آزادی و آگاہی اور یکجہتی کے ہمارے قومی و ملّی تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ کے زیر اہتمام دو نشستوں کی گفتگو کا خلاصہ)
تحریکِ خلافت، تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان، اِن تینوں بڑی تحریکوں میں قدیم تعلیم اور جدید تعلیم کی قیادت مشترک تھی۔ میں تاریخ کا ایک سوال ذکر کروں گا کہ ان کو اکٹھا کس نے کیا تھا؟ تحریکِ خلافت میں آپ کو مولانا محمد علی جوہر بھی نظر آئیں گے اور مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی بھی۔ تحریکِ آزادی میں آپ کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی بھی نظر آئیں گے اور دیگر بھی، حتیٰ کہ گاندھی بھی۔ اور تحریکِ پاکستان میں آپ کو قائد اعظم محمد علی جناح بھی نظر آئیں گے اور علامہ شبیر احمد عثمانی بھی۔ تو یہ جو مولوی اور مسٹر کا کردار تھا اس کے پیچھے سوچ حضرت شیخ الہند کی تھی جنہوں نے دونوں کو اکٹھا کیا، اور پھر جس تحریک میں دونوں اکٹھے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ آج بھی اسی بات کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ہمیشہ رہے گی کہ دونوں طبقے اکٹھے ہو کر ملک و قوم اور دین کی خدمت کریں۔
ہمارے بزرگوں نے اس خطے کی آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ برصغیر کے ہر علاقے میں ایسے مفکرین اور مجاہدین گزرے ہیں جنہوں نے آزادی کی جنگ میں لوگوں کو نظریہ دیا اور قربانیاں دیں۔ ان میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز ایک بہت بڑی شخصیت ہیں۔ اور ہمارا یہ نیا دور جس میں ہم مسلح جنگ سے سیاسی جدوجہد کی طرف آئے، اس کا آغاز تو حضرت شیخ الہند سے ہی ہوتا ہے، جو ان دونوں ادوار کے درمیان سنگم ہیں۔ انہوں نے ہمیں عدمِ تشدد کی بنیاد پر جدوجہد کا یہ رخ دیا تھا اور آج کی دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار یہی ہے، الحمد للہ ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ فکری تحریکات چند سالوں کی نہیں ہوتیں، ان میں اتار چڑھاؤ چلتا رہتا ہے، اور اس میں قوم کا ذہن بدلنا اور اسے اپنے رخ پہ لانا بنیادی ہدف ہوتا ہے۔
اس وقت ہماری تین بڑی قومی و ملّی ضرورتیں ہیں:
- پہلی ضرورت آزادی کی ہے کہ ہم نے اپنے فیصلے خود کرنے ہیں، اور آزادی کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ امتِ مسلمہ کی اپنی بنیاد ہے، قرآن کریم ہے، سنتِ رسول ہے، تعاملِ امت ہے، جبکہ ہماری قومی و ملی خود مختاری کو باقاعدہ ہدف بنایا جا رہا ہے اور اس کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت قومی سطح پر بھی اور عالمِ اسلام کی سطح پر بھی ہم بہت سے شعبوں میں جکڑبندی کا شکار ہیں، معیشت کے میدان میں بھی، سیاست کے میدان میں بھی، تہذیب و ثقافت کے میدان میں بھی، اور عسکری میدان میں بھی۔ ہم اپنے سیاسی فیصلے کرنے میں تو خودمختار نہیں ہیں، لیکن الحمد للہ تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فکری جنگ میں ہم مقابلہ کر رہے ہیں، استعمار جس شکل میں بھی آیا ہے، ہمیں ہمارے عقیدے اور بنیاد سے نہیں ہٹا سکا۔ اس کشمکش میں مسلم حکمران جو چاہے کرتے رہیں لیکن امتِ مسلمہ جکارتہ سے مراکش تک قرآن کریم، سنتِ رسولؐ، اور اپنے ماضی کے ساتھ کمٹمنٹ پہ قائم ہے، اور یہی استعمار کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ چنانچہ ہماری پہلی ضرورت آزادی کی اِس فکر کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ ہمیں اپنے ماضی، اپنی بنیادوں اور کمٹمنٹ پہ قائم رہنا ہے اور نئی نسل کو اس پہ قائم رکھنا ہے۔
- ہماری دوسری ضرورت تعلیم اور معلومات کے حوالے سے ہے۔ آج ہم نئی نسل کو گمراہ کہہ کر ایک طرح سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں، میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ میں ایک خالی برتن چوک میں رکھ دوں گا تو جس کا جو جی چاہے گا ڈالے گا۔ ایک طرف اپنی نئی نسل کے دل اور دماغ ہم نے خالی رہنے دیے ہیں، ان کے پاس اپنے دین اور ماضی کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ موبائل کی صورت میں ان کی جیب میں ہے، جبکہ صحیح معلومات کے حصول کے لیے ایسے ذرائع انہیں میسر نہیں ہیں۔ ہماری دوسری بڑی ضرورت اس خلا کو پُر کرنا ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ فہم اور معلومات کا تعلق بھی نئی نسل کا قائم ہو جائے تو اس حوالے سے ہم اپنا بنیادی مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔
- اِس زمانے میں ملک و قوم اور دین کی خدمت کا جذبہ اور سوچ بہت بڑی نعمت ہے۔ اِس ماحول میں جبکہ ہماری عمومی صورتحال افراتفری اور نفسانفسی کی ہے، اپنے علاوہ کسی اور کی فکر کرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس سوچ کو غنیمت جاننا چاہیے اور مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک مسئلہ ہمیں یہ درپیش ہے کہ ایک طرف ہمارے دینی طبقہ کے ذہن میں عصری تعلیم کے حاملین کے بارے میں عمومی تاثر گمراہی کا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف عصری تعلیم والوں کا دینی طبقات کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ ان کی معلومات سطحی ہوتی ہیں۔ حالانکہ نہ عصری تعلیم والے گمراہ ہیں اور نہ دینی طبقات لاعلم ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں اکٹھے بیٹھیں اور ایک دوسرے سے تبادلۂ خیالات کریں، اس سے صورتحال بھی واضح ہو گی اور باہمی تعاون کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔
ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی قدس اللہ سرہ العزیز میری سرگرمیاں دیکھتے رہتے تھے تو ایک دن فرمانے لگے، زاہد! کبھی یہ سمجھ کر کام نہ کرنا کہ یہ کام میں کر رہا ہوں، بلکہ یہ ذہن میں ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کام لے رہے ہیں، کام اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ہوتے ہیں، اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے اور چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں اور مذکورہ مقاصد کے لیے ہم جتنی زیادہ محنت کر سکیں اس کو غنیمت سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں، آمین یا رب العالمین۔
https://zahidrashdi.org/5737
https://zahidrashdi.org/5741
ماڈرنائزیشن کی آڑ میں ویسٹرنائزیشن
مفتی سید عدنان کاکاخیل
(مفتی صاحب کا ایک خطاب ذیلی عنوانات کے اضافے کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)
تہذیبوں کی کشمکش اور انبیاء کرام کی تعلیمات
لوگ زندگی کیسے گزاریں؟ دنیا میں جس کو جس اعتبار کا بھی غلبہ ملتا ہے، ہمیشہ سے یہ انسانوں کی ترتیب رہی ہے، جس اعتبار سے بھی وہ غالب آتا ہے، اس کی بات چلتی ہے، اس کا زور اور اس کی قوت چلتی ہے، تو انسان کی زندگی صرف اپنے معاملات کو سنوارنے کی حد تک محدود نہیں رہتی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ انسانی نفسیات میں نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ ہمارے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں، ہماری مشکلات ختم ہو گئی ہیں، اور ہم ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں دنیاوی اعتبار سے، تو وہ اس پر اکتفا کر لے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ انسان دوسروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ قومیں قوموں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں، ملک ملکوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تہذیبیں تہذیبوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں، کلچر کلچر کو ڈومینیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انسانیت کی تاریخ جب سے شروع ہوئی ہے تو اس میں یہ چیز نظر آتی ہے۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی جو تعلیمات لے کر آتے تھے، وہ افراد کی انفرادی اور نجی زندگیوں تک محدود نہیں ہوا کرتی تھی۔ کسی بھی نبی کی تعلیم یہ نہیں تھی، کسی بھی نبی کی، کہ ہمارا مخاطب ایک فرد اور اس کی پرائیویٹ اور نجی زندگی ہے، اس کو اپنے کام ٹھیک کر لینے چاہئیں، اس کو اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ درست کر لینا چاہیے، اور پھر باقی دنیا سے اس کو بے غم ہو جانا چاہیے، یہ اس کا کام نہیں ہے، یہ اس کا ڈومین نہیں ہے، یہ اس کی کوئی فکر کی چیز نہیں ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات میں بھی اجتماعیت ہوا کرتی تھی۔ وہ جہاں انسانوں سے خطاب کرتے تھے ان کی ذاتی حیثیت کے اندر، وہاں وہ معاشروں سے بھی خطاب کیا کرتے تھے، وہاں وہ اجتماعی نظم سے بھی خطاب کرتے تھے، وہ اجتماعی نظم کے احکامات بھی دیا کرتے تھے۔ وہ انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہن سہن کے اعتبار سے رویے بھی سکھاتے تھے، اخلاق بھی سکھاتے تھے، عادات بھی سکھاتے تھے۔ اور الہٰی قوانین بھی لایا کرتے تھے کہ جب تم لوگ فیصلے کرو گے تو کیسے کرو گے؟ تمہارا نظمِ عدل کیسا ہو گا؟ تمہارا نظمِ اجتماعی کیسا ہو گا؟ تم تعلیم کیسی دو گے؟ تم اخلاق کیسے دو گے؟ یہ بھی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ایک طریقہ تھا۔
دنیا صدیوں سے اس کشمکش کو ملاحظہ کر رہی ہے۔ یہ کشمکش مذاہب کے درمیان بھی رہی ہے اور ہے، اور یہ کشمکش تہذیبوں کے درمیان بھی رہی ہے اور آئندہ بھی چلے گی۔ عیسائیت اور اسلام کے درمیان مذہب کے نام پر جنگیں بھی ہوئی ہیں، اور عیسائیت اور یہودیت کے درمیان جنگیں بھی ہوئی ہیں، دیگر مذاہب کے درمیان بھی ہوتی رہی ہیں وقتاً فوقتاً۔
جدید مغربی تہذیب کا آغاز اور ہیئت
گزشتہ دو سو سال میں شاید، یا ڈیڑھ سو سال میں شاید، دنیا کو ایک ایسی عالمگیر، پوری دنیا پر چھائی ہوئی تہذیب کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے مذہب کا لبادہ بظاہر اتار دیا ہے۔ آج کی عالمی تہذیب ببانگِ دہل یہ نہیں کہتی کہ ہمارا مذہب عیسائیت ہے، نہ وہ یہ کہتی ہے کہ ہمارا مذہب یہودیت ہے۔ اس نے اپنے مذہب کے کچھ اور خدوخال بنائے ہیں اور ان کے الفاظ بہت خوشنما ہیں۔ مثلاً: انسانی حقوق، عورتوں کی اِمپاورمنٹ، جمہوریت، آزادئ اظہار، انسانوں کی مساوات۔ ان عنوانات سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ کون کہے گا کہ نہیں عورتوں کو اِمپاور نہیں کرنا چاہیے، عورتوں پر ظلم کرنے چاہئیں؟ لیکن اِمپاورمنٹ کے پیچھے جو پورا ایک فیمینزم کا فلسفہ ہے، اس کی تفصیلات اس طریقے سے سامنے نہیں رکھی جاتیں، اس کے نتائج آپ کو معاشرے کے اندر نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔ اور وہ چیزیں اُن کی روایات سے بالکل خالی بھی نہیں ہیں، آج بھی وہ دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ چیزیں آپ لیں لیکن ہماری روایت کے تحت لیں۔
اپنی روایات کی پاسداری، دوسروں کی روایات کی پامالی
یہ لفظِ پارلیمنٹ جو ہے، کتنا ہم نے اس کو تقدس عطا کیا ہے۔ یعنی ہم اپنے مذہبی سیاست دانوں کی بھی اور دوسروں کی تقریریں سنتے ہیں تو ہمیں ایسے لگتا ہے کہ اس پارلیمنٹ کا تقدس شاید قرآن و سنت کے اندر العیاذ باللہ کہیں آیا ہو گا، جبھی اس کا اتنا ذکر اہتمام کے ساتھ ہوتا ہے کہ بالکل لگتا ہے کہ وضو کر کے یہ نام لینا چاہیے، اس کے بغیر تو گستاخی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ برطانیہ کے بادشاہ کے پاس جب وفود آیا کرتے تھے تو وفد کی شکل میں علاقے کے جو زمیندار ہوتے تھے، اس زمانے کے اندر جو لارڈز ہوتے تھے، یہ ہاؤس آف لارڈز کا تصور بھی تو وہیں سے نکلا ہے۔ ان کے آپ کو پتہ ہے پارلیمنٹ کے دو ایوان ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو الیکٹ ہو کر آتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں نیشنل اسمبلی ہے۔ اور ایک ہمارے ہاں سینٹ ہے جو الیکٹ نہیں ہوتی۔ تو وہاں پر بھی ایک ہاؤس آف لارڈز ہے۔ ایک کو ہاؤس آف کامن کہتے ہیں۔ تو یہ جو ہاؤس آف لارڈز ہے یا اس کا جو تصور پہلے تھا، لوگ آتے تھے ان کے پاس اور بادشاہ کو اپنے مسائل پیش کرتے تھے، اپنے علاقے کے۔ ٹیکسیشن کے ایشوز ہوتے تھے کہ ٹیکسز کم کیے جائیں، قیمتوں کے، امن و امان کے۔ اُس جگہ کو، اُس وفد کو پارلے کہتے تھے، اُدھر سے تصور نکلا ہے۔ اور آپ آج بھی اگر اس کی اصطلاحات اور اس کی روایات کو دیکھیں تو پوری اس کی پیروی ہے:
- آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کے سپیکر کو سپیکر کیوں کہتے ہیں؟ حالانکہ وہ تو خاموش رہتا ہے۔ سپیکر تو، بولنے والے تو دوسرے لوگ ہوتے ہیں جو ایوان کے لوگ بول رہے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر بادشاہ کے سامنے بات پیش کرنے کے لیے کوئی بندہ تیار نہیں ہو رہا تھا، کون جا کے بات کرے گا؟ تو کسی ایک کا انتخاب کر لیا باقی لوگوں نے، جو آئے ہوئے تھے بات کرنے کے لیے۔ جو میں نے پارلیمنٹ کے ابتدائی تصور بتایا۔ تو وہ جا نہیں رہا تھا، اس کو ہمت نہیں ہو رہی تھی، تو کچھ لوگ اکٹھے ہو کر، پانچ چھ لوگ گئے اور زبردستی اس کو اپنی سیٹ سے کھڑا کیا اور اس کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے لے گئے کہ جاؤ تم بادشاہ کے سامنے بات کرو گے۔ اس کو سپیکر کہا کہ یہ بات کرے گا۔ اس وقت سے ایوان کے اندر ایک آدمی کو سپیکر کہا جانے لگا۔ اور چونکہ اس کو اٹھا کر لے کر گئے تھے زبردستی، آج بھی جب سپیکر کا انتخاب ہوتا ہے، سپیکر خود اٹھ کر اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھتا، اس کو چار پانچ ممبرانِ پارلیمنٹ اٹھا کر، آپ نے دیکھا ہو گا یہ منظر، اس کو لے کر جاتے ہیں۔ یہ اُس روایت کی پاسداری کی جاتی ہے کہ پہلی دفعہ چونکہ پانچ چھ بندے لے کر گئے تھے، اب بھی؛ اتنی روایت پرست قوم ہے برطانوی۔ اور ہم سے مطالبہ ہے اپنی روایات چھوڑ دو۔ اور ہم بڑے فخر سے چھوڑتے ہیں۔ روایت شِکن بندے کو بہت بڑی توپ چیز سمجھتے ہیں۔
- اور آپ نے کبھی دیکھا ہو گا، سپیکر کے پاس ایک چھوٹا سا ہتھوڑا ہوتا ہے۔ جب سپیکر اسمبلی توڑتا ہے تو وہ ہتھوڑا مارتا ہے اپنی میز کے اوپر۔ وہ ہتھوڑے کا کیا تصور ہے؟ یہ بھی ایک دفعہ ایک بادشاہ کو پارلیمنٹ میں غصہ آیا اور وہ گیا اور اس نے جا کر پارلیمنٹ کے دروازے کو ہتھوڑے سے، اس کا تالا، یا اُدھر لوگ بیٹھے تھے، تو وہاں اس دروازے کو ہتھوڑے سے توڑا۔ اس وقت سے اس ہتھوڑے کو بھی پارلیمنٹ کا حصہ بنایا گیا کہ جب پارلیمنٹ توڑی جائے گی تو ہتھوڑے کے ذریعے سے، چاہے بے شک وہ شیشے کی میز کے اوپر مارنے کے لیے ایک چھوٹا سا لکڑی کا ہو گا، لیکن علامت کو زندہ رکھا جائے گا، روایت کو زندہ رکھا جائے گا۔
- آج بھی جب برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہوتا ہے، آپ کبھی اس کی تفصیلات دیکھیں، تو ٹارچوں کے ساتھ کچھ لوگ، یعنی جو محافظین ہوتے ہیں، وہ اندر جاتے ہیں اور وہ جا کے پارلیمنٹ کے پورے ہال کی تلاشی لیتے ہیں ٹارچوں کے ساتھ۔ حالانکہ روشنیوں کا زمانہ، کیمروں کا زمانہ آ گیا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں چونکہ پہلی پارلیمنٹ کے اندر ٹارچ کے ساتھ، اس زمانے کی جو مشعلیں تھیں، ان مشعلوں کے ساتھ تلاشی لی گئی تھی تو اس روایت کو قائم رکھا جائے گا، اب بھی مشعلوں کے ساتھ جایا جائے گا۔
تو عرض میں یہ کر رہا تھا کہ ٹھیک ہے ان چیزوں کا مذہب کے ساتھ ایک تعلق نہیں ہے، لیکن مذہب سے بالکل آزاد بھی نہیں ہے۔ اس کو ظاہراً ایسے رکھا گیا ہے کہ دنیا کے کسی مذہب کو بھی اس کو قبول کرنے میں تامل نہ ہو۔ پھر ادارے بنائے گئے ہیں، جو ادارے اس کو چلاتے ہیں، جو اس کا ذہن بناتے ہیں:
- اس میں تعلیمی ادارے ہیں، نظام دیا جاتا ہے، سکولوں کے نصاب تیار کیے جاتے ہیں، ٹیچرز کو ٹریننگ دی جاتی ہے، خیالات و افکار کیسے منتقل کیے جائیں گے؟
- اس کے لیے میڈیا کا ادارہ ہے جس کو بڑے بھرپور طریقے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ذہن سازی کے لیے۔
- اس کے لیے مختلف علوم کے اندر اس کو سمویا جاتا ہے، اس پیغام کو سمویا جاتا ہے کہ یہ پیغام لوگوں کے ذہن کے اندر، قلب و جگر کے اندر اترے۔
مغربی فلسفہ، علامہ محمد اقبال کی نظر میں
اس لیے علامہ اقبال اس فلسفے کو قلب و نظر کا فساد کہا کرتے تھے کہ یہ قلب و نظر کا فساد ہے۔ کیا مطلب؟ قلب کے ذریعے سے آپ کی عادات کے اوپر، آپ کے اخلاق کے اوپر، آپ کی روح کے اوپر، کچھ چیزیں اثر انداز ہوں گی۔ اور نظر کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی دلیل متاثر ہو گی، دلیل کے اعتبار سے آپ پر اثر پڑ جائے گا، آپ کو وہ دلیل زیادہ قابلِ قبول لگے گی۔ جس طرح آج کل ہم دیکھتے ہیں اپنے معاشرے کو اور آپ لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ کون سی بات مدلل لگتی ہے، کس بات کو لوگ دلیل کہتے ہیں؟ وہ دلیل آپ کے ذہنی سانچے سے نکل کر آتی ہے، جس چیز سے آپ کا ذہنی سانچہ تیار کیا گیا ہے، آپ کو وہی چیز مدلل لگے گی، وہ آپ کو دلیل لگے گی، ہاں یہ دلیل بڑی مضبوط ہے، یہ تو بڑی خاص قسم کی بات کی گئی ہے۔
برطانوی غلبہ کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کا تعلیمی نظام
مسلمانوں سے غلطی سب سے بڑی یہ ہوئی، اپنے برصغیر کے تناظر کے اندر بھی اگر آپ دیکھ لیں، ڈیڑھ دو سو سالوں کے اندر، کہ غلامی کے نتائج تو ہوتے ہیں۔ غلامی آئی تھی، اسباب اور وسائل ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ تو جب اسباب اور وسائل ہاتھوں سے نکلے تو برصغیر کے اندر مسلمان اپنا کوئی جامع مانع قسم کا تعلیمی نظام نہیں بنا سکے۔ reactionary نظام ہم نے بنائے، ہمیں فوری طور پر اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ہندوستان سپین نہ بن جائے، اور مسلمان قرآن و سنت سے ناواقف نہ رہ جائیں، اللہ تعالیٰ اجنبی نہ ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نہ چھوٹ جائے، تو مذہبی تعلیمی ادارے قائم کیے۔ اور مذہبی تعلیمی ادارے اس لیے قائم کیے تھے کہ دین کا علم زندہ رہے، قرآن زندہ رہے، حدیث زندہ رہے۔ لیکن ظاہری بات ہے کہ وہ تعلیمی ادارے مسلمانوں کی ساری ملّی، قومی اور اجتماعی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ مسلمانوں کو ہر قسم کے لوگ چاہئیں تھے۔ ان کو سائنسدان بھی چاہئیں تھے، ان کو ڈاکٹر بھی چاہئیں تھے، ان کو انجینئر بھی چاہئیں تھے، ان کو ہر شعبۂ زندگی کے افراد چاہئیں تھے۔ ان افراد کی تیاری سرکاری وسائل کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی، یا بہت بڑی رقومات کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔
پاکستان میں تعلیمی نظام کی نجکاری
پاکستان کے اندر بھی آپ دیکھیں کہ یہ تعلیم پرائیویٹائز کب ہوئی ہے؟ ابھی آپ میں سے جتنے لوگ بڑی عمروں کے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ میں سے کسی کے زمانے کے اندر پرائیویٹ میڈیکل کالج نہیں تھا، پرائیویٹ انجینئرنگ کالج نہیں تھے۔ یہ تو ابھی دو دہائیوں کا قصہ ہو گا زیادہ سے زیادہ، کہ جب تعلیم کے اوپر بڑی انویسٹمنٹس شروع ہوئیں، بڑے بڑے کاروباری لوگوں نے یہ طے کیا کہ تعلیم پر انویسٹمنٹ ہو سکتی ہے، تعلیم بھی ایک ایسی چیز ہے جس سے پیسہ کمایا جاسکتا ہے، تب پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا نظام وجود کے اندر آسکتا ہے۔کیونکہ ظاہر بات ہے اس میں بہت بڑی انویسٹمنٹ بھی ہے اور بہت بڑا ریٹرن بھی ہے۔ آج کل سپریم کورٹ سن رہی ہے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں کے کیس۔ لوگ گئے ہیں ان کے پاس، کہ اتنی بڑی بڑی رقومات وصول کی جارہی ہیں۔
برطانوی دور میں تعلیمی نظام کی تقسیم
تو نظامِ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا اور split ہوا، دو حصوں میں ہوا، کہ مسلمانوں نے کہا کہ ہماری جو مذہبی تعلیم ہے اس کو ہم privately sponsor کر سکتے ہیں۔ عام مسلمانوں نے سوچا، آپ کے جیسے مسلمانوں نے۔ ہم دس دس روپے اکٹھے کریں گے، ہم بیس بیس روپے اکٹھے کریں گے اور ہم مسجدیں بنائیں گے۔ مسجدوں کے اندر ہم مکتب بنائیں گے۔ مکتبوں میں ہم مدرسے بنائیں گے۔ وہاں پر ہم قرآن یاد کروائیں گے، وہاں پر ہم حدیث اور تفسیر کے اساتذہ کو رکھیں گے۔ ان اساتذہ کو اتنی ہی تنخواہیں دیں گے جتنی دے سکتے ہیں۔ ان طلباء کو وہی سٹینڈرڈ دیا جا سکے گا جس میں وہ رہ سکتے ہیں۔ تو پرائیویٹلی مسلمانوں نے اپنے طور پر، حکومتوں سے بے نیاز ہو کر، اپنی دینی تعلیم کو سنبھالنے کے لیے، اس کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے، اپنا ایک نظام قائم کیا۔ اور وہ نظام ظاہر بات ہے جیسے اس کے لیے ایک انفرادی کوشش ہوتی ہے تو وہ ویسا ہی نظام قائم ہوا، دیکھنے کے اعتبار سے۔ اثرات اس کے بہت بڑے نکلے مسلمان معاشرے کے اندر۔ لیکن وہ تھی مسلمانوں کی نجی کوشش، اپنے طور پر تھی، محلے کی سطح کے اوپر تھی، شہروں کی سطح پر تھی۔ دس پندرہ بیس لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے کہ ہم لوگ کیسے اس کے اوپر کیا سوچیں اور کیا نظام اس کا بنائیں۔
برصغیر کے وسائل کا برطانوی استحصال
باقی جو تعلیم تھی، وہ ریاست کے ہاتھ میں تھی۔ اور ریاست انگریزوں کی تھی۔ اور ان کو یہ بہت اچھے طریقے کے ساتھ پتہ تھا کہ ہم نے اِن کو کیا پڑھانا ہے؟ ہمیں اِن کو پڑھائی کے ساتھ کیا دینا ہے؟ ہمیں اس سے کیا نتیجہ درکار ہے؟ حالانکہ وہ کوئی ہم پر اپنے وسائل خرچ نہیں کر رہے تھے کہ برطانیہ سے پیسے لا کے ہم پہ خرچ کر رہے ہوں۔ ہمارے وسائل تھے، ہمارے وسائل میں سے ایک روپیہ لوٹ کر اس کے دو پیسے ہم پر خرچ کرتے تھے۔ اس کا تناسب کبھی آپ نکالیں۔ لوگ بڑے ممنون ہوتے ہیں، انگریزوں نے یہاں بڑا کام کیا ہے۔ انتہائی عجیب بات ہے یہ۔ انگریزوں نے یہاں سے جو دولت لوٹی ہے، کبھی اس کا حساب کوئی کر کے بتائے۔ یہاں سے جو کچھ گیا ہے۔ آج بھی ملکہ کے تاج کے اندر ہمارا کوہِ نور ہیرا لگا ہوا ہے یا نہیں لگا ہوا؟ دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے قیمتی ہیرا۔ تو وہ تو یہاں سے چیزیں گئی تھیں۔ کوئی تسلسل، ہماری بندرگاہوں سے کوئی وقت ایسا نہیں گزرا کہ وہاں ان کے بحری جہاز ہمارے خام مال سے اور ہماری چیزوں سے لدے ہوئے روانہ نہ ہو رہے ہوں۔ جو ان کی انڈسٹریز کا ایندھن ہمارے ہاں سے جاتا تھا، یہاں سے چیزیں جاتی تھیں، تو وہاں انڈسٹریل ریولوشن آیا اور وہاں سے چیزیں بن کر نکلنا شروع ہوئیں۔ خام مال ہمارا تھا، عقل اور ہنر اور ٹیکنالوجی ان کی تھی۔
- اس کا نتیجہ جہاں اس طرف سے ایک غربت کی شکل کے اندر نکلا، مفلوک الحالی کی شکل میں نکلا۔ وہ ہندوستان، متحدہ جب تک تھا، جس کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، ایک بدحالی اور افلاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔
- دوسری طرف سے ایک علمی افلاس پیدا ہوا۔ اور علمی افلاس یہ کہ ہمارے بارے میں یہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچا گیا کہ یہ لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر دنیا کی امامت اور قیادت کریں، ہمیں اس نیت سے تو تعلیم نہیں دی گئی تھی کہ دنیا کے قائدین یہاں سے پیدا ہوں۔ wisdom of east دنیا کے اندر مشہور تھا، لوگ جب کوئی سمجھداری کی بات سننا چاہتے تھے تو سمجھتے تھے وہ مشرق سے اٹھے گی اور مشرقی لوگ اس پر بات کریں گے۔ وہ وِزڈم کہاں گیا اور وہ علم کہاں گیا اور وہ ہنر کہاں گئے؟ آج دیکھیں کیا اس کی شکل سامنے ہے۔
برطانوی غلبہ سے پہلے برصغیر کا تعلیمی نظام
ہاں، انگریزوں کی آمد سے پہلے جو برصغیر تھا۔ مغل حکمرانوں کی کمزوریاں اپنی جگہ کے اوپر۔ اور آخری زمانے کے اندر اس نے اپنا استحقاق کھو دیا تھا جس کی وجہ سے؛ حکومت ایسے نہیں جاتی کسی کی، جب حکومتیں یا معاشرے اپنا استحقاق کھو دیتے ہیں تب حکومتیں جاتی ہیں۔ لیکن اُس گئے گزرے ہندوستان سے، جو بالکل بہادر شاہ ظفر سے پہلے کا دور ہے؛
تین نمایاں شخصیات، ڈاکٹر محمود احمد غازی کی نظر میں
ہمارے ایک بڑے ہی محترم دوست تھے، آپ لوگوں نے شاید ان کا نام سنا ہو، ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب مرحوم، اسلامی یونیورسٹی کے پریزیڈنٹ بھی رہے اور کچھ عرصے کے لیے فیڈرل منسٹر بھی رہے، بڑے فاضل آدمی تھے۔ وہ ہمیشہ یہ بات کہا کرتے تھے کہ تین افراد، ہندوستان کی تین نمایاں شخصیات، مثلاً:
- آپ نے نام سنا ہو گا، مجدد الف ثانی۔ مجدد الف ثانی کا جو اقبال تعارف کراتے ہیں نا، انگریزوں کو جو اقبال نے تعارف کرایا تو ان الفاظ کے ساتھ کرایا The greatest religious genius of Muslim India اسلامی ہندوستان کے اندر مجدد سے بڑا جینئس کہتے ہیں کوئی نہیں پیدا ہوا، مجدد الف ثانی۔ علامہ اقبال کے الفاظ ہیں ’’دی گریٹسٹ ریلیجئس جینئس آف مسلم انڈیا‘‘۔
- یہ مجدد الف ثانی اور ان کے زمانے کے مغل بادشاہ کا سب سے بڑا وزیر نواب سعد اللہ خان۔ آپ کو پتہ ہے حکومتیں تو وزیر کرتے ہیں، جس کو آج کل بیوروکریسی کہتے ہیں۔ اُس زمانے میں وزیر ہوتے تھے، سارا نظام ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اُس زمانے کے ہندوستان میں آج کا انڈیا، آج کا پاکستان، افغانستان، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، تقریباً تقریباً ان ملکوں کے بیشتر، بنگلہ دیش پورا، یہ سارا اُس زمانے کی مغل سلطنت، ان ملکوں کا بیشتر حصہ اس کے اندر شامل تھا۔ اس پورے عظیم الشان سلطنت کا انتظام و انصرام کرنے والا نواب سعد اللہ خان۔
- اور دنیا کا عجوبہ کہلاتا ہے تاج محل۔ آپ کو پتہ ہے دنیا میں سات عجائب ہیں۔ عجائب و غرائب جن کو دنیا کے اندر کہا جاتا ہے کہ ایسی چیزیں اور نہیں بنیں۔ سب سے پہلے نام اس میں اہرامِ مصر کا لیا جاتا ہے۔ تو جب دنیا میں کوئی چیز بہت عجیب ہو، یہ تو آپ نے محاورہ بھی اردو میں سنا ہو گا کہ فلاناں آٹھواں عجوبہ ہے۔ مطلب یہ کہ سات تو declared ہیں، یہ اگر آٹھواں کوئی چیز لیا جائے تو وہ یہ ہو گا۔ تو یہ تاج محل جس آرکیٹیکٹ نے بنایا ہے، احمد معمار، آپ سوچیں، اس زمانے کی اس کی عقل کو دیکھیں اور اس کی مہارت کو دیکھیں اور اس کے فن کو دیکھیں۔ آج یہ پوری دنیا کی most vizited places کے اندر سے ہے، پوری دنیا سے سیاح کھنچ کھنچ کر آگرہ جاتے ہیں تاج محل کو دیکھنے کے لیے۔
اس کا جو آرکیٹیکٹ ہے احمد خان، اور یہ جو سب سے بڑا وزیر تھا نواب سعد اللہ خان، اور دی گریٹسٹ ریلیجئس جینئس جو تھا ہندوستان کا، مجدد الف ثانی، یہ تینوں ایک ہی نظامِ تعلیم کی پیداوار تھے۔ وہ کتنا جامع تعلیمی نظام ہو گا، جو اگر علماء دے رہا ہے تو مجدد الف ثانی جیسے دے رہا ہے، جو اگر آرکیٹیکٹ دے رہا ہے تو تاج محل کے بانی جیسے دے رہا ہے، اور اگر وہ کوئی بہترین قسم کا statesman دے رہا ہے، کوئی بہترین قسم کا ایک مدبر منتظم دے رہا ہے تو نواب سعد اللہ خان جیسا دے رہا ہے۔ مسلمان اتنے بے مایہ نہیں تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے۔ یہ جس احساس کمتری کے اندر ہم آج مبتلا ہیں، یہ انگریز ہمیں دے کر گئے ہیں۔ اپنی تاریخ پر بھی شرمسار، اپنے ماضی سے ناواقف۔ اور اپنے بارے میں؛ ایک عجیب قسم کا احساس ہمارے بارے میں کہ شاید پتہ نہیں ہم پیدا کیوں ہو گئے دنیا کے اندر۔ یہ چیزیں اس کی سوغات ہیں جو وہ چھوڑ کر گیا ہے ہمارے اندر۔اور آج بھی ہماری طرف یہ چیزیں متوجہ ہیں۔
مغربی تہذیب اور ’’خذ ما صفا و دع ما کدر‘‘ کا اسلامی اصول
مجھے ڈاکٹر صاحب کی ایک بات یاد آتی ہے۔ 93ء/94ء کی انہوں نے بات کی۔ میں اس پر بات کر رہا تھا کہ دنیا اس کا ہمیشہ مشاہدہ کرتی ہے کہ دنیا میں چلن کس کا چل رہا ہے؟ کس کی بات چل رہی ہے؟ آپ نے نکسن کی مشہور کتاب Seize the Moment اگر دیکھی ہو تو اس نے بھی اس پر کہ ہمارا کیا اثر مشرقی اقوام پر پڑ رہا ہے؟ ہم مشرقی اقوام پر کس حد تک مؤثر ہو رہے ہیں؟ ان کے دل و دماغ پر ہمارے قابو پانے کی نوعیت کیا ہو چکی ہے؟ تو ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے، ہم سنتے تھے ان سے قصہ بار بار۔ کہتے ہیں کہ ایک اجلاس تھا جرمنی کے اندر، اور اس کا عنوان بڑا دلچسپ تھا، اور اس کے اوپر پوری دنیا سے چنیدہ چودہ پندرہ سولہ لوگ بلائے گئے تھے۔ کچھ مغربی دنیا سے بلائے گئے تھے اور کچھ ایک دو تین لوگ اسلامی دنیا سے بلائے گئے تھے۔ اور اس کا عنوان تھا کہ
Is Islam a Threat to Western Europe?
’’کیا اِسلام ویسٹرن یورپ کے لیے ایک خطرہ ہے؟‘‘
مغرب کی تہذیبی یلغار کی مزاحمت میں مُسلم رویّے
تو کہتے ہیں اس کے اندر انہوں نے مجھ سے یہ پوچھا کہ آپ یہ بتائیں کہ جو مغربی تمدن ہے، جو مغربی سولائزیشن اور کلچر ہے، مسلمانوں کے اس کے بارے میں جذبات کیا ہیں؟ عام Muslim masses جو ہیں، مسلم پبلک جو ہے، وہ کیا سوچتی ہے جب ان کے سامنے ویسٹرن کلچر کی چیزیں آتی ہیں تو اس کے بارے میں ان کے رویے کیا ہیں؟ تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، میں نے کہا جی تین رویے ہیں:
- ایک وہ رویہ ہے، ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی رہا ہے جس نے مکمل رد کر دیا تھا، حتیٰ کہ وہ مغرب سے آئی ہوئی کسی ٹھیک چیز کا استعمال بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔ اور ایسے واقعات؛ اپنے خاندان کے ایک بزرگ کا نام لیا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ جو ٹماٹر ہے یہ بھی مغرب کی ایجاد ہے، یہ ایسی کچھ چیزوں کا مکسچر سا ہے، اور کہا کرتے تھے کہ اس کو ٹماٹر نہیں کہنا چاہیے، اس کو لال بینگن کہنا چاہیے، اس لیے کہ ٹماٹر کا لفظ وہاں سے آیا ہے۔ ایک صاحب کے بارے میں کسی نے بتایا کہ اگر بسکٹ کے اوپر انگریزی میں نام لکھا ہوتا تھا تو وہ بسکٹ نہیں کھاتے تھے۔ کہتے، اس پہ نام لکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا، ایک یہ رویہ تھا۔ یہ بڑے محدود پیمانے پر تھا اور وقت کے ساتھ ختم ہو گیا، چل نہیں سکتا تھا ظاہر بات ہے۔
- ایک وہ رویہ تھا، ہمارے ہاں اُٹھا، جس میں ہمیں یہ دعوت دی گئی بڑی زور و شور کے ساتھ کہ ہمیں مغربی رنگ میں رنگ جانا چاہیے۔ اب یہ غالب قوم ہے دنیا کی، ہمیں سیدھا سیدھا اقتدا کرنی چاہیے، پیروی کرنی چاہیے، ان کے لباس، ان کے طور طریقے، نارمز، ویلیوز، ہر چیز مان لینی چاہیے۔جس طرح وہ ایک انتہا تھی، یہ دوسری انتہا تھی۔ سر سید احمد خان کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جن کی یہ دعوت تھی۔
- انہوں نے کہا درمیان میں ایک رویہ مسلمانوں میں ہے جو سب سے زیادہ ہے اور اکثریت مسلمانوں کی اس کے اوپر ہے۔ اور وہ ہے، عربی کے اندر اس کے لیے ہے کہ ’’خذ ما صفا و دع ما کدر‘‘ کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ہم مغرب سے چیزیں لیں گے اپنی شرائط کے اوپر اور اپنے طریقے کے اوپر۔ جن چیزوں کی ہمیں ضرورت ہے وہ ہم لیں گے، اور اگر اس میں کوئی ردوبدل کرنا ہوا تو وہ بھی کریں گے۔ سائنس کے اندر، ٹیکنالوجی کے اندر، علوم کے اندر، ترقی کے اندر ہم مغرب سے پورا پورا استفادہ کریں گے، لیکن اپنی شرائط کے اوپر کریں گے۔ اپنے مذہب کو، اپنی ملت کو، اپنی تہذیب کو، اپنے کلچر کو، اپنی حد تک بچاتے ہوئے اپنے اعتقادات کو، اس کے بعد ہم استفادہ کریں گے۔
تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، میں بڑا حیران ہوا کہ وہ جو پڑھے لکھے ترین لوگوں کی مجلس تھی، جو دنیا کے چوٹی کے نامور پروفیسرز پوری دنیا سے تیرہ چودہ اکٹھے کیے گئے تھے، انہوں نے مجھے واضح طور پر کہا کہ نہیں، اس پر تو مغرب آمادہ نہیں ہے۔ pick & choose تو نہیں ہو گا۔ یہ تھوڑی ہو گا آپ اپنی مرضی کی چیز اس میں سے اٹھا لیں؟ یہ تو پورا پیکج ہے جو آپ کو وصول کرنا پڑے گا۔ اس میں اس کے ساتھ سب چیزیں آئیں گی۔
مسلم معاشروں میں مغربی تہذیب کی روایات
اور آ رہی ہیں یا نہیں آ رہی ہیں؟ یہ چودہ فروری کو آپ لوگوں نے ویلنٹائن ڈے منایا، یہ کس کھاتے کے اندر ہمارے معاشرے کے اندر آیا؟ کس ضرورت کے تحت آیا؟ اس کے ساتھ ہماری تعمیر و ترقی کی کون سی چیز وابستہ تھی کہ جو ہماری ضرورت ہوتی؟ لیکن جس طرح انہوں نے کہا تھا، ان کا یہ پورا پیکج ہے۔ یہ نہیں ہو گا کہ آپ ہم سے تعلیم لیں، آپ ہم سے ٹیکنالوجی سیکھیں، آپ ہماری اچھی چیزوں سے استفادہ کریں، اور ہماری باقی چیزوں کو آپ کہیں گے کہ یہ ہمیں نہیں چاہئیں۔ یہ ہمارے مذہب سے ٹکراتی ہے، یہ ہمارے اعتقادات سے ٹکراتی ہے، یہ ہماری اخلاقیات سے ٹکراتی ہے۔ انہوں نے کہا، ایسا نہیں ہو گا۔ اتنے سادے گویا کہ ہم بھی نہیں ہیں کہ ہم آپ کو صرف اچھی اچھی چیزیں چننے دیں اور بری چیزوں کے بارے میں آپ کو اختیار دیں کہ آپ اس کو ایک سائیڈ کے اوپر ڈال دیں۔
دنیا پر مغربی تہذیب کے منفی اثرات، علامہ محمد اقبال کی نظر میں
اس پر مجھے کبھی خیال آتا ہے؛ اب تو ہماری نئی نسلوں کو بہت ناواقفیت ہو گئی۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں، خاص طور پر اپنی فارسی شاعری کے اندر، کبھی آپ اس کو پڑھیں اگر، اس کا مزہ تو فارسی پڑھنے کے اندر ہی آتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے واقعی کسی آدمی پر الہام ہوتا ہو جیسے۔ ایسے خیالات، ایسا خلاصہ انہوں نے بیان کیا چیزوں کا۔ چار بڑی شکایات اقبال نے مغرب سے کی ہیں کہ آپ سے دنیا کو فائدہ بھی ہوا، افادیت ایک طرف ہے، ہمیں پتہ ہے کہ کن چیزوں کا فائدہ ہوا۔ پھر دنیا کو آپ نے چار بڑے ایسے تصورات دیے جس سے دنیا کا نقصان ہوا۔ اور بدقسمتی سے ہم لوگوں نے، جو ان چاروں چیزوں کے اندر ایک بڑا rich tradition رکھتے تھے، ہم نے بھی اس کو کچا کچا، جیسا کیسا آیا تھا، قبول کیا۔
تصورِ خدا سے ناشناس کر دیا
پہلی چیز، جس کو اقبال نے کہا کہ آپ نے دنیا کو تصورِ خدا سے ناشناس کر دیا۔ خدا کا جو ایک کردار تھا معاشرے کے اندر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاشرے کا ایک تعلق تھا، اس کی بجائے آپ نے، خدا معاشرے سے لے کر اس کو مادیت پرستی دی ہے۔ لوگوں کو ذہن یہ دیا ہے کہ ہر چیز مادے سے ہوتی ہے۔ مادیت پرستی کا ذہن پورے معاشرے کو۔ یعنی دو بڑے کہ (۱) لیا کیا؟ تو کہتے ہیں تصورِ خدا لیا۔ (۲) اور دیا کیا؟ تو مادیت دی دنیا کو۔ ہر بندے کے ذہن کے اندر آج ایک مکمل، چاہے مذہبی معاشرے بھی ہیں، تو مادیت کے اندر گھرے ہوئے ہیں مکمل طور پر۔ انسانوں نے خیر و شر کا پیمانہ اس کو بنا لیا ہے۔ پیسے کو، پیسے سے آنے والی چیزوں کو، لائف سٹائل کو، سٹینڈرڈ کو، اور ایک نمود و نمائش کو۔ آج مسلمانوں کے وسائل بھی، مسلمانوں کی صلاحیتیں بھی، باقی ہیں تو اُس کے اندر بھی۔
اخلاقی بحرانی میں مبتلا کر دیا
دوسرا، وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک اخلاقی بحران میں دنیا کو مبتلا کیا ہے۔ ہم تو اخلاق کہتے ہیں نا مسکرانے کو، کہ فلاں مسکرا کر ملا، خوش اخلاق ہے۔ یہ نہیں۔ اخلاقیات پر دنیا ایک جگہ کھڑی ہوئی تھی۔ اخلاق پر ایک بات یاد آئی۔ ہمارے ایک بہت اچھے دوست ہیں اور بڑے فاضل عالم ہیں۔ اِس سے آپ کو اخلاق سمجھ میں آئے گا، کس کو کہتے ہیں۔ وقت ختم ہو گیا، میں کچھ آج اس پہ بات یہ رکھنا چاہ رہا تھا تفصیل سے، لیکن اس میں وقت نہیں ہوتا ہمارے پاس۔ بڑے فاضل آدمی ہیں، بڑا عرصہ امامت کی امریکہ کے اندر، اور عربی، انگریزی، اردو، ساری زبانوں پر بڑی مہارت ہے، لکھتے بھی بہت اچھا ہیں … تو اپنے ایک مصری دوست کا بتا رہے تھے کہ مصری دوست بھی ایک اچھے عالم تھے وہاں پر، اور وہ ایک مسجد میں امامت کرتے تھے، تو ان کے پاس ایک خاندان آیا اور اس نے کہا کہ ہمارا بیٹا ہے، لڑکا ہے، teen ager ہے، اور چونکہ ہم لوگ مصر سے آئے ہیں تو یہاں آ کر مغربی چکا چوند اس نے دیکھی ہے تو بہت زیادہ خراب ہو گیا ہے لڑکا۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ امام ہیں، بڑا اچھا خطبہ دیتے ہیں، بڑی اچھی بات کرتے ہیں، تو آپ اس بچے کو سمجھائیں۔ اور وہ بڑی جنسی بے راہ روی کا شکار ہو گیا ہے۔
تو وہ مصری امام کہتے ہیں کہ میں نے بچے کو بلوایا ایک دن، میں نے کہا آ جائے میرے پاس۔ تو جب وہ آیا تو میرے ذہن میں تھا کہ میں اس کو کیسے کہوں اس بات کا؟ تو کہتے ہیں میرے دل میں حدیث شریف آئی کہ بالکل یہ کیس تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آیا تھا کہ ایک صاحب تھے اور انہوں نے زنا کی خواہش کا اظہار کیا تو لوگ ان سے ناراض ہونے لگے کہ تم نے کیسی بری بات کی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بڑے طریقے سے سمجھایا۔ اور کیسے سمجھایا؟ اس کو پاس بلا کر اسے کہا کہ اے فلاں، کیا تم پسند کرو گے کوئی تمہاری ماں کے ساتھ ایسا کرے؟ وہ کہتا ہے، یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر فدا، میں نہیں چاہتا ایسا۔ تو انہوں نے کہا کہ لوگ بھی ایسا نہیں چاہتے کہ ان کی ماؤں کے ساتھ ایسا ہو۔ تو کہا، کیا تم پسند کرو گے کوئی تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا کرے؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پہ فدا، میں کبھی نہیں چاہوں گا ایسا۔ تو حضورؐ نے فرمایا کہ لوگ بھی نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہو۔ کیا تم چاہو گے کہ تمہاری بہن کے ساتھ کوئی ایسا کرے؟ پھر کہا، کیا تم چاہو گے کہ تمہاری خالہ کے ساتھ کوئی ایسا کرے؟ اس نے کہا، نہیں۔ کہا، تو لوگ بھی نہیں چاہتے کہ ان کی خالاؤں کے ساتھ کوئی کرے۔ پھر کہا کہ، تو کیا تم چاہو گے تمہاری پھوپھی کے ساتھ کوئی ایسا کرے؟ یہ پوری حدیث شریف ہے، بڑی طویل حدیث ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے گئے۔ اور وہ کہتے کہ یا رسول اللہ میں نہیں چاہتا ایسا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کے اندر سے بالکل وہ بات نکال دی۔
تو کہنے لگے، میں نے سوچا کہ میں یہی حربہ اس بچے پر بھی آزماؤں۔ تو میں نے اس بچے سے کہا، دیکھو بیٹا! کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کوئی کرے؟ تو کہتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ
.I don't mind if she is ok with that
کہتے ہیں، میں ہکا بکا رہ گیا، اپنی جگہ پہ کھڑا ہو گیا بالکل ہی کہ اب آگے تو بات ہی نہیں چل سکتی۔ کہتا ہے، آئی ڈونٹ مائنڈ اِف شی اِز اوکے وِد دیٹ۔ یہ تہذیب ہے یا نہیں ہے؟ یہ تہذیب کے اثرات ہیں یا نہیں ہیں؟ یہ وہ اخلاقی بحران ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مغرب نے پوری دنیا کو دیا ہے۔ تو مصری عالم کہنے لگے کہ ہمارے مصر کے اندر ہزاروں برائیاں ہیں، ہم ان سے انکار نہیں کر سکتے، لیکن ابھی تک یہ کیس ہمارے سامنے نہیں آیا کہ کسی انسان کو اپنی بہن اور بیوی اور بیٹی کے [معاملے کے] اوپر اس کو غصہ آنا ختم ہو گیا ہو۔ یہ جملہ بھی آپ کسی سے کہیں تو وہ آگ بگولا ہو جائے گا۔ پوچھ بھی نہیں سکتے آپ کسی سے اِس کے اوپر۔ کہتے ہیں یہ واقعات ہم نے کم سے کم اپنے ہاں نہیں دیکھے۔ یہ مغربی سوغات ہے۔
جدیدیت اور رِفاہ کی آڑ میں مغربیت اور عیسائیت
دیکھیں، ایک ماڈرنائزیشن ہے اور ایک ویسٹرنائزیشن ہے۔ اس کا ہمیشہ فرق کرنا۔ لوگ اس کو خلط کرتے ہیں۔ ہم جب یہ بات کرتے ہیں، ہمیں مغرب کے فضائل سنانا شروع کر دیتے۔ ہم نے کبھی ماڈرنائزیشن کی مخالفت نہیں کی کہ چیزوں کے جدید ترین کمالات پیدا کیے جائیں، تعلیمات پیدا کی جائیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اندر مہارت حاصل کی جائے۔ ہم تو ویسٹرنائزیشن کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ ویسٹرنائزیشن سے آگے ایک مرحلہ کرسچنائزیشن کا ہے، جس کا ہمیں خوف ہے کہ اِس تہذیب کی پشت پر اگرچہ بظاہر علامت کرسچیئنٹی کی نہیں ہے، اس نئے مذہب کے منہ پر وہ ٹیگ نہیں لگا ہوا، وہ لبادہ نہیں اوڑھا ہوا، لیکن اس بات کا پورا پورا خدشہ اور اس بات کا پورا پورا احساس موجود ہے کہ یہ آ سکتا ہے۔
ابھی ہمارے ایک دوست ملتان، وہاڑی کے اندر، انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم کچھ جھگیوں کے اندر گئے تو وہاں لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ہم عیسائی ہیں۔ ہم حیران ہوئے کہ عیسائی کیسے ہو گئے؟ ابھی ایک مہینے پہلے کی بات بھی نہیں ہو گی۔ تو کہنے لگے کہ یہاں وہ این جی اوز آتی ہیں اور میوزیکل نائٹس ہوتی ہیں ان جھگیوں والوں کے لیے۔ جھگیوں والوں سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ چونکہ بہت بور لائف گزارتے ہیں تو آپ کے لیے میوزک لے کر آئے ہیں، آپ کے لیے ہم ناچ گانا لے کر آئے ہیں تاکہ آپ کی زندگی کے اندر بھی کچھ رنگ رنگینی ہو۔ اور پھر اس کے اندر ان کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں دیتے ہیں، پہننے اوڑھنے کی چیزیں دیتے ہیں، خیمے دیتے ہیں۔ تو کہا کہ ہمارے سامنے پاکستان کے اندر اِن پچھلے دس پندرہ مہینوں میں ڈھائی سو لوگ کہتے ہیں عیسائی ہو گئے۔ یہ لوگ پھر وہاں گئے، انہوں نے وہاں جا کے بڑی محنت کی اور دوبارہ ان کو مسلمان کیا از سر ِنو۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سمجھنا کہ اس کی پشت پر مذہب نہیں ہوتا، اور مذہب نہیں تبدیل ہوتا لوگوں کا، تو ہماری سادہ لوحی ہے۔
اس پہ اسلام سے وابستہ لوگوں کو کیا کرنا چاہیے اور ان کے سامنے لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ اپنی آنے والی نسلوں کو اگر ہم مسلمان دیکھنا چاہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ دیکھنا چاہتے ہیں، اس پر ہمارا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ اس پہ ان شاء اللہ آئندہ کبھی بات ہو گی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
تیسری صدی ہجری میں علمِ حدیث
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود
تیسری صدی ہجری کا عہد علمِ حدیث کے عروج و کمال کا دور تھا۔ اس میں صحابہ و تابعین کی رکھی ہوئی بنیادوں پر علومِ روایت و درایت کی عمارت اوج ِثُریا کو چھونے لگی، حفاظتِ سنت میں مزید جدت لائی گئی، تدوین، تالیف و نقدِ حدیث کے علوم تکمیلی مراحل طے کر کے اپنی پختہ شکل میں ظاہر ہوئے، ائمہ حدیث اور ان کی سدا بہار تالیفات کی بدولت تشنگانِ علم کی بصیرت روشن اور دل معرفت سے لبریز ہونے لگے، اصطلاحاتِ حدیث متعین کی گئیں، کذب و تدلیس کو چھانٹا گیا اور احادیث کی ابواب بندی کی گئی۔ یہی وہ دور تھا جس میں صحاح ستہ کے مولفین نے بیش قیمت علمی جواہر پارے سپردِ قلم کر کے امت کے سامنے پیش کیے۔ انھوں نے اپنے پیش رو علما و محدثین کی علمی و عملی خوبیوں کو اپنی تالیفات میں خوش اسلوبی سے سمو دیا؛ یہاں تک کہ ان کی کتابیں آئندہ نسلوں کے لیے خاموش استاد بن گئیں۔ آنے والی سطور میں اس دور کے علمی طور و انداز کی مختصر تصویر پیش کی جاتی ہے۔
اسالیبِ تدوین
اس دور کے طریقہ و اسلوبِ تدوین میں چھ خصوصیات نظر آتی ہیں، جن سے بعد والوں نے سیکھا اور استفادہ کیا:
- احادیث سے فقہی احکام و قواعد کا استنباط کیا گیا، جیسا کہ ہمیں امام محمد بن اسماعیل بخاری (۱۹۴۔۲۵۶ھ/۸۱۰۔۸۷۰ء) کی ’’صحیح‘‘ میں نظر آتا ہے۔ اس سے قبل امام مالک بن انس (۹۳۔۱۷۹ھ/۷۱۱۔۷۹۵ء) کی ’’مؤطا‘‘ میں بھی یہی انداز موجود ہے؛ لیکن اس میں مسائل کا استنباط نسبتاً کم ہے، جب کہ امام بخاری نے اس حوالے سے بہت زیادہ توسع سے کام لیا ہے۔ آپ نے ہر باب اور موضوع پر تبصرہ کیا ہے اور استنباطِ احکام میں تنوع و تفنن کی راہ اختیار کی ہے۔ اسی لیے یہ کتاب بعد والوں کے لیے اسوۂ حسنہ اور اصل بن گئی۔
- فنِ اسناد، اسانیدِ حدیث کے طریقۂ بیان اور فوائدِ حدیث پر توجہ دی گئی۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا اپنی ’’صحیح‘‘ میں یہی انداز ہے1۔
- محدثین اور متونِ حدیث پر کیے گئے اعتراضات کا جواب دیا گیا۔ مثال کے طور پر ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ (۲۱۳۔۲۷۶ھ/۸۲۸۔۸۸۹ء) نے اپنی کتاب ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘ میں حدیث و محدثین پر معتزلہ کے کیے گئے اعتراضات کا جواب دیا اور ظاہری طور پر نظر آنے والی متعارض روایات میں ہم آہنگی پیدا کر کے دکھائی اور کلامِ رسول ﷺ کو صاف رنگ میں پیش کیا۔ امام علی بن مدینی (۱۶۱۔۲۳۴ھ/۷۷۸۔۸۴۸ء) نے بھی اس موضوع پر ’’اختلاف الحدیث‘‘ پانچ اجزا میں لکھی۔
- مسانیدِ صحابہ کے طرز پر احادیث کے مجموعے مرتب کیے گئے۔ ان مسانید میں ایک صحابی کی صحیح و ضعیف احادیث ایک ہی جگہ اکٹھی کی جاتی ہیں، جیسا کہ: مسند عبید اللہ بن موسیٰ (۱۲۰۔۲۱۳ھ/۷۳۸۔۸۲۸ء)، مسند مسدد بن مسرہد (۱۵۰۔۲۲۸ھ/۷۶۸۔۸۴۳ء) اور مسند اسحاق بن راہویہ2۔
- احادیثِ رسول ﷺ کو صحابہ کے اقوال اور تابعین کے فتاویٰ سے الگ کیا گیا، جب کہ دوسری صدی ہجری میں یہ اقوال و فتاویٰ متونِ احادیث کے ساتھ ملا کر لکھے جاتے تھے۔
- صحت و ضعف کے لحاظ سے احادیث کا درجہ بیان کرنے کی طرف توجہ کی گئی3۔
علمی ذخیرہ
حدیث و علومِ حدیث کی جن شاخوں میں محدثین و ائمۂ نقد نے اس صدی میں گراں قدر ورثہ پیش کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- متنِ حدیث کی تدوین
- درایتِ حدیث
1- متنِ حدیث کی تدوین
متنِ حدیث کی تدوین میں اصولِ ستہ اور مسند احمد جیسی عظیم کتابیں منظر عام پر آئیں، جنھیں اس دور میں لکھی گئی کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔ اصولِ ستہ میں درج ذیل چھ کتابیں شامل ہیں:
صحیح بخاری
اس کتاب کے مولف امام بخاری ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب میں ان روات کی احادیث ذکر کی ہیں، جن کی ثقاہت پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ آغازِ سند سے لے کر صحابی تک تمام روات عادل ہوں، سند میں انقطاع نہ ہو، راوی کی شیخ سے ملاقات ثابت ہو، حدیث علت و شذوذ سے خالی ہو اور راوی نے اپنے شیخ کے ساتھ طویل زمانہ گزارا ہو4۔
صحیح مسلم
یہ امام مسلم بن حجاج کی کتاب ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں کتاب کا نام نہیں لکھا۔ متقدمین کی تالیفات میں اس کتاب کے ہمیں تین نام ملتے ہیں:
- المسند اور المسند الصحیح۔
- المسند الصحیح المختصر بنقل العدل عن العدل عن رسول اللہ ﷺ5۔
- المسند الصحیح المختصر من السنن بنقل العدل عن العدل عن رسول اللہ ﷺ6۔
لیکن راجح پہلا قول ہے، یعنی اس کتاب کا نام ’’المسند الصحیح ‘‘ ہے؛ کیوں کہ بعض کتابوں میں امام مسلم کی اپنی ایسی عبارتیں اور نصوص ملتی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب نے اس کتاب کا نام ’’المسند ‘‘ اور ’’المسند الصحیح‘‘ رکھا ہے۔ ان میں سے چند عبارتوں کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے اس مسند میں ہر بات دلیل سے لکھی ہے‘‘7۔
ایک اور جگہ فر ماتےہیں: ’’میں نے یہ مسند امام ابوزرعہ کے سامنے رکھی‘‘8۔
تیسری جگہ لکھتے ہیں: ’’اگر محدثین اگلے دو سو سال بھی حدیث لکھتے رہے تو یہ مسند ان کا محور رہے گی‘‘9۔
مزید فرماتے ہیں: ’’میں نے (المسند الصحیح) لکھی‘‘10۔
ان تمام نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مسلم نے اس کتاب کو ’’المسند ‘‘ اور ’’المسند الصحیح‘‘ کا نام دیا ہے۔
سنن ابی داؤد
اس کتاب کے مصنف امام سلیمان بن اشعث سجستانی (۲۰۲۔ ۲۷۵ھ/۸۱۷۔۸۸۸ء) ہیں۔ امام ابوداؤد نے اس کا نام ’’السنن‘‘ رکھا11۔ اس کتاب میں موجود احادیث کی تین قسمیں ہیں:
ایسی احادیث، جنھیں شیخین (بخاری و مسلم) نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے۔
وہ احادیث جن کی سند متصل ہے، ان میں کوئی انقطاع نہیں ہے، ہر راوی نے اپنے شیخ سے سن کر حدیث حاصل کی ہے اور وہ صحیحین کی شرائط پر پورا اترتی ہیں۔ اگر کسی حدیث کے ترک پر محدثین کا اتفاق ہے تو اسے شاملِ کتاب نہیں کیا گیا۔
بعض احادیث ایسی بھی ہیں، جو گذشتہ باب میں ذکر کی گئی احادیث کے خلاف ہیں، مصنف کے نزدیک وہ صحیح نہیں ہیں؛ لیکن انھیں اس وجہ سے ذکر کیا ہے تاکہ دیگر فقہا کے مستدلات بھی سامنے آجائیں12۔
سنن ترمذی
یہ امام محمد بن عیسیٰ بن سورۃ ترمذی (۲۰۹۔۲۷۹ھ/۸۲۴۔۸۹۲ء) کی کتاب ہے۔ آپ نے اس کتاب کو فقہی ابواب پر تقسیم کیا ہے؛ ہر باب پر حدیث کی مناسبت سے عنوان قائم کیا ہے؛ حدیث ذکر کرنے کے بعد اس مسئلے کے بارے میں فقہا کے اقوال نقل کرتے ہیں؛ اسانید، روات و علل پر گفتگو کرتے ہیں؛ تصحیح، تحسین یا تضعیف کر کے احادیث کی درجہ بندی کرتے ہیں؛ اور حدیثِ باب کے علاوہ اس موضوع پر اگر دوسری احادیث موجود ہیں تو ان کی بھی طرف اشارہ کرتے ہیں13۔
سنن نسائی
یہ کتاب ابو عبد الرحمان احمد بن شعیب نسائی (۲۱۵۔۳۰۳ھ/۸۲۹۔۹۱۵ء) کی تصنیف ہے۔ اس کا اصل نام ’’المجتبیٰ‘‘ ہے14۔ اس کتاب میں امام بخاری و مسلم کے طریقۂ تصنیف کو جمع کیا گیا ہے۔ احادیث میں موجود علل کی طرف کثرت سے نشان دہی کی ہے۔ صحیحین کے بعد سب سے کم ضعیف احادیث اسی کتاب میں ہیں۔ امام ابوداؤد و ترمذی کی سنن اس کے قریب قریب ہیں15۔ امام نسائی نے بھی اپنی کتاب میں احادیث کو امام ابوداؤد کی طرح تین حصوں میں تقسیم کیا ہے16۔
سنن ابن ماجہ
یہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن ماجہ (۲۰۹۔۲۷۳ھ/۸۲۴۔۸۸۶ء) کی تصنیف ہے۔ فقہی ابواب پر مشتمل اس کتاب میں صحیح، حسن، ضعیف، ہر طرح کی احادیث موجود ہیں۔ اس میں مناکیر و موضوع احادیث بھی آگئی ہیں17؛ لیکن وہ تعداد میں کم ہیں۔ اس کی (۴۳۴۱) احادیث میں سے (۹۹) احادیث منکر، واہی یا موضوع ہیں18۔ اس لیے یہ کتاب ’’کتبِ ستہ‘‘ کی فہرست میں آخری درجے میں آتی ہے۔
اس صدی میں لکھی جانے والی ہر کتاب کی اپنی خصوصیت ہے۔ تمام مولفین نے بقدرِ امکان کوشش کی ہے کہ ضعیف احادیث کم سے کم ہوں۔ اگر کوئی کم زور حدیث درج کرنی پڑے تو اس کا درجہ بھی بیان کیا جاے۔ یہ اس دور کے روشن ضمیر محدثین کی بیش قیمت خصوصیت ہے۔ کتبِ ستہ کے علاوہ اس صدی میں حدیث کی عظیم کتاب مسند احمد بھی لکھی گئی19۔
مسند احمد
یہ امام ابوعبد اللہ احمد بن حنبل (۱۶۱۔۲۴۱ھ/۷۸۰۔۸۵۵ء) کی مبارک تصنیف ہے۔ احادیث ذکر کرنے کے لیے امام احمد کی وہی شرائط ہیں جو امام ابوداؤد کی ہیں۔ مسند احمد میں ایسی احادیث موجود نہیں، جن کے راوی دروغ گوئی میں معروف ہیں؛ البتہ ضعیف احادیث موجود ہیں20۔ تاکہ انھیں دوسری احادیث کی تائید و تقویت (متابعات) کے لیے استعمال کیا جا سکے21۔
2- درایتِ حدیث
حدیث پرکھنے اور اس کی جانچ پڑتال کے اصولوں کو درایتِ حدیث کہا جاتا ہے۔ قدیم ائمہ سے استفادہ کرتے ہوئے، تیسری صدی ہجری میں اس میدان میں بھی کتابوں کا بکثرت اضافہ ہوا۔ چناں چہ:
معرفتِ صحابہ کے موضوع پر امام عبد اللہ بن محمد بن عیسیٰ مروزی (۲۲۰۔۲۹۳ھ/۸۳۴۔۸۹۵ء) نے کتاب المعرفۃ نامی کتاب لکھی22۔
علمِ رجال میں امام بخاری نے ’’التاریخ الکبیر‘‘، ’’التاریخ الاوسط‘‘ اور ’’التاریخ الصغیر‘‘ لکھی23۔ تاریخ کبیر میں انھوں صحابہ کرام سے لے کر اپنے شیوخ کے زمانے تک تمام روات کے حالات بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں مرد و عورت، ثقہ و ضعیف سب شامل ہیں۔
روات کی کنیتوں (الکنیٰ) کے باب میں امام بخاری24، نسائی25 اور ترمذی26 نے طبع آزمائی فرمائی۔
جرح و تعدیل
جرح راوی کے عیوب بیان کرنے کو کہتے ہیں اور تعدیل راوی میں موجود خوبیوں کا تذکرہ کرنے کو کہتے ہیں۔ اس دلچسپ موضوع پر امام ابراہیم بن یعقوب ابو اسحاق جوزجانی (۱۸۰۔۲۵۹ھ/۷۹۶۔۸۷۳ء) نے ’’الجرح والتعدیل‘‘27 اور ’’الضعفاء‘‘28 لکھیں۔ اسی طرح امام بخاری نے ’’کتاب الضعفاء الصغیر‘‘29، ابوبکر احمد بن ابی خیثمہ (۲۷۹ھ/۸۹۳ء) نے ’’تاریخ الثقات والضعفاء‘‘30، امام ترمذی31 اور ابن ماجہ32 نے ’’کتاب التاریخ‘‘، امام عبد الرحمان بن ابی حاتم (۲۴۰۔۳۲۷ھ/۸۵۴۔۹۳۸ء) نے ’’الجرح والتعدیل‘‘33، اور امام نسائی نے کتاب ’’الضعفاء والمتروکین‘‘34 لکھی۔
علل الحدیث کے پیچیدہ موضوع پر محمد بن عبد اللہ بن عمار ابوجعفر موصلی35 (۱۶۲۔۲۴۲ھ/۷۷۹۔۸۵۷ء)، عمرو بن علی فلاس36(۲۴۹ھ/۸۶۴ء) اور امام بخاری37 نے تالیفی کام کیا۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی نے ’’علل حدیث الزہری‘‘38 اور امام نسائی نے ’’مسند حدیث الزہری بعللہ‘‘39 کے نام سے کتابیں لکھیں۔ ان کے علاوہ عبید اللہ بن عبدالکریم ابوزرعہ رازی40(۲۰۷۔۲۶۴ھ/ ۸۱۶۔۸۷۸ء)، عبد الرحمٰن بن عمرو، ابوزرعہ دمشقی41(۲۸۱ھ/۸۹۵ء)، ترمذی42، اور یعقوب بن شیبہ (۱۸۲۔۲۶۲/۷۹۸۔۸۷۵ء) نے ’’المسند المعلل‘‘ کے عنوان سے، یا اس موضوع پر کتابیں تصنیف کیں۔ یعقوب بن شیبہ کی کتاب اگرچہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکی؛ لیکن علل کی عمدہ کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے43۔ حافظ ابو جعفر بن جریر طبری (۲۲۴۔ ۳۱۰ھ/۸۳۹۔۹۲۳ء) نے ’’تہذیب الآثار‘‘ کے نام سے کتاب لکھی44۔ اس میں مسانید کے انداز میں احادیث جمع کیں اور علتوں کی نشان دہی کی۔ تیسری صدی میں لکھی جانی والی عمدہ تصنیفات میں ابن ابی حاتم کی ’’علل الحدیث‘‘ بھی گراں قدر اضافہ ہے45۔
مراسیل کے موضوع پر امام ابوداؤد نے ’’المراسیل‘‘ فقہی ابواب کی ترتیب سے لکھی46۔ اسی طرح ابن ابی حاتم رازی نے بھی ’’المراسیل‘‘ تصنیف فرمائی47۔ آپ نے اس میں الف بائی ترتیب پر بیشتر روات کی ایسی روایات ذکر کی ہیں جن کی سند میں انقطاع (کوئی راوی حذف) ہے۔
ان میں سے اکثر کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔
واللہ الموفق والمعین۔
حوالہ جات
- عتر، نور الدین، الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ وبین الصحیحین، ن: مطبعۃ لجنۃ التالیف والترجمہ والنشر، اشاعت: اشاعت اول: ۱۳۹۰ھ: ۱۹۷۰ء (ص: ۲۶)
- علی عبد الباسط مزید، منہاج المحدثین فی القرن الاول الہجری وحتی عصرنا الحاضر، (ص: ۲۵۷۔ ۲۵۸)
- زہرانی، محمد بن مطر، تدوین السنۃ النبویۃ، نشاتہ وتطورہ، ن: مکتبۃ دار المنہاج، ریاض، اشاعت اول: ۱۴۲۶ھ (ص: ۸۹)
- دیکھیے: عسقلانی: ابن حجر ، احمد بن علی بن حجر، ہدی الساری مقدمۃ فتح الباری، ت: محب الدین الخطیب، ن: المکتبۃ السلفیۃ، مصر، اشاعت اول: ۱۳۸۰ھ (ص: ۹۔۱۱)
- عیاض القاضی، ابو الفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض، مشارق الانوار، ن: المطبعۃ المولویۃ، فاس، سن اشاعت: ۱۳۲۸ھ۔ ۱۳۳۲ھ (۱/۱۰)
- ابن خیر الاشبیلی: فہرسۃ ابن خیر الاشبیلی (ص: ۱۳۵)، عبد الفتاح ابو غدہ: تحقیق اسمی الصحیحین وجامع الترمذی، ن: مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، حلب، (ص: ۳۸)
- ابن صلاح: صیانۃ صحیح مسلم (ص: ۶۸)
- ابن صلاح: صیانۃ صحیح مسلم (ص: ۶۷)
- ذہبی: تاریخ الاسلام، (۲۰/۱۸۶)، ابن صلاح: صیانۃ صحیح مسلم (ص: ۶۷)
- الخطیب البغدادی: تاریخ بغداد (۱۵/۱۲۲)
- دیکھیے: ابوداؤد، سلیمان بن اشعث بن اسحاق ازدی، رسالۃ ابی داود الی اہل مکۃ وغیرہم فی وصف سننہ، ت: محمد الصباغ، ن: دار العربیۃ۔ بیروت (ص: ۲۲)
- المقدسی: ابو الفضل محمد بن طاہر، شروط الائمۃ الستۃ، ن: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، اشاعت اول: ۱۴۰۵ھ : ۱۹۸۴ء (ص: ۱۹۔۲۰)
- عتر ، نور الدین، الامام الترمذی (ص: ۴۵۔۴۷)
- ابن خیر الاشبیلی: فہرسۃ ابن خیر الاشبیلی، ت: بشار عواد معروف۔ محمود بشار عواد، ن: دارالغرب الاسلامی، تیونس، اشاعت اول: ۲۰۰۹ء (ص: ۱۵۵)
- سیوطی: جلال الدین، مقدمۃ شرحہ علی سنن النسائی، ن: دار المعرفۃ بیروت، (ص: ۶)
- دیکھیے: المقدسی: ابن طاہر، شروط الائمۃ الستۃ، (ص۱۹)
- سیوطی: مقدمۃ شرحہ علی سنن النسائی (ص: ۶)
- ابن ماجہ، ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی، سنن ابن ماجہ، ت: محمد فؤاد عبد الباقی، ن: دار احیاء الکتب العربیۃ (۲/۱۵۱۹۔۱۵۲۰)یہ فؤاد عبد الباقی کی ترقیم کے مطابق احادیث کی تعداد بیان کی گئی ہے۔
- اس کے علاوہ تیسری صدی ہجری میں لکھی گئی اہم مسانید کے نام یہ ہیں: مسند ابی داؤد طیالسی، مسند ابی بکر بن ابی شیبہ، مسند اسحاق بن راہویہ، مسند احمد بن ابراہیم دورقی، مسند عبد بن حمید کشی، مسند یعقوب بن شیبہ سدوسی، مسند احمد بن ابراہیم طرسوسی، مسند ابن ابی غرزہ احمد بن حازم غفاری، مسند الحارث بن محمد، مسند احمد بن عمرو البزار، مسند مسدد بن مسرہد، مسند محمد بن یحییٰ بن ابی عمرو عدنی، مسند احمد بن منیع اور مسند بقی بن مخلد وغیرہ۔ (دیکھیے تفصیل: البلوشی: عبد الغفورعبد الحق حسین، الامام اسحاق بن راہویہ وکتابہ المسند، ن: مکتبۃ الایمان (ص: ۲۲۷ ومابعد)
- ابن تیمیہ: احمد بن عبد الحلیم الحرانی، منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، ت: محمد رشاد سالم، ن: جامعہ امام محمد بن سعود ، اشاعت اول: ۱۴۰۶۔۱۹۸۶ھ (۷/۹۷)
- ابن تیمیہ : احمد بن عبد الحلیم الحرانی، مجموع الفتاویٰ، زیر نگرانی: عبد الرحمان بن محمد بن قاسم، ن: مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف، مدینہ منورہ، سن اشاعت: ۱۴۲۵ھ ۔ ۲۰۰۴ء(۱۸/۲۶)
- کتانی: ابو عبد اللہ محمد بن ابی الفیض جعفر بن ادریس حسنی، الرسالۃ المستطرفۃ لبیان مشہور کتب السنۃ المشرفۃ، ت: محمد منتصر بن محمد زمزمی، ن: دار البشائر الاسلامیہ، اشاعت سوم: ۱۴۲۱ھ۔ ۲۰۰۰ء (ص: ۱۲۶)
- ابن حجر عسقلانی: ہدی الساری (ص: ۴۸۳)، ابن ندیم: الفہرست، (۲/۱۰۴)
- ابن ندیم: الفہرست (۲/۱۰۴)
- سخاوی: شمس الدین محمد بن عبد الرحمٰن، فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث للعراقی، ت: علی حسین علی، ن: مکتبۃ السنۃ، مصر، اشاعت اول: ۱۴۲۴ھ ۔ ۲۰۰۳ء (۴/۲۱۳)
- عسقلانی: ابن حجر، احمد بن علی بن حجر، تہذیب التہذیب، ت: ابراہیم الزیبق۔ عادل مرشد، ن: مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، اشاعت اول: ۱۴۳۵ھ ۲۰۱۴ ء (۳/۶۶۹)
- صفدی: الوافی بالوفیات، (۶/۱۰۹) مبارک پوری: محمد عبد الرحمٰن بن عبد الرحیم، تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی، ن: دارالکتب العلمیۃ، بیروت (۱/۳۵۰)
- مغلطائی: علاء الدین بن قلیج بن عبد اللہ، اکمال تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ت: ابو عبد الرحمٰن عادل بن محمد۔ ابو محمد اسامۃ بن ابراہیم، ن: الفاروق الحدیثۃ للطباعۃ والنشر، اشاعت اول: ۱۴۲۲ھ۔ ۲۰۰۱ء (۷/۱۰۷)
- ابن ندیم: الفہرست (۲/۱۰۴)
- ابن ندیم: الفہرست (۲/۱۰۳)
- ابن ندیم: الفہرست (۲/۱۱۵)
- ذہبی: سیر اعلام النبلاء (۱۰/۳۷۴)
- سمعانی: الانساب (۴/۱۲۷)
- ذہبی: سیر اعلام النبلاء (۱۱/۸۳)
- الخطیب البغدادی: تاریخ بغداد (۳/۴۱۹)
- ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب (۳/۲۹۳)
- ابن حجر عسقلانی: ہدی الساری (ص: ۴۹۲)
- ذہبی: سیر اعلام النبلاء (۱۰/۱۵)
- ابن خیر الاشبیلی: فہرسۃ ابن خیر الاشبیلی (۱۸۶)
- ابن رجب: زین الدین عبد الرحمٰن بن احمد الحنبلی، شرح علل الترمذی، ت: ہمام عبد الرحیم سعید، ن: مکتبۃ المنار، اردن، اشاعت اول: ۱۴۰۷ھ ۔ ۱۹۸۷ء(۱/۳۳۸)
- ابن ابی یعلی: محمد ابوالحسین، طبقات الحنابلۃ، ت: محمد حامد الفقی، ن: مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ۔ قاہرۃ، سن اشاعت: ۱۳۷۱ھ ۔۱۹۵۲ء (۱/۲۰۵)
- ابن ندیم: الفہرست (۲/۱۱۵)
- ذہبی: سیر اعلام النبلاء (۱۰/۱۲۴)
- ابن ندیم: الفہرست، (۲/۱۲۰)
- ذہبی: سیر اعلام النبلاء (۱۰/۳۶۷)
- سزگین، فؤاد: تاریخ التراث العربی (۱/۲۹۶)
- سزگین، فؤاد: تاریخ التراث العربی (۱/۳۵۴)
علم الکلام میں امام ابن تیمیہ کا مکتبِ فکر
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
اسلامی علم الکلام کی روایت کے جدلیاتی فریق، عقلیات کے دائرے میں، عموماً معتزلہ اور اشاعرہ کو شمار کیا جاتا ہے، جبکہ متصوفانہ رجحان، عقلیت کے بجائے کشف وعرفان پر ارتکاز کے باعث، ایک الگ دھارا تصور کیا جاتا ہے۔ ماتریدیہ مستقل فکری خصوصیات کا حامل مکتبِ فکر ہے، تاہم منہجی لحاظ سے بنیادی طور پر ’’تطبیقی’’ رجحان رکھنے کے باعث اسے زیادہ نمایاں شناخت نہیں مل سکی۔ بہرحال اسے کسی نہ کسی درجے میں ایک مکتبِ فکر گنا ضرور جاتا ہے۔
زیادہ نظر انداز کیا جانے والا مکتبِ فکر، ابن تیمیہ کا مکتبِ فکر ہے جس کا علم الکلام کی تاریخ میں کوئی ذکر اذکار ہی نہیں ملتا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابن تیمیہ نے کلامیات میں محدثین کے رجحان کو نہ صرف ایک مکمل عقلی پیرایہ اور ایک پورا نظام استدلال مہیا کیا ہے، بلکہ جدلیاتی منہج کے تحت تمام بنیادی مباحث میں فلاسفہ، معتزلہ، اشعری متکلمین اور اہلِ تصوف کے اندازِ فکر پر بھرپور نقد بھی پیش کیا ہے۔
ابن تیمیہ پر اپنے ہی دور میں بعض نزاعی مذہبی مباحث کے باعث ایک خاص طرح کی چھاپ لگ گئی جو اب تک قائم ہے۔ دورِ جدید میں، فکری مرجع کے طور پر ان کا حوالہ دینے والے سلفی مکتبِ فکر میں چونکہ خود عقلیات سے کوئی مناسبت نہیں پائی جاتی، اس لیے ان کے ذریعے سے بھی ابن تیمیہ کا ایک محدود اور سطحی امیج بنتا چلا گیا ہے۔
اسلامی علم الکلام کی روایت کے بنیادی فریق دو نہیں، بلکہ تین تھے، یعنی محدثین، معتزلہ اور اشاعرہ۔ محدثین نے عموماً عقلی بحثوں سے اجتناب برتا جس کی وجہ سے وہ بحث کے میدان سے باہر تصور کیے گئے، لیکن ابن تیمیہ نے اس کلامی روایت کے کم وبیش آخر میں اس کی تلافی بھرپور انداز میں کی ہے، اور یوں وہ اس کے حق دار ہیں کہ ان کے کنٹری بیوشن کو زیر بحث لائے بغیر کلامی روایت کی تاریخ کو مکمل شمار نہ کیا جا سکے۔
سردست اس حوالے سے عربی میں لکھے جانے والے بعض تحقیقی مقالات اور اردو میں مولانا محمد حنیف ندوی کی ’’عقلیات ابن تیمیہ’’ کے علاوہ زیادہ مطالعات دستیاب نہیں، جن کی نوعیت ابتدائی اور تمہیدی ہے۔ ہم نے بعض عقلی مباحث کے حوالے سے ابن تیمیہ کے مطالعہ کو مدرسہ ڈسکورسز کا حصہ بنایا ہے اور امید ہے کہ موجودہ یا آنے والے شرکاء میں سے بعض حضرات ضرور اس کی توسیع میں دلچسپی محسوس کریں گے۔
بچوں کی نفسیات
علامہ حکیم عبد الصمد صارم الازہریؒ
اگر ہم بچوں کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان کی صحیح طور پر پرورش کر سکتے ہیں، ان کی جسمانی اور دماغی طاقتوں کو بڑھا سکتے ہیں، ان کی مشکلات کو کم کر سکتے ہیں، اور ایک اچھی نسل پیدا کر سکتے ہیں جو ملک و قوم اور خاندان کے لیے باعثِ فخر ہو۔ ہر بچہ خواہ وہ کیسا ہی سیدھا سادا بے وقوف ہو، صحیح تربیت سے ایک بڑا آدمی بن سکتا ہے کیونکہ ہر بچے میں پیدائشی طور پر پوری صلاحیت ہوتی ہے، مگر بعض بچے ان سے کام نہیں لے سکتے لہٰذا ان پر زنگ چڑھ جاتا ہے، اگر صحیح تربیت کی جائے تو اس کے چھپے ہوئے جواہر چمکنے لگتے ہیں۔ بچے پر ماحول کا بڑا اثر پڑتا ہے، وہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا ہے اس کی نقل کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ نقل ہی کر سکتا ہے۔ جن بچوں کو اچھا ماحول میسر آجاتا ہے وہ ہونہار بن کر اٹھتے ہیں اور جنہیں اچھا ماحول نہیں ملتا وہ خراب ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ بعض خراب بچے اچھا ماحول ملنے سے بڑے ہونہار بن کر اٹھتے ہیں۔
مارنا برا ہے
اگر ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں تو معمولی ذہن کے بچے بھی بڑے ہو کر ملک و قوم کے اچھے خادم بن سکتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم بچوں کی صحیح تربیت کرنا نہیں جانتے۔ اب بزرگوں کا وہ قول بالکل غلط ثابت ہو چکا ہے کہ اچھی تربیت کے لیے بچوں کو مارنا بہت ضروری ہے۔ مارنے سے بچے کبھی درست نہیں ہوتے، ضدی بن جاتے ہیں اور صرف ڈر اور خوف کے وقت تو مجبوراً اچھے کام کرتے ہیں مگر جب کسی کا ڈر نہیں ہوتا تو ہمیشہ برے کاموں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
نرمی
بچوں کی تربیت نرمی سے کرنی چاہیے۔ ہر وقت کی روک ٹوک سے بچے ضدی ہو جاتے ہیں اور انہیں اچھے ماحول سے نفرت ہو جاتی ہے۔ بچوں کو نیکی کی طرف اس طرح مائل کرنا چاہیے کہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پھر اگر وہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو اس کی تعریف کرنی چاہیے، اس طرح وہ اچھائی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی برا کام کرتے دیکھو تو مارو نہیں، سختی نہ کرو، پیار و محبت سے سمجھا دو۔ ورنہ وہ تم سے چھپ کر ضرور اسی طرح کرے گا اور اس طرح اس کا دل بدی کی طرف مائل ہو جائے گا۔ بچہ اگر چھپ کر کوئی غلط کام کر رہا ہو تو تھوڑی چشم پوشی بھی کرنی ضروری ہوتی ہے۔
صحیح تربیت
یورپ کے مختلف ماہرینِ تعلیم و نفسیات نے اس مقولے کو بالکل غلط ثابت کر دیا ہے کہ بچے کے لیے قمچی اٹھانا ضروری ہے۔ ہمارا عمل ہمیشہ سے اس مقولے کے مطابق رہا ہے اور برسوں کی عادت نے ہماری طبیعت میں اس اصول کو راسخ کر دیا ہے۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ بچہ فطرتاً معصوم ہوتا ہے اور اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہے۔ جب تک بچے کے نفسیات اور جسمانی بناوٹ پر غور کر کے اس کی تربیت نہیں کی جائے گی قوم و نسل کی بہبود کی توقع فضول ہے۔ اگر ہم اصول کی پابندی کریں تو ہماری آنے والی نسل پچھلی نسل سے بہتر ہو گی اور تیسری نسل یقیناً تمام خوبیوں سے آراستہ ہو گی۔ ہر دماغ کے اندر سوئی ہوئی ذہانت موجود ہوتی ہے۔ ہر بچہ ایک قوت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسے ترقی دی جائے تو وہ غیر معمولی ذہانت والا بن سکتا ہے۔ یہ خیال کرنا کہ بچے کی تربیت کا بیڑا چھ یا آٹھ سال کی عمر کے بعد اٹھانا چاہیے۔
دلچسپی
دماغ پر بار اس وقت پڑتا ہے جب غیر دلچسپ چیزیں زبردستی دماغ میں بھر دی جاتی ہیں۔ انسانی دماغ دلچسپ چیزوں کے قبول کرنے، قائم رکھنے، اور انہیں اور زیادہ دلچسپ چیزوں میں تبدیل کرنے کی غیر معمولی قابلیت رکھتا ہے۔ اس لیے مسلسل اور مستقل دلچسپی پیدا کر کے دماغ کو بہت وسیع کیا جا سکتا ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانے پر اس کی تربیت کی جا سکتی ہے، اور اس پر مطلق بار پڑنے یا اکتا جانے کا اندیشہ نہیں ہو گا۔
طریقۂ گفتگو
بچوں سے گفتگو کے دوران میں صرف ان باتوں پر زور دینا چاہیے جن کی فضیلت مسلّم ہو۔ جہاں تک ہو سکے کمزور پہلو کو اڑا دینا چاہیے، اگر ممکن نہ ہو تو یہ ضرور کہہ دیا جائے کہ یہ اہم نہیں ہے۔
بد اثرات
بچے کا احساس ہر ایسے اثر کے لیے بہت حساس ہوتا ہے جو اس کے شعور پر اثر کرتا ہے۔ اور جو بھی اثر اس کے دماغ پر پڑ جاتا ہے ساری عمر قائم رہتا ہے اور بغیر خاص کوشش کے دور نہیں ہوتا۔ ہر اثر ایک میلان پیدا کرتا ہے اور ہر میلان بچپن میں راسخ ہو جاتا ہے اور دماغ پر برسوں یا عمر بھر اثر انداز رہتا ہے۔ اگر یہ میلان برا ہوتا ہے تو بچے کی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور اس کے ہر کام میں خلل ڈالتا ہے۔ گو بڑے ہو کر بعض بچے اس پر قابو پا لیتے ہیں پھر بھی انہیں بڑی دشواری ہوتی ہے، اس لیے ایسے میلان کو شروع ہی میں روک دینا چاہیے۔ ابتدا میں ایسے اثر کا دور کرنا آسان ہوتا ہے، بعد میں بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
بچوں کو برا نہ کہو
گھر والے اکثر بچوں سے کہا کرتے ہیں، تم شریر ہو، تم برے آدمی ہو۔ ایسا ہرگز کبھی بھولے سے بھی نہیں کہنا چاہیے۔ اکثر ماں باپ اپنے آوارہ بچوں کے ہاتھوں صرف اس لیے پریشان ہیں کہ انہوں نے بار بار اور زور کے ساتھ برائی کا خیال ان کے ذہن نشین کیا تھا۔ ہنسی ہنسی میں بھی اگر بچے سے بار بار کہا جائے کہ تم شریر ہو، تم برے آدمی ہو، تو وہ اس کا یقین کر لے گا۔ جب کسی کو یقین آجائے کہ وہ برا آدمی ہے تو برائی کا خیال ہر وقت اس کے دل میں رہتا ہے اور اس کے اندر برے خیالات اور بری خواہشات پیدا ہو جاتی ہیں، جن کا نتیجہ برے اعمال و افعال ہوتے ہیں، ہمیشہ انسان کے دل میں برے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور پھر برے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ برے خیالات اسی دماغ میں پیدا ہوتے ہیں جسے برا ہونے کا یقین دلایا گیا ہو۔
سیرت کی تعمیر
بچے کی سیرت کی درستی کے لیے اس کے دماغ کو ہمیشہ نیک کاموں، خوش خلقی، سچائی، خوبصورتی، اور بلند خیالات سے معمور رکھنا چاہیے اور ہمیشہ مخالف اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ بچے کو اس برائی کا یقین دلانا اس کے دماغ میں زہریلا بیج بونا ہے۔ دنیا میں بچہ فطرتاً نیک پیدا گیا ہے۔ وہ باوجود بری تربیت کے بدی سے زیادہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بچہ برا نہیں ہوتا۔ اگر اس کے افعال برے نہیں ہوتے تو اس کا سبب عموماً خراب تربیت ہوتا ہے، جسمانی قوت کو بے جا صَرف کرنا ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض بچے پیدائشی طور پر برے رجحانات رکھتے ہوں مگر انہیں غلط تربیت سے قوی ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ ایسے بچوں کو شریر یا برا کہنا گویا جلتی پر تیل ڈالنا ہے۔ اگر تم بچے کو اس بات کا یقین دلاؤ گے کہ عمدہ اخلاق کا اس کے اندر وجود ہے اور وہ اچھا انسان بننے کی قوت رکھتا ہے، بلکہ وہ حقیقت میں اچھا ہے، تو چند سال کے عرصہ میں اپنی اصلاح کر لے گا۔
بچے کو کوئی کام بتاؤ تو پہلے اسے اس کے فائدے بتا دو اور زبردستی نہ کرو۔ بچے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کی دماغی قوتیں بھی بڑھتی رہتی ہیں۔ اگر ان طاقتوں کی تربیت کی طرف توجہ (نہ) کی جائے تو مردہ ہونے لگتی ہیں۔ جو بچہ ادنیٰ معیار پر رہ جاتا ہے، صرف اس وجہ سے رہ جاتا ہے کہ اس کی طرف سے غفلت برتی گئی، ورنہ وہ بھی بڑا آدمی بن سکتا تھا۔
بچے کی بہترین فطری قوتوں کو ترقی دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیکھیں کہ اس کی طبیعت کن باتوں کی طرف مائل ہے، انہی چیزوں کی ترقی کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ماں باپ ایسا نہیں کرتے تو انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے ساتھ سختی برتیں، یا اسے اس طرح کے کاموں پر سزا دیں۔ سزا بدی کو دبا سکتی ہے، نیکی کی طرف مائل نہیں کر سکتی۔ نیکی تو بچے کو صحیح راستے پر ڈالنے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر بچے کے طبعی رجحان کو دیکھ کر اس کے رجحان کے مطابق اسے اسی قسم کے کھیلوں اور کاموں میں لگایا جائے تو اس کے چھپے ہوئے جوہر نکھرتے ہیں اور وہ شرارت سے باز رہتا ہے۔ بچے شرارت اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ان کی طبیعت کے مطابق چیزیں نہیں ملتیں۔
کام لینا
یہ خیال کہ بچے سے کوئی کام نہ لیا جائے بس کھیلنے ہی دیا جائے، بالکل غلط ہے۔ بچوں سے ان کی ذہنیت کے مطابق کام لینا چاہیے۔ اگر وہ اچھائی سے اسے انجام دیتے ہیں تو ان کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور اگر خراب کرتے ہیں تو نرمی سے بتانا چاہیے اور حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ ایسا کام جو بچے کی طبیعت کے مطابق نہ ہو، زیادہ نہیں لینا چاہیے، اس لیے کہ وہ اکتا جائے گا۔ کام کا انتخاب اور وقت کا تعین بچے کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ امید رکھنی چاہیے کہ بچہ آپ کی ہدایت کے مطابق کام کرے گا۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو اس سے بدظن نہ ہونا چاہیے کیونکہ ہر بچہ بڑوں کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی کبھی غلطی بھی کر جاتا ہے۔
قوتِ خیال کی تربیت
ہماری دماغی قوتوں میں سب سے اہم قوتِ خیال ہے اور ہر بچہ عظیم قوتِ خیال کا مالک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی قوتِ خیال کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ آگے چل کر ایک بڑا آدمی بن سکے۔ کسی بھی قوت کو غیر صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا اس قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔ جن بچوں کو خوفناک چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے ان کی یہ قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ بچوں کی قوتِ خیال کو تربیت دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں نیک، اچھے اور بڑے لوگوں کے قصے سنائے جائیں، اس طرح بچے کی قوتِ خیال صحیح طور پر پرورش پاتی ہے۔
بچے کے احساسات
ہر بچہ ایسے احساسات رکھتا ہے جو معمولی ذہانت سے بلند ہوتے ہیں۔ مگر ہم لوگ احساس نہیں کرتے اور ان کی قوتِ احساس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اکثر (بچوں) میں یہ احساسات ترقی کے محتاج ہوتے ہیں، تربیت نہیں کی جاتی تو ضائع ہو جاتے ہیں۔
بچے نقال ہوتے ہیں
بچہ فطرتاً نقال واقع ہوا ہے۔ اس کے اندر دوسروں کے کہنے پر عمل کرنے سے زیادہ دوسروں کو کرتا دیکھ کر خود بھی ویسا ہی کرنے کا میلان پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ بچوں کے ساتھ اکثر رہتے ہوں انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے اخلاق و عادات، اپنا مزاج اور اپنے اشغال ویسے ہی بنائیں جیسے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو بچے کے پیش نظر رہے، اعلیٰ قسم کی ہونی چاہیے۔ دیکھو، جو چیز ہر وقت ہمارے سامنے رہتی ہے اس کا ایک خاص اثر ہمارے اوپر ہوتا ہے، لہٰذا بہترین ماحول پیدا کرنا عین مصلحت ہے۔
ماحول کا اثر
ماحول کی ہر شکل و صورت ہمارے دماغ پر اثر کرتی ہے اور ہر اثر جو بچے کے دماغ پر ہوتا ہے ایک اہمیت رکھتا ہے، اگر فوراً اثر نہیں ہو گا تو انجام کار ہو کر رہے گا۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور ۔ ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
نظم: اسلام کا سائنسی عہدِ زریں
محمود الحسن عالمیؔ
اے جوانِ مسلم! ترک کر احساس کمتری کو
کہ یاد کر اپنے اسلاف کی سائنسی برتری کو
ہے اسلام نے لہرایا پرچم سائنسی حکمت کا
بتاؤں تجھے گر تو منتظر ہے اپنی عظمت کا
تو فرزندِ عہدِ قرونِ وسطیٰ ہے
تو آئینۂ علم و حکمتِ عظمیٰ ہے
تو عباس ابن فرناس کی پرواز ہے
تو لہراتے جہازوں کا پہلا راز ہے
تو ابن الہیثم کی نفیس چشم بینی ہے
تو کیمرے میں قید تخیل کی رنگینی ہے
تو بابائے کیمیاء جابر بن حیان ہے
تو علم کیمیاء کی جدت کی شان ہے
تو ابن سینا بابائے طبیات ہے
تو فلکیات کی روشن آیات ہے
تو الکندی وسعتِ علم کا جامع پیام ہے
تو فلسفہ و سائنس کا مشترکہ کلام ہے
تو رازی کی عقلیت کا تابندہ راز ہے
تو طب و کیمیاء کی زندہ آواز ہے
تو بیرونی دانائے زمین و آسماں ہے
تو جامع العلوم، سائنس داں ہے
تو عثمان جاحظ کی حیاتیاتی تفسیر ہے
تو نظریہ ارتقاء کی حقیقی تصویر ہے
تو الصوفی کا تراشا ہوا جہان ہے
تو مفکر اعظم، فلکیات دان ہے
تو موسیٰ خوارزمی کی معرفتِ عظیم ہے
تو الجبر و خوارزمیہ کی ایجادِ قدیم ہے
تو فزاری زیج ہند کا پہلا ترجمان ہے
تو حسابِ فلکی کی پہلی منظم زبان ہے
تو نصیر طوسی کا فلکی حساب ہے
تو رصدگاہ مراغہ کی مستند کتاب ہے
تو ابن زُہر کی طب کا امین ہے
تو فنِ جراحت کی زرخیز زمین ہے
تو الفرغانی کے نجوم کا جہاں ہے
تو فلکِ خدا کی وسعت کی زباں ہے
تو عمر خیام کی جلالی تقویم ہے
تو علمِ ریاضی کا ماہر حکیم ہے
تو ابن باجہ پیغامبر حرکیات ہے
تو فلسفیِ خلوت، ماہر طبیعیات ہے
تو ابنِ طفیل فلک پیما نکتہ شناس ہے
تو حکمتِ طب کی روشن اساس ہے
تو ابن بیطار، نباتات داں ہے
تو سبزہ شفاء کا طبی بیاں ہے
تو المسعودی حیوانات کا ماہر حکیم ہے
تو جانوروں کا رفیق، صاحب حلیم ہے
تو قروینی ارضیات کا مستند عالم ہے
تو مشاہداتِ ارضی کا بیان سالم ہے
تو فاطمہ الفہری کی علم پروری ہے
تو جامعات کی پہلی پیش قدمی ہے
تو مریم اسطرلابی، ذہانت کا کمال ہے
تو فلکیات میں نسوانی اوج جمال ہے
تو ادرِیسی کا ہنرِ نقشہ نگاری ہے
تو جغرافیہ کا معتبر کھلاڑی ہے
تو حجاج بن مطر کی فنِ ترجمہ نگاری ہے
تو یونانی سائنس کی علمی آب یاری ہے
تو ابن بطوطہ کی وسعتِ دید ہے
تو جغرافیہ کی اِک زندہ تمہید ہے
تو ابن رشد کی فلسفیانہ عظمت ہے
تو رموز مادی کی گہری حکمت ہے
تو ابن خلدون بابائے سماجیات ہے
تو امام المورخین اور کثیر الجہات ہے
تو فارابی کی موسیقی* میں روانی ہے
تو دنیائے فلسفے کا معلم ثانی ہے
تو مسکویہ اخلاقیات کا عالم افروز ہے
تو نفسیات کا معلّم، سبق آموز ہے
تو ابنِ حزم نفسیات کا رازداں ہے
تو لسانیات میں معنی کا نشاں ہے
تو الماوردی کا علمِ سیاسیات ہے
تو نظمِ حکومت کی عالی صفات ہے
تو صدیوں کی تھکن کا سکون ہے
تو تہذیبِ اسلام کا زندہ فنون ہے
تو اندلس کے کتب خانوں کی پکار ہے
تو بے نظیر کتابوں کا لا زوال انبار ہے
تو قرطبہ و قاہرہ کا روشن چراغ ہے
تو وجودِ سائنس کا عالی دماغ ہے
جامع العلوم، ہمہ جہت، تیرے اسلاف تھے
فن کے امام، قبلۂ علم کے محو طواف تھے
پس بیدار ہو اب غفلت کی تن آسانی سے
بدل دے تو اپنا زوال، مسلم نشاۃِ ثانی سے
بجے پھر تیرے نقارے سارے زماں میں
ہو پھر تیرا ہی شہرہ ہر زمین و آسماں میں
پھر جگمگائے چراغِ علم و عمل کا
کہ ہو آغازِ نو اک مسلم دورِ اکمل کا
———————
* اس شعر میں فنِ موسیقی کے حوالے سے ابو نصر محمد الفارابی (۸۷۰ء - ۹۵۰ء) کے کمال کا ذکر ہے، تاہم یہ امر پیش نظر رہے کہ اسلام میں صرف ایسی موسیقی محدود آلات کے حوالے سے جائز ہے جو کسی فحش یا شرعی طور پر ممنوع عنصر سے پاک ہو۔ (ادارہ)
قائد اعظم کا تصورِ مُملکتِ پاکستان
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
قائد اعظم کا تصورِ پاکستان
علامہ اقبال اگر مصورِ پاکستان تھے تو قائد اعظم معمارِ پاکستان کہلاتے ہیں۔ ایک نے مسلمانوں کو تِیرہ و تار راہ گزر پر روشنی دکھائی تو دوسرا انہیں اس روشنی کے مخرج — اسلام اور پاکستان — کی طرف لے گیا۔ ان دونوں کی فکر میں حیرت انگیز مماثلت، یکسوئی اور یگانگت ملتی ہے۔ جس بات کو علامہ نے سوچا، اسی پر قائد اعظم نے عمل کر دکھایا۔ اس اعتبار سے دونوں برصغیر کے مسلمانوں کے رہبر و راہ نما تھے۔
پاکستان کے بارے میں قائد اعظم کی تقاریر، تحریروں، خطوط، بیانات، انٹرویو، یا ان کی طرف سے اظہار کے کسی بھی ذریعے کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں ان کی ایک ہی سوچ ملتی ہے کہ وہ پاکستان کو اسلام کے لیے ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے جو دنیا کے دوسرے لوگوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہو اور جس سے لوگ روشنی لیں۔ ان کا یہ تصورِ پاکستان ہمیں ان کی تمام زندگی میں یکساں تسلسل سے ملتا ہے۔
جنوری ۱۹۳۸ء میں گیا (بہار) مسلم لیگ کی کانفرنس میں اپنے خطاب میں انہوں نے مسلم لیگ کے پرچم کو اسلام کا پرچم قرار دیا (This flag is the flag of Islam)۔ انہوں نے مزید کہا:
اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات مرحمت کرتا ہے۔ یہ محض ایک مذہب نہیں بلکہ یہ قوانین، فکر و فلسفہ اور سیاسیات پر مشتمل ہے۔ فی الحقیقت یہ ہر اس شے پر مشتمل ہے جو صبح سے لے کر رات تک انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔16
شمال مغربی سرحدی صوبے کی مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے انہیں کوئی پیغام دینے کے لیے کہا تو ان کا جواب تھا:
میں آپ کو کیا پیغام دے سکتا ہوں؟ اپنے لیے راہنمائی اور بصیرت حاصل کرنے کے لیے ہم نے قرآن سے ایک عظیم ترین پیغام حاصل کیا ہے۔ …… آئیے ہم اپنی بہترین صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال کریں۔ آیئے ہم اپنی ذاتی دلچسپیوں اور خواہشات کو اپنے لوگوں کی اجتماعی بھلائی اور ایک اعلیٰ اور مقدس مقصد کی خاطر فراموش کر دیں۔ یہی پاکستان کے پیش نظر ہے۔ بشرطیکہ ہم متحد اور منظم ہو کر جمع ہو جائیں۔ اور اپنے مقصد سے ہماری لگن ہوئی تو ہماری وہ منزل دور نہیں کہ جب ہم اپنا مقصد حاصل کر لیں گے اور اپنے آپ کو اپنے حیرت انگیز اور تابناک ماضی کے حسبِ حال ثابت کریں گے۔17
علامہ اقبال کی فکری اُٹھان ہی اسلام اور اسلامی فلاسفی ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور علومِ اسلامیہ سے عبارت تھی۔ اس لیے جب ہم ان کی فکر کا محور اسلام کو دیکھتے ہیں تو یہ امر باعثِ تعجب نہیں ہوتا۔ لیکن جب قائد اعظم کی زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں سیّد میر حسن جیسا کوئی استاد نہیں ہے۔ نہ ان کے مطالعے کا رُخ بظاہر اسلامی قانون یا شریعت کی طرف تھا۔ اس کے باوجود جب ان کی زندگی کا معروضی مطالعہ کیا جاتا ہے تو بڑی آسانی سے یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ اسلام اور اسلامی قانون کے بارے میں ان کی سوچ، فکر یا عمل کبھی کسی کجی کا شکار نہیں رہا۔ ان کی زندگی میں ہمیں یکساں تسلسل ملتا ہے جو بالآخر قیامِ پاکستان پر منتج ہوا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے قانون دان تھے، ان کی زندگی قانون کے مطالعے سے عبارت تھی۔ قانون کی اعلیٰ تعلیم انہوں نے برطانیہ کی مشہور قانونی درس گاہ لنکن اِن (Lincoln's Inn) سے حاصل کی تھی۔ بیرسٹری کی تعلیم کے لیے برطانیہ میں تین دیگر درس گاہیں ہیں لیکن ان کے مادرِ علمی کے اس انتخاب کا سبب یہ تھا کہ اس کے صدر دروازے پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے عظیم ترین شارعین میں سے ایک کے طور پر لکھا ہوا تھا۔18
ہندوستان میں مسلمانوں کے شخصی قانون، وقف علی الاولاد پر مباحثہ ہوا تو انہوں نے مولانا شبلی نعمانی اور ندوۃ العلماء کے دیگر علماء کے مشورے سے اپنی رائے تشکیل دی اور امپیریل لجسلیٹیو کونسل میں اس موضوع پر تقریر کرتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی کا تذکرہ نہایت اچھے الفاظ میں کیا۔ گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ
میرا یہ ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہرے اصولوں کی پیروی پر منحصر ہے جو ہمارے عظیم شارع (law giver) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیئے ہیں۔ آئیے ہم اپنی جمہوریت کا سنگِ بنیاد صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں۔ رب العزت نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ ریاستی امور میں ہمارے فیصلے بحث و مباحثے اور مشاورت پر ہوں گے۔19
ان کی تقریر کے اس اقتباس کا عربی میں ترجمہ کیا جائے تو اس کی یہ صورت بنتی ہے:
وامرھم شوریٰ بینھم۔20
اور وہ (مسلمان) اپنے امور باہمی مشاورت سے چلاتے ہیں۔
اور یہی قائد اعظم کا منشاء تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن میں امرھم کو مطلق معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جس کا اطلاق زندگی کے جملہ امور پر ہوتا ہے جن میں ریاستی امور بھی شامل ہیں۔ قائد اعظم نے اسے ریاستی امور کے حوالے سے بیان کیا تھا۔ اس لیے اپنی تقریر میں انہوں یہ توضیحی اضافہ کر دیا۔
دستورِ پاکستان بنانے کے لیے جب دستور ساز اسمبلی کام کر رہی تھی تو قائد اعظم نے اپنے جمہوری مزاج کے عین مطابق ایک تقریر میں اپنی اس معذوری کا اظہار کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس دستور کی حتمی شکل کیسی ہو گی۔ لیکن اس تقریر میں انہوں نے واضح کر دیا کہ
انہیں یقین ہے کہ یہ دستور اس طرح جمہوری اسلوب پر ہو گا کہ اس میں اسلام کے بنیادی اصول موجود ہوں گے کیونکہ عہدِ حاضر میں یہ اصول اسی طرح قابلِ نفاذ ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل تھے۔ اسلام اور اس کے تصورات نے ہمیں جمہوریت کا سبق دیا ہے۔ ہم انہی تابناک روایات کے امین ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے دستور ساز کی حیثیت سے ہمارے اندر اس کے لیے ضروری احساسِ ذمہ داری موجود ہے۔21
قائد اعظم کی تقریروں سے یہ وہ چند اقتباسات ہیں جن کا تعلق کسی حد تک ان کے ذاتی میلانات سے یقیناً ہے، لیکن بڑی حد تک یہ تمام حوالے ان کے تصورِ پاکستان کے بارے میں ہیں کہ وہ پاکستان کو کس شکل کی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے لیے کیا دستوری نقشہ ان کے ذہن میں تھا۔ اسلام کے بارے میں کیا ان کے تصورات اسے محض مذہب سمجھنے کی حد تک تھے، جیسے کئی لوگوں کے ہیں، یا وہ علامہ اقبال کے تصورِ اسلام کے حامل تھے۔ قائد اعظم کی تقریروں سے دیئے جانے والے یہ تمام حوالے واضح کرتے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ جہاں تک دیگر امور کا تعلق ہے تو قائد اعظم کی زندگی میں ایسے درجنوں مواقع آئے جن میں انہوں نے اسلام، اسلامی تعلیمات، قرآن، مسلمانوں کے تابناک ماضی اور تاریخِ اسلام کے بارے میں نہایت عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔ لیکن زیر بحث موضوع ان کا تصورِ پاکستان بطور اسلامی ریاست ہے، اس لیے ان کے اس تصور ہی کے متعلق گفتگو کافی سمجھی جاتی ہے۔
قائد اعظم کا تصورِ معاشیاتِ اسلام
قائد اعظم بنیادی طور پر تو قانون دان اور قانون ساز تھے لیکن اسلام کی معاشی تعلیمات پر بھی وہ گہری نظر رکھتے تھے اور وہ اسلام کے معاشی نظام کو مملکتِ پاکستان میں کُلی اعتبار سے نافذ دیکھنا چاہتے تھے۔ اجمالاً اس کا اظہار انہوں نے اپنی کئی تقریروں میں کیا لیکن اپنی سرکاری حیثیت میں پہلی مرتبہ انہوں نے یہ بات ۱۹۴۸ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کہی۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ میں ’’اسلامی معیشت کے حق میں یہ سب سے پہلی آواز تھی‘‘ 22
یہ وہ موقع تھا کہ جب قائد اعظم سیاسی انداز کی تقریر بھی کر سکتے تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی نازک موقع تھا۔ اس وقت تمام ریاستی مشنری مہاجرین کی آباد کاری میں لگی ہوئی تھی۔ تقسیمِ ہند سے ملنے والے مشترک مالی اثاثے ہندوستان نے روک لیے تھے، خزانے میں اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ روز مرہ ریاستی امور چلائے جائیں۔ کشمیر کے محاذ پر دونوں ملکوں کی فوجیں پوری تیاری کے ساتھ جنگ پر آمادہ تھیں لیکن پاکستان کی یہ حالت تھی کہ لڑنے کے لیے گولہ بارود نہیں تھا۔ مملکت سے لوگوں کی بے پناہ توقعات قائم ہو چکی تھیں۔ ہنر مند کارکن اور سرمایہ کار ملک چھوڑ کر ہندوستان جا چکے تھے۔ نئے آنے والے ہنر مندوں کی آباد کاری وہ گنجلگ مسئلہ تھا جس کے حل کے لیے طویل وقت درکار تھا۔
ایسے عالم میں روایتی سیاست دان روایتی انداز کی تقریر کرتے ہیں جس میں عوام کی توجہ مسائل سے ہٹا کر نعروں کی طرف مبذول کرا دی جاتی ہے۔ قائد اعظم یہ کام کر سکتے تھے۔ وہ اس موقع پر لگے بندھے انداز میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیاں تیار کرنے پر زور دے سکتے تھے۔ وہ ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد دینے والی پالیسیاں تیار کرنے کو بھی کہہ سکتے تھے۔ ریاست کی معاشی و اقتصادی حالت درست کرنے کے یہی وہ ابتدائی ایام ہوتے ہیں جب قبلہ متعین کیا جاتا ہے، یا لوگوں کی توجہ مسائل سے ہٹائی جاتی ہے۔
اس موقع پر قائد اعظم نے جو تقریر کی اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مسائل سے واقف نہیں ہیں، یا ان سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ اس کی بجائے انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اسٹیٹ بینک کے تحقیق کے کام پر گہری دلچسپی کے ساتھ نظر رکھیں گے کہ بینک اپنی کاروباری سرگرمیوں میں اسلامی تصورات اور اس کے سماجی اور اقتصادی طرز عمل کا کس قدر خیال رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے ایسے مسائل پیدا کر دیئے ہیں جو نا قابلِ حل ہیں۔ دنیا جس تباہی کا سامنا کر رہی ہے، اس سے کوئی معجزہ ہی اب اسے بچا سکتا ہے۔ انسان کا انسان کے لیے عدل ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی اور صنعتی کارکردگی کے باوجود دنیا اس انتہاء پر جا کر الجھ چکی ہے، تاریخ میں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس لیے ہمیں اپنی راہِ عمل لازماً خود متعین کرنا چاہیے۔ اور برابری کے عالم گیر اسلامی تصور اور سماجی عدل کے صحیح اسلامی تصور پر مبنی ایک معاشی نظام دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس طرح ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ اور دنیا کو امن کا ایسا پیغام دیں گے کہ صرف اسی سے بنی نوع انسان کی فلاح، مسرت، خوشحالی اور امن کا تحفظ ہو سکتا ہے۔23
قائد اعظم کے اس بیان کو عہدِ حاضر کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بعد سیاسی قیادت کو نہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھا اور نہ ان کے سامنے کوئی مقصدِ حیات (Habitual vision) تھا۔ اور اس سیاسی قیادت کی عدمِ توجہی ہی کے باعث دنیا کی یہ عظیم سلطنت اپنے مقصد سے ہٹتے ہٹتے داخلی محاذوں پر الجھ گئی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم کو اللہ کچھ عرصہ اور زندگی دیتے تو اس مملکت کا دستور اور اقتصادی نقشہ کن خطوط پر ہوتا۔ آج دنیا عالم گیریت کے جس شیطانی جال میں پھڑپھڑا رہی ہے، یقیناً قائد اعظم نے اس صورت حال کی منظر کشی نصف صدی قبل کر دی تھی۔ یہ مملکت اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی جس کا سامنا سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے بعد دنیا کرنے والی ہے۔24
فکرِ قائد کی ایک جہت
پاکستان کے بعض اہلِ علم و فکر کا خیال ہے کہ قائد اعظم جس ریاست کی تعمیر و تشکیل چاہتے تھے وہ ایک جدید قومی، جمہوری اور سیکولر ریاست تھی نہ کہ دینِ اسلام پر قائم ہونے والی ریاست۔ اس سلسلے میں وہ قائد اعظم کی اس مشہور تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جو دستور ساز اسمبلی میں ان کی پہلی تقریر تھی۔ یہ تقریر دستور سازی کے ضمن یوں تو ایک عام سی تقریر ہے لیکن وہ لوگ جو پاکستان کو اسلامی ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے، ان کے خیال میں یہ تقریر اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں پاکستان کی دستوری بنیادوں کا سراغ ملتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تقریر کا تفصیلی انداز میں جائزہ لیا جائے۔ قائد اعظم کی اس تقریر کے ایک طویل اقتباس کا ترجمہ ان الفاظ میں ہے:
اگر تم باہم تعاون سے کام کرو گے، ماضی کو بھول جاؤ گے اور مخالفتوں کو ترک کر دو گے تو تم لازماً کامیاب ہو جاؤ گے۔ اگر تم اپنے ماضی کو بدل دو گے اور اس اسپرٹ میں متحد ہو کر کام کرو گے کہ تم میں سے ہر ایک خواہ وہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، خواہ ماضی میں اس کے تعلقات تمہارے ساتھ کیسے ہی رہے ہوں، خواہ اس کا رنگ، اس کی ذات اور اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو، اول، دوم اور آخر اس مملکت کا شہری ہے، جس کے حقوق و فرائض بالکل مساوی ہیں، تو تمہارے عروج و ترقی کی کوئی انتہاء نہ ہوگی۔ میں اس معاملے پر انتہائی زور دینا چاہتا ہوں۔ ہمیں اس اسپرٹ میں کام شروع کر دینا چاہیے۔ کچھ مدت میں اکثریت اور اقلیت اور ہندو قوم اور مسلم قوم کی یہ تمام بدنمائیاں غائب ہو جائیں گی۔ کیوں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت میں بھی تمہارے ہاں پٹھان، پنجابی، شیعہ، سنی وغیرہ موجود ہیں اور ہندوؤں میں بھی برہمن، ویشنو، کھتری، اور پھر بنگالی، مدراسی وغیرہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھو تو میں یہ کہوں گا کہ یہ چیز ہندوستان کی آزادی و خود مختاری کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اگر ایسے نہ ہوتا تو ہم مدتوں پہلے آزاد ہو چکے ہوتے۔ دنیا کی کوئی طاقت کسی قوم کو خصوصاً چالیس کروڑ نفوس کی قوم کو اپنا محکوم نہیں رکھ سکتی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی تم کو مفتوح نہ کر سکتا، اور اگر کر بھی لیتا تو زیادہ مدت تک تم پر اپنا تسلط قائم نہ رکھ سکتا، لہٰذا اس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ تم آزاد ہو۔ اس مملکتِ پاکستان میں تم اپنے مندروں میں آزادانہ جا سکتے ہو اور مساجد اور دوسری عبادت گاہوں میں بھی جانے میں آزاد ہو۔ تمہارا مذہب، تمہاری ذات، تمہارا عقیدہ کچھ بھی ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تم جانتے ہو، تاریخ شاہد ہے کہ کچھ مدت پیشتر انگلستان کے حالات آج کل کے ہندوستان کے حالات سے بدتر تھے۔ رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ ایک دوسرے کو آزار پہنچانے میں مصروف تھے۔ آج بھی بعض ایسی مملکتیں موجود ہیں جن میں ایک خاص طبقے کے خلاف امتیازات اور قیود عائد کی جارہی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم ایسے ایام میں اپنی مملکت کا آغاز نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا آغاز ایسے ایام میں ہو رہا ہے جب ایک قوم اور دوسری قوم، ایک ذات اور مسلک اور دوسری ذات اور مسلک کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں رہا۔ ہم اس بنیادی اصول کی بنا پر آغازِ کار کر رہے ہیں کہ ہم تمام شہری ہیں اور ایک مملکت کے مساوی شہری ہیں …… میرے نزدیک اب ہمیں اسی نصب العین کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پھر تم دیکھو گے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد نہ ہندو، ہندو ر ہیں گے، نہ مسلمان، مسلمان رہیں گے۔ مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ وہ تو ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں سب ایک مملکت کے شہری ہوں گے۔25
تنقید و تبصرے کے لیے تقریر کے اس حصے ہی کو بالعموم لے لیا جاتا ہے اور اس کے سیاق سباق کو نظر انداز کر دیا جانا اب ایک عام روایت بن گئی ہے۔ تقریر کے اس حصے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس حصے کو اسلامی ریاست کے حق میں استعمال کرنے والے اور اس کے برعکس نقطہ نظر رکھنے والے — موافق اور مخالف — دونوں کی تحریروں میں ایک قدر نمایاں طور پر مشترک ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والے بھی اس کے متنی تجزیے کا سہارا لیتے ہیں اور اس کی حمایت میں لکھنے والے بھی متن ہی کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں۔ دونوں نقطہ ہائے نظر بالعموم طلاقتِ لسانی اور اور استدلال کا سہارا لیتے ہیں۔
جو لوگ ملک کو مذہب یا اسلام کے اصولوں پر قائم ریاست دیکھنا پسند نہیں کرتے، وہ تقریر کے اس حصے کو اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ علمی سطح پر ایسے افراد کئی ہیں لیکن بخوفِ طوالت اس نقطہ نظر کی ایک نمائندہ تحریر ملاحظہ ہو۔ یہ تحریر فساداتِ پنجاب کے نتیجے میں جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی عدالت کی پیش کردہ رپورٹ سے لی گئی۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے ریاستی ملازمین (Servants of the State) کی یہ ایک نمائندہ تحریر ہے۔ یہ تحریر، تحریر میں جھلکنے والا تصور رکھنے والے بہت سے دیگر اصحابِ فکر کی نمائندگی کرتی ہے:
قائد اعظم پاکستان کے بانی تھے اور جس موقع پر انہوں نے یہ تقریر کی، وہ تاریخِ پاکستان کا پہلا سنگِ میل تھا۔ اس تقریر کے مخاطب اپنی مملکت کے مسلم و غیر مسلم باشندے بھی تھے اور اہلِ عالَم بھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جس نصب العین کے حصول کی خاطر نئی مملکت اپنی تمام طاقتوں کو وقف کرنے والی تھی، اس کو نہایت واضح طور پر معین کر دیا جائے۔ اس تقریر میں بار بار ماضی کی تلخیوں کا ذکر کر کے یہ اپیل کی گئی کہ ماضی کو بدل دو اور جنگ و پیکار کو دفن کر دو۔ قائد اعظم کے نزدیک اس مملکت کے آئندہ شہری کو بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلالحاظ مذہب و ملت برابر کے حقوق اور رعایات حاصل ہوں گے اور اس پر برابر کے فرائض عائد ہوں گے۔ اس تقریر میں لفظ ’’قوم‘‘ کو بار بار دہرایا گیا اور بیان کیا گیا کہ مذہب [قائد اعظم کی تقریر میں لفظ Creed استعمال کیا گیا تھا جو اعتقاد یا داخلی ایمان و ایقان کا ہم معنی ہے نہ کہ مذہب Religion کا] کو کاروبارِ مملکت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ صرف فرد کے ذاتی ایقان و ایمان کا معاملہ ہے۔26
قائد اعظم کی اس تقریر پر تفصیلی گفتگو تو آئندہ سطور میں کی جائے گی لیکن فاضل عدالت کا یہ کہنا کہ ’’جس موقع پر انہوں [قائد اعظم] نے یہ تقریر کی وہ تاریخِ پاکستان کا سنگِ میل تھا‘‘ اور یہ کہ ’’جس نصب العین کی حصول کی خاطر نئی مملکت اپنی تمام طاقتوں کو وقف کرنے والی تھی، اس کو نہایت واضح طور پر معین کر دیا جائے‘‘ صحیح نہیں ہے۔ تقریر کے بالکل آغاز ہی میں اس سوچ کی نفی ہوتی ہے۔ قائد اعظم نے تقریر کی ابتداء ہی میں دستور ساز اسمبلی کے وظائف (Functions) واضح کیے جو دو تھے — دستور سازی اور آئندہ کے لیے قانون سازی — پہلے کام کے بارے میں قائد اعظم نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ اس بارے میں، میں اس موقع پر کوئی سوچی سمجھی رائے نہیں دے سکتا۔ قائد اعظم کے اصل الفاظ یوں تھے:
Dealing with our first function [دستور سازی] in this Assembly, I cannot make any well considered pronouncement at this moment … 27
اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تقریر کا متذکرہ بالا حصہ کوئی سوچی سمجھی اور لکھی ہوئی تقریر نہیں تھی بلکہ اس کی حیثیت رسمی کلمات سے زیادہ نہیں تھی۔ فاضل عدالت اسی رپورٹ کے صفحہ 214 پر یوں رقم طراز ہے:
ہمارے سامنے یہ بار بار کہا گیا کہ پاکستان کے مطالبے میں ’’مملکتِ اسلامی‘‘ کا مطالبہ قطعاً شامل تھا۔ پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے اہم لیڈروں کی بعض تقریروں سے بلاشبہ یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ لیڈر جب مملکتِ اسلامی کا یا کسی ایسی مملکت کا نام لیتے تھے جس پر قوانینِ اسلامی کی حکومت ہوگی تو شاید ان کے ذہن میں کسی ایسے قانونی نظام کا تصور ہو گا جو اسلامی عقائد، اسلامی قانونِ شخصی، اسلامی اخلاقیات اور اسلامی ادارت پر مبنی ہو، یا اس سے مخلوط ہو۔ جس شخص نے بھی پاکستان میں ایک مذہبی مملکت کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا ہے، اسے ان عظیم مشکلات کا ضرور احساس ہوا ہے جو کسی ایسی اسکیم میں لازماً پیش آئیں گی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے بھی، جو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک متحدہ مملکت کا تصور قائم کرنے والے اولین مفکر سمجھے جاتے ہیں، اپنے خطبہ صدارت (مسلم لیگ ۱۹۳۰ء) میں فرمایا: ’’ہندوؤں کو کسی قسم کا اندیشہ نہ ہونا چاہیے کہ خود اختیار مسلم مملکتوں کی تخلیق کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسی مملکتوں میں کوئی مذہبی قسم کی حکومت قائم ہوگی۔ یہ اصول کہ ہر گروہ کو اپنے خطوط پر آزادانہ ترقی کا حق ہونا چاہیے، ہرگز کسی تنگ نظر فرقہ پرستی کی پیداوار نہیں ہو سکتا‘‘۔
یہ دونوں اقتباس اس سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جو پاکستان کو ایک لادین ریاست دیکھنے کی خواہشمند ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو ایک جدید جمہوری فلاحی مملکت دیکھنے کے خواہشمند اصحابِ فکر کی بڑی تعداد اس تقریر کی تشریح اپنے انداز میں کرتی ہے۔ بدقسمتی سے دونوں طرح کے اصحابِ فکر قائد اعظم کی اس تقریر کے اس متذکرہ بالا ٹکڑے ہی کے متنی تجزیے پر اپنا زورِ بیان صَرف کرتے ہیں، اور جس سیاق اور پس منظر میں یہ تقریر کی گئی ہے اسے یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
امرِ واقع یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی یہ تقریر دستور ساز اسمبلی کے اقلیتی ارکان کے ان خدشات کے جواب میں تھی کہ نئی ریاست میں مذہب کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیتوں سے امتیاز برتا جائے گا۔ اس کے ذریعے قائد اعظم نے اقلیتوں کو مذہبی رواداری کا پیغام دیا۔ اس لیے اس تقریر کو کسی بھی طور پر ایک پالیسی تقریر کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ اصولِ تفسیر یا اصولِ تاریخ کے آئینے میں اس کا جائزہ لینے پر ایک جدا تصور کی منظر کشی ہوتی ہے۔ یہ دونوں مکاتبِ فکر جس چیز کو محور بناتے ہیں وہ بڑی حد تک اخباری علم کے ایک حصے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اصولِ تفسیر کی اصطلاح میں اس تقریر کے پس منظر ہی پر غور کرنے سے صورت حال مکمل طور پر واضح ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے ان ابتدائی دو ایام کی کارروائی کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیا جائے، جس سے اس تصور کی نفی ہوتی ہے، کہ یہ دستوری کارروائی کے لیے مخصوص ایام تھے اور یہ کہ یہی پاکستان کی دستور سازی کی بنیاد ہیں۔
(دساتیرِ پاکستان کی اسلامی دفعات – ایک تجزیاتی مطالعہ۔ ص ۲۲ تا ۳۲۔ سن اشاعت: ۲۰۱۱ء۔ ناشر: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
کاروباری دنیا میں قبضہ کی شرعی حقیقت اور جدید شکلیں
مفتی سید انور شاہ
عصر حاضر میں تجارت نے جو انقلابی صورت اختیار کی ہے اور جس وسیع پیمانے پر فروغ حاصل کر لیا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ کاروبار کے ہر شعبہ میں نت نئی صورتیں اور نئے نئے مسائل سامنے آرہے ہیں، جن کے جوابات بسا اوقات قدیم فقہی ذخیرے میں صراحت سے نہیں ملتے۔ الحمد للہ! علمائے کرام قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ان نئے مسائل کے سلسلے میں امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں قبضہ کی شرعی حقیقت اور اس کی بعض اہم جدید صورتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ قبضہ سے متعلق جدید اور اہم مسائل کو سمجھنے میں یہ مضمون مفید و معاون ثابت ہو گا۔
قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی روایات
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ان روایات پر ایک نظر ڈال لی جائے جو قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی ممانعت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ فقہائے کرامؒ کی آراء ذکر کرنے سے پہلے وہ احادیث طیبہ بیان کی جا رہی ہیں جن میں مختلف الفاظ و تعبیر کے ساتھ قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
- حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ: ”ان رسول اللہ نہی ان یبیع الرجل طعاما حتی یستوفیہ۔“ (بخاری: البیوع، باب: ما یذکر فی بیع الطعام، ج:2، ص:750، ط:دارالیمامۃ، 1441، طبعۃ خامسۃ) جناب نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھانے کی چیز قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کر دے۔
- حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”من اشتری طعاما بکیل او وزن فلایبعہ حتی یقبضہ۔“ (مسند احمد :مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ج:5، ص:296، ط:دارالحدیث، 1416ھ، طبعۃ اولی) جو شخص کیل یا وزن کے اعتبار سے کھانا خریدے تو قبضہ کرنے سے پہلے اس کو فروخت نہ کرے۔
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”من اشتری طعاما فلایبعہ حتی یکتالہ۔“ ( مسلم: البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:5،ص:8، ط: دارالطباعۃ العامرۃ ترکیا، 1334ھ) جو شخص کھانے کی کوئی چیز خریدے وہ کیل کرنے (یعنی پیمانہ کے ذریعے ناپنے) سے پہلے فروخت نہ کرے۔
- حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ان الفاظ میں نقل کیا ہے ”کان رسول اللہ یقول: اذا ابتعت طعاما فلاتبعہ حتی یستوفیہ۔“ (مسلم: البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:5، ص:9، ط: دارالطباعۃ العامرۃ ترکیا، 1334ھ)
- رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے جب کھانے کی چیز خریدو تو وصول کرنے سے پہلے فروخت نہ کرو۔
- حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ”قلت یارسول اللہ انی اشتریت بیوعا فمایحل لی منہا و مایحرم علی؟ قال: فاذا اشتریت فلاتبعہ حتی تقبضہ۔“ (کنز العمال: البیوع، محظوراتہ بیع ما لم یقبض، ج:4، ص:157، ط:مؤسسۃ الرسالۃ، 1405ھ، الطبعۃ الخامسۃ) میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں خرید و فروخت کے معاملات کرتا رہتا ہوں، اس سلسلے میں میرے لیے کیا حلال ہے؟ اور کیا حرام ہے؟ فرمایا :"جب کوئی چیز خرید لو تو قبضہ سے پہلے اس کو فروخت نہ کرو"۔
فقہائے کرامؒ کی آراء
ان احادیثِ طیبہ کی روشنی میں فی الجملہ کسی چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو فروخت کرنے کے ناجائز ہونے پر تقریباً تمام فقہائے کرام کا اتفاق ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ تفصیلات میں اختلاف سے قطع نظر یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے یعنی فقہائے کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ قبضہ سے پہلے کسی چیز کو بیچنا ناجائز ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں زیادہ سے زیادہ نفع کی طلب مقصود ہوتی ہے۔ کاروباری معاملات میں جائز و ناجائز، صفائی و ستھرائی اور متعلقہ دیگر احکام پر عمل کرنے میں کافی غفلت اور سستی برتی جاتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات تجارتی لین دین میں شرعی احکام کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ دھوکہ دہی، جھوٹ، فراڈ عام ہے۔ نہ ذہنوں میں خدا کا تصور ہے، نہ آخرت کی جواب دہی کی فکر۔ اس لیے تجارت کے رائج طریقوں میں صرف مادی اور نقد نفع مطلوب ہو کر رہ گیا ہے۔
یاد رکھیے! شریعت کے بتائے ہوئے طریقے سے صرف آخرت کی کامیابی متعلق نہیں بلکہ سچ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کامیابی و سرفرازی بھی اس پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ بہرحال دور حاضر کے تجارتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا خریدی ہوئی چیز کو قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس کے منافع کا کیا حکم ہے؟ مختلف اشیاء میں قبضہ کی صورت کیا ہو گی؟ قبضہ کا شرعی مفہوم کیا ہے؟ معاملات کے اندر قبضہ درست ہونے کے لیے کیا عرف اور معاشرے کے رواج کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ آج قبضہ کے عنوان سے بہت سارے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے قبضہ کی لغوی، اصطلاحی اور شرعی حقیقت کی وضاحت کی جاتی ہے۔
قبضہ کی لغوی تعریف
قبضہ عربی زبان کا لفظ ہے جو ”قبض“ سے ماخوذ ہے۔ قبض کا معنی ہے ہتھیلی کے ساتھ کسی چیز کو پکڑنا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: ”قبض المال ای اخذہ بیدہ“ یعنی مال پر ہاتھ کے ذریعے قبضہ کرنا۔ اسی طرح ”قبض الید علی الشیء“ کا معنی ہے، ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑنا۔ بعض اوقات موت کو بھی قبض سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ موت کی وجہ سے انسان مقبوض ہو جاتا ہے۔
قبضہ کی اصطلاحی تعریف
فقہائے کرامؒ نے قبضہ کی وضاحت یوں بیان فرمائی ہے۔ ”معنی القبض ہو التمکین و التخلی و ارتفاع الموانع عرفا و عادۃ حقیقۃ“ (بدائع الصنائع: البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ، ج:5، ص:138، ط: دارالکتب العلمیۃ، 1328ھ، طبعہ اولی) یعنی قبضہ کا مطلب ہے کہ تصرف و قدرت دینا اور تمام معروف رکاوٹوں کو حقیقی طور پر دور کرنا۔
قبضہ کی شرعی حقیقت
واضح رہے کہ قرآن و سنت میں قبضہ کا کوئی متعین و محدود مصداق بیان نہیں کیا گیا ہے، نہ ہی اس کی ماہیت اور خاص حقیقت بیان کی گئی ہے، بلکہ اس کی تعیین کو عرف و عادت پر چھوڑ دیا ہے، کہ عرف و عادت سے اس کی حقیقت متعین ہوگی۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں ایک اصولی بات لکھی ہے:
”کل ماورد بہ الشرع مطلقا و لاضابط لہ فیہ و لا فی اللغۃ یرجع فیہ الی العرف، و مثلوہ بالحرز فی السرقۃ والتفرق فی البیع والقبض“۔ (الاشباہ والنظائر للسیوطی: الکتاب الاول، القاعدۃ السادسۃ، المبحث الخامس، ص:98، ط:دارالکتب العلمیۃ، 1403، طبعۃ اولی)
شریعت میں جو لفظ مطلق وارد ہوا ہو اور اس کے متعلق شریعت اور لغت میں کوئی ضابطہ مقرر نہ ہو، تو اس میں عرف کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ علماء نے اس کی مثال دی ہے چوری کے مسئلہ میں حرز کی اور بیع میں تفرق اور قبضہ کی۔
حاصل یہ ہے کہ قبضہ پایا جانے کے لیے قرآن و سنت میں کوئی لگی بندی صورت متعین نہیں کی ہے، بلکہ اسے لوگوں کے عرف و عادت پر چھوڑ دیا ہے کہ جس چیز کے بارے میں جس درجہ کے استیلاء اور عمل دخل کو لوگوں کے عُرف میں قبضہ تصور کیا جائے وہی اس کے حق میں بھی شرعاً قبضہ مانا جائے گا۔ قرآن و سنت میں اگرچہ قبضہ کی حقیقت اور اس کی کوئی خاص صورت مقرر نہیں کی گئی ہے، مگر احادیثِ طیبہ میں قبضہ کی مختلف کیفیات کی طرف اشارہ موجود ہے، مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ مقامِ خریداری سے منتقل کیے بغیر دوبارہ اس کو فروخت نہ کریں۔ ”یامرنا بانتقالہ من المکان الذی ابتعناہ فیہ الی مکان سواہ قبل ان نبیعہ“۔ (مؤطا امام مالک: البیوع، باب العینۃ وما اشبہہا، ج:2، ص:343، ط:مؤسسۃ الرسالۃ، 1412ھ، طبعۃ اولی)۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب تک خرید کردہ مال کو اپنے کجاوے میں منتقل نہ کر لیں اس وقت تک فروخت نہ کریں، ”حتی یحوزہا التجار الی رحالہم“ (سنن ابی داؤد: البیوع، باب فی بیع الطعام قبل ان یستوفی، ج:5، ص:358، ط: دارالرسالۃ العالمیۃ، 1430ھ، طبعہ اولی)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں ناپ تول قبضہ قرار دیا گیا ہے۔ ”فلایبعہ حتی یکتالہ“۔ (مسلم: البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:5، ص:8، ط:دارالطباعۃ العامرۃ ترکیا، 1334ھ) ظاہر ہے کہ ناپ تول سامان کو اس کی جگہ سے ہٹانا اور سامان کو اپنی دکان یہ سواری میں منتقل کرنے کے مفہوم و مصداق میں خاصا فرق ہے۔ اور جیسا کہ ماقبل میں گزر چکا کہ جن الفاظ کی شریعت نے تحدید و تعیین نہ کی ہو اس کے متعلق اصول یہ ہے کہ عُرف ہی سے اس کی مراد متعین ہو گی۔
قبضہ کے اقسام
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قبضہ کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: (۱) قبضہ حقیقی (۲) قبضہ حکمی۔
قبضہ حقیقی اس قبضہ کو کہتے ہیں کہ جس میں چیز انسان کے واقعی تصرف میں آ جائے، مثلاً کتاب خریدی تو اپنے ہاتھ میں لے لے، موٹر خریدی تو اس پر سوار ہو جائے۔
قبضہ حکمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے خرید کردہ سامان اس پوزیشن میں ہو جائے کہ وہ چاہے تو اسے بآسانی اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور استعمال کر سکتا ہو۔ یعنی بائع مبیع کو خریدار کے لیے اس طرح پیش کر دے کہ درمیان سے رکاوٹ اس طرح دور ہو جائے کہ مشتری کو اس میں تصرف کرنے میں پوری طرح قدرت حاصل ہو جائے۔ تو کہا جائے گا کہ بائع نے مبیع حوالہ کر دیا اور مشتری نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس کو فقہاء کرامؒ تخلیہ بھی کہتے ہیں، اور یہ ہر دور کے عرف اور عہد کے رواج اور طور و طریق ہی سے متعین ہو سکتا ہے۔
قبضہ میں سامان کی نوعیت کا اعتبار
جیسے قبضہ میں ہر زمانے کا عرف کا اعتبار ہے اسی طرح ہر چیز کا قبضہ اسی کے لحاظ سے ہو گا۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ ضابطہ لکھا ہے: ”لکن ذلک یختلف بحسب حال المبیع“۔ (رد المحتار: البیوع، مطلب فیما یکون قبضا للمبیع، ج:4، ص:561، ط: دارالفکر) یعنی قبضہ کی کوئی ایک صورت و نوعیت متعین نہیں ہے، بلکہ وہ مبیع کی حالت و کیفیت کے لحاظ سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اسی لیے فقہائے کرام نے مختلف صورتوں میں الگ الگ کیفیات کو قبضہ قرار دیا ہے اور اس کو مثالوں سے واضح کیا ہے، چنانچہ چند صورتیں ملاحظہ ہوں:
- کمرے میں اناج رکھا ہوا ہو تو اس پر قبضہ اس وقت مانا جائے گا جب اس کمرے کی چابی مشتری کو مل جائے اور وہ اسے بے تکلف کھول سکے۔
- کبھی خریدار کے تھیلے میں اس کی اجازت سے فروخت کردہ چیز کا رکھ دینا قبضہ کے حکم میں ہے، چاہے ایسا کرتے وقت خریدار خود موجود نہ ہو۔ ”لو اشتری مکیلا معینا و دفع المشتری الی البائع ظرفا و امرہ ان یکیلہ فی ظرف ففعل البائع و المشتری غائب صح“۔ (البحر الرائق: البیوع، باب السلم، ج:6، ص:182، ط: دارالکتاب الاسلامی، طبعہ ثانیہ)
- چراگاہ کے جانور پر قبضہ اس وقت سمجھا جائے گا جب وہ نگاہ کے سامنے ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا جا سکے۔
- کسی مکان میں بند جانور اور پرندے پر قبضہ اس وقت متصور ہو گا جبکہ مشتری بغیر کسی کی مدد کے ان کو پکڑ سکے۔
- کبھی قبضہ کا اطلاق کسی شے اور اس کے خریدار کے درمیان موانع تصرف کے ختم کر دینے سے تسلیم کیا جاتا ہے، مثلاً کسی کے پاس بطور امانت یا عاریت سامان موجود تھا، صاحبِ امانت اور صاحبِ عاریت نے اسی شخص کو وہ چیز فروخت کر دی، تو جب بھی یہ اس سامان کے پاس آجائیں، قبضہ کی تکمیل ہو جائے گی۔ اب اگر اس کے بعد وہ سامان ضائع ہو جائے تو خریدار کی ملکیت سے ضائع ہو گا۔ ”یصیر المشتری قابضا بالتخلیۃ، فاذا ہلک بعد ذلک یہلک من مال المشتری“۔ (البحر الرائق:البیوع، باب البیع الفاسد، ج:6، ص:87، ط: دارالکتاب الاسلامی، طبعہ ثانیہ)
- فقہائے کرام نے مکان کی کنجی حوالہ کر دینے کو قبضہ کے لیے کافی تصور کیا ہے، اگرچہ خریدار خود اس مکان تک نہ گیا ہو۔ ”و لو باع الدار و سلم المفتاح فقبض المفتاح و لم یذہب الی الدار یکون قابضا“۔ (فتاوی ہندیہ: البیوع، الباب الرابع، الفصل الثانی، ج:3، ص:16، ط: دارالفکر بیروت)
- کبھی سامان میں خریدار کا تصرف قبضہ کے حکم میں ہوتا ہے، مثلاً خریدار کے حکم سے فروخت کنندہ نے فروخت کی ہوئی گندم کو پیس دیا تو گندم پر قبضہ ہو گیا۔ ”و اذا امر المشتری للبائع بطحن الحنطۃ فطحن صار قابضا“۔ (فتاویٰ ہندیہ: البیوع، الباب الرابع، الفصل الثانی، ج:3، ص:20، ط: دارالفکر بیروت)
- بعض صورتوں میں ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دینے پر قبضہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ تصرف پر قدرت، تخلیہ یعنی حکمی قبضہ ہر ماحول ہر زمانے کے لحاظ سے بدل سکتا ہے، اس لیے اس کی کوئی حد قطعی مقرر نہیں کی جا سکتی۔
حضرت امام فخر الدین قاضی خان رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیں:
قبضہ حکمی یعنی تخلیہ کے تحقق کے لیے تین باتوں کا پایا جانا ضروری ہے:
- پہلی بات یہ ہے کہ بائع کہہ دے کہ یہ سامان میں نے تمہارے لیے چھوڑ دیا اور مشتری کہے میں نے قبضہ کر لیا۔
- دوسری بات یہ ہے کہ مبیع مشتری کے سامنے موجود ہو، بایں طور کہ مشتری مبیع کو لینا چاہے تو بلا کسی مانع (رکاوٹ) کے لے سکتا ہو۔
- تیسری بات یہ ہے کہ مبیع حق غیر کے ساتھ مشغول نہ ہو۔
قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی ممانعت سے متعلق احادیث معلول بالعلۃ ہیں
قبضہ سے پہلے فروخت کی نہی سے متعلق احادیث جمہور فقہائے کرام کے نزدیک معلول بالعلۃ ہیں اور حنفیہ کے نزدیک بنیادی طور پر اس کی علت ”اندیشۂ غرر“ ہے۔ یعنی جب تک مبیع پر قبضہ نہ ہو جائے اس بات کا اندیشہ ہے کہ شاید اس پر قبضہ حاصل ہو ہی نہ پائے اور یوں مبیع خریدار کو حوالہ نہ کی جا سکے، نیز مبیع میں کمی بیشی ہو جانے کا بھی خطرہ ہے، اس لیے شریعت نے مالکانہ قبضہ اور اپنے اختیار و ضمان میں آنے سے پہلے تصرف سے منع کیا ہے۔
چنانچہ مشہور حنفی محقق شیخ الاسلام برہان الدین المرغینانی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”ہدایہ“ میں قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی احادیث کو معلول بالعلۃ قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”و الحدیث معلول بہ عملا بدلائل الجواز“۔ (ہدایۃ: البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، ج:3، ص:59، ط: داراحیاء التراث العربی، 1425ھ، طبعہ اولی) یعنی قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی حدیث معلول بالعلۃ ہے اور علت اندیشۂ غرر ہے، جواز کے دلائل پر عمل کرتے ہوئے۔
علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ نے ”معلول بہ“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ”و الحدیث الذی استدل (معلول بہ) ای بغرر الانفساخ“۔ (فتح القدیر: البیوع، باب المرابحۃ و التولیۃ، ج:6، ص:514، ط: دارالفکر بیروت) جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ معلول ہے اور علت عقد کے فسخ ہونے کا دھوکہ ہے۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ نے قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی حدیث کو معلول بالعلۃ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ”و الغرر المنہی غرر انفساخ العقد و الحدیث معلول بہ عملا بدلائل الجواز“ (البحر الرائق:البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، ج:6، ص:126، ط: دارالکتاب الاسلامی، طبعہ ثانیہ) اور دھوکہ جو کہ ممنوع ہے وہ ہے جس میں عقد فسخ ہونے کا اندیشہ ہو اور حدیث مذکور معلول ہے اور علت اندیشۂ غرر ہے دلائل جواز پر عمل کرتے ہوئے۔
علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ نے قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کی نہی سے متعلق احادیث کو معلول قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے علت کی بنا پر نصوص کو منقول کے ساتھ خاص کیا ہے اور نہی کی علت عقد کے فسخ ہونے کا دھوکہ ہے۔ (اعلاء السنن: ۱۴، ۲۲۴)
مذکورہ بالا اقوال و عبارات کا حاصل یہ ہے کہ قبضہ سے پہلے بیع کی ممانعت سے متعلق احادیث معلول بالعلۃ ہیں اور علت نہی غرر کا اندیشہ ہے۔
منقولی اور غیر منقولی اشیاء میں فرق
قبضہ سے پہلے علی الاطلاق کسی بھی چیز کی بیع درست نہیں، خواہ مبیع منقول ہو یا غیر منقول، طعام ہو یا غیر طعام، یہ رائے امام شافعی، امام محمد بن حسن شیبانی اور امام زفر رحمہم اللہ کی ہے۔ اشیاء منقولہ کی قبضہ سے پہلے خرید و فروخت علی الاطلاق درست نہیں اور اشیاء غیر منقولہ کی بیع قبضہ سے پہلے اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ان کے ہلاک یا ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ مثلاً زمین، جائیداد، مکان وغیرہ، لہٰذا اگر زمین وغیرہ ایسی جگہ میں ہو جہاں پر ضائع اور برباد ہونے کا اندیشہ غالب ہو۔ مثلاً دریا اور سمندر کا کنارہ ہو، پانی یا ریت کے غالب آجانے کی وجہ سے زمین کے برباد ہونے کا اندیشہ غالب ہو، یا زمین و مکان ایسی پوزیشن میں ہو کہ اس کے گرنے کا اندیشہ ہو، ایسی شکلوں میں بغیر قبضہ کے خرید و فروخت کرنا شرعاً درست نہیں۔ یہ رائے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی ہے اور احناف کے نزدیک یہی راجح ہے۔ (فتح القدیر: البیوع، باب المرابحۃ و التولیۃ، ج:6، ص:514، ط: دارالفکر بیروت)
مالی معاملات میں قبضہ کی جدید اور اہم صورتوں کا بیان
بین الاقوامی تجارت میں (شِپِنگ) جہاز سے مال اترنے سے پہلے دوسرے کو فروخت کرنا
بین الاقوامی تجارت میں شیپنگ (جہاز پر مال چڑھانے) کے بعد اصل بائع کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے، اور اگر مشتری تک مال پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جائے تو اس کا وہ ضامن نہیں ہوتا۔ اور پھر یہ مشتری مال کی وصولی سے پہلے، جبکہ مال سمندر میں ہے، تیسرے شخص (پارٹی) کے ہاتھ مال فروخت کر دیتا ہے اور مال ضائع ہونے کی صورت میں اس کا ضامن نہیں ہوتا بلکہ تیسرا خریدار ضامن ہوتا ہے، کیا یہ صورت شرعا جائز ہو گی؟
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اس صورت میں مشتری اول نے مال کی خریداری کے بعد بائع اول سے کہا کہ میرا فلاں مال فلاں جہاز پر لاد دیا جائے، اور بائع نے اس کے حکم کے مطابق مال جہاز پر لدوا دیا، تو اب وہ مال بائع کے قبضہ و ضمان سے نکل کر مشتری اول کے قبضہ و ضمان میں آگیا۔ جہاز کے عملہ کا قبضہ جن کی حیثیت مشتری کے اجیر کی ہے، مشتری کا قبضہ قرار پائے گا۔ اور جب سامان اس کے قبضہ و ضمان میں آگیا تو اس کے لیے اس میں ہر طرح کا تصرف کرنا بھی جائز قرار پائے گا۔ اور جب اس نے جہاز پر لدے ہوئے مال کو مقبوض و مملوک ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا تو یہ بیع قبل القبض نہیں ہوگی، بلکہ بیع مقبوض و مملوک ہونے کی وجہ سے جائز و درست قرار پائے گی۔ اور جس طرح جہاز کے عملہ کا قبضہ مشتری اول کا قبضہ مانا جائے گا اسی طرح جہاز کے عملے کا قبضہ مشتری ثانی کا قبضہ بھی قرار پائے گا۔ فتاویٰ ہندیہ میں اجیر کے قبضہ کو مستاجر کا قبضہ تسلیم کیا گیا ہے: ”الا ان یقول استاجر علی من یحملہ، فقبض الاجیر یکون فبض المشتری“۔ (فتاویٰ ہندیہ: البیوع، الباب الرابع، الفصل الثانی، ج: 3، ص:19، ط:دارالفکر بیروت)
زمین، جائیداد اور مکان کی محض رجسٹری کرانے سے ملکیت اور قبضہ کے ثبوت کا حکم
ماضی قریب کے بعض علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ موجودہ دور میں جن ممالک کے اندر رجسٹری کا نظام موجود ہے اور وہاں زمین کے حقوق و انتقال میں رجسٹری کا اعتبار کیا جاتا ہے، تو اگر وہاں محض کسی کے نام کوئی زمین وغیرہ رجسٹر کر دی جائے تو اس سے ملکیت اور قبضہ ثابت ہو جائے گا اور زمین کا ضمان، حقوق اور ملکیت بائع سے مشتری کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ رجسٹری کے بعد زمین سے بائع کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت اجنبی کی بن جاتی ہے، اور اگر رجسٹری کے بعد بھی بائع اس کو خالی کرنے اور حوالہ کرنے سے انکار کر دے تو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اس سے زمین لی جائے گی۔
لہٰذا غیر منقولی اشیاء زمین وغیرہ میں یہ فقہی حکم ”کہ جب تک گھر بائع کے سامان کے ساتھ مشغول ہو قبضہ معتبر نہیں ہو گا“ یہ ان مقامات اور جگہوں کے ساتھ خاص ہو گا جہاں رجسٹری کا نظام موجود نہ ہو۔ یہ نقطۂ نظر درست معلوم نہیں ہوتا اور اس میں خاص کر دو باتیں قابل غور ہیں:
- ایک بات یہ ہے کہ اگر بالفرض کوئی عمارت، مکان وغیرہ مشتری کے نام رجسٹر ہو، لیکن بائع عملی طور پر حوالہ نہ کرے اور مکان بائع کے قبضہ میں ہی رہے اور فارغ کر کے حوالہ کرنے سے قبل ہی عمارت ہلاک ہو جائے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ مشتری کے مال سے ہلاک ہو گا؟ ظاہر ہے کہ نہیں، بلکہ فقہائے کرام کی رائے کے مطابق یہ بائع کے مال سے ہلاک شمار ہو گا، نقصان بائع کا شمار ہو گا نہ کہ مشتری کا۔
- دوسری بات یہ ہے کہ بعض مرتبہ رجسٹری مختلف مصالح کے پیش نظر کی جاتی ہے، مثلاً بہت سے ملکوں میں ٹیکس وغیرہ سے بچنے کے لیے مالک کے علاوہ کسی دوسرے نام زمین رجسٹر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اس صورت میں محض رجسٹری ملکیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہاں بالاتفاق ملکیت اصل مالک کی قرار دی جاتی ہے۔ (فقہ البیوع: المبحث الثالث، ھل التسجیل فی النظام العقاری یعتبر قبضا، ۱، ۴۰۲، ط: معارف القرآن کراتشی)
لہٰذا درست نقطۂ نظر یہ ہے کہ رجسٹری کے ساتھ ساتھ مکان وغیرہ فارغ کر کے حوالہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی رجسٹری کے ساتھ تخلیہ کا ہونا ضروری ہے۔ (المدخل الفقہی العام: ۲، ۷۰۶، ط: دارالقلم، 1433ھ، طبعۃ ثالثہ)
فیکٹری اور کمپنی سے خریدا ہوا مال قبضہ سے پہلے دوسرے کو فروخت کرنا
اگر ایک شخص کسی فیکٹری اور کمپنی وغیرہ سے مال خرید کر کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ فروخت کر دے، اور ابھی خریدا ہوا مال فیکٹری وغیرہ سے روانہ بھی نہ کیا ہو تو یہ صورت ”بیع قبل القبض“ میں داخل اور جائز نہیں ہے۔
- البتہ جواز کی ایک شکل یہ ہے کہ دوسرا خریدار کمپنی یا فیکٹری کو یا خریدار اول کو اپنا وکیل بنا دے قبضہ کرنے کے لیے، مثلاً یہ کہہ دے کہ اس مال کو میری طرف سے وکیل بن کر قبضہ کر لینا۔
- جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ ابھی بیع کا معاملہ نہ کرے، بلکہ وعدۂ بیع کرے، جب مال مشتری ثانی یعنی دوسرے خریدار کے پاس پہنچ جائے تب بیع کا معاملہ کرے۔ اور اگر پہلے کر بھی چکا ہے تو مال پہنچنے کے بعد پھر سے بیع کرے تاکہ یہ معاملہ درست ہو جائے۔ نیز اس صورت میں کسی مستند دارالافتاء سے باقاعدہ فتویٰ لینے کے بعد مالکیہ و حنابلہ کے مذہب میں جو وسعت ہے اس سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، کیونکہ ان حضرات کے نزدیک صرف طعام یعنی کھانے پینے کی چیزیں، جو کیل یا وزن سے فروخت کی جائیں، ان کی بیع تو قبل القبض ناجائز ہے، اس کے علاوہ جملہ اشیاء کی بیع قبل القبض بھی جائز ہے کیونکہ نفس عقد ہی سے مبیع مشتری کے ضمان میں داخل ہو جاتی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں ابتلاء عام کے پیش نظر مالکیہ و حنابلہ کے مذہب پر غور کیا جا سکتا ہے۔ (فقہ البیوع:۱، ۳۹۳، الشرط السابع ان یکون مقبوضا للبائع، ط: معارف القرآن کراتشی)
خزانۂ الٰہی کی کنجی دُعا اور اس کے دندانے لقمۂ حلال
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
جس پیٹ میں حلال مال جائے وہ پیٹ مبارک ہے۔ حلال اور حرام میں تمیز اسلامی اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے۔ اسلام حلال مال کھانے کا درس دیتا ہے اور حرام سے روکتا ہے۔ حلال مال کی طلب تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جس نے چالیس دن ایسی حلال روزی کھائی جس میں کچھ نہ حرام ملا ہو حق تعالیٰ اس کے دل کو نور سے بھر دے گا اور حکمت کے چشمے اس کے دل سے جاری کر دے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل سے نکال دیتا ہے اور حلال روزی کھانے والے کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو حرام سے کھاتا ہے اس کی نہ فرض نماز قبول ہوتی ہے نہ سنت۔ ایک اور ارشاد ہے کہ جس نے ایک کپڑا دس درہم دے کر لیا جس میں ایک درہم حرام ہے تو جب تک وہ کپڑا بدن پر رہے گا اس کی نماز قبول نہ ہو گی، اور جو گوشت بدن پر حرام روزی سے پیدا ہوا دوزخ کی آگ میں جلے گا۔ جس نے پرواہ نہ کی اس بات کی کہ مال کہاں سے پیدا کیا ہے اللہ پاک اس بات کی پرواہ نہ کرے گا کہ اس کو کہاں سے دوزخ میں ڈالے۔
ارشاد مصطفیﷺ ہے، جو طلبِ حلال میں تھک کر گھر جاتا ہے اور سو جاتا ہے اس کے سب گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور صبح کو جب وہ سو کر اٹھتا ہے اللہ پاک اس سے خوش ہوتے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جو حرام سے پرہیز کرتا ہے مجھے شرم آتی ہے کہ اس سے حساب لوں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ کھانا کپڑا ان کا حرام ہے پھر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں، ایسی دعا کب قبول ہو گی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رزق حرام کھا کر عبادت کرنا ایسا ہے جیسے ریت یا پانی پر گھر بنایا جائے، حرام کھانے والے کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
حضرت علی المرتضٰیؓ فرماتے ہیں کہ حلال کمائی کی لذت اس شخص کو محسوس ہوتی ہے جو حرام کمائی چھوڑنے کی مکمل کوشش کرتا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے غلام کے ہاتھ سے تھوڑا سا دودھ پی لیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی وجہ سے حلال نہیں ہے فوراً اپنی انگلی حلق میں ڈال کر قے کی اور اللہ پاک سے التجا کی کہ یااللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس مقدار سے جو میری رگوں میں رہ گیا ہے اور باہر نہیں نکلا۔ جو حلال روزی کھائے گا اس کے اعضاء اطاعت میں رہیں گے اور ہمیشہ توفیق خدا اس کے ساتھ رہے گی۔
ادب سے دیکھنا لوگو یہ میرا رزق حلال
کہ کم لگے بھی تو تاثیر میں زیادہ ہے
قرآن و سنت میں کثرتِ رزق کے اسباب بیان فرمائے گئے ہیں جن میں سے دس مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ استغفار کرنا (سورۃ نوح)
2۔ تقویٰ اختیار کرنا (سورۃ طلاق)
3۔ اللہ کی ذات پر توکل کرنا (مسند امام احمد بن حنبل)
4۔ حسبِ حیثیت صدقہ خیرات کرنا (سورۃ سبا)
5۔ شکر کرنا (سورۃ ابراہیم)
6۔ صلہ رحمی کرنا (صحیح بخاری شریف)
7۔ پاکدامنی کے لیے شادی کرنا (سنن النسائی)
8۔ لگاتار حج و عمرہ کرنا (سنن الترمذی)
9۔ گناہوں کو چھوڑ دینا (سنن ابن ماجہ )
10۔ صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکلنا (سنن ابی داود)
آج معاشرے میں حلال حرام کی تمیز نہیں رہی اسی وجہ سے ہر دوسرا آدمی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ حلال میں اللہ پاک نے مٹھاس اور سکون رکھا ہے، حرام مال میں سے راحت اٹھا دی گئی ہے، جو لوگ معاملات کو درست رکھتے ہیں وہ ہمیشہ سرشار رہتے ہیں اور جن کے معاملات اچھے نہیں وہ پریشانیوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے اسلاف اس بات کا بہت خیال رکھا کرتے تھے کہ کہیں کسی کا حق نہ مارا جائے۔ ایک اللہ والے کسی بیمار کے سرہانے بیٹھتے تھے اور اس کی بیمار پرسی کیا کرتے تھے، جب وہ بیمار مر گیا تو فوراً اس کے کمرے میں لگے ہوئے چراغ کو بجھا دیا کہ اب اس کا تیل ورثاء کا حق ہے (سبحان اللہ)۔ ایسے ہی لوگوں کی دعائیں پھر عرش والا رد نہیں کرتا، ان کے چلنے پھرنے کو بھی عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے۔
یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے غنیمت کا مُشک گھر میں اپنی اہلیہ کو دیا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے حصے کرو! آپؓ کی اہلیہ نے اس کے چھوٹے چھوٹے حصے کر دیے۔ ہاتھ سے دوپٹہ کو چھوا تو اس دوپٹہ سے خوشبو آنے لگی۔ آپؓ نے فرمایا کہ تمہارا مقنع خوشبو کیوں دیتا ہے؟ یہ تو تمام مسلمانوں کا حق ہے۔ اللہ اکبر یہ حضرت عمرؓ کی شانِ فاروقی تھی کہ مسلمانوں کی جان و مال کا کتنا خیال رکھا کرتے تھے، تبھی تو زمین ان کے پاؤں کی ٹھوکر سے فوراً سکوت اختیار کر لیتی تھی۔ جس زمین پر عدل و انصاف ہوتا ہے، دوسروں کے مال کی نگہبانی ہوتی ہے، اس زمین کو بھی قرار ملتا ہے۔ جہاں غیروں کے مال کو اپنا سمجھا جائے اور عوام الناس کے مال کو بے دریغ استعمال کیا جائے تو زمین ہی کیا زمین میں رہنے والی مخلوقات بھی ایسے لوگوں کے لیے بد دعائیں کرتی ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے سامنے مُشک لائی گئی تو آپ نے فوراً اپنی ناک پکڑ لی کہ اس کی خوشبو کہیں میری ناک میں نہ چلی جائے کیونکہ اس پہ تمام مسلمانوں کا حق ہے۔ حضرت امام حسنؓ نے صدقہ کے مال میں سے ایک خرمالے کو منہ میں رکھ لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کخ کخ القھا‘‘ یعنی اس کو پھینک دے۔ جب تربیت ایسی ہو گی تو اولاد بھی اپنے آباؤاجداد کے اقوال و افعال کو اپناتے ہوئے ان کی طریقوں پہ اپنی جان کو قربان کیا کرتی ہے۔
نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ جو چالیس دن شبہ کا مال کھائے گا اس کا دل سیاہ ہو جائے گا۔ غور کریں یہاں پہ تو جان بوجھ کر مال کو غصب کیا جاتا ہے۔ ڈاکہ زنی، رشوت خوری کا بازار گرم ہے، دل سیاہ سے بھی سیاہ تر ہو چکے ہیں۔ نصیحت بے فائدہ جاتی ہے۔ عملِ نیک سے انسان دور اور عملِ بد پہ انسان خوش دکھائی دیتا ہے۔ اصل وجہ پیٹ کو لقمہ حلال میسر نہ ہونا ہے۔
حضرت یحیٰی بن معاذؒ فرماتے ہیں کہ طاعت خزانہ الٰہی ہے اور اس کی کنجی دعا ہے اور اس کے دندانے لقمہ حلال ہیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں خزانہ الٰہی کو حاصل کرنے کے لیے دعا کی کنجی کی ضرورت ہے اور جس کنجی کے دندانے نہ ہوں تو تالا نہیں کھلتا ہے۔ لقمہ حلال دعا کی کنجی کے دندانے ہیں۔ اب دندانوں کو بھی سلامت رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ دعا کی کنجی سے خزانہ الٰہی حاصل ہو سکے۔ اللہ پاک ہمیں حلال کی وافر روزی عطا فرمائے اور حرام کے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین۔
پاکستان میں اسلامائزیشن، توہینِ رسالت کا مسئلہ، قائدِ اعظم کا تصورِپاکستان
جامعۃ الرشید میڈیا ہاؤس کا انٹرویو
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
انٹرویو نگار : مولانا عبد الودود
پاکستان میں اسلامائزیشن
مولانا عبد الودود:
اس وقت ہم یہاں موجود ہیں، ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب، شعبہ قانون کے چیئرمین ہیں بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے، اور ان سے ہم مختصراً کچھ قانون کے متعلق جاننا چاہیں گے۔ سب سے پہلے تو ہم پاکستان کی اسلامائزیشن کے متعلق ان سے سوال کریں گے کہ جو پاکستان کا آئین ہے اس کے اندر اسلامی جو دفعات ہیں ان کے حوالے سے آل اوور جو ہماری قوم ہے، اس کو کیا امیدیں ہیں؟ اور کتنا اس کے اندر ہمارے لیے آگے بہتری کا امکان موجود ہے؟ میں ان کی خدمت میں پہلا سوال یہ رکھوں گا کہ پاکستان کے آئین کے حوالے سے تھوڑا سا ہمیں، اسلامی دفعات جو اس میں ہیں، ان کے حوالے سے ہمیں بریف کریں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بہت بہت شکریہ۔ اور یہاں جامعۃ الرشید میں آ کر جو ہمیں موقع دیا گیا ہے، میں تو اسے اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتا ہوں۔ یہ جو آپ کا سوال ہے پاکستانی قانون اور دستور کے بارے میں کہ اس میں اسلامائزیشن کے حوالے سے کیا کام ہوا ہے اور ہمیں مزید کتنی اس سے امید رکھنی چاہیے۔ میرے خیال میں تو پاکستان میں اسلامائزیشن آف لاز کے حوالے سے جتنا کام ہوا ہے، اتنا کسی اور مسلم ریاست میں نہیں ہوا ہے۔ اور اس وجہ سے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ یہاں اتنا اعلیٰ درجے کا بھی کام ہوا ہے اور بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ دستور کے اندر بھی بہت ساری چیزیں ایسی شامل ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے دستور کا جو اسلامی تشخص ہے وہ قائم ہے۔ اور قوانین میں بھی بہت سارے قوانین جو غیر شرعی تھے، یا شریعت سے متصادم شقیں اس میں موجود تھیں، تو ان کو دور کیا گیا ہے۔ اور چند مسائل اب بھی رہتے ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ دستور میں ان چیزوں کے لیے ایک پورا میکنزم دیا گیا ہے۔
ایک جانب ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کی تشکیل کی گئی ہے جو قانون سازی میں پارلیمان کی مدد کرتی ہے، سفارشات اپنی دیتی ہے کہ ان قوانین سے یہ یہ امور ہٹائے جائیں تو یہ شریعت سے ہم آہنگ ہو جائیں گے، یا آئندہ کے لیے قانون سازی اس طریقوں سے کی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان ان سفارشات کو زیر بحث لائے۔ ان میں سے پھر ظاہر ہے، اگر پارلیمان ان میں تبدیلی کرنا چاہے، ترمیم کرنا چاہے، تو قانون سازی کا حق تو پارلیمان ہی کا ہے۔ لیکن کم از کم ان سفارشات کو بحث میں لایا جائے۔
پھر اس کے بعد جب قانون ایک دفعہ بن جائے اور اس کے باوجود کسی شہری کو یہ خیال ہو کہ اس میں کچھ باتیں شریعت سے متصادم ہیں، تو دستور نے اس کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ تشکیل دیا ہے ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ کا کہ آپ وہاں جا کر ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ شق شریعت سے متصادم ہے تو اس کو ختم کیا جائے۔ وہاں عدالت آپ کی بات بھی سنتی ہے، حکومت کی بات بھی سنتی ہے، پھر اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ پھر اس کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں جاتی ہے جہاں اس کے لیے خصوصی بینچ ہے، شریعت ایپلیٹ بینچ، تو اس کا فیصلہ پھر حتمی ہوتا ہے۔
اس طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے 80ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستان میں بہت سارے قوانین سے غیر شرعی جو دفعات تھیں وہ ختم کی گئی ہیں۔ اسلامی قوانین یہاں اس کے ذریعے آگئے ہیں۔ جیسے حقِ شفعہ کے متعلق قانون تھا یا قصاص و دیت کا قانون ہے۔ تو اس طرح کی بہت ساری چیزیں آگئی ہیں۔ اب مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہ جو وفاقی شرعی عدالت ہے، یا شریعت ایپلیٹ بینچ ہے سپریم کورٹ کی، تو پچھلے کچھ عرصے سے وہ اتنی فعال نہیں رہی ہیں، تو ان کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اور بنیادی ذمہ داری دینی طبقے پہ ہے کہ وہ ان فورمز کو یوز کرے استعمال کرے۔ اور یہ وہ طریقے ہیں جن میں ہم قانون اور دستور کی حدود کے اندر رہتے ہوئے شریعت کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔
توہینِ رسالت کا قانون
مولانا عبد الودود:
بہت شکریہ جی۔ اور ڈاکٹر صاحب، ایک سوال اور اس حوالے سے کہ اسلامی دفعات یقیناً ہیں، اس میں پھر سب سے ایک جو اِس وقت ایشو ہے، کرنٹلی بالکل، اور اس پہ پہلے بھی، کچھ عرصہ پہلے کافی ساری چیزیں اس پہ ہوئیں بھی۔ توہینِ رسالت کا ایک قانون ہے ہمارے آئین کے اندر، ظاہر ہے وہ موجود ہے اور اس کو کوئی چھیڑ چھاڑ بھی اس کے لیے ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، ظاہر ہے ہم کر بھی نہیں سکتے، لیکن اس کے متعلق جو ہے آج کل اتنی بد احتیاطی ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے وہ اٹھتا ہے کسی پر بھی گستاخِ رسول کا فتویٰ لگا دیتا ہے، یا اس کے خلاف گستاخِ رسول کی درخواست دائر کر کے پرچے دلوا دیتے ہیں۔ پھر لوگ بھگتتے رہتے ہیں ان کو۔ اس کے لیے کیا آگے لائحہ عمل ہونا چاہیے پاکستان کے اداروں کا، ان کو کیا اس کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، کیا سمجھتے ہیں آپ؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
دیکھیں دو باتیں ہیں۔ ایک جانب تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ توہینِ رسالت کا جرم اتنا سنگین ہے کہ اس کے بارے میں کوئی بھی مسلمان ظاہر ہے اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ اور اس جرم پر سخت ترین سزا، جو سزائے موت کی ہے، اگر وہ پاکستان کے قانون میں چونکہ ہے، تو اس میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے اور اس قانون میں اسے رہنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ نہیں ہوگا تو اس سے بہت زیادہ مسائل ہوں گے۔ توہینِ رسالت کی سزا اس قانون میں ہے وہ رہنی چاہیے۔
دوسری جانب جو آپ نے بات ذکر کی وہ اپنی جگہ ہمیں دکھائی دیتی ہے کہ بہت زیادہ مقدمات ہمیں ایسے نظر آتے ہیں جن میں بظاہر بدنیتی کا شبہ بھی آ جاتا ہے، اور کچھ اور بھی اسباب ہوتے ہیں، جن میں لوگوں کو پھر فریم کیا جاتا ہے توہینِ رسالت کے مقدمات میں۔ تو اب ان کی روک تھام کیسے کی جائے؟
ایک طریقہ وہ ہے جو حکومت نے کیا ہے کہ ضابطۂ فوجداری میں ترمیم کر کے توہینِ رسالت کے مقدمے کے اندراج کا طریقہ کافی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر آپ اس کو اور زیادہ مشکل بناتے ہیں تو پھر جو حقیقی واقعات ہوتے ہیں، توہینِ رسالت یا گستاخی کی اگر کوئی بات ہوئی ہے، تو اس میں اگر ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ اتنا مشکل ہے، تو مسائل ظاہر ہے اس سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ جو مسئلہ ہے کہ لوگوں کو غلط طریقے سے اس میں فریم کیا جاتا ہے، تو ایک تو قانون میں باقاعدہ اس کے لیے طریقہ کار موجود ہے کہ اگر جھوٹا مقدمہ ہو تو پھر جھوٹا مقدمہ درج کرانے والے کے لیے کیا سزا ہے؟ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 194 میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے دوسرے شخص پر ایسا الزام رکھا جس میں سزائے موت ہو سکتی ہے، اور وہ بعد میں ثابت ہوا کہ جھوٹا مقدمہ تھا، تو اس جھوٹا مقدمہ دائر کرنے والے کو عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ تو اگر اسے عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے، میرے خیال سے یہ کافی سزا ہے اس معاملے میں، لیکن اگر جھوٹا مقدمہ دائر کرتے وقت اس بندے نے جھوٹی شہادتیں بھی گھڑی ہیں اور اس کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، تو یہ تو خود توہین کا مرتکب اس صورت میں ہو جاتا ہے، تو پھر اس پر الگ سے توہینِ رسالت کا مقدمہ بن سکتا ہے۔
لیکن یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ جو بھی شخص توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کرے اور پھر وہ ثابت نہ کر پائے تو پھر اس پر توہین کا مقدمہ چلایا جائے، اطلاق کے ساتھ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ بالخصوص، آخری بات اس میں میں عرض کروں گا کہ پاکستان میں جرم ثابت کرنا، وہ آپ کے ریاستی اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ آپ نے صحیح الزام لگایا ہوتا ہے، بندے نے واقعی کوئی ایسی حرکت کی ہوتی ہے، لیکن آپ کے ادارے اس کے خلاف شواہد اور ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو اس کا ملبہ پھر اس بندے پر کیوں ڈالا جائے جس نے وہ شکایت درج کی ہے؟ تو دونوں چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
قائد اعظم کا تصورِ پاکستان
مولانا عبد الودود:
جی ڈاکٹر صاحب، ایک سوال یہ ہے کہ 25 دسمبر قائد اعظم ڈے ہے اور اس حوالے سے ہم آپ سے یہ جاننا چاہیں گے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ایک اسلامی ریاست چاہتے تھے؟ اور ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں، جو ہم نے سنا ہے کہ وہ ایک صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست چاہتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں ان کا نیریٹو سیکولر تھا، کوئی کہتا ہے لبرل تھا۔ آپ کی قانون پہ ایک گہری نظر ہے، اُس پورے ماحول کو، اُس انوائرمنٹ کو، جو اس وقت کریئٹ تھا، کریئٹ کیا گیا تھا اِس مملکت کے لیے، کیا سمجھتے ہیں کہ قائد اعظم کیسا ملک چاہتے تھے، کیسا خطہ چاہتے تھے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
قائد اعظم رحمہ اللہ کا تو اصل میں جو کیریئر ہے، اگر آپ اس کو دیکھیں تو اس میں، ان کی فکر میں بھی، ان کی سوچ میں بھی، ایک ارتقا کا عُنصر تو نظر آتا ہے کہ شروع میں وہ کیا تھے پھر آخر میں کہاں تک پہنچے۔ تو جو ان کا آخری دور ہے بالخصوص، جب انہوں نے مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کا کام کیا 1937ء کے بعد سے، اور پھر 1940ء کے بعد سے تحریکِ پاکستان شروع کی اور پاکستان کا ہدف اپنے لیے مقرر کیا، تو اس دور میں تو وہ بالکل آپ یوں کہیں کہ اس معاملے میں مطمئن تھے کہ ہم اسلامی ریاست چاہتے ہیں اور یہاں شریعت کی بالادستی ہونی چاہیے، مسلمان یہاں شریعت کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
اگر آپ اس سلسلے میں اور کچھ نہیں تو علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب کی جو خط و کتابت ہے دیگر علماء کرام کے ساتھ، وہ ملاحظہ کریں۔ کیونکہ وہ اس ساری تحریک میں اس کے روحِ رواں تھے، اور اس وقت جو اعتراضات ہو رہے تھے وہ براہ راست ان کا جواب دے رہے تھے۔ وہ دیکھیں کہ وہ قائد اعظم کے کردار کے بارے میں، ان کی دیانت کے بارے میں کس طرح کا موقف رکھتے ہیں؟ اور وہ کیوں یہ یقین رکھتے تھے کہ قائد اعظم کی لیڈرشپ میں ہمیں جانا چاہیے اور پاکستان بنانا چاہیے، اور یہاں اسلامی شریعت کے لیے ہم کس طرح کام کر سکیں گے۔
قائد اعظم کے بارے میں ان کے بدترین دشمن بھی یہ بات مانتے ہیں کہ وہ honest تھے اور ان کی integrity ہر شک و شبہے سے بالاتر تھی۔ یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ وہ بظاہر کچھ ہوں اور اندر کچھ اور چاہتے ہوں۔ اس وجہ سے جو لوگ ان کی باتوں میں سے ایک آدھ بات بیچ میں سے اٹھا کے، سیاق و سباق سے بھی ہٹا کے لے آتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو سیکولر نظام چاہتے تھے۔ تو بھئی اس سے پہلے بھی انہوں نے کچھ کہا ہے، اس کے بعد بھی کچھ کہا ہے، تو اس کی روشنی میں اگر ایک آدھ بات آپ کو نظر بھی آتی ہے تو اس کا مفہوم متعین کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے تھے؟
بالکل آخری دور میں، جولائی 1948ء میں انہوں نے سٹیٹ بینک کا افتتاح کیا اور اس افتتاح کے موقع پہ جو انہوں نے تقریر کی ہے وہ آفیشل ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں سٹیٹ بینک کو کہ دنیا نے مغربی نظام کا تجربہ کر کے، معیشت کا تجربہ کر کے دیکھ لیا، اور اس کا فساد بھی سامنے آگیا ہے۔ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام قائم کریں، اور میں اس سلسلے میں، آپ جو کام کریں گے، میں اس پر نظر رکھوں گا کہ آپ اس سلسلے میں کیا کرتے ہیں، کہ استحصال کا خاتمہ کیسے ہو، اسلام اس معاملے میں کیا چاہتا ہے۔
میرے دادا مرحوم علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، وہ قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں تھے، ان کے ساتھ ان کی خط و کتابت بھی تھی۔ اور میں نے ان سے پوچھا بھی تھا، اور قائد اعظم کے خطوط جو ان کے نام ہیں، ان میں بھی واضح طور پہ یہ تصریح ملتی ہے کہ ہم نے پاکستان کس مقصد کے لیے حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مجھے تو اس بارے میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ قائد اعظم اسلامی فلاحی ریاست ہی چاہتے تھے۔
جامعۃ الرشید کا تربیتی کورس
مولانا عبد الودود:
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب، آخری سوال یہ ہے کہ دو روزہ تربیتی کورس برائے مفتیان کرام، جامعۃ الرشید میں آپ نے دو روز گزارے ہیں اور مفتیان کرام کے ساتھ آپ کے سیشنز ہوئے ہیں، دونوں روز لیکچرز ہوئے ہیں، سوال و جواب کے سیشنز ہوئے ہیں، کیسے فیل کر رہے ہیں آپ اس پورے ماحول میں آ کر؟ مدرسے کے ظاہر ہے ماحول میں آپ آئے ہیں، پورے دو دن آپ نے گزارے ہیں، کیا فیلنگز ہیں؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے، بہت آپ یوں کہیں کہ سعادت محسوس ہو رہی ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کے بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی نہیں مل رہے ہیں۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ یہاں بہت ہی وسعتِ قلبی کے ساتھ ہماری مہمان نوازی بھی کی گئی، ہمیں سنا بھی گیا، ہمیں بولنے کا موقع بھی دیا گیا، جہاں ہم نے اختلاف بھی رکھا وہ اختلافی بات بھی سنی گئی۔ اور بہت ہی مناسب انداز میں یہ سارا مکالمہ ہوا، مباحثہ ہوا۔ اور اس میں ہمیں، خود ذاتی طور پہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے اور بعض امور میں تو مجھے اپنی تصحیح کا بھی الحمد للہ موقع ملا ہے۔ تو مجھے تو یہاں آ کے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے، بہت اعلیٰ پیمانے پر یہاں اسلامی شریعت کے لیے، اسلامی علوم کے لیے کام ہو رہا ہے۔ اور جدید دور کے جتنے بھی مسائل ہیں اور چیلنجز ہیں، مجھے پکا یقین ہے کہ یہ ادارہ ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور ہم ان شاء اللہ اپنی جانب سے جو تعاون کر سکتے ہیں وہ جاری رکھیں گے اور یہاں سے ان شاء اللہ آئندہ بھی استفادہ کرنے کی کوشش کریں گے، اور بہت زیادہ، یعنی یہاں سے ہم کچھ سیکھ کر جا رہے ہیں واپس۔
پاک بنگلہ تعلقات — علماء کی سفارت کاری
عمار خان یاسر
پچھلے چند دنوں سے آپ سوشل میڈیا پہ دیکھ رہے ہوں گے کہ پاکستانی علماء کرام بہت بڑی تعداد کے اندر بنگلہ دیش جا رہے ہیں، بڑی بڑی کانفرنسیں ہو رہی ہیں، بڑے بڑے جلسے ہو رہے ہیں، اور مختلف مدرسوں کے اندر بخاری شریف کے دروس دیے جا رہے ہیں پاکستانی علماء کی جانب سے، اور لاکھوں کی تعداد کے اندر عوام نکل رہی ہے۔ ابھی جو فدائے ملت کانفرنس ہو یا ختمِ نبوت کانفرنس ہو، اس کے اندر آپ دیکھ لیں، اتنا مجمع پاکستان میں آج تک کسی جلسے میں دیکھنے کو نہیں ملا جو وہاں پہ آ رہا ہے۔ اور لوگوں کی جو محبت ہے پاکستانی علماء سے، جو اظہار ہے والہانہ، عجیب طرح کا ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ جیسے 1971ء سے پہلے کا زمانہ آگیا ہو کہ جس طرح تقسیم سے پہلے وہاں کے علماء اِدھر آ رہے ہیں اِدھر کے علماء اُدھر جا رہے ہیں، جلسے جلوس، یہ ساری چیزیں چل رہی ہیں۔
اور ابھی جو پرسوں ختم نبوت کانفرنس ہوئی ہے ڈھاکہ کے سہروردی گراؤنڈ میں، بہت بڑا اجتماع تھا، اور پاکستان سے تقریباً میرا خیال ہے کوئی 15 سے اوپر علماء تھے جنہوں نے اس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ اور یہ 1971ء کے بعد شاید اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع تھا جس میں بڑی تعداد پاکستان کے علماء کی نہ صرف شریک ہوئی ہے بلکہ ہندوستان کے بھی جو چوٹی کے علماء ہیں وہ بھی اس کے اندر شریک ہوئے۔ لیکن ان سب ہیوی ویٹ علماء کی موجودگی میں جو کلیدی خطاب تھا، جو بنیادی تقریر تھی، جو سب سے اہم سمجھی جا رہی تھی، وہ مولانا فضل الرحمٰن کی تھی۔ اور تقریر کا جو متن تھا، جو انہوں نے وہاں بات کی، اگرچہ بہت مختصر سی بات کی ہے، علماء اتنے زیادہ تھے کہ سب نے دو دو تین تین چار چار منٹ بات کی میکسیمم۔ میں معاویہ اعظم صاحب کی رات تقریر سن رہا تھا، میرا خیال ہے ڈیڑھ منٹ کے اندر انہوں نے تقریر ختم کر دی اور بڑی نپی تلی بات کی۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جو کلیدی خطاب تھا وہ بھی تقریباً چھ سے سات منٹ کا تھا، لیکن اس کا ایک ایک لفظ جو تھا نا، وہ بڑا دلچسپ تھا۔ میں ایک پیرا آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس میں مولانا نے فرمایا کہ
’’جائیداد کی تقسیم سے بھائیوں کے بھائی چارے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان ایک قوت اور ایک جماعت ہیں۔ ہم پاکستان سے خیر سگالی کا پیغام لے کے آئے ہیں۔ آپ ہماری جانب اگر چل کے آئیں گے تو ہم آپ کی طرف دوڑ کے آئیں گے۔‘‘
اور نواز کمال صاحب نے اس پہ بڑی دلچسپ بات لکھی ہے کہ علماء کا اتنی بڑی تعداد کے اندر وہاں جانا محض اتفاق نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ پیچھے چلے جائیں، جو حسینہ واجد ہو یا اس سے پہلے کی حکومت ہو، وہ انڈین جو حکومت ہے اُس کے قریب سمجھی جاتی تھی اور ان کے آپس میں تعلقات بہتر تھے۔ لیکن ابھی جو رجیم چینج ہوئی ہے وہاں پہ اور ایک پرو اسلامک حکومت آئی ہے۔ جس میں جماعت اسلامی کو آپ دیکھ لیں کس طرح دیوار سے لگایا گیا تھا پچھلی حکومتوں نے، پھانسیاں دی گئیں ان کے بڑے بڑے علماء کو، بزرگوں کو، امراء کو۔ لیکن اب ایک اچھے دن آ رہے ہیں علماء کے، دینی لوگوں کے۔ تو دونوں طرف کے جو لوگ ہیں وہ ان دیواروں کو توڑنا چاہتے ہیں، گرانا چاہتے ہیں، اور جو طویل زمانہ تھا جدائی کا، اور اس زمانۂ جدائی نے جو چہروں پہ اجنبیت کے رنگ بکھیرے تھے اور دلوں کے اندر جو فاصلے پیدا کیے تھے، تو اس ساری صورتحال میں جو یہ قربتوں کی بادِ صبا چل رہی ہے، اور یہ جو دوبارہ سے ایک طرح دونوں بھائی آپس میں جڑ رہے ہیں، تو یہ ایک بہت بہت زبردست ایک نیک شگون ہے، مسلمانوں کے لیے بھی، پاکستانیوں کے لیے بھی، بنگلہ دیشیوں کے لیے بھی۔
تو جس طرح ہم تقسیمِ (ہند) کے وقت اسلام اور مسلمان کے نام پر، ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی بنیاد پر ایک ہوئے تھے، لیکن بدقسمتی سے پھر ہمارے درمیان قومیت آ گئی، لسانیت آ گئی، اور اس طرح کے دیگر بدبودار عنوانات اور نعرے آئے، اور پھر اس کی بنیاد پہ ہم دور ہوئے ایک دوسرے سے، تقسیم ہوئے۔ لیکن الحمد للہ آج اتنے سالوں بعد دوبارہ سے ہم ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی بنیاد پہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اور دو دلوں کو جوڑنے کا باعث جو چیز بن رہی ہے، وہ مسلمانوں کا آپس کا رشتہ ہے۔
اور اگر دیکھا جائے تو نواز کمال صاحب نے بڑی زبردست بات لکھی ہے کہ افغانستان سے بہتر تعلقات کا زمانہ ہو، یا پھر بنگلہ دیش کے ساتھ ابھی پاکستان کے جو تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، ان ساری چیزوں کو دیکھا جائے تو مکتبِ دیوبند اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور سفارت کارانہ صلاحیتوں کے ساتھ دونوں جگہ پہ نمایاں ہے۔
اور آپ کو پتہ ہے کہ میں کبھی بھی مسلکی تخصیص اور ان چیزوں کی بات نہیں کرتا، لیکن جو اِس مکتب کی، اسکول آف تھاٹ کی ایک یونیکنس ہے، وہ بتانا ضروری ہے کہ ابھی انڈیا کے ساتھ آپ دیکھ لیں، ابھی انڈیا نے اگر افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے تھے، اپنے تعلقات بہتر کرنے تھے، تو اگر اسے کوئی مضبوط کڑی دکھائی دی ہے اس ساری صورتحال میں تو وہ دارالعلوم دیوبند تھا۔ انہوں نے ان کے وزیر خارجہ متقی صاحب کو دارالعلوم دیوبند کے بہانے وہاں بلایا، دیوبند کا وزٹ بھی ہوا، پھر دیگر معاملات بھی ہوئے، تو جو کڑی تھی درمیان میں وہ دیوبند تھا۔
اور ابھی بنگلہ دیش کے اندر بھی آپ دیکھ لیں تو پاکستان کی تمام تر جو دیوبند کی جماعتیں ہیں، ان کے نمائندے وہاں پہ موجود تھے، اور انڈیا کے اندر سے بھی دارالعلوم کے مہتمم اور جمعیت علماء کے نمائندے وہاں پہ موجود تھے۔ تو نواز کمال صاحب کہتے ہیں کہ یہ جو مکتب ہے یہ اپنی تخلیق میں، خمیر میں، اور اصل میں قائدانہ صلاحیتوں کا حامل مکتب ہے۔ اور یہ برصغیر کی واحد قوت ہے جو بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، افغانستان کے درمیان اگر کوئی رابطہ قائم ہو سکتا ہے، اگر لوگوں کو آپس میں جوڑا جا سکتا ہے، اگر نفرتوں کی دیوار گرانی ضروری ہے، تو پھر یہ لوگ ہی کام کر سکتے ہیں، اور یہی ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گو کہ اس کے علاوہ بھی، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کی میں نے تصویریں دیکھیں، ایئرپورٹ پہ ان کی ملاقات ہوئی فاروقی صاحب سے اور معاویہ اعظم صاحب سے۔ اس کے علاوہ کے پی سے پیر صابر شاہ صاحب بھی گئے ہوئے تھے، وہاں بھی بہت بڑے بڑے اجتماعات ہوئے ان کی موجودگی میں۔
تو بہرحال جو لسانیت، قومیت اور دیگر بدبودار نعروں کے ذریعے ہمارے درمیان تقسیم آئی تھی، نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہوئی تھیں، تعصبات قائم ہوئے تھے، اب وہ ختم ہوتے ہوئے، ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی بنیاد پہ محبتیں قائم ہو رہی ہیں۔ بہت اچھی بات ہے، امید کی ایک کرن ہے میں سمجھتا ہوں۔ اور اللہ کرے کہ یہ جو رابطہ ہے، یہ جو تعلق ہے، جو ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا رشتہ ہے، یہ پاکستان بنگلہ دیش تک محدود نہ رہے بلکہ یہ ان شاء اللہ پہلے سے بہتر انداز میں افغانستان کے ساتھ بھی جڑے۔ اور دنیا بھر کے جتنے مسلمان ممالک ہیں ستاون اٹھاون، ان سب کے درمیان یہ مشترکہ کڑی، سب اس کو پکڑیں اور اس کے ساتھ جڑ کے دنیا کے اندر اپنا نام اور مقام پیدا کرنے کی کوشش کریں، جزاکم اللہ خیرا۔
غزہ میں جنگ بندی: کیا وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کچھ مفید ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
غزہ کی موجودہ صورتِ حال عالمی سیاست کا سب سے زیادہ ہاٹ ٹاپک ہے۔ جنگ بندی کی باتیں ہر فورم پر چل رہی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ بندی واقعی فلسطینی ریاست کے قیام میں کوئی حقیقی رول ادا کر سکتی ہے؟ یا یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے، جو میدان میں بنیادی کچھ بھی نہیں بدلتا؟ یہ تجزیہ اسی سوال کے متعلق ہے۔ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنگ بندی سے غزہ کے معصوم اور نہتے لوگوں کا قتل عام کسی طرح رکا ہے۔ مگر اسرائیل اب بھی ان پر ذرا ذرا سے بہانے سے بمباری کر دیتا ہے اور ایک ہی حملہ میں سو سو سے زیادہ لوگوں کو مار دیتا ہے، وہ برابر اور اعلانیہ حماس کی قیادت کو نشانہ بنا رہا ہے۔ نہ امریکہ کچھ کہتا ہے اور نہ وہ ممالک جنہوں نے گارنٹی اور ضمانت لی تھی مثلاً ترکی، قطر اور مصر۔ اسی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدہ کس قدر نازک اور ناپائدار ہے۔
جنگ بندی کا اصل فائدہ تب ہوگا جب یہ سیاسی ڈھانچے کو بدلنے کا آغاز بنے یعنی جنگ بندی اُس وقت مفید ہوگی جب وہ صرف ''خاموشی'' نہ ہو بلکہ ایک سیاسی ٹرننگ پوائنٹ بنے۔ اگر جنگ بندی کے ساتھ:
- ریاستِ فلسطین کے باضابطہ قیام کے وعدے ہوتے،
- اسرائیل کے ظالمانہ قبضے و تسلط کے خاتمے کا روڈ میپ ہوتا،
- عالمی برادری کی گارنٹی موجود ہوتی اور فلسطینی قیادت متحد ہوتی،
تو پھر اس جنگ بندی کو صاف ایک مثبت اقدام مانا جا سکتا تھا۔ افسوس کہ ان میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔ معاہدہ میں ریاست فلسطین کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا ہے۔ بس خود اختیاری کے لیے Palestinian's aspirations کی بات کہی گئی ہے۔
اسی طرح ٹرمپ کا جو بیس نکاتی پروگرام اقوام متحدہ نے امریکہ کی ایماء پر منظور کیا ہے وہ بھی غزہ کے اوپر بدنام زمانہ ٹونی بلیئر کی سربراہی میں ایک عالمی باڈی کو مسلط کرتا ہے جس میں فلسطینی مقتدرہ کا بھی کوئی رول نہیں رکھا گیا ہے۔ کیا یہ سامراجی منصوبہ بندی کی نئی شکل نہیں؟ حماس نے اس پر اپنی ناراضگی جتائی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ تمام عرب اور مسلم ممالک اس پر دل و جان سے رضامند ہوگئے ہیں۔ کیوں ہو گئے ہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہو رہا ہے۔ روس اور چین نے اس پر اعتراضات کیے ہیں مگر جب خود مسلمان ہی اس کو تسلیم کر لے رہے ہیں تو ان کا اختلاف ’’مدعی سست گواہ چست‘‘ کا مترادف ہو کر رہ جاتا ہے۔
لیکن کیا زمینی حقیقتیں فلسطینی ریاست کی اجازت دیتی ہیں؟
سچی بات یہی ہے کہ زمینی حقیقتیں اتنی سیدھی نہیں۔ زمینی حقیقتیں کافی بدل گئی ہیں اور روز بروز بدلتی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی سیٹلمنٹس بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان پر دنیا میں شور بھی خوب مچتا ہے، بیان بازیاں ہوتی ہیں، اقوام متحدہ میں قراردادیں پاس ہوتی ہیں، مگر گراؤنڈ پر کچھ بھی نہیں بدلتا۔ اسرائیل اِس کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہے اور موجودہ شاطر امریکی حکومت بھی بالآخر عربوں اور فلسطینیوں کے آگے یہی حتمی پلان رکھے گی کہ
- اب غزہ، مغربی کنارے اور فلسطین میں زمینی حقیقتیں بدل چکی ہیں جن کو مان لینے کے سِوا اور کوئی چارہ نہیں۔
- اسرائیلی سیٹلرز، جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں، کو نکالا نہیں جا سکتا۔
- اسرائیل کو کسی چیز پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کو قائل کرکے فلسطینیوں کے لیے کچھ رعایتیں لی جا سکتی ہیں اور وہ ایک فلسطینی میونسپل کارپوریشن سے عبارت ہوں گی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
- لہذا ان کو کسی آزاد ریاست کے قیام کی ضد چھوڑ دینی چاہییے۔
اسرائیل کا بیانیہ اور امریکہ کا عملی کردار
اسرائیل چاہتا تھا کہ جنگ بندی ہو تو صرف اس لیے کہ اسے عسکری و سیاسی فائدہ ملے ۔ نہ اس لیے کہ فلسطینی ریاست کے لیے کوئی کھڑکی کھلے۔ اب تک کے حالات یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ کا رول محض اسرائیل کے بیانیہ کو آگے بڑھانے کا رہا ہے۔ امریکہ اب ''دو ریاستی حل'' کو گول مول لفظوں میں سپورٹ کرتا ہے، شاید اپنے عرب پارٹنرز کو دکھانے کے لیے۔ وہ اس کی صراحت نہیں کرتا۔ چنانچہ اس کے دور یاستی حل کے لیے پریکٹیکل اقدامات انتہائی محدود ہیں۔ اس کا فوکس زیادہ تر ''ریجنل اسٹیبلٹی'' پر ہے، فلسطینی ریاست کے قیام پر نہیں۔ گرچہ دکھانے کے لیے اس لفظ کو غزہ کا نظم و انصرام سنبھالنے والی عالمی باڈی کے ڈرافٹ رزولیوشن میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کی طرف دو سالوں میں بتدریج بڑھا جائے گا۔
عرب دنیا کی پوزیشن
بڑے اور با رسوخ عرب ممالک اس وقت اپنے معاشی ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ وہ فلسطینی ریاست کے مسئلے کو زبانی اور بیان بازی کی حد تک تو سپورٹ کرتے ہیں، مگر اس کے لیے بڑے اسٹریٹیجک اور سیاسی رسک لینے کے موڈ میں نہیں۔ حال ہی میں سعودی حکمراں (ولی عہد) محمد بن سلمان وائٹ ہاؤس کی وزٹ پر گئے جس کے نتائج سے بھی اِسی عندیہ کو تقویت ملتی ہے۔
لہٰذا اگر جنگ بندی صرف جنگ روکنے کا نام ہو، تو اس کا فائدہ زیرو ہے۔ یہ سب سے اہم نقطہ ہے کہ اگر جنگ بندی بغیر سیاسی روڈ میپ، بغیر بین الاقوامی دباؤ، اور بغیر فلسطینی داخلی استحکام کے ہے، جیسا کہ وہ اب نظر آ رہی ہے، تو وہ فلسطینی ریاست کے مسئلے کو آگے نہیں لے کر جاتی۔ اس سے صرف field کا temperature کم ہوتا ہے، عارضی مدت کے لیے فلسطینیوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ایسی فائر بندی نہ قوم کو طاقت دیتی ہے، نہ ان کی سفارتی پوزیشن کو۔
البتہ ایک تیسرا امکان بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر عالمی سطح پر سوشل پریشر، میڈیا رپورٹنگ، پالیسی تھنک ٹینکس، نوجوانوں کی آن لائن activism ایک بڑی ''wave'' بنا دیں، تو یہ جنگ بندی ریاستِ فلسطین کے لیے ایک اسٹریٹجک لانچ پیڈ بن سکتی ہے۔ نئی نسل (Gen Z) کی ڈیجیٹل طاقت آج کسی بھی پالیسی سازی میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر اس طاقت کو فلسطینی کاز کی طرف سمارٹ طریقے سے موڑا جائے تو عالمی رائے سازی اس کے لیے ہموار اور فعال ہو سکتی ہے۔ یہ چیز کسی قدر عالمی منظرنامے میں موجود بھی ہے کہ ایک عوامی مہم بھی فلسطین کے لیے مغرب میں چل رہی ہے۔ اور بہت ساری کلیدی یوروپی ریاستوں نے فلسطین کو مستقل ریاست کا درجہ بھی دے دیا ہے۔ جس کا پریشر اسرائیل پر خاصا پڑا ہے۔ وہ تو امریکہ بہادر کا آشیرواد اس کو حاصل ہے جو وہ یوروپی پریشر کو آسانی سے نظر انداز کر رہا ہے۔ ورنہ امریکی پالیسی میں اسرائیل کے تئیں تھوڑی تبدیلی آجائے (جس کا فوری طور پر تو کوئی امکان نہیں لیکن مستقبل میں ایسا ہونے کی توقع خاصی ہے) تو اسرائیل کو یقیناً اپنے رویوں پر نظرثانی کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔
مستقبل کا منظرنامہ
فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اصل فیصلہ کن عوامل تین ہیں:
۱۔ فلسطینی سیاسی اتحاد: یعنی غزہ، مغربی کنارہ اور فلسطینی ڈائسپورا کا ایک متحد سیاسی بیانیہ سامنے آئے۔ ایک ڈھیلے ڈھالے اور منتشر انداز میں یہ بیانیہ کسی حد تک موجود ہے۔
۲۔ فلسطین کے لیے بین الاقوامی legitimation جو اس وقت بہت سارے بڑے ممالک کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کے نتیجہ میں عملاً موجود ہے۔ کہ دنیا فلسطین کو صرف مظلوم کے طور پر نہیں، ریاست کے امیدوار کے طور پر دیکھے۔ اور فی الوقت امریکہ کو چھوڑ کر دنیا اُسے اس پوزیشن میں دیکھ رہی ہے۔
۳۔ اسرائیل پر عملی دباؤ: ایسا سفارتی و اقتصادی پریشر جس کے بوجھ کو اسرائیل ignore نہ کر سکے۔ یہ اقتصادی و سفارتی پریشر عرب دنیا کی طرف سے آ سکتا ہے، ترکی کی طرف سے آ سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی جانب سے پڑ سکتا ہے۔ افسوس کہ اسرائیل پر یہ پریشر کسی بھی صورت میں کسی بھی طرف سے نہیں پڑ رہا ہے۔ اگر جنگ بندی ان تینوں عوامل کو اور مضبوط کرے تو یہ فائدہ مند ہے۔ اگر نہیں، تو یہ بس ایک پاز بٹن ہے پلے بٹن نہیں۔ جنگ بندی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مفید تب ہوگی جب یہ سیاسی تبدیلی کے دروازے کھولے۔ اگر یہ صرف اسرائیلی بمباری روکنے تک محدود ہو تو اس کا فائدہ انتہائی محدود ہوگا۔ فارن پالیسی کی دنیا میں جنگ کا ہر وقفہ بے معنی ہوتا ہے جب تک وہ کسی بڑے strategic shift کی طرف نہ لے جائے۔ اب معاملہ صرف جنگ بندی کا نہیں، اس بات کا ہے کہ اس جنگ بندی کو فلسطینی ریاست کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئیے کہ دیکھیں کہ مسلم دنیا اور عرب قیادت اور فلسطینی کیا کر رہے ہیں اور کیا ان کی کارکردگی سے کوئی مثبت امید کی جا سکتی ہے۔ نیز امریکہ غزہ میں کیا کر رہا ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے اور کیا اس سے کسی خیر کی توقع ہے؟
غزہ میں جنگ بندی کے بعد عرب، ترک اور مسلم قیادتوں کی صورتحال
غزہ میں جنگ بندی کے بعد مسلم دنیا کی قیادتوں سے عملی اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن موجودہ منظرنامہ ان کی محدود سرگرمیوں اور کمزور حکمتِ عملی کا عکاس ہے۔
۱۔ عرب قیادت: عرب ممالک زیادہ تر سفارتی بیانات، اجلاسوں اور تشہیری سرگرمیوں تک محدود ہیں۔ عملی اقدامات کی کمی واضح ہے۔ توجہ زیادہ تر غزہ کی تعمیر نو کے معاملہ میں بین الاقوامی مقبولیت حاصل کرنے پر ہے، نہ کہ مسئلہ کے مستقل حل پر۔ کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات عرب فیصلوں پر گہرا اثر رکھتے ہیں اور واشنگٹن ظاہر طور پر تل ابیب کی طرف واضح جھکاؤ رکھتا ہے۔
۲۔ ترکی: ترکی غزہ کے بعد کے مرحلے میں اپنا علاقائی کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے خلاف وہ برابر سخت بیانات دے رہا ہے۔ اس نے اسرائیل کے دہشت گرد وزیراعظم نتن یاہو اور اس کے وزیر جنگ و دوسرے حکام کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے جو علامتی ہیں اور کوئی توقع نہیں کہ ان پر کبھی عمل ہوگا۔ کیونکہ اس کی تجارت بڑی حد تک ابھی بھی اسرائیل سے جاری ہے ۔ اسرائیل کو آذربائیجان سے گیس کی سپلائی ترکی کے راستے سے ہی ہوتی ہے ۔ سخت بیانیے کے باوجود عملی میدان میں اس کی گنجائش محدود ہے۔ آذربائجان سے اسرائیل کی طرح ترکی کے بھی نہایت گہرے تعلقات ہیں۔ ترکی خطہ میں مستقبل کی سیاسی و معاشی تشکیل میں مؤثر مقام چاہتا ہے، لیکن امریکا اور بعض عرب حکومتیں اس کے اثر کو محدود رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ امریکہ ماہرِ معیشت جان مرشے مائر کے نزدیک ترکی اپنے اہداف تیزی سے حاصل کرنے کی طرف گامزن ہے۔
۳۔ ایران: اور اس کا علاقائی محور ایران جنگ بندی کے بعد خود کو ‘‘کامیاب سفارتی کھلاڑی’’ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عملی طور پر اس کی توجہ نیوکلیئر مذاکرات اور معاشی دباؤ میں کمی پر ہے۔ اس کے علاقائی پراکسی گروہ نسبتاً خاموش ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ وہ ہر وقت امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہے اور اگر اس پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ پہلے کی طرح ہی دنیا میں بے یار و مددگار ہوگا۔
۴۔ فلسطینی قیادت: فلسطینی صفوں میں عدم اتحاد جوں کا توں برقرار ہے۔ محمود عباس کی الفتح اور فلسطینی مقتدرہ ویسی کی ویسی ہی ہے، کرپٹ، غیر متحرک اور غیر فعال۔ اسرائیل کا دعوا ہے کہ حماس جنگ کے بعد خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن کیسے؟ یہ نہ سمجھ میں آرہا ہے اور نہ اس کے ٹھوس شواہد ہیں۔ جبکہ فلسطینی اتھارٹی عالمی حمایت کے ذریعے غزہ میں واپسی چاہتی ہے۔ دونوں فریقوں کے اختلافات کسی جامع فلسطینی لائحہ عمل کو روک رہے ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کے مطابق حماس نے اسرائیل کے تقریباً تمام زندہ و مردہ یرغمالی واپس کر دیے ہیں۔ دو تین مردہ باقی ہیں تو غزہ کے ملبوں اور کھنڈرات میں ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔ غزہ کے تباہ حال لوگوں کو شدت سے اس بات کا انتظار ہے کہ اب اسرائیل معاہدے کے دوسرے مرحلہ یعنی تعمیرِ نو کی طرف جائے۔ لیکن نتن یاہو مختلف حیلوں بہانوں سے ابھی تک اس سے گریز کر رہا ہے، وہ اور اس کے شدت پسند وزیر کسی بھی طرح جنگ کی طرف لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ حماس اپنے ہتھیار ڈالے تبھی بات آگے بڑھ سکتی ہے اور نتن یاہو اس بات کو بار بار دہراتا ہے کہ حماس کو بین الاقوامی باڈی غیر مسلح کرے ورنہ ہم خود کریں گے ۔ جبکہ حماس کا موقف ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ فلسطینیوں کا قومی فیصلہ ہونا چاہیے، البتہ وہ اقتدار سے دستبردار ہونے کے لیے بالکل تیار ہے۔
۵۔ عالمی مسلم ادارے: او آئی سی اور دیگر مسلم اداروں کی سرگرمیاں زیادہ تر بیانات اور اجلاسوں تک محدود ہیں۔ ان کی طرف سے کوئی مؤثر عملی منصوبہ یا طویل المدت حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد مسلم قیادتوں کا مجموعی کردار سست، غیر مؤثر اور بیان بازی پر مبنی ہے۔ اور ان کی جانب سے غزہ کے مستقبل، سیاسی حل، یا اگلی ممکنہ جارحیت سے بچاؤ کے لیے کوئی مشترکہ، مضبوط اور طویل المدت منصوبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔
محمد بن سلمان کے دورۂ امریکہ پر بھی ایک نظر ڈال لیں
تجزیاتی نقطہ نظر سے محمد بن سلمان اور ٹرمپ کی ملاقات میں سب سے مرکزی موضوعات میں عسکری تعاون، توانائی اور ٹیکنالوجی اور سعودی سرمایہ کاری شامل تھے۔ خاص طور پر سعودی عرب مستقبل میں جوہری توانائی اور AI میں امریکہ کا تعاون چاہتا تھا۔ یہ ملاقات ان سرمایہ کاری کے وعدوں کے تسلسل کی علامت تھی جو پہلے ہی کر لیے گئے تھے۔ امریکی حکومت نے اس موقع پر سعودی عرب کو ایف 35 جنگی طیارے بیچنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور سعودی عرب کو سب سے بڑا غیر ناٹو اتحادی تسلیم کیا ہے ۔ جس سے خطہ میں سعودی عرب کی دفاعی قوت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا۔
سعودی عرب اپنی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے دفاعی ضمانتیں چاہتا ہے، خاص طور پر ایران اور خلیجی خطے کی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے پیشِ نظر۔ حالانکہ انہیں ضمانتوں کے لیے تو اُس نے پہلے ہی سے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کیا ہے جو خود ایک نیوکلیئر قوت ہے۔ مزید برآں ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے تعلقات خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ملاقات دونوں کے لیے خطے کی نئی جہتوں کو تشکیل دینے کا موقع تھی۔ امریکی سعودی تعلقات سعودیہ کو ایک زیادہ فعال اور مضبوط علاقائی کردار ادا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں خاص طور پر ایران کے خلاف اور دیگر علاقائی مد مقابلوں یعنی متحدہ عرب امارات کے مقابلہ میں۔
انسانی حقوق کے حوالہ سے
سعودی ولی عہد کی شہرت انسانی حقوق کے لحاظ سے پیچیدہ ہے، خاص طور پر سعودی نژاد اور امریکی شہریت کے حامل صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے کی وجہ سے۔ جن کو کئی سال پہلے ترکی دارالحکومت کے اندر اپنے سفارت خانہ میں ولی عہد نے براہ راست حکم دے کر بے رحمی سے اور بہیمانہ انداز میں قتل کرا دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس واقعے پر میڈیا کے سامنے ردعمل دیتے ہوئے خاشقجی کے قتل کی شدت کو یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ‘‘بہت لوگ خاشقجی سے نا خوش تھے‘‘۔ اور اسی پریس کانفرنس میں ولی عہد نے دہشت گردی کے حوالہ سے اپنے امریکہ کے ساتھ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے جمال خاشقجی کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے ۔ دی واشنگٹن پوسٹ کا خیال ہے کہ یہ ملاقات انسانی حقوق کی سنگینی کو پسِ پردہ ڈال کر صرف ا سٹریٹیجک اور اقتصادی مفادات کو اولیت دینے کی مثال ہے۔
فلسطینی مسئلے پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی-سعودی قریبی تعلق فلسطینی ریاست کے قیام کی بات چیت کو پسِ منظر میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ اس میں صرف دو طرفہ اقتصادی اور سیکیورٹی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ لیکن بظاہر محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے اپنی ملاقات میں اس بات کا اظہار صاف صاف کیا کہ وہ ابراہیمی معاہدات کا حصہ تو بننا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی حل کا کوئی روڈ میپ پہلے بن جائے ۔ اگر سعودی پرنس امریکی پریشر میں آکر ٹرمپ کی بات مان جاتے اور اسرائیل سے باضابطہ سفارتی تعلقات کے لیے اپنے فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبہ سے دستبردار ہو جاتے تو پھر پاکستان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے لائن لگا لیتے۔ اب اگر وہ امریکی پریشر میں نہیں آئے اور اپنے مطالبہ پر جمے رہے تو یہ فلسطینیوں کے لیے یہ ایک امید بھری خبر ہے۔
امریکی سیاسی فائدے خاص طور پر ٹرمپ کے نقطہ نظر سے
امریکی اندرونی سیاست میں، یہ ملاقات ٹرمپ کی وہ حکمت عملی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد تیل اور سلامتی کو لے کر دیرپا شراکت ہے، اور وہ سعودی سرمایہ کاری کو ایک اہم اثاثہ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ میں تعلیم، تحقیق، اے آئی اور آئی ٹی انڈسٹری سمیت مختلف اہم میدانوں میں سعودی عرب بہت بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کو 6 کھرب ڈالر سے بڑھا کر محمد بن سلمان نے 10 کھرب ڈالر کر دیا ہے۔ جس سے اس کا اقتصادی اثر و رسوخ بہت بڑھ سکتا ہے۔ اور اگر وہ سرمایہ کاری کے کارڈ کو اسمارٹ انداز میں کھیل سکے تو امریکہ میں اس کا سیاسی رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔ مگر سعودی عرب یا دوسرے عرب ممالک کی امریکہ میں کوئی ایسی لابنگ نہیں ہے جیسی ایپیک (AIPAC) یعنی (American Israel Public Affairs Committee) کے ذریعہ اسرائیل کی لابی ہے۔ ویسے نئے امریکی سعودی تعلقات دو طرفہ فائدوں کے مد نظر قائم ہو رہے ہیں۔ جن سے سعودی ولی عہد کو وہ سفارتی چہرہ مل سکتا ہے جو ان کے بعض ماضی کے اقدامات سے متاثر ہو چکا ہے۔ اور امریکہ کو زبردست معاشی فائدے ہوں گے۔
کیا سعودی-امریکی اتحاد فلسطینی مفادات کے تحفظ کی راہ میں رکاوٹ بنے گا، یا کسی نئے امن ڈھانچے کی بنیاد رکھے گا؟ جو رپورٹیں اس دورہ کی ملیں ان سے مجموعی طور پر اس تاثر کی نفی ہوتی ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر ولی عہد کے اِس دورہ کے کوئی مثبت اثرات پڑیں گے۔
امریکہ غزہ سیز فائر کے بعد کیا کر رہا ہے؟
امریکی اعلان کے مطابق جنگ بندی کے بعد ’’نیا مستقبل‘‘ بنانے کا خیال اس کی تعمیر نو کا ایک مرکزی جزو ہے۔ العربیہ کے اردو سیکشن میں شایع ایک رپورٹ کہتی ہے کہ اس پر اختلاف ہو رہا ہے کہ امریکہ غزہ میں خود اپنا براہ راست کنٹرول قائم کرے گا یا نہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تجویز کے مطابق، جنگ کے بعد غزہ کو امریکہ کے حوالے کرنے کا منصوبہ ہے، یعنی امریکا غزہ میں ایک قسم کا انتظامی کنٹرول نافذ کرے۔ اسی رپورٹ میں یہ دعوا بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ خود حماس سے براہ راست مذاکرات کر رہا ہے ۔ العربیہ کے مطابق امریکہ کے خاص ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر حماس غور کر رہی ہے، اور اندازہ ہے کہ مذاکرات میں ترمیمات کی گئی شکل حماس کو موصول ہوئی ہے۔ رپورٹوں میں یہ بھی آ رہا ہے کہ امریکہ غزہ میں ڈرونز استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے (یا عملاً کر رہا ہے) تاکہ جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے اور ممکنہ خلاف ورزیوں پر نظر رکھی جائے۔ تاہم اب تک کی تاریخ یہ رہی ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ساری خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرکے ان کو بھی حماس کے سر ہی منڈھتا رہا ہے اس لیے اس کی یہ تجویز بھی بہت پریشان کن ہے۔
بین الاقوامی امن فورس کی تجویز
امریکہ نے یو این سیکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی اور منظور کرا لی ہے جس میں غزہ کے لیے دو سال کے لیے امن فورس کی تجویز ہے۔ اس امن فورس میں آذربائجان، ترکی، پاکستان، قطر، مصر اور انڈونیشیا وغیرہ کے فوجی دستے ہوں گے۔ لیکن ترکی دستوں کو شامل کرنے پر اسرائیل نے سخت اعتراضات کیے ہیں اور غالباً ان کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ وہ امن فورس ہتھیاروں کی غیر فعالیت، سیکیورٹی اور امداد کے انتظامات میں مدد دے گی۔ یعنی بالواسطہ یہ اسرائیل کا ہی کام کرے گی اور فلسطین میں کسی بھی طرح کی مسلح مزاحمت پنپنے کے امکان کو کچلنے کی کوشش کرے گی۔
نگرانی اور امداد کے لیے امریکی اہلکار
تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار اسرائیل بھیجے گئے ہیں تاکہ وہ ایک civil-military coordination center قائم کریں جو غزہ کی جنگ بندی کا نفاذ، امدادی لاجسٹکس اور سیکیورٹی کا انتظام کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ جو امن فورس مختلف عرب اور مسلم ملکوں سے جائے گی وہ اسی کمانڈ سینٹر کے تحت کام کرے گی۔
غزہ کی تقسیم کا منصوبہ
گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی منصوبہ بندی یہ ہے کہ غزہ کو دو زونوں میں تقسیم کیا جائے:
- گرین زون: بین الاقوامی اور اسرائیلی فورسز کی نگرانی میں ہو گا جہاں تعمیر نو ہو گی۔ یہاں اسرائیل نے پیلے رنگ کی عارضی علامات لگا دی ہیں اور اس خطہ میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں آ جا سکے گا۔
- گرے زون: وہ علاقے جہاں فوری بحالی ممکن نہ ہو گی، اور جہاں مستقبل میں زیادہ محدود وسائل ہوں گے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ وہ علاقہ ہے جہاں حماس کا کنٹرول کسی نہ کسی صورت میں ہے ۔ اس علاقہ کو ناقابلِ رہائش بنا دیا گیا ہے اور مزید بنایا جائے گا تاکہ فلسطینی لوگ مجبوری اور لاچاری میں تنگ آ کر دوسرے ممالک جانے کے آپشن پر غور کریں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل عراق اور افغانستان میں سابق امریکی حکمتِ عملی کی یاد دلاتا ہے، اور اسے امریکی قبضے کی صورت سمجھا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ویسا نہیں ہوگا جیسا کہ عرب لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان پھیلایا گیا ہے بلکہ اس کو بھی خطہ میں وسیع تر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے گا، بھلے ہی اس کے لیے بھاری رقومات ثروت مند عرب ملکوں سے وصولی جائیں۔
امریکی فوجی امداد اسرائیل کو
جنگ کے دوران اور بعد میں امریکہ نے اسرائیل کو بھاری فوجی امداد فراہم کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 21.7 ارب ڈالر امریکی فوجی امداد اسرائیل کو دی گئی ہے جو اب بھی جاری ہے۔ اور اس کی وجہ سے امریکی ثالثی مشکوک ہو جاتی ہے۔
اسرائیلی معاشرے کی فلسطینیوں کے بارے میں رائے
امن اور بقائے باہم (coexistence) کے بارے میں شکوک و شبہات
Pew Research Center کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، صرف تقریباً 26 فیصد اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست اور اسرائیل پُر امن طور پر ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی سماج کی بہت بڑی اکثریت فلسطینی ریاست کے خیال کو مسترد کرتی ہے۔ یہ سروے یہ بھی کہتا ہے کہ وہ لوگ جو اسرائیلی-عرب تنازع کو ‘‘بہت بڑا’’ تنازع سمجھتے ہیں، وہ امن کے امکانات کے بارے میں نسبتاً کم امید رکھتے ہیں۔ اسی سینٹر کا ایک سروے بتاتا ہے کہ اسرائیلی عوام میں پائیدار امن کے امکانات پر شک بڑھ رہا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ جو لوگ امن میں دیکھتے ہیں وہ اعتماد کی کمی ہے، یعنی فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے درمیان اعتماد بہت کم ہے۔ اور یروشلم (Jerusalem) کا مستقبل بھی پائدار امن کے لیے ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
آئیڈیولوجی کا فرق
نظریاتی لحاظ سے جو لوگ اسرائیل میں بائیں بازو (لیفٹ) کے نظریہ کے ہیں، ان میں امن اور فلسطینی اتھارٹی پر بھروسہ کرنے کا رجحان زیادہ ہے، جبکہ دائیں بازو والے لوگ نسبتاً زیادہ شکوک رکھتے ہیں۔ لیکن لیفٹ کے لوگ بہت کم بچے ہیں۔ اب تو سارا اسرائیلی معاشرہ متشدد بن چکا اور جنونی حاخاماؤں کے زیر اثر ہے۔
مذہبی حیثیت کا فرق
سیکولر یا روایتی (traditional) یہودیوں میں زیادہ لوگ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں میں امن کی خواہش ہے۔ جبکہ انتہائی مذہبی گروپ جن کی اکثریت ہے اور جن کے بغیر کوئی حکومت اب نہیں بن سکتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی امن سے رہنا ہی نہیں چاہتے ۔ ایک انسٹیٹیوٹ (INSS) کی فوکس گروپ اسٹڈی بتاتی ہے کہ کچھ اسرائیلی یہ سوچتے ہیں کہ غزہ پر کنٹرول بین الاقوامی یا عرب فورس کو دے دینا چاہیے تاکہ غزہ کو ٹھیک کیا جائے۔ سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ عام یہودی اور اسرائیلی خود اپنی سیاسی قیادت سے بھی غیر مطمئن ہیں۔ چنانچہ اسی سروے میں عام رائے یہ نکل کر آئی کہ سیاسی لیڈرشپ (اسرائیلی حکومت) حالات کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھتی بلکہ وہ حقیقت سے کٹ گئی ہے اور ذاتی مفاد کے لیے کام کرتی ہے۔
جودیائی یا انتہا پسند بیانیہ
اس بیانیہ کی اسیر فی الحال اسرائیلی عوام کی اکثریت ہو چکی ہے۔ یہ خیال عام کیا جا چکا ہے کہ تاریخی طور پر فلسطین نام کی کوئی چیز کبھی نہیں پائی گئی۔ اور یہ پورا خطہ القدس، غزہ اور مغربی کنارہ سب مقدس و موعود ارضِ اسرائیل کا حصہ ہے۔ اسی لیے اسرائیلی میڈیا میں غزہ اور مغربی کنارہ کو جوڈیا سمیرا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ساتھ ہی فلسطینی لوگوں بلکہ تمام عربوں کو جنگلی وحشی اور غیر مہذب (Gentile) قرار دینے کا رجحان غالب ہے۔
اسی طرح اسرائیلی سماج غزہ میں اپنی فوج کے ذریعہ ہوئے قتل عام کو سپورٹ کرتا ہے اور اس کو اس ذرا بھی پشیمانی یا پچھتاوا نہیں ہے۔ فرانسیسی جریدہ Le Monde میں شایع شدہ بعض رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اسرائیلی میڈیا اور سیاست کے بڑے حلقوں میں فلسطینیوں کو غیر انسانی انداز میں پیش کرنے کا رجحان ہے۔ یہی جریدہ بتاتا ہے کہ بعض اعلیٰ سطحی سیاستدانوں کے بیانات میں غزہ کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی جاتی اور ان کو خطہ سے نکال دینے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ جو معاشرے کے انتہا پسند حصے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید یہ کہ اسرائیلی مستقبل کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسرائیلی عوام میں جنگ کے بعد کی تشویش کافی عام ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو معاشرے کے اندر تقسیم اور عدم استحکام بڑھ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری سطح پر بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل صرف بیرونی خطرات نہیں ہیں بلکہ اندرونی تناؤ (سماجی سیاسی اختلافات) بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ زیادہ تر اسرائیلی فلسطینی ریاست کے قیام اور امن میں پُر امید نہیں ہیں۔ لیکن ایک چھوٹا یا درمیانہ حصہ ہے جو امن اور بقائے باہم پر یقین کرتا ہے، خاص طور پر بائیں بازو اور سیکولر طبقوں میں۔ اسرائیلی سماج میں بعض انتہاء پسندانہ بیانیے (دہشت گردی کا خاتمہ، یا غزہ کی مکمل صفائی) بھی طاقت پکڑ رہے ہیں۔
خلاصہ
غزہ میں موجودہ سیزفائر مکمل امن نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ اسرائیل کی بے رحمانہ فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں کہ اس کی شرطیں پوری نہیں ہوئیں۔ جبکہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق کھیل کھیل رہی ہیں۔ جنگ بندی کا ایک دور پورا ہو گیا ہے، اب دوسرا مرحلہ شروع ہونا چاہیے مگر اسرائیل لیت و لعل سے کام لے رہا ہے ۔ اب اس کا بڑا بہانہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔ غزہ کے لوگ اب بھی بے گھر ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہے، اور روزمرہ زندگی نارمل نہیں ہو پائی۔ اصل امن تب ہی ملے گا جب اسرائیل کا مکمل انخلا اور ناکہ بندی کا خاتمہ، تعمیرِ نو شروع ہوجائے اور مستقل سیاسی حل سامنے آئے۔ یہ سیز فائر ایک طاقتور فریق اور ایک کمزور فریق کے درمیان ہوا تھا جس میں بالکل شروع ہی سے پورا اَپرہینڈ اسرائیل کو ملا ہوا ہے۔ اس میں مسلم ممالک اور عرب دنیا کا کوئی بہت اچھا اور متحرک رول سامنے نہیں آیا، جس سے فلسطینی کاز کو تقویت ملتی ہو، الٹا وہ سب امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے جیسے لیٹ گئے ہوں۔ فی الحال سیزفائر صرف ایک Fragile Pause ہے، بس فلسطینیوں کی جانیں بچ گئی ہیں، کچھ انسانی امداد ان کو مل رہی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہے کہ دور یاستی حل کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں ہو رہی ہے۔
لورین بوتھ — برطانوی خاتون صحافی جنہیں فلسطین نے مسلمان کیا
ٹووَرڈز ایٹرنیٹی
لورین بوتھ کون ہیں؟
میزبان: السلام علیکم سسٹر لورین، ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ پا کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ میں آغاز اس سوال سے کرنا چاہوں گا کہ لورین بوتھ کون ہیں؟ کیا آپ اپنا مختصر تعارف کرا سکتی ہیں؟
لورین: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میرا نام لورین بوتھ ہے، میں ایک صحافی، مصنفہ اور اداکارہ ہوں۔ میں 1967ء میں ہیمپسٹڈ، نارتھ لندن میں پیدا ہوئی تھی۔ میری والدہ ماڈل اور والد اداکار تھے، اور میں 20 سال کی عمر تک لندن میں ہی رہی۔ میں اداکاری کی تعلیم حاصل کر رہی تھی، اور یہ میرا سب سے بڑا خواب تھا، میں ہالی ووڈ جانا چاہتی تھی۔ البتہ سات سال اداکاری کے بعد میں نے 1997ء میں صحافت کی تربیت حاصل کی۔ پھر میں ٹی وی کا بھی کافی کام کرتی تھی، میں نے سکائی نیوز پر بھی کام کیا۔ میں مرکزی دھارے کی صحافت سے وابستہ تھی، میں نے ڈیلی میل جیسے لوگوں کے لیے کام کیا، کوئی غلط تاثر مت لیجیے گا، میل آن سنڈے کے لیے۔ میں نے بی بی سی اور چینل فائیو کے لیے بھی کام کیا، بہت سارے ٹی وی شوز اور ریڈیو شوز کی میزبانی بھی کی۔ پھر میں نے 2010ء میں اسلام قبول کر لیا، جو کہ فلسطین کے کئی سفروں کے بعد ہوا، جب میں نے وہاں کے لوگوں سے ملاقات کی۔ پہلے ایک صحافی کی حیثیت سے گئی اور پھر ایک کارکن (ایکٹِوسٹ) کی حیثیت سے۔
اسلام سے تعارف
میزبان: آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟
لورین: میرے خیال میں اسلام کی طرف میری سب سے پہلی توجہ 2001ء میں 9/11 کے بعد ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں وہ مناظر دیکھ رہی تھی جس میں طیارے ان دونوں عمارتوں سے ٹکراتے ہوئے دکھائے جا رہے تھے، تو میں ایک چھوٹے بچے کے ساتھ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کون سے غریب ملک کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جائے گا؟ میں ایک سوشلسٹ اور بائیں بازو کی حامی تھی اور میں سمجھتی تھی کہ طاقت کی کشمکش کے حوالے سے مغرب کی کچھ لوگوں کے ساتھ جنگ ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ کسی غریب ملک کو، جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جائے گا تاکہ امریکہ اپنے آپ کو مطمئن کر سکے۔ چنانچہ یہ افغانستان تھا۔ اگر اسلام مغرب کے لیے خطرہ ہوتا تو وہ 1400 سال سے موجود ہے اور اربوں لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ بس مغرب پر قبضہ کر سکتے تھے یا کوئی خوفناک کام کر سکتے تھے۔ تو کسی ایک عمل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پوری مسلم دنیا چند لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے اس ایک عمل کی ذمہ دار ہے۔ تو یہ دراصل کیا ہے؟ یہ مسلمانوں پر اثرانداز ہونے اور انہیں تکلیف پہنچانے کا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ تو میں اپنے دل سے اس کی حمایت نہیں کر سکی۔
فلسطین کا تجربہ
میزبان: ہم جانتے ہیں کہ ایک صحافی کی حیثیت سے آپ کئی بار فلسطین گئی ہیں۔ آپ نے پہلی بار وہاں جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
لورین: مجھے اپنی پشت پر ایک غیر مرئی ہاتھ محسوس ہوا جو مجھے فلسطین کی طرف دھکیل رہا تھا۔ میرے پاس اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ میں عربی نہیں بولتی تھی، میں کسی فلسطینی کو نہیں جانتی تھی، لیکن میں نے واقعی اپنی پشت پر ایک ہاتھ محسوس کیا جو کہہ رہا تھا: ’’فلسطین جاؤ، فلسطین جاؤ، فلسطین جاؤ،‘‘ تو میں ایسے ہی بغیر کسی تربیت کے مغربی کنارہ جا پہنچی۔
میزبان: کیا آپ ہمیں فلسطین میں اپنے تجربے کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟
لورین: میرے خیال میں یہ جاننا اہم ہو گا کہ میں ایک عیسائی کی حیثیت سے ارضِ مقدس گئی تھی اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سرزمین پر چلتے ہوئے بہت پرجوش تھی۔ میرے لیے یہ ایک زیارت کی طرح تھا۔ ہر جگہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہو سکتا ہے عیسیٰ علیہ السلام یہاں رہے ہوں۔ یہ بہت حیرت انگیز تھا۔ میں نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ یروشلم جاؤں گی، جہاں انہیں مقبرہ کی طرف لے جایا گیا تھا۔ یہ مسحور کُن تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام یہاں موجود تھے اور ایسا واقعی ہوا تھا۔ لیکن میں مشرقِ وسطیٰ میں جہاں بھی جاتی تو دیکھتی کہ یہ دراصل مسلمان ہیں جو عیسائی مقامات کی دیکھ بھال کر رہے تھے، تو اس نے مجھے کافی الجھن میں ڈال دیا۔ مثال کے طور پر وہ جگہ جہاں عیسیٰ علیہ السلام نے کوڑھیوں کو شفا دی تھی، وہ لبنان میں ایک غار ہے، اور اس غار کے ساتھ ایک چرچ ہے، اور جو شخص اسے کھولتا ہے وہ ایک مسلمان ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی چابیاں آپ کے پاس کیوں ہیں؟ اس نے کہا، یہ نسل در نسل میرے خاندان میں رہی ہیں۔ میں نے کہا، کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتی ہوں؟ اس نے کہا، جی ہاں۔ میں نے پوچھا، کیا آپ کے خاندان نے انہیں عیسائیوں سے چوری کیا تھا؟ شاید انہوں نے عیسائیوں کو مار کر انہیں حاصل کیا ہو؟ وہ کہنے لگا، آپ واقعی اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں؟ (میں نے کہا) نہیں۔ (اس نے کہا) عیسائی اس کے لیے ہم پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ہم بھی عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں۔ میں حیران ہوئی کیونکہ میں نے ایسا پہلی بار سنا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے نبی ہیں اور مسلمانوں کے پاس ان کے بارے میں بہت سی معلومات ہیں۔ یہ میرا دو ہفتوں کا ایک ناقابلِ یقین سفر تھا، اور مجھے حیرت ہوئی کہ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے اس سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سوچا تھا وہ سب جھوٹ تھا۔
اسلام کے خلاف تعصب اور تبدیلی
میزبان: کیا آپ کو اسلام کے خلاف کوئی تعصب تھا؟ اور اگر تھا، تو وہ کیسے دور ہوا؟
لورین: جب میں محمود عباس سے ملنے جا رہی تھی، ایک مغربی صحافی کے طور پر میں مختلف جماعتوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتی تھی، میں نے دو بندوق بردار بڑی جسامت کے عربی بندے دیکھے، میں ایک لفٹ کے اندر تھی، وہ ایک دوسرے سے عربی میں جو بھی بات کر رہے تھے، لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ہم سفید فام عورت کو بعد میں مار ڈالیں گے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ میرے اندر کا تعصب ہے، میں یہاں آنے کے لیے موزوں شخص نہیں ہوں، مجھے ایک اسرائیلی بندوق والے سے زیادہ فلسطینی بندوق والے سے ڈر لگتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ حالانکہ میں ان دونوں میں سے کسی کو نہیں جانتی۔ تو مجھے اپنے تعصب کو تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن یہاں ایسا معجزہ ہوا کہ مغربی کنارے میں 72 گھنٹے اکیلے رہنے کے بعد، میں کسی بھی عورت یا بچے یا مرد کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے تیار ہو گئی، کیونکہ انہوں نے جو محبت اور مہربانی دکھائی اور جو سارا ماحول تھا، مجھے احساس ہوا کہ یہ ان کا مذہب تھا۔
ناقابلِ فراموش یاد اور حیران کُن واقعہ
میزبان: کیا آپ کی کوئی ایسی یاد ہے جسے آپ بھول نہیں سکتی ہیں؟
لورین: 2005ء کے سفر کے اختتام پر میرے پاس تحائف سے بھرے تھیلے تھے۔ میں نے اُس نوجوان سے پوچھا جو میرے ساتھ خریداری کر رہا تھا کہ کیا آپ مجھے انگریزی میں قرآن ڈھونڈ کر دے سکتے ہیں؟ اس نے حیرت سے دیکھا اور کہا، ہاں۔ میرا خیال تھا کہ قرآن کا ترجمہ نہیں ہوا ہو گا، یعنی کوئی مشرقِ وسطیٰ کے ایک چھوٹے سے مذہب کا ترجمہ انگریزی میں کیوں کرے گا، ایسی زحمت کی کیا ضرورت ہے؟ اس لیے مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ ڈھونڈ پائے گا۔ لیکن وہ ’’قرآن انگریزی، قرآن انگریزی‘‘ کہتا ہوا گیا اور واپس آیا تو اس کے پاس انگریزی قرآن تھا۔ میں نے کہا، بہت اچھا۔ اور پھر میں نے اسے دیکھا تو یہ تقریباً 600 صفحات کا تھا۔ میں نے سوچا، میں اسے کبھی نہیں پڑھ پاؤں گی۔ اور پھر مجھے یاد ہے کہ میں نے یروشلم کے اس نوجوان سے پوچھا، مجھے آپ کو اتنی ادائیگی کرنی ہے؟ کیونکہ وہ میرے ساتھ خریداری کر رہا تھا۔ تو اس نے کچھ رقمیں گننا شروع کیں، مجھے ایسا لگا جیسے میں لُٹنے والی ہوں، مجھے ٹھگا جانے لگا ہے۔ پھر وہ کہنے لگا، ’’رہنے دیں، آپ نے مجھے کچھ نہیں دینا، صرف ایک بات میں آپ سے کہنا چاہوں گا کہ فلسطین کو مت بھولنا، ہمیں مت بھولنا‘‘۔ سبحان اللہ۔
میزبان: یہ واقعی متاثر کن ہے۔ اور فلسطین میں سب سے حیران کن واقعہ کیا تھا؟
لورین: جنوری کا مہینہ تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کیسی سردی ہوتی ہے، اس لیے میرے پاس کوٹ نہیں تھا۔ میں رملہ کی سڑک پر چل رہی تھی تو حجاب میں ملبوس ایک بوڑھی خاتون نے میری طرف دیکھا، اس نے عربی میں کچھ کہا اور پھر آ کر مجھے بازو سے پکڑ لیا۔ میں نے سوچا، کہیں یہ بڑی بی مجھے اغوا تو نہیں کرنے والی! کیا یہاں ایسے ہوتا ہے؟ اس نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر وہ مجھے اندر اپنے کمرے میں لے گئی، الماری کھولی اور ایک بڑا اوورکوٹ نکال کر مجھے پہنا دیا اور کہا، یَلَّا۔ میں حیران رہ گئی! اس نے اپنا نمبر لکھا اور کہا، یہ لو۔ میں نے سوچا، یہ کیا، میں کوٹ لے کر فرار بھی ہو سکتی ہوں۔ لیکن وہ بوڑھی خاتون یہ برداشت نہیں کر سکی کہ ایک اجنبی اس کے شہر میں ہو اور سردی محسوس کر رہا ہو جبکہ اس کی الماری میں ایک کوٹ پڑا ہو۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں جو بات میں کہنا چاہ رہی ہوں! اللہ اکبر۔
میں جہاں بھی گئی، وہاں ایک ایسی نرم دلی تھی، چیزوں کو بہترین بنانے کی ایسی صلاحیت تھی۔ جس چیز نے مجھے واقعی متاثر کیا وہ یہ تھی کہ اس وقت میرا ایک فارم ہاؤس تھا، ایک ویئرہاؤس بن رہا تھا، میرے پاس ایک سوئمنگ پول تھا، ایک ایکڑ کا باغ تھا، میرے خوبصورت بچے اور ایک اچھا شوہر تھا، اور سب کچھ تھا۔ لیکن اگر کوئی ایک چیز بھی غلط ہو جاتی تو میں اندر سے پریشان ہو جاتی۔ جیسے، اگر ایڈیٹر میرے کسی کام سے خوش نہیں ہوتا تو پورے گھر میں بے سکونی ہوگی۔ اوہ میرے خدا، میں دباؤ میں ہوں، میں دباؤ میں ہوں، میں دباؤ میں ہوں۔ ایک چھوٹی سی چیز۔ ہر چیز کا بہترین ہونا ضروری تھا، ورنہ میں سکون میں نہیں ہوتی تھی۔
اور یہ لوگ، فوج کے ہاتھوں بچے مارے گئے، قابضین نے گھر چھین لیے، ان کے علاقوں کی روزانہ کی محرومی اور ظلم و ستم۔ جبکہ وہ ملنے پر کہتے: سلام، امن، آپ کیسی ہیں؟ ہمارا کچھ کھانا کھا لیں۔ ان میں یہ سکون تھا۔ اور میں نے ان سے پوچھا، آپ اتنے سخی کیوں ہیں؟ آپ اس صورتحال میں مطمئن کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کتاب ہے، یہ قرآن ہے، اللہ چیزوں کو ٹھیک کر دے گا۔
اسلام کی طرف کشش اور قبولیت
میزبان: آپ کو اسلام کی طرف کشش کب محسوس ہوئی؟
لورین: 2008ء میں ایک غیر مسلم کی حیثیت سے میں غزہ میں محصور تھی، ان لوگوں کے ساتھ جو آج تک محاصرے میں ہیں۔ اعوذ باللہ۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ غریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے لیے اچھے کام کر رہے تھے۔ تو ایک دن میں نے سوچا کہ میں بھی کوئی اچھا کام کروں اور رفح کے مہاجر کیمپ میں کسی خاندان کے لیے کچھ گوشت لے جاؤں۔ چنانچہ میں یہ کھانا ایک مسلم خاندان کے پاس مہاجر کیمپ میں لے گئی۔ والدہ نے دروازہ کھولا، تفضّل، سلام علیکم، وہ بہت پُرنور تھیں۔ وہ لوگ ایک کمرے میں رہ رہے تھے، کھانے کو کچھ نہیں، پینے کو کچھ نہیں۔
میں نے ان سے کہا: آپ روزہ کیوں رکھ رہی ہیں؟ مجھے نہیں لگتا کہ آپ کا خدا آپ سے محبت کرتا ہے، مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ محبت کرتا ہے۔ وہ آپ غزہ والوں کو تیس دن تک بھوکا پیاسا کیوں رکھتا ہے؟ کیا آپ کے پاس پانی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگیں، نہیں، ہمارے پاس پانی نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، اچھا تو پھر کیوں تیس دن آپ غزہ میں کھانے کے بغیر گزار رہی ہیں؟ کیا اکتیسویں دن آپ کا فریج بھر جائے گا؟" انہوں نے کہا، نہیں، یہ نہیں بھرے گا۔ میں نے کہا، اچھا تو پھر آپ کا خدا آپ سے محبت نہیں کرتا۔ میں نے کہا، مجھے کوئی ایک معقول وجہ بتائیں کہ آپ روزہ کیوں رکھتی ہیں؟ انہوں نے، ایک بے سروسامان کمرے میں، کہا کہ ہم رمضان میں روزے رکھتے ہیں تاکہ غریبوں کو یاد کر سکیں۔
میں نے اس لمحے سوچا، اگر یہ اسلام ہے تو مجھے مسلمان بننا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسا مذہب ہے جس میں آپ خدا پر یقین رکھتے ہوں اور اُس دن شکر گزار ہوتے ہوں جب اس نے آپ کو کچھ نہ دیا ہو۔ اگر کوئی ایسا مذہب ہے کہ آپ کے پاس ایک پیالہ کھانا ہو اور آپ اسے ایک اجنبی کو دے دیں۔ اوہ میرے خدا، واہ۔
میزبان: تو ضرور یہی وہ لمحہ ہو گا؟
لورین: یہی وہ لمحہ تھا۔
میزبان: آپ نے بتایا کہ انہوں نے آپ کو قرآن دیا، تو پھر کیا ہوا، کیا آپ نے اسے پڑھا؟
لورین: تو مجھے یہ قرآن مجید ایک تحفے کے طور پر ملا، اور میں نے ایک دن اسے کھولا جب میرے بچے موجود نہیں تھے۔ میں نے سوچا، اچھا تو میں اپنے ہاتھ دھو لوں، میں جانتی ہوں کہ وہ لوگ اپنے ہاتھ دھوتے ہیں کہ یہ ایک بہت خاص کتاب ہے۔ میں اس بارے میں بہت سنجیدہ تھی۔ یہ میرا صحیفہ نہیں تھا لیکن یہ ایک صحیفہ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک حقیقی صحیفہ ہو، لہٰذا مجھے اسے احترام کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
جب میں نے الفاتحہ پڑھی تو سوچا کہ یہ تو لارڈز کی طرف دعا کی طرح ہی ہے۔ وہی چیز ہے کہ صرف خدا کی عبادت کرو، صرف اسی سے مانگو، صرف اسی کا شکریہ ادا کرو، برا کام نہ کرو، اچھا کام کرو۔ میں اس بارے میں مطمئن ہوئی کہ الفاتحہ ٹھیک ہے اور میرے عیسائی عقیدے کے مطابق ہے۔ لیکن پھر سورۃ البقرہ آئی جس میں آپ اُس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں کہا گیا ہے کہ: وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں لیکن ان کے دل میں نفاق ہے، وہ جانتے ہیں کہ وہ سچ نہیں بتا رہے ہیں، اور اللہ جھوٹوں سے نفرت کرتا ہے۔ یعنی بنیادی طور پر یہ مجھے میرے نفاق پر ٹوک رہا تھا اور مجھے بتا رہا تھا کہ میں جہنم میں جاؤں گی کیونکہ میں خدا پر یقین رکھتی تھی لیکن میں اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہی تھی، میں برے فیصلے کر رہی تھی، میں ایک اچھی انسان نہیں بن رہی تھی، نہ ہی عبادت کر رہی تھی اور نہ ہی اس کی پرواہ کر رہی تھی، اور میں جھوٹ بول رہی تھی۔ میں نے قرآن بند کر دیا اور سوچا، اوہ میرے خدا۔ مجھے ایک سرد احساس ہوا۔ ایک گرم دن تھا لیکن پوری طرح دہشت میں آ گئی اور مجھے قرآن سے خوف آیا۔ تو میں نے اسے ایک اونچی شیلف پر رکھ دیا اور سوچا کہ یہ لوگ تو اچھے ہیں لیکن ان کی کتاب سخت ہے۔ کیونکہ میں نے خدا کو اس سے پہلے کبھی اتنا غصے میں نہیں دیکھا تھا، اور اس کا غصہ مجھ پر تھا۔
میزبان: کیا آپ کو مسلمانوں کی طرف سے دعوتِ اسلام ملی؟
لورین: جی، مجھے اپنے سفر کے دوران ایک جگہ سے دعوت ملی تھی۔ لوگوں کا ایک گروپ تھا جو میرے لیے بہت خاص تھا، کیا آپ جانتے ہیں وہ کون تھے؟ وہ صومالی ٹیکسی ڈرائیور تھے۔ وہ مجھے دعوت دیا کرتے تھے۔ تو میں (پہنچنے پر) ’’السلام علیکم‘‘ کہتی تھی کیونکہ میں فلسطین گئی تھی اور میرا خیال تھا کہ اس کا مطلب ’’ہیلو‘‘ ہے۔ وہ کہتے، وعلیکم السلام، کیا آپ مسلمان ہیں؟ میں کہتی، نہیں، لیکن مجھے دلچسپی ہے۔ وہ مجھے متنبہ کرتے کہ محتاط رہنا کیونکہ تمہیں درس ملنے والا ہے، تمہیں اپنے ڈرائیور سے تقریر سننے کو ملے گی۔ لیکن میں نے واقعی اس کا لطف اٹھایا۔ وہ اس طرح بتاتے تھے کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ ؓ سے یوں کہا‘‘۔ اور میں اُس حیرت انگیز اور شاندار آدمی کے بارے میں سیکھتی تھی جو 1400 سال پہلے عرب صحرا میں رہتا تھا اور پڑھ لکھ نہیں سکتا تھا لیکن اس نے لوگوں اور دنیا کو اپنا آپ بدلنا سکھایا۔ اس طرح مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو گئی۔
میزبان: اسلام قبول کرنے کی طرف آپ کا آخری قدم کیا تھا؟
لورین: مجھے 2007ء کے آس پاس اسلام چینل پر نوکری کی پیشکش ہوئی کیونکہ میں فلسطین اور عراق کے لوگوں کے حق میں انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی تھی۔ اسلام چینل کے محمد علی نے مجھے نوکری کی پیشکش کی تو میں نے کہا کہ میری دو شرائط ہیں: نمبر ایک: مجھ سے اسلام کے بارے میں بات مت کرنا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت اچھا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ بہت اچھے ہیں، لیکن یہ میرے لیے نہیں ہے۔ اور نمبر دو: میں آپ کے ٹی وی اسٹیشن پر حجاب نہیں پہنوں گی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ عورتوں کے لیے نامناسب ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے، اور میں منافق نہیں بننا چاہتی۔ انہوں نے کہا، اللہ فیصلہ کرے گا کہ آیا آپ مسلمان بنیں گی یا نہیں، یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ میں نے کہا، نہیں، میرے مسلمان بننے کا کوئی راستہ نہیں ہے، میں نہیں بن سکتی۔ محمد علی نے کہا، آپ مسلمان بن سکتی ہیں۔ میں نے کہا، میں نہیں بنوں گی۔ انہوں نے کہا، اچھا، اللہ بہتر جانتے ہیں۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے۔ پھر میں نے کہا، حجاب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے، حجاب مت پہنیں لیکن براہ کرم جتنا زیادہ ہو سکے باحیا لباس پہنیں تو ہم اسے قبول کریں گے۔
چنانچہ اس طرح میں نے دنیا کا سفر کرنا شروع کر دیا، مقررین و شیوخ کے انٹرویو کیے، زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک رسائی حاصل کی، اس دوران بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ پھر میں 2010ء میں ایران گئی کہ مجھے ایک صحافی اور نامہ نگار کی حیثیت سے القدس ریلی کی رپورٹنگ کرنا تھی۔ مجھے ہمیشہ فلسطین کے بارے میں ہی کام کرنا ہوتا تھا۔ تو میں ایران میں تھی، ہم سفر کے دوران قم شہر پہنچے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ میں ایک مسجد میں گئی تو مجھے خیال آیا کہ میں نے وضو کیا ہوا ہے، اپنی دوست کی طرح جس کے ساتھ میں سفر کر رہی تھی۔ اور جب میں اندر داخل ہوئی تو میں نے ایک دعا کی اور کہا، اے اللہ، ہر اس چیز کے لیے آپ کا شکریہ جو آپ نے مجھے دی ہے اور میں آپ سے مزید کچھ نہیں مانگوں گی کیونکہ آپ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، لیکن براہ کرم فلسطین پر رحم فرما۔
پھر میں چاروں طرف دیکھنے لگی، میں اپنے طور پر رپورٹنگ کرنے گئی تھی۔ میرے پاس ایک آئی فون تھا، میں نے سوچا، واہ! یہ ایک خاص رپورٹ ہو گی کہ میں رمضان میں ایک ایرانی درگاہ پر ہوں، میرے پاس ایک زبردست کہانی ہے، میں اسے دنیا بھر میں پھیلا سکتی ہوں۔ اگرچہ میں مذہبی کیفیت میں نہیں تھی لیکن یہ احساس ہوا کہ میں مسلمان بننا چاہتی ہوں، حالانکہ میں تجسس کی وجہ سے اور شاید کچھ خفیہ تصاویر لینے کے لیے اندر گئی تھی۔ لیکن جب ہم مرکزی جگہ پر پہنچے تو میں بیٹھ گئی اور ایسا لگا جیسے میں امن کے ایک آبشار کے نیچے بیٹھی ہوں۔ ایسا لگا جیسے میری ہر پریشانی مجھے چھوڑ گئی ہے، میرا دل مکمل طور پر سکون میں تھا۔ مجھے اپنا نام تک یاد نہیں تھا۔ میں لورین بوتھ بالکل بھی نہیں تھی۔ خود سازی اور خود اعتمادی کا وہ سب گھمنڈ، جو کچھ بھی تھا، وہ چلا گیا تھا۔ یہ سب سے بہترین احساس تھا اور میں ہلنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
میں اس کیفیت میں رات کو مسجد میں سوئی۔ صبح ہوئی، میں نے وضو کیا اور میں نے فجر کی نماز ادا کی۔ اس وقت اپنے دل کی یہ بات میں جانتی تھی کہ میں مسلمان تھی۔ اس وقت میں جانتی تھی کہ خدا ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ سو فیصد سو فیصد سچے ہیں۔
اسلام قبول کرنے پر ردعمل اور بعد کی زندگی
میزبان: اور پھر کیا ہوا؟ آپ کے آس پاس کے لوگوں کا کیا ردعمل تھا؟
لورین: میں لندن واپس جانے والی پرواز پر اپنی شہادت پڑھے بغیر نہیں جانا چاہتی تھی لیکن مجھے کوئی مل نہ سکا کیونکہ میری پرواز صبح 6 بجے کی تھی۔ تو میں لندن کی ایک مسجد میں گئی۔ سبحان اللہ۔ جب میں نے شہادت پڑھی تو ایسا لگا جیسے میرے منہ سے سونے کی ڈلیاں نکل رہی ہوں۔ ’’اشھد ان لا الٰہ الا اللہ‘‘ ایسا لگا جیسے زلزلہ آیا ہو۔ ’’اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ‘‘ اور وہ زمین پر چھا گیا ہو۔ واہ، یہ یادگار لمحہ تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں اچانک ایک بڑے روئی کے گولے میں آگئی ہوں۔ یہ روئی میں لپٹنے جیسا احساس تھا، بہت نرم۔ اور باقی سب کچھ جیسے دور ہو گیا ہو۔
اگلے دن جب میں اپنے بچوں کو سکول لے جا رہی تھی، وہ مجھ سے آگے بھاگ رہے تھے، میں گھر سے باہر نکلی تو سوچا، تم نے اپنا حجاب نہیں پہنا ہے۔ پھر سوچا، کوئی بات نہیں، میں اب ایران میں تو نہیں ہوں۔ لیکن یہ خیال آتا رہا، تم نے اپنا حجاب نہیں پہنا ہے! تم بے لباس ہو۔ چنانچہ میں گھر کے سامنے کے دروازے سے باہر نہ جا سکی۔ مجھے وہ واحد سکارف ڈھونڈنا پڑا جو کسی نے مجھے دیا تھا، اور پھر اسے ایک عجیب طریقے سے کھینچ کر پہنا۔ پھر میں بچیوں کو سکارف میں سکول لے کر گئی۔ انہوں نے پوچھا، امی! آپ نے حجاب کیوں پہنا ہے؟ میں نے کہا، سردی ہے۔ انہوں نے کہا، گرمی ہے۔ میں نے کہا، جو بھی ہے بس چلو اور اپنے راستے پر جاؤ۔
جب میں سکول پہنچی تو ایک صاحب جو جیوش کرانیکل (یہودی اخبار) کے لیے کام کرتے تھے، وہ میری طرف ایسے دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں ’’اوہ، یہ تو ایک بڑی خبر ہے‘‘۔ میں نے سوچا، اوہ، اب تو میں بہت مشکل میں آ گئی ہوں۔ وہ صاحب ایسے تھے جیسے ان کی ساری کرسمسیں اکٹھی آ گئی ہوں، لیکن میں نے پرواہ نہیں کی اور گھر چلی گئی۔ پھر اگلے سات دن تک سب کچھ بدل گیا۔ میں نماز پڑھنا چاہتی تھی، میں اللہ سے رو کر دعا کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اپنا سر زمین پر رکھا جیسا کہ میں نے مسلمانوں کو کرتے دیکھا تھا اور میں نے دو باتیں بار بار کہیں: میں نے کہا: شکر ہے۔ میں نے کہا: معاف کر دیجیے۔ اس زندگی کے لیے آپ کا شکریہ، اس تمام محبت کے لیے جو آپ نے مجھے دی ہے، ہر وہ چیز جو میں نے نہیں پہچانی، خوبصورت بیٹیاں، مجھے محبت ملی ہے، مجھے موقع ملا ہے، میرا ایک اچھا خاندان رہا ہے، اور میں آپ کو پہچانتی ہوں۔ شکریہ۔ اور پھر میں نے کہا، معاف کیجیے، بہت زیادہ معافی، اور میں تقریباً ایک ہفتے تک روتی رہی۔
تب مجھے قرآن کو دوبارہ اٹھانا پڑا اور یہ خوفناک لمحہ تھا۔ میں نے جمعہ کو شہادت پڑھی تھی جب میرے بچے اپنے والد کے ساتھ تھے، کیونکہ ہمارے درمیان علیحدگی ہو چکی تھی۔ اس جمعہ کی رات میں نے سوچا کہ یہ موقع ہے جب بچے موجود نہیں ہیں۔ میں نے شہادت پڑھی۔ اس کے بعد میں گھر جاتی ہوں اور وہاں بیٹھتی یہ سوچتی ہوں کہ چلو کسی مرد دوست کو فون کروں۔ خیال آیا، تم ایسا نہیں کر سکتیں۔ اچھا، چلو ایک سگریٹ پی لیتی ہوں۔ خیال آیا، مجھے سگریٹ نہیں پینا چاہیے کیونکہ میں جانتی تھی کہ میں نماز پڑھوں گی اور اللہ کا نام لوں گی۔ پھر میں نے اپنی فریج کھولی تو وہاں شراب کی ایک بوتل تھی۔
مجھے ایسا لگا کہ اب تو زندگی بہت بور ہونے والی ہے، یعنی کرنے کے لیے بالکل کچھ نہیں ہے۔ تو میں نے دوبارہ قرآن اٹھایا۔ میں نے کہا: یااللہ، براہ کرم ہمیں ایک اچھا انجام عطا فرما، ایسا نہ ہو کہ میں جہنم جانے والی بن جاؤں۔ مجھے اپنے فیصلے پر پچھتانے نہ دینا۔ میں آپ پر بھروسہ کرتی ہوں۔ تو قرآن نے بس یہ کہا: خوش آمدید، آپ کہاں تھیں؟ خدا آپ سے محبت کرتا ہے، آپ نے صحیح انتخاب کیا ہے، اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
میزبان: واقعی حیرت انگیز ہے۔ اور آپ کے خاندان کا ردعمل کیسا تھا؟
لورین: تو میں نے سوچا کہ جب میرے خاندان کو پتہ چلے گا کہ میں مسلمان ہوں تو یہ ایک بڑی بات ہو گی۔ میری والدہ کا رویہ بہت طنزیہ تھا، انہوں نے کہا، تم پاگلوں کے ساتھ مل گئی ہو۔ کیا تم دہشت گرد بننے جا رہی ہو؟ انہیں بہت خوف تھا۔ لیکن میں ایک اچھی بیٹی کے طور پر پیش آئی۔ میں نے ان کی زندگی کے آخری سالوں میں ان سے محبت کرنے اور چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت محنت کی۔
میرے والد فکرمند تھے کہ ایک آزاد عورت ہونے کے ناطے تم نے ایسا لباس کیوں پہنا ہے؟ تم کسی مرد کو اپنے ساتھ ایسا کیوں کرنے دے رہی ہو، کیونکہ خدا تو نہیں چاہتا کہ تم اسے پہنو، یہ تو مردوں نے تمہیں اسے پہننے کو کہا ہے۔ میں نے کہا، میں یہ خدا کے لیے پہن رہی ہوں۔ وہ کہتے، لیکن تم ویسے بھی خدا کے پاس جا سکتی ہو، تمہیں اس طرح جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور وہ میری ممکنہ شادی کے بارے میں پریشان ہوتے تھے کہ کیا تم غلامی میں چلی جاؤ گی؟ کیا تم ایک نوکرانی بن جاؤ گی؟ وہ کہتے، میری بیٹی تو ایک مضبوط عورت ہے۔ میرا ردعمل ہوتا، آپ یہ سب نہیں سمجھتے۔
لیکن سبحان اللہ، مجھے اپنے والد کے بستر مرگ پر ان سے بات کرنے کا موقع ملا، سبحان اللہ۔ اور مجھے انہیں الفاتحہ پڑھ کر سنانے کا موقع ملا، اور مجھے ان کا ہاتھ تھامنے اور ان کی آنکھوں میں گہرائی سے دیکھنے اور ان کے ساتھ روحانیت اور خدا کی محبت کے حوالے سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اور بالآخر انہوں نے کہا کہ خدا ایک ہے اور حضرت محمد آخری نبی ہیں اور حضرت عیسیٰ ایک نبی ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے عربی میں تو نہیں کہا اور میں نے زور بھی نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ایک خدا ہے، عیسیٰ ایک نبی ہیں۔ اور میں نے جب کہا کہ حضرت محمد ایک عظیم انسان تھے جو ایک نبی تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں مانتا ہوں کہ وہ ایک نبی تھے۔ میرے والد کے انتقال کے بعد مجھے ان کے بارے میں ایک خوبصورت خواب آیا کہ تین امام انہیں غسل دے رہے تھے اور وہ پُر نور تھے، اس لیے ان شاء اللہ۔
میزبان: اُس وقت آپ ایک انگریزی نیوز چینل میں کام کر رہی تھیں، وہاں کیا ہوا؟
لورین: تو پہلی صبح جب میں حجاب پہن کر سکائی نیوز گئی تو بہت مضحکہ خیز صورتحال بنی۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ان کی تربیت ایسے ہوتی ہے کہ سٹوڈیو میں کوئی بھی آجائے تو وہ بہت خوش اسلوبی سے اس کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن اُس دن کچھ ایسا نظر آیا کہ جیسے ہر کوئی یہ سرگوشی کر رہا ہو: ’’اوہ میرے خدا، کیا تم نے دیکھا؟‘‘ جونہی میں کسی کے پاس سے گزرتی تو وہ کہتا: ’’ہائے لورین‘‘ (پھر دوسروں کے ساتھ سرگوشیاں شروع ہو جاتیں)۰ میں دیکھ سکتی تھی کہ میرے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ دو دن بعد مجھے کال آئی کہ لورین! ہم کچھ تبدیلیاں کر رہے ہیں تو اب ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بس ختم، انہوں نے دوبارہ کبھی میری خدمات حاصل نہیں کیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اِس وقت سکائی نیوز پر حجاب والی خواتین ہیں؟ ہاں، ماشاء اللہ۔ کیا اخباری دنیا میں حجاب والی خواتین ہیں؟ ہاں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی کسی نومسلم حجاب والی خاتون کو نیوز میں دیکھا ہے؟ کوئی نام بتائیں۔ اب یہ ایک جدوجہد ہے جس کا مرکزی دھارے کی دنیا کو سامنا ہے۔ کیونکہ اگر آپ یہ قبول کرتی ہیں کہ اسلام آپ کا ایمان ہے، اللہ آپ کا رب ہے، تو میڈیا کے معیار کے مطابق، یا تو آپ کو اعصابی بریک ڈاؤن ہوا ہے، بلکہ اعصابی بریک ڈاؤن ہی ہوا ہے، کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ یہاں کوئی دوسرا آپشن بھی ہے۔ وہ آپ کو سوچ سمجھ رکھنے والے، ذہین اور قابلِ اعتبار شخص کے طور پر کیسے پیش کر سکتے ہیں، جو اپنی عمر کے اس مرحلے میں آ کر (اچانک) یوں کہے: ’’صبح بخیر! میرا نام لورین بوتھ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اللہ ہمارا خدا ہے اور حضرت محمد آخری نبی تھے۔ اب آئیے موسم کی طرف‘‘۔ آپ جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ حجاب والی گہری رنگت کی خواتین کو رکھ سکتے ہیں کیونکہ پھر وہ بس یہ سوچتے ہیں کہ اس نے چھوٹی سی کوئی عجیب چیز پہنی ہوئی ہے۔ لیکن اگر آپ مرکزی دھارے سے ہیں تو ایسی گفتگو کے بغیر معاملہ کیسے چل سکتا ہے کہ جس میں خدا اور اسلام کے بارے میں بات ہو، اور یہ کہ ہم مسلمانوں اور مسلم دنیا کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ الحمد للہ، اب میں ایسی گفتگو کا سامنا کرتی ہوں اور اسے گلے لگاتی ہوں۔
میزبان: کیا کوئی ایسا شخص تھا جسے اسلام کے بارے میں معلوم ہوا اور اس کی زندگی بدل گئی؟
لورین: میں کچھ سال پہلے قطر سے واپس آ رہی تھی، میرے سامنے والا آدمی ایک برطانوی آدمی تھا جس نے بنیان پہنی ہوئی تھی اور اس سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ میں نے سوچا، خدایا، میں چار گھنٹے تک اس کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتی۔ ہم ساتھ بیٹھ گئے لیکن مجھے اس سے فاصلہ رکھنا پڑ رہا تھا۔ وہ میری طرف ایسے دیکھتا جیسے میں کوئی گندی چیز ہوں۔ جب کھانا شروع ہوا تو اس نے شراب وغیرہ کی فرمائش کی۔ جبکہ میں پانی پی رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ خدایا مجھے معاف کر دے، یہ اب تک کی سب سے بری پرواز ہے۔ پھر اس نے کچھ اس انداز سے پوچھا، آپ کو پانی چاہیے؟ جیسے میں انگریزی نہیں جانتی۔ میں نے کہا، آپ کا بہت شکریہ۔ میں نے سوچا، مجھے بھی کچھ اچھا جواب دینا چاہیے۔ میں نے پوچھا، کیا آپ میری پنیر لینا پسند کریں گے؟ اس نے کہا، آپ کا بہت شکریہ۔ اس نے پوچھا، آپ کہاں سے ہیں؟ میں نے کہا، میں لندن سے ہوں۔ وہ حیران ہو گیا اور کہا، آپ لندن سے ہیں اور ایسا لباس پہنا ہوا ہے؟ اس نے رخ پھیر لیا اور کچھ دیر بعد کہنا شروع ہو گیا، مجھے افسوس ہے، مجھے افسوس ہے، مجھے افسوس ہے۔ میں نے اسے دیکھا اور پوچھا، خیریت ہے؟ اس نے کہا، ہاں، لیکن میں آپ کے بارے میں خوفناک باتیں سوچ رہا تھا، مجھے افسوس ہے۔ میں نے کہا، آپ نے وہ باتیں مجھ سے کہیں تو نہیں، اس لیے کوئی بات نہیں، فکر نہ کریں۔
مختصر یہ کہ چار گھنٹے کے دوران ہم نے بات چیت کی۔ معلوم ہوا کہ وہ افسردہ ہے اور جینا نہیں چاہتا، وہ ایک برا آدمی ہے۔ میں نے اس سے کہا، ایسے لمحات کسی پر بھی آجاتے ہیں، تب ہم خدا سے دعا کرتے ہیں، تو آپ کس سے دعا کرتے ہیں، کس کو پکارتے ہیں؟ اس نے کہا، میں ایسی کسی چیز پر یقین نہیں رکھتا۔ میں نے کہا، کوئی تو ہو گا جس کے پاس آپ اس حالت میں جاتے ہوں۔ اس نے کہا، اچھا، میرے پاس اپنی ماں کی ایک تصویر ہے، کبھی کبھی میں اس کے سامنے روتا ہوں اور کہتا ہوں، امی، میری مدد کریں۔
یہ درد میں مبتلا ایک چالیس سالہ آدمی ہے۔ میں نے اس سے کہا، اچھا، کیا آپ کی والدہ مذہبی تھیں؟ اس نے کہا، ہاں، وہ بہت دعا کیا کرتی تھیں۔ میں نے کہا، آپ کی والدہ کس سے دعا کرتی تھیں؟ اس نے کہا، خدا سے۔ میں نے کہا، اگلی بار جب آپ ایسا محسوس کریں تو اس سے دعا کریں جس سے آپ کی والدہ دعا کرتی تھیں؟ تو ایسا لگا جیسے ایک بلب روشن ہو گیا ہو۔ اس نے کہا، ہاں، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، بالکل۔ میرے بیگ میں اللہ کے فضل سے انگریزی میں ایک قرآن تھا، میں نے اسے دے دیا۔ تو یہ برطانوی آدمی جب جہاز سے اتر رہا تھا تو شکریہ ادا کر رہا تھا۔
تو سبحان اللہ، لوگوں کو ضرورت ہے، لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان شاء اللہ ان تک رسائی کے ذرائع تلاش کرنے ہیں۔ میں نے تو اپنے آپ کو یہ سلسلہ قائم کے لیے وقف کر لیا ہے۔ ایسا سلسلہ جو ہمارے نوجوان مسلمانوں کی دیکھ بھال کرے، ہمیں اپنے ورثے پر فخر محسوس کرنے کے قابل بنائے، اور یہ سکھائے کہ ہم اس حوالے سے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ نیز غیر مسلموں اور شبہات رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی کہ وہ اپنے سوالات پوچھ سکیں، ان شاء اللہ، اور یہ ایک اچھا مقصد ہے۔
منصوبے اور آخری پیغام
میزبان: کیا آپ ہمیں اپنے اب تک کے اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟
لورین: میرا بنیادی منصوبہ تو دنیا کو ’’اسلامی رویہ‘‘ سے متعارف کرانا ہے کہ طیب کیا ہے اور بھلائی کیا ہے، ہم اس کا احیا کیسے کر سکتے ہیں اور اپنی زندگیاں اس کے مطابق کیسے گزار سکتے ہیں، الحمد للہ۔ میرے خیال میں ان بڑے منصوبوں میں سے ایک، جو مجھے واقعی متحرک کرتا ہے، وہ مسلمانوں سے اس بارے میں بات کرنا ہے کہ ہمارا ورثہ کتنا عظیم ہے اور ہم اس پر غور و فکر کر کے دوبارہ عظیم کیسے بن سکتے ہیں، الحمد للہ۔
میں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام "In Search of a Holy Land" ہے۔ اللہ کے فضل سے اس کتاب کی ایک آڈیو بُک بھی بنائی ہے تاکہ لوگ اسے سُن سکیں، جو آن لائن ہے۔ اور میں نے ایک پروڈیوسر کے ساتھ مل کر اپنی کتاب کو ایک ڈرامے کی شکل دی، جس کا نام ہم نے "Accidentally Muslim" رکھا۔ ہم نے ایڈنبرا فرینج فیسٹیول میں تقریباً 900 افراد کے سامنے اسے پیش کیا جن میں زیادہ تر غیر مسلم تھے۔ مجھے اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کرنا اچھا لگتا ہے، جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے، دل پر اثر کرنے والا اور معاشرے پر مثبت طور پر اثرانداز ہونے والا۔
میزبان: اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے تو آپ ایک منٹ میں کیا کہنا چاہیں گی؟
لورین: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آپ لوگ جو اِس وقت گھر بیٹھے ہیں، آپ پر ایسے لمحات آتے ہیں جب آپ نہیں جانتے کہ آپ زندہ کیوں ہیں۔ آپ پر اداسی، نقصان اور غم کے لمحات آتے ہیں۔ جب تفریح اُس طرح آپ کے کام نہیں آتی جیسے عام حالات میں آتی ہے۔ آپ تکلیف میں ہیں۔ آپ کسی سے مدد مانگنا چاہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ کیسے پوچھیں۔ سب کچھ عجیب اور غیر حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ جب آپ ایسا محسوس کریں تو باغ میں ایک گلاب کو دیکھیں اور سوچیں کہ یہ ہمارے لیے خوشبو کیوں بناتا ہے۔ جب آپ ایسا محسوس کریں تو شہد کی مکھیوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ وہ شہد حیرت انگیز طور پر کتنا مزیدار ہے، اس میں شفا ہے اور ہم اسے گلے کی خراش کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ سوچیں کہ فطرت ہماری خاطر کیسے موجود ہے۔ یہ کتنا خوبصورت ہے کہ بارش زمین میں، درختوں کی جڑوں میں جاتی ہے، اور پھر درخت ایک پتی یا پھول اُگاتے ہیں، وہ پھول پھر پھل بن جاتا ہے جسے ہم کھا سکتے ہیں اور اس میں ہمارے لیے بھلائی ہے۔ اور اپنے رب کی محبت اور سخاوت بھری موجودگی کو محسوس کریں۔
میزبان: سسٹر لورین، ہمیں وقت دینے کے لیے آپ کا شکریہ، ہم کسی اور پروگرام میں بھی آپ سے ملیں گے۔
لورین: ان شاء اللہ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
میزبان: وعلیکم السلام۔
ملی مجلس شرعی کا اجلاس
ڈاکٹر محمد امین
ملّی مجلسِ شرعی، جو سارے دینی مکاتبِ فکر کا مشترکہ علمی پلیٹ فارم ہے، کے علماء کرام کا ایک اجلاس، حسبِ فہرست لف ہٰذا، ۱۵ نومبر ۲۰۲۵ء کو جامعہ عثمانیہ (آسٹریلیا مسجد نزد ریلوے سٹیشن) لاہور میں ہوا جو صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہا۔ علماء کرام نے بحث و مناقشہ کے بعد مندرجہ ذیل فیصلے کیے:
ا۔ اجلاس نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حکومت کے خلاف اجلاس اور ریلیاں پُرامن اور آئین و قانون کے اندر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مریدکے میں حکومتی ظلم و جبر کی مذمت کرتے ہوئے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ ابھی تک شہداء، زخمی اور مِسنگ پرسنز [گمشدہ] کی مستند معلومات عوام کو میسر نہیں۔ لہٰذا ایک اعلیٰ سطح کا عدالتی کمیشن بنایا جائے تاکہ صحیح اور مستند معلومات عوام کو مہیا کی جائیں اور زیادتی کرنے والے فریق کی نشان دہی ہو جائے۔
۲۔ علماء کرام نے اپنے اس موقف پر زور دیا کہ:
- علماء اسلام حکومتی ایجنسیوں کو معلومات مہیا کرنے کے ہمیشہ حامی رہے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
- علماء کرام اپنے اس موقف کو دہراتے ہیں کہ مساجد اللہ کا گھر ہیں جو ہر مسلک کے نمازیوں کے لیے کھلی ہونی چاہئیں اور یہ کہ انہیں فرقہ واریت، نفرت اور تعصب پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
- علماء کرام نے مساجد کمیٹیوں سے مطالبہ کیا کہ کسی امام اور خطیب کی تنخواہ ۲۵ ہزار روپے ماہانہ سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ ایک مزدور کے لیے حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ ۴۰ ہزار روپے ہے۔
- علماء کرام نے حکومت کے بعض ائمہ مساجد کو ۲۵ ہزار روپے مشاہرہ دینے کو رد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی بجائے مساجد کے بجلی، پانی اور گیس کے بل ادا کر نے کا انتظام کرے۔
۳۔ علماء کرام نے ستائیسویں ترمیم میں بعض افراد کی قانون سے بالاتری کے تصور کو اور مشاورت کو مؤثر بنائے بغیر آمریت کے رجحان کو غیر اسلامی قرار دیا۔
۴۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ دسمبر کے پہلے عشرے میں لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام علماء کا ایک وسیع تر اجلاس طلب کیا جائے تاکہ باہمی مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
مولانا زاہد الراشدی (صدر مجلس) / ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری جنرل)
۱۷ نومبر ۲۰۲۵ء
When Hazrat Abdullah ibn Umar Defended Hazrat Usman ibn Affan
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
There is a narration in Sahih al-Bukhari concerning events after the martyrdom of Hazrat Usman (may Allah be pleased with him). The situation had changed, Hazrat Usman had been martyred, and those who carried out that act were from among people who called themselves Muslims. Naturally his opponents remained active. In Bukhari the political groupings of that period are described with the term "shiah" used for three factions: the partisans of Ali (ؓشیعانِ علی), the partisans of Muawiyah (شیعانِ معاویہؓ), and the partisans of Hazrat Usman (شیعانِ عثمانؓ). These were political alignments rather than doctrinal divisions, as in the generations of the Companions and the Successors there was no difference in creed, only in political loyalties.
The report in Bukhari relates that Hazrat Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) was present in Makkah during Hajj when a man came, joined the pilgrimage, and noticed a gathering in al-Masjid al-Ḥaram. He asked who the people were; he was told they were Quraysh. The man, seemed to oppose Hazrat Usman, approached Hazrat Abdullah ibn Umar who happened to be seated among the gathering. The man greeted Hazrat Abdullah ibn Umar and said: I want to ask you something. Hazrat Abdullah ibn Umar asked him to go ahead.
The man asked whether Hazrat Usman had been at the battle of Badr. Hazrat Abdullah ibn Umar answered: No. He asked whether Hazrat Usman was among those who fled from the battle of Uhud. Hazrat Abdullah ibn Umar answered: Yes. He asked whether Hazrat Usman had taken part in the Pledge of Riḍwan beneath the tree. Hazrat Abdullah ibn Umar answered, No.
Upon confirming these points, the man shouted Allahu Akbar, believing he had publicly validated his accusations of Hazrat Uthman’s perceived shortcomings. The purpose of these questions was not to seek knowledge but to sow doubt about Hazrat Usman’s reputation. Some questions are legitimate inquiries; others are malicious that are designed to mislead.
Hazrat Abdullah ibn Umar immediately checked the man, insisting that he hear the full explanation, as he was leaving after asking incomplete questions and confusing people's minds. Hazrat Abdullah aksed him to sit down and listen to the complete story. Then he provided the following comprehensive defense.
He clarified that Hazrat Usman’s absence from Badr was not voluntary. At that time Hazrat Usman’s wife Ruqayyah (may Allah be pleased with her), daughter of the Prophet (PBUH), was gravely ill and later died. The Prophet (PBUH) asked Hazrat Usman to return to Madinah to care for her because she had no one at home to tend her. Thus Hazrat Usman did not leave the battle of Badr by choice but by necessity and by the Prophet’s command, and he was granted the reward as if he had been there in the battle. Consequently, his name appears on the list of those who participated in the battle and were entitled to the spoils from Badr.
Regarding Uhud, Hazrat Abdullah ibn Umar explained the military circumstances. The Prophet (PBUH) had carefully chosen the battlefield with a mountain at the rear and placed about fifty men under the command of Hazrat Abdullah ibn Jubayr (may Allah be pleased with him) to hold a pass; they were ordered not to leave their station under any circumstances. During the battle, when victory seemed certain, many among those thought it safe to pursue the enemy and collect spoils, so they left their posts. This was a mistake. Khalid ibn al-Walid, fighting on the enemy side, noticed the deserted pass, led a force around, and struck the exposed Muslims, causing chaos and heavy losses in which some were martyred by friendly hands in the confusion. Muslims fled for safe places, among those was Hazrat Usman as well. The Qur’an criticizes those who disobeyed the order (al-Imran 153), yet it also says that Allah pardoned them (al-Imran 155). Hazrat Abdullah ibn Umar reminded his listeners that Allah forgave them, and he urged the man that he should let go of it.
As for the Pledge of Rizwan, Hazrat Abdullah ibn Umar explained why Hazrat Usman had not been present there. When the Prophet (PBUH) went to Makkah for umrah, the Quraysh did not allow it. Long story short, negotiations with the Quraysh became tense. Hazrat Usman was sent to the Quraysh for negotiations, as he had many ties among Arab tribes and was well respected in Makkah. However, he was captured and locked inside of Kaabah by Hazrat Khalid ibn al-Walid. But they spread the news that Hazrat Usman was martyred. That rumor sparked the pledge under the tree: the Companions swore to avenge Hazrat Usman’s killing or to die fighting right there. The Prophet (PBUH) then took the pledge on behalf of Hazrat Usman, placing his right hand on his own left and declaring that he pledged in Hazrat Usman’s stead.
Having given a full explanation, Hazrat Abdullah ibn Umar told the man, in essence: now you know the context and the truth, so raise your slogans if you must, but don't mislead people by spreading half-truths.
The scholars have derived two main principles from this discussion:
- The first principle is that one should not focus only on what is being asked, but also on why it is being asked. When someone poses a question, it is important to understand their intent and purpose, what they wish to achieve through that question. The responder should distinguish the motive behind the inquiry before giving an answer.
- The second principle is that just as it is wrong to create confusion by asking incomplete questions, it is equally wrong to deepen confusion by giving incomplete answers. If there is a risk that a partial answer could be misused, the matter must be explained clearly.
To illustrate the first principle, there is an incident narrated in Tafsir al-Qurtubi about Hazrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him), regarding the verse "And whoever intentionally kills a believer, his recompense is Hell, wherein he will abide eternally" (an-Nisa 4:93). It is reported that Ibn Abbas was sitting among his companions when a man came and asked: O master, is there repentance for a murderer? If someone kills another and repents, will his repentance be accepted? Ibn Abbas replied: No, it will not. There is no repentance for a killer. The man left.
His companions then said: O sir, you have previously told us that repentance is possible even for a murderer. Why did you tell him otherwise? Ibn Abbas replied: From his expressions I could tell he intended to kill someone and wanted to use my ruling as an excuse. By saying 'no' I stopped him from this act. I realized he was seeking reassurance to go through with a murder, thinking he could repent afterward. Hazrat Ikrimah (may Allah be pleased with him) said they later followed the man to confirm, and he admitted: the elder was right, I was indeed planning to kill someone. I asked him only to ease my conscience, but after his reply, I refrained.
From this, scholars conclude that when answering questions, one must not only understand what is being asked but also why, and respond in light of that purpose.
’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
اسلام کا خاندانی نظام اور عصرِ حاضر (3)
خطبہ نمبر 5: مؤرخہ 13 نومبر 2016ء
حضرات علمائے کرام اور محترم دوستو بزرگو اور ساتھیو!
اس پہلو سے گفتگو کی ابتدا کی تھی کہ جاہلیت کے دور کا جو خاندانی نظام تھا، خاتم النبیین ﷺ نے اس میں کیا تبدیلیاں کیں؟ ان تبدیلیوں کا ذکر ہو رہا تھا اور پھر ایک بات درمیان میں ہوئی کہ جاہلیت کے دور میں غلام اور لونڈی کو بھی خاندان کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے قرآن پاک اور احادیث میں ان کے متعلق احکام بیان ہوئے ہیں۔
مرد و عورت خاندان کے دو بنیادی ستون ہیں
مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے اور خاندان کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن کریم نے ان دونوں کو خاندان و معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔
خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا کثیرا ونسآء (سورۃ النساء: 4، آیت: 102)
(جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)
یہ دونوں بنیادی ستون ہیں، اگر ان میں توازن برقرار رہے تو نظام ٹھیک رہتا ہے، اگر ان میں توازن بگڑ جائے تو نظام خراب ہو جاتا ہے۔ اس کو آج کی زبان میں یوں تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ ’’ویل بیلنسنگ‘‘ (Wheel Balancing) یعنی توازن قائم رہنا چاہیے۔ اگر ایک ویل کا بھی بیلنس خراب ہو جائے تو گاڑی دائیں بائیں لڑھک جاتی ہے۔ دونوں خاندانوں کے درمیان ویل بیلنسنگ (حسنِ توازن) تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب تک میاں بیوی آپس میں درست رہیں، اور اسلام نے بھی یہی حسنِ توازن پیدا کیا ہے۔
مثال کے طور پر آج کا ایک بڑا عنوان ہے عورت کی مظلومیت۔ اسلام نے عورت کی مظلومیت کا خاتمہ کیا اور عورت کو مظلومیت سے مختلف مراحل میں نجات دلائی۔ اسلام نے عورت کو زندگی کا حق دیا۔ جاہلیت کے زمانے میں بچی کو ماں باپ کی مرضی کے مطابق رکھا جاتا تھا، اگر وہ زندہ دفن کریں تو ان کی مرضی، اگر وہ زندہ رکھیں تب ان کی مرضی تھی۔ ہزاروں بچیاں زندہ دفن ہوئی ہیں اس لیے کہ ان کے ماں باپ ان کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے، اور پالنا نہیں چاہتے تھے۔ تو اسلام نے عورت کی زندگی کے حق کو پہلے بحال کیا اور اس کو حرام قرار دیا کہ کسی بچی کو عار کے ڈر سے یا فاقے کے ڈر سے قتل کرنا ظلم ہے، قتل ہے۔ بلکہ پیٹ کے اندر ایک بچے کے قتل کو بھی حضور ﷺ نے قتل قرار دیا اور اس کی دیت لازم قرار دی۔
[عن سعید بن المسیب، ان رسول اللہ قضی فی الجنین یقتل فی بطن امہ بغرۃ عبد، صحیح بخاری، باب الکھانۃ، حدیث نمبر: 5760]
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ولا تقتلوا اولادکم من املاق (سورۃ الاسراء: 17، آیت: 31)
(اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو۔)
اسلام میں عورت کے حقوق
اسلام نے عورت کو رائے کا حق دیا، اس کی حیثیت و اہمیت پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تفصیلی روایت بیان کر چکا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں ہم قریشی بالخصوص عورت کو رائے کا حق نہیں دیتے تھے، اسے رائے کا کوئی حق نہیں ہوتا تھا، کسی بات پر ٹوکنے کا، انکار کرنے کا حق نہیں ہوتا تھا، لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں پتہ چلا کہ عورت کی بھی رائے ہوتی ہے، عورت کو بھی کسی بات سے انکار کا، ٹوکنے کا حق ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے عورت کا یہ حق بھی بحال کیا کہ عورت کی مرضی کے خلاف بالغ عورت کی شادی نہیں کی جا سکتی۔ (صحیح بخاری، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ وتعلیم اھلہ، حدیث نمبر 26)
ایک خاتون آئیں حضور ﷺ کے پاس اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ نے میرا نکاح میری مرضی کے خلاف کیا ہے، میں راضی نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا، تم راضی نہیں ہو؟ اس نے کہا میں اس رشتے پر راضی نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے اس کے باپ کو بلایا اور فرمایا، تم نے اس کا نکاح تو کر دیا ہے لیکن اس سے پوچھا ہے؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، یہ تو ناراض ہے، اگر یہ راضی نہیں ہے تو نکاح ختم۔ خاتم النبیین ﷺ نے اس نکاح کو ختم کیا، اس کو تسلیم نہیں کیا۔ نکاح کے لیے بالغ لڑکی کی مرضی شرط ہے۔ (صحیح بخاری، باب لا یجوز نکاح المکرہ، حدیث نمبر 3)
خاتم النبیین ﷺ نے اس نکاح کو ختم کر دیا جس میں لڑکی کی رائے اس نکاح کے خلاف تھی۔ حضور ﷺ نے عورت کی رائے کا حق بحال کیا بلکہ میں تو اس سے زیادہ بات عرض کرتا ہوں کہ صرف عورت کو رائے کا حق نہیں دیا بلکہ قرآن پاک نے عورت کی رائے کے اظہار کو مجادلے کے عنوان سے ذکر کیا۔
قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاورکما (سورۃ المجادلہ: 58، آیت: 1)
(اے پیغمبر ﷺ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپؐ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کر رہی ہے، اور اللہ سے فریاد کرتی جاتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔)
کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ ﷺ سے جھگڑا کر رہی تھی۔ جھگڑا کس سے کر رہی تھی؟ جناب خاتم النبیین ﷺ سے اپنے خاوند کے بارے میں۔ وہ آپ ﷺ سے مجادلہ کر رہی تھی اور اصرار کر رہی تھی تو اللہ پاک نے فیصلہ عورت کے حق میں دیا کہ عورت ٹھیک کہہ رہی ہے۔ آپ ﷺ نے انکار کر دیا تھا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اللہ نے آپؐ کو فرمایا کہ آپؐ کو فیصلہ دینا چاہیے تھا اور عورت کا مؤقف تسلیم کیا۔ تو اللہ رب العزت نے عورت کو مجادلے کا حق دیا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ عورت کا محض خالی رائے پر اطمینان نہیں ہوتا جب تک کچھ نہ کچھ اور کسی نہ کسی انداز میں جھگڑا یا بحث مباحثہ نہ کر لے۔ یہ ایک نفسیاتی (Psychological) مسئلہ ہے کہ عام طور پر عورت خالی رائے کے اظہار پر مطمئن نہیں ہوتی جب تک وہ جھگڑا یا جدال نہ کر لے، اس لیے وہ جھگڑا کر کے ہی مطمئن ہو گی، تو اللہ رب العزت نے صرف رائے کا حق نہیں دیا بلکہ مجادلے کا حق بھی دیا ہے کہ وہ جھگڑا اور بحث مباحثہ بھی کر سکتی ہے۔ یہ عورت حضور ﷺ سے جھگڑی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پوری سورت نازل کی تو اس طرح سے اللہ تعالی نے عورت کو رائے کا حق دیا۔
خواتین کے معاملے میں جاہلیت کی چند ظالمانہ رسوم اور ان کا سد باب
جاہلیت کے زمانے میں عورت کو تنگ کرنے کے جو طریقے اختیار کیے جاتے تھے ان پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ جاہلیت کے زمانے میں عورت کو تنگ کرنے کا ایک راستہ یوں تھا کہ نکاح کی کوئی حد متعین نہیں تھی۔ دو، تین، چار، پانچ حتیٰ کہ بعض لوگ سو سو تک خواتین رکھتے تھے۔ قرآن پاک نے بیک وقت چار بیویوں سے زائد پر پابندی لگا دی۔
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے پوری روایت تفصیل سے بیان کی، یہ اس لیے کہ زیادہ شادیوں کو لوگوں نے مذاق بنا لیا تھا۔ جس کے پاس کچھ پیسے ہیں یا گنجائش ہے اس نے دس دس بیس بیس خواتین بٹھا رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیک وقت چار سے زائد نہیں رکھ سکتے، یہ آخری حد ہے کہ پہلی چار کی موجودگی میں پانچویں کا حق نہیں ہے۔ یہ عورت پر ہونے والے ظلم کے ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے، جسے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورت کی مظلومیت کے ایک دائرے کو ختم کرنے سے تعبیر فرماتی ہیں۔
فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنیٰ وثلٰث وربٰع (سورۃ النساء: 4، آیت: 3)
(دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لو جو تمھیں پسند آئیں دو دو سے تین تین سے، اور چار چار سے۔)
[حدیث کی اہمیت کے پیش نظر اس حدیث کا متن مع ترجمہ پیش خدمت ہے:
اخبرنی عروۃ، انہ سال عائشۃ رضی اللہ عنہا، وقال اللیث: حدثنی یونس، عن ابن شہاب، قال: اخبرنی عروۃ بن الزبیر، انہ سال عائشۃ رضی اللہ عنہا، عن قول اللہ تعالی: {وان خفتم الا تقسطوا} [النساء: 3] الی {ورباع} [النساء: 3]، فقالت: «یا ابن اختی ہی الیتیمۃ تکون فی حجر ولیہا تشارکہ فی مالہ، فیعجبہ مالہا وجمالہا، فیرید ولیہا ان یتزوجہا، بغیر ان یقسط فی صداقہا، فیعطیہا مثل ما یعطیہا غیرہ، فنہوا ان ینکحوہن الا ان یقسطوا لہن، ویبلغوا بہن اعلی سنتہن من الصداق، وامروا ان ینکحوا ما طاب لہم من النساء سواہن» قال عروۃ: قالت عائشۃ: ثم ان الناس استفتوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ہذہ الآیۃ، فانزل اللہ: {ویستفتونک فی النساء} [النساء: 127] الی قولہ {وترغبون ان تنکحوہن} [النساء: 127] والذی ذکر اللہ انہ یتلی علیکم فی الکتاب الآیۃ الاولی، التی قال فیہا: {وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی، فانکحوا ما طاب لکم من النساء} [النساء: 3]، قالت عائشۃ: وقول اللہ فی الآیۃ الاخری: {وترغبون ان تنکحوہن} [النساء: 127] یعنی ہی رغبۃ احدکم لیتیمتہ التی تکون فی حجرہ، حین تکون قلیلۃ المال والجمال، فنہوا ان ینکحوا ما رغبوا فی مالہا وجمالہا من یتامی النساء الا بالقسط، من اجل رغبتہم عنہن۔ (صحیح بخاری، باب شرکۃ الیتیم واہل المیراث، حدیث نمبر: 2494)
(عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اے اماں جان! ’’وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامیٰ‘‘ (الآیہ) کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، اے بھانجے! اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو ولی کی پرورش میں ہو اور وہ اس کے مال و جمال کی وجہ سے اس کی رغبت کرے اور مہر تھوڑا دینا چاہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کمی مہر پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے، ان کے ماسوا جن عورتوں سے چاہو نکاح کر لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ مانگا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت ’’ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن‘‘ (سورۃ النساء: 127) نازل کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم یتیم بچی کو تھوڑے مال کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہو اور دوسری سے بیاہ کر لیتے ہو تو تم پر لازم ہے کہ جو زیادہ مالدار اور حسین ہو ان سے بھی نکاح نہ کرو، ان کے لیے پورا پورا انصاف کرو اور ان کا ٹھیک ٹھیک حق دے دو، تو پھر یہ ادائے حق اور نکاح جائز ہو گا۔)]
عورت کو تنگ کرنے کا ایک یہ طریقہ بھی ہوتا تھا کہ خاوند قسم کھا لیتے تھے کہ میں تمھارے قریب نہیں آؤں گا اور پھر سالہا سال تک اس معاملے کو لٹکائے رکھتے تھے۔ یہ تنگ کرنے کا ایک طریقہ تھا اور اس سے عورت تنگ ہوتی تھی۔ اور پھر سالہا سال اس کے پاس نہیں جاتے تھے کہ وہ عورت بیوی بھی ہے یا نہیں، وہ درمیان میں لٹکی رہتی تھی۔ قرآن پاک نے حد بندی کر دی کہ قسم اٹھا لی ہے، ٹھیک ہے، کہ چار مہینے تک رجوع نہیں کیا تو عورت کو طلاق ہو جائے گی، یہ چار مہینے سے زیادہ قسم کو قائم نہیں رکھ سکتے، یا رجوع کرو یا پھر طلاق دو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ بھی عورت پر ہونے والے ظلم کو ختم کرنے کا ایک قانون نافذ کیا گیا کہ اگر قسم اٹھا لی ہے تو سال سال دو دو سال لٹکانے کا تمھیں کوئی حق نہیں، ختم کرو۔ اگر چار مہینے سے زیادہ کی قسم اٹھا لی تو یہ ایلا ہوگا، جس کا ضابطہ ہے کہ چار مہینے کے اندر رجوع کرو اور قسم کا کفارہ دے دو، اور اگر چار مہینے میں رجوع نہیں کرو گے تو طلاق بائن ہو جائے گی۔
للذین یؤلون من نسآئہم تربص اربعۃ اشہر (سورۃ البقرہ: 4، آیت: 226)
(جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلا کرتے ہیں (یعنی ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے ہیں) ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔)
یہ ظلم کو ختم کرنے کا طریقہ ہے کہ چار مہینے سے زیادہ دیر قسم کے ماحول کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس طرح طلاقوں پر تین سے زائد کی جو پابندی لگی ہے یہ بھی ظلم کو ختم کرنے کے لیے ہے۔ پہلے یہ تھا طلاق دی، پھر رجوع کر لیا، پھر طلاق دی، پھر رجوع کر لیا، دس دس سال تک یہ قصہ چلتا رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیسری طلاق کے بعد سلسلہ ختم، تیسری کے بعد اسے نہیں رکھ سکتے، اب چھوڑ دو۔ یہ سالہا سال تک عورت کو جو کشمکش اور امتحان میں رکھتے تھے، یہ چکر ہی سرے سے ختم کر دیا تاکہ وہ ظلم کا شکار نہ ہو۔
قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے عورت کو صرف رائے کا حق ہی نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ مرد بالغہ عورت پر اس کی مرضی کے خلاف اس پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتے ۔ فقہائے کرام اس کی تعبیر کرتے ہیں کہ بالغہ پر ’’ولایتِ اجبار‘‘ حاصل نہیں ہے۔ عورت کی عزتِ نفس کا خیال کیا کہ عورت عزت کی مستحق ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال عرض کروں گا، یہ دیکھیں کہ عورت کی عزتِ نفس کیا ہے؟ اس کا ایک احترام ہے، اس کو معاشرتی احترام حاصل ہے جس کو احترامِ عرفی کہتے ہیں۔ چھوٹا سا واقعہ پیش خدمت ہے:
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ صحابی تھے اور حضور ﷺ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ دونوں نے حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا۔ ابو سلمہؓ فوت ہو گئے۔ حضرت ام سلمہؓ ایک معزز اور باوقار خاتون تھیں، با حیثیت خاتون تھیں، تو جناب خاتم النبیین ﷺ کو احساس ہوا کہ اس عورت کی عزت تب قائم رہے گی جب میں اس سے نکاح کروں۔ معاشرے میں ہوتا ہے کہ اس کا مقام (Status) کیا ہے، اس کی سطح کے لوگ کون ہیں۔
حضور ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام دیا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے عذر پیش کیا، یا رسول اللہ ﷺ ایک تو میری اولاد ہے، میرے ساتھ بیٹا بھی ہے (عمر)، بیٹی بھی ہے (زینب)۔ یہ جوان تھے۔ نکاح میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے وکیل بھی ان کے بیٹے عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ تو یہ حضورؐ کا بیٹا بھی تھا کیونکہ بیوی کا بیٹا، بیٹا ہی ہوتا ہے۔ حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا کہ ان کا خرچہ بھی میں ہی کرتی ہوں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمھارے بیٹے ہیں تو میرے بھی بیٹے ہیں، ان کا خرچہ میں برداشت کروں گا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنرمند خاتون تھیں، گھر میں چھوٹا موٹا کام کرتی تھیں اور کچھ کما بھی لیتی تھیں۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ، ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ میں غصے والی بھی ہوں، مجھے غیرت بہت آتی ہے۔ تو حضورؐ نے فرمایا، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ پاک وہ معاملہ ٹھیک کر دیں۔ تو ان معاملات کو طے کرنے کے بعد ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کے نکاح میں آئیں۔ (سنن نسائی، باب انکاح الابن امہ، حدیث نمبر: 3224)
فقہاء نے قانون لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی کنواری سے شادی کرے تو سات دن اس کا حق ہے کہ الگ وقت دے، یہ باری میں شمار نہیں ہوں گے۔ دو بیویاں ہوں، تین ہوں، تو دن تقسیم ہوتے ہیں۔ اگر عورت ثیبہ (بیوہ یا طلاق والی) ہے تو اس کو الگ تین دن ملیں گے۔ اگر پہلی مرتبہ شادی ہو رہی ہے تو سات دن اس کا حق ہوتا ہے ورنہ تین دن۔
[ان فقہاء کا مستدل یہ روایت ہے: ’’فقال رسول اللہ … للبکر سبع، وللثیب ثلاث، صحیح مسلم، باب قدر ما تستحقہ البکر، حدیث نمبر: 1460]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ثیبہ تھیں، ان کے خاوند فوت ہو گئے تھے، اولاد بھی تھی۔ حضور ﷺ کے ان کے ساتھ جب تین دن گزر گئے تو حضورؐ نے ایک بات فرمائی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مقام اور اسٹیٹس کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
ان شئت سبعت لک وان سبعت لک سبعت لنسائی لیس بک علی اہلک ہوان۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 2124)
(ام سلمہ اگر تم چاہو تو سات دن تمھیں پورے دے سکتا ہوں تاکہ تمھاری وجہ سے تمھارے خاندان کی عزت میں کمی نہ ہو جائے۔)
کیا عجیب بات ارشاد فرمائی آپ ﷺ نے کہ کہیں تمھارے خاندان کو یہ طعنے نہ ملیں کہ تمھاری خاتون بیاہی گئی ہے اور اس کو محض تین دن ملے ہیں۔ مسئلہ (Status) مقام و مرتبہ کا ہے، محض باری کا نہیں۔ خاندان میں عورت کی جو عزت و وقار ہے وہ برقرار رہے۔
تو حضور ﷺ نے عورت کو صرف رائے کی آزادی کا حق نہیں دیا بلکہ اس کی معاشرتی حیثیت اور معاشرتی عزت و وقار کا بھی لحاظ رکھا ہے کہ اس کی عزتِ نفس میں فرق نہ آئے، صرف اس کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کے خاندان کی عزت پر بھی فرق نہ آئے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ آج کل جو یہ کہتے ہیں کہ عورت پاؤں کی جوتی ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ حضور ﷺ تو عورت کے خاندان کی عزت کا بھی احترام کر رہے ہیں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے عورت کو رائے اور اس کا حق دیا۔ عزتِ نفس بھی دی کہ معاشرے میں اس کا احترام ہے، اس کا ایک وقار ہے۔
جاہلیت کے زمانے میں ایک بات اور تھی کہ خاندان ہی عورت کے بارے میں فیصلے کرتا تھا۔ قرآن میں اس کا ذکر ہے۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن ایک صاحب کے نکاح میں تھیں، اس نے طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد عدت بھی گزر گئی، رجوع نہیں کیا۔ مجھے اس بات پر غصہ تھا۔ عدت گزرنے کے بعد دونوں کا ارادہ ہوا کہ نکاح کر لیتے ہیں، اور اس طرح نکاح ہو جاتا ہے۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سابقہ بہنوئی میرے پاس آیا، میں نے کہا جاؤ اب نکاح نہیں ہوگا، میں اب رشتہ نہیں دوں گا۔ حضرت معقلؓ کہتے ہیں کہ میں نے انکار کر دیا جبکہ مجھے پتہ تھا کہ بہن راضی ہے، مگر میں اپنے انکار پر اڑا ہوا تھا۔ اللہ پاک نے قرآن میں حکم اتارا:
فلا تعضلوہن ان ینکحن ازواجہن اذا تراضوا بینہم بالمعروف (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 232)
(اے میکے والو) انھیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے دوبارہ نکاح کریں، بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہو گئے ہوں)
کیونکہ اب ان میں صلح ہو گئی ہے، تم رکاوٹ کیوں بنتے ہو اگر رجوع کی گنجائش ہو؟ جب وہ معروف طریقے سے آپس میں متفق ہو گئے ہیں اور جھگڑا ختم ہو گیا ہے اور دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو تم کیوں روکتے ہو؟ فرمایا، یہ جو خاندان رکاوٹ بن جاتا ہے کہ خاندان کی عزت کا مسئلہ ہے، اگر وہ آپس میں راضی ہیں اور یہ ان کے اختیار میں ہے تو خاندان والے دوبارہ نکاح کرنے سے نہیں روک سکتے۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان آیات کے بعد میں نے اپنی بہن کا نکاح سابقہ بہنوئی سے کر دیا۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ جب وہ آپس میں راضی ہیں تو پھر تم رکاوٹ نہیں بنو گے۔
[عن الحسن، فلا تعضلوہن قال: حدثنی معقل بن یسار، انہا نزلت فیہ، قال: زوجت اختالی من رجل فطلقہا۔ صحیح بخاری، باب من قال: لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر: 5130]
دور جاہلیت میں مختلف قبائل تھے، ہر قبلے کا قانون الگ تھا، رسم و رواج بھی الگ تھے۔ چونکہ باقاعدہ ایک نظم نہیں تھا، ہر ایک کا اپنا اپنا سسٹم تھا، قبائل میں یہ ہوتا ہے، روایات و رواج بھی اپنے اپنے تھے، سب کے قانون ایک جیسے نہیں تھے، بہت سے قبائل میں یہ ہوتا تھا کہ ایک شخص فوت ہوا تو اس کی بیوی بھی وراثت میں شمار ہوتی تھی اور وراثت خاندان کا حق ہوتا تھا کہ اس کے بارے میں فیصلہ کرے، وہ خود فیصلہ نہیں کر سکتی۔
قرآن پاک نے کہا: ’’لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا‘‘ (سورۃ النساء: 4، آیت: 19)۔ یہ وراثت نہیں ہے، یہ آزاد نفس ہے، یہ مال نہیں جو وراثت میں اِدھر اُدھر کر دینا تمھارے اختیار میں ہو۔ دھکے سے زبردستی وارث نہ بنو، وہ آزاد ہے اپنی مرضی سے جہاں جائے۔ اس بنیاد پر کہ چونکہ ہمارے بھائی یا باپ کی بیوی تھی، تم اس کو وراثت میں تقسیم نہیں کر سکتے۔ بعض قبائل میں تو عورتیں وراثت میں باقاعدہ تقسیم ہوتی تھیں۔ اللہ پاک نے فرمایا، نہیں، جبرًا وارث مت بنو، یہ تمھاری وراثت نہیں ہیں۔ یہ آزاد روح ہے، آزاد انسان ہے، اس کی اپنی رائے اپنا حق ہے۔ بعض جگہ تو یہ ہو جاتا تھا، ہر جگہ نہیں۔ ہر قبیلے کے رسم و رواج مختلف تھے۔
بعض قبائل میں یہ تھا کہ باپ کی منکوحہ سے بڑا بیٹا شادی کر لیتا تھا۔ بڑا بیٹا چونکہ بڑا وارث ہوتا تھا، لہٰذا حق سمجھتا تھا کہ میرے باپ نے جس سے نکاح کیا تھا وہ میری بیوی ہو گی۔ قرآن نے فرمایا: یہ وراثت یا ترکہ نہیں ہے، بلکہ ماں ہے۔
ولا تنکحوا ما نکح آباءکم من النساء۔ (سورۃ النساء: 4، آیت: 22)
(اور جن عورتوں سے تمھارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کر چکے ہوں، تم انھیں نکاح میں نہ لاؤ۔)
پچھلی باتیں جو ہو چکیں سو ہو چکیں، آئندہ کے لیے یہ قانون ہے کہ باپ کی منکوحہ ماں ہے، اس کے ساتھ آئندہ ماں جیسا سلوک کرو گے۔ یہ بھی جاہلیت کی ایک رسم تھی جو اسلام نے ختم کی اور عورت کے وقار کو بحال کیا۔
[عن مقاتل بن حیان قال: کان اذا توفی الرجل فی الجاہلیۃ عمد حمیم المیت الی امراتہ، فالقی علیہا ثوبا، فیرث نکاحہا فیکون ہو احق بہا، فلما توفی ابو قیس بن الاسلت عمد ابنہ قیس الی امراۃ ابیہ، فتروجہا۔ سنن کبریٰ بیہقی، باب ما جاء فی قولہ تعالیٰ: الا ما قد سلف، حدیث نمبر: 13927]
جاہلیت میں یہ بھی تھا کہ عورت عام طور پر وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھی جاتی تھی، اکثر قبائل میں یہ رواج تھا۔ بعض جگہ میں حصہ دار سمجھی جاتی تھی لیکن اکثر قبائل میں یہ تھا کہ اس کو وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بعض قبائل میں یہ رواج تھا جو آج کل ہمارے جاگیردارانہ نظام میں بھی ہے کہ بڑا بیٹا ہی وارث ہو گا بس۔ ہندؤوں میں بھی یہی رواج ہے اور بڑی جاگیرداریوں میں آج بھی یہی رواج ہے اور اس حوالے سے وراثت کی بات چلتی ہے۔
عورتوں کا حق مہر و وراثت اور مروجہ کوتاہیاں
یہ بڑا طویل اور پیچیدہ مسئلہ ہے کہ آج بھی ہم اس کی بہت سی کمزوریوں اور قباحتوں کا شکار ہیں۔ انگریزوں کے دور میں علماء کو باقاعدہ یہ مہم چلانی پڑی تھی۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور دوسرے کئی علمائے کرام اس میں شریک تھے۔ اس وقت یہ پوچھا جاتا تھا کہ وراثت شریعت کے مطابق تقسیم ہو گی یا رواج کے مطابق؟ یہ انگریزوں کے زمانے میں تھا۔ پھر ہمارے ہاں بھی بہت دیر تک یہ بات چلتی رہی کہ اس پر خاندانوں کو اختیار ہے کہ شریعت کے مطابق تقسیم ہو یا رواج کے مطابق۔
لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد زمینداروں کا اور مزارعین کا ایک اور جھگڑا چلا۔ کیونکہ یہ تصور تھا کہ وراثت جب تقسیم در تقسیم ہو گی تو اس تقسیم سے جاگیر تو ہاتھ سے گئی۔ بالآخر وہ چار چار مرلے ہی رہ جائیں گے۔ اس خوف سے ایک انجمن بنی (انجمن تحفظ حقوق زمینداراں)۔ انجمن میں ہمارے قابل احترام بزرگ نواب زادہ نصر اللہ خان بھی تھے۔ نواب صاحب دینی مزاج کے آدمی تھے، آپ نے بڑا زور لگا کر اس میں یہ لفظ شامل کروایا ’’انجمن تحفظ حقوق زمینداراں تحت الشریعہ‘‘۔ کہ مطلق آزادی نہیں ہے، ہم شریعت کے باغی نہیں ہیں، شریعت کے دائرے میں رہیں گے، بالکل توڑنے بھی نہیں دیں گے بالکل رکھنے بھی نہیں دیں گے، جو شریعت کہے گی وہی کریں گے۔
دیکھیں ہمارے ہاں پہلے زمانے میں بھی تھا بڑی جاگیرداری میں کہ عورت کو وراثت میں حصہ نہ ملے، بعض جگہ اس لیے اس کی شادی قرآن سے کروا دیتے تھے۔ اب تو یہ ختم ہو گیا ہے کہ عورت بڑی ہو گئی ہے اس کی شادی کریں گے تو اسے وراثت میں حصہ دینا پڑے گا اور زمین تقسیم ہو گی۔ اور زمین تقسیم ہونا اور وہ بھی زمیندار کے لیے! توبہ توبہ۔ زمین تقسیم ہوئی تو گویا ماں تقسیم ہو گئی، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تو یہ اس زمانے میں رواج تھا اور ہمارے ہاں بھی شور مچتا رہا کہ لڑکی کو آمادہ کرتے تھے کہ قرآن سے شادی کر لے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میں نے شادی کا یہ بندھن ایک ویڈیو میں دیکھا ہے۔ اس میں یہ ہوتا تھا کہ ایک اچھا سا گھر بنوا دیا اور اسے ساری سہولتیں مہیا کر دیں، گھر میں باقاعدہ نکاح کی تقریب ہوتی تھی اور اسے دلہن بنا یا جاتا تھا اور قرآن پاک یعنی دولہا کو سجا کر اس کی جھولی میں ڈال دیتے تھے کہ تیری شادی قرآن سے ہو گئی ہے، اب ساری زندگی گھر میں رہنا ہے اور قرآن پاک پڑھنا ہے۔ وہ بے چاری کیا پڑھتی ہو گی، بچی کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے ہمارے ہاں یہ بھی چلتا رہا ہے۔
ہمارے ہاں یہ بھی چلتا ہے بلکہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ہمارے پنجاب میں یہ کلچر سا بن گیا ہے کہ بیوی کو مہر نہیں دینا، بیٹی کو وراثت نہیں دینی، بہن کو حصہ نہیں دینا۔ اور نہ دینے کے لیے کئی بہانے تلاش کرتے ہیں کہ جی اس نے معاف کر دیا۔ ایک مرتبہ ایک معاملہ آیا والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے پاس، میں بھی اتفاق سے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ فرمایا، پہلے بتاؤ کہ بچیوں کو حصہ دیا ہے؟ بولے، انھوں نے معاف کر دیا تھا۔ بھائی کیسے کیا؟ معاف کیسے کیا؟ ان کو پہلے دیا تھا پھر معاف کیا؟ بولے، نہیں۔ فرمایا، تمھارے قبضے میں تھا پھر معاف کیا؟ اللہ کے بندے زمین تقسیم کرو، اس کا حصہ متعین کرو، اس کی فرد اس کے حوالے کرو۔ اس کے بعد کہو کہ بہن یہ ہمیں واپس کر دو۔ پھر وہ اگر دے دے تو یہ معافی ہے۔
والد صاحب کی یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہ ان بہنوں نے ہمیں معاف کر دیا تھا جی! حصہ متعین نہیں ہوا تو کیا معاف کیا، کچھ بھی نہیں۔ یہ ہمارے ہاں رواج بنا ہوا ہے۔ بڑے دلچسپ کیس آتے ہیں۔ اگر دیتے بھی ہیں (یہ معاشرے کی حقیقت بیان کر رہا ہوں) تو بہن کو حصہ دے کر یہ کہتے ہیں ’’اگوں متھے لگنا ای؟‘‘ یعنی آئندہ تعلقات و رشتہ داری رکھنی ہے؟ بڑی خوفناک دھمکی ہے کہ وراثت کا حصہ لو اور زندگی بھر کا ساتھ ختم۔
مجھے پشاور کی ایک محترمہ نے فون کیا کہ میں کالج میں لیکچرار ہوں، والد صاحب فوت ہو چکے ہیں، کافی جائیداد چھوڑی ہے، پشاور کے ایک بازار میں شریعت کے مطابق میرا حصہ تقریباً آٹھ دکانیں بنتی ہیں۔ میں نے بھائیوں سے تقاضا کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ حصہ لے لو مگر زندگی بھر کا میل جول ختم، مرنا جینا ختم۔ میں آپ سے مشورہ لینا چاہتی ہوں کہ کیا کروں۔ وہ مجھے حصہ دینے کو تیار ہیں مگر اس شرط پر کہ تعلقات ختم۔ میں نے کہا کہ بیٹی میں کچھ نہیں کہہ سکتا، پشاور کے ماحول کو میں نہیں سمجھتا، میں تمھیں یہ مشورہ بھی نہیں دیتا کہ وراثت چھوڑ دو، اور یہ مشورہ بھی نہیں دے سکتا کہ بھائیوں کو چھوڑ دو۔ اس سوسائٹی میں عورت کا بھائیوں سے محروم ہو جانا وراثت کی محرومی سے بڑی محرومی ہے کہ ’’جی پچھوں کنڈ ای ننگی ہو گئی اے‘‘ (یعنی اب قریبی رشتوں میں سے کوئی خیر خبر لینے والا نہیں) کل خدانخواستہ کچھ ہوا تو اسے کون سنبھالے گا۔ میں نے کہا کہ بیٹا میں آپ کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا، پشاور کے علماء سے رابطہ کرو، وہ وہاں کے ماحول کو سمجھتے ہیں۔
اب اگر کوئی کراچی کے معاشرتی ماحول کا کوئی مسئلہ مجھ سے پوچھے گا تو کراچی کے ماحول سے میں واقف نہیں ہوں، میں گوجرانوالہ کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا اور وہاں جھگڑا پڑ جائے گا، ہر ایک کا اپنا اپنا عُرف ہے اپنا تعامل ہے۔ وہاں کے علماء بہتر جانتے ہیں کہ یہاں کونسی بات مناسب ہے اور کونسی نہیں، تو سماجی مسائل میں دور دراز سے فتوے نہیں لینے چاہیں۔ بہرحال میں نے اس کو اس حکمت سے انکار کر دیا۔
وراثت کی اہمیت
جاہلیت کے زمانے میں یہ تھا کہ عورت کو وراثت کا حقدار نہیں سمجھا جاتا تھا، اس کو وراثت نہیں دی جاتی تھی۔ قرآن پاک نے عورت کو وارث قرار دیا اور حصہ بھی متعین کیا۔ یہ واحد مسئلہ ہے جو تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ قرآن پاک نے نماز کی رکعتیں بیان نہیں کیں مگر وراثت کے مسئلے گویا پہاڑے پڑھ کر بیان کیے ہیں۔ اس کا چھٹا حصہ ہے، اس کا آٹھواں، اس کا نصف، ثلث، آدھا۔ میں نے محاورے کے طور پر کہا ہے کہ پہاڑے پڑھ پڑھ کر بیان کیے ہیں۔ اتنا تعین قرآن پاک نے کسی مسئلے کا نہیں کیا جتنا وراثت کا کیا ہے۔ نماز کی، حج کی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں، دیگر فرائض و واجبات کی تفصیلات قرآن پاک نے متعین نہیں کیں، حضور ﷺ پر چھوڑ دیا، مگر وراثت کے حصے متعین کیے اور بیان کر کے فرمایا:
’’تلک حدود اللہ‘‘ (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 187)
(یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں۔)
قرآن پاک نے حصے بیان کر کے اس کو حدود کہا ہے۔ فقہی طور پر حدود اللہ کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ جرائم کی سزاؤں پر۔ جبکہ قرآن پاک نے دو تین جگہوں پر حدود اللہ کا لفظ بولا ہے۔ دونوں جگہوں پر خاندانی نظام کے حوالے سے بولا ہے۔ دوسرے پارے میں طلاق کے مسائل بیان کر کے ’’تلک حدود اللہ‘‘ کہا، اور وراثت کے مسائل بیان کر کے بھی ’’تلک حدود اللہ‘‘ یہ اللہ حدیں ہیں۔
ہمارے ہاں سزاؤں پر جو حدود اللہ کا اطلاق ہوتا ہے یہ جناب خاتم النبیین ﷺ کے ایک ارشاد کی بنیاد پر ہے۔ جب فاطمہ مخزومیہ سے چوری ہوئی تو آپ ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سفارشی بنایا تو آپ ﷺ ہم نے یہ کہہ کر ڈانٹا:
اتشفع فی حد من حدود اللہ؟ (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 187)
(اللہ کی حدوں کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟)
پھر مسجد میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ تو میں عرض کر رہا ہوں کہ قرآن پاک نے وراثت کے مسائل بیان کیے اور حصے متعین کیے۔ بیٹی کا یہ حق ہے، خاوند کا، بیٹی کا، ماں کا، باپ کا یہ حق ہے۔ یہ سارے حقوق اللہ نے متعین کیے ہیں۔ اور جو جاہلیت کا رواج تھا کہ بیٹی وارث ہے یا نہیں، اس کو ملے گا یا نہیں ملے گا۔ عورت کو اللہ رب العزت نے وراثت کا حصہ دلوایا اور وراثت کا مستقل حقدار قرار دیا۔
ہمارے ہاں ایک کیس چلتا رہا، اس وقت وہ رٹ سندھ ہائی کورٹ کے فریزر میں ہے (تفصیل اپنے مقام پر عرض کروں گا ابھی صرف یہ بتا رہا ہوں کہ ہمارے آج کے جھگڑے کیا ہیں) ایک عورت نے دعویٰ دائر کیا کہ میرا بین الاقوامی قانون کے مطابق وراثت میں حصہ برابر بنتا ہے اور میرے بھائی مجھے آدھا دے رہے ہیں۔
للذکر مثل حظ الانثیین (سورۃ النساء: 4، آیت 11)
(مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔)
حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے (میں بھی اسی باپ کی بیٹی ہوں) اور بین الاقوامی قانون کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مجھے برابر ملنا چاہیے۔ تو جسٹس صاحب مصیبت میں پڑ گئے، انھوں نے فیصلہ لکھا کہ تم ٹھیک کہتی ہو تمھارا حصہ برابر بنتا ہے اور بین الاقوامی قانون کا تقاضا بھی یہ ہی ہے کہ تمھیں برابر حصہ ملنا چاہیے۔ جبکہ قرآن پاک میں یہ جو مذکور ہے: ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ یہاں علماء مغالطے میں پڑ گئے ہیں، یہ حصے کا بیان نہیں ہے بلکہ کم از کم (minimum) کی حد ہے کہ کم از کم آدھا تو دو، اس سے کم نہیں دینا۔ اور پورے حصے کا بیان اس آیت میں ہے:
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتآئ ذی القربیٰ (سورۃ النحل: 16، آیت: 90)
(بے شک اللہ انصاف کا، احسان کا اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے۔)
کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو پورا ملنا چاہیے۔ (اندازہ لگائیں کہ فہمِ دین کی سطح کیا ہے۔) تو فیصلہ ہو گیا، سپریم کورٹ میں رٹ ہو گئی، اور جو سالہا سال سے رٹوں والے ڈیپ فریزر (محفوظ شدہ عدالتی فیصلے) میں پڑا ہوا ہے۔ کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ بتاؤں گا کہ ہمارا عدالتی مقدموں والا فریزر کتنا جاندار اور مضبوط ہے کہ بڑی بڑی بلائیں اس میں منجمد پڑی ہوئی ہیں۔
عورت کی جاہلیت کے دور کی جو مظلومیت تھی، ان میں سے چند باتیں میں نے بیان کی ہیں۔ اللہ رب العزت نے عورت کو ظلم کے ماحول سے، جبر سے، محرومی سے نجات دلانے کے لیے اس کی رائے، اس کی عزتِ نفس، اس کے معاشرتی وقار اور حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے قرآن پاک میں کیا کیا اقدامات کیے، ان میں سے پانچ سات کا میں نے ذکر کیا ہے۔ تو آج کی گفتگو یہیں پر سمیٹتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۱)
بنوریہ میڈیا کا انٹرویو
گفتگو و نظرثانی : ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
انٹرویو : رفیق اعظم بادشاہ
سپریم کورٹ کا تجربہ
رفیق اعظم بادشاہ:
السلام علیکم، میں ہوں رفیق اعظم بادشاہ۔ آج بنوریہ میڈیا کے پوڈ کاسٹ میں ہمارے مہمان ہیں ہمارے ہر دل عزیز استاد پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب۔ ڈاکٹر صاحب نے حال ہی میں بطور سیکرٹری چیف جسٹس آف پاکستان خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس سے قبل پروفیسر صاحب شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل اور شعبۂ شریعہ و قانون کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے درجنوں مقالات بین الاقوامی جرائد میں چھپ چکے ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی میں بطور سربراہ، شعبۂ شریعہ قانون، فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ استاد محترم کا پس منظر بین الاقوامی آئینی اور انسانی حقوق کے قوانین میں مہارت پر مبنی ہے۔ آج کے پوڈ کاسٹ کے تین حصے ہوں گے:
- پہلا حصہ حال ہی میں ڈاکٹر صاحب کا سپریم کورٹ میں گزرے وقت اور تجربے کے حوالے سے ہوگا،
- دوسرا حصہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی اور ان کا علمی سفر،
- اور تیسرا حصہ آئینی اور قانونی مباحث پر مبنی ہوگا۔
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب، آپ نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں وقت دیا۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
جی شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
ڈاکٹر صاحب! گزشتہ ڈیڑھ دو سال آپ سپریم کورٹ میں رہے، جہاں آپ نے عدلیہ اور انصاف کے نظام کو قریب سے دیکھا، اس دوران آپ کا کیا تجربہ رہا؟ اس عرصے نے آپ کے عدلیہ کے بارے میں خیالات پر کیا اثر ڈالا؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا اور بنوریہ کا خصوصاً (جزاک اللہ۔ رفیق) اس جامعہ کے ساتھ تو میرا ایک قسم کا قلبی تعلق ہے اور جب آپ نے مجھے ان کا پیغام پہنچایا، نعمان نعیم صاحب کا اور فرحان نعیم صاحب کا، تو ظاہر ہے میرے لیے نہ کی گنجائش نہیں تھی (بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ رفیق) تو باقی رہا یہ سوال کہ سپریم کورٹ میں جو میں نے ایک سال سے کچھ اوپر عرصہ گزارا ہے، کل 405 دن، تو یہ ایک بہت ہی دلچسپ تجربہ تھا اور اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔
ویسے تو ظاہر ہے قانون کے طالب علم کی حیثیت سے میرا اس شعبے کے ساتھ تعلق، یوں کہیں کہ کوئی 30 سال پر مبنی ہے۔ 1994ء میں میں نے اسلامی یونیورسٹی میں ایل ایل بی شریعہ اینڈ لا میں داخلہ لیا تھا، پانچ سال کا وہ ایل ایل بی کا کورس رہا، اس کے بعد ایل ایل ایم۔ پھر بعد میں پی ایچ ڈی بھی، پھر پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ۔ بیچ میں دیگر مواقع بھی اللہ نے فراہم کیے۔ اسی طرح عدلیہ کے ساتھ بھی کسی نہ کسی طرح میرا تعلق رہا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ بھی، مختلف مقدمات میں وفاقی شرعی عدالت کی معاونت بھی کرتا رہا ہوں، سپریم کورٹ کی بھی۔ باقاعدہ بھی عدالت نے کئی بار مجھے مختلف مقدمات میں معاونت کے لیے ذمہ داری دی، لیکن غیر رسمی طور پر بھی بعض معزز صاحبان کے ساتھ مختلف پہلوؤں سے میں معاونت کرتا رہا۔
تاہم باقاعدہ اس نظام کا حصہ بن کر اور پھر اس پوزیشن میں کہ جب آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری کی حیثیت سے اس شجرے کے اوپر سے بیٹھ کر نظام کو دیکھتے ہیں، تو میرے مشاہدے میں بہت کچھ آیا ہے۔ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ اندرونی طور پر کیا کچھ ہوتا ہے؟ پردے کے پیچھے بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ عدالت کیسے کام کرتی ہے؟ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے کیا کچھ ہوتا ہے؟ پھر مقدمات کے دوران میں بھی مجھے ایسے مواقع میسر تھے کہ میں عدالت میں بیٹھ کر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کو معاونت فراہم کرتا تھا، جہاں کہیں میری ضرورت ہوتی تھی۔ بعض اوقات میں عدالت میں نہیں ہوتا تھا لیکن پس منظر میں انتظامی معاملات میں بھی بہت سی مجھے ذمہ داریاں دی گئی تھیں جو میں نے نبھانی تھیں۔
پہلے عدالت کے ساتھ تعلق کچھ اور نوعیت کا تھا۔ یعنی یا تو آپ عدالت میں بطورِ درخواست گزار یا بطورِ سائل کسی مقدمے کے فریق کی حیثیت سے آتے ہیں ، یا وکیل کی حیثیت سے دلائل دیتے ہیں، یا بعض اوقات عدالت کے معاون کی حیثیت سے بات کرتے ہیں۔ یہ چیزوں کو دیکھنے کا ایک زاویہ ہوتا ہے۔ اب جہاں میں بیٹھا کرتا تھا، مثال کے طور پر کورٹ روم نمبر ایک میں، جہاں بڑے اہم مقدمات چلتے تھے، تو ایک طرف جج بیٹھے ہوتے تھے جن کی سربراہی چیف جسٹس کرتے تھے، دوسری طرف وکلاء اپنے دلائل دیتے تھے، ان کے پیچھے درخواست گزار بھی ہوتے تھے، مقدمے کے فریق بھی ہوتے تھے، صحافی بھی ہوتے تھے، اور عام لوگ بھی ہوتے تھے۔ یہاں سے میں اِدھر بھی دیکھتا تھا، اُدھر بھی دیکھتا تھا، اور سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین بھی ہوتی تھی۔ تو بیک وقت بہت سارا کام ہوتا تھا۔ اس لیے اگر میں یہ کہوں کہ جو 405 دنوں کا تجربہ تھا یہ بہت ہی ثمر بار تجربہ تھا اور اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ تھا، تو غلط نہیں ہوگا۔
کام کا بوجھ بھی یقیناً بہت زیادہ تھا اور پھر بالخصوص قاضی صاحب کے ساتھ کام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ وہ جس رفتار سے کام کرتے تھے اور جس طرح وہ اپنی پوری توانائی صَرف کرتے تھے، ایک ایک مقدمے کی جزئیات میں جا کر۔ تو اپنی ٹیم سے بھی وہ یہی توقع رکھتے تھے۔ مجھے بھی انھوں نے جب یہ ذمہ داری دینے کا ارادہ کیا تھا تو یہ کہا تھا کہ یہ جو 405 دن آپ کے ہوں گے تو اس میں گھر، خاندان، دوست، اور اپنی سوشل لائف کو آپ نے قربان کرنا ہوگا۔ بلکہ انھوں نے میرے والد مرحوم سے بھی اور میری فیملی سے بھی باقاعدہ یوں کہیں کہ اجازت لی تھی کہ آپ نے ان 405 دنوں میں ان کے متعلق پوچھنا نہیں ہے کہ یہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ یہ 405 دن آپ نے سپریم کورٹ کو دینے ہیں۔ تو اس لحاظ سے میں پیچھے مڑ کر دیکھوں تو، الحمد للہ، اللہ کا کرم ہوا۔ ایک بھاری ذمہ داری تھی لیکن اسے نبھانے کی توفیق ہوئی۔ اپنے کام سے تو میں کبھی مطمئن نہیں ہوتا لیکن بہرحال میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ بڑی حد تک، جو ذمہ داری میں نے اٹھائی تھی، تو میں نے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
بہت شکریہ سر۔ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ نہ تو پہلے کوئی سیکرٹری چیف جسٹس آف پاکستان کو جانتا تھا، نہ اب کوئی جانتا ہے کہ کون ہے۔ اس عہدے کی اہمیت تو تھی لیکن کوئی جانتا نہیں تھا۔ آپ کے آنے سے شاید اس کی اہمیت اور اس کی شہرت اور اس کے حوالے سے بہت زیادہ لوگوں کو پتہ چلا کہ اس عہدے کی کتنی اہمیت ہے۔ بہت ممکن ہے کہ شاید اس سے قبل اس طرح کے فرائض بھی سرانجام نہ دیے گئے ہوں جتنا آپ لوگوں نے کیا۔ تو کیا آپ کے خیال میں جب آپ نے بطور سیکرٹری کام کیا تو جو زیرِ التوا مقدمات تھے اور قاضی صاحب آئے، تو اس پر کوئی فرق پڑا؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
یہ اہم سوال ہے جو آپ نے آخر میں کیا ہے، میں اس کی طرف آتا ہوں، لیکن آپ نے بات جہاں سے شروع کی وہ بھی میرے نزدیک بہت اہم بات ہے کہ پاکستان میں عام طور پر جب ہم ججوں کو بھی سنتے ہیں اور وکلاء کو بھی، اور قانون کے شعبے کی طرف جس طرح لوگوں کا رجحان ہے اور جو زاویہ نظر ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، وہ اس طرح دیکھا جاتا ہے جیسے یہ بار اور بینچ، یعنی جج اور وکیل، یہی اس شعبے کے دو عناصر ہیں۔ ان کو ایک گاڑی کے دو پہیے کہا جاتا ہے۔ تیسرا پہیہ لوگ بھول گئے ہیں۔ میں برس ہا برس سے یہ کہتا آ رہا ہوں کہ قانون کا یہ شعبہ دو عناصر پہ مشتمل نہیں ہے، آپ کو ”دو جہتی زاویۂ نظر“ چھوڑ کر ”سہ جہتی زاویۂ نظر“ اپنانا ہوگا، اگر آپ قانون کے شعبے میں واقعی کچھ اصلاحات چاہتے ہیں۔
تیسرا شعبہ قانون کے اساتذہ کا ہے۔ دنیا بھر میں قانون کے اساتذہ کی، قانون پڑھانے والوں کی بڑی اہمیت ہے، نہ صرف پڑھنے پڑھانے میں بلکہ عملی طور پر بھی کئی پہلوؤں سے ان کا کام بہت اہم ہوتا ہے۔ ایک تو ظاہر ہے پڑھنا پڑھانا بذاتِ خود ایک بہت اہمیت کا کام ہے۔ قانون کا معیار اگر آپ بہتر بنانا چاہتے ہیں، وکلاء کا معیار بہتر بنانا چاہتے ہیں، ججوں کا معیار بہتر بننا چاہتے ہیں، تو ظاہر ہے آپ کو تدریس پر توجہ کرنی ہوگی، اور خرچہ کرنا ہوگا جامعات میں اور قانون کے شعبوں میں۔ یہ تو اس کا ایک پہلو ہے، لیکن جو بڑا کام ہوتا ہے قانون کے اساتذہ کا اور قانون کے طلبہ کا، وہ عدالتی نظائر پر، عدالتی فیصلوں پر نظر رکھنا ہے اور ان کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔
میں اپنے اساتذہ کی پیروی میں برس ہا برس سے یہ کام کرتا آ رہا تھا کہ جب بھی کوئی اہم مقدمہ ہو، کوئی اہم فیصلہ آئے، تو اس پر نظر رکھی جائے، اس کا جائزہ لیا جائے، اس کا تجزیہ کیا جائے، پھر اسے عام لوگوں تک بھی پہنچایا جائے۔ اس تنقید سے بعض جج فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ اور جنھوں نے ایسی تنقیدوں سے، جو فیصلوں پر قانون کے ماہرین، قانون کے اساتذہ کی جانب سے جو تنقیدیں آتی ہیں، جو جج ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے فیصلوں کا معیار بھی ظاہر ہے بہتر ہوتا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ قانون کے شعبوں کا، جامعات میں سب سے اہم کام یہ ”لا ریویو“ کا ہوتا ہے۔
کئی ممالک ایسے ہیں جہاں قانون کے اساتذہ کو اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی حیثیت سے بھی تعینات کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب تک اس شعبے پر یوں کہیں کہ ججوں اور وکلاء نے ایسی روک لگائی ہوئی ہے کہ اس میں قانون کے اساتذہ کے لیے ہائی کورٹ میں یا سپریم کورٹ میں تعیناتی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ نظری طور پر یہ امکان تو ہے کہ سپریم کورٹ میں کسی وکیل کو براہ راست تعینات کیا جائے، اگرچہ عملاً ابھی تک ایسا کیا نہیں گیا، لیکن قانون کے اساتذہ کے لیے ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایک گنجائش کسی حد تک آپ کہہ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ شریعت ایپلیٹ بینچ میں قانون یا اسلامی قانون کے ماہرین کو بطور رکن، ان کو جج نہیں کہا جاتا، بطور ”ایڈہاک ممبر“، یعنی عارضی رکن، تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا دائرہ بہت محدود ہے، اور اس کو ہمارے نظام میں اس طرح کی اہمیت بھی نہیں دی گئی جو اس کا حق ہے۔
بہرحال میں یہ کہہ رہا تھا کہ قانون کے شعبے کے لیے سہ جہتی زاویۂ نظر ہونا چاہیے۔ بلکہ میں تو قانون کی تعلیم کے حوالے سے بھی یہ کہتا آ رہا ہوں کہ وہ جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ قانون کی تدریس کا معیار خراب ہے، اور بار کونسل نے یہ یہ تجاویز دی ہیں، اور اب اس کو اس طرح ٹھیک کیا جائے۔ میں نے ایک سابق چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ آپ نے تو ہمیں سنے بغیر ہمارے خلاف فیصلہ دیا ہے، آپ نے تو ہمیں پوچھا ہی نہیں کہ جو قانون کے اساتذہ ہیں، جو قانون پڑھاتے ہیں، ان کا موقف کیا ہے؟ یہ تو ایسا ہوا، بار کونسل نے آپ کے سامنے شکایت رکھی، آپ نے فیصلہ سنا دیا کہ جا کر اساتذہ سے کہیں کہ یہ یہ کام کریں۔ اساتذہ کو تو سننا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ایچ ای سی کو سنا تھا۔ میں نے کہا کہ ایچ ای سی ہماری نمائندگی نہیں کرتی۔ ایچ ای سی کا ایک اپنا الگ مقام ہے اور جامعات خود مختار ادارے ہیں ہیں اور مختلف قوانین کے تحت وجود میں آئی ہیں، ان کا اپنا الگ مقام ہے۔
تو اساتذہ کی آواز سننی چاہیے۔ بلکہ لیگل پریکٹیشنرز ایکٹ میں قانون کی تعلیم کے حوالے سے جو بار کونسل کا اختیار ذکر کیا گیا ہے، اس میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ قانون کی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے جامعات کی مشاورت سے معیارات بنائیں گے۔ مشاورت کا مطلب بامعنی مشاورت ہے، محض خانہ پری نہیں۔ تو اصل کام تو اساتذہ کا ہے۔ تو آپ کی بات درست ہے کہ اساتذہ کو، قانون کے اساتذہ کو اس مقام پر نہیں فائز کیا گیا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کو دی کہ انھوں نے انھوں نے یہ تجربہ کیا کیونکہ وہ ایک طرح سے آؤٹ آف دی باکس سوچنے کے عادی تھے۔
سیکرٹری آف چیف جسٹس کی پوزیشن کے متعلق بھی میں بتاؤں کہ سپریم کورٹ کے رولز کے تحت چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سیکرٹری اپنی مرضی کا تعینات کر سکتا ہے، براہ راست بھی مقرر کر سکتا ہے، اور جو موجود ملازمین ہیں سپریم کورٹ کے، ان میں سے بھی لے سکتا ہے، ڈیپوٹیشن پہ بھی لا سکتا ہے۔ اور سیکرٹری ایسا بندہ ہوتا ہے جس پر آپ کو اعتماد ہو۔ ایک تو اس کام کے لیے جو صلاحیت ہوتی ہے، جو آپ کو درکار صلاحیت ہے، آپ اس کو دیکھتے ہیں۔ اور پھر یہ کہ وہ آپ کے اعتماد کا آدمی ہو۔ تو ظاہر ہے یہ چیف جسٹس نے خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تو میں اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا تو یقیناً شکرگزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اس کا اہل سمجھا اور مجھ پر اعتماد کیا، اور میں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس اعتماد کو میں نے ٹھیس نہیں پہنچائی۔ اور جو مجھ سے ان کی توقعات تھیں کہ اس کام میں میں ان کا ہاتھ بٹاؤں گا تو آخری دن جاتے ہوئے انھوں نے اس کا خصوصاً اظہار بھی کیا اور اقرار بھی کیا۔
رفیق اعظم بادشاہ:
بہت شکریہ۔ اچھا، اس میں ایک سوال آخری تھا اور وہ یہ تھا کہ کیا آپ کے اور قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے ہونے سے جو زیرِ التوا مقدمات تھے اور یا سپریم کورٹ میں جو پہلے سے ایک طریقہ کار تھا اس میں کوئی تبدیلی آئی؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور اس میں بہت سارے عوامل ہیں۔ میرا بطورِ سیکرٹری آف چیف جسٹس آف پاکستان جو کام تھا تو وہ تو چیف جسٹس کو معاونت فراہم کرنا تھا۔ چیف جسٹس کی معاونت کے لیے جو باقاعدہ عملہ ہوتا ہے وہ پہلے سے موجود تھا، یعنی ان کے دفتر کا کام اور روزانہ کی ڈاک اور بہت ساری چیزیں۔ لیکن پھر میرے آنے کے بعد بہت سارا کام میری طرف منتقل ہوا، بالخصوص وہ کام جس میں یوں کہیں تھوڑا دماغ صَرف کرنے کی ضرورت تھی۔ موٹی موٹی فائلیں تھیں ان کو پڑھ کر اس کا خلاصہ نکالنا تھا اور جو قانونی نکات تھے وہ الگ سے لکھ کر چیف جسٹس کو بریف کرنا تھا۔ پھر جو مجھے مناسب لگتا تو میں ان کو اپنی جانب سے تجویز بھی لکھ لیتا۔ اس کے علاوہ وہ میرے ساتھ مختلف امور پر بحث بھی کرتے تھے۔
میرا اور ان کا تعلق تو اس سے پہلے کا تھا۔ ہماری آپس میں فریکونسی زبردست تھی۔ بحث میں بعض اوقات بہت سخت قسم کے دلائل کا تبادلہ بھی ہوتا، اور میں نے اپنے طور پر کوشش کی کہ جس بات پر میں مطمئن نہ ہوں تو میں اس کی تائید نہ کروں۔ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ میری بات سن کر انھوں نے اس وقت یا بعد میں اس کو قبول بھی کر لیا۔ بہت ساری باتیں ایسی تھیں جن میں میں ان کو قائل نہیں کر سکا، لیکن ہماری آپس میں گفتگو اس طرح چلتی رہتی تھی ۔
ان میں زیرِ التوا مقدمات کا مسئلہ بھی تھا۔ جب ہم نے یہ کام شروع کیا تو اس وقت سپریم کورٹ میں تقریبا 56 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جو سالہا سال سے معلق تھے۔ سپریم کورٹ میں بطور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا جو بالکل پہلا دن تھا، تو انھوں نے یعنی تمام ججوں کا اجلاس بلایا۔ یہ ”فل کورٹ میٹنگ“ اس سے پہلے 2019ء میں ہوئی تھی، یعنی چار سال تک فل کوٹ میٹنگ نہیں ہوئی تھی۔ فل کورٹ میٹنگ بہت اہم اس لیے ہوتی ہے کہ بہت سارے کام ایسے ہیں جو چیف جسٹس تنہا نہیں کر سکتا۔ ایک تو بطور انسان بہرحال حدود ہوتی ہیں، اور پھر قانونی طور پر بھی کئی امور ایسے ہیں جن میں چیف جسٹس یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا، اس کے لیے رولز کے تحت فل کورٹ کی منظوری ضروری ہوتی ہے، لیکن چار سال سے فل کورٹ کی میٹنگ ہوئی نہیں تھی۔ تو بہرحال انھوں نے پہلے دن ہی فل کورٹ کی میٹنگ کی اور تمام جج صاحبان کے ساتھ مشاورت کی۔ جو پہلا مسئلہ انھوں نے پیش کیا، بالکل پہلا مسئلہ، وہ زیرِ التوا مقدمات کا تھا کہ یہ جو سال ہا سال سے ہزار ہا مقدمات جمع ہو چکے ہیں ان کو کیسے نمٹائیں؟
معلوم یہ ہوا کہ اس سے پہلے دو جج صاحبان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی اور ان کو یہ کام دیا گیا تھا کہ وہ التوا ختم کرنے کے لیے کچھ لائحۂ عمل تیار کر لیں اور مقدمات کو مختلف انواع میں تقسیم کریں۔ بہت سارے مقدمات ہیں جو شاید اب غیر متعلق ہو چکے ہیں، ان کو آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے، مثلاً جس قانون کو چیلنج کیا گیا تھا وہ قانون ہی اب باقی نہیں رہا ہے، یا فریقین نے آپس میں کچھ طے کر لیا ہے، اور بھی اس نوعیت کی چیزیں ہیں۔ تو ایسے مردہ مقدمات، ڈیڈ کیسز، کے ساتھ کیا کیا جائے؟ پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی قانونی سوال ہے لیکن اس پر کئی سارے مقدمات کا انحصار ہے؛ بَنچ آف کیسز ہیں، تو ان کا تعین کیسے کیا جائے اور کیسے ان کو اکٹھے نمٹایا جائے کہ اگر آپ یہ ایک قانونی سوال طے کر لیں تو آپ نے گویا سو مقدمات نکال لیے، ڈیڑھ سو مقدمات نکال لیے۔
دو ججوں پر مشتمل اس کمیٹی کو دوبارہ یہ کہا گیا کہ آپ اپنی رپورٹ پیش کریں۔ کچھ عرصے بعد کمیٹی کے ایک جج صاحب نے اپنی رپورٹ دے دی۔ دوسرے جج صاحب نے نہیں دی، ان کو اپنے ساتھی جج کے ساتھ بعض امور پر اتفاق بھی نہیں تھا، تو بطور کمیٹی رپورٹ نہیں، لیکن ایک جج صاحب کی رپورٹ کے طور پر وہ پھر بعد میں پیش کی گئی۔ اس پر کچھ اقدامات اٹھائے بھی گئے، پہلے تین مہینوں میں، یعنی ستمبر سے دسمبر تک۔
اس دوران میں، پرانے مقدمات نکالنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہے روزانہ نئے مقدمات بھی دائر ہوتے رہے۔ تو ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے کہ ہر ہفتے کے اختتام پر ہم باقاعدہ فہرست جاری کرتے تھے کہ کن ججوں کے کس بینچ نے اس ہفتے میں کتنے مقدمات سنے، کتنے نمٹائے، کتنوں میں اگلی تاریخ دی گئی اور اب ہفتے کے اختتام پر کل مقدمات کتنے باقی ہیں، نئے مقدمات کتنے آئے اور پرانوں میں سے کتنے نکالے گئے؟ اس کے علاوہ ہم نے سہ ماہی رپورٹیں بھی دینی شروع کیں۔ جو پہلی سہ ماہی رپورٹ ہے، وہ آپ دیکھیں تو اس میں نئے مقدمات دائر ہونے کے باوجود التوا میں کمی آئی، یعنی زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 55 ہزار تک آگئی۔ ایسا شاید دو سال بعد ہوا تھا کہ تعداد بڑھنے کے بجائے کم ہو گئی۔
اس کے بعد 15 دن سردیوں کی چھٹیاں ہوئیں اور جنوری میں جب عدالت نے دوبارہ مقدمات سننے شروع کیے تو اس وقت سیاسی مقدمات کا یوں کہیں ایک ریلا آگیا۔ آگے انتخابات ہونے تھے اور بہت سارے مسائل اور کھینچا تانی کا سلسلہ بھی چل پڑا۔ تو کچھ اس کی وجہ سے اور کچھ دیگر عوامل بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے آگے زیرِ التوا مقدمات کا معاملہ بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتا گیا۔
اس میں وکلاء کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے، جو فریقِ مقدمہ ہوتے ہیں ان کا بھی کردار ہوتا ہے، عملے کا بھی کردار ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کس مقدمے کو کتنا وقت دیتے ہیں؟ مثال کے طور پر 26ویں ترمیم سے پہلے میں سن رہا تھا کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ چند سو مقدمات ہیں تو ان کے لیے خصوصی عدالت یا خصوصی بینچ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ آئینی بینچ یا آئینی عدالت، اس پر تو تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے، لیکن یہ جو دلیل تھی کہ چند سو مقدمات ہیں، ہم نے اس پر تھوڑا کام کیا تھا اور ہمیں یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ جو چند سو مقدمات ہیں ان پر سپریم کورٹ کا 80 فیصد وقت لگتا ہے، ججوں کا بھی، عملے کا بھی، اور جو ہزار ہا مقدمات ہیں تو ان کے لیے بمشکل بیس فیصد وقت بچتا ہے۔ تو مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوم کو بھی چونکہ سیاست کی لت لگ چکی ہے تو ان کی دلچسپی بھی اپنے دیگر قانونی مسائل اور الجھنیں حل کرنے کے بجائے سیاسی نوعیت کے مقدمات میں زیادہ ہوتی ہے۔
پھر جو بڑے بڑے نامی گرامی وکلاء ہوتے ہیں وہ بھی ان بڑے مقدمات میں آتے ہیں۔ ہر وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو دو دو تین تین گھنٹے تک لگاتار سنا جائے۔ ایک ایک منٹ پر قوم کا پیسہ خرچ ہوتا ہے تو کیسے ان کو اتنا زیادہ بولنے دیا جائے۔ لیکن نہ بولنے دیں تو پھر اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو اس طرح ایک آسان سا مقدمہ جس میں کوئی اتنی زیادہ پیچیدگی بھی نہیں ہوتی وہ کئی دنوں پر محیط ہو جاتا ہے اور اس میں صبح سے شام تک کا وقت لگتا ہے۔ قاضی صاحب نے تو یہ کیا کہ، آپ نے دیکھا ہوگا کیونکہ بہت سارے کو براہِ راست نشر بھی کیا گیا، تو وہ تو صبح سے شام تک مقدمات سنتے تھے تاکہ کسی طرح اس سے جان چھڑائیں، لیکن وہ مقدمہ پھر بھی اگلے دن پر چلا جاتا۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ سپریم کورٹ کا ہر جج اپنی جگہ مستقل اور آزاد حیثیت رکھتا ہے۔ وہ چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ چیف جسٹس کے ساتھ بینچ میں بھی جو دو جج ہوتے ہیں، یا کبھی ایک جج ہوتا ہے، وہ اس سے کتنا ہی جونیئر ہو، لیکن وہ مستقل آزاد حیثیت رکھتا ہے۔ تو آپ جج صاحبان کو درخواست کر سکتے ہیں، مہذب انداز میں ان کو بتا سکتے ہیں، بعض اوقات کسی اور سے بات کرتے ہوئے ان کو سنا سکتے ہیں، اس طرح کے گر استعمال کر سکتے ہیں، لیکن آپ ان کو مجبور نہیں کر سکتے، وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ تو جب فل کورٹ بینچ کسی مقدمے کی سماعت کرے تو اس میں اگر 15 جج بیٹھے ہیں، تو یوں کہیں کہ 15 عدالتیں بیٹھی ہوئی ہیں، اور ہر عدالت اپنی مرضی سے چلتی ہے۔
چنانچہ آپ نے دیکھا کہ جنوری (2024ء) کے بعد پھر زیرِ التوا مقدمات کا مسئلہ پیچیدہ ہوتا گیا، ورنہ اس سے پہلے یہ کم تھا۔ اس کو روکنے کے لیے یا اس کو بند باندھنے کے لیے ہم نے مختلف طریقے اختیار کیے۔ مثال کے طور پر ایک طریقہ میں بتا دیتا ہوں۔ سپریم کورٹ میں تین مہینوں کے لیے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں ۔ تین مہینے کی چھٹیوں میں ظاہر ہے کہ مقدمات کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ چھٹیوں میں چند ایک بینچ تو ہوتے ہی ہیں، ایک آدھ اسلام آباد میں، ایک آدھ کسی اور رجسٹری میں، کوئٹہ یا کراچی یا لاہور میں یا کبھی پشاور میں، لیکن ظاہر ہے زیادہ تر مقدمات نہیں سنے جاتے۔ تو ہم نے اس کا ایک حل تو یہ نکالا کہ چاروں صوبوں میں جو سپریم کورٹ کی مقامی رجسٹریاں، ہیں ان میں چھٹیوں میں کم از کم ایک بینچ تو ضرور ہو ۔ یعنی مثال کے طور پہ کراچی کے جج ہیں جو گرمیوں کی چھٹیوں میں کراچی گئے ہوئے ہیں، تو ان کے لیے وہاں مقدمات کی سماعت نسبتاً آسان ہے۔ میں چھٹی کا مخالف نہیں ہوں۔ جو لوگ بھی مسلسل کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ جانتے ہیں، اور جج کا کام تو بہت ہی زیادہ ذہنی مشقت کا ہوتا ہے، تو چھٹی تو یقیناً ہونی چاہیے، لیکن یہ کہ کتنی ہونی چاہیے؟ اور مسائل کے انبار کو دیکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ تو اگر آپ کراچی میں ہیں تو یہ دو ہفتے آپ مقدمات سن لیں، پھر آپ چھٹی کریں۔ اگلے دو ہفتے وہ سن لیں گے اور پھر وہ چھٹی کر لیں گے۔ اس طرح روٹیشن پر سب مقدمات بھی سن لیں گے اور چھٹیاں بھی کر لیں گے۔ ایک تو ہم نے یہ کیا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ہم نے یقینی بنانے کی کوشش کی کہ ہر دن کم از کم دو بینچ تو ادھر ضرور ہوں۔
رفیق اعظم بادشاہ:
چھٹیوں میں؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
جی ہاں، چھٹیوں میں۔ مزید ہم نے یہ کیا کہ قاضی صاحب نے رولز دیکھ کر کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز کو تو چیف جسٹس تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس کا اختیار تو جیسے میں نے کچھ دیر پہلے کہا کہ فل کورٹ کے پاس ہے۔ تو فل کورٹ کے بغیر تو اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تھی۔ تو گرمیوں کی چھٹیاں شروع کب ہوں گی، رولز کے تحت اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تو چیف جسٹس کے پاس تھا، لیکن ختم کب ہوں گی، تو رولز میں لکھا ہوا تھا ستمبر میں جو دوسرا سوموار آتا ہے تو اس سے نیا عدالتی سال شروع ہوگا اور گرمیوں کی چھٹیاں وہاں ختم ہوں گی۔ گویا چھٹیاں ختم کرنے میں تو چیف جسٹس کا کوئی اختیار نہیں تھا لیکن چھٹیاں شروع کرنے میں وہ روک لگا سکتے تھے۔ تو 15 جون کے بجائے انھوں نے چھٹیاں 15 جولائی سے شروع کیں۔ ایک مہینہ بڑھا دیا کام کا، اور چھٹیوں کا ایک مہینہ کم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بھی کچھ فائدہ ہوا۔ مسائل اور بھی ہیں لیکن ہم نے اپنی سی کوشش کی، کس حد تک کامیاب رہے، یہ آپ لوگ ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
https://youtu.be/PXcGGfZugQo
(جاری)
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی
کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر کے فکری اور الحادی چیلنجز کا مؤثر جواب فراہم کر سکتا ہے، یا محض ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا ہے؟یہ سوال ایسے وقت میں اَور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب قدیم کلامی اور فلسفیانہ مباحث کا جدید سائنسی اُصولوں اور نظریات کے آئینے میں از سرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے۔
کسی ایک محیر العقول سائنسی دریافت کا سہارا لیتے ہوئے مسلمان اہلِ علم کی معروف کلامی روایت کی اہمیت و افادیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں؛ مثلاً پوری قطعیت سے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ "بگ بینگ تھیوری" نے اُن کلامی مباحث کو غیر ضروری بنا دیا ہے، جو یونانی فلسفے میں کائنات کے ازلی ہونے کی تردید میں ایک مربوط و منظَّم علم کے طور پر تدوین کیا گیا تھا۔ اب چونکہ سائنس نے خود یہ ثابت کر دیا ہے کہ کائنات کا ایک آغاز (Start) اور ایک انجام (End) ہے، بلکہ جدید تحقیق کائنات کے آغاز کی مدت کا تعین بھی کر چکی ہے اور کہتی ہے کہ ساڑھے تیرہ یا چودہ ارب سال پہلے کائنات کا آغاز ہوا۔[1]
ہم اپنی بحث کو محض اس قسم کے دعووں کی تردید یا تصدیق کی حد تک محدود نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر فکری اور علمی پس منظر میں اس کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ایک قدیم فکری روایت دورِ حاضر کے نئے فکری چیلنجز کے سامنے مکمل طور پر بے معنی ہوکر رہ گئی ہے، یا اب بھی وہی پرانا کلام؛ جدید الحاد و فلسفہ کی بنیادی خامیوں کو پکڑ سکتا ہے؟
نیز، اس بحث میں یہ گتھی بھی سلجھائی گئی ہے کہ آیا مسلم ماہرینِ کلام نے یونانی حکمت و فلسفہ میں زیادہ اُلجھاؤ (خوض) کی وجہ سے قرآن کے استدلال کے فطری منہج کو ترک کر دیا ہے یا نہیں۔ ان دو مختلف بیانیوں کا مختصر جائزہ بھی بحث میں شامل ہے کہ کیا قرآن کا یہ فطری منہج علم کلام سے یکسر مختلف ہے؛ یا یہ درست ہے کہ کلامی منہج قرآنی منہج کے اتباع میں وضع کیا گیا ہے؛ یا حقیقت بین بین ہے؟
۱۔ قدیم علمِ کلام کی پوزیشن اور معاصر ذمہ داریاں
بحث کے آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جدید الحاد کسی ایسی فکری بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا، جس کو صدیوں قبل متکلمین نے مضبوط دلائل سے مسمار نہ کر دیا ہو۔ یوں علم کلام عقائدِ اسلامیہ کی ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ ہے، جس نے نہ صرف قدیم یونانی فلسفے کی یلغارکی مدافعت و مقاومت کی ہے، بلکہ جدید الحاد سے نبرد آزما ہونے کے بھی قابل ہے۔
تاہم، یہ حقیقت مسلَّم ہے کہ یہ ذمہ داری دورِ حاضر کے مسلمان ماہرینِ کلام کی ہے کہ وہ قدیم کلامی مباحث کی اصطلاحات، زبان و بیان اور اُسلوب کو مروَّج میڈیم میں (تصویغ و تثویبِ جدید کرکے) ڈھال دیں تاکہ وہ جدید ذہن کو متاثر (اپیل) کریں اور جدید سائنس و فلسفہ کے مباحث کو پُر اثر طریقے سے جواب دیں۔
آج جب پوری دنیا الحاد کی زد میں ہے، سوشل سائنسز، کوانٹم فزکس، تھیوریٹیکل فزکس، نیچرل سائنسز اور لٹریچر کے نام پر یونیورسٹیوں میں الحاد کا زہر امت مسلمہ کے تعلیم یافتہ طبقے کو پلایا جا رہا ہے۔ آوارہ ابلاغیات اور بے لگام خواہشات نے اس صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ تو کیا اب بھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی کہ قدیم کلامی اصولوں کی جدید تطبیق کے ذریعے دورِ حاضر کی فکری کج روی سُدھار دی جائے؟ الحادی ذہن، دلائل، نفسیات اور زاویہ نظر کا از سرِ نو گہرائی سے مطالعہ کیا جائے۔
اگر کچھ اور نہ ہو سکے، تو کم از کم ایک نرم اخلاقی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے، جب ایسی پیچیدہ نفسیاتی کشمکش سے دوچار ہونے والوں سے سابقہ پڑے، یا وہ مستفتی بن کر کسی امام مسجد، عالم یا مفتی سے رجوع کریں ،تو ایک شفیق اور متحمل روحانی معالج جیسا برتاؤ اُن سےکیا جائے۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے الحاد سے متاثر ہونے ولے علی گڑھ کے طلباء کو بے پایاں شفقت و ہنرمندی سے عقلی أصول و دلائل کی مدد سے مطمئن فرمایا۔ حضرت کے دلائل کو بعد میں ایک کتابچہ میں یک جا کرکے الانتِباھاتُ المفیدَہ کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس کتابچہ میں اُصولِ موضوعَہ لکھنے کے بعد حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے۔ حضرت کی یہ خواہش پوری ہونے میں یقیناً بہت حد تک غفلت ہوئی ہے۔
۲۔ کانٹ کا "کوپرنیکسی انقلاب" اور علم الکلام
قدیم علم کلام جدید الحاد کے سامنے کونسا مضبوط پوزیشن لئے کھڑا ہے، اس پر تفصیل سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ سرِدست آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ جدید فلسفی، خاص طور پر کانٹ (Immanuel Kant) نے فلسفہ و کلام کی دنیا میں کیسا طوفان برپا کیا تھا؟ اس کا کچھ اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ علامہ محمد اقبال جیسے مفکر نے بھی کانٹ کے اس نظریے کو نہ صرف ایک سنگین چیلنج سمجھا، بلکہ (بقول ان کے) دینی افکار و بنیادوں کو جواب دینے سے عاجز سمجھ کر مایوس ہوئے۔
فلسفہ کی تاریخ میں امانوئل کانٹ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے علم الکلام کے روایتی ڈھانچے کو شدید چیلنج کیا۔ کانٹ نے اپنی مشہور تصنیف "تنقیدِ عقلِ محض" (Critique of Pure Reason) میں انسانی عقل کی حدود کو بیان کرتے ہوئے کئی ایسے مسائل اٹھائے جن کا براہ راست تعلق علم الکلام سے تھا۔
کانٹ نے ایک انقلابی قدم اٹھایا جسے وہ خود "کاپرنیکسی انقلاب" کہتے تھے۔ جس طرح کوپرنیکس نے کائنات کا مرکز زمین سے ہٹا کر سورج کو بنایا، اسی طرح کانٹ نے علم کا مرکز بیرونی دنیا سے ہٹا کر انسان کے اپنے ذہن کو قرار دیا۔
کانٹ کے فلسفے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو براہ راست نہیں جانتے، بلکہ صرف اس کی ظاہری شکلیں (Appearances or Phenomena) دیکھتے ہیں۔ وہ چیزیں "جیسا کہ وہ ہیں" (Things-in-themselves or Noumena)، ہماری عقل کی پہنچ سے باہر ہیں۔
کانٹ کے نزدیک زمان اور مکان (Space and Time) کوئی خارجی حقیقت نہیں، بلکہ ہمارے ذہن کے بنیادی سانچے (Forms of Intuition) ہیں۔ ہم تمام تجربات کو ان ہی سانچوں میں ترتیب دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمارے ذہن میں 12 بنیادی مقولات (Categories) بھی ہیں، جیسے علیت (Causality)، اتحاد (Unity) اور وجود (Existence)۔
لہٰذا، جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں، تو ہمارا ذہن اسے ان سانچوں اور مقولات کے ذریعے فلٹر کرتا، اور ہمیں جو علم حاصل ہوتا ہے وہ بیرونی حقیقت کی محض ایک نمائندگی (Representation) ہوتا ہے۔ ہمارا علم معروضی نہیں بلکہ ہمارے ذہن کی ساخت کے مطابق ہوتا ہے۔[2]
متکلمین نے اپنے کلام کا آغاز ہی سوفسطائیہ کی بیخ کنی سے کیا ہے۔ کانٹ کا علمی اَپروچ ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ کیونکہ سوفسطائیہ بھی واقعی، معروضی یا نفس الامری علم کے منکر تھے۔ ایک طبقہ عِنْدِیَّہ تھا جو کانٹ کی طرح ذہنی ڈبوں کو بنیاد سمجھتا تھا۔
کانٹ اور ان کے پیروکاروں کے مطابق، حقیقت صرف محسوسات (Sensory Experiences) تک محدود ہے۔ ماورائے الطبیعات (Metaphysical) چیزیں، جیسے خدا، جنت، جہنم، فرشتے، یا جنات، کے وجود کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں؛ نہ انہیں 'موجود' کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی 'معدوم'۔ اس کیفیت کو متکلمین نے سوفسطائیہ کا ایک دوسرا طبقہ یعنی لاادریت (Agnosticism) مانا ہے۔
۳۔ کانٹ کے چیلنجز اور علم الکلام کا دفاع
کانٹ کے فلسفے نے اسلامی علم کلام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کے کچھ اہم نتائج اور متکلمین کے جوابات درج ذیل ہیں:
الف۔ علت ومعلول کا اصول (Principle of Cause and Effect)
کانٹ کا چیلنج:
علیت (Causality) کا اصول صرف ہمارے ذہن میں موجود ہے اور اسے مادی دنیا سے باہر یعنی خدا یا ماورائی حقائق پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
متکلمین کا جواب:
قیاس الغائب علی الشاہد ایک بنیادی عقلی اصول ہے۔ اگر ہر تجرباتی چیز کی کوئی علت ہوتی ہے، تو کائنات کی بھی ایک علت ہوگی۔ یہ علت خود سے موجود ہوگی تاکہ لامتناہی سلسلے (Infinite Regress) سے بچا جا سکے گا۔ اس طرح، کائنات کے حادث ہونے کا استدلال خود بخود اس کی ایک غیر حادث علت (یعنی اللہ) کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اشاعرہ کا مکتبِ فکر اس دلیل کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ علیت ایک فطری قانون نہیں، بلکہ عادتِ اِلٰہی ہے، یوں کانٹ کی تنقید براہِ راست اس پر لاگو نہیں ہوتی۔
ب۔ واجب الوجود اور غیبی حقائق کا تصور
کانٹ کا چیلنج:
واجب الوجود اور ممکن الوجود کے تصورات ہمارے ذہن کی پیداوار ہیں، اس لیے ان کی بنیاد پر زمان و مکان سے ماورا کسی ہستی کو ثابت کرنا ناممکن ہے۔ ماورائی حقائق کو انسانی عقل نہ تو ثابت کر سکتی ہے اور نہ ہی رد کر سکتی ہے۔
متکلمین کا جواب:
واجب الوجود کا تصور زمان و مکان کے تابع نہیں ہے۔ یہ ایک خالص عقلی اور منطقی استدلال ہے کہ کوئی بھی چیز جو حادث ہے، وہ اپنے وجود کے لیے کسی ایسی ہستی کی محتاج ہوتی ہے جو خود ازلی ہو۔ کائنات میں موجود نظم و ضبط اور ڈیزائن کا استدلال ایک شہودی اور کائناتی حقیقت ہے جو ایک مدبر (Designer) خدا کے وجود کی ایک مضبوط دلیل ہے۔
ج۔ اخلاقیات اور خدا کا ربط
کانٹ کا چیلنج:
اخلاقیات ہمارے اخلاقی شعور اور عقل کا ایک فطری تقاضا ہے جسے وہ "فطری قانون" (Categorical Imperative) کہتا ہے۔ اخلاقیات کو خدا کے وجود سے الگ کر دیا گیا۔
متکلمین کا جواب:
اخلاقیات کو خدا سے الگ کرنے سے اخلاقی نسبتیت (Moral Relativism) کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاقیات کی حتمی اور غیر متغیر بنیاد صرف خدا کی ذات ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ، اخلاقیات کی منطقی تکمیل کے لیے ایک نظامِ جزا و سزا کا ہونا ضروری ہے، جو صرف خدا ہی قائم کر سکتا ہے۔
د۔ کانٹ کا وجود پر نظریہ (Ontological Argument)
کانٹ کا چیلنج:
"وجود" (Existence) کسی چیز کی کوئی صفت (Predicate) نہیں ہے، اور کسی بھی چیز کا وجود صرف اور صرف تجربے سے ثابت ہوتا ہے۔
متکلمین کا جواب:
وجود کی دو نوعیتیں ہوتی ہیں: ممکن الوجود (Contingent Being) اور واجب الوجود (Necessary Being)۔ کانٹ کی دلیل ممکن الوجود اشیاء پر تو لاگو ہوتی ہے، لیکن واجب الوجود پر نہیں، کیونکہ واجب الوجود کے تصور میں ہی اس کا وجود شامل ہوتا ہے۔
۴۔ ملّا صدرا، اصالۃ الوجود، اور وجدانی علم
ملّا صدرا (صدر الدین محمد شیرازی) کے فلسفے کا ایک مرکزی ستون "أَصَــالَةُ الْوُجُــود" (Primacy of Existence) کا نظریہ ہے، جو کانٹ کے خیالات کے بالکل برعکس ہے۔[3]
ملّا صدرا کے مطابق، وجود کوئی محض تصور یا صفت نہیں بلکہ ایک ٹھوس اور واحد حقیقت ہے۔ ملّا صدرا کے اصالۃ الوجود کے نظریے نے کانٹ کے موقف کو مزید کمزور کر دیا۔ ان کے نزدیک وجود ایک حقیقتِ مطلقہ ہے جو تمام کائنات میں جلوہ گر ہے۔ سب سے اعلیٰ درجہ اللہ کا وجود ہے، جو تمام وجود کا سرچشمہ ہے۔
مسلمان اہلِ علم نے یہ موقف اختیار کیا کہ خدا کے وجود کے لیے عقلی دلائل اب بھی درست ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کانٹ کے نظرئیے کی یہ توجیہ کی کہ انہوں نے صرف تجرباتی علم (Empirical Knowledge) کی حدود بیان کی ہیں، لیکن عقل کا دائرہ اس سے وسیع ہے۔
علم کلام کے مطابق، عقل اور وحی (Divine Revelation) ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ جب عقل اپنی حدود پر پہنچ جاتی ہے، تو وحی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ روحانیات و وجدانیات کی دلیل بھی کانٹ کی رسائی سے ماورا ہے۔ خدا کا علم صرف عقل سے نہیں، بلکہ باطنی تجربے (Intuition)، وجدانی علم (Intuitive Knowledge) اور دل کے نور سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
علامہ اقبال نے بھی اسی طرف اشارہ کیا کہ فلسفہ تو عقل کی حدود بتا سکتا ہے، لیکن شاعرانہ وجدان اور روحانی تجربہ ہمیں ماورائی حقائق کا ادراک کروا سکتا ہے۔
خِرد کی گتھیاں سُلجھا چکا میں
خدایا مجھے صاحبِ جنوں کر
حواشی
[1] بگ بینگ (Big Bang) کے سائنسی نظریے کے مطابق، کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے۔ یہ عمر فلکیاتی مشاہدات اور کاسمولوجیکل ماڈلز کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے، جو کہ کہکشاؤں کی رفتار اور کائنات کی مسلسل پھیلتی ہوئی حالت سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ ماہرینِ فلکیات نے کائنات کی عمر کا تخمینہ لگانے کے لیے کئی طریقوں کا استعمال کیا ہے، جن میں سے ایک اہم طریقہ ہبل کا قانون (Hubble's Law) ہے، جو یہ بیان کرتا ہے کہ کہکشائیں ہم سے کتنی تیزی سے دور ہو رہی ہیں۔
[2] کانٹ کا نظریہ یونانی فلاسفہ کے اس نظریہ سے ایک طرح کا میل کھاتا ہے کہ ہم اشیاء کا تصور بِاَشْبَاحِھَا کرتے ہیں، یعنی ان کی نمائندگی یا مظاہر کی بنیاد پر، ورنہ آگ کے تصور سے حرق اور دریا کے تصور سے غرق لازم آتا۔ وہ فلسفی جو یہ مانتے ہیں کہ ہم اشیاء بِنَفْسِھَا کو جانتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہماری عقل براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکتی ہے اور کسی بھی قسم کے ذہنی فلٹر کے بغیر اشیاء کی حقیقی ماہیت تک پہنچ سکتی ہے۔ کانٹ نے اس دعوے کو رد کر دیا۔
[3] ملّا صدرا (صدر الدین محمد شیرازی) کی زندگی کا دور تقریباً 1571ء سے 1640ء تک ہے۔ وہ صفوی ایران کے ایک عظیم فلسفی اور صوفی تھے جنہوں نے حکمتِ متعالیة (Transcendent Theosophy) کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس، امان وئل کانٹ 1724ء میں پیدا ہوئے اور 1804ء میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ جرمن فلسفے میں ایک انقلاب لانے والے سمجھے جاتے ہیں۔ چونکہ ملّا صدرا کانٹ سے تقریباً ایک صدی پہلے گزر چکے تھے، اس لیے یہ بات تاریخی طور پر بالکل ناممکن ہے کہ صدرا نے کانٹ کو پڑھا ہو یا ان کے نظریات پر تبصرہ کیا ہو۔
(جاری)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۰)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
اتفاق، نیچرل ازم اور عدمِ کارکردگی
Chance, naturalism, and inefficiency
تمہید
اسلامی فکری تاریخ میں متعدد فکری دھارے موجود رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں دھارا علم کلام کہلاتا ہے، جسے مغربی علمی روایت میں scholastic theology کے قریب سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ ترجمہ اس کی مکمل معنویت کا احاطہ نہیں کرتا۔ علم کلام کی اس روایت کی نمائندگی بنیادی طور پر تین مکاتبِ فکر نے کی: معتزلہ، اشاعرہ، اور ماتریدیہ (Jackson 2009)۔ متعدد تاریخی و فکری عوامل کے نتیجے میں اشعری اور ماتریدی مکاتب کو اہلِ سنت کی معتبر اور مرکزی اعتقادی روایت کی حیثیت ملی، اور ان کے ساتھ ایک غیرکلامی دھارا، جسے اثری مکتب کہا جاتا ہے، بھی اس روایت کا حصہ سمجھا گیا (Winters 2008; Schmidtke 2014). امام غزالی اشعری مکتب سے وابستہ تھے اور انہوں نے اس مکتب کے عقائد کو منظم، مضبوط اور مرتب صورت دینے کے لیے متعدد بنیادی رسائل تحریر کیے (2000؛ 2013؛ 2016)۔
اس باب میں ہم اس نظریاتی روایت (یعنی اشعری مکتب) کے بعض بنیادی اصولوں کا جائزہ لیں گے، بالخصوص اُن پہلوؤں کا جو نظریہ ارتقا سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات اور اعتراضات کو سمجھنے میں ہماری معاونت کرتے ہیں۔ اس باب میں تین مخصوص مسائل زیرِ بحث آئیں گے: نیچرل ازم کا مسئلہ، اتفاق کا مسئلہ، اور بظاہر عدمِ کارکردگی / غیر موثریت کا مسئلہ۔ اسی مقصد کے لیے اس باب کی ساخت کچھ یوں ہے:
سب سے پہلے ہم اشعری مکتبِ فکر کے عمومی اصولوں کا ایک مختصر خاکہ پیش کریں گے۔ یہ نہ صرف اس باب کے مباحث کی بنیاد فراہم کرے گا بلکہ باب 7 اور باب 8 کے لیے بھی تمہیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلے حصے میں ہم سائنس اور مذہب کے معاصر مباحث کا تعارف پیش کریں گے، خصوصاً Divine Action Project جو اشعری تناظر کو سمجھنے کے لیے ایک مفید تقابلی فریم مہیا کرے گا۔ اس کے بعد ہم نیچرل ازم کے مسئلے پر گفتگو کریں گے۔ باب 4 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ بعض مفکرین نظریہ ارتقا کو نیچرل ازم اور الحاد سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کیا ارتقا کو سمجھنے کا یہی واحد زاویہ ہے؟
دوسرا مسئلہ جس پر اس باب میں گفتگو ہوگی وہ اتفاق کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کی دو جہتیں ہیں۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اتفاق (chance) کا خدا سے تعلق کیا ہے؟ اگر خدا ایسا نظام چلاتا ہے جس میں اتفاق کا کردار دکھائی دیتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نعوذ باللہ جانتا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ یا کیا اتفاق کسی طرح اس کی قدرتِ کاملہ اور علمِ کامل کو کمزور دکھاتا ہے؟ دوسری جہت اتفاق اور غایت (teleology) کا تعلق ہے، یعنی کیا فطرت میں مقاصد پائے جاتے ہیں؟ اگر زندگی کی پوری تخلیقی تاریخ ایک ایسے عمل پر مبنی ہو جس میں اتفاقی عناصر غالب ہوں، جیسے ارتقا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان محض حادثاتی وجود ہے؟ تو پھر یہ تصور اُس قرآنی تعلیم سے کیسے میل کھاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے تخلیق کیا؟
اس باب میں تیسری اور آخری بحث عدمِ کارکردگی یا بظاہر غیر موثریت سے متعلق ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کا اہتمام نہیں کیا۔ طویل عرصے پر محیط اس حیاتیاتی عمل میں بے شمار جاندار پیدا ہوئے، تکلیف برداشت کی، اور فنا ہو گئے۔ کیا خدا براہِ راست ایسا نظام تخلیق نہیں کر سکتا تھا جس میں اتنی مشقت، طوالت، اور حیاتیاتی ضیاع نہ ہوتا؟ دوسرے لفظوں میں، اس مسئلے کا عمومی اعتراض یہ ہے کہ خدا کے بنائے ہوئے نظامِ عالم میں نعوذباللہ کوتاہی نظر آتی ہے، اور وہ دنیا کو اس سے کہیں بہتر انداز میں بنا سکتا تھا۔ Top of Form یہاں یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ اشعری تصورِ خدا کے اندر ان میں سے کوئی بھی اعتراض حقیقی مسئلہ نہیں بنتا۔ ہر اعتراض کو ایک خاص انداز سے واضح اور مقید کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ مسئلہ اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہتا۔ تاہم یہ سوالات بعض دوسرے مباحث ، جیسے تخلیق کے نظم و ڈیزائن کا مسئلہ اور اخلاقیات سے متعلق سوالات ، پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ موضوعات اپنی جگہ مستقل اور تفصیلی بحث کے متقاضی ہیں، اس لیے انہیں بالترتیب باب 7 اور باب 8 میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
اشعری مکتب
اشعری مکتب فکر میں علم کلام کا بنیادی نقطہ نظر دو اہم فلسفیانہ نظریات پر قائم ہے جنہیں متکلمین نے باقاعدہ ایک مربوط نظامِ فکر کی صورت دی۔ یہ دو نظریات اُکیشنل ازم (Occasionalism) اور ایٹم ازم (Atomism) ہیں (Malik 2019)۔ اُکیشنل ازم وہ تصور ہے جو بتاتا ہے کہ خدا دنیا کے ساتھ کس طرح عمل کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق خدا ہی ہر چیز کا اصل اور بنیادی سبب ہے۔ کائنات میں موجود تمام چیزیں جیسے ذرّات، درخت، جانور، انسان، سیّارے، کہکشائیں، اور حتیٰ کہ ممکنہ ملٹی ورس اپنے وجود اور ہر طرح کی علت و تاثیر کے لیے براہِ راست خدا کی مشیت اور قدرت پر منحصر ہیں۔ اس تصور کا تقابل عموماً دی ازم (Deism) سے کیا جاتا ہے، جس کے مطابق خدا نے دنیا کو پیدا تو کیا، لیکن اس کے بعد وہ اس کے نظم اور بقا میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتا، دنیا کچھ اسی طرح چلتی رہتی ہے جیسے ایک گھڑی بن جانے اور چلنے لگنے کے بعد اپنے بنانے والے سے آزاد ہو جاتی ہے (Larmer 2014, 7–23)۔ اُکیشنل ازم اور دی ازم کے درمیان فعلِ الٰہی کو سمجھنے کے کئی دوسرے طریقے بھی پیش کیے گئے ہیں، اور سائنس اور مذہب کے معاصر مباحث میں ان پر مستقل بحث ہوتی رہتی ہے (Lee 2020)۔
ایٹم ازم وجودیات (ontology) کا ایک نظریہ ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ دنیا بنیادی طور پر کن اکائیوں پر مشتمل ہے (Koca 2020, 29–32)۔نام سے ظاہر ہے کہ اشاعره کا عقیدہ تھا کہ ہر مخلوق کو بنیادی، ناقابلِ تقسیم ایٹمی اجزا تک تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ اشاعره نے اس نظریے کو اس لیے اختیار کیا کہ تخلیق کی ساخت کو محدود رکھا جائے اور ایسے غیر معقول نتائج سے بچا جائے جو لامحدود تقسیم سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک لازم تھا کہ تقسیم کا کوئی آخری نقطہ مانا جائے؛ ورنہ پوری کائنات کو لامتناہی طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو معقول نہیں۔ شلومو پائنز(Shlomo Pines 1997, 15) اس غیر معقول نتیجے کی ایک مثال بیان کرتے ہیں، جو کلامی مباحث میں عام پائی جاتی ہے: "اگر اجسام لامحدود طور پر تقسیم ہو سکتے ہوں تو رائی کا ایک دانہ بھی اتنے ہی اجزا پر مشتمل ہوگا جتنے ایک پہاڑ میں ہوتے ہیں۔"
یہ بات واضح رہے کہ اشاعره کے نزدیک صرف مادہ ہی ایٹمی اکائیوں پر مشتمل نہیں، بلکہ دیگر بنیادی اقسام بھی اسی اصول کے تابع ہیں۔ یعنی صرف اجسام نہیں بلکہ وقت جیسی کیفیات بھی ان کے نزدیک ایٹمی نوعیت رکھتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ اشاعره کے نزدیک پوری تخلیق جدا جدا حصوں پر مشتمل ہے (Pines 1997; Altaie 2016, 16–18; Hassan 2020; Ibrahim 2020)۔
اُکیشنل ازم اور ایٹم ازم دونوں کو اشاعره نے مختلف مقاصد کے لیے اختیار کیا تھا۔ اُکیشنل ازم اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ خدا کی قدرتِ کاملہ کو ایسے"قدرتی قوانین" کے تابع نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ بعض دیگر فلسفی تصورات کی طرح، خدا کی مداخلت کو محدود کر دیں۔ اشاعره یہ بھی چاہتے تھے کہ یہ تصور کبھی پیدا نہ ہو کہ دنیا کے جاری معاملات میں کسی لمحے خدا کی شمولیت ختم ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اُکیشنل ازم متکلمین کے لیے اس وجہ سے بھی پرکشش تھا کہ اس سے فطرت (nature) میں کسی "باطنی" یا "ذاتی" طاقت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق فطرت اور اس میں انسان بھی، کسی اندرونی قوت کے حامل نہیں، بلکہ خدا کی مطلق مشیت کا ظہور ہیں۔ ایٹم ازم اس لیے اختیار کیا گیا کہ تخلیق کو بنیادی طور پر محدود دکھایا جائے، اور یہ واضح کیا جائے کہ اس کے ہر بنیادی حصے پر خدا کا مکمل اور براہِ راست اختیار ہے۔ جب کائنات کے بنیادی اجزا کا تعلق براہِ راست خدا سے جوڑا جاتا ہے، تو نتیجتاً فطرت میں کسی بھی قسم کی ذاتی طاقت کی نفی ہو جاتی ہے، اور تمام طاقت خدا کے خارجی اور کامل اختیار کے تحت آجاتی ہے۔ اس تصور میں خدا ہر لمحہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لا رہا ہوتا ہے، یعنی خدا ہر آن پوری دنیا کو دوبارہ پیدا کر رہا ہے (Koca 2020, 32–34)۔ ایک تمثیل سے بات یوں سمجھیں کہ دنیا ایک کمپیوٹر اسکرین کی "ریفریش ریٹ" کی طرح ہے، جہاں خدا ہر وقت ہر"پکسل" کو کنٹرول کرتا ہے۔ کائنات اپنی اصل میں ایک ایسی مخلوق ہے جو ہر لمحہ خدا کے فعل سے دوبارہ وجود میں آتی رہتی ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اُکیشنل ازم اور ایٹم ازم منطقی طور پر ایک دوسرے پر منحصر نہیں۔ اُکیشنل ازم سے ایٹم ازم لازم نہیں آتا، اور نہ ایٹم ازم کو قبول کرنے سے اُکیشنل ازم خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ اس کتاب کے مقاصد کے لحاظ سے ہماری اصل توجہ اُکیشنل ازم پر رہے گی۔ تاریخی اعتبار سے ایٹم ازم نے اشعری مکتب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا (اور شاید آج بھی کسی درجے میں رکھتا ہو)، لیکن اس بحث میں اس کی اہمیت بنیادی نہیں، سوائے اس کے کہ بعض جگہوں پر اسے مثال کے طور پر سمجھانا مفید ہوتا ہے۔ اشعری تناظر کی تفصیلات سمجھنے کے لیے ہم امام غزالی کی پیش کردہ تعبیر سے رہنمائی لیں گے، تاکہ خدا کی ذات، اس کی قدرت، تخلیق کی نوعیت، اور قوانینِ فطرت کے بارے میں اشعری نقطۂ نظر کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔
خدا کی مشیت، علم اور قدرت
اشعری نقطہ نظر میں خدا کی کچھ بنیادی صفات ہیں، اور تخلیق کے مسئلے سے براہِ راست تعلق رکھنے والی تین صفات یہ ہیں: مشیت، علم اور قدرت۔ امام غزالی خدا کی مشیت کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
دنیا جس وقت وجود میں آئی، جس کیفیت کے ساتھ آئی، اور جس مقام پر آئی، یہ سب خدا کی مشیت کے تحت ہوا۔ مشیت وہ صفت ہے جس کا کام کسی چیز کو اس کی مماثل اشیا سے ممتاز کرنا ہے۔ اگر یہ امتیازی کام درکار نہ ہوتا، تو صرف قدرت کافی ہو جاتی۔ لیکن چونکہ قدرت کا تعلق تو دو متضاد امکانات سے یکساں طور پر قائم رہتا ہے، اس لیے ایک ایسی صفت کی ضرورت تھی جو ان میں سے کسی ایک امکان کو متعین کر دے۔ چنانچہ کہا گیا کہ خدا کی ذات میں قدرت کے علاوہ ایک ایسی صفت بھی ہے جس کا کام کسی ایک امکان کو اس کے مثل سے الگ کر کے متعین کرنا ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ سوال کرتا ہے کہ مشیت نے خاص طور پر انہی دو مماثل امکانات میں سے ایک کو کیوں اختیار کیا؟ اس کا سوال ویسا ہی ہے جیسے کوئی یہ پوچھے کہ علم اپنے معلوم کو ویسا ہی کیوں محیط کرتا ہے جیسا وہ ہے؟ اس سوال کا جواب یہی دیا جائے گا کہ علم اُس صفت کا نام ہے جس کا کام ہی یہی ہے۔ اسی طرح مشیت بھی اس صفت کا نام ہے جس کا کام ،بلکہ جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے مثل سے ممتاز کرنا ہے۔(Al-Ghazālī 2000, 22)
اس پیراگراف میں امام غزالی مشیت کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ اس کا کام مختلف متبادلات میں سے ایک کو منتخب کرنا ہے۔ اگر یہ کام مطلوب نہ ہوتا تو پھر صرف قدرت ہی کافی ہو جاتی، لیکن قدرت کے پاس انتخاب کی صلاحیت نہیں ہوتی، قدرت تو صرف اُس چیز کو ظاہر یا نافذ کرتی ہے جسے منتخب کیا جا چکا ہو۔ مثال کے طور پر ایک ویٹ لفٹر کے پاس سو کلو اٹھانے کی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن وہ کسی بھی دن چاہے تو پانچ، دس، پچاس یا پورے سو کلو اٹھا سکتا ہے۔ اس کا انتخاب مشیت ہے، جبکہ وزن اٹھانا قدرت کا نتیجہ ہے۔ اس طرح مشیت اور قدرت دو الگ صفات ہیں۔ البتہ اس پیراگراف میں یہ بات قدرے غیر صریح رہتی ہے کہ مشیت کے لیے علم کیوں ضروری ہے۔ اگر متبادل امکانات کا علم ہی نہ ہو تو انتخاب کیسے ممکن ہوگا؟ اسی لیے امام غزالی (2016 ,8–10) کے مطابق مشیت کے لیے علم کا ہونا لازمی ہے، کیونکہ بغیر علم کے کسی ایک امکان کو دوسرے پر ترجیح دینا ممکن نہیں۔ ایک اور مقام پر امام غزالی (2013 ,104) نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہیں کہ خدا کس طرح لامتناہی ممکنہ جہانوں میں سے ایک جہان کو "چنتا" ہے:
سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا خدا کے علم کی کوئی حد ہے؟ ہم کہتے ہیں: نہیں۔ اگرچہ فی الحال موجود چیزیں گنتی میں محدود ہیں، لیکن مستقبل میں ممکنہ وجود رکھنے والی چیزیں لامحدود ہیں۔ خدا ان تمام ممکنہ چیزوں کے بارے میں جانتا ہے، چاہے وہ انہیں وجود میں لانا چاہے یا نہ لانا چاہے۔ اس طرح خدا کا علم لامحدود ہے۔ بلکہ اگر ہم ایک ہی چیز کے مختلف پہلوؤں، تعلقات اور اندازوں کو ذہن میں رکھ کر ان کی تعداد بنانا چاہیں، تو یہ پہلو کسی بھی محدود حد سے بڑھ جائیں گے، اور خدا ان سب کو جانتا ہے۔
یقیناً خدا کا "چننا" انسانی انتخاب سے بالکل مختلف ہے۔ چونکہ خدا ازلی ہے، زمان و مکان سے ماورا ہے، اس لیے اُس کا انتخاب کسی انسانی عمل کی طرح نہیں ہوتا (Al-Ghazālī 2016, 4–6; Kraft 2016)۔
الٰہی قدرت
اشعری نقطہ نظر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ خدا ہر اُس چیز پر قادر ہے جو عقلاً ممکن ہو۔ اس لیے اگر خدا چاہے تو تین سروں والے انسان پیدا کر سکتا ہے، یا کسی بھی قسم کی غیر معمولی یا فرضی مخلوق پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عقلاً ممکن ہو۔ یہ سب خدا کی قدرت کے دائرے میں آتی ہیں (Al-Ghazālī 2000, 175)۔
ناممکن وہ چیز ہے جو خدا کی قدرت کے دائرے میں نہیں آتی۔ اور ناممکن وہ ہوتا ہے جس میں کسی چیز کو ایک ہی وقت میں ثابت بھی کیا جائے اور اس کی نفی بھی، یا کوئی خاص بات ثابت کی جائے لیکن اس کے عمومی مفہوم کی نفی کر دی جائے، یا دو باتوں کو ایک ساتھ مانا جائے مگر ان میں سے ایک ہی کی نفی کر دی جائے۔ جو چیز اس قسم کی متناقض صورتوں میں نہ آتی ہو، وہ ناممکن نہیں۔ اور جو ناممکن نہیں، وہ خدا کی قدرت کے دائرے میں ہے۔
جو چیز عقلی طور پر ناممکن ہو، وہ خدا کی قدرت کے دائرے میں نہیں آتی (Al-Ghazālī 2000, 38)۔
مثال کے طور پر اگر ہم یہ فرض کریں کہ دنیا اپنی موجودہ جسامت سے ایک بالشت بڑی یا چھوٹی ہو، تو ذہن کوئی ایسی بات فرض نہیں کر رہا جو اس کے مشابہ ہو کہ ایک ہی جگہ پر سیاہی اور سفیدی دونوں جمع ہوں — یعنی وجود اور عدم ایک ساتھ قائم ہوں۔ ناممکن دراصل نفی اور اثبات کو یکجا کرنے کا نام ہے۔ اور تمام ناممکن چیزیں آخرکار اسی اصول پر آکر ٹھہرتی ہیں۔
اس طرح امام غزالی کے نزدیک خدا کی قدرت قانونِ عدمِ تناقض (law of non-contradiction) کے تابع ہے۔ یعنی دو متضاد چیزوں کو یکجا کرنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ عقلاً ناممکن ہیں۔ لیکن جو چیز منطقی طور پر ممکن ہو، وہ خدا کی قدرت کے دائرے میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا جو کچھ بھی پیدا کرتا ہے، وہ منطقی امکان کے اصول کے مطابق ہوتا ہے (Kukkonen 2000a; 2000b; 2006)۔
تخلیق کا امکان
تخلیق کے بارے میں اشعری نقطہ نظر یہ ہے کہ خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے یا جو کچھ وہ پیدا کر سکتا ہے، وہ اپنی اصل میں ممکنُ الوقوع ہے (Ormsby 2017, 52–55)۔ مثال کے طور پر ایک گاڑی کو لیجیے۔ گاڑی کو کئی مختلف طریقوں سے بنایا جا سکتا ہے: مختلف انجن، مختلف رنگ، نشستوں کی مختلف ترتیب، اندرونی ڈیزائن کے مختلف انداز، یعنی اس کے ڈیزائن میں بہت سے امکانات ہیں۔ بالکل اسی طرح اس تصور کو پوری کائنات تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ کائنات بھی ایک ایسی چیز ہے جو مختلف انداز سے وجود میں آسکتی تھی، یہ اپنی اصل میں ممکنُ الوقوع ہے، ضروری نہیں۔ البتہ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ امکان کی دو مختلف اقسام ہیں۔
امکان کی پہلی قسم صرف وجود اور عدمِ وجود کے تعلق سے ہے۔ خدا کو یہ مطلق اختیار حاصل ہے کہ جس چیز کو چاہے وجود دے اور جسے چاہے عدم میں رہنے دے۔ کائنات کا پیدا ہونا ضروری نہیں تھا، خدا چاہتا تو اسے پیدا نہ کرتا۔ لیکن اُس نے عدم کے بجائے اسی کائنات کو وجود میں لانا پسند فرمایا۔ امام غزالی (2013، 28–29) اس بارے میں لکھتے ہیں:
جب ہم کسی چیز کے'حادث' ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے موجود نہیں تھی، پھر موجود ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا وجود، وجود میں آنے سے پہلے، ناممکن تھا یا ممکن؟ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ ناممکن تھا، کیونکہ جو چیز واقعی ناممکن ہو، وہ کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ اگر وہ ممکن تھی تو 'ممکن' سے ہماری مراد وہ چیز ہے جس کا وجود بھی ممکن ہو اور عدم بھی ممکن ہو۔ وہ نہ تو ضروری الوجود تھی، کیونکہ اس کا وجود اس کی اپنی ذات سے واجب نہیں ہوتا، اگر اس کا وجود اس کی ذات سے لازمی ہوتا تو وہ ممکن نہیں، ضروری ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ وجود میں آنے سے پہلے اس چیز کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو اس کے عدم پر وجود کو ترجیح دے کر اسے وجود عطا کر دیتی۔ اگر وہ عدم ہی میں رہتی، تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی کہ کوئی ایسا سبب موجود نہ ہوتا جو عدم پر وجود کو ترجیح دے۔ جب تک کوئی ترجیح دینے والا سبب نہ ہو، وجود واقع نہیں ہوتا۔
امکان (contingency) کی دوسری قسم اُن چیزوں سے متعلق ہے جو کسی شے کے وجود میں آ جانے کے بعد اس کی کیفیت اور ساخت سے تعلق رکھتی ہے۔ کائنات جس صورت میں ہے، اس کا مخصوص نظام، قوانینِ فطرت، سیاروں کی حرکات، حیاتیات اور کیمیا کے اصول، یہ سب ایک خاص ترتیب کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن خدا چاہتا تو بالکل مختلف قوانین کے ساتھ ایک اور طرح کی کائنات پیدا کر سکتا تھا۔ اسی طرح ایک اور مثال پیریاڈک ٹیبل (Periodic Table) کی ہے۔ آج کی پیریاڈک ٹیبل میں 118 کیمیائی عناصر موجود ہیں، مگر خدا چاہتا تو ایسے عناصر پیدا نہ کرتا، یا بالکل مختلف عناصر کے ساتھ ایک اور نوعیت کی دنیا بنا دیتا۔ امام غزالیؒ (2000، 37) اسی نکتے کو کائنات کے حجم کی مثال سے واضح کرتے ہیں:
سوال یہ ہے: کیا یہ خدا کی قدرت میں تھا کہ وہ بالائے بالا آسمان (سب سے اونچے آسمان) کو اس سے ایک بالشت زیادہ موٹا پیدا کرتا جسے اُس نے پیدا کیا ہے؟ اگر وہ کہیں 'نہیں' تو یہ خدا کی قدرت میں نقص لازم آئے گا۔ اور اگر کہیں 'ہاں' تو پھر لازم آئے گا کہ خدا چاہتا تو اسے دو بالشت، تین بالشت، اور اسی طرح لامحدود طور پر جتنا چاہتا اتنا زیادہ موٹا پیدا کر سکتا تھا۔
پس یہاں امام غزالی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تخلیق میں کوئی چیز اپنی ذات میں ضروری (intrinsically necessary) نہیں۔ ہر چیز ممکنُ الوقوع ہے، اور یہ مکمل طور پر خدا کی مشیت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو کس صورت میں پیدا کرے یا کس ترتیب میں قائم رکھے (Davidson 1987, 154–212; Kukkonen 2000a; Al-Ghazālī 2016, 14)۔
قوانینِ فطرت
پچھلے نکات کو اب قوانینِ فطرت کی بحث کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔ اشعری نقطہ نظر میں خدا صرف تخلیق ہی نہیں کرتا بلکہ ہر لمحہ پوری کائنات کو برقرار بھی رکھتا ہے۔ اسی لیے قوانینِ فطرت نہ صرف کائنات کے اعتبار سے ممکنُ الوقوع ہیں (یعنی خدا چاہے تو یہ قوانین مختلف بھی ہو سکتے تھے) بلکہ ہر لمحے کے اعتبار سے بھی ممکنُ الوقوع ہیں۔ اگر ہم کائنات کو لمحات کے ایک سلسلے کے طور پر سوچیں (ایک طرح کے "ایٹمی وقت" کی صورت میں)، تو ہر لمحہ خدا کے قائم رکھنے سے وجود میں رہتا ہے۔ ہر لمحے خدا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کیا ظاہر کرنا ہے۔ وہ ایک ہی عمل کو برقرار رکھے تو ہمیں قوانینِ فطرت اسی صورت میں ملتے ہیں، اور اگر خدا چاہے تو ان قوانین میں تبدیلی پیدا کر دے، تو ہمیں معجزات جیسی چیزیں نظر آتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، مادی اشیا کے درمیان جو علّی (causal) تعلقات سائنس سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، وہ سب خدا کی مشیت کے تابع ہیں (Al-Ghazālī 2000, 166):
ہمارے نزدیک کسی چیز کا سبب بننا اور کسی دوسری چیز کا اس کا نتیجہ ہونا اپنی ذات میں ضروری نہیں۔ جو ربط ہمیں عادتاً نظر آتا ہے، وہ لازمی نہیں بلکہ خدا کا بنایا ہوا ہے۔ خدا ہی ہے جو ان دونوں کو ایک ساتھ پیدا کرتا ہے نہ یہ کہ ان میں کوئی ایسا رشتہ ہو جو توڑا نہ جا سکے۔ اس کے برعکس، خدا کی قدرت میں یہ سب ممکن ہے کہ وہ بغیر کھلائے پیٹ بھر دے، بغیر سر قلم کیے موت دے دے اور سر قلم ہونے کے بعد بھی زندگی باقی رکھ دے۔ اسی طرح، جن چیزوں کو ہم لازمی طور پر ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں، خدا چاہے تو انہیں ایک دوسرے سے الگ بھی کر سکتا ہے۔
اس نکتے کے بارے میں دو باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں عقلی ضرورت (logical necessity) اور طبیعی ضرورت (physical necessity) میں فرق کرنا چاہیے۔ عقلی ضرورت کی مثالیں ریاضی میں ملتی ہیں؛ مثلاً ایک جمع ایک لازماً دو ہی ہوتا ہے۔ یہ عقلی طور پر ضروری ہے اور اس کے خلاف کہنا خود تضاد ہے۔ اس کے برعکس، یہ کہنا کہ "آگ روئی کو جلا دیتی ہے" اپنی ذات میں کوئی ضروری بات نہیں۔ یہ نتیجہ ہم تجربے اور مشاہدے سے اخذ کرتے ہیں۔ ممکن ہے کسی دوسری کائنات میں قوانینِ فطرت مختلف ہوں، جہاں روئی آگ سے جلتی نہ ہو۔ اگر ہم ایسی کائنات میں رہتے تو آگ کا روئی کو جلانا ہمارے لیے کوئی لازمی بات نہ ہوتی۔ لہٰذا طبیعی ضرورت اتنی مضبوط نہیں جتنی عقلی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے ہم تجربات کرتے ہیں، تاکہ معلوم ہو کہ چیزیں عملاً کیسے کام کرتی ہیں۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ امام غزالی طبیعی مظاہر کے درمیان سخت عقلی ضرورت کے قائل نہیں، لیکن وہ ان کے درمیان مسلسل ساتھ پیش آنے (constant conjunction) کا انکار بھی نہیں کرتے (Koca 2020, 240). یہی پے در پے تکرار جسے خدا برقرار رکھتا ہے (جسے قرآن میں سنّت اللہ یا عادت کہا جاتا ہے) ہمارے ذہن میں قوانینِ فطرت کی شکل اختیار کرتی ہے۔ امام غزالیؒ (2000، 170) لکھتے ہیں: "کسی چیز کا بار بار، مسلسل ایک ہی طرح سے واقع ہونا ہمارے ذہنوں میں اس کے اسی طرح واقع ہونے کا پختہ یقین پیدا کر دیتا ہے۔" اس لیے اُکیشنل ازم (Occasionalism) کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس کو ردّ کر دیا جائے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ طبیعی مظاہر کی بنیاد میں جو حقیقت ہے، وہ خدا کی مشیت پر منحصر ہے۔ اسی وجہ سے فرانک گرفل (Frank Griffel 2020) کہتے ہیں کہ اشعری اُکیشنل ازم کے تحت چلنے والی دنیا اور اُن قوانینِ فطرت کے تحت چلنے والی دنیا میں کوئی ظاہری فرق محسوس نہیں ہوتا۔
دوسری بات یہ سمجھنی چاہیے کہ چونکہ خدا بالکل آزاد فاعل ہے اور ہر وہ کام کر سکتا ہے جو عقلاً ممکن ہو، اس لیے خدا ایسی کائناتیں بھی پیدا کر سکتا ہے جن میں قوانینِ فطرت سرے سے موجود ہی نہ ہوں۔ ایسی کائنات کا تصور کریں جہاں کوئی باقاعدگی نہ ہو، ہر چیز بالکل بے ترتیب ہو۔ ایسی دنیا میں سائنس ممکن ہی نہیں، کیونکہ سائنس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ چیزیں کسی نظم کے ساتھ پیش آئیں (چاہے وہ نظم قطعی ہو یا غیر قطعی۔ اس فرق کو ہم آگے واضح کریں گے)۔ دوسرے لفظوں میں، سائنس انحصار کرتی ہے استقرا (induction) پر۔ مثال کے طور پر اگر ہم دو کیمیکلز کو ملائیں اور ہر بار بالکل مختلف نتیجہ نکلے، یعنی ایک بھی تجربہ کبھی دوسرے سے نہ ملے، تو ہم کوئی کیمیائی قانون اخذ ہی نہیں کر سکیں گے۔ سائنس فطرت میں نظم و تکرار پر قائم ہے، خواہ وہ حتمی ہو یا غیر حتمی اور اس کے بغیر سائنس ناممکن ہے۔ لیکن جیسا کہ امام غزالی نے کہا، طبیعی علّیت (physical causation) مکمل طور پر ممکنُ الوقوع ہے اور خدا کی مشیت پر منحصر ہے۔ لہٰذا سائنس کے جو نتائج قوانینِ فطرت پر قائم ہیں، وہ خود خدا کی مشیت کے تابع ہیں۔ لیکن اس کا اُلٹ سچ نہیں، یعنی خدا کی مشیت قوانینِ فطرت تک محدود نہیں ہوتی۔ دوسرے الفاظ میں: سائنس کے تمام ممکنات (scientific possibilities) الٰہی ممکنات (theological possibilities) کے اندر آتے ہیں، لیکن الٰہی ممکنات کے تمام امکانات سائنس کے دائرے میں نہیں آتے۔
آزاد ارادہ (Free Will)
اگرچہ آزاد ارادے کا سوال براہِ راست ہماری مرکزی بحث سے متعلق نہیں، پھر بھی اس پر چند باتیں کہنا ضروری ہے۔ اُکیشنل ازم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہی ہر چیز کا اصل اور بنیادی فاعل ہے، تو پھر انسان کا آزاد اختیار کہاں رہ جاتا ہے؟ اگر خدا سب کچھ جانتا بھی ہے اور سب کچھ کنٹرول بھی کرتا ہے، تو آزاد ارادے کا حقیقی مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟ خدا کی قدرتِ کاملہ، اُس کے علمِ کامل، اور انسان کے حقیقی آزاد ارادے کو آپس میں ہم آہنگ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشاعره اس مقام پر ایک بڑے الٰہیاتی چیلنج کا سامنا کرتے ہیں۔
اس مسئلے کے جواب میں اشاعره نے ایک نظریہ پیش کیا جسے نظریہ کسب theory of acquisition (kasb) کہا جاتا ہے (Al-Ghazālī 2001, 36; Koca 2020, 34–38)۔ اس نظریے کے مطابق انسانی عمل دو پہلوؤں پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ انسان کسی کام کا ارادہ خود کرتا ہے، لیکن اس ارادے کا فعل میں بدل جانا خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ اٹھانا چاہے اور اس کا ارادہ کرے تو ارادہ کرنا انسان کا عمل ہے، لیکن ہاتھ کا حقیقتاً حرکت کرنا خدا کا فعل ہے۔ لیکن یہ نقطہ نظر ایک مسئلہ بھی پیدا کرتا ہے: اگر اشاعره کے نزدیک ہر چیز پر خدا ہی کا مکمل اختیار ہے تو پھر انسان کے ارادہ کرنے کو الگ سے معنی دینا کیا اہمیت رکھتا ہے؟ کیا ارادہ بھی خدا کے اختیار ہی کے تحت نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر انسان کا ارادہ بھی خدا کے کنٹرول میں ہوا۔ اُکیشنل ازم کے اسی داخلی تناؤ کے باعث یہ حیرت کی بات نہیں کہ امام غزالی خود بھی اس مسئلے کا کوئی مکمل حل پیش نہیں کر سکے۔ اُن کے نزدیک شاید یہ معاملہ روحانی سطح پر سمجھ آنے والی چیز ہے کیونکہ ہر چیز کو تجربے اور عقل کی بنیاد پر پوری طرح سمجھایا نہیں جا سکتا (Al-Ghazālī 2001; Marmura 2004; De Cillis 2016, 96–166; Al-Ghazālī 2016, 45–47; Rouzati 2018)۔ جیسا کہ کرٹ (Kurt 2012, 130) نے لکھا ہے: "روح کی حقیقت اور اس کے جسم سے تعلق کی کیفیت انسان کے لیے نامعلوم ہی رہتی ہے۔ کلاسیکی الٰہیات کے مطابق یہ تعلق ایک ایسا 'راز' ہے جو خدا ہی کے علم میں پوشیدہ ہے۔"
اگرچہ اس معاملے میں ایک قسم کا راز اور ابہام موجود ہے، پھر بھی اُکیشنل ازم کے ہوتے ہوئے انسانی آزاد ارادے کو بچانے کے لیے مختلف فلسفیانہ کوششیں کی گئی ہیں (Muhtaroglu 2010)۔ اس کے علاوہ جدید تجزیاتی الٰہیات (analytical theology) میں بھی کچھ نئے رجحانات سامنے آئے ہیں، خصوصاً "تضادی الٰہیات" (contradictory theology) جو اس طرح کے مباحث میں کسی درجے میں مدد دے سکتے ہیں (Ahsan 2019; Chowdhury 2020; Ahsan 2021)۔ یہ بات کہ یہ تجاویز یا تحقیقی راستے کتنے قابلِ اعتبار یا مفید ہیں، اور آیا انہیں اشعری مکتب کے تناظر میں شامل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ سب اس کتاب کے دائرہ بحث سے باہر ہے۔ یہاں قابلِ توجہ بات صرف یہ ہے کہ اشعری مکتب میں حقیقی انسانی آزاد ارادے اور اُکیشنل ازم کے درمیان ایک معلوم تناؤ پایا جاتا ہے (Koca 2020, 247–249)۔
الٰہی فعل کا منصوبہ (Divine Action Project – DAP)
گزشتہ تین دہائیوں میں الٰہیات اور جدید سائنس کے تعلق کو سمجھنے کے لیے جس تحقیقی کاوش نے غیر معمولی اہمیت حاصل کی، اسے الٰہی فعل کا منصوبہ (Divine Action Project – DAP) کہا جاتا ہے۔ یہ Centre of Theology and Natural Science اور Vatican Observatory کا ایک باہمی مشترکہ منصوبہ تھا، جس نے مذہب اور سائنس کے مکالمے میں ایک نئی جہت پیدا کی۔ اس منصوبے میں مسیحی دنیا کے معروف فلسفیوں، الٰہیات دانوں اور سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ ایئن باربر (Ian Barbour)، تھامس ٹریسی (Thomas Tracy)، فِلِپ کلیٹن (Philip Clayton)، جان پولکنگ ہورن (John Polkinghorne)، ویسلی وائلڈمین (Wesley Wildman)، نینسی مرفی (Nancey Murphy)، کیتھ وارڈ (Keith Ward)، ولیم ڈریس (William Dress) اور ولیم جے اسٹوئگر (William J. Stoeger) جیسے نام اس میں شامل ہیں جنہوں نے اس علمی سلسلے کو عالمی سطح پر پہچان بخشی۔
DAP کے تحت منعقد ہونے والی متعدد کانفرنسوں میں سائنس اور الٰہیات کے درمیان تعلق کو مختلف سائنسی حوالوں سے پرکھا گیا۔ مثلاً ارتقا، اعصابی سائنس (Neuroscience)، کوانٹم میکینکس، کیاؤس تھیوری اور دیگر اہم شعبے۔ ان مباحث کا نتیجہ کئی جلدوں پر مشتمل معیاری علمی مطبوعات کی صورت میں سامنے آیا (Russell et al. 1995, 1996, 2001, 2008)۔ اس پورے منصوبے کے اہم منتظم رابرٹ رسل (Robert Russell) تھے، جنہوں نے تمام جلدوں کی ادارت کی اور ہر کتاب کی ترتیب میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مختصر یہ کہ DAP نے مذہبی الٰہیات اور جدید سائنسی نظریات کے مابین پل بنانے کے لیے ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کی، اور آج بھی یہ منصوبہ سائنس و الٰہیات مکالمے کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
اس پورے منصوبے کی بنیاد اس بات پر تھی کہ طبیعی علوم کو سنجیدگی سے لیا جائے اور معجزات کے تصور کو علمی بحث کے دائرے سے باہر رکھا جائے۔
وائلڈمین (Wildman 2008, 141) اس منصوبے کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:
یہ خیال کہ خدا ایک ہاتھ سے فطرت اور اس کے منظم قوانین کو قائم رکھے، اور دوسرے ہاتھ سے انہی قوانین کو معجزانہ طور پر توڑ دے، معطل کر دے یا نظر انداز کر دے، منصوبے کے اکثر ارکان کے نزدیک ایک کھلی ہوئی متناقض بات محسوس ہوتی تھی۔
منصوبے میں شریک زیادہ اہل علم کا یقین تھا کہ خدا ایک ایسا منظم اور مرتب عالم پیدا نہیں کرے گا جس میں خالق کے لیے اس نظم کو توڑے بغیر عمل کرنا ممکن ہی نہ ہو۔
اسی مقصد کے تحت DAP کا بنیادی ہدف یہ رہا کہ ایسے الٰہی فعل کے ماڈلز تیار کیے جائیں جو طبیعی علوم کے ساتھ مطابقت بھی رکھتے ہوں اور ساتھ ہی تخلیق میں خدا کی شمولیت اور کارفرمائی کو بھی محفوظ رکھیں اور یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو "الٰہی فعل کا منصوبہ" کہا جاتا ہے۔ اس علمی گروہ نے الٰہی فعل کو سمجھنے کے لیے چند اہم تقسیمات وضع کیں، جو بعد کی گفتگو میں بنیادی حوالہ بن گئیں۔ جن میں سے چار اقسام ہمارے لیے کافی ہیں۔ ان اقسام کو واضح کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم موجودہ علمی مکالمے میں اشعری نقطہ نظر کو زیادہ بہتر طور پر جگہ دے سکیں۔
1. عمومی الٰہی فعل اور خصوصی الٰہی فعل
الٰہی فعل کو سمجھنے کی پہلی اہم تقسیم "عمومی الٰہی فعل" (General Divine Action: GDA) اور "خصوصی الٰہی فعل" (Special Divine Action: SDA) کے درمیان کی جاتی ہے۔ اگرچہ مختلف مفکرین کے ہاں ان کی تعریفیں کچھ فرق کے ساتھ ملتی ہیں، لیکن وائلڈمین کے مطابق :
عمومی الٰہی فعل سے مراد یہ ہے کہ خدا پوری حقیقت کو پیدا کرتا ہے اور اسے برقرار رکھتا ہے، اس حد تک کہ یہاں خدا کے کسی خاص مقصد یا ارادے کا ضروری طور پر مفروضہ نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف خصوصی الٰہی فعل وہ مخصوص ربانی اعمال ہیں جو خدا کے ارادے، تدبیر اور منصوبے کے تحت اس دنیا میں واقع ہوتے ہیں، کبھی خاص وقت اورخاص جگہ پر، اور کبھی ہر وقت اور ہر جگہ پر (Wildman 2008, 140)۔
سادہ الفاظ میں، GDA کو قوانینِ فطرت کی الٰہی تعبیر کہا جا سکتا ہے، یعنی وہ مسلسل نظم جو کائنات میں جاری ہے اور جسے سائنس دریافت کرتی ہے۔ اس کے برعکس، SDA اُس حالت کو کہتے ہیں جس میں خدا کسی خاص لمحے اپنی مشیت سے ایسا اثر پیدا کرے جو چیزوں کے معمول کے بہاؤ سے مختلف ہو، یعنی اگر خدا وہ مداخلت نہ کرتا تو معاملہ ویسے پیش نہ آتا۔ مختصراً، یہ خدا کا ایسا ارادی مگر غیر معجزاتی عمل ہے جو کسی نظام، ڈھانچے یا واقعے میں تبدیلی پیدا کرتا ہے، لیکن قوانینِ فطرت کے اندر رہتے ہوئے۔ یہ بات واضح رہے کہ SDA کو معجزات کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصی الٰہی فعل وہ تبدیلیاں ہیں جو قوانینِ فطرت کے اندر رہ کر واقع ہوتی ہیں، جبکہ معجزات ان قوانین کو معطل کر دیتے ہیں یا ان سے ماورا ہو کر پیش آتے ہیں۔ اگلی تقسیم کے تناظر میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جائے گا۔
2. مداخلت اور عدمِ مداخلت (Interventionism & Non-interventionism)
الٰہی فعل کی دوسری اہم تقسیم"مداخلت" (interventionism) اور "عدمِ مداخلت" (non-interventionism) کے درمیان کی جاتی ہے۔ مداخلت سے مراد وہ تصور ہے کہ خدا ایسے انداز میں عمل کرتا ہے جس سے فطرت کے قائم کردہ ڈھانچوں، نظم اور قوانین میں تعطل، تبدیلی یا نظراندازی واقع ہو جائے۔ اس کے برعکس عدمِ مداخلت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا عمل فطرت کے انہی قائم کردہ قوانین اور نظم کے مطابق واقع ہوتا ہے اور انہیں توڑے بنا انجام پاتا ہے (Wildman 2008, 141)۔
یہ تقسیم بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ خدا دنیا کے معاملات اور قوانینِ فطرت کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق رکھتا ہے۔ اسی بحث کے ضمن میں کوپرْسکی (Koperski 2020, 3–5) ایک تیسری درمیانی پوزیشن کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے وہ "عدمِ خلاف ورزی" (non-violationism) کہتے ہیں، اور جس کا ذکر DAP کے متون میں نظر نہیں آتا۔ اس موقف کے مطابق خدا چاہے تو دنیا میں مداخلت کر سکتا ہے، لیکن اسے قوانینِ فطرت کو توڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ وہ انہی موجود قوانین کو استعمال کرتے ہوئے جو چاہے وجود میں لاسکتا ہے۔
3. ہم سازیت (Compatibilism) اور عدمِ ہم سازیت (Incompatibilism)
اس تیسری تقسیم کو سمجھنے کے لیے پہلے طبیعی جبریت (physical determinism) اور غیر جبریت (indeterminism) کے فرق کو جان لینا ضروری ہے۔ طبیعی جبریت کا مطلب یہ ہے کہ جب کائنات ایک مرتبہ پیدا ہو گئی، تو اس کے بعد حرکت و عمل کے تمام قوانین طے شدہ ہیں۔ اس تصور میں دنیا ایک لمبی قطار میں رکھی ڈومینو اینٹوں کی مانند ہے،ایک اینٹ گرتی ہے تو اگلی کا گرنا پہلے سے مقرر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر جبریت ایک نسبتاً کھلا نظام ہے جس میں علت کا نتیجہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا۔ ایک ہی سبب مختلف اوقات میں مختلف نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس تصور میں قوانین احتمالی یا اتفاقی انداز اختیار کرتے ہیں (Briggs 2016)۔ ایک سادہ مثال پاسے پھینکنے کی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پاسے پر کون سے ممکنہ نمبرز آسکتے ہیں، لیکن جب تک پاسا پھینکا نہ جائے، نتیجہ غیر یقینی رہتا ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ حقیقت کے کچھ حصّے اس قسم کے غیر جبری امکانات کے تابع ہو سکتے ہیں، جو کائنات کو ایک کھلا، غیر قطعی ڈھانچہ دیتے ہیں۔ DAP کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ فطری علوم (نیچرل سائنسز) کس طرح اس خدا کے تصور کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں جو قوانینِ فطرت کو توڑے بغیر دنیا میں فعال رہتا ہے۔ یعنی خدا کو قوانینِ فطرت کے "باہر" بھی نہیں دھکیلا جاتا، اور قوانینِ فطرت "منسوخ" بھی نہیں ہوتے۔ اس لیے DAP نے ایسے الٰہیاتی ماڈلز میں دلچسپی ظاہر کی جن میں خدا خصوصی الٰہی فعل (SDA) کے ذریعے دنیا میں کارفرما رہ سکتا ہو، وہ بھی غیر مداخلتی (non-interventionist) اور غیر خلاف ورزی (non-violationist) انداز میں۔
اب اس پس منظر اور جبریت ،غیر جبریت کی بحث کے بعد ہم سازیت (compatibilism) اور عدمِ ہم سازیت (incompatibilism) کی تیسری تقسیم سامنے آتی ہے۔
ہم سازیت کے مطابق یہ فرق کوئی معنی نہیں رکھتا کہ کائنات جبری ہے یا غیر جبری، کیونکہ SDA کو ایسے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے جو غیر مداخلتی یا غیر خلاف ورزی والے ماڈل کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔ یعنی قوانینِ فطرت بھی برقرار رہیں، اور خدا کا عمل بھی۔ اس کے برعکس، عدمِ ہم سازیت یہ موقف رکھتی ہے کہ اگر کائنات جبری (deterministic) ہو تو غیر مداخلتی طریقے سے خصوصی الٰہی فعل (SDA) ممکن نہیں رہتا۔ لہٰذا عدمِ ہم سازیت والے مفکرین فطرت میں غیر جبریت (indeterminacy) کے راستے تلاش کرتے ہیں جن سے خدا کی کارفرمائی کو جگہ مل سکے (Wildman 2008, 143)۔
اسی وجہ سے کوانٹم میکینکس، کیاؤس تھیوری، ایمرجنس اور ارتقا جیسے سائنسی نظریات، جن میں کسی نہ کسی درجے میں غیر جبریت پائی جاتی ہے، عدمِ ہم سازیت کے قائلین کے لیے خاص طور پر اہم اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔
4. تجویزی (Prescriptive) اور توصیفی (Descriptive) قوانین
قوانینِ فطرت کی آخری اور اہم تقسیم ان کی تعبیر سے متعلق ہے، یعنی آیا قوانینِ فطرت کو تجویزی طور پر سمجھا جائے یا توصیفی طور پر۔ اگر قوانینِ فطرت کو تجویزی حیثیت دی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا کوئی حقیقی وجود ہوتا ہے جسے سائنس دریافت کرتی ہے، یعنی یہ قوانین خود کائناتی ساخت کا حصہ ہیں اور فطرت انہی کے مطابق چلتی ہے۔ لیکن اگر قوانینِ فطرت کو محض توصیفی سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس دراصل فطرت میں دکھائی دینے والے نمونوں اور تکرار کو بیان کرتی ہے، نہ کہ کسی حقیقی، لازمی قانون کو دریافت کرتی ہے۔ وائلڈمین کے مطابق اس صورت میں قانون وہ نہیں ہوتا جو کائنات پر حکم چلاتا ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ہم کائنات کے مشاہدے سے اخذ کرتے ہیں۔
یہ فرق معجزات کی بحث کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ اگر قوانین توصیفی ہوں تو معجزات ممکن ہیں، کیونکہ وہ صرف ہماری موجودہ تفہیم یا بیان سے باہر ہوتے ہیں، فطرت کے اندر اصل قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی بلکہ ہماری سمجھ کی حد عبور ہوتی ہے۔ مگر اگر قوانین تجویزی ہوں تو معجزات کو سمجھانا کافی مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ پھر کسی واقعے کا پیش آنا ان قوانین کی حقیقی خلاف ورزی ہوگا، اور اس کے لیے مضبوط عقلی جواز درکار ہوگا۔ اسی بنا پر، اگر قوانینِ فطرت کو محض توصیفی مان لیا جائے تو DAP جیسے منصوبے کی بنیادی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ رِچی کے الفاظ میں (Ritchie 2019, 48):
اگر قوانین صرف ممکنہ تکرار کی توصیفات ہوں تو مداخلت اور عدمِ مداخلت کی پوری بحث بےمعنی ہو جاتی ہے، کیونکہ مداخلت تبھی سمجھ میں آتی ہے جب قوانین حقیقی اور تجویزی ہوں۔ یوں کہ خدا کے لیے ان قوانین سے "ہٹنے" یا ان میں "تبدیلی" کا مفہوم پیدا ہو سکے۔ اگر قوانین خود ontological درجہ ہی نہ رکھتے ہوں تو ان کی خلاف ورزی کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور نہ خدا کے مداخلتی یا غیر مداخلتی رویے پر بحث کی ضرورت رہتی ہے۔
اس بحث سے متعلق ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمارے سائنسی نظریات فطرت کے ڈھانچے کی وضاحت میں کس حد تک جامع اور مکمل ہیں۔ یہاں ایک فرق قائم کیا جا سکتا ہے: ایک طرف فطرت کے بارے میں ہماری موجودہ سائنسی سمجھ ہے، اور دوسری طرف فطرت جیسی کہ وہ حقیقت میں ہے۔ پہلی چیز کو "قوانینِ سائنس" اور دوسری کو "قوانینِ فطرت" کہا جا سکتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو سائنس ہمیں فطرت کی صرف ایک نوع کی تخمینی تعبیر (approximation) فراہم کرتی ہے۔ البتہ یہ تخمینی نقطہ نظر، چاہے قوانینِ فطرت کو تجویزی (prescriptive) مانا جائے یا توصیفی (descriptive)، دونوں تعبیرات کے ساتھ بآسانی ہم آہنگ ہو سکتا ہے (Ritchie 2019, 51–54)۔
تاہم یہ پوری طرح واضح نہیں کہ DAP کے شرکا ان تقسیمات کے سلسلے میں خود کس موقف پر کھڑے ہیں۔ مثال کے طور پر، رَسَل (Russell 2008, 151–211) کوانٹم نظریات کی مدد سے خدائی فعل کی وضاحت پر خاصا زور دیتے ہیں، گویا وہ قوانینِ فطرت کو تجویزی انداز میں دیکھ رہے ہوں۔ مگر اسی کتاب کے ایک اور مقام پر وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ وہ قوانینِ فطرت کی توصیفی تعبیر اختیار کرتے ہیں (Russell 2008, 119)۔ اسی تضاد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے رِچی (Ritchie 2019, 50) لکھتے ہیں: یہ دل چسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مفکرین عملی طور پر قوانینِ فطرت کو تجویزی حیثیت دیتے ہوئے استدلال کرتے ہیں، لیکن اپنے نظری دعوے میں انہیں توصیفی قرار دیتے ہیں ، اور یہی الٰہی فعل کی بحث کا سب سے زیادہ الجھا دینے والا پہلو ہے۔
DAP کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جدید طبیعی علوم کے دعووں کا احترام کرتے ہوئے خدا کے فعل کے لیے بھی کوئی مناسب گنجائش رکھی جائے۔ اس منصوبے کا نقطہ آغاز یہ مفروضہ ہے کہ خدا فطرت کے قائم کردہ نظم اور قوانین کے خلاف کام نہیں کرتا، بلکہ انہی کے اندر رہ کر عمل کرتا ہے۔ چنانچہ معجزات کو شروع ہی سے بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف، خدا کو دنیا کے معاملات سے یکسر الگ کر دینا ڈی ازم (deism) کی طرف لے جاتا ہے، جسے DAP کے شرکا قبول نہیں کرتے۔ اس لیے اس منصوبے کی سب سے بڑی کاوش یہ ہے کہ ایسے الٰہاتی ماڈلز تلاش کیے جائیں جن میں قوانینِ فطرت بھی برقرار رہیں اور خدا کا فعال تعلق بھی قائم رہے۔ اسی پس منظر میں خصوصی الٰہی فعل (SDA) اور عدمِ مداخلت یا عدمِ خلاف ورزی جیسے تصورات اختیار کیے گئے، جن کے ذریعے خدا کو کائنات کے اندر کام کرنے کی ایک ایسی صورت دی جاتی ہے جو سائنسی دائرے سے باہر نہیں نکلتی۔
تاہم طبیعی جبریت (physical determinism) اس راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ اگر کائنات پوری طرح جبری ہو تو قوانینِ فطرت کے اندر رہتے ہوئے خدا کی کوئی فعال کارفرمائی ممکن نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سائنسی نظریات جن میں غیر جبریت (indeterminacy) کی گنجائش ہو، جیسے کوانٹم میکینکس، کیاؤس تھیوری، ایمرجنس اور ارتقا DAP کے شرکا کے لیے زیادہ مفید اور پرکشش ہیں، اور اسی باعث وہ عدمِ ہم سازیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اس پورے منصوبے کو مضبوط بنیاد اس وقت ملتی ہے جب قوانینِ فطرت کو کسی نہ کسی درجے میں تجویزی حیثیت دی جائے، کیونکہ اگر قوانین صرف توصیفی ہوں تو ان کی خلاف ورزی یا عدمِ خلاف ورزی کا مفہوم ہی ختم ہو جاتا ہے، اور نتیجتاً DAP جیسا منصوبہ غیر ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود، جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، شرکا کے اپنے مؤقف میں اس معاملے پر کچھ ابہام موجود ہے۔
DAP پر متعدد جلدوں اور مضامین پر مشتمل ایک وسیع علمی ذخیرہ موجود ہے، لیکن ہماری بحث کے لیے ان بنیادی نکات کا جان لینا کافی ہے۔ ان کی روشنی میں اب ہم اشعری مکتب کے نقطہ نظر کو موجودہ سائنسی و الٰہاتی مباحث کے اندر بہتر طور پر سمجھ اور جگہ دے سکتے ہیں۔
(جاری)