الشریعہ — فروری ۲۰۲۵ء

احکام القرآن، حجۃ اللہ البالغہ، اقلیتیں، شام، نگارشاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
کاتبانِ وحیمولانا ڈاکٹر قاری خلیل الرحمٰن 
قراءتِ حدیث اور اس کی اقسامڈاکٹر محمد اکرم ندوی 
مدرسہ، منبر، فرقہ واریت، مذہبی سیاست اور برطانوی استعمارڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۲)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 
غزہ سیز فائر اور اس کے مابعدڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
غزہ میں فتح اور شکستحدیل عواد 
زبان کی برائی اور دل کی اچھائیسید اعجاز بخاری 
ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ: سابق ترک صدر عبد اللہ گل کی نظر میںعبد اللہ گل 
ترکی کے لوزان معاہدہ کا خاتمہمحمد نور ایمان سیاح 
ڈچ سیاستدان یورام فین کلیفرین کا قبولِ اسلامٹی آر ٹی ورلڈ 
امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہسید سلمان گیلانی 
The Prophet`s Companions are the Witnesses of the Religionمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

احکام القرآن، حجۃ اللہ البالغہ، اقلیتیں، شام، نگارشات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘

نحمده تبارك وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الكريم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعين۔

جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور ہمارے خطے کے قدیم ترین دینی اداروں میں سے ایک ہے جو ۱۸۷۵ء سے دینی تعلیم و تدریس اور عوامی اصلاح و ارشاد کی مساعی جمیلہ میں مصروف چلا آرہا ہے اور مختلف اوقات میں جہاں مشاہیر اہلِ علم و فضل تعلیمی خدمات دیتے رہے ہیں وہاں بہت سی علمی شخصیات نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تاریخ کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مراد آباد، اور مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری، بنگلہ دیش کے ساتھ قدیم دینی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

جامعہ فتحیہ کے مہتمم حافظ میاں محمد نعمان لاہور کی اہم سماجی و سیاسی شخصیت ہیں اور جامعہ کے نظام میں اپنے اسلاف کی بخوبی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کے ارشاد پر مجھے چند سالوں سے جامعہ فتحیہ میں جزوی طور پر تدریسی خدمات میں شرکت کی سعادت اس طرح حاصل ہو رہی ہے کہ ہفتے کے دن کو ظہر کے وقت حاضر ہوتا ہوں اور دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے چند منتخب ابواب کا درس دیتا ہوں۔ جبکہ عصر کے بعد عوام الناس سے کسی عمومی موضوع پر گفتگو کا موقع مل جاتا ہے۔ اس دوران مشاورت سے یہ طے ہوا کہ کچھ خصوصی خطبات ’’احکام القرآن‘‘ پر دیے جائیں اور عصرِ رواں کے منتخب مسائل کو زیربحث لا کر انہیں حکمتِ قرآنیہ کی روشنی میں حل کیا جائے۔ اس پس منظر میں یہ چودہ خطبات دیے ہیں۔

اسلام کے خاندانی نظام کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی اور دینی مدارس کے کردار و مسائل اور آئندہ حکمت عملی پر بھی گفتگو ہوئی، اور کچھ نشستوں میں سرور کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ کے کچھ حصوں پر گزارشات پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

جامعہ فتحیہ کے خطیب مولانا محمد سعید عاطف ہمارے قابل احترام دوست اور باذوق ساتھی ہیں۔ انہوں نے اس گفتگو کو بہت حد تک مرتب کر دیا ہے جس کا بیشتر حصہ خاندانی نظام کے بارے میں ہے۔ گفتگو تو سادہ اور عوامی سطح کی ہے مگر حافظ صاحب محترم کے حسنِ ذوق نے اسے مستقل کتاب کی شکل دے دی ہے۔ جس میں انہوں نے آیات و احادیث و اقوالِ سلف کی تخریج کے ساتھ ساتھ ضروری مقامات پر وضاحتی نوٹس شامل کیے ہیں، اور ان کے علاوہ میرے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں میں متعلقہ مضامین کو بھی اس کا حصہ بنایا ہے۔ آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست بھی مرتب فرمائی ہے جو ان کے عمدہ تحقیقی ذوق کی علامت ہے۔ علاوہ ازیں ان خطبات کے آخر میں حافظ سعید صاحب نے میرے ایک پرانے مضمون بعنوان ’’انسانی اجتماعیت کے تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام‘‘ کو بھی شامل کر دیا ہے، اس طرح سے کچھ عصری مباحث پر میری علمی رائے بھی ان خطبات کا حصہ بن گئی ہے (الحمد للہ)۔

حافظ صاحب موصوف کے شکریہ کے ساتھ تمام احباب سے میری درخواست ہے کہ جامعہ فتحیہ کے بانیان اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ساتھ ہم دونوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تا دمِ آخر اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں اور قبولیت و رضا کے ساتھ انہیں ہمارے لیے ذخیرۂ آخرت بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

(۱۲ جولائی ۲۰۲۲ء)

’’درس حجۃ اللہ البالغہ‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے افکار و فلسفہ کی تعلیم و اشاعت گزشتہ نصف صدی سے میری تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں کا محور چلا آرہا ہے، جو مجھے مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ سے ورثہ میں ملا ہے۔ اور اس میں دورۂ حدیث کے طلباء کو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے کچھ ابواب پڑھانا بھی شامل ہے، جو بحمداللہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور طلباء کو جو بھی فائدہ ہو، خود مجھے اس سے استفادہ اور فیضیاب ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔
ملک کے مختلف اداروں میں اس سلسلے میں محاضرات کی صورت میں گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ہے اور بعض جگہ کچھ دوستوں نے کسی حد تک قلم بند بھی کیا ہے۔ اسی حوالے سے معہد الخلیل بہادر آباد کراچی میں حضرت مولانا محمد الیاس مدنی دامت فیوضہم کے ارشاد پر ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے کچھ حصوں پر گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی، اور اس کے ساتھ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی شخصیت اور تعلیمات اور آج کے بین الاقوامی معاہدات سے امت مسلمہ، بالخصوص دینی حلقوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی گزارشات پیش کیں، جنہیں ہمارے فاضل دوست مولانا اظفر اقبال صاحب نے مرتب کر کے کتابی شکل دی ہے اور مولانا فضل الہادی صاحب استاذ الحدیث جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ نے اس پر نظر ثانی کی ہے اور اب اسے اشاعت کے مرحلے سے گزار کر احباب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
میں اس کاوش پر مولانا اظفر اقبال صاحب اور مولانا حافظ فضل الہادی صاحب کا شکر گزار ہوں اور سب دوستوں سے دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے لیے ذخیرۂ آخرت بنائیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں کے لیے نفع کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
(۳۰ نومبر ۲۰۲۲ء)

’’اسلام اور اقلیتیں: پاکستانی تناظر‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض محمود صاحب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے پرانے رفقاء میں سے ہیں اور صاحبِ فکر و نظر استاذ ہیں۔ انہوں نے اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق و معاملات کا پاکستان کے تناظر میں جائزہ لیا ہے اور ایک ضخیم مقالہ میں مشکلات و مسائل پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا ہے جس میں انہیں محترم خورشید احمد ندیم صاحب کی راہنمائی حاصل ہے۔ 
یہ موضوع نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں ایک اہم مباحثہ کا عنوان ہے جو امتِ مسلمہ کو درپیش سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی مسائل کے پس منظر میں اہلِ علم کی خصوصی توجہ اور مباحثہ و مکالمہ کا متقاضی ہے کیونکہ جدید پیش آمدہ مسائل و مشکلات کا حل اصحابِ فکر و دانش کے آزادانہ مباحثہ و مکالمہ کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ ایک سرسری نظر ڈالنے سے یہ مقالہ موجودہ صورتحال کے معروضی جائزہ، مسائل و مشکلات کے تعین اور ان کے حل کی طرف راہنمائی کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس بحث میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ میں اس پر ڈاکٹر محمد ریاض محمود صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ ان کی یہ کاوش امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے لیے مفید ثابت ہو، آمین۔
(۴ اکتوبر ۲۰۲۴ء)

’’شام کی موجودہ صورت حال کا تاریخی پس منظر‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شام حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین رہی ہے اور خاص طور پر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریتِ طیبہ کی علمی و دینی سرگرمیوں کا ہمیشہ مرکز رہی ہے۔ بیت المقدس اس کی عظمت کی علامت ہے اور اس ارضِ طیبہ پر مختلف اقوام کے استحقاق کا دعویٰ آج اقوامِ عالم کے مابین شدید کشمکش کا نقطۂ عروج دکھائی دے رہا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ملاحمِ کبریٰ‘‘ یعنی قیامت سے قبل نسلِ انسانی کی مسلسل جنگوں کا میدان شام کو بتایا ہے اور حالات بتدریج اس رخ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر پہلی جنگِ عظیم کے بعد فلسطین و شام میں یہودی اثر و نفوذ کے اضافہ اور بیت المقدس پر مسلمانوں کے کنٹرول کو ختم کرنے کے لیے مسیحی اور یہودی قوتوں کا گٹھ جوڑ پوری دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر رہ گیا ہے، اس ماحول میں عرب سرزمین بالخصوص شام و فلسطین میں بپا بین الاقوامی کشمکش آج کی دنیا کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے جس پر راقم الحروف بھی نصف صدی سے اخبارات و جرائد میں اظہارِ خیال کرتا آ رہا ہے۔
غزہ اور شام کی صورت میں حالیہ تبدیلیوں نے اہلِ علم و فکر کو ایک بار پھر توجہ دلائی ہے اور مختلف اربابِ فکر و دانش اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں عزیزم مولانا حافظ کامران حیدر (فاضل جامعہ نصرۃ العلوم) نے راقم الحروف کے نصف صدی کے دوران شائع ہونے والے مضامین و بیانات کو زیرنظر مجموعہ میں مرتب کیا ہے جو ان کی کاوش و ذوق کی علامت ہے۔ امید ہے کہ اس سے احباب کو شام و غزہ کی موجودہ صورت حال کے دینی، سیاسی اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اللہ پاک اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازتے ہوئے ہم سب کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
(۲۸ دسمبر ۲۰۲۴ء)

’’ گذارشات برائے نگارشات‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کتاب کے ساتھ تعلق والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کی برکت و توجہات کے باعث بچپن سے ہے اور مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا ذوق بھی ان بزرگوں کی عنایت سے چلا آ رہا ہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ تحقیقی، معلوماتی، ادبی، تاریخی، تدریسی اور تجزیاتی ہر نوع کی کتابیں زیر مطالعہ رہی ہیں اور استفادہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوتا آ رہا ہوں۔ مختلف جرائد کی ادارت کے دوران تبصرہ کے لیے آنے والی متنوع کتابوں کے علاوہ بعض دوستوں کے ارشاد پر ان کی تصانیف پر نقد و تبصرہ کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔ فرزند عزیز حافظ ناصر الدین خان عامر نے جرائد و کتب میں بکھری ہوئی ان سینکڑوں تحریروں کو یکجا کر کے حسنِ ذوق کے ساتھ مرتب کرنے کا اہتمام کیا ہے جو اس کے ذوق کے ساتھ ساتھ محنتِ شاقہ کا ثمرہ ہے، اور اس سے نصف صدی سے زائد عرصہ کو محیط متفرق گذارشات محفوظ ہو گئی ہیں، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ اللہ تعالیٰ اس محنت و کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بناتے ہوئے ہمارے لیے آخرت کا مقبول ذخیرہ بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔
(۱۲ دسمبر ۲۰۲۴ء)

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(559) یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءَہُ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے بعض ترجموں میں کچھ کم زوریاں در آئی ہیں، جن کی نشان دہی نیچے کی جائے گی:
إِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءَہُ فَلَا تَخَافُوہُمْ وَخَافُونِ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ۔ (آل عمران: 175)
ترجمہ (۱)
’’یہ شیطان صرف اپنے چاہنے والوں کو ڈراتا ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور اگر مومن ہو تو مجھ سے ڈرو‘‘۔ (ذیشان جوادی)
یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءَہُ کا ترجمہ ’’اپنے چاہنے والوں کو ڈراتا ہے‘‘ درست نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہے: ’’اپنے چاہنے والوں سے ڈراتا ہے‘‘۔
إِنَّمَا حصر کے لیے ہے، لیکن یہاں أَوْلِیَاءہُ کے حصر کے لیے نہیں ہے، ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ کے حصر کے لیے ہے۔ ’’صرف اپنے چاہنے والوں‘‘ کے بجائے ’’اپنے چاہنے والوں‘‘ اور ’’یہ شیطان‘‘ کی جگہ ’’شیطان ہی ہے‘‘ کہا جائے گا۔
إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ کا تعلق صرف خَافُونِ سے نہیں ہے، بلکہ فَلَا تَخَافُوہُمْ وَخَافُونِ دونوں سے ہے۔ ’’ لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور اگر مومن ہو تو مجھ سے ڈرو‘‘ کے بجائے ترجمہ ہوگا: ’’لہٰذا اگر تم مومن ہو تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو‘‘۔  
ترجمہ (۲)
’’اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو‘‘۔ (سید مودودی)
اس ترجمے میں شیطان کے ڈرانے کا ماضی میں پیش آنے والا واقعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ترجمے میں بہت سے پر تکلف اضافوں کی ضرورت پڑگئی۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل ہدایت ہے۔ 
فَلَا تَخَافُوہُمْ کا ترجمہ ’’تم انسانوں سے نہ ڈرنا‘‘ درست نہیں ہے۔ ھم کی ضمیر شیطان کے اولیاء کی طرف ہے۔ ترجمہ ہوگا: ’’تم ان سے نہ ڈرنا‘‘۔
’’خواہ مخواہ‘‘ اور ’’آئندہ‘‘ اور ’’حقیقت میں‘‘ جیسے اضافوں کی ضرورت نہیں ہے۔ 
ترجمہ (۳)
’’یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’یہ خبر دینے والا‘‘ بے جا اضافہ ہے۔ الفاظ عام ہیں۔
’’ان کافروں‘‘ کے بجائے ’’ان سے‘‘  درست ترجمہ ہے۔ ضمیر شیطان کے دوستوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔  
ترجمہ (۴)  
’’دراصل یہ تمہارا شیطان تھا جو تمہیں اپنے حوالی موالی (دوستوں) سے ڈراتا ہے۔ اور تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ اگر سچے مومن ہو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ کا ترجمہ ’’تمہارا شیطان‘‘ کرنا درست نہیں ہے۔ ذَلِکُمُ میں ضمیر ’کم‘ خطاب کے لیے ہے۔
ترجمہ (۵)  
’’یہ شیطان ہے جو اپنے رفیقوں کے ڈراوے دے رہا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’یہ شیطان ہے‘‘ کی جگہ ’’یہ شیطان ہی ہے‘‘۔ کیوں کہ یہاں حصر ہے۔ ’’مجھی سے ڈرو‘‘ کی جگہ ’’مجھ سے ڈرو‘‘ ہونا چاہیے کیوں کہ جملے میں حصر کی علامت نہیں ہے۔
’’ڈراوے دے رہا ہے‘‘ کے بجائے ’’ڈراوے دیتا ہے‘‘ ہونا چاہیے کیوں کہ یہ ہمیشہ کی بات ہے۔ 
الفاظ کے مطابق ترجمہ ہوگا:
’’وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)

(560) تکفیر سیئات کا مطلب

مغفرت اور تکفیر سیئات دونوں کے مفہوم میں فرق ہے۔ لیکن کبھی اس کا لحاظ نہیں ہوپاتا ہے۔ جیسے: 
لَأُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئَاتِہِمْ۔ (آل عمران: 195)
’’اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا‘‘۔ (سید مودودی)
یہاں کچھ باتیں توجہ طلب ہیں:
سیئات کا مطلب قصور نہیں بلکہ برائیاں ہے۔ قصور اور برائی میں فرق ہوتا ہے۔
’سب‘ اضافہ ہے، الفاظ میں اس کے لیے دلالت نہیں ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ تکفیر کا مطلب معاف کرنا نہیں بلکہ دور کرنا یا پردہ پوشی کرنا ہے۔ 
واضح رہے کہ دیگر مقامات پر مترجم موصوف سے یہ غلطی نہیں ہوئی ہے، صرف اسی ایک مقام پر ہوئی ہے۔ باقی کہیں اس لفظ کا ترجمہ معاف کرنا نہیں کیا ہے۔
درج ذیل ترجمہ درست ہے:   
’’میں ضرور ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردوں گا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(561) ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ کا ترجمہ

 ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ۔ (آل عمران: 195)
’’یہ ہے اللہ کے ہاں ان کی جزا‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
 ’’ یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں‘‘۔ (سید مودودی)
مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں یہ بات نظر انداز ہوگئی ہے کہ ’عِنْد اللَّہِ‘ سے پہلے ’من‘ بھی ہے۔ اگر من نہ ہوتا تو یہ ترجمہ درست ہوتا۔ درج ذیل ترجمہ درست ہے: 
’’یہ ہے ثواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(562) سَارِعُوا کا ترجمہ

وَسَارِعُوا إِلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ۔ (آل عمران: 133)
’’اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی) 
سَارِعُوا میں دوڑنا ضروری نہیں ہے، تیزی سے بڑھنا اس کا صحیح مفہوم ہے۔
’’اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کے لیے مسابقت کرو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) 
سَارِعُوا دوسروں سے مسابقت کے لیے نہیں ہے، بلکہ خود تیز بڑھنے کے لیے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک دوسرے مقام پر کعرض  آیا ہے، یہاں نہیں آیا ہے۔ یہاں ’’کی طرح‘‘ کے بجائے ’’کے برابر‘‘ زیادہ مناسب ترجمہ ہے۔ 
’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے‘‘۔ (سید مودودی)
اس ترجمے میں دو باتیں قابل توجہ ہیں، ایک تو سَارِعُوا کا ترجمہ ’’دوڑ کر چلو‘‘ کے بجائے ’’تیز بڑھو‘‘ ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ آیت کے الفاظ میں بخشش اور جنت کی طرف جانے والی ’راہ‘ کا ذکر نہیں ہے۔ بخشش اور جنت کی طرف لپکنے کا ذکر ہے۔ 
’’اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری) آسمان کے بجائے آسمانوں ہونا چاہیے۔

(563) ہَذَا بَیَانٌ لِلنَّاسِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں بیان کا ترجمہ بعض لوگوں نے تنبیہ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ بیان کا اصل مطلب واضح تذکرہ ہے، وہی یہاں بھی موزوں ہے۔ تنبیہ سے مفہوم بہت محدود ہوجاتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہے۔ ھذا سے پورا قرآن مراد ہے یا اس آیت سے پہلے کئی باتیں دو ٹوک انداز میں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں، وہ سب کچھ مراد ہے۔ 
ہَذَا بَیَانٌ لِلنَّاسِ۔ (آل عمران: 138)
’’یہ تنبیہ ہے لوگوں کے لیے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’یہ (عام) لوگوں کے لیے تو واضح تذکرہ اور تنبیہ ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی) واضح تذکرہ کہنا کافی ہے۔
’’عام لوگوں کے لیے تو یہ (قرآن) بیان ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی) عام لوگوں کہنے کے بجائے لوگوں کہنا چاہیے، تاکہ مومن و غیر مومن سبھی اس میں شامل ہوجائیں۔

(564) وَیَأْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ ہَذَا

درج ذیل آیت میں فور کا لفظ آیا ہے۔ اس کا اصل معنی جوش ہے۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: 
الفَوْرُ: شِدَّۃُ الغَلَیَانِ۔ (المفردات فی غریب القرآن) جوش میں انسان جلدی کام کرتا ہے تو وہیں سے اس میں دفعتًا اور اسی دم کا مفہوم پیدا ہوگیا۔
درج ذیل آیت میں دونوں مفہوم لیے گئے ہیں۔ تاہم ’’اسی دم‘‘ کے مقابلے میں ’’اسی جوش میں‘‘ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ دشمن اسی دم آئیں یا تاخیر سے آئیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جوش میں حملہ زیادہ زور دار ہوتا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے زیادہ نفری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترجمے ملاحظہ ہوں:
بَلَی إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَیَأْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ ہَذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُسَوِّمِینَ۔ (آل عمران: 125)
’’کیوں نہیں، بلکہ اگر تم صبر و پرہیزگاری کرو اور یہ لوگ اسی دم تمہارے پاس آجائیں تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جو نشان دار ہوں گے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ہاں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
آخر الذکر ترجمے میں جوش اور دفعتہً دونوں کا ذکر کردیا۔ من فورھم ھذا کا کوئی ایک ہی مفہوم ہوگا۔ 
مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’بے شک، اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو اور دشمن اگر اسی جوش میں تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے تو تمہارا رب پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا‘‘۔
من فورھم ھذا کا درج ذیل ترجمہ کسی طرح درست نہیں ہے۔
’’بے شک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا‘‘۔ (سید مودودی)
من فورھم کا ترجمہ ’’جس آن‘‘ درست نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ یہ مفہوم نہیں رکھتے کہ دشمن جس وقت آئیں گے اللہ کی مدد اسی وقت آجائے گی۔ یعنی اللہ کی مدد کا وقت نہیں بتایا جارہا ہے۔ بلکہ اللہ کی مدد کے وعدے کا ذکر ہے کہ اگر دشمن حملہ آور ہوں گے تو اللہ کی اتنی مدد آئے گی۔

  (565) وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ موصولہ کا مطلب ہوگا کہ جو چیز تمھیں مصیبت سے دوچار کرے انھیں پسند ہے، مصدریہ کا مطلب ہوگا تمھارا مصیبت سے دوچار ہونا انھیں پسند ہے۔ درج ذیل پہلے دونوں ترجمے ما کو موصولہ مان کر کیے گئے ہیں:
یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِنْ دُونِکُمْ لَا یَأْلُونَکُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ۔ (آل عمران: 118)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے‘‘۔ (سید مودودی، لَا یَأْلُونَکُمْ خَبَالًا کا درست ترجمہ ہے: ’’وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھیں گے‘‘۔ ’’موقع سے فائدہ اٹھانا‘‘ الفاظ کے موافق نہیں ہے۔)
’’اے ایمان والو! اپنے (لوگوں کے) سوا دوسرے ایسے لوگوں کو اپنا جگری دوست (رازدار) نہ بناؤ جو تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ جو چیز تمہیں مصیبت وزحمت میں مبتلا کرے وہ اسے محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
ان دونوں ترجموں سے یہ مفہوم نکل سکتا ہے کہ مومنوں کو جن چیزوں سے نقصان پہنچے وہ چیزیں یہ لوگ اپنے لیے پسند کرتے ہیں، محبوب رکھتے ہیں۔ یہ مفہوم قابل قبول نہیں ہے۔ جو چیز کسی کو بھی نقصان پہنچانے والی ہو اسے کوئی محبوب کیسے رکھ سکتا ہے۔
یہاں نقصان پہنچانے والی چیز مراد نہیں ہے بلکہ خود نقصان پہنچنا مراد ہے۔ یعنی ان لوگوں کو یہ بات پسند ہے کہ مومنوں کو نقصان پہنچے۔ درج ذیل ترجمہ ما کو بجا طور پر مصدریہ مان کر کیا گیا ہے:
’’اے ایمان والو! اپنے سے باہر والوں کو اپنا محرم راز نہ بناؤ، یہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ یہ تمہارے لیے زحمتوں کے خواہاں ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
الفاظ کی مکمل رعایت کی جائے تو ترجمہ ہوگا: ’’تمہارا مصیبت میں پڑنا انھیں محبوب ہے‘‘۔

(566) تَبْغُونَہَا عِوَجًا کا ترجمہ

بغی یبغی جب مفعول بہ کے ساتھ آتا ہے تو کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو چاہنا اور طلب کرنا۔
فیروزآبادی لکھتے ہیں: بَغَیْتُہُ أبْغیہِ...طَلَبْتُہُ (القاموس المحیط)
قرآن مجید میں متعدد بار یبغون آیا ہے اور اس کا مطلب واضح طور پر چاہنا اور طلب کرنا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ البتہ درج ذیل آیت میں اس لفظ کا ترجمہ اس طرح نہیں کیا گیا: 
قُلْ یَاأَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَہَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُہَدَاء۔ (آل عمران: 99)
’’کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’ان اہل کتاب سے کہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو کیوں روکتے ہو؟ اور اس میں عیب ٹٹولتے ہو، حالانکہ تم خود شاہد ہو‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’کہہ دواے اہلِ کتاب اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو اس شخص کو جو ایمان لائے اس میں عیب ڈھونڈتے ہو اورتم خود جانتے ہو‘‘۔(احمد علی)
ایک تو عوج کا مطلب عیب نہیں ہوتا، کجی اور ٹیڑھ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تَبْغُونَہَا عِوَجًا  کا مطلب کجی نکالنا، عیب ٹٹولنا اور عیب ڈھونڈنا نہیں ہوگا۔ 
درج ذیل ترجمہ میں ’’اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے‘‘ درست نہیں ہے۔ تبغون کا ترجمہ ’’تم چاہتے ہو درست کیا گیا ہے، تاہم تَبْغُونَہَا عِوَجًا کا ترجمہ ’’چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے‘‘ درست نہیں ہے۔ یہاں مفعول بہ چلنے والا نہیں ہے بلکہ خود راستہ ہے۔ کیوں کہ ضمیر ’ھا‘ ہے۔ 
’’کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روِش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اُسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر) گواہ ہو‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’کہو، اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں روک رہے ہو، تم اس میں کجی پیدا کرنی چاہتے ہو حالانکہ تم گواہ بنائے گئے ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) البتہ ’’پیدا کرنا‘‘ زائد ہے۔  
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ’’تم چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ ہوجائے‘‘۔

کاتبانِ وحی

مولانا ڈاکٹر قاری خلیل الرحمٰن

صحابہ کرام کی جس بڑی جماعت سے کتابتِ وحی کا کام لیا گیا تھا، علامہ عراقی اور علامہ محمد عبد الحی الکتانی نے ان کی تعداد بیالیس لکھی ہے، چنانچہ ’’التراتیب الإداریۃ‘‘ میں مذکور ہے:
وکتابہ اثنان وأربعون۔(1)
ترجمہ:- اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین (لکھنے والے) بیالیس ہیں۔
اور علامہ الکتانی کی کتاب ’’التراتیب الإداریۃ‘‘ میں ان بیالیس کاتبوں کے نام بھی درج ہیں۔ جبکہ ’’المصباح المضیء فی کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں دو شخصیتوں کے اضافہ کے ساتھ چوالیس مذکور ہیں۔
چنانچہ ’’المصباح المضیء فی کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی ترتیب کے مطابق ان حضرات کا مختصر سوانحی خاکہ (اسی مأخذ (2) سے) درج ذیل ہے۔

ا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

زمانۂ جاہلیت میں آپ (رضی اللہ عنہ) کا نام ’’عبد الکعبۃ‘‘ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام تبدیل کر کے ’’عبد اللہ بن ابی قحافہ‘‘ رکھا، آپ مَردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور غارِ ثور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد خلیفہ بنے، اور آپ وہ واحد خلیفہ ہیں جنہیں ’’خلیفۃ الرسول‘‘ کا لقب ملا، آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اڑھائی سال زندہ رہے، تریسٹھ (۶۳) برس عمر پائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

۲۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آپ (رضی اللہ عنہ) کا نام عمر بن خطاب بن نفیل ہے، ’’ابو حفص‘‘ آپ کی کنیت ہے، آپ قریش کے سرداروں میں سے تھے اور چالیسویں نمبر پر ایمان لائے، آپ کے اسلام لانے کے بعد اسلام کو قوت ملی اور مسلمانوں نے کھل کر عبادت کرنی شروع کی، حضرت ابوبکر صدیق کے اس دارِ فانی سے رخصت ہونے کے بعد آپ مسلمانوں کے خلیفہ بنے، آپ کی خلافت دس سال اور چھ ماہ تک رہی، آپ نے بھی تریسٹھ (۶۳) سال کی عمر پائی اور آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں آرام فرما ہیں۔

۳۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عثمان بن عفان بن ابی العاص ہے، آپ قدیم الاسلام ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام لائے، آپ نے دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف، آپ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لختِ جگر آئیں: (۱) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا (۲) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا۔ اسی وجہ سے انہیں ’’ذوالنورین‘‘ کہا جاتا ہے، اور آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں سے تھے، آپ کا شمار مالدار صحابہ کرام میں سے ہوتا ہے اور آپ نے اپنے مال کے ذریعے اسلام کی بے مثال خدمت کی۔ آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تین دن بعد مسلمانوں کے خلیفہ نامزد ہوئے اور دس دن کم بارہ سال آپ کی خلافت رہی، آپ کو جمعہ کے دن مدینہ منورہ میں شہید کیا گیا اور آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔

۴۔ حضرت علی بن اَبی طالب رضی اللہ عنہ

آپ کا نام علی بن اَبی طالب ہے اور کنیت ’’ابو الحسن‘‘ اور ’’ابو تراب‘‘ ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی اور داماد ہیں، آپ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں، حدیبیہ کے موقع پر صلح کا معاہدہ تحریر کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کو حکم فرمایا، چنانچہ مسند احمد کی روایت ہے:
عن عبد اللہ بن مغفل المزنی، قال: کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالحدیبیۃ فی أصل الشجرۃ التی قال اللہ تعالی: فی القرآن، وکان یقع من أغصان تلک الشجرۃ علی ظہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و علی بن أبی طالب و سہیل بن عمرو بین یدیہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی رضی اللہ عنہ: ’’اکتب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ فأخذ سہیل بن عمرو بیدہ، فقال: ما نعرف الرحمٰن الرحیم، اکتب فی قضیتنا ما نعرف، قال: ’’اکتب باسمک اللہم‘‘ … الخ) (3)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کی جڑ میں تھے، جس کا (تذکرہ) اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے، اس درخت کی کچھ ٹہنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے لگ رہی تھیں، اور حضرت علیؓ بن ابی طالب اور سہیل بن عمرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: لکھو! بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر کہا: ہم رحمٰن اور رحیم کو نہیں جانتے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہم جانتے ہیں، لکھو! باسمک اللہم (آپ کے نام سے اے اللہ!) …… الخ۔

۵۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ

آپ کا نام اُبی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کنیت ’’ابو منذر‘‘ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کی کنیت ’’ابو الطفیل‘‘ رکھی، آپ فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ قرآن پاک جاننے والے ہیں، آپ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۶۔ حضرت اَبان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ

آپ کا نام اَبان ہے اور آپ اپنے دو بھائیوں حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام لائے، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مشرکین کے ساتھ بات کرنے کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو حضرت اَبان رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو پناہ دی تھی۔ آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں وفات پائی۔

۷۔ حضرت اَرقم بن اَبی اَرقم رضی اللہ عنہ

آپ قدیم الاسلام ہیں، اور مہاجرین اوّلین میں سے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مسلمان ابتدائے اسلام میں انہیں کے مکان میں جمع ہو کر پوشیدہ طور پر تعلیم و تعلّم اور عبادت کیا کرتے تھے اور انہیں کے مکان میں لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے، یہاں تک کہ چالیس آدمی ان کے گھر میں اسلام لائے اور ان میں سب سے آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، آپ ۵۵ھ میں مدینہ منورہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۸۔ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ

آپ کا نام بریدۃ بن حصیب بن عبد اللہ ہے، آپ کی کنیت ’’ابو عبد اللہ‘‘، ’’ابو سہل‘‘، ’’ابو حصیب‘‘ اور ’’ابو ساسان‘‘ روایات میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے موقع پر آپ اسلام لائے، آپ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد مقامِ مرو پر اس دارِفانی سے رخصت ہوئے۔

۹۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ انصاری صحابی ہیں، اور آپ انصار کے خطیب تھے، آپ اُحد میں شریک ہوئے، اور اس کے بعد کئی غزوات اور معرکوں میں شرکت کی، آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں یمامہ کے دن شہید ہوئے۔

۱۰۔ حضرت جہیم بن صلت رضی اللہ عنہ

آپ کا نام جہیم بن صلت بن مخرمۃ ابن المطلب بن عبد مناف ہے، آپ خیبر کے دن اسلام لائے۔

۱۱۔ حضرت حنظلہ بن ربیع رضی اللہ عنہ

آپ (رضی اللہ عنہ) کا نام حنظلہ بن ربیع بن صیفی ہے، آپ (رضی اللہ عنہ) کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔

۱۲۔ حضرت حویطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام حویطب بن عبد العزیٰ ابن اَبی قیس ہے، آپ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور مؤلفہ قلوب میں سے تھے، آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین میں شامل تھے، آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں مدینہ منورہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۱۳۔ حضرت حاطب بن عمرو رضی اللہ عنہ

آپ کا نام حاطب بن عمرو بن عبد شمس ہے، آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دارِ اَرقم میں تشریف آوری سے پہلے اسلام لے آئے تھے اور آپ نے حبشہ کی طرف دو ہجرتیں کیں اور آپ حبشہ ہجرت کر کے آنے والوں میں سب سے پہلے شخص ہیں۔

۱۴۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کبار صحابہ کرام میں سے ہیں، آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان تھے، آپ کو ہی خندق کے دن قریش کی طرف، خفیہ طور پر بھیجا گیا تھا، آپ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

۱۵۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

آپ کا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ ہے، آپ کی کنیت ’’ابو ایوب‘‘ ہے جو آپ کے نام پر غالب آگئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے ہاں ہی ٹھہرے تھے، آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قسطنطنیہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۱۶۔ حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ

آپ کا نام خالد بن سعید بن العاص بن امیہ بن عبد شمس ہے اور آپ کی کنیت ’’ابو سعید‘‘ ہے، آپ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد ایمان لائے اور آپ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کا فریضہ سرانجام دیا، آپ، قدیم الاسلام ہیں، آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر میں آکر ملے، آپ، اجنادین کے مقام پر ہفتے کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات سے چوبیس (۲۴) دن پہلے شہید ہوئے۔

۱۷۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

آپ کا نام خالد بن ولید بن عبد اللہ بن عمر بن مخزومی القرشی ہے، آپ کی کنیت ’’ابو سلیمان‘‘ اور ’’ابو الولید‘‘ آتی ہے۔ آپ زمانۂ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں سے تھے، آپ، اسلام لانے کے بعد مسلسل جہاد میں شریک رہے، آپ کو ’’سیف اللہ‘‘ کا لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمایا، آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مقامِ حمص پر اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

۱۸۔ حضرت زید بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ

آپ کا نام زید بن ثابت الانصاری النجاری بن الضحاک بن زید بن لوذان ہے، آپ کی کنیت ’’ابو سعید، ابو عبد الرحمٰن اور ابو خارجۃ‘‘ آتی ہے، آپ فقہائے صحابہ میں سے تھے، آپ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا حکم دیا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب لوگوں کا قراآت میں اختلاف ہوا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ امت کو ایک مصحف پر جمع کیا جائے، تو یہ ذمہ داری بھی حضرت زید رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئی اور آپ نے یہ عظیم خدمت سر انجام دی، آپ نے ۴۵ھ میں اس دارِ فانی کو الوداع کہا۔

۱۹۔ حضرت زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ

آپ کا نام زبیر بن عوّام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی القرشی الاسدی ہے، آپ کی کنیت ’’ابو عبد اللہ‘‘ ہے، آپ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آٹھ سال کی عمر میں ایمان لائے، آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔

۲۰۔ حضرت جہم بن سعد رضی اللہ عنہ

حضرت جہم بن سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن العوّام رضی اللہ عنہ، اموالِ صدقہ لکھا کرتے تھے۔

۲۱۔ حضرت سعید بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ

آپ فتح مکہ سے قبل اسلام لائے اور یوم الطائف میں حاضر ہوئے، آپ، قریش کے فصیح اور سخی سرداروں میں سے ایک تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مصحفِ عثمانی کی کتابت کے سلسلے میں خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔

۲۲۔ حضرت السجل رضی اللہ عنہ

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاتب تھے جن کو ’’السجل‘‘ کہا جاتا تھا۔

۲۳۔ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ

آپ کے والد کا نام عبداللہ بن المطاع بن عبد اللہ ہے اور آپ کی کنیت ’’ابو عبد الرحمٰن‘‘ ہے، آپ، حبشہ کے مہاجرین میں سے ہیں، آپ کا طاعون کے مرض میں وصال ہوا۔

۲۴۔ حضرت ابو سفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ

آپ کا نام صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی ہے، آپ کی کنیت ’’ابوسفیان‘‘ ہے جو نام پر غالب آگئی ہے، آپ زمانۂ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں سے تھے اور تاجر تھے، آپ، فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں شامل ہوئے، آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اٹھاسی (۸۸) سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

۲۵۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو ہے، آپ کی کنیت ’’ابو محمد‘‘ ہے، آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر سمیت کئی معرکوں میں شریک ہوئے اور احد میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی بے نظیر مثال قائم کی، آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال بن کر دفاع کرتے رہے اور آنے والے تیروں کو اپنے ہاتھوں سے روکتے رہے حتیٰ کہ آپ کا ہاتھ مبارک شل ہو گیا اور موقع ملتے ہی آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر ایک چٹان پر چڑھ گئے اور وہاں ایک محفوظ جگہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل کر دیا، آپ کی وفات جنگِ جمل میں، جنگ سے ایک طرف ہو جانے کے بعد ایک تیر پاؤں میں لگنے سے ہوئی، اس وقت آپ کی عمر ساٹھ (۶۰) سال تھی۔

۲۶۔ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عامر بن فہیرہ ہے، آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، آپ کی کنیت ’’ابو عمر‘‘ ہے، آپ قدیم الاسلام ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دارارقم میں تشریف آوری سے پہلے ہی ایمان لے آئے تھے، آپ ہجرت کے چوتھے سال بئر معونہ کے موقع پر شہادت سے سرفراز ہوئے، اس وقت آپ کی عمر مبارک چالیس (۴۰) سال تھی۔

۲۷۔ حضرت عبد اللہ بن اَرقم رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ بن اَرقم بن عبد یغوث بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ ہے، آپ فتح مکہ والے سال ایمان لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے بھی آپ نے کتابت کی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال پر عامل بنایا تھا۔

۲۸۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام ’’حباب‘‘ تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام ’’عبد اللہ‘‘ رکھا، آپ کا والد عبد اللہ بن ابی منافقین کا سردار تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی (جو سچے مومن تھے) تعریف فرمایا کرتے تھے۔ آپ یمامہ کے دن شہید ہوئے۔

۲۹۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ

آپ کا اسم گرامی عبد اللہ بن رواحۃ بن ثعلبۃ بن امرئ القیس بن عمرو ہے، آپ کی کنیت ’’ابومحمد‘‘ ہے، آپ فتح مکہ سے پہلے کے تمام معرکوں غزوۂ بدر، احد، خندق، حدیبیہ، عمرۃ القضاء وغیرہ میں شریک ہوئے، آپ مؤتہ کے دن شہید ہوئے، آپ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ہونے کے علاوہ ان شعراء میں سے بھی ایک تھے جو کفار کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشعار کے ذریعہ دفاع کیا کرتے تھے۔

۳۰۔ حضرت عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح بن حارث بن حبیب بن جذیمۃ بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی ہے، آپ کی کنیت ’’ابو یحیٰی‘‘ ہے۔ آپ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے اور ہجرت کی، آپ وحی لکھا کرتے تھے، پھر یہ —العیاذ باللہ— مرتد ہو گئے اور مکہ کی طرف لوٹ گئے، فتح مکہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا کہ اگر یہ کعبہ کے غلاف میں بھی چھپیں تو انہیں قتل کر دیا جائے، تو یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑے، کیونکہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے، بہرحال انہیں پناہ دی گئی، پھر بعد میں یہ دوبارہ مسلمان ہوئے اور ان کا اسلام خالص رہا۔

۳۱۔ حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم بن یقظۃ بن مرۃ ہے، آپ کی کنیت ’’ابو سلمۃ‘‘ ہے اور آپ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے، آپ، دس آدمیوں کے بعد ایمان لے آئے تھے اور اپنی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور آپ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے شخص ہیں، آپ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ آپ نے دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف کی اور آپ بدر میں بھی شریک ہوئے، احد میں آپ زخمی ہوئے اور پھر اسی زخم کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۳۲۔ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ بن زید ہے، آپ کی کنیت ’’ابو محمد‘‘ تھی، آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقبہ، بدر اور دوسرے غزوات میں شریک ہوئے، آپ کو ہی خواب میں اذان کا طریقہ کار بتلایا گیا تھا اور آپ کے خواب کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ان کے خواب کے مطابق تعمیل کا حکم دیا، آپ ۳۲ھ میں ۶۴ سال کی عمر میں داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

۳۳۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو ہے، آپ کی کنیت ’’ابو عبد اللہ‘‘ اور ’’ابو محمد‘‘ ہے، آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمان پر والی مقرر فرمایا تھا اور پھر آپ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے تک عمان کے والی رہے، آپ نے حضرات خلفائے راشدین اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا۔

۳۴۔ حضرت العلاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ

آپ کا نام عبد اللہ بن عماد ہے، آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کا والی مقرر کیا تھا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اسی ولایت پر برقرار رکھا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بصرہ کا عامل بنایا۔

۳۵۔ حضرت العلاء بن عقبۃ رضی اللہ عنہ

’’ابنِ عبد الکریم الحلبی‘‘ نے ’’شرح السیرۃ‘‘ اور ’’ابن الاثیر‘‘ نے آپ کے احوال میں لکھا ہے کہ آپ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں سے تھے۔

۳۶۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ

ابنِ سعدؒ نے آپ کا ذکر تو کیا ہے، لیکن نسب و حالات بیان نہیں کئے۔

۳۷۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام محمد بن مسلمہ بن سلمہ بن خالد بن عدی ہے، آپ کی کنیت ’’ابو عبد الرحمٰن‘‘ ہے، آپ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شریک ہوئے، آپ نے ۴۳ھ میں ۷۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔

۳۸۔ حضرت معاویہ بن اَبی سفیان رضی اللہ عنہ

آپ کا نام ’’معاویہ‘‘ تھا اور آپ کی کنیت ’’ابو عبد الرحمٰن‘‘ ہے۔ آپ، ابنِ خطل کے مرتد ہونے کے بعد کتابت کیا کرتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو شام کا والی مقرر کیا، آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے اور آپ کی وفات جمعرات کے دن دمشق میں ۵۹ھ میں ۸۲ سال کی عمر میں ہوئی۔

۳۹۔ حضرت معیقیب بن اَبی فاطمہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام معیقیب بن اَبی فاطمہ ہے، آپ، قدیم الاسلام ہیں، آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بیت المال پر عامل مقرر کیا تھا، آپ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سالوں میں فوت ہوئے۔

۴۰۔ حضرت المغیرۃ بن شعبہ رضی اللہ عنہ

آپ کا نام المغیرۃ بن شعبۃ الثقفی بن اَبی عامر بن مسعود ہے، آپ کی کنیت ’’ابو عبد اللہ‘‘ ہے، آپ خندق والے سال (۶ ہجری) میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے، آپ، ۵۰ھ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

۴۱۔ حضرت حصین بن نمیر رضی اللہ عنہ

آپ اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہما، دونوں دیون اور معاملات لکھا کرتے تھے۔

۴۲۔ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

آپ کا نام یزید بن ابی سفیان ہے، آپ کو ’’یزید الخیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، آپ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور حنین میں شریک ہوئے، آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم میں سے ۱۰۰ اونٹ عطا فرمائے، آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فلسطین اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں عامل مقرر کیا، آپ، ۱۸ھ میں طاعون عمواس میں اس دارِفانی سے رخصت ہوئے۔

۴۳۔ رجل من بنی النجار رضی اللہ عنہ

کاتبانِ وحی کی کتابوں میں ’’رجل من بنی نجار‘‘ کا ذکر ملتا ہے، لیکن ان کے نام اور حالاتِ زندگی سے کتابیں خاموش ہیں۔

نوٹ:- کتابوں میں، ابنِ خطل کا نام بھی کاتبین میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس کے عمداً‌ کتابت میں غلطی کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہٹا دیا تھا اور بعد میں وہ مرتد ہو گیا پھر فتح مکہ کے موقع پر قتل ہوا۔

حواشی

(1) التراتیب الإداریۃ والعمالات والصناعات والمتاجر والحالۃ العلمیۃ التی کانت علی عہد تأسیس المدنیۃ الإسلامیۃ فی المدینۃ المنورۃ العلمیۃ، للکتانی، دار الأرقم۔ بیروت، الطبعۃ الثانیۃ، ج: ۱، ص: ۱۵۲
(2) المصباح المضی فی کتاب النبی الأمی ورسلہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی ملوک الأرض من عربی و عجمی، للشیخ جمال الدین ابن حدیدۃ، عالم الکتب۔ بیروت، ص ۲۹ تا ۱۶۷
(3) مسند أحمد، ج: ۲۷، ص: ۳۵۴

(’’کتابت قرآن کریم کے مختلف مراحل اور ان کا تاریخی پس منظر‘‘ ص ۱۴۶ تا ۱۵۴ مطبوعہ ’’ادارۃ المعارف کراچی ۱۴‘‘ طبع جنوری ۲۰۲۴ء)

قراءتِ حدیث اور اس کی اقسام

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

مترجم : ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

ایک دفعہ شہر خدا، مکہ مکرمہ سنہ ۱۴۴۳ھ میں مجھے عربی خانوادے کے ایک صاحبِ علم و کرم کے گھر میں علما و محققین کی ایک مجلس میں حاضری کا موقع ملا۔ ان کے درمیان کتبِ حدیث کی قراءت کے بارے میں بحث چل نکلی۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ قراءتِ حدیث کی اقسام اور اس کے مقاصد کا مکمل احاطہ نہیں کر پا رہے، ان کی آرا باہم ٹکرا رہی ہیں، اقسام کو آپس میں خلط ملط کر رہے ہیں، اور قراءتِ حدیث کے مختلف پہلؤوں اور انواع کو صحیح طریقے سے علاحدہ علاحدہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ قصہ طاقِ نسیاں کی نذر ہونے ہی لگا تھا کہ کچھ مبتدی لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ میرے سکہ بند دوستوں کی شان گھٹانے میں لگے ہیں اور حدیث پڑھنے پڑھانے اور سماعِ حدیث میں مشغول اصحابِ علم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ یہ بیماری آگے بڑھ کر بھلے لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی تو میں کبھی بھی ان کی تنقید کی پروا نہ کرتا اور نہ ہی یہ مقالہ لکھنے کے لیے تیار ہوتا۔
علوم و فنون کے حصول اور ان میں مہارت پیدا کرنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ یہ بات کسی ذہین و ماہر اور باکمال عقل مند شخص سے پوشیدہ نہیں۔ علمِ حدیث انھی علوم و فنون کا حصہ ہے۔ اسے حاصل کرنے کے بھی بہت سے طریقے ہیں۔ ان تمام طریقوں کا خلاصہ تین قسموں میں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ مکمل تفصیل سے بحث و تحقیق کے ساتھ علم حدیث پڑھا جاے
۲۔ حدیث پڑھتے ہوے متوسط درجے کی تشریح کی جاے
۳۔ حدیث کی صرف تلاوت کی جاے
اب میں ان تینوں اقسام کی ناواقف یا تجاہلِ عارفانہ سے کام لینے والوں کے لیے تشریح کرتا ہوں:

قسم اول:

طالب علم اپنے استاد کے سامنے بیٹھ کر حدیث کی مکمل کتاب یا اس کا کچھ حصہ پڑھے۔ استاد پڑھاتے ہوے عبارت کی تصحیح، ضبط و اتقان کا خیال رکھے، متن کی تفصیلی تشریح کرے اور سند و متن کی ہر آسان و مشکل چیز کی وضاحت کرے۔ اس طریقے سے طالب علم اسماء الرجال، طبقاتِ محدثین، سند و متن میں موجود علل، الفاظ کے معانی، متونِ حدیث میں موجود مشکل مقامات اور فقہاء کے اختلافات سیکھ جاتا ہے۔ اس طریقۂ تدریس میں تفصیلی شرح اور کامل وضاحت ہوتی ہے۔
اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ اصولِ ستہ میں سے کسی کتاب کو بھی اس طریقے کے مطابق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین پہلے سند سے خالی متون طلبہ کو پڑھاتے ہیں، پھر اسی منہاج کو سامنے رکھتے ہوے کتبِ اصول میں سے چند ابواب پڑھاتے ہیں، جس سے علم اور اس کے متعلقات کا طالب علم کے سامنے واضح تصور آجاتا ہے اور فہمِ حدیث کی مکمل مشق ہو جاتی ہے۔ عام اساتذہ اس حوالے سے بہ تدریج آگے بڑھتے ہیں۔ سب سے پہلے اربعینِ نووی، تہذیب الاخلاق، ریاض الصالحین اور بلوغ المرام پڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ اور آخر میں جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، صحیح مسلم، صحیح بخاری اور تمام کتبِ اصول کی تدریس ہوتی ہے۔

قسم دوم:

طالب علم استاد کے سامنے موطا، اصولِ ستہ، مسند احمد بن حنبل وغیرہ پڑھے۔ استاد کلمات کے زیر زبر کا خیال رکھے، مشکل مقامات حل کرے، روات کے ناموں، کنیتوں، صفات اور نسخوں کے اختلافات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اسانید و متون کی ہلکے پھلکے انداز میں تشریح کرتا جاے۔ حدیث پڑھنے کا یہ طریقہ مضبوط اور بہت عمدہ ہے۔ یہی طریقہ محدثین کے ہاں رائج رہا ہے۔ اس میں اعتدال ہے۔ بڑے محدثین کا طریقۂ تدریس بھی یہی تھا۔ ان کی یہ مختصر تشریحات متونِ حدیث کے ساتھ نقل ہوتی آئی ہیں، جنھیں ’’مدرجات‘‘ کہا جاتا ہے۔
  • شیخ عابد سندھی کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ کتبِ ستہ روایت و درایت دونوں کا لحاظ رکھتے ہوے چھ مہینوں میں ختم کرتے تھے۔
  • مولانا فضل الرحمان گنج مراد آبادی کے شاگرد و مرید احمد ابو الخیر مکی فرماتے ہیں کہ میرے شیخ نے اپنے استاد مولانا محمد اسحاق دہلوی سے صحیح بخاری دس سے زیادہ دنوں میں پڑھ کر ختم کی۔
  • حافظ عبد الحي کتانی اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ انھوں نے جامع قرویین کی بیرونی محراب میں بیٹھ کر پچاس مجالس میں صحیح بخاری تحقیق و تدقیق کے ساتھ پڑھا کر ختم کی۔ اس میں وہ ابوابِ حدیث اور محلِ استدلال سے متعلق ہر چھوٹی بڑی چیز بیان کرنے کے علاوہ خوب صورت نکات بھی ذکر کرتے گئے۔
یہ سب مثالیں اسی دوسری قسم میں شامل ہیں۔

قسم سوم:

سرد حدیث، یعنی طالب علم استاد کے سامنے صرف حدیث کی قراءت کرتا جاے اور استاد اس پر کوئی تشریح یا تبصرہ نہ کرے۔ قراءت کا یہ انداز پہلے دو طریقوں سے فارغ ہونے کے بعد اختیار کیا جاتا ہے۔ طالب علم متونِ حدیث کا مفہوم جان چکا ہے، اسانید کے مباحث اسے معلوم ہوچکے ہیں، لہٰذا اس اندازِ قراءت میں اس کی دہرائی اور یاددہانی ہو جاتی ہے، اسی طرح نئی اسانید و طرق بھی اس کی نظر سے گزر جاتے ہیں۔
’’سرد حدیث‘‘ کے کئی فوائد ہیں، ان میں چند فوائد ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
  1. کتب حدیث کی حفاظت: اگر محدثین صرف انھی احادیث کو ہی پڑھتے پڑھاتے رہتے، جو انھوں نے اپنے شیوخ سے ضبط و تشریح کے ساتھ پڑھی ہیں، تو ہزاروں کی تعداد میں موجود دیگر تصنیفات ضائع ہو جاتیں، اور بہت سی احادیث نظروں سے اوجھل رہتیں، لہٰذا اپنی عقلِ سلیم کی بہ دولت انھوں نے ’’سرد حدیث‘‘ کے طریقے کو اپنایا اور ہزاروں احادیث سننے اور بے شمار کتب و اجزا پڑھنے کا انھیں موقع ملا۔
  2. یاددہانی (مذاکرہ): ایک عالم اپنی پڑھی اور سنی ہوئی چیزوں کو بھول سکتا ہے۔ ’’سرد حدیث‘‘ کے ذریعے وہ احادیث یاد رکھ لے گا۔ مذاکرہ ایک معروف طریقہ ہے۔ محدثین ایک ہی مجلس میں ہزار یا اس سے زیادہ احادیث پڑھ لیتے تھے۔
  3. احادیث کی تلاش میں مدد: سرد حدیث سے متابعات و شواہد کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔ کبھی کبھار یہ لگتا ہے کہ فلاں حدیث (مثال کے طور پر) صحابہ میں سے صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے یا ائمہ کرام میں صرف سفیان بن عیینہ نے ہی اسے روایت کیا ہے۔ جب ’’سرد حدیث‘‘ کے طریقے کو اپنا کر تصنیفات و اجزاے حدیث کی تلاوت کی جاتی ہے تو جلد ہی ابوہریرہ کی حدیث کے شواہد اور سفیان بن عیینہ کے متابع مل جاتے ہیں۔
  4. فہمِ دین (تفقہ): کتابوں کے مصنفین ایک ہی حدیث کو مختلف ابواب میں نقل کر کے اس پر ’’تراجم‘‘ کی شکل میں مختلف عناوین ذکر کرتے ہیں۔ ’’سرد حدیث ‘‘ سے (ان تراجم کی بہ دولت) حدیث کے دیگر مطالب بھی طالب علم کے سامنے آجاتے ہیں، جس سے اس کے فہمِ دین میں اضافہ ہوتا ہے۔
  5. کثرتِ ذکر: ’’سرد حدیث ‘‘ کی وجہ سے خدا کے ناموں اور صفات کا ذکر، اس کی حمد و تسبیح، بزرگی اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کا موقع زیادہ حاصل ہوتا ہے۔
  6. نیکوکاروں سے تعلق: ’’سرد حدیث‘‘ کے دوران میں محدثین کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم، ائمۂ تابعین اور تمام صلحاے امت کے نام آتے ہیں، جس کی وجہ سے پڑھنے والوں کے دل میں ان کی محبت کے جذبات موج زن ہوتے ہیں اور پھر سیرت و کردار میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق ملتی ہے۔ اسی بنا پر ہم نے دیکھا ہے کہ سب سے زیادہ محدثین ہی ’’سلف ‘‘ کی پیروی کرتے ہیں اور نیکی میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔
  7. رحم دلی: تلاوتِ حدیث کی مجلس میں مختلف قبیلوں، زبانوں اور دور دراز علاقوں کے لوگ مل بیٹھ کر آپس میں رحم دلی اور محبت بانٹتے ہیں اور دوست بن جاتے ہیں۔ اکیلی یہی رحم دلی شریعت کا بہت بڑا مقصد ہے۔

سرعت قراءت سے متعلق علما کی راے:

سرعت قراءت کے جواز سے متعلق علما کی راے مشہور ہے۔ تیزی سے پڑھنے کی بنا پر اگر کچھ کلمات و حروف سننے سے رہ جائیں تو اس کمی کو ’’اجازتِ حدیث‘‘ کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ ابن صلاح وغیرہ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث پڑھنے والا تیزی سے پڑھے اور دور بیٹھا سامع متن کا کچھ حصہ صحیح نہ سن سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایسی حدیث کو آگے بیان کیا جا سکتا ہے۔ اگر سننے والا پڑھی جانے والی چیز کو سمجھ پا رہا ہے تو اس کا ’’سماع‘‘ صحیح ہے۔ مناسب یہی ہے کہ اس کے ساتھ ’’اجازتِ حدیث‘‘ بھی شامل کر لی جاے تاکہ سننے میں اگر کوئی کمی ہو تو ’’اجازت‘‘ سے پوری ہو جاے۔ امام عبد الرحمان مہدی اور دیگر کئی حفاظِ حدیث سے روایت ہے:
يكفيك من الحديث شمّه
(تمھارے لیے حدیث کی خوش بو کافی ہے)

سلف صالحین اور سرعت قراءت:

خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے مکہ مکرمہ میں کریمہ مروزیہ کے سامنے پانچ دن میں صحیح بخاری پڑھ کر ختم کی اور لوگوں نے ان کی قراءت سے صحیح بخاری سنی۔ شذرات الذہب میں برہان ابراہیم بن محمد بن ابراہیم بقاعی حنبلی کے حالات میں لکھا ہے کہ انھوں نے علامہ بدر الغزی کے سامنے بیٹھ کر مکمل صحیح بخاری چھ دن میں ختم کی۔ سخاوی فرماتے ہیں کہ ان کے شیخ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سنن ابن ماجہ چار مجلسوں میں ختم کی اور اختتامی مجلس کو چھوڑ کر صحیح مسلم چار مجالس میں پڑھ کر ختم کی۔ اس سارے عمل میں تقریبا دو سے کچھ زیادہ دن لگے۔۔۔۔ سخاوی کہتے ہیں: سرعت قراءت میں ہمارے شیخ کی جو سب سے بڑی مثال سامنے آئی کہ انھوں سفرِ شام کے دوران میں ظہر اور عصر کے درمیان ایک مجلس میں طبرانی کی معجم صغیر پڑھ کر ختم کی۔ حافظ ابن حجر کی زندگی میں سرعت قراءت کی یہ سب سے بڑی مثال ہے۔ فرماتے ہیں: ایک جلد کی اس کتاب میں تقریبا پندرہ سو احادیث ہیں۔

مجلس سماع میں کم عمر بچوں کی حاضری:

قراءتِ حدیث کی پہلی دو اقسام حاصل کیے بغیر چھوٹے بچوں کو ’’سرد حدیث‘‘ کی مجالس میں محدثین حاضر ہونے کی اجازت دیتے ہیں، تاکہ انھیں ان مجالس کی برکت حاصل ہو، حدیث سے ان کا تعلق مضبوط ہو، اور محبتِ حدیث میں ان کی اٹھان ہو۔ اس کے بعد وہ ضبط و اتقان اور تشریح کے ساتھ حدیث پڑھ لیں گے۔ حافظ ابو الحجاج مزی کے زمانے میں مجلسِ سماع میں چھوٹے بڑے اور عرب و عجم وغیرہ حاضر ہوتے، ان میں سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ بھی ہوتے اور ایسے بھی ہوتے جو کلامِ نبوی سمجھ نہ سکتے۔ حافظ مزی کے سامنے ہی ان سب کا نام ’’سماعِ حدیث‘‘ میں لکھا جاتا۔ قاضی تقی الدین سلیمان کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کی مجلس میں کسی نے بچوں کو کھیلنے کی وجہ سے جھڑکا۔ انھوں نے کہا: انھیں نہ جھڑکو، ہم نے انھی کی طرح حدیث سنی۔ تم بھی پہلے اسی طرح تھے، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا۔

کیا ’’سرد حدیث‘‘ کا انداز روایتِ حدیث میں معتبر ہے؟

اگر کوئی سوال کرے کہ روایت حدیث میں ’’سرد حدیث‘‘ کے طریقے پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: قرونِ اولیٰ میں احادیث و روایات ایسی تیز رفتاری سے پڑھ کر نقل نہیں کی گئیں۔ یہ انداز اس وقت اختیار کیا گیا جب کتابیں لکھی جا چکیں، تصنیفات منظر عام پر آگئیں، اور احادیث و آثار مضبوطی اور عمدگی کے ساتھ محفوظ ہو گئے۔
جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ’’سرد حدیث‘‘ مختلف ذرائع میں سے صرف ایک ذریعۂ علم ہے، جس کا نمبر پہلی دو قسموں کے بعد آتا ہے۔ ان دو قسموں میں ضبط و تصحیح اور تشریح و توضیح کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مولانا یونس جون پوری، شیخ محمد عوامہ، شیخ نور الدین عتر، شیخ عبد الوکیل ہاشمی، شیخ احمد علی سورتی اور شیخ یحیی ندوی وغیرہ ایسے شیوخ ہیں، جو پہلے دو طریقوں سے حدیث پڑھانے میں مشہور ہیں، عموماً‌ ایسے ہی شیوخ سے ہم نے ’’سرد حدیث‘‘ کے ذریعے کلامِ نبوی حاصل کیا۔
ہمارے دوستوں میں حدیث کی قراءت کرنے والے، جن کی قراءت کے ذریعے ہم نے حدیث سنی، بہت زیادہ ہیں۔ ان لوگوں نے اولین درجے میں عربی زبان کی نحو، صرف اور بلاغت پر عبور حاصل کیا اور پہلے دو طریقوں کے مطابق حدیثِ نبوی کا علم حاصل کیا۔ اس کے بعد ’’سرد حدیث‘‘ کی طرف متوجہ ہوے۔ ان میں سے شیخ صفوان داؤدی، شیخ مجد بن احمد مکی، شیخ حامد اکرم بخاری، شیخ احمد عاشور، شیخ محمد بن ابی بکر باذیب، شیخ وائل حنبلی، شیخ عمر نشوقانی، شریف حمزہ کتانی، محقق خالد سباعی وغیرہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ ان میں محدث محمد زیاد تکلہ، محقق محمد بن عبد اللہ الشعار اور فقہ و اصول کے ماہر عبد اللہ التوم سب سے زیادہ تیز پڑھتے ہیں۔
یہ سب نحو و لغت میں دستگاہ رکھتے ہیں، غلطی و خطا بچتے ہیں اور دوسروں کی غلطیاں بھی درست کرتے ہیں۔

مدرسہ، منبر، فرقہ واریت، مذہبی سیاست اور برطانوی استعمار

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مدرسہ، منبر، فرقہ واریت اور مذہبی سیاست، یہ سب مظاہر موجودہ شکل میں برطانوی استعمار کے تسلط سے پیدا ہونے والے تاریخی انقطاع سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ماقبل استعمار معاشرے میں مدرسہ، وقف کے نظام سے چلتا تھا اور صرف ’’متخصص علماء’’ پیدا کرتا تھا۔ انھی کو ریاستی نظام میں قضاء وافتاء کے مناصب بھی سپرد کر دیے جاتے تھے۔ استعماری غلبے سے یہ دونوں بندوبست ختم ہو گئے اور معاشرے میں ایک بحرانی نوعیت کا انقطاع واقع ہو گیا۔ مدرسے کا ادارہ اور علماء کا طبقہ، جو پہلے اشرافیہ کی سرپرستی سے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے تھا، نئے حالات میں اپنے اثر ورسوخ کا مرکز عوامی طبقات کو بنانے پر مجبور ہوا۔ استعمار نے اگر ایک طرف انقطاع پیدا کیا تو دوسری طرف وہ اپنے ساتھ طباعت، ابلاغ اور نقل وحرکت کے وسائل کی صورت میں نئے ’’مواقع’’ بھی لے کر آیا تھا۔ ان سے بھرپور مدد لیتے ہوئے طبقہ علماء نے اپنے اثر ورسوخ کے مرکز کو اشرافیہ سے عوام میں منتقل کر دیا۔

اوپر جن دو پلیٹ فارمز یعنی مدرسہ اور منبر کا اور دو مظاہر یعنی فرقہ واریت اور مذہبی سیاست کا ذکر ہوا، وہ اس تحول کے براہ راست نتائج ہیں۔ اس سلسلے میں منبر کی proliferation میں بنیادی کردار اہل حدیث تحریک نے اور مدرسے کی proliferation میں بنیادی کردار دیوبندی علماء نے ادا کیا اور دونوں پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنی اپنی مسلکی عصبیت کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اہل حدیث علماء نے جمعے کے لیے ’’مصر جامع’’ کی حنفی شرط کو چیلنج کرتے ہوئے جگہ جگہ جمعے کے خطبے شروع کیے، کیونکہ یہ ایک بہت کارآمد اور موثر پلیٹ فارم تھا۔ دیوبندی علماء نے شروع میں اس رجحان کی مزاحمت کی کوشش کی، لیکن رفتہ رفتہ انھیں بھی ہتھیار پھینک کر اس مسابقت کا حصہ بننا پڑا۔

مدرسے کے ادارے کا پھیلاو دیوبندی حکمت عملی کا بنیادی ستون رہا ہے اور اسی لیے آج مدارس کا سب سے بڑا اور موثر نیٹ ورک دیوبندی مدارس ہی کا ہے۔ اکثریتی سنی طبقہ ان دونوں میدانوں میں بعد میں ضرورتاً‌ متحرک ہوا اور سنی بریلوی عصبیت کا بنیادی انحصار آج بھی مذہبیت کے روایتی سماجی ڈھانچے اور درگاہوں اور مزاروں وغیرہ پر ہے۔ مدارس اور منبر کا کردار ان کے مقابلے میں ثانوی ہے۔

اثر ورسوخ کا مرکز عوام کی طرف منتقل کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مذہبی طبقوں نے سیاسی طاقت کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا۔ قطعاً‌ نہیں، بلکہ یہ نئی حکمت عملی دراصل سیاسی طاقت کے مراکز تک رسائی حاصل کرنے کا ہی ایک ذریعہ تھی۔ مدرسے کے پھیلاو کی حکمت عملی کی طرح اس نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی عوامی قوت کو سیاسی قوت کی شکل دینے میں بھی دیوبندی علماء نے سبقت لی، جس سے مذہبی سیاست میں اس نمایاں مقام اور کردار کی توجیہ ہوتی ہے جو ہمیشہ دیوبندی قیادت کو حاصل رہا ہے۔

موجودہ صورت حال کے اس تاریخی پس منظر کو کسی بھی تجزیے یا کسی بھی عملی پیش رفت میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر کے مذہبی واخلاقی مواعظ سے صورت حال میں کسی بامعنی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔


’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۲)

مصنف : ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : محمد یونس قاسمی

 باب اول — ارتقا کیا ہے اور کیا نہیں ہے

تعارف

ڈاکٹر تھیوڈوسیئس ڈوبژانسکی (Theodosius Dobzhansky) نے ایک مشہور جملہ کہا تھا: "حیاتیات میں کوئی بھی چیز اس وقت تک مکمل طور پر سمجھ نہیں آتی جب تک کہ اسے ارتقا کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔" اگرچہ کچھ افراد اور گروہ اس بیان سے اختلاف رکھتے ہیں، جیسا کہ ہم باب 2 اور 4 میں تفصیل سے دیکھیں گے، لیکن سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنسی تناظر میں "ارتقا" کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ارتقاکو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے بنیادی اصولوں، ان شواہد، اور ان سائنسی طریقوں کو سمجھیں جنہوں نے اس نظریے کو تشکیل دیا۔ یہ وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ ارتقاء کے تصور کو اکثر غلط سمجھا گیا ہے اور کئی مواقع پر اسے شعوری یا غیر شعوری طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ارتقا کی وضاحت کے بغیر، اس کی حقیقت اور حیاتیاتی دنیا میں اس کی اہمیت کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ ارتقا کا صحیح ادراک نہ صرف حیاتیاتی علوم کے لیے اہم ہے بلکہ یہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہاں مصنف نے ایک ڈایا گرام پیش کیا ہے جو عالمی اور عوامی ثقافت میں عام ہو چکا ہے، اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ارتقا  کی نمائندگی کے لیے ایک مرکزی علامت بن چکا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈایاگرام غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہ تصویر اس غلط تصور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر چکی ہے کہ انسان بندروں کی اولاد ہیں (Hatcher 2018, 91)۔
چونکہ ایسے تصورات ہماری معاشرتوں میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ارتقا کے نظریے کو احتیاط سے کھولا جائے اور اس کے بنیادی اصولوں کو مرحلہ وار وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ یہ باب ارتقا کے سائنسی پہلو کا تعارف فراہم کرتا ہے۔اگر قاری پہلے سے ارتقا کے سائنسی نظریے سے واقف ہے تو ممکن ہے کہ یہ باب ایک جائزہ یا غیر ضروری طور پر سبق  دہرانے کے مترادف لگے۔ ایسی صورت میں، اگلے باب کی طرف بڑھنا بہتر ہو سکتا ہے، لیکن اختتامیہ کا مطالعہ کتاب کے باقی حصے کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ارتقا کے ناقدین یا شکوک رکھنے والے افراد کے لیے یہ باب شاید بنیادی نوعیت کا محسوس ہو، لیکن اسے ارتقاکے سائنسی پہلو کو آسان اور واضح زبان میں پیش کرنے کے لیے لکھا گیا ہے تاکہ آئندہ ابواب میں مذہبی اور الٰہیاتی مباحثے کی بنیاد رکھی جا سکے۔متجسس یا تنقیدی قارئین کے لیے، مرکزی متن اور حواشی میں متعدد حوالہ جات درج کیے گئے ہیں، جو اس باب کے ترجمہ کے اختتام پر حوالہ جات کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس باب میں چار حصے ہیں۔ پہلا اور دوسراحصہ  ارتقاکے سائنسی اصولوں اور ارتقا کے شواہد پر مشتمل ہے۔یہاں  ارتقا کی جو معیاری تصویر پیش کی جاتی ہے، یعنی نیو -ڈارونزم یا جدید ترکیب، اس پر بات کی جائے گی۔ جب ارتقا  کے نظریے کی تاریخ پر بات کی جائے گی تو یہ واضح کیا جائے گا کہ ڈارونزم اور نیو-ڈارونزم میں کیا فرق ہے، جو اس باب کا تیسرا حصہ ہوگا۔   ارتقا کی تاریخی تفصیل کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ چارلس ڈارون کے نظریے نے کس طرح ترقی کی اور دیگر حریف نظریات کوکیسے پیچھے چھوڑا۔ اس حصے میں ارتقائی حیاتیات دانوں کے درمیان موجود کچھ جدید مباحثوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی، جن میں سے بعض یہ تجویز کر رہے ہیں کہ نیو-ڈارونزم کو دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔  آخری حصہ ارتقا  کے مخالفین کی جانب سے پیش کی جانے والی اہم تنقیدوں کا جائزہ لے گا۔ (آج کی قسط میں پہلا اور دوسرا حصہ پیش کیا جارہا ہے )

 ارتقا کے اصول 

عام زبان میں "ارتقا" کے کئی معانی ہوتے ہیں، مگر عموماً اس سے دو مفہوم وابستہ ہوتے ہیں، جو ایک دوسرے سے متناقض نہیں ہیں۔ پہلے کا مطلب ہے تبدیلی، یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا۔ دوسرا مفہوم ارتقا کے حوالے سے مثبت نوعیت کی ترقی ہے، جسے "devolution" کے برعکس سمجھا جاتا ہے، جو منفی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔  یہ عام تصورات سائنسی تعریف کے کچھ پہلوؤں سے ملتے جلتے ہیں لیکن کچھ لحاظ سے مختلف بھی ہیں۔ اس فرق کے پیش نظر، ہمیں سائنسی اصطلاح "ارتقاء" کو احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے (Cambridge Dictionary 2020a; Oxford English Dictionary 2020a)۔

بنیادی خیال

ایک سادہ مثال کے طور پر، ہم سب مختلف انواع سے واقف ہیں۔ ہمارے پاس پالتو بلیاں اور کتے ہیں، چڑیا گھروں میں شیر دیکھتے ہیں، مکھیاں ہمیں روزانہ پریشان کرتی ہیں، باغات میں خوشبو دینے والے گلاب ہیں، درخت ہیں جو ہمیں دھوپ میں سایہ دیتے ہیں، اور ہم خود  انسان، ہیں۔ یہ سب مختلف حیاتیات ہیں، لیکن ارتقا ہمیں بتاتا ہے کہ اگرچہ ہم سب مختلف ہیں، ہم سب کی ایک مشترک تاریخ اور نسلی تعلق ہے۔ ہم سب ارتقائی عمل کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے جیسے ایک بچہ اپنے والدین سے آتا ہے، جو خود اپنے والدین سے، اور وہ اپنے والدین سے آئے ہیں۔ ارتقا  اسی خیال کو پورے حیاتیاتی نظام پر لاگو کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی ابتدا ایک ایسی نوع سے ہوئی تھی جو خودانسان نہیں تھی، اور یہ سلسلہ وقت کے ساتھ پچھلی انواع سے جڑتا ہے۔ اگر ہم وقت میں پیچھے جائیں، تو آخرکار ہم زندگی کے ابتدائی مراحل تک پہنچتے ہیں، جہاں سے ارتقا  کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہاں مصنف نے اصل کتاب کے صفحہ  24 پر ایک شکل دکھائی ہے جو  ارتقا  کا ایک سادہ جائزہ پیش کرتی ہے (اس میں وقت کی مدت پر غور کرنے کی ضرورت ہے)۔ یہ ارتقا کی ایک ٹائم لائن ہے جو 3.5 ارب سال پہلے سے زندگی کی عمومی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ 3.5 ارب سال سے 550 ملین سال پہلے تک ہم ابتدائی زندگی کی شکلیں جیسے بیکٹیریا دیکھتے ہیں۔ 550 ملین سال کے بعد، جسے کیمبرین دھماکہ(Cambrian explosion)  کہا جاتا ہے، زندگی کی پیچیدگی میں عمومی اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں مچھلیاں، چھپکلیاں، ڈایناسارز، پرندے اور انسان شامل ہیں جو بہت حال ہی میں منظر پر آئے۔

جینیوٹائپ (Genotype) اور فینیوٹائپ (Phenotype)

ارتقا کو سمجھنے کے لیے ہمیں جینیوٹائپ اور فینیوٹائپ کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہوگا۔ جب والدین بچے پیدا کرتے ہیں، تو بچے عام طور پر اپنے والدین سے مشابہت رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی ان میں کچھ فرق بھی پایاجاتا ہے۔ یہ فرق جینیاتی مواد یعنی جینیوٹائپ کی وجہ سے ہوتا ہے، جو ہمارے ڈی این اے میں موجود ہوتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہم کس طرح نظر آئیں گے (مثلاً بالوں کا رنگ)، ہماری عادات (جیسے کھانے کی عادات) اور صحت کی حالت۔ ڈی این اے بچوں میں کروموسومز کے طور پر منتقل ہوتا ہے، اور یہ والدین کا مرکب ہوتا ہے، یعنی آدھا حصہ والدہ سے اور آدھا والد سے آتا ہے(Urry et al. 2016, 254–268) ۔ جینیوٹائپ اور فینیوٹائپ میں یہ فرق ظاہر ہوتا ہے کہ جینیوٹائپ جینیاتی سطح پر ہوتا ہے جبکہ فینیوٹائپ وہ قابل مشاہدہ خصوصیات ہیں جو جینیوٹائپ کے اظہار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ جب جینیوٹائپ فینیوٹائپ میں تبدیل ہوتا ہے تو اسے جین ایکسپریشن  (gene expression)کہا جاتا ہے(Urry et al. 2016, 335) ۔ مثلاً اگر بچے کے جینیاتی کوڈ میں کالے بالوں کا جین ہو تو وہ کالے بال ظاہر کرے گا۔ یہاں مصنف نے ایک تصویر کے  ذریعے ایک انسانی جسم کے حیاتیاتی پیمانے کی وضاحت  کی ہے۔ ہم جسم سے دل تک زوم کرتے ہیں، پھر دل کو خلیات تک، اور مزید قریب جا کر ڈی این اے کو دیکھتے ہیں۔ ڈی این اے جینوٹائپ کہلاتا ہے، جو ایک بلیو پرنٹ کا کام کرتا ہے۔ جب یہ ڈی این اے ظاہر ہوتا ہے، تو انسانی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے، جنہیں فینوٹائپ کہا جاتا ہے۔ ( اس تصویر  کو اصل کتاب کے صفحہ 25 پر دیکھا جاسکتا ہے۔)
ارتقا کے عمل اور ارتقا کے نمونہ میں تفریق کرنا اس مرحلے پر مددگار ثابت ہوگا۔ ارتقا کا عمل (یہ کیسے ہوتا ہے) وہ طریقے ہیں جو حیاتیاتی تبدیلیوں کو پیدا کرتے ہیں، جیسے قدرتی انتخاب اور جینیاتی تغیر۔ اس کے مقابلے میں ارتقا کا نمونہ (کیا ہوتا ہے) اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ارتقا کے ذریعے کون سی خصوصیات یا انواع ظاہر ہوتی ہیں۔ ہم سب سے پہلے ارتقا کے عمل پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ارتقا کا عمل

ارتقا کے عمل کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مائیکرو ارتقا  (microevolution)اور میکرو ارتقا (macroevolution)۔ مائیکرو ارتقا سے مراد ایک ہی نوع (specie) کے افراد کے درمیان تبدیلیاں ہیں، جیسے دو بلیوں کا مختلف رنگ ہونا۔ میکرو ارتقا  سے مرادمختلف انواع (species) کے درمیان تبدیلی ہے، مثلاً مچھلیوں کا رینگنے والے جانوروں میں تبدیل ہونا (Urry  et  al.  2016, 484–550; Futuyma  and  Kirkpatrick  2017,  16)۔بنیادی طور پر، دونوں ایک جیسے وراثتی اور تغیّر کے عمل کے تحت چلتے ہیں۔یاد رہے کہ وراثت اور تغیّر ارتقا کے اہم اصول ہیں۔ وراثت کے ذریعے جینیاتی معلومات والدین سے ان کی اولاد میں منتقل ہوتی ہیں، جس سے بنیادی خصوصیات نسل در نسل برقرار رہتی ہیں۔ تغیّر کا مطلب ان خصوصیات میں فرق یا تبدیلی ہے، جو قدرتی عوامل، جینیاتی تغیّرات، یا ماحول کے اثرات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ یہ تغیّر ہی ہے جو ایک نوع میں تنوع پیدا کرتا ہے اور ارتقا کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے۔  ماں اور والد کے جینیاتی مواد کو بچوں میں کیسے یکجا کیا جاتا ہے یہ ایک اتفاقی عمل ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم بچے کے جینیاتی نمونہ کی بالکل درست ترتیب نہیں پیش کر سکتے  (Urry  et  al.  2016, 273–291) ۔ مثال کے طور پر، تصور کریں کہ دو افراد کے پاس چھ رخا پاسے (dice)   ہیں، ہم تمام ممکنہ نتائج کے امکانات کا حساب لگا سکتے ہیں، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی مخصوص رول پر کون سی ترتیب آئے گی۔ نتیجہ مکمل طور پر اتفاق پر مبنی ہوتا ہے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ نتائج محدود ہیں اور جو کچھ پاسے میں ہے، وہی نتائج ممکن ہیں۔ اگر ہر پاسے میں نمبر ایک سے چھ تک ہوں، تو ایک اور سات کا مجموعہ ناممکن ہوگا کیونکہ پاسے میں سات کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسی طرح، والدین کے جینیاتی مواد سے بچوں کے جینیاتی نمونہ کا تعین بھی اتفاق پر مبنی ہوتا ہے لیکن یہ والدین کے جینیاتی مواد سے محدود ہوتا ہے۔ یہی اتفاقی نوعیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ہی والدین کے مختلف بچے مختلف خصوصیات رکھتے ہیں، جیسے ایک کا بال کالا اور دوسرے کا سنہری ہو سکتا ہے۔ ارتقا  کے عمل میں اگر یہ تبدیلیاں لاکھوں سالوں تک جاری رہیں، تو جینیاتی نمونوں میں یہ چھوٹے چھوٹے تغیرات جمع ہو کر بڑی تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے نئی نسلوں میں مختلف خصوصیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔
ہم نے اب تک وراثت اور جینیاتی تغیرات کو دیکھا ہے، لیکن اس کا مکمل منظر نامہ سامنے نہیں آیا کیونکہ ہم نے ماحولیاتی عوامل پر غور نہیں کیا۔ ارتقا کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جس ماحول میں مخلوق رہتی ہے، وہ  ماحول ارتقا کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ فرض کریں کہ دو قسم کے چوہے ہیں، سیاہ اور سفید، اور وہ دونوں  سیاہ زمین پر رہتے ہیں۔ اگر عقاب ان کا شکار کرتے ہیں، تو سیاہ چوہے اس زمین کے رنگ سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے زیادہ محفوظ رہیں گے، جبکہ سفید چوہے عقابوں کے لیے آسان شکار بنیں گے۔ اس کے نتیجے میں سفید چوہوں کی آبادی کم ہو جائے گی اور سیاہ چوہے بڑھیں گے، کیونکہ بالآخر سفید چوہوں کے سفید رنگ کے جینز مٹ جائیں گے، اور سیاہ چوہے غالب ہو جائیں گے۔ یہ مثال  قدرتی انتخاب  (natural selection)کے عمل کو ظاہر کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ وہ تصور ہے کہ جو جاندار اپنے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو بہتر طور پر ڈھالنے میں کامیاب ہوتے ہیں، قدرتی طور پر وہی بچتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے، تصور کریں کہ ہمارے پاس بلند درخت اور جراف ہیں۔ جو جراف چھوٹی گردن والے  ہیں، وہ زندہ نہیں رہ پائیں گے کیونکہ وہ اپنی خوراک کے حصول کے لیے  بلند درختوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن طویل گردن والے جرافوں کے پاس ان درختوں تک پہنچنے کی صلاحیت ہے، اس لیے ان کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ قدرتی انتخاب ایک چھاننی کی طرح ہوتا ہے جو ان جانداروں کو منتخب کرتا ہے جو ماحول میں زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں "صرف طاقتور بچتے ہیں"(survival of the fittest)  کا تصور آتا ہے۔ اب جب کہ ہمیں  ارتقا کا بنیادی تصور سمجھ آچکا ہے،مگر یہاں چند باتوں کی  تفصیل سے وضاحت ضروری ہے۔
  1. پہلا نقطہ یہ ہے کہ ارتقا ایک پیچیدہ اور کثیر الجہت عمل ہے جو صرف ایک عنصر یا جینیاتی تبدیلی تک محدود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، چوہوں کی مثال میں صرف ایک شکاری کی موجودگی کو مدنظر رکھا گیا تھا، لیکن حقیقت میں ماحول میں مختلف قسم کے شکاری اور دیگر عوامل بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے ارتقائی نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کسی خاص جین یا خصوصیت کا غالب آنا ہمیشہ یقینی ہوتا ہے، درست نہیں۔ ارتقا کے پراسیس کو صرف ایک سادہ عمل سمجھنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
  2. "صرف طاقتور بچتے ہیں" کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ وہی جینز یا خصوصیت رکھنے والی مخلوق ہی زندہ رہے گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ارتقا ہمیشہ امکانات کی بنیاد پر کام کرتا ہے (Urry et al. 2016, 291) ۔ اس لیے، جب سیاہ چوہے زندہ رہنے میں زیادہ کامیاب ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفید چوہے کبھی زندہ نہیں رہیں گے۔ ایسا ممکن ہے مگر لازمی نہیں۔ ان مثالوں کو بہتر طریقے سے بیان کیا جانا چاہیے کہ سیاہ چوہے، چوہوں کی آبادی میں غالب آ رہے ہیں۔
  3. جب کوئی نوع اپنے ماحول میں بقا کے لیے ضروری خصوصیات اختیار کرتی ہے، تو اسے "موافقت" (adaptation) کہا جاتا ہے (Urry et al. 2016, 470) ۔  اس مثال میں، چوہوں کی آبادی میں ابتدا میں دونوں سیاہ اور سفید چوہے موجود ہیں، مگر شکاریوں کے دباؤ کی وجہ سے سفید چوہے ختم ہو جاتے ہیں اور سیاہ چوہے غالب آ جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاہ چوہے اپنے ماحول کے مطابق بہتر ڈھل چکے ہیں اور اس طرح بقا کے لیے اپنی جینیاتی خصوصیات کو بہتر بنایا ہے۔ اس کو ارتقا کے ایک مرحلے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جہاں نوع اپنے ماحول کے تقاضوں کے مطابق موافقت پیدا کرتی ہے۔
  4. جب بقا کی بات کی جاتی ہے تو یہ ایک نسبتی عمل ہوتا ہے، یعنی جو خصوصیت یا جینیاتی تبدیلی ایک مخصوص ماحول میں بقا کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے، وہ دوسری جگہ یا ماحول میں مؤثر نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر، سیاہ چوہے اگر برف سے ڈھکے علاقے میں منتقل ہوں تو ان کا سیاہ رنگ شکار کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا کیونکہ یہ انہیں دکھائی دے گا اور وہ شکار ہو جائیں گے۔ اس صورت میں، قدرتی طور پر چوہوں کا رنگ وقت کے ساتھ سفید ہو جائے گا تاکہ وہ برف میں چھپ کر بچ سکیں اور شکار سے بچاؤ کے لیے مؤثر بن سکیں۔ اس مثال کے ذریعے یہ بتایا جا رہا ہے کہ بقا کی حکمت عملی ماحول کی ضرورتوں اور حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ 
  5. ارتقا کے عمل میں دو اہم پہلو شامل ہیں:
    متعین پہلو: یہ وہ عمل ہے جس میں قدرتی انتخاب کا کردار ہوتا ہے، جہاں ماحول کی ضروریات کے مطابق وہ جاندار منتخب ہوتے ہیں جو بہترین طریقے سے زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو جاندار اپنے ماحول میں زیادہ کامیابی سے زندگی گزار سکتے ہیں، وہ بچ جاتے ہیں اور اپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں۔
    بے ترتیب پہلو: یہ میوٹیشنز (یعنی جینیاتی مواد میں ہونے والی تبدیلیاں) سے متعلق ہوتا ہے۔ میوٹیشنز قدرتی طور پر یا مختلف عوامل جیسے تابکاری، کیمیکلز، یا جینیاتی مواد کی نقل کے دوران غلطیوں کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ یہ میوٹیشنز فائدہ مند، نقصان دہ یا غیر جانبدار ہو سکتی ہیں، اور ان کی بدولت ارتقا کے مختلف راستے کھل سکتے ہیں، جیسے نئے خصائص یا جینیاتی تنوع کا پیدا ہونا۔
  6. جو میکانزم بیان کیا گیا ہے، اس کے مطابق ارتقا ایک طویل المدت عمل ہے جو زمین کی عمر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ماضی میں جب علم ارضیات  (geology) کی ترقی نہیں ہوئی تھی، لوگ زمین کی عمر کو صرف 6,000 سال تک محدود سمجھتے تھے، جو کہ بائبل کے بیانیے پر مبنی تھا(Rogers 2011, 71)۔ تاہم، جدید جیالوجیکل تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ زمین کی عمر 4.6 ارب سال ہے اور زندگی کے آثار تقریباً 3.5 ارب سال پرانے ہیں۔ یہ طویل عرصہ "ڈیپ ٹائم(deep time)" کے طور پر جانا جاتا ہے، اور ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ طویل مدتیں ذہن میں رکھنی ضروری ہیں۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے کی جا سکتی ہے: اگر زمین کی عمر 145.9 سال ہو، تو انسانوں کی موجودگی صرف آخری 2.3 دنوں میں آئی ہے، جو ارتقا کے تدریجی عمل کو واضح کرتی ہے۔
    کائنات کی تاریخ کو سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ہم وقت کے پیمانوں کو دیکھیں۔ اگر پوری کائنات کی تاریخ کو ایک دن کے اندر سمو لیا جائے تو حضرت محمد ﷺ کا ظہور اس دن کے آخری چند منٹوں میں ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اس دن کے آخری گھنٹوں میں اور انسانوں کا ابتدائی ظہور تقریباً 2 دن پہلے ہوا۔ چمپنزی اور انسان کی مشترکہ نسل کا آغاز تقریباً 3 ماہ پہلے ہوا، جبکہ زمین کی تشکیل تقریباً 4.6 ارب سال پہلے ہوئی تھی۔ ان اہم تاریخی واقعات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ 28 پر کائنات کی تاریخ کو مختلف اہم واقعات کے ساتھ بیان کیا ہے، جو ایک منطقی اور باآسانی سمجھنے والے انداز میں پیش کی گئی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ارتقا دو بنیادی عوامل کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے:
  1. بے ترتیب تبدیلیاں
  2. قدرتی انتخاب
جب یہ دونوں عوامل مل کر کام کرتے ہیں، تو ارتقا خاص طور پر نیو ڈارونین طریقے سے ہوتا ہے۔ ڈارون ازم اور نیو ڈارون ازم کے درمیان فرق کو آگے واضح کیا جائے گا۔

ارتقا کا نمونہ (Pattern of evolution)

ارتقا کے عمل کی وضاحت کے بعد، اب یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مختلف انواع کیسے وجود میں آتی ہیں۔ اس کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں ارتقا کے نمونہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، ہم "نوع" کو واضح کرتے ہیں۔ "نوع" سے مراد وہ جاندار ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جفتی کر سکتے ہیں، جیسے مینڈک مینڈک سے جفتی کرتے ہیں، بلی بلی سے، اور انسان انسان سے۔ اگر دو جاندار آپس میں جفتی نہیں کر سکتے، تو انہیں مختلف نوع سمجھا جاتا ہے (Rogers 2011, 9) ۔
"نوعی تبدیلی" (speciation) اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کسی والدین نوع کی آبادی اتنی تبدیلیوں سے گزرتی ہے کہ وہ نئی نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اب وہ والدین نوع یا دوسری انواع کے ساتھ جفتی نہیں کر سکتی ((Urry et al. 2016, 521۔ فرض کریں کہ ایک زلزلے کے بعد ایک جگہ کی آبادی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، اور ہر حصے کا ماحول الگ ہو جاتا ہے۔ اس نئے ماحول میں، دونوں حصے اپنے طور پر ارتقا کے عمل سے گزرتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے جفتی نہیں کر پاتے، یعنی انہوں نے نوعی تبدیلی کا عمل مکمل کر لیا۔ یہ عمل "متنوع ارتقا" (divergent evolution) کہلاتا ہے، جس میں ایک ہی والدین نوع کی نسل وقت کے ساتھ دو یا زیادہ مختلف انواع میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب نوعی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیٹی نوع والدین نوع کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔ والدین نوع اور بیٹی نوع دونوں ایک وقت میں موجود رہ سکتی ہیں (Urry et al. 2016, 564)۔
ارتقا کوئی سیدھا عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک متحرک اور ترقیاتی عمل ہے جو مختلف امکانات کے مطابق ہوتا ہے، اور اس میں چیزیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ارتقا کے عمل کو عام طور پر "زندگی کے درخت" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کیونکہ یہ درخت کی شاخوں کی طرح مختلف انواع میں بٹتا ہے، اور ان شاخوں کے درمیان تعلقات کا نیٹ ورک بناتا ہے۔ اس استعارے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ زندگی کی انواع وقت کے ساتھ مختلف طریقوں سے تقسیم ہوئی ہیں، جیسے درخت کی شاخیں جو ایک ہی تنا سے نکل کر مختلف سمتوں میں پھیلتی ہیں۔ لیکن اس استعارے میں کچھ مشکلات بھی ہیں۔ درخت کی شاخوں کا تاثر یہ دے سکتا ہے کہ ارتقا ایک سیدھی اور متعین سمت میں ہوتا ہے، جیسے کہ درخت کی ٹرنک سے شاخیں نکل رہی ہیں جو ہمیشہ ایک ہی سمت میں بڑھتی ہیں۔ تاہم، ارتقا ایک غیر خطی (non-linear) عمل ہے اور اس میں کئی مختلف راستے اور امکانات ہوتے ہیں۔ اس میں ضروری نہیں کہ ہر نئی نوع پچھلی نوع کی جگہ لے لے۔ حقیقت میں، ارتقا ایک مسلسل پھیلاؤ کی طرح ہوتا ہے، جہاں انواع مختلف سمتوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں اور ہر شاخ اپنی جگہ ایک نئی نوع کی طرف بڑھتی ہے۔
اسی وجہ سے، "زندگی کے درخت" کی جگہ "زندگی کی جھاڑی" کا استعارہ زیادہ مناسب ہوگا۔ جھاڑی میں ایک ہی مرکز سے کئی مختلف شاخیں نکلتی ہیں اور یہ شاخیں ایک دوسرے سے الگ ہو سکتی ہیں، جیسے ارتقا میں نئی انواع کا وجود آتا ہے، لیکن اس میں کوئی واضح راستہ یا متعین سمت نہیں ہوتی۔ یہ جھاڑی ارتقا کے عمل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھاتی ہے کیونکہ یہ ارتقا کی پیچیدگی، انحراف اور تنوع کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ہر نوع کا وجود مختلف عوامل کے نتیجے میں ہوتا ہے، اور اس میں کسی مخصوص سمت میں جانا ضروری نہیں۔ اسے مزید سمجھنے کے لیے اصل کتاب کے صفحہ  31 پر موجود تصویر کو ملاحظہ کیا جائے جوایک جھاڑی کی طرح پھیلتی شاخوں کی صورت میں پیش کی گئی ہے، جس میں زندگی کے آغاز سے لے کر اب تک مختلف شاخوں کے وجود کے بعد، مختلف انواع کا ظہور دیکھنے کو ملتا ہے۔ انسان، بندر، اور لنگور کے درمیان کی شاخوں کو اس طرح سے زوم کیا گیا ہے کہ ان کے درمیان مختلف درمیانی انواع کو دکھایا جا سکے جو پچھلے 60 ملین سالوں میں ان کی موجودگی تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

ارتقا کی وضاحت

ارتقا کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جانداروں میں وقت کے ساتھ ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو نئی نسلوں کو اپنے آباؤ اجداد سے مختلف بناتی ہیں۔ چارلس ڈارون نے اسے "تغیر کے ساتھ وراثت" (descent with modification) کہا۔ اس کا مطلب ہے کہ جاندار اپنی اولاد میں تبدیلیاں منتقل کرتے ہیں، اور یہ تبدیلیاں اتنی بڑھ سکتی ہیں کہ نئی انواع وجود میں آتی ہیں۔ یہی عمل زمین پر موجود حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی بنیاد ہے (Urry et al. 2016, 471–472) ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جب جاندار اپنی نسل بڑھاتے ہیں تو ان میں تدریجی اور مجموعی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اتنی جمع ہو جاتی ہیں کہ نئی انواع (species) تشکیل پاتی ہیں، اور یہی عمل حیوانات اور نباتات کی دنیا میں موجود حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کا سبب بنتا ہے۔ یہ تمام عمل تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:
  • وراثت (heredity)، 
  • تغیر (variation)، اور
  •  قدرتی انتخاب (natural selection)
ارتقائی عمل میں جینیاتی سطح پر تغیرات (mutations) رونما ہوتے ہیں، جو کسی جاندار کی ظاہری خصوصیات (phenotype) پر اثر ڈالتے ہیں۔ اب تک ارتقا کے بارے میں عام فہم تعریف، یعنی کسی چیز میں تبدیلی، سائنسی تعریف سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن ارتقا کو مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھنے کا دوسرا عام تصور سائنسی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ارتقا میں ہونے والے جینیاتی تغیرات مکمل طور پر بے ترتیب (random) ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی مخصوص سمت یا مقصد نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں، ارتقا کا عمل کسی خاص "بہتری" یا "مثبت نتیجے" کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ یہ ایک غیر یقینی (contingent) اور اتفاقی عمل ہے۔ اسی اتفاقی اور بے ترتیب طریقہ کار کی وجہ سے مشہور ارتقائی ماہر حیاتیات اسٹیفن جے گولڈ نے کہاتھا "اگر زندگی کی فلم کو ایک ملین بار دوبارہ چلایا جائے... تو مجھے شک ہے کہ انسان جیسی کوئی مخلوق دوبارہ وجود میں آئے گی۔ (Stephen Jay Gould, 1989, p. 289)" 
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ارتقا کا عمل مکمل طور پر ماحول، اتفاق اور قدرتی حالات پر منحصر ہے، اور اس میں کسی بھی خاص نتیجے یا مخلوق کی دوبارہ تشکیل کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
نیوڈارونین ارتقا کو تین بنیادی تصورات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے (Fowler and Kuebler 2007, 28–29):
  1. گہرا وقت (Deep Time): زمین کی عمر کروڑوں اور اربوں سالوں پر محیط ہے، جسے ارضیاتی وقت (geological time) بھی کہا جاتا ہے۔
  2. مشترک نسب (Common Ancestry): تمام جاندار حیاتیاتی طور پر آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان کی ایک تاریخی نسل ہے، یعنی موجودہ جاندار ماضی کے جانداروں کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔
  3. سبب کا میکانزم (Causal Mechanics): اتفاقی جینیاتی تغیرات (random mutations) اور قدرتی انتخاب (natural selection) ارتقا کے اس عمل کو آگے بڑھانے والے عوامل ہیں۔
ان نکات کے درمیان منطقی تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ہم نکتے 1 سے 3 کی طرف بڑھیں، تو ارضیاتی وقت خودبخود مشترک نسب کی وضاحت نہیں کرتا، اور مشترک نسب بھی لازمی طور پر قدرتی انتخاب اور جینیاتی تغیرات کے ذریعے ارتقا کو ثابت نہیں کرتا۔ البتہ، اس کے برعکس سمت میں، یعنی نکتے 3 سے 1 تک، نیوڈارونین ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی انتخاب اور جینیاتی تغیرات، مشترک نسب، اور ارضیاتی وقت سب موجود ہوں (van den Brink et al. 2017, 459) ۔

ارتقا کے لیے شواہد

ارتقا کے حق میں کئی قسم کے شواہد موجود ہیں جو مجموعی طور پر اس نظریے کی تائید کرتے ہیں۔ محدود جگہ کے باعث، ہم صرف تین اہم شواہد پر توجہ دیں گے: فاسل ریکارڈ  یا ماقبل تاریخ (fossil record or paleontology)، ہم آہنگی یا ہم ساختیت (homology)، اور جینیات(genetics)۔

فوسل ریکارڈ

فوسل ریکارڈ سے مراد ماضی میں موجود جانداروں کی ہڈیاں ہیں جو دریافت ہوئی ہیں۔ زمین کی سطح مختلف تہوں میں بٹی ہوئی ہے، اور ہر تہہ ایک مخصوص دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم ان تہوں کی عمر کا پتہ جیولوجیکل اور کیمیائی تجزیوں سے لگا سکتے ہیں۔ جب کسی فوسل کو کسی خاص تہہ میں پایا جاتا ہے، تو ہم اس وقت کو اس جاندار کی موجودگی کے دور سے جوڑ دیتے ہیں (مخصوص پیمائش کے طریقوں کے مطابق)۔ فوسل ریکارڈ کے حوالے سے دو اصول  بہت اہم ہیں: پہلا، پرانی تہیں زمین میں گہری ہوتی ہیں، یعنی جتنا گہرا کھودیں گے، اتنا ماضی میں پہنچیں گے۔ دوسرا، جیسے جیسے ہم پرانی تہوں سے حالیہ تہوں تک جاتے ہیں، جانداروں کی پیچیدگی میں اضافہ نظر آتا ہے۔ ڈارون کے دور میں فوسل ریکارڈ بہت کمزور تھا، لیکن آج کے دور میں فوسل ریکارڈ میں کافی اضافہ ہو چکا ہے، جو جانداروں کے بتدریج ارتقا کو ثابت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر "پاکی سی ٹس(Pakicetus) "(جو پاکستان میں دریافت ہوا) سے لے کر  "جدید وہیلز(modern whales)" تک کی ترقی کو دیکھا جا سکتا ہے (Rogers 2011, 18–21)۔  لاکھوں سالوں اور کئی چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے بعد، پاکی سی ٹس بتدریج ایسے جانور میں بدل گیا جو پیروں کی بجائے پنکھ کا حامل تھا۔ ارتقائی ماہرین نے بعض جانداروں کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہیں کیونکہ ان کی باقیات نہیں مل پائی تھیں۔ ان میں سے ایک مشہور مثال "ٹک ٹالک" (Tiktaalik) کی ہے، جو اصل کتاب میں صفحہ 34 پر دکھائی گئی ہے۔
  ارتقا کے عمومی اصولوں کے مطابق، زندگی کا آغاز سمندر میں ہوا تھا۔ کئی ملین سالوں کے دوران، مچھلیوں نے ارتقا کی بدولت خشکی پر آنے کی صلاحیت حاصل کی۔ ماہرین نے پیشگوئی کی کہ ایسی کوئی نوع ضرور موجود رہی ہوگی جس میں سمندری اور خشکی دونوں قسم کے جانوروں کی خصوصیات  پائی جاتی تھیں۔ ٹک ٹالک اس پیشگوئی کو درست ثابت کرتا ہے۔ اس میں مچھلیوں کی بنیادی خصوصیات اور خشکی کے جانوروں کی طرح ابتدائی پھیپھڑوں کا نظام بھی موجود تھا، جو ارتقا کی منتقلی کو ظاہر کرتا ہے (Rogers  2011,  22–23;  Futuyma  and  Kirkpatrick  2017, 447–449)۔ یہ ایک مشہور مثال ہے جو بتاتی ہے کہ ارتقا کی تھیوری ان دریافتوں کے لیے سب سے مضبوط وضاحت فراہم کرتی ہے۔

ہم آہنگی یا ہم ساختیت کی وضاحت

ہم آہنگی کا مطلب ہے کہ مختلف جاندار انواع میں کچھ خصوصیات مشترک ہوتی ہیں، جو ان کے مشترکہ آباواجداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جب کسی نوع کی آبادی ارتقاسے گذرتی ہے، تو اس کی اولاد مختلف نوعیت کی مختلف قسموں میں تبدیل ہو سکتی ہے، اور ہر نئی نوع  میں مختلف ماحولیاتی دباؤ کے تحت   اس کے جسمانی اور ساختی خصائص میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ پھر بھی، یہ ممکن ہے کہ بعض بنیادی خصوصیات جو ابتدا میں مشترک تھیں، ارتقا کے دوران نئی انواع میں منتقل ہو کر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوں۔ مثال کے طور پر، اصل کتاب کے صفحہ 36 پر دی گئی  تصویر  میں آپ مختلف جانداروں کی ہڈیوں کی ساخت کو دیکھ سکتے ہیں جیسے انسان، کتا، وہیل اورچمگادڑ کے ڈھانچے(Morvillo 2010, 192–194; Urry et al. 2016, 477–479) ۔ انسان کے ہاتھ، کتے کے پاؤں، وہیل کےپنکھ اورچمگادڑ کے پر مختلف افعال سرانجام دیتے ہیں، لیکن ان سب کی ہڈیوں کی ساخت میں ایک خاص مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ مشابہت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ سب انواع ایک مشترکہ خاندان  سے آئی ہیں۔ چاہے ارتقائی عمل کے دوران ان کی ساخت میں بڑے فرق آ گئے ہوں، لیکن ان کی ہڈیوں کی بنیادی ساخت میں جو مشابہت نظر آتی ہے، وہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان سب کی ابتدا  ایک ہی نوع سے ہوئی تھی۔ اس طرح ہم آہنگی یا ہم ساختیت ارتقائی سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ  مختلف جاندار انواع میں موجود کچھ ساختی مشابہتیں کیوں  پائی جاتی ہیں، اور یہی مشابہتیں ارتقائی عمل کے دوران مختلف ماحول میں ان کی تبدیلی کی نشاندہی  کرتی ہیں۔

جینیات

جینیات (Genetics) ارتقا کے حق میں سب سے مضبوط اور واضح ثبوتوں میں سے ایک ہے۔ جینیات کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مختلف انواع کے جینیاتی مواد میں جو مماثلت پائی جاتی ہے، وہ ان کے مشترکہ آبا واجداد کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے۔ اس کا  تصور سمجھنے کے لیے ہم  ایک مثال لیتے ہیں:
فرض کریں ایک استاد کے پاس ایک قلعہ ہے جو چھوٹے چھوٹے لیگو بلاکس (Lego Blocks) سے بنا ہے۔ یہ قلعہ ایک بڑے ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے۔ استاد اپنے بیس طلبہ کو ہدایت دیتے ہیں کہ ہر طالب علم قلعے میں سے صرف ایک بلاک کو چن کر اس میں ایک تبدیلی کرے۔ وہ  اس بلاک نکال سکتا ہے،وہاں  ایک نیا بلاک شامل کرسکتا ہے، موجودہ بلاک میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے یا بلاک کو جیسا ہے ویسا ہی چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہر طالب علم اپنی تبدیلی کے بعد استاد کو اجازت دیتا ہے کہ وہ قلعے کی ایک تصویر لے لیں۔ اس طرح جب تمام طلبہ اپنا کام مکمل کر لیتے ہیں، تو استاد کے پاس قلعے کی مختلف حالتوں کی تصاویر کا ایک مجموعہ محفوظ ہوجاتا ہے۔ یہ تصاویر اس بات کا ریکارڈ فراہم کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ قلعے میں کیا کیا تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ اب، اگر استاد یہ تصاویر کسی دوسری کلاس کو دکھائیں، جس نے پہلے کبھی یہ تجربہ نہیں کیا  تھا، تو وہ کلاس ان تصاویر کا جائزہ لے کر یہ سمجھ سکتی ہے کہ قلعے میں تبدیلی کس ترتیب سے ہوئی۔ چونکہ ہر طالب علم نے صرف ایک تبدیلی کی تھی، اس لیے ان تبدیلیوں کی ترتیب کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
یہ مثال جینیات کے مطالعے کو سمجھانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ جیسے قلعے کی تصاویر کے ذریعے تبدیلیوں کا ریکارڈ تیار کیا گیا، ویسے ہی جینیات میں ہم مختلف جانداروں کے ڈی این اے اور کروموسومز کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس تجزیے کے ذریعے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جینیاتی سطح پر کون سی تبدیلیاں ہوئیں اور یہ تبدیلیاں کس ترتیب سے وقوع پذیر ہوئیں۔
مثال کے طور پراورانگوٹان(orangutan)، گوریلا (gorilla)اور چمپنزی (chimpanzee)کے کروموسومز کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم یہ تلاش کر سکتے ہیں کہ انسانوں تک پہنچنے میں جینیاتی تبدیلیاں کیسے اور کس ترتیب سے ہوئیں۔ جینیاتی تبدیلیوں کی یہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مختلف انواع میں جینیاتی ارتقا کا عمل کس طرح ہوا، بالکل ویسے جیسے لیگو بلاکس کے قلعے کی تاریخ تصویروں کے ذریعے معلوم کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اورانگوٹان، گوریلا، اور چمپنزی میں 24 کروموسومز ہوتے ہیں، جنہیں جینیات کے ماہرین نے عددی طور پر لیبل کیا ہوتا ہے، جیسے 1، 2، 3 وغیرہ۔ تاہم، انسان اس حوالے سے ایک استثنا ہے کیونکہ ان کے پاس 23 کروموسومز ہیں، جو باقیوں سے ایک عدد کم ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چمپنزی اور انسانوں کے ایک قدیم آبا کے دو کروموسومز آپس میں ضم ہو گئے ہوں گے۔ اصل کتاب  کے صفحہ 37 پر دی گئی   تصویر اورانگوٹان، گوریلا، اور چمپنزی کے دو کروموسومز کو دکھاتی ہے۔ ہم ان جانداروں کے کروموسومز میں ہونے والی تاریخی تبدیلیوں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ تاہم  چمپنزی اور انسانی کروموسومز میں فرق یہ ہے کہ انسان کے کروموسومز میں دو کروموسومز ضم ہو کر ایک بن گئے ہیں (Alexander 2008, 211–212; Fairbanks 2010, 17–30)۔ 
اس دریافت کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اورانگوٹان، گوریلا، چمپنزی اور انسانوں کے کروموسومز میں جینیاتی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، جو اس بات کا ایک اہم ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ان سب کے آبا و اجداد مشترک تھے۔
مزید یہ کہ  ایسے غیر فعال جینز بھی موجود ہیں جنہیں پسیوڈوجینز(Pseudogenes)  کہا جاتا ہے، جو جینیاتی طور پر دوسرے فعال جینز کی طرح نظر آتے ہیں، لیکن ارتقائی عمل کے دوران کسی تبدیلی کی وجہ سے ان کی فعالیت ختم ہو جاتی ہےمگر یہ  نسل در نسل اور مختلف انواع میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔  یہ جینز مختلف انواع کے درمیان جینیاتی رشتہ داری کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ  مختلف جاندار حیاتیاتی نسب کے ذریعے کس طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں (Finlay 2013, 132–193; Futuyma and Kirkpatrick 2017, 345–367)۔ انسانوں اور چمپنزیوں میں  پسیوڈوجینز کی یہ مماثلت  اس دعوے کی مزید تائید کرتے ہیں کہ انسان اور چمپنزی ایک مشترکہ جد امجد رکھتے ہیں (Zhang 2014)۔  یوں  جینیات کی تحقیق ہمیں ارتقا کے عمل کے بارے میں واضح ثبوت فراہم کرتی ہے، اور یہ  ثابت کرتی ہے کہ مختلف انواع میں جینیاتی مماثلتیں ان کے مشترکہ آباو اجداد کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
مختصر یہ کہ  ارتقا  مضبوط بنیادوں پر قائم ایک نظریہ ہے جس کی حمایت مختلف سائنسی شواہد کرتے ہیں۔ ہر دلیل کا ایک مخصوص پہلو ہوسکتا ہے جسے عارضی طور پر تسلیم بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن جب مختلف   سائنسی تحقیقات اور شواہد ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جنہیں consilience of induction کہا جاتا ہے، تو نتیجہ بہت زیادہ مستند ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال ارتقا کے نظریے کے ساتھ ہے (Ruse 2008, 25–51; Rieppel 2011, 127–133)۔
ہم نے یہاں ارتقا کی حمایت میں تین اہم شواہد پر گفتگو کی ہے، لیکن حقیقت میں ارتقا کے ثبوت بہت زیادہ ہیں جنہیں تفصیل سے جانچنا اس مقالے کی حد سے باہر ہے، لیکن جو لوگ اس موضوع پر مزید جاننے کے خواہش مند ہیں وہ اس باب کے اختتام پر دیے گئے حوالہ جات  میں موجود کتب اور مقالات کا مطالعہ کرسکتے ہیں، جہاں ارتقا کے بارے میں زیادہ گہرائی سے بات کی گئی ہے۔
یہاں تک باب اول کے پہلے دو حصے ختم ہو جاتے ہیں، اگلے دو حصے ارتقا کی تاریخ اور اس پر ہونے والی تنقید کی مباحث پر مشتمل ہیں، جن کے اختتام پر باب اول کے تمام حوالہ جات کو بھی پیش کیا جائے گا۔ (مترجم)

غزہ سیز فائر اور اس کے مابعد

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

آخر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور غزہ میں سیز فائر کی کئی ناکام کوششوں کے بعد پندرہ مہینے سے جاری خوفناک اسرائیلی جارحیت رک جانے کی اب قوی امید پیدا ہوئی کہ ایک عارضی جنگ بندی حماس اور قابض اسرائیل کے درمیان ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے جو سب لڑکیاں تھی۔ ان کو حماس نے گفٹ دے کر ریڈ کراس کے حوالہ کیا، اس کے بدلے میں 95 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے جن میں خواتین اور بچے اور نوجوان شامل تھے۔ ان میں فلسطینی ایکوسٹ خالدہ جرار اور ندا الزغیبی بھی شامل تھیں۔ مغویوں کی رہائی کے لیے حماس نے وسطی غزہ کا انتحاب کیا اور اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا۔ جس کو دیکھ کر اسرائیل کے سارے دعووں کی قلعی کھل گئی کہ حماس کو بڑی حد تک ختم کیا جا چکا ہے۔ غزہ کے لوگ جوش و خروش سے نعرے لگا رہے تھے:
حط السیف قبال السیف احنا رجال محمد ضیف (لوہے کو لوہے نے کاٹا، ہم سب محمد ضیف کے آدمی ہیں)
یاعبیدہ یاحبیب اضرب بسیفک تل ابیب (اے ابوعبیدہ اے پیارے تل ابیب پر ضرب لگاؤ)
کلنا یحییٰ السنوار غزۃ انتصرت یاسنوار (ہم سب یحیی سنوار ہیں، سنوار دیکھو غزہ جیت گیا)
اس سیز فائر میں قطر کا کردار ثالث کا رہا اور بہت فعال رہا جبکہ مصر اور امریکہ کے نمائندے بھی دوحہ قطر میں موجود رہے۔ اس عارضی جنگ بندی کے سولہ دن کے بعد جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے فریقین میں پھر سے مذاکرات ہوں گے۔ اس سیز فائر کا اعلان قطر کے وزیراعظم محمد بن عبد الرحمٰن ثانی نے ۱۶ جنوری کی رات کو کیا۔ شہرِ عزیمت غزہ کے مظلوم، بے سہارا لیکن استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہنے والے باشندوں نے راحت کی سانس لی اور خوشیاں منائیں۔ اہلِ غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے عمان، دمشق، بیروت، طنجہ کے علاوہ لندن و نیویارک میں بھی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اب لٹے پٹے فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ غاصب و جارح اسرائیل نے ان کا سب کچھ تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔
امریکی صدر جوبائڈن نے اس کو Hostage ڈیل کہا اور اسے اپنی ناکام حکومت کے کھاتہ میں ڈالنے کی کوشش کی۔ اس صہیونی امریکی نے اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ بھی کہا کہ اُس نے بنجمن نتن یاہو کو غزہ کی کارپیٹ بامبنگ سے منع کیا تھا مگر نتن یاہو نے اس کی ایک بھی نہیں سنی۔ اس سے امریکی حکومت کے خبثِ نیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ ہوں یا جوبائڈن، بلنکن یا اور کوئی عہدہ دار یہ سب لوگ اپنے بیانات میں صرف اور صرف اسرائیلی قیدیوں کی بات کرتے ہیں۔ اسرائیل نے جس طرح پورے غزہ کو برباد کیا، جس طرح ایک لاکھ کے قریب بے قصوروں اور معصوموں کا قتل عام اور زخمی کیا اُس پر یہ کوئی بات نہیں کرتے، بس یہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا اسرائیل کی مجبوری تھی کیونکہ حماس والے عام فلسطینی شہریوں میں گھلے ملے تھے۔
یاد رہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق 47 ہزار فلسطینی اسرائیل کی بے محابا بمباری سے شہید ہو چکے ہیں جن میں 17 ہزار سے زیادہ معصوم بچے اور عورتیں ہیں۔ بلکہ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اس کو 64 ہزار بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ جتنے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں اصل تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس معاہدے میں نہ صرف موجودہ بائڈن حکومت کے نمائندے قطر میں تھے بلکہ ٹرمپ نے بھی اپنے نمائندے اسٹیووٹکوف کو وہاں بھیجا ہوا تھا جو بڑا متشدد قسم کا اسرائیل کا حمایتی ہے اور نتن یاہو کا معتقد۔ یہ وہ شخص ہے جس نے نتن یاہو کے امریکی کانگریس سے خطاب کے وقت کوئی پچاس بار اس کے لیے تالیاں بجائی تھیں اور نتن یاہو سے اپنی ملاقات کو ایک روحانی تجربہ قرار دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ نتن یاہو کو اس معاہدے کے لیے آمادہ کرنے میں اس کا خاص رول رہا ہے۔
اس عارضی صلح کے تین مرحلے ہوں گے:
پہلے مرحلہ میں جو چھ ہفتوں یعنی 42 دن پر محیط ہوگا، اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے ہٹے گی لیکن انخلاء نہیں کرے گی۔ حماس ۳۳ غیر فوجی اسرائیلی قیدیوں کو جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے ہوں گے، رہا کرے گی۔ اور بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں سے ایک اسرائیلی کے بدلے 50 فلسطینیوں کو چھوڑے گا۔ روزانہ چھ سو امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے جن میں سے تین شمالی غزہ کے لیے خاص ہوں گے۔ ہر ہفتہ تین اسرائیلی یرغمالی رہا ہوں گے۔ یاد رہے کہ سات اکتوبر کے تاریخی طوفان الاقصیٰ حملہ میں حماس نے دو سو سے زیادہ اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے بہت سے اسرائیل کی اندھادھند بمباری میں مارے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے 94 لوگ ابھی زندہ ہیں۔
دوسرے مرحلہ میں جو کہ چھ ہفتوں کا ہوگا اسرائیلی فوج نتساریم کوریڈور کے ذریعہ غزہ سے باہر جائے گی۔ اور تمام اسرائیلی قیدی چھوڑ دیے جائیں گے۔ فلسطینی قیدیوں میں 200 وہ قیدی بھی شامل ہیں جن کو سزائے موت یا عمر قید دی گئی ہے۔ معروف فلسطینی رہنما مروان البرغوثی بھی ان میں شامل ہیں۔
تیسرا مرحلہ دو سالوں پر محیط ہو گا اور اس میں اسرائیل مکمل طور پر غزہ سے نکل جائے گا۔ اس میں غزہ کی تعمیر نو ہو گی اور عرب ممالک اس میں تعاون کریں گے۔ البتہ فلاڈلفیا کوریڈور (معبر صلاح الدین) کو چھوڑنے کے لیے اسرائیل ابھی تیار نہیں، مصر اس کو منانے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ ضمانت لے رہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج وہاں سے نکل جاتی ہے تو مصر اس کا کنٹرول سنبھال لے گا اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
یہی اسرائیل کی داداگیری ہے، اس لیے کہ معبر صلاح الدین اور معبر رفح (رفح کراسنگ) کے بارے میں فلسطینی کوئی فریق نہیں ہیں۔ ان دونوں کے سلسلہ میں اسرائیل اور مصری حکومت کے درمیان بہت پہلے سے معاہدہ چلا آتا ہے جس کی رو سے دونوں کا نظم و نسق مصری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مگر اسرائیل دنیا میں ہر طرح کے قاعدے قانون سے بالاتر اپنے آپ کو سمجھتا ہے اور اس کے مغربی سرپرست واقعتاً‌ اس کو ایسا ہی بنائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے ایک سابق صدر بن گوریان نے کہا تھا کہ ’’اس خطہ میں اسرائیل کو پاگل کتے کی طرح رہنا ہوگا اور پڑوسیوں کو کاٹتے رہنا ہو گا تاکہ سب اس سے خوف زدہ رہیں‘‘۔ اسرائیل کا عمل بالکل اسی طرح کا رہا ہے۔ اس کی ضدمانی جاتی ہے، اس کے انسانیت کے خلاف جرائم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
بہرحال اس کے بعد ہتھیاروں کی کڑی جانچ کے بعد غزہ کے 23 لاکھ لوگوں کو جنوب سے شمال کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔ البتہ اسرائیل ۸۰۰ میٹر چوڑے بفر زون برقرار رکھے گا جہاں اس کے فوجی تعینات رہیں گے۔ حماس نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ پہلے دوسرے مرحلہ میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل پھر سے غزہ پر بمباری نہیں کرے گا۔ اس معاہدہ میں ایک پیچ ابھی تک پھنسا ہوا ہے، وہ یہ کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہو جانے کے بعد بھی اس کو یہ حق ہو گا کہ اپنی جاسوسی معلومات کے مطابق وہ غزہ میں کہیں بھی ٹارگیٹ کلنگ کر سکتا ہے۔ امریکہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ ہے جو فلسطینیوں کے لیے ہمیشہ دردِ سر بنا رہے گا اور اس میں بہت واضح اپرہینڈ (بھاری پلہ) اسرائیل کو دے دیا گیا ہے۔
اس معاہدے کو اسرائیلی وار کابینہ میں توثیق کے لیے پیش کیا گیا جس نے اس کو پاس کر دیا ہے۔ اب اس کی منظوری کے بعد اتوار انیس جنوری سے یعنی جس دن ٹرمپ نے امریکہ میں اپنے عہدے کا حلف لیا اس سے ایک دن پہلے اس کو لاگو کیا گیا۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کے مختلف علاقوں میں مسلسل بمباری کرتا رہا تاکہ مزاحمتی قوتوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ 16جنوری کو بھی اس کے حملہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیل نے حملہ کر رہا ہے جن میں 115 فلسطینی شہید ہو گئے۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا انتظام سنبھالے گی، فلسطینی مقتدرہ کے تحت وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے اپنے بیان میں کہا بھی کہ فلسطینی اتھارٹی ہی فلسطینیوں کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نمائندہ ہے لہٰذا اسی کو غزہ کا انتظام سنبھالنے کا حق ہے۔ مگر اسرائیل اس کے لیے تیار نہیں ہے، یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات دونوں ملکر کوئی میکانزم بنائیں گے جس کے تحت غزہ کی باز آبادکاری اور نظم و نسق کو سنبھالا جائے گا۔
دوسری طرف متشدد اسرائیلی وزیر اسموترچ اور ایتماربن گوئیر دونوں اس معاہدہ کی شدید مخالفت کر رہے تھے اور اس کو دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔ بن گوئیر اب نتن یاہو کی حکومت سے بھی نکل چکا ہے۔ انہوں نے بنجمن نتن یاہو کی حکومت گرانے کی کوشش بھی کی ہے۔ حالانکہ معاہدہ کی تمام شرائط کو بنظر غائر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کا پلہ اس میں بھاری ہے اور حماس نے اسٹریٹیجک تنازل اختیار کیا ہے۔ عملیت پسندی کا تقاضا یہی تھا کہ فلسطینی عوام، جنہوں نے جانبازی اور قربانیاں دینے کی ایک بے مثال تاریخ رقم کر دی ہے، اب ان پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے اور کچھ ریلیف ان کو ملے۔
حماس کے ایک رہنما خلیل الحیۃ نے اپنے ویڈیو پیغام میں، جو الجزیرہ پر نشر ہوا حماس، الجہاد الاسلامی، حزب اللہ، یمن کے انصار اللہ (حوثی) عراقی تحریک مزاحمت، اور ایرانی و قطری اور مصری و ترکی کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے غزہ کے شہیدوں، شیخ اسماعیل ہانیہ، شیخ حسن نصر اللہ، حماس کے قائد یحیٰ السنوار، شیخ صالح العروری اور دوسرے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ تحریک حماس کی میدانی قیادت اب شہید یحییٰ السنوار کے چھوٹے بھائی محمد السنوار کو دے دی گئی ہے۔ جنہوں نے اپنی پلاننگ سے حماس میں پھر سے ہزاروں نوجوانوں کو بھرتی کر کے شمالی غزہ میں پھر سے اس میں جان ڈال دی ہے۔ اور وہ اسرائیلی فوج پر مسلسل گوریلاحملے کر کے اس کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
خلیل الحیہ نے مزید کہا کہ ہم نے ایک لمحہ کے لیے بھی دشمن کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ حماس میدان چھوڑ رہی ہے یا کمزور پڑ گئی ہے۔ لیکن تحریکِ مزاحمت اور فلسطینی عوام کے وسیع تر مفاد میں یہ صلح کی جا رہی ہے۔
اس صلح میں جس میں زیادہ بڑا کردار نئے امریکی صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نمائندے اسٹیووٹکوف نے ادا کیا جنہوں نے سفاک اسرائیلی وزیراعظم کو اس کے لیے تیار کر لیا۔ اس صلح میں بظاہر اسرائیل کو اپرہینڈ ملا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ زندہ و جانباز فلسطینی قوم نے اپنی تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود اور خاک و خون میں لوٹنے کے باوجود محیر العقول سخت جانی، بے نظیر پامردی و استقلال کا مظاہرہ کیا ہے جس نے قرونِ اولیٰ کے مجاہدوں کی یاد تازہ کردی جن کو اقبال نے یہ کہہ کر خراجِ تحسین پیش کیا تھا ؎
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اپنی بے نظیر شجاعت، ہمت اور بلند حوصلہ اور زبردست قربانیاں دے کر انہوں نے اسرائیل کو اپنے اعلان کردہ اہداف کو حاصل کرنے نہیں دیا۔ یعنی حماس کا خاتمہ، غزہ و مغربی کنارہ سے مزاحمت کا خاتمہ اور فلسطینی مسئلہ سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ حاصل کرنا۔
حماس نے فلسطینی عوام کی خاطر یہ کڑوی گولی حلق سے اتار لی ہے مگر مستقبل میں اس کا کیا ہو گا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی پوری کوشش ہوگی کہ حماس کو نہتا کر دیا جائے یا غزہ سے بے دخل۔ اگر اب بھی محمود عباس اور الفتح والوں نے سمجھ سے کام نہ لیا تو اس سے فلسطین میں سول وار چھڑ جانے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ کیونکہ امریکہ کی نئی ٹرمپ حکومت نے اپنی آنے والی انتظامیہ کے جن چہروں کا اعلان کیا ہے ان میں سیکریٹری آف اسٹیٹ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف معروف صہیونی ہیں۔ یہ دونوں مغربی کنارہ اور غزہ کے اسرائیل میں ضم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ مغربی کنارہ کو یہ اس کے قدیم ببلیکل نام جوڈیاسمیرا سے ہی پکارتے ہیں۔
ٹرمپ بھی اپنے ایک بیان میں کہہ چکا ہے کہ اسرائیل کو مزید زمینوں کی ضرورت ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ مغربی کنارہ کی غیر قانونی طور پر بسائی گئی سینکڑوں یہودی سیٹلمنٹس اور گولان ہائٹس کو وہ اسرائیل میں مستقل طور پر ضم کرنے کی وکالت نہ کرے۔ ٹرمپ کا اپنا ریکارڈ فلسطین کے لیے بہت خراب رہا ہے۔ اسی نے اپنی پہلی میعاد میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا اور اس کو اسرئیل کا دارالحکومت ماننے کے لیے تیار تھا۔ اور اسی نے عربوں کو دھونس و دھمکی اور سیکورٹی کا لالچ دے کر صفقۃ القرن یا صدی کی ڈیل کروائی تھی اور ابراہام اکارڈ پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سعودی عرب کو رام کیا تھا۔
گزشتہ سال طوفان الاقصیٰ نے سعودی و اسرائیل کی اس پیشرفت کو کھٹائی میں ڈال دیا تھا۔ تب سے اب تک سعودی عرب کا سرکاری موقف جو سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ پہلے اسرائیل دو ریاستی حل کو تسلیم کرے اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہو، تبھی وہ اس معاہدے ابراہام اکارڈ پر دستخط کرے گا۔ تاہم محمد بن سلمان ذاتی طور پر فلسطینیوں سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا، اس لیے بہت ممکن ہے کہ وہ ان کو دوبارہ بائی پاس کر کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا یہ معاہدہ کر ڈالے۔
حماس کا طوفان الاقصیٰ کا اقدام جرأتِ رندانہ تو یقیناً‌ تھا مگر شاید اس کو فلسطینیوں کے حق میں اس کے فوری عواقب کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکا۔ اُس کا خیال غالباً‌ یہ رہا ہو گا کہ مسلم دنیا اور خاص کر عرب ممالک ان کو یوں بے یار و مددگار نہیں چھوڑیں گے۔ جبکہ عربوں نے حقیقت میں ان کو تنہا چھوڑ دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ حماس کی ٹاپ قیادت شہید ہو چکی جبکہ اس کے خاص مددگار حزب اللہ اور ایران کی حالت بھی پتلی ہے۔ یمن پر بھی متعدد بار اسرائیل اور اس کے آقا امریکہ و برطانیہ شدید بمباری کر چکے ہیں۔ غزہ کا معاشی بائیکاٹ پہلے سے زیادہ سخت ہے۔ عرب، مسلم ممالک اور باقی دنیا محض چلا کر اور چیخ و پکار کر رہ گئے اور عملاً فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں کر پائے۔ جنوبی افریقہ اسرائیلی کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں گیا۔ جہاں سے نتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر جنگ یواف گالانٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے، مگر امریکہ نے داداگیری سے اس اقدام کو فیل کر دیا اور اب خود اس بین الاقوامی عدالتِ انصاف پر پابندی لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی حفاظت امریکی حکومت (چاہے وہ ڈیموکریٹس ہوں یا رپبلکن) کے مذہبی عقائدکا حصہ ہے۔ وہاں اقتدار ایوانجلکل مسیحیوں کا محتاج ہوتا ہے اور ان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی پارٹی نہیں جیت سکتی۔ اور یہ لوگ اپنے مذہبی عقیدہ کی رو سے اسرائیل کا تحفظ خود اپنے ملک کے تحفظ کی طرح ہی مانتے ہیں۔ بڑے سے بڑا دانشور اور انٹیلیکچول اسرائیل کی بات آتے ہی جنونی طور پر اس کی حمایت کرتا ہے اور بائبل کے حوالے دیتا ہے۔
امریکی داعش، القاعدہ اور طالبان کو Fanatics اور فنڈامینٹلسٹ کہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکی رولنگ کلاس سے بڑا فینیٹک اور بنیاد گیر دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔ اسرائیل مغرب کی آخری چوکی یا سامراج کی کالونی ہے جسے وہ ہر قیمت پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں- اسی وجہ سے پندرہ مہینے کی اس جنگ میں امریکہ نے بیس بلین ڈالر اسرائیل کے لیے خرچ کر ڈالے۔ اگر امریکہ نہ ہوتا تو حماس کے مجاہدین نے جس حوصلہ اور شجاعت کا ثبوت دیا ہے وہ کسی معجزہ سے کم نہیں` اسرائیل کبھی کا اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور اسرائیل سب کی انٹیلی جنس لگی ہوئی تھی، AI سے زبردست کام لیا جا رہا تھا مگر اسرائیلی مغویوں کو جنگ کے ذریعے یہ طاقتیں چھڑا نہیں پائیں بلکہ ان کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑا۔
صہیونی مغرب کی بڑی طاقتوں میں کلیدی عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ خود امریکہ ان کا دستِ نگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو این او میں مسلسل اسرائیل کے خلاف آواز اٹھتی ہے، قراردادیں پاس ہوتی ہیں مگر عملاً کچھ نہیں ہو پاتا۔ اب اسرائیل نے امریکی آشیرباد سے مغربی کنارہ کی اتنی زمینین غصب کر لی ہیں اور ان پر اتنی یہودی بستیاں بسا دی ہیں کہ عملاً ان کو ہٹانا ممکن نہیں رہ گیا ہے۔ اسرائیل غالباً یہ طے کر چکا ہے کہ غزہ کے شمال میں بھی اس کو مستقل رہنا ہے۔ اس لیے صلاح الدین کوریڈور (معبرصلاح الدین) جس کو مغربی لوگ فلاڈلفیاکوریڈور کہتے ہیں، پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔ اس پر نہ مصر کچھ کہتا ہے نہ اردن۔
دنیا کی رائے عامہ ضرور غزہ پر اسرائیل کی اِس جارحیت کے نتیجہ میں بیدار ہوئی ہے اور وہ اب فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہے مگر مغربی ممالک امریکہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ میں پالیسی ساز سب کے سب صہیونی یا صہیونیت کے ہمدرد ہیں۔ پورا مغربی میڈیا اسرائیل کا بیانیہ ہی بیچ رہا ہے۔ اور اس میں ابھی سالوں تک کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ عالمِ اسلام کا حال اور زیادہ خراب ہے۔ کچھ ہی دن پہلے ریاض میں او آئی سی اور عرب لیگ کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا (جو گزشتہ سال بھی ہوا تھا) اس میں شاندار تقریریں ہوئیں، لفظی قرادادیں پاس ہوئیں، مگر اس سے آگے کوئی بات نہیں بڑھ سکی۔ ایران نے تجویز دی تھی کہ جن مسلمان اور عرب ممالک نے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے ہیں وہ ان کو توڑ دیں اور اس کے ساتھ تجارت بند کر دیں مگر اس تجویز پر کسی نے کان نہیں دھرے، یعنی عملاً‌ یہ اجلاس نشستند و گفتند و برخاستند پر ختم ہوگیا۔
اس سیز فائر کے دوسرے دن ہی وہائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے عہدہ کا حلف لے لیا۔ ٹرمپ نے فلسطین میں جنگ بندی کروا کے شروعات تو اچھی کی ہے مگر اس کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے فلسطین کے حق میں کوئی خوش فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔ بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ خوش فہمی روا رکھ رہے ہیں، انہی میں پاکستان کے سینیٹر اور معروف دانشور مشاہد حسین سید بھی ہیں۔ مشاہد حسین بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں مگر نئی امریکی حکومت سے کچھ زیادہ ہی خوش فہمی رکھتے ہیں۔ خاکسار کا خیال تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس موقع پر نتن یاہو جنگ بندی کے لیے جو راضی کیا ہے تو مستقبل میں وہ اس کو بڑا انعام دینے والا ہے۔ مثلاً نتن یاہو اگر مغربی کنارہ کی یہودی بستیوں کو مستقل طور پر اسرائیل میں ضم کرے گا تو ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حمایت کرے گا۔ اسی طرح وہ شام کی گولان ہائٹس اور لبنان کے اندر اسرائیل کے بفرزون بنانے کی حمایت کرے گا۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں مل کر اب ایران میں موجودہ مذہبی حکومت کا تختہ پلٹ کرانے کی سازش کریں گے اور اس طرح محور المقاومہ کی کمر توڑنے کی پوری طرح کوشش کریں گے۔ اس کے بعد ایک ایک کر کے بڑے اور اہم مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروایا جائے گا۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اب محال سے محال ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حماس اور الفتح کو ہر قیمت پر ایک متحدہ محاذ بنانا ہو گا تبھی اس معاملہ میں کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔
یہ البتہ خوش آئند ہے کہ فلسطین کے پڑوس میں ایک آزاد مسلم مملکت قائم ہوگی ہے یعنی شام کا انقلاب کامیاب ہو گیا ہے۔ یہ نظریاتی لوگ ہیں اور مستقبل میں ان سے فلسطین کے لیے بھی خیر کی ہی امید کی جانی چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کی کوشش یہ ہے کہ آئندہ غزہ کے نظم و نسق سے خود فلسطینیوں کو بے دخل رکھا جائے، تاہم الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے حماس کے ایک قائد اسامہ حمدان نے یہ صاف کر دیا ہے کہ فلسطینی اپنے امور و معاملات خود طے کرنے کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہ ہوں گے اور فتح کی طرح حماس بھی فلسطینی سوسائٹی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔
بہرحال اب یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ سیزفائر کے دوسرے دونوں مراحل کس طرح روبہ عمل لائے جاتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے امریکی صدر کی پالیسی کیا ہو گی اور اس کے بعد خطہ کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

غزہ میں فتح اور شکست

حدیل عواد

الجزیرہ

آخر کار جنگ بندی ہو گئی۔ پندرہ مہینوں کی مسلسل نسل کش جنگ کے بعد ہم آخر کار سکون کا سانس لینے کے قابل ہوئے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل ہوئے ہیں، یا جو کچھ بھی وہاں باقی رہ گیا ہے۔
اب جبکہ ہم بمباری کے بغیر اس وقت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، دنیا اس بات پر ایک شدید بحث میں مصروف نظر آ رہی ہے کہ کون جیتا:
  • کیا اسرائیل فاتح ہے؟
  • یا حماس فتح کا اعلان کرنے کی حقدار ہے؟
  • یا بہادر فلسطینی عوام فاتح ہیں؟
میں ایک نرس ہوں نہ کہ کوئی ماہر، اس لیے میں اس کا جواب نہیں دے سکتی۔ لیکن عزیز قارئین! مجھے یہ کہنے دیجیے کہ دنیا کو ہمارے بچ جانے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ غزہ میں زندہ رہنا بہادری کا مترادف نہیں ہے۔ موت سے بچ جانا فتح نہیں ہے۔ ہم بمشکل ہی بچے ہیں۔ ہزاروں فلسطینی نہیں بچ سکے۔
نسل کش جنگ نے وقت کو ایک دائرے میں بند کر دیا تھا، کوئی آغاز یا اختتام نہیں تھا، کوئی منزل نہیں تھی جس کی طرف ہم بڑھ رہے تھے، ہم بس ایک دائرے میں چلتے رہے اور ہر روز آغاز پر واپس آتے رہے۔
ہر روز ہر خاندان کو پینے کے پانی، دھونے کے پانی، خوراک اور آگ جلانے کے لیے چیزیں تلاش کرنے کے لیے باہر جانا پڑتا تھا۔ بالکل بنیادی چیزیں، جو اگر ملتی بھی تو ان کو حاصل کرنے میں گھنٹوں لگتے تھے۔ روٹی، جسے ہم ایک مسلّمہ حق سمجھتے تھے، اسے تلاش کرنا ایک جدوجہد بن گئی تھی۔ خاندانوں کے پیسے ختم ہو گئے۔ امدادی تنظیموں کے راشن ختم ہو گئے۔ ایسا وقت آیا کہ کہ کیڑے لگے آٹے اور میعاد ختم شدہ ڈبہ بند خوراک بھی ایک عیاشی بن گئی۔ اس سلسلہ کو صرف بیماری روکتی تھی یا پھر موت، جب غمزدہ لوگ اپنے پیاروں کو دفن کرتے تھے۔
بیرونی دنیا نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچوں، عورتوں اور مردوں کی پرتشدد اموات کی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں۔ لیکن انہوں نے دائمی مریضوں اور قابلِ علاج بیماریوں سے متاثرہ افراد کی خاموش اور ایذیتناک اموات نہیں دیکھیں۔
ہمارے پاس انفیکشن والے لوگ اینٹی بایوٹکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ ہمارے پاس گردے کے مریض ہلاک ہو گئے کیونکہ ایسا وقت آگیا جب ڈائیلاسز کی سہولت صرف وقتاً فوقتاً اور بہت کم طبی مراکز میں دستیاب تھی۔ یہ اموات سرکاری نسل کشی کی اموات کی تعداد میں شامل نہیں کی گئیں، جبکہ ان میں سے بہت سی ایسی تھیں جن کو روکا جا سکتا تھا۔
بے گھر لوگوں کے کیمپوں کی گلیوں میں، زندہ بچ جانے والے غمزدہ، سسکتے ہوئے، یا خاموشی سے بیٹھے ہوئے افراد دیکھے جاتے تھے۔ موت سے بچنے کے بعد وہ بھی وقت کے اس بھنور میں آ گئے تھے۔
اتنے مہینوں کے اجتماعی نقصان، ظلم اور تڑپ کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ دل میں موت سے مزید فرار کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی۔ میں خود دوسرے بہت سے فلسطینیوں کی طرح خوفناک حد تک ساکت اور بے حس ہو گئی تھی۔
زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب ہم اس زمین پر آوازوں، مسکراہٹوں اور بھرپور زندگی کے ساتھ جی رہے تھے۔ ہم نے اپنے اندر بڑے خواب اور امیدیں قائم کر رکھی تھیں۔ لیکن ہم خود کو زیادہ پہچان نہیں پائے کہ ہم وہ نہیں ہیں جو ہم بن رہے ہیں۔ ہم، ہم نہیں ہیں۔ ہم ایسا سمجھتے تھے۔
اجتماعی تکلیف اتنی زیادہ تھی، اتنی بھاری تھی کہ ایسا محسوس ہوا کہ سکون کی تلاش کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کسی کو بتانے کے لیے کوئی نہیں ہے کہ اندر کیا ہو رہا ہے، کیونکہ سب اسی تاریک جگہ پر تھے۔
لیکن عزیز قارئین! بڑے پیمانے پر درد اور بڑے پیمانے پر موت کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صورتحال آپ کو ہر چیز کے باوجود زندگی سے چمٹے رہنے پر مجبور کرتی ہے، اپنے قابضین کی موجودگی میں بھی۔ غزہ میں ہر چیز ہماری موت کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن ہم نے اس سے زندگی بنانا سیکھ لیا۔ بلاشبہ، ہم اب اپنے جیسے نہیں رہے، لیکن ہم مرے نہیں ہیں۔ ہماری نئی صورتیں جدوجہد جاری رکھنے اور مزید جینے کے لیے بنی ہیں۔
وقت کے لامتناہی دائرے میں لوگ پھر بھی اطمینان محسوس کرنے یا مقصد پانے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ میں نے ایک عارضی طبی مرکز میں بطور نرس رضاکارانہ طور پر کام کر کے ایسا کیا، اور کافی کی تلاش میں دور دور تک پیدل جا کر بھی۔ یہ مزاحمت کا اور جینے کا میرا طریقہ تھا۔ فاقہ کشی نے نقصان پہنچایا لیکن میں نے اس کا دوسرا پہلو دیکھا۔ میں اکثر ہنس پڑتی تھی کہ آخر کار میں نے وہ وزن کم کر لیا جس کی میں تمنا کرتی تھی اور جو میں ماضی میں آزمائی گئی ان تمام ڈائٹنگ کی کوششوں سے کبھی نہیں کر پائی۔
میں نے خیمے کی سخت زندگی کے دوران اپنی ماں کے بالوں میں سفیدی دیکھی، لیکن ہم اس پر بھی ہنسے۔ میں جانتی تھی کہ یہ سفیدی اسے شکست نہیں دے سکے گی۔ وہ رنگوں سے محبت کرتی ہے اور انہیں اپنے مطابق ڈھالنے میں بہت ماہر ہے۔
پندرہ مہینوں کی جہنم کے بعد ہم اپنی پناہ گاہوں اور خیموں سے نکلے ہیں کہ تباہی کے منظر دیکھ سکیں۔ ہم ابھی تک ملبے کے نیچے سے نکالی گئی لاشوں کی گنتی کر رہے ہیں، صرف ایک جوتے یا ایک قمیض سے قابل شناخت۔
میں تباہی کو دیکھتی ہوں اور اپنے آپ کو دیکھتی ہوں جو بچ گئے ہیں۔ موت نے ہمیں شکست نہیں دی، اس لیے نہیں کہ ہم ہیرو ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم ایسے لوگ ہیں جو زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ 
عزیز    قارئین!     کیا   زندگی  سے   چمٹے  رہنا    ایک فتح  ہے؟
aljazeera.com

زبان کی برائی اور دل کی اچھائی

سید اعجاز بخاری

(یوٹیوب چینل Syed Ejaz Bukhari سے ایک ویڈیو کی گفتگو)
السلام علیکم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 
آپ لوگوں نے اکثر یہ سنا ہو گا کہ وہ دل کا بہت اچھا ہے۔ زبان کا تھوڑا کڑوا ہے لیکن دل کا بہت اچھا ہے۔ یہ جملہ آپ نے بہت زیادہ سنا ہو گا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ دل کا کوئی کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو جائے، دل کا تو خدا کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ دل میں کون کیسا ہے، ہمارے جو تعلقات ہوتے ہیں وہ زبان کے ہوتے ہیں زیادہ تر۔ اور زبان اگر آپ کی درست نہیں ہے،  آپ دل کے جتنے اچھے کیوں نہ ہوں، دنیا کو تو آپ کی زبان سے ہی پتہ لگے گا کہ آپ دل کے کتنے اچھے ہیں۔ 
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ اگر ایک صاحب، شوہر سخت زبان رکھتا ہے، بیوی کے ساتھ وہ برے لب و لہجے کے ساتھ بات کرتا ہے تو اکثر ساس صاحبہ یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ تم وہ نہ ہو، یہ دل کا بڑا اچھا ہے بس زبان کا تھوڑا کڑوا ہے۔ بعض اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ شادی بیاہ کرنے کے لیے جب رشتہ لے کر جا رہی ہوتی ہیں عورتیں، وہ بھی کہتی ہیں کہ دل کا بہت اچھا ہے، ہر ایک کا بڑا خیال رکھتا ہے، بس زبان کا تھوڑا سا ایسے ہے۔ 
تو دیکھیں! رشتے لہجوں سے بنتے ہیں، اور رشتے لہجوں سے خراب ہوتے ہیں۔ میں نے اس کے اوپر ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ لفظوں سے زیادہ لہجے لہو لہان کرتے ہیں۔ اور لہجہ، یہ جو آواز کا اتار چڑھاؤ ہے، ایک عام سی بات اگر آپ برے طریقے سے کہیں گے تو اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہم اسے کیوں اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اگر زبان کا سخت ہو گا تو ہم سمجھ جائیں کہ وہ دل کا بڑا اچھا ہے۔ وہ دل کا ہو سکتا ہے اچھا ہو، میں اس پر اعتراض نہیں کر رہا ہوں، لیکن دل کے اندر تو خدا بستا ہے، دل کے معاملات کو خدا جانتا ہے، جن لوگوں کے ساتھ ہمارے روزمرہ کے معاملات طے پاتے ہیں وہ تو ہماری زبان کے ساتھ طے پاتے ہیں۔ وہ ہمارے چہرے کے اوپر ہونے والی خوشی سے طے پاتے ہیں۔ چہرے کے اوپر ہونے والے دکھ، غم یا سختی کے ساتھ طے پاتے ہیں۔ تو دنیا تو اسی چیز کو جانتی اور دیکھتی ہے۔ اور آپ کے رشتے بھی اسی چیز کو دیکھتے اور جانتے ہیں۔ 
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بچوں اور والدین کے درمیان اگر کبھی کوئی تلخ کلامی ہوتی ہے تو کیا والدین دل کے اچھے نہیں ہوتے اپنے بچوں کے ساتھ؟ وہ تو بہت ہی اچھے ہوتے ہیں۔ لیکن بچہ دل کس بات پہ  خراب کر کے بیٹھا ہوتا ہے؟ زبان سے۔ اسی لیے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ دل خراب ہوتے ہیں زبان ہے۔ آپ دل کے جتنے اچھے ہو جائیں۔ تو آپ لوگوں کے دلوں کو بچا سکتے ہیں اپنی زبان کو ٹھیک کر کے۔ آپ لوگوں کے دلوں کو بچا سکتے ہیں اپنے لب و لہجے کو ٹھیک کر کے۔ 
اور اس طرح کے اور کئی مقولے ہیں جو آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں، یا ان کی سمجھ اب آتی جا رہی ہے۔ تو آپ کو کوئی بھی کہے کہ وہ دل کا بہت اچھا ہے لیکن زبان کا خراب ہے، تو زبان کے خراب لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اور یہ بات آپ کو بھی سمجھنی ہے اور انہیں بھی سمجھنی ہے۔  دیکھیں حیوانِ ناطق جب انسان کو کہا گیا ہے تو اس کا مطلب کیا ہے، وہ بول سکتا ہے، وہ بات کر سکتا ہے، اور یہی فرق ہے۔ بولنے کے حوالے سے عرض کر رہا ہوں۔ آپ جب اس اعتبار سے اسے دیکھیں گے تو پھر آپ دھیان رکھیں گے۔  
پچھلے ہی دنوں مجھے شاید کہیں فیس بک پر کچھ پڑھنے کو ملا کہ یہ جو جذباتی لوگ ہوتے ہیں یہ دل کے بڑے صاف ہوتے ہیں، جو منہ پہ آتا ہے کہہ دیتے ہیں، یہ دل کے اندر نہیں رکھتے چیزوں کو، یہ منافق نہیں ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی طرح جو اندر ہی اندر دل میں چیزوں کو پالتے رہتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے نہیں اور اسکیم بنا رہے ہوتے ہیں۔ 
ایسا نہیں ہوتا جناب! تو اس کا مطلب، اگر کوئی دل کا اچھا ہے اور جذباتی ہے، اور جو کچھ اس کے دل میں آ رہا  ہے وہ آپ کو بول دیتا ہے، تو حکمت کا کیا نام ہے؟ رشتوں میں حکمت چاہیے ہوتی ہے۔  کب، کیا، کیسے کہنا ہے؟ جن کو یہ بات سمجھ آجاتی ہے وہ دل کے برے ہوں یا اچھے ہوں، ان کی زبان اچھی ہوتی ہے۔ 
کئی لوگ کیا کہتے ہیں کہ وہ جی میٹھی چھری ہیں، وہ بڑے میٹھے میٹھے سلیقے طریقے سے بات کرتے ہیں لیکن آپ کو اندازہ نہیں کہ وہ اپنے اندر دل میں کیا کیا چھپا کے بیٹھے ہیں، تو ہم ایسے لوگ نہیں ہیں، ہم تو جی صاف صاف سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں منہ کے اوپر۔ 
یہ جو صاف صاف سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں منہ کے اوپر، ان لوگوں سے معاشرے کو زیادہ نقصان ہوتا ہے  کیونکہ ان سے معاشرے کے اندر سٹریس بڑھتا ہے۔ ان سے معاشرے کے اندر خرابیاں اس طرح کی بڑھتی ہیں کہ لوگوں کے لب و لہجے خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ انہی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔  باقی جہاں تک تعلق ہے دل کے اندر آپ کسی کے لیے خراب خیال رکھتے ہو یا اچھا خیال رکھتے ہو، آپ منافق ہو، نہیں ہو، سچے ہو، کیا ہو، یہ تو آپ کا اور آپ کے رب کا معاملہ ہے۔ لیکن جو انسانوں کے ساتھ حقوق العباد کے حوالے سے آپ کا معاملہ ہے، وہ پھر یہی ہے۔ 
حقوق العباد پر بھی میں آپ سے بات عرض کرتا چلوں، کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک ریکارڈنگ کروائی تھی جس میں، میں نے کہا آپ اپنا خیال رکھیں۔ اس پر بھی باکمال لوگوں نے اپنے اپنے حساب سے کامنٹس کیے کہ میں خودغرضی کی دعوت دے رہا ہوں۔ ارے میں آپ کو آپ کا ہونے کی دعوت دے رہا تھا۔ میں آپ کو خودغرض ہونے کی دعوت نہیں دے رہا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ باتیں کہی ہیں، وہ شاید اس کو پورا نہیں سن پائے ہوں گے، جو بھی وجہ ہو گی، میں نے بڑا کلیئرلی اس کے اندر یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ جو اپنا خیال رکھ سکتا ہے وہ دوسروں کا کتنا خیال رکھے گا! 
جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو اپنا خیال رکھ سکتا ہے وہ دوسروں کا کتنا خیال رکھے گا، اس کا مطلب کیا ہوا، میں حقوق العباد کے حق میں نہیں ہوں؟ یا میں اس حق میں نہیں ہوں کہ آپ لوگ جو بھی ہیں، ان کو لوگوں کا خیال نہیں رکھنا چاہیے، یا رشتوں کا خیال نہیں رکھنا چاہیے۔ میرا تو کام ہی یہی ہے، میں کہتا ہی یہی ہوں کہ آپ اس طرح سے جئیں کہ آپ کے ساتھ رہنے والے بھی جی سکیں۔  اور آج کی گفتگو سے بھی آپ کو اس بات کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ میرے پاس میں ہوں کا مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ اور کوئی ہے ہی نہیں اس دنیا میں، اس کا بالکل یہ مطلب نہیں تھا۔ 
مجھے یہ بات کرتے ہوئے ذہن میں وہ بات آ گئی تو میں نے کہا اس کی وضاحت کردوں۔  ویسے وہ جڑ بھی جاتی ہے اس کے ساتھ کہ جب آپ دل کے جتنے اچھے ہو جائیں، آپ لوگوں کے لیے نقصان کا سبب ہوتے ہیں جب آپ زبان کے اچھے نہیں ہوتے۔ کیونکہ آپ اگر زبان کے اچھے نہیں ہوں گے تو لوگوں کے دل خراب ہوں گے۔ جب لوگوں کے دل خراب ہوں گے تو ان کے دماغ خراب ہوں گے۔ جب ان کے دماغ خراب ہوں گے تو پھر ان کی زبان خراب ہو گی۔ اور وہ جو خراب زبان ہے وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اس سے پھر جو زہر ہے، وہ معاشرے کے اندر تقسیم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 
اس لیے میں آپ سب سے یہ گزارش کروں گا کہ اگر آپ ایسا ہےکہ  اونچا بہت زیادہ بولتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، لیکن آپ دل کے بہت اچھے ہیں، تو جناب آپ کے دل کا معاملہ آپ کے رب کے ساتھ ہے، لیکن آپ کی زبان کا معاملہ جہاں آپ کے رب کے ساتھ ہے وہاں ان لوگوں کے ساتھ بھی ہے جن کے ساتھ آپ کا نباہ ہے۔ آپ کی زبان سے اگر کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ 
بلکہ حدیثِ مبارکہ بھی یہ ہے کہ مومن تو ہوتا وہی ہے جس کے ہاتھ سے، زبان سے محفوظ ہوں اس کے لوگ۔ جو اس کے اردگرد لوگ موجود ہیں۔ اور یہ سب عین ممکن ہے اگر آپ اپنی زبان کا خیال رکھتے ہیں۔ اور سب کو پتہ ہوتا ہے۔ جس گھڑی کوئی کسی کو کہے نا کہ یہ دل کا بہت اچھا ہے تو  اسے تو الرٹ ہو جانا چاہیے کہ کہیں اگلا جملہ وہ یہ نہ کہہ دے کہ زبان بس اس کی خراب ہے۔ 
زبان خراب ہونا سچا ہونے کی علامت نہیں ہے۔ جذباتی ہونا بھی سچا ہونے کی علامت نہیں ہے۔ اگر آپ جذباتی ہیں تو اس کا مطلب آپ سچے ہیں؟ دس لوگوں کے دل خراب کر دیے، ان کے دماغ خراب کر دیے، اور آپ کہیں کہ نہیں جناب میں بڑا سچا آدمی ہوں، مجھ سے منافقت نہیں ہوتی، میں تو جی سیدھا منہ کے اوپر بات کر دیتا ہوں۔ بالکل منہ پر بات کیجیے، لیکن کب، کہاں، کیسے کا خیال رکھ کر بات کیجیے۔ اور یہ منافقت نہیں ہے، یہ حکمت ہے۔ کوشش کریں کہ لوگوں کا خیال رکھیں اس اعتبار سے کہ آپ سے انہیں تکلیف نہ ہو۔ اور جب ہم کہیں کہ مجھ سے کسی کو تکلیف نہ ہو تو اس میں، میں سب سے زیادہ اپنا خیال رکھ رہا ہوتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میری قبر خراب ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ اللہ کے حضور میں کل کو جا کر یں شرمندہ ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ برا کیا تھا، یا اس کے ساتھ برا کیا تھا، یا اس کے ساتھ برا کیا تھا۔ 
اور تقویٰ کہتے ہی اسی کو ہیں کہ آپ کو اپنا اتنا خیال ہوتا ہے کہ آپ سے سارے جڑے لوگ جو ہیں، ان کے حقوق کا آپ خیال رکھنا شروع کر یتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ان کے حقوق کا اس طرح خیال رکھیں کہ اپنا حق ہی مار دیں۔ اور وہ میرے پاس میں ہوں کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا آپ کے اوپر حق ہے، اور اس کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔ 
خدا آپ کے اور ہمارے دلوں کو بھی منور رکھے، روشن رکھے، سب کے لیے اچھا رکھے، اور ساتھ ہی ساتھ ہماری زبانوں کو بھی اتنا میٹھا اور اچھا کرے کہ لوگ ہماری بات سنیں، ہماری بات سے لطف اندوز ہوں، اور ہم سے انہیں سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے۔ بہت شکریہ دھیان سے سننے کا۔  ہاں طرزِ اختلافِ رائے کا خیال رکھیں، اختلاف تو آپ کر سکتے ہیں۔ 
https://youtu.be/g9LU_mQ8XVY

ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ: سابق ترک صدر عبد اللہ گل کی نظر میں

عبد اللہ گل

ابراہیم حمیدی

سابق ترک صدر نے ’’المجلہ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں شام  اور ترکی کے مابین مصالحتی کوششوں، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے امکانات، اور دیگر اہم علاقائی مسائل پر گفتگو کی۔


عبد اللہ گل ترکی کی ایک ممتاز سیاسی شخصیت ہیں جو ترکی کے متعلق ملکی اور بین الاقوامی دونوں حوالوں سے گہری اور جامع سمجھ کے حامل مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ترکی اور بیرون ملک دونوں جگہوں پر تعلیم حاصل کی اور کام کیا۔ انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور نجم الدین اربکان کے ساتھ ’’ویلفیئر پارٹی‘‘  میں شامل ہوئے اور بعد میں رجب طیب اردگان کے ساتھ ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی۔
جناب عبد اللہ گل کئی اہم عہدوں پر رہے جن میں وزیر خارجہ، وزیر اعظم، اور صدر کے عہدے شامل ہیں۔ ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۴ء تک وہ چانکایہ صدارتی رہائشگاہ میں مقیم رہے اور اپنی مدت کے اختتام پر انہوں نے صدارت اپنے دیرینہ دوست رجب طیب اردگان کو منتقل کی۔
ماہر تعلیم، سیاستدان، ماہر اقتصادیات، سفارتکار، اور سابق صدر ترکی کی تاریخ کے کئی اہم لمحات کے بھی گواہ ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی اہم بدلتے ہوئے حالات کے بھی۔ جناب عبد اللہ گل ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی حملے کے دوران وزیر اعظم تھے اور جب ترکی کی پارلیمنٹ نے عراق جنگ کی صورت میں امریکی فوجیوں کو ملک میں تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ ۲۰۰۸ء،۲۰۰۹ء میں غزہ اسرائیل جنگ اور ۲۰۱۱ء کے ’’عرب اسپرنگ‘‘  (انقلاب) کے دوران صدر تھے۔
’’المجلہ‘‘ نے سابق صدر کے ساتھ استنبول کے جنگلات کے وسیع منظر میں ایک پہاڑی پر واقع ان کے دفتر میں بہت تفصیلی انٹرویو کیا۔ سابق صدر نے ترکی کی داخلی، سیاسی اور اقتصادی صورتحال سے لے کر مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی جنگ کے امکانات تک کے مختلف مسائل پر بات کی۔ ذیل میں گفتگو کے اہم حصے پیش کیے جا رہے ہیں۔ 

ابراہیم حمیدی: آئیے ترکی سے شروع کرتے ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے پارلیمانی، صدارتی، اور مقامی انتخابات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
عبد اللہ گل: صدر رجب طیب اردگان گزشتہ سال کے انتخابات میں دوبارہ منتخب ہوئے، جس سے خارجہ پالیسی اور اقتصادی امور میں تبدیلی آئی۔ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے حکومت میں نئے وزراء کو مقرر کیا تاکہ ان کی زیادہ عملی سوچ کی عکاسی ہو، خصوصاً‌ ترکی کے خارجہ اور اقتصادی امور کے حوالے سے۔ مقامی انتخابات میں اپوزیشن نے خاصی تعداد میں ووٹ حاصل کیے، خاص طور پر زیادہ آبادی والے بڑے شہروں میں، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طاقت کا توازن پیدا ہوا۔
ابراہیم حمیدی: یوں لگتا ہے کہ صدر اردگان کی اقتصادی اصلاحات کا نفاذ مقامی انتخابات میں ان کے لیے نقصان کا باعث بنا جس میں اپوزیشن کی کامیابیاں دیکھنے میں آئیں۔ کیا ترکی میں ووٹروں کے لیے معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے؟
عبد اللہ گل: معیشت کسی بھی ملک میں ایک خاص  مسئلہ ہے۔ ترک انتخابات سے پہلے کے پانچ سال مشکل تھے، خاص طور پر معیشت کے حوالے سے اور اس کے بارے میں لوگوں کے خدشات کے حوالے سے۔ مہنگائی تقریباً ایک سو فیصد تک پہنچ گئی، اور لوگوں کے درمیان دولت کی تقسیم اور آمدنی کا فرق نمایاں طور پر بڑھا۔
صدر اردگان نے اس حوالے سے پچھلی پالیسیوں کی خامیوں کو تسلیم کیا، جس نے انہیں اپنی اقتصادی پالیسی میں فیصلہ کن اور حقیقت پسندانہ تبدیلی کرنے پر تیار کیا۔ اس تبدیلی کی ایک اہم علامت ان کی طرف سے نئے وزیر خزانہ اور سنٹرل بینک کے گورنر کی تقرری تھی، جو دونوں انتہائی ماہر اور قابل ہیں۔
ابراہیم حمیدی: کیا کیے گئے اقدامات کافی تھے، یا وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مزید کچھ کر سکتے تھے؟
میرا خیال ہے کہ اختیار کیا  گیا راستہ صحیح ہے، لیکن چونکہ پچھلی پالیسیوں میں خامیاں تھیں، اس لیے اہم اضافی اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں قانون اور انصاف کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور معیشت کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا شامل ہے اور لوگوں کی ضروریات کا خیال کرنا بھی۔
ابراہیم حمیدی: کیا آپ کا خیال ہے کہ اس وقت قانون کی حکمرانی نہیں ہے؟
عبد اللہ گل: ۲۰۱۵ء میں بغاوت کی ناکام کوشش اور مختلف بیرونی سیاسی اور اقتصادی عوامل نے اس علاقے میں ترقی کو متاثر کیا ہے۔ جب میں نے ۲۰۱۴ء میں صدارت چھوڑی تو ہم نے نمایاں پیشرفت کر رکھی تھی، لیکن اس کے بعد سے مختلف عوامل کی وجہ سے تنزلی ہوئی ہے۔ ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے درست اور معقول پالیسیوں کی طرف واپس جانا ضروری ہے، جیسا کہ یہ اب ہو رہا ہے۔
ابراہیم حمیدی: آپ ترکی کی موجودہ سماجی صورتحال کا کس طرح جائزہ لیتے ہیں، اور ترکی کی معاشرتی ہیئت میں پناہ گزین کہاں فٹ ہوتے ہیں؟
عبد اللہ گل: صرف دو سالوں میں ترکی نے اتنے پناہ گزینوں کو قبول کیا جتنا جرمنی نے تیس سالوں میں کیا۔ اس کے پاس دنیا کی سب سے زیادہ پناہ گزین آبادی ہے جس نے قدرتی طور پر ملک کی معاشرتی ہیئت کو اہم حوالوں سے متاثر کیا ہے۔
ابراہیم حمیدی: کیا شامی پناہ گزین واقعی ایک مسئلہ ہیں، یا ان کی موجودگی کو ترکی میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
عبد اللہ گل: ملک میں پناہ گزینوں کے حوالے سے بڑی سطح پر کوئی تنازع نہیں ہوا، بس کہیں کہیں کچھ واقعات ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی نے پانچ سے زیادہ مقامی، صدارتی، اور پارلیمانی انتخابات منعقد کیے ہیں، اور کسی بھی سیاسی جماعت نے پناہ گزین مسئلے کا استعمال نہیں کیا۔  حالیہ انتخابات میں یہ کچھ حد تک سامنے آیا لیکن ترک عوام نے عام طور پر انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے کام لیا ہے۔
بلکہ میں اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر مرکزی اپوزیشن جماعت کی تعریف کروں گا کہ انہوں نے انتخابات کے دوران اس مسئلے کو ہتھیار نہیں بنایا۔ (البتہ) یورپ کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا، جہاں ہجرت کا مسئلہ انتہائی سیاسی بن چکا ہے۔ 
ابراہیم حمیدی: کیا آپ کو لگتا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے؟
عبد اللہ گل: میں نے کئی مواقع پر اس مسئلہ پر بات کی ہے کہ کسی بھی ملک میں موجود پناہ گزین کبھی بھی اپنے آپ کو ’’گھر میں‘‘ محسوس نہیں کرتے۔ قدرتی طور پر وہ اپنے وطن، اپنے گھروں، کھیتوں، اور اسکولوں کے لیے ترستے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے کا انتخاب کر سکتے ہیں جہاں وہ زیادہ سکون محسوس کریں، جبکہ باقی یہاں رہنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
تاہم، میزبان ملک صرف اتنی دیر تک پناہ فراہم کر سکتا ہے جب تک کہ سماجی تناؤ سامنے نہ آئے، کیونکہ مقامی لوگ غیر ملکیوں کو اقتصادی بوجھ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ پناہ گزینوں کی واپسی کا معاملہ اس طرح سے حل کرنا چاہیے کہ غیر ملکی اور مقامی لوگ دونوں محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔
ابراہیم حمیدی: صدر اردگان نے حال ہی میں شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے اہم مقاصد میں سے ایک شامی پناہ گزینوں کی واپسی پر بات کرنا ہے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
عبد اللہ گل: میں صدر اردگان کی صدر الاسد سے ملاقات کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اگر شام میں امن اور سماجی ہم آہنگی بحال ہو جاتی ہے تو زیادہ تر پناہ گزین قدرتی طور پر اپنے وطن واپس جانے کی طرف مائل ہوں گے۔ تاہم، اگر حالات واپسی کے لیے سازگار نہیں ہیں تو آپ ان سے کیا توقع کرتے ہیں؟ یہ میری ذاتی رائے ہے، لیکن میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔
ابراہیم حمیدی: کیا آپ الاسد اور اردگان کے درمیان ملاقات کا خیرمقدم کریں گے، یا آپ کو تحفظات ہیں؟
عبد اللہ گل: اگر دونوں فریق واقعی ملنا چاہتے ہیں تو صورتحال کو احتیاط سے سنبھالنا چاہیے۔ اگر بات چیت کی خواہش دونوں طرف سے ہے تو وہ ماضی کی شکایات سے درگذر کرتے ہوئے تعلقات کا ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔ تاہم، ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مکمل تیاری ضروری ہے۔ اس میں مختلف سطحوں پر ملاقاتیں شامل ہو سکتی ہیں  —  سفارتی، وزارتی، سیاسی، اور حفاظتی  حوالے سے— تاکہ تناؤ کو کم کر کے نتیجہ خیز گفتگو کے لیے ماحول بنایا جا سکے۔ اس طرح، جب دونوں صدور آخر کار ملیں گے تو وہ ان معاملات کو حل کرنے کے حوالے سے پہلے ہی نمایاں پیشرفت کر چکے ہوں گے۔ ایسی تیاریوں کے بغیر مبہم مسائل پر بات چیت کے لیے ہونے والی ملاقات اس سارے عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہے۔
ابراہیم حمیدی: ترک اور شامی حکام کے درمیان بغداد، ماسکو، اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں کھلی اور خفیہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور سیاسی رابطے رہ چکے ہیں۔  تاہم،  الاسد کا اصرار ہے کہ وہ اردگان سے ذاتی طور پر اس وقت تک ملاقات نہیں کریں گے جب تک کہ شامی علاقے سے ترک افواج کے انخلا کا کم از کم اصولی طور پر اعلان نہ ہو جائے۔ آپ الاسد کے مطالبے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
عبد اللہ گل: ترکی شام کی علاقائی سالمیت کے لیے ہر طرح سے پرعزم ہے ، یہ ایسا اصول ہے جس کی کئی بار تصدیق کی جا چکی ہے۔ ’’نئی عثمانیت‘‘ یا اس طرح کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ترکی ایک آزاد، خودمختار اور متحد شام چاہتا ہے ،جغرافیائی اور سماجی دونوں حوالوں سے۔ 
لیکن ترک فوجی یونٹ شام میں کیوں موجود ہیں؟ یہ بنیادی طور پر ملک کے لیے پیدا ہونے والے داخلی سلامتی اور دہشت گردی کے خطرہ کی وجہ سے ہے۔ ترکی کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہے اور نہ ہی کبھی تھا کہ وہ شام کی سلامتی کو نقصان پہنچائے یا اس کے علاقائی نقشے کو تبدیل کرے۔ بین الاقوامی برادری اور ہمارے شامی بھائیوں کو یہ سمجھنا چاہیے۔ صدر مملکت، وزیر خارجہ، اور تمام متعلقہ حکام اس حوالے سے بہت واضح ہیں۔ 
جہاں تک ترک فوجی یونٹوں کے شام سے انخلا کا تعلق ہے، اس پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ میں اس بات کی ذمہ داری لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس بارے میں مخصوص تفصیلات فراہم کروں کہ یہ کب یا کیسے ہوگا، لیکن میں مخلصانہ طور پر امید کرتا ہوں کہ یہ ہموار اور شفاف طریقے سے کیا جائے گا  جس سے تمام متعلقہ فریق مطمئن ہو جائیں۔
یہی بات عراق پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ وہاں ترکی کی موجودگی بھی سلامتی کے حوالے سے موجود خطرہ کی بدولت ہوئی ہے۔ اگر عراقی اور شامی حکومتیں سلامتی کے ان مسائل کو مکمل طور پر حل کر سکیں تو دونوں ممالک میں ترک فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ابراہیم حمیدی: عراق اور شام کے درمیان موازنہ واقعی متعلقہ بات ہے۔ مثال کے طور پر ترکی عراق میں بشیقہ بیس پر فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے حوالے سے السوڈانی حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات میں مصروف ہے۔ جہاں تک شام کا تعلق ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ دہشت گرد گروپوں یا کردوں، خاص طور پر PKK اور اس سے منسلک کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے خلاف دمشق اور انقرہ کے درمیان تعاون کا امکان ہے؟
عبد اللہ گل: سب سے پہلے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ اس خطہ  شام، عراق، ایران، اور ترکی میں کرد ایک اہم نسلی گروپ ہیں  ۔ میرا خیال ہے کہ انہیں اپنے متعلقہ ممالک میں برابر شہری ہونا چاہیے اور آزادی کے ساتھ قانون کے تحت ضمانت شدہ تمام حقوق سے بہرہ مند ہونا چاہیے۔ جبکہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کچھ ممالک میں چیلنجز کا سامنا ہے، جیسا کہ مجھے یاد ہے، شام میں کچھ کرد آبادیاں تاریخی طور پر پسماندہ رکھی گئی تھیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں تھے۔ تاہم، ہمیں کرد عوام کو مجموعی طور پر اور PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور دیکھتے ہوئے ان کے درمیان واضح طور پر فرق کرنا چاہیے۔
۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں دہشت گرد گروپ PKK شام میں موجود تھا، اور عبداللہ اوجلان شامی علاقے سے متحرک تھے۔ اس گروپ کو ۱۹۹۸ء تک حفاظت اور استحکام حاصل تھا، جب انقرہ اور دمشق کے درمیان آدانا  معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ دہشت گرد گروپوں کے خلاف ترکی اور شام کے درمیان تعاون اورمشترکہ کاروائی  ممکن بھی ہیں اور ضروری بھی۔ آدانا معاہدہ کی دفعات اس طرح کے تعاون کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ تاہم، ملک میں رہنے والے دہشت گردوں اور کرد شہریوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
ابراہیم حمیدی: ۱۹۹۰ء کی دہائی کے آخر میں شام، ترکی، اور عراق کے درمیان شمال مغربی عراق میں ایک کرد ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے  ’’سہ فریقی تعاون‘‘ کے نام سے ہونے والی سرگرمیوں میں ترکی شریک تھا۔ ترکی اور شام کے درمیان موجودہ تناؤ کے باوجود شمال مشرقی شام میں ایک کرد ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ آپ نے چار ممالک میں کردوں کی موجودگی کا ذکر کیا ہے: ترکی، شام، ایران، اور عراق۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان چار ممالک کے درمیان کرد ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے ہم آہنگی ہونی چاہیے؟
عبد اللہ گل: قدرتی طور پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ کے لیے ان ممالک کے درمیان باہمی تعاون ممکن ہے، جبکہ دہشت گردوں اور ان ممالک میں رہنے والے شہریوں کے درمیان واضح فرق کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جا سکے۔ تاہم، اگر ان ممالک کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے والی علیحدگی پسند تحریکیں یا دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں، تو ان ممالک کے درمیان باہمی تعاون ضروری ہو جاتا ہے۔ 
ابراہیم حمیدی: کرد ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے باہمی تعاون بھی شامل ہے؟
عبد اللہ گل: ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ کسی بھی ملک میں تمام شہریوں کو سلامتی، آزادی، اور ان کے تمام خودمختاری اور قانونی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ تمام شہریوں بشمول کردوں اور غیر کردوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جانے چاہئیں۔ لیکن دہشت گرد یا علیحدگی پسند تحریکوں کو انسانی حقوق کا جائز محافظ نہیں سمجھا جا سکتا۔ وقتاً فوقتاً ان تحریکوں کو بیرونی قوتوں جیسے روسیوں اور امریکیوں کی طرف سے پراکسی (ذریعہ) کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس طرح کی کرد ریاست اگر قائم ہو گی تو اسرائیل اسے اپنے ممکنہ اتحادی کے طور پر دیکھے گا۔ لہٰذا تمام علیحدگی پسند اور دہشت گرد تحریکیں،  جو متعلقہ ممالک کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرتی ہیں، ان سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔
ابراہیم حمیدی: میں اسرائیل کے موضوع پر واپس آؤں گا، لیکن میں پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا آپ کو حیرت ہوئی کہ الاسد ’’عرب اسپرنگ‘‘  والے ممالک کے واحد رہنما ہیں جو عہدے پر برقرار رہنے میں کامیاب رہے۔
عبد اللہ گل: میں اسے حیرت کی بات نہیں سمجھتا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ خطے کے ممالک جنہیں ’’عرب اسپرنگ‘‘ کا تجربہ ہوا ہے، کسی نہ کسی طرح سے تبدیل ہو چکے ہیں، چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔
ابراہیم حمیدی: آپ کا الاسد سے آخری رابطہ کب ہوا تھا؟
۲۰۱۱ء میں جب ’’عرب اسپرنگ‘‘ شروع ہوا تھا۔ شام میں دیکھنے کی آخری چیز جو میں کبھی دیکھنا چاہتا تھا وہ شامی فوج کا اپنے ہی لوگوں کے مسلح گروہ کا سامنا کرنا تھا۔ جب واقعات شروع ہوئے، ۲۰۱۲ء تک میں نے دیکھا کہ روس اور ایران بھی اپنے مفادات کے تحت شامل ہو چکے ہیں تو مجھے شام میں جلدی حکومت کی تبدیلی کا امکان دکھائی نہیں دیا۔ روس کی روایتی بحیرہ روم کی پالیسی معروف ہے۔ ایران کا اپنے قومی مفاد کا ایجنڈا ہے۔ یہ واضح تھا کہ روس اور ایران (شامی) حکومت کی حمایت کرتے رہیں گے۔
دوسری طرف شام کی مسلح تحریکوں کو اس سطح کی ضروری حمایت حاصل نہیں تھی۔ ایک غیر متوازن معاملہ تھا۔ میں نے اپنی حکومت کے ساتھ بات کی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر آواز اٹھائی کہ یہ تنازع سفارتی یا سیاسی حل کی طرف بڑھے بغیر طے نہیں پائے گا۔ میرا تجزیہ تھا کہ صورتحال بالآخر موجودہ نتیجے کی طرف جائے گی جس میں معاملات جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔
مجھے یاد ہے کہ آخری سنجیدہ کوشش کوفی عنان کی طرف سے سامنے آئی تھی، جنہیں ۲۰۱۲ء میں شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ خصوصی ایلچی کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ میں نے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر، جیسا کہ ۲۰۱۲ء میں  ’’نیٹو شکاگو سمٹ‘‘، اپنی تقریروں میں اس کوشش کو شام کا آخری موقع قرار دیا اور امید کی کہ ایک سیاسی عمل شروع ہو گا۔ مجھے انتہائی دکھ ہے کہ معاملہ اس المناک نتیجہ تک پہنچ گیا ،چار لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے ساتھ، صورتحال واقعی دل دہلا دینے والی ہے۔
ابراہیم حمیدی: ’’عرب اسپرنگ‘‘ پر نظر  ڈالیں تو تیرہ سال بعد آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ واقعی ’’عرب بہار‘‘ تھی یا یہ ’’تاریک سَرما‘‘ جیسا تھا۔ 
عبد اللہ گل: عرب نوجوانوں اور لوگوں کے مطالبات یقینی طور پر جائز تھے۔ میں نے اسے نوجوانوں اور شہریوں کی طرف سے ایک عظیم تحریک کے طور پر دیکھا جو باعزت زندگی کے لیے کوشش کر رہے تھے اور اچھی حکمرانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کچھ ممالک بشمول بادشاہتوں  نے اپنے شہریوں کے جائز مطالبات کو سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کی کوششوں کے ذریعے بحران کو سنبھالا۔ دوسری طرف ’’منتخب‘‘  آمر تھے جو صورتحال کو صحیح طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہے۔
ابراہیم حمیدی: کیا ’’عرب اسپرنگ‘‘ ناکام رہا؟ 
عبد اللہ گل: جب میں دیکھتا ہوں کہ یہ تیونس میں کس طرح سے شروع ہوا  اور اس کا موازنہ کرتا ہوں کہ آج ملک کہاں کھڑا ہے، تو اس نتیجہ کو کامیابی کے طور پر دیکھنا مشکل ہے۔ حالیہ تیونسی انتخابات میں ووٹروں کی شمولیت تقریباً‌ ستائیس فیصد تھی۔ اسے کامیابی کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ راشد غنوشی، جو اَب تراسی سال کے ہیں، پچھلے انتخابات میں ایک اہم شخصیت تھے، آج وہ جیل میں ہیں۔
ابراہیم حمیدی: کیا یہ آپ کے لیے مایوسی کی بات ہے؟
عبد اللہ گل: یہ مایوسی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد کے حالات پر افسوس ہے۔ عرب لوگ بہتر اقتصادی اور سماجی حالات چاہتے تھے اور اپنی حکومتوں سے جوابدہی چاہتے تھے۔ کیا عرب لوگوں کو  ان کے اقتصادی، سیاسی، اور سماجی حقوق کی ضمانت کے ساتھ جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور دیگر کی طرح زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے؟ معاملات کو ان حالات تک پہنچا دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔ 
ابراہیم حمیدی: اسرائیل کی طرف آتے ہیں اور مزید علاقائی کشیدگی کے امکان پر بات کرتے ہیں۔ اسرائیل دمشق، بیروت، حدیدہ، عراق، ایران، مغربی کنارے، اور یقیناً‌ سب سے زیادہ غزہ پر بمباری کر رہا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
عبد اللہ گل: مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے۔ خطے کے اسلامی ممالک متحد نہیں ہیں، وہ بہت زیادہ منقسم ہیں۔ یہاں تک کہ فلسطین کے اندر بھی مغربی کنارے  اور غزہ میں دو محاذوں پر تقسیم ہے۔ اس تقسیم نے اسرائیل کو اس طرح سے اقدام کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ خطے کے ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کی کمی نے بنیادی طور پر اسرائیل کو اس طرح سے برتاؤ کرنے کا تاریخی موقع دیا ہے۔
ابراہیم حمیدی: آپ سات اکتوبر کے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
عبد اللہ گل: میں کسی بھی طرح سے بے دفاع، غیر مسلح شہریوں پر حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔ لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جو کہا وہ سمجھنا بہت ضروری ہے: ’’یہ حملے خلا میں نہیں ہوئے۔‘‘
اسرائیل نے دہائیوں سے فلسطینیوں کی زمینوں پر غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ اسرائیل مغربی کنارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے باوجود ایک ظالمانہ آبادکاری پالیسی چلا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کو منظم طریقے سے مستقل طور پر اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ ان تمام مظالم کے علاوہ، جب لوگوں کو مسلسل ان کی عزت اور بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے تو وہ ایسا محسوس کر سکتے ہیں کہ ’’آؤ ہم سب مر جائیں کیونکہ ہم پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں‘‘۔ جب لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، یا انہیں انسانوں کی طرح نہیں سمجھا جاتا، تو یہ فطری ہے کہ مزاحمتی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوں، اور یہی ہوا ہے۔
ابراہیم حمیدی: اگرچہ اسرائیل نے حزب اللہ کی قیادت ختم کر دی ہے، لیکن اس نے پورے لبنان میں اپنی بمباری بند نہیں کی ہے۔ آپ کے خیال میں ان کا مقصد کیا ہے؟
عبد اللہ گل: تمام اسرائیلی پالیسیاں ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر واپسی کے مسئلے سے بچنے کے لیے ہیں۔ ۲۰۰۶ء میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد ۱۷۰۱ منظور ہوئی جس میں اسرائیل کی واپسی اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم، چونکہ قبضہ ختم نہیں ہوا اس لیے مزاحمت اور مسلح جدوجہد بھی جاری رہی۔ یہ مسائل آپس میں بہت جڑے ہوئے ہیں۔
ابراہیم حمیدی: تو کیا حل قرارداد ۱۷۰۱ میں ہے؟
عبد اللہ گل: صرف ۱۷۰۱ کے ذریعے نہیں، حالانکہ یہ اس معاملے پر سب سے حالیہ قرارداد ہے۔ حل کی بنیاد ۱۹۶۷ء کی سرحدوں (اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۲) میں ہے۔ میں نے ۱۷۰۱ کا ذکر خاص طور پر لبنان کے تناظر میں کیا۔
ابراہیم حمیدی: حالیہ ترک بیانات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اسرائیل ’’وعدہ شدہ زمین‘‘ چاہتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ترک پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اس حوالے سے خدشات پر بحث کی گئی اور یہ کہ کس طرح سے یہ ترکی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
عبد اللہ گل: میں ایسے نظریاتی یا افسانوی دعووں کو اہمیت نہیں دیتا کیونکہ یہ خواب پرانے ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ترکی کے خلاف دشمنانہ رویہ دکھانے کی جرات نہیں کرتا۔
ابراہیم حمیدی: اسرائیل اور ایران طویل عرصے سے ایک خفیہ جنگ میں مصروف چلے آ رہے ہیں جس نے اپریل میں تباہ کن صورت اختیار کی جب ایران نے پہلی بار اسرائیل پر براہ راست میزائلوں کا حملہ کیا، جو دمشق میں ان کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں تھا۔ انہوں نے یکم اکتوبر کو پھر ایسا ہی حملہ کیا، جو تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کے جواب میں تھا۔ کیا آپ کو علاقائی جنگ، یا ایران اسرائیل جنگ کے امکان کا خطرہ نظر آتا ہے؟
عبد اللہ گل: جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ  خطہ متحد نہیں ہے۔ بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ میں اسلامی دنیا میں تقسیم ہے۔ ایران کی جارحانہ پالیسیاں خطے میں خطرے کے تصورات کو تبدیل کر چکی ہیں۔ جہاں روایتی طور پر عرب دنیا اسرائیل کو بنیادی خطرہ سمجھتی تھی، (اب) ایران نے اس کی جگہ لے لی۔ اس نے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا۔ اسرائیل ، جو ایسی تقسیم چاہتا تھا، اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
اس صورتحال نے خطے اور اس کی مجموعی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں واحد مثبت پیشرفت سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی ہے، جو چین کی مدد سے ہوئی، اس نے خطے کو فائدہ پہنچایا ہے۔
ایران کی جارحانہ بیان بازی اور اسرائیل کو نقشے سے مٹانے اور اسرائیلی ریاست کو ختم کرنے کے نعرے تل ابیب کے لیے فائدہ مند رہے ہیں۔ ایران کی اسرائیل مخالف بیان بازی امریکی اور کچھ یورپی ممالک کی غیر محدود فوجی حمایت کو جائز قرار دینے کے لیے ایک بہانہ فراہم کرتی ہے۔
اسرائیل جنگ کو خطے میں پھیلانا چاہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس میں اس کا مفاد ہے، اور اس مقصد کے لیے خطے کے ممالک خاص طور پر ایران کو اکساتا ہے۔
ابراہیم حمیدی: آپ نے چین کی مدد سے ہونے والے سعودی ایرانی معاہدے کا ذکر کیا۔ ہم نے صدر اردگان کی طرف سے ایک نیا نقطہ نظر بھی دیکھا ہے جو  مصر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ آپ ترک صدر کے اس نئے علاقائی نقطہ نظر کو کیسے دیکھتے ہیں؟
عبد اللہ گل: میں ان اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور مجھے ان برادرانہ قوموں کے ساتھ اپنے تعلقات کی ایک دہائی کھونے پر افسوس ہے۔ میں تہہِ دل سے اس رُخ جانے کی تائید کرتا ہوں۔ ترکی اور ان ممالک کے درمیان یکجہتی خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
فلسطینی مسئلے کی طرف واپس آتے ہوئے، میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اسرائیلی فلسطینی تنازع کے حوالے سے ایک بڑی کمزوری موجود ہے، جو فلسطینیوں کے درمیان تقسیم ہے۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے بہت کوششیں کی گئی ہیں، خاص طور پر سعودی بادشاہ عبداللہ کی مساعی کے ذریعے۔ میں نے بھی مختلف مواقع پر اپنے سابقہ عہدوں پر اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ یہ تقسیم مقصد کی قوت کو کمزور کرتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارہ مختلف لوگوں پر مشتمل نہیں ہیں، وہ سب بے اختیار فلسطینی ہیں، اتنے زیادہ مصائب سے گزرنے کے بعد  اب وقت ہے کہ متحد ہو جائیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ’’عرب امن منصوبہ‘‘ جو ۲۰۰۲ء میں بیروت میں شاہ عبداللہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا اور او آئی سی کی طرف سے منظور کیا گیا تھا، جس کا ایران بھی رکن ہے، فلسطینی مسئلہ کے ایک مؤثر اور بامعنی حل کے لیے ایک اہم کوشش کے طور پر موجود ہے۔ اس مسئلے کا دو ریاستی صورت پر مبنی مستقل حل تلاش کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی امن اور سلامتی کو یقینی بنانا مشکل ہے۔
ابراہیم حمیدی: عالمی تبدیلیوں کے سلسلہ میں — ابھرتا ہوا چین، یوکرین میں روس کی مصروفیت، اور امریکی اثر و رسوخ  میں کمی — آپ کو بین الاقوامی نظام کیا رخ اختیار کرتا نظر آتا ہے؟ اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ خطہ پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
عبد اللہ گل: آج کے حالات میں عالمی اقدار اور معیارات مغربی قوتوں کے ذریعے پامال ہو رہے ہیں، جن کا مغربی دنیا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ان کے زبردست محافظ ہیں، جیسے انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، جمہوریت۔
فلسطین پر اسرائیل کے قبضے اور فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے معاملے میں مغرب نے واضح طور پر وہی معیارات لاگو نہیں کیے ہیں۔ غزہ میں بین الاقوامی نظام کی ناکامی کو بڑی تکلیف کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ غزہ کی جنگ پر مغربی قوتوں خاص طور پر امریکہ کا موقف، روس یوکرین جنگ کے حوالے سے ان کے دلائل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ منافقت ان کی ساکھ کو اور ان کی قائل کرنے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ افسوس کے ساتھ، یہ دوہرا معیار کچھ ممالک کو چین یا دیگر آمرانہ حکومتوں کی طرف مائل کر سکتا ہے، تاکہ مغرب کی اس کھلی جانبداری کا مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکہ اور چین کے درمیان موجودہ کشمکش، جو بنیادی طور پر اقتصادی مسائل اور اثر و رسوخ کے دائروں کے حوالے سے ہے، اگلے دس سالوں میں دنیا کو ایک نئے منقسم دور کی طرف لے جائے گی۔ یہ یقینی طور پر مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گی۔
مغربی دنیا کو بین الاقوامی قانون اور عالمی اصولوں کے تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے خود پر اور اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اسے مکالمہ اور ایمانداری پر مبنی منصفانہ، شراکتی اور شفاف پالیسیوں کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ  بحال کر سکتے ہیں اور عرب دنیا بلکہ وسیع تر خطے ایشیا سے لے کر لاطینی امریکہ تک کے لوگوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی سمجھداری ایک بار پھر مغربی دنیا اور اس کے اداروں کو  تحریک کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر وہ مایوسی کے طور پر دیکھے جاتے رہیں گے۔
نیز ایسی مثبت تبدیلی اور زیادہ آگاہی بہت سے ممالک کو ، چاہے مغرب میں ہوں یا مشرق میں ، اندرونی طور پر مائل کرے گی اور اپنی سماجی و اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی کی دعوت دے گی، جس سے اچھی حکمرانی پر مبنی پالیسیوں کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گی۔ 
https://en.majalla.com/node/323056

ترکی کے لوزان معاہدہ کا خاتمہ

محمد نور ایمان سیاح

لوزان کا معاہدہ

’’لوزان معاہدے‘‘ کا باعث ’’سیوریس کے معاہدے‘‘ سے ترکوں کا عدم اطمینان تھا، جس نے سلطنت عثمانیہ کو اتحادی قوتوں کے تحت تقسیم کر دیا تھا۔ پھر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ’’ترک قومی تحریک‘‘ سامنے آئی جس نے اس معاہدے کی مخالفت کی، اس کے نتیجے میں ۱۹۲۱ء کی سکاریا جنگ ہوئی۔ 
لوزان معاہدہ ایک ایسا سمجھوتہ ہے جو مصطفیٰ کمال کی قیادت میں جدید ترکی کی تشکیل کا باعث بنا، 141 دفعات پر مشتمل ہے، جس پر 1923ء میں مصطفیٰ کمال کے مندوب عصمت انونو نے دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے بنیادی نکات یہ تھے: نئی سرحد کو تسلیم کرنا؛ خلافت کا خاتمہ اور جمہوریہ ترکی کا قیام؛ شام کو فرانس کے تحت جبکہ مصر، سوڈان، عراق اور فلسطین کو برطانیہ کے تحت تسلیم کرنا؛ بحیرہ اسود اور بحیرہ ایجہ کے درمیان بحری گزرگاہوں کو سب جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنا، اور ترکی پر تیل اور گیس کے لیے ڈرلنگ نہ کرنے کی پابندی۔
دنیا میں کسی بھی (طویل) بین الاقوامی معاہدے کی طرح، یہ صرف 100 سال کے لیے ہے۔ 2023ء تک ترکی اس معاہدے کے بندھن سے آزاد ہو جائے گا، اور یہ ’’یورپ کے بیمار آدمی‘‘ کی تقدیر بدل دے گا۔

نئی عثمانی سلطنت؟

ترکی کے ایک مضبوط آدمی اور سیاستدان رجب طیب اردگان جدید ترکی میں نئی سانسیں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک نیا دور جو مصطفیٰ کمال سے مختلف ہو۔ وہ مسلمانوں کے نئے خلیفہ ہیں، ان لوگوں کے لیے جو انہیں بطور ماڈل کے دیکھتے ہیں۔ تاہم، ایک جدید خلیفہ کے منصب کا آغاز کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
متعدد بار افراطِ زر نے ترکی کو جھنجھوڑا ہے، اور اس کی موجودہ بلند شرح سب سے بدترین ہے، لیکن تنقید خود اردگان کے اوپر ہے۔ مغرب نے انہیں ایک غیر جمہوری رہنما، استبدادی اور آمر کہا ہے۔ مصطفیٰ کمال کی وفات کے بعد پانچ دہائیوں تک ترکی کی قسمت ریاستی ترقی کے حوالے سے بری حالت میں رہی ہے۔ 2003ء سے بطور وزیر اعظم اور 2014ء سے اب تک صدر کی حیثیت سے اردگان کی قیادت نے ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
2002ء اور 2011ء کے درمیان اوسط شرح نمو 7.5 فیصد رہی جبکہ اقتصادی حالات اور شرح سود نے مقامی کھپت میں اضافہ کیا۔ ترکی کی جی ڈی پی 2017ء میں 851 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ 2002ء کے مقابلے میں ایک ناقابل یقین کامیابی تھی جب یہ صرف 232 بلین ڈالر تھی۔ 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں، لاک ڈاؤن کے دوران، ترکی میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں مثبت 1.8 فیصد اضافہ حاصل کیا۔ اردگان کی قیادت نے اپنی داخلی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے لوگوں سے نفرت اور محبت دونوں حاصل کی، جس کا نمایاں پہلو (مصطفیٰ) کمالی میراث سے ہٹنا تھا۔
کچھ حامیوں نے انہیں ’’سلطان‘‘ کہا، جو کہ مسلم لیڈر ’’خلیفہ‘‘ کی علامت ہے۔ جیسا کہ انہوں نے خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی کے قوانین ختم کیے۔ شراب کی فروخت پر پابندیاں سخت کیں۔ حاجیہ صوفیہ ایک مسجد بن گئی جو مسلم تاریخ کی ایک بڑی علامت تھی۔ ترک فلمی صنعت کی ’’نرم طاقت‘‘ ڈرامہ سیریل ’’ارتغرل‘‘ جو مسلم دنیا کی دلچسپی کا مرکز بنی، خاص طور پر عرب اور پاکستان کی پرجوش آبادی میں۔ 
ترکی کے لوگ اردگان سے محبت کرتے ہیں۔ 2016ء میں ایک بغاوت کی کوشش کی گئی جو ترکی کے سیاسی معاملات کے لیے ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ بغاوت کی مخالفت کے لیے ہزاروں شہری سڑکوں پر جمع ہوئے، بغاوت کے اختتام پر 241 افراد ہلاک اور 2194 زخمی ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردگان کو اپنے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ 2017ء کے ایک ریفرنڈم جس میں صدر کی طاقت کو تسلیم کیا گیا تھا، عوامی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا تھا۔ وہ قومی بجٹ اور فوج کو کنٹرول کر سکتا ہے، پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے، ججوں کی تقرری کر سکتا ہے اور مدت بڑھا سکتا ہے۔

آگے کیا ہو گا؟

100 سال بعد اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے پر ترکی بحیرۂ اسود میں تیل اور گیس کے لیے ڈرلنگ کرنے جیسی سرگرمیوں کے قابل ہو جائے گا، جس کا تخمینہ بحیرہ اسود میں 10 بلین بیرل خام تیل اور 2 ٹریلین کیوبک میٹرک قدرتی گیس ہے۔ آبنائے باسفورس سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس اور ٹیکس جمع کرنا، اور جہازوں کے گزرنے کے لیے ایک نیا راستہ بنانا، جیسا کہ استنبول نہر، اردگان بحیرۂ ایجہ کے جزیرہ پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔
2023ء میں ابھرتی ہوئی معاشی خوشحالی ترکی کی منتظر ہے۔ توانائی کے شعبہ میں ترکی اب روس، آذربائیجان اور ایران پر انحصار نہیں کرے گا۔ اقتصادی خوشحالی کے ساتھ ترکی خطے کے سب سے بااثر اور متاثر کن ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ نئے ترکی کا عروج ایک نئی جہت سے زیادہ متحرک جغرافیائی سیاست لے کر آئے گا، خاص طور پر نظریات کے حوالے سے۔
ترکی کے احیاء کے ساتھ مسلم دنیا اپنی ساکھ واپس لینے کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ صحیح راستے پر چلنے کی صورت میں ترکی ایک بار پھر مسلم دنیا کی قیادت کرے گا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ ترکی ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر سپر پاور ممالک کے ساتھ کس طرح بات چیت کرے گا۔ ترکی خود کو امریکہ اور چین کے درمیان کیسے کھڑا کرے گا؟ کیا روس کے ساتھ تعلقات برقرار رہیں گے؟ ترکی مسلم ملک کی قیادت کیسے کرے گا، اور ترکی نیٹو اور G20 پر کیسے اثر انداز ہو گا؟ کیا ترکی دوسرے مسلم ممالک کی قیادت اور مدد کرے گا، خاص طور پر ترقی پذیر D8 ممالک کی؟
کیا ترکی ایک بار پھر مسلم ممالک کا لیڈر بننے کا اپنا خواب پورا کر پائے گا جیسا کہ ترکی کی خلافت بہت افسوسناک طریقہ سے ختم ہوئی تھی۔ یہ ترکی کے لیے انتہائی قابل فخر ہو گا۔ کیا اردگان اور ترکی اس تصوراتی کہانی کو پورا کر پائیں گے، اور ورلڈ آرڈر کی حقیقت سے گزرنا کتنا آسان ہو گا؟
https://midas.mod.gov.my

ڈچ سیاستدان یورام فین کلیفرین کا قبولِ اسلام

ٹی آر ٹی ورلڈ

وائس آف امریکہ

ٹی آر ٹی ورلڈ کا انٹرویو

عمران گارڈا: انٹرویو میں تشریف لانے کا شکریہ۔ 
یورام فین کلیفرین: دعوت دینے کا بہت شکریہ۔
عمران گارڈا: ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ مجھے نیدرلینڈز کے ایک سابق انتہائی دائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ سے بات کرنے کا موقع ملے، جو اپنے ملک میں اسلام پر پابندی لگانا چاہتا تھا ، اور پھر فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور میں مسلمان بننا چاہتا ہوں، اب میں ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتا جن پر پہلے یقین رکھتا تھا، اور میں اپنے پرانے عقائد کو مسترد کرتا ہوں۔ آسان لفظوں میں، یہ کیسے ہوا اور کیوں؟
یورام فین کلیفرین: میری پرورش ایک کافی پروٹسٹنٹ ماحول میں اور ایک روایتی خاندان میں ہوئی تھی۔  یہ کافی معمول کے مطابق تھا سوائے اس حقیقت کے کہ ہم ایمسٹرڈیم میں رہتے تھے۔ ایمسٹرڈیم یقیناً‌ ایک بہت ہی آزاد خیال شہر ہے، جبکہ ہم اتنے آزاد خیال نہیں تھے۔ ایک تو یہ بات تھی۔ میرا بچپن اچھا گزرا، لیکن میں ایک طرح کا پڑھاکو لڑکا تھا اور میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں جو تقریباً ہمیشہ مذہب کے بارے میں ہوتی تھیں۔ ہم ایک پروٹسٹنٹ ماحول سے تھے جیسا کہ میں نے کہا، اس لیے میں نے کیلون، مارٹن لوتھر، زونگلی کے بارے میں بہت کچھ پڑھا۔ یہ لوگ اپنے نظریات کے حوالے سے تو سخت تھے ہی، کیونکہ وہ کیتھولک عیسائی نہیں تھے، لیکن ان کے اسلام کے بارے میں بھی بہت سخت جذبات تھے، اس لیے اس نے مجھے ایک نوجوان کے طور پر متاثر کیا۔ اور مثال کے طور پر جب میں نے اپنے والدین سے پوچھا، یا چرچ کے لوگوں سے کہ  مجھے اسے کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ مسلمان ٹھیک ہیں لیکن ان کے نظریہ ہمارا نظریہ نہیں ہے۔ اور میرے ایک قریبی دوست کے والد جو خود پادری تھے، وہ بھی اسلام کے بارے میں بہت مضبوط تھے۔
عمران گارڈا: منفی معنوں میں مضبوط؟
یورام فین کلیفرین: منفی معنوں میں، ہاں۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب میں نے ایمسٹرڈیم میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو وہ دن ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کا تھا۔ میرے اندر پہلے سے ہی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تعصب تھا اور پھر میں نے ان لوگوں کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے اندر جہاز تباہ کرتے دیکھا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ میں نے کہا واقعی یہ لوگ اس سے بھی زیادہ پاگل ہیں جتنا میں نے پہلے سوچا تھا۔ اور پھر چند سال بعد نیدرلینڈز میں ایک مشہور فلم ساز تھیو وان گو کو قتل کر دیا گیا، انہوں نے اسے گولی مار دی اور گلا کاٹنے کی کوشش کی، اور اس نے سڑک پر جان دے دی۔ یہ جگہ میرے پرانے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ تو میں نے سوچا کہ یہ لوگ واقعی ہمارے معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، مجھے کچھ کرنا ہو گا۔ تو، اگر آپ ملک کو برائی کے ایک عالمی نظریے سے بچانا چاہتے ہیں تو سب سے مؤثر کام کیا ہے؟ تقریباً یہی میرا تصور تھا اور میں نے سوچا کہ مجھے سیاست میں جانا ہے کیونکہ تب آپ مؤثر ہو سکتے ہیں، آپ قانون تبدیل کر سکتے ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ نیدرلینڈز میں سب سے زیادہ مخالف اسلام پارٹی کون سی ہے؟ ایک پارٹی تھی جسے فریڈم پارٹی کہا جاتا تھا اور یہ ابھی قائم ہوئی تھی، اس لیے میں نے (گیرٹ ولڈرز) کو ایک خط لکھا، ایک حقیقی خط، میں اس زمانے میں کچھ زیادہ ای میل استعمال نہیں کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ آپ کا بہت خیرمقدم ہے۔ تو اس طرح یہ سلسلہ شروع ہوا۔
عمران گارڈا: گیرٹ ولڈرز پارٹی کے رہنما تھے، یا پارٹی کے راہنما ہیں۔ میں اندازہ لگا رہا ہوں کہ آپ واقعی ان کے مداح تھے، کیا آپ نے ان سے بہت کچھ سیکھا؟
یورام فین کلیفرین: سیاسی معنوں میں، میں نے بہت کچھ سیکھا، ہاں یہ سچ ہے۔
عمران گارڈا: اسلام قبول کرنے کے بعد کیا آپ کی ان سے بات ہوئی ہے؟ 
یورام فین کلیفرین: نہیں، میں نے بس ٹیلی ویژن پر ان کا ردعمل دیکھا ہے اور ریڈیو پر کچھ باتیں کہتے سنا ہے۔ یہ ان کے لیے بھی ایک طرح سے عجیب تھا کیونکہ یہ سب اچانک ایک دن میں خبروں میں آیا تھا۔ پہلی چیز جس پر جس پر مجھے ہنسی بھی آئی کیونکہ یہ مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بات تھی۔ لوگوں نے ایک لائیو شو کے دوران ان سے پوچھا کہ آپ کے دوست یورام فین کلیفرین کو کیا ہوا جو آپ کا دستِ راست تھا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے تو یقین نہیں آتا، یہ بڑی عجیب بات ہے۔ اور پھر انہوں نے پوچھا کہ اب آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک سبزی خور کام کرنے کے لیے ذبح خانے جا رہا ہو۔ تو یہ ایک مقبولِ عام بات تھی، لیکن یہ ایک طرح سے مزاحیہ ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ افسوس بات بھی تھی۔ 
عمران گارڈا: ان کے بارے میں آپ مزید کیا کہنا چاہیں گے۔ ہم انہیں ایک ایسے یک جِہتی شخص کے طور پر دیکھتے ہیں کہ جو بس مسلمانوں کو، اور شاید وسیع تناظر میں، غیر ملکیوں کو نیدرلینڈز سے باہر رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ وہ شاید ایک سفید فام قوم پرست ہے یا اسلام دشمن ہے۔ ان کے بارے میں کیا بس یہی بات ہے، یا اس سے زیادہ ہے؟ 
یورام فین کلیفرین: بنیادی طور پر یہی بات ہے۔ انہوں نے واقعی اسلام سے لڑنے کے مقصد کے لیے تنظیم کی بنیاد رکھی۔ ایسے لوگ زیادہ نہیں ہیں جو کبھی مجھ سے کہیں کہ ٹھیک ہے لیکن ان کے پاس صحت کی دیکھ بھال یا تعلیمی نظام کے حوالے سے بھی کچھ سیاسی موقف ہیں۔ لیکن اندرونی طور پر انہوں نے ہمیشہ مجھے یہی کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، میں تو یہاں اسلام سے لڑنے کے لیے موجود ہوں۔ تو اصل میں بنیادی بات یہی ہے۔ اور تقریباً ہر وہ چیز جس کے بارے میں ہم نے بات کی ہمیشہ اسلام سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتی تھی، اور اگر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا، تو انہوں نے اسے گڑھا تھا۔ 
عمران گارڈا: میں آپ سے یہ اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ میں آپ کی اُس وقت کی ذہنیت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ مجھے بتائیں کہ جب آپ نیدرلینڈز میں اسلام پر پابندی لگانا چاہتے تھے، آپ کیا سوچ رہے تھے؟ کیا آپ مساجد کے بارے میں سوچ رہے تھے؟ کیا آپ قرآن کے بارے میں سوچ رہے تھے؟ کیا آپ ان مراکشی اور ترک لوگوں کے بارے میں سوچ رہے تھے؟ جب آپ یہ سوچ رہے تھے کہ میں ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں نہیں دیکھنا چاہتا، وہ خطرہ ہیں اور ایک برے نظریے کی نمائندگی کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں کیا تھا؟
یورام فین کلیفرین: ڈچ میں ہم اسے  جو کہتے ہیں اگر انگریزی میں ترجمہ کریں تو مطلب ہے کہ اسلام کی بڑی علامتیں۔ جیسا کہ آپ نے کہا، یہ قرآن کے بارے میں ہے، مساجد ، اسلامی اسکول، اسلام کے بارے میں آپ جو بھی ظاہری چیزیں دیکھ سکتے ہیں، مثال کے طور پر پردہ، حجاب، حلال کھانے، ایسی چیزوں پر ہم پابندی لگانا چاہتے تھے۔ اور کیونکہ یہ دراصل ایک سیکولر پارٹی بھی تھی، اس لیے یہ میرے لیے کبھی کبھی تھوڑا سا مشکل ہوتا تھا، کیونکہ میری پرورش ایک بہت ہی پروٹسٹنٹ طریقے سے ہوئی تھی اور میں عقیدتاً‌ ایک عیسائی تھا۔
عمران گارڈا: تو وہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ بائبل قرآن سے بہتر ہے۔ بلکہ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ چیز فطری طور پر بری ہے۔ کیا وہ اسے سیکولر نقطۂ نظر سے دیکھ رہے تھے؟
یورام فین کلیفرین: وہ بہت زیادہ سیکولر نقطہ نظر سے دیکھ رہے تھے، لیکن میں ذاتی طور پر نہیں۔ میں نے سوچا کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم دونوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ اسلام سے لڑنا ہے۔ تو میرا ذاتی طور پر یہ خیال تھا، جبکہ ان کا نقطۂ نظر سیکولر ہی تھا۔ اور پھر میں اسے اس طرح دیکھتا تھا کہ کچھ بھی ہو یہ اسلام سے تو بہتر ہی ہے، اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ یہ اسلام کے حوالے سے ظاہری چیزوں کے بارے میں تھا لیکن اصل میں ہم اسلام سے ایک نظریے کے طور پر لڑنا چاہتے تھے اور اس کا تعلق یقیناً‌ مسلمانوں سے بھی تھا۔ 
ب آپ پروگراموں اور بات چیت کو دیکھیں جو ہم پارٹی کے اندر کرتے تھے، تو یہ واقعی نظریے کے بارے میں تھا، لیکن بعد میں ۲۰۱۴ء میں ان کی طرف سے کچھ تبدیلی آئی۔ انہوں نے انتخابات کے دوران ایک ریلی میں لوگوں سے پوچھا کہ آپ نیدرلینڈز میں زیادہ مراکشی لوگ چاہتے ہیں یا کم؟ لوگ جواب میں چلّائے کہ کم، کم۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، میں اس بات کو ممکن بناؤں گا۔ 
میں وہاں نہیں تھا، میں اپنے حلقے کی ایک ریلی میں تھا ۔ کسی نے مجھے فون کیا اور کہا کہ یہ کیا ہے، یہ کچھ نیا ہے؟ میں نے پوچھا کہ کیاہوا؟ اس نے کہا کہ بس ٹیلی ویژن دیکھو، تو میں نے اسے ٹیلی ویژن پر لگایا کیونکہ پہلے میں پولز دیکھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ واقعی کچھ نیا ہوا ہے۔ تو میں نے انہیں (گیرٹ ولڈرز کو) فون کیا کہ یہ کیا ہے؟ پھر ہماری اس پر بحث ہوئی کیونکہ میں پارلیمنٹ میں اسلام کے موضوع پر ان کا ترجمان تھا اور انہوں نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی کہ وہ یہ کہنے والے ہیں۔ ہمارا ایک طرح سے جھگڑا ہوا ، میں نے کہا کہ آپ کو اسے تھوڑا سا تبدیل کرنا ہوگا یا اس میں کچھ شامل کرنا ہوگا یا جو کچھ بھی آپ کر سکتے ہیں، کیونکہ میں وہ شخص ہوں (جس نے ترجمانی کرنی ہے)، اس بارے میں ہمیں بات کرنی ہو گی کیونکہ میرا نہیں خیال کہ ہم سب مراکشی لوگوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
عمران گارڈا: کیونکہ یہ ایک نسل پرستانہ موقف ہے، ہے نا؟
جواب؟ ہاں یہ نسلی حوالے سے تھا، نسل پرستی کے بارے میں۔ میں نے سوچا کہ میں واقعی اسلام سے نفرت کرتا ہوں لیکن ایسا نہیں تھا کہ میں نے تمام مراکشی لوگوں سے یا تمام ترک لوگوں سے نفرت کرتا تھا۔ کیونکہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ فریڈم پارٹی کے لیے مراکشی اور ترک پس منظر والے لوگ بھی کام کر رہے تھے، اور یقیناً وہ مسلمان ہی نہیں تھے،  وہ سیکولر تھے، یا پھر وہ کسی اور مذہب سے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک طرح کی بے وفائی ہے،  اور انہوں نے کہا کہ یہ ضمنی یا غیر ارادی  نقصان ہے، اور میں نے سوچا کہ اچھا! یہ میرے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ 
عمران گارڈا: یہ سیاست ہے، سیاست بری چیز ہے۔
یورام فین کلیفرین: ہاں، واقعی بری، تو میں نے سوچا کہ یہ میرے لیے ناقابل قبول ہے اس لیے میں نے کہا کہ ہمیں اسے تبدیل کرنا ہوگا ورنہ میں (عہدہ) چھوڑ دوں گا۔ (انہوں نے کہا کہ) آپ ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن میں نے چھوڑ دیا۔ اور پھر آخر کار میرے پاس ایک دیرینہ خواہش پورا کرنے کا وقت آگیا کہ میں اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھنا چاہتا تھا کیونکہ میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں اسلام کو خطرہ کیوں سمجھتا ہوں۔ اور ایسے بیانات کے طور پر نہیں جیسے آپ سیاست میں دیتے ہیں بلکہ ایک فکری انداز میں فریڈم پارٹی کے موقف کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ 
عمران گارڈا: اور آپ دائیں بازو کے اندر ایک معقول آدمی بننا چاہتے تھے کہ نہیں! میں صرف ایک متعصب آدمی نہیں ہوں۔
یورام فین کلیفرین: ہاں کم از کم یہی میں نے سوچا۔
عمران گارڈا: (آپ نے سوچا کہ)  میرے پاس اس کے لیے ایک مذہبی نقطہ نظر ہے، ایک فلسفیانہ نقطہ نظر ہے۔
یورام فین کلیفرین: زیادہ فلسفیانہ کیونکہ نیدرلینڈز میں زیادہ تر لوگ اب مذہبی نہیں ہیں کیونکہ آج کل یہ بہت زیادہ سیکولر ہو چکا ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ ہماری ثقافتی وراثت، جیسا کہ عیسائیت،  اسلام سے بہتر کیوں ہے۔ اور میں یقیناً اب بھی عیسائیت پر ہی یقین رکھتا تھا۔ لیکن بہت سے لوگوں کے لیے (نیدرلینڈز میں) عیسائیت اتنی ناپید نہیں ہے کیونکہ جب وہ کرسمس دیکھتے ہیں یا چرچ کی گھنٹی سنتے ہیں وغیرہ ، تو یہ سب ثقافت کا حصہ ہےجبکہ اسلام نہیں۔ تو میں بغیر بہت زیادہ عیسائی بنے اسے عیسائی نقطہ نظر سے بیان کر سکتا تھا، اس لیے میں یہی کرنا چاہتا تھا۔
عمران گارڈا: یہ تقریباً پرانے زمانے کی طرح کی کہانی ہے، جیسے آپ کے ہاں سینٹ پال دمشق کے راستے پر عیسائیوں کو ستاتے ہوئے اس ’’لمحے‘‘ کا سامنا کرتا ہےاور عیسائی بن جاتا ہے۔ عمر ابن الخطاب پیغمبر  کو قتل کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس دوران اسلام قبول کر لیتا ہے۔ تو کیا آپ کو ایسا لگا کہ آپ نے ایک کام پر کمر کسی ہوئی تھی اور پھر اچانک ایک تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس تبدیلی کے بارے میں بتائیں۔
یورام فین کلیفرین: یہ راتوں رات نہیں ہوا تھا، اس میں تقریباً تین سال لگےتھے  بلکہ اس سے بھی زیادہ، کیونکہ جب میں اسلام کے خلاف کتاب لکھ رہا تھا تو مجھے کافی زیادہ معلومات ملی جو ان چیزوں کے برعکس تھی جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ مجھے معلوم ہیں۔ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ جو کتابیں میں نے اسلام کے بارے میں پڑھیں ان میں پچانوے فیصد ایسی تھیں جو غیر مسلم لوگوں نے اسلام کے بارے میں لکھی تھیں۔ چاہے وہ 16ویں، 17ویں، 18ویں صدی کے لوگ ہوں یا آج کل کے لوگ۔  اور یقیناً اس سے آپ کے سوچنے کے انداز پر اثر پڑتا ہے کیونکہ معلومات کے حوالے سے جو چیزیں وہ آپ کو دیتے ہیں وہ  اصل بات نہیں ہے۔ اور مجھے اتنی زیادہ معلومات ملی کہ میں نے سوچا کہ یہ تو سب گڈمڈ ہو گیا ہے۔ تو مجھے کسی کی ضرورت تھی جو مجھے کچھ تصورات دے تاکہ میں اس معلومات کو نتیجہ خیز بنا سکوں۔ میں نے مختلف مذہبی حلقوں کو لکھنا شروع کیا جن میں علماء اور شیوخ بھی تھے۔ اور جن شیوخ کو میں نے لکھا ان میں سے ایک کیمبرج یونیورسٹی کے عبدالحکیم مراد تھے۔ میرا خیال تھا کہ  وہ کبھی جواب نہیں دیں گے، کیونکہ جب میں نے اپنا خط لکھا تھا تو آخر میں ایک چھوٹا سا ویکی پیڈیا لنک شامل کیا تھا جس پر میرے خلافِ اسلام خیالات کا ذکر تھا۔ 
عمران گارڈا: (گیرٹ) ولڈرز کا ولی عہد۔
یورام فین کلیفرین: ہاں۔  اور میں نے سوچا کہ وہ کبھی جواب نہیں دیں گے۔ جو کچھ میں جان چکا تھا تو میں اب اتنا خلافِ اسلام نہیں رہا تھا ، لیکن میں واقعی تسلی کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ مجھے اب بھی اسلام پسند نہیں تھا لیکن اب میں اتنا سخت نہیں تھا۔ میں نے ان سے بہت سے ایسے سوالات پوچھے تھے جن کے بارے میں میرے پاس جواب نہیں تھا۔ تقریباً چھ ہفتوں بعد، جیسا کہ مجھے یاد ہے، ایک ہفتہ کی شام مجھے ان کی طرف سے ای میل موصول ہوئی جو کہ بہت تفصیلی تھی۔ انہوں نے اس میں وضاحت کی اور میرے سوالوں کے دوٹوک جوابات دیے۔  اور یہ تجویز دی کہ اگر آپ اپنی تمام پرانی کتابیں دوبارہ پڑھ سکیں تو …  …آپ دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے اسلام کے خاص موضوعات کے بارے میں لکھتے ہوئے غلط رخ اختیار کیا۔ انہوں نے کچھ چیزیں شامل کیں جو ان میں نہیں تھیں، اور کچھ چیزیں چھوڑ دیں جو ان میں موجود تھیں۔ ضروری نہیں کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہو، کبھی لوگ واقعی نہیں جان پاتے، یا ترجموں کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے۔ 
بہرحال آخر میں نتیجہ یہ نکلا کہ میرے پاس تقریباً دو اسلام تھے: ایک مستشرقین والا اسلام اور دوسرا اصل اسلام۔ یقیناً صرف ایک اسلام ہی ہے لیکن اس وقت میری یہی صورتحال تھی۔ چنانچہ بالآخر میں نے مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پڑھنا شروع کیا، کیونکہ شیخ عبدالحکیم مراد نے مجھے بتایا کہ اگر آپ عیسائیت کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں تو آپ ایک ملحد کی کتاب نہیں پڑھتے، آپ عیسائیوں کی کتاب پڑھتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ دلائل وغیرہ کیا ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ اگر آپ اسلام کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو آپ مسلمانوں کی کتابیں پڑھیں۔ میں نے سوچا ہاں یہ منطقی بات ہے، تو میں نے یہی کرنا شروع کیا۔
اس دوران کچھ ایسے شکوک و شبہات دوبارہ سامنے آئے جو مجھے بچپن میں تھے۔ کیونکہ جب میں چھوٹا تھا تو مجھے کچھ عیسائی عقائد جیسے تثلیث، کفارہ، مسیح کی قربانی، پیدائشی گناہگار وغیرہ پر شبہات تھے، جنہیں میں نے ایک طرف کر دیا تھا، کیونکہ جب میں نے ماضی میں مذہبی راہنماؤں سے مثال کے طور پر تثلیث کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسیح خدا سے دعا کر سکتے ہیں جبکہ وہ خود خدا ہیں؟ تو میرے لیے یہ ایک معمہ تھا۔ جن لوگوں سے میں نے پوچھا وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے، لیکن میں نے یہ سوچ کر اسے ایک طرف کر دیا تھا کہ شاید میں اسے سمجھنے کے قابل نہیں ہوں۔
لیکن سالوں بعد جب میں یہ کتاب لکھ رہا تھا، وہ سوالات دوبارہ سامنے آئے کیونکہ مجھے اسلام اور عیسائیت کے درمیان یہ موازنہ کرنا پڑا۔ اور پھر میں نے توحید کا یہ تصور دیکھا، جسے میں  تقابلی مذہب کے ایک طالب علم کے پس منظر سے جانتا تھا  …لیکن یہ محض مطالعہ کی غرض سے تھا۔ میں اس وقت بھی ایک بہت ہی سخت عیسائی تھا۔ تب یہ میرے لیے ایک نقطۂ نظر تھا، لیکن اب بات کھل چکی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ زیادہ منطقی بات ہے۔ 
پھر میں نے بائبل کو دوبارہ پڑھنا شروع کیا  اور پرانا عہد نامہ دیکھا، جیسا کہ یہودیوں کی بائبل ہے، اس میں انہوں نے توحید کے بارے میں بات کی ہے کہ صرف ایک خدا ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں صرف یہ دیکھوں گا کہ خود یسوع نے کیا کہاہے، نہ کہ دوسرے لوگوں نے یسوع کے طور پر کیا کہا ہے۔ چنانچہ میں نے بائبل میں سے ان کے اقتباسات تلاش کیے۔ اور پھر یہ عبارت دیکھی کہ ایک شخص ان کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے: ’’ اے اچھے آدمی! میں جنت میں کیسے داخل ہوں، میں جنت کیسے حاصل کروں؟‘‘  اور وہ کہتے ہیں کہ ’’پہلی بات یہ ہے کہ دو چیزیں ہیں‘‘۔ اور پھر وہ شمہ کہتے ہیں، یہ تقریباً‌ یہودیوں کی ’’شہادت‘‘ کی طرح ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اے اسرائیل سنو! صرف ایک خدا ہے‘‘۔اس پر میں نے سوچا کہ وہ صرف ایک خدا کا بتا رہے ہیں۔ اور پھر انہوں نے کہا کہ ’’اپنے پڑوسی کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا سلوک تم اپنے ساتھ چاہتے ہو‘‘۔
میں نے سوچا کہ اگر یسوع بھی ایک خدا کے بارے میں بات کرتے ہیں تو شاید اس اسلامی تصور میں بھی کچھ سچائی ہے۔ چنانچہ حقیقی توحید کو قبول کرنے کا معاملہ اس طرح سے شروع ہوا۔ البتہ میں تب بھی اسلام کے خلاف ہونے پر مطمئن تھا جس کی وجہ وہ شخصیت تھی جو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان فرق کے طور پر موجود تھی،  اور وہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک بدمعاش کی طرح کا برا آدمی (نعوذ باللہ)۔ کیونکہ بچپن سے میں نے جو کچھ پرانی کتابوں میں پڑھا تھا جیسا کہ مارٹن لوتھر وغیرہ، انہوں نے ان کے بارے میں تقریباً دجال کے طور پر بات کی ہے۔
یہی تصویر میرے ذہن میں تھی اور پھر میں نے ان تمام دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں سوچا، میں نے سوچا کہ ہاں وہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو محمد نے بتایا تھا۔ لیکن جب میں مسلمانوں کی کتابیں پڑھ رہا تھا اور میں نے سیرت پڑھی اور میں نے مارٹن لنکس کی ایک کتاب پڑھی جو  حضرت محمدؐ کے بارے میں ابتدائی مآخذ سے ہے۔ پھر میں نے اچانک انہیں ایک باپ کے طور پر دیکھا، ایک دوست، ایک استاد اور ایک سیاستدان کے طور پر دیکھا۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک متاثر کن آدمی ہے، چاہے مجھے وہ پسند ہو یا نہ ہو، اس نے کچھ خاص کام کیا ہے۔
پھر مجھے ہند (بنت عتبہ) کی کہانی ملی۔ یقیناً آپ ہند کی کہانی مجھ سے کہیں بہتر جانتے ہوں گے۔ وہ ابو سفیان کی بیوی تھی جو اسلام کا اور پیغمبر کا دشمن تھا۔ انہوں نے ان کے پسندیدہ چچا حمزہ کو میدان جنگ میں قتل کرنے کے لیے رقم ادا کی۔ اور وہ ان کے کان اور ناک کاٹنے کے بعد ان کے گرد دندناتے رہے۔ تو میں نے سوچا کہ یہ بہت خوفناک (منظر) ہے۔ 
سالوں بعد محمدؐ مکہ میں اقتدار میں آئے اور ہند ابھی بھی وہاں تھی۔ تو میں کتابیں پڑھ رہا تھا کہ اب اسے مصلوب کیا جائے گا، اب اسے قتل کیا جائے گا، لیکن پھر اچانک لوگ۔
عمران گارڈا: آپ اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔
یورام فین کلیفرین: ہاں میں واقعی اس کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ کیسے مرتی ہے؟ لیکن آخر میں کوئی نبی کے پاس آیا اور بتایا کہ ہند ابھی بھی یہاں ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے خون بہانا ختم ہو چکا ہے، جو بھی یہاں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے  تو یہ نئے اصول ہیں، آپ رہ سکتے ہیں، اگر آپ نہیں چاہتے تو چلے جائیں، اب کوئی انتقام نہیں۔
میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اگر ان میں معاف کرنے کا اور انتقام نہ لینے کا حوصلہ تھا تو یہ بڑی خاص بات ہے۔ وہ ایک بدمعاش، برے آدمی، یا دجال نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے پسندیدہ چچا، آپ کے رشتہ داروں میں سے ایک کو اس طرح مارا گیا کہ انہوں نے اس کے جسم کو بھی کاٹ ڈالا۔ اور پھر آپ سالوں بعد کہتے ہیں کہ آپ کو معاف کر دیا گیا ہے۔ اور سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ آخر میں وہ (ہند) مسلمان ہو جاتی ہے۔
تو یہ میرے لیے سوئچ کی طرح تھا، اور میں نے سوچا کہ یہ آدمی تو کچھ اور ہے۔ یہ وہ تصویر نہیں تھی جو میرے ذہن میں تھی۔ اس لیے میں نے پڑھنا شروع کیا، اور پڑھنا شروع کیا، یہ تھوڑا سا جذباتی لگتا ہےلیکن  آخر میں، میں اسلام سے محبت کرنے لگا۔ میں مزید جاننا چاہتا تھا اور مزید پڑھنا چاہتا تھا،  خاص طور پر نبی کی زندگی کے بارے میں۔ اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ واقعی یہ آدمی ایک نبی ہے۔ اگر میرے پاس اپنے دلائل ہیں کہ مثال کے طور پر موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم سب نبی تھے، تو میرے پاس اس آدمی، اس آخری نبی کے خلاف دلائل نہیں ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ شاید وہ نبی ہے۔ لیکن پھر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے اور محمد اس کے رسول ہیں، یہ تو عملی طور پر شہادت ہے۔ میں نے کہا اوہ! یہ ایسی چیز ہے جو میں نہیں چاہتا۔
پھر بھی میں مسلمان نہیں بننا چاہتا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک متاثر کن آدمی ہے جیسا کہ اس کا تصور ہے لیکن بس اتنا ہی۔ جب میں اپنی کتاب لکھ رہا تھا تو میز پر بہت سی دوسری کتابیں تھیں۔ یہ واقعہ کچھ پریوں کی کہانی کی طرح لگتا ہے اور میں اسے متعدد مواقع پر بتا چکا ہوں۔ جب میں نے اپنی تمام کتابیں ایک طرف رکھ دیں کیونکہ میں نے سوچا کہ میں لکھنا بند کر دیتا ہوں اور بس۔ جب میں اپنی تمام کتابیں سمیٹ رہا تھا تو بھری ہوئی شیلف سے کچھ کتابیں گر گئیں۔ جو کتابیں گریں ان میں سے ایک قرآن تھا۔ یہ کھلا ہوا گرا تھا،  میں نے جب اسے اٹھایا تو اس پر میرا انگوٹھا تھا، میں نے اسے الٹایا تو سورہ 22 کی آیت 46 میرے سامنے تھی، جو یہ کہہ رہی تھی کہ ’’یہ آنکھیں نہیں بلکہ دل ہیں جو اندھے ہیں۔‘‘
میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہاں واقعی میرا یہی مسئلہ ہے۔ کیونکہ میں واقعی دیکھ سکتا تھا کہ میں نے خود کیا لکھا ہے، کسی نے مجھے وہ کتاب لکھنے پر مجبور نہیں کیا، یہ حقائق ہیں، لیکن میں اب بھی اسلام کو قبول نہیں کر سکتا۔ تو یہ علم کا مسئلہ نہیں ہے، یہ حقائق کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کچھ اور ہے، یہ دل کا مسئلہ ہے۔ یہ جذباتی لمحہ تھا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا کہ شاید اسلام سچ ہے۔ پھر میں نے ایک چھوٹی سی دعا کی۔ میں نے کہا: ’’اے رب! مجھے پرواہ نہیں ہے کہ یہ عیسائیت کا خدا ہے یا اسلام کا، ، بس ہم جانتے ہیں کہ کوئی خدا موجود ہے‘‘۔ میں خدا پر یقین رکھتا تھا۔  ’’مجھے کوئی نشانی  وغیرہ دو‘‘ ۔ لیکن ظاہر ہے کہ کوئی اڑتی ہوئی مخلوق یا بارش یا کچھ سامنے نہ آیا۔ 
عمران گارڈا: کوئی فرشتے نہیں؟
یورام فین کلیفرین: کوئی فرشتے نہیں۔  میں سو گیا، لیکن اگلی صبح جب میں اٹھا تو میں نے بڑی حفاظت اور سکون اور اطمینان محسوس کیا۔ اور پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں مسلمان بنوں گا۔ 
عمران گارڈا: انہوں نے کیسے رد عمل ظاہر کیا؟
یورام فین کلیفرین: وہ بہت اچھی اور پرسکون تھی۔اس نے کہا کہ میں نے یہ تبدیلی دیکھی ہے، کیونکہ شروع میں میز پر بہت سی کتابیں تھیں اور ان میں سے ایک کتاب ڈچ میں ہے جو ’’اینڈ گیم‘‘ کہلاتی ہے اور یہ اسلام اور غیر مسلم دنیا کے درمیان آنے والی جنگ کے بارے میں ہے۔ اور پھر یہ سلسلہ ایک کتاب کے ساتھ ختم ہوا  جو ’’اسلام، غلط سمجھا گیا مذہب‘‘ تھی۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ تبدیلی آتے دیکھی ہے۔ وہ بہت اچھی تھی لیکن بہت سے دوسرے لوگ اتنے معاون نہیں تھے۔ میرے زیادہ تر پرانے دوست بہت غصے میں  اور بہت جارحانہ تھے۔ کچھ حامی لوگ جنہوں نے مجھے ووٹ دیے تھے، وہ بھی۔
عمران گارڈا: انہوں نے دھوکہ محسوس کیا کیونکہ آپ نے ان پر اثر ڈالا تھا اور انہیں قائل کیا تھا کہ یہ لوگ دشمن ہیں۔ اب آپ کہہ رہے تھے کہ میں ان کی طرف جا رہا ہوں۔
یورام فین کلیفرین: ہاں یقیناً۔  یہ ’’جو بوئے گا وہی کاٹے گا‘‘ جیسا ہے۔ ہاں واقعی، جیسا کہ آپ نے کہا، میں نے یہ سب کہا تھا، میں نے لوگوں کو متاثر کیا تھا، میں نے ان کی ایک طرح سے راہنمائی کی تھی۔ اور پھر جب میں کہتا ہوں کہ میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے، میں غلط تھا، یہ غلط تھا، تو یہ بالکل مختلف تھا۔ جیسا کہ آپ نے کہا، لوگوں نے واقعی دھوکہ دہی محسوس کی۔ مجھے تب جھٹکا لگا جب انہوں نے کہا کہ اب آپ نسل کے غدار بن چکے ہیں۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، ٹھیک ہے میں مذہب سے غداری کا، ملک سے غداری کا تصور سمجھتا ہوں، جو بھی آپ کہیں، لیکن نسل کی غداری!
میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی نسل کے غدار سے کیا مراد ہے؟ (انہوں نے کہا) آپ ایک سفید فام یورپی آدمی ہیں، آپ مسلمان نہیں ہو سکتے، یہ مضحکہ خیز ہے، یہ ممکن نہیں ہے۔ اور میں نے ان سے کہا کہ اور بھی سفید فام مسلمان ہیں بلکہ ممالک بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک نام بتائیں۔ میں نے کہا کہ بوسنیا، البانیہ وغیرہ۔ (انہوں نے کہا) ٹھیک ہے، یہ اور بات ہے۔ بہرحال یقیناً یہ منطقی ردعمل نہیں ہے لیکن یہ ایسی چیز تھی جو لوگوں نے واقعی محسوس کی۔
آپ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے خلاف یہ تاریخی تعصب ہے کیونکہ بطور یورپی۔ عبدالحکیم مراد نے ایک بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’ٹریولنگ ہوم‘‘ ہے، یہ ان کی تازہ ترین کتاب ہے، اور وہ اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ یورپیوں نے اپنے آپ کو پہلی بار قدیم ترین متون میں کیسے پایا۔ یہ سال 754  سے ہے اور 732 کے سال میں ٹورز (پوئٹیئرز) میں ہونے والی جنگ کے بارے میں ہے جب مسلمان فرانس میں آئے تو انہیں روک دیا گیا۔ لیکن سالوں بعد لوگوں نے اس جنگ کے بارے میں لکھا۔ ... ہمارے پاس سب سے قدیم تحریری متن جس میں یورپیوں نے اپنے آپ کو یورپیوں کے طور پر دیکھا۔ میں نے (نسل کا غدار کہنے والوں سے) کہا کہ ہم وہ نہیں ہیں۔ جب آپ انہیں ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ تصور یورپی معاشرے میں بہت گہرائی میں پایا جاتا ہے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔
عمران گارڈا: اب جبکہ آپ اس دنیا میں ہیں جسے ہم اسلام کی دنیا کہہ سکتے ہیں، اس حقیقت کا کہ آپ نے اسلام قبول کیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لوگ موجود نہیں ہیں جنہوں نے عمارتوں میں جہاز تباہ کیے، یا جو کچھ بھی انہوں نے کیا اسے اسلام کے نام پر کرنے کا دعویٰ کیا۔ ہمارے ہاں مسلم دنیا میں ’’یورام فین کلیفرین‘‘ کے انتہائی دائیں بازو کے اپنے ورژن ہیں، نوجوان ورژن، یا گیرٹ ولڈرز کے ورژن۔ ایسے لوگ جو نہیں چاہتے کہ مسلمان آپ جیسے یا عبدالحکیم مراد جیسے سفر سے گزریں،جو پہلے ٹموتھی ونٹر تھے اور مسلمان ہو گئے۔ تو مسلم دنیا کے اندر مسائل ہیں۔ سیاست ہے، دہشت گردی ہے، آمریت ہے، لوگ مذہب کے نام پر خوفناک کام کر رہے ہیں، مذہب کو مظالم کے لیے، دوسروں کو دبانے کے لیے سہارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں، جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ابھی بھی مسلمان ہونے کے ایک قسم کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ مجھے بتائیں کہ آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟
جواب: بات یہ ہے کہ میں پہلے ہی ان چیزوں کو جانتا تھا کیونکہ اسلام کے بارے میں میرا اپنا نظریہ یہی تھا۔ میں نے سوچا کہ مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن جب وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں ، میں نے اس کا موازنہ کیا، میں نے کہا کہ مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں KKK کی وجہ سے عیسائی نہیں ہو سکتا، یہ امریکہ کی ایک بہت ہی پروٹسٹنٹ تنظیم ہے، بہت زیادہ نسل پرست، انہوں نے ان سب افریقی امریکیوں کو قتل کیا، لوگوں کو جلایا، لوگوں کی عصمت دری کی، بہت ہی خوفناک کام کیے، اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک عیسائی تنظیم ہیں، ہم یسوع مسیح کی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ یقیناً یہ ناقابلِ فہم ہے اور یہ مضحکہ خیز ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہیں۔ اور اسی طرح میں ’’بوکو حرام‘‘ جیسے لوگوں کو دیکھتا ہوں۔  اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم سچے مسلمان ہیں لیکن ہم ان بچوں کو اغوا کرتے ہیں اور ہم یہ سب خوفناک کام کرتے ہیں لیکن ہم مسلمان ہیں۔ میرے لیے یہ ایک جیسا ہے، اس لیے یہ اصل چیز نہیں ہے۔
مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا تھا کہ میں KKK کی وجہ سے عیسائی نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی ایسی تنظیم کی وجہ سے مسلمان نہیں ہو سکتا جو ایسے کام کرتی ہے جو ان طریقوں کے مطابق نہیں ہیں جو ہمارے نبی محمدؐ ہمیں سکھاتے ہیں۔ تو مجھے یہ بات صحیح نہیں لگتی۔ بہرحال جیسا کہ آپ نے کہا کہ یہ دنیا ہے، جہاں خبطی لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ 
عمران گارڈا: یورام فین کلیفرین! آپ بہت پرکشش شخصیت ہیں، کاش ہمارے پاس زیادہ وقت ہوتا، لیکن میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ واقعی بہت اچھا رہا۔
یورام فین کلیفرین: بہت شکریہ۔
https://youtu.be/IeuWdpFp9nY

وائس آف امریکہ کا انٹرویو

(گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جانب سے پہلی مرتبہ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا گیا، لیکن اب بھی کئی مغربی ممالک میں ایسے گروپس اور سیاسی پارٹیاں نظر آتی ہیں جن کے ایجنڈے میں مسلمانوں سے نفرت شامل ہے۔ فریڈم پارٹی نیدرلینڈز کی دائیں بازو کی ایسی ہی ایک جماعت ہے۔ اس جماعت کے ایک اسلام مخالف، سرگرم رکن یورم وان کلیورن نے چند سال قبل اپنے نظریات تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ وی او اے کی آعیزہ عرفان کے ساتھ ان کی گفتگو — وائس آف امریکہ)

یورام فین کلیفرین: میں ایک اسلام مخالف سیاسی جماعت کا رکن تھاجو میرے خیال میں یورپ میں سب سے زیادہ اسلام مخالف جماعت ہے، اور شاید دنیا میں بھی۔  اور گیرٹ وِلڈرز اس کا راہنما ہے، وہ بھورے بالوں والا شخص، کچھ لوگ اسے جانتے ہوں گے، میں اس کاخاص آدمی تھا۔ میں پارلیمنٹ میں اسلام پر بات کرنے کے لیے فریڈم پارٹی کا ترجمان تھا۔ میں واقعی اس کا قائل تھا کہ اسلام ایک خطرہ ہے، یہ ایک غلط مذہب ہے، اور میں پورے مذہب سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ 
اسلام کے بارے میں میرے خیالات میں میری مذہبی تعلیم و تربیت کا بہت دخل تھا۔ کیونکہ میری پرورش ایک بہت سخت پروٹسنٹ مذہبی روایت میں ہوئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ میرے والدین مذہب کے بارے میں بہت سخت تھے، لیکن میں ایک طرح کا پڑھاکو لڑکا تھا، لہٰذا میں نے بہت ساری کتابیں پڑھیں۔ بعد میں، میں نے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں تقابلی مذہب کا مطالعہ کیا۔ لیکن کالج جانے کا میرا پہلا دن، یہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء تھا، اس دن ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا۔   
میں پہلے ہی تھوڑا متعصب تھا، پھر میں نے ایسا ہوتے دیکھا۔ اور میرے کالج کے دنوں میں نیدرلینڈز کے ایک مشہور فلمسساز تھیو وین گو تھے، اور انہیں ایک ایسے شخص نے سڑک پر قتل کر دیا جو خود کو جہادی کہتا تھا۔ میں پہلے سے ہی اسلام کے بارے میں منفی سوچ رکھتا تھا۔ اور پھر میں نے ان مسلم لوگوں کو ایسے کرتے دیکھا اور میں نے سوچا، یہ سب تو پاگل ہیں، مجھے اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے۔ 
میں سمجھتا تھا کہ اسلام نیدرلینڈز کے لیے، یورپ کے لیے، بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ اور میں اپنے ملک سے اسلام کو مٹا دینا چاہتا تھا۔ اس میں اسلام کے تمام ظاہری نشان شامل تھے۔ چاہے وہ حجاب ہویا قرآن، یا اسلامی اسکول۔ میں ایک علمی کتاب لکھنا چاہتا تھا کہ اسلام مخالف سیاستدان ہونے کے ناطے میں اسلام کو برا یا خطرہ کیوں سمجھتا ہوں۔ اور میں لوگوں کو اس کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ ایک مذہبی بیان تھا، اور اس میں کچھ سیاست بھی شامل تھی۔ 
لہٰذا میں نے ایک کتاب پڑھنا شروع کی اور پھر دوسری کتاب، ایک مضمون پھر دیگر مضامین۔ چنانچہ آخر میں  اس نے اسلام کے بارے میں میرا نقطۂ نظر بدل دیا۔ کیونکہ میں نے تقریباً‌ دو اسلام دیکھے۔ ایک اسلامی روایات کے علماء کا اسلام، یعنی اصل بات۔ لیکن میں نے مستشرقین کا اسلام بھی دیکھا۔ اور یہ بیشتر دو مختلف مذاہب جیسے لگے۔ 
بہت کچھ موازنہ کرنے کے بعد،خاص طور پر خدا کے تصور، اللہ کے تصور پر میں نے سوچا، ہاں میرے خیال میں یہ زیادہ منطقی ہے۔ اور میں نے بائبل کو اسلامی نقطۂ نظر سے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔ تو میں نے یسوعؑ کو ایک خدا کے بارے میں بات کرتے دیکھا، اور میں نے موسٰیؑ کو ایک خدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا، اور ابراہیمؑ کو۔ تو میں نے سوچا، مجھے لگتا ہے کہ یہ سچ ہے۔ 
 آعیزہ عرفان: جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ کے خاندان، دوستوں، سابق ساتھیوں کا ردعمل کیا تھا؟ 
یورام فین کلیفرین: زیادہ تر لوگوں  کا ردعمل منفی تھا۔ اور خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے میری حمایت کی، جنہوں نے مجھے ووٹ دیا، وہ بہت غصے میں تھے۔ مجھے دو ہزار سے زیادہ جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملیں اور لوگوں نے برا بھلا کہا، گلیوں میں چلّائے، اس طرح کی چیزیں ہوئیں۔ میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ملک میں یہ اسلام مخالف ماحول پیدا کیا۔ تو ہاں، یقیناً‌ مجھے ردعمل ملنا تھا۔ سو وہی ہوا جو ہونا تھا۔ 
 آعیزہ عرفان: کیا یورپ میں سیاستدانوں کی جانب سے مذہبی منافرت کو مقبولیت حاصل کرنے اور زیادہ ووٹ حاصل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ 
یورام فین کلیفرین: جی ہاں، لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ واقعی اس بات پر قائل ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ میں اسلام سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک خطرہ ہے، وغیرہ وغیرہ، تو یہ ان لوگوں کے لیے کھیل نہیں ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ واقعی اسلام مخالف ہے؟ کیا وہ واقعی مذہب سے نفرت کرتا ہے؟  یا یہ صرف سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے ہے؟ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی سیاسی جماعت کا ایجنڈا پورا ہو جائے۔ چنانچہ لوگوں کے لیے یہ کھیل نہیں ہے۔ وہ واقعی اسلام سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی تقریباً‌ پچھتر فیصد کو اسلام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ 
رسول اللہ محمدؐ، اگر ہم واقعی ان کی پیروی کرتے، جس طرح وہ سوچتے تھے، جو ان کا عمل تھا، جس طرح وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے، تو میر ےخیال میں دنیا میں امن قائم ہو جائے گا، لیکن لوگ ایسا نہیں کرتے۔
https://www.youtube.com/watch?v=KEgK0CDiyCo

امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ

سید سلمان گیلانی


علیؓ کی مدح کا جب باندھنے لگا عنواں
مِرا قلم ہوا طاؤس کی طرح رقصاں

بیاں کرے گا کوئی کیا بھلا مقامِ علیؓ
علیؓ نبیؐ کا برادر علیؓ خدا کا ولی

یہ صرف میں نہیں کہتا جہاں کو ہے معلوم
علیؓ ہے کوہِ عزیمت علیؓ ہے بحرِ علوم

علیؓ کے فقر کا چرچا زباں زباں پر ہے
علیؓ کی دھوم زمیں پر ہے آسمان پر ہے

علیؓ کا نام سخاوت میں ماہتاب مثال
علیؓ کا نام شجاعت میں آفتاب مثال

علیؓ نے کاٹ کے رکھ ڈالے مرحب و عنتر
علیؓ ہے رونقِ محراب و زینتِ منبر

علیؓ بہارِ گلستانِ علم و حکمت ہے
علیؓ ضیاءِ چراغِ کتاب و سنت ہے

علیؓ فقیہ علیؓ متقی علیؓ دانا
علیؓ نقیبِ رسالت علیؓ حبیبِ خدا

علیؓ امام علیؓ مرتضیٰ علی کرّار
علیؓ ہے سلطنتِ فقر کا سپہ سالار

علیؓ کو خود کہا مولیٰ نبیؐ نے گیلانی
نہ جانے خارجیوں کو ہے کیا پریشانی

www.facebook/SyedSalmanGilaniOfficial

The Prophet`s Companions are the Witnesses of the Religion

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

Hazrat Abdullah bin Masood (may Allah be pleased with him) said: "If a person wants to follow someone, he should follow someone who has passed away because a living person can fall into temptation at any time." He further stated, "The group of companions (Sahabah) is worthy of being followed, as they were extremely pious and knowledgeable."
The companions (may Allah be pleased with them) were not only the first narrators of the Quran and Sunnah but also of the circumstances of that era. The Quran invited the world to faith in this manner: "ان آمنوا بمثل ما اٰمنتم بہ فقد اھتدوا وان تولوا فانما ھم فی شقاق" If they believe as you (companions of the Prophet) have believed, then they are rightly guided; but if they turn away, then they are in severance. In this way, the Quran has made the companions the standard of religion and truth.
Another aspect is that the foundation of religion is the Quran, the Sunnah of the Prophet (peace be upon him), and the group of companions (may Allah be pleased with them). From the fact that:
  •  the Quran provides the principles and regulations, 
  • the Sunnah of the Prophet is its practical form, 
  • and the group of companions represents its collective and social form. 
When Ummul Momineen Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) was asked, she said: "کان خلقہ القرآن" His character was the Quran. I translate this as: what is theoretical in the Quran is practical in the Sunnah.
Some time ago, someone raised the question that while we respect the companions, there should be a "definition" of who a companion is. I responded that this has already been established and cannot be reopened. 
The companions are those whom the Ummah has considered companions for fourteen hundred years and whom "محدثین" (the scholars of Hadith) have classified as companions in the books of "اسماء الرجال" (study of the biographies of narrators). Among them are "اہل البیت" (the prophet's household), "مہاجرون" (migrants to Medina), "الانصار" (supporters of the migrants), and also "والذین اتبعوھم باحسان" those who converted to Islam after the conquest of Makkah. There is a classification among them, but there is no difference in their being a proof and an ideal.
The saying of Abu Zur'ah Razi (may Allah have mercy on him): "اذا رايت الرجل ينتقص احداً من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" is in this very context that "If you see a man criticizing any of the companions of the Messenger of Allah (peace be upon him), then know that he is undermining the witnesses of the religion".
https://zahidrashdi.org/5608