دینی مدارس: چند شکایات پر ایک نظر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بیشتر مسلم ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور دیگر استعماری قوتوں کے تسلط سے قبل ان ممالک میں دینی تعلیمات کے فروغ کو ریاستی ذمہ داری شمار کیا جاتا تھا۔ اور ہر مسلمان حکومت اپنے ملک کے باشندوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات اور دینی احکام و فرائض سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی جس کے لیے ہر ریاستی نظام میں خاطر خواہ بندوبست موجود ہوتا تھا۔ مگر جب استعماری قوتوں نے مختلف حیلوں اور ریشہ دوانیوں سے مسلم ممالک کے اقتدار پر قبضہ کر کے ان ملکوں کے نظام تبدیل کیے تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ میں بھی تبدیلی کر کے مسلم عوام کو دینی تعلیم کے صدیوں سے چلے آنے والے تسلسل سے محروم کر دیا۔
اس صورتحال میں آسمانی تعلیمات کے تحفظ، دینی تعلیمات کے فروغ، اور مسلم عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات و احکام سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری کو اپنا بنیادی اور ناگزیر فریضہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے اس کے لیے امدادِ باہمی کی بنیاد پر رضاکارانہ اور پرائیویٹ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی، جو آج مختلف مسلم ممالک بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک میں ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی مدارس کی شکل میں موجود ہے۔ برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مغل حکومت کے دور میں ’’درسِ نظامی‘‘ کا یہی نصاب ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا جو آج ضروری ترامیم اور تبدیلیوں کے ساتھ اسی نام سے دینی مدارس میں رائج ہے۔
دینی مدارس کے موجودہ نظام کی بنیاد امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کے ایک مسلسل عمل پر ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد اس جذبہ کے ساتھ ہوا تھا کہ اس معرکۂ حریت کو مکمل طور پر کچل کر فتح کی سرمستی سے دوچار ہو جانے والی فرنگی حکومت سیاسی، ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر جو یلغار کرنے والی ہے، اس سے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ اور تہذیب و تعلیم کو بچانے کی کوئی اجتماعی صورت نکالی جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے دیوبند میں مدرسہ عربیہ، سہارنپور میں مظاہر العلوم اور مراد آباد میں مدرسہ شاہی کا آغاز ہوا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان کے طول و عرض میں ان مدارس کا جال بچھ گیا۔ ان مدارس کے لیے بنیادی اصول کے طور پر یہ بات طے کر لی گئی کہ ان کا نظام کسی قسم کی سرکاری یا نیم سرکاری امداد کے بغیر عام مسلمانوں کے چندہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہائی سادگی اور قناعت کے ساتھ ان مدارس نے برصغیر کے مسلمانوں کی بے پناہ دینی و علمی خدمات سرانجام دیں۔
دینی مدارس کے بارے میں شکایات کے حوالے سے ہم تفصیل کے ساتھ کئی بار گزارش کر چکے ہیں، مثلاً:
(۱) ان مدارس میں قرآن کریم اور حدیثِ نبویؐ کے اصلی اور محفوظ ذخیرہ کی کسی ترمیم کے بغیر تعلیم دی جاتی ہے، جس میں کسی اسلامی ملک میں اسلام کا ریاستی کردار، جہاد کے احکام، شرعی سزاؤں کا نفاذ، خاندانی نظام کے اسلامی قوانین، خلافت و حکومت کے فرائض و اہمیت، اور دنیا کے دیگر تمام مذاہب پر اسلام کی علمی و فکری برتری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ سب باتیں مغرب اور ان کے ہمنوا مسلم ممالک کے مقتدر حلقوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔
مغرب اسلام کی تعلیمات کو اسی دائرے میں محدود کر دینا چاہتا ہے جس دائرے میں اس نے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے مسیحی ممالک میں مسیحیت کو محدود کر دیا ہے، اور وہ دائرہ عقائد، عبادات اور اخلاق کی ان تعلیمات کا ہے جن کا تعلق کسی شخص کے ساتھ صرف ذاتی حد تک ہے جبکہ معاشرتی زندگی حتیٰ کہ خاندانی زندگی میں بھی مذہب کی تعلیمات کی بالادستی اور عملداری کو قبول کرنے کے لیے مغرب تیار نہیں ہے۔
(۲) یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ مدارس بنیاد پرستی کو فروغ دے رہے ہیں جو گلوبلائزیشن کے اس دور میں ملٹی نیشنل کلچر اور مشترکہ عالمی معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔ جہاں تک بنیاد پرستی کا تعلق ہے، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ مدارس عام مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں، جس کی بدولت مسلم معاشرہ میں اس سولائزیشن کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جو مذہب کے اجتماعی کردار کی نفی کرتے ہوئے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر سیکولر ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے، تو دینی مدارس کو اس الزام کے قبول کرنے سے کوئی انکار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسے اپنے لیے الزام کی بجائے اعزاز اور کریڈٹ سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے اس کردار کی اثر خیزی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
دینی مدارس کا بنیادی موقف ہی یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی کی راہنمائی اور قیادت کے لیے انفرادی، طبقاتی، یا اجتماعی عقل و خواہش کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی نگرانی اور بالادستی ضروری ہے۔ اور اس سے ہٹ کر اباحیت مطلقہ اور ہمہ نوع آزادی کی بنیاد پر جو کلچر ’’گلوبل سولائزیشن‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے وہ سراسر غلط ہے، گمراہی ہے، اور نسلِ انسانی کو مزید تباہی و انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اگر دینی مدارس اس موقف میں لچک پیدا کر لیں تو خود ان کا مقصدِ وجود ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور ان کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ اس لیے اس معاملہ میں دینی مدارس کسی قسم کی کوئی لچک قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
(۳) جہاں تک دینی مدارس کے نظام و نصاب پر نظرثانی اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہماری اور ہمارے دیگر ہم خیال دوستوں کی خواہش اور تجاویز کا تعلق ہے، ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ دینی مدارس کا یہ نظام جن مقاصد کے لیے وجود میں لایا گیا تھا، ان کے حوالہ سے آج کے دور کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے جو کمزوریاں محسوس ہو رہی ہیں ان کو دور کیا جائے، اور جدید دور نے جو چیلنج علمی اور ثقافتی طور پر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے، اس کا سامنا کرنے کے لیے دینی مدارس کے فضلاء کو علمی، فکری اور سائنٹیفک بنیادوں پر تیار کیا جائے۔
مثلاً ایک نوجوان عالم دین کا انگریزی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے، کمپیوٹر سے استفادہ کی اہلیت لازمی ہے، تاریخِ عالم کے مختلف ادوار، مذاہب عالم کی تقابلی صورتحال، اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے زوال کے اسباب، موجودہ عالمی ثقافتی کشمکش کے شعور و ادراک اور عالمی فکری تحریکات کے تصادم اور ٹکراؤ کی معروضی صورتحال کے ساتھ ساتھ اجتماعی نفسیات کے اصولوں پر پبلک ڈیلنگ کے تقاضوں سے آگاہی ناگزیر ہے۔ ہم درسِ نظامی کے نصاب اور تربیتی نظام میں ان امور کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں لیکن دینی مدارس کے جداگانہ تشخص، آزادانہ کردار اور روایتی تسلسل کے تحفظ کو اس سے بھی زیادہ ضروری خیال کرتے ہیں۔
(۴) ایک سوال قومی اجتماعی دھارے سے الگ رہنے اور جداگانہ تشخص قائم رکھنے کا ہے۔ اس کا تعلق بھی ان مدارس کے مقصدِ وجود سے ہے۔ کیونکہ جب تک ریاستی نظام ہمارے معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابلِ قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا، اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلا پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے اور اس خلا کو باقی رکھنے کا کوئی باشعور مسلمان رسک نہیں لے سکتا۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے جس کے بغیر یہ اپنا کردار اعتماد کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔
اس لیے دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی نظام اور معاشرہ میں ’’دو ذہنی‘‘ اور ’’تعلیمی دوئی‘‘ کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی نظام پر عائد ہوتی ہے جو اس کردار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو ان مدارس کے جداگانہ وجود کا باعث ہے۔ جبکہ ان مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کا مسلسل اظہار کرنے کا منطقی نتیجہ معاشرہ میں دینی تعلیم کے اس نظام کو یکسر ختم اور بے اثر کر دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
(۵) ہمارے مقتدر حلقے دینی مدارس کے طلبہ کو قوم کے لیے ’’کارآمد شہری‘‘ بنانے کی بات بھی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دینی تعلیم کے مختلف شعبوں میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، وہ ملک کے کارآمد شہری نہیں ہیں؟ اور یہ بات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ہمارے مقتدر طبقوں کے نزدیک دینی تعلیم کے حوالہ سے خدمات سرانجام دینے والے لوگ مثلاً حافظ، قاری، خطیب، امام، مدرس، مفتی اور مبلغ ملک و قوم کے کارآمد شہری تصور نہیں ہوتے، انہیں معاشرہ کا ’’عضو بیکار‘‘ سمجھا جاتا ہے اور انہیں مفت خوری کا طعنہ دے کر کوئی متبادل روزگار تلاش کرنے کی عام طور پر تلقین کی جاتی ہے۔
اس کا ایک خاص پس منظر ہے اور اس کے ڈانڈے بھی مغرب کے فلسفہ و فکر سے ملتے ہیں کہ جس طرح مغرب میں مذہب کو ایک زائد از ضرورت چیز تصور کر لیا گیا ہے اور مذہب کے کسی بھی معاشرتی کردار کو قبول نہ کرتے ہوئے اسے صرف ایک فرد کی ذاتی اور شخصی ذہنی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی مقتدر حلقوں کو مذہب کی اس کے سوا کوئی ضرورت و افادیت دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے ظاہر بات ہے کہ جب خود دین و مذہب کو معاشرہ اور سوسائٹی کے لیے کارآمد چیز نہیں سمجھا جائے گا تو اس کے لیے کام کرنے والے آخر کس طرح ملک کے کارآمد شہری تصور کیے جا سکتے ہیں؟
(۶) دینی مدارس سرکاری امداد کیوں نہیں قبول کرتے؟ ۱۹۷۲ء میں جب مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کی حکومت پر ملک کے دینی حلقوں میں بڑی خوشی محسوس کی گئی تھی جو فطری بات ہے۔ مفتی صاحب اس وقت وفاق المدارس کے ذمہ دار حضرات میں سے تھے۔ ان سے بعض دینی مدارس نے صوبائی حکومت کی طرف سے امداد کی درخواست کی اور ایک مجلس میں یہ بات بطور مشورہ زیر غور آئی کہ مفتی صاحب کی حکومت کو دینی مدارس کی مالی امداد کرنی چاہیے یا نہیں؟ بعض دوستوں کی رائے اس کے حق میں تھی، مگر مفتی صاحب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں یہ روایت قائم نہیں کرنا چاہتا۔ آج میں وزیر اعلیٰ ہوں، کل کوئی اور ہوگا اور اگر میں دینی مدارس میں سرکاری امداد کا راستہ کھول دوں گا تو کل آنے والا مداخلت بھی کرے گا اور دینی مدارس کا نظام اپنے مقصد سے ہٹ جائے گا، اس لیے دینی مدارس کی امداد کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی فنڈ دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
(۷) مدارس پر ایک الزام یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہیں اور ان میں تعلیم کے ساتھ عسکری تربیت دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتوں میں فرق ضروری ہے:
پہلی بات یہ کہ جہاد کے بارے میں شرعی احکام اور قرآن و سنت کے فرمودات کی تعلیم یقیناً ان مدارس میں ہوتی ہے، اور اسی طرح ہوتی ہے جس طرح قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے باقی شعبوں کی ہوتی ہے۔ یہ دینی تعلیمات کا حصہ ہے اور کسی دینی ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن و سنت کی دیگر تعلیمات کا تو اپنے ہاں اہتمام کرے مگر جہاد سے متعلقہ آیاتِ قرآنی، احادیثِ نبویؐ، اور فقہی ابواب کو صرف اس لیے نصاب سے خارج کر دے کہ دنیا کے کچھ حلقے اس سے ناراض ہوتے ہیں۔
دوسری یہ کہ جہاد کی عملی اور عسکری تربیت ان مدارس میں کسی سطح پر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان مدارس میں ایسا کوئی نظام موجود ہے۔ حتیٰ کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں این سی سی طرز کی جو نیم فوجی تربیت عام طلبہ کو دی جاتی ہے، دینی مدارس کے نظام میں وہ بھی باضابطہ طور پر موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ دینی مدارس اپنے طلبہ کو عسکری ٹریننگ دیتے ہیں۔
جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے ہم نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی اس قومی وحدت کا حصہ ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کرنا کسی طرح بھی قرینِ انصاف نہیں ہے کہ دہشت گردی کے مختلف عوامل اور اسباب یکساں توجہ کے مستحق ہیں اور ان میں تفریق اور ترجیح قائم کرنا دہشت گردی کے خاتمہ کی بجائے اس کے مزید فروغ کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ بات ملک کا ہر شہری کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب بلوچستان میں مختلف ہیں، کراچی سے ان کی نوعیت اور ہے، اور قبائلی علاقوں میں ان کی صورت اس سے مختلف ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف صرف مذہبی اسباب کو بعض حوالوں سے ٹارگٹ کرنے سے جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ محبِ وطن حلقوں میں اضطراب کا باعث بنی ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہ عرض کیا ہے کہ دہشت گردی جس طرف سے بھی ہو رہی ہے قابلِ مذمت ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سب کے خلاف یکساں کارروائی ہو۔
اس پس منظر میں ہم یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ (۱) دینی مدارس کے مالیاتی و انتظامی امور میں سرکاری مداخلت، (۲) تعلیمی نصاب و نظام میں حکومتی ڈکٹیشن، (۳) اور سرکاری امداد سے دینی مدارس چلانے کی پیشکش کو دوٹوک اور واضح انداز میں مسترد کر دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دینی مدارس اپنی تمام تر کمزوریوں، خامیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اس وقت مسلم معاشرے میں دینی تعلیم کے فروغ اور اسلامی اقدام کے تحفظ کے لیے جو فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں، مذکورہ بالا تین امور میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنا دینی مدارس کے اس معاشرتی کردار سے دستبرداری کے مترادف ہو گا۔
مدارس رجسٹریشن: سوسائٹیز ایکٹ اور وزارتِ تعلیم کا فرق
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

(یوٹیوب چینل ’’دارالایمان والتقویٰ‘‘ پر موجود ایک ویڈیو کی گفتگو)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل عام لوگوں کے ذہنوں کو مشوش کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ
- حکومت تو یہ چاہ رہی ہے کہ مدارس چونکہ تعلیمی ادارے ہیں لہٰذا وہ وزارتِ تعلیم کے ساتھ وابستہ ہونے چاہئیں،
- اور مدارس یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونا چاہیے، اور سوسائٹیز ایکٹ جو ہے وہ وزارتِ صنعت و تجارت سے تعلق رکھتا ہے، یا وزارتِ داخلہ سے تعلق رکھتا ہے۔
تو لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ ہم کیوں اس سوسائیٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونا پسند کرتے ہیں، بنسبت وزارتِ تعلیم کے۔
(۱) پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ سوسائٹیز ایکٹ کیا چیز ہے؟ سوسائٹیز ایکٹ درحقیقت ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت آپ کوئی سوسائٹی بنا سکتے ہیں، پرائیویٹ ادارہ بنا سکتے ہیں، کہ جس میں آپ کو کوئی بھی کام کرنا ہو، آپ کو تعلیم دینی ہو، کوئی رفاہی کام کرنا ہو، اپنا تربیتی ادارہ قائم کرنا ہو، پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کرنی ہو، یہاں تک کہ کوئی آرٹس کونسل قائم کرنی ہو، تو وہ سارے کے سارے پرائیویٹ ادارے اس سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہوتے چلے آرہے ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ سوسائٹیز ایکٹ پرائیویٹ اداروں کو رجسٹرڈ کرنے کا ایک ڈاکخانہ ہے کہ جس کے ذریعے پرائیویٹ ادارے ایک قانونی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔
اب وہ پرائیویٹ ادارے اپنے نظام کے تحت چلتے ہیں، ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، ان کے کچھ عہدیدار ہوتے ہیں، یا مجلسِ انتظامی کے لوگ ہوتے ہیں، وہی اس کے تمام امور کے نگران ہوتے ہیں، ان کو مکمل اختیار ہوتا ہے کہ اپنی بنائی ہوئی سوسائٹی کے اندر جو چاہے کریں۔ صرف اتنا ہے کہ وہ رجسٹرڈ ہو جاتے ہیں، جس کے معنی یہ ہے کہ ان کا وجود قانونی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، لیکن اپنے اندرونی معاملات میں وہ بالکل خود مختار آزاد ہوتے ہیں۔ یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہم خود مختار آزاد ہیں، بلکہ جوں ہی اس میں رجسٹرڈ ہوئے، تو مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے قوانین کے تحت اپنے نظام کے تحت اپنے ادارے کو چلا سکتے ہیں۔
(۲) دوسری طرف وزارتِ تعلیم جو ہے وہ حکومت کا ایک ادارہ ہے، اور حکومت کے ادارے کی حیثیت سے وہ اپنے سارے تعلیمی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں یونیورسٹیاں بھی آتی ہیں، کالج بھی آتے ہیں، اسکول بھی آتے ہیں، جو سرکار کے تحت قائم ہو رہے ہیں۔ تو وہ اُس نظام کے پابند ہو جاتے ہیں۔
سادہ لفظوں میں اگر کہا جائے تو تقریباً یہ فرق ہے کہ
- اگر سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کوئی ادارہ رجسٹرڈ ہے، وہ پرائیویٹ ہے اور اس کو اپنے نظام کو چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے،
- اور اگر کوئی کسی وزارت کے تحت اس کا حصہ بن گیا، تو اس وزارت کے نظام کے اندر وہ آگیا۔
ہمارے مدارس کی بنیاد حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے وقت سے ہی اس بات پر ہے کہ یہ پرائیویٹ ادارہ ہے اور اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہمیں حکومت سے کوئی امداد چاہیے، نہ حکومت سے ہمیں کوئی پیسے چاہئیں، نہ حکومت سے ہمیں مداخلت چاہیے۔ اپنے اپنے طریقہ کار پر، جو اکابر کا طریقہ کار چلا آ رہا ہے، اس کے تحت چلنا چاہتے ہیں۔ کسی ایسے ادارے کو اپنے اوپر مسلط نہیں کرنا چاہتے جو ہمارے اندرونی نظام میں دخل اندازی کرے، جو ہمارے طریقہ کار میں مداخلت کرے، جو کسی طرح بھی ہمارے مقاصد پر اثرانداز ہو، ہم مدرسہ کو اس سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔
اور یہ آزادی ہمیں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ملتی ہے کیونکہ وہ پرائیویٹ ہے، اس میں سارے ادارے پرائیویٹ ہیں۔ بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں، اس لیے کہ وہ پرائیویٹ ہیں اور پرائیویٹ طریقے سے اپنے نظام کے تحت چلنا چاہتے ہیں۔
ہمیں اس بات پر اس لیے اصرار ہے کہ وزارتِ تعلیم کے ساتھ اگر ہم منسلک ہو گئے، اور میری تو اول روز سے یہی رائے ہے کہ اس کے ساتھ منسلک (نہیں) ہونا۔ ہم نے انتہائی دباؤ کے حالات میں اتنی سی بات تسلیم کی تھی کہ بھئی ہمارا ڈاکخانہ بدل جائے اور وزارتِ تعلیم کی طرف چلا جائے۔ لیکن جو اندیشہ تھا اور جس کی بنا پر ہم وزارتِ تعلیم میں جانے سے پرہیز کر رہے تھے، وہ اس وقت سامنے آگیا کہ ایک دن ہمارے ساتھ مذاکرات کے اندر ایک مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی، جس کو آج معاہدہ کا نام دیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت اصطلاحی اعتبار سے MOU ہے، memorandum of understanding، مفاہمتی یادداشت، قانونی اعتبار سے اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، صرف یہ بات ہوتی ہے کہ ابھی بات چل رہی ہے، اس کے اندر کچھ چیزوں پر مفاہمت ہوئی۔
اس مفاہمت کا ایک حصہ یہ تھا کہ ہمارے بینک اکاؤنٹ کھلیں گے، ہم خود مختار اور آزاد رہیں گے، ہمارے غیر ملکی طلباء کو ویزے ملیں گے، اور اس میں یہ بھی تھا کہ جب تک اس پر پوری طرح عمل نہیں ہو جاتا، سوسائٹیز ایکٹ کے تحت جو مدارس رجسٹرڈ ہو رہے ہیں وہ اپنی جگہ رجسٹرڈ ہوتے چلے جائیں گے۔ لیکن یہ بات ہماری اس مفاہمتی یادداشت کے مرحلہ میں ابھی تھی کہ اسی کے ساتھ ایک ارب روپے کا بجٹ بنا کر ایک ڈائریکٹریٹ قائم کر دی گئی، ایک سابق ملٹری میجر جنرل کے ماتحت، اور اس کے لیے مختلف جگہوں پر دفاتر قائم کرنا شروع کر دیے گئے، اور اس کے مطابق رجسٹریشن کا آغاز بھی کر دیا گیا۔
تو یہ مرحلہ تھا جس میں ہمیں اس نقطہ نظر کی بالکل وضاحت سامنے آ گئی جو ہم کہتے تھے کہ ہم (وزارت) تعلیم کے اندر جائیں گے تو ہم پھر کسی نظام کے اندر پھنس کر اس کے تمام ارشادات کے تابع ہوں گے۔ اگرچہ اس میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ مدارس اپنے نظام میں آزاد اور خود مختار رہیں گے، یہ لکھا ہوا ہے اس کے اندر بھی، لیکن آخر میں یہ لکھا ہوا ہے کہ وقتاً فوقتاً وزارتِ تعلیم کی طرف سے جو ہدایات آئیں گی مدارس اس کے پابند ہوں گے۔ ایک طرف یہ کہا ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہا ہے ……
ہم بالکل واضح الفاظ میں یہ بات کہہ دینا چاہتے ہیں کہ کسی حکومت کے ماتحت ہو کر ہم نصاب و نظام کو جاری نہیں رکھ سکتے، اور رکھنا ہمارے لیے زہرِ قاتل ہے۔ ہم نے انجام دیکھے ہیں، ہم نے سعودی عرب دیکھا، امارات دیکھا، مصر دیکھا ہے، شام دیکھا ہے، اور وہاں پر مدارس کو کس طریقے سے ختم کیا گیا، مدارس کو کس طریقے سے دبایا گیا، آج وہاں ہر کوئی کلمہ حق کہنے والا موجود نہیں ہے، یا (اگر) ہو تو اس کی جگہ جیل ہوتی ہے یا اس کے اوپر تشدد کیا جاتا ہے۔
الحمد للہ پاکستان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کے لیے بنایا اور پاکستان کو درحقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کا قلعہ بنایا ہے، ہم یہاں یہ صورتحال کسی قیمت برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مدارس اور ہمارے علماء اس طرح ہو جائیں کہ ان کے سامنے کچھ بھی ہوتا رہے اور وہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں اور شیطان اخرس بن کر زندگی گزاریں۔
جب کسی بھی چیز کو گھیرنا ہوتا ہے تو شروع میں ساری پابندیاں عائد نہیں ہوتیں، شروع میں اس کے لیے ایک دام ڈالا جاتا ہے، ایک دانہ ڈالا جاتا ہے، اس کے بعد آگے جا کر اس کو کسی وقت میں گھیرا جاتا ہے، یہی طریقہ کار رہا ہے پوری تاریخ میں۔ اگرچہ اس (مفاہمتی یادداشت) میں لکھا ہوا ہے کہ اپنے نظام میں آزاد و خود مختار رہیں گے، لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ جب اس دائرے کے اندر آگئے، اور اس میں یہ لفظ موجود ہیں کہ وزارتِ تعلیم کی طرف سے وقتا فوقتاً ملنے والی ہدایات جو ملتی رہیں گی، اس کے پابند ہوں گے۔
تو اب آپ دیکھیے آج کسی کی حکومت ہے، کل کسی اور کی حکومت ہو گی۔ وہ لوگ بھی حکومت میں وزارتِ تعلیم کے اندر آئیں گے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ مدارس جو ہیں وہ جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں، جنہوں نے علی الاعلان یہ بات کہی ہے، جنہوں نے یہ کہا ہے کہ مدارس تو یہ سکھاتے ہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ گویا مذاق اڑا کر کہ ’’مرنے کے بعد کیا ہو گا‘‘ کے حالات پڑھانے والے مدارس ہیں، یہ دنیا کی موجودہ زندگی کے ساتھ کیسے چل سکتے ہیں؟ وہ بھی تعلیم کے نظام کے اندر آ سکتے ہیں- کل کو کون آتا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا، لہٰذا مدارس کو اس دائرے کے اندر لانے کے ہم بالکل سختی کے ساتھ مخالف ہیں۔
اور چونکہ سوسائٹیز ایکٹ پرائیویٹ اداروں کا قانون ہے، اس واسطے ہم پرائیویٹ مدارس کے طور پر (اسے) استعمال کرنا چاہتے ہیں (اور) اپنا کام کرنا چاہتے ہیں، جس میں ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہ ہو۔ ہم خود الحمد للہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں، وفاق المدارس پوری طرح باخبر ہے اور اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ ہمیں ایک عالم کو موجودہ دور کے اندر اپنا پیغام بہتر طریقے سے پیش کرنے کے لیے جن معلومات کی ضرورت ہے، ہم اپنے مدارس میں وہ معلومات پڑھانا چاہتے ہیں۔ ہم اس لیے نہیں پڑھانا چاہ رہے، جو ساری دنیا یہ نامعقول بات کہتی ہے کہ مدارس سے ڈاکٹر کیوں نہیں پیدا ہوتے، لائیر کیوں نہیں پیدا ہوتے، انجینئر کیوں نہیں پیدا ہوتے، کسی ملٹری کے اندر کمیشن کیوں نہیں لیتے، اور اس بات کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ فلاں مدرسہ کے لوگ کمیشن لے چکے ہیں، وہ بریگیڈیئر بن چکے ہیں۔
ارے بھائی! یہ مدرسہ کرنل اور بریگیڈیئر پیدا کرنے لیے نہیں تھا، یہ قرآن و سنت کا علم محفوظ کرنے لیے تھا، یہ عالم پیدا کرنے کے لیے تھا۔ یہ بتاؤ کہ پورے پاکستان کے اندر کون سے سرکاری ادارے میں اسلام کی تعلیم دی جا رہی ہے؟
حافظ اتنے پیدا ہو رہے ہیں اس ملک کے اندر۔ کسی مسجد کے اندر کبھی یہ اعلان نہیں سنا گیا ہو گا کہ ہمارے ہاں تراویح پڑھانے کے لیے حافظ نہیں ہے، ہمیں فراہم کیا جائے۔ حافظ زیادہ ہیں، مسجدیں کم ہیں۔ کہاں سے پیدا ہو رہے ہیں یہ حافظ جو قرآن کریم کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور تراویح پڑھانے کے لیے موجود ہیں۔ یہ کہاں سے آرہے ہیں؟ کسی کالج سے؟ کسی یونیورسٹی سے؟ کسی انسٹیٹیوٹ سے؟ یہی مدارس ہی ہیں جو یہ سب پیدا کر رہے ہیں۔
کوئی آدمی یہ بتائے کہ کیا اس معاشرے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی دینی مسئلہ پیش آجائے تو اس کا جواب دینے والا کوئی موجود ہو؟ ساری دنیا دیکھ لے کہ اگر کسی مسلمان کو کوئی نکاح طلاق کا بھی مسئلہ پوچھنا ہوتا ہے، بیع و شراء کا بھی پوچھنا ہوتا ہے، نماز اور روزے کا پوچھنا ہوتا ہے، تو وہ کیا کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کے پاس جاتے ہیں جس نے ایم اے اسلامیات کی ڈگری لے رکھی ہے؟ یا کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کے پاس جاتے ہیں جو اسلامک اسٹڈیز پڑھا رہا ہے؟ وہ اگر جاتے ہیں تو ان لوگوں کے پاس جاتے ہیں جن کے پاس قرآن و حدیث، فقہ، اصولِ فقہ کا پورا علم ہے۔ کیوں جاتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ جانتے ہیں کہ صحیح علم ان کے پاس ہے، دین ان کو صحیح طریقے سے آتا ہے۔
یہ سارا کام مدارس اس لیے کر رہے ہیں اور اس طرح کر رہے ہیں کہ ہم کسی کے تسلط کے روادار نہیں ہیں، ہم وہ بات کہیں گے جو قرآن کہتا ہے، ہم وہ بات کہیں گے جو حدیث کہتی ہے، ہم وہ بات کہیں گے جو ہمارا دین کہتا ہے۔ اس وجہ سے ہم کوئی مداخلت کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتے، اگر کریں گے تو ہم اپنے فرضِ منصبی میں زبردست کوتاہی کے، اور اللہ اور رسول کے کے ساتھ جو ہم نے عہد کیا ہے، اس سے غداری کے مرتکب ہوں گے۔
اس لیے یہ فرق ہے سادہ لفظوں میں کہ مدارس پرائیویٹ رہیں یا سرکار کے تحت رہیں؟ سیدھی سی بات یہ ہے کہ پرائیویٹ رہیں یا سرکاری تسلط میں رہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے۔
- تو چونکہ سوسائٹیز ایکٹ میں ہم پرائیویٹ طریقے پر (کام) کر رہے ہیں، اس کا صنعت و تجارت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق ایک سوسائٹی سے ہے، اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، سوسائٹی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ جس طرح ایک ٹرسٹ ہوتا ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے، اسی طرح سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہو کر ایک سوسائٹی بنتی ہے اور وہ اپنے نظام کے مطابق جو چاہے کر سکتی ہے۔
- اور وزارتِ تعلیم میں جائیں گے تو ہم سرکار کے ماتحت ہوں گے۔
یہ ہماری گزارشات ہیں، یہ ہے ہمارا اصل مقصود، اور اس وجہ سے ہم اس پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان شاء اللہ ڈٹے رہیں گے. واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
مدارس رجسٹریشن: ایوان صدر کے اعتراضات نے قلعی کھول دی
مولانا مفتی منیب الرحمٰن

پارلیمنٹ سے پاس کردہ ’’سوسائیٹیز ایکٹ برائے رجسٹریشن دینی مدارس‘‘ پر ایوانِ صدر کے اعتراضات نے قلعی کھول دی ہے اور اصل نیت آشکار ہو گئی ہے، بلکہ یوں کہیے سانپ کی کینچلی اتر گئی ہے۔ واضح رہے سانپ کے جسم پر باریک سی جھلی ہوتی ہے جسے سانپ بدلتا رہتا ہے، اسے کینچلی کہتے ہیں۔
صدر صاحب کے اعتراض نامے میں لکھا ہے: ’’سوسائیٹیز ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن سے قانون کی گرفت کمزور ہوگی، من مانی زیادہ ہوگی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل مقصد مدارس کو گرفت میں لینا ہے، باقی سب ’وزنِ شعر‘ کے لیے ہے۔
مزید یہ کہ جس سقراط بقراط سیکرٹری صاحب نے یہ خط ڈرافٹ کیا ہے، ان کی علمی سطح بھی سامنے آگئی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’سوسائیٹیز ایکٹ فائن آرٹ کے لیے ہے‘‘۔
سوسائیٹیز ایکٹ کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد ہم خیال لوگوں کی ایسی انجمن، فاؤنڈیشن، ایسوسی ایشن، اکیڈمی، یا ادارہ، جسے کچھ افراد مخصوص مقاصد و اہداف کے لیے قائم کریں۔ وہ اہداف رفاہی، فلاحی، خیراتی تعلیمی، دینی، الغرض ہر طرح کے ہو سکتے ہیں۔ کوئی ہمیں ریکارڈ سے بتائے، سوسائیٹیز ایکٹ کے قیام سے لے کر آج تک جو ہزاروں لاکھوں ادارے رجسٹرڈ ہوئے ہیں، اُن میں ’فائن آرٹ‘ کے ادارے کتنے ہیں؟ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔ لہٰذا یہ محض کٹ حجتی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔
نیز یہ مکتوب ڈرافٹ کرنے سے پہلے سیکرٹری صاحب کو سوسائیٹیز ایکٹ کی سیکشن 21 کا مطالعہ کر لینا چاہیے تھا جسے سابق مختارِ کل صدر جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں پارلیمنٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں، اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے پاس کرا کے ایکٹ کی صورت میں پورے ملک میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس کا تو عنوان ہی یہ تھا: ’’رجسٹریشن آف دینی مدارس‘‘۔ یہ کہا گیا تھا: ’’دینی مدارس کا نام جو بھی ہو (مدرسہ، دارالعلوم، جامعہ، اکیڈمی، اسکول، کالج وغیرہ)، اس کی رجسٹریشن اس سیکشن کے تحت لازمی ہوگی‘‘۔
دوسرا نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے: ’’فیٹف اور عالمی اداروں کو اعتراض ہو سکتا ہے‘‘۔
بصد ادب عرض ہے: عالمی اداروں کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی ملک کو ڈکٹیٹ کریں کہ کون سا ادارہ کس قانون کے تحت قائم ہو، یہ آزاد جمہوری ممالک کا اپنا دائرہ اختیار ہوتا ہے۔ فیٹف کی دلچسپی صرف ایک مسئلے سے ہے: "منی لانڈرنگ نہ ہو، وسائل عسکریت کے لیے استعمال نہ ہوں، مالیاتی نظام شفاف ہو، وغیرہ‘‘۔ انہیں آم کھانے سے غرض ہوتی ہے، پیڑ گننے سے نہیں۔
سوسائیٹیز ایکٹ کی مذکورہ بالا سیکشن 21 ذیلی دفعہ 4 میں مدارس یہ ڈکلیریشن دینے کے پابند تھے: ’’کوئی مدرسہ ایسا لٹریچر شائع نہیں کرے گا جو عسکریت پسندی یا مذہبی منافرت کو فروغ دے‘‘۔
نیز اس کے مجوزہ پرفارمے میں یہ اقرارنامہ بھی شامل تھا: ’’ہم عسکریت پسندی یا انتہا پسندی یا نفرت انگیزی کی تعلیم نہیں دیں گے، البتہ تقابلِ ادیان کی نظریاتی بحث اس پابندی کی زد میں نہیں آئے گی‘‘۔ کیونکہ مغربی ممالک میں بھی ان کے جو مذہبی ادارے (Seminaries) قائم ہیں، ان میں بھی تقابلِ ادیان کی تعلیم دی جاتی ہے، اور مستشرقین (Orientalist) کا تو مرکزی موضوع ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی دانست میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی خامیاں تلاش کرتے رہتے ہیں۔
مدارس رجسٹریشن ایکٹ، صدارتی آرڈی نینس اور مولانا فضل الرحمٰن
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مدارس کی رجسٹریشن: قانونی سوالات
ہمارے ملک کا تعلیمی نظام بھی عجیب ہے۔ ایک جانب سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں جو سرکاری، نیم سرکاری، نجی اور پھر طبقاتی تقسیم پر مشتمل ہیں۔ دوسری جانب دینی مدارس ہیں جن کو عموماً اس نظام سے باہر ایک ”غیر“ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دینی مدارس کو مسئلہ اور سکول، کالج و یونیورسٹی کو حل سمجھا جاتا ہے۔ ”مسئلے“ کے ”حل“ کے لیے بعض حکومتوں نے چند دینی مدارس کو اپنی تحویل میں لیا (جیسے ریاستِ سوات میں گورنمنٹ دارالعلوم الاسلامیہ سیدو شریف)، پھر ان میں بعض کو یونیورسٹی میں تبدیل بھی کر لیا (جیسے ریاستِ بہاولپور کاجامعہ عباسیہ، جسے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کر دیا گیا)، لیکن ان کی حالت دیکھ کر دینی مدارس نے بجا طور پر یہ پوزیشن لی کہ اگر ”مین سٹریم“ میں آنا ایسا ہوتا ہے، تو ہم لنڈورے ہی بھلے! جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک کوشش بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی صورت میں کی گئی لیکن جنرل مشرف کے دور میں اس کی بین الاقوامیت بھی ختم ہو گئی اور اسلامیت بھی، اور نری یونیورسٹی باقی رہ گئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران میں یکساں نصابِ تعلیم کے لیے بھی کوششیں کی گئیں لیکن اس کی زیادہ مزاحمت دینی مدارس کے بجائے اشرافیہ کے سکولوں نے کی۔
انگریزوں کے دور سے رائج سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ویسے بھی نوکر شاہی کو سارا اختیار تھا، لیکن نائن الیون کے بعد بدلتے حالات میں جنرل مشرف کی حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ خصوصاً بہت مشکل کر دیا اور وزارتِ داخلہ کے تسلط کے بعد ایجنسیوں کی مداخلت کی شکایات بھی بڑھ گئیں۔
وقت تھوڑا بدلا، تو چودھری نثار علی خان کی وزارتِ داخلہ نے اسی قانون کو ان این جی اوز کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا جن کو مغرب سے فنڈنگ دی جاتی تھی اور معاملہ کسی حد تک ”بیلنس“ ہوگیا۔
بہت مغزماری اور طویل مذاکرات کے بعد بالآخر ۲۰۱۹ء میں دینی مدارس اور حکومت کے درمیان معاملات یوں طے پائے کہ رجسٹریشن کا معاملہ وزراتِ تعلیم کے تحت کر دیا گیا، لیکن اس مقصد کے لیے جو ڈائریکٹریٹ بنائی گئی تو ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا، اور معاملہ انگریزی محاورے کے مطابق واپس پہلے خانے تک آگیا!
بہرحال اس معاملے میں مدارس کے اکابر کے درمیان تقسیم پیدا کرنے میں حکومت کامیاب ہو گئی اور ایک طرف مدارس کے کئی نئے بورڈ وجود میں آگئے جن سے بعض مدارس نے الحاق بھی کر لیا، اور دوسری طرف ان مدارس نے وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹریٹ کے ساتھ رجسٹریشن شروع کی۔ تاہم یہ حقیقت ماننی چاہیے کہ مدارس کی غالب اکثریت اس معاملے سے دور رہی۔
رجسٹریشن کے معاملے میں ایک راستہ کمپنیز ایکٹ کے تحت بطور پرائیویٹ کمپنی کام کرنے کا ہے۔ کمپنی اور پارٹنرشپ میں ایک بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ کمپنی کو قانون ایک الگ شخص کی حیثیت دیتا ہے۔ اور کمپنی بنانے والے رہیں یا نہ رہیں، کمپنی کا قانونی وجود برقرار رہتا ہے۔ کمپنی پبلک بھی ہوتی ہے اور پرائیویٹ بھی۔ پھر دونوں صورتوں میں ذمہ داری یا تو ”غیر ادا شدہ شیئرز“ کی حد تک ہوتی ہے یا ”جس حد تک گارنٹی دی گئی ہو“۔ اب اگر ایسی پرائیویٹ کمپنی ہے جس میں ذمہ داری گارنٹی کی حد تک ہو، تو سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تحت ایسی رجسٹریشن، سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی بہ نسبت، فلاحی اداروں کے لیے بہت بہتر آپشن ہے جس کے قانونی فوائد بھی بہت ہیں۔ لیکن عام طور پر لوگ اس کی طرف شاید اس لیے متوجہ نہیں ہوتے کہ ان کے خیال میں کمپنی صرف کاروبار کے لیے ہوتی ہے حالانکہ دنیا بھر میں کمپنی کی یہ قسم فلاحی اداروں کے لیے آئیڈیل سمجھی جاتی ہے۔
یہ مسئلہ اس سال اکتوبر میں ۲۶ویں ترمیم کے موقع پر بھی سامنے آیا جب حکومتی اتحاد کو ترمیم کے لیے مولانا فضل الرحمان صاحب کا تعاون درکار تھا۔ اس تعاون کے مقابل میں مولانا نے آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے کے لیے مدت کے تعین، اور اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت اپیلیٹ بنچ کی فعالیت یقینی بنانے کے علاوہ، سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم بھی تجویز کیں۔ یہ ترمیمی ایکٹ ۲۱ اکتوبر کو پارلیمان سے منظور کیا گیا اور اسے صدر کے پاس دستخطوں کے لیے بھیج دیا گیا۔
آئین کی دفعہ ۷۵ کے تحت صدر پابند تھے کہ وہ ۱۰ دنوں میں یا تو اس پر دستخط کر لیتے اور یوں اسے قانون کی حیثیت مل جاتی، یا اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض تھا، تو اعتراض لگا کر واپس کر دیتے۔ تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر کے اعتراضات کے ساتھ بل کو ۵ دسمبر کو واپس پارلیمان بھیج دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ۱۰ دن گزرنے پر یہ بل قانون نہیں بن گیا تھا؟ دفعہ ۷۵ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں دو راؤنڈ ذکر کیے گئے ہیں:
- پہلے راؤنڈ میں اگر صدر نے دس دن کے اندر نہ دستخط کیے، نہ ہی بل واپس کیا، تو بل کے قانون بن جانے کے معاملے میں آئین خاموش ہے۔ البتہ حکومت کا عام طرزِ عمل یہ رہا ہے کہ اگر ۱۰ دن کی مدت کے بعد بھی صدر نے بل واپس بھیج دیا تو پارلیمان نے اس پر دوبارہ ووٹنگ کی ہے۔
- اور دوسری دفعہ کی منظوری کے بعد بھی صدر نے مقررہ دنوں میں دستخط نہیں کیے تو دفعہ ۷۵ میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ مدت گزرنے پر فرض کر لیا جاتا ہے کہ صدر نے دستخط کر لیے ہیں، اور بل قانون بن جاتا ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس کی مثال ہے۔
میرے نزدیک بھی اصولاً یہ بات درست ہے کہ پہلے راؤنڈ میں صدر کے دستخطوں کے بغیر بل قانون نہیں بنتا۔ تاہم اگست ۲۰۲۳ء میں جب حکومت نے آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم کیں اور صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے، تو دوسرے راؤنڈ میں لے جائے بغیر ہی گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا کہ صدر کے دستخط فرض کر لیے گئے ہیں اور یہ ترامیم اب قانون کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس لیے اب کوئی فیصلہ کرنا ہے:
- اگر اس کی پوزیشن یہ ہے کہ پہلے راؤنڈ میں ۱۰ دن کے بعد بل خود قانون نہیں بنتا، تو آفیشل سیکرٹس ایکٹ والی ترامیم سے بھی دستبردار ہونا ہو گا؛
- اور اگر وہ یہ کہے کہ ۱۰ دن گزرنے پر بل قانون بن جاتا ہے، تو اسے ماننا ہوگا کہ مدرسوں والا بل بھی قانون بن چکا ہے۔
میڈیا میں صدر کا ایک یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن صوبائی معاملہ ہے، اس لیے اس پر قانون سازی صوبوں کو کرنا چاہیے۔ اس عذر میں وزن نہیں ہے کیونکہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو اسے صوبائی معاملہ بناتا ہے۔ یہ اعتراض تو مدارس سے زیادہ یونیورسٹیوں پر عائد ہوتا ہے جن پر ابھی تک ہایئر ایجوکیشن کمیشن کو مسلط کیا گیا ہے حالانکہ ۱۸ویں ترمیم کے بعد انہیں صوبوں کے تحت ہونا چاہیے تھا۔
دوسرا اعتراض یہ نقل کیا گیا ہے کہ یہ ترامیم اسلام آباد میں نافذ قانونِ وقف سے متصادم ہیں۔ یہ عذر بھی وزن نہیں رکھتا کیونکہ قوانین کی تعبیر و تشریح عدالت کا کام ہے۔
مقدمہ اصل میں تعلیمی اداروں کی خود مختاری کا ہے جو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو لڑنا چاہیے تھا لیکن ان کے ذمے کا قرض اہلِ مدارس تنہا ادا کر رہے ہیں۔
(۱۳ دسمبر ۲۰۲۴ء)
مدارس رجسٹریشن ایکٹ اور آرڈیننس: ویل ڈن، مولانا صاحب!
مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ مذاکرات کے بعد وزیرِ اعظم کے مشورے پر صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور شدہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2024ء پر دستخط کر لیے ہیں اور اب اسے باقاعدہ اور مستقل قانون کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
اس قانون کے چیدہ نکات پر میں پہلے ہی لکھ اور بول چکا ہوں، وہ باتیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ایک بات کی یاددہانی ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی اگلی بات سمجھ میں آسکے گی جس کے لیے صدارتی آرڈی نینس جاری کیا گیا ہے۔
وہ بات یہ ہے کہ اس مستقل قانون کی رو سے مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کرنی لازم ہے اور اس کا اطلاق ان مدارس پر بھی ہوتا ہے جو ابھی وجود میں نہیں آئے، اور ان پر بھی جو وجود میں تو آئے ہیں لیکن انھوں نے ابھی نہ تو اس قانون کے تحت رجسٹریشن کی ہے، نہ ہی وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کی ہے۔
البتہ ان مدارس کا معاملہ مختلف ہے جو پہلے سے موجود ہیں اور انھوں نے وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کی ہے۔ میرے فہم کے مطابق تو انھیں استثنا حاصل ہے، یعنی ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن ان مدارس والوں کو اطمینان نہیں تھا، اس لیے میں نے یہ تجویز دی تھی کہ ان کے لیے ایسے الفاظ کا اضافہ کیا جائے کہ ”خواہ انھوں نے رائج الوقت کسی بھی قانون کے تحت رجسٹریشن کی ہو“۔
شاگردِ عزیز رفیق اعظم بادشاہ کے ساتھ بنوریہ عالمیہ کے لیے اس موضوع پر پوڈ کاسٹ میں اس ناچیز نے یہ بات بھی واضح کی کہ وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے اور یہ بہت بڑا خلا ہے۔ خیر، اس موضوع پر الگ سے گفتگو کی ضرورت ہے۔
اس وقت یہ بات ملاحظہ کرنے کی ہے کہ ان مدارس کو اس قانون کے اطلاق سے بچانے کے لیے فوری طور پر ایک صدارتی آرڈی نینس جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس قانون میں کئی ترامیم کی گئی ہیں۔ ان میں دو ترامیم بہت اہم ہیں:
- ایک یہ کہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لیے shall کا لفظ ختم کر کے may کردیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب یہ رجسٹریشن لازمی نہیں ہے بلکہ اختیاری ہو گئی ہے؛
- دوسری یہ کہ جو مدارس اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرنے کے بجاے کسی اور بندوبست (dispensation) کے تحت رجسٹریشن کرنا چاہیں وہ اس کے لیے آزاد ہیں اور وہ وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹریٹ براے مذہبی تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔
اس طرح مولانا فضل الرحمان صاحب نے یہ بات تو منوا لی ہے کہ پارلیمان کا بنایا ہوا قانون ہی اصل اور مستقل قانون ہے، البتہ انھوں نے ان مدارس کے لیے جو اس قانون کے اطلاق سے بچنا چاہتے تھے، صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے گنجائش مان لی ہے۔
تاہم یہ بات یاد رہے کہ آرڈی نینس ایک عارضی قانون ہے اور چار مہینے بعد اس نے ختم ہونا ہے، الا یہ کہ پارلیمان اسے منظور کر لے، یا پھر سے صدر اسے آرڈی نینس کے طور پر جاری کر دے۔
اس سے دو اہم نتائج سامنے آتے ہیں:
- ایک یہ کہ مولانا نے ان مدارس کے لیے جو گنجائش پیدا کی، اس پر ان مدارس کو مولانا کا شکرگزار ہونا چاہیے، لیکن آگے کا کام ان مدارس والوں نے خود ہی کرنا ہے؛ اب وہ یہ بہانہ بھی نہیں کر سکتے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کب قانون بنا اور ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا؛
- دوسرا یہ کہ ایف اے ٹی ایف وغیرہ کا بہانہ محض بہانہ تھا؛ اصل میں ان مدارس کے لیے گنجائش پیدا کرنی تھی جو اس ایکٹ کے اطلاق سے بچنا چاہتے تھے اور وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹریٹ کے ساتھ رجسٹریشن چاہتے تھے۔ ان مدارس کو بچانے کی فکر ایف اے ٹی ایف کو نہیں تھی، تو کیا اب کیا یہ بھی بتاؤں کہ یہ فکر کن کو تھی اور کس نے اتنا عرصہ اس بل کو قانون بننے سے روکے رکھا؟
بہرحال، آخری تجزیے میں مولانا فضل الرحمان ہی اس معرکے کے فاتح ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے موقف کی حقانیت منوالی ہے، بلکہ اپنے خلاف موقف رکھنے والوں کے لیے بھی (عارضی ہی سہی) گنجائش پیدا کر لی ہے، اور پردے کے پیچھے چھپے اصل ایکٹروں کو بھی آشکارا کر دیا ہے۔
ویل ڈن، مولانا صاحب!
(۲۹ دسمبر ۲۰۲۴ء)
مدارس اور مولوی: پس منظر اور معاشرتی حیثیت
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ملکی آبادی کا غالب حصہ یہ سمجھتا ہے کہ محلے کا مولوی جس کسمپرسی کے عالم میں آج رہ رہا ہے، شاید ابتدائے آفرینش سے وہ اسی بے چارگی کا شکار رہا ہے، جو لعل و گُہر اس کی زبان سے آج جھڑتے ہیں، شاید اس کے آبا و اجداد نے اس کی گھٹی میں ڈالے تھے۔ یہاں تک کی لاعلمی تو قابلِ معافی ہے، لیکن آبادی کا ایک بڑا تناسب یہ ایمان بھی رکھتا ہے کہ مولوی صاحب جو کہہ رہے ہیں وہی اسلام ہے، وہی اللہ کا فرمان ہے، وہی الہامی ہدایت ہے۔
یہ کیفیت آج اکیسویں صدی کے اس دوسرے دَہے میں ہے کہ جب ذرائع ابلاغ لوگوں کی رسائی میں نہیں، جیب میں پڑے ہوتے ہیں، لیکن کتب تاریخ کے اوراق میں کچھ اور مرقوم ہے۔ انہی اوراق میں سے ایک بوسیدہ، مُڑا تڑا اور کٹا پھٹا ورق مولوی کی داستان سے عبارت ہے۔
زیادہ دور کی بات نہیں 1857ء کی جنگِ آزادی تک کا ذکر ہے کہ برصغیر کے مراکزِ علم، اور کسی حد تک قدرے دور کے شہروں اور قصبہ جات میں اس وقت کے تعلیمی ادارے معاشرے کی تمام ضروریات کے کفیل تھے۔
یہی مدارس علمِ طب کے میدان میں ماہرینِ علوم طب پیدا کرتے تھے۔ وہی ماہرین یعنی طبیب عام فرد سے لے کر بادشاہ سلامت تک کی طبی ضروریات پوری کرتے۔ انہی مدارس سے فارمیسی یعنی ادویہ سازی کے ماہرین بھی سند حاصل کرتے۔ اور یہ جو تاج محل، لال قلعہ، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور اس طرح کی متعدد تاریخی عمارات آج شان و شوکت سے سر اٹھائے کھڑی ہیں، ان کے بنانے والے آرکیٹکٹ اور انجینئر انہی تعلیمی اداروں کے سند یافتہ تھے۔ پشاور سے کلکتہ تک وسیع و عریض برصغیر کو چلانے والے بیوروکریٹ اور سول سروس کے کل پرزے بھی انہی مدارس کے ’’مولوی‘‘ حضرات سے فیض یافتہ تھے۔
یہ مدارس اپنے وقت کی جامعات ہوا کرتے تھے۔ ان کے پاس وسیع و عریض رقبے بغرض کاشتکاری ان کی اپنی ملکیت میں ہوا کرتے تھے، جہاں سے حاصل غلہ اور دیگر زرعی اجناس یہ مدارس سال بھر کے لئے حاصل کرتے اور گوداموں میں رکھ لیتے۔
مدرسین کو تنخواہوں وغیرہ کا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ طلبا سے نہ صرف کوئی فیس نہیں لی جاتی تھی، بلکہ تعلیمی سال کے اختتام پر گھر جانے آنے کے لئے انہیں سفر خرچ (Travel Grant) بھی دیا جاتا تھا۔ روٹی، کپڑا اور چھت تو یہ تعلیمی ادارے دیتے ہی تھے، طلبا کی دیگر جملہ ضروریات بھی ان کے ذمے تھیں، حتیٰ کہ 1857ء آ گیا۔
برطانوی راج جب 1857ء کی جنگِ آزادی سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹ چکا تو اس نے دو اوّلین کام ایسے کئے، جن سے ہم مسلمان آج بھی نبردآزما ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کی موجودہ بے چارگی کا جواز موجود ہے کہ وہ ایک لادین مُلک میں اور معاندانہ رو یہ والے ہندو کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ افسوس تو پاکستان کے باشندوں پر ہے، جو ڈیڑھ سو سال سے زائد مدت گزارنے کے بعد بھی انگریز کے پیدا کردہ مسائل کو نہ تو ختم کر سکے اور نہ ختم کرنے کا داعیہ رکھتے ہیں۔
انگریز کا سب سے پہلا حملہ مسلمانوں کے نظامِ تعلیم پر یوں ہوا کہ اس نے مذکورہ تعلیمی اداروں کے ان وسیع و عریض رقبوں کو اپنی تحویل میں لے لیا جن کی بنیاد پر یہ تعلیمی ادارے مکمل خود کفیل تھے۔ یہ رقبے انگریز نے اپنے ان مقامی معاونین کے نام کر دیئے جو جنگِ آزادی کے عمل میں انگریز کے حلیف تھے اور جن کی مدد اور غداری سے انگریزوں نے ہزاروں مجاہدینِ آزادی کا خون کیا تھا۔ مسلمانوں کے وقف کردہ لاکھوں ایکڑ ان تعلیمی اداروں سے کیا چھنے کہ ان کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ اکابر مسلمان ’’مولوی‘‘ سر جوڑ کر بیٹھے اور نتیجہ یہ نکالا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی، جنگ کی ابتدا ہوئی ہے، جس میں خالی ہاتھ اگر کوئی ہے تو وہ عامۃ الناس ہیں۔ رہے رقبہ یافتگان تو ان میں اور انگریزوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بڑے بڑے زرعی رقبے تعلیمی اداروں سے چھین لئے گئے تو ان کی آمدنی دفعتاً ختم ہو کر رہ گئی۔ کہاں کی خود کفالت اور کون سی ٹریول گرانٹ۔ حالت یہ ہو گئی کہ طلبا کے روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی ان تعلیمی اداروں کے لئے ناممکن ہو گیا۔
دوسری افتاد یہ پڑی کہ انگریزی حکومت نے فارسی کی جگہ انگریزی کو دفتری اور سرکاری زبان قرار دے کر ملکی نظام اس کے تحت چلانا شروع کر دیا۔
اس کے تطابق میں سرسید احمد خان نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کا سبق دینا شروع کر دیا۔ کہتے ہیں معاش سب سے بڑا نظریہ ہوا کرتا ہے۔ انگریزی کے دفتری زبان قرار پاتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے انگریزی سکولوں میں بچوں کو داخل کرانا شروع کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد حالت یہ ہو گئی کہ مسلمانوں کے اپنے تعلیمی ادارے وسائل سے محروم تو پہلے ہی کر دیے گئے تھے، ان میں طلبا کی تعداد بھی گھٹنا شروع ہو گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسلمانوں کے اصل رہنماؤں — علمائے کرام — نے بڑی جرأت سے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اور کچھ کر سکیں یا نہ کر سکیں، تعلیمی اداروں میں ’’قال قال رسول اللہ‘‘ کی صدا ہر حال میں زندہ رکھنا ہے۔
مسلمانوں کی عام آبادی میں اس فیصلے کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ اب یہ طے ہوا کہ ان محروم وسائل تعلیمی اداروں کے کم از کم ایک طالب علم کی کفالت ایک مسلمان خاندان کرے گا۔ شروع میں ان اداروں میں سے آہستہ آہستہ میڈیکل، انجینئرنگ، مینجمنٹ سائنسز، فلکیات اور اس طرح کے دیگر علوم ایک ایک کر کے اجنبی بننا شروع ہوئے۔ علماء نے اس کے باوجود ہتھیار نہ ڈالے اور علومِ قرآن، تفسیر، علمِ حدیث، فقہ، تاریخ اور عربی فارسی جیسے متعلقہ علوم کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور یوں ’’قال قال رسول اللہ‘‘ کی صدا ان جنونی مسلمانوں کی کوششوں سے جاری رہیں۔
فارسی کی جگہ انگریزی کو دفتری زبان قرار دیا گیا تو ظاہر بات ہے آبادی کے بڑے حصے نے انگریزی سکولوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے متوازی رُخ پر انگریزی نہ جاننے کے باعث مسلمانوں میں بے روزگاری کا تناسب بڑھتا چلا گیا۔ حالت یہ ہو گئی کہ دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے ان عام مسلمان گھرانوں کے لئے خود اپنی سفید پوشی کو برقرار رکھنا محال ہو گیا، جو کسی ایک مسلمان طالب علم کی کفالت کیا کرتے تھے۔ اب ان میں ایک جھنجھلاہٹ سی پیدا ہونا شروع ہو گئی:
’’ابا حضور نے معلوم نہیں کس برتے پر ایک طالب علم کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ ہم یہ سلسلہ موقوف یا منقطع تو نہیں کرنا چاہتے، لیکن مولانا! حالات آپ کے سامنے ہیں۔ عید بقر عید پر کپڑوں کے دو جوڑے ہم خود بناتے ہیں، اپنے اس طالب علم کو بھی دے دیا کریں گے۔ رہا کھانا، تو حضرت جو ہم کھاتے ہیں وہی اس طالب علم کو بھی کھلائیں گے۔ یوں کیجئے حضرت! طالب علم کو بھیج دیا کریں دو وقت کا کھانا ہمارے ذمہ‘‘!
قارئین کرام! یہ تھا مولوی کے کشکول کی ایجاد کا پس منظر!
دلخراش باتیں میں اب شروع کرتا ہوں۔ انگریز تو رخصت ہو گیا، لیکن اپنا ریاستی نظام تمام کامے فل اسٹاپ کے ساتھ اسی طرح ہم نے قبول ہی نہیں کیا، پوری جزئیات کے ساتھ اسے اسی طرح نافذ رہنے دیا جس طرح انگریز نے چھوڑا تھا۔ ابھی گزشتہ سال جی ہاں 2017ء میں میرا ایم فِل کا ایک طالب علم گاڑی میں لفٹ لے کر میرے ساتھ بیٹھا تو موضوع سخن ذاتی امور کا رخ کرتا چلا گیا۔ معلوم ہوا موصوف کسی مسجد میں امام ہیں، وہیں رہتے ہیں اور دو وقت کا کھانا آج اکیسویں صدی میں بھی وہ تب کھا پاتے ہیں جب محلے کے لوگ باری باری انہیں کھانا دیں۔ اور یہ قصہ ہے سیالکوٹ شہر کے اندرونی حصے کا، اور یہ اس سیالکوٹ شہر کا ذکر ہے جس کے سرمایہ داروں نے اپنی برآمدات بڑھانے کے لئے اپنے اربوں کے خرچ سے حکومت کو ایک ایئرپورٹ بنا کر دے دیا۔
زندگی کے دو کنارے چار سُو
اِک طرف ہنگامہ اہل ہوس اور ہاؤ ہُو
اِک طرف اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
انگریز کے اس انتظامی آکٹوپس پر آہنی ضرب لگائی تو پاکستان آرمی نے۔ 1976ء تک یہ صورتِ حال تھی کہ یونٹ کے مولوی صاحب کو رہنے کے لیے جو کوارٹر الاٹ ہوا کرتا تھا، وہ ان کوارٹروں میں سے کوئی ایک ہوتا تھا جن میں بھنگی، موچی، ترکھان وغیرہ رہتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے بے چارگی کی شکار اس مخلوق کو پہلی دفعہ کمیشنڈ آفیسر قرار دے کر اسے اس قابل بنا ڈالا کہ کمیشنڈ آفیسر کم از کم اس سے ہاتھ ملا سکیں۔
تو کیا یہ ذمہ داری پاک فوج ہی تک محدود ہے؟ آزادی کے بعد معاشرتی اداروں کو نئے انداز اور آزاد قوم کے شایان شان تبدیل کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ مُلک کی نظریاتی ساخت کی شکل کوئی بھی ہو، مسجد مسلمان آبادی کا ایک جزولاینفک ہے۔ لادین ممالک میں بھی مسجد وہ ادارہ ہے جس کی تعمیر و ترقی کے لئے لادین ریاست انہی خطوط پر کام کرتی ہے جن پر ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ریلوے اسٹیشنوں کو بہتر بنانے کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ شعبہ اوقاف اور سرکاری مساجد کے ائمہ کرام بلاشبہ بہتر شرائط اور بہتر انداز میں کام کرتے ہیں، فوج کے ائمہ کرام بھی اب سر اٹھا کر چلنے کے لائق ہو گئے ہیں۔
اس سب کچھ کے باوجود انگریز کی تشریف آوری سے قبل کے امام اور تعلیمی اداروں کی بحالی نہ کیے جانے تک پورا معاشرہ تند و تاریک خانوں ہی میں بٹا رہے گا۔ موجودہ دینی مدارس بڑی حد تک بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں، لیکن بڑی تعداد میں چھوٹے مدارس میں آج بھی کشکول بردار طلبا ہی پڑھتے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں سے سند یافتہ افراد سے اگر کوئی شخص اس وجہ سے نفرت کرے کہ مولوی صاحب کے انداز و اطوار ٹھیک نہیں ہیں تو ایسے شخص کی ذہنی سطح پر بغور نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دینی مدارس کے نظامِ تعلیم کو چھیڑے بغیر انہیں درست خطوط پر استوار کیا جائے۔ معاشرہ جس دن ان تعلیمی اداروں کو واپس دو سو سال قبل کے خطوط پر لے جانے میں کامیاب ہو گیا، وہ دن ہماری خود کفالت کا پہلا دن ہو گا۔ پھر یہی تعلیمی ادارے قانون دان، محقق، ڈاکٹر، انجینئر، ماہرینِ مالیات پیدا کریں گے۔ اور پھر نہ غیرملکی ماہرین ہوں گے اور نہ غیرملکی اداروں سے غیرملکی فکر اٹھائے وہ ماہرین ہوں گے جو ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سے قرض لینے کی سفارش کریں۔
خود کفالت کے حصول کے لئے دیگر اقدامات کے پہلو بہ پہلو یہ بھی ایک اہم قدم ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم اور تعلیمی ادارے ہمارے اپنے انداز کار سے مطابقت رکھنے والے ہوں اور یہی خود کفالت کی بنیاد ہو گی۔
مدارس کے ساتھ یونیورسٹی بل بھی!
محمد عرفان ندیم

چند دن قبل پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالب علم کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ مقتول اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، گاڑی کے ڈیش بورڈ پر اسلحہ رکھا تھا، پیچھے بیٹھے دوست نے اسلحہ دیکھنے کی فرمائش کی، دوست نے پستول اٹھا کر پیچھے پکڑا دیا۔ پیچھے بیٹھے دوست نے چیک کرنے کے لیے بٹن دبایا جس سے گولی چلی اور فرنٹ پر بیٹھے نوجوان کو جا لگی۔ نوجوان شدید زخمی ہو ااور ہسپتال منتقلی کے دوران وفات پا گیا۔
جیسے ہی نوجوان کے قتل کی خبر پھیلی طلبا تنظیموں کے جتھے سڑکوں پر نکل آئے۔ ہر تنظیم مقتول نوجوان کو اپنی جماعت کا رکن ڈکلیئر کر کے اس کی لاش کو کیش کرنے لگی۔ یونیورسٹی، وائس چانسلر آفس اور مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سامنے احتجاج اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی۔ یونیورسٹی کے اطراف میں تمام شاہراؤں کو بند کر دیا گیا اور ہزاروں گاڑیاں اور لاکھوں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے۔ طلبا و طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یونیورسٹی کی بسیں روک دی گئیں اور ہزاروں طالبات کو گھر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے والدین فون کر کے اپنے پیاروں کے خیر خبر دریافت کرنے لگے۔
دو تین گھنٹے بعد پولیس نے طلبا کو منتشر کر کے صورتحال پر قابو پایا۔ تحقیق ہوئی تو پتا چلا یہ حادثاتی قتل تھا اور نوجوان کسی تنظیم کا رکن بھی نہیں تھا۔ لیکن جب تک تحقیق ہوتی نوجوانوں کے جتھے یونیورسٹی کو تباہ کر چکے تھے اور لاکھوں کروڑوں کی املاک جلا چکے تھے۔ لاکھوں لوگ اذیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا اور ہزاروں لاکھوں لوگ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت چکے تھے۔
آج کل مدارس ایشو زبان زد عام ہے، میرا خیال ہے اس کے ساتھ ہمیں یونیورسٹیوں کے نظامِ تعلیم کو بھی اپنی فہرست میں شامل کر لینا چاہیے۔ یونیورسٹیوں کے ماحول اور نظامِ تعلیم پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن سردست ہم مذکورہ واقعے تک محدود رہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جس عمر اور جس ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی اس عمر اور اس ہاتھ میں اسلحہ آ گیا؟ یقیناً اس کے پیچھے کسی کو ’’انسپائر‘‘ کرنے کا جذبہ یا کسی کو ’’دھمکی‘‘ دینے کی وجہ کارفرما ہو گی۔ یونیورسٹی کے مخلوط تعلیمی ماحول کی وجہ سے اب یہ مفاسد عام ہیں۔ اگر مخلوط تعلیمی ماحول کو کسی سنجیدہ ریسرچ کا موضوع بنایا جائے تو اس کے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔
ہم اسی موضوع پر بات کو آگے بڑھاتے ہیں، مخلوط تعلیم میں لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھنے کا تجربہ انہیں ایک ایسی عادت کا شکار بنا دیتا ہے جو بہت سارے مفاسد اور خرابیوں کا باعث بنتی ہے۔ مسلسل ایک ساتھ بیٹھنے اور بے تکلفی اختیار کرنے سے ایک خاص طرح کی لذت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ لذت دراصل ’’ڈوپا مین‘‘ جیسے کیمیکلز کے اخراج سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل جب پہلی بار خارج ہوتا ہے تو ایک خاص لطف کا احساس دیتا ہے۔ مسلسل مخلوط ماحول میں رہنے سے لڑکے لڑکیاں اس کیمیکل کے اخراج کے عادی ہو جاتے ہیں اور نکاح کے بعد لطف کی یہ کمی ازدواجی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ نکاح کے بعد جو رشتہ بنتا ہے مخلوط ماحول میں بننے والے تعلقات کی وجہ سے اس میں لطف اور احترام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
ان اخلاقی برائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ طلبا کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر غیر ضروری باتوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں تعلیم کے بجائے ایک دوسرے پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے لیے لباس، بات چیت کے انداز اور رویوں میں مصنوعی پن لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی اصلی شخصیت کو نظر انداز کرتے ہوئے مصنوعی طور پر جنس مخالف کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کے کردار اور اخلاقیات میں منفی رویے جنم لیتے ہیں۔ اس طرح ان کی زندگی میں ایک طرح کی بے سکونی اور کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے، اور ان کا وقت حقیقت پر مبنی رویے سیکھنے کے بجائے غیر ضروری باتوں اور بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع ہونے لگتا ہے۔ تعلیم کے بجائے ان کی توجہ بات چیت، دوستی، ایک دوسرے کو متاثر کرنے اور غیر ضروری سرگرمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے جس سے ان کا تعلیمی ہدف پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
مخلوط اداروں میں پڑھنے والی لڑکیوں میں ایک رجحان یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو لڑکیاں عموماً پہلے سمسٹر میں عبایا پہنتی ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے لباس اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لے آتی ہیں۔ ان پر فیشن اور جدید رجحانات کا اثر غالب آنے لگتا ہے اور صرف چند سمسٹر بعد ان کا عبایا اتر جاتا اور وہ بھی فیشن کی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہیں۔
مخلوط ماحول میں پیدا ہونے والی قربت اور بے تکلفی شعوری یا لاشعوری طور پر شادی کے بعد کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ شادی کے بعد زندگی میں ایک خاص قسم کی یکسانیت اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ جبکہ مخلوط اداروں میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے والی زندگی کی توقع کر رہے ہوتے ہیں اور یہ فرق ازدواجی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق 20 فیصد شادی شدہ جوڑوں نے تسلیم کیا کہ ان کے ازدواجی مسائل کی جڑ ان کے شریکِ حیات کے مخلوط تعلیمی ماحول میں گزرے وقت کے تعلقات یا دوستیاں ہیں جو شادی کے بعد شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہیں۔ 15 فیصد شادی شدہ افراد نے اعتراف کیا کہ مخلوط تعلیم کے دوران سیکھے گئے آزادانہ رویے یا بات چیت کے انداز ان کے شریکِ حیات کی روایتی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے ازدواجی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔
مخلوط تعلیمی نظام کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 45 فیصد طالبات نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ مخلوط تعلیم کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ 30 فیصد طلبہ نے تسلیم کیا ہے کہ مخلوط ماحول میں پڑھائی کی وجہ سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر دیگر غیر ضروری سرگرمیوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ 40 فیصد والدین مخلوط تعلیم کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خواتین کی تعلیمی شرح متاثر ہوتی ہے۔
بات بہت دور نکل گئی، ہم طالب علم کے قتل کے پیچھے مخلوط تعلیمی ماحول کی وجہ تلاش کر رہے تھے لیکن یہاں تو اور بہت زیادہ مفاسد سامنے آ گئے۔
علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور دورِ جدید میں ہر مرد و عورت دونوں کو یہ حق یکساں فراہم ہونا چاہیے، لیکن اس حق کی فراہمی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ثقافتی اور مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھ رہے ہیں یا نہیں؟ تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ، مگر تربیت کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی اخلاقی اور روحانی تربیت کو ترجیح نہیں دیں گے تو معاشرتی بگاڑ کے دروازے کھلتے جائیں گے۔
آج ہمارے لیے نژاد نو کی تربیت ایک نہایت اہم اور حساس معاملہ ہے بن چکا ہے جس میں کسی قسم کی غفلت مستقبل میں ہماری قوم اور تہذیب کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی

(552) مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ
درج ذیل آیت میں میثاق النبیین سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے نبیوں سے لیا ہے۔ عام طور سے مفسرین نے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔
وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ۔ (آل عمران: 81)
’’یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور (یاد کرو) جب خدا نے تمام پیغمبروں سے یہ عہد و اقرار لیا تھا‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
لیکن صاحب تدبر نے ایک مختلف ترجمہ اختیار کیا ہے:
’’اور یاد کرو جب کہ خدا نے تم سے نبیوں کے بارے میں میثاق لیا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درج ذیل ترجمہ بھی غالبا ً اسی سے متأثر ہوکر کیا گیا ہے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے نبیوں کے متعلق عہد لیا‘‘۔ (محمد فاروق خان)
تدبر قرآن میں اس ترجمے کی وجہ بھی بتائی گئی ہے:
’’میثاق النبیین، میں اضافت فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیا سے میثاق لیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ انبیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا‘‘۔ (تدبر قرآن)
یہ ترجمہ بعض وجوہ سے غلط معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور عہد کے الفاظ خود بتارہے ہیں کہ یہ عہد عام نبیوں کے بارے میں نہیں بلکہ خاص آخری رسول حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ہے۔ اس لیے اس عہد کو نبیوں کے بارے میں کہنا درست نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ اس ترجمے کو اختیار کرنے کے نتیجے میں آیت کا مفہوم متعدد پرتکلف توجیہات کا تقاضا کرتا ہے، جب کہ عام ترجمے میں ایسے کسی تکلف کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ جیسے یہ بات کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا گیا، آیت کے الفاظ میں مذکور نہیں ہے، آپ کو فرض کرنی پڑتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ قرآن میں دیگر مقامات پر بھی میثاق اضافت کے ساتھ آیا ہے۔ ہر جگہ میثاق کے ساتھ انھی لوگوں کا ذکر ہے جن سے میثاق لیا گیا نہ کہ جن کے بارے میں کسی اور سے لیا گیا۔ جیسے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ۔ (البقرۃ: 83)
’’اور یاد کرو جب کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ۔ (آل عمران: 187)
’’اور یاد کرو جب کہ اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جن کو کتاب دی گئی‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ۔ (المائدۃ: 12)
’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
(553) غَنِیٌّ کا ترجمہ
غنی کا مطلب ہے وہ ہستی جو کسی کی ضرورت مند اور محتاج نہ ہو۔ قرآن میں یہ لفظ متعدد بار آیا ہے اور اسی مفہوم میں آیا ہے۔ الگ الگ مقامات پر بعض لوگوں نے غنی کا ترجمہ بے پروا کیا ہے اور بعض لوگوں نے بے نیاز کیا ہے۔ ان کے پیش نظر یہی رہا ہوگا کہ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اردو لغت کے لحاظ سے بے پروا اور بے نیاز دونوں کے معنی بے غرض کے ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں ترجمے درست ہیں۔ تاہم بے پروا کے معنی غافل اور بے فکر بھی ہوتے ہیں۔ بلکہ انھی معنوں میں بے پروا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس پہلو سے بے نیاز کی تعبیر زیادہ مناسب ہے، اللہ کے لیے بے پروا کے لفظ سے اجتناب بہتر ہے۔
(۱) وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ۔ (آل عمران: 97)
’’اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جس نے کفر کیا تو اللہ عالم والوں سے بے پروا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور جو انکار کرے تو پھر اللہ جہان والوں سے بے پرواہ ہے‘‘۔ (احمد علی)
’’اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(۲) وَمَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ إِنَّ اللَّہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ۔ (العنکبوت: 6)
’’اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بے پروا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور ہر ایک کوشش کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اللہ عالم والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۳) إِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ۔ (الزمر: 7)
’’اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بے پروا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اگر تم ناشکری کرو تو بے شک اللہ بے نیاز ہے تم سے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
(۴) وَاللَّہُ غَنِیٌّ حَلِیمٌ۔ (البقرۃ: 263)
’’اور خدا بے پروا اور بردبار ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’ اور اللہ بے پروا حلم والا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور بردبار ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
(554) صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ کا ترجمہ
صرف (عن) کا معنی پھیرنا ہے۔ جیسے فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَہُنّ (یوسف: 34)۔ (اللہ نے ان کی چالوں کو اس (یوسف) سے پھیر دیا) درج ذیل آیت میں بھی یہ لفظ آیا ہے اور اس کا ترجمہ عام طور سے ’پھیرنا‘ کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے ’پسپا کرنا‘ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔
ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ۔ (آل عمران: 152)
’’پھر خدا نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) ’آزمائش میں ڈالے‘ مناسب تعبیر نہیں ہے، ’آزمائش کرے‘ مناسب ہے۔
’’پھر تمہارا منھ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر اس نے تمہیں ان کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہارے ایمان و اخلاص کی آزمائش کرے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ (سید مودودی)
یہاں کافروں کے مقابلے میں مومنوں کی پسپائی کا ذکر نہیں ہے، بلکہ کافروں کی طرف سے مومنوں کی توجہ ہٹ جانے کا ذکر ہے۔ جب ’پسپائی‘ ترجمہ کیا تو ’مقابلے‘ کا اضافہ کرنا پڑا، حالاں کہ مقابلے کا مفہوم ادا کرنے والی تعبیر بھی یہاں نہیں ہے۔
(555) اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّہِ کا ترجمہ
قرآن مجید میں اتبع کا لفظ مختلف صیغوں میں متعدد بار آیا ہے۔ تمام مقامات پر اس کا مطلب پیروی کرنا ہے۔ تمام مقامات پر وہی ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ درج ذیل آیات میں بھی وہی ترجمہ ہونا چاہیے۔ محض اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ رضوان آیا ہے، طلب کا ترجمہ کرنا درست نہیں ہے۔
(۱) أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّہِ کَمَنْ بَائَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّہِ۔ (آل عمران: 162)
’’کیا وہ جو خدا کی خوشنودی کا طالب ہو، اس کے مانند ہوجائے گا جو خدا کا غضب لے کر لوٹا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اُس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا‘‘۔ (احمد رضا خان)
(۲) فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْہُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّہِ وَاللَّہُ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ۔ (آل عمران: 174)
’’سو یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے، ان کو ذرا گزند نہ پہنچا، اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(556) إِنَّ اللَّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیعَادَ کا ترجمہ
بامحاورہ ترجمے یا ترجمانی میں بھی الفاظ کی حتی الامکان رعایت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ (آل عمران: 194) آیا ہے، اس کا ترجمہ ہوگا: ’’بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے‘‘ (سید مودودی)۔ لیکن وہی ترجمہ درج ذیل آیت کا نہیں ہوگا:
إِنَّ اللَّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔ (آل عمران: 9)
’’تو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے‘‘۔ (سید مودودی)
درج بالا ترجمہ درست نہیں ہے۔ ترجمے کی اس غلطی کا مفہوم پر اثر پڑتا ہے۔ ترجمے کی رو سے وہ جملہ بندے کی دعا کا حصہ ہے۔ آیت کے الفاظ کی رو سے وہ جملہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ اعلان کررہا ہے اور تسلی دے رہا ہے کہ اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔
درست ترجمہ درج ذیل ہے:
’’یقیناً اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی طرح کی درج ذیل آیت میں وہ غلطی نہیں ہوئی۔
إِنَّ اللَّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔ (الرعد: 31)
’’یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘۔(سید مودودی)
(557) یَرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں یَرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ کے ترجمے میں کئی امکانات موجود ہیں۔
دیکھنے والا کافر گروہ ہو، وہ مسلمانوں کو اپنے آپ سے زیادہ دیکھے، یا مسلمانوں کو ان کی حقیقی تعداد سے زیادہ دیکھے، یا خود کو مسلمانوں سے زیادہ دیکھے۔
دیکھنے والا مسلمان گروہ ہو اور وہ خود کو اپنی حقیقی تعداد سے زیادہ دیکھے، خود کو کافروں سے زیادہ دیکھے، کافروں کو اپنی یعنی مسلمانوں کی تعداد سے زیادہ دیکھے۔
بعض قرینوں کی بنا پر زیادہ بہتر یہ توجیہ لگتی ہے کہ کافر گروہ مسلمانوں کو ان کی حقیقی تعداد سے دوگنا زیادہ دیکھ رہا تھا اور یہ نصرت الٰہی کی ایک شکل تھی۔ یہ چیز اس کے حوصلے پست ہونے کا سبب بن رہی تھے۔ ایک قرینہ وَأُخْرَی کَافِرَۃٌ کی فعل سے قربت ہے، جس کی بنا پر اس کے فاعل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ پھر وَاللَّہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَنْ یَشَاء سے بھی اسی کا اشارہ ملتا ہے کہ یہاں تائید الٰہی کی بات ہورہی ہے۔ رَأْیَ الْعَیْنِ سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ حقیقی تعداد تو کم تھی مگر آنکھوں کو زیادہ نظر آرہی تھی۔
البتہ درج ذیل ترجمے میں یرونھم کا فاعل دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے بجائے ’’دیکھنے والے‘‘ یعنی کسی تیسرے گروہ کو بنایا ہے، وہ درست نہیں ہے۔
فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَأُخْرَی کَافِرَۃٌ یَرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ رَأْیَ الْعَیْنِ وَاللَّہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَنْ یَشَاءُ۔ (آل عمران: 13)
’’ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا، دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے، مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
دونوں گروہوں میں سے ہی کوئی ایک فاعل ہوگا، جیسا کہ حسب ذیل ترجموں میں دیکھتے ہیں:
’’ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا وہ انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے تھے (یعنی مسلمان) اور دوسرا گروہ کافر لوگ تھے یہ کافر اپنے کو دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمانوں سے کئی حصہ (زیادہ) ہیں کھلی آنکھوں دیکھنا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’ایک گروہ خدا کی راہ میں جنگ کر رہا تھا۔ اور دوسرا گروہ کافر تھا جن کو (مسلمان) اپنی آنکھوں سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے، تائید و تقویت کرتا ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
(558) إِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعَاءِ کا ترجمہ
حصر عربی زبان کا ایک لطیف اسلوب ہے، اس کی مخصوص علامات ہوتی ہیں جن سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ جہاں حصر کی کوئی علامت نہ ہو وہاں حصر کا ترجمہ کرنا درست نہیں ہے۔ جیسے درج ذیل عبارت میں تاکید تو ہے مگر حصر نہیں ہے۔ اس لیے حصر کے بغیر ترجمہ ہونا چاہیے:
إِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعَاءِ۔ (آل عمران: 38)
’’ تو ہی دعا سننے والا ہے‘‘۔ (سید مودودی) یہاں حصر کا اضافہ ہے اور تاکید جو إِنَّکَ کی وجہ سے ہونی چاہیے، نہیں ہے۔
’’بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا‘‘۔ (احمد رضا خان) یہاں حصر کا اضافہ بھی ہے اور تاکید بھی ہے۔ صرف تاکید ہونی چاہیے۔
درج ذیل ترجمہ حصر کے بغیر اور بجا طور پر تاکید کے ساتھ ہے۔
’’بے شک تو دعا کا سننے والا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن حضرات نے اوپر والی عبارت میں حصر کا ترجمہ کیا، انھوں نے اسی طرح کی درج ذیل عبارت میں بجا طور سے حصر کا ترجمہ نہیں کیا۔
إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ۔ (إبراہیم: 39)
’’حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’حسن المحاضرات فی رجال القراءات‘‘
علم تجوید کی تاریخ کا ایک مختصر دائرۃ المعارف
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

علوم و فنون کی تاریخ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وسعتِ نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وسعتِ مطالعہ کی بھی۔ اسی لیے اکثر علوم و فنون میں ماہرین کی کثرت کے باوجود اُن علوم کی تاریخ پر جامع تصانیف کم ہی نظر آتی ہیں۔ شاید اس موضوع پر سب سے پہلے علامہ عبدالرحمن ابن خلدون (ولادت ۱۳۲۲م، وفات ۱۴۰۶م) نے قلم اٹھایا تھا۔ انھوں نے اپنے مقدمے کی پہلی کتاب کے چھٹے باب کو علوم کی ماہیت، اقسام اور ان کے متعلقات کے لیے خاص کیا ہے۔ اس باب کا عنوان ہے: فی العلوم وأصنافہا والتعلیم وطرقہ وسائر وجوہہ وما یعرض فی ذلک کلہ من الأحوال وفیہ مقدمۃ ولواحق۔ ابن خلدون کے بعد حاجی خلیفہ (ولادت ۱۶۰۹م، وفات ۱۶۵۷م) نے کشف الظنون میں، طاش کبری زادہ (ولادت ۱۴۹۵م، وفات ۱۵۶۱م) نے مفتاح السعادۃ میں اور ساجقلی زادہ (وفات ۱۷۳۲م) نے ترتیب العلوم میں اس موضوع کو اپنے اپنے انداز سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ہندستان میں بھی علوم و فنون کی تاریخ کو موضوع بنایا گیا۔ اس ذیل میں مولانا محمد علی تھانوی کی کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، نواب صدیق حسن خان (ولادت ۱۸۳۲م، وفات ۱۸۹۰م) کی أبجد العلوم اور علامہ عبدالحی حسنی (ولادت ۱۸۶۹م، وفات ۱۹۲۳م) کی الثقافۃ الاسلامیۃ فی الھند کو سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔
علوم و فنون کی مجموعی تاریخ کے ساتھ مخصوص علم و فن کی تاریخ نویسی کا سلسلہ بھی قائم رہا۔ اس موضوع پر ہر دور میں بہ کثرت کتابیں لکھی گئیں۔ کسی نے اپنے پسندیدہ علم و فن کی مکمل تاریخ قلم بند کی تو کسی نے زمانی یا مکانی تحدید کے ساتھ۔ اس کے باوجود موضوع کی وسعت کی وجہ سے متعدد علوم و فنون کی جامع تاریخ نہیں لکھی جا سکی۔ یہی معاملہ فن تجوید کے ساتھ بھی پیش آیا۔ خاص کر اردو دنیا میں۔
اردو زبان میں فن تجوید کی تاریخ کی طرف توجہ نہ ہونے کی اصل وجہ یہ رہی کہ برصغیر میں خود فن تجوید پر کماحقہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہاں بڑے قرائے کرام بھی پیدا ہوئے، تجوید و قرأت کے مدارس بھی قائم ہوئے، دینی مدارس میں تجوید و قرأت کے شعبے بھی قائم ہوئے، لیکن یہاں کے عام مسلم معاشرے میں تجوید کو ایک لازمی علم کے طور پر نہیں برتا گیا۔ بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کی تو فکر کی گئی، لیکن وہ بچہ قرآن کریم کو صحیح انداز سے پڑھ سکے، اس کی فکر نہیں کی گئی۔ عوام کا کیا رونا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے مرکزی دینی مدارس میں بھی تجوید و قرأت کے شعبوں کو ثانوی یا ضمنی درجے کے شعبے سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ اس سلسلے میں ہمارے مخدوم و مطاع محی السنۃ مولانا شاہ ابرارالحق حقی (ولادت ۱۹۲۰م، وفات ۲۰۰۵م) کا یہ ارشاد سند کی حیثیت رکھتا ہے:
’’کسی شاعر کے کلام کو غلط پڑھ کر دیکھیے کہ اسے کس قدر ناگواری ہوتی ہے اور یہ کلام پاک تو کلام رب العالمین اور کلام احکم الحاکمین ہے۔ اس کی صحت حروف اور قواعد تجوید کا کتنا اہتمام ہونا چاہیے اور قرآن پاک کی عظمت جس طرح ہے، اُسی طرح حفظ و ناظرہ کے طلبہ کا اکرام بھی قلب میں ہونا چاہیے۔ بعض مدارس دینیہ کے معائنے کے لیے جب حاضری ہوئی تو دیکھا کہ کافیہ پڑھنے کی درس گاہ میں دریاں نہایت عمدہ اور حفظ قرآن پاک کے درجے میں بوسیدہ اور گھٹیا درجے کی چٹائیاں تھیں۔ دل بے حد غم گین ہوا اور وہاں کے مہتمم صاحب سے گزارش کی گئی کہ یہ کیا حال ہے؟ مقدمات کا یہ اہتمام اور مقصود کے ساتھ یہ معاملہ؟‘‘(1)
اِس صورت حال میں اکا دکا شخصیت یا ادارے کا استثنا ہو سکتا ہے۔ عمومی صورت حال یہی ہے۔ ایسی صورت حال میں تاریخ تجوید پر کیسے توجہ ہو سکتی تھی؟ نتیجہ یہ ہوا کہ اردو زبان میں علم تجوید کی تاریخ پر کوئی مبسوط کتاب ترتیب نہیں دی جا سکی۔ علامہ عبدالحی حسنی نے علم تجوید میں اپنے عہد تک لکھی گئی فارسی اور اردو کی ہندستانی تصانیف کی فہرست بیان کی ہے۔ اس میں اکیس کتابوں کے نام ہیں۔ وہ سب کتابیں فن تجوید اور اس کے متعلقات پر ہیں۔(2) تاریخ تجوید پر کوئی مختصر رسالہ بھی نہیں ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ اُن کے دور تک اس موضوع پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہو سکا تھا۔
اردو زبان میں تاریخ تجوید کے موضوع پر سب سے پہلی کتاب تذکرۂ قاریانِ ہند ہے۔ اس کے مصنف مرزا بسم اللہ بیگ تھے۔ تین حصوں اور ۸۱۰؍صفحات پر مشتمل یہ کتاب ۱۹۷۰م میں شائع ہوئی۔ اپنے موضوع پر اولین تصنیف ہونے کی وجہ سے علمی دنیا میں اس کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ اس کتاب کی اولیت کی توثیق اس کی وجہِ تصنیف سے بھی ہوتی ہے۔ مصنف کتاب نے لکھا ہے:
’’کوئی بیس سال ہوئے کہ قاری حافظ ابو محمد محی الاسلام پانی پتی کی شرح سبعہ قرأت پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے دیباچے میں حضرت نے لکھا ہے: ’قرائے کرام کے حالات قلم بند کرنے میں عالمِ اسلام نے جو خدمت انجام دی، اُس میں اولیت کا فخر اندلس کو حاصل ہے۔ مگر ہندستان نے قرأت و قراء کے بارے میں کچھ نہ لکھا۔ ہندستان کے سلاطین و امرا کی تاریخیں لکھی گئیں۔ شاعروں، عالموں، خطیبوں حتیٰ کہ گویّوں کے تذکرے تالیف ہوئے، مگر خدام کلام اللہ کا کسی نے نام بھی نہ لیا۔‘ حضرت کی یہ بات میرے دل میں چبھ گئی۔ اس وقت سے خیال تھا کہ بن پڑے تو قرائے کرام کے حالات جمع کروں۔‘‘(3)
مرزا بسم اللہ بیگ کی کتاب اپنی جامعیت کے باوجود محدود تھی۔ مصنف نے اس میں صرف ہندستانی قرائے کرام کا تذکرہ کیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں ذیلی مباحث کے تحت بہت سے غیر ہندستانی قرا کا تذکرہ بھی آگیا ہے۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے باوجود اردو دنیا میں ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی تھی، جس میں ابتدا سے لے کر آج تک پیدا ہونے والے تمام اہم قرائے کرام کا تذکرہ کیا گیا ہو۔ علمِ قرأت کی ایسی نہ جانے کتنی شخصیات تھیں، جن کا یا جن کی تصانیف کا تذکرہ بار بار سننے میں آتا تھا، لیکن ان کی شخصیت اور خدماتِ تجوید کے متعلق اردو زبان میں کوئی مستند چیز دست یاب نہیں تھی۔ ہمیں خود بھی اس کا تجربہ ہو چکا تھا۔ اپنی رسمی طالب علمی کے زمانے میں قرائے سبعہ کا تذکرہ ہمارے کانوں میں پڑتا رہتا تھا۔ ایک دن ان بزرگوں کے متعلق کچھ جاننے کا شوق ہوا تو ہم نے اپنے مدرسے کی پوری لائبریری چھان ماری۔ کچھ ہاتھ نہ لگا۔ ادارے کے ایک ممتاز استاذِ تجوید سے اپنی خواہش کا ذکر کیا تو انھوں نے اپنے زمانہء طالب علمی کی ایک بیاض نکال کر دی۔ اس میں قرائے سبعہ کے متعلق کچھ کچھ سطور لکھی تھیں۔ ہم نے انھی سطور کو پڑھ کر کام چلایا۔ اس طرح قرائے کرام کے متعلق کچھ پڑھنے کی خواہش نہ جانے کتنے لوگوں کو ہوتی ہوگی۔
خالص دینی نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو اردو زبان کا یہ کتنا بڑا خلا تھا۔ قرآن مجید کے مبارک الفاظ کی خدمت کرنے والوں کے تذکرے سے اس زبان کا دامن خالی تھا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو اس محرومی سے بچانے کا فیصلہ کیا۔ اس عظیم کام کے لیے پروردگارِ عالم نے مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کا انتخاب فرمایا۔ اس انتخاب کی اصل وجہ تو خالقِ کائنات ہی جانے، ہم کوتاہ بینوں کو اس کی تین وجہیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کو فن تجوید و قرأت سے فطری اور گہری مناسبت تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کے شیخ القراء تھے۔ وہ دارالعلوم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اسلامی علوم کے متعدد خلا پُر کرائے۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے خادموں کے تذکرے کا خلا بھی اسی ادارے کے ذریعے پُر فرمانے کا ارادہ کیا۔ تیسرے یہ کہ وہ اعظم گڑھ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اعظم گڑھ جسے شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی (ولادت ۱۸۵۷م، وفات ۱۹۱۴م) اور ان کے فیض یافتگان کی وجہ سے تاریخ و تذکرے میں منفرد مقام حاصل ہے۔ اب ربِ کائنات کا فیصلہ ہوا کہ خادمانِ کلماتِ قرآن کی تاریخ بھی اسی سرزمین کے ایک سپوت سے لکھوائی جائے۔ موضوعِ کتاب کی عظمت و تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کو اس عظیم کام کی توفیق عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند کی عظمت میں بھی اضافہ فرمایا اور سرزمین اعظم گڑھ کی بھی۔ ہم جیسا حقیر طالب علم اتنی بڑی بات کہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے جرأت سمجھا جائے، لیکن مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین دہلوی قاسمی (ولادت ۱۹۲۴م، وفات ۲۰۰۹م) جیسا عبقری انسان یہ بات فرمائے تو کون اعتراض کر سکتا ہے؟ انھوں نے لکھا ہے:
’’کتاب مذکور اپنے موضوع کا مکمل طور پر احاطہ کرنے والی اردو میں اولین کتاب ہے۔ بلاشبہ قاری صاحب نے اپنے فیوض سے دارالعلوم دیوبند کی شہرت کو نہ صرف قائم رکھا، بلکہ اسے آگے بڑھایا ہے۔ یہ استقامت کی بات ہے اور اسلاف کرام کے ساتھ روحانی تعلق کی بات ہے۔‘‘(4)
مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی یہ مایہ ناز تصنیف حسن المحاضرات فی رجال القراءات کے نام سے ۱۹۹۹م میں شائع ہوئی۔ دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں ۱۲۱۸؍صفحات ہیں۔ جلد اول کے آغاز میں کچھ تقاریظ، قطعات تاریخ اور مصنف کے قلم سے لکھا ہوا بارہ صفحاتی مقدمہ ہے۔ مصنف گرامی کی فنی عظمت اور کتاب کی تاریخی اہمیت کی بنا پر اس مقدمے میں ہم جیسے طالب علموں کو تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ فنِ قرأت کے آغاز و ارتقا، عربی زبان میں اس فن کی تاریخ پر ہونے والے علمی کام کے تجزیے، ہندستان اور فن قرأت، فن قرأت پر مختلف پہلووں سے ہونے والے اعتراضات کے جائزے پر مشتمل ایک مبسوط مقدمہ مصنف محترم کے قلم سے ہوتا تو مزہ آجاتا۔ اِن میں سے اکثر موضوعات پر مصنف عالی قدر نے اپنی دوسری تصانیف میں قلم اٹھایا ہے، لیکن اردو زبان میں علم قرأت کے اساطین کے اولین تذکرے میں یہ موضوعات یکجا آجاتے تو شاید لطف دوبالا ہو جاتا۔
یہاں ایک بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ جس سال مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی یہ دستاویزی تصنیف منظر عام پر آئی، اُس سے چند ماہ قبل ہی اندلس میں فن قرأت کی تاریخ پر مشتمل اردو کی پہلی کتاب علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی۔ پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی ندوی (ولادت ۱۹۴۴م، وفات ۲۰۲۰م) کے قلم سے نکلی اس وقیع کتاب کا نام ’اندلس میں علوم قرأت کا ارتقا‘ ہے۔ اس میں۲۸۴ ؍صفحات ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے پہلی مرتبہ علم قرأت کے اندلسی محسنین کو اردو زبان میں خراج پیش کیا گیا ہے۔ اردو والوں پر یہ ایک قرض تھا، جس کی ادائی اللہ تعالیٰ نے پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی ندوی کے ذریعے کرائی۔ مرزا بسم اللہ بیگ نے تذکرۂ قاریان ہند میں(5) اور مولانا قاری ابوالحسن اعظمی نے حسن المحاضرات میں(6) اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ قرائے کرام کے تذکرے لکھنے کی روایت اندلسی علماء نے شروع کی۔ لہٰذا ان محسنوں کی خدمات کا اعتراف ضروری تھا۔ اس طرح مرزا بسم اللہ بیگ، پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی ندوی اور مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی تین تصانیف نے علم تجوید کے حوالے سے اردو لائبریری کے تین بڑے خلاؤں کو پر کیا۔ بسم اللہ بیگ نے ہندستانی قرا کو خراج پیش کیا، تو یاسین مظہر صدیقی نے اندلس کے خادمانِ تجوید و قرأت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ آخر میں ابوالحسن اعظمی نے ہندستان یا اندلس کی حد بندیوں سے آگے بڑھ کر ابتدائے اسلام سے موجودہ عہد تک کے تمام قرائے کرام کی احسان شناسی کا حق ادا کیا۔ یعنی ابوالحسن اعظمی کے پیش رو دونوں مصنّفین کی کتابیں بھی دو خلاؤں کو پر کر ہی ہیں، لیکن ان کے منظر عام پر آنے کے باوجود ایک بڑا اور آخری خلا باقی تھا۔ اس خلا کو قاری ابوالحسن اعظمی نے حسن المحاضرات فی رجال القراءات کے ذریعے پر کیا۔
حسن المحاضرات میں تقریباً سات سو قرائے کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مصنف کتاب نے شخصیات کے انتخاب کا معیار یہ رکھا ہے کہ انھوں نے درس و تدریس یا تصنیف و تالیف کے میدان میں علم تجوید کی خدمت انجام دے کر ایک طبقے کو متأثر کیا ہو۔(7) انتخاب کایہ معیار بہت مناسب ہے۔ اس کے ذریعے ہر اہم شخصیت کا ذکر بھی ہوجاتا ہے اور بھرتی کے نام شامل بھی نہیں ہو پاتے۔ مرزا بسم اللہ بیگ کی کتاب میں اس حوالے سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اس معیارِ انتخاب کے ساتھ مصنف نے کتابوں کو کنگھالا اور تقریباً سات سو افراد کے ناموں کا انتخاب کیا۔ اوسط نکالا جائے تو چودہ صدیوں میں سے سات سو افراد۔ یعنی ہر صدی میں سے پچاس لوگ۔ ایک مضبوط معیار انتخاب کے ساتھ سات سو افراد کا انتخاب قرآن کریم سے دوری کے اس دور میں چونکانے والا ہے۔ اس میں ہمارے لیے عبرت کا پہلو بھی ہے۔ ہم اپنی شامتِ اعمال کے نتیجے میں قرآن کریم کے حقوق ادا کرنے سے محروم رہنا چاہیں تو رہیں، لیکن ہر دور میں قرآن حکیم کے متوالے اس کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے ہیں۔ آج بھی ایسے خوش نصیب افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
مولانا قاری ابوالحسن اعظمی نے حسن المحاضرات میں معلومات پیش کرنے کا انداز علمی رکھا ہے۔ شخصیات کی ترتیب سنین وفات کے مطابق رکھی ہے۔ قرنِ اول سے عہد حاضر تک پہنچے ہیں۔ جب کسی شخصیت کا تذکرہ کرنا ہوتا ہے تو بالترتیب اس کا نام و نسب، ولادت، وطن، تعلیم، اہم اساتذہ، خدمات، اہم تلامذہ اور سن وفات بیان کرتے ہیں۔ شخصیات کے فضائل و مناقب، خدمات اور اساتذہ و تلامذہ کے تذکرے میں حتی الامکان اختصار اختیار کرتے ہیں۔ زیادہ کوشش کرتے ہیں کہ اُس شخصیت کے متعلق سلف صالحین میں سے کسی کا جامع قول نقل کر دیا جائے۔ اگر کسی کا قول نہیں نقل کرتے تو خود جو بات کہتے ہیں وہ بھی جامعیت کی حامل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر: عجوبۂ روزگار تھے، بڑے فضائل و کمالات کے حامل تھے، معلمیت کی ریاست آپ پر منتہی ہوتی تھی، متبحر فی العلوم تھے۔ اس طرح کے مختصر جملوں کے استعمال سے صاحبِ تذکرہ کا اصل مقام سامنے آجاتا ہے۔ اگر یہ طرز اختیار نہ کیا جاتا تو سات سو شخصیات کا تذکرہ بآسانی سات ہزار صفحات تک پہنچ سکتا تھا۔ لیکن مصنفِ کتاب نے اسے صرف بارہ صفحات میں سمیٹ دیا ہے۔ کتاب میں بعض مقامات پر ترجمے کے نقائص، املائی اغلاط اور کمپوزنگ کے اسقام آنکھوں میں چبھتے ہیں، لیکن خدامِ قرآن کا جامع تذکرہ مطالعے کے تسلسل میں حارج نہیں ہو پاتا۔ ہمیں ایک تسلسل کے ساتھ بہت مختصر الفاظ میں قرائے کرام کے حالات اور خدمات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔
حسن المحاضرات فی رجال القراءات کا ایک مثالی پہلو یہ ہے کہ اس میں مصنفِ گرامی قدر ’بلائے معاصرت‘ پر قابو پاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے کتاب میں اپنے متعدد معاصرین کے حالات بیان کر کے اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر انھوں نے اپنے بہت سے خُردوں کو بھی کتاب میں شامل کیا ہے۔ اُن کے حالات بیان کر کے خدمات کی تحسین کی ہے۔ کتاب کا یہ پہلو ہم جیسے طلبہ کے لیے اخلاقی عظمت اور علمی دیانت کا بڑا درس رکھتا ہے۔
حسن المحاضرات میں سب سے پہلے ناشرِ قرآن، ذوالنورین، امیرالمؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہے اور سب سے آخر میں بزمِ تھانوی کے آخری رکن، محی السنۃ مولانا شاہ ابرار الحق حقی کی شخصیت اور خدمات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا یہ مبارک آغاز اور حسن اختتام اپنے اندر کئی خوب صورت مناسبتیں رکھتا ہے۔ خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، خلیفۂ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جانشین اور خلیفہ تھے۔ اسی طرح مولانا شاہ ابرار الحق حقی بھی نسلِ فاروقی کی ممتاز شخصیت حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نشر قرآن کا انتظام فرما کر امت کو ایک صحیفے پر جمع کیا، تاکہ قرآن کریم کو اختلافات سے بچا کر تحریفات کا دروازہ بند کیا جا سکے۔ اسی طرح مولانا ابرار الحق حقی نے پوری زندگی قرآن کریم کے ظاہری و باطنی حقوق کی پاس داری کی تحریک چلا کر نہ جانے کتنے دلوں میں عظمت قرآن کی شمع روشن کی۔ کتاب شروع ہوتی ہے تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابۂ کرام کا مبارک تذکرہ عظمت قرآن کا درس دیتا ہے۔ کتاب ختم ہوتی ہے تو اپنے وقت کے سب سے بڑے مبلغ قرآن مولانا شاہ ابرار الحق حقی کا تذکرہ عہد جدید میں تعلق بالقرآن کے آداب اور عملی طریقے سکھاتا ہے۔ اس طرح یہ کتاب تاریخ و تذکرے کے ساتھ موعظت و نصیحت کی دستاویز بھی بن جاتی ہے۔
مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی تصانیف کی فہرست بہت لمبی ہے۔ اُن کی تقریباً سوا سو چھوٹی بڑی کتابیں منظر عام آچکی ہیں۔ اگر وہ اتنی کثیر تعداد میں کتابیں نہ لکھتے اور صرف حسن المحاضرات تصنیف فرما دیتے، تو بھی ان کو علمی دنیا میں مدتوں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتی۔ ہم اس کتاب کو ان کا شاہ کار (Masterpiece) بھی کہہ سکتے ہیں۔ موجودہ علمی دنیا میں Small Encyclopedia (مختصر دائرۃ المعارف) کی اصطلاح بھی بہت تیزی سے رائج ہوئی ہے۔ کسی موضوع کے تمام گوشوں کو اختصار کے ساتھ جامع انداز میں پیش کی جانے والی کتابوں کو مختصر دائرۃ المعارف کا نام دیا جاتا ہے۔ اردو کے اسلامی ذخیرے میں ابھی اس کا چلن نہیں ہو سکا ہے۔ ورنہ حسن المحاضرات فی رجال القراءات کو تاریخ تجوید کا مختصر دائرۃ المعارف بھی کہا جا سکتا ہے۔
حواشی:
(1) ارشاداتِ ابرار، حکیم محمد اختر، زمزم بک ڈپو، دیوبند، ۱۳۹۷ھ، ص ۱۳، ۱۴
(2) اسلامی علوم و فنون ہندستان میں، سید عبدالحی حسنی، مترجم: ابوالعرفان خان ندوی، دارالمصنّفین، اعظم گڑھ، ۲۰۱۶م، ص ۲۳۵، ۲۳۶
(3) تذکرۂ قاریان ہند، مرزا بسم اللہ بیگ، میر محمد کتب خانہ، کراچی، ۱۹۷۰م، ص ۱
(4) حسن المحاضرات فی رجال القراءات، ابوالحسن اعظمی، مکتبہ صوت القرآن، دیوبند، ۱۹۹۹م، ج اوّل، ص ۱۵
(5) تذکرۂ قاریان ہند، حوالۂ سابق
(6) حسن المحاضرات فی رجال القراءات، حوالۂ سابق، ص ۳۲
(7) حسن المحاضرات فی رجال القراءات، حوالۂ سابق، ص ۳۳
انسانیت کے بنیادی اخلاقِ اربعہ (۴)
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

(۴) عدالت
(عدل)۔ انسانیت کے بنیادی اخلاق میں سے ایک خلق اور خصلت ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی اہمیت و ضرورت، ترغیب اور اس کی تحصیل کے ذرائع اور اس کے فضائل و مناقب بکثرت مذکور ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ان اللہ یامر بالعدل (نحل)
’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے کاحکم دیتا ہے۔‘‘
وامرت لاعدل بینکم (شوریٰ)
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپؐ لوگوں سے کہہ دیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (نساء)
’’کہ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (حجرات)
’’دو مخالف گروہوں کے درمیان اگر صلح کرانے کی نوبت آئے تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کراؤ، بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قروبِ قیامت میں عدل کے قائم کرنے کے لیے ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان حاکم بن کر فیصلہ کرنے والے اور عدل و انصاف قائم کرنے والے بن کر اتریں گے۔ اور ظہورِ امام مہدی کی غرض بھی حضور علیہ السلام نے یہی بیان فرمائی ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ وہ ظاہر ہو کر زمین کو عدل وا نصاف سے پُر کریں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہو گی۔
امام ابوبکر جصاصؒ نے احکام القرآن میں ’’ان اللہ یامر بالعدل والاحسان‘‘ آیت کے تحت لکھا ہے کہ عدل، جو انصاف کا نام ہے، یہ عقل کی نگاہ میں بھی واجب ہے۔ احکامِ شرع کے وارد ہونے سے قبل بھی شریعت نے آکر اس کی تائید کا حکم دیا ہے۔ اور احسان اس مقام میں تفصیل یعنی زیادتی اور زائد چیزوں کا دینا ہے اور یہ مستحب ہے، لیکن پہلا حکم یعنی عدل کرنا فرض ہے۔ ’’ایتآء ذی القربیٰ‘‘ میں صلہ رحمی کی تعلیم ہے اور ’’یامر بالعدل‘‘ میں عدل مشتمل ہے۔ قول اور فعل دونوں پر ’’واذا قلتم فاعدلوا‘‘ میں عدل فی القوم کا حکم دیا گیا۔
امام ولی اللہؒ نے بھی حجۃ البالغہ میں لکھا ہے:
ان من اعظم المقاصد التی قصدت بعثہ الانبیاء علیہم السلام دفع المظالم من بین الناس۔
’’انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے بڑے مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں پر سے ظلم کو دور کیا جائے اور انہیں عدل و انصاف دلایا جائے۔‘‘
خود امام ولی اللہؒ نے حجۃ البالغہ میں دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ معاملات اور لین دین کے بارہ میں احکام اور اسی طرح نکاح وغیرہ کے متعلق احکامِ شریعت میں اس لیے مشروع قرار دیے ہیں تاکہ لوگوں میں عدل قائم کیا جائے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ایمان کے چار ستون ہیں: یقین، صبر، عدل اور جہاد۔ درحقیقت ارض و سما نظام بھی عدل و انصاف پر قائم ہیں، اور حکومتیں بھی دنیا میں عدل کی وجہ سے قائم رہتی ہیں۔ جب ظلم و جور شروع ہوتا ہے تو یکسر تباہی، اِدبار اور زوال آتا ہے۔
امام ولی اللہؒ نے جس طرح اس خصلت عدالت پر کلام کیا ہے اور اس کی تشریح و تفصیل جس طرح بیان کی ہے یہ ان کا خاص حصہ ہے اور ان کی حکمت کا خاص باب ہے۔ چنانچہ حکیم الامت امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ عدالت ان چار اہم اخلاق میں ایک ایسی خصلت ہے کہ جس پر عادلانہ نظام کا قیام اور کل سیاست (اجتماعی عمومی سیاست کا بہتر طریق پر قیام) موقوف ہے۔
اس خصلت کے بہت سے شعبے ہیں، مثلاً:
ادب
اگر آدمی مسلسل اپنی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھے، اور ہر موقع اور محل کے اعتبار سے اچھی وضع اختیار کرے، اور ہر حادثہ میں اس چیز کے اختیار کرنے کی طرف راہ پائے جو بہتر ہے، اور ہمیشہ اس کے اختیار کرنے کی طرف اس کے دل کا میلان اور جذب ہوتا رہے تو اس کو ادب کہتے ہیں۔
کفایت
اگر انسان اپنی کارسازی، جمع و خرچ، خرید و فروخت اور تمام معاملات میں اچھی تدبیر قائم کر لے تو اس کو کفایت کہتے ہیں۔
حریت
جس کی وجہ سے تدبیر منزل اچھے طریقے پر قائم کرے، اس کو حریت کہتے ہیں۔
سیاست مدینہ
اور جس کی وجہ سے ملک اور لشکر وغیرہ کی تدبیر اچھی طرح کر سکے اس کو سیاستِ مدینہ کہتے ہیں (یعنی ملک اور شہر کی بہتر سیاست)۔
حسن معاشرت
جس کی وجہ سے اپنے بھائی بندوں کے ساتھ اچھی وضع سے زندگی بسر کر سکے، اور ہر ایک کا حق ادا کرے، اور ہر ایک کے ساتھ حسبِ حال الفت و بشاشت کے ساتھ پیش آئے، اس کو حسنِ معاشرت کہتے ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ ان سب خصائل کی اصل ایک ہے اور وہ یہ کہ نفسِ ناطقہ اس طرح واقعہ ہو کہ اچھا نظام اختیار کرے اور اس نظام کی صدور کی طرف آگے بڑھے۔ جس شخص میں یہ خصلت (عدالت) پوری طرح متحقق ہو گی اس کے درمیان اور حق تعالیٰ کی جود اور فیضان کے وسائط (ملاء اعلیٰ کے فرشتے اور مقربین) جن کی فطرت میں عادلانہ نظام قائم کرنا رکھا ہوا ہے، اور جن کی قوی درجہ کی ہمت و توجہ عادلانہ نظام کے استحسان کی طرف ہوتی ہے، ان کے درمیان اور اس شخص کے درمیان بلیغ مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس جماعت (ملاء اعلیٰ) کے دل سے اس شخص کی طرف نورانی دقائق (نہایت ہی لطیف قسم کی شعاعیں) جیسا کہ سورج کی شعاعیں ہوتی ہیں، میلان کرتی ہیں۔ اور اس شخص کے حق میں یہ دقائق بہت سی نعمت اور خاصیت کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ اور اس نعمت و خاصیت اور انس کا تمثل استعداد کے مناسب مختلف صورتوں میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ کوئی شخص تو اچھے ساتھیوں اور بھائیوں کی حسنِ معاشرت کی صورت میں دیکھتا ہے، اور کوئی عمدہ خوشگوار طعام کی شکل میں، یا عمدہ لباس، روشن اور خوبصورت مکان کی شکل میں، یا اچھی مرغوب بیوی کی شکل میں دیکھتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اس کی اشکال و صورتیں طرح طرح کی ہوں گی۔
لیکن جو شخص عادلانہ نظام کے قیام کا مخالف ہوتا ہے اور شریعت کے حکم کا انکار کرتا ہے اور ایسے اعمال و افعال کرتا رہتا ہے جس سے جمہور امام یعنی عوام الناس تکلیف و ایذا پاتے ہیں، تو اس کے درمیان اور ان وسائطِ جودِ الٰہی کے درمیان نفرت اور وحشت ظاہر ہوتی ہے، اور دقائق ظلمانیہ (تاریک شعاعیں) ان کی طرف سے اس شخص کی طرف میلان کرتی ہیں، اور اس شخص پر ہر طرف سے تنگی و ضیق ہجوم کرتی ہے۔ اس صفت عدالت کے اکتساب کے لیے شریعت نے عیادتِ مریض (بیمار پرسی)، سلام کرنا، حدود اور آداب کی رعایت لازم قرار دی ہے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ صفت عدالت (عدل) اجتماعیات میں نہایت ضروری ہے۔ سب لوگ اس کو جانتے ہیں کیونکہ انسان بالطبع اجتماعیت پسند واقع ہوا ہے، اور انسان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ کوئی اجتماع بھی بغیر عدل کے قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ عدالت انسانیت کے مساوی اور اس کے ساتھ لازم ہے۔ ہر شخص، خاندان، گھرانہ، قبیلہ اور امت جب تک عدل کے ایک معتد بہ اور اچھے خاصے حصہ سے نہ اختیار کرے اور اس سے اچھی طرح دلچسپی نہ لے وہ انسانیت کے اعتبار سے کسی قابل نہیں۔
امام ولی اللہؒ کی حکمت میں عدالت کی صفت کا مرتبہ تینوں سابقہ مذکورہ اخلاق کے اوپر مرتب ہوتا ہے۔ اگر انسان طہارت اور سماحت کی صفت سے موصوف ہو لیکن اس میں عدالت کی صفت موجود نہ ہو تو ان سابقہ خصلتوں کا کچھ بھی وزن اور اعتبار نہ ہو گا، اور ایسے شخص کا دین میں ذرہ بھر بھی کوئی اعتماد اور حصہ نہ ہو گا۔ اگرچہ یہ بات ۔۔ ہے یا محال ہے کیونکہ جو شخص بھی طہارت، اخبات اور سماحت سے متصف ہو گا لامحالہ وہ صفتِ عدالت سے بھی متصف ہو گا۔
امام ولی اللہؒ مامورات میں ان چاروں اخلاق کو اور منہیات میں ان کی اضداد کو تمام دین کا مرجع قرار دیتے ہیں۔ ان خصلتوں کے ساتھ اگر تعظیم شعائر اللہ کی صفت کو بھی ملا لیا جائے تو امام ولی اللہؒ اس کو دین کا خلاصہ بتاتے ہیں جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔
حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ عدالت (عدل) ایک ایسا ملکہ ہے انسان کے نفس میں جس کی وجہ سے ایسے افعال آسانی سے سرزد ہوتے ہیں جن پر اجتماعی نظام، نظامِ ملک اور نظامِ مدینہ قائم ہوتا ہے۔ اور اس صفت کی وجہ سے نفس اس طرح ہوتا ہے کہ ان افعال کے سرانجام دینے پر گویا فطرتاً مجبور ہو۔ اور اس میں راز یہ ہے کہ ملائکہ اور نفوسِ مجردہ، جو مادی اور جسمانی تعلقات سے مجرد ہوتے ہیں، جہان کو پیدا کرنے کا یا نظام کی اصلاح وغیرہ کا، تو ان نفوسِ مجردہ کی مرضیات اس ارادۂ الٰہی کے مطابق ہو جاتی ہیں، یہ مجرد طبیعت کا خاصہ ہے۔
جب یہ نفوس جسم سے جدا ہوتے ہیں تو صفتِ عدالت کا کوئی حصہ اگر ان میں موجود ہو تو وہ نفوس پوری طرح خوش ہوتے ہیں اور اس لذت کی طرف راہ پاتے ہیں (یعنی لذت) جو غسیس لذت سے بالکل الگ اور جدا نوعیت کی ہوتی ہے۔ اور اگر نفوس جسم سے ایسی حالت میں جدا ہوں جب کہ ان میں اس صفتِ عدالت کی ضد موجود ہو تو ان نفوس کا حال بہت تنگ ہو گا اور یہ وحشت ناک ہوں گے اور نہایت درجہ کا درد اور دکھ اپنے اندر پائیں گے۔
جب سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دین کی اقامت کے لیے، اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کے لیے، اور اس لیے کہ لوگ عدل قائم کریں، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے ہیں، پس جو شخص اس نور کی اشاعت کے لیے کوشش کرتا ہے اور لوگوں میں اس کے لیے راہ ہموار کرتا ہے تو ایسا شخص مرحوم ہوتا ہے، اس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس کو رد کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے اور اس کو بے قدر کرنے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے تو ایسا شخص ملعون ہوتا ہے اور مردود ہوتا ہے۔
اور جب عدالت کی صفت انسان میں راسخ ہو جاتی ہے تو اس شخص کے درمیان اور حاملینِ عرش اور بارگاہِ الٰہی کے مقربین، جو ملائکہ ہیں اور جود و برکات کے نزول کے وسائط ہیں، کے درمیان ایک ایسا دروازہ کھل جاتا ہے جو ان مقربین کے الوان (رنگ) کے نزول کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اور نفس اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس پر ملائکہ کا الہام نازل ہو سکے اور اس الہام کے مطابق اٹھ کر کام کر نے کے قابل بن جاتا ہے۔ امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں: اس صفتِ عدالت کے اسباب سنتِ راشدہ کی حفاظت کو قرار دیا گیا، اس کی پوری تفصیل کے ساتھ۔ عدالت ایک ایسا ملکہ ہے جس سے نظامِ عادل، مصلح، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدینہ وغیرہ سہولت سے صادر ہوتے ہیں۔ اور اس کی اصل نفسانی جبلت ہے جس سے افکار کلیہ اور ایسی سیاست جو اللہ کے نزدیک اور ملائکہ کے نزدیک مناسب ہوتی ہے، صادر ہوتی ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے جہان میں لوگوں کے نظام کے انتظام کا ارادہ فرمایا، اور یہ ارادہ فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں اور ایک دوسرے سے الفت رکھیں اور جسدِ واحد کی طرح ہو جائیں، جب ایک عضو دکھ درد میں مبتلا ہو تو تمام جسم میں بخار، بے چینی، بیداری، بے خوابی تمام اعضاء جسم میں پیدا ہو جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارادہ فرمایا کہ انسان کی نسل (نوع انسانی) زیادہ ہو، پھلے پھولے، اور یہ کہ فاجر آدمی کو ڈانٹ ڈپٹ پلائی جائے اور عادل آدمی کی تعظیم و تکریم کی جائے، اور رسومِ فاسد کو مٹایا جائے اور خیر کی تشہیر کی جائے اور قوانینِ حقہ کو ان میں پھیلایا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے بارہ میں یہ اجمالی فیصلہ فرمایا ہے اور یہ باتیں اس کی شرح اور تفصیل ہیں۔ ملائکہ مقربین اس بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاتے ہیں اور پھر وہ دعا کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، اور لعنت بھیجتے ہیں ان پر جو لوگوں میں فساد و بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
’’اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت بخشے گا، جیسا کہ اس نے پہلے لوگوں کو خلافت بخشی تھی، اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے دین کو مضبوط کر دے گا جس دین کو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے لیے خوف کے بعد امن پیدا کر دے گا، وہ میری ہی عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے، جس نے ان کے بعد ناشکرگزاری کی تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو توڑتے نہیں، اور جو اس چیز کو ملاتے اور جوڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ملانے اور جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور جس چیز کے جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے اس کو توڑتے ہیں، یہ ان کی ضد ہیں۔‘‘
پس جو شخص اعمالِ مصلحہ کا انجام دیکھنے والا ہو گا اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو گی اور فرشتوں کی دعائیں اس کے شاملِ حال ہوں گی۔ جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہ ہو گا اور وہاں سے اس پر دقیق دقائق (خاص قسم کی نورانی شعائیں) نازل ہوں گی، جیسا کہ سورج یا چاند کی لطیف شعائیں ہوتی ہیں، اس کا احاطہ کریں گی، تو ان کی وجہ سے ملائکہ اور لوگوں کے قلوب میں الہام نازل ہوتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ایسے لوگوں کی ارض و سماء میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب ایسا شخص عالمِ تجرد کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ان دقائق (نورانی شعاعوں) کو، جو اس عالم میں اس کے ساتھ مدخیل ہوتی ہیں، محسوس کرتا ہے اور ان سے لطف اندوز ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے وسعت و کشادگی اور مقبولیت پاتا ہے، اور اس کے درمیان اور ملائکہ کے درمیان ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔
اس کے برخلاف جو شخص اعمالِ مفسدہ انجام دیتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور ملائکہ کی لعنت برستی ہے۔ اور یہاں پر ایسے تاریک دقائق (ظلماتی شعاعیں) اس غضب سے اٹھ کر اس شخص کا احاطہ کرتی ہیں، یہ سبب بنتی ہیں ملائکہ اور انسان کے قلوب میں الہام کا کہ اس شخص کے ساتھ وہ برا سلوک کریں، اور اس کے لیے زمین و آسمان میں نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب یہ عالمِ تجرد کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ان دقائق کو محسوس کرتا ہے کہ ان کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، اس کا نفس اس کی وجہ سے تکلیف اور دکھ پاتا ہے، تنگی اور نفرت اس کا ہر طرف سے احاطہ کرتی ہے، اس پر زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہو جاتی ہے۔
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ عدالت (عدل) کا اعتبار جب انسان کے مختلف اوضاع اطوار کے ساتھ کیا جاتا ہے، مثلاً قیام، قعود، نیند، بیداری، چلنا پھرنا، کلام، لباس، فیشن اور زینت وغیرہ، تو اس کو ادب کہتے ہیں۔ اور جب اس کا اعتبار اموال کے جمع و خرچ کے اعتبار سے کیا جاتا ہے تو اس کو کفایت (شعاری) کہتے ہیں۔
اور جب اس کا اعتبار تدبرِ منزل کے اعتبار سے کیا جاتا ہے تو اس کو حریت کہتے ہیں۔ اور جب اس کا اعتبار تدبیرِ مدینہ (شہر اور ملک کی تدبیر) کے اعتبار سے کیا جاتا ہے تو اس کو سیاست کہتے ہیں۔ اور جب اس کا اعتبار اپنے اخوان و احباب کی تالیف کے اعتبار سے کیا جاتا ہے تو اس کو حسن المحاضرہ یا حسن المعاشرہ کہتے ہیں۔
اور اس صفتِ عدالت کو حاصل کرنے کے لیے عمدہ تدابیر یہ ہیں: رحمت و مودت، رقۃ القلب (قسوت قلب کا نہ ہونا)، افکار کلیہ کا انقیاد، اور امور کے عواقب و انجام پر نظر رکھنا ہے۔ عدالت کی مشق کرنے والا اپنے اوپر ہر چیز کا حق خیال کرتا ہے۔ مثلاً دائیں ہاتھ کو کھانے اور اچھے کاموں کے لیے استعمال کرے گا، اور بائیں ہاتھ کو ازالہ نجاست کے لیے اور حقیر کاموں کے لیے۔ بعض کام ملائکہ کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں اور بعض کام ایسے ہیں جو شیاطین کے ساتھ مناسبت ہیں۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے، اور مقطوع الاعضا انسان (بد وضعی میں) شیطان جیسا ہے۔ اور فرمایا کہ تم اپنی صفیں ملائکہ کی طرح کیوں نہیں بناتے۔
مواقع عدالت
امام ولی اللہؒ نے کچھ جزئیات بیان کیے ہیں اور احادیث سے کچھ مثالیں ذکر کی ہیں جن سے عدالت کے مواقع پر روشنی پڑتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدالت کے بڑے بڑے ابواب پر تنبیہ فرمائی ہے اور اس کے مواقع بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرنے کے محاسن بیان فرمائے ہیں اور اس کی ترغیب دی ہے اور اس کی مختلف قسمیں ذکر فرمائی ہیں۔ مثلاً اہلِ منزل کی آپس میں محبت اور الفت، اور قبیلہ والوں اور اہلِ شہر اہلِ ملک کے ساتھ حسنِ معاشرت، اور عظماء ملت کی تعظیم و توقیر، اور ہر ایک کو اس کے مرتبہ پر اتارنے کا حکم وغیرہ۔
چند احادیث جو عدالت کے باب سے تعلق رکھتی ہیں انہیں ذکر کیا ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن کئی کئی ظلمتیں بن کر سامنے آئے گا۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون، مال اور آبرو کو اس طرح محترم قرار دیا ہے کہ جس طرح تمہارا یہ حجۃ الوداع یا عرفہ کا دن تمہارے اس شہر مکہ میں محترم ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور فرمایا بخدا جو شخص کسی کا حق ناحق دبا لے گا تو قیامت کے دن اسی کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو گا۔ اگر اونٹ ہے تو بڑبڑاتا ہوا آئے گا، اور گائے بیل ہیں تو وہ آواز کرتے ہوئے، اور بھیڑ بکریاں ہیں تو وہ بولتی ہوئی اس کی گردن پر سوار ہوں گی۔ اور جس نے ایک بالشت بھر زمین کسی کی دبا لی تو وہ قیامت کے دن سات زمینوں کو اتنی مقدار میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسا ہے جیسا کہ دیوار کی اینٹیں ایک دوسرے کے لیے مضبوطی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اور مسلمانوں کی مثال آپس میں مودت و رحمت اور مہربانی کے لحاظ سے جسمِ واحد کی طرح ہے، جب جسم کا ایک حصہ درد و تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے مثلاً تو سارے جسم میں تکلیف ہوتی ہے، بخاری اور بیداری لاحق ہوتی ہے۔
اور فرمایا، جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کر سکتا ہے اور نہ اس پر ظلم برداشت کر سکتا ہے۔ او رفرمایا کہ جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت کے پورا کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرتا ہے۔ اور جو کسی مسلمان سے تکلیف کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پریشانیوں کو قیامت کے دن دور فرمائیں گے۔ اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی قیامت کے دن فرمائیں گے۔ تم سفارش کرو تم کو اجر ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے فیصلہ کرتا ہے جس بات کو پسند فرماتا ہے۔
اور فرمایا کہ دو انسانوں کے درمیان انصاف کرو یہ بھی صدقہ ہے۔ اور کسی آدمی کو سواری پر سوار کرنے میں مدد دو یہ بھی صدقہ ہے۔ اور پاکیزہ کلمہ منہ سے نکالنا یہ بھی صدقہ ہے۔ کسی کا سامان اٹھا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دو، یہ بھی صدقہ ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص یتامیٰ اور بیواؤں اور مساکین کے لیے ان کی ضروریات اور حوائج پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہوتا ہے۔ اور فرمایا کہ جو شخص ان بیٹیوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ کی آگ کے سامنے ستر بن جائیں گی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم لوگوں کو عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت (تاکید) کی جاتی ہے۔ عورتوں میں فطرتاً کجی ہوتی ہے تو اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اور فرمایا کہ جبرائیلؑ برابر مجھے پڑوسیوں کے بارے میں تاکید کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ پڑوسی کو وراث بنانا چاہتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام نے فرمایا، اے ابو ذرؓ! جب تم شوربا بناؤ تو پانی زیادہ ڈالو اور پڑوسی کا خیال رکھو۔ اور فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا۔ اور فرمایا کہ لوگوں کو ان کے مرتبہ پر اتارو۔ اور یہ بھی ارشاد ہوا کہ جو شخص بیمار کی مزاج پرسی کرے گا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرے گا اور جنت میں جگہ بنائے گا۔
یہ چند مثالیں ہیں جن میں عدالت کے مواقع اور مظان کا ذکر کیا ہے۔
امام ولی اللہؒ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ یہ چار خصلتیں ایسی ہیں کہ تم ان کی حقیقت کو اچھی طرح چھان بین کر لو گے اورا س بات کو جان لو گے کہ یہ اخلاق کس طرح کمال علمی اور عملی کا اقتضا کرتے ہیں، اور کس طرح یہ اخلاق ایک ایک انسان کو ملائکہ کے سلسلہ میں منسلک کرتے ہیں، اور تم نے یہ سمجھ لیا کہ کس طرح شرائعِ الٰہیہ ہر زمانہ میں ان اخلاقِ اربعہ سے پھوٹتے رہے ہیں، تو تم کو خیر کثیر دی گئی اور تم فی الواقع فقیہ فی الدین ہو گئے۔ ان میں سے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بہتری اور خیر کا ارادہ فرمایا ہے، اور ان اخلاق کے ساتھ تلبس اور تمسک اختیار کرنے سے انسان میں جو ایک مرکب حالت پیدا ہوتی ہے اس کو فطرت کہتے ہیں۔ اس فطری حالت کو حاصل کرنے کے کئی اسباب ہیں، بعض علمی اور بعض عملی۔ اور کچھ حجابات ہیں جو انسان کو اس فطری حالت سے روکتے ہیں، اور کچھ تدابیر ہیں جن سے ان حجابات کو توڑا جاتا ہے اور رفع کیا جاتا ہے۔ ان سب کی تفصیل امام ولی اللہؒ نے بیان فرمائی ہے۔
امام ولی اللہؒ اپنی کتاب الطاف القدس میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چار خصلتوں پر متنبہ فرمایا ہے اور ان کی رعایت، نگرانی اور حفاظت کا حکم دیا ہے اور ان کی اضداد سے نہی فرمائی ہے۔ اگر تم اچھے طریقے پر غور کرو اور گہرائی سے اس کو معلوم کرنا چاہو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ نیکی (بر) تمام انواع و اقسام انہیں چار خصلتوں کی شرع اور تفصیل ہے، اور اثم (بدی) اور گناہ کے تمام اقسام ان کی اضداد کی تفصیل و تضریع ہے۔
تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے ان کی طرف دعوت دی ہے اور ان کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان کے منسوخ ہونے کی کوئی صورت نہیں اور ان میں تغیر و تبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ مختلف انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں کا اگر اختلاف ہے تو صرف ان کے اشکال و قوالب میں یعنی ظاہری سانچے اور شکل و صورت کا ہی اختلاف ہے ورنہ حقیقت اور مغز شارع علیہ السلام کی شریعت میں ایک ہی ہے۔ یہ صرف لباس کی تبدیلی ہے اور لباس کی تبدیلی سے صاحبِ لباس نہیں بدل جاتا۔
پس طہارت کی صفت سے ملائکہ کی مشابہت پیدا ہو جاتی ہے، اور خضوع کے ذریعہ ملاء اعلیٰ کی نقل و مشابہت پیدا ہو جاتی ہے، اور سماحت کے ذریعہ رذیل صفات انسان سے برطرف ہوتے ہیں، اور عدالت کے ذریعہ ملاء اعلیٰ کی رضا اور ان کی موافقت حاصل ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ان کی جانب سے راحت اور رحمت حاصل ہوتی ہے۔
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ شریعت کی تدبیر انسان کی رہنمائی کے لیے دونوں طرف سے متوجہ ہوتی ہے:
ایک تو اصلاح کے ذریعہ اچھے اعمال کرنے سے، اور برے اعمال سے اجتناب کرنے سے جن کو کبائر کہتے ہیں، اور ملتِ حقہ کے شعائر کو قائم کرنے سے۔ ان تینوں چیزوں کے وقت اور حد کا تعین کیا گیا ہے اور تمام مکلفین پر ان کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے اور اسی کو ظاہرِ شریعت اور اسلام کہتے ہیں۔
اور دوسری بات نفوس کی تہذیب ہے ان اخلاقِ اربعہ کے ذریعہ۔ اور ان کی صورت یہ ہو گی کہ نیکی (بر) کی اشباہ و اشکال یعنی ظاہری شکل و صورت سے بڑھ کر ان کے انوار تک پہنچنے سے تہذیب حاصل ہو گی۔ اور اسی طرح اثم (گناہ) کی صورتوں سے بچنے کے ساتھ ان کے باطنی معانی اور مفاسد سے بچنے کے ساتھ جن کے متعلق نہی وارد ہوئی ہے، اور اسی کو باطنِ شریعت اور احسان کہتے ہیں۔
بدلتا مشرقِ وسطیٰ: شامی انقلاب اور لبنان میں سیزفائر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلیوں کی رفتار دنیا کے دوسرے خطوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں، تاریخی خطہ ہونے کے علاوہ اس کی اسٹریجک اہمیت بھی بہت زیادہ ہے، اس کے باوجود یہاں کے لوگ اپنی قسمت کے مالک نہیں۔
خلافتِ عثمانیہ سے بغاوت کر کے ٹوٹنے کے بعد یوروپی استعمار کے دو ستونوں فرانس اور برطانیہ نے 1916ء میں سائکس پیکو (Sykes-Picot) کے خفیہ معاہدے کے ذریعہ اس خطہ کے حصے بخرے کر ڈالے اور ان کو اپنے درمیان بانٹ لیا۔ اس کے نتیجہ میں مختلف چھوٹے چھوٹے رجواڑوں کا وجود ہوا۔ عراق پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور استعماری طاقتوں نے شام کو فرانس کو دے دیا۔ جس نے پہلے تو اس کی مزید تقسیمیں کر کے اس کو غیر متحد کر دیا۔ چنانچہ طرابلس اور الجبل کو لبنان کے نام سے علیحدہ کر دیا گیا جس کی وجہ سے مسلمان اکثریت یک دم اقلیت میں بدل گئی کیونکہ شام کے اِس جنوبی حصہ میں مسیحیوں کی بہت بڑی آبادی تھی۔ لبنان کے علاوہ لاذقیہ اور بلاد العلویین کے نام سے مزید چھوٹی ریاستیں بنادی گئیں۔ باقی جو بچا اُسے سوریا (سیریا) کے نام سے الگ ملک بنا دیا گیا۔ یوں شامیوں کو بہت کمزور کر دیا گیا تھا۔
تاہم شام یا سیریا میں قوم پرست حریت پسند اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پہلے فرانسیسی استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کی، اور جب ان کی فوجی بغاوت کچل دی گئی تو پرامن طریقے پر دوسرے محاذوں پر کام کیا۔ قاہرہ، پیرس، جنیوا اور نیویارک میں نشر و اشاعت کے ادارے قائم کیے، جریدے نکالے، آخر میں قوم پرستوں نے ایک عام ہڑتال کر دی جو پچاس دن تک جاری رہی، جس کے آگے حکومتِ فرانس کو آخر جھکنا پڑا۔ ستمبر 1936ء میں عرب قوم پرستوں اور حکومتِ فرانس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کی رو سے شام کو متحد کر دیا گیا۔
لیکن آزادی کے بعد شام میں بعثی نصیری نظریہ کے علمبردار اور کبھی کیمونسٹ عناصر اقتدار میں آتے رہے اور ان سب نے نہ صرف مذہب پسندوں کا گلا دبایا بلکہ انہوں نے ملک میں بدترین آمریت قائم کیے رکھی۔ مثلاً کرنل حسنی زعیم، سامی الحفناوی، نور الدین الاتاسی، ادیب ششکلی، جنرل امین الحافظ، اور حافظ الاسدیہ، وہ ظالم و سفاک فوجی جنرل تھے جو سب بعثی یا کمیونسٹ رجحان رکھتے تھے، اور جو ملک میں بار بار فوجی انقلاب لاتے رہے۔ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق کو بہت پامال کیا اور سنی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے۔
شام میں علویوں کا فوجی اور بعثی سوشلسٹ اقتدار بشار کے باپ حافظ الاسد نے 1970ء میں قائم کیا تھا۔ اس نے آہنی پنجوں سے ملک پر حکومت کی۔ یہ ملک پولیس اسٹیٹ بلکہ انٹیلیجنس اسٹیٹ تھا جہاں کے جیل خانے بدترین تعذیب خانے تھے۔
حافظ کے وحشیانہ مظالم کے خلاف اس سے قبل بھی آوازیں اٹھیں۔ خاص طور پر اخوان المسلمون کی سرکردگی میں مذہبی مسلمانوں نے 1982ء میں حماۃ شہر میں انقلاب برپا کیا جس کو حافظ الاسد نے بمباری کر کے اس طرح کچلا تھا کہ شہر میں دس ہزار مذہبی مسلمانوں کو مار دیا گیا تھا۔ اس کو تاریخ میں مجزرۃ حماۃ (حماۃ قتل عام) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کے بعد 2011ء میں جب تیونس میں خوانچہ فروش بوعزیزی نے اپنے آپ کو سپردِ آتش کر دیا تو یک دم عرب آمر حکمرانوں کے خلاف عرب اسپرنگ یا الربیع العربی کا شعلۂ جوالہ پھوٹ پڑا۔ اور یہ ’’بہارِ عرب‘‘ (بغاوتوں کی لہر) تیونس، الجزائر، مصر ہوتے ہوئے شام میں بھی داخل ہوئی۔ درعا شہر میں ایک چودہ سالہ لڑکے معاویہ سیاسنہ نے بشارالاسد کے خلاف دیوار پر ایک نعرہ لکھ دیا تھا (اجاک الدور یادکتور، ڈاکٹر اب تمہاری باری ہے)۔ یاد رہے کہ بشار الاسد تعلیم کے لحاظ سے آنکھوں کا ڈاکٹر ہے۔ اُس نوجوان کو اور اس کے کم سن ساتھیوں کو گرفتار کر کے شدید ٹارچر کیا گیا۔ اس کے خلاف لوگوں نے مظاہرہ کیا تو بشارالاسد کی پولیس نے مظاہرہ میں شامل بہت سے نوجوانوں کو پکڑ کر ان پر تشدد کیا اور ہلاک کر دیا جن میں تیرہ سالہ حمزہ بھی تھا جس کی قبر پر اب انقلاب شام کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ جب ان بچوں کے والدین ان کو لینے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے تو بشار کی انٹیلیجنس کے ایک بے رحم اور سفاک افسر نے ان سے کہا کہ
’’اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور اور بچے پیدا کر لو، اگر تم نہ کر سکو تو ان کو ہمارے پاس بھیج دو ہم پیدا کر دیں گے۔‘‘
اس خبیث جملہ نے درعا، ادلب اور حلب میں آگ لگا دی اور ہزاروں لوگ اس نظام کے خلاف نکل آئے۔ ان پر پولیس اور فوج نے بے محابا گولیاں چلائیں، سینکڑوں لوگ جان سے گئے۔نتیجہ میں سارے شام میں سنی مسلمان اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ پہلے ملک گیر پُرامن احتجاج ہوئے اور پھر پولیس اور شامی فوج کے تشدد کے ردعمل میں مسلح بغاوت یا انقلابی جدوجہد نے جنم لیا۔
آغاز میں سیرین آرمی بنی جس نے ملک کے خاصے حصے کو بشار اسد کے جبر سے آزاد کروا لیا۔ لیکن افسوس کہ خلیج کے بے ضمیر عرب حکمرانوں نے اپنی اپنی سیاست کھیلنی شروع کر دی اور مذہب و مسلک کی بنیاد پر ایسے پرتشدد تکفیری گروپ میدان میں اتر گئے جنہوں نے شیعوں کا قتل عام کیا۔ ردعمل میں مختلف ملکوں سے ’’فاطمیون اور زینبیون‘‘ کے نام سے شیعہ رضا کار ملیشیائیں بڑی تعداد میں شام میں داخل ہو گئیں اور انہوں نے شامی فوج کے ساتھ مل کر وحشیانہ انداز میں انتقامی کارروائیاں کیں۔ ’’حزب اللہ‘‘ نے بھی اپنے فوجی دستے وہاں اتار دیے۔ فاسفورس گیس تک بے قصور شہریوں پر استعمال کی گئی جس سے ہزاروں بچے اور عورتیں اور بوڑھے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔ عالمی میڈیا نے اس کو رپورٹ بھی کیا اور امریکی صدر براک اوباما نے فوجی حملہ کی دھمکی بھی دی مگر کیا نہیں۔
اسی درمیان میں عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کی دہشت گردی کے خلاف سنی پر تشدد مزاحمت شروع ہو گئی۔ جس میں صدام حسین کی امریکہ کے ذریعہ ختم کر دی گئی بعثی فوج کے سپاہی بڑی تعداد میں داخل ہو گئے اور یوں ISIS (اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا) کا ظہور ہوا جس کو امریکی ’’سی آئی اے‘‘ نے بھی اپنے لانگ ٹرم مفادات کے تحت تقویت پہنچائی، جس نے عراق و شام کے ایک بڑے حصہ پر اپنی پُرتشدد خلافت ابوبکر البغدادی کی قیادت میں قائم کر دی۔ ساری دنیا میں اس کے خلاف جذبات مشتعل کر دیے گئے اور اس نے یوں شام کے اسلامی انقلاب کی راہ کھوٹی کر دی۔
امریکہ اور روس کی وحشیانہ بمباری سے ISIS کا دارالخلافہ رقہ شہر برباد ہو گیا اور آخر میں جعلی خلافت کی یہ تحریک ختم ہو گئی۔ شام میں انقلابی بہت سے گٹوں میں تقسیم تھے۔ ملک کی آدھی آبادی غیر ملکوں میں یا خود شام کے اندر ہی رفیوجی کیمپوں میں رہ رہی تھی۔ ملک کی معیشت برباد ہو گئی۔ بشار الاسد کی حمایت ایران، روس، عراق کی شیعہ ملیشیائیں اور حزب اللہ کے لڑا کے کر رہے تھے۔ اُس وقت ان سب نے مل کر اسد نظام کے لاشے کو سہارا دے دیا اور اس کو دھڑام سے گرنے سے بچا لیا۔ ایران و روس کی مداخلت سے ’’بہارِ عرب‘‘ بھی ٹھٹھر کر رہ گئی۔
اُس کے بعد خلیج کی ثروت مند ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور امارات نے امریکہ کے ساتھ مل کر مصر میں محمد مرسی مرحوم کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا خاتمہ کرا دیا، اور مصر میں اس بہار کا خاتمہ ہوا تو دوسرے ملکوں میں خودبخود ہو گیا۔
اب جبکہ روس یوکرین میں پھنسا ہے، حزب اللہ پر اسرائیل سے تصادم کی وجہ سے شدید ضرب لگی ہے، ایران کے حالات بھی دگرگوں ہیں۔ ترکی کی خاموش مدد سے ادلب میں بہت دنوں سے فوجی تربیت لینے والے شامی انقلابی ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ (HTS) کے بینر تلے جمع ہو کر دفعۃً باہر نکلے اور انہوں نے 27 نومبر 2024ء کو اسد کی فوجوں پر ملک کی آزادی کے لیے حملے شروع کیے تو اس کی فوجیں ان کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں۔ اور صرف دس دنوں کے اندر اندر یہ غاصب نظام ڈھ کر رہ گیا۔
ترکی نے بڑی خاموشی سے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور خطہ میں آنے والے وقت میں اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ روس اور ایران نے بھی بہت کھل کر بشارالاسد کا ساتھ اس لیے نہیں دیا کہ ان لوگوں کو اندازہ تھا کہ شامی فوج جو زیادہ تر جبراً بھرتی کے سپاہیوں پر مشتمل تھی جس کا مورال ڈاؤن تھا، انقلابی اس بار اس سے نہیں رک پائیں گے۔ چنانچہ انقلابیوں کے حملہ سے چند دن پیشتر ہی دوحہ قطر میں روس، ترکی اور قطرکا اجلاس ہوا تھا جس میں انہوں نے بشارالاسد کو یہی صلاح تھی کہ وہ انقلابیوں سے ڈائیلاگ کا راستہ اپنائے۔ مگر بشار الاسد کے دن گنے جا چکے تھے اس کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اور روس و ایران نے بھی اس کا کوئی عملی فائدہ نہ دیکھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
شامی انقلاب اپنے دوسرے مرحلہ میں آناً فاناً میں فتحیاب ہو گیا۔ بشار الاسد کا ظالم نظام ۵۴ سال کے مسلسل غاصبانہ اور آمرانہ اقتدار میں رہنے کے بعد محض دس دنوں میں زمیں بوس ہو کر رہ گیا۔ طالبان کے ہاتھوں سقوطِ کابل میں 14 دن لگے تھے مگر دمشق کا سقوط صرف دس دنوں میں ہو گیا۔ بشارالاسد اپنی فیملی کے ساتھ ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا۔روس کی شدید بمباری اور ایرانی ملیشیائیں اس کے کچھ کام نہ آسکیں اور انقلابی بالآخر بشارالاسد سے ملک کو آزاد کرانے کے اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے۔
دمشق کی فتح کے بعد قائد انقلاب ’’احمد الشرع‘‘ المعروف بہ ‘‘ابو محمد الجولانی‘‘ نے جامع اموی پہنچ کر نماز ادا کی اور خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تمام شامیوں کو بشارالاسد کے مظالم سے چھٹکارا دلانے کا اعلان کیا۔ وعدہ کیا کہ جلد ہی سولین حکومت قائم کی جائے گی اور سب شامیوں کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ ملک میں استحکام اور سیاسی امن لایا جائے گا۔ مضبوط سول ادارے قائم ہوں گے اور سیریا کو ایک خوشحال ملک بنایا جائے گا۔ چند دن بعد جمعہ کے دن اس تاریخی مسجد میں پچاس سال میں پہلی بار آزادی سے جمعہ کا خطبہ دیا گیا۔ اس سے پہلے تو حکومت کی طرف سے مخصوص کلمات پر مشتمل خطبہ بھیجا جاتا تھا۔
دمشق کے عماید اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داران سے ایک ملاقات میں قائد انقلاب محمد الجولانی نے بتایا کہ
’’یہ انقلاب بظاہر اچانک سے اٹھا اور کامیاب ہو گیا مگر ایسا نہیں ہے۔ ہم اس کی تیاری 21 سال سے کر رہے تھے۔ اور اس میں کسی ملک یا بیرونی طاقت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور نہ کسی نے باہر سے ہمیں ابھارا بلکہ یہ سب ہمارے اپنے خون پسینے کی محنت ہے، یہ ہتھیار بھی ہم نے خود بنائے۔ بیرونی قوتوں کے اپنے مصالح ہوتے ہیں۔ شام میں اس وقت ظالم اسد کے نظام کا تختہ پلٹنے کو کوئی بھی طاقت اپنے لیے فائدہ کا سودا نہیں سمجھ رہی تھی۔ ‘‘
اسد کی جیلوں (خاص کر صیدنایا جیل جہاں انسانوں کی کھال اتاری جاتی تھی) سے قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ فرع فلسطین کے نام سے ایک تین منزلہ جیل تھی جس میں موت کے کمرے تھے۔ اور ایسے آلات تھے جن سے مردہ قیدیوں کی باڈی کو توڑ کر باہر پھینک دیا جاتا تھا۔ جیل میں اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں جن میں ایک ساتھ بہت سے قیدیوں کو یونہی دفن کر دیا جاتا تھا۔ ایسے کمرے ملے جن میں نمک ہی نمک تھا۔ ایسے سیل تھے جن میں قیدیوں کو مختلف تعذیب کے مختلف طریقوں سے ٹارچر کیا جاتا اور پھر ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا۔ میڈیا کے لوگوں کو وہاں بہت سے آئی کارڈ، شناختی دستاویزات اور تعلیمی سرٹیفیکیٹ ملے جن کے حاملین موجود نہیں ہیں یعنی ان کو بے رحمی سے مار دیا گیا اور پھر لواحقین کو ان کی نعشیں بھی نہیں دی گئیں۔
ایک ایسا بھی قیدی تھا جسے کم سنی میں جیل میں ٹھونس دیا گیا تھا اور وہ چالیس سال سے وہاں ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔ اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کو قید کرنے والا ظالم نظام ختم ہو چکا ہے۔ ایک شامی پائلیٹ نے حافظ الاسد کے زمانہ میں حماۃ پر بمباری کرنے سے منع کیا تھا اس کو جیل میں ڈال دیا گیا، اس وقت وہ نوجوان تھا، آج 38 سال بعد بوڑھا ہو کر جیل سے باہر آیا ہے۔ قیدیوں میں بہت ساری خواتین بھی تھیں جن میں اکثر مذہبی گھرانوں کی تھیں۔ ان سب کی خوشی دیدنی تھی۔ کچھ لوگ ایسے بھی جنہوں نے برسوں سے سورج نہیں دیکھا تھا۔ جب ان کو جیل سے نکالا گیا تو وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا حافظ الاسد مر گیا؟ ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ حافظ الاسد کے بعد اب اس کے بیٹے بشارالاسد کا بھی یوم حساب آچکا ہے۔ غرض تعذیب کی وہ خوفناک کہانیاں اسد حکومت کی جیلوں سے سامنے آرہی ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایران اور حزب اللہ وغیرہ سے حیرت ہوتی ہے کہ ایسے ظالمانہ نظام کو انہوں نے سہارا دے رکھا تھا!
انقلاب کا ایک مرحلہ پورا ہوا اب زیادہ مشکل مرحلہ ملک کی تعمیرِنو کا ہے جس میں بہت سارے چیلنج ہیں۔ ایک بہت بڑا چیلنج تو فورًا اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہے۔ جس نے اسد حکومت کا تختہ پلٹنے کے اس بحرانی دور کو اپنے لیے غنیمت سمجھ کر اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبہ کو بروئے کار لانا شروع کر دیا ہے اور امریکہ کی حمایت اسے حاصل ہے۔چنانچہ چند ہی دنوں کے اندر اس نے سیریا کے اندر 450 فوجی سائٹس کو نشانہ بنایا۔ اور اس کے اپنے اعلان کے مطابق اس نے سیریا کی 80 فیصد فوجی صلاحیت، ہتھیار، فوجی ٹھکانے اور حساس ادارے برباد کر دیے ہیں۔ گولان ہائٹس پر اس کا پہلے سے قبضہ ہے مگر اب وہ سیریا کی سرحدوں میں گھس کر گولان کے سارے علاقہ پر قبضہ کر چکا ہے اور اس کو اسرائیل میں ضم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
اسرائیل کی لامحدود فضائی قوت ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی توڑ مزاحمتی قوتوں کے پاس نہیں ہے۔ مجموعی طور پر تو شامی انقلاب خوش آئند ہے، اس کا ایک منفی پہلو البتہ یہ نظر آرہا ہے کہ خطہ میں مزاحمتی قوتوں کو اِس سے دھکا لگا ہے۔ ایران کے پراکسی حزب اللہ اور شام اور حماس کمزور ہو گئے۔ اب اسرائیل کے سامنے بظاہر ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ شامی انقلابی حکومت ابھی ٹرانزیکشن کے پیریڈ میں ہے اور یہ بہت نازک مرحلہ ہے۔ ابھی ان کو ملک کو استحکام کی طرف لے جانے میں وقت لگے گا۔ اسرائیل اور امریکہ چاہتے بھی یہی ہیں کہ سیریا ایسا ملک بن کر رہے جس کے پاس کوئی فوجی قوت نہ ہو، اور جو کبھی بھی اسرائیل کے سامنے کھڑا نہ ہو سکے۔
فی الحال محمد البشیر کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔ کمانڈر الجولانی نے اسرائیل کے حملوں پر تنقید اور اپنی تشویش کا اظہار کرنے میں دیر لگائی۔ اب شاید نئی حکومت یو این او میں اس مسئلہ کو اٹھانے جا رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کے استحکام کے ساتھ ہی اس محاذ پر فوری توجہ دی جاتی اور انقلابیوں کی خاطر خواہ نفری اسرائیلی بارڈر یعنی گولان ہائٹس پر متعین کی جاتی اور اسد کی آرمی نے جن ٹھکانوں، چوکیوں اور اسلحہ ڈپو کو چھوڑ دیا ہے ان کو فوراً اپنے کنٹرول میں لے کر ان کا تحفظ کیا جاتا۔
بعض مبصرین کا یہ بھی تجزیہ ہے کہ اِس انقلاب کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل رہی کیونکہ امریکی صدر جوبائڈن کی صدارت کے دن اب ختم ہونے والے ہیں اور وہ خطہ میں اپنی کوئی مثبت ligacy چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، کیونکہ غزہ میں اسرائیل نے جو تباہی مچائی ہے اور اس میں جوبائڈن نے آنکھ بند کر کے جس طرح اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اُس نے دنیا بھر میں اس کی کِرکری کرا دی ہے۔ امریکی عوام بھی اُس سے خوش نہیں اس لیے اس کی پارٹی کو صدارتی انتخابات میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے سی آئی اے نے، ناٹو ممالک نے، اور ترکی نے شامی انقلابیوں کو آگے بڑھا کر کامیاب کرا دیا ہے۔ ہو سکتا ہے اس تجزیہ میں کچھ دم ہو مگر آئندہ نئی شامی حکومت سے یہ مغربی قوتیں کس طرح تعاون کرتی ہیں، اس سے ہی اس بات کا تیقن ہو سکے گا۔
ملک کی نئی حکومت کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج مختلف تنظیموں کو یکجا کر کے ایک متحد سیریائی آرمی کی تشکیل ہے۔ اس وقت صورتحال بڑی پیچیدہ سی ہے۔ ہیئہ تحریر الشام یا HTS جس نے یہ انقلاب برپا کیا کے علاوہ بھی انقلابیوں کے بہت سے گُٹ ہیں جو آپس میں بھی متصادم ہیں:
فری سیرین آرمی ہے جس کو ترکی نے کھڑا کیا تھا اور آج کل اس کو SNA یا سیرین نیشنل آرمی کہتے ہیں۔
شام کے شمال میں کردوں کی SDF ہے جس نے ایک علاقہ پر قبضہ کر کھا ہے، جس کو ترکی اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، کیونکہ اس گروپ نے آزاد کردستان کے خواب پال رکھے ہیں جو ترکی، سیریا اور عراق تینوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، کیونکہ کرد سنی کمیونیٹی ان تینوں ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے، اور اس میں متشدد عناصر زیادہ تر غیر مذہبی ہیں اور امریکی حمایت کے زیرسایہ ہیں۔
خود ہیئۃ تحریر الشام کو امریکہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور محمد الجولانی کے سر پر دس ملین ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ سارے گروپ اپنے گروہی تعصبات کو چھوڑ کر ایک ملکی وحدت میں منسلک ہو جائیں اور ان کے انقلابی مجاہد سب نئی سیرین آرمی کا حصہ بنا لیے جائیں۔
ملک کی اکثریت عرب سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو ستر فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کے علاوہ کرد ہیں (وہ بھی سنی ہیں)، اسماعیلی ہیں، دروز ہیں، یزیدی ہیں، عیسائی ہیں اور علوی نصیری ہیں جن کا اپنا علاقہ ہے۔ ان سب اقلیتی گروپوں کو بھی حکومت میں جائز حصہ دینا ہوگا۔
ملک کے ایک حصہ پر ترکی بھی قابض ہے، جبکہ امریکہ کا بھی ایک بیس یہاں ہے جس میں 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔ تیل کے کنویں بھی یہیں ہیں جن پر بلاشرکتِ غیر امریکہ قابض ہے۔ نیز لتاکیہ اور طرطوس میں روس کی ایئربیس بھی ہیں۔
یعنی یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ فی الحال شام تمام بڑی قوتوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور اس میں حالات کو معمول پر لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اس لیے ملک کو سنبھالنا اور وہاں سیاسی استحکام لانا، پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات قائم رکھنا، امریکہ اور روس دونوں سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا بڑی سیاسی سوجھ بوجھ، بین الاقوامی سیاست کے اتار چڑھاؤ، اور اپنے ملک کی نازک صورت حال کو باریکی سے سمجھ کر اس سے عہدہ برآ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں۔
ملک کی معیشت بالکل چرمرا کر رہ گئی ہے۔ بجلی کی سپلائی کا یہ حال ہے کہ اگر روزانہ تین گھنٹے بھی آجائے تو غنیمت ہے۔ سردست کمانڈر جولانی نے جو بیانات دیے ہیں، اور جس طرح وہ اقلیتوں سے مل رہے ہیں، اور جس طرح اپنے فوجیوں کو امن و امان قائم کرنے میں لگایا ہے اس سے ملک میں استحکام لانے کے عندیہ کا پتہ چلتا ہے۔
خوش آئند ہے کہ نئی سیرین آرمی کے قیام کی شروعات ہو چکی ہے، شکست خوردہ سابق فوجی اپنے ہتھیار نئی حکومت کے پاس جمع کر رہے ہیں۔ بینک کھل گئے ہیں، ائرپورٹ اپنا کام دوبارہ شروع کر چکے، اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوا ہے۔ قائد انقلاب سے ملنے کے لیے جرمنی، امریکہ اور یو این کے وفود آچکے جن سے ملاقات میں قائد نے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا لینے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے یہ عندیہ دہرایا ہے کہ شام کا انقلاب طالبان جیسا نہیں ہے۔ انہوں نے پڑوس کے سبھی ملکوں سے نارمل تعلقات قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بشار اسد کے جن افسران نے شامی عوام پر لرزہ خیز مظالم ڈھائے ان کے خلاف منصفانہ اقدام کا اعادہ بھی کیا ہے۔ دنیا میں بھی یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ ان مجرموں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ مغربی ملکوں کا مطالبہ یہ ہے کہ انقلابی ایسی حکومت بنائیں جس میں سبھی اقلیتی گروپوں کی نمائندگی ہو۔ اندرونی طور پر قائدِ انقلاب سبھی شامی کمییونٹیوں اور جماعتوں سے مل رہے ہیں۔ خدا کرے کہ حالات اسی نہج پر آگے بڑھیں۔ ایک مضبوط اور خود کفیل شام کی تشکیل ہو جائے۔ فلسطین کے پڑوس میں ایک مضبوط اسلامی مملکت کا قیام جو اِس ایشو کو اون کرتی ہو بہت زیادہ ضروری ہے اور اس سے مسئلہ فلسطین کے حل میں بڑی مدد ملے گی۔
لبنان میں سیز فائز
شام میں انقلاب آنے سے ذرا پہلے ہی لبنان اور اسرائیل میں 60 دن کے لیے سیزفائر ہوا ہے جس میں سہولت کاری امریکی خصوصی ایلچی آموس ہوکسٹائن نے کی۔ اس کے فوری سبب دو تھے:
ایک تو امریکہ اور اسرائیل کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ زمینی حملہ میں حزب اللہ کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور جتنا کچھ لبنان پر حملوں میں حاصل کیا جا چکا ہے وہ بہت ہے۔ حزب اللہ کی ٹاپ قیادت ماری جا چکی، اس کے دفاتر اور اسلحہ ڈپو وغیرہ تباہ کر دیے گئے۔ زمینی لڑائی میں اسرائیلی فوجی بھی روزانہ مر رہے تھے اور حزب اللہ روز ہی حیفا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اسرائیل کے قلب تل ابیب میں دو سو راکٹ مار رہی تھی۔ پھر حزب اللہ کے تابڑ توڑ راکٹ داغنے سے شمالی اسرائیل سے ڈیڑھ لاکھ اسرائیلی بھاگ کر تل ابیب میں آگئے تھے۔ سرکاری طور پر جن کے اخراجات اٹھانے سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ خود اسرائیلی آرمی کہہ چکی تھی کہ انہوں نے لبنان پر حملہ کے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
دوسری طرف حزب اللہ پر ملک کی حکومت اور عوام کی طرف سے مسلسل ایک دباؤ تھا۔ اسرائیل کے بے پناہ حملہ میں چار ہزار لبنانی شہید ہوئے، ملکی معیشت کو دس بلین ڈالر کا نقصان پہنچ چکا تھا کہ اسرائیلی جنگی جہاز روزانہ دو دو ہزار حملے کر رہے تھے۔ انہوں نے ضاحیہ بیروت کے علاوہ لبنان کے بہت سے علاقے بالکل تہس نہس کر ڈالے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ غالباً ایران سے بھی یہی اشارہ ملا ہو گا کہ اب جنگ بندی کر لی جائے۔ یہ عارضی جنگ بندی تو ہو گئی مگر اس میں اپرہینڈ امریکہ نے اسرائیل کو دلوا دیا ہے اور حزب اللہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔ جبکہ اول دن ہی سے اسرائیل اس کی خلاف ورزیاں بھی کر رہا ہے۔ حالات کی رفتار بہت تیز ہے، سردست اسرائیل اور امریکہ بہت فائدے میں ہیں اور ایران کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔
ابھی امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ خطہ کیا کروٹ لے گا اور حالات کس طرف جائیں گے، غزہ میں صورت حال کیا بنے گی؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
اخبار و آثار: شام کی صورتحال
الجزیرہ
ریلیف ویب

ہیئۃ تحریر الشام اور ابو محمد الجولانی
’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کے حلب پر ڈرامائی قبضے کے ساتھ الجولانی نے شام میں جنگ کے بارے میں بہت سی توقعات کو ختم کر دیا ہے۔
صدر بشار الاسد کی وفادار حکومتی فورسز کے زبردست خاتمہ کے بعد صرف تین دنوں میں حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب پر قبضہ کر لیا۔
اس حملے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے تھے جو ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ (HTS) کے سربراہ ہیں، جو شام میں حزب اختلاف کی سب سے طاقتور مسلح قوت بن چکا ہے۔
شاید ان کی بڑھتی ہوئی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش میں، پیر کے روز ایک تصویر آن لائن گردش میں آئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ الجولانی روسی حملے میں مارے گئے ہیں، یہ تصویر غلط ہونے کی وجہ سے فوری طور پر رد کر دی گئی۔
وہ اب آگے مرکز میں ہیں کیونکہ ان کی افواج حلب پر کنٹرول مضبوط کرنے اور شام میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔
الجولانی کا تعارف یہاں پیش کیا جا رہا ہے:
حال
’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کے بانی کے طور پر الجولانی نے تقریباً ایک دہائی سے خود کو دیگر مسلح افواج سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے جن کی توجہ بین الاقوامی کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ اس کی بجائے ان کی شام میں ایک "اسلامی جمہوریہ" قائم کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔
2016ء سے وہ خود کو اور اپنے گروپ کو (بشار) الاسد سے آزاد شام کے ایک خیرخواہ کے طور پر قائم کر رہے ہیں۔ (الاسد) جنہوں نے 2011ء میں عرب (ممالک کی ) انقلابی کوششوں کے دوران ایک عوامی بغاوت کو بے دردی سے دبایا، جس کے نتیجے میں ایک ایسی جنگ شروع ہو گئی جو تب سے جاری ہے۔
’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ نے شام کی سالویشن گورنمنٹ (حکومۃ الإنقاذ السوریۃ)کے ذریعے ادلب کی حکومت چلائی، جسے اس نے سول سروسز، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، عدلیہ اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مالیات اور امداد کی تقسیم کے انتظام کے لیے 2017ء میں قائم کیا تھا۔
تاہم کارکنوں، خبری رپورٹوں اور مقامی مانیٹروں کے مطابق ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ بھی سختی سے حکمرانی کرتی ہے اور اختلافِ رائے برداشت نہیں کرتی۔
آزاد صحافتی تنظیم ’’سیریا ڈائریکٹ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کا کارکنوں کی گمشدگی کے پیچھے ہاتھ ہے اور اس نے ان مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہے جنہوں نے تنظیم پر الزام لگایا ہے کہ وہ مخالفت کرنے والے لوگوں کو خدمات مہیا نہیں کرتی۔
ماضی
وہ احمد حسین الشرع (کے نام سے) 1982ء میں ریاض، سعودی عرب میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد پیٹرولیم انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہ خاندان 1989ء میں شام واپس آیا اور دمشق کے قریب آباد ہوا۔
2003ء میں عراق جانے سے پہلے دمشق میں ان کے حالات کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں، جہاں انہوں نے اسی سال امریکی حملے کے خلاف مزاحمت کے ایک حصے کے طور پر عراق میں ’’القاعدہ‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔
2006ء میں عراق میں امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور پانچ سال تک قید میں رکھا گیا۔
الجولانی کو بعد میں شام میں ’’القاعدہ‘‘ کی شاخ ’’النصرہ فرنٹ‘‘ قائم کرنے کا کام سونپا گیا جس نے حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ علاقوں خاص طور پر ادلب میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔
الجولانی نے ان ابتدائی سالوں میں ’’القاعدہ‘‘ کی "اسلامک اسٹیٹ ان عراق" کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ساتھ کام کیا، جو بعد میں داعش (ISIS) بن گئی۔
اپریل 2013ء میں البغدادی نے اچانک اعلان کیا کہ ان کا گروپ ’’القاعدہ‘‘ سے تعلقات منقطع کر رہا ہے اور شام میں اثر و رسوخ بڑھائے گا، اور نتیجتاً ISIL کے نام سے ’’النصرہ فرنٹ‘‘ کو ایک نئے گروپ کے طور پر اپنے دائرہ کار میں ضم کر لے گا۔
الجولانی نے ’’القاعدہ‘‘ سے اپنی وفاداری برقرار رکھتے ہوئے اس تبدیلی کو مسترد کر دیا۔
2014ء میں اپنے پہلے ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ شام پر ان کی تنظیم کی اسلامی قانون کی تشریح کے مطابق حکومت قائم ہونی چاہیے، اور ملک کی اقلیتوں، جیسے کہ عیسائیوں اور علویوں کو جگہ نہیں دی جائے گی۔
اگلے برسوں میں الجولانی، مسلم اکثریت کے تمام ممالک میں ’’القاعدہ‘‘ کے "عالمی خلافت" کے قیام کے منصوبے سے خود کو دور کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی توجہ شام کی سرحدوں کے اندر اپنی تنظیم کا دائرہ کار قائم کرنے پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ادلب کے گروپوں کی نظر میں یہ تقسیم بین الاقوامی عزائم کے برخلاف (تنظیم کی ) قومیت پر مبنی عزائم کا مظہر ہے۔
پھر جولائی 2016ء میں حلب شہر تنظیم کے قبضہ میں آ گیا، اور وہاں سے مسلح گروپ ادلب کی طرف بڑھنے لگے، جو ابھی تک اپوزیشن کے زیر قبضہ تھا۔ اسی دوران الجولانی نے اعلان کیا کہ ان کا گروپ ’’جبہت فتح الشام‘‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
2017ء کے اوائل تک، حلب سے نکلنے والے ہزاروں جنگجو ادلب میں داخل ہوئے، اور الجولانی نے ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ بنانے کے لیے ان میں سے بہت سے گروپوں کو اپنے گروپ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔
واشنگٹن ڈسی کے تھنک ٹینک ’’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ (CSIS) کے مطابق ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کا بیان کردہ مقصد شام کو اسد کی مطلق العنان حکومت سے آزاد کرانا، ملک سے ایرانی ملیشیا کو نکالنا،اور اسلامی قانون کی اپنی تشریح کے مطابق ایک ریاست قائم کرنا ہے۔
مستقبل
جب اپوزیشن کے جنگجوؤں نے حلب پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور جنوب کی طرف بڑھنے لگے، تو ایسا لگتا ہے کہ الجولانی نے شام کی اقلیتوں کے حوالے سے زیادہ مناسب موقف اختیار کیا ہے۔
حلب پر قبضہ کرنے کے بعد سے تنظیم نے یہ یقین دہانیاں پیش کی ہیں کہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
لیونٹ (بلاد الشام) میں مصروفِ عمل مسلح گروپوں کے حوالے سے ایک شامی ماہر حسن حسن کے مطابق، الجولانی ’’ہیۃ تحریر الشام‘‘ کو شام میں ایک قابل اعتبار حکومتی قوت اور انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں ممکنہ شراکت دار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
CSIS کے مطابق انہوں نے ادلب میں ’’القاعدہ‘‘ کی نئی شاخ ’’حراس الدین‘‘ جیسے پرانے اتحادیوں سے بچتے ہوئے ’’حرکۃ نور الدین الزنکی‘‘، ’’لیوا الحق‘‘، اور جیش السنہ جیسے دیگر مسلح اپوزیشن گروپوں کے ساتھ شراکت داری کی کوشش کی۔
’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ پر اس وقت اقوام متحدہ، ترکی، امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ’’دہشت گرد‘‘ کا لیبل لگا ہوا ہے۔
الجولانی نے کہا ہے کہ یہ پہچان غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان کے گروپ نے قومی (ایجنڈے) کے حق میں اپنی ماضی کی وفاداریاں ترک کر دی ہیں۔
الجولانی کے بیان کردہ قومی عزائم سے قطع نظر، شام میں حزب اختلاف کے سب سے بڑے مسلح گروپ کے سربراہ کی حیثیت سے، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کا اثر ظاہر ہو گا۔
(۴ دسمبر ۲۰۲۴ء)
https://www.aljazeera.com
شام میں کس کے قبضہ میں کونسا علاقہ ہے؟
(نوٹ: درج ذیل رپورٹ کا اسکرین شاٹ اس لنک پر ہے، کیونکہ ممکن ہے بعد میں ’’الجزیرہ‘‘ کی پوسٹ اپ ڈیٹ ہو جائے۔ ادارہ الشریعہ)
شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرد فورسز سے شمال مشرقی شہر دیر الزور پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ’’منبج‘‘ کے اردگرد کئی دنوں کی لڑائی کے بعد کرد زیرقیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) اور ترکی کی حمایت یافتہ سیریئن نیشنل آرمی (SNA) کی طرف سے ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کے بعد کی صورتحال ہے۔
’’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شام کے ساحلی علاقے طرطوس میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور انہیں ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں اس علاقے میں ’’سب سے بھاری حملے‘‘ قرار دیا ہے۔
شام میں زمین پر کنٹرول کے لیے چار اہم گروپس مقابلہ کر رہے ہیں جو یہ ہیں:
(۱) شامی حکومتی افواج:
(اسد) حکومت کی مرکزی فوجی قوت، نیشنل ڈیفنس فورسز کے ساتھ مل کر لڑتی ہے جو حکومت کا حامی نیم فوجی گروپ ہے۔
(۲) سیریئن ڈیموکریٹک فورسز:
یہ کرد اکثریتی، امریکہ کی حمایت یافتہ گروپ، مشرقی شام کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
(۳) ہیئۃ تحریر الشام اور دیگر اتحادی اپوزیشن گروپس:
ہیئۃ تحریر الشام سب سے بڑی جنگجو قوت ہے اور حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ ادلب میں سب سے مضبوط گروپ ہے۔
(۴) ترکی اور ترکی سے منسلک شامی باغی افواج:
شامی قومی فوج شمالی شام میں ترکی کی حمایت یافتہ باغی فورس ہے۔
اسرائیل نے شام بھر میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا:
بشار الاسد کی برطرفی کے بعد، اسرائیلی افواج نے شام میں اپنے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک کا آغاز کیا ہے، جس میں 480 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں اہم ہوائی اڈے، فضائی دفاعی تنصیبات، لڑاکا طیارے، بحری جہاز اور دیگر اسٹریٹجک انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
لطاکیہ اور البیدا کی بندرگاہوں پر بمباری کی گئی، جبکہ تیاس ایئربیس کے ساتھ ساتھ دمشق اور قمشلی ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کا تخمینہ ہے کہ اس نے شام کی 80 فیصد فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے جسے وہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جارحانہ کارروائیوں میں سے ایک قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی فوج اور ایک شامی جنگی نگران نے کہا کہ اہداف میں یہ شامل ہیں:
۔ فضائی دفاعی نظام، راڈار، میزائل لانچرز اور فائرنگ کی پوزیشنیں۔
۔ لڑاکا طیارے، فوجی ہیلی کاپٹر اور متعدد ایئر بیسز پر ہینگرز (جہازوں کے گودام)۔
۔ کم از کم 15 بحری اہداف جن میں بحری جہاز اور میزائل بوٹس شامل ہیں۔
۔ ہتھیاروں کے ڈپو، کارخانے اور مختلف قسم کے میزائل۔
۔ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے منسلک سائنسی تحقیقی مراکز
(۱۶ دسمبر ۲۰۲۴ء)
https://www.aljazeera.com
اسد حکومت کے خاتمہ کے بعد شام پر اسرائیل کے حملے
8 دسمبر 2024ء کو ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ (HTS) کی زیر قیادت فورسز نے شام کے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کرتے ہوئے اسد خاندان کی 53 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔
اسرائیل نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی مغربی سرحد کی حفاظت کے پیش نظر ڈرامائی طور پر پورے شام میں فضائی حملے تیز کردیئے۔
15 دسمبر تک، ACLED نے 2024ء میں شام میں 300 سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملوں کے واقعات ریکارڈ کیے، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ہوئے۔ یہ حملے اسی رفتار سے جاری رہے تو دسمبر 2024ء میں اسرائیلی حملوں کی تعداد پورے 2023ء کی ریکارڈ کی گئی حملوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی۔
اسد حکومت کے ہتھیاروں کو ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کی زیر قیادت نئی حکومت کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے، اسرائیل کے ان حملوں نے پہلے 48 گھنٹوں کے اندر سابق حکومت کی 70 سے 80 فیصد کے درمیان جنگی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا۔
65 فیصد سے زیادہ اسرائیلی حملے دمشق، درعا، لطاکیہ اور دیہی دمشق کے مشرقی علاقوں میں ہوئے۔
نیز اسرائیلی فورسز اپنے زیر قبضہ گولان ہائیٹس اور شام کے درمیان موجود غیر فوجی بفرزون میں داخل ہو گئیں اور قنیطرہ، درعا، اور دمشق کے آٹھ دیہات پر کنٹرول حاصل کر کر لیا۔ جو کہ 1974ء کی یومِ کپور جنگ کے بعد ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کا ارادہ گولان ہائیٹس میں اپنے شہریوں کی تعداد دگنا کرنا کا ہے۔
اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم اور ’’ہیئۃ تحریر الشام‘‘ کی قیادت دونوں نے کہا ہے کہ ان کا براہ راست جنگ کا ارادہ نہیں ہے۔
(۲۰ دسمبر ۲۰۲۴ء)
https://reliefweb.int
فلسطین: ۷ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعدادوشمار
الجزیرہ

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں مزید ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں بیماریوں کا خطرہ ہے۔
غزہ میں 19 دسمبر کو دوپہر 2 بجے تک ہلاکتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار یہ ہیں:
غزہ
- شہید : کم از کم 45,192 افراد، بشمول 17,492 بچے
- زخمی: 107,338 سے زیادہ لوگ
- لاپتہ: 11,000 سے زیادہ
مقبوضہ مغربی کنارے
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔
- ہلاک: کم از کم 817 افراد، بشمول کم از کم 169 بچے
- زخمی: 6,250 سے زیادہ لوگ
اسرائیل
اسرائیل میں، حکام نے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1,405 سے کم کر کے 1,139 کر دی۔
- ہلاک: 1,139 افراد
- زخمی: کم از کم 8,730
غزہ بھر میں تباہی
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، اور فلسطینی حکومت کے 18 دسمبر تک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی حملوں سے یہ نقصان ہوا ہے:
- غزہ کے آدھے سے زیادہ گھر نقصان زدہ یا مکمل تباہ
- 80 فیصد تجارتی سہولیات
- 88 فیصد سکولوں کی عمارتیں
- صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات: 36 ہسپتالوں میں سے 17 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں
- سڑکوں کا 68 فیصد
- فصلی زمین کا 68 فیصد
صحافیوں کی ہلاکت
7 اکتوبر 2023ء کو ’’اسرائیل غزہ جنگ‘‘ شروع ہونے کے بعد سے 20 نومبر (2024ء) تک 150 سے زیادہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر فلسطینی ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (CPJ) اور صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن (IFJ) کے مطابق کم از کم 120 فلسطینی، تین لبنانی اور دو اسرائیلی صحافی مارے گئے ہیں۔
جبری نقل مکانی
اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر سے اب تک 65 سے زیادہ انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں، جس سے غزہ کی پٹی کا تقریباً 80 فیصد علاقہ انخلاء کے عملی احکامات کے تحت ہے۔
اسرائیلی ناکہ بندی کے سولہ سال
غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 23 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جو دنیا کے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ اسرائیل اور مصر کے درمیان بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔
2007ء سے اسرائیل نے غزہ کی فضائی حدود اور علاقائی پانیوں پر سخت کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور غزہ کے اندر اور باہر آنے جانے والے سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رکھا ہے۔
حماس کے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حملوں کے بعد سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کو ایک ’’ویران جزیرے‘‘ میں تبدیل کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس کے باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’’اب وہاں سے نکل جائیں‘‘۔
حماس کا حملہ کیسے ہوا؟
7 اکتوبر 2023ء کو صبح 6:30 بجے حماس نے جنوبی اسرائیل پر راکٹوں کا ایک بہت بڑا بیراج فائر کیا۔ سائرن تل ابیب اور بیر شیبہ تک سنائی دے رہے تھے۔
حماس نے کہا کہ اس نے ابتدائی بیراج میں 5000 راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 2500 راکٹ فائر کیے گئے۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد جنگجو زمینی، فضائی اور سمندری راستے سے اس کثیر جہتی آپریشن کے لیے میں اسرائیل میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر جنگجو غزہ اور اسرائیل کو الگ کرنے والی حفاظتی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے داخل ہوئے۔
حماس کا یہ حیرت انگیز حملہ اسرائیلی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بولنے، اور 2023ء میں اس مقام پر اسرائیل کے ہاتھوں ریکارڈ تعداد میں فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔
صبح 9:45 بجے غزہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور صبح 10 بجے اسرائیل کے فوجی ترجمان نے کہا کہ فضائیہ غزہ میں حملے کر رہی ہے۔
جنوبی اسرائیل کے کئی علاقوں میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی فضائی حملے رات گئے تک جاری رہے، اور ایسے ہی جنوبی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے۔
غزہ کے گنجان آباد علاقے
غزہ کی پٹی پانچ حکومتی علاقوں پر مشتمل ہے: شمالی غزہ، غزہ شہر، دیر البلاح، خان یونس، اور رفح۔
شمالی غزہ
شمالی غزہ 10 کلومیٹر (چھ میل) تک پھیلا ہوا ہے اور بیت حانون کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہوتا ہے، جسے ایریز کراسنگ بھی کہا جاتا ہے۔
شمالی غزہ جبالیہ مہاجر کیمپ کا مرکز ہے، جو غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا کیمپ ہے۔
غزہ شہر
غزہ شہر 750,000 سے زیادہ رہائشیوں کے ساتھ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ ریمال، شجاعیہ اور تل الہوا اس کے سب سے مشہور محلوں میں سے ہیں۔
ریمال محلے کے مرکز میں الشفا ہسپتال ہے، جو غزہ کی پٹی میں سب سے بڑی طبی سہولت ہے۔
دیر البلاح
دیر البلاح غزہ کے سب سے بڑے زرعی پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ چار پناہ گزین کیمپوں کا مرکز بھی ہے: نصیرات، بوریج، مغازی اور دیر البلاح۔
غزہ کا واحد آپریٹنگ پاور پلانٹ غزہ سٹی کے قریب ضلع کی حدود کے ساتھ واقع ہے۔
خان یونس
خان یونس تقریباً 430,000 افراد کا علاقہ ہے۔ اس کے مرکز میں خان یونس مہاجر کیمپ ہے جہاں تقریباً 90,000 لوگ رہتے ہیں۔
رفح
رفح غزہ کا سب سے جنوبی ضلع ہے جس کی آبادی تقریباً 275,000 ہے۔ رفح مصر کے ساتھ اس کراسنگ کا بھی نام ہے جو وہاں واقع ہے۔
اسرائیل اور مصر دونوں نے اپنی سرحدیں بڑی حد تک بند کر رکھی ہیں اور غزہ میں پہلے سے کمزور معاشی اور انسانی صورتحال کو مزید خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
A Basic Principle of Deeni Madaris
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

The present system of religious schools (Deeni Madaris) is based on a continuous process of mutual aid and public cooperation. It began after the failure of the Muslims in the Freedom-Jihad of 1857, driven by the passion to establish a collective way to preserve the faith, civilization, and education system of the Muslims from the invasion of political, cultural, ideological, and educational domains by the British government. The British, having completely crushed the freedom struggle, were in the ecstasy of victory.
For this purpose, Madrasa Arabia in Deoband, Mazahir Uloom in Saharanpur, and Madrasa Shahi in Moradabad were first established. Soon, a network of these schools spread across Pakistan, Bangladesh, India, and Afghanistan.
As a basic principle for these schools, it was decided that their system would be run on donations from ordinary Muslims without any government or semi-government aid. History bears witness that with utmost simplicity and contentment, these madrasas provided immense religious and academic services to the Muslims of the subcontinent.
Many of the administrators and teachers of these madrasas were unassuming men who, had they decided to keep up with the pace of time, could have easily enjoyed the comforts and luxuries of worldly life. However, this group of zealous and courageous individuals not only gave up these comforts and conveniences for the noble mission of keeping Muslims true to their faith but also humbled themselves to ask for charity, Zakat, Ushr, and a loaf of bread from every door, at the cost of their personal ego and self-respect.
Facing all kinds of scorn, ridicule, and mockery with a smile on their faces, they laid the foundation of an educational system with utmost patience and steadfastness. This system shattered the British desire and conspiracy to repeat the history of Spain in the subcontinent. Eventually, the British rulers were forced to pack up and leave in 1947, with this regret in their hearts.