقت میں پڑھنا چاہیے۔

وقوفِ عرفہ کا وقت اور اعمال   (فرض)

تیسری بات یہ ہے کہ وقوفِ عرفہ، جو فرض ہے، اس کا وقت نویں تاریخ   کو زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ توبہ استغفار کریں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں، دعائیں مانگیں، درود شریف اور تلبیہ پڑھیں، اور یہ عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ عصر کا وقت ہونے پر عصر کی نماز باجماعت پڑھیں اور پھر کھڑے ہو جائیں۔ عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت عرفات کے میدان کا انتہائی قیمتی وقت ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتیں موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہیں۔ الحاح و زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگیں، اگر زیادہ دیر کھڑے نہ ہو سکیں تو جتنی دیر کھڑا ہونا ممکن ہو، کھڑے ہو کر اور پھر بیٹھ کر دعائیں کریں۔  یہ عمل مسلسل مغرب تک جاری رہنا چاہیے۔ 

میدانِ عرفات سے نکلنے کا وقت

چوتھی بات یہ ہے کہ عرفات کے میدان میں غروبِ آفتاب تک ٹھہرنا ضروری ہے، کوئی شخص بھی عرفات کے میدان سے سورج غروب ہونے سے پہلے باہر نہ نکلے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا اونٹ بھی گم ہو جائے تو وہ اس کی تلاش کے لیے بھی غروبِ آفتاب سے پہلے میدانِ عرفات سے باہر نہ جائے۔ اور اگر کوئی شخص باہر نکل گیا ہے اور غروبِ آفتاب سے پہلے اندر واپس نہیں آیا تو اس پر ایک دم   (یعنی ایک جانور ذبح کرنا)   واجب ہو گا۔

آج مغرب کی نماز کہاں پڑھیں گے؟

پانچویں بات یہ ہے کہ اگرچہ عرفات کے میدان میں سورج غروب ہو گیا اور مغرب کا وقت ہو گیا، لیکن آپ آج مغرب کی نماز عرفات میں نہیں پڑھیں گے۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ آج مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت میں عشاء کی نماز کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔

حدودِ عرفات کے اندر وقوف کرنا فرض ہے

چھٹی بات یہ ہے کہ عرفات کی حدود میں وقوف کرنا فرض ہے۔ یعنی حجاج جو انفرادی طور پر حج کرتے ہیں، اسی طرح بعض معلّم اپنی کسی ضرورت، مجبوری یا نادانی کی وجہ سے بعض حاجیوں کے خیمے حدودِ عرفات سے باہر لگا دیتے ہیں، حالانکہ عرفات کی حدود کے اندر وقوف کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی حاجی بالکل بھی عرفات کے میدان کے اندر نہیں آیا تو اس کا حج نہیں ہوا۔

مزدلفہ کے لیے روانگی

غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ مغرب پڑھے بغیر عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ وہاں پہنچ کر پہلا کام آپ کو یہ کرنا ہے کہ اگر عشاء کا وقت ہو گیا ہو تو مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ملا کر پڑھیں۔ چاہے تنہا نماز ادا کریں یا جماعت سے پڑھیں، یہاں بہرصورت ملا کر پڑھنا واجب ہے۔

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھنا اور کا طریقہ   (واجب)

پہلے اذان دیں، پھر تکبیر کہیں۔ اور پہلے مغرب کے فرض جماعت سے پڑھیں، پھر عشاء کے فرض جماعت سے پڑھیں، پھر مغرب کی سنتیں پڑھیں، اس کے بعد عشاء کی سنتیں پڑھیں، اور پھر وتر پڑھیں۔ صرف ایک اذان دیں اور ایک تکبیر کہیں۔

وقوفِ مزدلفہ   (واجب)

نماز پڑھنے کے بعد اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر کچھ دیر آرام کریں، پھر آخری شب میں بیدار ہو جائیں۔ آج کی رات سونے کی رات نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور رونے کی رات ہے۔ جب صبح صادق ہو جائے اور یہ یقین ہو جائے کہ صبح صادق ہو چکی ہے تو اول وقت میں فجر کی اذان دیں اور جماعت سے فجر کی نماز ادا کریں۔

مزدلفہ میں قبولیتِ دعا کا وقت

فجر کی نماز کے بعد بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں اور ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ استغفار کریں او ردعا مانگیں۔ درود شریف اور تلبیہ پڑھیں۔ یہ وقوفِ مزدلفہ کہلاتا ہے جو واجب ہے، اور اس کا وقت صبح صادق سے شروع ہو کر طلوعِ آفتاب تک رہتا ہے۔

مزدلفہ سے کنکریاں چننا

مزدلفہ میں ایک کام مستحب ہے، وہ یہ کہ مزدلفہ سے ستر کنکریاں چن لیں۔ کنکریاں چنے کے دانے کے برابر کھجور کی گٹھلی جیسی ہوں، زیادہ بڑی نہ ہوں۔ 

حج کا تیسرا دن  :   ۱۰   ذی الحجہ   (دوبارہ منیٰ میں)

آج ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے، مزدلفہ میں فجر کے بعد سے لے کر طلوعِ آفتاب تک وقوف کے بعد منیٰ میں روانہ ہو جائیں گے۔

بڑے شیطان کو کنکریاں   مارنا     (واجب)

دسویں تاریخ   کو منیٰ میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ صرف بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ کنکریاں مارنے سے پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں۔ ایک ایک کر کے کنکری ماریں۔ کنکری داہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑیں اور تکبیر پڑھ کر ماریں۔ تکبیر یہ ہے: ’’بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ، رَغْمًا لِلشَّیْطٰنِ وَ رِضًی لِلرَّحْمٰنِ‘‘۔ اگر پوری تکبیر یاد نہ ہو تو صرف ’’بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وِلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘   کہہ کر کنکری ماریں۔

کنکریاں خود جا کر مارنا واجب ہے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ کسی دوسرے شخص سے کنکریاں لگوائیں تو اس کی کنکری ادا نہیں ہو گی، اس کے ذمے واجب باقی رہے گا اور ایک دم دینا پڑے گا۔

اگر کمزور مردوں اور خواتین کو دن میں کنکریاں مارنا دشوار ہوں تو وہ رات کو مغرب یا عشاء کے بعد جا کر کنکریاں مار لیں، یا درمیان شب میں کنکریاں مار لیں۔ صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے کنکریاں مار سکتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی مرد یا عورت ایسا بیمار یا کمزور ہو کہ وہ کھڑے ہو کر نماز بھی نہ پڑھ سکے، یا کوئی شخص اپاہج، ہاتھ پاؤں سے معذور ہو، یا اندھا نابینا ہو تو اس کی طرف سے دوسرا آدمی کنکری مار سکتا ہے۔

قربانی کرنا     (واجب)

دسویں تاریخ کو دوسرا کام قربانی کرنا ہے، یہ حج کی قربانی اور دمِ شکر کہلاتی ہے، آپ اسی نیت سے یہ قربانی کریں۔

سر کے بال منڈوانا یا کٹانا    (واجب)

دسویں تاریخ   کا تیسرا کام سر کے بال منڈوانا یا کٹانا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ مردوں کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ سر کے بال منڈوا دیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈوانے والوں کے لیے کئی بار دعا فرمائی ہے۔ لیکن اگر کسی کے بال لمبے اور پٹے ہیں تو ان میں سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائے جا سکتے ہیں۔

بہرحال، سر کے بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد آپ پر سے وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئیں جو اِحرام باندھتے وقت آپ پر لگی تھیں۔ صرف ایک پابندی ابھی باقی ہے، وہ یہ کہ اگر بیوی ساتھ ہے تو اس سے کوئی شہوت کی بات اور حقِ زوجیت ادا نہیں کر سکتے جب تک طوافِ زیارت نہ کر لیں۔ بال کٹوانے کے بعد آپ غسل کر لیں، سلے ہوئے کپڑے پہن لیں، خوشبو لگا لیں، اور طوافِ زیارت کے لیے مکہ مکرمہ آجائیں۔

ان تینوں کاموں میں ترتیب واجب ہے

دسویں تاریخ   کو یہ تینوں کام ترتیب سے کرنے واجب ہیں:

(۱)     بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا۔

(۲)     قربانی کرنا۔

(۳)     سر کے بال منڈوانا۔

اگر اس ترتیب کو کسی شخص نے بدل کر آگے پیچھے کر دیا تو اس پر ایک دم واجب ہو گا۔ جو بینک اور ادارے اجتماعی قربانی کا انتظام کرتے ہیں، اپنے مطابق اس ترتیب کو ضروری نہیں سمجھتے، اگر آپ نے سر پہلے منڈوالیا اور آپ کی قربانی بعد میں ہوئی تو دم واجب ہو گا۔

طوافِ زیارت کرنا   (فرض)

دسویں تاریخ    کا چوتھا کام طوافِ زیارت کرنا ہے۔ یہ طوافِ زیارت حج کا دوسرا بڑا رکن ہے۔ طوافِ زیارت کرنے کے لیے آپ اسی طرح طواف کریں جس کا بیان عمرے کے طواف کے بیان میں گزر چکا ہے۔ واضح رہے کہ طوافِ زیارت ادا کرنے کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور ۱۲   ذی الحجہ کے غروب سے پہلے تک کر سکتے ہیں۔ لہٰذا جیسے سہولت ہو ویسے کیا جائے۔ لیکن تجربہ یہی ہے کہ دس یا گیارہ ذی الحجہ کے اندر کر لیں، بارہ کا رسک نہ لیں تو بہتر ہے۔

حج کی سعی   (واجب)

طوافِ زیارت کے بعد آپ کو حج کی سعی کرنی ہے۔ اس کے اعمال بھی ویسے ہی ہیں جیسے آپ نے عمرے کے بیان میں پڑھا ہے۔ 

منیٰ کی طرف واپسی

طوافِ زیارت اور حج کی سعی کرنے کے بعد آپ واپس منیٰ آجائیں، بلا ضرورت مکہ مکرمہ نہ ٹھہریں، البتہ اگر نماز کا وقت قریب ہو تو حرم شریف میں نماز پڑھنے کے بعد منیٰ روانہ ہو جائیں۔ منیٰ کی یہ راتیں ذکر اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی راتیں ہیں، توبہ اور استغفار کی راتیں ہیں، اس لیے ان راتوں کو غفلت میں نہ گزاریں۔

حج کا چوتھا دن:   گیارہ ذی الحجہ

تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا   (واجب)

گیارہویں ذی الحجہ کو آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے، وہ یہ کہ آج تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنی ہیں، البتہ کنکریاں مارنے کا وقت آج زوال کے بعد شروع ہو گا، لہٰذا اگر کسی شخص نے آج زوال سے پہلے کنکریاں مار لیں تو وہ کنکریاں ادا نہیں ہوں گی۔

پہلے چھوٹے شیطان کے سامنے آ کر پانچ چھ ہاتھ کے فاصلے پر کھڑے ہو جائیں او رکنکری کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان پکڑیں اور کنکری مارتے وقت تکبیر کہیں: ’’بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ، رَغْمًا لِلشَّیْطٰنِ وَ رِضًی لِلرَّحْمٰنِ‘‘۔ اور ایک ایک کر کے ستون (جو آج کل دیوار نما شکل میں ہے)    کی جڑ میں کنکریاں ماریں۔ کنکریاں اس حوض کے اندر گرنی چاہئیں۔ اگر کوئی کنکری اس حوض کے باہر گر گئی تو وہ کنکری ادا نہیں ہوئی، اس کی جگہ دوسری کنکری ماریں۔ 

سات کنکریاں مارنے کے بعد ستون سے ذرا دور ایک طرف کھڑے ہو جائیں اور بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر دعا کریں۔ دعا کرنے کے بعد درمیانے شیطان کی طرف چلیں، وہاں پہنچ کر اس کو بھی اس طرح تکبیر کہتے ہوئے سات کنکریاں ایک ایک کر کے ماریں۔ 

کنکریاں مارنے کے بعد ایک طرف ہٹ کر بیت اللہ کی طرف منہ کر کے دعا کریں۔ دعا کرنے کے بعد بڑے شیطان کی طرف آئیں اور اس کو بھی اس طرح تکبیر کہتے ہوئے سات کنکریاں ماریں۔ لیکن بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہیں کرنی ہے بلکہ کنکریاں مارنے کے بعد نکلتے چلے جائیں۔ 

تینوں شیطانوں کو ترتیب وار کنکریاں مارنا سنت ہے، پہلے چھوٹے کو، پھر درمیانے کو، پھر بڑے کو، اور بعض اس ترتیب کو واجب کہتے ہیں۔

رات کو منیٰ ہی میں قیام کریں، باجماعت نماز کا اہتمام کریں، تلاوت کریں، ذکر کریں، توبہ و استغفار کریں، دعائیں مانگیں، اگلے دن بارہویں تاریخ ہے۔

حج کا پانچواں اور آخری دن:    ۱۲   ذی الحجہ

تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا    (واجب)

بارہویں تاریخ کو تینوں شیطانوں کو زوال کے بعد کنکریاں مارنے کے بعد آپ کو اختیار ہے کہ چاہیں تو غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل کر مکہ مکرمہ میں اپنی قیام گاہ پر آجائیں، جیسا کہ آج کل یہی معمول ہے کہ بارہویں تاریخ    کی شام کو منیٰ سے لوگ مکہ مکرمہ آجاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص بارہویں تاریخ    کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ ہی میں ٹھہرا رہا اور صبح صادق اسے وہیں ہو گئی تو تیرہویں تاریخ    کو کنکریاں مارنا بھی اس پر واجب ہے۔ جس کے لیے زوال کی شرط نہیں بلکہ طلوعِ آفتاب کے بعد بھی ماری جا سکتی ہیں۔

منیٰ سے واپسی کے بعد مکہ مکرمہ کے قیام میں کیا اعمال کریں؟

مکہ مکرمہ واپس آنے کے بعد ادب و احترام کے ساتھ مکہ میں قیام کریں۔ مسجد حرام میں جماعت کی نماز کا اہتمام کریں اور پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کریں، زیادہ سے زیادہ نفلی طواف کریں، نفلی عمرے بھی کریں۔ 

نفلی عمرے کے لیے آپ کو حدودِ حرم سے باہر جا کر عمرہ کا اِحرام باندھنا ہو گا۔ اس کے لیے دو جگہیں مشہور ہیں:    ایک مقامِ جعرانہ ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریباً‌    ۹    میل کے فاصلے پر ہے، وہاں جا کر عمرہ کے اِحرام کی نیت کر لیں۔ یا دوسری جگہ مقامِ تنعیم ہے جو مسجد عائشہ کے نام سے مشہو ر ہے۔

یا درکھیے!    عمروں کی کثرت کے مقابلے میں طواف کی کثرت زیادہ افضل ہے۔

طوافِ وَداع    (واجب)

جس دن آپ کو مکہ مکرمہ سے رخصت ہونا ہو، اس دن آپ ایک آخری طواف کر لیں۔ جو حضرات پہلے مدینہ طیبہ نہیں گئے وہ مدینہ طیبہ جائیں گے۔ اور جو حضرات پہلے مدینہ طیبہ جا چکے ہیں وہ اپنے وطن کے لیے روانہ ہوں گے۔

بہرحال، جس دن آپ کو مکہ مکرمہ چھوڑنا ہے، اس دن آپ آخری طواف کر لیں۔ اور یہ آخری طواف ’’طوافِ وَداع‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کو طوافِ رخصتی بھی کہتے ہیں۔ نہ اس میں اضطباع ہو گا، نہ اس طواف میں رمل ہو گا، اور نہ ہی اس طواف کے بعد صفا مروہ کی سعی ہو گی۔

بیت اللہ کے سات چکر لگائیں اور ہر چکر میں استلام کریں۔ سات چکر لگانے کے بعد آٹھواں استلام کریں اور اس کے بعد تین ضمنی کام کریں، یعنی:

(۱)     ملتزم پر دعا کریں۔ آج موقع ملے تو ملتزم سے چمٹ کر الحاح و زاری سے دعا کریں۔ 

(۲)    دو رکعت دوگانہ طواف مقامِ ابراہیم پر پڑھیں۔ 

(۳)    اور اس کے بعد زم زم کا پانی پی کر دعا کریں۔ 

اور بیت اللہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے دل میں پھر حاضری کی تمنا و آرزو لیے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ! یہ حاضری میری آخری حاضری نہ ہو۔ 

آپ کا حج مکمل ہو گیا، اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں اور قبول فرمائیں، آمین۔


ضروری یادداشت

معذوری کے ایام میں طوافِ وَداع کا حکم

باہر سے جانے والوں کے لیے یہ طوافِ وَداع واجب ہے، لیکن اگر کسی خاتون کے معذوری کے ایام شروع ہو جائیں تو طوافِ وَداع اس خاتون سے معاف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بیمار ہو گیا اور طوافِ وَداع کی طاقت نہیں ہے تو اس سے بھی یہ طواف ساقط ہو جاتا ہے۔

معذوری کے ایام میں طوافِ زیارت کا حکم

لیکن دسویں تاریخ    کا جو طوافِ زیارت ہے، وہ کسی شخص سے کسی حالت میں معاف نہیں ہوتا۔ اگر کسی خاتون کو معذوری کے ایام شروع ہو جائیں او راس نے اب تک طوافِ زیارت نہ کیا ہو تو طوافِ زیارت کے لیے وہاں اس کو ٹھہرنا ضروری ہے۔ جب فارغ ہو جائے تو   غسل کر کے پاک صاف کپڑے پہن کر طوافِ زیارت کرے۔ پھر صفا   مروہ کی سعی کرے، اس کے بعد واپس آئے۔ 

اگر کوئی مرد یا عورت طوافِ زیات کیے بغیر وطن واپس آگیا تو جب تک وہ واپس جا کر طوافِ زیارت نہیں کر لے گا اس وقت تک شوہر بیوی کے لیے اور بیوی شوہر کے لیے حرام رہیں گے۔ اس لیے طوافِ زیارت کو کسی حال میں بھی چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ اگر واپسی کی تاریخ   آجائے تو درخواست کر کے اپنی تاریخ   آگے بڑھا لیں اور اپنا عذر بیان کر دیں، لیکن طوافِ زیارت کیے بغیر ہرگز واپس نہ آئیں۔

بہرحال، طوافِ زیارت کرنے کے بعد مکہ سے روانہ ہو جائیں۔ جو حضرات مدینہ طیبہ نہیں گئے وہ مدینہ طیبہ جائیں گے۔ اور جو حضرات مدینہ طیبہ پہلے جا چکے ہیں وہ اپنے وطن آئیں گے۔ حج آپ کا مکمل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ عافیت اور سلامتی کے ساتھ ہم سب کو حجِ مبرور نصیب فرمائیں، آمین۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور ۔ اگست ۲۰۱۳ء)


عید و مسرت کا اسلامی طرز اور صبر و تحمل کی اعلیٰ انسانی قدر

قاضی محمد اسرائیل گڑنگی

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

عید و مسرت کا اسلامی طرز

دینِ اسلام کے آنے سے پہلے بھی لوگ خوشیاں یعنی عید منایا کرتے تھے لیکن ان کے تہوار اور اسلامی تہوار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جہاں اسلام کا ابتدائی ظہور ہوا، سرزمینِ عرب میں مختلف قسم کے تہوار منائے جاتے تھے، ان تہواروں کو رقص و سرور اور عریانی و بے حیائی سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ جب دینِ فطرت اسلام کا ظہور ہوا تو اسلام نے ان سب بے ہودوہ محفلوں کو ختم کر کے اپنے ماننے والوں کو دو بہترین تحفے عطا کیے جن کو ہماری اصطلاح میں عیدین کہا جاتا ہے یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔

سرورِ دو عالم ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ دو دن کھیل کود میں گزارتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا کہ یہ لوگ دو دن کیا کرتے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ان دو دنوں میں تہوار منایا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں دنوں کے بجائے تم مسلمانوں کو ان سے بہتر دن عنایت فرمائے ہیں، ایک عید الفطر دوسرا عید الاضحیٰ۔ (ابوداؤد)

ایک روایت کے مطابق ’’ہر قوم کے لیے عید ہے اور یہ (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) ہمارے لیے عید ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

پہلی امتیں مختلف دنوں میں عید منایا کرتی تھیں، حضرت آدمؑ کی امت اس دن عید منایا کرتی تھی جس دن حضرت آدمؑ کو دنیا میں اتارا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی امت اس دن عید منایا کرتی تھی جس دن حضرت ابراہیمؑ کو نمرود نے آگ میں ڈالا اور ان کو اس آگ سے اللہ پاک نے بچا لیا۔ حضرت عیسٰیؑ کی امت اس دن عید منایا کرتی تھی جس دن اللہ پاک نے آسمان سے مائدہ نازل فرمایا تھا۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ عید الفطر کے دن اللہ پاک اپنے بندوں کے متعلق فرشتوں سے سوال کرتے ہیں اے میرے فرشتو! اس مزدور کا صلہ کیا ہے جو اپنی محنت کا پورا پورا حق ادا کر چکا ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے رب! اس کا صلہ تو یہی ہے کہ اس کی محنت کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے۔ فرشتوں کی اس بات پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے فرشتو! تمہیں گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے والوں اور تراویح میں قیام کرنے والوں کا ثواب اپنی رضا اور مغفرت کو قرار دیا ہے، انہوں نے میرا فرض ادا کیا (روزہ رکھا) اس کے بعد نماز عید کی شوق میں میری تعریف کرتے ہوئے عیدگاہ گئے، لہٰذا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کروں گا اور ان کے عیبوں کو چھپاؤں گا، جو دعا کریں گے اس کو شرفِ قبولیت بخشوں گا۔ اس کے بعد اللہ پاک اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر خطاب فرماتے ہیں: میرے بندو! واپس جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔‘‘

اے غلامانِ محمدِ مصطفٰیؐ! تم نے کبھی خیال کیا کہ پروردگارِ عالم اپنے بندوں پہ کتنا مہربان ہے؟ اے رسولِ پاکؐ کا کلمہ پڑھنے والو! پروردگارِ عالم نے تمہیں بخشنے کے لیے عید الفطر کو مقرر فرمایا ہے، عید کی رات جاگ کر خوب خدا سے مانگو، یہ رات پھر واپس نہیں آئے گی۔ ورنہ عید کے دن صبح سویرے جاگ کر خدا سے خوب مانگیں، سنت کے مطابق غسل کریں، اچھے کپڑے پہن کر تسبیح پڑھتے ہوئے عید گاہ کی جانب روانہ ہو جائیں۔ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد اسی جگہ بیٹھیں۔ خطبہ عید کو خوب توجہ سے سنیں اور خوب دل لگا کر اپنے پروردگار سے دعا مانگیں۔ صبح کی نماز کے بعد نہ تو کوئی نفل نماز گھر میں ادا کریں اور نہ ہی عید گاہ میں، نہ ہی نمازِ عید سے پہلے اور نہ ہی نمازِ عید کے بعد۔

اس پر ہم خیر القرون کا واقعہ سناتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا بہترین اور مبارک زمانہ تھا، عید کا دن تھا، لوگ جوق در جوق عید گاہ کی طرف جا رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ بھی عیدگاہ میں داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک آدمی عیدگاہ میں نفل نماز پڑھ رہا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی کہ عیدگاہ میں سوائے عید کی نماز کے کوئی اور نمازا دا کی؟ اس نے کہا کہ میں نے نماز پڑھی ہے کوئی گناہ کا کام تو نہیں کیا، اس پہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب تو نہیں دے گا۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ہاں ضرور اللہ تجھ کو عذاب دے گا، اس لیے کہ جو نماز تو نے پڑھی ہے اس نماز کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ پھر وہ شخص بات کو سمجھ گیا۔ ہمیں بھی ہر حال، ہر صورت اور ہر وقت اس کام کو کرنا ہو گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا اور کرنے کا حکم دیا۔

نمازِ عید واجب ہے۔ جو شرائط جمعہ کی نماز کے لیے ہیں وہی شرائط عید کی نماز کے لیے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نمازِ عید کے لیے نہ آذان ہے، نہ ہی اقامت ہے اور نہ ہی نمازِ عید سے پہلے خطبہ ہے، بلکہ نمازِ عید کے بعد خطبہ پڑھا جائے گا۔ خطبہ پڑھنا سنت ہے اور سننے والوں پہ سننا واجب ہے۔ نمازِ عید الفطر کو جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کر کے جائیں، کوئی میٹھی چیز کھا کر عیدگاہ کی طرف روانہ ہوں، (جبکہ عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کی بجائے بعد میں کھانا سنت ہے)، راستہ میں آہستہ آہستہ یہ تکبیر پڑھتے ہوئے جائیں: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ ایک راستہ سے جائیں اور دوسرے راستہ سے واپس آئیں۔

نیتِ نمازِ عید اس طرح کریں: ’’نیت کی میں نے دو رکعت عید کی بمع چھ تکبیرات زائدہ کے پیچھے اس امام کے، منہ میرا خانہ کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر‘‘۔ تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے۔ عید کی نماز کا طریقہ عام نماز کی طرح ہی ہے صرف اتنا فرق ہے کہ پہلی رکعت میں ثناء (سبحنک اللھم … الخ) پڑھ کر تین بار اللہ اکبر کہے اور ہر بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہتا ہوا لٹکا دے، البتہ تیسری بار نہ لٹکائے بلکہ باندھ لے۔ اور امام کو چاہیے کہ ہر دفعہ اللہ اکبر کہنے کے بعد کم از کم اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر سبحان اللہ تین بار کہنے میں لگتی ہے۔ مجمع زیادہ ہونے کی صورت میں ضرورت ہو تو اس سے زیادہ بھی وقفہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلی رکعت میں تین بار اللہ اکبر کہنے کے بعد ’’اعوذ باللہ، بسم اللہ پڑھ کر امام حسبِ قاعدہ قراٗت کرے گا اور مقتدی خاموشی سے سنیں گے۔ دوسری رکعت میں قراٗت کے بعد رکوع سے پہلے اسی طرح تین بار اللہ اکبر کہے اور چوتھی تکبیر کہتا ہوا رکوع میں جائے، باقی عام نمازوں کی طرح نماز مکمل کر لے۔

نمازِ عید کے بعد دعاؤں میں تمام امتِ مسلمہ کو یاد کریں، اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائیں۔ آمین۔


صبر و تحمل کی اعلیٰ انسانی قدر

مصائب و آلام، مصیبتوں اور پریشانیوں پر شکوہ کو ترک کر دینا صبر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر کرنا مشکل کام ہے کیونکہ اس میں مشقت اور کڑواہٹ پائی جاتی ہے۔ صبر کی اس تلخی کو ختم کرنے کے لیے ایک اور صبر کرنا پڑتا ہے جسے مصابرہ کہتے ہیں۔ جب بندہ مصابرہ کے درجے پر پہنچتا ہے تو پھر صبر کرنے میں بھی لذت محسوس کرتا ہے۔ اس کی مثال حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر ہے۔ صبر ایک عظیم نعمت ہے جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ صبر مقاماتِ دین میں سے اہم مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ بندوں کی منازل میں سے ایک منزل اور اولوالعزم کی خصلت ہے۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے تقویٰ کے ذریعے ہوائے نفس پر اور صبر کے ذریعے شہواتِ نفس پر قابو پا لیا۔

صبر کی اہمیت و افادیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے ہاں اس کا بے حساب اجر رکھا ہے۔ آج کا انسان دین سے دوری کی وجہ سے رب تعالیٰ کی حضوری، ایمان بالغیب یعنی مرنے کے بعد کی دنیا، قیامت، یومِ حساب اور جنت و دوزخ وغیرہ کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنا سب کچھ اس دنیا میں پورا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم خالقِ کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس دنیا میں صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خودبخود ہی حل ہو جائیں گے۔ کیونکہ انسان معاشرے یا خاندان میں جس بھی حیثیت یا عہدے پر ہے، ضروری نہیں کہ وہاں سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہو جیسا وہ چاہتا ہے۔ جب کوئی کام انسان کی مرضی و منشا کے خلاف سرزد ہو تو یقیناً‌ انسان غصے میں آتا ہے اور بعض اوقات غصے سے مغلوب ہو کر اس سے کچھ ایسی حرکات سرزد ہو جاتی ہیں جو اس کی شخصیت کو داغ دار بنا دیتی ہیں۔

گویا گھر کے ایک عام فرد سے لے کر معاشرے کے ایک اہم رکن تک اور کسی بھی ادارے کے ایک عام آفس بوائے سے لے کر اس ادارے کے سربراہ تک ہر شخص کو خلافِ طبع و خلافِ معمول امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر کامیاب اس شخص کو گردانا جاتا ہے جس کی پریشانیوں سے دوسرے آگاہ نہیں ہوتے اور وہ مشکلات کو بھی ہنس کر برداشت کرنا جانتا ہے اور ایسا صرف وہی کر سکتا ہے جو صبر کی دولت سے لبریز ہو۔ دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی شرکا تجربہ کار اور دوڑ کے اہل ہوتے ہیں، ہر ایک کو دوڑتے ہوئے کم یا زیادہ مگر تکلیف ضرور ہوتی ہے مگر جیتتا صرف وہی ہے جو آخر تک صبر سے کام لیتا ہے۔

امرء القیس کا صبر

دورِ جاہلیت کے مشہور شاعر اور قبیلے کے سردار امرء القیس سے کسی دوسرے قبیلے کے سردار نے پوچھا کہ آپ کا قبیلہ آپ کی بڑی عزت و قدر کرتا ہے جب کہ وہ سب کچھ میں بھی کرتا ہوں جو تم کرتے ہو تو پھر تم میں ایسی کون سی بات ہے جو مجھ میں نہیں؟ امرء القیس نے جواب دیا کہ میں مشکلات برداشت کرتا ہوں اور انہیں کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا جب کہ تم ایسا نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امرء القیس کا نام آج بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

صبر صرف مشکلات پر نہیں ہوتا بلکہ امورِ اطاعت و فرمانبرداری میں بھی صبر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب پر صبر کرنے سے اس کی اطاعت پر صبر کرنا زیادہ آسان ہے۔ لہٰذا آج صبر کی اس اہمیت اور اس کی صداقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس معاشرے کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی دنیا و آخرت بھی سنوار سکیں۔

صبر: قرآن پاک کی روشنی میں

صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے صبر سے مدد لینے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً‌ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔ (سورۃ البقرہ ، 2 / 153)

آزمائش پر صبر اللہ تعالیٰ کی بشارت کا ذریعہ ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو مختلف طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر ان مشکلات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کر لیا جائے تو ایسے صبر والوں کو اجر کی خوشخبری اللہ خود دیتا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے: اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے، کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ (سورۃ البقر، 2 / 155-156)

سورہ رعد کی آیت نمبر 122 میں رب کی رضا جوئی کے لیے صبر کرنے والوں کو آخرت میں حسین گھر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بے شک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے۔

صبر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا خاصہ رہا ہے۔ سورہ الانبیا کی آیت نمبر 85 میں ارشاد فرمایا: اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو بھی یاد فرمائیں، یہ سب صابر لوگ تھے۔

اللہ تعالیٰ نے سچے پرہیزگاروں اور شدائد و آفات میں صبر کرنے والوں پر صبر کی شرط لگائی اور صبر کے ذریعہ ہی ان کی صداقت و تقویٰ کو ثابت کیا۔

صبر: احادیث مبارکہ کی روشنی میں

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے متعدد ارشادات میں صبر کی اہمیت و فضیلت کو واضح فرمایا ہے۔

صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کرام کی، پھر درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے مقربین کی۔ آدمی کی آزمائش اس کے دینی مقام و مرتبہ (یعنی ایمانی حالت) کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین اور ایمان میں مضبوط ہو تو آزمائش سخت ہوتی ہے، اگر دین اور ایمان میں کمزور ہو تو آزمائش اس کی دینی اور ایمانی حالت کے مطابق ہلکی ہوتی ہے۔ بندے پر یہ آزمائشیں ہمیشہ آتی رہتی ہیں حتیٰ کہ (مصائب پر صبر کی وجہ سے اسے یوں پاک کر دیا جاتا ہے) وہ زمین پر اِس طرح چلتا ہے کہ اس پر گناہ کا کوئی بوجھ باقی نہیں رہتا۔

دل کا پھل

اولاد بڑی نعمت ہے، اولاد کے ساتھ انسانی زندگی کی رونق بحال ہو جاتی ہے اور گویا جینے کا مقصد مل جاتا ہے مگر جب کسی وجہ سے اولاد چھن جائے تو انسان حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ اس مشکل وقت میں صبر کرنے والے کے بارے میں مسند احمد اور سنن ترمذی کی یہ روایت پیش ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے نہایت پیارے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ وہ کہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل قبض کیا؟ وہ عرض کرتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے اس پر کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں: اس نے تیری حمد کی اور کہا بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد (تعریف والا گھر) رکھ دو۔

کاش! کہ جلدیں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں

دنیا میں مشکلات پر صبر کرنے والوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جو بے حساب اجر و ثواب ملے گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز جب مصیبت زدہ لوگوں کو (ان کے صبر کے بدلے بے حساب) اجر و ثواب دیا جائے گا تو اس وقت (دنیا میں) آرام و سکون (کی زندگی گزارنے) والے تمنا کریں گے: کاش! دنیا میں ان کی جلدیں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں (تو آج وہ بھی اِن عنایات کے حقدار ٹھہرتے)۔ (جامع ترمذی)

صبر کی اہمیت کے پیشِ نظر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر کو نصف ایمان قرار دیا۔ (سنن بیہقی)

صبر کرنا دہکتے کوئلے کو مٹھی میں پکڑنے کے مترادف

صبر کہنے کو تو آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل کام ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج کے دور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جن میں صبر کرنا دہکتے کوئلے کو مٹھی میں پکڑنے کے مترادف ہے اور ایسے زمانے میں صبر کرنے والے کو اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کا ثواب ملے گا۔ دوسری روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے کہ صحابہؓ میں سے کسی نے پوچھا کہ پچاس اس کے زمانے کے یا ہمارے زمانے کے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ آپ کے زمانے کے پچاس لوگوں کا ثواب ملے گا۔

صبر کرنے والوں کی حضور ؐسے حوضِ کوثر پر ملاقات

غزوہ حنین کا مالِ غنیمت تقسیم کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا: عنقریب تم دیکھو گے کہ بہت سے معاملات میں لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، تم اس پر صبر کرنا حتیٰ کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو کیونکہ میں حوض پر ہوں گا۔ انصار نے کہا ہم عنقریب صبر کریں گے۔

آخر آپ ہیں کون؟

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا تو پکارنے والا پکارے گا، صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ فرمایا: کچھ لوگ اٹھیں گے جو تعداد میں کم ہوں گے اور وہ جلدی جلدی جنت کی طرف جائیں گے۔ راستے میں انہیں فرشتے ملیں گے جو ان سے پوچھیں گے، ہم آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ جنت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، آخر آپ ہیں کون؟ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم اہلِ صبر ہیں۔ فرشتے پوچھیں گے کہ آپ نے کس بات پر صبر کیا؟ وہ جواب دیں گے ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور گناہوں سے بچنے پر صبر کیا۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جائیں، بے شک صبر کرنے والوں کا یہی اجر ہے۔ (علامہ ابن القیم، عدۃ الصابرین)

آپ کی جزا اور بدلہ جنت

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت یاسر، عمار بن یاسر اور ام عمار کے پاس سے گزرے، جب انہیں اذیت دی جا رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو یاسر و اہلِ یاسر! صبر کرو، بے شک آپ کی جزا اور بدلہ جنت ہے۔ (مسند احمد)

رب کعبہ کی قسم! تم مومن ہو

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: کیا تم مومن ہو؟ وہ خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہاں! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آسانی میں شکر کرتے ہیں اور ابتلا میں صبر کرتے ہیں اور قضا پر راضی رہتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کعبہ کے رب کی قسم! تم مومن ہو۔

صحابہؓ و ائمہؒ کے اقوال کی روشنی میں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے اپنی زندگی کے بہترین اوقات حالتِ صبر میں پائے ہیں۔ (امام احمد، کتاب الزہد۔ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء)

امام قشیریؒ رسالہ قشیریہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ایمان میں صبر کا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا ہوتا ہے، بغیر سر کے جسم ہلاک ہو جاتا ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بآوازِ بلند فرمایا کہ جس کا صبر نہیں اس کا ایمان نہیں۔ صبر ایسی سواری ہے جو کبھی نہیں بھٹکتی۔ (امام غزالی، احیاء علوم الدین)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: صبر کے چار ستون ہیں: شوق، شفقت، زہد، انتظار۔

چنانچہ جو آگ سے ڈرا وہ محرمات سے دور ہوگیا اور جو آدمی جنت کا مشتاق ہوا وہ شہوات سے سلامت رہا۔ جو آدمی دنیا میں زاہد ہوا اس پر مصائب آسان ہوگئیں اور جس نے موت کا انتظار کیا اس نے بھلائیوں کی طرف جلدی کی۔ چنانچہ انہوں نے ان مقامات کو صبر کے ارکان فرمایا، اس لیے کہ یہ صبر سے نکلتے ہیں اور ان تمام ارکان میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اور زہد کو ان میں سے ایک رکن قرار دیا۔

امام سلمی طبقات الصوفیہ میں حضرت حارث المحاسبی کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہر شے کا جوہر ہوتا ہے، انسان کا جوہر عقل ہے اور عقل کا جوہر صبر ہے۔

امام قشیری رسالہ قشیریہ میں اور علامہ ابن القیم مدارج السالکین میں امام علی الخواص کا صبر کے متعلق قول نقل کرتے ہیں، فرمایا: کتاب و سنت کے احکام پر ثابت قدم رہنا صبر ہے۔

حضرت ابو علی الدقاق نے فرمایا: صابرین دونوں جہانوں میں عزت کے ساتھ کامیاب ہوئے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل کر لی۔ بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (ابن القیم، مدارج السالکین)

حضرت ابو حامد بلخی نے فرمایا: جس نے صبر پر صبر کیا (یعنی صبر کر کے اسے ظاہر بھی نہ ہونے دیا کہ وہ مصائب پر صبر کر رہا ہے) وہی صابر ہے نہ کہ وہ شخص جس نے صبر کیا اور (صبر کا اظہار کر کے) شکوہ بھی کر دیا۔ (امام شعرانی، الطبقات الکبری)

فقیہ، صوفی اور عابد ابراہیم التیمی فرماتے ہیں: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اذیت، آفت اور مصیبت پر صبر عطا کیا گویا ایمان کے بعد اسے سب سے بڑی نعمت عطا کی۔

صبر کی شرائط میں سے ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیسے صبر کریں گے، کس کے لیے صبر کریں گے اور صبر سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ صبر کے لیے ہمیں نیت کو درست کرنا اور اس میں اخلاص لانا ہوگا ورنہ ہمارے اور جانور کے صبر میں کوئی فرق نہیں ہو گا کیوں کہ اس پر جب مصیبت آ جاتی ہے تو وہ بھی برداشت کرتا ہے مگر اسے اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ اس پر مصیبت کیوں نازل ہوئی اور اس سے کیسے نمٹنا ہے اور اس کا کیا فائدہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں صبر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

تعمیرِ سیرت، اُسوۂ ابراہیمؑ کی روشنی میں

مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد

اہل ایمان پر اللہ رب العزت کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی فکری اصلاح کے لیے انبیاء کرام کی سیرت اور ان کا کردار قرآن حکیم میں محفوظ فرما دیا ہے۔ تمام انبیاء کرام کی شخصیت اور ان کے کردار کو مختلف اسلوب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ کہ اہل ایمان اپنی سیرت و کردار اور شخصیت کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہیں۔

سیدنا ابراہیمؑ کی سیرت اور ان کی شخصیت کو جس اسلوب کے ساتھ قرآن حکیم پیش کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین ان صفات کو اہل ایمان میں دیکھنا چاہتے ہیں، اسی بنیاد پر ان کی سیرت کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ آج کا انسان اپنی فکر اور تعمیر شخصیت کے لیے مختلف راستے اختیار کرتا ہے، کبھی کسی کے فلسفے سے متاثر ہو کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، سفر کے دوران معلوم ہوتا ہے یہ فلسفہ قابل عمل نہیں ہے، کوئی شخص کسی کی دل نشین گفتگو سن کر اس کی اتباع کی ٹھان لیتا ہے، لیکن اس کو صرف گفتار کا غازی دیکھ پلٹ جاتا ہے۔ لیکن قرآن حکیم نے انبیاء کرام کی عملی زندگی کو انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے کہ تاکہ اہل ایمان اپنے سامنے ان کی عملی زندگی دیکھ کر اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکیں۔

قرآن حکیم میں سیدنا ابراہیمؑ کا 69 مرتبہ ذکر کیا گیا ہے جو 17 پاروں پر محیط ہے۔ حضرت موسیؑ کے بعد آپؑ کا تکرار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ کہ ان کی اعلی شخصیت و کردار اہل ایمان کے ذہنوں میں تازہ رہے اور وہ ان کو اپنے لیے مثال بناتے ہوئے زندگی بسر کر سکیں۔ اللہ رب العزت نے سورۃ الانعام میں حضرت ابراہیمؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیؑ، ہارونؑ، زکریاؑ، یحییؑ، عیسیؑ، الیاسؑ، اسماعیلؑ، یسعؑ، یونسؑ، لوطؑ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: أولئک الذین ھدی اللہ فبہداھم اقتدہ- اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! یہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو۔ گویا کہ انبیاء کرام کی زندگی اور ان کی شخصیت ہی انسان کو راہ راست پر گامزن کر سکتی ہے جس کی سند اللہ نے جاری کی ہے۔

قرآن حکیم میں سیدنا ابراہیمؑ کی متعدد صفات بیان کی گئی ہیں، جس کو اپنا کر بندہ مؤمن اپنی شخصیت کو احسن انداز میں تعمیر کر سکتا ہے۔ ذیل میں تفصیل کے ساتھ آپؑ کی صفات پیش کی جا رہی ہیں۔

امت کے کمالات کا پیکر

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ان ابراہیم کان امۃ: ابراہیمؑ امت تھے۔ امام قرطبیؒ نے امہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد: الرجل الجامع للخیر، ایک فرد امت کے کمالات کا پیکر ہو۔ اسی آیت کے ذیل میں امام قرطبی نے ابن مسعودؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ: معاذؓ امہ اور اللہ کے فرمانبردار تھے۔ ان سے کہا گیا کہ اے ابو عبد الرحمن: قرآن میں یہ صفت تو حضرت ابراہیمؑ کی ذکر گئی ہے۔ آپؓ نے فرمایا: امہ سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والا ہو۔ گویا معلوم ہوا کہ ابن مسعودؓ نے امہ کا یہ مفہوم ذکر کیا ہے کہ امۃ وہ شخص ہے جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والا ہو۔

تفسیر ابن کثیر میں ابن عمرؓ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ امۃ سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے دین کی تعلیم دینے والا ہو۔ اسی طرح امام مجاہدؒ کے نزدیک امہ سے مراد تنے تنہا ایمان کی راہ پر چلنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ تنے تنہا توحید کا علم لے کر اٹھے اور اس پر قائم رہے جبکہ باقی لوگ کفر کی راہ پر گامزن تھے۔

آپؑ کی خصوصیات میں سے یہ ایک خاصیت اس امر پر آمادہ کرتی ہے کہ انسان کے پاس اللہ کی سب سے بڑی نعمت زندگی ہے، اس زندگی کو خیر کی اشاعت کے لیے وقف کرنا اور اپنی شخصیت کو اس نہج پر تعمیر کرنا کہ اس سے بھلائی اور خیر کا پیغام پھیلے۔ اسی طرح آپؑ کی یہ صفت اس امر کی دعوت دیتی ہے کہ جب حق معلوم ہو جائے تو اس کو تھام لو اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی مکمل کوشش کی جائے۔ چاہے لوگ کسی دوسرے راستے کے راہی ہوں، چاہے حق کے راستے پر کتنی ہی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے، لیکن اس راستے کو ترک نہیں کرنا چاہیے، چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔ ہر دور کے انسانوں لیے سیدنا ابراہیمؑ کی یہ صفت قابلِ عمل ہے اور اسی سے انسان ہر میدان میں مضبوط ہو سکتا ہے۔ آئیے اس امر کا عزم کرتے ہیں کہ اپنے وجود سے مساجد، مدارس، یونیورسٹیرز، اسکولز، گھروں، بازاروں، عدالتوں، پارلیمنٹ وغیرہ میں خیر کی اشاعت کا پیکر بن جائیں۔

مالکِ کائنات کا مُسلِم

اللہ تعالیٰ نے ان کی دوسری صفت یہ بیان کی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے سامنے یک سوئی کے ساتھ سر اطاعت خم کر دیا تھا۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جسے اللہ بہت زیادہ پسند فرماتے ہیں، اور اس عمل میں جتنی پختگی ہوگی اس کی مدد و نصرت ہر وقت شامل حال رہے گی۔ قرآن حکیم میں آپؑ کی اس صفت کو مختلف اسلوب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کی تفصیل ذیل ہے:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: إذ قال لہ ربہ اسلم قال أسلمت لرب العالمین (البقرۃ 131) اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا، ’’مسلم ہوجا‘‘ تو اس نے فورا‌ کہا ’’میں مالک کائنات کا مسلم ہو گیا‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا أمۃ مسلمۃ لک (البقرۃ 128) اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ما کان ابراھیم یہودیا و لا نصرانیا و لکن کان حنیفا مسلما و ما کان من المشرکین (آل عمران 67) ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا، اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: إنی وجہت وجہی للذی فطر السماوات والارض حنیفا‌ وما أنا من المشرکین (الانعام 79) میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ان آیات مبارکہ میں آپؑ کی شخصیت کا اہم حصہ یہ ذکر کیا گیا کہ انہوں نے اپنے وجود کو اپنے خالق کے لیے وقف کر دیا تھا، اسی بنیاد پر رب العالمین نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی: وإذ ابتلی إبراھیم ربہ بکلمات فأتمہن قال إنی جاعلک للناس إماما (البقرۃ 124) یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا 124 اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا: میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔

اسی طرح آپؑ نے بیٹے کو خواب میں ذبح کرنے کے عمل کو حقیقت میں مکمل کرنے کی مکمل تیاری کر لی تو آسمان سے صدا آئی: فلما أسلما وتلہ للجبین، ونادیناہ أن یا إبراھیم، قد صدقت الرؤیا إنا کذلک نجزی المحسنین (الصافات 103-105) آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا، اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیمؑ! تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔

سیدنا ابراہیمؑ کا اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ ایک انسان جب اسلام کے دائرے میں آجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس نے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کر دیا ہے، اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اسی سے امیدیں وابستہ کرے، اسی کے سامنے سربسجدہ رہے اور اس کے علاوہ تمام خداؤں سے لاتعلقی کا اظہار کرے۔ اور یہ اس لیے ہو کہ مؤمنین کے بارے میں اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے تورات اور انجیل اور قرآن میں۔ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ 111)

لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان انفرادی و اجتماعی سطح پر اس اہم صفت کو اپنانے میں کمزور نظر آتا ہے، جس کے سبب ہم متعدد مسائل و مشاکل کا شکار ہیں۔ اسی فکر کی تجدید کے لیے ہر سال سیرت ابراہیمؑ کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان ان کی مانند یکسوئی کے ساتھ اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اور اسی کا ہو کر رہنے کا داعیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔

عصر حاضر میں تعلق باللہ اور اللہ کے فیصلوں پر کامل یقین کی اعلی و ارفع مثال اہل غزہ و مجاہدین کی صورت میں موجود ہے، جو 570 دن سے زائد عرصے سے قابض و غاصب اسرائیل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں، اور اپنے رب کے راستے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے حسبی اللہ و نعم الوکیل نعم المولیٰ ونعم النصیر کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ ان کا یہ عمل امت مسلمہ کو بالخصوص اور پورے عالم کو بالعموم یہ دعوت دے رہا ہے کہ اللہ ہی واحد حاکم ہے جس کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات کا نظام ہے۔ اسی فکر کو مولانا محمد علی جوہرؒ نے اس شعر میں پرویا ہے:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے تھا

اللہ کی فرمانبرداری کا سراپا

قرآن حکیم میں سیدنا ابراہیمؑ کی تیسری صفت ’’قانت اللہ‘‘ ذکر کی گئی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپؑ نے کامل اللہ کی فرمانبرداری اختیاری کر لی تھی۔ اللہ رب العالمین کو آپؑ کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اس کو قرآن حکیم کا حصہ بنا دیا، تاکہ قرآن کا قاری اپنے آپ کو سراپا اطاعت کا پیکر بنا سکے۔ اللہ رب العالمین نے زمین و سماں میں موجود اشیاء کے بارے میں فرمایا: ولہ من فی السماوات والأرض کل لہ قانتون (النحل 26) آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اس کے بندے ہیں، سب اسی کے پاس تابع ہیں۔ اس آیت میں اس امر کی صراحت کی گئی ہے کائنات کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور سب اسی کے حکم کی تعمیل میں کار فرما ہیں۔ 

بنیادی طور پر یہ بات انسان کے ذہن نشین کروائی جا رہی ہے کہ جب پوری کائنات اپنے خالق کا امر مکمل کرنے پر کاربند ہے، اور اسی کے حکم کے مکمل کرنے پر کارفرما ہے تو انسان اپنے اختیار کا غلط فائدہ نہ اٹھائے کہ اپنے رب کی بندگی ترک کر کے کسی اور کی بندگی شروع کر دے، جبکہ چار و ناچار سب اس کی اطاعت میں مصروف ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ کے دین سے جی چراتے اور اس پر عمل کرنے کے حوالے سے شش و پنج میں مبتلا رہتے ہیں، اس کے علاوہ کسی اور کو رب ماننے اور اس کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے راستے کے خواہاں ہوتے ہیں، ان کو اس انداز میں سمجھایا گیا کہ : أفغیر دین اللہ یبغون ولہ أسلم من فی السماوات والارض طوعا وکرھا وإلیہ یرجعون (آل عمران 83) اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار و ناچار اللہ ہی کے تابع ہیں، اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وقالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانہ بل لہ ما فی السماوات والأرض کل لہ قانتون (البقرۃ 116) اور ان کا قول ہے کہ اللہ نے کی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔

مالک کائنات کو یہ خاصیت اتنی محبوب ہے کہ اس کے حامل اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے، تاکہ اہل ایمان اس خاصیت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إن المسلمین والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات والقانتین والقانتات — أعد اللہ لہم مغفرۃ وأجرا عظیما (الاحزاب 35) یقینا‌ جو مرد و عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجرا تیار کر رکھا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ عز و جل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا، آپ نے ہر بار فرمایا: ’’تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے‘‘۔ تیسری بار فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے‘‘۔ (صحیح مسلم 4869)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ پوری خلق چار و ناچار اللہ کی اطاعت اور حکم کی پابند ہے، گویا پوری خلق انسان کو دعوت دے رہی ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کا حقیقی مالک ہے اس کی اطاعت میں ہی زندگی بسر کی جائے، اس کی اطاعت سے منہ موڑنے میں انسان ناکامی کے دہانے پر کھڑا رہتا ہے۔ آج کا انسان آزادئ اظہار رائے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اپنے خالق کی اطاعت سے باہر نکل جاتا ہے، انفرادی و اجتماعی سطح اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مختلف مسائل و مشاکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیرتِ ابراہیمیؑ اس امر کی طرف دعوت دے رہی ہے کہ خالص اللہ کی اطاعت اور اس بندگی ہی میں زندگی بسر کرنے میں ہی انسانی معاشرہ حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔

حلیم و بردبار شخصیت

آپؑ کی ایک صفت حلیم بیان کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إن إبراھیم لحلیم أواہ منیب (ہود 75) بے شک ابراہیم بڑے بردبار ’نرم دل‘ خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ حلم و بردباری انسانی شخصیت کے وقار میں اضافہ کرتی ہے، اور اس کے سبب انسانی معاشرے میں کئی مسائل از خود ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا: ’’تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: حلم اور طبیعت میں ٹھہراؤ۔‘‘(صحیح مسلم 117)

دلِ گرویدہ کا حامِل

اسی طرح آپؑ کے بارے میں قرآن اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ’’منیب ‘‘ تھے، کہ ہر معاملے میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إن إبراھیم لحلیم أواہ منیب (ہود 75) قرآن حکیم میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس قرآن سے وہی شخص نصیحت حاصل کر سکتا ہے جو اپنے رب کی پلٹنے اور اس کی رجوع کرنے کی تڑپ رکھتا ہو۔ اسی طرح سورہ ق میں متقین کو جنت کی بشارت دی گئی، اس میں داخل ہونے کی بہت ہی دل نشین انداز میں منظر کشی کرتے ہوئے اللہ رب العالمین نے اس میں داخل ہونے افراد کی خصوصیات میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: من خشی الرحمٰن بالغیب وجآء بقلب منیب (ق 33) جو بے دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔

قلب منیب کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: اصل الفاظ ہیں ’’قلب منیب‘‘ لے کر آیا ہے۔ منیب انابت سے ہے جس کے معنی ایک طرف رخ کرنے اور بار بار اسی کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ جیسے قطب نما کی سوئی ہمیشہ قطب ہی کی طرف رخ کیے رہتی ہے اور آپ خواہ کتنا ہی بلائیں جلائیں، وہ ہر پھر کر قطب ہی کی طرف مڑ گیا اور پھر زندگی بھر جو احوال بھی اس پر گزرے ان میں وہ بار بار اسی کی طرف پلٹتا رہا۔ اسی مفہوم کو ہم نے دل گرویدہ کے الفاظ سے ادا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں اصلی قدر اس شخص کی ہے جو محض زبان سے نہیں بلکہ پورے خلوص کے ساتھ سچے دل سے اسی کا ہو کر رہ جائے۔

درج بالا صفات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کا اسوہ آج بھی تعمیر سیرت میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ یہی سیرتِ ابراہیمؑ کا پیغام ہے۔

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۱)

ڈاکٹر محمد سعد سلیم

تعارف

یہ مضمون بائبل اور قرآن کی پیشگوئیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے قیامت کی نشانیوں کو سمجھنے کے لیے ایک منفرد فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ احادیث میں بیان کردہ قیامت کی نشانیاں جغرافیائی، سماجی اور تاریخی تغیرات کی پیچیدہ عکاسی کرتی ہیں، جو حضرت محمد ﷺ کو رویا کی صورت میں دکھائی گئیں۔ اس مضمون میں ان نشانیوں کی تعبیر الہامی کتب کی روشنی میں کی گئی ہے۔

یہ علامتی انداز نہ صرف ان اہم پیغامات کو مؤثر طریقے سے بیان کرتا ہے بلکہ انہیں نسل در نسل منتقل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ مستقبل کے مخصوص حالات کو ایک حد تک پوشیدہ رکھتا ہے۔ جب ان پیشگوئیوں کو تاریخی تناظر میں غیر جانبدار اور وسیع ذہن کے ساتھ پرکھا جائے تو یہ متعدد تاریخی حقائق سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔ ان پیشگوئیوں کا مقصد ماضی کے انسانی اعمال کی اخلاقی توثیق یا تنقید نہیں، بلکہ اللہ کے کامل علم، قدرت اور تاریخ میں اس کی حاکمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

اس مضمون کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ خدا کو کائنات کے خالق اور پروردگار کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی دعوت دی جائے—ایسا رب جو نہ صرف مومنین بلکہ غیر مومنین پر بھی حاکم ہے—تاکہ الٰہی حاکمیت کی عالمگیریت کو نمایاں کیا جا سکے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ پیشگوئیوں کی روشنی میں عصرِ حاضر کے دور کی درست شناخت کی جائے، تاکہ مسلمان اپنی فکری اور عملی سمت کا تعین کسی غلط مفروضے کی بنیاد پر نہ کریں۔ تیسرا اور نہایت اہم مقصد یہ ہے کہ واضح کیا جائے: یہ پیشگوئیاں قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کردہ موجودہ دینی فرائض کے علاوہ کسی نئی مذہبی ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرتیں۔ اس وضاحت کے نتیجے میں اہلِ ایمان غیر ضروری فکری و عملی بوجھ سے آزاد ہو کر اپنی اصل دینی ذمہ داریوں پر یکسوئی سے توجہ دے سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، حدیث میں دجال کے فتنے کے دوران پہاڑوں میں پناہ لینے کا ذکر قرآن کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے جو مذہبی جبر کے وقت ہجرت کی تلقین کرتا ہے۔ یہ الٰہی رہنمائی کا تسلسل ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں احکامات دینے کے بجائے مومنین کو تاریخی اور عالمی واقعات میں خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

مضمون کا دعویٰ ہے کہ قیامت کی بہت سی نشانیاں بڑے عالمی واقعات کی نمائندگی کرتی ہیں، جن میں سے کئی شاید پہلے ہی وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔ مضمون کے تمام حدیث کے حوالہ جات صرف صحیح مسلم اور صحیح بخاری پر مبنی ہیں تاکہ اس کی درستگی اور اعتبار کو یقینی بنایا جا سکے۔

مستقبل کی پیشگوئیاں

اللہ نے اپنی مخلوق کو سیدھے راستے پر گامزن کرنے کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا، جنہیں اپنے مشن کی تکمیل کے لیے الہی وحی عطا کی گئی۔ ان وحیوں میں بعض اوقات مستقبل کے واقعات کی جھلکیاں شامل ہوتیں، جو اللہ کے علمِ کامل کی واضح گواہی تھیں۔ کچھ مواقع پر یہ واقعات واضح الفاظ میں بیان کیے گئے، جیسا کہ قرآن مجید کی سورہ روم میں رومیوں کی ساسانیوں پر فتح کا ذکر۔ جبکہ دیگر مواقع پر، یہ وحی رویا کی صورت میں پیش کی جاتی۔ مثال کے طور پر، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک خواب میں آسمانی اجسام کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، جو ان کی آزمائشوں کے بعد ان کے خاندان کی طرف سے عزت و تکریم کی علامت تھا۔ اسی طرح، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک رویا میں اپنے بیٹے کی قربانی کا منظر دکھایا گیا، جو ان کے اور ان کے بیٹے کے لیے ایک عظیم آزمائش تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے نے اسے اطاعت کی آزمائش سمجھتے ہوئے عظمت کا رویہ اپنایا اور اس پر من و عن عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اللہ کی مداخلت نے قربانی کو روک دیا ، کیونکہ اس خواب کی تعبیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان یعنی اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے نذر کر دینا تھی1۔ اس آزمائش میں اللہ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت اور ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادگی نے ان کے اس عمل کو بندگی، وفاداری اور خلوص کی عظیم مثال بنا دیا.

تاہم، رویاؤں کی علامتی نوعیت انہیں اکثر غلط فہمی کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال کتاب مکاشفہ میں ملتی ہے، جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پر نازل کی گئی۔ یہ متن مختلف علامتی رویا پر مشتمل ہے، جن میں آفات، تاریخی واقعات، اور حضرت محمد ﷺ کی آمد کا ذکر شامل ہے۔ کتاب مکاشفہ میں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو "ذبح شدہ برہ"2 کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو انبیاء کی معصومیت، قربانی، اور اللہ کے لیے مکمل وفاداری کی علامت ہے۔ یہ تمثیل حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے خواب ، جسے اوپر بیان کیا گیا ہے، سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں قربانی کا تصور اللہ کی رضا اور حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، عیسائیوں نے "ذبح شدہ برہ" کی اس علامت کو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی مصلوبیت کا حوالہ سمجھ لیا ۔ یہ غلط تشریح اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علامتی روایات کو سمجھنے میں پہلے سے اپنائے گئے خیالات، جو محکم علمی طریقے سے حاصل نہ کیے گئے ہوں، غلط نتائج کے طرف لے جاتے ہیں۔

پیشگوئیوں کو سمجھنے کے بنیادی اصول

اس مضمون میں حدیث میں بیان کردہ رسول اللہ ﷺ کی رویا میں دکھائی گئی پیشگوئیوں کی تفہیم کے لیے درج ذیل اصولوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

پہلا اصول – انسانی و حیوانی علامات کی تعبیر

احادیث میں پیشگوئیوں کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس طرح سابقہ الہامی کتابوں، جیسے کتابِ دانیال اور مکاشفہ، میں بھی مستقبل کے واقعات کو خواب اور رویا کی شکل میں بیان کیا گیا۔ ان متون میں جانوروں اور انسانوں کی علامات مختلف طاقتوں، جیسے سلطنتوں، ملکوں اور تنظیموں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کتاب دانیال میں بابل کی سلطنت کے آخری دور میں اس سلطنت کو ایک انسان اور اس کے بعد آنے والی یونانی سلطنت کو ایک جانور کی صورت میں حضرت دانیال علیہ السلام کے خواب میں دکھایا گیا،3 جو اسی علامتی طرزِ بیان کا حصہ ہے جس کے تحت احادیث میں "دجال" کو ایک انسان اور "زمین کا جانور" کو ایک جانور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا اصول – مقامات اور گروہوں کے علامتی معانی

احادیث میں مذکور جغرافیائی مقامات اور انسانی گروہوں کو رسول اللہ ﷺ کے دور کے سیاسی اور تہذیبی سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے، بالکل اسی طرح جیسے قرآن کی تفہیم اُس وقت کی عربی زبان اور اس کے لسانی پس منظر کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ علامتی اندازِ بیان احادیث کو ایسی معنویت اور تسلسل عطا کرتا ہے جو وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور جغرافیائی تقسیم کے باوجود بھی برقرار رہتا ہے۔

مثال کے طور پر، رسول اللہ ﷺ کے دور میں قسطنطنیہ بازنطینی عیسائیوں کا دارالحکومت تھا، اور اس کی فتح کے وقت بھی یہی حیثیت قائم تھی، اس لیے حدیث میں اسے اسی اصل نام سے بیان کیا گیا۔ اسی طرح، رسول اللہ ﷺ کے دور میں "شام" بازنطینی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھا، اس لیے ابتدائی دور سے متعلق پیشگوئیوں میں "شام" سے مراد حقیقی جغرافیائی شام ہے۔ البتہ بعد کی پیشگوئیوں میں "شام" ایک علامتی مفہوم اختیار کر لیتا ہے، جو عیسائی طاقتوں کے زیرِ اثر علاقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

اسی سیاق میں، نبی کریم ﷺ کے وصال کے کچھ عرصے بعد خلافت کا مرکز عرب سے باہر منتقل ہو گیا، لہٰذا مدینہ کا ذکر بعد کے دور سے متعلق احادیث میں صرف ایک شہر نہیں بلکہ پوری مسلم امت کی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ کے زمانے میں یہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا۔ اسی طرح دیگر مقامات جیسے دمشق، لد اور یمن کو بھی اُن کے تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ احادیث کی تعبیر درست ہو سکے۔

اسی اصول کے تحت، احادیث میں ذکر کردہ انسانی گروہوں کو بھی اُن کے وقت کی تاریخی شناخت کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، بازنطینی رومیوں کی عیسائیت ان کی شناخت کا ایک بنیادی جزو تھی، اور اگرچہ ان کی سلطنت 1453ء میں ختم ہو گئی، احادیث میں بعد کے عیسائی گروہوں کو بھی "رومیوں" سے ہی پکارا گیا ہے۔4 اسی طرح، بنی اسحاق اور اصفہان کے یہودیوں جیسے دیگر گروہوں کا ذکر بھی اُن کے مخصوص تاریخی سیاق میں ہی سمجھا جانا چاہیے تاکہ ان سے متعلق احادیث کی تعبیر درست ہو سکے۔

تیسرا اصول – تفصیلات کا الٰہی حکمت کے تحت مخفی ہونا

احادیث میں بیان کردہ پیشگوئیوں میں بعض علامات اور تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت پوشیدہ رکھا ہے، تاکہ ان کی مکمل تفہیم صرف ظہور کے بعد ہی ممکن ہو۔ یہ علامات اکثر علامتی زبان میں بیان کی گئی ہیں، جو کسی بڑے واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر اس کی جزئیات کو ظاہر نہیں کرتیں۔ مثال کے طور پر، یاجوج و ماجوج کی گردنوں پر کیڑوں سے اچانک موت دراصل کسی بڑے عامل کی علامت ہے، جسے تفصیل سے بیان کرنے کے بجائے علامتی اسلوب میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح، مدینہ میں تین جھٹکوں کے نتیجے میں منافقین اور کافروں کا دجال کی طرف لپکنا اُن آزمائشوں پر پردہ ڈالتا ہے جو جھٹکوں کی صورت میں ظاہر کی گئیں۔ ایسی پیشگوئیوں کی صحیح تعبیر تاریخی سیاق میں اُن کے وقوع کے بعد ہی سامنے آتی ہے، جب یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ علامات کن حقیقی واقعات کی نمائندگی کر رہی تھیں۔

قیامت کی دس بڑی نشانیاں

آئندہ حصوں میں قیامت سے پہلے پیش آنے والے اہم واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کی احادیث میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعات قیامت کی دس بڑی نشانیوں پر مبنی ہیں،5 جن کو حضرت محمد ﷺ کے رویا میں دکھایا گیا۔6 مثال کے طور پر دجال کو معراج کے واقعے میں حضرت محمد ﷺ کو دکھایا گیا7، جو ایک رویا تھی8۔


زمین کا جانور (دابۃ الارض)

قیامت کی نشانیوں میں، ریاستوں، سلطنتوں، بادشاہتوں اور تنظیموں کو اکثر جاندار مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو طاقتور قوتوں کو سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے ایک علامتی انداز ہے۔ یہ علامتی اظہار مختلف مذہبی متون، جیسے بائبل، قرآن اور حضرت محمد ﷺ کی احادیث میں نمایاں ہے۔ زمین کا جانور (دابۃ الارض) ان روایات میں ایک اہم استعارہ کے طور پر سامنے آتا ہے، جو جابر، وسیع اور اکثر ظالم ریاستوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

پرانے عہد نامے سے مثالیں

پرانے عہد نامے میں، خاص طور پر صحیفہ دانیال میں، حضرت دانیال علیہ السلام کے خوابوں میں جانوروں کی علامات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ جانور طاقتور اور ظالم سلطنتوں کی تمثیل کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ بائبل کے موجودہ قدیم ترین نسخے یونانی زبان میں تحریر کیے گئے، جہاں "تھریون" کا مطلب "جانور" تھا، جو عربی لفظ "دابۃ" سے مماثلت رکھتا ہے اور دونوں زبانوں میں ایک جیسے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت دانیال علیہ السلام کے خوابوں میں یہ جانور بڑی سلطنتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اپنی طاقت، ظلم اور وسعت کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ کچھ جانوروں کو کئی سروں کے ساتھ دکھایا گیا، جو ایک سلطنت کے مختلف خاندانوں، گروہوں یا دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ ان کے سینگ بادشاہوں، حکمرانوں یا بااثر رہنماؤں کی علامت ہیں ۔

چار جانور – چار قدیم عالمی سلطنتیں

چار جانوروں کا ذکر صحیفہ دانیال9 میں ملتا ہے۔ یہ جانور ایک کے بعد ایک آنے والی عالمی سلطنتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جیسا کہ حضرت دانیال علیہ السلام کو وضاحت کی گئی10:

مینڈھا اور بکرا – ہخامنشی اور یونانی سلطنت

صحیفہ دانیال میں بیان کردہ ایک اور رویا میں مینڈھے اور بکرے کا ذکر ملتا ہے11۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام کو اس رویا کی وضاحت کی12۔ مینڈھا دو سینگوں کے ساتھ ہخامنشی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے، اور یہ سینگ ہخامنشی سلطنت میں مادی اور فارس کی مشترکہ طاقت کی علامت ہیں۔ بکرا یونانی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے، جو مینڈھے کو شدت کے ساتھ ٹکّر مار کر زمین پر گرا دیتا ہے اور اسے شکست دیتا ہے۔ بکرے کی آنکھوں کے درمیان ایک نمایاں سینگ سکندر اعظم کی طاقت اور قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔ بکرے کے سینگ کا ٹوٹنا، اور اس کی جگہ چار چھوٹے سینگوں کا نمودار ہونا، سکندر اعظم کی وفات کے بعد اس کی عظیم سلطنت کے اس کے چار جرنیلوں میں تقسیم ہو جانے کی علامت ہے۔ یہ رویا تاریخ کے دھارے میں بڑی سلطنتوں کی طاقت، ان کا عروج، اور ان کا زوال بیان کرتی ہے۔

نئے عہد نامہ سے مثالیں

جانوروں کے استعارے کا تسلسل نئے عہد نامے میں بھی جاری رہتا ہے، خاص طور پر کتاب مکاشفہ میں، جہاں تین علامتی جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

سمندر کا جانور – رومی سلطنت

کتاب مکاشفہ میں بیان کیا گیا یہ جانور رومی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے13، جو اپنی طاقتور بحری قوت اور سمندر کے ذریعے پھیلنے والے وسیع اثر و رسوخ کے لیے مشہور تھی۔ اس کا سمندر سے ابھرنا روم کی بحری طاقت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کے سات سر سات شاہی ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ہر سر پر تحریر گستاخانہ الفاظ اس کے خدا کے خلاف سرکشی اور تکبر کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جانور کو بیالیس مہینوں تک غرور اور کفر کے کلمات کہنے کی طاقت دی گئی14. یہ بیالیس مہینے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے بعد 66ء سے 70ء میں رومیوں اور یہودیوں کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا انجام 70ء میں رومیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے معبد کی بے حرمتی اور مکمل تباہی پر ہوا۔

زمین کا جانور – کلیسا

کتاب مکاشفہ میں ذکر کردہ زمین کا جانور زمین پر مبنی ایک اتھارٹی کی علامت ہے، جو جھوٹے پیغامات کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیتی ہے۔ اسے "جھوٹا نبی" کہا گیا ہے، جو شیطانی اثر و رسوخ کے تحت کام کرتے ہوئے جھوٹے نظریات پھیلانے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ جانور اپنی طاقت سمندر کے جانور کی اتھارٹی سے حاصل کرتا ہے اور اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب سمندر کے جانور کے ایک سر پر لگا مہلک زخم بھر چکا ہوتا ہے۔15 یہ زخمی سر رومی سلطنت کے تیسری صدی کے بحران کی علامت ہے، جس کے بعد کلیسا 325 عیسوی میں منعقد ہونے والی کونسل آف نائسیا کے نتیجے میں ایک باقاعدہ ادارے کے طور پر سامنے آیا۔ کلیسا نے رومی سلطنت کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ان مخالف عیسائیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کیا جو نائسین عقائد کے مخالف تھے، جیسے کہ آریئن، ڈوناٹسٹ، مارسیونائٹس، اور مونٹینسٹ۔ "زمین کے جانور" کی علامت میں اس کے دو سینگ برہ کی طرح نظر آتے ہیں، جو ظاہر میں نرمی، تقدس اور معصومیت کا تاثر دیتے ہیں، لیکن اس کی زبان اژدھے کی مانند ہے، جو فریب، دھمکی اور گمراہی کی نمائندہ ہے۔ یہ دو سینگ کلیسا کے دو بڑے دھڑوں—قسطنطنیہ (مشرق) اور روم (مغرب)—کی مذہبی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔16

کتاب مکاشفہ میں سمندر اور زمین کے جانور کی شکست17 رومیوں کی وہ شکست ظاہر کرتی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں ہوئی، جس نے نہ صرف روم اور کلیسا کی طاقت و اثر و رسوخ کو کمزور کیا بلکہ ان کے طریقہ کار، فلسفہ اور نظریات پر بھی گہرا اثر ڈالا ۔

سرخ رنگ کا جانور – ایرانی سلطنت

کتاب مکاشفہ میں ذکر کردہ یہ جانور فارسی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے18۔ اس کے سات سر19 سات مختلف خاندانوں کی علامت ہیں۔ چھٹا سر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے پارتھیوں سے مطابقت رکھتا ہے، جبکہ ساتواں سر ساسانی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے۔20 اس کے دس سینگ ان آخری دس ساسانی بادشاہوں 21 کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جنگ کی22۔

قرآن میں جانور کا ذکر – قریش کے لیے تنبیہ

قرآن پاک کی سورہ النمل23 میں زمین سے نکلنے والے جانور (دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ) کا ذکر ملتا ہے، جو منکرینِ حق سے گفتگو کرے گا۔ یہ آیت حضرت محمد ﷺ کی قوم قریش کے لوگوں کے کفر اور انکار کے جواب میں بیان کی گئی ہے۔

قرآن کی اس تنبیہ میں دابّہ کے "بولنے" کا موازنہ اگر نئے عہد نامے میں مذکور "سمندر کے جانور" سے کیا جائے— جو بیالیس مہینے تک گستاخانہ اور متکبرانہ گفتگو کرتا ہے24— تو دونوں واقعات میں ایک گہری مماثلت نظر آتی ہے۔ نئے عہد نامے میں سمندر کے جانور کا بولنا بنی اسرائیل پر الٰہی غضب کی علامت ہے، جو 66ء سے 70ء کے درمیان یہودیوں کو مذہبی توہین، نفسیاتی دباؤ اور قومی ذلت کی صورت میں جھیلنا پڑا، اور جس کا انجام یروشلم کی ہیکل کی مکمل تباہی پر ہوا۔ بعینہٖ، قرآن میں اسی نوع کی تنبیہ قریش کے لیے کی گئی، جو ان کے کفر اور انکارِ حق کے جواب میں بطورِ عذاب پیش کی گئی ہے۔ تاہم جب قریش کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا، تو یہ سزا ٹال دی گئی۔25

حدیث میں جانور کا ذکر – منگول سلطنت

قرآنی اور بائبل کی پیشین گوئیوں کی روشنی میں، احادیث میں بیان کردہ "زمین کا جانور" — جو قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے — درحقیقت ایک طاقتور اور جابر زمینی سلطنت کی علامت ہے۔ یہ ایسی سلطنت ہے جو خشکی کی راہوں سے اپنے اثر و رسوخ کو وسیع کرتی ہے، اور اپنی عسکری فتوحات، ظلم و استبداد اور عالمی سطح پر تہذیبی تبدیلیوں کے ذریعے دنیا پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ زمینی طاقت نئے عہد نامے میں مذکور "سمندر کے جانور" سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ وہ بحری طاقت کے ذریعے پھیلتا ہے—جیسا کہ رومی سلطنت، جبکہ "زمین کا جانور" بری طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔

تاریخی تناظر میں یہ پیشین گوئی واضح طور پر 13ویں صدی کی منگول سلطنت پر منطبق ہوتی ہے۔ منگول سلطنت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہلک زمینی سلطنت کے طور پر ابھری، جس نے ایشیا سے یورپ تک پھیلے ہوئے وسیع خطے کو تاراج کیا۔ ان کی عسکری یلغار، سلطنتوں کا انہدام، اور بین الاقوامی جغرافیائی و سیاسی نظام کی ازسرنو تشکیل اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ منگول سلطنت ہی "زمین کے جانور" کی علامت ہے، جیسا کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔

شکل 1: منگول سلطنت اپنے عروج پر – تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت جو زیادہ تر زمینی حملوں کے ذریعے پھیلی، اور حدیث میں "زمین کے جانور" کے طور پر علامتاً بیان کی گئی ہے26


مغرب سے سورج کا طلوع ہونا

احادیث میں قیامت کی بڑی نشانیوں میں مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ "کسی تہذیب پر سورج کا طلوع ہونا" مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں ایک استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جو کسی تہذیب کے اثر و رسوخ، طاقت، اور عروج کی علامت ہے۔ اس استعارے میں سورج کا ذکر تہذیبوں کے عروج و زوال کے تاریخی ادوار کو نمایاں کرتا ہے، جہاں طاقت اور قیادت مختلف خطوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ کسی تہذیب پر سورج کا طلوع ہونا عام طور پر اس تہذیب کے عروج کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کسی تہذیب پر سورج کا غروب ہونا عام طور پر اس کے زوال کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

علاماتِ قیامت کے تناظر میں، مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کی تشریح مغربی تہذیب کے عروج کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ عروج کا سفر 12ویں صدی کے قرون وسطی کے نشاۃِ ثانیہ27 سے شروع ہوا، جو یورپ میں فکری اور علمی بیداری کا دور تھا، جس میں یونانی اور عربی علوم کے تراجم کے ذریعے قدیم دانش کی بازیافت، سکولاستیک فلسفے کی ترقی، یونیورسٹیوں کا قیام اور قانون، سائنس، اور تعمیرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس دوران عوامی ادب میں ترقی، مذہبی اصلاحات، اور صلیبی جنگوں کے نتیجے میں ثقافتی تبادلوں نے یورپی تہذیب و دانش کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔ بعد میں 14ویں سے 17ویں صدی کے نشاۃِ ثانیہ اور 16ویں صدی کی اصلاحی تحریکوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ۔ ان تحریکوں نے یورپ میں فکر، سائنس، اور طرز حکمرانی میں گہرے انقلابات برپا کیے، جو بالآخر مغرب کو ایک غالب عالمی طاقت کے طور پر قائم کرنے کا باعث بنے۔

زمین کے جانور کے ساتھ قربت

حدیث 28 میں مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کو قیامت کی نشانیوں میں پہلی نشانی کہا گیا اور زمین کے جانور کو اس کے فوراً بعد کی ایک بڑی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا۔ مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کی یہ نشانی دس بڑی نشانیوں 29 میں سب سے پہلے پوری ہوئی۔ قرونِ وسطیٰ کے 12ویں صدی کے نشاۃِ ثانیہ30 کے بعد زمین کا جانور، جس کی علامتی تشریح 13ویں صدی میں منگول سلطنت ہے، کے نکلنے کا واقعہ رونما ہوا۔

ایمان لانے کا فائدہ نہ ہونا – ایک تنبیہ

حدیث31 میں بیان ہوا ہے کہ جب سورج مغرب سے طلوع کرے گا تو لوگ اسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ بعض احادیث32 میں زمین کے جانور اور دجال کو بھی ان نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے جن کے ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانا کسی نفع کا باعث نہیں ہوگا۔ اسی نوعیت کی ایک تنبیہ ہمیں سورۂ الانبیاء33 میں یاجوج ماجوج کے حوالے سے بھی ملتی ہے، جہاں لوگ یاجوج ماجوج کی رکاوٹ ٹوٹنے کے بعد اعتراف کریں گے کہ "بے شک ہم ظالم تھے"۔

یہ احادیث اور قرآن کی آیت ایک واضح تنبیہ ہیں، کیونکہ یہ نشانیاں قیامت کے قریب واقع ہوں گی۔ اور یہ قیامت کے دن کا منظرنامہ ہے کہ کسی شخص کا ایمان لانا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور لوگ اعتراف کریں گے کہ "بے شک ہم ظالم تھے"۔ یہ تنبیہ ان نشانیوں کے قیامت سے قریب الوقوع ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نشانیاں قیامت سے کتنی قریب ہیں، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ پیغام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ مہلت ختم ہونے سے قبل ایمان لے آئیں اور خالص توبہ کے ذریعے اپنی اصلاح کرلیں، اس سے پہلے کہ رجوع کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔


حوالہ جات

1) Quran Exegesis 37:102-113 
https://www.javedahmedghamidi.org/#!/quran?chapter=37¶graph=13&type=Ghamidi#fn_60
2) Revelation 5:5-6: https://www.bible.com/bible/111/REV.5.5-6.NIV
3) Daniel 7:17–27: https://www.bible.com/bible/111/dan.7.17-27.NIV
4) Sahih Muslim 2898a: https://sunnah.com/muslim:2898a
5) Sahih Muslim 2901a: https://sunnah.com/muslim:2901
6) نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر ۲۰۲۳، غامدی انسٹیٹیوٹ آف اسلامک لیئرننگ، صفحہ 217-185
7) Bukhari 3239: https://sunnah.com/bukhari:3239
8) Bukhari 7517: https://sunnah.com/bukhari:7517
9) Daniel 7:1–28: https://www.bible.com/bible/111/DAN.7.NIV
10) Daniel 7:17–27: https://www.bible.com/bible/111/dan.7.17-27.NIV
11) Daniel 8:1–27: https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.1-27.NIV
12) Daniel 8:19–25: https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.19-25.NIV
13) Revelation 13:1–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.1-10.NIV
14) Revelation 13:5–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.5-10.NIV
15) Revelation 13:11–12: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.11-12.NIV
16) Revelation 13:11: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.11
17) Revelation 19:19-21: https://www.bible.com/bible/111/REV.19.19-21
18) Revelation 17:3–14: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.3-14.NIV
19) Revelation 17:7: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.7.NIV
20) Revelation 17:10: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.10.NIV
21) خسرو دوم (590–628) – ساسانی سلطنت کا پہلا بادشاہ جو حضرت محمد (ﷺ) کے صحابہ کے خلاف لڑا۔ 
قباد دوم (شیرویہ) (628) 
اردشیر سوم (628–629) 
شہر براز (629) 
بوران دخت (629–631) 
آزرمی دخت (631) 
ہرمز ششم (631) 
خسرو سوم (631) 
ہرمز پنجم (631) 
یزدگرد سوم (632–651) - ساسانی سلطنت کا آخری بادشاہ۔ 
22) Revelation 17:12–14: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.12-14
23) Quran 27:82: https://quran.com/27/82
24) Revelation 13:5–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.5-10.NIV
25) https://www.javedahmedghamidi.org/#!/quran?chapter=27¶graph=35&type=Ghamidi
26) https://en.wikipedia.org/wiki/Mongol_Empire#/media/File:Mongol_Empire_map_2.gif
27) https://en.wikipedia.org/wiki/Renaissance_of_the_12th_century
28) Sahih Muslim 2941a: https://sunnah.com/muslim:2941a
29) Sahih Muslim 2901a: https://sunnah.com/muslim:2901
30) https://en.wikipedia.org/wiki/Renaissance_of_the_12th_century
31) Sahih Bukhari 4636: https://sunnah.com/bukhari:4636
32) Sahih Muslim 158: https://sunnah.com/muslim:158
33) Quran 21:96-97 https://quran.com/21/96-97


(جاری)

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۴)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

محمد یونس قاسمی

ارتقا کے بارے میں عیسائی ردِعمل

تعارف

ارتقا کے نظریے کی تشکیل  غالب طور پر عیسائی سیاق و سباق میں ہوئی ہے۔ چنانچہ جب چارلس ڈارون نے پہلی بار 1859 میں اپنی کتاب On the Origin of Species شائع کی، تو اس نظریے پر فوری ردعمل اور طویل مدتی علمی مکالمہ زیادہ تر عیسائی نقطہ نظر سے ہوا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک عیسائی مفکرین نے اس نظریے پر مختلف انداز میں ردعمل دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک پیچیدہ  مگر تاریخی تسلسل نے جنم لیا ، اور یہ تسلسل موجودہ دور میں مذہبی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے ایک غیر معمولی حد تک متنوع منظرنامے کا باعث بنا ہے (Livingstone 1984; Artigas et al. 2006; Numbers 2006; Bowler 2007; Livingstone 2008; Bowler 2009; McGrath 2011; Matthew 2013; Livingstone 2014; Rios 2014; Kaden 2019; Houck 2020; Huskinson 2020; Kemp 2020; Laats 2020; Matheison 2020)۔

بعض افراد نے ارتقا کو مکمل طور پر قبول کیا اور اسے الٰہیاتی لحاظ سے کوئی مسئلہ نہیں سمجھا، جبکہ بعض نے (اور اب بھی سمجھتے ہیں) اس میں کئی نظریاتی و دینی پیچیدگیاں محسوس کیں۔اس باب میں ان چار نمایاں اور معروف اقسام کے ردعمل کا اجمالی جائزہ پیش کیا جارہا ہے، جن کی ارتقا سے مختلف سطحوں پر اور مختلف انداز میں موافقت یا مخالفت پائی جاتی ہے۔ ان میں شامل ہیں: ینگ ارتھ کریئیشن ازم (Young-Earth Creationism - YEC)، اولڈ ارتھ کریئیشن ازم (Old-Earth Creationism - OEC)، انٹیلیجینٹ ڈیزائن  (Intelligent Design - ID)، اور تھی اسٹک ایوولوشن (Theistic Evolution - TE)۔ واضح رہے کہ یہ ایک جامع تجزیہ نہیں بلکہ ایک خلاصہ ہے۔ ان مخصوص گروہوں (اور ان کے نمائندہ مفکرین) کا انتخاب ان کے واضح امتیازات کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ اس باب میں ان کے باہمی مذہبی اختلافات کو آسانی سے واضح کیا جا سکے، اور ساتھ ہی باب سوم و چہارم میں مسلم نقطۂ نظر سے موازنہ کرتے وقت بین الادیان مماثلتوں اور اختلافات کو اجاگر کیا جا سکے۔   ہر مؤقف کا جائزہ اس کی بنیادی فکری جہتوں کو بیان کرنے کی حد تک محدود رکھا گیا ہے۔ کسی مؤقف کی طاقت یا کمزوریوں پر بحث نہیں کی جائے گی۔ کبھی کبھار گروہوں کے درمیان تقابلی تجزیہ بھی پیش کیا جائے گا، مگر اس کا مقصد صرف مختلف مواقف کے درمیان امتیازات کو مزید واضح کرنا ہو گا۔ اس باب میں پیش کیے گئے خیالات کا زیادہ تر انحصار(مکمل طور پر نہیں)  Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design نامی کتاب پر ہے۔ یہ کتاب ہر مکتبۂ فکر کے نمایاں علما کو ان کے مؤقف، ایک دوسرے پر تنقیدات، اور ان کے جوابات کے ساتھ پیش کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ارتقا کے حوالے سے عیسائی زاویہ نظر کا ایک عمدہ اور جامع مطالعہ سامنے آتا ہے۔ اس باب کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ بعض عیسائیوں کو ارتقا سے متعلق کن الٰہیاتی اور فلسفیانہ تحفظات کا سامنا ہوتا ہے، اور آیا کہ ان تحفظات کی کوئی مماثلت اسلامی فکر میں بھی پائی جاتی ہے یا نہیں، جیسا کہ ہم باب سوم اور چہارم میں دیکھیں گے۔

نظریہ تخلیق کائنات بر مبنائے کم عمر زمین Young-earth creationism (YEC) 

ارتقائی نظریے کے سلسلے میں موجود نقطہ ہائے نظر میں سب سے زیادہ سخت مؤقف  Young-Earth Creationism (YEC) کا ہے۔اس نظریے کے حامی افراد اصرار کرتے ہیں کہ بائبل کی کتاب پیدائش (Genesis) کے ابتدائی ابواب (1–11) کو لفظ بہ لفظ خدا کا کلام تسلیم کیا جائے، اور چونکہ نظریہ ارتقا  اس موقف سے متصادم ہے، لہٰذا ،اُسے نہ صرف مذہبی طور پر، بلکہ سائنسی بنیادوں پر بھی رد کر دینا چاہیے (Nieminen et al. 2014)۔  اس فکر کی ابتدائی بنیادیں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مسیحی فکریت پسندی (Christian fundamentalism) کے ابھرنے کے ساتھ پڑیں، لیکن اسے سنجیدہ پذیرائی اس وقت ملی جب 1961 میں جان وِٹ کمب (John Whitcomb) اور ہنری مورس (Henry Morris) نے The Genesis Flood شائع کی (Numbers 2006; Trollinger and Trollinger 2018; Huskinson 2020)۔ فی زمانہ YEC کا ایک نمایاں نمائندہ کین ہام (Ken Ham) ہے، جو ایک آسٹریلوی مبلغ ہے، جس نے امریکہ میں آ کر YEC کے فروغ کے لیے ایک بڑا ادارہ Answers in Genesis (AiG) قائم کیا۔ ذیل میں  کین ہام کی پیش کردہ YEC کی تعبیر پیش کی جاتی ہے۔

شروع میں کین ہام ارتقا پر تنقید بائبل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں چار نکات خاص طور پر اہم ہیں:

  1. خدا نے کائنات کو چھ حقیقی (24 گھنٹوں پر مشتمل) دنوں میں تخلیق کیا، اور یہ عمل تقریباً 6,000 سے 10,000 سال قبل ہوا۔
  2. طوفان نوح  ایک سال پر محیط عالمی آفت تھا۔
  3. خدا نے تمام جانداروں کی "اقسام" کو بلا کسی مشترک آبا و اجداد کے پیدا کیا۔
  4. ارتقا، حضرت آدم کے گناہ اورحضرت  یسوع کے ذریعے نجات کے عقیدے کو مسئلہ بناتا ہے۔

پہلا نکتہ اس نظریے پر مبنی ہے کہ پیدائش (Genesis) کی کتاب ایک تاریخی بیان ہے کہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔ جیسا کہ کین ہام (2017a, 19) کہتا ہے  "پیدائش 1–11 تاریخ ہے – نہ کہ شاعری، تمثیل، نبوی خواب، یا اساطیری بیان"۔ لیکن اس کی یہ تعبیر ارتقائی بیانیے سے واضح تضاد رکھتی ہے۔ جیسا کہ پہلے باب میں بیان ہوا، سائنسی علم ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات تقریباً 14.6 ارب سال پرانی ہے۔ زمین 4.6 ارب سال قبل بنی اور ابتدائی حیات 3.5 ارب سال پہلے وجود میں آئی (یہ تازہ ترین سائنسی معلومات کے مطابق ہے)۔ خود جدید انسان تقریباً 200,000 سال پہلے اس منظرنامے پر نمودار ہوئے۔ یہ YEC اور جدید سائنس کے مابین ایک بہت بڑا زمانی فرق ہے۔ ایک اور دلیل جو YEC کے مطابق کم عمر زمین کی حمایت کرتی ہے، وہ بائبل میں دی گئی نسل در نسل تفصیلات ہیں۔ پیدائش کی کتاب 5 اور 11 میں  حضرت آدم سےحضرت  ابراہیم تک کی نسلوں کا ذکرموجود ہے۔  نسب نامہ بذاتِ خود ایک حقیقی کرونالوجی (Chronology)کے طور پر لیا جاتا ہے جو کم عمر زمین کو ظاہر کرنے کے مزید ثبوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے(Ham 2017a, 23–24)۔ 

طوفان نوح  سائنس کے ساتھ متصادم ہے کیونکہ یہ ایک بڑے پیمانے پر جغرافیائی واقعے کا دعویٰ کرتا ہے جس کے واضح تجرباتی طور پر قابل تصدیق نتائج ہونے چاہیے تھے، جو کہ ہم نے اب تک مشاہدہ کیے ہیں۔ YEC کے مطابق، بائبل یہ اطلاع دیتی ہے کہ حضرت نوح کو آنے والے طوفان کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ لہذا، انہیں  ایک کشتی بنانے کی ہدایت کی گئی جو ہر قسم کے دو جانداروں کو سمو سکے۔ کشتی بننے کے بعد، ایک تباہ کن واقعہ پیش آیا جس میں کشتی نوح  پر موجود  جانداروں کے علاوہ تمام جاندار ہلاک ہو گئے۔ اس تباہ کن طوفان کو مدنظر رکھتے ہوئے کین ہام اس موقف کی حمایت سائنسی ڈیٹا کے ساتھ کرتے ہیں:

اب ہم اس طوفان سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ میں اکثر کہتا ہوں، اربوں مردہ جاندار جو پتھروں کی تہوں میں دفون ہیں اور پانی نے انہیں وہاں جمع کیا ہے، یہ سب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تمام براعظموں میں ایسی چٹان کی تہیں ہیں جن میں اربوں فاسلز مدفون ہیں، اور ہم اپنے بلند ترین پہاڑوں، جیسے ماؤنٹ ایورسٹ، پر بھی سمندری جانداروں کے فاسلز پاتے ہیں(2017a, 29

یعنی، بائبل میں بیان کردہ طوفان کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ توقع کی جاتی ہے کہ زمین کے بلند ترین نقطہ  ماؤنٹ ایورسٹ، پر بھی کئی فاسلز ملیں گے کیونکہ کبھی یہ پانی سے ڈوبا ہوا تھا۔ اس لیے فاسلز کا ریکارڈ، جو عموماً ارتقا کے ثبوت کے طور پر لیا جاتا ہے، YEC کے حمایتیوں کے لیے اپنے تخلیقی بیانیہ کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے  (Scott 2009, 69; Nieminen et al. 2014

تیسری تجویز جو YEC کے حمایتی پیش کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ نے تمام انواع، یعنی تمام جانوروں کی اصل شکلیں، بغیر کسی مشترکہ آباو اجداد(Common Ancestry) کے تخلیق کیں (Ham 2017a, 41)۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ نے یہ انواع ایسی صلاحیتوں کے ساتھ تخلیق کیں کہ ان میں حیاتیاتی تنوع کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ مثلاً، بلیوں کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں، لیکن یہ ارتقا کی طرح مشترکہ آبا واجداد کا ثبوت نہیں دیتی۔ YEC کے مطابق، ارتقائی نظریہ پیش کرنے والے مشترکہ آبا واجداد کو مفروضہ سمجھتے ہیں نہ کہ اسے ثابت کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بائبل اور ارتقائی نظریہ میں ایک بنیادی تضاد پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ AiG کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے: "مثال کے طور پر، کتے بے پناہ تنوع دکھاتے ہیں۔ تاہم، مختلف نسلوں کے کتے آپس میں نسل بڑھا سکتے ہیں ،  یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام کتے ایک ہی نوع کے ہیں۔ تاہم، کتے بلیوں کے ساتھ نسلی تعلق نہیں بناتے کیونکہ وہ مختلف نوع کے ہیں" (Purdom 2010)۔ اس کے مطابق، YEC چھوٹے پیمانے پر ارتقا (مائیکرو ارتقا) مگر مگر بڑے پیمانے پر ارتقا  (میکرو ارتقا) کو مسترد کرتا ہے۔

آخری مؤقف ہمیں عیسائی الٰہیات (Christian Theology) کے بنیادی عقائد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ عیسائی فکر میں حضرت آدم کا گناہ اور ان کا زوال ایک نہایت اہم تصور ہے۔ یہ عقیدہ عام ہے کہ آدم کو "خدا کی صورت پر" (Imago Dei) پیدا کیا گیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اخلاقی طور پر پاکیزہ، باوقار اور کمزوریوں اور جسمانی نقصانات مثلاً موت سے محفوظ تھے (McGrath 2016, 328–329)۔ اس بنا پر حضرت آدم خدا کے ساتھ کامل ہم آہنگی میں تھے اور خدا کے فضل سے بہرہ مند تھے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ دنیا آدم اور حوا کے درخت سے کھانے سے قبل ایک اچھی اور پاکیزہ جگہ تھی۔ یہ نکتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ چونکہ خدا نے دنیا کو خوبی کے ساتھ پیدا کیا، اس لیے برائی کا سرچشمہ اُسے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جیسا کہ Harris (2013, 132) نے لکھا ہے:

اگر صرف ایک ہی خدا ہے اور وہ خدا بھلا ہے، تو پھر اس کی تخلیق بھی لازماً بھلی ہونی چاہیے، کیونکہ ایسا خدا برائی کا منبع نہیں ہو سکتا۔ اور تخلیق کی یہی بنیادی 'اچھائی' عقیدہ تخلیق (Doctrine of Creation) کے بنیادی اصولوں میں شامل رہی ہے۔

تاہم، گناہ کے بعد دو اہم تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اوّل، حضرت آدم اور حضرت حوا خدا کے فضل و کرم سے محروم ہو گئے۔ دوم، دنیا پر لعنت نازل ہوئی اور وہ دکھ، مشقت اور موت سے بھر گئی، جیسا کہ بائبل کی مختلف آیات سے ظاہر ہوتا ہے، مثلاً کھیتی باڑی محنت طلب بن گئی اور عورتوں کے لیے زچگی کا عمل مزید تکلیف دہ ہو گیا (Ham 2017a, 25)۔ حضرت آدم کی لغزش کے نتیجے میں پوری دنیا گمراہی اور مصائب کا شکار ہو ئی، اور انسانوں میں گناہ کی فطرت منتقل ہو گئی، جو آدم و حوا سے وراثت میں ملی۔ اسے "اصل گناہ" (Original Sin) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا کو نجات اور انسانی گناہوں کو مٹانے کی ضرورت پیش آئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ مسیح ایک کلیدی شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں، کیونکہ عیسائی عقیدہ کے مطابق وہی دنیا سے برائی اور گناہ کو ختم کرنے کے لیے آئے، اور وہی یہ کام انجام دے سکتے تھے کیونکہ ان کی ذات میں خدائی اور انسانی دونوں پہلو موجود تھے (McGrath 2016, 246–269)۔ تاہم، اگرچہ حضرت عیسیٰ صلیب پر قربان ہوئے اور انسانوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھایا، مگر وہ اپنی مہم کو مکمل طور پر پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے، کیونکہ دنیا سے تمام برائی ختم نہ ہو سکی۔ یہی ادھورا پن "حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد" (Second Coming) کے تصور کو جنم دیتا ہے (McGrath 2016, 424–447

مسیحی تصورِ آدم اور حضرت عیسیٰ کی زندگی میں ان کے کردار کا یہ مختصر جائزہ لینے کے بعد، اگر ارتقائی نظریہ کو درست مان لیا جائے تو مسیحی عقیدے کو دو نہایت بنیادی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ارتقا درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی دنیا میں شر اور تکلیف موجود تھی۔ دوسرے الفاظ میں، "گناہِ آدم" سے قبل ہی تخلیق میں بگاڑ، تکلیف اور موت کا وجود تھا ۔  سائنسدانوں کے مطابق اب تک موجود تمام انواع میں سے 99 فیصد فنا ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ گناہ، تکلیف اور موت حضرت آدم اور حضرت حوا کے گناہ کے بعد دنیا میں آئے (Harris 2013, 131–132; Ham 2017a, 24–25)۔ دوسرا مسئلہ، جو دراصل پہلے مسئلے کا تسلسل ہے، یہ ہے کہ اگر حضرت آدم کے گناہ کا واقعہ ایک تاریخی حقیقت نہیں ہے، تو پھر حضرت عیسیٰ کے کردار اور دنیا کے لیے ان کی "نجات دہندگی" کا پورا بیانیہ مشکوک ہو جاتا ہے (Harris 2013, 132–133; Ham 2017a, 26)۔ 

مسیحی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ دنیا میں اس لیے آئے کہ وہ انسانوں کے گناہ کا کفارہ ادا کریں۔ لیکن اگر آدم کا گناہ ہی نہ ہوا ہو، یعنی اگر وہ محض ایک علامتی یا تمثیلی کہانی ہو، تو پھر نجات دہندہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ اسی بنا پر ہی حام (Ham 2017a, 27) یہ تبصرہ کرتے ہیں:

تو اگر ہم یہ مان لیں کہ زمین پر لاکھوں سالوں سے جانور مرتے آ رہے ہیں، بیماریاں پھیلتی رہی ہیں، نسلیں ختم ہوتی رہی ہیں،  زلزلے، طوفان، بگولے اور سونامی جیسے بڑے قدرتی سانحات ہوتے رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم  جان بوجھ کر یا لاشعوری طور پر بائبل کی اُس واضح تعلیم کو نظر انداز کر رہے ہیں جو یہ بتاتی ہے کہ:

    1. دنیا کی ابتدا گناہ سے پہلے ایک "بہت اچھی" حالت میں ہوئی تھی؛

    2. آدم و حوا کے گناہ نے پوری کائنات پر اثر ڈالا، صرف انسانوں پر نہیں؛

    3. اور حضرت عیسیٰ کا نجات کا مشن صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری کائنات کی فلاح کے لیے تھا۔

چنانچہ کم عمر  زمین (YEC) کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ارتقائی نظریہ محض بائبل کی تشریحات پر اثرانداز نہیں ہوتا بلکہ مسیحی عقیدے کے اس پورے فکری ڈھانچے کو بھی چیلنج کرتا ہے جو اس دین کی بنیاد ہے۔ اس پیچیدہ توازن کو، یعنی اصل گناہ، حضرت عیسیٰ کی نجات، اور ارتقا کے مابین ہم آہنگی کرنے کو  Houck (2020, 5) نے نہایت خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے: 

"اصل گناہ کا انکار نجات کی عالمگیر ضرورت کو دھندلا دیتا ہے۔ اصل گناہ اور زوال کا اثبات ارتقا کے ساتھ میل نہیں کھاتا۔ اور اگر زوال کے بغیر اصل گناہ کو مان لیا جائے تو تخلیق کی فطری خوبی مجروح ہو جاتی ہے۔"

YEC والے اپنے نظریے کو صرف بائبل تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ارتقا کے خلاف غیر مذہبی دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میں فلسفیانہ اعتراضات شامل ہیں، جیسے ارتقا کو دہریت اور فطرت پرستی (naturalism) کے مترادف قرار دینا (Ham 2017a, 33)، یا سائنسی اعتراضات مثلاً حیات کی زمانی ترتیب کے لیے استعمال ہونے والے سائنسی تاریخ نویسی کے طریقہ کار پر سوال اٹھانا (Ham 2017a, 42
مجموعی طور پر، چونکہ ارتقا کے نظریے کے اثرات مسیحی عقیدے کے لیے گہرے اور تشویش ناک سمجھے جاتے ہیں، اس لیے YEC کے حامی بائبل کو لفظ بہ لفظ (literal) ماننے پر اصرار کرتے ہیں اور ارتقا کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ خاص طور پرکین ہام   (2017a, 44–45) کے لیے یہ معاملہ محض سائنسی بحث نہیں بلکہ اتھارٹی کا ہے،کیا حرفِ آخر خدا کا کلام ہے یا سائنس؟ اُن کے نزدیک سائنس بتدریج بائبل کے روایتی موقف کو کھوکھلا کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مسیحی رفتہ رفتہ ایمان سے دور ہوتے جا رہے ہیں (Huskinson 2020; Laats 2020

اولڈ ارتھ کریئیشن ازم (Old-earth Creationism - OEC)

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اولڈ ارتھ کریئیشن ازم کے پیروکاروں کو زمین کے قدیم (اربوں سال پرانے) ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، جو انہیں YEC (یعنی کم عمر زمین کے نظریہ) سے بالکل ممتاز بناتا ہے۔ تاہم، یہ ایک وسیع فکری مکتبہ فکر ہے، جس کے اندر مختلف تفصیلات اور فرق موجود ہیں۔ اس کے تحت تین نمایاں ذیلی نظریات کی شناخت کی جا سکتی ہے:

  1. گیپ کریئیشن ازم (Gap Creationism)، جسے بعض اوقات تباہی اور بحالی کی تخلیق  (Ruin-Restoration Creationism) بھی کہا جاتا ہے؛
  2. ڈے-ایج کریئیشن ازم (Day-Age Creationism)؛ اور
  3. پروگریسو کریئیشن ازم (Progressive Creationism) (Numbers 2006)۔

یہ تینوں نظریات زمین کی قدامت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان فرق اس بات میں ہے کہ یہ بائبل میں تخلیق کے طویل دورانیے کی کس طرح تعبیر کرتے ہیں  (Trollinger and Trollinger 2018, 217–219)۔ آئیے ان میں سے ہر ایک کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

گیپ کریئیشن ازم، OEC میں وہ نظریہ ہے جو YEC کے سب سے قریب ہے۔ یہ نظریہ بھی تخلیق کے چھ دنوں کو لفظی معنوں میں 24 گھنٹے کے دن مانتا ہے، لیکن بائبل کے باب پیدائش (Genesis) کی پہلی دو آیات میں ایک مخصوص فرق کی بنیاد پر زمین کی قدامت کو ماننے کی گنجائش دیتا ہے۔ پیدائش کی پہلی دو آیات ترجمے کے مطابق یوں ہیں: "ابتدا میں خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ زمین ویران اور سنسان تھی، اندھیرا گہرے پانیوں کے اوپر چھایا ہوا تھا، اور خدا کی روح پانیوں پر منڈلا رہی تھی۔"

YEC کے مطابق یہ دونوں آیات ایک ہی واقعہ کو بیان کرتی ہیں، لیکن گیپ کریئشن ازم کے پیروکار ان دو آیات کے درمیان ایک زمانی خلا کو ممکن سمجھتے ہیں، اسی لیے اسے گیپ کریئشن ازم کہا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ دو مختلف تخلیقی واقعات ہیں، اور ان کے درمیان کتنا وقت گزرا، اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ یہی گنجائش زمین کے قدیم ہونے کو ماننے کی بنیاد فراہم کرتی ہے (Scott 2009, 68

ڈے-ایج کریئیشن ازم (Day-Age Creationism)

ڈے-ایج کریئیشن ازم کا نقطہ نظر گیپ کریئیشن ازم سے مختلف ہے۔ یہ نظریہ آیات کے درمیان وقت کا فاصلہ فرض کرنے کے بجائے بائبل میں استعمال ہونے والے "دن" (عبرانی لفظ یوم، yom) کی لغوی وسعت پر زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق "دن" کو صرف 24 گھنٹوں پر محمول کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہزاروں یا لاکھوں سالوں کا کوئی بھی دورانیہ ہو سکتا ہے۔ یعنی  ڈے-ایج کریئیشن ازم کے پیروکار 24 گھنٹے کے دن کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے، لیکن وہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ یہ واحد مفہوم نہیں ہے۔ لہٰذا، ان کے نزدیک کائنات یا زمین کی قدامت (بہت پرانی ہونا) کوئی مسئلہ نہیں ہے (Scott 2009, 68

پروگریسو کریئیشن ازم (Progressive Creationism)

پروگریسو کریئیشن ازم اپنے موقف میں ڈے-ایج کریئیشن ازم کے بہت قریب ہے۔ یہ نظریہ چھ دنوں کے دوران وقت کے طویل دورانیوں کے لیے لغوی لچک پر زور دینے کے بجائے اس مسئلے کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے اور یہ تجویز کرتا ہے کہ چھ دن صرف ایک تصویری بیان ہیں۔ یعنی تخلیق چھ حقیقی دنوں میں نہیں ہوئی، بلکہ یہ اس طرح دکھائی گئی ہے۔ اس کے مطابق، یہ نظریہ   مانتا ہے کہ زندگی کا آغاز مختلف اوقات میں تدریجاً ہوا اور کئی مراحل  میں مختلف قسم کے جانوروں اور پودوں کو متعارف کرایا گیا۔ ہر مرحلے میں نئے انواع متعارف کروائی گئیں۔ یہ نظریہ فوسل ریکارڈ کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ ہے، جہاں زندگی کی ابتدا سادگی سے ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ ہوئی (Scott 2009, 69)۔ 

OEC کے ہر ذیلی موقف کا جائزہ لینے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ دوبارہ یہ ذکر کیا جائے کہ ان سب کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ بائبل کی روشنی میں زمین کی قدامت کو ممکن سمجھا جاتا ہے، جوYEC کے برخلاف ہے۔ یہ جتنا سائنسی نقطہ نظر کے مطابق ہے، اتنا ہی یہ جدید سائنس سے ہم آہنگ بھی ہے۔ تاہم  YEC کی طرح، یہ نظریہ بھی مشترکہ نسب اور میکرو ایولوشن کو مسترد کرتا ہے۔

آج کل کے دور میں OEC کے ایک اہم حامی ہیو راس (Hugh Ross)  ہیں۔ وہ ڈے-ایج کریئیشن ازم کا دفاع کرتے ہیں اور Reasons to Believe (RtB) کے بانی ہیں۔ ذیل میں ہیو راس کی جانب سے پیش کردہ OEC  کا بیانیہ دیا جارہا  ہے۔

OEC کو بہتر سمجھنے کے لے یہ یاد رکھیں کہ YEC درج ذیل خیالات پر یقین رکھتا ہے:

    1. اللہ نے کائنات کو چھ حقیقی 24 گھنٹوں کے دنوں میں تقریباً 6,000–10,000 سال پہلے پیدا کیا؛

    2. طوفان نوح   ایک سال تک جاری رہنے والا عالمی واقعہ تھا؛

    3. اللہ نے تمام قدرتی انواع کو بغیر کسی مشترکہ نسب کے پیدا کیا؛

    4. ارتقا آدم کے گناہ اور عیسیٰ کے ذریعے نجات کے تصور کو مسئلہ بناتا ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا، OEC اس بات پر YEC سے متفق ہوگا کہ خدا نے قدرتی اقسام کو براہ راست تخلیق کیا اور اس لیے تیسری تجویز سے اتفاق کرے گا۔ تاہم، دن کی عمر کی تخلیق کے نظریہ کو چھ دنوں کے معاملے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ لفظ "یوم" کے معنی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس سے مراد کئی  دوسرے معانی بھی ہوسکتے ہیں (Ross 2017a, 73)۔ بائبل کی نسلوں کے حوالے سے مسئلہ بھی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ کئی نسلیں ایک ہی نام کے تحت چھپ سکتی ہیں، جیسے کہ دوربین جب اسے سادہ اکائی میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ RtB کی ویب سائٹ پر ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے:

بائبل کی نسلوں کو سمجھنے کے لیے بائبل میں نسلوں کی نوعیت، انداز، اور مقصد کا منظم طریقے سے سمجھنا ضروری ہے۔ بائبل کی نسلوں کا سرسری مطالعہ کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل کی نسلیں اپنے جدید ہم منصبوں سے بہت مختلف ہیں۔ گہرائی سے دیکھنے پر یہ پتہ چلتا ہے کہ بائبل کی نسلیں اکثر اس طریقے سے مرتب کی جاتی ہیں کہ کم اہم نام چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور یہ عموماً ناممکن ہوتا ہے کہ کسی نسل کی تکمیل کا اندازہ صرف اس پر نظر ڈال کر لگایا جا سکے۔

تو نسلوں کے حوالے سے زمین کی عمر پر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ جہاں تک نوح کے طوفان کا تعلق ہے، راس YEC کے عالمی طوفان کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، طوفان کا دنیا بھر پر پھیلنے کا ذکر جغرافیائی طور پر نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ان لوگوں سے متعلق ہے جو اس وقت وہاں موجود تھے اور وہی لوگ طوفان کا شکار ہوئے تھے (Ross 2017a, 85):

انسانیت ابھی تک پوری دنیا میں نہیں پھیلی تھی (پیدائش 10-11)۔ دوم پطرس 2:5 میں لکھا ہے کہ "بدکاروں کی دنیا" طوفان میں بہا دی گئی۔ دوم پطرس 3:6 میں بھی کہا گیا ہے کہ "اس وقت کی دنیا" طوفان سے غرق ہو گئی۔ یہاں زمین کی نہیں، بلکہ لوگوں کی بات ہو رہی ہے۔ طوفان کا پھیلاؤ اس بات پر منحصر تھا کہ لوگ کہاں تک پھیل چکے تھے۔ پیدائش 11 میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ طوفان کے بعد بھی انسان زمین پر پھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جب بائبل میں "دنیا" کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مرادپورا کرہ ارض نہیں بلکہ  زیادہ تر لوگ ہوتے ہیں۔

لہٰذا، راس کو دوسرے خیال سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔  راس YEC کے اس مفروضے سے اختلاف رکھتے ہیں کہ گناہ کے بعد ہی برائی پیدا ہوئی۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ کتاب مقدس صرف آدم کے گناہ کے بعد انسانوں کے لیے موت کی ابتدا کی بات کرتی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام جانداروں کے لیے موت آ گئی تھی، اور اس طرح یہ ممکنہ طور پر جانوروں کی موت کو آدم کے گناہ سے پہلے تسلیم کرنے کی گنجائش چھوڑتا ہے (Ross 2017a, 86–87)۔ اس کے علاوہ، وہ کائنات کی تخلیق اور یسوع کی نجات کو مثبت زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کائنات کے قوانین ثابت ہیں۔ اس لیے چیزوں کا زوال (وقت کے ساتھ کائنات  میں بگاڑ پیدا ہونا)  کائنات کا ایک لازمی حصہ ہے۔ قدرتی قوانین کی اس ثابتیت اور انسانی تکلیف کے جو کہ آدم کے گناہ کے نتیجے میں آئی، کو مدنظر رکھتے ہوئے راس کا کہنا ہے کہ تکلیف اور موت کی مثبت تشریح کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ خدا کے منصوبے کا حصہ ہیں، جو ایک جنت کے قیام کی طرف لے جاتے ہیں (Ross 2003)۔ ذیل میں ان کے کلمات اس تشویش اور آخری امید کی امتزاجی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں (Ross 2017a, 86–87):

جسمانی موت، اگرچہ افسوسناک ہے، مگر اس کے بہت قیمتی فوائد بھی ہیں۔ غیر انسانوں کی موت نے انسانیت کو ایک قیمتی خزانہ عطا کیا ہے جس میں 77 کھرب ٹن سے زیادہ حیاتیاتی ذخائر (جیسے کہ کوئلہ، تیل، قدرتی گیس، چونا پتھر) شامل ہیں، جن سے عالمی تہذیب کی تعمیر کی جا سکتی ہے اور عظیم مشن کولاکھوں کی بجائے  ہزاروں برسوں میں مکمل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مسیح  کا مصلوبہ اور قیامت یہ ثابت کرتے ہیں کہ صرف موت کے ذریعے ہی ہم حقیقی طور پر اور ہمیشہ کے لیے جیتے ہیں۔ موت اور فساد کی عارضی ضرورت مستقبل کی تخلیق، نئے آسمان اور نئی زمین کے دن اورعمراس  نظریہ سے ہم آہنگ ہے، جسے کتاب مقدس ہر لحاظ سے کامل بیان کرتی ہے۔ موجودہ تخلیق اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے کیونکہ یہ خدا کے لیے بہترین ممکنہ جگہ ہے جہاں وہ برائی اور تکلیف پر مؤثر طریقے سے  مستقل طور پر قابو پاتے ہوئے آزاد مرضی رکھنے والے انسانوں کو اپنے نجاتی عمل اور منصوبے میں شامل ہونے کا موقع دیتے ہیں۔

اس تشریح کے مطابق، راس کو تخلیق کی پرانی عمر کے باوجودحضرت  آدم کے گناہ اورحضرت  عیسیٰ مسیح  کے ذریعے نجات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ذہین تخلیق (Intelligent Design - ID)

یہ نظریہ حالیہ دور کا ایک نیا رجحان ہے۔ ID کا مقصد بائبل کی کوئی مخصوص تشریح پیش کرنا یا ارتقا کے مقابلے میں کوئی مذہبی مؤقف دینا نہیں، بلکہ یہ خود کو ارتقا کے مقابلے میں ایک سائنسی متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ID کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ارتقا سائنسی لحاظ سے ناکافی ہے، کیونکہ تخلیق کی کچھ پیچیدہ صورتیں ایسی ہیں جنہیں صرف قدرتی انتخاب (natural selection) اور اتفاقی تغیر (random mutation) کے ذریعے نہیں سمجھایا جا سکتا۔ ان کے نزدیک ایسی پیچیدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب کسی ذہین ہستی کے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا، وہ تمام مخلوقات یا چیزیں جن میں اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی نظر آتی ہے، ان کے بارے میں ID کے حامی کہتے ہیں کہ وہ کسی ذہین تخلیق کار (intelligent designer) کی تخلیق ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے کچھ باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ڈیزائن کے دلائل کوئی نئی چیز نہیں ہیں (Jantzen 2014)۔ یہ خیالات اُس وقت سے موجود ہیں جب ID کی تحریک وجود میں نہیں آئی تھی۔ سب سے مشہور مثال ولیم پَیلی (William Paley)  کی ہے، جس نے اٹھارویں صدی کے آخر میں"گھڑی اور دنیا" کی مثال دی۔  جو چیز ID کو خاص بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ اب حیاتیات اور طبیعیات جیسے سائنسی شعبوں کی ترقی نے ان دلائل کو نئے انداز سے پیش کرنے کا موقع دیا ہے (Kojonen 2016, 33–72; Ratzsch and Koperski 2020)۔ دوسری بات یہ کہ ID کے ماننے والے لوگ بہت مختلف خیالات رکھتے ہیں (Numbers 2006, 373–398; Avise 2010, 25; Kojonen 2016, 18–21)۔ کچھ مسیحی اسکالرز جیسے فلپ جانسن (Phillip Johnson)، ولیم ڈیمبسکی  (William Dembski)اور اسٹیفن میئر (Stephen Meyer) اس تحریک کے بانیوں میں شامل ہیں۔ ان میں رومن کیتھولک  کے مائیکل بیہی (Michael Behe) اورچرچ آف یونٹی کے  جوناتھن ویلز (Jonathon Wells) بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ مشہور لاادری (یعنی جو کسی خاص عقیدے کو نہیں مانتے) افراد جیسے مائیکل ڈینٹن (Michael Denton) اور ڈیوڈ برلنسکی (David Berlinski) بھی اس تحریک کے حمایتی ہیں۔ حتیٰ کہ پال نیلسن، جو YEC کے حامی ہیں، وہ بھی ID کی حمایت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تحریک ارتقا کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ مثال کے طور پر،اسٹیفن میئر مشترکہ آبا و اجداد (common ancestry) کے بارے میں مشکوک ہیں، لیکن  مائیکل بیہی کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں (Behe 2007, 64–83; Meyer 2017b, 113–119)۔ پھر بھی، یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ارتقائی عمل (یعنی قدرتی چناؤ اور اتفاقی تبدیلیاں) سائنسی طور پر ناکافی ہیں، اور ذہین تخلیق اس کا بہتر متبادل ہے۔

ID کے حامی یہ واضح نہیں کرتے کہ وہ ذہین تخلیق کار (intelligent designer) کون ہے (Kojonen 2016, 19) ۔ مثلاً، بیہی (2003, 277) کہتا ہے کہ وہ کوئی فرشتہ، کوئی پراسرار قوت، خلائی مخلوق، وقت کا مسافر، یا کوئی اور ذہین ہستی ہو سکتی ہے۔ یعنی تخلیق کار کو جیسا بھی چاہیں، تصور کیا جا سکتا ہے۔ البتہ، زیادہ تر مسیحی اسکالرز (سوائے ڈینٹن اور برلنسکی کے) کا ماننا ہے کہ یہ نشانیاں دراصل مسیحی خدا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن خالص سائنسی نقطہ نظر سے صرف اتنا ماننا کافی ہے کہ کسی ذہین ہستی نے تخلیق کی ہے (Avise 2010, 25

اسی وجہ سے، ہمیں ID کے دو پہلوؤں میں فرق کرنا چاہیے: ایک تو ID بطور ایک غیر جانبدار سائنسی نظریہ، جو ہر قسم کے عقائد (توحید، لاادریت، حتیٰ کہ دہریت) کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے، اور دوسرا خود ID کے حمایتیوں کے ذاتی عقائد۔ اس لحاظ سے، ID بذاتِ خود کوئی مسیحی نظریہ نہیں بلکہ اُسے ایک مسیحی عقیدے کے مطابق بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ ہم ساتویں باب  میں Intelligent Design کی تحریک کو تفصیل سے پڑھیں گے،  یہاں صرف ایک خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو  اس تحریک کے اہم رہنما اسٹیفن میئر کے نقطۂ نظرپر مشتمل  ہے۔ وہ ڈسکوری انسٹیٹیوٹ (Discovery Institute) کے "سائنس اینڈ کلچر سینٹر" کے پروگرام ڈائریکٹر ہیں، جو کہ ID تحریک کا مرکزی ادارہ ہے۔

ابتدائی طور پر، درج ذیل پیراگراف یہ واضح کرتا ہے کہ Intelligent Design (I.D) کو ارتقائی نظریے (evolution) کے مقابلے میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے (Meyer 2017a, 180):

ذہین تخلیق (Intelligent Design) کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ جانداروں کے نظام اور کائنات میں کچھ ایسی خاص نشانیاں موجود ہیں۔مثلاً ڈی این اے کے اندر موجود ڈیجیٹل کوڈ، خلیے کے اندر باریک مشینوں جیسے ڈھانچے، اور طبیعیاتی قوانین کا نہایت درست تناسب۔جنہیں محض اندھے اور بے مقصد مادی عمل کی بجائے کسی باشعور ہستی کی تخلیق سمجھنا زیادہ بہتر وضاحت ہے۔یہ نظریہ ارتقا کے اس مفہوم کو نہیں جھٹلاتا کہ وقت کے ساتھ مخلوقات میں تبدیلی آتی ہے یا یہ کہ تمام جاندار کسی مشترکہ جد سے نکلے ہیں۔ البتہ یہ ڈارون کے اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ حیاتیاتی تبدیلیاں محض اندھے اور بے سمت عمل کا نتیجہ ہیں۔اس سوچ کے مطابق، زندگی یا تو کسی اندھے مادی عمل سے پیدا ہوئی ہے، یا پھر کسی ذہین ہستی نے اسے تخلیق کیا ہے۔ ذہین تخلیق کے حامی دوسری بات کو درست سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جاندار ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی نے انہیں باقاعدہ ڈیزائن کیا ہو، کیونکہ وہ حقیقت میں ڈیزائن کیے گئے تھے۔

یہ پیراگراف ذہین تخلیق (ID) کے نیو ڈارونین ارتقا (جسے اسٹیفن میئر نے اوپر ڈارونین ارتقا کہا ہے) سے متعلق دو اہم مسائل کو اجاگر کرتا ہے، یعنی یہ کہ کیسے بے ترتیب(random) اور مادی عمل (material)تخلیق کو مکمل طور پر وضاحت نہیں دے سکتے۔  تخلیق کے کچھ پہلو بہت پیچیدہ ہیں، اور یہ کہنا مشکل لگتا ہے کہ یہ صرف ارتقا کے عمل کا نتیجہ ہیں۔ اسٹیفن میئر اس بات پر زور نہیں دیتے کہ یہ حقیقت ہے، بلکہ وہ ذہین تخلیق (ID) کو ایک متبادل نظریہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، جسے موجودہ شواہد کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس لیے، وہ اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے قیاس (abduction) کا سہارا لیتے ہیں۔

اسٹیفن میئر  اپنے ذہین تخلیق (ID) کے دلائل کو احتمالات کے ذریعے پیش کرتے ہیں (Meyer 2009; Meyer 2013; Meyer 2017a, 185–197)۔ ان کا کہنا ہے کہ نیو ڈارونین ارتقاجس بے ترتیب عمل پر انحصار کرتا ہے، وہ اتنا غیر متعین ہے کہ پیچیدہ حیاتیاتی خصوصیات کے وجود کا امکان انتہائی کم ہے۔ سائنسی اصطلاحات کو آسان بنانے کے لیے، ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ فرض کریں کہ دو افراد ہیں، ایک کا نام سارہ اور دوسرے کا آدم ہے، اور دونوں کے پاس اسکریبل  (Scrabble )کھیلنے کا سامان ہے۔ آدم سارہ سے کہتا ہے کہ وہ آنکھوں پر پٹی باندھ لے۔ جب سارہ ایسا کر لیتی ہے، آدم اسکریبل کے حروف کی تھیلی کو الٹ دیتا ہے، تاکہ تمام حروف تھیلی سے باہر گر جائیں، جس کی آواز سارہ کو آتی ہے۔ پھر آدم سارہ سے کہتا ہے کہ پٹی ہٹا لے۔ سارہ نیچے گرے ہوئے حروف دیکھتی ہے اور ان میں سے تین حروف سے لفظ "CAT" پہچان لیتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ یہ محض اتفاق ہے یا پھر آدم نے حروف کو اس طرح ترتیب دیا ہے۔ وہ قائل ہو جاتی ہے کہ یہ شاید ایک وقتی اتفاق تھا۔ یہی منظر دوبارہ پیش آتا ہے لیکن اس بار وہ لفظ "WATCH" دیکھتی ہے۔ اب وہ اس بات پر زیادہ شک کرتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر ہوا ہوگا۔ شاید آدم نے ایسا کیا ہو؟ یہ منظر ایک اور بار دہرایا جاتا ہے اور اس بار سارہ لفظ "CATASTROPHE" دیکھتی ہے۔ اب وہ یقین سے کہتی ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا، اور آدم ہی حروف کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ وہ یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ حروف کے جس ترتیب سے وہ زمین پر پڑے ہیں، اس کا اتفاقی طور پر ہونا مشکل ہے۔ جیسے جیسے لفظ کا حجم بڑھتا جاتا ہے، یہ اتفاقی ہونے کا امکان کم ہوتا جاتا ہے۔ ذہین تخلیق کے حامی اسی استدلال کو استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ حیاتیاتی ڈھانچے جیسے امینو ایسڈز(amino acids)، پروٹینز(proteins)، سیلولر اسمبلیز (cellular assemblies) اور جانداروں کی تشکیل اتنی درست اور پیچیدہ ہوتی ہے کہ یہ نیو ڈارونین ارتقا کے ذریعے ممکن نہیں، جہاں بے شمار امکانات ہوتے ہیں جو ان کے افعال اور پیچیدگی کو پیدا نہیں کر پاتے۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ یہ تمام تخلیقات اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں، اور اس لیے ایک ذہین تخلیق کار کی ضرورت ہے جو ان انتہائی غیر ممکنہ منظرناموں کو ترتیب دے رہا ہو۔ 

اسٹیفن میئر اپنے دلائل کو دیگر سائنسی میدانوں کی مثالوں سے مضبوط کرتے ہیں۔ وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ زندگی کے آغاز کا مسئلہ براہ راست ارتقا سے متعلق نہیں ہے ، لیکن تمام ابتدائی پروٹینز کا زندگی کے آغاز میں  جمع ہونے کے لیے جو ہم آہنگی درکار ہے، وہ بھی بے ترتیب اور مادی اسباب سے اتنی ہی غیر ممکن ہے۔ اس لیے یہ زیادہ منطقی ہے کہ ہم نہ صرف انواع کے آغاز (ارتقا) کے لیے، بلکہ زندگی کے آغاز کے لیے بھی ایک ذہین تخلیق کار کو تسلیم کریں۔ اسٹیفن  ایسے تحقیقی شعبوں کی مثالیں دیتے ہیں جیسے آثار قدیمہ اور غیر اراضی ذہانت کی تلاش (SETI)، جو تخلیق میں پیچیدہ نمونوں کو ذہین اسباب کے حق میں استعمال کرتے ہیں (Meyer 2017a, 203)۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ حقیقتاً تحقیقی شعبے ہیں، تو ذہین تخلیق (ID) کو سائنس کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، اور اسے ارتقا کے متبادل کے طور پر ایک جائز سائنسی آپشن کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔

اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ ذہین تخلیق (ID) کی تحریک کی نوعیت YEC اور OEC سے بالکل مختلف ہے۔ ID میں بائبل کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس میں تخلیق کرنے والے کو عیسائی خدا کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جس کی وجہ سے YEC اور OEC کے حمایتی ID کو کسی حد تک مشکل سمجھتے ہیں (Nieminen et al. 2014; Ham 2017b; Ross 2017b)۔ تاہم، ID کے حمایتی اس بات کی واضح طور پر تصدیق کرتے ہیں کیونکہ ID کو ایک سائنسی نظریہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک مذہبی نقطہ نظر کے طور پر، اور وہ یہ فیصلہ فرد پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ ID کو اپنے ذاتی عقائد کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتے ہیں (Meyer 2017a, 179):

ذہین تخلیق کا نظریہ کتابِ پیدائش کی تشریح نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بائبل میں بیان کردہ تخلیق کے دنوں کی مدت یا زمین کی عمر کے بارے میں کوئی بات کرتا ہے۔ اس لیے ذہین تخلیق کے حامی مختلف رائے رکھ سکتے ہیں یا اس بارے میں کوئی رائے نہ بھی رکھتے ہوں۔

پھر یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی کئی آوازیں ایک ہی جھنڈے تلے آ سکتی ہیں، کیونکہ ID کے حامی اپنے نقطہ نظر کو واضح طور پر سائنسی نقطہ نظر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

خدا کے تصور کے ساتھ ارتقائی عمل  (Theistic Evolution – TE)

Theistic Evolution – TE پر یہ مختصر جائزہ ڈیبوراہ ہارسما (Deborah Haarsma) کے خیالات پر مبنی ہے، جو بایو لاگوس (Bio Logos) کی صدر ہیں۔ یہ ادارہ امریکہ کے ان بڑے اداروں میں شمار ہوتا ہے جو عیسائیت اور جدید سائنس کے درمیان مفاہمت کو فروغ دیتا ہے۔ ڈیبوراہ اس مؤقف کو "ایوولوشنری کریئیشن ازم" (evolutionary creationism) کا نام دیتی ہیں۔ اگرچہ بعض افرادان دونوں  میں کچھ فرق کرتے  ہیں (Scott 2009, 69–71)،  مگر ہم یہاں دونوں اصطلاحات کو مترادف سمجھتے ہوئے استعمال کریں گے۔

اوپر ذکر کیے گئے تینوں  نقطہ ہائے  نظر کے مقابلے میں Theistic Evolution (خدا کے تصور کے ساتھ ارتقائی عمل ) کو سمجھنا نسبتاً آسان ہے۔ اس موقف میں ارتقا کے تمام سائنسی نکات کو قبول کیا جاتا ہے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ خدا ہی اس سارے عمل کو منظم کرتا ہے۔ یعنی سائنس دان ارتقا کے بارے میں جو بھی دریافتیں کرتے ہیں، انہیں حقیقت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پریہ موقف یعنیTheistic Evolution ، Intelligent Design (ID) سے سائنسی محاذ پر اختلاف رکھتا ہے۔ ڈیبوراہ  ہارسما، جو Bio Logos کی صدر ہیں، ID کے اس دو ٹوک نظریے کو نہیں مانتیں۔  ان کے نزدیک  سب کچھ غیر ہدایت یافتہ مادی عمل ہے، یا پھر سب کچھ ذہین تخلیق کا نتیجہ ہے (Haarsma 2017, 221)۔ ان کے نزدیک یہ دونوں وضاحتیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ساتھ چل سکتی ہیں (Haarsma 2017, 222):

ہم فطرت میں تخلیق کا شعور اس وقت بھی رکھ سکتے ہیں جب سائنس دان کسی مظہر کی مکمل قدرتی وضاحت پیش کر دیں۔ ارتقا کو خدا کی تخلیق کا ذریعہ ماننے والے افراد قدرتی طریقوں کو خوشی سے خدا کے مسلسل اور باقاعدہ عمل کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر خدا کی مسلسل کارفرمائی نہ ہو، تو نہ صرف قدرتی قوانین بلکہ مادہ بھی خود بخود ختم ہو جائے گا۔ خدا بعض اوقات غیر معمولی (یعنی معجزاتی) طریقوں سے بھی کام کرتا ہے، جیسے مسیح کا تجسّد (incarnation) اور قیامت (resurrection)۔ تاہم، کسی مظہر کی مکمل قدرتی وضاحت کبھی بھی خدا کو تخلیق کرنے والے (designer) کے طور پر مسترد نہیں کرتی۔

دوسرے الفاظ میں، قدرتی قوانین خدا کی طرف سے قائم ہیں، اور سائنس دان صرف ان کو دریافت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ معجزات کے بارے میں، جو کہ معمولات کی خلاف ورزی یا تبدیلی سمجھے جاتے ہیں، ان کی قدرتی وضاحت بھی خدا کو خالق یا مصمم (designer) کے طور پر نظرانداز نہیں کرتی۔ اس طرح سے، ذہین تخلیق (ID) کو ایک غلط تقسیم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ تقریباً خدا کے خالی جگہوں میں مداخلت کے نظریے کے قریب آ جاتا ہے (Haarsma 2017, 223):

اگر سائنس دان کسی ایسے مظہر کے لیے جو تخلیق کے طور پر سمجھا گیا ہو، قدرتی وضاحت دریافت کرتے ہیں، تو ذہین تخلیق کا استدلال ناکام ہو جاتا ہے۔ بائبل کا خدا دونوں قسم کے مظاہر کا حاکم اور تخلیق کار ہے، چاہے وہ، وہ مظاہر ہوں جن کی سائنس وضاحت کر سکتی ہے یا وہ جن کی سائنس وضاحت نہیں کر سکتی۔

اگر ہماری جسمانی بناوٹ میں کچھ ایسے پیچیدہ نظام اور ڈھانچے موجود ہیں جن کی وضاحت سادہ قدرتی اصولوں سے ممکن ہے، تو پھر ID کا یہ کہنا کہ یہ سب کسی عقلمند خالق نے ہی بنایا ہو گا، کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ID کا نظریہ اس وقت کے علم اور معلومات پر مبنی ہوتا ہے، جو کہ مکمل نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے آج ہمیں کچھ باتیں سمجھ نہ آ رہی ہوں، لیکن مستقبل میں سائنسی ترقی ان سوالوں کے جواب دے دے۔ اسی لیے   TE کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک سائنس مکمل طور پر کوئی امکان رد نہیں کر دیتی، ID کا جلدی نتیجہ اخذ کرنا اور اپنی دلیل قائم کرنا سائنسی لحاظ سے درست طریقہ نہیں۔

Theistic Evolution کو بائبل اور عیسائی سوچ کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جاتا ہے، اس پر ڈیبوراہ ہاسما  مختلف مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں:

  1. آدم/حوا کی نوعیت؛
  2. گناہ سے پہلے موت؛
  3. برائی کی نوعیت؛
  4. اتفاقی عناصر۔

ان مسائل پر ڈیبوراہ ہارسما کا مجموعی نقطہ نظر تجاویز پر مشتمل  ہے، کیونکہ وہ یہ بتائے بغیر کہ  ان میں سے کون سا نقطہ نظر ان کے اپنے خیالات کے قریب ہے،   مختلف آپشنز پیش کرتی ہیں۔  ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدم اور حوّا کے ساتھ دوسرے انسان بھی موجود تھے، اس لیے وہ واحد آبا نہیں تھے، یا پھر پیدائش کی کہانی کو بائبل کے تاریخی سیاق و سباق اور زبان کی روشنی میں ایک تمثیلی (metaphorical) کہانی کے طور پر سمجھنا۔ ان میں سے کسی بھی منظرنامے سے بائبل کے مرکزی پیغام کو نقصان نہیں پہنچتا (Haarsma 2017, 149-150)۔ دوسرے معاملے میں، ڈیبوراہ  دو تجاویز پیش کرتی ہیں۔ ایک وہی ہے جو OEC (Old Earth Creationism) کی سوچ ہے، جو کہتی ہے کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے صرف انسانوں کی موت ہوئی اور جانوروں کی نہیں۔ اس کے مطابق، آدم کے گناہ سے پہلے مختلف نوعوں کی لاکھوں سالوں تک موت ایک مسئلہ نہیں ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ موت کو جسمانی کے بجائے روحانی سمجھا جائے، اس صورت میں ارتقا کوئی مسئلہ نہیں بنے گا (Haarsma 2017, 150)۔ وہ تیسرے معاملے کو نیا نہیں سمجھتیں۔ وہ درست طور پر یہ نشاندہی کرتی ہیں کہ چاہے ارتقا سچ ہو یا نہ ہو، مسیحیوں کو برائی کے مسئلے سے نمٹنا پڑے گا۔ اس کے لیے ارتقا کے ذکر سے پہلے کئی تجاویز تیار کی جاچکی ہیں جن میں سے لوگ آزادانہ طور پر انتخاب کر سکتے ہیں (Haarsma 2017, 151)۔ بے ترتیبی کے مسئلے پر، وہ واضح طور پر یہ بیان کرتی ہیں کہ سائنس میں بے ترتیبی (randomness) کا مطلب کچھ غیر متوقع ہونا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیر معنی خیز بھی ہو۔ خدا باآسانی اپنے تخلیقی عمل کو بے ترتیب افعال کے ذریعے ایک مقصد کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔ اس لیے ان کی سوچ میں بے ترتیبی کوئی مسئلہ نہیں ہے (Haarsma 2017, 152

ظاہر ہے کہ ڈیبوراہ  ایک بہت لچکدار نقطہ نظر پیش کرتی ہیں جس میں متعدد حل پیش کیے جا سکتے ہیں۔  وہ اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ ارتقا بائبل اور مسیحی سوچ کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، لیکن وہ یقین رکھتی ہیں کہ اس کے لیے کئی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ معقول ہم آہنگی تک پہنچا جا سکے۔ تاہم، YEC اور OEC اس نقطہ نظر کی سائنس کو زیادہ اہمیت دینے اور بائبل کی اہمیت کو کم کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں (Ham 2017c; Ross 2017c


حوالہ جات

    1. Artigas, Mariano, Thomas F. Glick, and Rafael A. Martinez. 2006. Negotiating Darwin: The Vatican Confronts Evolution: 1877–1902. Baltimore, MD: The Johns Hopkins University Press.
    2. Avise, John C. 2010. Inside the Human Genome: A Case for Non-Intelligent Design. Oxford: Oxford University Press.
    3. Behe, Michael. 2003. “The Modern Intelligent Design Hypothesis: Breaking Rules.” In Neil Manson, ed. God and Design: The Teleological Argument and Modern Science. London: Routledge, 276–290.
    4. Behe, Michael. 2007. The Edge of Evolution: The Search for the Limits of Darwinism. New York, NY: Free Press.
    5. Bowler, Peter J. 2007. Monkey Trials and Gorilla Sermons: Evolution and Christianity from Darwin to Intelligent Design. Cambridge, MA: Harvard University Press.
    6. Bowler, Peter J. 2009. Evolution: The History of an Idea. Berkeley, CA: University of California Press.
    7. Cunningham, Conor. 2010. Darwin’s Pious Idea: Why the Ultra-Darwinist and Creationists Both Get It Wrong. Grand Rapids, MI: William B. Eerdmans Publishing Company.
    8. Haarsma, Deborah B., and Loren D. Haarsma. 2011. Origins: Christian Perspectives on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Faith Alive Christian Resources.
    9. Haarsma, Deborah B. 2017. “Evolutionary Creation” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 124–153.
    10. Ham, Ken. 2017a. “Young Earth Creationism” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 17–48.
    11. Ham, Ken. 2017b. “Response from Young Earth Creationism” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 101–106.
    12. Ham, Ken. 2017c. “Response from Young Earth Creationism” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 154–160.
    13. Harris, Mark. 2013. The Nature of Creation: Examining the Bible and Science. Croydon: Acumen.
    14. Haught, John F. 2008. God After Darwin: A Theology of Evolution. Boulder, CO: Westview Press.
    15. Hodge, Bodie. 2019. “Chapter 4: How Old Is the Earth?” Answers in Genesis. Accessed 28th of June 2020. https://answersingenesis.org/age-of-the-earth/howold-is-the-earth/
    16. Houck, Daniel W. 2020. Aquinas, Original Sin, and the Challenge of Evolution. Cambridge: Cambridge University Press.
    17. Huskinson, Benjamin L. 2020. American Creationism, Creation Science, and Intelligent Design in the Evangelical Market. Cham: Palgrave Macmillan.
    18. Jantzen, Benjamin C. 2014. An Introduction to Design Arguments. Cambridge: Cambridge University Press.
    19. Kaden, Tom. 2019. Creationism and Anti-Creationism in the United States. Cham: Springer.
    20. Kemp, Kenneth W. 2020. The War That Never Was: Evolution and Christian Theology. Eugene: Cascade Books.
    21. Kojonen, Erkki Vesa Rope. 2016. The Intelligent Design Debate and the Temptation of Scientism. Abingdon: Routledge.
    22. Laats, Adam. 2020. Creationism USA: Bridging the Impasse on Teaching Evolution. Oxford: Oxford University Press.
    23. Livingstone, David N. 1984. Darwin’s Forgotten Defenders: The Encounter between Evangelical Theology and Evolutionary Thought. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
    24. Livingstone, David N. 2008. Adam’s Ancestors: Race, Religion and the Politics of Human Origins. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
    25. Livingstone, David N. 2014. Dealing with Darwin: Place, Politics, and Rhetoric in Religious Engagements with Evolution. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
    26. Matheison, Stuart. 2020. Evangelicals and the Philosophy of Science: The Victoria Institute, 1865–1939. Abingdon: Routledge.
    27. Matthew, Barrett, ed. 2013. Four Views on the Historical Adam. Grand Rapids, MI: Zondervan.
    28. McGrath, Alister E. 2011. Darwinism and the Divine: Evolutionary Thought and Natural Theology. West Sussex: Wiley-Blackwell.
    29. McGrath, Alister E. 2016. Christian Theology: An Introduction. West Sussex: Wiley-Blackwell.
    30. Meyer, Stephen C. 2009. Signature in the Cell: DNA and the Evidence for Intelligent Design. New York, NY: HarperOne.
    31. Meyer, Stephen C. 2013. Darwin’s Doubt: The Explosive Origin of Animal Life and the Case for Intelligent Design. New York, NY: HarperOne.
    32. Meyer, Stephen C. 2017a. “Intelligent Design.” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 177–208.
    33. Meyer, Stephen C. 2017b. “Response from Intelligent Design” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 113–119.
    34. Millam, John. 2003. “The Genesis Genealogies.” Reasons to Believe. Accessed 29th of June 2020. Available at: https://reasons.org/explore/publications/tnrtb/read/tnrtb/2003/01/01/the-genesis-genealogies
    35. Moore, Randy, and Mark D. Decker. 2009. More Than Darwin: The People and Places of the Evolution-Creationism Controversy. Berkley, CA: University of California Press.
    36. Nevi, Norman C, ed. 2009. Should Christians Embrace Evolution? Biblical and Scientific Responses. Phillipsburg, NJ: P&R Publishing.
    37. Nieminen, Petteri, Anne-Mari Mustonen, and Esko Ryökäs. 2014. “Theological Implications of Young Earth Creationism and Intelligent Design: Emerging Tendencies of Scientism and Agnosticism” Theology and Science, 12(3): 260–284.
    38. Numbers, Ronald. 2006. The Creationists: From Scientific Creationism to Intelligent Design. Cambridge, MA: Harvard University Press.
    39. Patterson, Roger. 2007. “Chapter 2: Classifying Life.” Answers in Genesis. Accessed 28th of June 2020. Available at: https://answersingenesis.org/creation-science/baraminology/classifying-life/
    40. Peters, Ted, and Martinez Hewlett. 2003. Evolution from Creation to New Creation: Conflict, Conversation, and Convergence. Nashville, TN: Abingdon Press.
    41. Pierce, Larry, and Ken Ham. 2010. “Chapter 5: Are There Gaps in the Genesis Genealogies?” Answers in Genesis. Accessed 28th of June 2020. Available at: https://answersingenesis.org/bible-timeline/genealogy/gaps-in-the-genesis-genealogies/
    42. Plantinga, Alvin. 2011. Where the Conflict Really Lies: Science, Religion, and Naturalism. Oxford: Oxford University Press.
    43. Pope, Stephen J. 2007. Human Evolution and Christian Ethics. Cambridge: Cambridge University Press.
    44. Purdom, Georgia. 2010. “Variety Within Created Kinds.” Answers in Genesis. Accessed 28th of June 2020. Available at: https://answersingenesis.org/creation-science/baraminology/variety-within-created-kinds/
    45. Ratzsch, Del, and Jeffrey Koperski. 2020. “Teleological Arguments for God’s Existence.” The Stanford Encyclopedia of Philosophy. Accessed 1st of July. Available at: https://plato.stanford.edu/archives/sum2020/entries/teleologicalarguments/
    46. Rios, Christopher M. 2014. After the Monkey Trial: Evangelical Scientists and a New Creationism. New York, NY: Fordham University Press.
    47. Ross, Hugh. 2003. “The Physics of Sin.” Reasons to Believe. Accessed 29th of June 2020. Available at: https://reasons.org/explore/publications/facts-for-faith/read/facts-for-faith/2002/01/01/the-physics-of-sin
    48. Ross, Hugh. 2017a. “Old Earth Creationism” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 71–100.
    49. Ross, Hugh. 2017b. “Response from Old Earth Creationism” In J. B Stump, ed. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan, 106–112.
    50. Sapp, Jan. 2009. Evolution by Association: A History of Symbiosis. Oxford: Oxford University Press.
    51. Scott, Eugenie C. 2009. Evolution vs. Creationism: An Introduction. Berkeley, CA: University of California Press.
    52. Snoke, David. 2003. The Science of Evolution. Chicago, IL: University of Chicago Press.
    53.  Stump, J. B. 2017. Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design. Grand Rapids, MI: Zondervan.
    54. Wood, Daniel. 2010. God and Evolution: A Reader. Oxford: Oxford University Press.

(جاری)

شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگان (۱)

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

امام ولی اللہ دہلویؒ — شخصیت اور کردار

نام و نسب

امام ولی اللہ محدث دہلویؒ کا نام احمد ہے جو کہ ولی اللہ کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور ابو الفیاض یا ابو الفیض ہے۔ قطب الدین بشارتی نام ہے۔ آپ کا تاریخی نام عظیم الدین ہے اور آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے جیسا کہ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں:

 ’’سلسلہ نسب ایں فقیر بامیر المومنین عمرؓ بن الخطاب می رسد‘‘ (الامداد فی ماثر الاجداد) 

شاہ صاحبؒ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے تیس واسطوں سے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ تک اور والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظمؒ تک پہنچتا ہے۔ تو اس لحاظ سے آپ عربی اور فاروقی النسب ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے: احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلویؒ الخ۔ شاہ صاحبؒ سید نہیں تھے۔ ان کے نام کے ساتھ جو ابتداء میں شاہ کا لفظ لکھا جاتا ہے، وہ بر صغیر کی اصطلاح کے مطابق تصوف اور سلوک والے حضرات پر لکھا جاتا ہے۔

ولادت

شاہ صاحبؒ کی ولادت سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ کی وفات سے چار سال قبل ۴ شوال ۱۱۱۴ھ بمطابق ۲۱ فروری ۱۷۰۳ء بروز بدھ بوقت طلوعِ آفتاب اطراف دہلی میں (یو، پی کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ) پھلت میں ہوئی جو کہ شاہ صاحبؒ کا ننھیال تھا۔

ابتدائی تعلیم

شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں:

 ’’جب میری عمر پانچ سال کی ہوئی تو فقیر مکتب میں داخل ہوا۔ ساتویں برس والد بزرگوار نے نماز پڑھوائی اور روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ اس سال ختنہ کی رسم بھی ادا ہوئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اسی سال کے آخر میں میں نے قرآن عظیم (حفظ) کیا۔ دس سال کی عمر میں شرح ملّا جامی پڑھی اور عام مطالعہ کی راہ میرے لیے کھل گئی۔ چودہویں برس میں میری شادی کر دی گئی اور اس معاملے میں والد بزرگوار نے بڑی عجلت سے کام لیا۔ پندرہ برس کا تھا تو میں نے اپنے والد کے دست مبارک پر بیعت کی اور تصوف کے اشغال میں لگ گیا اور اس میں خاص طور پر نقشبندی مشائخ کے طریق کو اپنا مقصود بنایا۔ اسی سال تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ پڑھا۔ اس سال والد بزرگوار نے وسیع پیمانے پر کھانے کا انتظام کیا اور خواص و عوام کو دعوت دی اور اس موقع پر مجھے درس دینے کی اجازت دی۔ الغرض اپنی عمر کے پندرہویں سال اپنے ملک کے دستور کے مطابق جو ضروری علوم و فنون تھے، میں ان سے فارغ ہو گیا۔ سترہ سال کا تھا کہ حضرت والد رحمت حق سے جا ملاقی ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد فقیر بارہ سال تک دینی اور علوم عقلیہ کی کتابیں پڑھاتا رہا اور ہر علم میں فکر و غور جاری رکھا۔‘‘ (الجزء اللطیف)

اخلاق و عادات

شاہ صاحبؒ کو قدرت نے ابتداء ہی سے حکیمانہ مزاج اور مومنانہ اخلاق کا حامل بنایا تھا۔ چنانچہ آپ بچپن ہی سے نرم خو، بردبار، منکسر المزاج، خوش اخلاق، سنجیدہ، ستودہ صفات، سیر چشم، محنتی، پاکیزہ اطوار، فیاض، متقی، پرہیز گار، ملنسار اور متوکل علی اللہ تھے۔ اسی وجہ سے شاہ عبدالرحیمؒ اپنی ساری اولاد میں سے شاہ صاحبؒ کو سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ اکثر اوقات خلوت و جلوت میں انہیں اپنے پاس بٹھاتے تھے اور بڑے پر لطف لہجے میں فرمایا کرتے تھے کہ اے میرے بیٹے ! میرے دل میں بے اختیار یہ بات پیدا ہوئی ہے کہ ایک ہی دفعہ تمام علوم و فنون تمہارے دل میں ڈال دوں۔ 

شاہ صاحبؒ کی جوانی بے داغ تھی۔ آپ کے مزاج میں عام جوانوں کی طرح تندی و تیزی نہیں تھی۔ حکیمانہ ژرف بینی اور عالمانہ کردار جوانی میں ہی پیدا ہو چکا تھا۔  شاہ صاحبؒ کو والد کی پاکیزہ تربیت نے سیر چشم، مستغنی المزاج اور متوکل علی اللہ بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بیک وقت ایک حکیم، نکتہ شناس، صوفی با صفا، ایک مفسر، ایک محدث، ایک فقیہ، ایک بے مثال صاحب طرز ادیب، انشا پرداز، شاعر، سیاست دان، معقولی، مفکر، معاشیات کے ماہر، عمرانیات کے رمز آشنا، تاریخ کے غواص، مدبرانہ ذہن کے مالک، مجتہدانہ بصیرت کے حامل اور ایک کامل واکمل انسان تھے۔

اولاد

شاہ صاحبؒ نے دو شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی سے ایک لڑکا محمد دہلوی پیدا ہوا جس کی وفات ۱۲۰۸ھ میں ہوئی (نزہۃ الخواطر)۔ اسی لڑکے کی وجہ سے شاہ صاحبؒ اپنی کنیت ابو محمد کرتے تھے (الارشاد فی مہمات الاسناد)۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری بیوی سے شادی کی اور اس کے بطن سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئی۔ 

شاہ صاحبؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے جو شاہ صاحبؒ کی وفات کے بعد ان کے جانشین بھی ہوئے، وہ شاہ عبد العزیزؒ المتوفیٰ ۷ شوال ۹ - ۱۲۳۸ھ بمطابق ۱۸۲۴ء ہیں، دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدینؒ المتوفیٰ ۶ شوال ۱۲۳۳ھ بمطابق ۱۸۱۷ء ہیں، اور تیسرے صاحبزادے شاہ عبد القادرؒ المتوفیٰ ۱۹ رجب ۱۲۳۰ھ بمطابق ۱۸۱۴ء ہیں اور چوتھے صاحبزادے شاہ عبد الغنیؒ المتوفیٰ ۴ محرم ۱۲۲۷ ھ ہیں اور ایک صاحبزادی امۃ العزیز ہیں۔

شاہ صاحبؒ کی خصوصیات

شاہ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے جن خوبیوں اور خصوصیات سے نوازا تھا، ان خصوصیات کو شاہ صاحبؒ نے اپنی مختلف تصانیف میں تحدیث نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے:

ا۔ شاہ صاحبؒ کو قائم الزمان بنایا گیا۔

۲۔ آپ کو مجدد دین قویم بنایا گیا۔

۳۔ آپ کو خلعت فاتحیت عطا کی گئی اور آخری دور کا آغاز آپ کے ہاتھ سے کرایا گیا۔

۴۔ وصی ہونے کی وجہ سے آپ اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی تکمیل کے لیے آلہ جارحہ بنائے گئے۔

۵۔ آپ نے احکام شریعت کے اسرار و مصالح بیان فرمائے۔ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں: ’’ان تمام کے رموز و اسرار کا بیان ایک مستقل فن ہے جس کے بارے میں اس فقیر سے زیادہ وقیق بات کسی اور سے نہیں بن آئی ہے۔ اگر کسی کو اس فن کی عظمت و بلندی کے باوجود میرے بیان میں شبہ گزرے تو اسے شیخ عز الدین ابن عبد السلام المتوفیٰ ۶۶۰ ھ کی کتاب قواعد کبریٰ دیکھنی چاہیے جس میں انہوں نے کس قدر زور مارا ہے مگر پھر بھی وہ اس فن کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ پائے۔‘‘  (الجزء اللطیف)

۶۔ آپ کو سلوک طریقت الہام کیا گیا اور آپ نے وہ طریق پیش کیا جو صوفیاء کے غلو سے پاک اور جادہ شریعت کا پابند تھا۔

۷۔ آپ نے سب سے پہلے علمائے معاصرین کی مخالفت کے باوجود قرآن کریم کا بلند پایہ ترجمہ کیا۔

۸۔ آپ نے حدیث کی حیثیات کا تعین کیا اور درس حدیث میں تحقیق کی بنیاد ڈالی۔

۹۔ آپ کو الجمع بین المختلفات کا خصوصی علم دیا گیا۔

۱۰۔ آپ کو جامعیت بخشی گئی۔

۱۱۔ آپ کو حکمت عملی یعنی تعبیر معاشیات، سیاسیات و عمرانیات کے شرعی اصول و ضوابط سمجھائے گئے اور کتاب و سنت و آثار صحابہؓ کے ساتھ ان کو تطبیق دینے کی توفیق بخشی گئی۔

۱۲۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں: ’’مجھے ایک ملکہ عطا کیا گیا جس کی بدولت میں تمام عقائد و اعمال، اخلاق و آداب کے متعلق یہ تمیز کر سکتا ہوں کہ دین حق کی اصلی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہے، وہ کیا ہے اور وہ کون سی  باتیں ہیں جو بعد میں دین حنیف کے ساتھ چسپاں کر دی گئیں اور کس بدعت پسند فرقہ کی تحریف، غلو و افراط یا تہادن و تفریط کا نتیجہ ہیں۔‘‘

۱۳۔ آپ کو علم المصالح و المفاسد اور علم الشرائع و الحدود دونوں دیے گئے۔ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں: ’’ یہ وہ علم شریف ہے جس کے متعلق بیان کرنے اور اس کے اصولوں کو واضح کرنے نیز مسائل کی تطبیق میں مجھ پر کسی نے سبقت نہیں کی۔‘‘

۱۴۔ آپ نے قدیم علمائے اہل سنت کے عقائد کو دلائل و براہین کی روشنی میں اس طرح ثابت کیا اور انہیں اس طرح معقولیوں کے شکوک و شہبات سے پاک کیا کہ اب ان پر مزید بحث کی گنجائش نہیں رہ گئی۔

۱۵- آپ کو کمالات اربعہ ابداع، خلق، تدبیر اور تدلی (تجلی) کی حقیقت اور نفوس انسانیہ کی استعداد کا خصوصی علم عطا کیا گیا۔

مندرجہ بالا دونوں علوم شاہ صاحبؒ سے پہلے کسی عالم کو نہیں دیے گئے اور نہ کسی نے ان پر کما حقہ کلام کیا ہے۔

شاہ صاحبؒ نے دس بادشاہوں کا زمانہ پایا ہے

۱۔  اورنگ زیب عالم گیر ؒ

۲۔ شاہ عالم بہادر شاہ اول 

۳۔  معز الدین جہاں دار شاہ 

۴۔  فرخ سیر 

۵۔  رفیع الدرجات 

۶۔  رفیع الدولہ 

۷۔ محمد شاہ رنگیلا 

۸۔  احمد شاہ 

۹۔  عالم گیر ثانی 

۱۰۔  شاہ عالم ثانی

دار الحدیث کا قیام

مسلمان بادشاہوں کے دور حکومت میں جبکہ قاضی و مفتی ہونا ہی علماء کے لیے باعث افتخار تھا، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو، منطق و معانی، فلسفہ و تاریخ وغیرہ کو چھوڑ کر بھلا علم حدیث و تفسیر کی طرف کون توجہ کرتا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی الحنفیؒ المتوفیٰ ۱۰۵۲ھ اور بعض دیگر حضرات نے اپنے طور پر علم حدیث کی ترویج و اشاعت کی، لیکن سب سے پہلے باقاعدہ اور منظم طور پر علم حدیث و تفسیر کی اشاعت کا نظم مدرسہ رحیمیہ دہلی سے حضرت شاہ ولی اللہؒ کی رہنمائی میں کیا گیا اور باقاعدہ صحاح ستہ اور حدیث کی دیگر مرکزی کتب خصوصاً‌ موطا امام مالکؒ کی تعلیم دی جانے لگی جس سے تمام برصغیر کے علماء و عوام نے استفادہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج برصغیر پاک و ہند اور دیگر قریب کے دیار میں حدیث کا سبق پڑھنے والے طالب علم کی سند حدیث بحیثیت استاد حضرت شاہ ولی اللہؒ تک لازما پہنچ جاتی ہے۔

مجدد

ہر صدی میں کوئی نہ کوئی مجدد دین پیدا ہوا ہے جس نے امتِ محمدیہؐ کے انسانوں کی رہبری کی ہے اور اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کے لیے سر توڑ کوششیں کی ہیں جس کی پاداش میں انہیں سخت سے سخت مشقتیں اور صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑی ہیں اور قید و بند سے دوچار ہونا پڑا ہے اور طرح طرح کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو اس لحاظ سے شاہ صاحبؒ بارہویں صدی ہجری کے مجدد اور حکیم الامت ہیں۔ 

حکیم الامت کی تعریف حکماء یہ کرتے ہیں:  ’’من اتقن العلم والعمل بقدر الطاقۃ البشریۃ‘‘  جو بشری طاقت کے مطابق علم اور عمل میں کامل ہو۔ شاہ صاحبؒ اس کے صحیح مصداق تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اسلام کی سربلندی کی خاطر آخر دم تک سامراج کے مقابلہ میں سینہ سپر رہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کے نام لیوا انہی کی قربانیوں اور کوششوں کی بدولت آج دم مار رہے ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے جو گرانقدر تجدیدی کارنامے سر انجام دیے ہیں وہ رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے اپنی ذات کے بارے میں اپنی مایہ ناز کتاب تفہیمات الہٰیہ ص ۱۱۰،  ۱۱۲ جلد ا میں ’’وصی‘‘ اور ’’مجدد‘‘ ہونے کا اشارہ فرمایا ہے۔

تدریس

شاہ صاحبؒ نے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اصول تفسیر، اصول حدیث، منطق و کلام، سلوک و تصوف، طب و فلسفہ، لغت و معانی، ہندسہ و حساب، علم الحقائق و فن خواص اسماء و آیات اور صرف و نحو غرضیکہ ہر فن کی بیشتر اور مرکزی کتابیں سبقاً‌ سبقاً‌ پڑھیں اور پھر ان میں مکمل دسترس حاصل کی۔ شاہ صاحبؒ کی عمر کے سترہویں سال شاہ عبدالرحیمؒ نے ۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ بمطابق ۱۷۱۸ء میں انتقال فرمایا۔ شاہ عبد الرحیم نے مرض الموت کے دوران شاہ صاحبؒ کو بیعت و ارشاد کی اجازت بھی دی اور شاہ صاحبؒ پر مکمل اطمینان اور بھروسہ کرتے ہوئے دو بار یہ جملہ ارشاد فرمایا:  ’’یدہ کیدی‘‘   (اس کا ہاتھ میرے ہاتھ کی طرح ہے)۔  والد کی وفات کے بعد شاہ صاحبؒ نے کم و بیش بارہ سال تک مدرسہ رحیمیہ کی مسند تدریس کو رونق بخشی اور طلباء و عوام کو علوم و فنون سے روشناس کرایا۔

حج

شاہ صاحبؒ ۱۱۴۳ھ بمطابق ۱۷۳۱ء کو حج و زیارت سے مشرف ہوئے اور تقریباً‌ دو سال حجاز مقدس میں رہے اور رجب ۱۱۴۵ھ بمطابق ۱۷۳۲ء کو اپنے وطن دہلی واپس ہوئے (الجزء اللطیف)۔ شاہ صاحبؒ نے حج سے واپس آکر دہلی میں تدریس و تبلیغ، اصلاح و تذکیر کے فرائض تقریباً‌ تہائی صدی انجام دیے۔

وفات

شاہ صاحبؒ کی وفات ۲۹ محرم ۱۱۷۶ھ بمطابق ۱۷۶۲ء کو اکسٹھ سال تین ماہ پچیس دن کی عمر میں ہوئی اور دہلی میں مہندیوں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔

تکمیلِ تعلیم

شاہ صاحبؒ نے ظاہری علوم مثلاً‌ تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد، کلام، منطق، وغیرہ کی تعلیم تو اپنے والد محترم سے پائی تھی جنہوں نے اکثر کتب اپنے بھائی ابوالرضا محمد المتوفیٰ ۱۰۱۱ھ سے اور کچھ اعلیٰ کتابیں میر زاہد ابن قاضی اسلم ہروی المتوفیٰ ۱۱۱۱ھ  سے پڑھی تھیں۔ میر زاہد معقولات کے متبحر عالم تھے لیکن فقہ میں ان کو بہت کم دسترس تھی۔ شاہ صاحبؒ نے علم حدیث میں سے مشکوٰۃ المصابیح، شمائل النبیؐ اور کچھ حصہ بخاری شریف کا اس دور کے امام محمد افضل المعروف بہ حاجی سیالکوٹیؒ سے پڑھا۔ 

اس کے بعد شاہ صاحبؒ ۱۱۴۳ھ کو حدیث کی تکمیل کے سلسلہ میں حرمین شریفین گئے اور وہاں زیادہ تر مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے اور شیخ ابو الطاہر الکروی المدنی الشافعیؒ المتوفیٰ ۱۱۴۵ھ سے حدیث کی تعلیم و اجازت حاصل کی۔ شاہ صاحبؒ نے حجاز کے بیشتر محدثین کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کیا اور حدیث کی اجازت حاصل کی لیکن شاہ صاحبؒ کا سب سے بڑا استاد جس سے شاہ صاحبؒ کو معنوی مناسبت پیدا ہوئی، وہ شیخ ابو الطاہرؒ ہی تھے۔ شیخ ابو الطاہرؒ بھی شاہ صاحبؒ کی تبحر علمی، ذکاوت و شرافت کے معترف تھے۔ چنانچہ وہ فرماتے تھے: 

بسند عنی اللفظ وکنت اصحح المعنی منہ (الیانع الجنی) 
’’وہ (شاہ صاحبؒ) ہم سے لفظ کی سند لیتا ہے اور ہم اس سے معنی کی تصحیح کرتے ہیں۔‘‘

شیخ ابو الطاہرؒ نے اپنے والد شیخ ابراہیم کر ویؒ المتوفیٰ ۱۰۱۱ھ سے علمی استفادہ کیا جو کہ شافعی المسلک تھے اور شاہ صاحبؒ زیادہ تر اپنے والد شاہ عبدالرحیمؒ سے مستفید ہوئے جو کہ حنفی المسلک تھے۔ حسن اتفاق سے شیخ ابراہیم کروئیؒ اور شاہ عبدالرحیمؒ کی ذہنیت متقارب تھی کیونکہ دونوں کا سلسلہ تلمذ جلال الدین دوانی المتوفیٰ ۹۲۸ھ تک پہنچتا ہے۔ 

بنا بریں شاہ صاحبؒ کو شیخ ابو الطاہرؒ مدنی  کی صحبت بہت موافق آئی۔ اسی لیے شاہ صاحبؒ شیخ ابو الطاہرؒ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شیخ ابو الطاہرؒ سلف صالحین کے تمام اوصاف مثلاً‌ تقویٰ، عبادت، علمی شغف اور بحث و تمحیص میں انصاف پسندی سے متصف  تھے۔ جب آپ سے کسی مسئلہ کے بارہ میں رجوع کیا جاتا تو جب تک پورا غور و فکر اور کتابوں سے اس کی تحقیق نہ کر لیتے بیان نہ فرماتے۔ آپ اس قدر رقیق القلب تھے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی حدیث پڑھتے تو آنکھیں پر نم ہو جاتیں۔ لباس وغیرہ میں کوئی تکلف نہ برتتے، اپنے تلامذہ اور خدام سے بھی تواضع سے پیش آتے۔

تصانیف

شاہ صاحبؒ نے اپنے ۲۸ سالہ تصنیفی دور میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد پچاس سے بھی بڑھی ہوئی ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 

فتح الرحمٰن فی ترجمۃ  القرآن (فارسی) 

الفوز الکبیر (فارسی)

فتح الخبیر (عربی) 

فی قوانین الترجمہ (فارسی) 

تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء (عربی) 

المسویٰ شرح موطا (عربی)

مصفی شرح موطا (فارسی) 

اربعون حدیثاً‌ مسلسلۃ بلا شراف فی غالب سندہا (عربی) 

الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین (عربی) 

النوادر من احادیث سید الاوئل والاواخر (عربی) 

الفضل المبین فی المسلسل من حدیث النبی الامین (عربی)

الارشاد الی مہمات علم الاسناد (عربی)

تراجم البخاری (عربی) 

شرح تراجم بعض ابواب البخاری (عربی)

انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ واسانید وارثی رسول اللہ (فارسی) 

حجۃ اللہ البالغہ (عربی) 

البدور البازغہ (عربی)

انصاف فی بیان سبب الاختلاف (عربی) 

عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید (عربی) 

السر المکتوم فی اسباب تدوین العلوم (عربی) 

اتحاف النبیہ فی ما یحتاج الیہ المحدث والفقیہ (عربی و فارسی)

قرۃ العین فی تفضیل الشیخین (فارسی)

المقالہ الوضحیہ فی النصیحہ والوصیہ (فارسی) 

حسن العقیدہ (عربی، جس کا اردو ترجمہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے کیا ہے اور ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے اسے شائع کیا ہے) 

المقدمۃ السنیہ (عربی) 

فتح الودود فی معرفۃ الجنود (عربی) 

مسلسلات (عربی) 

رسالہ عقائد بصورت وصیت نامہ (فارسی)  جس کا اردو منظوم ترجمہ سعادت یار خان نے تصنیف رنگین کی صورت میں کیا ہے۔

التفہیمات الالٰہیہ (عربی و فارسی) 

فیوض الحرمین (عربی) 

القول الجمیل (عربی) 

ہمعات (فارسی) 

سطعات (فارسی) 

لمحات (عربی) 

لمعات (فارسی) 

الطاف القدس (فارسی، جس کا اردو ترجمہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے کیا ہے اور ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے اسے شائع کیا ہے)

ہوا مع شرح حزب البحر (فارسی)

الخیرا لکثیر (عربی)

شفاء القلوب (فارسی)

کشف العین فی شرح الرباعیتین (فارسی) 

زہراوین (سورہ بقرہ و آل عمران کی تفسیر) 

فیصلہ وحدۃ الوجود والشہود (مکتوب مدنی عربی، جسے ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے شاہ رفیع الدینؒ کی کتاب دمغ الباطل کے ساتھ شائع کیا ہے)

سرور المحزون (فارسی) 

ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (فارسی)

انفاس العارفین (فارسی) 

امداد فی ماثر الاجداد (فارسی) 

النبذۃ الابریزیہ فی اللطیفہ العزیزیہ (فارسی) 

العطیہ الصمدیہ فی الانفاس المحمدیہ (فارسی) 

انسان العین فی مشائخ الحرمین (فارسی)

الجزء اللطیف فی ترجمۃ العبد الضعیف (فارسی) 

مکتوبات مع مناقب ابی عبد اللہ و فضیلت ابن تیمیہ (فارسی)

مکتوب المعارف معہ ضمیمہ مکتوب ثلاثہ (فارسی) 

مکتوبات فارسی مشمولہ کلمات طیبات (از ابو الخیر ابن احمد مراد آبادی)

مکتوبات عربی مشمولہ حیات ولی (از حافظ رحیم بخش دہلویؒ) 

شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات (از خلیق احمد نظامی)

اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم (عربی) 

نظم صرف میر (فارسی، جسے ادارہ نشر واشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے ’’صرف ولی اللہی‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے) 

دیوان اشعار (عربی،  جمع و ترتیب شاہ عبدالعزیزؒ و شاہ رفیع الدین ؒ)

اس کے علاوہ رسالہ دانش مندی (فارسی، اس رسالہ کو بھی ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے تکمیل الاذہان از شاہ رفیع الدینؒ کے ساتھ شائع کیا ہے) وغیرہ کتب شاہ صاحبؒ کی یادگار اور شہرہ آفاق کی حامل ہیں۔ اور بعض تذکرہ نگاروں نے شاہ صاحبؒ کی کتب کے سلسلہ میں ان کی کتاب ذکر المیمون اور رسالہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ 

ان کتب کے علاوہ بعض کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب ہیں جو حقیقت میں شاہ صاحبؒ کی تصانیف نہیں ہیں بلکہ بعض فرقوں نے اپنے مفاد کی خاطر وہ کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب کی ہیں جیسا کہ قرۃ العین فی ابطال شہادۃ الحسین، جنت العالیہ فی مناقب المعاویہ، تحفہ الموحدین، بلاغ المبین، ، قول سدید، اشارہ مستمرہ، رسائل اوائل اور فیما یجب حفظہ للناظر وغیرہ کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب ہیں اور ان میں سے اکثر کتب کو غیر مقلدین نے شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب کیا ہے۔

قاتلانہ حملہ

شاہ ولی اللہؒ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے گیارہ سو برس کے بعد سر زمین ہندوستان میں قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ لیکن جب اس کی اشاعت ہوئی تو تہلکہ مچ گیا۔ کٹ ملاؤں نے سمجھ لیا کہ ہماری روزی کی عمارت ڈھا دی گئی۔ اب جہلاء کبھی قابو میں نہیں آئیں گے اور ہر بات پر بحث کرنے کو تیار ہو جایا کریں گے تو وہ کفر کے فتویٰ دینے کے بعد شاہ صاحبؒ کے جانی دشمن ہو گئے اور قتل کرنے پر تل گئے۔ ان کے اشارے پر بدمعاش شاہ صاحبؒ کی تاک میں رہنے لگے۔ اس سازش کا آپ کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 

ایک روز شاہ صاحبؒ عصر کی نماز مسجد فتح پوری میں پڑھ رہے تھے۔ ابھی آپ نے سلام پھیرا ہی تھا کہ دروازے پر شور و غل کی آوازیں آنے لگیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آوارہ گردوں کی ایک جماعت حملہ آور ہونا چاہتی ہے۔  شاہ صاحب کے ساتھ فقط چند خدام تھے اور یہ جماعت بڑی تعداد میں تھی۔ شاہ صاحبؒ نے چاہا کہ کھاری باؤلی والے دروازے سے نکل جائیں مگر انہوں نے اس طرف آکر گھیر لیا۔ شاہ صاحبؒ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ نے حملہ آوروں سے دریافت کیا کہ آخر آپ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تو نے قرآن کا ترجمہ کر کے عوام کی نگاہ میں ہماری وقعت برباد کر دی۔ اگر یہی حالت رہی تو ہماری آئندہ نسلوں کو کوئی ذرہ برابر وقعت نہیں دے گا۔ آپ نے نہ صرف ہمیں برباد کیا ہے بلکہ ہماری اولاد کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی عام نعمت کو چند افراد یا ان کی اولاد کے لیے خاص کر دیا جائے؟ کچھ رد و قدح رہی۔ قریب تھا کہ وہ کوئی برا اقدام کریں کہ شاہ صاحبؒ کے خدام نے تلواریں سونت لیں اور وہ اوباش جو اُن ملاؤں کے ساتھ تھے، تلواریں دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور آپ سلامت گھر پہنچ گئے۔ (حیاۃ ولی)

شاہ صاحبؒ نے جب قرآن کا ترجمہ کیا تو شیعہ حکام کو بھی یہ بات ناگوار گزری کہ عوام قرآن سے واقف ہوں۔ دہلی میں (متعصب شیعہ) نجف علی خان کا تسلط تھا جس نے شاہ ولی اللہؒ کے پہنچے اتروا کر ہاتھ بیکار کر دیے تھے تاکہ وہ کوئی کتاب یا مضمون نہ تحریر کر سکیں اور اسی نے مرزا مظہر جان جاناںؒ کو شہید کروا دیا تھا اور شاہ عبد العزیزؒ اور شاہ رفیع الدینؒ کو اپنی قلمرو سے نکال دیا تھا۔

شاہ صاحبؒ کی سیاسی بصیرت، احمد شاہ ابدالی کو حملہ کی دعوت

جب ہندوستان پر طوائف الملوکی نے اس کا شیرازہ بکھیر دیا تھا تو شاہ صاحبؒ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی تھی اور اس کار خیر میں ہاتھ بٹانے کے لیے دیگر بااثر امراء سے بھی خط و کتابت کی تھی۔ احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی آخری لڑائی میں مرہٹوں کے دانت کھٹے کر دیے تھے اور ان کی ساری قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیا تھا۔ شاہ صاحبؒ نے احمد شاہ ابدالی کو لکھا کہ:

’’عصر حاضر میں آپ سے زیادہ طاقت ور اور پر شوکت کوئی اور بادشاہ موجود نہیں۔ آپ پر ہندوستان کی جانب قصد کرنا واجب ہے تاکہ مرہٹوں کی قوت ٹوٹے اور ناتواں مسلمان سکھ کا سانس لیں‘‘ (شاہ ولی اللہ اور ان کے سیاسی مکتوبات)

اور ایک دوسری جگہ شاہ صاحبؒ احمد شاہ ابدالی کو تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’میں اس سیہ کاری سے خدا کے حضور پناہ مانگتا ہوں جو نادر شاہ سے سرزد ہوئی۔ وہ مسلمانوں کا صفایا کر کے مرہٹوں اور جانوں کو زندہ سلامت چھوڑ کر لوٹ مار کر کے چلتے بنے اور نتیجہ میں قوت کفار کو فروغ حاصل ہوا۔ اسلامی لشکر زیر و زبر ہوا اور سلطنت دہلی بازیچہ اطفال بن کر رہ گئی۔‘‘ (شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات)

شاہ صاحبؒ کا مسلک

شاہ صاحبؒ نے خود کو حنفی بتایا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی تصانیف سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

ا۔ ’’من جملہ ان کے ایک بڑا مسئلہ تقلید اور عدم تقلید کا ہے۔ اس امت کے تمام وہ علماء جن کو قابل استناد سمجھا جا سکتا ہے اس پر متفق ہیں کہ یہ چار مذہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)  جو آج کل اسلامی دنیا میں مروج ہیں اور ہر ایک مذہب کے مسائل و احکام مدون صورت میں محفوظ اور موجود ہیں، ان کی تقلید کرنا جائز ہے۔ اس تقلید میں کئی ایک مصالح ہیں خصوصاً‌ آج کے زمانے میں جبکہ ہمتیں بہت ہی پست ہو گئی ہیں، لوگوں پر ہوائے نفسانی کا بھوت مسلط ہے اور ہر ایک اپنی ہی سمجھ اور اپنی ہی رائے پر نازاں ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ)

۲۔ ’’جاننا چاہیے کہ ان چاروں مذہبوں کے اختیار کرنے میں ایک بڑی مصلحت ہے اور رو گردانی کرنے میں بڑا فساد ہے۔‘‘ (عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید)۔

۳۔ ’’مجھ کو پہچان کرا دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حنفی مذہب میں ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔ وہ بہت موافق ہے اس طریقہ سنت سے جو تنقیح ہوا زمانہ بخاری اور اس کے ساتھ والوں کے۔‘‘ (فیوض الحرمین)۔

۴۔ ’’پھر کھلا ایک نمونہ اس سے ظاہر ہوئی کیفیت و تطبیق سنت کے ساتھ فقہ حنفیہ کے اخذ کرنے سے ایک کے قول ثلٰثہ  یعنی امام اعظم (ابو حنیفہؒ) اور صاحبین (ابو یوسفؒ و محمدؒ) سے اور کشف ہوئی تخصیص ان کی عمومات کی اور ان کے مقاصد کا وقوف اور اختصار۔‘‘ ( فیوض الحرمین)

۵۔ ’’جب ایک عامی انسان ہندوستان اور ماوراء النہر میں رہنے والا ہو جہاں کوئی عالم شافعی اور مالکی اور حنبلی اور ان کی کتب مذہبیہ میسر نہ آ سکتی ہوں تو اس پر واجب ہے کہ صرف حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کی تقلید کرے اور ان کے مذہب سے علیحدہ ہونا اس کے لیے حرام ہے کیونکہ وہ ایک وقت شریعت کی رسی ہی اپنی گردن سے اتار کر مہمل و بے کار رہ جائے گا۔‘‘   (الانصاف فی بیان سبب الاختلاف)

۶۔ ایک رسالہ شاہ صاحبؒ نے اپنی آل و اولاد کے لیے بطور وصیت فارسی نثر میں لکھا تھا جس کا منظوم ترجمہ سعادت یار خان رنگین نے اپنی کتاب ’’تصنیف رنگین‘‘ کی صورت میں کیا ہے جس کے باب ’’بیان رسومات خلق‘‘ میں رنگین صاحبؒ شاہ صاحبؒ کے مسلک کے بارے میں شاہ صاحبؒ کی عبارت کا منظوم ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

میرا مذہب ہے مذہب حنفی 
سب پہ روشن ہے یہ جلی و خفی
چاروں مذہب کو جانتا ہوں حق
لیکن بھاتا ہے مجھ کو اس کا نسق

شاہ صاحبؒ کے وطن ہندوستان میں چونکہ فقہ حنفی کو بے حد فروغ حاصل تھا اور شاہ صاحبؒ کے والد اور چچا بھی حنفی مسلک پر کاربند تھے اور ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں فقہ حنفی نے اس قدر ترقی، وسعت اور ہر دلعزیزی حاصل کر لی تھی گویا کہ یہ ان کا قومی مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کو بھی بذریعہ الہام یہ بات بتائی گئی کہ وہ فروعات (فقہی مسلک) میں اپنی قوم کی مخالفت نہ کریں۔ (فیوض الحرمین)

شاہ صاحبؒ چونکہ مجتہد منتسب تھے (مجتہد منتسب اسے کہتے ہیں جو اصول میں کسی کا تابع ہو اور فروع میں خود مختار ہو) اس لیے انہوں نے بعض مسائل میں ترجیح دی، جس کو نہ سمجھتے ہوئے بعض نافہم افراد نے ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی حالانکہ ایسی ترجیحات تو توضیحات، تشریحات اور تفہیمات کے سلسلہ میں ہوتی ہیں نہ کہ عقیدہ و مسلک میں۔ شاہ صاحبؒ کا عقیدہ وہی ہے جو اکابر و اسلاف کا ہے۔ اس بارے میں شاہ صاحبؒ نے خود تصریح فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’آگاہ رہو میں بری اور بیزار ہوں ہر ایسی بات سے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی کسی آیت کے خلاف ہو یا سنت قائمہ کے خلاف ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا ان زمانوں کے علماء کے اجماع اور متفق علیہ خیالات کے خلاف ہو جن کے بارے میں بہتری کی خبر دی گئی ہے اور مسلمانوں کی سواد اعظم یا جس کو جمہور مجتہدین نے اختیار کیا ہو۔ اگر اس قسم کی کوئی چیز میری تصانیف و تحریرات وغیرہ میں آگئی ہو تو وہ خطاء ہی قرار دی جائے گی۔ اللہ رحم فرمائے اس پر جو ہم کو ہماری اس کوتاہی سے بیدار کرے گا۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ص ۹)

ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا معیار ہے جس کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور گمراہیوں سے بچنے کا یہی طریق ہے۔ اسی اصول پر خود شاہ صاحبؒ کے بعض شذوذ کو ترک کیا گیا ہے اور بڑے بڑے علماء مجہتدین، اصحاب بصیرت کی آراء شاذہ کو رد کر دیا گیا ہے۔ امام ابن ہمامؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام قاسم نانوتویؒ اور گزشتہ ادوار کے تمام عبقری اور نابغہ حضرات کی آراء شازہ کو مسلک و مذہب نہیں بنایا گیا۔ ان آراء سے صرف علمی تحقیقی طور پر استفادہ کیا گیا ہے۔

شاہ صاحبؒ کا پروگرام

۱۔ ’’وسئلونی ماذا حکم اللہ فی ھذہ الساعۃ قلت فک کل نظام‘‘  (فیوض الحرمین) اور لوگوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے۔ میں نے جواب دیا تمام نظاموں کو توڑ دیا جائے۔ یہ شاہ صاحبؒ کا ایک تاریخی خواب ہے۔

۲۔ اس کے بعد سب سے پہلے فکر کو پاک کرنا ضروری ہے یعنی ایمان اور توحید کا پاکیزہ عقیدہ اختیار کرنا، رسالت اور قیامت پر یقین اور اسی عقیدہ پر مسکین نوازی کی بنیاد قائم کرنا۔

۳۔ تعلیم کو جبری اور لازمی بنانا۔

۴۔ ارتکاز دولت (concentration of wealth) کو روکنا۔

۵۔ تعیش کے اسباب کو مٹانا یا کم سے کم کرنا۔

۶۔ تقشف (poverty) اور رفاہیت بالغہ (luxury) کو ختم کرنا اور حالت متوسط کا قیام۔ خوراک، رہائش، لباس، صحت، تعلیم کے لیے ایک متوسط حالت قائم کرنا جس میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو سکیں۔

۷۔ مال کے جمع اور خرچ کے قانون (حلال و حرام) کی پابندی کرنا۔ 

۸۔ تعیش والے پیشے اور حرام پیشوں کو ختم کرنا اور ممنوع قرار دینا اور تمام جائز اور مفید پیشوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور پیشوں کی صحیح تقسیم کرنا۔

۹۔ اپنی جائز ضروریات زندگی سے زائد اثاثہ، جائیداد اور مال کو رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کرنے کے لیے جماعت کے نام منتقل کرنا۔

۱۰۔ جدید دنیا نے جن چیزوں میں مادی لحاظ سے ترقی کی ہے، اپنے ماحول اور حالات کے مطابق ان سے استفادہ کرنا۔

۱ا۔ مسلمانوں میں جب تک جہاد کا جذبہ رہے گا وہ ہر میدان میں غالب و فاتح رہیں گے۔ (حجۃ اللہ البالغہ )

امام ولی اللہؒ کے پیش کردہ نظام اجتماعیت و اقتصادیات، معاشیات یا نظام اخلاق و سیاسیات سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ شاہ صاحبؒ کے تمام فلسفہ کو پیش نظر رکھا جائے۔ صرف بعض چیزوں کو اختیار کر لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ شاہ صاحبؒ نے تمام انبیاء کے آسمانی شرائع کو بالعموم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابتہ اور اجتماعیات و سیاسیات میں خلفاء راشدین کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور اس پورے نظام کو شاہ صاحبؒ نے اپنی مایہ ناز کتب ازالۃ الخفاء، الخیر الکثیر، بدور بازغہ میں اور سب سے مکمل طریق پر تمام نظام کو حجۃ اللہ البالغہ میں پیش کیا ہے۔

مغربی جمہوریت

بعض حضرات نے لمبی تاویلات کے ذریعہ کھینچ تان کر شاہ صاحبؒ کی تحریروں سے مغربی جمہوریت مستنبط کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے قرآن و سنت و صحابہ کرامؓ و محدثین کے فرامین و ارشادات کے مطابق جو کامل نظام پیش کیا ہے، یہ انسانی زندگی کے ہر ہر شعبہ پر محیط ہے خواہ معاشرتی ہو یا اقتصادی، معاشی ہو یا سیاسی، اخلاقی ہو یا انقلابی، انفرادی ہو یا اجتماعی، غرضیکہ ہر پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ 

کارل مارکس کا نظام جسے غریب نوازی اور مسکین پروری کا نظام خیال کیا جاتا ہے اور جو اپنی ناکامی کی منزلوں کو چھو چکا ہے جس کا عینی ثبوت روس میں اس کی ریاستوں کا آزاد ہونا ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ صاحبؒ کا نظام اس نظام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور یہ مغربی جمہوری نظام ہے اور شاہ صاحبؒ اس کے داعی ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ کارل مارکس مئی ۱۸۱۸ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۸۳ء میں فوت ہوا۔ اس کا اشتراکی مینی فیسٹو و (socialism of manifesto) ۱۸۴۷ء میں شائع ہوا اور اس کی قائم کردہ پہلی انٹرنیشنل کانفرنس کا اجلاس ۱۸۶۴ء میں منعقد ہوا جس پر اس کے پروگرام کا پہلی مرتبہ تعارف کرایا گیا۔ اس حساب سے شاہ صاحبؒ پہلی انٹرنیشنل کانفرنس سے ایک سو دو سال پیشتر اور مارکس کے اعلان اشتراکیت کی اشاعت سے پچاسی برس قبل وصال فرما چکے تھے پھر کیونکر شاہ صاحبؒ کا پیش کردہ نظام اشتراکی نظام سے مطابقت رکھ سکتا ہے اور شاہ صاحبؒ اس کے داعی ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالی ہم سب کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے، آمین۔

(جاری)

مولانا واضح رشید ندویؒ کی یاد میں

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مولانا واضح رشید ندوی خاکسار کے محبوب استاد رہے۔ ان کے اوپر برادرم عثمان فاروق کا لکھا ایک مضمون پڑھ کر شدت سے ان کی یاد آئی اور طبیعت نے تقاضا کیا کہ ان کے اوپر چند لائنیں ضرور لکھی جائیں۔ جب یہ چند سطور لکھنے کے لیے بیٹھا ہوں تو ان کی وفات پر تقریباً آٹھ سال گزر چکے ہیں اور ان کی یادیں ذہن سے محو سی ہونے لگی ہیں۔

استاد گرامی حسنی خاندان کے شریف و نجیب چشم و چراغ تھے۔ ان کے سوانح پر کئی مضامین موجود ہیں۔ الرائد اور تعمیرِ حیات کے خاص نمبرات میں بھی غالباً ان کو یاد کیا گیا ہے۔ مگر ان کی بعض خاص ادائیں اور صفاتِ حمیدہ ایسی ہیں جن کا بار بار ذکر ہونا چاہیے جن سے، ایک مثالی استاد کیسا ہوتا ہے، یہ معلوم ہوتا ہے۔ ذہن کی اسکرین پر ان کی شبیہ تو موجود ہے مگر اب ان کی یاد دھندلانے لگی ہے اس لیے واجب ہے کہ اس کو تازہ کر لیا جائے تاکہ ’رفتید ولے نہ از دلے ما‘ کی مصداق بنے۔

استاد گرامی ندوۃ العلماء کی پہچان الرائد کے مدیر اعلیٰ اور البعث الاسلامی کے نائب مدیر تھے۔ جو طلبہ کسی موضوع پر کچھ لکھ کر الرائد میں چھاپنے کے لیے ان کو دیتے، وہ بڑی محنت سے اس کی نوک پلک درست کر کے اُسے شایع کر دیتے، اِس سے طلبہ کی بڑی حوصلہ افزائی ہوتی۔ استاد گرامی بڑے خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے، طلبہ جلدی سے ان سے بے تکلف نہیں ہو پاتے تھے لیکن اگر کوئی ہمت کر کے ان کی خدمت میں پہنچ جاتا تو بڑی بشاشت سے گفتگو فرماتے اور ہر ممکن حوصلہ افزائی فرماتے۔ اگر کسی طالبِ علم میں شوق و ذوق اور صلاحیت کے جوہر دیکھ لیتے تو اُس کو ہر ممکن طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کرتے۔ طلبہ کو ان کے ذوق کے لحاظ سے مطالعہ کی نصیحت فرماتے اور کس ادیب کو پڑھا جائے اور کیوں پڑھا جائے اس کی بھی رہنمائی کرتے۔

میں ندوۃ العلماء میں کلیۃ الادب کا طالب علم تھا، جس کے طلبہ دوسرے سال میں المعہد العالی للدعوۃ کے بھی طالب علم ہو جاتے تھے اور ان کی کلاس المعہد العالی میں ہی ہوتی تھی۔ خالی گھنٹوں میں ہم لوگ اس کی ثروت مند لائبریری سے استفادہ کرتے جس میں ادب، تاریخِ ادب، تاریخ، ثقافت اور سیرت و سوانح ہر طرح کی کتابیں تھیں اور بہت سارے عربی رسائل آتے تھے۔ وہاں ایک صاحب بیٹھتے تھے جو ہر وقت تیوری چڑھائے رہتے اور بڑے رِزَرو (Reserve) رہتے تھے، وہ الرائد میں خوب چھپتے تھے، ساتھیوں نے بتایا کہ یہ حضرت، الرائد میں مولانا واضح رشید صاحب کے معاونِ خاص ہیں۔ میں نے کسی اردو مضمون کا عربی ترجمہ کر کے ان کی خدمت میں پیش کیا کہ حضرت مہربانی فرما کر اس کی تصیح کردیجئے، انہوں نے بڑی بے رخی و بے نیازی سے معذرت کر لی۔ ندوہ کے ہی ایک اور استاذ تھے اور وہ بھی الرائد میں بہت چھپتے تھے، ان سے گزارش کی، انہوں نے بھی ٹکا سا جواب دیا۔ یہ لکھنوی مزاج کا خاصہ ہے، یہاں کوئی کسی کے کام نہیں آتا بلکہ ؏ ’’جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے‘‘ پر عمل ہوتا ہے۔

شروع میں تو خاصا حیران پریشان ہوا کہ کوئی بھی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کچھ دن ایسے ہی گومگو میں گذرے۔ آخر ہمت کر کے ایک دن خود محنت سے ایک اردو مضمون کا عربی میں ترجمہ کیا، اُسے صاف کیا اور الرائد کے دفتر میں پہنچ گیا۔ مولانا واضح رشید صاحب کی ڈیسک تک جانے سے پہلے شروع ہی میں بیٹھنے والے ان کے معاون سے بات کرنی ہوتی تھی، اُن صاحب کو مضمون لے جا کر دیا کہ مولانا کو دکھانا ہے، انہوں نے بے دلی سے رکھ لیا کہ دے دوں گا۔ میں واپس ہونے لگا کہ اچانک مولانا اپنی میز سے اٹھ کر کسی کام سے باہر کی طرف نکلے، پاس سے گذرے تو میں نے سلام کیا، بشاشت سے سلام کا جواب دے کر پوچھا کیسے آئے؟ میں نے ڈرتے ڈرتے مدعا بیان کیا تو معاون کے ہاتھ سے مضمون لے لیا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔

اپنی عربی پر ندوۃ العلماء آنے سے پہلے کچھ ناز سا تھا اور جامعہ اسلامیہ سنابل (دہلی) اور جامعۃ الفلاح (اعظم گڑھ) دونوں جگہ مجھے عربی کا سب سے اچھا طالب ِعلم سمجھا جاتا تھا۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ والد ماجد رحمہ اللہ نے ابتدائی عربی تعلیم خود دی تھی اور ایک سال میں ہی انہوں نے صرف و نحو، ادب و بلاغت اور منطق و فقہ و حدیث و تفسیر میں یوں تیار کر دیا تھا کہ بڑی خود اعتمادی آگئی تھی۔ استادوں کے سامنے عبارت کی خواندگی میں ہی کرتا تھا۔ مگر ندوۃ العلماء آنے کے بعد اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کرنے لگا تھا کیونکہ ایک طرف ندوۃ العلماء خاص لکھنوئی تہذیب و ثقافت میں ڈھلا ہوا تھا جہاں مشہور تھا کہ رکشہ والے بھی، اگر کوئی ان کے درمیان نزاع ہو جائے تو وہ، آپ اور جناب کہہ کر ہی لڑائی کرتے تھے۔ جبکہ میں جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ کے خاصے بدویانہ ماحول سے اٹھ کر آیا تھا۔ اس پر مستزاد کہ ندوہ میں تیز طرار عربی بولنے والوں اور عربی لکھنے والے لڑکوں کی کمی نہ تھی جو الرائد اور البعث الاسلامی میں چھپتے رہتے تھے۔

اس لیے الرائد کے مدیر اعلیٰ کو مضمون تو دے دیا تھا مگر کچھ زیادہ امید نہ تھی۔ مگر تین چار دن بعد میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ الرائد میں میرا مضمون آگیا ہے، استاد محترم نے اس کی نوک پلک درست کر کے اس کو شایع کر دیا تھا۔ پھر تو ہمت بندھ گئی اور ندوہ کے دوسرے سال میں الرائد میں راقم کے کئی مضامین اور ترجمات شایع ہوئے۔ یاد رہے کہ پہلا سال ہم نے لکھنؤ میں خوب آوارہ گردی میں ضایع کیا تھا، تاہم اس وقت اتنا شعور نہ تھا کہ ان مضامین کی کٹنگ یا زیراکس کرا کر رکھ لیتا۔ چنانچہ ان میں سے چند ہی مضامین کے تراشے میرے پاس محفوظ رہ سکے۔ بہرحال استاد گرامی کی شفقت اور حوصلہ افزائی نے بہت کچھ دیا۔ اور عربی زبان میں جو کچھ ٹوٹا پھوٹا لکھنا یا ترجمہ کرنا مجھے آتا ہے اس کا بڑا کریڈٹ انہیں کو جاتا ہے۔

مولانا واضح رشید صاحب نے دو سال ہمیں پڑھایا اور ادب و انشاء پڑھائی اور اس گھنٹے میں وہ نئے نئے موضوعات پر لکھواتے یا ترجمہ کرواتے تھے، آخر میں عربی کے مصادر ادب پر لیکچر دیے۔ ادب کے سلسلہ میں وہ خاصے لبرل واقع ہوئے تھے چنانچہ وہ ہم طلبہ کو طٰہٰ حسین کو پڑھنے پر ابھارتے خاص طور پر اس کی آپ بیتی الایام۔ جبکہ ندوہ میں طٰہٰ حسین کو بالعموم اس کی آزاد فکری کی وجہ سے پسند نہ کیا جاتا تھا۔ استاد گرامی سعید الرحمٰن الاعظمی طٰہٰ حسین کو اعمی البصر والبصیرۃ (طہ حسین نابینا تھے اس لیے اس تلمیح میں جو شدید ہجو ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں) کہا کرتے تھے اور طہ حسین پر علی طنطاوی اور سید قطب کو ترجیح دیتے۔ یاد رہے کہ سید قطب کی کتاب التصویر الفنی فی القرآن بھی ندوہ کے نصاب میں (بطور مطالعہ) شامل تھی، اسی طرح ادبی نظریات اور نقدِ ادب میں علی طنطاوی کی کتاب بھی نصاب میں تھی جس کو پڑھاتے بھی دکتور اعظمی ہی تھے۔

بعد میں ہم نے طہ حسین کی نہ صرف الایام پڑھی بلکہ حدیث الاربعاء، علی ہامش السیرۃ اور الفتنۃ الکبری (عثمان اور علی و بنوہ) سب پڑھیں۔ طہ حسین میں بے باکی، ذہانت اور تنقیدی صلاحیت تو ہے ہی، بات سے بات نکالنا، ایک جملہ کو کئی فقروں میں تقسیم کر کے اپنی بات کہنا اس کا خاصا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بیسویں صدی میں عرب دنیا نے طہ حسین سے بڑا نثر نگار اور جادو نگار ادیب پیدا نہیں کیا۔

یہ ذکر کرنا یہاں بے محل نہ ہو گا کہ استاذ گرامی قدر مولانا سعید الرحمٰن الاعظمی مدظلہ العالی (مدیر اعلی البعث الاسلامی) کا التفات و توجہ بھی خاکسار کو تھوڑی بہت ملی۔ مولانا بہت بارعب اور پُرہیبت استاد تھے۔ کلاس میں سب لڑکے ان سے ڈرتے تھے۔ جب ان کا گھنٹا آتا تو شرارتی سے شرارتی طالب علم بھی مؤدب ہو کر بیٹھ جاتا اور کوئی ان کے آگے بولنے کی جرأت نہ کرتا۔ وہ کلاس میں سبھی ساتھیوں سے کتاب کی عبارت پڑھواتے اور جو ذرا سی بھی غلطی کرتا اُس پر کوئی بر محل جملہ چست کر دیتے۔ ہمارے ایک ساتھی مظاہر العلوم سہارنپور سے افتاء کر کے آئے تھے۔ عربی تو بس واجبی سی تھی، شاید ندوہ کی ڈگری کے شوق میں آگئے تھے۔ ان کا جب بھی نمبر آتا تو شدید غلطیاں کرتے۔ استاد گرامی پوچھتے کیا نام ہے؟ ایک بار غلطی سے ان کے منہ سے نکل گیا مفتی …… بس پھر کیا تھا استاد محترم نے یہی جملہ پکڑ لیا اور مزاح سے کہا: مفتی من الافتاء او مفتی من المفت؟ پھر یہ تو جملہ وہ بہت بار دہراتے۔ شروع شروع میں ان کی ہیبت بہت تھی، وہ مہتمم بھی تھے لہٰذا طلبہ پر ڈسپلن کے لیے بھی خوب سختی کرتے تھے۔ ایک بار میں بھی ان کے عتاب کا شکار ہوا کہ چھٹی میں گھر پر بیمار پڑ گیا اور ہفتہ بھر لیٹ ہو گیا۔ گرچہ ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ لکھ کر دی تھی مگر کسی وجہ سے مہتمم صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور ہفتہ بھر راقم کا کھانا بند رکھا۔ ڈرتے ڈرتے ان کی خدمت میں حاضری دی اور تاخیر سے دارالعلوم پہنچنے پر معذرت کی جو انہوں نے بڑی مشکل سے قبول کی اور یوں یہ ٹرائل ختم ہوا۔

اصل میں طلبہ جو فضیلت تک پہنچ گئے ہوں اور عبارت تک صحیح نہ پڑھ پاتے ہوں ان کی نالائقی پر مولانا سعید الاعظمی کو بہت صدمہ ہوتا اور وہ بہت کڑھتے تھے۔ اس کا اظہار ان کے تیز و تند جملوں میں ہو جاتا۔ اسی طرح انتظامی امور میں وہ سہل انگاری یا تساہل برداشت نہیں کرتے تھے۔ قانون شکنی کی سزا ضرور دیتے۔ تاہم ان کی ظاہری سختی کے پیچھے طلبہ کے لیے ان کی گہری شفقت اور محبت چھپی ہوتی اور جب ان کو محسوس ہو جاتا کہ فلاں طالب علم مخلص اور پڑھنے میں واقعی محنتی ہے تو پھر اس کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ البعث کی ادارت کے علاوہ مولانا دکتور سعید الاعظمی کی برجستہ عربی خطابت کا بھی بہت شہرہ تھا۔ خاص طور پر ندوہ کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ وہی دیتے تھے۔

مولانا سعید الاعظمی الندوی ہماری کلاس میں عبد القاہر جرجانی کی کتابیں اسرار البلاغۃ اور دلائل الاعجاز پڑھاتے تھے۔ دلائل الاعجاز بہت دقیق کتاب ہے، اس میں راقم نے خاص محنت کی۔ کبھی کبھی استاذ محترم خاکسار کو پڑھتا دیکھ لیتے اور بھرپور حوصلہ افزائی فرماتے۔ ندوہ سے فراغت کے بعد انہوں نے خاکسار کے بہت سے مضامین البعث میں شایع کیے اور بغیر کسی سفارش کے محض میرٹ کی بنیاد پر کیے۔

بہرحال یہ تو جملہ معترضہ تھا، اصل تذکرہ مولانا واضح رشید ندوی کا ہو رہا تھا، استاد محترم پڑھاتے وقت سارا فوکس اور ترکیز اپنے موضوع پر رکھتے، اِدھر اُدھر کی بات بالکل نہ کرتے۔ ہم لوگوں کی انشاء کی کاپیاں بڑی توجہ سے چیک کرتے اور مناسب مشورے دیتے۔ ان کو اسنوفیلیا تھا اس لیے سارا وقت ناک سے سوں سوں کی آواز نکالتے رہتے مگر وہ ذرا بھی خراب نہ معلوم ہوتی بلکہ ان کی پہچان سی بن گئی تھی۔ پورے دو سال میں کوئی ایک مثال بھی یاد نہیں جب انہوں نے کسی طالب علم سے درشت لہجے میں بات کی ہو یا خفگی کا اظہار کیا ہو ؏ ’’ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے‘‘۔ ان سے جن ندوی اہلِ ِعلم نے خاص استفادہ کیا ان میں سب سے بڑا نام تو مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب کا ہے جو علمی دنیا میں خود اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ دوسرے مولانا وثیق ندوی ہیں جو اَب الرائد کے مدیر ہیں، اور بھی مستفیدین یقیناً ہوں گے مگر اب یاد نہیں آرہے ہیں۔

ندوۃ العلماء کی تعلیم کے بعد خاکسار نے لکھنؤ یونیورسٹی کے ایک کالج سے گریجویشن کی کوشش کی جو نامکمل رہ گئی۔ گریجویشن میں، میں نے پولیٹیکل سائنس پڑھی۔ پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے ندوہ کی سند کی بنیاد پر عربی زبان میں ایم اے کیا اور پھر ایک پرائیویٹ جاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی بھی کی۔ جب پی ایچ ڈی کے لیے موضوع کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہوا تو راقم نے استاذِ گرامی مولانا واضح رشید صاحب سے مشاورت کے لیے ان کو خط لکھا۔ میرے ذہن میں جو موضوعات آئے تھے ان میں ایک مولانا عبد العزیز میمنی پر کام کرنے کا تھا جو برصغیر پاک و ہند میں عربی زبان کے ایک بے نظیر محقق و ادیب تھے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ، جن کو عرفِ عام میں مولانا علی میاں کہا جاتا ہے، نے ان کے اوپر ’پرانے چراغ‘ میں تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ لیکن ان کے اوپر مقالہ کے اشراف کے لیے کوئی تیار نہ ہوا، شعبہ عربی کے چیئرمین جناب ڈاکٹر شفیق احمد خان ندوی نے شکیب ارسلان کا نام تجویز کیا اور کہا کہ میمنی کے بجائے ان پر کام کرنا آسان رہے گا۔ بہرحال یہی موضوع منظور ہوا۔ کسی وجہ سے استاد محترم کا جواب نہیں آیا مگر اس کے کچھ دنوں بعد ندوہ جانا ہوا، ان سے سامناہوا تو فرمانے لگے: تمہارا خط آیا تھا کس عنوان کو منتخب کیا ہے؟ راقم نے ان کو بتایا تو خوش ہوئے۔ افسوس کہ دہلی آنے کے بعد ان سے ربط و تعلق ٹوٹ گیا۔

مولانا واضح رشید صاحب کے حوالہ سے ایک چیز اور اہم ہے اور وہ یہ کہ ندوی اہلِ قلم خاص کر مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ کی اردو و عربی دونوں میں شبلی و سلیمان کا اثر کم ہو گیا ہے۔ اب ندوی فضلاء عموماً مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کا تَتَبُّع کرتے ہیں، خاص کر عربی انہی کے اسلوب میں لکھتے ہیں۔ یہ اسلوب خطابی ہے، کثرتِ مترادفات اور لفاظی اس کی پہچان ہے، حالانکہ عالمِ عرب میں اب یہ اسلوب متروک ہو چکا ہے۔ خصوصاً عربی صحافت میں، جس نے انگریزی اور فرنچ کا اثر زیادہ قبول کیا ہے۔ مولانا سعید الاعظمی اور البعث الاسلامی ابھی تک اسلوبِ خطابی کا تتبع کر رہے ہیں۔ البتہ مولانا واضح رشید ندوی نے اپنی تحریروں اور ترجموں میں جدید عربی صحافت اور ندوی خطابی اسلوب دونوں کو یک رنگ کر کے ایک نیا اسلوب پیدا کر لیا تھا۔ چنانچہ طلبہ و اسکالروں میں ان کا کالم ’’صور و اوضاع‘‘ بڑی رغبت سے پڑھا جاتا تھا جو وہ البعث الاسلامی میں لکھا کرتے تھے۔ اس میں عالمی سیاست پر گہری نظر، مسلمانانِ عالم پر چست تبصرے اور جاندار و رواں عربی نثر سب کچھ ہی تو ہوتا تھا۔

استاد گرامی مولانا واضح رشید صاحب کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی بے لوثی، شخصی عظمت و تفاخر سے گریز اور انتہائی حد کو پہنچی ہوئی انکساری تھی۔ وہ مولانا علی میاں کے سگے اور لاڈلے بھانجے تھے اور مولانا علی میاں رحمہ اللہ اپنے زمانہ میں مسلمانانِ ہند کی سب سے قد آور شخصیت۔ بیرونی اسفار میں بھی مولانا واضح رشید کئی بار مولانا علی میاں کے رفیقِ سفر رہے۔ اور مولانا علی میاں کے بعد ان کے جانشین استاد محترم مولانا محمد رابع حسنی ندوی بھی مسلمانانِ ہند کے قائد بنے جو مولانا واضح رشید کے سگے بڑے بھائی بھی تھے اور روحانی مرشد بھی۔ چنانچہ دونوں بھائیوں کی یہ جوڑی مثالی تھی اور دونوں اکثر و بیشتر ساتھ ساتھ ہی سفر کرتے تھے۔ لیکن مولانا واضح رشید میں انکساری، بے لوثی اور اپنی شخصیت کو گویا بے حیثیت بنا دینے کا ایسا جذبہ تھا کہ کبھی ان کو قیادت کی دوڑ میں یا کسی ادارہ کی سربراہی کی ہوڑ میں نہیں دیکھا گیا۔ ندوہ میں جو علمی مجالس و مذاکرات اور علمی سیمینار ہوتے تھے اور جن کا سلسلہ چلتا ہی رہتا تھا ان میں وہ عام طور پر سامعین میں ہی بیٹھنے کی کوشش کرتے تھے۔ دوسرے علماء یا قائدین کی مجلس میں ہوتے تو بالکل انکسار اور سراپا عاجزی کا مجسمہ بنے رہتے۔ دہلی کے برادرم یوسف ندوی (جو حسنی خاندان سے قربت رکھتے ہیں) نے ایک بار بتایا کہ دہلی کی ایک مجلس میں، جس میں وہ خود حاضر تھے، انہوں نے دیکھا اور ان کو غصہ بھی آیا کہ حیدر آباد کے ایک بڑے مدرسہ کے مہتمم مولانا رضوان القاسمی مجلس میں ٹانگ پھیلا کر بیٹھے تھے، ان کے پاس ہی مولانا واضح رشید صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ قاسمی مرحوم نے تو ان کی شخصیت کے اکرام اور آداب مجلس کا ذرا خیال نہیں کیا مگر مولانا واضح رشید صاحب کے ماتھے پر شکن بھی نہیں دیکھی گئی۔

استاد محترم سے ایک ملاقات اور یاد ہے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے دوران خاکسار نے لکھنؤ میں معہد الفکر الاسلامی جوائن کر لیا تھا۔ یہ نوزائدہ ادارہ لکھنؤ کے مضافات میں دوبگہ میں کاکوری روڈ پر واقع تھا۔ اس کو مدارسِ اسلامیہ کے ذہین طلبہ کی مزید فکری تعلیم و تربیت کے لیے جمعیۃ مساعدۃ الطلاب (SEWS) نے قائم کیا تھا جس کے بانی مولانا ظہیر احمد صدیقی ندوی تھے۔ وہ باذوق آدمی ہیں، اخوانی فکر کے پروردہ۔ عربی مدارس کے طلبہ و فارغین کے لیے انہوں نے کئی قومی سطح کے تربیتی ورکشاپ کیے تھے جن میں سے کم از کم دو میں راقم شریک رہا اور پہلے ورکشاپ میں طلبۂ ندوہ کی چلت پھرت اور حرکیت و ادب سے متاثر ہو کر پھر میں نے ازخود ندوۃ العلماء میں داخلہ لینے کا سوچا ورنہ اس سے قبل میری عربی مدارس کی رسمی تعلیم مکمل ہو گئی تھی۔

بہرکیف ظہیر احمد صدیقی ندوی نے اس نوزائدہ ادارے کے لیے نصاب بنوایا اور اس کے سلسلہ میں استفادہ و مشاورت کے لیے خاکسار کو علی گڑھ کے دانشوران سے ملاقات کے لیے بھیجا۔ پروفیسر نجات اللہ صدیقی سے بھی مشاورت کی۔ ایک منتخب لائبریری کا سامان کیا۔ اب تو وہاں ایک ہائی لیول کا یونانی اسپتال اور طبیہ کالج بھی انہوں نے قائم کر لیا ہے۔ بہرحال انہوں نے اس ادارہ کا نام تجویز کرنے اور لائحہ ٔعمل طے کرنے کے لیے ندوہ کے اساطین اور بڑے اساتذہ کرام مولانا عبد اللہ عباس ندوی، مولانا رابع حسنی ندوی اور مولانا واضح رشید ندوی کو ظہرانہ پر بلایا۔ یہ تینوں اساطین راقم کے بھی اور مولانا ظہیر احمد ندوی کے بھی استاد تھے۔ مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے ندوہ و ام القری سے فیضیاب ہونے کے علاوہ یوروپ کی اڈنبرا یونیورسٹی سے بھی ڈگری لی تھی۔ انہوں نے ہمیں، جب ہم ادب میں فضیلت کر رہے تھے (جس کو تخصص کا درجہ بھی کہا جاتا ہے)، تورمانی کی النکت فی اعجاز القرآن پڑھائی تھی۔ اس مجلس میں انہوں نے مولانا ظہیر احمد صاحب کو یہ مشورہ دیا کہ المدرسہ یا مدرسہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر کے جمع بین القدیم و الجدید کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یاد رہے کہ اُس وقت مدرسہ اور مدرسہ کے نظامِ تعلیم پر مغرب میں بہت لکھا جا رہا تھا اور ہند میں بھی اس کے خلاف میڈیا نے طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔

اس نشست میں راقم بھی شریک تھا، مولانا ظہیر احمد ندوی صاحب کے اشارہ پر راقم نے اس اساتذہ کرام کی خدمت میں جناب اسرار عالم کی کتاب ’’عالمِ اسلام کی اخلاقی صورت حال‘‘ (جو اُن دنوں موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی) کا ایک اقتباس پڑھ کر سنایا جس میں صاحبِ کتاب نے شیخ محمد بن عبد الوہاب، ان کی تحریک اور ان کی کتاب التوحید کے اور یوروپی مسیحی مصلح کالون (ـCalvin) کی کتاب ’’انسٹیٹیوٹ آف دی کرسچین ریلیجین‘‘ کے درمیان ایک مماثلت ڈھونڈ نکالی تھی۔ اور شیخ محمد بن عبد الوہاب کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔(ملاحظہ ہو کتاب مذکور کا صفحہ 234 قاضی پبلشرز و ڈسٹریبیوٹرز مئی 1996ء) ان اساتذۂ کرام نے اس پر کوئی تبصرہ تو نہیں کیا مگر استاد واضح رشید ندوی کی ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے بتا دیا کہ وہ مصنف سے اتفاق نہیں کرتے۔

مولانا واضح رشید ندوی علیگ بھی تھے چنانچہ انہوں نے ندوہ سے فضیلت کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا اور عملی دنیا کا آغاز آل انڈیا ریڈیو کی عربک سروس سے کیا جہاں وہ اگلے بیس سال تک رہے۔ یہاں ان کا کام انگریزی و اردو اخبارات سے عربی میں ترجمہ کر کے خبریں بنانا اور پڑھنا ہوتا تھا۔ یہیں سے ان کی معلومات بہت بڑھیں، ان کو عالمی میڈیا کو عملاً برتنے اور جاننے کا موقع ملا، عربی و اردو کے ساتھ ہی انگریزی پر بھی پوری طرح دسترس ہو گئی اور ان کی فکر کا کینوس وسیع ہوا۔ بعد میں مولانا علی میاں کے اشارے پر انہوں نے اس جاب کو خیر باد کہہ کر ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاد عربی ادب و انشاء جوائن کر لیا۔ الرائد اور البعث الاسلامی کے مدیر بھی رہے اور المعہد العالی للدعوۃ الاسلامیۃ کے صدر بھی۔

افسوس کہ عربی میں پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود گھریلو مجبوریاں اور معاشی حالات کی وجہ سے راقم کو اردو اخبارات و رسائل کی خاک چھاننی پڑی۔ عربی زبان میں گاہے بگاہے ترجمہ کا کام تو کرتا رہا مگر عربی لکھنے لکھانے کا سلسلہ ایک طویل عرصہ تک چھوٹ گیا۔ تقریباً بیس سال بعد اب 2025ء میں اس جانب پھر توجہ ہوئی ہے اور جنوری 2025ء سے اشراق عربی کی ادارت سنبھالنے کے بعد سے یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔

سنہ 2018ء میں سولہ جنوری کو استاد محترم مولانا واضح رشید کا انتقال ہوا۔ الرائد اور تعمیرِ حیات میں ان کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا۔ کچھ اور لوگوں کے مضامین بھی آئے۔ ان کی عربی و اردو میں متعدد کتابیں بھی ہیں اور کئی علمی کتابوں کے ترجمے بھی۔ ادب اہل القلوب، الدین والعلم حسن تعریب کی مثال ہے جو مولانا عبد الباری ندوی کی کتاب اسلام اور سائنس کی عربی تعریب و تلخیص ہے۔ اور ایک ادبی کتاب مصادر الادب العربی ہے جو اصلاً ان محاضرات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ہم طلبۂ ادب کے سامنے پیش کیے تھے۔ یہ مقالات کتاب العمدہ لابن رشیق القیروانی، کتاب الکامل لابی العباس محمد بن یزید المبرد النحوی، کتاب الامالی لابی عمرو علی القالی البیان والتبیین للجاحظ اور العقد الفرید لابن عبدربہ کے تعارف پر مشتمل ہے اور ان کی خصوصیات و امتیازات پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے۔ خاکسار کو یہ شرف بھی حاصل رہا کہ ان سے جاحظ کی شہ کارکتاب کتاب البخلاء بھی درس میں پڑھی۔ یہ کتاب اپنے مزاحیہ اسلوب، جاحظ کی ذکاوت، انسانی نفسیات کے مطالعہ، وسعتِ معلومات اور عربی نثر کی فصاحت و بلاغت کا ایک شاہکار ہے۔ اس کا اردو ترجمہ و تشریح کرنا جوئے شیر لانا ہے مگر مولانا کا اس کتاب کا درس بھی ایسا ہوتا تھا کہ نہ صرف جاحظ کی وقعت و عظمت آشکارا ہوتی تھی بلکہ اس کے طنز و مزاح سے بھی بھرپور لطف ملتا تھا ؏

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۳)

مولانا طلحہ نعمت ندوی

حضرت نیموی کی تصانیف

حضرت نیموی کی شعری تخلیقات کا آغاز تو ان کی متوسطات کی تعلیم سے ہوگیا، غازی پورو لکھنؤ میں ان کے اس ذوق نے بال و پر نکالے اور دسیوں منظوم تخلیقات وجود میں آئیں، لکھنؤ کے دورانِ قیام ان کی مشہور مثنوی ’’نغمۂ راز‘‘ شائع ہوئی، اور جس نے ادباء کے حلقہ میں بہت جلد شہرت حاصل کر لی، وہیں کے دورِ قیام میں انہوں نے اپنی مشہور اور معرکہ آرا کتاب ازاحۃ الاغلاط لکھی اور ان کے بقول جب ان کی مثنوی کو پذیرائی حاصل ہوئی تو ان کی ہمت بندھی اور انہوں نے یہ کتاب شائع کروائی۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جب ۱۳۰۳ھ[۱۸۸۶ء] نے قدم رکھا تو میرے حوصلے نے پاؤں نکالے، اردو میں ایک پُر درد مثنوی لکھی جس کا تاریخی نام نغمۂ راز (۱۳۰۳ھ) رکھا، اور لکھنؤ میں چھپوائی، شائع ہونا تھا کہ ماہرانِ فن نے ایسی داد دی کہ بیان سے باہر ہے، اور اخبار والوں نے ریویو میں وہ دھوم مچائی کہ یکایک ہندوستان میں اس کا ڈنکا بج گیا، شمس العلماء مولانا حسرت عظیم آبادی نے اس خط سے سرفراز فرمایا‘‘۔

اس کے بعد حضرت سعید حسرت کا خط نقل کیا گیا ہے، پھر اخبارات کے ریویو اور تبصرے نقل کئے ہیں، جن میں ہزار داستان حیدرآباد، مشیر قیصر لکھنؤ، شرف الاخبار بہار[شریف]، وغیرہ تھے۔ پھر لکھتے ہیں:

’’بہر کیف جب میری مثنوی نغمۂ راز پہلی دفعہ چھپی اور ملک نے قدردانی کی تو میں نے رسالہ ازاحۃ الاغلاط کو چھپوایا، یہ رسالہ عربی و فارسی کے غلط الفاظ کی تحقیقات میں ہے جس میں کے سیکڑوں شعر درج ہیں، برسوں اس کی تالیف میں میں نے محنتِ شاقہ اٹھائی ہے، مہینوں دماغ سوزی کی ہے، الحمد للہ کہ میری محنت ٹھکانے لگی، کہ ایک عالم نے جان و دل سے پسند کیا، اکثر اخبار والوں نے اس کتاب پر ریویو لکھا، مگر افسوس کہ دو ایک کے سوا اس کے پرچے بھی تلف ہو گئے‘‘۔51

یہ کتاب بھی اسی سال یعنی ۱۳۰۳ھ[۱۸۸۶ء] میں شائع ہوئی، اور ملک میں اس کی پذیرائی ہوئی، لیکن ان کی مذکورہ بالا تصریحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت پہلے سے اس رسالہ کا منصوبہ بنا کر کام کر رہے تھے، اور اس کا مواد جمع کر رہے تھے، یہ ان کی برسوں کی محنت ہے، ممکن ہے کہ یہ شائع تو اس سال ہوا لیکن کئی سال پہلے مکمل ہو چکا ہو، یا اس کا آغاز ہو چکا ہو، عجب نہیں کہ غازی کے دورِ طالب علمی ہی میں ان کے ذہن میں اس کا خاکہ آیا ہو، اور جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے، مختلف کتبِ لسانیات و ادب کے مطالعہ نے ان کے ذہن کو اس کے لئے آمادہ کیا ہو، گویا ان کی تصنیفی زندگی کا آغاز ان کے دورِ طالب علمی ہی سے ہو گیا تھا۔ اور اسی وقت تخلیقی شعور کے ساتھ ان کا تحقیقی شعور بھی پختہ ہو چکا تھا، جو یقیناً‌ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔

اسی رسالہ کو دیکھ کر نواب رامپور نے ان کو بلا بھیجا اور خلعت و انعام سے سرفراز کیا، اپنے یہاں قیام پر اصرار کیا، اور اسی سفر میں داغ دہلوی سے رامپور میں ان کی ملاقات ہوئی۔52

دو سال کے بعد انہوں نے لسانیات ہی کے موضوع پر رسالہ اصلاح لکھا، ان کے بقول:

’’غرض کہ میں اعزاز کا خلعت حاصل کر کے [رامپور سے] پھر لکھنؤ پہنچا، اور پہنچتے ہی اردو انشاپردازی کے متعلق میں نے ایک رسالہ تالیف کیا، جس کا نام اصلاح ہے، اس کی تعریف میں بھی اخباروں والوں نے بہت کچھ عزت بخشی‘‘۔53

اس رسالہ کی تالیف پر اہل عظیم آباد نے بھی ان کو شکرگذاری اور مبارک بادی کا خط لکھا، اور حضرت شاد عظیم آبادی کے دستخط سے یہ خط ان کی خدمت میں لکھنؤ ارسال کیا گیا، جناب شوق قدوائی لکھنوی نے اپنے رسالہ افادات میں، جو شعری لسانیات پر ہے، جابجا اس کی عبارتیں نقل کیں اور اس کے حوالے دئے۔ اس موقع پر حضرت شوق نے یہ بھی لکھا ہے کہ شاد نے اپنی کتاب نوائے وطن میں جو یہ لکھا تھا کہ ہمارے صوبہ کے ادباء دیگر اہلِ زبان کے مقابلہ میں کوئی کارنامہ انجام نہیں دے رہے ہیں، اور یہاں سے اردو زبان کی کوئی ایسی تصنیف وجود میں نہیں آئی جس کی پورے ملک میں پذیرائی ہوئی ہو۔54

نوائے وطن میں شاد عظیم آبادی نے یہ بھی لکھا تھا، کہ دیہات سے لوگوں نے آکر شہر عظیم آباد کی زبان خراب کر دی ہے، جس پر عظیم آباد کے ان ادباء کا طبقہ جو مضافات سے تعلق رکھتے تھے شاد سے ناراض ہوگیا تھا، اسی گروہ سے حضرت شوق کا بھی تعلق تھا، کیوں وہ بھی مضافات کے رہنے والے تھے، یہ بات بھی ان اسباب میں سے ایک تھی جو ہفتہ وار اخبار الپنچ کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنے، اور شاد کے مقابلہ میں سب لوگ متحد ہوگئے تھے، اور ان کے اس نظریہ کی سختی سے تردید کی گئی۔

چند سالوں میں رسالہ اصلاح کا سابق ایڈیشن ختم ہوگیا، تو ۱۸۹۳ء[تقریباً ۱۳۰۹ھ] میں ناشر (نثار حسین مہتمم پیار یار، قومی پریس) نے دوبارہ چھاپنے کا مطالبہ کیا تو اس پر نظر ثانی کی گئی، انہوں نے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے:

’’المختصر اس رسالے نے بہت کچھ قبول پیدا کیا، اور بات کی بات میں ہاتھوں ہاتھ بک گیا، جناب نثار مہتمم پیامِ یار نے دوبارہ چھاپنے کی چند بار مجھ سے اجازت طلب کی، آخر ان کے اصرار سے پہلے نظر ثانی کی، پھر جا بجا محو و اثبات کا اتفاق ہوا، گھٹانے بڑھانے کی نوبت آئی ۔۔۔۔۔ جب یہ درست ہوگیا تو اس پر مختصر سا حاشیہ لکھا اور ایضاح نام رکھا‘‘۔55

یہ حاشیہ ان کی خود نوشت کے بعد لکھا گیا ہے اس لئے اس میں اس کا ذکر نہیں آسکا۔

سرمہ تحقیق

یہ رسالہ حضرت جلال لکھنوی کے اعتراض رد تردید کے جواب کے طور پر لکھا گیا ہے، اس کا ذکر حضرت شوق نے اپنی خود نوشت میں کیا ہے کہ ان کے رسالہ میں ازاحۃ الاغلاط میں جلال لکھنوی کی تنقیح اللغات سے کچھ اختلاف رائے کا اظہار کیا گیا تھا جو جناب جلال کو پسند نہ آئے، اور انہوں نے رد تردید نامی رسالہ لکھ کر اس کی تغلیط کی، حضرت شوق کو یہ رسالہ اس وقت ملا جب وہ لکھنؤ سے تکمیل تعلیم کے وطن واپس ہو رہے تھے، انہوں نے اسے اپنے ساتھ رکھ لیا کہ گھر پہنچ کر باطمینان اس کا جواب لکھیں گے، وہ وطن پہنچ کر مطمئن ہوئے تو اس کا جواب لکھا، اور وہ دیگر رسائل کے ساتھ شائع ہوا، وہ خود لکھتے ہیں:

’’ازاحۃ الاغلاط میں کہیں کہیں جناب جلال لکھنوی کی تنقح اللغات سے اختلاف ہو گیا تھا، ضمناً بعض جگہ ان کے اقوال کی رد ہو جاتی تھی، ان سے اور مجھ سے وہاں صاحب سلامت تھی، میں کچھ نہ سمجھا کہ صرف اتنے اختلاف سے درپردہ مجھ سے صاف نہیں ہیں، انہوں نے ’’ردِ تردید‘‘ نام ایک رسالہ لکھا اور ازاحۃ الاغلاط پر بیجا خامہ فرسائی کی، اور اس کو اپنے ایک شاگرد کے نام سے چھپوایا، میں بفضلہ تعالیٰ علومِ عربیہ کی تحصیل سے فارغ ہو چکا تھا، آج کل میں فاتحہ فراغ پڑھ کر گھر آنے والا تھا کہ وہ رسالہ مجھ کو وہاں ملا، اس کو لے کر ۱۳۰۵ھ میں شوال کے مہینے مع الخیر وطن پہنچا، اور اس کے جواب میں قلم اٹھایا، آخر اس کی رد لکھ ڈالی، اور سرمہ تحقیق نام رکھا۔ چوں کہ جناب جلال کو اپنے اہلِ زبان ہونے پر غرا تھا، اور ردِ تردید میں مجھ کو پوربی سمجھ کر منھ آئے تھے، میں نے اس کتاب میں پوری خبر لی، بہت سی ایسی ایسی لغزشیں جو اردو محاورات میں ان سے شائع ہوئی تھیں شائع کر دیں، اور اس رسالے کے ساتھ جناب قدس پھرساٹاری کے دو رسالے طومار التوبیخ اور دندان شکن اسی رسالہ کی تردید میں شائع کئے گئے، اور منشی محمد بشیر پکاکوٹی کا ایک رسالہ ’’تذکرۃ الشوق‘‘ نام بھی اس کے ساتھ درج کیا گیا، اس رسالے میں مؤلف نے فقیر حقیر کے حالات قلمبند کئے ہیں، اور اس کا تاریخی نام ظہیر المحاسن رکھا ہے‘‘۔56

ازاحۃ الاغلاط اور اصلاح و ایضاح تینوں لسانی رسائل کو حسرت موہانی نے ایک مجموعہ میں ۱۹۱۸ء میں اردو پریس علی گڑھ سے شائع کیا تھا،57 یہ ایڈیشن راقم کی نظر سے نہیں گذرا۔

اس کے بعد علامہ نیموی نے لسانی موضوعات پر کچھ نہیں لکھا، اور علومِ اسلامیہ کی خدمت کے لئے یکسو ہو گئے، صرف چند سالوں کے بعد اپنے اہلِ وطن کا تذکرہ یادگارِ وطن لکھ کر شائع کروایا، جس میں اپنے حالات بھی تفصیل سے لکھے، اور بالکل آخری عمر میں بنگال کا ایک مختصر سفرنامہ لکھا۔ خود ان کے بقول اب ان شاعرانہ مناظروں اور معرکوں سے ان کی طبیعت سرد ہو گئی تھی، اور ان کے شاگرد مذکور الصدر کے بقول وہ اب اس طرح کے سارے مشغلے ترک کر کے خاموش رہنے لگے تھے۔ یعنی تکمیلِ تعلیم کے بعد وطن واپس آکر وہ پوری سنجیدگی سے علومِ اسلامیہ کی خدمت کے لئے یکسو ہوگئے تھے، اور علومِ اسلامیہ کی تحصیل کا مقصد بھی سمجھ میں آگیا تھا، گرچہ ان کا شعری سفر مسلسل جاری رہا، اور شعری مجلسوں میں حاضری بھی ہوتی رہی، اور ایک دو ادبی معرکے بھی ہوئے، انہوں نے جلد ہی زیارتِ نبوی کا شرف بھی پایا تھا، اس لئے اب تو اپنی توجہ حدیث و فقہ کی طرف مبذول کرنا چاہتے تھے، اس کے بعد ان انہوں نے جو کچھ لکھا وہ خالص دینی اور شرعی موضوعات پر لکھا، ان کے سوانح نگار ڈاکٹر عتیق الرحمٰن عظیم آبادی نے ان اسباب کا اجمالی جائزہ لیا ہے جو ان کے مذہبی تصانیف کا سبب بنے۔58

اس لئے مولانا سید عبدالحی حسنی مصنف نزہۃ الخواطر اور ان ہی اتباع میں مولانا مفتی ثناء الہدی قاسمی اور دیگر حضرات کا یہ کہنا درست نہیں معلوم ہوتا کہ وہ مدت تک شعر و سخن کی دنیا ہی میں مست رہے اور زندگی کا بیشتر حصہ اسی میں گذار دیا۔ کیوں کہ ۱۳۰۵ھ میں وہ تکمیلِ تعلیم کے بعد لکھنؤ سے وطن آئے تھے اور کے تین سال بعد ۱۳۰۸ھ میں اپنی خود نوشت سوانح شائع کی تھی، جس میں انہوں نے شعر و سخن سے اپنی طبیعت کے سرد ہونے اور آثار السنن کی تالیف کے منصوبہ کا ذکر کیا ہے، نیز ان کے شاگرد منشی بشیر نے اس سے بھی پہلے ۱۳۰۷ھ میں ان کے ذکر میں لکھا تھا:

’’اب آپ لوگ مولانا شوق کا رنگِ کلام ملاحظہ کر چکے تو یہ بھی عرض کر دینا ضرور ہے کہ کئی مہینہ سے جناب موصوف کو شاعری سے بالکل نفرت ہو گئی ہے، مدت کے بعد نعمت عظی فارسی میں ایک پرزور قصیدہ نعتیہ نظم فرمایا ہے جس کی ایک مختصر شرح موسوم بہ حل القصیدہ لکھی ہے، سبحان اللہ کیسا متبرک قصیدہ ہوا ہے کہ جس کا ہر شعر باوضو اور نہایت احتیاط سے لکھا گیا، جس کی برکت سے حضرت مصنف کو عالمِ خواب میں زیارتِ نبوی حاصل ہوئی‘‘۔59

اخیر میں لکھتے ہیں:

’’آج کل جناب ممدوح اپنے وطن میں تشریف رکھتے ہیں، اور وعظ و تلاوتِ قرآن، و تدریسِ احادیث و فقہ و کتبِ دینیہ میں مشغول ہیں، اللہ تعالیٰ عمر میں برکت عطا کرے اور ہمیشہ مکروہات سے محفوظ رکھے، آمین‘‘۔ 60

وہ ۱۳۰۵ھ میں اپنے وطن واپس آکر عظیم آباد میں طرح اقامت ڈالی، ۱۳۱۲ھ[۹۷۔۱۸۹۶ء] میں ان کی نثری یادگار ’’یادگارِ وطن‘‘ منظرعام پر آئی، جس میں انہوں نے اپنے اہلِ وطن کا ذکر کیا ہے۔

۱۳۰۸ھ میں ان کا رسالہ مقالۂ کاملہ بھی شائع ہوا تھا، اس کے ساتھ اخیر میں تین صفحات کا مختصر رسالہ یا مضمون تذییل دربیان تقبیل بزرگوں کی قدم بوسی و دست بوسی کے استحباب میں شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے ادبیات و لسانیات پر کچھ نہیں لکھا، اور پوری طرح علومِ اسلامیہ کی خدمت کے لئے یکسو ہو گئے، تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فقہی مسائل پر کئی رسائل لکھے اور اپنی جامع کتاب آثار السنن کی ترتیب و تدوین میں مشغول رہے۔

در حقیقت ان رسائل اور آثار السنن کی تصنینف کا محرک بھی ان کے شہر عظیم آباد کا ماحول تھا، ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اس شہر اور اس کے مضافات میں علمائے اہلِ حدیث اور مولانا سید نذیر حسین دہلوی کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی، جن میں بہت سے جید علماء تھے اور بہت سرگرم تھے، بالخصوص ان علماء کے سرِگروہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی تھے، جو علامہ شوق نیموی کے ہم نسب اور قرابت دار بھی تھے اور اندازہ ہوتا ہے کہ مراسم بھی اچھے تھے جس کا کچھ ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ شاید اسی ماحول نے ان کو فقہ حنفی کی تائید میں احادیثِ احکام کے ایک جامع مجموعہ کی ترتیب پر آمادہ کیا۔ پھر اس دوران دیگر مباحث بھی زیر بحث آئے اور ان پر رسائل منظرعام پر آئے اور لوگوں نے ان سے سوالات شروع کئے تو انہوں نے ان مسائل پر مستقل رسائل لکھے پھر جواب در جواب کی نوبت آئی اور ان کے علمی رسائل اردو میں بھی بڑی تعداد میں وجود میں آگئے۔ ان کے اصل رسائل تین چار ہی ہیں جو اس دور کے مابہ النزاع مسائل پر ہیں، جن پر اہلِ حدیث و حنفی میں مناظروں کا سلسلہ جاری تھا، ان میں تقلید، آمین بالجہر، رفع یدین، ہاتھ باندھنے کی جگہ اور دیہات میں جمعہ کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک رسالہ ان کے شیخ پر اعتراض کے جواب میں ہے جس میں مباحثِ تصوف بھی ہیں۔

۱۳۱۲ھ تک خالص علمی و فقہی مسائل پر ان کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں جس کا ذکر ان کی خود نوشت میں ملتا ہے۔

اوشحۃ الجید فی اثبات التقلید

اس میں طبقۂ اہلِ حدیث کے تقلید پر اعتراض کا پوری تحقیق سے جواب دیا گیا ہے، اور تقلید کا وجوب ثابت کیا گیا ہے، سیکڑوں کتابوں کے حوالے درج ہیں۔ اخیر کے ایک ثلث کتاب میں امام ابوحنیفہ کے حالات و کمالات ہیں، اور ان کے مناقب بیان کئے گئے ہیں۔ پہلی (بار) قومی پریس لکھنؤ سے اس پریس کے ذمہ دار جناب نثار حسین صاحب مالک رسالہ پیامِ یار نے شائع کیا، اس پر سنہ طباعت درج نہیں ہے لیکن علامہ نیموی نے اپنی خود نوشت میں اس کا ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۳۰۸ھ [۱۸۹۱ء] سے قبل تحریر کی جا چکی تھی، لکھتے ہیں:

’’چنانچہ تقلید کی بحث میں اوشحۃ الجید اور آمین کے باب میں حبل المتین یہ دو رسالے ایسے پرزور لکھے کہ جو لوگ تقلید کو مذموم سمجھتے تھے یا آمین بالجہر کی قوت کے قائل تھے ان میں سے اکثر غیر متعصب حضرات کے خیالات پلٹ گئے‘‘۔61

یہ رسالہ پہلی طباعت کے بعد مصنف کے دور میں یا ان کے فرزند کے دور میں میرے علم میں دوبارہ شائع نہیں ہوا، ان کے فرزند مولانا عبد الرشید نیموی کے قلم سے ایک نسخہ پر کچھ تصحیحات اور اضافے ملتے ہیں اور اس کی اشاعت کے اشارے بھی معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ اس ارادہ کو علمی جامہ نہ پہنا سکے، اور وہی نسخہ خدا بخش لائبریری پٹنہ میں آگیا۔ اس کے بعد ۲۰۱۹ء میں راقم نے بہار شریف سے اس کو نئی ترتیب کے ساتھ شائع کیا، پھر دارالعلوم دیوبند سے ۲۰۲۲ء میں حواشی کے ساتھ شائع ہوا ہے، پھر بعد میں مجموعہ رسائل حضرت نیموی میں حواشی کے ساتھ شائع ہوا۔

حبل المتین

اوپر اس رسالہ کا ذکر آچکا ہے کہ یہ آمین بالجہر کی بحث پر مشتمل ہے، اس میں پوری بحث کو محققانہ اور نہایت مدلل انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس موضوع پر یہ نہایت مفید اور معلوماتی کتاب ہے۔62 میرے علم میں پہلی اشاعت کے بعد اس کی کوئی اشاعت نہیں ہوئی، ابھی حال میں مجموعہ رسائل کے ضمن میں شائع ہوئی ہے۔ پہلی اشاعت ۱۳۱۱ھ میں ہوئی تھی، اس کے ناشر بھی محمد نثار حسین مالک قومی پریس لکھنؤ ہیں، جہاں سے ان کی دیگر کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ یہ کتاب ۷۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رسالہ کے اخیر میں لکھنؤ کے مشہور عالم مولانا عبد العلی آسی مدراسی کا قطعہ طباعت بھی ہے۔

جامع الآثار فی اختصاص الجمعۃ بالامصار

یہ رسالہ ۱۸ صفحات میں مکمل ہوا ہے، اس کا پہلا ایڈیشن احسن المطابع پٹنہ سے غالباً‌ ۱۳۱۱ھ یا اس کے قریب شائع ہوا تھا، اخیر میں ایک استفتا اور اس کا جواب ہے، جس کے جواب میں علامہ شوق نے فرمایا ہے کہ جب دیہاتوں میں جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں، اور وہ مکروہِ تحریمی ہے، اور مکروہِ تحریمی پر اصرار گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے، کتبِ فقہ و فتاویٰ کے حوالہ سے انہوں نے اختصار کے ساتھ نصف صفحہ میں اپنے مدعا کو ثابت کیا ہے۔ اس کی تائید میں متعدد علماء کی تحریریں ہیں، یہ استفتا اور جواب غالباً ۱۳۱۰ھ کا ہے جیسا کہ مولانا رشید احمد گنگوہی کی تحریر میں وضاحت ہے۔ اس جواب کے اخیر میں مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی ڈیڑھ صفحہ کی تحریر ہے اور تائید میں علمائے دیوبند و کانپور و عظیم آباد کے تائیدی دستخط و مہر۔ مولانا بریلوی لکھتے ہیں:

’’صح الجواب۔ فی الواقع ایسی جگہ جمعہ یا عیدین پڑھنا مذہب حنفی میں گناہ ہے، نہ ایک گناہ بلکہ چند گناہ۔ 
اولاً: جب نماز جمعہ و عیدین وہاں صحیح نہیں تو یہ امر غیر صحیح میں مشغولی ہوئی، اور وہ ناجائز ہے، فی الدرالمختار، تکرہ تحریماً لانہ اشتغال بما لا یصح لان المصر شرط الصحۃ۔ 
ثانیاً: اقول، فقط مشغولی نہیں بلکہ اس ناجائز کو موجبِ شوکتِ اسلام جاننا بلکہ بہ قصد و نیت فرض و واجب ادا کیا، یہ مفسدہ عقیدہ ہے، جس سے علما نے تحذیر شدید فرمائی۔ حتیٰ اوصوا بترک التزام مستحب اذا خیف ان یظنہ العوام واجباً فی اخف منہ۔ قال سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لا یجعل احدکم للشیطان شیئاً من صلاتہ یریٰ ان حقاً علیہ ان لا ینصرف الا عن یمینہ، لقد رایت رسول اللہ ﷺ کثیراً ینصرف عن یسارہ، رواہ الشیخان۔ فاذا کان فی ما ھو مشروع باصلہ فما ظنک بما لم یجز من راسہ۔ 
ثالثاً: جب کہ واقع میں نماز جمعہ و عیدین نہ تھی تو نماز نفل ہوئی کہ باجماعت و اعلان و تداعی ادا کی گئی، یہ ناجائز ہوا، فی درالمختار، عن العلامۃ الحلبی محشی الدر ھو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ۔ یہ تینوں وجہیں جمعہ و عیدین سب کو شامل ہیں۔ 
رابعاً: اقول، جمعہ میں اس کے سبب جو ظہر نہ پڑھیں، ان پر تو فرض ہی رہ گیا، ترکِ فرض اگرچہ ایک ہی بار ہو خود کبیرہ ہے، اور جو بزعمِ خود اختیاطی رکعات پڑھیں وہ بھی تارکِ جماعت ضرور ہوئے، اور جماعت مذہب معتمد میں واجب ہے جس کا ایک بار ترک بھی گناہ ہے، اور متعدد بار ہو کر وہ بھی کبیرہ۔ کما نصوا علیہ والامر اوضح من ان یوضح۔ 
خامساً: وہ احتیاطی رکعات والے کہ حقیقتاً مذہب حنفی میں آج ہی ظہر پڑھ رہے ہیں، فانھا اذا لم تصح الجمعۃ بقیت فریضۃ الظھر فی اعناقھم، فاذا نووا آخر ظھر ادرکوھا ولم یودوھا وجب انصرافھا الی ظھر الیوم۔ باآن کہ مسجد میں جمع ہیں، جماعت پر قادر ہیں، تنہا پڑھتے ہیں، یہ دوسری شناعت ہے کہ مجتمع ہو کر ابطالِ جماعت جسے شارع نے خوف جیسی حالتِ ضرورت شدیدہ میں بھی روا نہ رکھا، بلکہ ابطال درکنار موجودین میں بلا وجہ شرعی تفریق جماعت کو ناجائز رکھ کر ایک ہی جماعت کرنے کا طریقہ تعلیم فرمایا۔ کما نطق بہ القرآن العظیم وباللہ الھدایۃ الی صراط مستقیم واللہ تعالیٰ اعلم۔ 
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفا عنہ محمد المصطفیٰ النبی الامی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
اصاب المجیب الجواب صحیح الجواب صحیح 
وتوکل علی العزیز الرحمٰن بندہ محمود عفی عنہ رشید احمد ۱۳۰۱ھ
آپ کی مہر بخط طغرا ہے مدرس اول مدرسہ دیوبند محدث گنگوہی‘‘

ان کے علاوہ مولانا احمد حسن عفی عنہ (استاذ الفضلاء صدر ندوۃ العلماء مقیم کانپور) [مولانا] محمد فاروق [چریاکوٹی] (مدرس اول دارالعلوم ندوہ) [مولانا] عبداللطیف عفی عنہ [رحمانی] (مفتی ندوہ و مدرس دارالعلوم) کی تصویبات ہیں۔ اخیر میں دو مختصر تائیدی تحریریں حضرت شاہ سلیمان پھلواروی، اور مولانا ابوالمحامد عبدالمجید لکھنوی فرنگی محلی مفتی ندوہ کی ہیں۔

جلاء العین فی رفع الیدین

اس کا بھی پہلا ایڈیشن قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا تھا، جو ان کی دیگر بہت سی کتابوں کا ناشر ہے، سنہ طباعت ندارد۔

اس میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ لوگوں نے اس سلسلہ میں سوالات پوچھے اس لئے یہ رسالہ لکھنے کی ضرورت پیش آئی ورنہ آج کل آثار السنن کی ترتیب سے فرصت کہاں۔ موضوع نام سے ظاہر ہے۔

الدرۃ الغزۃ فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ

تبیان التحققیق فی ما یتعلق بالتعلیق

اس کے ساتھ ہی الدرۃ الغزۃ فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ اور تبیان التحققیق فی ما یتعلق بالتعلیق شائع ہوئی ہے۔

تبیان التحقیق کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

فیقول الخادم للحدیث النبوی محمد بن علی المکنی بابی الخیر والمدعو بظہیر احسن النیموی، ان کتابی آثار السنن من ابکار المنن الذی اولفہ فی آناء ھذہ الاعصار واصنفہ من الاحادیث والآثار مع تحقیق الروایات وتنقید الاسانید منتقیا من الکتب الحدیثیۃ کالسنن والمعاجم والمسانید وقضی اللہ سبحانہ لاتمامہ وجعلہ مقبولا بین انامہ، قد بلغ من کتاب الطہارۃ الی آخر ابواب الصلاۃ، وأسلوبہ کبلوغ المرام والمشکاۃ وأعلق علیہ تعلیقا حسنا وأشرح لہ شرحا مستحسنا مسمیا بالتعلیق الحسن علی آثارالسنن، وقد تفردت فی مواضع من ہذا التعلیق بتحقیقات عجیبۃ ووفوائد غریبۃ خلت عنہا زبر المحدثین ولم یظفر بہا أحد من المتقدمین والمتأخرین۔

یہ درحقیقت ان کی آثار السنن کی چند تحقیقات کو علامہ نیموی نے اصل کتاب کی اشاعت سے قبل چند اوراق میں شائع کر کے اہلِ علم کے سامنے پیش کرنا چاہا تھا تاکہ اہلِ علم کی رائے آئے، اس کی سنہ تاریخ نہیں معلوم لیکن یہ ان کی کتاب الدرۃ الغرۃ کے بعد لکھی گئی ہے اس لئے اس میں اس کتاب کا حوالہ ان الفاظ میں ملتا ہے:

وقد بینتہ فی رسالتی الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ فعلیک أن تراجعہا۔

الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ کا عنوان بھی ظاہر ہے، اور یہ بھی حضرت نیموی نے خود ہی تحریر فرمایا تھا، اس کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے:

’’خادمِ حدیثِ نبوی ابوالخیر محمد ظہیر احسن شوق نیموی عرض کرتا ہے کہ وہ احادیث و آثار جو محلِ وضع الیدین کے باب میں کتبِ احادیث میں مروی ہیں اور فقیر کو نہایت تلاش و تفحص سے ملے ہیں مع جرح و تعدیل شائقینِ سنت کی خدمت میں پیش کرتا ہے اور اس رسالے کا نام الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین علی الصدر و تحت السرۃ رکھتا ہے، وما توفیقی الا باللہ‘‘۔

حضرت نیموی کے اصل رسائل یہی ہیں اور ان رسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کسی کے جواب میں یہ رسائل نہیں لکھے ہیں، ہاں اس موضوع پر بعض کتابوں کی تردید ان میں ضرور ملتی ہے، پھر اس کے جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ان رسائل کی تعداد دوگنی ہو گئی۔ ہاں ان کا رسالہ مقالہ کاملہ ضرور ایک رسالہ کے جواب میں مستقل تحریر کیا گیا ہے۔

رد السکین

حبل المتین نامی کتاب جب چھپ کر منظر عام پر آئی تو احناف کے علمی حلقہ میں تو اس کی پذیرائی ہوئی لیکن اہلِ حدیث طبقہ میں برہمی پیدا ہوئی، اور مولانا محمد سعید بنارسی نے اس کے رد میں السکین لقطع حبل المتین نامی کتاب لکھی، اور حبل المتین کے حوالوں کو غلط ثابت کیا، اس کا جواب پھر حضرت نیموی نے رد السکین لکھ دیا۔ ۱۸ صفحات کا یہ رسالہ ۱۳۱۲ھ [۹۶۔۱۸۹۵ء] میں مولانا کی کتابوں کے ناشر نثار حسین صاحب نے اپنے قومی پریس سے شائع کیا۔63

سرورق:

’’رد السکین یعنی حبل المتین کی تائید اور جناب مولوی محمد سعید صاحب بنارسی کے رسالہ کا جواب باصواب ۔۔ مولفہ علامۂ زمن جناب مولانا ابوالخیر محمد ظہیر احسن صاحب شوق محدث نیموی عظیم آبادی ۔۔ حسب الحکم ناصر الملۃ امیر الامراء عالی جناب شیخ محمد بہاء الدین خاں بہادر وزیر اعظم ریاست جوناگڑھ باہتمام خاکسار محمد نثار حسین نثار مالک کارخانہ عطر و قومی پریس و مہتمم پیامِ یار ۔۔۔ ۱۳۱۲ہجری ۔۔ قومی پریس لکھنؤ میں چھپی۔‘‘

مقدمہ میں لکھتے ہیں:

’’اما بعد خادمِ حدیثِ نبوی محمد ظہیر احسن شوق نیموی عرض کرتا ہے کہ جب میں نے بحث آمین میں رسالہ حبل المتین لکھ کر شائع کیا تو اللہ تعالیٰ جل شانہ کی عنایت سے ملک پر اس کا بڑا اثر پڑا، کہ بہتیرے مذبذبین سنبھل گئے، اکثر قائلینِ بالجہر کے خیالات پلٹ گئے، اہلِ علم میں سے کسی نے لکھا کہ بیشک یہ رسالہ نہایت قابلِ قدر تالیف ہوا ہے، ……‘‘۔

اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ کس طرح اہل حدیث حضرات کی طرف سے اس کا جواب لکھا گیا اور پھر اس کے جواب میں یہ کتاب لکھی گئی۔

رد الرد

اس کے جواب در جواب میں ایک اور رسالہ علامہ نیموی کے قلم سے رد الرد کے عنوان سے شائع ہوا۔

المجلی علی المحلی

یہ رسالہ درحقیقت حضرت نیموی کے رسالہ جلاء العین فی رفع الیدین کے جواب میں مولانا محمد علی مؤی کے رسالہ المحلی بکل زین فی رد جلاء العین کا جواب ہے۔ سرورق:

’’المجلیٰ مع ضیاء العین والکلام المستحسن مؤلفہ محدث کامل الفن صاحبِ آثار السنن جناب مولانا محمد ظہیر احسن صاحب شوق نیموی حسبِ فرمائش مجمع اخلاقِ صوری و معنوی جناب منشی محمد ظہور احسن صاحب نیموی باہتمام مولوی محمد عبدالقادر صاحب مالک مطبع احسن المطابع پٹنہ محلہ گوبند عطار دراحسن المطابع طبع شد۔‘‘

اس کے آغاز میں حسبِ ذیل الفاظ ملتے ہیں:

’’اما بعد، خادمِ حدیثِ نبوی محمد ظہیر احسن شوق نیموی عرض کرتا ہے کہ فی الحال ہمارے قدیم کرم فرما جناب مولوی محمد علی ساکن مؤ ضلع اعظم گڑھ نے ہمارے رسالہ جلاء العین فی رفع الیدین کا جواب لکھ کر شائع کیا ہے، جس کا نام القول المحلیٰ بکل زین رکھا ہے۔‘‘

یہ چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔

ضیاء العین علی ازالۃ الشین

جلاء العین کا ایک جواب مولانا محمد سعید بنارسی نے بھی دیا تھا جس کا عنوان تھا، ازالۃ الشین۔ حضرت شوق نیموی نے اس کے جواب میں ضیاء العین علی ازالۃ الشین تحریر فرمایا۔

الغرہ علی القرہ

ضیاء العین کا جواب پھر مولانا بنارسی نے سید محمد حسن کے نام سے لکھ کر قرۃ العین کے نام سے شائع کیا، اس کی تردید میں حضرت نیموی نے یہ رسالہ الغرہ علی القرہ لکھا۔

الکلام المستحسن فی رد التعقیب الحسن

گذر چکا کہ حضرت نیموی نے تبیان التحقیق کے نام سے آثار السنن کے چند مباحث کو شائع کیا تھا، اس کے رد میں مولانا محمد علی مؤی نے التعقیب الحسن علی المولوی ظہیر احسن لکھی، اس کے جواب میں حضرت نیموی نے الکلام المستحسن فی رد التعقیب الحسن لکھی۔ یہ رسالہ بھی اردو میں ہے۔

تبصرۃ الانظار

جامع الآثار کا ذکر گذر چکا ہے، اس کے جواب میں مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری نے تنویر الابصار لکھی جس کا جواب حضرت نیموی نے اس عنوان سے دیا۔ یہ حضرت مصنف کے رسالہ سیرِ بنگال کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

لامع الانوار

جامع الآثار کا دوسرا جواب مولانا محمد علی مؤی نے المذہب المختار کے عنوان سے لکھا جس کا جواب حضرت مصنف نے اس رسالہ کے ذریعہ دیا۔ یہ رسالہ ان کے دیگر مذکورہ جوابی رسائل کے مقابلہ میں کسی قدر مفصل اور ضخیم ہے۔

یہ سارے رسائل شائع ہوچکے ہیں، جس میں بیشتر مختصر ہیں، ان میں بہت سے علمی مباحث ہیں لیکن پھر یہ کہنا درست ہے کہ ان مناظروں کا کیا حاصل ہوا، سمجھ میں نہیں آتا۔

المقالۃ الکاملہ فی رد الاجوبۃ الفاضلۃ الفاخرہ

یہ کتاب مولانا محمد علی مؤوی کی کتاب الاجوبۃ الفاضلۃ الفاخرہ کے جواب میں لکھی گئی ہے، اس لئے اس کا پورا نام ہے المقالۃ الکاملہ فی رد الاجوبۃ الفاضلۃ الفاخرہ، یہ رسالہ مولانا مؤوی نے نواب نورالحسن بن نواب صدیق حسن خاں کے دس رسائل کی تردید میں لکھا تھا، خاص طور پر جہاں جہاں ان کے شیخ حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کی تعریف تھی اس پر تنقید کی گئی تھی۔ اس لئے علامہ شوق نیموی نے اپنے شیخ سے غایتِ عقیدت و محبت میں ان اعتراضات کا جواب دینا ضروری سمجھا اور یہ کتاب لکھی جس میں ان کا ہر اہم اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بیشتر مسائل فقہ و تصوف سے متعلق ہیں۔ 

تذییل در بیان تقبیل

حضرت گنج مراد آبادی کی دست بوسی کی اجازت پر مصنف اول کو سخت اعتراض تھا اس لئے اخیر میں الگ سے علماء کی دست بوسی کے جواز و استحباب پر تین صفحات میں دلائل کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے، جو مستقل مضمون یا رسالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس کو خود مصنف نے تذییل در بیان تقبیل کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس سے اپنے شیخ سے ان کی عقیدت و محبت بھی واضح ہے، اور جوابات کے ساتھ حضرت والا سے متعلق انہوں نے اپنے مشاہدات کا بھی ذکر کر دیا ہے۔ یہ رسالہ بھی قومی پریس لکھنؤ سے ۱۳۰۸ھ میں شائع ہوا تھا۔64

وسیلۃ العقبیٰ

حضرت نیموی کا ایک رسالہ وسیلۃ العقبیٰ بھی ہے جو مناظراتی موضوعات سے الگ خالص تذکیر و وعظ کے موضوع پر ہے، جس میں ازاحۃ الاغلاط کے علاوہ یہ فارسی زبان میں ان کی دوسری یادگار ہے، اور بالکل آخری دور کی تحریر ہے، اسی لئے نامکمل ہے، پتہ نہیں انہوں اتنے اہم اور عام موضوع کے لئے اپنے رسائل کے برخلاف اردو کے بجائے فارسی زبان کا انتخاب کیوں کیا۔ اس کی اشاعت ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا عبد الرشید فوقانی کے اہتمام سے اور انہی کی کتابت کے ساتھ ہوئی، سرورق کے بالکل اخیر ان کے قلم سے یہ شعر ہے

خود وسیلہ را نوشتم در نہاد
تا بماند خط دستم یادگار

اور اس کی کتابت بھی عام مطبوعہ کتابوں سے بالکل الگ ہے، اور بادی النظر میں قلمی کتاب معلوم ہوتی ہے، سرورق کے الفاظ یہ ہیں:

’’ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ۔۔۔ لن یوخر اللہ نفساً اذا جاء اجلھا ۔۔ وسیلۃ العقبیٰ فی احوال المرضیٰ والموتیٰ تصنیف لطیف علامۂ کامل الفنّ فہامۂ مشہورِ زمن صاحبِ آثار السنن محقق یلمعی، محدث لوذعی جناب مولانا محمد ظہیر احسن شوق نیموی علیہ رحمۃ اللہ القوی۔ باہتمام محمد عبدالرشید فوقانی بن شوق نیموی غفر اللہ ذنوبھما در مطبع قومی پریس واقع شہر لکھنؤ ۔۔ مطبوع گردید ۔۔۔ قیمت تین روپے علاوہ محصول ۔۔ کاتب کتاب ھذا فوقانی بقلم خود۔‘‘

حاشیہ پر دائیں جانب باریک خط میں تحریر ہے: ’’آغازِ طبع در جنوری ۱۹۶۵ء و شعبان ۱۳۸۴ھ‘‘۔ کتاب ۳۲ صفحات میں ہے۔ مقدمہ میں خطبہ کے بعد تحریر ہے:

’’امابعد! می گوید امیدوار رحمت پروردگار رہادی ابوالخیر محمد ظہیر احسن شوق نیموی عظیم آبادی بن واصل بارگاہ لم یزلی جناب شیخ سبحان علی افاض اللہ علیہ شآبیب الرحمۃ والغفران وسقاہ اللہ بامطار الکرم والرضوان کہ چون این رسالہ را کہ در احکام اہل علل واموات است از آیات واحادیث واقوال مشاہیر بنوک قلم آوردم وباسم وسیلۃ العقبیٰ فی احوال المرضیٰ والموتیٰ موسوم کردم چشم کہ چون ناظرین بمطالعہ این کتاب پردازند جامع الاوراق را از دعائے حسن خاتمہ محروم نہ سازند۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ولا تجعل فی قلوبنا غلاً للذین آمنوا انک غفور رحیم۔‘‘

رسالہ میں موت کے تذکیری مباحث کے ساتھ علمی و فقہی مباحث بھی درج ہیں۔ فصلِ اول حقیقتِ موت و اتباعِ شریعت کے عنوان سے ہے۔ دوسری فصل فضیلتِ ذکرِ موت کے عنوان سے۔ تیسری فصل کا عنوان ہے کراہت از موت۔ فصل چہارم، ممانعتِ تمنی موت۔ چھٹی فصل، حرمتِ خود کشی۔ ساتویں فصل، فضیلتِ مرض۔ فصل ہفتم، در تحریکِ عیادت۔ فصل ہشتم، ثوابِ عیادت۔ فصل نہم، آدابِ عیادت۔ فصل دہم، حکمِ طاعون۔ گیارہویں فصل، تحریکِ علاج و اجتناب از ادویہ محرمہ۔ بارہویں فصل، رقی وتمائم۔ تیرہوں فصل، ذکر افسونھائے مذمومہ یعنی مذموم و ممنوع گنڈے اور تعویذات۔ اسی پر یہ رسالہ مکمل ہو جاتا ہے۔

اس کی تاریخِ تصنیف کا پتہ نہیں چل سکا کہ آیا یہ ابتدائی دور کی ہے یا بالکل اخیر دور کی، بہ ظاہر ثانی الذکر رائے قرینِ قیاس ہے، شاید وفات سے قبل ہی تحریر کیا گیا ہو۔ اس میں ایک دو جگہ فرزندِ مصنف مولانا فوقانی کا حاشیہ بھی ہے لیکن انہوں نے اپنی تصانیف کے ضمن میں تکملہ وسیلۃ العقبیٰ کے عنوان سے ایک کتاب کا ذکر کیا ہے، پتہ نہیں وہ اس میں شامل ہے، یا اس کے علاوہ تھی، اور شائع ہوئی یا نہیں ہو سکی، معلوم نہیں۔

جلاء العین دوسرے ایڈیشن (۱۹۳۵ء،۱۳۵۴ھ) کے دوسرے صفحہ کے حاشیہ پر اس کتاب کے متعلق حسبِ ذیل اشتہار درج ہے:

’’وسیلۃ العقبیٰ: فارسی زبان میں موتیٰ کے حالات اور ان کے سماع کی بحث، بعدِ تدفین قرآن پڑھنے کا حدیث صحیح مرفوع سے ثبوت، زیارتِ قبور وغیرہ کی بحث قابلِ دید ہے، نیموی نے فصل سماعِ موتیٰ تک لکھا تھا، ابنِ نیموی محمد عبدالرشید نے دس فصل اضافہ کر کے کتاب کو تمام کر دیا ہے، یہ بھی ان شاء اللہ مطبوع ہوا چاہتی ہے۔‘‘

لیکن راقم کے پیش نظر جو نسخہ ہے اس میں نہ سماعِ موتیٰ کی بحث ہے نہ ایصالِ ثواب وغیرہ کا ذکر، نہ دس فصلوں کے اضافہ کی کوئی وضاحت، حالاں کہ یہ کتاب اس اشتہار کے بہت بعد شائع ہوئی، پتہ نہیں مولانا فوقانی نے مرتب کر لیا تھا یا محض عزم کی بنیاد پر ہی اشتہار دے دیا تھا، جیسا بہت سے موقعوں پر نظر آتا ہے۔ بہرحال کتاب کا جو حصہ موجود ہے وہ اس لائق ہے کہ اردو میں اس کا ترجمہ کر کے شائع کیا جائے، بالخصوص فضائل کی بحثیں۔

ایک فتویٰ

علامہ نیموی کا ایک فتویٰ جو کتب خانہ خدا بخش میں قلمی ذخیرہ میں محفوظ ہے، ان کی اہم اور آخری دور کی یادگار ہے، اسے پہلی بار یہاں نقل کیا جا رہا ہے:

’’استفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے انتقال کیا اور چھوڑا دو بیٹیاں اور دو حقیقی بہنیں، اور دو حقیقی پھوپھیاں، اور ماں اور علاتی چچا کا ایک بیٹا، ایسی حالت میں ترکہ متوفیہ سے کس کو کس قدر پہنچے گا، بینوا توجروا۔
الجواب: بعد تقدیم ما تقدم علی الارث کل متروکہ ہندہ بارہ سہم پر منقسم ہو کر چار چار سہم دونوں بیٹویوں کو اور دو سہم ماں کو اور باقی یعنی دو سہم دونوں بہنوں کو ملے گا۔ اور دنوں پھوپھیاں اور علاتی چچا کا بیٹا محروم۔ ہکذا حکم الکتاب واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد ظہیر احسن النیموی۔ (مہر۔۔۔محمد ظہیر احسن۱۳۰۴ھ)‘‘

ان کی ادبی باقیات میں ان کی لسانی کتابوں کے علاوہ یادگارِ وطن اور سفرنامہ سیرِ بنگال اہم ہیں، اور تیسرے ان کا دیوان۔

یادگارِ وطن

علامہ نیموی کے نثری باقیات و آثار میں دو ہی قابلِ ذکر کتابیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ ان کے اسلوب کا تعین ممکن ہے، اور ان دونوں کا تعلق غیر افسانوی نثر سے ہے، اور ان سے ان کا نثری اسلوب سمجھنا اور اس پر بحث کرنا ممکن ہے۔ جن میں ایک ابتدائی دور کی اور ایک ان کے آخری دور کی یادگار ہے۔ اول الذکر ان کے اہلِ وطن کے حالات و تذکرہ پر مشتمل ہے، جس میں خود ان کی مفصل خود نوشت بھی ہے۔ ان کے اسلوبِ تحریر پر روشنی ڈالنا تو کسی ماہرِ فن کا کام ہے البتہ یہ کہنے میں تامل نہیں کہ معاصر اسلوب پر انہیں پوری قدرت تھی، اور زبان زولیدگی اور بوجھل تعبیرات و الفاظ سے بہت حد تک صاف نظر آتی ہے، البتہ اس وقت کے ماہر و معروف انشا پردازوں کے مقابلہ میں ان کا اسلوب بہت زیادہ ممتاز نہیں نظر آتا، معاصر ادباء بالخصوص دبستان عظیم آباد کے نثر نگاروں، شاد، آزاد سے ان کے اسلوب کا موازنہ مستقل موضوع ہے۔

جہاں تک کتاب کے مشمولات و مندرجات کا تعلق ہے، یا موضوعی تجزیہ کی بات ہے تو سلسلہ میں راقم کی رائے یہ ہے کہ اردو میں کسی ایک بستی کے افراد و باشندگان کے تذکرہ کے اعتبار سے کم از کم صوبہ بہار کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کی اولین کوشش نہیں تو ابتدائی کتابوں میں ضرور ہے، تاریخِ رمضان پور اور آثارِ ترہت وغیرہ اسی دور میں لکھی گئیں۔ اس کے بعد آثارِ کاکو، آثارِ منیر، جیسی کتابیں وجود میں آئیں۔ فارسی میں پھلواری شریف کے بزرگوں کا تذکرہ تو ملتا ہے لیکن اردو میں وہاں کے بزرگوں پر اعیانِ وطن اس کے کتاب تقریباً‌ نصف صدی بعد وجود میں آئی۔ اس میں انہوں نے اپنے اہلِ وطن کا اجمالی ذکر کیا ہے، آثارِ ترہت، شاد عظیم آبادی کی تاریخِ بہار، اور اس جیسی ایک دو کتابیں اس سے قبل شائع ہو چکی تھیں، لیکن کسی ایک بستی کے افراد پر اردو میں میرے علم میں یہ پہلی کتاب ہے۔ 

اس کتاب میں ان کے لسانی مباحث، قطعات اور ان کی تشریحات کو نکال دیا جائے اور خود ان کی خود نوشت نکال دی جائے، جو کتاب کے ایک چوتھائی کو ضرور محیط ہوگی، تو کتاب کے چند صفحات ہی بچ جائیں گے جس میں ان کے والد، اعمام و اجداد کا ذکر ہے، دیگر اہلِ وطن کا اجمالی ذکر ہے۔ اس میں حضرت نیموی کے کا معیارِ انتخاب کیا رہا ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے کچھ افراد کا ذکر کیا اور کچھ کو نظر انداز کیا، اس کا پتہ نہیں چلتا، بہ ظاہر انہوں نے اپنے قریبی اعزہ کے تذکرہ کو ہی ترجیح دی ہے، جن میں فارسی تعلیم کے حاملین کا ذکر تو ملتا ہے لیکن کوئی ایسا نام بادی النظر میں نہیں نظر آتا جس نے علومِ عربیہ و اسلامیہ کی، جو اس وقت اعلیٰ تعلیم سمجھی جاتی تھی، یا انگریزی کی اعلیٰ اسانید، جن کا اس وقت تک بہت حد عظیم آباد میں رواج ہو چکا تھا، حاصل کی تھی، اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ اس وقت تک حضرت نیموی کے وطن میں کوئی نامور فاضل نہیں تھا، ورنہ وہ اس کا ذکر ضرور کرتے۔ البتہ ان کے بعد کئی نام نظر آتے ہیں جنہوں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، البتہ ان کی بستی کو تعلیم سے بالکل بے بہرہ بھی نہیں کہا جا سکتا، فارسی تعلیم جو کہ انٹرمیڈیٹ یا گریجویشن کی تعلیم کے مساوی تھی ان کے وطن میں پوری طرح رائج نظر آتی ہے۔ کچھ ایسے نام بھی ہیں جو زمینداری یا پہلوانی کی وجہ سے نامور تھے، اور قیاس غالب ہے کہ جن لوگوں کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ سب ان کے ہم برادری صدیقی النسب ہیں۔

حضرت نیموی کی وطن سے محبت اس کتاب کی سطر سطر سے نمایاں ہے، لیکن انہوں نے اس کی تاریخ پر کوئی خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی ہے، کہ یہ بستی کب آباد ہوئی، اور کن علاقوں کے زیر انتظام رہی، البتہ جابجا حواشی میں اپنے علاقہ کے مختلف قصبات و دیہات اور شہروں کا بھی تعارف کرایا ہے۔ اس کا سب سے بڑا حصہ ان کے خود نوشت پر مشتمل ہے، جو انہوں نے حروفِ تہجی کی ترتیب کے مطابق حرف ظ کے ذیل میں اپنے نام ظہیر احسن نام کے تحت لکھا ہے، اس میں انہوں نے بہت تفصیل سے اپنے لکھنؤ کے ادبی معرکہ کا ذکر کیا ہے، اور لسانی مباحث اور قطعات تاریخ بھی اس قدر ذکر کئے ہیں، کتاب کا آدھا حصہ شاید اسی کو محیط ہو۔ حواشی میں اس کے علاوہ بھی جابجا تاریخی اور علمی مفید معلومات ہیں۔ انہوں نے اپنے شعری متروکات اور تلامذہ شاعری کی فہرست بھی درج کی ہے۔ اگر ان سب کو نکال دیا جائے تو کتاب شاید موجودہ ضخامت کا نصف حصہ رہ جائے۔ یہ کتاب بھی ان کے قیام پٹنہ کے بالکل ابتدائی دور کی یادگار ہے، اور اس پہلے ایڈیشن کے بعد اب تک اس کا کوئی اور ایڈیشن منظر عام پر نہیں آیا ہے، یہ بھی قومی پریس لکھنؤ سے ۱۳۱۲ھ میں شائع ہوئی تھی۔

سیرِ بنگال

ان کا دوسرا نثری کام ان کا چند ورقی سفرنامۂ بنگال ہے، جو بالکل ان کے اخیر دور کی یادگار ہے۔ سیرِ بنگال کے عنوان سے ۲۶ صفحات کا یہ رسالہ احسن المطابع پٹنہ سے ۱۳۱۹ھ (۱۹۰۱ء) میں اسی سال اس کی اشاعت ہوئی جس سال ان کا سفر ہوا تھا۔ غیر منقسم بنگال کے اس سفرنامہ کو ایک مفصل مضمون سے تعبیر کرنا زیادہ موزوں ہوگا، یہ سفر درحقیقت کلکتہ کی ایشیاٹک سوسائیٹی کے کتب خانہ سے استفادہ اور آثار السنن کی تالیف کے لئے مواد کی فراہمی اور تحقیقِ کتب کے لئے کیا گیا تھا، لیکن کلکتہ کے علاوہ انہوں نے دوسرے مقامات کی بھی سیر کی۔ یہیں ان کی مولانا ابوالکلام آزاد کے والد سے ملاقات ہوئی تھی، جس کا ذکر علامہ شوق نیموی کے فرزند سے مولانا آزاد نے کیا تھا اور انہوں نے اپنے مضامین میں جا بجا اس کا ذکر کیا ہے، آزاد کا علامہ شوق سے پہلے سے غائبانہ تعلق اور استفادہ کا سلسلہ تھا۔ اس سفرنامہ میں ان کا اسلوبِ نگارش دیکھا جا سکتا ہے، جو ارتقائی مراحل طے کر کے اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا، سفرنامہ نگاری کے جو لوازم ہیں، دقتِ نظر، منظر نگاری، وہ اس میں نظر آتے ہیں، اس سے ان کا شعری ذوق بھی بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔

ہم نے ان کی تصانیف کے ذیل میں صرف ان کے نثر باقیات کا ذکر کیا ہے، اس کے علاوہ ان کا منظوم سرمایہ بھی بڑی تعداد میں ہے، ان میں سے مثنوی نغمہ راز ان کی بالکل ابتدائی تخلیق ہے جس کا ذکر گذر چکا ہے، اور بھی ایک دو طویل مثنویاں چھوٹے چھوٹے کتابچوں کی صورت میں شائع ہو کر عام ہو چکی تھیں لیکن بقیہ منظومات شائع نہیں ہو سکے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کا معیارِ انتخاب بہت بلند تھا، انہوں نے بہت کچھ حذف کر کے ایک مجموعہ تیار کیا تھا، جس کے بارے میں خود لکھتے ہیں:

’’میں نے اپنا دیوان چار دفعہ مرتب کیا، اور ہر دفعہ بیسیوں غزلیں اور سیکڑوں اشعار جن پر مجھ کو پیشتر ناز تھا، خارج کر دئے، اب چھوٹا سا دیوان رہ گیا ہے، ہر چند ملک والے قدردانی سے برابر میرے دیوان کا اشتیاق ظاہر کیا کرتے ہیں اور برابر خط بھیج کر طبع کا حال دریافت کرتے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ مجھے موجودہ دیوان بھی باوجود اس قدر انتخاب کے پسند نہیں، پھر چھپواؤں تو کیا چھپواؤں، اب وہ اگلا شوق نہ رہا۔‘‘65

آخر ان کی وفات تک یہ دیوان نہیں شائع ہو سکا، ان کی وفات پر لکھی گئی تعزیتی تحریر اوپر گذر چکی ہے اس میں بھی اسی دیوان کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ بہرحال ان کی وفات کے بعد ان کے ہم وطن جناب نورالہدیٰ نیموی نے ان کا دیوان دیگر منظومات اور قطعات تاریخ کے ساتھ دیوان شوق کے نام سے پٹنہ سے شائع کیا۔

ان کی مشہور زمانہ تصنیف آثار السنن پر ہم اخیر میں روشنی ڈالیں گے۔

کتابوں کے ایڈیشن

ان کی تصانیف کے عام طور پر ایک ہی ایڈیشن شائع ہوئے، لیکن ۱۹۳۰ کے بعد جب ان کے فرزند مولانا عبدالرشید فوقانی جوان ہو چکے تھے، ان کی تصانیف کی از سر نو اشاعت کا منصوبہ بنایا، اور پٹنہ سیٹی میں اپنے ایک عزیز عبدالمقیت نیموی کے جدید پریس گذری بازار پٹنہ سیٹی سے ان کی اشاعت کا آغاز کیا، جن میں جلاء العین فی ترک رفع الیدین اور اس کے ساتھ الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ ۱۹۳۵ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد اسی سال دوسری کتاب جامع الآثار بھی شائع ہوئی۔ 

ان کی کتاب اوشحۃ الجید بھی شاید تیار تھی، اور اس پر مولانا فوقانی کے قلم سے تصحیحات، اضافات اور اشتہارات، اور کہیں کہیں استدراکات لکھے گئے، لیکن شاید اس ان دونوں کتابوں کے بعد اشاعت کا سلسلہ رک گیا۔ یہ نسخہ جس پر مولانا فوقانی کے قلم سے مذکورہ بالا تحریریں ہیں، کتب خانۂ خدابخش کی زینت ہے، جو ان کے کتب خانہ کے ضمن میں یہاں منتقل ہوا ہوگا، اس کا نمبر ACC1879 ہے۔ 

ان کی کتاب جامع الآثار کے اخیر میں حضرت نیموی کی کتابوں کے اشتہارات ہیں، لیکن غالب گمان یہ ہے کہ وہ شائع نہیں ہو سکے۔ اوشحۃ الجید کے اشتہار میں لکھا گیا ہے:

’’یہ رسالہ نہایت ہی عمدہ محققانہ لکھا گیا ہے، پہلی بار ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۱ء قومی پریس لکھنؤ میں چھپا تھا، غالباً ۱۸۹۸ء میں اس کے کل نسخے ختم ہوگئے تھے، مدت سے نایاب ہوگیا ہے، اب بفضلہ دوسری بار پھر مطبوع ہوا چاہتا ہے، اس رسالے میں مولانائے مرحوم نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ پابندِ تقلیدِ شخصی نہیں گو کیسے ہی برے ہوں مگر صرف انکارِ تقلید کے سبب وہ دائرۂ اہلِ سنت سے ہرگز خارج نہیں ہو سکتے۔‘‘

ان کے لسانی رسائل کے بھی متعدد ایڈیشن شائع ہوئے جن کی تفصیل ان کے ضمن میں گذر چکی ہے۔66

حضرت نیموی کی کتابوں کی تردید

حضرت نیموی کی کتابوں کی تردید میں بھی متعدد کتابیں آئیں جن کا ذکر ان کی تصانیف کے ضمن میں ہے لیکن یہاں اجمالی طور پر بھی ذکر کر دینا مناسب ہوگا، اور یہ ان کی سوانح حیات کا اہم باب ہے۔ عام طور پر کسی مصنف کی کتابوں کی تردید اتنی کثرت سے نہیں ہوتی جتنی حضرت شوق کی تصانیف کی ہوئی۔

ان کی ادبی تصانیف میں ازاحۃ الاغلاط کی تردید میں رد تردید لکھی گئی تھی، جس کا جواب انہوں نے سرمہ تحقیق کے ذریعہ دیا تھا، معلوم نہیں پھر اس کا بھی کوئی جواب لکھا گیا یا نہیں، اس کا ذکر نہیں ملتا۔ پھر جب وہ عظیم آباد میں مستقل قیام کے بعد علمی و شرعی مباحث پر رسائل لکھ کر فقہ حنفی کی وکالت کرنے لگے تو اس وقت بھی اہلِ حدیث علماء کی طرف سے متعدد جوابات لکھے گئے۔

چنانچہ ان کی پہلی اوشحۃ الجید فی اثبات التقید کا جواب مولانا ابوالمکام محمد علی مؤوی نے الجواب السدید عما اوردہ فی اوشحۃ الجید کے نام سے لکھا، حضرت نیموی نے اس کے جواب میں شاید کچھ نہیں لکھا۔67

دوسری کتاب حبل المتین کے جواب میں السکین لقطع حبل المتین لکھی گئی جس کے مصنف مولانا سعید بنارسی تھے، انہوں نے السکین لقطع حبل المتین لکھی، اس کا جواب حضرت نیموی نے ردالسکین کے عنوان سے لکھا، اس کے جواب میں پھر مولانا بنارسی سیف الموحدین علی عنق راد السکین لکھی، علامہ شوق نیموی نے اس کا جواب اپنے شاگرد کے نام سے تردید السیف الی راس اہل الخیف کے نام سے لکھا، جن کا پورا نام سید ابوالبقا محمد یوسف بسمل عظیم آبادی تھا، یہ رسالہ بھی بہ ظاہر حضرت نیموی ہی کا لکھا ہوا ہے، بہار میں اردو نثر کا ارتقاء کے مصنف ڈاکٹر مظفر اقبال لکھتے ہیں:

’’مطبوعہ مطبع احسن المطابع پٹنہ سنہ طبع ۱۳۱۲ھ،۱۸۹۴ء تعداد صفحات ۸ ۔۔۔ رد السکین کے جواب میں مولانا محمد سعید بنارسی نے سیف الموحدین علی عنق رد السکین کے نام سے ایک رسالہ لکھا اس کے جواب میں مولانا نے یہ رسالہ لکھ کر اپنے ایک شاگرد بسمل عظیم آبادی کے نام سے چھپوایا، اس رسالہ کا پورا نام تردید السیف الی راس اہل الحیف ہے۔‘‘68

اس کا جواب پھر مولانا بنارسی کی طرف سے رد التردید الی اہل التقلید مع قرۃ العین برد ما وقع فی ضیاء العین کے نام سے لکھا، اس کا جواب حضرت نیموی نے ردالرد کے نام سے لکھا ہے، مولانا بنارسی نے پھر اس کا جواب الرد لرد الرد کے عنوان سے لکھا۔69

اسی طرح حضرت نیموی کی جلاء العین کے جواب میں مولانا محمد سعید بنارسی نے ازالۃ الشین اور مولانا ابوالمکارم محمد علی مؤوی نے المحلی بکل زین لکھی۔ اول الذکر کے جواب میں حضرت نیموی نے ضیاء العین اور دوسرے کے جواب میں المجلی فی رد المحلی لکھی۔ ضیاء العین کے جواب میں مولانا بنارسی نے پھر قرۃ العین برد ما وقع فی ضیاء العین لکھی جس کے جواب میں پھر حضرت نیموی نے الغرہ علی القرہ لکھی۔

جمعہ فی القریٰ کے مسئلہ میں جب حضرت نیموی نے اپنی کتاب جامع الآثار فی اختصاص الجمعۃ بالامصار لکھی جس پر مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا احمد رضا بریلوی دونوں حضرات کی تقریظ و تصویب موجود ہے تو اس کے جواب میں ان کے ہم وطن مشہور عالم و محدث علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی ایما پر مشہور محدث مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری نے نورالابصار فی اقامۃ الجمعۃ فی القریٰ والامصار لکھی، اور ابوالمکارم مولانا محمد علی مؤوی نے المذہب المختار فی اقامۃ الجمعۃ فی القری والامصار لکھی۔ اس کے بعد پھر علامہ مبارک پوری نے تنویرالابصار فی تائید نورالابصار لکھی۔ علامہ نیموی نے اس کے جواب میں تبصرۃ الانظار لکھی، جس کے جواب میں پھر شیخ عبدالرحمٰن مبارک پوری نے ضیاء الابصار فی رد تبصرۃ الانظار لکھی۔ اور مولانا ابوالمکارم محمد علی مؤوی کی المذہب المختار کے جواب میں انہوں نے لامع الانوار لکھی۔

علامہ نیموی نے الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین علی الصدر وتحت السرۃ لکھی تو اس کا جواب مولانا مبارک پوری نے تنقید الدرۃ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا لیکن مکمل نہیں ہو سکی۔ 

آثار السنن کی تنقید میں علامہ مبارک پوری کی ابکار المنن فی تنقید آثار السنن بہت مشہور ہے لیکن اس سے قبل انہوں نے ایک رسالہ لکھا جس کا عنوان تھا اعلام اھل الزمن، جو علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی ایما پر لکھا گیا تھا، ۱۳ صفحات پر مشتمل ہے۔70 یہ بہ ظاہر ان کی ان کی تیبان التحقیق کے جواب میں ہوگا جو انہوں نے آثار السنن کی اشاعت سے قبل چند اوراق میں شائع کی تھی، اس کا دوسرا جواب مولانا محمد علی مؤوی نے التقب الحسن علی المولوی ظہیر احسن کے نام سے لکھا تھا، جس کے رد میں حضرت نیموی نے الکلام المستحسن فی رد التعقیب الحسن لکھی۔

ان تمام مباحث میں تین ہی بزرگ ان کے حریف نظر آتے ہیں جن سے ان کا معرکہ رہا، اور وہ تینوں مشرقی یوپی (اترپردیش) سے تعلق رکھتے ہیں: مولانا سعید بنارسی، مولانا محمد علی مؤوی اور مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوری۔ ہم نے ذکر کیا ہے ان کے شہر پٹنہ اور اس کے اطراف میں اہلِ حدیث علماء کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی، اور یہاں سے آثار السنن کے نام سے ایک رسالہ بھی نکل رہا تھا، لیکن میں سے کوئی بھی اس معرکہ میں نظر نہیں آتا، بالخصوص ان کے ہم وطن بزرگ علامہ شمس الحق عظیم آبادی تو بالکل اس سے الگ رہے اور شاید قرابت کے تعلق کو مکدر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے لکھا ہے کہ آثار السنن کی تصنیف کے بعد علمائے اہلِ حدیث علامہ شمس الحق عظیم آبادی کے گھر میں جمع ہوئے اور اس کے جواب کے لئے مشورہ ہوا اور مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری کے نام قرعہ فال نکلا۔71 لیکن انہوں نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے، اور بہ ظاہر یہ بات اس طرح درست نہیں ہے، بلکہ علمائے اہلِ حدیث نے ان کو اس کتاب کا جواب لکھنے کی طرف توجہ دلائی تھی، جس کا اندازہ مختلف تحریروں سے ہوتا ہے۔


حوالہ جات

  1. دیکھئے القول الحسن ص ۶۷
  2. حوالہ سابق
  3. حوالہ سابق، ص ۷۱
  4. حوالہ سابق، ص ۷۳
  5. بحوالہ علامہ شوق نیموی حیات و خدمات از مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمٰن، ص ۱۰۹
  6. یادگارِ وطن ص ۷۵
  7. القول الحسن ص ۱۷۰
  8. دیکھئے علامہ شوق نیموی حیات و خدمات، ص ۲۲۴۔
  9. تذکرہ الشوق، برحاشیہ سرمۂ تحقیق، ص ۵۵
  10. ص ۵۶ قومی پریس لکھنؤ
  11. یادگارِ وطن، ص ۱۱۹
  12. علامہ شوق نیموی حیات و خدمات ص ۲۳۲
  13. حوالہ سابق
  14. ان تمام دینی رسائل کے پہلے ایڈیشن کا ہم نے ذکر کیا ہے، لیکن ابھی حال ہی ان کا بہت ہی جامع اور تحقیقی مجموعہ، جس بہت علمی حواشی بھی درج ہیں، رسائلِ نیموی کے عنوان سے دارالشیبانی للافتاء والتحقیق پہاڑ پور ڈیرہ اسماعیل خاں صوبہ خیبرپختون خوان پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ جس کے مرتب و محقق مفتی فضل الرحمٰن صاحب ہیں، ان کے حواشی بہت علمی ہیں اور تمام روایات کی تخریج بھی کی گئی ہے، لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان رسائل کا پہلا ایڈیشن کہاں سے شائع ہوا تھا، جب کہ اس کی ضرورت تھی، نیز انہوں حبل المتین فی الاخفاء بآمین کو المحبل المتین لکھا ہے۔ ان کے لسانی رسائل مجموعہ پٹنہ کے معروف عالم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی مدظلہ مرتب کر رہے ہیں۔
  15. یادگارِ وطن ص ۱۱۲
  16. ان کے بعد حال میں ان رسائل کے مجموعہ کی اشاعت اور لسانی رسائل کی ترتیب کا ذکر گذشتہ حواشی میں آچکا ہے۔
  17. مقالات از شیخ عزیر شمس، ص ۳۲۸ دارابی الطیب گوجراں والا پنجاب پاکستان۔ ۲۰۲۰
  18. یہ مجموعہ بھی رسائل نیموی میں شامل ہے۔
  19. مولانا سعید بنارسی کے یہ سارے رسائل یکجا شائع ہوگئے ہیں، دیکھئے رسائل خمسہ از مولانا محمد سعید بنارسی مرتبہ ڈاکٹر بہاء الدین محمد سلیمان، الدارالاثریہ نئی دہلی ۲۰۲۳
  20. مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری کے ان رسائل کی معلومات معروف اہلِ حدیث عالم و مصنف مولانا راشد حسن مبارک پوری نے فراہم کی، فجزاہ اللہ خیرً‌ا۔
  21. تفہیم السنن۔ عنوان، آثار السنن کی تردید۔

(جاری)


مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ: علم کا منارہ، قرآن کا داعی

حافظ عزیز احمد

علم کی وہ قندیل جس کی لو نے ایک زمانے کو روشنی بخشی، قرآن کا وہ نغمہ جس کی صدا آج بھی دلوں میں رس گھولتی ہے، میں بات کر رہا ہوں مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید رحمہ اللہ کی۔ ان کی زندگی دینی مدارس کے تدریسی حلقوں اور عوامی درسِ قرآن کی محفلوں سے عبارت ایک ایسی تابندہ داستان ہے جس نے علم کے متلاشیوں کو سیراب کیا اور کلامِ الٰہی کی عظمت سے قلوب کو منور کیا۔ وہ ایک ایسے معلم تھے جن کے لفظوں میں حکمت رچی بسی تھی اور ایک ایسے داعی تھے جن کی آواز میں محبت اور اخلاص کی گونج تھی۔ ان کی شخصیت ایک ایسے سایہ دار درخت کی مانند تھی جس کے زیرِ سایہ تشنگانِ علم نے سکون پایا اور جس کے پھلوں سے عامۃ الناس نے ہدایت کی لذت محسوس کی۔ ان کی زندگی جہاں علم کی روشنی پھیلانے میں گزری، وہیں ان کا قلم بھی حکمت و عرفان کے موتی بکھیرتا رہا۔ آئیے، اس صاحبِ علم و فضل کے سفرِ زندگی کے چند اوراق الٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس درخشاں ستارے نے کس طرح اپنی تابانی سے دلوں کو منور کیا۔

پیدائش

آپ رحمۃ اللہ علیہ 1959ء میں ضلع شیخوپورہ (موجودہ ضلع ننکانہ صاحب) کے گاؤں لدھڑ میں پیدا ہوئے جو سانگلہ ہل سے تقریباً 12 سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ کے والد کا نام محمد حسین تھا۔ آپ کل پانچ بہن بھائی ہیں: دو بہنیں اور تین بھائی۔ بڑے بھائی کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا، جبکہ آپ کے چھوٹے بھائی ارشد امین گاؤں میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ تین برس کی عمر میں آپ فالج جیسے موذی مرض کا شکار ہو گئے جس سے آپ کی دونوں ٹانگیں زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو گئیں۔

تعلیم و تربیت

گاؤں میں معیاری تعلیم اور اسکول نہ ہونے کی وجہ سے آپ چوتھی جماعت کی تعلیم سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نو سال کی عمر میں آپ نے علاقے کی مسجد کے امام صاحب کے کہنے پر حفظ قرآن مجید کا آغاز کیا اور صرف گیارہ ماہ میں یہ عظیم نعمت حاصل کر لی۔ آپ کے صاحبزادے حافظ اسامہ اسلم بتاتے ہیں کہ ان کے والد صاحب کی حفظ کی کلاس میں بارہ طلبہ تھے، لیکن یہ سعادت صرف آپ کے حصے میں آئی۔ آپ کا حفظ اتنا پختہ تھا کہ منزل سنتے ہوئے اگر سو بھی جاتے تو گہری نیند میں بھی غلطی پکڑ لیتے۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بقول، آپ نے صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم باغبانپورہ لاہور میں مولانا محمد اسحاق قادری رحمہ اللہ سے حاصل کی، جو شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ بعد میں درجہ سابعہ تک کی تعلیم آپ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی۔ محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی اسی سال وفات ہو گئی جس کے بعد دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کے لئے آپ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ حاضر ہوئے جہاں امام اہلسنت علامہ سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے زیرِ سایہ رہ کر سندِ فراغ حاصل کی۔

اساتذہ کرام

آپ کے مشہور اساتذہ میں امامِ اہلسنت کے علاوہ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی، حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی، حضرت مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید اور حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہم اللہ وغیرہ اساطینِ علم کے نام نمایاں ہیں۔

عملی زندگی کا آغاز

1979ء میں درسِ نظامی سے فراغت کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں تشریف لے گئے۔ خود حضرت شیخوپوری علیہ الرحمہ اس دور کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"یہ اس وقت کی بات ہے جب ناچیز درس نظامی کی رسمی تعلیم سے فارغ ہوا تھا اور اسے اس سوال کے جواب کی تلاش تھی کہ اب کیا کیا جائے؟ سوچ بچار کے بعد ذہن کی سوئی اپنے آبائی گاؤں پر آ کر ٹک گئی۔ چنانچہ فیصلہ کر لیا کہ اپنی کسبی اور وہبی صلاحیتوں کی تجربہ گاہ، گاؤں کو بنا لیا جائے۔ محلے کی مسجد ویران پڑی تھی، وہاں امام تھا نہ خطیب۔ سابق امام برادری کی باہم چپقلش کی وجہ سے رختِ سفر باندھ چکا تھا۔ جب امام نہ رہا تو مسجد خالی ہو گئی، اس لیے کہ دیہات میں خطیب اور مؤذن الگ الگ نہیں ہوتے۔ مسجد سے متعلق ساری ذمہ داریاں امام ہی کو نبھانا پڑتی ہیں۔ جوانی کے امنگ تھی اور کچھ کر کے دکھانے کی دُھن میں مسجد میں جا بیٹھا پھر میں نے نہ دن دیکھا نہ رات، نہ گرمی سردی، نہ خزاں اور برسات، مسجد ہی دفتر اور مسجد ہی درسگاہ، بڑے بھی آتے اور چھوٹے بھی، کسی کو کلمہ سکھایا جاتا، کسی کی نماز درست کی جاتی، کوئی نورانی قاعدہ پڑھتا اور کوئی ناظرہ خوانی کرتا۔ دو چار حفظ کے لیے بھی تیار ہو گئے، یہاں نہ کوئی تنخواہ تھی اور نہ ہی کسی بھی قسم کے وظیفہ کا مطالبہ۔ اس کے باوجود بعض احباب کو میرا وجود کھٹکنے لگا۔ نہ روایتی وعظ مجھے آتے تھے اور نہ ہی سُر اور ساز کا تجربہ تھا۔ بخشش اور شفاعت کے سہل ترین نسخوں سے بھی بے خبر تھا۔ تعویذ گنڈے اور عملیات کی دنیا بھی میرے لیے اجنبی تھی۔ نمازِ فجر کے بعد سیدھے سادے انداز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے درسِ قرآن دیا کرتا جو فضا میں سناٹا ہونے کی وجہ سے قرب و جوار کے دیہاتوں میں بھی سنائی دیتا۔ سلیم الفطرت خوش ہوتے مگر توحید کا مضمون اور منکرات پر نکیر سن کر پیج و تاب کھانے والے اکثریت میں تھے۔ جب بعض چودھریوں نے محسوس کیا کہ خالص قرآن سنانے والے کے ہمنواؤں میں اضافہ ہونے لگا ہے تو انہوں نے اس سے نمٹنے کا ارادہ کر لیا پھر ایک روشن صبح گھمسان کا رن پڑا جس میں کالم نگار کے والدِ محترم زخمی ہو گئے۔ مخالفین میں سے بھی متعدد گھائل ہوئے مگر اپنے مربی اور محسن کے سر سے بہتے ہوئے خون نے راقم کو اپنے ارادوں کے بارے میں متزلزل کر دیا۔ اس نے بادلِ نخواستہ گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں گاؤں سے رخصت ہو رہا تھا اس دن تیز بارش ہو رہی تھی آسمان سے بھی اور میری اور میرے والدین کی آنکھوں سے بھی۔ دکھ تھا تو بس یہ کہ کسی صلہ کی تمنا کیے بغیر کی جانے والی شبانہ روز محنت کو انہوں نے برداشت نہ کیا حالانکہ یہ محنت انہی کے بچوں کی اصلاح اور تعلیم و تربیت کے لیے کی جا رہی تھی" (غریبِ شہر کی التجا/جلد دوم، تالیف:مولانا محمد اسلم شیخوپوری)

کراچی آمد

گاؤں کے ناخوشگوار حالات کے باعث آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کراچی کا رخ کیا، جس کا تذکرہ آپ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

"گاؤں سے رخصت ہونے کے بعد میں کراچی چلا آیا، میں نے یہاں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی تھی، یہاں میرے اساتذہ اور ہم درس احباب تھے، ان میں سے ایک ساتھی (مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ والے) نے مدرسہ کی داغ بیل ڈال رکھی تھی، انہوں نے ازراہِ محبت اپنے ہاں رکھ لیا۔ یہ اس مدرسہ کا دورِ طفولیت تھا، معیاری دارالاقامہ اور درسگاہیں تو دور کی بات ہے، ڈھنگ کی مسجد بھی نہ تھی۔ ایک چھپرا سا تھا جس میں پنج وقتہ نماز ادا کی جاتی تھی۔ قریب میں آبادی بہت محدود تھی جو چند گھرانے تھے وہ نماز کے ادائیگی کے لیے "چھپرے" میں آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اُدھر دل میں یہ خیال جما ہوا تھا کہ عوامی سطح پر درسِ قرآن کی کوئی صورت بن جائے۔ درسِ قرآن کے شوق کی آبیاری ان اساتذہ کرام نے کی تھی جو خود بھی اس کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ ان میں شیخین کریمین یعنی حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور ان کے برادر خورد صوفی عبدالحمید سواتی کے اسماء گرامی نمایاں ہیں۔ خوب یاد ہے کہ جب ایک بار امام اہل سنت کی خدمت میں اہلِ قریہ کی درسِ قرآن سے بے اعتنائی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: مولوی صاحب کوئی سنے یا نہ سنے یہ سلسلہ جاری رکھو۔ پھر اپنے بارے میں فرمایا کہ جب میں نے گکھڑ میں درسِ قرآن شروع کیا تو اس میں صرف ایک شخص بیٹھا کرتا تھا مگر میں خوب مطالعہ کرنے کے بعد پورا گھنٹہ درس دیا کرتا تھا اور اب جبکہ مجمع بہت بڑھ چکا ہے، صرف آدھا گھنٹہ درس دیتا ہوں۔ چنانچہ جب تک گاؤں میں رہا حضرت الاستاد کی نصیحت پر عمل کرتا رہا۔ کراچی منتقل ہونے کے بعد وہی سلسلہ یہاں بھی شروع کرنا چاہتا تھا۔ کچھ عرصہ تو انتظار کرنا پڑا لیکن بہرحال اس کا انتظام یہاں بھی ہو گیا اور میں نے مدرسہ کے قریب ہی واقع مزدوروں کی آبادی میں درس کے لیے جانا شروع کر دیا۔ ترتیب یہ بنائی گئی کہ ہفتے میں ایک دن درسِ حدیث، ایک دن درسِ فقہ اور چار دن درسِ قرآن ہوتا تھا۔ ساتویں دن چھٹی ہوتی تھی۔ عمومی درس کے بعد اسکول و کالج کے طلبہ کے لیے ترجمہ کی کلاس الگ سے ہوتی تھی۔ یہ دن زندگی کے یادگار دن تھے۔ غربت کا زمانہ تھا، میں روزانہ مدرسہ سے سائیکل پر مسجد آیا کرتا اور یہاں سے عشاء کے کافی دیر بعد واپسی ہوتی۔ سردیوں کی راتوں میں ٹھٹھرنا اور کتوں کا تعاقب کرنا خوب یاد ہے۔ وہ بھونک بھونک کر آسمان سر پر اٹھا لیتے، بھونکنے اور اچھلنے کا انداز اتنا خوفناک ہوتا کہ ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا کہ وہ تکہ بوٹی کر دیں گے۔ جب ان کی یلغار خطرہ کی حد عبور کرنے لگتی تو ہم اس لشکرِ سگاں کی جانب ایک پتھر پھینک دیتے۔ وہ دوبارہ آنے کی دھمکی دے کر مخالف سمت دوڑ لگا دیتے۔" (غریبِ شہر کی التجا/جلد اول، تالیف: مولانا محمد اسلم شیخوپوری)

تدریس کیوں چھوڑی؟

کراچی میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 19 سال تک جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اس کے بعد کچھ عرصہ جامعۃ الرشید کراچی میں بھی اسی فریضے کو سرانجام دیتے رہے۔ تاہم، 2003ء میں آپ نے مدرسے کی زندگی سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تاکہ اپنی تمام تر توجہ تصنیف و تالیف اور عوامی درسِ قرآن و دیگر اصلاحی پروگراموں کے لیے وقف کر سکیں۔ تدریس چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا محمد اسلم شیخوپوری ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں:

"جہاں تک تدریس چھوڑنے کا تعلق ہے تو سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ بعض چیزیں بندے اور رب کے درمیان راز ہوتی ہیں۔ میں ان کو برسرِعام بیان نہیں کرنا چاہتا اور کرنا بھی نہیں چاہیے۔ بظاہر اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا جس کو بیان کرنے میں مجھے کوئی حجاب بھی محسوس نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ مجھے اپنے حافظے پر اعتماد نہ رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض باتیں عین موقع پر میں بھول جاتا ہوں حالانکہ بحمداللہ دورۂ حدیث تک اسباق پڑھائے۔ تفہیم کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اچھی عطا کی تھی طلبہ مجھ سے خوش اور مطمئن تھے یہ اطمینان اور خوشی کچھ تو طلبہ کے ساتھ میری بے تکلفی کی وجہ سے تھی اور کچھ میرے اندازِ تفہیم سے وہ مطمئن تھے۔ مدرسے والوں نے بھی مجھے کبھی جواب نہیں دیا۔ الحمد للہ! درسِ قرآن کا شروع ہی سے ذوق تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی فراغت ہوئی اپنے گاؤں گیا وہاں درسِ قرآن کا ماحول قطعاً نہیں تھا اس کے باوجود وہاں درسِ قرآن شروع کیا۔ گاؤں میں جب فرقہ وارانہ ماحول کی وجہ سے رہنا ممکن نہ رہا تو یہاں چلا آیا۔ "بنوریہ" والے مفتی نعیم صاحب میرے ہم سبق رہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ وہاں بھی شدید مشکلات کے باوجود قریب ہی محلہ "لیبر اسکوائر" میں درسِ قرآن کو جاری رکھا۔ اس میں عام درس بھی ہوتا وعظ کی صورت میں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکول و کالج کے طلبہ اور عوام الناس کے لیے باقاعدہ کلاس ہوتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ میں نے درس قرآن کے لیے تدریس چھوڑی ہو الحمد للہ! پہلے سے ہی ذوق و شوق سے کام کر رہا تھا۔ تدریس چھوڑنے کے بعد پہلا سال بظاہر بڑی ابتلا کا سال تھا کیونکہ ظاہری اسباب بالکل بند ہو گئے تھے۔ اللہ نے استقامت دی کوئی بڑی پریشانی نہ ہوئی۔"

تدریس کے بعد کی مصروفیات

مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی زندگی علم و عرفان کے انمول موتیوں کی ایک ایسی آبشار تھی جس کے ہر قطرے میں بصیرت کی چمک اور حکمت کی رس گھلی ہوئی تھی۔ تدریس کے مقدس منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، آپ نے اپنے قلم کو علم کا ایسا روشن چراغ بنایا جس کی لو سے قلوب منور ہوئے اور اذہان نے نئی جلا پائی۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات ایک ایسا سدا بہار گلستان ہیں کہ جس کے ہر پتے پر ایک تازہ نغمہ، ہر کلی میں ایک نیا تبسم اور ہر پھول میں ایک انوکھی خوشبو رچی بسی ہے۔

جب آپ کی بیسیوں کتب کے اسمائے گرامی صفحۂ قرطاس پر رقم ہوتے ہیں تو نگاہِ شوق ایک لمحے کے لیے خیرہ ہو جاتی ہے۔ یہ صرف چند کتابوں کے نام نہیں، بلکہ علم کے وسیع سمندر کے مختلف ساحلوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک علمی کہکشاں اور ایک فکری نخلستان ہے۔

تصنیفات و تالیفات

ندائے منبر و محراب

سات ضخیم جلدوں پر محیط یہ تصنیف آپ کی خطابت کے اس دریا کی مانند ہے جس کی ہر لہر میں حکمت و موعظت کے آبشار رواں ہیں۔ یہ محض الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ دلوں کو حرارت بخشنے اور روحوں کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ منبر و محراب سے اٹھنے والی ہر صدا ایک ایسی پکار ہے جو غفلت کی نیند سوئے ہوؤں کو بیدار کرتی اور سچائی کے متلاشیوں کو منزل کا واضح راستہ دکھاتی ہے۔

تسہیل البیان

قرآنِ حکیم کی عام فہم انداز میں کی گئی یہ تفسیر ایک ایسا عظیم الشان علمی منصوبہ تھا جس کی تکمیل تقدیر الٰہی کو منظور نہ تھی۔ تاہم، اس کے ساڑھے سترہ پاروں پر مشتمل چار دلنشین جلدیں ہی علم کے پیاسوں کے لیے ایک سیراب کن چشمے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان صفحات میں قرآنِ مجید کے انوار اس انداز میں بکھرے ہوئے ہیں کہ ہر خاص و عام اس کلامِ ربانی کی گہرائی اور وسعت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ یہ تفسیر ایک ایسی روشن قندیل ہے جو طالبانِ علم کی راہوں کو منور کرتی اور انہیں کلامِ الٰہی کے معانی تک رسائی بخشتی ہے۔

خزینہ

بلاشبہ یہ علم و حکمت کا ایک ایسا انمول خزانہ ہے جس میں بصیرت افروز نکات اور دانائی کے آبدار موتی سلیقے سے پروئے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی قدر اہلِ علم ہی جان سکتے ہیں۔

عشاق قرآن کے ایمان افروز واقعات: یہ تصنیف ان پاکیزہ نفوس کے ایمان پرور قصص پر مشتمل ہے جنہوں نے قرآنِ پاک سے ایک لازوال عشق کیا اور اپنی زندگیوں کو اس مقدس کتاب کے نور سے منور رکھا۔ یہ واقعات قاری کے دل میں بھی عشقِ قرآن کی ایک چنگاری روشن کرتے اور انہیں ایمانی حرارت سے سرشار کر دیتے ہیں۔

خلاصۃ القرآن

قرآنِ مجید کے تیس پاروں کا یہ دلنشین خلاصہ قاری کو اس عظیم کتاب کے پیغام کو اختصار کے ساتھ سمجھنے میں ایک قیمتی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رہنما ہے جو قرآن کے وسیع وعریض مفاہیم کو ایک مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرتا ہے۔

غریب شہر کی التجا، فغانِ درویش، پکار

یہ تینوں کتب دراصل مستقل تصانیف نہیں ہیں، بلکہ "ضرب مومن" اخبار میں شائع ہونے والے ان مضامین کے دلنشین مجموعے ہیں جو ایک صاحبِ دل کی روحانی کیفیات، قلبی واردات اور معاشرتی مسائل پر مبنی گہرے افکار کا آئینہ ہیں۔ ان تحریروں میں ایک درویش کی بے نیازی اور ایک درد مند دل کی سوزناک پکار سنائی دیتی ہے۔

بڑوں کا بچپن

یہ ایک دلچسپ اور منفرد موضوع پر مبنی تصنیف ہے، جو بزرگوں کی زندگی کے شیریں لمحات اور ان کے معصومانہ تجربات کو ایک دلنشین انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب ماضی کی ان گلیوں میں ایک خوشگوار سفر کی مانند ہے جہاں بزرگوں نے اپنے بچپن کے حسین دن گزارے۔

تکملہ فتح الملہم کی اردو تلخیص

یہ ایک گرانقدر علمی کاوش ہے جو شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدھم کی شہرہ آفاق تصنیف "تکملہ فتح الملہم" جیسے ایک عظیم علمی خزانے کو اردو زبان بولنے اور سمجھنے والے طبقے کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔ یہ تلخیص اصل کتاب کے دقیق اور پیچیدہ مباحث کو نہایت ہی سہل اور عام فہم انداز میں پیش کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس علمی گنجینے سے مستفید ہو سکیں۔

مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی یہ تصنیفات و تالیفات محض چند کتابیں نہیں، بلکہ علم و حکمت کے وہ روشن چراغ ہیں جو رہتی دنیا تک طالبانِ حق کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ آپ کا قلم ایک ایسی بااثر قوت تھی جس نے بیسیوں علمی و ادبی شہ پارے تخلیق کیے اور ایک عالم کو اپنے فیض سے سیراب کیا۔ آپ کے افکار و آثار ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آپ کی علمی میراث رہنمائی کا فریضہ بخوبی سرانجام دیتی رہے گی۔

درسِ قرآن و حدیث

تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ، آپ نے اپنے حلقۂ احباب اور معاشرے کے ان افراد کی اصلاح و تربیت کا سلسلہ بھی جاری رکھا جن کے عقائد و اعمال نے راہِ اعتدال سے دوری اختیار کر لی تھی۔ آپ نے اپنی مسجد (جامع مسجد توابین) میں جمعہ کے خطبات کے علاوہ درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کوشش نے بتدریج ترقی کی اور "درسِ قرآن ڈاٹ کام" ویب سائٹ کے ذریعے ایک وسیع طبقہ اس سے مستفید ہونے لگا۔ مختلف مقامات پر آپ کے دیے گئے مجموعی دروسِ قرآن و حدیث کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے، جن میں سے بیشتر ریکارڈ اور تحریری صورت میں محفوظ ہیں۔

زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے، ہم یہاں صرف مولانا زاہد الراشدی کے ان پر خلوص کلمات کو نقل کرتے ہیں جو انہوں نے حضرت شیخوپوری رحمہ اللہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہے۔ اور اگر زندگی نے وفا کی تو، ان شاء اللہ، کسی اور موقع پر حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی قرآنی علوم سے بے پایاں عقیدت کے رنگوں کو تفصیل سے بیان کریں گے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب لکھتے ہیں: 

"مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید آج کے دور میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی اس تعلیمی و فکری جہد و جہد کا اہم کردار تھے جو حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد ہندوستان واپس پہنچنے پر شروع کی تھی کہ مسلمانوں میں اجتماعیت کے فروغ کی محنت کی جائے اور قرآنی تعلیمات عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جہدوجہد کی جائے۔ مولانا شیخوپوری نے قرآن کریم کے درس کے لیے جو اسلوب اختیار کیا، وہ آج کے نوجوان علماء کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔" (مجلہ الشریعہ گوجرانوالہ، جون 2012ء)

اسفار

مولانا شیخوپوری کی ہمہ جہت شخصیت نے انہیں محض اپنے وطن تک محدود نہیں رکھا؛ ان کی فکری رسائی نے انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی متحرک کیا۔ خاص طور پر حرمین شریفین کی زیارت اور افریقی ممالک کے ان کے تبلیغی اسفار، ان کی زندگی کے اہم ابواب ہیں۔ یہ اسفار محض سیاحت یا روحانی تسکین کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ ان میں دین کی دعوت اور لوگوں کو خیر کی جانب راغب کرنے کا ایک گہرا جذبہ کارفرما تھا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہا بحری اور فضائی راستوں سے حج اور عمرہ کی سعادت عطا فرمائی، اور انہوں نے مدینہ منورہ کی پرسکون فضاؤں میں حاضری دی۔ یہ ان کے مضبوط ایمان اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی اظہار تھا۔

تجارت

مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ محض ایک کامیاب عالم دین ہی نہیں تھے، بلکہ ایک باکمال تاجر بھی تھے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ دین کی خدمت اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب انسان اپنی کمائی سے مستغنی ہو۔ اسی لیے انہوں نے تجارت کا راستہ اختیار کیا، اگرچہ ان کے پاس ابتدائی سرمایہ بہت قلیل تھا۔

ابتدا میں انہوں نے کتب فروخت کرنے کی سعی کی، لیکن جسمانی معذوری اس راہ میں حائل رہی۔ بعد ازاں، انہوں نے ہوٹلوں کو مٹر چھیل کر اور پیک کر کے فراہم کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد ان کی توجہ تسبیح اور مسواک جیسی اشیاء کی تجارت کی جانب مبذول ہوئی اور انہوں نے اپنی مصنوعات کو "حلیمی پروڈکٹس" کا نام دیا۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ ان کی تیار کردہ مسواک حرم شریف میں بھی فروخت ہو، اور قدرت نے ان کی یہ خواہش پوری بھی کر دکھائی۔

خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار مولانا نے دل کے عارضے میں مبتلا افراد کے لیے ایک شربت بھی تیار کیا، جو بے حد مفید ثابت ہوا۔ ان کا "حلیمی شہد" بھی غیر معمولی شہرت اختیار کر گیا، جس کا آغاز اگرچہ محدود پیمانے پر ہوا، لیکن ان کی انتھک محنت سے یہ کاروبار وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ قیمت مناسب رکھنے کے لیے وہ خود جا کر سستی بوتلیں خریدتے اور انہیں استعمال میں لاتے۔ انہوں نے اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شریک کیا تاکہ وہ بھی مستفید ہو سکیں۔ "سنت گفٹ" کے نام سے انہوں نے ایک اور منفرد سلسلہ شروع کیا، جس میں سنت کے مطابق اشیاء شامل تھیں۔ یوں ان کا کاروبار روز بروز ترقی کرتا گیا۔

مولانا اپنے ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے اور ہمیشہ وقت پر ٹیکس ادا کرتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ نے علم دین کے ساتھ ساتھ اپنی محنت سے رزق کمایا اور مخلوق خدا کی خدمت کی۔ ان کی تجارت ایمانداری اور اعلیٰ معیار پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں بے پناہ برکت نصیب ہوئی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ انمول سبق دیتی ہے کہ محنت اور سچائی سے ہر میدان میں کامیابی ممکن ہے۔

شادی و اولاد

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کی پہلی شادی غالباً مئی 1985ء میں اپنے خاندان میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زوجہ سے پانچ بیٹے: محمد عثمان، محمد اسامہ، محمد حمزہ، محمد طلحہ، اور محمد معاذ، اور ایک بیٹی عطا فرمائی۔ شہادت سے ایک سال پہلے آپ نے پٹھان برادری میں دوسری شادی کی، جس سے آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی۔

آپ کی اولاد میں سے تین بیٹے اور بڑی بیٹی عالمہ ہیں۔ مولانا محمد عثمان، مولانا محمد اسامہ اور بیٹی کی فراغت جامعہ بنوریہ سائٹ جبکہ مفتی محمد طلحہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔

شہادت

13 مئی 2012ء، اتوار کے دن، دوپہر سوا ایک بجے آپ البرہان سینٹر بہادر آباد میں درسِ قرآن دینے کے بعد اپنی رہائش گاہ گلشن معمار واپس جا رہے تھے۔ نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں، بہادر آباد دھورا جی کالونی کے قریب، رنگون والا ہال کے پاس، دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار دہشتگردوں نے آپ کی گاڑی پر بے دریغ فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کو جناح ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن زخموں کی شدت کے باعث آپ شہید ہو گئے۔

مولانا کی شہادت کا واقعہ بھی عجیب تھا۔ دہشتگردوں کی چھ گولیاں آپ کے دو محافظوں کو لگیں۔ ایک گولی محافظ کے جسم سے پار ہو کر مولانا کو لگی۔ مولانا اپنے ہاتھ سے محافظ کا خون روکتے رہے اور اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین بھی کرتے رہے۔ اسی دوران آپ کے اپنے جسم سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ چھ گولیاں لگنے کے باوجود دونوں محافظ زندہ رہے، جبکہ مولانا گارڈ کے جسم سے نکلی ہوئی ایک گولی سے شہادت پا گئے۔

جنازہ و تدفین

بالآخر، 13 مئی 2012ء کی وہ غمگین رات آئی جب کراچی کے گلشن معمار میں واقع توابین مسجد کا صحن ہزاروں سوگواروں سے بھر گیا۔ وہ ہستی جس نے اپنی زندگی قرآن کی خدمت اور علم کی اشاعت کے لیے وقف کر دی تھی، اب ابدی سفر پر روانہ ہو رہی تھی۔

رات 8 بجے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی امامت میں ادا کی جانے والی اس نمازِ جنازہ میں ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل اس عالمِ دین کی جدائی کے غم سے نڈھال۔ پھر توابین مسجد کے احاطے میں اس پیکرِ علم کو سپردِ خاک کر دیا گیا، مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔

یقیناً، ایسے علم کے منارے اور قرآن کے داعی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی رحلت ایک خلا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہے۔ لیکن ان کی تعلیمات کی روشنی ہمیشہ ہمارے راستوں کو منور کرتی رہے گی اور ان کا ذکر خیر رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

President Trump`s Interest in the Kashmir Issue

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

US President Donald Trump has intervened in the recent war between Pakistan and India, persuaded both sides to cease fire and expressed interest in resolving the Kashmir issue. We have stated in this regard that if President Trump’s efforts pave the way for the implementation of the UN resolutions to resolve the Kashmir issue and the Kashmiri people get the right to decide their own future through a free plebiscite, then we will welcome it. But if all this is to be done for the sake of delay and passing time, then this has been happening continuously for the last 75 years., it will not make any difference in the situation. However, I would like to present to the readers an article from three decades ago, which can clearly assess the real objectives of America with regard to Kashmir, which was published in the August 1996 issue of the monthly magazine Nusrat-ul-Uloom Gujranwala:

Nawa-e-Waqt Lahore published a report on the Kashmir issue on July 22, 1996, citing the news agency NNI, in which it was stated that America has made a plan for an independent Kashmir and its diplomats have become active for this.
The interest of America and other Western powers in the Kashmir issue has been only to the extent that they have considered it a necessity to continuously maintain the state of war between Pakistan and India in South Asia, and their policies so far have revolved around this need. But for some time now, the desire to resolve this issue has been emerging from the mighty America. In the background of this, there is a clear need for America to have a strong military base in its neighborhood to deal with China, which obviously cannot be any better than Kashmir.
Therefore, such proposals are being made that:
  1. the Kashmir region that Pakistan has, should be allowed to remain with it, 
  2. the Jammu region should be given to India,
  3. and the Kashmir Valley should be made an autonomous state. 
It is obvious that the newly independent Kashmir will need the help and support of world powers for its security and survival, and the mighty America can easily provide this security by taking it into its lap. This is why China, despite its good relations with Pakistan, has been looking a bit shy at the international forum for some time now.
In view of the increased activities of American diplomats regarding the Kashmir issue in the past few weeks, the Prime Minister of Azad Kashmir, Sardar Muhammad Abdul Qayyum Khan, has also said that “something is definitely going to happen in Kashmir”. And it seems that the might America has now decided to bring this issue to a final conclusion.
We sympathize with the Kashmiri people and freedom fighters who have been struggling for half a century to protect their religious identity and achieve their inalienable right to self-determination, and we have always supported their struggle, but we are also afraid of this outcome of their long struggle and immense sacrifices. Yesterday, when we discussed this issue with a leader working on the Kashmir freedom front, he rejected this fear and said, now that the Kashmiri people themselves are participating in the freedom struggle, no solution can be imposed on them without their will. We pray that Allah Almighty makes it so, because nothing is difficult for Him, Ameen.

احیائے امت کا سفر اور ہماری ذمہ داریاں

ڈاکٹر ذیشان احمد

انٹرویو نگار : اویس منگل والا


(یوٹیوب چینل ’’درسِ قرآن ڈاٹ کام‘‘ پر  ۱۱ جنوری ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والے انٹرویو کی تفہیم و تسہیل قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔)



اویس: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم، میں ہوں اویس منگل والا اور درسِ قرآن ڈاٹ کام پر یہ ایک سپیشل پوڈ کاسٹ ہے جس کے ساتھ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ بات کریں گے آج کچھ خوابوں کی، وہ کہتے ہیں نا کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو کہ آپ کو نیند میں نظر آتے ہیں، خواب دراصل وہ ہوتے ہیں جو کہ آپ کو سونے نہیں دیتے۔ لیکن کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر خواب دیکھنے سے، خوابوں کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں، اور اسی لیے ہماری انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوئی طویل مدتی سوچ نہیں رہی ہے۔ اب اس حوالے سے آج ہم نے گفتگو کرنی ہے کہ یہ معاملہ ہے کیا اور کیسے اس معاملے کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر ذیشان احمد صاحب موجود ہیں، بہت معروف ماہرِ تعلیم ہیں، بزنس سٹڈیز کے بھی ماہر ہیں، اور مختلف یونیورسٹیز سے ان کا تعلق رہا ہے، LUMS (لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز) سے ان کا تعلق رہا ہے، KSBL (کراچی سکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ) سے ان کا تعلق رہا ہے، اور الغزالی یونیورسٹی سے بھی، تو ان سے آج ذرا ہم اس معاملے میں راہنمائی حاصل کریں گے۔ السلام علیکم ڈاکٹر صاحب، کیسے ہیں سر ٹھیک ٹھاک ہیں۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: وعلیکم السلام، الحمد للہ، آپ سنائیں۔ 

اویس: الحمد للہ، الحمد للہ، معاملہ جو ہے وہ ذرا سنگین ہے، لیکن میں نے آسان الفاظ میں اسے لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن پہلا سوال میں آپ سے نہایت آسان اور نہایت سادہ سا کرتا ہوں کہ اس وقت اگر دنیا کی صورتحال کو دیکھا جائے اور دو قوموں کا موازنہ کیا جائے، ایک مسلمانوں کا اور ایک یہودیوں کا، تو طاقت میں، عالمی معاملات میں، با اثر ہونے میں، ٹیکنالوجی میں، ہر چیز میں کون آگے ہے؟ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم۔ دیکھیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم پیمائش کیسے کرتےہیں؟ ہر چیز کی ایک Per capita measure (فی کس پیمائش) ہوتی ہے، مثال کے طور پر اگر علم کی اور ٹیکنالوجی کی بات کریں تو معلوم کر سکتے ہیں کہ فی یہودی کتنے Patents (اختراع ناموں) کی درخواست دی گئی، کتنی تحقیق ہوئی، کتنے تحقیقی مقالے لکھے گئے، کتنی یونیورسٹیز ہیں، نوبل انعام یافتہ یہودیوں سے کتنے آئے؟ 

Per capita کے اندر Denominator (اس معاملے میں مسلمانوں اور یہودیوں کی آبادی) کا بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ تو فی کس مسلمانوں کا دیکھیں تو ایک یہودی کے بدلے میں ایک سو مسلمانوں کا تناسب ہے۔ 

اویس: تعداد کی بات ہو رہی ہے نا یہ فی الحال؟

ڈاکٹر ذیشان احمد: جی، تعداد کی۔ یعنی ہم کہتے ہیں وہ ڈیڑھ ملین (پندرہ لاکھ) ہیں اور ہم ڈیڑھ بلین (ڈیڑھ ارب) سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ دیکھیں کہ سائنسی ترقی میں، تحقیق میں، اختراع ناموں میں، نوبل انعام یافتوں میں، یا دوسرے انعامات میں تو مسلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اور یہودیوں کا فی کس دیکھا جائے تو اور کوئی قوم نہیں ہے ایسی دنیا میں جس کا تناسب ان سے زیادہ ہو۔ 

اب ظاہر ہے کہ یہ دنیوی اسباب ہیں۔ اور یہ ایسی چیز ہے جو بڑی حد تک وضاحت کرتی ہے کہ آج اس وقت جہاں ہم کھڑے ہیں، کتنے بے بس ہیں، کتنے مجبور ہیں، امکانات کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے ہیں، ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کرنا کیا ہے؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں، کوئی اندازہ نہیں کہ اس صورتحال میں ہمیں کرنا کیا ہے۔ جبکہ وہ ایسی نئی نئی چیزیں کر رہے ہیں، جو حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے ساتھ ہوا، اس سے پہلے جو ایران کے ساتھ ہوا، یعنی ہم ان کا دفاع، ان کا اقدام، ان کی ٹیکنالوجی دیکھ رہے ہیں۔

یہ ایسے ہی راتوں رات نہیں ہو جاتا، اس کے پیچھے بیس سال کی منصوبہ بندی ہے، اس کے پیچھے خواب دیکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے ویژن بنایا گیا ہے، اور اس کے پیچھے تمام قوتوں کی صف بندی کی گئی ہے، منظم کیا گیا ہے، مالی مدد فراہم کی گئی ہے، سب کچھ کیا گیا ہے تب جا کر ان کے جو خواب ہیں، صیہونیوں کے خواب، وہ آج پورے ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ 

اور جو مسلمان تھے جنہوں نے خواب دیکھنے تھے، جنہوں نے آکے وہ چیزیں کرنی تھیں اور اس کا دفاع کرنا تھا، وہ ساری چیزیں جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی سے، صحابہؓ کی زندگی سے، حضرت عمرؓ کی زندگی سے ثابت ہیں، ہم نے وہ کچھ نہیں کیا۔ لہٰذا نتیجتاً‌ ہم کسی امریکی سازش کو، کسی اسرائیلی لابی کو، کسی موساد کو یا را کو الزام نہیں دے سکتے، یہ سب ہمارا اپنا کیا ہوا ہے۔ 

تو سوچنے کی بات ہے کہ جب یہ صورتحال صاف طور پر بتائی جاتی ہے تو پھر ظاہر ہے اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ اچھا، اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟ 

اویس:  وہ اگر آگے ہیں تو کیسے آگے ہیں، انہوں نے کیا حکمتِ عملی اپنائی؟ اور ہم وہ کیوں نہیں کر سکے؟ کیونکہ پہلے تو اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے نا، ورنہ بہت سارے لوگ ایک Denial mode (انکاری کیفیت) میں ہوتے ہیں کہ نہیں جی ہم تو مسلمان ہیں، چونکہ ہمارے ساتھ یہ لیبل لگا ہوا ہے، جو کہ ظاہر ہے بہت بڑا لیبل ہے، لیکن اس بڑے لیبل کے ساتھ بہت ساری ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ تو ہمارے ساتھ صرف لیبل لگا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ہم کامیاب ہیں، یا ہم آگے ہیں، تو اس کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے، لیکن کیا ہم عام طور پر اس چیز کو تسلیم کرتے ہیں؟ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: بالکل نہیں کرتے۔ دیکھیں، ایک پہچان ہے، ایک شناخت ہے، سارے مسلمان مانتے ہیں کہ آخری وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آگے چل کر جتنے بھی چیلنجز آنے تھے، کسی بھی حوالے سے، ٹیکنالوجی، سماج، نفسیات، تعلقات، سیاست، معیشت، سب کا حل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ اچھا، اب ہوا یہ کہ اہلِ مغرب نے پندرہویں صدی کے آس پاس جتنا ہمارا جمع شدہ کام تھا، تحقیق تھی، چاہے وہ بو علی سینا کا ہو، فرابی کا ہو، کندی کا ہو، سارا جمع کر کے اپنی یونیورسٹیز میں پڑھانا شروع کر دیا۔ جبکہ ہم نے اس کے ساتھ ساتھ اس کو کھونا شروع کر دیا۔ نتیجہ کیا ہوا کہ قوموں کی پیش رفت میں وہ تیز رفتار ہوتے گئے اور ہم سست ہوتے گئے، اور ایک مقام پر آ کر وہ ہم سے آگے نکل گئے۔ اور اس کے بعد کی تاریخ ہم سب کو معلوم ہے۔ 

چونکہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وحی میں سب کچھ تھا، تو انہوں نے بہت ساری چیزیں اسی سے سیکھیں۔ جبکہ ہم اسے بتدریج اپنی زندگی گزارنے کے طریقے سے، اپنے ویژن سے، اپنے طرزِ زندگی سے، اپنی زندگی کے محور سے، ہر چیز سے اس کو ہٹاتے چلے گئے۔ 

پھر یہ زمانہ آ گیا کہ جیسے کراچی مذہبی اعتبار سے بڑا اچھا شہر ہے، یہاں کے مسلمان سمجھدار ہیں، لیکن ہمارے مڈل کلاس گھرانوں میں بچے کو کیا بتایا جاتا ہے، کس چیز سے ڈرایا جاتا ہے، کس چیز کی لالچ دی جاتی ہے؟ یہی کہ پڑھائی نہیں کرو گے تو کیا تم گدھا گاڑی چلاؤ گے؟ تو ساری بات ہوتی ہے معاشی کیریئر کی، ایک قابل بھروسہ مستقبل کی، کہ امریکہ چلے جاتے ہیں، انگلینڈ چلے جاتے ہیں۔ یہاں پر ایسی کوئی بات نہیں ہوتی جو اپنی شناخت کی عکاسی کرتی ہو۔ 

علماء جو وارث تھے، جنہوں نے حل پیش کرنے تھے، اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت، جس نے علم میں آگے بڑھنا تھا، ان چیزوں کو سمجھنا تھا۔ ہوا یہ کہ مغرب والے تحقیق بڑھاتے گئے، اور اب وہ بہت ساری کتابیں ایسی لکھتے ہیں جن میں آپ کو Intermittent fasting سے لے کر Emotional intelligence سے لے کر Level five leader سے لے کر ہر چیز میں قرآن  و سنت اور سیرت نظر آئے گی۔

اویس: فائیو اے ایم کلب ان کی (صبح پانچ بجے جاگنے والے) ……

ڈاکٹر ذیشان احمد: ہمارا تو بچہ بچہ فائیو اے ایم کلب ہے۔ رابن شرما تو فائیو اے ایم کلب اب لکھ رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فور اے ایم کلب (تب بتا دیا تھا)، جو تہجد میں اٹھے گا، وہ تو فور اے ایم کلب میں اٹھے گا۔ ایک زمانے میں ہمارا بچہ بچہ یہ کرتا تھا۔ تو ظاہر ہے کہ اللہ کے وہ وعدے ان طریقوں کے ساتھ ہیں۔ 

مجھے کوئی El Salvador میں نظام کی تبدیلی کی کہانی سنا رہا تھا، چھوٹا سا ملک ہے، گلشن اقبال جتنا ہو گا، لیکن ایسی بڑی تبدیلی آئی ہے، وہ ڈرگز مافیا کا شہر تھا، اب کہتے ہیں کہ وہاں قانون کا زبردست راج ہے، دکانیں صبح ہی صبح کھلتی ہیں اور شام تک سب بند ہو جاتا ہے۔ اب یہ کہاں سے آیا؟ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا۔ لیکن کراچی میں اور پاکستان میں کیا ہو رہا ہے اور ایل سلواڈور میں کیا ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کس کو الزام جاتا ہے، ہم اپنے آپ کو ہی الزام دے سکتے ہیں۔ تو ہماری بنیادی جو چیز تھی، ہم نے اپنے آپ کو پہچانا نہیں۔ یہ جو کتاب مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے لکھی ہے ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ جس کا ترجمہ اردو میں ہوا ’’مسلمانوں کا عروج و زوال اور انسانیت پر اس کے اثرات‘‘۔ اس میں انہوں نے ایک زبردست دعویٰ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا فرق یہ پڑ گیا ہے کہ جو لوگ اللہ  اور رسول کو ماننے والے اور آخرت کو ماننے والے تھے، وہ ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹ گئے۔ اس کا مطلب کیا ہے کہ جب یہ لوگ آئے تھے تو انہوں نے عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق، کمزوروں کے حقوق، کمزوروں قوموں کے حقوق، یتیموں  اور بیواؤں کے حقوق قائم کیے تھے۔ اب یہ معاملہ جو دوسری طرف چلا گیا ہے تو بہت نقصان ہو سکتا ہے انسانیت کو۔ 

ظاہر ہے کہ ویسٹ میں صیہونی وغیرہ بھی ہیں، اور ویسٹ میں وہ سوشلسٹ ری پبلک Scandinavian  countries ممالک بھی ہیں  جو  ویلفیئر سٹیٹس بنا کے بیٹھی ہیں۔ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہت قریب ہیں (اسلامی رفاہی ریاست سے)، اس معنیٰ میں نہیں کہ ان کا ایمان ویسا ہے، یا وہاں پہ عبادات ویسی ہیں، لیکن معاملات کے اعتبار سے کہ وہاں کوئی بھوکا نہیں سو سکتا، وہاں پہ کوئی غریب بغیر علاج معالجے کے مر نہیں سکتا۔ تو اس معاملے میں وہ اس ریاست کے کہیں زیادہ قریب ہیں جو ہماری ریاست ہے یعنی  اللہ کے رسول جو قائم کر کے گئے تھے۔ 

تو یہ کیسے ہو گیا؟ ظاہر ہے کہ اس کو سمجھنا پڑے گا کہ بنیادی طور پر ساری چیز شروع ہوتی ہے اپنے آپ کو پہچاننے سے،  میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ مجھے اس دنیا میں کرنا کیا ہے؟ اور میں نے خواب کون سے دیکھنے ہیں؟ وہی بات جو آپ فرما رہے ہیں۔ 

اویس: میں اس دنیا میں آیا ہوں تاکہ میں سکول جاؤں، کالج جاؤں، یونیورسٹی جاؤں، اس کے بعد ایک اچھی سی نوکری کروں، پھر شادی ہو جائے، کچھ بچے پیدا ہو جائیں، اس کے بعد بڑھاپا آئے، اس کے بعد اللہ حافظ۔

ڈاکٹر ذیشان احمد: بنگلہ ہو، گاڑی ہو، جب یہ چیزیں شامل کر لیتے ہیں تو آپ پاکستانی خواب اور امریکی خواب میں فرق نہیں کر سکتے۔ تو جس چیز کے پیچھے وہ لگے ہیں آپ بھی اس چیز کے پیچھے لگے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ جب آپ کی طرف دیکھیں گے کہ میں اس سے کیا کام لوں؟ اس کے اندر تو نہ جنت کا شوق ہے نہ کوئی اور۔ میں بچوں کو کل رات بتا رہا تھا کہ عمیر بن ابی وقاصؓ، سعد بن ابی وقاصؓ کے چھوٹے سے بھائی تھے۔ 

میرا چھوٹا بیٹا بیت السلام میں پڑھ رہا ہے تو وہاں اس کا ایک کلاس فیلو جو بالکل صحت مند تھا، تین چار دن میں اس کو بخار ہوا، طبیعت خراب ہوئی، برین ٹیومر نکلا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ کل رات اس کے جنازے میں گئے تھے، وہ بہت ہلے ہوئے تھے۔ تو میں نے کہا کہ مسلمانوں کے ہاں موت جو تھی، وہ کوئی ہلنے والی چیز نہیں تھی، ایک یاد رہنے والی چیز تھی۔ میں نے ان کو بتایا کہ سعد بن ابی وقاصؓ کے جو بھائی تھے عمیر بن ابی وقاصؓ، وہ بدر کے دن چھپ رہے تھے کہ میں نظر آجاؤں گا تو یہ مجھے الگ کر دیں گے کہ یہ ابھی چھوٹا لڑکا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ چھپتے چھپتے شامل ہو گیا کسی طرح سے، اور اسی میں اس کی شہادت ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اس کا تصور بالکل واضح تھا کہ بدر میں آیا ہوں اور مجھے اب سیدھا جنت جانا ہے، یہ میرا جنت جانے کا دروازہ ہے۔ اور اس کے لیے اس نے ہر طرح کی کوشش کی۔ اب آپ سوچیں کہ اس بچے کا جذبہ کیا ہو گا؟

حضرت خالد بن ولیدؓ کہہ رہے ہیں کہ یہ تم اس قوم کو للکار رہے ہو جو موت کو ویسے محبوب رکھتی ہے جیسے تم شراب کو محبوب رکھتے ہو۔ اور ابھی اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ تم اس قوم کو للکار رہے ہو جو موت سے اتنی محبت رکھتے ہیں جتنی تم صیہونی زندگی سے محبت رکھتے ہو۔ قرآن کریم کی آیت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم یہودیوں کو زندگی پہ زیادہ حریص پاؤ گے یہاں تک کہ مشرکین سے زیادہ۔ 

تو یہ بڑا فرق ہے، اب اگر ہم بھی انہی کی طرح ہو گئے، اگر مجھے بھی وہن یعنی موت کا خوف اور اس سے ایک اکتاہٹ اور زندگی کی محبت ہو گئی، تو پھر اللہ کے رسول نے کہا کہ چاروں طرف سے جیسے لوگ دسترخوان کے کھانے پہ اٹیک کرتےہیں،  ویسے تم پہ اٹیک کریں گے، اور وہی کچھ ہو رہا ہے۔

اویس: بالکل وہی چیز ہو رہی ہے۔ اچھا، اب ایک اور چیز اس کے اندر آجاتی ہے، بہت سارے لوگوں سے جب گفتگو ہوتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہونا ہی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے، یہ تو ہونا ہے، تو اب ہم کیا کر سکتے ہیں، یہ اپروچ کیا ہے؟ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: اسے کہتے ہیں Self fulfilling prophecy کہ ہم یقین کر لیتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی ہے۔ اگر میں سوچ لوں کہ میں کچھ بھی کر لوں مجھے بڑھاپے میں شوگر ہونی ہی ہے، تو اس کا مطلب کیا ہے کہ اب میں ایک خیالی دنیا میں داخل ہو گیا ہوں، میں نے سمجھ لیا ہے کہ میرے کچھ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسے پیشگوئی پر مبنی زندگی کہہ لیں، بے عملی کی زندگی کہہ لیں، یا ردعمل (کچھ ہو گا تو کچھ کریں گے) والی زندگی کہہ لیں کہ جس کے اندر آپ اپنے آپ کو حالات کے حوالے کر کے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ 

دوسرا طریقہ زندگی گزارنے کا یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ نہیں، یہ تو مستقبل کا وہ منظر ہے جو مجھے پیشگوئی کی بنیاد پر نظر آ رہا ہے، لیکن ایک منظر وہ ہے جو میں دیکھنا چاہتا ہوں، اور اس سے قطع نظر کہ نتائج کیا ہوتے ہیں، جو میں چاہتا ہوں اس کے پیچھے پورا عزم کر کے اپنی پوری توانائی، محنت اور ثابت قدمی لگاؤں گا، اللہ سے مانگوں گا اور اللہ تعالیٰ مدد کرے گا، تو یہ مسلمان کی شان ہوتی ہے۔ 

اویس: یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز کہی ہے کہ یہ ہونا ہے، تو آپ اس کو کیسے لے رہے ہیں؟ یہ تو آپؐ نے نہیں کہا نا کہ جب تم پر حملے ہو رہے ہوں تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جانا اور بس کچھ نہ کرنا۔

ڈاکٹر ذیشان احمد:  نہیں کہا، اور دیکھیں اس وقت جو فلسطینی مجاہدین ہیں، یعنی یحیٰ سنوار کا بیان میں نے پڑھا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور کتنا کمال کا بیان ہے کہ ’’انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم کس درجے کی قربانی دے سکتے ہیں‘‘۔ یہ اسی دور کا آدمی ہے، اسی دور کے لوگ ہیں، تو یہ جو کر کے دکھا رہے ہیں، یہ میرے لیے متاثر کن ہونی چاہیے نا۔ 

اس میں جو نکتہ ہے وہ یہی ہے کہ میری جو شناخت ہے، اللہ نے جو مجھے بھیجا ہے، اس سے قطع نظر کہ آس پاس والے کیا کر رہے ہیں، اگر ساری لہریں اور ساری ہوائیں مخالف سمت کی چل رہی ہیں، مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام آگ میں کود گئے اور انہوں نے نہیں دیکھا کہ آس پاس کون کیا کہہ رہا ہے۔ میرا فریضہ تو میرے اللہ کے ساتھ ہے، اس نے جو کچھ کہا جس کے لیے بھیجا مجھے وہی کچھ کرنا ہے، لہٰذا میں اس پر قائم رہوں گا، اگر کوئی نتیجہ نہیں بھی نکلتا، میں اپنی جان اس میں لگا دوں گا۔ وہ چھوٹی سی چڑیا جو اپنی چونچ کے ساتھ پانی ڈال رہی ہے ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں، فرشتے اس سے پوچھ رہے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑے گا؟ وہ کہہ رہی ہے کہ میں بس یہی کر سکتی ہوں، اور قیامت کے دن میرا یہی عمل ضامن ہو گا جب اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ جب میرے خلیل کو اس طرح سے پھینکا جا رہا تھا آگ میں تو تم نے کیا کیا؟ 

اویس: تو اب یہ جو ’’اس وقت تم نے کیا کیا‘‘ والا سوال ہے،  اسی بنیاد پر وژن بننا ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر ہم بات کریں عام عوام کی تو ان سے تو خیر ہم کیا امید رکھیں، لیکن مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ جسے ہم طاقتور کہیں، جسے ہم دولت مند کہیں، جسے ہم اہلِ نظر کہیں، یا وہ لوگ جو کہ بڑے بڑے اداروں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہ ایک طویل دورانیے کا وژن بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کوئی کوشش ہو رہی ہے؟ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، بہت کم ہیں، بہت معمولی ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی کچھ لوگ ہیں جو آ کر مشورہ بھی لیتے ہیں، انفرادی طور پر بہت سارے لوگ ہیں جو اپنے اپنے دائرۂ اثر میں، اپنی آئی ٹی کمپنی میں، اپنے بزنس میں، وژن بنا کر کام کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اجتماعی سطح پر دیکھیں تو اس کی مثالیں بہت تھوڑی ہیں۔ اور یہ وہ چیز ہے جس سے قوموں کے مستقبل کا پتہ چلتا ہے۔ 

اویس: تو اگر اب یہ چیز ہمیں اپنی امت میں لانی ہے تو یہ کیسے ہو گا؟ اور اس کے لیے اگر ہم کوئی لائحہ عمل بنائیں، کوئی مرحلہ وار ترتیب بنائیں، کاموں کی فہرست بنائیں، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ہم مسلم امہ کے لیے ایک طویل دورانیہ کا وژن بنانے کا آغاز کرنا چاہیں تو؟

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، ان ساری علامات میں جو بنیادی علامت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو نہیں پہچانتے، اور یہ تشخیص جن لوگوں نے بھی کی ہے درست کی ہے۔ جیسے علماء مثال دیتے ہیں کہ ایک شیر کا بچہ بکری کے ریوڑ کے ساتھ چلا گیا، تو انہی کی طرح اس کی پرورش ہوئی اور وہ اپنی شناخت وہی سمجھتا تھا جو بکری کی ہے۔ جب اس کو دوسرے شیروں نے آ کر سمجھایا اور اسے بکریوں سے الگ کر کے بتایا تم ان میں سے نہیں بلکہ ہم میں سے ہو اور تمہارے یہ کام ہیں، جب اس کو جا کر پانی میں شکل دکھائی کہ دیکھو تم ان سے مختلف ہو تو وہ اس شکل سے بھی ڈر گیا، اس کو بہت وقت لگا سمجھنے میں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلی بات تو اپنے آپ کو پہچاننا ہے۔ دیکھیں، شاہ ولی اللہؒ کوئی معمولی آدمی نہیں تھے، وہ کہتے ہیں کہ تم اللہ کو ساتھ لو اگر تم واقعی مومن ہو، اور اگر تمہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اللہ اپنے خزانوں کے ساتھ اپنی قدرت کے ساتھ تمہارے ساتھ کھڑا ہے، تو تم نے اللہ کو نہیں پہچانا۔ تو ہم نہ اپنے آپ کو پہچان رہے ہیں، نہ اپنے رسول کو پہچان رہے ہیں، نہ اپنے اللہ کو پہچان رہے ہیں۔ 

اللہ نے ہمیں بہت زبردست وسائل دیے ہیں، اور اس میں امیری غریبی سے زیادہ ایمان، اخلاص اور اللہ کے ساتھ تعلق پہ زیادہ بھروسہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب اپنی شناخت قائم کر لیں گے۔ پھر ایک آدمی نیت کرتا ہے کہ میں نے جانا ہی حیدرآباد ہے، تو ظاہر ہے کہ حیدرآباد تک اللہ اسے لے جائیں گے۔ ایک آدمی کہتا ہے کہ میں چائنہ کے بارڈر سے ہوتا ہوا چائنہ کے آخری ساحل تک جاؤں گا۔ تو جب وہ یہ سوچتا ہے تو اس کے اندر اس نیت اور اس عزم کی برکت سے وہ صلاحیت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ 

اب وہ جو بچہ ہوا ہے اس کو ہم نے یہ کہنا ہے کہ تم نے اس طرح سے داعی بننا ہے، اس طرح سے مبلغ بننا ہے، اس طرح سے معلم بننا ہے ،اس طرح سے تبدیلی لانی ہے، یہ مشن تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا، یہی مشن تھا صحابہؓ کا، یہی مشن تھا اولیاءؒ کا،  یہی مشن ہے تمہارا۔ جب یہ بچپن سے اس کو ذہن نشین کرایا جائے گا، اب اس کے لیے فکر کی بات نہیں ہے، اب اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہے۔  تو پہلی چیز ہے شناخت اور پھر بچپن سے تربیت۔ اور آپ یہی کچھ کر سکتے ہیں۔ جب اس کی شخصیت بن گئی، جب اس کی ذہنی حدود قائم ہو گئیں، تو پھر آپ اس کو کتنا تبدیل کر سکیں گے؟ 

ایک عجیب بات ہے، اسلام آباد راولپنڈی کے اندر ایک گورا تھا، وہ یہ کہتا تھا پاکستانیوں کو بگاڑنے کے لیے ان کی مائیں کافی ہیں۔ اس سے پوچھا گیا، کیسے؟ اس نے کہا، ہر چیز تو ان کے بستر پر لا کر دے دیتی ہیں۔  اگر آپ یہودیوں کا پڑھیں گے کہ ان کے بچوں کی تربیت کیسے ہوتی ہے، تو وہ ان کو دھکیلتے ہیں خطرے کی طرف، ان کو دھکیلتے ہیں مٹی میں، ان کو درختوں پر چڑھاتے ہیں، کیا کیا کرتے ہیں وہ بچپن میں۔ اور ہمارے بچے کی جو نشوونما ہو رہی ہے تو اس کا بیڈ اور کمرہ اس کے لیے آرام دہ جگہ بن گئی ہے، چائے وغیرہ سب وہیں مل رہا ہے۔ بیٹا، تم او لیولز کے گریڈ لے آؤ، بس باقی تمہارے ہاتھ میں جو گیجٹ ہے تو اسی کے ساتھ لگے رہو۔ اب وہ بچہ کیا کر جائے گا؟ کیا کر سکتا ہے؟ 

اور دوسرا بچہ جس کا ماحول کے ساتھ تعلق بنا، جو جغرافیائی سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوا ہے، اس کو بچپن سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ دشمن ہے، یہ دوست ہے، یہ وژن ہے، یہاں ہم نے گریٹر اسرائیل قائم کرنا ہے، تو ظاہر ہے تو اس نے آگے چل کر بہت مختلف کام کرنا ہے۔ اس کی ہمت الگ ہے، اس کا حوصلہ الگ ہے، ان کا آپس میں ربط ہے، اور وہ بہت سارے اپنے اختلافات صرف اس لیے دفن کر دیں گے کہ انہوں نے بڑا مقصد حاصل کرنا ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ وژن ہے ہی انفرادی، تو میں دوسروں سے کٹ جاؤں گا اور اپنے وِژن کے پیچھے لگ جاؤں گا، یہاں تک کہ اگر مجھے اس کے لیے دوسروں کو ہٹانا پڑے گا، اپنے کزن کو، بھائی کو، تو میں وہ بھی کروں گا۔ تو یہ بہت بڑا فرق ہے۔ 

ظاہر ہے کہ یہ ساری چیزیں قرآن میں، حدیث میں، سیرت میں، اور نسلوں کی تاریخ میں ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن نہ جانے کیوں ہمارا ان سے تعلق قائم نہیں ہو پا رہا۔ 

ایک طریقہ جو سمجھ میں آتا ہے جو بہت عملی ہے، وہ یہ کہ سیرت اور صحابہؓ کی زندگی سے اپنے بچوں کو متعارف کرایا جائے، ان کا جگر اور حوصلہ پیدا کیا جائے۔ مختلف کتابیں ہیں، لوگوں نے بڑی محنت کی ہے، فیس بک اور یوٹیوب پر بھی ویڈیوز دستیاب ہیں، انگلش میں بھی ہیں، اردو میں بھی ہیں۔ پھر دیکھا جائے کہ صحابہؓ اور صحابیاتؓ اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرتے تھے۔ اور اس کے برعکس جو ہمارے بچوں کی ہو رہی ہے۔ اس کو بہت بدلنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں کہ یا تو آپ پیدا ہی ایسے ہوئے ہوں، یا پھر آپ اپنے آپ کو تبدیل کریں۔ تو اس سے بڑا فرق پیدا ہو گا کہ بچے پیدا ہی اس انداز میں ہوں۔

یاد رکھیے گا کہ یہاں بھی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا اصول لاگو ہوتا ہے کہ اگر کسی وقت میں بہت کم مسلمان باشعور ہیں اور اس شناخت پر یقین کر کے اس طرح کا وژن بنا رہے ہیں، تو ان مسلمانوں کی قیمت اللہ کی نگاہ میں بہت زیادہ ہے، اور انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس وقت مسلمانوں کو بچائیں گے۔ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینیوں نے جو اپنا ایک تاثر قائم کیا ہوا ہے۔ ورنہ یہ حزب اللہ والا واقعہ شاید ایک سال پہلے ہو جاتا اگر یہ اس طرح کی مزاحمت اور مدافعت کا مظاہرہ نہ کر رہے ہوتے۔ تو ایسے مسلمان چاہئیں اور ظاہر ہے کہ اس کی آگاہی پیدا کرنی ہے، اور یہ بات اللہ تعالیٰ اسی لیے قرآن میں بار بار کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم سے ملاقات کی امید تھی، یہ لوگ تھے جو آخر کی طرف نظر کیے بیٹھے تھے، اور یہ لوگ دنیا کی زندگی (جو میسر تھی) اس سے مطمئن تھے، اسی میں خوش تھے۔ 

اویس: سر، وہ جگانے والی بات سوئی ہوئی قوموں پر تو لاگو ہو سکتی ہے، جو قومے میں ہو اس کو جگانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: وہ کیا ہے ’’مجھے ہے حکمِ اذاں‘‘۔ ہمیں تو کرنا ہے اور یہ آگاہی ہے۔ اس میں حدود و قیود بھی ہیں، جتنا ہم اپنے بڑوں کی سوانح یا بائیوگرافیز پڑھتے ہیں، اتنا ہم آگے بڑھتے ہیں۔ 

اویس: اچھا، اب دو چیزیں ہیں اس کے اندر، ایک بات آپ نے کی کہ جی یوٹیوب پر بھی ہے، فیس بک پر بھی ہے، وہاں سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے، لیکن کیا یہ الٹا معاملہ نہیں ہے کہ یوٹیوب اور فیس بک بنایا کس نے؟ کفار اور یہودیوں نے۔ اور وہ چیز جو کفار اور یہودیوں نے بنائی، آج ہم کہہ رہے ہیں کہ چلو اس سے ہی استفادہ کر لو، ہم اس سطح تک نیچے جا چکے ہیں۔

ڈاکٹر ذیشان احمد: اور صرف یہی نہیں، میں اس سے اگلی بات کرتا ہوں کہ بظاہر فیس بک آپ کے لیے فری ہے، یوٹیوب چلو کچھ ایڈز دکھا دیتا ہے لیکن آپ کے لیے فری ہے، واٹس ایپ ہے یا دوسری چیزیں ہیں، تو یاد رکھیے گا کہ یہ ایسے ہی فری نہیں ہیں، ان کے پاس آپ کا پروفائل، آپ کا ڈیٹا، آپ کی ایک ایک چیز ہے۔ اس لیے آپ ان کے سامنے کیا اٹھیں گے، آپ تو آسان شکار ہیں، کیونکہ وہ آپ کو اندر باہر سے جانتے ہیں جبکہ آپ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چائنہ ظاہر ہے کہ اس معاملے میں باخبر قوم ہے تو انہوں نے اپنا فیس بک، اپنا یوٹیوب اور سارے چینلز اپنے بنائے ہیں۔ 

ایک دعوت میں شیخ تقی عثمانی صاحب میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ پروفیشنلز موجود تھے، بعض اوقات وہ میری طرف توجہ کر کے باقی سب کو سنا رہے ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دیکھو، ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا، تو ہم نے مدارس میں جہاں جہاں جو جو گنجائش نکل سکتی تھی وہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ یوٹیوب کا ایک مسلمان متبادل کیوں نہیں بنا سکے؟ فیس بک کا اسلامک متبادل کیوں نہیں بنا سکے؟ 

تو یہ سوالات ہیں جو آئی ٹی کے اور دیگر پروفیشنلز سے کیے جا سکتے ہیں اور اس کی بہت ضرورت ہے۔ اور چائنہ تو بالکل اوپر سے آتا ہے نا، کمیونسٹ پارٹی ہر چیز کرتی ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے خطرات کیا ہیں، اس لیے اس پہ کام کر رہے ہیں۔ اب بدقسمتی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے پاس متبادل ہے ہی نہیں۔ تو ایک وژن کے تحت یہ کام بھی ہو سکتا ہے۔

اویس: اچھا، ابھی آپ نے مدرسوں والی بات کی، پھر آپ نے تقی عثمانی صاحب کا ایک پوائنٹ رکھا۔ یہ جو مدارس ہیں یہ کتنے مؤثر ہیں؟ کیونکہ اگر میں ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھوں تو ہر سال ہزاروں علماء مدارس سے نکل رہے ہیں، کیا وہاں پر ان کا وہ وژن بنایا جا رہا ہے یا نہیں؟ کیونکہ جب ہزاروں علماء نکلتے ہیں دارالعلوم سے تو ان کی کھپت کہاں ہوتی ہے؟ کسی مسجد میں، جہاں انہیں مل رہے ہوتے ہیں پچیس تیس ہزار روپے، شاید زیادہ کہہ رہا ہوں میں، تو اگر ان اداروں کے فضلاء نے جا کر پچیس تیس ہزار روپے میں کسی مسجد کو ہی سنبھالنا ہے تو کیا اس سے مقصد پورا ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، کوئی چیز اپنے تاریخی پس منظر کے بغیر نہیں سمجھی جا سکتی۔ انگریزوں کے زمانے میں علماء اور مدارس پر ایسا حال آیا کہ انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور بہت سازشیں کی گئیں۔ تو وہ اپنے دفاع میں صرف اس بات پر آ گئے کہ ہمیں اب کلمہ، نماز اور بنیادی دین کی جو تعلیمات ہیں، بدیہات ہیں، ان کی حفاظت کرنی ہے۔

اچھا، پاکستان بن گیا، علماء نے کوشش کی۔ آپ کا جو قراردادِ مقاصد ہے وہ تین چار بڑے بڑے علماء سید سلیمان ندویؒ، مناظر حسن گیلانیؒ، مفتی شفیعؒ جیسے حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ لیکن کسی وجہ سے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے دور میں علماء کا جو کردار تھا وہ محدود ہوتا چلا گیا۔ اگر آپ ترکی اور ایران وغیرہ ممالک میں دیکھیں تو جتنے بھی مدارس ہیں، کُلیّات ہیں، جامعات ہیں، ان کی امداد ریاست کی طرف سے آتی ہیں۔ جبکہ ان مدارس کو ہم نے اپنی مدد آپ پر چھوڑ دیا۔ اور مدارس ایک بڑا کام یہ کرتے ہیں کہ ڈیڑھ دو کروڑ بچے جو سکول نہیں گئے، ان کی رہائش اور کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور ان کو دین کی تعلیم دیتے ہیں۔ 

مگر پھر کیا ہوا کہ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کے دوران زیادہ سے زیادہ علماء سے معاشرے میں صرف یہی کام لیا جاتا تھا کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ہوئی؟ یہ وراثت کیسے بٹے گی؟ خطابت بھی عبادات اور ایمانیات تک رہی۔ یہ اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن معاشرہ کی تشکیل کے لیے معاملات، معاشرت، سیاست، تعلقات، قیادت، اور وژن کی طرف جو بات جانی چاہیے تھی وہ کبھی آپ کو جمعوں کے خطبوں میں نہیں ملے گی۔ معاملات میں اگر میں نے کوئی لیکچر سنا بھی تو وہ مدینہ میں مسجد نبوی میں سنا، عربی زبان میں، ہمارے پاکستان میں بہت کم ملا۔ 

تو جب نئی صدی میں داخل ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سود کے معاملے میں علماء نے قیادت کی، اس کے حل پیش کیے، اور دوسری چیزوں میں حل پیش کیے۔ یعنی جہاں پر علماء سے کہا گیا تو وہاں پر انہوں نے اچھا ریسپانس دیا۔ لیکن جو بات ہے کہ جو طبقے کو ایک آگاہی اور قیادت والا کردار ادا کر سکتا تھا وہ بس حالات کے ساتھ کیوں چلتا رہا؟ اس لیے کہ ان کو ایک طرح سے معاشرہ سے ایک طرح سے الگ تھلگ کر دیا گیا۔ ان کا تعلیمی نظام الگ ہو گیا، معاشرے میں جو زبان بولی جاتی ہے وہ ان کو نہیں سکھائی گئی، اور بہت ساری چیزوں ہیں۔ میں ان کی بات اس لیے کر سکتا ہوں کیونکہ میں خود اس نظام سے نکلا ہوں، میں نے ساری کتابیں دیکھی اور پڑھی ہیں، مدرسے میں زمین پر بیٹھ کر۔ 

میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں کہ جب میں القادر یونیورسٹی میں تھا تو میں نے یہ بات اس زمانے میں خان صاحب کو بھی کہی تھی کہ ان لوگوں سے بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، ان کے اندر ذہانت عام لوگوں سے زیادہ ہے، ان کے اندر امانت عام لوگوں سے زیادہ ہے، ان کے اندر قناعت عام لوگوں سے زیادہ ہے، یہ بہت کم پہ گزارا کر سکتے ہیں، جیسے آپ نے پچیس ہزار کا بتایا۔ اب اگر آپ ان کا ربط معاشرے کے ساتھ جوڑ دیں، تھوڑا سا اعتماد دے دیں، ان کی انگریزی پر، ان کی ہسٹری پر، ان کی سائنس پر، ان کے نقطۂ نظر پر آپ محنت کر لیں،  تو یہ ایسے لوگ ہیں جو معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ 

اس سلسلہ میں بہت تحریکیں ہیں، الغزالی یونیورسٹی ان میں سے ایک ہے، بڑے مدارس میں بھی یہ کام ہو رہا ہے، لیکن اگر ہم دیکھیں تو یہ کسی حد تک میرے جیسے لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے، جو دوسری سائیڈ بہت اچھی طرح دیکھ کر امریکہ وغیرہ سے پڑھ کر آئے ہیں، میرے جیسے لوگوں کی قبولیت بھی ہوتی ہے۔ تو ایسے لوگ ان سے بات کریں کہ دیکھو اپنی افادیت اور اپنی تاثیر بڑھانے کے لیے یہ یہ کام کرنے پڑیں گے اور یہ راستہ ہے۔ 

اویس بھائی ایک آئی ٹی فرم مجھے بتا رہی تھی کہ ہمارا سب سے بہترین پروگرامر وہ عالمِ دین ہے جس نے راتوں کو جاگ کر پائیتھان وغیرہ کی پروگرامنگ سیکھی ہے اور اب وہ سب سے آگے ہے۔ یعنی ان لوگوں کے اندر صلاحیت ہے، اور اس کی صرف ایک مثال نہیں ہے، میں ایسی دس مثالیں دے سکتا ہوں۔ 

لیکن اگر ان سے کہہ دیا جائے کہ بس یہی ہے، اس کے علاوہ آپ نے کچھ کرنا ہی نہیں ہے، اور کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں چلو وہ بھی ٹھیک ہے، امام بھی انہی میں سے آئیں گے، بخاری بھی یہی پڑھائیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ اس معاشرے کا جو لڑکا میٹاورس پر اپنا وقت گزار رہا ہے، جو پب جی وغیرہ گیمز کھیل رہا ہے، اس کے مسائل اور اس کی اصلاح بھی تو آپ کے ذمے ہے نا، وہ آپ کا مقتدی ہے، آپ کی رعیت ہے، اس سے تعلق بنانے کے لیے، اس کی ذہنیت سمجھنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ اتنی بات تو آپ سمجھ سکتے ہیں نا۔

بہت سے علماء یہ کہتے ہیں کہ ذیشان میاں آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ وہ انجینئر بنے، وہ ڈاکٹر بنے، تو پھر یہ کون سنبھالے گا؟ تو میں کہتا ہوں کہ چلو اسی بات کو لے لو، تو کم سے کم اسلامک سٹڈیز کا کورس، یونیورسٹیز میں، کالجز میں، سکولز میں تو آپ کو پڑھانا چاہیے تھا نا۔ آپ کی زبان وغیرہ کی ناواقفیت کی وجہ سے وہاں ایسے ایسے غیر عالم کو اسلامک سٹڈیز پڑھانے کے لیے دے دی جاتی ہے جو اسلامک سٹڈیز خود نہیں جانتا۔ تو یہ کتنا زبردست چیلنج ہے، کم از کم وہاں تک تو جائیں نا۔

آپ بیوروکریسی میں جائیں، عدلیہ میں جائیں، ایک زمانہ تھا کہ درسِ نظامی یا اس نوعیت کے کسی کورس کے بغیر کوئی قاضی یا جج نہیں بن سکتا تھا۔ تو اب ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ بہرحال اس پر محنت ہو رہی ہے، الغزالی یونیورسٹی کے عنوان سے بھی ہم کر رہے ہیں، دوسری جگہوں پہ ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہت تیزی کے ساتھ علماء اور مدارس میں یہ آگاہی آ رہی ہے۔ 

اویس: کیا یہ بہت تاخیر سے نہیں ہو رہا؟ میرے خیال میں تو پانچ چھ سو سال کی تاخیر سے۔

ڈاکٹر ذیشان احمد: بس ہم یہ کہیں گے کہ ’’دیر آید درست آید‘‘۔ پانچ چھ سو سال تو نہیں کہیں گے کیونکہ دیکھیں پانچ چھ سو سال پہلے تو یہ علماء قیادت کر رہے تھے نا۔ اس وقت یوں سمجھیں کہ اورنگزیب کی کتاب ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ لکھی جا رہی تھی، اور اُدھر سلطنتِ عثمانیہ میں مجلہ بن رہا تھا، یعنی اس وقت علماء اس منصب پر تھے اور قیادت کر رہے تھے۔ لیکن پھر وہ حالات کا شکار ہو گئے، خاص طور پر ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد تو انہیں بہت محدود کر دیا گیا۔ انگریزوں کے زمانے میں فرقے بنائے گئے اور بہت ساری چیزیں ہوئیں جس کی وجہ سے یہ لوگ بالکل ہی تحفظات اور بچاؤ کی سطح پر آگئے۔ 

اویس: تو کیا اب اس کی اتنی آگاہی ہے کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ چلیں ۱۸۵۷ء نہیں تو ۲۰۵۷ء یا ۲۱۵۷ء میں  ہمیں کچھ نظر آ سکے گا؟  جب ہم کسی چیز پر کام کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کا ہدف ہمارے ذہن میں ضرور ہونا چاہیے، تو کیا اب یہ کسی ہدف کی طرف کوشش ہو رہی ہے، اس طرح کی کوئی آگاہی ہے؟

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، آپ میڈیا کے لوگ ہیں، کیمرے کو سمجھتے ہیں کہ وہ  آہستہ آہستہ Zoom کر کے اپنی Sharpness کو Define کرتا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کے عمل سے ان کا کچھ وژن تو بنا ہے، لیکن ابھی اس کے Megapixels بہت زیادہ Defined نہیں ہیں۔ سمت کا تو پتہ چل رہا ہے لیکن ایک Narrow focus کسی چیز پر تو آہستہ آہستہ بنے گا۔ بہت سے اداروں کے ساتھ، لوگوں کے ساتھ بات ہوتی ہے جو اپنے اپنے دائروں میں ایسا کام کر رہے ہیں۔ اس میں کچھ رکاوٹیں ہیں جن کا میں ضرور ذکر کرتا ہوں۔ 

اور یہ دو سو سال کا جمود ہے، اس میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ سمت ہی غلط ہے، ہماری یہ ذمہ داری ہی نہیں ہے، تو ایسے لوگوں کی بھی مضبوط آواز ہے۔ 

اویس: اور ان کے مطابق ذمہ داری کیا ہے؟

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، ان کے نزدیک ذمہ داری یہی ہے کہ ہمیں اصل روایات کا تحفظ کرنا ہے اور انہی عموم پر قائم رہنا ہے۔ اچھا، میں اسے مکمل طور پر غلط نہیں سمجھتا۔ میرے خیال میں یہ بحث تب سمجھ آئے گی جب ہم اس کو اس انداز سے دیکھیں گے کہ کچھ لوگ سرحدوں پر ہوں اور کچھ لوگ مرکز میں یا ہیڈ کوارٹرز میں ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ سرحد والے اپنی محنت اور کوشش میں بنیادی امور سے ہی باہر نکل جائیں۔ 

ایک بات اس میں یہ ہے کہ کبھی کبھی شیطان کی طرف سے حسد آ جاتا ہے کہ یہ کیوں آگے بڑھ رہا ہے، میں کیوں نہیں بڑھ رہا؟ میں کیوں گمنام ہوں، یہ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟ تو پھر ظاہر ہے کہ پھر وہ شیطان کا آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ تو ان چیزوں کی بھی واضح طور پر شناخت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ اگر تم نے آگے جا کر ایک دوسرے کی ہی ٹانگیں کھینچنی ہیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے جس پستی میں تم پڑے ہو میں بھی تم کو اس سے نہیں نکالتا۔ اللہ اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جس کو اپنی حالت بدلنے کا خود شوق ہو یا خیال ہو۔ تو یہ ایک مسئلہ ہے جو بہرحال ہے۔

لیکن اس کے باوجود امید بہت زیادہ ہے، اور امید کی صرف یہ وجہ نہیں ہے کہ مدارس کے لوگ اب عصری علوم حاصل کر رہے ہیں کہ جس دنیا میں انہوں نے دعوت دینی تھی اور علم پھیلانا تھا اس کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ دوسری طرف وہ لڑکے جو لمز، آئی بی ایس، آغا خان، اور حبیب جیسی اعلیٰ یونیورسٹیوں اور سکولز میں پڑھ رہے ہیں، ان کے لیے بہت سے ایسے ادارے کھل گئے ہیں جہاں وہ دینی تعلیم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اور چونکہ وہ اُدھر کے لوگ ہیں، مین سٹریم سوسائٹی کے، تو جب وہ قرآن و حدیث پڑھتے ہیں تو ما شاء اللہ اس کی بڑی اثر انگیزی ہوتی ہے، ان کو ایک وژن ملتا ہے اور وہ جو کام کرتے ہیں وہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ یونیورسٹی کا لڑکا جب یونیورسٹی کے لڑکوں سے بات کرے گا، چاہے وہ جتنا بھی مولوی ہو چکا ہو، تو وہ ان سے زیادہ بہتر بات کر سکتا ہے۔

اویس: بالکل، کنکٹویٹی اس کی زیادہ اچھی ہو جاتی ہے۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: کل رات کی بات ہے، مجھے بتایا گیا کہ لمز سے یہ سات آٹھ بچے ہیں اور سات آٹھ بچیاں ہیں، تو ان کے پروفائلز سن کر میں حیران رہ گیا کہ وہ ٹاپ کے بچے ہیں، انہوں نے کمپیٹیشنز وغیرہ جیتے ہوئے ہیں اور وہ ساتھ ساتھ درسِ نظامی کر رہے ہیں اپنے شام کے اوقات میں۔ میں نے ان سے بات کی تو ما شاء اللہ بہت ہی ذہین بچے تھے۔ اور ان کے جو اشکالات تھے اپنے تقویٰ کے متعلق، اخلاص کے متعلق، اور یہ کہ ہمیں کرنا کیا ہے وغیرہ، تو میرے خیال میں یہ ایک بڑی فورس ہے۔ 

اویس: اچھا، ایک چیز جو کہ عام طور پر مجھے نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے محسوس ہوتی ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہ ایک تاثر ہے، غلط ہے یا صحیح، یہ مجھے آپ بتائیے گا، مجھے لگتا ہے کہ کسی حد تک وہ صحیح ہے، انہیں لگتا ہے کہ مذہب تو نہیں لیکن مذہبی طبقہ جو ہے وہ ہر چیز سے روکتا ہے، کیونکہ ایک نوجوان جو ہوتا ہے اس کے دل میں یا دماغ میں تجربات کرنے کی، آگے جانے کی، حدود سے باہر نکلنے کی، سرحد کو بار کرنے کی ایک جستجو ہوتی ہے، اور وہ جب نئے نئے تجربات کرتے ہیں تو کچھ نئی چیزیں تخلیق ہوتی ہیں۔ 

ہمارے مذہبی طبقے میں ایک بات یہ ہے کہ نہیں، ہر چیز منع ہے۔ میں اگر میڈیا کی ہی مثال لوں کہ بھلے آپ ٹیلی ویژن کو اور تصویر کو جتنا ہی حرام قرار دیتے رہیں، سو سال بعد پھر انہیں ٹی وی پر، یوٹیوب پر، سوشل میڈیا پر آنا ہی پڑا ہے، اب آپ اس چیز کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ تو پہلے ہی اس کے اوپر تھوڑا سا نظرثانی کرتے اور اپنے آپ کو ذرا سا روک لیتے کہ ٹھیک ہے اگر کوئی تجربہ کر رہا ہے تو کرنے دو، پھر شاید آج ہم اتنے پیچھے نہ ہوتے۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: دو طرح سے رکاوٹیں ہیں: ایک تو قرآن و حدیث سے ہے۔ اب یہ تھوڑی سی لمبی بحث ہے، ایک پورا سیشن اس کے لیے الگ چاہیے، کہ علماء کیوں قبل از وقت کچھ چیزوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو فقہ کا مزاج ہے کہ جب کوئی چیز  عام نہ ہو، اس کی ضرور ت نہ ہو، اور وہ چیز کسی حد تک قرآن و حدیث کی روح سے، کسی حکم سے بظاہر ٹکراتی ہو۔ ایسی چیز کو تو کبھی زندگی میں ہم حلال نہیں کر سکتے جو قرآن حدیث کی صریح مخالفت  میں ہو۔ لیکن سدِ ذریعہ کے طور پر کچھ احکام ہوتے ہیں ان میں کچھ گنجائش نکلتی ہے اور یہ ارتقا کا ایک قدرتی عمل ہے جو کہ فقہ کے مزاج میں ہے، اسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ 

قرآن و حدیث کی رکاوٹیں تو بحیثیت مسلمان کے ہم مانتے ہیں کہ یہ اسلامی احکام ہیں۔ مثال کے طور پر میں اگر سوشلائز کرنے کے لیے یا ترقی یافتہ نظر آنے کے لیے  شراب نوشی کروں تو کوئی اس کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن کچھ رکاوٹیں ایسی ہیں جو شاید مسلمانوں کی تو ہیں لیکن اسلام کی نہیں ہیں۔ میں ایک بڑی اچھی مثال آپ کو دیتا ہوں کہ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایک آدھ جگہ کسی کام میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس کی بہت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور عبرت کا نمونہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مغرب میں ابھی جو سلیکون ویلی کا ماڈل ہے، وہاں پہ تو جو لڑکا دو بار تین بار فیل ہوا، اگلی دفعہ اسے بڑی فنڈنگ ملتی ہے۔ حیران کن بات ہے کہ وہ ای کامرس کے دو پلیٹ فارمز بنانے میں فیل ہو چکا ہے تو تیسری دفعہ اس کو اس سے زیادہ فنڈنگ کیوں مل رہی ہے؟  وہ کہتے ہیں کہ اگر میں نئے بندے پر پیسے لگاؤں گا تو وہ بھی اس رستے سے گزرے گا، جبکہ یہ لڑکا اس راستے سے گزر چکا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ ناکامی کسے کہتے ہیں، اس لیے اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہے۔ 

یاد رکھیے گا کہ زندہ قوموں کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ ایک مقصد کے لیے کسی حکمتِ عملی کے تحت کوئی کام کر کے اس میں ناکام ہو رہا ہے۔ جیسے، ہنری فورڈ کہہ رہا ہے کہ ناکام ہوتے رہو جب تک کہ تم کامیاب نہ ہو جاؤ۔ جبکہ ہمارے ہاں ناکامی ایک ناقابلِ قبول چیز ہے، اس بیچارے کو اتنا برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ ویسے ہی بیٹھ جائے۔ جیسے میں نے بچپن کی مثال دی تھی کہ ارے بیٹا اُدھر نہیں جانا، گر جاؤ گے، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ میں نہیں کہہ رہا کہ ایسا کرنا سو فیصد غلط ہے، اس کی ضرورت پڑتی ہے، مگر اس کو اتنا ڈرا دو کہ وہ اپنے تجربات کرنا ہی بھول جائے، وہ آگے نکلنا ہی بھول جائے۔ جبکہ دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ درخت پر چڑھو، مٹی میں بھاگو، چپل اتارو۔ 

اچھا، یہ چیزیں تو حقیقت میں ہماری بھی تھیں، صحابہؓ تو ایسے ہی تھے، حدیث میں آتا ہے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی چلو کیونکہ اللہ کے جو نیک بندے ہیں وہ بہت زیادہ نعمتوں میں نہیں رہتے۔ اور اب تو آپ صحت کے حوالے سے دیکھیں گے کہ ایک گراؤنڈنگ کا ایک تصور موجود ہے، یعنی زمین پر ننگے پاؤں رہنے سے آپ کو بہت سارے صحت کے فوائد ملیں گے۔ 

اب ہمارا جو کلچر ہے، وہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے رہتے بنا، یا ہماری اپنی کمزوریوں سے بنا، ظاہر ہے کہ اس پہ تحقیق کی جا سکتی ہے، لیکن یہ اسلام جو ہم آج پیش کر رہے ہیں، اس اسلام سے تہذیبی طور پر بھی بہت مختلف ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ 

اویس: تو اس وجہ سے مذہبی طبقے کا جو یہ پابندیوں والا مزاج بن گیا ہے، یہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: ایک تو اس میں عمومی کلچر ہے، پاکستانی مسلمان ہونے کے ناطے سے، چاہے مذہبی ہوں یا نہ ہوں۔ کچھ اس میں سے مذہبی ہیں، یہ ڈر کہ اسلام میں منع ہے کہ یہاں نہیں جاؤ، وہاں نہیں جاؤ، یہ نہیں کرو۔ اس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مجھے لگتا ہے کہ درست ہیں، دیندار گھرانوں کی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مثلاً‌ ایک بچہ ہے جس کے والدین کو یہ آگاہی نہیں تھی کہ باہر برائیاں کس نوعیت کی ہیں، جب انہوں نے تجربے کے طور پر اس کو ایسے تعلیمی اداروں میں بھیجا جو بالکل مغربیت زدہ تھے، یا بیرون ملک بھیج دیا، تو نتیجتاً‌ وہ نماز سے بھی گیا، سنت حلیے سے بھی گیا، تو ان کے لیے وہ صدمے کا باعث بنا۔ تو یہاں ان کا روایتی ہونا بنتا ہے کیونکہ ایک دفعہ نقصان دیکھ لیا تو پھر محتاط ہونا پڑتا ہے۔ 

اویس: تو اس کے الٹ بھی کوئی معاملہ ہو گا؟

ڈاکٹر ذیشان احمد:  دیکھیں، مجھ سے جب والدین پوچھتے ہیں تربیت کے حوالے سے کہ اپنے بچے کو ہم کہاں بھیجیں کہاں نہ بھیجیں، تو میں دو چیزیں ان کو کہتا ہوں:

ایک یہ کہ اگر انہوں نے اپنے بچے کو داعی بنایا ہے اور ایسی تربیت دی ہے کہ وہ اپنی اقدار کے ساتھ مطمئن ہے اور اس میں اتنا اعتماد ہے کہ وہ آگے لوگوں سے بات بھی کر سکتا ہے کہ اللہ کو ماننا ہے، نما زپڑھنی ہے، قرآن حق ہے۔ دیکھیں، ایک ہوتا ہے زندگی کا بتایا گیا تصور، جو والدین سے مل گیا، وہ جب منطقی سوچ کے بغیر ہو گا تو ہر دوسرا بچہ چیلنج کرے گا کہ تم مولویوں کے گھر میں پیدا ہوئے اس لیے ایسا بول رہے ہو۔ اور ایک ہوتا ہے سوچا سمجھا زندگی کا تصور، جو اس نے خود معلوم کیا، اپنی منطقی سوچ سے۔ وہ جب آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے تو چونکہ علی وجہ البصیر ہوتا ہے اور بڑا باشعور ہوتا ہے تو وہ پھسلتا نہیں ہے بلکہ وہ اپنا حلقہ بناتا ہے اور دوسرے لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔

ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دیندار گھرانوں کے لوگ اتنے سیدھے سادھے ہوتے ہیں کہ بچہ ان کو جو بولتا ہے وہ یقین کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کیس میں ایک اسلامی سکول کے بچے نے گھر میں کہا کہ ابا مجھے وہ سیل فون دلا دیں کیونکہ سکول میں اس کی ضرورت ہے۔ والد نے اس کی بات پر یقین کر کے اس کو سیل فون دلوا دیا حالانکہ وہ سکول میں منع تھا۔ ایک صاحب آئے انہوں نے کہا کہ جو پیرنٹل کنٹرول جو والدین لگاتے ہیں اپنے بچوں کے فون پر، وہ میرے بچے نے میرے فون پر لگایا ہوا ہے، یعنی جو کچھ میں دیکھتا ہوں وہ میرے بچے کے فون پر بھی آتا ہے۔ 

میرا بارہ سال کا عبد اللہ ہے، ابھی اس کو او لیول کا امتحان دلوا ہے، وہ سات سال کا تھا تو اس کی امی اپنے فون پر جو پیٹرن بناتی تھیں وہ اسے کسی طریقے سے دیکھ لیتا تھا۔ پھر اس کی امی محتاط ہو گئی کہ جس وقت عبد اللہ نہ ہو تب لگاتی تھیں۔ اب وہ بتاتا ہے کہ میں کیا کرتا تھا کہ اس پر ویسلین لگاتا تھا، تو جو پیٹرن امی بناتی تھیں وہ بعد میں ڈیکوڈ کر لیتا تھا۔ ابھی میں نے تین چار پیٹرن اپنے فون پر ٹرائی کیے تو اس نے ہر ایک کو ہیک کر لیا۔ پھر بتایا کہ چار سال پہلے آپ نے یہی پیٹرن لگایا تھا تو یہ معلوم کرنا کون سی بڑی بات ہے۔ 

اویس: مطلب کہ بچوں میں وہ ٹیلنٹ ہے، اس ٹیلنٹ کو استعمال کرنے کے لیے ان کو وہ میدان چاہیے، وہ رہنمائی چاہیے۔ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں اللہ پر ایمان ہے اور بِن دیکھا یقین ہے لیکن اس کی نشانیاں بھی ہیں۔ تو منطقی انداز میں ان کو سوچنے پر مجبور کرنا ہے، ان کو ایسے واقعات سنانے ہیں کہ ان کی تجزیاتی سوچ بنے۔ اگر ہم ایسا کر لیں گے تو پھر کہیں بھی آپ ان کو بھیج دیں گے تو پھر فکر کی بات نہیں ہے۔ جیسے میرا اپنا ایک بیٹا امریکہ میں پیدا ہوا، میں بھی امریکہ میں پڑھ کے آیا ہوں، وہ بھی پڑھ کے آیا ہے، لیکن میں اس میں حفاظت محسوس کرتا ہوں کہ اس کی شادی ہو جائے  تاکہ اس طرف سے وہ بے فکر ہو جائے، اس کو اس حوالے سے پریشانی نہ ہو، ہاں باقی وہ علم پڑھ رہا ہے، اور چیزیں پڑھ رہا ہے سوچ سمجھ کر، تو میرے خیال میں وہاں جا کر اس ماحول کے ساتھ جڑ کر وہ داعی بن سکتا ہے۔ 

تو اس زمانے میں بہت زیادہ آزاد خیال بھی نہیں ہونا اور بہت زیادہ روایتی بھی نہیں ہونا، اس کے درمیان درمیان میں بچوں کو رکھ کر انہیں تیار کرنا ہے اور اللہ کے رسول کا امتی بنا کر بھیجنا ہے۔ ہم نے وہ تصور ڈالنا ہے اور وہ روح ڈالنی ہے، ان کو مشنری بنانا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا امتی بنانا ہے، پھر ان کو آگے بھیجنا ہے۔

اویس: تو اگر ہم اس کو اختتام کی طرف لے جانا چاہیں تو ہم یوں کہیں گے کہ جی ہمیں ان تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو ایک ایسا مسلمان پیدا کریں جو کہ دین اور دنیا دونوں میں قابلیت رکھتا ہو اور پھر وہ جا کر معاشرے میں اس امت کی قیادت کرے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب میں جو تعلیمی ادارے ہیں، جن میں جانا ہر شخص کا خواب ہے، ہر شخص ایم آئی ٹی جانا چاہتا ہے، ہارورڈ جانا چاہتا ہے۔ ہم ایسا کچھ نہیں بنا سکے ہیں اور مجھے نہیں پتہ کہ بنا پائیں گے یا نہیں بنا پائیں گے۔ اگر ہم نے کوئی ایسا ادارہ بنانا ہے تو وہ کیسے بنے گا؟ کیونکہ آپ القادر یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے، الغزالی یونیورسٹی سے بھی ، تو کیا آپ کی اس بارے میں جانکاری ہے کہ ہم کیسے اس سطح تک پہنچ سکتے ہیں اور ہمیں کتنا وقت لگے گا؟ 

ڈاکٹر ذیشان احمد: ایک بڑی مزیدار بات آپ سے کہوں گا کہ ہمیں ایک Unfair advantage (بلا محنت فائدہ) حاصل ہے ایسے ادارے بنانے میں۔ جو بات آپ نے کہی ہے وہ درست ہے، میں اس سے اختلاف نہیں کر رہا، لیکن ہمارا اس فائدہ کی طرف کبھی دھیان نہیں جاتا۔ اگر آپ ٹیکنالوجی اور خالص سائنسی علوم کو ایک طرف کر دیں، کیونکہ اس میں ہمیں وقت لگے گا، لیکن قیادت میں، سیاست میں، نفسیات میں، عمرانیات میں، تعلقات وغیرہ میں آپ کو جو بھی جدید تحقیق ملے گی، یہاں تک کہ طبی حوالے سے بھی، وہ بہت ساری چیزیں آپ کو اللہ کے رسول سکھا کے چلے گئے ہیں، یعنی آپ کے پاس وہ پہلے سے موجود ہیں۔ 

وہ لوگ ایک تحقیق کے ذریعے سے وہاں تک پہنچ رہے ہیں، جبکہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے پاس یہ پہلے ہی کتابوں میں موجود تھی لیکن بدقسمتی سے ہم نے انہیں اپنی کتابوں میں ہی دفن رہنے دیا، ان کو زندگی میں زندہ نہیں کیا۔  چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ Aging (بڑھتی ہوئی عمر) پر ہارورڈ کے David Sinclair کی جدید تحقیق ہے، وہ کھانے کے جو شیڈیول دے رہا ہے وہ آپ اٹھا کر دیکھ لیں کہ صحابہؓ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا تھا۔ ابھی میں نے گراؤنڈنگ کی بات کی تھی، زمین سے ٹچ ہونے کی۔ اسی طرح ابھی مغرب میں ری باؤنڈنگ کا ٹرینڈ چلا ہوا ہے۔ آپ ایک چھوٹا سا Rebounding trampoline لیں اور اس پہ باؤنس کریں، کہتے ہیں پانچ دس منٹ ایسا کرنے سے صحت کے بہت سے فوائد ملتے ہیں۔ میرا دماغ ہمیشہ اُدھر جاتا ہے، تو میں نے سوچا کہ شاید ہی کوئی صحابیؓ یا صحابیہؓ ایسے ہوں جو گھوڑے پہ سواری نہیں کرتے تھے، تو ان کی باؤنسنگ تو ایسے ہی ہو رہی ہوتی تھی۔ اور سائنس تو یہ اب کہہ رہی ہے۔ اب وہ اس زمانے کا تو حوالہ نہیں دیں گے کہ آپ گھر میں گھوڑا تو نہیں پال سکتے، لیکن وہ ری باؤنڈنگ کا کہیں گے۔ یہ تو میڈیکل کا میں آپ کو بتا رہا ہوں۔

لیڈرشپ کے حوالے سے جتنا بھی ٹاپ کا لٹریچر مغرب میں مل رہا ہے، وہی آپ کو حضرت عمرؓ میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں، حضرت علیؓ میں، حضرت ابوبکرؓ میں، حضرت عثمانؓ میں ملے گا، صلاح الدین ایوبیؒ میں ملے گا۔ 

بچپن میں میرے والد صاحب نے ریڈرز ڈائجسٹ لگوایا ہوا تھا، اس ایک قابل اقتباس یہ چیز تھی کہ

When the science would complete its journey on the mountain of knowledge and reach on the top it will find religion already sitting there.

یعنی جب سائنس اپنا سفر پورا کر کے پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے گی تو اسے مذہب وہاں پہلے سے موجود ملے گا۔ تو بہت ساری چیزیں ہمیں وہاں سے مل رہی ہیں، تو یہ ایک Unfair advantage ہمیں حاصل ہے۔کم از کم ان شعبوں کے اندر ہم ایک اچھی یونیورسٹی بنا کر مثال قائم کر سکتے ہیں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ پانچ دنوں کی ورکشاپ سے لے کر چار سال کے کورس تک، ایسے پروگرام ہوں کہ جن میں بچے کے اندر واقعتاً‌ سیرت کی نہج پر تربیت ہو، اس کی سوچ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے ملتی ہو، اس کی روٹین قرونِ اولیٰ سے ملتی ہو۔ وین ڈینیل پنک کی ایک کتاب ہے، وہ کہتا ہے کہ بہترین وقت اٹھنے کا، سونے کا، قیلولے کا، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت ہے، اس سے بہتر کوئی شیڈیول ہو نہیں سکتا۔ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا ہے، قرآن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مجھے تو پہلے سے پتہ تھا، میں نے کیوں چھوڑا ہوا ہے؟ میری دکانیں کیوں دس گیارہ بجے کھل رہی ہیں اور رات دس گیارہ بجے تک کھلی رہتی ہیں؟

تو یہ ساری چیزیں ہیں کہ جس میں ہمیں بغیر کچھ کیے یہ فائدہ حاصل ہے، ہمارے پاس بنی بنائی تحقیق ہے، اس پہ ہم یونیورسٹیز بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اتنے زیادہ احساسِ کمتری کا شکار ہیں کہ اس شناخت کی طرف جاتے ہی نہیں ہیں۔ ہم ہمیشہ مغرب کی طرف جاتے ہیں، اور دیکھیں، مغرب ہم سے سو سال آگے ہے، اس کے ریسنگ ٹریک پر دوڑ کر ہم کبھی بھی فنش لائن پر اس سے پہلے نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں اپنا ٹریک خود ہی بنانا پڑے گا جو قرآن سے، سیرت سے، صحابہؓ سے، اولیاءؒ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہو، تب جا کر ہم ان سے آگے نکل سکیں گے، لیکن اس کے لیے ہمیں اصل تعلیمات کی طرف جانا ہو گا۔ 

اویس: اس کے لیے ظاہر ہے کہ وسائل بہت سارے چاہئیں، فنڈنگ بہت ساری چاہیے، اور وہ وژن چاہیے جو اس کام پر لوگوں کو آمادہ کر سکے۔ تو کیا ہمارے پاس ان تینوں چیزوں کی وافر مقدار موجود ہے؟  

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، وسائل، فنڈنگ، زمین، ان سب چیزوں کا ایک چیز پر انحصار ہے جسے ہم مائنڈ سیٹ کہہ سکتے ہیں۔ جس کے اندر وژن ہے، جس کا ایسا ذہن ہے، تو باقی چیزیں اسی سے بنتی ہیں، اگر یہ نہیں ہے تو پھر کچھ نہیں ہے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر عبد الباری خان صاحب کو میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! فنڈنگ مجھے زیادہ ملنی چاہیے تھی آپ سے کیونکہ میرا کام آپ سے زیادہ اہم ہے۔  ان سے دوستی بھی ہے، میرے بزرگ بھی ہیں۔ تو کہنے لگے کیسے؟ میں نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ’’انما بعثت معلماً‌‘‘  مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے، یہ نہیں کہا کہ ’’انما بعثت طبیباً‌‘‘۔ بہت سارے کام اگر میرا شعبہ ٹھیک کر رہا ہوتا تو آپ کے ہسپتال میں ایسے لوگ دس فیصد رہ جاتے۔ 

یہ بات بہت اہم ہے سمجھنے کی کہ جو انقلاب آنا ہے وہ تعلیم سے آنا ہے۔ جو آج کا تعلیمی نظام ہے وہ اس کی پیشگوئی کرتا ہے کہ بیس سال بعد معاشرے میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کہاں پہنچی ہوئی ہے، رفاہی معاشرے اور ریاست کے حوالے سے کیا بحثیں چل رہی ہیں، انفرادی طور پر مادی فوائد کے حصول کے حوالے سے کیا چل رہا ہے، ان سب چیزوں پر اس بات کا انحصار ہے کہ بچہ آگے کس ذہن کے ساتھ اس قوم کی رہنمائی کرے گا۔ اور ظاہر ہے کہ ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ اس وقت بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اویس: آخر میں درسِ قرآن ڈاٹ کام کے جس پلیٹ فارم پر ہم بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ گفتگو کر رہے ہیں، آپ نے اس کو جتنا دیکھا اور جو تعلق رہا، میں چاہوں گا کہ آپ اس کے بارے میں کچھ بتائیں۔

ڈاکٹر ذیشان احمد: دیکھیں، میں امریکہ میں تھا تو وہاں ہمارا ایک ہی ذریعہ تھا، طارق جمیل صاحب کا بیان ہو یا کوئی اور، اب تو خیر بہت سے چینلز آ گئے ہیں، لیکن درسِ قرآن ڈاٹ کام کی جو انفرادیت ہے وہ یہی ہے کہ جتنا ما شاء اللہ مواد یہاں تیار ہو رہا ہے، جتنا یہ متوجہ کرتے ہیں، جتنی ان کی دیکھنے والے ہیں، پاکستان میں تو ہے ہی، مغرب میں، کینیڈا میں، امریکہ میں، انڈیا میں بہت بڑی آڈیئنس ہے، تو میرے خیال میں یہ بہت بڑا چینل ہمارے پاس ہے۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ میں اپنی ساری زندگی کے لمز ، آئی بی اے، کے بی ایل، مسسیسیپی، القادر، الغزالی، سب یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹس بھی جمع کر لوں تو شاید تیس ہزار ہوں گے ملا جلا کر جن کو میں نے تھوڑا بہت پڑھایا ہو گا۔ جبکہ یہاں سے ایک ویڈیو پر تیس ہزار ویوز آجاتے ہیں۔ 

تو اس کو استعمال میں لانا چاہیے، اس کو سننا چاہیے اور اس پہ آنا چاہیے۔ اور میرے خیال میں مستقبل میں تصورات کی تشکیل میں یہ بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور ہم جو کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے اندر وژن پیدا کرنا ہے، دعوت کی روح پھونکنی ہے، اور ان کو اس بات پر لانا کہ وہ قربانیاں دیں اور رکاوٹوں کا سامنا کریں، یعنی اگر وہ روح آجائے تو میرے خیال میں درسِ قرآن ڈاٹ کام صحیح معنوں میں قرآن پر، سیرت پر، حدیث پر، صحابہؓ کی سیرت پر ہمیں لے جانے کے لیے بہت مضبوط ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، ان شاء اللہ۔

اویس: بہت شکریہ، ڈاکٹر صاحب۔

ڈاکٹر ذیشان احمد: جزاک اللہ، جزاک اللہ۔

https://youtu.be/iIalH15ghAE


بین الاقوامی قانون میں اسرائیلی ریاست اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آصف محمود

ہم نے بھارت کو تسلیم کیا ہے تو اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کر سکتے؟

آصف محمود: ڈاکٹر صاحب، یہی سوال اگر میں آپ سے پوچھوں، انڈیا کو بھی تو ہم نے تسلیم کیا ہوا ہے، انڈیا نے ہماری ساری ریاستوں پر قبضے کیے ہوئے ہیں، حیدرآباد پہ کیا ہوا ہے، نظام حیدر آباد پہ، جونا گڑھ پہ کیا ہوا ہے، کشمیر پہ کیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بالکل، اس میں ایک بنیادی فرق ہے، یعنی تسلیم کیا جانا، پہلے میں یہ واضح کروں کہ تسلیم کرنا دو طرح کا ہوتا ہے: ایک کو ہم انٹرنیشنل لاء کی اصطلاح میں کہتے ہیں de facto recognition یعنی as a matter of fact بطورِ امرِ واقعہ ایک چیز موجود ہے، اس کے قانونی جواز اور عدمِ جواز سے قطع نظر ہم اسے بطورِ امرِ واقعہ تسلیم کر لیتے ہیں۔ یہ ایک صورت ہے۔ اس صورت میں تو ظاہر ہے اسرائیل کو بطورِ امرِ واقعہ تو سارے لوگ مانتے ہیں کہ ایک وجود تو موجود ہے۔ لیکن کیا وہ وجود قانونی جواز رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ تو اگر ہم اس کا قانونی جواز تسلیم کریں تو اس کو de jure recognition کہتے ہیں۔

اب وہ جو قانونی جواز تسلیم کرنے کا مسئلہ ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور انڈیا کو تسلیم کرنے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ جن علاقوں سے انڈیا تعبیر کیا جاتا ہے کہ یہ علاقے ہیں، یہ بھارت ہیں، تو ان میں چند ایک کے علاوہ باقی کسی پر ہم انڈیا کے وجود کو ناجائز نہیں تسلیم کرتے۔

اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا تو وجود ہی، اصل میں اس پر سوالیہ نشان قائم ہیں۔ پھر میں یہ کہتا ہوں کہ چلیں یہ تو ۱۹۴۷ء، ۱۹۴۸ء کی بات ہے، اس سے پہلے بھی آپ دیکھیں آل انڈیا مسلم لیگ کی قراردادوں میں ۱۹۳۰ء کی دہائی سے ۱۹۴۰ء کی دہائی تک قائد اعظم کے خطوط دیکھیں، ان کی اسپیچز دیکھیں، آل انڈیا مسلم لیگ ہر سال جس طرح فلسطین کا دن مناتی تھی اور اس کے لیے تقریبات کرتی تھی، تو وہ تو ہماری ایک مستقل پوزیشن تھی کہ یہ سارا قبضہ ہی ناجائز ہے اور ایک ناجائز وجود ہے۔

یعنی ایک تو یہ ہے کہ یہ ریاست تو ٹھیک ہے، اس کو تسلیم کر لیتے ہیں، اس کا اس علاقے پر قبضہ ناجائز ہے، جیسے بھارت کا ہم کشمیر پر یا جوناگڑھ پر قبضہ نہیں تسلیم کرتے۔

آصف محمود: اسرائیل اِن اِٹ سیلف (اپنے آپ میں) ناجائز ہے۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: اسرائیل اِن اِٹ سیلف۔ اچھا، میں اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ بات شروع کرنے کے لیے کم از کم یہاں سے تو شروع کی جا سکتی ہے کہ اسرائیل سے اگر بات ہو سکتی ہے، کوئی کرنا چاہے، کہ جو ۱۹۶۷ء میں علاقے قبضے میں لیے ہیں کم از کم اس پر تو دعوے سے دستبردار ہو جائے۔

آصف محمود: ڈاکٹر صاحب، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اس کو تسلیم نہ کر کے، مطلب ویسے اس کے شیطانی اسٹیٹ ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہے، لیکن اس کو تسلیم نہ کر کے ہم کہیں فلسطینیوں سے بھی رُس (ناراض ہو کر) بیٹھ گئے ہیں۔ یعنی ہمارا فلسطینیوں سے اب صرف اتنا سا تعلق ہے کہ ہم ایک اسٹیٹمنٹ دے دیں، رابطے ہوتے تو شاید ہم کچھ امداد دیتے، رابطے ہوتے تو شاید ہم ان (اسرائیل) کی ایمبیسی کے باہر کوئی پروٹیسٹ کرتے، ہم ان کو کوئی لعن طعن کرتے تو ہمارا دباؤ ہوتا، جیسے ترکیہ کا ہے۔ اب ہم نے فلسطینیوں کو ان کے مظالم کے رحم و کرم پہ چھوڑا ہوا ہے، نہ ہمارا کوئی رابطہ ہے، نہ ہمارا کوئی تعلق ہے، نہ ہم کوئی امداد بھیج سکتے ہیں، نہ ہم کچھ کر سکتے ہیں، بس ہم یہاں وہ کہتے ہیں نا کہ رُس کر بیٹھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: ہاں بالکل، وہ بات درست ہے آپ کی، لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ ترکیہ کو بھی وہ freedom flotilla بھیجنے میں کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل جب کرنے پہ آتا ہے، جس طرح اس نے بلاک ایڈ کیا تھا غزہ کا۔ یا مصر نے اس کو ریکگنائز کیا، اب اس کے نتیجے میں ہوا یہ کہ فلسطینیوں کے لیے مصر کی سرزمین بھی تنگ ہو گئی، یعنی فلسطینی غزہ سے اب مصر بھی نہیں جا سکتے، بلکہ مصر ان کے لیے اسرائیل سے، یو کہیں زیادہ بڑا جابر اور ظالم بن کر رہ گیا ہے۔

اس لیے میں کہتا ہوں بات تو شروع کرنے کے لیے کم از کم ۱۹۶۷ء میں جو علاقے قبضے میں لیے گئے ہیں، جن میں مسجد اقصیٰ اور آس پاس کے علاقے بھی شامل ہیں، غزہ اور مغربی کنارہ بھی شامل ہے، اس سے تو کم از کم بات شروع کریں، لیکن اسرائیل اس پر بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ جو اس نے انڈرسٹینڈنگ کی اس میں بھی اسرائیل نے، یہ جو القدس کا مسئلہ ہے اور غزہ اور مغربی کنارے کا مسئلہ ہے، اس پر کوئی کمٹمنٹ نہیں دی۔ بلکہ امریکہ نے ایک اسٹیپ آگے جا کر، اسی امریکہ نے جس نے ان دونوں کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کیا، اسی امریکہ نے اسی دوران میں اپنا جو سفارتخانہ ہے وہ القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا۔

www.facebook.com

بین الاقوامی قانون میں مسجد اقصیٰ کی قانونی حیثیت اور عملی صورتحال

آصف محمود: ڈاکٹر مشتاق صاحب، میں آپ سے آغاز کرتا ہوں، یہ جو واقعہ ہوا، اس میں وہ رسمی مذمت تو خیر، اس سے تو آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔ یہ مسجد اقصیٰ اس وقت انٹرنیشنل لاء کی روشنی میں کس کے انتظام میں ہے؟ کیا اس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ تسلیم ہو چکا ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کے زیر انتظام ہے؟ اسرائیلی فورسز جب اندر گھستی ہیں تو کیا قانون انہیں اجازت دیتا ہے؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں، کچھ میں نے بول دیے کچھ نہیں بولے، آپ ذرا اس پر راہنمائی کریں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دیکھیں، جہاں تک اس مسجد اقصیٰ کا تعلق ہے اور فلسطین کی سرزمین کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق تو اقوامِ متحدہ کا سرکاری موقف یہ ہے، اقوامِ متحدہ کی تنظیم کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ مقبوضہ علاقے ہیں۔ یعنی اقوامِ متحدہ کی دستاویزات میں بھی اور سب کچھ ان کے ہاں، اس کے لیے جو ٹائٹل استعمال ہوتا ہے وہ ہوتا ہے occupied palestinian territory یعنی مقبوضہ فلسطینی علاقہ۔ یہ وہ علاقے ہیں جو ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل نے قبضے میں لیے ہیں۔

یعنی اسرائیل کے پاس کچھ تو وہ علاقہ ہے جو ۱۹۴۸ء میں اس نے حاصل کیا تھا، اس میں بھی کچھ علاقہ وہ ہے جو اقوامِ متحدہ کے پارٹیشن پلان سے زیادہ اس نے حاصل کیا تھا، تو وہ بھی مقبوضہ ہے، لیکن چلیں اس کو تو ایک طرف رکھیں۔ لیکن یہ جو ۱۹۶۷ء میں اس نے علاقے قبضے میں لیے ہیں جس میں مسجد اقصیٰ اور القدس اور غزہ کی پٹی اور باقی علاقے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ مصر سے بھی اور دیگر ممالک سے بھی کچھ علاقے لیے تھے، تو یہ تو مقبوضہ علاقے ہیں۔

اچھا، مقبوضہ علاقے ہیں تو انٹرنیشنل لاء کا یہ مسلّمہ اصول ہے کہ قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے پر ملکیت حاصل نہیں ہوتی، وہ اس کے ملک کا حصہ نہیں بنتا، مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو مزاحمت کا حق حاصل ہے، قابض طاقت وہاں کی آبادی اور ڈیموگرافی کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس پر ICJ کا، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا، جو اقوامِ متحدہ کا جوڈیشل آرگن ہے، اس کا ۲۰۰۳ء کا فیصلہ ہے، یعنی پیچھے جو قراردادیں اور جو دستاویزات ہیں وہ تو الگ، لیکن ۲۰۰۳ء کا فیصلہ ہے۔

جب اسرائیل نے یہاں اس مقبوضہ علاقے میں دیوار تعمیر کرنے کی کوشش کی، تو اس پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے پوچھا کہ کیا قابض طاقت کی حیثیت سے مقبوضہ علاقے میں اسرائیل اس طرح کی دیوار تعمیر کر سکتا ہے کہ وہ علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے لوگوں کو آپس میں نہ ملنے دے؟ اور اس کے اور بھی repercussions ہوں گے۔ اپنے دفاع کے نام پر وہ یہ کر رہا ہے۔

تو بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے، اسرائیل کا بھی ایک جج تھا، ظاہر ہے جس ملک کے متعلق مقدمہ جمع ہوتا ہے اس کا ایک جج اس میں ہوتا ہے، تو اس نے تو اختلافی نوٹ لکھا، باقی تمام ججز نے یہ صراحت کے ساتھ کہا کہ یہ مقبوضہ علاقہ ہے، اس میں قابض طاقت کی حیثیت اس کو حاصل ہے، اس وجہ سے یہ صرف انتظام کر سکتا ہے، باقی یہاں یہ دور رس تبدیلیاں نہیں کر سکتا، یہاں کے لوگوں کو مزاحمت کا بھی حق حاصل ہے۔ یہاں کے لوگوں کی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں کیا ہو رہی ہیں، وہ بھی انہوں نے لسٹ کیں۔ occupation law کی کیا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، وہ بھی بتا دیں۔

جہاں تک مسجدِ اقصیٰ کا تعلق ہے تو ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد بھی اردن کا اور اسرائیل کا آپس میں یہ طے ہوا تھا کہ، چونکہ اس وقت بھی اس کا انتظام اردن کے پاس تھا، تو اسرائیل نے تسلیم کیا کہ اب بھی اور آج تک اس کا جو وقف کا انتظام ہے، وہاں مسجد کا اور خطبے کا اور جو سارا نظام چلتا ہے، تو وہ اردن کی وزارت جو مذہبی امور سے متعلق ہے وہ اس کی دیکھ بھال کرتی ہے، اور انتظام ان کے پاس ہے۔

اب اس وقت ہوا اصل میں یہ ہے، بہت سارے لوگوں کو پاکستان میں اس کا علم نہیں کہ یہ اچانک ایشو کیا بھڑک اٹھا۔ ہوا یہ کہ یہودیوں کا ایک تہوار ہے جس کو وہ ’’عیدِ فسح‘‘ کہتے ہیں، انگلش میں اس کو passover کہتے ہیں۔

یہ، بنی اسرائیل جب مصر میں تھے تو بائبل میں یہ آتا ہے کہ فرعون ان پر مختلف قسم کے مظالم کرتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے، قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے، کہ اس پر مختلف قسم کے اللہ کی جانب سے عذاب آئے تاکہ وہ بنی اسرائیل کو جانے دے اور ان پر ظلم روک دے۔ تو بائبل میں ایک عذاب کا ذکر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ آپ دنبہ ذبح کریں اور اس کا خون اپنے گھر کی دیوار پر دروازے پر لگائیں کیونکہ آج رات ملک الموت آئے گا، تو وہ جو فرعون اور اس کے ساتھی ہیں، تو ان کی جو پہلوٹھی اولاد ہے first born، ان کو وہ مار دے گا، لیکن جہاں یہ خون کا نشان لگا ہو دنبے کا، تو اس گھر کو وہ چھوڑ کر آگے گزر جائے گا، تو pass over کرے گا۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ جب مصریوں کی یہ اولاد فرعون اور آلِ فرعون کی ہلاک ہو گئی تو مجبور ہو کر انہوں نے اسرائیل کو جانے دیا، لیکن پھر بعد میں ان کا پیچھا کیا پھر وہ غرق ہوئے۔ اس کی یاد میں یہ تہوار مناتے ہیں۔

اچھا، تو یہ تہوار، یعنی اس سال کے لیے جو انہوں نے کیلکولیٹ کیا تھا، کیونکہ یہ، جیسے عرب جاہلیت میں کرتے تھے، اصل کیلنڈر تو ان کا بھی قمری ہے، لیکن وہ اس کو سورج کے ساتھ اور اس کے ساتھ ملا کر آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ تو اس سال کے لیے انہوں نے چھ اپریل سے تیرہ اپریل تک یہ ہفتہ اس تہوار کے لیے رکھا تھا۔ اب ان میں بہت شدت پسند قسم کے جو یہودی ہیں، تو ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جا کر مسجد اقصیٰ میں، کیونکہ اس کو وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہمارا ٹیمپل تھا، یہاں ہم نے وہ تہوار کرنا ہے، یہاں ہم نے وہ دنبے کی قربانی بھی کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔

جو فلسطینی ہیں ظاہر ہے وہ نہتے ہیں، وہ اس کی حفاظت کے لیے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک دفعہ یہ یہاں بھی داخل ہو گئے، تو پہلے ہی یہ جتنا کچھ کر چکے ہیں تو یہ تو مسجد اقصیٰ کو ڈھا دینے کے پروگرام پر چل رہے ہیں۔ اور ۱۹۶۹ء میں یہاں آگ بھی لگائی گئی تھی مسجد اقصیٰ میں، اس کے بعد او آئی سی کی تنظیم بنی تھی۔ تو پیچھے پوری ہسٹری ہے۔ تو وہ ان کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی حکومت بظاہر تو یہ کہتی ہے کہ ہم لوگوں کو روکیں گے لیکن جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ اصل میں وہاں کیا ہو رہا ہے۔

www.facebook.com


فلسطین کا جہاد، افغانستان کی محرومی، بھارت کی دھمکیاں

مولانا فضل الرحمٰن

یکم مئی کو دارالعلوم حقانیہ میں خطاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین۔ 

میرے برخوردار عزیز مکرم مولانا عبد الحق ثانی اور میرے عزیز مکرم مولانا راشد الحق صاحب، اس اجتماع میں موجود تمام اکابرین، علماء کرام، زعماءِ قوم، دانشورانِ وطن! بہت ضروری تھا کہ مولانا حامد الحق صاحب اور مولانا سمیع الحق صاحب شہیدینِ مکرمین کی یاد میں نخبہ شخصیات پر مشتمل اس اجتماع کا اہتمام ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا تعلق اس سلسلے کے ساتھ ہے جہاں رحلتوں اور شہادتوں پر ماتم برپا نہیں کیے جاتے بلکہ ان کے مشن کو زندہ رکھنے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کیا جاتا ہے۔ سو آج کا اجتماع بھی ہمیں یہی درس دے رہا ہے کہ ہم اپنے اسلاف اپنے اکابرین کے اس مشن کو زندہ بھی رکھیں، اسے ہم نے آگے بھی بڑھانا ہے، اور ہم تحریک ہیں۔ تحریک سمندر میں کوئی بہت بڑا پتھر پھینک کر ایک بڑے دھماکے کا نام نہیں، ایک بڑے بھونچال کا نام نہیں ہے، بلکہ تحریک سمندر کی لہروں کا نام ہے۔ لہروں میں نشیب و فراز آتا ہے، لہریں کبھی ڈوب جاتی ہیں لیکن پھر ابھرتی ہیں اور لہریں بالآخر ساحل پر جا کر دم لیتی ہیں۔ 

حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے سند یافتہ، وہاں پر چھ سال مدرس رہے، اور جس سال وہ اپنے گھر اکوڑہ خٹک تشریف لائے تو اسی رمضان شریف میں پاکستان بن گیا اور وہ واپس نہ جا سکے، اور اکوڑہ خٹک کے ایک محلے کی مسجد میں انہوں نے بیٹھ کر درس و تدریس کا آغاز کیا۔ اب ظاہر ہے کہ ہماری یہ دانش گاہیں، یہ تعلیم گاہیں، یہ محض تعلیم گاہیں نہیں ہیں بلکہ یہ نظریاتی ادارے ہیں، یہ فکری ادارے ہیں، اور ہمہ جہت وہ اپنے علم سے بھی اور اپنے علم سے بھی امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔  انگریز کے خلاف ڈیڑھ سو سال تک میدان میں جہاد لڑا گیا، تحریکیں چلیں، پچاس ہزار علماء کرام سولیوں پر لٹکائے گئے، توپوں سے اڑا دیے گئے۔ اور ایک مؤرخ لکھتا ہے کہ ایک انگریز جو اس وقت انہیں سزا دینے کے موقع پر ڈیوٹی پر تھا کہ ہم نے ہزاروں علماء کرام سے تنہائی میں ایک ایک سے پوچھا  کہ اگر آپ اتنا کہہ دیں کہ اس جہاد سے میرا تعلق نہیں تھا تو آپ کی سزا ابھی معاف ہو جائے گی۔ وہ کہتا ہے کہ تمام کے تمام اُڑ گئے لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ میرا اس جہاد سے تعلق نہیں تھا۔  یہ ہے قربانیوں کی وہ تاریخ جس سے ہم اور آپ وابستہ ہیں، ہم اس نسبت کے لوگ ہیں۔

 اور ظاہر ہے کہ جس کی یہ نسبت ہو ، جن کی یہ تعلیم ہو، جن کی یہ تربیت ہو، تو آج کے امت مسلمہ  کے حکمرانوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور ان کی روش کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اور آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔  یہی جو آج ہمارے حکمران ہیں یہ اس وقت بھی انگریز کے وفادار تھے، اور یہی جو آج میدان میں بڑے عزم کے ساتھ بات کرتے ہیں یہی اُس وقت میدانِ جہاد میں تھے۔ تو اس پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنی اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ کن وفاداریوں کے نتیجے میں انہیں مراعات ملیں، انہیں ملک ملے، او ران مراعات کا آج بھی ہمارے حکمران حقِ نمک ادا کر رہے ہیں۔   تو اس حوالے سے اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹوٹ جانے کے بعد، ستائیس عرب ممالک کے وجود میں آنے کے بعد، جغرافیائی تقسیم نے ہمارے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، اور منقسم جسم پھر دفاع میں کمزور ہو جاتا ہے، وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ 

میرے محترم دوستو! اس وقت ہم ہمہ جہت مشکل میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف افغانستان میں بیس سال سے امریکہ کے خلاف جنگ رہی، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی، فتح سے ہمکنار ہوئی، لیکن ابھی وہ مشکل برقرار ہے کہ فلسطین کا موضوع سامنے آگیا۔ دنیا اب اس طرف متوجہ ہوئی،  حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا، جس طرح طالبانِ افغانستان کو دہشت گرد کہا گیا تھا۔ انہیں بلیک لسٹ قرار دیا گیا تھا اور دنیا ہچکچا رہی تھی اس بات سے کہ حماس کے ساتھ حمایت کیسے کی جائے؟ مجھے یاد ہے سات اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی اور چودہ اکتوبر کو حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی یاد میں پشاور میں ملین مارچ تھا، جلسہ تھا بہت بڑا، جسے ہم نے طوفانِ اقصیٰ کے نام میں تبدیل کر دیا اور اس میں حماس کے نمائندے نے آ کر تقریر کی۔  اور پھر یہاں سے ہم بلوچستان گئے، وہاں سے کراچی گئے، اور کراچی سے میں سیدھا دوحہ گیا اور حماس کی قیادت سے میں نے ملاقات کی ، کھل کر ملاقات کی اور دنیا کو پیغام دے دیا کہ آپ کسی کو دہشت گرد کہیں، بلیک لسٹ کہیں، لیکن میں اس کو مجاہد کہتا ہوں اور اپنے حق کا پرستار کہتا ہوں۔ 

امریکی وزیر خارجہ آیا تل ابیب اور اس نے کہا کہ میں وزیر خارجہ کے طور پر نہیں آیا ہوں میں ایک یہودی کے طور پر آیا ہوں تمہارے پاس۔ تو میں نے بھی بیان میں کہا کہ میں کسی جماعت یا مکتبِ فکر کی نمائندگی نہیں کر رہا بلکہ ایک مسلم مجاہد کے طور پر آپ کے پاس آیا ہوں  اور آپ سے مل رہا ہوں۔ اس مقام پر آ کر پھر سیاسی مصلحتیں ختم ہو جاتی ہیں، اگر ایمان کو بچانا ہو تو، پھر گروہی مصلحتیں نہیں رہتیں۔ 

اور پھر میں اسماعیل ہنیہؒ کی شہادت پر تعزیت کے لیے گیا۔ مکمل یکجہتی آج بھی برقرار ہے۔ اور مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم تمام مکاتبِ فکر ہوں، سیاسی مذہبی جماعتیں ہوں، ایک جگہ بیٹھ کر ہم جو آواز بلند کر رہے ہیں، یہ صرف پاکستان کی متفقہ آواز نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی متفقہ آواز ہے۔ ہم ان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور میں یہ بھی بتا دوں آپ کو کہ ایسے حالات میں ہمیشہ دنیا کی توقع پاکستان سے ہوتی ہے، کہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایک ایسا ماحول یہاں نصیب ہے کہ جہاں ہم اکٹھے بھی ہوتے ہیں، ہم میدان میں بھی اترتے ہیں، ہم نعرہ بھی بلند کرتے ہیں، ہماری آواز بھی اٹھتی ہے، اور پوری دنیا کو پاکستان کی سرزمین سے آواز کا انتظار ہوتا ہے۔ شاید دنیا کے دوسرے مسلمانوں کو ایسے مواقع حاصل نہیں ہیں۔ مشکلات ہوتی ہیں، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی تکلیف بما لا یطاق نہیں دی، اپنی استطاعت سے زیادہ اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ مشکلات آسکتی ہیں، بے بسیاں آ سکتی ہیں۔ 

لیکن ہمیں صرف اس بات پر غور نہیں کرنا چاہیے کہ پچاس ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے، یقیناً‌ وہ باعثِ کرب ہے،  جیسے مشتاق بھائی نے کہا کہ کتنے بچے ہیں کہ جو بالکل شیرخوار اور ان کا پورا خاندان نہیں ہے اور ان کو کل یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ میرے ماں باپ کون تھے، میں کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا، جب بڑا ہو جائے گا تو۔ تو کرب کا باعث تو یقیناً‌ ہے۔  لیکن اس پہلو پر بھی ہمیں نظر رکھنی چاہیے کہ جب دنیا غور کر رہی تھی اس بات پر کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے، لابیاں کام کر رہی تھیں، ہمارے ملک میں لابی کام کر رہی تھی، ٹیلی ویژن پر آ کر بات کرتی تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے کراچی میں ایک ملین مارچ کر کے یہ زبان بند کی، اور ہمارے اس جلسے میں اسماعیل ہنیہؒ نے وہاں سے خطاب کیا براہ راست، مسجدِاقصیٰ کے خطیب نے وہاں سے خطاب کیا، لبنان کے مفتی نے وہاں سے خطاب کیا، اور وہ اتنی مؤثر ثابت ہوئیں کہ یہاں پر اس لابی کو دھچکہ لگا۔ لیکن پوری دنیا میں قضیۂ فلسطین کی ہیئت اور اس کی نوعیت کو، اس کی سفارتی نوعیت کو، اس کی سیاسی نوعیت کو، اس کی زمینی نوعیت کو، اگر  تبدیل کیا ہے تو حماس کی طرف سے سات اکتوبر سے شروع ہونے والے جہاد نے کیا ہے۔ 

اب ذرا کوئی کوشش کرے نا، کہے نا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں نئی باتیں کی جا رہی ہیں، دو ریاستی حل، ایک ریاستی حل۔ سوال یہ ہے کہ اگر فلسطینی کہتا ہے کہ صرف فلسطین، اور یہ میری زمین ہے، اور اسرائیل قابض ہے، تو ایک فلسطین کی بات کرنے والا، اس موقف کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اسرائیل کے موقف کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کہتا ہے ایک اسرائیل، کوئی فلسطین نہیں۔ اگر فلسطینی بھی ایک ریاست کی بات کرے اور اسرائیلی بھی ایک ریاست کی بات کرے، ہم کون ہوتے ہیں کہ ہم دو ریاستی حل کی بات کریں ، ہم بھی ڈٹ کر کہتے ہیں کہ ایک فلسطین اور کوئی اسرائیل نہیں۔ مسئلہ واضح ہونا چاہیے۔ 

ایک صدی پہلے سرزمینِ عرب پر بلکہ کرۂ ارض پر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں تھی۔ جنگِ عظیم اول کے بعد جب یورپ میں یہودی پیٹا گیا مارا گیا تو ایک انسانی مسئلہ پیدا ہوا کہ ان لُٹے پِٹے یہودیوں کا اب کیا کریں ہم؟ اس وقت اقوامِ متحدہ نہیں بنی تھی، لیگ آف نیشنز ، اس نے ایک کمیٹی بنائی، اور اس کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں واضح طور پر اس نے کہا ہے کہ ان لٹے پٹے  یہودیوں کو بحال کرنا یہ انٹرنیشنل ریسپانسبلیٹی ہے، بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ 

اور ۱۹۱۷ء میں برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے ایک معاہدے کے تحت اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا۔ آج پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ صاحب یہ تو فلسطینیوں نے خود زمینیں بیچیں۔ اب خود زمینیں بیچ کر اس پر یہودی آباد ہو گئے تو یہ کیا آپ لوگ باتیں کر رہے ہیں۔ بہت بڑا مغالطہ ہے تاریخی لحاظ سے۔ آپ ریکارڈ دیکھیں، ۱۹۱۷ء میں  پورے فلسطین کی سرزمین کے دو فیصد علاقے پر یہودی آباد ہیں، اٹھانوے فیصد علاقے پر مسلمان آباد تھا، عرب آباد تھا۔ اور ۱۹۴۸ء میں یہ بنا، ۱۹۴۷ء کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ پورے فلسطین کی سرزمین کی صرف چھ فیصد پر یہودی آباد تھا۔ چورانوے فیصد فلسطینیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اور پھر یہ کہنا کہ انہوں نے زمینیں بیچیں اور اس پر یہودی آباد ہو گئے، تاریخ کو جھٹلایا جاتا ہے، اعداد و شمار کو جھٹلایا جاتا ہے، حقائق کو جھٹلایا جاتا ہے۔ 

تو اس حوالے سے اب اقوامِ متحدہ کیا کہتا ہے؟ آج کا اقوامِ متحدہ کہتا ہے کہ ۱۹۶۷ء کے بعد اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے یہ ناجائز قبضہ ہے۔ پاکستان تو اس کے وجود کو ناجائز کہتا ہے نا، لیکن ۱۹۶۷ء کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد کہتی ہے کہ مقبوضہ علاقے  ناجائز ہیں اور اسرائیل نے قبضہ کیے ہیں، اس سے ان کو واپس ہونا ہو گا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود امریکہ اور یورپ اس کے برعکس اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں،  ان کے قبضے کا تحفظ کر رہے ہیں۔ آج عالمی عدالتِ انصاف (عالمی فوجداری عدالت) کہتا ہے کہ یہ انسانی مجرم ہے، جنگی مجرم ہے اور اس کو گرفتار کر لیا جائے۔ گھوم رہا ہے دنیا میں، حالانکہ یہ فیصلہ آنے کے بعد کوئی بھی ملک کہ جس سے اس شخص کا جہاز گزر رہا ہو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے جہاز کو اتارے اور گرفتار کر  لے۔ نہ اقوامِ متحدہ کو سنا جا رہا ہے، نہ عالمی عدالتِ انصاف کو سنا جا رہا ہے، یہ دنیا ہمارے اوپر کیا مسلط کرتی ہے؟  یہ صرف ہمارے لیے ہے کہ کویت پر اگر قبضہ ہو جائے تو صدام کو ختم کر دو، عراق کو تباہ کر دو۔ یہ صرف ہمارے لیے ہے، کشمیر پر قرارداد پر کوئی عملدرآمد نہیں؟ وہاں آئے روز مظالم ہو رہے ہوں۔  تو عالمی اداروں کو امریکہ اور مغربی دنیا نے غیر مؤثر بنایا ہوا ہے، حالانکہ اصول کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی ماضی بھی ہمارے موقف کی حمایت کرتی ہے اور عالمی عدالت انصاف کے آج کے فیصلے بھی ہمارے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ پھر  اس کے باوجود کہاں سوئی ہوئی ہے دنیا، کیوں مردہ ہو گئی ہے؟ اور ہم یہاں پر اپنے معاملات کو سلجھانے کی بجائے الجھاتے چلے جا رہے ہیں۔ 

کشمیر کا مسئلہ ہے، لیکن کشمیر کے مسئلے سے پہلے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا ہو گا کہ پاکستان نے بحیثیت ریاست کے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بہتر کیوں نہیں بنائے؟ یہ بات یاد رکھیں کہ ظاہر شاہ سے لے کر اشرف غنی تک جتنی حکومتیں آئی ہیں پرو انڈین تھیں، سوائے امارتِ اسلامیہ افغانستان کے۔ اگر ہم کوئی سیاست جانتے، اگر ہم کوئی سفارت جانتے، ہم اپنا کوئی ملکی مفاد جانتے تو آج افغانستان کو ایک پرو پاکستان افغانستان ہونا چاہیے تھا۔ ہم ان کو بھی دھکیل رہے ہیں کہ جاؤ تم روس کے ساتھ کہیں بات کرو، چائنہ کے ساتھ بات کرو، انڈیا کے ساتھ بات کرو۔  کس بات پر؟ سرحدیں روک دی ہیں، ہزاروں گاڑیاں مال لیے ہوئے اُدھر کھڑی ہیں، ہزاروں اِدھر کھڑی ہیں۔ عوام کا مال تباہ و برباد ہو رہا ہے، سرحد پر وہاں ٹینشن پیدا کر دی گئی ہے۔ 

یہ وہ غلط پالیسیاں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ریاستی قوتیں یا تو سفارتی ذہن کے ساتھ غلام ہیں، یا پھر ان کی سفارتی ذہنیت صفر ہے، ان کو سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور میں نے تو ان کو کمیٹی میں کہا ہے کہ جناب اگر ہر مسئلے کے لیے فوج کی سوچ یا فوج کی اپروچ ہو، کبھی بھی آپ یہ مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے، جب تک کہ آپ کے ساتھ پولیٹیکل سوچ نہ ہو، اکنامک سوچ نہ ہو۔ آپ کیسے اکانومی کو ٹھیک کر سکتے ہیں؟ انڈیا کی اکانومی اوپر جا رہی ہے، چائنہ کی اکانومی اوپر جا رہی ہے، بنگلہ دیش کی اکانومی اوپر جا رہی ہے، انڈونیشیا کی اوپر جا رہی ہے، ملائیشیا کی اوپر جا رہی ہے، افغانستان کی اوپر جا رہی ہے، ایران کی اوپر جا رہی ہے، اور ان سب کے بیچ میں صرف پاکستان کی اکانومی گر رہی ہے، کیوں؟ ہم تو جو کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے صرف اس کو دیکھتے ہیں، ہم اس پر تنقید کرتے ہیں۔ ریاستی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے ہم تباہ ہو رہے ہیں۔ آج بھی میں اپنی فوج کو اس محاذ سے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں  کہ اس کا اعتراف کر لو کہ موجودہ صورتحال میں آ پ کی پشت پر طاقتور سیاسی قوت نہیں ہے۔ آپ کو بھی سیاسی قوت کی ضرورت ہے، آپ کو بھی عوام کی پشت پناہی کی ضرورت ہے، زبانی بیانات جاری کر دینا،  قوم ایک ہے قوم ایک ہے۔ 

اب جو ہمیں انڈیا نے چھیڑ دیا اور اُدھر سے معاملات خراب ہو گئے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج پوری قوم ایک صف پر ہے، ملکی دفاع کے لیے ایک ایک مجاہد تیار ہے، ایک ایک پاکستانی مجاہد بن گیا ہے۔ ملک کے ساتھ سب وفادار ہیں۔ لیکن ہمیں تجزیہ کرنا چاہیے، لوگ بے  وقوف نہیں ہوتے، ہر چیز کو سمجھتے ہیں لوگ۔ اگر انڈیا کے ساتھ معاملہ ہو گا، قوم ایک صف پر ہو گی۔ اگر افغانستان کے ساتھ معاملہ ہو گا، قوم ایک صف پر نہیں ہو گی۔ سیدھی بات ہے۔ اس چیز کو ذرا جانچنا چاہیے، تجزیہ کرو اس بات کا، دونوں کے پس منظر مختلف ہیں، دونوں کی زمینی صورتحال مختلف ہے۔ سو وہ بھی دیکھا، سو یہ بھی دیکھ لو۔ 

آج کشمیر کے مسئلے پر انڈیا کی دھمکیوں کے بعد پوری قوم ایک ہے۔ لیکن کیا یہ سوچ افغانستان کے ساتھ معاملات بگاڑنے کے وقت بھی موجود تھی؟ نہیں۔ کچھ ذرا سوچ سمجھ کر موقف اختیار کیا جائے۔ پروپیگنڈے سے کچھ نہیں بنتا۔ میڈیا کے ذریعے دباؤ ڈالو ہمارے اوپر، نہیں، اس سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہم اب اتنے چھوٹے بچے نہیں ہیں کہ آپ میڈیا پر ایک فضا بنانے کی کوشش کریں اور ہم اس سے مرعوب ہو جائیں۔ ہم آپ سے بہتر سوچتے ہیں، ہماری اپروچ آپ سے بہتر ہے، معاملات تک رسائی آپ سے ہماری بہتر ہے۔ آپ کو اپنی قوم کے ساتھ بیٹھنا ہو گا، آپ کو اپنی سیاست کے ساتھ بیٹھنا ہو گا، آپ کو اپنے اقتصاد کے ساتھ، اپنے وسائل کے ساتھ بیٹھنا ہو گا۔ تب جا کر ہم وہ ملک حاصل کر سکیں گے کہ جس کے لیے مولانا سمیع الحقؒ نے بھی جان دی، مولانا حامد الحقؒ نے بھی جان دی۔ حملے ہم سب پہ ہوئے ہیں، کوئی بچا تو نہیں ہم میں سے۔ تین خودکش تو میرے اوپر ہوئے ہیں، دو تین میرے گھر پہ ہوئے ہیں، لیکن اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں۔ کتنے ہمارے ساتھی شہید ہوئے، کتنے علماء شہید ہوئے، کس جرم میں؟ اور پھر ان کا خیال یہ ہے کہ ہم علماء کو بھی قتل کریں گے اور پھر ہم مجاہد بھی کہلائیں گے۔  

تو میرا موقف واضح ہے کہ  جس عالمِ دین کو میں نے شہید کہنا ہے اس کے قاتل کو میں مجاہد نہیں کہتا، یہ دہشت گرد ہیں، یہ سفاک ہیں، یہ قاتل ہیں۔ میں مولانا سمیع الحقؒ کے قاتل کو مجاہد نہیں مانتا، میں حامد الحقؒ کے قاتل کو مجاہد نہیں مانتا، میں مولانا نور محمد صاحبؒ، وانا کے بزرگ کو شہید مانتا ہوں تو اس کے قاتل کو میں مجاہد نہیں مان سکتا، میں مولانا حسن جانؒ کے قاتل کو مجاہد نہیں کہہ سکتا، میں مولانا معراج الدینؒ کے قاتل کو مجاہد نہیں کہہ سکتا۔ بات صاف ہے بالکل۔  مجاہدوں کی طرح آؤ، بات کرو۔ دو آدمی بیٹھ کر حلال و حرام کے مالک بن جاتے ہیں، انسانی خون کو حلال کرنے کا فتویٰ پانچ آدمی بیٹھ کر طے کرتے ہیں۔  جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’لزوال الدنیا اہون علی اللہ من قتل رجل مسلم‘‘ ۔ پوری دنیا تباہ ہو جائے اللہ کے لیے آسان ہے ایک مسلمان کے خون کے مقابلے میں۔ انہوں نے اتنا آسان بنا دیا ہے کہ جب چاہے کسی کو قتل کرتے ہیں اور اس کو جہاد بھی کہیں! 

تو اس حوالے سے میں یہ بھی عرض کر دوں کہ دارالعلوم حقانیہ، جہاں یہ دارالعلوم دیوبند کا تسلسل ہے، وہاں مجھے شرف حاصل ہے کہ میں نے آٹھ سال دارالعلوم حقانیہ میں پڑھا ہے، کافیہ سے دورۂ حدیث تک،  اور میں آج جو کچھ ہوں اس دارالعلوم کی برکت سے ہوں، اور حضرت شیخ عبد الحق صاحب رحمہ اللہ کی سرپرستی، نگرانی اور ان کی شفق کی نیچے۔ میں ان کے احسان کو نہیں بھول سکتا، میں اس تعلق کو کہاں بھول سکتا ہوں؟ میری زندگی دارالعلوم حقانیہ سے تعبیر ہے۔ یہ نقصان صرف ان کے خانوادے کا نقصان نہیں ہے، یہ ہمارا نقصان ہے، میرے گھر کا نقصان ہے، میرے خاندان کا نقصان ہے، اور اس میں یہ تنہا نہیں ہیں، ہم سب اس نقصان میں ان کے ساتھ شریک ہیں، اور ان شاء اللہ اس کی تلافی میں بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ رہیں گے۔ 

اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ 

www.facebook.com/MoulanaOfficial

۹ مئی کو قومی اسمبلی میں خطاب

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔

جناب سپیکر، معزز اور فاضل اراکینِ ایوان! یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں محاذ پر ہے۔ ہندوستان نے مساجد پر مدارس پر اور سویلین علاقوں پر راکٹ داغے، ہمارے بھائی شہید ہوئے، بہنیں شہید ہوئیں اس میں، لیکن پاکستان کی فوج نے، چاہے بری افواج ہوں چاہے فضائی افواج ہوں، انہوں نے جس بہادری کے ساتھ اور جس خوبصورت حکمتِ عملی کے ساتھ دفاع کیا ہے، میں ان حالات میں انہیں خراجِ تحسین پیش کروں گا۔

آج جمعہ کا دن ہے، جمعیت علماء اسلام نے پورے ملک میں آج یومِ دفاعِ وطن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام آئمہ و خطباء سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی جارحیت کی بھرپور الفاظ میں مذمت کریں۔ جو بھی پاکستان کا موقف ہے، پاکستان کے موقف کو اس وقت اجاگر کریں اور قوم کو متحد ہونے کا درس دیں۔ اسی حوالے سے ان شاء اللہ گیارہ مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہوگا بہت بڑا، جہاں پاکستان کے عوام بھرپور طور پر اپنی یکجہتی کا اظہار کریں گے اور پاکستانی موقف کو اجاگر کریں گے۔ اور پھر پندرہ مئی کو کوئٹہ میں ان شاء اللہ ملین مارچ ہوگا اور پورے بلوچستان کا عوام اس میں اپنی یکجہتی کا اظہار کرے گا۔

حکومت نے ابھی حال ہی میں کہا ہے کہ نوجوان نام لکھوائیں شہری دفاع کے لیے، الحمد للہ ہمارے پاس ’’انصار الاسلام‘‘ کا شعبہ موجود ہے اور ہم نے اپنے انصار الاسلام کے شعبے کو شہری دفاع کی ذمہ داریوں کی ہدایات دے دی ہیں۔ جہاں جہاں بھی، خدا نہ کرے خدا نہ کرے، کوئی نقصان ہوتا ہے، کوئی پاکستانی شہری متاثر ہوتا ہے، تو اس کی مدد کے لیے پہنچنا، ان کو طبی امداد مہیا کرنا، ان کو ریلیف دینا، جو بھی ممکن صورت ہو، ایک عام شہری کے ہاتھوں، ان شاء اللہ ہم وہ کردار ادا کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

ہندوستان نے ہماری مساجد کو نشانہ بنایا ہے، مدارس کو نشانہ بنایا ہے۔ اور میں پورے ایوان کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آج اگر پاکستان کی دفاع میں صفحہ اول پر پہلے مورچے میں اگر کوئی لڑ رہا ہے یا لڑنے کا عزم رکھتا ہے تو وہ آپ کے دینی مدرسے کا نوجوان ہے، جو بین الاقوامی دباؤ میں بھی رہتا ہے، حکومتِ پاکستان کے دباؤ میں بھی رہتا ہے۔ میں یہ تجویز کروں گا کہ اس تصادم کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے اور مدارس کے حوالے سے جو کمٹمنٹس آپ نے کی ہیں، جو قانون سازی آپ نے کی ہے، میری گفتگو کو محض سیاسی بات نہ سمجھی جائے بلکہ حقیقی معنی میں یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جو آپ کے لیے بھی ہے، آپ نے بھی اس کو طے کرنا ہے، گورنمنٹ نے بھی اس کو طے کرنا ہے اور دنیا کو دکھانا ہے کہ ہم ایک ہیں۔ اگر میں ملکی مفاد میں اور ملکی دفاع میں آپ کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہوں تو پھر آپ کو بھی میرے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا، تعاون وہ دو طرفہ معاملات کا نام ہے یہ یکطرفہ معاملات کا نام نہیں ہے۔ ہم اپنے تعاون اور شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں، پتہ نہیں آپ دینی مدارس کو کب اپنے پاکستانی سمجھیں گے اور کب پاکستانی کے طور پر آپ ان کے ساتھ روش اختیار کریں گے۔

جناب سپیکر، میرے گفتگو کو تنقید نہ سمجھا جائے، میرے گفتگو کو تجویز سمجھا جائے، میں بڑی نیک نیتی کے ساتھ پورے ایوان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ہی قومی بیانیہ ہونا چاہیے ان حالات میں، بھانت بھانت کی بولیاں، پھر آج سوشل میڈیا ہے، ہر شخص آزاد ہے جو چاہے کہے، اس کی میں حوصلہ شکنی کروں گا اور یہ ضرور کہوں گا کہ یہ جنگ ہے، جنگ میں پھول نہیں بکھیرے جاتے، جنگ میں آگ برستی ہے۔ اور یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ ہماری اس جنگ کی سطح کیا ہے۔ کیا صرف ہم ایک دوسرے کو دھمکیوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں؟ ہم چھوٹی موٹی کاروائی کر کے اور بس یہاں تک رکھنا چاہتے ہیں (یا) اس سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم کشمیر کی سرزمین آزاد کرا سکیں گے (اور) اس میں ہم کچھ پیشرفت کر سکیں گے؟ یہ ساری حکمتِ عملی حکومت کے ایوانوں میں جہاں بنتی ہے یہ وہی بتا سکیں گے۔ اور میں حکومت سے یا اسٹیبلشمنٹ سے یہ مطالبہ بھی نہیں کر رہا کہ آپ کی جنگی حکمتِ عملی کیا ہے۔ کیونکہ جنگ لڑنے والا خود اپنی جنگی حکمتِ عملی اس وقت کے لیے خود بنایا کرتا ہے اور اس میں اگر اس کو اِفشا کیا جائے، اس کو پبلک کیا جائے، تو اس کے نقصانات بھی ہوا کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی لیول پر ہم کہاں کھڑے ہیں ہمیں اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ہمارا اس وقت تک کوئی سفارتی مشن باہر نہیں ہے، ہم صرف ٹیلی فونوں پر باتیں کر رہے ہیں، ان حالات میں ہمارے سفارتی مشن باہر ہونے چاہئیں تھے، ملکوں کا دورہ ان کو کرنا چاہیے تھا، ہمیں چائنہ کو بڑی مضبوطی کے ساتھ انگیج کرنا چاہیے تھا، ہمیں سعودی عرب کو انگیج کرنا چاہیے تھا، ہمیں ایران کو انگیج کرنا چاہیے تھا، ہمیں متحدہ امارات کو انگیج کرنا چاہیے تھا، ہمیں افغانستان کو بھی انگیج کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے اپنے پڑوسی ممالک میں بھی آج تک وہ سفارتی سرگرمیاں نہیں دکھائی ہیں جو اِن دنوں کا حق ہے۔ تو اس حوالے سے کیا ہمیں بتایا جا سکے گا کہ پاکستان کی اس وقت تک سفارتی جو کوششیں ہیں وہ کیا ہیں، کس حد تک ہیں، اور پاکستان کی قوم کو وہ اس حوالے سے کس حد تک مطمئن کر سکتے ہیں؟ کم از کم میں بحیثیت رکن پارلیمان کے اس وقت تک میں سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں۔

جناب سپیکر، اس بات کو بھی واشگاف کیا جائے کہ جہاں فلسطین میں اسرائیل جارحیت کر رہا ہے، عام شہریوں کو قتل کر رہا ہے، ساٹھ ہزار تک فلسطینیوں کو وہ قتل کر چکا ہے، غزہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، لوگ بے گھر ہیں کیمپوں میں جاتے ہیں تو وہاں پر بھی بمباری۔ اور آج شاید وزیر دفاع صاحب ہمیں بہتر بتا سکیں گے کہ کیا اسرائیلی دیا ہوا اسلحہ آج بھارت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کر رہا؟ اس حوالے سے یہود و ہنود کا اتحاد، بھارت اسرائیل اتحاد ہمارے نشانے پر ہونا چاہیے اور ہمارے قومی بیانیے کا حصہ ہونا چاہیے کہ ہم دونوں کے بارے میں ایک زبان استعمال کریں، ایک گفتگو کریں، جب اس پر تفاوت آتا ہے تو پھر عام آدمی کے اندر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دفاعی اداروں کو مضبوط کریں، ان کے پشت پر کھڑے ہوں۔ ہر چند کے ہمارے ملک میں ہمارے آپس میں اختلافات ہیں، اُدھر حکومت بیٹھی ہے تو اِدھر حزبِ اختلاف ہے، معنی یہ کہ حکومت کی سوچ اور ہوتی ہے، حزب اختلاف کی سوچ اور ہوتی ہے، لیکن آج ہم ملک کے لیے ایک ہیں، ملک کی وحدت کے لیے ہم ایک صف ہیں۔ ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے گلے ہیں شکوے ہیں وہ اپنی جگہ پر رہیں گے لیکن جب وطنِ عزیز کا سوال آئے گا تو وطنِ عزیز کے معاملے پر وہ ہمیں اپنے سے آگے پائیں گے، پیچھے نہیں ہوں گے۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر انفرادی طور پر بہت سے لوگ اس قسم کے کچھ پوسٹیں لگا رہے ہیں جس سے کہ وہ جنگ کو مذاق سمجھتے ہیں، فوج پر بڑا ناپسندیدہ قسم کا تبصرہ ان کا ہوتا ہے۔ ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور اس پروپیگنڈے پر حکومت کو قدغن لگانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے، سو ملک کے اندر بھی امن و امان کا مسئلہ اپنی جگہ پر موجود ہے، بلوچستان میں بھی، کے پی میں بھی، اس کے لیے ہم کیا سفارتی کوشش کر رہے ہیں؟ کون سا ایسے حکمتِ عملی ہم نے بنائی ہے کہ ہم ملک کے اندر کم از کم فوج کو جنگ سے نکالیں اور محاذ کی طرف ان کو متوجہ کریں تاکہ بھارت کی جارحیت کے مقابلے میں ملک کا دفاع ہو۔

ہم نے کیا جواب دیے ہیں ان کو آج تک ان کی جارحیت کے؟ ابھی تک قوم پر کوئی زیادہ واضح نہیں ہے، ہم نے ان کے مقابلے میں کیا نقصان کیا ہے اب تک؟ قوم پر یہ باتیں واضح نہیں ہیں، تو ہمارے وزیر دفاع صاحب ماشاء اللہ اس وقت تشریف فرما ہیں، پارٹی کے ہمارے اکابرین بھی موجود ہیں، حکومت کے لوگ بھی آج موجود ہیں، کسی کو تو اپنا دکھ کچھ سنانے کا مجھے موقع مل گیا، تو اس ایوان کو ذرا سنجیدہ لینا چاہیے آج کے وقت میں، بھرپور ہمارے یہاں پر نمائندگی ہونی چاہیے، وزراء کی یہاں موجودگی ضروری ہوتی ہے، حکومت جو بات کرتی ہے آپ سے مخاطب ہوتی ہے، لیکن اس کا خطاب آپ کے واسطے سے ایوان کی طرف ہوتا ہے، حکومت کے طرف ہوتا ہے، اور اگر حکومت کا کوئی سننے والے ہی نہ ہو، کوئی ذمہ دار اس کا ریسپانس کرنے والا نہ ہو تو پھر ظاہر ہے شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہمیں اس وقت ان تمام کمزوریوں سے بچنا چاہیے اور ایک طاقتور پاکستانی پارلیمنٹ کا کردار ہمیں ادا کرنا چاہیے میں۔ بہت شکر گزار ہوں۔

واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

www.teamjuiswat.com


عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے غزہ کے معاملے میں تاخیر

بین الاقوامی قانون کا اخلاقی دیوالیہ پن

مڈل ایسٹ آئی

اسرائیل کو اپنے دفاعی موقف کے لیے 2026ء تک مہلت دے کر عالمی عدالتِ انصاف نہ صرف انصاف کی فراہمی میں تاخیر کر رہی ہے بلکہ وہ غزہ کو تباہ کرنے اور اس کے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اسرائیل کو مزید وقت دے رہی ہے، اور اس صورتحال میں طاقتور ریاستیں اس سے چشم پوشی کر رہی ہیں۔


بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے حال ہی میں جنوبی افریقہ بمقابلہ اسرائیل کے مقدمے میں اسرائیل کے دفاعی موقف کے لیے آخری تاریخ جنوری 2026ء تک بڑھا دی ہے۔ اس کیس میں عالمی عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے؟

بین الاقوامی برادری، جس نے 7 اکتوبر کے حملے کی فوری طور پر چند گھنٹوں کے اندر مذمت کی تھی، اس نے اس معاملے میں ’’نسل کشی‘‘ کا لفظ استعمال کرنے میں نمایاں طور پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ اس کی بجائے وہ دنیا کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے اس اصطلاح کی توثیق کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ ہچکچاہٹ اس صورتحال میں بھی برقرار ہے جب کسی چیز کو اس کے صحیح نام سے پکارنے سے انکار ناقابلِ تصور خوف کو جنم دے رہا ہے۔

سب سے بری بات یہ ہے کہ اس بات کا خطرہ اب بھی موجود ہے کہ عدالت بالآخر ان واقعات کو نسل کشی قرار دینے سے انکار کر دے گی۔

ممکنہ طور پر اس صدی کے سب سے زیادہ فوری نوعیت کے معاملے میں، وافر مقدار میں دستیاب شواہد اور انسانی حقوق کی بڑی تنظیموں کی تسلیم شدہ تحقیق کے باوجود، جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نشاندہی کرنے میں ہچکچاہٹ، اس میں بیوروکریسی کے لیے اس کی نرمی کو بھی شامل کر لیں تو، یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ اخلاقی رشوت کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ (یعنی اتنے واضح حالات اور ثبوتوں کے باوجود بھی عدالت کا واضح الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنا اور غیر ضروری تاخیری حربوں کو برداشت کرنا یہ شک پیدا کرتا ہے کہ کہیں کسی بیرونی دباؤ یا مفاد کے تحت وہ سچائی کو نظر انداز تو نہیں کر رہی۔)

قانون بمقابلہ انصاف

بین الاقوامی قانون کو اکثر انصاف سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ قانون ایک ایسا تکنیکی شعبہ بن سکتا ہے جو زندہ حقیقت سے اس قدر دور ہو جائے کہ مضحکہ خیز حد تک پہنچ جائے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے بین الاقوامی قانون دان تو ’’انصاف‘‘ کا لفظ استعمال کرنے میں بھی ہچکچاتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ اس کی تعیین کا کوئی واضح طریقہ نہیں ہے، اس لیے وہ بس ریاستوں کے طے کردہ قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ 

اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ یہ قواعد دنیا کے سب سے طاقتور ممالک کی سیاسی مرضی کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں سے بیشتر سابقہ نوآبادیاتی طاقتیں ہیں۔

غزہ میں نسل کشی ہوئی ہے یا نہیں، اس کا جائزہ لینے کے لیے عدالت جن قواعد اور نظائر پر انحصار کرے گی وہ محدود ہیں۔ ان نظائر میں نوآبادیاتی تناظر میں کی گئی نسل کشیوں کے تجربات شامل نہیں ہیں۔ جیسا کہ راؤل پیک نے اپنی دستاویزی فلم Exterminate All the Brutes میں زبردست طور پر واضح کیا ہے کہ ایسی بہت سی نسل کشیوں کو ان کے مرتکبین نے تاریخ سے مٹا دیا، جبکہ متاثرین کی اولادوں کے اظہار کو مسلسل خاموش کرایا جاتا رہا۔ کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر جگہوں پر مقامی لوگوں کو اپنی کہانیاں سنانے کے حق سے محروم رکھا گیا۔ یہی بات الجزائر، کانگو، نمیبیا، لاطینی امریکہ، ویتنام اور دیگر جگہوں پر ان کی مزاحمت کے جواب میں لاکھوں قتل یا معذور کیے جانے والوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا کی ایک بڑی تعداد نوآبادیات کی تاریخ سے ناواقف ہے، اور یہ لاعلمی جان بوجھ کر پیدا کی گئی ہے۔

بین الاقوامی قانون، ایک باقاعدہ ضابطے کے طور پر، نوآبادیاتی نظام کے تحت کی جانے والی تاریخی ناانصافیوں اور مظالم کو مٹانے کا ایک طاقتور ذریعہ تھا۔ یہ اس وقت تیار ہوا جب یورپ کے بالا طبقات کی سلطنت اپنے عروج پر تھی، اور اس کا مقصد ان کے مفادات کی نگہبانی کرنا تھا۔ بین الاقوامی قانون کی قانونی حیثیت کو ’’تہذیب‘‘ کے نام پر جائز قرار دیا گیا تھا، ایک ایسی اصطلاح جس کا عملی مطلب ہر وہ چیز تھی جو یورپی مفادات اور ان کی انا کو پورا کرتی ہو۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا بین الاقوامی قانون اس نوآبادیاتی تاریخ سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس، اس نے بار بار دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی ان کوششوں کو روکا کہ کہ نوآبادیاتی دور میں جو کچھ ہوا، جن کے اثرات آج بھی موجود ہیں، ان پر کھل کر بات کی جائے اور ان کا اعتراف کیا جائے۔

ایک غیر اعلانیہ اصول

 نسل کشی کے بارے میں جو بہت کم تسلیم شدہ قانونی مثالیں موجود ہیں، ان کی رو سے بھی اگر دیکھا جائے تو اسرائیل نے اپنی بنیاد رکھنے کے بعد سے جو کچھ کیا ہے وہ خود ہی سب کچھ بتا دیتا ہے۔ بین الاقوامی عدالت پہلے ہی مان چکی ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے سب سے اہم اصولوں کو توڑ رہا ہے۔ پچھلے سال جولائی میں عدالت نے اسرائیلی قبضے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے پر جو رائے دی تھی، اگر اسے سمجھداری سے پڑھا جائے تو پوری بات واضح ہو جاتی ہے۔

اگر اسرائیل حقِ خود ارادیت کی خلاف ورزی کر رہا ہے، زمین کو اپنے اندر ضم کر رہا ہے، نسلی علیحدگی اور نسل پرستی کا نظام نافذ کر رہا ہے، اور نظام کے حوالے سے بے شمار دیگر سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، تو یہ بلاشبہ ایک نوآبادیاتی ریاست ہے۔ پھر بھی بین الاقوامی قانون دانوں کی ایک پوری برادری ایسی موجود ہے جو سچ کہنے سے ڈرتی ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب ایک غیر اعلانیہ اصول کو توڑنا ہوگا کہ کسی کو بھی نوآبادیات کی تاریخ کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔

جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ یہاں نوآبادیاتی نظام چل رہا ہے، تو تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے حالات میں نسل کشی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل نے اتنی تفصیل سے ایسے کام کیے ہیں کہ جن کا نسل کشی کے بین الاقوامی قوانین پر پورا اترنا یقینی ہو جائے۔ اس نے بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لمبے عرصے تک پانی، بجلی اور کھانے سے محروم رکھا ہے۔ اس نے پورے شہروں کو تباہ کر دیا ہے اور دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں سے عام لوگوں کو ڈرایا ہے۔ (اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان) ٹیکنالوجی کا فرق اور بڑے پیمانے پر ہدف شدہ قتل و غارت نوآبادیاتی تشدد کی خاص پہچان ہیں۔ آج غزہ میں بچوں کے اعضا کاٹے جانے کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔ نوآبادیاتی جنگ میں جسموں کو مسخ کرنا ایک عام منظر ہے۔ ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو منظم تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ اقدامات متفرق نہیں ہیں، یہ فلسطینی عوام کی نسلی صفائی کے واضح ارادے سے کیے جاتے ہیں، یہ ارادہ اسرائیلی ریاست کی بنیاد میں ہی کندہ ہے۔

کسوٹی کا معیار

اسے نسل کشی نہ قرار دینے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ نوآبادیات کی تاریخ اور زمینی حقائق دونوں سے انکار کیا جائے۔ ICJ کے جج عام لوگ نہیں ہیں، وہ بظاہر دنیا کے سب سے زیادہ معزز اور تعلیم یافتہ قانونی ذہنوں میں سے ہیں، وہ نوآبادیات کی تاریخ جانتے ہیں، اور اس مقدمے کے فریقین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انہیں غزہ کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ عدالت کے حالیہ (اسرائیل کو) مہلت دینے کے فیصلے سے پورے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بج جانی چاہیے تھی۔ کیوں؟ اس لیے کہ کاغذ پر سیاہی کے بغیر، طاقتور ریاستیں آئینے میں خود کو دیکھنے سے بچنے کا فائدہ برقرار رکھتی ہیں۔ 

اس معاملے میں انصاف میں جتنی دیر ہوگی، اتنا ہی ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو فلسطین میں نوآبادیاتی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تاخیر سے انہیں وقت مل جائے گا کہ وہ حالات کو اپنی مرضی کے مطابق بیان کریں اور ان ثبوتوں کو مٹا دیں جو ان کے خلاف جاتے ہیں۔ فلسطین کا یہ مسئلہ ایک امتحان بن گیا ہے، صرف ججوں کی انسانیت کا ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کے ایک ضابطے کے طور پر قابلِ اعتبار ہونے کا بھی۔

اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ

www.middleeasteye.net


پاک چین اقتصادی راہداری کی افغانستان تک توسیع

ٹربیون

انڈپینڈنٹ اردو

پاک چین اقتصادی راہداری افغانستان تک بڑھانے پر تینوں ملکوں میں اتفاق

کابل: ہفتہ کو پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی اجلاس میں علاقائی صف بندی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو افغانستان تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اسٹریٹجک محاذ پر یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر یہ صف بندی مناسب طریقے سے کام کرتی ہے تو افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ سفارتی مشنز تک محدود رہے گا۔

ان فیصلوں کی تصدیق افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، چین کے خصوصی ایلچی یو شیاویونگ اور پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق کے درمیان بند کمرہ اجلاس کے بعد کی گئی۔ ان فیصلوں سے علاقائی صف بندی کی جانب ایک جرأت مندانہ اقدام کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان نے 22 اپریل کے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی خاموشی سے حمایت کی ہے اور وہ بھارتی کلب سے دوری اختیار رکھیں گے۔

جمعہ کی رات اور ہفتہ کو متعدد ملاقاتوں، جن میں ون آن ون ملاقاتیں بھی شامل تھیں، کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغان طالبان کابل میں چین اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات کے چھٹے دور کی میزبانی کریں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ طالبان کی قیادت میں ہونے والی یہ پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی۔

چین اور پاکستان نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں مغربی اثر و رسوخ کو ایک طرف کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ گہرے سیاسی اور اقتصادی تعاون کی حمایت کی بھی منظوری دی۔

ذرائع نے بتایا کہ چین اسلامی امارت افغانستان کی سیاسی اور اقتصادی طور پر حمایت کرے گا جس کو سڑکوں کے ذریعے علاقائی ممالک سے بھی منسلک کیا جائے گا۔

جاری سہ فریقی روابط کے تحت، پاکستان کے خصوصی ایلچی نے افغان وزیر تجارت عزیزی کے ساتھ ایک ملاقات میں چینی خصوصی نمائندے کے ساتھ شرکت کی۔

خصوصی ایلچی نے ان ملاقاتوں کو تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں تعمیری اور مددگار قرار دیا۔ تینوں فریقین نے مئی 2023 میں اسلام آباد میں ہونے والی وزرائے خارجہ کی سطح کی سہ فریقی بات چیت کی افہام و تفہیم، خاص طور پر سی پیک کو افغانستان تک بڑھانے کے حوالے سے، کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کے خصوصی ایلچی کا یہ دورہ پاکستان بھارت تنازعہ، چینی اقدامات پر علاقائی رابطے اور افغان سرزمین سے دہشت گرد تنظیم داعش خراساں کو ختم کرنے کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تھا۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں، سفیر صادق نے نوٹ کیا کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے پہلے سہ فریقی اجلاس نے اقتصادی اور سلامتی کے تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام پر خیالات کے ہم آہنگی کا موقع فراہم کیا۔

www.tribune.com.pk

سی پیک کے فوائد کو افغانستان تک پہنچانا چاہتے ہیں: پاکستان

پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر کی رفتار تیز کرنے اور اربوں ڈالر کے اس منصوبے کو توسیع دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جس میں علاقائی امن اور سلامتی کے لیے اس کے فوائد کو افغانستان تک پہنچانا بھی شامل ہے۔
نیویارک میں علاقائی تنظیموں کے درمیان تعاون پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے مباحثے کے دوران خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رابطے کے منصوبوں پر عمل درآمد سے افغانستان اور خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق منیر اکرم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک بڑی ہمسائے کی طرف سے علاقائی بالادستی کی خواہش نے سارک کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے علاقائی رابطوں کو بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے علاقائی اور بین علاقائی اقدامات امن، سلامتی اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں زیادہ تعاون اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے اہم ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان چین پر اپنا اعتماد بحال کر رہا ہے تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے پر کام آگے بڑھ سکے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے رواں سال مئی میں چین کے دورے سے واپسی پر اتوار کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ ’چین کا اپنے اوپر اعتماد بحال کر رہے ہیں تاکہ سی پیک کا فیز ٹو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔‘
دوسرے مرحلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے پیرامیٹرز کی وضاحت کے لیے چینی ہم منصبوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس میں تین شعبوں یعنی زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی میں کام کیا جائے گا۔‘

کیا سی پیک پر کام رک چکا ہے یا سست روی کا شکار ہے؟

سرکاری معلومات کے مطابق سی پیک کے تحت 840 کلومیٹر طویل موٹرویز ابھی تک مکمل ہو چکی ہیں۔
سی پیک کے 10 سالوں میں پانچ سڑکوں کے منصوبے مکمل ہوئے۔ 90 فیصد تک منصوبے مکمل ہیں جبکہ 820 کلومیٹر آپٹیکل فائبر مکمل ہو چکی ہے۔
2017 میں ایم ایل ون، معائدہ ہوا تھا جس کے تحت ریل وے کا روٹ خنجراب سے گوادر تک رکھا گیا تھا۔ ایم ایل ون کی لمبائی 1733کلومیٹر ہے۔
وزارت منصوبہ بندی حکام کے مطابق کرونا کی وجہ سے بھی منصوبوں میں سست روی ہوئی، ’گذشتہ دور حکومت میں بھی کام سست روی کا شکار ہوا تھا۔ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ، سپیشل اکنامک زون، صنعتوں کی بحالی بھی فیزٹو کا حصہ ہے۔ 46 ارب ڈالرز سے اب تک 27.3 ارب ڈالرز سی پیک کے منصوبوں پر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 46 ارب ڈالرز سے اوپر کے 16 ارب ڈالرز کی تخمینہ رقم فیز ٹو کے منصوبوں کی ہے۔
سال 2013 میں ن لیگ کے دور حکومت میں شروع ہونے والے سی پیک میں متعدد منصوبے مکمل ہوئے جن میں سکی کناری ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔
حریک انصاف کے دور حکومت میں سی پیک سست روی کا شکار ہوا جس کے بعد اس وقت کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بیان دیا تھا کہ ’سی پیک پر کام سست نہیں ہوا۔‘
تاہم اس دوران زیر تکمیل سکی کناری ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوئے۔
ماہر معاشی امور اور سینیئر صحافی شہباز رانا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’سی پیک پہ مستعدی سے کام 2014 سے لے کر 2018 تک ہوا تھا اور 2018 کے بعد سے سی پیک پہ کام سست روی کا شکار ہے اور مزید اس میں فی الحال توسیع نہیں ہو رہی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سی پیک فیزٹو حکومت پاکستان کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن چین کی طرف سے فیز ٹو پر کچھ زیادہ سگنلز نہیں ہیں۔ چین کی طرف سے فیز ٹو پر بات کرنا اس لیے میچور نہیں ہے کیونکہ چائنیز کو پہلے سے سی پیک فیز ون پر مسائل آ رہے ہیں، پاکستان نے جو ان سے معائدے کیے تھے ان پر مکمل عمل درآمد نہیں رہا، جب تک سی پیک فیز ون کے معاملات حل نہیں ہوں گے تب تک فیز ٹو کو مستعدی سے آگے بڑھانا ممکن نہیں ہو گا۔‘
معاشی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شکیل احمد نے بتایا کہ سی پیک سی پیک فیز ون میں روڈ نیٹ ورکس اور پلوں کی تعمیر پر تو کام ہوا لیکن ریلوے سے متعلق منصوبے سست روی کا شکار ہوئے۔ ’اس کی وجوہات کئی ہیں، سب بڑی وجہ سکیورٹی تخفظات ہیں کیونکہ چینی باشندوں پر بارہا حملے ہوئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام بھی سی پیک منصوبے میں سست روی کی ایک وجہ ہے۔ چین اب کھل کر پاکستان میں اس طرح سرمایہ کاری نہیں کر رہا جس طرح 2013-2017 کے درمیان چین نے کی تھی۔‘

چینی باشندوں پر حملے اور چین کے تخفظات

رواں برس سی پیک منصوبے داسو ڈیم سائٹ پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان میں کام کرنے والے چینی ماہرین کو سکیورٹی خدشات لاحق ہوئے۔
رواں برس مارچ کے مہینے میں بشام میں پانچ چینی باشندے اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی خودکش حملے میں موت ہوئی جس کے بعد اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے حکومت پاکستان سے واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زیر صدارت داسو ہائیڈل پاور منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر بشام میں دہشت گرد حملے کے بعد اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں آرمی چیف نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر آرمی چیف نے کہا تھا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے کہ ہر غیر ملکی شہری خاص طور پر چینی شہری جو پاکستان کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں پاکستان میں محفوظ رہیں، ہم پوری طاقت کے ساتھ دہشت گردی کا آخری دم تک مقابلہ کریں گے۔‘
www.independenturdu.com

چین، پاکستان اور افغانستان سہ فریقی مذاکرات کے دوران سی پیک کو وسعت دینے پر راضی

چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے ممالک کے درمیان گہرے تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے ایک میٹنگ کی۔.
چین، پاکستان اور افغانستان نے بدھ کے روز بیجنگ میں ایک غیر رسمی سہ فریقی اجلاس کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کو افغانستان تک پھیلانے پر اتفاق کیا، رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپنے اپنے ممالک میں تجارت، انفراسٹرکچر اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے سفارتی مصروفیات اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
ترقیاتی اقدامات کے لیے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے، ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) پر تعاون کو گہرا کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو افغانستان تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔
X پر ایک پوسٹ میں، ملاقات کے بعد، اسحاق ڈار نے کہا، پاکستان، چین اور افغانستان علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔
اسحاق ڈار بیجنگ کے تین روزہ دورے پر ہیں، جو ہندوستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی کی بات چیت ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے اعلان کیا کہ 6ویں سہ فریقی وزرائے خارجہ کا اجلاس کابل میں ہو گا جس کے لیے باہمی طور پر کوئی متفقہ تاریخ طے کی جائے گی۔
وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اس دورے سے ہماری مضبوط دوستی کی تصدیق ہوتی ہے اور اس نے بین الاقوامی اور علاقائی امن و ترقی کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا ہے۔

CPEC پر بھارت کا اعتراض: بھارت نے کسی بھی تیسرے ملک میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی توسیع پر اعتراض کیا تھا۔ اے این آئی نے رپورٹ کیا کہ وزارت خارجہ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے منصوبوں میں حصہ لینے والے ممالک جموں و کشمیر میں ہندوستان کی سرزمین کی خلاف ورزی کریں گے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری، جو چین کے بیلٹ اور روڈ انیشیٹو کا ایک حصہ ہے، کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے ساحلی ممالک میں تجارتی راستوں کی تجدید کرنا ہے۔
(ہندوستان ٹائمز ۔ ۲۱ مئی ۲۰۲۵ء)

سنیٹر پروفیسر ساجد میرؒ کی وفات

میڈیا

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر پروفیسر ساجد میر انتقال کر گئے ہیں

خاندانی ذرائع کے مطابق پروفیسر ساجد میر کی عمر 86 سال تھی، وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔

فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ ساجد میر اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے، ساجد میر کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے سبب ہوا۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے 1994ء میں پہلی مرتبہ پنجاب سے سینیٹ کا الیکشن لڑا اور جیتے، بعد ازاں وہ کئی بار سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساجد میر کے انتقال سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا جو شاہد ہی کبھی پُر ہو سکے، ساجد میر نے ہمیشہ انتہا پسندی، فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی جو ان کی سیاست و دین کی خدمات کا سنہری باب ہے۔

مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز نے پروفیسر ساجد میر کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ساجد میر کا مسلم لیگ ن سے دیرینہ تعلق تھا۔

امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن، سراج الحق، لیاقت بلوچ اور سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن اور نے پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پروفیسر ساجد میر کی ملی اور قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ پروفیسر ساجد میر اعتدال پسند، روشن فکر اور اتحاد و اتفاق کے داعی تھے، اللّٰہ کریم مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔

(روزنامہ جنگ، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

مرکزی صدر جمعیت اہل حدیث سینیٹر پروفیسر ساجد میر انتقال کر گئے

فیملی ذرائع کے مطابق ساجد میر کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا، ساجد میر کی عمر 86 برس تھی۔ ساجد میر 2 اکتوبر 1938ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے یونیورسٹی آف پنجاب لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کی۔

پروفیسر ساجد میر 2003ء سے 2025ء تک مسلسل سینیٹر رہے اور اس سے قبل بھی وہ 1994ء سے 2000ء تک بھی ایوانِ بالا کے رکن رہے، ساجد میر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

ساجد میر مرکزی جماعت اہل حدیث پاکستان کے امیر بھی تھے اور وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئرمین بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساجد میر کے انتقال سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا جو شاہد ہی کبھی پُر ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا ساجد میر نے ہمیشہ انتہاء پسندی، فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی جو ان کی سیاست و دین کی خدمات کا سنہری باب ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے بھی پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا پروفیسر ساجد میر کی ملی اور قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پروفیسر ساجد میر اعتدال پسند، روشن فکر اور اتحاد و اتفاق کے داعی تھے۔

(جیو نیوز، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر اور سینیٹر پروفیسر ساجد 86 برس کی عمر میں سیالکوٹ میں انتقال کر گئے

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر اور سینیٹر پروفیسر ساجد میر سیالکوٹ میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 86 برس تھی، وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔

رپورٹ کے مطابق علامہ ساجد میر کا کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں مہروں کا آپریشن ہوا تھا، جس کے بعد سے وہ شدید علیل ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق علامہ ساجد میر کچھ دنوں پہلے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ منتقل ہوئے، ان کا انتقال سیالکوٹ میں آبائی گھر میں ہوا، ان کی نماز جنازہ رات 10 بجے سیالکوٹ میں ادا کی جائے گی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساجد میر پاکستان کی اہل بصیرت سیاسی شخصیت اور دینی اسکالر تھے، ان کی رحلت سے ایک ایسا خلاء پیدا ہوا جو شاہد ہی کبھی پُر ہو سکے، مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ساجد میر کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ ساجد میر کے انتقال نے تمام سیاسی حلقوں کو سوگوار کر دیا، سینیٹر ساجد میر کی دینی و سیاسی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا، اللہ تعالیٰ سینیٹر ساجد میر کو جوار رحمت میں جگہ دے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے سینیٹر ساجد میر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساجد میر ایک عظیم دینی، علمی اور سیاسی شخصیت تھے، سینیٹر ساجد میر مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر ساجد میر کی ملی قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ذمہ داران و کارکنان سے تعزیت کرتے ہیں۔

سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

(سماء نیوز، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

سینیٹر پروفیسر ساجد میر انتقال کرگئے

لاہور، سیالکوٹ (ویب ڈیسک) مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر انتقال کر گئے ہیں، ان کی عمر 85 سال سے زائد اور وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مہرے کے آپریشن کے باعث ان کی طبعیت ناساز رہتی تھی، اس سے قبل ان کو دل کی تکلیف بھی ہوئی تھی جس کے باعث ان کا بائی پاس کروایا گیا تھا۔

مرحوم ایک عظیم دینی، علمی، اور سیاسی شخصیت تھے، جنہوں نے ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم و فہم کے لیے وقف کیے رکھی، 1963ء میں انہوں نے پہلی بار تراویح کے دوران تلاوت سنائی ، والدہ جسے انہوں نے نہیں دیکھا تھا، ان کی خواہش پر ہی بڑے ہو کر رسمی پڑھائی چھوڑ کر قرآن پاک حفظ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے 1994ء میں پہلی مرتبہ ساجد میر کو اپنی جماعت کے ٹکٹ پر پنجاب سے سینیٹر منتخب کرایا جس کے بعد کئی بار سینیٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔ بین المسالک ہم آہنگی کیلئے تیار ہونیوالے ضابطہ اخلاق کو بنانے والی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی مضبوطی میں بھی ان کا نمایاں کردار رہا۔

وہ کچھ سالوں تک نائیجیریا میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے جہاں سے 1985ء میں وہ پاکستان واپس آئے۔

(روزنامہ پاکستان، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

سینیٹر پروفیسر ساجد میر انتقال کر گئے، وزیراعظم کا اظہار افسوس

پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر دل کا دورہ پڑنے کے باعث آج سیالکوٹ میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر چھیاسی سال تھی۔

ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بیان میں ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور غمزدہ خاندان کو یہ صدمہ صبر سے برداشت کرنے کی دعا کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعیت اہل حدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ساجد میر پاکستان کے دُور اندیش سیاسی رہنما اور مذہبی سکالر تھے جن کی وفات نے پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک ایسا خلاء پیدا کر دیا ہے جو مشکل سے پُر ہو گا۔ انہوں نے مرحوم ساجد میر کے بلند درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

(ریڈیو پاکستان، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر سیالکوٹ میں انتقال کر گئے

رپورٹ کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سنیٹر پروفیسر ساجد میر مختصر علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں قضائے الہی سے وفات پا گئے، ان کی وفات اپنے آباٸی گھر سیالکوٹ میں ہوئی، ایک ماہ قبل ان کے مہروں کا آپریشن ہوا تھا۔

دس سال قبل ان کے دل میں اسٹنٹ ڈالا گیا تھا، وہ 1938ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، وہ گزشتہ 40 سال سے اپنی جماعت کے سربراہ چلے آ رہے تھے، وہ 5 بار ایوان بالا سینٹ کے رکن رہے۔

ان کا شمار میاں نواز شریف کے قریبی رفقاء میں سے تھا، انہوں نے متعدد تصانیف بھی لکھیں جس میں سب سے معروف کتاب ’’عیسائیت، ایک مطالعہ اور تجزیہ‘‘ شامل ہیں۔

ان کے سعودی عرب کے حکمرانوں شاہ عبد اللہ، شاہ سلمان بن عبد العزیز اور محمد بن سلمان کے ساتھ خصوصی مراسم تھے۔

انہوں نے 2 بیٹے ایک بیٹی اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔

سیاسی تاریخ میں ان کی ایک منفرد پہچان جنرل پرویز مشرف کے صدر کے انتخاب میں مخالفت میں تنہا ووٹ ڈالنا تھا۔

ان کی نماز جنازہ سیالکوٹ میں ادا کی جائے گی، دن اور وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امیر جمیعتِ اہل حدیث، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ساجد میر پاکستان کی اہل بصیرت سیاسی شخصیت اور دینی اسکالر تھے جن کی رحلت سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا جو شاہد ہی کبھی پُر ہو سکے، ساجد میر نے ہمیشہ انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی، جو ان کی سیاست و دین کی خدمات کا سنہری باب ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ساجد میر کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امیر جمعیت اہلحدیث پاکستان پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ پروفیسر ساجد میر کی ملی قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

حافظ نعیم نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ذمہ داران وکارکنان سے تعزیت کرتے ہیں۔

(ایکسپریس نیوز، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

امیر جمعیت اہلحدیث سینیٹر پروفیسر ساجد میر انتقال کر گئے

سیالکوٹ: (دنیا نیوز) مرکزی امیر جمعیت اہلحدیث سینیٹر علامہ پروفیسر ساجد میر 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

پروفیسر ساجد میر ایک ماہ سے مہروں کی تکلیف میں مبتلا تھے، مرحوم نے تقریباً ایک ماہ قبل مہروں کا آپریشن کروایا تھا، ان کے دل کی بائی پاس سرجری بھی ہوئی تھی۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ پروفیسر ساجد میر نے آج روٹین کے مطابق ناشتہ کیا اور ساتھ ہی ہارٹ اٹیک ہو گیا، فوری طور پر ڈاکٹر کو بلایا تو ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کر دی۔

مرحوم کی نماز جنازہ رات دس بجے علامہ اقبال کالج خادم علی روڈ میں ادا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ سینیٹر پروفیسر ساجد کو مسلم لیگ (ن) نے 1994ء میں پہلی مرتبہ پنجاب سے سینیٹر منتخب کرایا جس کے بعد وہ کئی بار سینیٹ کے ممبر بنے، اس سے قبل وہ نائیجیریا میں درس و تدریس سے وابستہ رہے جہاں سے وہ 1985ء میں وطن واپس لوٹے تھے۔

اس سال فروری میں پروفیسر ساجد میر کو 7 ویں بار مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کا امیر منتخب کیا گیا تھا، وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی مضبوطی میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے رہے تھے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن، سراج الحق، لیاقت بلوچ اور سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن نے پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پروفیسر ساجد میر کی ملی اور قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پروفیسر ساجد میر اعتدال پسند، روشن فکر اور اتحاد و اتفاق کے داعی تھے، اللّٰہ کریم مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔

(دنیا ٹی وی، ۳ مئی ۲۰۲۵ء)

پروفیسر ساجد میر کی وفات پر سیاسی، مذہبی رہنماؤں کا اظہار تعزیت

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا قاری ارشد عبید و دیگر نے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سنیٹر پروفیسر ساجد میر کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا مرحوم ایک عالم باعمل، اسلام اور ملک و ملت کے بیباک سپاہی تھے۔

انٹرنیشنل ختم نبوت مؤومنٹ ورلڈ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج و دیگر نے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سنیٹر پروفیسر ساجد میر کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سچے عاشق رسولؐ اور علم و عمل کے پیکر تھے۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیف اللہ قصوری و دیگر ۔جماعت اہلحدیث کے امیر مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، پروفیسر عبد المجید و دیگر، جمعیت اہلحدیث کے صدر ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر سمیت دیگر مرکزی قائدین، سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈا پور، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الغفور حیدری، مجلس احرار اسلام لاہور کے صدر لاہور حاجی محمد ایوب میر، قاری محمد قاسم بلوچ، نائب صدر ڈاکٹر ضیاء الحق قمر نے تعزیت کی۔ جماعت ایک مخلص لیڈر سے محروم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے، آمین۔

(روزنامہ نوائے وقت، ۴ مئی ۲۰۲۵ء)


قومی وحدت، دستور کی بالادستی اور عملی نفاذِ شریعت کے لیے دینی قیادت سے رابطوں کا فیصلہ

مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

جامعہ اسلامیہ کامونکی میں پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی بتاریخ 29 مئی 2025ء بروز جمعرات منعقد ہوا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال، قومی وحدت، تحفظِ دستور اور نفاذِ شریعت کے موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

مرکزی فیصلے

مرکزی رابطہ کمیٹی کا قیام

پاکستان شریعت کونسل نے تمام دینی جماعتوں، مسالک اور قائدین کے ساتھ رابطہ مضبوط بنانے اور مشترکہ جدوجہد کا ماحول تشکیل دینے کے لیے ایک پانچ رکنی مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سلیم عثمانی کی سربراہی اور مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی کی نگرانی میں کام کرے گی۔

کمیٹی کے اراکین

مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا حافظ محمد گلفام، مفتی عبدالودوٗد قریشی، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سلیم عثمانی (سربراہ)،۔ یہ کمیٹی ملک کی تمام دینی جماعتوں اور شخصیات سے ملاقاتیں کر کے ایک متفقہ قومی و دینی لائحہ عمل ترتیب دے گی۔

اجلاس کی اہم تجاویز و قراردادیں

قائد اعظم کے نظریاتی مؤقف کی تجدید

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اسرائیل کے خلاف اصولی مؤقف کو قومی و عالمی سطح پر ازسرنو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے، اور تمام دینی قوتیں اس جدوجہد میں شامل ہوں۔

بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنا

جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ محسوس کیا گیا کہ پاکستان کے دینی حلقوں میں پیدا کی گئی ہم آہنگی اور اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کا مؤثر نوٹس لینا اور قومی سطح پر کل جماعتی دینی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ حتمی فیصلہ رابطہ کمیٹی کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

ابراہیمی معاہدے کی مذمت

اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ابراہیمی معاہدے کے تصور اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے والی سرگرمیوں کو اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل بیزاری کا اعلان کیا گیا۔

بھارت کی آبی دہشت گردی کی مذمت

بھارت کی جانب سے دریائی پانی بند کرنے کی مسلسل دھمکیوں کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پوری قوم اس نازک صورتحال میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

اجلاس میں شریک علماء و مشائخ

مولانا عبدالروف فاروقی، ڈاکٹر حافظ محمد سلیم عثمانی، پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مفتی عبدالودود قریشی، مولانا حافظ محمد گلفام، مولانا محمد اسامہ فاروقی، مولانا بلال احمد، مولانا طلحہ، حافظ منور، حافظ شاہد الرحمٰن میر، بھائی محمد نعمان، بھائی فاروق دیگر ذمہ داران و کارکنان۔


’’جہانِ تازہ کی ہے افکارِ تازہ سے نمود‘‘

وزیر اعظم میاں شہباز شریف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 

وطن عزیز پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہداء کے عظیم والدین، اہل خانہ، وفاقی وزراء، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف  جنرل ساحر مرزا، سپہ سالار بری فوج جنرل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر، جنرل آفیسرز، سرکاری افسران، اینڈ آنریبل ڈپلومیٹس، خواتین و حضرات، السلام علیکم۔

 آج اس محفل میں ہمارے انتہائی قابلِ احترام صحافی بہن اور بھائی موجود ہیں، پاکستان کے مایہ ناز فنکار موجود ہیں، اور یہاں پر پاکستان کے انتہائی قابلِ احترام غازی بھی موجود ہیں۔ 

آج کا دن یومِ تشکر ہے، یہ دن دنیا کی تاریخ میں کسی کسی کو ملتا ہے اور صدیوں بعد ملتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بے پایاں فضل و کرم ہے کہ آج سے تقریبا پچاس سال پہلے ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا 1971ء میں۔ اور آج 10 مئی 2025ء کو اس مالک کے کی کمال مہربانی سے، اس قوم کی دن رات کی دعاؤں سے، کروڑوں پاکستانی سجدہ ریز تھے، دعائیں مانگ رہے تھے، افواجِ پاکستان کے لیے، بری فوج کے لیے، فضائی فوج کے لیے، بحری فوج کے لیے، اور آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھا کر اس ربِ ذوالجلال جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، جھولیاں اٹھا کے دعائیں کر رہے تھے کہ ان کڑیل جوانوں کو، ان دلیر سپوتوں کو، اے اللہ تعالیٰ ایسی کامیابی عطا فرما کہ پھر دشمن دوبارہ پاکستان کی طرف رخ کرنے کا کبھی قیامت تک نہ سوچ سکے۔ 

اور میرے انتہائی بزرگو، بھائیو اور بہنو،  اللہ تعالیٰ کا کچھ خاص کرم ایسا ہوا کہ نو اور دس کی رات کو، نو کی رات کو جو جمعہ کا دن تھا، میری افواجِ پاکستان کے سپہ سالاروں سے ملاقات ہوئی اور اس میں طے پایا کہ دشمن نے آخری حد بھی پار کر دی، ہماری ایک انتہائی مخلصانہ آفر پایۂ حقارت سے ٹکرایا ہے، جس میں ہم نے کہا تھا کہ آئیں ایک عالمی تحقیقاتی کمیٹی بناتے ہیں جو کہ پوری تحقیقات کے بعد پوری دنیا کو حقائق بتا دے گی۔ مگر دشمن نے انتہائی تحکمانہ انداز میں غرور کے نشے میں بدمست انہوں نے پاکستان کے اوپر حملہ کر دیا اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا جن میں وہ چھ سالہ بچہ بھی شہید ہوا، مائیں بہنیں بزرگ جوان شہید ہوئے، اور پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے اندر جا کر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ نو کی رات کو جو فیصلہ ہوا اس میں یہ طے پایا کہ ہم انشاءاللہ۔ یہ پانچ جہاز تھے، کل پوری تحقیقات کے بعد ایئر  مارشل ظہیر بابر نے مجھے کل بتایا کامرہ میں کہ چھ جہاز گرائے۔ 

میرے انتہائی قابل احترام بزرگو، بھائی اور بہنو، چھ جہاز گرانا اس دشمن کے جو کہ جنوبی ایشیا میں اپنے آپ کو تھانیدار سمجھتا تھا، جو اس زعم  میں تھا کہ پاکستان اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس پاکستان نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان شاہینوں کو، ان جوانوں کو یہ جرأت عطا  کی، اور انہوں نے جھپٹ جھپٹ کر ان کے رافائل بھی مارے، ان کو فیل بھی کیا، مِگ بھی گرائے، ڈرون بھی گرائے، اور ایسا ڈراؤنا خواب دکھایا کہ قیامت تک وہ اس خواب سے نکل نہیں سکیں گے۔

 مگر اس کے باوجود بھی دشمن دھمکیاں دیتا رہا اور نو کی رات کو پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک Measured ہم جواب دیں گے۔ نو اور دس  کی درمیانی رات میں تقریباً‌ ڈھائی بجے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے مجھے سکیور  فون پہ بتایا کہ وزیر اعظم صاحب ہندوستان نے اپنے بلسٹک میزائل ابھی لانچ کیے ہیں، ایک نور خان ایئرپورٹ پہ گرا ہے اور کچھ اور دوسرے علاقوں میں گرے ہیں۔

 میرے انتہائی قابل احترام بزرگو، بھائیو، اور بہنو، میں اس خدائے بزرگ و برتر کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس جرنیل کی آواز میں انتہائی اعتماد تھا، خودداری تھی اور وطن کی تڑپ تھی اور انہوں نے مجھے کہا کہ وزیراعظم مجھے اب اجازت دیں کہ ہم دشمن کے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کریں گے کہ وہ عمر بھر اس کو یاد رکھے گا۔ اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح پھر پٹھان کوٹ، ادھم پور اور  کہاں کہاں ہمارے شاہینوں نے اور الفتح میزائلوں نے حملے کیے اور دشمن کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ 

صبح کا وقت تھا، فجر کے بعد میں سوئمنگ کرتا ہوں تو میں احتیاطاً‌ اپنا سکیور فون ساتھ لے گیا اور میں نے ضیاء کو کہا کہ ضیاء یار اگر کوئی گھنٹی بجے تو مجھے فوراً‌ بتانا۔ As luck would have it وہ گھنٹی بجی تو جنرل عاصم منیر لائن پر تھے، کہنے لگے کہ  وزیراعظم ہم نے بڑا بھرپور ان کو جواب دیا ہے اور اب ہمیں سیز فائر کرنے کی درخواست آ رہی ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا، سپہ سالار، اس سے بڑی اور عزت کی کیا بات ہو سکتی ہے، آپ نے دشمن کو ایک بھرپور تھپڑ مارا ہے، اس کا سر چکرا گیا، اب وہ سیز فائر پر مجبور ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ بسم اللہ کریں اور اس سیز فائر کی آفر کو قبول کریں۔ 

میرے بزرگو بھائیو اور بہنو، یہ ہے وہ مختصر ایک سمری اس لمبی داستان کی اور اس میں ہمارے ایئر چیف اور ان کے شاہینوں نے جس طریقے سے Home grown technology انہوں نے پاکستان کے اندر Grow کی ہے اور چینی جہازوں کے اوپر، اور نیچے زمین پر جو  Modern gadgetries انسٹال کی ہیں اس سے دشمنوں کے ہوش اڑ گئے اور دوستوں  کا اعتماد آسمانوں سے باتیں کرنے لگا۔ یہ وہ تبدیلی ہے تاریخ کی جو کہ اللہ تعالیٰ نے چند گھنٹوں میں اس دنیا میں کی۔ امریکہ سے لے کر جاپان تک جنوبی ایشیا مڈل ایسٹ یورپ ہر جگہ آج یہ بات ہو رہی ہے کہ پاکستان کی افواج نے کس طریقے سے خاموشی سے یہ Capability  انہوں نے Achieve کی اور ہندوستان، جو کورٹ ?? کا ممبر ہے اور دنیا کو یہ دن رات باور کرا رہا تھا کہ میری جو ایکانومی ہے وہ کھربوں ڈالر میں ہے، میرا جو اسلحہ ساز و سامان جو ہے اس کے اوپر کئی سو ارب ڈالر میں نے پانی کی طرح خرچ کیے ہیں، پاکستان کوئی حیثیت نہیں رکھتا، مجھے آپ اس خطے کا بادشاہ تسلیم کریں۔

 میرے عظیم بزرگو، بھائیو اور بہنو،  اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، اس خدا کو منظور یہ تھا کہ پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام کی دعائیں، ماؤں اور بزرگوں کی فجر کے وقت تہجد کے وقت سجدہ ریزی، اور آسمان کو چیر کر ان کی دعائیں فلک پر پہنچی، اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے اس کو قبول کیا اور یہ عظیم فتح آج پاکستان کو دی ہے۔ اور آج ہم یہاں پر یہ یومِ تشکر اس طرح منا رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان کے عوام کے، بزرگوں کے، ماؤں کے، بہنوں کے، بیٹوں کے سر ربِ ذوالجلال کے حضور جھکے ہوئے ہیں اور ہمیشہ جھکے رہیں گے  انشاءاللہ۔ 

اور  آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، پوری قوم آج یکجاں دو قالب ہے، پشاور سے لے کر کراچی تک پوری قوم ہماری مسلح  افواج کے پیچھے کھڑی ہے اور پوری قوت سے ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج اب وقت آگیا ہے ، آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اب اس سفر کا آغاز کر دیں جس کے لیے  پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔ اور حضرت قائد اعظم کی عظیم تحریک میں لاکھوں مسلمانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خون کے دریا عبور کیے، تب پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ آج ان لاکھوں شہیدوں کی روحیں پکار پکار کر اس بات کا تقاضا کر رہی ہیں کہ آؤ پاکستانیو مل کر قائد اعظم کا پاکستان بناؤ، مل کر اقبال کا پاکستان بناؤ۔ 

اور جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا وہ یہ تھا کہ اقوامِ عالم میں پاکستان کا سبز ہلالی جو ہمارا جھنڈا ہے اس کو دنیا میں بہت اونچا اڑنا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں جائے بغیر There is no point in crying over the spilled milk ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ اور آج یہ جو قومی یکجہتی ہے، آج یہ جو وحدت ہے، آج یہ جو محبت ہے، آج یہ جو اخوت ہے، اگر اس کو ہم اپنا سرمایۂ حیات بنا کر چل پڑیں تو یقین کریں کہ نہ صرف ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہوگا بلکہ بہت جلد پاکستان اقوامِ عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کر لے گا۔ 

اور وہ کس طرح ہوگا؟ اسی طریقے سے جس طرح دس  مئی ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اب معاشی میدان میں دس مئی کو معرضِ وجود میں لانا ہے اور اس کے لیے قوم تیار ہے۔ ہمیں شبانہ روز دن رات محنت کرنی ہوگی اور خون پسینہ بہانہ ہوگا۔  یقین کریں کہ وسائل کی کوئی کمی نہیں پاکستان کے پاس۔ اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے پاکستان کو نوازا ہے، اتنے اتنے عظیم شاندار اذہان دیے ہیں، چاہے وہ فوجی جوان ہیں، افسر ہیں، یہ سیاست دان ہیں، یہ ہمارے جرنلسٹ ہیں، ایکسپرٹس ہیں، اور ہمارے فنکار ہیں، محنت کش ہے، انجینئرز ہیں، ڈاکٹرز ہیں، کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے That 'will' to do اور اس کو اگر ہم اپنا زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں تو پاکستان انشاءاللہ دنیا کی دوڑ میں بہت جلد آگے نکل جائے گا، مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔ میں آخر میں ایک مرتبہ پھر دو تین باتیں عرض کر کے  اجازت چاہوں گا ۔

I would like to thank all our diplomats sitting here and those who are not here. Who have been very supportive for Pakistan’s firm, fair and just stand, that this baseless propaganda and allegation against Pakistan by India about Pahalgam incident, sad as it was, Pakistan had nothing to do with that.
And I am extremely grateful all those friendly countries who have been very helpful in promoting peace, ceasefire in this part of the world, and promoting all arguments, valid points for deescalation. And that I would like to once again particularly thank our brotherly countries in the Gulf, like Saudi Arabia, UAE, Qatar, Kuwait, our brotherly country, neighborly country Iran, our brotherly country Turkey, our friendly country China, and other countries, please don’t mind, I would like to extend my apologies if I don’t mention like Britain and other countries. 
But above all I would like to mention and thank president Trump for his very brave leadership and his vision that peace must be restored in South Asia sooner rather than later, and as a result his path-breaking and strategic leadership I think did the trick and averted a very lethal looming war in this part of the world. And if, God forbid, we had reached that flashing point in a region where 1.6 billion people live. And if God forbid, God forbid, if there had been a nuclear tussle then just imagine who would have lived to tell happened. 
Ladies and gentlemen, Allah almighty has been infinitely merciful and kind, we can’t thank Him enough. We have won the war, but we want peace. We have taught our enemy a lesson, but we condemn aggression. We want, in this part of the world, to be as prosperous and progressive, as other part of the world, through hard work, untiring efforts, and living like peaceful neighbors. Whether we like it or not, we are there for ever as neighbors, it’s all up to us to be unruly neighbors or peaceful neighbors. Pakistan has always preferred and has always argued that we want peace in the region, because we have fought three wars and it solved nothing, rather brought more poverty and unemployment and other problems on both sides.
So the lesson is that we have to sit down on the table like peaceful neighbors and settle our outstanding issues including Jammu and Kashmir. We resolving these issues I don’t think we will have peace in this part of the world on long term basis. If you want permanent peace then we need permanent solutions of Jammu and Kashmir, water distribution. Then, once we resolve these issues sky is the limit. We can then talk of trade, we can talk of exchange of business communities, delegations, and of course also cooperate in the field of counter terrorism. As of now, Pakistan is the biggest victim of terrorism. We have paid valuable human life to the tune of ninety thousand Pakistanis.  When was the last time any nation in the world have paid even a fraction of this sacrifice, let alone 90,000 people. We have suffered 150 billion dollars worth economic loses. Which nation has suffered this kind of economic losses? 
So, I think what I’m saying is that we are not fighting this manes/minus just to restore peace in Pakistan, it is for the world at large. Imagine if our brave armed forces, our soldiers, our officers, have not engaged them, these terrorists would be  roaming around in the streets of various parts of the world. So, I think the world has to acknowledge Pakistan’s sacrifices. The world has to acknowledge what suffering we have passed through. 
I think, in the end I will say once again

کہ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ، سپہ سالار جنرل عاصم منیر، نیول چیف اور ایئرمارشل ظہیر بابر اور آپ کے عظیم کڑیل جوانوں ، سجیل جوانوں کا اپنی طرف سے اور پوری قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور خاص طور پر آپ کا، سپہ سالار جنرل عاصم منیر، آپ کی ولولہ انگیز اور دلیرانہ قیادت کو میں اپنی طرف سے اور قومی کی طرف سے آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ 

میں اس شعر پہ اپنی بات ختم کروں گا ، یہ شعر آج کے اس موقعے کے لیے بہت بروقت ہے 

It’s a befitting I think, salute to our brave soldiers. 
جہانِ تازہ کی ہے افکارِ تازہ سے نمود 
کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

آج اگر افکارِ تازہ نہ ہوتیں ہماری افواجِ پاکستان کے پاس، یہ الفتح میزائل نہ ہوتے، یہ ایئر چیف کی جو Indigenous دن رات کی جو محنت ہے اس کے نتیجے میں ماڈرن ٹیکنالوجیز، ماڈرن ٹیکنیکس، نیوی میں، ایئرفورس میں، بری فوج میں، انجیکٹ نہ کی ہوتیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جہانِ تازہ جو دس مئی کو نیا پیدا کیا پاکستان میں آپ نے ، یہ اس کی وجہ سے ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ ’’جہانِ تازہ کی ہے افکارِ تازہ سے نمود‘‘۔ نئی دنیا بستی ہے نئی سوچ سے، نئے وژن سے، R&D سے، ریسرچ سے، محنت سے، امانت سے، دیانت سے۔ اس کے بغیر جہانِ تازہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ اور اگر جہانِ تازہ پیدا ہوتے، بڑے بڑے سنگِ مر مر کے محلات سے، تو پھر دلی میں اور بمبے میں جو بڑ ے بڑے محلات ہیں، اور جگہوں پر بھی ، اور ہمارے ہاں بھی، تو وہ جہانِ تازہ پیدا نہیں کر سکتے۔ جہانِ تازہ پیدا ہوتا ہے ان  افکار سے، اس سوچ سے، اور اسی کو لے کر ان شاء اللہ ہم چلیں گے اور پاکستان کو عظیم بنائیں گے۔  میں آخر میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ میرے ساتھ زور سے نعرہ لگائیں، افواجِ پاکستان— زندہ باد۔ آواز نہیں آئی۔ 

افواجِ پاکستان — زندہ باد

 پاکستان — زندہ باد

 پاکستان — زندہ باد

 قائد اعظم — زندہ باد

https://youtu.be/KU_DpiiThb4


پاک بھارت جنگی تصادم، فوجی نقطۂ نظر سے

جنرل احمد شریف

انٹرویو نگار : بکر عطیانی

بکر عطیانی: جنرل احمد شریف، ہمارے ساتھ اس انٹرویو کے لیے بہت شکریہ۔  میں بات وہاں سے شروع کروں گا جہاں پر یہ معاملہ ختم ہوا تھا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بندی قائم رہے گی؟

احمد شریف: افواجِ پاکستان پیشہ ور مسلح افواج ہیں،  ہم اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم رہتے ہیں اور سیاسی حکومت کی ہدایات اور ان کے وعدوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان آرمی کا تعلق ہے، یہ جنگ بندی قائم ہے اور قائم رہے گی، اور دونوں اطراف کے درمیان رابطوں کو با اعتماد بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔  البتہ اگر کوئی خلاف ورزی ہو گی تو ہم اس کا فوری جواب دیں گے، لیکن یہ صرف ان چوکیوں اور پوزیشنوں پر ہو گا جہاں سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو گی۔ 

ہم کبھی بھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، شہری املاک کو نشانہ نہیں بناتے ہیں، اور یہی طرز عمل ہے۔ ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں اور امن کے لیے کوشش کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے اور پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی جاتی ہے تو ہمارا ردعمل بہت یقینی، تیزرفتار  اور شدید ہوگا۔

بکر عطیانی: بھارت سندھ طاس معاہدے کی بحالی میں واضح طور پر کوئی دلچسپی نہیں رکھتا جبکہ پاکستان نے اسے جنگ کا اقدام قرار دیا ہے۔ بطور فوج کے اس میں آپ کا کیا کردار ہوگا؟

احمد شریف: میرے خیال میں حکومتِ پاکستان نے اسے بالکل واضح کر دیا ہے۔ فوج کو مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی پاگل ہی ایسا سوچ سکتا ہے کہ وہ اس ملک کے چوبیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کا پانی روک سکتا ہے، اس کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے، بالکل بھی نہیں۔ 

بکر عطیانی: اور بطور فوج کے آپ ایسی کیا کارروائی کریں گے کہ وہ ایسا نہ کر سکیں؟

احمد شریف: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کارروائیوں کی وضاحت کروں؟  میں امید کرتا ہوں کہ ایسا وقت نہ آئے، (اگر ایسا ہوا) تو یہ ایسی کارروائیاں ہوں گی جنہیں دنیا دیکھے گی اور اس کے نتائج آنے والے برسوں اور دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ کسی کو پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہیں کرنی چاہیے۔

بکر عطیانی: بھارت کے ساتھ پچھلے تنازعات اور 2025ء کے تنازعے میں کیا فرق ہے؟ حالیہ تنازعہ میں کیا نیا ہے؟

احمد شریف: میرے خیال میں پہلی چیز جو نئی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک  بھارتیوں کا تعلق ہے انہوں نے یہ تنازعہ جھوٹ کے پلندے پر کھڑا کیا ہے۔ پہلگام کے واقعے کے بعد سے اگر آپ دیکھیں تو آج تک انہوں نے کوئی ایک بھی ثبوت نہیں دیا ہے۔ چند روز پہلے ان کی وزارتِ خارجہ نے واضح طور پر بیان دیا ہے کہ پہلگام کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ تو پھر پاکستان کے بے گناہ شہریوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کے خلاف جارحیت، مساجد کی تباہی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کس بنیاد پر؟ صرف ایسے الزامات پر جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟ 

دوسری بات یہ کہ بھارتی طرز عمل زیادہ تر فلمی انداز کا تھا  جس میں جعلی خبریں اور پروپیگنڈا شامل تھا۔ بھارتی کاروائی کے حوالے سے جس طرح یہ سب اثر انداز ہوا وہ حیران کن ہے۔ کیونکہ ہمیں پیشہ ور افواج اور ذمہ دار ممالک میں اس قسم کی جنگی جنونیت اور بے قابو ماحول  نظر نہیں آتا جو (بھارت میں) 6 اور 7 تاریخ سے پہلے پیدا کیا گیا تھا۔

میرے خیال میں دنیا نے کبھی ایسا کوئی ملک نہیں دیکھا جو خود کو ایک طرف وشوا گرو (معلمِ عالم) کہتا ہو، جو اپنے میڈیا پر سینہ ٹھونکتا ہو، اور جن کی حکومت بچوں اور خواتین کو قتل کرنے پر فخر محسوس کرتی ہو۔ یہ خطرناک ہے۔ یہ ذہنیت جو یہاں بھارتی معاشرے اور خاص طور پر سیاسی قیادت کی طرف سے دکھائی جا رہی ہے، میرے خیال میں یہ نئی چیز سامنے آئی  ہے۔ 

یہ ایسی چیز ہے جسے دنیا کو بہت غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور پھر جھوٹے دعوے کرنا، جیسا کہ پوری دنیا اور ان کے اردگرد کے لوگ کچھ نہیں دیکھ رہے اور وہ بے وقوف ہیں، کہ ہم نے اسلام آباد پر قبضہ کر لیا ہے، کراچی کی بندرگاہ جل رہی ہے، ہم نے طیارے گرا دیے ہیں۔

وہ ابھی اپنے آپ کو جھوٹ کے پیچھے چھپائے ہوئے ہیں، ان کے جو طیارے گرائے گئے ہیں وہ انہیں تسلیم نہیں کرتے، ان لوگوں کو تسلیم نہیں کرتے جنہوں نے انڈیا کی خاطر جان دی ہے۔ یہ ہٹ دھرمی والی ذہنیت، اور آج کے دور میں اس طرح کا طرز عمل کہ آپ عوام کو سچائی سے دور رکھ سکتے ہیں جبکہ ہر پروجیکٹائل (میزائل)، ہر یو اے وی (ڈرون)، اور ہر طیارے کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ موجود ہوتا ہے (کہ وہ کس وقت کس جگہ موجود تھا)۔  اور جس ’’غیر محتاط‘‘  رویے کا مظاہرہ بھارتیوں نے کیا ہے کہ اپنے ہی علاقے بھارتی پنجاب میں میزائل داغ دیے جہاں سکھ برادری رہتی ہے۔ میرے خیال میں یہ سب کچھ نیا ہے اور اس طرح کی ذہنیت سامنے آ رہی ہے۔ 

مجھے نہیں معلوم کہ یہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کہاں سے آئی ہے اور حقداری کا اتنا دعویٰ کہ آپ سب کچھ کر کے بھی بچ سکتے ہیں۔ یہ اس خطے کے ایک سو ساٹھ کروڑ لوگوں کے لیے بھی خطرہ ہے اور باقی دنیا کے لیے بھی۔ 

بکر عطیانی: جنگی لحاظ سے، آپ کے خیال میں کیا نیا ہے؟

احمد شریف: جنگی لحاظ سے، جیسا کہ میں نے پہلے ہی اشارہ کیا ہے، آپ نے دیکھا کہ وہ زمینی حقائق کو اتنی جعلی خبروں،  اتنی غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے ساتھ ملا دیتے ہیں کہ لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا غلط ہے۔ اگرچہ یہ تصادم اب ختم ہو چکا ہے ، ابھی تک بھارت کی طرف سے اتنی بے ہودہ باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ 

اور جہاں تک روایتی جنگ کا تعلق ہے، دونوں طرف سے جو طاقت دکھائی گئی ہے، بھارتیوں کا خیال تھا کہ اپنی روایتی فوجی طاقت کے ساتھ وہ پاکستان کے مقابلے پر آ سکتے ہیں۔  الحمدللہ، پاکستان نے بہت واضح طور پر دکھایا دیا ہے کہ اس تنازعے میں ہماری مسلح افواج نے اب تک جو جواب دیا ہے  وہ صرف ایک جزوی ردعمل ہے۔  بھارتی یہ چاہتے تھے کہ مشرقی سرحد پر کشیدگی پیدا کر کے ہماری ان مسلح افواج کو وہاں آنے پر مجبور کر دیں جو انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں تعینات ہیں، وہ دہشت گردی جو بھارت نے دہائیوں سے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہم پر مسلط کی ہے۔  لیکن پاکستان نے ایک بھی فوجی نہیں ہٹایا۔ افواج کے صرف جزوی استعمال اور اپنی  کچھ خاص ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہم نے ایک ایسا ردعمل دیا جس نے بھارتیوں کو کشیدگی کم کرنے پر مجبور کیا۔ 

تو نئی چیز یہ ہے  کہ بھارتیوں کو یہ پتہ چل گیا ہے اور میرے خیال میں دنیا بھی جان گئی ہے کہ پاکستان کے عوام  اور اس کی مسلح افواج کے عزم کے بارے میں کسی الجھن میں نہ رہیں۔ ہم تیار ہیں اور ہم ہر قیمت پر اپنی علاقائی سالمیت، دفاع اور خودمختاری کا دفاع کریں گے۔

بکر عطیانی: کیا آپ ان اعداد و شمار کی تصدیق کر سکتے ہیں جو وزیراعظم نے کل بتائے ہیں؟ چھ بھارتی طیارے گرائے گئے؟

احمد شریف: جی ضرور، چھٹا طیارہ میراج 2000 ہے۔ ہم بغیر ثبوت کے کوئی دعویٰ نہیں کرتے، ایک بار جب ہمیں ثبوت مل جاتا ہے تو ہم بار بار اسے چیک کرتے ہیں اور اس کی دوبارہ تصدیق کرتے ہیں۔ ہم نے کل [جمعرات] کو سرکاری طور پر اس کا اعلان کیا، پاکستان کے وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے چھ طیارے گرائے ہیں۔ اور میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ چھٹا طیارہ میراج 2000 ہے۔

بکر عطیانی: روس ایک دوستانہ ملک ہے، اس تصادم کے دوران اس کے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں، کیا یہ آپ کے لیے تشویش کا باعث ہے؟

احمد شریف: یہ ایک اور پہلو ہے جہاں میرے خیال میں بھارتیوں نے دکھایا ہے کہ وہ اس میں کس قدر بے قابو ہو گئے ہیں …… روسی ہتھیار اور فرانسیسی طیارے جو اُن کے پاس ہیں ، وہ سب بہت عمدہ ہتھیار ہیں، بہت اچھے سسٹمز ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کون استعمال کرتا ہے اور کیسے استعمال کرتا ہے۔  اگر ہم اس بنیاد پر دنیا کے ممالک کے خلاف ہونا شروع کر دیں کہ آپ کسی ملک کو کیا چیز فراہم کرتے ہیں، میرے خیال میں یہ ذہنیت ایسی ہے جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجیز  تو ہر جگہ موجود ہیں اور ہم ایک بہت مربوط دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اور بہت سی چیزوں کی بین الاقوامی تجارت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس معاملے کو اس نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اس بنیاد پر نہیں بنانے چاہئیں۔  بہرحال ہمارا سفارتی شعبہ سمجھدار ہے اور وہی اس پر فیصلے اور اقدامات کرتا ہے۔ ایک فوجی شخص کے طور پر میری فکر اس بارے میں ہے کہ ہتھیار کون استعمال کر رہا ہے اور کیسے استعمال کر رہا ہے۔ 

بیکر عطیانی: پاکستان چینی ساختہ اسٹیلتھ طیارے JF-35 حاصل کرنے جا رہا ہے، یہ کس مرحلے میں ہے؟ یہ کب سروس میں شامل ہو سکتا ہے یا کب پاکستان کو مل سکتا ہے؟ 

احمد شریف: پاکستان کی مسلح افواج کی ترقی کی حکمتِ عملی ایک ارتقائی چیز ہے اور ہم نئی ٹیکنالوجیز پر کام کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ کیا اور کب کے سوال کا جواب دے سکوں، لیکن میں آپ کو اس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ پاک فوج بہت ہی پیشہ ورانہ انداز میں اپنے اور مخالف کے فوجی (اثاثوں) کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہے اور اس حوالے سے ہم میدانِ جنگ کی ضرورت کے مطابق بہتری لاتے رہتے ہیں۔

بیکر عطیانی: اس رات کی طرف آتے ہیں، اس صبح سویرے جب امریکہ درمیان میں آیا کیونکہ اس کے مطابق کوئی خطرناک خفیہ معلومات تھی جس نے اسے مداخلت کرنے پر آمادہ کیا۔ 

احمد شریف: سب سے پہلے تو میں یہ بات دہرانا چاہوں گا کہ ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ دو حریف ایٹمی ممالک کے درمیان فوجی تنازعہ محض بیوقوفی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ فہم اور فضول آئیڈیا ہے۔ اور دنیا بھی یہی سمجھتی ہے، تمام سمجھدار لوگ اور تمام بڑے اور مضبوط ممالک اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ 

میرے پاس مخصوص تفصیلات نہیں ہیں کیونکہ سفارتی سطح پر بہت ہی گھمبیر بات چیت چل رہی تھی، وزارتِ خارجہ اس سے واقف ہے اور وہی اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔ 

میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ اس پورے فوجی تنازعہ ’’معرکہ حق‘‘  میں کشیدگی کا کنٹرول پاکستان کے پاس تھا۔ اور بھارت کے ۲۲ اپریل کے پہلگام واقعے کے بعد سے جاری انتہائی غیر محتاط اور جارحانہ رویے کے باوجود پاکستان نے بہت ذمہ دارانہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا۔ 

اگر آپ دیکھیں کہ 6 اور 7 مئی کی رات کو جب انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی سرزمین کی خلاف ورزی کی اور بے گناہ شہریوں پر حملہ کیا جس میں انہوں نے پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنایا، تب بھی  پاکستان کی ایئر فورس اور مسلح افواج نے بہت ذمہ دارانہ انداز میں جوابی کارروائی کی۔ ہم نے صرف طیاروں کو نشانہ بنایا ،  وہ طیارے جو شہری املاک، بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ ہم مزید کو نشانہ بنا سکتے تھے لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پھر وہ  اندرون ملک اور بیرون ملک اپنی جنونیت میں اور آگے بڑھ گئے اور انہوں نے ڈرون پر ڈرون بھیجنے شروع کر دیے ، ہم نے انہیں ناکارہ بنایا اور انہیں گرا دیا۔  انہوں نے ایک میزائل پاکستان پر فائر کیا اور ہم نے اسے ناکارہ بنا دیا۔ تو ہم انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں اس معاملے سے نمٹ رہے تھے اور کشیدگی کو کنٹرول کر رہے تھے۔ 

دس  مئی کے ہمارے جواب سے پہلے انہوں نے ہمارے اڈوں پر کئی میزائل فائر کیے۔ وہ پاکستان کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ آپ بدلہ لینے کی طرف نہ آئیں۔ انہوں نے سوچا کہ وہ یکطرفہ طور پر اقدامات کر سکتے ہیں، بے گناہ شہریوں، بچوں، خواتین کو قتل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی بائیس خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں جو اس کھلی جارحیت کا نشانہ بنے۔  تو ان کا خیال تھا کہ پاکستان جواب نہیں دے گا اور انہوں نے ہمارے اڈوں پر میزائل داغے۔ وہ ہمیں باز رکھنے کی کوشش میں یہ بھول گئے کہ آپ صرف اسے روک سکتے ہیں جسے روکا جا سکتا ہو۔ پاکستان کی قوم اور اس کی مسلح افواج کبھی بھی جبر،جارحیت اور بھارتی بالادستی کے سامنے نہیں جھکے اور نہ کبھی جھکیں گے۔ 

چنانچہ ہم نے دس مئی کی صبح کو اللہ کے فضل سے آپریشن "بنیانٌ مرصوص‘‘ کے ذریعے جواب دیا۔ یہ ایک جانچا ہوا، نِپا تُلا، متناسب ردعمل تھا۔ یہ ہماری روایتی افواج کا مکمل استعمال نہیں تھا، یہ ایک جزوی ردعمل تھا۔ ہم نے چھبیس اہداف کا انتخاب کیا تھا اور  ہم نے چھبیس اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسے دنیا نے بھی دیکھا اور بھارتیوں نے بھی۔ 

اور پھر یہ بھارت کے  دفاعی ترجمان تھے جنہوں نے دس مئی کی صبح عوامی سطح پر آ کر کہا کہ ہم کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر پاکستان اس کے لیے تیار ہو۔ بہرحال ہم ایک امن پسند ملک ہیں اور امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح سے کشیدگی ہمارے کنٹرول میں رہی۔  

عالمی برادری اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ پاکستان کا بہت ہی منصفانہ رویہ ، اور دوسری طرف غیر فطری اور  غیر محتاط جارحیت اور نا انصافی جو بھارتی دکھا رہے تھے۔ وہ سینہ ٹھونک رہے تھے  اور جعلی پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے، ان کی نفرت اور جنگی جنونیت جو کہ اب بھی جاری ہے۔

بکر عطیانی: کچھ سیٹلائٹ تصاویر ہیں جن میں پاکستان کے کچھ فضائی اڈوں، خاص طور پر رحیم یار خان کے اڈے کا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا آپ ہمیں عدد کے لحاظ سے بتا سکتے ہیں کہ اس تنازعے میں پاکستان آرمی کے کیا نقصانات ہوئے؟

احمد شریف: ایک اور چیز جو آپ نے دیکھی ہوگی کہ پاکستان مسلح افواج اور پاکستان بطور ریاست اس تنازعے کے بارے میں بہت شفاف رہے ہیں۔ اور یہ ہمارے اس ماحول اور اصولوں کی وجہ سے ہے جو پاکستان کی مسلح افواج اپنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے۔

ہم نے کبھی بھی اپنے نقصانات نہیں چھپائے۔ میں آپ کو بہت واضح اعداد و شمار دے سکتا ہوں۔ جنوری 2024ء  سے پاکستان میں 3700 دہشت گردانہ واقعات ہوئے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق 2500 سے زیادہ پاکستانی ہیں جو معذور ہوئے ہیں، جن کی زندگیاں اور اعضاء ضائع ہوئے ہیں۔ 1300 سے زیادہ شہری اور فوجی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں جو شہید ہوئے ہیں۔ ہم یہ سب نہیں چھپاتے۔ ہم جنگ آزمودہ فوج اور جنگ آزمودہ قوم ہیں۔ 

اگر آپ نے یہ تنازعہ پہلے دن سے دیکھا ہے تو جب 6 اور 7 مئی کی رات کو ہلاکت خیز حملے ہوئے۔ 7 مئی کی صبح ہم خود بین الاقوامی میڈیا کو ان تمام نام نہاد مبینہ دہشت گرد کیمپوں میں لے کر گئے، مریدکے، بہاولپور، مظفرآباد، ہر جگہ۔ اور ہم نے میڈیا کو دکھایا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ وہ دہشت گرد کیمپ کہاں ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ کیا یہ مساجد  اور مدرسے نہیں ہیں جہاں خواتین اور بچے (شہید ہوئے ہیں)، اور کیا یہ شہریوں کے گھر نہیں ہیں جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ہم نے اپنے شہداء کی گنتی کی ہے اور ہم انہیں اعزاز دے رہے ہیں۔ پاکستان کے چالیس شہریوں نے جانیں گنوائی ہیں جن میں سے بائیس خواتین اور بچے ہیں۔ ہم نے پاکستان کے بارہ بہادر فوجی کھوئے ہیں جن کا پاکستان ایئر فورس اور پاکستان آرمی سے تعلق ہے۔ ہم نے ہر نقصان کا اعلان کیا ہے۔

جب بھارتیوں نے 9 اور 10 کی رات کو پاکستان پر میزائل فائر کیے، جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، میں نے فوراً‌ قومی ٹیلی ویژن پر آ کر خود اعلان کیا کہ بھارتیوں نے ایک اور جارحیت کی ہے۔ انہوں نے ہمارے پاکستان ایئر فورس کے جن اڈوں پر میزائل داغے، ہم نے ان اڈوں کا نام بتایا۔

اور ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب انہیں دس مئی کی صبح کو ہمارا درست اور  تیز رفتار جواب ملا ،  اور جب وہ ہر ایک سے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنے لگے، تو اس وقت بھی انہوں نے بزدلانہ انداز میں، وہ کردار جو بھارتی مسلح افواج کا ہے، انہوں نے بھلاری اور جیکب آباد کے ہمارے  اڈوں پر ایک اور حملہ کر دیا۔ کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں کتنا بھاری نقصان ہوا ہے اور وہ اپنی عوام کو بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے بھی کچھ اسکور کیا ہے۔ اور ایسا انہوں نے تب کیا جب وہ talk  talk  talk کی بات کر رہے تھے۔  تو ہم نے یہ سب نہیں چھپایا۔  اس حملے میں ہم نے اپنا اسکواڈرن لیڈر کھو دیا۔ 

میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ فوجی تصادم اور جنگوں میں ایسے نقصانات پہنچتے ہیں اور انہیں برداشت کیا جاتا ہے۔ ان تمام اڈوں پر  معیارات اور طریقہ کار موجود ہیں جن کے ذریعے پاکستان ایئر فورسز فوری طور پر ان اڈوں کو بحال کرتی ہے۔ (جن اڈوں کو نقصان پہنچا تھا) وہ سب بحال کیے جا چکے ہیں۔ ایک طیارے کو ایک معمولی نقصان ہوا تھا جسے مرمت کیا جا رہا ہے اور یہ جلد ہی قابل استعمال ہو جائے گا۔ 

اصل میں بھارتیوں نے اس تنازعے کے بعد نقصانات کے بارے میں جو ہنگامہ کھڑا کیا ہے وہ اس کے ذریعے اپنی خفت سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کی چھبیس جگہوں کو نشانہ بنایا۔ ہم نے ان کے انتہائی قیمتی فضائی دفاعی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ ہم نے ان کے چھ طیارے گرا دیے۔ ہم نے ان کی جدید ترین ٹیکنالوجیز کو ناکارہ بنا دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے پاس بہت اچھا فضائی دفاع ہے، جبکہ ہم نے انہیں بالکل اسی جگہ نشانہ بنایا جہاں پر ان کا فضائی دفاعی نظام موجود تھا۔ 

اس لیے بھارتی پروپیگنڈا اور جو کچھ بھی ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے ہم اس پر اب زیادہ توجہ نہیں دے رہے ،کیونکہ ایک ایسا میڈیا ، ایک ایسا ملک جو ہر منٹ جھوٹ گھڑ سکتا ہے، جو کچھ بھی دعویٰ کر سکتا ہے، جو تنازعہ کے وقت ہزاروں ویب سائٹس، ٹویٹر اکاؤنٹس، اور سوشل میڈیا پیجز کو بند کر دیتا ہے، جو دنیا سے بھارت کے بارے میں رپورٹ نہ کرنے کو کہتا ہے، جو اس بات پر حساس ہو جاتا ہے کہ اگر کسی ملک نے ہمیں کبھی کوئی ہتھیار بھیجے ہیں جو ہم نے خریدے ہیں اور استعمال کر رہے ہیں، اس پر وہ اچھلتا اور بچوں کی طرح ناتجربہ کارانہ انداز اختیار کرتا ہے، تو  مجھے نہیں لگتا کہ اس ملک کو بہت سے معاملات میں مزید سنجیدگی سے لیا جا سکتا ہے۔

بکر عطیانی: سعودی عرب، امریکہ اور چین کا اس جنگ بندی تک پہنچنے میں کیا کردار رہا، آپ اس کا کس طرح سے جائزہ لیتے ہیں؟

احمد شریف: دیکھیں، دنیا کی بڑی طاقتوں نے جو کردار ادا کیا وہ بہت مثبت اور شاندار رہا ہے، امریکہ، چین، سعودی عرب اور دیگر۔ اس پر تبصرہ کے لیے وزارتِ خارجہ سب سے بہترین جگہ ہے۔ 

جہاں تک سعودی عرب  اور اہلِ عرب کا تعلق ہے، پاکستانی عوام کے سعودی عرب اور خلیجی خطہ کے درمیان بہت مضبوط تعلقات ہیں۔ اور ہماری مسلح افواج کا سعودی عرب کی بادشاہت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے، یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو احترام اور بھائی چارے پر مبنی ہے، اور پاکستان میں عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کی بہت تعریف کی جاتی ہے۔ سعودی ہمارے بھائی ہیں اور ہمیشہ کے لیے بھائی ہیں۔ اور یہی طرز عمل ہے جو سعودیہ نے اور دیگر دوستوں نے اختیار کیا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک بہت منصفانہ جنگ لڑ رہا ہے، اور یہ کہ کون حق پر ہے اور کون غلط ہے۔ یہ بالکل روزِ روشن کی طرح واضح  تھا کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے جبکہ ہم حق پر ہیں۔ ہمارا کہنا تھا کہ (پہلگام واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا) اگر کوئی ثبوت ہے تو اسے ایک غیر جانبدار شفاف کمیشن کے سامنے رکھیں۔ لیکن کھلی جارحیت ہوئی جسے دنیا نے دیکھا اور ابھی تک دیکھ رہی ہے۔ 

بکر عطیانی: جنرل احمد شریف، آپ کے وقت کا بہت شکریہ۔

احمد شریف: (آپ کا بھی)

https://youtu.be/jdunf9Ptpyo


بھارت کے جنگی جنون کا بالواسطہ چین کو فائدہ!

مولانا مفتی منیب الرحمٰن

بھارت کے جنگی جنون اور پاکستان پر مسلط کردہ جنگ کا بالواسطہ چین کو بہت فائدہ ہوا ہے، اس کے جدید ترین جنگی طیارے JF-17 اور J10-C اور PL-15 میزائل جو ابھی تک کسی جنگ میں ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے، پاکستان پر اس مسلط کردہ جنگ میں کامیابی کے ساتھ اپنا ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں۔ اور اس میں ہمارے ہوا بازوں اور مسلح افواج کے جوانوں کی پیشہ وارانہ مہارت، حاضر دماغی، جرأت و استقامت اور اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت کا بڑا دخل ہے۔

واضح رہے JF-17 تھنڈر چین اور پاکستان کی مشترکہ کاوش ہے اور اس میں پاکستانی انجینئروں اور ماہرین کی مہارت بھی شامل ہے۔ 

انگریزی کا محاورہ ہے It's not the guns but the men behind the guns یہ محاورہ درست ثابت ہوا۔ یعنی اسلحے کی اہمیت یقیناً‌ مسلّم ہے، لیکن اصل اہمیت اس دل و دماغ اور ان ہاتھوں کی ہے جو اپنے ہدف پر اسلحے کو بروقت کسی جھجھک کے بغیر چلاتے ہیں۔

چین کو چاہیے کہ اپنا جدید ترین سٹیلتھ جیٹ فائٹر J35-A اور مزید جدید ترین میزائل بھی پاکستانی مسلح افواج کے سپرد کرے تاکہ انہیں بھی جنگی میدان میں ٹیسٹ کر لیا جائے۔ اس طرح بھارت سمیت دنیا پر اس کی دھاک بیٹھ جائے گی اور اس کے حربی سامان کی مارکیٹ اوپر چلی جائے گی۔

۱۰ مئی ۲۰۲۵ء

اللہ کے سامنے سربسجود ہونے کا وقت

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین وعلیٰ کل من تبعہم باحسان الیٰ یوم الدین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انا فتحنا لک فتحاً‌ مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویہدیک مستقیما وینصرک اللہ نصراً‌ عزیزا صدق اللہ العظیم۔

حضرات علماء کرام، رہنمایانِ ملت، اور میرے عزیز اور محترم بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ۔

آج اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے، اس نے ہمیں یہ دن دکھایا کہ اس میدان میں …… ایک ایک بچہ خوشی کے جذبات سے لبریز ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو یہ دن دکھایا کہ اپنے سے پانچ گنا زیادہ بڑے دشمن کے مقابلے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو فتح مبین ایسی عطا فرمائی کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان کی فوج، پاکستان کے شاہین، یہ ساری دنیا کے اوپر الحمد للہ اپنی برتری کا سکہ جما چکے ہیں۔ 

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اتنا بڑا کرم ہے جس کے شکر ادا کرنے کے لیے آج ہم یہاں جمع ہیں۔ اور الحمد للہ تمام مکاتبِ فکر، تمام جماعتوں کے رہنما اور تمام جماعتوں کے لوگ اپنے ملک کے دفاع کے لیے متحد ہو کر اس بات کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ان شاءاللہ ہم پاکستانی قوم ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں۔ اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اس کا مقصد لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا فروغ تھا، اور اس لیے الحمدللہ ہماری افواج کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے مقابلے میں فتحِ مبین عطا فرمائی۔

آپ اندازہ کریں کہ اگر پاکستان کے وسائل کا انڈیا کے وسائل کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔ لیکن انہوں نے اپنے بزدلانہ، اپنے کمینے قسم کے حملے کو، آپریشن سندور کے نام سے موسوم کیا۔ سندور اس سرخی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ماتھے پر لگائی جاتی ہے اور یہ کسی زمانے میں عورتوں کی غلامی کی علامت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے اپریشن کا نام سندور رکھا یعنی اس آپریشن کو خود ہی عورتوں کا آپریشن قرار دے دیا، عورتوں کی علامت قرار دے دیا، خواتین کی علامت قرار دے دیا، اور بتایا کہ ہم مردوں کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں۔ 

اور ہماری طرف سے آپریشن کا نام کیا رکھا گیا؟ بنیان مرصوص۔ ’’ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً‌ کانہم بنیان مرصوص‘‘۔ انہوں نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ انہیں صبح کے اجالے میں حملہ کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر ’’فالمغیرات صبحاً‌‘‘ پڑھ کر حملہ کیا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اس مقام تک پہنچایا کہ آج دنیا ان کی قوت کا، ان کی مہارت کا، ان کی شجاعت کا لوہا مان رہی ہے۔ بھارت کو کسی نے اس طرح دھول کبھی نہیں چٹائی ہو گی۔  الحمدللہ ہمیں سن 1965ء کی جنگ بھی یاد ہے۔ 1965ء کی جنگ میں بھی ایک بزدل دشمن نے لاہور کے اوپر حملہ کیا تھا اور الحمد للہ لاہور کے باشندوں نے فوجوں سے آگے بڑھ کر ہاتھ میں ڈنڈے اٹھا کر ان کا مقابلہ کیا تھا۔ 

آج الحمدللہ ہماری افواج نے ہمیں ایک بار پھر یہ خوشی کا دن دکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم اس پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ لیکن میرے دوستو! آج کا یہ اجتماع یہ صرف خوشی منانے اور سینہ تاننے کا دن نہیں ہے۔ اگر مسلمان کو کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا سینہ تنتا نہیں ہے، اس کی گردن اکڑتی نہیں ہے، اس کا سر اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتا ہے، اس کا سر جھک جاتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں کہ آج مجھے منظر اس طرح یاد ہے جیسے اب دیکھ رہا ہوں کہ جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتح کے طور پر داخل ہوئے تو آپ اپنی اونٹنی پر تشریف فرماتے، آپ کی گردن تنی ہوئی نہیں تھی، سینہ اکڑا ہوا نہیں تھا، بلکہ گردن جھکی ہوئی تھی اپنے سینے کی طرف اور زبانِ مبارک پر یہ آیات تھیں کہ ’’انا فتحنا لک فتحاً‌ مبینا‘‘۔ 

تو آج ہم الحمدللہ اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری امت کی لاج رکھی۔ عرب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مدتوں سے ہم یہ دیکھتے تھے کہ مسلمانوں کے اوپر گولہ باری ہو رہی ہے، مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پہلی بار مدتوں کے بعد ہم نے یہ خبر سنی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کے یہ توفیق عطا فرمائی کہ دشمن کے شہریوں پر نہیں، عورتوں پر نہیں، بچوں پر نہیں، عبادت گاہوں پر نہیں، بلکہ ان کی فوجی تنصیبات پر اس طرح حملہ کیا گیا کہ آج وہ تنصیبات خاک کا ملبہ بن چکے ہیں۔ 

اس موقع پر ہمیں سب سے پہلے تو اللہ جل جلالہ کو حضور سجدہ ریز ہونا ہے، اس کا شکر ادا کرنا ہے، اور یہ سمجھ لینا ہے کہ یہ جو فتح حاصل ہوئی یہ صرف ہمارے مادی ساز و سامان کی وجہ سے نہیں، یہ جو فتح حاصل ہوئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کے اوپر بھروسے سے ہوئی ہے، اللہ پر توکل کے ذریعے ہوئی ہے۔ لہٰذا ہم سینہ تاننے اور گردن اکڑانے کے بجائے ہم اللہ کے سامنے سر بسجود ہوں اور اس بات کا عہد کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے بچایا، اسلام کے ذریعے ہمیں فتح فرمائی اور اسلام ہی ہماری وجود اور بقا کا ضامن ہے۔ جب تک ہم اسلام پر قائم رہیں گے، اللہ کے بندے بنے رہیں گے، ان شاءاللہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تسخیر نہیں کر سکتی۔ 

لہٰذا آج کا دن شکر کا دن ہے۔ آج کا دن تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہم نے پاکستان بناتے وقت یہ نعرے لگائے تھے ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ ہم نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم ملک کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے تابع بنائیں گے۔ ہم سے اس میں بہت غفلت ہوئی ہے اور عرصہ دراز تک غفلت میں ہم مبتلا رہے ہیں۔ لیکن بچایا ہے تو اسلام ہی نے بچایا، بچایا ہے تو لا الٰہ الا اللہ نے ہی بچایا۔ لہٰذا آج اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق ڈھالیں گے۔

حکومت کو بھی یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ فتح صرف اسلام کی بدولت عطا فرمائی اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے عطا فرمائی، لہٰذا اس ملک کو صحیح معنی میں اسلامی ریاست بنانے کے اقدامات کریں۔ اور پاکستان کا ایک ایک باشندہ اس بات کا عہد کرے کہ میں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا، میں اس کو پورا کروں گا، میں اپنی زندگی کو نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق بناؤں گا اور گناہوں سے پرہیز کروں گا۔

 مجھے یاد ہے سن 1965ء میں جب بھارت کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا تو چوروں نے چوری چھوڑ دی تھی، ڈاکوؤں نے ڈاکے ڈالنے چھوڑ دیے تھے، دفتروں میں رشوت بند ہو گئی تھی۔ آج ہم پھر اسی بات کو تازہ کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ آج سے ہم عزم کریں کہ اپنے ملک کی خدمت کے لیے، اپنی ملت کی خدمت کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی پیش کریں گے۔ اس ملک کو کرپشن سے، رشوت سے، بدامنی سے پاک کریں گے۔ اور اس کا نہ انتظار کیا جائے کہ حکومت کوئی حکم دے تو ہم پھر اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالیں، بلکہ ہم میں سے ہر شخص کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی زندگی پر نظر ڈال کر جہاں جہاں خامیاں ہیں ان خامیوں کو دور کرے، کرپشن سے پاک کرے، رشوت سے توبہ کریں، گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے کا اہتمام کریں، دعاؤں کے اہتمام کریں۔

آج اس سٹیج پر بیٹھے ہوئے یہ حضراتِ زعماء مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے آپس میں کچھ نظریاتی اختلافات بھی ہیں، ان میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہیں، مختلف مذہبی جماعتیں ہیں، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں، ہم سب اس بات پر متحد ہیں کہ الحمدللہ ہم اپنے سارے فروعی اختلافات کو خیرباد کہہ کر ملک کے دفاع کے لیے، پاکستان کی ترقی کے لیے، اپنی افواج اور اپنی حکومت کے پشت پر کھڑے رہیں گے۔ جب تک اسلام کا کام کیا جاتا رہے گا اس وقت تک ہم ان کے پیچھے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں، ان کے شانہ بشانہ ہے، اور ان کے ساتھ ہمارے اس تعلق کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔ ہم ان شاءاللہ آپس میں اپنے علمی مسائل کو زیر بحث لا سکتے ہیں، لیکن جب سوال آجائے ملتِ اسلامیہ کی صلاح و فلاح کا، ملتِ اسلامیہ کے دفاع کا، ہم سب ایک ہیں اور ان شاءاللہ ایک رہیں گے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

https://youtu.be/2KKYz38ZsUI


ہم یہود و ہنود سے مرعوب ہونے والے نہیں!

مولانا فضل الرحمٰن

(۱۵ مئی کو کوئٹہ میں ’’ملین مارچ‘‘ خطاب)

الحمد للہ الحمد للہ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ لا سیما علیٰ سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلیٰ آلہ وصحبہ و من بھدیھم اھتدی، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ان اللہ یحب الذیۡن یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص۔ صدق اللہ العظیم۔

جنابِ صدر، حضراتِ علماء کرام، زعماء قوم، بزرگان ملت میرے دوستو اور بھائیو! آج یہاں کوئٹہ میں بلوچستان کے ہیڈ کوارٹر میں اہلِ بلوچستان کا یہ فقید المثال اجتماع، اس کا آغاز کراچی سے ہوا تھا جہاں سندھ کے عوام نے تاریخ کی بے مثال شرکت اس اجتماع میں کی تھی۔ اس کے بعد اہلِ پنجاب نے مینارِ پاکستان پر بے مثال اجتماع کا انعقاد کیا۔ پشاور میں تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع اہلِ سرحد نے کیا۔ اور ہر جگہ پر جہاں بھی جمعیۃ علماء اسلام کا یہ قافلہ گیا، عوام کا ایک بحرِ بے کراں اُمڈ آیا اور آج کی طرح تاحدِ نظر انسانوں کا سمندر تھا۔

ان اجتماعات نے جو قراردادیں پاس کی ہیں، ان اجتماعات میں امتِ مسلمہ کے لیے، اہلِ غزہ کے لیے اپنا نقطۂ نظر اجاگر کیا ہے۔ یہ محض اہلِ پاکستان کی آواز نہیں یہ امتِ مسلمہ کی آواز ہے۔ اور میرے پاکستانی بھائیو! آپ کے یہ انسانی سمندر جہاں بھی ابھرے ہیں وہ امت کی آواز بن کر ابھرے ہیں اور دنیا کو بتایا ہے، امریکہ کو بتایا ہے، ٹرمپ کو بتایا ہے، اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو بتایا ہے، یورپ کو بتایا ہے، اسرائیل کو بتایا ہے، صہیونی قوت کو بتایا ہے، نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ تم مسلمانوں کی جانیں تو لے سکتے ہو، ان کا خون تو بہا سکتے ہو، ان کے سر کٹ جائیں گے لیکن تمہارے سامنے جھکیں گے نہیں، اور آزادی کی تحریک آگے بڑھتی چلی جائے گی۔

میرے محترم دوستو! جب غزہ پہ حملہ ہوا تو مودی جی نے اسرائیل کی حمایت کی، بلا قید و شرط ان کی حمایت کی، ہندوستان کی تاریخ کی نفی کی، پچھلی حکومتوں کی نفی کی۔ اور اسرائیل پہلے دن سے پاکستان کا دشمن ہے، وہ پاکستان کے خاتمے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیتا ہے، لیکن ہندوستان نے اسرائیل کا نمائندہ بن کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان کے جوانوں نے، پاکستان کے جانبازوں نے، پاکستان کے ہوا بازوں نے وہ جواب دیا کہ میں اعلان کر سکتا ہوں کہ اہلِ پاکستان نے اہل غزہ کا بدلہ لے لیا۔

یہود و ہنود کا یہ اتحاد، یہ تاریخ کا حصہ ہے، ہمارے حکمران نہ معلوم کس خوابِ خرگوش پہ سوئے خراٹے مار رہے تھے، کس زعم میں مبتلا تھے، کس خوش فہمی کا شکار تھے جو اسرائیل کے بارے میں ڈگمگ پالیسی دیا کرتے تھے۔ اور ماضی میں ہم نے حکمرانوں کے وہ رجحانات بھی دیکھے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف جا رہے تھے، اس وقت بھی جمعیۃ علماء اسلام نے کراچی میں ایک ملین مارچ کا انعقاد کر کے ان کا منہ بند کر دیا تھا، ان کے دانت توڑ دیے تھے اور ان کے اندر قوت نہیں رہی تھی کہ پھر وہ اسرائیل کی تسلیم کرنے کی بات کر سکیں۔ آج پاکستان نے پارلیمنٹ کے اندر حکمرانوں کی زبان سے یہ بات نکال لی ہے کہ اسرائیل اور انڈیا ایک ہیں، یہود و ہنود ایک ہیں، اور ان شاء اللہ جمعیۃ نے اپنا موقف پورے ملک پر منوایا، پورے ایشیا پر منوایا اور پوری دنیا پر اپنا موقف منوا کر رہے گا ان شاء اللہ العزیز۔

میرے محترم دوستو! ہم آج یہاں کوئٹہ کی سرزمین سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہیں، ہر حال میں امتِ مسلمہ آپ کے ساتھ ہیں، ریاست پاکستان آپ کے ساتھ ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کے یہ جیالے آپ کے ساتھ ہیں، انصار الاسلام آپ کے ساتھ ہے۔ اگر ہمارے حکمران ہماری فوج کو، ہمارے ہوابازوں کو، ہمارے جانبازوں کو، ہمارے ان جیالوں کو حکم دے، اجازت دے، تو آج بھی ہم اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے تیار ہیں۔

میرے محترم دوستو! ان دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ عرب دنیا کے دورے پر ہے اور عرب دنیا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھا رہا ہے، اقتصادی روابط بڑھا رہا ہے، لیکن ہم پاکستان سے، اس سرزمین سے، کوئٹہ کی سرزمین سے ٹرمپ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی پشت پناہی سے باز آجاؤ، یہ وہ ریاست ہے جو جبر کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے، یہ وہ ریاست ہے کہ جب پاکستان بنا تو ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، پاکستان نے سب سے پہلے اس کو ناجائز بچہ کہا۔ اور انگریزوں نے، برطانیہ نے اسرائیل کا خنجر عربوں کے پیٹھ میں گھونپا جس سے آج بھی عربوں کا خون رس رہا ہے۔

عرب حکمرانو! ہوش میں آؤ، عرب حکمرانو! اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو یاد کر لو، ان کی جنگجویانہ جذبے کو یاد کرو، میدان میں اترو، امتِ مسلمہ غیرت مند ہے، تمہاری وجہ سے لگ رہا ہے کہ جیسے وہ اپنی غیرت و حمیت کھو بیٹھا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کو جواب دیا، ریاستی قوت کے ساتھ جواب دیا، دنیا کو بتا دیا کہ ایک اسلامی ملک اگر ہندوستان کی طاقت کے غرور کو خاک میں ملا سکتا ہے، اگر اس کی ڈیفنس سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے تو آج بھی امتِ مسلمہ کا حکمران اسرائیل کی قوت کو تباہ کر سکتا ہے۔

میرے محترم دوستو! پہلگام کا واقعہ ہوا، دس منٹ کے اندر اندر الزام کا سارا ملبہ پاکستان پر پھینک دیا، ایف ائی آر بھی درج کرا دی اور سندھ طاس معاہدے کو توڑ دیا، اس کو معطل کر دیا۔ مودی جی! یہ معاہدہ ہے، یہ ٹریٹی ہے، اس میں ورلڈ بینک ضامن ہے، اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر کسی معاہدے یا ٹریٹی کو معطل نہیں کر سکتا۔ تمہارا باپ بھی پاکستان کے پانی کو نہیں روک سکے گا، اور اب جب تم نے یہ اقدام کیا تو اب جو آپ کے حصے میں دریا تھے اب اس پر بات ہوگی کہ یہ تمہارے ہیں یا ہمارے ہیں۔

میرے محترم دوستو! اقوام متحدہ کا چارٹر کہتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک کے خلاف نہ تو جارحیت کر سکتا ہے، نہ ان کو دھمکیوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، نہ طاقت کے ذریعے تنازعات کو حل کر سکتا ہے۔ مودی جی تو نے طاقت کے بل بوتے پر تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی، تمہارا ہم نے کیا حشر کر کے رکھ دیا، بیچارے سے اسمبلی میں بیٹھا نہیں جاتا۔ اپنے ملک کی پارلیمنٹ ان پر لعن طعن کر رہی ہے، ایک طرف ہندوستان ہے جہاں کوئی یکجہتی موجود نہیں، کوئی حمایت حاصل نہیں، ایک طرف پاکستان ہے جہاں مکمل یکجہتی موجود ہے اور اس یکجہتی کی بنیاد جمعیۃ علماء اسلام نے رکھی ہے۔

اسرائیل نے اہلِ غزہ کے عام شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا، بچوں کو نشانہ بنایا، خواتین کو نشانہ بنایا، بوڑھوں کو نشانہ بنایا اور ہندوستان نے بھی ہمارے مساجد و مدارس کو نشانہ بنایا۔ میں حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں، کوئی ایسا کام نہ کریں جو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچائے۔ تم نے دریائے سندھ پر نہریں نکالنے کی بات کی، تم نے سندھ میں تشویش پیدا کر دی، تم لوگ مائنز اینڈ منرلز بل لا رہے ہو، بلوچستان میں بھی اور خیبر پختون خواہ میں بھی، اس سے دو صوبوں کے حقوق کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ تم نے دینی مدارس، دینی تنظیمیں اور جماعتیں جو وطنِ عزیز کی دفاع میں آپ سے ایک قدم آگے صفِ اول میں جنگ لڑ رہی ہے، آپ نے دینی مدارس کے اوپر ایک تلوار لٹکائی ہوئی ہے، جو قانون تم نے اسمبلی میں پاس کیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ آپ کو ان تمام چیزوں سے واپس آنا ہوگا، جو طے ہوا ہے اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچا تو حکمرانوں کے رویے سے پہنچے گا۔

ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم ایک ہے اور ایک صف میں ہے، پاکستان ایک ملک ہے جس کے استقلال جس کی استقامت جس کی وحدت ہر وقت ہمیں عزیز ہے اور جس پر ہم کوئی کمپرومائز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، بلوچستان کے حقوق کے مالک، بلوچستان کے وسائل کے مالک، بلوچستان کے عوام ہیں، بلوچستان کے عوام کے بچے ہیں، بلوچستان کے عوام کی آنے والی نسلیں ہیں۔ خیبر پشتون خواہ ہے تو ان کے وسائل کے مالک وہاں کے عوام کے بچے ہیں، ان کی نسلیں ہیں۔ سندھ کے وسائل کے مالک سندھ کے عوام ہیں۔ پنجاب کے وسائل کے مالک پنجاب کے عوام ہیں، کوئی ایک دوسرے کے وسائل پر قبضہ نہیں کر سکتا، نہ وفاق کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال سکے۔ ان شاء اللہ جمعیۃ علماء اسلام صوبوں کے حقوق اور ان کے وسائل کی جنگ صفِ اول میں جا کر لڑے گی ان شاء اللہ۔

میرے محترم دوستو! پورے خود اعتمادی میں رہنا ہے، پورے احساس برتری کے ساتھ ملک کی سیاست کرنی ہے، اس ملک میں سیاست کرتے ہوئے ہم نے ایک خوددار قوم کو پیدا کرنا ہے، ان کی خودداری کو، ان کے شعور کو بیدار کرنا ہے اور ایک زندہ قوم کی طرح ہم نے دنیا میں جینا ہے ان شاء اللہ۔ یہ جنگ جاری رہے گا، یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ان شاء اللہ چند دنوں کے اندر ہم اگلے اجتماعات کا بھی اعلان کریں گے، یہ سلسلہ جاری رہے گا، اگلا جلسہ شاید ہمارا حیدرآباد میں ہوگا، تاریخ کا تعین بعد میں کر دیں گے اور آپ نے اس سفر کو جاری رکھنا ہے، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

www۔teamjuiswat۔com


جنگ اور فتح کی اسلامی تعلیمات اور ہماری روایات

مولانا طارق جمیل

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

تمام اہلِ پاکستان، مرد عورت، چھوٹے بڑے، شہری دیہاتی، سب کے لیے میرا محبت بھرا سلام ہے اور ان حالات میں ڈھیروں دعائیں ہیں، اللہ ہماری حفاظت فرمائے (آمین)۔

اللہ نے ہمیں دینِ اسلام دیا ہے جس کا نام ہی سلامتی ہے۔ اور ہمارے عقیدے کا نام ایمان ہے جو امن سے ہے۔ اور میں بخاری شریف کی ایک حدیث آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ میرے نبیؐ نے ہمیں کیا فرمایا؟ ہمارے بارے میں دنیا کے میڈیا نے مشہور کر دیا ہے یہ دہشت گرد ہیں۔ کوئی کرتا ہے تو وہ، وہ نہیں کر رہا جو میرے نبیؐ نے فرمایا۔ بخاری شریف کی روایت ہے ۲۹۶۵ اور ۲۹۶۶۔

اللہ تعالیٰ کے رسول ’’قام فی الناس خطیبا‘‘ آپؐ لوگوں میں کھڑے ہوئے تقریر کرنے کے لیے اور فرمایا: ’’ايھا الناس لا تتمنوا لقاء العدو‘‘ لوگو! جنگ کی تمنا مت کرو اور لڑنے کی تمنا مت کرو، یعنی پہل نہ کرو۔ ’’وسلوا اللہ العافیۃ‘‘ اللہ سے عافیت مانگو۔ ’’فاذا لقیتموھم‘‘ لیکن اگر وہ چڑھ آئیں، جیسے ہندوستان ہمارے اوپر چڑھ دوڑا، ایک غلط مفروضے پر، پہلگام کو بہانہ بنا کر، بغیر تحقیق کے اس نے حملے کیے، عام لوگ شہید ہوئے، مرد، عورت، بچے۔ تو آپؐ نے فرمایا ’’فاذا لقیتموھم‘‘ اور پھر جب ٹکر ہو جائے تو ’’فاصبروا‘‘ پھر صبر کرو۔ اور جان لو کہ ’’ان الجنۃ تحت ضلال السیوف‘‘ جنت تلواروں کی چھاؤں میں ہے۔

تو مسلمان پہل نہیں کرتے، جو ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔ اور پھر اس کے بعد جنگ کیسے کرنی ہے، صرف ہمارے نبی نے بتایا ہے۔ اور کسی کے پاس اصول کوئی نہیں ہے۔ میرے نبیؐ نے فرمایا: درخت نہیں کاٹنے، فصلوں کو نہیں جلانا، عورتوں کو قتل نہیں کرنا، بچوں کو قتل نہیں کرنا، عام شہریوں کو قتل نہیں کرنا، بوڑھوں کو قتل نہیں کرنا۔ مندر، کلیسا، گرجا، گوردوارہ نہیں گرانا۔ اور مندر کے پجاری، کلیسا کے پادری، گوردوارے کے گیانی، ان پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔ یہ اصول کسی نبی نے نہیں بتائے (یعنی روایات میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا)، ہمارے نبی نے ہمیں یہ اصول بتائے۔

اُحد کی جنگ میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن کو چیرتے ہوئے پیچھے پہنچے ان کے تو عورتیں کھڑی تھیں، وہ ان کو دیکھ کر بھاگیں، لیکن ہندہ ڈر کے مارے بھاگ نہ سکیں، تو ایسے اس کے سر پر تلوار رکھی، اس نے چیخ ماری، آپ نے تلوار پیچھے ہٹا لی۔ پیچھے ایک اور ساتھی ان کے ساتھ تھے، کہنے لگے قتل کیوں نہیں کیا؟ کہنے لگے، میرے نبی کی تلوار ہے، عورت کے خون سے گندا (آلود) نہیں کروں گا۔ ہمیں تو جنگ بھی کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ ’’ان جنحوا للسلم فاجنح لہا‘‘ اگر وہ صلح کی پیشکش کریں فوراً‌ صلح کر لو۔ چونکہ قتل و غارت اسلام کا عنوان ہی نہیں ہے۔

جو مسلمان بادشاہوں نے کیا، وہ بادشاہ تھے، بادشاہوں کا مذہب حکومت ہوتی ہے، وہ چاہے ہندو ہو، چاہے وہ سکھ ہو، چاہے وہ عیسائی ہوں۔ یہ جو پہلی اور دوسری جنگِ عظیم ہوئی، کوئی مسلمان تھے آپس میں؟ دونوں طرف عیسائی تھے۔ پہلی جنگ میں دو کروڑ مارے گئے، دوسری جنگ میں آٹھ کروڑ مارے گئے۔ اور مرہٹوں نے پورے ہندوستان کا ستر فیصد فتح کیا، ان کی تلوار مسلم غیر مسلم میں تمیز نہیں کرتی تھی، سب کی گردنیں اڑاتے تھے وہ۔ اس لیے جب ان کو پانی پت کی لڑائی میں شکست ہوئی تو پانی پت کی عوام ہندو، عورتیں، مرد، مسلم لاٹھیاں اور تلواریں لے کر ان کے پیچھے بھاگے تھے ان کو قتل کرنے کے لیے۔

صرف اسلام ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے، کوئی اس پر عمل نہ کرے تو وہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ میں نے آپ کو بخاری شریف سے، جو ہماری قرآن کے بعد سب سے آتھنٹک کتاب ہے، اس سے میں نے حوالہ دیا ہے کہ میرے نبیؐ نے فرمایا، ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہمارا مقصد لڑائی نہیں ہے، ہمارا مقصد ہے تم کلمہ پڑھ لو، ایمان لے آؤ، مسلمان ہو جاؤ، ایک رب پر ایمان لے آؤ۔ تینتیس کروڑ دیوی دیوتا، یہ بھی کوئی عقل میں آنے والی بات ہے؟ تو خیر میں مذہب کی طرف نہیں جاتا۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کچھ لیڈر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ہماری مسجدیں گرائیں، تم کے مندر گراؤ۔ نہیں، میں یہ ہرگز نہیں کہوں گا۔ میں اپنی فوج سے اپیل کروں گا، کسی مندر کو مت گرائیں۔ انہوں نے ہماری عوام پہ حملہ کیا، چھبیس مرد، عورت، بچے شہید ہوئے ہیں۔ میں ہرگز نہیں کہوں گا کہ افواجِ پاکستان عام شہریوں پر حملہ کریں، عام شہریوں کو قتل کریں۔ ہاں، جو سامنے آئے، وہ ہماری جان لینا چاہتا ہے، تو ہم اس کی جان لیں گے۔ ہم عام شہریوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، بوڑھوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، عورتوں پر، بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ پادریوں پر، پجاریوں پر، گیانیوں پر ہم ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ کسی مندر، گرجا، گوردوارے کو چھیڑنے کا ہمیں حکم نہیں ہے۔ یہ اسلام کا پیغام ہے۔

اور اللہ کے فضل سے ہماری شکست بھی ہماری جیت ہے، اور جیت بھی جیت ہے۔ چونکہ ایمان والا جب قتل ہوتا ہے جنت میں جاتا ہے۔ اور اللہ کو نہ ماننے والا، کروڑوں دیویوں کو ماننے والا، جب وہ قتل ہوتا ہے تو وہ نرک میں جاتا ہے، اس نے اللہ کو پہچانا ہی نہیں ہے۔ امام حسین علیہ السلام ہمارے بہت، میرے پاس الفاظ ہی کوئی نہیں ہیں، وہ اپنے بہتر ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے، شکست ہو گئی، یزید کامیاب ہو گیا۔ لیکن اللہ کی قسم، کامیاب حسین ہیں اور ناکام یزید ہے۔ زندگی موت تو ہمارا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہم تو اللہ کے لیے لڑتے ہیں، اللہ کے لیے مرتے ہیں، اللہ کے لیے جیتے ہیں۔

ایک جنگ میں لڑائی ہو رہی تھی، ایک طرف خالد بن ولیدؓ تھے، ایک طرف دوسرا عربوں کا کفار کا لشکر تھا۔ تو کفار کے سردار نے پوچھا، کیا بات ہے، ہم زیادہ بھی ہیں، وہ تھوڑے بھی ہیں، لیکن وہ ہمارے اوپر چڑھائی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ تو ان کے سالار نے کہا، ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے میں پہلے مر جاؤں دوسرا بعد میں مرے۔ ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ یہ پہلے مرے میں بعد میں مروں۔

اور میں نے ایسے ہی چھوٹا سا کلپ سنا، میں عام طور پر سنتا نہیں ہوں، کہ ان کے گھروں میں لاشیں بھیجو تاکہ ان کے گھروں میں بھی چیخ و پکار مچے۔ اللہ کے بندو! ہمارے گھروں میں جب شہید کی لاش آتی ہے تو دیگیں چڑھائی جاتی ہیں، جشن منائے جاتے ہیں، پورے گاؤں والے آ کر مبارک دیتے ہیں، تم شہید کی ماں ہو، شہید کی بیوی ہو، شہید کے بچے ہو۔ یہ حال دہائی تو تمہارے ہاں پڑتی ہے، کیونکہ تمہارے سامنے موت کے بعد کی زندگی کا تصور ہی کوئی نہیں ہے۔ ہم تو ؎

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

ہمارا شاعر علامہ اقبال ہمیں سنا گیا ہے۔ میرا نبیؐ سنا گیا ہے۔ تو ہم ملک فتح کرنے کے لیے نہیں لڑتے۔ جو مسلمان بادشاہوں نے کیا وہ اسلام کا سیمپل (مثال) نہیں ہے۔ بادشاہ، بادشاہ ہوتے ہیں، وہ ہندو، سکھ، عیسائی، دہریہ، ان کا کام اپنی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے۔

تو میں اپنی افواج سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کروں گا، کسی مندر پر حملہ نہ کریں، کسی گوردوارے پر حملہ نہ کریں، کسی گرجے پر حملہ نہ کریں، کسی شہری آبادی پر حملہ نہ کریں۔ ان کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کریں۔ جب انہوں نے زیادتی کی ہے تو اب اللہ نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم اس کا جواب دیں۔ ہم ظالم نہیں ہیں، ظالم ہندوستان والے ہیں کہ انہوں نے اس طرح ایک واقعہ خود کروایا اور پھر ہمارے اوپر چڑھائی کر دی۔ تو میں اپنی افواجِ پاکستان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا دیتا ہوں، اللہ انہیں سلامت رکھے، اللہ ان کو ہر میدان میں فتح نصیب فرمائے۔ اللہ نے ہمیں یہ ہیروز دیے ہیں، ہمارا سپاہی بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا جنرل عاصم منیر قیمتی ہے۔ ایک سپاہی شہید ہو، ایک جرنیل شہید ہو، دونوں کا درجہ اللہ نے آسمانوں پہ بڑا رکھا ہے۔ تو لہٰذا،

ہائے ہائے، مجھے ایک بات یاد آگئی۔ شمر کہنے لگا امام حسینؓ سے، ابھی تمہیں قتل کریں گے، وہ آگے سے ہنس پڑے، سبحان اللہ۔ ’’اب الموت تخوفنی؟‘‘ ارے پاگل، مجھے موت سے ڈرا رہے ہو؟ موت تو ہمارے لیے پھولوں کا ہار ہے۔ تو اللہ کے فضل سے، اللہ کا شکر ہے ہمارے ہاں جب شہید کی لاش آتی ہے تو کوئی چیخ و پکار، رونا دھونا نہیں ہوتا، خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ حضرت معاذہ عدویہ رحمۃ اللہ علیہا کے خاوند صلہ بن اشیم اور ان کے دو بیٹے، تینوں میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے۔ تو محلے کی عورتیں آئیں، تو ایک دم حضرت معاذہؒ نے فرمایا: مبارک دینے آئی ہو تو بسم اللہ، اور اگر سوگ منانے آئی ہو تو واپس جاؤ، بھلا میں کیسے سوگ مناؤں، میرے تو تین۔ شہید تو مر کر زندہ ہو جاتا ہے ’‘لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولا کن لا تشعرون‘‘ ہمیں تو زندگی ملتی ہے، لہٰذا ہمیں موت سے نہ ڈراؤ۔ ہماری لاشوں پر خوشیاں نہ مناؤ، ہم تو تم سے زیادہ خوشی مناتے ہیں جب کوئی ہمارا شہید ہوتا ہے۔

تو میں افواجِ پاکستان کے لیے دعا کرتا ہوں، ایئرفورس کے لیے دعا کرتا ہوں، نیوی کے لیے دعا کرتا ہوں، سب کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اور آخر میں ایک اپیل کرتا ہوں کہ یہ جو ہمارے ملک میں انتشار ہے سیاسی، اس کو اللہ کے واسطے ختم فرما دیں اور آپس میں ایک ہو جائیں۔ اگر آپس میں بھڑنا بھی ہے تو دشمن سے نمٹنے کے بعد، ابھی ایک ہو جائیں اور یہ سیاسی اختلاف مٹا دیں۔ اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے کہ آپ کی زندگی ہماری زندگی ہے، آپ کی حیات ہماری حیات ہے، ہم پہلے آپ کے لیے دعا کر رہے ہیں پھر اپنے بچوں کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ 

پاکستان زندہ باد۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

https://youtu.be/02XDr9oxRW8

اللہ تعالیٰ نے اپنے قدرت کو دکھایا اور اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی، جیسے اللہ نے بدر میں اور پتہ نہیں کتنے بے شمار، تاریخ بھری پڑی ہے ’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ‘‘ (البقرہ ۲۴۹) بہت دفعہ ہو چکا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کو شکست دے دی۔ تو یہاں بھی ایسا ہی تھا۔ تو جب اللہ تعالیٰ فتح دے تو پھر ہمارے جذبات کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اندر تکبر نہ آئےکہ ہم نے یہ کر دیا۔ کیا تو اللہ نے ہے۔

 بدر کی لڑائی ہے اور اللہ اپنے نبی سے فرما رہے ہیں ’’وما رمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمیٰ‘‘ (الانفال ۱۸) اس سے بڑی کوئی بات ہو سکتی ہے؟ میرے نبی آپ جو تیر چلا رہے تھے نا، وہ آپ نہیں چلا رہے تھے، آپ کا اللہ چلا رہا تھا۔  ’’فلم تقتلوھم ولٰکن اللہ قتلہم‘‘ آپ نے نہیں انہیں قتل کیا، ہم نے انہیں قتل کیا۔ بدر کے بعد اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ’’ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح وان تنتہوا فہو خیر لکم وان تعودوا نعد ولن تغنی عنکم فئتکم شیئا ولو کثرت وان اللہ مع المؤمنین‘‘ (الانفال ۱۹) یہ تو اوپر کا نظام بتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قریش سے کہا تم مانگتے تھے کہ کوئی فیصلہ فرما، تو آج ہم نے فیصلہ کر دیا ہے، تو اب بہتر یہ ہے کہ تم باز آ جاؤ اور کوئی قدم نہ اٹھاؤ  ۔ اگر تم آؤ گے تو پھر میں خود آؤں گا ’’ان تعودوا نعد‘‘ میں آوں گا۔ اور جب میں آؤں گا تو تمہاری کوئی طاقت تمہیں کام نہیں دے گی، جب کہ میں ایمان والوں کے ساتھ ہوں گا۔ 

تو پوری قوم کے اوپر واجب ہے کہ تکبر سے بچے اور تکبر انہ جملوں سے بچے۔  ہم نے فتح کیا، ہم نے مٹی میں ملا دیا۔  عاجزی، شکر، شکرانے کا صدقہ، شکرانے کے نفل، اور شکرانے کی دعائیں کہ یا اللہ جو کچھ کیا وہ آپ نے کیا۔ میں تھوڑا سا دکھاتا ہوں کہ فتح مکہ پر جب آپ فاتحانہ داخل ہوئے تو آپ کس طرح داخل ہوئے؟ اللہ کے نبی جھنڈے کے پیچھے،آپ کے سیدھے ہاتھ ابوبکرؓ اونٹنی پر، آپ کے الٹے ہاتھ  اسید بن حضیر  انصاریؓ، اور آپ کے ساتھ اونٹنی کے پیچھے اسامہ بن زیدؓ۔ اب جب آپ دس ہزار کا لشکر لے کے چل رہے ہیں اور آگے ان میں کوئی ہمت ہی نہیں ہے، تو آپ کو تو ایسے بیٹھنا چاہیے تھا، نعوذ باللہ، اور ایسے دیکھتے،  کیا آج پتہ چل گیا قریش کو کہ ہم کون ہیں؟ قربان، قربان۔

اس کا پالان ہوتا ہے،  اس کی ایج اوپر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ یہاں سے ایسے، وہاں سے ایسے۔ تو میرے نبیؐ کی یہ ٹھوڑی اس ایج کے اوپر ایسے لگی ہوئی تھی، یوں سر ساتھ لگا ہوا ہے۔ چونکہ یہ بادشاہ نہیں ہیں، فاتح نہیں ہیں، یہ رحمت اللعالمین ہیں۔ اور آپ کی زبان پہ کیا جاری ہے ’’لا الٰہ الا اللہ وحدہ‘‘ تو ایک اللہ اکیلا وحدہ لا شریک۔ ’’نصر عبدہ‘‘  آج تو نے اپنے بندے کی مدد کی۔ ’’انجز وعدہ‘‘ آج تو نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ’’وھزم الاحزاب وحدہ‘‘  میں نے نہیں، میرے صحابہ نے نہیں، تو نے شکست دی قریش کو۔

 یہ مسلمان کا طریقہ ہے کہ اللہ ہمیں فتح دے تو ہم تکبر نہیں کرتے۔ اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، ایسی وہ واہیات، میں نے دیکھی تو نہیں میں نے سنی ہیں کہ انڈیا کا مذاق اڑا رہے ہیں، مذاق اڑا رہے ہیں۔ نہیں، مذاق نہیں اڑانا ہے، شکر ادا کرنا ہے۔

 اچھا، جب اللہ کے نبی پہنچے ابو سفیان کے سامنے تو ابو سفیان کہنے لگا ’’یا محمد الیوم یوم الملحمہ؟ الیوم تستحل الحرمۃ؟‘‘ آج خون بہانے کا دن ہے؟ آج حرم حلال ہو گیا ہے لڑائی کے لیے؟  آپ نے فرمایا ’’لا، الیوم یوم المرحمۃ‘‘ آج رحمت کا دن ہے۔ تو اس کے بعد پھر آپ نے طواف کے بعد دو نفل پڑھے اور بیت اللہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس طرح اس کی چوکٹوں پہ ہاتھ رکھ لیا۔ ’’ما انا صانع بکم؟‘‘  آج کیا کروں گا تمہارے ساتھ؟ سب کو انتظار تھا گردنیں اڑیں گی۔  جو کچھ انہوں نے کیا تھا تو ،سہیل بن عمرو جو ابھی کہہ رہے تھے …… وہ کہنے لگے ’’کریم ابن کریم‘‘  سبحان اللہ۔ آپ سخی ہیں، سخی کے بیٹے ہیں۔ مہربان ہیں، مہربان کے بیٹے ہیں۔ اٹھارہ  برس جس طرح میرے نبیؐ نے گزارے، تم نے پڑھے ہو نا، تو پھر میری بات کا وزن تم پر پڑے گا ورنہ نہیں پڑے گا۔ میں نے پڑھا ہے، میرا کلیجہ پگھلتا ہے چونکہ میں نے تاریخ پڑھی ہے۔

’’ما انا صانع بکم؟‘‘ انہوں نے کہا ’’کریم بن کریم‘‘۔ آپؐ نے کہا ’’اقول لکم کما قال اخی یوسف لاخوتہ لا تصریب علیکم الیوم انتم الطلقاء‘‘۔   کہا، آج میں وہی کہوں گا جو میرے بھائی یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، جاؤ تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ تصریب کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کے اوپر کوئی جرم ثابت ہی کوئی نہیں۔  

اور یہ جو عدالتوں میں ایک دوسرے کے خلاف کیس کرتے ہیں، سارے جھوٹی ایف آئی آر لکھواتے ہیں۔ ایک قتل کرتا ہے، دس کے نام لکھتے ہیں۔  ایک لاکھ کا نقصان ہوتا ہے، دس  لاکھ کی درخواست دیتے ہیں۔

 میرے نبیؐ نے کہا، جاؤ تم آزاد ہو۔ کہا، نہیں  جی ہم غلام ہیں۔ سب نے کلمہ پڑھ لیا، چند ایک بدقسمت محروم رہے، سب نے کلمہ پڑھ لیا۔ 

تو میں سب سے کہتا ہوں، پوری قوم سے کہتا ہوں، تکبر کا جملہ نہ بولو …… ستر جہاز، کسی ایک جہاز کو ہٹ نہ کر سکیں، دنیا کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا، ان کے سارے نشانے خطا اور ہمارے سارے نشانے صحیح، اور ان کے کتنے جہاز تباہ، اور یہ سارے صحیح سلامت واپس۔ یہ اس اللہ نے کیا ہے۔ اللہ کی قسم اللہ نے کیا ہے۔ اتنا سا تو جہاز ہوتا ہے، چاروں طرف سے گولیاں آ رہی ہیں، کیوں نہیں لگ رہیں، کون روک رہا ہے؟ اللہ۔ تو بھائیو، شکرانے کے نفل پڑھو اور صدقہ کرو اور دعائیں کرو اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کرو، اس کی فرمانبرداری میں جھکو۔ 

ابھی تو ہم اتنے غافل ہیں کہ اور اتنے گناہوں میں پورا ملک برباد ہے اور پھر اللہ نے یہ کر کے دکھا دیا۔ تو جب ہم اس کی مان کر چلیں گے تو کیسے مدد آئے گی۔ 

فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

یہ ہمارے اقبال نے کہا تھا۔ ہم نے تو فضائے بدر پیدا ہی نہیں کی اور فرشتوں کی قطار اندر قطار آ گئی۔ سارے جہاز سلامت آئے ، تاریخ کا معجزہ ہے یہ، یہ تاریخ میں کبھی ہوا نہیں ہے۔  تو بھائیو، شکر ادا کرو، سر جھکاؤ۔ میرے بس میں ہو تو یہ سارے جو بنا رہے ہیں نا اُن کے کارٹون، میں سب کے جا کر پاؤں پکڑوں کہ نہ اللہ کی مدد کو ہم سے دور کرو۔ ہم نہ ظالم ہیں نہ سنگدل ہیں، بطور مسلم۔ ویسے تو ہم سارا کچھ ہیں، لیکن بطور مسلم نہ اللہ کے نبی نے ہمیں ظلم کی اجازت دی ہے نہ سنگدلی کی اجازت دی ہے۔ 

https://youtu.be/qNDYUE9NqKE


مالک، یہ تیرے ہی کرم سے ممکن ہوا

مولانا رضا ثاقب مصطفائی

میرے اللہ نے جو مدد فرمائی اور نصرت فرمائی، اللہ اکبر، ہم کہتے ہیں مالک تیرا ہی شکر ہے، تیرے کرم سے ہی ممکن ہوا، ہم اس قابل بھی نہیں تھے جس طرح ہم آپس میں لڑ رہے تھے، جس طرح ہم معاشی بحرانوں میں مبتلا تھے، جس طرح ہم اپنے ہی ملک کو اپنے ہاتھوں سے نوچ رہے تھے، جس طرح ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے تھے، ہم اس قابل نہیں تھے کہ ہم یہ کر پاتے لیکن مالک تو نے پھر بھی حضورؐ کے صدقے ہمارے اوپر رحم فرمایا، اس قوم سے تو نے کوئی کام لینا ہے، امت کے لیے کچھ کام لینا ہے۔ تو نے ہماری آبرو برباد نہیں ہونے دی، ہماری عزت برباد نہیں ہونے دی، اس ظالم انڈیا کے سامنے تو نے سرخرو فرمایا۔ 

شکر پر علماء نے لکھا ہے کہ احسان اور نعمت کے بدلے میں جو مدح و تعریف کی جائے وہ شکر کہلاتی ہے، اور اس کی تین قسمیں اس اعتبار سے ہیں کہ وہ قولاً‌ بھی ہوتی ہے، فعلاً‌ بھی ہوتی ہے، اور وہ قلباً‌ بھی ہوتی ہے۔  تمہارا دل بھی شکر گزار ہو، تم زبان سے بھی کہو کہ مالک تیرا شکر ہے کہ تو نے یہ کرم کیا۔ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘ (الضحیٰ ۱۱)  اس کا چرچا کرو کہ مالک تیرا کرم تیرے فضل سے ہوا۔ اور پھر تمہارا عمل اور رویہ بتائے کہ تم واقعی اس کے شکر گزار ہو۔ تمہارے اندر عجز پیدا ہو جائے اور تم اپنے مالک اور قریب ہو جاؤ۔ اس کے ساتھ تمہاری توقعات کا جو رشتہ ہے، توکل کا جو رشتہ ہے، وہ اور زیادہ مستحکم ہو جائے۔

تو ہم اس کے حضور شکر گزار ہیں، صد بار شکر گزار ہیں، ہزار بار شکر گزار ہیں، کروڑ بار شکر گزار ہیں، لفظ ساتھ چھوڑ جائیں لیکن مالک تیرے شکر کا حق ادا نہیں ہو سکتا جو تو نے ہمارے اوپر کرم فرمایا اور ہمارے اوپر رحم کیا اور اس امت کو ابرو سے عزت سے جینے کا نور عطا فرمایا اور زندگی کا اجالا بخشا۔ 

اور میں اس موقع پہ بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں کہ اللہ اس امت کو پھر خلافت کا نور عطا کرے (آمین) اور خلیفۃ المسلمین کا رعب پوری دنیا کے اوپر غالب ہو، اور کوئی دنیا کے کونے کے اوپر کسی مسلمان کی طرف میلی نظر سے بھی نہ دیکھ سکے۔ اور اللہ اسلام کو غالب اور سر بلند کرے، اور ان شاء اللہ اسلام نے سر بلند ہو کے رہنا ہے۔ حضور ﷺ کا وہ فرمان پھر دہرا رہا ہوں، میرے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ مٹی، گارے اور پتھر کا بنا ہوا کوئی گھر، چمڑے اور اون کا بنا ہوا کوئی خیمہ باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہیں ہو گا۔

اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ شرق سے غرب تک، شمال سے جنوب تک، پوری کائنات میں ہر چھت پہ جھنڈا میرے حضورؐ کے نام کا جھول رہا ہو گا۔  اور اسلام کا دبدبہ اسلام کی ہیبت پوری دنیا کے اوپر طاری ہو گی۔ ان شاءاللہ وہ وقت آ کے رہے گا، ہم ہوں گے یا نہیں ہوں گے، وہ وقت ضرور آئے گا۔ میں اپنی نسلوں کو وصیت کرتا ہوں کہ جب وہ وقت آئے تو آ کے ہماری قبر پہ ہمیں بتانا کہ وہ وقت اگیا ہے، امام مہدیؒ کا نزول ہو گیا ہے۔ 

اللہم صلی علیٰ سیدنا و مولانا محمد معدن الجود والکرم۔ اللہ، اٹھے ہوئے ہاتھ پھیلی ہوئی جھولیاں کبھی خالی نہ موڑنا۔ اللہ، اس امت کو کھویا ہوا وقار دینا۔ اللہ، ہماری دعاؤں کا بھرم رکھنا۔ اللہ، ہم ہزار جان سے کروڑوں دلوں سے لاکھوں زبانوں سے تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔ اللہ، تو نے میرے وطن کی آبرو پہ انچ نہیں آنے دی، میرے وطن کی عزت کو سلامت رکھا، میرے وطن کے وقار کو سلامت رکھا۔ اللہ، ظالم جابر مکار ہندوؤں سے اللہ ہمیں سرخروئی عطا فرمائی، ان پر ہمیں کامیابی نصیب فرمائی۔ اللہ، کروڑ بار تیرا شکر ادا کرتے ہیں، اللہ تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔ اللہ، تیرے حضور مزید کامیابیوں کے ملتجی ہیں۔ اللہ، ہمیں کسی میدان میں ناکامی دیکھنے نہ دینا۔ ہر جگہ اللہ کامیابیاں عطا فرمانا۔

اور اے اللہ، افواجِ پاکستان کی خیر فرمانا۔ میرے وطن کے گوشے گوشے کی چپے چپے کی خیر فرمانا۔ اے اللہ، ہماری افواج کو اتنی ہمت اتنی طاقت اتنی توانائی اتنی جرأت اتنی صلاحیتیں اور اپنی جناب سے اتنی قوتِ ایمانی نصیب فرمانا کہ وہ اپنے مظلوم غزہ کے بھائیوں کا بدلہ لے سکیں۔ اللہ، اپنے بھائیوں کا بدلہ لے سکیں۔ اللہ، ان لاچاروں کے سر پہ ہاتھ رکھ سکیں۔ 

اپنا خاص کرم و فضل اللہ میرے وطن کا مقسوم فرمانا۔ اللہ، اس قوم کو دنیا کی توانا قوم بنانا۔ اللہ، ہمیں حرب و ضرب کے اسلحہ جات سے لیس فرمانا۔ اللہ، ہماری دھاک دنیا کے اوپر بٹھا دینا۔ اللہ، ہمیں تو نے جو کامیابیاں عطا کیں تیرا شکر بجا لاتے ہیں مزید کامیابیاں نصیب فرمانا۔ اللہ، اپنا خاص کرم و فضل اس وطن کا مقسوم فرمانا۔ اس وطن کو معیشت کا جمال بھی دینا، صالح اقدار کا نور بھی دینا۔ اللہ، اپنا خاص کرم و فضل چھپن ستاون اسلامی ملکوں کا مقسوم کرنا۔ اللہ سب ممالک کو نیک، صالح، پاکیزہ، اہل، دیانتدار اور جرأتمند حکمران عطا کر دینا۔ اللہ، غزہ کے بھائیوں کے لیے، القدس کے چاروں طرف لڑنے والوں کے لیے، اللہ ہمیں مدد کے لیے پہنچنے کی توفیق دینا۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی النبی الامین۔

https://youtu.be/of-UYsxwqd0


بھارت نے اپنا مقام کھو دیا ہے

حافظ نعیم الرحمٰن

انڈیا نے جب یہ پہلگام والا ڈرامہ رچایا تو پوری دنیا میں ایکسپوز ہوا، پوری دنیا کے سامنے یہ بات آئی کہ پاکستان نے تو کہا کہ اس کی انڈیپینڈنٹ آپ تحقیقات کرا لیجیے، وہ خود اس سے پیچھے بھاگ گیا۔ اور آج تک کی تاریخ میں خود انڈیا میں جو اپنی تحقیقات ہوئی ہیں اس کا رزلٹ بھی سامنے نہیں آیا۔ بس الزام در الزام اس نے ایک بات کہی ہے اور وہ کرتے چلے گئے ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اس نے پاکستان پر پھر سے دہشت گردی کے الزام لگانا شروع کیے، اور امریکہ اور اس طرح کے سارے ملکوں کے پاس دوبارہ سے وہی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ پاکستان تو دہشت گردی کا مرکز ہے۔ جس پر امریکہ کے وائس پریزیڈنٹ نے یہ تک بیان دے دیا کہ بھارت تحمل کا مظاہرہ کرے، گویا آپ کی بات تو صحیح ہے لیکن آپ لڑیں نہیں، اس لیے کہ آپ دو نیوکلیئر طاقتیں ہیں، اسکلیشن نہ ہو جائے، جنگ بڑھ نہ جائے۔ امریکہ تو اسی طرح بھارت کو سپورٹ کر رہا تھا لیکن پھر جب حالات بگڑے اور مودی نے ہماری مسجدوں پر حملہ کیا، سویلینز پر حملہ کیا، تو پھر اس کے نتیجے میں یہ بات ہوئی کہ جناب یہ دو نیوکلیئر طاقتیں لڑ جائیں گی۔ تو پاکستان کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا کہ آپ اس کا اس طرح سے جواب نہ دیں۔ 

لیکن الحمد للہ ہماری فوج نے جواب دینا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے ڈرون بھیجنے شروع کر دیے، ڈرون سے پہلے جواب دیتے ہوئے ہماری ایئر فورس نے ان کے سب سے طاقتور ترین جو جہاز ہو سکتے تھے، جس کی بنیاد پر انڈیا اتنا اکڑ رہا تھا، ان کو زمین بوس کیا اور اتنا زمین بوس کیا کہ انہوں نے اپنے رافیل اور بہت سارے جہاز گراؤنڈ کرنا شروع کر دیے کہ اگر یہ زیادہ گر گئے تو بالکل ہی مر جائیں گے۔ یہ ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں پاکستان کی ایئر فورس کے جوانوں کو جنہوں نے اس طرح سے بھارت کو شکست سے دوچار کیا۔

ویڈیو لنک

انڈیا نے اپنا مقام کھو دیا ہے، اب کوئی اس کو علاقے کا چوکیدار نہیں بنا سکے گا، یہاں کا تھانیدار نہیں بنا سکے گا، اب بات ہوگی تو برابری کی سطح پر بات ہوگی۔ انڈیا نے تکبر کا مظاہرہ کیا، ہم نے تدبر کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ہمارے شہریوں پہ گولا باری کی، ہم نے ان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے جھوٹ بولا، ہم لوگوں کو سچ بتاتے رہے۔ ہمیں اخلاقی فتح ملی ہے، ہمیں سفارتی فتح ملی ہے، ہمیں یکجہتی کی فتح ملی ہے۔ اور آج خود مودی، جو ہندوتوا کا سب سے بڑا علمبردار ہے، گجرات کا قصاب ہے، وہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتا ہے، وہ مسیحیوں کا دشمن ہے، وہ اقلیتوں کا دشمن ہے، وہ آسام کے لوگوں کا دشمن ہے، وہ سکھوں کا دشمن ہے، وہ مودی آج خود سوالیہ نشان ہندوستان میں بنا ہوا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عزت دی ہے، تو پھر عزت اور احترام جو ملا ہے اس کا ہمیں حساب بھی دینا ہے۔

ویڈیو لنک

اس پورے عرصے میں جس ملک نے سب سے زیادہ کھل کر بھارت کا ساتھ دیا وہ اسرائیل ہے۔ اس طرح اسرائیل جو دہشت گردی کر رہا ہے، جتنے ہمارے بچوں کو اور عورتوں کو شہید کر رہا ہے، اور جس طرح سے وہ سولیئنز پر اٹیک کرتا ہے، مسجدوں پر، اور اس نے پورے کا پورا غزہ تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ اس کو سپورٹ کرتا ہے یا بھارت سپورٹ کرتا ہے۔ باقی ممالک آف اینڈ آن آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ برطانیہ کی سپورٹ اسے حاصل ہے لیکن کبھی کبھی وہ کوئی دوسری بات بھی کر دیتا ہے۔ لیکن سب سے بڑی سپورٹ اگر اس کو حاصل ہے یا تو امریکہ کے حاصل ہے یا پھر بھارت کی حاصل ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بالکل واضح پیغام ہے کہ اسرائیل اور بھارت بالکل مل کر دہشت گردی کر رہے ہیں، جینوسائیڈ کر رہے ہیں، نسل کشی کر رہے ہیں، اور دونوں میں مشترکات ہیں۔ اور مشترکات میں کیا ہے؟ 

دونوں کے یہ مشترکات انسانیت کو تباہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ لیکن ان کی دونوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟ ان دونوں کی سرپرستی دہشت گردی کا امام امریکہ کر رہا ہے۔

ویڈیو لنک


دس مئی کی فجر ایک عجیب نظارہ لے کر آئی

علامہ ہشام الٰہی ظہیر

معزز سامعینِ گرامی قدر! اللہ رب العزت نے کلامِ حمید میں ایک حکم نازل فرمایا ’’لئن شکرتم لازیدنکم‘‘ (ابراہیم ۸) اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ وہ نعمتیں وہ فضل وہ رحمتیں بڑھاتا چلا جائے گا۔ آج جمعیت اہلِ حدیث پاکستان اور دیگر بعض جماعتوں کی طرف سے ملک بھر میں یومِ تشکر منایا جا رہا ہے۔ کس چیز کا یومِ تشکر؟ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکر بجا لانے کا دن ہے کہ اللہ رب العزت نے یہود و ہنود کے گٹھ جوڑ کو پاکستان جیسے ایک چھوٹے سے ملک کے ہاتھوں شکست فاش دی اور ان کو نشانِ عبرت بنا دیا، الحمد للہ رب العالمین، اور اللہ ہی کا شکر ہے اور اللہ ہی کا فضل ہے۔

بے شک خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے اور ہم پیش کرتے ہیں، پاکستان کے آرمی چیف (عاصم منیر) کو، نیول  کمانڈر (نوید اشرف) کو، ایئر فورس چیف (ظہیر احمد بابر) کو، جوائنٹ چیف (ساحر شمشاد) کو، پاکستان کی فوج کو اور پاکستان کے بچے بچے کو اور پاکستان کی قوم کو۔ پچھلے جمعہ سے لے کر آج کے جمعہ تک حالات کس قدر تیزی سے بدلے کہ پچھلے جمعہ یہاں پہ اسی منبر سے آپ کو غزوۂ ہند کے لیے اور شہادتوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ اور آج ایک جمعہ کے بعد پوری دنیا کے بڑے حکمران پاکستان کے آگے سیز فائر کی بھیک مانگ رہے ہیں، الحمد للہ رب العالمین۔ 

اور یہ اللہ ہی کا فضل ہے، اللہ ہی کی رحمت ہے۔ ’’وما رمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمیٰ‘‘ (الانفال ۱۸)  رسول اللہ نے بھی تیر چھوڑے تو اللہ نے کہا آپ یہ نہ سوچنا یہ تیر آپ کی وجہ سے نشانے پہ لگا، یہ اللہ نے چھوڑا تھا اور اللہ کی وجہ سے نشانے پہ لگا۔ آج مسلمان اس فتح کے اوپر شکر بجا لائیں، اور فخر کفار کے سامنے کرنا جائز ہے درست ہے، لیکن تکبر میں مبتلا ہو جانا، یا عجاب النفس میں مبتلا ہو جانا، یا اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا ہو جانا، یہ اسلام کا شیوہ نہیں ہے۔ حنین کے واقعات میں آپ کے سامنے مفصل طور پر رکھا تھا کہ مسلمانوں کے دل میں خیال آیا کہ آج تو بارہ ہزار سے بھی زیادہ ہیں، جب تین سو تیرہ تھے تب شکست نہیں ہوئی، تو اس وقت ان کے اوپر تیروں کی ایسی بوچھاڑ آئی کہ ان کے قدم اکھڑ گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآن پاک میں مذکور کر دیا کہ حنین کے دن جس وقت اپنی کثرت کے اوپر اِتراتے پھرتے تھے تو پھر کیا ہوا؟ جنگیں عددی اکثریت کے ساتھ، جنگیں وسائل اور ہتھیاروں کے ساتھ نہیں جیتی جاتیں، جنگیں اللہ کی مدد سے جیتی جاتی ہیں ؎ 

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ 
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی 

اور وہ بے تیغ لڑنے والے کو اللہ جب چاہے فتح دے دیتا ہے اور یہ قرآن ان باتوں سے بھرا پڑا ہے کہ بہت سے قلیل تعداد میں لشکر کثیر تعداد کے لشکروں پہ غالب آجاتے ہیں۔ کس کے حکم سے؟ اللہ کے حکم سے۔ یہ فتح اللہ رب العزت نے پاکستانیوں کو دی ہے، اللہ نے دی ہے، تو شکر کس کا بجا لانا ہے؟ اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے اور اللہ ہی کی حمد و ثنا اور اللہ ہی کی تعریف بیان ہونی چاہیے۔ 

لیکن جو بھارت کا میڈیا ہے، اس کو بھی آپ سب ساتھیوں نے آڑے ہاتھوں لینا ہے۔ آپ حیران رہ جائیں گے، پچھلے جمعے میں نے آپ کے سامنے رکھا کہ میں نے ایک خبر سنی کہ لاہور کی بندرگاہ کے اوپر اٹیک ہوا۔ اس کے بعد جب ہم گھر گئے، دو دنوں میں خبریں آئیں، عاصم منیر صاحب گرفتار ہو گئے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ کراچی کے اندر انڈیا کی فوج آگئی ہے، پشاور میں آگئی ہے، لاہور میں آگئی ہے۔ یہ کیا ہے؟ آج پوری دنیا کے سامنے ان کا تماشہ اور تمسخر بنا پڑا ہے۔ لوگوں نے لطیفے بنانا شروع کر دیے ہیں کہ جی رافیل کو نیچے اتارنے کا بٹن کون سا ہے؟ تو لوگوں نے لطیفے بنائے کہ اس کی آپ کو ضرورت نہیں وہ پاکستانی نیچے لے آئیں گے، آپ دائیں بائیں کی بات کریں۔ اللہ کے فضل و رحمت سے یہاں اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان کے چھ جدید ترین طیاروں کو مسلمانوں نے گرایا۔ 

اور پھر دس مئی کی صبح اور فجر ایک عجیب نظارہ لے کر آئی۔ میں حیران تھا، اللہ کی قسم دل میں خوشی بھی تھی اور فخر کے جذبات قدرتی طور پر پیدا ہو رہے تھے، اللہ سے معافی بھی مانگ رہا ہے۔ جہاں سے فوج کی گاڑی گزر رہی ہے نوجوان موٹر سائیکلیں لے کر اس کے پیچھے پیچھے جا رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ یہ میزائل چلانے لگے ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ اور آپ نے وہ تصویریں میڈیا کے اوپر دیکھ لی ہیں، میزائل چل رہے ہیں، فتح ون، فتح ٹو، جو تباہ و برباد کرنے والا ہے، فوجی ترلے کر رہے ہیں پیچھے ہو جاؤ، اِدھر ہی بیٹھے ہیں، ہم دیکھیں گے کہاں تک جا رہا ہے۔ اور اگر بس چلتا ہے انڈیا تک پہنچا کر آتے۔ ساتھ بیٹھ کر۔ 

اور ایک ویڈیو نے تو حیرانگی میں مبتلا کیا، ڈرون طیارہ اڑ رہا ہے، بندہ اپنی گن کے ساتھ اس کو فائر مار رہا ہے، فوجی ساتھ کھڑا ہے، اس کو کہہ رہا ہے آپ کا نشانہ کچا ہے میرا پکا ہے، فوجی کو کہہ رہا ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں نے فوج کے شانہ بشانہ لڑی ہے اور ثابت کیا ہے کہ پاک فوج اور پاک عوام میں کوئی فاصلہ کوئی دشمنی کوئی نفرت موجود نہیں ہے۔ اور اللہ کے فضل و رحمت سے اگر یہ ماحول ہو۔ 

اور ابھی وہ خطرہ ٹلا نہیں ہے، یہ بھی میں آپ کو بتا دوں۔ جب تک پاکستان کے اوپر ڈرون آ رہے تھے، پاکستان کے اوپر حملے ہو رہے تھے، کوئی چودھری میدان میں نہیں اتر رہا تھا۔ نیوٹرل ہیں، جی نیوٹرل ہیں، جی نیوٹرل ہیں۔ جیسے ہی ایک دن فائرنگ کی ہے، اللہ کے فضل و رحمت سے آپ حیران رہ جائیں گے، جنگی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہوا ہے۔ پچاس منٹ کے قریب پاکستان کے طیارے ان کی فضا میں رہے ہیں، ایک جگہ بھی ہٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں ہوئی۔ وجہ؟ پاکستان ایئر فورس کے نوجوانوں نے ان کے ریڈار سسٹم کو پہلے ہی ہیک کر لیا تھا یہاں سے بیٹھے بیٹھے کہ ان کو پتہ ہی نہیں چلا۔ اور وہ جوابی حملہ کرتے کیسے؟ 

اللہ تعالیٰ نے اتنی بیّن اور اتنی فتحِ مبین دی ہے، اس کی بھی کچھ وجوہات ہیں:

ایک تو پاکستانی عوام کا فوج کے ساتھ ایک پیج پہ ہو نا، اور دوسرا پھر فوجی کمانڈر نے جنگ کا نام اور آپریشن کا نام کیا رکھا ہے؟ ’’بنیانٌ مرصوص‘‘۔ حیران رہ جائیں گے آپ کہ انڈیا کا میڈیا یہ پڑھنے سے قاصر ہو گیا۔ ایک بندہ کہتا ہے ’’بنیانِ مخصوص‘‘ خاص قسم کی بنیان۔ یہ آپ اندازہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سورۃ صف میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالی محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں صفیں بنا کر ’’کانھم بنیانٌ مرصوص‘‘  جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیواریں ہیں۔ اور فوجیوں نے اور پاکستان کی قوم نے وہ سیسہ پلائی دیوار (بن کر) ثابت کیا۔ 

اور پھر فجر کے وقت۔ آپ کو پورے سیرت کے باب میں یہ بات سمجھائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سنت طریقہ اور ہمارے مسلمان سپہ سلاروں کا سنت طریقہ یہ رہا ہے کہ یا فجر کے فوراً‌ بعد اللہ کے حضور سجدے کر کے فجر میں گڑگڑا کے دعائیں کر کے دشمن کے اوپر ہلہ بولتے ہیں، یا جمعے کے دن جمعہ کی نماز ادا کر کے دشمن کے اوپر ہلہ بولتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سنتِ نبویؐ کی بھی لاج رکھی اور اس سنتِ نبویؐ کے مطابق عمل کو بھی قبول اور منظور کیا۔

اور حیران کن بات یہ ہے، حیران کن بات، آپ چاہے مطالعہ کر لیں دنیا کی جنگی تاریخوں کا، چالیس طیارے کسی ملک کے اندر پچاس منٹ تک رہے ہوں، اللہ کے فضل و رحمت سے ایک طیارہ بھی ہٹ نہیں ہوا، سارے اللہ کے فضل سے واپس اپنی بیسوں کے اوپر اترے۔ خراجِ عقیدت ہے قوم کے ان بیٹوں کو، ان فوجیوں کو، نیول چیف کو۔ اور جمیعت اہلِ حدیث پاکستان ملک کی تمام مساجد میں آج اسی حوالے سے دوسرے خطبات کے اندر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے، سبحان ربک رب العزت عما یصفون، وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔

https://youtu.be/85d7jNxvK6E



 قومی وحدت اور دفاع کے چند تاریخی دن

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۹ مئی کو جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور میں ’’معرکہٴ حق: بنیانٌ مرصوص‘‘ پر گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپائے تشکر و امتنان ہے کہ اللہ رب العزت نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو، ہمارے حکمرانوں اور افواج کو، بلکہ تمام طبقات کو ایک بہت بڑی آزمائش میں سرخرو فرمایا ہے۔ یہ بڑی آزمائش آ گئی تھی لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے پوری قوم کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ بنیانٌ مرصوص ہو کر سامنے آئی اور اللہ پاک نے اس کی لاج رکھی۔ بنیان مرصوص کا لفظی ترجمہ تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ آج کل تو کنکریٹ ہے، اور بھی نئے طریقے آ گئے ہیں، لیکن کسی زمانے میں کسی دیوار کے مضبوط کرنے کی سب سے بہتر صورت یہ ہوتی تھی کہ اس میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جاتا تھا جس سے دیوار مضبوط ہو جاتی تھی۔

اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، اللہ رب العزت نے ایک جگہ فرمایا، ابھی قاری صاحب جہاد کے حوالے سے وہ آیات پڑھ رہے تھے ’’ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً‌ کانھم بنیان مرصوص‘‘ (الصف ۴) اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو بہت پسند کرتے ہیں جو ایسے متحد ہو کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو۔ اور الحمد للہ ایسا ہی ہوا ہے۔ یہ محاورہ ہے اتحاد اور وحدت کایعنی جب جہاد ہوتا ہے اور دشمن کے مقابلے میں قوم متحد ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے اور اللہ رب العزت سرخروئی عطا فرماتے ہیں۔

انڈیا کے ساتھ ہمارے مسائل تو پچھتر سال سے چل رہے ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی ہے، پانی کا مسئلہ بھی ہے، اور مسائل بھی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے بھی جنگیں ہو چکی ہیں اور اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو آئندہ بھی ہوں گی، اللہ پاک معاف فرمائیں۔ البتہ حالیہ تنازع پانی سے شروع ہوا تھا جو انڈیا نے ایک واقعہ کے بعد بند کر دیا اور پھر پانی کا یہ تنازع فضاؤں کی جنگ میں تبدیل ہو گیا، صورتحال ساری آپ کے سامنے ہے۔ اب سیزفائر کا وقفہ آیا ہے، دعا کریں کہ یہ وقفہ قائم رہے۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’لا تتمنوا لقاء العدو واسلوا اللہ العافیۃ فاذا لقیتموھم فاصبروا واعلموا ان الجنۃ تحت ضلال السیوف‘‘ دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو، یعنی زبردستی لڑائی مول نہ لو، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ عافیت مانگو، اپنے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی، لیکن جب سامنا ہو جائے تو پھر ڈٹ جاؤ، پھر تمہاری جنت تلوار کے سائے میں ہی ہے، پھر بزدلی اور نرمی دکھانا دین کے مزاج کے بھی خلاف ہے اور قومی غیرت کے بھی خلاف ہے۔

اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ یہ حکم بھی دیا ہے ’’واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ و من رباط الخیل ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ (الانفال ۶۰) قوت پیدا کرو جو تمہارے بس میں ہو، اپنی وحدت قائم کرو، اپنے دفاع کو مضبوط کرو۔ جبکہ قوت کا معیار یہ بتایا ہے کہ اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو تم مرعوب رکھ سکو۔ میں اصطلاحی زبان میں اس کا ترجمہ یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ طاقت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہونا چاہیے، دنیا کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کو چھیڑنا آسان نہیں ہے، اور الحمد للہ یہ دنیا کو پتہ چل گیا ہے۔

اس پر ایک واقعہ عرض کرنا چاہوں گا۔ آج کل تو ٹیکنالوجی کی لڑائی ہوتی ہے ، صف بندی کی لڑائی نہیں ہوتی۔ سیاسی طور پر میز کی لڑائی ہے اور فوجی لحاظ سے ٹیکنالوجی کی لڑائی ہے کہ کنٹرول روم میں بیٹھ کر بٹن دبانے ہوتے ہیں۔ پرانے زمانے میں صف بندی کی لڑائی ہوتی تھی۔ امام ترمذیؒ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا زمانہ تھا اور رومیوں کے ساتھ جنگ تھی، آمنے سامنے صفیں کھڑی تھیں کہ ایک نوجوان کو جوش آیا، جیسے نوجوانوں کو جوش آجایا کرتا ہے، اس نے تلوار لی اور نعرے لگاتا ہوا دشمن کی صفوں میں گھس گیا۔ کسی نے اس نوجوان کی جذباتیت پر قرآن پاک کی آیت پڑھی ’’وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم التھلکۃ‘‘ (البقرۃ ۱۹۵) یعنی اپنے آپ کو خود ہلاکت میں نہ ڈالو۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ وہاں کھڑے تھے، کہا کہ ٹھہرو بھئی، یہ آیت تم نے غلط جگہ پڑھی ہے ، یہ اس موقع کے لیے نہیں ہے، یہ آیت تو ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی، اس آیت کا شانِ نزول ہم انصارِ مدینہ ہیں۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ہم انصارِ مدینہ نے الحمد للہ جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے کیا۔ انصار نے سنبھالا بھی ہے اور لڑائیاں بھی لڑی ہیں۔ بدر کی لڑائی لڑی ہے، احد کی لڑی ہے، خندق کی لڑی ہے۔ لیکن جب خیبر کی لڑائی ہوئی تو اس کے بعد صورتحال کافی بدل گئی تھی، ہمارا رعب بھی قائم ہو گیا تھا، خرچے وغیرہ بھی ملنے شروع ہو گئے تھے۔ ہم انصارِ مدینہ نے آپس میں بیٹھ کر مشورہ کیا کہ پہلے ہم وقت بھی بہت دیتے تھے، مال بھی بہت خرچ کرتے تھے، خیبر کی جنگ کے بعد معاشی حالات بھی بہتر ہو گئے ہیں اور دنیا میں ہمارا کچھ رعب بھی بن گیا ہے۔ اس لیے اب ہم ایسا کریں کہ اپنی کھیتی باڑی کی طرف توجہ دیں اور اس کے ساتھ مال اور وقت بھی اس طرح نہ دیا کریں جیسے پہلے دیتے تھے۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ’’وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم التھلکۃ‘‘ اللہ کے راستے میں جہاد پر خرچ کرتے رہو، جہاد میں خرچ پر کمی کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ اپنے دفاع و حفاظت اور اپنی قوت کا خرچہ کم کرنے کا نتیجہ کیا ہو گا؟ اس کا معنی یہ ہے کہ جیسے پہلے وقت دیتے تھے، مال خرچ کرتے تھے اور جہاد کرتے تھے، اسی طرح اپنا ماحول قائم رکھو، ورنہ یہ ’’ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکہ‘‘ کا مصداق ہو گا۔

الحمد للہ ثم الحمد للہ تمام تر رکاوٹوں، طعنوں اور مشکلات کے باوجود پاکستان ایک ایٹمی قوت بنا ہے اور اس کے دنیا پر اثرات بھی ہیں۔ ایک پرانی کہاوت مجھے یاد آئی ہے، امریکہ کے کسی علاقے کی ہے، ایک آدمی کسی سے ملنے گیا، وہ کسی جنگلی علاقے میں رہتا تھا۔ اس نے اپنے میزبان سے اردگرد کے ماحول کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ سب شریف لوگ ہیں اور ہمارا معاملہ ٹھیک چل رہا ہے۔ اس نے پوچھا کہ پھر یہ سامنے رائفل کیوں لٹکائی ہوئی ہے؟ اگر کوئی جھگڑا نہیں ہے، کوئی لڑائی نہیں ہے، لوگ تعاون کرنے والے ہیں تو پھر یہ بندوق کس لیے؟ اس نے جواب دیا کہ اسی کی وجہ سے لوگ اچھے ہیں اور یہ بندوق انہیں شریف رکھنے کے لیے ہی رکھی ہوئی ہے۔

آج کل بین الاقوامی تبصرے آپ پڑھ رہے ہیں کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ بندی کیوں کروائی گئی ہے، اس خوف سے کہ کہیں ایٹم بم کے بٹن پر ہاتھ نہ لگ جائے۔ اسی کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا ہے ’’ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘۔ یہ بات میں ضرور کہوں گا کہ ایٹم بم استعمال کرنا ضروری نہیں ہےلیکن رعب رکھنا ضروری ہے ، اللہ پاک اس کا رعب قائم رکھے۔

ایک اور بات عرض کرنا چاہوں گا کہ جب پاکستان ایٹمی قوت بنا اور دنیا میں اعلان ہوا تو اس پر مضامین بھی بہت لکھے گئے۔ ایک مرتبہ شاید قطر سے لندن جا رہا تھا تو ان طیاروں میں عرب اخبارات ہوتے ہیں، میں نے وقت گزاری کے لیے ’’الاہرام‘‘ پکڑ لیا، یہ مصر کا بڑا اخبار ہے۔ عرب دنیا کا ایک معروف کالم نگار ہے فہمی ہویدی، اس کا کالم اس دن اخبار میں آیا ہوا تھا جس کا عنوان تھا: اسرائیل! ہوشیار۔ اور کالم میں لکھا تھا کہ اسرائیل اب ہمارے سامنے ہوش سے بات کرے، ہم ایٹمی قوت ہیں۔ یہ مصر کا صحافی کہہ رہا ہے۔

ہماری تین قوتیں ہیں جس کا قرآن مجید نے ذکر فرمایا ہے:

  1. سب سے پہلے تو عقیدہ کی قوت ہے جس نے امتیاز پیدا کیا ہے۔ ہماری ہندوؤں کے ساتھ لڑائی کیا ہے؟ وہ بھی ایشیائی ہیں، ہم بھی ایشیائی ہیں، وہ بھی اسی رنگ کے ہیں، ہم بھی اسی رنگ کے لوگ ہیں۔ یہ عقیدے اور تہذیب کی لڑائی ہے جو امتیاز پیدا کرتی ہے۔
  2. اس کے بعد دوسری قوت ہے وحدت۔ الحمد للہ پاکستانی قوم پہ جب بھی وقت آیا ہے ہم اپنے سب جھگڑے بھلا کر اکٹھے ہوئے ہیں، اور اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا ہے، ملک کی سرحدوں کے دفاع میں اور ملک کی سالمیت کے تحفظ میں ہم سب اکٹھے ہیں۔
  3. اور تیسری قوت وہ جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ تمہیں ’’ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ کی کیفیت میں ہونا چاہیے کہ طاقت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہو اور تمہارا رعب قائم رہنا چاہیے۔

ان تینوں کا قرآن مجید نے ذکر فرمایا ہے کہ ایمان و عقیدہ اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت بھی کرو، اپنی وحدت بھی قائم رکھو، اور جو وقت کی قوت ہے اس میں تم کسی سے پیچھے نہ رہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے قومی اداروں کو، ہماری افواج کو، سیاستدانوں کو، اور تمام طبقات کو اس وحدت پر قائم رکھیں، یہ جو چند دن ہمارے آپس میں وحدت کے گزرے ہیں یہ پاکستان کے تاریخی دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایمان کو قائم رکھیں، قوت کو قائم رکھیں، اور اس جذبے کو بھی قائم رکھیں ۔

آزمائشیں آتی رہتی ہیں اور آئندہ بھی آئیں گی۔ ایک آزمائش قومی ہے اور ایک آزمائش ملّی ہے۔ قومی آزمائش تو یہ ہے جس میں الحمد للہ ہم سرخرو ہوئے ہیں۔ اور ملّی آزمائش کا سب سے بڑا مظہر اس وقت غزہ کا مسئلہ ہے اور یہ پوری ملتِ اسلامیہ کی آزمائش ہے۔ دعا کریں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قومی آزمائش میں ہمیں سرخروئی عطا فرمائی ہے، اسی طرح ملّی آزمائش میں بھی امتِ مسلمہ کو سرخروئی عطا فرمائیں، فلسطین اور غزہ کا محاذ اُمت کا محاذ ہے، ہمارا محاذ ہے اور ہمیں اس کو ہر لحاظ سے سنبھالنا چاہیے، اللہ پاک ہم سب کو اسی جذبے کے ساتھ اس محاذ پر بھی کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور سرخروئی بھی نصیب فرمائے، آمین۔

بنیانٌ مرصوص کے ماحول میں یومِ تکبیر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ضبطِ تحریر : ہلال خان ناصر


(۲۸ مئی ۲۰۲۵ء کو الحسنات میڈیا گوجرانوالہ کے اسٹوڈیو میں گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ الحسنات میڈیا گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ یومِ تکبیر کے اہم موقع پر مجھے اپنے سامعین اور ناظرین سے کچھ باتیں کرنے کا موقع فراہم کیا۔ الحسنات میڈیا کے ساتھ تعلق تو بہت پرانا ہے، حافظ عمر فاروق صاحب ہمارے بہت اچھے ساتھی ہیں، بہت اچھا کام کر رہے ہیں، دینی اعتبار سے، ملی اعتبار سے، اور ان ساتھیوں میں سے ہیں جن کو کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ اللہ پاک اس ادارے کو اور اس ٹیم کو برکتوں، ترقیات اور ثمرات سے نوازیں اور ملک کا، دین کا، قوم کا زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

میں ایک دو باتیں یومِ تکبیر کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا۔ آج ۲۸ مئی ہے، اس دن پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر کے خود کو ایٹمی قوتوں کے ایٹمی ممالک کی صف میں شامل کیا تھا، جو قوم کے ایک بہت دیرینہ خواب کی تعبیر تھی۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم ’’یومِ تکبیر‘‘ منا رہے ہیں اور ’’بنیانٌ مرصوص‘‘ کے ماحول میں منا رہے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ہمارے لیے اعزاز کی بات ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت بنا، اس نے عالمی قوتوں کے درمیان ایک مقام حاصل کیا، اور پھر آج کے دور میں بنیانٌ مرصوص کے ذریعے ہم نے اپنی حیثیت تسلیم کروائی کہ ہم قابلِ شکست نہیں ہیں، قوت میں ہمارے پاس وہ توازن موجود ہے کہ ہم پر کوئی فیصلہ کوئی بات زبردستی مسلط نہیں کی جا سکتی۔

اس کے ساتھ ہمارے پاکستان کی ایک امتیازی حیثیت ہے، پاکستان صرف ایک ملک نہیں ہے، یہ کچھ مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا، حاصل کیا گیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم، ان کے رفقاء اور ان کے ساتھ بالخصوص جو دینی قیادت تھی، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، حضرت مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ، مختلف مکاتبِ فکر کے ان اکابر علماء کرام کا ایک واضح مقصد تھا کہ ایک اسلامی ریاست کے طور پر ایک ملک وجود میں آئے۔ اور میں اسے اسلام کا ایک معجزہ کہا کرتا ہوں کہ ۱۹۲۴ء میں عالمی طاقتوں نے مل کر ہماری نظریاتی ریاست خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کروایا تھا، اور ۱۹۴۷ء میں اسلام کے نام پر ایک نئی نظریاتی ریاست وجود میں آ گئی تھی اور مسلمانوں نے، امتِ مسلمہ نے اپنا تشخص تسلیم کروایا اور پاکستان وجود میں آیا۔

پاکستان کو خراب کرنے کی اور ختم کرنے کی بڑی کوششیں ہوئی لیکن پاکستان جن مقاصد کے لیے وجود میں آیا تھا کہ دنیا میں امتِ مسلمہ میں وحدت قائم ہو اور اسلامی نظریاتی ریاست بحال ہو، انشاء اللہ العزیز پاکستانی قوم پوری وحدت کے ساتھ اور یکجہتی کے ساتھ اس مقصد کی طرف پیشرفت جاری رکھے گی، اور الحمد للہ پاکستان کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی کوئی قومی مسئلہ پیش آیا قوم متحد رہی ہے۔

اور آج یومِ تکبیر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے وحدت بھی قائم رکھنی ہے، قوت بھی قائم رکھنی ہے اور اپنا تہذیبی، اعتقادی، ایمانی ایجنڈا بھی قائم رکھنا ہے تاکہ باوقار طریقے سے پاکستان عالمِ اسلام کی قیادت کر سکے اور ہم اپنے قیامِ ملک کے نظریاتی، تہذیبی اور علاقائی مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔ اللہ پاک ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں۔

میں ایک بار پھر الحسنات میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس ادارے کو زیادہ سے زیادہ ملک و قوم کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ میں وقتاً‌ فوقتاً‌ انشاء اللہ العزیز الحسنات میڈیا کے ذریعے اس کے ناظرین اور سامعین سے گفتگو کرتا رہوں گا، اللہ پاک توفیق سے بھی نوازیں، برکات اور ثمرات سے بھی نوازیں، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

پاک بھارت کشیدگی کے پانچ اہم پہلو

جاوید چودھری

فرخ عباس

(یوٹیوب چینل ’’این ٹی وی‘‘ پر جناب جاوید چودھری اور فرخ عباس صاحب کے ۱۵ مئی کو نشر ہونے والے شو کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔)

(۱) پاکستان کے تیار کردہ سسٹمز

چلتے ہیں اپنی سب سے پہلی سٹوری کی طرف، ہمارا خطرناک ترین ہتھیار، ایک ایسا ہتھیار جس نے پوری جنگ پلٹ کے رکھ دی، جس نے تباہی پھیر کے رکھ دی ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ آپ کو بتائیں گے آج کی اپنی پہلی سٹوری میں۔

اچھا، اس طرح ہے کہ فضائیہ کے اندر کیونکہ بہت سارے کمپوننٹس ہوتے ہیں، بہت سارے پاس جہاز ہوتے ہیں، بہت سارے ہتھیار ہوتے ہیں، ان سب کو Synchronize (مربوط) کرنا، ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے، ایک کمیونیکیشن سسٹم کے اندر پرونا، یہ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اور عموماً‌ ملک اس چیز کے اندر پریشان ہوتے ہیں۔ مثلاً‌ فرض کریں کہ انڈیا نے رافیل طیارے خریدے ہیں، تو نیچے اس کا جو ریڈار سسٹم ہے، رافیل طیاروں کا اس ریڈار سسٹم کے ساتھ کمیونیکیشن لنک نہیں بن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب رافیل طیارے گرے تو انڈیا کے اندر کافی بحث شروع ہوئی اور انڈیا کو یہ بتایا گیا کہ آپ کا جو ریڈار سسٹم ہے وہ چونکہ طیاروں کے ساتھ سینکرونائز نہیں ہو رہا، اس وجہ سے کمیونیکیشن گیپ پیدا ہو رہا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے پورے گراؤنڈ سسٹم کو تبدیل کر کے وہ بھی رافیل والوں سے خریدیں تاکہ دونوں کا آپس میں لنک ہو سکے۔ یعنی انڈیا کو پرانا سسٹم نکال کر رافیل والوں سے ہی نیا سسٹم خریدنا چاہیے تاکہ وہ جہازوں کے ساتھ مل کر صحیح کام کر سکے۔ 

اب پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس مختلف برانڈز کے جہاز ہیں، مثلاً‌ ایف سولہ امریکہ کے ہیں، جے ٹین چائنہ کے ہیں، جے ایف ۱۷ پاکستان اور چائنہ نے مل کر بنایا ہے، اس کے علاوہ میراج (فرانس کے) ہیں، ظاہر ہے یہ مختلف ملکوں کے برانڈز ہیں۔  اسی طرح نیچے جو گراؤنڈ سسٹمز ہیں وہ بھی مختلف ملکوں کے ہیں، جرمنی سے خریدا ہے، چیک ری پبلک سے خریدا ہے، امریکہ سے خریدا ہوا ہے، چائنہ سے خریدا ہوا ہے، اٹلی سے بھی ہے۔ یہ سارے ریڈار سسٹمز اور گراؤنڈ سسٹمز ملک کے مختلف حصوں میں نصب کیے گئے ہیں۔ اب ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اور ایک سسٹم کے تحت لانا بہت مشکل کام ہے اور تقریباً‌ ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ملک نے اپنی ٹیکنالوجی صرف اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اور کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی ٹیکنالوجی کسی اور ملک کے پاس چلی جائے، اس کے لیے ظاہر ہے انہوں نے بیریئرز لگائے ہوتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ جرمنی کے سسٹم کو اٹلی کے ساتھ سینکرونائز کر لیں، کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو پھر ان ٹیکنالوجی کی Hegemony (بالادستی/انفرادیت) ختم ہو جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ نے تبدیلی کر کے ان کا سسٹم بریک کر لیا ہے، جس پر وہ فخر کر رہے تھے کہ ہمارا سسٹم کبھی ہیک نہیں ہوا۔ 

پاکستان نے کمال یہ کیا ہے کہ ہمارے پاکستانی لڑکوں نے یہاں بیٹھ کر دو سسٹمز تیار کر لیے ہیں۔ ایک تو انہوں نے ان سب ٹیکنالوجیز کو، مختلف برانڈز کے جو جہاز تھے، انہیں ایک سسٹم کے اندر سینکرونائز کر لیا ہے۔ اس کو انہوں نے نام دیا ہوا ہے Vision Link کا جو کہ پاکستان ایئرفورس کے سنٹرل کمانڈ سسٹم کے اندر موجود ہے اور یہ صرف اور صرف پاکستانیوں نے خود بنایا ہے اس میں کسی اور ملک کا کوئی کمال نہیں ہے۔  اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی لڑکوں نے جو کمال کیا وہ یہ تھا کہ انڈیا کے سائبر سسٹم کو انہوں نے ہیک کر لیا، اور انہوں نے یہ ایسا سسٹم بنایا ہوا تھا جس کی انہوں نے کبھی کسی کو سرگوشی بھی نہیں ہونے دی، یہ ایک سرپرائز ایلیمنٹ تھا جسے سن کر جسے دیکھ کر پوری دنیا حیران رہ گئی۔

چھ اور سات مئی کو پاکستان نے ویژن لنک کو استعمال کرتے ہوئے ان کے رافیل طیارے گرا لیے، اور اس پر ظاہر ہے پوری دنیا کے اندر کہرام بچ گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ رافیل طیارہ آج تک گرا ہی نہیں۔ اور وہ بھی انہوں نے جے ٹین طیارے کی مدد سے گرایا ہے، جس نے زندگی میں پہلی مرتبہ رافیل طیارہ بلکہ کوئی بھی تیارہ گرایا ہے۔ اور یہ ٹیکنالوجی ظاہر ہے کہ چائنہ کے پاس بھی نہیں تھی۔ سوال یہ تھا کہ یہ پاکستان کے پاس آئی کہاں سے۔ اس کے بعد ۱۰ مئی آیا تو پاکستان نے ان کا سارا سسٹم ہیک کر لیا، کمیونیکیشن جام کر دی۔ چنانچہ چھ و سات مئی اور پھر ۱۰ مئی کے دونوں موقعوں پر پاکستان نے یہ اپنے خفیہ ہتھیار استعمال کیے۔ 

اس کے ساتھ ایک خبر اور نکلی ہے کہ قطر کے پاس بھی رافیل تیارے ہیں اور پاکستان قطر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ایکسرسائزز کرتا رہا ہے۔ یعنی جب ہمارے پائلٹس وہاں جاتے تھے تو ظاہر ہے انہوں نے وہاں رافیل طیارے دیکھے ہیں، انہیں چلایا ہے، ان کے سسٹم کو سمجھا ہے، تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا، اس نے پاکستان کو اپنا سسٹم بنانے میں بہت مدد دی۔ 

ایک اور بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ماہرین نے یہاں تک مہارت حاصل کر رکھی ہے کہ اپنے راڈار سسٹم پر ان کے طیاروں کی نقل و حرکت دیکھ کر وہ بڑی حد تک بتا دیتے ہیں کہ یہ کس برانڈ کا طیارہ ہے، یہ رافیل ہے، میراج ہے، مگ ہے یا ایس یو طیارہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے پاس زیادہ ٹیکنالوجی نہیں ہوتی، زیادہ وسائل نہیں ہوتے، تو ایسے حالات میں انسانی جبلت بہت تیز ہو جاتی ہے۔ تو پاکستانی ماہرین نے اپنی سینسز کو بہت شارپ کر لیا ہے کہ وہ ان کے طیاروں کی نقل و حرکت سے بتا دیتے ہیں یہ کونسا طیارہ ہے۔ 

(۲) چین سے سٹیلتھ ٹیکنالوجی والے J-35 طیاروں کی خریداری

جہازوں کی گیم چل رہی ہے، جہازوں کی ٹیکنالوجیز میں رافیل 4.5 گریڈ کا طیارہ ہے، اس سے اوپر کے طیارے الگ ٹیکنالوجی کے شمار ہوتے ہیں۔ یہ الگ ٹیکنالوجی کیا ہے اور کتنی خطرناک ہے؟ اور اگر وہ ٹیکنالوجی پاکستان کے پاس آجاتی ہے تو یقین مانیں آپ اس جہاز پر بیٹھ کر ان کے سارے شہر دیکھ کر آ سکتے ہیں اور شاید انڈیا کو اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ اگلی ٹیکنالوجی والے ففتھ جنریشن (پانچویں نسل) کے جہاز کہلاتے ہیں جن پر سٹیلتھ ٹیکنالوجی نصب ہوتی ہے جو راڈار میں نہیں آتی۔ 

آپ کو یاد ہو گا کہ جب امریکہ نے اسامہ بن لادن والا آپریشن کیا تھا اور ان کے ہیلی کاپٹرز افغانستان سے ایبٹ آباد تک آ گئے تھے لیکن ہمارے راڈاروں کو ان کا پتہ بھی نہیں چل سکا تھا۔ یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی والے ہیلی کاپٹرز تھے جو راڈار پر نظر نہیں آتے۔ اس آپریشن کے دوران ایک واقعہ یہ ہوا تھا کہ ان کے ایک ہیلی کاپٹر کا پر دیوار سے لگنے کی وجہ سے وہ اڑ نہیں سکا تھا اور اس میں آگ لگ گئی تھی۔ پھر امریکیوں نے اس کے اندر بم لگا کر اسے تباہ کر دیا تھا تاکہ اس کی ٹیکنالوجی کسی کے ہاتھ نہ لگ جائے، لیکن شاید وہ ہیلی کاپٹر پوری طرح تباہ نہیں ہو سکا۔ بعد میں امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے وہ سارا ملبہ چائنہ کو دے دیا تھا جس نے ریورس انجینئرنگ کر کے اس کی سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا پتہ لگا لیا تھا۔  

چائنہ نے پہلے جے 20 طیارہ بنایا تھا اور اب ان کا جدید طیارہ جے 35 ہے جس کے اندر سٹیلتھ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اور یہ سپر سونک طیارے ہیں یعنی ان کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ پاکستان نے چائنہ کے ساتھ جے 35 طیاروں کا سودا کیا ہے اور پاکستان کے پائلٹ چین جا کر اب اس کی ٹریننگ بھی لے رہے ہیں۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ 2025ء کے آخر تک یہ ہمیں جہاز مل جائیں گے۔ دوسری طرف  انڈیا امریکہ کے ساتھ ایف 35 جہازوں کا سودا کر رہا ہے۔ 

(۳) چین کی طرف سے اوروناچل پردیش میں ناموں کی تبدیلی

اگر آپ کبھی تبت جائیں اور اس کے پہاڑوں سے نیچے اترنا شروع کریں تو ہمالیہ کے پاس ایک جگہ آجاتی ہے جس کے ایک سائیڈ پر بنگلہ دیش ہے، دوسری سائیڈ پر نیپال ہے اور تیسری سائیڈ پر انڈیا ہے۔ یہ تین ملک وہاں پر ملتے ہیں۔ وہاں سے جو دریا اترتے ہیں وہ بنگلہ دیش سے ہوتے ہوئے، کچھ پانی نیپال کو دیتے ہوئے، کچھ انڈیا کو دیتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ وہاں پہ ایک علاقہ ہے ’’اوروناچل پردیش‘‘ جس کے بارے میں انڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کا ہے، اور چائنہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا حصہ ہے۔  

ان علاقوں کے اوپر چائنہ اور انڈیا کے درمیان 1962ء کے دوران باقاعدہ جنگ بھی ہوئی تھی۔ اس وقت نہرو صاحب امریکہ کے پاس گئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آپ پاکستان کو کہیں کہ اس موقع کا فائدہ نہ اٹھائیں کیونکہ ہماری چائنہ کے ساتھ جنگ ہو رہی ہے۔ انڈیا کو خطرہ تھا کہ کہیں پاکستان حملہ کر کے کشمیر اپنے قبضے میں نہ کر لے۔ تو امریکیوں کے کہنے پر جنرل ایوب خان صاحب نے اس کو گارنٹی دی تھی کہ آپ آرام سے جنگ لڑیں، ہم ابھی فارغ نہیں ہیں، ادھر قبضہ نہیں کریں گے۔ آج تک مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ اس وقت بڑا سنہری موقع تھا جب چائنہ کے ساتھ انڈیا مصروف تھا، اگر جنرل ایوب خان صاحب اس وقت کشمیر کے اوپر قبضہ کر لیتے تو آج کشمیر پاکستان کا ہوتا، لیکن بہرحال وہ موقع ہم نے ضائع کر دیا۔ 

اس میں سے کچھ علاقہ چائنہ کے پاس ہے کچھ علاقہ انڈیا کے پاس ہے۔ اب معاملہ یہ ہوا ہے کہ چائنہ نے اوروناچل پردیش کے علاقوں کے نام چائنیز میں تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں، کوئی چھبیس ستائیس جگہیں ایسی ہیں جہاں انہوں نے اپنے نام رکھ لیے ہیں۔ انڈیا اس پر بہت زیادہ پریشان ہے کیونکہ اگر چائنہ وہاں سے اتر کر انڈیا کے بارڈر پر دستک دینا شروع کر دیتا ہے تو انڈیا کی سیون سسٹرز اسٹیٹس میں سے ایک ان کے پاس چلی جائے گی۔ اس کے ساتھ چائنہ نے اسی علاقے میں بنگلہ دیش کے اندر ان کے ساتھ مل کر ایک ایئر بیس بنانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ تو اس وقت انڈیا تین جگہوں سے پھنس چکا ہے: چائنہ سے، بنگلہ دیش سے، اور پاکستان سے۔

(۴) پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے متعلق بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ

عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے پاکستان کے متعلق ایک رپورٹ دی ہے۔ پاکستان کے متعلق ایک بہت ہیوی کمپین کی گئی تھی اور پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ دراصل اس کا جواب آیا ہے۔ 

جتنے بھی ایٹمی ممالک ہیں ان کے ایٹمی ہتھیار خفیہ نہیں ہوتے بلکہ خود ان کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کہاں پر اسٹور کیے گئے ہیں۔ انڈیا بھی خود بتاتا ہے، پاکستان بھی خود بتاتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کہیں چھوٹی موٹی چھیڑ چھاڑ کے دوران کسی غلط فہمی کی وجہ سے کوئی دوسرا ملک وہاں ہٹ نہ کر دے، کیونکہ اس سے ایک بہت بڑی تباہی ہو جائے گی۔ 

انڈیا نے ایک دعویٰ یہ کیا ہے کہ جب ہم نے سرگودھا پر حملہ کیا تھا تو جہاں پر پاکستان کے ایٹمی اثاثے تھے اس جگہ کو ہم نے ہٹ کر دیا تھا جس کے بعد ریڈییشن نکلنا شروع ہو گئی۔ اور یہ اتنا زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ لوگوں نے اس کو بین الاقوامی سطح پر بھی سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ جب اس طرح کی خبر آتی ہے تو  ایک ادارہ ہے IAEA جس کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کہتے ہیں، وہ فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے، ان کا ویانا میں ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ بنا ہوا ہے جو ایٹمی تنصیبات میں جا کر کے چیزوں کو چیک کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے ایکوپمنٹس اور پروٹوکولز استعمال کیے اور اس کے بعد اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں کسی جگہ کوئی گڑبڑ نہیں ہے اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بین الاقوامی سطح کا ہے، بالکل اسی طرح جیسے یورپ اور امریکہ کا ہے، لہٰذا یہاں پہ کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے انڈیا کو بہت زیادہ ڈسٹرب کیا ہے کیونکہ انڈیا نے اس بارے میں بہت پروپیگنڈا کیا تھا۔

(۵) بگلیہار اور اڑی پراجیکٹ پاکستان کے نشانے پر

(سندھ طاس معاہدہ کی رو سے) پاکستان کے حصے میں تین دریا آئے تھے، سندھ، جہلم اور چناب، ان کے پانیوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ دریائے جہلم کے اوپر انڈیا نے اڑی پراجیکٹ (اور کشن گنگا) ڈیم بنا لیا، جبکہ دریائے چناب کے اوپر انہوں نے بگلیہار ڈیم بنا دیا۔ ان کی وجہ سے پاکستان کا پانی کم ہو جاتا ہے، یا جب مون سون ہوتی ہے تو پانی چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے سیلاب آجاتے ہیں۔ 

حالیہ پاک بھارت تصادم کے دوران پاکستان نے بگلیہار ڈیم اور اڑی ڈیم دونوں کو (میزائل حملوں کے لیے) لاک کر لیا تھا۔ کشیدگی کے دوران جب میزائل مارے گئے تو انڈیا نے پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کو بھی معمولی نقصان پہنچایا تھا۔  وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ہمارے پراجیکٹ کو اگر واقعی نقصان پہنچتا تو ہم نے بگلیہار ڈیم کو اڑا دینا تھا۔ اور اس خبر کے اندر ایک اور خبر یہ ہے کہ پاکستان نے ان دونوں ڈیموں کو لاک کیا ہوا ہے، اگر کسی قسم کی گڑبڑ ہوئی، اگر پاکستان کو انڈیا کی طرف سے پانی نہیں ملتا تو پاکستان نے یہ ڈیم اڑا دینے ہیں۔ 

 اللہ حافظ، پاکستان زندہ باد۔

https://youtu.be/6BeuaT8H02M


پاک بھارت تصادم کا تجزیہ: مسئلہ کشمیر، واقعہ پہلگام، آپریشن سِندور، بنیانٌ مرصوص، عالمی کردار

سہیل احمد خان

مورین اوکون

پاکستانی ہائی کمیشن کے ’’نیوز ایجنسی آف نائجیریا‘‘ کے ساتھ انٹرویو سیشن میں خوش آمدید۔ میرا نام مورین اوکون ہے۔ اس قسط میں ہم آپ کے سامنے بین الاقوامی حقائق کے حوالے سے تازہ ترین تجزیہ پیش کریں گے، جیسا کہ ایشیا، جو دنیا کی تقریباً نصف آبادی کا خطہ ہے، ایک ایسا اہم خطہ ہے جہاں کے فوجی تنازعات اور دیگر سرگرمیاں جیسے سیاسی، اقتصادی یا ماحولیاتی، براعظموں اور منڈیوں پر گہرے عالمی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ حال ہی میں ایک اور شدید پاک بھارت جھگڑے کا مشاہدہ کیا گیا جس میں فضائی حملے، سرحد پار جھڑپیں، اور جارحانہ سفارتی بیانات شامل تھے، جس سے برصغیر میں عدمِ استحکام کا خوف بڑھ گیا۔ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں عزت مآب جناب سہیل احمد خان، نائیجیریا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہائی کمشنر، ایک ممتاز سفارتکار جو مسلح تنازعات، بین الاقوامی تعلقات، علاقائی اور عالمی حرکیات کے مطالعہ میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔

جناب ہائی کمشنر! آپ کو خوش آمدید۔

سہیل احمد خان: السلام علیکم اور صبح بخیر۔

مورین اوکون: ہم اس سال 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے سے شروع کرتے ہیں جو جموں و کشمیر کے پہلگام کے قریب ایک علاقے میں ہوا، جس میں 26 شہری ہلاک اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، جسے پاکستانی حکومت نے مسترد کر دیا۔ اس پر آپ کا کیا موقف ہے اور اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

سہیل احمد خان: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم اور صبح بخیر۔ مورین، میں آپ کا اور آپ کی ایجنسی کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ایک بہت اہم موضوع کشمیر پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی دعوت دی۔ کشمیر اس وقت دنیا کا ایک مسئلہ ہے، یہ اس وقت سب سے بڑا ’’نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘‘ بن چکا ہے اور اس موضوع پر بات کرنا انتہائی اہم ہے۔ مجھے مدعو کرنے کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

اس پہلگام واقعے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے، میں آپ کے سامعین کے فائدے کے لیے چیزوں کو صحیح تناظر میں رکھنا چاہوں گا۔ بنیادی طور پر، میں آپ کو کشمیر اور مسئلہ کشمیر کا پس منظر بتانا چاہوں گا۔ کشمیر کے دو حصے ہیں: ایک آزاد کشمیر ہے جو پاکستان کے زیر انتظام ہے، اور دوسرا بھارت کا غیر قانونی مقبوضہ کشمیر ہے جو کشمیر کا بڑا حصہ ہے۔ اگست 1947ء میں برطانیہ نے برصغیر چھوڑا، دو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، بھارت اور پاکستان۔ اس وقت تنازع کا مرکز کشمیر کا علاقہ تھا۔ تب سے کشمیری عوام نے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے مقامی جدوجہد کی ہے۔ یہ معاملہ 1950ء کی دہائی کے اوائل میں بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر جواہر لال نہرو نے اقوامِ متحدہ میں اٹھایا تھا۔ اور اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادیں منظور کی ہیں جن میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں رائے شماری کروائی جائے تاکہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کے لوگوں کو حقِ خود ارادیت دیا جا سکے۔

چنانچہ یہ صورتحال ہے، کشمیریوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں، ہزاروں خواتین کو قتل کیا گیا ہے، اور ہزاروں لوگ بہت لمبے عرصے سے جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد فراہم کی ہے۔ 8 لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی ایک ایسے علاقے میں تعینات ہیں جہاں 10 ملین (ایک کروڑ) سے کچھ زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ اس طرح دراصل دس عام افراد پر جبری قوت کا ایک مسلط کردہ شخص ہے۔ اور اگر آپ بوڑھے لوگوں، بچوں، خواتین کو نکال دیں، تو شاید یہ تناسب ایک بمقابلہ ایک بالغ شخص ہو جاتا ہے۔ تو، یہ وہ صورتحال ہے جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے۔

پہلگام واقعے پر آتے ہیں۔ یہ واقعہ 22 اپریل کو پیش آیا۔ بھارتی میڈیا میں ایک زبردست بے قابو جنگی جنون پیدا ہوا۔ اور ہوا یہ کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک تھا جس نے فوری طور پر اس خوفناک جرم کی مذمت کی۔ پاکستان دنیا میں کہیں بھی ہونے والی کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے بالکل خلاف ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے اس قسم کا خوفناک جرم انجام دیا یا اس کی سرپرستی کی، جو کہ ناممکن تھا۔

پہلگام ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ پاکستان گزشتہ 77 سالوں سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت کر رہا ہے۔ سیاح مارے گئے۔ سیاحت، جو پہلگام کے لوگوں کا واحد ذریعۂ معاش ہے، وہ متاثر ہوا ہے۔پاکستان ایسا کیوں کرے گا؟ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

اور پھر فرض کریں، اگر دہشت گرد پاکستان سے آتے تو وہ لائن آف کنٹرول (LoC) سے گزرتے ہیں، جہاں مکمل طور پر باڑ لگی ہوئی ہے، لائن آف کنٹرول کا ہر انچ گولیوں کی رینج میں ہے، اور پھر 8 لاکھ فوجی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیں۔ اور یہ دہشت گرد اس باڑ سے گزر کر، لائن آف کنٹرول پر تعینات فوجیوں سے بچ کر، مقبوضہ کشمیر میں گہرائی تک جا کر یہ آپریشن کرتے ہیں اور اچانک فضا میں غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچا نہیں جا سکتا، یہ قابل قبول نہیں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ 

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ ہم کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شامل ہیں۔ ہم نے 80 ہزار سے زیادہ لوگ کھوئے ہیں، شہری اور فوجی دونوں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ اس لیے ہم دہشت گردی کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟ پاکستان اس وقت دنیا کے لیے واحد مضبوط دفاع ہے، دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ایک دیوار ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو پاکستان نے دی ہیں، جو پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی ہیں۔

پاکستان نے فوری طور پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور یہ بھی پیشکش کی کہ اگر کوئی فورم اس خاص واقعے کی تحقیقات کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تو ہم سہولت فراہم کریں گے۔ اب، جب کہ میں دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں:

پاکستان نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں دنیا کا کوئی بھی ملک دہشت گرد قرار نہیں دے سکتا، کیونکہ ہم نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے، ہم ہمیشہ عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست رہے ہیں۔ اور میں دنیا سے توقع کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کے اس کردار کو محسوس کرے۔ مجھے امید ہے کہ اس میں آپ کے سوال کا جواب آ گیا ہو گا۔

مورین اوکون: جی ہاں، آپ نے سوال کا بہت واضح جواب دیا۔ ہائی کمشنر نے ابھی پاکستان کے بارے میں ایک مضبوط موقف پیش کیا کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار نہیں دیا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ سر، اس حالیہ تنازع کے بعد بھارت نے ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کو معطل کر دیا جسے پاکستان نے ’’جنگ کا عمل‘‘ قرار دیا۔ اسی طرح بھارت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی معطل کر دیے۔ پاکستان ان یکطرفہ اقدامات کو چیلنج کرنے کے لیے کیا قانونی یا سفارتی کارروائی کر رہا ہے؟

سہیل احمد خان: جی مورین۔ یہ بھارت کا ایک ایسا ردعمل تھا جو ناپسندیدہ اور غیر ضروری تھا، اور جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک خالی بوری سیدھی نہیں رہ سکتی‘‘۔ تو میں کہوں گا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور ’’مقدس’’ ہے، اسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

دوسری بات یہ کہ کوئی بھی ذمہ دار قوم پانی کو ہتھیار نہیں بنائے گی، جو کہ زندگی کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اور گزشتہ چند سالوں میں سرحد پار سے دھمکیاں آتی رہی ہیں کہ ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان پانی کے ہر قطرے کے لیے بھیک مانگے‘‘۔ پچیس کروڑ سے زیادہ آبادی کو بھوک سے مرنے کی دھمکی دینا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ اور میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ اگر پاکستانی قوم کی بقا داؤ پر لگی تو پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہو گا۔ دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ اور بھارت کو بھی بنیادی طور پر بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی ٹریٹیز کی پابندی کرنے کے لحاظ سے اپنی ساکھ پر غور کرنا چاہیے۔ میں اس معاملے کو اس طرح سے دیکھتا ہوں۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگر سمجھداری سے کام لیا گیا تو بھارت پانی کو ہتھیار بنانے کے اس آپشن پر نہیں جائے گا۔

مورین اوکون: جناب ہائی کمشنر، 7 مئی کو بھارت نے آپریشن سِندور کیا جس میں مبینہ طور پر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستان نے شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ پاکستان اس دعوے کے بارے میں کیا کہتا ہے اور اس نے شہریوں کی ہلاکت کے اپنے دعوے کی تائید میں بین الاقوامی برادری کو کیا ثبوت پیش کیے ہیں؟ اور اس نے جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کو نشانہ بنانے کے بھارت کے الزامات کا کیا جواب دیا؟

سہیل احمد خان: جی مورین، سب سے پہلے مجھے اس بات پر زور دینا چاہیے کہ پاکستان کا سرکاری موقف ہمیشہ حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ بھارت نے تمام بین الاقوامی اصولوں کے خلاف یہ جارحانہ کارروائی کی۔ انہوں نے 9 مقامات پر حملہ کیا جن میں سے 4  مقامات پاکستان کے مرکزی علاقے کے اندر تھے، باقی آزاد کشمیر کے متنازعہ علاقے میں تھے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہے۔ اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 کٹر دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے صرف مساجد، مذہبی مقامات، ان مساجد سے منسلک مدارس، اور شہروں اور قصبوں کے وسط میں موجود گھروں پر حملہ کیا۔ اور جن دہشت گردوں کی وہ بات کر رہے ہیں، اصل میں 35 سے زائد شہری ہلاک ہوئے جن میں 8 خواتین اور 11 بچے شامل تھے۔ کیا وہ ان 100 دہشت گردوں میں شامل ہیں؟ کیا وہ ان ایک سو دہشت گردوں کو مارنے کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟ پاکستانی حکومت نے، ہمارے لوگوں نے بین الاقوامی صحافیوں کو ہر مقام پر لے جا کر انہیں ہر وہ جگہ دکھائی، ان 35 معصوم شہریوں کے جنازے دکھائے گئے۔

مجھے امید ہے کہ اس سے آپ کو نام نہاد بھارتی میزائل حملے کے حوالے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کیمپوں کے متعلق سوال کا جواب مل گیا ہو گا۔ کوئی دہشت گرد ٹھکانے یا کیمپ نہیں تھے۔ میں نے آپ کو اپنے پچھلے جواب میں پہلے ہی بتایا ہے کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے بالکل خلاف ہے۔

مورین اوکون: ہائی کمشنر، 9 مئی کو بھارت نے پاکستانی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جس سے تنازع مزید بڑھ گیا۔ پاکستان نے اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا کیا اندازہ بتایا ہے؟ اس نے امن کو خطرے میں ڈالے بغیر مزید حملوں کو کیسے روکا؟ اور دوسرا، پاکستان نے 10 تاریخ کو آپریشن بنیانٌ مرصوص کیا جو بھارتی فوجی اڈوں پر پاکستانی فوجی حملہ تھا۔ اس آپریشن کے اہداف کیا تھے؟

سہیل احمد خان: جہاں تک پاکستان کی موجودہ صورتحال کا تعلق ہے، یہ مجھے ایک کہاوت یاد دلاتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک افریقی کہاوت ہے کہ ’’سمندر کے بیچ میں موجود چٹان کو پانی سے خوف نہیں ہوتا‘‘۔

  1. پاکستان پر پہلی رات (7 مئی کو) 9 میزائلوں سے حملہ کیا گیا اور بھارت نے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے فوری طور پر جواب دیا اور 6 طیارے مار گرائے، جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ یہ پہلی رات کی بات تھی۔
  2. انہوں نے دوبارہ پاکستان کے شہری علاقوں، قصبوں اور شہروں میں ڈرونز کے جتھے بھیجے اور تقریباً 77 ڈرونز تھے جو سب کے سب مار گرائے گئے۔
  3. پھر انہوں نے انتقامی کارروائی کی اور 9ویں اور 10ویں مئی کو کئی اڈوں پر حملہ کیا۔ انفراسٹرکچر کو محدود نقصان پہنچا، زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا، اور اہم ساز و سامان کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ اس کے جواب میں ہم نے 26 ہدف شدہ فوجی اہداف پر کارروائی کی اور انہیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔

اب یہ ایک ایسا دور ہے، آپ درحقیقت 21ویں صدی میں رہ رہے ہیں، بہت زیادہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے، چیزیں اتنی شفاف اور کھلی ہو چکی ہیں کہ یہ اس بچے کی طرح نہیں ہے جو اپنا کھلونا خراب کر کے بستر کے نیچے چھپا دیتا ہے۔ اگر آپ زمین پر کسی جگہ کسی انفراسٹرکچر یا کسی رن وے یا کسی ایئر بیس پر حملہ کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ مکمل طور پر نظر آ رہا ہوتا ہے، اس کی سیٹلائٹ تصاویر ہوتی ہیں، ان واقعات کی براہ راست کوریج ہوتی ہے۔ اگر آپ ہوا میں کسی طیارے پر حملہ کر رہے ہیں تو اس کا ایک منفرد ڈیجیٹل ریکارڈ ہوتا ہے جو درحقیقت محفوظ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ تمام چیزیں بھارت کے طیاروں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے پاکستان کی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ اور یقیناً‌ ایسا ہی پاکستانی فضائی اڈوں اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے درست ہے۔

مورین، اس قسم کے تنازع میں یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ فتح کی نوعیت کو بیان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کون فاتح نکلا۔ میڈیا ان دنوں بہت مؤثر ہے، تاہم اتنا مؤثر اور طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کو بہت زیادہ ذمہ داری بھی اٹھانی پڑتی ہے، جو کہ بدقسمتی سے نہیں ہوا۔ اور ان کے ہاں بہت زیادہ غلط معلومات تھیں، وہاں بہت زیادہ پروپیگنڈا تھا، اور درحقیقت یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ اس پورے منظر نامے میں کون سی پارٹی فاتح نکلی۔ اور ایسے حالات میں یہ بتانا آسان نہیں کیونکہ جہاں سب کچھ اتنا مختصر اور اتنا تیز ہو تو آپ واقعی یہ تعین نہیں کر سکتے کہ یہ کیسے ہوا۔

لیکن میں آپ کو اس پوری چیز کا ایک اندازہ دوں گا۔ بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے، یہ پاکستان سے معیشت کے لحاظ سے بہت آگے ہے، اپنی مسلح افواج کی طاقت کے لحاظ سے بھی۔ وہ طاقتور تو ہے لیکن ذمہ دار ہونا ایک الگ سوال ہے۔ اور اسے قوموں کی کمیونٹی میں بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ سفارتی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ان کے پاس ڈیڑھ ارب لوگ ہیں۔ معیشت کے لحاظ سے ان کے پاس 400 ارب ڈالرز سے زیادہ کا فاریکس ریزرو ہے۔ مسلح افواج کے لحاظ سے وہ پاکستان سے 7 گنا بڑے ہیں۔

اگر پاکستان نے صرف 10ویں حصے کا بھی جواب دیا ہوتا تو ہم کم از کم ان کے برابر ہوتے۔ لیکن ہم نے انہیں اسی سطح کا جواب دیا، ہم نے اسی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جس کی شاید انہیں توقع نہیں تھی۔ اس کا کریڈٹ فیصلہ سازوں کو جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں فوجی اور سویلین قیادت کا ایک مثالی امتزاج تھا جس نے بروقت فیصلہ کیا کہ کیا کرنا ہے، کب کرنا ہے، اور اس سے کیا اہداف حاصل کرنے ہیں۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو بنیادی طور پر فاتح ہوا۔

اس لیے میں کہوں گا کہ ہم نے درحقیقت انہیں بہت زیادہ مالی نقصان پہنچایا۔ اور اخلاقی بنیادوں پر، دنیا کے کسی بھی ملک نے، میڈیا کے ذریعے بہت زیادہ غلط معلومات پھیلنے کے باوجود، ایک بھی ملک نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا۔ چنانچہ میں کافی حد تک کہوں گا کہ بین الاقوامی تجزیہ کار، دفاعی تجزیہ کار، اور صحافی بھی، سب پہلے ہی جان چکے تھے کہ پاکستان نے اس حوالے سے اچھا کام کیا ہے۔

ان کے ہاں کئی اینکرز اور ٹی وی شخصیات تھیں جنہوں نے شاید اس پورے منظر نامے میں ذمہ داری سے کام نہیں لیا۔ مگر میں یہ بھی کہوں گا کہ ان کی کچھ سمجھدار آوازیں بھی ہیں جو یقیناً بھارت نواز ہیں، جیسے کرن تھاپر مثال کے طور پر، پروین سونی، اور ایک بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار کرسچئن فیئر بھی ہیں۔ تو میں کہوں گا کہ لوگوں کو بھارت سے آنے والی ان سمجھدار آوازوں کو سننا چاہیے تھا تاکہ انہیں اس بات کا بہتر اندازہ ہو سکے کہ بھارت نے کہاں غلطی کی۔ مجھے امید ہے کہ اس سے آپ کے سوال کا جواب سامنے آ گیا ہو گا۔

مورین اوکون: تو بھارتی میڈیا کی طرف سے غلط معلومات پیدا کی گئی، کیا آپ یہی کہہ رہے ہیں سر؟

سہیل احمد خان: جی بالکل، میں یہی کہہ رہا ہوں۔ انہوں نے اتنی سنسنی پھیلائی، اتنا بے قابو جنگی ماحول پیدا کیا کہ بعض اوقات یہ بہت مضحکہ خیز لگتا تھا، کیونکہ

میرا مطلب ہے اس قسم کی کم علمی والی غیر ذمہ دارانہ باتیں میڈیا سے آنا واقعی قابلِ قبول نہیں تھا۔ اس نے درحقیقت ہندوستانی عوام میں بہت زیادہ سنسنی پیدا کی۔

جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے، پاکستانی ایک مختلف نسل ہیں۔ جب پاکستان میں ان ڈرونز کے جتھوں کے بارے میں خبر آئی تو لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ آپ نے آخری ڈرون کہاں دیکھا ہے، ہم اسے براہ راست دیکھنا چاہیں گے، یہ پوری طرح سے جانے بغیر کہ یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ کوئی افراتفری نہیں، کوئی خوف نہیں، کسی قسم کی سنسنی خیز سرگرمی نہیں تھی۔ جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے، معمول کی بات تھی، کاروبار معمول کے مطابق تھا، جب یہ بتایا گیا کہ کراچی بندرگاہ تباہ ہو گئی ہے تو لوگ کراچی میں مختلف جگہوں پر کھانا کھا رہے تھے۔ تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

مورین اوکون: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی دونوں فریقوں کی طرف سے برقرار رہے گی؟

مورین اوکون: اچھا، یہ خاص سوال مجھے ایک اور کہاوت یاد دلاتا ہے، اور یہ بھی ایک افریقی کہاوت ہے کہ ’’پلک اور آنکھ کو کبھی آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ پاکستان اور بھارت اعلان کردہ جوہری ریاستیں ہیں۔ اور کشمیر تنازع کی جڑ ہے جو آج دنیا میں سب سے بڑا نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔

پاکستان نے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن جب اس کی پیشکش کی گئی تو ہم نے اسے فوری طور پر قبول کر لیا۔ اس وجہ سے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ ہم دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہے ہیں۔ ہم نے افراد اور سامان دونوں کے لحاظ سے بہت کچھ کھویا ہے۔ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ہم ایک اور تنازع یا ایک اور جنگ میں جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان مکمل طور پر اپنی معیشت پر توجہ دے رہا ہے۔ البتہ اس بار جو کچھ بھی ہوا ہے، یہ ہمارے فیصلہ سازوں، سویلین اور فوجی دونوں کی شاندار یکجہتی تھی جس نے بھارت کو اسی قوت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

مجھے یقین ہے کہ جنگ بندی کا سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا اور امن قائم رہے گا، البتہ پائیدار امن کے لیے اس صورتحال کے بنیادی مسئلے کو حل کرنا ہو گا۔ دنیا کو اپنے فائدے کے لیے اس پر غور کرنا ہو گا کیونکہ کشمیر اب بھی دنیا میں سب سے بڑا نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور دیکھتے ہیں کہ طویل مدت میں اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔

البتہ اس موقع پر میں کہوں گا کہ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ اپنی دانشمندی اور اپنے اقدامات کے لحاظ سے بہت مضبوط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے معاونین جیسا کہ ان کے نائب صدر مسٹر جے ڈی وینس اور ان کے وزیر خارجہ مسٹر روبیو کے ساتھ مل کر ایک شاندار کام کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بروقت فیصلہ کیا۔

اس کے ساتھ ہمارے دیرینہ اور آزمودہ دوست چین کی کوششوں کی تعریف کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان اور چین کے درمیان دوستی گہرے ترین سمندر سے گہری اور دنیا کے بلند ترین پہاڑ سے اونچی ہے‘‘۔ ہماری ایک دیرینہ دوستی ہے اور اس دوستی کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ ہم ہمیشہ ایک ہی موقف پر ساتھ رہیں گے۔

اس طرح سے ہمارے وقت کے آزمودہ دوست ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، ان سب نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے، یورپ میں، جنوبی امریکہ میں، آسٹریلیا میں، ایشیا میں، کہیں بھی کسی ایک ملک نے بھی پہلگام کے واقعات میں پاکستان کی ملوث ہونے کا نہ اشارہ دیا ہے اور نہ اس کی مذمت کی ہے۔ یہ سب سے اچھی بات ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی فتح ہے۔

مورین اوکون: شکریہ مسٹر ہائی کمشنر، آپ بھارتی انتظامیہ کے نئے بیانیہ اور پاکستان کی طرف سے مبینہ ایٹمی بلیک میلنگ کو کیسے دیکھتے ہیں؟

سہیل احمد خان: پہلگام واقعے کے بعد سامنے آنے والے سازشی نظریات پر مکمل طور پر یقین نہ رکھتے ہوئے، اگرچہ ان میں سے کچھ کافی وزن بھی رکھتے ہیں، میں جناب معید یوسف کے الفاظ میں کہوں گا، جو سابق قومی سلامتی کے مشیروں میں سے ایک تھے، انہوں نے کہا کہ شاید بھارتی قیادت پہلگام کے بعد ’’اقدامی مجبوری‘‘ کے جال میں پھنس گئی تھی۔ وہاں میڈیا کی طرف سے بہت زیادہ جنون اور جنگی خواہش پیدا ہوئی، اور میڈیا چیخ رہا تھا کہ ہمیں پاکستان کو اس کی سزا دینی چاہیے، اور شاید بھارتی قیادت اس قسم کی مجبوری میں آ گئی اور انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف یہ کارروائی کریں گے۔ لیکن جو کچھ ہوا اس کے بعد انہیں 6 طیاروں کے گرائے جانے اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اور بالآخر امریکہ کی مہربانی سے اور مسٹر ٹرمپ کی قیادت میں جنگ بندی ہوئی۔

پھر بھارتی قیادت کی طرف سے ایک تقریر کی گئی۔ مسٹر مودی جیسے قد کاٹھ کا ایک رہنما جو ڈیڑھ ارب لوگوں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی قیادت کر رہے ہیں، ان کی طرف سے ایسی باتیں کہی گئیں جن کی توقع ان کی حیثیت کے پیش نظر نہیں کی جا سکتی تھی۔ جیسے میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دوں گا کہ انہوں نے پاکستان پر حملہ کرنے والے اس آپریشن کا نام ’’آپریشن سندور‘‘ رکھا اور کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو سبق سکھایا ہے جنہوں نے سندور چھین لیا ہے۔

سندور بنیادی طور پر ایک پاؤڈر جیسی چیز ہے جو شادی شدہ خواتین کے سروں پر لگائی جاتی ہے۔ یہ صرف ہندو مذہب کے ساتھ خاص ہے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہماری بہنوں، ماؤں اور بیویوں کے سروں سے سندور چھین لیا گیا تھا؟ 28 کروڑ مسلمانوں کا کیا ہو گا جو ہندوستانی شہری ہیں؟ سکھوں کا کیا ہو گا؟ عیسائیوں، بدھوں اور دیگر برادریوں اور مذاہب کا کیا ہو گا؟ اس لیے میں کہوں گا کہ اس آپریشن کا نام کافی متعصبانہ نوعیت کا تھا، ان سے یہ توقع نہیں تھی۔

اور پھر ان کا مقصد درحقیقت اپنے لوگوں کو خاموش کرنا تھا۔ وہاں کی عوام میں میڈیا نے اتنا جنگی جنون پیدا کر دیا تھا کہ لوگ جنگ کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ یہ ایک بہت ہی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے کہ لوگ جنگ کا مطالبہ کیوں کریں گے؟ جنگ ایک ملک کو دس، پندرہ، بیس سال پیچھے لے جاتی ہے۔ یہ کسی سمجھدار قوم اور ملک کا انتخاب نہیں ہونا چاہیے۔ ذمہ دار قومیں اپنے مسائل کو مذاکرات کی میز پر بات چیت اور سفارتکاری سے حل کرتی ہیں۔ اور پاکستان کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ تمام مسائل کو میز پر حل کیا جائے۔ البتہ اسے پاکستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، ہمارے پاس عزم ہے، ہمارے لوگ معاملہ فہم ہیں، ہماری مسلح افواج بہت اچھی طرح سے تربیت یافتہ ہیں، اور ہماری فوجی اور عوامی قیادت دونوں بہترین پوزیشن میں ہیں اور ان میں صحیح وقت پر درست طریقے سے فیصلے کرنے کے حوالے سے ہم آہنگی ہے۔

اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تین پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گا جن کا ذکر ان کی تقریر میں کیا گیا تھا کہ

  1. دہشت گردی کا جواب دیا جائے گا،
  2. اور ہم پاکستان کے جوہری بلیک میل سے متاثر نہیں ہوں گے،
  3. اور تیسرا یہ تھا کہ دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والی ریاست کو یکساں سمجھا جائے گا اور انہیں جواب دیا جائے گا۔

سب سے پہلے تو یہ کہ پاکستان کبھی بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں رہا۔ نہ ہم نے خود دہشت گردی کی کوئی سرگرمی انجام دی اور نہ ہی کسی قسم کے دہشت گردوں کو پناہ دی یا ان کی حمایت کی۔ تو اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پھر ایک ذمہ دار جوہری ریاست کی طرف سے دوسری جوہری ریاست کے خلاف اس طرح کا بیان دینا، جبکہ وہ ریاست بھی پڑوسی ہو، یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے، یہ کوئی ذمہ دارانہ بات نہیں ہے۔

ان کی یہ بات کہ ہمیں جوہری بلیک میل سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ اس میں کوئی جوہری بلیک میل نہیں تھا، یہ ایک روایتی منظرنامہ تھا، انہوں نے ایک روایتی حملہ کیا جس کا اسی طریقے سے جواب دیا گیا، اور جوہری آپشن اس مخصوص منظرنامے میں کبھی بھی سامنے نہیں آیا۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں بھی (ایسا نہیں ہو گا)۔ جوہری قوت کو ایک ’’ڈیٹرنس‘‘ کے طور پر رکھا جاتا ہے، وہ اسے جانتے ہیں، ہم اسے جانتے ہیں، اور ہم دونوں ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں، اور یہ شاید اسی طرح رہے گا۔

البتہ اس خاص آپریشن یا اس خاص کشیدگی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محدود باہمی جنگ یقینی طور پر ممکن ہے۔ چاہے وہ جگہ کے لحاظ سے ہو، چاہے وقت کے لحاظ سے ہو، یا چاہے ایک خاص طاقت کے لحاظ سے ہو۔ جیسا کہ اس معاملے میں یہ زیادہ تر فضائی افواج تھیں جنہوں نے کارروائی کی، اور کچھ توپ خانے کا استعمال تھا اور بس۔ البتہ جگہ محدود نہیں تھی کہ یہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ مرکزی علاقے میں بھی کیا گیا تھا۔ تاہم وقت کے لحاظ سے یہ مختصر تھا کہ چار دن میں معاملہ ختم ہو گیا۔

چنانچہ نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا ہے، جس کا بعد میں ضرور تجزیہ کیا جائے گا کہ جب ایک ملک دوسرے ملک کے پچیس کروڑ لوگوں کو پانی کا ہتھیار استعمال کر کے پیاسا مارنے کی دھمکی دیتا ہے تو اس بات کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے، اور عالمی طاقتوں اور عالمی برادری کو اس پہلو پر بہت سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔

مورین اوکون: شکریہ جناب، یہ واقعی گہرا اور بصیرت انگیز (تجزیہ) تھا۔ آپ کے لیے آخری سوال ہے کہ آپ بین الاقوامی برادری سے کیا کہنا چاہیں گے؟

سہیل احمد خان: جی مورین، آخر میں مجھے یہ کہنا چاہیے کہ

میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے برداشت کیا اور مجھے امید ہے کہ میرے جوابات نے آپ کے سوالات اور آپ کے استفسارات کو حل کیا ہو گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

https://youtu.be/IbHya3mO1e4


بھارت نے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن کمزوری دکھا کر رہ گیا

آپریشن سندور کے بعد علاقائی بالادستی کے حوالے سے بھارت کی ساکھ مجروح ہوئی ہے

الجزیرہ

10 مئی کو ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی ثالثی کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ’’مکمل اور فوری‘‘ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مزید کشیدگی کا عندیہ ظاہر کرنے والی انٹیلیجنس کے پیش نظر نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوزی وائلس نے فوری ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وینس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تباہ کن خطرات سے آگاہ کیا اور بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت کا مشورہ دیا۔

جنگ بندی کے اعلان پر دنیا بھر میں سکھ کا سانس لیا گیا۔ جوہری جنگ کا خوف، جو 2019ء کے ایک تجزیے کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بارہ سے تیرہ کروڑ افراد کو ہلاک کر سکتا ہے، اس نے علاقائی بے چینی پیدا کی اور امریکی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کیا تھا۔

البتہ بھارت میں ٹرمپ کے اعلان کو کچھ حلقوں میں مختلف طور پر دیکھا گیا۔ بھارتی فوج کے سابق سربراہ وید پرکاش ملک نے ایکس پر لکھا:

’’جنگ بندی 10 مئی 2025ء: ہم نے یہ بات بھارت کی مستقبل کی تاریخ پر چھوڑی دی ہے کہ اس کی براہ راست اور بالواسطہ کارروائیوں کے بعد سیاسی مقاصد کے حوالے سے کیا فوائد حاصل ہوئے، اگر کوئی ہوئے ہیں۔‘‘

رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اسی پلیٹ فارم پر لکھا:

’’کاش ہمارے وزیر اعظم نریندرا مودی نے (خود) جنگ بندی کا اعلان کیا ہوتا نہ کہ کسی غیر ملکی صدر نے۔ ہم شملہ (1972ء) کے بعد سے ہمیشہ تیسرے فریق کی مداخلت کے مخالف رہے ہیں۔ اب ہم نے اسے کیوں قبول کر لیا ہے؟ مجھے امید ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی نہیں بنے گا، کیونکہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔‘‘

مؤخر الذکر تبصرہ شاید ٹرمپ کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں ’’یہ دیکھنے کے لیے کہ 'ہزار سال' کے بعد کشمیر کے بارے میں کوئی حل نکل سکتا ہے یا نہیں‘‘۔

امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کو اعلان کو بھارت میں کچھ لوگوں نے امریکی دباؤ میں مودی حکومت کی پسپائی کی علامت سمجھا ہے، جبکہ کشمیر پر ثالثی کی امریکی پیشکش کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ بھارت کی تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرنے کی دیرینہ پالیسی کمزور ہو رہی ہے۔

جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست میں، اندازہ اکثر حقیقت سے آگے نکل جاتا ہے، جب تک کہ حقیقت سامنے نہ آئے۔ بھارت نے طویل عرصے سے علاقائی بالادستی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کو اقتصادی ترقی اور جوہری طاقت نے تقویت دی ہے۔ پھر بھی 22 اپریل کو کشمیر میں مزاحمتی محاذ (TRF) کی جانب سے کیے گئے قتلِ عام کے بعد بھارتی اقدامات نے اس کی کمزوریاں ظاہر کیں۔ (ٹی آر ایف نے بعد میں ذمہ داری کا اعلان واپس لے لیا تھا۔ الشریعہ)۔ طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھنے کے باوجود بھارت کا ردعمل ناکام رہا، جس سے پاکستان کی علاقائی حیثیت میں اضافہ ہوا اور مودی حکومت سفارتی طور پر کمزور ہو گئی۔

7 مئی کو بھارت نے TRF جیسے گروپوں سے منسلک دہشت گرد اڈوں کو ختم کرنے کے لیے آپریشن سندور شروع کیا، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ اسے پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ فرانسیسی ساختہ رافیل جیٹ طیاروں کی مدد سے اس آپریشن کا مقصد مقامی غصے کے ماحول میں مودی کو ایک مضبوط آدمی کے طور پر پیش کرنا تھا۔ پھر بھی اس کی کامیابی متنازعہ ہو گئی۔ پاکستان نے شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی جن میں بچے بھی شامل تھے، جبکہ بھارت نے اصرار کیا کہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کی فضائیہ نے حملوں کے جواب میں اپنے جیٹ طیارے بھیجے اور دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل بھی شامل تھے۔ دو امریکی عہدیداروں نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو تصدیق کی کہ چینی ساختہ J-10 طیارے نے کم از کم دو بھارتی طیارے مار گرائے، جس میں چینی انٹیلیجنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) کی مدد شامل تھی۔ بھارت نے کسی بھی نقصان کو تسلیم نہیں کیا۔

بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر پاکستانی شہروں بشمول کراچی کی بندرگاہ پر تباہ کن حملوں کا دعویٰ کیا لیکن یہ رپورٹس، جو واضح طور پر پروپیگنڈا کا حصہ تھیں، غلط ثابت ہوئیں۔

پاکستان کے دعوے کے مطابق 9 مئی کو بھارت نے پاکستانی اڈوں پر میزائل حملے کیے جن میں اسلام آباد کے قریب ایک اڈہ بھی شامل تھا۔ پاکستانی فوج نے مختصر فاصلے کے میزائل اور ڈرون حملوں سے جوابی کارروائی کی جس میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور اور بھوج کے بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی فضائیہ کی افسر ویمیکا سنگھ نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی ڈرونز اور گولہ بارود نے شہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایک علاقائی بالادست کے طور پر بھارت کی ساکھ مجروح ہوئی۔ بھارتی حکومت نے واضح طور پر اپنے رافیل جیٹ طیاروں کو بالاتر سمجھا اور پاکستان کے چینی مدد یافتہ ISR سسٹمز کو کمتر سمجھا جس نے میدانِ جنگ میں (نشانے کی) درستگی میں اضافہ کیا۔

چین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2020ء سے اسلام آباد کی فوجی درآمدات کا 81 فیصد ان کی طرف سے آیا ہے۔

کئی سالوں سے کچھ بھارتی دفاعی تجزیہ کار خبردار کرتے آ رہے تھے کہ بھارت کی فوج چین کے مدد یافتہ پاکستان سے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ کشمیر کے متعلق اس کے ہائی رسک (متنازعہ) موقف کے لیے امریکی یا روسی حمایت کچھ زیادہ نہیں ہے۔ دیگر نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو چین-پاکستان تعلقات کے فروغ کا باعث بننے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی تنبیہات دہلی میں نظر انداز کر دی گئیں۔

گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے بھارت کی منصوبہ بندی کی حدود کو بے نقاب کیا ہے، ابہام کی جگہ عالمی جانچ پڑتال نے لے لی ہے۔ نئی دہلی کا فوری ردعمل دفاعی بجٹ میں اضافہ اور کشمیر میں فوج کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

اب جب کہ بھارتی حکومت اپنے اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اسے یہ بات اچھی طرح سے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خفیہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور اضطراب کا باعث بننے والی خفیہ جارحیت کا سلسلہ ناقابلِ قبول ہے۔ دونوں ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے طویل عرصے سے پراکسیوں (بالواسطہ قوتوں) کی مدد کی ہے، جو کشمیر سے افغانستان تک عدمِ استحکام کو فروغ دے رہی ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل نئی دہلی اور اسلام آباد کے دانشمندانہ فیصلوں پر منحصر ہے۔ مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل تحمل سے ہونی چاہیے نہ کہ بیان بازی سے۔ ایسا کرنے میں ناکامی جغرافیائی سیاسی افراتفری، معاشی رکاوٹ، اور لاکھوں لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ دنیا کی ایک چوتھائی غریب ترین عوام اور پینتیس کروڑ سے زیادہ ناخواندہ بالغ افراد کا خطہ ہونے کی وجہ سے بھارت اور پاکستان طویل تنازعہ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مسلسل کشیدگی بھارت کی ترقی کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے اور پاکستان کی کمزور معیشت کو تباہ کر سکتی ہے، جس سے حکمتِ عملیوں سے حاصل کیے گئے فوائد ضائع ہو سکتے ہیں۔

www.aljazeera.com


پاک بھارت کشیدگی کی خبری سرخیاں

روزنامہ جنگ

اپریل 2025ء

23 اپریل 2025ء

پہلگام حملہ، بھارتی الزامات مسترد، مختلف طبقات کا شدید ردعمل

مقبوضہ کشمیر، پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ، غیرملکیوں سمیت 27 افراد ہلاک، بھارتی وزیر داخلہ مقبوضہ وادی پہنچ گئے

24 اپریل 2025ء

پہلگام حملہ: بھارتی اقدامات کیخلاف آزاد کشمیر میں متعدد احتجاجی مظاہرے

26 اپریل 2025ء

پہلگام واقعے سے متعلق عسکریت پسند تنظیم کی تردید

پاکستان کا پہلگام واقعے کے حقائق سامنے لانے کیلئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ

27 اپریل 2025ء

پاکستانی فنکاروں نے بھی بھارت کو جواب دیدیا

ہمیں بھارتی تحقیقات پر اعتبار نہیں، محسن نقوی

سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی، اکھلیش یادیو نے سوال اٹھادیا

28 اپریل 2025ء

یہاں اتنی بھارتی فوج ہے وہ کیا کررہی ہے، جھک مار رہی ہے؟ کشمیری شہری کا سوال

بھارتی اپوزیشن نے مودی سرکار سے سوالات پوچھ لیے

29 اپریل 2025ء

مذہب پوچھ کر نشانے بنانے کے بھارتی دعویٰ کا پول کھل گیا

پہل نہیں کریں گے، بھارت نے حملہ کیا تو جواب بھرپور دیں گے، اسحاق ڈار

نریندر مودی نے فوج کو پہلگام واقعے پر ردعمل کی اجازت دیدی

مئی 2025ء

2 مئی 2025ء

مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے بھی پہلگام واقعہ کا ذمہ دار مودی کو قرار دے دیا

ہم امن کے خواہاں ہیں اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے: سفیر پاکستان

بھارت کی پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے، دفتر خارجہ

ہانیہ عامر نے وائرل انسٹا پوسٹ کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا

پاک بھارت کشیدگی پر جنت مرزا کا خاموش ردعمل

پاکستان ریڈیو اسٹیشنز پر بھارتی گانوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں نریندر مودی نے بھارت میں آمریت نافذ کر دی: بیرسٹرسیف

پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بھارت کو باقاعدہ نوٹس دینے کا فیصلہ، ذرائع

بھارت عاطف اسلم، فواد خان اور ماورا حسین کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بلاک نہ کر سکا

بھارت نے شاہد آفریدی کا یوٹیوب چینل بھی بلاک کردیا

پاک فوج کی جنگی مشقیں پورے زور و شور سے جاری

دہائیوں سے بھارت میں مقیم پاکستانیوں کی بے دخلی غیر انسانی ہے: فاروق عبداللّٰہ

لاہور قلندر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھارت میں پابندی

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ کا پاک بھارت جنگ سے متعلق بیان سامنے آگیا

کشمیری خواتین کا بھارتی صحافی کی خواہش اور کوشش کو ماننے سے انکار

پاکستانی عوام متحد، تمام اقلیتیں مسلح افواج کیساتھ ہیں: کھیئل داس کوہستانی

بھارت کا کشمیریوں کی جبری بےدخلی کا منصوبہ بےنقاب

سعودی عرب سمیت برادر ممالک خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا

خواجہ آصف کی زیر صدارت اجلاس، پاک بھارت کشیدگی پر مشاورت

آئی ایم ایف پاکستان کو قرض کی فراہمی پر نظرثانی کرے، بھارت

ہم نے جوہری اثاثے شب برات پر پٹاخے پھوڑنے کیلئے نہیں بنائے، مصطفیٰ کمال

پانی اور خوں اکٹھا نہیں بہہ سکتا، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پر رپورٹ تیار

کویت علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے وژن کا حامی ہے، کویتی سفیر

واہگہ بارڈر کے راستے مزید 26 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے، تعداد 960 ہوگئی

امریکا نے بھارت اور پاکستان پر مسائل کا ذمے دارانہ حل نکالنے پر زور دے دیا

جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، کور کمانڈرز کانفرنس

پاکستان پر حملہ ہوا تو چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا، چینی تجزیہ کار

کس قانون کے تحت بچوں کو ماؤں سے الگ کیا جارہا ہے، بھارتی بارڈر پر خواتین کا احتجاج

این آئی سی وی ڈی کی بھارت سے واپس آنیوالے 2 بچوں کیلئے دل کی مفت سرجری کی پیشکش

پاکستان نہیں چاہتا جنگ ہو اور دونوں جانب انسانی خون بہے، خواجہ سعد رفیق

سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان اس اسٹرکچر کو تباہ کرے گا، خواجہ آصف

پاکستان نے بھارت کی آئی ایم ایف پروگرام کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کو مسترد کردیا

ایرانی وزیر خارجہ اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کرسکتے ہیں، بھارتی میڈیا

یورپی یونین کا پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار

بھارت کو یہ نہیں پتا کراچی کو تو عادت ہے بغیر پانی کے رہنے کی، گورنر سندھ

بابر اعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بند کردیے گئے

ملکی دفاع کے عظیم مقصد کیلئے اختلافات ایک طرف رکھنا اچھی روایت ہے، نواز شریف

بھارت پاکستان پر حملہ کرے تو بنگلادیش بھارت پر حملہ کردے، سابق بنگلادیشی جنرل

پہلگام سازش میں ناکامی پر خفت مٹانے کی کوشش، انٹیلی جنس چیف ڈی ایس رانا کا تبادلہ

پاک بھارت کشیدگی: قومی اسمبلی کا اجلاس 5 مئی کو بلانے کا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا چینل بھارت میں بند کردیے گئے

جیو نیوز کے اینکر مبشر ہاشمی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بھارت میں بند کردیے گئے

3 مئی 2025ء

پہلگام واقعے کے بعد کشمیری عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میر واعظ عمر فاروق

کمیو نیکیشن فرنٹ اور مقبوضہ کشمیر

مودی جی کی غلط فہمیاں

جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی

پاکستانی سکھ برادری نے پاکستان کی مکمل تائید کا اعلان کردیا

27 پاکستانی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے پاکستان واپس‘ کوئی بھارتی پاکستان سے بھارت واپس نہیں گیا

ملکی سالمیت و خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائیگی، قائمقام چیئرمین سینیٹ

بھارت سے پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنیکا سلسلہ جاری

انڈین پولیس کی انتقامی کارروائی کا خوف، کشمیری اپنے جسموں سے ’’مزاحمتی ٹیٹو‘‘ مٹوانے لگے

برادر ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں، وزیراعظم سے سعودیہ، امارات اور کویتی سفیروں کی ملاقاتیں

سرحدوں پر 8 ویں روز بھی فائرنگ کا تبادلہ، پاک فوج کی جنگی مشقیں جاری

آئی ایم ایف پاکستان کو دیئے گئے قرضوں کا ازسرنو جائز ہ لے، بھارت، ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس بلایا جاچکا، آئی ایم ایف نمائندہ

پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کیلئے ہمارے عزم کا غلط اندازہ نہ لگائیں، چینی اسکالر

پہلگام واقعہ، بھارت اس انداز سے ردعمل دے کہ وسیع علاقائی تنازع پیدا نہ ہو، امریکی نائب صدر

پانی روکنے کیلئے بھارت نے تعمیرات کیں تو ہم تباہ کردینگے، خواجہ آصف

انڈیا نے افغانستان کے 150 ٹرکوں

جنگ کے طبل میں شدت: بھارت دنیا کی چوتھی پاکستان بارہویں بڑی طاقت

امریکی نائب صدر کا بیان اہم، کسی ملک کی طرف جھکاؤ نہیں، مسعود خان

آئی ایم ایف قرض کی منظوری نئی دہلی کی خواہشات پر نہیں دیتا، سابق عہدیدار

پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے اجلاس بلایا جا سکتا ہے، صدر سلامتی کونسل

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ

بھارت بین الاقوامی سطح پر پہلگام دہشت گردی الزامات کے مصدقہ شواہد پیش کرنے میں

بھارت کی جانب سے ویزا منسوخی سے سنگین انسانی مسائل جنم لے رہے ہیں، دفتر خارجہ

بھارت بڑھکیں مارنے میں آگے حقیقت میں بیک فٹ پر ہے، تجزیہ کار

بھارتی اناڑی فضائیہ ایکسپریس وے پر جنگی طیارہ اتارنے کی کوشش میں ناکام

بھارت کے پاکستان پر حملہ کرنے پر ہمیں 7 بھارتی ریاستوں پر قبضہ کر لینا چاہیے، سابق بنگلادیشی میجر جنرل

جنگ کے خدشات کے سبب وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا، جنت مرزا

بھارت نے حملہ کیا تو 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ خطرناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے، رضوان سعید شیخ

پاکستان نے بھارتی ویب سائٹس اور میڈیا کو بھارتی طیارے کی طرح گرادیا، فیصل واؤڈا

پاکستانی قوم کا بچہ بچہ ملکی حفاظت کرنا جانتا ہے، شیخ رشید

بھارتی فوج کا غیرقانونی، جبراً حراست میں رکھے پاکستانیوں کو فیک انکاؤنٹر میں استعمال کرنے کا منصوبہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، مشعال ملک کا اقوامِ متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

مودی کے اب یہ دن آگئے کہ راکھی کو ترجمان رکھ لیا؟ مشی خان کا کرارا جواب

پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل

پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کو ایل او سی کا دورہ کروایا جائے گا، وزارت اطلاعات

بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی لگادی، کوئی خط، پارسل بھی وصول نہيں کرے گا

چرنجیت سنگھ چنی نے ماضی میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کے بھارتی حکومت کے دعووں کو مشکوک قرار دیا

پاکستانی خاتون سے شادی چھپانے پر بھارتی فورس کے اہلکار کو برطرف کردیا گیا

سوئٹزرلینڈ نے پہلگام واقعے پر غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کردی

وزیر اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے

بھارت کی جانب سےخطرہ ابھی کم نہیں ہوا، اگر کچھ کیا تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا، خواجہ آصف

پاکستان نے اپنا ملی نغمہ بھارت میں سوشل میڈیا پر چلوا دیا

پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کا بروقت جواب دے دیا

گالی گلوچ بریگیڈ بھی آئی ایم ایف معاہدہ کینسل کرانا چاہتے ہیں، رانا ثناء

لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ، ن لیگ و پی ٹی آئی کارکن شریک

پہلگام فالس فلیگ آپریشن: فرانسیسی میڈیا بھی مودی حکومت کی جعل سازی پر بول پڑا

4 مئی 2025ء

بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا بے گناہ پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں مارنے کا گھناؤنا منصوبہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، امریکا

پاکستان اور بھارت شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ کے تحت اختلافات ختم کریں، روس

انڈیا نے حملہ کیا تو سکھ پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہونگے، گرپتونت سنگھ

پہلگام حملہ، افغانستان سے لایا گیا جدید امریکی اسلحہ استعمال کیا گیا، بھارتی دعویٰ

سی آر پی ایف اہلکار پاکستانی خاتون سے خفیہ شادی اور ویزا خلاف ورزی پر برطرف

22 اپریل کے بعد مودی حکومت کے اقدامات، ناقابل فراموش المیے کو جنم دیا

ابدالی میزائل کا تجربہ، پاکستان میں خوشی کی لہر، بھارت میں سراسیمگی کا راج

بھارت میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بند

پہلگام واقعہ، ایشیا کپ میں پاکستان کو کھیلتے نہیں دیکھنا چاہتا، گاواسکر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دہشتگردی اور جھوٹ کو مفصل طریقے سے بے نقاب کیا

پہلگام واقعے کے بعد بھارتی قیادت اور میڈیا پر جنگی جنون سوار، رضوان سعید

مودی سرکار اس وقت فیس سیونگ کی کوشش میں ہے، تجزیہ کار

پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کے بجائے مودی بہارمیں انتخابی مہم چلارہے ہیں، شیوسینا

وفاقی وزیر اطلاعات اور ڈی جی ISPR آج سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کی مودی سے ملاقات

بھارت کا جھوٹ دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوچکا: رانا مشہود خان

مودی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، لائیو پروگرام میں ویڈیو چلادی گئی

پاک فضائیہ نے میزائلوں سے لیس 4 بھارتی طیاروں کو کیسے واپس بھگایا؟

خلیج تعاون کونسل کا جنوبی ایشیاء میں بگڑتی صورتحال پر اظہارِ تشویش

پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے سے ملائیشیا کو آگاہ کردیا

غیرملکی طاقتیں ہمارے وسائل پر قبضے کیلئے سرگرم ہیں: شاندانہ گلزار

بھارت کے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کے انٹیلیجنس شواہد ہیں: روس میں پاکستانی سفیر

بھارتی ایئر لائنز کو 10 روز میں 225 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان

پہلگام واقعے کی تحقیقات میں ملائیشیا کی شمولیت کا خیر مقدم کرینگے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

بلاول بھٹو زرداری کا بھارت میں ایکس اکاؤنٹ بلاک

ترک جنگی بحری جہاز کی آمد لازوال دوستی و بھائی چارے کی علامت ہے: آئی ایس پی آر

انڈس واٹر کمیشن نے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی بھارتی تفصیل حکومت کو بھیج دی

بھارت سے کشیدگی، پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ

’بھارت نے حملہ کیا تو اسکے ٹکڑے ہو جائینگے‘: شارق جمال کا ایم کیو ایم کی ریلی سے خطاب

بھارت سینسر شپ کے بجائے شواہد پیش کرے: شیری رحمٰن

فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی، اہلسنت و جماعت کا مفتی منیب کی زیرِ قیادت کراچی میں مارچ

پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے کوششیں تیز، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کل پاکستان پہنچیں گے

پاکستان کے 25 کروڑ عوام اپنی فوج کیساتھ کھڑے ہیں: مفتی منیب الرحمٰن

بھارت کا پاکستان کیخلاف جارحیت پر مبنی بیانیہ تمام بڑے ممالک نے مسترد کر دیا

پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش میں بھارت خود خطے میں تنہا ہو چکا: معید یوسف

بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات سامنے آ رہے ہیں: ڈاکٹر فیصل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی گاڑی کو حادثہ، 3 فوجی ہلاک

جارحیت مسلط کی تو دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

رافیل جنگی طیارے خرید لیے جو ایئر بیس میں لیموں مرچ لٹکائے کھڑے ہیں: کانگریس رہنما

قومی یکجہتی کو بانی سے مشروط کرنا پی ٹی آئی کی کوتاہ اندیشی ہے: خواجہ آصف

5 مئی 2025ء

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان پہنچ گئے

علاقائی کشیدگی اور عالمی برادری

دہشت گردی کی نئی کارروائیاں

اکھنڈ بھارت اور امریکہ

مودی نے جنگ سے پہلے ہی شکست تسلیم کرکے عقل کی

جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے، محسن نقوی

رافیل لڑاکا طیارے خرید لئے جو ایئر بیس میں لیموں مرچ لٹکائے کھڑے ہیں، کانگریس رہنما

بھارتی وزیر کی ’’احمقانہ خواہش‘‘ سوشل میڈیا پر غیرسنجیدگی سے موضوع بحث

سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی ہدایت کردی، اسحاق ڈار، روسی ہم منصب سے رابطہ

حکومت نے موقع ضائع کیا، اے پی سی بلائی نہ مشترکہ بریفنگ کا اہتمام کیا، تحریک انصاف

بریفنگ میں شرکت کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کرنا کوتاہ اندیشی، وزیر دفاع خواجہ آصف۔ بائیکاٹ ملک دشمنی کا ثبوت، عظمیٰ بخاری

بھارت کی آبی دہشتگردی، بگلیہار ڈیم سے دریائے چناب کا پانی روک دیا

پاکستان کی اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اجلاس بلانے کی تیاریاں

بھارت کیخلاف پاک فوج کے ساتھ ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

بھارت کو نصیحت کرنے والوں کی نہیں، شراکت داروں کی تلاش ہے، جے شنکر کا یورپی یونین کو پیغام

مودی سے فضائیہ، بحریہ سربراہان کی ملاقاتیں

انڈس واٹر کمیشن، بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات پیش

بھارتی اشیاء کی پاکستان کے راستے تیسرے ملک ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی عائد

فواد خان کی فلم پر پابندی غیرمنصفانہ عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے، بھارتی اداکار پرکاش راج

آبی دہشتگردی، بھارت نے دریائے چناب کا پانی روک دیا، جہلم میں بھی کمی کا خدشہ

وفاقی وزیرِاطلاعات کا بین الاقوامی و مقامی میڈیا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول کا دورہ

بھارت کے اقدامات سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے: صدر آصف علی زرداری

پہلگام فالس فلیگ آپریشن بھارت کا رچایا ہوا ڈرامہ ہے: اسحاق ڈار

بھارت اس وقت ایک ضدی بچے کی طرح کا کردار ادا کررہا ہے، احسن اقبال

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، ایک اور کشمیری نوجوان شہید

پاک بھارت کشیدگی سے متعلق پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

بھارت کیجانب سے پانی بند، دریائے چناب میں پانی کی آمد صرف 5 ہزار 300 کیوسک رہ گئی

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، بھارتی سیکریٹری آبی امور کے خط میں کیا لفظ استعمال کیا گیا؟

بھارت کو پہلگام واقعے کی آزادانہ و غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے: محسن نقوی

وزیر اطلاعات، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ، شرکاء کی گفتگو کے اہم نکات سامنے آگئے

وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعےکی تحقیقات میں برطانیہ کو شمولیت کی دعوت دے دی

پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے ایران کی ثالثی کی کوششیں، وزیر خارجہ کی پاکستانی ہم منصب سے ملاقات

ارسا ایڈوائزری کمیٹی کا بھارت کی جانب سے چناب میں پانی کی اچانک کمی پر اظہار تشویش

پاکستان کے سب سے طاقتور شخص جنرل عاصم منیر نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا، امریکی اخبار

بھارت نے آصفہ بھٹو زرداری کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کردیا

ہزاروں سال سے بہنے والے دریا کا پانی کہاں لے جاؤ گے؟ صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی

تحقیقات میں ہچکچاہٹ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن کا اعتراف ہے، شاہ محمود قریشی

پہلگام واقعے پر الزامات مسترد، امن و استحکام کیلئے ایران سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم شبہاز شریف

اطلاعات ہیں بھارت ایل او سی کے اطراف کسی بھی جگہ حملہ کر سکتا ہے، خواجہ آصف

صدر مملکت سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو

پاکستان اور بھارت میں جنگ کی سی صورتِ حال میرے لیے باعثِ تکلیف ہے، انتونیو گوتریس

سیاسی جماعتوں کو بلا کر بریفنگ دی گئی، پی ٹی آئی کیوں شریک نہ ہوئی؟ بیرسٹرگوہر سے سوال

پاک بحریہ نے گزشتہ شب بھارتی طیارے کا سراغ لگایا اور نگرانی میں رکھا، سیکیورٹی ذرائع

ملائیشیا نے پاکستان کی جانب سے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کردی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر کام شروع کردیا

وزیراعظم اور یو این سیکرٹری جنرل میں ٹیلیفونک رابطہ، جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو

بھارت کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، کشیدگی خطے کے مفاد میں نہیں، عطا تارڑ

پاک بھارت کشیدگی پاکستان کی معاشی نمو پر منفی اثر انداز ہو سکتی ہے، موڈیز

پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا بند کمرا اجلاس آج ہوگا

آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات

روسی صدر کا بھارتی وزیراعظم سے رابطہ، ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کرنے پر زور

6 مئی 2025ء

پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس

بھارت اشتعال انگیز بیان بازی بند کرے، او آئی سی گروپ

پہلگام کے بعد دہشت گردی کیلئے بھارتی سہولت کاری، مستند شواہد سامنے آگئے

بھارت ہماری سلامتی کا دشمن، منظم عسکری قیادت کے ہوتے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، میرخلیل الرحمٰن سوسائٹی کا سیمینار

ممکنہ بھارتی حملہ‘ وادی نیلم میں

پاک بھارت سیاسی و فوجی قیادت محاذ آرائی سے گریز کریں، جاوید اقبال

بھارت سندھ طاس معاہدہ کو جارحیت کیلئے استعمال کر رہا ہے، عمر ایوب

بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کا منصوبہ بےنقاب

ابدالی کے بعد فتح میزائل کا بھی کامیاب تجربہ، تارڑ کا عالمی میڈیا کے ساتھ دورہ کنٹرول لائن، بھارتی آبی جارحیت کیخلاف قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

غیرملکی سرپرستی میں دہشت گردی بلوچستان میں امن و سلامتی کیلئے خطرہ، آرمی چیف

سرحدی کشیدگی، پیوٹن کا مودی کو فون، دورہ بھارت کی تصدیق

چناب کا پانی روکنے کا بھارتی اقدام، سندھ جہلم لنک کینال کھول دی گئی

بھارت نے دریائے چناب پر پانی کا بہاؤ انتہائی کم کردیا

بھارت کے پاس کرنے کو کچھ نہیں، بند گلی میں جارہا ہے، عطاء تارڑ

کشیدگی، دنیا کی بڑی ایئر لائنز نے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال ترک کردیا

پاکستان ہمیشہ سے ثالثی کی پیشکشوں کیلئے تیار رہا ہے، تجزیہ کار

پاکستان کیساتھ کشیدگی، بھارت کا شہری دفاع کی مشقیں کرنیکا اعلان

پاک بھارت کشیدگی، اسکردو میں سیاحوں کی آمد میں واضح کمی

پاکستان کاپہلگام واقعےسےکوئی تعلق نہیں،عاصم افتخار

دریائے چناب میں بھارت کی جانب سے آنے والے پانی میں اضافہ

24 کروڑ افراد پر مشتمل زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائیگی: رضوان سعید شیخ

بھارتی نوجوان کا پاکستان مخالف بیان دینے سے انکار، صحافی کو کرارا جواب

بشریٰ انصاری نے بھارتی مصنف جاوید اختر کو آڑے ہاتھوں لے لیا

مودی حکومت کا 7 ریاستوں میں شہری دفاع کی مشقوں کا اعلان

مسلمانوں سے اظہار ہمدردی، پہلگام میں ہلاک بھارتی فوجی کی بیوہ کو نفرت انگیزی کا سامنا

سلامتی کونسل کا ’پاکستان-بھارت مسئلہ‘ پر بند کمرہ اجلاس، فوجی تصادم سے بچاؤ پر زور

مودی بیٹا تم نے بھارت کے منہ سے سیکولرازم کا نقاب اٹھا کر بہت اچھا کیا، فاروق ستار

پاکستان بھارت کشیدگی: پی این ایس سی کارگو جہاز بھارت کی بجائے سنگاپور کی طرف موڑ دیا گیا

مودی کا بھارت مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے قتل عام پرخوش ہے: بیرسٹر گوہر

بھارت کے اقدامات سے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں: محسن نقوی

ہم آرمی چیف کی ایک کال پر ملک کی خاطر لڑنے کیلئے تیار ہیں: میجر جنرل (ر) جاوید اسلم

مسلح افواج مکمل تیار ہیں، وزیراعظم کو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں بریفنگ

مودی کے خلاف بھارت سے تنقیدی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں

مودی ڈرپوک اور بےشرم آدمی ہے، اس میں جنگ کرنے کی ہمت نہیں، ستیہ پال ملک

آرمی چیف نے بھارت سے واپس بھیجے گئے 2 بچوں کے علاج کا ذمہ لے لیا

بھارتی چینلز کو ایوان کا کلپ نہیں دینا چاہتے، عطا تارڑ کا عمر ایوب کو جواب

کانگریس صدر ارجن کھڑگے کا نریندر مودی اور پہلگام واقعے سے متعلق بڑا دعویٰ

نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کی جدید عمارت کا افتتاح

بھارت کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوگیا، کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، خواجہ آصف

بھارتی جنرل بھی پاک فوج کی صلاحیتوں کا معترف نکلا

بھارت میں بھی نریندر مودی پر تنقید ہو رہی ہے: مولانا فضل الرحمٰن

بھارت کا راجستھان میں فضائی مشقوں کا اعلان

اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے پاکستان کے حق میں بیان پر بھارت برہم

کل کے اجلاس میں شہباز شریف کا ایسا استقبال کرینگے کہ وہ یاد رکھیں گے: عمر ایوب

7 مئی 2025ء

بزدل دشمن نے چھپ کر وار کیا، سخت جواب دے رہے ہیں، خواجہ آصف

پاک فضائیہ نے بھارت کے 5 طیارے، 2 ڈرونز گرا دیے

بھارت اور پاکستان میں حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، مارکو روبیو

بھارت آج بدلہ لینے آیا اور بھاگ گیا، عطا تارڑ

رافیل طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز گر گئے

پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی، بھارت کی دوڑیں، عرب دنیا سے پاکستان پر اثر و رسوخ استعمال کرنیکی درخواست

کورین گلوکار کم داؤد پاکستان کی سلامتی کیلئے دعاگو

پاک فوج کی جوابی کارروائیاں، کوٹ کٹھیرا سیکٹر میں دشمن کی سرلیا ون چیک پوسٹ تباہ

چین بھارت کی فوجی کارروائی کو افسوسناک سمجھتا ہے: چینی وزارتِ خارجہ

پاک فوج نے 3 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، بھارتی میڈیا کا اعتراف

بھارتی فوج کی 6 مہار یونٹ کا بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ، ویڈیو منظر عام پر

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، مسلح افواج کو مناسب کارروائی کا مکمل اختیار دے دیا گیا

بھارت کے پاکستانی شہریوں پر فضائی حملے، جاپان کا اظہارِ تشویش

پاکستان بھارتی جارحیت کے جواب کا حق رکھتا ہے اور جواب دے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارتی فوج نے چکوٹھی سیکٹر پر بھی سفید جھنڈا لہرا دیا

پاک بھارت کشیدگی، 8 گھنٹے کی بندش کے بعد ملک کا فلائٹ آپریشن بحال

پاک بھارت کشیدگی: بھارت میں کئی ایئرپورٹس بند، فلائٹ آپریشن بری طرح متاثر

پاکستانی شہریوں نے بھارتی حملے کا آنکھوں دیکھا احوال بتادیا

پاک فوج کا جواب، بھارتی فوج نے لیپا سیکٹر کی پوسٹ وانجل فارورڈ پر بھی سفید جھنڈا لہرا دیا

بھارت ہمیں کمزور سمجھتا ہے، مضبوط جواب دینا پڑے گا: عاطف خان

بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے بھرپور جواب پر ہمارے سر فخر سے بلند ہیں: سلمان اکرم راجہ

بھارت کی نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر گولہ باری

بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا نے بھی کردی

پاک بھارت کشیدگی میں کمی کروانے میں مدد کو تیار ہیں: برطانیہ

پاک بھارت کشیدگی: وزیر خزانہ کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس، مالیاتی صورتحال کا جائزہ

’پاکستانی فوج بہت تگڑی ہے‘،ارناب گوسوامی کے پروگرام میں سابق بھارتی ائیر مارشل کا اعتراف

پاک بھارت کشیدگی: جے ایف 17 تھنڈر بنانے والی چینی کمپنی کے شیئرز کی قدر میں زبردست اضافہ

بھارتی حملے میں شہید ہونیوالوں کے خون کے ہر قطرے کا بدلہ لیا جائے گا: محسن نقوی

بھارت نے حملے کیلئے پہلگام واقعہ کر کے تاریخی شرمناک حرکت کی: چوہدری شجاعت

پاک بھارت کشیدگی: لاہور کی فضائی حدود ایک بار پھر بند

پاک بھارت کشیدگی: جاپان دہشتگردی کو کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں سمجھتا، جاپانی وزیرِ خارجہ

پاک بھارت صورتِحال انتہائی خطرناک ہے، ممتاز زہرہ بلوچ

پاک فوج نے منڈل سیکٹر میں سری ٹاپ پر بھارتی پوسٹ کو تباہ کر دیا

پاکستان بھارتی حملے کا جواب اپنی مرضی کے مقام اور طریقے سے دیگا: بلاول بھٹو زرداری

وزیراعظم کی مصروفیات، وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ملتوی

پاک فضائیہ کے عقاب جھپٹے اور آناً فاناً 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیاروں کو مار گرایا، وزیراعظم شہباز شریف

بھارت نے شواہد پیش نہیں کیے کہ کشمیر میں حملہ پاکستانی اقدامات کا نتیجہ تھا، بریڈ شرمن

مظفر آباد سے تاؤ بٹ تک ٹریفک بحال، ریسکیو ادارے الرٹ

وزیرِ اعظم کا مشکل وقت میں پاکستان کی حمایت پر قطر کا شکریہ

پاکستان نے متناسب اور سفارتی ردعمل دیا، اسپین

انعام بٹ نے مساجد پر بھارتی حملوں کو بزدلانہ قرار دیدیا

حکومت اے پی سی اور بانی پی ٹی آئی کو بلائے، زرتاج گل

بھارت تیاری کرو، پاکستان کا جواب آنا ہے: بلاول کا قومی اسمبلی میں خطاب

پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے ہیں تو انڈین ایئرفورس کا بھاری نقصان ہے، ایڈیٹر دی اکانومسٹ

کشیدگی مزید بڑھی تو کوئی فریق فاتح نہیں ہوگا، ڈیوڈ لیمی

پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے سپورٹ کرنے کو تیار ہیں، برطانیہ

بھارتی جارحیت کیخلاف پاکستانی، کشمیری کمیونٹی کا برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کا اعلان

بھارتی فوج نے ایل او سی بٹل سیکٹر کے سامنے دو پوسٹوں پر گھٹنے ٹیک دیے، سیکیورٹی ذرائع

پی ٹی اے نے 16 بھارتی یوٹیوب نیوز چینلز بلاک کردیے

دشمن نے اپنے مورچوں پر سفید پرچم لہرا کر شکست تسلیم کی: جہانگیر ترین

اگر بھارت نے جنگ کو بڑھاوا دیا تو نیوکلیئر جنگ ہو سکتی ہے: وزیرِ دفاع

پاکستان کے ہاتھوں بھارتی طیاروں کے مار گرائے جانے کی تصدیق امریکی میڈیا نے بھی کردی

جرمنی کا پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش، بات چیت پر زور

کہا جا رہا ہے رافیل طیارے بہت اچھے ہیں مگر بھارتی پائلٹس نکمے نکلے ہیں، اسحاق ڈار

ہر دہشت گردی کے پیچھے ’را‘ کا ہی ہاتھ رہا ہے، بیرسٹر گوہر

بھارت نے بزدلی کا مظاہرہ کرکے آبادی کو نشانہ بنایا، فضل الرحمان

یورپی یونین کا بھارت و پاکستان سے کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ

آذربائیجان کی پاکستان پر بھارتی حملے کی مذمت

لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس طوری کے7 سالہ بیٹے ارتضیٰ عباس طوری کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

پاک بھارت کشیدگی، برطانیہ کا شہریوں کیلئے ٹریول الرٹ جاری

پاکستان سے حملوں کا خدشہ، بھارت بھر میں شہری دفاع کی مشقیں

اسلام آباد میں تعینات سفیروں کو بھارتی جارحیت پر بریفنگ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ

بھارت کے بزدلانہ حملوں پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف شہروں میں ریلیاں

آرمی چیف کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات اور ایئر فورس کو خراج تحسین

دشمن کے 5 جہاز گرانا افواج کی صلاحیت کا ثبوت ہے: اویس لغاری

پاکستان نے ایک رافیل لڑاکا طیارہ مار گرایا، فرانسیسی انٹیلیجنس اہلکار کی تصدیق

بھارت نے گزشتہ رات جارحیت کرکے فاش غلطی کی، اسے خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف

مریدکے: مسجد پر بھارتی حملے میں شہید سیکیورٹی گارڈ مدثر طفیل سپردِ خاک

بھارتی حملوں میں 31 معصوم شہری شہید، 57 زخمی ہوئے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت جارح اور پاکستان متاثرہ ملک، ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

ترک صدر کا وزیر اعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

میرا خیال ہے پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے، خواجہ آصف

بھارتی آفیشلز نے 3 طیاروں کے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کردی

بھارت کو آبی جارحیت سے روکا نہ گیا تو بجلی کی پیداوار جزوی طور پر متاثر ہو سکتی ہے

بھارت خوف کا شکار، 16 ایئرپورٹس بند کردیے

بھارتی حملے: اسحاق ڈار کا سیکریٹری جنرل او آئی سی سے رابطہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی

8 مئی 2025ء

قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج کو بھارت کیخلاف جوابی کارروائی کرنے کی اجازت اور مکمل اختیارات دیدیے

3 رافیل طیارے تباہ ہونے کی تصدیق، تحقیقات کررہے ہیں کہ پاکستان نے ایک سے زائد جہازوں کو مار گرایا، جنگ میں تباہ ہونے کا پہلا واقعہ ہے، فرانسیسی انٹیلی جنس عہدیدار

برنالہ آزاد کشمیر شہر میں لائٹس بند کرنے کے اعلانات

کنٹرول لائن پر پاک بھارت افواج میں گولہ باری کا تبادلہ

بھارت نے جنگ کو توسیع دی تو ایٹمی جنگ ہوسکتی ہے، خواجہ آصف

رافیل کی تباہی بھارتی دفاعی نظام کیلئے اسٹریٹجک، نفسیاتی اور سفارتی دھچکا

پاکستان بھارت کے ساتھ کسی نئے تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا، ماہرین

بھارت کو 267 ارب روپے مالیتی جنگی طیاروں کا نقصان

بھارتی بزدلانہ اقدام، کرتارپور راہداری غیر معینہ مدت کیلئے بند کردی

بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینگے، صدر زرداری

پاک بھارت جھڑپیں، ایئر لائنز کی پروازیں منسوخ، راستے اور مقامات تبدیل کرنے پڑے

بھارتی حملے کے بعد واہگہ بارڈر میں مشترکہ پریڈ، بھارتی اسٹیڈیم میں سناٹا

بھارتی جارحیت کیخلاف پارلیمانی یکجہتی میں اسپیکر ایاز صادق کا کلیدی کردار

پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلانے پر 16 بھارتی یوٹیوب نیوز چینلز بند

بھارت پرتشدد بیان دے رہا ہے صورتحال انتہائی خطرناک ہے، ممتاز زہرہ

اے جے کے بورڈ کے انٹر کے امتحانات ملتوی، نیا شیڈول کل جاری ہوگا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نئی دلی پہنچ گئے

واہگہ بارڈر، گورنر سندھ نے مکا لہرا کر بھارت کو للکارا

لاہور میں مزید 3 ڈرونز کو مار گرایا گیا

اسحاق ڈار کی پاکستان اور بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرز میں رابطے کی تصدیق

حنا الطاف بھارتی اداکاروں پر برس پڑیں، انہیں بزدل بھی قرار دے دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھارتی حملوں کی تفصیلات سے آگاہ کردیا

پاکستان کا خوف، میٹا نے بھارت میں مشہور انسٹاگرام اکاؤنٹ ’مسلم‘ کو بلاک کردیا

فضائی آپریشن موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث متاثر ہو رہا ہے: ترجمان پی آئی اے

بھارت کی دراندازی کی کوشش، پاکستان اب تک 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز گرا چکا: آئی ایس پی آر

پاکستان کا خوف: بھارت کے 27 ایئر پورٹس پر فلائٹ آپریشن بند

ہانیہ عامر کی بھارتی مداحوں کیلئے نیا انسٹاگرام اکاؤنٹ بنانے کی خبروں کی تردید

پاکستان کے کون کونسے علاقوں میں ڈرونز مار گرائے گئے ہیں؟

شاہ کوٹ اور شیخوپورہ میں ڈرون گرا دیا گیا

بھارت کو بےگناہ شہریوں پر حملے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا: مریم نواز

وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد پر اتفاق

پی ایس ایل کے بقیہ میچ کراچی منتقل کرنے کی تجویز: ذرائع

بھارت نے پاکستان کے بارے میں غلط اندازہ لگایا: شازیہ مری

پاک فوج کا بھارتی جارحیت پر جواب لائقِ تحسین ہے: حافظ نعیم الرحمٰن

تمام بھارتی فنکاروں کو اَن فالو اور بلاک کر دیا جائے: دانیہ انور

یہ ایسے خوشیاں منا رہے ہیں جیسے کوئی فٹ بال کا میچ ہو: فاطمہ بھٹو

بھارتی ڈرون ہماری تنصیبات کو تلاش کرتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ

ہماری نسلیں گولیوں کی تڑتڑاہت، دھماکوں کی گونج سن کر بڑی ہوئی ہیں: محمد رضوان

25 اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرون گرانے کے باوجود سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم

پنجاب بھر میں تمام تعلیمی ادارے 2 دن بند رہیں گے، وزیر تعلیم پنجاب

وزارتِ صحت اور ماتحت ادارے مکمل الرٹ رہیں گے، مصطفیٰ کمال

شہری آبادیوں پر حملوں کے بعد منہ توڑ جواب دینے کے سوا کوئی راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ عرفان صدیقی

پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کے دفاترکے درمیان رابطے ہوئے ہیں، اسحاق ڈار

ایل او سی پر بھارت کے 50 فوجی ہلاک کیے، رافیل اور بھارتی ڈرون گراکر نئی مثال قائم کی، عطا تارڑ

کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن کی بندش کا دورانیہ رات 12 بجے تک بڑھا دیا گیا

بھارت نے جنگی جنون میں مبتلا ہوکر 7 مئی کو بزدلانہ حملہ کیا، محمد احمد شاہ

پاکستان نے سکھر، رحیم یار خان، راولپنڈی میں مزید بھارتی ڈرون گرادیے، ذرائع

پاکستان جوابی کارروائی میں بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، خواجہ آصف

نیلم جہلم منصوبے کو نقصان پہنچتا تو پانی کے ذخیرے سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی، چیئرمین واپڈا

پاکستان اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، وزیر اعظم نے امریکا کو بتادیا

پاکستان نے حملہ کیا تو اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

بہادر شاہینوں نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، احسن اقبال

بھارت نے پاکستان میں ڈرون کیوں بھیجے؟ حامد میر نے بھارتی عزائم بتادیے

پاکستان کے جے 10 نے 2 بھارتی طیارے مار گرائے، امریکی عہدیدار

بھارتی میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں حملوں کی خبر ’فیک نیوز‘ ہے: سیکیورٹی ذرائع

اسحاق ڈار سے یورپی خارجہ امور چیف کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو

پاک بھارت فضائی جھڑپ طویل ترین قرار، حملوں کے بعد پاکستان نے5 طیارے گرائے

بھارتی اور امریکی وزرا خارجہ میں رابطہ، مارکو روبیو کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

بھارتی جارحیت کا جواب لازمی آنا ہے، اس میں کسی کو شک نہیں: عطاء اللّٰہ تارڑ

بھارتی جارحیت پر اسحاق ڈار نے اٹلی کے ہم منصب کو اعتماد میں لیا

ہمارے پاس دنوں میں انتظار کرنے اور تحمل دکھانے کا وقت نہیں، خواجہ آصف

پاکستان کیخلاف کارروائی نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کا پول کھول دیا، فرانسیسی اخبار

بلااشتعال فائرنگ پر پاک فوج نے ایک اور بھارتی فوجی ہیڈکوارٹر تباہ کر دیا

یورپین یونین کا پاک بھارت کشیدگی پر ردعمل

9 مئی 2025ء

پاک بھارت کشیدگی بڑھنی نہیں چاہیے، امریکا

بھارت نے 24 مقامات پر ڈرون حملے کیے، اسحاق ڈار

جنگ سے دونوں ملکوں کی معاشی صورتحال بھی خراب ہوگی، ضیاء عباس

کراچی کی جامعات میں بھارتی جارحیت کیخلاف اور فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں

ملک میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر سندھ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس

بھارت سے ٹریڈ پر پابندی کا اطلاق سمندری راستے سے ٹرانزٹ ٹریڈ پر نہیں ہوگا، وفاقی وزارت تجارت

پاکستانی بندرگاہوں پر میری ٹائم سکیورٹی ہائی الرٹ جاری

پاکستان نے چینی ساختہ طیاروں سے دو انڈین فوجی جہاز مار گرائے، دو امریکی عہدیداروں کی تصدیق

6-7 مئی، پاک بھارت فضائیہ کی جھڑپ، حالیہ تاریخ کی سب سے طویل لڑائی

بھارت میں بلیک آؤٹ، پاکستانیوں کا مورال بہت بلند ہے، امریکی اخبار

پاک بھارت جنگ میں مداخلت نہیں کرسکتے، نائب امریکی صدر

بھارتی شیلنگ سے مزید 4 پاکستانی زخمی، پاک فوج نے پوسٹ تباہ کردی

عوام کا حکومتِ پاکستان پر بھارت کو جواب دینے کا دباؤ ہے، رضوان سعید شیخ

جھوٹی خبریں پھیلانے والے بھارتیوں کو زارا نور عباس کا کرارا جواب

پی ایس ایل 10: غیر ملکی کھلاڑی اور آفیشلز آج شام دبئی روانہ ہونگے

ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ، 5 شہری شہید، پاک فوج نے کئی بھارتی چیک پوسٹیں اور بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیا

پاک بھارت کشیدگی، جھوٹ پر مشتمل بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا جاری

وزارت اقتصادی امور کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ ہیک ہوگیا

زاہد احمد مودی حکومت اور بھارتی اداکاروں پر برہم

بھارت کے مزید 6 اسرائیلی ساختہ ڈرون تباہ، تعداد 77 ہوگئی

چینی شہری بھارتی سرحدی علاقوں میں جانے سے احتیاط کریں: چینی سفارتخانہ

انڈین پریمیئر لیگ معطل کردی گئی

پاک فضائیہ نے فضاؤں میں پاکستان کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا: مریم نواز

بھارت کو ایک اور سبکی کا سامنا، آئی پی ایل دبئی میں نہیں ہوسکتا

پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی، چینی بھی بھارتیوں کا مذاق اڑانے لگے

بھارت نے کراچی پورٹ کا ایکس اکاؤنٹ ہیک کرکے حملے کی جھوٹی خبر دی، ترجمان کے پی ٹی

وزارت اقتصادی امور کا ایکس اکاؤنٹ بحال ہونے کے بعد ڈی ایکٹیویٹ

بھارتی حکومت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مشہور 8 ہزار اکاونٹس بند کرنے کا حکم

3 دن سے بھارتی فورسز پاکستان کی فورسز سے ذلت آمیز شکست کھا رہی ہیں، عظمیٰ بخاری

اسرائیل اور بھارت مسلمان دشمنی میں اکٹھے ہیں، خواجہ آصف

شہید ارتضیٰ عباس طوری کی پرانی ویڈیو صارفین کو غمگین کر گئی

پاک بھارت کشیدگی: فضائی حدود کی بندش، سیکڑوں پاکستانی بنکاک میں پھنس گئے

مشکل حالات ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کتنی ضروری ہے: انور مقصود

لاہور ایئرپورٹ کا فلائٹ آپریشن مختصر دورانیے کی بندش کے بعد دوبارہ بحال

ہم جب جواب دیں گے تو دنیا خود سن لے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

فیک نیوز بھارتی حکومت کی گھبراہٹ، ناکامی اور بد حواسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عطا تارڑ

آزاد کشمیر میں بھارتی جارحیت سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری

پاک فضائیہ نے رافیل تباہ کر کے تاریخ رقم کردی: ریحام خان

ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے: حنیف عباسی

پیسہ انسان کی عزت نفس اور وطن کی عزت سے بڑھ کر نہیں ہوتا، شان شاہد

بھارت کو پلوامہ حملے کے جواب میں بالاکوٹ حملے سے کیا حاصل ہوا؟ محبوبہ مفتی

پاک بھارت جنگ سے پوری دنیا متاثر ہوگی، چوہدری شجاعت حسین

بھارت کے بگلیہار ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب کی سطح میں اضافہ

پاکستانی طیاروں نے رافیل کو راکھ کا ڈھیر بنادیا، طارق فضل چوہدری

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے

پاکستان اپنے وقار اور سالمیت کی حفاظت ہر قیمت پر کرے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

حامد میر نے بھارتی اینکر پرسن ارنب گوسوامی کو کھلا چیلنج دے دیا

بھارت نے دنیا کے مہنگے ترین اسرائیلی ڈرونز استعمال کیے: اعظم نذیر تارڑ

لڑائی بھارتی عوام سے نہیں مودی کی انتہا پسند سوچ سے ہے، گورنر سندھ

بھارتی جارحیت: اسحاق ڈار کی جاپانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو

اگر بھارت پاک فضائیہ کے پائلٹ کو پکڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے تو سامنے لائے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کے پاس قابل فوجی صلاحیت ہے، بھارت کو برتری حاصل کرنا مشکل ہوگا، امریکی ماہر

ہنگامی حالات، نوجوانوں کو امدادی کاموں کی تربیت دینے کا فیصلہ

وزیراعظم شہبازشریف سے سعودی وزیر عادل الجبیر کی ملاقات

میرپور، آزاد کشمیر میں گزشتہ شب بھارتی گولہ باری سے 4 شہری شہید

کرتار پور راہداری آج تیسرے روز بھی بند

بھارتی فضائیہ بہت پریشان ہے، پول کھل گیا، شہزاد اقبال حقائق سامنے لے آئے

کشمیر کونسل ای یو کے تحت برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

بھارت سے گزشتہ شب 4 پروجیکٹائل فائر، 3 امرتسر میں جا گرے، سیکیورٹی ذرائع

بھارتی میڈیا جھوٹ پھیلاکر عوام کو بے وقوف بنارہا ہے، دھروو راٹھی نے چینلز کے بائیکاٹ کا مشورہ دے دیا

سوناکشی سنہا نے بھارتی میڈیا کو مذاق قرار دے دیا، افراتفری نہ پھیلانے کا مشورہ

مودی حکومت نے بھارتی عسکری تجزیہ کار کی ویڈیو بھی بلاک کردی

رافیل طیارے میں موجود بھارتی پائلٹس کی گفتگو بھی انٹرسیپٹ کی، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد

10 مئی 2025ء

مودی حکومت نے بھارتی عسکری تجزیہ کار کی ویڈیو کیوں بلاک کی؟

لاہور: سرحدی علاقے میں شہری کی بھارتی ڈرون پر فائرنگ

پاکستان کی 3 ایئربیس پرحملے کی کوشش ناکام

بھارتی میڈیا پاکستان کی نفرت میں باؤلہ اور بے قابو ہوگیا

پاکستان کا آپریشن بنیان مرصوص، ایس 400 اور ایئر بیسز سمیت بھارت کے کئی فوجی اہداف تباہ

لائیو بلاگ: بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا آپریشن ’بنیان مرصوص‘

پاک بھارت کشیدگی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ٹیلی فونک رابطہ

دشمن پر ہیبت طاری کرنے والا فتح-ون میزائل کن خصوصیات کا حامل ہے؟

بنیان المرصوص پر کامران اکمل کا ردِ عمل

بھارت پر پاکستانی سائبر حملہ، انڈین ڈیفنس پروڈکشن ویب سائٹ کاحساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فارسیل

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا، وزیر دفاع خواجہ آصف

وعدے کے مطابق شہدا کے خون کا بدلہ لے لیا گیا، آصف غفور

وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کا ٹیلی فونک رابطہ

مریم نواز کا پاک فوج کیلئے اعزاز و افتخار کا اظہار

چین کی پاک بھارت تنازعہ حل کرنے میں مدد کی پیشکش

کراچی: فضائی حملوں سے بچنے کیلئے نجی اسپتال نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے پاکستانی حملوں اور اس سے تباہی کا اعتراف کرلیا

بھارت امن چاہے تو پاکستان تیار ہے: اسحٰق ڈار

پاک بھارت کشیدگی، وزیراعظم آج شام قوم سے خطاب کریں گے

افواجِ پاکستان کا ہر وار دشمن کے غرور کا کفن بن چکا ہے، مریم اورنگزیب

بھارتی ایئربیس ادھم پور کی تباہی کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستان اب مزید کیا کرے گا؟ خواجہ آصف نے بتادیا

پاک فضائیہ نے انڈین ملٹری سیٹیلائٹ جام کردیا

’پاکستان کے پاس میزائل کا ذخیرہ بہت زیادہ ہے‘، بھارتی صحافیوں کی میڈیا پر دہائی

پاک بھارت کشیدگی: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات

پاکستان کی فضائی حدود کل 11مئی دوپہر 12:00 بجے تک بند رہیں گی

امن ہماری خواہش ہے کمزوری نہیں، رمیش سنگھ اروڑہ

پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے، ہم پر حملے کیے گئے جس کا جواب دیا ہے: عطااللّٰہ تارڑ

اپنے دفاعی اداروں پر فخر ہے، دشمن کو جواب دینا جانتے ہیں، پنجاب اور کےپی گورنرز

پاکستان کے بھرپور جوابی وار سے بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، حمزہ شہباز

بھارتی جدید دفاعی سسٹم کو تباہ کرنے والے جے ایف-17 تھنڈر کی ویڈیو

وزیرِ اعظم سے بیرسٹر گوہر کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ

پاک بھارت کشیدگی: پی سی بی نے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس ملتوی کر دیے

پنجاب: بھارت کے بزدلانہ حملوں کے تناظر میں ایمرجنسی حفاظتی انتظامات کیلئے 2 ارب روپے جاری

آپریشن بنیان مرصوص: فنکار افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے

پاکستان کے منہ توڑ جواب کے بعد بھارت نے کشیدگی میں کمی کے اقدامات کی پیشکش کردی

افواجِ پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، حافظ نعیم الرحمان

چین اور پاکستان کے تعلقات لوہے جیسے مضبوط ہیں: وکٹر گاؤ

پاکستان نے بھارتی جارحیت پر دیے گئے ردعمل سے ترکیہ کو آگاہ کردیا

پاک بھارت کشیدگی میں پہلی مرتبہ پاکستان کی جانب سے جے10 سی طیارے کا استعمال

مقبوضہ کشمیر: معصوم کشمیریوں کیلئے دہشت کی علامت راج کمار تھاپا پاکستانی شیلنگ میں ہلاک

پاک فضائیہ کے غازیوں کی مشن پر جانے سے قبل آخری وصیت کرتے تصویر وائرل

پاک فوج نے بھارت کے اڑی سپلائی ڈپو سمیت متعدد پوسٹیں تباہ کر دیں

بھارتی پائلٹس میں مہارت ہے نہ ڈرونز کوئی نقصان کرسکے، عطا تارڑ

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہوگئی، سیزفائر کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا

مذاکرات میزائلوں اور ڈرونز کے تلے نہیں ہوسکتے، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان اور بھارت کے درمیان ساڑھے 4 بجے سے سیز فائر ہو گیا: اسحاق ڈار

پاکستان، بھارت میں جنگ بندی ہوگئی، فوجی کارروائیاں بھی روک دی جائیں گی، بھارتی سیکریٹری خارجہ

پاکستانی فضائی حدود پروازوں کیلئے مکمل طور پر بحال

پاکستان کا جواب تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا: وزیرِ اعلیٰ پنجاب

اللّٰہ ربّ العزت کا شکر ہے اس نے پاکستان کو سر بلند کیا، نواز شریف

پاکستان نے بھارت کی طرح شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا: شیری رحمٰن

آئندہ بھارت پر حملہ ہوا تو اس کو جنگ تصور کیا جائے گا، نریندر مودی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ

پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے: بلاول بھٹو

ہمیں مسلح افواج پر فخر ہے، پاکستان زندہ باد، شعیب ملک کا پاک فوج کو خراج تحسین

بھارت سے سیز فائر، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی اماراتی ہم منصب سے گفتگو

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کیسے ہوا؟ امریکی صحافی نے تفصیلات بتادیں

جنگ بندی کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے: ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان

جنگ بندی کے باوجود سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا، بھارتی حکام

بھارت کو ماننا پڑے گا پاکستان کی فضائی طاقت اس سے زیادہ ہے: برطانوی صحافی اینبرسن اتھر جان

مسائل نے طویل عرصے سے خطے کو متاثر کر رکھا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

پاک بھارت جنگ بندی، اقوامِ متحدہ، سعودی عرب، ایران، برطانیہ، جرمنی کا خیرمقدم

ڈیرل مچل کا پاک بھارت کشیدگی پر امن کا پیغام

بھارتی شہریوں نے ارنب گوسوامی اور جعلی خبریں دینے والے بھارتی میڈیا کی دھجیاں اڑا دیں

فضائی اپریشن کھلتے ہی کراچی سے پہلی پرواز دوحہ روانہ ہوگئی

خوشی ہے پاکستان، بھارت جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے، امریکی وزیر خارجہ

ہم نے بھارتی نام نہاد فوجی قوت کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے، صدر آصف زرداری

حساس انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکا نے پاک بھارت کشیدگی میں اپنی مداخلت بڑھائی، امریکی صحافی

پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے: وزیرِاعظم شہباز شریف

آپریشن بُنيان مرصوص کی کامیابی کے بعد ملک بھر میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، مٹھائیاں تقسیم

دنیا کہہ رہی ہے بھارت کی ملٹری اسسمنٹ ناکام ثابت ہوئی، خواجہ آصف

پاکستان سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کر رہا، عطا تارڑ

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چینی وزیر خارجہ

10 مئی 2025 ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مایا علی کا پاک فوج کو زبردست خراج تحسین

11 مئی 2025ء

لگ رہا تھا کبھی اپنے بچوں کو نہیں مل پاؤں گی: حرا مانی کی ابوظبی ایئر پورٹ سے روتے ہوئے ویڈیو

مسلح افواج نے فتح حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا: ہارون اختر

ہم نے سیزفائر کی درخواست نہیں کی، کوئی بھارتی پائلٹ حراست میں نہیں، ڈی جی ISPR

5 بھارتی جنگی طیارے مار گرانے پر برطانوی اخبار نے پاک فضائیہ کو فضاؤں کی حکمراں تسلیم کر لیا

سیز فائر پاکستان کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر عظیم کامیابی ہے: خالد مقبول صدیقی

پاکستان بھر میں آج بھی 150 پروازیں منسوخ

مدرز ڈے کا کیک شہداء اور غازیوں کی ماؤں کے نام کرتا ہوں: گورنر سندھ

آزاد کشمیر میں بھارتی گولہ باری سے 30 کشمیری شہید ہوئے: مظہر سعید

پاک فوج کا بھارت کو بھرپور جواب، ملک بھر میں یومِ تشکر

جنگ بندی کے بعد پاکستان کیلئے 8 غیر ملکی ایئر لائنز کی پروازیں شروع

رحیم یار خان: بھارتی حملے میں شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کا رن وے و ٹرمینل متاثر

نریندر مودی سے عوام ناراض، سیاسی گراف تیزی سے گر گیا: اعزاز چوہدری

ہم اپنی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں: اسد قیصر

پاک فوج کا دندان شکن جواب، مسئلہ کشمیر پھر انٹرنیشنلائزڈ ہو گیا: مقررین

پانی کے معاملے پر بھارت کو اس بار جیسا ہی جواب دیا جائیگا: رانا ثناء اللّٰہ

نومنتخب پوپ کا پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم

جنگ بندی کے اعلان کے بعد ٹرولنگ سے تنگ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایکس اکاؤنٹ لاک کر دیا

ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیشکش، بھارت کا انکار

مصری وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار اور جے شنکر سے ٹیلیفونک رابطہ

بھارت سمجھتا تھا کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے: احسن اقبال

جنگ سے واپسی، ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت میں سیز فائر کروادیا

آپریشن بنیان مرصوص بھارت پر کاری وار، پاکستان نے بھارتی ایئربیسز، براہموس اسٹوریج سائٹ اور S400 نظام تباہ کردیا

بنیان المرصوص: ناقابلِ شکست دیوار

پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا انداز جانتا ہے، ضیاء عباس

فجر کی اذان کیساتھ شروع ہوئے آپریشن بنیان مرصوص نے مغرب سے قبل ہی بھارتی ہزیمت کا مژدہ سنا دیا

جارحیت میں پہل نہیں کی لیکن اس بار بھارت میں گھس کر مارا، عطا تارڑ

نواز شریف کا وزیراعظم، آرمی چیف افواج پاکستان کو شاباش، مبارکباد

بھارتی شہریوں نے ارنب گوسوامی اور جعلی خبریں دینے والے بھارتی میڈیا کی دھجیاں اڑا دیں

قوم کو فتح مبارک، مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، کامل یقین ہے کشمیر اور آبی تنازعات سمیت تمام مسائل بات چیت سے حل ہونگے، وزیراعظم، افواج کو خراج تحسین

عالمی برادری کا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم

پاک فوج کے جذبۂ ایمانی نے بھارت کے اربوں کے دفاعی نظام کو دھول چٹا دی

جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھارتی الزام پاکستان نے مسترد کردیا

مودی حکومت کی جنگ بندی قبول کرتے ہی شرائط سے انحراف

حساس انٹیلی جنس، امریکی نائب صدر نے مودی پر سیز فائر کیلئے دباؤ ڈالا، امریکی ٹی وی

پاکستان کی طاقتور جوابی کارروائی سے بھارت فوری پسپائی پر مجبور ہوا، امریکی صحافی

کون جیتا اور کون ہارا، جیت پاکستان کی امن کی سوچ کی ہوئی

پاکستان کیخلاف حملے کی منصوبہ بندی کرنے والی اہم شخصیات ماری گئیں

دفاعی ماہرین کی بھارت سے مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت کی ضرورت پر زور

شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا قومی و دینی فریضہ ہے: ملک احمدخان

وزیرِاعظم شہباز شریف کا آج یومِ تشکر منانے کا اعلان

بھارت کبھی نہیں چاہتا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھے: شیری رحمٰن

سرفراز بگٹی کا آپریشن بنيان مرصوص کی کامیابی پر پاک افواج کو خراج تحسین

پاکستان کا امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش کا خیرمقدم

آج غیرت، جرأت اور قومی وحدت کی فتح کا دن ہے: مریم نواز

ایس 400 کی تباہی پاک بھارت جنگ کا سب سے بڑا واقعہ قرار

پاکستان نے دفاع، سفارتکاری اور عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی حاصل کی: شازیہ مری

بہادر پاکستانی افواج نے مکار دشمن کو خاک میں ملا دیا: چوہدری شافع حسین

پاک بھارت حالیہ ٹکراؤ نے چینی جنگی جہازوں کی مانگ بڑھا دی

سیکریٹری جنرل یو این کا جنگ بندی پر بیان، پاکستان کا خیر مقدم

بھارتی اپوزیشن کا نریندر مودی سے پہلگام واقعے، آپریشن سندور پر پارلیمان میں جواب دینے کا مطالبہ

جنگ ختم نہیں ہوئی، پاکستان کو بھارت سے چوکنا رہنا ہو گا: عبدالباسط

پاک بھارت جنگ، سفارت خانہ پاکستان کی سہولتوں کی فراہمی پر فرانسیسی میڈیا کا اظہارِ تشکر

فاسٹ بولر محمد عباس نے شاندار پرفارمنس پاکستانی افواج کے نام کر دی

آپریشن بنيان مرصوص کی کامیابی، فرانس میں پاکستانی کمیونٹی کا جشن

12 مئی 2025ء

شکر الحمد للّٰہ

اسلام کی جیت مبارک ہو

مودی ناقابل اعتماد کیوں؟

بھارتی فوج پاکستان کے خلاف اتنی کمزور کیوں ثابت ہوئی؟

کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان نے سائبر ہتھیاروں کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ استعمال کیا

خوف یا خفیہ منصوبہ بندی، سیز فائر کے باوجود 20 بھارتی ایئرپورٹ مسلسل بند

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکی صدر کی ثالثی پیشکش، انڈیا خاموش

نئے پوپ لیو کا پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم، تیسری عالمی جنگ کا انتباہ

طاقت اور بالادستی دکھانے کی کوشش نے بھارتی کمزوریاں عیاں

بھارتی اپوزیشن نے ٹرمپ کی ثالثی کو مسترد کردیا

پاکستان اور بھارت کے مابین سمجھوتے پر آج اہم پیشرفت متوقع

24 بھارتی ایئرپورٹ مسلسل بند، طیارے ہٹا دیے گئے

اب مودی کو سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستان سے الجھنا کتنا مہنگا پڑسکتا ہے، شاہد آفریدی

بھارت پاکستان کو کمزور نہ جانے، بیٹھ کر بات کرلے تو بہتر ہوگا، اعزاز چوہدری

سکھ کمیونٹی بھارتی سازشوں کو ہر سطح پر مسترد کرتی ہے: رمیش سنگھ

جنگ بندی برقرار رکھنا بھارت کیلئے ناگزیر تو ہے، مگر وہ مکار دشمن ہے، لیاقت بلوچ

پاک فضائیہ کا نظم و ضبط بہت زبردست ہے، عماد عرفانی

پاک بھارت کشیدگی کے بعد کی صورتحال پر آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کا 19واں روز

ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد سوشل میڈیا پر چھاگئے

رافیل طیارے بنانے والی فرانسیسی کمپنی کے شیئرز کی قدر میں مسلسل کمی

وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے برطانوی ہم منصب کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

’دی سائلنٹ گائے‘ نے اچھے اچھوں کی بولتی بند کردی

فرانس میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں نے افواج پاکستان کی کامیابی پر یوم تشکر منایا

امریکی وزیر خارجہ کی برطانوی ہم منصب سے پاک بھارت کشیدگی پر بات چیت

قصور: بھارتی بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ

پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق، بھارتی میڈیا

بھارتی ڈرون حملے میں 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی شہید ہوا، وزیر داخلہ کی شہید کے گھر آمد

قومی اسمبلی میں افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی گئی

امریکا نے پاک بھارت جوہری جنگ رکوائی، ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، ہر سال 10 مئی کو یوم ’معرکۂ حق‘ منانے کا اعلان

آرمی چیف کا کمبائنڈ ملٹری اسپتال راولپنڈی کا دورہ، جوانوں اور شہریوں کی عیادت

بھارتی اینکر ارنب گوسوامی پاکستانیوں کو دھمکیاں, حامد میر کا کرارا جواب

پاکستان کو 5 گنا بڑی فوج پر فتح مبین ملی، مفتی تقی عثمانی

بھارتی فوج نے رافیل طیارہ گرنے کا بالواسطہ اعتراف کرلیا

مودی کی تقریر شکست کا اعتراف، باڈی لینگویج ہارے ہوئے شخص کا نوحہ تھی، عرفان صدیقی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی قوم سے خطاب کے دوران آف کلر نظر آئے

وزیر اعظم شہباز شریف نے شہداء پیکیج کا اعلان کر دیا

ترک صدر اردوان نے ایک بار پھر پاکستانی عوام کے دل جیت لیے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

کراچی میں بمبئی بریانی، دِلی کی نہاری اور حیدرآبادی اچار بیچنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں

بھارت کشمیر پر اکڑ دکھائے گا لیکن ٹرمپ کا بیان آچکا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ہم نے بھارت کے 7 جہاز مار گرائے، 25 اہداف کو انگیج کیا، ایئر مارشل (ر) ارشد ملک

مودی کی وجہ سے پورا خطہ مسائل میں مبتلا ہے، مفتی منیب الرحمان

مودی ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح تقریر کر رہے تھے، جس کے پلے کچھ نہیں، خواجہ آصف

13 مئی 2025ء

آئی ایس پی آر کا آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی تکمیل کا اعلان

کشیدگی کے باعث بڑا مالیاتی اثر متوقع نہیں، وزیر خزانہ

اسٹاک مارکیٹ، پاک بھارت جنگ بندی، ملکی تاریخ کی ریکارڈ تیزی، 10123 پوائنٹس کا اضافہ

افواج پاکستان نے دنیا میں اپنی برتری کا سکہ جما دیا، مقررین

ٹرمپ کا خطاب بھارت کو برا لگا، بھارتی میڈیا ناراض، تجزیہ کار

بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مصنوعات کی بائیکاٹ مہم

رافیل طیارے بنانے والی فرانسیسی کمپنی کے شیئرز کی قدر میں مسلسل کمی

سعودی کابینہ اجلاس، پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم

مظاہرین پر کریک ڈاؤن، شیخ حسینہ پانچ الزامات میں قصوروار پائیں، چیف پراسیکیوٹر

ہم نے ایٹمی جنگ رکوائی، پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلئے تجارت کو استعمال کیا، ٹرمپ

پاکستان کیساتھ صرف دہشت گردی اور آزاد کشمیر پر بات ہوگی، مودی

پاکستان کی فتح نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا، افواج پاکستان کا وقار بلند ترین سطح پر

پاک بھارت جنگ بندی کے باوجود سرحدوں پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، امریکی میڈیا

پاک بھارت کشیدگی: آسٹریلوی کرکٹرز آئی پی ایل کیلئے واپس بھارت جائینگے یا نہیں؟

پاکستانی اور چینی فوجیوں کا پاک چین سرحد پر رقص، ویڈیو وائرل

1965ء کے ہیروز، اذان سمیع خان نے فائٹر پائلٹ دادا کی یادگار ویڈیو شیئر کردی

بھارتی حملوں میں 40 پاکستانی شہری اور 11 فوجی جوان شہید ہوئے، آئی ایس پی آر

پاک بھارت کشیدگی: سیز فائر کے باوجود کرتارپور راہداری تیسرے روز بھی بند

دانیہ انور نے پاکستانی خواتین کو حوصلہ رکھنے کا مشورہ کیوں دیا؟

ہمارے دفاعی ردعمل پر کچھ ممالک کو احساس ہوا کہ اگلا قدم بہت خطرناک ہو سکتا ہے: اسحاق ڈار

کوئی دو رائے نہیں کہ فتح پاکستان کی ہوئی، بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے: شیری رحمٰن

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر ابرارالحق کا نیا گانا ریلیز

مودی کے دن گنے جاچکے، فیصلہ بھارتی عوام کرے گی، خواجہ آصف

امریکی ٹریول بلاگر پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی عوام کو پُرسکون دیکھ کر حیران

دنیا میں غلط فہمی تھی کہ بھارت کو روایتی اور غیر روایتی برتری حاصل ہے، حنا ربانی کھر

گورنر پنجاب سلیم حیدر خان کی ترکیہ و آذربائیجان کے سفیروں سے ملاقات

مودی شکست خوردہ ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ہمیں چوکنا رہنا چاہیے: عبدالقادر پٹیل

پاکستان نے نریندر مودی کے اشتعال انگیز بیانات مسترد کردیے

بھارت سے سیز فائر ہو گیا تو آپس میں بھی ہونا چاہیے: بیرسٹر گوہر

آج شام گورنر ہاؤس کراچی میں افواج پاکستان کے لیے یوم تشکر منایا جائے گا

پیپلز پارٹی سندھ کا 15 مئی کو سندھ بھر میں اظہار تشکر ریلیاں نکالنے کا اعلان

برسلز: آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کا جشن کل یورپی پارلیمنٹ کے سامنے منایا جائے گا

مصطفیٰ کمال کا دورہ آزاد کشمیر جاری، بھارتی جارحیت سے شہید راجہ شہپال کے گھر آمد

‎مسلم لیگ ن فرانس کا 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے کے اعلان کا خیرمقدم

نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید، راہول گاندھی کی پرانی تقریر وائرل

آپریشن بنیان مرصوص: بھارتی طیارے کہاں کہاں گرے، پائلٹس کا کیا ہوا، تفصیلات سامنے آگئیں

سندھ طاس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ اقدام جنگ ہوگا، اسحاق ڈار

سابق بھارتی آرمی چیف اپنے ہی میڈیا پر برس پڑے

راجہ فاروق حیدر کی متاثرینِ گولہ باری سے اظہارِ یکجہتی کیلئے وادیٔ نیلم آمد

بھارتی فوج نے اپنے ہی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کردیا

ترک صدر کا پاکستانی قوم کی واضح حمایت کا اعلان، جنگ بندی پر خوشی ہے، طیب اردوان

اسلام آباد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول پر آنے لگا، 50 بین الاقوامی پروازوں کی لینڈنگ

بھارت کا پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

بھارتی کرکٹر محمد شامی بھی اپنے میڈیا کی فیک نیوز پر برس پڑے

بھارتی سوشل میڈیا انفلونسرز نے میڈیا چینلز کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارت کی جموں و کشمیر پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، بھارتی وزارت خارجہ

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش نے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا

پاکستان کی 3 بڑی جماعتوں نے مودی کو ناقابل بھروسہ قرار دیدیا

وزیرِ اعظم کا ترک صدر کی پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا خیر مقدم

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست خود نریندر مودی نے کی، پروفیسر امریکی یونیورسٹی

مولانا فضل الرحمٰن کا حکومت سے اے پی سی بلانے کا مطالبہ

14 مئی 2025ء

پاک فضائیہ کے جواب میں بھارتی طیارے فائر نہ کرسکے

پاک بھارت کشدگی کے دوران گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا گیا؟

جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا مودی جارحیت دہراتا رہے گا: مشعال ملک

پاک بھارت کشیدگی سے جنوبی ایشیا میں بڑی تباہی ہوسکتی تھی: ممتاز زہرا بلوچ

جے 10 سی بنانیوالی چینی کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں اربوں ڈالرز کا اضافہ

پیپلز پارٹی کا کل یوم تشکر منانے کا اعلان

پاکستان کے ہاتھوں جنگی محاذ پر بھارت کی شکست پر جاوید اختر تلملا گئے

پاک فضائیہ نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا: مریم نواز

شہباز شریف کا آپریشن بنیان مرصوص کی فرنٹ لائنز کا دورہ

ایک چیک پوسٹ پر 100 مارٹر، 80 میزائل گرائے گئے: خواجہ آصف

بھارتی مسلمان افسر کرنل صوفیہ کیلئے نامناسب الفاظ کہنے پر وزیر وجے شاہ پر مقدمہ درج کرنے کا حکم

پاکستان نے اپنی ایٹمی صلاحیت مؤثر انداز میں منوالی: بھارتی اخبار

چند گھنٹوں میں پاکستان کے محافظوں نے بھارتی جارحیت خاک میں ملا دی: وزیرِ اعظم شہباز شریف

پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

آپریشن سندور بھارتی افواج کی ناکامی، مودی کیلئے بڑا دھچکا ہے: بھارتی تجزیہ کار پراوین سواہنی

وزیرِ اعظم شہبازشریف کا سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ سے اظہار تشکر

پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطلی کے اقدام پر بھارت کو خط لکھ دیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان و بھارت کو کھانے کی میز پر جمع کرنے کی تجویز دے دی

ہم پاکستان کا ساتھ نہ دیتے تو کل اپنی نظروں کا سامنا نہ کر پاتے: ڈاکٹر احمد شائراولو

پاکستان کی حمایت کرنے پر بھارت میں ترکیہ، چین، آذربائیجان کیخلاف بائیکاٹ مہم

تاریخ میں پہلی بار سائبر جنگ ہوئی اور بھارت بالکل مفلوج ہوگیا: خواجہ آصف

پاک بھارت کشیدگی کے بعد قومی گرینڈ ڈائیلاگ کی اہم ضرورت ہے: ترجمان اے این پی

15 مئی 2025ء

نجم سیٹھی کا انٹرویو کرنے پر بھارتی صحافی کیخلاف مقدمہ درج

پاکستان کی حمایت پر بھارت کا سیاحتی بائیکاٹ، آذربائیجانی صحافی کا دوٹوک ردِعمل

بھارت میں کراچی بیکری پر توڑ پھوڑ، پاکستانی شوبز شخصیات کا ردعمل

کامران ٹیسوری کی رافیل کے ماڈل کو آگ لگا کر چائے کی چسکیاں لیتے ویڈیو وائرل

جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا سیز فائر ناپائیدار رہے گا: لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد

راولپنڈی: ملتوی شدہ امتحانات کی نئی تاریخیں سامنے آگئی

اب پوری دنیا کی نظریں پاک فضائیہ پر ہیں: کامران ٹیسوری

وزیرِ اعظم نے حالیہ بحران میں پاکستان کیساتھ یکجہتی اور حمایت پر آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیا

پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا تیسرا رابطہ مثبت رہا

واضح ہوگیا بھارت کا دنیا میں کوئی مددگار تھا تو وہ اسرائیل تھا: حافظ نعیم الرحمٰن

پاک بھارت کشیدگی: وزیراعلیٰ کے پی کا شہداء کے ورثاء کو 50، زخمیوں کو 10 لاکھ دینے کا اعلان

جھنگ: شہریوں کا پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین

پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق بیان کی شدید مذمت

سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھارت کے ’’نیو نارمل‘‘ جیسے بیانات کو بے بنیاد قرار دے دیا

ہماری ایئر فورس نے ثابت کیا مہنگا جہاز لینے سے دفاعی صلاحیت بہتر نہیں ہوتی، شبلی فراز

پاکستان کی امریکا کو دو طرفہ زیرو ٹیرف تجارتی معاہدے کی پیشکش

پاکستان اور بھارت نے سیز فائر 18مئی تک بڑھا دیا ہے، اسحاق ڈار

سمجھتا ہوں پاکستان اور بھارت کا تنازع حل ہوگیا، ڈونلڈ ٹرمپ

سینیٹ: بھارتی جارحیت کیخلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

پاکستان سے تعلقات و معاملات دو طرفہ ہوں گے: بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر

دشمن کو پیغام مل گیا اگر دوبارہ ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاؤں تلے روند دیں گے، وزیراعظم شہبازشریف

جو بھی ہماری سالمیت کی خلاف ورزی کی کوشش کرے گا، ہمارا جواب بے رحمانہ ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارتی اولمپیئن جیولن تھروور نیرج چوپڑا دباؤ میں آگئے، ارشد ندیم سے تعلقات پر وضاحت کرنے پر مجبور

آذربائیجان کی قیادت و عوام نے دنیا کو دکھا دیا ہم حقیقی بھائی ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

بھارت سے جنگ پر حکومت کو کوئی کریڈٹ نہیں جاتا: فیصل جاوید

پاکستان نے بھارت کو جواب دیکر اہلِ غزہ کا بدلہ لے لیا: مولانا فضل الرحمٰن

ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے بھارت کی طرف سے یہ سیز فائر جاری نہ رہے، بلاول بھٹو

پاکستان کے کئی طیارے گرانے کا بھارتی دعویٰ بکواس ہے، امریکی دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر

پاکستان کی حمایت پر بھارت نے ترک ایوی ایشن کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کردی

پاک بھارت اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ

بھارت کا خطے میں سپرمیسی کا خواب دفن ہو گیا: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار

جنگ بندی کے بعد بھارت میں اداکاروں، صحافیوں، فوجی افسر، خارجہ سیکریٹری کو دھمکیاں

16 مئی 2025ء

پاک بھارت کشیدگی: قومی ہاکی ٹیم کے ایشیاکپ 2025ء سے باہر ہونے کا امکان

سیز فائر نہ ہوتا تو پاکستان دہلی اور ممبئی پر چڑھائی کرچکا ہوتا: کامران ٹیسوری

ہم کبھی جنگ نہیں چاہتے ہم پُرامن لوگ ہیں: سردار سلیم حیدر

صدر اور وزیراعظم کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد

پاکستان نے بھارت کو صرف ٹریلر دیا ہے، پکچر ابھی باقی ہے: لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

معرکۂ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں یومِ تشکر، افواج پاکستان کو خراج تحسین

پاکستانی ویمن کرکٹرز کا یومِ تشکر پر جوش و خروش، افواج سے اظہار یکجہتی

بھارت تحقیقات پر آمادہ ہو جاتا تو اس سبکی سے بچ جاتا: ڈاکٹر محمد فیصل

بھارت نے پاکستان پر لگائے گئے الزمات کے کوئی ثبوت نہیں دکھائے: برطانوی وزیر خارجہ

کراچی: آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر یومِ تشکر، مزارقائد اور دیگر مقامات پر تقریبات

بھارتی میڈیا دیکھ کر لگا کارٹون نیٹ ورک دیکھ رہا ہوں: وزیرِ اعلیٰ سندھ

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا برطانوی ہم منصب سے پاک بھارت جنگ بندی کے بعد کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

بھارت کو معلوم نہیں تھا کہ کس قوم کو للکار رہا ہے: خالد مقبول صدیقی

جو دشمن خود کو جنوبی ایشیاء کا تھانیدار سمجھتا تھا اس کے 6 جہاز گرائے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

مصر: پاکستانی سفارتخانے میں یومِ تشکر کی تقریب

بھارتی فوجیوں کے حق میں پیغام جاری کرنے پر چیئرمین آئی سی سی جے شاہ تنقید کی زد میں

اللّٰہ کا شکر ہے بھارتی غرور خاک میں مل گیا: حافظ نعیم الرحمٰن

سوشل میڈیا پر ترجمان افواجِ پاکستان کی پریس کانفرنس کی پزیرائی

بھارت مسئلہ کشمیر دفن کرنا چاہتا تھا جو دوباہ اجاگر ہو گیا: مشاہد حسین

ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو شاندار جواب دیا جو اسے یاد رہے گا: آرمی چیف

افواج پاکستان دشمن کے سامنے بنیان مرصوص بن گئیں: آئی جی اسلام آباد

17 مئی 2025ء

دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی، رضوان سعید شیخ

شیری رحمان کا بھی سوشل میڈيا اکاؤنٹ بھارت میں بلاک

امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر پاک بھارت جنگ بندی کو پائیدار بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں: برطانیہ

انقرہ: سفارتخانہ پاکستان میں یومِ تشکر کی شاندار تقریب کا انعقاد

بھارتی جارحیت کے سامنے پاکستانی اور کشمیری یکجا ہیں، رانا ثناء

شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی و دیگر امور پر تبادلہ خیال

بھارتی میڈیا نے پاک بھارت جنگ کے دوران بڑھ چڑھ کر جھوٹ کو پھیلایا، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز

بھارتی خاتون یوٹیوبر پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

اوسلو: پاکستانی سفارتخانے میں بھارت کیخلاف پاکستان کی شاندار فتح پر تقریبِ یومِ تشکر

پیرس: پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام یومِ تشکر کی تقریب

لندن: پاکستان ہاؤس میں یوم تشکر کی تقریب کا انعقاد

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر دی ہیگ میں یوم تشکر کی تقریب

تاریخ گواہ رہے گی چند گھنٹوں میں مسلح افواج نے دشمن کو پسپا کیا، صدر آصف زرداری

بھارت و اسرائیل ہی نہیں، ان کے سہولت کاروں کو بھی شکست ہوئی: سعد رفیق

بتایا جائے حملے کے بعد بھارتی فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے؟ راہول گاندھی نے سوال اٹھا دیا

جو کہتے تھے فوج اپنا کام نہیں کرتی، آج ان سے سوال کریں کہ فوج نے اپنا کام کیا یا نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارتی جنونیت اور تکبر کے مقابلے میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی، حافظ نعیم

مناسب نہیں پانی سے متعلق حکومتی پلان میڈیا پر بیان کروں، اسحاق ڈار

نریندر مودی کا دریاؤں کا بہاؤ کم کرنے کیلئے نئے منصوبوں کی پلاننگ کرنے کا حکم

وزیرِاعظم نے مجھ سے وفد لیکر دنیا میں پاکستان کا امن کا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی ہے: بلاول بھٹو زرداری

6 جہاز تباہ کروانے کے بعد بھارت کو سفارتکاری کا خیال آگیا

پاکستان پر حملے میں رافیل کی تباہی مغرب کیلئے ایک سبق ہے، جرمن اخبار نے آرٹیکل لکھ دیا

ایرانی صدر کا فون، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئندہ ہفتے دورے کی دعوت قبول کرلی

شاہد آفریدی کی وزیراعظم سے ملاقات، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارکباد

وزیرِاعظم کا بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کیلئے سفارتی وفد بھیجنے کا فیصلہ

18 مئی 2025ء

بھارتی وزارتِ دفاع نے جنگ بندی کی درخواست کی: ڈی جی آئی ایس پی آر

چین کے جے 10 سی طیارے امریکا کے ایف 16 کی برآمدات کیلئے بڑا خطرہ قرار

تمام فورسز سربراہان، وزیرِ اعظم اور نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں: گورنر سندھ

افواجِ پاکستان کے تاریخی جواب پر دشمن سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوا: وفاقی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ

معرکۂ حق، پاکستان نے بھارتی جارحیت اور جھوٹ بے نقاب کر کے ڈوزیئر جاری کر دیا

آج بھارت کیساتھ صرف اسرائیل اور افغان طالبان کھڑے ہیں: وزیرِ دفاع خواجہ آصف

بھارت کا چھٹا گرنے والا طیارہ میراج 2000 ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسحاق ڈار نے جے شنکر کا حملے کی پیشگی اطلاع کا دعویٰ مسترد کر دیا

بھارت: آپریشن سندور پر ٹوئٹ کرنے پر مسلمان پروفیسر گرفتار

پی ٹی آئی کی یورپ میں پاک فوج کے حق میں مہم کا آغاز

بھارت نے دو چار بم گرائے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا: اُدت راج

آسام کے وزیرِ اعلیٰ نے کانگریسی رکنِ پارلیمنٹ پر آئی ایس آئی سے رابطے کا الزام لگا دیا

بھارت کیخلاف کامیابی نواز شریف کی ہدایات سے ملی: ایاز صادق

بھارت سے مذاکرات اب برابری کی بنیاد پر ہوں گے: حافظ نعیم

پاکستان نے بھارت سے 1971ء کا بدلہ لے لیا: عطاء تارڑ

سکھوں کو کرتارپور آنے سے روکنا نریندر مودی کی فاشسٹ سوچ ہے: محسن نقوی

19 مئی 2025ء

22 بھارتی چوکیاں ہمارے پاس ہیں: وزیرِ ریلوے حنیف عباسی

پاکستان بھارتی تسلط کے سامنے نہیں جھکے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر

ایئرچیف مارشل ظہیر احمد کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت

بھارت کی جارحیت کا پردہ چاک، معرکۂ حق دستاویزی فلم جاری

پاک بھارت کشیدگی: جنگ بندی کے باوجود کرتارپور راہداری 9 روز سے بند

کتنے بھارتی طیارے تباہ ہوئے؟ راہول گاندھی نے اپنا سوال پھر دہرا دیا

بھارتی حملے کے بعد خطرات رکے نہیں، مزید بڑھ گئے، شبلی فراز

شاہین میزائل سے متعلق بھارتی میڈیا کا دعویٰ بےبنیاد اور من گھڑت ہے، دفتر خارجہ

توقع ہے پاک بھارت سیز فائر برقرار رہے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک بھارت کشیدگی پر بات کرنے کیلئے وزیر خارجہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بیان دینے پر بھارتی وزیر کی معافی قبول نہیں کی گئی

وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

پاک بھارت فائر بندی قطعی طور پر دوطرفہ تھی، ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں، بھارت

وزیرِاعظم کا پاکستان نیوی ڈاک یارڈ کا دورہ، پاک بحریہ کے کلیدی کردار کو خراج تحسین

مودی فیس سیونگ کیلئے اس قسم کی حرکت دوبارہ کرسکتا ہے، فضل الرحمان

پاک بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے دونوں مسلح افواج کو معمول کی پوزیشن پر لیجانے کیلئے رابطے، ذرائع

20 مئی 2025ء

ہمیں شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

خدشہ موجود ہے کہ بھارت پھر کوئی شرارت کر سکتا ہے: عرفان صدیقی

پاکستان نے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی فوجی الزام مسترد کردیا

بھارتی حملے کے شہدا اور زخمیوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان

بھارتی اپنی ہزیمت کا بدلہ ترکیہ سے لینے لگے، پاکستان کی حمایت پر ترک مصنوعات کا بائیکاٹ

بھارتی اسٹیڈیم کی گیلری سے کنیریا کی تصویر ہٹادی گئی

بھارتی پروپیگنڈا کا جواب دینے کے حوالے سے دفتر خارجہ میں آج شام بریفنگ ہوگی

بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا پاکستان کو اس وقت اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے: سلمان اکرم راجہ

91 فیصد پاکستانیوں نے سیز فائر معاہدے کو درست قرار دیا، گیلپ پاکستان

آپریشن سندور پر تبصرہ، پروفیسر علی خان محمود آباد کو جوڈیشل کسٹڈی کردیا گیا

کیا بھارت اب چین سے بھی مار کھائے گا؟ مصدق ملک

بھارتی صحافی نے مودی سرکار کی جنگ پرفارمنس پر سوال اٹھادیے

چینی سفیر کا ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات

بھارتی فوج کے گولڈن ٹیمپل سے متعلق دعوے جھوٹ نکلے

بھارت خود کو اسرائیل اور ہمیں غزہ نہ سمجھے، شیری رحمان

21 مئی 2025ء

جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں ارنب گوسوامی کیخلاف مقدمہ درج

خضدار: پتہ تھا دشمن جنگ کی شکست کی سبکی مٹانے کیلئے بلوچستان کو چن سکتا ہے: سرفراز بگٹی

مسلم لیگ ن کا پارلیمانی پارٹی اجلاس، بھارتی جارحیت کیخلاف متفق مذمتی قرارداد منظور

میر علی میں بزدلانہ کارروائی کے پیچھے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والا فتنہ الخوارج ملوث ہے، آئی ایس پی آر

اصل تنازع اپنی جگہ موجود ہے، اس میں چنگاری کسی بھی وقت ڈالی جاسکتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ پہنچ گئے، بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کریں گے

بھارت کا خطے کا چوہدری اور بدمعاش بننے کا خواب ختم ہوگیا، مصدق ملک

بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ

سابق بھارتی وزیر خزانہ نے پہلگام حملے میں پاکستان کو کلین چٹ دے دی

کرنل صوفیہ کو دہشتگردوں کی بہن کہنے والا ہندو وزیر آزاد، پروفیسر کو مسلمان ہونے پر پکڑا گیا، ماہوا موئیترا

بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے دیا

خضدار میں اسکول بس پر حملہ بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی بدترین مثال ہے، وزیراعظم شہباز شریف

خضدار واقعے پر ہم جو کہہ رہے ہیں،اُس کا ثبوت دیں گے، خواجہ آصف

22 مئی 2025ء

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا

بھارتی پراکسیز کو باز آجانا چاہیے، بھارت کو جو جواب ملا اس سے سبق سیکھنا چاہیے: اسحاق ڈار

دہشت گردوں کی قیادت دہلی میں علاج کرواتی یا رہتی ہے: خواجہ آصف

سندھ طاس معاہدہ کوئی معطل نہیں کر سکتا، وزیر آبی وسائل معین وٹو

مودی اب کسی حملے سے پہلے 100 بار سوچے گا، وزیراعظم شہباز شریف

خضدار میں سفاکی بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والی پراکسیز کے ذریعے کی گئی، کور کمانڈرز کانفرنس

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار مان لیا

مودی جی کھوکھلی تقریریں کرنا بند کریں، تین سوالوں کا جواب دیں، راہول گاندھی

صدر مملکت اور وزیراعظم نے سید عاصم منیر کو ’’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘‘ کے اعزاز سے نوازا

15 ہزار کے پاکستانی ڈرونز پر 15 لاکھ کے میزائل داغے گئے؟ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت سے وضاحت مانگ لی

پاکستان اور بھارت کے شہریوں نے امن کیلئے دونوں ملکوں کا ترانہ مل کر پڑھا، جھنڈے بھی لہرائے

پانی سے متعلق کسی بھی بھارتی خدشے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، اٹارنی جنرل پاکستان

میڈیا ہمارا فخر ہے، آپ لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم صرف سچ بولتے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

23 مئی 2025ء

پہلگام دہشتگردی، شواہد کی عدم دستیابی واقعے کی پراسراریت تاحال قائم

پاکستان نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے الزامات مسترد کر دیے

بھارت دو چار دن پاکستان کا پانی روک سکتا ہے، مزید صلاحیت نہیں، بیرسٹر عقیل ملک

کوئی پاگل ہی سوچ سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی بند کر سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، سری لنکا میں تشویش

فتنہ الہندوستان نے را کی سرپرستی میں خضدار میں اسکول بس پر حملہ کیا، سیکریٹری داخلہ

ڈی جی آئی ایس پی آر اور سیکریٹری داخلہ نے بھارت کی پراکسی وار کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دے دیا

وزیراعظم سے بلاول بھٹو نے بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے رکھنے سے متعلق رہنمائی لی

پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کی پرواز پر پابندی میں توسیع

کولکتہ میں ہزاروں افراد کا مودی سرکار کے جنگی جنون کے خلاف مظاہرہ

حامد میر نے دستاویزی ثبوتوں سے بھارت کی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کردیا

بلوچستان جیسے سانحات ہوتے رہے تو پاک فوج سے کہیں گے مودی کا سر لاکر دیں، فیصل واوڈا

بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستان کا مؤقف پیش کرنے جانیوالے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات

بھارت میں میسو پاک مٹھائی سے پاک نکال کر میسو شری کردیا گیا

بھارت 10 مئی کی شکست فاش کو قیامت تک یاد رکھے گا، وزیر اعظم شہباز شریف

بھارتی مصنف نے مودی کی ذہنیت اور زیر اثر علاقوں کو’ ڈفر زون‘ قرار دے دیا

24 مئی 2025ء

آپریشن سندور جاری مگر فی الوقت غیر فعال ہے، بھارتی وزیر خارجہ

25 کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا: رضوان سعید شیخ

مودی کے غلط اندازے تھے، پاکستان کو واضح برتری ملی: پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ

پانی کے مسئلے پر ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتے: وفاقی وزیر معین وٹو

بھارت کے وزیرِ خارجہ سے اب تک کوئی بات نہیں ہو رہی: وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ

پاکستان بھارت کو جیو پولیٹکس کی بحث سے جذبات کو نکالنے کی ضرورت ہے، حسین حقانی

بھارتی بوکھلاہٹ، ہیلتھ ورکر کو پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام لگاکر پکڑ لیا

مقبوضہ کشمیر: آپریشن بنیان مرصوص سے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے پوسٹرز آویزاں

25 مئی 2025ء

فیلڈ مارشل نے فیصلہ کیا بھارت کے 26 مقامات پر انکو جواب دوں گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

سانحۂ خضدار کے معصوم شہداء کے خون کا بدلہ لیا جائے گا: صوبائی وزراء کا عزم کا اظہار

خیبر پختون خوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 9 بھارتی اسپانسرڈ خوارج ہلاک

وزیرِ اعظم شہباز شریف صدر ایردوان سے اظہار تشکر کیلئے استنبول پہنچ گئے

استنبول: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ترک صدر رجب طیب اردوان سے اظہارِ تشکر

سابق ’را‘ چیف اے ایس دلت نے دورانِ انٹرویو صحافی کو دھکے دیکر باہر نکال دیا

بھارتی خواتین نے نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا

26 مئی 2025ء

پاکستان کی سرحدوں یا خود مختاری کو پامال کرنے کی کسی ملک کو اجازت نہیں دیں گے، چین

بنیان مرصوص کی کامیابی پر عشائیہ، فیلڈ مارشل، صدر مملکت اور وزیراعظم شانہ بشانہ

پاکستان نے مار گرائے رافیل کی فوٹیج بھارتی افسر سے کیسے حاصل کی؟ دلچسپ حقائق سامنے آگئے

27 مئی 2025ء

بھارتی خارجہ پالیسی ناکام ہوگئی، پاکستان کیخلاف کسی ملک نے ساتھ نہیں دیا، راہول گاندھی

سرد جنگ کی نئی شکل، پاک بھارت ثقافتی رابطے ختم، امریکی اخبار

بھارتی وزیراعظم کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر پاکستان کا شدید ردعمل

پاکستان ایئر فورس کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر تباہ کرنے کا بھارتی میڈیا کا دعویٰ غلط ہے: اجے ساہنی

پاک افواج نے دشمن کو چند گھنٹوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا: چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد بغیری سے ملاقات

پاکستان نے نریندر مودی کا نفرت انگیز بیان امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا

ملک میں نواز شریف کے مرتبے کا کوئی لیڈر نہیں، عظمیٰ بخاری

پاکستانی عوام نے نریندر مودی کو کرارا جواب دیدیا

نریندر مودی بالآخر اپنی اوقات پر آگئے ہیں، خواجہ آصف

اکھنڈ بھارت کا منصوبہ بحر ہند میں ڈبو دیں گے، حنیف عباسی

پاکستان اور آذربائیجان کے عوام کے دل ایکساتھ دھڑکتے ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

28 مئی 2025ء

بھارتی وزیراعظم کا اشتعال انگیز بیان قابل افسوس، غیرمتوقع نہیں: دفتر خارجہ

بھارت نے پاکستان کو کمزور سمجھ کر بہت بڑی غلطی کی: حنیف عباسی

28 مئی کیساتھ 10 مئی نے پاکستان کی سلامتی کو نئی روح پھونکی: ایاز صادق

پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیاروں سمیت 6 جہاز گرائے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

پاکستان نے بھارتی غرور مٹی میں ملا دیا: احسن اقبال

ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کا ایک بار پھر پاکستان کی حمایت کا اعادہ

بھارت کیخلاف پاکستان کی کامیابی کا آذربائیجان میں بھی جشن منایا گیا: عطاء تارڑ

مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر پاکستانی پرچم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پوسٹرز آویزاں

وزیرِ اعظم شہباز شریف آذربائیجان سے تاجکستان روانہ

نریندر مودی کی فرعونیت اور تھانیداری ختم ہو چکی: امیر مقام

29 مئی 2025ء

وزیرِ اعظم شہباز شریف تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے پہنچ گئے

پاکستان امن چاہتا ہے، عالمی برادری بھارت کا محاسبہ کرے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

ہندوستان برصغیر ہے، تاریخ میں کبھی ایک ملک نہیں رہا: خواجہ آصف

رافیل طیاروں کی تباہی، فرانسیسی فوج کا پہلا ردِعمل

ٹرمپ نے بھارت پاکستان جنگ بندی کیلئے تجارت کا استعمال کیا: امریکی حکام کا عدالت میں دعویٰ

30 مئی 2025ء

بی جے پی کے رہنما کا پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف

حافظ نعیم الرحمٰن سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

پاکستان کی حمایت پر بھارت کا کولمبیا سے اظہار مایوسی

دہشت گردی کے معاملے پر ہم بھارت کو ٹکاکر جواب دیں گے، شیری رحمان

31 مئی 2025ء

بھارتی فوج نے پہلی مرتبہ پاکستان کی جانب سے بھارتی لڑاکا طیارے گرائے جانے کا اعتراف کرلیا

بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

طیارے گرنے کے بھارتی فوج کے اعتراف کے بعد کانگریس کی مودی سرکار پر سخت تنقید

کیرالا کمیونٹی ایونٹ میں شاہد آفریدی، عمر گل مدعو، بھارتی صحافی بھڑک اٹھے

معرکۂ حق کی طرح معیشت میں بھی کامیابی حاصل کرنی ہے: احسن اقبال

پاکستان کیلئے دریائے سندھ کا نظام محض ایک اثاثہ نہیں بلکہ "لائف لائن" ہے، ڈاکٹر محمد فیصل

ڈیلس: پاکستان کی جیت کی خوشی میں ’یومِِ تشکر‘ کی پروقار تقریب

جون 2025ء

1 جون 2025ء

جن جہازوں پر بھارت کو بڑا غرور تھا، وہ ہماری فضائیہ نے زمین پر پٹخ دیے: احسن اقبال

طیارے گرنے کا اعتراف، بھارتی فوج کے چیف آف ڈیفنس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

طیارے گرنے کے اعتراف پر بھارتی دفاعی ماہر جنرل انیل چوہان پر برس پڑے

قوم فیلڈ مارشل کی مقروض ہے جنہوں نے اسے یکجا کر دیا: فردوس عاشق اعوان

پانی پاکستان کی لائف لائن ہے جس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: معین وٹو

2 جون 2025ء

ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ خاموشی سے ملتوی کردیا گیا

بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر پاکستان کا سخت ردعمل

بھارت: پاکستان سے ہمدردی کے الزام میں 81 افراد گرفتار

نیو یارک میئر کی نشست کے امیدوار زوہران ممدانی نے مودی کو جنگی مجرم قرار دیدیا

پاکستان کی فضائی حدود 1 سال بند رہنے سے ایئر انڈیا کو 5 ہزار کروڑ کے نقصان کا تخمینہ ہے، سی ای او ایئر انڈیا

ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا بھارت میں مینوفیکچرنگ میں دلچسپی نہیں رکھتی، بھارتی وزیر

بلاول بھٹو نے نیو یارک پہنچتے ہی اپنا پیغام شیئر کردیا

بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں چینی مستقل مندوب سے ملاقات

جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو

بھارت کی جانب سے غیر ملکی دورے پر بھیجے گئے پارلیمانی وفود پر سوشل میڈیا پر تنقید

3 جون 2025ء

بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعے میں پاکستان نے مکمل طور پر اپنے وسائل پر انحصار کیا، جنرل ساحر شمشاد

بلاول بھٹو زرداری کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر سے ملاقات

پہلگام فالس فیلگ سے بھارت نے پاکستان کو پھنسانے کی کوشش کی، حافظ نعیم

فرانس جنگ بندی کا تسلسل یقینی بنائے، بلاول بھٹو

4 جون 2025ء

بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد واشنگٹن پہنچ گیا

بلاول بھٹو نے دہشت گردوں کیخلاف آئی ایس آئی اور را کے مل کر کام کرنے کی تجویز دے دی

مودی حکومت "مقدر کا سکندر" فلم بنارہی تھی، مگر مودی سرینڈر ثابت ہوئی، پون کھیرا

بھارت سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان نے بھارت کا نیو نارمل دفن کردیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

امن کی جدوجہد میں پاکستانی کمیونٹی کیساتھ کے ضرورت ہے: بلاول بھٹو زرداری

بھارت اپنے دوستوں کے ساتھ بھی مل کر چلنے کو تیار نہیں، حنا ربانی کھر

بھارتی حکام اور چینلز واشنگٹن پوسٹ کی خبر پر تبصرے سے گریزاں

5 جون 2025ء

اگلی بار پاک بھارت جنگ ہوئی تو ٹرمپ کے پاس مداخلت کرکے رکوانے کا وقت نہیں ہو گا، بلاول بھٹو

یورپی حکام بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے میں نہ آئیں: چیئرمین کشمیر کونسل ای یو

میں نے کہا شملہ معاہدہ پر وہی کچھ اپلائی ہوگا جو سندھ طاس معاہدے پر ہوگا، خواجہ آصف

6 جون 2025ء

پاک بھارت کشیدگی: 87 گھنٹے کی جنگ اصل واقعہ نہیں صرف ٹریلر تھا: شیری رحمان

پاک فضائیہ نے جو بھارتی جہاز گرائے ان کے پائلٹس کہاں ہیں؟ شہزاد اقبال نے بتادیا

پاک بھارت مذاکرات کروانے کیلئے بھی صدر ٹرمپ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ قیادت ’امن مشن‘ کو امریکی کانگریسی استقبالیے میں مرکزی حیثیت حاصل

مودی کے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان

7 جون 2025ء

وزیرِ اعظم کے اردن و بحرین کے بادشاہوں اور ازبک صدر سے ٹیلی فونک رابطے

بھارت کا پانی بند کرنا ایٹمی آبی جنگ کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے: بلاول بھٹو زرداری

اپنا دورہ اقوامِ متحدہ سے شروع کیا اور پاکستان کا مقدمہ پیش کیا: فیصل سبزواری

امریکا میں سب نے اتفاق کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطرناک ہے: شیری رحمٰن

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ اور اراکینِ سلامتی کونسل سے اچھی بات چیت ہوئی: جلیل عباس جیلانی

8 جون 2025ء

وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بحران میں عمان کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا

ایاز صادق کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا

وزیراعظم کی ترک صدر اور عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار

گورو ارجن دیوجی کی رسومات میں آنے والے سکھ یاتریوں کو بھارت نے پاکستان آنے سے روک دیا

وزیراعظم نے قازقستان کے صدر اور عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی

پاکستان کا اعلیٰ سطحی کثیر الجماعتی وفد لندن پہنچ گیا

9 جون 2025ء

پانی ہماری ناگزیر ضرورت ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا: بلاول بھٹو زرداری

بھارت غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ٹرمپ کی مصالحت سے انکاری ہے، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو کا سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی پر زور

10 جون 2025ء

جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا، حملہ بلا اشتعال کیا گیا، شیری رحمان

11 جون 2025ء

پنجاب رینجرز کے اہلکاروں نے پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں سُر بکھیر دیے

امریکا کو بھارت کو مذاکرات کیلئے کان سے پکڑ کر بھی لانا پڑا تو وہ لائیں گے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر مسترد کر دیا

جے شنکر کی پاکستان پر نئے حملے کی دھمکی عالمی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش ہے: علی رضا سید

12 جون 2025ء

بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد آج سے بیلجیئم میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کرے گا

13 جون 2025ء

بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کا ردِعمل یقینی ہو گا: بلاول بھٹو

14 جون 2025ء

بھارت کو دہشتگردی سب سے بڑا چیلنج لگتا ہے تو وہ پاکستان کیساتھ بیٹھ جائے: بلاول بھٹو زرداری

15 جون 2025ء

بھارت اسرائیل سازش کے باوجود پاکستان گرے لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا: خواجہ آصف

17 جون 2025ء

صدر زرداری کی ایئر ہیڈکوارٹرز میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات

18 جون 2025ء

ٹرمپ اور مودی کا رابطہ، پاک بھارت تنازع پر تیسرے فریق کے معاملے پر گفتگو

پاکستان کا نام بطور ذمہ دار ایٹمی ریاست سب کی نظر میں آگیا ہے: شیری رحمان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات بھارت کو پریشان کر سکتی ہے: برطانوی میڈیا

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تاریخی ملاقات

19 جون 2025ء

پہلگام کے حملہ آور اب تک آزاد کیسے گھوم رہے ہیں؟ فاروق عبداللّٰہ

سفارتی سطح پر پاکستان کو تاریخی کامیابی ملی، کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے، شیری رحمان

صدرِ آصف زرداری کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

20 جون 2025ء

بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے جے ایف 17 کو ’شاندار طیارہ‘ قرار دیدیا

بلاول کی امریکا، یورپ کے دورے سے آج وطن واپسی، جناح ٹرمینل ون ٹریفک کیلئے بند

21 جون 2025ء

پاک بھارت جنگ بند کروانے پر نوبیل پرائز ملنا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کرنے کا اعلان

22 جون 2025ء

جو مسئلہ کشمیر حل کرانے کی بات کریگا اس کو سر پر بٹھائیں گے: طلال چوہدری

مسئلہ کشمیر کا یو این کی قرارداد کے مطابق حل چاہتے ہیں: اسحاق ڈار

23 جون 2025ء

پاکستان کا بھارتی پروازوں کیلئے فضائی حدود ایک ماہ کیلئے بند رکھنے کا فیصلہ

بھارت سندھ طاس معاہدہ مان لے یا جنگ کیلئے تیار رہے: بلاول بھٹو زرداری

ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی سستی کاپی ہے جسے ہم نے شکست دی: بلاول بھٹو

بھارت سے پہلے فنڈنگ لیتے تھے اس لیے آج چیخ رہے ہیں، بلاول بھٹو کی اپوزیشن پر تنقید

بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود مزید ایک ماہ کیلئے بند رہے گی، نوٹم جاری

24 جون 2025ء

پاکستان کی رتلے، کشن گنگا پن بجلی منصوبوں پر بھارتی درخواست کی مخالفت

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ

25 جون 2025ء

پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلی بالمشافہ ملاقات کا امکان

ٹرمپ کی ایک بار پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف

27 جون 2025ء

پاکستان پر بھارت کی بلاجواز جارحیت میں اللّٰہ نے ہمیں شاندار فتح دی، وزیراعظم

29 جون 2025ء

ایک جماعت شہداء اور مسلح افواج کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہی ہے: احسن اقبال

مودی کو سب سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے للکارا: مولانا عبدالغفور حیدری

7 مئی کو پاکستانی فضائیہ نے بھارتی جنگی جہاز گِرائے تھے، بھارتی دفاعی اتاشی نے اعتراف کر لیا

30 جون 2025ء

سیز فائر کے ڈیڑھ ماہ بعد بھی بھارت کیجانب سے کرتارپور راہداری بند

جولائی 2025ء

2 جولائی 2025ء

بھارت نے جیو سمیت پاکستانی انٹرٹینمنٹ یوٹیوب چینلز پر عائد پابندی اٹھالی

9 مئی کی رات امریکی نائب صدر نے فون کر کے بتایا پاکستان بھارت پر بہت بڑا حملہ کرے گا: بھارتی وزیرِ خارجہ

3 جولائی 2025ء

محسن نقوی نے بھارت کیخلاف جنگ میں غیبی مدد کا قصہ سنا دیا

4 جولائی 2025ء

بھارت جنوبی ایشیاء میں نیا نارمل قائم کرنا چاہتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

5 جولائی 2025ء

پاکستان نے 9 اور 10 مئی کو بھارت کو وہ سبق سکھایا جو ہمیشہ یاد رکھے گا: اسحاق ڈار

بھارتی دعوے مٹی میں مل گئے، سندور اجڑ گیا، خواجہ آصف

6 جولائی 2025ء

آپریشن سندور میں ہلاکتیں تسلیم نہ کرنے پر بھارتی فوج پر شدید اندورنی دباؤ

7 جولائی 2025ء

بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

9 جولائی 2025ء

جنگ سے قبل بھارتی پورٹ جانیوالا پاکستانی جہاز کہاں ہے؟ تفصیل سامنے آ گئی

پتہ تھا بھارتی میڈیا منصفانہ موقع نہیں دے گا: بلاول بھٹو

18 جولائی 2025ء

پاکستان کابھارت کیلئے فضائی حدود مزید 1 ماہ بند رکھنے کا فیصلہ

24 جولائی 2025ء

پاکستان بھارت کو سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے: ترجمان دفتر خارجہ

27 جولائی 2025ء

ڈونلڈ ٹرمپ کا 27 ویں بار پاک بھارت سیز فائر کا ذکر

29 جولائی 2025ء

آپریشن سندور مودی کے امیج کو بہتر بنانے کیلئے کیا گیا، راہول گاندھی

30 جولائی 2025ء

پاکستان نے بھارتی لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق بیانات کو مسترد کر دیا

اگست 2025ء

2 اگست 2025ء

پاکستان نے بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیارے کو کیسے مار گرایا؟ برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ سامنے آ گئی

7 اگست 2025ء

نیتن یاہو کی آپریشن سندور میں اسرائیلی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق

8 اگست 2025ء

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے خدشے پر مودی نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا: امریکی جریدہ

11 اگست 2025ء

چینی دفاعی تجزیہ کار کی پاکستانی طیارے مار گرانے کے بھارتی دعوے کی تردید

12 اگست 2025ء

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کی نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان پروازیں معطل

14 اگست 2025ء

وزیر اعظم کی بھارتی ایس 400 دفاعی نظام تباہ کرنیوالے پاک فضائیہ کے پائلٹ کی خصوصی پزیرائی

16 اگست 2025ء

بھارتی ریٹائرڈ میجر جنرل کی بھارت کی غلط پالیسیوں پر کڑی تنقید

17 اگست 2025ء

بھارت بدمعاش ریاست، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ ہے: حنا ربانی کھر

گرائے گئے 6 بھارتی طیاروں کی ویڈیوز ہمارے پاس ہیں: محسن نقوی

ستمبر 2025ء

19 ستمبر 2025ء

اسکول کے بچے نے بھارتی جنرل کو شرمندہ کردیا

26 ستمبر 2025ء

24 کروڑ پاکستانیوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا: وزیرِ اعظم

اکتوبر 2025ء

4 اکتوبر 2025ء

بھارت کی طبیعت دوبارہ ٹھیک کرنی پڑی تو کر دیں گے: سیکیورٹی ذرائع

5 اکتوبر 2025ء

چوہدری شافع کا بھارت کو کبڈی کا چیلنج


مسئلہ کشمیر پر پہلی دو جنگیں

حامد میر

انٹرویو نگار : شایان احمد


(یوٹیوب چینل ’’ہاؤ ڈَز اِٹ وَرک‘‘ کے میزبان شایان محمود کے ساتھ جناب حامد میر کا انٹرویو)

شایان محمود: 

Assalamu Alykum every one and welcome to another episode of How Does it Work, a podcast by Pro Pakistani. 

آج ہم کچھ نیا ٹرائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہسٹری میں کیا سچ تھا ہماری سائیڈ سے، کیا جھوٹ تھا۔ جب میں بچہ تھا تو 1965ء کی وار ہمیں بہت ڈیٹیل میں پڑھائی جاتی تھی۔ اب ایسا ہے کہ ابھی لیٹسٹ جو کتاب ہے ہم نے دیکھی ہے ، اس میں لکھا ہوا پیج 28 پہ، جو پاک اسٹڈیز کی کتاب ہے:

Another war started on September 6th, 1965 and lasted for seventeen days. 

بس، اس سے زیادہ نہیں، اس سے کم نہیں۔ اور بہت ساری Obviously as a child مجھے کنفیوژن ہوتی تھی پڑھتے ہوئے، تو میں نے کہا کہ ہم  پاکستان کے سب سے بڑے جرنلسٹ اور ہسٹورین حامد میر صاحب کو بلائیں۔    Thank you so much sir      آپ واپس آئے ہمارے پاڈ کاسٹ پہ۔  سر شروع کرتے ہیں  فرام 1965ء ، اچھا، اس پوائنٹ پہ۔      Actually      اس سے بھی پہلے شروع کرتے ہیں کہ ہسٹری کیوں چینج ہوئی؟ جو کتاب میں نے پڑھی تھی وہ اب کیوں نہیں ہے؟ اور ہم اس کو      Alter      کیوں کر رہے ہیں؟ 

حامد میر: دیکھیں، جو کتاب میں نے اسکول میں پڑھی تھی، اس میں تو مجھے یاد ہے کہ میں نے کافی کچھ پڑھا تھا 1965ء کی وار کے بارے میں۔ اور کہ جی انڈیا جو ہے اس نے 6 ستمبر کی رات کو بزدلوں کی طرح ایک حملہ کر دیا۔ تو اس کے بعد پھر ہم نے وہ  جنگ جیت لی تھی۔ تو میرا خیال ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں جو اسکولوں اور کالجوں کی کتابیں ہیں اس میں کچھ تبدیلیاں لائی گئیں، اور پھر بعد میں بھی ہوتی رہی ہیں، پرویز مشرف کے دور میں بھی ہوئی ہیں کافی۔ 

لیکن اگر آپ 1965ء کی جو وار ہے اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر وہ آپ اپنی اسکول اور کالج کی جو کتابیں ہیں وہاں سے اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ آپ کو اس کے لیے لٹریچر پڑھنا پڑے گا جو اس وار میں حصہ لینے والے پاکستانی جرنیلوں نے کتابیں لکھیں، اور اس وار میں حصہ لینے والے بھارتی جرنیلوں نے کتابیں لکھیں، اور کچھ اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ ریسرچرز نے کچھ کتابیں لکھیں۔ 

اور اس کو آپ      Isolation       میں نہ دیکھیں 1965ء کی جنگ کو۔ 1965ء کی جنگ دراصل      Extension      ہے جو 1948ء-1947ء کی انڈیا پاکستان وار ہے۔ عام طور پر آپ کو اسکول کالج کی کتاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔ ایک   1965ء    کی اور ایک 1971ء    کی۔ لیکن آپ    1947ء    اور    1948ء    والی جنگ ہے اس کو بھول جاتے ہیں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی فوج کا جو پہلا نشانِ حیدر ہے، کیپٹن محمد سرور شہید کو جو دیا گیا ہے، وہ ان کی    1948ء    کی جو لائن آف کنٹرول پہ شہادت ہے، وہاں پہ جو انہوں نے جنگ کی تھی، اس پہ دیا گیا ہے۔ تو وہ جنگ جو ہے، اس کو اگر آپ نہیں سمجھیں گے اور اس کے بعد کے جو    Events     ہیں ان کو آپ نہیں سمجھیں گے تو آپ کو    1965ء    کی جنگ کی بھی سمجھ نہیں آئے گی۔ 

اس جنگ کا ایک سیاسی پہلو ہے، اس کے پیچھے کچھ    Political developments    ہیں، اور پھر اس کی ایک    Strategic side    ہے اور اس کی ایک    Military side    ہے۔ اگر آپ کے پاس ٹائم ہے تو میں بتا دیتا ہوں آپ کو۔ 

شایان محمود: بالکل بالکل    Sir, lets start with     جو ہماری پہلی جنگ ہوئی    1947ء،   اس میں کیا ہوا؟    اور اس کا کیا     Political landscape     تھا اس زمانے میں، جتنا مجھے سمجھ آتا ہے     We were allies with the United States       اس ٹائم پہ    India were allies with Russia    یہ تھوڑا سا ہمیں بیک ڈراپ دیں    And then we will get into the specifics of each

حامد میر: اچھا، میں فارن پالیسی ایشوز پہ زیادہ بات نہیں کروں گا،   میں آپ کو صرف یہ سمجھاؤں گا کہ 1947ء    اور    1948ء    کے جو ایونٹس ہیں، اس کے بعد کے جو سال ہیں، ان میں جو جو کچھ ہوتا رہا، اس کا    1965ء    کی وار کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ جنگ کیوں ہوئی، یہ آپ نے سمجھنا ہے۔ 

تو جنگ کیوں ہوئی؟ اس لیے جنگ ہوئی کہ ایک تو    1947ء    میں جو ایک بہت ہی    Controversial     قسم کا الحاق کیا مہاراجہ ہری سنگھ نے ، جو ریاست جموں و کشمیر کا حکمران تھا، اس نے ایک بہت ہی    Controversial    قسم کا الحاق کیا انڈیا کے ساتھ    With the collaboration of the British government     لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا جو، وائسرائے تھا انڈیا کا، وہ اس میں    Collaborator    تھا۔    He was supporting India   اور اس نے پاکستان کو    Betray    کیا، اس نے دھوکہ دیا پاکستان کو، اس نے قائد اعظم محمد علی جناح کو دھوکہ دیا۔  اور وہ جو    Document of Accession    ہے، وہ ایک فراڈ ہے۔ اور یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ بہت سے جو انڈین ریسرچرز ہیں اور ہسٹورین ہیں، انہوں نے بھی کہا ہے۔ 

شایان محمود: فراڈ کس (سینس میں)؟

حامدمیر: فراڈ اس طرح ہے کہ وہ جو مہاراجہ ہری سنگھ تھا اس نے پہلے ایک خط لکھا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو، اور پھر اس نے اس کو خط کے ساتھ ایک ڈاکومنٹ بھیج دی کہ جناب یہ ہے الحاق کی دستاویز اور میں سائن کر رہا ہوں کیونکہ پاکستان سے جو قبائلی آئے ہیں انہوں نے حملہ کر دیا ہے، اور میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، تو آپ میری مدد کریں، آپ میری مدد اس صورت میں کریں گے کہ اگر میں انڈیا کے ساتھ الحاق کرتا ہوں۔ 

اور وہ جو ڈیٹ ہے  اس پہ جو اس نے    26    اکتوبر    1947ء    کی ڈالی ہوئی ہے، وہ    Disputed date    ہے۔ انڈیا کی فوج پہلے آ گئی تھی، اور وہ خط اور سائن بعد میں ہوئے۔ اچھا یہ ایک لمبی بحث ہے، اس پر میں آپ کو پورے ایک گھنٹے کی بہت سی ڈیٹیل بتا سکتا ہوں۔ 

تو جب قبضہ کر لیا انڈیا نے جموں و کشمیر پہ اور ظلم و ستم شروع ہو گیا تو پھر جو ٹرائبل ایک لشکر تھا آفریدیوں کا، محسودوں کا، اور بہت سے اس میں پختون قبائل تھے، وہ آ گئے۔ عام طور پر تاثر یہ دیا جاتا ہے انڈیا میں اور بہت سے لوگ پاکستان میں بھی یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ جو قبائلی لشکر آیا تھا، پاکستانی فوج اس کو لے کر آئی تھی۔ پاکستانی فوج نے بھی یقیناً‌ اس جنگ میں حصہ لیا لیکن وہ جو قبائلی لشکر آیا تھا اس کے بارے میں جو میں نے    Information gather    کی ، جو لندن میں برٹش لائبریری میں ایک سیکشن ہے انڈیا کے بارے میں،   وہاں پر کچھ ڈاکومنٹس ہیں، وہ ڈاکومنٹس بتاتی ہیں کہ کابل میں جو برٹش ایمبیسی تھی وہ لندن کو بار بار خبردار کر رہی تھی کہ یہاں کابل میں کچھ    Religious scholars    ہیں جس میں ملا شور بازار کا بھی نام تھا، اور یہ کابل میں بیٹھ کر فتوے دے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو ان کی مدد کرو، اور یہ افغانستان سے لشکر تیار ہو کر جا رہے ہیں۔ 

اچھا وہ جو لشکر آتے تھے وہ خیبر کے راستے سے آتے تھے۔ وہ جو لشکر آیا تو آفریدی قبائل ہیں وہ بھی اس میں شامل ہو گئے، وزیرستان سے محسود اور وزیر قبائل بھی اس میں شامل ہو گئے، اور مہمند قبائل بھی اس میں شامل ہو گئے، اور وہ ایک بڑا لشکر بن گیا۔ اور آپ کو یہ جان کر بڑی حیرانی ہو گی کہ صرف مظفر آباد انہوں نے فتح    نہیں کیا بلکہ میرپور بھی انہوں نے فتح کیا۔ اور افغانستان کے ایک پریزیڈنٹ تھے نور محمد ترکئی صاحب، وہ سولہ سترہ سال کے تھے اور میرپور فتح    کرنے والا جو لشکر تھا اس میں وہ شامل تھے، بعد میں وہ افغانستان کے پریزیڈنٹ بن گئے تھے۔ 

تو انڈیا جو ہے وہ اس پہلو پہ نہیں آتا کہ یہ پاکستانی قبائل نہیں تھے صرف، وہ افغانستان سے آئے تھے۔ اور ملا شوربازار جو کابل میں رہتے تھے، انہوں نے اس پہ فتویٰ دیا تھا۔ ایک تو اس کا یہ پہلو ہے۔ 

دوسرا یہ ہے کہ ایک بغاوت ہوئی تھی گلگت میں۔ گلگت اسکاؤٹس نے بغاوت کر دی تھی۔ اور ایک بغاوت ہوئی تھی پونچھ میں۔ پونچھ میں برٹش آرمی کے جو کشمیری سولجرز تھے، بہت بڑی تعداد تھی ان کی، ایک بغاوت انہوں نے کر دی۔ تو یہ سارا پاکستان آرمی نے نہیں کیا۔ اس میں    Indigenous    قسم کی    Uprising     ہوئی۔ صرف پونچھ میں نہیں ہوئی بلکہ گلگت میں بھی ہو گئی اور وہاں سے بھی انہوں نے انڈین آرمی کو بھگا دیا۔ اور اس میں برٹش آرمی کا ایک افسر تھا اس نے جو لوکل لوگ تھے ان کا ساتھ دیا۔ 

تو اس طریقے سے وہ    Uprising    ہوئی اور اس میں انڈیا کو بھی کافی نقصان ہوا اور پاکستان کو بھی نقصان ہوا۔ لیکن    Ultimately  ، آپ چیک کر والیں یونائیٹڈ نیشنز کے ریکارڈ سے کہ یو این سکیورٹی کونسل میں کون گیا تھا سیز فائر کے لیے؟  نہرو صاحب گئے تھے، انڈیا گیا تھا، انڈیا نے کہا تھا کہ جی سیزفائر کروائیں۔ اور سیزفائر جب ہو گیا تو سیزفائر کے بعد جو    UN Resolution    ایک آئی، دوسری آئی، تیسری آئی، پندرہ سولہ ریزولوشنز آئیں۔ 

شایان محمود: یہ آپ بات کر رہے ہیں جو    1940s    کی جنگ ہے ، اس کی؟

حامد میر: ہاں، 1947ء کی جو جنگ تھی، انڈیا گیا سیزفائر کے لیے یو این میں، اور پھر یو این سکیورٹی کونسل نے کہا کہ    Plebiscite    ہو گا، رائے شماری ہو گی۔ اور پھر وہ ریزولوشنز    Repeat    ہوتی رہیں    1957ء    تک۔ 1957ء تک یو این سکیورٹی کونسل ریزولوشن پاس کرتی رہی۔ 

جب حسین شہید سہروردی صاحب پرائم منسٹر تھے تو اس زمانے میں آپ امریکہ کے ایک اتحادی تھے، تو انہوں نے امریکن گورنمنٹ کے ساتھ ایک    Lobbying     کی اور مل کر انہوں نے کوشش کی کہ یہ مسئلہ جو ہے، امریکہ اس کے حل میں بھی کوئی رول پلے کرے۔ انہوں نے ایک دورہ بھی کیا امریکہ کا لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ 

اس کے بعد جنرل ایوب خان نے    Coup     کر دیا، پھر وہ پاکستان کے پریزیڈنٹ بن گئے۔ ایوب خان کے دور میں پاکستان بہت زیادہ قریب چلا گیا امریکہ کے۔ اب یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جس کا براہ راست تعلق ہے    1965ء    کی وار کے ساتھ۔ یہ جو انڈیا ہے، اس نے پہلے تو یہ ایک پوزیشن لی کہ جی ہم یو این ریزولوشنز کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتے ہیں۔ 

اس کے بعد    1962ء    میں چائنہ اور انڈیا کی لڑائی ہو گئی۔ یہ ایک بڑا اہم واقعہ ہے۔ 

شایان محمود: چائنہ اور انڈیا کی کیوں لڑائی ہوئی؟ 

حامد میر:    Border dispute    تھا، یہ جو    Aksai Chin    کا علاقہ ہے اور ابھی بھی وہاں پہ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں چائنہ اور انڈیا کی۔ تو اس لڑائی میں انڈیا کو بڑی مار پڑی۔ اس وقت چائنہ نے پاکستان کو یہ مشورہ دیا کہ    Quietly    کہ پوری کی پوری جو انڈین آرمی ہے وہ ہمارے ساتھ لڑائی میں مصروف ہو گئی ہے اور انہوں نے اپنے ٹروپس جو ہیں    Withdraw    کر لیے ہیں پاکستانی کشمیر سے، جو پاکستان کے کنٹرول میں کشمیر ہے وہاں سے، تو آپ کے پاس سنہری موقع ہے، آپ نے صرف گاڑیوں میں بیٹھ کر سری نگر پہنچنا ہے، کوئی روکنے والا ہی نہیں آپ کو۔ 

اور اس وقت جو آپ کے ایک منسٹر تھے ذوالفقار علی بھٹو، انہوں بعد میں اس کو خود کنفرم بھی کیا اور وہ کہتے ہیں کہ میں خود گیا جنرل ایوب خان کے پاس، میں نے کہا جی سنہری موقع ہے، بس کشمیر کو ہم آزاد کروا دیتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب صاحب جو ایوب خان کے زمانے بڑے اہم بیوروکریٹ تھے اور پریزیڈنٹ کے بڑے قریب تھے، انہوں نے بھی اپنی یادداشتوں میں یہ بات لکھی ہےکہ چائنیز نے کہا کہ۔

شایان محمود: اٹیک کرو۔

حامد میر: اٹیک نہیں کرو، اٹیک تو ہوتا ہے نا لڑائی کے لیے۔ وہاں پر تو آپ کے آگے انڈین فوج تھی ہی نہیں کوئی بھی۔ 

اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈین فوج کیوں غائب ہو گئی؟ انڈین فوج اس لیے غائب ہو گئی کہ کیونکہ  چائنہ اور انڈیا کی لڑائی تھی تو انڈیا نے امریکہ سے رابطہ کیا اور    Mind it    کہ اس وقت امریکہ پاکستان کا اتحادی تھا، انڈیا کا نہیں تھا۔ لیکن کیونکہ انڈیا کی لڑائی چائنہ سے ہو گئی، تو جو امریکن گورنمنٹ ہے اس نے انڈیا سے کہا کہ    You don’t worry about Pakistan, we will handle them     اور امریکن جو ہیں انہوں نے جنرل ایوب خان کو پریشرائز کیا کہ جناب آپ انڈیا پہ اٹیک نہیں کریں گے۔  تو اس پہ ظاہری بات ہے ایوب خان صاحب جو ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا، آپ بے فکر ہو جائیں، ہم آپ کا مسئلہ یہ حل کر دیں گے کشمیر کا۔ 

تو اس وقت    …    Backdoor channel    پہ  جو امریکہ کے ساتھ    Engagement   تھی  ۔ ہم نے کہا بھئی  ہم نے آپ کو پشاور کے قریب بڈھ بیر  میں ایک آپ کو فوجی اڈہ دیا ہوا ہے۔ آپ رشیا  کی    Spying   کرتے ہیں وہاں سے۔ ہم نے آپ کو اتنا    Facilitate    کیا ہے ، ہم آپ کے اتحادی ہیں، تو آپ انڈیا کو سپورٹ کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم انڈیا کو سپورٹ نہیں کر رہے، آپ اس طرح کریں کہ آپ اس وقت کچھ نہ کہیں انڈیا کو، اور ہم جناب مسئلہ کشمیر حل کریں گے۔ 

تو پاکستان کے پاس ایک طرح کا    Walkover    تھا    1962ء    میں ،پاکستان امریکہ کی باتوں میں آگیا اور پاکستان نے کچھ نہیں کیا۔ 

شایان محمود: اگر ہم اس وقت اٹیک کرتے تو وہاں پہ آرمی تھی ہی نہیں۔

حامد میر: بالکل تھی ہی نہیں انڈین آرمی، اور کشمیر آزاد ہو جاتا۔ اب اس کے بعد یہ ہوا کہ جو مقبوضہ جموں و کشمیر ہے، وہاں پر بڑی امیدیں تھیں کہ جی 1962ء    کے بعد ان کا خیال تھا کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ نے وعدہ کیا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ تو وہاں پہ حضرت بَل ایک جگہ  ہے، وہاں سے ایک موئے مبارک چوری ہو گیا۔ اور اس پر وہاں ایک    Agitation   شروع ہو گیا 1964ء میں۔ جب وہ ایجی ٹیشن شروع ہو گیا اور    Uprising    شروع ہو گئی تو جو پاکستان کی گورنمنٹ تھی، اس کا یہ خیال تھا کہ اب موقع آ گیا ہے۔ 

ایک اور اس کا پولیٹیکل پہلو یہ ہے کہ جنوری 1965ء میں جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف ایک صدارتی الیکشن لڑا تھا۔ اور اس میں بھی ذوالفقار علی بھٹو صاحب جو تھے وہ ایوب خان کے ساتھ تھے۔ اس صدارتی الیکشن میں بڑی دھاندلی ہوئی تھی ۔ایسٹ پاکستان میں بھی اور ویسٹ پاکستان میں بھی۔ تو ایوب خان صاحب دھاندلی سے الیکشن تو جیت گئے لیکن ان کی    Credibility    بڑی خراب ہو گئی تھی، ان کی ساکھ بڑی مجروح ہوئی تھی، انہوں نے اپنی ساکھ بھی بحال کرنی تھی۔ تو انہوں نے اسی زمانے میں 1965ء میں صدارتی الیکشن جیتنے کے فوراً‌ بعد، ایک علاقہ ہے پاکستان اور انڈیا کے بارڈر پہ، جو رَن آف کَچھ کے نام سے مشہور ہے، تو وہاں پر پاکستان آرمی نے ایک آپریشن کیا تھا جس کا نام ہے    Operation Desert Hawk    اور انڈیا کے علاقے میں گھس کر آپ نے بہت سا علاقہ جو ہے اس پر قبضہ کر لیا۔ یہ راجھستان کا بھی علاقہ تھا اور رَن آف کَچھ کا بھی علاقہ تھا۔ 

اور آپ کا یہ خیال تھا کہ اب آپ نے انڈیا کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے تو وہ جو ہمارے ساتھ 1962ء میں وعدہ کیا تھا امریکہ نے، اب امریکہ آئے گا اور مسئلہ کشمیر کو حل کرائے گا۔ اور ہونا کیا تھا کہ صرف    UN Resolution    کی روشنی میں آپ نے ایک رائے شماری کرانی ہے      Plebiscite     کروانا ہے۔ تو یہ ہوا کہ امریکہ تو نہیں آیا، امریکہ نے برٹش گورنمنٹ کو آگے لگایا۔ تو برٹش گورنمنٹ نے انڈیا اور پاکستان کے مذاکرات کرائے، برٹش گورنمنٹ نے وہاں پر سیزفائر کروایا، اور پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان باقاعدہ ایک    Ceasefire agreement     جو آپ کی فارن آفس کی ڈاکومنٹس میں موجود ہے۔ 

اور دوبارہ پاکستان ٹریپ ہو گیا، اس مرتبہ  برطانیہ نے پاکستان کو ٹریپ کیا اور آپ نے سیزفائر کر دیا۔ تو اب پھر دوبارہ کافی دن گزر گئے تو یو این ریزولوشن پہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ اور ادھر مقبوضہ کشمیر میں کافی گڑبڑ تھی۔ تو پھر آپ نے جولائی، اگست 1965ء میں    Operation Gibraltar    کیا، اور آپریشن جبرالٹر کے بعد پھر ستمبر 1965ء میں آپ کی جنگ شروع ہوئی۔ 

تو یہ ایک پورا    Background   ہے، یہ بیک گراؤنڈ آپ سمجھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ 1948ء-1947ء میں انٹرنیشنل کمیونٹی نے، یونائیٹڈ نیشنز نے، امریکہ نے، باقی جتنی بھی انٹرنیشنل فورسز تھیں، انہوں نے پاکستان کے ساتھ وعدے وعید کیے، لیکن وہ وعدے پورے نہیں ہوئے، اور اس میں پاکستان کے پاس ایک گولڈن چانس آیا 1962ء میں، چائنہ جو ہے وہ پاکستان کو کہہ رہا تھا کہ کشمیر پر قبضہ کر لو، پاکستان نے نہیں کیا۔ تو یہ اس کا    Ultimate result    جو ہے وہ 1965ء کی وار تھی۔ 

شایان محمود:    Basically    جو دو تین چیزیں اس سے پہلے ہوئی تھیں اس کی وجہ سے ایک    Sort of heightened environment    میں ہم آ گئے تھے۔ اب چلتے ہیں وار کے اندر۔ اسٹیٹ ہماری تو نہیں مانتی آپریشن  جبرالٹر کو، لیکن ہسٹری بکس تو کہتی ہیں کہ ہوا تھا۔ پھر اس میں ایک ڈسپیوٹ یہ بھی ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ، ہماری جو ملٹری ہے یا دوسرے لوگ ہیں، کہ  پراجیکٹ جبرالٹر ایک    Success    تھا۔ انڈین میڈیا  اس کو ڈسپیوٹ کرتی ہے، آپ کے خیال میں  

Was Operation Gibraltar a success, and also why did it need to happen?

یہ ہوا کیوں تھا؟

حامد میر: دیکھیں، آپریشن جبرالٹر جو ہے نا، اس کو میں بہت ہی سادہ الفاظ میں آپ کو ایسے سمجھا سکتا ہوں کہ جس طرح 1999ء میں ایک    Kargil Operation    ہوا تھا، پاکستانیوں نے کیا تھا نا، اور    Objective    جو ہے وہ    Achieve   نہیں کر سکے ہم۔ آبجیکٹیو کیا تھا کارگل آپریشن کا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا جو کچھ علاقہ ہے، اس کی سڑکیں بند کر کے اور انڈین آرمی کو    Isolate    کر کے اوپر سیاچن میں، لداخ میں، انڈیا کو پریشرائز کیا جائے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرے۔ لیکن کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ایگزیکٹلی یہی آپریشن جبرالٹر کا بھی مقصد تھا۔ لیکن جو غلطی آپ نے آپریشن جبرالٹر میں کی، وہی غلطی آپ نے کارگل میں ریپیٹ کی۔ اور    Ultimate objective   تھا کشمیر کی آزادی، وہ نہ آپریشن جبرالٹر کرا سکا، نہ آپریشن کارگل کرا سکا۔ 

لیکن جو آپریشن جبرالٹر ہے، اس کے بارے میں آپ کو یہ جاننا بڑا ضروری ہے کہ وہ    GHQ    کا آپریشن نہیں تھا۔ 

شایان محمود: کس کا تھا؟

حامد میر: وہ پاکستان کے فارن آفس کا آپریشن تھا۔ 

شایان محمود: پاکستان کا فارن آفس اس طرح کا آپریشن کر سکتی ہے؟ 

حامد میر: نہیں، اب آپ یہ دیکھیں نا کہ یہ ایک بڑا انٹرسٹنگ سوال کیا ہے آپ نے۔ 1965ء میں آپ کے جو فارن منسٹر تھے ذوالفقار علی بھٹو صاحب، وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب تھے۔ اور فارن آفس میں ایک سیل بنا ہوا تھا، اس کا نام تھا کشمیر سیل، جو کہ فارن سیکرٹری تھے عزیز احمد صاحب، ان کے انڈر کام کرتا تھا۔ اور    Sometimes    جو فارن آفس کے لوگ ہیں، وہ کشمیر سیل میں جب کوئی میٹنگ کرتے تھے، تو اس میں جو لائن آف کنٹرول کے علاقے کو دیکھتے تھے، میجر جنرل اختر ملک، ان کو بھی بلا لیتے تھے۔  کبھی کبھی، پاکستان کے آرمی چیف تھے جنرل موسیٰ، ان کو بھی بلا لیتے تھے۔  اور اس طرح وہ میٹنگز ویٹنگز ہوتی تھیں۔ 

تو جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ 1964ء میں ایک    Uprising    شروع ہوئی تھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں۔ اور بہت بڑا    Agitation    تھا اور اس زمانے میں جو شیخ عبد اللہ تھے جو پہلے پرو اِنڈیا تھے، وہ بھی کافی    Controversial    ہو چکے تھے، دِلی کے ساتھ ان کے بھی تعلقات بڑے خراب تھے۔ اور پھر ایک اور پرابلم یہ تھا    Domestic front   پہ کہ ایوب خان بھی بڑے متنازعہ ہو چکے تھے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن لڑ کر۔ تو فارن آفس نے دیکھا کہ لوکل لیول پہ ہماری حکومت کو ایک    Goodwill    کی ضرورت ہے، اور ہمارے پاس ایک موقع بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو انڈین گورنمنٹ ہے اس کے خلاف ایک بغاوت ہو گئی ہے، تو انہوں نے ایک منصوبہ بنایا ۔

منصوبہ یہ تھا کہ آزاد کشمیر سے جو    Trained    رضاکار ہیں   Volunteers    ان کو آپ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھیجیں، چار پانچ ان کے لشکر بنائیں، اور پھر آپ وہاں پر جو     Already a political uprising     ہے، اس پولیٹیکل اَپرائزنگ کو    Militant support      دیں، اور پھر پاکستان ریڈیو کے ذریعے ایک پراپیگنڈا کرے گا، اس طرح کشمیر جو ہے، یا تو وہ آزاد ہو جائے گا، یا انڈیا اپنے    Troops withdraw    کر لے گا، یا انڈیا وہاں پہ رائے شماری    Plebiscite    پہ راضی ہو جائے گا۔ یہ پلان تھا۔  

شایان محمود:    اور    Operation Grand Slam    جسے ہم کہتے ہیں؟

حامد میر: وہ اس کا سیکنڈ پارٹ ہے۔ یہ جو آپریشن جبرالٹر تھا، جبرالٹر آپ کو پتہ ہے نا کہ یہ کہاں پہ ہے۔ طارق بن زیاد نے جو جبرالٹر فتح کیا تھا تو اس کی وجہ سے اس کو آپریشن جبرالٹر کا نام دیا۔ اب اس آپریشن کو سمجھنے کے لیے اور اسٹیٹ آف پاکستان تو اس کو مانتی نہیں ہے، تو 1965ء میں جو پاکستان کے آرمی چیف تھے، وہ تھے جنرل موسیٰ خان۔ جنرل موسیٰ خان کی ایک کتاب ہے    My Version   ،    مائی ورژن میں انہوں نے ایک پورا چیپٹر لکھا ہے آپریشن جبرالٹر پہ، اور اس کو تسلیم کیا ہے، اور یہ بھی مانا ہے کہ یہ آپریشن جو ہے یہ فارن آفس نے ایک پلان بنا کر ہمیں دیا تھا۔ اور پھر ہم نے اسے کور کمانڈرز کی میٹنگ میں ڈسکس کیا    And then we implemented 

یہاں سے اس کہانی کا ایک دوسرا رخ شروع ہوتا ہے، اور وہ ہے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا ورژن۔ انہوں نے آفیشلی تو کہیں پہ نہیں مانا، لیکن کچھ جو    Historians    ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ ملاقات کی۔  ایک Massachusetts  University     جو ہے امریکہ کی، اس کے ایک پروفیسر ہیں انوار ایچ سید صاحب، انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے بھٹو صاحب پہ، اور ان کی میٹنگ بھی ہوئی تھی بھٹو صاحب کے ساتھ جب وہ پرائم منسٹر تھے۔ انہوں نے کہا ہے بھٹو صاحب نے بالکل  تسلیم کیا کہ ہاں ہم نے یہ آپریشن جبرالٹر کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہم نے منصوبہ بنایا تھا، ہم نے کہا تھا کہ آپ آزاد کشمیر سے رضاکار بھرتی کر کے بھیجیں، لیکن جنرل موسیٰ نے غلطی یہ کی کہ انہوں نے ریگولر آرمی کو اندر بھیج دیا۔ 

اچھا، اس میں پھر جو ایئرمارشل اصغر خان تھے، وہ 1965ء میں آپ کے ایئرچیف تھے۔ تو انہوں نے اعتراض کیا جی کہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا، اور پھر انہوں نے ریزائن کر دیا، اور پھر ان کی جگہ نور خان آ گئے۔ تو اسی طرح کے واقعات آپ نے دیکھا کہ کارگل کی جنگ میں بھی ہوئے تھے۔ 

تو جب آپریشن جبرالٹر پہ آپ کامیاب طریقے سے عملدرآمد نہیں کر سکے تو پھر وہ    Grand Slam    شروع ہوا۔ اور گرینڈ سلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے اَکھنور ایک جگہ تھی، اکھنور پہ قبضہ کرنا تھا آپ نے۔ اس میں غلطی یہ کی گئی کہ    لاسٹ منٹ پہ کمانڈر کو چینج کیا گیا۔ جو اختر ملک صاحب ہیں ان کو ہٹا کر جنرل یحییٰ خان کو وہاں بھیج دیا گیا۔ تو جنرل یحییٰ خان اس پہ عملدرآمد نہیں کروا سکے صحیح طریقے سے۔ 

اور    In the meanwhile    آپ کی وہ لڑائی شروع ہو گئی۔  یہ لڑائی جو ہے نا، یہ 6 ستمبر 1965ء کو شروع نہیں ہوئی،   لڑائی تو جو ہے وہ جنوری فروری 1965ء میں شروع ہو گئی جب آپ نے رَن آف کچھ میں اور راجھستان کے علاقے میں دشمن کے بہت سے علاقوں پہ قبضہ کر لیا۔ تو یہ بات غلط ہے کہ جی ہمیں پتہ نہیں تھا اور دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا۔

شایان محمود: بالکل، میرا  اس میں سوال یہ ہے کہ جو ہم ڈیفنس ڈے مانتےہیں، مطلب مجھے سمجھ نہیں آتی یہ کہ ہم نے اگر اٹیک کیا ہے تو ڈیفنس تو نہیں ہوئی نا، ڈیفنس تو ہوتی اگر رات کو جس طرح آپ کہہ رہے ہیں کسی نے حملہ کیا، ہم نے پھر وہاں سے You know, defensive 

حامد میر:  نہیں، دیکھیں ہم نے حملہ نہیں کیا     We are not the aggressor     اور 6 ستمبر کو آپ اگر ڈیفنس ڈے مناتے ہیں تو بالکل صحیح مناتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ 1962ء میں پاکستان کے پاس ایک    Golden opportunity    تھی، پاکستان کشمیر کو آزاد کروا سکتا تھا، پاکستان امریکہ کے دھوکے میں آ گیا ، امریکہ نے انڈیا کی مدد کی، آپ نے کشمیر کو آزاد نہیں کروایا، ٹھیک ہے نا،  تو ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا۔ امریکہ نے اور انڈیا نے مل کے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اب اس کے بعد کے میں نے آپ کو حالات و واقعات  بتا دیے ہیں۔ 

اب دیکھیں کہ آپ کا آپریشن جبرالٹر، آپریشن گرینڈ سلام، ناکام ہو گیا، ٹھیک ہے، اس میں آپ سے کچھ    Miscalculation     ہوئی۔

شایان محمود: ہمارے کوئی ٹینکس کتنے، 90 ٹینکس گئے تھے امرتسر کے اندر، یا کچھ اس طرح؟

حامد میر: آپ کے ٹینک بھی کم تھے،  آپ کے جہاز بھی کم تھے، لیکن 1965ء کی وار میں آپ نے انڈیا کو زیادہ نقصان پہنچایا۔ دیکھیں، انڈیا کا یہ خیال تھا کہ، جو اُن کے جرنیلوں نے باقاعدہ اعلان کیا بی بی سی پہ کہ جب 6 ستمبر 1965ء کو انہوں نے حملہ کیا تو انہوں نے پتہ کیا کہا تھا؟ ہم لاہور جم خانہ میں جا کر کل شام کی چائے پئیں گے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا، انڈیا کا، کہ آپ لاہور پہ قبضہ کریں گے اور سیالکوٹ پہ قبضہ کریں گے۔ 

شایان محمود: کیا ہم ریڈی تھے اس اٹیک کے لیے؟ 

حامد میر: بالکل آپ ریڈی تھے، اس لیے آپ ریڈی تھے، جنرل موسیٰ کی کتاب کا میں بار بار حوالہ دے رہا ہوں، جنرل موسیٰ لکھتے ہیں کہ 4 ستمبر کو آل انڈیا ریڈیو کی نشریات سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ انڈیا جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور ہمارے پاس انٹیلی جنس کی انفرمیشن بھی تھی، تو ہم بالکل تیار تھے۔ 

شایان محمود:    Is that why    ہماری ڈیفنس بہت اچھی تھی اس دن؟ آرمی نے کیسے پرفارم کیا تھا    Particularly    جس چیز کو ہم ڈیفنس ڈے پہ مانتے ہیں ، جب لاہور پہ اٹیک ہوا تھا     Southern Punjab    پہ جب اٹیک ہوا تھا تو پاکستان آرمی کی پرفارمنس کیسی تھی؟ 

حامد میر: پاکستان آرمی کی پرفارمنس جو ہے، دیکھیں، یہاں پہ اب    As a journalist    جو ہے نا ایک ریڈ لائن شروع ہو جاتی ہے کہ ہم، آرمی کے جو جرنیل ہیں، ان کی سیاست میں مداخلت پہ بہت تنقید کرتے ہیں۔لیکن فوج کا جو عام ایک جوان ہے، اور کپتان ہے، میجر ہے، کرنل ہے، بریگیڈیئر ہے، وہ جس طریقے سے بارڈر پر لڑتا ہے، تو آپ جب اس کی پرفارمنس کا    Analysis    کرتے ہیں تو پھر آپ کو اس کی تعریف بھی کرنی چاہیے۔ 

میں نے 1965ء کی وار پہ جتنا بھی لٹریچر پڑھا ہے، تو اس کی روشنی میں، میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ 1965ء کی وار میں جو انڈیا کا آبجیکٹیو تھا، وہ تھا لاہور پہ اور سیالکوٹ پہ قبضہ کرنا ہے، جی ٹی روڈ کو کاٹنا ہے، اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ    Bargain    کرنی ہےکہ ہاں! لاہور واپس چاہیے؟ سیالکوٹ واپس چاہیے؟    آزاد کشمیر سے اپنی فوج واپس کرو، آزاد کشمیر کو بھول جاؤ، اور یہ اب بھارت کا حصہ ہے۔  تو یہ بارگین کرنی تھی، یہ تھا انڈیا کا منصوبہ 6 ستمبر 1965ء کو۔ تو اگر آپ سوچیں فرض کریں خدانخواستہ وہ پہنچ جاتے مال روڈ لاہور پہ، لاہور جم خانہ، تو کیا ہوتا؟ ٹھیک ہے نا۔ آپ کہتے ہیں پاکستان کا دل لاہور ہے۔ تو لاہور کا دل اگر انڈیا کے قبضے میں چلا جاتا تو آپ تو بڑے پھنس جاتے۔ 

تو میجر راجہ عزیز بھٹی صاحب جو ہیں انہوں نے بی آر بی نہر پہ ہی انڈین آرمی کو روک لیا۔ اور دو تین دن تک بغیر سوئے انہوں نے مقابلہ کیا اور فرنٹ سے لیڈ کیا اپنے ٹروپس کو، او رانہوں نے انڈین آرمی کو    Defeat    کیا وہاں پہ۔ ٹھیک ہے؟ اسی لیے ان کو نشانِ حیدر دیا گیا۔ 

اسی طرح سیالکوٹ میں جو انڈیا قبضہ کرنا چاہ رہا تھا، تو وہاں پہ پاکستانی فوج کی جو پرفارمنس ہے، اس کو اگر آپ نے جج کرنا ہے نا آج بھی، 2024ءمیں، آپ کو چاہیے کہ آپ چونڈہ جائیں۔ آج بھی آپ چونڈہ میں صرف دو گھنٹے گزاریں اور گھومیں پھریں اور دیکھیں کہ وہاں پہ 1965ء کی وار میں جو انڈین آرمی کے ٹینک پاکستان نے قبضے میں لیے تھے اور جو ٹینک    Destroy    کیے تھے وہ کہاں کہاں پہ پڑے ہوئے ہیں، ان کو یادگاروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور پھر بہت سے    Monuments    ہیں۔  وہاں پہ آپ کو نظر آئے گا،  کوئی پانچ چھ کلو میٹر کا علاقہ ہے وہ، کہ یہاں پہ پاکستانی فوج کے فلاں افسر نے شہادت دی اور اس کو یہیں پہ دفن کر دیا گیا۔ یہاں پہ پاکستانی فوج کے فلاں افسر نے، اتنے جوانوں نے شہادت دی، ان کو یہیں پہ دفن کر دیا گیا۔ 

اس میں انٹرسٹنگ بات یہ ہےکہ بہت سے اس میں جو آپ کے جوان او رافسر ہیں وہ بنگالی بولنے والے تھے، 1965ء میں، اور وہ چونڈہ میں انڈین آرمی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ تو آپ آج بھی اگر چونڈہ جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ چونڈہ میں جو    The great battle of tanks    ہوئی تھی اس میں پاکستان جیتا کیوں۔ 

اچھا، یہ ساری جو لڑائی ہوئی  یہ ہماری    Territory    میں ہوئی اور پھر ہم نے دشمن کو وہاں سے بھاگنے پہ مجبور کیا اور اس میں ان کے بہت سے ٹینک تباہ ہوئے، ہمارے بھی ہوئے، ان کے ٹینک زیادہ تباہ ہوئے۔ 1965ء کی وار میں ہمارے بھی جنگی جہاز تباہ ہوئے لیکن ان کے جنگی جہاز زیادہ تباہ ہوئے، ٹھیک ہے نا، آپ یہ دیکھیں کہ

شایان محمود:    Causalities    کس کی زیادہ تھیں، یہ کچھ آئیڈیا ہے؟ 

حامد میر:    یہ    Disputed figure   ہے، پاکستان کہتا ہے کہ انڈیا کی زیادہ ہیں، انڈیا کہتا ہے کہ پاکستان کی زیادہ ہیں، لیکن آپ یہ دیکھیں کہ جو 1965ء کی وار ہے اس میں انڈین آرمی کی جو لیڈرشپ ہے اس کا ایک    Announced plan   کیا تھا۔

  To capture Lahore and Sialkot, and they failed to capture Lahore and Sialkot.

اور پھر اس کے بعد ان کے وہ سینئر فوجی افسر جنہوں نے کتابیں لکھیں ہیں اس پہ، ٹھیک ہے، جنرل کول کی کتاب ہے اس پہ، آپ پڑھیں، اس میں اس نے لکھا ہے کہ ہم اس میں اپنا    Objective achieve   کرنے میں فیل ہو گئے۔ تو جب آپ اپنا آبجیکٹیو اچیو کرنے میں فیل ہو گئے تو آپ وہ جنگ ہار گئے۔ 

اچھا، اس جنگ میں پاکستانی فوج کی جو پرفارمنس ہے، وہ میں نے آپ کو تھوڑی سی بتا دی ہے، لیکن اس میں ایئرفورس کا بڑا کردار تھا۔ 

شایان محمود: اور آپ نے بنگالی کی بات کی تو ایک بہت مشہور ، ادھر لاہور میں ایم ایم عالم روڈ بھی ہے، ایم ایم عالم تو ہمارا بچپن میں ایک ہیرو مانا جاتا تھا اور ابھی بھی ہے، وہ بھی    Sort of Bengali roots    تھے ان کے۔ ایئرفورس سے پہلے میں آپ سے    Specific     ایم ایم عالم کا سوال پوچھنا چاہ رہا ہوں،کہتے ہیں کہ کتنے، پانچ جیٹ ایک منٹ میں انہوں نے اڑائے، یہ    Possible    بھی ہے؟ یہ تو بڑی ایک    Top Gun    والی سٹوری ہے۔ مطلب میں بچپن میں بھی سوچتا تھا کہ، کہتے ہیں کہ یار  وہ ایک Sort of cross cannon fire     آ گئے تھے، لیکن Is that true؟ 

حامد میر: دیکھیں، ایم ایم عالم صاحب جب زندہ تھے تو میں نے ان سے خود بھی یہ پوری سٹوری سنی ہوئی ہے۔ اور یہ اسی طریقے سے میں نے ان کو  سوال کیا تھا جس طرح آپ مجھے کر رہے ہیں۔ آپ نے اگر ایم ایم عالم کی جو پرفارمنس ہے، یا اس کا جو کارنامہ ہے، اس کو اگر جانچنا ہے تو ان کے جو ہم عصر تھے، جنہوں نے ان کے ساتھ 1965ء کی جنگ میں حصہ لیا، آپ ان سے بات کریں، اور ان کی لکھی ہوئی چیزیں پڑھیں آپ، ان کی کتابیں پڑھیں، ان کے آرٹیکلز پڑھیں۔  

دیکھیں،  ایک جنگی جہاز کا  جو پائلٹ ہوتا ہے، فائٹر پائلٹ، اس کی گن کے اوپر ایک کیمرہ لگا ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں    Gun camera    تو ایم ایم عالم صاحب جو کچھ بھی کر رہے تھے وہ ریکارڈ ہو رہا تھا۔ اور پھر وہ ایک    Isolation    میں نہیں تھا وہ جو بھی کر رہے تھے، ان کے کچھ ساتھی جو پائلٹ تھے، وہ ان کو گائیڈ بھی کر رہے تھے  اور ان کو کور بھی دے رہے تھے، انہوں نے بھی وہ سب کچھ دیکھا۔ ٹھیک ہے؟

 اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو ایک بندے کی جو    State of mind    ہے نا وہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً‌ آپ یہ سوال کر رہے ہیں نا جی ایک منٹ کے اندر پانچ جہاز تباہ کر لیے، تقریباً‌ 45 سیکنڈز میں، یہ    Possible    بھی ہے کہ نہیں ہے؟ تو آپ کو اس بندے کی اسٹیٹ آف مائنڈ کو انڈرسٹینڈ کرنا چاہیے۔ اسٹیٹ آف مائنڈ یہ ہے کہ ایم ایم عالم جو ہے وہ سرگودھا ایئربیس پہ 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی رات سے اپنے فائٹر جہاز میں کاک پٹ میں بیٹھا ہوا ہے، اور اس کے پاس پاکٹ سائز کا قرآن ہے اور وہ اس کی تلاوت کیے جا رہا ہے۔ اور اس کو الرٹ کیا ہوا ہے اس کے کمانڈر نے کہ انڈیا کی طرف سے اٹیک ہو گا تو تم نے اس اٹیک کو روکنا ہے۔ 

اور ساتھ میں جو ایئرمارشل نور خان تھے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا، سب کو، کہ یہ نہیں ہے کہ گئے اوپر اور ایک فلائیٹ مار کر نیچے آ کر لینڈکر گئے۔  پیٹرول ہمارے پاس بہت کم ہے۔ تو اگر آپ نے جہاز کو اوپر لے کر جانا ہے ایئر فیلڈ میں، کچھ نہ کچھ کر کے آنا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ بس انڈین جہازوں کو بگھایا اور واپس آ گئے، اس طرح نہیں۔ 

تو اب وہ جناب قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں، اور اس دوران میں 7 ستمبر کی صبح انڈیا کے ہوائی جہاز جو ہیں وہ پاکستان کی ایئر اسپیس میں داخل ہوتے ہیں اور ایک دو جگہ پہ بمباری کرتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ انڈیا نے اٹیک کر دیا ہے۔ تو ایم ایم عالم صاحب اور ان کے ساتھی جو ہیں وہ فلائی کر کے ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور پھر وہ سارا واقعہ پیش آتا ہے۔ 

اس میں جو آپ کہہ رہے ہیں نا کہ وہ جناب ایک ورژن انڈین سائیڈ کا یہ ہے کہ وہ ایک جہاز میں خرابی پیدا ہو گئی تھی تو پائلٹ جو ہے اس نے پیراشوٹ سے چھلانگ مار دی تھی، تو اس کا جہاز تو انجن کی خرابی کی وجہ سے گر گیا تو آپ نے ایم ایم عالم کے کھاتے میں ڈال دیا، اس کو بھی کاؤنٹ کر لیا۔  بالکل غلط بات ہے۔ وہ جو پائلٹ تھا اس کو نیچے دیہاتیوں نے پکڑ لیا تو اس نے دیہاتیوں کو کہا کہ میں پاکستان ایئرفورس کا پائلٹ ہوں ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جب پولیس وغیرہ آئی وہاں پہ تو پھر پتہ چلا کہ یہ تو انڈین ایئرفورس کا پائلٹ ہے۔ اور اس کے جہاز کے بارے میں بھی    Evidence    موجود ہے کہ اس کو بھی ہٹ کیا گیا تھا اور اس کا انجمن ونجن کوئی نہیں فیل ہوا تھا۔ 

تو ایم ایم عالم صاحب نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کی    Evidence    موجود ہے اور تمام جو جنگی ماہرین ہیں ان کے اس کارنامے کو     Endorse    کرتے ہیں اور اسی لیے ان کو اتنےبڑے بڑے اعزازات ملے۔ وہ ہمارے ہیرو ہیں اور ہیرو رہیں گے۔ 

شایان محمود: بالکل، اور سر آپ نے تو ایم ایم عالم سے ملاقات بھی کی ہوئی ہے، آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ آگے کیا ہوا؟ اگر میں 1965ء کو تھوڑا سا چھوڑ دوں ایک سیکنڈ کے لیے۔ کیوں نہیں ہمیں فلمیں دیکھنے کو ملتیں ایم ایم عالم پہ؟  کیوں نہیں وہ آگے جا کر ایئرچیف بنے تھے؟ مطلب سننے میں یہ آتا ہے کہ    Common man    کے لیے کہ ان کی جو    End of life    تھی وہ کافی مطلب    Sad    تھی اور ایسا تھا، یہ کیا ہوا تھا؟ اتنا بڑا وار ہیرو ہمارا۔ 

حامد میر: دیکھیں، ایم ایم عالم صاحب جو ہیں نا وہ کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی ساری جو ایجوکیشن ہے وہ ڈھاکہ میں ہوئی تھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی وہ بنگالی تھے، لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے خاندان میں بہاری بھی تھے۔ تو آپ ان کو بہاری کہہ لیں، ان کو بنگالی کہہ لیں، لیکن یہ طے ہے کہ وہ پیدا کلکتہ میں ہوئے اور ان کی ایجوکیشن ڈھاکہ میں ہوئی اور ان کی ایئرفورس میں بھرتی بھی ڈھاکہ سے ہوئی تھی۔ 

تو انہوں نے 1965ء کی وار میں بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا لیکن جب 1971ء کی جنگ ہوئی۔ تو 1971ء کی جنگ میں  کچھ جو ایئرفورس کے بنگالی افسر تھے، ان کو سائیڈلائن کر دیا گیا۔ ٹھیک ہے نا۔ اس میں سیف الاعظم صاحب بھی تھے، جنہوں نے 1967ء کی عرب اسرائیل کی جنگ میں بھی اسرائیل کے طیارے گرائے تھے۔ اسرائیل کے طیارے گرائے تھے سیف الاعظم صاحب نے۔ تو ایم ایم عالم صاحب کو بھی    Suspect    کیاگیا۔ کیونکہ وہ راشد منہاس شہید والا ایک واقعہ ہو گیا تھا کہ ان کا جو بنگالی انسٹرکٹر تھا، اس نے کوشش کی کہ جہاز اغوا کر کے انڈیا لے جائے۔ تو راشد منہاس نے اس کو    Resist کیا    اور انہوں نے جہاز گرا دیا اور وہ شہید ہو گئے۔ 

تو اس وجہ سے ایک تو یہ کہا جاتا ہے کہ ایم ایم عالم صاحب سے 1971ء کی جنگ میں اس طرح کام نہیں لیا گیا جیسا کہ انہوں نے 1965ء میں کیا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ پھر ان کو بھی    Syria    بھیجا گیا    As an instructor    تو اگر آپ نے کسی کو سیریا بھیجا ہے تو آپ کو پتہ ہے نا کہ اس کی جنگی صلاحیتیں بڑی زبردست ہیں۔ پھر وہ پاکستان آ گئے تو ایک آپ کی ایئرفورس کے سربراہ تھے ظفر چودھری صاحب۔ ظفر چودھری صاحب کے ساتھ ان کے کچھ پرابلمز ہوئے،  کوئی نظریاتی قسم کے پرابلمز تھے، کیونکہ ایم ایم عالم صاحب بڑے مذہبی آدمی تھے۔ 

اچھا، پھر اس کے بعد جب 1977ء میں  جنرل ضیاء الحق نے    Coup    کر دیا تو ایم ایم عالم صاحب جو ہیں ، ایک دو میٹنگز میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ کچھ سخت باتیں کیں، اور وہ کچھ اس طرح کی تھیں کہ آپ ایئرفورس میں میرٹ پہ فیصلے کریں۔ تو جنرل ضیاء الحق پسند نہیں کرتے تھے، بظاہر اگر آپ ان کے ساتھ اختلافِ رائے کرتے تھے تو منہ پہ وہ آپ کو کچھ نہیں کہتے تھے، لیکن اختلافِ رائے سننے کے بعد وہ آپ کے بارے میں کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کر دیتے تھے۔ تو ایم ایم عالم صاحب کے بارے میں کوئی ایسا ہی انہوں نے  آرڈر جاری کیا، ان کو پروموشن نہیں دی، اور پھر جنرل ضیاء الحق ہی کے زمانے میں ان کو ریٹائر کر دیا گیا ۔

لیکن یہ میں ضرور کہوں گا کہ پاکستان ایئرفورس نے ایم ایم عالم صاحب کو کبھی بھی    Abandon    نہیں کیا۔ اور ان کے بہت سے جو اسٹوڈنٹس ہیں وہ بعد میں ایئرچیف بنے۔ اور انہوں نے ایم ایم عالم صاحب کو    Look after    کیا، ایم ایم عالم صاحب نے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی۔ تو اپنی زندگی کے جو آخری کچھ سال ہیں، وہ بیمار رہے تو انہوں نے کراچی میں پاکستان ایئرفورس ہی کی    Provided accommodation   میں گزارے تھے اور انہوں نے ان کا پورا خیال رکھا۔ تو ایئرفورس جو ہے اس نے اپنے ہیرو کو فراموش نہیں کیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے زیادتی کی، نا انصافی کی  ایم ایم عالم کے ساتھ، لیکن    I must say    کہ پاکستان ایئرفورس کے جتنے بھی ایئرچیف آئے، ان سب نے ایم ایم عالم صاحب کو    Due respect    دی اور ایک ہیرو کے طور پر ان کا خیال رکھا۔ 

شایان محمود: اور سر، اب چلتے ہیں، ایئرفورس کی پرفارمنس اچھی تھی، آرمی کی پرفارمنس اچھی تھی، جتنا میں نے پڑھا ہے، سننے میں آتا ہے کہ نیوی کا ویسے کم رول تھا، ایک   I think, Dwarka submarine    تھی  ان کی، ایک اٹیک میں Damage پہنچایا تھا۔  نیوی کی پرفارمنس کیسی تھی، اور کیا بہت لمیٹڈ تھی اور کیوں لمیٹڈ تھی؟ 

حامد میر: دیکھیں، آپ کو میں جو    War dynamics    ہیں اس کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب دوں گا کہ انڈیا جو ہے اس کا یہ خیال تھا کہ ہم نے تو جناب دو یا تین دن میں لاہور اور سیالکوٹ پہ قبضہ کر لینا ہے۔ جب ان کو بہت سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان نے راجھستان کے اندر    Invade    کیا، پاکستان نے راجھستان کا بہت سا علاقہ قبضہ کر لیا۔ قصور کے پاس ایک کھیم کرن کا علاقہ ہے، اُدھر پاکستان گھس گیا۔ جنرل موسیٰ جو آرمی چیف تھے وہ اُدھر پہنچ گئے، تصویریں ان کی چھپنی شروع ہو گئیں۔ انڈیا جو ہے وہ    Psychological pressure    میں آ گیا، یہ کیا ہو گیا؟

پھر جناب یہ ہوا کہ ایسٹ پاکستان جو تھا اس وقت 1965ء میں وہ پاکستان کا حصہ تھا، جو آج بنگلہ دیش ہے۔ وہاں پہ انڈیا نے کچھ شہروں میں بمباری کی تو پاکستان ایئرفورس کلکتہ تک پہنچ گئی۔ پاکستان ایئرفورس نے کلکتہ میں گھس کر جوابی کاروائی کی، ان کے جہاز تباہ کر دیے۔ تو انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ زیادہ فرنٹ کھولنے ہمارے لیے اچھا نہیں  ہے، اور ان کی ایئرفورس بھی بڑی    Active   ہے، ان کے گراؤنڈ ٹروپس بھی ہمیں بڑی سخت    Resistance    دے رہے ہیں، تو انہوں نے پھر ایسٹ پاکستان میں گراؤنڈ آپریشن نہیں کیا، ایئر اٹیکس کیے، گراؤنڈ آپریشن نہیں کیا۔ 

اب انہوں نے کوشش یہ کی کہ پاکستان نیوی کو بھی انگیج نہ کریں۔ لیکن پاکستان نیوی نے کیا کیا کہ پاکستان نیوی نے انڈیا کو جان بوجھ کر انگیج کیا تاکہ وہ اپنی جو توجہ ہے وہ    Dwarka    کی سائیڈ پر لے کے جائے۔ دوارکا   میں ایک بہت بڑا    Fort   ہے، وہاں پہ انڈین ایئرفورس کا ایک بہت بڑا ریڈار سسٹم لگا ہوا تھا، اور اس ریڈار سسٹم کی وجہ سے کراچی کو    Threat    تھا۔ ٹھیک ہے نا۔ تو کراچی کو پروٹیکٹ کرنے کے لیے پاکستان نیوی جو ہے، اس نے کیا کیا کہ اپنی ایک آبدوز کے ذریعے انہوں نے پلاننگ کی اور انہوں نے دوارکا  کا قلعہ جو ہے، اس میں جو اُن کا ایک ریڈار سسٹم لگا ہوا تھا، انہوں نے اس پہ بھی اٹیک کیا۔ اور چھوٹی چھوٹی بہت سی لڑائیاں بھی ہوئیں، اس میں بھی پاکستان نیوی جو ہے اس نے بڑی زبردست پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ 

بہرحال    In short    نیوی کا    Dwarka Operation    جو تھا    It was a huge success     جس کو پوری دنیا کے لوگ مانتے ہیں۔ اس کے بعد پھر انڈیا نے نہ پاکستان نیوی کو چھیڑا، اور نہ ہی اس نے کراچی کی طرف آنے کی جرأت کی۔ ٹھیک ہے نا۔ 

اس لیے آپ اگر بحیثیت مجموعی    In totally    دیکھیں تو 1965ء کی وار میں آپ کے جو گراؤنڈ ٹروپس تھے، آپ کی جو آرمی تھی اس کی پرفارمنس بڑی زبردست تھی، اس نے لاہور اور سیالکوٹ پہ قبضہ نہیں ہونے دیا۔ آپ کی جو ایئرفورس ہے اس میں ، میں نے تو ابھی آپ کو صرف ایم ایم عالم صاحب کا بتایا ہے، اور بہت سے آپ کے ہیروز تھے۔ سرفراز رفیقی صاحب تھے، وہ انڈین ٹیرٹری میں اٹیک کرنے گئے، وہاں پہ ان کے جہاز میں پرابلم ہو گئی، ان کی گن نے کام کرنا بند کر دیا۔ وہ اگر واپس آجاتے تو کوئی ایشونہ ہوتا۔ لیکن انہوں نے بالکل واپس آنا گوارا نہیں کیا ، اور وہ ایک ایسا جہاز جس سے اب وہ کوئی فائر ہی نہیں کر سکتے،  تو انہوں نے کمان فوری طور پر وائرلیس پہ ایک دوسرے ساتھی کے سپرد کی اور کور دینا شروع کر دیا، یہ شو کیا کہ میں کور دے رہا ہوں اور میں اٹیک کر سکتا ہوں، تو وہ شہید ہو گئے وہاں پہ۔ 

تو اور بھی میں آپ کو بتا سکتا ہوں بڑے واقعات ہیں اس میں۔ اور نیوی نے بھی بڑی اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ۔ اور آپ کو ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں کہ 1965ء کی وار میں سندھ کی جو حُر فورس ہے، جو پیر صاحب پگاروں کے مریدوں کی ایک فورس تھی، حُر فورس۔

شایان محمود: یہ کیا کرتے تھے؟

حامد میر: یہ حُر فورس بارڈر پہ پاکستان آرمی کو تھوڑا سا    Facilitate    کیا کرتے تھے، یہ رضاکار تھے، تو انہوں نے بھی فوج کی مدد کی اور یہ بھی راجھستان کے اندر گھس گئے۔ اور انہوں نے بھی راجھستان کے اندر جا کر انڈیا کی دو تین پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔ تو 1965ء کی وار میں پاکستان نے راجھستان سیکٹر میں، یعنی سندھ کے بارڈر پہ، بہت سا جو اُن کا علاقہ ہے اس پہ قبضہ کیا اور قصور سیکٹر میں سلیمانکی  کے علاقے میں آپ نے ان کے بہت سے علاقے پہ قبضہ کیا۔  

اور پھر بعد میں جو سیزفائر ہوا تھا، پھر تاشقند میں ایک معاہدہ ہوا، تو پھر جو علاقہ ان کے پاس تھا انہوں نے چھوڑ دیا، جو ہمارے پاس تھا وہ ہم نے چھوڑ دیا۔ 

تو اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ 6 ستمبر کو اگر آپ اپنا یومِ دفاع مناتے ہیں تو یہ بالکل آپ صحیح مناتے ہیں کیونکہ 6 ستمبر کو اگر لاہور پہ اور سیالکوٹ پہ قبضہ ہو جاتا تو پاکستان کا دل انڈیا کے کنٹرول میں چلا جاتا۔  

شایان محمود: اچھا سر اب ہم اس کو تھوڑا    Macro view    دیکھتے ہیں    Political view ،  ہم آن ٹاپ ہیں، لاہور کو بھی اچھا ڈیفنڈ کیا، سیالکوٹ کو، ہماری نیوی بھی پرفارم کر رہی ہے، آرمی بھی پرفارم کر رہی ہے، اس پوائنٹ پہ۔ شروع میں آپ نے بتایا کہ امریکہ تھی، رشیا تھی۔ اچھا امریکہ کیا چاہ رہی تھی کہ ہم یہ جنگ جیتیں، یا وہ سیزفائر چاہ رہی تھی، اور اس دفعہ ہم نے ختم کیوں کی جنگ؟ مطلب ہم کیوں گئے تاشقند ایگریمنٹ کی طرف؟ فار ایگزیمپل اس میں جو لٹریچر میں نے پڑھا ہے اس میں لکھا ہوا تھا کہ چائنہ نے ہمیں ایڈ ہی نہیں کیا، چائنہ نے ہماری مدد نہیں کی۔ کیا یہ سچ ہے؟ تھوڑا سا مجھے بتائیں کہ یہ وار    Conclusion    کی طرف آئی کیوں؟ اگر ہم    On top    تھے تو ہمیں اپنی    Favor    کا جو رزلٹ چاہیے تھا کہ کشمیر کا جو حصہ ہم چاہ رہے تھے وہ ہماری طرف    Why did not that happen  ؟

حامد میر: اب یہاں پہ شروع ہو جاتا ہے پولیٹیکل لیڈرشپ کا رول۔ جو آپ کا جوان تھا، جو آپ کا کپتان تھا، میجر تھا، کرنل تھا، بریگیڈیئر تھا،    Even    آپ کے جنرلز     They performed very well       ٹھیک ہے، بہت بہادری سے انہوں نے ہندوستان کے دانت کھٹے کیے۔  لیکن اب جو آپ نے مجھے سوال کیا ہے تو اس کا جو جواب ہے، میرے پاس جو    Historical facts   ہیں، میں نے تو اسی کی روشنی میں دینا ہے نا آپ کو۔

 پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کو امریکہ نے دوبارہ    Betray    کیا 1965ء کی وار میں۔  1965ء میں آپ امریکہ کے اتحادی تھے اور انڈیا رشیا کا اتحادی تھا۔    Once again    امریکہ نے    Quietly, secretly    انڈیا کا ساتھ دیا   اور اس نے پاکستان پر    Sanctions     لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی فوجی امداد نہیں دی جائے گی۔ الزام کیا لگایا کہ جو ہم نے آپ کو ٹینک دیے ہیں آپ نے وہ انڈیا کے خلاف کیوں استعمال کیے ہیں؟   بھئی ہم نے آپ سے خریدے ہیں، آپ سے بھیک میں تو نہیں لیے، جس طرح ہم نے ایف 16 ان سے خریدے ہیں، اس کی بھاری قیمت چکائی ہے، ہماری مرضی ہے ہم اس کو جس طرح مرضی استعمال کریں۔ 

جو 1962ء میں ایوب خان کے ساتھ امریکہ نے دھوکہ کیا تھا، اس کے بعد ایوب خان کو ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا امریکہ کو، لیکن ایوب خان نے ٹرسٹ کیا امریکہ کو، اور آپ کو دوبارہ دھوکہ دیا گیا۔ اچھا، امریکہ نے انڈیا پر بھی سینکشنز لگائیں لیکن انڈیا کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ انڈیا تو رشیا کا اتحادی تھا اور رشیا کا اسلحہ استعمال کر رہا تھا۔ ہم امریکہ کا اسلحہ استعمال کر رہے تھے، امریکہ نے ہم پر پابندیاں لگا دیں۔  

اب آپ نے مجھ سے پوچھا    چائنہ کا کردار کیا تھا۔ یہاں پہ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بالکل اس پہ آپ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ چائنہ جو ہے وہ پاکستان کے ڈیفنس اور پاکستان کی فتح کے لیے پاکستان کی جو پولیٹیکل لیڈر شپ تھی اس سے زیادہ    Aggressive    تھا۔ کیونکہ اب لوگ جو ہیں وہ سچ نہیں بولتے اور    Unfortunately    ہمارے بہت سے جو لیڈر ہیں وہ کھل کر بات نہیں کرتے، لیکن فارن آفس میں جو ڈاکومنٹس پڑے ہوئے ہیں، اگر وہ    Declassify     ہو جائیں، تو کبھی نہ کبھی تو ہوں گے۔ 

میں آپ کو اپنے نالج کی بنیاد پہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ 1965ء کی جنگ کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی کہ جنرل ایوب خان اور چائنیز لیڈرشپ کے درمیان ایک ڈائریکٹ ون ٹو ون میٹنگ ہو جائے    Which was a very huge risk     کہ پریزیڈنٹ آف پاکستان جو ہے وہ جنگ کے دوران پاکستان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک کے دورے پر چلا جائے۔ فارن منسٹر کہہ رہا نہیں، یہ بڑا ضروری ہے، دو دن کے لیے جانا پڑے گا۔ فارن منسٹر کا اس میں کیا آبجیکٹیو تھا اس کا جواب آپ کو خود ہی مل جائے گا، میں آگے چل کے آپ کو وہ بھی بتاتا ہوں۔ 

تو اس کےلیے جنرل ایوب خان نے ایک پورا ڈرامہ کیا۔ انہوں نے اس طریقے سے    Behave    کیا کہ جس طرح وہ بالکل روٹین میں اپنے دفتر جا رہے ہیں اور وہاں پہ کام کر رہے ہیں، میٹنگز ہو رہی ہیں، اور پریس ریلیز جاری ہو رہی ہے، ان کے بیانات آ رہے ہیں۔ لیکن ایک دن    In the middle of the war     وہ پشاور سے ایک جہاز میں خاموشی سے فارن منسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ چائنہ چلے گئے۔ پیچھے سے ان کا پورا سٹاف جو ہے وہ اس طرح سے    Behave   کرتا رہا جس طرح پریزیڈنٹ صاحب جو ہیں وہ پریزیڈنٹ آفس میں ہی ہیں، کام کر رہے ہیں، میٹنگ ہو رہی ہے، پریس ریلیز بھی جاری ہو رہی ہے، سب کچھ ہو رہا ہے۔ 

تو ایوب خان اور بھٹو چائنہ گئے۔  وہاں پہ ان کی میٹنگ ہوئی پرائم منسٹر  چو این لائی    Zhou Enlai     کے ساتھ، تو پرائم منسٹر چو این لائی نے ان سے کہا کہ آپ نے اتنے تھوڑے دنوں میں انڈیا کے ساتھ جس طریقے سے مقابلہ کیا ہے، تو ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ ایک لمبی جنگ لڑ کے جیت سکتے ہیں۔ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں، ہم آپ کو ہر طرح کا اسلحہ دیں گے، آپ کو ہر طرح کی سپورٹ دیں گے۔ ٹھیک ہے۔ آپ اگر لمبی جنگ کریں گے تو آپ کے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ 

تو ایوب خان تھوڑا سا اس پہ    Reluctant    تھے، پریشان تھے کہ لمبی جنگ، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔ تو اس زمانے میں چائنہ اتنی بڑی پاور نہیں تھا۔ لیکن اتنی پاور تھا کہ اگر وہ پاکستان کے پیچھے کھڑا ہو جاتا اور پاکستان کی کھلم کھلا سپورٹ شروع کر دیتا تو امریکہ بلیک میلنگ پوزیشن میں نہ ہوتا۔ کیونکہ امریکہ اس زمانے میں ویت نام میں پھنسا ہوا تھا۔ اور ویت نام میں بھی چائنیز جو ہیں وہ    Quietly    ویتنامی گوریلاز کو    Assist    کر رہے تھے۔ کیونکہ ایوب خان صاحب تھوڑے سے پرو امریکہ تھے اور امریکہ کے اتحادی بھی تھے ۔ان کا فارن منسٹر ذوالفقار علی بھٹو وہ ذرا پرو چائنیز تھا۔ تو بھٹو صاحب چاہتے تھے کہ چائنہ کی بات مان لی جائے۔ لیکن ایوب خان صاحب نے کہا میں آپ کو بتاؤں گا۔ اور پھر وہ چپ کر کے واپس آ گئے۔ اور تھوڑے دن بعد انڈیا سیزفائر کروانا چاہ رہا تھا، لیکن خود نہیں بول رہا تھا، اس کے Behalf پہ کچھ ویسٹرن پاورز بول رہی تھیں۔  تو پھر سیزفائر کا پریشر آیا تو پاکستان نے سیزفائر کر لیا۔

شایان محمود: کیوں، کیا پریشر تھا؟ مطلب ایک ملک پہ کیا پریشر ہوتا ہے سیزفائر کرنے کا؟

حامد میر: ایک تو آپ پہ سینکشنز لگا دیں۔ دوسرا اَگین آپ کو کہا جا رہا ہے اس سے آپ کی اکانومی کو بڑا نقصان ہو گا اور ملک میں    Price hike   ہو جائے گی اور    Instability    پھیلے گی۔ اور اس وقت پاکستان کے ساتھ ایسٹ پاکستان بھی تھا۔ تو ایسٹ پاکستان میں آپ کس طرح، اگر وہاں پر بھی انڈیا نے فرنٹ کھول دیا تو آپ کیا کریں گے؟ تو اس طرح کے پریشر تھے اور دوبارہ کہا گیا امریکہ کی طرف سے اور ویسٹرن پاورز کی طرف سے کہ آپ کا کشمیر کا مسئلہ ہے نا، وہ ہم حل کروا دیں گے۔ 

لیکن اس میں چائنہ میں جو میٹنگ ہوئی تھی نا چو این لائی کی ایوب خان اور بھٹو کے ساتھ۔ اس میٹنگ میں چائنہ نے بڑا کلیئرلی پاکستان کو یہ کہا تھا کہ    Don’t trust America and Russia     امریکہ اور رشیا کی لڑائی تھی اس وقت لیکن چائنہ پاکستان کو ایڈوائز  کررہا ہے کہ یہ جو امریکہ ہے اس کو بھی ٹرسٹ نہ کرو، رشیا کو بھی ٹرسٹ نہ کرو، کیونکہ جو انڈینز ہیں انہوں نے دونوں کو    Cultivate    کیا ہوا ہے اور انڈینز جو ہیں وہ دونوں کے ساتھ اس طریقے سے چلتے ہیں کہ دونوں سے    Advantage    لے رہے ہیں، اور یہ آپ کے ساتھ دونوں دھوکہ کریں گے۔ تو آپ رشیا کی طرف مت جائیں۔ 

شایان محمود: تو ہم نے چائنہ کی کیوں نہیں بات سنی؟ 

حامد میر: آپ نے چائنہ کی بات نہیں سنی، ٹھیک ہے نا۔

شایان محمود: یہ بھٹو صاحب کی غلطی ہے یا ایوب خان صاحب کی؟

حامد میر: یہ دونوں کی غلطی ہے۔ دیکھیں، بھٹو صاحب کے اور ایوب خان کے اختلافات یہیں سے پیدا ہوئے کہ بھٹو صاحب چاہتے تھے کہ جنگ کو لمبا کیا جائے اور سیزفائر نہ کیا جائے۔ لیکن ایوب خان صاحب نے کہا اچھا سیز فائر کر لیتے ہیں۔ اور سیزفائر کرنے کے بعد رشیا نے آپ کو    Diplomatically engage       کیا، اور اس وقت تاشقند جو ہے، جو کہ آج ازبکستان کا کیپٹیل ہے، وہ اس وقت ایکس سوویت یونین میں شامل تھا، تو پاکستان اور انڈیا کو تاشقند بلایا اور وہاں پہ تاشقند ایگریمنٹ کرا دیا۔ اور تاشقند ایگریمنٹ میں ایسا لگا پاکستانیوں کو، پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت کو کہ آپ نے کشمیر کو فراموش کر دیا ہے۔ 

شایان محمود: اچھا، تاشقند ایگریمنٹ سے، جو میں نے ویڈیوز بھی دیکھی ہیں اور پڑھا بھی ہے، نہ انڈین خوش تھے اور نہ پاکستانی سائیڈ۔ اس ایگریمنٹ میں ایگزیکٹلی تھا کیا، اور اس کے مسئلے کیا تھے؟ مطلب    Why is either side not happy؟

 حامد میر: دیکھیں، اس میں پاکستان کا مسئلہ یہ تھا ، بھٹو صاحب کا یہ خیال تھا کہ 1965ء کی وار میں پاکستان کا    Upper hand    تھااور پاکستان کو جو ہے وہ ایک    Dictating position    سے انڈیا کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہماری فتح ہوئی ہے اس میں۔ لیکن جو رشین سائیڈ تھی اس نے پاکستان کو اتنا پریشرائز کیا اور پیچھے سے امریکہ جو ہے وہ بھی سپورٹ کر رہا تھا انڈیا کو۔ تو ایوب خان صاحب نے جو ایگریمنٹ سائن کیا نا تاشقند میں شاستری کے ساتھ، تو اگر آپ اس ایگریمنٹ کو آج بھی پڑھیں تو اس میں جو بنیادی مسئلہ تھا، روٹ کاز 1965ء وار کا تھا مسئلہ کشمیر، وہ ایڈریس نہیں ہوا۔ اس کا اس میں ذکر ہی نہیں تھا۔ میں نے دیکھیں نے آپ کو پہلے بتایا کہ آپ کا آپریشن ڈیزرٹ ہاک تھا، آپریشن جبرالٹر تھا، آپریشن سلام تھا، یہ سب کیوں ہوا؟ کشمیر کی وجہ سے ہوا تھا نا۔ تو تاشقند ایگریمنٹ میں کشمیر کے مسئلے کو اس طریقے سے    Highlight   نہیں کیا۔ تو اس پہ بھٹو صاحب کا اختلاف ہو گیا، وہ جب وہاں سے واپس آئے تو انہوں نے آکے ریزائن کر دیا۔ 

شایان محمود: اور وہ سائن جب ہم نے کیا تھا تو اس ٹائم پہ    Public sentiment     کیا تھا پاکستان اور انڈیا میں؟ 

حامد میر: تاشقند ایگریمنٹ، مجھے انڈیا کا تو نہیں پتہ، مسئلہ یہ ہو گیا تھا کہ شاستری کا وہیں پہ انتقال ہو گیا۔ 

شایان محمود: بالکل، میں نے اس پہ بھی آنا ہے، چلیں میں    Sentiment    پہ اس کے بعد آتا ہوں۔ ایک    Rumor    ہے یا ایک جو بھی کہتے ہیں    Myth    ہے کہ انڈین پرائم منسٹر شاستری جو تھے، اُدھر ہی ان کا انتقال ہوا تاشقند میں، کہ ان کو سی آئی اے والوں نے مارا تھا    Something to do with nuclear attack     جو نیو کلیئر پروگرامز تھے انڈیا کے، یہ رومر ہے، اس میں کوئی سچائی ہے؟ 

حامد میر: اس میں کوئی شک نہیں کہ جو امریکن سی آئی اے ہے اس کے انڈین گورنمنٹ کے اندر کافی زمانے سے    Moles    ہیں۔ 

شایان محمود: کیونکہ Autopsy نہیں ہوئی تھی شاستری صاحب کی۔

حامد میر: لیکن اس کی کوئی    Evidence   نہیں ہے اس لیے کہ شاستری صاحب جو کر رہے تھے تاشقند میں بیٹھ کر وہ امریکہ کی مرضی کے مطابق کر رہے تھے۔ کیونکہ امریکہ جو ہے اس نے کبھی اس چیز کا خیال نہیں کیا کہ پاکستان جو ہے وہ اپنا    Interest compromise   کر کے آپ کا اتحادی بن جاتا ہے، اور آپ جب بھی موقع آتا ہے پاکستان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں۔ تو تاشقند ایگریمنٹ میں جو ہوا، اس میں کشمیر پہ کمپرومائز ہوا۔ ایوب خان نے کشمیر پہ کمپرومائز کیا۔ تو کشمیر پہ جو کمپرومائز ہے، وہ امریکہ کے فائدے میں تھا، تو اس کو شاستری کو مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ شاستری کو مارا گیا۔ 

تو جو تاشقند ایگریمنٹ تھا نا ، اس کے فوراً‌ بعد جو شاستری کی موت ہے، اس کی وجہ سے انڈیا میں تاشقند ایگریمنٹ پہ زیادہ    Debate    نہیں ہوئی۔ پاکستان میں زیادہ ڈیبیٹ ہوئی۔ تو پاکستان میں ایک موومنٹ شروع ہو گئی، بھٹو نے استعفیٰ دے دیا اور لوگوں نے کہا کہ ایوب خان نے کشمیر بیچ دیا۔ اور ایوب خان کے خلاف ایک بہت بڑی موومنٹ شروع ہو گئی۔ اور اَلٹی میٹلی اس موومنٹ کے نتیجے میں اس کو ریزائن کرنا پڑا۔ 

شایان محمود: سر میں آپ کا زیادہ اور ٹائم نہیں لیتا، آخری سوال ہے، یہ ہم نے پوری ایک ہسٹری سمجھ لی، اس کے بعد کیا ہوا    Leading up to    جو ہماری اگلی جنگ ہوئی تھی۔ لیکن اگر میں آپ سے یہ پوچھوں، دیکھیں، ہمارا آبجیکٹیو کیا تھا؟ کشمیر۔ ہم  گئے ، آپریشن گرینڈ سلیم کیا، امرتسر میں گئے، ایک ٹاؤن کی وہ تصویر بھی بہت    Famous    ہے جس میں ایک جنرل کی جو اُدھر کھڑے ہوئے ہیں، ٹرین اسٹیشن کے ساتھ۔

حامد میر: وہ 1971ء والا ہے۔

شایان محمود: وہ 1971ء والا ہے 1965ء کا نہیں ہے؟

حامد میر: 1965ء میں بھی ہے، 1965ء میں جنرل موسیٰ چلے گئے تھے انڈین ٹیرٹری میں۔ 

شایان محمود: لیکن میرا سوال یہ ہے نا کہ    ?Did we win this war     دیکھیں،آبجیکٹیو تو  نا  ان کا کمپلیٹ ہوا، لاہور اور سیالکوٹ    Capture    کرنا، نہ ہمارا ہوا۔ بچپن میں مجھے یہ پڑھایا جاتا تھا کہ 1965ء کی وار پاکستان جیتا۔ اب یہ پڑھایا جاتا ہے جو میں نے آپ کو بتایا ہے کہ جو بس ایک جنگ ہوئی تھی سولہ سترہ دن کی۔ ان دونوں میں سچائی کیا ہے؟ 

حامد میر: دیکھیں، آپ کی جو تینوں بڑی جنگیں ہیں، اور اگر آپ اس میں کارگل کو بھی شامل کر لیں تو آپ کی چار جنگیں ہیں۔ چاروں جنگوں کی مین وجہ جو ہے وہ کشمیر تھا۔ 

تو اگر آپ    Overall    دیکھیں تو چاروں جنگوں میں نا توانڈیا جو ہے وہ آزاد کشمیر پہ قبضہ کر سکا، اور نہ ہی پاکستان مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروا سکا۔ تو نہ کوئی جیتا ہے نہ کوئی ہارا ہے۔ لیکن اگر آپ صرف 1965ء کی وار کو دیکھیں تو وہ وار جو ہے وہ انڈیا کے آبجیکٹوز کے لحاظ سے ہم دیکھیں اگر، تو وہ    Battle    ہم نے جیت لی ہے۔ لیکن ایک بیٹل ہوتی ہے، ایک جنگ ہوتی ہے۔ بیٹل ہوتی ہے چھوٹی، جنگ ہوتی ہے بڑی۔ 

شایان محمود: پولیٹکس بھی ہے۔ 

حامد میر: جنگ میں پولیٹکس بھی آجاتی ہے، ڈپلومیسی بھی آجاتی ہے، سب کچھ آجاتا ہے۔ تو جنگ نہ انڈیا جیتا ہے نہ پاکستان جیتا ہے۔ اور یہ جنگ ابھی تک چل رہی ہے۔  اور بظاہر اس میں ایسا لگتا ہےکہ ابھی تک    Upper hand     جو ہے وہ انڈیا کا ہے۔ لیکن فیصلہ نہ پاکستان نے کرنا ہے نہ انڈیا نے کرنا ہے، کیونکہ اس جنگ میں ایک تیسرا فریق بھی ہے اور وہ ہیں کشمیری۔ تو جب تک یونائیٹڈ نیشنز اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی اور    Plebiscite    کے ذریعے ان کی رائے نہیں پوچھتی تو جنگ کا فیصلہ نہیں ہو گا۔ اور اس جنگ کا فیصلہ ایک پولیٹیکل پراسیس ہے    Plebiscite is a political process    تو اس جنگ کا فیصلہ نہ پاکستان نے کرنا ہے نہ انڈیا نے کرنا ہے، وہ کشمیریوں نے کرنا ہے    As a third party     لیکن جہاں تک 1965ء کی وار کا اگر آپ صرف    Analysis   کریں گے تو وہ جنگ نہیں ایک بیٹل تھی اور وہ بیٹل جو ہے اس میں پاکستان کو    Victory    ملی۔ 

شایان محمود: چلیں سر، تھینک یو ویری مچ ، بہت مزا آیا، بہت کچھ سیکھنے کو ملا، ان شاء اللہ

We call you gain very soon, thank you very much for being on the pod cast.

حامد میر: بہت بہت شکریہ۔

https://youtu.be/C51X4fH3vH0


مسئلہ کشمیر کا حل استصوابِ رائے ہے ظلم و ستم نہیں

بلاول بھٹو زرداری

(۲۲ اپریل کے پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت تناؤ کی فضا میں ۶ مئی کو قومی اسمبلی میں خطاب)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

جناب اسپیکر، آپ کا شکریہ۔ آج میں خوف کے سائے میں نہیں بلکہ عزم کی پختگی کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ہو سکتا ہے ہماری سرحدوں پر بندوقیں گرج رہی ہوں، اور ہوائیں جنگ کی سرگوشیاں لے کر آ رہی ہوں، لیکن پاکستان کی روح کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قوم خوف سے نہیں بنی ہے، یہ جدوجہد سے وجود میں آئی ہے، اور یہ جدوجہد سے ہی زندہ ہے۔

حال ہی میں بھارت کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ایک گھناؤنے واقعے کے بعد الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ سیاح مارے گئے، خون بہایا گیا، جو کسی بھی لحاظ سے ایک المیہ ہے، مگر لاشیں ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ نئی دہلی نے اسلام آباد پر غضب ڈھانا شروع کر دیا، انگلیاں اٹھائیں، سرحدیں بند کیں، اور نتائج کی دھمکیاں دیں۔ میں پاکستان کے عوام اور دنیا کے سامنے یہ واضح اعلان کرتا ہوں کہ اس جرم میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ 

جناب اسپیکر، ہم دہشت گردی برآمد نہیں کرتے، ہم تو خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ دہشت گردی صرف جسموں پر حملہ نہیں ہے، یہ سچائی، امن اور خود تہذیب پر حملہ ہے۔ اور پھر، یہ دہشت گردی ہے کیا؟ کیا یہ محض کسی پاگل بندوق بردار کے حملے یا کسی بازار میں بم کا نام ہے؟ نہیں! یہ دنیا کی وہ خاموشی ہے جب نا انصافی کا راج ہوتا ہے، یہ مظلوم کی گردن پر بوٹ ہے، یہ وہ بلڈوزر ہے جو اندھیرے میں ایک گھر کو مسمار کر دیتا ہے، اور یہ وہ کرفیو ہے جو گھنٹوں نہیں بلکہ دہائیوں تک جاری رہتا ہے۔

بھارت دہشت گردی سے لڑنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ہمیں پوچھنے دیں کہ آپ کشمیر میں خود ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کیسے لڑ سکتے ہیں؟ آپ گولی کی مذمت نہیں کر سکتے جب آپ ڈنڈے سے حکومت کر رہے ہوں۔ آپ قانون کی بات نہیں کر سکتے جب آپ وادی میں ہر روز اسے توڑتے ہوں۔ اور آپ اخلاقی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتے جب آپ کے ہاتھ داغدار ہوں۔ ماؤں کے آنسوؤں، بچوں کی چیخوں اور مرنے والوں کی خاموشی سے داغدار۔

جناب اسپیکر، پاکستان نے دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، غیرملکی حمایت یافتہ، نظریاتی طور پر کارفرما، اور بے رحمی سے اندھا دھند۔ ہم نے اپنے سپاہیوں اور اپنے اسکول کے بچوں کو دفن کیا ہے۔ ہم تنہا، لہولہان کھڑے رہے، جب دنیا نے اپنی نظریں پھیر لیں۔ ہم نے اس خطرے سے نہ صرف ہتھیاروں سے لڑا ہے بلکہ افکار، تعلیم، معاشی اصلاحات اور اتحاد سے بھی لڑا ہے۔ اس لیے میں بھارت اور دنیا سے کہتا ہوں، دہشت گردی کو صرف ٹینکوں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اسے شکست دینے کے لیے انصاف ضروری ہے۔ دہشت گردی کو صرف گولیوں کے ساتھ جڑ سے نہیں اکھاڑا جا سکتا۔ اسے غیر مسلح کرنے کے لیے امید پیدا کرنا ضروری ہے۔ اور دہشت گردی کو قوموں کو بدنام کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسے شکست دینے کے لیے وہ شکایات دور کرنا ضروری ہیں جو اسے جنم دیتی ہیں۔

کیا آپ کشمیر میں تشدد ختم کرنا چاہتے ہیں؟ تو لوگوں کو بولنے دیں۔ وہاں پر رائے شماری ہو، ظلم و ستم نہیں۔ وہاں پر بیلٹ باکس ہوں، بلڈوزر نہیں۔ وہاں پر خودمختاری ہو، (زبردستی کا) الحاق نہیں۔ یہی امن کا واحد راستہ ہے۔ کوئی جھوٹ، کوئی گولی، کوئی پابندی، سچائی کو دفن نہیں کر سکتی۔ کشمیر بھارت کا علاقہ نہیں ہے۔ یہ ایک انحراف شدہ وعدہ ہے، ایک ناسور بنتا ہوا زخم ہے، اور جہاں انتظار کرتے ہوئے لوگ ہیں۔

بھارت پاکستان کے بیس کروڑ لوگوں سے ان دہشت گردوں کے کیے دھرے کا حساب مانگتا ہے جن کا وہ ابھی تک نام لینے سے قاصر ہیں۔ جبکہ بھارت کو ابھی تک کلبھوشن یادیو کا حساب دینا ہے، جس کا نام اور بھارتی مسلح افواج میں اس کا رینک ریکارڈ پر موجود ہے۔ بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات پرانے ہو چکے ہیں، زمینی حقائق پر نہیں، تاریخ پر مبنی ہیں، حقیقت پر نہیں، افسانے پر مبنی ہیں۔ بھارت جنوبی ایشیا میں اس چرواہے کی طرح بن گیا ہے جو بار بار جھوٹا خطرہ بتاتا ہے۔

جناب اسپیکر، پاکستان نے بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کو ثابت کیا ہے، نہ صرف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بلکہ اپنی مسلح افواج کے ذریعے بھی۔ اور نہ صرف ہماری سرزمین پر بلکہ سری لنکا سے کینیڈا اور اس سے آگے تک بھارت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک آلے کے طور پر دہشت گردی کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔ اس خطے کو دہشت گردی سے آزاد کرنے کے لیے اگر بھارت اور پاکستان کو مل کر کام نہیں کریں گے تو ہم مستقبل کی نسلوں کو بھی اس خطرے کا شکار ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ 

وزیر اعظم (میاں شہباز شریف) کا بھارت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کا چیلنج ایک آغاز ہے۔ دہشت گردی کا ایک حقیقی شکار کسی جوابدہی سے کیوں کترائے گا جب تک کہ اسے یہ خوف نہ ہو کہ دنیا دیکھ لے گی کہ کشمیر میں خونریزی کا اصل الزام اسلام آباد میں نہیں بلکہ دہلی پر عائد ہوتا ہے؟

جناب اسپیکر، سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی طرف سے معطلی پاکستان کے لیے سزا نہیں ہے، یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ پانی کی سیاست کاری ہے، یہ فطرت کو جرم کا شکار بنانا ہے۔ یہ کیسا جنون ہے کہ آپ اپنی سرحدوں کے اندر موجود شکایت کی بنا پر (دوسرے ملک کے) لاکھوں لوگوں کی خوراک اور معاش کو خطرے میں ڈال دیں۔ اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان پانیوں میں کیا بہتا ہے۔ سندھ صرف ایک دریا نہیں ہے۔ یہ ہماری تہذیب کا گہوارہ ہے۔ دہلی کے عروج سے بہت پہلے، سلطنتوں کے بننے اور سرحدوں کے کھینچے جانے سے بھی پہلے، موہنجودڑو اور ہڑپہ موجود تھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب، جو ہمارے دونوں لوگوں میں مشترک تھی، انسانی ترقی کی پہلی روشنیوں میں سے ایک تھی۔ اس نے شہری منصوبہ بندی، آبپاشی، زراعت، تجارت، مواصلات کے نظام کو جنم دیا۔ اس نے تقسیم نہیں کیا، اس نے جوڑا۔ اس نے فتح نہیں کیا، اس نے کاشت کی۔ 

جناب اسپیکر، اس دریا نے ہمارے دونوں اجداد کو سیراب کیا۔ اس کا بہاؤ صرف ہماری زمینوں سے بلکہ ہمارے خون میں بھی دوڑتا ہے۔ اور اب بھارت اسے غصے اور انتقام کا شکار بنانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ لیکن سندھ ان کے حکم کا پابند نہیں ہے، یہ فطرت کی ملکیت ہے، یہ امن کی حکومت کی ملکیت ہے، یہ اس تمام انسانیت کی ملکیت ہے جو اس سے زندگی حاصل کرتی ہے۔ پاکستان اس دریا کا دفاع کرے گا، نہ صرف اپنی خاطر بلکہ اس کشیدگی سے پہلے کی تہذیب کی یاد کے لیے۔ سندھ کو ہتھیار بنانا اپنے مشترکہ ماضی سے غداری کرنا ہے۔ معاہدے کو برقرار رکھنا دراصل اس قدیم حکمت کا احترام کرنا ہے جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ جو چیز ہمیں قائم رکھتی ہے اسے بانٹنا ہوتا ہے۔

یاد رکھنا، آپ دریاؤں کا رخ موڑ سکتے ہیں، لیکن آپ ہمارے عزم کو غرق نہیں کر سکتے۔ دریائے سندھ سے بہنے والے ہر قطرے میں پاکستانی کسانوں کی ہمت، ہمارے مزدوروں کا پسینہ، اور اللہ کی برکت لکھی ہوئی ہے۔ کوئی ہماری برداشت کو ہماری کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔ پاک فوج چوکس، پرعزم اور تیار ہے۔ ہماری فضائیں محفوظ ہیں۔ ہماری سرحدیں دلیری کے پہرے میں ہیں، ہماری قوم کراچی سے خیبر تک، لاہور سے لاڑکانہ تک متحد کھڑی ہے۔ ہم جو تلوار اٹھاتے ہیں وہ صرف امن کو خطرہ لاحق ہونے پر میان سے نکلتی ہے، لیکن جب نکلتی ہے تو وار خطا نہیں کرتی۔

اور پاکستان کے عوام سے میں کہتا ہوں کہ یہ مایوسی کا نہیں، عزم کا وقت ہے۔ ہم اس سے پہلے بھی تاریکی کا سامنا کر چکے ہیں اور ہم سحر میں طلوع ہوئے ہیں۔ ہمارے دشمن ہمیں توڑنے کی امید رکھتے ہیں، لیکن ہمیں ایک بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔ شہری اور سپاہی، مزدور اور عالم، مسلمان اور غیر مسلم، سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتون، ہم پاکستان ہیں۔ ایک دھڑکن، ایک مقصد۔

جناب اسپیکر، تاریخ اس وقت ہمیں دیکھ رہی ہے، ہمیں لڑکھڑانا نہیں چاہیے، ہمیں دنیا کو یاد دلانا چاہیے کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کوئی حاشیہ نہیں ہے، یہ اس کا شعور ہے۔ ہم ملزم نہیں ہیں، ہم مظلوم ہیں۔ اور پھر بھی ہم انتقام نہیں چاہتے، ہم پہچان چاہتے ہیں۔ کشمیر کے حقِ خود ارادیت کی پہچان، اپنی خودمختاری کی پہچان، اور اس بات کی پہچان کہ امن باوقار طریقے سے حاصل ہونا چاہیے اور اسے خوف کے ذریعے مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر بھارت امن کی راہ پر چلنا چاہتا ہے تو اسے کھلے ہاتھوں کے ساتھ آنا چاہیے، نہ کہ بند مٹھیوں کے ساتھ۔ انہیں حقائق لانے چاہئیں، نہ کہ من گھڑت کہانیاں۔ آئیے پڑوسیوں کی طرح بیٹھیں اور سچ بولیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے، اگر وہ غصے میں چیختے اور دیوانگی میں پھرتے رہتے ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے لوگ گھٹنے ٹیکنے کے لیے نہیں بنے ہیں۔

پاکستان کے عوام میں لڑنے کا عزم ہے، اس لیے نہیں کہ ہم تنازع پسند کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم آزادی سے محبت کرتے ہیں۔ ہمارے لیے ظلم کے طوق کے ساتھ زندہ رہنے سے بہتر ہے کہ ہم لڑتے ہوئے مر جائیں۔ مگر یہ وہ تقدیر نہیں ہے جو ہم وادئ سندھ اور اس کی تہذیب کے وارثوں کے لیے چاہتے ہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی اس سرحد کے ہم جس طرف بھی رہتے ہوں۔ 

جناب اسپیکر، موہنجودڑو میں تمام کھدائی کے باوجود ایک بھی ہتھیار نہیں ملا۔ یہ کیسے ہوا کہ ہم اپنی بنیادوں سے اتنے دور چلے گئے ہیں کہ وہی وادئ سندھ اب زمین کا سب سے زیادہ مسلح علاقہ ہے؟ سچ یہ ہے کہ جنگ ہماری فطرت میں نہیں ہے، یہ نسل در نسل ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ یہ ہمارے لوگوں کے مفاد میں نہیں بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ دونوں ممالک پر لازم ہے کہ وہ خود کو تنازع کی قید سے آزاد کریں اور امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں۔ 

تو بھارت فیصلہ کرے، کیا اس کے لیے بات چیت ہو گی یا تباہی، تعاون ہوگا یا تصادم؟ تاریخ ان کے انتخاب کو بھی ریکارڈ کرے گی اور ہمارے انتخاب کو بھی۔ اور اس تاریخ کو یہ دکھانا چاہیے کہ جب پاکستان اشتعال انگیزی اور اصول پسندی کے دوراہے پر کھڑا تھا، تو ہم نے اصول کا انتخاب کیا تھا۔ اور اس کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے عزت، امن اور فتح کا انتخاب کیا تھا۔ 

پاکستان زندہ باد!

https://youtu.be/EgOjci60ZuU


پہلگام کا واقعہ اور مسئلہ کشمیر

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز

پہلگام حملہ اور بھارت کے بعد ازاں اقدامات

پہلگام میں پیش آنے والا واقعہ اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور مسلسل حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں پاکستان کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔ اس واقعے کا وقت، تاریخی مماثلتیں، اور اس کے فوراً بعد شروع ہونے والی مربوط میڈیا مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا۔ اس ارادے کی مزید عکاسی ان اقدامات سے ہوتی ہے جو بغیر کسی ثبوت یا حملہ آوروں کی شناخت کے اٹھائے گئے، جیسے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور اٹاری سرحد کی بندش۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک مدبر، متوازن اور پُرعزم حکمتِ عملی اپنائے ، اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرے، غلط معلومات کا حقائق سے مقابلہ کرے، ایسے منظم تشدد کے پیچھے چھپے اسباب کو بے نقاب کرے، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرے۔​

یہ مشاہدات انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ، اسلام آباد ، کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سیشن بعنوان "پہلگام حملہ: مقاصد اور تزویراتی اثرات کا تجزیہ” کے دوران ماہرینِ حکمتِ عملی، دفاعی تجزیہ کاروں اور پالیسی اسکالرز کے ایک پینل نے پیش کیے۔ سیشن سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز، آزاد جموں و کشمیر، شیخ ولید رسول، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ملٹی ٹریک ڈائیلاگ ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز، ڈاکٹر نعمان ستار، وزیٹنگ فیکلٹی، ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی، سید نذیر، دفاعی اور اسٹریٹجک ماہر، سینئر صحافی افتخار گیلانی، خالد رحمن، چیئرمین (آئی پی ایس) ، اور سفیر (ر) سید ابرار حسین، وائس چیئرمین (آئی پی ایس) ، شامل تھے۔​

ڈاکٹر اسماء خواجہ نے کہا کہ یہ واقعہ محض اتفاقیہ نہیں بلکہ "کشمیر کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے ایک سوچا سمجھا اقدام تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات اکثر بھارت میں اعلیٰ سطحی غیر ملکی دوروں کے دوران پیش آتے ہیں تاکہ عالمی توجہ کو اصل مسئلے سے ہٹایا جا سکے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بڑھتے ہوئے ہائپر نیشنلزم کے کردار کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات اسلاموفوبیا کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے علاقائی کردار کو کمزور کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔​

شیخ ولید رسول نے پہلگام کی تاریخی حساسیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اجیت ڈوول ڈاکٹرائن کا ذکر کیا، جو ریاستی عناصر کو نشانہ بنانے پر زور دیتا ہے۔ "یہ محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی ہے، جو ایک بڑے پیٹرن کا حصہ ہے، اور اسے عالمی اور علاقائی حرکیات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے،” انہوں نے کہا۔​

ڈاکٹر نعمان ستار نے اس واقعے کو ۱۱ /۹ کے بعد بھارت کے تزویراتی رویے کے فریم ورک میں دیکھتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کو اکثر پاکستان کو مستقل مخالف کے طور پر پیش کرنے اور قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے اثرات مہینوں تک جاری رہ سکتے ہیں، جن میں پاکستان کے علاقائی کردار کو غیر مستحکم کرنا اور تعلقات کی معمول پر واپسی کو کمزور کرنا شامل ہے۔​

سید نذیر نے کہا کہ یہ واقعہ کشمیر کے سیاسی تانے بانے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس میں مسلم قیادت اور خودمختاری کے باقی ماندہ آثار کو ختم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کے حوالے سے بھارت کی تزویراتی پوزیشننگ کے خلاف خبردار کیا، جسے انہوں نے پاکستان کے قومی مفادات کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔​

مقررین نےسیاحوں کو نشانہ بنانے کی غیر معمولی نوعیت پر روشنی ڈالی، جو تاریخی طور پر حتیٰ کہ شدت پسندی کے عروج کے دوران بھی ممنوع تھا۔ مقررین نے کہا کہ یہ ایک آزمودہ فارمولا رہا ہے جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان اور مسلمانوں کے نام پر معاشرے کو پولرائز کیا ہے۔ انہوں نے اسے مسلمانوں، کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف عوامی رائے کو بھڑکانے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔​

مقررین نے پاکستان کو "ایک متوازن، مربوط اور پُرعزم رویہ” اپنانے اور قابلِ تصدیق حقائق سے مقابلہ کرنے، ایسے واقعات کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات کو بے نقاب کرنے، اور پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پیش کرنے کے لیے دوست ممالک کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔​

اپنے اختتامی کلمات میں خالد رحمن نے بھارتی بیانیے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بغیر کسی ثبوت یا حملہ آوروں کی شناخت کے، فوری اور ہم آہنگ میڈیا مہم کا آغاز اس بات کا مظہر ہے کہ یہ محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور پیشگی منصوبہ بند بیانیہ تھا، جس کا مقصد عوامی رائے اور پالیسی بیانیے کو مخصوص انداز میں تشکیل دینا تھا۔

رپورٹ لنک

مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں

کشمیر کے تنازعے کو محض پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوطرفہ مسئلے کے طور پر پیش کرنے کا تصور اب بتدریج ایک زیادہ عالمی فہم میں ڈھل رہا ہے، جس میں اوورسیز کمیونٹی کی سرگرم مداخلت کا کردار نمایاں ہے۔ اسی دوران، پاکستان کی حالیہ سفارتی حکمت عملی میں مؤثر بیانیے اور عالمی میڈیا میں نمایاں موجودگی قابل توجہ ہے۔ کشمیر کے مقدمے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مربوط پالیسی تشکیل دی جائے، سفارتی مشنز اور بیرونِ ملک موجود کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کے مابین روابط کو مضبوط کیا جائے، پالیسی ریسرچ میں سرمایہ کاری کی جائے، اور علمی و ابلاغی پلیٹ فارمز کے ساتھ اشتراک کو مزید گہرا کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار ۱۶ مئی ۲۰۲۵ کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس ) اسلام آباد میں ‘مسئلہ کشمیر کا دوبارہ ابھرنا: نظریات اور مستقبل کے امکانات’ کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں بیرون ملک مقیم کشمیری رہنماؤں اور سابق سفارتکاروں نے کیا۔ سیمینار سے بیرون ملک سے کشمیری قیادت تحریکِ کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر، اور کشمیر کمپین گلوبل کے چیئرمین ظفر نذیر قریشی شریک ہوئے۔ اس موقع پر سابق صدر آزاد کشمیر اور امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر سردار مسعود خان مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن اور دیگر شرکاء بھی موجود تھے۔

مقررین نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر ایک انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے عوامی سطح کی سرگرمیوں اور ریاستی سفارت کاری کو ایک متفقہ بیانیے کے تحت ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کے مقصد کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کو ایک مشترکہ نظریاتی عزم متحد کرتا ہے۔ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری تارکین وطن کے عزم کو تقویت دے اور کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر نمایاں کرے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تین اہم نتائج نکلے ہیں ،جن میں امریکہ دونوں ممالک کو اب حکمت عملی کے لحاظ سے برابر سمجھتا ہے، تجارت کے معاملات میں مساوات کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، اور کشمیر کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے سفارتی، فوجی اور معاشی ستونوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔

محمد غالب نے پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے کشمیری تارکین وطن کی کوششوں کی زیادہ فعال طور پر حمایت کریں۔ پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیر پر ایک واضح اور مستقل پالیسی ضروری ہے، اور حکومت کو اہم ممالک کے ساتھ رسمی طور پر مشغول ہونا چاہیے اور اپنے سفارتی اداروں کو فعال کرنا چاہیے۔ یورپ میں کشمیر کو ایک دوطرفہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے، پاک بھارت حالیہ واقعات نے اس تنازعے کے حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

ظفر قریشی نے کشمیری رہنماوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ان کی کوششوں کو ایک وسیع پلیٹ فارم کے تحت متحد کرنے پر زور دیا۔ پاکستان کی فعال اور مستقل حمایت اس جائز جدوجہد کے لیے نہایت اہم ہے، جس کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا کہ برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عوامی سوچ میں تبدیلی آئی ہے، بھارت کے بارے میں تصورات بھی بدل گئے ہیں۔ اسرائیل کے حق میں بیانیے سے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے بھارتی غلط معلومات کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے، کشمیر کے حوالے سے اسی حکمت عملی کو استعمال کرتے ہوئے پیش رفت کو برقرار رکھنا ہوگا۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے زور دیا کہ کشمیر کے مسئلے کو وسیع تر عالمی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں جامع حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جو پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کشمیر کے مقصد کو آگے بڑھائے۔ بیانیہ کی جنگ بین الاقوامی رائے کو تشکیل دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، لیکن مقامی عوام کے لیے تیار کیے گئے بیانیے اکثر عالمی سطح پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ عالمی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر طریقے سے پیش کرنے کے لیے حکمت عملی کو بہتر بنانا ہوگا، انہوں نے تاکید کی کہ کشمیر کے لیے پاکستان کو مستقل اور واضح موقف، یکجہتی اور اعتماد کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر کشمیر کے لیے ایک منصفانہ مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

رپورٹ لنک


مسئلہ کشمیر میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے صدر جناب ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگی ماحول میں مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی پر دونوں فریقوں کو آمادہ کیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ہم نے اس سلسلہ میں (ٹویٹر پر) عرض کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوتی ہے اور کشمیری عوام کو آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ملتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے لیکن اگر ٹال مٹول اور وقت گزاری کے لیے یہ سب کچھ ہونا ہے تو گذشتہ پون صدی سے یہی کچھ مسلسل ہوتا آ رہا ہے، اس سے حالات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

البتہ تین عشرے قبل کی ایک تحریر قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کرنے کو جی چاہ رہا ہے جس سے کشمیر کے حوالہ سے امریکہ کے اصل مقاصد کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، جو ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شمارہ اگست ۱۹۹۶ء میں شائع ہوئی تھی:


نوائے وقت لاہور ۲۲ جولائی ۱۹۹۶ء نے خبر رساں ایجنسی این این آئی کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے خودمختار کشمیر کا منصوبہ بنا لیا ہے اور اس کے لیے اس کے سفارتکار متحرک ہو گئے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے ساتھ امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کی دلچسپی صرف اس قدر رہی ہے کہ وہ اسے جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالتِ جنگ کو مسلسل برقرار رکھنے کے لیے ایک ضرورت سمجھتے رہے ہیں، اور ان کی اب تک کی پالیسیاں اسی ضرورت کے گرد گھومتی رہی ہیں۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے امریکہ بہادر کی طرف سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی خواہش سامنے آ رہی ہے۔ اس کے پس منظر میں بھی امریکہ کی ایک ضرورت صاف جھلک رہی ہے کہ اسے چین سے نمٹنے کے لیے اس کے پڑوس میں ایک مضبوط فوجی بیس درکار ہے، جو ظاہر ہے کہ کشمیر سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ اس قسم کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں کہ کشمیر کا جو علاقہ پاکستان کے پاس ہے وہ اس کے پاس رہنے دیا جائے، اور جموں کا علاقہ بھارت کو دے کر وادئ کشمیر کو خودمختار ریاست بنا دیا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ نوزائیدہ خودمختار کشمیر کو اپنے تحفظ اور بقا کے لیے عالمی طاقتوں کی امداد اور سہارے کی ضرورت ہو گی، اور امریکہ بہادر اسے اپنی گود میں لے کر یہ تحفظ آسانی کے ساتھ فراہم کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کے باوجود عالمی فورم پر کچھ عرصہ سے کھچا کھچا سا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں امریکی سفارت کاروں کی سرگرمیوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر آزادکشمیر کے وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’کشمیر میں ضرور کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے‘‘۔ اور لگتا ہے کہ امریکہ بہادر اب اس مسئلہ کو آخری انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

ہمیں کشمیری عوام اور مجاہدین سے ہمدردی ہے جو نصف صدی سے اپنے دینی تشخص کے تحفظ اور خود ارادیت کے مسلّمہ حق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور ہم نے ان کی جدوجہد کی ہمیشہ حمایت کی ہے، لیکن ان کی طویل جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے اس انجام سے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ گزشتہ روز جہادِ کشمیر کے محاذ پر کام کرنے والے ایک راہنما سے اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے اس خدشہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب چونکہ خود کشمیری عوام جہاد میں شریک ہیں اس لیے ان کی مرضی کے بغیر کوئی حل ان پر مسلط نہیں کیا جا سکے گا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی کر دیں کہ ان کے ہاں کوئی بات مشکل نہیں ہے، آمین یا رب العالمین۔

مسئلہ کشمیر اب تک!

الجزیرہ


بھارت اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پرانے اس تنازع کی جڑیں 1947ء کی ہنگامہ خیز تقسیمِ ہند میں پائی جاتی ہیں۔ 


پہلگام حملے کے بعد، جس میں 22 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، پاکستان اور بھارت نے جنگی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے، جو کشمیر میں اس وقت عملی سرحد ہے۔ تب سے پاکستان حکومت کے سینئر اہلکار اور فوجی حکام نے متعدد نیوز کانفرنسیں کی ہیں جن میں انہوں نے اس بارے میں ’’مصدقہ معلومات‘‘ ملنے کا دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی بھارت کا فوجی ردعمل متوقع ہے۔ 

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک، جن کی مجموعی آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زیادہ ہے، جو دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے، ممکنہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہوئے ہیں۔ ان کی دیرینہ دشمنی کا مرکزی سبب خوبصورت وادئ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت ہے، جس پر بھارت اور پاکستان اپنی چار سابقہ جنگوں میں سے تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ 1947ء میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کشمیر کے علاقوں پر قابض ہیں، چین بھی اس کا ایک حصہ کنٹرول کرتا ہے، جبکہ (پاکستان اور بھارت) کا مکمل کشمیر پر دعویٰ ہے۔ 

تو کشمیر کا تنازعہ کیا ہے، اور آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ لڑائی کیوں جاری ہے؟

تازہ ترین کشیدگی کس بارے میں ہے؟

بھارت کے مطابق ان کے خیال میں پاکستان نے بالواسطہ طور پر پہلگام حملے کی حمایت کی ہو گی۔ پاکستان اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ دونوں ممالک سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں ایک دوسرے کے شہریوں کے ویزوں کی منسوخی اور سفارتی عملے کو واپس کرنا شامل ہے۔

بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے پانی کے استعمال و تقسیم کے ’’سندھ طاس معاہدے‘‘ (ستمبر 1960ء) پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔ پاکستان نے بدلے میں شملہ معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے، جس پر جولائی 1972ء میں دستخط ہوئے تھے۔ 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی واضح شکست کے سات ماہ بعد، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تھا، ہونے والا شملہ معاہدہ تب سے پاک بھارت تعلقات کی بنیاد چلا آ رہا ہے۔ یہ معاہدہ لائن آف کنٹرول کی حیثیت طے کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود تنازعات کو پر امن ذرائع کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ 

بدھ کے روز، ریاستہائے متحدہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ سبراہ مانیم جے شنکر کو فون کیا تاکہ دونوں ممالک پر زور دیا جا سکے کہ وہ ’’کشیدگی کو کم کرنے اور جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی برقرار رکھنے‘‘ کے لیے مل کر کام کریں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی جمعرات کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کر کے اس حملے کی مذمت کی۔ ہیگسیتھ نے ایکس پر لکھا، ’’میں نے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ ہم بھارت اور اس کے عظیم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

تنازع کشمیر کی اصل وجہ کیا ہے؟

برصغیر پاک و ہند کے شمال مغرب میں واقع یہ خطہ 222,200 مربع کلومیٹر (85,800 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے جس میں تقریباً چالیس لاکھ افراد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ایک کروڑ تیس لاکھ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں رہتے ہیں۔ آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ پاکستان شمالی اور مغربی حصوں یعنی آزاد کشمیر، گلگت اور بلتستان کو کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ بھارت جنوبی اور جنوب مشرقی حصوں کو کنٹرول کرتا ہے جس میں وادی کشمیر اور اس کا سب سے بڑا شہر سری نگر، نیز جموں اور لداخ شامل ہیں۔

اگست 1947ء میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خاتمے اور برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں مسلم اکثریتی پاکستان اور ہندو اکثریتی بھارت کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت جموں و کشمیر جیسی شاہی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی ملک میں شامل ہو جائیں۔ تقریباً 75 فیصد مسلم آبادی والے اس علاقے کے بارے میں اہلِ پاکستان کا یہ عام خیال تھا کہ یہ خطہ فطری طور پر ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ محمد علی جناح کی قیادت میں بالآخر مسلمانوں کے الگ وطن کے طور پر پاکستان وجود میں آیا، اگرچہ تقسیم کے بعد بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت نے وہیں رہنے کو ترجیح دی، جہاں مہاتما گاندھی اور آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ایک سیکولر ریاست کی بنیادیں رکھی تھیں۔

ابتدائی طور پر کشمیر کے مہاراجہ کا ارادہ دونوں ممالک سے آزاد رہنے کا تھا، لیکن پاکستان کی طرف سے ہونے والے حملے کے بعد اس نے بھارت میں شامل ہونے کا انتخاب کر لیا، جس کے نتیجے میں 1947ء تا 1948ء کی پہلی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی، اس جنگ کے بعد قائم ہونے والی سیزفائرلائن (جنگ بندی کی سرحد) کو بعد میں شملہ معاہدے میں باضابطہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی شکل دی گئی۔ بہرحال دونوں ممالک پورے خطے کے دعویدار ہیں، جبکہ بھارت کا مشرقی علاقے میں چین کے زیر قبضہ علاقہ اکسائی چِن پر بھی دعویٰ ہے۔ 

1947ء میں پہلی پاک بھارت جنگ کی وجہ کیا بنی؟

کشمیر کے حکمران ہندو مہاراجہ ہری سنگھ تھے، جن کے آباؤ اجداد نے 1846ء میں انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اس خطے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ تقسیم کے وقت ہری سنگھ نے ابتدائی طور پر کشمیر کو بھارت اور پاکستان دونوں سے آزاد رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن ہوا یہ کہ کشمیر کے ایک حصے میں پاکستان کے حامی باشندوں کی طرف سے ہری سنگھ حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی۔ پاکستان کے ان مسلح گروہوں نے خطے پر قبضے کے ارادے سے حملہ کر دیا اور انہیں اس وقت کے نو تشکیل شدہ پاکستانی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔  اس وقت کے بڑے کشمیری رہنما شیخ عبداللہ نے پاکستان کے حمایت یافتہ اس حملے کی مخالفت کی۔ جبکہ ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد کی اپیل کر دی۔

نہرو حکومت نے اس شرط پر پاکستان کے خلاف مدد دی کہ مہاراجہ ہری سنگھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کریں جس کے تحت جموں و کشمیر بھارت میں ضم ہو جائے۔ چنانچہ اکتوبر 1947ء میں جموں و کشمیر باضابطہ طور پر بھارت کا حصہ بن گیا، جس سے نئی دہلی کو وادئ کشمیر، جموں اور لداخ کا کنٹرول مل گیا۔ بھارت نے پاکستان پر تنازع کے حوالے سے جارحیت کا الزام لگایا، پاکستان نے اس کی تردید کی اور جنوری 1948ء میں یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں ایک اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا: 

’’جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان میں الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جانا چاہیے۔‘‘

تقریباً 80 سال گزر گئے ہیں لیکن  کوئی رائے شماری نہیں ہوئی، جو کہ کشمیریوں کے لیے باعثِ تکلیف ہے۔

کشمیر پر یہ پہلی جنگ بالآخر اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے ساتھ ختم ہوئی۔ اور 1949ء میں دونوں ممالک نے کراچی میں، جو اس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا، طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت سیزفائرلائن کو باضابطہ شکل دی۔ نئی سرحد نے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیر کنٹرول حصوں میں تقسیم کر دیا۔

1949ء کے معاہدے کے بعد صورتحال کیسے بدلی؟

1953ء تک شیخ عبداللہ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس (JKNC) کی بنیاد رکھ چکے تھے اور انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ریاستی انتخابات جیت لیے۔ البتہ بھارت سے آزادی کے حصول میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث بھارتی حکام نے انہیں گرفتار کر لیا۔ 

1956ء میں جموں و کشمیر کو بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ (ناقابلِ جدا حصہ) قرار دیا گیا۔

ستمبر 1965ء میں، آزادی کے بعد دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں، بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر ایک اور جنگ ہوئی۔ پاکستان کو امید تھی کہ وہ مقامی بغاوت ابھار کر کشمیریوں کے مقصد میں مدد دے گا، لیکن یہ جنگ ایک تعطل پر ختم ہوئی، جس میں دونوں فریق اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی پر راضی ہوئے۔

چین کو کشمیر کا ایک حصہ کیسے ملا؟

اس خطے کے شمال مشرق میں واقع اکسائی چن کا علاقہ 5,000 میٹر (16,400 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے، اور تاریخی طور پر یہ ایک دور دراز اور آبادکاری کے لیے مشکل علاقہ رہا ہے، جو انیسویں صدی کے دوران اور بیسیوں صدی کے اوائل میں برطانوی ہندوستان اور چین کی سرحد پر واقع تھا۔ یہ اس ریاست کا حصہ تھا جو کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو 1846ء میں انگریزوں کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ملی تھی۔ تقریباً‌ 1930ء کی دہائی تک چینی نقشوں نے بھی کشمیر کو ’’ارداغ-جانسن لائن‘‘ کے جنوب میں تسلیم کیا ہے جس میں کشمیر کی شمال مشرقی سرحد دکھائی گئی ہے۔ 

1947ء میں ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بعد نئی دہلی نے اکسائی چن کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھا۔ لیکن 1950ء کی دہائی کے اوائل میں چین نے، جو اَب کمیونسٹ حکومت کے تحت تھا، تبت اور سنکیانگ کو ملانے والی ایک وسیع و عریض 1,200 کلومیٹر (745 میل) طویل شاہراہ تعمیر کر لی تھی، جو اکسائی چن سے گزرتی تھی۔ بھارت اس وقت بے خبر رہا اور یہ ویران علاقہ تب تک اس کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوا تھا۔ 1954ء میں نہرو نے ’’ارداغ-جانسن لائن‘‘ کے مطابق سرحد کو باضابطہ بنانے کا اعلان کیا، جس کا مقصد درحقیقت اکسائی چن کو بھارت کے ایک حصے کے طور پر تسلیم کرنا تھا۔ لیکن چین مصر تھا کہ انگریزوں نے کبھی ’’ارداغ-جانسن لائن‘‘ پر بات نہیں کی تھی، اور یہ کہ ایک متبادل نقشے کے تحت اکسائی چن اس کا حصہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ چین اکسائی چن میں موجود شاہراہ کی وجہ سے پہلے ہی وہاں موجود تھا۔

اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان بھی کشمیر کے حوالے سے اختلافات موجود تھے کہ کس کا کنٹرول کس حصے پر ہے۔ لیکن 1960ء کی دہائی کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت چین نے وہ زرخیز علاقہ چھوڑ دیا جس کی پاکستان نے درخواست کی تھی، اور بدلے میں پاکستان نے شمالی کشمیر میں ایک پتلی پٹی چین کے حوالے کر دی۔ جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی تھا کیونکہ 1947ء کے الحاق کی دستاویز کے مطابق پورا کشمیر اس کا ہے۔

بھارت اور پاکستان کا معاملہ: اس کے بعد کیا ہوا؟

دسمبر 1971ء میں ایک اور جنگ ہوئی، اس بار مشرقی پاکستان میں (مغربی) پاکستان کی حکومت کے خلاف بھارت کے حمایت یافتہ بنگالی قوم پرستوں کی ایک بڑی بغاوت بھی ہوئی، اور اس جنگ کے نتیجے میں (مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر) بنگلہ دیش بن گیا۔ اور 90,000 سے زیادہ پاکستانی فوجیوں کو بھارت نے جنگی قیدی بنا لیا۔

شملہ معاہدے نے جنگ بندی لائن کو ایل او سی (لائن آف کنٹرول) میں تبدیل کر دیا، جو عملی طور پر تو سرحد تھی لیکن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نہیں تھی، جس سے ایک بار پھر کشمیر کی حیثیت ایک سوالیہ نشان بن گئی۔

لیکن 1971ء کی جنگ میں بھارت کی واضح فتح کے بعد اور نہرو کی بیٹی وزیراعظم اندرا گاندھی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے دوران، 1970ء کی دہائی میں کشمیری راہنما شیخ عبد اللہ نے رائے شماری اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ 1975ء میں انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں بھارت کے ساتھ اس کے زیر انتظام کشمیر کا الحاق تسلیم کیا گیا، جبکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خطہ کی نیم خود مختار حیثیت برقرار رکھی گئی۔ شیخ عبد اللہ نے بعد میں اس خطے کے وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

1980ء کی دہائی میں کشمیری آزادی کی نئی تحریک کی وجہ کیا بنی؟

جیسے جیسے شیخ عبد اللہ کی نیشنل کانفرنس پارٹی اور بھارت کی حکمران انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان تعلقات بڑھے، ویسے ہی بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں کشمیریوں کی مایوسی بھی بڑھی، جنہوں نے محسوس کیا کہ خطے میں سماجی اور اقتصادی حالات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔

مقبول بھٹ کی طرف سے قائم کردہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جیسی علیحدگی پسند تنظیمیں ابھریں۔ مسلح گروہوں کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کے پیش نظر کشمیر میں جمہوریت کے بھارتی دعوے کمزور پڑ گئے۔ ایک اہم موڑ 1987ء کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات تھے، جس میں شیخ عبد اللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ اقتدار میں آئے، لیکن بھارت مخالف سیاستدانوں کو اس عمل سے باہر رکھنے کے حوالے سے ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر دھاندلی شدہ سمجھا گیا۔

بھارتی حکام نے علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا، جن کے بارے میں نئی دہلی نے الزام لگایا کہ انہیں پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس کی حمایت اور تربیت حاصل ہے۔ پاکستان نے اپنی طرف سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ صرف اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے اور کشمیریوں کے ’’حقِ خود ارادیت‘‘ کی پشت پناہی کرتا ہے۔

1999ء میں کارگل کا تنازع سامنے آیا، جس میں بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر واقع فوجی اہمیت کے حامل بلند حصے پر کنٹرول کے لیے لڑائی ہوئی۔ بھارت نے بالآخر کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کر لیے اور قبل از جنگ کی صورتحال بحال ہو گئی۔ یہ کشمیر پر تیسری جنگ تھی۔ کارگل لداخ کا ایک حصہ ہے۔   

اس کے بعد کشمیر پر کشیدگی میں کیسے اضافہ ہوا؟

اگلے برسوں میں براہ راست تنازع میں بتدریج کمی آئی اور متعدد جنگ بندی کے معاہدوں پر دستخط ہوئے، لیکن بھارت نے وادی میں اپنی فوجی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ 

2016ء میں ایک معروف علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھی۔ ان کی موت کے نتیجے میں وادی میں تشدد میں اضافہ ہوا اور ایل او سی پر فائرنگ کے تبادلوں میں تیزی آئی۔ 

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 2016ء کے دوران پٹھان کوٹ اور اڑی میں بڑے حملے ہوئے جن میں بھارتی افواج کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ 

سب سے سنگین کشیدگی فروری 2019ء میں ہوئی جب پلوامہ میں بھارتی نیم فوجی اہلکاروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں 40 فوجی ہلاک ہو گئے اور دونوں ممالک میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اس کے چھ ماہ بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جس سے جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم ہو گئی۔ پاکستان نے اس اقدام کو شملہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بھارت نے 500,000 سے 800,000 فوجی تعینات کیے، خطے کو لاک ڈاؤن کر دیا، انٹرنیٹ خدمات بند کر دیں اور ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا۔

بھارت کا اصرار ہے کہ کشمیر میں جاری بحران کا ذمہ دار پاکستان ہے، جس پر وہ پاکستان میں مقیم مسلح گروہوں کی میزبانی، مالی معاونت اور تربیت کرنے کا الزام لگاتا ہے، جنہوں نے دہائیوں کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان میں سے کچھ گروہوں پر بھارت اور امریکہ وغیرہ نے بھارت کے دیگر حصوں پر بھی حملے کرنے کا الزام لگایا ہے، جیسا کہ 2008ء میں بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی پر ہونے والے حملے، جب تین دنوں میں کم از کم 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان مسلسل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں تشدد کو ہوا دیتا ہے، اس کے بجائے وہ مقامی لوگوں میں پائی جانے والی وسیع ناراضگی کو نمایاں کرتا ہے، اور بھارت پر خطے میں سخت اور غیر جمہوری حکمرانی مسلط کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری علیحدگی پسندی کی صرف سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔

www.aljazeera.com


کشمیر کی بٹی ہوئی مسلم آبادی

ڈی ڈبلیو نیوز

کارگل کا ایک گاؤں: یہ علاقہ کبھی پاکستان کا حصہ تھا

اینکر: بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول کی بلند ترین پہاڑیوں پر واقع ہندرمو گاؤں صدیوں کی تاریخ اور مختلف جنگوں کا گواہ ہے۔ دریائے دراس کے پہلو میں آباد ہندرمو کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ۱۹۷۱ء تک یہ گاؤں اور یہ تمام پہاڑ پاکستان کا حصہ تھے، اب ان پر بھارت کا قبضہ ہے، اور شمال میں یہ اس کا آخری گاؤں ہے۔ تاریخی شاہراہِ ریشم بھی اسی کے دامن سے گزرتی ہے اور مقامی راہنما اس راستے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سجاد کرگلی (مقامی سیاسی رہنما): یہ گاؤں ہندرمو اور یہ جو بغل سے روڈ جا رہی ہے، یہ زمانہ قدیم کا سِلک روٹ ہے، شاہراہِ ریشم جسے کہتے ہیں۔ آج کل ہم لوگ کرگل سکردو روڈ بولتے ہیں، جس کے کھولنے کی ہم ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ اگر یہ روڈ کھلتا ہے، تو یہ روڈ جو ہے آپ کو سی پیک تک رسائی دے سکتا ہے۔ اور حکومتِ ہندوستان اگر اس میں کوئی مثبت پیشرفت لے تو پاکستان چائنہ کا جو سی پیک چل رہا ہے ’’چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور‘‘ اس کا ہم حصہ بن سکتے ہیں، یہ علاقہ ترقی کر سکتا ہے، اور اس پورے جموں کشمیر، لداخ اور پھر پورے ہندوستان میں خوشحالی آ سکتی ہے۔

اینکر: یہاں کی خاموش فضائیں، پر خطر راستے اور اس کا سفر ایک خوشگوار اور شاندار تجربے سے کم نہیں۔ متعدد جنگوں کی مار جھیلنے والے اس علاقے پر ہر جانب سے اب بھی فوج کا پہرہ ہے۔

گزشتہ نصف صدی سے ہندرمو اپنے اس پڑوسی گاؤں برولمو سے جدا ہے جو پاکستان کا حصہ ہے۔ دونوں گاؤں میں آباد ایک دوسرے کے عزیز و اقارب اتنے قریب ہیں کہ وہ آوازیں تو سن سکتے ہیں، تاہم ملاقات سے محروم ہیں۔

سجاد کرگلی: پندرہ ہزار منقسم خاندان ہیں، ہمارے لداخ ریجن اور گلگت بلتستان کے اندر۔ ان تمام فیملیز کو ملنے کی ایک رسائی جو ہے وہ ہو سکتی ہے اس راستے کے ذریعے سے، نصف صدی سے جو لوگ ایک دوسرے سے مل نہیں پا رہے ہیں، جو رشتہ دار ہیں، عزیز و اقارب ہیں۔

اینکر: کارگل کے معروف عالم دین شیخ علی کا آستانہ گلگت بلتستان کے اس گاؤں برولمو میں ہے۔ ایک وقت تھا کہ اِس طرف کے لوگ چند منٹ پیدل چل کر اس کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ لیکن وہی سفر اب اتنا محال ہے کہ نصف صدی کا طویل عرصہ بھی اسے آسان بنانے میں ناکام رہا ہے۔

سجاد کرگلی: ہم چاہتے ہیں جس طرح کرتار پور کھلا، ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کے مذہبی جذبات اور احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ہمارے لیے شیخ علی برولمو کا یہ آستانہ کھلے اور کم از کم ہم وہاں زیارت کے لیے جا سکیں۔ اور اگر گورنمنٹ آف پاکستان اور گورنمنٹ آف انڈیا اس سلسلہ میں تھوڑا مثبت سوچیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جتنا ہم وسائل خرچ کر رہے ہیں جنگوں میں، نفرتوں میں، خون خرابے میں، اس کا کوئی حل ہونے والا نہیں، کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ تو ہم چاہتے ہیں، یہ جو خونی لکیر ہے، جس نے رشتے داروں کو بانٹا ہوا ہے، جذبات کو ختم کیا ہوا ہے، یہ جو لکیر ہے یہ امن کی لکیر بننی چاہیے، اور یہ بارڈر ’’بارڈر آف پیس‘‘ بننا چاہیے۔ یہ ہمارا مطالبہ ہے۔ 

اینکر: ان خیرہ کن پہاڑی چوٹیوں سے آپ پاکستانی گاؤں کے مناظر کی بھی ایک جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ علاقے فوجی محاصروں کی بجائے مقامی لوگوں کی چہل پہل سے آباد تھے، لیکن اب یہاں کی خاموشی پر جنگ و جدل کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ 

ناظرین، آپ نے دیکھا کہ ان پہاڑیوں کے بیچ میں ان دونوں گاؤں کی کیا اہمیت ہے، نصف صدی پہلے اِس گاؤں کے لوگ اور اُس گاؤں کے لوگ، جو رشتہ دار ہیں، ملتے رہے ہوں گے، لیکن تقریباً‌ ستر برس سے دونوں ملکوں کے بیچ میں جو تلخیاں ہیں اس کی وجہ سے آج ان میں ایک فاصلہ اور دوری برقرار ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس کو بھی کھولنا چاہیے۔ 

صلاح الدین زین: صلاح الدین زین، ڈی ڈبلیو نیوز، کرگل۔

https://youtu.be/87i7T_jl8wA

طورتک: وہ گاؤں جو سن 1971ء میں اپنے ملک پاکستان سے جدا ہو گیا

صلاح الدین زین: خطہ لداخ کے شمال میں واقع حسین ترین وادئ نوبرا کا سفر بھی بہت ہی دلفریب اور دلکش ہے۔ اسی وادی کے تقریباً‌ آٹھ سو مربع کلو میٹر کے رقبے پر اب بھارت کا کنٹرول ہے، جو ۱۹۷۱ء تک پاکستان کے پاس ہوا کرتا تھا۔ سن ۱۹۷۱ء کے دسمبر میں بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر مختصر سی جنگ کے بعد اس علاقے کے چار گاؤں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ علاقہ اپنے تاریخی گاؤں طورتک کے لیے معروف ہے جو دریائے شیوک اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی بلند چوٹیوں درمیان واقع ہے۔ 

پچاس برس گزر چکے ہیں تاہم طورتک کے باشندوں کو آج بھی سولہ دسمبر کی وہ رات اچھی طرح سے یاد ہے۔ 

کاچو محمد خان یبگو (یبگو شاہی خاندان کے وارث): ہاں، ۱۹۷۱ء میں جو لڑائی ہوئی یہاں پر، ہماری پاکستان میں رات گزری، دن انڈیا میں ہوا۔ ہم اسی میں تھے، گاؤں میں تھے، یہاں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنی لڑائی نہیں ہوئی، کیونکہ پاکستانی ملٹری بہت کم تھی، وہاں بارڈر پر کچھ لڑائی ہوئی، اس کے بعد وہ اس گاؤں کو چھوڑ کر چلے گئے، تو آرام سے انڈین آرمی یہاں پر پہنچ گئی۔  

صلاح الدین زین: ۱۹۴۸ء میں کھپلو اور طورتک سمیت بلتستان کا پورا علاقہ پاکستان میں ضم ہو گیا تھا۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں جب بنگلہ دیش میں جنگ جاری تھی، تو اسی دوران بھارتی فوج نے اس سرحدی علاقے کے چار گاؤں طورتک، تھنگ، ٹیاکشی اور چلونکھا پر قبضہ کر لیا تھا۔ پہلے یہ گاؤں سکردو کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ ٹیاکشی اور طورتک کے درمیان اس راستے پر کبھی پاکستان کے پرچم لہراتے تھے، جہاں اس وقت آپ بھارتی پرچم دیکھ رہے ہیں، پورا علاقہ بھارتی فوج کی سخت نگرانی میں ہے۔ 

عبد الکریم کریم (طورتک مسجد کے مؤذن): جب ہندوستان کا آرمی اِدھر پہنچا، اس وقت ہمارے طورتک کے جتنے یہ غریب گھر والے ہیں، بچے ہیں، ان کو کسی نے اس نالے میں چھپایا، اور کچھ اپنی گائے بکریوں کے ساتھ نیچے ان کو چھپایا۔ 

عبد الحمید (طورتک کے مقامی رہائشی): پھر صبح ہو گیا تو ہندوستان کا فوج آیا ہوا تھا۔ پورا گاؤں کو کور کیا ہوا تھا۔ پھر ہم لوگ آ گیا۔ تو انہوں نے تلاشی ولاشی لے لی۔ تو وہ لوگ بول رہے تھے کہ ہاں اگر پاکستان کا فوجی ہے تو ہمیں بتا دینا، سویلین کو تو ہم نقصان نہیں پہنچائے گا۔ 

صلاح الدین زین: لے سے طورتک تک پہنچنا ناقابلِ یقین حد تک مشکل کام ہے۔ تاہم اس سرحدی جنگ کی قیادت، لے سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر، میجر جنرل چان رینچن کر رہے تھے جو اس علاقے سے اچھی طرح واقف تھے۔ 

اس خطے پر قبضے سے قبل تک یہ گاؤں بگدانگ بھارت کی سرحد ہوا کرتا تھا۔ اس شکست سے پاکستان کو ایک اور بڑا نقصان یہ پہنچا کہ اس سے بھارت کے لیے سیاچن گلیشیئر کے راستے ہموار ہو گئے، جو اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان دنیا کا بلند ترین محاذِ جنگ ہے۔ 

۱۹۷۱ء سے پہلے تک بھارت کا آخری گاؤں یہ ہوتا تھا جس کا نام ہے بگدانگ۔ ۱۹۷۱ء کے بعد جو جنگ ہو رہی تھی اس دوران بھارتی فوجیوں نے یہاں سے تقریباً‌ پچیس کلو میٹر کا یعنی طورتک اور تھنگ تک کا علاقہ قبضہ کر لیا اور پاکستانی فوجیں پیچھے ہٹ گئیں، تب سے پچاس برس سے یہ پورا علاقہ بھارت کے زیر انتظام ہے۔ 

ان دیہاتوں کا اچانک اپنے ملک سے جدا ہونا یہاں کے لوگوں کے لیے غیر معمولی بات تھی۔ یہاں کے سینکڑوں خاندانوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ 

کاچو محمد خان یبگو: ایسے گھر نہیں ہوں گے اس طورتک کے جس کا رشتہ دار پاکستان میں نہ ہو۔ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کے بچے، کسی کی ماں، سب کا آدھی پریوار اس وقت پاکستان بلتستان میں رہتے ہیں۔ 

عبد الحمید: بہت یاد آتے ہیں، میرا بڑا بھائی پاکستان میں پھنس گیا تو ابھی اس سال اس کی وفات ہو گئی ہے۔ 

عبد الکریم کریم: سگا دو بھائی ہے، پاکستان میں لاہور میں ہے، ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران وہ لوگ وہاں پھنس گیا، اور ہم رہ گیا۔ یاد تو آتا ہے ہر وقت، صبح شام آتا رہتا ہے، اپنے سگے بھائی کی یاد نہیں آئے گی؟ 

صلاح الدین زین: یہ چھوٹی سی بستی شمالی بھارت میں وادئ نوبرا کے انتہائی آخری سرے پر واقع ہے، اور شمالی لداخ میں بھارت کی آخری چوکی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بسے آخری گاؤں تھنگ کے پاس ہی پاکستان کا گاؤں فرانو آباد ہے، پہلے اس علاقے میں آنا ممنوع تھا، تاہم اب سیاح لائن آف کنٹرول پر پاکستانی گاؤں اور ان کی پوسٹ کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔ 

ناظرین، اس وقت ہم جہاں پر کھڑے ہیں یہ بھارت اور پاکستان کی ایک اور لائن آف کنٹرول ہے، میرے دائیں طرف جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ تھنگ، بھارت کے شمال میں آخری گاؤں ہے۔ اور میرے بائیں طرف جو پہاڑیاں ہیں، یہ پاکستان کے زیر انتظام ہیں۔ 

کیمرا مین رؤف فدا کے ساتھ صلاح الدین زین، ڈی ڈبلیو نیوز، تھنگ، طورتک۔

https://youtu.be/fwMTgVn0umU

دو ملکوں کے بیچ بٹا ایک گاؤں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا کیرن گاؤں، سرسبز و شاداب جنگلات اور حسین وادیوں میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں گزشتہ چند برسوں سے سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ گاؤں فطرت سے محبت کرنے والوں اور ٹریکرز کی پسندیدہ منزل بن رہا ہے۔ 

منیر احمد (سیاح): اس جگہ کو اس لیے ایکسپلور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک ہی گاؤں دو طرف بٹا ہوا ہے، ایک کنارے پر اس کا آدھا حصہ ہے، دوسرے کنارے پر ہماری سائیڈ پر دوسرا حصہ ہے۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح سے اُدھر آپ دیکھ رہے ہو کتنی ڈیویلپمنٹ ہے اسی طرح یہاں پر بھی ڈیولیپمنٹ ہو، تاکہ ہم بھی ویسا ہی محسوس کریں جو یہاں پر آتے ہیں، اور ٹورازم کے لیے کافی اچھی جگہ ہے، اس کو ڈیویلپ کرنے کی ضرورت ہے، جو ہمارے جموں کشمیر کے ٹورازم کے لیے ایک اچھا موقع آگے فراہم کرے گی۔ 

اینکر: گاؤں سے گزرنے والا کشن گنگا، یا دریائے نیلم، پاکستان اور بھارت کے مابین عملی سرحد کا کام کرتا ہے۔ بہت سے لوگ دریا کے پار بسنے والوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ 

عمر (سیاح): اس جگہ کی ایک خاصیت ہے کہ اس جگہ پر کوئی فینسنگ (باڑ) نہیں ہے، یہاں پہ لوگ آتے ہیں، دیکھتے ہیں، گاڑیاں پاکستان کی، لوگ دیکھتے ہیں، گھر دیکھتے ہیں۔ یہ جگہ دیکھنے کے لیے بہت اچھی ہے، ہم سبھی آتے ہیں، ہمارے لڑکے آتے ہیں، سوپور سے، سری نگر سے، جو بھی لڑکے آتے ہیں وہ اس جگہ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ پاکستان کہاں پہ ہے، ہمارا ایک سائیڈ کا آزاد کشمیر وہ کہاں پہ ہے، وہ یہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ 

اینکر: بھارت اور پاکستان دونوں ہی مکمل کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں، اور دونوں ہی کے زیر انتظام اس کے کچھ حصے ہیں۔ یہی خطہ فریقین کے مابین تین میں سے دو جنگوں کا سبب بنا۔ شورش اور جنگ زدہ خطے کے لوگ دیرپا امن کی امید کر رہے ہیں۔ 

زاہد (سیاحتی گائیڈ): سر ہم چاہتے ہیں کہ یہاں پہ شانتی ہو، یہاں کا ماحول ایک طرح سے فٹ رہنا چاہیے، یہاں پر ہمارے پاس کوئی روزگار نہیں کوئی کچھ نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں اور گورنمنٹ سے یہی اپیل کرتے ہیں کہ جتنا ہو سکتا ہے، آرمی سے، جتنا ہو سکتا ہے یہاں پر ٹورازم کو بڑھاوا دیں اور لوگوں کو یہاں بھیجیں تاکہ یہاں پر جو بے روزگار لڑکے ہیں ان کا روزگار چلے سر۔

اینکر: بھارت اور پاکستان نے ۲۰۲۱ء میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس سے سیاحت کی صنعت کو فروغ ملا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں سولہ ملین سے زیادہ سیاحوں نے وادئ کشمیر کا رخ کیا، جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 

طفیل (ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ کشمیری): پہلے یہاں پہ اتنا زیادہ سکوپ نہیں تھا، اب دو سال سے یہاں کا کراؤڈ اچھا چل رہا ہے، اس سال میں بہت زیادہ رش آ رہا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آگے بھی ایسے ہی رہے، امن رہے، اور یہاں پہ ڈیویلپمنٹ ہو، ہر طرح کی فسیلیٹیز دی جائیں، تاکہ ہم لوگوں کو بھی اس چیز کا فائدہ ہو، اور ہمارا یہاں پر بزنس چلے۔  

https://youtu.be/9fvA6GlSmmw