الشریعہ — جولائی ۲۰۲۵ء

اسلامی نظام اور آج کے دور میں اس کی عملداریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اہلِ کتاب کی بخشش کا مسئلہڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
سوشل میڈیائی ’’آدابِ‘‘ اختلاف اور روایتی مراسلتڈاکٹر شہزاد اقبال شام 
مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیتشیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ 
بیوہ خواتین اور معاشرتی ذمہ داریاںمولانا محمد طارق نعمان گڑنگی 
پاکستان شریعت کونسل اور الشریعہ اکادمی کے اجتماعاتمولانا حافظ امجد محمود معاویہ 
Britain`s Long-Standing Role in Palestine`s Transformation into Israelمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

سلسلہ وار

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱)مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف 
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۲)ڈاکٹر محمد سعد سلیم 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۵)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 
شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگان (۲)مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی 
حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۴)مولانا طلحہ نعمت ندوی 

ماہانہ بلاگ

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا تاریخی پس منظرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
امیر خان متقی کا اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس ۵۱ سے خطابجسارت نیوز 
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے چند اہم پہلوامتنان احمد 
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور اس کے رکن ممالکالجزیرہ 
سیاحتی علاقوں میں حفاظتی تدابیر اور ایمرجنسی سروسز کی ضرورتمولانا عبد الرؤف محمدی 

پاک بھارت کشیدگی

’’سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟ کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا؟‘‘مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی 
پاک بھارت کشیدگی میں اطراف کے مسلمانوں کا لائحۂ عملمولانا مفتی عبد الرحیم 
پاک بھارت حالیہ کشیدگی: بین الاقوامی قانون کے تناظر میںڈاکٹر محمد مشتاق احمد 

اسرائیل ایران جنگ

ایران کے رہبرِمعظم اور پاکستان میں ایرانی سفیر کے پیغاماتسید علی خامنہ ای 
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے: دینی قائدین کے بیاناتمیڈیا 
سنی شیعہ تقسیم اور اسرائیل ایران تصادمپروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال 
امریکہ اسرائیل کی سپورٹ کیوں کرتا ہے اور ایران کتنا بڑا خطرہ ہے؟نوم چومسکی 
اسرائیل ایران جنگ: تاریخی حقائق اور آئندہ خدشات کے تناظر میںحامد میر 
اسرائیل کا ایران پر حملہ اور پاکستان کے لیے ممکنہ خطرہخورشید محمود قصوری 
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ اور خطہ پر اس کے ممکنہ عواقبڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
ایران کی دفاعی جنگی حکمتِ عملیسید محمد علی 
اسرائیل کے حملے، ایران کا جواب، امریکہ کی دھمکیاںپونیا پرسون واجپائی 
’’بارہ روزہ جنگ‘‘ میں اسرائیل اور ایران کے نقصاناتادارہ 
اسرائیل ایران کشیدگی کی خبری سرخیاںروزنامہ جنگ 

اسلامی نظام اور آج کے دور میں اس کی عملداری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(یوٹیوب چینل Usmania Media Official پر نشر ہونے والی ایک نشست کی گفتگو)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اسلامی نظام کی اہمیت اور ضرورت‘‘۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی نظام کیا ہے؟ اللہ رب العزت نے جب نسلِ انسانی کو اس زمین پر آباد کرنے کا آغاز کیا اور حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارا تو اس وقت ایک بات فرمائی تھی کہ ’’اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون‘‘ (البقرۃ ۳۸) کچھ عرصہ تم نے اور تمہاری اولاد نے اس زمین پر رہنا ہے، ہدایات میری طرف سے آئیں گی، جس نے ان ہدایات کی پیروی کی وہ خوف اور غم سے نجات پائیں گے اور کامیاب ہو کر واپس آئیں گے۔ تو اسلامی نظام وہی ہے جو اللہ رب العزت نے پہلے دن آدم اور حوا علیہما السلام سے کہا تھا کہ ’’اما یاتینکم منی ھدی‘‘ ہدایت میری طرف سے آئے گی، اس کی پیروی لازمی ہے۔ 

اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا،   زمین پر بسایا اور اللہ ہی وسائل مہیا کر رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے دن اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی فرما دی تھی کہ ’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین‘‘ قیامت تک کا وقت متعین ہے جب تک زمین میں رہنے کی جگہ بھی ہو گی اور اسباب بھی ہوں گے۔ یعنی آج کی اصطلاح میں روٹی، کپڑا اور مکان ملیں گے۔ تو جب اللہ کی زمین پر اللہ کی دی ہوئی زندگی اور اسباب کے ساتھ رہنا ہے تو ہدایات بھی اللہ کی طرف سے ہوں گی۔ ہدایات کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر مکمل ہوا۔ درمیان میں ہزاروں رسول اور پیغمبر علیہم الصلوات  والتسلیمات آئے۔ اور جو ہدایات قرآن کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کی صورت میں مکمل ہوئیں، اسی کا نام اسلامی نظام ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً‌ قائم کر کے دکھایا۔ 

حضورؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں سے مل کر باقاعدہ ایک ریاست قائم کی، اس میں مسلمان بھی تھے، یہودی بھی تھے، اور لوگ بھی تھے۔ میثاقِ مدینہ ہوا تھا۔ آپؐ نے یثرب کو مدینہ میں تبدیل کر کے اسلامی ریاست قائم کی جو اس وقت تو ایک سمندری پٹی میں تھی، جسے بحیرہ کہتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک دس سال کے عرصہ میں یہ ریاست پورے جزیرۃ العرب کو گھیرے میں لے چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بطور خلیفۃ الرسول منتخب ہوئے تو پورے جزیرۃ العرب کا انہوں نے انتظام سنبھالا تھا۔  پھر خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد خلفاء نے اسے باقاعدہ نظام کی شکل دی جو صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کرتا رہا۔ چنانچہ وہ نظام جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن و سنت کی شکل میں دیا،  جو خلافتِ راشدہؓ کے دور میں اور بعد کے ادوار میں عملاً‌ نافذ رہا، وہ اسلامی نظام ہے۔ 

آج بھی دنیا کو اس نظام کی ضرورت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کسی بھی مشین کو اس کے بنانے والے کی ہدایات کے مطابق چلایا جائے تو وہ صحیح کام کرتی ہے، اگر چلانے والا اپنی مرضی کرے گا تو گڑبڑ کرے گا۔ سادہ سی بات ہے کہ آج بھی کوئی بڑی صنعت نئی  مشین ایجاد کرتی ہے تو مشین کے ساتھ اس کا تعارف بھی ہوتا ہے اور استعمال کا طریقہ کار بھی ہوتا ہے۔ انسان بھی ایک مشین ہے اور انسانوں سے مرتب ہونے والا سماج بھی۔ انسانی چمڑے کے اندر کائنات کی پیچیدہ ترین مشینری ہے۔  انسان اور انسانی سماج تب صحیح نتائج دے گا جب اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق اور خلفاء راشدین کی راہنمائی میں چلایا جائے گا۔

مگر گزشتہ دو تین سو برس سے دنیا ایک خودساختہ فلسفہ کے تحت زندگی بسر کر رہی ہے، جو انقلابِ فرانس سے شروع ہوا تھا، کہ سوسائٹی اپنا نفع و نقصان سمجھتی ہے، وہ اپنے فیصلے خود کرے گی، اپنا قانون خود بنائے گی، اور اسے باہر سے کسی ڈکٹیشن یا ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ واپس اس طرف جایا جائے کہ انسانی سماج  کو انسانی تصورات و خواہشات کے دائرے سے نکال کر بنانے والے خدا  اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق منظم کیا جائے۔ 

افغانستان میں جو تبدیلیاں آئی ہیں کہ افغان قوم نے اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار حاصل کیا ہے، میں اسے اس پہلو سے دیکھتا ہوں کہ یہ آسمانی تعلیمات ’’اما یاتینکم منی ھدی‘‘ کی طرف واپس جانے کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔   ورنہ گزشتہ دو ڈھائی سو سال ہم نے جس غلامی میں گزارے ہیں،  پہلے وہ صریح غلامی تھی اور اب ریموٹ کنٹرول غلامی ہے۔ مسلم ممالک کو آپ دیکھ لیں کہ ان کی غلامی پر آزادی کا ایک پردہ چڑھا ہوا ہے۔ مسلمان حکمران بظاہر آزاد  اور خودمختار کہلاتے ہیں لیکن ہمارے فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ ہماری دستور و قانون سازی اور پالیسی سازی عالم اسلام میں کہیں بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، ہم پر بین الاقوامی ادارے اور معاہدات مسلط ہیں، اور  ہم پر عالمی استعمار مسلط ہے جو اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہا ہے۔  اللہ تعالیٰ نے یہ موقع بڑی طویل جدوجہد اور بڑی قربانیوں کے بعد دیا ہے اور افغان قوم تو بیچاری ذبح ہو گئی ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے کہ وہ دنیا سے یہ کہہ سکیں کہ ہمارے کاموں میں مداخلت نہ کرو، ہمیں اپنا کام کرنے دو، ہمارا اپنا ایک فلسفہ ہے، ہمارے پاس اپنا ایک نظام ہے، ہماری ایک تہذیب ہے، ہمیں دنیا کو چلا کر دکھانے تو دو۔ 

میرا ایمان ہے کہ قرآن و سنت کے احکام و تعلیمات کو خلافتِ راشدہ کی روشنی میں دنیا کے کسی خطے کے اندر دس سال آزادی کے ساتھ کسی بیرونی مداخلت کے بغیر عملداری کا موقع مل جائے تو ان شاء اللہ العزیز دنیا دیکھے گی کہ آسمانی تعلیمات کی برکات کیا ہیں اور اسلامی نظام کے ثمرات کیا ہیں۔  جبکہ اسی بات سے دنیا کے بہت سے حلقے ڈر رہے ہیں کہ اگر آسمانی تعلیمات کو اپنی عملداری کے لیے کسی خطہ میں دس پندرہ سال آزادانہ موقع مل گیا  تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے نمونہ ہوں گے۔  میں اس لحاظ سے افغانستان کی صورتحال پر خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ ہمیں ایک موقع مل رہا ہے کہ ہمارا ایک طبقہ اور خطہ یہ کہنے کی پوزیشن میں ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے ، آپ صرف دیکھتے رہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، اگر نتائج اچھے ہوئے تو آپ بھی قبول کر لینا۔ 

بہرحال انسانی سماج پر  اللہ اور اس کے رسول کے احکام و قوانین کے نفاذ کا نام اسلامی نظام ہے۔ اور یہ نفاذ پورے  خلوص اور آزادی کے ساتھ ہو جیسے خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا تھا ، اور اس کے بعد بھی اس کا تسلسل رہا ہے،  آج اس تسلسل کو دوبارہ تاریخ کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں یہ قوت اور اسباب دیں کہ ہم خلافتِ اسلامیہ اور اسلامی نظام کی صورت میں خدا کی زمین پر خدا کے نظام کا منظر ایک دفعہ پھر پیش کر سکیں اور اس کے ثمرات اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں (آمین)۔


اہلِ کتاب کی بخشش کا مسئلہ

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

سوال:

سورہ آل عمران میں اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور وہ جو بھی نیک عمل کریں گے، اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اس کی روشنی میں تو لگتا ہے کہ اہل کتاب میں مومن ہوسکتے ہیں اور ان کے اعمال کا بھی اجر ان کو دیا جائے گا، جبکہ ہم تو اس کے برخلاف پڑھتے سنتے رہے ہیں۔

جواب:

اس مقام سے متعلق زیادہ تر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہاں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے۔ مراد یہ ہوئی کہ اہل کتاب میں زیادہ تر اگرچہ کافر ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایمان قبول کیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں جس گروہ کی طرف اشارہ ہے، اس نے اس وقت تک ایمان کا اظہار تو نہیں کیا تھا، لیکن دل میں ایمان لا چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ایمانی رویے کی تحسین فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اس حالت میں بھی وہ جو اچھے عمل کر رہے ہیں، اللہ ان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس کی تائید میں مولانا سورہ کی آخری آیت کا حوالہ دیتے ہیں جہاں ان اہل کتاب کے، سابقہ کتابوں اور قرآن دونوں پر ایمان رکھنے کا ذکر ہوا ہے۔

آیت کے اسلوب میں متعدد قرائن مولانا کی رائے کی تائید کرتے ہیں۔ مثلاً‌ اس گروہ کے لیے ’’من اھل الکتب’’ کا عنوان اختیار کیا گیا ہے جو بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہو جانے والوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔ پھر ’’وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ’’ کی تسلی بھی اسی گروہ کے لیے موزوں دکھائی دیتی ہے کہ اس حالت میں بھی ان کے کیے ہوئے اعمال کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔ آخر میں ’’واللہ علیم بالمتقین’’ کا جملہ بھی اسی طرف مشیر ہے کہ اس گروہ کی باطنی اور مخفی حالت کا ذکر ہو رہا ہے جو اگرچہ لوگوں پر ظاہر نہیں، لیکن اللہ اس کو بہرحال جانتا ہے۔

یہاں بنیادی مقصد اس گروہ کا اہل کتاب کے اس گروہ کے ساتھ تقابل کرنا ہے جو جانتے بوجھتے حق کا انکار کرتا تھا اور دنیوی مفادات کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر تلا ہوا تھا۔ ان کے مومن ہونے کی تحسین اس پہلو سے ہے کہ وہ اکثر اہل کتاب کے برخلاف، ما انزل اللہ میں فرق نہیں کرتے اور سابقہ کتابوں کے ساتھ قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے اس ایمانی رویے کی تعریف کرتے ہوئے انھیں بشارت دی گئی ہے کہ وہ اگرچہ ظاہراً ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے، لیکن ان کی حق پرستی کی بدولت ان کے اعمال کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔

ایسے لوگوں کو جو دل میں ایمان لا چکے ہوں، لیکن اس کا اظہار نہ کر سکتے ہوں، ’’مومن’’ کہنا قرآن مجید کے اسلوب کے مطابق ہے اور اس کے واضح نظائر موجود ہیں۔ مثلاً‌ مکہ میں جو مسلمان مرد اور عورتیں خفیہ ایمان لا چکے تھے، ان کو سورۃ الفتح میں رجال مومنون ونساء مومنات لم تعلموھم  کہا گیا ہے، یعنی اگرچہ وہ ظاہراً‌ مسلمانوں میں شامل نہیں لیکن اللہ کے علم کے مطابق وہ مومن ہیں۔ اسی طرح فرعون کے دربار میں خفیہ ایمان رکھتے ہوئے اپنی قوم کو موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی طرف متوجہ کرنے والے کے لیے بھی  رجل مومن من آل فرعون یکتم ایمانہ  کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔

مزید برآں شریعت کا ایک مستقل اصول بھی ہے کہ جو لوگ، مثال کے طور پر شاہ حبشہ نجاشی کی طرح، اپنے ایمان کا اظہار نہ کر سکیں اور ظاہراً‌ اپنے دین کے پیروکار رہتے ہوئے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہوں تو ان کا شمار بھی اللہ کے نزدیک اہل ایمان میں ہی ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنیاد پر نجاشی کی وفات پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا فرمائی تھی۔ علمائے کلام کے ایک گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ غیر مسلموں میں سے جو لوگ دل میں ایمان لے آئیں، لیکن اپنے حالات یا مجبوریوں کی وجہ سے ظاہراً‌ اقرار نہ کریں، وہ دنیوی احکام کے لحاظ سے تو اہل کفر میں گنے جائیں گے، لیکن اخروی احکام میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن ہی شمار ہوں گے۔ شافعی فقیہ علامہ خیر الدین الرملیؒ نے اپنے فتاویٰ میں اس سوال پر مختصر کلام کیا ہے اور امام الحرمین الجوینی اور امام غزالیؒ کے حوالے سے اس رائے کی تائید کی ہے۔

سوشل میڈیائی ’’آدابِ‘‘ اختلاف اور روایتی مراسلت

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

اگر اشیاء اور کیفیات کے ان گنت نام ہیں تو تلفظ ان پر مستزاد۔ کالے کو کوئی اسود کہے تو کوئی سیاہ۔ بلیک کہنے پر تسلی نہ ہو تو وہ ڈارک پر خوش ہو جائے۔ اس لسانی اختلاف کا خالق انہیں اپنی نشانیاں قرار دے تو اسی کے محرم راز صلی اللہ علیہ وسلم ان اختلافات کو رحمت کا سبب کہیں۔ شاید اسی وجہ سے ہم انسانوں میں گفتگو کا آغاز بالعموم اختلاف سے ہوتا ہے۔ اختلاف کے مختلف النوع پیرائے تہذیبِ انسانی کی پہچان ہیں جن میں حسنِ بیان، احترامِ آدمیت، سلیقہ اور آگے بڑھتے وقت پچھلا دروازہ بند نہ کرنے کا داعیہ ہو تو واپس مڑ کر بھی انسان آگے ہی کو رہتا ہے۔ الٹے پاؤں چلنے والے کو اس کی فکری بالیدگی سیدھا رکھتی ہے، بھلے وہ الٹے پاؤں چلے۔

اپنے بر صغیر کی زوال آشنا تہذیب کا نوحہ پڑھنے کا وقت شاید ابھی نہ ہو لیکن قعرِ مزلت کو لڑھکتی ’’پہلے آپ، اجی نہیں صاحب، پہلے آپ‘‘ والی اپنی اس خوبصورت تہذیب کی ناک میں اگر آپ کو آکسیجن کی نلی نظر نہ آئے تو برصغیر کے ٹی وی چینلوں پر چند مذاکرے بھگت لیجئے۔ تشنگی رہے تو فیس بک اور یوٹیوب پر چلے جائیے جہاں اختلافِ رائے پر مبنی مکالمہ ’’آپ جناب‘‘ کو بھلا کر ابے تبے، توتکار سے پھسلتا ہوا گالم گلوچ اور گاہے سر پھٹول کرتا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر آپ گوشہ نشین ہو کر ان چیزوں سے دور ہیں تو کسی واٹس ایپ گروپ میں آپ یقیناً‌ ہوں گے۔ آپ نے وہاں بھی یہی کچھ دیکھا ہوگا۔

پروفیسر خورشید احمد رحمہ اللہ کی رحلت پر چند مضامین لکھتے ہوئے میں بعض اکابر دیوبند کا قدرے ناقدانہ ذکر کر بیٹھا جو میرا اپنا حاصلِ مطالعہ تھا۔ دوسروں کی رائے برعکس ہو سکتی ہے لیکن توسع دیکھیے کہ فقیہ دہر مولانا زاہد الراشدی نے میرا ایک مضمون ماہنامہ الشریعہ مئی میں من و عن شائع کر دیا۔ بعض قارئین نے اپنی اختلافی آرا مجھے لکھیں تو انہیں بھی مقدور بھر مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جدہ میں مقیم محبی ڈاکٹر قاری عبدالباسط صاحب نے مجھے جدہ ہی کے محترم عبدالجبار سلفی صاحب کا محاکمہ ارسال کیا۔ اس میں میری تحریر پر بھرپور و مبسوط گرفت تھی۔ ان کو بھی مقدور بھر جواب دے دیا۔ پھر ان کا جواب الجواب آیا۔ آخر میں محبی عبدالباسط نے اسے یوں سمیٹا کہ ہم دونوں فارغ ہو گئے۔

ایک دن مجھے اچانک خیال آیا کہ ہم تینوں کی یہ مراسلت اگر شائع کر دی جائے تو ممکن ہے سوشل میڈیائی اسالیب ’’مکالمہ‘‘ میں کچھ رد و بدل اور ترمیم و اضافہ ہو۔ شاید کسی ایک کے دل میں یہ مراسلت اتر جائے۔ چنانچہ میں نے اپنے ان دونوں ممدوحین کو اذنِ اشاعت کی عرضی گزاری۔ دونوں نے بخوشی اجازت مرحمت کر دی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ روزنامہ پاکستان میں شائع میرے مضامین یا الشریعہ مئی 2025ء میں ان میں سے ایک مضمون کی مکرر اشاعت پڑھ کر اس مراسلت پر ناقدانہ نظر ڈالیں۔ پہلے میری مذکورہ تحریر پر محترم عبدالجبار سلفی کا محاکمہ ملاحظہ ہو جو محترم قاری ڈاکٹر عبدالباسط صاحب کے توسط سے مجھے موصول ہوا تھا:

جناب ڈاکٹر شہزاد اقبال کی تنقیدات اور اکابر دیوبند
چند دن قبل جدہ میں مقیم کاتب السطور کے کرم فرما اور نہایت صالح و ذی استعداد عالم دین جناب مولانا قاری عبدالباسط صاحب زید مجدہ نے ایک کالم کی جانب توجہ دلائی تھی۔آج فرصت میں وہ کالم پڑھا تو زیرِنظر قلم برداشتہ تحریر وجود میں آ گئی جو پیشِ خدمت ہے۔ محترم ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کا ایک کالم مورخہ 20 اپریل 2025ء کے روزنامہ پاکستان میں ’’پروفیسر خورشید احمد، متبرک حلقہ ہائے زنجیر کی آخری کڑی‘‘ کے زیرِعنوان نظر سے گزرا، جس میں بعض تاریخی و فکری مبالغات اور اکابرِ امت پر تنقیدی اشارات نے علمی اضطراب کو جنم دیا۔ اس خاکسار نے طے کیا کہ ان اشارات و تنقیدات کا علمی، تحقیقی اور معروضی جائزہ پیش کیا جائے۔ فلہٰذا ذیل میں ڈاکٹر صاحب کے منتخب اقتباسات درج کر کے ان پر طائرانہ تبصرہ کیا جا رہا ہے۔
اقتباس اول: ’’مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اور ابوالکلام آزاد مرحوم جیسی قد آور شخصیات بھی ابھریں۔ اول الذکر کی فکر و میراث مسلکی تنگنائیوں میں یوں الجھی کہ آج یہ لوگ برصغیر اور اردگرد میں دین کے کسی جزیے کو لے کر چل رہے ہیں‘‘۔
الجواب بعون اللہ الملک الوھاب: یہ جملہ مولانا نانوتویؒ کی شخصیت و خدمات سے شدید ناانصافی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام، اس کے ذریعہ برصغیر کے لاکھوں علماء کی تربیت، حدیث، فقہ، تصوف اور دین کے جملہ شعبہ جات میں گراں قدر خدمات کوئی جزوی یا مسلکی کارنامہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر علمی تحریک ہے۔ دیوبندیت کسی جزوِ دین کی قائل نہیں بلکہ قرآن و سنت پر مبنی پورے دین کی داعی ہے۔ امام الکبیر مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے ’’تحذیر الناس‘‘ جیسے عمیق مباحث اور ان کے مجددانہ افکار ہر صاحبِ علم کے لیے مشعل راہ ہیں۔
اقتباس دوم: ’’ابوالکلام آزاد اعلیٰ فکری خوبیوں کے باوجود افسوس وطنی قومیت کے آسیب کا شکار ہو کر شعلہ مستعجل بن گئے‘‘۔
الجواب بعون اللہ الملک الوھاب: مولانا آزاد پر قومیت کے غلبے کی شکایت کی جا سکتی ہے، قطع نظر اس سے کہ یہی شکایت مولانا مودودی سے بھی کی جا سکتی ہے، مگر مولانا آزاد مرحوم کی تفسیر قرآن مجید، ان کے خطبات، اور اسلامی تاریخ پر ان کی گہری نظر اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کا ذکر ایک ’’شعلہ مستعجل‘‘ کے بجائے ایک عہد ساز مفسر، ادیب اور مفکر کے طور پر کیا جائے۔ ان کی ’’ترجمان القرآن‘‘ اسلامی علوم کا ایک گراں مایہ خزینہ ہے۔
اقتباس سوم: ’’سید مودودی باہر نکل کر پاکستان ہی نہیں کُل عالَم کو اللہ کا گھر بنانے پر تل گئے‘‘۔
الجواب بعون اللہ الملک الوھاب: یہ جذبہ اگرچہ قابلِ ستائش ہے، لیکن مولانا مودودی کی بعض تحریریں علمی نقد سے بالا نہیں۔ اکابرِ دیوبند مثلاً مفتی محمد شفیع، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا محمد سرفراز خان صفدر، قائد اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسین رحمہم اللہ اور دیگر بزرگوں نے ان کی بعض آراء پر دلائل کے ساتھ تنقید کی ہے، خصوصاً خلفائے راشدین پر تنقیدی اسلوب، اور فقہائے کرام سے بے نیازی جیسے امور انہیں دیوبندی اکابر کے فکری تسلسل سے الگ کرتے ہیں۔
اقتباس چہارم: ’’نتیجہ نکالا کہ شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ، علامہ اقبال اور سید مودودی کا دمکتا ہوا تسلسل پروفیسر خورشید احمدؒ ہی تھے۔‘‘
الجواب بعون اللہ الملک الوھاب: یہ دعویٰ مبالغہ آمیز ہے۔ پروفیسر خورشید احمد بلاشبہ ماہرِ معیشت اور اسلامی فلاحی ریاست کے علمبردار ہوں گے، لیکن انہیں ان حضرات کا جامع تسلسل قرار دینا تاریخی ترتیب، فکری رسوخ، اور دینی جامعیت کے اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ کا تسلسل دراصل اکابرِ دیوبند میں محفوظ و متحرک ہے۔
اقتباس پنجم: ’’مرحوم بلاشبہ چاروں مذکورہ بالا شیوخ کے سلسلے کی آخری کڑی تھے‘‘۔
الجواب بعون اللہ الملک الوھاب: فکری اور روحانی تسلسل کبھی کسی ایک فرد پر ختم نہیں ہوتا۔ اسلامی تاریخ کی روح یہی ہے کہ ہر صدی میں مجددین، مصلحین، اور علماء حق اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ آج بھی علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے تلامذہ اس تسلسل کو عزت، تدبر اور توازن کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہے، ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کی نیت اپنی جگہ نیک ہو گی اور ان کی اپنے ممدوحین سے محبت بھی خالص ہو گی، مگر انصاف کے ترازو پر تولیں تو اکابر دیوبند کی ہمہ گیر دینی خدمات اور فکری رسوخ کسی جزوی، مسلکی یا محدود دائرے کا نام نہیں، بلکہ وہی شاہ ولی اللہی فکر کا اصل تسلسل ہے جو علم، تصوف، دعوت، سیاست، اور معیشت سب پر محیط ہے۔ مودودی صاحب اور پروفیسر خورشید احمد کی انفرادی خوبیوں کا اعتراف ضرور کریں کہ وہ آپ کی جماعتی و فکری وابستگی کا حق ہے، لیکن تنقیدی توازن کے بغیر انہیں اکابرِ امت پر ترجیح دینا کسی علمی دیانت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
(عبدالجبار سلفی،27 اپریل 2025ء لاہور)


یہ مکتوب مجھے قاری ڈاکٹر عبدالباسط صاحب کے توسط سے موصول ہوا تھا لہٰذا میں نے اپنا درج ذیل معروضہ انہی کی خدمت میں پیش کیا۔ تاہم اس کی نقل محترم جناب عبدالجبار سلفی صاحب کو ارسال کر دی۔ معروضہ ملاحظہ ہو:

محترم جناب ڈاکٹر قاری عبدالباسط صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
دو دن پہلے مجھے آپ کے توسط سے محبی عبدالجبار سلفی صاحب کا مکتوب بسلسلہ میری ایک تحریر کے موصول ہوا۔ محترم عبدالجبار سلفی صاحب نے جس متوازن اور دل نشین پیرائے میں اپنے نقطہ نظر کا ابلاغ کیا ہے، یقین جانیے دل سے ان کے لیے دعائیں نکلی ہیں۔ ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ نے ایک دفعہ بڑی حسرت سے کسی معاملے میں اپنا دل چیر کر میرے آگے یوں رکھا تھا: ’’میری یہی خواہش ہے کہ اہل علم ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھ جائیں۔‘‘ حق یہ ہے کہ محبی عبدالجبار سلفی نے مجھے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اللہ انہیں جزا دے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ میری تحریر میری سوچ کی عکاس ہے جو سوچ سمجھ کر اس ایمان کے ساتھ لکھی ہے کہ مذکورہ جملہ ممدوحین کا مرتبہ و مقام اس دنیا کے احوال کے مطابق ہے۔ رہا اللہ کے ہاں ان کا تقرب تو وہ نہ مجھے پتا ہے نہ کسی اور کو۔ ممکن ہے اللہ کا قرب حاصل کرنے میں میرے ممدوح وہ مرتبہ نہ پا سکیں جو آپ کے ممدوح لے پائیں (اگرچہ یہ تمام بزرگان دین ہم دونوں کے ممدوحین ہیں) اور اسی کو آپ بالعکس بھی متصور کر لیجئے۔ میں نے تو اپنے فہم کے مطابق ایک تجزیہ کیا تھا۔ نہ تو، اللہ معاف کرے، کسی کو نیچا دکھانا مطلوب تھا اور نہ کسی کی فوقیت ثابت کرنا میرے پیش نظر تھا۔
جو باتیں محترم عبدالجبار سلفی نے نسبتاً‌ اختلافی پیرائے میں بیان کی ہیں، صاحب میرا تو اپنا وہی نقطہ نظر ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے تو اس برصغیر کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ بہت کم لوگوں کی توجہ ادھر جا پاتی ہے کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تحریک کی کم و بیش 90-95 فیصد اٹھان علمائے دیوبند کی تحریک اور انہی کے تربیت یافتہ افراد پر ہے۔
علمائے دیوبند کے دین کو کلی طور پر لے کر چلنے کے بارے میں اب یوں کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے، بالخصوص پاکستان میں، واقعتاً‌ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بیان کیا ہے۔ اس کی ایک بڑی اور روشن مثال عالی مقام مولانا زاہد الراشدی ہیں۔ بلا شبہ مولانا اجتہادی بصیرت سے مالامال ہیں۔
مجھے خوشی ہوئی کہ محترم عبدالجبار سلفی صاحب کے لیے میری قدرے ناپسندیدہ تحریر کے سبب مجھے اپنے سے کہیں بہتر بھائی کا تعارف حاصل ہوا۔ میں ان کی یہ تحریر سنبھال کر رکھتا ہوں اور موقع بہ موقع اس سے روشنی لیتا رہوں گا۔
شہزاد اقبال شام 29 اپریل 2025ء


محترم عبدالجبار سلفی صاحب نے میری ان وضاحتوں کا جو جواب الجواب دیا، اب وہ ملاحظہ کیجیے:

بخدمت گرامی‌ قدر، محترم المقام جناب شہزاد اقبال صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر و عافیت ہوگا۔ آپ جناب کے ایک بصیرت افروز کالم پر راقم نے نہایت اخلاص کے ساتھ ایک برادرانہ تبصرہ پیش کیا تھا، جس پر آپ کی وسعتِ ظرف، شگفتہ مزاجی اور دل‌ نوازی نے جس محبت و شفقت کا مظاہرہ فرمایا، وہ میرے لیے باعثِ افتخار و انبساط ہے۔ آپ جیسے اصحابِ علم و وقار کا تعلق دلوں کو وقار بخشتا ہے، اور جن کی صحبت میں فہم و ادراک کے دریچے وا ہوتے ہیں۔ میری دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ ربّ کریم آپ کو ہمہ وقت صحت و عافیت کے حصار میں رکھے، آپ کی فکر و دانش کو مزید جِلا عطا فرمائے، اور آپ کا قلم ہمیشہ سچائی، خیر اور علم کے فروغ کا علم‌ بردار بنا رہے۔ میں اس برادرانہ تبادلہ خیالات کو اپنی زندگی کی نیک ساعتوں میں شمار کرتا ہوں، اور امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی آپ کی علمی صحبت سے کسبِ فیض کا سلسلہ قائم رہے گا۔
(عبدالجبار سلفی لاہور)


اس تحریری ’’دنگل‘‘ پر کسی کے بیچ بچاؤ کرانے کی چنداں ضرورت نہیں تھی لہٰذا مراسلت کی درج ذیل آخری کڑی کو مصالحت نامہ نہ سمجھ لیجئے۔ قاری ڈاکٹر عبدالباسط صاحب کا درج ذیل محبت نامہ میرے لیے کتنا گراں قدر ہے یہ میں ہی جانتا ہوں۔۔ یہ کوئی روایتی مکتوب نہیں، یہ ان کی وہ شہادت ہے جسے میں نے ’’وہاں‘‘ کے لیے رکھ لیا ہے۔ مکتوب ملاحظہ ہو:

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ، میرے انتہائی صد احترام بلکہ واجب احترام مکرم محترم عزیز بھائی جناب ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب۔
میرے دل میں آپ کا جو احترام اور محبت پہلے سے تھی اور محترم جناب بھٹہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ واسكنہ فسيح جناتہ … ان کے ہاں کئی بار ملاقات اور گفتگو بھی رہی۔۔ وہ مقام اب آپ کی اس تحریر کے بعد کئی گنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔ آپ نے حضرت ڈاکٹر غازی صاحب رحمہ اللہ کا ذکر خیر اور ان کا تاریخی جملہ بھی تحریر فرما دیا۔ یقیناً‌ یہی دراصل وہ حسن و جمال ہے جو اختلافِ أمتی رحمۃ… والے جملہ میں پوشیدہ ہے۔ آپ کا اپنی تحریر و مضمون کے بارے میں یاددھانی اور بعض ملاحظات پر جو میرے انتہائی قابل قدر ساتھی مولانا عبدالجبار سلفی صاحب نے لکھے، ان پر جو رد عمل سامنے آیا وہ آپ کے بڑے پن اور اس اصل شخصیت کا روپ ہے جو علم نافع کے شام تلے پلی بڑھی اور جسے مشاہیر اہل علم و عمل کی طویل دیرینہ صحبتوں نے چار چاند لگا دئیے۔ یہ انہی بڑوں کی تربیت ہے جن جن مشاہیر میں سے اکثر کا ذکر آنجناب کی تحریروں میں آتا رہتا ہے۔ سید مودودی رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت ہو یا ان کے بعض جانشینوں کا ذکر مبارک، ہمارے برصغیر میں اگر یہ روشنی شروع دن سے عام ہو جاتی جسے رواداری اور عدل و توازن کہا جاتا ہے تو یہ دوریاں نہ ہوتیں جن کی وجہ سے دین کی نسبتوں والے آج بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ اللہ تعالٰی آپ کو سلامت رکھے کہ آپ نے اس تاریک ترین تعصب زدہ ماحول میں بھی حسن تکلم، جمال قلم، ذخيرۂ علم ادب اور ہر صاحبِ علم کا دلی احترام جیسی صفات لئے اپنا علم بلند کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ گواہ ہے، عرب کہتے ہیں يعلم اللہ۔ میرے دل میں آپ کا جو احترام ہے، مجھے حیا آئی اور ادب مانع ہوا کہ آپ کی اس مذکورہ تحریر پر کچھ کہوں۔ سلفی صاحب سے تذکرہ ہوا تو دورانِ گفتگو عرضی پیش کر دی۔ ساتھ میں تاکید بھی کر دی کہ محترم ڈاکٹر صاحب کا میرے دل میں جو مقام ہے اس کا خاص طور پر لحاظ رکھا جائے۔ بہرحال مجھے خوشی ہوئی کہ ان کا مضمون آپ کی نظر میں بھی معقول ہی رہا بلکہ یہ ہم سب کے قریب سے قریب تر ہونے کا ذریعہ بن گیا۔ واللہ ہو الموفق وہو ولی ذلک والقادر علیٰ کل شیء
آپ کا بھائی عبد الباسط محمد جدہ


مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیت

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

انتخاب : مولانا حافظ خرم شہزاد

’’مسئلہ ختم نبوت مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان اس وقت سے مابہ النزاع چلا آرہا ہے جب سے مرزا غلام احمد نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ مرزا بھی اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے ختم نبوت کی تاویل آخر دم تک کرتے رہے تاکہ ان کی نبوت فیل نہ ہو جائے اور اسی دن سے حق پرست علماء کرام بھی دلائل قطعیہ سے مرزا کی قصر نبوت کی بنیادیں کھوکھلی کرتے رہے چنانچہ وہ جلیل القدر علماء کرام بھی پہنچے ان علماء کرام میں سے مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور مولا نا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ (مدرس دارالعلوم دیوبند) اور پنجاب میں مولانا ثنا اللہ صاحب امرتسریؒ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ایسے ہی حضرات علماء کرام کی سعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ پنجاب میں مسلمانوں نے مرزائیت کے خلاف جہاد کو اپنے لیے صد صرف اور صد فخر سمجھا مگر اب پھر شجرۂ مرزائیت کی مرجھائی ہوئی شاخیں تر و تازہ ہو رہی ہیں۔ مرزائی جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح مرزا کی ختم نبوت کے متعلق غلط تاویل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور مرزا کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے خلف الرشید بننا چاہتے ہیں اسی طرح حق پرست علماء کرام اگرچہ دنیا سے رخصت ہو کر اپنے مزارات میں جنت کی ہوا کھا رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان حضرات کی مسند پر بھی رونق افروز ہونے والے خلف الرشید حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر (رحمتہ اللہ علیہ) اور دوسرے علماء کرام موجود ہیں جو میدان مبارزت میں مرزائیوں کو پکار کر میدان میں لانے والے ہیں۔

مرزائیوں کے موقر اخبار ’’الفضل‘‘ ۳ ذی قعدہ ۱۲۷۱ھ (بمطابق) ۲۶ جولائی ۱۹۵۲ء کے صفحہ نمبر ۴ پر مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل پرنسپل جامع احمدیہ نے مجھے چیلنج دیا ہے اور میرے نزدیک اس بارے میں مولوی صاحب کو چیلنج دیا جا سکتا ہے، مگر وہ چودہویں صدی سے پہلے کے کسی کا مستند قول پیش کریں جس نے کہا ہو کہ خاتم کے معنی مہر کرنا غلط ہے۔

پہلا جواب:

غالباً مولوی صاحب موصوف نے فن مناظرہ کی کتاب ’’رشیدیہ‘‘ جو داخل درس نصاب ہے، وہ نہیں پڑھی ہوگی تو ورنہ اس قسم کا سوال مجھ سے ہرگز نہ کرتے۔ فن مناظرہ کا یہ قاعدہ ہے کہ مثبت (مدعی کو ثابت کرنے والے) کو ثبوت دینا ضروری ہے نہ کہ نافی (نفی کرنے والے) کو، مولوی صاحب کو یہ ثبوت دینا چاہیے تھا کہ رسول الله ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا فلاں فلاں مفسرین حضرات نے خاتم النبیین کے یہی معنی کیے ہیں جو مرزا کرتے ہیں کہ آئندہ نبوت کا دروازہ کھل گیا ہے تا کہ آپ نبیوں کے شہنشاہ بن جائیں۔

دوسرا جواب: (مسلمانوں کی تائید میں آٹھ مفسرین)

اس سے پہلے میں ثابت کر چکا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ 

آپ اب آٹھ مقتدر مفسرین حضرات کے حوالے ملاحظہ فرمائیے کہ وہ بھی ہماری تائید فرمارہے ہیں:

(۱) الجواهر فی تفسير القرآن: وخاتم النبيين فهو آخرهم الذى ختم (جلد ۱۶، ص ۲۶) ۔ ’’پس وہ آخری پیغمبر ہے جس نے سب پیغمبروں کو ختم کر دیا یعنی سلسلہ نبوت کو نئے نبی کے لیے ختم کر دیا۔‘‘

(۲) بیضاوی شریف: واخر الذي ختمھم۔ ’’اور آپ سب سے آخری پیغمبر ہیں، آپ نے سب پیغمبروں کو ختم کر دیا۔‘‘
(۳) روح البیان جلد رابع، ص: ۸۷، وكان آخرهم الذي ختموا به۔ ’’اور آپ ان پیغمبروں میں سے سب سے آخری پیغمبر ہیں جس کے آنے سے پیغمبروں کے سلسلہ کو ختم کر دیا۔‘‘
(۴) تفسیر خازن: وخاتم النبيين ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه۔ ’’اللہ نے آپ کے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کر دیا، اس لیے آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور نہ آپ کے وقت میں کوئی نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘
(۵) تفسیر ابن جریر جلد نمبر ۲۱: و خاتم النبيين الذين ختم النبوة فطبع عليهم ولا تفتح لاحد بعدہ الی قیام الساعۃ۔ ’’ آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو ختم کر دیا ہے پس نبوت پر مہر لگا دی گئی، اس لیے نبوت کا دروازہ آپ کے بعد قیامت تک کسی پر کھولا نہیں جائے گا۔‘‘
(۶) روح المعانی جلد ۲۲: والمراد بكونه الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة فی احد من الثقلين بعد تحليه عليه الصلوة والسلام بها فی هذه النشاة۔  ’’آپ کے خاتم النبیین ہونے کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نبوت کے زیور سے اس زمانہ میں آراستہ ہونے کے بعد جنوں اور انسانوں میں سے کوئی بھی نبوت کی صفت سے موصوف نہیں ہو گا۔‘‘
(۷) تفسیر مدارک: وخاتم النبيين بمعنى الطابع اى اخرهم۔ ’’خاتم النبین مہر لگانے والا، سب پیغمبروں کے آخر میں آنے والا یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنائے گئے ہیں۔‘‘
(۸) تفسير ابن كثير: وخاتم النبيين فهذه الآية نص فى انه لا نبی بعده، واذا كان لا نبی بعده ولا رسول بعده بالطريق الاولىٰ والاخرىٰ لان مقام الرسالة ارفع من مقام النبوة۔ ’’پس یہ آیت صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور جب نبی آپ کے بعد نہیں آئے گا تو رسول بھی بطریق اولیٰ نہیں آئے گا کیونکہ رسول کا درجہ نبی کے درجہ سے بلند ہوتا ہے۔‘‘
نتیجہ: آٹھ مقتدر مفسرین حضرات کا متفقہ فیصلہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اگر مرزائی مسلمانوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی تمھاری طرح ختم نبوت کے قائل ہیں تو پھر کیوں نہیں صاف طور پر اقرار کرتے کہ مرزا کے اخبار البدر کے دعویٰ کو ہم جھوٹا سمجھتے ہیں اور مرزا بشیر الدین محمود کے اس اعلان کو بھی جھوٹا سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب باپ اور بیٹے کے ان اعلانوں کا انکار نہیں کرتے تو پھر کیوں مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھی ختم نبوت کے قائل ہیں اور بازاروں اور دکانوں پر مفت اشتہار اور اخبار کے پرچے تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔‘‘
(تفسیر لاہوری، جلد ۷، ص: ۴۷۷ تا ۴۷۹)

بیوہ خواتین اور معاشرتی ذمہ داریاں

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

قبل از اسلام بیوہ عورت محرومی کا شکار تھی اسے کوئی عزت حاصل نہ تھی وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد بقیہ زندگی نہایت تکلیف و مصیبت میں بسر کرتی۔ یہودیوں کے یہاں بیوہ عورت اپنے شوہر کے بھائی کی ملکیت ہو جاتی تھی، وہ جس طرح چاہتا اسے رکھتا اور جو چاہتا اس کے ساتھ سلوک کرتا۔ کوئی اس کی داد رسی نہیں کر سکتا تھا۔

عیسائی مذہب نے بھی بیوہ عورت کے لیے کوئی مثبت ہدایت نہیں دیں۔ ہندو مذہب میں تو شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو جینے کا حق ہی نہیں تھا اور وہ شوہر کی چتا میں زندہ جل کر ستی کی رسم پورا کرنا اپنا مذہبی فرض سمجھتی تھی وہ اگر زندہ بھی رہتی تو پوری زندگی اپنے شوہر کے سوگ میں گزارتی۔ اسے زیب و زینت یا دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا کوئی حق نہ تھا۔ عربوں میں بھی بیوہ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ شوہر کی وفات کے بعد بیوہ شوہر کے وارثوں کی ملکیت میں آجاتی اور وہ جیسا سلوک چاہتے اس کے ساتھ کرتے۔ اس سے مہر معاف کراتے۔ طرح طرح سے ستاتے۔ اسے اپنی مرضی سے دوسری شادی نہیں کرنے دیتے۔

نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو بیوہ کے برے دن اچھے دنوں میں بدل گئے۔ آپ علیہ السلام نے نہ صرف بیوہ عورت کو معاشرے میں باعزت مقام دلایا۔ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی بلکہ اپنے عمل سے بیوہ کو وہ شان و عظمت عطا کی جس کا تصور بھی عربوں میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچیس سال کی عمر میں بیوہ سے نکاح کیا۔ خوبصورت سے خوبصورت عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح کو قبول کر سکتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سالہ ادھیڑ عمر کی بیوہ سے شادی کر کے جاہلانہ رسموں کے خلاف عملی قدم اٹھایا حالانکہ اس عمر میں ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کم سن عورت سے شادی کرے۔

اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال تک اِس طرح ان کے ساتھ شریکِ حیات رہے کہ اِس دوران آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دس عورتوں: حضرت عائشہ بنت ابی بکر، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت حفصہ بنت عمر، حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت جویریہ بنت الحارث، حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت صفیہ بنت حیی، اور حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہم سے نکاح کیا وہ بھی سوائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساری بیوہ ہی تھیں۔ اسی طرح متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے زمانے کی مختلف بیوہ عورتوں کی فریاد رسی کی اور ان کے شریک حیات بن کر خود ان کو سہارا دیا۔ چناں چہ حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے شوہر حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ جب غزو موتہ میں شہید ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی۔ اسی طرح حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہ کے شوہر حضرت عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ جب شہید ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی زیر کفالت تمام بیوہ عورتوں کے نان نفقہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور سوسائٹی و معاشرے میں دوبارہ ان کو عزت و آبرو کے ساتھ داخلے کا موقع دیا اور ان کو سماج و معاشرہ میں اس مہر و عنایت سے مشرف فرمایا جس کے سائے سے وہ محروم ہو گئی تھیں۔

کسی عورت کے لیے اس سے زیادہ آزمائش اور مصیبت کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کا شوہر اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے۔ شوہر کی وفات سے بیوی کو صرف جذباتی صدمہ ہی نہیں پہنچتا بلکہ اس کے سامنے مسائل کا ایک ہجوم منڈلانے لگتا ہے۔ کل تک جو شخص اس کی اور اس کے بچوں کی تمام ضروریات پوری کرتا تھا، اس کے دکھ درد میں شریک ہوتا تھا، ہر آڑے وقت میں اس کا سہارا بنتا تھا، اس کی عزت و عفت کی حفاظت کرتا تھا، جس کے دیکھتے ہی اس کا دل خوشیوں سے بھر جاتا تھا، جو گھر کی رونق تھا، جو تمام اخراجات اور حادثات کے وقت اس کا تنہا سہارا تھا، اس کے انتقال سے عورت پر جو گزرتی ہے اس کا اندازہ صرف بیوہ ہی لگا سکتی ہے۔

اس مظلوم اور مصیبت زدہ عورت کے ساتھ ہمیشہ حسنِ سلوک کیجئے۔ ایک یتیم بچہ جس طرح اپنے باپ کی وفات سے بے سہارا ہو جاتا ہے، اسی طرح بیوہ اپنے شوہر کی وفات سے بے سہارا ہو جاتی ہے۔ دونوں کی مصیبتوں اور پریشانیوں میں یکسانیت ہے۔ چنانچہ اسلام نے یتیم کی کفالت کرنے پر جس طرح جنت کی خوشخبری سنائی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ میں اور وہ ان دونوں انگلیوں کی طرح جنت میں ہوں گے۔ اسی طرح بیوہ عورت کے مسائل حل کرنے والے کے سلسلے میں بھی ارشاد فرمایا کہ وہ اور میں جنت میں دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا: بیوہ اور غریب کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو راہِ خدا میں جہاد کرتا ہے اور اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا ہے۔ (بخاری، مسلم، موطاء امام مالک)

بیوہ کے حقوق

بیوہ کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے شوہر کے ترکہ میں سے اسے مقررہ حق دلایا جائے۔ اگر شوہر نے اولاد چھوڑی ہو تو بیوہ کو ترکہ کا آٹھواں حصہ دلایا جائے اور اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو کل ترکہ کا چوتھائی حصہ دلایا جائے۔ ترکہ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تقسیم کیا جائے ورنہ تمام مال حرام ہو جاتا ہے۔ لڑکی، بیوی، ماں، بہن سب کے حصے پورے پورے دیے جائیں۔ اگر شوہر نے مرنے سے پہلے مہر ادا نہیں کیا ہے تو سب سے پہلے ترکہ میں سے بیوہ کو اس کا مہر دلایا جائے۔ اسی طرح اگر شوہر اپنی بیوی کے لیے کوئی وصیت کر گیا ہے تو ترکہ کے ایک تہائی مال تک اس کی وصیت کو پورا کیا جائے۔

بیوہ کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کی کفالت کا فورا نظم کیا جائے۔ اگر اسلامی حکومت ہے تو اس کے اخراجات اور کفالت کی ذمہ دار ہے۔ اگر اسلامی حکومت موجود نہ ہو تو مسلم معاشرہ اس کے ساتھ حد درجہ ہمدردی کرے۔ اس کی ضروریات کا خیال رکھے۔ جب تک وہ دوسرا نکاح نہیں کر لیتی۔ اس وقت تک مسلم معاشرہ بہتر انداز سے اس کی کفالت کرے۔

حضرت زید بن اسلم ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓکے ساتھ بازار کی طرف گیا۔ وہاں ایک عورت ملی اور حضرت عمرؓ سے مخاطب ہو کربولی: اے امیرالمومنین میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، وہ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے۔ خدا کی قسم ان کے پاس بکری کا ایک پایہ بھی نہیں ہے، جسے وہ پکا سکیں۔ نہ ان کے پاس کھیتی ہے نہ دودھ دینے والا جانور۔ میں ڈرتی ہوں کہ کہیں قحط انہیں ہلاک نہ کر دے۔ میں خفاف بن ایما کی بیٹی ہوں۔ میرا باپ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ حضرت عمرؓ ان کے پاس ٹھہر گئے اور آگے نہ بڑھے اور فرمایا: تیرا نسب تو میرے نسب سے ملتا جلتا ہے۔ پھر آپ ایک طاقتور اونٹ کی طرف آئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اس پر دو بوریاں رکھیں اور انہیں اناج سے بھر دیا۔ ان کے درمیان نقدی اور کپڑے رکھ دیے پھر اس کی رسی عورت کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایا: اسے لے جاؤ! یہ ختم ہونے سے پہلے اللہ تمہیں اس سے بہتر عطا کر دے گا۔ ایک آدمی نے (یہ دیکھ کر) کہا کہ اے امیر المومنین! آپ نے اس عورت کو بہت دے دیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تیری ماں تجھے کھوئے خدا کی قسم! میں نے اس کے باپ اور بھائی کو دیکھا کہ انہوں نے ایک مدت تک ایک قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا یہاں تک کہ اسے فتح کر لیا۔ (بخاری)

بیوہ کا تیسرا حق یہ ہے کہ عدت پوری ہو جانے کے بعد اسے سوگ اور ماتم سے نجات دلائی جائے۔ اس کے رنج و غم کو بھلانے کے لیے بہتر سے بہتر طور طریقے اختیار کئے جائیں۔ جائز حدود میں اسے زیب و زینت اور آرائش و سنگھار کرنے کا حق دیا جائے۔

بیوہ کا چوتھا حق یہ ہے کہ عدت پوری ہو جانے کے بعد اس کے نکاحِ ثانی کا انتظام کیا جائے۔ آج کل ہمارے معاشرہ میں بیوہ سے نکاح کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی ایک اہم سنت ہے جس کی طرف مسلمانوں کو فوری توجہ کرنی چاہیے۔ دورِ اول میں اسلامی معاشرہ میں بیواؤں سے شادی کرنے کو بڑے اجر کا کام سمجھا جاتا تھا اور اس سے مسلم معاشرہ بہت سے مسائل سے دوچار ہونے سے بچ جاتا تھا۔ کسی بیوہ سے نکاح کر کے اس کی اور اس کے بچوں کی کفالت کرنا عظیم نیکی ہے جس کے حصول پر ہر مسلمان کو سعادت محسوس کرنا چاہیے۔ خود کسی بیوہ سے نکاح کر کے اس نیکی و سعادت کو حاصل کیجئے، یا اس کا نکاح کسی مناسب شخص سے کرا کر حکمِ خداوندی کی تعمیل کیجئے، یا اس سلسلے میں جو بھی خدمت انجام دے سکتے ہوں اسے ضرور انجام دیجئے۔ قرآن پاک میں حکم دیا گیا ہے: وانکِحوا الایامٰی مِنکم (النور: 23) اپنی بیوہ عورتوں اور رنڈوے مردوں کے نکاح کر دو۔

بیوہ کا پانچواں حق یہ ہے کہ وہ اپنا نکاح کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے میکے یا سسرال کے لوگ اسے نکاح کرنے یا نہ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہاں اسے مشورہ ضرور دے سکتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں پوری طرح آزاد ہے کہ کس سے نکاح کرے اور کس سے نکاح نہ کرے۔ جن علماء کے نزدیک کنواری لڑکی کے لیے ولی کی اجازت ضروری ہے ان کے نزدیک بھی بیوہ کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔ بیوہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے نکاح کے سلسلے میں مکمل خود مختار ہے۔

اگر بیوہ عورت ننھے منے بچے رکھتی ہے اور وہ ان کی پرورش کی خاطر کوئی دوسرا نکاح نہیں کرتی اور یہ سمجھتی ہے کہ دوسرا نکاح کرنے سے ان بچوں کی پرورش متاثر ہوگی اور وہ ان بچوں کی پرورش کے لیے محنت کرتی ہے تو یہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بیوہ کی عظمت ایک واقعہ کی صورت میں یوں بیان فرمائی: قیامت کے دن میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے جنت میں جانا چاہتی ہے۔ میں پوچھوں گا تو کون ہے؟ تو وہ کہے گی کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں جس کے چند ننھے یتیم بچے تھے۔ (مسند ابویعلی بحوالہ سیرت النبی، سید سلیمان ندوی)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: میں اور وہ عورت جو اپنے بچوں کے لیے محنت و مشقت کی وجہ سے کالی پڑ جائے، جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے، وہ حسن و جمال اور عزت و جاہ والی عورت جو شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ ہو جائے لیکن اپنے ننھے منے یتیم بچوں کی خاطر اپنے کو روکے رکھے یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو جائیں یا وفات پا جائیں۔ (ابوداود شریف)

قارئین کرام! ہمیں چاہیے کہ ہم ان حقوق کی پاسداری کریں، بیوہ اور یتیم بچوں کی داد رسی کو اپنا فریضہ سمجھیں، اللہ پاک امت مسلمہ کو قرآن و سنت کے احکامات پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

پاکستان شریعت کونسل اور الشریعہ اکادمی کے اجتماعات

مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مولانا محمد اسامہ قاسم

پاکستان شریعت کونسل کا مشاورتی اجلاس

پاکستان شریعت کونسل نے ایران پر اسرائیلی حملہ کو بدترین جارحیت قرار دیتے ہوئے ایران کے دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایران اپنے دیگر دوستوں کے تعاون سے اسرائیلی درندگی اور دہشتگردی کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو گا۔ 

گذشتہ روز جامعہ اسلامیہ کامونکی میں کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پہ پاکستان شریعت کونسل کے سرکردہ راہنماؤں کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں ڈاکٹر مولانا حافظ محمد سلیم، مولانا عبید اللہ عامر، ڈاکٹر مولانا عبد الواحد، پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا عثمان رمضان، مولانا امجد محمود معاویہ، مفتی نعمان احمد، مولانا نصر الدین خان عمر، مولانا نعمان یوسف، مظہر محمود، حافظ شاہد میر اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔

اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے معاملات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلسل مداخلت کو عالمی امن تباہ کرنے کا منصوبہ قرار دیا گیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خالی قراردادوں کی بجائے اسرائیلی جارحیت اور امریکی پشت پناہی کا راستہ روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اجلاس میں محرم الحرام کی آمد سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو قومی وحدت کے تقاضوں کے منافی قرار دیا اور طے کیا کہ چند سال پہلے قائم ہونے والے اہل سنت کے مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کے مشترکہ فورم، کل جماعتی مجلسِ عمل علماء اہل سنت پاکستان کو ازسرِ نو متحرک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے مذکور مجلسِ عمل کے کنوینئر مولانا عبد الرؤف فاروقی کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی رابطہ کمیٹی مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سلیم کی سربراہی میں سب مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام سے ملاقات کرے گی اور محرم الحرام کے آغاز سے قبل لاہور میں ایک مشترکہ کنونشن منعقد کیا جائے گا۔

اجلاس میں حالیہ بجٹ کو حسب سابق عالمی مالیاتی اداروں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مراعات یافتہ طبقوں اور غیر ملکی مداخلت کاروں کیلیے سہولت کاری کا پورا سامان موجود ہے۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ سودی نظام کے خاتمے، غیرملکی مداخلت سے نجات، طبقاتی مفادات و تعیش سے گلو خلاصی کے بغیر عوام کو سہولت فراہم کرنے کے کوئی صورت مؤثر نہیں سکتی، اس لیے ہمیں قومی خودمختاری کی بحالی اور دستور کے مطابق سودی نظام کے مکمل خاتمہ کے لیے ازسرنو جدوجہد کو منظم کرنا ہو گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستانی افواج کے کردار کو ملک و قوم کے لیے قابل فخر قرار دیا اور قومی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ جبکہ مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اپنے خطاب میں دینی قوتوں میں باہمی مفاہمت اور اشتراک عمل کے فروع کو وقت کا اہم تقاضہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان شریعت کونسل اس کے لیے مسلسل متحرک رہے گی۔

(۱۸ جون ۲۰۲۵ء)

الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع

آج کے فتنہ خیز اور پُرآشوب دور میں ایمان کی حفاظت اور گناہوں سے بچنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طوفان میں چراغ جلائے یا دہکتے انگارے کو ہاتھ میں تھامے۔ دل کی پاکیزگی اور روح کی صفائی کے لیے اہل اللہ کی صحبت اور مجالسِ ذکر میں شرکت ازحد ضروری ہو چکی ہے۔ نیک لوگوں کی رفاقت انسان کو بھلائی کی طرف راغب کرتی ہے، جبکہ بُرے افراد کا ساتھ اُسے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رضا اور دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ کے مقرب بندوں کی قربت اختیار کرے، جن کی مجالس دلوں کو ایمان کی تازگی اور روحانیت عطا کرتی ہیں۔
مشائخ عظام کی خانقاہیں، علماء کرام کی اصلاحی مجالس اور اہل حق کی صحبتیں اس امت کے لیے روحانی تربیت گاہوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ علماء کرام، جو انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں، اپنے خطبات، دروس اور تزکیہ نفس کی کوششوں سے امت کی اصلاح اور معاشرتی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ بعثتِ نبوی ﷺ کا ایک عظیم مقصد بھی یہی تھا کہ انسانوں کو باطن کی پاکیزگی عطا کی جائے۔
اسی مقصد کو آگے بڑھاتے ہوئے، الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ہر سال حضرت علامہ زاہد الراشدی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کرتی ہے۔
اس سال کا روح پرور اجتماع بروز منگل، 17 جون 2025ء کو الشریعہ اکادمی، کوروٹانہ کیمپس گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ مہمانِ خصوصی ہمیشہ کی طرح حضرت خواجہ خلیل احمد نقشبندی دامت برکاتہم تھے، جن کی موجودگی اہلِ دل کے لیے باعثِ فیض و برکت رہی۔ اس ایمان افروز اجتماع میں ملک کے نامور مشائخ و علماء کرام نے شرکت فرمائی، جن میں بالخصوص:حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم،حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ، حضرت مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب، حضرت مولانا عبدالواحد رسولنگری صاحب، حضرت مولانا ہدایت اللہ جالندھری صاحب، حضرت مولانا مفتی فضل الہادی صاحب، پیر سمیع الحق صاحب شامل تھے۔
اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جو جامعہ نصرت العلوم کے صدر مدرس، استاد القراء مولانا قاری محمد سعید احمد صاحب نے نہایت خوش الحانی سے کی۔ بعد ازاں حافظ فیصل بلال حسان اور قاری ارشد محمود صفدر نے نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کی، جس سے محفل معطر ہو گئی۔
مولانا عبدالواحد رسولنگری صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اسلام ایک کامل اور ابدی دین ہے۔ حق کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کا فرض ہے، اسی طرح باطل اور فتنوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔ آج کا دور فتنوں کا دور ہے، جہاں نظریاتی، فکری اور اخلاقی گمراہیاں ایمان کو چیلنج کر رہی ہیں۔ علماء کرام امت کو حق کا شعور دیتے اور فتنوں سے بچاؤ کا راستہ دکھاتے ہیں۔ دینی مدارس اور خانقاہیں دین کے وہ مضبوط قلعے ہیں جہاں سے صدائے حق بلند ہوتی ہے اور دلوں کو ایمان کی روشنی ملتی ہے۔
مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب نے بعثتِ نبوی ﷺ کے دو اہم مقاصد بیان کیے:درس و تدریس (علمِ شریعت) تذکیہ نفس (روحانی تربیت)
فقہی مذاہب میں سے فقہ حنفی کی خصوصیات اور تصوف کے چار سلاسل (نقشبندی، چشتی، قادری، سہروردی) کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے سلسلہ نقشبندیہ کو اختیار کیا ہے، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
اسی طرح چار ائمہ میں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ حنفی کو اختیار کیا کیونکہ اس کو بھی دیگر پر فوقیت حاصل ہے
اکیڈمی کے ناظم، مولانا مفتی محمد عثمان صاحب نے الشریعہ اکادمی کے مختلف تعلیمی شعبہ جات کا تعارف کرایا، جن میں شعبہ حفظ و ناظرہ، شعبہ بنات، شعبہ درس نظامی اور آن لائن تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ ان شعبہ جات میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات دینی علوم حاصل کر رہے ہیں۔
مولانا عبد الرحمان صاحب نے شریعت کی مکمل پیروی کو دین کی روح قرار دیا اور فرمایا کہ زبان، کان، ہاتھ اور آنکھ سمیت تمام اعضاء کو شریعت کے دائرے میں رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث کے حوالے سے فرمایا: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"
انہوں نے زور دیا کہ شریعت پر مکمل عمل اور نفس کی اصلاح ہی اصل دین داری اور کامیابی ہے۔
اختتام پر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے تمام مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔
نماز عصر کے بعد حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم نے ختم خواجگان اور اختتامی دعا کروائی، جس سے محفل میں روحانی سرور اور برکت کی فضا قائم ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس اجتماع کو امت مسلمہ کے لیے ذریعہ ہدایت، اصلاح اور ایمان کی تازگی بنائے۔ آمین۔
(۱۷ جون ۲۰۲۵ء)

Britain`s Long-Standing Role in Palestine`s Transformation into Israel

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

We have consistently highlighted Britain's ongoing role in the transformation of Palestine into Israel in various writings. Concurrently, the United States is actively engaged in perpetuating this British influence. One such article, now revised and presented to readers after approximately two decades, offers insight into the future intentions of Israel, the U.S., and their allies concerning Jerusalem and Palestine.

Over the past three-quarters of a century, global imperialism's grip on world affairs has tightened considerably. Its agenda is being pursued with increasing audacity and disregard, while Muslim leadership appears to remain in a deep slumber. Our emotions and sentiments regarding this situation can only be expressed through a plea in our imagination to the revered Prophet (PBUH):
اے خاصہ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے
امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے
"Oh, chosen among messengers, it is a time for prayer; Your Ummah faces an extraordinary trial."
On March 5, 2003, Roznama Nawa-i-Waqt Lahore reported, citing an Israeli newspaper, that then-Israeli Defense Minister General Shaul Mofaz stated: "In a few days, we will occupy Iraq, and anyone who stands in our way will face the same fate as Iraq." General Mofaz also referenced the Ottoman Caliphate, stating that when Ottoman Caliph Sultan Abdul Hamid refused to grant them land in Palestine, they not only ended his rule but also abolished the Ottoman Caliphate entirely. He warned that anyone who resisted Israel now would face a similar outcome.
This statement from the Israeli Defense Minister unequivocally clarified that the U.S. invasion of Iraq was, in fact, a plan to fulfill Zionist ambitions. It was part of a global program that has been continuously underway for the past century, aiming to seize control of Islamic world resources and expand and secure Israeli borders. The U.S., Britain, and their allies have been persistently active in this endeavor.
Historical Context: Sultan Abdul Hamid II and Zionist Ambitions
Approximately one and a half centuries ago, Sultan Abdul Hamid II reigned as the Caliph of the Ottoman Empire, as mentioned by General Mofaz in his statement. The capital of the Ottoman Caliphate was Istanbul (Constantinople), and most Arab regions, including Palestine, Jordan, Iraq, Syria, Egypt, and Hejaz, had long been under Ottoman rule. Palestine was an Ottoman province, and the city of Jerusalem was considered one of the Ottoman Empire's important cities. At a global level, Jews had formulated a plan to settle in Palestine, establish an Israeli state, occupy Jerusalem, and construct the Third Temple in place of Al-Aqsa Mosque. They were actively working to pave the way for this through various means.
In his memoirs, the late Sultan Abdul Hamid wrote that a delegation from a global Jewish organization visited him, requesting permission to settle in Palestine. Ottoman law permitted Jews to visit Palestine and Jerusalem but prohibited them from purchasing land or settling there. Consequently, by the beginning of the 20th century, there were no Jewish settlements in all of Palestine. Jews were dispersed across various countries worldwide, lacking a state or a permanent city in any single location. The late Sultan Abdul Hamid refused this request because he was aware of the global Jewish plan concerning Israel, Jerusalem, and Palestine. Therefore, it was impossible for him to grant permission for Jews to settle in Palestine under these circumstances.
The late Sultan recounts that a second delegation of Jewish leaders met with him, offering to build a large university for the Ottoman Empire. This university would gather Jewish scientists from around the world, and these scientists would assist the Ottoman Caliphate in advancing science and technology, provided they were given land and suitable facilities. The late Sultan Abdul Hamid replied to the delegation that he was willing to provide land and all possible facilities for the university, on the condition that it be established in an area other than Palestine. He would not permit Jews to settle in Palestine under the guise of a university. However, the delegation did not accept this.
The late Sultan Abdul Hamid further wrote that a third delegation of Jewish leaders met him again, offering any amount of money he desired, if he would only permit a limited number of Jews to settle in Palestine. The late Sultan expressed strong indignation at this and immediately instructed the delegation to leave the meeting room. He also told his staff not to schedule another meeting for this delegation in the future.
 The Downfall of the Ottoman Caliphate and Zionist Involvement
Subsequently, a political movement against the Ottoman Caliph, Sultan Abdul Hamid, was fostered in Turkey. His government was overthrown by inciting the public with various accusations. After his government's demise, he spent the remainder of his life under arrest, during which he wrote the aforementioned memoirs. He noted that among the delegation that brought him the dismissal order from the Caliphate was Emmanuel Carasso, a Jewish member of the Turkish Parliament, who had also been part of the aforementioned Jewish delegation. This indicated that the political movement against the late Sultan and his dismissal was a consequence of Jewish conspiracies, a fact now confirmed by Israeli Defense Minister General Mofaz's statement almost a century later.
The late Sultan Abdul Hamid was a dignified and well-informed ruler who defended the Caliphate to the best of his ability and made every effort to thwart Jewish conspiracies. However, the Ottoman Caliphs who succeeded him proved to be puppet rulers. Under their guise, Western nations and Jewish organizations completed their agenda of ending the Ottoman Caliphate, which ultimately concluded in 1924. 
  • The Turks disassociated themselves from the Arab world and established a secular government based on Turkish nationalism.
  • While Hussein Sharif of Mecca, the grandfather of Jordanian King Abdullah, launched an armed rebellion against the Ottoman Caliphate, declaring the independence of the Arab region. He was misled into believing that his caliphate would be established in the Islamic world after the Ottoman Caliphate's demise. However, his dream of an Arab caliphate was sabotaged by making one of his sons king of Iraq and another king of Jordan, with Jordan being granted the title "The Hashemite Kingdom of Jordan". 
  • Meanwhile, the way was paved for the Al Saud family to seize control of the holy Hejaz, and Sharif Hussein of Mecca was placed under arrest, where he spent the rest of his life.
 British Occupation and the Inflow of Jewish Settlers
During this period, Britain occupied Palestine and installed its governor, who permitted Jews to purchase land and settle in Palestine. Consequently, Jews began to settle in Palestine from various countries through an organized program. They would purchase land in Palestine, often paying double or even quadruple the price. Many Palestinians, tempted by this greed, sold their lands, and despite warnings from religious scholars, allowed Jews to settle in Palestine purely for the lure of inflated prices. 
At that time, the Grand Mufti of Palestine, Al-Haj Sayyid Amin al-Husseini, and leading Islamic scholars supporting him issued a fatwa stating that, since Jews intended to establish an Israeli state by settling in Palestine and their primary goal was to seize Jerusalem, it was religiously impermissible to sell land in Palestine to Jews. This fatwa was also issued by other prominent scholars, including Hakeem-ul-Ummat Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanvi, as documented in his book "Bawadir al-Nawadir". Similarly, Grand Mufti Hazrat Maulana Mufti Kifayatullah Dehlvi also endorsed it, which is found in "Kifayat al-Mufti". 
However, Palestinians paid no heed, and Jews arriving from various parts of the world succeeded in purchasing many lands and establishing their settlements in Palestine. Ultimately, in 1947, the United Nations recognized the Jews' right to a portion of Palestine, legitimizing their claim to statehood and approving the establishment of two separate states, Israel and Palestine, after which the British Governor transferred authority to the Jewish government.
This provides a brief background to the statement made two decades ago by Israeli Defense Minister General Mofaz, concerning the Jewish role in the dethronement of the late Sultan Abdul Hamid, ruler of the Ottoman Caliphate, and the Caliphate's demise. From this, one can gauge the vigilance, awareness, and preparedness of the enemies of the Islamic world, and conversely, the extent of our apathy, ignorance, and shortsightedness. May Allah Almighty have mercy on our condition, Ameen.

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۵۹۸) غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت  میں غیر کا تعلق صراط (راستے) سے ہے یا الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ (وہ لوگ جن پر اللہ کا انعام ہوا) سے؟ اس سلسلے میں ہمیں عربی تفاسیر میں دونوں موقف ملتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صراط حالت نصب میں ہے، الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ حالت جر میں ہے اور غیر بھی حالت جر میں ہے۔ اس لیے اقرب توجیہ یہ ہے کہ غیر کو صراط کی صفت کے بجائے الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کی صفت بنانا چاہیے۔ جن لوگوں نے غیر کو صراط کی صفت بنایا ہے انھیں اس کی پرتکلف توجیہ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے باوجود اردو تراجم میں زیادہ لوگوں نے غیر کو صراط کی صفت مان کر ترجمہ کیا ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:

صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ۔ (الفاتحہ: 7)

’’راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، وضاحتی قوسین حذف کرکے)

’’ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے، نہ رستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستہ سے گم ہوئے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام فرمایا، ان کا نہیں جو تیرے غضب کا نشانہ بنے نہ ہی ان کا جو راہ راست سے بھٹک گئے‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

درج بالا ترجموں میں غیر کو صراط کی صفت مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ درج ذیل ترجمے غیر کو الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کی صفت بنا کر ترجمہ کرتے ہیں:

’’ان لوگوں کی جن پر تونے فضل کیا نہ جن پر غصہ ہوا اور نہ بہکنے والے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

(۵۹۹) وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُونَ کا ترجمہ

وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُونَ۔ (البقرۃ: 3)

’’اور اس رزق میں سے جو ہم نے انہیں بخشا ہے، ایک حصہ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

اس ترجمے میں’’ایک حصہ‘‘ مناسب تعبیر نہیں ہے۔ 

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے: 

’’اور ہمارے دیے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(۶۰۰) وَبِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ’’ھم‘‘ کی معنویت کو کیسے ظاہر کیا جائے؟ 

درج ذیل ترجموں میں ’’بھی‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔   

وَبِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ۔ (البقرۃ: 4)

’’اور (پھر یہ کہ) آخرت پر بھی گہرا یقین رکھتے ہیں‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

’’اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

’’اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں‘‘۔ (ذیشان جوادی)

مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کا درج ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں: 

’’اور آخرت پر وہی گہرا یقین رکھتے ہیں‘‘۔

گویا ھم کی وجہ سے ـ’ـوہی‘ کا معنی پیدا ہوگیا۔

(۶۰۱) اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدَی کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں اشْتَرَوُا کا لفظ آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں معروف معنی میں دو چیزوں کا تبادلہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ ایک چیز سے دست بردار ہوکر دوسری چیز اختیار کرلی۔   

أُولَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدَی۔ (البقرۃ: 16)

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خریدی ہے‘‘۔(صدرالدین اصلاحی)

’’یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو دے کرگمراہی خرید لی ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)

درج بالا دونوں ترجمے درست نہیں ہیں کیوں کہ ہدایت کسی کو دے کر اس سے گم راہی نہیں لی گئی۔

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے‘‘۔ (سید مودودی)

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا ‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

درج بالا دونوں ترجمے درست ہوسکتے ہیں اس معنی میں نہیں کہ دونوں چیزوں کا تبادلہ ہوا بلکہ اس معنی میں کہ انھیں ہدایت لینی چاہیے تھی لیکن انھوں نے ہدایت نہ لے کر گم راہی لے لی۔

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(۶۰۲) ہُدًی کا ترجمہ

فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ مِنِّی ہُدًی۔ (البقرۃ: 38)

’’پھر وہاں جو میری طرف سے کوئی ہدایت نامہ تمہارے پاس پہنچے‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی) 

اس ترجمے میں ھدی کا ترجمہ ہدایت نامہ کیا گیا ہے۔ لیکن ھدی عام ہے، اس میں ہر طرح کی ہدایت شامل ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ قدیم ترین زمانے میں رسولوں کے ساتھ زبانی ہدایت آتی رہی ہو کتاب کی صورت میں نہیں ہو۔ ہدایت نامہ کہنے سے بات محدود ہوجاتی ہے۔

’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے‘‘۔ (سید مودودی، ’’کوئی‘‘ کی ضرورت نہیں ہے۔)

’’جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، ’’میری ہدایت‘‘ نہیں بلکہ ’’میری طرف سے ہدایت‘‘ ہونا چاہیے۔)

’’جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(۶۰۳) وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ کا ترجمہ

درج ذیل جملے میں الحرث یعنی کھیتی کا ذکر ہے۔ بعض ترجموں میں یہ نظر انداز ہوگیا ہے۔

وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ۔ (البقرۃ: 71)

’’ نہ پانی کھینچتی ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’نہ پانی کھینچتی ہو‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی) 

درج ذیل ترجموں میں الحرث کا ترجمہ کیا گیا ہے:

’’اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

(۶۰۴) وَأَنْتُمْ تَشْہَدُونَ کا ترجمہ

درج ذیل جملے میں وَأَنْتُمْ تَشْہَدُونَ اقرار کے وقت کا بیان نہیں ہے بلکہ موجودہ حال کا بیان ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ اقرار کرتے وقت تم گواہ بنے تھے۔ بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ آج تم خود اس کے شاہد و گواہ ہو کہ تم نے یہ اقرار کیا تھا۔ 

ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْہَدُونَ۔ (البقرۃ: 84)

’’اور تم نے خود شاہد بنتے ہوئے اس کا اقرار بھی کرلیا تھا‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

’’تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

’’تم نے اس کا اقرار کیا تھا، تم خود اس پر گواہ ہو‘‘۔(سید مودودی)

(۶۰۵) فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی کا ترجمہ

أُجِیبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی۔ (البقرۃ: 186)

’’میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں‘‘۔ (سید مودودی)

فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی کے درج ذیل ترجمے توجہ طلب ہیں:

’’پس انھیں چاہیے کہ میری پکار کا بھی جواب دیں‘‘۔(صدرالدین اصلاحی) 

یہاں جملے میں ’’بھی‘‘ کا محل درست نہیں ہے۔ درست محل کے لحاظ سے جملہ حسب ذیل ہونا چاہیے:

’’ پس انھیں چاہیے بھی کہ میری پکار کا جواب دیں‘‘۔(صدرالدین اصلاحی)

’’لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں‘‘۔ (ذیشان جوادی)

اگرچہ استجاب باب استفعال سے ہے، لیکن استجاب میں طلب نہیں بلکہ مبالغہ ہے۔ استجاب أجاب کے معنی میں ہے۔ اس لیے درج بالا ترجمہ موزوں نہیں ہے۔ 

(۶۰۶) الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ کا ترجمہ

درج ذیل قرآنی عبارت کے ترجمے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مفہوم واضح ہوکر سامنے نہیں آتا ہے۔ 

الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ۔ (البقرۃ: 194)

’’(ایک) حرمت والا مہینہ (دوسرے) حرمت والے مہینے کے برابر ہے۔ (اور اصل یہ ہے کہ) حرمتوں میں برابری کا بدلہ ہے‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

’’ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا‘‘۔ (سید مودودی)

’’ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

’’شہر حرام کا جواب شہر حرام ہے اور حرمات کا بھی قصاص ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)

’’حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی حسب ذیل ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

’’حرمت والے مہینے کی حیثیت حرمت والے مہینے ہی کی ہے اور حرمتوں میں برابری کا معاملہ ہے‘‘۔

(۶۰۷) النَّسْلَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں الحرث کے ساتھ النسل آیا ہے۔ اس لیے اس کا امکان تو ہے کہ یہاں نسل سے مویشیوں کی نسل مراد ہو لیکن سیاق کے لحاظ سے انسانی نسل مراد ہو یہ بعید لگتا ہے۔ اگر لفظ کا خیال کیا جائے تو انسان اور مویشی وغیرہ سبھی جان دار مراد لیں، ورنہ پھر سیاق کے لحاظ سے مویشی مراد لیں۔ ترجمے ملاحظہ ہوں: 

وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۔ (البقرۃ: 205)

’’جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے‘‘۔ (سید مودودی)

’’کھیتوں اور انسانی نسلوں کو تباہ کرینے میں سرگرم عمل رہتا ہے‘‘۔ (صدرالدین اصلاحی)

’’اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اور کھیتی اور مویشی کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔ (احمد علی)

’’اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(جاری)

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱)

مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

حافظ میاں محمد نعمان

خطیب جامعہ فتحیہ لاہور مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف صاحب کے مندرجہ پیغام اور شکریہ کے ساتھ اس نئے سلسلہ کا آغاز کیا جا رہا ہے: ’’جامعہ فتحیہ میں حضرت مولانا زاہد الراشدی نے احکام القرآن کے تناظر میں وقیع علمی خطبات ارشاد فرمائے۔ یہ ’’خطباتِ فتحیہ‘‘ کے عنوان سے تخریج و تعلیق اور تحقیق کے ساتھ اعلیٰ معیار پر دارالمؤلفین کی طرف سے شائع ہو گئے ہیں۔ آپ کی علم پروری سے امید ہے کہ مجلّہ الشریعہ کے ہر شمارے میں اس علمی ارمغان کے ایک خطبے کو نذرِ قارئین فرمائیں گے۔ خیراندیش‘‘  


عرضِ مرتب

اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب خاتم النبیین ﷺ پر نازل ہوئی۔ جس کا مفہوم یہ ٹھہرا کہ ختمِ نبوت کے طفیل اب صبحِ قیامت تک انسانیت کو درپیش مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں ہی پیش کیا جائے گا۔ ہماری چودہ صدیوں سے زائد کی شاندار علمی تراث اس کی آئینہ دار ہے کہ اپنے وقت کے شہ دماغوں نے کتاب و سنت پر غور و فکر کر کے تہذیبِ انسانی کو شاندار اُصول دیے۔ ان ائمہ محدثین و فقہاء کے اُصولِ استنباط اور فکر و نظر کے عمق اور وسعت سے قانونی اور تہذیبی دُنیا قیامت تک مستفید ہوتی رہے گی۔

احکام القرآن اپنی بنیادی حیثیت سے نزول کے وقت سے وہی ہیں لیکن عصری تغیرات و تمدنی ارتقا کے سبب ان کی تفسیر اور توضیح میں برابر وسعت آتی رہی ہے۔ قرآن مجید کے حِکم و بصائر سے استنباط کی بدولت اس کے متعدد معاون علوم وجود میں آئے، جن سے فہمِ قرآنی میں وسعت پذیری کا عمل جاری رہا۔ دورِ خلفائے راشدینؓ میں ان احکامات کو قرآن و سنت کی بنیادوں پر ہمہ پہلو وسعت ملی۔ یہ وسعت اصلاً مقاصدِ نبوت کی تکمیل ہی کی ایک صورت تھی۔ بالخصوص اس معاملہ میں فراستِ فاروقیؓ نے صحابہ کرامؓ کے اجتماعی فہم سے فائدہ اُٹھا کر قوانین کی تشکیل اور توسیع کا عمل تیز تر فرما دیا۔

تمام قوانینِ اسلامیہ پر برتری و حکمرانی کتابُ اللہ کی تھی اس لیے احکام القرآن بھی تمدنی و سماجی ضرورتوں سے لے کر قانونی و سیاسی ضرورتوں تک کی بخوبی تکمیل کرتے رہے اور ان احکام کی توضیح میں نو بہ نو توسیع بھی ہوتی رہی۔ اور یہ احکام القرآن کی وسعت پذیری تھی جس کے سبب علماء و مفکرین اپنے اپنے عہد میں اٹھائے گئے علمی، تہذیبی، قانونی سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ علم و فقاہتِ قرآنی کا یہ قافلہ فقہاء و محدثین اور مفکرین کی سیادت میں صدیوں تک اپنی عقل و دانش سے دینی علوم کی آبیاری کرتا رہا۔ احکام القرآن میں بالخصوص قرآن مجید کے قانونی پہلوؤں سے بیسیوں نئی جہات دریافت ہوئیں۔ اُصولِ فقہ (Islamic Principle of Jurisprudence) کا شاندار علم بھی اصلاً‌ احکام القرآن ہی کی تمدنی و قانونی وسعت کا مظہر ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں امام شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) نے اپنے علوم کی بنیاد احکام القرآن کو ہی بنایا۔ آپ کی گراں قدر خدمات و علمی فتوحات کا ہدف بھی احکام القرآن کی توسیع اور اس کا اطلاق رہا ہے۔ ’’فتح الرحمٰن‘‘ اور ’’الفوز الکبیر‘‘ سے لے کر ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اور آپ کی دیگر تصانیف کا اگر استحصاء کیا جائے تو ان کا حاصل بھی قرآنی حکمت و بصیرت کا شیوع اور اس پر وارد اشکالات کا ازالہ ہے؛ اور قرآن کے سیاسی، معاشی و جملہ احکام اور نظام کا غلبہ ہی ان کی فکر کا حاصل و خلاصہ ہے۔

اہلِ علم میں صدیوں سے یہ روایت رہی ہے کہ وہ دیگر اہلِ علم سے اخذ و استفادہ کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے متعلق علمی رائے بھی دیتے چلے آئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کی باہمی معاصرت نے ان کے باہمی اعترافِ علم اور حسنِ تعلق میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ اسلاف کے ہاں یہ روایت علمی تصانیف و تالیفات میں بکثرت نظر آئے گی۔ بالخصوص ہمارے فقہاء نے جس طرح دلیل و برہان کی بنیاد پر دیگر ائمہ و اعیانِ دین سے علمی اختلاف کیا، تو وہیں دوسرے فقہاء کی مضبوط و مُحکم دلیل کے سامنے اپنے مؤقف سے رجوع بھی کیا؛ اور علمی رجوع کے اس عمل نے باہمی محبت و احترام میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔

عصری تغیرات اور تمدنی ارتقا کی بدولت گذشتہ صدی میں یہ رجحان ’’خطبات‘‘ کی صورت میں بدل گیا۔ اب اہلِ علم دیگر علاقوں و ممالک کے اہلِ دانش و اصحابِ تفقہ سے خطبات اور مکالمے کی صورت میں استفادہ کرتے ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے خطباتِ مدراس، جو 1925ء میں دیے گئے، یہ فہمِ اسلام و تفہیمِ سیرت کے لیے بہت مفید ہیں، اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے خطباتِ اقبال The Reconstruction of Religious Thought in Islam (’’تشکیلِ جدید اِلہٰیاتِ اِسلامیہ‘‘) کے عنوان سے 1928ء کے اواخر اور 1929ء کی ابتدا میں دیے گئے جو 1930ء میں شائع ہوئے۔

ماضی قریب میں اس کی ایک نمایاں مثال ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ‘‘خطباتِ بہاولپور‘‘ ہیں (جو 1980ء میں دیے گئے)۔ آپ کے یہ گراں قدر خطبات اہلِ پاکستان کے لیے ارمغانِ علمی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کے بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی کے سلسلہ محاضرات کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ پھر اس سلسلہ خطبات کی روایت میں مختلف شخصیات نے اپنی علمی استعداد کے مطابق اضافہ کیا اور یہ مبارک علمی سفر ہنوز جاری ہے۔

سربرآوردہ اور اعلیٰ فکری صلاحیتوں کے حامل اجل علماء نے احکام القرآن کو اپنی تگ و تاز کا مرکز بنایا۔ ہمارے عہد میں یہ امتیاز ایک نمایاں علمی شخصیت مولانا زاہد الراشدی صاحب کو حاصل ہے۔ علومِ ولی اللّٰہی سے ان کی نسبت شعوری و خاندانی ہے اور ان علوم سے اشتغال و استدلال ان کا خاص ذوق ہے۔ اپنے عمِ محترم مولانا عبد الحمید سواتی سے ولی اللّٰہی افکار کی تفہیم اور ذوق آپ کو منتقل ہوا۔ بالخصوص مولانا سواتی کی ولی اللّٰہی انداز کی تفسیرِ قرآن نے، جو اصلاً احکام القرآن ہی کی ایک صورت ہے، ان سے اس شعبہ میں استنباط و استشہاد مولانا زاہد الراشدی صاحب کے حصہ میں آیا؛ اور اپنے والد گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے تبحرِ علمی اور توازنِ تحقیق نے بھی آپ کے علمی مزاج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ نصف صدی سے سیاسی تحریکوں میں آپ کی عملی شرکت کے سبب سیاسی فراست اور عصریات کی نباضی کا ملکہ بھی آپ کے افکار میں نمایاں نظر آتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب کو ایک طرف دینی علوم میں رسوخ فی العلم حاصل ہے تو دوسری جانب عصری و عالمی حالات کی نزاکتوں کا بھر پور ادراک ہے۔ ان پہلوؤں کے سبب آپ میں جامعیت کا ایک مزاج تشکیل پا گیا ہے۔ اعتدال و توازن کے ساتھ ساتھ فراست و حکمت بھی قسامِ ازل نے آپ کو ودیعت فرمائی ہے۔ بصیرت اور حکمت کو علمی جرأت و شائستگی سے پیش کرنا آپ کا اختصاصی پہلو ہے جو اُنھیں عصرِ رواں میں منفرد و ممتاز بناتا ہے۔

آپ احکام القرآن کو آج کے عالمی (Global) تناظر میں غلبۂ دین اور اجتماعیت کے اُسلوب میں پیش کرتے ہیں۔ احکام القرآن کے ذریعے اسلام کا عقلی اور تہذیبی غلبہ آپ کا مقصد ہے۔ مغربی فکر کی تفہیم اور اس کے مطالعہ و مشاہدہ کی بدولت آپ اہلِ مغرب کے علمی، فکری اور سیاسی مزاج سے آشنا ہیں۔ آپ جب احکام القرآن کی عصری توضیح کرتے ہیں تو ہمیں اس میں دینی روایت سے گہرا تعلق اور عصری معنویت کی وسعت برابر دکھائی دیتی ہیں۔ آپ اسلام و اہلِ اسلام کا مقدمہ اہلِ مغرب کے سامنے بڑی متانت، سنجیدگئ فکر اور اخلاص کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اہلِ مغرب کی کوئی خوبی نظر آئے تو اس کا برملا اعتراف و اظہار کرتے ہیں۔ فکرِ مغرب کی حاملین شخصیات کا احترام کے ساتھ حوالہ دیتے ہیں۔ کمال حکمت سے ان مغربی شخصیات کے طرزِ فکر پر کہیں نقد کرتے اور کہیں ان کے اعترافات سے نتائج اخذ کر کے عصری تناظر میں قرآنی احکام کی برتری ثابت کرتے ہیں۔

آج کی بین الاقوامی دنیا میں جس طرح ’’عالمی معاہدات کی حکومت‘‘ ہے، ان معاہدات کی حساسیت اور احکام القرآن کے ساتھ ان کا جہاں جہاں ٹکراؤ ہے، آپ اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آپ نے دینی و علمی حلقوں کو ان بین الاقوامی معاہدات کے خطرناک مضمرات سے آگاہ و خبردار کیا ہے۔ آپ کے بیانات میں دانش و حکمت کے ساتھ ساتھ ایک تدریجی ترتیب ہوتی ہے۔ ہر بات کو مرحلہ بہ مرحلہ تسہیل کے ساتھ اپنے مخصوص لفظ ’’دائروں‘‘ میں بیان کرتے ہیں۔ دینی روایت کے ساتھ گہرا علمی و عملی تعلق اور جدید مغربی فکر سے جس درجہ آپ کی آشنائی ہے اس درجے کی اونچی شخصیات اب کم نظر آتی ہیں۔ زندگی میں سادگی اور فکر میں گہرائی و توازن آپ کا طرۂ امتیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تادیر ان کے علمی استنباط سے مستفید فرمائے۔

خطبات کا مختصر جائزہ

احکام القرآن کے عنوان سے موسوم یہ خطبات برصغیر کے قدیم علمی مرکز جامعہ فتحیہ (قائم شدہ: 1875ء) اچھرہ لاہور میں دیے گئے ہیں۔ جامعہ میں دیے گئے یہ خطبات ایک طرف سادہ اندازِ بیان کے حامل ہیں تو دوسری جانب حکمت و دانش کے ساتھ ساتھ عالمانہ تجزیے پر بھی مشتمل ہیں۔ ان خطبات میں عقائدِ اسلامیہ سے لے کر مسلمانوں کے سیاسی افکار اور معاشرت کے متعدد پہلو زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔ عہدِ نبویؐ کے پاکیزہ ماحول کی مثالیں خطبات میں جابجا موجود ہیں۔ مولانا راشدی صاحب کا مطالعۂ مغرب عملی نوعیت کا بھی ہے۔ آپ نے مغرب اور امریکہ کے متعدد اسفار کیے ہیں، اس لیے آپ مغربی معاشرے کی خوبیوں اور کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مولانا نے بہت سادہ اسلوب میں حکیمانہ نکات کو پیش کیا ہے۔

مغرب میں خاندان کا ادارہ بکھرتا چلا جا رہا ہے۔ اہلِ مغرب اپنی سیاسی و معاشی پالیسیوں کے ذریعے اپنی تہذیبی اقدار کو پوری دُنیا اور بالخصوص مسلمانوں میں تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی امداد کی آڑ میں ایسے مطالبات بھی ساتھ ہی رکھ دیے جاتے ہیں جو مسلمانوں کی تہذیبی اقدار اور بالخصوص خاندانی نظام کے مخالف ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے چارٹر کی متعدد دفعات اسلامی عقائد و افکار کے خلاف ہیں۔ آپ نے ضمناً ان کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیہ کر کے انھیں مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق کے خلاف ہونا ثابت کیا ہے۔ اور علماء کو توجہ دلائی ہے کہ اس حساس پہلو پر اپنی علمی تو جہات مرتکز کریں۔

ان خطبات میں مولانا محترم نے اسلام کے خاندانی نظام پر وارد اعتراضات میں سے منتخب اعتراضات کا جواب بہت علمی وقار اور حکمت کے ساتھ دیا ہے۔ فیملی سسٹم کی اسلام میں اہمیت بتلائی ہے، مسلم معاشرے کے نمایاں خصائص اور محاسن بیان کیے ہیں۔ غلامی سے متعلق مغربی حلقوں کی غلط فہمیوں کا تاریخی حوالوں سے ازالہ کیا ہے۔ اسلام میں خاندان کی مرکزیت کو خاتم النبیین ﷺ کے اُسوہ کی روشنی میں پیش کر کے مغربی حلقوں کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مغربی معاشرے اور خاندان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر متوازن تبصرہ کیا ہے۔ اس ذیل میں اُنھوں نے اپنے مشاہدۂ مغرب کی مثالیں بیان کی ہیں۔ اسی تناظر میں مسلم معاشرے و تہذیب کے تحفظ پر بھی حکیمانہ گفتگو فرمائی ہے۔

مولانا کی فکر میں نہ تو مغرب سے مخاصمت نظر آتی ہے اور نہ ہی مغربی اقدار و تصورات سے کسی درجہ کی مرعوبیت دکھائی دیتی ہے۔ آپ مغرب پر نقد کرتے ہوئے بھی ان کے اچھے پہلوؤں، جیسے انسان دوستی اور ڈسپلن وغیرہ کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ آپ ان خطبات میں پورے احترام کے ساتھ مغربی دانشوروں کی فکر کا حوالہ دے کر اس کا عقلی و معاشرتی تجزیہ کرتے ہیں۔ اس نقد و تجزیہ میں ہمیں کہیں بھی مغرب دشمنی نظر نہیں آتی۔ آپ رد عمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہوتے بلکہ آپ کا انداز حکیمانہ اور دعوتی ہوتا ہے۔ تفہیمِ مغرب کا یہ اسلوب ہمارے علمی و مذہبی حلقوں میں اب کم کم پایا جاتا ہے۔ آپ مغرب کے ساتھ مناظرے کی بجائے مکالمے اور بریفنگ (Briefing) کے قائل نظر آتے ہیں۔

دینی افکار و شخصیات کے ساتھ ساتھ دینی مدارس بھی اہلِ مغرب کی مخصوص توجہ اور تنقید کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ بالخصوص برصغیر پاک و ہند بشمول بنگلہ دیش کے دینی مدارس، جو دینی علوم و اخلاق کے ساتھ ساتھ دینی تہذیب و اقدار کے عملی نمونے بھی پیش کرتے ہیں۔ مولانا نے عقلی بنیادوں پر ان مدارس کی اخلاقی و تہذیبی افادیت ثابت کی ہے۔ اہلِ مغرب اپنے سیاسی و معاشی تسلط کے زعم میں اپنے تہذیبی غلبے کو بھی لازمی سمجھتے ہیں۔ ان کی راہ میں دیگر رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ ایک رکاوٹ راسخ العقیدہ مسلمان اور ان کی تہذیبی اقدار ہیں۔

مولانا محترم نے ان خطبات میں مدارسِ دینیہ کی تاریخ اور ان کی عزیمت و قربانی کے متعدد پہلو بیان کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مدارس پر وارد اعتراضات کا حکیمانہ اور تجزیاتی انداز میں جواب بھی دیا ہے۔ آپ نے لبرل و آزاد حلقوں کے الزامات کے ساتھ ساتھ مغربی فکر سے مرعوب کچھ اپنوں کی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا ہے؛ اور ثابت کیا ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں عمدہ اخلاق، حسنِ معاشرت اور اعلیٰ اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے مدارس کا وجود کس قدر ضروری ہے۔ دینی مدارس کی تعلیم و تزکیے میں خدمات بیان کی ہیں؛ اور ساتھ ہی سیاست میں ان مدارس کے اجتماعی کردار (Role) کے مثبت پہلو اجاگر کیے ہیں۔ اس حسنِ تفہیم کے ساتھ ساتھ آپ نے دینی مدارس کو اس فکری کشمکش میں ان کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایا ہے۔ اس ضمن میں اُنھوں نے سوسائٹی اور مذہب کے باہمی تعلق کی ضرورت بتاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ فکری و اخلاقی ارتقا کے لیے اسلام سے پختہ تعلق کی کس قدر ضرورت ہے۔ اس درویش خدا مست کی جہاں بین نگاہ نے اہلِ مدارس کے لیے آئندہ اہداف کی تعیین بھی کر دی ہے۔

جامعہ فتحیہ میں دیے گئے آپ کے یہ خطبات عصری اور دینی دانش کا نمونہ ہیں۔ چونکہ یہ خطبات ہفتہ وار ہوتے تھے اس لیے ان میں ربط اور تسلسل کے لیے بقدر ضرورت تکرار رہی، ایسے مقامات کو مختصراً حذف کیا گیا، جہاں تکرار طویل ہو گئی تو وہاں اوّل بحث کا حوالہ دے دیا ہے۔ ان خطبات میں ہر طبقے کے لوگ شریک ہوتے تھے، اس لیے کئی نکات کو سادہ انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

ہم نے ان خطبات کی ترتیب و تہذیب میں ایک دو مقامات پر آپ کے فکر انگیز اخباری کالموں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ یہ کالم اپنے اختصار اور موضوع سے مناسبت کی بنا پر شامل کرنے ضروری سمجھے گئے۔ عصری دانش اور عدالت میں فروکش شخصیت جناب جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس کی طرف سے اُٹھائے گئے چند اہم سوالات کے جوابات بھی ’’انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام کے عنوان‘‘ سے شامل کیے ہیں۔ یہ سوالات بظاہر تو سوالات ہیں لیکن یہ اصل میں لبرلز حلقوں کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے کمال جامعیت و توازن کے ساتھ قرآن و سنت اور فکرِ اسلامی کی روشنی میں شائستہ علمی لہجے میں ان کے جوابات تحریر فرمائے ہیں۔ یہ اشکالات اب بھی پیدا کیے جا رہے ہیں۔ یہ جوابات بھی بنیادی طور احکام القرآن کی جہت سے ہیں۔ اس تناظر میں ان کا شمول بھی اس مجموعہ خطبات میں ضروری سمجھا گیا۔

حضرت استاذ زادہ صاحب کے خطبات میں وارد آیات و احادیث کی تخریج کی گئی ہے۔ کہیں حوالہ دیا گیا ہے اور کسی جگہ ضرورت سمجھتے ہوئے پوری روایت درج کی ہے۔ دورانِ خطبات جن جملوں کی تکرار ہوئی انھیں حذف کر دیا ہے۔ بسا اوقات دورانِ گفتگو جملوں کی ترتیب میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے، ایسے مقامات کو تحریری انداز میں بدلا گیا ہے۔ بسا اوقات دورانِ گفتگو جملوں کی ترتیب کو تحریر میں بدلنے کے لیے متعدد تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں۔ یہ کام بھی بہت احتیاط سے سرانجام دیا گیا ہے۔ پھر بھی کوشش کی ہے کہ گفتگو کی بے ساختگی برقرار رہے۔ آخر میں مصادر کی فہرست بھی لگا دی ہے۔ جناب محمد شاہد حنیف (MLIS) نے محنت کے ساتھ فنی بنیادوں پر جامع اشاریہ مرتب کر دیا ہے، اس سے متعلقہ موضوع، شخصیت و مقام تک رسائی آسان تر ہو گئی ہے۔ اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ ان خطبات کی پیش کاری (Presentation) میں کوئی فنی کمی نہ رہے۔ پھر بھی احتیاطاً یہ خطبات مولانا راشدی صاحب کے سامنے رکھے گئے۔ آپ نے انھیں بالتفصیل دیکھ کر اپنے قلم سے اصلاح و تصویب فرمائی اور مخلصانہ و محبانہ دعاؤں سے بھی نوازا۔

یہ طالب علم حضرت الاستاذ مولانا سرفراز خان صفدر اور علومِ ولی اللّٰہی کے شناور مولانا عبد الحمید سواتی کا ادنیٰ شاگرد ہے۔ اس عالی خانوادے سے علمی و تربیتی نہج کا فیض پایا ہے۔ شعوری و فکری تعلق کے ساتھ ساتھ اس نسبت سے بھی حضرت استاذ زاده (مولانا راشدی صاحب) سے شعوری محبت، عقیدت اور تعلقِ خاطر ہے۔ اللہ ان کی دانش و حکمت اور اس علمی خانوادہ کے فیضان سے اہلِ علم کو تادیر مستنیر فرمائیں۔

ہم دارالمؤلفین کے رُکن جناب ڈاکٹر ضیاء الحق قمر کے خصوصی طور پر ممنون ہیں، ان کی مشاورت سے کئی مراحل طے ہوئے۔ ان خطبات کی کمپوزنگ، تخریج اور دیگر حوالوں سے ہمیں مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب کا خصوصی تعاون حاصل رہا، اس مجموعۂ خطبات کی ترتیب اور تشکیل میں ان کے مشوروں سے بھی استفادہ جاری رہا، ہم ان کے بھی شکرگزار ہیں۔

برادر گرامی حافظ میاں محمد نعمان صاحب (مہتمم جامعہ فتحیہ) کی علم دوستی کے سبب مولانا راشدی صاحب سے جامعہ میں اہلِ لاہور مستفید ہوئے ہیں۔ مہتمم صاحب اکثر خطبات میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوئے۔ ہمارے ذمے مہتمم صاحب کا اور برادر محترم میاں محمد عفان (ناظم جامعہ فتحیہ) کا شکریہ ازبس لازم ہے۔ ان کی توجہ، حسنِ انتظام اور اہلِ علم سے محبت و اکرام ور مہمان نوازی کے سبب دانش و حکمت کی یہ بزم سجی رہی۔ اور اُن خطبات کی سماعت کے لیے دور دور سے تشنگانِ علم جامعہ فتحیہ تشریف لاتے رہے۔

جامعہ فتحیہ ڈیڑھ صدی کی دینی و تہذیبی روایات کا حامل عظیم علمی مرکز ہے۔ ان خطبات کے سبب جامعہ کی علم پروری کی تاریخ میں ایک روشن اور تابناک باب کا اضافہ ہوا ہے۔ رب تعالیٰ مولانا کی ذاتِ گرامی سے مستفیض فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس سراجِ علم (جامعہ فتحیہ) کی ضوفشانی کو تادیر قائم رکھیں۔


تقدیم

یہ حقیقت ہے کہ جب تک اپنے عہد کی فکری و علمی آگہی نہ ہو تب تک نتیجہ خیز علمی مکالمے کا امکان نہیں رہتا۔ ہمارے جلیل القدر فقہاء نے اپنے عہد کے علمی چیلنجز کو قانونی اور تمدنی میدان میں قبول کر کے ان کا فقہی لٹریچر کی صورت میں شاندار جواب دیا۔ یہ جواب تبھی ممکن ہوا جب انھیں عصری تقاضوں سے کامل آگہی ہوئی۔ اس تناظر میں اہل علم کا یہ قول عصری علمی دانش کا مظہر ہے کہ من لم یعرف بعرف اہل زمانہ فھو جاھل (جو اپنے زمانے کے تقاضوں سے واقف نہ ہو تو وہ حقیقتاً‌ جاہل ہے)۔

ہمارے عہد کی ایک محترم، ذی وقار اور نمایاں علمی شخصیت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی ہے۔ آپ کو اللہ نے ایک طرف دینی روایت سے کامل ہم آہنگی کی بدولت رسوخ فی العلم سے نوازا ہے تو دوسری جانب آپ کی نمایاں خصوصیت عصرِ رواں اور بالخصوص مغربی فکر سے آگہی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کے سبب حضرت راشدی صاحب کی شخصیت میں ایک خاص جامعیت اور توازن آگیا ہے۔

مولانا راشدی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے عہد کے تقاضوں کی جو بصیرت اور ان کا فہم عطا کیا ہے وہ خاصے کی چیز ہے۔ اسی تناظر میں آپ نے ’’احکام القرآن‘‘ کی عصری تطبیق اور توضیح پر فاضلانہ خطبات ارشاد فرمائے اور اُن خطبات میں اپنے عہد کے سوالات کا علمی انداز میں جواب دیا ہے۔ آج کی معاصر دُنیا جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی بدولت اپنے فوائد اور نقصانات سمیت تیز تر ہو گئی ہے۔ ان کے پھیلائے گئے مغالطوں کا ادراک، عالمی قوتوں کی گہری سیاسی چالیں، مذہب بیزاری، اور ترقی پذیر دنیا کے وسائل کا استحصال؛ ایسے مغربی مقاصد کا فہم جب تک نہ ہو تب تک جوابی حکمتِ عملی تیار نہیں کی جا سکتی۔ مولانا نے جامعہ فتحیہ میں دیے گئے ان خطبات میں مغرب کے مقابلے کی حکمتِ عملی کا نقشہ بھی پیش فرمایا اور اُن سے مکالمہ کرنے کے اسلوب کی بھی نشان دہی فرمائی ہے۔

ہمارے ہاں مطالعہ و فہمِ مغرب کا رجحان بہت کمزور ہے۔ ہمارے اکثر حلقے اہلِ مغرب کے متعلق یک طرفہ رائے رکھتے ہیں۔ دورانِ تعلیم مجھے مغرب کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا، اس قیامِ مغرب کے مشاہدے کی روشنی میں جب تجزیہ کرتا ہوں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا فہمِ مغرب کا معیار سطحی ہے۔ ضرورت ہے کہ مغرب کو سیاسی اور تاریخی تناظر کے ساتھ ساتھ سماجی تناظر میں بھی سمجھا جائے۔ جہاں ان کی متعدد خرابیاں اور کمزوریاں ہیں ان کی نشاندہی کر کے تجزیاتی انداز میں اس پر تبصرہ کیا جائے۔ ساتھ ہی اہلِ مغرب کی معاشرتی خوبیوں: پاپندئ وقت اور صفائی و صحت وغیرہ کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا جائے۔

ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب ان شخصیات میں سے ہیں جنھوں نے مغربی ممالک و امریکہ کے کثیر اسفار کیے اور اُن کے اہلِ دانش سے براہِ راست مکالمے کے ذریعے مغرب و امریکہ کو سمجھا ہے۔ اس لیے آپ کے ہاں یک طرفہ رائے اور ردعمل کی نفسیات نہیں ہے بلکہ وہ علمی مسلّمات کے ذریعے مغربی فکر کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ آج کی مذہبی دانش بھی مولانا کی طرح مغرب کو سمجھے تاکہ ہم مغرب و اہلِ مغرب کی پھیلائی گئی غلط فہمیوں سے آگاہ ہو سکیں۔ مولانا راشدی صاحب نے اہلِ مغرب سے معاندانہ انداز کی بجائے مفاہمتی اور باہمی مکالمہ کا اسلوب تجویز کیا ہے اور آج کے حالات میں اسی کی ضرورت ہے۔

مولانا کے یہ ’’خطباتِ فتحیہ‘‘ ہمارے لیے ایک علمی اعزاز ہیں۔ آپ نے رواں سادہ اسلوب میں مُحکم دلائل کے ساتھ اہلِ دین کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ دینی مدارس کے تحفظ اور بقا کے لیے بڑی فراست اور جرأت کے ساتھ اپنا نقطہ نظر رکھا ہے۔ اور اہلِ مدارس کے لیے مستقبل کے راستوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ یقیناً یہ سلسلۂ خطبات اہلِ ذوق کے ہاں حسبِ روایت پذیرائی حاصل کرے گا۔ اور اہلِ علم حضرات اس طرح کے علمی خطبات کی روایت کو آگے بڑھائیں گے۔

میرے تعلیمی ساتھی (Class Fellow) اور جامعہ فتحیہ کے فاضل و خطیب مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سعید عاطف صاحب نے ان خطبات کو بڑے اہتمام سے تحقیقی انداز سے مرتب کیا ہے، وہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ جامعہ فتحیہ کو اپنی روایت کے مطابق اہلِ علم، اربابِ تحقیق اور اصحابِ دانش کا مرکز بنائے؛ اور ہم دینِ متین کو اپنی روایت کی روشنی میں عصری تقاضوں کے مطابق دُنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں۔ رب تعالیٰ اس عہد کے اہلِ علم کو حضور اکرم ﷺ کی سنت کی تعبیر و تشریح اور اس کی عصری تطبیق کی توفیق سے نوازیں۔



حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۲)

بائیبل اور قرآن کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد سعد سلیم

دجال – جھوٹے مسیح کی آمد

دجال، جس کا مطلب "بڑا جھوٹا" ہے، کو "المسیح الدجال" بھی کہا جاتا ہے، جس کا ترجمہ "جھوٹا مسیح" ہے۔ "مسیح" (عبرانی مشیاح سے، جس کا مطلب "مسح کیا گیا" ہے) قدیم اسرائیل میں ان افراد کے لیے استعمال ہوتا تھا جو بادشاہ، نبی یا کاہن کے طور پر خدا کی طرف سے چنے جاتے اور تیل سے مسح کیے جاتے۔ وقت کے ساتھ، مسیح کا تصور محض ایک مسح شدہ فرد سے نجات دہندہ کے تصور میں تبدیل ہوگیا، جو تاریخی جدوجہد، نجات کی امیدوں اور مذہبی تشریحات کا نتیجہ ہے۔

اسی سیاق میں، مسیح الدجال وہ ہستی ہے جو خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتی ہے اور انسانی فطرت میں موجود مصائب و مشکلات سے نجات کی امید سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ نجات کی طلب بذات خود کسی مخصوص مذہبی پہلو کی حامل نہیں ہوتی۔ روایات کے مطابق، اس کی پیشانی پر "کافر" لکھا ہوگا، جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ دجال خدا کا منکر ہوگا، اور نتیجتاً اس کے وعدے کسی الہامی یا مذہبی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔

زمین کے جانور کے برعکس، جو محض طاقت اور جبر کی علامت ہے، دجال انسانی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بعد کے ادوار میں بابلی سلطنت کو انسانی شکل میں پیش کیا گیا۔34 اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دجال محض ایک عسکری قوت پر مبنی سلطنت نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جو گمراہ کن عقائد کے ساتھ لوگوں کو اپنے جھوٹے وعدوں پر یقین دلاتی ہے۔

دجال کی شناخت

دجال کی شناخت کے لیے احادیث میں اس کے ظہور سے قبل پیش آنے والے واقعات اور اس کی نمایاں خصوصیات کو درجِ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

دجال کے ظہور سے پہلے کے واقعات

دجال کی آمد سے پہلے، متعدد احادیث میں مسلمانوں کی تاریخ کے چار اہم واقعات کا ذکر ملتا ہے، جو نہ صرف مسلم و عیسائی کشمکش کے بڑے سنگ میل ہیں، بلکہ امت کی اجتماعی آزمائش کا بھی مظہر ہیں۔ یہ چار واقعات درج ذیل ہیں:

  1. جنگ یرموک — جس میں مسلمانوں نے بازنطینی (رومی) سلطنت کو فیصلہ کن شکست دی۔
  2. پہلی صلیبی جنگ کا معرکۂ انطاکیہ — جو شام کے شمالی علاقے میں پیش آیا اور صلیبی یلغار کا نقطۂ آغاز بنا۔
  3. قسطنطنیہ کی فتح — جس کے ذریعے عثمانی ترکوں نے بازنطینی دارالحکومت پر مسلم پرچم لہرایا۔
  4. پہلی جنگِ عظیم کے بعد عثمانی سلطنت کا زوال — جب خلافت نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اگرچہ ان واقعات کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان میں ایک گہرا ربط موجود ہے۔ پہلے تین واقعات کا تعلق رومی (بازنطینی) سلطنت سے ہے، جبکہ آخری تین واقعات میں ترک مسلمان نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جو اناطولیہ میں آباد ہو کر اسلامی دنیا کا عسکری و سیاسی مرکز بنے۔

رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان بڑی جنگ – جنگ یرموک (636ء)

حدیث35 میں بیان کیا گیا ہے کہ، ایک شدید جنگ شام سے آنے والی فوج سے ہوگی جس میں مسلمان شہادت یا فتح کے عزم کے ساتھ لڑیں گے۔ ابتدائی تین دنوں کی لڑائی میں دونوں فریق سخت نقصان اٹھائیں گے مگر کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہیں نکلے گا۔ چوتھے دن مسلمانوں کا دستہ دشمن کو شکست دے گا۔ جنگ اتنی خوفناک ہوگی کہ فضا میں اڑنے والا پرندہ بھی اس کے اثرات سے بچ نہ سکے گا۔ آخر میں، اتنے زیادہ لوگ قتل کیے جائیں گے کہ جنگ کے بعد گنتی کی جائے گی تو سو میں سے صرف ایک شخص زندہ بچے گا۔

یہ واقعہ حدیث میں نبی کریم ﷺ کی وفات کے جلد ہی بعد پیش آنے والے عظیم الشان معرکہ، جنگِ یرموک، کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو شام کے بازنطینی عیسائیوں کے خلاف لڑی گئی۔ یہ جنگ چھ دنوں تک جاری رہی، جن میں پہلے دن ابتدائی جھڑپیں اور حالات کا جائزہ لینے کی کوششیں ہوئیں، جبکہ پانچویں دن بازنطینوں کی طرف سے جنگ بندی کی پیشکش اور آخری معرکے سے پہلے ازسرِنو صف بندی کی گئی۔ اسی لیے حدیث میں صرف چار دنوں کی شدید لڑائی کا ذکر آیا ہے۔

دوسرے، تیسرے اور چوتھے دن سخت ترین معرکے دیکھنے میں آئے، جن میں جانی نقصان بھی غیر معمولی تھا۔ ان دنوں میں مسلمان افواج کی صفوں کو مجتمع رکھنے اور دشمن کے شدید دباؤ کو روکنے میں برق رفتار گھڑسواروں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں خصوصاً حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل اور اُن کے چار سو جان نثار مجاہدین شامل تھے، جنہوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دشمن پر ٹوٹ پڑنے کی حکمتِ عملی اپنائی—جو حدیث میں مذکور ’شرطۃ الموت‘ یعنی موت کے دستے کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔36

چھٹے دن—جو کہ حقیقی معنوں میں شدید لڑائی کا چوتھا دن تھا—مسلمانوں نے فیصلہ کن حملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علمبرداروں کو شاندار فتح عطا فرمائی، اور بازنطینی افواج مکمل طور پر پاش پاش ہو گئیں۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ میدان جنگ کے اوپر پرندوں کا نہ گزر سکنے کی تفصیل میدانِ جنگ میں تیروں کی بارش اور گرد و غبار کے اٹھنے کو ظاہر کرتا ہے، جو جنگ کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ جنگ تاریخ عالم کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جاتی ہے، جس نے شام میں مسلمانوں کے غلبے کی بنیاد رکھی۔

رومیوں کا دابق یا اعماق میں اترنا اور مسلمانوں سے لڑنا – پہلی صلیبی جنگ کا معرکہ انطاکیہ (1098ء)

حدیث37 میں رومیوں کا دابق یا اعماق میں اترنا، مدینہ سے بہترین سپاہیوں پر مشتمل فوج کا ان کے مقابلے کے لیے آنا، رومیوں کا مسلمانوں کے قبضے سے جنگی قیدیوں کو چھڑانے کا مطالبہ اور ایک تہائی مسلمانوں کا فرار، ایک تہائی کا شہید ہونا اور ایک تہائی مسلمانوں کا کبھی آزمائش میں نہیں ڈالا جانا بیان کیا گیا ہے۔

یہ منظرنامہ تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران واضح طور پر سامنے آیا، جب بازنطینی سلطنت نے سلجوقی ترکوں کے خلاف فوجی مدد کے لیے یورپی عیسائی طاقتوں کو پکارا۔ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد، عیسائیوں کے مقدس مقامات — بالخصوص یروشلم — کو مسلمانوں کے قبضے سے 'آزاد' کرانا تھا۔ احادیث میں صلیبیوں کے اس عزائم کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے گویا ان کے نزدیک یہ مقدس مقامات مسلمانوں کی قید میں تھے، جنہیں وہ ہر قیمت پر بازیاب کرانا چاہتے تھے۔

پہلی صلیبی جنگ میں صلیبیوں نے اناطولیہ میں فتوحات کے بعد شمالی شام کا رخ کیا۔ ان کا پہلا بڑا ہدف انطاکیہ تھا، جو اس خطے کا ایک مرکزی اور کلیدی شہر تھا۔ شمال کی جانب سے انطاکیہ تک پہنچنے کے لیے وہ ماراش کے پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے اعماق38 39 40 میں اترے41، وہی میدان جس کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے۔

انطاکیہ پر صلیبیوں کے قبضے کے بعد، موصل کے اتابک، ترک سپہ سالار كربوغا کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر انطاکیہ کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ یہ فوج مسلمانوں کے مشہور اور تجربہ کار جنگجو گروہوں پر مشتمل تھی۔ مسلم مورخ ابن الاثیر کے مطابق، یہ لشکر پہلے دابق میں پڑاؤ ڈالتا ہے، اور پھر انطاکیہ کی طرف بڑھتا ہے۔42 حدیث میں جس "مدینہ سے نکلنے والی فوج" کا ذکر ہے، وہ دراصل مسلمانوں کی افواج کی علامت ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ منورہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا اور لشکر وہیں سے روانہ ہوا کرتے تھے۔

حدیث کے مطابق مسلمانوں کے تین گروہوں کا ذکر ملتا ہے:

  1. ایک تہائی وہ جو میدانِ جنگ سے فرار اختیار کریں گے: ابن الاثیر بیان کرتے ہیں کہ جنگ کے دوران تقریباً پوری مسلمان فوج میدان چھوڑ کر بھاگ گئی، سوائے ایک چھوٹے سے دستے کے۔43 حدیث کے مطابق یہ فرار کی راہ اختیار کرنے والا گروہ ہے جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔
  2. ایک تہائی وہ جو شہید ہوں گے: ابن الاثیر کے مطابق ایک چھوٹے سے دستے کے مجاہدین، جو سرزمینِ مقدس سے تعلق رکھتے تھے، ثابت قدم رہے اور انہوں نے اللہ کی رضا اور شہادت کی طلب میں لڑائی جاری رکھی۔ صلیبی فوج نے ان میں سے ہزاروں کو شہید کر دیا۔44 یہی وہ لوگ ہیں جنہیں حدیث میں "افضل الشہداء" یعنی "سب سے بہترین شہداء" قرار دیا گیا ہے۔
  3. اور ایک تہائی وہ جنہیں آزمائش میں کبھی ڈالا ہی نہیں جائیگا: یعنی وہ ترک مسلمان جنہوں نے پہلی نو صلیبی جنگیں (1096-1272) ، جو بنیادی طور پر عیسائیوں کے مقدس مقامات کے حصول کے لیے لڑی گئیں، میں حصہ نہیں لیا۔

یہ تقسیم انطاکیہ کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست کی علامت ہے۔

اس جنگ کے اثرات تاریخ پر بہت گہرے رہے، کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد اور عسکری قوت صلیبیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ تاہم، اس غیر متوقع شکست نے صلیبیوں کو مزید حوصلہ دیا، جس کے نتیجے میں وہ 1099 میں یروشلم پر حملہ آور ہوئے اور بالآخر اسے فاطمیوں سے چھیننے میں کامیاب ہو گئے۔

مسلمانوں کا قسطنطنیہ کو فتح کرنا (1453ء)

حدیث45 میں ایک تہائی مسلمانوں کا جیت جانا اور قسطنطنیہ کو فتح کرنا، جنہیں آزمائش میں کبھی نہیں ڈالا گیا، ان ترک مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے پہلی نو صلیبی جنگیں (1096-1272) ، جو بنیادی طور پر عیسائیوں کے مقدس مقامات کے حصول کے لیے لڑی گئیں، کے دوران صلیبی جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔ اس گروہ نے سلطنت عثمانیہ کے تحت 1453 میں قسطنطنیہ کو فتح کر کے مشرقی رومی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔

مسلمانوں کا تلواریں لٹکانا اور دجال کا ظہور – عثمانی سلطنت کا ہتھیار ڈالنا (1918ء) اور سوویت یونین کا قیام (1922ء)

حدیث46 میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکا کر مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جا رہا ہو گا، شیطان پکارے گا: "مسیح تمہارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے!" یہ خبر سن کر مسلمان روانہ ہوں گے، لیکن یہ جھوٹ ہوگا۔ پھر جب وہ شام پہنچیں گے اور جنگ کے لیے صف بندی کر رہے ہوں گے، عین اسی وقت دجال نمودار ہو جائے گا۔

یہاں "تلواریں درختوں سے لٹکانے" سے مراد 1918 میں معاہدۂ مدروس کے تحت عثمانی سلطنت کا ہتھیار ڈالنا ہے، جبکہ "مالِ غنیمت کی تقسیم" درحقیقت فاتح قوتوں—برطانیہ، فرانس، اٹلی اور یونان—کے درمیان عثمانی علاقوں اور وسائل کی تقسیم کی علامتی تعبیر ہے۔

انہی ایّام میں کمیونزم ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرا، اور 1920ء میں آذربائیجان، آرمینیا اور عثمانیوں کے کئی سابقہ علاقوں پر کمیونسٹوں نے قبضہ کر لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے حدیث میں شیطان کی پکار "مسیح تمہارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے!" کے ذریعے علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شیطان کی جانب سے مسیح کے ظہور کا یہ جھوٹا اعلان دراصل اُس کمیونسٹ پروپیگنڈے کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے ذریعے کمیونسٹ ریاست کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا—ایسی ریاست جو عوام کو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصال سے "رہائی" دلانے، اور مزدوروں و کسانوں کے لیے "برابری" اور سوشلسٹ نظام کی شکل میں ایک مثالی معاشرتی خواب کو حقیقت بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں شام عیسائیوں کے زیرِ تسلط تھا، لہٰذا مسلمانوں کا شام پہنچنا علامتی طور پر 1920 میں معاہدۂ سیور کے تحت یورپی عیسائی فاتحین کے عثمانی سلطنت کے علاقوں پر با ضابطہ قبضے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح، احادیث میں بیان کردہ مسلمانوں کی "صف بندی" ترکی میں ایک نئی سیاسی ترتیب کے قیام کی علامت ہے۔ نومبر 1922 میں ترکی کی قومی اسمبلی نے با ضابطہ طور پر عثمانی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کیا، اور اسی دوران، دسمبر 1922 میں، سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا—یہ وہی لمحہ تھا جب روایات کے مطابق دجال کا ظہور ہوا۔

مسلمانوں کے دس گھڑ سوار – ترکی کی قومی تحریک کے دس راہنما

حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمان دجال کی خبر سنیں گے تو وہ ہر چیز چھوڑ کر دس گھڑسواروں کو طلیعہ (پیش رو دستہ) کے طور پر روانہ کریں گے، جو اس دن کے بہترین گھڑ سوار ہوں گے۔47

یہ منظر حضرت عیسیٰ عليه السلام کی کتابِ مکاشفہ میں بیان کردہ گھڑسواروں کی مانند ہے، جہاں گھڑسوار قیادت اور رہنمائی کی علامت کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔48 مذکورہ حدیث میں بھی ان دس گھڑسواروں سے مراد مسلمانوں کے دس راہنما ہیں۔ ان کی تعبیر ترکی کی قومی تحریک کے وہ دس نمایاں سیاسی و عسکری شخصیات ہیں جنہوں نے ابتدا میں کمیونسٹوں اور بعد ازاں مغربی طاقتوں سے کامیاب مذاکرات کیے49۔ حدیث میں ان کو اس دن کے بہترین گھڑ سوار بتایا گیا ہے، جو در حقیقت بطور سفارت کار اور رہنما ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان میں خاص طور پر مصطفیٰ کمال اتاترک، یوسف کمال ٹینگیرشینک، کازم کارابیکر اور بعد میں عصمت انونو جیسے رہنماؤں نے بے مثال سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا اور کمیونسٹوں اور مغربی طاقتوں دونوں سے بہترین معاہدے حاصل کیے۔ 1921 میں ترکی کی قومی تحریک نے کمیونسٹوں کے ساتھ سرحدوں کے تعین اور مالی امداد اور عسکری حمایت پر معاہدے کیے، لیکن تحریک کے رہنماؤں نے ترکی کو کمیونزم کے نظریاتی اثر سے محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔50 بعد ازاں 1923 میں معاہدہ لوزان کے ذریعے مغربی طاقتوں سے مکمل خود مختاری حاصل کی اور عثمانی سلطنت کے برعکس ترکی کو نوآبادیاتی تسلط سے بچایا۔ یہ ایک نادر سفارتی کامیابی تھی، جس میں ترکی نے دونوں عالمی طاقتوں سے فائدہ اٹھایا مگر کسی کا تابع نہیں بنا۔

بنی اسحاق کے ستر ہزار افراد – باکو شہر کے شیعہ مسلمان (1918ء-1920ء)

حدیث51 میں ایک ایسے شہر کا ذکر ملتا ہے جس کی ایک سمت خشکی اور دوسری سمت سمندر ہے۔ بنی اسحاق کے ستر ہزار افراد بغیر اسلحہ کے اس شہر پر حملہ کریں گے، اور’’لا إلہ إلا اللہ واللہ اکبر‘‘ کے تین بار کہنے کے بعد یہ شہر ان کے لیے کھل جائے گا۔ شہر پر قبضے کے بعد وہ مالِ غنیمت اکٹھا اور تقسیم کریں گے، لیکن دجال کے ظہور کی خبر سنتے ہی لوٹ جائیں گے۔

اس حدیث کی تعبیر موجودہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے 15 ستمبر 1918 کے واقعات ہیں۔ یہ شہر بحرِ خزر کے کنارے واقع ہے— ایک طرف خشکی اور دوسری طرف سمندر۔ اس پیشگوئی میں شیعہ مسلمانوں کو علامتی طور پر "بنی اسحاق" سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح بنی اسحاق،52 حضرت ابراہیمؑ کے پیروکار ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک علیحدہ مذہبی شناخت رکھتے تھے، اسی طرح شیعہ مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کے بعد اسلام کے اندر ایک مسلکی امتیاز کے حامل گروہ کے طور پر سامنے آئے۔53 حدیث میں بنی اسحاق کی 'ستر ہزار' کی تعداد کا ذکر دراصل اُس وقت باکو میں موجود شیعہ آبادی کی طرف اشارہ ہے، جو تقریباً ستر ہزار کے قریب تھی۔54

تاریخی طور پر باکو میں 15 ستمبر 1918 کو عیدالاضحیٰ کا دن تھا،55 جب پہلی جنگ عظیم کے دوران عثمانی افواج باکو میں داخل ہوئیں۔56 برطانوی اور آرمینیائی افواج ایک رات قبل ہی باکو کا انخلا کرچکی تھیں،57 جس کے باعث عملی طور پر شہر کا دفاع ختم ہو چکا تھا۔ حدیث میں ذکر کردہ ’’لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کے الفاظ اس دن عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے ایامِ تشریق کی تکبیروں کو ظاہر کرتے ہیں۔ حدیث کے مطابق تین مرتبہ یہ کلمات کہے جانے کے بعد شہر کا "کھل جانا" علامتی طور پر عیدالاضحیٰ کے تیسرے دن، مقامی شیعہ آبادی کی نمائندہ آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کی جلاوطن قیادت کا واپس آنا اور باکو میں 17 ستمبر 1918 کو باقاعدہ اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔58

حدیث میں مذکور ’’مالِ غنیمت‘‘ سے مراد اُس دور میں باکو کے وسیع تیل کے ذخائر ہیں، جن پر آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کی شیعہ مسلمان قیادت کو عارضی طور پر کنٹرول حاصل ہوا۔ اس قیادت نے ان وسائل کو اقتصادی اور سفارتی مقاصد کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، اپریل 1920ء میں جب بالشویک کمیونسٹ افواج نے باکو پر حملے کی دھمکی دی، تو یہ قیادت اپنی مختصر خودمختاری اور حاصل شدہ وسائل چھوڑ کر واپس جلاوطنی میں چلی گئی، جو حدیث میں دجال کے ظاہر ہونے کی خبر59 سن کر واپس پلٹنے کی تعبیر ہے ۔

دجال سے پہلے عرب، فارس اور روم پر فتح

دجال سے پہلے تاریخی واقعات کو ایک اور حدیث میں اکٹھا بیان کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عرب، پھر فارس، پھر روم، اور آخر میں دجال پر فتح کی پیش گوئی فرمائی۔60

یہ تاریخی واقعات سے مطابقت رکھتی ہے: مسلمانوں کے ہاتھوں عرب کی مکمل فتح 633ء میں، فارس کی فتح 651ء میں، بازنطینی (رومی) سلطنت کا خاتمہ 1453ء میں، اور افغانستان میں سوویت افواج کی شکست، جس کے بعد 1991ء میں سوویت یونین کا انہدام ہوا۔

پیشانی پر "کافر" کا نشان – سوویت یونین کا الحاد اور مذہب دشمنی کا اعلانیہ اظہار

جیسے کتابِ مکاشفہ میں "سمندر کے جانور" — جو رومی سلطنت کی علامت تھا — کے سروں پر گستاخانہ الفاظ تحریر تھے،61 ویسے ہی دجال کے ماتھے پر "کافر" لکھا ہوگا،62 جسے ہر مسلمان، خواہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، باآسانی پہچان سکے گا۔63

پیشانی انسانی جسم کا سب سے نمایاں حصہ ہے، جو کھلی اور ناقابلِ انکار شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دجال کی پیشانی پر "کافر" لکھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی پہچان اور کفر پوشیدہ نہیں بلکہ اعلانیہ ہوگا۔ اسی طرح، سوویت یونین نے بھی مذہب سے انکار کو چھپایا نہیں، بلکہ اسے ایک نظریاتی فخر کے طور پر اپنایا۔ سوویت یونین انسانی تاریخ میں واحد ریاست کے طور پر سامنے آتی ہے جس کی سرکاری نظریاتی پالیسی نے تمام موجودہ مذاہب کے خاتمے، مستقبل میں مذہبی عقائد کے فروغ کی روک تھام، اور طویل المدتی مقصد کے طور پر ریاستی الحاد کے قیام کی باقاعدہ کوشش کی۔64 65 ریاستی سطح پر سائنسی دہریت کو فروغ دیا گیا، اور مذہب کو ایک پسماندہ، غیر سائنسی عقیدہ قرار دے کر اس کے مکمل خاتمے کو ایک سرکاری ہدف بنایا گیا۔ اس نظریے کا عملی مظاہرہ نہ صرف مذہبی اداروں کی بندش، بلکہ خاص طور پر ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں پر ریاستی جبر اور دباؤ کی صورت میں بھی ہوا۔

کوئی ہمیں نجات نہیں دے گا
نہ خدا، نہ زار، نہ کوئی ہیرو
ہم اپنی آزادی جیتیں گے
اپنے ہی ہاتھوں سے
(انٹرنیشنل کے اشعار (جو 1922 سے 1944 تک سابقہ سوویت یونین کے قومی ترانے کا حصہ تھے)، جو کمیونزم کے الحادی اور مذہب مخالف نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔)

دجال کی ایک آنکھ اور گھنگریالے بال ہونا – سوویت نظام کی عملی و نظریاتی خامیاں

حدیث میں دجال کا ایک آنکھ سے اندھا ہونا کمیونزم کے محدود نقطہ نظر کی علامت ہے، جو صرف ایک بے طبقہ اور بے ریاست معاشرے کے تصور پر مرکوز ہے۔66 یہ نظریہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ انسانی باہمی انحصار کو نظر انداز کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کمیونزم کی ناکامیاں اور اس کے نفاذ کے دوران ہونے والے تباہ کن نقصانات نمایاں ہوئے۔ اسی طرح، دجال کے گھنگریالے بال اس کے بدصورت اور بے ڈھنگے پن کی نشانی ہیں، جو بند اور کنٹرول شدہ معاشروں، طاقت کے ذریعے مسلط کردہ مساوات، آزادی اظہار کی عدم موجودگی، اور سماجی و سیاسی جبر کی شکل میں سامنے آئیں۔ یوں، دجال کا یہ ظاہری بگاڑ کمیونزم کے نظریاتی اور عملی تضادات کی علامت بن جاتا ہے، جو ایک مثالی سماج کے بجائے ظلم، دباؤ، اور استبداد کی راہ ہموار کرتا ہے۔

دجال بطور جھوٹا مسیح – سوویت نظام کی طرف سے انسانیت کے مسائل کے حل کا دعویٰ

کمیونزم نے مساوات اور انصاف کا جھوٹا وعدہ کیا، لیکن عملاً ایک سخت گیر، جابرانہ اور غیر انسانی نظام قائم کیا۔ یہ نظام دجال کے "جھوٹے مسیح" ہونے کی علامتوں سے مماثلت رکھتا ہے—ایسا مسیحا جو انسانوں کو نجات کا جھوٹا خواب دکھاتا ہے، مگر انہیں ایک نئے ظلم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سوویت ریاست نے غربت، طبقاتی ناانصافی، اور سرمایہ داری کے خلاف حقیقی عوامی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے سوشلسٹ جنت کا فریب پھیلایا۔ اس فریب کے نتیجے میں پرتشدد انقلابات، جبری اجتماعی زراعت، طبقاتی تطہیر، اور مذہب و آزادی اظہار پر بے مثال پابندیاں مسلط کی گئیں۔ سوویت پالیسیوں کا مجموعی اثر یہ تھا کہ انسان کو خدا سے کاٹ کر ریاست کی اطاعت پر مجبور کیا گیا، جو دجالی فتنہ کی عملی شکل تھی۔

دجال کی جنت اور دوزخ – سوویت نظام کے وعدوں اور حقیقت میں تضاد

حدیث میں بیان ہوا ہے کہ دجال جنت کی طرف وہ بلائے گا، درحقیقت جہنم ہوگی؛ اور دجال کی آگ یا جہنم ٹھنڈی اور میٹھے پانی کی مانند ہوگی، اس لیے انسان کو وہی چننا چاہیے۔67

کمیونسٹ نظام نے بھی زمین پر جنت، برابری اور انصاف کا وعدہ کیا تھا۔ مگر عملی طور پر یہ وعدہ ایک خوفناک دھوکہ ثابت ہوا۔ سرمایہ داری کو استحصال کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، لیکن خود کمیونسٹ ریاستیں جبر، قحط اور ظلم کی بدترین مثال بن گئیں۔ سوویت یونین میں جبری مزدوری، گولاگ کیمپوں، اور سیاسی تطہیر کے نتیجے میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بنے۔ چین میں " آگے کی جانب ایک عظیم پھلانگ" کے دوران 1958 سے 1962 تک، ریاستی پالیسیوں کے باعث اندازاً ڈیڑھ سے ساڑھے پانچ کروڑ افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔

اس کے برعکس، اسی دور میں سرمایہ دارانہ معاشروں نے معاشی ترقی، سائنسی ایجادات، اور فرد کی آزادی میں نمایاں پیش رفت کی۔ یہ تضاد اس حدیث کی علامتی سچائی کو واضح کرتا ہے—دجال کی پیش کردہ جنت دراصل تباہی کا راستہ تھی، جب کہ اس کے مخالف سمت میں نجات کی حقیقی راہیں پوشیدہ تھیں۔

دجال بطور جھوٹا نبی – سوویت نظام کی طرف سے انسانیت کی رہنمائی کا دعویٰ

دجال کو جھوٹا نبی68 کہا گیا ہے کیونکہ وہ جھوٹے طور پر اقتدار، اخلاقی برتری، اور انسانیت کی رہنمائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایک حقیقی نبی جو الٰہی ہدایت فراہم کرتا ہے، کے برعکس، دجال شیطان کا نمائندہ ہے—بالکل کتاب مکاشفہ کے "جھوٹے نبی" کی مانند، جو شیطان کی آواز میں بولتا ہے۔69 سوویت نظام نے دہریت کو ریاستی پالیسی کا درجہ دیا، اور مذہب کو ’عوام کے لیے افیون‘ قرار دے کر سرکاری طور پر مساجد، گرجا گھروں، اور مذہبی اداروں کو بند کرایا۔ اس نظام نے الحاد اور مادہ پرستی کو فروغ دیا، جو خدا کے انکار اور اخلاقی اقدار کی بے توقیری پر مبنی تھا۔

دجال کا دورانیہ (1917ء–1991ء)

احادیث کے مطابق، دجال کا دورانیہ 40 دن ہوگا، ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر، اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا اور بقیہ دن عام دنوں کی طرح۔70

بالکل اسی طرح جیسے کتاب دانیال71 اور کتاب مکاشفہ72 میں پیشگوئیوں میں ریاضی کی پہیلیاں پیش کی گئی ہیں، یہ بھی ایک ریاضی کی پہیلی ہے۔ اس پہیلی میں "دن" ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر الٹا پڑھا جائے تو پہلا دور ایک ہفتہ، یعنی 7 دن کا، دوسرا دور ایک مہینہ، یعنی 30 دن کا، اور باقی 38 (کل 40 دنوں میں سے) عام دنوں کی طرح، یعنی یہ 38 ادوار کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ "ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا" کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن حقیقی وقت میں ایک سال کے مساوی ہے۔

یہ ادوار—7 سال، 30 سال، اور 38 سال—دجال کے اثرات کے مختلف مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں:

دجال کی تعداد – 30 کمیونسٹ ریاستیں

حدیث کے مطابق، تقریباً تیس دجال ہوں گے، جو نبی ہونے کا دعوی کریں گے۔78

یہ تعداد تقریباً دنیا میں ماضی کی تیس کمیونسٹ ممالک سے مطابقت رکھتی ہے۔ جھوٹے نبیوں کی طرح، کمیونسٹ حکومتوں نے خود کو مطلق سچائی کا علمبردار بنا کر پیش کیا، اپنے نظریے کو انسانیت کے لیے واحد روشنی قرار دیا، اور طاقت کے ذریعے اطاعت مسلط کی۔

اس تناظر میں سوویت یونین کو مرکزی دجال سمجھا گیا ہے۔ کچھ کمیونسٹ ریاستیں مختصر مدت کے لیے قائم رہیں اور بعد میں سابق سوویت یونین میں ضم ہو گئیں، جبکہ بعض میں مخلوط نظام پایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے حدیث میں "تقریباً" کا ذکر کیا گیا۔ ان ریاستوں میں سے تمام یا تو تحلیل ہو چکی ہیں یا اصلاحات کے ذریعے اپنے نظریات بدل چکی ہیں۔79

شکل 2: یہ تاریخ میں تمام ریاستوں کا نقشہ ہے جن پر کمیونزم کا اثر رہا ہے (’سرخ‘ رنگ میں دکھائے گئے ممالک وہ ہیں جو یک جماعتی نظام کے ساتھ رسمی کمیونسٹ ریاستیں تھیں؛ دیگر رنگ ان ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں اثر موجود تھا لیکن کثیر الجماعتی نظام قائم رہا)۔ یہ نقشہ دنیا بھر میں کمیونزم کی پہنچ کو ظاہر کرتا ہے۔80

دجال کا دنیا کا سفر

حدیث81 میں دجال کے دنیا کے سفر کو ہوا سے اُڑائی گئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اس کی تیز رفتاری اور عالمی اثرات کی علامت ہے۔ اسی طرح کمیونزم بھی دنیا کے ہر براعظم میں پھیلا، مگر آخرکار بارش کی طرح تھم کر ختم ہو گیا۔

دجال کی آزمائش سے بڑی کوئی آزمائش نہیں ہوگی

حدیث82 میں دجال کی آزمائش کو سب سے بڑی آزمائش کہا گیا ہے۔ اپنے عروج کے وقت دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کمیونسٹ حکومتوں کے زیر اثر تھی۔83 یہ انسانی تاریخ میں مذہبی جبر اور آزادیوں کی خلاف ورزی کے وسیع ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس نے اربوں افراد کو متاثر کیا۔

مسلمان دجال کی آزمائشوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں پناہ لیں گے

احادیث84 85 ایک ایسے وقت کا ذکر کرتی ہے جب مسلمان شدید فتنوں، بشمول دجال کے ظہور، کے دوران اپنے دین کی حفاظت کے لیے پہاڑوں اور وادیوں جیسے دور دراز مقامات کی طرف ہجرت کریں گے۔ تاریخی طور پر، ایسے افراد جنہوں نے اپنے مذہبی عقائد کو محفوظ رکھنے کے لیے پناہ لی، ان میں اباکان کے پہاڑوں جیسے علاقوں کے لوگ شامل ہیں86۔

دجال سے حفاظت کے لیے سورہ کہف کی تلاوت

احادیث87 میں سورہ کہف کی تلاوت کی خاص تاکید کی گئی ہے، جو دجال کے فتنے جیسے عظیم امتحانات کے دوران مؤمنوں کے ایمان، عزم اور بصیرت کو تقویت بخشتی ہے۔ یہ ہدایت اس واقعے سے مماثلت رکھتی ہے جو "اصحابِ کہف" کے بارے میں بیان ہوا—جنہوں نے مذہبی جبر اور آزمائش کے دور میں حق پر قائم رہنے کے لیے ہجرت کی اور اللہ کی پناہ میں جا بسے۔

دجال کے واقعات

مندجہ ذیل واقعات حدیث میں تاریخی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں:

دجال کے ستر ہزار اصفہان کے یہودی پیروکار – ولنا کے یہودیوں میں سوشلسٹ رجحانات (بیسویں صدی کے اوائل میں)

رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق دجال کے پیروکاروں میں اصفہان کے ستر ہزار یہودی شامل ہوں گے جنہوں نے چادریں (طیالسہ) لی ہوں گے۔88

اصفہان رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہودیوں کا ایک معروف علمی و مذہبی مرکز تھا، جہاں کی یہودی برادری تلمودی علم، فقہی بصیرت اور مذہبی قیادت کے حوالے سے خاصی بااثر سمجھی جاتی تھی۔ اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز میں اصفہان میں یہودی کمیونٹی موجود تھی، لیکن وہ علمی و فکری لحاظ سے اس حیثیت کی حامل نہ تھی جس کے لیے وہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں معروف تھی۔ اسی طرح کی ایک فکری روایت ہمیں بیسویں صدی کے اوائل میں ولنا (ولنیئس) میں بھی نظر آتی ہے، جسے "شمال کا یروشلم" کہا جاتا تھا۔ یہاں کی یہودی برادری مدارس، کتب خانوں، اور فکری مجالس کے مضبوط نظام کے ذریعے علم و ثقافت کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ ساتویں صدی کے اصفہان کے یہودی اور بیسویں صدی کے اوائل میں ولنا کے یہودی، اگرچہ مختلف ادوار اور ماحول سے تعلق رکھتے تھے، مگر ایک ملتی جلتی روایت — یعنی علم و دانش، مذہبی قیادت اور فکری سرگرمی — میں شریک نظر آتے ہیں۔ ان دونوں ادوار و مقامات میں مذہبی اور ثقافتی شناخت کے اظہار کا ایک خاص اسلوب تھا — اصفہان میں چادر کی صورت میں، تو ولنا میں یدیش زبان و ادب کی روایت کے طور پر۔ حدیث میں مذکور "چادر" ایسی ہی روایات کا علامتی حوالہ ہے، جو ان کی تہذیبی و دینی وابستگی کی نمائندگی کرتی ہے۔

حدیث میں مذکور "ستر ہزار" کا عدد ولنا میں بیسویں صدی کے آغاز میں موجود یہودی آبادی کی طرف اشارہ ہے، جو 1897ء میں 63,000 تھی اور 1901ء میں بڑھ کر 76,000 ہو گئی۔ اسی دور میں ولنا کی یہودی برادری انقلابی تحریکوں، بالخصوص سوشلسٹ اور مارکسی نظریات میں بھرپور طور پر متحرک تھی۔ خاص طور پر 1897ء میں "جنرل یہودی مزدور پارٹی" کا ولنا میں قیام اور 1905ء کے ناکام روسی انقلاب میں ان کی شرکت قابلِ ذکر ہے، جہاں ولنا کے یہودیوں نے واضح طور پر ایک سوشلسٹ ایجنڈے کے تحت انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔89

مشرق کی سمت سے آنا اور شام اور عراق کے درمیان ظاہر ہونا – سوویت یونین کا مغرب کے مقابل نئی عالمی طاقت کے طور پر ظہور (1922ء)

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں شام اور عراق کے درمیان کا خطہ بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں کے درمیان ایک متنازعہ سرحدی علاقہ تھا، جہاں کسی ایک طاقت کو مستقل اور بلامزاحمت غلبہ حاصل نہ تھا۔ احادیث90 میں دجال کے اسی علاقے میں ظاہر ہونے کا ذکر، دو اہم علامتی مفاہیم رکھتا ہے: اول، یہ کہ دجال کسی موجودہ طاقت کا تسلسل نہیں ہوگا بلکہ ایک نئی اور خودمختار قوت کے طور پر اُبھرے گا؛ دوم، یہ کہ اس کا ظہور مدینہ کے مشرق کی جانب سے ہوگا۔

تاریخی طور پر، سوویت یونین کا بیشتر حصہ مدینہ کے مشرق میں واقع تھا، اور جب یہ 1922ء میں وجود میں آیا، تو دنیا بھر میں اسے مشرق سے اُبھرنے والی ایک نئی طاقت کے طور پر دیکھا گیا — نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے بلکہ نظریاتی اعتبار سے بھی۔ کمیونزم، سرمایہ دارانہ مغربی دنیا کے مقابل ایک انقلابی نظام کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے مذہب، معاشرت اور سیاست میں ایک نئی جہت متعارف کروائی۔ اس لحاظ سے، دجال کے مشرق سے ظہور کی علامت اور سوویت یونین کا قیام ایک گہری معنوی مماثلت رکھتے ہیں۔

دجال کا رزق دینا اور لوگوں کا ایمان لانا – سوویت یونین کی مصنوعی خوشحالی اور پروپیگنڈا (1928ء–1932ء)

حدیث91 کے مطابق، دجال لوگوں کو بلائے گا، اور وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ دجال حکم دے گا، آسمان بارش برسائے گا، اور زمین فصلیں اگائے گی اور جانور دودھ سے بھرے ہوں گے۔

یہ منظر سوویت یونین کے ابتدائی دور، خاص طور پر پہلے پانچ سالہ منصوبے (1928–1932)92 کے دوران، علامتی طور پر دجال کے فریب کی عکاسی کرتا ہے—لوگوں نے اس نظام کو مذہبی عقیدے جیسی یقین دہانی کے ساتھ قبول کیا، اور ریاست نے بظاہر معجزاتی نتائج دیے: گونجتے کارخانے، بھرپور فصلیں، اور خوشحالی کا ایک مصنوعی تاثر۔ "اسٹاخانوف تحریک"93 جیسے اقدامات میں مزدوروں کو ناقابلِ یقین اہداف سے بھی آگے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ کمیونزم فطرت کو قابو میں لا سکتا ہے اور لامحدود ترقی لا سکتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے دجال بارش اور مال و دولت لا کر لوگوں کو متاثر کرے گا۔

لوگوں کا دجال کی دعوت کو رد کرنا، اور دجال کا ان کو قحط اور مفلسی میں مبتلا کرنا –ہولودومور قحط (1932ء–1933ء)

حدیث94 کے مطابق، دجال ان لوگوں کے پاس جائے گا جو اس کی دعوت کو رد کریں گے، اور وہ قحط، بھوک اور مال و دولت کے نقصان کا شکار ہوں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس کوئی مال و دولت باقی نہیں رہے گا۔

یہ منظر یوکرین کے کسانوں سے مشابہت رکھتا ہے جنہوں نے کمیونسٹ اجتماعی زراعت کی مخالفت کی۔ ریاست نے خوراک ضبط کر لی، رسد بند کر دی، اور مزاحمت کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں ہولودومور (1932–1933) جیسا انسان ساختہ قحط پیدا ہوا۔ قدرتی قحط نہ ہونے کے باوجود، پالیسیوں نے کھیتوں کو ویران، مویشیوں کو ہلاک، اور عوام کو بھوک کا شکار کر دیا۔ جیسے دجال انکار کرنے والوں کو تباہی میں چھوڑ دیتا ہے، ویسے ہی ریاست نے ان لوگوں کو مکمل بربادی میں چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں پینتیس سے پچاس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔95

دجال کا ویران زمین سے خزانے کو نکالنا – سوویت یونین کا دور دراز علاقوں سے معدنیات کو نکالنا (1933ء کے بعد)

حدیث96 کے مطابق، دجال ایک ویران زمین سے گزرے گا اور کہے گا: "اپنے خزانے نکالو"، تو زمین کے خزانے نکل کر مکھیوں کے جھرمٹ کی طرح اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔

یہ منظر اس دور سے مشابہ ہے جب سوویت یونین نے نظریاتی گرفت مضبوط کرنے کے بعد سائبریا، وسطی ایشیا اور یورال جیسے دور افتادہ اور ویران علاقوں کا رخ کیا، اور وہاں سے قدرتی وسائل نکالنے کا وسیع عمل شروع ہوا۔ خصوصاً دوسرے پانچ سالہ منصوبے (1933–1937) کے دوران، سونا، کوئلہ، تیل اور دیگر معدنیات جبری مشقت اور ریاستی صنعت کاری کے ذریعے حاصل کی گئیں، اور ان قیمتی وسائل کو یوں مرکز میں جمع کیا گیا جیسے دجال کے ایک حکم پر خزانے زمین سے نکل کر اس کے گرد سمٹ آئے ہوں۔ یہ عمل صرف ایک منصوبے تک محدود نہ رہا، بلکہ بعد کے سالوں میں بھی سوویت معیشت کا مرکز و محور یہی وسائل رہے۔

دجال کا مدینہ کے باہر قیام – مسلم دنیا میں سوویت اثر و رسوخ کی ناکامیاں (بیسویں صدی کا دوسرا حصہ)

حدیث میں ذکر ہے کہ دجال مدینہ کے قریب قیام کرے گا لیکن مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔ پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف موڑ دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا97۔

"مدینہ" یہاں صرف ایک شہر نہیں بلکہ پوری مسلم امت کی نمائندگی کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں مدینہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا۔ دوسری جانب، شام اس وقت بازنطینی عیسائیوں کا علاقہ تھا، جو عیسائی دنیا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس حدیث کو علامتی طور پر سویت یونین کے مسلم دنیا میں اپنے قدم جمانے میں ناکامی کے بعد اپنے اختتام سے پہلے عیسائی دنیا کی طرف رخ کرنے کے طور پر تعبیر کیا گیا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویت یونین ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا اور دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلایا، جس میں مسلمانوں کو سوویت بلاک میں شامل کرنے اور کمیونزم اختیار کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ تاہم، سوویت حکومت کا دہریہ نظریہ مسلم دنیا کے قدامت پسند اور گہرے مذہبی ماحول سے شدید طور پر متصادم تھا۔ یہی نظریاتی اختلاف مسلمانوں کی دنیا میں کمیونزم کی قبولیت اور اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کا باعث بنا۔—اور یوں، دجال مدینہ میں داخل نہ ہو سکا۔

مدینہ میں تین جھٹکے – امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی سیاسی و فکری بحران

حدیث 98 کے مطابق مدینہ تین بار لرزے گا، جس کے بعد ہر منافق اور کافر مدینہ سے باہر نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا۔ اس کی تشریح غالباً درج ذیل میں بیان تین تاریخی واقعات ہیں:

1948 میں اسرائیل کا قیام اور نکبہ– 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد لاکھوں فلسطینی بے دخل کر دیے گئے، جسے نکبہ (یعنی تباہی) کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں دیہات تباہ ہوئے اور فلسطینی پناہ گزین بن گئے۔ مسلم دنیا نے اسے مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے ہونے والا بڑا ظلم سمجھا۔ اس سانحے نے عرب معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا اور کئی نوجوانوں اور دانشوروں کو کمیونسٹ تحریکوں کی طرف راغب کیا، تاکہ مزاحمت کی راہ اپنائی جا سکے۔

1956 کا سویز بحران – جب 1956 میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے سویز نہر پر حملہ کیا، تو مصر نے اس جارحیت کے خلاف سوویت یونین سے سفارتی اور سیاسی مدد حاصل کی۔ یہ پہلا بڑا موقع تھا جب کسی عرب ریاست نے کھلے عام سوویت طاقت پر انحصار کیا۔ اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ میں بائیں بازو کے نظریات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں عراق اور شام میں بعث پارٹی جیسے قوم پرست اور سوشلسٹ گروہ اقتدار میں آئے، جبکہ جنوبی یمن میں ایک باقاعدہ کمیونسٹ ریاست قائم ہوئی۔

1967 کی چھ روزہ جنگ – 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کی فتح نے عرب قوم پرستی کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے نتیجے میں بائیں بازو کے نظریات کی ایک نئی لہر اُٹھی۔ اس کے اثرات سے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں میں مارکسی دھڑوں کا ظہور ہوا، جن میں پی ایل ایف پی (پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین) نمایاں تھا، جس نے کھلے عام سوویت حمایت یافتہ انقلابی راستے کو اپنایا۔

بنی تمیم کی دجال کے خلاف مزاحمت – آلِ شیخ اور کمیونزم

رسول اللہ ﷺ نے بنی تمیم قبیلے کے دجال کے خلاف ثابت قدم رہنے کی پیشگوئی فرمائی۔99 یہ قبیلہ، جو تاریخی طور پر سعودی عرب، عراق اور خلیجی ریاستوں میں آباد ہے، بعد ازاں کمیونزم کے خلاف فکری و سماجی مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آیا۔ بنی تمیم نے اسلامی روایات، عقائد اور قبائلی اقدار کو فروغ دے کر کمیونزم کے مادّی اور لادینی نظریات کو رد کیا۔ اس پیشگوئی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آلِ شیخ—جو شیخ محمد بن عبد الوہاب کی نسل سے ہیں—اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔100 سعودی عرب میں آلِ شیخ کے فکری اثر کے تحت کمیونزم کو نہ صرف لادین بلکہ اسلام کے صریح مخالف تصور کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین سے کسی بھی قسم کا اتحاد عقیدے کے منافی اور ناقابل قبول سمجھا گیا۔

دجال کا ایک مسلمان کو قتل اور زندہ کرنا اور دوبارہ قتل نہ کر پانا – سوویت یونین اور افغانستان (1977ء –1992ء)

حدیث 101 میں بیان ہوا ہے کہ ایک مسلمان جو مدینہ سے نکلے گا، اسے دجال کے پاس لے جایا جائے گا، جہاں دجال اسے قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا، لیکن دجال اس شخص کو دوبارہ قتل کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔ ایک اور حدیث102 اس واقعے کی تفصیلات کو بیان کرتی ہے کہ دجال ظاہر ہوگا اور ایک مومن اس کا سامنا کرے گا۔ دجال کے فوجی اسے روک کر اس کی نیت کے بارے میں سوال کریں گے۔ جب وہ دجال کو اپنا رب ماننے سے انکار کرے گا، تو وہ کہیں گے: "اسے قتل کر دو۔" مگر ان میں سے کچھ کہیں گے: "کیا تمہارے آقا (دجال) نے بغیر اس کی اجازت کے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟" پھر وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ مومن اسے پہچان کر پکار اٹھے گا: "یہی دجال ہے!" دجال اس کے قتل کا حکم دے گا، اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جائے گا، پھر دجال اسے زندہ کر دے گا۔ لیکن مومن دوبارہ دجال کو جھٹلائے گا اور اس کے فریب کو ظاہر کرے گا۔ دجال جب اسے دوبارہ قتل نہ کر سکے گا، تو اسے اٹھا کر پھینک دے گا، ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ جہنم میں جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ وہ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم شہید ہوگا۔

یہاں "مدینہ" صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پوری مسلم امت کی نمائندگی کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں مدینہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا۔ "مومن" افغانستان کی علامت ہے، جبکہ "دجال" سوویت یونین کی، اور دجال کے فوجی افغانستان میں موجود کمیونسٹ دھڑوں (پرچم اور خلق) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ "قتل اور زندہ کرنا" کمیونسٹ انقلابات کی علامت ہے، جنہوں نے پرانے حکومتی اور سماجی ڈھانچوں کو ختم کرکے نئے نظام قائم کیے۔ "زندہ کرنا" ایک نئے کمیونسٹ نظام کے تحت سماجی تنظیم نو کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اکثر انسانی مصائب کی بھاری قیمت پر مکمل ہوا۔ یہ حدیث افغانستان میں کمیونسٹ دھڑوں کے اقتدار، سوویت مداخلت، اور اس کے خلاف مزاحمت کی ایک علامتی تعبیر کے طور پر سمجھی جا سکتی ہے:

  1. مومن کا دجال کو رب نہ ماننا- 1977 میں کمیونسٹ دھڑے کی بے دخلی: 1970 کی دہائی میں، افغان حکومت میں کمیونسٹ جماعت کا دھڑا "پرچم" شامل تھا۔ تاہم، 1977 میں صدر محمد داؤد خان نے کمیونسٹوں کی بغاوت کی منصوبہ بندی کا پتہ لگا کر انہیں حکومت سے بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ حدیث میں دجال کے محافظوں کا سوال کرنا اور مومن کے دجال کو اپنا رب ماننے سے انکار کے مترادف ہے۔
  2. دجال کے فوجی کا مومن کو قتل کرنے کی کوشش کرنا- 1978 میں خلق کا انقلاب اور ظلم و جبر: 1978 میں ثور انقلاب کے ذریعے خلق دھڑے نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کر لیا، جس میں صدر داؤد خان کو قتل کر دیا گیا۔ یہ حدیث میں دجال کے فوجی کے مومن کو قتل کرنے کی کوشش کی تعبیر ہے- یہ سوویت یونین کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ وہ غیر متوقع انقلابات سے عدم استحکام سے بچنا چاہتا تھا۔ سوویت یونین کی یہ پالیسی حدیث کی اس بات سے مطابقت رکھتی ہے کہ "کیا تمہارے آقا (دجال) نے بغیر اس کی اجازت کے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا"۔
  3. دجال کا مومن کو قتل اور زندہ کرنا- 1979 میں سوویت مداخلت اور خلق کا صفایا: 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر کے خلق کے حکمران حافظ اللہ امین کو قتل کیا اور پرچم دھڑے کو اقتدار میں بٹھایا۔ یہ تبدیلی آپریشن اسٹورم-333 کے ذریعے ممکن ہوئی، جس میں سوویت فورسز نے خلق قیادت کو قتل کیا، مزاحمت کو کچلا، اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی۔ یہ حدیث میں مومن کے اوپر تشدد اور قتل اور دوبارہ زندہ ہونے سے مماثلت رکھتا ہے، کیونکہ خلق دھڑے کو تشدد سے ہٹایا گیا اور پرچم دھڑا مسلط کر دیا گیا۔ اگرچہ ماضی میں خلق دھڑا کمیونسٹ نظریات کا حامی تھا، لیکن سوویت یونین کے طرزِ عمل نے اس کے کئی رہنماؤں کو بدظن کر دیا، جس کا خمیازہ انہیں بھاری نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

دجال کا مومن کو دوبارہ قتل نہ کر پانا- مجاہدین کی مزاحمت اور سوویت ناکامی : سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی، مگر مجاہدین کی مزاحمت بڑھتی ہی چلی گئی۔ حدیث میں مومن کی گردن کا تانبے میں بدل جانا، جس کی وجہ سے اسے دوبارہ قتل کرنا ممکن نہ رہا، سوویت فوجی کارروائیوں کی شدت اور ناکامی کا اشارہ دیتا ہے۔ 1989 میں سوویت فوجوں کا انخلا حدیث میں دجال کے مومن کو دور پھینکنے کے مترادف ہے۔

مومن کی شہادت- 1992 میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد شدید خانہ جنگی: 1992 میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ اور شدید خانہ جنگی حدیث میں مومن کی شہادت کے مترادف ہے۔ اسی طرح، مومن کا جنت میں داخل ہونا ان مجاہدین کی خلوص نیتی کو ظاہر کرتا ہے، جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ کو الحاد اور ظلم کے خلاف جہاد سمجھا۔

تعبیر سے متعلق سوالات

حضرت تمیم داریؓ کا دجال سے ملنا

ایک حدیث103 کے مطابق حضرت تمیم داریؓ نے نبی کریم ﷺ کو ایک واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ سمندر کے سفر پر نکلے اور ایک طوفان کے باعث ایک جزیرے پر جا پہنچے۔ وہاں انہوں نے ایک عجیب و غریب مخلوق "الجساسہ" دیکھی، جس نے انہیں ایک غار میں لے جاکر ایک آدمی سے ملوایا۔ وہ آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اس نے ان سے کئی سوالات کیے اور پھر اپنے بارے میں بتایا کہ وہ "المسیح الدجال" ہے اور اس کے نکلنے کا وقت قریب ہے۔ جب حضرت تمیم داریؓ نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ "یہ واقعہ میرے اس بیان کے مطابق ہے جو میں تمہیں پہلے دجال کے بارے میں بتاتا رہا ہوں۔"

حضرت تمیم داریؓ کی یہ حدیث ایک رویا معلوم ہوتی ہے، نہ کہ دجال کے ساتھ حقیقی جسمانی ملاقات۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں:

ابن صیّاد کا دجال ہونا

کچھ احادیث106 میں ابن صیاد، جو مدینہ کے نواح میں رہنے والا ایک لڑکا تھا، کے دجال ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے، لیکن ایک واضح حدیث107 میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر دجال میرے ہوتے نکلے تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا۔" یہ بات واضح کرتی ہے کہ چونکہ ابن صیاد نبی ﷺ کے زمانے میں موجود تھا، اس لیے وہ دجال نہیں ہو سکتا۔

مزید یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔108 اس کے برخلاف، تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد مدینہ سے مکہ کا سفر کر چکا تھا، جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ وہ دجال نہیں تھا۔109

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا دجال کو ایک انسان سمجھنا

احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ دجال کو ایک انسان تصور کرتے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے دجال کو رؤیا میں دیکھا،110 اور چونکہ انبیاء کے رؤیا وحی کی ایک قسم ہوتے ہیں، وہ ان میں کسی ذاتی تعبیر یا قیاس کو شامل کیے بغیر، جو کچھ دیکھتے ہیں، بعینہٖ اسی طرح بیان فرماتے ہیں۔

انبیاء کے خوابوں کی تعبیر یا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کو عطا فرما دیتا ہے، یا وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال حضرت یوسف علیہ السلام کا وہ خواب ہے جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا—جس میں سورج، چاند اور گیارہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے تھے۔ برسوں بعد، جب ان کا خاندان مصر میں ان کے سامنے حاضر ہوا، تو حضرت یوسفؑ نے فرمایا: "اے ابا جان! یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔"111

اسی اصول پر، نبی کریم ﷺ نے جب دجال کو انسان کی صورت میں رؤیا میں دیکھا،112 تو اسے اسی طرح بیان فرمایا جیسا کہ دیکھا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی اس کو ایک انسان ہی سمجھا، کیونکہ نبی ﷺ نے رویا کی کوئی تعبیر پیش نہیں کی۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دجال سے متعلق روایات کی مکمل تفہیم اور ان کی تعبیرات کا علم، ان واقعات کے ظہور کے وقت ہی ممکن ہوگا۔ اس سے قبل، ان کی حقیقی نوعیت محض قیاس یا اجتہاد ہی ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات

34) Daniel 7:4: https://www.bible.com/bible/111/dan.7.4.NIV 
35) Sahih Muslim 2899a: https://sunnah.com/muslim:2899a
36) اکرم، اے۔ آئی۔، اللہ کی تلوار: خالد بن ولید کی سوانح عمری
37) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897 
38) https://www.britannica.com/place/Amuq 
39) https://en.wikipedia.org/wiki/Amik_Valley
40) یاقوت حَمَوی (متوفی 626ھ / 1229ء) "معجم البلدان" (لغاتِ بلاد) میں "العمق" یا "العمیق" کے عنوان کے تحت العَمْق: یہ نام مختلف مقامات کے لیے استعمال ہوتا ہے، جن میں قدیم وہ ہے جو انطاکیہ کے قریب واقع ہے۔
41) "تھامس ایسبرج، پہلی صلیبی جنگ: ایک نئی تاریخ (2004)" – یہ نوٹ کرتے ہیں کہ 10 اکتوبر 1097 تک صلیبی لشکر "ماراش پہنچ چکا تھا، جو الْعَمَاق کے سرے پر واقع ہے... [یہی] راستہ انطاکیہ کی طرف جاتا تھا"، جس کے بعد وہ الْعَمَاق میں نیچے کی طرف بڑھے۔
42) ابن الأثير، الكامل في التاريخ، جلد 8، المكتبة الشاملة
43) ابن الأثير، الكامل في التاريخ، جلد 8، المكتبة الشاملة
44) ابن الأثير، الكامل في التاريخ، جلد 8، المكتبة الشاملة
45) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897 
46) Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897 
47) Sahih Muslim 2899a: https://sunnah.com/muslim:2899a
48) مثلاً سول اللہ ﷺ کو "امین" اور "صادق" کہا گیا ہے، اور انہیں سفید گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے: Revelation 19:11 https://www.bible.com/bible/111/REV.19.11.NIV:
49) یوسف کمال تنگیرشینک – ماسکو معاہدے (1921) میں ترک وفد کے سربراہ، سوویت حمایت حاصل کی۔
رضا نور – ماسکو معاہدہ (1921) اور کارس معاہدہ (1921) کے اہم مذاکرات کار، سوویتوں کے ساتھ سرحدی معاملات طے کیے۔
علی فواد جبیسوئے – 1921 میں سوویت روس کے پہلے ترک سفیر، باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
کاظم کارابیکر – مشرقی محاذ پر سوویت یونین کے ساتھ فوجی مذاکرات کے ماہر۔
راوف اوربے – سفارتی مذاکرات کے ذریعے سوویت فوجی اور مالی امداد کے حصول میں شامل۔
بیکر سامی کندوح – انقرہ حکومت کے پہلے وزیر خارجہ، بولشویکوں کے ساتھ ابتدائی سفارتی روابط قائم کیے۔
احمد مختار بے – ماسکو مذاکرات میں نمایاں کردار ادا کیا، رضا نور اور یوسف کمال کے ساتھ۔
خلیل پاشا (خلیل کُت) – غیر رسمی سفیر کے طور پر کام کیا، ہتھیاروں کی فراہمی اور غیر رسمی مذاکرات میں مدد فراہم کی۔
محمود جلال بایار – بولشویکوں کے ساتھ معاشی مذاکرات میں مصروف رہے، تجارت اور مالی تعاون پر توجہ دی۔
مصطفی کمال اتاترک – اگرچہ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں تھے، مگر سوویتوں کے ساتھ سفارتی حکمت عملی کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
50) https://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_Moscow_(1921) 
51) Sahih Muslim 2920a: https://sunnah.com/muslim:2920a
52) جیسے یہودی
53) مزید برآں، حدیث میں "بنی اسرائیل" کے بجائے "بنی اسحاق" کی اصطلاح کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہاں "بنی اسحاق" ایک علامتی نسبت کے طور پر بیان کیا گیا ہے نہ کہ محض نسلی یا تاریخی مفہوم میں۔ اگر اس سے مراد یہودی ہوتے تو "بنی اسرائیل" کا واضح استعمال ہوتا، کیونکہ یہودی نہ صرف نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے بلکہ آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔
54) 1917ء کے قفقازی سالنامے کے مطابق باکو شہر میں 69,366 شیعہ مسلمان آباد تھے:
 https://en.wikipedia.org/wiki/Baku_gradonachalstvo
55) https://bakuresearchinstitute.org/en/the-liberation-of-baku-a-retrospective-view-after-a-century 
56) Roland P. Minez, At the Limit of Complexity: British Military Operations in North Persia and the Caucasus 1918 
57) https://milwaukeearmenians.com/2015/09/11/massacre-of-baku 
58) https://axc.preslib.az/en/page/e7tUwdDSIh
59) یہ وہی خبر ہے جسے ایک اور حدیث میں شیطان کی پکار "مسیح تمہارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے!" کے ذریعے بیان کیا گیا ہے:
 Sahih Muslim 2897: https://sunnah.com/muslim:2897 
60) Sahih Muslim 2900: https://sunnah.com/muslim:2900 
61) Revelation 13:1–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.1-10.NIV 
62) Sahih Bukhari 1555: https://sunnah.com/bukhari:1555 
63) Sahih Muslim 2934b: https://sunnah.com/muslim:2934b
64) فروز، پال۔ "سوویت روس میں جبری سیکولرائزیشن: ایک دہری اجارہ داری کیوں ناکام ہوئی؟" جرنل برائے سائنسی مطالعۂ دین، جلد 43، شمارہ 1 (مارچ 2004): صفحات 35–50۔ شائع کردہ: وائیلی۔ 
65) الحاد کی تاریخ:
 https://doi.org/10.1017/9781108562324.047
66) Sahih Muslim 169b: https://sunnah.com/muslim:169b 
67) Sahih Bukhari 3450, 3451, 3452: https://sunnah.com/bukhari:3450 
68) Sahih Bukhari 7121: https://sunnah.com/bukhari:7121 
69) Revelation 19:20 : https://www.bible.com/bible/111/REV.19.20.NIV 
70) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
71) Daniel 9:24-27: https://www.bible.com/bible/111/dan.9.24-27.NIV 
72) Revelation 13:18: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.18.NIV
73) اسلامی مہینہ، ترکی کے اسلامی کیلنڈر کنورٹر کے مطابق، 16 اپریل 1917کے حساب سے نکالا گیا:
https://webspace.science.uu.nl/~gent0113/islam/diyanetcalendar.htm
74) 21 جنوری 1924 کے مطابق
75) 5 مارچ 1953 کے مطابق
76) سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے 23 جنوری 1990 کو پارٹی کی طاقت پر اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا، جس سے کثیر الجماعتی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
77) 26 دسمبر 1991 کے مطابق
78) Sahih Bukhari 7121: https://sunnah.com/bukhari:7121
79) چین (پیپلز ریپبلک آف چائنا) – 1949 سے 1978-1980 کی دہائی تک (ڈینگ ژیاوپنگ کے تحت اقتصادی اصلاحات)۔
کیوبا – 1959 سے 2002 (نظریاتی زور مارتی (خوسے مارتی) اور کاسٹرو ازم پر دیا گیا)۔
ویتنام (سوشلسٹ ریپبلک آف ویتنام) – 1976 سے 1986 تک Đổi Mới) اصلاحات(۔
لاوس (لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1975 سے 1986 تک (نیو اکنامک میکانزم اصلاحات)۔
شمالی کوریا (ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا) – 1948 سے 1992 (جوچے نظریہ سے بدل دیا گیا)۔
سوویت یونین (یو ایس ایس آر) – 1922 سے 1991 تک (پیریستروئیکا اور زوال)۔
مشرقی جرمنی (جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1949 سے 1990 تک (مغربی جرمنی کے ساتھ دوبارہ اتحاد)۔
پولینڈ (پیپلز ریپبلک آف پولینڈ) – 1947 سے 1989 تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
چیکوسلوواکیہ (چیکوسلوواک سوشلسٹ ریپبلک) – 1948 سے 1989 تک (ویلویٹ انقلاب)۔
ہنگری (ہنگری کی عوامی جمہوریہ) – 1949 سے 1989 تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
رومانیہ (سوشلسٹ ریپبلک آف رومانیہ) – 1947 سے 1989 تک (چاؤشسکو کے زوال)۔
بلغاریہ (پیپلز ریپبلک آف بلغاریہ) – 1946 سے 1990 تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
البانیا (پیپلز سوشلسٹ ریپبلک آف البانیا) – 1946 سے 1992 تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
یوگوسلاویہ (سوشلسٹ فیڈرل ریپبلک آف یوگوسلاویہ) – 1943 سے 1992 تک (آزاد ریاستوں میں تقسیم)۔
منگولیا (منگولین پیپلز ریپبلک) – 1924 سے 1990 تک (جمہوری اصلاحات)۔
جنوبی یمن (پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف یمن) – 1967 سے 1990 تک (شمالی یمن کے ساتھ اتحاد)۔
افغانستان (ڈیموکریٹک ریپبلک آف افغانستان) – 1978 سے 1992 تک (کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ)۔
انگولا (پیپلز ریپبلک آف انگولا) – 1975 سے 1991 تک (کثیر جماعتی نظام اور اقتصادی اصلاحات)۔
موزمبیق (پیپلز ریپبلک آف موزمبیق) – 1975 سے 1990 تک (کثیر جماعتی جمہوریت)۔
بینن (پیپلز ریپبلک آف بینن) – 1975 سے 1990 تک (جمہوری اصلاحات)۔
کانگو-برازاویلے (پیپلز ریپبلک آف کانگو) – 1969 سے 1991 تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
ایتھوپیا (ڈیرگ حکومت، بعد میں پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف ایتھوپیا) – 1974 سے 1991 تک (ڈیرگ حکومت کا خاتمہ)۔
کمبوڈیا (ڈیموکریٹک کمپوچیا، خمیر روج کے تحت) – 1975 سے 1979 تک (ویتنامی حملے کے بعد زوال اور پیپلز ریپبلک آف کمپوچیا کا قیام)۔
کمپوچیا (پیپلز ریپبلک آف کمپوچیا) – 1979 سے 1993 تک (اقوام متحدہ کے زیرنگرانی امن معاہدوں کے بعد جمہوریت کی طرف منتقلی)۔
تانو تووا (تووان پیپلز ریپبلک) – 1921 سے 1944 تک (سوویت یونین کے ذریعہ الحاق)۔
بیرونی منگولیا (1924 سے قبل منگولین پیپلز ریپبلک) – 1921 سے 1924 تک (منگولین پیپلز ریپبلک کا پیش خیمہ)۔
صومالیہ (صومالی ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1969 سے 1991 تک (ناکام ریاست بننے کے بعد زوال)۔
نکاراگوا (ساندنیستا حکومت کے تحت) – 1979 سے 1990 تک (1990 کے انتخابات میں امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن سے شکست کے بعد اقتدار کا خاتمہ)۔
گرینیڈا (ماریس بشپ کی نیو جیول موومنٹ کے تحت) – 1979 سے 1983 تک (داخلی تنازعات کے بعد امریکی فوجی مداخلت سے خاتمہ)۔
چلی (سالواڈور آلینڈے کے تحت پاپولر یونٹی) – 1970 سے 1973 تک (اگسٹو پنوشے کی قیادت میں امریکی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا خاتمہ)۔
80) https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_communist_states#/media/File:Communist_Block.svg 
81) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
82) Sahih Muslim 2946a: https://sunnah.com/muslim:2946a 
83) Princeton University Press, The Rise and Fall of Communism, accessed at:  https://assets.press.princeton.edu/chapters/s11095.pdf
84) Sahih Bukhari 19: https://sunnah.com/bukhari:19 
85) Sahih Muslim 2945a: https://sunnah.com/muslim:2945a 
86) https://en.wikipedia.org/wiki/Lykov_family 
87) Sahih Muslim 809a: https://sunnah.com/muslim:809 
88) Sahih Muslim 2944: https://sunnah.com/muslim:2944 
89) https://encyclopedia.yivo.org/article/982 
90) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
91) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
92) https://en.wikipedia.org/wiki/First_five-year_plan_(Soviet_Union) 
93) https://en.wikipedia.org/wiki/Stakhanovite_movement 
94) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
95) https://en.wikipedia.org/wiki/Holodomor 
96) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a 
97) Sahih Muslim 1380: https://sunnah.com/muslim:1380 
98) Sahih Bukhari 7124: https://sunnah.com/bukhari:7124
99) Bukhari 2543: https://sunnah.com/bukhari:2543
100) https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_ibn_Abd_al-Wahhab
101) Sahih Bukhari 7132: https://sunnah.com/bukhari:7132
102) Sahih Muslim 2938c https://sunnah.com/muslim:2938c
103) Sahih Muslim 2942a: https://sunnah.com/muslim:2942a
104) Sahih Muslim 2538a: https://sunnah.com/muslim/44/310
105) Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
106) Sahih Muslim 2930a: https://sunnah.com/muslim:2930a
107) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
108) Sahih Muslim 2943a: https://sunnah.com/muslim:2943a
109) Sahih Muslim 2927a: https://sunnah.com/muslim:2927a
110) Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902
111) Quran 12:100: https://www.quran.com/12/100
112) Sahih Bukhari 5902: https://sunnah.com/bukhari:5902

(جاری)


’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۵)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : ڈاکٹر ثمینہ کوثر

اسلامی متون اور نظریہ ارتقا

تعارف

بہت سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ پہلا مآخذ قرآن مجید ہے، جو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، نہ کہ پیغمبر محمدﷺکا ذاتی اظہار یا الہامی تاثر۔ دوسرا مآخذ احادیثِ نبویؐ ہیں، جو رسول اکرم ﷺ کے اقوال، افعال اور تصویبات پر مشتمل روایتوں کا مجموعہ ہے۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ سند حاصل ہے، جو ان کے قول و فعل کو دینی حجت بناتی ہے۔ اسی بنیاد پر احادیث کو اسلامی شریعت اور دینی فہم میں نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ متعدد موضوعات ایسے ہیں جو قرآن و حدیث دونوں میں مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں، جیسے فقہی احکام، عقائد، انبیاء کے قصص، اور اخلاقی تعلیمات۔ اگرچہ دونوں مآخذ اپنی نوعیت اور دائرہ کار میں مختلف ہیں، لیکن دینی فہم و عمل کی تشکیل میں یہ ایک دوسرے کے معاون و مکمل حیثیت رکھتے ہیں (Totolli 2020)۔مثال کے طور پر، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم نماز کی عملی تفصیلات جیسے رکعات کی تعداد، قراءت کا طریقہ، قیام و سجدہ کی ترتیب، احادیثِ نبوی ﷺ کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں، جن کی تعبیر و تفہیم مختلف اصولِ تفسیر کی روشنی میں کی جاتی ہے۔ اسی طرح، بعض قرآنی آیات کا ایک مجموعہ رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے کسی اہم تاریخی واقعے سے مربوط ہوتا ہے، جس کا مکمل پسِ منظر اور سیاق و سباق صرف احادیثِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے (Gorke 2020)۔ قرآن اور حدیث کے مابین ایک اور اہم اور بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت عبادت کا درجہ رکھتی ہے، جبکہ احادیث کی تلاوت بذاتِ خود عبادت نہیں سمجھی جاتی (Michot 2009; Graham 2020)۔ حدیث کی ساخت کے عمومی طور پر دو اجزاء ہوتے ہیں: پہلا "سند" یعنی وہ سلسلہ روایت جس میں تمام راویوں کے نام شامل ہوتے ہیں، اور دوسرا "متن" یعنی اصل حدیث یا روایت کا مضمون۔ چونکہ سند ایک تاریخی زنجیر ہے، اس لیے اسے بطور عبادت تلاوت نہیں کیا جاتا، جب کہ متن میں بعض اوقات دعائیہ کلمات شامل ہوتے ہیں اور بعض اوقات نہیں بھی۔ اسی بنا پر بہت سے مسلمان احادیث کو ایک تاریخی و سوانحی ذخیرے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس میں رسول اکرم ﷺ  کی زندگی کے مختلف پہلو محفوظ ہیں۔ البتہ وہ احادیث جن میں دعائیں شامل ہوتی ہیں، انہیں انفرادی یا اجتماعی دعا کے مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بالآخر، ان مصادر کے مابین ایک نمایاں امتیاز ان کی تاریخی صحت و وثوق (historical integrity) کا ہے۔ جمہور مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن مجید وہی خالص وحی الٰہی ہے جو آغازِ اسلام میں نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی، اور جو صدیوں کے دوران اس قدر کثیر و متواتر ذرائع اور افراد کے ذریعے منقول ہوئی ہے کہ اسے کسی گٹھ جوڑ یا جعل سازی کا نتیجہ قرار دینا علمی اور عقلی طور پر محلِ نظر ہے۔ یہی سبب ہے کہ قرآن کی تاریخی صداقت پر مسلم علمی روایت میں شاذ و نادر ہی سوال اٹھایا گیا ہے (Graham 2020

البتہ احادیث کا معاملہ قرآن سے یکسر مختلف ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال کو ان کے بعد آنے والے راویوں (محدثین) نے قلمبند کیا اور روایت کے ذریعے منتقل کیا۔ تاہم، بہت سے مسلمانوں کے نزدیک احادیث کی تاریخی سالمیت اور صداقت ایک متنوع اور پیچیدہ موضوع ہے۔ مسلم علما نے ابتدا ہی میں یہ تسلیم کیا کہ بعض افراد نے ذاتی، سماجی یا سیاسی مفادات کے لیے احادیث گھڑنے کی کوشش کی (Brown 2009, 1–66)۔ یہی سبب تھا کہ علمِ حدیث کی تنقیدی روایت نے جنم لیا، جسے تجزیہ احادیث کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ اس علم میں محدثین نے نہ صرف روایت کے اصول و ضوابط مرتب کیے، بلکہ احادیث کی درجہ بندی اور صحیح و ضعیف روایات کے درمیان امتیاز کے معیارات بھی طے کیے (Abdul-Jabbar, 2020a)۔ ان تفصیلات پر باب 9 میں مزید گفتگو کی جائے گی، تاہم یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اگرچہ قرآن کی تاریخی ترسیل پر عام طور پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا، مگر احادیث کی جامعیت اور درجہ بندی پر ہمیشہ بحث موجود رہی ہے، اور اسی لیے ان کے مختلف مدارج متعین کیے گئے ہیں (Brown 2009

احادیث سے متعلق ایک اہم پہلو توحید کے تصور سے متعلق ہے (Abdul-Jabbar, 2020b)۔ وقت کے ساتھ جب حدیث کی تصدیق اور تنقید کا عمل زیادہ مربوط و مستحکم ہوتا گیا، تو محدثین  نے ان احادیث کو باقاعدہ طور پر مجموعوں کی صورت میں مرتب کرنا شروع کیا۔ ان مجموعوں نے حدیث پر کام کرنے والے علما کے لیے ایک عملی فہرست کا کام دیا، جس کی مدد سے وہ ازسرِنو تحقیق کے بجائے مستند اور مصدقہ احادیث پر اپنی فکری و فقہی کاوشوں کی بنیاد رکھ سکیں۔  یہ بات بھی اہم ہے کہ اہلِ سنّت اور اہلِ تشیّع کے ہاں حدیث کی ساخت، متن اور اسناد کے اصولوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ چونکہ اس تحقیق کا مرکز امام غزالی کی فکر ہے، جو ایک سنّی عالم تھے، اس لیے یہاں بحث کا دائرہ صرف سنّی احادیث تک محدود رکھا جائے گا۔

سنّی مکتبِ فکر میں چھ مجموعوں کو سب سے زیادہ معتبر تصور کیا گیا ہے، جنہیں صحاحِ ستہ کہا جاتا ہے۔ ان مجموعوں کو عموماً ان کے مرتبین کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے (Abdul-Jabbar, 2020b

سنّی مسلمانوں کے ہاں جن چھ مجموعوں کو حدیث کی سب سے معتبر کتابیں سمجھا جاتا ہے، وہ درج ذیل ہیں، جنہیں صحاحِ ستہ (چھ مستند کتبِ حدیث) کہا جاتا ہے:

  1. صحیح بخاری — امام محمد بن اسماعیل البخاری کی مرتب کردہ، جو صحتِ حدیث کے حوالے سے سب سے معتبر سمجھی جاتی ہے۔
  2. صحیح مسلم — امام مسلم بن الحجاج کی تالیف، جو بخاری کے بعد سب سے مستند سمجھی جاتی ہے۔
  3. سنن النسائی (السنن الصغری) — امام احمد بن شعیب النسائی کی تالیف۔
  4. سنن ابی داؤد — امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث کی مرتب کردہ کتاب۔
  5. جامع الترمذی — امام محمد بن عیسیٰ الترمذی کی تالیف، جس میں فقہی آرا کے ساتھ تبصرے بھی شامل ہیں۔
  6. سنن ابن ماجہ — امام ابن ماجہ کی تالیف، جسے بعض علما صحاحِ ستہ میں شامل کرتے ہیں، جبکہ کچھ اس کی جگہ مؤطا امام مالک کو ترجیح دیتے ہیں، جو امام مالک بن انس کی تالیف ہے۔

بعض محدثین مؤطا امام مالک کو صحاحِ ستہ میں شامل کرتے ہیں اور ابن ماجہ کو اس فہرست سے خارج کرتے ہیں، لیکن عام طور پر مذکورہ بالا چھ کتابیں ہی صحاحِ ستہ کے طور پر معروف ہیں۔

یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مذکورہ چھ کتب احادیث کی تمام تالیفات کی نمائندگی نہیں کرتیں، بلکہ یہ ان میں سے سب سے زیادہ مقبول اور معتبر سمجھی جانے والی مجموعات ہیں۔ صحاحِ ستہ میں بالخصوص صحیح بخاری اور صحیح مسلم—جنہیں مجموعی طور پر صحیحین (دو مستند مجموعے) کہا جاتا ہے—کو اعلیٰ ترین سند کا درجہ حاصل ہے، اور ان میں سے بھی صحیح بخاری کو سب سے زیادہ قبولِ عام حاصل ہے (Brown 2009, 31–32

جیسا کہ آگے واضح ہوگا، حضرت آدم  کی تخلیق اور اس سے متعلقہ روایات (جن کا تعلق براہِ راست نظریہ ارتقا سے بنتا ہے) زیادہ تر انہی دو مجموعوں یعنی صحیحین میں مذکور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان احادیث کی صداقت کو چیلنج کرنا یا ان کا انکار کرنا ایک نہایت نازک اور سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ اختصار کے پیشِ نظر، احادیث کی درجہ بندی اور اس پر ہونے والے مباحث کو باب 9 میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ یہ باب بنیادی طور پر ان تمام متعلّقہ صحیفائی نکات کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں، بغیر تکنیکی اصطلاحات کے، قارئین کے سامنے رکھنے پر مرکوز ہوگا۔

اس باب کا مقصد دو پہلوؤں کا احاطہ کرنا ہے۔ اولاً، ہم ان قرآنی آیات اور احادیث کا جائزہ لیں گے جو اسلام اور نظریۂ ارتقاء کے مابین بحث سے متعلق ہیں۔ یہ بحث باب چہارم کے لیے ایک تمہیدی کردار ادا کرے گی، جہاں ہم اُن مختلف طریقوں کا تجزیہ کریں گے جن کے ذریعے مسلمان مفکرین نے ارتقائی نظریات کے ساتھ اسلامی عقائد میں تطبیق یا عدم تطبیق کی کوشش کی ہے۔ یوں باب سوم اور باب چہارم کے مابین یہ فکری ربط، باب نہم کے لیے ایک علمی پس منظر فراہم کرے گا، جہاں امام غزالی کے منطقی طریقۂ کار کو زیربحث لایا جائے گا۔ وہ طریقہ  کار جس کی روشنی میں اسلامی روایت میں مصالحت کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعدازاں، باب دہم میں اسلام اور ارتقاء کے باہمی تعلق کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ ثانیاً، اس باب کا مقصد یہ بھی ہے کہ متعلقہ اسلامی صحیفوں کا تقابلی مطالعہ ان عیسائی مفاہیم سے کیا جائے جنہیں باب دوم میں نمایاں کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے، بعض مسائل عیسائی مذہبی روایت میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اسلامی متون اور فکری روایت میں ان کا کوئی صریح یا مضبوط حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ دونوں اہداف، اپنی بیان کردہ ترتیب کے ساتھ، اس باب کی ساخت اور مباحث کا تعین کرتے ہیں۔

اسلامی متون میں تخلیق کا تصور

اس حصے میں ہم تخلیق سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث کا جائزہ لیں گے۔ وضاحت اور ترتیب کے لیے اس بحث کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  1. آسمانوں اور زمین کی تخلیق
  2. غیر انسانی حیات کی تخلیق
  3. آدمؑ کی تخلیق

ہم ان تینوں موضوعات کے تحت متعلقہ آیات اور احادیث کو اسی ترتیب سے زیرِ بحث لائیں گے۔

 زمین وآسمان کی تخلیق

قرآن مجید، بائبل کی طرح اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ درج ذیل دو مثالیں اس کی وضاحت کرتی ہیں:

  1. تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (ستہ أیام) میں پیدا کیا، پھر عرش پر جلوہ‌گر ہوا؛ وہی رات کو دن پر اس طرح لپیٹ دیتا ہے کہ وہ تیزی سے اس کے پیچھے دوڑتا ہے؛ اس نے سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے حکم کے تابع بنایا؛ ساری تخلیق اور حکم اسی کا ہے۔ اللہ، جو تمام جہانوں کا رب ہے، بہت بلند و بالا ہے! (القرآن 7:54)
  2. تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (ستہ أیام) میں پیدا کیا، پھر عرش پر جلوہ‌گر ہوا، وہی تمام امور کی تدبیر کرتا ہے؛ کوئی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا: یہی اللہ تمہارا رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو۔ آخر تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے؟ (القرآن 10:3) 

یہ آیات بظاہر یہ بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ تاہم کلاسیکی عربی زبان میں "ایام" کا مفہوم لسانی طور پر وسعت رکھتا ہے۔ اس سے مراد چوبیس گھنٹے والے دن بھی ہو سکتے ہیں، یا یہ کسی بھی مدت کے چھ اَدوار یا مرحلے بھی ہو سکتے ہیں جن کی کوئی معیّن طوالت نہیں (Mabud 1991, 54–57; Jalajel 2009, 36)۔ خود قرآن مجید میں بھی اس لسانی وسعت کا استعمال دیگر مقامات پر کیا گیا ہے: 

وہ آپ (نبی ﷺ) سے عذاب کو جلد لانے کا مطالبہ کریں گے۔ حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا – آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ (القرآن 22:47)

ایام (یعنی دنوں) کے مفہوم میں پائے جانے والے ابہام کے علاوہ، ان چھ دنوں کی مدت کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ یہ دن مساوی طوالت کے ہو سکتے ہیں، یا ایک دوسرے سے بالکل مختلف مدت کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔ اسلامی متون میں ایسی کوئی صراحت موجود نہیں جو کسی ایک مفروضے کو حتمی طور پر درست قرار دے (Jalajel 2009, 36)۔ آخر میں، یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا تخلیق کے عمل کی کوئی ترتیب قرآن میں بیان ہوئی ہے؟ ابتدائی دو آیات اس معاملے میں غیر جانب دار معلوم ہوتی ہیں کیونکہ وہ آسمان و زمین کو ایک ساتھ ذکر کرتی ہیں، یعنی یہ بیان کرتی ہیں کہ آسمان اور زمین چھ دنوں میں تخلیق کیے گئے۔ اس لیے یہ آیات کسی واضح زمانی ترتیب کی طرف اشارہ نہیں کرتیں۔ تاہم، قرآن کے ایک اور مقام پر بظاہر ایک زمانی ترتیب نظر آتی ہے:

اِن سے پوچھو، کیا تم اُس ہستی کا انکار کر رہے ہوجس نے دو دنوں میں زمین بنائی، اور اُس کے شریک ٹھیراتے ہو؟ یہ ہے جہانوں کا پروردگار۔  اور اُس نے زمین کے اندر اُس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اُس میں برکتیں رکھ دیں اور سب ضرورت مندوں کے لیے یکساں، اُس کی غذائیں اُس میں ودیعت کر دیں۔ یہ سب ملا کر چار دنوں میں۔ پھر اُس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جو (زمین کے ساتھ ہی وجود میں آچکا تھا اور) اُس وقت دھوئیں کی صورت میں تھا۔ سو اُس کو اور زمین کو حکم دیا کہ حاضر ہو جاؤ، خوشی سے یا نا خوشی سے۔ دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ پھر دو دنوں میں اُنھیں سات آسمان بنا دیا اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کر دیا اور تمھارے اِس قریبی آسمان کو ہم نے چراغوں سے رونق دی اور اُسے خوب محفوظ بنا دیا۔ یہ خداے عزیز و علیم کا منصوبہ ہے۔(القرآن 41: 9-12)

ان آیات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ زمین اور اس کے اجزا کی تخلیق پہلے ہوئی، اور اس کے بعد آسمانوں کی تخلیق کا ذکر آیا ہے۔  "پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا"۔۔۔اسی ترتیب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس ترتیب کو زمانی معنوں میں بھی سمجھا جا سکتا ہے، اور فضیلت یا درجہ بندی کے طور پر بھی۔اگر دوسرے مفہوم کو اختیار کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسمان زمین سے زیادہ اہم یا برتر ہیں (Maaboud 1991, 58; Jalajel 2009, 38)۔ اسی طرح قرآن میں بھی ثم کا استعمال ہمیشہ زمانی ترتیب کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات یہ کسی چیز کی اہمیت، تدریج یا توجہ کی منتقلی کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔

اسی اصول پر قاضی  بیضاوی، جو ایک معروف مفسر ہیں سورۃ البقرۃ کی  آیت 29کی تفسیر میں لکھتے ہیں:  "لفظ ثم یہاں بظاہر مخلوقات کے درمیان فرق اور آسمان کی تخلیق کو زمین پر فضیلت دینے کے لیے ہے" ۔ لہٰذا، یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ قرآن کسی حتمی تاریخی تسلسل کو بیان کرتا ہے۔ ایک حدیث جو صحیح مسلم کے باب  "ابتداء الخلق وخلق آدم عليه السلام" میں روایت ہوئی ہے ، بظاہر ایک حتمی ترتیب فراہم کرتی ہے اور بعض پہلوؤں سے قرآن کے بیانیے سے متصادم معلوم ہوتی ہے:

اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے دن پیدا کیا، اتوار کے دن پہاڑ بنائے، پیر کے دن درخت پیدا کیے، منگل کے دن ناپسندیدہ چیزیں (یعنی تکلیف دہ اور ضرر رساں چیزیں) پیدا کیں، بدھ کے دن نور پیدا کیا، جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے، اور جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، تمام مخلوقات کے بعد، دن کے آخری حصے اور رات کے آغاز کے درمیان۔

یہ روایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تخلیق سات دنوں میں مکمل ہوئی، جبکہ قرآن میں چھ دنوں کا ذکر ہے۔ تاہم، جیسا کہ جلاجل (2009, 38–42) نے مناسب طور پر نشاندہی کی ہے، اس حدیث کے حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. اس حدیث کی سند میں اشکالات موجود ہیں، جن کی طرف علمائے حدیث نے اشارہ کیا ہے۔
  2. احادیث کی دیگر کتب میں اس حدیث کے مختلف نسخے موجود ہیں، جن میں ترتیب یا تفصیلات کا اختلاف پایا جاتا ہے، جو اس روایت کی قطعیت کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
  3. حتیٰ کہ اگر اس حدیث کو ظاہر پر لیا جائے، تب بھی قرآن کی بیان کردہ چھ دنوں کی مدت سے متصادم نہیں، کیونکہ قرآن کی "چھ  ایام"  کی اصطلاح لچکدار مفہوم رکھتی ہے اور مختلف ادوار کو ظاہر کر سکتی ہے۔
  4. اس حدیث کا براہِ راست آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے تعلق نہیں۔ اس میں صرف مٹی، روشنی اور جانوروں جیسے عناصر کا ذکر ہے، مگر سیاروں، کہکشاؤں یا زمین کی ساخت کی تخلیق کو حتمی طور پر بیان نہیں کرتی۔

درج بالا نکات کی روشنی میں یہ حدیث کسی قطعی زمانی ترتیب کی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ اسلامی متون کائنات اور زمین کی تخلیق کو  24 گھنٹوں پر مشتمل چھ دنوں میں مکمل کرنے کا کوئی حتمی نظریہ پیش نہیں کرتے، اور نہ ہی ان چھ دنوں یا ادوار کی یکسانیت یا ترتیب کے بارے میں کوئی قطعی تفصیل موجود ہے۔ نتیجتاً، کوئی واضح تاریخی تسلسل سامنے نہیں آتا۔ تخلیق سے متعلق دیگر آیات بھی موجود ہیں، لیکن اس بحث کا مرکزی نکتہ تخلیق کا دورانیہ تھا۔ باقی تفصیلات کا ارتقائی مباحث سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔

غیر انسانی مخلوقات کی تخلیق

قرآنِ مجید میں بارہا یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ تاہم، اسلامی متون میں جاندار مخلوقات کی تخلیق کی تفصیلات (فی الحال حضرت آدمؑ یا انسان کی تخلیق کو چھوڑ کر) کچھ مبہم سی معلوم ہوتی ہیں۔ اس میں زندگی کی ابتدا اور انواع (species) کی ابتدا دونوں شامل ہیں۔ قرآن کی ایک آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کا آغاز پانی سے ہوا:

کیا منکر لوگ نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین (پہلے) جُڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کیا؟ اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔

کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟(القرآن،  21:30)

ایک دوسری آیت میں بھی یہی تذکرہ ملتا ہے:

اور اللہ نے ہر جان دار کو پانی (یعنی مخصوص سیال مادے) سے پیدا کیا،پھر ان میں سے کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے، کوئی دو پاؤں پر، اور کوئی چار پر چلتا ہے۔ اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے،یقیناً اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (القرآن،  24:45)

اگرچہ یہ دونوں آیات جانداروں کی تخلیق کو پانی سے جوڑتی ہیں، لیکن اس عمل کی تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ یہ تخلیق پانی سے کس طریقے سے واقع ہوئی۔

قرآن مجید میں پودوں کا بھی ذکر آتا ہے:

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم زمین کو خشک و سنّاٹا دیکھتے ہو، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ جنبش کرنے لگتی ہے اور پھولنے لگتی ہے۔ یقیناً وہ ذات جو اس کو زندگی بخشتی ہے، وہ مردوں کو بھی زندگی دے گی۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(القرآن،  41:39)

اس آیت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خدا  اپنی تخلیقی قوتوں کا ذکر کر رہا ہے کہ جب بنجر زمین پر بارش برسائی جاتی ہے تو یہ زندگی ، یعنی پودوں کے ساتھ نشوونما پا سکتی ہے۔ ایک اور آیت ہے جہاں زندگی اور موت کا موضوع پودوں کے بیجوں سے منسلک ہے:

اللہ ہی ہے جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اس میں سے (نیا) اگاتا ہے؛ وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے— یہی اللہ ہے، پھر تم کہاں بھٹکائے جا رہے ہو؟(القرآن 6:95)۔

قرآن مجید میں جانوروں کا بھی کثرت سے ذکر آیا ہے، جیسے کہ چیونٹیاں (سورۃ النمل 27:18)، کتے (سورۃ الاعراف 7:176)، پرندے (سورۃ الانعام 6:38؛ سورۃ النحل 16:79)، مکڑی (سورۃ العنکبوت 29:41)، گدھے (سورۃ النحل 16:8؛ سورۃ لقمان 31:19)، اور دیگر بہت سے جانور۔ ان کا ذکر بعض اوقات مثال (تمثیل) کے طور پر کیا گیا ہے یا کسی واقعے میں بطور کردارذکر کیا گیا ہے، خواہ وہ کسی نبی سے متعلق ہو یا عام انسانوں سے۔قرآن میں ایک خاص حوالہ مویشیوں (چوپایوں) کے بارے میں بھی آیا ہے، جن کا ذکر اللہ کے ہاتھوں کی تخلیق کے ساتھ کیا گیا ہے:

اور مویشیوں کو بھی اللہ ہی نے پیدا کیا، ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے اور دیگر فائدے بھی، اور ان میں سے کچھ کو تم کھاتے ہو۔ (القرآن، 16:5)

ایک اور آیت میں قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ مویشی (چوپائے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے نازل کیے گئے:

اس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی نازل کیے۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے میں تین اندھیروں کے اندر تخلیق کرتا ہے۔  یہی اللہ تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں،پھر تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو؟ (القرآن، 39:6)

تاہم، جب ان باتوں کونظریہ  ارتقاکے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان میں کوئی ایسا پہلو نہیں جو اس نظریے سے واضح طور پر ٹکراتا ہو۔ جیسا کہ ہم اگلے حصے میں بھی دیکھیں گے، قرآن کی ایک آیت میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ بعض افراد نے اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہا ہے کہ حضرت آدمؑ ارتقائی عمل کا حصہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک خصوصی تخلیق (special creation) کی طرف اشارہ ہے (Keller 2011, 350–364)۔ تاہم، اللہ کے "ہاتھوں" کا ذکر صرف آدمؑ کے بارے میں ہی نہیں آیا۔ ایک اور مقام پر قرآن بیعت کے واقعے کے دوران بھی اللہ کے "ہاتھ" کا ذکر کرتا ہے۔(القرآن،  48،10)

ان تمام حوالوں سے اگر کچھ ظاہر ہوتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ان امور کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن ان سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ لازمی طور پر فوری تخلیق (instantaneous creation) کو بیان کر رہے ہیں یا نظریہ ارتقا کا قطعی انکار کر رہے ہیں، درست نہیں ہے۔

جہاں تک مویشیوں سے متعلق دوسری آیت کا تعلق ہے (القرآن 39:6)، جلاجل (2009, 44–47) اس آیت میں استعمال ہونے والے لفظ "نَزَّلَ"کے مفہوم پر مفسرین کے درمیان اختلاف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لغوی طور پر "نَزَّلَ" کا مطلب آسمان سے اتارنا ہوتا ہے۔ اگر اسے اسی طرح لیا جائے تو اس سے یہ مفہوم نکل سکتا ہے کہ مویشی آسمان سے نازل ہوئے، جو کہ نظریہ ارتقا  کے نظریے سے ایک ممکنہ تضاد پیدا کر سکتا ہے۔تاہم، جیسا کہ جلاجل  (2009, 45) واضح کرتے ہیں کہ: مفسرین مختلف لسانی روایات  کی بنیاد پر متعدد تجاویز پیش کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی تجویز قطعی نہیں ہے۔ ان کی بعض تجاویز کا مطلب یہ ہے کہ جس تخلیق کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ابتدائی تخلیق ہے۔ ان مویشیوں میں سے دوسری تشریحات ان کی مسلسل تخلیق اور رزق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ 

ان مختلف آرا کو مد نظر رکھتے ہوئے، مویشیوں سے متعلق  دوسری آیت ارتقائی عمل کے ذریعے مویشیوں کے پیدا ہونے کے امکان کی نفی نہیں کرتی۔ قرآن میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جن میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو جوڑوں (pairs) کی صورت میں پیدا کیا:

پاک ہے وہ (اللہ) جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے، خواہ وہ زمین کی پیداوار ہو، یا خود ان کے (انسانوں کے) اپنے وجود سے، یا وہ چیزیں جنہیں وہ جانتے ہی نہیں۔ (القرآن 36:36) اور ہم نے ہر چیز کو جوڑوں کی صورت میں پیدا کیا تاکہ تم غور و فکر کرو۔ (القرآن 51:49)

یہ آیات بظاہر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جانوروں اور/یا پودوں کو جوڑوں (یعنی نر و مادہ) کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس تعبیر کو بعض اوقات دو صنفی ساخت (binary gender) کے طور پر لیا جا سکتا ہے، یعنی صرف نر یا مادہ۔ تاہم، پہلی آیت (القرآن 36:36) اس مفہوم کو محض جنسی دوگانگی تک محدود نہیں کرتی۔ آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے:"اور ان چیزوں کے بھی، جنہیں وہ جانتے ہی نہیں" جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نر و مادہ کی تقسیم سے ماورا مخلوقات بھی ہو سکتی ہیں۔

جہاں تک دوسری آیت (القرآن 51:49) کا تعلق ہے، تو مفسرین نے بھی اس آیت کی تفسیر صرف جنس تک محدود نہیں کی۔ کیونکہ آیت میں کوئی مخصوص قید نہیں، اس لیے انہوں نے اسے دیگر متضاد جوڑوں پر بھی منطبق کیا جیسے کہ: گرمی و سردی، خشکی و تری، رات و دن، کڑواہٹ و مٹھاس وغیرہ (Shafi 2008a, 385–386; Nasr 2015, 1076, 1278)۔  اگرچہ صنفی جوڑوں کا مفہوم ان آیات میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن ان کا مفہوم صرف اسی تک محدود نہیں۔ اس وضاحت کی اہمیت اس لیے ہے کہ بعض لوگ ان آیات کو بنیاد بنا کر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی متون صرف صنفی دوگانگی کو تسلیم کرتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بعض جانداروں (مثلاً کچھ قسم کی چھپکلیاں) میں واحد جنسی (unisexual) تولیدی نظام پایا جاتا ہے جو اس تقسیم سے باہر ہے۔ مگر چونکہ ان آیات کے کئی ممکنہ اور قابلِ قبول معانی موجود ہیں، اس لیے یہ تضاد ضروری نہیں کہ واقع ہو۔ اس مختصر جائزے کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی متون میں ایسا کوئی قطعی بیان موجود نہیں جو پودوں یا جانوروں کی ارتقائی تخلیق کی تردید کرتا ہو۔

بعض معاصر مسلم مفکرین نے غیر انسانی ارتقا (non-human evolution) کو انسانی ارتقا  سے الگ تسلیم کیا ہے اور ان کے نزدیک اس میں کوئی دینی یا فکری قباحت نہیں،  مثلاً Keller (2011, 350–364) اور Qadhi and Khan (2018)، جن کا تفصیلی جائزہ ہم باب 4 میں پیش کریں گے۔

حضرت آدمؑ کی تخلیق

آدمؑ کی تخلیق سے متعلق عناصر کا ذکر قرآنِ مجید میں مختلف جگہوں پر آیا ہے۔ یہ بیانات کسی زمانی ترتیب کی پیروی نہیں کرتے (کیونکہ قرآن خود زمانی ترتیب کے مطابق مرتب نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہ تاریخ کو زمانی تسلسل سے بیان کرتا ہے)۔ سب سے پہلے، قرآن انسان کی تخلیق سے متعلق عمومی دعویٰ کرتا ہے کہ اسے ابتدائی مادی عناصر جیسے کہ مٹی، زمین، مختلف اقسام کی مٹی (مثلاً خشک یا چکنی)، سیاہ گارا، اور نطفہ سے پیدا کیا گیا:

لوگو! اگر تمہیں دوبارہ جی اٹھنے (قیامت) میں شک ہے، تو (یاد رکھو) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر لوتھڑے سے جو چمٹنے والا ہوتا ہے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو کبھی مکمل صورت والا ہوتا ہے اور کبھی نامکمل۔ ہم یہ (سب) اس لیے کرتے ہیں تاکہ تم پر اپنی قدرت واضح کر دیں۔(القرآن، 22:5)

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں بسایا، لہٰذا اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔

یقیناً میرا رب قریب ہے، دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ (القرآن، 11:61)

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدت مقرر کی، اور ایک اور وقت مقرر ہے جو صرف اسی کو معلوم ہے؛

پھر تم شک کرتے ہو۔ (القرآن، 6:2)

پس (اے نبی!) ان منکروں سے پوچھو: کیا ان کا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا ہماری دیگر مخلوقات کا؟

ہم نے انہیں چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا۔(القرآن، 37:11)

ہم نے انسان کو سیاہ بدبودار گارے سے بنی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا۔(القرآن، 15:26)

انسان کو چاہیے کہ وہ غور کرے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ اسے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا،

جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (القرآن، 86:5–8)

ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھر لی اور اس سے حضرت آدمؑ کا بے جان جسم بنایا (صحیح مسلم 2611)۔ یہ روایت اُن آیات سے مطابقت رکھتی ہے جن میں ذکر ہے کہ اللہ نے آدم کو ان بنیادی مادی عناصر سے پیدا کیا اور پھر اس میں روح (رُوح) پھونکی۔:

ایسا ہی ہے وہ (اللہ) جو ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جانتا ہے، وہی زبردست، رحم فرمانے والا ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی بہترین صورت عطا کی۔ اُس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی کے نچوڑ سے بنایا۔ پھر اُس نے اُسے درست شکل دی، اور اُس میں اپنی روح  پھونکی، اور تمہیں سماعت، بصارت، اور عقل عطا کی—مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ (القرآن، 32:6–9)

اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: میں سیاہ بدبودار گارے سے بنی ہوئی خشک مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ پھر جب میں اسے ٹھیک صورت میں بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا۔ (القرآن، 15:28–29)

اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں، پھر جب میں اسے درست شکل دے دوں اور اس میں اپنی روح  پھونک دوں، تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔(القرآن، 38:71–72)

ایک اور حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، جبکہ خود آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے: تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے [پیدا کیے گئے] تھے۔ (ترمذی 3955) اسی طرح بنی آدم  (آدم کی اولاد) کا تصور قرآن میں بھی ملتا ہے،

جیسے کہ سورۃ الاعراف 7:27 اور سورۃ یٰسین 36:60 میں۔مزید یہ کہ بعض احادیث میں حضرت آدمؑ کو انسانیت کا باپ قرار دیا گیا ہے:

قیامت کے دن مؤمنین جمع ہو کر کہیں گےکہ آؤ، کسی کو تلاش کریں جو ہمارے لیے ہمارے رب کے حضور سفارش کرے۔ پھر وہ آدمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ تمام انسانوں کے والد ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، فرشتوں کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں، اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے؛ لہٰذا، ہمارے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے تاکہ وہ ہمیں اس حال سے نجات دے۔ تو آدمؑ جواب دیں گے، میں اس (یعنی تمہاری سفارش) کے لائق نہیں ہوں۔ (بخاری 4476)

لوگو! تمہارا رب ایک ہے، اور تمہارا باپ (آدم) بھی ایک ہے۔ یقیناً کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔(احمد 23479)

یہ آیات و روایات اُن احادیث کے ساتھ مربوط ہوتی ہیں جو اگرچہ کم واضح ہیں، لیکن بالواسطہ طور پر انسانیت کے لیے آدمؑ کی اہمیت کو قائم رکھتی ہیں۔ وہ حدیث جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا، جس میں بیان ہوا ہے کہ آدمؑ کو جمعہ کے دن پیدا کیا گیا، اسی روایت کی تائید کرتی ہے۔

قرآن مجید میں بعض ایسی آیات بھی ہیں جو واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسانیت کا نسب ایک ہی جوڑے یعنی حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ سے ملتا ہے:

لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان (نَفْسٍ وَاحِدَةٍ) سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیے۔ اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتے ناتوں کو توڑنے سے بچو۔ بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (القرآن، 4:1)

وہی ہے جس نے تم سب کو ایک جان (نَفْسٍ وَاحِدَةٍ) سے پیدا کیا، اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے پاس سکون پائے۔ (القرآن، 7:189)

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، باخبر ہے۔ (القرآن، 49:13)

یقیناً، پہلی دو آیات میں "اُس کا جوڑا" سے مراد حضرت حوّا ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی آیت (القرآن 4:1) کی دو تفسیریں پائی جاتی ہیں۔

یہ فرق اس بات پر مبنی ہے کہ "اس سے" (یعنی مِنْهَا) کا مفہوم کس طرح لیا جائے، جس کے نتیجے میں حضرت حوّا کی تخلیق سے متعلق دو قدرے مختلف تصورات سامنے آتے ہیں۔ Haleem (2011, 135) نے ان دونوں آرا  کا فرق نہایت خوبی سے یوں بیان کیا ہے۔ اس سے" (مِنْهَا) عربی زبان میں ایک غیر واضح تعبیر ہے، جس کی بنا پر اس کے دو تفسیری مفاہیم سامنے آتے ہیں، اور دونوں کی تائید میں دلائل موجود ہیں۔

پہلی تفسیر کے مطابق، حضرت آدمؑ کے جسم کا ایک حصہ لے کر حضرت حوّا کو پیدا کیا گیا۔ یہ رائے اُس مشہور روایت سے مطابقت رکھتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت حوّا کو آدمؑ کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔ دوسری تفسیر کے مطابق، حضرت حوّا کو حضرت آدمؑ کی ہی نوع یا اصل سے پیدا کیا گیا۔ یہ جسمانی تعبیر نہیں، بلکہ ایک ماورائی (metaphysical) نکتہ ہے، جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دونوں کی تخلیق ایک جیسی حقیقت پر مبنی ہے۔دونوں آرا  اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت حوّا کی تخلیق کسی نہ کسی تعلق سے حضرت آدمؑ کے ساتھ معجزانہ طور پر ہوئی۔ عام طور پر ان دونوں تفسیروں کو ہی اس آیت کی قابلِ قبول ممکنہ تعبیرات کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ (امام فخر الدین رازی، 2000، ص 131؛ ابن الجوزی، 2002، ص 253؛ سید حسین نصر، 2015، ص 189)

مزید برآں،  آدمؑؑ اور حواؑ کا دنیا میں اتارے جانے کا واقعہ  قرآن مجید میں متعدد مقامات پر واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات اسی  واقعہ کو بیان کرتی ہیں:

(اے نبی!) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں،" تو انہوں نے کہا: "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو رکھیں گے جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا، حالانکہ ہم آپ کی حمدوثنا کرتے ہیں اور آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں؟" اللہ نے فرمایا: "میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔" پھر اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: "اگر تم سچے ہو تو ان کے نام مجھے بتاؤ۔"  انہوں نے کہا: "آپ پاک ہیں! ہم تو صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے، بے شک آپ ہی علم والے، حکمت والے ہیں۔" پھر اللہ نے فرمایا: "اے آدم! تم ان کے نام انہیں بتاؤ۔" جب آدم نے انہیں ان کے نام بتائے تو اللہ نے فرمایا: "کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں، اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو؟" اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: "آدم کو سجدہ کرو،" تو انہوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے؛ اُس نے انکار کیا، تکبر کیا اور نافرمانوں میں سے ہو گیا۔ اور ہم نے کہا: "اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اور جہاں سے چاہو، بے روک ٹوک کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم دونوں ظالموں میں شمار ہو گے۔" پھر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ ہم نے فرمایا: "تم سب یہاں سے نیچے اُتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور زمین میں تمہارے لیے ایک وقت تک رہائش اور سامانِ زیست ہوگا۔" پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ ہم نے فرمایا: "تم سب یہاں سے نیچے اُتر جاؤ، پھر جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی (اور وہ ضرور آئے گی)، تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ دوزخ والے ہوں گے، اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔" (القرآن، 2:31–39)

یہ حضرت آدمؑ کے جنت سے زمین پر نزول کا ایک عمومی خاکہ ہے۔ اس واقعے کا آغاز اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت آدمؑ کی تخلیق سے ہوتا ہے، جس نے انہیں زمین پر اپنا نائب (خلیفہ) بنا کر بھیجا۔ (یہاں ان آیات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے جن میں ذکر آیا تھا کہ آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا،اور پھر ان میں روح پھونکی گئی۔) فرشتے، جب یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر رہا ہے، تو سوال کرتے ہیں کہ اسے کیوں پیدا کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ (یعنی انسان) زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان پر واضح کرتے ہیں  کہ وہ ایسی چیزیں جانتا ہے، جو فرشتے نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدمؑ کو تمام اشیا  کے نام سکھاتے ہیں، اور فرشتوں سے مطالبہ کرتے ہیں  کہ وہ ان کے نام بتائیں، جو وہ ظاہر ہے نہیں بتا پاتے۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ آدمؑ کو سجدہ کریں، جسے سب فرشتے بجا لاتے ہیں، سوائے ابلیس کے، جو تکبر کی وجہ سے انکار کر دیتا ہے۔ پھر آدمؑ اور ان کی بیوی کو جنت میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے مگر ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا جاتا ہے۔

تاہم، شیطان ان کو بہکاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ دونوں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں۔

اس نافرمانی کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں جنت سے زمین پر اتار دیتے ہیں۔ (Wheeler 2002, 15–35; Shafi 2008b, 159–187; Mikulicová 2014; Kaltner and Mirza 2018, 16–20)

اس واقعے کے حوالے سے قرآنِ مجید میں ایک ایسی آیت بھی ہے جس میں حضرت آدمؑ کو اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیے جانے کا ذکر خاص طور پر موجود ہے۔ یہ حوالہ اس تناظر میں آتا ہے جب ابلیس (شیطان) نے اللہ کے حکم کے باوجود حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا: 

اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تُو اُس کو سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا؟ کیا تُو تکبر کر رہا ہے یا تُو بلند مرتبہ لوگوں میں سے ہے؟ (القرآن، 38:75)

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، بعض مفکرین اس آیت کو حضرت آدمؑ کی خصوصی تخلیق پر دلالت کے طور پر لیتے ہیں (Keller 2011, 350–364; Qadhi and Khan 2018)۔ یقینی طور پر، صرف "اللہ کے ہاتھوں" کا ذکر بذاتِ خود خصوصیت کی قطعی دلیل نہیں ہے،لیکن یہ بات اہم ہے کہ اس آیت میں اللہ کے "دو ہاتھوں" کا ذکر آیا ہے، بالمقابل واحد  یا جمع  کے۔ اور یہ انداز صرف حضرت آدمؑ کے لیے مخصوص ہے۔

کلاسیکی مفکرین جیسے ابن تیمیہ، ابیہقی، اور بیضاوی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اسلوب آدمؑ کی تخلیق کی انفرادیت کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے  (Jalajel 2009, 150–152)۔ البتہ، اس انفرادیت کی حقیقی نوعیت  کیا ہے،یہ امر واضح نہیں ہو سکا ، اور اس نکتے پر باب 10 میں مزید گفتگو کی جائے گی۔سورۃ آلِ عمران کی آیت 59 حضرت آدمؑ کے والدین کے امکان کو چیلنج کرتی ہے۔ اگرچہ یہ آیت بظاہر کسی اشکال کا باعث نہیں بنتی، تاہم اس کا سیاق و سباق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق ماں باپ کے بغیر ایک معجزانہ انداز میں ہوئی تھی۔ یہ آیت اس سورۃ میں واقع ہے جو مجموعی طور پر مسیحی عقائد، بالخصوص حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کے تصور، پر تنقید کرتی ہے۔ سورہ آلِ عمران کے مختلف مقامات پر حضرت عیسیٰؑ کو خدائی درجہ دینے کی واضح تردید کی گئی ہے (Ayoub 1992)۔ مذکورہ آیت میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کے درمیان جس مشابہت کو بیان کیا گیا ہے، وہ یہی غیر معمولی اور معجزانہ تخلیق ہے (القرطبی 2019، 243–244)۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "کہا ہو جا، تو وہ ہو گیا"، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ فطری قوانین سے ماورا ہو کر بھی کسی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے، اور یہ بات قرآن میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقام (سورہ مریم 19:16–21) میں حضرت مریمؑ کی معجزانہ حمل کی تفصیل بھی موجود ہے، جہاں جبرائیلؑ ان کو بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں، اور وہ حیرت سے جواب دیتی ہیں: "میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں؟" (القرآن 19:20) چونکہ مسلمان حضرت مریمؑ کو سچا مانتے ہیں، اس لیے یہ آیت حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدائش پر ایک مضبوط دلیل سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ مکمل طور پر ایک جیسے ہیں۔ قرآن نے حضرت آدمؑ کے بارے میں خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پچھلی آیات میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا، ان تمام آیات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کے درمیان بنیادی مشابہت یہ ہے کہ دونوں کے والد نہیں تھے۔ البتہ حضرت عیسیٰؑ کی ماں (حضرت مریمؑ) موجود تھیں،

جبکہ حضرت آدمؑ کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا گیا۔

مزید یہ کہ اس آیت کا ایک تاریخی پس منظر (اسبابِ نزول) بھی ہے۔ اس واقعے کی ایک روایت درج ذیل ہے ۔

نجْران سے دو راہب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: "اسلام قبول کرو۔" انہوں نے جواب دیا: "ہم تو آپ سے پہلے ہی اسلام قبول کر چکے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "تم جھوٹ کہتے ہو۔ تین چیزیں ہیں جو تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکتی ہیں۔تمہارا صلیب کے سامنے سجدہ کرنا، تمہارا یہ کہنا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، اور تمہارا شراب پینا۔" انہوں نے پوچھا: "آپ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟" نبی کریم ﷺ خاموش رہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے (نیشاپوری 2010،  139)۔

اس واقعے کا مرکزی نکتہ رسول اللہ ﷺ اور کچھ عیسائی راہبوں کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ یہ راہب اسلام قبول نہیں کر رہے تھے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ بغیر والد کے معجزانہ طور پر پیدا ہوئے، لہٰذا وہ ایک الٰہی ہستی ہیں۔ اسی پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی۔اگر اس آیت کے تاریخی و موضوعی سیاق کو یکجا کیا جائے،تو اس میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کے درمیان تقابلی استدلال پیش کیا گیا ہے،اور وہ کچھ یوں ہے: اگر عیسائی یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ معجزانہ طور پر پیدا ہوئے اور اس وجہ سے وہ خدائی حیثیت رکھتے ہیں، تو پھر حضرت آدمؑ تو حضرت عیسیٰؑ سے بھی زیادہ معجزانہ طور پر پیدا کیے گئے،کیونکہ ان کے نہ ماں تھی نہ باپ۔ اسی وجہ سے اکثر مفسرین اور مسلم علماء نے اس آیت سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہےکہ حضرت آدمؑ کے ماں باپ نہیں تھے (Ayoub 1992, 183–188; Jalajel 2009, 48–52; Seoharvi 2009a, 316–317; Haleem 2011, 135; Nasr 2015, 147; Al-Qurṭubī 2019, 243–244)۔ 

ہم نے پہلے جن قرآنی آیات اور احادیث کا جائزہ لیا، وہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کو عمومی انداز میں بیان کرتی ہیں، مثلاً: مٹی، گارا، یا انسانیت کے باپ کے طور پر، لیکن ان میں کسی جگہ صراحت کے ساتھ ماں باپ کی عدم موجودگی کا ذکر نہیں ملتا، جس کی وجہ سے انہیں مختلف زاویوں سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، جیسے کہ: حضرت آدمؑ کی تخلیق جنت میں ہوئی، یا ان کے جسم کی مادی ترکیب کے حوالے سے گفتگو ہے۔ لیکن سورہ آلِ عمران کی یہ آیت اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ براہِ راست حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کے انکار کے لیے حضرت آدمؑ کی معجزانہ تخلیق کو بنیاد بناتی ہے، یعنی کہ حضرت آدمؑ کے ماں باپ نہیں تھے۔ اسی وجہ سے، اسلامی نقطۂ نظر اور نظریہ ارتقا  کے مباحث میں یہ آیت غالباً سب سے اہم آیت شمار کی جا سکتی ہے۔

آخر میں، ایک اور حدیث کا ذکر ضروری ہے جو اس بحث سے متعلق ہے۔ یہ حدیث حضرت آدمؑ کے جسمانی وصف سے متعلق ہے، اور خاص طور پر ان کے قد کا ذکر کرتی ہے۔ اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ: "آدمؑ کا قد ساٹھ ہاتھ (تقریباً 30 میٹر) تھا" (بخاری 6277)۔ اگرچہ اس حدیث کا ارتقا (evolution) یا مشترک نسب (common descent) سے براہِ راست تعلق نہیں ہے،لیکن چونکہ یہ موضوع اسلام اور ارتقا  کی علمی گفتگو میں زیر بحث آیا ہے، اس لیے اس کا ذکر ضروری ہے (Mabud 1991, 91; Guessoum 2010, 829; Majid 2015, 104–105

یہ حدیث ارتقا کی صداقت سے قطع نظر خود اپنے اندر بھی ایک مسئلہ رکھتی ہے، کیونکہ یہ فزکس اور حیاتیات جیسے سائنسی علوم سے متصادم ہے۔یعنی انسانی جسم جس ساخت پر ہے، اس کے ساتھ اتنا طویل قد عملی طور پر ممکن نہیں (Zaman 2020)۔ یہ حدیث ایک اہم case study ہوگی، جب ہم باب 10 میں اس بات کا تنقیدی جائزہ لیں گے کہ مختلف علمی تجاویز اسلام اور ارتقاء میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا طریقے اپناتی ہیں۔ 

مختصراًیہ کہ ، جب ان تمام آیات اور احادیث کو ایک ساتھ دیکھا جائے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمان علماء نے عام طور پر حضرت آدمؑ کی معجزانہ تخلیق کو تسلیم کیا ہے اور یہ بھی مانا ہے کہ انسانیت کی نسل انہی سے شروع ہوئی۔ البتہ یہ تفصیلات کہ آدمؑ کی تخلیق کا عمل کیسے ہوا، اور اس کے بعد انسانوں کا زمین پر پھیلاؤ کن مراحل سے گزرا، یہ سب باتیں قرآن و حدیث میں مکمل وضاحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئیں، جس پر ہم آئندہ ابواب میں مزید بات کریں گے۔ اسلامی تعلیمات کو ارتقا کے سائنسی نظریے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک ایسا تسلسل پر مبنی اور منظم تفسیری طریقہ کار درکار ہے، جس کے ذریعے ان آیات و احادیث کو  کسی من مانی تعبیر یا وقتی تاویلات کے بغیر سمجھا جا سکے۔ ہم باب 4 میں یہ جائزہ لیں گے کہ مختلف مفکرین نے یہ توازن قائم کرنے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں۔

عیسائی اور اسلامی بیانیوں میں  کلیدی فرق

متعلقہ قرآنی آیات اور احادیث کا مختصر جائزہ لینے کے بعد،  عیسائی اور اسلامی بیانیوں کے درمیان فرق کو  واضح کرنے کا اب مناسب موقعہ ہے۔باب 2 میں ہم نے ان چند حساس نکات کا ذکر کیا تھا جو بعض عیسائی مفکرین (خصوصاً Young-Earth Creationism - YEC کے پیروکاروں) کو ارتقا  کے موضوع پر پریشان کرتے ہیں۔  جس میں اصل گناہ (Original Sin)، کائنات/زمین کی عمر، انبیائی نسب اورحضرت نوحؑ کا طوفان شامل ہیں۔   اب ہم ان نکات کا جائزہ اسی ترتیب سے لیں گے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلامی بیانیہ ان مسائل پر کس زاویے سے گفتگو کرتا ہے اور یہ ارتقا  کے نظریے سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے۔

 اصل گناہ  (Original Sin)

باب دوم میں ہم نے یہ جانا کہ عیسائی بیانیے کے مطابق جب حضرت آدمؑ نے درخت کا پھل کھایا، تو اس سے پہلے دنیا نیکی اور خیر کی حالت میں تھی۔ لیکن جب انہوں نے نافرمانی کی اور جنت سے محروم ہوئے، تو شر، مصیبت اور موت دنیا میں وارد ہوئیں۔ یہی تصور "اصل گناہ" (Original Sin) کہلاتا ہے۔ تاہم، یہ نظریہ اسلامی بیانیے میں موجود نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو ابلیس نے انکار کر دیا اور نافرمان ٹھہرا۔ اس نے اللہ کے ایک واضح حکم کو رد کیا۔ لہٰذا اسلام کے مطابق پہلا گناہ حضرت آدمؑ نے نہیں، ابلیس نے کیا۔ ایک اور نکتہ جو اس فرق کو مزید واضح کرتا ہے وہ فرشتوں کا سوال ہے جو حضرت آدمؑ کی تخلیق کے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا: "کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا،حالانکہ ہم تیری حمدوثنا کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں؟" (القرآن 2:30) یہ سوال خود ایک دلچسپ پہلو رکھتا ہےکہ فرشتوں نے یہ سوال کیوں کیا؟کچھ روایات کے مطابق،

یہ سوال ان مخلوقات کے پس منظر میں کیا گیا جو حضرت آدمؑ سے پہلے زمین پر موجود تھیں اور جنہوں نے فساد اور خونریزی کی تھی۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ مخلوق ابلیس اور اس کے ساتھی تھے، جو حضرت انسان سے پہلے زمین پر بستے تھے۔ دوسروں کے نزدیک یہ ماقبلِ آدمی مخلوقات (pre-Adamic entities) تھیں، شاید وہ نیم انسانی (pseudo-human) مخلوقات ہوں۔ جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ صرف فرشتوں کی فطری جستجو تھی،جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے انہیں آگے چل کر دیا (ایوب 1984، ص 71–92؛ ندوی 1998، ص 29–74؛ نصر 2015، ص 21–22؛ البیضاوی 2016؛ القرطبی 2018، ص 117–118)۔

حقیقت جو بھی ہو، یہ بات واضح ہے کہ اسلامی بیانیہ آدم کے درخت کھانے کو دنیا میں شر و فساد کی ابتدا قرار نہیں دیتا۔ یقیناً، دونوں مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ کو جنت سے نکالا گیا، لیکن "اصل گناہ" کا تصور ایک بنیادی الہیاتی فرق ہے جس پر اسلام اور عیسائیت الگ الگ موقف رکھتے ہیں(Ayoub 1984, 71–92; Burrel 2011; Khalil 2012; Winter 2017

کائنات / زمین کی عمر

Young-Earth Creationism (YEC) کے لیے کائنات اور زمین کی عمر ایک اہم اختلافی نکتہ ہے۔ YECکے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ بائبل کو لفظ بہ لفظ (literal) طور پر لیا جائے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ زمین کی عمر صرف 6,000 سے 10,000 سال ہے۔ وہ اس تعبیر کو کسی اور معنوی یا تمثیلی زاویے سے سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔جبکہ قرآن مجید میں بعض آیات میں آسمان و زمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہونے کا ذکر ضرور آیا ہے،لیکن یہاں دن کے لیے استعمال ہونے والا لفظ "یوم" لغوی طور پر مختلف ادوار اور مدتوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی "یوم" صرف 24 گھنٹے کا دن نہیں، بلکہ یہ کسی بھی دورانیہ یا وقت کے وقفے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اسی لسانی لچک (semantic flexibility) کی وجہ سے اسلامی متون قدیم کائنات یا اربوں سال پرانی زمین کے تصور سے کسی قسم کا تصادم نہیں رکھتے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا میں YEC جیسا سخت موقف شاذ و نادر ہی پایا جاتا ہے (اگرچہ یہ بات احتیاط کے ساتھ بیان کی جانی چاہیے)۔

نسب نبوی (Prophetic Lineage)

کائنات کی عمر سے متعلق بحث میں انبیا  کے نسب (genealogy) کا بھی اہم کردار ہے، جیسا کہ ہم نے باب 2 میں دیکھا تھا۔ YECکے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ تمام انبیا  کا سلسلہ نسب حضرت آدمؑ تک جا پہنچتا ہے، جنہیں وہ زمین پر اُس وقت آنے والا پہلا انسان مانتے ہیں جب زمین ابھی نئی نئی وجود میں آئی تھی۔ اسلامی متون میں بلاشبہ انبیا  کا ذکر موجود ہے، کچھ انبیا  کا تفصیلی ذکر ہے، کچھ کا اجمالی۔لیکن قرآن مجید انبیا کے نسب اور ان کی تاریخی ترتیب کے بارے میں بہت محدود معلومات فراہم کرتا ہے۔ چند احادیث میں نبی کریم ﷺ اور ان سے پہلے عرب قبائل کا نسب ضرور بیان ہوا ہے،کیونکہ یہ عرب ثقافت میں اہمیت رکھتا تھا۔لیکن جب نسب کا سلسلہ حضرت نوحؑ سے آگے حضرت آدمؑ تک لے جایا جاتا ہے تو اس کی تاریخی صحت کمزور ہو جاتی ہے (Jalajel 2009, 54،ابن کثیر 2010، ص 34)۔ اسلامی روایت اور بائبل بعض درمیانی شخصیات پر متفق ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا کوئی مستند و متفقہ مآخذ موجود نہیں جس پر مسلمان یہ یقین رکھیں کہ وہ نسبی سلسلہ حضرت آدمؑ تک درست طور پر پہنچاتا ہے (Varisco 1995

طوفانِ نوحؑ   

بائبل سے جُڑی حساسیتوں میں ایک اہم مسئلہ حضرت نوحؑ کا طوفان بھی تھا۔ قرآنِ مجید میں بھی حضرت نوحؑ کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، اور مجموعی خاکہ بائبل سے مماثلت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت نوحؑ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ایک کشتی بنائیں اور اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ کچھ لوگ ایمان لے آتے ہیں، لیکن اکثریت انکار کر دیتی ہے۔ اللہ نوحؑ کو یہ بھی ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں سوار کریں (Wheeler 2002, 49–62; Kaltner and Mirza 2018, 36–140)۔ لیکن ارتقا سے متعلق بحث کے تناظر میں اہم نکتہ یہ ہے کہ آیا یہ طوفان مقامی تھا یا عالمی؟ باب 2 میں ہم نے دیکھا تھا کہ عیسائی مفکرین اس مسئلے پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ اسلامی متون میں اس بارے میں کوئی قطعی اور حتمی بیان موجود نہیں۔ 

مفسرین میں بھی اس پر اختلاف پایا جاتا ہے: کچھ اسے مقامی طوفان قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ عالمی طوفان کے قائل ہیں(Seoharvi 2009b, 70)۔ لیکن جیسا کہ ابن عطیہ (2002، ص 946) نے واضح کیا ہے، قرآن یا حدیث میں اس مسئلے پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسی لیے، اسلامی متون کی تعبیر مقامی اور عالمی دونوں امکانات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

خلاصہ

اس باب میں ارتقا  سے متعلق اسلامی تعلیمات اور قرآن و حدیث کے بیانات کا جائزہ لیا گیا، جنہیں مجموعی طور پر تین تخلیقی مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:  پہلا، کائنات اور زمین کی تخلیق، جس کے بارے میں قرآن میں چھ دن کا ذکر تو ہے، مگر ان دنوں کی مدت یا نوعیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں، یوں قرآن کی زبان سائنسی نظریے سے متصادم نظر نہیں آتی۔ دوسرا مرحلہ غیر انسانی زندگی کی تخلیق کا ہے، جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی کا آغاز پانی سے ہوا، مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ پودوں اور جانوروں کی تخلیق کا عمل کیسے وقوع پذیر ہوا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں بھی کوئی سائنسی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم مرحلہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کا ہے، جسے قرآن و حدیث میں ایک خاص اور معجزانہ واقعہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ انہیں انسانیت کا باپ قرار دیا گیا ہے اور انسانوں کو ان کی اولاد کہا گیا ہے، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانی نسب حضرت آدمؑ تک جا پہنچتا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کو ارتقا  کے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے تو ضروری ہے کہ ان نصوص کی تفہیم ایک مربوط، منضبط اور غیر جانب دار طریقے سے کی جائے، تاکہ اس میں کسی بھی قسم کی من چاہی تاویلات یا زبردستی کے معانی شامل نہ کیے جائیں۔ اس کے ساتھ بائبل اور قرآن کے بیانیے کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں "اصل گناہ" (Original Sin) کا کوئی تصور نہیں، بلکہ حضرت آدمؑ اور حواؑ کی لغزش کو ذاتی عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ پوری انسانیت کے لیے اخلاقی گناہ کی بنیاد کے طور پر۔ اسی طرح کائنات کی عمر، انبیا  کی نسلوں کا تسلسل، اور  طوفان نوح ؑکے بارے میں بھی قرآن کوئی ایسا قطعی بیان نہیں دیتا جو سائنسی دریافتوں سے متصادم ہو۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام، جب تک اسے تنگ نظری یا انتہا پسندی سے نہ سمجھا جائے، ارتقا  جیسے سائنسی نظریات کے ساتھ کسی ٹکراؤ کا سبب نہیں بنتا، بشرطیکہ اس کے متون کی تعبیر میں علمی دیانت اور توازن اختیار کیا جائے۔


حوالہ جات

  1. Abdul-Jabbar, Ghassan. 2020a. “The Classical Tradition.” In Daniel W Brown, ed. The Wiley Blackwell Concise Companion to the Ḥadīth. West Sussex: Wiley Blackwell, 15–38. 
  2. Abdul-Jabbar, Ghassan. 2020b. “Collections.” In Daniel W Brown, ed. The Wiley Blackwell Concise Companion to the Ḥadīth. West Sussex: Wiley Blackwell, 137–158. 
  3. Al-Arnaʾūṭ, Shoʿayb, and ʿĀdil Murshid, eds. 2001. Musnad al-Imām Aḥmad Ibn Ḥanbal. Volume 38. Beirut: Muʾassasat al-Risāla. 
  4. Al-Bayḍāwī, ʿAbdullah Ibn ʿUmar. 2016. The Lights of Revelation and the Secrets of Interpretation: Hizb One of the Commentary on the Qurʾān. trans. by Gibril Fouad Haddad. Manchester: Beacon Books. 
  5. Al-Gharnāṭī, Abū Ḥayyān Athīr ad-Dīn, 2002a. “Tafsīr al-Baḥr al-Muḥīṭ.” Al-Tafāsīr. Accessed 15th of June 2025. Available at: https://www.altafsir.com/Tafasir.asp?tMadhNo=0&tTafsirNo=19&tSoraNo=3&tAyahNo=59&tDisplay=yes&Page=%2010&Size=1&LanguageId=1.
  6. Al-Qurṭubi, Abū ʿAbdullah Muhammad. 2018. Tafsīr al-Qurṭubi. Volume 1. trans. by Aisha Bewley. Bradford: Diwan Press. 
  7. Al-Qurṭubī, Abū ʿAbdullah Muhammad. 2019. Tafsīr al-Qurṭubī. Volume 2. trans. by Aisha Bewley. Bradford: Diwan Press. 
  8. Al-Rāzī, Muḥammad Ibn ʿUmar (Fakhr al-Dīn). 2000. Mafātīḥ al-Ghayb. Volume 9. Beirut: Dār al-Kutub al-ʿIlmiyya. 
  9. An-Naisaburi, Abdul Hassan. 2010. Reasons of Revelation of the Noble Qurʾān. trans. by Aiman Saleh Sha’aban and Muhammad Ismail. Selangor Darul Ehsan: Dakwah Corner Bookstore. Ayoub, Mahmoud M. 1984. The Qurʾān and Its Interpreters. Volume 1. New York, NY: The State University of New York Press.
  10. Ayoub, Mahmoud M. 1992. The Qurʾān and Its Interpreters. Volume 2. New York, NY: The State University of New York Press. 
  11. Brown, Raymond E. 1973. The Virginal Conception and Bodily Resurrection of Jesus. New York, NY: Paulist Press. 
  12. Brown, Raymond E. 1993. The Birth of the Messiah: A Commentary on the Infancy Narratives in the Gospels of Matthew and Luke. New York, NY: Doubleday. 
  13. Brown, Jonathon A. C. 2009. Hadīth: Muhammad’s Legacy in the Medieval and Modern World. New York, NY: Oneworld Publications. 
  14. Burrel, David B. Towards a Jewish-Christian-Muslim Theology. West Sussex: Wiley-Blackwell. 
  15. Graham, William A. 2020. “Revelation.” In Daniel W Brown, ed. The Wiley Blackwell Concise Companion to the Ḥadīth. West Sussex: Wiley Blackwell, 59–74. 
  16. Görke, Andreas. 2020. “Muhammad.” In Daniel W. Brown, ed. The Wiley Blackwell Concise Companion to the Ḥadīth. West Sussex: Wiley Blackwell, 75–90. 
  17. Guessoum, Nidhal. 2010. “Religion Literalism and Science-Related Issues in Contemporary Islam.” Zygon, 45(4): 817–840. 
  18. Haleem, Muhammad Abdel. 2011. Understanding the Qurʾān: Themes and Style. London: I.B. Tauris. 
  19. Ibn al-Jawzī, ʿAbdur Rahmān. 2002. Zād al-Masīr fī ʿIlm al-Tafsīr. Beirut: Dār Ibn Ḥazm. 
  20. Ibn ʿAṭiyya, ʿAbd al-Ḥaqq. 2002. Al-Muḥarrar al-Wajīz fī Tafsīr al-Kitāb al-Azīz. Beirut: Dār Ibn Ḥazm. 
  21. Ibn Kathīr, Abū l-Fidāʾ Ismā ʿīl Ibn ʿ Umar. 2010. The Life of Prophet Muhammad. Trans. by Rafiq Abdur Rehman. Karachi: Darul-Ishaat. 
  22. Jalajel, David Solomon. 2009. Islam and Biological Evolution: Exploring Classical Sources and Methodologies. Western Cape: University of the Western Cape. 
  23. Kaltner, John, and Younus Mirza. 2018. The Bible and the Qurʾān: Biblical Figures in the Islamic Tradition. London: Bloomsbury. 
  24. Keller, Nuh Ha Mim. 2011. Sea Without Shore: A Manual of the Sufi Path. Amman: Sunna Books. 
  25. Khalil, Mohammad Hassan. 2012. Islam and the Fate of Others. Oxford: Oxford University Press. 
  26. Mabud, Shaik Abdul. 1991. Theory of Evolution: An Assessment from the Islamic Point of View. Cambridge: The Islamic Academy. 
  27. Majid, DS Adnan. 2015. “Qurʾānic Interpretative Latitude and Human Evolution: A Case Study.” Al-Bayan – Journal of Qurʾān and Ḥadīth Studies, 12: 95–114. 
  28. Michot, Yahya. 2009. “Revelation.” In Tim Winter, ed. The Cambridge Companion to Classical Islamic Theology. Cambridge: Cambridge University Press, 180–196. 
  29. Mikulicová, Mlada. 2014. “Adam’s Story in the Qurʾān.” Theologica, 4(2): 277–296. 
  30. Nadvi, Khurshid. 1993. Darwinism on Trial. London: Ta-Ha Publishers. 
  31. ندوی، محمد شہاب الدین۔ 1998۔ تخلیقِ آدم اور نظریہ ارتقا۔ بنگلور: فرقانی اکیڈمی ٹرسٹ۔
  32. Seyyed Hossein. ed. 2015. The Study Qurʾān: A New Translation and Commentary. New York, NY: Harper   One. 
  33. Qadhi, Yasir, and Nazir Khan. 2018. “Human Origins: Theological Conclusions and Empirical Limitations.” Yaqeen Institute. Accessed 15th of June 2025. Available at: https://yaqeeninstitute.org/read/paper/human-origins-part-1-theological-conclusions-and-empirical-limitations
  34. Seoharvi, Muhammad Hifzur Rehman. 2009a. Stories from the Qurʾān. Volume 2. trans. by Rafiq Abdur Rahman and Muhammad Saeed. Karachi: Darul-Ishaat. 
  35. Seoharvi, Muhammad Hifzur Rehman. 2009b. Stories from the Qurʾān. Volume 1. trans. by Rafiq Abdur Rahman and Muhammad Saeed. Karachi: Darul-Ishaat. 
  36. Shafi, Muhammad. 2008a. Ma’ariful Qurʾān: A Comprehensive Commentary on the Holy Qurʾān. Volume 7. trans. by Muhammad Taqi Usmani. Karachi: Maktaba-e-Darul-Uloom. 
  37. Shafi, Muhammad. 2008b. Ma’ariful Qurʾān: A Comprehensive Commentary on the Holy Qurʾān. Volume 1. trans. by Muhammad Taqi Usmani. Karachi: Maktaba-e-Darul-Uloom. 
  38. Totolli, Robert. 2020. “Genres.” In Daniel W. Brown, ed. The Wiley Blackwell Concise Companion to the Ḥadīth. West Sussex: Wiley Blackwell, 187–202. 
  39. Varisco, Daniel Martin. 1995. “Metaphors and Sacred History: The Genealogy of Muhammad and the Arab ‘Tribe.’ Anthropological Quarterly, 68(3): 139–156.
  40. Wheeler, Brannon M. 2002. Prophets in the Qurʾān: An Introduction to the Qurʾān and Muslim Exegesis. New York, NY: Continuum. 
  41. Wilkinson, David. 2017. Science, Religion, and the Search for Extraterrestrial Intelligence. Oxford: Oxford University Press. 
  42. Winter, Timothy. 2017. “Islam and the Problem of Evil.” In Chad Meister, and Paul K Moser, eds. The Cambridge Companion to the Problem of Evil. Cambridge: Cambridge University Press, 230–248. 
  43. Zaman, Muntasir. 2020. At the Crossroads of Science and Scripture: An Analysis of the Ḥadīth on Prophet Adam’s Height (Unpublished manuscript).

(جاری)

شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگان (۲)

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

نام و نسب

آپ کا نام عبد العزیز ہے اور تاریخی نام غلام حلیم تھا۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔   عبد العزیز بن احمد (المعروف شاہ ولی اللہ ؒ) بن عبد الرحیم بن وجیہہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی …… الخ۔ آپ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے اکتیس واسطوں سے  امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتا ہے اور والدہ کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظمؒ تک پہنچتا ہے۔ (الامداد فی ماثر الاجداد)

ولادت

شاہ صاحبؒ کی ولادت باسعادت ۲۲ رمضان ۱۱۵۹ھ  بمطابق ۱۷۴۶ء کو دہلی میں ہوئی۔

ابتدائی تعلیم

شاہ صاحبؒ نے سب سے پہلے قرآن کریم حفظ کیا پھر اکثر درسی کتابیں اپنے والد گرامی امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے پڑھیں۔ جب آپ کی عمر سولہ سال کی ہوئی تو آپ کے والد کا محرم ۱۱۷۶ ھ بمطابق ۱۷۶۲ء کو انتقال ہو گیا۔ والد کی وفات کے بعد جو کتابیں پڑھنے والی رہ گئی تھیں وہ مولانا نور اللہ بڈھانویؒ، شیخ محمد امین کشمیریؒ اور شیخ محمد عاشق پھلتیؒ کے حلقہ ہائے درس میں شامل ہو کر مکمل کیں اور سترہ سال کی عمر میں تحصیل علم سے فراغت حاصل کر کے اپنے والد کی مسند درس کو رونق بخشی۔ 

آپ کو تفسیر، حدیث، فقہ، ادبیات عربی، صرف و نحو، منطق و فلسفہ وغیرہ علوم میں انتہائی دسترس تھی۔ خط بھی نہایت عمدہ تھا، تیراندازی اور گھڑ سواری میں بھی ماہر تھے، ذکاوت وفطانت میں یگانہ، فہم و فراست میں منفرد، حفظ و ذہانت میں بے مثل تھے، اس لیے مسند درس پر بیٹھتے ہی ان کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی اور دور دراز علاقوں سے علماء و طلباء استفادہ کے لیے حاضر خدمت ہونے لگے۔

اخلاق و عادات

شاہ صاحبؒ کو علماء سراج الہند، شیخ وقت، امام عصر، عالم کبیر اور حجۃ اللہ جیسے پر شکوہ القاب سے مقلب کرتے تھے۔ آپ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے سب سے بڑے فرزند ارجمند اور حضرت شاہ عبد الرحیمؒ کے پوتے ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے عالم طفولیت سے ہی ایک اونچے ماحول میں تربیت پائی تھی، آپ کا خاندان بھی نہایت بلند مرتبت اور علمی تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ عادات و اطوار، اخلاق و کردار اور مزاج کے لحاظ سے ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتے تھے۔ امراء کی محفلوں اور رؤساء کی مجلسوں سے انہیں شدید نفرت تھی، اس کے برعکس غرباء و مساکین، یتامیٰ و طلباء علم سے نہایت الفت و محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔ مریضوں کی عیادت، بیواؤں کی امداد، مہمانوں کی تواضع اور مسافروں کی خاطرداری آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا، ہر شخص سے خوش اخلاقی اور عجز و انکساری سے پیش آتے تھے، آپ تقویٰ و للہیت کا پیکر حسین تھے۔

اولاد

شاہ صاحبؒ کی نرینہ اولاد نہیں تھی صرف تین بیٹیاں تھیں، ایک کی شادی حضرت شاہ رفیع الدینؒ کے صاحبزادے مولانا محمد عیسیٰؒ سے ہوئی، دوسری کی شادی شیخ محمد افضلؒ کے ساتھ ہوئی جن سے شاہ محمد اسحٰق دہلویؒ اور شاہ محمد یعقوبؒ پیدا ہوئے، تیسری لڑکی کا نکاح مولانا عبدالحی بڈھانویؒ سے ہوا جن سے مولانا عبد القیوم بھوپالیؒ پیدا ہوئے۔ (اتحاف النبلاء ص ۱۳۶)

شاہ صاحبؒ کی خصوصیات

شاہ صاحبؒ بہت سے اوصاف سے مالا مال تھے، وہ جہاں علوم عربی میں ممتاز تھے وہاں بہت سی دیگر زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے، عربی اور فارسی میں تو انہیں مہارت تامہ تھی ہی، اردو اور عبرانی میں بھی انہیں آگاہی حاصل تھی۔ شاہ صاحبؒ اردو زبان کی تعلیم کے لیے خواجہ میر درد کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے جس کی بدولت انہوں نے اس زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا تھا۔ شاہ صاحبؒ کو یوں تو تمام علوم و فنون مروجہ پر مکمل دسترس حاصل تھی لیکن قرآن حکیم اور حدیث رسولؐ سے انھیں بالخصوص انتہائی شغف اور غایت درجہ کا تعلق تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ حدیث نبویؐ کی ترویج و اشاعت اور تبلیغ و تدریس میں صرف کیا۔

قوت حافظہ

شاہ صاحبؒ جن خوبیوں اور کمالات سے مالا مال تھے ان میں ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ ان کی قوت حافظہ نہایت تیز تھی اور یادداشتوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ان کے نہاں خانہ ذہن میں محفوظ تھا، ان کو بہت سی ایسی باتیں یاد تھیں جن کا تعلق ان کی عمر کے بالکل ابتدائی دور اور عہد طفلی سے تھا، اس کا ثبوت ان کے ملفوظات سے ملتا ہے۔ (ملفوظات ص ۶۸)

مقرر

شاہ صاحبؒ جہاں اقلیم علم میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے وہاں تقریر و خطابت اور انداز وعظ و نصیحت میں بھی ان کا کوئی حریف نہ تھا۔ 

طلبہ کے ساتھ شفقت 

علوم کے متلاشی طلباء کے ساتھ ان کا برتاؤ ہمیشہ مشفقانہ رہا، ان کی ضروریات کی کفالت کرتے اور بہت ہی الفت و محبت سے پیش آتے، ان کے سوالات کا دلائل و براہین سے جواب دیتے جس سے ان کے تمام شکوک و شبہات دور ہو جاتے تھے، شاہ صاحبؒ میں عالمانہ غرور بالکل نہ تھا، نفرت و تکبر سے نفور تھے۔

مناظر

شاہ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے حاضر جوابی کا ملکہ عطا فرمایا تھا جس کی بناء پر انہوں نے ہندوستان میں عیسائی پادریوں سے کئی مناظرے اور مباحثے کیے اور عیسائی پادریوں کو منہ توڑ جوابات سے پسپا کر دیا۔

فرنگی کے خلاف فتویٰ

شاہ صاحبؒ کا زمانہ سیاسی اعتبار سے نہایت پر آشوب تھا، مغل حکومت دم توڑ رہی تھی اور انگریز پورے ملک پر قبضہ جما رہے تھے۔ ان حالات میں شاہ صاحبؒ نے ایک طرف تو درس و تدریس کے ذریعے شاہ اسمٰعیل شہیدؒ اور سید احمد شہیدؒ جیسے نامور مجاہد پیدا کیے جنہوں نے اپنی زندگیاں بر صغیر سے انگریزی اقتدار کو ختم کرنے اور اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے لیے وقف کر دیں۔ دوسری طرف تحریر کا سلسلہ شروع کیا جو نہایت مضبوط اور ہمیشہ رہنے والا ہے اس سے لوگ ہر دور میں مستفید ہوتے رہیں گے۔ 

ان کی تحریرات میں ایک نہایت شاندار فتویٰ بھی ہے جو انہوں نے انگریز کے خلاف جاری کیا جس میں عیسائی افسروں کے احکام کا ہندوستان میں بے دھڑک جاری ہونے کا ذکر ہے۔ شاہ صاحبؒ کے اس فتوے اور ان کی انگریز دشمنی کا یہ نتیجہ نکلا کہ مجاہدین کی ایک زبردست جماعت تیار ہو گئی جس نے انگریز کے خلاف باقاعدہ جہاد کیا۔ جہاد کے لیے جو لوگ عملاً‌ میدان میں نکلے ان میں شاہ اسمٰعیل شہیدؒ اور سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاء تھے، ان حضرات کی مساعی جمیلہ نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ آزادی بر صغیر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ 

شاہ صاحبؒ نے انگریزی حکومت کی ملازمت کو گناہ کبیرہ اور حرام بلکہ کفر قرار دیا جس کی پاداش میں انہیں شدید اذیتوں اور مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ شاہ صاحبؒ کو حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے ان کے بھائی شاہ رفیع الدینؒ اور تمام اہل و عیال سمیت نجف عالی خاں جو کہ متعصب شیعہ اور مغل حکومت میں منصب دار تھا اور دہلی پر اس کا تسلط تھا، اس نے دہلی سے نکل جانے کا حکم دیا اور تمام اہل و عیال کو شہر بدر کر دیا۔ شاہ صاحبؒ اس وقت بیمار تھے اور چلنے پھرنے کی ہمت نہ رکھتے تھے اس کے باوجود انہیں اور ان کے بھائی کو خاص طور پر یہ حکم جاری کیا کہ وہ پیدل اور ننگے پاؤں سفر کریں۔ سخت گرمی کے دن، چلچلاتی دھوپ، بیماری کا عالم، اس پر مزید یہ ظلم کہ دونوں بھائیوں کو پیدل اور برہنہ پا چلنے کا حکم دیا گیا۔ دہلی سے جون پور تک کی طویل مسافت انتہائی تکلیف اور صعوبت سے طے کی، راستے میں ایسی ایسی اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا کہ شاہ عبد العزیزؒ کی بینائی بھی جاتی رہی اور کئی قسم کی بیماریاں بھی لاحق ہو گئیں۔ 

جلا وطنی کی مدت پوری کر کے دہلی واپس آئے تو شہر پر انگریزوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ عملاً‌ ریزیڈنٹ (resident) کی حکومت تھی اور مغل بادشاہ اثر و اقتدار سے تقریباً‌ محروم ہو چکا تھا، ملک کی اکثر ریاستیں انگریزی اقتدار کے سامنے جھک گئی تھیں اور ان کے حکمرانوں نے چاپلوسی کو شعار بنا لیا تھا اور اسی کو بقاء اور حفاظت کا اصل ذریعہ سمجھنے لگے تھے۔ شاہ صاحبؒ اس صورت حال سے انتہائی پریشان اور آزردہ خاطر ہوئے اور فتویٰ جاری کیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو گیا ہے کیونکہ یہاں شعائر اسلام کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور عیسائی حکومت کے احکام جاری اور نافذ ہیں۔ اس فتوے کا لوگوں پر بڑا اثر پڑا آگے چل کر انگریزی حکومت کے خلاف مستقل جہاد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مجاہدین کی جماعت نے وہ نمایاں کارنامے انجام دیئے جو برصغیر کی تاریخ حریت کا ایک زریں باب بن گئے۔

تصانیف

شاہ صاحبؒ متعدد علمی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں جن سے لوگ قیامت تک استفادہ کرتے رہیں گے۔

۱۔ تفسیر فتح العزیز

جو کہ تفسیر عزیزی کے نام سے مشہور ہے، فارسی میں ہے اور سواتین پاروں پر مشتمل ہے۔ سورۃ فاتحہ سے پارہ دوم کے ربع تک اور پارہ نمبر ۲۹ اور نمبر ۳۰ کی تفسیر۔ یہ تفسیر شاہ صاحبؒ کی آخری عمر کی تصنیف ہے جب کہ ان کی قوت بصارت باقی نہیں رہی تھی، اپنے ایک شاگرد کو بٹھا کر املاء کرواتے تھے، یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد تفسیر ہے۔ مولانا عبدالحی حسنی لکھویؒ لکھتے ہیں کہ یہ تفسیر کئی بڑی بڑی جلدوں پر مشتمل تھی لیکن ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں ضائع ہو گئی اور پہلی اور آخری صرف دو جلدیں باقی رہ گئیں۔ (نزہۃ الخواطر ص ۲۷۳ ج ۷)

نوٹ: شاہ صاحبؒ کے شاگرد مولوی امام الدین صاحب کے ہاتھ سے املائی تقریر تفسیر عزیزی کے تقریباً‌ سوا پانچ پارے (سورۃ مومنون تا سورۃ یٰسین مکمل ) ہمیں کسی کتب خانہ سے ملے ہیں جو کہ ہمارے پاس محفوظ ہیں اور اسے شائع کرنے کا ارادہ بھی ہے۔

۲- عجالہ نافعہ

یہ کتاب بھی فارسی میں ہے اور اس میں علم اصول حدیث کے مختصر مگر جامع قوانین ہیں۔

۳۔ بستان  المحدثین 

یہ کتاب بھی فارسی میں ہے، اس میں محدثین کے حالات و کوائف کا احاطہ کیا گیا ہے، یہ اپنے موضوع پر بڑی سیر حاصل کتاب ہے، بارہویں صدی کے بعد اس موضوع سے متعلق جو کتابیں لکھی گئی ہیں یہ ان سب کا ماخذ ہے۔

۴۔ سر الشہادتین

یہ کتاب عربی میں ہے اور حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے حالات میں ہے، اس کا اردو ترجمہ شاہ صاحبؒ کے شاگرد مولانا خرم علی بلہوریؒ نے کیا اور ان کے دوسرے شاگرد مولوی سلامت اللہ کشفیؒ نے ’’تحریر الشہادتین‘‘ کے نام سے اس کی شرح لکھی ہے۔

۵۔ عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس

یہ کتاب بھی عربی میں ہے، اس میں حضرات خلفائے راشدینؓ کے حالات بڑے محققانہ انداز میں لکھے ہیں، یہ بھی اپنی نوعیت کی ایک بہترین تصنیف ہے۔

۶۔ شرح میزان المنطق

یہ عربی کے اندر ایک مختصر رسالہ ہے جو میزان المنطق کی شرح ہے۔

۷۔ شرح میزان العقائد

۸ - التقریر فی حل بحث المثناۃ بالتکریر (صدرا)

۹۔ سر الجلیل فی مسئلۃ التفضیل

۱۰۔ وسیلۃ النجات

۱۱۔ حواشی بدیع المیزان 

یہ بھی عربی کے اندر ہے اور بدیع المیزان کی ایسی عمدہ شرح ہے کہ اس کے مطالعہ سے منطق کے مسائل کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

۱۲۔ فتاویٰ عزیزی

یہ کتاب فارسی میں ہے اور دو جلدوں پر مشتمل ہے، مختلف عنوانات کے بہت سے فتووں کو نہایت عمدگی کے ساتھ اپنے دامن صفحات میں لیے ہوئے ہے۔

۱۳۔ تحفہ اثناء عشریہ

یہ کتاب بھی فارسی میں ہے اور شاہ صاحبؒ کی یہ بہت ہی اہم تصنیف ہے، شیعہ کے رد میں ہے اور بارہ ابواب پر مشتمل ہے، اپنے موضوع کے لحاظ سے یہ ایک معرکۃ الآراء کتاب ہے، یہ اس قدر جامع اور مبسوط کتاب ہے کہ اسے شیعہ اور اہل سنت کے مسائل و عقائد کا دائرۃ المعارف کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہ کتاب چونکہ بڑی جاندار اور معلومات افزا تھی اس لیے شیعہ حلقوں میں اس سے ایک تہلکہ بپا ہو گیا اور متعدد نامور شیعوں نے اس کا جواب دینے اور اس کا اثر زائل کرنے کی متعدد ناکام کوششیں کی ہیں۔

۱۴۔ میزان البلاغۃ

یہ بھی عربی کے اندر ایک مختصر مگر جامع رسالہ ہے، اس میں علم بلاغت کے اصولی قواعد بڑے احسن پیرایہ میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مبتدیوں کے لیے یہ گراں قدر خزانہ ہے جس پر حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمنٰ صاحبؒ سابق مفتی دار العلوم دیوبند کا حاشیہ ہے۔ یہ رسالہ کافی مدت سے نایاب تھا اسے ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے شائع کرنے کی نعمت عظمیٰ حاصل کی ہے اور اپنے روایتی مشن کے مطابق قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے۔

شاہ صاحبؒ کا مسلک

شاہ صاحبؒ اپنے والد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے صحیح جانشین ہوئے، اپنے والد کے علوم کو جس انداز میں انہوں نے سمجھا اور آگے اس کی نشر و اشاعت کی، ان کے افکار کو اپنایا اور اسے رواج دینے کی کوشش کی، تقریباً‌ ساٹھ سال تک درس حدیث دیا، یہ سب قابل ستائش و آفرین ہے۔ شاہ ولی اللہؒ تو مجتہد منتسب کے درجہ پر فائز تھے لیکن عملاً‌ حنفی المسلک تھے مگر شاہ عبدالعزیز صاحبؒ راسخ العقیدہ حنفی مسلک پر کاربند تھے اور اسی کی تبلیغ کرتے تھے۔

شاگرد

شاہ صاحبؒ کے ہزاروں شاگردوں میں سے مندرجہ ذیل چند حضرات کے نام درج ہیں جن میں سے ہر بزرگ علم و فضل میں یکتا تھا اور ہر ایک نے تحقیق و کاوش کے مختلف میدانوں میں جو کارنامے انجام دیئے وہ تذکرہ کی کتابوں میں محفوظ ہیں، شاگردوں کے مقام و مرتبے کی رفعت سے استاد کی عظمت کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے:

۱۔ شاہ صاحبؒ کے بھائی شاہ رفع الدینؒ المتوفیٰ ۱۲۳۳ھ

۲۔ شاہ صاحبؒ کے دوسرے بھائی شاہ عبد القادرؒ المتوفیٰ ۱۲۳۰ھ

۳۔ مولانا شاہ اسمٰعیل شہیدؒ المتوفیٰ ۱۲۴۶ھ

۴۔ شاہ محمد اسحٰقؒ المتوفیٰ ۱۲۶۲ھ

۵۔ شاہ محمد یعقوبؒ المتوفی ۱۲۸۲ھ

۶۔ سید احمد شہید بریلویؒ المتوفی ۱۲۴۶ھ

۷۔ مولانا فضل حق خیر آبادیؒ المتوفی ۱۲۷۸ھ (مولانا فضل حق، شاہ عبد القادرؒ کے شاگرد ہیں لیکن انہیں بالواسطہ شاہ عبد العزیزؒ کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔)

۸۔ مولانا عبدالحی بڈھانویؒ المتوفی ۱۸۲۸ء وغیرہ

 یہ سب حضرات شاہ صاحبؒ سے فیض یاب ہوئے اور آگے چل کر علم و کمال، تقویٰ و تدین تحقیق و تدقیق، تدریس و تعلیم، تصنیف و تالیف، نشر و اشاعت دین، وعظ و تبلیغ اور جہاد فی سبیل اللہ میں بلند مراتب کو پہنچے۔

شاعر

شاہ صاحبؒ عربی کے شاعر اور ادیب بھی تھے، انہوں نے عربی میں بہت سی نظمیں بھی کہی ہیں۔ اپنے چچا شاہ اہل اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام عربی نظم میں ایک خط لکھا جس میں اپنے زمانے کے سیاسی حالات اور مرہٹوں اور سکھوں کی جنگی چالوں اور ان پر ظلم و ستم کی داستان بیان کی ہے۔ شاہ صاحبؒ جامع الحیثیات شخص تھے، وہ بیک وقت جلیل القدر عالم، رفیع المرتبت مفسر، نامور محدث، وسیع النظر فقیہ، شعلہ بیان مقرر، عظیم مناظر، کہنہ مشق مصنف، منجھے ہوئے مدرس، صاحب طرز ادیب اور ممتاز شاعر تھے۔

وفات

با الآخر اس عظیم المرتبت ہستی کی روح بروز یک شنبہ (اتوار) بوقت صبح شوال ۱۲۳۹ھ بمطابق ۱۷ جولائی ۱۸۲۳ء قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور ایک اندازے کے مطابق لوگوں کے ہجوم کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی نماز جنازہ پچپن مرتبہ ادا کی گئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔


حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ

نام و نسب

آپ کا نام رفیع الدین ہے اور سلسلہ نسب یہ ہے: رفیع الدین بن احمد (المعروف شاہ ولی اللہؒ) بن عبدالرحیم بن وجیہہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی الخ۔ آپ کا سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ بن الخطاب تک پہنچتا ہے جیسا کہ امام ولی اللہؒ المتوفیٰ ۱۱۷۶ھ  فرماتے ہیں: ’’سلسلہ نسب ایں فقیر بامیر المومنین عمر بن الخطاب می رسد (الامداد فی ماثر الاجداد) اس فقیر کا سلسلہ نسب حضرت عمرؓ بن الخطاب تک پہنچتا ہے۔  اور شاہ صاحبؒ کا سلسلہ نسب والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام موسیٰ کاظم ؒتک پہنچتا ہے تو اس لحاظ سے آپ اصلاً‌ عربی اور نسباً‌ فاروقی ہیں۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

عموماً‌ خیال کیا جاتا ہے کہ شاہ ولی اللہؒ کا خاندان سید (سادات) ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس خاندان کے افراد کے اسماء کے شروع میں جو شاہ لکھا جاتا ہے، یہ تو ہمارے برصغیر کی اصطلاح ہے کہ جو بھی صوفی اور سالک ہو اس کے نام کے شروع میں شاہ لکھتے ہیں، جیسے شاہ رفیع الدینؒ، شاہ ولی اللہ،، شاہ عبدالعزیزؒ، شاہ اشرف علی تھانویؒ وغیرہ۔ اور جو سید ہو اس کے نام کے آخر میں شاہ لکھتے ہیں اور شروع نام میں سید لکھتے ہیں جیسے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ وغیرہ۔

ولادت باسعادت

آپ امام ولی اللہؒ کی دوسری بیوی سے دوسرے صاحبزادے ہیں، آپ کی ولادت باسعادت دہلی میں ۱۱۶۳ھ میں ہوئی۔ امام ولی اللہؒ کی پہلی بیوی میں سے ایک صاحبزادہ محمد تھا جس کے نام کے ساتھ شاہ ولی اللہؒ اپنی کنیت ابو محمد کرتے تھے۔

تعلیم و تربیت

آپ نے تعلیم و تربیت اپنے والد امام ولی اللہؒ اور اپنے بڑے بھائی سراج الہند شاہ عبد العزیزؒ المتوفیٰ ۱۲۳۹ھ سے بھی حاصل کی۔ شاہ رفیع الدینؒ اپنی مایہ ناز کتاب ’’دمغ الباطل‘‘  ص ۹۸ میں اس کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے علوم عقلیہ و نقلیہ وادبیہ کی تعلیم اپنے برادر کلاں شیخ عبد العزیزؒ سے حاصل کی۔ شاہ رفیع الدینؒ اور ان کے چھوٹے بھائی شاہ عبد القادرؒ المتوفیٰ ۱۲۳۰ھ دونوں نے تعلیم و تربیت اور فیض اپنے بڑے بھائی سے حاصل کیا۔ 

شاہ رفیع الدینؒ بیس سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ یہ دونوں بھائی شاہ عبد العزیزؒ کے بہترین معاون بھی ثابت ہوئے۔ عقلی مسائل کے لیے جس قدر تحقیقات کی ضرورت ہوتی تھی شاہ رفیع الدینؒ اسے پورا کرتے تھے اور کشفی مسائل میں شاہ عبد القادرؒ کو خصوصیت سے امتیاز حاصل تھا۔ نقلی علوم کی تعلیم کے لیے شاہ عبد العزیزؒ مسلم امام تھے۔ گویا عقل و نقل اور کشف کی جامع سوسائٹی (society) بنانے میں ان حضرات کی کوششیں بہت ہی گرانقدر تھیں۔  (کما افادہ مولانا السندھی)

شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’مولوی رفیع الدین در رضیات چنداں ترقی کردہ اند کہ شاید موجد آں ہم بودہ باشد یا نہ‘‘ مولوی رفیع الدین نے ریاضی میں اس قدر ترقی کی ہے کہ شاید ریاضی کے موجد نے بھی اتنی کی ہو یا نہ۔ اور فرمایا ’’در فن ریاضی مثل مولوی رفیع الدین در ہند و ولایت نخواہد بود‘‘ ( تاریخ دار العلوم دیوبند ص ۱۰۱ بحوالہ ملفوظات و کمالات) ریاضی کے فن میں مولوی رفیع الدین کی طرح ہند اور ولایت میں کوئی نہیں ہوگا۔

اخلاق و عادات

شاہ صاحبؒ کو پروردگار نے نہایت ہی بردبار، منکسر المزاج، سیر چشم، فیاض، نکتہ شناس حکیم، مستغنی المزاج، متوکل علی اللہ، متقی، ملنسار، خوش اخلاق، ستودہ صفات، پاکیزہ اطوار اور مومنانہ کردار کا حامل بنایا تھا۔ آپ بیک وقت مفسر، محدث، فقیہ اور جملہ علوم و فنون پر کمال رکھنے والے تھے۔ صاحب الیانع الجنی شیخ محدث محسنؒ نے ان الفاظ میں آپ کی تعریف کی ہے: الشیخ، المحدث، المتقن، المحقق رفیع الدین دہلویؒ۔ اور اسی طرح آپ کے فہم کی بھی بہت تعریف کی ہے۔ آپ علماء راسخین میں سے تھے اور آپ کا علم نہایت ہی ٹھوس تھا۔ آپ فرید الدہر، وحید عصر، صاحب علم و حلم، عمل و تقویٰ، فہم وذکاء، فراست و دیانت، امانت و مراتب اور ولایت تھے۔ شاہ صاحبؒ نے اخذ طریقت شیخ محمد عاشق پھلتیؒ سے کیا۔ شاہ صاحبؒ عربی کے بہت بڑے شاعر بھی تھے۔

تعلیم و تدریس

آپ برابر تعلیم و تدریس میں مشغول رہے اور بہت سے لوگ آپ سے فیض یاب ہوئے۔ آپ علوم قرآن و حدیث پڑھاتے تھے اور ساتھ ساتھ تصوف و سلوک کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے تھے۔ بوقت ضرورت فتاویٰ بھی تحریر فرماتے تھے۔ بعض مسائل میں آپ کی تحقیقات نہایت ہی قیمتی اور بصیرت افروز ہیں اور آپ بہت مختصر الفاظ میں بڑے بڑے مطالب بیان کر دیتے تھے، یہ آپ کا خاص کمال تھا۔ آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں۔

سخاوت و خدمت

’’صاحب ارواح ثلاثہ‘‘ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ امیر شاہ خان صاحب مرحوم نے فرمایا کہ چار شخص شاہ ولی اللہؒ کے خاندان میں بہت سخی تھے، ایک شاہ رفیع الدینؒ، ان کی نسبت سید احمد خان نے لکھا ہے کہ ان کا کیسہ زر ہمیشہ خالی رہتا تھا الخ۔

یہ مکان سے باہر چبوترہ پر بیٹھتے تھے اور اس پر فرش نہ ہوتا تھا، بلکہ صرف چٹائی ہوتی تھی، اور کبھی چٹائی بھی دے دیتے تھے اور خالی زمین پر بیٹھتے تھے۔ سارے محلے کی عورتوں کا کام کیا کرتے تھے۔ میرے استاذ میاں جی محمدی صاحبؒ فرماتے تھے کہ ایک روز شاہ صاحبؒ عورتوں کا سودا خریدنے گئے، چونکہ سودے مختلف اور متعدد تھے اس لیے اول انہوں نے سودے رومال میں باندھے، جب رومال میں گنجائش نہ رہی تو کرتے میں رکھے، جب اس میں بھی گنجائش نہ رہی اور ایک سودا باقی رہ گیا تو اسے ٹوپی میں لے لیا۔ میں نے عرض کیا، حضرت دال مجھے دے دیجیے اور ٹوپی خالی کر کے اوڑھ لیجیے، تو آپ نے فرمایا کہ نہیں مسلمان کی ہر چیز کام میں آنی چاہیے۔ (ارواح ثلاثہ طبع جدید ص ۴۰، ۴۱)

اولاد

شاہ صاحبؒ کے چار لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ لڑکوں میں سے (۱) ایک شاہ مخصوص اللہ المتوفیٰ ۱۲۷۳ھ، (۲) شاہ عیسیٰ جن کی شادی شاہ عبدالعزیزؒ کی صاحبزادی سے ہوئی، (۳)  شاہ محمد موسیٰ ، (۴)  اور شاہ حسن جان ہیں۔ اور لڑکی جس کا نام امۃ اللہ یا امۃ الغفار بی زوجہ نجم الدین سونی پتی ہیں، یہ بہت ہی زاہدہ و عابدہ خاتون تھیں، صحاح ستہ پڑھی ہوئی تھیں ( آثار الصنادید ص ۲۶۸)

مسلک

شاہ صاحبؒ خالص حنفی المسلک تھے اور اسی کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ شیخ محدث محسنؒ نے الیانع الجنی میں ذکر فرمایا ہے کہ ’’ان کے والد اور پورا خاندان مسلکاً‌ حنفی تھا۔ اسی طرح شاہ رفیع الدینؒ کے والد امام ولی اللہؒ کا مشہور قول ہے:

ان فی المذھب الحنفی طریقة انیقة ھی اوفق با السنة المعروفة التی جمعت و نقحت فی زمان البخاری واصحابہ (فیوض الحرمین ص ۱۳۶)

’’بے شک مذہب حنفی میں ایک ایسا عمدہ طریقہ ہے جو سب سے زیادہ موافق ہے سنت مشہورہ کے، وہ سنت جس کو امام بخاریؒ اور اس کے ساتھیوں کے زمانہ میں منقح کیا گیا۔‘‘

تصانیف

شاہ صاحبؒ کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف ہیں جن کا اجمالی تعارف حسب ذیل ہے:

۱۔ ترجمہ قرآن کریم

یہ ترجمہ اردو زبان میں سب سے پہلا تحت اللفظ ترجمہ ہے، لفظی تراجم میں نہایت عمدہ اور بہترین ہے۔ اس ترجمہ کے متعلق ’’حیاۃ ولی‘‘ کے مصنف نے لکھا ہے: ’’قرآن کریم کا لفظی ترجمہ آپ ہی نے کیا ہے جو دریائے جمنا سے لے کر فرات تک نہایت مقبولیت کے ساتھ پھیلا ہوا ہے اور عوام اس سے مستفیض ہو رہی ہے۔‘‘

۲۔ دمغ الباطل

یہ کتاب مسئلہ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود پر مشتمل ہے کیونکہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدینؒ کو علم الحقائق پر کافی دسترس تھی اس لیے انہوں نے اس کتاب میں اس مسئلہ پر بڑی بسط سے کلام کیا ہے۔ یہ کتاب قلمی تھی اور نایاب تھی اسے والد محترم مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی مدظلہ العالی فاضل دیوبند و فاضل دارالمبلغین لکھنو و فاضل نظامیہ طبیہ کالج حیدر آباد دکن، بانی مدرسہ نصرت العلوم و جامع مسجد نور گوجرانوالہ، جنہیں فلسفہ ولی اللہی کے ساتھ خاص مناسبت، محبت اور شغف ہے، نے رضا لائبریری رامپور سے حاصل کر کے اسے بڑی محنت و کاوش، عرق ریزی اور لگن کے ساتھ پانچ سال کے طویل عرصے میں اس کی تصحیح کی اور اس پر ایک مفصل مقدمہ بھی تحریر فرمایا ہے۔ اس کتاب کو ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ نے شائع کرنے کی سعادت عظمیٰ حاصل کی ہے، اس کتاب کو بمع کتاب کلمات الحق ادارہ نے شائع کیا ہے۔

۳۔ اسرار المحبۃ

یہ کتاب بھی نایاب تھی، پہلی مرتبہ طبع ہوئی ہے، اس کتاب کو بھی والد محترم نے تصحیح اور مقدمہ سمیت ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ سے شائع کروا کے ناظرین کی خدمت میں پیش کیا ہے۔

۴۔ تکمیل الاذہان

تکمیل الاذہان میں چار باب ہیں۔ ایک منطق، دوسرا امور عامہ، تیسرا تحصیل اور چوتھا تطبیق آراء پر مشتمل ہے۔ امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ المتوفیٰ ۱۳۶۳ھ نے اس کتاب کی بہت تعریف کی ہے، فرمایا کہ ’’ایسی جامع کتاب اس سے قبل نہیں لکھی گئی۔‘‘ 

یہ کتاب بھی نایاب تھی، والد محترم کی تصحیح اور مقدمہ مفیدہ کے ساتھ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اسے بھی اپنے روایتی مشن (تبلیغ اور اکابرو اسلاف کی کتب کی اشاعت ) کے تحت شائع کیا ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۹۶۴ء میں شائع ہوئی تھی، اب اسے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے متعلق حضرت مولانا علامہ شمس الحق افغانیؒ نے اپنے ایک خط میں اس کی اشاعت پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس خط کا عکس مقدمہ تکمیل الاذہان ص ح پر موجود ہے۔

۵۔ تفسیر آیت نور

اس رسالہ میں آیت نور کی تفسیر میں گزشتہ حکماء نے جو کچھ بیان کیا ہے ان کے اقوال و آراء کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ بھی نایاب تھا، اس رسالہ کو بھی والد محترم کی تصحیح اور مقدمہ کے ساتھ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ نے شائع کیا ہے۔

۶۔ قیامت نامہ یا علامات قیامت

یہ رسالہ فارسی میں ہے، اس میں قیامت اور آخرت کے حالات اور کوائف احادیث مبارکہ سے بیان کیے گئے ہیں۔ نہایت عبرت آموز اور نصیحت افزا ہے، اس کا تو اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ شاہ صاحبؒ کا یہی ایک خاص رسالہ ہے جس سے عوام بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں باقی جملہ کتابیں تو ایسی ہیں جن سے خواص (علماء) ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

۷۔ مجموعہ رسائل (حصہ اول)

اس مجموعہ کے اندر شاہ صاحبؒ کے دس رسالوں کو جمع کیا گیا ہے۔ اس مجموعہ کی تصحیح اور اس پر ایک بسیط مقدمہ والد محترم نے لکھا ہے اور بیشتر مقامات میں قارئین کرام کی سہولت کے لیے حواشی سے بھی مزین کیا ہے اس مجموعہ کو بھی ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ نے اب دوبارہ شائع کیا ہے۔ ان دس رسالوں کا اجمالی تعارف حسب ذیل ہے:

(۱) رسالہ فوائد نماز

یہ رسالہ فارسی میں ہے، مختصر اور نہایت عجیب و غریب ہے، اس میں نماز کی حقیقت اور مخلوقات کے مختلف طبقات کی نمازوں کا الگ الگ بیان ہے، سالکان طریقت اور اصلان حقیقت کی آگاہی کے لیے لکھا گیا ہے۔

(۲) رسالہ اذان نماز

یہ رسالہ بھی فارسی زبان میں ہے، اس میں شاہ صاحبؒ نے اذان کے کلمات کے تکرار کی حکمت بیان فرمائی ہے اور کلمات اذان کی تشریح بھی نہایت احسن طریقہ پر بیان فرمائی ہے۔

(۳) رسالہ حملۃ العرش

یہ رسالہ بھی فارسی ہے، انسانی فکر میں بہت ہی بلندی پیدا کرتا ہے، اس میں حملۃ العرش کی تحقیق ہے، انتہائی ادق احسن اور مختصر ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے اس کا کچھ اہم ترین حصہ اپنی تفسیر عزیزی میں بھی نقل کر دیا ہے۔

(۴) رسالہ شرح رباعیات

یہ فارسی میں ایک مختصر سا رسالہ ہے، اس میں فارسی زبان کی دو رباعیات ہیں جن میں انسانی حقیقت اور انسان کا تعلق اور قرب، اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ شاہ صاحبؒ نے ان رباعیوں کی شرح لکھی ہے جو نہایت ہی غامض اور علم حقائق سے متعلق ہے۔

(۵) رسالہ بیعت

یہ بھی فارسی زبان میں ہے، اس میں بیعت کی مشروعیت، اس کی ضرورت، فوائد اور اس کی چار قسمیں اور ان کی وضاحت بیان فرمائی ہے۔

(۶) رسالہ شرح چہل کاف

یہ رسالہ عربی زبان میں ہے، اس میں چہل کاف جو کہ ایک مشہور دعا ہے جس میں چالیس کاف آتے ہیں، بہت سے بزرگوں کے معمولات میں سے ہے، یہ شعروں میں ہے اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ المتوفیٰ ۵۶۱ھ  کی طرف منسوب ہے، اس کی شرح اور طریقہ خواندگی تحریر فرمایا ہے۔

(۷) رسالہ شرح برہان العاشقین یا حل معمہ

یہ رسالہ فارسی زبان میں ہے، حضرت خواجہ بندہ غریب نواز گیسو درازؒ المتوفیٰ ۸۲۵ھ کے ایک مختصر ترین رسالہ برہان العاشقین کی شرح ہے جس میں خواجہ صاحب نے انسان کی ترقی کے تمام امکانی مدارج اونیٰ درجہ سے انتہائی اعلیٰ مراتب تک ایک قصہ اور چیستان یا رمز و اشارہ کی زبان میں بیان کیے ہیں، اس کی شرح شاہ رفیع الدین نے اپنے ذوق کے مطابق کی ہے۔

(۸) رسالہ نذور بزرگان

یہ رسالہ فارسی زبان میں ہے، اس میں اس بات کی تحقیق کی گئی ہے کہ بعض لوگ بزرگوں کے مزارات پر نذرانے لے کر جاتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے اور اس کی متعدد صورتوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔

(۹) رسالہ جوابات سوالات اثنا عشر

یہ رسالہ بھی فارسی میں ہے، اس میں ان بارہ سوالات کے جوابات ہیں جن میں سے بعض سوالات فقہی ہیں اور بعض علم کلام سے متعلق ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے انتہائی اختصار کے ساتھ اس کی بہت اچھی تحقیق کی ہے۔

(۱۰) فتاویٰ شاہ رفیع الدین ؒ

یہ بھی فارسی زبان میں ہے اور مختلف فقہی، اعتقادی اور چند اصولی و فروعی سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے، اصحاب فتاویٰ کے لیے نہایت مفید اور معلومات افزا ہے۔

۸۔ مجموعہ رسائل (حصہ دوم)

اس مجموعہ میں حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کے انیس علمی و تحقیقی رسائل کو جمع کیا گیا ہے جن میں پندرہ رسائل مخطوطات ہیں جو ابھی تک شائع نہیں ہو سکے تھے، یہ ہمیں دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ سے دستیاب ہوئے ہیں، ان کو اہل علم کے استفادہ کی خاطر شائع کیا گیا ہے۔ اس مجموعہ میں چار رسائل ایسے بھی ہیں جو مطبوعات میں سے ہیں، وہ بھی چونکہ نایاب تھے اس لیے انہیں بھی اس مجموعہ میں منسلک کر دیا گیا ہے، تو اس لحاظ سے یہ کل انیس رسائل ہوئے جن کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے:

(۱) شرح رسالہ عقد انامل (عربی)  (بمع ضمیمہ اردو)

حضرت مولانا شاہ رفیع الدینؒ کا رسالہ عقد انامل جو چند سطور پر مشتمل ہے، اس کا مطبوعہ نسخہ بمع رسالہ عقد انامل جس کا ترجمہ اور شرح ولی اللہی سلسلہ کے ایک صاحب مولانا عبد الرحمٰن شاکرؒ نے لکھا ہے، یہ رسالہ ہمیں دستیاب ہوا اور اس کو بمع شرح کے ہی ہم نے مجموعہ رسائل حصہ دوم میں شامل کر لیا ہے جس کے صرف چار صفحات ہیں۔ اس کی طباعت دیگر چار رسائل کے ساتھ مطبع نظامی کانپور میں ۱۲۷۳ھ میں مولوی عبد الرحمٰن شاکرؒ اور ان کے والد روشن خانؒ نے اپنے اہتمام سے کرائی تھی، اس وقت کی اردو زبان جس طرح چل رہی تھی اسی میں یہ ترجمہ کیا ہے اور اس کی وضاحت بھی ساتھ کر دی ہے۔

نوٹ: اس رسالہ کے ساتھ ایک ضمیمہ بھی منسلک کیا گیا ہے جو کہ والد محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان صاحب سواتی مدظلہ نے تحریر فرمایا ہے، یہ ضمیمہ اردو زبان میں ہے۔

(۲) تحقیق الالوان (فارسی)

اسی طرح شاہ رفیع الدینؒ کا دوسرا رسالہ تحقیق الالوان بمع شرح تحفۃ الاخوان ہے، یہ ترجمہ اور شرح بھی انہی مولانا عبد الرحمٰن بن روشنؒ کا ہے۔ اصل رسالہ فارسی میں ہے، بڑے سائز کے ایک صفحہ میں ہے، جب کہ اس کی شرح بڑے سائز کے ۵۸ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کو بھی انہوں نے ۱۲۸۲ھ میں طبع کرایا تھا۔ ہم نے صرف فارسی متن ہی طبع کرایا ہے، شرح غیر ضروری طوالت کی بناء پر ترک کر دی ہے، اس رسالہ کا نسخہ ہمیں مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی صاحب (فاضل دیوبند) کے کتب خانہ سے دستیاب ہوا اور انہوں نے ہی اس کی فوٹو کاپی کرانے کی اجازت دی۔ یہ رسالہ بڑا اہم ہے، شاہ رفیع الدینؒ نے، جو رنگ شریعت میں استعمال کرنے ناجائز ہیں، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے ان کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔

(۳) رسالہ سید کبیر احمد کی گائے اور شیخ سدو کا بکرا (فارسی) (نذر لغیر اللہ کی وضاحت)

اسی طرح یہ رسالہ بھی مطبوعات میں تھا، یہ دراصل شاہ رفیع الدینؒ کا ایک فتوی ہے جو دیگر فتاویٰ کے ساتھ اس کو مولوی تراب علیؒ تلمیذ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب زبدۃ النصائح فی مسائل الذبائح میں درج کیا ہے اور یہ فتویٰ شاہ رفیع الدینؒ نے ۱۲۳۱ھ میں لکھا تھا۔ زبدۃ النصائح مطبع محمدی میں ۱۲۶۷ھ میں طبع ہوئی تھی، اس کی نقل ہم نے اسی کتاب کی فوٹو کاپی سے لی ہے۔

(۴) ترکیب خواندن سورۃ یوسف (فارسی)

یہ رسالہ مخطوطہ ہے جو ہمیں دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ سے حاصل ہوا ہے، یہ پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس میں سورۃ یوسف کے پڑھنے کی ترکیب اور اس کے فوائد و خاصیات کا ذکر ہے کہ کشائش رزق اور اپنے کاموں کے لیے اس کی تلاوت کس طریقہ سے کی جائے، یہ رسالہ عملیات سے متعلق ہے۔

(۵) رسالہ تحقیق شق القمر (فارسی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ شق القمر یعنی چاند کے ٹکڑے ہونے کے ثبوت کے متعلق بحث ہے اور منکرین شق القمر کے اعتراضات کے بڑے حکیمانہ انداز میں جوابات مذکور ہیں، غالباً‌ یہ رسالہ پہلے طبع بھی ہو چکا ہے لیکن ہمیں دستیاب نہیں ہوا۔

(۶) رسالہ تحقیق آیات و قرات (فارسی) بمع القول المقرر (فارسی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں قرآن کریم کی آیات اور قرات کے متعلق بحث ہے، قراء سبعہ اور ان کی قرات اور قرآن کریم کے اوقاف کا تذکرہ بھی ہے اور یہ جملہ بحث سوال و جواب کی صورت میں ہے۔

اس رسالہ کے ساتھ بطور ضمیمہ ’’القول المقرر‘‘ بھی منسلک  ہے جو کہ میر محمد حسن المعروف حسن علیؒ کی تصنیف ہے، یہ بھی مخطوطہ ہے، یہ بھی پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس میں بھی قراء سبعہ اور ان کے حالات اور تعارف، ان کی موالید و وفیات کا بڑے احسن انداز میں ذکر کیا گیا ہے، مفید ہونے کی وجہ سے اسے بھی شاہ صاحبؒ کے رسالہ کے ساتھ طبع کرایا گیا ہے۔

(۷) رسالہ تحقیق طلوع و غروب (فارسی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس میں سورج کے طلوع و غروب کی تحقیق سوال و جواب کے انداز میں مذکور ہے۔ 

(۸) قاعدہ مناسخہ در علم فرائض (فارسی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں علم فرائض یعنی وراثت کے متعلق بحث کی گئی ہے اور علم فرائض کا ایک مشکل مسئلہ ذکر کیا ہے۔

(۹) قاعدہ تحریم النساء (فارسی)

اس رسالہ میں ان عورتوں کا تذکرہ ہے جن کے ساتھ شریعت میں نکاح کرنا حرام ہے اور ان کی اقسام بڑے احسن انداز میں مذکور ہیں، یہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے۔

(۱۰) رسالہ اصطرلاب (فارسی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں قدیم ریاضی کے متعلق معلومات ہیں، یہ رسالہ طول بلد، عرض بلد معلوم کرنے کے لیے مفید ہے۔

(۱۱) سوالات فارسی

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں مختلف علمی سوالات کے جوابات مذکور ہیں، کچھ سوالات آیات کے بارہ میں ہیں اور کچھ دوسری علمی باتوں کے بارہ میں ہیں۔

(۱۲) رسالہ حکم الصلوٰۃ والصوم فی ارض التسعین (عربی)

یہ رسالہ مطبوعات میں سے ہے جو پہلے طبع ہو چکے ہیں، ہم نے اس رسالہ کی نقل کتاب ’’لقطۃ العجلان‘‘  طبع مطبع نظامی کانپور ۱۲۹۱ھ ص ۸۲ تا ۸۴ سے لی ہے، یہ کتاب نواب صدیق حسن خان مرحوم کی تصنیف ہے، اس میں شاہ رفیع الدینؒ کا یہ پورا رسالہ انہوں نے نقل کیا ہے، اس رسالہ کا اردو ترجمہ پورا کتاب نماز مسنون کلاں مصنفہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان صاحب سواتی مد ظلہ کے ص ۱۹۵ تا ۲۰۰ میں نقل کر دیا گیا ہے، اردو خواں حضرات اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

(۱۳) رسالہ سوالات و جوابات متفرقہ در عربی

یہ رسالہ مخطوطات میں سے ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں سوالات و جوابات کی صورت میں ستاروں اور فلکیات کے متعلق بحث کی گئی ہے۔

(۱۴) رسالہ تحقیق قدم و حدوث عالم و تدوین تاریخ (عربی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں جہان کے قدیم اور حادث ہونے کے متعلق، ہبوط آدم علیہ السلام کے متعلق اور تاریخ کے متعلق بحث مذکور ہے۔

(۱۵) رسالہ تحقیق الایمان (عربی)

یہ رسالہ بھی مخطوطات میں سے ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں ایمان کے مختلف معانی پر بحث کی گئی ہے۔

(۱۶) رسالہ اولاد رسول (عربی)

یہ رسالہ بھی مخطوطات میں سے ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں سیر اور تاریخ کے حوالہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد کے متعلق معلومات ذکر کی گئی ہیں۔

(۱۷) رسالہ اعتقاد نجوم (عربی)

یہ رسالہ مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں ستاروں کے موثر اور غیر موثر ہونے کے متعلق اعتقاد رکھنے کا ذکر اور اس میں مختلف مذاہب کے متعلق بحث کی گئی ہے۔

(۱۸) رسالہ شرح مسئلہ منطقیہ تصوریہ (عربی)

یہ رسالہ بھی مخطوطہ ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے، اس رسالہ میں علم منطق کی تین اصطلاحات بشرط شی، بشرط لاشی اور لا بشرط شی کی تفصیل اور شرح بڑے احسن پیرائے میں کی گئی ہے اور فن منطق میں ان اصطلاحات کے فائدہ کے متعلق روشنی ڈالی گئی ہے۔

(۱۹) حواشی شرح چغمینی (عربی)

یہ رسالہ بھی مخطوطات میں سے ہے اور پہلی مرتبہ شائع ہو کر منظر عام پر آیا ہے، یہ رسالہ ریاضی قدیم پر مشتمل ہے اور شرح چغمینی جو ریاضی قدیم کی مشہور کتاب ہے اس کے ایک ادق اور مشکل مقام کا حاشیہ اس رسالہ میں مذکور ہے۔

۹۔ رسالہ فی علم العروض

یہ رسالہ پہلے طبع ہو چکا ہے، اس کا تذکرہ صاحب حدائق الحنفیہ مولوی فقیر محمد جہلمیؒ المتوفیٰ ۱۳۳۴ھ نے کیا ہے۔

۱۰۔ رسالہ مقدمۃ العلم (عربی)

یہ ایک مختصر سا رسالہ ہے، یہ رسالہ الگ کتابی صورت میں نہیں مل سکا اور نہ ہی کوئی قلمی نسخہ دستیاب ہو سکا، افادیت کے پیش نظر اسے تکمیل الاذہان کے ساتھ منسلک کر کے طبع کرایا گیا ہے، یہ رسالہ مکمل طور پر نواب صدیق حسن خان نے اپنی کتاب ابجد العلوم مطبوعہ صدیقیہ بھوپال ۱۲۹۵ھ میں نقل کیا ہے۔

۱۱۔ رسالہ فی اثبات شق القمر وابطال براہین الحکمۃ

یہ لکھنؤ سے غالباً‌ پہلے طبع ہو چکا ہے اب نایاب ہے، اس رسالہ کا تذکرہ صاحب حدائق الحنفیہ نے اور مولانا نظام الدین کیرانویؒ نے بھی حاشیہ میزان العقائد ص ۲۶ پر کیا ہے۔

۱۲۔ رسالہ فی الحجاب 

یہ نایاب ہے۔

۱۳۔ رسالہ فی برہان التمانع 

یہ نایاب ہے۔

۱۴۔ رسالہ سمت قبلہ 

یہ رسالہ نایاب ہے۔

۱۵۔ حاشیہ علی میر زاہد رسالہ فی بحث العلم

یہ رسالہ بھی ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 

۱۶۔ تکمیل  الصناعہ

اگر اس کتاب سے مراد تکمیل الاذہان ہے تو وہ طبع ہو چکی ہے ورنہ یہ نایاب ہے۔ 

۱۷۔ قصیدۃ عینیہ فی رد قصیدۃ الشیخ ابن سینا 

یہ اسرار المحبۃ کے ساتھ طبع ہو چکا ہے۔

۱۸۔ رسالہ تعدیلات الخمسۃ المتحیرہ

یہ نایاب ہے۔

۱۹۔ تخمیس علی بعض القصائد الوالدہ فی تحقیق مسئلہ وحدۃ الوجود 

یہ بھی اسرار المحبۃ مطبوعہ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ساتھ چھپ چکا ہے۔

۲۰۔ قصیدہ فی بیان معراج النبیؐ 

یہ بھی اسرار المحبۃ کے ساتھ طبع ہو چکا ہے۔

۲۱۔ راہ نجات اردو 

یہ مطبوعہ ہے، اس کا ذکر حدائق الحنفیہ میں موجود ہے۔

۲۲۔ تفسیر سورۃ البقرہ ( تفسیر رفیعی) 

اس کا ذکر ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنے ایک انگلش مضمون میں کیا ہے جس کا اردو ترجمہ بنام ’’نگار پاکستان‘‘ جنوری ۱۹۶۳ء ص ۱۹-۲۲ میں موجود ہے، یہ نایاب ہے۔

۲۳۔ تنبیہ الغافلین 

اس کا ذکر بھی ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے ’’نگار پاکستان‘‘ میں کیا ہے، یہ بھی نایاب ہے۔

۲۴۔ الدرر والدراری

یہ بھی شاہ صاحبؒ کی ایک اہم کتاب ہے، اس کا ذکر تطبیق الاراء کے دیباچہ میں ہے۔ اور رسالہ جوابات اثنا عشر میں شاہ صاحبؒ نے حوالہ کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے، یہ بھی نایاب ہے۔

۲۵۔ منہیات تکمیل الاذہان 

یہ نایاب ہے۔

۲۶۔ مخمس 

یہ رسالہ اسرار المحبۃ کے ساتھ طبع ہو چکا ہے۔

۲۷۔ رسالہ فی المنطق

اس کا ذکر بھی صاحب حدائق الحنفیہ نے کیا ہے جو کہ نایاب ہے۔ 

شاہ رفیع الدینؒ کی جملہ کتب دستیاب نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ بہت سی کتب، جن کا تذکرہ تذکرہ نگاروں نے کیا ہے، حوادثات زمانہ کے پیش نظر ضائع ہو چکی ہوں۔ بہرحال ان کی جتنی کتابیں مل سکی ہیں ان کو والد محترم مدظلہ نے تصحیح فرما کر اور ان پر مقدمات اور حواشی سے مزین کر کے ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ذریعہ طبع کروائی ہیں اور یہ پورے بر صغیر میں صرف ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی ہی خصوصیت ہے کہ شاہ صاحبؒ کی بیشتر کتابیں یہیں سے شائع ہوئیں ہیں و ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

وفات حسرت آیات

شاہ صاحبؒ کی وفات کی تاریخ میں تذکرہ نگاروں نے اختلاف کیا ہے، مولانا فقیر محمد جہلمیؒ نے حدائق الحنفیہ ص ۴۷۰ میں ۱۲۳۸ھ ذکر کی ہے اور مولانا رحمٰن علیؒ نے تذکرہ علماء ہند فارسی ص ۶۶ میں ۱۲۴۹ھ ذکر کی ہے، لیکن یہ دونوں تاریخیں غلط معلوم ہوتی ہیں۔ محقق بات یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کی وفات ستر سال کی عمر میں ۶ شوال ۱۲۳۳ھ دہلی میں واقع ہوئی ہے، اسی بات کو مولانا نور الحقؒ نے ذکر کیا ہے اور بشیر الدین احمد نے بھی ’’واقعات دہلی‘‘ مطبوعہ ۱۹۱۸ء کے ص ۵۸۸ ج ۲ پر اسی تاریخ وفات کا ذکر کیا ہے۔ 

شاہ ولی اللہؒ کے چاروں صاحبزادگان کی وفات معکوس ترتیب سے ہوئی ہے، سب سے پہلے سب سے چھوٹے صاحبزادے شاہ عبد الغنیؒ کی  ۱۲۲۷ھ  میں، اور ان سے بڑے شاہ عبد القادر کی ۱۲۳۰ھ میں، اور ان سے بڑے شاہ رفیع الدینؒ کی ۱۲۳۳ھ میں اور ان سے بڑے شاہ عبد العزیزؒ کی ۱۲۳۹ھ میں ہوئی۔ 

شاہ رفیع الدینؒ کی وفات سے جہاں پورا عالم ایک نامور محقق مدقق عالم سے محروم ہو گیا، وہاں ان کے بڑے بھائی شاہ عبد العزیزؒ کا رنجیدہ خاطر ہونا طبعی امر تھا، وہ بہت متاثر اور غمگین تھے، اس وقت نابینا بھی تھے۔ نیز ’’جامع ملفوظات‘‘ والے نے لکھا ہے کہ شاہ عبد العزیزؒ نے باوجود نابینا ہونے کے ان کی چار پائی اٹھانے کی کوشش کی اور انتہائی ضبط کی کوشش کے باوجود بار بار بلبلا اٹھنا اور فرمانا کہ ’’چہ گویم من طاقتے ندارم‘‘ (تذکرہ شاہ ولی اللہ از مولانا مناظر احسن گیلانیؒ) واللہ اعلم بالصواب۔


شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ

حضرت مولانا شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے تیسرے فرزند ہیں، یہ بھی اپنے بڑے بھائیوں کی طرح عالم باعمل تھے، فقیہ وفاضل، زاہد و عابد تھے، کم گو اور گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے، علم حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم و فنون میں حاذق اتم تھے، نیز صاحب کشف، صادق الفراست اور اتقاء و ورع میں کامل تھے۔ 

آپ کی ولادت ۱۱۶۷ھ میں دہلی کے اندر ہوئی، اکثر علوم و فنون اپنے بڑے بھائی سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سے حاصل کئے، اس کے بعد تمام عمر درس و تدریس میں اور علوم دینیہ کے پھیلانے میں صرف کر دی، خواص و عوام آپ کے علوم و فیوض سے سیراب ہوئے۔ 

شاہ صاحبؒ نے موضح القرآن کے نام سے اردو میں نہایت فصیح و بلیغ قرآن کریم کا ترجمہ کیا جو آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ آپ نے دہلی میں کنگ ایڈورڈ روڈ پر واقع اکبری مسجد میں بارہ برس اعتکاف کیا اور اس دوران انہوں نے قرآن کریم کا یہ ترجمہ کیا۔ آپ چونکہ عزلت نشینی کو پسند فرماتے تھے اس لیے تمام عمر اکبری مسجد کے ایک حجرے میں ہی بسر کردی، اس مسجد کو بعد میں انگریزوں نے منہدم کر دیا تھا۔

 آپ کی وفات کے متعلق علامہ فقیر محمد جہلمیؒ نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف حدائق الحنفیہ میں ۱۲۴۲ھ  کا قول کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے، اکثر محققین کے نزدیک آپ کی وفات ۱۹ رجب ۱۲۳۰ھ بمطابق ۱۸۱۴ء میں ہوئی، اسی کو تذکرہ علماء ہند میں ذکر کیا گیا ہے۔


شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ

حضرت مولانا شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ بھی حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے چوتھے فرزند ہیں، آپ کی ولادت ۲۵ شعبان ۱۱۷۰ھ بمطابق ۷ جون ۱۸۲۰ء میں دہلی کے اندر ہوئی جبکہ سرسید احمد خان نے آثار الصنادید میں ۱۲۲۴ھ بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء لکھی ہے۔ لیکن ان کی وفات شاہ صاحبؒ کے چار فرزندان گرامی میں سے سب سے پہلے ۶ محرم ۱۲۲۷ھ بمطابق یکم جنوری ۱۸۷۹ ء میں ہوئی، انہوں نے تھوڑی ہی عمر پائی، آپ کی اہلیہ کا نام بی بی فاطمہ تھا جن سے ایک فرزند ارجمند حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ پیدا ہوئے، شاہ اسماعیل شہیدؒ نے ابھی دس برس ہی عمر پائی تھی کہ ان کے والد کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا، والد کی وفات کے بعد یہ اپنے چچاؤں کی زیر سرپرستی تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے، جس کا نتیجہ ان کے کارہائے نمایاں کی صورت میں تحریک حریت کا ایک زرین باب بنا، بالآخر انہوں نے بالاکوٹ کے معرکہ میں ۱۲۴۶ھ میں جام شہادت نوش کیا اور وہیں دفن ہوئے۔




ماخذ

(۱) الامداد فی ماثر الاجداد

(۲) الجزء اللطیف

(۳) نزہۃ الخواطر

(۴) تفہیمات الٰہیہ

(۵) الیانع الجنی

(۶) حیاۃ ولی

(۷) شاہ ولی اللہ اور ان کے سیاسی مکتوبات

(۸) حجۃ اللہ البالغہ

(۹) عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید

(۱۰) فیوض الحرمین

(۱۱) الانصاف فی بیان سبب الاختلاف

(۱۲) تصنیف رنگین

(۱۳) اتحاف النبلاء

(۱۴) ملفوظات و کمالات

(۱۵) تاریخ دار العلوم دیوبند

(۱۶) ارواح ثلاثہ

(۱۷) آثار الصنادید

(۱۸) مقدمہ تکمیل  الا ذہان

(۱۹) نگار پاکستان

(۲۰) حدائق الحنفیہ

(۲۱) تذکرہ علماء دیوبند

(۲۲) واقعات دہلی

(۲۳) تذکرہ شاہ ولی اللہ

(۲۴) الارشاد فی مہمات الاسناد


حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۴)

مولانا طلحہ نعمت ندوی

اعترافِ فضل و کمال اور معاصرین

حضرت نیموی کے فضل وکمال کا اعتراف ان کے معاصرین نے دل کھول کرکیا ہے، جس میں ادباء وعلماء اور محدثین دونوں طبقےشامل ہیں ۔ان کے باکمال استادحضرت مولانا سعید حسرت عظیم آبادی نے جن بلند الفاظ میں ان کے کمال کو سراہا تھا، عظیم آباد ولکھنؤ کے باکمالوں نے جس طرح ان کو خراج تحسین پیش کیا وہ ان کی سوانح زندگی کا روشن باب ہے، اور صفحات گذشتہ میں گذر چکا ہے۔

مشہور عالم ومحدث علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی بڑے بلند الفاظ میں ان کا اعتراف کیا ہے، مولانا منظور نعمانی اپنے استاد کے حوالہ سے لکھتے ہیں:

’’جب علامہ نیموی کا ذکر آگیا ہے تو اس واقعہ کا اظہار بھی میرے لئے ضروری ہے کہ حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ فن حدیث میں علامہ ممدوح کا مقام بہت بلند مانتے تھے، اور معرفت علل واسانید میں ہندوستان کے کسی دوسرے عالم کو ان کا عدیل ومثیل نہیں قرار دیتے تھے، اس عاجز کو خوب یاد ہے کہ یہاں تک فرماتے تھے کہ مولانا ظہیر احسن صاحب حضرت مولانا عبدالحي صاحب رحمۃ اللہ علیہ (لکھنوی فرنگی محلی)کے شاگرد ہیں لیکن صناعت حدیث میں ان سے فائق ہیں‘‘۔72

مولانا عبدالحق لکھنوی مہاجر مکی شیخ الدلائل نے جب ان کو ان کی طلب پر اجازت حدیث ارسال فرمائی تو ان کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو الامام الہمام کے الفاظ سے ذکر کیا، اور لکھا:

’’فقد التمس منی الشیخ الفاضل السابق فی حلیۃ الفضائل الباذل فی تحصیل العلوم الشرعیۃ، والمجھد المشمر فی اقتناصھا عن ساعد الجد مولانا العلامۃ الفھامۃ المحقق المدقق المولوی محمد ظہیر احسن‘‘۔73

ایک ایرانی فاضل عبداللہ خاکی ساکن شہررشت (دارالمرزرشت ایران)نے ان کی تحقیقات لغوی کے متعلق پورا قصیدہ کہا، جوان کی کتاب ازاحۃ الاغلاط کے اخیر میں ہے، اورجس کے چند اشعار یہ ہیں:

صدف فخرش بود از گوہرش در لجہ دریا 
خورد از آب نیساں قطرہ وگوہر شود پیدا
درے را در نظر دارم کہ باشد گوہر مکنوں
جواہر خیز وگوہر ریزو گوہر بیز وگوہر زا
کہ بود او جوہر ے در ذات استقلال خود قائم 
ہیولایش شد وکردند بہرش صورت یکتا
چہ صورت صورت انسانی وہم شکل روحانی 
ازیں صورت مرکب ازہیولیٰ گشت وشد پیدا
تعالی اللہ از علم لدنی بود او ماہر 
نمود ادراک علم کائنات وسر مافیھا

ان کے علاوہ علمائے دیوبند میں مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی اور علامہ انورشاہ کشمیری سب ان کے فضل وکمال کے معترف رہے ۔پٹنہ میں براہ راست ان کے تلامذہ یا معاصرین کی کوئی تحریر ان کے اعتراف کمال میں ہمارے پیش نظر نہیں، عظیم آباد میں اس وقت علماء کی ایک بڑی تعداد تھی لیکن کسی سے ان کے بہت زیادہ تعلق کا پتہ نہیں چلتا، علامہ شمس الحق عظیم آبادی تو ان کے عزیز ہی تھے لیکن ان سے بھی براہ راست وسیع ربط وتعلق کا پتہ نہیں چلتا ۔اسانید وروایات کے مشہور مصنف شیخ احمد ابوالخیر مکی جو ان کے استاد مولانا سعید حسرت عظیم آبادی کے شاگرد تھے ان سے بھی ان کے اچھے مراسم تھے، چنانچہ اپنے مجموعہ اسانید میں انہوں نے ان شیخ مکی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

ھو صاحب اسانید کثیرۃ من اھل الشان استوعبھا فی معجمہ الکبیر الذی لم یتفق طبعہ الی الآن، وھو من اکابر احبابی، قد صحبتہ ازمنۃ کثیرۃ واستفدت منہ فوائد غزیرۃ، ابقاہ اللہ وسلمہ وحماہ۔74

جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے معاصرین کا دائرہ بہت وسیع تھا، لیکن شیخ ابوالخیر مکی نے اپنے مجموعہ ا سانید (النفح المسکی جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے)میں جس کا ذکر ان حضرت نیموی کی تحریر میں گذرا، اپنے اس معاصر ذکر نہیں کیا ہے، اغلب یہ ہے کہ وہ ان سے بہت چھوٹے ہوں گے، البتہ ان کے استاد مولانا سعید حسرت عظیم آبادی کا بہت تفصیلی ذکر ہے، اور لکھا ہے کہ وہ کے پاس ایک مدت تک رہے۔

علوم اسلامیہ کے علاوہ ان کے معاصرین میں ان کے ادبی کمال کا اعتراف خوب ملتا ہے، جو اوپر گذرچکا ہے۔

حضرت نیموی کے فرزند گرامی نے ان کے حالات پر جو رسالہ لکھا ہے، اس میں بھی بہت سے اہل کمال کے اعترافات ذکر کئے ہیں، یہاں اس کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے ان اعترافات کو نقل پیش کیا جارہا ہے اور اخیر میں خود مولانا فوقانی نے جو کچھ اپنے حالات لکھے وہ بھی درج کئے جاتے ہیں ۔آغاز میں گذرچکا ہے کہ ان کے بقول اس رسالہ کا نام تذکار الشوق ہے، اس کے آغاز میں وہ لکھتے ہیں:

’’فوقانی ابن شوق نیموی عرض کرتا ہے کہ بعض احباب ندوی نے فرمائش کی کہ علامہ شوق نیموی کی حیات بعد الممات (یعنی وہ سوانح عمری کہ جس کاذکر یادگار وطن میں نہیں ہے )مرتب کردی جائے، کہ آئندہ لوگوں کو سوانح کے انتخاب کرنے میں دشواری نہ ہو، صاحب البیت ادریٰ بما فیہ ۔اس لئے رسالۂ موسومہ بتذکار الشوق معرض تحریر میں لاتا ہوں، امید وار ہوں کہ مرقوم علیہ اور راقم کو دعائے خیر میں یاد فرمائیں‘‘۔

اس کے بعد انہوں نے عنوان قائم کیا ہے ’’حدیث دانی علامہ شوق نیموی‘‘، اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’آپ فن حدیث میں متقدمین کے ہم پایہ بلکہ بعض امور میں بالا [تھے]، لیکن الفضل للمتقدم، یعنی بزرگی متاخرین پر متقدمین ہی کی تسلیم کی گئی ہے‘‘۔

آگے لکھتے ہیں:

’’علامہ نیموی نے اکثر احادیث میں علل غامضہ کا اظہار جو کہ اغمض انواع علم حدیث ہے محدثانہ ومحققانہ طور پر، جن سے کتب متقدمین بھی خالی ہیں‘‘۔

اس کے بعد ان کتابوں کی فہرست ہے جن کی حضرت نیموی کی تحقیقات نقل کی گئی ہیں، یہ فہرست تو بہت طویل ہے اور عام طور پر معروف بھی اس لئےاس کے نقل کرنے کی ضرور ت نہیں، ویسے بھی یہ معروف ہے کہ فقہ حنفی کی روایات پر اس کتاب کے بعد جو بھی کتاب لکھی گئی وہ شاید ہی سے اس کےذکر سے خالی ہے، البتہ اس فہرست میں ایک اہم نام نہیں آسکا ہے، وہ علامہ عمیم الاحسان مجددی کی فقہ السنن والآثار، جس میں جا بجا علامہ نیموی کی تحقیقات کے حوالے دئے گئے ہیں۔اس کے بعد حضرت فوقانی لکھتے ہیں:

’’ماہ دسمبر ۱۹۲۵ء کو اخبار الجمعیہ دہلی میں یہ مضمون چھپا … حضرت علامہ شوق نیموی کی اس گرامی سے اہل علم کا طبقہ بخوبی واقف ہے، اس آخری دور میں اس بزرگ نے مذہب حنفی کی جس فاضلانہ طریقہ سے خدمت انجام دی ہے اس کی نظیر متقدمین بھی مشکل سے ملےگی، افسوس، مولانا کی عمر نے وفا نہ کی، ورنہ فقہ حنفی کی تائید میں ایسی بیش بہا تصنیف ہوتی کہ پھر کسی دوسری کتاب کی احتیاج ہی باقی نہ رہتی‘‘۔75

اخبار العدل گوجراں والا ۱۳و ۱۶ جون ۱۹۳۴ کا حسب ذیل اقتباس بھی مولانا فوقانی نے نقل کیا ہے:

’’آثارالسنن حضرت مولانا ظہیر احسن صاحب شوق نیموی کی مشہور معرکہ لآراء عربی تالیف ہے، جس نے دنیائے اسلام پر حنفیت کا سکہ بٹھادیا ہے، اس مفید تالیف میں ہر حدیث کے متعلق علامہ ممدوح نے مناسب مقام پر رجال اور متن پر ضروری بحث کی ہے، احناف کے لئے بہترین کتاب ہے‘‘۔76

ایک اور فاضل کا اعتراف ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:

’’اور مولانا مفتی جناب فقیر اللہ رائے پوری جالندھری پنجابی نے بندہ محمد عبدالرشید کو ایک خط مورخہ ۱۳۴۵ھ میں تحریر فرمایا کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری تمامی کتب رجال پر آثار السنن کو ترجیح دیتے ہیں، اگر مولانا نیموی کا ابھی انتقال نہ ہوتا اور ابواب معاملات اپنی زندگی میں تحریر فرماتے تو پھر دوسری کتاب کی چنداں ضرورت ہی باقی نہ رہتی، پھر ایک خط میں یہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرات دیوبند77 سے یہ سنا ہے کہ فن حدیث میں مولانا شوق نیموی اپنے استاد حضرت مولانا عبدالحي صاحب لکھنوی سے بڑھ کر تھے، اور مولانا محمد سہول بھاگلپوری پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ نے بالمشافہہ بندہ میں عبدالرشید ابن شوق نیموی سے فرمایا کہ ہم لوگ دیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کسی نے کہا کہ بالفعل مولانا اشرف علی تھانوی آثارالسنن کے طرز پر ایک کتاب تالیف کررہے ہیں، یہ سن کر شیخ الہند نے فرمایا کہ مولانا اشرف علی میرے شاگرد بھی ہیں لیکن وہ آثار السنن کے طرز پر نہیں لکھ سکتے‘‘۔78

آگے لکھتے ہیں:

’’مولانا شوق اور مولانا رشید احمد گنگوہی سے بھی خط وکتابت ہوا کرتی تھی، بعض خطوط مولانا گنگوہی کے میرے پاس موجود تھے جو ۱۹۴۶ء کے ہنگامہ ٔ فساد بہارمیں ضائع ہوگئے ۔اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی سے بھی دوستانہ تعلقات تھے ۔چنانچہ رسالہ سرّ من یریٰ فی بحث الجمعۃ فی القریٰ مطبوعہ ۱۳۲۷ہجری میں مؤلفہ مولانا عبدالرحمن بقا غازی پوری مرحوم لکھتے ہیں، اس کا جواب آپ (یعنی مولانا محمود حسن) ۱۲۷۷ھ میں احسن القریٰ میں فرماتے ہیں، مولانا ظہیر احسن سے صلاۃ العید فی القریٰ یکرہ تحریماً کی دلیل پوچھی جاتی ہے، جس سے ارشاد السوال نصف العلم کی تصدیق ہوتی ہے‘‘۔

اس کے بعد حضرت شوق کی فارسی و اردو دانی پر تبصرے ہیں جو ان کی کتابوں کی روشنی میں مرتب کئے گئے ہیں۔79

اسنادِ حدیث

حضرت شوق نیموی بڑے محدث تھے، اس لئے ان کی سند بھی عالی ہونی چاہئے ۔لیکن انہوں نے کتب حدیث صرف حضرت مولانا عبدالحي فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی تھی، پھر انہوں نے اپنے شیخ حضرت گنج مرادآبادی سے مسلسل بالاولیہ اور دیگر کتب حدیث کی اجازت لی تھی جس کاذکر گذرچکا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے اپنی آثار السنن کی پہلی جلد مکہ مکرمہ بھیج کر شیخ الدلائل مولانا عبدالحق الہ آبادی ثم مکی سے بھی اجازت حدیث حاصل کی تھی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس فن میں کمال کے ساتھ سند کو بھی اہمیت دیتے تھے ۔پھر انہوں نے اپنے اسانید کا مجموعہ بھی عمدۃ العناقید من حدائق بعض الاسانید کے عنوان سے مرتب کیا ۔پھر اس کی اجازت اپنے اہل عصر اور اس کے ساتھ اپنے چھوٹے فرزند مولانا عبدالرشید فوقانی کو بھی دی، مولانا فوقانی نے اپنے دور کے معروف عالم مولانا پروفیسر حبیب الحق ندوی کو دی تھی،80 انہوں نے کسی کو دی یا نہیں اس کا علم اب تک نہیں ہوسکا، کاش اس کا سراغ مل جائے تاکہ ان کی سند کا تسلسل باقی رہے، ورنہ ایسے بڑے محدث کی سند منقطع ہوجائے گی، ایک مدت تک راقم کو مولانا عبدالرشید کی اجازت دینے کا بھی علم نہیں تھا کہ اچانک مولانا حبیب الحق ندوی کی تحریر سے اس کا علم ہوا ۔

اسفار

علامہ شوق نے کن طالب علمی کی تکمیل کے بعد کن مقامات کا سفر کیا، اس کی تفصیل نہیں ملتی، اگر وہ اسی طرح اور بھی اسفار کی روداد قلمبند کرنے کا التزام کرتے تو ادب کے سرمایہ میں بھی اضافہ ہوتا اور ان کی سوانح کے ساتھ تاریخ کا ایک اہم حصہ بھی محفوظ ہوتا، لیکن اس کا پتہ نہیں چلتاکہ انہوں نےاور کن مقامات کا سفر کیا، لیکن انہوں نے اپنی خود نوشت میں لکھا تھا کہ آثار السنن نام حدیث کی ایک کتاب کی تصنیف پیش نظر ہے، جس کے لئے بلاد اسلامیہ کے سفر کا ارادہ ہے، لیکن بیرون ہند کا سفر تو وہ نہیں کرسکے ورنہ ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں اس کاذکر ضرور ہوتا، یا ان کے معاصرین ذکر کرتے، البتہ ہندوستان میں انہوں نے کہا ں کہاں کا سفر کیا اس کا علم نہیں ہوتا لیکن ان کی بعض تحریروں کے اشارات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے چند جگہوں کا سفر کیا ہوگا، ان کے قیام عظیم آباد کے بعد کے سترہ اٹھارہ سال جو پٹنہ میں گذرے شاید اسی دوران یہ اسفار ہوئے ہوں گے، گرچہ کہیں صراحۃ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن کتابوں کے ضمن میں کتب خانوں کا جہاں ذکر کیا ہے، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’پنجاب کے شہر بھاول پور میں جناب مولوی شمس الدین مرحوم کا نامی کتب خانہ ہے انہیں کے کتب خانہ میں معجم کبیر بخط ولایت موجود ہے‘‘۔

ایک موقع سے لکھتے ہیں:

’’ہندوستان میں ایک نہیں مسند حمیدی کے تین نسخے ہیں، ایک نسخہ مکرمی جناب مولانا مولوی محمد سعید صاحب مفتی عدالت عالیہ حیدرآباد کے کتب خانہ میں، دوسرا نسخہ میرے مکرم دوست جناب مولوی شیخ احمد مکی جن کا اکثر قیام بھوپال میں رہتا ہے، ان کے پاس ہے، مگر یہ نسخہ پورا نہیں، ناقص ہے، تیسرا نسخہ شقیقی مولوی عبدالحق صاحب ساکن کرنول ضلع مدراس کے پاس ہے، میں نے وہ حدیث اسی کرنول کے نسخے سے نقل کی ہے، اس میں بعینہ وہ روایت موجود ہے‘‘۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’مسند ابن راہویہ کا پتہ اگر آپ کو نہیں ملتا تو مجھ سے سنیے کہ قاہرہ کے کتب خانہ میں یہ کتاب موجود ہے‘‘۔81

کیا یہ ساری کتابیں ان تک یونہی پہنچی تھیں یا انہوں نے اسفار بھی کئے تھے اس کا صحیح علم نہیں، کاش کہ ان کے کسی شاگرد نے ان کی سوانح حیات لکھی ہوتی تو ان باتوں کا علم ہوتا ۔

بہ ظاہرمعاصرین سے اتنے وسیع تعلقات اور ان کتب خانوں سے واقفیت اسفار کے بغیر صرف مراسلت سے ناممکن ہے۔

آثارُ السنن

اخیر میں حضرت نیموی کے اس علمی کارنامے پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے جس نے ان کو شہرت عام کے خلعت دوام سے سرفراز کیا ہے۔

عالم اسلام کے مشہور حنفی عالم ومحقق علامہ زاہد الکوثری لکھتے ہیں:

وها هو العلامة مولانا ظهير حسن النيموي رحمه الله قد ألف كتابه (آثار السنن) في جزأين لطيفين ()، وجمع فيهما الأحاديث المتعلقة بالطهارة والصلاة على اختلاف مذاهب الفقهاء، وتكلم على كل حديث منها جرحًا وتعديلاً على طريقة المحدثين، وأجاد فيما عمل كل الإجادة، وكان يريد أن يجري على طريقته هذه إلى آخر أبواب الفقه لكن المنيّة حالت دون أمنيته رحمه الله. وهذا الكتاب مطبوع بالهند طبعًا حجريًا إلا أن أهل العلم تخاطفوه بعد طبعه، فمن الصعب الظفر بنسخة منه إلا إذا أعيد طبعه

مشہورمحقق ومحدث علامہ ابومحفوظ الکریم معصومی کے بقول:

’’علامہ نیموی کی مشہور تصنیف آثار السنن اپنے خصائص ومزایا کے لحاظ سے شاہکار سمجھی جاتی ہے، علامہ نیموی کے پاس قلمی نوادر کا گراں بہا ذخیرہ تھا، جو ۱۹۴۶ء کے طوفان حوادث میں بالکل برباد ہوگیا، اور اب صرف اس کی یاد باقی ہے، انہوں نے مخطوطات کے تجسس میں کہاں کہاں کی خاک چھانی، اس کا اندازہ ان نسخ عتیقہ کے حوالجات سے معلوم ہوسکتا ہے جو آثار السنن کی تعلیق اور ان کے بہتیرے فروعی رسائل میں بکثرت نظر آتے ہیں، حدیث میں نیموی کا درجہ اتنا بلند تھا کہ حسب بیان مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی عمید مدرسۂ عالیہ کلکتہ محدث نبیل علامہ جلیل حضرت شاہ انورکشمیری رحمۃ اللہ علیہ نیموی کو شوکانی پر ترجیح دیتے تھے‘‘۔

اس کے علاوہ اس سلسلہ میں ماہرین کے اعترافات ان کے فضل وکمال کے اعتراف میں گذرچکے ہیں۔

آثار السنن کے لئے انہوں نے پوری تیاری کی، قلمی نسخے منگوائے، اور لوگوں سے مراسلت کی، اور کئی سال کی محنت کے بعد یہ اس کی پہلی جلد تیار کی، مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمٰن نے علامہ شوق نیموی حیات و خدمات میں آثار السنن اور اس کی خصوصیات پر پورا باب قائم کیا ہے، اور بتایا ہے کہ حضرت مصنف نے اس کے لئے کیا محنتیں کیں اور اس کی کیا کیا خصوصیات ہیں۔

آثار السنن کی طباعت کے متعلق مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے اطلاع فراہم کی ہے، اور تلاش وتحقیق کے بعد تمام طباعتوں اور ایڈیشنوں کا جائزہ لیا ہے ۔چنانچہ ان کے مطابق آثار السنن کی پہلی جلد کی اشاعت ۱۳۲۱ھ میں احسن المطابع پٹنہ ہی سے ہوئی، مولوی عبدالقادر مالک مطبع نے مصنف کی نگرانی میں عابد حسین سے کتابت کرواکر شائع کیا۔

آثار السنن سے متعلق اوربہت سے مباحث ہیں، اس کی شرح وتوضیح اور طباعتوں کی تفصیل مستقل ایک مفصل مضمون کی متقاضی ہے، ان شاء اللہ اس پر کبھی مستقل مضمون میں روشنی ڈالی جائے گی۔


حوالہ جات

  1. حیات نعمانی از مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، لکھنؤ، تذکرہ علامہ انور شاہ کشمیری۔
  2. عمدۃ العناقید مشمولہ القول الحسن ص ۱۵۴
  3. عمدۃ العناقید مشمولہ القول الحسن ص ۱۵۵
  4. ورق الف ۵
  5. حوالہ سابق
  6. القول الحسن میں اس کو حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرف منسوب کیا گیا ہے، ویسے عام طور پر یہ رائے علامہ انور شاہ کشمیری کی طرف منسوب ہے، اور مختلف تحریروں میں ان کے کئی شاگردوں نےان کے حوالہ سے نقل کیا ہے، جس میں مولانا منظور نعمانی قابل ذکر ہیں، اور مولانا سعیداکبر آبادی کے حوالہ سے شوکانی پر ان کو ترجیح دینے کا ذکر آگے آرہا ہے۔
  7. حوالہ سابق
  8. ورق ۷
  9. فکر وفن پروفیسر حبیب الحق ندوی ص۱۵۳
  10. یہ تحریریں ان کے رسائل میں جابجا موجود ہیں، یہاں اصل بحث ان کے اسفار سے ہے اس لئے ان کے حوالے نہیں دئے گئے۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا تاریخی پس منظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۵ جون ۲۰۲۵ء کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں خطاب)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی گفتگو عنوان ہے: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور  ہمیں کیا کرنا چاہیے، بہت لمبی بات ہے لیکن مختصراً‌ دو تین باتیں عرض کروں گا۔

کشمکش کا پسِ منظر

ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں، سعودی عرب، ایران، اسرائیل اور دیگر عرب ممالک میں پچھلے ڈیڑھ دو سال سے جو ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کا تھوڑا سا پس منظر عرض کرنا چاہوں گا۔ اب سے ایک صدی پہلے اس وقت کی عالمی قوتوں خصوصاً‌ برطانیہ اور فرانس نے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر دیا تھا،   مشرقِ وسطیٰ کے وسیع خطے پر قبضہ کر  کے اسے کئی  ممالک میں تقسیم کر دیا تھا۔ یہ نئی تقسیم ایک سو سال سے چلی آ رہی ہے۔  اب ایک صدی گزرنے کے بعد آج کی عالمی قوتیں بالخصوص مغربی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کی نئی جغرافیائی تقسیم چاہتی ہیں، یہ منصوبہ صدر بش کے زمانے سے چلا آ رہا ہے اور امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی اور برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی اس بارے میں باتیں کرتے رہے ہیں کہ شیعہ سنی کی بنیاد پر تقسیم ہو یا نسلی و قومی بنیاد پر تقسیم ہو، پرانی سرحدیں ختم کی جائیں اور نئی سرحدیں قائم کی جائیں، لیکن اس میں ظاہر ہے کچھ رکاوٹیں ہیں۔ 

ارضِ مقدس کے دعویدار

دوسری بات یہ کہ فلسطین اور بالخصوص بیت المقدس کے حوالے سے عملاً‌ کن کے درمیان تنازع ہے اور کون کون فریق ہیں:

  1. یہودی ہیکل سلیمانی اور دیوارِ گریہ کے حوالے سے دعویدار ہیں، وہاں ان کا پرانا قبلہ ہے۔
  2. عیسائی بیت اللحم کے حوالے سے دعویدار ہیں جو اُن کا قبلہ ہے۔ قرآن نے کہا ہے ’’اذ انتبذت من اھلھا مکاناً‌ شرقیاً‌‘‘ (مریم ۱۶) وہ مکاناً‌ شرقیا (مشرق کی جانب والا حصہ) جہاں حضرت مریمؑ تشریف لے گئی تھیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے تھے، وہ بیت اللحم ہے جو کہ عیسائیوں کا قبلہ ہے۔
  3. مسلمان مسجد اقصیٰ کے حوالے سے دعویدار ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج ہے، حضرت عمرؓ کے زمانے میں بیت المقدس کی فتح ہے، پھر صلاح الدین ایوبیؒ کے زمانے میں فتح ہے، اس کے بعد ایک ہزار سال سے مسلمانوں کی وہاں حکومت چلی آ رہی تھی جو آج سے ایک صدی پہلے تک رہی۔
  4. بہائیوں اور بابیوں کا بھی دعویٰ ہے جن کا وہاں ’’عکہ‘‘ کے نام سے مرکز ہے، ان کے بہاء اللہ شیرازی نبوت کے دعویدار تھے جو وہیں مدفون ہیں۔

اس تناظر میں بین الاقوامی طور پر اور اقوام متحدہ کی دستاویزات اور فیصلوں کی رو سے یروشلم (بیت المقدس) ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ جیسے کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے متنازعہ علاقہ ہے جس میں مقبوضۂ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے شامل ہیں جو کسی وقت میں جموں اور کشمیر کی ایک مکمل ریاست تھی۔ جبکہ پاکستان بننے کے زمانے میں اقوام متحدہ کے فیصلوں کے ذریعے جب فلسطینی علاقہ کی تقسیم کر کے اسرائیل قائم کیا گیا تھا، تب بھی ان تین فریقوں کے درمیان تنازع کی وجہ سے بیت المقدس کو کسی کی تحویل میں نہیں دیا گیا بلکہ اس کی حیثیت بین الاقوامی رکھی گئی اور اس کا انتظام اردن کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ اسی طرح جیسے آزاد کشمیر کی حیثیت تو متنازعہ ہے لیکن اس کا انتظام ہمارے پاس ہے۔ 

گریٹر اسرائیل اور دولتِ فاطمیہ کے ایجنڈے

۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کی جس تقسیم کے مطابق اسرائیل قائم ہوا تھا، اس سے قطع نظر کہ وہ تقسیم درست تھی یا غلط، لیکن اسرائیل نے ان حدود کی کوئی پرواہ نہیں کی  اور اس سے بہت زیادہ علاقہ قبضہ میں لے لیا اور  لاکھوں فلسطینیوں کو دربدر کر دیا۔ پھر ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اس نے بیت المقدس کے علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا، اور ہم مسلمانوں نے نہ پہلے تسلیم کیا ہے اور نہ آئندہ تسلیم کریں گے۔ یعنی  اسرائیل نے عملاً‌ وہ سرحدیں بھی تسلیم نہیں کیں جو ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے قائم کی تھیں اور ان کی بنیاد پر فلسطین اور اسرائیل کی دو الگ ریاستیں وجود میں آنا تھیں۔ 

اسرائیل تو اس سے آگے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی بات کرتا ہے۔ گریٹر اسرائیل کیا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت، جس کا نقشہ انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ اس میں عراق، مصر،  شام، اردن، بحرین، لبنان کے علاقے ہیں، اس میں آدھا سعودی عرب بھی ہے، مدینہ منورہ اس میں ہے لیکن مکہ مکرمہ نہیں ہے۔  اسرائیل اس ریاست کا دعویدار ہے اور اس کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اس میں اسے کسی جائز ناجائز اور ضابطہ و قانون کی پرواہ نہیں ہے۔ 

فلسطین کی حالیہ جنگ جو دو سال سے چل رہی ہے، یہ بھی اسرائیل کی مسلط کردہ ہے کیونکہ غزہ کا علاقہ خالی کرانا اس کے منصوبے میں شامل ہے، لیکن فلسطین ڈٹ گئے ہیں کہ ہم خالی نہیں کریں گے، انہوں نے پچاس ساٹھ ہزار شہادتیں دے دی ہیں لیکن ابھی تک وہ قبضہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں بھی آ چکی ہیں اور دنیا بھر سے مخالفت جاری ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے غزہ میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا تھا اور اس کی شرائط کی بنیاد پر قیدیوں کا تبادلہ بھی شروع ہو گیا تھا، اس جنگ بندی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اسرائیل نے توڑا ہے اور تب سے اس جنگ کی کمان بھی ٹرمپ نے سنبھالی ہوئی ہے۔  اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل نہ اقوام متحدہ کی سرحدیں تسلیم کر رہا ہے اور  نہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے  قبول کر رہا ہے، وہ کسی جائز اور ناجائز کی پرواہ کیے بغیر گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسے اپنے ہر اقدام میں امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ 

قرآن کریم نے یہودیوں کے بارے میں ایک پیشگوئی کی تھی ’’ضربت علیھم الذلۃ این ما ثقفوا الا بحبل من اللہ وحبل من الناس‘‘  (اٰل عمران ۱۱۲) یہ ہمیشہ ذلت میں رہیں گے، یا تو اللہ کا دین قبول کریں گے یا پھر لوگوں کی رسی پکڑ کر ذلت سے نکلیں گے۔ یہ اس وقت ’’بحبل من الناس‘‘ کی کیفیت میں ہیں کہ اسرائیل بذاتِ خود کوئی قوت نہیں ہے، اگر آج امریکہ اس کے پیچھے سے ہٹ جائے تو اسرائیل کو سنبھالنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس وقت یہودی قوم ’’الا بحبل من الناس‘‘ کے دائرے میں امریکہ کی سپورٹ حاصل کر کے جو چاہتا ہے کر رہا ہے۔ 

  1. مشرقِ وسطیٰ میں جو کشمکش جاری ہے اس میں ایک فریق تو اسرائیل ہے جس کا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا ایجنڈا ہے اور جسے یہ نسلی گھمنڈ ہے کہ ’’نحن ابناء اللہ واحباءہ‘‘ (المائدۃ ۱۸) ہم خدا کی اولاد ہیں، ہم رائل فیملی ہیں، ہم خود تو زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں، اور ہماری مرضی کہ اور کسی کو یہ حق دیں یا نہ دیں۔ 
  2. دوسرا فریق ایران ہے، اس کا ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کا ایجنڈا بھی واضح ہے،  اسے پہلے سمجھ لیں کہ یہ کیا ہے۔ خلافتِ عباسیہ کے خاتمہ کے بعد اور خلافتِ عثمانیہ کے قیام سے پہلے، تقریباً‌ دو سو سال تک بنو فاطمہ نے، اسماعیلی اہلِ تشیع نے ایک خطے پر حکومت کی تھی۔ بغداد پر بھی، قاہرہ پر بھی، حرمین پر بھی کچھ عرصہ تک، ترکستان پر بھی۔ قاہرہ انہوں نے ہی آباد کیا تھا اور جامعہ ازہر بھی انہوں نے ہی قائم کیا تھا۔ دولتِ فاطمیہ کی تاریخ میں نے کسی زمانے میں لکھی تھی جو میری ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ ایران کا ایجنڈا دولتِ فاطمیہ کی بحالی ہے اور عراق، شام، بحرین، یمن وغیرہ علاقوں میں ایران کا اثر و رسوخ موجود ہے جسے وہ مزید بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے ایران کی اس خطہ میں اپنی لڑائی ہے۔ 
  3. تیسرا فریق عرب ممالک ہیں، جن کا اپنی حکومتیں اور بادشاہتیں بچانے کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ جو کوئی بھی ان کی حکومتوں کو تحفظ دے گا وہ اس کے ساتھ ہیں۔ ان کو یہ تحفظ اس وقت امریکہ دے رہا ہے  تو   وہ امریکہ کے ساتھ ہیں۔ کس حد تک ساتھ ہیں، یہ آپ کو ٹرمپ کے دورے سے معلوم ہو گیا ہو گا۔ وہ اس کے سامنے رقص بھی کرواتے ہیں، اسے پیسے بھی دیتے ہیں، اس کی منتیں بھی کرتے ہیں۔ 
  4. یہ تین فریق تو عملاً‌ موجود ہیں جبکہ ترکی ایک سائیڈ پر کھڑا ہے، ان کے ہاں یہ وژن تو ہے کہ خلافتِ عثمانیہ کا ماحول واپس آئے لیکن اس حوالے سے کوئی ایجنڈا موجود نہیں ہے۔  میں ترکی کو اسٹینڈ بائی فریق کہا کرتا ہوں۔ ان چار فریقوں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ پھنسا ہوا ہے، لیکن بات اس کی چلتی ہے جس کے پاس طاقت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کو دولت بہت دی ہے لیکن ان کے پاس طاقت نہیں ہے، اور سمجھ بھی کوئی نہیں ہے۔ 

ان میں سے بعض ممالک کی کوشش یہ تھی کہ کسی طریقے سے اسرائیل کو تسلیم کر کے یہ جھگڑا ختم کر دیا جائے تاکہ ہم آرام سے رہ سکیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب غزہ پر حملہ ہوا تھا تو اس زمانے میں ہمارے ہاں بھی یہ بات چلی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں، اور ہمارے اس وقت کے نگران وزیر اعظم صاحب نے فرما دیا تھا کہ قائد اعظم  کا اعلان کوئی وحی الٰہی تھوڑی ہے۔ لیکن الحمد للہ علماء کرام کی قیادت کی یہ آواز اٹھائی کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنے دیں گے اس نے رکاوٹ ڈالی تھی۔ اسلام آباد کی کانفرنس جس میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا فضل الرحمٰن، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن دامت برکاتہم، اس وقت پروفیسر ساجد میر رحمۃ اللہ علیہ بھی حیات تھے، دینی قیادتوں نے اکٹھے ہو کر اس پر اس ایجنڈے کے خلاف آواز بلند کی تھی کہ کسی طریقے سے فلسطینی سرنڈر ہو جائیں اور  اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ تسلیم کر لیا جائے۔ 

مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور مسلم عوام کی ذمہ داری

اس سارے معاملے میں مسلم حکومتیں ایک طرف ہیں اور مسلم عوام ایک طرف ہیں جو اس ایجنڈے کو  تسلیم نہیں کر رہے، حتیٰ کہ دنیا بھر کے غیر مسلم عوام بھی اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔  اس دوران جو درندگی ہوئی ہے، جو مظالم ہوئے ہیں، جو قتلِ عام ہوئے ہیں، اس حوالے سے ہر جگہ مظاہرے ہوئے ہیں کہ یہ فلسطینیوں کے ساتھ ظلم ہے اور نا انصافی ہے، کوئی بھی فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ 

 اس دوران میں اسرائیل اور ایران کی جنگ ہو گئی ہے۔ میں یہ بات پھر دہراؤں گا کہ اسرائیل اپنے ایجنڈے کے لیے لڑ رہا ہے اور ایران اپنے ایجنڈے کے لیے لڑ رہا ہے، لیکن چونکہ ایران فلسطین کے عوام کی حمایت کرتا ہے اس لیے دنیا بھر کے عام مسلمانوں نے اسرائیل کے مقابلے میں ایران کو سپورٹ کیا ہے۔ اب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جو جنگ بندی ہوئی تھی وہ تو نہیں چل سکی تھی۔ یہ جنگ بندی چلتی ہے یا نہیں، یہ مستقبل ہی بتائے گا۔ 

بہرحال اس صورتحال میں ہمارے کرنے کا کام کیا ہے؟ ہم سے مراد یہ ہے کہ دینی حلقوں کی ذمہ داری کیا ہے، جنہیں اس صورتحال کا احساس ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے وہ ہمارے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہو رہی ہے، بیت المقدس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ البتہ  جن کا کوئی وژن نہیں ہے اور جن کی کوئی سوچ نہیں ہے انہیں اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے، پنجابی کا محاورہ ہے ’’عقل ہے تو سوچیں ہی سوچیں، عقل نہیں تو موجیں ہی موجیں‘‘۔  مسجد اقصیٰ تو عالم اسلام کا اجتماعی معاملہ ہے ہی، لیکن اس میں ایک بات ہمیں بالکل واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ یہ لڑائی بھی اب اسرائیل اور عربوں کی نہیں رہی بلکہ صدر ٹرمپ کی اور عالمِ اسلام کی لڑائی بن گئی ہے۔ 

ہمیں اس میں تحریکِ آزادی اور جنگِ آزادی کی طرز پر کام کرنا ہو گا۔ جب ہمارے بعض ممالک پر برطانیہ نے، فرانس نے، اٹلی نے، ہالینڈ نے قبضے کر لیے تھے تو پوری دنیائے اسلام میں آزادی کی تحریکیں چلی تھیں، آزادی کی سوچ پیدا ہوئی تھی، اور یہ جدوجہد صدیوں تک چلتی رہی  ہے۔ میں اس مرحلے کو وہی مرحلہ سمجھ رہا ہوں کہ ایک دفعہ پھر استعمار قابض ہو گیا ہے۔

پاکستان کی سطح پر موقف زندہ رکھیں

پہلی بات تو یہ کہ ہم نے اپنا موقف زندہ رکھنا ہے، اس سے دستبردار نہیں ہونا، اور اس موقف کا اعلان بھی کرتے رہنا ہے۔  پاکستان کے دینی حلقے الحمد للہ اس پوزیشن میں ہیں، جسے دنیا بھی جانتی ہیں اور حکومت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقے کسی موقف پر متفق ہو جائیں تو انہیں اس سے دستبردار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ حقیقت قائم رکھنی چاہیے جس کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے ساتھ مل بیٹھنا چاہیے اور الحمد للہ ہم ہمیشہ بیٹھتے ہیں۔ 

مسلم حکومتوں کو احساس دلاتے رہیں

دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کی ہے۔ مسلم دنیا کے یہ عالمی ادارے موجود ہیں، ان کو شرم دلانی چاہیے کہ کم از کم مل بیٹھ کر اس کا احساس تو کرو کہ ہم نے کیا کھویا ہے اور ہم کس طرف جا رہے ہیں، خدا کا خوف کرو اور اپنا موقف تو واضح کرو۔ 

عالمی سطح پر آواز منظم کرنے میں کردار ادا کریں

تیسری بات کہ دنیا بھر کی جو دینی قوتیں آواز اٹھا رہی ہیں، اس آواز میں قوت پیدا کرنی چاہیے اور اپنی بات کہتے رہنا چاہیے، اس سے جس دن ہم نے دستبرداری اختیار کی ہر چیز ختم ہو جائے گی۔ شکست مار کھانے کا نام نہیں ہے، شکست ہار ماننے کا نام ہے۔ ہم نے جب برطانیہ کے اقتدار کو تسلیم نہیں کیا تھا تو اس کے خلاف کتنے سال جنگ لڑی تھی؟ شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فتویٰ دیا تھا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سو سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ہمیں اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے اور پاکستان میں جو دینی قوت ہے اسے فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حق میں، ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے لیے، اور اپنی حکومتوں اور اداروں کو ہوش دلانے اور خبردار کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔ 

معاشی بائیکاٹ کو مؤثر بنائیں

اس سلسلہ میں جو معاشی بائیکاٹ کی تحریک تھی اس میں مزید نظم اور قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ احساس دلانا چاہیے کہ اس سے کسی کا نقصان ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، ہماری غیرت کا اظہار تو کم از کم ہوتا ہے نا کہ ہم یہودیوں کا مال نہ خریدیں۔   امر بالمعروف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے تین درجے بیان فرمائے ہیں۔ یہ اضعف الایمان ہے، اس پر تو کھڑے ہوں نا۔ ’’ذالک  اضعف الایمان‘‘ نفرت کا اظہار تو کریں، دل سے نفرت کا اظہار تو کریں، اپنے آپ کو کھڑا تو رکھیں۔ 

ہم نے او آئی سی اور عرب لیگ کو توجہ دلانی ہے کہ مل بیٹھ کر اپنا موقف واضح کریں، اور عالم اسلام کی جماعتوں اور تنظیموں کو توجہ دلانی ہے، میڈیا کے ذریعے بھی اور دیگر ذرائع سے بھی، جبکہ معاشی بائیکاٹ کی مہم کو بھی منظم رکھنا ہے۔ میں یہ کہہ کر اپنی بات ختم کروں گا کہ شکست مار کھانے کا نام نہیں، شکست سرنڈر اور دستبردار ہونے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کو عظمتیں اور جزائے خیر عطا فرمائیں جو ساٹھ ہزار جانیں قربان کر کے بھی کھڑے ہیں کہ ہم غزہ کا قبضہ نہیں چھوڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اپنے وسائل اور استطاعت کے دائرے میں فلسطینی بھائیوں کا اور  غزہ کی اس تحریک کا ساتھ دیتے رہیں اور ان کی حمایت میں آواز بلند کرتے رہیں۔ اللہ پاک ضرور کوئی صورت پیدا کریں گے  کہ ہمارے فلسطینی بھائی بھی آزاد ہوں گے اور بیت المقدس بھی آزاد ہو گا ان شاء اللہ العزیز۔ 

امیر خان متقی کا اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس ۵۱ سے خطاب

جسارت نیوز

طلوع نیوز

اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس نمبر ۵۱

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کونسل آف فارن منسٹرز  کا 51 واں اجلاس 21 اور 22 جون 2025ء کو جمہوریہ ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوا۔ ’’بدلتی ہوئی دنیا میں او آئی سی‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں 40 سے زائد او آئی سی رکن ممالک اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں بشمول وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے پر اہم علاقائی پیشرفت، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ میں جاری تنازعہ کا غلبہ رہا۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اجلاس کی صدارت کی اور ان اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ مقررین نے مسلم اکثریتی ممالک کو درپیش عدم استحکام کو اجاگر کیا اور تنازعات کو حل کرنے اور غزہ تک بلاتعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

اجلاس کا ایک اہم نتیجہ ’’استنبول اعلامیہ‘‘ اور متعدد قراردادوں کی منظوری تھی۔ ان دستاویزات میں خطے میں اسرائیل کی عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں، بشمول ایران، شام اور لبنان پر اس کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی، اور انہیں ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا گیا۔ اعلامیہ میں فلسطینی ریاست کے لیے غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی گئی، جس میں نسل کشی کے طریقہ کار کے طور پر بھوک کا استعمال اور القدس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔ نیز بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور امن، سلامتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے او آئی سی کے اندر تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

مرکزی اجلاس کے ساتھ ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں علاقائی استحکام سے لے کر دوطرفہ تجارت اور تعاون تک باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر سفارتی بات چیت کو فروغ ملا۔ استنبول اجلاس نے اسلامی دنیا کے لیے اہم عالمی اور علاقائی چیلنجوں پر ایک متحد موقف کا اظہار کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا، جس نے بین الاقوامی قانون اور اجتماعی کردار کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔  اس اجلاس میں قائم مقام افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے خطاب کے متعلق دو رپورٹس قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ (ادارہ الشریعہ)




افغان وزیر خارجہ کا او آئی سی اجلاس میں تاریخی خطاب

افغان وزیر خارجہ نے اپنی تقریر کا آغاز صلوٰۃ و سلام سے کیا: ’’الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد۔‘‘

امیر خان متقی نے برادر اسلامی ممالک کے نمائندوں کو خوش آمدید کہا۔ امیر خان متقی نے ترک وزیر خارجہ سے دیگر ممالک کے وزراء خارجہ (کو دعوت دینے) کا خیر مقدم کیا۔ ’’ہمارا اجتماع ایک ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر حالات کشیدہ ہیں۔ ایسے حل طلب مسائل ہیں جو ہماری فوری توجہ چاہتے ہیں۔ میری جانب سے یہاں پر موجود تمام لوگوں کی خدمت میں دیگر مسائل سے پہلے ایران میں رجیم کی تبدیلی کے لیے اسرائیلی کارروائیوں کی جانب اشارہ ضروری ہے۔ غزہ کے مسائل ابھی موجود ہیں کہ ایسے حالات میں اسرائیل کی جانب سے نیا محاذ کھڑا کر دیا گیا، اسلامی جمہوریہ افغانستان کے پڑوس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی جو کہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ موجودہ حالات کسی بھی نئی کشیدگی کے متحمل نہیں ہیں۔‘‘

افغان وزیرخارجہ نے گلوبلائزیشن کے دور میں اس قسم کے حالات سے دامن بچانے کو ناممکن قرار دیا، اور امن و امان کے حوالے سے موجودہ حالات کے حل کی جانب توجہ دلائی۔ امیر خان متقی نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک اتحاد پیدا کریں۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ اسلامی ریاستوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان کا حل باہمی اتفاق و اتحاد میں ہی پنہاں ہے۔ ’’میرے محترم شرکاء! ان سیاسی اور معاشی مشکلات کی بدولت ہماری نوجوان نسل نا امیدی کا شکار ہے۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اسلامی اتحاد دنیا کا ہم رکاب نہ ہونے کے اسباب کو تلاش کرے۔ اور ہم اپنے نوجوانوں کو مستقبل میں ایک ایسا ماحول فراہم کریں کہ وہ غیروں کی بجائے اپنی اسلامی تاریخ، شاندار ماضی، اسلامی تمدن پر فخر کر سکیں۔ میرے محترم شرکاء! ہمارا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عمومی طور پر پورے فلسطین اور خصوصی طور پر غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے وحشیانہ مظالم اور نسل کشی جاری ہے۔ یہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عدالتوں کے لیے بھی امتحان ہے۔‘‘

انہوں نے اس عمل کو پوری اسلامی دنیا کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ ’’میں اسلامی ریاستوں کے اتحاد سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایران اور فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی جارحیت کا راستہ روکنے میں کردار ادا کرے۔ ورنہ یہ حالات (ماحول) تمام ریاستوں کے امن کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل تمام عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے خلاف ایک مظلوم قوم کی نسل کشی اور ہزاروں کی انسانی تاریخ کو ختم کرنے کی لڑائی شروع کر چکا ہے۔ یہ نہ صرف فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اکیسویں صدی میں بڑا انسانی المیہ ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف فوری اقدام اٹھانا انسانی ضمیر کا تقاضا اور سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘

متقی نے اسلامی تاریخ اور تمدن کی روشنی میں اقتصادی و سیاسی طور پر زندگی گزارنے اور اصول بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اجلاس کے انعقاد کو صرف تقاریر تک محدود نہ رکھنے، بلکہ عملی طور پر اقدام اٹھانے کا ذریعہ بنانے پر بھی زور دیا۔ 

https://youtu.be/BsvFfvIf2eo

امیر خان متقی کا استنبول میں خطاب: عالمِ اسلام ایک تاریخی امتحان سے دوچار

استنبول: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے استنبول میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ عالم اسلام اس وقت ایک تاریخی امتحان سے دوچار ہے۔

انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں ہونے والی نازک پیشرفت پر خاموش نہ رہیں اور ایک فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ متقی نے اپنی تقریر میں ایران پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔

قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا، ’’بحیثیت عالم اسلام ہمارے پاس اب یہ موقع ہے کہ ہم اپنی مشترکہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر متحد ہوں۔ عالم اسلام کو ابھرتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے جو ہماری ترقی اور تعمیر نو کے راستے کو خطرہ بنا رہے ہیں۔‘‘

متقی نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اس وقت آزادی، استحکام اور تعمیر نو کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کے تحت ’’افغانستان نے اسلامی رہنمائی اور شریعت کے مطابق اتحاد، سلامتی، ادارہ جاتی مضبوطی، اقتصادی ترقی، اور خارجہ تعلقات کی تجدید میں بے مثال پیشرفت کی ہے۔‘‘

اجلاس کے موقع پر انہوں نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات کی، اور ترکی کو افغانستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم شراکت دار قرار دیا، جبکہ کابل اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی توسیع پر زور دیا۔

سابق سفارت کار عزیز معراج نے تبصرہ کیا، ’’ترکی، شام اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں افغان عوام کے لیے ایک اچھا موقع فراہم کرتی ہیں، اگر وہ ایک مناسب اور قابل اعتماد پروگرام پیش کریں تو یہ ممالک دنیا میں مؤثر طریقے سے لابنگ کر سکتے ہیں۔‘‘

او آئی سی وزرائے خارجہ کے 51ویں اجلاس کے حتمی اعلامیے میں، خطے میں اسرائیل کی عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی۔ ایران، شام اور لبنان پر اس کے حملوں کو ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا گیا۔ اجلاس میں 40 سے زائد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

https://tolonews.com/afghanistan-194755


مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے چند اہم پہلو

امتنان احمد

جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں

کیا آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں پچھلے پانچ سال میں ایک ایسی جنگ ہو چکی ہے جس میں پاکستان نے اور اسرائیل نے مل کر لڑا ہے۔ ہے نا حیرانگی کی بات! کیا کہانی ہے؟ آئیے سمجھتے ہیں۔

اگر آپ روسی ریاستوں کی طرف دیکھیں گے تو آپ کو آرمینیا کی ریاست نظر آئے گی۔ اور آرمینیا کا اگلا ہمسایہ ہے آذربائیجان۔ ان دونوں کے درمیان ایک خاص علاقے کے حوالے سے بہت زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کا نام ہے نوگورنوکاراباخ (Nagorno-Karabakh)۔ آذربائیجان میں موجود اس علاقے پر آرمینیا اکثر حملے کرتا رہتا ہے۔ 2020ء میں آذربائیجان اور آرمینیا کے بیچ میں ایک جنگ چھڑی جس میں آذربائیجان کی مدد پاکستان، ترکی اور اسرائیل نے کی۔ انہوں نے مل کر مدد بھی کی، فنڈنگ بھی دی، ہتھیار بھی دیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آذربائیجان یہ جنگ آرمینیا کے خلاف جیت چکا ہے۔

اب یہاں پر ایک سوال بنتا ہے کہ پاکستان کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان بھائی چارے میں مدد کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کو کیا ضرورت تھی آذربائیجان کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی؟ تو اس کی چند وجوہات ہیں انہیں سمجھ لیجیے:

  1. اسرائیل اپنے تیل کی ضرورت کو بہت حد تک آذربائیجان سے پورا کرتا ہے۔
  2. آذربائیجان باقاعدہ طور پر اسرائیل سے جنگی طیارے، جنگی ہتیھار، فوجی سازوسامان خریدتا رہتا ہے۔
  3. تیس ہزار یہودی آج بھی آذربائیجان میں آباد ہیں۔
  4. آذربائیجان کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے، یعنی اسرائیل کو جب ضرورت ہو تو اس کو جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے ایران کے خلاف مدد بھی مل سکتی ہے۔

پاکستان اور اسرائیل نے آذربائیجان کی مدد بے شک کی ہے، لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دونوں اتحادی تھے۔ اس لیے اس غلط فہمی کو دور کر لیں کہ دونوں ایک طرف تھے یا اتحادی تھے۔ انہوں نے آذربائیجان کو اپنے اپنے نقطۂ نظر سے مدد فراہم کی۔

یہاں پر ایک سوال بنتا ہے کہ آرمینیا کی سائیڈ پر کون تھا؟ آرمینیا کی کھل کر مدد کی ہے انڈیا نے۔ انڈیا نے فوجی سازوسامان بھی دیا ہے اور آرمینیا کی فنڈنگ بھی کی ہے، لیکن انڈیا کو کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا۔ 2020ء کی لڑائی میں، 2023ء میں، اور حتیٰ کہ 2025ء کی پاکستان انڈیا جنگ میں، جس میں آذربائیجان نے پاکستان کی مدد کی ہے، اور آرمینیا نے سپورٹ دی ہے انڈیا کو۔ اب آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ جغرافیائی سیاست کتنی پیچیدہ ہے کہ

یہ اس قدر پیچیدہ ہے، لیکن یہاں پر آپ کو ایک محاورہ ضرور سمجھ میں آ گیا ہو گا جو کہ اردو کا ایک معروف محاورہ ہے کہ ’’دشمن کا دشمن ہمیشہ دوست ہوتا ہے‘‘۔

www.youtube.com/shorts/nB086vihnfM

وہ شخص جس نے مغرب کا تفاخر توڑ ڈالا

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آج امتِ مسلمہ اتنی دبی ہوئی ہے کہ ہم غزہ کے مسلمانوں کے لیے آواز تک نہیں اٹھا پاتے۔ کیا کبھی تاریخ میں ہم اس قابل رہے ہیں کہ ہم نے مغرب کو جواب دیا ہو؟ اور کیا کبھی اس قابل ہوں گے کہ ہم ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں؟

اگر آپ نے یہ بات سمجھنی ہے تو آپ کو تھوڑا سا تاریخ میں جانا پڑے گا اور یہ سمجھنا پڑے گا کہ مسلمانوں کی تاریخ میں پچھلے ساٹھ سال میں ایک ایسا لیڈر آ چکا ہے کہ جس نے مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، اسرائیل کی سفاکیت پر کھل کر بات کی، اور مسلم دنیا کا بینک بنانے کو سپورٹ کیا۔ آج اسلام آباد کی فیصل مسجد تو ہمیں یاد ہے لیکن آج ہم سعودی عرب کے شاہ فیصل کو بھول گئے ہیں، اور شاہ فیصل کے Oil Embargo (تیل کی پابندی) کو بھی بھول گئے ہیں۔ کہانی کیا ہے، آئیے سمجھتے ہیں۔

یہ کہانی شروع ہوتی ہے 1967ء میں جب اسرائیل نے عرب کے ساتھ ’’چھ دن کی جنگ‘‘ لڑی۔ اور جنگ میں اسرائیل نے (۱) مصر سے صحرائے سینا، (۲) شام سے گولان پہاڑیاں، (۳) اور اردن سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم چھین لیا۔ بات اقوام متحدہ میں گئی، جس نے اسرائیل کو مجبور کیا علاقے واپس کرنے کے لیے، لیکن اسرائیل نے بات ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کو امریکہ کی آشیرباد حاصل تھی۔

عرب لیڈرز میں غصہ بھرا پڑا تھا، تو پھر 1973ء میں شام اور مصر نے اسرائیل پر حملہ کر دیا اور یوں ’’یوم کپور جنگ‘‘ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں اسرائیل کی مدد امریکہ، مغربی جرمنی، پرتگال، برطانیہ، فرانس اور ایران نے بھی کی۔ ایران تب شاہِ ایران کے کنٹرول میں تھا۔ شاہ فیصل نے کھل کر مصر اور شام کی مدد کی، اور تیل کی پابندی لگا دی، جس کا مطلب تھا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو کوئی تیل نہیں بیچا جائے گا۔ اور یہ طاقت کا ایک ٹھوس مظاہرہ تھا، کیونکہ کسی بھی ملک کے پاس ایک مخصوص مقدار میں تیل کا ذخیرہ ہوتا ہے، تو تیل کی پابندی کا اثر یہ ہوا کہ امریکہ کی معیشت دیوالیہ ہونے پر آ گئی، مہنگائی بڑھ گئی، فیول اسٹیشن بند ہو گئے، اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، اور 3 ڈالرز کا بیرل 12 ڈالرز پر جا پہنچا۔

اس تیل کی پابندی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی رستہ نہیں ہے، کوئی آپشن موجود نہیں ہے، تب ہم جذباتیت سے سوچ رہے ہوتے ہیں، لیکن جس لمحے ہم جذباتیت سے سوچنا بند کرتے ہیں اور منطقی انداز سے سوچنا شروع کرتے ہیں تب مزید آپشنز نکلتے ہیں، اپنی بات پہنچانے کے لیے بھی، ظلم کو روکنے کے لیے بھی، اور اپنی آواز اٹھانے کے لیے بھی۔ آج ہماری جتنی نوجوان نسل ہے، اس سے تیل کی پابندی جیسی یہ کہانیاں چھپائی جاتی ہیں، اس کو یہ سارا سچ نہیں بتایا جاتا کہ ان کو نہ پتہ چلے کہ کیا کیا آپشنز آج آپ کے پاس موجود ہیں۔ اگر مسلمان ایک ہو جائیں تو آج اتنی بڑی طاقت بن سکتے ہیں کہ پوری دنیا کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔ اس لیے اقبال نے کہا تھا ؎

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
www.youtube.com/shorts/7rLF3xpWVFc

وہ باتیں جو اسرائیل چھپا رہا ہے

اسرائیل اگر فلسطین کا اتنا ہی دشمن ہے تو فلسطین پر اتنا حملہ کیوں نہیں کرتا جتنا حملہ وہ غزہ پر کرتا ہے۔ غزہ بھی فلسطین کا حصہ ہے لیکن فلسطین سے تھوڑا سا دور (مرکزی فلسطین سے غیر منسلک) ہے۔ تو اسرائیل غزہ پر ہی کیوں، اور شمالی غزہ پر ہی خاص طور پر اتنا حملہ کیوں کرتا ہے؟ یہی سوال ہے نا، آئیے سمجھتے ہیں۔ 

کہانی شروع ہوتی ہے 1956ء میں کہ جب مصر کے اس وقت کے صدر جمال عبدالناصر نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ نہر سوئز عالمی تجارت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ بحیرۂ روم کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔ دنیا میں تجارت نہر سوئز کے بغیر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور تجارتی سامان لے کر پوری دنیا کا چکر لگانا پڑے گا۔ کیپ آف گُڈ ہوپ (جنوبی افریقہ) سے گزرنا پڑے گا۔ لاگت زیادہ آئے گی، وقت زیادہ صَرف ہو گا، تجارت نہیں ہو پائے گی۔ یہی چیز نہر سوئز ممکن بناتی ہے اور عالمی تجارت کا 12 فیصد نہر سوئز سے گزرتا ہے۔ اور مصر اپنی معیشت میں سالانہ 9 ارب ڈالرز کی آمدنی صرف نہر سوئز سے کماتا ہے۔ 

1948ء سے لے کر 1950ء تک مصر نے اسرائیل کے جہازوں کو گزرنے نہیں دیا اور اسرائیل کی تجارت کو مشکل بنا دیا۔ 1960ء کی دہائی میں پھر آٹھ سال کے لیے نہر سوئز کو بند کر دیا، پھر اسرائیل کے لیے مصیبت کھڑی کر دی۔ اگر نہر سوئز سے اسرائیل کا راستہ روک دیں تو اس کی تجارت رک جاتی ہے اور راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔ 

1960ء کی دہائی میں اسرائیل نے اپنی نہر ’’بین گورئین کینال‘‘ بنانے کا خواب دیکھا۔ (بحریۂ احمر کو اسرائیل کے اندر سے گزر کر بحیرۂ روم سے ملانے کے لیے) اس نہر کا گھومتا ہوا نقشہ ہے۔ اس نقشہ پر اگر یہ نہر بنے تو فلسطین کی آبادی کو متاثر کیے بغیر بنائی جا سکتی ہے لیکن اس پر اربوں ڈالرز کی لاگت آئے گی اور تقریباً‌ 300 کلومیٹر لمبی نہر بنے گی۔ چنانچہ اسرائیل نے اپنا خرچہ اور وقت بچانے کے لیے ایک نیا ڈیزائن بنایا کہ اس نہر کو سیدھا بناتے ہیں اور غزہ کی پٹی سے گزار کر سمندر میں پہنچاتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب تو یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کو وہاں سے نکالنا پڑے گا، شمالی غزہ پر بمباریاں کرنی پڑیں گی، نسل کشی کرنی پڑے گی، معصوموں کا قتل کرنا پڑے گا۔ اور اسرائیل اسی پر تلا بیٹھا ہے۔ 

کچھ لوگ شاید یہ بات نہ جانتے ہوں کہ اسی طرح کی ایک اور نہر ’’پاناما کینال‘‘ ہے جس پر اس سال کے آغاز میں بلیک راک نے قبضہ کر لیا ہے۔ پاناما کینال سے عالمی تجارت کا 5 فیصد گزرتا ہے، جبکہ سوئز کینال سے عالمی تجارت کا 12 فیصد گزرتا ہے، یوں سمجھ لیں کہ یہ دو نہریں یہود کے ہاتھ میں آ گئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی 17 فیصد تجارت پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ 

یہ سب باتیں میں آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ جب کبھی یہ مہم چلے گی اور آپ کے ملک میں اسرائیل کو ماننے کی آوازیں تیز ہو جائیں گی، میں آپ کو پکا کر رہا ہوں کہ تب آپ نے اپنی آواز اٹھانی ہے کہ اس جابر کو، اس ظالم کو، اس فاسق کو ہم نہیں مانتے۔ 

www.youtube.com/shorts/7qCklHUdvGU

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور اس کے رکن ممالک

الجزیرہ

 یہ عدالت جو 2002ء میں روم اسٹیٹیوٹ (قواعدی تاسیسی دستاویز) کے تحت سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی، اپریل 2025ء تک 125 ممالک اس کے رکن ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔

 اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ گئے۔  اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ہنگری سے امریکہ کی پرواز کے دوران نیتن یاہو نے کچھ یورپی ممالک کے اوپر سے پرواز کرنے سے گریز کیا، جو ہنگامی لینڈنگ کی صورت میں ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد کر سکتے تھے۔ اس دورے سے ان کے سفر میں تقریباً 400 کلومیٹر (250 میل) کا اضافہ ہوا۔

 گزشتہ (سال) نومبر میں آئی سی سی نے نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع کے خلاف غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

’’ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مہینوں کی غور و خوض کے بعد آج اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے وزیر اعظم اور سابق وزیر دفاع کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رہی ہے۔‘‘  (21 نومبر 2004ء)

آئی سی سی کیا ہے؟

 آئی سی سی ایک آزاد عدالت ہے جس کا مرکز دی ہیگ، نیدرلینڈز میں ہے۔ یہ عدالت نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم، اور جارحیت جیسے سنگین بین الاقوامی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلاتی ہے۔  یہ پہلی عدالت ہے جس کے پاس ریاستوں یا تنظیموں کے بجائے افراد کو ان جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا اختیار ہے، اور رکن ممالک آئی سی سی کے وارنٹ کے تحت افراد کو گرفتار کرنے کے پابند ہیں۔  آئی سی سی 1998ء میں Rome Statute  کو منظور کرنے کے بعد 2002ء میں قائم کی گئی۔

روم اسٹیٹیوٹ کیا ہے؟

 روم اسٹیٹیوٹ وہ معاہدہ ہے جو آئی سی سی کے کام کرنے کے قواعد کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ یہ  1998ء میں روم، اٹلی میں ایک سفارتی کانفرنس کے دوران منظور کیا گیا، جہاں دنیا بھر کے ممالک انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک نظامِ انصاف بنانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔

آئی سی سی کے رکن ممالک کون سے ہیں؟

 اپریل 2025ء تک 137 ممالک نے روم اسٹیٹیوٹ پر دستخط کیے تھے، جو اُن کے شامل ہونے کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ ان میں سے 125 نے باضابطہ طور پر اس کی توثیق کی تھی، جو آئی سی سی کے مکمل رکن ممالک بن گئے تھے۔ وہ ممالک جنہوں نے روم اسٹیٹیوٹ پر دستخط یا توثیق کی ہے، نیچے نقشے پر دکھائے گئے ہیں (زرد رنگ میں صرف دستخط کرنے والے، نارنجی رنگ میں دستخط اور توثیق کرنے والے):

درج ذیل فہرست 1999ء سے 2024ء تک ان ممالک کی ہے جنہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے روم اسٹیٹیوٹ کی توثیق کی ہے:

1999ء

 فجی (Fiji)

 گھانا (Ghana)

 اٹلی (Italy)

 سان مارینو (San Marino)

 سینیگال (Senegal)

 ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو (Trinidad and Tobago)

2000ء

 آسٹریا (Austria)

 بیلجیم (Belgium)

 بوٹسوانا (Botswana)

 کینیڈا (Canada)

 فرانس (France)

 گیبون (Gabon)

 جرمنی (Germany)

 آئس لینڈ (Iceland)

 لیسوتھو (Lesotho)

 لکسمبرگ (Luxembourg)

 مالی (Mali)

 مارشل جزائر (Marshall Islands)

 نیوزی لینڈ (New Zealand)

 ناروے (Norway)

 سیرالیون (Sierra Leone)

 جنوبی افریقہ (South Africa)

 سپین (Spain)

 تاجکستان (Tajikistan)

 وینزویلا (Venezuela)

2001ء

 انڈورا (Andorra)

 اینٹیگوا اور باربوڈا (Antigua and Barbuda)

 ارجنٹائن (Argentina)

 وسطی افریقی جمہوریہ (Central African Republic)

 کوسٹا ریکا (Costa Rica)

 کروشیا (Croatia)

 ڈنمارک (Denmark)

 ڈومینیکا (Dominica)

 ہنگری (Hungary)

 لیختینستائن (Liechtenstein)

 نیدرلینڈز (Netherlands)

 نائیجیریا (Nigeria)

 پیراگوئے (Paraguay)

 پیرو (Peru)

 پولینڈ (Poland)

 سربیا (Serbia)

 سلووینیا (Slovenia)

 سویڈن (Sweden)

 سوئٹزرلینڈ (Switzerland)

 برطانیہ (United Kingdom)

2002ء

 بارباڈوس (Barbados)

 بینن (Benin)

 بولیویا (Bolivia)

 بوسنیا اور ہرزیگوینا (Bosnia and Herzegovina)

 برازیل (Brazil)

 بلغاریہ (Bulgaria)

 کمبوڈیا (Cambodia)

 کولمبیا (Colombia)

 جمہوری جمہوریہ کانگو (Democratic Republic of the Congo)

 جبوتی (Djibouti)

 ایکواڈور (Ecuador)

 ایسٹونیا (Estonia)

 گیمبیا (Gambia)

 یونان (Greece)

 ہونڈوراس (Honduras)

 آئرلینڈ (Ireland)

 اردن (Jordan)

 لیٹویا (Latvia)

 ملاوی (Malawi)

 مالٹا (Malta)

 ماریشس (Mauritius)

 منگولیا (Mongolia)

 نمیبیا (Namibia)

 نائجر (Niger)

 شمالی مقدونیہ (North Macedonia)

 پاناما (Panama)

 پرتگال (Portugal)

 جمہوریہ کوریا (Republic of Korea)

 رومانیہ (Romania)

 سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز (Saint Vincent and the Grenadines)

 ساموا (Samoa)

 سلوواکیہ (Slovakia)

 سلووینیا (Slovenia)

 تنزانیہ (Tanzania)

 مشرقی تیمور (Timor-Leste)

 یوگنڈا (Uganda)

 یوراگوئے (Uruguay)

 زیمبیا (Zambia)

2003ء

 افغانستان (Afghanistan)

 البانیہ (Albania)

 جارجیا (Georgia)

 گنی (Guinea)

 لتھوانیا (Lithuania)

2004ء

 برکینا فاسو (Burkina Faso)

 گیانا (Guyana)

 لائبیریا (Liberia)

 جمہوریہ کانگو (Republic of the Congo)

2005ء

 ڈومینیکن ریپبلک (Dominican Republic)

 کینیا (Kenya)

 میکسیکو (Mexico)

2006ء

 کوموروس (Comoros)

 مونٹی نیگرو (Montenegro)

 سینٹ کٹس اور نیوس (Saint Kitts and Nevis)

2007ء

 چاڈ (Chad)

 جاپان (Japan)

2008ء

 کک جزائر (Cook Islands)

 مڈغاسکر (Madagascar)

 سورینام (Suriname)

2009ء

 چلی (Chile)

 چیک جمہوریہ (Czech Republic)

2010ء

 بنگلہ دیش (Bangladesh)

 مالدووا (Moldova)

 سینٹ لوسیا (Saint Lucia)

 سیشلز (Seychelles)

2011ء

 کیپ وردے (Cape Verde)

 گریناڈا (Grenada)

 مالدیپ (Maldives)

 تیونس (Tunisia)

2012ء

 گواتیمالا (Guatemala)

 وانواتو (Vanuatu)

2013ء

 آئیوری کوسٹ (Ivory Coast)

2015ء

 فلسطین (Palestine)

2016ء

 ایل سلواڈور (El Salvador)

2019ء

 کیریباتی (Kiribati)

2023ء

 آرمینیا (Armenia)

2024ء

 یوکرین (Ukraine)

اب تک  برونڈی (2017ء) اور فلپائن (2019ء) اس عدالت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔  ہنگری، جس نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کی میزبانی کی تھی، اس نے ان کی آمد کے موقع پر آئی سی سی سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ 

 کسی ریاست کو عدالت سے دستبردار ہونے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر کو باضابطہ طور پر دستبرداری کا نوٹس   بھیجنا ہوتا ہے، جو کہ عام طور پر ایک خط کی شکل میں  ہوتا ہے اور جمع ہونے کے ایک سال بعد نافذ العمل ہوتا ہے۔

کیا رکن ممالک اپنی سرزمین پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے پابند ہیں؟

 بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے رکن ممالک کے لیے لازمی ہے کہ وہ عدالت کی تحقیقات اور مقدمات میں مکمل تعاون کریں۔ اس میں ملزمان کی گرفتاری، ثبوت اور گواہوں کے بیانات فراہم کرنا، اور متاثرین اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔ انہیں عدالت کے فیصلوں پر بھی عملدرآمد کرنا ہوتا ہے، جس میں گرفتاریوں کے وارنٹ اور سزاؤں پر عملدرآمد شامل ہے۔

ریاستوں کو یہ بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ آئی سی سی کے ذریعہ بیان کردہ جرائم، جیسے کہ نسل کشی اور جنگی جرائم، کو اپنے قومی قوانین میں شامل کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے قانونی نظام ان جرائم سے نمٹنے کے قابل ہیں۔

عملی طور پر اس سب کا مطلب یہ ہے کہ آئی سی سی کا حصہ بننے والے ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان افراد کو حراست میں لے جنہیں عدالت کی طرف سے گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا ہے، جبکہ وہ اس کی سرزمین پر موجود ہوں ، جیسے ہنگری میں نیتن یاہو  کی موجودگی۔

البتہ آئی سی سی کے رکن ممالک کی طرف سے اس پر باقاعدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ جنوبی افریقہ نے، جو کہ عدالت کا رکن ہے ، 2017ء میں سوڈان کے اس وقت کے رہنما عمر البشیر کو گرفتار نہیں کیا، جو جنوبی افریقہ کے دورے پر تھے، حالانکہ ان کے خلاف آئی سی سی کا وارنٹ موجود تھا۔

بینجمن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی نے گرفتاری کا وارنٹ کیوں جاری کیا؟

21 نومبر 2024ء کو آئی سی سی نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور حماس کے کمانڈر محمد ضیف کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔

آئی سی سی نے کہا کہ ’’معقول وجوہات‘‘ موجود ہیں کہ گیلنٹ اور نیتن یاہو نے ’’جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر غزہ کی عام آبادی کو ان کی بقا کے لیے ناگزیر اشیاء، بشمول خوراک، پانی، اور ادویات اور طبی سامان، نیز ایندھن اور بجلی سے محروم کیا۔‘‘

اسرائیل نے ان الزامات کو جھوٹا اور سیاسی طور پر محرک قرار دے کر مسترد کر دیا۔

بائیڈن انتظامیہ نے گرفتاری کے وارنٹ کو ’’ غیر معمولی/تجاوز ‘‘  قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے بعد میں آئی سی سی کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

آئی سی سی کے ساتھ امریکہ کا تعلق کیا ہے؟

امریکہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے۔ 2000ء میں کلنٹن صدارت کے دوران امریکہ نے روم اسٹیٹیوٹ پر دستخط کیے لیکن سینیٹ نے کبھی اس کی توثیق نہیں کی۔ 2002ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے تحت امریکہ نے اپنے دستخط واپس لے لیے۔

6 فروری 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کیں اور عدالت پر اسرائیل اور امریکہ دونوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی سی سی نے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرکے ’’اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالت نے امریکہ اور اس کے ’’قریبی اتحادی‘‘  اسرائیل کے خلاف ’’ناجائز‘‘ اقدامات کیے ہیں۔

ہنگری آئی سی سی سے کیوں دستبردار ہو رہا ہے؟

جمعرات کو، ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے استقبال سے کچھ ہی پہلے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔

نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکمپ، جو آئی سی سی کی میزبانی کرتے ہیں، نے جمعرات کو کہا کہ جب تک ہنگری کی آئی سی سی سے دستبرداری مکمل نہیں ہو جاتی، جس میں تقریباً ایک سال لگتا ہے، ملک کو اب بھی اپنے فرائض پورے کرنے ہوں گے۔

یورپی یونین کے ممالک کا آئی سی سی وارنٹ پر اختلاف ہے۔ کچھ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ آئی سی سی کے وعدوں کو پورا کریں گے، جبکہ اٹلی نے کہا ہے کہ اس میں قانونی شکوک و شبہات ہیں، اور فرانس نے کہا ہے کہ اس کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو آئی سی سی کے اقدامات سے استثنیٰ حاصل ہے۔ جرمنی کے اگلے چانسلر فریڈرک میرز نے فروری میں کہا کہ وہ نیتن یاہو کے بغیر گرفتار ہوئے دورہ کرنے کا راستہ تلاش کریں گے۔

آئی سی سی کے جاری مقدمات کیا ہیں؟

آئی سی سی کے پاس 12 تحقیقات جاری ہیں جن میں افغانستان، بنگلہ دیش/میانمار، برونڈی، جمہوری عوامی کانگو (DRC)، آئیوری کوسٹ، لیبیا، مالی، فلسطین، فلپائن، سوڈان، وینزویلا اور یوکرین شامل ہیں۔

عدالت میں 32 مقدمات پیش ہوئے ہیں، جن میں سے کچھ میں ایک سے زیادہ ملزم ہیں۔ آئی سی سی کے ججوں نے کم از کم 60 گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

عدالت نے کتنے افراد کو سزا سنائی ہے؟

آئی سی سی کے ججوں نے 11 سزائیں اور 4  بریتیں جاری کی ہیں۔ دی ہیگ میں آئی سی سی حراستی مرکز میں 21   افراد کو رکھا گیا ہے اور وہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں، اور 31 افراد ابھی تک مفرور ہیں۔ 7 افراد کی موت کی وجہ سے ان کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے ہیں۔ 11 سزاؤں میں سے صرف 6 عدالت کے بنیادی جرائم، جنگی جرائم، اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے ہیں۔ دیگر جرائم گواہوں کو مجروح کرنے جیسے جرائم سے متعلق تھے۔ 6 سزا یافتہ افراد ڈی آر سی، مالی اور یوگنڈا کے افریقی جنگجو گروپوں کے رہنما تھے۔ سزاؤں کی مدت 6 سے 30 سال تک تھی۔ زیادہ سے زیادہ ممکنہ سزا عمر قید ہے۔

ICJ اور ICC میں کیا فرق ہے؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں تقریباً 3 کلومیٹر (1.9 میل) کے فاصلے پر ہیں۔ دونوں عدالتیں فی الحال اسرائیل اور فلسطین سے متعلق مقدمات پر غور کر رہی ہیں۔ ان عدالتوں کے ملتے جلتے ناموں کے باوجود  دونوں میں کچھ اہم فروق ہیں۔ سب سے قابل توجہ  یہ ہے کہ ICJ  کی ذمہ داریوں میں ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات کو طے کرنا شامل ہے، جبکہ ICC جنگی جرائم میں ملوث افراد پر مقدمہ چلاتی ہے۔


www.aljazeera.com


سیاحتی علاقوں میں حفاظتی تدابیر اور ایمرجنسی سروسز کی ضرورت

مولانا عبد الرؤف محمدی

پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں کا دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے المناک واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی غفلت، غیر سنجیدگی اور عوامی تحفظ سے مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہر سال سیاحتی علاقوں میں اس نوعیت کے حادثات کا تسلسل حکومتی اداروں کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی واضح دلیل ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور ریاستی رٹ کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر قائدین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ دریائے سوات میں ڈوبنے والے سیاحوں کا واقعہ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ انتظامی غفلت اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے محض بیانات اور رسمی دوروں سے آگے نہیں بڑھ رہے جبکہ ہر سال ایسے دلخراش حادثات کے بعد بھی نہ کوئی پالیسی وضع کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کو جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے۔

رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سیاحتی علاقوں میں حفاظتی تدابیر لائف گارڈز، وارننگ بورڈز اور ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے، اور اس واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری مالی امداد اور انصاف مہیا کیا جائے۔

پاکستان شریعت کو نسل کے قائدین نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے اور پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کے خلاف آواز بلند کرے تاکہ ریاست شہریوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں کوتاہی ناقابل معافی جرم ہے، اور اس کی روک تھام ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبد الحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ حافظ نصر الدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی اس افسوسناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

’’سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟ کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا؟‘‘

مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی

(یوٹیوب چینل Sajjad Nomani پر ۴ مئی ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والی گفتگو ترتیب کے معمولی فرق اور ذیلی عنوانات کے اضافہ کے ساتھ یہاں پیش کی جا رہی ہے۔)


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ سب کو میرا محبت بھرا سلام، دل سے دعا کہ آپ سب، آپ کی فیملیز آپ کے پریوار، آپ کے چاہنے والے سکھی رہیں، امن و شانتی کے ساتھ رہیں۔ آج تین مئی ہے، بائیس اپریل کو پہلگام میں جو دردناک واقعہ پیش آیا، میں ابھی تک اس کے بعد کچھ کہہ نہیں سکا، سینکڑوں لوگ مجھے میسجز بھیجتے رہے کہ آپ کے تبصرے کا انتظار ہے، میں سخت بیماری کے دور سے گزر رہا ہوں، اب طبیعت پہلے سے کچھ بہتر ہوئی ہے تو میں اپنا فرض سمجھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ 

واقعہ پہلگام اور حکومت کا رجحان

سب سے پہلے تو میں اس بزدلانہ، ظالمانہ، حیوانی حرکت کی سخت ترین لفظوں میں مذمت کرتا ہوں۔ وہ لوگ جو چھٹیاں گزارنے، روز مرہ کی زندگی سے چند دن نکال کر اپنی فیملیز کے ساتھ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں سکون کے چند سانس لینے کے لیے گئے تھے، اور اس بھروسے پر گئے تھے کہ کشمیر میں امن ہے، ان لوگوں پر جس طرح کا حملہ کیا گیا، جتنے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ نہتے سیاحوں پر سیلانیوں اور ٹورسٹ نوجوانوں، بچوں، فیملیز، مردوں اور عورتوں پر حملہ کر کے ان کو گولیوں سے بھون دینا، سچی بات یہ ہے کہ دلی تمنا ہے کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ قانون کی گرفت میں آئیں اور سخت سے سخت سزا پائیں۔ اور اگر ان حرکت کرنے والوں کے پیچھے کوئی اور ہے جس نے اس کو پلان کیا ہے تو اس کو بھی سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔

کاش کہ ہماری سرکار اس بات کے ثبوت پیش کر دیتی کہ اس پورے حملے کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، پاکستانی حکومت کا ہاتھ ہے، تو ہم سخت ترین لفظوں میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی اور پاکستانی حکومت کے خلاف بھی تبصرے کرتے، اور ان ثبوتوں پر یقین ہو جانے کے بعد اپنی حکومت سے درخواست کرتے کہ اب دیر نہیں کی جانی چاہیے۔ اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، پوری انٹرنیشنل کمیونٹی کی ڈیمانڈ کے باوجود۔ ظاہر ہے کہ یہ بات انصاف کے ساتھ سوچنے والوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات پیدا کرتی ہے۔ 

اہلِ کشمیر کے طرزِ عمل کو سلام

میں تمام کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو، کشمیری نوجوانوں کو، پورے کشمیر کو، اہلِ کشمیر کو سلام پیش کرتا ہوں۔ دنیا کا ہر اچھا انصاف پسند انسان کشمیر کے لوگوں کے ری ایکشن کی تاریخ میں رطب اللسان ہے۔ پورے کشمیر نے ایک آواز میں اس کی سخت مذمت کی، اور جس طرح کشمیر کے لوگوں نے ان تمام سیاحوں اور ٹورسٹوں کے ساتھ جو سلوک کیا، جو مہمان نمازی کی، جس طرح اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بلکہ جان دے کر ان کو بچایا، جس طرح معصوم بچوں کو بچایا، اس نے ایک تاریخ بنا دی ہے۔ شاباش ہے کشمیر کے لوگو! امیر کبیر ہمدانیؒ ہوں یا ان جیسے دوسرے اولیاء اللہ، اللہ کے نیک بندے جن کی روحانیت آج بھی کشمیر میں محسوس ہوتی ہے، اے کشمیر کے لوگو! تم نے ان کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اور یہ میری دلی تمنا ہے کہ بھارت کے ایک ایک انسان تک کشمیر والوں کے ذریعے سے سچائی کی روشنی پہنچے۔ میں بار بار کشمیر گیا ہوں اور میں نے ہر بار یہ محسوس کیا ہے کہ اس زمین میں جو صلاحیت ہے، کاش کہ وہ منظرِ عام پر آجائے تو پھر بہت دور دور تک محبت اور امن و آشتی عام ہو جائے۔ میں پورے ملک کی طرف سے، تمام مسلمانوں کی طرف سے، تمام دیش واسیوں کی طرف سے، اور پوری انسانیت کی طرف سے اہلِ کشمیر! آپ کو مبارکباد دیتا ہوں، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 

مقتول کی بیوہ کا لازوال تبصرہ

میں اس موقع پر کیسے بھول جاؤں نیوی آفیسر وِنے نروال کی جو نوجوان بیوی ہے، ہیمانشی نروال، اس نے جو میڈیا سے کہا ہے، واللہ میری آمیں آنسو آگئے۔ شاباش شاباش ہیمانشی نروال۔ 

’’ہرگز یہ مسئلہ ہندو مسلم کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے، جس شخص نے مارا تھا وہ ایک تھا، اور جن سینکڑوں لوگوں نے ہماری مدد کی، ہماری مہمان نوازی کی، ہم کو ڈھارس بندھائی، وہ بھی تو سب مسلمان تھے۔‘‘ 

نفرت کی آگ بھڑکانے کی مذموم مہم

ایک اور پہلو ہے جو اس واقعے سے ابھر کر سامنے آیا ہے، میں چاہتا ہوں ہر بھارت کا باشندہ اس کے اوپر بہت سنجیدگی سے غور کرے۔ آپ دیکھیے کہ یہ ڈرامہ جو رچایا گیا، اس کے پیچھے اصل مقصد بھارت کے لوگوں کو ہندو مسلم خانوں میں بانٹنا، نفرت کی آگ کو بھڑکانا، یہی مقصد تھا۔ لیکن ایک طرف کشمیری مسلمانوں کا رویہ دیکھیے، اور ایک طرف میرے ان ہندو بھائیوں اور بہنوں کا اور میرے بیٹوں اور بیٹیوں کا رویہ دیکھیے جنہوں نے نفرت کے اس پیغام کو قبول کرنے اور غصے میں آکر اس مسئلے کو ہندو مسلم رخ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ 

میں اس موقع پر یاد کرنا چاہتا ہوں اپنی نیوی کے آفیسر لیفٹیننٹ وِنے نروال کو، جن کی چند دنوں پہلے شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی ہنی مون منانے اس منی سویٹزرلینڈ میں گئے تھے، ظالموں نے اس نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ تصویر ساری دنیا کے انسانوں کے دل کو دہلا رہی ہے جس میں اس شخص کی لاش کے پاس اس کی غمزدہ بیوی نوجوان لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ میں اگر بیمار نہ ہوتا تو میں آپ سے سچ کہتا ہوں، میرا جو مزاج رہا ہے اور معمول بھی رہا ہے، تو میں یہ باتیں ویڈیو میں نہ کہتا، میں کشمیر خود جاتا، اور کشمیر جانے کے علاوہ ان لوگوں کے گھر جاتا، اس بیٹی کے پاس جاتا جس نے اتنے سخت صدمے کے باوجود کہ اس کے نوجوان شوہر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اس نے پھر بھی جو کچھ کہا، اس نے کہا کہ کشمیر کے ان لوگوں نے ہمارا دل جی جیت لیا، جس طرح ہماری مدد کی، جس طرح ہم کو پہنچایا، اپنے گھر لے گئے، کھانے کھلائے۔ اور کتنے ہی لوگوں نے اس طرح کے بیان دیے۔ 

یہ بھارت کے مستقبل کے بارے میں، بھارت کی جو اصلی صورتحال ہے اس کے بارے میں مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجیے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ آج بھی بھارت کے لوگوں کی جو اکثریت ہے اس نے نفرت کے چورن قبول نہیں کیا ہے، لیکن جو مشکل ہے وہ یہ کہ، یہ جو اکثریت ہے، یہ خاموش ہے، یہ منظم نہیں ہو پا رہی، اس کو آواز نہیں مل پا رہی ہے، اور یہ سڑک پر نکل کر نفرت کے سوداگروں کو جواب نہیں دے پا رہی ہے۔ 

انتخابی سیاست کے تخریبی پہلو

یہ نفرت کے سوداگر ہمیشہ الیکشن سے پہلے کوئی ایسا تماشا کرتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ لوگ جب ووٹ ڈالنے جائیں تو ان کو نہ مہنگائی یاد رہے، نہ ان کو بے روزگاری یاد رہے، نہ ان کو جھوٹ یاد رہے جو دن رات بولا جاتا ہے، نہ ان کو یہ یاد رہے کہ کسی نے وعدہ کیا تھا ان سے کہ 15 لاکھ روپے ہر ایک کے اکاؤنٹ میں آئیں گے، نہ ان کو یہ یاد رہے کہ کسی نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اب کوئی آتنک واد کشمیر میں نہیں ہو گا اس لیے کہ ہم نے (آرٹیکل) 370 کو ختم کر دیا ہے۔ انہیں کچھ نہ یاد رہے، نہ کسانوں کو یاد رہے، نہ مزدوروں کو اپنے حقوق سے یاد رہیں، نہ دَلتیوں پر جو ہزاروں سال سے ظلم ہو رہے ہیں، ان کو وہ یاد رہے۔ انہیں بس ایک بات یاد رہے کہ میں ہندو ہوں اور یہ سرکار جو ہے یہ ہندوتوا والی سرکار ہے، ہمیں بس اس کو ووٹ دینا ہے۔

موجودہ سرکار کی افسوسناک سیاست

مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، میں سچ کہتا ہوں مجھے دکھ ہوتا ہے، ہمارے دیش کو یہ سَنگھ پریوار والے اور یہ موجودہ سرکار کہاں پہنچا رہے ہیں؟ کتنی پستی میں لے کر جانا چاہتے ہیں یہ ہمارے ملک کو؟ کیا پوری دنیا میں کشمیر کے اس واقعے پر تبصرہ کرنے والوں کی زبان پر یہ بات نہیں آئی کہ اس حملے کو، جو ہونے دیا گیا، یا، اللہ نہ کرے کروایا گیا، اس کے پیچھے بہار کا الیکشن ہے۔ اور اسی لیے تو صاحب غیر ملکی دورے سے جو واپس آئے تو بہانہ تو یہ واقعہ تھا، لیکن وہ آنے کے بعد آزاد کشمیر نہیں گئے، وہ سیدھے بہار گئے اور وہاں جا کر انہوں نے ایک چناوی سبھا کو خطاب کیا اور للکارا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس موقع پر ان کو سب سے پہلے کشمیر جانا چاہیے تھا۔

پھر یہ خبر تو بالکل حیرت انگیز ہے کہ جب ہمارے ملک کے ایک اور سب سے بڑے ذمہ دار، وزیراعظم کے بعد، وہ کشمیر کے دورے پر گئے تھے اور وہاں سیکیورٹی کے سلسلے کی میٹنگ کی تھی انہوں نے اس واقعے سے پہلے، تو اس میں چیف منسٹر عمر عبداللہ موجود نہیں تھے۔ ناقابلِ یقین ہے یہ بات۔ اور جب ہمارے عمر عبداللہ کا نام آیا ہے تو میں عمر عبداللہ کو بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ عمر عبداللہ! تم نے جو تقریر کی ہے جموں کشمیر اسمبلی میں اور جس میں اس نے کہا ہے کہ میرے پاس معافی مانگنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ تم نے واقعی اپنے دادا کی یاد تازہ کی، صاف لگ رہا تھا اس تقریر کو دیکھتے وقت کہ تم یہ کوئی بناوٹی سیاسی تقریر نہیں کر رہے ہو، یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم ہمت نہیں ہارو گے، تم اندر کے سارے رازوں کو جان گئے ہو، ڈٹے رہو اور کشمیر کو امن و سلامتی کا ایک گہوارہ بنا دو۔ بھارت کے عوام کی اکثریت، وہ ہندو ہوں یا مسلمان، وہ سکھ ہوں یا کرسچین، بدھ ہوں یا دَلت، سب کے سب تمہارے ساتھ ہیں، کشمیریوں کے ساتھ ہیں، اور تمام انسانیت اور انصاف پسندوں کے ساتھ ہیں۔

ووٹ کی خاطر انسانی جانوں سے کھیلنا

کاش کہ ہماری کچھ پولیٹیکل پارٹیز کے پاس الیکشن جیتنے کے لیے کچھ اور بھی ترکیب ہوتی۔ جو سلسلہ گودھرا سے شروع ہوا ہے، گجرات سے شروع ہوا، ہر چناؤ کے موقع پر اسی نسخے پر عمل کیا جاتا ہے اور وہی چورن بھارت کے ووٹ دینے والوں کو کھلایا جاتا ہے۔ میں بھارت کے تمام شہریوں سے، اس ملک کے خیر خواہ کی حیثیت سے، آپ کے بھائی اور بہن کی حیثیت سے، اپنے نوجوان بچوں اور بچیوں کے ایک انکل کی حیثیت سے، آپ سے کہتا ہوں خدا کے لیے اب سازش کو سمجھ لیجیے۔ یاد آتے ہیں مجھے راحت اندوری، جنہوں نے اسی قسم کے حالات کو دیکھ کر کہا تھا ؎

سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟
کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا؟

اب انسانی جانوں سے کھیلنا، اس لیے کہ ہمیں کچھ ووٹ مل جائیں، آپ ان لوگوں کی زبانوں کو بند نہیں کر پائیں گے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت آپ کے دل و دماغ پر بہار کا چناؤ سوار ہے۔ اور آپ کیسے لوگوں کی زبانیں بند کر سکتے ہیں؟ 

نسلی مردم شماری کا بے وقت اعلان

پورا ملک اس انتظار میں تھا کہ اب کوئی بہت بڑا اعلان آپ کی طرف سے ہونے والا ہے۔ کسی بہت بڑی جنگ کا اعلان ہونے والا ہے بلکہ اس کی شروعات ہونے والی ہے۔ کئی دن تک ماحول یہ بنایا گیا اور لوگ بالکل کان لگائے بیٹھے رہے کہ اب اعلان ہوا اور اب اعلان ہوا، تب اعلان ہوا۔ اعلان کیا ہوتا ہے؟ اعلان ہوتا ہے Caste Census (مردم شماری میں ذات کا اندراج) کا۔ کاش کہ کاسٹ سینسس کا اعلان اس ماحول میں نہ ہوا ہوتا، تو پورا ملک اس کا جشن منا رہا ہوتا، پورا ملک اس کے اوپر آپ کا شکریہ ادا کر رہا ہوتا۔ میں تو کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں، لیکن کتنے ہی پولیٹیکل مبصرین، تبصرہ کرنے والے، آبزرورز، ایڈیٹرز، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب یہ نظر آنے لگا کہ پہلگام کا حملہ بہار کے چناؤ میں کام نہیں آئے گا، تو بہار ہی کے چناؤ کو سامنے رکھ کر کاسٹ سینسس کا اعلان کر دیا گیا۔ 

کاسٹ سینسس کا مطالبہ ملک میں بہت سے وہ لوگ کر رہے تھے جو چاہتے ہیں کہ دیش کی آبادی کی جو اصل تصویر ہے وہ سامنے آئے۔ ایگزیکٹو ہو، جوڈیشری ہو، میڈیا ہو، ڈیفنس، کچھ بھی ہو، سب کے اوپر اونچی ذات کے چند لوگ قابض ہیں اور وہی پورے ملک کو جب چاہتے ہیں جہنم کے نمونہ بنا دیتے ہیں۔ کاسٹ سینسس ہو گا ایمانداری کے ساتھ تو پوری صورتحال سامنے آئے گی اور پھر پتہ چلے گا کہ اس ملک کی انتظامیہ میں کس کی کتنی حصہ داری ہونی چاہیے، اور کس کی کتنی حصہ داری اس وقت ہے۔ 

صوبہ بہار کے معاملہ فہم لوگوں سے مطالبہ

میں بہار کے لوگوں سے بھی ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ بہار کا صوبہ اپنی سیاسی سمجھداری کے لحاظ سے بہت اونچے مقام پر ہے۔ اور بھارت کی تاریخ میں بہت بڑے فیصلے بہار کے تھنکرز، بہار کے پولیٹیکل لیڈرز، ان کی رہنمائی کی روشنی میں ہوئے ہیں۔ اس لیے میں بہار کے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے، نوجوانوں سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ابھی سے متحرک ہو جائیے، کیونکہ میری نظر سے ایسے بڑے صحافیوں کے تبصرے بھی گزرے ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ مسلم ووٹ کو ذات کی بنیاد پر تقسیم کرنا، اس موقع پر کاسٹ کنسس کے اعلان کے پیچھے اصل مقصد ہے۔ ورنہ یہی گورنمنٹ کاسٹ سینسس کا لفظ سننا برداشت نہیں کرتی تھی، کہتے تھے کہ جو کاسٹ سینسس کی بات کرتے ہیں وہ دیش کو توڑ رہے ہیں۔ کہا تھا ہمارے پرائم منسٹر نے کہ صرف چار ذاتیں ہیں اس دیش میں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں کسی ذات کو نہیں جانتا، اور بہت سخت تبصرے ہوتے تھے ان لیڈروں کے خلاف جو کاسٹ سینسس کی مانگ کرتے تھے۔ 

راہول گاندھی کو پورا کریڈٹ جانا چاہیے اس سلسلے میں کہ انہوں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر کاسٹ سینسس کے مسئلے کو سب سے بڑا مسئلہ بنایا۔ بھارت جوڑو یاترا میں انہوں نے بھارت کی اصلی تصویر کو دیکھا اور اس کے بعد سے انہوں نے کاسٹ سینسس کے مسئلے کو اپنی اور کانگریس پارٹی کی بڑی ڈیمانڈ بنا لی۔ اب ہو سکتا ہے کہ اچانک کاسٹ سینسس کا اعلان کرنے کے پیچھے، کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیاں، ان کے ہاتھ سے یہ ایشو چھین لینے کی سازش کی گئی ہو۔ مگر میں بہار کے لوگوں کو اتنا بے وقوف نہیں مانتا، کاسٹ کی بنیاد پر جو تبدیلی بہار میں آئی تھی، جس کے پیچھے شرد یادِو اور لالو پرساد یادِو تھے، اور جس کے پیچھے ملائم سنگھ یادِو بھی تھے، انہیں اس وقت بہت چوکنا ہو جانا چاہیے اور کاسٹ سینسس کے مسئلے کو الٹا استعمال کرنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے۔ 

مسلمانوں کا ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ!

ایک پہلو اور بھی ہے جس پر میں بہار کے لوگوں کو آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم کرنا کاسٹ سینس کی بنیاد پر، یہ بھی ایک مقصد نظر آتا ہے اس مرتبہ، کیونکہ مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ تم اس حیثیت سے ووٹ مت ڈالو کہ تم مسلمان ہو، سمیدھان (آئین) کے وفادار ہو، سمیدھان کو بچانے کے لیے ووٹ مت ڈالنا، بلکہ اپنی ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ ڈالنا۔ ہو سکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر بی جے پی خود مسلمانوں میں سے امیدوار کھڑے کرے اور کاسٹ کی بنیاد پر ووٹ تقسیم کرے، اور بہار میں ایک بار پھر بالکل بے ایمانی کی چالیں چل کر وہ الیکشن جیت جائے۔ 

اور میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ اب الیکشن جیتنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ واقعی آپ کو ووٹ پڑیں۔ ووٹ کسی بھی پارٹی کو پڑیں، اتنا اچھا مینجمنٹ اب ہو چکا ہے کہ جیتنا تو اسی پارٹی کو ہوتا ہے جس کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔ اور جب Against all odds (تمام تر رکاوٹوں کے برخلاف) رزلٹ یہ آئے کہ بہار میں بی جے پی جیت گئی، تو یہ کہا جائے کہ یہ دراصل کاسٹ سینسس کی وجہ سے بہار کے لوگوں نے اس کو جھولی بھر بھر کر ووٹ دیے۔ الیکشن کے ان رزلٹس کو جسٹیفائی کرنے کے لیے، جو سراسر غلط ہوں گے، جیسا کہ اس سے پہلے کچھ صوبوں میں تجربہ ہو چکا ہے۔ 

میں بہار کے علماء، بہار کے تھنکرز، بہار کے مدبرین و مفکرین، بہار کے باشعور لوگ، بہار کے تمام لوگوں سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ اس وقت ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ سوچیے، میں کیا کہہ رہا ہوں، ملک کا مستقبل اس وقت اہلِ بہار کے ہاتھ میں قدرت نے رکھ دیا ہے۔ آپ بہت سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر غور کیجیے، سر جوڑ کر بیٹھیے، کبھی ہو سکا تو میں اس کی کوئی تفصیلات بھی آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اعلان صرف بہار کے الیکشن کو اور اگلے سال یو پی کے الیکشن کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ تاجسوی یادِو کی بھی ذمہ داری ہے اور اکھلیش یادِو کی بھی، کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسلم لیڈرز سے اچھے رابطے قائم کریں، اور صرف مسلم سے نہیں، OBCs (پسماندہ طبقات) کے لوگوں سے، (اونچی ذات کے قبائل) سے، آدی واسیوں سے، سب لوگوں کے ساتھ رابطے قائم کریں، اور اس سازش کو ناکام کرنے کے لیے جو کر سکیں، کریں۔ 

میں شکر گزار ہوں آپ سب کا کہ آپ نے میری بات کو غور سے سنا، میری آواز کمزور ہے، میں معافی چاہتا ہوں اس بات پر، میں مجبور ہوں، میری صحت ٹھیک نہیں چل رہی ہے، لیکن میں نے اپنا فرض سمجھا کہ جو باتیں اس وقت آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے، ملک کی خیر خواہی کے جذبے سے، اس میں مزید دیر نہ ہو، آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔


 

پاک بھارت کشیدگی میں اطراف کے مسلمانوں کا لائحۂ عمل

مولانا مفتی عبد الرحیم

انٹرویو نگار : مفتی عبد المنعم فائز

مفتی عبد المنعم فائز: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پاکستان انڈیا کی جنگ ایک اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں الحمد للہ پاکستان فاتح قرار پایا ہے، دنیا بھر کے جو مبصرین ہیں وہ اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو پاکستانی افواج کو فتحِ مبین، بہت واضح فتح نصیب فرمائی ہے۔ تو اس دوران میں بہت سے سوالات جو اسلامی جہاد کے حوالے سے اٹھائے گئے، انڈین میڈیا نے اس کے اوپر گفتگو کی ہے، اور بہت سے سوالات وہ جو ہمارے کمنٹس میں ہمارے ناظرین نے حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم کی گفتگو کے نتیجے میں ہم سے پوچھیں ہیں، تو آج وہ تمام سوالات اور وہ تمام اشکالات لے کر حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان کے جوابات جاننے کی کوشش کریں گے۔ حضرت استاد صاحب دامت برکاتہم کو ہم آج کے پروگرام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

اسلام کے فلسفۂ جہاد کی شروط و قیود

حضرت! سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ جو انڈین میڈیا نے بڑے زور شور سے پروپیگنڈا کیا ہے کہ اسلام یا قرآن مجید کی یہ تعلیم ہے کہ اپنے علاوہ یعنی مسلمانوں کے علاوہ تمام کافروں کو قتل کر دو، اور بار بار اس بات کو انڈین میڈیا نے دہرایا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اسلام کا جو جہاد کا فلسفہ ہے، جہاد کا تصور ہے، وہ یہی ہے یا اس سے مختلف ہے؟ 

مفتی عبد الرحیم: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میں نے بھی کچھ کلپ سنے ہیں اس حوالے سے کہ مسلمانوں کا قرآن کہتا ہے کہ کافروں کو قتل کر دو، اور اس پر وہ آگے ساری بات کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لاعلمی اور جہالت کی بات ہے۔ ہمارے دین میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے، جیسے نماز فرض ہے، زکوٰۃ فرض ہے، روزہ فرض ہے، حج فرض ہے، ایسے ہی جہاد بھی فرض ہے۔ اور جیسے نماز کے لیے شرائط ہیں، ارکان ہیں، فرائض ہیں، واجبات ہیں ،سننِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ، مستحبات ہیں، نماز کے مکروہات ہیں، مفسدات ہیں، نواقض ہیں، بالکل اسی طریقے سے جہاد کے بہت بڑے بڑے شرائط ہیں، اس کے فرائض اور واجبات ہیں، اس کی سنتیں ہیں، اس کے مستحبات ہیں، اور اس کی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں اس کی مکروہات اور مفسدات میں ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ 

یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی آدمی قرآن مجید سے یہ لے لے ’’لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکارَیٰ‘‘ تو ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ کو لے کر یہ کہہ دے کہ قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نماز کے قریب بھی مت جاؤ۔ تو قرآن نے ’’اقیموا الصلوٰۃ‘‘ بھی کہا ہے اور ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ بھی کہا ہے۔ بالکل اسی طریقے سے جہاد کے بہت احکام ہیں اور جب تک ان احکام  کو سامنے نہیں رکھیں گے اس وقت تک کسی ایک بات کو لے لینا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ہندوستان کے آئین میں کہیں لکھا ہوا ہے نا کہ ان حالات میں جنگ کرنا ان پہ لازم ہوگا، تو جنگ کرنے کی بات کو لے لیں، باقی پورے آئین کو آپ نظر انداز کر دیں۔ 

قرآن مجید میں 400 آیات ہیں جہاد سے متعلق، ان چار سو آیات میں سے ایک آیت کا ایک جز ہے ’’قاتلوھم‘‘ ، تو ایک جز کو لے کر اس پر یہ اعتراض کرنا۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ صحیح بخاری میں کتنے ابواب ہیں۔ کتاب الجہاد میں 199 ابواب ہیں، کتاب فرض الخمس اور کتاب الجزیہ میں 20، 22 ہیں، اور کتاب المغازی میں 90 ابواب ہیں۔ تو یہ 331 ابواب جہاد سے متعلق ہیں اور ایک باب میں کتنی کتنی حدیثیں ہوتی ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب ’’السیر الکبیر‘‘ کتنی بڑی کتاب لکھی، کتنی جلدوں میں ہے وہ۔ تو جہاد کے احکام ایسے نہیں ہیں کہ کسی کو بھی آپ اٹھا کر قتل کر دو۔ 

قرآن مجید میں تو صبر کرنے کا حکم بھی ہے، ’’لا تقاتلوا‘‘ بھی قرآن کا حکم ہے، ’’فان قاتلوکم فاقتلوھم‘‘ اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان سے لڑو۔ صبر کرنے کا حکم بھی ہے ’’وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ‘‘ تم اگر بدلہ لینا چاہو تو اتنا بدلہ لو جتنی تم پر کسی نے زیادتی کی ہے، ’’ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین‘‘ اگر تم صبر کرو تمہارے لیے بہتر ہے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے دین میں اتنی سی بات نہیں ہے۔ تو انصاف یہ ہوا کہ پورے اس نظامِ جہاد کو آپ پڑھیں، فلسفۂ جہاد کو، تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ جہاد انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپؐ نے جو جہاد کا سلسلہ شروع کیا اس میں مجموعی طور پر ان دس سالوں میں 243 مسلمان شہید ہوئے اور تقریباً‌ 800، 900 کفار اس میں قتل ہوئے۔ تو گیارہ بارہ سو لوگوں کی جانیں گئیں اور پورا عرب امن کے گہوارہ بن گیا۔ تو بالکل اسی طریقے سے اس جہاد کو اپنے فلسفے کے ساتھ اپنے شرائط کے ساتھ لینا چاہیے۔ اپنی مرضی کے مطابق ان چیزوں کو لے کر اس کی تفصیل بیان کرنا یہ درست نہیں ہے۔

اسلام میں معاہدات کی اہمیت و حساسیت

دوسری بات یہ کہ جہاد میں (یا) ہمارے دین کے جتنے بھی احکام ہیں، اس میں جو بہت نمایاں حکم ہے وہ معاہدوں کا ہے۔ جب قوموں کے معاہدے ہو جاتے ہیں، ریاستوں کے ریاستوں کے ساتھ معاہدے ہو جاتے ہیں، قبائل کے قبائل کے ساتھ معاہدے ہو جاتے ہیں، یا فرد کا کسی فرد کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا ہے، تو اس کی پابندی کرنا شرعاً‌ لازم ہے اور اس معاہدے کو توڑنا شرعاً‌ حرام ہے ناجائز ہے۔ تو اس وقت جس طریقے سے دنیا معاہدوں میں بندھی ہوئی ہے تو سب اس کے پابند ہیں۔ اور جس آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے سورۃ براءۃ یا سورۃ توبۃ کا، اس کا تو سارا موضوع ہی یہی تھا کہ کفار نے، مشرکینِ مکہ نے معاہدہ توڑ دیا تھا، تو معاہدہ توڑنے کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافتِ راشدہ میں ڈھائی سو معاہدے ہوئے، ان معاہدوں کی پابندی مسلمانوں نے کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، صحابہ کرامؓ نے۔ اور زیادہ تر جو فتوحات ہوئی ہیں معاہدات توڑنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ کفار نے معاہدہ توڑا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات عطا فرمائیں۔ 

تو جو ایک ایگریمنٹ ہے، معاہدہ ہے، اس معاہدے کی جب آپ پابندی کریں گے تو ایسا نہیں ہے کہ کوئی کسی پر کسی وقت بھی چڑھائی شروع کر دے۔ اور معاہدوں کے حوالے سے میں کچھ واقعات بھی بتانا چاہوں گا کہ معاہدوں کی پابندی کتنی ضروری ہے۔ خود قرآن مجید میں 40 سے زیادہ آیات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ معاہدوں کی پابندی کریں، اگر معاہدے کو توڑیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی۔ اور بہت سخت وعید ہے ’’فبما نقضھم میثاقھم لعنٰھم‘‘، اور احادیث تو بہت زیادہ ہیں اس بارے میں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدوں کی کس طریقے سے پاسداری کی؟ 

جب حدیبیہ کی مصالحت ہوئی، صلح حدیبیہ، ابو جندل آگئے تھے وہاں سے، بیڑیوں میں وہ جکڑے ہوئے تھے، تو گھسٹتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ آپؐ نے واپس کیا کہ ہم چونکہ معاہدہ کر چکے ہیں۔

ابو بصیر مکہ سے مدینہ پہنچے کتنے مشکل حالات میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس کیا کہ چونکہ معاہدہ کر چکے ہیں لہٰذا معاہدہ کی ہم پابندی کریں گے۔

ایسے ہی حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی ہیں جو کفارِ مکہ، مشرکینِ مکہ کا ایک پیغام لے کر آئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ جب یہ مدینہ میں پہنچے تو ان کو اسلام بہت پسند آیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں تو مسلمان ہو گیا ہوں، میرا دل چاہتا ہے میں یہیں رہوں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا، چونکہ تم ان کے سفیر بن کر آئے تھے لہٰذا تم واپس چلے جاؤ، دوبارہ تمہارا دل چاہے تو وہاں سے تم واپس آنا۔ تو اس قدر ہمارے دین میں معاہدوں کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ تو قدیم الاسلام ہیں، اور آپ بھی آپ کے والد صاحب بھی مہاجرین میں شمار ہوتے ہیں، بڑے مہاجرین میں، تو آپ بدری کیوں نہیں ہیں، جنگِ بدر میں کیوں نہیں شریک ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ ہم جنگِ بدر میں جانے کے لیے چلے تھے کہ راستے میں ہم مشرکینِ مکہ کہتے چڑھ گئے، انہوں نے ہمیں مارا اور انہوں نے زبردستی ہم سے معاہدہ لیا کہ تم جنگ میں حصہ نہیں لو گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہم حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! اس طریقے سے انہوں نے ہم سے معاہدہ کیا ہے، عہد لیا ہے زبردستی، تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا، ’’نفی بعھدھم ونتوکل علی اللہ‘‘ (انصرفا، نفی لھم بعھدھم ونستعین اللہ علیہم) ہم اس عہد کو پورا کریں گے، اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے، تم واپس مدینہ جاؤ۔ تو اتنا زبردست ہمارے دین میں اس کا حکم ہے۔

ایسے ہی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شام کا ایک علاقہ انہوں نے فتح کیا تھا۔ اور یہ جو جزیہ کی بات ہوتی ہے، جزیہ بھی معاہدہ ہی ہوتا ہے۔ جہاد کے تین مرحلے ہوتے ہیں، اگر اقدامی جہاد ہو رہا ہے: پہلے مرحلے میں ان کو اسلام کی دعوت دیں۔ دوسرے نمبر پہ ان کو معاہدے پہ قائل کریں، اگر وہ معاہدہ کر لیں تو وہ اپنے اسی عقیدے پر، جو بھی ان کا عقیدہ، اس پر وہ باقی رہ سکتے ہیں۔ اور اگر اس پر بھی تیار نہ ہوں تو اس کے بعد پھر آگے ان سے وہ ہوتا ہے۔ تو جہاد کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے کوئی معاہدہ نہ ہو، اگر پہلے سے کوئی معاہدہ ہے تو اس معاہدے کی پابندی کرنا شرط ہے۔ تو ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں شام میں تھے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ان کو پیغام آیا کہ آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے، آپ وہ علاقہ چھوڑ کر آجائیں۔ تو وہ جو جزیہ ان سے لیا تھا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وہ رومی لوگ تھے، عیسائی تھے، آپ نے ان سب کو جمع کیا، انہوں نے کہا کہ ہم جا رہے ہیں اور آپ کے پیسے واپس کر رہے ہیں۔ تو انہوں نے پوچھا پیسے کیوں واپس کیے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو یہ پیسے اس لیے لیے تھے کہ آپ کی جان، مال، عزت کا ہم تحفظ کریں گے۔ اور اب چونکہ ہم یہاں سے جا رہے ہیں تو لہٰذا ہم اس معاہدے کے یہ پیسے بھی ہم واپس کریں گے۔ 

ایسے ہی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں رومیوں سے جب آپ کا معاہدہ ہوا، جب معاہدے کی مدت ختم ہونے لگی تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طے کیا کہ ہم قریب چلے جاتے ہیں، اس سرحد کے قریب، تو جیسے یہ وقت ختم ہوگا فورً‌ا ہم حملہ کر دیں گے۔ تو وہاں جب قریب پہنچے تو ایک شخص گھوڑے پہ ان کو نظر آیا اور وہ بہت بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’وفاء لا غدر‘‘ کہ مسلمانو! وفا کرو، خیانت نہ کرو۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلایا تو معلوم ہوا کہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ اگر تمہارا کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو جائے، یا تو معاہدہ کو پورا کرو مکمل کرو، اور اگر ختم کرنا چاہو تو برابری پر ختم کرو۔ تو اب مدت ختم ہو رہی ہے تو ہم یہاں پہنچ گئے، تو انہوں نے تو کوئی تیاری نہیں کی دفاع کی۔ ان کو اتنا موقع دیں کہ وہ مورچہ بند ہو جائیں پھر ان پہ آپ ہم آپ حملہ کر سکتے ہیں۔ 

اور قرآن مجید میں بھی ہے ’’اما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیھم علیٰ سواء‘‘ کہ اگر آپ کو کسی قوم سے اندیشہ ہو کہ وہ خیانت کریں گے تو پھر برابری پر آپ اس کو چھوڑیں، ایسے نہیں کہ آپ ان کو دھوکہ دے دیں۔ تو ہمارے دین میں اتنی بڑی اہمیت ہے اس کی۔ 

ایسے ہی مجھے یاد آیا کہ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر مسلمان کسی شہر کا محاصرہ کر لیں اور رات کے وقت میں ایک شخص فصیل پہ آ کر کہتا ہے کہ یہ شہر تم سے فتح نہیں ہو گا، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس کا راستہ کہاں ہے جہاں سے یہ فتح ہو سکتا ہے، لیکن اس شرط پر کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے، مجھے آپ تحفظ دیں گے۔ اس میں ان کا معاہدہ ہو گیا، اس نے بتا دیا اور مسلمانوں کا اس شہر پہ قبضہ ہو گیا۔ لیکن وہ آدمی نہیں مل رہا تو مسلمانوں نے اعلان کیا کہ وہ کون سا شخص تھا جس نے رات ہم سے معاہدہ کیا تھا؟ تو بہت سارے لوگ کھڑے ہو گئے کہ میں نے معاہدہ کیا تھا۔ تو فقہاء نے لکھا ہے کہ سب کو امان دینا پڑے گا، سب کو آپ چھوڑیں گے جب تک آپ کو پتہ نہ چل جائے کہ بالتعین یہ آدمی تھا۔ اگر سو لوگ بھی کھڑے ہو گئے تو سو کے سو کو آپ امن دیں گے۔

ایسے ہی دوسرے فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی علاقے کا محاصرہ ہو اور وہ فتح نہ ہو رہا ہو، اور ایک شخص فصیل پہ آ کر کہتا ہے کہ میں آپ کو بتاتا ہوں یہ شہر کیسے فتح ہو گا، کس دروازے سے فتح ہو گا، اس زمانے میں دروازے ہوتے تھے، اس شرط پر کہ بادشاہ کا محل میرا ہو گا۔ اور مسلمانوں کے کمانڈر نے اس سے معاہدہ کر لیا، تو اب فتح ہونے کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کا محل خود رکھے، اس آدمی کو دینا ہو گا۔

تو ہمارے دین میں اتنی بڑی چیز ہے یہ۔ جتنے بھی ایگریمنٹ ہوتے ہیں بین الاقوامی سطح پہ، قومی سطح پہ، ان کا خیال رکھنا چاہیے، اس کے ہوتے ہوئے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جہاد ہے۔ اور اگر ان کی آپ خلاف ورزی کریں گے تو جیسے کسی فرض کو چھوڑنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، واجب کو چھوڑنے سے نماز مکروہِ تحریمی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طریقے سے وہ جہاد نہیں ہو گا۔ 

اور میں اس کا خلاصہ نکالتا ہوں کہ یہ جو جہاد ہے یہ ہماری اسلامی ریاست کی وزارتِ دفاع ہے۔ تو کیا کسی بھی وزارتِ دفاع کا کوئی انکار کر سکتا ہے؟ کیا ہندوستان کی وزارتِ دفاع نہیں ہے، کیا ان کا جنگ کا نظام نہیں ہے؟ تو بالکل اسی طریقے سے یہ اسلامی ریاست کی وزارتِ دفاع ہے، جس کے لیے شرائط ہیں، اس کے طریقہ کار ہیں، اس کے اصول و ضوابط ہیں، اور ایسے اصول و ضوابط ہیں کہ اگر ان پہ عمل کر لے دنیا، تو جنگ میں بھی کم سے کم نقصان ہو۔

ایک اور میں قصہ سنا دوں کہ فتح سمرقند بہت مشہور ہے، تو سمرقند کیسے فتح ہوا؟ قطیبہ بن مسلم باہلی، یہ بہت بڑے کمانڈر تھے، مسلمانوں کے بڑی سطح کے فاتحین میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے سمرقند پہ چڑھائی کی اور سمرقند کو فتح کر لیا۔ جب فتح کر لیا اور قبضہ مکمل ہو گیا تو سمرقند کے لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کے ہاں تو پہلے اسلام کی دعوت دی جاتی ہے، پھر معاہدے کی بات ہوتی ہے، جس کو جزیہ بولتے ہیں، اس کے بعد لڑائی ہوتی ہے، تو انہوں نے ہم سے یہ بات کہی نہیں۔ تو انہوں نے اپنے ایک شخص کو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجا، اس وقت وہی امیر المومنین تھے۔ وہ دمشق، شام گئے اور جا کر انہوں نے شکایت کی کہ ہم نے تو یہ سنا ہے کہ آپ کے ہاں یہ مرحلہ وار بات ہوتی ہے، تو انہوں نے نہ ہمیں دعوت دی، نہ ہم سے انہوں نے معاہدے کی بات کی، اور ایسے ہی چڑھائی کر کے پورے شہر میں قبضہ کر لیا۔ 

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے خط لکھا سمرقند کے قاضی کو، ان کے نام تھا حضرت جُمیعؒ، تابعی تھے، ان کو لکھا کہ آپ ان کا فیصلہ کریں اور کمانڈر کو بھی بلائیں اور اہلِ سمرقند کو بھی بلائیں۔ تو انہوں نے باقاعدہ عدالت لگائی اور سارے کمانڈر بھی اکٹھے ہو گئے اور اہل سمرقند بھی۔ اور یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے بغیر کسی دعوت کے بغیر معاہدے کے اچانک چڑھائی کی تھی۔ اس پر حضرت جُمیع نے یہ اعلان کیا کہ ساری افواج، مجاہدین جتنے بھی ہیں، وہ واپس نکل جائیں، دوبارہ سے بات چیت کریں ان کے ساتھ۔ تو جب سمرقند سے یہ لوگ نکل رہے تھے، اس فیصلے پر، تو سمرقند کے لوگ کلمہ پڑھ رہے تھے ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ‘‘ تو انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھا سارے لوگ مسلمان ہوئے۔ تو مسلمانوں کا اتنا عظیم، ہمارے دین کا یہ اتنا بڑا وہ (طریقہ) ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کیسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس پہ چاہو چڑھائی کر دو جس کو چاہو مار دو؟

پاکستان کے ساتھ جنگ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی ذمہ داری

مفتی عبد المنعم فائز: اچھا حضرت! دوسرے نمبر پہ جو ہندوستان کے مسلمان ہیں، ان دنوں میں جب پاکستان بھارت جنگ چھڑی تھی تو اس میں ان کا موقف بہت متذبذب ہوا۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جو خاموش تھے، ان کا کوئی موقف نہیں تھا، نہ وہ انڈیا کی افواج کا ساتھ دے رہے تھے، نہ پاکستانی فوج کا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو اپنی انڈین فوج کا ساتھ دے رہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو پاکستانی فوج کے حق میں لکھ رہے تھے، سوشل میڈیا پہ کمنٹ کر رہے تھے۔ تو ان حالات میں جو انڈیا میں بسنے والے مسلمان ہیں، اتنی بڑی تعداد ہے، ان کا موقف کیا ہونا چاہیے اور اسلام کی کیا تعلیمات ہیں اس حوالے سے؟

مفتی عبد الرحیم: دیکھیے، جو میں نے معاہدوں کی اتنی ساری مثالیں دی ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ ہندوستان کا جو آئین ہے وہ بھی ایک ایگریمنٹ ہے، اس ایگریمنٹ کے ساتھ جتنے بھی لوگ وہاں رہتے ہیں، (ہندوستان کی) نیشنلٹی کے ساتھ، تو ان کو اپنے آئین کی پابندی کرنا ضروری ہے تا وقتیکہ ان کے جو فرائض ہیں عبادات ہیں وہ متاثر نہ ہوں۔ تو ہندوستان کے مسلمانوں کو آپس میں بیٹھنا چاہیے اور وہ اپنا فیصلہ خود کریں، بجائے اس کے کہ یہاں پاکستان سے کوئی بیانات داغے جائیں، ان کو پریشان کیا جائے، یا وہ وہاں سے الگ سے کوئی چیز شروع کریں۔ اس کی بجائے جو ایگریمنٹ انہوں نے آئین کی شکل میں کیا ہوا ہے، اس کی پابندی کریں، امن و امان قائم رکھیں۔ اور اگر ان پہ ظلم ہوتا ہے جیسا کہ مودی حکومت اور یہ جو کچھ کرتے ہیں تو اس کے لیے آئین کی روشنی میں آئین کے تحت بہت کچھ ان کے پاس مواقع ہیں، ظلم سے بچنے کے لیے، اپنے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لیے۔

اور ہم ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ آج کے دور میں جہاں اور بہت ساری آسانیاں ہوئی ہیں اس میں ایک بہت بڑی آسانی یہ ہے کہ آج کے دور میں اپنے پیغام کو پہنچانے کے لیے، اپنی بات منوانے کے لیے، لابنگ کرنے کے لیے، میڈیا کا استعمال، احتجاج کا طریقہ کار، وہ اتنے زیادہ ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ شرط ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اکٹھے ہوں، اکٹھے ہو کر اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں، تو وہاں کا جو سیکولر آئین ہے وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بہت تحفظ دیتا ہے، صرف مسلمانوں کو نہیں، جتنے نماز سکھ رہتے ہیں، جتنے وہاں عیسائی رہتے ہیں، دوسری اقلیتیں، سب کے لیے وہاں کا جو سیکولر آئین ہے وہ نعمت ہے بہت بڑی، تو اس کو وہ مضبوطی سے پکڑیں اور اپنے فیصلے خود کریں۔ وہاں کے علماء ہیں، وہاں کے جو بڑے ذمہ دار لوگ ہیں، جو آگے لیڈرشپ ہے، وہ آپس میں بیٹھیں اور اپنے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کا فیصلہ کرنا چاہیے۔

اور میرا یہ خیال ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو ہر جگہ راستے ملیں گے، ان کے لیے ضروری نہیں ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ ہو تو وہاں وہ بھی جنگ شروع کر دیں، بلکہ اس کی اجازت بھی نہیں ہو گی ان کے لیے۔

مقبوضہ کشمیر کی شرعی اور بین الاقوامی حیثیت

مفتی عبد المنعم فائز: جیسے حضرت نے کہا کہ وہاں کے لوگوں کے لیے جو آئینی اور قانونی رستہ ہے، جس آئین اور قانون کو وہ مانتے ہیں، جس ایگریمنٹ کے تحت وہ وہاں کے شہری ہیں، اس کے مطابق وہ کام کریں۔ اب مسئلہ جو ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا بھی ہے، جیسے حضرت نے پہلے بھی کہا کہ جو پہلگام کا واقعہ ہے وہ ظلم ہے، بربریت ہے، اسلام اس طرح سے قتلِ عام کی کہیں بھی کسی صورت اجازت نہیں دیتا ہے۔ تو مقبوضہ کشمیر کے لوگ کے کمنٹس یہ ہیں کہ یہاں پہ جو مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے، تشدد ہو رہا ہے، اس ظلم اور تشدد کو اگر آپ دیکھیں تو آپ کی رائے تبدیل ہو جائے گی۔ تو کیا مقبوضہ کشمیر کی جو موجودہ آئینی صورتحال ہے، پاکستان کا بھی اس کے اوپر دعویٰ ہے، اور پھر ان کے اوپر جو روزانہ ظلم اور تشدد کے پہاڑ بھی توڑے جا رہے ہیں، تو ان کا کیا موقف ہونا چاہیے، وہ کس طرح سے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائیں؟

مفتی عبد الرحیم: دیکھیے ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں فرق ہے۔ ہندوستان کی جو میں نے بات کی وہ تو آئین کا ایک ایگریمنٹ موجود ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے جتنے مسلمان ہیں، جتنے کشمیری ہیں، ان پر تو ہندوستان کا قبضہ ظالمانہ بھی ہے غاصبانہ بھی ہے اور جارحانہ بھی ہے۔ وہ تو ویسے ہی غلط ہے، وہاں کوئی ایگریمنٹ بھی موجود نہیں ہے، تو اس قبضے کو چھڑانے کے لیے کوشش کرنا، یہ بالکل درست ہے، وہ مسلح کوشش بھی کر سکتے ہیں اور وہ جہاد ہی ہو گا۔ اور جو لوگ ان کو سپورٹ کریں گے وہ بھی جہاد ہی شمار ہو گا بشرطیکہ  ان معاہدوں کی شکل میں ہو جو دنیا میں ہم نے کیے ہوئے ہیں۔ لیکن جو مقامی لوگ ہیں، کشمیری لوگ ہیں، ان کے لیے اپنے دفاع میں مسلح تحریک چلانا وہ شرعاً‌ جہاد ہے وہ جائز ہے، اور اگر کوئی ان کے ساتھ مدد کرتا ہے، میڈیا کے لحاظ سے، سفارتی لحاظ سے، بین الاقوامی سطح پہ، قومی سطح پہ، اگر ان کی کوئی امداد کرتا ہے تو وہ ٹھیک ہے، اس میں کوئی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

 البتہ یہ بات اور ہے کہ ان کو کیا کرنا چاہیے؟ تو ہمارے دین میں دو ہی طریقے ہیں، ان کے پاس طاقت ہے یا نہیں ہے؟ اگر طاقت نہیں ہے تو صبر کریں اور طاقت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ ہمارے دین میں دو قسم کے فرائض ہیں: ایک وہ فرض ہے جس کی بنیاد طاقت کے اوپر ہے کہ اگر طاقت ہے تو وہ فرض ہے، لیکن اس طاقت کو حاصل کرنا فرض نہیں ہے۔ جیسے زکوٰۃ واجب ہے، اس پر جو مالدار ہو، صاحبِ نصاب ہو، تو اگر کسی کے پاس نصاب نہیں ہے تو اس پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ مال اتنا کمائے کہ صاحبِ نصاب ہو جائے۔ حج فرض ہے اس پر جس کے پاس مالی استطاعت ہو، اگر کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں تو اس پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اتنے پیسے کمائے یہاں تک کہ اس پہ حج فرض ہو جائے۔ لیکن جہاد اس سے مختلف ہے۔ جہاد ان فرائض میں سے ہے کہ اگر کسی کے پاس اس کی استطاعت نہیں ہے تو استطاعت حاصل کرنا فرض ہے، کوشش کرنا فرض ہے۔ تو ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کے جو مسلمان ہیں، اگر ان کے پاس استطاعت ہے تو وہ لڑیں اور وہ جہاد ہو گا۔ 

اور یہ بھی میں بتا دوں کہ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے قوانین ہیں، وہ بھی اس کی اجازت دیتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے اور اپنی خود مختاری کے لیے آپ ہتھیار بھی اٹھا سکتے ہیں۔ تو کشمیریوں کی سفارتی مدد کرنا، ان کی ہر قسم کی کوشش میں ان کو سپورٹ دینا، یہ بالکل شریعت میں بھی ٹھیک ہے اور بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے بھی ٹھیک ہے۔

اس فتح میں پاکستان کے لیے رہنمائی

مفتی عبد المنعم فائز: اگلا سوال یہی ہے کہ جو پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی زبردست فتح دی ہے، اب اس فتح کے بعد اس کے فوائد کس طرح سے ہم سمیٹ سکتے ہیں؟ اس فتح کو قومی اتحاد و یکجہتی، اپنی بین الاقوامی سفارتکاری کو مضبوط کرنے کے لیے، قومی مسائل کو حل کرنے کے لیے کس طرح ہم استعمال کر سکتے ہیں؟

مفتی عبد الرحیم: یہ جو اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا معجزہ ہمیں دکھایا ہے اور اتنا بڑا تحفہ دیا ہے فتح مبین کا، اس سے ہمیں بہت بڑے بڑے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ جنگیں فوجیں نہیں قومیں لڑتی ہیں، تو پاکستان کی قوم بحیثیت ایک قوم کے اکٹھی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ساری چیزوں کو آسان کر دیا، تو یہ ایک بہت بڑا نکتہ ہمیں اس سے ملتا ہے۔ اور اس جنگ کا جو نام رکھا گیا ’’بنیانٌ مرصوص‘‘ تو بنیانٌ مرصوص ہمارے سارے مسئلوں کا حل ہے۔ جب بھی آپ کے دماغ میں کوئی اشکال ہو، کوئی بحران ہو، کوئی چیلنج ہو، اس کا جواب کیا ہے، بنیانٌ مرصوص۔ اگر کوئی شہری مسائل ہیں، کراچی کے مسائل ہیں، تو اس کا جواب کیا ہے، بنیانٌ مرصوص۔ 

اصل میں ہمارے سامنے چیلنجز چار ہیں: ریاستِ پاکستان، افواجِ پاکستان، نظریۂ پاکستان، اور معیشتِ پاکستان۔ تو یہ جو جنگ ہوئی ہے اس جنگ کو ان چاروں کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔

(۱) قومی سوچ اور اتحاد و یکجہتی

پاکستان کی ریاست کو جو جو خطرات لاحق تھے، جو اندرونی جنگیں چل رہی تھیں، قوم پرستوں کے لحاظ سے، مذہب کے نام پر، سیاسی خلفشار، یا ہماری سوسائٹی پوری ایک منفی طرف چلی گئی تھی، تو ریاستِ پاکستان کو اس جنگ سے جو سب سے بڑا فائدہ ہوا ہے وہ ایک اتفاق و اتحاد اور یونٹی، جو کسی بھی قوم کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ 

اور اس کا آرمی چیف نے جو نام رکھا ’’بنیانٌٌ مرصوص‘‘ قرآن مجید سے، یہی علاج ہے ہمارے سارے مسائل کا۔ اگر ہمارے بیرونی مسائل ہیں اس میں بھی ہم اکٹھے ہو جائیں تو ہمارے مسئلے حل ہوں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ حتیٰ کہ جو شہری مسائل ہیں اگر ان میں بھی شہر کے لوگ اکٹھے ہو جائیں، اب شہر میں پچاس تو گروپ بنے ہوتے ہیں تو کیسے کام ہو گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنیانٌ مرصوص کو پکڑ لینا چاہیے، کوئی بھی ہمارا مسئلہ ہو تو بنیانٌ مرصوص بن جائیں، تو دیکھیں ہمارے کام کتنی جلدی ہوتے ہیں۔ اور بنیانٌ مرصوص پہ ہی اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ’’ید اللہ علی الجماعۃ‘‘ جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ’’الجماعۃ رحمۃ‘‘ جماعت رحمت ہوتی ہے۔ ’’الجماعۃ برکۃ‘‘۔ تو سب سے بڑا سبق ہمیں یہی ملا ہے۔

اور آپ دیکھیں گے کہ اس فتحِ مبین کی برکت سے جتنے بھی اندرونی یہاں جھگڑے ہو رہے تھے یا بہت سارے لوگوں نے بغاوت شروع کی ہوئی تھی، مسلح تاریکیں چل رہی تھیں، ان سب کو اس وقت میں ایک ضرب شدید لگی ہے، جیسے ہندوستان کو اتنی بڑی ضرب لگی ہے، اسی اسی طریقے سے پاکستان میں جو مسلح تحریکیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے، ان کو بھی بڑی ضرب شدید لگی۔

(۲) نظریۂ پاکستان کی حقانیت

دوسرے نمبر پہ نظریۂ پاکستان۔ پاکستان کا دو قومی نظریہ جنگ کے ان دنوں میں بڑی کھل کر سامنے آیا۔ سب کو پتہ چل گیا کہ واقعتاً‌ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ جس طریقے سے فیصلے ہو رہے تھے، جس طریقے سے اقدامات ہو رہے تھے، اس میں اللہ رسول کا نام لیا جا رہا تھا، جیسے نعرے لگائے جا رہے تھے، تہجد میں لوگ دعائیں کر رہے ہیں، اور بڑی بڑی ہماری جو فورسز کے لوگ ہیں وہ اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کر رہے ہیں، قنوتِ نازلہ کا اہتمام کروایا جا رہا ہے، بچوں سے دعائیں کروائی جا رہی ہیں، اور فرض نماز پڑھ کر اجتماعی دعا ہو رہی ہے، اور الحمدللہ کہہ کر نعرۂ تکبیر پڑھ کر لا الٰہ الا اللہ پڑھ کر۔ تو جس طریقے سے پندرہ بیس دن ہم نے دیکھا اور خاص طور پر تین چار دن، تو اس سے یہ بات بہت واضح ہو گئی کہ پاکستان واقعتاً‌ دو قومی نظریہ پر بنا تھا۔ اور دو قومی نظریہ ایسی چیز ہے کہ ہمارے ملک کی اجتماعیت کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ جب آپ دو قومی نظریے پر آئیں گے اور سب لا الٰہ الا اللہ پر جمع ہوں گے، ایک نظریے پر جمع ہوں گے، تو پھر کوئی سندھی نہیں رہے گا، کوئی پنجابی نہیں رہے گا، کوئی بلوچی نہیں ہوگا، کوئی پختون نہیں ہوگا۔ اگر کوئی پختون ہے اور بلوچی ہے تو اپنی شناخت کے لیے ہے، جھگڑے کے لیے نہیں ہے، لڑائی کے لیے نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ نظریۂ پاکستان بھی بہت نمایاں ہو کر آیا ہے۔

اور نظریۂ پاکستان جو مطالعۂ پاکستان میں لکھا ہوا تھا، تو یہ پتہ چلا کہ وہ بالکل صحیح تھا، سو فیصد صحیح تھا۔ اور جو بہت سے لوگ اس پر اعتراض کرتے تھے کہ صرف کاغذ کی بات ہے، اس سے ثابت ہوا کہ کاغذ کی بات نہیں بلکہ یہ عقیدے اور نظریے اور ایمان کی بات تھی جو کھل کر سامنے آیا، الحمد للہ۔

(۳) افواجِ پاکستان کے کردار پر اعتماد

تیسرے نمبر پر افواجِ پاکستان۔ افواج پاکستان کے بارے میں جو کچھ چند سالوں سے، چھ سات سالوں سے سلسلہ چل رہا تھا، لیکن آخری تین سالوں میں جتنے بڑے پیمانے پر نفرت بٹھائی گئی، اندر سے، باہر سے، نوجوانوں کے دلوں میں، مذہبی طبقات کے دلوں میں، اور اس سے انہوں نے کسی حد تک لوگوں کے ذہنوں میں یہ بیانیہ ثابت کر دیا تھا کہ ہماری فوج اسلامی فوج نہیں ہے۔ دوسرے نمبر پر کہ یہ کھانے پینے والے لوگ ہیں، کرپٹ لوگ ہیں، اور ہمارے ملک کا سب سے خطرناک اگر کوئی ادارہ ہے تو وہ یہی ہے۔ لیکن اس موقع پر یہ ثابت ہوا کہ جو کچھ فوج نے بجٹ لیا تھا وہ کھایا نہیں لگایا ہے۔ اور فوج کی جتنی بھی تربیت ہوتی ہے، آئی ایس پی آر کے ڈی جی جنرل احمد شریف صاحب نے کہا کہ اسلام ہمارے اصول و ضوابط میں شامل ہے، ہماری ٹریننگ میں شامل ہے، فوج کے نظام میں شامل ہے۔ 

میں یہ سمجھتا ہوں کتنی بڑی بات ہے کہ جو لوگ پاکستان کی فوج کو سیکولر فوج کہہ رہے تھے، ان کے جذبات دیکھیں، ان کی شوقِ شہادت دیکھیں، ان کا جذبۂ جہاد دیکھیں، ان کی قربانیاں دیکھیں، وہ جب محاذوں پر جا رہے ہیں تو کس کس طریقے سے وصیتیں کر کے جا رہے ہیں، اپنی ماؤں سے، اپنے والدین سے کس قسم کی انہوں نے درخواستیں کی ہیں۔ اس میں فضائیہ کے لوگ بھی ہیں، اس میں آرمی کے لوگ بھی ہیں، اس میں نیوی کے لوگ بھی ہیں۔ تو اس سے یہ بات بالکل ثابت ہو گئی کہ پاکستان کی فوج اسلامی فوج ہے اور اس کو سیکولر فوج کہنا بہت بڑی تہمت ہے ہماری فوج پر، اور ان کے اتنے بڑے ایمان کی ناقدری بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عذاب کی صورت ہے جس سے ہمیں توبہ کرنی چاہیے۔

اسی طریقے سے جس انداز سے ہماری افواج نے جنگ جیتی ہے، جس طریقے سے اس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا ہے، جس طریقے سے سائبر کا، کمپیوٹرائز چیزوں کا، ڈیجیٹل نظام کا انہوں نے استعمال کیا، سائنسی چیزوں کا استعمال کیا جتنے بڑے پیمانے پر، تو اس کی جتنی بھی جزئیات ہیں، میں سمجھتا ہوں اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان پوری دنیا کی قیادت کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی ہماری کمزوری ہے مسلمانوں کی یا پاکستان کی تو ہمارے اندر کوئی کمزوری ہو گی، لیکن ہماری افواج نے یہ بات ثابت کی ہے۔ اور اب جب کہ جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں وہ پاکستان کو اپنا رول ماڈل سمجھ رہے ہیں، تعریفیں کر رہے ہیں، اور جو مغرب کا ایک رعب اور دبدبہ تھا اس حوالے سے وہ بھی ختم ہو گیا ہے اور وہ بھی اس بات کو مان رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج کی جو تربیت تھی جو تیاری تھی وہ بے مثال تھی، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا موقع ہے آگے بڑھنے کا، متحد ہونے کا، اپنی افواج کو سپورٹ کرنے کا، اور پاکستان کے جتنے بھی اندرونی و بیرونی چیلنجز ہیں ان سے نمٹنے کا۔ 

(۴) معاشی وسائل اور قومی خودمختاری 

چوتھی چیز ہے پاکستان کی معیشت، جو بہت بڑا ایشو ہے۔ ابن خلدونؒ نے تو لکھا ہے نا کہ ریاست دو ہی ستونوں پر قائم ہوتی ہے: ایک فوجی قوت اور ایک معیشت۔ تو پاکستان کی جو معیشت ہے وہ بھی انہی دنوں میں جو کچھ ہمیں حاصل ہوا کہ ایک ہم اکٹھے رہیں اور جتنے اللہ نے ہمیں فضائی صلاحیتیں دی ہیں، جو زمینی ہیں، جو معدنیات ہیں، ان سب سے استفادہ کر سکتے ہیں اور پاکستان معیشت کی دنیا میں بہت آگے تک جا سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔

جہاد کی شرعی حیثیت اور ذمہ داری

 یہ جو بار بار میں نے بہت زور دیا ہے کہ جہاد ایک ریاستی امور میں سے امر ہے، اس کا ریاست سے تعلق ہے، انفرادی طور پہ چند مواقع ایسے آتے ہیں جہاں انفرادی طور پہ بھی اجازت ہوتی ہے یا اس کا فرض ہوتا ہے، بالعموم اس کا ریاست سے تعلق ہے۔ تو جتنی بڑی جنگ ہوئی ہے اور جتنے بڑے پیمانے پہ پاکستان کو دھمکیاں دی مودی حکومت نے وہاں کی میڈیا نے اس کو سن کر دیکھ لیں تو اتنی بڑی جنگ کیا نجی طور پہ کوئی تنظیم لڑ سکتی ہے اگر پوری دنیا کی نجی تنظیمیں بھی جمع ہو جائیں تو خود اس بات سے سمجھ لیں کہ جہاد یہ ہے جو ابھی ہوا ہے اور اگر ریاست کی اجازت سے ہو کوئی رضاکار ہوں کہ گروپ ہوں تو وہ تو الگ بات ہے لیکن بالعموم یہ ریاست سے تعلق ہے اس کا اور اس جنگ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جہاد اور مجاہد کا جو صحیح مصداق ہے وہ ہماری افواج ہیں اور ہماری فوج کا نظام ہے اور جہاد میں حصہ لینے کا سب سے بہتر طریقہ ہے کہ آپ فوج میں شامل ہو جائیں اور وہاں جا کر اپنے جذبے کو آپ اس پر عمل کریں تو یہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔

اور جو لوگ فوج میں نہیں جا سکتے وہ وہ بھی جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں ’’جاہدوا باموالکم وانفسکم‘‘ (قرآن)، ’’والسنتکم‘‘ (حدیث) تو مال سے بھی جہاد کریں، اپنی جان سے بھی جہاد کریں، اپنی زبان سے بھی جہاد کریں۔ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرنا اور ان کی حمایت کرنا، یہ بھی جہاد بالسان ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ دو جو طبقات ہیں: ایک علماء کرام جن کے پاس منبر و محراب ہے، اور ایک ہمارا میڈیا، یہ دونوں جہاد بالسان کر سکتے ہیں۔ اور الحمدللہ ثم الحمدللہ اس جنگ میں ہم نے دیکھا کہ ہمارے جتنے بھی اینکر تھے، جتنے ہمارے سوشل میڈیا تھا، الیکٹرانک میڈیا تھا، پرنٹ میڈیا تھا، انہوں نے بھرپور جہاد کیا ہے۔ تو بہت بڑا کام یہ بھی ہو سکتا ہے اور ہم باہر رہ کر بھی جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

بہت شکریہ، حضرت استاد صاحب نے وقت دیا۔ اور بہت سے سوالات ایسے ہیں ناظرین کہ جو ابھی بھی رہتے ہیں، ان شاء اللہ اگلی نشستوں میں ناظرین کے ان سوالات کے جواب بھی پوچھیں گے، تو ناظرین! آپ کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہو تو کمنٹس بار میں وہ ضرور لکھیے، ان شاء اللہ حضرت کی خدمت میں وہ سوالات پیش کریں گے اور ان کے جوابات لینے کی بھی کوشش کریں گے۔

https://youtu.be/olhppKVVi-U


پاک بھارت حالیہ کشیدگی: بین الاقوامی قانون کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(مرکز تعلیم و تحقیق اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۰ مئی ۲۰۲۵ء کو منعقدہ سیمینار سے ڈاکٹر صاحب کی گفتگو ذیلی عنوانات کے اضافے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔)


(اللهم صل وسلم و بارك علىٰ سيدنا محمد) وعلىٰ آله واصحابہ اجمعين، وعلیٰ کل من قام بدعوتہ واستنسک بسنتہ وجاھد جھادہ الیٰ یوم الدین۔ 

میں پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن صاحب کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یہاں آکر آپ اصحابِ علم کے ساتھ مجھے گفتگو کا موقع عنایت کیا ہے۔ پہلے بھی جب انہوں نے دعوت دی ہے تو میں نے اسے اپنے لیے سعادت سمجھا اور ڈاکٹر حبیب صاحب تو میرے متعلق بہت حسنِ ظن رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شریعہ اکیڈمی میں جو ہم نے اکٹھے وقت گزارا تو اس میں جو کچھ میں کر پایا، وہ میری طرف جس کی نسبت کر رہے ہیں، وہ میں نے تنہا نہیں کیا بلکہ پوری ٹیم کا کام تھا اور اس میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر حبیب صاحب ہی کا تھا۔ پہلے سے، برس ہا برس سے وہ وہاں جس طرح کی خدمات سرانجام دے رہے تھے، علماء کرام کے ساتھ بھی، مفتیان کرام کے ساتھ بھی، پھر ججز، لائرز، پراسیکیوٹرز، تو ان کا بڑا وسیع تجربہ تھا اور اس تجربے سے الحمد للہ ہم نے بہت فائدہ اٹھایا۔ اور پھر ہم نے مل جل کر کچھ نئے کام بھی کیے۔ اور جیسے ہم نے ذکر کیا، اکٹھے سفر بھی کیا پاکستان میں، شمال کا بھی اور جنوب کا بھی اور مختلف شہروں میں، پھر ملک سے باہر بھی، تو ہر جگہ ان کی رفاقت میسر رہی۔ اور ان کی بہت ساری خوبیوں میں ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کو جو چیز غلط نظر آتی ہے تو اس پر وہ اپنی رائے کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اور کئی دفعہ ہم نے آپس میں چیزیں، ہم جو پروگرام کرنے جاتے تھے تو اس میں ان سے میں ضرور مشورہ لیتا تھا اور ان کے مشورے کی روشنی میں کئی دفعہ مجھے اپنی رائے تبدیل کرنی پڑی۔ اور اس وقت بھی اور بعد میں بھی مجھے یہ احساس ہوا کہ ان کا مشورہ اگر نہ ہوتا تو شاید معاملہ اتنا اچھا نہ ہوتا۔ تو ایسے ساتھیوں کی رفاقت ہوتی ہے تو کام ظاہر ہے پھر آسان بھی ہو جاتے ہیں اور پھر اس کا فائدہ سب کو ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کی کاوشیں بھی قبول کرے۔ اب یہاں بھی آپ دیکھیں کہ انہوں نے جس موضوع کا انتخاب کیا اور اس کے لیے جن لوگوں کو انہوں نے یہاں گفتگو کے لیے بلایا اور جو ان کے لیے موضوعات کا تعیّن کیا، تو آپ صبح سے اس پروگرام میں بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو خود ہی اندازہ ہوگا کہ اس سے آپ میں کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔ مجھے جب انہوں نے کہا تو اس وقت تو واقعی صورتحال یہ تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی صورت تھی اور اس کی شدت میں بھی اور حدت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا بہت تیزی سے۔ لیکن اب تو ساری دنیا مان رہی ہے، اگر کل تک کسی کو شبہ تھا تو اب تو ہر ایک کو یقین ہو گیا ہے کہ یہ محض کشیدگی نہیں بلکہ جنگ ہے۔

1648ء کا ویسٹ فالیہ معاہدہ اور مغرب کا ریاستی تصور

جو اصطلاحات ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ آپ کے سامنے اس موضوع پر بات ہوئی ہوگی کہ بین الاقوامی قانون جو جنگ کو منضبط کرتا ہے تو اس میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے ’’مسلح تصادم‘‘ (Armed Conflict) کی۔ دو مزید اصطلاحات بھی میں نے یہاں ذکر کی ہوئی ہیں: ایک جارحیت اور ایک جنگ۔ ان اصلاحات کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ ساری جو آگے کی بحث ہے اس میں ان کا ذکر بار بار آئے گا۔ 

مغرب نے، یورپ نے جو بین الاقوامی قانون بنایا، کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز 1648ء عیسوی میں ہوا۔ ایک معاہدہ سے ہوا یورپی ریاستوں کے درمیان اس کو ویسٹ فالیہ کا معاہدہ (Peace of Westphalia) کہتے ہیں۔ یہ جو ریاستیں تھیں یہ پہلے مقدس رومی سلطنت کے نام سے ایک سلطنت تھی یہ اس کا حصہ تھیں۔ پھر ان میں مذہبی اختلافات بھی تھے، سیاسی اختلافات بھی تھے، تو جنگیں ہوئیں اور ان جنگوں کے نتیجے میں کئی ریاستوں نے اس مقدس رومی سلطنت سے علیحدگی کا، آزادی کا، خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ سلطنت نے ان کو دبانے کی کوشش کی ناکام رہی۔ بالآخر معاہدہ ہوا اور ان ریاستوں کو الگ مستقل اور خود مختار ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ تو وہاں سے کہتے ہیں کہ بین قانونی نظام کا آغاز ہوتا ہے 1648ء عیسوی سے۔ 

ریاستی حدود سے باہر مفادات کے تحفظ کے لیے اقدام

ریاست کا جو تصور یورپ میں بنا اس کی رو سے ریاست قانون کا سرچشمہ تھی۔ قانون کا ماخذ ریاست کی مرضی ہے۔ قانون ریاست کی مرضی سے بنتا ہے، اس وجہ سے ریاست کسی کام کو جائز یا ناجائز قرار دے سکتی ہے، لیکن ریاست کے کسی فعل کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ یعنی یہ مفروضہ ہے ان کا بنیادی۔ اس مفروضے کے کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ ریاست جب کوئی فیصلہ کرتی ہے، چاہے وہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ہو، تو اس کے لیے اسے کسی قانونی جواز کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست کے مفادات ہیں، ان مفادات کے حصول کے لیے کوشش اس کا حق ہے، وہ کوشش اگر وہ پرامن طریقے سے کر رہی ہے تو بھی اس کی مرضی، اور جب وہ مناسب سمجھے تو جنگ کے ذریعے، زبردستی طاقت کے ذریعے چھین کر اپنا حق لے سکتی ہے، قانونی جواز کی اسے ضرورت نہیں ہے۔ یہ اگلے تقریباً‌ دو سو سال تک، بلکہ تین سو سال  کہیں، یہ جو بین الاقوامی قانون رائج رہا، یورپ کی ریاستوں کے ذریعے جو بنایا گیا تھا، تو اس میں جنگ کے جواز کے لیے ریاست کو کسی قانونی جواز کی ضرورت نہیں تھی۔ ریاست کی مرضی پر منحصر تھا کہ جب وہ چاہے تو جنگ شروع کرے۔

لیکن قانونی جواز ایک بات ہے، خود کو بھی تو مطمئن کرنا پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ صحیح کر رہے ہیں، اپنے لوگوں کو بھی، دنیا کے سامنے بھی اپنا اچھا تصور پیش کرنا ہوتا ہے۔  تو اس لیے اگرچہ کسی قانونی جواز کی ضرورت اس مدت میں ان کو نہیں تھی لیکن عملاً‌ ایسا ہوتا تھا کہ جب ریاست کسی جنگ میں جاتی تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی سبب ذکر کرتی کہ مثال کے طور پر ہمارے شہری ہیں وہ اُس ملک میں ہیں جہاں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، ہم ان کی حفاظت کے لیے جا رہے ہیں، کیونکہ وہاں کی حکومت ان کی حفاظت نہیں کرنا چاہتی یا نہیں کر سکتی، تو ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے خود جا کر وہاں اقدام کریں گے۔ اور یہ جنگ ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ ہمارے شہری بیرون ملک خطرے کا شکار ہیں یا ہمارے مفادات ہیں اُدھر جنہیں خطرہ لاحق ہے۔ اس کو کہتے تھے ’’پروٹیکشن آف نیشنلز ابراڈ‘‘ یا ’’پروٹیکشن آف انٹرسٹس ابراڈ‘‘ (Protection of Nationals/Interests Abroad)  کہ آپ کے مفادات بیرون ملک خطرے میں ہیں، ان کی حفاظت کے لیے آپ اقدام کر رہے ہیں۔

مصر کی طرف سے نہر سوئز کو قومیانے کی مثال

 اور دور نہ جائیں صرف ستر اسی سال پیچھے جائیں تو جب مصر کے جمال عبد الناصر نے سوئز کینال کو قومیانے کا اعلان کیا۔ سوئز کینال کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ یہ جو نہر تعمیر کی گئی تو اس نے یورپ اور ایشیا کو ملا دیا اور اس کے ذریعے بہت بڑے پیمانے پر تجارت شروع ہوئی۔ 1869ء میں اس کی تعمیر شروع ہوئی بلکہ 1869ء سے یوں کہیں چل پڑی۔ تقریباً‌ 99 سال کا معاہدہ ہوا تھا، فرانس اور برطانیہ نے اس کے بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا تو سوئز کینال پر بنیادی طور پر انہی کا تسلط تھا۔ 1950ء کی دہائی میں مصر نے اَسوان ڈیم بنانے کا ارادہ کیا، اس کے لیے ورلڈ بینک سے ان کو پیسے چاہیے تھے، ورلڈ بینک امریکہ کے کنٹرول میں تھا، اس نے وہ جو قرضہ دینا تھا ڈیم کی تعمیر کے لیے تو اس کو روکا۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش تھی کہ جیسے اس نے یورپ میں نیٹو (NATO) کی تنظیم بنائی تو ایسے ہی مشرقِ وسطیٰ میں وہ کچھ ممالک کو ساتھ ملا کر ایک اس طرح کی فوجی تنظیم بنائے۔ تو اس کا خیال یہ تھا، اس کا ارادہ یہ تھا کہ مصر اس کے ساتھ ہو، جمال عبدالناصر نے انکار کیا، روس کی طرف اس کا رجحان تھا، تو امریکہ کے کہنے پر ورلڈ بینک نے اَسوان ڈیم کے لیے جو قرضہ دینا تھا اس کو روک دیا۔ اس کے جواب میں جمال الناصر نے یہ کیا کہ سوئز کینال کو قومیانے کا اعلان کیا کہ اب اس کی ساری آمدنی مصر کو جائے گی، برطانیہ اور فرانس کو نہیں جائے گی۔ برطانیہ اور فرانس نے اس کو اپنے مفادات پر حملہ قرار دیا۔ 

اس مثال کو اچھی طرح سمجھ لیجیے، سوئز کینال کہاں ہے؟ مصر میں ہے، لیکن برطانیہ اور فرانس نے کہا کہ یہ ہمارے مفاد پر حملہ ہے کیونکہ 99 سال تک اس کی لیز ہمیں دی گئی تھی، اس کی آمدنی ہمیں دینی تھی، وہ نہیں دی جا رہی روک لی گئی، تو یہ ہمارے مفادات پر حملہ ہے، ہمیں دفاع کا حق حاصل ہے، ملک سے باہر ہمارے مفادات پر حملہ ہے۔

اسرائیل بھی ان کے ساتھ ہوا۔ اسرائیل کو کیا خطرہ تھا؟ اسرائیل نے کہا کہ اگر سوئز کنال پر مصر کا کنٹرول ہوا، برطانیہ اور فرانس کا ختم ہوا، تو اسرائیل کی تجارت اور اس کی آمد و رفت اور اس کا دفاع سب کچھ خطرے میں پڑ جائے گا۔ تو فرانس، برطانیہ اور اسرائیل تینوں نے مل کر سوئز کینال پر حملہ کیا اس کو قبضے میں لینے کے لیے اور دو دن کے اندر اسرائیلی افواج نے صحرائے سینا قبضے میں لے لیا۔ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچی تو وہاں توبرطانیہ بھی بیٹھا ہوا تھا اور فرانس بھی، دونوں کے پاس ویٹو کا اختیار تھا، انہوں نے قرارداد مسترد کر دی۔ حیران کن بات ہے امریکہ اس موقع پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کے خلاف تھا اور اس نے کہا کہ نہیں یہ جو آپ لوگوں نے حملہ کیا یہ غلط کیا ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آگیا اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کے خلاف، اور دیگر ممالک بھی ان کے ساتھ ہوئے، عالمی دباؤ بڑھ گیا تو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کو واپس جانا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمال عبد الناصر کو بہت بڑا ہیرو سمجھا جانے لگا، عرب قوم پرستی کا جو بت تھا وہ اب بہت بڑا بت بن گیا۔

یہ جو سوئز کینال والا معاملہ ہے مصر، اسرائیل، برطانیہ، فرانس، یہ اقوام متحدہ کے بعد کی بات ہے۔ لیکن اس وقت بھی یہ جو سبب ذکر کیا گیا کہ میرے بیرون ملک مفادات خطرے میں ہیں، میرے بیرون ملک مفادات پر حملہ ہے تو وہ میرے خلاف حملہ ہے، تو مجھے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ بات کی جاتی تھی، اس کے علاوہ اور بھی کچھ عذر پیش کیے جاتے تھے، اگرچہ جیسے میں نے ذکر کیا کہ اس وقت ان کے قانون کی رو سے کسی جواز کی ضرورت نہیں تھی، لیکن لوگوں کو بتانا پڑتا ہے نا کہ ہم کیوں کر رہے ہیں، اور کیوں وہ لوگ غلط ہیں اور ہم صحیح ہیں۔ رائے عامہ بھی ہموار کرنی پڑتی ہے۔ 

حقِ دفاع میں اقدام یا پیشگی اقدام کا معاملہ

بعض اوقات اس دور میں، یعنی یہ میں اقوام متحدہ کے وجود میں آنے سے پہلے کی بات کر رہا ہوں، بعض اوقات اس بات پر بھی جنگ شروع ہو جاتی تھی کہ فلاں ملک میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے اور اس جھوٹے پروپیگنڈے سے مجھے بڑا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ مجھ پر حملہ اس نے باقاعدہ نہیں کیا، کوئی گولہ باری نہیں، کوئی افواج آگے اس نے نہیں بھیجیں، کچھ نہیں کیا، لیکن وہ اتنا پروپیگنڈا کر رہا ہے میرے خلاف کہ اس کی وجہ سے میرے مفادات کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے، تو اس وجہ سے میں ان پر حملہ کر رہا ہوں۔ یعنی حملے کے لیے یہ ضروری نہیں تھا، حقِ دفاع کے لیے، کہ آپ پر باقاعدہ فوجی حملہ ہو تو اس کے بعد آپ کو دفاع کا حق حاصل ہوگا، بلکہ جہاں بھی آپ کے مفادات خطرے میں پڑ گئے اور آپ یہ سمجھتے تھے کہ ان مفادات کو بچانے کا سوائے جنگ کے اور کوئی راستہ نہیں ہے، تو آپ جنگ میں جاتے تھے اور اس کو آپ حقِ دفاع کہتے تھے۔ یہ بات سمجھ لیجیے کیونکہ یہ آگے کام آئے گی۔ 

پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1918ء سے لیگ آف نیشنز کا دور

پہلی جنگ عظیم جب ختم ہوئی 1918ء میں تو اس کے بعد ایک عالمی تنظیم بنائی گئی جس کو نام دیا گیا ’’مجلس اقوام‘‘ (League of Nations) اس مجلسِ اقوام کے میثاق میں یہ کہا گیا کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے اگر دو ممالک کے درمیان تنازعہ ہو تو جنگ میں جانے سے پہلے وہ اس معاملے کو مجلسِ اقوام میں پیش کریں، وہاں سے مسئلہ اگر حل نہیں ہو سکا تو اس کے بعد ان کی مرضی پھر وہ جنگ کریں تو الگ بات ہے۔ یوں کہیں کہ مجلسِ اقوام کی یہ جو تنظیم تھی، اس نے جنگ کو ناجائز نہیں کیا، لیکن آپ کو جنگ سے پہلے ایک اور فورم دے دیا کہ آپ جنگ کے بجائے یہاں آ کر بھی اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ عملاً‌ یہ تنظیم ناکام ثابت ہوئی اور اس کے بعد بھی جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مجلسِ اقوام کا 1919ء کا میثاق، اس میں جنگ کو ناجائز نہیں کیا گیا لیکن آپ کو کہا گیا کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے پرامن ذرائع سے پرامن طریقوں سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں، مجلسِ اقوام کو بھی ایک موقع دیں۔

1928ء کا معاہدۂ پیرس

 1928ء میں ایک معاہدہ ہوا امریکہ اور فرانس کے درمیان، اس کو معاہدۂ پیرس کہتے ہیں کیونکہ فرانس کے شہر پیرس میں وہ معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں امریکہ اور فرانس نے یہ طے کیا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے، جنگ کے ذریعے اگر کسی نے کسی علاقے پر قبضہ کیا تو ہم اسے اس کا علاقہ نہیں کہیں گے، ہم اسے جائز نہیں مانیں گے۔ یہ مغربی بین الاقوامی قانون کی تاریخ میں پہلی بار جنگ کو ناجائز کہا گیا۔ 1928ء میں یعنی سو سال بھی نہیں ہوئے، پیرس میں پہلی دفعہ امریکہ اور فرانس نے آپس میں طے کیا کہ اگر جنگ کے ذریعے کوئی ریاست کسی علاقے پر قبضہ کر لے تو ہم اسے جائز نہیں مانیں گے، جنگ کے ذریعے تنازعات کا حل جائز نہیں ہے۔ 1928ء  کا معاہدۂ پیرس جدید تاریخ میں جنگ پر پابندی کی پہلی مثال ہے۔ امریکہ اور فرانس نے پہلے آپس میں معاہدہ کیا پھر دیگر ریاستیں بھی ایک ایک کر کے اس میں شامل ہوتی گئیں، یوں کہیں کہ اس نے ایک ملٹی لیٹرل ٹریٹی کی حیثیت اختیار کر لی یعنی بہت سارے فریق اس میں شامل ہو گئے۔ اور ایک عالمی بین الاقوامی اصول کی حیثیت اس کے لیے تسلیم کی گئی کہ جنگ کے ذریعے تنازعات حل نہیں کیے جائیں گے اور جنگ کے ذریعے آپ نے کوئی علاقہ فتح کیا تو آپ اسے اپنے ملک کا حصہ نہیں قرار دے سکتے، قبضہ آپ نے چھوڑنا ہوگا جنگ ختم کرنے کے بعد، جنگ کے ذریعے آپ وہاں کے مالک نہیں بنیں گے۔

اس معاہدے کے بعد بین الاقوامی قانون کی رو سے جنگ تو ناجائز قرار پائی لیکن ریاستیں اس کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف وقتاً‌ فوقتاً‌ طاقت استعمال کرتی رہیں لیکن اس کو جنگ سے کم تر کی طاقت کا نام وہ دیتے تھے۔ جیسے اکثر آپ نے سنا ہو گا کہ لائن آف کنٹرول پر انڈیا نے بلا اشتعال فائرنگ کی، یعنی ہم نے کچھ نہیں کیا تو انہوں نے ویسے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ یا وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے کی۔ لائن آف کنٹرول تو چلیں کشمیر کے درمیان کھینچی گئی ہے اور اس کی ایک الگ حیثیت ہے، اس کو بین الاقوامی سرحد کی حیثیت حاصل نہیں ہے، لیکن بعض اوقات بین الاقوامی سرحدات پر بھی ایسا ہو جاتا ہے۔ افغانستان سے دراندازی ہوئی، ہم نے اِدھر سے ان کا پیچھا کیا، وہ واپس افغانستان میں داخل ہو گئے، ہم ان کے پیچھے داخل ہو گئے، کسی کو قتل کیا کسی کو زخمی کیا کسی کو پکڑا، یا وہ غائب ہو گئے، ہم واپس آ گئے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں لڑ رہے، یہ تو اُدھر سے کچھ لوگ آئے تھے ہم نے ان کا پیچھا کیا، اس کو  Hot Pursuit کہتے ہیں، ہم نے ان کا تعاقب کیا اور وہ ہمارے ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہو گئے، ہم ان کے پیچھے داخل ہو گئے، لیکن ہم اس ملک کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے۔ تو اس طرح کی صورتحال کو کہتے ہیں Use of Force Short of War کہ ہم نے طاقت تو استعمال کی ہے لیکن ہم جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے، طاقت کا استعمال لیکن جنگ سے کم تر۔ 

بھارت نے جو چھ اور سات مئی کی رات کو کیا بہاولپور، لاہور اور دیگر جگہوں پر، اور اس کے بعد جو اس نے مسلسل ڈرونز بھیجے، وہ یہ کھیل کھیل رہا تھا، وہ دنیا کو یہ تاثر دے رہا تھا کہ ہم جنگ نہیں کر رہے، ہم تو مخصوص ٹھکانوں پر صرف حملہ کر رہے ہیں، جہاں سے ان کے بقول ان پر وہاں حملہ ہوا تھا۔ تو اس کو یوں سمجھیں کہ ان کا موقف یہ تھا کہ یہ ’’یوز آف فورس‘‘ تو ہے لیکن یہ ’’شارٹ آف وار‘‘ ہے یہ جنگ سے کم تر ہے۔ یعنی ہم نے پاکستان میں پاکستان کی اجازت کے بغیر ڈرونز استعمال کیے ہیں لوگوں کو مارا ہے لیکن ہم پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے۔ 

دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1945ء سے اقوامِ متحدہ کا دور

یہ بات 1928ء کے معاہدے کے وقت تو سمجھ میں آنے والی تھی کیونکہ اس نے تو جنگ کو ناجائز قرار دیا تھا، جنگ سے کم تر طاقت کے استعمال کو اس نے ناجائز نہیں کیا تھا، لیکن 1945ء میں جب اقوام متحدہ کی تنظیم وجود میں لائی گئی تو اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ دو ذیلی دفعہ چار میں نہ صرف جنگ پر پابندی لگائی گئی بلکہ طاقت کے استعمال پر بھی پابندی لگائی گئی۔ اور نہ صرف طاقت کے استعمال پر بلکہ اس کی دھمکی پر بھی پابندی لگائی گئی۔ اب صرف جنگ ہی ناجائز نہیں ہوئی بلکہ جب آپ دوسری ریاست کے خلاف طاقت استعمال کرتے ہیں، خواہ آپ اسے جنگ نہ کہیں، لیکن جب آپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کے علاقے میں طاقت کا استعمال کیا ہے یا استعمال کی دھمکی دی ہے، تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ دو ذیلی دفعہ چار کی خلاف ورزی ہے۔ 

یہ پابندی کیا عمومی نوعیت کی ہے؟ وہی جو حنفی اور شافعی اصولیین کا اختلاف ہے کہ عام قطعی ہے یا ظنی ہے۔ تو یہ اختلاف اقوام متحدہ کے منشور کی اس دفعہ کے متعلق بھی بین الاقوامی قانون کے ماہرین میں پایا جاتا ہے: ایک فریق کا یہ کہنا ہے کہ یہ پابندی عام ہے، ہر نوعیت کی جنگ اور ہر نوعیت کا جو طاقت کا استعمال ہے یا اس کی دھمکی ہے، وہ ناجائز ہو گئی ہے۔ سوائے اس کے جس کی اجازت صراحت کے ساتھ اقوام متحدہ کے منشور میں دی گئی ہے۔ عام طور پر یہی رائے ہے۔ لیکن ایک اور فریق بھی پایا جاتا ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ نہیں، اقوام متحدہ کے منشور کی اس دفعہ دو ذیلی دفعہ چار نے جو پابندی لگائی ہے وہ عمومی نہیں ہے، وہ چند مخصوص حالات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی پر پابندی ہے۔ کیونکہ الفاظ اس کے ایسے ہیں کہ 

All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state, or in any other manner inconsistent with the purposes of the United Nations.

کہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے اقوام متحدہ کی رکن ریاستیں گریز کریں گی۔ لیکن آگے لکھا ہوا ہے  کہ طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی کس چیز کے خلاف؟ دوسری ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے خلاف، یا سیاسی خود مختاری کے خلاف، یا اقوام متحدہ کے مقاصد کے خلاف۔ تو یہ دوسرا فریق یہ کہتا ہے کہ اگر طاقت کا استعمال آپ ایسے کریں کہ ان تین شروط کی خلاف ورزی نہ ہو تو وہ اس دفعہ دو ذیلی دفعہ چار کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ 

1976ء میں اسرائیل اور 2025ء میں بھارت کی مثال

تو کیا طاقت کا استعمال ایسے کیا جا سکتا ہے جس سے کسی دوسری ریاست کی علاقائی سالمیت کو نقصان نہ ہو یا اس کی سیاسی خود مختاری کو نقصان نہ ہو؟ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ 1976ء میں ایک اسرائیلی طیارہ ہائی جیک کیا گیا اور وہ یوگنڈا لے جایا گیا، یہ جو موجودہ وزیراعظم ہے اسرائیل کا (بنجمن) نیتن یاہو، اس کا بھائی تھا کرنل (یونی) نیتن یاہو، اس کی سربراہی میں اسرائیل کے کمانڈوز گئے اسرائیل سے یوگنڈا، نیچے پرواز کی تاکہ ریڈار سے پکڑے نہ جائیں، یوگنڈا میں اینٹے بے ایئرپورٹ پہنچے۔ اس ایئرپورٹ کا پورا نقشہ ان کے پاس تھا کیونکہ جس کمپنی نے وہ ایئرپورٹ بنایا تھا وہ اسرائیلی تھی، یہودی ٹھیکے دار تھے۔ ایدی امین یوگنڈا کے صدر تھے، وہ ایک مخصوص مرسیڈیز گاڑی میں آتے جاتے تھے، اسی طرح کی اسی ماڈل کی مرسیڈیز کار میں یہ کمانڈوز ایئرپورٹ میں داخل ہو گئے، رن وے کی طرف جا رہے ہیں۔ ایک غلطی ہوئی ان سے، اب میں بھول رہا ہوں کہ ایدی امین جو مرسیڈیز استعمال کرتے تھے اس کا رنگ شاید بلیک تھا اور یہ وائٹ میں گئے، یا وائٹ تھا اور یہ بلیک میں گئے۔ اس سے چند دن پہلے تک وہ سیاہ رنگ کی استعمال کرتا تھا، اس نے پھر سفید استعمال کرنا شروع کر دی تھی۔ بس ایک چھوٹی سی غلطی ان سے یہ ہوئی تو ایئرپورٹ کے چند سیکیورٹی گارڈز کو شبہ ہوا، انہوں نے روکنے کی کوشش کی، اِنہوں فائرنگ کی۔ اچانک ہائی جیکرز کو بھی پتہ چلا کہ اوہو یہ تو حملہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود کمانڈوز جہاز میں داخل ہوئے، تمام ہائی جیکرز کو قتل کیا، تین یا چار شاید مسافر بھی بیچ میں مارے گئے، نیتن یاہو کا جو بھائی تھا وہ بھی مارا گیا، اور باقی تمام مسافروں کو وہ جہاز سمیت اڑا کر واپس اسرائیل لے گئے۔ اور اس پورے آپریشن میں نوے منٹ لگے، ڈیڑھ گھنٹہ، جس میں ایکچول فائٹ کامبیٹ کا وقت تھا …… (سرجیکل سٹرائیک) اس کو اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ جیسے سرجن سرجری کرتا ہے، تو اگر اپینڈکس کا کرنا ہے تو اس نے ٹھیک یہاں نشتر لگانا ہے، اِدھر اُدھر باقی جگہ کو چھوڑ کر اور Swift کیونکہ جیسے میں نے کہا صرف تیس منٹ۔ 

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ جو ہم نے کاروائی کی یہ ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ دو ذیلی دفعہ چار کی خلاف ورزی نہیں کی، کیونکہ ہم نے یوگنڈا پر قبضہ نہیں کیا، علاقائی سالیت کو نقصان نہیں پہنچایا، یعنی یہ نہیں کیا ہم نے کہ یوگنڈا سے کوئی ٹکڑا الگ کر لیا، اس پر قبضہ کر لیا، اور نہ ہی اس کی سیاسی خود مختاری کو نقصان پہنچایا، کیونکہ اس کی حکومت کو آزادی حاصل تھی وہ ہمارے خلاف جو کاروائی کرنا چاہتی کر سکتی تھی، کس نے اس کا ہاتھ روکا۔ یہ ان کی تعبیر ہے اقوام متحدہ کے منشور کی۔ 

بھارت نے جو کل پرسوں کیا وہ بعینہ یہ والی تعبیر ہے، اسرائیل والی، کہ ہم نے بہاولپور میں حملہ کیا یہ سرجیکل سٹرائیک تھی، ہم نے لاہور میں، مریدکے میں حملہ کیا، یہ سرجیکل سٹرائیک تھی۔ ہم نے علاقے پر قبضہ نہیں کیا اور حکومت کو ہم نے پیرالائز نہیں کیا، اس کی اپنی مرضی۔ 

یہ اسرائیل، بھارت اور ایسے چند ممالک کے نزدیک یہ ہے، لیکن عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ غلط ہے اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔ مزید اس میں ایک اور اہم بات ہے کہ جیسے کچھ دیر پہلے میں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے سے پہلے تو حق دفاع کے لیے یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا کہ آپ پر باقاعدہ فوجی حملہ ہو تو اس کے بعد آپ حقِ دفاع کا استعمال کریں۔ لیکن اقوام متحدہ کے منشور میں دفعہ 51 میں یہ مذکور ہے کہ عالمی امن قائم کرنے کی ذمہ داری تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہے، لیکن اگر کسی ملک پر فوجی حملہ ہوا تو اس کے پاس دفاع کا حق ہے۔ اب اس سے کچھ لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے، یہاں بھی دو فریق پائے جاتے ہیں: 

سب سے اہم بات یہ ہے قانونی نقطۂ نظر سے، کہ اقوام متحدہ کے منشور میں کہیں یہ نہیں لکھا ہوا کہ جو پہلے سے موجود بین الاقوامی قانون تھا، یا اس کے تحت آپ کے حقوق تھے، ان کو ہم نے منسوخ کر دیا ہے۔ یعنی نسخ صریح نہیں ہے، نسخ ضمنی ہے۔ تو نسخِ ضمنی کی طرف تو تب جایا جاتا ہے جب دو نصوص کے درمیان یا دو اصولوں کے درمیان جو تعارض ہو اس کو رفع نہ کیا جا سکے کسی صورت۔ تو جب رفع کرنا ممکن ہے تو نسخ کی طرف کیوں جایا جائے؟ تو ریاستوں نے عموماً‌ یہ بات نہیں مانی ہے اور عام طور پر تقریباً‌ تمام ریاستیں یہ بات مانتی ہیں۔ کس حد تک اس پر عمل کرتی ہیں، کس حد تک نہیں کرتیں، وہ الگ بات ہے، لیکن مانتی ہیں اپنے لیے یہ حق کہ ہم پر اگر حملہ ہونے والا ہو تو ہم اس کے ہونے کا انتظار نہیں کریں گے، ہم اس کے ہونے سے پہلے اسے ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کہاں ہم اس حق کو استعمال کرتے ہیں، کہاں نہیں کرتے، ہماری مرضی، لیکن حق ہے ہمارے پاس۔ 

1837ء کے کیرولین انسیڈنٹ کی مثال

اور اس کے لیے استدلال کیا جاتا ہے، میں نے ایک واقعہ ذکر کیا ہے، اس کو کیرولین انسیڈنٹ Caroline Incident کہتے ہیں۔ یہ 1837ء کا واقعہ ہے۔ کیرولین ایک امریکی جہاز تھا، اس کو کینیڈا میں باغی استعمال کرتے تھے برطانیہ کے خلاف۔ ان دنوں براعظم امریکہ پر آپ جانتے ہیں کہ برطانیہ کا قبضہ تھا۔ تو کینیڈا میں جو باغی تھے برطانیہ عظمیٰ کے خلاف اس بحری کو استعمال کرتے تھے۔ برطانوی فوجی اس بحری جہاز کے پیچھے امریکی علاقے میں داخل ہوئے، نیاگرافال کے آس پاس، جو بڑا مشہور آبشار ہے، اور اس جہاز کو ڈبو دیا۔ اور پھر کہا کہ یہ ہم نے اپنا حقِ دفاع استعمال کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ تھا اس کا نام ویبسٹر تھا، ویبسٹر نے برطانیہ کی حکومت کو خط لکھا کہ اگر آپ کا کہنا یہ ہے کہ آپ دفاع کا حق استعمال کر رہے تھے تو آپ کو تین چیزیں ثابت کرنی ہوں گی۔ 

ان تین چیزوں کو آپ حقِ دفاع کی حدود کہیں، آج تک یہ مانی جاتی ہیں، اور اس کے متعلق چیزیں آپ کے ذہن میں آجائیں گی اسلامی شریعت سے بھی، لیکن میں ویبسٹر کی بات کرنے جا رہا ہوں۔ ویبسٹر نے کہا کہ تین چیزیں ہیں:

  1. ایک یہ کہ آپ نے ثابت کرنا ہے کہ کیرولین سے آپ کو جو خطرہ تھا وہ فوری نوعیت کا تھا۔ Imminent کا مطلب ہوتا ہے بالکل سر پہ آیا ہوا، سوچنے کا موقع نہیں تھا، ہم سے رابطے کا موقع نہیں تھا کہ ہم اس کو روک لیتے۔ فوری نوعیت کا خطرہ تھا جس پر فوری اقدام ضروری تھا۔
  2. دوسری بات، آپ نے ثابت کرنا ہے کہ آپ کے پاس اس پر حملے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ آپ اس کو روک نہیں سکتے تھے، آپ اس کو کسی اور طریقے سے نیوٹرلائز نہیں کر سکتے تھے، اس پر حملہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا آپ کے پاس، اس خطرے سے نمٹنے کے لیے واحد راستہ آپ کے پاس یہ تھا کہ آپ اس پر حملہ کریں۔
  3. اور تیسری بات یہ کہ جب آپ نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے جو فوری طور پر اقدام کیا، وہ اس خطرے کی مناسبت سے کیا۔ تناسب کا آپ نے خیال رکھا کہ جتنا خطرہ تھا، اس کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے جتنی طاقت کی ضرورت تھی آپ نے اتنی ہی طاقت استعمال کی ہے۔ اگر جہاز کو تھوڑا نقصان پہنچا کر آپ اس کو روک سکتے تھے تو آپ اس کو نیاگرافال سے نیچے نہ گراتے، اب اس کو بالکل یکسر برباد نہ کر دیتے۔ یعنی آپ نے جو طاقت کا استعمال کیا ہے وہ تناسب اور ضرورت کی حدود کے اندر کیا ہے۔

اور آگے اس کے الفاظ ایسے ہیں جیسے اس نے کہیں اسلامی شریعت کا یہ قاعدہ پڑھا ہو کہ ’’الضرورۃ تقدر بقدرھا‘‘ ۔ اس نے کہا کیونکہ جب آپ ضرورت کا دعویٰ کر رہے ہیں تو ضرورت کو اس کی حدود کے اندر رکھنا لازم ہے۔ یہ اس کے الفاظ ہیں۔ تو آج بھی جب کوئی ریاست حقِ دفاع کی بات کرتی ہے تو وہ یہ تین پیرامیٹرز استعمال کرتی ہے: (۱) فوری نوعیت کا خطرہ تھا (۲) اور کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں تھا، طاقت اس وجہ سے استعمال کی (۳) اور ہم نے خطرے کی مناسبت سے استعمال کی ہے۔ رفال ہم نے گرائے، اور طیارے گرائے، اس لیے گرائے وغیرہ وغیرہ۔ 

دورانِ جنگ اور مابعد کے قوانین و اخلاقیات

اچھا یہ تو رہا قانون کا وہ پہلو جس کو آپ علت القتال کہتے ہیں۔ آداب القتال کی طرف آئیے، صبح سے آپ کے ساتھ اس پر کافی گفتگو ہوئی ہوگی کہ قانون کا ایک دوسرا شعبہ ہے جس کا اطلاق وہاں سے شروع ہوتا ہے جب جنگ شروع ہوتی ہے۔ جنگ کیسے شروع ہوتی ہے؟ پرانے زمانے میں یہ ہوتا تھا، اب نہیں ہوتا، دوسری جنگِ عظیم کے بعد مجھے کوئی ایسی مثال نہیں نظر آئی کہ جب باقاعدہ اعلانِ جنگ کر کے جنگ شروع کی گئی ہو۔ اعلان جنگ کی روایت ختم ہو گئی ہے لیکن قانون میں اب بھی لکھا ہوا ہے۔

قانونِ جنگ کا اطلاق اور دائرہ کار

جنیوا کنونشنز کا ذکر ہوا ہوگا، اس کی دفعہ دو میں یہ ہے کہ جب جنگ کا اعلان کیا جائے تو اس قانون کا اطلاق ہوگا۔ اعلان کوئی کرے نہ کرے وہ الگ بات ہے، لیکن جنگ کا اعلان اگر کسی نے کیا تو حالتِ جنگ شروع ہو گئی، جنگ کے قانون کا اطلاق شروع ہو گیا، چاہے ایک گولی بھی نہ چلائی جائے، چاہے ایک فوجی نے بھی قدم آگیا نہ بڑھایا ہو، لیکن جب اعلانِ جنگ ہو گیا تو قانونِ جنگ کا اطلاق شروع ہو گیا کیونکہ اب حالتِ جنگ ہے۔ 

اسی طرح چاروں جو جنیوا کنونشنز ہیں، ان کی جو مشترک دفعہ دو ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ایک ریاست نے دوسری ریاست کے کچھ حصے کو قبضے میں لے لیا تو جب تک وہ قبضہ برقرار ہے تب تک حالتِ جنگ برقرار ہے، تب تک قانونِ جنگ کا اطلاق جاری رہے گا، چاہے اس جنگ کے خلاف مزاحمت ہو یا نہ ہو۔ اور جیسے میں نے ذکر کیا کہ اب تو اکثر اوقات اعلانِ جنگ نہیں ہوتا، قبضہ بھی نہیں کیا جاتا، لیکن طاقت استعمال کی جاتی ہے آپ کے ملک میں اور آپ کی مرضی کے خلاف۔ ایک تو یہ ہو گیا۔ 

بعض اوقات ایک ریاست کسی دوسری ریاست سے مدد مانگتی ہے اور پھر وہ ریاست اِدھر آ کر آپ کی مدد کرتی ہے ان لوگوں کے خلاف، وہ تو الگ بات ہے۔ لیکن کسی ریاست نے آپ کی حدود میں آکر آپ کی مرضی کے خلاف طاقت استعمال کی ہے تو یہ جنگ ہے۔ اور اس پر اب جنیوا معاہدات کا اطلاق ہوگا۔ کب تک ہوگا؟ جب تک جنگ برقرار ہے۔ البتہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کا کچھ حصہ جاری رہتا ہے۔ جنگ کے خاتمے پر آپ نے مثال کے طور پر قیدیوں کو واپس کرنا ہے۔ ان کے قیدیوں کو آپ نے لوٹانا ہے، آپ کے قیدی جو ان کے پاس ہیں وہ لوٹائیں گے۔ آپ نے اگر کوئی علاقہ قبضے میں لیا ہے وہ آپ نے ان کو واپس کرنا ہے، جو انہوں نے قبضے میں لیا ہے وہ انہوں نے آپ کو واپس کرنا ہے۔ تو کسی نہ کسی حد تک جنگ کے بعد بھی اس کا اطلاق جاری رہتا ہے۔ 

جیسے ہم کہتے ہیں کہ انسان کی اہلیت زندگی کے ساتھ شروع ہوتی ہے، موت کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ جنین کی اہلیت ہوتی ہے، اس کے حقوق ہوتے ہیں لیکن وہ صرف ’’اہلیۃ الوجوب‘‘ ہے، پھر بچہ، پھر تھوڑی تھوڑی ’’اہلیۃ الاداء‘‘ شروع ہو جاتی ہے، پھر آخر بالغ ہو جاتا ہے تو اہلیۃ الاداء کامل ہو جاتی ہے۔ بعض عوارض کی وجہ سے ناقص ہو سکتی ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، جب مر جائے تو اہلیت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن میت کے کچھ حقوق تو اس کے بعد بھی باقی رہتے ہیں نا، کفن دفن، وصیت وغیرہ۔ تو اسی طرح قانونِ جنگ کا اطلاق جنگ میں ہوتا ہے لیکن جنگ کے کچھ اثرات جنگ کے بعد بھی رہتے ہیں، تو کسی حد تک قانونِ جنگ کا اطلاق وہاں ہوتا ہے۔ 

جنگ میں جائز اور ناجائز کے حوالے سے تین سوالات کا جائزہ

اچھا، اب آداب القتال کا جو یہ قانون ہے، جنگ شروع ہو چکنے کے بعد، اس کے تحت جب ہم مختلف چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے چند بنیادی سوالات ہوتے ہیں، ان میں صرف تین سوالات کا ذکر کروں گا:

  1.  ایک یہ کہ کون جنگ میں شریک ہو سکتا ہے، کون شریک نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے اس قانون نے کچھ شروط اور قیود رکھی ہیں، مقاتل کی حیثیت کے لیے، مثال کے طور پر باقاعدہ فوج کا حصہ ہو، اس کے پاس یونیفارم ہو وغیرہ وغیرہ، عام شہریوں سے اس کو ممیز کیا جا سکے۔ لیکن بعض اوقات وہ لوگ جن کو جنگ میں شریک ہونے کا قانون نے حق نہیں دیا، وہ بھی جنگ میں شریک ہو جاتے ہیں، کوئی عام شہری ہے اس نے بھی ہتھیار اٹھا لیا ہے، اب اس کا کیا کریں؟ تو جب تک اس نے وہ ہتھیار اٹھایا ہوا ہے تب تک وہ ایک جائز ہدف ہے، لیکن پکڑے جانے پر اس کی وہ غیر مقاتل والی حیثیت واپس لوٹ آتی ہے۔ تو پہلا بنیادی سوال یہ ہوا کہ جنگ میں کون شریک ہو سکتا ہے کون نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے جنیوا معاہدات اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کچھ شروط اور قیود رکھی گئی ہیں۔
  2. دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ کس ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور کس کو نہیں نشانہ بنایا جا سکتا؟ بنیادی اصول یہ ہے کہ فوجی تنصیبات کو جنگ میں آپ نشانہ بنا سکتے ہیں، عام شہری آبادی کو آپ نے نقصان نہیں پہنچانا، حتی الامکان اس سے گریز کرنا ہے، شہری آبادی کو بھی، ہسپتالوں کو بھی، مساجد کو بھی، خوراک کے گوداموں کو بھی، ثقافتی ورثے کو بھی جنگ میں نقصان نہیں پہنچانا۔ اگر کریں گے تو یہ جنگ کے قانون کی خلاف ورزی ہے جرائم ہیں۔ 
  3. تیسرا سوال یہ ہے کہ جنگ کے لیے کون سا ہتھیار یا طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور کون سا نہیں۔ چونکہ بنیادی اصول ہم نے ابھی ڈسکس کیا کہ مقاتلین اور غیر مقاتلین میں فرق کرنا ہے، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنا سکتے، اس لیے ایسے ہتھیار استعمال نہیں کریں گے کہ جن کے اثرات کو محدود نہ کیا جا سکے۔ اگر آپ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم استعمال کیے تو صرف فوجی ہی اس کی لپیٹ میں نہیں آئیں گے، عام شہری آبادی بھی اس میں تباہ ہو گی۔ تو اس وجہ سے ایسے ہتھیاروں سے گریز کریں، وہ ہتھیار استعمال کریں جن کو صرف فوجی ہدف تک محدود رکھا جا سکے۔ کئی طریقے ایسے ہیں جنگ کے جو ناجائز ہیں، مثال کے طور پر جنگ میں ایمبولنس پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک پہلو سے ہوا، لیکن دوسری جانب سے ایمبولنس کو جنگ کے لیے استعمال بھی نہیں کیا جائے گا کہ ایمبولنس میں جنگجو آ کر لوگوں پر حملہ کریں۔ ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، لیکن ہسپتال سے دوسرے فریق پر حملہ بھی نہ ہو۔ تو یہ دو طرفہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص عام شہری کے روپ میں آ کر دشمن پر حملہ کرتا ہے، اس کو بھی قانون ناجائز کہتا ہے، ایمبولنس میں آ کر دشمن پر حملہ کرتا ہے اس کو بھی، ICRC کا ریڈ کراس کا نشان استعمال کر کے دشمن پر حملہ کرتا ہے یہ بھی۔ 

ان ساری چیزوں کو قانون کی اصلاح میں Perfidy کہا جاتا ہے اور یہ جنگ میں ناجائز ہوتے ہیں۔  

بنیادی اصول آپ کو بتا دیے گئے ہوں گے کہ جنگ میں بہت کچھ ایسا کام جائز ہو جاتا ہے فوجی ضرورت کے نقطۂ نظر سے، جو عام حالات میں ناجائز ہوتا ہے۔ عام حالات میں تو آپ کسی انسان کو قتل نہیں کر سکتے، زخمی نہیں کر سکتے، لیکن جنگ میں ظاہر ہے آپ دشمن کے فوجیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن انسانیت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے، تو جو آپ کے لیے خطرے کا باعث ہیں جو آپ پر حملہ کر رہے ہیں ان کو تو نشانہ بنائیں، لیکن جو آپ کو نشانہ نہیں بنا رہے جن کا جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ان کو نشانہ نہیں بنانا۔ طاقت کا استعمال آپ تناسب کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔ اور حدود اور قیود مانیں گے یعنی یہ نہیں کہیں گے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ نہ جنگ میں اور نہ ہی محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ جنگ کا تو مجھے پتہ ہے، محبت کا سمیع الرحمان کو پتہ ہے کہ اس میں سب کچھ جائز نہیں ہوتا۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کا جائزہ

اب آئیے اس سوال پر کہ یہ جو پاکستان اور بھارت کی موجودہ صورتحال ہے، اس ساری بحث کی روشنی میں ہمارے سامنے کیا سوالات آتے ہیں۔ 

تنازع کا آغاز کب سے؟

سب سے پہلے ہم پہلگام کے واقعے سے شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس پر میرا سوال یہ ہوگا کہ پہلگام سے کیوں شروع کریں؟ بھئی پہلگام تو کشمیر کا حصہ ہے۔ اصل میں ہمارے ساتھ اس طرح کے موضوعات پر جب بحث ہوتی ہے تو جو کھیل کھیلا جاتا ہے وہ یہ کیا جاتا ہے کہ درمیان سے کہانی شروع کر دی جاتی ہے۔ شروع سے کیوں نہ شروع کریں کہ کشمیر پر بھارت کا جو قبضہ ہے وہ ناجائز ہے؟ اسی طرح جیسے غامدی صاحب کے داماد اور خود غامدی صاحب کہانی شروع کرتے ہیں غزہ میں 7 اکتوبر 2023ء سے۔ بھئی یہ 7 اکتوبر 2023ء سے کہانی نہیں شروع ہوئی، بہت پیچھے سے چلتی آرہی ہے۔ 1917ء میں انگریزوں نے ایک اعلان کیا تھا، بالفور نے وعدہ کیا تھا صیہونی تنظیم کے ساتھ کہ ہم یہاں یہودیوں کا قومی وطن بنائیں گے،  پھر وہاں قبضہ کر کے ان کو لا کر بسانا شروع کیا۔ پھر آگے جائیں تو یہ بہت لمبی کہانی ہے۔ آپ 7 اکتوبر سے کیوں شروع کریں؟ 

اسی طرح یہاں پہلگام سے کیوں شروع کریں، اس وقت سے کیوں نہ شروع کریں جب بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا؟ کیونکہ ابھی ہم نے ڈسکس کر چکے ہیں کہ قبضہ ہو تو حالتِ جنگ برقرار ہے، اور حالتِ جنگ برقرار ہے تو قانونِ جنگ کا اطلاق جاری ہے، اور حالتِ جنگ ہے قبضہ ہے، تو قابض طاقت کے خلاف مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو مسلح مزاحمت کا حق ہے۔ وہ حق وہ استعمال کریں یا نہ کریں وہ الگ بات ہے۔ یہ حق بین الاقوامی قانون مانتا ہے۔

معاہدہ پیرس کی مثال ہم نے ذکر کی، اور اقوام متحدہ کے منشور کی، اور جنیوا معاہدات کی، ان سب کی رو سے قابض طاقت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کو اپنے ملک میں شامل کرے۔ اور مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو قابض طاقت کے خلاف مسلح مزاحمت کا حق حاصل ہے، لیکن دہشت گردی کا حق حاصل نہیں ہے۔ دہشت گردی کیا ہوتی ہے؟ آپ اِسے دہشت گردی کہیں گے، وہ اُسے کہیں گے، لیکن اتنی بات پر دنیا میں عمومی طور پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ عام شہریوں پر حملہ ناجائز ہے۔ تو اگر پہلگام میں سیاحوں پر حملہ ہوا ہے تو اس حملے کو ہم جائز نہیں کہیں گے۔ بھارتی فوجوں پر اگر مقبوضہ کشمیر میں کہیں حملے ہوتے ہیں، اس کو ہم بھارت پر حملہ نہیں کہیں گے، اور اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو قابض طاقت کے خلاف مسلح مزاحمت  کا حق حاصل ہے۔ لیکن عام شہریوں کو، چاہے وہ مقامی ہوں چاہے غیر مقامی ہوں، سیاح ہوں، ان پر حملے کو ہم جائز نہیں کہیں گے۔

پہلگام حملوں اور مابعد کی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟

 لیکن اگلا سوال یہ ہے کہ اس حملے کے لیے ذمہ دار کون ہے؟ ایک تو آپ نے کہا، یہ ہم پر حملہ ہے۔ بھئی یہ آپ پر حملہ نہیں، یہ مقبوضہ علاقے میں حملہ ہوا ہے اور آپ اس کے لیے ذمہ دار ہیں، کیونکہ مقبوضہ علاقے میں امن کا قیام اور وہاں لوگوں کا تحفظ قابض طاقت کی ذمہ داری ہے بین الاقوامی قانون کی رو سے، اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں آپ ناکام رہے ہیں۔ یہ بنیادی بات اچھی طرح نوٹ کیجیے کہ پہلگام واقعہ کے لیے بین الاقوامی قانون کی رو سے کون ذمہ دار ہے۔ قابض طاقت، جس کی ذمہ داری تھی کہ اس کو روکے۔ 

پھر آپ کہتے ہیں، پاکستان نے کرایا۔ ثبوت کہاں ہیں؟ پاکستان نے تو کہا کہ آئیے غیر جانبدار کمیشن بٹھائیں۔ ثبوت پیش کریں ہم بھی بیٹھتے ہیں آپ بھی بیٹھیں۔ اس سے زیادہ ہم کیا کریں؟ اور بین الاقوامی قانون کی رو سے ریاست کو ذمہ دار قرار دینے کے لیے بھی کچھ اصول ہیں، State Responsibility اس کو کہتے ہیں۔ 

نکاراگوا اور امریکہ کی مثال

ایک مشہور کیس ہے۔ امریکہ کو ہر طرف پنگے لینے کی تو پرانی عادت ہے۔ نکاراگوا کی حکومت سے امریکہ کو پریشانی تھی، امریکہ نے وہاں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہاں بغاوت کروائی، باغیوں کو اپنے علاقے میں ٹریننگ کروائی، پھر بارڈر پار کرواتے تھے، پھر وہ نکاراگوا میں حملے کرتے تھے، ان باغیوں کو کونٹرا کہتے تھے۔ اتنی بات طے تھی کہ کونٹرا کی تربیت امریکہ میں ہوتی ہے، امریکہ کرتا ہے، ان کو اسلحہ امریکہ مہیا کرتا ہے۔ بارڈر کراس کر کے البتہ آگے پھر امریکہ کا کنٹرول نہیں ہے، وہاں پھر وہ جو کرتے ہیں خود کرتے ہیں۔ 

تو بین الاقوامی عدالتِ انصاف، جو اقوام متحدہ کی عدالت ہے، اس کا فیصلہ ہے نکاراگوا بنام امریکہ، وہ عدالت اس پورے مقدمے کو انتہا تھا تو نہیں پہنچا سکی لیکن جو ابتدائی فیصلہ اس نے سنایا تھا اس میں یہ اصول طے کیا تھا کہ اگر آپ ان افراد کی کارروائی کے لیے اس ریاست کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہ افراد اس ریاست کے مؤثر کنٹرول میں تھے۔ Effective Control کے الفاظ وہاں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ ٹیسٹ ہے، اگر یہ ثابت کیا جائے کہ یہ افراد جنہوں نے کاروائی کی یہ اس ریاست کے مؤثر کنٹرول میں تھے پھر آپ اس ریاست کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں اس کے بغیر نہیں۔ لیکن بھارت نے تو یہ سب کچھ کیے بغیر ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کی معطلی کا اعلان کیا، جیسے وہ تو تاک لگائے بیٹھا ہو کہ کوئی بہانہ ملے تو ہم سندھ طاس معاہدہ کو معطل کر لیں تاکہ ہم پاکستان کا پانی روک سکیں۔

بھارت کی طرف سے ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ کی معطلی کا معاملہ

سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں ہوا تھا، پانی کا جھگڑا پہلے سے چل رہا تھا تقسیم کے وقت سے۔ اس میں بھی انگریزوں نے دونمبری کی تھی، وہ جو انہوں نے پنجاب کی تقسیم کے لیے کمیشن ریڈ کلف کی سربراہی میں بنایا تھا، اس نے اصولوں سے انحراف کر کے دو ضلعے بھارت کو دیے تھے: گرداسپور اور فیروزپور۔ پنجاب اور بنگال کو تقسیم کیا جا رہا تھا، تو اصول یہ طے پایا تھا کہ جس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت ہو وہ پاکستان میں ہو گا، اور اگر ہندوؤں کی غیرمسلموں کی ہے تو انڈیا میں۔ لیکن فیروزپور اور گرداسپور میں انہوں نے ضلع کے بجائے تحصیلوں کا کام شروع کیا کہ تحصیلوں کو تقسیم کریں گے۔ جس تحصیل میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ اِدھر، جس میں اُن کی اکثریت ہے وہ اُدھر۔ اس طرح انہوں نے یہ جو بڑے دریا تھے ان کے ہیڈ ورکس کیونکہ فیروزپور میں تھے، وہ ان کو دے دیے۔ ایک تو دریاؤں پر کنٹرول دے دیا، پھر ان دو ضلعوں کے ذریعے بھارت کو کشمیر میں فوجیں داخل کرنے کا موقع بھی ملا، ورنہ کشمیر تک براہ راست بھارت کی فوجیں داخل ہونے کا کوئی زمینی راستہ ہی نہیں تھا۔ 

اس وقت سے یہ جھگڑا چل رہا تھا۔ 1960ء میں معاہدہ ہوا، کیا کچھ اس میں ہمارے فائدے کا تھا کیا نقصان کا تھا وہ الگ بات، لیکن ایک سلسلہ چل پڑا۔ اس معاہدے کی بہت ساری خلاف ورزیاں بعد میں بھی ہوتی رہی ہیں، کئی کئی ڈیم انہوں نے تعمیر کیے جس کی اجازت اس معاہدے میں نہیں تھی۔ اب وہ چونکہ ہمارا مزید بیڑا غرق کرنا چاہتا ہے تو اس نے معاہدے کے معطلی کا اعلان کیا۔ قانوناً‌ اس معاہدے کو معطل نہیں کیا جا سکتا تھا- معاہدات کے متعلق معاہدہ، اس کو کہتے ہیں Vienna Convention on the Law of Treaties، قانونِ معاہدات کے متعلق میثاقِ ویانا، اس میں یہ اصول طے پایا ہے کہ ہر معاہدے میں پہلے اس کے اندر دیکھا جائے گا کہ کیا کچھ وہاں طے پایا ہے۔ اگر اس میں معاہدے کی معطلی کا ذکر ہے تو ٹھیک، نہیں ہے تو نہیں۔ اگر اس میں معاہدے کے خاتمے کا کوئی مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے تو ٹھیک ورنہ نہیں۔ 

سندھ طاس معاہدہ میں یہ قرار دیا گیا ہے، دونوں فریقوں نے طے کیا ہے کہ ایک پاکستان کا انڈس واٹر کمشنر ہوگا، ایک بھارت کا انڈس واٹر کمشنر ہوگا، اگر کوئی تنازعہ ہوگا یہ دونوں کمشنر بیٹھ کر اس تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ان سے نہیں ہوا تو پھر اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ پھر Court of Arbitration بنائی جائے گی، ثالثی عدالت بنائی جائے گی، ثالث پھر فیصلہ کریں گے۔ اس سے آگے کے متعلق معاہدہ خاموش ہے۔ لیکن میثاقِ ویانا کا یہ کہنا ہے اور دیگر اصولوں کی بنیاد پر کہ اگر پھر بھی تنازعہ حل نہ ہو تو آپ مثال کے طور پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جا سکتے ہیں، آپ کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی، یا سکیورٹی کونسل، یا دیگر فورمز کو استعمال کر سکتے ہیں، جنگ تو بہت دور کی بات ہے۔

پھر یہ کہ اگر اس معاہدہ میں کوئی مسئلہ ہوا ہو تب کمشنر بیٹھیں گے، ثالثی عدالت ہوگی، کوئی اور طریقہ ہوگا۔ لیکن یہ جو مسئلہ ہے کہ پہلگام میں یہ ہوا۔ بھئی اس کا اس معاہدے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یعنی یہ معاہدہ تو پانی کی تقسیم کے متعلق ہے نا، تو اگر پانی کی تقسیم کا کوئی مسئلہ ہوتا تو پھر ہم سوچتے کہ کیا کریں۔ ایک واقعہ ہوا، کس نے کیا ابھی وہ بھی متعین نہیں ہوا، لیکن جس نے بھی کیا، اُس کا اِس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ جس کی بنا پر آپ اس معاہدے کو معطل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے ’’شملہ معاہدہ‘‘ کی معطلی کا امکان

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف آبی جارحیت ہے، یعنی فوجی حملہ تو جارحیت کی ایک قسم ہے، یہ 25 کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لیے یہ جارحیت ہے۔ اور اس لیے اس کے خلاف ہمیں حقِ دفاع حاصل ہے۔ دو ہفتے یا دس دن پہلے میں کہہ چکا ہوں، لکھ چکا ہوں، الیکٹرانک میڈیا پر بھی، پرنٹ میڈیا پر بھی، سوشل میڈیا پر بھی، کہ پاکستان کے پاس حقِ دفاع ہے۔ بھارت حملہ کرے یا نہ کرے، پاکستان اب بھارت کے خلاف اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ کہا کہ ہم ’’شملہ معاہدہ‘‘ کو معطل کر دیں گے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ شملہ معاہدے کی معطلی سے کیا ہو گا؟ بھئی شملہ معاہدے نے تین کام کیے ہیں، زیادہ کچھ نہیں:

  1. ایک یہ کہ جو کشمیر میں لائن کھینچی گئی ہے، پہلے اس کا نام تھا ’’سیزفائر لائن‘‘ جس کو ہمارے کشمیری بھائی ’’لکیرِ متارکہ‘‘ کہتے تھے، جنگ بندی کی لکیر۔ شملہ معاہدے میں بھارت کے اصرار پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’لائن آف کنٹرول‘‘ کر دیا ہے، تسلط کی لکیر۔ بیوقوفی کی بات ہے لیکن بھارت نے کر دیا۔ لائن آف کنٹرول میرے نزدیک انتہائی نامعقول ترکیب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اِدھر کے کشمیریوں کو کنٹرول کر رہے ہیں اور وہ اُدھر کے کشمیریوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ تو اگر شملہ معاہدہ ختم ہو جائے تو یہ واپس سیزفائر لائن کہلائے گی، جنگ بندی کی لائن۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنگ پوری طرح تو ختم نہیں ہوئی، صرف ہم نے یہاں جنگ روک لی ہے۔ اور قانونی پوزیشن یہی درست ہے کیونکہ یہ تو مقبوضہ علاقہ ہے، جب تک کشمیری خود اس کا فیصلہ نہ کریں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق۔
  2.  دوسرا کام اس معاہدے نے یہ کیا کہ کچھ علاقے جو 1971ء سے پہلے ہمارے پاس تھے وہ اب بھارت کے پاس چلے گئے، چند ہی ہیں بہت زیادہ نہیں ہیں، لیکن ایک فرق یہ بھی ہوا ہے۔
  3.  اور تیسرا فرق یہ ہوا ہے، اگرچہ ہم اس کو نہیں مانتے، بھارت کا کہنا یہ ہے کہ اس معاہدے میں چونکہ ہم نے یہ طے کیا ہے، کشمیر کا نام تو نہیں لیا، لیکن تمام تنازعات ہم دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، تو اب اقوام متحدہ کی قراردادیں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ وہ غیر متعلق نہیں ہیں، وہ اب بھی فیلڈ میں ہیں، کیونکہ اسی معاہدے میں ہم نے کہا ہے کہ دونوں فریق اقوام متحدہ کے منشور اور اس کے اصولوں کے پابند ہیں، اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ جو لائن آف کنٹرول ہے اس میں کوئی تبدیلی یکطرفہ طور پر کوئی فریق نہیں لائے گا، اور یہ بھی کہا ہے کہ اس لکیر اور اس تنازعہ کے متعلق جس فریق کی جو بھی قانونی پوزیشن ہے وہ اس سے متاثر نہیں ہوگی۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو لوگ برا بھلا کہتے ہیں، کچھ اچھا بھی کہتے ہیں، لیکن اس معاملے میں تو میں ان کو بہت ہی اچھا کہتا ہوں کہ ہم بہت ہی کمزور پوزیشن پر تھے، اس کے باوجود یہ معاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑی حد تک پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، کشمیر پر پوزیشن کو محفوظ رکھا ہے۔ 

بہرحال اب آپ کے پاس موقع ہے، اگر انہوں نے انڈس واٹر ٹریٹی معطل کی، آپ شملہ معاہدے سے نکلنے کا اعلان کریں۔ میں 5 اگست 2019ء کے بعد لکھ چکا ہوں، بول چکا ہوں کہ شملہ معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کر لیں، اس کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، بھارت اس پر تلملائے گا، اور جنگ میں بہت سارے کام ایسے کیے جاتے ہیں جو ’’نکایۃ للعدو‘‘ کیے جاتے ہیں، دشمن کو تڑپانے کے لیے کیے جاتے ہیں، تو کرنا چاہیے۔

حالیہ تصادم میں بھارت کی جانب سے خلاف ورزیاں

 آخری بحث تک ہم پہنچ گئے ہیں۔ بھارت کے حملے میں علت القتال کے قانون کی بھی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور آداب القتال کی خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں۔ ہم پر بغیر کسی سبب کے اس نے حملہ کیا، یہ علت القتال کی خلاف ورزی ہوئی۔ حملے میں اس نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، یہ آداب القتال کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کیا کر سکتا ہے؟ وہ سب کچھ جو جنگ میں کیا جاتا ہے، کیا جانا چاہیے، یعنی جنگ کے قانون کے تحت۔ پاکستان نے اب تک اس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کہ جو کچھ بھی کیا ہے وہ جنگ کے قانون اور قاعدے اور ضابطے کے مطابق کیا ہے، اس میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ 

 اور آج تو پاکستان کے شاہینوں نے جس طرح کا کام کیا ہے، اس پہ تو اب آگے کئی عشرے بلکہ شاید کئی سو سال تک لوگ تبصرے کرتے رہیں، وللہ الحمد۔ 

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان ان کے ڈیموں پر حملہ کر سکتا ہے؟ اصولاً‌ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ڈیم جب آپ تباہ کرتے ہیں تو اس کی تباہی بہت بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے، اس کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے، اس میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں، اس میں عام شہری بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور بہت بڑا نقصان اٹھاتے ہیں، اور اس کا نقصان صرف بھارت تک ہی محدود نہیں رہے گا اِدھر بھی بہت زیادہ ہوگا۔ اس وجہ سے جنگ کے قانون کی رو سے اصولاً‌ ڈیموں کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن جس طرح کے انتہائی کینہ پرور اور انتہائی کمینے دشمن سے پاکستان کو واسطہ پڑا ہے اس کو باز رکھنے کے لیے شاید، اللہ نہ کرے، اس حد تک ہمیں جانا پڑے، کیونکہ اس کے بغیر بعض اوقات اس کی سمجھ میں چیز آتی نہیں ہے۔ جیسے کل تک ان کی زبان کچھ اور تھی، بلکہ رات تک اس کی زبان کچھ اور تھی، صبح کے حملوں کے بعد اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مزید اس اشتعال کو بڑھاوا دینا نہیں چاہتے۔ نہیں چاہتے تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر وہ آخری حد تک جائیں گے، تو جہاں ہمارا وجود خطرے میں پڑے تو وہاں بین الاقوامی قانون کی رو سے ہم وہ تمام اقدامات اٹھا سکتے ہیں جو اپنے تحفظ اور بقا کے لیے ہمارے اوپر لازم ہیں۔ 

ویبسٹر کا جو خط تھا اس میں تین شرطیں ذکر کی گئی تھیں: (۱) فوری خطرہ ہو (۲) سوائے حملے کے ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہ ہو (۳) اور حملہ کرتے ہوئے ہم نے تناسب اور ضرورت کی حدود پامال نہیں کی ہیں۔ اگر بالکل آخری فرضی صورتحال لے آئیں ذہن میں، بالکل آخری حد آ جائے کہ نیوکلیئر ہتھیار استعمال کیے بغیر ہم خود کو نہ بچا سکیں، تو ظاہر ہے وہ ہتھیار ہم نے میوزیم میں رکھنے کے لیے تو نہیں بنائے، ہم کبھی بھی اسے استعمال نہیں کرنا چاہیں گے، نہ کسی اور کے متعلق ہم کہیں گے کہ ان کو استعمال کرے، لیکن اگر کوئی کرنے پر آئے تو آخری حد کے طور پر، بالکل آخری قدم کے طور پر، قانون اس کے استعمال سے ہمیں نہیں روکتا۔ ھذا ما عندی والعلم عند اللہ۔

https://www.facebook.com/share/v/1BkF4CUeCZ


ایران کے رہبرِمعظم اور پاکستان میں ایرانی سفیر کے پیغامات

سید علی خامنہ ای

رضا امیری مقدم

رہبر معظم سید علی خامنہ ای

 خامنہ ای نے جنگ سے متعلق اختیارات پاسدارانِ انقلاب کو منتقل کر دیے

ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے جنگ سے متعلق اختیارات پاسداران انقلاب گارڈز کی شوریٰ کو منتقل کردیے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے فیصلے کے بعد پاسداران انقلاب گارڈز کو جنگ سے متعلق امور پر مکمل اختیار مل گیا ہے۔ حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں ہمیں معلوم ہے، وہ آسان ہدف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فی الحال آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو مارنے نہیں جا رہے ہیں، ایران غیر مشروط طور پر ہتھیارڈال دے۔ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کا اجلاس واشنگٹن میں جاری ہے، وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ واشنگٹن سے امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لینے یا نہ لینے پر فیصلہ متوقع ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۱۷ جون ۲۰۲۵ء)

رہبر معظم خامنہ ای کا خطاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میں ایران کی عظیم قوم کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میری پہلی بات تو ہماری عزیز قوم کے اس رویے کی تعریف کے لیے ہے جو دشمنوں کی جانب سے حال ہی میں ملک پر لائی گئی صورتحال کے حوالے سے دکھایا گیا ہے۔ ایرانی قوم نے دکھایا ہے کہ وہ باوقار اور بہادر ہے، اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عید غدیر کے جشن کے دن لوگوں نے دنیا کو جو عظیم تحریک دکھائی وہ (واقعی) ایک عظیم تحریک تھی۔ ان دنوں میں لوگوں کے اجتماعات، ریلیوں میں لوگوں کی شرکت، جمعہ کی نمازوں میں ان کی حاضری، اور نماز کے بعد ان کی ریلیاں ، یہ سب ان کی عقلیت اور روحانیت کی ترقی اور طاقت کو ظاہر کرتی ہیں، اور اس کے ساتھ ہماری عزیز قوم کی بہادری اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے کی صلاحیت کو بھی۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس ایماندار قوم کو روحانی اور مادی صلاحیتوں اور امکانات کی ایسی سطح عطا فرمائی، الحمدللہ۔

میں یہاں دشمن کے حملے کے جواب میں خاتون ٹی وی میزبان کے خوبصورت اور با معنی طرز عمل کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ، ان کا اللہ اکبر کہنا اور پوری دنیا کو [ایرانی] قوم کی طاقت کی جھلک دکھلانا ، یہ ایک تاریخی واقعہ تھا، یہ بہت قیمتی تھا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ اقدام، صہیونی حکومت کا ہمارے ملک پر احمقانہ، بدنیتی پر مبنی حملہ، ایسے وقت میں ہوا جب ہمارے سرکاری عہدیداران بالواسطہ اور ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔ ایران کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں تھا جو کسی فوجی اقدام یا اچانک سخت اقدام کا اشارہ دیتا۔ بلاشبہ (ہمیں) شروع سے ہی یہ شک تھا کہ امریکہ صہیونی حکومت کے ذریعے کیے گئے بدنیتی پر مبنی اقدام میں ملوث تھا، لیکن ان کے حالیہ ریمارکس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شک دن بہ دن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی قوم کسی بھی مسلط کردہ جنگ کے خلاف ثابت قدم رہے گی، جیسا کہ وہ ہمیشہ رہی ہے۔ ایرانی قوم کسی بھی مسلط کردہ امن کی بھی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ ایرانی قوم جبر کے مقابلے میں کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ میں دانشوروں، مقررین، اور مصنفین، خاص طور پر ان لوگوں سے جو عالمی رائے عامہ پر اثر رکھتے ہیں ، سے توقع کرتا ہوں کہ وہ ان خیالات کو اپنے سامعین کے لیے بیان کریں اور واضح کریں، انہیں دشمن کو اپنے پُرفریب پروپیگنڈے کے ذریعے سچائی کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

صہیونی دشمن نے ایک سنگین غلطی کی ہے اور ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، اسے سزا ملنی چاہیے۔ اسے سزا دی گئی ہے اور ابھی بھی دی جا رہی ہے۔ ایرانی قوم اور ہماری مسلح افواج نے اس دشمنِ بد کو جو سزا دی ہے، جو اس وقت دے رہے ہیں، اور جو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کی ہے، وہ ایک سخت سزا ہے، اور اس نے انہیں پہلے ہی کمزور کر دیا ہے۔ اس کے امریکی دوستوں کا میدان میں آنا اور ایسی باتیں کہنا اس حکومت کی کمزوری اور ناہلی کی علامت ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ اس نے ہمیں دھمکایا ہے۔ وہ نہ صرف دھمکیاں دیتا ہے بلکہ ایرانی عوام سے کھلے عام ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنے کے لیے مضحکہ خیز اور ناقابل قبول بیان بازی بھی کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص ایسی باتیں سنتا ہے تو وہ واقعی حیران ہو جاتا ہے۔

  1. پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں ان لوگوں کو دھمکیاں دینی چاہئیں جو دھمکیوں سے ڈرتے ہیں۔ ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہے۔ ’’ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین‘‘ (نہ کمزور پڑو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایمان والے ہو۔ قرآن 3:139)۔ ایرانی قوم اس پر یقین رکھتی ہے، اور دھمکیاں ایرانی عوام کے رویے یا ذہنیت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
  2. دوسری بات یہ کہ ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے کا کہنا دانشمندی نہیں ہے۔ دانشمند لوگ جو ایران، ایرانی عوام، اور ایران کی تاریخ کو جانتے ہیں وہ کبھی ایسے الفاظ نہیں کہیں گے۔ اور ہم کس چیز کی ہار مانیں؟ ایرانی قوم ایسی نہیں جو ہتھیار ڈال دے۔ ہم نے کسی پر حملہ نہیں کیا۔ اور ہم یقینی طور پر کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور ہم کسی کے حملوں کے جواب میں کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ یہ ایرانی قوم کی منطق ہے۔ یہ ایرانی قوم کا جذبہ ہے۔ بلاشبہ وہ امریکی جو اس خطے کی پالیسیوں سے واقف ہیں یہ بات جانتے ہیں کہ اس معاملے [جنگ] میں امریکہ کا داخل ہونا سو فیصد اس کے اپنے نقصان میں ہے۔ اسے جو نقصان پہنچے گا وہ ایران کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اگر امریکہ اس تنازعے میں عسکری طور پر داخل ہوا تو اسے یقیناً ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

میں اپنی عزیز قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اس عظیم آیت کو ذہن میں رکھے۔ زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہے، الحمد للہ۔ دشمن کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ آپ ان سے ڈرتے ہیں یا ان کے سامنے کمزور محسوس کرتے ہیں۔ اگر دشمن کو یہ احساس ہوا کہ آپ ان سے ڈرتے ہیں تو وہ آپ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اسی رویے کو مضبوطی سے جاری رکھیں جو آپ نے آج تک دکھایا ہے۔ جن لوگوں کے ذمے دوسروں کو خدمات فراہم کرنا ہے، جو لوگوں کے ساتھ براہ راست ڈیل کرتے ہیں، اور جو ابلاغ و تشریح کے معاملات کے ذمہ دار ہیں، انہیں اپنے فرائض کو مضبوطی سے انجام دینا اور جاری رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ’’وما النصر الا من عند اللہ العزیز الحکیم‘‘ (اور فتح صرف اللہ، غالب، حکمت والے کی طرف سے آتی ہے۔ قرآن 3:126)۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً یقیناً ایرانی قوم کو، سچائی کو، اور جو فریق حق پر ہے اسے فتح عطا فرمائے گا، ان شاء اللہ۔

اللہ کی سلامتی، رحمتیں، اور برکتیں آپ پر ہوں۔

https://english.khamenei.ir/service/Speeches

(۱۸ جون ۲۰۲۵ء)

خامنہ ای کا اسرائیل پر رحم نہ کرنے کا عہد

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے انگریزی زبان کے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دہشت گرد صیہونی حکومت کو سخت جواب دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم دہشت گرد صیہونی حکومت کو سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہم صیہونیوں پر رحم نہیں کریں گے۔ دریں اثناء ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے فارسی زبان کے اکاؤنٹ سے پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف جنگ کے آغاز کا اعلان بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے مذکورہ بیانات امریکی صدر کی جانب سے انہیں آسان ہدف قرار دیے جانے اور اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں، ہم فی الحال ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے نہیں جا رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے، ہم نہیں چاہتے کہ میزائل شہریوں یا امریکی فوجیوں کو نشانہ بنائیں۔ (روزنامہ جنگ، ۱۸ جون ۲۰۲۵ء)

ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا

تہران، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیوں میں آئیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے ، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکا کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا، ٹرمپ کے بیان پرایران نے سوئس سفیر کو طلب کرلیا ہے جو ملک میں امریکا کی نمائندگی کرتے ہیں ، ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مسلسل حمایت پر جرمن سفیر کو بھی طلب کیا گیا ہے، دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ایرانی عہدیدار وائٹ ہاؤس کے دروازوں کے قریب بھٹکنا بھی نہیں چاہتا۔‘اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اب سے کچھ دیر پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے مذاکرات وائٹ ہاؤس آنا چاہتے ہیں۔ایران کے سفارتی مشن کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ان کے جھوٹ سے بھی زیادہ گھناؤنی بات ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کی دھمکی ہے۔اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک ’دباؤ‘ میں مذاکرات نہیں کرتا اور ہر دھمکی کا جواب دھمکی سے دے گا۔‘ (روزنامہ جنگ، ۱۹ جون ۲۰۲۵ء)

صہیونی دشمن کو سزا دینے کا عمل جاری ہے

اپنے ایک بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا کہ صہیونی دشمن کو سزا دی جارہی ہے۔ اس سے قبل ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی جس کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کے علاقے بیر شیبہ، دیمونا، بئرسبع اور مضافات میں بھاری نقصان ہوا جبکہ 5 افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے ایران سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کی تصدیق بھی کردی ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۰ جون ۲۰۲۵ء)

بعد از امریکی حملہ، خامنہ ای کا اسرائیل کو سزا دینے کا اعادہ

ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکا کی شمولیت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا پہلا بیان سامنے آگیا۔ صہیونی دشمن کو سکت سزا دینے کا اعادہ کرلیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے فارسی زبان کے اکاؤنٹس سے پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اسرائیل کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سزا جاری ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صہیونی دشمن نے سنگین غلطی کی ہے، ایک بڑا جرم کیا ہے۔ اسے سزا ملنی چاہیے اور اسے اب سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں امریکا بھی شامل ہو گیا ہے۔ امریکا نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور ایرانی کو جوابی کارروائی سے بعض رہنے کی تنبیہ بھی کی۔ (روزنامہ جنگ، ۲۳ جون ۲۰۲۵ء)

آیت اللّٰہ خامنہ ای نے پیوٹن سے مدد مانگ لی، خبر ایجنسی کا دعویٰ

روسی صدر ولادیمر پیوٹن سے پیر کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ملاقات کی اور انھیں سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا خط پہنچایا۔ ماسکو سے خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے خط میں صدر پیوٹن سے مزید مدد مانگی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی ذرائع نے خبر ایجنسی سے گفتگو بھی کی تاہم روس کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر کے خط سے متعلق تصدیق نہیں کی گئی۔ خبر ایجنسی کے مطابق صدر پیوٹن سے ملاقات میں عباس عراقچی نے سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام دیا تھا۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بےحد کشیدہ ہوچکی ہے۔ ماسکو میں فوجی کیڈٹس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ روس جدید اوریشنک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ روسی بحریہ کو جدید ہتھیار، نئے بحری جہازوں اور آبدوزوں سے مسلح کریں گے۔ روس کی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدیدوف نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے ایران کا جوہری فیول سائیکل متاثر نہیں ہوا، کچھ معمولی نقصانات ہوئے ہیں۔ (روزنامہ جنگ، ۲۳ جون ۲۰۲۵ء)

ہم نے کسی سے زیادتی نہیں کی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ اِی نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے زیادتی نہیں کی۔ اپنے بیان میں سپریم لیڈر علی خامنہ اِی نے کہا کہ کسی کی زیادتی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کی زیادتی کے آگے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے، یہ ایرانی قوم کی منطق ہے۔ واضح رہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائلوں نے قطر کے العُدید فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب قطر نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو روکنے میں کامیاب رہا۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق اللّٰہ کے فضل، سیکیورٹی فورسز کی مستعدی اور پیشگی احتیاطی اقدامات کے باعث حملے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ (روزنامہ جنگ، ۲۴ جون ۲۰۲۵ء)

خامنہ ای کے ویڈیو بیان پر وائٹ ہاؤس کا تبصرہ

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے ویڈیو بیان پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے آیت اللّٰہ کی ویڈیو دیکھی ہے، جب آپ کے پاس مطلق العنان حکومت ہو تو عزت بچانی پڑتی ہے۔ اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایرانی حملوں میں صہیونی ریاست پاش پاش ہوگئی۔ اپنے خطاب میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا اس جنگ میں اس لیے داخل ہوا کہ اسے لگا اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسرائیل مکمل تباہ ہوجاتا، امریکا کو اس جنگ سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ (روزنامہ جنگ، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)

پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے اقوام متحدہ چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہیں۔ انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے موقع پر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی اور ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے معصوم شہریوں کی شہادت پر ایران کے ساتھ ہمدردی کے جذبات کو دہرایا۔ وزیراعظم نے خطے کے حالیہ منظر نامے پر گفتگو کرتے ہوئے کشیدگی کے دوران ایران اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی حمایت کی، اسرائیلی حملے اقوام متحدہ چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہیں۔ (روزنامہ جنگ، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیل نے سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے ایران پر حملہ کیا

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسرائیل نے سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے ہم پر حملہ کیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم نے ایران پرحملوں کی مذمت کی ہے، پاکستان کی حکومت کی سپورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کی سیاسی شخصیات، میڈیا اور سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 15 جون کو عمان میں امریکا کے ساتھ مذاکرات طے تھے، 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، اسرائیلی حملے میں شہری آبادی اور ہمارے کمانڈروں کو شہید کیا گیا، یہ حملہ سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے کیا گیا۔ ایران کے سفیر نے کہا کہ اسرائیل این پی ٹی کے کسی معاہدے کا دستخط کنندہ نہیں، ہم این پی ٹی کے دستخط کنندہ ہیں، ہم پر آئی اے ای اے کی سخت نگرانی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر مسلم دنیا نے مدد کرنا ہوتی تو وہ غزہ کے مظلوموں کی کرتے، امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو اس علاقے میں پھیلا دیں۔ رضا امیری مقدم نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ہے کہ اس جنگ میں اسلامی ممالک کو نہ گھسیٹا جائے، ہر امریکی صدر پہلے رجیم چینج کی بات کرتا ہے پھر ہم سے مذاکرات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے نے 15 بار تصدیق کی ہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، ہمارے سپریم لیڈر کہہ چکے ہیں کہ ہمارا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر آرٹیکل51 کے تحت اپنے حق کا دفاع استعمال کریں گے، امریکا ہم سے ہزاروں کلو میٹر دور ہے مگر ہم امریکا کو نقصان پہنچائیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے انتخاب کے دو ماہ کے اندر متعدد جرائم کیے، ہم لمبے عرصے تک یہ جنگ اپنے وسائل کے مطابق لڑنے کے لیے تیار ہیں، ہم نے کسی سے فوجی امداد کی درخواست نہیں کی۔ (روزنامہ جنگ، ۲۲ جون ۲۰۲۵ء)

وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف کی ایران کے پاکستان میں متعین سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، خطے میں امن و استحکام اور جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی سفیر نے ایران اسرائیل امریکا تنازع پر وزیراعظم کو بریفنگ دی اور ایران کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے امن و استحکام اور سفارتی حل کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔ ایرانی سفیر نے یو این میں ایران کی حمایت پر حکومت پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ (روزنامہ جنگ، ۲۳ جون ۲۰۲۵ء)

ایرانی قوم پاکستانی عوام کے برادرانہ جذبے اور حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی

پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایرانی قوم پاکستانی عوام کی جانب سے برادرانہ جذبے اور حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی رجیم کی ایران پر مسلط کردہ ناحق جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے جس ثابت قدمی اور عزت و وقار کے ساتھ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر بھرپور یکجہتی اور حمایت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی اور نہایت اہم موقع پر جب عظیم ایرانی قوم ایک باوقار اور فیصلہ کن فتح کا جشن منا رہی ہے، اس موقع پر پاکستانی حکومت اور عوام بالخصوص صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور پاکستان کی قومی اسمبلی و سینیٹ کے اراکین، علمائے کرام، سیاسی جماعتوں اور میڈیا اداروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اصولی اور بہادرانہ مؤقف اختیار کیا۔ ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا بھی شکریہ جس نے اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے عالمی فارمز پر ایران کی مستقل اور بھرپور حمایت کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے عوام و حکومتیں تاریخ کے ہر دور میں یکجہتی، بھائی چارے اور تعاون کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہی ہیں۔ سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ یہ عظیم فتح مسلم امہ کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے فخر، طاقت، خود اعتمادی، حوصلے اور حق کی باطل پر فتح کی ایک روشن علامت کے طور پر نقش ہو جائے گی۔ (روزنامہ جنگ، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)


ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے: دینی قائدین کے بیانات

میڈیا

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

ایران اسرائیلی جارحیت سے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود اسرائیل کو مضبوط جواب دے رہا ہے، اسے پہلی بار پتہ چل رہا ہے کہ بمباری کیا ہوتی ہے۔ عالم اسلام کے خلاف اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں، قدرت کی طرف سے یہ ایک اور موقع ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہو کر اسرائیلی خطرے کا مکمل سدباب کریں۔ (ٹویٹر/ایکس، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

امریکہ کا ایران پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہونے کے علاوہ ان کے پچھلے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے، دوسرے ملکوں کو جھنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا شخص کیا امن کا انعام حاصل کرنے کا مستحق ہو سکتا ہے؟ (ٹویٹر/ایکس، ۲۲ جون ۲۰۲۵ء)
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی تو اچھی بات ہے لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کو جنگ بند کرنے سے پہلے یہ شرط لگانی چاہئے تھی کہ غزہ میں قتلِ عام بند کیا جائے، اس کے بغیر جنگ بندی قبول کرنے سے اسرائیل ہی کو تقویت پہنچے گی۔ (ٹویٹر/ایکس، ۲۴ جون ۲۰۲۵ء)

مولانا مفتی منیب الرحمٰن


اگر یہ خبر درست ہے!

اگر یہ خبر درست ہے کہ ایرانی میزائلوں کی زد میں اسرائیل کے حساس مقامات بھی آئے ہیں اور اُن کا معتد بہ نقصان ہوا ہے، تو یہ سب کے لیے روح افزا اور تسکین بخش خبر ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور دلوں کا چین ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں ظلم کی انتہا کی ہے، وہ انتہائی شقی القلب، سنگدل اور بے رحم ہے اور ایسے ہی سلوک کا مستحق ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے، وما ذالک علی اللہ بعزیز۔ (فیس بک، ۱۴ جون ۲۰۲۵ء)

انٹیلی جنس کی اہمیت!

روس پر یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی اعلیٰ دفاعی قیادت کو نشانہ بنانے سے پتا چلا کہ جدید جنگ میں انٹیلی جنس کی بڑی اہمیت ہے۔ یوکرین نے بڑے بڑے کارگو کنٹینروں میں اپنے ڈرون روس کے اندر دور تک اسمگل کیے اور پھر بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کئی روسی ائیرپورٹس پر حملوں میں 95-Tu-22M3 ، Tu اور 12-An جیسے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا، ان کی قیمت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے اور ان میں سے کچھ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ایران کی اعلیٰ دفاعی قیادت کو اُن کے خفیہ ٹھکانوں میں نشانہ بنانے سے پتا چلتا ہے کہ اسرائیلی موساد، امریکی سی آئی اے، اور بھارتی را کے اشتراک سے انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم ہے اور ایرانی اداروں میں بھی اُن کے ایجنٹ موجود ہیں۔ ایک فوٹیج کے مطابق اسرائیل نے بھی یوکرین کی طرح پہلے اپنے ڈرون ایران کے اندر پہنچائے اور پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی دفاعی اداروں کو اس کمزوری پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ’’را‘‘ کے اشتراک کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ خود مودی نے بیان دیا: اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے میرا مسلسل رابطہ ہے اور پاک بھارت جنگ کے دوران تو اسرائیلی ماہرین بھارت میں موجود تھے اور تکنیکی امداد فراہم کر رہے تھے۔ مودی دو شدید دشمنوں اسرائیل اور ایران کے ساتھ یکساں اعتماد کا رشتہ قائم کیے ہوئے ہے، ’’بریں عقل و دانش بباید گریست‘‘۔ (فیس بک، ۱۴ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیلی فوج کا اپنے عوام کو انتباہ!

بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے: ’’اسرائیلی فوج نے اپنے عوام کو انتباہ (Warning) جاری کیا ہے کہ ہمارا دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر نہیں ہے، اس لیے ہمارے جاری کردہ انتباہات پر عمل کیا جائے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں‘‘۔ اس جنگ سے کم از کم یہ فُسوں (Myth) تو ٹوٹا کہ ’’اسرائیل نا قابلِ تسخیر ہے‘‘۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ امریکہ اور پورے مغرب کی طرف سے تمام تر دفاعی ساز وسامان کی فراہمی، تکنیکی امداد اور سٹیلائٹ کی سہولت اسرائیل کو حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ومکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین  ترجمہ: ’’اور کافروں نے اپنی چال چلی اور اللہ نے (اُن کے خلاف) خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے‘‘ ( آل عمران: ۵۴)۔ (فیس بک، ۱۵ جون ۲۰۲۵ء)

تشکّر پاکستان!

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کے خلاف ایران کی غیر مشروط حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور ارکان پارلیمنٹ نے ’’تشکر پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے۔ یہ اچھی علامت ہے، کسی کے احسان کا اعتراف کرنا اعلیٰ انسانی قدر ہے، حدیث پاک میں ہے: ’’جو بندوں کے احسان کا شکر ادا نہ کرے، وہ اللہ کا بھی شکر گزار بندہ نہیں ہوسکتا‘‘ ( ترمذی: ۱۹۵۵)۔
پاکستان نے سلامتی کونسل اور عالمی سطح پر ایران کی حمایت میں جو کچھ کیا وہ اس کی دینی و ملّی ذمے داری تھی، پاکستانی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے بھی ایران کی بھرپور حمایت کی۔ اگر حالیہ پاک بھارت جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران نے علانیہ طور پر پاکستان کی حمایت میں کوئی کلمہ خیر نہیں کہا تھا، لیکن پاکستان نے تمام تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا فرض ادا کیا۔ اب اگر ایران بھی یہ علانیہ عہد کرلے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ’’را‘‘  کی جاسوسی اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا تو یہ بات دونوں پڑوسی برادر مسلم ملکوں کے مفاد میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اگر فائدہ نہ پہنچا سکیں تو کم از کم نقصان تو نہ پہنچائیں۔ (فیس بک، ۱۷ جون ۲۰۲۵ء)

ٹرمپ کا سفید جھوٹ!

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا: ’’میں ایک بار پھر امن کو دو ہفتے کا وقت دے رہا ہوں، ایران اس سے فائدہ اٹھائے‘‘۔ یورپی ممالک اور او آئی سی اِسی امید پر متحرک ہوئے کہ شاید مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی ہو جائے اور امن قائم ہو جائے لیکن ’’اے بسا آرزو که خاک شدہ‘‘۔ دنیا کی قیادت کے دعویدارٹرمپ نے علانیہ طور پر اپنا وعدہ توڑا اور گزشتہ شب 2-B بمبار طیاروں کے ذریعے تیس ہزار پاؤنڈ کے بنکر بسٹر بم ایران کے ایٹمی مراکز فردو، نطنز اور اصفہان پر برسائے۔ اس سے اُن کے داعئ امن ہونے کے سارے دعوے صریح جھوٹ ثابت ہوئے، ایسا شخص دنیا کی قیادت کا حق دار کیسے ہوسکتا ہے۔ مادی طاقت جب اخلاقی قوت سے عاری ہو جائے تو نتائج ہمیشہ منفی نکلتے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی بیس سالہ یلغار کی ناکامی اس کا واضح ثبوت ہے، لیکن طاقت کے نشے میں چور لوگ نوشتۂ دیوار کو پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ ہم اس ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ (فیس بک، ۲۲ جون ۲۰۲۵ء)

’’وہی ذبح بھی کرے ہے ، وہی لے ثواب الٹا!‘‘

ایران اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بھی کرائی جاسکتی تھی، مگر امریکہ نے ایسا کبھی نہیں ہونے دیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی تعلّی قائم رکھی، پہلے اسرائیل کو ایران پر حملے کی شہ دی، جنگ کے شعلے بھڑکائے، پھر اس میں براہِ راست اپنا حصہ ڈالا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد جنگ بندی کا کریڈٹ بھی لے لیا، انشاء اللہ خاں انشاء نے قربانی کے تناظر میں کہا تھا: 
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں 
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا 
یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا میں سردست امریکہ کو للکارنے والی کوئی مادی طاقت نہیں ہے اور جب تک متوازی طاقت سامنے نہیں آئے گی، امریکہ یونہی دندناتا پھرے گا، ممالک کی آزادی و خودمختاری اور انسانی حقوق کا تمسخر اڑاتا رہے گا، ٹرمپ نے یہی کچھ کیا ہے۔ شاید روس اور چین بھی براہ راست امریکہ کو للکارنے، اُسے لگام دینے یا اس کے راستے میں مزاحم ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے مظلوم انسانیت کا دور ابتلاء ابھی جاری ہے۔ ماضی کی یورپ کی سپرپاورز بھی امریکہ کے اشارۂ ابرو کے تابع رہتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ’’حقیقی مجاہدین‘‘ ہیں تو وہ ہمارے سوشل میڈیا پر پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ ماننا پڑے گا کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے، اپنی استعداد سے بڑھ کر کیا ہے۔ لہٰذا اس کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، کیونکہ اس نے بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود کم از کم یک طرفہ طور پر سپرانداز ہونا قبول نہیں کیا، ورنہ اُس سے ٹرمپ کا مطالبہ یہی تھا۔ (۲۴ جون ۲۰۲۵ء)

کامیابی کا گراف؟

امریکی صدرٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی کا دعویٰ کیا تھا کہ اب ایران برسوں اس قابل نہیں رہے گا کہ دوبارہ انھیں بحال کر سکے۔ پھر امریکی میڈیا MSNBC ، CNN اور نیو یارک ٹائمز نے امریکی ’’ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی‘‘ کی ابتدائی خفیہ رپورٹ کے حوالے سے انکشاف کیا کہ ایران کا کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اس پر صدر ٹرمپ کو شدید غصہ آیا اور ان تینوں اداروں کو ’’گندا میڈیا‘‘ قرار دیا۔ غالباً‌ یہ ادارے ڈیمو کریٹک پارٹی کے زیادہ قریب ہیں۔ لگتا ہے صدر ٹرمپ کو اپنے دوست مودی کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’گودی میڈیا‘‘ تخلیق کرنا پڑے گا۔ پھر امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائرکٹر تلسی گبارڈ کا یہ ٹِکر دیکھا: ’’ایرانی جوہری صلاحیت کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جب ممکن ہوگا تو تفصیلات عوام کے علم میں لائی جائیں گی‘‘۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس وقت یہ عمل ناممکن کیوں ہے۔ دوسری طرف ایران نے پہلے دعویٰ کیا کہ ہماری جوہری صلاحیت محفوظ ہے، لیکن پھر شاید صدرٹرمپ کی تسلی کے لیے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، نقصانات کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات دینا مناسب نہیں کیونکہ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے اور ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم اس کی تحقیقات کر رہی ہے‘‘۔ الغرض امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی شدت (Intensity) کا گراف کیا ہے، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ (فیس بک، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)

مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان کو کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیے

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ پاکستان کوکھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ان طاقتوں کی لونڈی ہے، ایران اگر اسرائیل کو جواب دے رہا ہے تو اس کے ہاتھ روکے جاتے ہیں، دوسری طرف ان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے، ہمیں کھل کر اہل غزہ اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا جانا چاہیے، پاکستان کوکھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں،  یہود اور ہنود ایک ہیں، یہ ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، اسرائیل فلسطین کے آگے لبنان اور شام پر حملےکرچکا ، حال ہی میں اسرائیل نےشام کی دفاعی قوت کو ختم کیا، ہمیں اپنی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا، فلسطین، لبنان، شام ، عراق ، ایران اور پاکستان کو تباہ کرنا ان کا ایجنڈا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں مسلسل بمباری جاری ہے، 60 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، 2 روز میں ڈیڑھ ہزار افراد شہید ہوچکے۔ بین الاقوامی اداروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، او آئی سی اب بس دکھاوا ہے، آج فلسطینیوں کا خون پی پی کر صیہونیوں کا دل نہیں بھر رہا۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ملک کے داخلی اور خارجی حالات حکومتی توجہ چاہتے ہیں، نائن الیون کے بعد سے مسلسل بے امنی ہے، بے امنی بدقسمتی سے معاشرےکا حصہ بن چکی، کوئی کے پی یا بلوچستان میں بھتہ دیے بغیر نہیں رہ سکتا، آج پھر ایک دفعہ ہم بارود اور میزائلوں کے نشانے پر ہیں، ہم نے بہت خون دے دیا ہے، ہماری قوم نے قربانیاں دی ہیں،ہماری فوج نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ہرحکومت اپنے بجٹ کو بہتر قرار دیتی ہے،عمومی رائے بجٹ سےمتعلق بہتر نہیں، یہاں معیشت کی منفی گروتھ بھی دیکھی گئی،ملک کی معاشی ترقی کے لیے پرامن ماحول ضروری ہے، حکومت کو جو بات پسند نہیں آتی تو اپوزیشن کی آواز بند کردیتی ہے،اسپیکر نوٹس لے کر اس پر رولنگ دیں۔مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے دوران کئی بار آڈیو بندکی گئی۔ (جیو نیوز، ۱۹ جون ۲۰۲۵ء)

حافظ نعیم الرحمٰن

‏اسرائیل کا ایران پر حملہ بدترین دہشت گردی ہے۔ اسرائیل کی دہشت گردی کا یہ دائرہ بڑھ رہا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں آگ اور خون کا یہ کھیل کھیلا جارہاہے۔ مسلم ممالک کو سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل کے قدم نہ روکے گئے تو پھر کسی کا نمبر بھی آسکتا ہے۔ اورامریکا کی منافقانہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کسی کو نہیں بچائے گا، وہ نسل کشی کرنے والے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ (ٹویٹر/ایکس، ۱۳ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیل کا ایران پر حملہ قابل مذمت ہے۔ حکومت کو ایران کی حمایت میں اقدامات کرنے ہوں گے۔ قومی اسمبلی و سینٹ میں ایران کے حق میں قرارداد قابل ستائش اور سپیکر قومی اسمبلی کا اسرائیل کو ریاست تسلیم نہ کرنے کی بات بھی احسن اقدام ہے۔ (فیس بک، ۱۴ جون ۲۰۲۵ء)

پوری پاکستانی قوم دہشت گرد اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایرانی قوم کے ساتھ ہے۔ (فیس بک، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

پاکستان تشکر تشکر، پاکستان تشکر تشکر - ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حق میں تشکر کے نعروں کی گونج۔ یقیناً پوری پاکستانی قوم دہشت گرد اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایرانی قوم کے ساتھ ہے۔ (ٹویٹر/ایکس، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا کہ فلسطین کے ساتھ ایران کے معاملے پر بھی واضح، دوٹوک اور جرات مندانہ پالیسی تشکیل دے کر اقدامات کیے جائیں، کشمیر کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑا جائے، مسئلہ فلسطین پر حکمران عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں، اسرائیل کو لگام نہ دی گئی تو پورا خطہ آگ کی لپیٹ آ جائے گا، حکومت امریکہ سے خوفزدہ نہ ہو اور ٹرمپ کو زمین کا خدا نہ سمجھے۔ انہوں نے حماس کو استقامت اور مزاحمت کی شاندار مثال قرار دیتے ہوئے مجاہدین کی کامیابیوں کے لیے دعا کی۔ (فیس بک، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

امت کی تقسیم کی باتیں کرنے والے امت کے دوست نہیں، سعودی عرب کا ایران کے حق میں بیان خوش آئند ہے، پاکستانی قوم بھی پوری یکسوئی سے ایران کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان غزہ کے مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کرے۔ (فیس بک، ۱۷ جون ۲۰۲۵ء)

مغربی ممالک ایران کا ایٹمی پروگرام بند کرنے کا کہہ رہے ہیں، یورپ و امریکہ کو اسرائیل کے چار سو سے زائد نیوکلیئر وارہیڈ کیوں نظر نہیں آتے؟ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام بھی اسرائیل کو کھٹکتا ہے۔ (فیس بک، ۱۷ جون ۲۰۲۵ء)
میر کیا سادہ ہیں برباد ہوئے جس کے سبب
 اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں!
ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنا افسوس ناک اور قومی وقار کے منافی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کا سرپرست ہے، یہ ایران پر اسرائیل کے حملے کو Excellent کہتا ہے۔ ایران کو براہ راست دھمکیاں دے رہا ہے، امریکی بحری اڈے خطے میں پیش قدمی کررہے ہیں امریکا اسرائیل کو تمام جنگی سہولتیں دے رہا ہے۔ یوکرائن کی جنگ ختم نہیں کروائی بلکہ مزید آگ بھڑک رہی ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ کا امن تباہ ہورہا ہے۔ اور حکومت امن کے نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنے کی بات کررہی ہے۔ یہ سب افسوس ناک بھی ہے اور غلامانہ ذہنیت کا عکاس بھی۔ (ٹویٹر/ایکس، ۲۱ جون ۲۰۲۵ء)
ایران پر امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مسلم امہ کو متحد ہونا ہو گا۔ (فیس بک، ۲۲ جون ۲۰۲۵ء)
ایران کو استقامت دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان نے بھارت اور ایران نے اسرائیل کو شکست دی، امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی اسی لیے جنگ بندی کرانے پر مجبور ہوا۔ (فیس بک، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)
پاکستان، ایران، افغانستان، ترکی اور بنگلہ دیش دفاعی معاہدہ کریں اور پاکستان فوری طور پر ایران-پاکستان گیس پائپ لائن مکمل کرے۔ (فیس بک، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)
پاکستان نے بھارت کو اور ایران نے اسرائیل کو شکست دی۔ دونوں ملکوں کے عوام دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور ایران نے دشمن قوتوں کے خلاف مزاحمت کی نئی مثال قائم کی۔ (ہم نیوز، ۲۶ جون ۲۰۲۵ء)
حکومت نے ایران کے معاملہ میں واضح موقف اپنایا لیکن نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی نامزدگی قومی وقار کے منافی ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتیں ٹرمپ کے خلاف بات نہیں کرتیں۔ (۲۷ جون ۲۰۲۵ء)

علامہ ساجد نقوی

اسلام آباد (خبرنگار) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی سربراہی میں شیعہ علما کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلام آباد میں متعین سفیر آقاء رضا امیری مقدم سے ملاقات کی اور برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ جبکہ ایران کے جوابی حملوں سے دشمن کے دانت کھٹے کرنے کو ایران کے لیے فتح مبین قرار دیا۔ وفد میں شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی، مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، ڈپٹی سیکرٹری سکندر عباس گیلانی, اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ شامل تھے۔  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایرانی سفیر سے ہر دو حملوں کے نتیجے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیا پر تعزیت پیش کرتے ہوئے اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ کے حملوں کو عالمی قوانین کے منافی اور ایک خودمختار ملک کے خلاف ننگی جارحیت قرار دیا اور ایران کی جانب سے کامیاب دفاع و جوابی کارروائی میں دشمن کے دانت کھٹے کرنے کو ایران کے لیے فتح مبین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران دوسری بار سرخرو ہوا اور اس امتحان میں رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ کا مرتبہ بابصیرت بلند وبالا اور حکمت و دانشمند عالمی رہنما کے طور پر منظر عام پر آیا جبکہ ان کے بقول اس جنگ نے اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق اپنوں اور پرایوں کی  تمام غلط فہمیاں بھی دور کر دیں۔  (روزنامہ نوائے وقت، ۲۵ جون ۲۰۲۵ء)

علامہ راجہ ناصر عباس

یہ سمندری شاہراہوں اور انرجی کے ذخائر پر قبضے کا منصوبہ ہے

اسرائیل کے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ بننے میں ایران ایک رکاوٹ ہے۔ اس وقت جو وہاں جنگ ایران لڑ رہا ہے یہ پورے مشرق کی جنگ ہے، پورے ایشیا کی جنگ ہے، جہانِ اسلام کی جنگ ہے۔ اگر خدانخواستہ وہ اس دیوار کو گرا دیتا ہے تو مکہ مدینہ پر قبضے سے کون روکے گا اس کو؟ ڈینس ایوی لِپکن کی کتاب ہے ’’ریٹرن ٹو مکہ‘‘ جو صہیونی ہے، وہ پڑھنے والی ہے، وہ مکہ تک جائیں گے، وہ مدینہ تک جائیں گے، وہ خیبر تک جائیں گے۔ اس وقت جہانِ اسلام کو، مسلمانوں کو، مشرق کو بہت بڑا خطرہ ہے۔ اور ہمیں اس کو سمجھنا چاہیے کہ کتنا بڑا خطرہ ہے۔ اس میں خاموشی اختیار کرنا اور خالی بیان تک محدود نہیں رہنا ہو گا۔ یہ ہم سب کی جنگ ہے، پورے مشرق کی جنگ ہے، جہانِ اسلام کی جنگ ہے، یہ امتِ مسلمہ کی لڑائی ہے۔ ایک چھوٹا سا اسرائیل ہے جس کی نہ کوئی پشت ہے نہ گہرائی ہے، اس میں اتنی جرأت کہاں سے ہے، اتنی طاقت کس نے دی ہے اس کو؟ امریکہ نے، یورپ نے، مغرب نے۔ وہ اس کو یہاں لائے ہی اسی لیے تھے، مسلمانوں کے دل میں، آپ نقشہ اٹھا کر دیکھ لیں، کہاں واقع ہے اسرائیل؟ مسلمانوں کے دل کے اندر۔ لہٰذا وہ لائے ہی اس لیے تھے کہ اس پورے خطے کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔ گریٹر اسرائیل بنانا ہے اور ساری کی ساری جو سمندری شاہراہیں ہیں، باب المندب سے لے کر آبنائے ہرمز تک، جو انرجی کے ذخائر، سب پر قبضہ کرنا ہے اور ہمیشہ دنیا پر حکومت کرنی ہے۔ اپنا تسلط باقی رکھنا ہے، ملکوں کو مزید توڑنا ہے، چھوٹے چھوٹے کویت اور قطر کی طرح کے ملک بنانے ہیں۔ پاکستان توڑنا ہے، ایران توڑنا ہے، عراق توڑنا ہے، ترکی توڑنا ہے، سب کو توڑنا ہے۔ اس لیے یہ خطرناک صورتحال ہے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں۔ میں ایران میں رہا ہوں، انیس سال میں نے وہاں پڑھا ہے، میں نے قریب سے دیکھا ہے جنگ کو بھی وہاں پر۔ وہ ہارنے والے نہیں ہیں، وہ امام حسین علیہ السلام کے ماننے والے ہیں، آخری جو ہمارے پاس چیز بچتی ہے وہ ہے کربلا تشکیل دینا، عاشورائیوں کی طرح ظلم سے ٹکرانا، اور اپنی جان اور خون دے دینا لیکن سر نہ جھکانا۔ (’’آج نیوز‘‘ کے فیس بک پیج پر ویڈیو، ۱۸ جون ۲۰۲۵ء)

علامہ ہشام الٰہی ظہیر

ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں

صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان ڈاکٹر علامہ ہشام الہٰی ظہیر نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ لاہور سے جاری کیے گئے اپنے بیان میں علامہ ہشام الہٰی ظہیر نے مزید کہا کہ اسرائیل کو مغربی طاقتوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ واضح رہے کہ آج اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہوں اور عسکری و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حملوں میں 3 اعلیٰ ترین عسکری حکام اور 6 سائنسدان شہید ہو گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل سخت سزا کا انتظار کرے، صہیونی ریاست نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی ظالمانہ فطرت کو پہلے سے زیادہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں 78 افراد جاں بحق اور 329 زخمی ہوئے ہیں۔ (روزنامہ جنگ، ۱۳ جون ۲۰۲۵ء)

ایران پر اسرائیلی حملہ لامحدود تباہی کا پیش خیمہ ہے

لاہور (خصوصی نامہ نگار) صدرجمعیت اہلحدیث ڈاکٹرعلامہ ہشام الٰہی ظہیرنے کہا ایران پر اسرائیلی حملہ لامحدود تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، حملے میں متعدد نامور ایرانی شخصیات کی شہادتیں ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پاکستانی قوم ایران کے اس دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملے نے خطے کو ایک بار پھر جنگ کے شعلوں میں دھکیل دیا ہے۔ اسرائیلی جارحیت امن دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسرائیل کا ایران پر حملہ اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کئی سال سے مقبوضہ فلسطین سمیت دنیا میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل کا ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ مرکزی سیکریٹریٹ قران و سنہ اسلامک سنٹر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو مغربی طاقتوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ پہلے فلسطین اب ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ افسوسناک امر ہے۔ اسرائیل کے شر سے کوئی مسلم ممالک محفوظ نہیں ہے۔ صدر جمعیت اہلحدیث کا کہنا تھاتمام عالم اسلام کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کا رات تاریکی میں ایران پر شب خون مارنا عالم اسلام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، ۱۴ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیل صہیونی طاقتوں کے بل پر مسلم ممالک پر حملہ آور ہے

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت اہلحدیث کے صدر ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا ایران کو اسرائیل کی جارحیت کا دندان شکن جواب دینا چاہئے۔ اسرائیل مغربی صہیونی طاقتوں کے بل بوتے پر مسلم ممالک پر حملہ آور ہے۔اسرائیل بد مست ہوکر مسلم ممالک کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ درحقیقت یہ سب مسلم امہ کی غفلت اور پراسرار خاموشیوں کی بدولت ہو رہا ہے۔ اگر فلسطین کے معاملے پر پاکستان سمیت تمام عالم اسلام نے بروقت اسرائیل کیخلاف فلسطین کا ساتھ دیا ہوتا تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا اسرائیلی حملے پر سعودی عرب کا موقف امت مسلمہ کی حقیقی ترجمانی ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ عالمی رہنماکا بڑا بن کر امت مسلمہ کیلئے آواز اٹھائی ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیل عالمِ اسلام کا مشترکہ دشمن ہے

اسرائیل مغربی صہیونی طاقتوں کے بل بوتے پر مسلم ممالک پر حملہ آور ہے۔ اسرائیل بد مست ہوکر مسلم ممالک کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے درحقیقت یہ سب مسلم امہ کی غفلت اور پراسرار خاموشیوں کی بدولت ہو رہا ہے ، اگر فلسطین کے معاملے پر پاکستان سمیت تمام عالم اسلام نے بروقت اسرائیل کے خلاف فلسطین کا ساتھ دیا ہوتا تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔انہوں نے کہا ایران پر اسرائیلی حملے پر سعودی عرب کا موقف امت مسلمہ کی حقیقی ترجمانی ہے ۔سعودی عرب نے ہمیشہ عالمی راہنماکا بڑا بن کر اُمت مُسلمہ کے لئے آواز اُ ٹھائی ہے ،عالم برادری کو متحد ہو کر مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔ اسرائیل علاقائی امن و بین الاقوامی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، اسرائیل کو لگام نہ ڈالی تو عالمی امن خطرے میں پڑ جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جمعیت اہلحدیث کے سیکرٹریٹ قرآن و سنہ اسلامک سنٹر میں علما کرام، تحریک طلبہ اہلحدیث و جمعیت یوتھ فورس کے وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ہشام الٰہی ظہیر کا مزید کہنا تھا عالمی برداری اسرائیلی جارحیت کافی الفور نوٹس لے ،مملکت اسلامیہ انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ (روزنامہ دنیا، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

عالم اسلام فلسطین کا ساتھ دیتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا

لاہور (خبرنگار) جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الہی ظہیر نےمختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ایران کو اسرائیل کی جارحیت کا دندان شکن جواب دینا چاہئے اگر فلسطین کے معاملے پر پاکستان سمیت تمام عالم اسلام نے بروقت اسرائیل کے خلاف فلسطین کا ساتھ دیا ہوتا تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ (روزنامہ جنگ، ۱۶ جون ۲۰۲۵ء)

صہیونیت شیطانی لشکر، سہولت کار، انسانیت کا دُشمن

اجلاس میں جمعیت اہلحدیث لاہور، اہلحدیث یوتھ فورس لاہور، تحریک طلبہ اہلحدیث پاکستان، پنجاب اور لاہور کے تمام ٹاؤنز کے صدور، ناظمین و اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں، دینی مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی کی شدید مذمت کی گئی اورخطے میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔حالیہ حملے اسرائیلی حملوں کے سلسلے کا تسلسل ہیں، فریقین بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کی پاسداری کریں۔ اجلاس میں 22 محرم الحرام کو چوک بیگم کوٹ میں منعقد ہونے والی فضائل صحابہ ؓ و اہل بیت ؓ کانفرنس، جماعتی اُمور، ملکی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال ہوا۔ علامہ ہشام الہٰی ظہیر نے کہا صہیونیت ایک شیطانی لشکر ہے اور اس کا ہر سہولت کار، انسانیت، امن اور انصاف کا بد ترین دُشمن ہے ۔ مغرب نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں تو بین الاقوامی امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا۔ صہونیت کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا ایران اپنی سالمیت، خو د مختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لئے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔ خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے جو سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی برادری انتہائی حساس حالات تنازع کے سفارتی حل کیلئے کوششیں تیز کرے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق بات چیت کرے۔ (روزنامہ دنیا، ۲۳ جون ۲۰۲۵ء)

صہیونیت کا ایران پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الہٰی ظہیر کی زیر صدارت مرکزی دفتر لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔جمعیت اہلحدیث لاہور، اہلحدیث یوتھ فورس لاہور، تحریک طلبہ اہلحدیث پاکستان، پنجاب اور لاہور کے تمام ٹاؤنز کے صدور، ناظمین و اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں 22 محرم الحرام کو ’’فضائل صحابہ  و اہل بیت کانفرنس‘‘، جماعتی اْمور، ملکی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ علامہ ہشام الہٰی ظہیر نے کہا صہیونیت کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری تنازع کے سفارتی حل کیلئے کوششیں تیز کرے۔ (روزنامہ نوائے وقت، ۲۴ جون ۲۰۲۵ء)

مولانا عبد الخبیر آزاد

غزہ میں قتلِ عام اور اب ایران پر چڑھائی کرنا زیادتی ہے

چیئرمین رویت ہلال کمیٹی عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ غزہ میں قتل عام اور اب ایران پر چڑھائی کرنا زیادتی ہے۔ ملتان میں اتحاد المسلمین کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کا اقوام متحدہ نوٹس لے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، پاکستان امن کا خواہاں ہے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، ہمارا دفاعی نظام مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں نہ ہوتا تو ہم بھی لیبیا اور عراق بن جاتے، تمام علماء لوگوں کو محبت اور اتحاد کا درس دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اُمت مسلمہ کو وحدت اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۲ جون ۲۰۲۵ء)

مولانا طاہر محمود اشرفی

اسرائیلی حملے پر سعودی عرب کا مؤقف امتِ مسلمہ کی ترجمانی ہے

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ اسرائیل پوری دنیا کے امن سے کھیل رہا ہے، اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے پر سعودی عرب کا مؤقف امت مسلمہ کی ترجمانی ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران کو عالمی قوانین کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس فوری بلا کر عالم اسلام متفقہ لائحہ عمل بنائے۔ (روزنامہ جنگ، ۱۳ جون ۲۰۲۵ء)

پوری قوم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران اور فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے

چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پوری قوم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران اور فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔ کمشنر آفس گوجرانوالہ میں محرم الحرام کے حوالے سے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ کسی گروہ یا جماعت کو قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ عوام اور فوج کے خلاف مصروف ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کام کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا  تھا کہ کل پورے ملک میں یوم وحدانیت منایا جائے گا۔ (روزنامہ جنگ، ۱۹ جون ۲۰۲۵ء)

اسرائیل عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ  اسرائیل عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس سے اُمت کو بہت اُمیدیں ہیں۔ ایران، فلسطین، لبنان، شام، یمن سب اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ اُمت مسلمہ کی نگاہیں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی طرف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف واضح اقدامات کی ضرورت ہے، فلسطین کے مسئلہ کا حل صرف اور صرف آزاد و خود مختار ریاست ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۱ جون ۲۰۲۵ء)

جنگ میں صرف دو ہی فریق ہیں: ایک مسلمان، دوسرا نیتن یاہو

چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے ایران اسرائیل جنگ کے بارے میں کہا ہے کہ اس جنگ میں دو ہی فریق ہیں ایک مسلمان دوسرا نیتن یاہو۔ طاہر اشرفی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو مسلمانوں کو تقسیم کرے گا اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ دشمن ایک ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہے تو ہمیں بھی ایک ہو جانا چاہیے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں جن کو ہم نے مل کر حل کرنا ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۳ جون ۲۰۲۵ء)

سنی شیعہ تقسیم اور اسرائیل ایران تصادم

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال

(یوٹیوب چینل Professor Dr Javed Iqbal پر ۱۶ جون ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والی ایک گفتگو کی تسہیل)


السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آج چھوٹا منہ اور بڑی بات، جو بات میں کرنے لگا ہوں اسے کرنے سے پہلے میں نے اللہ سے دعا کی اور اس سلسلے میں بیٹھ کر میں نے بہت مراقبہ کیا، بہت زیادہ سوچا۔ مجھے اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ ہمارے علماء پتہ نہیں اس بات کو کیسے لیتے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ ہماری سیاسی حکومتیں اس بات کو کتنی اہمیت دیتی ہیں، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ جو بات آپ سے کرنی ہے، یہ اس کے کرنے کا وقت ہے اور اس کو کرنا بہت ضروری ہے۔ دوبارہ میں کہوں گا کہ یہ چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے۔

دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے ہر مصیبت اور چیلنج میں کوئی نہ کوئی خیر رکھی ہوتی ہے۔ ابھی دنیا میں یہ جتنا فساد مچا ہوا ہے اور ایران اور اسرائیل کی جو جنگ ہو رہی ہے، اس سے پہلے مسلمان ملکوں کے جیسے ٹکڑے کیے گئے ہیں، ان کے بلاک بنائے گئے ہیں، آپ نے دیکھا کہ عراق کے ساتھ کیا ہوا، آپ نے دیکھا لیبیا کے ساتھ کیا ہوا، آپ نے دیکھا کویت پر کیسے حملہ ہوا، پھر سوڈان میں دیکھیں کیا ہو رہا ہے، اور افریقہ کے مسلمان ممالک میں کیا ہو رہا ہے، پھر افغانستان کے اندر کیا ہوا ہے۔

اب یہ ایران اور اسرائیل کی جنگ ہو رہی ہے، تھوڑی دیر پہلے میں نے دیکھا ہے کہ امریکہ نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ براہ راست ایران پر حملہ کرے گا، میرا نہیں خیال کہ امریکہ، جس کا صدر ایک بہت بڑا تاجر ہے، ایک سوداگر ہے، بزنس مین ہے، وہ جذباتی لحاظ سے فیصلہ کرے گا کہ ’’اوئے، تم نے ہمارے دوست پہ حملہ کیا، ہم تم پر حملہ کریں گے‘‘۔ وہ میرا نہیں خیال کہ اس طرح کی بات ہو گی، اگر وہ حملہ کرے گا تو وہ روس اور چائنہ کو اعتماد میں لے کر کرے گا۔ اور اس میں ان کا باہمی اتفاق کیا ہو گا، اس کا بھی ہمیں اندازہ ہے۔ 

بہرحال ایسی صورت میں جو کچھ بھی ہونے جا رہا ہے، ہم اس میں سے اچھائی کیا نکالیں؟ ہمارے لیے اچھائی یہ نکلتی ہے کہ خدا کے لیے یہ جو صدیوں سے شیعہ سنی کی تقسیم ہوئی ہے، ہم کسی طریقے سے اس کو بھول کر ایک مسلمان بن سکیں۔ اگر آپ غور کریں:

میرے پیارے دوستو! یہ دنیا کے سارے لوگ اپنی طاقت اپنی تجارت اپنی حکومت اپنے تسلط کے لیے لوگوں کی کمزوریاں ڈھونڈتے ہیں اور ان کی بنیاد انہیں تقسیم کرتے ہیں۔ آپ میسولینی کی کتابیں پڑھ لیں، یا اس طرح اور لوگوں کی پڑھ لیں، حتٰی کہ آپ ابن خلدون کی ساری تاریخ پڑھ لیں، جتنی بھی دنیا کے اندر بڑی حکومتیں آئیں، انہوں نے ہمیشہ لوگوں کو تقسیم کیا اور ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کو بکھیر دیا، انہیں عروج حاصل نہیں کرنے دیا۔ اب مسلمانوں کی جتنی قوتیں ہیں وہ ساری اس طرح سے منقسم کر دی گئی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی نفی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو غیر مؤثر کرتے جا رہے ہیں۔ 

یہ وہ وقت آگیا ہے کہ خدا کے لیے ہماری نئی نسل ٹک ٹاک جیسی فضولیات اور اس طرح کی سطحی قسم کی معلومات کو علم سمجھتے ہوئے اس پر اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے کتابوں کی طرف آئے۔ اور خدا کے لیے قرآن پاک کو عربی زبان میں اصل مفہوم کے ساتھ پڑھیں، سیرت النبیؐ اور اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کریں۔ اس کے علاوہ تقابلی فلاسفہ اور عصری فلاسفہ جو دنیا میں چل رہے ہیں، اور پازیٹوزم (مشاہداتی سائنس) کیا تھا، پوسٹ پوزیٹو ازم کیا تھا (مشاہداتی سائنس تنقیدی نقطۂ نظر سے)، اس کے بعد یہ کلونیئلزم (جغرافیائی نوآبادیات) کیا تھا، نیو کلونیئلزم (سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ کے ذریعے کنٹرول) کیا ہے۔ یہ سب چیزیں وہ ہیں جن کی تاریخ دنیا میں ایک ترتیب سے چلی ہے، اس ہسٹری کو خدا کے لیے ہمارے نوجوان پڑھیں۔ اور آج کل تو بہت آسان ہو گیا ہے، آڈیو کتابیں اور اس طرح کی اور چیزیں دستیاب ہیں۔ 

اور خدا کے لیے اپنے آپ کو اس تعصب سے بچائیں جو ہم سب کے اندر بنا بنایا ڈال دیا جاتا ہے۔ شیعہ کے بچے کو نہیں پتہ کہ سنی کیوں غلط ہیں، اور سنیوں کے بچوں کو یہ نہیں پتہ کہ شیعہ کیوں غلط ہیں اور کس جگہ پر غلط ہے۔ اور دوسرا میں ہاتھ جوڑ کر اپنے علماء کرام سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اب مدرسوں میں، سکولوں میں، گھروں میں، ہم توڑنے والی گفتگو کو ختم کریں۔ ہر وہ شخص جو خدا کو وحدہٗ لاشریک مانتا ہے اور اپنا مالک خالق رازق مانتا ہے، ہر وہ شخص جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتا ہے، اور آپؐ کے لائے ہوئے اسوہ کو زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ سمجھتا ہے، اور ہر وہ شخص جو موت کے بعد کی زندگی میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کو مانتا ہے، اس کے بعد باقی سب (فروعی) باتیں ہیں کہ کوئی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے، کوئی ہاتھ کھول کر نماز پڑھتا ہے، التحیات میں انگلی کیسے اٹھاتا ہے، وغیرہ۔ 

اچھا، اس کے علاوہ ایک بات اور میں بلا جھجھک کروں گا کہ آج سے بارہ تیرہ سو سال پہلے جو ہمارے بزرگوں میں اختلافات پیدا ہوئے تھے اور پھر خونریز جنگیں بھی ہوئیں اور اس کے بعد بہت ہی تکلیف دہ صورتحال پیدا ہوئی، میں بہت ہی عاجزی کے ساتھ ایک بار پھر چھوٹا منہ بڑی بات کہتے ہوئے عرض کروں گا کہ کیا ضروری ہے کہ اس کے بارہ سو سال کے بعد آنے والے لوگوں سے اس بات پر لڑائی کی جائے، اس معاملے کو اللہ تعالیٰ اپنے انصاف اور حکمت کے تحت خود دیکھ لیں گے، ہم مہربانی کر کے جس چیز کو جیسا سمجھتے ہیں اپنے دل میں سمجھتے رہیں، مگر اس کے بارہ سو سال بعد پیروکاروں کے درمیان لڑائیوں کی کیا تُک بنتی ہے جس کی وجہ سے ہم تقسیم ہوئے ہیں اور پھر دنیا کے بلاک بن گئے ہیں۔ 

یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ وہ لوگ جو ہم سے لڑتے ہیں، ان سب کو پتہ ہے کہ کربلا کی جنگ کو دوبارہ سے زندہ کر کے ہم نے ان مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے اور ان کے ٹکڑے کرنے ہیں۔ کربلا کی جنگ تو ہر مسلمان کے اندر موجود ہے، حق اور باطل کی جنگ ہمیشہ سے ہے، ہمارے اندر حسینؓ ہے اور ہمارے اندر یزید ہے۔ حسین اور یزید تو حق اور باطل کے استعارے ہیں۔ ہم اپنے حسین کی مدد کریں، اپنے حسین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اور باقی اُن کے جو بزرگ تھے، صحابہ کرامؓ تھے، ان کے درمیان اگر کوئی اختلاف تھا تو اب ہم مسلمان اس کی بنیاد پر آپس میں نہ لڑیں۔

میں ایک بار پھر آپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر یہ کہہ رہا ہوں، مجھے اپنی حیثیت کا پتہ ہے، نہ میں کوئی مذہبی عالم ہوں نہ کچھ اور، لیکن میں ایک طالب علم ہوں اور کتابیں پڑھتا رہتا ہوں، بزرگوں کی محفل میں ان کی خدمت میں بیٹھتا ہوں، ان کی جوتیاں سیدھی کرتا ہوں، انہیں وضو کراتا ہوں، میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ وقت آگیا ہے کہ جب ہمیں دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سیکھنا ہے، ہمیں اپنے گھروں کے اندر اپنے بچوں کو بتانا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ اپنی شناخت اس طرح سے کرانا کہ میں سنی ہوں، میں شیعہ ہوں، میں بریلوی ہوں، میں دیوبندی ہوں، میں اہل حدیث ہوں، ایسی شناخت ہی توڑنے والی ہے، یہ فقرہ ہی توڑ کا فقرہ ہے۔ 

ہم وہ مسلمان کیوں نہیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو لانے والے مسلمان تھے۔ ہم ویسے مسلمان کیوں نہیں ہیں جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، جیسے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، ہم ویسے مسلمان کیوں نہیں ہیں؟ کیا وہ شیعہ تھے، سنی تھے، بریلوی تھے، دیوبندی تھے، سلفی تھے، کیا تھے؟ امام ابو حنیفہؒ اور  امام شافعیؒ یہ سب ہمارے بزرگ ہیں، ان کی کتابیں ریفرنس کے طور پر ہمارے پاس موجود ہیں۔ جتنے لوگ دیکھ رہے ہیں، ایمانداری سے بتائیں کہ کتنے لوگوں نے صحیح بخاری کو کبھی ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا ہے؟ کس کس نے مسلم کی احادیث کو دیکھا ہے؟ ہم نے نہ وہ کتابیں دیکھی ہیں نہ پڑھی ہیں، بس لوگوں کی باتیں سن سن کر اپنا ذہن بنا لیتے ہیں۔ اور ہمارے گھروں سے نکلنے والا جو توڑ ہے، جو نفرتیں ہیں، وہ آگے جا کر پھر گروہوں کی شکل اختیار کر جاتی ہیں، اس کی بنیاد پر پورے کے پورے معاشرے بنے، حکومتیں بنیں، سلطنتیں بنیں، اس کی بنیاد پر یہ سب لڑائیاں ہوئی ہیں۔ اور پھر مفاد پرست اس سے اپنا اپنا مفاد اٹھاتے ہیں اور ان چیزوں کو پھر لوگوں نے کیش کیا ہے۔ 

اب 2025ء کا وقت آگیا ہے۔ میں تیسری دفعہ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات، اگر ہم نے ایک شناخت کے طور پر بچنا ہے تو اپنے دل سے اس تفریق کو ختم کرنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں علماء کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، حکومتوں کی ذمہ داری ہے، معاشرے کی ذمہ داری ہے، تعلیمی نظام کی ذمہ داری ہے، دانشوروں کی ذمہ داری ہے، اور سب سے بڑھ کر میری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ کسی کا انتظار کریں، جیسے چڑیا کے چھوٹے بچے منہ کھول کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ چڑیا منہ میں دانہ ڈالے گی، یعنی کوئی ہمارے فیصلے کرے گا اور ہم بھیڑوں کی طرح پیچھے پیچھے لگ جائیں گے، اس سے پہلے ہی سوچ سمجھ کر اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کریں۔ اور میں نے یہ بات پہلے بھی عرض کی تھی احمد جاوید صاحب کے حوالے سے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو کسی بھی غیر مسلم کی تعریف کے مطابق اچھا انسان ہے۔ یعنی ایک اچھے مسلمان کے اندر ایک اچھا انسان بھی ہو۔ 

اچھا انسان کیا ہے؟ سچ بولتا ہے، ایماندار ہے، کسی کو تکلیف نہیں دیتا، نہ ہاتھ سے نہ زبان سے، اس کی نیت ٹھیک ہوتی ہے، وہ فرض شناس ہوتا ہے، وہ سب کی مدد کرتا ہے، اور بھی بہت ساری صفات ہوں گی، وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے کہ اس نے یہ وحی کی تعلیمات سے سیکھا ہے اور اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے۔ اور اس نقطۂ نظر سے نہیں کہ ’’ایمانداری سب سے اچھی پالیسی ہے، سچائی سب سے اچھی پالیسی ہے‘‘، یہ تو اس کا لامحالہ فرض ہے کہ یہ تو اس نے کرنا ہی کرنا ہے۔ یعنی اس نے پالیسی کے طور پر اچھا انسان نہیں بننا، اس نے اس لیے اچھا انسان بننا ہے کہ اللہ اور رسول نے اس کو بتایا ہے کہ اچھا انسان بننے کے علاوہ اور کوئی چوائس ہی نہیں ہے ہمارے پاس۔ یہ فرق ہے انسانیت کے لحاظ سے اچھا ہونے میں اور وحی کی تعلیمات کے مطابق اچھا ہونے میں۔ 

بس میں اپنی بات ختم کرتا ہوں، مجھے کچھ وائرل انفیکشن ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں کام نہیں کر پا رہا، اور آج کل میرے دن کا بیشتر حصہ کتابوں میں گزرتا ہے، یا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں، اس لیے پھر شام کو میرے دماغ کے اندر جو کچھ کھچڑی پک رہی ہوتی ہے وہ میں آپ دوستوں سے شیئر کر رہا ہوتا ہوں۔ جب یہ ویڈیو بند ہو تو تھوڑی دیر کے لیے مہربانی کر کے آپ اپنے دل میں جھانک کر ضرور دیکھیے گا کہ آپ بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں، سلفی ہیں، اہل حدیث ہیں، شیعہ ہیں؟

میں اپنی گفتگو میں ہمیشہ سب کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے دوست ہندو بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، اور یہودیوں کا مجھے پتہ نہیں، کیونکہ میرا نہیں خیال اردو بولنے والے یہودی زیادہ ہیں، مجھے ایک ملے تھے لاہور میں جو کہ اردو بولتے تھے۔ میں نے یہ جو آج گفتگو کی ہے اس کے مخاطب بنیادی طور پر تو میرے مسلمان بہن بھائی ہیں، لیکن وہ بھی ہیں جو مسلمان نہیں ہیں تاکہ میں ان کو بھی بتا سکوں کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ پورے اسلام سے جو باتیں نکالی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ مسلمان لوگوں کو مارتے ہیں، یہ دہشت گرد ہیں وغیرہ۔ الحمدللہ میں نے قرآن کو مفہوم کے ساتھ پڑھا ہے۔ آپ اور بھی تو کتابیں پڑھتے ہوں گے، مہربانی کر کے ایک دفعہ قرآن پاک کو مفہوم کے ساتھ پڑھیے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ کیا خوبصورت وحی کا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اپنے نبی پر۔ اب لوگوں کو یہ فکر ہوتی ہے کہ اللہ کے نبی نے نو شادیاں کیوں کی ہیں، بحث ہوتی ہے تو بس یہ والی بحث ہوتی ہے، اور اس کے بہت منطقی جواب علماء پہلے ہی دے چکے ہیں، لیکن ان دو تین باتوں کے علاوہ جو Crux of the matter ہے، جو اصل چیزیں ہیں، میں تمام ادیان کا احترام کرتے ہوئے، تمام مقدس کتابوں کا احترام کرتے ہوئے، تمام انسانوں کو قابل عزت سمجھتے ہوئے، اس موقع پر یہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ تمام میرے بہن بھائی جو مسلمان نہیں ہیں اور جن کے ذہن کے اندر شاید مسلمانوں کا دہشت گردی والا تصور ہے، حالانکہ یہ کچھ لوگوں کا طرزعمل ہے، آپ جہاد کے تصور کو مہربانی کر کے قرآن سے خود دیکھیں تو آپ کو پتہ لگے گا کہ یہ کیا تصور ہے۔ بس میں یہ کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا تھا۔ 

دل چیر کے نہیں دکھایا جا سکتا، بعض اوقات آپ کے دل کے اندر وہ بات ہوتی ہے لیکن لفظ گونگے ہوتے ہیں، لفظوں کے اندر وہ گنجائش نہیں ہوتی، وہ اہتمام نہیں ہوتا، زبان اور لفظ محدود ہوتے ہیں، اگر ایسا ممکن ہوتا تو میں دل چیر کر آپ کو وہ چیزیں دکھاتا جن کے لیے میں الفاظ منہ سے نہیں نکال سکا۔ ہمارے کہنے سننے میں نیت کا کوئی مسئلہ ہوا ہو تو اللہ اس کو معاف کرے، اور اللہ کرے ہم ان باتوں کو سمجھ کر اس پہ عمل کر سکیں، اور ہماری زندگی میں ہی یہ دنیا جنت کے گہوارہ کی شکل اختیار کر سکے، جس کی یہ صلاحیت رکھتی ہے۔ 

https://youtu.be/siyBA7jR5_c


امریکہ اسرائیل کی سپورٹ کیوں کرتا ہے اور ایران کتنا بڑا خطرہ ہے؟

نوم چومسکی

(امریکی دانشور نوم چومسکی کے یوٹیوب پر موجود دو ویڈیو کلپس کی گفتگو)


امریکہ اسرائیل کی حمایت کیوں کرتا ہے؟

امریکہ اسرائیل کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ اس کی ایک طویل اور نہایت دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔

ایک بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ عیسائی صہیونیت ایک بہت طاقتور قوت ہے جو یہودی صہیونیت سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ میں، عیسائی صہیونیت برطانوی اشرافیہ میں ایک زبردست طاقت تھی۔ یہ بالفور اعلامیہ اور برطانیہ کی یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری کی حمایت کی ایک بڑی وجہ تھی۔ آپ کی یاددہانی کے لیے، بائبل میں لکھا ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ اور یہ برطانوی اشرافیہ کی ثقافت کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔ امریکہ میں بھی یہی صورتحال تھی۔

وڈرو ولسن ایک بڑے پکے عیسائی تھے جو روزانہ بائبل پڑھتے تھے۔ یہی حال ہیری ٹرومین کا بھی تھا۔ روزویلٹ انتظامیہ میں ایک سرکردہ عہدیدار ہیرالڈ آئیکس نے ایک بار یہودیوں کی فلسطین واپسی کو تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا تھا، یعنی بائبل کی تعلیمات کا عملی مظاہرہ۔ یہ گہرے مذہبی ممالک ہیں جہاں بائبل کی تعلیمات کو، جیسا کہ کہا جاتا ہے، بڑی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نوآبادیات کا حصہ بھی ہے۔ یہ یورپی نوآبادیات کا آخری مرحلہ ہے۔

اور غور کریں کہ وہ ممالک جو اسرائیل کی سب سے زیادہ مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں، وہ صرف امریکہ نہیں ہیں، یہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا ہیں۔ انگلینڈ کی یہ شاخیں جنہیں بعض اوقات اینگلوسفیئر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سامراجیت کی غیر معمولی شکلیں ہیں۔ یہ آبادکار نوآبادیاتی معاشرے ہیں۔ ایسے نوآبادیاتی معاشرے جہاں آبادکار آئے اور مقامی آبادی کو بنیادی طور پر ختم کر دیا، یہ ہندوستان کی طرح نہیں تھا کہ جہاں انگریز حکمران تھے۔ جیسے جنوبی افریقہ (کچھ حد تک) یا فرانسیسی حکمرانی میں الجزائر، یہ ایسے معاشرے تھے جہاں آبادکار داخل ہوئے اور مقامی آبادی کو تقریباً نیست و نابود کر دیا۔ ان کے پیچھے بھی مذہبی اصول کارفرما تھے۔ یہ عیسائی صہیونیت سے متاثر انتہائی مذہبی گروہ تھے۔ یہ اہم ثقافتی عوامل ہیں۔

کچھ اہم جیو اسٹریٹجک (جغرافیائی) عوامل بھی ہیں۔ اگر آپ 1948ء پر نظر ڈالیں تو امریکہ میں محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے درمیان نئی ریاست اسرائیل کے حوالے سے ردعمل کا اختلاف تھا۔ محکمہ خارجہ اسرائیلی فتوحات اور ریاست کے قیام کے اتنا حق میں نہیں تھا، اور اسے پناہ گزینوں کی فکر تھی؛ وہ پناہ گزینوں کے مسئلے کا حل چاہتا تھا۔ دوسری طرف پینٹاگون اسرائیل کی فوجی صلاحیت سے بہت متاثر تھا، اسرائیل کی فوجی کامیابیوں سے۔ اگر آپ اندرونی ریکارڈ کو دیکھیں، جو اب خفیہ نہیں رہا، تو جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے اسرائیل کو ترکی کے بعد خطے کی دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت اور خطے میں امریکی طاقت کے لیے ایک ممکنہ اڈہ قرار دیا تھا۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ میں پورا ریکارڈ تو نہیں بتا سکتا، لیکن 1958ء میں جب خطے میں ایک سنگین بحران آیا تو اسرائیل واحد ریاست تھی جس نے برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ مضبوطی سے تعاون کیا۔ اور اس وجہ سے اسے حکومتوں اور فوج سے بہت زیادہ حمایت ملی۔

1967ء میں اسرائیل کے ساتھ اس نوعیت کے تعلقات تقریباً‌ قائم ہو چکے تھے جو اس وقت موجود ہیں۔ اسرائیل نے امریکہ کے لیے ایک بڑی خدمت یہ انجام دی کہ اس نے سیکولر عرب قوم پرستی کو تباہ کر دیا، جو امریکہ کے ایک بڑے دشمن عنصر کی حیثیت رکھتا تھا، اور بنیاد پرست اسلام کو سپورٹ کیا، جس کی امریکہ نے حمایت کی تھی اور یہ آج تک جاری ہے۔

ابھی ہم نے اس کی ایک مثال غزہ پر حالیہ حملے کے دوران دیکھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک موقع پر حملہ کے دوران اسرائیل کے گولہ بارود ختم ہونے لگے، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ پوری طرح سے مسلح ہے۔ امریکہ نے پینٹاگون کے ذریعے اسرائیل کو مزید گولہ بارود فراہم کیا، اور غور کریں کہ وہ کہاں سے لیا گیا تھا؟ یہ امریکی گولہ بارود تھا جو اسرائیل میں پہلے سے ہی موجود تھا، امریکی افواج کے ممکنہ استعمال کے لیے۔ یہ ان کئی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ کس طرح اسرائیل کو بنیادی طور پر امریکہ کا ایک فوجی محاذ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے آپس میں بہت قریبی انٹیلیجنس تعلقات ہیں جو بہت پرانے ہیں، اور بہت سے دیگر رابطے ہیں۔ 

اور میڈیا کا رجحان یہ ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی کو بہت معمولی سوالات کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر عراق پر امریکی حملے کا مسئلہ لے لیں۔ آپ کو امریکی میڈیا میں ’’عراق پر امریکی حملہ‘‘ کی اصطلاح نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک حملہ تھا، جارحیت کا ایک واضح عمل، جس کو نورمبرگ ٹرائلز (جنگِ عظیم دوم کے فاتح ممالک کی پنچایتوں) میں بڑا بین الاقوامی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ 

https://youtu.be/lUQ_0MubbcM

ایران کتنا بڑا خطرہ ہے؟

سوال: سب سے پہلے آپ کی تشریف آوری کا تہہ دل سے شکریہ۔ آپ نے جو کچھ ہم سے شیئر کیا، اسے سن کر میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرا سوال خاص طور پر ایران اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ہے، اور اس بحث کے حوالے سے جو آپ عالمی برادری میں ایران کے بارے میں کر رہے تھے۔ میں یہ بات بخوبی سمجھتی ہوں کہ کوئی ملک اپنی حفاظت کی خاطر، یا عالمی سطح پر سپر پاورز یا ان کے ہم پلہ ممالک کی طرح حیثیت حاصل کرنے کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے یا تیار کرتا ہے، جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ لیکن جب کوئی ملک کھلے عام اسے تیار کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، اور ساتھ ہی کھلے عام کسی دوسرے ملک کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے رہا ہو اور یہ دعویٰ کر رہا ہو کہ فلاں ملک کا وجود ہی نہیں ہونا چاہیے، تو آپ کیا کریں گے؟ میرا مطلب ہے کہ یہ دو بہت بڑے مسائل ہیں جن سے ہم نبرد آزما ہیں، اور مجھے لگا کہ آپ نے اس پر بات نہیں کی تھی، تو میں جاننا چاہتی تھی کہ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔

چومسکی: یہ سچ ہے۔ ان ممالک کا کیا کریں گے جنہوں نے عدمِ پھیلاؤ معاہدے کے دائرہ کار سے باہر پہلے ہی جوہری ہتھیار تیار کر لیے ہیں؟ اور جو روزانہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ یہ کہیں زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔

سوال: یہ ایک مختلف صورتحال ہے کیونکہ وہ ممالک کھلے عام کسی دوسرے ملک کو مٹانے کی دھمکی نہیں دے رہے۔

چومسکی: ایران بھی ایسا نہیں کر رہا۔ بس بیانات پر ایک نظر ڈالیں۔ ان کے بیانات یہ ہیں کہ — یہ تو اصل میں خمینی کے زمانے کی بات ہے، جب اسرائیل-ایران کا اتحاد تھا اور اسرائیل کو تب اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ آپ جانتے ہیں، یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ اسرائیل کا وجود باقی نہیں رہنا چاہیے۔ دراصل میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ حقیقت میں اسرائیل میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو ایک واحد جمہوری ریاست کے حق میں ہیں۔ یہ کسی کو مٹانے کا مطالبہ نہیں ہے۔ ایران نے تو دو ریاستی حل پر عالمی اتفاق رائے کی حمایت کی ہے۔

دراصل صرف دو ایسے ممالک ہیں جو نہ کسی قوم کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے تباہ کر بھی رہے ہیں، یعنی امریکہ اور اسرائیل۔ فلسطینیوں کے بارے میں ان کا یہی موقف ہے، اور وہ صرف یہ کہہ نہیں رہے ہیں۔ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ وہ صرف یہ کہہ نہیں رہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر یہ کر رہے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں جو پالیسیاں ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی ہیں، جن کی ہم حمایت اور مالی امداد کر رہے ہیں، ان کا یہی مطلب ہے۔

تو یقیناً آپ کو کسی دوسری قوم کی تباہی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ دراصل اسرائیل کا جو سرکاری موقف ہے جس کی امریکہ کی حمایت حاصل ہے، اب انہوں نے اسے تھوڑا سا تبدیل کیا ہے، لیکن تقریباً 20 سال پہلے ان کا سرکاری موقف یہ تھا کہ 

’’اردن اور اسرائیل کے درمیان کوئی اضافی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی‘‘۔

یہ میرے اپنے الفاظ نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے اعلان کیا اور امریکہ نے اس کی حمایت کی کہ پہلے ہی ایک فلسطینی ریاست موجود ہے، یعنی اردن۔ اور آپ جانتے ہیں کہ فلسطینیوں کا اعتراض ہے کہ نہیں، نہیں، وہ ہماری ریاست نہیں ہے۔ لیکن فلسطینیوں کی پرواہ کسے ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ وہی (اردن) آپ کی ریاست ہے اور کوئی اضافی نہیں ہو سکتی۔ اور یہ تو کسی دوسرے ملک کو تباہ کرنے کے مطالبے سے کہیں آگے کی بات ہے۔ یعنی یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی آ کر کہے، فرض کریں احمدی نژاد کہتا ہے کہ یہودیوں کو اسرائیل کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی نیویارک ہے۔ ہم تو اسے نازی ازم کی بحالی کہیں گے، مگر یہ امریکہ-اسرائیل کا سرکاری موقف رہا ہے۔ تو بہت کچھ ہے (کہنے کو)۔

اور بھی عقلمند شخص نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، یا کسی اور کے پاس بھی، اور یہ بلاشبہ ایک خوفناک حکومت ہے، اگرچہ اس خطے میں اس سے برے بھی ہیں جو ہمارے اتحادی ہیں، مگر میں اسرائیل کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں، میں دیگر عرب ریاستوں کا حوالہ دے رہا ہوں، سعودی عرب کے مقابلے میں ایران تو شہری حقوق کی جنت لگتا ہے، لیکن یہ برا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ اور اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہے جیسے، مثال کے طور پر، جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی طرف بڑھنا۔ 

لیکن اسٹریٹجک تجزیہ کاروں میں بشمول اسرائیلیوں کے، اس طرح کا کوئی حقیقی سوال نہیں ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے، جو کہ جوہری ہتھیار رکھنے کے مترادف نہیں ہے، وہ اس مقام پر جانا چاہتا ہے جہاں وہ اسے حاصل کر سکے، جیسا کہ زیادہ تر ترقی یافتہ صنعتی دنیا اس پوزیشن میں ہے: جاپان، اٹلی اور اس طرح کے ممالک۔

اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ دراصل اسے اسرائیل کے ایک سرکردہ فوجی تجزیہ کار مارٹن وین کریویلڈ، جو بہت ہی جنگجو مزاج کے حامل ہیں، نے چند سال پہلے بیان کیا تھا۔ عراق پر حملے کے بعد، انہوں نے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے یا نہیں، اور انہیں امید ہے کہ نہیں کر رہا ہے۔ لیکن انہوں نے لکھا کہ اگر وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہے ہیں تو وہ پاگل ہیں۔ یہ ان کے اپنے الفاظ تھے کہ اگر وہ تیار نہیں کر رہے تو وہ پاگل ہیں۔ 

امریکہ نے ابھی اعلان کیا ہے کہ ’’ہم کسی پر بھی حملہ کریں گے جس پر ہمارا دل چاہے گا اور اگر ہم بغیر کسی رکاوٹ کے کر سکے تو آپ پر حملہ کریں گے‘‘۔ تو آپ کے پاس ایک دفاعی رکاوٹ ہونی چاہیے۔ اس لیے شاید وہ ایک دفاعی رکاوٹ تیار کر رہے ہیں۔

کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ کار یہ نہیں سوچتا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے۔ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار اور میزائل ہوتے، جو کہ کوئی بھی عقلمند شخص نہیں چاہتا کہ ان کے پاس ہوں، میرا مطلب ہے کہ اگر وہ میزائل کو لوڈ کرنے کی حد تک بھی پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ملک فوراً‌ تباہ ہو جائے گا، چاہے اس کا کوئی ہلکا سا شک بھی ہو۔ مولوی لوگ شاید بڑے ہی گھناؤنے لوگ ہوں لیکن انہوں نے ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے کہ وہ اپنی ہر قیمتی چیز کو تباہ کرنے اور خودکشی کرنے کے درپے ہیں۔ یہی بات چوری چھپے اوروں تک جوہری ہتھیار پہنچانے والوں کے بارے میں بھی درست ہے۔ اگر اس بات کا کوئی شک بھی ہوتا کہ وہ ایسا کر رہے ہیں تو آپ ایران کو گڈ بائی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے استعمال کے امکانات شاید زمین سے کسی سیارچے کے ٹکرانے کے برابر ہیں یا اس طرح کی کوئی چیز۔ 

یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ درحقیقت اگر آپ اسرائیلی لٹریچر دیکھیں تو وہ اس کے بارے میں کافی سیدھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایرانی جوہری ہتھیار کا اصل خطرہ اسرائیل کے خلاف نہیں ہے، بلکہ صیہونیت کے خلاف ہے۔ وہ جس چیز سے ڈرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر خطہ بہت خطرناک ہو جاتا ہے تو اسرائیل کے لوگ نکل جائیں گے۔ وہ لوگ جن کے پاس استطاعت ہے، زیادہ پڑھے لکھے، امیر وغیرہ، کیونکہ وہ اس خطرے کے ساتھ کسی خطے میں نہیں رہنا چاہیں گے۔ اور درحقیقت پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ طبقوں کی ہجرت ایک کافی سنجیدہ مسئلہ ہے، لہٰذا وہ اس خطرے کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی سنجیدہ اسٹریٹجک تجزیہ کار، کم از کم میں نے کبھی ایسا کوئی نہیں دیکھا، جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ مکمل خودکشی ہے۔

https://youtu.be/jdxxVxtHK2M


اسرائیل ایران جنگ: تاریخی حقائق اور آئندہ خدشات کے تناظر میں

حامد میر

(یوٹیوب چینل Hamid Mir پر ۱۵ جون ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والی انگریزی گفتگو کا ترجمہ ذیلی عنوانات کے اضافہ کے ساتھ۔)


اسرائیلی حملوں پر ایران کے لیے پاکستان کی حمایت

السلام علیکم، میں حامد میر ہوں، مغرب میں بہت سے لوگ مجھے یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت کیوں کر رہی ہے جبکہ ایران نے گزشتہ سال پاکستان پر حملہ کیا تھا؟ تو آج میں اس سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔

اسرائیل-ایران جنگ ان تمام لوگوں کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ علاقائی جنگ بالآخر ہمیں تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اسرائیل نے یہ جنگ ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے کے نام پر شروع کی۔ لیکن اسرائیل کی جوہری صلاحیت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک اسرائیلی وزیر نے گزشتہ سال غزہ پر جوہری بم گرانے کی دھمکی دی تھی؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے وزیر کو معطل کرنے کا اعلان کیا لیکن چند گھنٹوں بعد نیتن یاہو نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی، یا اقوام متحدہ، یا کسی بھی دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے اس اسرائیلی وزیر کی جوہری دھمکی کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ اس منافقت نے اسرائیل کے 13 جون 2025ء کو ایران پر حملہ کی حوصلہ افزائی کی۔ اور ایران کی جوابی میزائل حملوں کے بعد پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، درحقیقت یہ تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مئی 2025ء میں جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو ایرانی حکومت نے پاکستان کی حمایت میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان مسائل کی ایک تاریخ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایران نے 2024ء میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مبینہ طور پر کچھ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ پاکستان نے ایرانی حملے کا فوری جواب دیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ایران میں بھی دہشت گردی کی تربیت گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لیکن ان حملوں کے فوراً بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور کچھ عرصے بعد صورتحال معمول پر آ گئی۔ تو یہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مسئلے کی مختصر تاریخ ہے۔

اب آتے ہیں مئی 2025ء کی طرف جب ہندوستان کے پاکستان پر حملے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، اور انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور پھر انہوں نے ہندوستانی حکام سے بھی رابطہ کیا، لیکن انہیں ہندوستانی میڈیا میں کچھ ایسے لوگوں نے واضح طور پر بدنام کیا جو ہندوستانی حکومت کے بہت قریب ہیں۔ جون 2025ء میں جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے ایران کی حمایت میں ایک بہت واضح موقف اختیار کیا۔ 

تقریباً‌ تمام مسلم ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں

اب صرف پاکستان ہی نہیں ہے، آپ سعودی عرب سے ترکی تک اور الجزائر سے ملائیشیا تک دیکھ سکتے ہیں، تقریباً تمام مسلم ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ مشرق وسطیٰ کے کئی مسلم ممالک کو بھی ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ایران پر اسرائیلی حملے کا جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسرائیل تمام فلسطینی علاقوں، لبنان، شام، عراق اور اردن سمیت مصر کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اپنی سرحدوں کو پھیلانے کے عزائم رکھتا ہے۔ اس منصوبے کا نقشہ بھی دستیاب ہے، اور اس منصوبے کا نام ’’گریٹر اسرائیل پلان‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ اسرائیل کو ترکی اور سعودی عرب کی سرحدوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔ اور یہ نہ صرف پاکستانی حکومت بلکہ بہت سے پاکستانی شہریوں کے لیے بھی انتہائی تشویش کا باعث ہے جن کے ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ بہت گہرے روابط ہیں۔ یہ ’’اکھنڈ بھارت پلان‘‘ سے مختلف نہیں ہے جسے ’’گریٹر انڈیا پلان‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس ہندوستانی منصوبے کا نقشہ بھی دستیاب ہے، اور یہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں لٹکا ہوا ہے۔

ایران کے جوابی میزائیلی حملوں میں اسرائیل کے ’’آئرن ڈوم‘‘ کی ناکامی

حالیہ ایران-اسرائیل جنگ نے اسرائیل کی فوجی طاقت کے پول کھل دیے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اسرائیل ایک بہت مضبوط ملک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے چند گھنٹوں میں ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کو کامیابی سے ہلاک کر دیا کیونکہ ان کا انٹیلی جنس سسٹم بہت مضبوط ہے۔ لیکن ایران کے جوابی میزائل حملے نے اسرائیل کے ’’آئرن ڈوم‘‘ کو توڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پوری دنیا نے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائلوں کی بارش دیکھی، اور اسی طرح آئرن ڈوم کا ہوا ختم ہو گیا، بکھر گیا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تباہی کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ

پاکستان اس صورتحال میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا کیونکہ مئی 2025ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ میں اسرائیل ہندوستان کا واحد کھلا اتحادی تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی بار نیتن یاہو کو اپنا بہترین دوست قرار دیا۔ اور میرا ماننا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ جنگ اسرائیل جیت لیتا ہے تو اس کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا۔ ایسے شواہد دستیاب ہیں کہ اسرائیل نے ہندوستان کی مدد سے ایک سے زیادہ بار پاکستان کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ میرے پاس اس کے ثبوت ہیں، اور بھی کئی لوگوں کے پاس ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے 1979ء میں برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کو ایک خط لکھا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام لیبیا کے کرنل قذافی نے فنڈ کیا تھا، اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لیے ایک خطرہ ہے۔ بیگن پاکستان کے خلاف برطانیہ کو استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ناکام رہے کیونکہ برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے اسرائیل کو بہت حوصلہ شکن جواب دیا۔ اور میرے پاس اس جواب کی کاپی ہے، آپ اسے اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد اسرائیل نے ہندوستان سے رابطہ کیا اور پاکستان کے خلاف خدمات کی پیشکش کی، اور ہندوستانی اسرائیل سے یہ پیشکش ملنے پر بہت خوش تھے۔ ہندوستانی میگزین ’’دی ویک‘‘ نے اسرائیل-ہندوستان کے مشترکہ تعاون، یا پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل-ہندوستان کے منصوبوں کی پوری تاریخ شائع کی۔ یہ چند سال پہلے 2021ء میں شائع ہوا تھا۔

  1. اسرائیل نے 1982ء میں اسلام آباد کے قریب کہوٹہ جوہری تنصیب پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس میں اودھم پور کے ہندوستانی فضائی اڈے کا استعمال کیا جانا تھا جو کہ پاکستانی سرحد کے بہت قریب ہے۔ یہ پہلا منصوبہ تھا۔
  2. دوسرا منصوبہ 1984ء میں بنایا گیا تھا لیکن دونوں بار معلومات پاکستان کو مل گئیں اور منصوبہ پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
  3. تیسری بار پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ 1998ء میں بنایا گیا تھا، پاکستان کے جوہری تجربات سے چند دن پہلے۔ اس وقت نیتن یاہو اسرائیل کے وزیر اعظم تھے اور وہ پاکستان کو جوہری تجربات سے روکنا چاہتے تھے۔ اس بار بھی پاکستان نے ہندوستان اور اسرائیل کو انتہائی سنگین نتائج کی دھمکی دی۔

یہی وجہ تھی کہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے ایک لمبے فاصلے والے میزائل کا منصوبہ شروع کیا، صرف اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے۔ اور اس میزائل پروگرام کا نام ’’غوری3‘‘ تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس لمبی رینج والے میزائل کا منصوبہ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں کہا کہ ’’آپ اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کا جوہری پروگرام صرف ہندوستان کے لیے مخصوص ہے‘‘۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جب وہ زندہ تھے، انہوں نے خود مجھے اپنی اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان اس گفتگو کی تفصیلات بتائیں۔ اور انہوں نے اپنے کچھ انٹرویوز میں بھی اس گفتگو کی تفصیلات بتائیں جو کچھ غیر ملکی میگزینوں اور کچھ پاکستانی اخبارات میں شائع ہوئے تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے درحقیقت اسرائیل سے بات چیت کا راستہ اختیار کیا اور انہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن اسرائیل نے پاکستان کے خلاف سازشیں کبھی نہیں روکیں۔ میں آپ کو ان سازشوں کے بارے میں بہت سی تفصیلات بتا سکتا ہوں۔

بانیانِ پاکستان کے ساتھ مفتئ اعظم فلسطین امین الحسینی کے روابط

یہ ایک بہت اہم سوال ہے کہ ایران نے پاکستان پر حملہ کیا لیکن اسرائیل نے پاکستان پر کبھی حملہ نہیں کیا، جبکہ میں آپ کو پاکستان پر حملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبوں کے بارے میں تفصیلات بتا رہا ہوں۔ ایران اور ترکی نے 1948ء میں اس کے قیام کے فوراً بعد اسرائیل کو تسلیم کر لیا، لیکن پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک کے رہنما فلسطین کے مفتی اعظم مفتی امین الحسینی کے پاکستان کے بانیوں، خاص طور پر ڈاکٹر محمد اقبال جو پاکستان کے قومی شاعر ہیں، اور قائد اعظم محمد علی جناح جو پاکستان کے بانی ہیں، کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ مفتی امین الحسینی کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی طاقتوں نے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد قرار دیا تھا، لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے کھلے عام ان کی حمایت کی اور برطانیہ اور امریکہ کو اہمیت نہ دی۔

یہاں میں آپ کو ایک کتاب دکھانا چاہوں گا جس کا نام ’’بردرن ان فیتھ‘‘ ہے۔ اور آپ کتاب کے سرورق پر بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو مفتی امین الحسینی کے ساتھ بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم تصویر ہے۔ یہ آپ کو فلسطین اور پاکستانی رہنماؤں کے درمیان قریبی روابط کی تاریخ دے سکتی ہے۔ اور اس کتاب میں تفصیل موجود ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ، جس نے درحقیقت تحریکِ پاکستان شروع کی تھی، نے ہمیشہ تحریکِ فلسطین کی حمایت کیسے کی۔ اور یہاں تک کہ جب 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں ایک قرارداد (پاکستان) منظور کی گئی تو آل انڈیا مسلم لیگ نے فلسطینی جدوجہد کی حمایت کی۔ تو یہی ایک وجہ تھی کہ پاکستان نے 1948ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان کا کردار

پاکستان نے 1967ء اور 1973ء کی جنگ میں اسرائیل کے خلاف عربوں کی حمایت کی۔ یہ بہت اہم ہے۔ مغرب میں بہت کم لوگ اور بین الاقوامی میڈیا میں بہت کم لوگ اس تاریخ سے واقف ہیں۔ پاکستان ایئر فورس کے پائلٹوں نے 1967ء اور 1973ء کی عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگوں میں اسرائیلی جنگی طیاروں کو تباہ کیا۔

ایک بار پھر پاکستان نے 1974ء میں لاہور میں او آئی سی سربراہانِ مملکت کانفرنس میں فلسطینی جدوجہد کی کھلے عام حمایت کی۔ یہ ایک بہت مشہور کانفرنس ہے، اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات، جو پی ایل او کے سربراہ تھے، کو پہلی بار سربراہ مملکت کا درجہ دیا گیا۔ اس واقعہ نے نہ صرف اسرائیل بلکہ مغرب میں بھی بہت سے لوگوں کو پریشان کیا کیونکہ وہ یاسر عرفات کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔

اسرائیل کے ساتھ ایران کی کشیدگی کا آغاز

پھر آتے ہیں 1979ء کی طرف جب ایران کا اسلامی انقلاب اسرائیل کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا کیونکہ اس انقلاب سے پہلے ایران اسرائیل کے بہت قریب تھا۔ ایران نے تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ بند کر دیا، اور ایک بار پھر پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات انقلاب کے بعد 1979ء میں ایران کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما تھے۔

پھر آتے ہیں 1982 کی طرف جب یہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر حملہ کیا اور یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تنازعہ کا آغاز تھا، کیونکہ ایران لبنان کے شیعہ کی حمایت کر رہا تھا، اور اسی طرح حزب اللہ کو بنایا گیا، اور ایران نے کھلے عام حزب اللہ کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کی ہے، اور اب یہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے درمیان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا مشترکہ موقف ہے۔ یہ اب مذہبی مسئلہ نہیں ہے۔ اور غزہ میں جنگ اور فلسطینیوں کی حالت ایک انسانی مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اسرائیل اور ہندوستان کی جاسوسی سرگرمیاں

اسرائیل بہت عرصے سے پاکستان کے خلاف ہندوستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی کئی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی عسکریت پسندوں کو بھرتی کرنے کے لیے سی آئی اے کے روپ میں کام کیا۔ موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را نے مشترکہ طور پر پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کا اہتمام کیا۔ شواہد دستیاب ہیں۔ یہ بھی حیرانگی کی بات ہے کہ اسرائیل پاکستان میں کچھ انسانی اسمگلروں کا استعمال کرتا ہے اور اسرائیل میں بے روزگار پاکستانی شہریوں کو نوکریاں فراہم کرتا ہے۔ انہیں نوکریاں دینے کے بعد، اسرائیلی انٹیلی جنس انہیں اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور ان میں سے کچھ کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا، ان میں سے کچھ کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا۔

پسند کریں یا نہ کریں، اسرائیل ہندوستان کی مدد سے پاکستان میں یقینی طور پر ایک جاسوسی نیٹ ورک چلا رہا ہے، اور ان کا حتمی ہدف پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا ہے، جس کی انہوں نے ماضی میں کئی بار منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ ناکام رہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ ان تمام عرب ممالک کے لیے بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے جو کہ اسرائیل کا ہدف ہیں۔ گریٹر اسرائیل پلان بین الاقوامی امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔

اسرائیلی جرائم سے عالمی قوتوں کی چشم پوشی

سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 13 جون کو اسرائیلی حملے سے چند گھنٹے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر اعتراضات اٹھائے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اسرائیل کے جوہری پروگرام پر اس قسم کے اعتراضات کبھی کیوں نہیں کیے؟ یہ ایک بہت ہی درست سوال ہے۔ ایران نے ہمیشہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اسرائیل کے درمیان اس پراسرار تعلق پر اعتراض کیا ہے۔ یہ منافقت بھی بین الاقوامی امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اگر ایک اسرائیلی وزیر فلسطینیوں کے خلاف جوہری بم استعمال کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے، تو اسرائیل ایران کے خلاف جوہری بم استعمال کرنے کا بھی سوچ سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ نیتن یاہو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ منافقت کی پیداوار ہیں۔

اور یہاں میں آپ کو ایک اور کتاب دکھاؤں گا۔ یہ کتاب جو امریکیوں نے لکھی اور شائع کی ہے، اس کا عنوان ’’دی اسرائیل لابی‘‘ ہے۔ اور یہ کتاب کہتی ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت درحقیقت اسرائیلی لابی کی یرغمال کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔ لہٰذا یہ کتاب بہت اہم ہے جو یہ ثابت کر سکتی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور بین الاقوامی اداروں کی منافقت نے اسرائیل کو پوری دنیا میں اپنی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جاری رکھنے کی اجازت دی۔

اس کے علاوہ ایک اور ثبوت ہے۔ ایک اسرائیلی مصنف اور صحافی رونان برگمین، انہوں نے ایک کتاب لکھی ’’رائز اینڈ کِل: دی سیکرٹ ہسٹری آف اسرائیلز ٹارگٹ اسیسینیشنز‘‘۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوری دنیا میں قتل کے منصوبے بنائے۔ یہ کتاب اسرائیل کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ، یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی ایجنسیوں، یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کتاب پر کبھی کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔ یہ ایک ثبوت ہے۔

یہ منافقت ہندوستان کو دوبارہ پاکستان پر حملہ کرنے کا حوصلہ بھی دے سکتی ہے۔ لیکن اس صورت میں پاکستانی ردعمل مودی اور نیتن یاہو کے تصور سے باہر ہوگا، لہٰذا انہیں پاکستان پر حملہ کرنے کی یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

اور اب مجھے امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ پاکستانیوں کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت کیوں کر رہی ہے۔ بہت شکریہ۔

https://youtu.be/Z3a448l06BU


اسرائیل کا ایران پر حملہ اور پاکستان کے لیے ممکنہ خطرہ

خورشید محمود قصوری

علی طارق

(یوٹیوب چینل Capital TV پر ۱۴ جون ۲۰۲۵ء کو نشر ہونے والے انٹرویو کی تسہیل)

علی طارق: السلام علیکم ناظرین، میں ہوں آپ کا میزبان علی طارق اور آپ دیکھ رہے ہیں کیپیٹل ٹی وی۔ ہمارے ساتھ اس وقت سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری صاحب موجود ہیں ۔ قصوری صاحب، سب سے پہلے تو قیمتی وقت دینے کے لیے آپ کا شکریہ ۔ سر، ایران اور اسرائیل کی جنگ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اوپر بڑی چڑھائی کی ہے اور اس کے بعد ایران نے بھی جواب دیا ہے۔  آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کی یہ جنگ کہاں جا رہی ہے، کیا تیسری جنگ عظیم کے حوالے سے جو باتیں چل رہی تھیں، اس جنگ سے اس طرح کا کوئی خدشہ تو نہیں کہ عالمی جنگ شروع ہو جائے؟ 

خورشید محمود قصوری: دنیا میں اب تک جو عالمی جنگیں ہوئی ہیں، پہلی جنگِ عظیم اور دوسری جنگِ عظیم، ان کے  حالات مختلف تھے، جب ایک فوج جیتتی تھی اور دوسری فوج ہارتی تھی  جسے ہتھیار ڈالنے پڑتے تھے، وہ زمانہ چلا گیا ہے۔ اب ایٹمی طاقتیں آ گئی ہیں، اب مکمل فتح ہو ہی نہیں سکتی، جیسے  آپ نے انڈیا پاکستان کی لڑائی میں دیکھا۔ لیکن  جنگیں نقصان پہنچا سکتی ہیں، دنیا کی آبادی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر جو ترقی پذیر ممالک ہیں افریقہ کے، ایشیا کے، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا وغیرہ، ان کو بہت نقصان پہنچائیں گی۔ جنگ کا معیشت کو بہت نقصان ہوتا ہے، تیل کی قیمت میں ایک ڈالر بڑھنے سے یہاں غریبوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی مثال لی جائے تو ہماری بڑی آمدن ترسیلاتِ زر کی صورت میں آتی ہے جو ہماری برآمدات سے بھی زیادہ ہے۔ بہرحال جنگ کے بارے میں فیصلہ ایران نے کرنا ہے یا امریکہ اور اسرائیل نے کرنا ہے۔ 

مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ اسرائیل نے یہ سوچا کہ موقع اچھا ہے کیونکہ اس نے ایران کے اتحادیوں کو کمزور کر دیا ہے، فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ اور اسی طرح عراق اور شام میں، البتہ یمن میں حوثی ابھی تک متحرک ہیں۔ اسرائیل شروع سے کہہ رہا تھا کہ ہم ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے کیونکہ وہ دنیا کو تباہ کر دے گا۔ حالانکہ اسرائیل خود جو دنیا کو تباہ کرنے کے درپے ہے وہ الگ بات ہے۔ 

علی طارق:آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت واقعی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت موجود ہے؟ کیا آنے والے دنوں میں وہ اس کا تجربہ کر سکتے ہیں؟ 

خورشید محمود قصوری: ایران کا کہنا یہ تھا کہ ہم مذہبی طور پر اسے درست نہیں سمجھتے کیونکہ ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا کہ جنگ ہو تو سب مارے جائیں، قصوروار بھی اور بے قصور بھی۔ ان کا کہنا تو یہی تھا لیکن جس طرح ان پر پریشر ڈالا جا رہا تھا امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے، تو ظاہر ہے ایران میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں گے، ایک فطری سی بات ہے، جن کا خیال ہو گا کہ ان سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم ایٹمی قوت بن جائیں۔

ویسے ہمیں ان کے الفاظ پر یقین کرنے  کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)  جس کا ہیڈکوارٹر ویانا (آسٹریا) میں ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ دنیا میں جہاں بھی اس قسم کی تنصیبات ہوں وہ ان کا معائنہ کرے۔ ابھی تک وہ ایران کے حق میں رپورٹس دے رہے تھے کہ ان کے پاس ایسی صلاحیت نہیں ہے،  وہ یورینیم کی اس حد تک افزودگی نہیں کر رہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو آخری رپورٹ آئی ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ مجھے اس کی تفصیل کا نہیں پتہ لیکن اسرائیل تو فیصلہ کیے بیٹھا تھا کہ اسے موقع ملے، اور اسے دو تین موقعے مل گئے۔ 

پہلے اس نے ایران کے اتحادیوں کو نقصان پہنچایا۔ غزہ کی جنگ آپ کے سامنے ہے۔ پھر لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ شام میں بھی حکومت تبدیل ہوئی۔ اس سب کا نقصان ایران کو ہوا ہے۔ اس کے بعد اسرائیل یہ چاہ رہا تھا کہ اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا کہ ایران کو بھی حملہ کر کے فارغ کر دیا جائے اور ان کی ایٹمی صلاحیت کو اگر ختم نہیں تو اس قدر مفلوج کر دیا جائے کہ وہ پندرہ بیس سال پیچھے چلے جائیں۔ 

یہ وہ وقت تھا جب امریکہ عمان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا تاکہ ایک پر اَمن ایٹمی معاہدہ ہو جائے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو یہ بات بالکل پسند نہیں آ رہی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر ان کا سمجھوتہ ہو گیا تو وہ یہی ہو گا کہ یورینیم کی افزودگی کم کریں، لیکن ایران اسے چھوڑے گا تو نہیں۔ تو جب ٹرمپ نے بات شروع کی تو اسرائیل کو اور بھی خطرہ ہوا۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ ملی بھگت ہے، مجھے نہیں پتہ کہ ایسا ہے یا نہیں،  لیکن یہ چیز چھپی نہیں رہے گی۔

علی طارق: آنے والے دنوں میں سامنے آجائے گی۔ 

خورشید محمود قصوری:  ملی بھگت ہے یا نہیں ہے، اس کا نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایران کے پاس ہار ماننے کا آپشن نہیں ہے، کیونکہ اسرائیل تو ایرانی حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے تو ایرانی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ’’ہم آپ کے مخالف نہیں آپ کے دشمن نہیں، ہم تو اس حکومت کے خلاف ہیں اور آپ کو آزادی چلانا چاہتے ہیں‘‘۔  یہ کیا خاک آزادی دلائیں گے لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ ایک چیز انہوں نے صاف کر دی ہے کہ وہ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔  تو کیا ایران کی حکومت، جو اسلامی انقلاب کے بعد بنی ہے، وہ یہ بات مانے گی اور ہتھیار ڈال دے گی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

اگر ان کے پاس ایسے ہتھیار نہیں بھی ہوں گے جو امریکہ کا مقابلہ کر سکے، پھر بھی وہ ایسے حربے استعمال کرے گا جس میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کو نقصان ہو۔ وہ امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا، امریکی اتحادیوں پر حملہ کرے گا، اگر بات نہ بنی تو ہرموز کی گزرگاہ بند کر دے گا جہاں سے دنیا کے اکیس فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اس سے خاص طور پر ہمارے جیسے ملکوں میں بڑی تباہی آئے گی، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ۔ کیونکہ ہمارے لیے ترسیلاتِ زر کا مسئلہ بھی بنے گا اور تیل کا بھی۔ تیل کی قیمت میں ایک ڈالر بھی بڑھ جائے تو یہاں مصیبت پڑ جاتی ہے …… ایران نہیں مانے گا،اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ عرب ملکوں میں بھی ایک تبدیلی آئی ہے، پہلے وہ سمجھتے تھے کہ ایران ان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ 

علی طارق: سر، میں یہی سوال کرنے والا تھا کہ سعودی عرب کا اس بار جو ردعمل ہے وہ کیوں تبدیل ہوا ہے؟ 

خورشید محمود قصوری:  اب تبدیل ہوا ہے، جب میں وزیر خارجہ تھا تو میرا ان کے ساتھ رابطہ تھا، وہ کہتے تھے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، انہیں سمجھاؤ کہ ہمارے معاملات میں دخل نہ دیں۔ میں پوچھتا تھا کہ تمہارے کون سے معاملات ہیں؟ (عرب چاہتے تھے) کہ فلسطین، شام، عراق وغیرہ میں ایران دخل نہ دے کہ یہ عرب ممالک ہیں۔ لیکن خیر، ایران کی اپنی سوچ تھی، انقلاب کے بعد وہ چاہتا تھا کہ خطے میں تبدیلی آئے، اس لیے وہ ان لوگوں کو سپورٹ کر رہا تھا ۔

اب اسرائیل کا جو بدمست ہاتھی ہے، اسے مغربی دنیا سے جتنی سپورٹ ملی ہے، جتنی اس کے پاس ایڈوانس ٹیکنالوجی ہے، اگر امریکہ کی ٹیکنالوجی اسرائیل کے پیچھے ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اس حوالے سے بالادستی حاصل ہے۔  ایران نے بھی کچھ کامیابی حاصل کی ہے، اس نے اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم کو کسی حد تک ناکام بھی کیا ہے۔ یہ واضح طور پر بعد میں پتہ چلے گا کیونکہ جنگ کی دھند میں سچ اور جھوٹ کا پتہ نہیں چلتا۔ لیکن بہرحال ایران نے نقصان پہنچایا ہے اور ان کے میزائل اسرائیل میں گرے ہیں۔  میرا کہنا یہ ہے کہ ایران ہر وہ کام کرے گا جس میں اس کی شکست نہ ہو، یہ ایک فطری بات ہے، اور وہ چاہے گا کہ جنگ اس طریقے سے پھیلے کہ اس خطے میں اسرائیل اور اس کے جتنے بھی اتحادی ہیں امریکہ وغیرہ ، ان کو نقصان پہنچے۔ 

علی طارق: قصوری صاحب! اسرائیل نے جب حملہ کیا، نیویارک ٹائمز میں بھی آگیا تھا، اور ایران نے جنگ چھیڑی ہوئی تھی، تو کیا یہ ایران کی ناکامی نہیں کہ ان کی اعلیٰ  قیادت کو انہوں نے مار دیا، اور یہ لوگ بیٹھے رہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ایجنسیز کی ناکامی ہے۔ 

خورشید محمود قصوری: بڑے افسوس کی بات ہے، ایران ہمارا برادر ملک ہے، ہر ایک کو سمجھ آ رہی تھی کہ اسرائیل حملہ کرے گا، نیویارک ٹائمز میں سٹوری شائع ہو چکی تھی، امریکی صدر نے کہا تھا کہ سفارتکاروں کے غیر ضروری اہل خانہ نکل جائیں۔ جب ساری دنیا کو یہ بات نظر آ رہی تھی تو آپ کو کیوں نظر نہیں آیا۔ آپ کو گھروں میں نہیں بلکہ بنکروں میں ہونا چاہیے تھا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ اسرائیل حملہ کرے گا۔ ماضی میں اس نے کئی سائنسدان چن چن کر مارے ہیں، اس نے ان کے جرنیل مارے ہیں، جب جنگ ہو رہی ہے تو وہ کیوں نہیں مارے گا۔  اس پر مجھے افسوس کا اظہار کرنا پڑتا ہے، یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا۔  لگ یہ رہا ہے کہ …

علی طارق: کیا کوئی غداری کا معاملہ تھا، سر، آپ کو لگتا ہے کہ ایران کے اپنے لوگوں میں کچھ ایسے تھے جو …؟

خورشید محمود قصوری:  یہ تو بالکل ہے، ایران سے ان کو انٹیلی جنس تو مل رہی ہے، اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے۔ سوال ایران کی حکومت کا ہے، ایران کی فوج کا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کیوں تھے، ان کو جب جنگ صاف نظر آ رہی تھی تو انہیں اپنے گھروں میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسرائیل کا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے،  وہ جرنیلوں کو بھی مارتا ہے، سائنسدانوں کو بھی مارتا ہے۔ یہ میری سمجھ سے بالا ہے، یہ آہستہ آہستہ کہانی سامنے آئے گی۔  مجھے جو نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی اس غلط فہمی میں تھے اسرائیل حملہ نہیں کرے گا کیونکہ صدر ٹرمپ سے بات چیت ہو رہی تھی اور عمان میں مذاکرات چل رہے تھے۔

علی طارق: آپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دھوکے میں مارے گئے ہیں؟

خورشید محمود قصوری: دھوکہ ہے یا غلط فہمی ہے۔ دھوکہ اس طرح کہ اگر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملی بھگت تھی تو دھوکہ ہے۔ اور غلط فہمی یہ کہ ٹرمپ اور وہ پہلے اکٹھے نہیں تھے لیکن ٹرمپ بعد میں شامل ہو گیا کیونکہ اس کو نظر آ رہا تھا کہ امریکہ میں اسرائیلی لابی ایران پر حملے کے بعد بہت خوش ہے، تو ٹرمپ بھی ان کو خوش کرنا چاہ رہا ہے۔ لیکن بہرحال اس کے نتائج ہوں گے۔ 

علی طارق: سر، ایسا ہو سکتا ہے کہ امریکہ کی بات اسرائیل نہ مانے،  ڈونلڈ ٹرمپ کی بات نیتن یاہو نہ مانے، آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے؟ 

خورشید محمود قصوری: ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بھی ان کی بات نہیں مانتے تھے جب ہم امریکہ کے اتحادی تھے۔ حالانکہ لوگ کہتے تھے کہ امریکہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ عراق کی جنگ کے دوران پاکستان سکیورٹی کونسل کا ممبر تھا، میں نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی، امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ آپ عراق پر حملے کے معاملے میں ہماری حمایت کریں گے۔ ہم نے انہیں سپورٹ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں وہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد منظور کروانے میں ناکام ہو گئے۔  کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان کا بنیادی مقصد ہی تباہ ہو جائے گا۔ ہم افغانستان میں پہلے ہی مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں، اوپر سے عراق میں بھی شامل ہو جائیں۔  اس لیے یہ ممکن ہے کہ نیتن یاہو امریکہ کی بات نہ مانے، کیونکہ اس کے لیے یہ زندگی موت کا معاملہ ہے، وہ یا جیل جائے گا یا وزیر اعظم رہے گا، اس پر کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں، تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ جنگ پھیلتی جائے اور کام لمبا ہوتا جائے۔ 

علی طارق: یہ بتائیے کہ ابھی سوشل میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے اور بہت سے تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کا جو ایران پر حملہ ہے، اس کے بعد یہ معاملہ پاکستان تک بھی آ سکتا ہے؟ اس کے اوپر آپ کا کیا تجزیہ ہے، کیا اسرائیل پاکستان پر حملے کی غلطی کرے گا، یا وہ انڈیا کے ذریعے سے آئے گا؟

خورشید محمود قصوری: میں یہ بتا دوں کہ مجھے تب سے اس کا تجربہ ہے جب میں وزیر خارجہ نہیں بھی تھا۔ اسرائیل اور ہندوستان کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف گٹھ جوڑ پرانی بات ہے۔ اب تو دس دس بندے جا رہے ہیں، میں اکیلا پانچ ملکوں میں گیا تھا: روس،  جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپی یونین۔  1998ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو میں پیرس میں تھا۔ میری میٹنگ طے تھی فرانس کے سیکرٹری جنرل آف فارن افیئرز کے ساتھ، وہ مجھ سے ملنے میرے ہوٹل میں آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ ہماری رپورٹس دیکھ لیں، اسرائیل اور ہندوستان کہوٹہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔  میں نے بتایا کہ ہمارے ایف 16 باری باری ہر وقت فضا میں موجود رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ P5 (سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران) کو بتا دیں، اگر انہوں نے حملہ کیا تو ہمارے جہاز اسی وقت ممبئی کے قریب ٹرامبے  میں ہندوستان کے ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کر کے اسے اڑا دیں گے۔ 

اس لیے یہ اسرائیل اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ لیکن یہ ہمارے مفاد میں تو نہیں ہے نا کہ اسرائیل بڑھتا ہی چلا جائے۔ ابھی پاکستان اور ہندوستان کی حالیہ جنگ میں بھی اسرائیل نے ان کی پوری مدد کی، لیکن پاکستان اس اسٹیج پر پہنچا ہوا ہے، ایک تو ہم ایٹمی طاقت ہیں الحمد للہ، اور دوسرا روایتی ہتھیاروں میں بھی ہم نے بالادستی دکھائی ہے۔ 1965ء میں تو پاکستان ایئرفورس کو چھ دن لگے تھے جس میں انہوں نے فضائی برتری حاصل کی تھی، اس دفعہ تو پینتیس منٹ میں ہمیں برتری مل گئی تھی، انہوں نے حملہ کیا اور پینتیس منٹ میں ان کے جہاز فارغ ہو گئے، ان کا ریڈار جام کر دیا گیا۔ 

اب تو ہندوستان کے دفاعی تجزیہ کار خود کہہ رہے ہیں کہ مودی نے کیا سوچ کر یہ کیا۔ اس سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ جنگ چھیڑنا آسان ہے،  لیکن جنگ ختم کرنا الگ تو بات ہے  جنگ کا نتیجہ نہیں بتایا جا سکتا۔ مودی کا خیال تھا کہ الیکشن ہو رہے ہیں، میں حملہ کروں گا اور کہوں گا کہ کہ میں نے دہشت گردوں کے اڈے تباہ کر دیے ہیں ۔ یہ بکواس تھی کیونکہ انہوں نے عمارتیں اڑائی تھیں،ہم انڈیا کی کوئی بھی عمارت اڑا سکتے ہیں اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ بلکہ عمارتوں کو تباہ کرنے سے تو گریز کیا جاتا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہوں۔ لیکن اس نے  ووٹ لینے کی خاطر ایسا کیا ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان تنہا ہوا، اور بری طرح سے مار بھی کھائی۔  اس لیے اسرائیل نے یہ کیا سوچ کر کیا ہے، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، اگر وہ مودی سے مشورہ لے تو اسے سمجھانا چاہیے کہ میں نے غلطی کی تھی پاکستان پر حملہ کر کے۔ 

علی طارق: تو آپ نے بھی غلطی کی ہے ایران پر حملہ کر کے؟

خورشید محمود قصوری: آپ نے بھی غلطی کی ہے، اس کو سمیٹ لیں۔ 

علی طارق: اچھا سر،  آپ وزیر خارجہ رہے ہیں تو آپ کو نیتن یاہو کی نفسیات کیسی لگتی ہے، خبریں آ رہی ہیں کہ وہ ملک سے فرار ہو گیا ہے اور کہیں بنکر میں چھپ گیا ہے، کیا سائیکی ہے اسرائیل کے وزیر اعظم کی؟

خورشید محمود قصوری: اس کی فکر جیل سے بچنے کی ہے، اسی لیے اس نے اپنی جوڈیشری پر  حملہ کیا، اسی لیے اسرائیل میں اس کے خلاف اتنے بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے تھے۔ اور اس کو یہ پتہ ہے کہ اسرائیل اس لیے بنا تھا مبینہ طور پر کہ دنیا کے یہودی یہاں آ کر آباد ہوں گے۔ جبکہ یہودی تو ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، خاص طور پر نوجوان، اور امریکہ سے جو اسرائیل آ رہے تھے وہ بھی  نہیں آ رہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ نوجوان یہودیوں نے امریکی یونیورسٹیوں میں اس کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے ہماری زندگی حرام کر دی ہے، اس کی وجہ سے یہودیوں کے خلاف ساری دنیا میں نفرت پیدا ہو گئی ہے۔ 

اس لیے اسرائیلی وزیر اعظم کو تو ہر طرف سے خطرہ  ہی خطرہ ہے۔  اس کو اپنی فوج سے بھی خطرہ ہے،اس کے کئی فوجی استعفے دے کر چلے گئے ہیں،  ایئرفورس آفیسرز نے استعفے دیے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم غزہ میں حملہ نہیں کریں گے کیونکہ جو کچھ تم کر رہے ہو یہ جنگی جرائم ہیں۔  ان کے ایک سابق وزیر اعظم ایہود آلمرٹ نے کہا ہے کہ وہ جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ تو اسرائیل میں یہ اختلاف ہے۔ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے ہر کام کر ےگا۔ 

علی طارق: سر، امریکہ کو آپ کہاں ریٹ کرتے ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا جو ٹویٹ آیا کہ ہم نے ایران کو چانس دیا۔ اس کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں کہ ایک طرف ان کے سیکرٹریز کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، دوسری طرف ٹرمپ صاحب کا یہ ٹویٹ آیا ہے۔ 

خورشید محمود قصوری: دنیا میں اس نوعیت کے مسائل عموماً‌ بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ نہ ہو اور وہ معاہدہ کر لے،لیکن یہ معاہدہ ہم اپنی شرائط پر کریں۔ اور ایران بھی چاہتا تھا کہ امریکہ سے یہ معاہدہ ہو جائے کیونکہ ایران پر بڑی اقتصادی پابندیاں لگی ہوئی ہیں اور وہاں کے عوام مصیبت میں ہیں۔ خبریں آ رہی تھیں کہ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں۔ اب اس صورتحال میں نیتن یاہو کو موت نظر آ رہی تھی کہ اگر یہ معاہدہ ہو گیا تو مارے جائیں گے۔ 

ایک تو بات چیت کے آنے والے راؤنڈ سے پہلے پریشر ڈالنے کے لیے جو کچھ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران مان نہیں رہا، اور اس طرح کی باتیں۔ تو نیتن یاہو نے دو چیزوں سے فائدہ اٹھایا۔ ایک تو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ سے، اور دوسرا صدر ٹرمپ نے جو کہا کہ ایران نہیں مان رہا۔ تو اگر نیتن یاہو نے یہ ٹرمپ کی مرضی کے بغیر کیا ہے تو ایک چیز نوٹ کر لیں کہ امریکہ کی جو ریپبلکن پارٹی ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ہے، یہ الیکشن کیسے جیتی تھی؟ یہ ووٹروں کو کہہ رہی تھی کہ پچھلی حکومتیں جنگوں میں جھونکتی رہی ہیں، ہمارا پیسہ خرچ کرتی رہی ہیں، یہاں کی ٹیکنالوجی اور صنعت باہر جا رہی ہے، دنیا امیر ہو رہی ہے، ہم غریب ہو رہے ہیں۔ یہ اس کا نعرہ تھا اور اسی پر اس کو ووٹ پڑے تھے۔ اس لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایران سے اپنی شرائط پر معاہدہ ہو جائے۔ معاہدے کے لیے دونوں طرف سے کوشش تھی۔  اسرائیل نے موقع کا فائدہ اٹھایا ہے لیکن آپ دیکھیں گے کہ اگر یہ جنگ پھیلی تو ٹرمپ کی پارٹی کو بھی امریکہ میں نقصان ہو گا اور یہ بات آپ کو آنے والے الیکشن میں نظر آجائے گی۔ 

علی طارق: آنے والے دنوں میں آپ کو  جنگ رکتی دکھائی دے رہی ہے یا آپ کو لگتا ہے کہ یہ مزید پھیلے گی؟  کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ دونوں طرف کے حمایتی درمیان میں کود پڑیں گے اور معاملہ لمبا ہو جائے گا؟ 

خورشید محمود قصوری: ولیم شیکسپیئر جو بہت بڑے مفکر ہیں، انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا 

Mischief thou art afoot, take thou what course thou wilt!

یعنی یہ تم نے جب شروع کر ہی دیا ہے تو یہ جو فتنہ ہے یہ اپنا  راستہ خود ڈھونڈے گا، یہ تمہارے کہنے پہ نہیں چلے گا۔ یہ فتنہ جو چل پڑا ہے وہ کبھی اِدھر جائے گا کبھی اُدھر جائے گا اور کسی کو پتہ نہیں کہ کدھر جائے گا۔ اس  نے یہ بڑا سوچ سمجھ کر کہا تھا کہ جنگ شروع کرنی تو آسان ہوتی ہے۔ جیسے مودی نے شروع کی تھی لیکن ولیم شیکسپیئر کی اصطلاح میں اس کا نتیجہ مودی کو نہیں پتہ تھا، پھر اس نے اپنی راہ بنائی اور اس کا بیڑا غرق بھی کر دیا  کہ بین الاقوامی سطح پر تنہا ہوا اور ان کی فوج کو بھی بڑی ہزیمت اٹھانی پڑی۔ 

علی طارق: پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت تو کی ہے لیکن اسلامی ممالک پر جو بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے کہ ایک ایران ہی بس یہودیوں کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، پھر سعودیہ میں جو اس حوالے سے تبدیلی آئی ہے، اور پاکستان کا اس وقت جو موقف ہے، یہ سب آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟ 

خورشید احمد قصوری: اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ اسلامی دنیا میں چھ ممالک ایسے ہیں جو امریکہ پر کچھ اثر انداز ہو سکتے ہیں:

تین  عرب ممالک ہیں جو گلف کے ہیں، جن کی پاس بے تنہا دولت ہے اور جو امریکہ سے ٹیکنالوجی بھی خرید رہے ہیں اور ہتھیار بھی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر۔ اور تین ممالک ایسے ہیں جو تاریخی طور پر امریکہ کے اتحادی رہے ہیں۔ ایک پاکستان ہے جو بغداد پیکٹ، سینٹو ، سیٹو اور ہر قسم کے معاہدوں میں رہا ہے۔ ابھی بھی فیلڈ مارشل مارشل عاصم منیر کو بلایا گیا ہے امریکہ کی دو سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر۔ دوسرا ترکی ہے جو ابھی بھی نیٹو کا ممبر ہے۔ اور تیسرا انڈونیشیا ہے جو اسلامی دنیا کا سب سے بڑا  ملک ہے، اس کے بھی مغرب سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ 

میں سمجھتا ہوں کہ سب کو مجموعی طور پر کوشش کرنی چاہیے کہ صدر ٹرمپ کو، مغربی دنیا کو اور یورپ کو سمجھائیں کہ یہ معاملہ جتنا طول پکڑے گا  تو اس علاقہ میں امریکہ کے مفادات کا بھی نقصان ہو گا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا بھی نقصان ہو گا۔  عوام کا جذبہ ایران کے ساتھ ہے، اس معاملے کو لمبا نہ ہونے دیں۔ ہمیں  سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، میں اگر وزیرخارجہ ہوتا تو یہی کرتا جو میں ابھی آپ کو کہہ رہا ہوں۔ 

علی طارق: آخر میں ایک بات ذرا واضح کر دیں کہ آپ کے دور میں یہ معاملہ ہوا تھا کہ اسرائیل اور ہندوستان مل کر کہوٹہ پر حملہ کرنا چاہ رہے تھے۔ کیا اب ایران کے بعد اسرائیل پاکستان پر حملہ کرنے کا  سوچ سکتا ہے، آنے والے دنوں میں یا مستقبل میں وہ ایسی غلطی کرے گا؟ 

خورشید محمود قصوری: دنیا کا ایک ملک ایسا ہے جس سے اسرائیل گھبراتا ہے۔ یہ مجھے اس لیے پتہ ہے کہ جب میں وزیر خارجہ تھا کہ تو ترکی کے صدر اردگان نے میری اور اسرائیل کے نائب وزیر اعظم کی استنبول میں میٹنگ کرائی تھی۔ لب لباب اس لمبی کہانی کا یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا ایٹمی پروگرام صرف ہندوستان کے حوالے سے ہے، اس کا ہندوستان کے سوا کسی کو خطرہ نہیں ہے۔ اور ہم دنیا کو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے میزائلوں کی رینج Andaman جزیروں تک ہے، جو ہندوستان کا حصہ ہیں لیکن ایسی جگہ پر ہیں جہاں سے چین کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ ان جزیروں کا فاصلہ اسرائیل سے زیادہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کو یہ بات پتہ ہے وہ ہماری رینج کی زد میں ہے۔  تو جب میری ملاقات اسرائیل کے نائب وزیر اعظم سے ہوئی تو اسرائیلی اخباروں نے کہا تھا 

Foreign Minister of Islamic Super Power Pakistan Meets Israeli Deputy Prime Minister
’’اسلامی سپر  پاور پاکستان کے وزیرخارجہ کی اسرائیلی نائب وزیراعظم سے ملاقات‘‘

تو ان کو پتہ ہے کہ یہاں پنگا نہ لیں تو اچھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1973ء میں جب بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے تو شام میں پاکستان ایئرفورس کے پائلٹس بھیجے گئے تھے۔ شام اور مصر نے جب 1967ء کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے 1973ء میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اس میں وہ کامیاب ہو رہے تھے۔ لیکن امریکیوں نے اسرائیل کی ایسی سپورٹ کی کہ  ، پھر کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ ہو گیا ۔ اس جنگ میں شام نے بھٹو صاحب سے مدد مانگی تو انہوں نے ایئر فورس کے پائلٹس بھیجے۔  ہماری ایئر فورس نے اسرائیل  کے جہازوں سے ڈاگ فائٹ کر کے دمشق میں بھی ان کے جہاز گرائے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو اس وقت سے پتہ ہے کہ پاکستان پر حملہ نہ کریں تو اچھا ہے۔  لیکن اسی لیے وہ ہمیں نقصان بھی پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ 

علی طارق: لیکن جیسے آپ نے کہا کہ ہم لوگ تیار ہیں۔ 

خورشید محمود قصوری: اللہ کرے اس کی ضرورت نہ پڑے، میرا خیال ہے کہ ہندوستان کو بھی کچھ سمجھ آ گئی ہو گی کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ 

علی طارق: بہت شکریہ جی۔  آپ گفتگو سن رہے تھے خورشید محمود قصوری صاحب کی جنہوں نے ماضی کی بھی اور موجودہ صورتحال بھی مختصر وقت میں ہمیں سمجھائی ہے، ان کا انٹرویو بہت اہم ہے اس ساری صورتحال کو سمجھنے کے لیے۔ آج کے پروگرام کے ساتھ مجھے اجازت دیں، اللہ حافظ۔

https://youtu.be/adhIt_ENcPA


ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ اور خطہ پر اس کے ممکنہ عواقب

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا اور جس کی طرف باخبر حلقے اشارہ کر رہے تھے، بلکہ خبر تو یہ بھی ہے کہ سعودی عرب نے بھی باقاعدہ ایران کو آگاہ کر دیا تھا۔ اور ہم نے گزشتہ مہینے کے اشراق عربی کے اپنے اداریے میں بتایا تھا کہ اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام پر حملہ کرنے کے لیے پرتول رہا ہے۔ اور اگر وہ حملہ کرتا ہے تو دنیا میں اُس کو روکنے والا کوئی نہ ہو گا۔ چنانچہ تیرہ جون کی رات میں اسرائیل نے ۳۰۰ سے زیادہ ائراسٹرائیک تہران پر کیں تو امریکہ نے اس کو روکا نہیں بلکہ مدد پہنچائی اور مزید مدد جدید ترین اسلحہ کی شکل میں مسلسل پہنچ رہی ہے جس میں دوسرا بڑا مجرم برطانیہ ہے جو مسلسل اسرائیل کو فوجی مدد دے رہا ہے۔ اس کے بعد اب امریکہ خود بھی جنگ میں کود پڑا اور اُس نے ایران کی ایٹمی سائٹس پر چودہ بی ٹو بم گرا دیے۔ دوسری عالمی قوتیں، یو این او وغیرہ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھے رہے۔ اس وقت یو این او کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو امریکہ اپنے طور پر استعمال کرتا ہے اور اپنے بدنام زمانہ ویٹو کے ذریعہ یو این او کو اُس نے گویا گروی رکھا ہوا ہے۔ حال یہ ہو گیا ہے کہ دنیا میں اقوام متحدہ کو اب کوئی سیریس لینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ سب کو پتا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے خلاف کچھ نہیں کرتا۔ اُس کے سارے رولز اور قاعدے کمزور ممالک پر لاگو ہوتے ہیں!

تیرہ جون کو اچانک ہوئے شدید حملوں میں صہیونی ریاست نے ممتاز ایٹمی سائنس داں عباس فریدون سمیت ایران کے چھ ایٹمی سائنس داں اور کئی فوجی کمانڈر مار دیے۔ نتانز ایٹمی ریفائنری کو نشانہ بنایا، گیس سپلائی وغیرہ کے مراکز کو تباہ کیا۔ شاک بہت گہرا اور صدمہ بہت ہی اذیت ناک تھا۔ یہ حملہ اسی طرز کا تھا جس طرح کے حملہ میں اسرائیل نے ایران کے اندر گھس کر شیخ اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا تھا۔

ایران یا تو غافل تھا یا اُس کے پاس وہ جدید ترین راڈار سسٹم نہیں ہے جو اسرائیل کی ہوائی غارت گری کو روک سکتا! ایران کو اپنے ان انسانی سرمایہ کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ان کو بنکروں میں رکھنا چاہیے تھا۔ پاسدارانِ انقلاب کے کور کمانڈر حسین سلامی اور دیگر اعلیٰ افسران شہید ہو گئے۔ کوئی بھی اعلیٰ کمانڈر ایک دن میں نہیں بنتا، اسی طرح ایٹمی سائنس داں بڑی محنت اور سرمایہ سے تیار ہوتا ہے۔ یہ ملک کا بیش قیمت اثاثہ تھا جس کو بدقسمتی سے ایران نہیں بچا سکا۔ اِس سے قبل بھی اسرائیل عرب ملکوں اور خود ایران میں بھی ٹاپ کے سائنس دانوں کو قتل کرتا رہا ہے۔ چونکہ اسرائیل کو کبھی کسی نے روکا نہیں اس لیے وہ اب اپنے آپ کو بالکل بے لگام سمجھتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایران کی فوج کے اعلیٰ افسران کا قتل ابھی بھی جاری ہے۔ چنانچہ اس جنگ کے پانچویں دن فوج کے نئے سربراہ علی شادمانی کو شہید کر دیا گیا۔ اس فرنٹ پر ایران بہت کمزور ثابت ہوتا رہا ہے اور اس کی فوج کی تمام قیادت اسرائیل کے نشانہ پر رہی ہے۔

اسرائیل کے اس حملہ سے دوسری عرب اسرائیل جنگ (1967ء) یاد آئی جس میں عربوں کے ’’قومی ہیرو‘‘ جمال عبد الناصر، جن کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اپنے آقاؤوں کے اشارہ پر اخوان المسلمین کی پوری قیادت کو شہید کر ڈالا تھا، پوری عرب دنیا کی قیادت فرما رہے تھے۔ جس دن اسرائیل پر متحدہ عرب فوجیں حملہ کرنے والی تھیں اُس سے ایک دن پہلے ہی اسرائیل نے ان پر سرپرائز اٹیک کیا اور اتنا زوردار کیا کہ پوری عرب فضائیہ اپنے رن وے پر ہی تباہ ہو کر رہ گئی اور چند گھنٹوں کے اندر ہی عربوں کو سرنڈر کر دینا پڑا۔ موجودہ عرب دنیا کسی بھی طور پر کسی جنگ کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ کئی جنگیں کر کے اس کے مہلک نتائج دیکھ چکے ہیں۔

بظاہر ایران نے Posture یہ بنایا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا زبردست انتقام لے گا، اور ایک دن کے بعد اس نے اسرائیل کو سزا دینے کے لیے جوابی کارروائی شروع بھی کی۔ مشکل یہ ہے کہ ایران کے بالسٹک میزائیلوں کو کئی پرتوں والی دفاعی پٹی سے گذر کر اپنے اہداف تک پہنچنا ہوتا تھا۔ اردن میں ان کو گرایا جاتا تھا، عراق میں بیٹھی امریکی فوج اپنے ڈسٹرائر سے ان کو روک رہی تھی۔ یواے ای میں ان کو مارا جاتا تھا۔ اس کے بعد آئرن ڈوم اور تھاڈ سسٹم ان کا راستہ روکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سو بیلیسٹک میزائلوں میں سے چند ایک ہی اپنے ہدف پر پہنچ پاتے تھے لیکن یہ چند بھی اسرائیل کو ہراساں کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئے۔

مغربی دنیا اور اس کے پیروکار ایرانی معاشرہ کو نہیں سمجھتے۔ یہ وہ قوم ہے جو قربانیاں دینا جانتی ہے، جس کی تربیت ہی شہادت کے تصور پر ہوتی ہے، جس نے انقلاب کے فوراً بعد صدام حسین کی مسلط کردہ جنگ آٹھ سال تک لڑی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکی سی آئی اے کی مدد سے دشمنوں نے ایران کی پارلیمنٹ تک کو نشانہ بنایا تھا اور پارلیمان کے اسپیکر تک قتل کر دیے گئے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے جنگ لڑی اور آخر میں جیتی تو لیکن دونوں ملکوں کی معیشت ڈوبنے کے بعد۔

لیکن یہ دنیا طاقت وروں کی دنیا ہے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ ٹھگوں کی دنیا ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ یوروپین ممالک نے جی سیون کے اجلاس میں اسرائیل کی مذمت نہیں کی، الٹے ایران کی مذمت کی! جرمنی کے چانسلر نے کہا کہ ’’اسرائیل ہمارا ڈرٹی کھیل کھیل رہا ہے اس کا ساتھ دینا ہوگا‘‘۔ ایران کے ساتھ کھل کر کوئی بھی کھڑا نہیں ہوا، البتہ امید ہے کہ روس اور چین نے یقیناً‌ خفیہ طور پر مدد کی ہو گی، کیونکہ وہ ان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ ان دونوں ممالک نے کھل کر اسرائیلی حملہ کی مذمت کی ہے۔اور جمعہ کو (یعنی بیس جون) کو جنیوا میں اہم وزراء خارجہ کا اجلاس بھی ہوا جس میں ایرانی وزیرخارجہ بھی شریک ہوئے اور انہوں نے ایک بار پھر مضبوطی سے اپنا موقف دہرایا کہ ان کے ملک پر جارحیت ہوئی ہے اور ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے، وہ اپنے پُرامن ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔

پاکستان نے واضح طور پر ننگی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا۔ خلیج کے اکیس ممالک بشمول سعودی عرب، ترکیے، اردن اور مصر نے دکھاوے کے لیے ایک مذمتی بیان داغ دیا، لیکن اردن بظاہر اسرائیل کا ساتھ دے رہا تھا کہ اپنی ائراسپیس اسرائیل کے لیے بند نہیں کی مگر ایران کے لیے بند کر دی۔ اسرائیل کی سرحد ایران سے نہیں ملتی، اس کی ائرفورس نے عراق کی ائراسپیس کا استعمال کیا۔ مشکل یہ ہے کہ عراق اپنی اسپیس امریکہ کو معاہدہ کے ذریعہ دے چکا ہے۔ مصر نے غزہ کو جانے والے اور اسرائیل کے ظالمانہ حصار کو توڑنے کے لیے جا رہے قافلۃ الصمودکو رفح میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، لیکن اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایران میں اگر اسرائیل کامیاب ہو جاتا ہے تو چھوڑے گا وہ مصر کو بھی نہیں۔ کیونکہ مصر کے پاس بھی بڑی فوج ہے اور اسلحہ بھی ہے اور اسرائیل جس جنگل کے قانون کو فالو کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ہم جس کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھیں گے اس کو ختم کر دیں گے۔‘‘

چنانچہ اب تک امریکہ اور اسرائیل شرقِ اوسط میں اسی ڈاکٹرائن پر عمل کرتے آئے ہیں۔ کاش حضرت حافظ عبد الفتاح سیسی مدظلہ بھی عراق، لیبیا، شام اور اب ایران کے انجام سے کوئی سبق سیکھ سکیں! اس کے علاوہ اگر ایران ڈھ گیا تو اسرائیل ساحل کے تماشائی ترکیے پر بھی نظر جمائے ہوئے ہے اور اس کے ایک عہدے دار نے کہا بھی کہ ’’اب اسرائیل کو کسی سے چیلنج کا سامنا نہیں ہو گا صرف ترکیے سے ہو سکتا ہے‘‘۔ یعنی اس کا نمبر بھی آئے گا۔

صہیونیت کی غلام مغربی میڈیا ادارے سی این این، بی بی سی، فوکس نیوز، سی بی سی نیوز، این بی سی نیوز، ایم ایس این بی سی، اسکائی نیوز آسٹریلیا وغیرہ ننگے ہو کر رپورٹنگ کرتے رہے۔ جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ’’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے، ایران اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ایران ایٹمی پروگرام جاری ہی کیوں رکھے ہوئے ہے؟ اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اسرائیل نے بہت دنوں تک انتظار کیا، ایران نہیں مانا تو لہٰذا اسرائیل نے ممکنہ خطرہ سے نمٹنے کے لیے اپنے دفاع میں Preemptive حفظِ ماتقدم کے طور پر اسٹرائک کی ہیں‘‘۔ مغربی میڈیاکی بہت سی رپورٹنگ ہم نے دیکھی۔ وہ اتنی جانبدار، اتنی بے ایمانی، حقائق سے کھلواڑ اور بے ضمیری پر مبنی ہے کہ اُس کو سنتے، دیکھتے اور پڑھتے ہوئے شرم آتی ہے اور یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ مغربی انسان جو مہذب، سائنسٹیفک، عقلیت پسند باور کیا اور کرایا جاتا ہے وہ اتنا گر سکتا ہے، اتنا متعصب اور دوغلا ہو سکتا ہے!

حقیقت میں اس میڈیا رپورٹنگ نے ہمیں تو یہ باور کرا دیا ہے کہ ہمارے روایتی علماء خاص کر مولانا مودودیؒ نے مغرب کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح لکھا ہے اور ان سے اختلاف کرنے والے یعنی مولانا وحید الدین خاں (اور ان سے پہلے سر سید احمد خان) اور ان کے پیروکار مغرب کے بارے میں نہایت سطحیت کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے مغرب کے صرف ظاہر کو دیکھا ہے اور اس سے مرعوب و متاثر ہو گئے۔

ہندوستان کا قومی میڈیا جو شرمناک حد تک ہندوتوا کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے اس کی ساری ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ رہیں جبکہ بہت بڑی مقدار میں انڈیا ایران سے تیل خریدتا ہے۔ مگر اس کے سارے دفاعی تجزیہ کار، فوجی جرنیل اور میڈیا کے بڑے بڑے بدتمیز گرو اپنی اسلام اور پاکستانی دشمنی میں اسرائیل پر ہمدردی کے ڈونگرے برساتے رہے اور ساری غلطی ایران کی قرار دیتے رہے کہ ایران اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ کیوں بن رہا ہے، اس لیے اسرائیل کو اپنے وجود کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کا حق ہے۔

چند آزاد اور چھوٹے یوٹیوب چینلوں اور یوٹیوبرز البتہ انصاف کی بات کہہ رہے تھے اور اسرائیل کو قصوروار بتا رہے تھے۔ میڈیا کے یہ بدطینت لوگ جانتے ہیں کہ ایک کروڑ انڈین ایران سمیت خلیج کے خطہ میں کام کرتے ہیں، دس ہزار تو صرف ایران میں ہی ہیں، جو سالانہ ٹریلینوں ڈالر کی مقدار میں زرمبادلہ انڈیا کو بہم پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پندرہ سو انڈین طلبہ وہاں پڑھتے ہیں، جبکہ ایران کو انڈیا سے کچھ خاص امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے! اس کے باوجود ’’بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کی مانند ہندوتوا کے اسیر ان مسکین لوگوں کو کہیں سے بھی کچھ مسلمانوں کو بُرا بھلا کہنے کا اور اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع مل جاتا ہے تو میجر گوروآریہ کی طرح سب ٹرّانے لگتے ہیں اور سب کے سب بے شرمی سے ایک دھن بجانی شروع کر دیتے ہیں! ان بے چاروں کا بڑا مسئلہ شدید تعصب ہے، یہ اسلاموفوبیا کے مارے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ جہالت ہے، یہ بالکل نہیں جانتے کہ اسرائیل کس طرح سے وجود میں آیا اور کس طرح اس کے وجود کی بنیاد ہی دھوکہ، دھونس اور دہشت گردی اور غدر پر رکھی گئی، اور کس طرح وہ اپنے وجود سے لے کر اب تک پورے خطہ کے لیے ایک destabilizing factor رہا ہے اور اپنے ہم سایوں کو ’’پاگل کتے‘‘ کی طرح کاٹ کھانے کے لیے دوڑتا ہے۔

ایران ایک خودمختار ملک ہے، اس کی سالمیت گویا کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کے سائنس داں اور کمانڈروں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں! اے کاش ایران اب تک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا تو اسرائیل اُس کو یوں تر نوالہ سمجھ کر اس پر نہ چڑھ دوڑتا! (اسی سے پاکستان کے نیوکلیر بم کی قدر معلوم ہوتی ہے) جبکہ یو این چارٹر کی دفعہ 2 جو فنڈامینٹل اصولوں پر مشتمل ہے اور جس میں تمام رکن ممالک کو یکساں حیثیت اور حقوق دیے گئے ہیں، صاف طور پر یہ کہتی ہے کہ کسی بھی آزاد اور ساورن رکن ملک پر دوسرے کسی ممبر ملک کو کسی بھی عذر سے اپنے آپ حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایٹمی پروگرام تو ایران کا جاری ہے مگر صدر براک اوباما نے ایران سے معاہدہ کیا تھا جس سے ٹرمپ ہی خود دستبردار ہوئے ۔ پھر ایران ہمیشہ انکار کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی بم بنانے کی نیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اس کے ہاں فقہی و عقائدی مسئلہ ہے۔ خود ایٹامک انرجمی کمیشن (AIEA) نے مانا ہے کہ ایران نے گرچہ بعض قانونوں کی خلاف ورزی کی مگر وہ ایٹم بنانے کے قریب نہیں ہے۔ اور تو اور خود امریکی انٹیلی جنس نے بھی یہی رپورٹ اپنے ایوان میں دی جسے نرگسیت زدہ ٹرمپ نے آسانی سے غلط کہہ کر خارج کر دیا۔

اس کے بالکل برعکس صہیونی دہشت گرد وزیراعظم نتن یاہو آج سے نہیں بیس سال سے یہی کہتا آرہا ہے کہ ایران بم بنانے سے بس ایک ماہ دو رہے۔ اگر وہ ایک ماہ دور تھا تو اُس نے اب تک بنا کیوں نہیں لیا؟ اسرائیل خود ایٹمی قوت ہے اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہے مگر اُس پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا!

اس کے علاوہ ایٹامک انرجمی کمیشن نے خود یہ قاعدہ بنا دیا ہے کہ کسی بھی ایٹمی پلانٹ پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ ایسے کسی حملہ کے نتیجہ میں اگر تابکاری اور ریڈی ایشن شروع ہو گئی تو اس کے Repercussions اور عواقب بہت بھیانک ہوتے ہیں، نہ صرف اس خطہ کے لیے بلکہ آس پاس کے ہزاروں کلومیٹر تک کے علاقہ کے انسانوں، حیوانوں اور نباتات سب کے لیے۔ صحت شدید متاثر ہوتی ہے، نفسیاتی امراض نسلوں تک لاحق ہوتے ہیں، کینسر اور دیگر متعدی امراض کا پھیلاؤ ہوتا ہے، اور توالد و تناسل میں خطرناک اثرات پڑتے ہیں۔ لیکن مغربی میڈیایہ سوال بالکل نہیں اٹھا رہا کیونکہ مشرق کے لوگ اور خاص کر ’’عرب بدو اور ایران کے ملاپرست‘‘ لوگ ان کے نزدیک انسان ہی کہاں ہیں! اگر مغرب ان کو انسان سمجھتا تو غزہ میں جو ۵۵ ہزار معصوم مارے گئے ہیں کچھ تو ان میں انسانیت جاگتی اور مغربی ممالک اپنے پالتو کٹ کھنے اسرائیل کا ہاتھ پکڑتے!

تاہم یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ایران نے اس موقع پر شدید غفلت کا ثبوت دیا، اُس کے دفاعی نظام کی کمزوری تھی یا گھر کے بھیدیوں اور غداروں سے وہ اس طور پر دھوکہ کھا گیا۔ وہ بھی اتنے بڑے پیمانے پر کہ ایران کے اندر موساد کے ایجنٹوں نے اسلحہ کی فیکٹری بنائی ہوئی تھی اور دفاعی اداروں کو بھنک تک نہیں لگی۔ ان ایجنٹوں نے دو سو ڈرون تو خود اندر سے مارے اور پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے اپنے سفارت کاروں اور شہریوں کو کئی دن پہلے سے نکال رہا تھا اور دنیا بھر میں یہ عام احساس پایا جا رہا تھا کہ ایران کے خلاف کچھ بڑا ہونے والا ہے جس میں امریکہ کی پوری طرح ملی بھگت ہوگی۔

مگر ایران شاید نیوکلیر ڈیل کے مذاکرات کے چکمے میں آگیا اور جتنا الرٹ اندرون سے اسے رہنا چاہیے تھا اُس میں اس سے بڑی چوک ہوئی۔ اس کا سارا زور بیرونی حملہ سے دفاعی تیاریوں میں لگا مگر اس میں لگتا ہے کہ بڑی چوک رہ گئی تھی، کیونکہ ابتداء میں اس کا راڈار سسٹم ایکٹو نہیں ہو پایا، کہ دشمن نے سب سے پہلا نشانہ اسی کو بنایا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گرد اور غنڈہ ریاست اسرائیل اپنی جارحیت کے پہلے راؤنڈ میں مکمل کامیاب رہا۔ اس نے چھہ نیوکلیر سائنس دانوں اور ٹاپ کے تین کمانڈروں اور بعض بڑی شخصیات کو آسانی سے شہیدکر دیا اور ایران کی نیو کلیر فیسیلیٹیز کو زبردست نقصان پہنچا دیا۔ ظاہر ہے کہ موساد اور اسرائیلی آرمی اس حملہ کی تیاری آٹھ مہینے سے کر رہے تھے! اسرائیل کے دو سو طیارے ایران کے اندر گھسے اور بمباری کی جس نے پورے ملک کو گہرا شاک لگا دیا۔

تاہم ایرانی رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای اور وزیراعظم مسعود پزشکیان کے حوصلہ کو داد دینی ہوگی کہ ابتدائی اور گہرے صدمے سے وہ جلد ہی نکل آئے اور پوری بیدار مغزی سے انہوں نے آنافاناً میں فوج کے اندر خالی ہوئی جگہیں پُر کیں اور نیا دفاعی نظام ترتیب دے کر جلد ہی جارح قوت کے خلاف کامیاب دفاعی کاروائیاں شروع کر دیں۔ تب سے اب تک شروعاتی دور کے شدید فوجی اور تیکنیکی نقصان کے باجوود ایران نے اپنے آپ کو ثابت کر دکھایا۔ اس کے تابڑ توڑ حملوں نے تل ابیب اور حیفا سمیت دوسرے شہروں میں خاص فوجی ٹھکانوں اور اقتصادی مراکز پر وہ تباہی مچائی کہ اسرائیلی رونے لگ گئے۔ پورا ملک دنیا سے کٹ گیا، ہوائی پروازیں بند، تمام شہری بنکروں میں گھسے ہوئے رہے اور دہشت گرد بنجمن نتن یاہو امریکہ سے گہار لگانے لگا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں اور ایران میں رجیم چینج کرانے کے لیے اپنی فوج بھیجیں۔ ایرانی بالسٹک میزائیلوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام ٹاڈ، آئرن ڈوم وغیرہ کو توڑ کر اسرائیلی شہروں میں تباہی مچا دی۔ نفسیاتی جنگ کے طور پر اسرائیل مغربی میڈیا کے ذریعہ یہ پروپیگنڈا کرتا رہا کہ ایران کے پورے ائراسپیس پر اس کا کنٹرول ہے اور اس کے طیارے ایران میں کہیں بھی تباہی مچا سکتے ہیں۔ بالکل شروع میں ایسا ہی لگ رہا تھا اور صورت حال بالکل ویسی ہی تھی جس کو پروفیسر مقتدر خان نے یوں تشبیہ دی تھی کہ دو مدمقابل ہیں، ایک کے پاس صرف تلوار ہے، دوسرے کے پاس تلوار بھی ڈھال بھی اور زرہ بکتر بھی۔ ایران کے پاس صرف تلوار یعنی اس کے بیلسٹک میزائل ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس ائرفورس، بے انتہا امریکی اقتصادی مدد اور موساد جیسی انٹیلی جنس پاور ہے۔ مگر جلد ہی صورت حال بدل گئی اور ایران اپنا دفاعی اعتماد بحال کر چکا تھا۔اگرچہ اس کو موساد کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی بہت پاپڑ بیلنے ہیں اور ائرڈفینس سسٹم کی کمزوری کو ختم کرنا ہوگا۔

یہ بات درست ہے کہ اسرائیل پورے شرقِ اوسط میں سب سے بڑی فضائیہ رکھتا ہے مگر ایران کے سپرسونک میزائیل اور ڈرون، جو یوکرین جنگ میں روس کے کام آئے ہیں، کی صلاحیت بے مثال ہے۔ اور اگر امریکہ بذاتِ خود فل فورس کے ساتھ اس جنگ میں نہیں کودتا تو ایران نے چند دنوں میں اسرائیل کو چھٹی کا دودھ یاد دلا ہی دیا تھا۔ شروع میں تو اسرائیل کی سرکشی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ یہی کہہ رہا تھا کہ جب تک ایران کی ایٹمی صلاحیت تباہ نہیں ہو جاتی اور ایران میں رجیم چینج نہیں ہو جاتا تب تک وہ اپنے حملے جاری رکھے گا۔ پوری اسرائیلی سوسائٹی بھی نتن یاہو کے پیچھے کھڑی رہی۔ اصل میں برسوں سے اسرائیلی حکومت اور مغربی میڈیا اپنے لوگوں کا برین واشنگ کرتے رہے ہیں اور ایران کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے آرہے ہیں، اس لیے جنگ باز نتن یاہو کے پیچھے سارا اسرائیل اور سارا مغرب کھڑا ہو گیا ہے اور اس کو الٹا ’’مظلوم‘‘ ثابت کیا جانے لگا جو ایک چھوٹی سی ریاست ہے اور جس کو اپنے پہلے ہی دن سے تمام ہمسایوں سے وجود کے خطرات لاحق ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے کہ کسی بستی میں ایک چور و بدمعاش بیچ میں آکر بیٹھ جائے، کسی کی بہن بیٹی پر ہاتھ ڈالے، کسی تاجر کو مار دے، کسی کی دکان لوٹ لے، اور سب کو خوف زدہ کر کے رکھے۔ جب ہم سایے اس کے خلاف آواز اٹھائیں تو وہ شور مچائے کہ سب میرے خلاف کیوں بولتے ہیں! اسرائیل نے غزہ میں پچپن ہزار بے قصور بے دردی سے مار دیے جن میں پندرہ ہزار بچے تھے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، جب ایران کی جوابی کارروائی میں چوبیس اسرائیلی مر گئے تو ان کا ماتم سارے مغربی میڈیا پر ہونے لگا۔ وہ شقی اسرائیلی صدر جو بے شرمی سے غزہ میں اپنی حکومت کی جارحیت کو جواز دیتا آیا ہے اب ایکس (سابق ٹویٹر) پر پوسٹ لکھنے لگا کہ ایران اسرائیلی شہریوں کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے! آپ کریں تو جائز دوسرے کریں تو جرم!

مغربی اور انڈین میڈیا کی مسلمان دشمنی ان کے بول بول سے چھلکی پڑتی تھی ان کے اینکر اور فوجی جرنیل اور تجزیہ کار اور رپورٹر سب کے سب ننگے ہو کر جارحانہ زبان بول رہے تھے۔ وہ ایرانی قیادت کو حقارت سے ملاؤں، آیت اللاؤوں اور مذہبی انتہا پسندوں کی حکومت کہتے ہیں، خود ہندتوا حکومت کی بے شرمی سے جگالی کر رہے ہیں۔ سب اس وقت رجیم چینج رجیم چینج کی آوازیں لگا رہے تھے اور اپنے بے خبر عوام کی برین واشنگ کر رہے تھے۔ ایرانی سفارت خانہ کو کم سے کم ہند میں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ایران کے ایک تجزیہ کار پروفیسر سید محمد مراندی جو مغربی میڈیا پر اکثر آتے ہیں نے اسکائی نیوز کی ایک خاتون رپورٹر کی بروقت بہترین کلاس لی جس پر وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ اسی طرح انہوں نے مشہور برطانوی براڈکاسٹر پیرمورگن کو بھی لتاڑا۔ مورگن بھی مغربی میڈیا کے تعصب اور عقل دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلم امہ اور عرب ممالک کی سیاسی بے توقیری اتنی جگ ظاہر ہے کہ عین اُس دن جب استنبول میں او آئی سی کا اجلاس ہو رہا تھا اور قاہرہ میں عرب لیگ کا اور دونوں نے کھل کر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی مگر امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لایا اور اُسی دن اُس نے رات میں ایران کے فردو وغیرہ نیوکلیر سائٹس پر اپنے بی ٹو جہازوں سے بنکر بسٹر بم گرا دیے۔

مسلم ممالک کی بے حیثیتی کے مقابلہ میں صہیونی دہشت گرد نتن یاہو کی جرأت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اُس نے ایران پر حملہ کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ہم ایران کے ایٹمی خطرہ سے اسرائیل کو بلکہ عرب ممالک کو بچانے اور مغربی تہذیب کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں! اور تو اور امریکن اور اسرائیلی قیادتیں میڈیا کے ذریعہ دونوں ایرانی عوام کو ابھاررتی رہیں کہ وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

امریکہ کا موجودہ صدر اتنا بڑا شاطر، گھاگ اور مکار سیاست داں ہے کہ اسرائیلی حملہ کے بعد خوشی سے اس کی باچھیں کھل اٹھیں اور اس نے ایران کو مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ

’’اس حملہ میں امریکہ شامل نہیں ہوا لیکن ہمارے دوست ملک نے بہت کامیابی حاصل کی ہے اور ہم نے ایران کو پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ اب بھی وقت ہے ایران اپنا نیوکلیر پروگرام ختم کرنے کے لیے ہمارے ساتھ مذاکرات کرے ورنہ اور زیادہ خوفناک حملوں کے لیے تیار ہو جائے جس کے بعد ایران نام کی کوئی ایمپائر باقی نہیں بچے گی‘‘۔

لیکن جب ایران نے اپنے دانت دکھا دیے اور اپنی جوابی کاررائیوں سے اسرائیل کو دہلا دیا، نفسیاتی مریض اسرائیلی شہری، جن کو صرف فلسطینیوں کو مارنے میں مزہ ملتا ہے جب انہیں بنکروں میں راتیں گذارنی پڑیں تو اب یہی ٹرمپ صاحب پھر سے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرنے اور جنگ بندی کرانے کے لیے اشارے دینے لگے۔ جس پر ایران ابھی رضامند نہیں تھا کہ پہلے اسرائیل اپنی جارحیت ختم کرے تو وہ بھی اسرائیل پر حملے بند کر دے گا۔

مغربی میڈیا میں ایک بات تواتر سے کہی جا رہی تھی کہ ایران نے اسرائیل کو شدید جواب سہی دیا ہو مگر وہ یہ جنگ sustain کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، وہ ایک مہینہ میں پچاس سے زیادہ بیلسٹک میزائل نہیں بنا سکتا۔ اس کا ائراسپیس اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔ اس کی معاشی حالت پتلی ہے اور اس کو زبانی دعووں و بیانوں کے علاوہ مادی مدد شاید ہی کہیں سے ملے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک میں حکومت کے خلاف جو ایک ناراضگی ہے اس کی ایک وجہ چار دہائیوں سے ایران پر لگی معاشی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے معیشت بہت مشکل حالات میں ہے۔ ایک انڈین روپے کے اس وقت ہزار سے زیادہ تومان (ایرانی روپیہ) ملتے ہیں جبکہ آج سے بیس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ معاشی پابندیوں کے لیے موجود نظام ذمہ دار نہیں بلکہ ظالمانہ عالمی سیاسی اور معاشی ورلڈ آرڈر ذمہ دار ہے جس کی قیادت اس وقت ٹرمپ کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ مگر عملاً دنیا نے دیکھا کہ ایران سارے ناسازگار حالات سے حوصلہ سے نبرد آزما ہوا۔

کناڈا میں ہوئے جی سیون کے اجلاس (منعقدہ پندرہ سولہ جون 2025) میں صحافیوں کے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے پھر یہ تبصرہ کیا کہ ’’ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر آجانا چاہیے‘‘۔ یہ بھی خبریں آئیں کہ امریکی کانگریس میں ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ عملاً مداخلت کریں اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں پورے طور پر شامل ہو جائیں اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو پھر مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کا صہیونی و امریکی خواب پورا ہو جائے گا۔ یہی ایران اور عرب دنیا کا امتحان ہے۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے یہی وقت اسرائیل پر حملہ کے لیے کیوں منتخب کیا؟ تجزیہ نگار اتل انیجہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ

’’اسرائیل کی بہت پہلے سے کوشش تھی کہ مزاحمت کا جو محو رہے اس کو ختم کر دیا جائے، سات اکتوبر کے بعد اس کو موقع مل گیا اور اس نے ایک ایک کر کے حزب اللہ، حماس کو ختم کر دیا، شام سے اسد کا خاتمہ ہو گیا، حوثیوں کو بہت حد تک نیوٹرلائز کر دیا گیا۔ اب اس کو لگا کہ ایران بہت کمزور ہو گیا ہے اور اب مزاحمت کے محور کی جڑ یعنی ایران کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے بھی ہری جھنڈی دکھا دی اس لیے اُس نے تیاری تو کئی مہینے سے کر رکھی تھی اس وقت کو مناسب موقع جان کر ایران پر حملہ کر دیا جبکہ اس کو یقین ہے کہ آڑے وقت میں امریکہ اس کے بچانے کے لیے آجائے گا‘‘۔

چنانچہ وہ آیا اور جلد ہی آگیا جب اُسے اندازہ ہو گیا کہ اب ایران بھاری پڑنے لگا ہے۔ مغربی اور انڈین میڈیا پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ ایران میں 60 فیصد عوام اپنی حکومت سے ناخوش ہیں اور اسی لیے اتنی بڑی تعداد میں اندرونی غدار موجود ہیں اور اگر وہاں رجیم چینج کیا جائے تو یہ جائز ہو گا، لوگوں کو ایک کرپٹ اور ظالم نظام سے چھٹکارا ملے گا۔

بے شک ایران میں مذہبی جمہوریت ہے، حکومت آہنی ہاتھوں سے انتظام چلا رہی ہے جس سے اکثر عوام کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں، مگر اظہارِ رائے کی آزادی میں ایران کا رکارڈ خلیج کی دوسری ریاستوں سے یقیناً بہتر ہے۔ وہاں خواتین پر زیادہ پابندیاں ہیں، حجاب اور لباس کو لے کر مذہبی حکومت زیادہ حساس ہے۔ مگر ایران سے بھاگ کر باہر گئے ہوئے ملحدین یا ایکس مسلمز مغرب میں بیٹھ کر مغربی پیسہ سے پلتے اور ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ کیمونسٹ دہشت گرد تنظیم مجاہدین خلق بہت پہلے سے سرگرم ہے اور موساد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ شاہ پرست بھی ہیں جو قدیم شاہی نظام واپس لانا چاہتے ہیں۔ وہاں اقلیتی گروپوں (سنی، مسیحی اور یہودی) کو موجودہ نظام سے شکایتیں ہیں، اور کس حکومت سے شکایتیں نہیں ہوتیں، ہمیں بھی ہیں۔

راقمِ سطور نے 2010 میں ایران کا سفر کیا تھا جو نو دنوں پر مشتمل تھا اور چار شہروں میں جانا ہوا۔ اس دوران سنیوں کا وجود کہیں محسوس نہیں ہوا، تہران میں جہاں ان کی خاصی آبادی ہے ان کی کوئی مسجد تک نہیں؟ واپسی میں راقم نے سفرنامہ لکھا جو انڈیا کے اخبارات و جرائد میں چھپا۔ اس میں جہاں موجودہ حکومت کی خوبیاں بتائی تھیں وہیں کچھ مقاماتِ آہ و فغاں بھی تھے۔ ماہنامہ افکارِ ملّی میں جب یہ سفرنامہ چھپا تو اس کے جواب میں شیعانِ ہندکے مؤقر عالم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا سید کلبِ ِصادق صاحبؒ کا جواب بھی آیا، جو اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔ بعض باتوں کی انہوں نے توضیح کر دی اور بعض باتوں سے راقم کو اتفاق نہیں ہوا۔ بہرحال یہ تو تمام ملکوں میں عام رویہ ہے۔ کیا آج ملینوں امریکن ٹرمپ کے خلاف مظاہرے نہیں کر رہے؟ کیا اسرائیل میں سات اکتوبر 2023 سے بہت بڑے پیمانے پر نتن یاہو کے خلاف مظاہرے نہیں ہو رہے تھے؟ کیا انڈیا میں مودی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نہیں نکلتے؟ کیا اِس کو بہانہ بنا کر وہاں رجیم چینج کا نعرہ لگایا جاسکتا ہے؟ مغربی یا انڈین میڈیا اس کی تائید کرے گا؟

البتہ ایک چیز اور ہے جس سے عام پبلک میں غم و غصہ ہے، وہ یہ ہے کہ مذہبی کلاس وہاں کی Privileged کلاس ہے۔ علماء کرام کے ایک خاص طبقہ کے پاس اتنی معاشی دولت اور جاگیریں ہیں کہ ایک ایک عالم یونیورسٹیاں کالج اور بڑی بڑی لائبریریاں چلاتا ہے۔ برعکس اس کے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہے، اس کی زندگی مشکل سے کٹتی ہے، اس لیے وہ پہلی فرصت میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا ہے۔ یہ وہ خلا ہیں جن کو بھرنے کے لیے حکومت کو زبردست جدوجہد کرنی ہوگی۔ یہ مشکلات تو ہیں لیکن ایسی نہیں کہ وہاں رجیم چینج کے نعرے لگائے جائیں۔

ابھی ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا کارڈ بھی ہے جس کو ہمارا خیال ہے کہ وہ آخر میں کھیلے گا، اگرچہ پارلیمنٹ نے اس آبنائے کو بند کرنے کا بل منظور کر لیا ہے مگر عملاً‌ اس کا معاشی اثر چین اور گلوبل ساؤتھ کی تجارت پر پڑے گا، خود ایران بھی متاثر ہو گا۔ اسی طرح اس کے پاس ایک کارڈ این پی ٹی Treaty on the Non-proliferation of Nuclear Weapons سے نکل جانے کا بھی ہے کیونکہ آج تک اس کو اس متعصب ادارے کا ممبر بنے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسرائیل نے اس پر دستخط ہی نہیں کیے اور اسی طرح امریکہ بہادر بھی اس سے باہر ہے۔ لہٰذا جس ادارہ سے کوئی فائدہ نہ ہو اس کا ممبر بنے رہنے کا کیا جواز ہے؟ یاد رہے کہ اس ادارے کے سربراہ نے اسرائیلی جارحیت کو کنڈم تک نہیں کیا اور یہی حال یو این کا ہے، جس نے اسرائیل کی مذمت تک نہیں کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران سفارتی محاذ پر بھی مضبوط واقع نہیں ہوا۔

یہاں ہمیں اس طرف بھی اشارہ کرنا ہے کہ بعض سلفی مشائخ ایسے بحرانی وقتوں میں اپنی فرقہ وارانہ سوچ اور فساد انگیز ذہنیت سے باز نہیں آرہے ہیں چنانچہ یوٹیوب پر ایسی ویڈو ڈالی جا رہی ہیں کہ یہ جنگ بنی صہیون اور بنی صفیون کی جنگ ہے، مسلمانوں کو اس میں نیوٹرل رہنا چاہیے۔ یہ بات صحیح ہے کہ ایران نے اپنے خمینی انقلاب کے بعد اہلِ سنت کو بہت تنگ کیا ہے۔ شام میں مدتوں تک اُس نے ایک انتہائی ظالم و جابر نظام کی مدد کی اور اس کو سہارا دیے رکھا۔ سعودی عرب، بحرین اور کویت وغیرہ میں اپنا انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی کوشش کی۔ اور خمینی کے ابتدائی نعروں: ’’لا سنیہ لا شیعیہ اسلامیہ اسلامیہ‘‘ کی لاج نہیں رکھی۔ تاہم اِن عقل کے ماروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جنگ صرف ایران کی نہیں ہے۔ ایران اسرائیل اور مغرب کے سامراجی منصوبوں کے سامنے ایک واحد آخری چٹان بچی ہے۔ اگر یہ ختم ہو گئی تو کل کو مصر کا نمبر آئے گا اور اس کے بعد اسرائیل ایک کے بعد ایک مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کو گریٹر اسرائیل بنانے کے لیے ہڑپ کر جائے گا۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ خطہ میں عراق تو سیکولر تھا، لیبیا تو سیکولر تھا بلکہ کفار سے کہیں زیادہ اسلام پسندوں کے لیے ان دونوں نے زمین تنگ کی ہوئی تھی، تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ کرنل معمر قذافی نے کس طرح وہاں شاہ ادریس کا تختہ پلٹ کر مشہور زمانہ صوفی سنوسی سلسلہ کا منصوبہ بند خاتمہ کر دیا تھا۔ مگر پھر بھی ان دونوں ملکوں کو پورے مغرب نے مل کر برباد کر دیا کیوں کہ ان کی فوجی قوت کسی مرحلہ میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ اس لیے خلیج کے عرب ممالک کو اس وقت بڑے تدبر سے کام لے کر ایران کا ساتھ دینا ہے اور اسرائیلی جارحیت کے آگے پل باندھنا ہے۔ یہ ان کے لیے مہلت کی آخری گھڑی ہے۔

جنگ کے چھٹے دن ایران نے مزید تیز حملے اسرائیل پر کیے اور بڑی تباہی مچائی۔ یہی وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب امریکی صدر نے بالآخر جنگ میں اسرائیل کے ساتھ باضابطہ اترنے کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی ماہر سیاسیات پروفیسر جیفری ساکش کہتے ہیں:

’’امریکہ کی خارجہ پالیسی صہیونی لابی طے کرتی ہے، اس لابی کے پریشر میں ٹرمپ آچکے ہیں اور وہ اب دنیا میں مزید جنگیں نہ چھیڑنے کے جس وعدہ کو لے کر اقتدار میں آئے تھے اس کو پس پشت ڈال دیا ہے کیونکہ ووٹروں کے پاس کوئی پریشر طاقت نہیں ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کا جنگ میں کودنا نہ صرف خطہ کے لیے بلکہ پورے شرقِ اوسط اور پوری دنیا کے لیے انتہائی سخت اور تباہ کن مضمرات کا حامل ہو گا‘‘۔

اگرچہ اوول آفس کے سچویشن روم میں تمام ارکان دو بڑے دھڑوں میں تقسیم تھے اور سینیٹر برنی سینڈر وغیرہ نے بہت کھل کر امریکہ کے جنگ میں جانے کی مخالفت کی۔ مگر ٹرمپ نے صیہونی لابی کو خوش کرنے کے لیے بالآخر اپنی کانگریس اور اپنے انٹیلی جنس ادارہ تک کو بائی پاس کر کے جنگ میں کودنے کا فیصلہ کر ڈالا۔ ایسے میں ایران کے پاس دو ہی آپشن بچے تھے:

اُس کے چند دن بعد ایران نے خلیج عرب میں امریکہ کے سب سے بڑی فوجی اڈے، قطر کے العدید پر نمائشی اور فیس سیونگ حملہ کیا جس کی خبر امریکہ اور قطر دونوں کو پیشگی دے دی گئی تھی جس کی وجہ سے وہاں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ دنیا بھر میں توقع یہ تھی کہ اب امریکہ فل فورس کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہو گا اور اپنی آرمی کو وہاں اتارے گا اور تختہ پلٹ کرنے کی کوشش کرے گا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ چوبیس جون کو ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل دونوں جنگ بندی کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔ اس طرح بارہ دن چلنے والی یہ تباہ کن جنگ فی الحال رک گئی ہے۔ لیکن اِس میں تینوں پارٹیوں کو نقصانات پہنچے ہیں۔ امریکہ کی ساکھ ساری دنیا میں متاثر ہوئی ہے اور خاص کر اب کوئی بھی ملک ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرے گا کیونکہ اس نے اس جنگ کے دوران صاف صاف جھوٹ بولے، دھمکیاں دیں اور ایک آزاد ملک کی سالمیت پر حملہ کیا جس کو امریکہ کے بعض مغربی حلیفوں نے بھی قبول نہیں کیا۔

اس جنگ میں بظاہر بڑا نقصان ایران کا ہوا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے دعووں کے مطابق اس کا ایٹمی پروگرام بالکل تباہ ہو گیا ہے۔ اگر اس دعوے کو خارج بھی کر دیا جائے تو اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ ایران اپنے اس پروگرام میں کم از کم ایک دہائی پیچھے ضرور چلا گیا ہے۔ اس کے بہت سے سائنس داں اور فوجی قائدین مارے گئے ہیں۔ اس کی اندرونی کمزوریاں، ائرڈفینس کی قابلِ رحم حالت دنیا کے سامنے آئی ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس نے حوصلہ نہیں کھویا، امریکہ اور اسرائیلی جارحیت کا کھل کر اور بہادری سے سامنا کیا اور دنیا میں اپنی ایک ساکھ قائم کی اور صہیونی دشمن کو شدید نقصانات پہنچائے، جو اُس نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچے ہوں گے۔

اسرائیل کو بظاہر یہ فائدہ ہوا کہ ایران کا نیوکلیر پروگرام اس نے امریکہ کے ذریعہ ختم کروا دیا مگر زمین پر ایران نے اس کو قرار واقعی سزا دے دی ہے۔ اور اگر یہ جنگ چند دن اور جاری رہتی تو مزید نقصانات اس کو اٹھانے پڑتے۔ اُس کو بیک فٹ پر جاتے دیکھ کر ہی غالباً جلدی سے ٹرمپ نے یہ فیصلہ لیا اور سیزفائر کروا دی۔

ہمارے خیال میں ایران کو ایٹمی پروگرام کے لیے پاکستان سے سبق لینا چاہیے تھے۔ پاکستان نے بھی شدید دباؤ کا سامنا کیا تھا مگر اُس نے دنیا میں شور نہیں مچایا اور استقامت، مہارت سے اپنا پروگرام جاری رکھا اور اسمارٹ ثابت ہوا، جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام آج کا نہیں شاہ کے زمانہ کا ہے، مگر انقلاب کے بعد بڑپولے پن نے اُس کو مغرب کا نشانہ بنا دیا اور اتنی تاخیر ہوتی چلی گئی، اور اب تو اس کا کامیاب ہو جانا بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم اِس شیر سے یہ خیر برآمد ہوا ہے کہ اسرائیل کو زبردست مار پڑی ہے جس کی اُسے شدید ضرورت تھی اور امید کی جا سکتی ہے کہ اِس کے نتیجہ کے طور پر شیطانِ کوچک بنجمن نتن یاہو کو زوال ہوگا۔

معروف مصری مفکر اور مصنف فہمی ہویدی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا:

’’بظاہر شرقِ اوسط کو بدلنے کا ایک باب اسرائیل نے کامیابی سے لکھ لیا ہے لیکن ابھی پوری کتاب باقی ہے اور آخری تجزیہ میں اسرائیل کو فتح نہیں ہو سکتی ہے‘‘۔

ایران کی دفاعی جنگی حکمتِ عملی

سید محمد علی

اینکر : سید طلعت حسین

طلعت حسین: ہم ذرا آپ سے دو تین چیزیں جاننا چاہیں گے۔ ایک تو میں دکھاؤں کہ جو نیا میزائل لانچ کیا گیا ہے ایران کی طرف سے، اس کی پروموشن انہوں نے بہت کی اور بتایا کہ یہ ٹھوس ایندھن کے اوپر چلتا ہے اور اس کی درستگی زیادہ ہے اور ساری اس کی خصوصیات انہوں نے بتائیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ اس میزائل سسٹم کی وضاحت کریں، لیکن جلدی سے اگر آپ یہ بتا پائیں کہ یہ جو میزائل داغ رہے ہیں، یہ کس (فوجی) حکمتِ عملی کے اندر آتے ہیں؟ 

سید محمد علی: بہ اہم سوال کیا آپ نے۔ دیکھیں، میں پانچ پہلوؤں کی جلدی سے آپ کے لیے وضاحت کرتا ہوں۔ یہ جو پہلا راؤنڈ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان میزائلوں کے تبادلے کا، اس میں سب سے اہم بات یہ جاننا ضروری ہے کہ ایران اپنے مؤثر اور مہلک ترین ہتھیار پہلے راؤنڈ میں استعمال نہیں کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک لمبی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اور ابھی اس وقت اس کی حکمت عملی کا پہلا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنے کم ٹیکنالوجی، کم قیمت، اور زیادہ ذخائر والے (ہتھیار) اس لیے استعمال کرے کہ میزائلوں کے خلاف اسرائیل کا جو بہت مہنگا دفاعی نظام ہے اس کو تھکا دیا جائے، کمزور کیا جائے اور ان کے دفاعی میزائلوں کے ذخائر کم کر دیے جائیں۔ 

طلعت حسین: تاکہ استطاعت جب کم ہو تو اس کے بعد آپ اپنا ہائی ٹیک مال استعمال کریں۔

سید محمد علی: آسان الفاظ میں کہوں کہ ان کے ترکش کا جو سب سے سستا اور سب سے کم مہلک تیر ہے، اس کی زیادہ تعداد وہ استعمال کر رہے ہیں، ایک سو میزائل وہ روزانہ مار لیتے ہیں۔ اگرچہ دوسری جانب، آپ جانتے ہیں کہ، اسرائیل یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ایک تہائی ایران کے میزائل لانچ پیڈز انہوں نے تباہ کر دیے ہیں۔ اور ایک کمزوری ایران کی یہ ہے کہ ان کے پاس فضائی برتری نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے تمام ٹھوس یا مائع ایندھن والے میزائل خطرے میں ہیں۔ اگرچہ مائع ایندھن والے وہ پہلے استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ وہ کم ٹیکنالوجی اور کم قیمت ہوتا ہے، اس کی تیاری کا وقت زیادہ ہوتا ہے، تو اس کے زیادہ امکانات ہیں کہ اسرائیل پیشگی حملے کر کے ان کو تباہ کر دے۔ 

طلعت حسین: اس میزائل کی طرف آتے ہیں، جو کہ ٹھوس ایندھن والا ہے، اس کی خصوصیت کیا ہے؟ 

سید محمد علی: دیکھیں اس کا جو شعلے کا رنگ ہے، اسی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا ایندھن ٹھوس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ فائر کرنے کے لیے تیار ہے، اس کی تیاری کا وقت بہت کم ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ خلا میں جو مصنوعی سیارے موجود ہیں، یا جو ریڈارز ہیں، ان کے پاس بہت کم وقت ہو گا اس کے خلاف پیشگی حملہ کرنے کا، تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے دوسری جانب اگر آپ چاہیں تو میں مختصر بتاؤں کہ،  جیسا کہ اس دن آپ نے پروگرام میں کہا تھا، بلوچستان سے غزہ تک فضا اور خلا میں مجموعی طور پر آٹھ حصار ہیں جن سے میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ گزارنے کی ایران کوشش کر رہا ہے:

طلعت حسین: جونہی (ایران نے میزائل) لانچ کیا، یہ سب برابر میں ہی اس کو روکنے والے لگے ہوئے ہیں۔ 

سید محمد علی: آپ یہ اندازہ لگائیں کہ اگر دس سے پندرہ فیصد یہ میزائل ان آٹھ تہوں کو شکست دے کر پہنچتے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

طلعت حسین: اچھا اس کامیابی کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ یہ ٹیکنالوجی ایسی ہے، تعداد ان کے پاس زیادہ ہے، یا جن تہوں کا آپ نے ذکر کیا ان میں سقم ہے؟

سید محمد علی: میں سمجھتا ہوں کہ اس حکمت عملی میں تین چیزوں کا ایک مناسب توازن ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ چونکہ ایران کی فضائی قوت کوئی بہت زیادہ قابل ذکر نہیں ہے، تو انہوں نے زیادہ تر انحصار میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی پر کیا ہے۔ لیکن جو سنجیدہ حلقے ہیں مغرب میں، وہ سمجھتے ہیں کہ دو سے تین ہزار کے درمیان ان کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ ہے۔ اور انہوں نے پچاس سے سو کے قریب رومیہ میزائل داغے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس جو ذخیرہ ہے وہ تقریباً‌ ایک مہینے کی جنگ کے لیے کافی ہے۔ 

ایک اور بات بتانا ضروری ہے کہ بلسٹک میزائل کی درستگی بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ پانچ سو پاؤنڈ سے لے کر دو ٹن تک (دھماکہ خیز مواد) یہ میزائل لے جا سکتے ہیں۔ دو ٹن کا وار ہیڈ کہیں بھی گرے، اس کی تباہی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ عمارتوں پر گر رہے ہیں، موساد کی عمارت نشانہ بنی ہے، تباہی ہوئی ہے، اسرائیل میں بھی لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ لیکن وہ اتنا درست نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفسیاتی اور سفارتی اور سیاسی ہتھیار تو ہے لیکن وہ اسرائیلی دفاعی اور فوجی صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچا رہا۔ 

طلعت حسین: اس کے لیے ظاہر ہے آپ کو فضائی برتری چاہیے، فضا میں موجودگی چاہیے، پورا نیویگیشنل سسٹم (نقل و حرکت کی نگرانی کا نظام) چاہیے، وہ سب آپ کے پاس موجود ہو تو پھر آپ کے میزائل پن پوائنٹ درستگی کے ساتھ لگ سکتے ہیں؟

سید محمد علی: یہ بہت اہم سوال ہے، میں جلدی سے اس کا جواب دینا چاہوں گا کہ بلسٹک میزائل، جیسا کہ V1 اور V2، اگر آپ نے لندن کا ایمپیریئل وار میوزیم دیکھا ہو تو یہ اس زمانے سے استعمال ہو رہے ہیں، تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ لیکن یہ بنیادی طور ڈبلیو ایم ڈی وار ہیڈز کو لے جانے کے لیے بنایا گیا ہے، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے، ایٹمی، کیمیاوی، یا حیاتیاتی ہتھیار کے لیے۔ کیونکہ ان کی جائے ہدف کا جو دائرہ ہے، مثلاً‌ دو ہزار کلو میٹر کے فاصلے کا میزائل تقریباً‌ دو کلو میٹر کے اندر کہیں بھی گر سکتا ہے۔ یہ عمومی میزائلوں کی بات ہے، بہت درستگی والے میزائلوں کی بات نہیں کر رہا۔  اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کو درستگی چاہیے تو پھر 

طلعت حسین: جو انہوں نے ابھی استعمال نہیں کیا۔

سید محمد علی: کچھ علامتی طور پر اپنی صلاحیت متعارف کرانے کے لیے انہوں اس کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے پچھلے راؤنڈ میں بھی کیا تھا۔ آپ کو یاد ہے جب انہوں نے (اسرائیل کی) ایئر بیس پر مارا تھا۔ وہ بہت درست ہوتا ہے کیونکہ وہ ہائپرسونک (انتہائی تیزرفتار) ہے تو وہ ان سارے دفاعی حصاروں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ لیکن وہ مہنگا ہے اور میرے خیال میں ان کے پاس اس کا بہت بڑا ذخیرہ نہیں ہے، اس لیے انہوں نے اگلے جو دو تین مرحلے ہیں کشیدگی بڑھنے کے، اس کے لیے ان کو بچا کر رکھا ہے کہ اگر اس حد تک ان کو جانا پڑتا ہے کہ جیسے وہ Dimona (ایٹمی مرکز والے شہر) کو ہدف بنائیں، یا ان کے ڈیفنس کے ہیڈکوارٹر کو ہدف بنائیں، تو اس وقت کے لیے اس کو بچا کر رکھیں گے۔ البتہ اس صلاحیت کا مظاہرہ انہوں نے کیا ہے۔ 


اسرائیل کے حملے، ایران کا جواب، امریکہ کی دھمکیاں

پونیا پرسون واجپائی

دوستو، نمسکار! امریکی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر سے کہا ’’سرنڈر کر دو!‘‘۔ ایران کے سپریم لیڈر نے امریکی صدر کو جواب دیا "سرنڈر بالکل نہیں، اور اگر اس جنگ میں امریکہ کودا تو پھر اس کے ایسے نتائج ہوں گے جس کی بھرپائی کبھی نہیں ہو پائے گی‘‘۔ 

اور انہی حالات کے بیچ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو جس طاقت کے ساتھ لگاتار تہران پر میزائل داغتے چلے گئے، اس کے بعد وہ بھی سمجھ گئے کہ دراصل ان کے ہتھیاروں کی صلاحیت اتنی وسیع، اتنی بڑی یا اتنی تیز نہیں ہے کہ ایران کو ہرا سکے، اس کے لیے امریکہ کی ضرورت پڑے گی ہی، کیونکہ جن میزائلوں کے ذریعے پہاڑوں کو چیرا جا سکتا ہو جہاں پر ایٹمی پلانٹ پہاڑوں کے نیچے زمین کے اندر موجود ہیں، وہاں تک پہنچ پانا اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور اس کے ہتھیاروں کے سہارے ممکن نہیں ہے۔

تو کیا واقعی جنگ کی شروعات کے وقت کوئی طے نہیں کر پاتا ہے کہ جنگ ختم کیسے ہوگی؟ اور اس وقت کم از کم اسرائیل اور ایران کی یہ جنگ اس موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر وہ ملک ایک بحران/مشکل کا شکار ہے جو اس جنگ میں شامل ہے، یا جو جنگ میں شامل ہونے کے راستے بنانا چاہ رہا ہے۔ اور سب سے بڑا بحران تو امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے ہی ہے: 

  1. ایک طرف ان کی ہر بات کا جواب آج ایران کے سپریم لیڈر نے دے دیا، 
  2. دوسری طرف امریکہ کے اندر یہ سوال بڑا ہوتا چلا جا رہا ہے کہ جو انتخابی مہم کے وقت ٹرمپ خود کہتے ہوئے آئے کہ مشرق وسطیٰ کے اندر جس طریقے سے جنگ ہوتی ہے، اس بے عقل جنگ میں وہ کبھی نہیں گھسیں گے اور جنگ میں اب امریکی فوج کو نہیں جھونکیں گے۔

لیکن ایک دم جس طریقے سے جی سیون کی میٹنگ درمیان میں چھوڑ کر (وہ چلے گئے اور) واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر جو غور و فکر ہوا، ان حالات میں ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ہی باقاعدہ طور پر یہ سوال اٹھنے لگ گئے ہیں کہ آپ یونہی امریکہ کو جنگ میں نہیں جھونک سکتے۔ یہاں تک کہ کانگریس کے اندر ایک قرارداد لائی گئی ہے، ایک بل تک ریپبلکن سینیٹر نے پیش کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ دراصل اس راستے پر امریکہ کو نہیں جانا چاہیے۔ اور آپ کو اگر جانا ہے تو پہلے کانگریس کی ووٹنگ ہوگی، اس میں اگر طے ہوتا ہے تبھی آپ اس سمت میں جا سکتے ہیں۔ تو سوال ڈیموکریٹس کا تو نہیں، سوال تو ریپبلکنز کا ہے جس کے لیڈر ٹرمپ ہیں، جو امریکہ کے صدر ہیں۔

اور ان حالات میں جب ایران کھلے طور پر اب امریکہ کو خبردار کر رہا ہے تو اسرائیل اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں نہیں آیا تو یہ جنگ نہ صرف لمبی چلے گی بلکہ اس کی اپنی حالت نازک ہوتی چلی جائے گی۔ ہمارے خیال میں پہلے آپ یہ بات دیکھیں کہ جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے ریپبلکنز کے اندر کس طرح سے ہچکچاہٹ کی صورتحال موجود ہے۔ اس کی تمام رپورٹس، چاہے وہ ٹیلی گراف میں بڑے بڑے ممبران پارلیمنٹ کے تبصروں کی صورت میں ہو، چاہے وہ بی بی سی کی رپورٹ ہو، چاہے وہ اکانومسٹ کی رپورٹ ہو، چاہے وہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ہو، ہر جگہ پر یہ سوال نمایاں ہو گیا ہے کہ ٹرمپ من مانی کر کے اسرائیل اور ایران کی جنگ میں بالکل بھی نہیں کود سکتے، جب تک کہ آئین کے مطابق اس پر کانگریس کی مہر نہ لگ جائے اور امریکہ کے اندر اتفاقِ رائے نہ بن جائے۔ اور اس معاملے کو لے کر امریکہ میں پوسٹر تک نکال دیے گئے ہیں کہ اب ہم اور کسی جنگ میں نہیں جائیں گے۔

دراصل ان رپورٹس نے اسرائیل کے بھی ہوش اڑا دیے ہیں۔ اگر واقعی ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے اندر ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور اب کانگریس کے اندر اٹھتے ہوئے سوالوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی جنگ سے روکنے کا عمل تیز ہو گیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ ایک بل لایا جا چکا ہے، تو اب ہوگا کیا؟ دراصل ان رپورٹس میں بہت صاف ہے کہ جنگ میں کودنے سے پہلے کانگریس کی رضامندی ضروری ہو جائے گی۔ انتخابات میں ٹرمپ نے ہی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں نہ کودنے کا اعلان کیا تھا۔ اور باقاعدہ ریپبلکنز پارٹی کے لیڈر ممبر تھامس میسی نے پارلیمنٹ میں کہا ہے: ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، لیکن اگر ہماری ہوتی بھی، اگر ایسا دکھائی دے رہا ہے تو بھی آئین کے مطابق آغاز کرنا ہوگا۔‘‘ اور ایک آزاد خیال نظریے کے طور پر یا کہیں کنزرویٹو لیڈر کے طور پر میسی کی پہچان ضرور ہے، لیکن انہوں نے ایک آج ہی ایک بیان جاری کیا ہے کہ ’’میں جنگ میں شامل ہونے پر پابندی لگانے کی قرارداد پیش کر رہا ہوں، دو ملکوں کی جنگ میں امریکہ کیوں شامل ہو؟‘‘

اس میں دوسری سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور ڈیموکریٹس کے ممبر پارلیمنٹ بھی، لیکن سنیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ دراصل ایوان بالا میں جو جنگی اختیارات کا اپنا بل وہ پیش کر رہے ہیں، اس میں کانگریس میں بحث ہونی چاہیے، ووٹنگ ہونی چاہیے، تاکہ ایرانی حملوں سے بچاؤ کے علاوہ اسرائیل-ایران تنازعہ میں امریکہ اگر داخل ہوتا بھی ہے تو اس میں آئینی منظوری ہونی چاہیے، بغیر اس کے ممکن نہیں۔ اور انہوں نے بھی ایک قرارداد جاری کی اور ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ قرارداد اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اگر ہم اپنے ملک کی باوردی فوج کے مرد اور خواتین کو خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ لیتے ہیں تو اس پر کانگریس میں بحث ہونی چاہیے، اور اس بحث کے بعد جو فیصلہ ہو اس میں ووٹنگ بھی ہونی چاہیے، کیونکہ ہم افغانستان میں دیکھ چکے ہیں، عراق میں دیکھ چکے ہیں، اس طرز پر امریکہ کو جنگ میں نہیں جھونکا جا سکتا ہے‘‘۔

ریپبلکن پارٹی کے میسی نے تو صاف طور پر کہا کہ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو تہران فوراً خالی کرنے کی تنبیہ دے ڈالی ہے، جی سیون کی میٹنگ چھوڑ کر فوراً وہ واپس امریکہ پہنچ گئے، وائٹ ہاؤس میں میٹنگ کی۔ اور وہاں سے بھی جو دو رد عمل آئے اس میں:

یعنی پیغام ابھی بھی کشمکش والا ہے، الجھن والا ہے۔ اس کشمکش کے اندر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اب اسرائیل کے حوالے سے کیا ہوگا؟ کیونکہ انتخابی مہم کے پرانے پمفلٹ نکل چکے ہیں جن میں اس کا بھی اعلان ہے کہ بے وقوفانہ اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کے خلاف امریکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں نہیں جائے گا، اور اس کا بھی ذکر ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ اور اب امریکہ کو جنگ میں دھکیلنے کے معاملے میں قدامت پسند اور ایگریسو پارٹی کے لیڈر بھی بٹے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، باقاعدہ اس بات کا کھلے طور پر ریپبلکنز ذکر کرنے لگے ہیں کہ ’’ہم مشرق وسطیٰ میں استحکام کو جلد از جلد بحال کر دیں گے اور ہم دنیا کو امن کی طرف واپس لے آئیں گے، اس کے لیے جنگ کرنا اور جنگ میں کودنا کہاں تک صحیح ہے؟‘‘

سوال یہیں نہیں رک رہے، سوال اس سے آگے ہے کہ جی سیون سے آپ جس طرز پر واپس لوٹے اور وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں جب آپ نے اپنے سیکیورٹی ایڈوائزرز کے ساتھ میٹنگ کی تو اس میں بھی یہ سوال اٹھے کہ اسلامی جمہوریہ (ایران) کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مدد کرنے پر جو غور و فکر ہوگا، اس میں ایک طرف تو یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس نہیں ہو سکتا ہے، دوسری طرف انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)  اس کی لگاتار مخالفت کرتی رہی ہے کہ کسی بھی ملک میں جوہری پلانٹس پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیل نے یہ حملہ کیا جس کی آئی اے ای اے نے مخالفت کی۔

امریکہ اس حوالے سے کیا کرے گا؟ اس بارے میں کنزرویٹو ریپبلکنز کی طرف سے جو بل سامنے آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ نہیں اتر سکتے ہیں کیونکہ ’’یہ ہماری جنگ نہیں اور اگر یہ ہوتی تو بھی کانگریس کو ہمارے اپنے آئین کے مطابق ایسے معاملات پر فیصلہ لینا ہی ہوگا، کیونکہ امریکہ جنگ سے دور ہو چکا ہے‘‘۔ اور ماضی کی تمام باتیں جس ’’امریکہ فرسٹ ٹرسٹ‘‘ کے نعرے کے تحت ٹرمپ نے پورا الیکشن جیتا وہ ایک جھٹکے میں دھندلا جائے گا۔ اس میں غیر قانونی تارکین وطن کا معاملہ ہے، اور اس میں یہ بھی معاملہ ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن میں جو غیر ملکی حملہ آور ہیں، جو کچھ لاس اینجلس میں ہوا، اس کی وجہ سے ساری چیزیں پٹڑی سے اتر جائیں گی۔ ٹرمپ کے جو باقاعدہ سیاسی حکمتِ عملی ساز تھے اسٹیو بینن، انہوں نے لکھا کہ ’’دراصل ڈیپ اسٹیٹ کو، امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی اجازت دینے سے ٹرمپ حامیوں کا اتحاد ختم ہو جائے گا، اور اگر ہم اس جنگ میں پھنس جاتے ہیں تو لازمی طور پر جنگ کے حالات کے حساب سے ہمیں چلنا پڑے گا اور باقی سارے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں گے‘‘۔

ٹرمپ کے سامنے یہ چیلنج ہے۔ ایسے میں نائب صدر جے ڈی وینس سامنے آئے، انہوں نے کہا کہ ’’دراصل ایران کے اندر جو یورینیم کی افزودگی ہے اس کو ختم تو کرنا ہی چاہیے اور اس کے خلاف کارروائی تو ہونی ہی چاہیے کیونکہ گزشتہ 25 سال سے جو خارجہ پالیسی امریکہ کی رہی‘‘، جے ڈی وینس نے اس کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ’’وہ بے وقوفانہ خارجہ پالیسی چل رہی تھی، اور جو لوگ اس وقت ٹرمپ کے ساتھ نہیں کھڑے نظر آ رہے ہیں وہ دراصل وہ گزشتہ 25 برس کی خارجہ پالیسی سے متاثر ہیں‘‘۔ اسی لیے جے ڈی وینس نے آگے اپنے بلاگ میں بھی لکھا کہ ’’حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملتے ہیں کہ ٹرمپ کے ووٹرز ایران پر حملہ کرنے اور اسرائیل کی مدد کرنے میں امریکہ کی بڑے پیمانے پر حمایت کریں گے‘‘۔ یعنی انہوں نے اس راستے کو اپنایا جو ٹرمپ جس راستے پر چل رہے ہیں۔

سوال اس ساری صورتحال میں یہی ہے کہ ایسے میں اب امریکہ جس راستے پر نکل پڑا ہے اس میں اس کے سامنے متبادل کیا ہو گا؟ یہ سوال اس لیے بڑا ہے کیونکہ جنگ میں اگر امریکہ نہیں کودتا ہے تو پھر اسرائیل کے لیے حالات کیسے آسان کیے جا سکتے ہیں؟ تو اس کے چار پانچ وہاں کے سیکیورٹی ایڈوائزر اور امریکہ کے اندر کے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے (مشرق وسطیٰ میں) جو فوجی ٹھکانے ہیں وہ اسرائیل کے لیے کھولنے چاہئیں، فضا میں جہازوں کو تیل سپلائی کی سہولت دینی چاہیے، بی ٹو بمبر سسٹم اس علاقے میں ہونا چاہیے، سکستھ اسٹیلتھ بمبرز جو کہ ڈیاگو گارشیا سے مئی کے مہینے میں لوٹ آئے تھے ان کی دوبارہ تنصیب وہاں ہونی چاہیے، یعنی ٹینکر ہے، فائٹر ہے، سیکنڈ کورئیر ہے، سب کی تنصیب آپ کریں۔

اگلا سوال یہیں سے کھڑا ہوتا ہے کہ ایسے میں ایران کا ردعمل کیا ہو گا۔ اور آج ہی باقاعدہ قومی میڈیا کے ذریعے وہاں پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قوم کے نام پیغام پڑھا گیا۔ اس میں جو پیغام تھا اس میں انہوں نے صاف کہا امریکہ سے ’’امریکہ سن لے، ہم سرنڈر نہیں کریں گے‘‘۔ اور خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لیا اور کہا کہ ’’اگر اسرائیل کے خلاف جنگ میں امریکی فوج نے مداخلت کی تو انجام برا ہوگا‘‘۔ 

دراصل اس صورتحال کے دوران اسرائیلی حملے کے بارے میں ایران کے اپنے مشن کے اہلکار بھی گھوم رہے ہیں جو بتا رہے ہیں کہ دراصل ایران پر حملہ اسرائیل نے بے وقت اور بغیر کسی وجہ سے کر دیا ہے، اور جو جوہری یا یورینیم کی افزودگی کا سوال ہے اس پر تو امریکہ سے بات ہو ہی رہی تھی۔ وہ بھارت میں بھی پہنچے ہیں اور بھارت میں جو (ایران کے) ڈپٹی چیف آف مشن آف انڈیا ہیں محمد جاوید حسینی صاحب، ان سے یہ سوال کیا گیا کہ دراصل اس دور میں سوال ایک ہی ہے کہ ’’کیا آپ ایٹمی بم بنا لیں گے؟‘‘ تو اس پر کیا جواب آیا؟

’’ہم مذاکرات کی میز پر تھے، یہ امریکہ ہی ہے جس نے اسرائیلیوں کو ایران کے خلاف ان فوجی حملوں کی ہری جھنڈی دی، جھوٹے الزام کی بنیاد پر، بہت سارے الزامات لگائے لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لیکن اگر کسی قسم کے الزامات ہیں تو اسے کسی ایسے طریقہ کار سے گزرنا چاہیے جس پر اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے نے غور کیا ہو۔ لیکن انہوں نے ہر چیز بائی پاس کی اور امریکیوں کی مدد سے ان مذاکرات کو تباہ کر دیا۔‘‘

یہ واقعی بڑا اہم ہے کہ اپنے مشن کے ذریعے دنیا کے الگ الگ ممالک میں ایران اس بات کا ذکر کر رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تو جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بات چیت چل ہی رہی تھی، اس سب کے دوران یہ حملہ کیوں ہوا؟ اور دوسری طرف باقاعدہ ایران کے نیشنل ٹی وی پر جو پریزنٹر نے خامنہ ای کا پیغام ایران کی عوام کے نام اور دنیا کے لیے پڑھا اس میں صاف طور پر کہا گیا ’’جو لوگ ایران کی تاریخ جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ ایران کسی بھی دھمکیوں سے نہیں جھکتا۔ اسرائیل نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور اسے اس کی سزا ملے گی۔ ایران تھوپی گئی امن یا جنگ کو نہیں مانے گا‘‘۔

اب جبکہ یہ جنگ کی صورتحال ہے تو اس کے بعد ایران کی طرف سے باقاعدہ اسرائیل پر 25 میزائل داغے بھی گئے، جبکہ اس سے پہلے ہر کوئی جانتا ہے کہ ٹرمپ نے سرنڈر کرنے کی بات کہی تھی وہ بھی غیر مشروط سرنڈر۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ ’’ایران کے آسمان پر ہمارا قبضہ ہے، ہم جانتے ہیں سپریم لیڈر کہاں چھپا ہے لیکن ہم اسے ماریں گے نہیں‘‘۔

یہاں پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہونی چاہیے کہ ایران کے سپریم لیڈر دراصل کن حالات سے نکل کر سپریم لیڈر بنے اور ان کا ماضی کس طریقے سے امریکہ کے ساتھ مخاصمت سے عبارت ہے۔ کیونکہ خامنہ ای نے شروعات جو کی تھی وہ عالم بننے کے ساتھ کی تھی۔ 1939ء میں مشہد جو کہ ایک مقدس شہر ہے وہاں ان کا جنم ہوا تھا۔ اور 1950ء میں شیعہ کے اہم تعلیمی مرکز قم میں جا کر انہوں نے مذہبی تعلیم حاصل کی اور عالم بن گئے۔ اگر اس دور کو آپ پرکھیں اور اس پر دھیان دیں تو اس وقت باقاعدہ سی آئی اے یعنی امریکی خفیہ ایجنسی اور برطانیہ دونوں نے مل کر وہاں پر تختہ پلٹ کیا تھا، یہ 1953ء کی بات ہے اور اس کے بعد ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت آ گئی اور ان کے ذریعے ہی ’’اٹامک فار پیس‘‘ کا ذکر امریکہ نے کیا اور اس وقت امریکی صدر آئزن ہاور نے باقاعدہ ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کی مدد کی۔ ان کو بے دخل کرنے کے لیے آیت اللہ خمینی کھڑے ہوئے، آیت اللہ خمینی کے ساتھ خامنہ ای جڑ گئے۔ 

خمینی 1979ء میں جو اسلامی انقلاب لاتے ہیں اور جو تبدیلی ہوتی ہے اور وہاں پر علماء کا راج ہوتا ہے، اس عرصہ میں خامنہ ای تب خمینی کے قریب آتے ہیں جب اسلامی حکومت قائم کرنے کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوتا ہے۔ اور جب حملہ ہوتا ہے تو اس میں قیادت کسی اور کی نہیں، بلکہ اس قبضے کے پیچھے اس وقت خامنہ ای تھے۔ اور خمینی جب پیرس سے لوٹے اور اقتدار سنبھالا تو خمینی کے بے حد قریب خامنہ ای پہنچ گئے۔ اور جب امریکہ سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپنے کا معاملہ آیا تو خمینی نے طے کیا کہ خامنہ ای کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ اور خامنہ ای اس عرصہ میں نائب دفاعی وزیر بھی بنے۔ اس کے بعد وہ وہاں پر صدر بھی بنے۔ اور اس دور میں ہی عراق-ایران جنگ ہوتی ہے جو 8 سال تک چلی، خمینی کی موت کے بعد اور صدر خامنہ ای کے بننے کے بعد۔ یعنی جس بات کا ذکر صدام کے حوالے سے کیا جا رہا تھا، اس کا ذکر بھی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں یہ کہہ کر کیا ’’ماضی میں ہم تمام حالات کو جھیل چکے ہیں اور ایران جھکتا نہیں ہے‘‘۔

یہ پیغام دراصل بہت صاف طور پر بتلاتا ہے کہ خامنہ ای اور امریکہ کے درمیان تعلق کسی بھی حال میں پرانے امریکی حکمران یا پرانے ایرانی حکمران کی طرز پر آ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ ان کے اپنے ملک ایران میں جب سپریم لیڈر بننے کا معاملہ سامنے آیا تو سوال پیدا ہوا کہ مذہبی طور پر وہ سپریم لیڈر بن پائیں گے یا نہیں، تو باقاعدہ آئین میں تبدیلی کی گئی، ان کی مقبولیت تھی، خمینی کے قریبی تھے، اس لیے وہ سپریم لیڈر بن گئے۔ اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ سپریم لیڈر بننے کے بعد آج تک انہوں نے کوئی غیر ملکی سفر نہیں کیا، 1989ء کے بعد سے کوئی غیر ملکی سفر نہیں کیا۔ داخلی طور پر ان کے بارے میں بے حد ضدی اور بے حد محتاط کا تاثر پایا جاتا ہے، اور یہ بھی مانا گیا ہے کہ وہاں پر جمہوریت نہیں رہی، صحافیوں کو ستایا گیا، ادیبوں کی تخلیقات پر سنسر شپ لگائی گئی، انسانی حقوق کے کئی واقعات ہوئے، کٹر پن کو بڑھاوا دیا گیا۔ 

اور اس مہم کے دوران جب ایران کے جنرل نشانے پر تھے اس وقت ایران کے اندر لوگ خوش بھی تھے، لیکن جب رہائشی علاقوں پر حملے شروع ہوئے اور شہریوں کی موت ہونے لگی، اس موت کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے، اور جو منظر وہاں کا ہے، وہ تہران کا منظر ہو یا پھر اس کا جواب دیتے ہوئے تل ابیب کی جو تصویریں ہیں، اگر ان تصویروں کو دیکھیں تو اس کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ جس بات کا ذکر نیتن یاہو یہ کہہ کر کر رہے تھے کہ دراصل اقتدار یا تختہ پلٹ ہو جانا چاہیے، تو اب جبکہ ایران کے اندر شہریوں پر حملے ہوئے ہیں اور ان علاقوں کی تصویریں بہت خوفناک ہیں، اور اپنے ملک کے اندر ہی اپنی ہی زمین کو کھونے کا ڈر، گھروں کو گنوانے کی سوچ، اور امریکی صدر نے جب کہا کہ تہران خالی کر دیں تو وہاں پر ایک کروڑ لوگ رہتے ہیں، ذرا (بمباریوں کا) ایک منظر دیکھیے۔

جنگ کی اس تباہی کے درمیان ہمیں لگتا ہے اس بات پر بھی دھیان دینا ہوگا کہ خمینی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف تھے۔ خامنہ ای نے 2003ء میں باقاعدہ ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا کہ ایٹمی ہتھیار اسلام کے خلاف ہیں اور ان کا بنانا و استعمال حرام ہے۔ لیکن اس پورے عرصہ کے دوران وہ اپنے دفاعی نظام کو کیسے مضبوط کرتے چلے گئے، اور ان کے پورے دفاعی نظام میں روس اور چین نے بہت مدد کی۔ روس نے سب سے زیادہ مدد کی ہے۔ اس دور میں باقاعدہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون کا استعمال، سپرسونک میزائل کیسے بنے، اس سمت میں ایران نے بہت کام کیا۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل جس نقطہ نظر سے حملہ کرتا ہے اور جوہری ہتھیاروں کا وہ ذکر کرتا ہے، اس میں ایران کے اندر نطنز کا علاقہ جہاں پر زمین کے اوپر جو نیوکلیئر پلانٹ تھا اس پر اسرائیل کا حملہ ہوتا ہے، لیکن اصفہان اور فردو کے علاقے، خاص طور سے فردو کا یہاں ذکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ فردو نیوکلیئر کمپلیکس پہاڑ کے اندر ہے، اور مانا جاتا ہے کہ ہتھیار گریڈ یورینیم کا بڑا حصہ وہیں پر موجود ہے۔ اسرائیل کے پاس بنکر توڑنے والا بم نہیں ہے، امریکہ کے پاس یہ موجود ہے اور میسو آرڈیننس پینیٹریٹر (MOP) اس کو کہتے ہیں، یہ وزن میں تقریباً 13,000 کلوگرام کا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں نہیں کودے گا اور ایران کا پورے کا پورا نیوکلیئر کمپلیکس ویسے ہی موجود رہے گا، تو پھر اسرائیل کی تو یہ بڑی ہار ہوگی اور نیتن یاہو کی یہ بڑی ہار ہوگی، کیونکہ اس پوری جنگ کا ہدف ایٹمی پلانٹس شروع سے ہی تھے، جنرلز شروع سے تھے، اس کے بعد تیل پلانٹس پر حملہ ہوا، پھر اقتصادی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ یعنی فوجی اڈوں اور میزائل لانچ پیڈز کے بعد اکنامک کنڈیشن اور لوگوں کے اوپر یہ حملے ہونے شروع ہو گئے۔ اسی لیے یہ سوال بڑا ہوتا چلا گیا کہ اب اس جنگ میں اگر امریکہ کی انٹری نہیں ہوتی ہے تو یہ جنگ بہت لمبی چلے گی۔ اور اس کو آنے والے وقت میں کس نقطہ نظر سے دنیا دیکھے گی، شاید یہ بات یوکرین اور روس کی جنگ کے ذریعے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔

لیکن اگلا سوال یہ بھی ہے کیا واقعی اسرائیل یا نیتن یاہو اس پورے عمل کے اندر پھنس گئے ہیں؟ کیونکہ خامنہ ای کے قتل کے خلاف امریکہ کھڑا ہے، ایران کے جوہری اثاثے جہاں موجود ہیں وہاں تک پہنچنے کے لیے اسرائیل کے پاس میزائل نہیں ہیں، اور ایران اپنے طور پر یہ بار بار کہہ رہا ہے کہ دراصل وہ یہ سب اقتدار کی تبدیلی اور ایران کو ایک سماجی جنگ کے اندر دھکیلنے کے لیے کر رہے ہیں، جیسا انہوں نے لیبیا میں کیا، جیسا عراق میں کیا، جیسا شام میں کیا۔ کیا یہ نقطہ نظر اس طرح سے ایران کو متحد کر دے گا؟ لیکن اس سب کے دوران جو چار پانچ بڑے سوال ایران کے ساتھ جڑے ہیں کہ 

  1. کیا ایران کی اثر و رسوخ کمزور ہو جائے، اب اسرائیل اس کی کوشش کر رہا ہے؟ 
  2. حکومتی نظام اور فوجی ادارے درہم برہم ہو جائیں، اس کی کوشش میں ہے؟
  3. ایران کے اندر کا جو طاقت کا توازن ہے، جو پاور گیم ہے اس میں وہ حاوی ہو جائے؟ 
  4. اور اسلامی جمہوریہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے؟ کیا اس سمت میں اب وہ چل پڑا ہے؟

لیکن پھر اگلا سوال اس بات کو لے کر آتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر یہ دھمکی اب اسرائیل سے زیادہ امریکہ کو دے رہے ہیں، کیونکہ امریکہ کے اندر وہ سیاسی صورتحال ٹرمپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہے، ٹرمپ طاقت کے ساتھ اقتدار میں آئے ضرور ہیں، لیکن ٹرمپ کو اگر اب اقتدار میں آنے سے پہلے والے نعرے یاد دلائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ دیکھیے آپ اس نقطہ نظر سے چلے تھے اور اب آپ امریکہ کو پٹڑی سے مت اتاریے، کیونکہ اس دور میں امریکہ کی ساکھ دنیا بھر میں کمزور ہوئی ہے۔ اور امریکی صدر ٹرمپ کے یوم پیدائش کے دن جس طریقے سے فوج نے پریڈ کی اور اس فوج کے پریڈ کے دوران ڈیموکریٹس وہاں سڑکوں پر نکل آئے، یہ پہلا نظارہ امریکہ کے اندر تھا جہاں پر یہ لگنے لگا کہ موجودہ اقتدار کے ساتھ کھڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر ہی ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہیں، وہ پہلا پیغام تھا۔

تو کیا واقعی جس راستے پر ٹرمپ نکل پڑے ہیں اس میں اسرائیل سے زیادہ بحران ان کو اب یہ سوچ کر دکھائی دینے لگا ہے کہ امریکہ کی پرانی طاقت اور امریکہ کی نئی بارگیننگ صورتحال کے بیچ خود ٹرمپ ہی کھڑے ہیں۔ اور بین الاقوامی طور پر جی سیون کی میٹنگ تک انہیں جس طرز پر چھوڑنی پڑی، اور آج ہی کے دن جب یہ پیغام کھلے طور پر سامنے آیا کہ بھارت کے وزیراعظم نے ٹیلی فون پر کہا ’’ابھی ہمارے پاس وقت نہیں، ابھی نہیں آئیں گے‘‘۔  اور جو سیزفائر، ثالثی، یا پھر پاکستان کے حوالے سے سوال تھے وہ غلط تھے۔ اور آج ہی رات کے 10:30 بجے یعنی جس وقت امریکہ میں دوپہر کے 1:00 بجیں گے اس وقت پاکستان کے آرمی چیف (عاصم) منیر کے ساتھ امریکی صدر لنچ کر رہے ہوں گے وائٹ ہاؤس میں۔

بین الاقوامی صورتحال میں جس راستے پر ٹرمپ چلے، کیا اس راستے پر اب اسرائیل بھی پھنس گیا ہے؟ اور ایران کے سپریم لیڈر جو آج پیغام دے رہے ہیں کہ ’’سرنڈر نہیں کریں گے اور امریکہ سوچ لے سمجھ لے کہ اگر جنگ میں کودا تو نتائج ایسے ہوں گے کہ زندگی بھر بھرپائی نہ ہو پائے گی‘‘۔ 

بہت بہت شکریہ۔

https://youtu.be/UShmMKDjrt4

(۱۸ جون ۲۰۲۵ء)


’’بارہ روزہ جنگ‘‘ میں اسرائیل اور ایران کے نقصانات

ادارہ

اسرائیل کے نقصانات

 ہلاکتیں اور زخمی

انفراسٹرکچر کا نقصان

معاشی صورتحال


ایران کے نقصانات

 ہلاکتیں اور زخمی

انفراسٹرکچر کا نقصان

معاشی صورتحال

اسرائیل ایران کشیدگی کی خبری سرخیاں

روزنامہ جنگ

اپریل 2024ء

1 اپریل 2024ء

دمشق: اسرائیلی بمباری، ایران کی القدس بریگیڈز کے کمانڈر سمیت 8 افراد جاں بحق

2 اپریل 2024ء

اسرائیل کا دمشق میں حملہ، ایرانی قونصل خانہ تباہ، پاسدارانِ انقلاب کا سینئر کمانڈر شہید

3 اپریل 2024ء

یورپی یونین کی دمشق میں ایرانی سفارتی عمارت پر اسرائیلی حملے کی مذمت

13 اپریل 2024ء

ایران کا اسرائیل پر حملے کا خدشہ، امریکا نے اقدامات شروع کردیے

14 اپریل 2024ء

ایران کا اسرائیل پر حملہ، 300 سے زائد ڈرون اور میزائل داغ دیے

اسرائیل پر حملہ، اردن، شام، لبنان اور عراق نے فضائی حدود بند کردیں

اسرائیل نے کئی ایرانی ڈرونز کو نشانہ بناکر تباہ کردیا

ایران کا حملہ، اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا غزہ سے انخلا

ایران کا اسرائیل پر حملہ، تہران میں شہریوں کا جشن

اقوام متحدہ، فرانس اور برطانیہ کی اسرائیل پر حملوں کی مذمت

امریکا نے اسرائیل کی تمام ایرانی ڈرونز و میزائل گرانے میں مدد کی: وائٹ ہاؤس

بائیڈن کی اسرائیل پر ایرانی حملوں کی مذمت

میں امریکی صدر ہوتا تو اسرائیل پر کبھی ایرانی حملہ نہ ہوتا: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کیخلاف جارحانہ آپریشن میں حصہ نہیں لیں گے: بائیڈن نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بتا دیا

جسٹن ٹروڈو کی اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت

ایران کا اسرائیل پر حملہ، امریکی مدد کی تفصیلات سامنے آ گئیں

اسرائیل ایران پر کسی بھی جوابی کارروائی سے پہلے ہمیں بتائے: امریکی وزیرِ دفاع

ایران نے 185 ڈرون، 110 میزائل، 36 کروز میزائل داغے: اسرائیل

ایران کا اسرائیل پر حملہ، چین نے کیا کہا؟

ایران نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟

جنگ بڑھنا اسرائیل کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں: ملیحہ لودھی

ایران کا اسرائیل پر حملہ، سعودی عرب کا ردعمل سامنے آگیا

اسرائیل سے تعلقات پر مسلم ممالک کی 3 کیٹیگریز ہیں: سید محمد علی

جاپان کی بھی اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت

اسرائیل، اردن، لبنان، عراق نے ایرانی حملے کے بعد بند فضائی حدود کھول دیں

اب ایران کیخلاف کچلنے والے حملے کی ضرورت ہے، اتماربن گویر

اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو جواب اس سے بھی بھرپور ہو گا، ایران کی وارننگ

ایران کا اسرائیل پر حملہ، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

ایران نے عراق سے آنیوالی فلائٹس کو اپنی فضائی حدود کے استعمال سے روکدیا

اسرائیلی فوج کا 99 فیصد ایرانی ڈرون اور میزائل تباہ کرنیکا دعویٰ

ایران کا سوئس سفارتخانے کے ذریعے امریکا کو پیغام

خطے کے ممالک تحمل سے کام لیں، متحدہ عرب امارات

نیا باب رقم، پاسداران انقلاب نے صیہونی دشمن کو سبق سکھادیا، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی

امریکا کو بتادیا تھا اسرائیل کیخلاف حملے دفاعی نوعیت کے ہوں گے، ایران

15 اپریل 2024ء

ایران جنگ، جوابی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے، بائیڈن نے نیتن یاہو کو آگاہ کردیا

اسرائیل پر حملہ، پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے حقائق جاری کردیے

اسرائیل سے کشمکش، ایرانی صدر پہلے غیر ملکی دورے پر 22 اپریل کو پاکستان آئیں گے

جتنا اسرائیلی نقصان ہونا چاہئے تھا نہیں ہوا‘ سابق عہدیدار پینٹاگون

اسرائیل کو ایرانی ڈرونز گرانا مہنگا پڑگیا، 3 کھرب 74 ارب خرچ ہوگئے

اسرائیل پر حملہ ناکام؟ ایران کا دعویٰ مقاصد حاصل کرلیے گئے، عالمی میڈیا

ایرانی قبضے میں بحری جہاز میں دو پاکستانی بھی موجود، جلد رہائی کا امکان

ایران کا میزائل سسٹم کتنا موثر، افواج کتنی طاقتور ہیں؟

اسرائیلی عوام کا اردن سے اظہارِ تشکر

اسرائیلی درخواست پر بلایا گیا سلامتی کونسل کا اجلاس ملتوی

ایرانی حملے میں ایئربیس کو نقصان پہنچا، اسرائیل کا اعتراف

اسرائیلی ایئر بیس پر 5 ایرانی میزائل لگے، 1 طیارے کو نقصان

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا وفد کے ہمراہ دفتر خارجہ کا دورہ

کیا واقعی ایرانی ڈرونز اردن کی شہزادی سلمیٰ نے مار گرائے؟

اسرائیل کیلئے 14 ارب ڈالرز کی امدادکیلئے بائیڈن کا کانگریس پر دباؤ

ایران کے بڑے حملے کا جواب ناگزیر ہوگا، اسرائیلی وزیراعظم آفس

ایران کے حملے سے سارے اسرائیل کی میپنگ ہوگئی، وزیر دفاع خواجہ آصف

ایرانی و برطانوی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

مشرق وسطیٰ کشیدگی میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے، امریکی وزیر خارجہ

ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو اپنی طاقت دکھائی، حسین حقانی

جرمنی ایئرلائن لفتھانسا کی ایران اور لبنان کے لیے پروازیں معطل، تہران کا اطالوی قونصل خانہ بند

16 اپریل 2024ء

ایران کی نیت بہت زیادہ تباہی کی تھی، جان کربی

ایران کو نقصان پہنچانا ہے مگر جنگ نہیں کرنی، اسرائیل

تیسری جنگ عظیم کی طرف پیش قدمی؟

ایران نے صیہونی ریاست کے خلاف دفاع کا آغاز کردیا، علامہ شبیر میثمی

مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی سے بچنا ضروری ہے، اقوام متحدہ

ایران نے اسرائیلی فوج کے بجٹ کا 10؍ فیصد خرچ کر کے حملہ کیا

ایران حملہ، اسرائیل جوابی کارروائی پر بضد، عالمی رہنماؤں کی تحمل کی تاکید، سلامتی کونسل اجلاس بے نتیجہ

ایرانی حملہ سے خراب صورتحال، پاکستانی معیشت کو خطرہ نہیں

ایران اسرائیل موجودہ تنازع، فلسطین سے کوئی تعلق نہیں، حسین حقانی

ایران اسرائیل کشیدگی پر دفترخارجہ کا بیان مبہم‘ پی ٹی آئی

اسرائیلی جہاز پر کوئی پاکستانی ہے تو اسے چھوڑ دینگے، ایرانی سفیر

ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ علامتی اور بہت نپا تلا تھا، خواجہ آصف

ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ مزید بڑھے گی، تجزیہ کار

حماس کیساتھ جنگ 2023 میں اسرائیل کے قرضوں میں دُگنا اضافہ ہوا

ایران حالیہ صورتحال کو اچھی طرح سنبھال لے گا، چین

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ممکنہ اسرائیلی حملے پر فکرمند

ایرانی حملہ، اسرائیلی فوج نے نیواتیم ایئر بیس کی 1 اور ویڈیو جاری کر دی

ایران کو جواب دیا جائے گا: اسرائیلی آرمی چیف

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر چین فعال کردار ادا کرے: سعودی عرب

ایران اسرائیل کشیدگی پر یورپی یونین رہنما جوزف بوریل نے کیا کہا؟

اسرائیل کا پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے پر زور

17 اپریل 2024ء

ایرانی سفارتخانے پر حملہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی تھی، ترک صدر

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کی اسرائیل آمد متوقع

اسرائیل دنیا کو نئی جنگ عظیم کی جانب دھکیل رہا ہے، ضیاء عباس

ایران کو روکا جائے، اسرائیلی وزیر خارجہ، حملے کا پوری قوت سے جواب دینگے، تہران

گوگل ملازمین کا اسرائیلی حکومت کیساتھ کمپنی کے تعلقات کے خلاف احتجاج

حماس کیساتھ جنگ کے اثرات، اسرائیلی جی ڈی پی میں 21 فیصد کمی

اسرائیل کا لبنان پر حملہ، حزب اللّٰہ کمانڈر سمیت 3 شہید

ایرانی حملے کے جواب میں اسرائیل مخمصے کا شکار

ایران میں بحری جہاز میں موجود 2 پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت دیدی

اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو مشرق وسطیٰ بحران کے تنہا ذمہ دار ہیں، ایردوان

ایران اسرائیل کشیدگی، کروڈ آئل کی قیمت 90 ڈالر سے بڑھ گئی

مشرق وسطیٰ میں نئے تصادم کے تباہ کن اثرات ہونگے، پیوٹن

ایرانی حملے نے اسرائیل کے مضبوط سمجھے جانے والے تصور کو توڑ دیا، صدر ابراہیم رئیسی

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع بلاواسطہ نہیں براہ راست ہے، روس

ایران اسرائیل کشیدگی: نیتن یاہو نے تحمل سے کام لینے کا عالمی دباؤ مسترد کر دیا

18 اپریل 2024ء

اسرائیل کا ایران پر حملہ یہودی مذہبی چھٹیوں تک مؤخر کرنے کا امکان

غلط اندازہ اسرائیل ایران تصادم بڑھنے کا باعث بنا، امریکی میڈیا

ایران دیمونہ جوہری ری ایکٹر کو براہ راست نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، اسرائیلی اخبار

19 اپریل 2024ء

ایران اسرائیل کے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے میں کامیاب، اسرائیلی اخبار

ایرانی صدر کا دورہ پہلے سے طے، اسرائیلی صورتحال سے تعلق نہیں، اسحاق ڈار

فلسطینی صدر نے امریکی ویٹو کی مذمت کردی

اسرائیلی حملے پر مزید فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا، ایران

اسرائیل کی ایران میں فضائی حملے کی کوشش

اسرائیل کے حملے کی اطلاعات، ایرانی ٹی وی نے تازہ ترین صورتحال دکھا دی

ایران نے اسرائیل کے میزائل حملے کی تردید کردی

ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت، صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، دفتر خارجہ

چین نے ایران اسرائیل کشیدگی میں اضافے کی مخالفت کردی

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر روس کا ردعمل بھی سامنے آگیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں، برطانوی وزیراعظم

ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادی مزید کشیدگی سے گریز کریں، صدر یورپی کمیشن

20 اپریل 2024ء

ایران پر اسرائیلی حملہ، 3 ڈرون تباہ، اصفہان پر داغے گئے تینوں ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، حملے میں ہم شامل نہیں، امریکا

ایران دفاعی بجٹ میں اسرائیل سے پیچھے، فوجیوں کی تعداد میں اسرائیل پر بھاری

کیا ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے ایک ارب ڈالر کا سوال؟

صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوگا

اسرائیل ایران کیساتھ مکمل جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، تجزیہ کار

وائٹ ہاؤس کا ایران پر اسرائیلی حملے پر تبصرے سے گریز

21 اپریل 2024ء

آیت اللّٰہ خامنہ ای کا اسرائیل پر جوابی حملے پر پاسداران انقلاب سے اظہار تشکر

24 اپریل 2024ء

امریکی سینیٹ: یوکرین، اسرائیل، تائیوان کیلئے 95 ارب ڈالرز کا امدادی بل منظور

26 اپریل 2024ء

ایران کا حملہ

مئی 2024ء

6 مئی 2024ء

اسرائیل وزیر نے ایران کیخلاف انتقامی حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا

اکتوبر 2024ء

1 اکتوبر 2024ء

ایران 12 گھنٹے میں اسرائیل پر حملہ آور ہوسکتا ہے، امریکی اخبار

ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، وادی اردن، مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے

اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے، غزہ اور لبنان میں جشن

ایران اس لمحے پر پچھتائے گا، اسرائیلی وزیر کی دھمکی

بائیڈن کا امریکی افواج کو اسرائیل کا دفاع کرنے کا حکم

اسرائیلی شہر جافا میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

2 اکتوبر 2024ء

میزائل حملوں کو روکنے کیلئے اسرائیل کی مدد کی، امریکا

اسرائیل کیخلاف میزائل حملہ فیصلہ کن ردعمل تھا، ایران

اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا، آیت اللّٰہ خامنہ ای کی وارننگ

برطانیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، سر کیئر اسٹارمر

پوری دنیا کو ایران کے حملے کی مذمت کرنی چاہیے، امریکی وزیر خارجہ

اسرائیل پر ایران کا حملہ بظاہر ناکام رہا، امریکا

اسرائیل پر ایران کا حملہ مکمل ہوگیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل کی سلامتی کیلئے میری وابستگی غیر متزلزل ہے: کملا ہیرس

ایران نے اسرائیل پر حملے کیلئے کون سے میزائل استعمال کیے؟

ایرانی حملوں سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو زیرِ زمین جانے پر مجبور

ایران پر چند دن میں اسرائیل کے جوابی حملے کا امکان

ایرانی حملے سے قبل اسرائیلی شہریوں کو موبائل پر کیا پیغام ملا؟

اسرائیل سیخ پا، انتونیو گوتیرس کو ملک میں داخلے سے روک دیا

لبنان نے اسرائیل پر آج صبح سے 100راکٹ داغ دیے

اسرائیل پر حملے کے بعد ایرانی سپریم لیڈر پہلی بار منظرِ عام پر آ گئے

حزب اللّٰہ و ایران اسرائیل پر حملے بند کریں: جرمن چانسلر

ایران نے اسرائیل پر پہلے سے زیادہ طاقتور حملہ کیا، تجزیہ کار

اسرائیلی فوجیوں کی ساتھیوں کی لاشیں اٹھا کر بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی

اپنے ملک کو جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے، اردن

ایران کے صدر مسعود پزشکیان قطر کے دورے پر دوحہ پہنچ گئے

اسرائیل کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حزب اللّٰہ کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے اپنے فضائی اڈوں پر ایرانی میزائل گرنے کا اعتراف کرلیا

اسرائیل نے لبنان میں 8 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی

اماراتی ایئرلائنز نے عراق، ایران اور اردن کی تمام پروازیں منسوخ کردیں

لبنان کی صورتحال بدترین ہوگئی، حملوں کے تبادلے کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے، اقوام متحدہ

آیت اللّٰہ خامنہ ای نے حسن نصراللّٰہ کو اسرائیلی سازش سے خبردار کیا تھا، رپورٹ

ایران سینئر حکام کے درمیان اسرائیلی ایجنٹوں کے خدشات پر پریشان، ذرائع

سائرن کی آواز سنتے ہی اسرائیلی فوجیوں کے بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی

پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار

میزائل حملوں کی ایران کو بھاری قیمت چکانی ہوگی، اسرائیلی دھمکی

حزب اللّٰہ کا اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ

3 اکتوبر 2024ء

ایرانی بیلسٹک میزائل موساد کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب گرے، امریکی میڈیا

سب کچھ ختم ہو جائے گا

ایران کے پاس اسرائیل تک مار کرنے والے 9؍اقسام کے میزائل

ایرانی میزائل مار گرانے میں امریکا نے بھرپور کردار ادا کیا، ملیحہ لودھی

ایران کے اسرائیلی فوجی اہداف پر حملے، مغرب کی دہری پالیسی

اسرائیل میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ناپسندیدہ شخصیت قرار

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی حمایت نہیں کرتے، امریکا

مشرق وسطیٰ تنازع پر چین گہری تشویش میں مبتلا ہے

خطے میں کشیدگی امریکا اور یورپ کے مفاد میں نہیں، ایرانی صدر

گوتیرس پر پابندی اسرائیل کا یو این اسٹاف پر ایک اور حملہ ہے: اقوامِ متحدہ

نیتن یاہو ایرانی حملے سے خوفزدہ، ہاتھ کانپنے لگے

ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی ایئر بیس کی سیٹیلائٹ تصاویر جاری

حزب اللّٰہ کی حسن نصراللّٰہ کی نمازِ جنازہ کی زیرِ گردش خبروں کی تردید

ایران کی مبینہ ’ہٹ لسٹ‘ سامنے آ گئی، نیتن یاہو کا نام شامل

حوثیوں کے تل ابیب پر 5 ڈرون حملے، شیلٹرز کی جانب بھاگنے والے متعدد اسرائیلی زخمی

ایران نے اسرائیل پر حملے کیخلاف G7 کا مذمتی بیان مسترد کر دیا

یورپین یونین کی انتونیو گوتریس کیخلاف چلنے والی مہم کی مذمت

دولہا دلہن کا پرچم لہرا کر فلسطین اور لبنان سے اظہار یکجہتی

حزب اللّٰہ کا ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ، اسرائیلی فوج پسپا ہوگئی

ایران آئندہ 6 ماہ میں 10 ایٹمی وار ہیڈز تک رسائی حاصل کر لے گا، اولی ہینونن

حزب اللّٰہ لبنان سے شام ہتھیار منتقل کر رہی ہے، اسرائیل کا الزام

اسرائیل کیخلاف لڑائی سے دیگر ممالک دور رہیں، ایران کی وارننگ

1967 کی جنگ میں حصہ لینے والا اسرائیل کا آخری کمانڈر بھی چل بسا

حزب اللّٰہ کا جھڑپوں میں آج مزید 17 اسرائیلی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

4 اکتوبر 2024ء

یکطرفہ ضبط کا مرحلہ ختم ہوگیا، ایران

اسرائیل کی بیروت پر بمباری، نشانہ ہاشم صفی الدین تھے

دنیا میں یہودیوں کی تعداد کتنی ہو گئی؟

اسرائیلی بمباری، لبنان سے شام جانے والی شاہراہ بند

آیت اللّٰہ خامنہ ای کا 5 سال بعد نمازِ جمعہ کا خطبہ، بڑی تعداد میں ایرانی عوام پہنچ گئے

اسرائیلی جارحیت کے باوجود فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز ادا کی

اسرائیل کی جنوبی لبنان کے طبی مرکز پر فضائی بمباری، 4 افراد شہید

شہید حسن نصراللّٰہ کی بیروت میں انتہائی رازداری کے ساتھ خفیہ مقام پر امانتاً تدفین

یحیٰ سنوار غزہ کی سرنگوں میں خفیہ طور پر سرگرم ہیں، رپورٹ

اسرائیل نے انتونیو گوتیرس کو ”ناپسندیدہ شخصیت“ قرار دے دیا

اسرائیلی فوج کے اڈے پر عراقی ڈرون حملہ، 2 فوجی ہلاک

5 اکتوبر 2024ء

اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل کے فضائی حملے میں حماس رہنما بیوی بچوں سمیت شہید ہوگئے

اسرائیل کا حزب اللّٰہ کے ممکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین کی شہادت کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی بچہ نماز کی ادائیگی کیلئے تڑپتا رہا، ویڈیو وائرل

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا 1 برس مکمل، لندن میں اسرائیل مخالف بڑا احتجاج

6 اکتوبر 2024ء

لبنانی شہری حزب اللّٰہ کے ہتھیار منظر عام پر لے آیا، ویڈیو وائرل

امت مسلمہ کا فرض بنتا ہے انبیاء کی سرزمین کی سربلندی کیلئے آواز بلند کریں: منعم ظفر

اسرائیل: بین الاقوامی ریسٹورنٹ پر فائرنگ، خاتون پولیس افسر ہلاک، 10 زخمی

غزہ: عمر الدحدوح کو شہادت کے بعد اللّٰہ نے بیٹی کی نعمت عطا کی

ایران کے سب سے بڑے آئل ٹرمینل کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنائے جانے کا خدشہ

اسرائیل و امریکا سب سے بڑے دہشت گرد ہیں، حافظ نعیم

غزہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، 10 ہزار لاشیں اب بھی دبی ہوئی ہیں، رپورٹ

7 اکتوبر 2024ء

ایران میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے پر اسرائیل کو مراعات ملیں گی

ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل پر حملہ کرنیوالے جنرل کو تمغۂ فتح سے نواز دیا

یومِ اظہارِ یکجہتیٔ فلسطین: جماعتِ اسلامی کے کراچی اور لاہور میں مظاہرے

لبنان: اسرائیلی زمینی کارروائی میں توسیع، مزید 16 شہری شہید

آل پارٹیز کانفرنس: آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اقوام متحدہ کی رکنیت کا مطالبہ

حماس کے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن کو ایک سال مکمل ہوگیا

حماس نے اسرائیلی شہر تل ابیب پر راکٹ برسادیے

یحییٰ سنوار نے 22 سال اسرائیلی جیل میں یہودیوں کے بارے میں کیا سیکھا؟

اسماعیل ہنیہ کی 7 اکتوبر 2023 کو سجدہ شکر ادا کرنے کی ویڈیو پھر وائرل

آج کی قرارداد میں صرف فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کی بات ہوگی، وزیر اعظم شہباز شریف

دو ریاستی حل اور 1967 کی پوزیشن کی بات نہیں ہونی چاہیے، حافظ نعیم الرحمان

حماس کے تل ابیب پر راکٹ حملوں کی ویڈیو سامنے آگئی

ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بحث پر تعجب ہوتا تھا، فضل الرحمان

اسرائیل کا جنوبی لبنان پر 100 جنگی طیاروں سے حملے کا دعویٰ

غزہ کی ایک اداس تصویر نے سب کو رلا دیا، یہ درد بھری کہانی کیا ہے؟

تل ابیب میں میزائل گرنے کے بعد اسرائیلیوں کی بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی

8 اکتوبر 2024ء

اسرائیل ایران مکمل جنگ نہیں چاہتے: امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنس

اسرائیلی فوج کا لبنان میں زمینی آپریشن شروع

سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کا ایرانی جوہری پروگرام پر حملے کا مطالبہ

اسرائیلی فوج کا سربراہ حزب اللّٰہ لوجسٹکس ہیڈکوارٹرز سہیل حسینی کی ہلاکت کا دعویٰ

اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا: نیو یارک ٹائمز

نیویارک: فلسطینی اور اسرائیلی حامیوں کے درمیان جھڑپیں

ترکیہ کا لبنان سے کل اپنے شہریوں کا انخلاء کرانے کا عندیہ

ایمانویل میکرون اور نیتن یاہو کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی

اسرائیلی زمینی کارروائی سے نہیں ڈرتے، میزائل حملے بڑھا رہے ہیں: ڈپٹی چیف حزب اللّٰہ

لبنان: اقوام متحدہ کی امن فورس بھی اسرائیلی فوج سے غیر محفوظ؟

9 اکتوبر 2024ء

لبنان سے واپس آنیوالے پاکستانیوں نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

لبنان میں جاری جنگ روکنے کا ایک موقع اب بھی باقی ہے: سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ

اسرائیلی بمباری، بیکری تباہ، صبح سے اب تک 20 فلسطینی شہید

نیتن یاہو کی لبنان کو غزہ بنانے کی دھمکی

اسرائیل ’صہیونی دہشتگرد تنظیم‘ ہے: ترک صدر

اسرائیل کی حماس چیف یحییٰ سنوار کو قتل کرنے کی کھلے عام دھمکیاں

مجھے بھی والد کے ساتھ جانا ہے، باپ کے جنازے پر فلسطینی بچے کے جذبات نے سب کو رلا دیا

حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر راکٹ داغ دیے، 2 اسرائیلی ہلاک

لندن: پکاسو کی قدیم پینٹنگ پر غزہ کی ماں اور بچے کی خون آلود تصویر لگا کر مظاہرہ

10 اکتوبر 2024ء

ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں: ایرانی جنرل کی اسرائیل کو جوابی دھمکی

ایرانی حملے میں کئی اسرائیلی ایف 35 لڑاکا طیارے تباہ ہوئے: ایرانی انقلابی گارڈز کے مشیر

بولیویا اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقا کے نسل کشی کے مقدمے میں باضابطہ شامل

دوحہ: ایرانی وزیرِ خارجہ کی قطری ہم منصب سے ملاقات

اسرائیلی فوج کا فضائی حملے میں 2 حزب اللّٰہ کمانڈرز کو مارنے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے فلسطینی صحافی کی گردن میں گولی مار دی

اسرائیلی فوج کی غزہ میں بچوں کا آخری اسپتال تباہ کرنے کی دھمکی

غزہ میں حماس کے ہاتھوں میجر سمیت 3 اسرائیلی فوجی مارے گئے

11 اکتوبر 2024ء

اسماعیل ہنیہ کی بہو شہید بیٹیوں کے بغیر خود کو اکیلا محسوس کرنے لگیں

ایسا لگتا ہے اسرائیل اقوام متحدہ سے بھی جنگ کرنے پر اتر آیا، عرب میڈیا

حسن نصراللّٰہ کے ساتھ شہید ہونے والے ایرانی کمانڈر کا جسد خاکی مل گیا

12 اکتوبر 2024ء

اسرائیل پر حملہ: امریکا کی ایران کے تیل پر نئی پابندیاں

لبنان دھماکوں کے بعد ایران کی ایئرلائنز میں پیجرز اور واکی ٹاکیز پر پابندی

13 اکتوبر 2024ء

27 فلسطینی میڈیکل طلباء کا پہلا گروپ قاہرہ سے پاکستان کیلئے روانہ

اسرائیلی فوج کے یو این امن فورس پر حملے، لبنان چھوڑنے کا الٹی میٹم

غزہ: والدہ کی خاطر پانی کیلئے جانیوالا 13 سالہ بچہ اسرائیلی بمباری میں شہید

جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہیں لیکن جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، ایران

حزب اللّٰہ نے اسرائیل میں ڈرون حملہ کردیا، سائرن نہ بج سکے

حزب اللّٰہ کے اسرائیل میں ڈرون حملے، 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، 67 زخمی ہوگئے

حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوج کے پانچ باقاعدہ انفنٹری بریگیڈز میں سے ایک کو نشانہ بنایا

14 اکتوبر 2024ء

غزہ: اسرائیلی فضائی حملے: خیموں میں آگ لگنے سے 4 فلسطینی زندہ جل گئے

کیا امریکا بڑی جنگ کیلئے تیار ہے؟ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے سوال اٹھا دیا

القسام بریگیڈ کا جنوبی غزہ میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

حزب اللّٰہ کے اسرائیل پر چھوٹے ڈرونز سے حملے کرنے کے فائدے سامنے آگئے

اسپین کا یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر زور

اسرائیلی فوج کی لبنان کے شمالی علاقوں پر پہلی فضائی بمباری، 18 افراد جاں بحق

القسام بریگیڈ کا جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ

غزہ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال کی کوششیں

15 اکتوبر 2024ء

اسرائیل کا ہدف ایران کی جوہری یا تیل تنصیبات نہیں ہوں گی، نیتن یاہو

نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ، 200 افراد گرفتار

ایرانی حملے میں اسرائیل کو کتنا مالی نقصان ہوا؟ ابتدائی تخمینہ سامنے آ گیا

غزہ: انسدادِ پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ، 10 سالہ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

قابضین کو بھگانے کیلئے فلسطینیوں کو ہر طرح کی جدوجہد کا حق حاصل ہے، حزب اللّٰہ

امریکا نے اسرائیلی حملے میں مدد کی تو بھرپور جواب دینگے، ایرانی بریگیڈیئر جنرل

16 اکتوبر 2024ء

امریکا کا اسرائیل کو فراہم کردہ تھاڈ دفاعی سسٹم کوئی بڑی چیز نہیں، ایران

17 اکتوبر 2024ء

ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں، سابق سیکریٹری پاسداران انقلاب

نیتن یاہو نے ایران پر حملے کے اہداف کی منظوری دیدی

شمالی غزہ: سڑکوں پر کتے لاشیں کھانے لگے

حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار شہید ہوگئے، اسرائیل کا دعویٰ

اسرائیل نے یحییٰ سنوار کو قتل کرنے کی کھلے عام دھمکیاں دی تھیں

یحییٰ سنوار کی زندگی پر ایک نظر

یحییٰ سنوار سے متعلق اسرائیلی دعووں پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا، حماس

18 اکتوبر 2024ء

حماس نے یحییٰ سنوار کی شہادت کی تصدیق کردی

اسرائیلی فوج نے رواں سال حماس کے 5 اہم رہنما شہید کردیے

بمباری کے دوران مسکراتے بچے کی یحییٰ سنوار کے ساتھ تصاویر سامنے آگئیں

یحییٰ سنوار نے آخری لمحات میں دنیا کو نیتن یاہو کی ناکامی کی تصویر دکھا دی

یحییٰ سنوار کے پاس سے ملنے والے اسلحے کی تصاویر سامنے آگئیں

دو ہفتوں سے اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ غزہ کے جبالیہ کیمپ کی کیا اہمیت ہے؟

19 اکتوبر 2024ء

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہونے سے روکی جا سکتی ہے: امریکی صدر

اسرائیلی فوج کا یحییٰ سنوار کو تلاش کرنے کا دعویٰ جھوٹ نکلا

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پر ڈرون حملہ

ایران پر حملے کی پشت پناہی کرنیوالے کو جوابدہ ٹھہرایا جائے: ایرانی وزیرِ خارجہ

یحییٰ سنوار نے جس صوفے پر بیٹھ کر اسرائیل فورسز کا مقابلہ کیا اس کی تصویر سامنے آگئی

نیتن یاہو کا گھر پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا

20 اکتوبر 2024ء

اسرائیل کی ایک ہی روز میں فلسطینیوں کی بدترین نسل کشی

امریکی خفیہ دستاویزات لیک، اسرائیل کا ایران پر حملے کا منصوبہ منظر عام پر

21 اکتوبر 2024ء

یحییٰ سنوار سر میں گولی لگنے سے شہید ہوئے، پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف

ایران کیلئے جاسوسی کا الزام، فوجی سمیت 7 اسرائیلی گرفتار

اسرائیل نے بن گوریون ایئرپورٹ تمام پروازوں کیلئے بند کردیا

بحیرہ روم میں 5 ڈرون طیارے اسرائیلی حدود کی جانب بڑھتے دیکھے گئے، اسرائیلی فوج

اسرائیل کی غزہ والوں کو اپنی زمین سے ہمیشہ کیلئے بےدخل کرنے کی دھمکی

22 اکتوبر 2024ء

وزیرِاعظم کی لبنان و غزہ 2 جہاز امدادی سامان فوری بھیجنے کی ہدایت

حزب اللّٰہ کا اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس بیس پر میزائل حملہ، 3 صہیونی فوجی ہلاک

حزب اللّٰہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے گھر پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

حزب اللّٰہ کا ڈرون نیتن یاہو کے بیڈروم کی کھڑکی پر لگا، اسرائیلی اخبار

23 اکتوبر 2024ء

اسرائیلی حملوں کا خدشہ، لبنان کا وادیٔ صور سے شہریوں کو فوری انخلاء کا حکم

انٹونی بلنکن سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

24 اکتوبر 2024ء

اسرائیلی حملوں میں مزید 55 فلسطینی شہید، 132 زخمی

25 اکتوبر 2024ء

غزہ: 23 لاکھ فلسطینی غذائی قلت کا شکار

جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کے ہاتھوں 5 اسرائیلی فوجی مارے گئے، 24 زخمی

حزب اللّٰہ کے نئے راکٹ حملوں میں 2 اسرائیلی ہلاک 9 زخمی ہوگئے

حزب اللّٰہ کے اسرائیل میں میزائل حملوں کے بعد کے مناظر سامنے آگئے

26 اکتوبر 2024ء

اسرائیلی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: ایران

ایران میں طے شدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے: اسرائیل

اسرائیل کی ایران کو جوابی حملے سے باز رہنے کی دھمکی

ایران نے اسرائیلی حملے ناکام بنانے کی ویڈیو جاری کر دی

سعودی عرب کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

ملائیشیا کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

ایران کو اسرائیلی حملوں کا جواب نہیں دینا چاہیے: کیئر اسٹارمر

اسرائیلی حملوں میں 2 فوجی شہید ہوئے: ایران

قطر اور عمان کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مزمت

حزب اللّٰہ کا تل نوف ایئر بیس کو ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

صہیونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کیخلاف دفاع کا حق رکھتے ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

جنوبی لبنان اور شمالی غزہ میں 24 گھنٹے میں 13 اسرائیلی فوجی ہلاک، 60 زخمی

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید

اسرائیل کے فضائی حملوں میں 4 ایرانی فوجی شہید ہوئے، ایرانی فوج

اسرائیلی طیاروں نے ایران پر حملے کیلئے عراقی فضائی حدود استعمال کیں، ایرانی آرمی چیف

27 اکتوبر 2024ء

ایران پر حملوں کا متناسب جواب دیا جائے گا، نائب صدر محمد رضا عارف

ایران اسرائیل کشیدگی: سلامتی کونسل کا اجلاس کل طلب

آیت اللّٰہ خامنہ ای کا اسرائیلی حملوں پر پہلا ردعمل

حزب اللّٰہ کے ہاتھوں اسرائیلی میجر سمیت 4 مزید فوجی مارے گئے، 14 زخمی ہوئے

حزب اللّٰہ کے اسرائیل میں حساس تنصیبات پر حملے، 2 افراد زخمی

اسرائیل: موسادہیڈ کوارٹر کے قریب گاڑی کی ٹکر سے 5 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے

ویڈیو: اسرائیلی شہریوں نے نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے انہیں تقریر کرنے سے روک دیا

مصری صدر نے غزہ میں 2 دن کی جنگ بندی کی تجویز دے دی

28 اکتوبر 2024ء

فلسطین میں شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک ہے: ایاز صادق

شمالی غزہ میں 3 صحافیوں سمیت 53 فلسطینی، لبنان میں 21 شہری شہید

ایرانی حملے میں فضائی حدود کی خلاف ورزی، عراق کی اسرائیل کیخلاف اقوامِ متحدہ میں شکایت درج

ممکنہ ایرانی حملے کا خوف، اسرائیلی کابینہ اجلاس زیر زمین کرنے کا فیصلہ

29 اکتوبر 2024ء

اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی انروا پر پابندی لگا دی

فلسطین نے انروا پر پابندی کا اسرائیلی فیصلہ مسترد کر دیا

بے گھر فلسطینی سردیوں کیلئے گرم کپڑوں کا انتظام کیسے کر رہے ہیں؟

حزب اللّٰہ نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کر لیا

غزہ: بیت لاھیا میں 5 منزلہ عمارت پر اسرائیلی بمباری، 93 فلسطینی شہید

اسرائیل کی انروا پر پابندی غزہ کے بچوں کے قتل عام کا نیا طریقہ ہے: یونیسیف

حزب اللّٰہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم کون ہیں؟

اسرائیل نے حزب اللّٰہ کے نئے سربراہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

30 اکتوبر 2024ء

غزہ میں جنگ بندی بات چیت کے لیے تیار ہیں، حماس

یورپین یونین نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو ’خوفناک‘ قرار دے دیا

ایرانی دفاعی بجٹ میں 200 فیصد اضافے کا امکان

31 اکتوبر 2024ء

ایران امریکی انتخابات سے قبل اسرائیلی حملے کا جواب دے گا: امریکی میڈیا

حزب اللّٰہ کے اسرائیل میں راکٹ حملے، 5 اسرائیلی ہلاک

خطے میں کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، سعودی وزیر خارجہ

ڈرون حملوں کا خطرہ نیتن یاہو کا بیٹے کی شادی مؤخر کرنے پر غور

نومبر 2024ء

1 نومبر 2024ء

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے حساس معلومات لیک ہونے پر کئی افراد گرفتار

غزہ میں مزاحمت، 778 اسرائیلی فوجی، 68 پولیس اہلکار ہلاک

اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کیلئے فلسطینی ریاست کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، سعودی عرب

2 نومبر 2024ء

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے اور بحری جنگی جہاز تعینات

امریکا و اسرائیل جان لیں انہیں منہ توڑ جواب ملے گا: یت اللّٰہ خامنہ ای

اسرائیلی فوج نے لبنان کا سیاحتی شہر بعلبک تباہ کردیا، تصاویر سامنے آگئیں

3 نومبر 2024ء

ایران اسرائیل پر ایک اور حملہ نہ کرے، امریکا کی ایران کو تنبیہ

اسرائیلی فوج نے حزب اللّٰہ کے سینئر رکن کو گرفتار کرلیا

4 نومبر 2024ء

اسرائیل پر بھرپور حملے کی منصوبہ بندی، ایران نے خطے کے ممالک کو آگاہ کردیا

ایران اسرائیل تناؤ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

نیتن یاہو کے دفتر سے حساس معلومات لیک، فوج کے افسر سمیت 5 افراد گرفتار

5 نومبر 2024ء

غزہ: اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، مزید 37 فلسطینی شہید

وزیراعظم کا ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

غزہ و لبنان جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع کو فارغ کردیا گیا

6 نومبر 2024ء

شمالی غزہ میں اسرائیلی حملہ، 20 فلسطینی شہید

7 نومبر 2024ء

سینیٹ قائمہ کمیٹی: صہیونیت کی تبلیغ اور علامت کی نمائش پر سزا کا بل منظور

پاکستان کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

حزب اللّٰہ راکٹ حملہ: اسرائیل کی 1 فوجی کی ہلاکت، 3 زخمی ہونے کی تصدیق

اسرائیل نے امریکا سے 25 جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کرلیا

8 نومبر 2024ء

اسرائیل کا امریکا سے 14 کھرب 45 ارب کا جنگی طیاروں کا بیڑہ لینے کا معاہدہ

غزہ اور لبنان پر بمباری، 2 روز میں 120 شہید، شمالی غزہ سے انخلا کی اسرائیلی دھمکی

ایمسٹرڈیم: اسرائیلی فٹبال شائقین پر حملہ، 11 زخمی

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر پر نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں کی حساس ویڈیوز جمع کرنے کا الزام

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خفیہ ایجنسی موساد کو نئی ہدایات جاری کردیں

9 نومبر 2024ء

بائیڈن کا عہدہ چھوڑنے سے قبل یوکرین کو اربوں ڈالرز کی امداد دینے کا منصوبہ

اسرائیلی حملے، مزید 44 فلسطینی، 52 لبنانی شہید

10 نومبر 2024ء

نیتن یاہو کا لبنان میں پیجر ڈیوائس حملوں اور حسن نصراللّٰہ کو شہید کرنے کا اعتراف

11 نومبر 2024ء

غزہ، لبنان، شام میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد شہید

عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے، محمد بن سلمان

غزہ: القسام بریگیڈ کے حملے میں میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے

فلسطین، لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملوں کیخلاف عرب اسلامی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ

12 نومبر 2024ء

چیف پراسیکیوٹر پر جنسی ہراسانی کے الزامات، عالمی عدالتِ جرائم کا بیرونی تحقیقات کا اعلان

اسرائیلی حملوں کے پیشِ نظر ایران کی ’دفاعی سرنگ‘ بنانے کی تیاری

تھائی پولیس نے اسرائیلی سیاحوں پر حملوں کا خدشہ ظاہر کر دیا، اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع

حزب اللّٰہ کے شمالی اسرائیل میں راکٹ حملے، 2 اسرائیلی ہلاک

13 نومبر 2024ء

غزہ میں اسرائیل کیساتھ امریکا بھی نسل کشی میں ملوث ہے: حماس

غزہ: اقوامِ متحدہ کی امداد کی تقسیم کے بعد اسرائیلی فورسز کا حملہ

سعودی عرب کی اسرائیل کی جانب سے فلسطینوں کی نسل کشی کی مذمت

14 نومبر 2024ء

یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف کا اسرائیل سے سیاسی تعلقات ختم کرنے پر غور

اسرائیل کا جنوبی لبنان میں اپنے 6 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 1 ماہ میں 20 امدادی کارکن قتل

15 نومبر 2024ء

غزہ: 24 گھنٹوں میں 24 فلسطینی شہید، 112 زخمی

بیروت: اسرائیلی فوج کا بیروت میں رہائشی عمارت پر حملہ، 3 جاں بحق 9 زخمی

16 نومبر 2024ء

حماس شرائط کے ساتھ جنگ بندی کیلئے تیار

لبنان و غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، 59 لبنانی، 37 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج نے بیروت میں بمباری کرکے کئی عمارتیں تباہ کردیں

17 نومبر 2024ء

اسرائیلی فوج کی بمباری میں حزب اللّٰہ کے ترجمان محمد عفیف شہید

ٹرمپ کابینہ میں اسرائیل کے حامیوں کی تقرری پر امریکی مسلمان ناراض

18 نومبر 2024ء

یرغمالیوں کی حالت نازک، جنگ بندی کے علاوہ رہائی کا کوئی آپشن نہیں: اسرائیلی جنرل

19 نومبر 2024ء

لبنان پر 2 ماہ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 200 بچے شہید ہوچکے، یونیسیف

حزب اللّٰہ کا اسرائیل کے اہم سیکیورٹی ادارے کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

20 نومبر 2024ء

نیتن یاہو کا اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانیوالوں کو 50 لاکھ ڈالرز کا لالچ

بچوں کا عالمی دن، غزہ میں ہر 30 منٹ میں 1 بچہ قتل

تازہ اسرائیلی حملے، لبنان میں 28، غزہ میں 50 فلسطینی شہید

غزہ جنگ بندی قرارداد پر امریکی ویٹو، حماس کا ردِعمل آگیا

21 نومبر 2024ء

امریکی سینیٹ نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روکنے سے متعلق 3 بل مسترد کر دیے

23 نومبر 2024ء

امریکی میڈیا کا شام پر اسرائیلی بمباری میں سینئر حزب اللّٰہ کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ

24 نومبر 2024ء

ایران اسرائیل کے حملوں کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے، علی لاریجانی

25 نومبر 2024ء

لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق طے پا گیا ہے، اسرائیلی میڈیا

26 نومبر 2024ء

اسرائیل لبنان 60 روزہ جنگ بندی معاہدہ طے، جلد جنگ ختم ہونے کا امکان

27 نومبر 2024ء

اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد لبنانی گھروں کو لوٹنا شروع

لبنان کے بعد غزہ میں بھی جنگ بندی کیلئے تیار ہیں: حماس

29 نومبر 2024ء

اسرائیل کی غزہ میں نئی یہودی بستی قائم کرنے کی تیاری، سیٹلائٹ امیج نے بھانڈا پھوڑ دیا

دسمبر 2024ء

1 دسمبر 2024ء

اسرائیلی فوج کی غزہ کے پناہ گزین کیمپوں پر بمباری، مزید 100 فلسطینی شہید

2 دسمبر 2024ء

جنگوں میں زیادہ قتل خواتین ہوئیں یا مرد؟

اسرائیل کے انسانی جسم تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

3 دسمبر 2024ء

بلنکن کی اسرائیلی وزیر سے ملاقات، غزہ میں جنگ بندی پر زور

4 دسمبر 2024ء

برطانیہ: شاہ چارلس کی امیرِ قطر کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

8 دسمبر 2024ء

شام میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت دھماکے سے تباہ کردی گئی

10 دسمبر 2024ء

امریکا 12 برس سے شام کے وسائل پر قابض ہے: ایرانی سفیر برائے شام

24 دسمبر 2024ء

نئے مشرقِ وسطیٰ کا خواب نیتن یاہو کیلئے عذاب کے سوا کچھ نہیں: حوثی رہنما

25 دسمبر 2024ء

ایران کا اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائی کا عندیہ

حزب اللّٰہ 10 برس تک اسرائیل سے دھماکا خیز آلات خریدتا رہا

غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری، اسرائیلی حملوں میں آج مزید 40 فلسطینی شہید

جنوری 2025ء

24 جنوری 2025ء

حماس کمانڈر حسین فیاض زندہ ہیں، ویڈیو منظر عام پر

غزہ: پانی کا 70 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ

فروری 2025ء

22 فروری 2025ء

اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینگے: ایرانی بریگیڈیئر جنرل

24 فروری 2025ء

اسرائیل نے حسن نصراللّٰہ کو فضائی حملے میں شہید کرنے کی ویڈیو جاری کر دی

20 برس بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی ٹینک تعینات، آپریشن میں توسیع کا عندیہ

جون 2025ء

13 جون 2025ء

اہداف پورے ہونے تک ایران کیخلاف آپریشن رائزنگ لائن جاری رہے گا: نیتن یاہو

اسرائیلی حملوں کی قیمت امریکا کو بھی چکانا پڑے گی: پاسدارانِ انقلاب

ایران نیوکلیئر بم نہیں بنا سکتا: ٹرمپ

اسرائیل کا اہم حامی امریکا اسرائیل کی مہم جوئی کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا: ایرانی وزارت خارجہ

اسرائیل اور ایران تحمل کا مظاہرہ کریں: انتونیو گوتریس

اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نیتن یاہو کی داخلی سیاست کے فائدے کے لیے ہے: امریکی سینیٹر

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس نے 2 حدیں کھودیں

آیت اللّٰہ خامنہ ای کے مشیر شمخانی اسرائیلی حملے میں شہید، ایرانی میڈیا

ایران پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے: سعودی عرب

ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی، نیتن یاہو کا طیارہ نامعلوم مقام پر روانہ

اسرائیلی حملے میں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شہید

ایران پر حملوں میں 200 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا: اسرائیلی فوج

چند گھنٹوں میں ایران کی طرف سے 100 سے زائد ڈرونز اسرائیل کی جانب آئے، اسرائیلی فوج

ایرانی سپریم لیڈر نے قائم مقام چیف آف اسٹاف و کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب کا انتخاب کرلیا

اسرائیلی حملے کے بعد ایران امریکا جوہری مذاکرات غیریقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے: عمان

جاپان کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت

امریکا ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایرانی جوہری تنصیب پر حملہ، ویڈیو منظر عام پر آگئی

اسرائیلی حملوں میں 6 جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق

پاکستان کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت، ایرانی عوام سے اظہار یکجہتی

ایران پر اسرائیلی حملے ایران کی خود مختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

ایران کے حملے کا خطرہ، بن گورین ایئرپورٹ خالی کروالیا گیا

ایران پر اسرائیلی حملہ خطے کو غیر مستحکم کرے گا، حماس

اسرائیل کا ایران پر حملہ بدترین دہشت گردی ہے: حافظ نعیم الرحمٰن

ایران میں پاکستانی زائرین کیلئے کرائسز منیجمنٹ یونٹ قائم، انخلاء پر غور

اسرائیلی حملے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب

اسرائیل، فلسطین اور ایران کا تنازعہ بڑھتا نظر آ رہا ہے: ملک محمد احمد خان

ایران سے داغے گئے تمام ڈرونز مار گرائے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

ایران سے جنگ چھیڑنا شیر کی دُم سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایرانی حکومت

متعدد ممالک کی ایران اور اسرائیل کیلئے پروازیں منسوخ، فضائی حدود بھی بند

اسرائیلی حملے میں نقصانات پر ایرانی عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہوں: وزیراعظم شہباز شریف

اسرائیلی حملے پر سعودی عرب کا مؤقف امت مسلمہ کی ترجمانی ہے: طاہر محمود اشرفی

ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتے ہیں: چینی وزارتِ خارجہ

اسرائیل کا ایران پر حملہ، امریکی سینٹرل کمانڈ ہائی الرٹ

سینیٹ اجلاس، ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف قرارداد منظور

ایران: مسجد جُمکران پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا

سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستانی فضائی حدود مؤثر طور پر استعمال ہو رہی ہے: پی اے اے

اگر ٹرمپ کو پہلے سے پتہ تھا تو انہوں نے اسرائیل کو کیوں نہیں روکا؟ ملیحہ لودھی

ایران کومعاہدہ کرلینا چاہیےاس سےپہلے کہ کچھ نہ بچے:امریکی صدر

پیوٹن اسرائیلی حملے کی لمحہ با لمحہ رپورٹس حاصل کر رہے ہیں: کریملن

ایران اسرائیل کشیدگی، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی

ایران میں موجود پاکستانیوں کیلئے ہاٹ لائنز قائم کردی گئی ہیں، اسحاق ڈار

اسرائیل نے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا

حزب اللّٰہ کا ایران اسرائیل جنگ سے دور رہنے کا اعلان

اسرائیل کی شیطانی حکومت کا جَلد خاتمہ ہوگا، ایرانی وزیرِ دفاع

ایرانی فوج کے نئے سربراہ اور کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب کے نام سامنے آگئے

ایران پر اسرائیلی حملے، مسجد اقصیٰ تک رسائی بند

ایران اسرائیل جنگ: دونوں ممالک میں کس کا پلڑا بھاری؟

ایران پر اسرائیلی حملے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا: بلاول بھٹو

ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف مجلس وحدت مسلمین کے مظاہرے

اسرائیلی حملے میں سربراہ ایرو اسپیس پاسدارانِ انقلاب گارڈز سمیت 20 سینئر کمانڈرز شہید

دنیا بھر میں سفارتی مشنز بند کر رہے ہیں: اسرائیلی سفارتخانہ سوئیڈن

خطہ طویل ایران و اسرائیل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا: بلاول بھٹو زرداری

اسرائیل پر جوابی ڈرون حملے نہیں کیے، ایرانی سیکیورٹی ذرائع

ایران میں اسرائیلی حملوں میں 78 افراد جاں بحق، 329 زخمی

ایرانی کابینہ کی اسرائیل کیخلاف حکمتِ عملی پر بحث

نیتن یاہو حکومت خطے کو تباہی کی طرف گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے: ترک صدر

اسرائیلی فوج کا تمام ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کمانڈر میجر جنرل امیر علی حاجی زادہ کی شہادت کی تصدیق

ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں: علامہ ہشام الہٰی ظہیر

ہمدان میں ایرانی نوجہ ایئر بیس پر اسرائیل کے مزید 2 حملے

ایران کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

ایران پر حملہ اسرائیل کی بڑی غلطی ہے: نواز شریف

حکومتِ پاکستان کا زائرین کو ایران، عراق کا سفر موخر کرنے کا مشورہ

زمین سے زمین پر مار کرنیوالے ایرانی میزائل پروگرام پر بمباری مکمل کر لی: اسرائیل

ایران کو معاہدے کیلئے 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا، آج 61 واں دن ہے: ٹرمپ

اسرائیل کا حملہ، ایران میں 50 ہزار پاکستانی موجود

اسرائیل کا 2 ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ، شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اطالوی ہم منصب کو اسرائیلی جارحیت سے آگاہ کر دیا

بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کا ردِعمل یقینی ہو گا: بلاول بھٹو

ایران پر حملہ، عراق کا اسرائیل پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام

اسرائیلی حملوں میں شہید ایرانی فوجی عہدیداروں و سائنسدانوں کے نام جاری

ایرانی دفاعی نظام نے اسرائیلی میزائل حملے ناکام بنا دیے، میڈیا رپورٹ

اسرائیلی حملے کے بعد ایرانی ایٹمی تنصیبات سے تابکاری کا ثبوت نہیں ملا: سربراہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی

ایران کا ردعمل انتہائی سخت متوقع ہے: نیتن یاہو

سعودی وزیرِ خارجہ کا ایرانی و مصری ہم منصبوں سے رابطہ، اسرائیلی حملے کی مذمت

قطری وزیرِ اعظم کا ایرانی وزیرِ خارجہ سے رابطہ، اسرائیلی حملوں کی مذمت

ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ، 150 میزائل داغ دیے، 7 اسرائیلی زخمی

امریکا کی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

2 اسرائیلی طیارے مار گرائے، خاتون پائلٹ گرفتار، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

14 جون 2025ء

اسرائیل نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے : چین

نجف سے کراچی، باکو سے لاہور اور کراچی سے جدہ کیلئے 7 پروازیں منسوخ

ایرانی حملے میں اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر ’کریا‘ کی عمارت نشانہ بنی

ایران اسرائیل کشیدگی بہت بڑھ چکی، اب وقت آگیا ہے کہ اسے روکا جائے: انتونیو گوتریس

نطنز جوہری تنصیب سے تابکاری کے اخراج ہوا ہے: ترجمان ایرانی جوہری توانائی آرگنائزیشن

ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے کے نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں

ایران نے میزائل حملوں میں اسرائیل کے کن اہم مقامات کو نشانہ بنایا؟

اسرائیل نے امریکی صحافی کو ایرانی حملے کی کوریج سے روک دیا

ایران کے اسرائیل پر تازہ حملوں میں 10 افراد زخمی

ایرانی اخبار نے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائلوں کی بارش کرنے کی ویڈیو جاری کردی

اسرائیل کو سمجھ آ گیا ہوگا کہ ایران پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے: جنرل واحدی

عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کرے: او آئی سی کا مطالبہ

انٹیلیجنس تھی کہ چند دنوں میں ایران جوہری بموں کیلئے مواد تیار کر لے گا: اسرائیلی مندوب

مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی: خواجہ آصف

اسرائیل کا دوسرا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے: اسد قیصر

امریکی فضائی دفائی نظام اور تباہ کن جہاز اسرائیل کا دفاع کر رہے ہیں: امریکی حکام

اسرائیلی وزیرِاعظم کا ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیلی لڑاکا طیارے تہران میں اہداف پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی فوج

بھارتی اسرائیل سے نالاں، اسرائیلیوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ایران اسرائیل جنگ: پیٹرول کے بعد سونے کے بھاؤ میں بھی اضافہ

اسرائیل نے غزہ کو ثانوی جبکہ ایران کو بنیادی جنگی محاذ قرار دیدیا

پوپ لیو کی ایران اور اسرائیل سے بات چیت کی اپیل

اسرائیل کے تازہ حملوں میں 3 ایرانی جوہری سائنسدان شہید

اسرائیل کے ایران کے مختلف علاقوں میں حملے

مسلم دنیا اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرے، خواجہ آصف کا مطالبہ

برطانوی وزیرِ خارجہ نے ایرانی ہم منصب کو تحمل سے کام لینے کا کہہ دیا

اردن کی فضائیہ نے اسرائیل جانے والا ایرانی ڈرون مار گرایا

امریکی سینیٹر نے اسرائیل کے ایران پر حملے کو غیر قانونی قرار دیدیا

ایرانی حملوں میں 7 فوجی زخمی ہوئے: اسرائیلی فوج کی تصدیق

اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے پر غور

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ، اسرائیلی حملے کی مذمت

اسرائیل نے آج رات تہران پر بہت بڑے حملے کا منصوبہ بنالیا

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیٹے کی شادی ملتوی

ایران نے فضائیہ کے نئے سربراہ کا تقرر کردیا

ایران، امریکا جوہری مذاکرات کا چھٹا دور منسوخ

اسرائیلی حملوں کے پیش نظر پاکستانی شہری ایران کا سفر نہ کریں، وزارت داخلہ

ترک صدر کا ایرانی ہم منصب اور سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی ولادیمیر پیوٹن سے 50 منٹ طویل گفتگو

اسرائیلی حملے: ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان میں 30 فوجی، 1 ہلالِ احمر اہلکار شہید

اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت پر ایرانی میزائل گرنے پر اسرائیلی میڈیا خاموش

اسرائیلی حملوں کو ٹرمپ کی واضح حمایت حاصل ہے، نیتن یاہو

اسرائیل میں ایرانی حملوں کا خوف، دیوارِ گریہ پر سناٹا چھا گیا

15 جون 2025ء

امریکا نے یوکرین سے بعض میزائل اور دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کردیا

ہم ایران اور اسرائیل میں آسانی سے ڈیل کرا سکتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اسلامی دنیا میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے: فضل الرحمٰن

ایران کا 1 گھنٹے میں 10 اسرائیلی طیارے مار گرانے کا دعویٰ

ایران آبنائے ہرمز بند کرسکتا ہے، ایک اور F-35 اسٹیلتھ طیارہ اور 10 جہاز مار گرائے، ایران کا دعویٰ، اسرائیل کی تردید

نالائق حکمرانوں نے ایران کو جنگ میں دھکیلا ہے، رضا پہلوی

اسرائیل کا یمن میں حوثی رہنماؤں پر بھی حملہ

اسرائیلی حکومت ایران سے تنازعہ بڑھانا چاہتی ہے، سعودی ولی عہد

ایران نے این پی ٹی معاہدے سے الگ ہونے کی دھمکی دیدی

ایران کو اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق حاصل، ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، شہباز شریف

ایرانی حملے، اسرائیل نے 25 کمرشل طیارے قبرص منتقل کردیئے

ایران پر اسرائیلی حملہ، بھارت نے SCO کا مشترکہ اعلامیہ نظرانداز کردیا

نیتن یاہو کی حکومت کمزور، 6ماہ کی مہلت مل گئی

فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے فون پر رابطہ

ایرانی فوج نے برطانوی بحریہ کے جہاز کو خلیج فارس میں داخلے سے روک دیا

ایران کے اسرائیل پر برسائے گئے میزائلوں کی تفصیلات جانیے

اسرائیل نے جنگ میں امریکا سے مدد مانگ لی

اسرائیلی حملے امریکا کے آشیرباد کے بغیر ناممکن تھے، اسرائیل نے ایک نئی سرخ لائن عبور کرلی ہے: عباس عراقچی

ایران کے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل اور ہائبرڈ ڈرونز سے حملے، ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی

ایران اسرائیل جنگ کے باوجود پاک ایران سرحد بدستور کھلی ہے: ذرائع وزارت خارجہ

برطانوی صحافی کی ایران کو قصور وار ثابت کرنیکی کوشش، ایرانی پروفیسر محمد مرندی نے کرارا جواب دیدیا

سابق سی آئی اے افسر کی امریکا کے اسرائیلی سازش سے ایران جنگ میں ملوث ہونے کی 11 سال پرانی پیشگوئی

تہران میں اسرائیلی حملے روکنے کیلئے فضائی دفاع نظام فعال

اسرائیلی اقدام علاقائی استحکام کیلئے سنگین ہے: او آئی سی

ایران نے قبرص کے صدر کے دعوے کی تردید کر دی

موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہری محتاط رہیں: سفارتخانہ پاکستان بغداد

فلائٹس کینسل، ہزاروں پاکستانی زائرین ایران میں پھنس گئے

اسرائیل کا 50 جہازوں سے 170 ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے ایران کے تازہ میزائل حملے کی تصدیق کر دی

پاک ایران تفتان بارڈر پر صورتحال معمول پر

ترک و روسی وزرائے خارجہ میں رابطہ، ایران اسرائیل تنازع پر گفتگو

ایران میں پھنسے پاکستانی طلباء و طالبات کا قافلہ تہران سے روانہ

ایران سے فوری مذاکرات کیلئے جرمنی، فرانس، برطانیہ تیار

ایرانی گبد کلاتو 250 بارڈر پر راہداری تا حکمِ ثانی بند ہے: ڈپٹی کمشنر گوادر

جان بچانے کا واحد طریقہ ہے اسرائیل چھوڑ دو، طاقتور میزائل حملہ ہو رہا ہے: ایران کا جوابی پیغام

ایران سے اپنے شہریوں کا زمینی راستے سے انخلاء کرا رہے ہیں: روسی سفارتخانہ تہران

اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے رابطہ، ایران پر اسرائیلی حملوں پر اظہار تشویش

پاسدارانِ انقلاب کا انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا، اسرائیل کا دعویٰ

اسرائیلی حملے نہ رکے تو ایران کا ردعمل فیصلہ کن ہو گا: ایرانی صدر

ایران اوراسرائیل میں جلد امن کراؤں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

ایرانی کالعدم جماعت کا نیتن یاہو کے دام میں آنے سے انکار

ٹرمپ نے خامنہ ای کے قتل کا اسرائیلی منصوبہ رد کر دیا: برطانوی میڈیا

اسرائیل کیساتھ تنازع کو دیگر ملکوں تک پھیلانا نہیں چاہتے: ایران

ایران اسرائیل جنگ پر پاکستان سے منسوب بیان فیک نیوز نکلا

ایران سے پاکستانیوں کے انخلاء کا عمل جاری، 180وطن پہنچ گئے

ایران کیساتھ تنازع میں ممکنہ طور پر اسرائیل کی مدد کر سکتے ہیں، برطانیہ

برطانوی وزیراعظم اور اماراتی صدر میں رابطہ، مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر گفتگو

اردوان اور ٹرمپ کی ٹیلیفون پر گفتگو، ایران اسرائیل تنازع پر تبادلۂ خیال

نیتن یاہو کا پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف اور ڈپٹی کو قتل کرنے کا دعویٰ

اسرائیل کا کوئی کونا رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے, ایران

16 جون 2025ء

ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں مزید 10 افراد ہلاک

حالت جنگ میں مذاکرات نہیں کریں گے، ایران نے قطر اور عمان کو آگاہ کردیا

ممکن ہے ہم اسرائیل ایران جنگ میں شامل ہوجائیں، ٹرمپ

ایران کے تازہ ترین میزائل حملے، 8 اسرائیلی ہلاک

ایران اسرائیل جنگ، پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر

ایران پر اسرائیلی جارحیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے: سیکریٹری جنرل خلیج تعاون کونسل

تہران میں موساد کی ڈرونز اسمگل گاڑیاں پکڑی گئیں

تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے سے امریکی سفارتخانے کو معمولی نقصان

ایران: موساد کیلئے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دیدی گئی

ایران پر حملہ پاکستان کو اگلا نشانہ بنانے کی بنیاد ہے، لیاقت بلوچ

بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم میں اسرائیل کی مذمت سے انکار کیوں کیا؟

فرانس: دفاعی نمائش میں اسرائیل کو شرکت سے روک دیا گیا، اسرائیلی سیخ پا

اسرائیل کا ایران پر حملے کے مقاصد حاصل نہ ہو پانے کا اعتراف

ہمیں اسرائیل جیسی کینسر پھیلانے والی رجیم کو ختم کرنا ہوگا: ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی ہائی ٹیک جوابی حملہ، اسرائیلی دفاعی نظام پر سوالات اُٹھانے لگے

ایران اسرائیل فوری طور پر کشیدگی میں کمی کیلئے اقدامات کریں: چین

ایران کے نطنز جوہری پلانٹ کو کوئی اضافی نقصان نہیں ہوا: سربراہ آئی اے ای اے

ایران اور اسرائیل کشیدگی کم کریں: اقوام متحدہ

ایران اسرائیل کشیدگی، سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا بازار گرم

ایران اسرائیل جنگ پر وزارت خارجہ سے متعلق ایک فیک نیوز گھڑی گئی، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

ایران اسرائیل جنگ: پاکستانیوں کی ایران سے ہنگامی واپسی جاری

پی آئی اے پائلٹ نے اسرائیل کی جانب فائر کیے گئے ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنالی

امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کردیا، برطانوی اخبار

ہم تہران میں بڑی کارروائی کرنے جارہے ہیں، نیتن یاہو

عراقی وزیراعظم کا اسرائیل پر خطے میں جنگ کو توسیع دینے کا الزام

ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان سے اظہار تشکر کے نعرے

ایران امریکا اور اسرائیل سے بات چیت کرنا چاہتا ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کا ایران کے سرکاری ٹی وی کی عمارت پر حملہ، متعدد کارکنوں کی شہادت کی اطلاع

ایران کا اسٹاک مارکیٹ کا غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان

بااثر ممالک نے ایران کیخلاف ووٹ دینے کا کہا ہم نے صاف انکار کیا، اسحاق ڈار کا انکشاف

ویڈیو: اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی ٹی وی کی اینکر پروگرام چھوڑ کر اٹھ گئیں

ہم نے اسرائیل کی حمایت کی، ایران جنگ نہیں جیت رہا، ٹرمپ

اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران۔امریکا ڈیل کو ختم کرنا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی حکومت انتہائی کمزور پڑ چکی ہے، سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

آیت اللّٰہ خامنہ ای کو قتل کرنے کا ارادہ ہے؟ آسٹریلوی ٹی وی کا نیتن یاہو سے سوال

ایران نے اسرائیل پر بڑے حملے کی تیاری کرلی، اہم فوجی انٹیلی جنس مراکز نشانہ بنانے کا منصوبہ

17 جون 2025ء

ٹرمپ اسرائیلی جنگ میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں: غیرملکی اخبار کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ’ایران بینک سپہ‘ پر سائبر حملہ

اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار: پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں دو ٹوک مؤقف

اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں موساد اور امان کے مراکز پر میزائل حملہ

اسرائیلی وزیر دفاع کی آیت اللّٰہ خامنہ ای کو دھمکی

ایران کے تازہ حملے، اسرائیل کا شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت

ایران اور اسرائیل سے کچھ چینی شہریوں کو پڑوسی ممالک میں منتقل کروایا ہے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

پاکستان کا ایران سے سفارتی عملہ واپس بلانے پر غور

ایرانی ٹی وی پر حملے کا ہدف پروفیسر محمد مرندی تھے، جارج گیلوے

اسرائیل آج تہران میں انتہائی اہم ترین اہداف کو نشانہ بنانے جا رہا ہے: اسرائیلی وزیرِ دفاع

ٹرمپ نے اسرائیل سے متعلق اپنے پرانے موقف سے یوٹرن لے لیا

چینی صدر کا ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جلد از جلد کم کرنے پر زور

اسرائیلی حملے میں نطنز کے زیر زمین سینٹری فیوج ہالز پر براہ راست اثرات پڑے ہیں، آئی اے ای اے

ٹرمپ نے اسرائیل ایران تنازع میں شامل ہونے کا اشارہ نہیں دیا: برطانوی وزیرِ اعظم

ایران کی اسرائیلی شہریوں کو تل ابیب خالی کرنے کی وارننگ

حالیہ اسرائیلی حملوں سے ایرانی حکومت بہت کمزور پڑ گئی ہے، جرمن چانسلر

پاکستان کا ایران سے غیر ضروری سفارتی عملے کے انخلاء کا فیصلہ

ایران سے پاکستانیوں کی واپسی، پی آئی اے کا خصوصی طیارہ اشک آباد روانہ

ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، صدر مسعود پزشکیان

ٹرمپ ایرانی جوہری پروگرام کیخلاف مزید اقدامات کر سکتے ہیں: نائب امریکی صدر

اب ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، فی الحال خامنہ ای کو مارنے نہیں جا رہے: ٹرمپ

خامنہ ای نے جنگ سے متعلق اختیارات پاسداران انقلاب کو منتقل کردیے

روس کی پھر ایران، اسرائیل کے درمیان ثالثی کی پیشکش

امریکا: نیشنل سیکیورٹی اجلاس، ایران کیخلاف جنگ کے حوالے سے فیصلہ متوقع

ایران کے عوام واٹس ایپ، انسٹاگرام ان انسٹال کردیں، سرکاری ٹی وی کی اپیل

ایران اسرائیل تنازع، امریکی شہریوں ٹریول ایڈوائزری جاری

برطانوی میڈیا کا ایران اسرائیل تنازع پر ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی سے متعلق دعویٰ

جنگ میں تیزی، امن کیلئے کوششیں، ایرانی میزائل حملہ، 11 اسرائیلی ہلاک، ایک اور طیارہ گرالیا، ایران کا تل ابیب اور اسرائیل کا تہران خالی کرنے کا انتباہ

امریکی شہری فوری ایران چھوڑ دیں، امریکا

ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ کردیا

ایران کا اسرائیل کیخلاف جدید ڈرونز استعمال کرنے کا اعلان

یو این سیکریٹری جنرل کی ایرانی ٹی وی چینل پر حملے کی مذمت

دہائیوں سے نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے، کرسچئین امان پور

امریکی صدر کی ایرانی شہریوں کو تہران خالی کرنے کی وارننگ

ایران اسرائیل جنگ، فیک نیوز کیساتھ AI کے ذریعے نفسیاتی حملوں کا سلسلہ عروج پر

ایران نے اسرائیل پر سائبر حملہ بھی کردیا

ایرانی حکام سے جلد از جلد ملاقات کا اہتمام کیا جائے، ٹرمپ کی ہدایت

تہران پوری طاقت کے ساتھ طویل جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے، بریگیڈیر جنرل احمد واحدی

ایران سفارتکاری کیلئے سنجیدہ، مذاکرات کی میز کبھی نہیں چھوڑی: ایرانی وزیر خارجہ

یہ سچ نہیں کہ امریکا ایران پر حملہ کر رہا ہے: وائٹ ہاؤس عہدیدار

متعدد اسرائیلی شہری اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور

اسرائیل میں آج امریکی سفارتخانہ بند رہے گا: امریکی سفارتخانہ

ایرانی تجزیہ کار محمد مرندی اسرائیل کے نشانے پر

جی 7 ممالک نے اسرائیل کی حمایت کردی، ایران عدم استحکام کا سبب قرار

ایرانی سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 3 میڈیا ورکرز شہید

ایران نے اسرائیل کا ایک اور 35-F جنگی جہاز گرانے کا دعویٰ کردیا

ایران نے پھر میزائل داغ دیے، اسرائیل کے مختلف شہروں میں تباہی

اسرائیل پورے خطے کا پولیس مین بننا چاہتا ہے، شیری رحمان

اسرائیل کو پہلی بار پتہ چل رہا ہے کہ بمباری کیا ہوتی ہے: مفتی تقی عثمانی

تہران میں موجود بھارتی شہریوں کو تہران چھوڑنے کی ہدایات جاری

فرانسیسی صدر کو کوئی آئیڈیا نہیں کہ میں واشنگٹن کیوں جارہا ہوں: امریکی صدر

بلوچستان کے بالائی اضلاع میں پیٹرول کا بحران شدت اختیار کر گیا

اسرائیل کا ایرانی کمانڈر علی شادمانی کو شہید کرنے کا دعویٰ

ایران میں پھنسے مزید 40 طلباء کو تفتان بارڈر پہنچا دیا گیا

اسرائیل کے خلاف حملوں میں روس اور شمالی کوریا کے ایران کو مدد فراہم کرنے کے شواہد ملے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا اس وقت جنگ بندی کی کوشش کرتا ہے جب اس کا حامی جنگ میں پِٹ رہا ہو، حافظ نعیم الرحمان

چین کا ٹرمپ پر ایران-اسرائیل کشیدگی میں تیل ڈالنے کا الزام

18 جون 2025ء

اسرائیل کیخلاف اصل آپریشن جلد انجام دیا جائے گا: ایرانی چیف آف اسٹاف

ایران غیر مشروط ہتھیار ڈالے، خامنہ ای آسان ہدف، معلوم ہے کہاں چھپے ہیں، ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول ہے، ٹرمپ

ٹرمپ کا ایران سے غیرمشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

ایران پر ٹرمپ کے گذشتہ روز کے مؤقف میں تبدیلی آنے کا امکان ہے، فرانس

امریکہ کو ’’نئے چوکیدار‘‘ کی تلاش

ایران، اسرائیل سے تعلق رکھنے والا دہشتگرد گروہ گرفتار

حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیے

امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کا ٹیلی فونک رابطہ

یو اے ای حکام کا ایئرپورٹ آپریشن جاری رکھنے کا ہنگامی منصوبہ تیار

تہران پر اسرائیل کے پہ در پہ حملے، اپارٹمنٹ میں آگ لگ گئی

امریکا ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر سکتا ہے: جرمن چانسلر

اماراتی صدر کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، تہران سے اظہار یکجہتی

خامنہ ای کا اسرائیل پر رحم نہ کرنے کا عہد

اسرائیل کے 33 سال سے ایرانی ایٹم بم کے دعوے آج تک سچ ثابت نہ ہوسکے

ایران اسرائیل جنگ کو عرب ممالک اب ایک تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں، برطانوی اخبار

مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ جمعہ تک بند رہے گا: امریکی محکمہ خارجہ

ایران کا گرفتار اسرائیلی پائلٹس کی تصاویر جلد جاری کرنے کا اعلان

ایران میں پاکستانی شہریوں کیلئے ہدایات جاری

ایران کا پانچواں اسرائیلی F-35 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

امریکا اسرائیل ایران جنگ میں شامل ہو چکا ہے: مشاہد حسین

امریکی کانگریس میں ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے کیلئے بل پیش

اسرائیل کو دفاعی ایرو میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی کا سامنا، امریکی اخبار کا دعویٰ

جنگ میں کسی کی شمولیت سے خطے کیلئے سنگین نتائج ہوں گے: ایران

اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ ایران نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا

اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

امریکا کا اسرائیل کے ساتھ ایران پر بمباری میں شامل ہونے کا عندیہ

ایران پر حملے کیلئے موساد کا مصنوعی ذہانت اور اسمگلڈ ڈرونز کا استعمال، امریکی اخبار

ایران اسرائیل جنگ، روس نے امریکا کو خبردار کردیا

انتہائی خفیہ اور ایمرجنسی حالات میں استعمال ہونے والا ’ڈومز ڈے‘ طیارہ واشنگٹن پہنچا دیا گیا

امریکا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران سرینڈر نہیں کرے گا: ایرانی سپریم لیڈر

ایران سے غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کی واپسی کیلئے پالیسی کا اعلان

تہران میں 8 ڈرونز سے لدا ٹرک پکڑا گیا

ایرانی حملوں کا خوف، اسرائیل میں تقریبات پر پابندی، اسکول بند کردیے گئے

ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں نے دنیا کو تباہی کے قریب پہنچا دیا: روس

پڑوسی ممالک ایران کیخلاف دشمن کارروائیوں کا سدباب کریں: ایرانی بارڈرز کمانڈ

امیر قطر کو ایرانی صدر کا خط موصول، خط کے مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے

ایرانی سیکیورٹی فورسز کا موساد کے ایجنٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

ایران پر واضح کر دیا مذاکرات کیلئے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی: جرمن وزیرِ خارجہ

ایران میں موساد کیلئے جاسوسی کرنے والے شخص کو پھانسی دے دی گئی

واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی صدر ٹرمپ

اسرائیلی فوج کی تہران میں شدید بمباری، مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے

ایران کیخلاف کارروائیوں سے نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات ایک پل میں ختم ہوگئیں، امریکی ٹی وی

ایران اسرائیل جنگ: ایرانی فضائی حدود سے 6 روز بعد پہلی بار 3 مسافر طیاروں کی اڑان

ایران کی مذاکراتی ٹیم مسقط بھیجنے کی تردید

ایران کی ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کے دعوے کی تردید

ایرانی خاتون پلاٹیس انسٹرکٹر کے خواب پورے نہ ہوسکے، اسرائیلی حملے میں شہید

آئی اے ای اے چیف نے بھی ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کی تردید کردی

تہران میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر حملے کے لائیو مناظر جیو نیوز نے دکھا دیے

سابق ایرانی ولی عہد نے ایران میں رجیم تبدیلی کے بعد کا منصوبہ بیان کردیا

امریکا اسرائیل کے ساتھ شامل ہوا تو ہمارے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، ایران

ایرانی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو اقتدار کیلئے میدان میں کون ہوگا؟

19 جون 2025ء

ایران معاملہ بات سے حل کرنے کی کوشش، خبر ایجنسی

عاصم منیر سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی، امریکی صدر

اسرائیل ایران جنگ، سلامتی کونسل کا اجلاس جمعے کو طلب

ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا، خامنہ ای

جنگل کا قانون

برطانوی وزیراعظم کا قطر کے امیر سے ٹیلی فونک رابطہ

اسرائیل پر حملوں کی بارہویں لہر میں سیجل میزائلوں کا استعمال

ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری، مگر آخری فیصلہ روک رکھا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

آیت اللّٰہ علی السیستانی نے ایرانی رہنماؤں کے قتل کو جرم قرار دیدیا

پاکستان خطے میں مثبت تبدیلی کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے، مصدق ملک

سائبر حملوں کا خدشہ، ایران میں انٹرنیٹ سروس معطل

ایران اسرائیل جنگ کے باعث پاکستان میں ایرانی مصنوعات کی سپلائی شدید متاثر

تازہ ایرانی میزائل حملے پر نیتن یاہو آگ بگلولہ ہوگئے

اسرائیل نے خندوب ریسرچ ری ایکٹر اور ہیوی واٹر کمپلیکس کو نشانہ بنایا: ایرانی جوہری توانائی ایجنسی

ایران سے پاکستانی بارڈر کراس کرنیوالے پاکستانیوں کو پیشگی اطلاع دینے کی ہدایت

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کے نتائج تباہ کن ہونگے، حزب اللّٰہ

آیت اللہ خامنہ ای کا وجود اب مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، اسرائیلی وزیر دفاع

امریکا مداخلت کرتا ہے تو اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کریں گے، کاظم غریب آبادی

ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی آمد جاری، آج 604 شہری ملک میں داخل

اسرائیل کا وارننگ کے بعد ایران کے اراک ایٹمی مرکز پر حملہ

آیت اللّٰہ خامنہ ای پر ممکنہ قاتلانہ حملے پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا: پیوٹن

پوری قوم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران اور فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے، مولانا طاہر اشرفی

اسرائیل نے ایران کے اراک ایٹمی مرکز پر حملہ کیوں کیا؟

پاکستان اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے، دفتر خارجہ

اسرائیل کی سپورٹ، اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کردیا

اس وقت غزہ میں انسانیت کا شرمناک نمونہ منظر عام پر آ رہا ہے: شاہ عبداللّٰہ دوم

پاکستان یقینی طور پر اپنی اس سرحدوں پر جنگ نہیں چاہتا: بلاول بھٹو زرداری

چینی و روسی صدور کا رابطہ، ایران اسرائیل جنگ کے سفارتی حل پر زور

نہیں معلوم اب ایران کا انتہائی افزودہ یورینیئم کہاں ہے؟ اقوامِ متحدہ

اب تک ایران کے دو تہائی میزائل لانچرز کو نشانہ بنا چکے ہیں، اسرائیلی فوج

روس کا اسرائیل سے بوشہر پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ

برطانوی وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سے ’دماغ ٹھنڈا‘ رکھنے کی اپیل

اسرائیل کا امریکا سے مدد مانگنا اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے: ایرانی سپریم لیڈر

ایران پر اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکا میں احتجاجی مظاہرے، اسرائیل مخالف نعرے

ایران اسرائیل جنگ میں امریکی شمولیت کا خدشہ، کیا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری کی خبر کو مسترد کردیا

برطانیہ امریکا کے کہنے پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور غیر قانونی جنگ میں شامل نہ ہو: لبرل ڈیموکریٹ پارٹی

ایران نے آج اسرائیل پر حملے میں کلسٹر بم وار ہیڈ استعمال کیا، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

ایران نہیں اسرائیلی حکومت نے خونریزی کا آغاز کیا، عباس عراقچی

لیتھوینیا کا تل ابیب سے سفارتی عملہ نکالنے کا فیصلہ

سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز نشریات چھوڑ کر بھاگ گئے

ایران اسرائیل جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع

اسرائیلی حملے میں نشانہ بننے والے ایرانی ٹی وی اسٹیشن کی تباہی کے مناظر سامنے آگئے

امریکی نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیر خارجہ کے اسرائیلی حملے کے بعد سے متعدد رابطے

خلیجِ عمان: 2 آئل ٹینکر جہازوں میں تصادم کے بعد آگ لگ گئی

امریکا ایرانی تنصیبات پر بنکر بسٹر بم سے حملہ کرتا ہے تو یہ کیسے تباہی مچائے گا؟

ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس 21 جون کو استنبول میں ہو گا

پاکستانی شہریوں کو ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

ایران اسرائیل جنگ کی باعث بین الاقوامی جہاز رانی شدید متاثر

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر چینی صدر کی 4 تجاویز، فوری جنگ بندی اہم ضرورت

ایران کے ایٹمی اثاثوں پر اسرائیل کے حملے جرم ہیں، وکٹر گاؤ

ٹرمپ نے ایران سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں کے لیے موخر کردیا، وائٹ ہاؤس

امریکی حملوں کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرے گا، ماہرین

نیوکلئیر بم رکھنے والا اسرائیل مشرق وسطیٰ کی واحد نیوکلئیر پاور ہے، اماراتی اخبار

20 جون 2025ء

ایران اسرائیل جنگ رکوانے کی کوششیں، جنیوا میں مذاکرات اور سلامتی کونسل کا اجلاس آج، حملے رکنے تک بات نہیں ہوگی، ایرانی نائب وزیر خارجہ

تہران میں آسٹریلیا، چیک ری پبلک کے سفارت خانوں کا آپریشن معطل

ایران دو ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس

ایران طے کرے گا کہ جنگ کیسے ختم کی جائے گی، جواد ظریف

آپریشن وعدہ صادق سوم، ایران کے اسرائیلی فوج پر حملے

ماجد خادمی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس سروس کے چیف مقرر

ایران نے تل ابیب کے سائنس انسٹی ٹیوٹ کو ملبے کا ڈھیر بنادیا

ایران اسرائیل جنگ: قطر میں امریکی فوجی اڈے سے طیارے ہٹا دیے گئے

ایران نے پھر میزائلوں کی بارش کردی، 7 افراد زخمی، اسرائیل کی تصدیق

ایرانی میزائلوں کیخلاف میزائل دفاعی نظام کی شرح ناکامی میں اضافہ ہورہا ہے، اسرائیلی حکام

تہران میں رات سے جاری حملوں کا سلسلہ مکمل، اسرائیلی فوج

صہیونی دشمن کو سزا دینے کا عمل جاری ہے، آیت اللّٰہ خامنہ ای

جنگ کے دوران امریکا اور جرمنی کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی جاری

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے مشیر و محافظ کمانڈر علی شمخانی زندہ ہیں، حالت پہلے سے بہتر، ایرانی میڈیا

حزب اللّٰہ محتاط رہے، اسرائیل کا صبر لبریز ہوچکا ہے: اسرائیلی وزیرِدفاع

ایران اسرائیل کشیدگی: 8 ہزار سے زائد اسرائیلی بےگھر ہوگئے، اسرائیلی میڈیا

اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین توڑے: نفیسہ شاہ

اسرائیلی جارحیت رکنے تک امریکا سے بات چیت کی گنجائش نہیں: ایرانی وزیرِخارجہ

روس کے ایران سے رابطے جاری، صدر پیوٹن کی ثالثی کی پیشکش

جنگ کے خاتمے کا واحد حل دشمن کی جارحیت کو بلامشروط روکنا ہے: ایرانی صدر

جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق پُرامید ہیں: جرمن وزیر خارجہ

امریکا کا ایران پر حملہ ثابت کرے گا خطے میں چین کی طاقت محدود ہے: امریکی اخبار

اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران بھر میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات

ایران امریکی صدر کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے: امریکی سینیٹر

ایران اسرائیل تنازع میں غیرجانبدار نہیں رہ سکتے: حزب اللّٰہ

صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ حقیقی معاہدہ چاہتے ہیں: برطانوی سیکریٹری خارجہ

ایران کا موساد ایجنٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ

ایران اسرائیل معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہوگا

ایرانی وزیر خارجہ اور یورپی حکام کے درمیان مذاکرات آج جنیوا میں ہوں گے

ایرانی عوام کے خلاف اسرائیل نے بلاجواز جنگ مسلط کی، ایرانی وزیرخارجہ

ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل حملے، تل ابیب، حیفہ، نقب سمیت 6 علاقے نشانہ بنائے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ

بڑی شپنگ کمپنی نے اسرائیلی حیفہ پورٹ کا سفر روک دیا، اسرائیلی اخبار

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، ایران اسرائیل بحران کے پرامن حل کی ضرورت پر زور

پاکستان اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، پاکستانی مستقل مندوب

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 20 ادارے، 5 افراد اور 3 جہاز شامل

اسرائیل نے عالمی قوانین کو نظر انداز کرکے ہماری خود مختاری پر حملہ کیا، ایران

ہزاروں فلسطینیوں نے نماز جمعہ مسجد اقصیٰ کی بیرونی دیواروں کے ساتھ ادا کی

یورپی رہنماؤں سے سنجیدہ اور باوقار بات چیت ہوئی، ایرانی وزیر خارجہ

21 جون 2025ء

ایران سے بات کرینگے، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے، ٹرمپ

ایران کے شمال میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

امریکا کی ایک فون کال سے ایران اسرائیل تنازعہ ختم ہوسکتا ہے: ایرانی حکام

امریکا کا مشرق وسطیٰ میں بحریہ اور فضائیہ کے اثاثے منتقلی کا عمل جاری

اسرائیل کے ایران پر تازہ حملے، اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کو نشانہ بنایا: ایرانی میڈیا

ایرانی سفارت خانے جا کر ایرانی قوم سے اظہار یکجہتی کیا: بیرسٹر گوہر

اسرائیل کےخلاف حملےملکی دفاع میں ہیں: ترجمان ایرانی حکومت

ایران: قم میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں 22 افراد گرفتار

ایران پر حملوں میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ سعید یزد مارے گئے، اسرائیلی

ایران کی عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ کیخلاف شکایت درج

ایران کبھی بھی یورینیم افزودگی مکمل بند نہیں کرے گا: ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل کو متعدد بار کہہ چکے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے شواہد نہیں ملے: پیوٹن

موجودہ حالات میں اتحاد بین المسلمین ناگزیر ہے، سیکریٹری جنرل او آئی سی

اسرائیل حملوں میں اسپتالوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنا رہا ہے: ایرانی وزیر صحت

نیتن یاہو کی حکومت خطے میں امن کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے: اردوان

اسرائیلی حملوں میں اب تک 430 ایرانی شہید، 3500 زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا

ایران کو بڑا دھچکا، ایرانی قدس فورس کا ایک اور اہم کمانڈر مارا گیا: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اسرائیل عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے: حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

اسرائیلی حملے میں ایرانی جوہری سائنسدان اہلیہ سمیت شہید

پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے: بیرسٹر علی ظفر

ایران اسرائیل جنگ: حکومت کا 14 کروڑ لیٹرز پیٹرول فوری منگوانےکا حکم

ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا: فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب پر زور

امریکا کی شہریوں کو عراق کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے ممکنہ جانشینوں کے بارے میں اہم فیصلہ کر لیا

اسرائیل، ایران کشیدگی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

اصفہان میں جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کی تصدیق ہوگئی، آئی اے ای اے

ایران کے اب تک 470 ڈرون حملے ناکام بناچکے، اسرائیلی فوج

حزب اللّٰہ کے شہید سربراہ حسن نصراللّٰہ کے خصوصی محافظ اسرائیلی حملے میں شہید

ایران کے اسرائیلی ری ایکٹر، ایئر پورٹ، صہیونی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حملے

نیتن یاہو ہٹلر پورے خطے کو تباہی میں دھکیلنا چاہتا ہے: اردوان

امریکا ایران پر حملے کا سوچ رہا ہے، بی ٹو اسٹیلتھ طیارے منتقل کردیے، برطانوی اخبار

7 جدید ایرانی میزائل پورے اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

اسرائیلی جارحیت سے خطے اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں، اسحاق ڈار

ایرانی صدر نے فرانسیسی ہم منصب کو کیا جواب دیا؟

22 جون 2025ء

امریکا ایران پر حملوں میں شامل ہوا تو انکے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے، حوثی تنظیم

امریکا نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کردیا

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے جنگ کا آغاز ہوگیا، حوثی گروپ

حملے سے پہلے جوہری تنصیبات خالی کرالی تھیں، ایران

امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

امریکا نے فردو جوہری سائٹ حملے میں 6 بنکر بسٹر بم استعمال کیے: امریکی میڈیا

ایران پر امریکی حملے کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہیں، انتونیو گوتریس

امریکا کو ایران پر حملے کے مقام کے بارے میں کیا معلوم تھا؟

نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کو اپنی حکومت کو طول دینے کیلئے استعمال کر رہے ہیں: کلنٹن

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر حماس کی شدید مذمت

امریکی حملے پر ایرانی وزیر خارجہ کا پہلا ردعمل سامنے آگیا

امریکی حملے کے بعد ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے نیا حملہ

ایران پر حملہ، امریکی سینیٹرز صدر ٹرمپ پر برس پڑے

اسرائیل کے بعد امریکا کا بھی ایران پر حملہ کرنے کیلئے رات کا انتخاب

امریکی حملوں پر تشویش ہے، مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں: نیوزی لینڈ

امریکی حملے جنگی جرائم ہیں: مشاہد حسین سید

سعودی عرب کا ایران میں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر تشویش کا اظہار

ایران نے اسرائیل پر حملے کیلئے پہلی مرتبہ خیبر شکن میزائل استعمال کردیا

غزہ میں قتل عام اور اب ایران پر چڑھائی کرنا زیادتی ہے: مولانا عبدالخبیر آزاد

ایران کا امریکی حملوں پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

ایران امریکی فوجی جارحیت کیخلاف مزاحمت کو اپنا حق سمجھتا ہے، ایرانی وزارت خارجہ

پاکستان کی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: برطانوی وزیراعظم

ایران پر امریکی حملہ: بین الاقوامی ایئر لائنز نے مشرق وسطیٰ میں فضائی روٹس تبدیل کردیے

امریکی صدر نے نہ صرف ایران کو دھوکا دیا بلکہ اپنی قوم کو بھی دھوکا دیا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

قطر اور عمان کی ایران پر امریکی جارحیت کی مذمت

ایران پر حملہ کرنے والے طیارے اِس وقت کہاں ہیں پتہ لگا لیا ہے، پاسداران انقلاب

ایران اسرائیل جنگ کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کیا ہونگے؟

دوسرے ملکوں کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا شخص کیا امن کا انعام حاصل کرنے کا مستحق ہوسکتا ہے؟ مفتی تقی عثمانی

ایران کو کبھی بھی بم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہونا چاہیے: صدر یورپین کمیشن

وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، امریکی حملوں کی مذمت

امریکا اسرائیل کی بے بسی دیکھ کر میدان میں آیا ہے: مسعود پزشکیان

اب جو ہو گا اُس کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرایا جائے: دفاعی تجزیہ کار

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ قابل مذمت ہے: چینی وزارتِ خارجہ

اعلیٰ ترین امریکی و اسرائیلی حکام میں ناخوشگوار ٹیلیفون کال

ایران نے حملہ کیا تو گزشتہ رات سے زیادہ سخت جواب دیں گے: امریکی وزیر دفاع

ایران پر امریکی حملہ انتہائی خفیہ مشن تھا، صرف چند لوگ واقف تھے: امریکی جنرل ڈین کین

ایران پر امریکی حملہ، تیل مہنگا ہونے سے پاکستانی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

ایران پر امریکی حملے نے خطے میں عدم استحکام کو انتہا پر پہنچا دیا: ترکیہ

صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ہدف دیا تھا: امریکی وزیر دفاع

فرانسیسی صدر کی سعودی ولی عہد، عمان کے سلطان سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت

ایران نے مختلف ادوار میں بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا

ایران کے جوابی حملے کیلئے تیار ہیں: امریکی نائب صدر

امریکی حملے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی آبنائے ہُرمز بند کرنے کی منظوری

وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا

ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے: رضا ربانی

ایرانی وزیرِ خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ، امریکی حملے پر گفتگو

برطانیہ ایران پر امریکی حملے میں شامل نہیں تھا: برطانوی وزیرِاعظم

اسرائیل کا پہلی بار ایران کے شہر یزد پر حملے کا دعویٰ

ایران کیخلاف جارحیت، او آئی سی کا وزارتی رابطہ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ

شیلٹرز میں پناہ گزین اسرائیلیوں میں لڑائیاں ہونے لگیں

ایران کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب، پاکستان، چین، روس کی حمایت

ایران نے جوابی حملہ کیا تو یہ اسکی سب سے بدترین غلطی ہو گی: امریکی وزیرِ خارجہ

یو اے ای کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ

برٹش ایئر ویز کا قطر و یو اے ای کیلئے پروازیں ایک دن کیلئے بند کرنے کا فیصلہ

کئی ممالک ایران کو ایٹمی ہتھیار دینے کیلئے تیار ہیں: نائب سربراہ روسی نیشنل سیکیورٹی

اسرائیل نے سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے ایران پر حملہ کیا: رضا امیری مقدم

خواجہ آصف کا امریکا سے متعلق فارن پالیسی میں تضاد کا اعتراف

امریکی نیشنل ٹیرر ازم ایڈوائزری سسٹم کا تھریٹ الرٹ

پوپ لیو کا دنیا میں جاری تمام جنگیں روکنے کا مطالبہ

ایران میں اسرائیلی فضائی حملہ، پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے 7 اہلکاروں سمیت 9 شہید

جوہری تنصیبات سے متعلق ایرانی سلامتی کے مشیر کا اہم بیان

ایران پر آپریشنل منصوبے کے مطابق حملوں میں اضافہ کرینگے: اسرائیلی آرمی چیف

امریکا کے ایران پر حملے کی لمحہ با لمحہ صورتِحال سامنے آ گئی

ہم نے بم ایران کے ہاتھ سے چھین لیا: ٹرمپ

ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ نے نسل کش اسرائیل کا ساتھ دیا: فاطمہ بھٹو

مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے مکالمہ ضروری ہے: صدر آصف زرداری

23 جون 2025ء

خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے، سیکرٹری جنرل یو این

چین اور روس کی ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، ایران اسرائیل تنازع سمیت دیگر اہم معلاملات زیرِ غور

سفارتکاری کا دروازہ یقینی طور پر بند ہو چکا ہے: ایرانی وزیر خارجہ کا یو این کے سیکریٹری جنرل کو خط

ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے باوجود ایران کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی: عالمی تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ میں اہم امریکی فوجی اڈے کون سے ہیں؟

بعداز امریکی حملہ، خامنہ ای کا اسرائیل کو سزا دینے کا اعادہ

فرانس نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کا انخلا شروع کردیا

جوابی کارروائی کرنا ایران کا جائز حق ہے: ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل حملوں میں ہمارے 32 ایتھلیٹس شہید ہوچکے ہیں: ایران

امریکی حملے میں اصفہان کمپلیکس میں زیرِ زمین سرنگوں کے داخلی راستے نشانہ بنے: آئی اے ای اے

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، کتنا نقصان ہوا؟ جوہری تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آگئیں

ایرانی معیشت جنگ مسلط کیے جانے پر سونے کے ذخائر پر انحصار کرے گی، معاشی ماہرین

جنگ کا آغاز امریکا نے کیا، خاتمہ ہم کریں گے: ایران

ٹرمپ کے بیانات اور مزید حملوں کی دھمکیاں غنڈہ گردی ہیں: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا: بلاول بھٹو زرداری

شمالی کوریا کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت

امریکا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی، ایرانی بحریہ کے پاس کیا آپشنز؟

افغان عبوری حکومت کی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت

ایرانی میزائلوں کو اسرائیلی دفاعی نظام پکڑنے میں ناکام، اسرائیلی افواج میں بےچینی

وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات

آج اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں حکمت عملی تبدیل کی گئی: پاسداران انقلاب

جنگ میں صرف دو ہی فریق ہیں ایک مسلمان دوسرا نیتن یاہو: مولانا طاہر اشرفی

ایران کے خلاف جارحیت بے بنیاد ہے: روسی صدر

ایران نے اسرائیلی ڈرون مار گرانے کی ویڈیو جاری کردی

جنگ کے ذریعے جمہوریت نہیں لائی جاسکتی: نوبل انعام یافتہ ایرانی خاتون

امریکی فضائی حملہ، 2 سُپر ٹینکرز کا آبنائے ہُرمز میں یوٹرن

امریکا اور اسرائیل کے اقدامات غیر قانونی اور ناجائز ہیں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

جوہری تنصیبات کی تیزی سے تعمیر نو ہو رہی ہے: جوہری توانائی ایجنسی

عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ ہو گیا

اسرائیل کا تہران کی بدنام زمانہ ایون جیل پر حملہ

جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جائے: چین

اسرائیل کا ایران کے 6 ایئر پورٹس پر ڈرون حملوں، 15 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

بلاول نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کو روکنا پاکستان کی سلامتی کیلئے ضروری قرار دے دیا

امریکا نے قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ جگہوں پر رہنے کی ہدایت کردی

ایران پر حملہ آور بی 2 بمبار طیارے واپس امریکا پہنچ گئے

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس: ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس: صحافی کے سوال پر خواجہ آصف کی کانوں کو ہاتھ لگاکر معذرت

ایئر فرانس نے اسرائیل کیلئے پروازیں معطل کردیں

امریکی مفادات پر حملے کیلئے ہمارے ہاتھ کھل گئے، ایرانی آرمی چیف

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب اسٹاکس موجود ہیں، وزیر پیٹرولیم

ایران پر امریکا کے حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھے، نیٹو

امریکی حملے سے ایران کا جوہری فیول سائیکل متاثر نہیں ہوا، ڈپٹی چیئرمین روسی سیکیورٹی کونسل

مشرق وسطیٰ کی صورتحال بےحد کشیدہ ہوچکی، پیوٹن

ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی قیمتیں کم رکھنے کا مطالبہ کردیا

آئی اے ای اے سے ضمانتیں ملنے تک تعاون معطل رکھنے کا بل منظور کرائیں گے، ایران

آیت اللّٰہ خامنہ ای نے پیوٹن سے مدد مانگ لی، عراقچی نے خط روسی صدر کو پہنچا دیا، خبر ایجنسی کا دعویٰ

صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں اب بھی سفارت کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

قطر نے فضائی حدود بند کردی، کئی ممالک کی اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات منتقل ہونے کی ہدایت

ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کردیا

ایران کیخلاف اسرائیلی حملوں نے دنیا کو غلط پیغام دیا، چینی وزیر خارجہ

پاسداران انقلاب کی قطر میں امریکی اڈے پر حملے کی تصدیق

سعودی عرب میں امریکی بیسز پر سائرن بجنا شروع ہوگئے

ایران نے قطر اور عراق میں ایرانی آپریشن کو ’’فتح کا اعلان‘‘ نام دے دیا

ایرانی حملے سے پہلے امریکا نے اپنے 40 جنگی طیارے العُدید ایئر بیس سے ہٹا لیے تھے

قطر پر ایرانی حملے کے بعد بحرین کی فضائی حدود بند، سائرن بجنے لگے

ایران نے امریکی اڈے پر حملے سے قبل قطر کو آگاہ کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

فضائی دفاعی نظام العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو روکنے میں کامیاب رہا، قطر

قطر میں ایرانی حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود خالی ہونا شروع

ایران پر کیے گئے ہر حملے کا جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج

قطر میں امریکی اڈے پر ایران نے کونسے میزائل سے حملہ کیا؟

ایران میں جن جگہوں پر حملہ کیا وہ مکمل تباہ ہوگئیں، ٹرمپ

سعودی عرب کی قطر پر ایرانی حملے کی سخت مذمت

اسرائیلی ایجنٹوں کی ایرانی حکام کو براہِ راست فون کالز، سپریم لیڈر کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ

24 جون 2025ء

ایران نے ملٹری بیس پر حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ

دبئی ایئرپورٹ عارضی معطلی کے بعد پروازوں کے لیے بحال

اسرائیل ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کو تیار

ہم نے کسی سے زیادتی نہیں کی، آیت اللّٰہ خامنہ اِی

امریکی صدر نے جنگ بندی کے لیے کس ملک سے مدد مانگی؟

اسرائیل ایران جنگ بندی، ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

جنگ بندی کا وقت شروع ہونے سے پہلے اسرائیل کے ایران پر حملے

ایران کا اسرائیل پر صبح سے تیسرا میزائل حملہ، 3 اسرائیلی ہلاک

صبح 4 بجے تک آپریشنز کامیابی سے مکمل کیے: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ کون سے ممالک متاثر ہوں گے؟

ایران نے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کردیا

کامیابی اور فتح پر ملت ایران اور شہداء کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں: کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب

پاکستان ایکسچینج میں زبردست تیزی،6ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

اسرائیلی حملے میں ایران کے ایک اور ایٹمی سائنسدان شہید، مجموعی تعداد 17 ہوگئی

اسرائیل اور ایران میں جنگ بندی کا آغاز ہوگیا، امریکی صدر

ایران اور اسرائیل جنگ بندی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی آگئی

اسرائیل کی فضائی حدود کھول دی گئی: اسرائیلی میڈیا

اسرائیل نے ایران کیساتھ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کر لیا: نیتن یاہو

ٹرمپ کا نیا ایجنڈا: اسرائیل کی خوشی، ایران کی خاموشی، نوبل کی تیاری!

اسرائیلی وزراء اور حکام پر میڈیا سے گفتگو کرنے پر پابندی عائد

نیتن یاہو کی دیوارِ گریہ پر خصوصی دعا، دیوار گریہ پر دعائیں قبول ہونے کی یہودی روایت کیا ہے؟

اسرائیل کا ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

اسرائیلی فوج کو تہران پر حملوں کے احکامات دے دیے ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

سعودی عرب کا ایران اسرائیل جنگ بندی تجویز پر امریکی صدر کا خیر مقدم

ایران کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اسرائیلی دعوے کی تردید

وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات، ایران اسرائیل تنازع میں حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال

قطر کی ریاست پر حملہ ناقابل قبول اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے: قطری وزیراعظم

روس کا اسرائیل اور ایران جنگ بندی کا خیرمقدم

ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں: ٹرمپ

ایرانی جوہری صنعت کی بحالی کے پیشگی انتظامات کیے جاچکے، محمد اسلامی

ایران کا 400 کلو افزودہ یورینیم عالمی سطح پر تشویش کا سبب

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ٹیلیفونک گفتگو میں کیا بات ہوئی؟ امریکی میڈیا نے بتادیا

اسرائیلی حملے میں ایران کی اوین جیل کا انتظامی حصہ تباہ، ہلاکتوں کی بھی تصدیق

12 روز سے جاری ایران کے میزائل حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوئے، اسرائیل

میں ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا، ٹرمپ

اسرائیلی حملے میں ایرانی پولیس کے نائب انٹیلی جنس سربراہ شہید

ٹرمپ سے بات چیت کے بعد ایران پر حملے روک دیے: اسرائیلی وزیرِ اعظم آفس

چینی وزیر خارجہ کا ترک اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ، جنگ بندی کی نفاذ کی حمایت

ایران جنگ بندی کے بعد بات چیت پر بھی آمادہ

سیز فائر کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

ایرانی افزودہ یورینیم کی خبروں نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں پر سوال اٹھادیا، ملیحہ لودھی

ایرانی حملہ قطر سے مقابلہ کرنے کی نیت سے نہیں تھا: ایرانی صدر کا امیرِ قطر کو ٹیلیفون

چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے: ٹرمپ

ایران کا ایٹمی مراکز کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ

نوبیل امن انعام کیلئے ٹرمپ کو نامزدکیا جائے، امریکی کانگریس رکن کا خط

25 جون 2025ء

کیا ایران اسرائیل جنگ بندی خطرات سے دوچار ہوگئی؟

ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

ایران اسرائیل جنگ بندی، فضائی حدود کھول دی گئیں، فلائٹ آپریشن بحال نہ ہوسکا

پاکستان کا ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم

مستعفی ہوجائیے، منصفانہ ٹرائل کیا جائیگا، خامنہ ای کیلئے رضا پہلوی کا پیغام

ایرانی تنصیبات پر بمباری: کیا ٹرمپ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی؟

ایران جوہری پروگرام برقرار رکھنے کے لیے مزید پُرعزم، عباس عراقچی

ایران کو یورینیم افزودہ کرنے نہیں دیں گے، اسٹیو وٹکوف

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی خبروں کو جعلی قرار دے دیا

ایران : اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں 3 افراد کو پھانسی دیدی گئی

ایران اسرائیل جنگ: 12 روز کے دوران کس ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا؟

اسرائیل سے جنگ کے دوران شہید ہونے والے ایران کے اعلیٰ کمانڈرز اور سائنسدانوں کی تدفین ہفتے کو کی جائے گی

امریکا اور اسرائیل پر ایران کی فتح کے کئی ٹھوس ثبوت ہیں: حسن نوریان

پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی زندہ نکلے

امریکی حملے کے بعد اب ایران ایٹمی ہتھیار بنانے سے بہت دور ہے، مارکو روبیو

اسرائیل ایران سیز فائر پر اچھے سے عمل ہو رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

آئی اے ای اے ہنگامی اجلاس: پاکستان کی ایران پر امریکی حملوں کی بھرپور مذمت

’پک ایکس‘ پہاڑ کے نیچے چھپی ایٹمی تنصیب، ایران کا نیا جوہری راز

کریملن کا ٹرمپ کے ایران پر حملوں کے نتائج سے متعلق بیانات پر تبصرہ

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جوہری تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا، خبر ایجنسی

جنگ کے آخری دنوں میں ایران نے اسرائیل کی بہت مار لگائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی حملوں سے ہماری جوہری تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، اسماعیل بقائی

امریکا ایران مذاکرات اگلے ہفتے ہوں گے، جوہری معاہدہ ہوسکتا ہے: ٹرمپ

بیت المقدس: مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے مقدس مقامات 12 دن بعد کھول دیے گئے

ایرانی پاسداران انقلاب کے شدید زخمی کمانڈر علی شادمانی شہید ہوگئے

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی رپورٹ نے اپنے ہی صدر کا منہ کڑوا کردیا

اسرائیل نے ابھی کہا ہے ایرانی جوہری تنصیبات کو ختم کر دیا گیا: ٹرمپ

نئی رپورٹ ٹرمپ کی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی بات کی تصدیق کرتی ہے: تُلسی گبارڈ

26 جون 2025ء

ایران کی جانب سے خطرہ بڑی حدتک ختم ہوگیا، موساد چیف

اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھانے کی کوشش

اسرائیلی وزیراعظم پر کرپشن کے سنگین الزامات، ٹرمپ دفاع میں سامنے آگئے

ایرانی قوم پاکستانی عوام کے برادرانہ جذبے اور حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی: رضا امیری مقدم

ایرانی معیشت سے پابندیاں ہٹیں تو مطلب ہوگا ایران جیت گیا، نیتن یاہو کو شکست ہوگئی: عادل نجم

ٹرمپ کو ’ڈیڈی‘ کہنے پر نیٹو چیف کی وضاحت

ایران نے صدر آصف زرداری، میرا اور فیلڈ مارشل کا نام لے کر شکریہ ادا کیا، وزیراعظم

اسرائیل کے ’بےقابو‘ رویے پر خلیجی اتحادیوں میں تشویش: رپورٹ

ایس سی او اجلاس، پاکستان کی ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت، غزہ میں پُرتشدد کارروائیوں پر اظہار تشویش

غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری، 44 فلسطینی شہید

کچھ امریکی نیوز چینلز نے ایران پر حملے کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کا چکر شروع کیا، امریکی وزیر دفاع

ایرانی جوہری تنصیب سے کچھ بھی منتقل نہیں کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، خواجہ آصف کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات

امریکی وزیر دفاع اور جنرل کو سخت سوالات کا سامنا, صحافیوں سے تلخ کلامی

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے ویڈیو بیان پر وائٹ ہاؤس کا تبصرہ

ایران کے ساتھ جنگ میں 6 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، اسرائیلی مرکزی بینک

27 جون 2025ء

ایران: شوریٰ نگہبان کی آئی اے ای اے سے تعاون معطل کرنے کی توثیق

ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن آپریشنل موقع نہیں ملا: اسرائیلی وزیر دفاع

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے ایران سے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی

28 جون 2025ء

امریکا نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے

اسرائیلی حملوں میں شہید ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈرز اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا

میں نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کو بچایا اور انہوں نے میرا شکریہ تک ادا نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

ہم کبھی کسی کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے، عباس عراقچی

یورینیم افزودگی و توانائی سرمایہ کاری پر ایرانی مندوب کا مؤقف

29 جون 2025ء

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ

ایران کا اسرائیل کے جنگ بندی پر عملدرآمد پر شک و شہبات کا اظہار

30 جون 2025ء

ایران چند ماہ میں یورینیم افزودگی پھر کرسکتا ہے، سربراہ آئی اے ای اے

عالمی ایٹمی تونائی ایجنسی سے غیر معمولی تعاون بغیر ٹھوس ضمانتوں کے ممکن نہیں، ایران

امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا: امریکی اخبار کا دعویٰ

ایران اسرائیل جنگ بندی، ایل پی جی کی قیمتیں پرانی سطح پر واپس آنے لگیں

جولائی 2025ء

1 جولائی 2025ء

امریکی بمباری کے باوجود ایرانی جوہری تنصیب پر کام جاری

ایرانی ہیکرز کی ٹرمپ کے مشیروں کی ای میلز لیک کرنے کی دھمکی

اسرائیل جنگوں پر کتنے ارب ڈالر پھونک چکا؟ زیادہ پیسے کس نے دیے؟

2 جولائی 2025ء

اردن کا اسرائیل کیخلاف باسکٹ بال میچ کھیلنے سے انکار

ایرانی صدر نے عالمی توانائی جوہری ادارے سے تعاون معطلی کا قانون نافذ کردیا، ایرانی سرکاری میڈیا

کراچی کی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کر دی

3 جولائی 2025ء

کیا ایران چین سے جدید J-10C طیارے حاصل کرنے جارہا ہے؟

ایران میں 3 سال سے قید فرانسیسی جوڑے پر اسرائیل کیلئے جاسوسی کا الزام

ایران اسرائیل جنگ بندی کے پیچھے بھی وردی ہے: محسن نقوی

ایران نے اسرائیل کی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا: گورنر سلیم حیدر

گزشتہ ماہ ایران پر اسرائیلی حملے کی ویڈیو کا چونکا دینے والا کلپ سامنے آگیا

4 جولائی 2025ء

مذاکرات تب تک نہیں ہوسکتے جب تک امریکا دھوکہ دینا نہیں چھوڑ دیتا: ایران

سعودی وزیر دفاع کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات

ایران نے اپنی فضائی حدود کو بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دی

وزیراعظم کی مختلف ممالک کے صدور سے ملاقاتیں، دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

5 جولائی 2025ء

ای سی او سربراہی اجلاس میں تمام ممالک نے ایران کیلئے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی: ایرانی صدر

سیکیورٹی خدشات، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز ایران سے آسٹریا پہنچ گئے

6 جولائی 2025ء

ایران، اسرائیل سیز فائر: دنیا بڑی آزمائش سے بچ گئی

کوئی جوہری سانحہ رونما ہوا تو پوری دنیا اس کی قیمت ادا کریگی: چینی وزیرِ خارجہ

7 جولائی 2025ء

اسرائیل نے حملوں کے دوران مجھے بھی قتل کرنے کی کوشش کی، صدر مسعود پزشکیان

ایران پر حملے کے معاملے پر اسرائیل اور امریکہ کا احتساب ہونا چاہیے: ایرانی وزیرِخارجہ

8 جولائی 2025ء

اسرائیل نے دوبارہ کوئی اقدام کیا تو شدید ترین ردعمل کا سامنا ہوگا: ترجمان ایرانی فوج

9 جولائی 2025ء

امریکا کی ایرانی بینکنگ نیٹ ورک پر مزید پابندیاں، امارات، چین اور ترک کمپنیاں بلیک لسٹ

10 جولائی 2025ء

ضرورت محسوس ہوئی تو ایران پر پھر وار کریں گے، اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی

12 جولائی 2025ء

قطر میں امریکی اڈوں پر حملہ معمولی واقعہ نہیں تھا: آیت اللّٰہ علی خامنہ ای

پینٹاگون کی ایرانی حملے میں قطر میں امریکی ایئر بیس پر معمولی نقصان کی تصدیق

امریکی حملوں کے بعد جوہری تنصیبات کا معائنہ پُرخطر ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ

15 جولائی 2025ء

اسرائیل خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے، ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے: ایرانی صدر

16 جولائی 2025ء

ایران کسی بھی نئے فوجی حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے: آیت اللّٰہ خامنہ ای

17 جولائی 2025ء

صہیونی ریاست اپنے دفاع کے قابل ہوتی تو امریکا کو اس کے دفاع میں آتا ہی کیوں: خامنہ ای

19 جولائی 2025ء

امریکی حملے میں صرف ایک ایرانی جوہری تنصیب کو نقصان پہنچنے کی خبر پر ٹرمپ کا ردِعمل

22 جولائی 2025ء

یورینیم افزودگی قومی عزت کا سوال ہے، دستبردار نہیں ہوں گے، ایرانی وزیرخارجہ

24 جولائی 2025ء

کسی بھی نئے اسرائیلی فوجی اقدام کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں: ایرانی صدر

25 جولائی 2025ء

عالمی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون کے نئے فریم ورک پر بات چیت ہوگی، ایران

ستمبر 2025ء

25 ستمبر 2025ء

ایران نے خفیہ اسرائیلی جوہری معلومات ظاہر کردیں