ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رسولِ اکرمؐ کی جامع شخصیت
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس قدر جامع ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہر کردار کا نمونہ ملتا ہے۔ آپؐ ایک امین بھی تھے کہ مکہ کے لوگ اپنی امانتوں کو آپؐ کے پاس محفوظ رکھتے تھے۔ آپ ایک حکم و منصف بھی تھے کہ عرب قبائل کے درمیان حجرِ اسود کی تنصیب کا معاملہ کس خوش اسلوبی سے طے فرمایا۔ آپؐ تاجر بھی تھے کہ حضرت خدیجہؓ کے تجارتی قافلے دوسرے ملکوں میں لے کر جاتے اور تجارت کرتے تھے۔ آپؐ ایک مبلغ بھی تھے کہ لوگوں کو نیکی اور اچھائی کی طرف بلاتے اور بدی و برائی سے روکتے تھے۔ حق و باطل کی لڑائی میں آپؐ ایسے فوجی کمانڈر بن کر ابھرے کہ اِس پر تاریخ میں مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ رسول اللہؐ منصبِ انصاف پر فائز تھے کہ آپ قاضی اور جج بھی تھے، خود آپؐ کے پاس بھی مقدمات آتے تھے جن کے آپؐ فیصلے سنایا کرتے تھے، اور پھر باقی قاضیوں کے پاس جو مقدمات آتے ان کے فیصلوں پر اپیلیں حضورؐ کی خدمت میں آتی تھیں جن پر حضورؐ فیصلے فرمایا کرتے تھے۔ آپ ایک سیاسی لیڈر بھی تھے کہ مختلف قبائل کے وفود آپ کے پاس آتے تھے جن سے آپ مذاکرات اور گفتگو فرماتے تھے۔ آپ اپنی ریاست کے سب سے بڑے ڈپلومیٹ سب سے بڑے سفارت کار بھی تھے کہ آپؐ دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات اور معاملات کو بھی نبھاتے تھے۔ نبی کریمؐ اپنی ریاست کے منتظم اعلیٰ بھی تھے کہ ریاست کے داخلی معاملات کے متعلق فیصلے بھی آپؐ خود فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہؐ مسجد نبوی میں صحابہ کرامؓ کے امام بھی تھے کہ آپؐ نماز خود پڑھاتے تھے۔ جناب نبی کریمؐ ایک خطیب بھی تھے کہ خطبۂ جمعہ اور دیگر خطبات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔
یہ میں نے انسانی زندگی کے ان اہم کرداروں میں سے چند کا ذکر کیا ہے جو جناب نبی کریمؐ نے نبھائے۔ پھر ایسا بھی نہیں تھا کہ حضورؐ ایک شعبے میں اچھے تھے اور دوسرے شعبے میں خدانخواستہ کمزور تھے، رسول اللہؐ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر تھے اور افضل الانبیاء تھے، اللہ تعالیٰ نے جو شعبہ بھی حضورؐ کے سپرد کیا اس میں حضورؐ کی کارکردگی کا معیار انتہا پر تھا، یہ جناب نبی کریمؐ کی جامعیت ہے۔1
ازواجِ رسولؐ باعتبارِ ترتیب
جناب رسول اللہؐ کی ازواج میں نکاح کی ترتیب کے لحاظ سے حضرت خدیجہؓ، حضرت سودہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت زینب ام المساکینؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت زینب بنت جحشؓ ، حضرت جویریہؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت میمونہؓ اور حضرت صفیہؓ کے نام آتے ہیں۔رسول اللہؐ کی کل گیارہ بیویاں تھیں جبکہ بیک وقت نو تھیں۔ آنحضرتؐ کی حیاتِ مبارکہ میں آپؐ کی دو بیویاں فوت ہوئیں، ایک حضرت خدیجہؓ اور دوسری حضرت زینب ام المساکینؓ۔2
رسولِ اکرمؐ کی کثرتِ ازدواج کی حکمت
جناب نبی کریمؐ کی کل ۱۱ جبکہ بیک وقت ۹ بیویاں تھیں۔ علمائے امت اِس میں ایک حکمت تو یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت عرب قبائل کو سیاسی و معاشرتی طور پر اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے ان قبائل کے ساتھ یہ ازدواجی رشتے قائم کرنا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ دوسری حکمت یہ بتاتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے حضورؐ کے گھر میں مختلف عمروں اور مزاجوں کی عورتیں جمع کر کے خواتین کے متعلق احکام و قوانین کی تعلیم کے بارے میں آپؐ کے لیے سہولت پیدا فرما دی۔ ورنہ جناب نبی کریمؐ نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہؓ کے ساتھ پہلا نکاح کیا تو اس وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس برس تھی۔ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ پچیس سال تک تنہا آپؐ کی زوجہ محترمہ رہیں اور آپؐ پچاس برس کے تھے جب حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔
حضورؐ کا ازواج کے ساتھ حسنِ سلوک
آپؐ کا اپنی ازواج مطہراتؓ کے ساتھ معاملہ کیسا تھا؟ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے سوائے میدان جنگ کے اپنی ساری زندگی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا، نہ کسی بیوی پر، نہ کسی خادم پر اور نہ کسی غلام پر۔ ازواج مطہراتؓ کے ساتھ اپنے طرزِ عمل کی شہادت دیتے ہوئے حضورؐ خود فرماتے ہیں ’’خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی‘‘ کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب سے اچھا ہوں۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تقریباً دس سال حضورؐ کی خدمت کی۔ حضرت انسؓ ۱۰ سال کی عمر میں حضورؐ کی خدمت میں آئے اور حضورؐ کے وصال کے وقت ان کی عمر ۲۱ برس تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ذاتی خادم کی حیثیت سے حضورؐ کی خدمت میں تقریباً دس سال گزارے لیکن کبھی رسول اللہؐ کو کسی پر ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا۔3
نبی کریمؐ کا پہلا نکاح
آپؐ کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ قریش کی بڑی باعزت خاتون تھیں۔ وہ ایک تجارت پیشہ اور مالدار خاتون تھیں۔ جب حضورؐ کا حضرت خدیجہؓ کے ساتھ نکاح ہوا تو آپؐ پچیس برس کے جبکہ حضرت خدیجہؓ چالیس برس کی تھیں۔ یہ رسول اللہؐ کا پہلا نکاح تھا جبکہ حضرت خدیجہؓ اس سے پہلے بیوہ ہو چکی تھیں۔ حضورؐ کا حضرت خدیجہؓ کے ساتھ یہ نکاح پچیس برس تک قائم رہا۔ ان پچیس سال کے دوران حضرت خدیجہؓ تنہا حضورؐ کے نکاح میں رہیں۔ حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے وقت جناب نبی کریمؐ کی عمر پچاس برس تھی۔ اپنی عمر کے پچیس سے پچاس سال کے عرصے تک حضورؐ نے اور کوئی شادی نہیں کی، حضرت خدیجہؓ حضورؐ کی سب سے لمبی مدت کی بیوی تھیں۔ نبی کریمؐ آخرت وقت تک حضرت خدیجہؓ کو یاد کرتے تھے اور ان کا تذکرہ فرماتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے کبھی کسی پر رشک نہیں آیا سوائے خدیجہؓ کے، جب بھی کوئی بات ہوتی تو آپؐ فرماتے کہ خدیجہؓ یوں کیا کرتی تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضورؐ نے کسی بات پر حضرت خدیجہؓ کا نام لیا تو میں بول پڑی کہ یارسول اللہؐ آپ کیا اس بڑھیا کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ان سے اچھی عورتیں دی ہیں۔ رسول اللہؐ نے اس پر حضرت خدیجہؓ کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ خدیجہؓ نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے، اس نے مجھ پر اپنا مال بھی خرچ کیا اور مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔4
رسولِ امینؐ اور ام المؤمنینؓ کے نکاح کا سبب
تجارت وہ ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی معاشرے کا نظام نہیں چل سکتا، اللہ تعالیٰ نے تجارت کو انسانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زراعت، تجارت، ملازمت، اور مالِ غنیمت، کمائی کے وہ حلال اور جائز طریقے ہیں جن کے ذریعے انسان اپنی ضروریاتِ زندگی مہیا کر سکتا ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے تجارت کو کمائی کے بہترین ذرائع میں ارشاد فرمایا ہے، بہت سی روایات ہیں جن میں نبی کریمؐ نے تجارت کی فضیلت و اہمیت ذکر فرمائی ہے، درجات بیان فرمائے ہیں اور تجارت کے متعلق احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ احادیث میں کتاب البیوع کے عنوان سے مستقل کتابیں ہیں اور تجارت و کاروبار کے حوالے سے جناب رسول اللہؐ کی تعلیمات واضح ہیں۔
جناب نبی کریمؐ نے خود بھی نبوت سے پہلے تجارت کو بطور پیشہ اختیار کیا اور اس پر بہت سی روایات ہیں کہ آپؐ لین دین کیسے کرتے تھے اور کاروباری معاملات کیسے طے فرماتے تھے۔ جناب رسول اللہؐ کی بعثت سے پہلے ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضورؐ کی شادی کا سبب بھی تجارت ہی تھا۔ حضرت خدیجہؓ قریش کی ایک باعزت تاجر خاتون تھیں اور ان کا تجارتی قافلہ شام کے علاقے میں جایا کرتا تھا۔ وہ خود تو تجارت کے لیے نہیں جاتی تھیں لیکن ان کے نمائندے اور کارندے جاتے تھے۔ تجارت کے سارے عمل کا انحصار صرف نمائندوں پر ہو تو معاملہ اتنا قابلِ بھروسہ نہیں رہتا اس لیے حضرت خدیجہؓ کو تلاش ہوتی تھی کہ کوئی دیانت دار اور قابلِ اعتماد آدمی ان کی تجارت کو سنبھالے۔ جناب نبی کریمؐ کے بارے میں مکہ مکرمہ میں یہ مشہور تھا کہ آپ امین ہیں، صادق ہیں، سچے ہیں، دیانت دار ہیں، بااخلاق اور قابلِ اعتماد ہیں۔
چنانچہ حضرت خدیجہؓ نے یہ دیکھنے کے لیے کہ جو کچھ انہوں نے حضورؐ کے متعلق سن رکھا ہے یہ کہاں تک ٹھیک ہے۔ انہوں نے رسول اللہؐ کو پیغام بھیجا اور پیشکش کی کہ آپ ایک سال میرے تجارتی قافلے کی سربراہی کریں۔ اس پر حضورؐ حضرت خدیجہؓ کا تجارتی قافلہ لے کر شام گئے اور پھر واپس آئے، یہ تجارتی سفر حضرت خدیجہؓ کے حضورؐ پر اعتماد کا باعث بنا اور پھر حضورؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے رشتے کا سبب بھی بنا، یوں آنحضرتؐ کی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ نکاح ہوگیا۔ یہ شادی اتنی بابرکت ثابت ہوئی کہ حضورؐ کی بعثت اور نبوت کے اعلان کے بعد حضرت خدیجہؓ کا سارا مال حضورؐ پر ہی خرچ ہوا۔5
نبی اکرمؐ کی پچیس سالہ یک زوجگی
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے گھر کا آغاز، جس کو گھر کہتے ہیں، یہ ہوا تھا ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا سے۔ جب حضورؐ کا نکاح ہوا تو وہاں سے حضورؐ کی گھریلو زندگی کا آغاز ہوا۔ مکہ مکرمہ میں جناب نبی کریمؐ نے حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کی حیات میں اور کوئی نکاح نہیں کیا۔ پچیس سال کی عمر میں نبی کریمؐ کا نکاح ہوا تھا، اور پچیس سال ہی ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کے ساتھ گزارے ہیں۔ گیارہ نبوی میں ان کا انتقال ہوا تھا۔
پہلی بیوی بھی تھیں، بچوں کی ماں بھی تھیں۔ جناب نبی کریمؐ کی ساری کی ساری اولاد، سوائے حضرت ابراہیمؓ کے، حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے تھی۔ چاروں بیٹیاں، بیٹے چار، یا تین، یا پانچ، علیٰ اختلاف الروایات۔ حضرت قاسمؓ کے بارے میں تو آتا ہے کہ حضورؐ کے بیٹے تھے، بلوغت کے قریب پہنچے تھے، تیرہ چودہ سال کی عمر، گھوڑے پر سواری کر لیتے تھے، ان کا انتقال ہو گیا، انہی کی نسبت سے جناب نبی کریمؐ کو ابوالقاسم کہا جاتا ہے، حضورؐ کی کنیت ہے ابوالقاسم، حضرت قاسمؓ کی نسبت سے۔ عبد اللہ بھی نام آتا ہے ایک بچے کا، طاہر بھی آتا ہے، طیب بھی آتا ہے، لیکن جوان کوئی نہیں ہوا۔ جوان بیٹیاں ہوئی ہیں۔ جوان بھی ہوئی ہیں، شادیاں بھی ہوئی ہیں، اولاد بھی ہوئی ہے، نبی کریمؐ نے بیٹیوں کو پالا بھی ہے، بیٹیوں کو عزت بھی دی ہے، بیٹیوں کی اولاد کو بھی پالا ہے، نواسے بھی پالے ہیں۔ پوتا تو حضورؐ کے پاس نہیں تھا لیکن ایک تھا جس کو پوتے کی طرح پالا تھا، اسامہ بن زیدؓ، حضورؐ کے ہاتھوں میں پرورش ہوئی ہے، حضورؐ کے ہاتھوں میں پلے ہیں، اور پوتوں جیسی محبت ہی اسامہ بن زیدؓ کو ملی ہے۔
میں بات حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کی کر رہا تھا، میاں بیوی کی وہ محبت اور میاں بیوی کا وہ تعلق پوری دنیا کے لیے مثالی ہے آئیڈیل ہے۔ حضرت خدیجہ الکبرٰیؓ مکہ مکرمہ کی بڑی مالدار خاتون تھیں، اور سارے کا سارا مال کس پر خرچ ہوا تھا؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ حضور نبی کریمؐ فرمایا کرتے تھے کہ دو آدمیوں کے احسان میں نہیں بھلا سکتا، اپنا سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا۔ مردوں میں حضرت ابوبکرؓ اور عورتوں میں حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ۔
میاں بیوی کا تعلق کیا ہوتا ہے، اس سے اندازہ کیجیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غارِ حرا میں وحی آئی ہے، اور وہ واقعہ جو زندگی میں پہلا اور انوکھا واقعہ تھا، حضورؐ پر گھبراہٹ طاری ہوئی ہے، حضورؐ کہتے ہیں مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا، تو اس وقت حضورؐ کو سنبھالنے والی کون تھیں؟ حضرت خدیجہؓ۔ بیوی کا یہی کام ہوتا ہے کہ خاوند کی پریشانی میں اضافہ نہیں کرنا، خاوند کی پریشانی میں اس کے کام آنا ہے۔ آئیڈیل بیوی کا یہی کام ہوتا ہے کہ خاوند پریشان ہے مضطرب ہے، حضورؐ کے الفاظ ہیں ’’انی اخاف علیٰ نفسی‘‘ مجھے اپنے اوپر ڈر لگنے لگا تھا غارِ حرا کا واقعہ دیکھ کر۔ اس وقت سنبھالا کس نے ہے، حوصلہ کس نے دیا ہے، صبر کس نے دلایا ہے، ساتھ کس نے دیا ہے؟ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ یاد بھی رہی ہیں، یہ مکہ میں فوت ہو گئی تھیں ۱۱ نبوی میں۔ مدینہ جا کر حضورؐ نے اور نکاح بھی کیے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ حضورؐ کی بیویوں میں حضورؐ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں، ابوبکرؓ کی بیٹی بھی تھیں، ذہین خاتون تھیں، اللہ تعالیٰ نے بہت کمالات سے نوازا تھا، سوکنیں ان کی بہت تھیں، بیک وقت نو بیویاں تھیں حضورؐ کی۔ کہتی ہیں کہ مجھے کسی پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی اس وقت غیرت آتی تھی جب حضورؐ بار بار خدیجہؓ کا ذکر کرتے تھے، خدیجہؓ ایسے تھی، خدیجہؓ نے یہ کیا، خدیجہؓ نے وہ کیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ بڑھیا آپ کو بھولتی نہیں؟ ہر بات پر خدیجہؓ ایسے تھی، خدیجہؓ ایسے تھی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی بیویاں دے دی ہیں۔ اور اچھی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ آپؐ جب کوئی ایسی بات ہوتی ہے، خدیجہؓ کی کوئی سہیلی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اسے کھلاؤ پلاؤ، خدیجہؓ خدیجہؓ کرتے رہتے ہیں آپؑ، تو وہ آپ کو بھولتی نہیں ہے؟ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملے میں یہ بات کہہ دی، اللہ اکبر، عائشہ! وہ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھی۔ دکھ کے وقت کا ساتھی کبھی بھولتا ہے؟ وہ تکلیفوں کا دور، وہ آزمائشوں کا دور، وہ طعن و تشنیع کا دور، اذیتوں کا دور، کیسے بھول سکتی ہے۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا آغاز ہوا تھا ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔6
آقائے نامدارؐ کا پہلا تعارف
سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔
چنانچہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ آنحضرتؐ کا معمول یہ تھا کہ چند دن کی خوراک اور پانی لے کر غارِ حرا میں چلے جاتے تھے اور سب لوگوں سے الگ تھلگ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہتے تھے۔ ایک دن وہیں غار میں وحی کے آغاز کا واقعہ پیش آگیا، حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو قرآن کریم کی پہلی آیات سنائیں۔ اس واقعہ کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ آپ نے کئی بار سن رکھا ہوگا اور آپ کے ذہن میں ہوگا۔ اچانک یہ واقعہ ہوا، اس سے قبل اس قسم کی بات کبھی نہیں ہوئی تھی اس لیے جناب نبی کریمؐ پر گھبراہٹ کا طاری ہونا فطری بات تھی۔ آپؐ گھر تشریف لائے، چادر اوڑھی اور لیٹ گئے۔ اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا دانا و بینا خاتون تھیں، پریشانی بھانپ گئیں، پوچھا تو آنحضرتؐ نے سارا واقعہ بیان کر دیا اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ’’خشیت علیٰ نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگ رہا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو غمزدہ نہیں کرے گا۔ اور انہوں نے اپنے دعویٰ پر جو دلیل دی وہ یہ تھی کہ ’’آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں، مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں، لوگوں کی مشکلات میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں‘‘۔ گویا ام المؤمنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ جو لوگ انسانی سوسائٹی میں دوسروں کے کام آنے والے ہوں اللہ تعالیٰ انہیں غمزدہ اور پریشان نہیں کیا کرتا۔
اس طرح پہلی وحی نازل ہونے کے بعد احادیث کے ذخیرہ میں نبی کریمؐ کا جو سب سے پہلا تعارف ہمارے سامنے آتا ہے وہ ایک سوشل ورکر کی حیثیت سے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؐ بہت بڑے سوشل ورکر تھے اور دکھی انسانیت کی خدمت آپؐ کی سب سے پہلی سنتِ مبارکہ ہے۔7
پہلی وحی کا واقعہ اور حضرت خدیجہؓ کی تسلی
جب حضرت جبریل علیہ السلام غارِ حرا میں پہلی وحی لے کر آئے تو یہ حضورؐ کے لیے ایک اچانک بات تھی، آپؐ نے وحی تو قبول کر لی لیکن اِس غیر معمولی واقعہ کی وجہ سے آپؐ کی طبیعت پر بے پناہ بوجھ تھا۔ پہلی وحی کے مراحل سے گزر کر آنحضرتؐ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے اِس تمام واقعہ کا ذکر کیا، ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ جو جناب نبی کریمؐ کی زوجہ محترمہ تھیں اور قیامت تک دنیا کے مسلمانوں کی محترم ماں ہیں، رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ مجھ پر شخصی احسانات کرنے والی عورتوں میں سب سے بڑھ کر خدیجہؓ تھیں۔
حضرت خدیجہؓ بڑی سمجھ دار خاتون تھیں، حضورؐ نے گھر آ کر زوجہ محترمہ کو غارِ حرا کا یہ واقعہ سنایا اور ساتھ ہی پریشانی کا اظہار فرمایا جو کہ ایک طبعی اور فطری بات تھی، اس پر ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ نے پہلا ردِ عمل یہ ظاہر کیا، ’’واللّٰہ لا یخزیک اللّٰہ أبدًا‘‘ خدا کی قسم! آپ تسلی رکھیے اللہ تعالیٰ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا، اس واقعے میں آپ کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر حضرت خدیجہؓ نے اس کی وجہ بیان فرمائی ’’انک لتصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علیٰ نوائب الحق‘‘ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس لیے ضائع نہیں ہونے دے گا کہ معاشرے میں آپ کی خدمات اور کارکردگی قابلِ تعریف و ستائش ہیں، آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، رشتوں کو جوڑنے والے ہیں، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو ملانے والے ہیں، بیواؤں اور لاوارث لوگوں کا بوجھ اٹھانے والے ہیں، محتاجوں کو کما کر دینے والے ہیں، مہمانوں کی مہمانداری کرنے والے ہیں اور لوگوں پر آنے والی مشکلات میں ان کی مدد کرنے والے ہیں۔ یعنی جو آدمی سوسائٹی کے حقوق ادا کرتا ہو اور معاشرے کے نادار لوگوں کا سہارا بنتا ہو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایک نبی کے طور پر جناب نبی کریمؐ کا پہلا تعارف ہی اس بات سے ہوا کہ آپؐ بیواؤں، یتیموں، مسکینوں اور غریبوں کے کام آتے ہیں۔ چنانچہ سماجی خدمت سوسائٹی کا حق ہے، معاشرے کا یہ حق جناب نبی کریمؐ نے خود بھی ادا کیا اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی۔8
ورقہ بن نوفل کی تصدیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ کا واسطہ اہلیہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓکے ذریعے ایک عیسائی عالم سے پڑا۔ بخاری کی روایت کے مطابق آپؐ نے غارِ حرا کا واقعہ ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ سے ذکر کیا اور فرمایا ’’خشیت علیٰ نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے۔ حضورؐ کو تشویش تھی، آپؐ نے اپنے خدشے کا اظہار کیا تو ام المومنینؓ نے تسلی دی کہ ’’لن یخزیک اللّٰہ ابدًا‘‘۔ اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ’’لانک تصل الرحم و تحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق‘‘۔ یہ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی سماجی خدمات کا ذکر کیا۔ وہ عیسائی عالم حضرت خدیجہؓ کے چچازاد بھائی تھے۔ ورقہ بن نوفل جو عیسائیت کے عالم تھے، عبرانی زبان جانتے تھے اور انجیل کا عربی میں ترجمہ کر کے لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ نے حضورؐ کو تسلی دی اور آپؐ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں کہ وہ پرانے بزرگ اور عالم ہیں، اس کیفیت کا ذکر ان سے کرتے ہیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا معاملہ ہوا ہے، کیا خدشات ہیں۔ وہاں جا کر حضورؐ نے ان کو غار میں پیش آنے والا اپنا واقعہ سنایا، ورقہ بن نوفل چونکہ پرانی آسمانی کتابوں کے عالم تھے، وہ سمجھ گئے کہ یہ نبوت اور وحی ہے۔ کہا، یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسٰیؑ پر نازل ہوا تھا۔ اور پھر خدشے کا اظہار کیا کہ ایک وقت آئے کہ لوگ آپ کو پریشان کریں گے اور قوم کے لوگ آپ کو مکہ سے نکال دیں گے۔ اور اس حسرت کا اظہار کیا کہ اے کاش! میں اس وقت موجود ہوں، طاقتور ہوں، تو میں آپ کا ساتھ دوں گا، آپ کی مدد کروں گا۔ اس پر حضورؐ کو تعجب ہوا کہ یہ قوم تو مجھ سے بڑی محبت کرتی ہے، مجھے صادق و امین کہتی ہے، مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، میرے پاس فیصلے لاتے ہیں۔ ’’او مخرجی ھم؟‘‘ کیا وہ مجھے مکہ سے نکال دیں گے؟ ورقہ بن نوفل نے کہا آپ جیسی بات جس نے بھی کی ہے اس کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ چونکہ اس وقت تک حضورؐ نے اسلام کی دعوت کا آغاز نہیں کیا تھا تو ورقہ بن نوفل کے ان جذبات کے اظہار پر محققین ان کو اہلِ حق میں سے شمار کرتے ہیں۔9
حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کا ہار
بڑا دلچسپ واقعہ ہے، امام بخاریؒ بیان فرماتے ہیں، بدر میں حضرت زینبؓ حضورؐ کے گھر میں ہیں اور خاوند کافر قیدیوں میں ہیں، نکاح باقی ہے، نکاح قائم ہے، فدیہ کا فیصلہ ہوا، ابوالعاص بن ربیع کے پاس کچھ دینے وینے کو تھا نہیں کہ میں فدیہ میں کیا دوں گا۔ اہلیہ محترمہ گھر میں ہیں، مدینہ منورہ میں، حضرت زینب رضی اللہ عنہا، ان کو پتہ چلا کہ میرا خاوند قیدی ہے، فدیے کا فیصلہ ہوا ہے، فدیے کے پیسے نہیں ہیں، تو اپنا ہار گلے سے اتارا، کسی ذریعے سے بھجوایا کہ ابوالعاص کو دے دو تاکہ اپنا فدیہ ادا کر دے۔ مسلمان بہت بعد میں ہوئے ہیں۔ اپنا ہار دیا کہ جا کر ابوالعاص کو دے دو کہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہا ہو جائے گا۔ ابوالعاص نے دیکھ لیا کہ میری بیوی کا ہار ہے، بیوی نے بھیجا ہے۔ تو وہ حضورؐ کی خدمت میں جب پیش کیا، اوہو! حضورؐ کی تو انکھیں بھر آئیں۔ یہ ہار اصل میں حضرت خدیجہؓ کا تھا۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار تھا جو انہوں نے شادی کے موقع پر بیٹی کو ہدیہ کیا تھا۔ تو حضورؐ کو وہ پرانا دور سارا یاد آگیا کہ یہ تو خدیجہؓ کا ہار ہے، بیٹی کے پاس ہے، اب بیٹی نے خاوند کو بھیجا ہے آزاد ہونے کے لیے۔ تو حضورؐ نے سفارش کی۔ عام طور پر حضورؐ سفارشیں اس قسم کی نہیں کیا کرتے تھے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ دیکھو بھئی! یہ خدیجہؓ کا ہار ہے، بیٹی کے پاس ماں کی نشانی ہے، اگر تم اجازت دو تو یہ زینبؓ کو واپس کر دوں؟ یا رسول اللہ! حاضر ہے پیش کر دیں۔10
جنگی قیدیوں کے بارے میں حضورؐ کا یہ معمول رہا ہے۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں میں حضورؐ کے داماد ابوالعاص بن ربیع تھے جو حضرت خدیجہؓ کے بھانجے تھے، حضرت خدیجہؓ ان کی خالہ بھی تھیں اور ساس بھی، حضرت زینبؓ کے خاوند تھے، قید ہو کر آ گئے تھے۔ بخاری شریف میں ان کا قصہ ہے کہ جب حضرت زینبؓ کو پتہ چلا کہ میرا خاوند گرفتار ہو گیا ہے اور فدیہ کا فیصلہ ہو گیا ہے، اور اس غریب کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو انہوں نے اپنا ہار خفیہ طریقے سے بھجوایا کہ ابوالعاص کو یہ دے دو کہ فدیہ دے کر آزاد ہو جائے۔ اس وقت تک مسلمان اور غیرمسلموں کے نکاح قائم تھے، اس وقت حضرت زینبؓ مدینہ میں ابا جانؐ کے گھر پر تھیں۔ ابوالعاصؓ نے جب وہ ہار حضورؐ کو دیا تو آپؐ پہچان گئے کہ زینبؓ نے اپنا ہار اپنے خاوند کو چھڑانے کے لیے بھیجا ہے۔ ہار دراصل حضرت خدیجہؓ کا تھا جو انہوں نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر تحفہ میں دیا تھا ۔حضورؐ نے جب حضرت خدیجؓہ کا ہار دیکھا تو صحابہ کرامؓ سے ارشاد فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی نشانی ہے، اگر اجازت ہو تو واپس کر دوں؟ حضورؐ ویسے سوال نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہاں یہ بات کی، صحابہ کرامؓ نے کہا جیسے آپ کی رضا۔ چنانچہ وہ ہار حضرت زینبؓ کو واپس کر دیا گیا۔11
حضرت زید بن حارثہ ؓ
بیع الحر کی ایک اور مثال حضرت زید بن حارثہ ؓ تھے جو کہ غلام بن کر حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے تھے اور حضرت خدیجہؓ نے انہیں حضورؐ کی خدمت میں دے دیا تھا۔ … حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی ایک آزاد خاندان کے فرد تھے راستے میں سفر کرتے ہوئے کسی نے پکڑا اور بیچ دیا، یہ حضرت خدیجہؓ کی ملکیت میں آئے انہوں نے حضورؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورؐ نے انہیں آزاد کر دیا لیکن وہ آزادی کے بعد بھی آپؐ کی خدمت میں رہے۔ حضورؐ نے انہیں متبنّٰی یعنی منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور وہ اس وقت تک حضورؐ کے منہ بولے بیٹے رہے جب تک اس کی ممانعت کے احکامات نازل نہیں ہوئے۔ یہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن کریم میں ہے۔12
حوصلہ مند اور وفا شعار زوجہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں مصائب و مشکلات میں ان کا سہارا بن کر اور الجھنوں اور پریشانیوں میں مونس و غمخوار بن کر اپنا سب کچھ جناب نبی اکرمؐ کی ذات اور مشن پر لٹا دیا۔ ذرا تصور میں لائیے اس منظر کو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار غارِ حرا میں وحی کے تجربہ سے دوچار ہوئے، اچانک واقعہ اور وحی جیسا عظیم بوجھ پہلی بار سامنے آیا، گھبراہٹ میں گھر آئے، چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ سب سے پہلے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نے ہی اس کیفیت کو محسوس کیا۔ دریافت کیا تو نبی اکرمؐ نے واقعہ بیان فرما دیا اور ساتھ ہی کہا کہ مجھے اپنے بارے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ یہ حضرت خدیجہؓ تھیں جنہوں نے ایک حوصلہ مند خاتون اور وفا شعار بیوی کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کو کھلاتے ہیں، مشکلات میں لوگوں کا سہارا بنتے ہیں اور ضرورتمندوں کو کما کر دیتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ مالدار خاتون تھیں اور کاروبار میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے آپ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا، لیکن جب وقت آیا تو اپنا سارا مال اور کاروبار جناب نبی اکرمؐ کے مشن پر نچھاور کر دیا اور مشکلات و مصائب کے اس دور میں آخر دم تک آپ کا ساتھ نبھایا۔13
مہمان نوازی باعثِ رحمتِ الٰہی
مہمان نوازی کے حوالے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہدایات فرمائی ہیں اور حضورؐ کی سنتِ مبارکہ کیا تھی؟ آپؐ کا نبوت کے بعد جو پہلا تعارف ہے وہ مہمان نوازی کے حوالے سے ہے۔ جناب نبی اکرمؐ پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ نے یہ واقعہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے ذکر کیا اور فرمایا ’’خشیت علیٰ نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے۔ آپؐ کو تشویش تھی، حضورؐ نے اپنے خدشے کا اظہار کیا تو حضرت خدیجہؓ نے حضورؐ کو تسلی دی کہ ’’لن یخزیک اللہ ابدًا‘‘ اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اور پھر انہوں نے آپؐ کی کچھ صفات بیان کیں کہ ان صفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو پریشان نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو پریشان نہیں کیا کرتا۔ ان صفات میں یہ فرمایا ’’تصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق‘‘ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی سماجی خدمات کا ذکر کیا کہ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کے کام آتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، مہمانوں کی مہمانی کرتے ہیں۔ ’’الضیف‘‘ اس زمانے میں دو قسم کے لوگوں کے لیے بولا جاتا تھا۔ ایک وہ جو کہیں سے ملنے کے لیے آئیں، اور دوسرے بے ٹھکانہ مسافر پر بھی الضیف کا لفظ بولا جاتا تھا۔ پہلے زمانے میں ہوتا تھا کہ مسجد میں مسافر آجاتے اور کہتے میں مسافر ہوں تو لوگ ان کی مہمانی کر دیا کرتے تھے۔14
امہات المؤمنینؓ اور صنعت و تجارت
ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ تجارت کیا کرتی تھیں اور جناب رسول اکرمؐ کی ازواج مطہرات میں حضرت ام سلمہؓ، حضرت ام حبیبہؓ اور حضرت زینبؓ اپنے گھر میں کام کرتی تھیں اور مختلف چیزیں تیار کر کے بازار میں فروخت کیا کرتی تھیں۔ دیگر حضرات صحابہ کرامؓ کی ازواج مطہرات بھی تجارت اور حرفت کے کام کرتی تھیں اور کمائی کیا کرتی تھیں۔ …… اسلام نے عورت اور مرد کے میل جول کی حدود متعین کی ہیں اور پردے و حجاب کے ضابطے نافذ کیے ہیں جن کی پابندی بہرحال ضروری ہے۔ ان حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت ملازمت بھی کر سکتی ہے، کاروبار بھی کر سکتی ہے اور جائز کمائی کے دیگر ذرائع بھی اختیار کر سکتی ہے جس کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی طبقہ ملازمت اور کاروبار وغیرہ کے جواز کے نام پر مرد اور عورت کے درمیان اس فطری فرق کی نفی کرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد پر اسلام نے مردوں اور عورتوں کے لیے قوانین میں فرق رکھا ہے تو فطرتِ سلیمہ کے طے کردہ اس فرق کو ختم کرنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی عملاً اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔15
عام الحزن — غم کا سال
حضرت خدیجہؓ اور حضورؐ کے چچا ابو طالب کی وفات قریب قریب ہوئی۔ گھر میں سب سے زیادہ حضورؐ کا ساتھ دینے والی حضرت خدیجہؓ تھیں جبکہ گھر سے باہر خاندان میں سب سے زیادہ محافظ اور مددگار جناب ابوطالب تھے۔ ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انہوں نے چچا ہونے کے ناطے سے چچا ہونے کا حق ادا کر دیا۔ ابو طالب رسول اللہؐ کے ساتھ شعب ابو طالب میں بھی محصور رہے۔ جناب ابو طالب کی زندگی میں کسی کو حضورؐ کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہیں ہوئی، جسے بھی کوئی شکایت ہوتی تو وہ ابو طالب سے کرتا تھا کہ اپنے بھتیجے سے یہ بات کرو، اپنے بھتیجے کو یہ سمجھاؤ۔ ابوطالب کی شخصیت کا ایک رعب اور مقام تھا۔ جس سال یکے بعد دیگرے جناب ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا تو وہ سال حضورؐ کے لیے بہت پریشانی کا تھا کہ عالمِ اسباب میں جو دو بڑے سہارے تھے، دونوں ختم ہوگئے۔ اس لیے رسول اللہؐ نے اسے عام الحزن قرار دیا کہ یہ میرا غم کا سال ہے۔16
حوالہ جات
علمِ حدیث کی تاریخ؛ آغاز و ارتقا
ڈاکٹر سید عبد الماجد غوری
مترجم : ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود
طالب شریعت کے لیے علمِ حدیث کی اہمیت ڈھکی چھپی نہیں؛ کیوں کہ اسی علم کو وسیلہ بنا کر رسول اکرم ﷺ کی احادیث کو دسیسہ کاری، ردوبدل،دھوکے اور کذب بیانی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ علمِ حدیث کی پانچ شاخیں ہیں:
- اسناد
- تاریخ روات و علم رجال
- جرح و تعدیل کا بیان اورروات کے حالات کی جانچ پڑتال
- متن حدیث کا جائزہ اور اس سے متعلق علوم
- علم جرح وتعدیل 1۔
امام عراقی رحمہ اللہ2 اپنی ’’شرح الفیۃ ‘‘ میں اس علم کی اہمیت بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں:
’’علمِ حدیث کی نہایت اہمیت ہے، فائدہ بہت زیادہ ہے، اسی پر اکثر احکام کا مدار ہے، اسی سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، علماے حدیث کی خاص اصطلاحات ہیں جنھیں سمجھنا طالب علم کے لیے ضروری ہے‘‘3۔
مولانا سید سلمان ندوی4 نے علمِ حدیث کی قدرومنزلت کے حوالے سے عمدہ کلام کیا ہے۔ روایت کی اہمیت بیان کرتے ہوے آپ فرماتے ہیں:
’’روایت ضروری چیز ہے۔ کسی بھی علم اور دنیوی معاملات میں نقل و روایت کے بغیر چارہ نہیں۔ انسان ہر واقعے میں حاضر نہیں رہ سکتا؛ اس لیے غیر حاضر لوگوں تک زبانی یا تحریری روایت سے ہی واقعات کو پہنچایا جاے گا۔ روایت ہی کے ذریعے سے پچھلی نسلوں کے واقعات بعد میں آنے والی نسلوں تک پہنچاے جا سکتے ہیں۔ گذشتہ اور موجودہ قوموں کی تاریخیں، مذاہب وادیان، حکما وفلاسفہ کے نظریات اور سائنس دانوں کی ایجادات و تجربات ہم تک نقل و روایت سے ہی پہنچی ہیں۔ احادیث چوں کہ خبریں ہیں؛ اس لیے ان کی جانچ پڑتال اور صحیح وسقیم کو الگ کرنے کے لیے ایسے اصول برتنا ضروری ہیں، جو ہم تمام روایات اور خبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دوسرے قواعد محدثین نے احادیث کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال کیے ہیں۔ محدثین انھیں ’’اصول حدیث ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور انھی کو برت کر صحیح اور ضعیف احادیث کو علاحدہ علاحدہ کیا ہے‘‘5۔
علمِ حدیث کن ادوار سے گزرا اور کیسے تکمیلی مرحلے میں داخل ہوا، یہ سب ذیل کی سطور میں بیان کیاگیا ہے۔
مترجم
علمِ حدیث کی تاریخ؛ آغاز و ارتقا
علم حدیث کی تاریخ کو تین مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
مرحلۂ اول: امام ابن صلاح سے قبل لکھی گئی کتب علمِ حدیث
مرحلۂ دوم: ابن صلاح کے مقدمے اور اس کے بعد لکھی گئی علمِ حدیث کی کتب
مرحلۂ سوم: کتب علمِ حدیث کا یہ تیسرا دور ہے۔ اس دور میں تالیف شدہ کتابوں میں جمود اور ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔
مرحلۂ اول: امام ابن صلاح سے قبل لکھی گئی کتب علمِ حدیث
چوتھی صدی ہجری میں’’ علم مصطلح الحدیث‘‘ یا ’’علم اصول حدیث ‘‘ یا ’’مصطلح الحدیث‘‘ ایک مستقل علم اختیار کر گیا۔ اسی زمانے میں علمِ حدیث میں کتابیں تصنیف کی گئیں اور مستقل رسالے لکھے گئے۔ جس سے اس علم کے مرتب اصول اور معروف قواعد سامنے آے۔
اصول حدیث کے بعض مسائل کی تسہیل اور بنیادی قواعد کی تدوین اسی وقت سے شروع ہو گئی تھی، جب تاریخ رجال و کتب حدیث لکھنے کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل یہ علم سینوں میں محفوظ تھا اور زبانی بیان کیا جاتا تھا۔ جب کتب حدیث و رجال لکھی جانے لگیں تو ان میں ادھر ادھر سے اصول حدیث کے کچھ قواعد کا اضافہ بھی ہونے لگا؛ البتہ جامع اور خصوصی کتاب چوتھی صدی ہجری میں ہی سامنے آئی۔ اس سے قبل اگر کچھ لکھا گیا ہے تو وہ مستقل رسائل، بکھرے جملے یا علمِ حدیث کے بعض مسائل سے متعلق رسائل تھے۔
دوسری صدی ہجری کے آخری حصے میں علوم الحدیث کے بعض مباحث سے متعلق تالیف کا آغاز ہوا۔ موضوعات کی رعایت رکھتے ہوے مستقل ابواب کی شکل میں کتابیں لکھیں گئیں۔ ایک موضوع سے متعلق معلومات اکٹھی کر کے انھیں ایک جزو یا چند اجزا میں مکمل کیا جاتا، جس سے آج کے دور کے اعتبار سے مختصر کتاب وجود میں آجاتی۔ امام علی بن مدینی بصری (رحمہ اللہ )6 نے سب سے پہلے اس میدان میں قلم اٹھایا اور علوم الحدیث کی چند انواع سے متعلق کتابیں تحریر فرمائیں۔ ہر نوع پر علاحدہ کتاب لکھی۔ ان کی ’’علل‘‘ کے موضوع پر بھی ایک کتاب ہے۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے سب سے پہلے اپنی کتاب ’’ الرسالہ‘‘ میں علمِ حدیث و مصطلح کے بعض اہم مباحث و مسائل پر لکھا، مثال کے طور پر: قابل استدلال حدیث کی شرائط، ضبط راوی کی شرط، روایت بالمعنی، حدیث مدلس کی قبولیت۔ اسی طرح حدیث مرسل کے بارے میں ان کا موقف کافی مشہور ہے۔ مقدمۂ ابن صلاح پر حافظ عراقی کے حاشیے میں لکھا ہے کہ انھوں نے حدیث حسن کو اپنی کتابوں میں برتا ہے7۔ ان کے بعد امام حمیدی نے بھی اصول روایت سے متعلق اپنی کتاب میں ان مباحث کا ذکر کیا ہے8۔
علوم الحدیث کا تکمیلی مرحلہ
تیسری صدی اور پانچویں صدی کے درمیانی زمانے میں علمِ حدیث کی تکمیل ہوئی۔ تیسری صدی ہجری میں یحیی بن معین9، احمد بن حنبل، امام بخاری، ابو جعفر مخرمی10 و دیگر حضرات نے بہ کثرت یا کمال تحقیق و تفتیش سے کام لیتے ہوے روات کو جرح و تعدیل کی میزان پر پرکھا۔ اسی طرح حافظ محمد بن عبد اللہ بن نمیر کوفی11 اور یعقوب بن شیبہ سدوسی بصری12 جیسے علماے حدیث نے احادیث کی جمع و تدوین کے دوران میں متن اور سند پر کلام کیا۔ تیسری صدی کے دوران میں ہی کتب رجال، کتب حدیث اور ایک موضوع کو سامنے رکھ کر لکھی گئی مستقل میں کتابوں میں ذکر کیے گئے مسائل کے ذریعے اس علم کی شکل و صورت واضح طور پر سامنے آگئی تھی۔ اس کی مثال امام علی بن مدینی کی کتابیں ہیں۔ علمِ حدیث کے موضوعات پر لکھنے والے اس صدی میں بڑھ گئے۔ مثال کے طور پر:
- امام ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی13 نے اپنی سنن کے عمدہ مقدمے میں علمِ حدیث پر کلام کیا ہے۔
- امام ابو عبد اللہ بخاری کی ’’الجامع الصحیح ‘‘ اور دیگر کتب ’’التاریخ ‘‘ و ’’الضعفاء‘‘ میں مسائل حدیث پر بہت جملے ملتے ہیں۔
- امام مسلم بن حجاج کی کتاب ’’الجامع الصحیح‘‘ کے آغاز میں ایک عمدہ مقدمہ ہے، جس میں انھوں نے علم مصطلح کے اچھے بھلے مسائل پر کلام کیا ہے۔ مصطلح کے قواعد پر تمہیدی کلام کے حوالے سے مقدمہ ٔ صحیح مسلم اور انھی کی کتاب ’’التمییز‘‘ کا شمار علمِ حدیث کی اولین کاوشوں میں ہوتاہے14۔
- امام ترمذی نے اپنی کتاب ’’الجامع ‘‘کے آخر میں ’’العلل الصغیر‘‘ کے نام سے نہایت بہترین جزو شامل کیا ہے۔ اس میں علمِ حدیث کے بہت سے اہم مباحث آگئے ہیں۔
- امام ابوداؤد سجستانی نے اہل مکہ کے نام اپنی ’’سنن‘‘ کی خصوصیات کے بارے میں ایک ’’رسالہ ‘‘ لکھا۔ اس میں بھی علمِ حدیث کے مسائل کی اچھی مقدار آگئی ہے۔ اسی طرح اپنی کتاب ’’العلل و معرفۃ الرجال‘‘ میں علم مصطلح کے بارے میں بہت معلومات جمع کی ہیں۔
- امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ15 نے ’’التسویۃ: بین حدثنا واخبرنا ‘‘ کے نام سے ایک مختصر اور عمدہ رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے ثابت کیا ہے کہ، خواہ آپ شیخ کی زبانی احادیث سنیں یا ان کے سامنے پڑھیں، دونوں حالتوں میں ’’حدثنا ‘‘ اور ’’اخبرنا‘‘ کے الفاظ بغیر کسی فرق کے استعمال کر سکتے ہیں۔
- امام ابن عبد البر اندلسی16 نے بھی ’’التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید‘‘ کے وسیع و کامل مقدمے میں علمِ حدیث پر کلام کیا ہے۔
- امام ابن اثیر17نے بھی اپنی کتاب ’’جامع الاصول فی احادیث الرسول ‘‘ کے مقدمے میں علم مصطلح پر قلم اٹھایا ہے۔ اصول حدیث اور اس کے احکام و متعلقات پر یہ مباحث انھوں نے تیسرے باب میں لکھے ہیں۔
علوم الحدیث کے مباحث کی جمع و تدوین
چوتھی صدی ہجری میں چند علماے حدیث نے علمِ حدیث کے بکھرے قواعد و مباحث کو ایک جامع کتاب میں جمع کرنا شروع کیا۔ چناں چہ پہلے سے لکھی گئی کتابوں سے استفادہ کر کے انھوں نے ایک فن کی متفرق معلومات کو یک جا کر دیا، جو باتیں پہلوں سے رہ گئی تھیں ان کا اضافہ کیا، پرانے علما کی طرح مکمل سند کے ساتھ معلومات ذکر کر کے ان پر تبصرے (و حواشی) تحریر کیے اور مسائل کا استنباط کیا، جس کی وجہ سے علوم حدیث میں ایسی کتابیں منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئیں، جن سے استفادہ کیے بغیر چارہ نہیں۔ اہم کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:
المحدث الفاصل بین الراوی والواعی: یہ قاضی ابو محمد الحسن بن خلاد فارسی رامہرمزی18 کی کتاب ہے۔ تدوین علمِ حدیث کی فہرست میں یہ پہلی جامع و مستقل کتاب شمار ہوتی ہے۔
معرفۃ علوم الحدیث وکمیۃ اجناسہ: یہ امام ابو عبد اللہ الحاکم نیشاپوری19 کی کتاب ہے۔ امام ابن خلدون فرماتے ہیں: علوم الحدیث کے جلیل القدر علما وائمہ میں ابو عبد اللہ الحاکم کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی تالیفات مشہور ہیں۔ انھوں نے ہی علمِ حدیث کو حسن ترتیب دی اور اس کی بھلائیوں کو اجاگر کیا20۔
الکفایۃ فی معرفۃ اصول الروایۃ: یہ محدث ابوبکر خطیب بغدادی21 کی کتاب ہے۔
الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع: یہ کتاب بھی خطیب بغدادی نے لکھی ہے۔ طلب حدیث اور راوی کے اخلاق وآداب کے موضوع پر اس کتاب کا شمار اولین کاوشوں میں ہوتا ہے۔
الالماع فی اصول الروایۃ والسماع: یہ قاضی و حافظ عیاض بن موسی یحصبی22 کی تالیف ہے۔ اس کے عنوان سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ اس کتاب میں حصول حدیث کے مختلف طریقوں اور روایت حدیث کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ بہت مفید کتاب ہے۔
مالایسع المحدث جہلہ: یہ ابوحفص عمر بن عبد المجید میانجی23 کا تقریبا سات صفحات پر مشتمل مختصر رسالہ ہے24۔
مرحلۂ دوم: ابن صلاح کا مقدمہ اور اس کے بعد لکھی گئی کتب علمِ حدیث
یہ مرحلہ ساتویں صدی سے شروع ہو کر دسویں صدی تک جاتا ہے۔ اس مرحلے میں علمِ حدیث کی تدوین بام عروج تک پہنچ گئی۔ ایسی تصانیف و تالیفات سامنے آئیں، جن میں علمِ حدیث کی انواع کا مکمل احاطہ کیا گیا، عبارتوں کی اصلاح کی گئی اور مسائل باریکی سے لکھے گئے۔ ان تصانیف و تالیفات کو لکھنے والے گذشتہ بڑے ائمہ کی طرح علمی رسوخ کے حامل تھے، انھوں نے احادیث مکمل یاد کیں، فنون حدیث اور اسانید و متون میں علم و درایت کے لحاظ سے مہارت پیدا کی۔
علمِ حدیث کی تدوین میں اس گراں قدر تبدیلی کے پیش رو ’’امام ابوعمرو عثمان بن عبد الرحمن شہرزوری‘‘ ہیں۔ آپ ابن صلاح کے نام سے مشہور ہیں25۔ ’’معرفۃ علوم انواع علوم الحدیث‘‘ کے نام سے آپ نے کتاب لکھی، جو مقدمۂ ابن صلاح کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ یہ کتاب متاخرین علما کا سہارا ہے۔ ابن صلاح نے یہ کتاب وقفے وقفے سے املا کرائی، اسی وجہ سے اس کتاب میں مناسب علمی ترتیب نظر نہیں آتی۔ پینسٹھ انواع پر مشتمل اس کتاب میں آپ نےخطیب بغدادی ودیگر علما کی اصول فقہ و اصول حدیث پر لکھی گئی کتابوں سے متفرق مواد اکٹھا کر دیا ہے۔ مواد کی کثرت اور حسن تحریر کی بنا پر یہ کتاب مشہور ہو گئی۔ علما اس کی تدریس، تشریح، تلخیص، تائید و اختلاف اور اس کے مشمولات کو نظمانے میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ اصول کی ہر بنیادی کتاب، جیسے سخاوی کی فتح المغیث اور سیوطی کی تدریب الراوی وغیرہ، مقدمہ ٔ ابن صلاح کی چراگاہ سے مستفید اور اسی کی خوشہ چین ہے۔
امام ابن صلاح نے بڑھتی عمر میں یہ کتاب لکھی۔ اس وقت آپ کا علم کامل اور ٹھوس ہو چکا تھا۔ آپ نے اپنی تصنیف میں ٹھہراؤ اور گہرے تدبر سے کام لیا۔ بہت سی مجالس میں اسے املا کرا کے مکمل کیا۔ ان مجالس کے درمیان وقفے بھی آتے رہے۔ کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ ہے، جس میں اس فن کی خصوصیت اور شدید ضرورت کا بیان ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’تحقیق کار کو جب اس فن کی مشکلات کا گرہ کشا نہ ملا اور اس علم کے متعلق سوال کرنے والے کو فن کا شناسا نہ مل سکا تو خداوند کریم نے مجھ پر احسان کرتے ہوے ’’معرفۃ انواع علم الحدیث‘‘ کتاب لکھنے کی توفیق بخشی۔ اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ اس کتاب نے فن حدیث کے پوشیدہ را ز اور ادبی مشکلات آشکارا کر دیے ہیں‘‘۔
اس کے بعد ابن صلاح نے علوم حدیث کی پینسٹھ انواع ذکر کر کے مضامین کتاب کی ایک فہرست مہیا کی ہے۔ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انواع کسی خاص نظم و ترتیب کے بغیر ذکر کر دی گئی ہیں۔ اسناد سے متعلق ایک نوع ذکر کرنے کے بعد متن یا اسناد و متن دونوں سے متعلق نوع کا ذکر کر دیتے ہیں۔
مصطلح کے میدان میں اپنی بہت زیادہ خوبیوں کے باعث یہ کتاب ہر صاحب حدیث، محدث اور عالم کے لیے رہ نما اور چشمۂ شیریں کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے ظہور پذیر ہونے کے بعد علما نے اس پر شرحیں لکھیں، اس کا اختصار کیا، حواشی سے مزین کیا اور اس کے مضامین کو نظمایا۔ جس کی تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے:
مقدمۂ ابن صلاح کی شرحیں
الجواہر الصحاح فی شرح علوم الحدیث لابن الصلاح: یہ عزالدین ابو عمرو عبد العزیز بن محمد بن جماعہ دمشقی26 کی کتاب ہے۔
الشذا الفیاح من علوم الحدیث: یہ برہان الدین ابو اسحاق ابراہیم بن موسی بن ایوب ابناسی قاہری27 کی کتاب ہے۔
محاسن الاصطلاح وتضمین کتاب ابن الصلاح: یہ شیخ الاسلام سراج الدین ابو حفص عمر بن رسلان بن نصیر مصری بلقینی28 کی کتاب ہے۔
مقدمۂ ابن صلاح پر ’’النکت‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتب
النکت علی کتاب بن الصلاح: یہ امام بدر الدین زرکشی ابو عبد اللہ محمد بن بہادر مصری29 کی کتاب ہے۔ اس کتاب میں جامعیت ہے۔ یہ قسم ہا قسم کے مضامین کا گل دستہ ہے۔ اس میں حدیث، فقہ، اصول، لغت و نحو کے مباحث کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ امام زرکشی جری ناقد تھے۔ اسی لیے انھوں نے ابن صلاح پر استدراکات لکھے اور بعض دیگر اقوال کو بھی ہدف تنقید بنایا۔
التقیید والایضاح لما اطلق واغلق من کتاب ابن الصلاح: یہ حافظ زین الدین ابو الفضل عبد الرحیم بن حسین عراقی کی کتا ب ہے۔ اس کتاب میں مولف نے ابن صلاح کی تمام عبارتیں ذکر نہیں کیں؛ بلکہ صرف انھی عبارتوں کا ذکر کیا جن کے بارے میں مولف کا گمان تھا کہ صرف ان کی تشریح اور انھی پر نکتہ آفرینی کی ضرورت ہے۔
اصلاح ابن الصلاح: یہ حافظ علاء الدین ابو عبد اللہ مغلطائی بن قلیج بکری مصری کی کتاب ہے۔
النکت علی کتاب ابن الصلاح: یہ حافظ شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی مصری30 کی کتاب ہے۔
مقدمۂ ابن صلاح کے مختصرات
ارشاد طلاب الحقائق الی معرفۃ سنن خیرالخلائق: یہ ابو زکریا یحیی بن شرف الدین النووی31 کی کتاب ہے۔ یہ کتاب لکھنے کے بعد امام نووی نے ’’تقریب‘‘ کے نام سے اس کا خلاصہ لکھا۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے اسی ’’تقریب‘‘ کی تدریب الراوی میں تشریح کی ہے۔
رسوم التحدیث فی علوم الحدیث: یہ امام ابراہیم بن عمر بن ابراہیم جعبری32 کی عمدہ و مختصر کتاب ہے۔ طویل شرح و توضیح میں جاے بغیر ایک عالم اس کتاب کے ذریعے علمِ حدیث کے مباحث یاد رکھ سکتا ہے۔
المنہل الروی فی علوم الحدیث: یہ قاضی بدر الدین ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن سعد اللہ بن جماعہ حموی33 کی تصنیف ہے۔ یہ مقدمۂ ابن صلاح کا عمدہ خلاصہ ہے۔
الخلاصۃ فی معرفۃ الحدیث: یہ امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی مصری شافعی34 کی تالیف ہے۔ علمِ حدیث میں یہ مختصر رسالہ ہے۔ اس رسالہ میں مولف نے حدیث کی اہم مصطلحات کا تعارف کرایا ہے۔
المنتخب فی علوم الحدیث: یہ قاضی ابو الحسن علی بن عثمان ماردینی مصری حنفی کی تالیف ہے۔ آپ ’’ابن ترکمانی‘‘35 کے نام سے مشہور ہیں۔ ابن فہد اپنی کتاب ’’لحظ الالحاظ‘‘36 میں فرماتے ہیں: ’’یہ ابن صلاح کی کتاب کا بہترین و کامل اختصار ہے‘‘۔
اختصار علوم الحدیث: یہ حافظ عماد الدین ابن کثیر دمشقی37 کی کتاب ہے۔ علامہ احمد شاکر نے ’’الباعث الحثیث ‘‘ کے نام سے اس کی شرح اور شیخ ناصر الدین البانی نے اس پر ’’تعلیقات‘‘ لکھیں۔
المقنع فی علوم الحدیث: یہ حافظ سراج الدین ابو حفص عمر بن علی بن احمد انصاری مصری کی کتاب ہے۔ آپ ’’ابن الملقن‘‘38 کے نام سے مشہور ہیں۔ اس کا شمار مقدمۂ ابن صلاح کے بہترین خلاصوں میں ہوتا ہے۔ مولف نے اس کتاب میں مقدمہ ٔ ابن صلاح میں کی گئی انواع کی تقسیم ہی کی پیروی کی ہے اور ایک ماہر عالم کی مانند علم اصطلاح کا احاطہ کیا ہے۔
مقدمۂ ابن صلاح کے منظومات
مقدمۂ ابن صلاح پر لکھے گئے اہم منظومات یہ ہیں:
التبصرۃ والتذکرۃ: یہ امام زین الدین ابو الفضل عبد الرحیم بن حسین عراقی کا منظومہ ہے۔ اس کی شرح انھی کے شاگرد حافظ سخاوی نے ’’فتح المغیث‘‘ کے نام سے لکھی۔
الفیۃ السیوطی فی علم الحدیث: یہ جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر سیوطی کا منظومہ ہے۔ آپ نے اس منظومے کی خود ہی ’’البحر الذی زخر فی شرح الفیۃ الاثر‘‘ کے نام سے شرح لکھی؛ لیکن اسے مکمل نہ کر سکے۔ ڈاکٹر انیس طاہر انڈونیشی نے اس کتاب کو ایڈٹ کرکے ’’مکتبۃ الغرباءالاثریہ‘‘ سے چھپوایا۔
محاسن الاصطلاح و تضمین کتاب ابن الصلاح: یہ امام بلقینی کی کتاب ہے۔ اسے محدث زین الدین ابو العز طاہر بن حسن حلبی حنفی نے نظمایا ہے۔ آپ بلقینی کے شاگرد اور ’’ابن حبیب‘‘39 کے نام سے مشہور ہیں۔ حافظ ابن حجر اپنی کتاب ’’انباءالغمر ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یہ بلقینی کی کتاب محاسن الاصطلاح کا سب سے اچھا منظومہ ہے‘‘40۔
اس طرح بعد میں آنے والے ہر عالم نے ابن صلاح کی کتاب پر بھروسا کیا۔ کسی نے اس کا خلاصہ لکھا، کسی نے نظمایا اور کچھ حضرات نے اس کی شرحیں لکھیں اور حواشی سے مزین کیا۔
امام ابن صلاح کے بعد علم مصطلح میں لکھی گئی مستقل کتب
ایک زمانہ ایسا آیا جس میں علما نے مستقل کتب کی تالیف کا آغاز کیا۔ یہ علما علمی قواعد کی وضاحت میں ابن صلاح کے محض پیرو نہیں تھے؛ بلکہ انھوں نے اپنی ذاتی آرا پیش کیں، اکثر مقامات پر ان کے مقرر کردہ قواعد مباحثے کی کسوٹی پر پرکھے یا ان سے مخالفت کی۔ یہاں میں علم مصطلح الحدیث کے موضوع پر لکھی گئی ان کی چند تالیفات کا ذکر کرتا ہوں۔ ان تالیفات میں تقلید سے زیادہ اختراع و اجتہاد کی شان نظر آتی ہے:
الاقتراح فی بیان الاصطلاح: یہ امام ابن دقیق العید41 کی تصنیف ہے۔
الموقظۃ فی علم مصطلح الحدیث: یہ امام محمد بن احمد ذہبی42 کی تصنیف ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود اس میں روشن فوائد اور یکتا جواہر پارے موجود ہیں۔ ’’الموقظۃ‘‘ امام ابن دقیق العید کی کتاب ’’الاقتراح‘‘ کا خلاصہ ہے۔
مختصر فی علوم الحدیث: یہ سید شریف جرجانی43 کی کتاب ہے۔
نخبۃ الفکر و شرحہ نزہۃ النظر: یہ امام ابن حجر عسقلانی کی تالیف ہے۔
فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث: یہ امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی44 کی تصنیف ہے۔ کشف الظنون کے مولف فرماتے ہیں: ’’الفیۃ العراقی کی شروحات میں شاید یہ سب سے اچھی شرح ہے‘‘45۔
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی: یہ امام حافظ جلال الدین عبد الرحمن بن ابوبکر سیوطی46 کی کتاب ہے۔ اس کتاب میں صرف معلومات جمع کر دی گئی ہیں؛ لیکن علمِ حدیث کے مسائل پر کچھ اچھے مباحثے بھی موجود ہیں۔
مرحلۂ سوم: علمی جمود اور ٹھہراؤ کا دور
علمِ حدیث کا یہ تیسرا دور دسویں صدی سے لے کر پندرھویں صدی ہجری کے آغاز تک جاتا ہے۔ اس مرحلے میں علمی اجتہاد کا عنصر غائب ہوگیا، تصنیف میں جدت باقی نہ رہی، علوم حدیث کے میدان میں شعری و نثری مجموعے کثرت سے سامنے آنے لگے، لکھاری، مولفین کی عبارتوں کو سامنے رکھ کر لفظی موشگافیوں میں مصروف ہوگئے، مضمون کی گہرائی میں جانا چھوڑ دیا اور تحقیق یا اجتہاد دروازہ بند ہو گیا۔
اس زمانے میں سامنے آنے والی چند تالیفات کے نام درج ذیل ہیں:
منظومۂ بیقونیہ: یہ عمر بن محمد بن فتوح بیقونی47 کی تالیف ہے۔
توضیح الافکار فی شرح تنقیح الانظار: یہ امام محمد بن اسماعیل امیر صنعانی48 کی تصنیف ہے۔
شرح شرح نخبۃ الفکر فی مصطلحات اہل الاثر: یہ محدث علامہ علی بن سلطان محمد القاری49 کی تالیف ہے۔ نخبۃ الفکر کی یہ سب سے اچھی اور عمدہ شرح ہے۔
مصطلح کے موضوع پر دورِ جدید میں لکھی جانے والی کتب
دور جدید میں علمِ حدیث کے میدان میں کئی کاوشیں منصۂ علم پر جلوہ گر ہوئی ہیں۔ ان کے لکھنےوالے جلیل القدر علما تھے۔ ان کاوشوں میں دور جدید کی زبان، منہج و اسلوب کو اختیار کر کے پرانے علما کے بیان کیے ہوے مباحث کو آسان انداز میں ڈھالا گیا ہے۔تحریک نو کے اس مرحلے میں اصول حدیث و مصطلح کے موضوع پر لکھی گئی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:
قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث: یہ شیخ جمال الدین قاسمی50 کی کتاب ہے۔
توجیہ النظر الی اصول اہل الاثر: یہ علامہ طاہر جزائری51 کی تالیف ہے۔
الوسیط فی علوم الحدیث: یہ علامہ محمد بن محمد ابوشہبہ52 کی کتاب ہے۔ دور جدید میں لکھی جانے کتب حدیث میں یہ سب سے عمدہ کتاب ہے۔
تیسیر مصطلح الحدیث: یہ استاد محمود طحان53 کی تصنیف ہے۔ علوم الحدیث کی یہ سب سے آسان اور بہترین کتاب ہے۔ اس میں فاضل مولف نے مبتدی طالب علموں کی رعایت کرتے ہوے مباحث ذکر کیے ہیں۔
تحریر علوم الحدیث: یہ شیخ عبد اللہ بن یوسف جدیع54 کی کتاب ہے۔ اس میں مولف نے متقدمین اور سلف صالحین کے انداز کو اپنایا ہے۔
منہج النقد فی علوم الحدیث: یہ شیخ نور الدین عتر55 کی کتاب ہے۔ اس کتاب میں دیگر کتابوں کی بہ نسبت مضامین کی بڑے اچھے طریقے سے تفصیل بیان کی گئی ہے اور مباحث کی تقسیم عمدہ ہے۔
معجم المصطلحات الحدیثیہ: یہ شیخ نور الدین عتر کی کتاب ہے۔ مصطلح کے موضوع پر یہ پہلی قاموس ہے، جو بعد میں اسی طرز پر لکھی جانے والی قوامیس کے لیے چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔
حواشی
1 . لمحات من تاريخ السنة و علوم الحديث، عبد الفتاح أبو غدة، ن: مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، ط الأولى : 1414هـ : 1984م (صـ: 101)
2۔ ان کا نام : زین الدین عبد الرحیم بن حسین بن عبد الرحمن عراقی ہے، اپنے زمانے کے حافظ حدیث تھے۔ قاہرہ میں جمادی الاولی کے مہینے میں 725ہجری میں ولادت ہوئی۔ فن حدیث حاصل کر کے اس میں مہارت پیدا کی اور ہم عصروں سے آگے بڑھ گئے۔ آپ کے اساتذہ بھی آپ کی فنی مہارت کی بڑھ چڑھ کر تعریف کرتے۔ آپ کی کئی تالیفات ہیں: الفیہ اور اس کی شرح، نظم الاقتراح، تخریج احادیث الاحیا، تکملہ شرح الترمذی لابن سید الناس۔ آپ نیک اور متواضع تھے۔ ہاتھ تنگ تھا۔ 806ہجری میں وفات ہوئی۔ (حسن المحاضرۃ فی تاریخ مصر والقاہرہ، سیوطی: 1/360)
3۔ شرح التبصرة والتذكرة = ألفية العراقي، أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم بن الحسين بن عبد الرحمن بن أبي بكر بن إبراهيم العراقي، تحقيق: عبد اللطيف هميم – ماهر ياسين الفحل، ن : دار الكتب العلمية، بيروت، ط الأولى: 1423هـ : 2002م، (1/97)
4۔ آپ کانام سلمان بن طاہر الحسینی ندوی ہے۔ ایک داعی اور مربی کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ لکھنؤ میں ۱۹۵۴ ء میں آپ کی پیدایش ہوئی۔ ندوۃ العلما، لکھنو، انڈیا سے حدیث ڈیپارٹمنٹ سے فضیلت کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ امام محمد بن سعود یونی ورسٹی (ریاض) میں کلیہ اصول الدین میں داخلہ لیا اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ عربی واردو میں آپ کی کئی کتابیں ہیں،مثال کے طور پر: جمع ألفاظ الجرح والتعديل ودراستها من كتاب "تهذيب التهذيب" للحافظ ابن حجر، التعريف الوجيز بكتب الحديث، لمحة عن علم الجرح والتعديل، الأمانة في ضوء القرآن (دیکھیے: المدخل إلى دراسة جامع الترمذي مع تقديم وتعليق الشيخ سلمان الحسيني الندوي: صـ22)
5۔ تحقيق معنى السنة ومكانتها، مقالہ: سید سلمان ندوی، مجلہ (المسلمون)، جلد : ۶،ص: ۵۶۵، شمارہ : ۶ (ص: ۴۹)
6۔ ان کانام ابو الحسن علی بن عبد اللہ بن جعفر ہے۔ اپنے زمانے کے حافظ حدیث تھے۔ اعیان حدیث اور ثقہ راویوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ علل الحدیث میں اعلی اور آخری درجے پر فائز تھے۔ امام بخاری کے استاد اور یحیی بن سعید القطان کے شاگرد ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ ان کی دو سو(۲۰۰) تصانیف ہیں۔ سامرا میں ذی القعدہ ۲۳۴ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ (دیکھیے: میزان الاعتدال، ذہبی: ۳/۱۳۸)
7۔ ص: ۸ و ۳۸
8۔ المنهج المقترح لفهم المصطلح، الشريف حاتم العوني بن عارف العوني، ن: دار الهجرة للنشر والتوزيع، الطبعة الأولى: 1416هـ : 1996م، (صـ183)
9۔ ان کا نام یحیی بن معین بن عون بن زیاد ہے۔ ابو زکریا کنیت ہے۔ تاریخ روات کے ماہرین اور ائمۂ حدیث میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ علم رجا ل میں ان کی کتاب التاریخ والرجال، معرفۃ الرجال اور الکنی والاسماء ہے۔ ان کے والد بہت سا مال چھوڑا تھا، جسے انھوں نے طلب حدیث میں خرچ کر دیا۔ بغداد میں زندگی گزاری۔ ۲۳۳هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: الاعلام للزرکلی: ۸/۱۷۳)
10۔ ان کانام محمد بن عبد اللہ بن مبارک، ابوجعفر مخرمی ہے۔ حافظ حدیث اور ثقہ راوی ہیں۔ حلوان کے قاضی تھے۔ امام یحیی بن معین اور یحیی بن سعید القطان سے روایت کرتے ہیں۔ ۲۵۴هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: تہذیب الکمال، مزی: ۲۵/۵۳۸)
11۔ ان کا نام محمد بن عبد اللہ بن نمیر، ابو عبد الرحمن ہمدانی کوفی ہے۔ حافظ، حجت اور شیخ الاسلام کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی کے ہم عصر ہیں۔ امام بخاری و مسلم نے ان کی روایات اپنی ’’صحیحین ‘‘ میں ذکر کی ہیں۔ علم، فہم، سنت و زہد سے متصف تھے۔ ۲۳۴هـ کو شعبان یا رمضان میں ان کی وفات ہوئی۔ (دیکھیے: سیر اعلام النبلاء، ذہبی: ۱۱/۴۵۷)
12۔ ان کا نام یعقوب بن شیبہ بن صلت بن عصفور ہے۔ اپنے زمانے کے حافظ و علامہ تھے۔ ابو یوسف کنیت تھی۔بغداد میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ المسند الکبیر المعلل کے نام سے کتاب لکھی۔ اس سے بہترین کوئی اور مسند نہیں لکھی گئی لیکن امام انھیں مکمل نہ کر سکے۔ بڑے علماے حدیث میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ خطیب بغدادی و دیگر نے ان کی توثیق کی ہے۔ عراق کے قاضی رہے۔ ۲۶۲هـ میں ان کی وفات ہوئی (دیکھیے: تذکرۃ الحفاظ، ذہبی: ۲/۱۱۸)
13۔ ان کا نام عبد اللہ بن عبد الرحمن بن فضل بن بہرام بن عبد الصمد ہے۔ کنیت ابو محمد الدارمی ہے۔ حدیث حاصل کرنے کے لیے بہت اسفار کیے۔ ثقاہت، سچائی، ورع و زہد کے مالک تھے۔ حدیث پاک کو نہایت مضبوطی سے حفظ و جمع کیا۔ حدیث میں ’’مسند‘‘ لکھی اور تفسیر میں طبع آزمائی کی۔ ۲۵۰هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: تاریخ بغداد: ۱۱ /۲۰۹)
14۔ مقالات الكوثري، محمد زاهد الكوثري، ن: المكتبة الوقفية، القاهرة، (صـ: 83) تاریخ طباعت و اشاعت مذکور نہیں۔
15۔ ان کا نام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ ازدی حنفی ہے۔ ۲۳۷هـ میں ولادت ہوئی۔ ثقہ، ثبت، فقیہ و عقل مند تھے۔ امام مزنی کے بھانجے تھے۔ اختلاف العلماء، شروط، احکام القرآن العظیم اور معانی الآثار کے نام سے کتابیں لکھیں۔ ۸۰ سال سے زیادہ کی عمر پا کر ۳۲۱هـ میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ (دیکھیے: تذکرۃ الحفاظ، ذہبی: ۳/۲۱)
16۔ ان کا نام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم نمری ہے۔ فقیہ و حافظ اور بلند و بالا تصانیف کے حامل ہیں۔ علم حدیث، رجال، قراءات و نسب وغیرہ کے ماہر۔ امام مالک کی موطا پر ’’التمہید‘‘ اور ’’الاستذکار ‘‘ کے نام سے کتابیں لکھیں۔ صحابہ کے حالات پر الاستیعاب نامی کتاب لکھی۔ ان کے علاوہ دیگر تصانیف بھی ہیں۔ ۴۶۳هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: سیر اعلام النبلاء، ذہبی: ۱۸/۱۵۳)
17۔ ان کا نام مبارک بن محمد بن محمد بن محمد بن عبد الکریم شیبانی جزری ہے۔ کنیت ابو السعادات ہے۔ آپ محدث اور ماہر لغت تھے۔ جزیرہ ٔ ابن عمر میں پیدا ہوے اور وہیں پلے بڑھے۔ اس کے بعد موصل چلے آئے۔ آخری عمر میں بیمار ہوگئے اور ہاتھ پاؤں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ موت تک یہ بیماری رہی یہاں تک کہ موصل کے ایک گاؤں میں فرشتۂ اجل کو لبیک کہا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی تمام کتابیں بیماری کی حالت میں لکھیں۔ اپنے طلبہ کو املا کرا دیتے۔ ان کی کتابوں میں النہایہ فی غریب الحدیث، جامع الاصول فی احادیث الرسول، الانصاف فی الجمع بین الکشف والکشاف، المرصع فی الآباء والامہات والبنات، الشافی فی شرح مسند الشافعی، المختار فی مناقب الاخبار، تجرید اسماء الصحابہ، منال الطالب فی شرح طوال الغرائب، شامل ہیں۔ ۶۳۰هـ میں ان وفات ہوئی۔ (الاعلام، زرکلی: ۴/۳۳۱)
18۔ ان کا نام حسن بن عبد الرحمن خلاد رامہرمزی فارسی اور ابو محمد کنیت ہے۔ قاضی، ادیب اور اپنے زمانے کے محدث عجم تھے۔ امام ذہبی ان کی کتاب ’’المحدث الفاصل ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’کیا ہی خوب کتاب ہے‘‘۔ شاعر تھے۔ ان کی کتابوں میں ربیع المتیم، الامثال، نوادر، الرثاء والتعازی اور ادب الناطق شامل ہیں۔ (دیکھیے: الاعلام، زرکلی: ۲/۱۹۴)
19۔ ان کا نام محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ، ابو عبد اللہ الحاکم ہے۔ امام، حافظ، ناقد، علامہ اور شیخ المحدثین۔ تصنیف و تخریج، جرح و تعدیل اور تصحیح و تعلیل میں ماہر اور علم کے سمندر تھے۔ مزاج میں ہلکا سا تشیع تھا۔ ان کی کتابوں میں معرفۃ علوم الحدیث، مستدرک الصحیحین، تاریخ النیسابوریین، مزکی الاخبار، المدخل الی علم الصحیح، الاکلیل اور فضائل الشافعی وغیرہ شامل ہیں۔ ۴۰۵هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: سیر اعلام النبلاء، ذہبی: ۱۷/۱۶۲)
20۔ ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر المعروف بتاريخ ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد، ابن خلدون أبوزيد، ولي الدين الحضرمي الإشبيلي، تحقيق: خليل شحادة، ن: دار الفكر، بيروت، ط الثانية: 1408هـ : 1988م، (صـ: 559)
21۔ ان کا نام ابوبکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بغدادی ہے۔ اپنے زمانے سب سے بڑے حافظ حدیث، ہم عصروں پر فائق، صاحب تصانیف، خاتمہ ٔ حفاظ، جمع و تصنیف، تصحیح و تعلیل، جرح وتعدیل اور تاریخ میں ماہر۔ قرآن پاک کی تلاوت بہت زیادہ کرتے۔ پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں، ان میں : التاریخ، شرف اصحاب الحدیث، الکفایۃ فی علم الروایۃ اور الفقیہ والمتفقہ شامل ہیں۔ ۴۶۳هـ وفات ہوئی۔ (دیکھیے : سیر اعلام النبلاء، ذہبی: ۱۸/۲۷۰)
22۔ ان کا نام عیاض بن موسی بن عیاض یحصبی اور کنیت ابو الفضل بستی ہے۔ ان کی تصانیف مفید ہیں۔ قاضی عیاض کا علم پھیلا اور نام مشہور ہوا۔ ان کی کتابوں میں الشفاء فی شرف المصطفی، ترتیب المدارک وتقریب المسالک، العقیدہ، شرح حدیث ام زرع، جامع التاریخ اور مشارق الانوار شامل ہیں۔ ۵۴۴هـ وفات ہوئی۔ (دیکھیے: تاریخ الاسلام، ذہبی: ۱۱/۸۶۰)
23۔ ان کا نام عمر بن عبد المجید بن عمر بن حسین، ابو حفص قرشی ہے۔ مکہ مکرمہ میں جمادی الاولی کے مہینے سنہ ۵۸۱هـ میں وفات ہوئی۔ مضبوط محدث اور نیک انسان تھے۔ (دیکھیے: تاریخ الاسلام، ذہبی: ۱۲/۷۳۶)
24۔ منهج النقد في علوم الحديث، نور الدين محمد عتر الحلبي، ن: دار الفكر، دمشق – سورية، ط الثالثة: 1418هـ : 1997م، (صـ: 64)
25۔ ان کا نام تقی الدین، ابو عمرو عثمان بن مفتی صلاح الدین عبد الرحمن بن عثمان بن موسی کر دی، شہرزوری ہے۔ اپنے والد سے فہم دین حاصل کیا۔ دمشق میں مدرسہ ٔ اشرفیہ کے شیخ الحدیث رہے۶۴۳هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: سیر اعلام النبلاء، ذہبی: ۲۳/۱۴۰)
26۔ ان کا نام عزالدین عبد العزیز بن محمد بن جماعہ الکنانی ہے۔ ابوحیان سے علم نحو حاصل کیا۔ مصر کے لمبے عرصے تک قاضی رہے۔ حرمین میں آخری گزارنے خواہش تھی، لہذا قضا کے عہدے سے استعفا دیا۔ اس کے بعد حج کیا اور مکہ مکرمہ کے قبرستان ’’معلی ‘‘ میں فضیل بن عیاض ابو القاسم قشیری کے پہلو میں دفن ہوے۔ ۷۶۶هـ میں فوت ہوے۔ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں، ان میں ’’مناسک الحج علی المذاہب الاربعہ ‘‘ بھی شامل ہے۔ آپ بھلے اور نیک انسان تھے۔ (دیکھیے: العقد المذہب فی حملۃ المذہب لابن الملقن، ص: ۴۱۱، وجلاءالعینین فی محماکمۃ الاحمدین للعلامہ آلوسی، ص: ۳۹)
27۔ ان کانام ابراہیم بن موسی بن ایوب شیخ برہان الدین اور کنیت ابو اسحاق تھی۔ قاہرہ میں شافعیہ کے بڑے رہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ فقہ و اصول اور عربی زبان میں مہارت تھی۔ تدریس بہت زیادہ کی، فتوی اور تصنیف کا کام کیا۔ محرم کے مہینے میں حج سے واپس ہوتے ہوے ۸۰۲هـ میں وفات پائی۔ ( دیکھیے: ذیل التقیید فی رواۃ السنن والمسانید، ابو طیب مکی: ۱/۴۵۶)
28۔ آپ کا نام سراج الدین ابو حفص عمر بن رسلان بن نصیر بن صالح کنانی ہے۔ اپنے زمانے کے مجتہد اور آٹھویں صدی کے عالم تھے۔ فقہ، حدیث و اصول میں مہارت پیدا کی۔ افتا اور مختلف مذاہب کے علم میں حرف آخر تھے۔ اجتہاد کا رتبہ حاصل تھا۔ فقہ، حدیث اور تفسیر میں ان کی تصانیف بھی ہیں، ان میں حواشی الروضہ، شرح بخاری، شرح ترمذی، حواشی الکشاف شامل ہیں۔ بہاءبن عقیل فرماتے ہیں: اپنے زمانے میں فتوی دینے کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ ۱۰ دی قعدہ ۸۰۵هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: حسن المحاضرہ فی تاریخ مصر والقاہرہ، سیوطی: ۱/۳۲۹)
29۔ ان کا مکمل نام بدرالدین محمد بن عبد اللہ بن بہادر زرکشی ہے۔ آپ ۷۴۵هـ کو پیدا ہوے۔ اسنوی، ابن کثیر، اذرعی وغیرہ سے علم حاصل کیا۔ کئی فنون میں تصانیف چھوڑیں۔ ان میں چند کے نام یہ ہیں: الخادم علی الرافعی والروضہ، شرح المنہاج، الدیباج، شرح جمع الجوامع، شرح البخاری، التنقیح علی البخاری، شرح التنبیہ، البرہان فی علوم القرآن، القواعد فی الفقہ، احکام المساجد، تخریج احادیث الرافعی، تفسیر القرآن۔ یہ کتاب آپ سورت مریم تک ہی لکھ پاے۔ البحر فی الاصول، سلاسل الذہب فی الاصول والنکت علی ابن الصلاح۔ ان کے علاوہ دیگر کتابیں بھی ہیں۔ ۳ رجب، بروز اتوار، ۷۹۴هـ میں وفات ہوئی۔ (حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ، سیوطی: ۱/۴۳۷)
30۔ ان کا مکمل نام : ابو الفضل احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی عسقلانی ہے۔ ۷۷۳هـ میں ولادت ہوئی۔ ابتدا میں ادب و علم شعر کی طرف توجہ کی اور درجۂ کمال کو پہنچے اس کے بعد حدیث کی طرف توجہ کی۔ حافظ ابو الفضل زین الدین عراقی کی شاگردی اختیار کی۔ علم حدیث کے تمام فنون میں گوے سبقت لے گئے۔ حدیث کے میدان میں تمام دنیا میں حرف آخر تھے۔ ان کے زمانے میں کوئی اور حافظ حدیث نہ تھا۔ بہت سی کتابیں لکھیں، مثال کے طور پر: شرح بخاری، تعلیق التعلیق، تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب وغیرہ۔ ۸۵۲هـ وفات ہوئی۔ (دیکھیے: حسن المحاضرۃفی تاریخ مصر والقاہرۃ، سیوطی: ۱/۳۶۳)
31۔ ان کام نام: یحیی بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن حزام بن محمد بن جمعہ نووی ہے۔ ابوزکریا کنیت ہے۔ شافعی مسلک کے مدون تھے۔ الروضہ، مجموع اور المنہاج کے نام سے کتابیں لکھیں۔ ۲۴رجب کی شب، ۶۷۶هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: طبقات الشافعیۃ الکبری، تاج الدین سبکی: ۸/۳۹۵، طبقات الشافعیین، ابن کثیر، ص: ۹۱۳)
32۔ ان کانام : ابراہیم بن عمر بن ابراہیم شیخ برہان الدین جعبری اور کنیت : ابو اسحاق ہے۔ ۶۴۰هـ کی حدود میں پیدایش ہوئی۔ آپ فقیہ، قاری اور کئی فنون کے ماہر تھے۔ قراءات، حدیث اور اسماے رجال میں آپ کی تصانیف ہیں۔ ماہ رمضان، ۷۳۲هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: طبقات الشافعیۃ، تاج الدین سبکی : ۹/۳۹۹)
33۔ آپ کا نام : بدر الدین محمد بن ابراہیم بن سعد اللہ بن جماعہ، کنانی حموی ہے۔ مصر کے چیف جسٹس رہے۔ ۶۳۹هـ میں ولادت ہوئی۔ بہت سے علوم حاصل کیے اور بہت سے فنون میں لکھا۔ مدرسۂ کاملیہ وغیرہ میں تدریس وحدیث پڑھانے میں مشغول رہے۔ ۷۳۳هـ میں وفات ہوئی۔ (حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ، سیوطی : ۱/۴۲۵)
34۔ ان کا نام : حسین بن محمد بن عبد اللہ شرف الدین طیبی ہے۔ حدیث، تفسیر و علم بیان کے عالم تھے۔ وراثت و تجارت کی بنا پر بڑے صاحب ثروت تھے۔ اپنا مال بھلائی کے کاموں خرچ کردیا، یہاں تک کہ آخری عمر میں فقیر ہوگئے۔ بدعتی لوگوں پر سختی سے تنقید کرتے۔ طلبہ ٔ علم کو ہمیشہ پڑھایا۔ بلاغت، تفسیر و حدیث میں ان کی تالیفات ہیں۔ (دیکھیے: الدررالکامنہ، ابن حجر عسقلانی : ۲/۶۸ و ۶۹، کشف الظنون، حاجی خلیفہ: ۱/۷۲۰)
35۔ ان کا نام علاء الدین، علی بن عثمان بن ابراہیم بن مصطفی ماردینی ہے۔ ۷۸۳هـ میں ولادت ہوئی۔ فقہ، اصول اور حدیث کے امام تھے۔ ہمیشہ مصروف اور دوسروں کی علمی پیاس بجھانے میں لگے رہتے۔ ان کی تصانیف انوکھی ہیں، مثال کے طور پر، مختصر الہدایہ، مختصر علوم الحدیث، الرد علی البیہقی۔ مصر میں قضا کے عہدے پر فائز رہے۔ محر الحرام، ۷۴۵هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ، سیوطی: ۱/۴۶۹)
36۔ دیکھیے: ص۸۷۔
37۔ ان کا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر بن ضوء بن کثیر بن درع ہے۔ ابن کثیر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی مولفات میں ’’التکمیل، احکام التنبیہ، طبقات الشافعیہ وغیرہ شامل ہیں۔ ۷۰۱هـ میں پیدا ہوے اور ۷۷۴هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: ذیل التقیید فی رواۃ السنن والاسانید، ابو طیب مکی: ۱/۴۷۱)
38۔ ان کانام : سراج الدین ابو حفص عمر بن علی بن احمد بن محمد انصاری ہے۔ ۷۲۳هـ ولادت ہوئی۔ جوانی میں تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے۔ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ تصانیف انھی کی ہیں۔ آپ کی تصانیف میں : ’’شرح بخاری، شرح العمدۃ، الاشباہ والنظائر، وغیرہ شامل ہیں۔ ماہ ربیع الاول ۸۰۴هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ، سیوطی: ۱/۴۳۸)
39۔ آپ کامکمل نام: طاہر بن حسن بن عمر بن حسن بن عمر بن حبیب بن شریح حلبی، زین الدین ابوالعز ابن بدرالدین ہے۔ قصیدۂ بردہ کی ایک شرح لکھی۔ اپنے والد کی ’’تاریخ‘‘ پر انھی کے انداز میں تکملہ لکھا، تلخیص المفتاح کو نظمایا۔ ماہ ذی الحج ۸۰۸هـ میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: انباءالغمر بابناء العمر، ابن حجر عسقلانی: ۲/۳۳۸)
40۔ ۲/۳۳۸
41۔ دیکھیے: لحظ الألحاظ بذيل طبقات الحفاظ، محمد بن محمد بن محمد، أبو الفضل تقي الدين ابن فهد الهاشمي العلوي الأصفوني ثم المكي الشافعي، ن: دار الكتب العلمية، ط الأولى: 1419هـ - 1998م، (صـ: 150)، والضوء اللامع لأهل القرن التاسع، شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن أبي بكر بن عثمان بن محمد السخاوي، ن: منشورات دار مكتبة الحياة، بيروت، (4/173)، تاریخ اشاعت مذکور نہیں۔
امام ابن دقیق العید کا مکمل نام: محمد بن علی بن وہب بن مطیع اور کنیت ابوالفتح ہے۔ ابن دقیق العید کے نام سے مشہور ہیں۔ مسلک کے اعتبار سے شافعی تھے۔ مصر کے رہنے والے تھے۔ آپ چیف جسٹس اور اپنے زمانے کا بڑا نام تھے۔ بہترین محدث، صاحب تحقیق فقیہ واصولی، ادیب، شاعر، نحوی، بہت زیادہ عقل مند، خاموش طبع، زہد میں کامل، دین پر شدت سے عامل، راتوں کو ہمیشہ جاگ کر مطالعے میں مگن اور سخی انسان تھے۔ آپ نے اچھوتی تصانیف چھوڑیں، مثال کے طور پر: الامام، الالمام، علوم الحدیث، شرح عمدۃ الاحکام، شرح مقدمۃ المطرز فی اصول الفقہ، اربعین فی الروایۃ عن رب العالمین، شرح مختصر ابن الحاجب۔ (فوات الوفیات، محمد بن شاکر صلاح الدین: ۳/۴۴۳)
42۔ ان کانام محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز بن عبد اللہ اور کنیت ابوعبد اللہ ہے۔ قرآن کے قاری اور ذہبی کے لقب سے مشہور ہیں۔ حدیث کا علم حاصل کیا، تصنیف کے کام سے وابستہ رہے، تاریخ کے موضوع پر کتابیں لکھیں، احادیث کی تصحیح اور ان کی علل کو واضح کیا۔ قراءات سبعہ محمد بن عبد العزیز دمیاطی اور محمد بن منصور حارثی سے پڑھیں۔ خیرخواہی میں مشہور تھے۔ متواضع، اچھے اخلاق کے مالک، عبادت گزار اور خوش کلام تھے۔ ان کی عمدہ تصانیف ہیں، مثال کے طور پر: میزان الاعتدال، الکاشف، الموقظۃ وغیرہ۔ ۷۴۸هـ دمشق میں وفات ہوئی۔ (دیکھیے: معجم الشیوخ، تاج الدین سبکی: ص:۳۵۴)
43۔ ان کا نام : علی بن محمد بن علی حسینی اور کنیت ابو الحسن ہے۔ آپ شریف جرجانی اور سید شریف کے لقب سے مشہور تھے۔ فلسفہ، تفسیر، منطق کے ماہر اور دیگر علوم سے بھی وابستگی رکھتے تھے۔ جرجان میں تعلیم حاصل کی۔ مصر جا کر بابرتی اور مبارک شاہ وغیرہ سے پڑھا۔ یہاں آپ کا قیام چار سال رہا۔ آخر میں شیراز کو اپنا وطن بنا لیا۔ آپ کی تقریبا ۵۰ تالیفات ہیں: مثال کے طور پر، تفسیر الزہراوین، بیضاوی کا حاشیہ اور زمخشری کی کشاف کا حاشیہ۔ ۸۱۶هـ میں وفات ہوئی۔ (معجم المفسرین، عادل نویہض: ۱/۳۸۰)
44۔ ان کا نام محمد بن عبد الرحمن، شمس الدین سخاوی ہے۔ تاریخ دان، حدیث، تفسیر وادب کے عالم تھے۔ قاہرہ میں پیدا ہوے اور مدینہ میں فوت ہوے۔ ملکوں کے لمبے اسفار کیے۔ ۲۰۰ کے قریب کتابیں لکھیں۔ آپ کی مشہور کتابیں یہ ہیں: ’’الضوء اللامع فی اعیان القرن التاسع‘‘ ۱۲ جلد، شرح الفیۃ العراقی اور المقاصد الحسنۃ۔ ۹۰۲هـ میں خالق ازل کو لبیک کہا۔ (الاعلام، زرکلی : ۶/۱۹۴)
45۔ ۱/۱۵۶
46۔ ان کا نام : جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر بن محمد بن سابق الدین خضیری سیوطی ہے۔ آپ حافظ حدیث، مورخ و ادیب تھے۔ ۶۰۰ کے قریب کتابیں لکھیں۔ بعض کتابیں بڑی ہیں اور بعض چھوٹے رسالوں کی شکل میں ہیں۔ قاہرہ میں یتیمی کی حالت میں پلے بڑھے۔ چالیس سال کی عمر ہوئی تو لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اپنی جان پہچان والوں سے بھی ملنا چھوڑ دیا، گویا کسی کو جانتے ہی نہیں۔ اسی زمانے میں آپ نے اپنی اکثر کتابیں لکھیں۔ آپ کی مشہور کتابوں میں الاتقان فی علوم القرآن، تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی اور المزہر فی اللغۃ شامل ہیں۔ ۹۱۱هـ وفات ہوئی۔ (دیکھیے: الاعلام، زرکلی : ۳/۳۱۰)
47۔ ان کا نام : عمر (یا طہ ) بن محمد بن فتوح بیقونی ہے۔ مصطلح الحدیث کے عالم تھے۔ دمشق کے رہنے والے اور شافعی مسلک سے تعلق تھا۔ منظومۂ بیقونیہ ان کی وجہ شہرت ہے۔ محمد بن عثمان میر غنی وغیرہ نے اس کی شرح لکھی ہے۔ ۱۰۸۰هـ وفات پائی۔ (الاعلام، زرکلی : ۵/۶۴)
48۔ ان کا نام : محمد بن اسماعیل بن صلاح بن محمد حسنی ہے۔ سبل السلام جیسی کتاب کے مصنف ہیں۔ اپنے آباء واجداد کی طرح ’’امیر‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ مجتہد اور بڑے ائمہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے والد بھی زاہد اور فاضل انسان تھے۔ صنعاء میں علامہ زید بن محمد بن حسن اور علامہ صلاح اخفش و دیگر علما سے علم حاصل کیا۔ ۱۱۸۲هـ وفات ہوئی۔ (الاعلام، زرکلی : ۸/۵۷۵)
49۔ ان کا نام : علی بن سلطان محمد، نور الدین ملاہروی قاری ہے۔ حنفی فقیہ تھے۔ اپنے زمانے میں علمی صدارت کے حامل تھے۔ ہرات شہر میں پیدا ہوے۔ اس کے بعد مکہ چلے گئے اور وہیں فوت ہوے۔ ایک روایت کے مطابق یہ ہر سال قراءات وتفسیر سے مزین ایک قرآن پاک لکھ کر اسے بیچ دیتے اور اسے حاصل ہونے والی رقم انھیں پورے سال کے لیے کافی ہو جاتی۔ آپ نے بہت ساری کتابیں لکھیں۔ ان میں تفسیر القرآن (تین جلد)، الاثمار الجنیۃ فی اسماء الحنفیۃ، الفصول المہمۃ، (فقہ کے موضوع پر)، مناسک، شرح مشکاۃ المصابیح، شرح مشکلات الموطا، شرح الشفاء، شرح حصن حصین (حدیث کے موضوع پر)، شر ح الشمائل، شامل ہیں۔ آپ کی وفات ۱۰۱۴هـ ہوئی۔ (الاعلام، زرکلی: ۵/۱۲)
50۔ ان کا نام : جمال الدین بن محمد سعید بن قاسم ابوالفرج ہے۔ کئی علوم سے وابستگی تھی۔ ملک شام میں فنون ادب اور علم دین میں مہارت کے لحاظ سے امام مانے جاتے تھے۔ پیدائش اور وفات دونوں دمشق میں ہوئی۔ عقیدے کے اعتبار سے سلفی اور تقلید کے منکر تھے۔ ادب، تفسیر اور شریعت اسلامی میں عمومی اور خصوصی لیکچرز دیے۔ مجلات اور اخباروں میں بہت سے مقالات لکھے۔ بہت سی مفید تالیفات آپ کی یادگار ہیں۔ ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۲هـ میں وفات ہوئی۔ (موسوعۃ مواقف السلف فی العقیدۃ والمنہج والتربیۃ، ابو سہل مغراوی: ۹/۱۸۶)
51۔ ان کا نام : طاہر بن محمد بن صالح بن احمد بن موہب سمعونی، جزائری ہے۔ دمشق میں پیدا ہوے اور وہیں پلے بڑھے۔ مدرسہ جقمقیہ میں داخل ہوے۔ استاد عبد الرحمن بستانی سے علم حاصل کیا اس کے بعد علامہ عبد الغنی غنیمی میدانی کے ساتھ ان کی وفات تک وابستہ رہے۔ دمشق میں مالکی مذہب کے فقیہ تھے اور شام کے مفتی۔ آپ کی تالیفات میں الجواہر الکلامیۃ فی ایضاح العقیدۃ الاسلامیۃ، تنبیہ الاذکیاء فی قصص الانبیاء، توجیہ النظر الی علم الاثر اور التبیان لبعض المباحث المتعلقۃ بالقرآن، شامل ہیں۔ دمشق میں ۱۳۳۸هـ میں وفات ہوئی۔ (موسوعۃ السلف فی العقیدۃ والمنہج والتربیۃ، ابو سہل مغراوی: ۹/۱۹۳)
52۔ ان کا نام : محمد بن محمد بن سویلم ابو شہبہ ہے۔ مصر کے گاؤں ’’منیہ جناج‘‘ میں ۱۳۳۲هـ کو پیدا ہوے۔ مصر و دیگر ملکوں کے بلند پایہ علمی، دینی و ادبی مجلات میں لکھا۔ بہت سے لیکچرز دیے اور بہت سی علمی محافل میں شریک رہے۔ علوم قرآن، سنت نبوی، فقہ، شریعت، سیرت نبوی، مستشرقین، عیسائی مبلغین اور ملحدین کے رد پر کتابیں لکھیں۔ آپ کی تالیفات میں الاسرائیلیات والموضوعات فی کتب التفسیر، السیرۃ النبویۃ علی ضوء القرآن والسنۃ، الوسیط فی علوم ومصطلح الحدیث، دفاع عن السنۃ ورد شبہ المستشرقین، شامل ہیں۔ ۱۴۰۳هـ میں وفات ہوئی۔ http://shamela.ws/index.php/author/1378
53۔ ان کا نام : ابو حفص محمود بن احمد بن محمود طحان نعیمی ہے۔ ایک قول کے مطابق آپ کا سادات خاندان سے تعلق ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں۔ شام کے شہر حلب کے رہنے والے تھے۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ محمد ابو زہو رحمہ اللہ شامل ہیں، جنھوں نے ’’الحدیث والمحدثون ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ استاد محمود طحان کی کتابوں میں تیسیر مصطلح الحدیث، اصول التخریج ودراسۃ الاسانید شامل ہیں۔ http://shamela.ws/index.php/author/1269
54۔ آپ کا نام : عبد اللہ بن یوسف بن عیسی بن یعقوب جدیع عنزی ہے۔ آپ نے بڑی تعداد میں مقالے لکھے۔ یورپین کونسل براے افتاء و تحقیق کے رکن ہیں۔ لیڈز گرینڈ مسجد کے شرعی مشیر ہیں۔ آپ کی تالیفات میں تیسیر اصول فقہ اور علل الحدیث شامل ہیں۔ http://muntada.islamtoday.net/t37387.html
55۔ آپ کانام : نور الدین عتر ہے۔ ۱۹۳۷ء میں شہر حلب میں پیدا ہوے۔ آپ کا گھرانہ علم، نیکی اور کتاب و سنت سے جڑا ہوا تھا۔ جامعہ ازہر سے پڑھا۔ چالیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ ان میں مشہور کتابیں یہ ہیں: منہج النقد فی علوم الحدیث، الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ وبین الصحیحین، اصول الجرح والتعدیل۔ دمشق میں ازہر یونی ورسٹی کی شاخ میں علوم القرآن وحدیث کے رئیس رہے۔ (دیکھیے: محمد حميد الله وأمين التراث الإسلامي في الغرب، سيد عبد الماجد الغوري، صـ۹)
ترجمہ،تلخیص و حواشی: فضل الرحمٰن محمود
’’سنتوں کا تنوع‘‘۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
ابو الاعلیٰ سید سبحانی
امت کے فکرمند اصحاب علم نے ہر زمانے میں امت کو درپیش مسائل کے حل تلاش کرنے کی اپنی اپنی حد تک کی کوششیں کی ہیں، اس سلسلے میں مختلف انداز اور مختلف طریقہ ہائے فکر و نظر رہے ہیں، رائیں بھی مختلف رہی ہیں اور مشورے بھی مختلف رہے ہیں۔ گزشتہ چند صدیوں کا جائزہ لیا جائے تو برصغیر میں شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ، علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ اور علامہ فراہی علیہ الرحمہ اور ان کے بعد ان کی فکر کے علمبردار اصحاب علم و فکر نے اِس سلسلے میں نمایاں کوششیں کی ہیں۔ بیسویں صدی میں سید مودودی علیہ الرحمہ کا نام امت کے فکرمند اصحاب علم و دانش میں سرفہرست ہے، مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کی تحریریں فکرونظر کا ایک وسیع میدان فراہم کرتی ہیں(۱)۔
نماز اتحاد امت کی بنیاد ہے(۲)، تاہم امت اسلامیہ کے اندر موجود اختلافات کی درجہ بندی کی جائے اور ان کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو سرفہرست وہ اختلافات آئیں گے جن کا تعلق نماز سے ہے، یہ صورتحال کا بہت ہی افسوسناک پہلو ہے۔ چنانچہ مختلف زمانوں میں امت کے فکرمند اصحاب علم و دانش نے اس پر اپنے اپنے انداز سے کام کیا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ طریقہ نماز سے متعلق اختلافات کے سلسلہ میں بہت ہی واضح نقطہ نظر رکھتے تھے، لکھتے ہیں:
’’اہل حدیث، حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی جن جن طریقوں سے نماز پڑھتے ہیں وہ سب طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ہر ایک نے معتبر روایات ہی سے اس کو لیا ہے۔ اسی بنا پر ان میں سے کسی گروہ کے اکابر علماء نے یہ نہیں کہا کہ ان کے طریقے کے سوا جو شخص کسی دوسرے طریقے پر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ صرف بے علم لوگوں کا ہی کام ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے طریقے کے سوا دوسرے طریقے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسے ملامت کرتے ہیں۔ تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں ان سب طریقوں سے نماز پڑھی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو صرف اس امر میں کہ آپ عموماً کس طریقے پر عمل فرماتے تھے۔ جس گروہ کے نزدیک جو طریقہ آپ کا معمول کا طریقہ ثابت ہوا ہے اس نے وہی طریقہ اختیار کر لیا ہے۔‘‘ (۳)
مولانا نہ صرف سنتوں کے تنوع کے قائل ہیں، بلکہ اس تنوع پر عمل کو مستحسن قرار دیتے ہیں اور اس پر نکیر کو اتباع پیغمبر پر نکیر قرار دیتے ہیں:
’’لیکن یہ واضح رہے کہ سوال صرف ترجیح کا ہے نہ کہ رد و قبول کا۔ ائمہ سلف میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ جن مختلف طریقوں کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں آیا ہے ان میں سے کسی پر حضور نے عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ کہتے صرف یہ ہیں کہ جس خاص طریقہ کو ہم نے مرجح قرار دیا ہے وہ حضور کا عام معمول تھا اور دوسرے طریقوں پر آپ کبھی کبھی عمل کر لیتے تھے۔ پس جب معاملہ کی حقیقت یہ ہے تو ان طریقوں میں سے جس پر بھی کوئی عمل کر رہا ہے، حدیث ہی کی پیروی کر رہا ہے اور اس پر نکیر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اتباع پیغمبر پر نکیر کی جاتی ہے جس کی جرأت مقلدین کو بھی زیبا نہیں کجا کہ اہل حدیث اس کا ارتکاب کریں۔ پھر اگر کوئی شخص ان طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ پر جامد ہونے کے بجائے وقتاً فوقتاً ان سب طریقوں پر عمل کرتا رہے جو حدیث میں مذکور ہیں تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ صحیح و مکمل پیروی ہوگی، اور لفظ عمل بالحدیث کا اطلاق اس طرز عمل پر زیادہ صحیح معنی میں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ابتداء ہی میں ایک طریقہ کو ترجیح دینے اور باقی سب طریقوں کو ترک کر دینے کے بجائے ان سب طریقوں کو نماز میں اختیار کرنے کی گنجائش رکھی جاتی تو شاید بعد کے ادوار میں وہ جمود و تعصب پیدا ہی نہ ہوتا جس کی بدولت نوبت یہ آگئی ہے کہ لوگ نماز کی جس صورت کے عادی ہیں اس سے ذرا بھی مختلف صورت جہاں انہوں نے دیکھی اور بس وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس شخص کا دین بدل گیا ہے اور یہ ہماری امت سے نکل کر دوسری امت میں جا ملا ہے‘‘۔(۴)
فقہی مسالک کے سلسلے میں بھی مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ نے اسی پہلو سے گفتگو فرمائی ہے۔(۵)
مولانا مودودی علیہ الرحمہ سے پہلے بھی سنتوں کے تنوع پر مختلف اہل علم نے اپنے اپنے انداز سے قلم اٹھایا ہے، اس ضمن میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ کی شخصیت قابل ذکر ہے، پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی اپنی کتاب ’’سنتوں کا تنوع‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’دوسرے صاحبان فکروبصیرت کی مانند حضرت شاہؒ نے بھی سراغ لگایا کہ ہر مسلک و فکر کی بنیاد کسی نہ کسی اصل بلکہ مضبوط اصل (اصل اصیل) پر قائم ہے۔ انہوں نے ’’اصل السنۃ‘‘ اور اس کی وجوہ اور شکلوں کی سب سے زیادہ وضاحت کی۔ ظاہرِ حدیث اور مجموعی تناظر میں حدیث و سنت کا بنیادی فرق جانا اور واضح کیا۔ فقہی اختلافات کی دوسری وجوہ کو بھی خوب بیان کیا۔ وہ ترجیح دینے کے بھی قائل ہیں اور مختلف احادیث و سنن میں تطبیق دینے کے تو امام ہیں۔ اسی بنا پر وہ فقہی خلیج کو پاٹ کر امت میں اتحاد فکروعمل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘(۶)
پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی علم و تحقیق کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے، موصوف کی زندگی علم و تعلیم اور تصنیف و تحقیق سے عبارت ہے، یقینا شعبہ اسلامیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات کا تذکرہ موصوف کے ذکر ِخیر کے بغیر نامکمل رہے گا۔ پروفسیر یٰسین مظہر صدیقی کی کتاب ’’سنتوں کا تنوع۔ ہر سنت نبوی افضل ہے‘‘ اپنے موضوع پر ایک قابل قدر تصنیف ہے۔ یہ کتاب سنتوں کے تنوع سے متعلق شاہ ولی اللہ اور سید مودودی (۷)کے نقطہ نظر کو مفصل انداز میں پیش کرنے والی پہلی باقاعدہ کتاب ہے۔
مقدمہ کتاب میں مصنف موصوف لکھتے ہیں:
’’مجتہدین کے اجتہادِ خالص پر مبنی ہوں یا متنوع و مختلف احادیث و سنن پر قائم ہوں، تمام فقہی و مسلکی اختلافات بنیادی طور سے کتاب و سنت ہی پر محمول کیے جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ تمام اماموں نے مختلف سنتوں ہی میں سے کسی نہ کسی سے تمسک کیا ہے اور اسی پر اپنی فقہی فکروعمل کی بنیاد رکھی ہے‘‘۔(۸)
آگے لکھتے ہیں:
’’مختصراً یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ رسول اکرمؐ نے کبھی ایک وجہِ سنت پر عمل فرمایا یا ایک جہتِ حدیث بیان فرمائی اور کبھی دوسری، بسا اوقات ان کی کئی کئی وجوہ وجہات ملتی ہیں۔ اور نہ صرف ان رنگارنگ سنتوں پر بنفس نفیس عمل فرمایا بلکہ ان ہی کی تعلیم صحابہ کرام کو الگ الگ دی۔ کسی کو ایک وجہِ سنت سکھائی اور کسی کو دوسری، کسی اور صحابی کو تیسری اور بسا اوقات یہ تعداد دس بارہ سے بھی تجاوز کر گئی۔ ہر صحابی نے اپنی سیکھی ہوئی سنت پر عمل کیا اور دوسرے صحابہ کو وہی سکھائی اور دوسرے مسلمانوں اور شاگردوں کو اسی خاص سنت کی تعلیم دی۔ اسی طرح صحابہ کرام میں ایک ہی معاملہ سے متعلق نوع بہ نوع سنتیں رواج پا گئیں اور سنتوں کا یہی تنوع تابعین کرام کو ورثہ میں ملا اور ان سے بعد کے لوگوں کو اور امامانِ فقہ اور مجتہدین امت نے اپنے اپنے شیوخ و اساتذہ کے واسطے سے صحابہ کرام اور ان کے ذریعہ سنن نبوی کا تنوع پایا۔ روایت و درایت کے اعتبار سے کس کا کیا پایہ ہے اس کا تعلق فن حدیث و سنت سے ہے اور خالص تکنیکی ہے۔ رسول اکرم ؐ کی ہر ثابت شدہ حدیث و سنت نہ صرف ہم پلہ وہم سر ہے بلکہ ہر ایک افضل و اصح اور صحیح ترین ہے، صرف اس بنا پر کہ وہ سنت نبوی ہے۔ ‘‘(۹)
آگے مزید لکھتے ہیں:
’’اس مختصر کتاب کا مقصود صرف اسی حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ رسول اکرمؐ کی ہر سنت افضل و صحیح ترین ہے‘‘۔ (۱۰)
کتاب کا بڑا حصہ نماز کی متنوع سنتوں پر مشتمل ہے، اس کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’طہارت کے مختصر باب یا بحث کے بعد سارا زور نماز کی متنوع سنتوں پر ہے کہ ان ہی میں تفرقہ بازی زیادہ کی جاتی ہے۔ اپنی پسندیدہ یا مختار وجہِ سنت کو واحد و مستقل سنت بتایا جاتا ہے اور دوسرے یا دوسروں کی پسندیدہ یا مختار سنتوں کو ہر طرح سے کمزور، ضعیف، اعتبار سے ساقط، ناقابل عمل حتی کہ غلط بتایا جاتا ہے۔ یہ علمی یا اسلامی اندازِ فکر ہے اور نہ حدیثی تشریح و تعبیر۔ یہ خالص مسلکی جارحیت اور فقہی عصبیت ہے جو مردود ہے۔ صرف سلسلہ کلام کو منطقی انداز میں ختم کرنے کی خاطر دوسرے ابواب زکوۃ و صدقہ، روزہ و حج جیسی عبادات میں بھی بعض سنتوں کا تنوع واضح کیا گیا ہے‘‘۔(۱۱)
کتاب کی تمہید کے اختتام پر دوٹوک انداز میں لکھتے ہیں:
’’اصل مقصد تو یہ بتانا ہے کہ سنتوں میں تنوع پایا جاتا ہے اور ان رنگارنگ سنتوں میں سے کسی پر بھی عمل ہو جائے اجروثواب، تقویٰ و طہارت اور تزکیہ و تعلیم سب کے لیے کافی شافی ہے۔‘‘ (۱۲)
مصنف کی یہ فکر بہت اہم ہے کہ جو سنتیں ثابت ہیں وہ سب افضل ہیں۔ اور ان میں کسی بھی سبب سے ترجیح دینا مناسب نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:
’’انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اپنی پسندیدہ اور مختار سنت نبوی کو راجح قرار دینے اور دوسری غیر مختار سنت کو مرجوح قرار دینے کا کوئی جواز ہے نہ بنیاد، اس کی فقہی اور حدیثی وجہِ ترجیح بھی نہیں ملے گی‘‘۔ (۱۳)
مزید لکھتے ہیں:
’’اصل سنت نبوی یہ ہے کہ رسول اکرمؐ نے ان تمام متنوع اور رنگ برنگی سنتوں پر خود بھی عمل فرمایا اور مختلف صحابہ کرام کو الگ الگ سنتیں ایک مسئلہ و معاملہ پر سکھائیں، لہٰذا وہ سب کی سب برابر فضیلت رکھتی ہیں‘‘۔ (۱۴)
کتاب کے آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر بہت ہی قیمتی بات لکھتے ہیں:
’’تمام بحث و مباحثہ اور تجزیہ و تنقید کا خالص اصولِ فکری اور اسوۂ عمل یہ نظر آتا ہے کہ تمام مسالکِ فقہ اور طبقات فکر اپنی اپنی اختیار کردہ سنتوں کو ہی مانیں اور ان کو افضل سمجھ کر ان پر عمل کریں اور ان کی تعلیم و اشاعت بھی خوب کریں۔ اب رہیں دوسروں کی اختیار کردہ سنتیں تو ان کے لیے رسول اکرمؐ کا اصول و عمل اختیار کریں کہ وہی اصل الاصول ہے۔ رسول اکرمؐ نے جب الگ الگ سنتیں صحابہ کرام اور ان کے ذریعہ مختلف طبقات صحابہ کو سکھائیں تو آپؐ کا مقصود ہی یہی تھا۔ وہ واضح کرتا ہے کہ تمام سنتیں افضل ہیں۔ رسول اکرمؐ بھی ان کو افضل و اصح سمجھتے تھے اور آپؐ کے صحابہ کرام بھی یہی سمجھتے تھے۔ ‘‘(۱۵)
آگے ایک بہت ہی قیمتی اور عملی بات لکھتے ہیں:
’’فکروعمل نبوی سے ہی صحابہ کرام نے سیکھا تھا کہ وہ اپنی اپنی اختیار کردہ سنتوں کو افضل سمجھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ دوسرے صحابہ کرام کی اختیار کردہ سنتوں کو بھی افضل ہی سمجھتے تھے اور ان پر عمل کرنے والوں پر نکیر نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کی بھی تحسین و تعریف کرتے تھے۔ یہی روِش علماء تابعین اور ائمہ مجتہدین کی بھی رہی، اور متعدد محدثین اور دوسرے اکابر کی بھی رہی۔ ‘‘(۱۶)
کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف موصوف کی تحقیق کا نتیجہ اور نتیجے کے پیچھے کارفرما محرک بہت ہی اعلی اور بلند ہے، یہ نکتہ بہت ہی اہم ہے کہ جو سنتیں ثابت ہیں وہ سب افضل ہیں اور ان میں کسی بھی سبب سے کسی کو کسی پر ترجیح دینا یا کسی کو کسی سے افضل قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ لیکن سنت ثابت کیسے ہوتی ہے، اس سلسلے میں یہ کتاب کافی و شافی رہنمائی نہیں کرتی ہے۔ کیونکہ نماز کے طریقوں سے متعلق اختلافات کی ایک بڑی بنیاد یہی ہے کہ طریقہ نماز سے متعلق یہ اور یہ چیزیں سنت سے ثابت نہیں ہیں اور ان سے متعلق روایات کمزور اور غیر معتبر ہیں، اور بعض اعمال جیسے خواتین کی نماز کے مختلف طریقوں سے متعلق تو سرے سے کوئی صحیح روایت ہے ہی نہیں، ایسی صورت میں سنتوں کے تنوع کی پوری بحث پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
پوری کتاب میں سنت بمعنی طریقہ رسول اور سنت بمقابلہ واجب و فرض کے درمیان بھی بہت زیادہ خلط مبحث پایا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں:’’ بہت سی سنتیں ایسی بھی ہیں جو فرض و واجب کی مانند صرف ایک رخ یا صرف ایک جہت رکھتی ہیں‘‘(۱۷)، حالانکہ تنوع تو فرض میں بھی ہو سکتا ہے جیسے تیمم فرض ہے اور اس کے مختلف طریقے ہیں اور وہ سب فرض کے درجے کے ہیں۔
عام طور سے سنتوں کے تنوع میں احادیث کو دلیل بنایا گیا ہے، لیکن احادیث میں بہت سی ناقابل استناد روایتیں ہوتی ہیں، جیسے ہاتھ باندھنے کی سنتیں، لکھتے ہیں کہ ’’مولانا سیالکوٹی نے حسب دستور مسلک صرف سینے پر ہاتھ باندھنے کی احادیث کو صحیح کہا ہے اور اسی کو واحد سنت قرار دیا ہے، بقیہ تمام احادیث و روایات کو ضعیف قرار دے کر ان سے استدلال کو غلط بتایا ہے‘‘۔ (۱۸)
چونکہ مصنف حدیث اور سنت کے درمیان فرق نہیں کرتے، اس لیے عملی تواتر کی دلیل پوری کتاب میں محض کہیں کہیں اور وہ بھی مختصر اشاروں کی صورت میں نظر آتی ہے، اس کو باقاعدہ استدلال کے طور پر کہیں نہیں پیش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ہاتھ باندھنے کی سنتوں سے متعلق مولانا سیالکوٹی کا موقف پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ان سنتوں کے تنوع کے باب میں ایک اور اہم حقیقت یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ محدثین کرام اور ان سے پہلے ائمہ مجتہدین نے اپنے زمانے کے صحابہ و تابعین اور امت کے دوسرے طبقات میں ان مختلف و متنوع سنتوں کے جاری ہونے کا عمل بھی دیکھا تھا۔ ان کا انحصار صرف روایت پر نہیں تھا۔ امام مالکؒ موطا میں جابجا اپنے اہل شہر اور اکابر مدینہ کے دستور و عمل کو سنت کی بنیاد بناتے ہیں، اور یہی دوسرے اکابر کا وطیرہ ہے۔‘‘ (۱۹)
لیکن آگے چل کر پھر اپنے پرانے ہی موقف کو دوہراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بہرحال احادیث کے مطابق تینوں طریقوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنا سنت کی پیروی کرنا ہے‘‘۔(۲۰)
مصنف حدیث میں عملی تواتر کو شامل کرتے ہیں یا نہیں، اس کی وضاحت کتاب میں کہیں موجود نہیں ہے۔ حدیث سے احکام اسلامی کے ثبوت سے متعلق مصنف کی گفتگو اس سلسلے میں وضاحت طلب ہے، لکھتے ہیں:
’’نماز پنجگانہ کے اوقات، نمازوں کی رکعات، ان کی ہیئت، ارکان، فرض و واجب، مسنون و مستحب احکام صرف حدیث پر مبنی ہیں‘‘۔ (۲۱)
مذکورہ عبارت میں مصنف موصوف اگر حدیث میں عملی تواتر کو شامل سمجھتے ہیں تو بات درست ہو سکتی ہے، بصورت دیگر یہ بات کسی بھی طور درست نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر محی الدین غازی کی کتاب ’’نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل‘‘ پر کافی بحث و مباحثے ہوئے، موصوف بھی سنتوں کے باب میں تنوع کے قائل ہیں اور سنتوں کے درمیان کسی قسم کی ترجیح یا تفاضل کو وہ بھی درست نہیں مانتے، تاہم دونوں کے موقف کے درمیان سب سے واضح اور بنیادی فرق یہ ہے کہ ڈاکٹر محی الدین غازی کے ہاں عملی تواتر سنتوں کے تنوع کی سب سے بڑی دلیل اور سب سے بڑی بنیاد ہے، جو سنتوں کے تنوع پر ہونے والے تمام ہی اعتراضات کا ازخود ازالہ کر دیتی ہے، جبکہ پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی صاحب سنتوں کے تنوع کی بنیاد سنتوں کے ثبوت کو قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر محی الدین غازی اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نماز کے مختلف اعمال کا تذکرہ مختلف راویوں نے کیا، یہ تذکرے ہم تک حدیث کی کتابوں میں مدون ہو کر راویوں کے الفاظ کی صورت میں پہنچے، ان تذکروں کی حیثیت قولی روایت کی ہے، قولی روایتوں میں تواتر شاذ و نادر ہی ملتا ہے، زیادہ تر اخبار آحاد ہیں، جن میں کچھ روایتیں صحیح ذریعہ سے پہنچی ہیں اور کچھ کمزور ذریعہ سے، تاہم جو حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے وہ یہ کہ امت نے نماز پڑھنی ان قولی روایتوں سے نہیں سیکھی، بلکہ ان روایتوں سے پہلے اور ان روایتوں کے بغیر سیکھی اور ان متواتر عملی روایتوں کے ذریعہ سیکھی، جن کی حیثیت متواتر عملی سنت کی ہے، قولی روایتیں تو بسا اوقات ایک راوی سے ایک دو راویوں تک پہنچیں، مگر نماز ساری امت سے ساری امت تک پہنچی، گویا امت نے نماز راویوں سے نہیں سیکھی بلکہ نمازیوں سے سیکھی جن میں یہ راوی بھی شامل تھے۔ جب ہم نماز کے مختلف اعمال کا جائزہ لیتے ہیں تو مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں، بعض اعمال وہ ہیں جن کے سلسلے میں روایتیں بھی آئی ہیں اور عملی تواتر بھی موجود رہا ہے، ساری روایتیں بڑے اعلی درجے کی ہیں اور عملی تواتر تو ہے ہی نہایت اعلی درجے کی دلیل، جیسے تشہد کی مختلف صورتیں۔ بعض اعمال وہ ہیں جن کے سلسلے میں روایتیں نہیں ہیں، یا ہیں تو بہت ہی ضعیف ہیں ، البتہ عملی تواتر ہے، جیسے رکوع کے بعد کھڑے ہونے پر ہاتھ کہاں رکھے جائیں؟ اور عورتوں کے سجدے کی شکل کیا ہو؟ بعض اعمال وہ ہیں جن کے سلسلے میں روایتیں ہیں لیکن ان میں ذرا سی کمزوری ہے، یا یہ کہ وہ خود محدثین کے یہاں معروف نہیں ہیں، تاہم عملی تواتر موجود ہے، جیسے حالت قیام میں ہاتھ کہاں رکھے جائیں۔ غرض یہ کہ روایتوں کا درجہ مختلف ہو سکتا ہے، کسی عمل کے سلسلے میں متواتر روایتیں مل جاتی ہیں، اور کسی عمل کے سلسلے میں متواتر روایتیں نہیں ملتی ہیں، کسی عمل کے حق میں صحیح روایتیں ملتی ہیں اور کسی عمل کے سلسلے میں ضعیف روایتیں ہی ملتی ہیں، لیکن ایک حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے وہ یہ کہ عظیم فقہاء نے اپنے زمانے میں امت کو نماز کے مختلف اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھا، اور ان میں سے جو طریقہ ان کو زیادہ پسند آیا اس کو اختیار کیا، ان کے زمانے میں امت میں جو طریقے رائج تھے، وہ دراصل عملی تواتر کے ساتھ ان کے زمانے تک پہنچے تھے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ہمارا رویہ نماز سے متعلق روایتوں کے بارے میں تبدیل ہونا چاہئے، ہم یہ نہ سمجھیں کہ نماز بس وہ ہے جو روایتوں میں مذکور ہے ، بلکہ نماز تو پہلے نمبر پر وہ ہے جو امت نے امت کے تعامل سے سیکھی، یعنی جو کچھ صحیح روایتوں میں ہے وہ تو درست ہے، ساتھ ہی وہ جو روایتوں میں نہیں ہے مگر امت نے امت کے تعامل سے سیکھا ہے وہ بھی درست ہے۔‘‘(۲۲)
سنتوں کے تنوع سے متعلق جب عملی تواتر کی دلیل پر گفتگو ہوتی ہے تو ایک سوال یہ سامنے آتا ہے کہ نماز کے مختلف طریقوں سے متعلق یا نماز کی صورت گری کے سلسلہ میں ائمہ مجتہدین کا کیا رول تھا، انہوں نے اس سلسلے میں ازسرنو اجتہاد سے کام لیا جیسا کہ زندگی کے دوسرے مسائل میں انہوں نے اجتہاد کیا یا ان کا کام خالص تدوینی نوعیت کا تھا۔ چونکہ عملی تواتر کی دلیل پروفیسر صدیقی کے ہاں بہت واضح نہیں ہے، اس لیے وہ اس قسم کے سوالات سے بھی تعرض نہیں کرتے، البتہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر محی الدین غازی نے بہت ہی زبردست گفتگو کی ہے، لکھتے ہیں:
’’ائمہ مجتہدین نے امت کو نماز پڑھنا نہیں سکھائی بلکہ اپنے وقت کی امت سے نماز پڑھنا سیکھی، اس یقین کے ساتھ کہ یہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور اسی طریقے کی تدوین کی، ہر امام نے جب شعور کی عمر کو پہنچ کر آنکھوں سے دیکھا تو اپنے شہر کے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، اور اس یقین کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے پایا کہ ان کی نماز بالکل درست ہے اور طریقہ رسول کے عین مطابق ہے۔ کبھی کبھی لوگوں کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے زمانے میں امت کو نماز پڑھنی نہیں آتی تھی، اس لیے ہر امام نے اپنے پاس موجود دلائل کی روشنی میں نماز کا طریقہ امت کے سامنے پیش کیا۔ یہ تصور درست نہیں ہے۔ اماموں کا زمانہ تو بہت بعد کا ہے، امت تو ان سے پہلے بھی بڑے اطمینان کے ساتھ روزانہ نماز پڑھتی تھی، اور پوری امت نماز کے مختلف طریقوں کے بارے میں یہ یقین رکھتی تھی کہ یہ سب طریقے درست ہیں، اور سنت رسول کے مطابق ہیں۔ ان کے درمیان نماز کے طریقوں کو لے کر نہ کوئی بے اطمینانی تھی، نہ کوئی آپس میں جھگڑا تھا۔ اس دور کے اماموں اور فقیہوں نے نماز کے بارے میں یہ کام ضرور کیا کہ نماز کے رائج طریقوں کو ریکارڈ کر لیا۔ چونکہ انہوں نے اس فقہ کی تدوین کا بیڑہ اٹھایا تھا جو لوگوں کی پریکٹس میں تو تھی لیکن ابھی اس کی باقاعدہ تدوین کا عمل تشنہ تکمیل تھا، اور یوں نماز کے سارے طریقے بھی تدوین کے عمل میں شامل ہوگئے۔‘‘ (۲۳)
اس سلسلے میں دوسرا اہم سوال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ احادیث کی عدم موجودگی میں نماز کا کوئی طریقہ عملی تواتر سے کیسے ثابت ہو سکتا ہے، یا یہ سوال کہ احادیث کے بغیر عملی تواتر کا وجود کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی ’’سنتوں کا تنوع‘‘ کتاب میں نہیں ملتا، جبکہ ڈاکٹر محی الدین غازی نے اس سوال پر بھی اچھی گفتگو کی ہے، لکھتے ہیں:
’’احادیث کے نہ ہوتے ہوئے بھی عملی تواتر سے نماز کا کوئی طریقہ کیسے ثابت ہوتا ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عورتوں کی نماز کیسی ہو؟ یعنی مردوں کی طرح ہو یا ان سے کچھ مختلف ہو۔ رکوع اور سجدہ کے سلسلے میں امت کا عام موقف یہ رہا ہے کہ آدمی اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلووں سے الگ رکھے، یعنی ہاتھوں اور پسلیوں میں واضح سا فاصلہ رہے، اس کو تجافی کہا جاتا ہے، امام نووی کا کہنا ہے کہ اس عمل کے پسندیدہ ہونے میں کسی بھی عالم کا اختلاف میں نہیں جانتا، اور اس طریقہ میں حکمت یہ ہے کہ یہ نماز کی صورت و ہیئت کے کمال میں اضافہ کرتا ہے۔ امام طحاوی بھی اس بات پر اجماع ذکر کرتے ہیں، متعدد صحابہ سے اس عمل کا مطلوب و مسنون ہونا منقول ہے۔ لیکن یہ سب مردوں کے سلسلے میں ہے۔ عورتوں کے سلسلے میں صورتحال بالکل مختلف ہے، چاروں فقہی مسالک اس پر تقریباً متفق ہیں، احناف مالکیہ شافعیہ حنابلہ سب کے یہاں یہی رائے پائی جاتی ہے، کہ عورت نماز کے دوران اپنے آپ کو سمیٹے، سجدہ میں اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملا لے، پیروں کو کھڑا کرنے کے بجائے، زمین پر چت رکھے، بیٹھے تو تربع کی حالت بنا کر بیٹھے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان سارے ہی مسالک کا موقف ایک ہے اور دلیل بھی ایک ہے، اور وہ دلیل کوئی روایت نہیں ہے، کیونکہ اس بارے میں جس قدر بھی روایتیں ہیں وہ ضعیف بتائی جاتی ہیں، جس دلیل کو فقہاء ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس میں عورت کے اعضاء کی پردہ داری زیادہ بہتر طور سے ہوتی ہے، اگر وہ مرد کی طرح رکوع اور سجدہ کرے تو ستر کا پہلو متأثر ہوتا ہے۔ مجھے اس مسئلہ کے بارے میں پڑھتے ہوئے جس چیز نے بہت متأثر کیا وہ یہ کہ اس بات کے حق میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے کہ عورتیں مردوں سے مختلف طریقہ اپنائیں ، علامہ البانی نے اس بات کو پورے وثوق کے ساتھ کہا ہے، کہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی وارد ہوا ہے اس میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک بھی صحیح حدیث نہ ہونے کے باوجود چاروں مسلک ایک بات پر متفق ہوگئے، حالانکہ متعدد مسائل میں بہت ساری صحیح حدیثوں کے ہوتے ہوئے ان میں کافی اختلاف ہو رہا ہے۔‘‘(۲۴)
کتاب کے استدلالی پہلو سے متعلق یہ کچھ باتیں تھیں، کچھ باتیں تحقیقی پہلو سے متعلق بھی توجہ طلب ہیں۔ تحقیقی پہلو سے متعلق کچھ اہم چیزیں تو وہ ہیں جن کی جانب جناب مجاہد شبیر فلاحی صاحب نے سہ ماہی تحقیقات اسلامی (جولائی تا ستمبر ۲۰۰۸ء) میں شائع اپنے تبصرے میں توجہ دلائی ہے(۲۵)۔ اس کے علاوہ بھی متعدد چیزیں ہیں جن کی جانب توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ص ۶۰ پر حافظ ابن حجر کے حوالے سے ایک بات کہی گئی ہے، جبکہ یہ بات حافظ ابن حجر کی نہیں ہے، امام ترمذی کی ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: ’’حافظ ابن حجر عسقلانی نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے تشہد کو تمام تشہدات میں سب سے صحیح قرار دیا ہے: ان کا بیان ہے کہ تشہد کے باب میں وہ سب سے صحیح حدیث ہے جو روایت کی گئی ہے اور صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، … وھو اصح حدیث روی فی التشہد والعمل علیہ عند اکثر اھل العلم من الصحابۃ ومن بعدھم‘‘۔
جبکہ سنن ترمذی میں صاف طور پر امام ترمذی کا یہ قول موجود ہے:
’’حدیث ابن مسعود قد روی عنہ من غیر وجہ وھو اصح حدیث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی التشہد‘‘، والعمل علیہ عند اکثر اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ومن بعدھم من التابعین، وھو قول سفیان الثوری، وابن المبارک، واحمد، واسحاق۔ (۲۶)
حضرت ابن مسعود کی حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے۔ وہ تشہد کے باب میں سب سے صحیح حدیث ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کی گئی ہے۔ اسی پر عمل رہا ہے اصحاب علم کے نزدیک، خواہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہوں، یا ان کے تابعین ہوں، سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
فتح الباری میں بھی صاف طور سے اس قول کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی گئی ہے:
قال الترمذی حدیث بن مسعود روی عنہ من غیر وجہ وھو اصح حدیث روی فی التشہد والعمل علیہ عند اکثر اھل العلم من الصحابۃ ومن بعدھم۔ (۲۷)
ترمذی نے کہا ہے، ابن مسعود کی حدیث ایک سے زائد طرق سے آئی ہے، تشہد کے باب میں وہ سب سے صحیح حدیث ہے۔ اسی پر اہل علم کا عمل رہا ہے، چاہے وہ صحابہ میں سے ہوں، یا بعد کے اہل علم ہوں۔
یہ پہلو اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ مصنف نے اس کی بنیاد پر پوری ایک بحث کھڑی کی ہے، اور اسے ابن حجر کا قول مانتے ہوئے کتاب کے کئی مقامات پر اس کو نقل کیا ہے۔راقم کا خیال ہے کہ فتح الباری میں گرچہ امام ابن حجر نے یہ قول امام ترمذی کی طرف منسوب کرتے ہوئے درج کیا ہے، تاہم پروفیسر موصوف نے سہواً اسے ابن حجر کا قول سمجھتے ہوئے نقل کر دیا ہے۔
اسی طرح کا ایک سہو تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین کے مسئلہ سے متعلق بھی ہوگیا ہے، صفحہ ۴۷ پر لکھتے ہیں:
’’امام ابوحنیفہؒ وغیرہ تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین کی احادیث و آثار کو قبول کرنے کے باوجود اس کے قائل ہیں کہ یہ پہلے کی سنت تھی اور بعد میں آپؐ نے رفع یدین ترک کر دیا تھا‘‘۔
راقم کی تحقیق کے مطابق امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف اس رائے کی نسبت کسی بھی طرح درست نہیں ہے، یہ بات احناف کے ہاں متأخرین فقہاء کے ہاں تو ملتی ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؒکی طرف نسبت کے ساتھ یہ رائے کہیں نہیں ملتی۔ راقم کا خیال ہے کہ متأخرین فقہاء احناف کی رائے کو پروفیسر موصوف نے امام ابوحنیفہ کی رائے محمول کرتے ہوئے نقل کر دیا ہے، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بالکل ہی مختلف ہے۔
چیزوں کو نقل کرنے میں یہ بے احتیاطی کتاب میں اور بھی کئی جگہ کھٹکتی ہے، صفحہ ۱۴۲ پر صحابہ کرام کے اپنی خاص سنتوں اور تعلیم نبوی سے شرعی جذباتی لگاؤ اور بیکراں عشق کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے رسول اکرمؐ کی خاص تعلیم اور آپؐ کے دہن مبارک سے سن اور یاد کر کے صرف ستر سورتیں ہی اپنے مصحف میں لکھی تھیں، حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ کل ایک سو چودہ سورتیں ہیں‘‘۔
یہ بات کسی بھی طور پر ناقابل تسلیم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی خاص سنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سنت سے زیادہ عزیز ہو جائے گی، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی شخصیت اور عظمت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس پر غور کیا جائے تو حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے بارے میں یہ بات کہنا کسی بھی طرح سے درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے حوالہ سے اس قسم کی باتیں مختلف کتابوں میں نقل کی جاتی ہیں، حالانکہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ اس سلسلے میں حد درجہ احتیاط، سنجیدگی اور ذمہ داری کا رویہ اختیار کیا جائے۔
کہیں کہیں مسائل کی نوعیت کے تعین میں بھی یہ سہو صاف نظر آتا ہے، صفحہ ۴۳ پر سورہ فاتحہ کی قرأت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سورہ فاتحہ کی قرأت کا مسئلہ سنت اور اس کے تنوع سے زیادہ فرض و واجب ہونے سے ہے۔‘‘
حالانکہ سورہ فاتحہ کی قرأت سنت ہو یا واجب، یا بعض احوال میں کچھ کے نزدیک اس کا نہیں پڑھنا سنت ہو، یہ سب کچھ سنت ہی کا مسئلہ ہے اور سنتوں کے تنوع کے تحت ہی اس کا صحیح حل مل سکتا ہے، بشرطیکہ عملی تواتر کی دلیل سامنے رہے۔ فعل اور ترک فعل دونوں کا تعلق سنت کے تنوع سے ہے، البتہ فعل کا حکم تکلیفی کیا ہے اور ترک کا حکم تکلیفی کیا ہے اس طرح کے فقہی احکام کا تعلق فقہاء کے اجتہادی اصولوں اور ان کی تطبیق سے ہے۔
صفحہ ۷۸۔۷۹ پر موکدہ سنتوں کا بیان ہے، اور یہاں صاف طور سے سنتوں کے تنوع کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ان موکدہ سنتوں میں ظاہر ہے کہ تنوع کا سوال نہیں پیدا ہوتا کہ بارہ رکعتوں کی تعیین رسول اکرمؐ نے کی ہے۔ مسلم کی حدیث عائشہؓ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ بنفس نفیس بالعموم بارہ رکعت سنتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے۔ البتہ بخاری مسلم کی حدیثِ ابن عمر سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں: ’’صلیت مع رسول اللہ ﷺ رکعتین قبل الظھر‘‘۔ اگرچہ یہ متفق علیہ حدیث ہے اور سند و روایت کے لحاظ سے قوی تر تاہم وہ ایک عارضی اجازت دیتی ہے، عام اصول سنت نہیں بیان کرتی۔ اس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ ظہر کے فرض سے پہلے کی چار سنتیں کسی وجہ سے نہ پڑھ سکے تو دو سنتیں ہی ادا کر لے۔ یہ سنت نبوی ہے محض جائز نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے، البتہ خاص احوال کی سنت ہے۔ اس کا ذکر اصل مستقل سنت اور عارضی سنت کے ذیل میں آتا ہے اور اس ضمن میں بھی کہ سنت موکدہ کبھی کبھی چھوڑ بھی دیتے تھے‘‘۔
یہ پوری بات ہی محل نظر ہے، کیونکہ موکدہ سنتوں میں بھی صاف طور پر تنوع موجود ہے، اسی لیے شوافع اور حنابلہ کے یہاں ظہر سے پہلے دو رکعتیں، احناف کے یہاں چار رکعتیں اور مالکیہ کے یہاں عدد معین نہیں ہے۔
عن عبد اللہ بن عمر: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی قبل الظھر رکعتین، وبعدھا رکعتین، وبعد المغرب رکعتین فی بیتہ، وبعد العشاء رکعتین، وکان لا یصلی بعد الجمعۃ حتی ینصرف، فیصلی رکعتین۔ (۲۸)
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اور دو رکعتیں ظہر کے بعد پڑھا کرتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر پر پڑھتے تھے، اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اور نماز جمعہ کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، یہاں تک کہ گھر واپس آجاتے تھے اور پھر دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔)
عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، قال: حفظت من النبی صلی اللہ علیہ وسلم عشر رکعات رکعتین قبل الظھر، ورکعتین بعدھا، ورکعتین بعد المغرب فی بیتہ، ورکعتین بعد العشاء فی بیتہ، ورکعتین قبل صلاۃ الصبح۔ (۲۹)
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہر کے بعد، اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد گھر میں، اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے۔)
حضرت عبداللہ ابن عمر کا اپنے موقف پر اعتماد قابل لحاظ ہے۔ یہ عارضی سنت کا بیان نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معمول ہے، جبکہ دوسرا معمول حضرت عائشہ نے ذکر کیا ہے، اور دونوں ہی امت میں بطور سنت متواترہ رائج ہیں۔
عن عبد اللہ بن شقیق، قال: سألت عائشۃ عن صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عن تطوعہ؟ فقالت: کان یصلی فی بیتی قبل الظھر أربعا، ثم یخرج فیصلی بالناس، ثم یدخل فیصلی رکعتین، وکان یصلی بالناس المغرب، ثم یدخل فیصلی رکعتین، ویصلی بالناس العشائ، ویدخل بیتی فیصلی رکعتین، وکان یصلی من اللیل تسع رکعات فیھن الوتر، وکان یصلی لیلا طویلا قائما، ولیلا طویلا قاعدا، وکان اذا قرأ وھو قائم رکع وسجد وھو قائم، واذا قرأ قاعدا رکع وسجد وھو قاعد، وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین۔(۳۰)
(حضرت عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول پاکؐ کی نفل نمازوں کے بارے میں دریافت کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ میرے گھر میں ظہر سے قبل چار رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جاکر لوگوں کی امامت فرماتے، پھر اندر آکر دو رکعتیں پڑھتے۔ مغرب میں لوگوں کی امامت کرنے کے بعد گھر آجاتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ عشاء میں لوگوں کی امامت کرتے، پھر اندر آکر دو رکعتیں ادا کرتے۔ اور آپ رات میں نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتی، آپ رات میں لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے کھڑے ہو کر۔ اور لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے بیٹھ کر۔ کھڑے ہو کر جب قرآن پڑھتے تو رکوع و سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور بیٹھ کر اگر قرآن پڑھتے، تو رکوع و سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے۔ اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھ لیتے۔)
سنن موکدہ کے تعلق سے پوری گفتگو میں مصنف موصوف کا جھکاؤ ایک خاص مسلک کی طرف نظر آتا ہے ، جبکہ عملی تواتر کی روشن دلیل یہاں صاف طور سے نظرانداز کر دیتے ہیں۔
زبان و بیان کے حوالہ سے بھی کچھ باتیں ہیں، کچھ باتیں تو ایسی ہیں جو کتابت کی غلطی پر محمول کی جا سکتی ہیں، تاہم کچھ باتیں ایسی ہیں جو دعویٰ کے انداز میں کہی گئی ہیں اور ذہن کسی بھی طور پر انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، صفحہ ۲۳ پر اختلاف کے اردو اور عربی مفہوم پر گفتگو کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’وہ دراصل اردو کا اختلاف نہیں جو تضاد و تصادم کے معنی رکھتا ہے اور ایک دوسرے کا مدمقابل، حریف اور مخالف بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ عربی کا اختلاف ہے جس کے معنی تنوع، رنگارنگی اور گوناگونی اور بوقلمونی ہیں، یعنی وہ رنگارنگ سنتیں ہیں اور سب صحیح ہیں‘‘۔
یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ دونوں زبانوں میں اختلاف کا لفظ دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ شاعر کہتا ہے:
اختلاف رنگ ہے اعجاز قدرت کی دلیل
پھول کھل کر کیوں نہ دعوائے خم عیسی کریں
تجزیاتی مطالعہ پر مبنی کچھ معروضات تھیں، جو اس مختصر سے مقالہ میں پیش کی گئیں۔ آخر میں اس بات کا ایک بار پھر اعتراف ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ’’سنتوں کا تنوع‘‘ پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی صاحب کی ایک گراں قدر تصنیف ہے، یہ کتاب صحیح معنوں میں غوروفکر کی ایک وسیع دنیا کی سیر کرانے والی کتاب ہے۔ امید کہ اہل علم اس پر توجہ فرمائیں گے۔
حوالہ جات
(۱) امت کے اختلافات اور امت کو درپیش مسائل پر مولانا مودودی نے کافی کچھ قلم بند کیا ہے،اس سلسلے میں مولانا مودودی کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ آج بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہوگا۔
(۲) ’’نماز اتحاد امت کی بنیاد‘‘، اس موضوع پر ڈاکٹر محی الدین غازی کا ایک بہت ہی وقیع اور فکر انگیز کتابچہ منشورات لاہور نے ۲۰۱۷ء میں شائع کیا تھا، یہ کتابچہ درحقیقت موصوف کی معرکہ آراء تصنیف ’’نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل‘‘ (شائع کردہ: ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی۲۰۱۵ء) کی تلخیص ہے۔
(۳) رسائل و مسائل حصہ دوم ص ۳۹۰
(۴) رسائل و مسائل حصہ اول، ص۱۶۴،۱۶۵
(۵) رسائل و مسائل ، حصہ اول، ص ۱۶۳
(۶) سنتوں کا تنوع، پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی، صفحہ ۸
(۷) یہ بات بھی محل نظر ہے کہ پوری کتاب میں سید مودودی علیہ الرحمہ کا تذکرہ ایک بار بھی نہیں کیا گیا، جبکہ سید مودودی کا موقف اس سلسلے میں زیادہ واضح اور دو ٹوک ہے۔
(۸) ایضا: ص ۸۔۹
(۹) ایضا: ص ۹
(۱۰) ایضا: ص ۹
(۱۱) ایضا: ص ۱۰
(۱۲) ایضا: ص ۳۱
(۱۳)ایضا: ص ۱۷۷
(۱۴) ایضا: ص ۱۸۱
(۱۵) ایضا: ص ۱۸۱
(۱۶) ایضا: ص ۱۸۱۔۱۸۲
(۱۷) ایضا:ص ۲۴
(۱۸)ایضا: ص ۳۹۔۴۰
(۱۹)ایضا: ص ۴۰
(۲۰) ایضا: ص ۴۰
(۲۱) ایضا: ص ۲۰
(۲۲) نماز کے اختلافات اور ان آسان حل، محی الدین غازی، ص ۳۲۔۳۳
(۲۳) ایضا، ص ۳۸
(۲۴)ایضا، ص ۳۵۔۳۶
(۲۵) مجاہد شبیر فلاحی نے سہ ماہی تحقیقات اسلامی ، علی گڑھ، ماہ جولائی تا ستمبر ۲۰۰۸ء میں درج ذیل اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے:
(الف) صفحہ ۱۸، ۱۹ کی بحث میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ کے سلسلے میں خلط مبحث۔
(ب) صفحہ ۷۳ پر نماز کے اذکار کے سلسلہ میں کمزور رائے پر اعتماد۔
(ج) آنحضرتؐ کے حج کی تعداد کے سلسلہ میں موقف۔
(د) صفحہ ۱۱۴ پر قربانی کے گوشت کے سلسلہ میں مصنف کی گفتگو۔
(ہ) صفحہ ۱۱۶ پر سونے کی انگوٹھی کے استعمال سے متعلق گفتگو۔
(۲۶) سنن الترمذی، ت: شاکر :۲، ۸۲
(۲۷) فتح الباری لابن حجر :۲، ۳۱۵
(۲۸) صحیح البخاری:۲، ۱۳
(۲۹) صحیح البخاری: ۲، ۵۸
(۳۰) صحیح مسلم: ۱، ۵۰۴
مسئلہ تکفیر پر چند معاصر کتب
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
تکفیر کا مسئلہ اسلامی روایت میں ہمیشہ سے ایک اہم اور قابل بحث مسئلہ رہا ہے۔ فقہ اور عقیدہ کی کتابوں میں اس پر ضمناً بھی کلام کیا جاتا ہے، جبکہ امام غزالیؒ، امام ابن تیمیہؒ اور علامہ شعرانیؒ وغیرہم کی مستقل تصانیف بھی اس موضوع پر موجود ہیں جن کا بنیادی ارتکاز مسلمانوں کے مختلف فرقوں کی تکفیر کے مسئلے پر ہے۔ شاہ عبدالعزیزؒ کے فتاویٰ میں بھی اس کے مختلف پہلووں پر تفصیلی کلام موجود ہے۔
معاصر تناظر میں یہ مسئلہ کئی مختلف جہتوں سے زیربحث ہے۔ اس کا ایک سیاق قادیانی جماعت کا ظہور اور اس کی تکفیر ہے۔ ایک دوسرا سیاق برصغیر میں بریلوی دیوبندی نزاع میں تکفیر کے اصول کا اطلاق ہے۔ ایک تیسرا اور زیادہ اہم سیاق جدید دور میں مسلم حکمرانوں کی تکفیر کی بنیاد پر ان کے خلاف خروج کا موقف رکھنے والی تحریکوں کا ہے۔
پیش نظر کتب میں سے پہلی کتاب علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ’’اکفار الملحدین’’ کا اردو ترجمہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مدعا یہ ہے کہ قطعیات دین میں تاویل وغیرہ کا اصول تکفیر سے مانع نہیں اور یہ کہ اہل قبلہ کی عدم تکفیر کا قاعدہ کئی شرائط اور قیود کے ساتھ مقید ہے۔ یہ قادیانی مسئلے کے تناظر میں لکھی گئی کتاب ہے اور اہل علم کے ہاں معروف ومتداول ہے۔
دوسری کتاب ’’کلمہ گو کی تکفیر’’ ممتاز عرب عالم الدکتور شریف حاتم العونی کی تصنیف کردہ ہے جس کا اردو ترجمہ مفتی محمد بلال ابراہیم صاحب نے کیا تھا۔ کتاب ’’ولاء وبراء’’ کے اصول پر تکفیری نظریے کے پس منظر میں اور اس کے نقد کے طور پر لکھی گئی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ اور سلفی علماء کے منہج فکر کی چھاپ نمایاں ہے اور بنیادی نکتہ یہی واضح کرنا ہے کہ تکفیر کا معاملہ کتنا نازک ہے اور اس میں کن کن اصولوں کی رعایت شرعاً وفقہاً لازم ہے۔
تیسری کتاب ’’مسئلہ تکفیر ومتکلمین’’ معاصر ہندوستانی صاحب قلم مفتی ذیشان احمد مصباحی صاحب نے اصولاً حنفی فقہی روایت کے تناظر میں لکھی ہے اور تکفیر سے متعلق اصولی واطلاقی مباحث کا مبسوط جائزہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تکفیر سے متعلق معاصر رجحانات ونظریات پر بھی تبصرہ کرتی ہے۔
چوتھی اور سب سے مختصر کتاب ’’تکفیر’’ المورد پاکستان کے ریسرچ اسکالر رضوان اللہ صاحب کی تصنیف کردہ ہے۔ اس کا موضوع تکفیر سے متعلق جمہور علماء کے موقف اور جاوید احمد صاحب غامدی کے نقطہ نظر کا علمی موازنہ ہے۔ مصنف نے دونوں مواقف کے بنیادی استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے عموماً غامدی صاحب کے موقف کی ترجیح بیان کی ہے، البتہ قادیانی جماعت کی تکفیر کے حوالے سے جمہور اہل علم کی تائید کی ہے۔
یوں یہ چار کتابیں اس مسئلے پر چار مختلف جہتوں اور زاویوں سے روشنی ڈالتی ہیں اور ان کے تقابلی مطالعے سے مسئلے کی اصولی واطلاقی پیچیدگیوں کا بہتر فہم حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مسلمانانِ عالم کی موجودہ صورتِ حال اوراس کا تدارُک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
شہرِ عزیمت غزہ میں دنیا کے کروڑوں مسلمانوں، ان کے اداروں، ان کی فوجوں، ان کے ممالک، او آئی سی وغیرہ کے ہوتے ہوئے بھی جو تباہی مچی ہے، معصوموں کا جو معصوم خون بہا ہے اس سے عام مسلمانوں اور خاص کر نوجوانوں کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔ ان کے دلوں میں اضطراب ہے، دماغوں میں بے چینی اور سوالوں کا طوفان بپا ہے۔ جذبات بھڑکنے بھی چاہییں مگر یہ دنیا جذبات کی بنیاد پر نہیں چل رہی۔ یہ اسباب کی دنیا ہے، علت و معلول کی دنیا ہے۔ اس لیے وسائل اور اسباب کو اختیار کرنا بے حد ضروری ہے، ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ اور اس سے پہلے یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ موجودہ دنیا میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا دشمن کہاں کھڑا ہے۔
نقاطِ قوت
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع عالمِ اسلام کو اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ دنیا کو بحری تجارت کے لیے جن آبی گزرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ زیادہ مسلم ممالک سے ہو کر گزرتی ہیں۔ مثلاً بحرِ احمر اور مصر کا سوئز کینال وغیرہ۔
اسی طرح قدرتی ریسورسز (معدنیات، پیٹرول، گیس، سونے چاندی کے ذخیرے نیز rare minerals سے متعدد مسلم اور خاص کر عرب ممالک مالا مال ہیں اس لیے آج سعودی عرب ایک بہت بڑی اکانومی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے جدید ترین انفرااسٹرکچر کے ذریعے اپنے آپ کو دنیا کا تجارتی سینٹر بنا دیا ہے جو اس کی اکانومی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا نے ٹیکنالوجی میں خاصی ترقی کی ہے۔
نیز افرادی قوت (manpower)، مسلم ملکوں میں آبادی بہت ہے۔ ان میں سے کئی ملکوں کے پاس طاقتور افواج ہیں مثلاً ترکی، پاکستان، مصر اور ایران، الجزائر اور مراکش وغیرہ۔ حالیہ دنوں میں ایران پر طاغوتی قوتیں اسرائیل اور امریکہ دونوں حملہ آور ہوئیں جن کا مقابلہ اس نے پامردی سے کیا۔ پاکستان نے جواں مردی سے انڈیا کے ہندتوا کے بڑھتے قدم روکے۔
نقاطِ ضعف
اس سب کے ہوتے ہوئے بھی مسلمان امت دنیا میں اتنی بے وزن کیوں ہے؟ عالمی اداروں میں اس کی کوئی say (مؤثر آواز) کیوں نہیں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو بہتوں کو پریشان رکھتا ہے۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے کمزوری کے پوائنٹس پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ یہ نقاطِ ضعف داخلی و خارجی دونوں سطحوں پر ہیں اور اس طرح کے ہیں کہ ان سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا:
امت کا تصور عملاً ختم ہونا
سب سے پہلے تو امت کا تصور عملاً ختم ہوگیا ہے۔ اسلامی ادبیات میں اب بھی مسلم امہ کا ذکر خوب ہوتا ہے مگر اب وہ صرف ایک روحانی اور اخلاقی تصور بن کر رہ گیا ہے۔ اب مسلمان بھی عملاً چھوٹی چھوٹی قومیتوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان قومیتوں اور ملکوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ سب سے پہلے سعودی عرب، سب سے پہلے پاکستان، سب سے پہلے مصر، سب سے پہلے ترکیہ، یہ مسلم دنیا کی عمومی صورت حال ہے۔ نیشن اسٹیٹ یا قومی ریاستوں کا یہ مظہر جدید سیاسی تصورات کی دین ہے اور اس کے عواقب بڑے خطرناک ہوئے ہیں، جن کو اہلِ نظر نے پہلے ہی محسوس کر لیا تھا۔ اقبالؒ نے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ ؎
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حالیہ حملوں میں بھی مسلم دنیا کا رول مذمت کے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ سامنے نہیں آیا اور اس کی قابلِ رحم حالت پھر سب کے سامنے اجاگر ہو گئی۔
مسلم حکمرانوں اور بادشاہوں میں قوتِ ارادی کا فقدان
مسلمان حکمرانوں اور بادشاہوں کے پاس کوئی will power نہیں، ورنہ اگر یہ سب متحد ہو کر واقعی کوشش کرتے تو غزہ میں جاری فلسطینی مسلمانوں کا قتلِ عام روک سکتے تھے۔ مگر تلخ صورتِ حال یہ ہے کہ شروع میں تو حرم میں غزہ کے لیے دعا بھی منع تھی اور غزہ کا نام لینے پر گرفتار کر لیا جاتا تھا، اب ہلکی پھلکی دعا کی اجازت ہے جس سے اسرائیل اور امریکہ کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئے۔ اس سے بھی زیادہ شقاوت اور بے حسی کی انتہا یہ کہ سعودی عرب کے جدہ اور ریاض میں برابر امریکی رقاصہ جینیفر لوپیز کے عریاں کنسرٹ حکومت کی سرپرستی میں کرائے جاتے رہے اور اب بھی یہ مکروہ سلسلہ جاری ہے۔
اس بارے میں علماء کرام اور دینی جماعتوں کے ذمہ داران نے بھی اپنا شدید احتجاج درج نہیں کرایا۔ مسلمان علماء و دانشور، صحافی، سیاست داں اور عوام اتنی بڑی تعداد میں باہر نکل کر نہیں آئے کہ وہ اپنی حکومتوں اور اپنی آرمی پر کوئی دباؤ بنا سکتے۔ اپنی پارلیمنٹوں سے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دلوا سکتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو شاید مغربی قوتیں ان کا کچھ تو نوٹس لینے پر مجبور ہوتیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان، ہند اور بنگلادیش کے وہ علماء جو ملوکیت کے خادم اداروں کے ممبر بنے ہوئے ہیں وہ ان سے استعفاء دیں گے۔ کیونکہ قلبِ اسلام میں سرکاری سرپرستی میں جن فواحش کو رواج دیا رہا ہے ان کی موجودگی میں ایسی ممبرشپ کو قبول کیے رہنے کا کوئی جواز ہماری نظر میں نہیں ہے۔
افسوس کہ یہ تمام مسلم حکمران ایران اور یمن کے مجاہد حوثیوں کو چھوڑ کر اسرائیل کو ایک حقیقتِ واقعہ سمجھ کر قبول کر چکے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی مزاحمتی قوتوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عرب ممالک کا کردار حکیمانہ ہے کیونکہ وہ پوزیشن میں بالکل نہیں ہیں کہ مغرب سے کوئی تصادم مول سکیں۔ اور اسرائیل سے جنگ کرنے کا مطلب اصل میں امریکہ سے جنگ کرنا ہے۔ یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے کہ اسرائیل دراصل مغرب کی استعماری چوکی ہے اور اس کے سلسلہ میں مغرب کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ تاہم عرب اور اسلامی ممالک کا موقف حکیمانہ بالکل نہیں رہا بلکہ بزدلانہ اور مجرمانہ رہا۔ اس کو حکیمانہ اس وقت کہا جا سکتا تھا جب وہ غزہ میں معصوم جانوں کو بچانے کے لیے عملاً کچھ کرتے۔ اسرائیل کی جارحیت رکواتے، وہاں انسانی امداد داخل ہونے دیتے اور غزہ کی ظالمانہ ناکہ بندی ختم کرواتے۔ جن لوگوں کو رات دن ذبح کیا جا رہا ہو اور بموں سے زندہ جلایا جا رہا ہو ان کے لواحقین کو آپ مفت میں حج و عمرہ کرا کر اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے! گرچہ حکومتی سطح پر سعودی عرب کا حالیہ موقف بہتر ہے کہ اُس نے علی الاعلان کہا ہے کہ ہم اسرائیل کو تبھی تسلیم کریں گے جب وہ دو ریاستی حل کو مان کر فلسطین کے قیام کے لیے راضی ہو جس کا دارالحکومت قدس ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاستی سطح پر سعودی عرب کا نمائندہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں بھی پیش ہوا۔
مسلم خصوصاً عرب حکمرانوں کا فدویانہ طرز عمل
مسلم حکمرانوں اور امراء کی سوچ اور خاص کر عرب حاکموں کی اپنے عوام سے کس قدر دور ہے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو ماہ قبل چودہ مئی کو امریکی صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر اور امارات کے دورے پر تھے۔ اس دورے میں عرب حکمرانوں نے جس طرح ان کا شاہانہ استقبال کیا، جس طرح ملینوں ڈالر کا طیارہ قطر نے ان کو تحفہ میں دیا۔ جس طرح تینوں ملکوں نے اربوں کے ہتھیار امریکہ سے خریدنے کے معاہدے سائن کیے۔ وہ اپنے آپ میں شرمناک ہے۔ ساتھ ہی یہ لوگ اپنے فدویانہ جذبہ سے مغلوب ٹرمپ سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت رکوانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کہہ سکے۔ الٹے ٹرمپ نے ان کو غزہ کا نام لے کر وہاں سے ہو رہی اسرائیل کے خلاف مزاحمت/نام نہاد دہشت گردی کو لے کر ان کو لیکچر دیا۔ ٹرمپ نے طوطے کی طرح اسرائیلی بیانیہ دہرا دیا اور ان سننے والے جلالۃ الملوک میں سے کسی نے بھی اتنا حوصلہ نہیں دکھایا کہ تصویر کا دوسرا رخ یعنی عرب سائیڈ آف اسٹوری ہی ٹرمپ کے سامنے رکھی جاتی۔
مزاحمتی قوتوں کو یہ تلخ حقیقت اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ ان کا بیانیہ نہ صرف غیروں بلکہ اپنوں میں بھی نہیں چل پا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ریاض میں جی سی سی ممالک کے حکمرانوں اور ان کے مندوبین کے سامنے حکمرانوں پر تعریفوں کے ڈونگرے تو برسائے۔ محمد بن سلمان کو کہا کہ ’’تم اتنا کام کرتے ہو، سوتے ہو یا نہیں؟ تم لوگوں نے تو مشرق وسطیٰ میں بالکل انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اتنی بڑی بڑی بلڈنگیں، یہ اسکائی اسکریپر! واہ واہ کیا بات ہے! جانی کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ اور اس حکم پر نہ صرف بن سلمان بلکہ اس کی حکومت کے تمام کارندے اور سارے خلیج کے مندوبین کمال نیازمندی سے کھڑے ہوگئے!
ٹرمپ کے اس دورے نے ایک بار پھر ہمارے سامنے اس حقیقت کو ننگا کر دیا کہ یہ حکمران مالدار اور کھرب پتی سہی لیکن اپنی کمزوری میں یہ صحیح معنی میں مضبوط حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملوک الطوائف ہیں اور اندلس کے ملوک الطوائف کی طرح ہی بے غیرت اور بے حس بھی ہیں اور بے حوصلہ بھی۔ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ مشرق وسطیٰ میں یو اے ای نے دوشیزاؤں کے hair splitting dance کے ذریعہ امریکی ڈکٹیٹر کے استقبال سے مسلم ثقافت کو شرمسار کیا۔ تینوں ممالک نے اپنی اپنی کرسی کی حفاظت کے بدلے 1.4 ٹریلین ڈالر کے سودے کیے۔ قطر نے تو تملق کی حد کر دی کہ 400 ملین ڈالر کا جیٹ طیارہ ٹرمپ کو گفٹ کیا۔ یہ قومی خزانے قوم سے پوچھ کر خرچ نہیں کیے گئے، ان کا کوئی حساب لینے والا بھی نہیں۔ یہی فرق ہوتا ہے شخصی حکومتوں اور جمہوریت میں۔ یہ قومی خزانے اس پورے خطے کی قسمت بدل سکتے تھے اگر ان کو قوم کی فلاح و بہبود کے لیے، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اور عالمِ عرب کی عام اٹھان کے لیے ایمانداری سے خرچ کیا جاتا۔
اس موقع پر منعقدہ ہوئے جی سی سی ممالک کے ہائر رینک اجلاس میں گرچہ کئی حکمرانوں نے دبے لفظوں میں غزہ کی بات کی، جبکہ ٹرمپ نے اس عرب سخاوت و مہمان نوازی کا بھی کوئی لحاظ نہ کر کے دوحہ میں صاف کہہ دیا کہ غزہ میں آئی مصیبت کی ذمہ دار حماس ہے اس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ جس وقت ٹرمپ اس ٹور پر تھے اسرائیل تابڑ توڑ زمین سے، فضا سے اور سمندر سے حملے کر کے دو سو فلسطینیوں کا قتلِ عام کر رہا تھا، جس پر کسی بھی مغربی ملک سے کوئی مذمت کا بیان جاری ہوا نہ عرب حکمرانوں کی طرف سے۔
ٹرمپ کے دورۂ شرقِ اوسط سے قبل ہی حماس نے امریکہ سے مذاکرات کے نتیجہ میں یکطرفہ اور خیرسگالی کے اشارہ کے طور پر دوہری شہریت کے حامل نوجوان امریکی فوجی یرغمالی عیدان الیگزینڈر کو رہا کر دیا۔ اور جیسا کہ طے پایا تھا امید تھی کہ اس کے بدلے میں غزہ میں انسانی امداد کو آنے دیا جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ٹرمپ بھلے ہی اسرائیل نہ آیا ہو مگر اس کی انتظامیہ پورے طور پر بنجمن نتن یاہو کے ساتھ ہی کھڑی ہے۔ اور اس میں ٹرمپ میں اختلافات کی کہانی محض ایک افواہ ہے۔
امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف بھی اسرائیل کی بولی ہی بولتا رہا کہ حماس کو غزہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وٹکوف کو معلوم ہوگیا ہے کہ بنجمن نتن یاہو (یاد رہے کہ بائبل میں بن یامین کو پھاڑ کھانے والا بھیڑیا کہا گیا ہے، جینیسس باب 27: 49) کسی پریشر میں آنے والا نہیں ہے اور ٹرمپ اس پر براہ راست کوئی پریشر ڈالنے کا خطرہ مول بھی نہیں لے گا۔
اگر عرب زعماء اپنے خزانوں کو اتنی سخاوت سے ٹرمپ پر نثار کرنے کے بدلے کچھ جرأت کا مظاہرہ بھی کر پاتے تو شاید ٹرمپ اس بارے میں کچھ سوچ سکتا مگر وہ غریب تو شاہ سے زیادہ کون شاہ کا بڑا وفادار ہے، اور کون بڑا خوشامدی ہے، یہ ثابت کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے! اس دورے سے امریکی انتظامیہ کو اس بات کا پورا اندازہ ہو چکا ہے کہ غزہ غریب تو کہیں مالدار عرب ریاستوں کے ایجنڈے میں آتا ہی نہیں۔ وہ اپنے بیانوں اور تقریروں میں اس کے بارے میں جو ایک آدھ لفظ بول دیتے ہیں تو وہ صرف اپنے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے!
ٹرمپ کے حالیہ دورے سے تھوڑا سا فائدہ یہ ضرور ہوا کہ سعودی عرب کی سفارتی محنت سے امریکہ نے شام کی نئی سُنی حکومت کو تسلیم کر لیا اور اس پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان پابندیوں نے شام کی اقتصادیات کو بالکل توڑ دیا تھا۔ ٹرمپ کے دورہ کے ختم ہوتے ہی عرب لیگ کا چونتیسواں اجلاس عراق میں ہوا، بڑی گرم گرم اور جوشیلی تقریریں ہوئیں، بیانات دیے گئے مگر گراؤنڈ پر کچھ بھی بدلنے میں بالکل ناکام۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ عرب لیڈروں اور حکمرانوں نے جو ادارے اور تنظیمیں بنائی ہیں ان میں بھی کوئی مؤثر ادارہ نہیں، او آئی سی، رابطہ عالم اسلامی، عرب لیگ سب غیر مؤثر ہیں۔ سب پر سعودی عرب اس لیے اثر انداز ہے کہ سب کی فنڈنگ وہی کرتا ہے۔
مسلمانوں میں انتشار اور عدمِ اتحاد
اسی کی ایک کڑی مسلمانوں میں انتشار اور عدمِ اتحاد کی کیفیت ہے۔ شیعہ سنی اختلاف تو اپنی جگہ، خود سنی باہم متحارب ہیں۔ عرب ممالک عراق، سیریا، لیبیا، سوڈان وغیرہ میں قبائلی گروہ باہم برسرِ پیکار ہیں اور اس داخلی خانہ جنگی سے نہ صرف عوام تباہ ہو رہے ہیں، قومی املاک برباد ہو رہی ہیں، بلکہ غیر ملکی قوتوں کو برابر مداخلت کا سنہرا موقع مل رہا ہے۔ مسلمان سیاسی قیادت اور خاص کر عرب قیادت کسی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جاتی ہے تو وہیں ان کے باہمی گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، اور یہ منظر عرب لیگ کے ہر اجلاس میں نظر آجاتا ہے۔ حال ہی میں 18 مئی 2025ء کو جو اجلاس ہوا اس میں بھی نظر آگیا کہ بن سلمان اور بن زاید تو وہاں گئے ہی نہیں، امیر تمیم بھی اجلاس میں بغیر شریک ہوئے واپس آگئے۔
مسلم دنیا کے تین بلاک
مسلم ممالک کے عملاً تین بلاک بن گئے ہیں: ایران، سعودی عرب اور ترکی۔ تینوں کے مفادات متصادم ہیں۔
- سعودی عرب اور اس کے ساتھ دوسرے خلیجی ممالک یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، یہ حماس کو بھی own نہیں کرتے (اس کو اپنا نہیں سمجھتے)۔
- ترکی صرف زبانی جمع خرچ کرتا ہے عملاً کچھ نہیں کرتا۔
- ایران اور یمن کے حوثی مقابلہ کر رہے ہیں مگر کمزور ہیں۔
کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ طاقت کا توازن مسلمانوں کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے۔ آج تعلیم، سائنس اور اقتصادیات تینوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جو فرق ہے وہ سو دو سو سال کا نہیں صدیوں کا ہے۔ پہلے اس کو دور کرنا ہوگا۔ ہم عرب حکمرانوں کی مذمت اکثر کرتے ہیں مگر سچی بات تو یہ ہے کہ خلیج کے عرب ہوں یا عجم کے مسلم حکمران، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ ترکی، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، آذربائیجان اور مصر وغیرہ، شِکوہ تو سب سے ہے، عرب چونکہ قریبی ہیں اور مالی وسائل بھی دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ رکھتے ہیں اس لیے ان کا ذکر زیادہ آ جاتا ہے۔
حماس کی مذمت اور حمایت سے دستبرداری
بعض لوگوں کا خیال ہے، جس کو عرب میڈیا میں خلیج کے حکمرانوں کے گماشتے بڑے پیمانے پر پھیلا رہے ہیں، کہ فی الحال حماس کے پاس اور کوئی آپشن نہیں بچا ہے سوائے اس کے کہ وہ غزہ کو اس وقت چھوڑ دے اور دوبارہ اپنی صفوں کو دوسرے نام سے متحد کرے، آخر کو حضرت سیف اللہ خالد بن الولیدؓ جنگِ موتہ میں اپنے تین ہزار مجاہدین کو ایک لاکھ کے ٹڈی دل رومی لشکر کے نرغہ سے نکال لے گئے تھے، اور مدینہ میں بعض لوگوں نے جب ان کو ’’فرارون‘‘ کے طعنے دیے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور کہا ’’بل الکرارون‘‘ یعنی یہ بھاگے نہیں بلکہ دوبارہ تازہ دم ہو کر حملہ کریں گے۔
لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اگر مزاحمت و مقاومہ آج ختم ہو جائے اور حماس سرنڈر کر دے تو کل سے ہی اسرائیل فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی شروع کر دے گا۔ امریکہ اس جرم میں اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ عرب ممالک تھوڑا بہت شور مچا کر خاموش ہو جائیں گے، بقیہ مسلم و غیر مسلم ممالک نام نہاد عالمی برادری اور عالمی اداروں کی دہائی دیں گے۔ جبکہ غزہ کے المیہ نے مسلسل یہ ثابت کر دیا ہے کہ نہ تو عالمی برادری ہی کہیں موجود ہے اور نہ کوئی عالمی ادارہ حقیقت میں باقی بچا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسرائیلی لیڈروں کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے والی عالمی عدالت کے چاروں ججوں پر امریکہ بہادر پابندی عائد کر چکا ہے۔ یو این او کے ان ذمہ داران کو بھی امریکہ سزا دے رہا ہے جو اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ مذمتی بیانات پر اکتفا کرے گی اور مسئلہ فلسطین ہمیشہ کے لیے مٹی میں دفن ہو جائے گا۔ اس خطرناک مجرمانہ پلان کے راستہ میں صرف مزاحمت ہی حائل ہے۔ اس لیے ہر ممکن جانی و مالی قربانیوں کے ساتھ مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی آپشن مزاحمتی تنظیموں اور اہلِ غزہ اور اہلِ فلسطین کے پاس نہیں ہے۔
علم و تحقیق میں انحطاط اور اندھی تقلید
مسلم دنیا میں کوئی نئی تحقیق نہیں ہوتی، بزرگوں کی اندھی تقلید ہے، اجتہاد فی الفکر نہیں، عمومی رویہ جمود و تقلید کا ہے۔ جبکہ حقیقت کی دنیا میں ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ آپ دینی معاملات میں اندھے مقلد ہوں اور دنیاوی علوم میں ترقی کر کے دکھا دیں، اجتہاد کریں اور نئی نئی ایجادات کریں۔ اس لیے علماء کا یہ عذر، عذرِ لَنگ ہے کہ دین کو ہمارے اوپر چھوڑیں اور دنیاوی معاملات میں اجتہاد کریں کس نے روکا ہے؟ یہ صحیح ہے کہ زیادہ ذمہ داری حکومتوں کی ہے مگر علماء و دانشور بھی بری الذمہ نہیں کہے جا سکتے۔ انسان کی زندگی خانوں میں نہیں بٹی کہ ایک خانہ میں آپ بالکل اندھی تقلید کریں اور دوسرے خانہ میں آپ کا ذہن جدت سے کام لے اور اجتہاد کر سکے، ایسا نہیں ہوتا۔ دونوں ہی خانوں میں آپ کو نئی فضا بنانی ہو گی۔ علمی تحقیق کا راستہ کھولنا ہوگا، آزادئ رائے کا احترام کرنا ہوگا، اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا، سب کو مواقع دینے ہوں گے تب جا کر آپ کا ذہن فعال ہوگا اور مثبت کام کرے گا۔ ذہین لوگ مسلم ممالک سے نکل نکل کر کیوں مغرب جا رہے ہیں؟ brain drain کیوں ہو رہا ہے اس پر سوچنا ہو گا۔
سائنس و ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانا
ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ چالیس پچاس سال میں جتنے نوبل پرائز دیے گئے ہیں وہ یہودی اسکالروں اور سائنس دانوں نے حاصل کیے ہیں۔ مسلمانوں نے جو انعامات حاصل بھی کیے ہیں ان کا تعلق بھی چند کو چھوڑ کر ادب، حقوقِ انسانی سے ہے یا امن ایکٹوزم سے، سائنس و ٹیکنالوجی سے نہیں۔ تاہم نوبل انعام کے بارے میں بہت سے مسلمانوں کو شک و شبہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں تعصب برتا جاتا ہے۔ مان لیا، لیکن سوال تو یہ ہے کہ فیصل ایوارڈ میں بھی مسلمان عموماً خدمتِ اسلام، عربی ادب اور حدیث یا فقہ وغیرہ میں خدمات پر یہ انعام حاصل کرتے ہیں۔ طب، سائنس و ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت وغیرہ میں حاصل نہیں کر پاتے!
علماء کرام کہتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی قوم کو سائنس و ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے سے منع نہیں کیا۔ یہ بات درست ہے مگر یہ آدھا سچ ہے۔ آپ نے کبھی منع نہیں کیا تو کبھی قوم کو اس کی جانب شدت سے راغب بھی نہیں کیا۔ آپ کے ہاں سیکولر اور دنیاوی علوم کو ہمیشہ ثانوی درجہ دیا گیا۔ اس کے بجائے مسلمان اہلِ علم و اہلِ دانش اسلامائزیشن آف نالج جیسے غیر مفید مشغلوں میں لگ گئے۔ بلکہ آپ کے ہاں ایسی کتابیں لکھی جاتی رہی ہیں: فوز مبین در رد حرکتِ زمین، اور ایسے علماء کی فالوونگ عام مسلمانوں میں بہت زیادہ ہے۔ برصغیر کی بات کریں تو آپ نے اپنے مدارس میں آج تک معمولی سی لیپا پوتی کرنے کے علاوہ کوئی انقلابی تبدیلی نصابوں میں نہیں کرنے دی۔ ماضی قریب میں ترکی کے شیخ الاسلام نے عثمانی مملکت کو نئی ٹیکنیک اختیار کرنے سے روکا تھا، اس کا کیا جواز تھا؟ اس کی اور بھی تلخ مثالیں موجود ہیں۔
یہودیوں اور اسرائیل سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے ترقی یافتہ ملکوں میں بہتر مواقع اور بہترین زندگی اور عیش و آرام کو چھوڑ کر سو سال پہلے فلسطین میں زمینیں خرید کر وہاں بنجر زمینوں کو آباد کیا، بڑی محنت کی اور اپنی زرعی و تجارتی کالونیاں بنائیں، تعلیم گاہیں قائم کیں، اپنی ملیشیائیں بنائیں، اور اپنی اسرائیلی قومیت کے لیے رات دن کام کیا۔ اپنی مردہ ہو چکی عبرانی زبان کو ایک زندہ زبان میں بدل دیا۔ جب فلسطین کا ایک خطہ یونائیٹڈ نیشنز اور یونائیٹڈ کنگڈم کی ملی بھگت سے ان کو مل گیا تو اس کو ہر اعتبار سے ترقی یافتہ اور کامیاب ملک بنا دیا۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور عسکری قوت میں اتنا آگے اسے لے گئے کہ آج اس خطہ میں یہ چھوٹا سا ملک ناقابلِ تسخیر مانا جاتا ہے اور تمام عرب ملکوں پر فوقیت رکھتا ہے۔
یہودیوں کی اس اجتماعی کوشش کا مقابلہ مسلمانوں کی تحریکات سے کریں تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں میں کسی مقصد کے لیے مسلسل ایکٹو (متحرک) رہنے کی روایت نہیں ہے، وہ جوش و خروش کے ساتھ وقتی طور پر اٹھتے ہیں اور پانی کے بلبلے کی طرح جلد ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ چھٹ پٹ گوریلا کارروائیوں سے، جن میں عام انسان بھی مارے جاتے ہیں، اب الٹے نتائج نکل رہے ہیں، جیسے کہ حماس کا سات اکتوبر کا حملہ طوفان الاقصیٰ کاؤنٹر پروڈکٹِو ثابت ہوا۔ ایسے ہی دنیا میں اور مقامات پر ہونے والے واقعات۔ اس طرح کے واقعات کو ہمیشہ ہی مخالف قوتیں دوسرا رنگ دے کر دہشت گردی (terrorism) قرار دے دیتی ہیں جس کے خلاف اب ایک عالمی اجماع بن چکا ہے۔ دنیا کے اس اجتماعی فیصلہ کے خلاف جانے کے نتائج بڑے سنگین ہوتے ہیں خصوصاً اس صورت میں جبکہ آپ کے ساتھ کوئی طاقت نہ کھڑی ہو۔ افغانستان کا جہاد روس کے خلاف اس لیے کامیاب ہوا کہ اس میں امریکہ پوری طرح مجاہدین کی پشت پر کھڑا تھا اور ریاست پاکستان بڑا رول ادا کر رہی تھی۔ اور جس جگہ کسی قوت کا ساتھ نہ ہو تو پھر نتیجہ وہی ہوتا ہے جو غزہ کی تباہی کی صورت میں ساری دنیا کے سامنے ہے۔
بغیر تیاری کے میدان میں کود پڑنا
گزشتہ دو سو سال کی تاریخ امتِ مسلمہ کی پسپائی اور شکست و ہزیمت کی تاریخ ہے جو سید احمد شہیدؒ کی تحریک سے شروع ہوتی ہے اور آج تک چلی آتی ہے۔ امیر عبدالقادر الجزائریؒ، امام شاملؒ، عمر مختار سنوسیؒ اور اب فلسطین کا جہادِ آزادی سب کی کہانی ایک جیسی ہے۔ یہاں ایک بار پھر اقبال رہبری کرتے ہیں ؎
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھُونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قُوّتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے
سُوئے گردُوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے
یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!
صہیونیت اور ہندوتوا کا اثر و رسوخ
عالمی سطح پر دو بڑی لابیاں ہیں: صہیونی، ہندوتوا۔ صہیونی تو دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ہندوتوا کے لوگ بھی اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ RSS ہندوستان میں حکمراں ہے اور مغرب میں بھی سرگرم ہے۔ ٹرمپ حکومت میں اس وقت اوشا وینس، اور تلسی گبارڈ بڑے عہدوں پر ہیں۔ آخر الذکر اسلامو فوبیا سے متاثر ہے اور ہندوتوا لابی سے بہت قریب۔
ان دونوں لابیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس صرف جذبات ہیں اور کوئی عملی لائحہ عمل نہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کی بات کریں تو وہاں جنوب ایشیا کے مسلمانوں کی کوئی لابی نہیں۔ یہ لوگ وہاں صرف اپنے آبائی ملکوں کی سیاست میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ پاکستانی ڈائسپورا (نژاد) کے لوگ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ البتہ فلسطینی ڈائسپورا، استاد، اسٹوڈنٹ وغیرہ سرگرم رہے ہیں اور ان کی وجہ سے ہی اب رائے عامہ میں فلسطین کے لیے آواز بلند ہوئی اور لوگ سڑکوں پر نکل کر آتے رہے۔
شرک و بدعت کی اندرونی صورتحال
اندرونی طور پر مسلمان امت شرک و بدعات میں بری طرح گرفتار ہے۔ جس کا شکوہ حالی نے مسدس میں بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے ؎
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جھکے آگ پر بہرِ سجدہ تو کافر
جو ٹھیرائے بیٹا خدا کا تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں
یہ شرک و بدعات اور توہمات مسلمانوں میں غیر اسلامی تصوف کی بدولت آئے ہیں۔ کچھ کمزور اور موضوع روایات کی جہت سے آئے ہیں مگر بڑا سورس تصوف ہی ہے۔ تصوف کے کچھ ضمنی فائدے ہوتے ہیں تزکیۂ نفس، تربیتِ ذات اور عبادتِ الہیٰ کی مشق وغیرہ۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ چیزوں کی حقیقت سے بحث کرتا اور گہرے مسائل پر غور کرنا سکھاتا ہے۔ مگر مجموعی طور پر تصوف سے مسلمانوں کو دو بڑے نقصان ہوئے ہیں: ایک تو بزرگوں کی اندھی عقیدت اور شخصیت پرستی، تصورِ شیخ، وحدت الوجود جیسے مشرکانہ خیالات نے توحید کی مٹی پلید کر دی۔ دوسرے علم سے مسلمانوں کو روکا کیونکہ تصوف کی روایت میں ایک عام تصور کتاب دشمنی کا رہا ہے۔ یہاں ارشادِ شیخ ہی اصل ہے اور مسترشدین کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ: صد کتاب و صد ورق در نار کن (کتاب و اوراقِ کتاب وغیرہ کو آگ میں پھینک دو) یہ تصوف کا عام مزاج ہے۔ اس میں استثناء بھی ملتا ہے اور بہت سے صوفیاء نے علم کی آبیاری کی ہے۔ مثال کے طور پر شاہ کلیم اللہ جہان آبادی کے خانوادہ میں ریاضیات کا چرچا رہا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کا خانوادہ اسلامی علوم میں سرخیل رہا وغیرہ۔
بظاہر ہماری یہ بات بے محل سی معلوم ہوتی ہے مگر گزشتہ دو سو سال کی ملی تاریخ پر غور و فکر سے ہمارے ناقص خیال میں یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ من حیث المجموع توحید کو چھوڑنے کے نتیجہ میں ایک عمومی عتاب و عذاب کا شکار ہے جسے حدیث میں قہر الرجال و غلبۃ الدین سے سلامتی کی دعا میں اشارہ کر دیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی سیاسی قیادت اور عالمی معیشت کی سیادت ان کے ہاتھ سے چھین لی گئی ہے۔ اور یہ چیز دوبارہ حاصل نہیں ہو سکتی، مگر توحید کے پرچم کو پھر سے مضبوطی سے تھامنے سے۔
اصلاحِ حال
اصلاحِ حال کے سلسلہ میں بھی تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، تاہم یہ مضمون پہلے ہی طویل ہوگیا ہے اس لیے تفصیل کو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں اور اشارات پر اکتفاء کرتے ہوئے مختصراً کہیں گے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس امت کی خصوصی ترکیب یعنی بقول اقبال ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی‘‘ کو سامنے رکھ کر یہ حکیمانہ جملہ کہا تھا: ’’لن یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا‘‘ کہ اس امت کی اصلاح اسی طریقہ سے ہوگی جس سے پہلے ہوئی تھی۔
رجوع الی القرآن
مسلمان امت کے لیے اصل لائحہ عمل صرف یہی ہے کہ وہ بحیثیت مجموعی اپنی لگام قرآن کے ہاتھوں میں دے دے۔ قرآن ہی اس کے ہر درد کا درماں اور ہر بیماری کا علاج ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں میں آج بھی ایسے پیر فقیر اور مولوی ملا موجود ہیں جو مسلمانوں کو قرآن سے رجوع کرنے کو برا جانتے ہیں۔ یہ لوگوں کو ترجمۂ قرآن پڑھنے سے منع کرتے اور مسجدوں میں درسِ قرآن سے روکتے ہیں، اس عذرِ لَنگ کے ساتھ کہ براہ راست قرآن کے معنی پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔ وہ اسلاف کو بھول گئے ہیں جن کے بارے میں اقبال نے کہا کہ ؎
وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
اقبالؒ کی تعلیم یہی ہے کہ قرآن کے بغیر مسلمانوں کی زندگی نہیں ؎
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بقرآن زیستن
مسلم ممالک کا دفاعی اتحاد
دوسرے اب تک کے تجربات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ او آئی سی اور عرب لیگ جیسے کاغذی شیر اور صرف بیان داغنے والے ادارے کسی حقیقی مقصد کو پورا نہیں کرتے۔ حقیقت کی دنیا میں مسلم دنیا کو آکر ناٹو کی طرز پر ایک ایسا دفاعی بلاک تشکیل دینا چاہیے جس میں کسی بھی رکن ملک پر جارحیت کو پورے بلاک پر جارحیت تسلیم کیا جائے۔ تمام مسلم ممالک کو ایران کی تقلید کرتے ہوئے مغرب کی دفاعی چھتری کے سراب سے باہر آکر خود اپنا دفاع کرنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے عالمی سطح پر ان کی بے حیثیتی دور نہیں ہو سکتی۔
طویل المدت تعلمی منصوبہ بندی
تیسری چیز یہ ہے کہ اصلاحِ حال کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، طویل المدت منصوبہ بندی، تعلیم اور صرف تعلیم کا منصوبہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مسلم دنیا سائنس و ٹیکنالوجی اور اب مصنوعی ذہانت کے میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھے۔ سیاسی طور پر مسلمانوں کو جمہوری طرزِ حکومت کو عموماً اپنا لینا چاہیے جس میں موقع و محل کے اعتبار سے مناسب تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ مگر ملوکیت، فوجی ڈکٹیٹرشپ اور آمریت کو مسلم معاشروں میں اب مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایک عام تحریک اٹھے جو مسلم امت میں سے ان لعنتوں کا خاتمہ کرے۔ علماء اور دانشور مزید متحرک ہوں وہ ملوکیت کے بندے، مفادات کے اسیر نہ بنیں۔ بدعات خرافات اور توہمات کے خلاف مہم چلائی جائے۔ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا جائے، حکمرانوں اور امراء پر پریشر بنایا جائے۔ ایسے سیاسی اور اقتصادی پریشر گروپ تیار کیے جائیں جو دنیا پر اثر انداز ہو سکیں۔
امت کے نفع و نقصان کا شعور
چوتھے شعور کی بیداری عام مسلمانوں میں بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں اور ان کے ساتھ ہی گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر دنیا) کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کو اب بھی اسی ظالمانہ اور مستکبرانہ مغربی سرمایہ دارانہ ورلڈ آرڈر کے تحت رہنا ہے یا متبادل طریقے ڈھونڈنے چاہییں؟ افسوس کہ عالمِ عرب میں کوئی ایک بڑی آواز ہمیں ایسی سنائی نہیں دیتی جو اس پر اپنے لوگوں کو غور کی دعوت دیتی ہو۔ وہاں تو اب بھی شیعہ سنی فرقہ وارانہ کھیل ہی جاری ہے۔ جبکہ غیر مسلم ممالک جیسے برازیل، کیوبا، نارتھ کوریا سے ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور برِکس کے ممبران چین کے ساتھ مل کر ڈالر کو چیلنج دینے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔
مسئلہ فلسطین
فلسطین کے لیے ایک عالمی عوامی تحریک برپا کی جائے جو پرامن ہو اور تمام جدید وسائل کے ساتھ دنیا کے لوگوں تک اپنا جائز موقف رکھے۔ یہ تحریک اپنے آپ دنیا بھر کے طلبہ نے چھیڑ دی ہے بس اس کو صحیح رخ دیتے رہنے کی ضرورت ہے۔ مزاحمتی تحریکوں کو اپنی اسٹریٹجی بدلنی ہوگی۔ ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر یہ یہی مسلح مزاحمت خود اسرائیل کے اندر شروع ہوئی ہوتی تو شاید اس کا انجام یہ نہ ہوتا یعنی اسرائیل غزہ کو اس طرح تہس نہس نہ کر پاتا۔ اسی طرح خود فلسطینیوں کو بھی اپنی صفوں کو یکجا کرنا ضروری ہے۔ مقام افسوس ہے کہ انہوں نے من حیث القوم اپنی خون آلود تاریخ سے کماحقہ سبق نہیں سیکھا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب انگریز مینڈیٹ وہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ رہا تھا اور اُس نے صہیونی دہشت گردوں کو فوجی طور پر کیل کانٹے سے لیس کر دیا تھا۔ ان کی دہشت گرد تنظیموں کی افرادی قوت ساٹھ ہزار تک تھی جس کے پاس ہر طرح کے ہتھیار اور فوجی تربیت تھی۔ وہ فلسطینیوں کے گاؤں اور بستیوں پر منظم حملے کرتے تھے مگر فلسطینی ہر گاؤں کی حفاظت منتشر طور پر کر رہے تھے۔ کسی بستی میں دس لوگ پرانی بندوقوں سے مسلح ہو کر تحفظ کر رہے تھے، کسی میں پندرہ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب صہیونی فوج نے منظم حملے اور غارت گری شروع کی تو فلسطینی کوئی دفاع نہیں کر سکے اور ملینوں کی تعداد میں ان کو اپنے گاؤں، بستیاں اور آبادیاں چھوڑنی پڑیں۔ ان رفیوجیوں کی آج تیسری نسل ہے جو دنیا بھر میں، غزہ میں اور کچھ پاس پڑوس کے ملکوں میں پناہ گزیں ہے۔ اور افسوس یہ ہے کہ حماس اور الفتح یا فلسطینی مقتدرہ ابھی تک دونوں دھڑے اپنی الگ ہی چال چلنے پر مصر ہیں! اس کے علاوہ نتن یاہو کی پالتو یاسر ابو الشباب کی مسلح ملیشیا کہاں سے آئی ہے؟
عالم اسلام کی سیاسی تحریکیں
اب موجودہ صورت حال میں بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا میں سیاسی اسلام یا تحریکی اسلام پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہے، جس کی ابتدا مصر میں حافظ مرسی شہید کی حکومت کو خلیجی ممالک کی سازشوں کے ذریعہ گرا دینے سے ہو گئی تھی۔ اس کے وجود کو بچانا وقت کی ضرورت ہے کہ مغرب کے لیے اصل چیلنج اسلام کا یہی حرکی تصور ہے جس کو اب اپنے سروائیول (بقا) کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ البتہ بنگلادیش کے طلبائی انقلاب نے اس کو وہاں کچھ راحت ضرور دے دی ہے۔ صوفی اسلام استعمار پسند قوتوں کو سوٹ کرتا ہے اور اسی طرح سلفی اسلام ملوکیت کا خادم بنا ہوا ہے، ابن تیمیہؒ کی فکر کو اس نے عملاً چھوڑ دیا ہے۔ تو جو خلا مسلم معاشرہ میں پیدا ہو رہا ہے بظاہر اس کو پُر کرنے والی کوئی قوت سامنے نہیں ہے۔ روایتی علماء جن کا مسلم معاشرہ پر اب بھی بہت زیادہ ہولڈ ہے، ان میں جدید دنیا سے کو جاننے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں نئے رجالِ کار درکار ہیں جو تیار، فعال اور متحرک ہوں اور معاشرہ میں قیادت کا رول ادا کرنے کی علمی و فکری اہلیت بھی رکھتے ہوں۔
آج سے چار دہائیوں قبل امریکی مفکر فوکویاما نے The End of History (تاریخ کا خاتمہ) لکھ کر گویا اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ اب دنیا میں امریکی مغربی لبرل تہذیب غالب ہو چکی ہے، اس کی بالادستی کو کوئی نظام چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس کے بعض نتائج کو تاریخ نے غلط ثابت کر دیا ہے۔ لیکن اُس اعلان کی تہہ میں اسلامی تہذیب کی سیاسی سیادت کی موت کا جو اعلامیہ چھپا ہوا تھا اس کا سفر ابھی جاری ہے اور کوئی چیلنج اُس کو نہیں کیا جا رہا ہے۔ جو عالمِ اسلام کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
(14 جولائی 2025ء بروز منگل، علی گڑھ)
اہلِ سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے
سید علی خامنہ ای
عالمِ شیعہ رہنما امام سید علی خامنہ ای نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں پیغمبر اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ اور اہل سنت کی کسی بھی اسلامی علامت کی توہین کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کا اسلامی دنیا میں وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔
امام خامنہ ای نے ایک سوال کے جواب میں اعلان کیا: ’’سنی بھائیوں کی علامتوں کی توہین کرنا، جس میں پیغمبر اکرم ﷺ کی زوجہ [حضرت عائشہؓ] بھی شامل ہیں، حرام ہے۔ اس میں تمام انبیاء کی ازواج اور خاص طور پر حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) کی مقدس ازواج بھی شامل ہیں۔‘‘
امام خامنہ ای: ہمارے سنی بھائیوں کی علامتوں اور نبی کی ازواج (ﷺ) کو نشانہ بنانا حرام ہے
یہ فتویٰ الاحساء (سعودی عرب) کے علماء اور دانشوروں کے ایک گروہ کی طرف سے پوچھے گئے ایک استفتاء کے جواب میں جاری کیا گیا، یہ استفتاء لندن میں مقیم ایک نامعلوم شخص یاسر الحبیب کی جانب سے نبی کی زوجہ حضرت عائشہؓ کے خلاف حالیہ توہین آمیز بیانات کے بعد سامنے آیا تھا۔
استفتاء کرنے والوں نے سید خامنہ ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’’نبی اکرم ﷺ کی زوجہ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کی کھلے عام توہین اور انہیں نازیبا و توہین آمیز الفاظ سے ذلیل کرنے‘‘ کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
اس کے جواب میں خامنہ ای نے فرمایا:
’’ہمارے سنی بھائیوں کی علامتوں کو نشانہ بنانا حرام ہے، چہ جائیکہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ پر ایسی باتوں کا الزام لگانا جو ان کی عزت و آبرو کو مجروح کرتی ہوں۔ بلکہ یہ امر تمام انبیاء کی ازواج کے لیے محال ہے، اور بالخصوص ہمارے سردار رسول اعظم ﷺ کی ازواج کے لیے۔‘‘
خامنہ ای کا یہ فتویٰ حضرت سیدہ عائشہؓ کے خلاف حبیب کی توہین کی مذمت میں شیعہ ردعمل کے وسیع سلسلہ میں سب سے نیا اور اعلیٰ ترین سطح کا ردعمل سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب، خلیجی ممالک اور ایران کے درجنوں ممتاز شیعہ مذہبی رہنماؤں نے اپنے بیانات اور اعلامیوں میں حضرت سیدہ عائشہؓ یا نبی اکرم ﷺ کی کسی بھی زوجہ کی توہین کی شدید مذمت کی ہے۔
استفتاء کا متن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سماحۃ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای الحسینی دام ظلہ الوارف
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امتِ مسلمہ ایک ایسے فکری بحران سے گزر رہی ہے جو اسلامی مسالک کے پیروکاروں کے درمیان فتنہ و فساد پیدا کر رہا ہے، اور مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی ترجیحات کو نظر انداز کر رہا ہے، جس سے داخلی فتنے اور حساس و فیصلہ کن مسائل میں اسلامی کوششیں منتشر ہو رہی ہیں، اور فلسطین، لبنان، عراق، ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ممالک میں امتِ مسلمہ کے فرزندوں کی حاصل کردہ کامیابیوں سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ اس انتہا پسندانہ فکر کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ بار بار اور دانستہ طور پر اہلِ سنت کے محترم پیروکاروں کی علامتوں اور مقدسات کی توہین پر اکسایا جاتا ہے۔
فروغی سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ پر بعض نام نہاد اہلِ علم کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ کی کھلی توہین، ان کی تذلیل اور ایسے فحش اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال، اور ان پر ایسی باتوں کا الزام لگانا جو ازواجِ نبی، امہات المؤمنین رضوان اللہ تعالی علیہن کی عزت و آبرو کو مجروح کرتی ہوں، اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
لہٰذا ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ شرعی موقف کو واضح طور پر بیان فرمائیں، کیونکہ ان توہین آمیز باتوں نے اسلامی معاشرے میں اضطراب پیدا کیا ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں اور دیگر اسلامی مسالک کے مسلمانوں کے درمیان نفسیاتی تناؤ کی کیفیت پیدا کر دی ہے، اور واضح رہے کہ ان توہین آمیز باتوں کو بعض بدنیتی پر مبنی افراد اور فتنہ پرور عناصر نے بعض سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ پر منظم طریقے سے اسلامی ماحول کو خراب کرنے اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
آخر میں، آپ اسلام اور مسلمانوں کے لیے عزت اور ذخیرہ بنے رہیں۔
دستخط
علماء اور دانشور الاحساء کا ایک گروہ
4 شوال 1431 ہجری
حد سے تجاوز کی معاشرتی روایات اور اسلامی تعلیمات
مولانا مفتی محمد
مولانا مفتی طارق مسعود
سارا فساد شریعت کی تعلیمات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہ الکریم اما بعد۔
ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے بلوچستان میں، اور اس طرح کے واقعات صرف بلوچستان میں نہیں، خیبرپختونخوا میں، پنجاب میں، سندھ میں ہر جگہ پیش آتے رہتے ہیں، وقتاً فوقتاً پیش آتے ہیں کہ کوئی جوڑا اگر پسند کی شادی کر لیتا ہے تو دونوں کو یا کم از کم لڑکی والے اپنی لڑکی کو قتل کر دیتے ہیں۔ تو اسی طرح کا یہ واقعہ پیش آیا کہ لڑکی کے ہاتھ میں پہلے قرآن ہے، وہ قرآن اس سے چھینا گیا، اور اسے دیوار کی طرف چلایا گیا، ایک خاص جگہ کھڑا کیا گیا، آس پاس چند گاڑیاں ہیں، کچھ لوگ اسلحہ بردار موجود ہیں، اور اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔
تو یہ دلخراش واقعہ ہمارے معاشرے کا وہ ایک المناک رخ ہے کہ جس پر آدمی کو شرم آتی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے دین کی تعلیمات بڑی پاکیزہ، بڑی عمدہ، بڑی پیاری تعلیمات ہیں۔ اگر والدین اور اولاد دونوں ان تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر اس طرح کے معاملات نمٹائیں شادی بیاہ کے، نکاح کے، تو کسی قسم کی الجھن پیدا نہ ہو۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلہ میں فریقین افراط و تفریط کا شکار ہیں۔
اولاد بعض اوقات سکول کالج کے ماحول میں، یا ویسے بے پردگی اور عریانی کے ماحول میں وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں، جو چند روزہ ہوتی ہے اور اس کے بعد پھر ختم ہو جاتی ہے، اور وہ لڑکی کسی غلط جگہ پھنس جاتی ہے اور اس کے بعد اس کے لیے نہ واپسی کا راستہ ہوتا ہے، نہ شوہر اس کو صحیح طریقے سے رکھ رہا ہوتا ہے، وہ اس پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے، لیکن لڑکی مجبور ہوتی ہے، کئی دفعہ خودکشی تک کے واقعات پیش آتے ہیں۔ تو اولاد کو اپنے والدین پر اعتماد کرنا چاہیے نکاح اور رشتہ کے سلسلہ میں۔ والدین کا تجربہ ہوتا ہے، والدین اپنی اولاد کے لیے خیرخواہ ہوتے ہیں، اور ان کے مشورے سے ہی اس طرح کے امور طے ہونے چاہئیں، اسی میں اولاد کا فائدہ ہے۔
البتہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ لڑکی یا لڑکے کی عمر زیادہ ہو رہی ہوتی ہے اور والدین اپنی خودساختہ شرطوں میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں، یا برادری ازم میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں، اور کتنا معقول رشتہ لڑکا یا لڑکی بتا رہی ہو کہ فلاں جگہ مجھے شادی کرنی ہے، لڑکا پڑھا لکھا ہے، لڑکا دیندار ہے، سیرت اور کردار والا ہے، خوش اخلاق ہے، اچھی کمائی کرتا ہے، لیکن چونکہ ہماری برادری کا نہیں ہے اس لیے ہم نہیں کریں گے۔ اور لڑکیاں بعض اوقات چالیس چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتی ہیں۔ اور اسی طرح یا جہیز اتنا نہیں دے سکتا، یا اس کے پاس ذاتی مکان نہیں ہے، یا فلاں فلاں چیزیں نہیں ہیں، تو اس لیے ہم رشتہ نہیں کر سکتے اور چالیس چالیس سال تک اپنی بیٹیوں کو بٹھائے رکھتے ہیں۔ وہ نفسیاتی مریضہ ہو جاتی ہیں، وہ بڑھاپے میں داخل ہو جاتی ہیں، اور وہ گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ تو یہ والدین کی طرف سے بھی بہت ہی زیادتی کا معاملہ ہوتا ہے۔
اگر لڑکی نے کوئی معقول رشتہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگرچہ لڑکے اور لڑکی کا خلوت میں بیٹھنا اور اس طرح نکاح کے بغیر دوستیاں لگانا، یہ ناجائز اور حرام ہے، حدیث میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہیں بیٹھتا مگر تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ اور جب عورت بے پردہ باہر نکلتی ہے تو ’’استشرفھا الشيطان‘‘ شیطان اس کی تاک میں رہتا ہے، لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تو یہ جو پردہ ہے، حیا ہے، یہ عورت کی حفاظت کے لیے ہے، عورت کی عزت کی حفاظت کے لیے ہے، اس پر اولاد کو عمل کرنا چاہیے، وہ اگر اس میں کوتاہی کریں گے تو گناہگار ہوں گے، اور اس طرح کے غلط رویوں کا نتیجہ بھی پھر غلط نکلتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود فقہ حنفی میں اگر بالغ لڑکا اور لڑکی آپس میں رضامندی سے نکاح کریں، اور نکاح کی شرائط موجود ہوں، دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو، تو ایسی صورت میں وہ نکاح باطل نہیں ہوتا۔ وہ نکاح، نکاح ہوتا ہے۔ اور ایسی صورت میں اس طرح کے کسی جوڑے کو قتل کرنے کا شریعت کا کوئی حکم نہیں ہے، یہ ظلم اور زیادتی ہے، یہ قتلِ عمد ہے۔ اس میں لوگوں کو اور دونوں فریقوں کو شریعت کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور اس طرح کا ظلم و ستم اب بند ہو جانا چاہیے۔
ریاست کہاں کھڑی ہے، جہاں اس طریقے سے لوگوں کو بے دردی سے سرِ عام ایک میدان میں ایک صحرا میں قتل کیا جا رہا ہے، یا کسی آبادی میں قتل کیا جا رہا ہے، بعض اوقات لوگ گھروں میں گھس کر ایسے جوڑے کو قتل کر دیتے ہیں، تو ریاست کو بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، وہ ایسے مجرموں کو پکڑیں اور قتلِ عمد کی سزا میں ان کو قتل کی سزا جاری کرے، تاکہ ہمارے ملک سے اس طرح کے جرائم کا خاتمہ ہو اور اس طرح کے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو۔
ہم سب کو اس طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور شریعت کی تعلیمات پر عمل کریں، یہ سارا فساد شریعت کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سب اگر شریعت کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو سب کا اس میں فائدہ ہے، دنیا میں بھی سکون ہے، آخرت کی زندگی بھی کامیابی والی زندگی ہو گی۔ اور اس کے بغیر ہمارے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے، آخرت میں بھی رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے پر رحم فرمائے، اور سب کو دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
فساد کے اِس دور میں بچوں کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں
سوال: ہمارے قاری صاحب ہمیں آنکھوں پہ پٹی باندھ کر قمیص اتار کر گیس کے پائپ سے مارتے تھے (اللہ ہدایت دے یار۔ مفتی صاحب) اب میں سوچتا ہوں تو غصہ بہت آتا ہے، کیا ان کے خلاف ذاتی کاروائی کر سکتا ہوں؟
جواب: اپنے قاری صاحب کے خلاف فی الحال تو کاروائی نہ کریں لیکن یہ تحقیق کریں کہ ابھی بھی اگر وہ یہ کام کر رہے ہیں دوسرے بچوں کے ساتھ تو پھر ان بچوں کے ماں باپ کو بتائیں کہ اِن کو سمجھائیں، نہیں سمجھاتے، ایف آئی آر کٹائیں، ویڈیو بنا کر تھانے میں جا کر ایف آئی آر کٹائیں۔
اسلام میں بڑوں سے زیادہ حقوق کس کے ہیں؟ بچوں کے۔ بچے کو صدقہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، آپ اندازہ لگا لو، کیونکہ اس کا مال ذاتی مال ہے، آپ اس سے صدقہ نہیں کروا سکتے، کیونکہ اس کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے، شریعت کہتی ہے بالغ ہو گا عقل ہو گی پھر مانیں گے، ابھی اسی کے لیے رکھے جائیں یہ پیسے۔ تو مارنے کی کہاں سے اجازت ہو گئی میرے بھائی؟ اور درندوں کی طرح بعض قاری لوگ کوٹتے ہیں۔
تو اس لیے مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ قاری بچوں کو مار سکتا ہے؟ میں جواب میں کہتا ہوں اس زمانے میں مارنا تو دور کی بات، کسی قاری کو استاذ کو، چھوٹے بچے کی بات کر رہا ہوں، مارنا دور کی بات، ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ صرف سر پہ پیار کرے، بس۔ سر پہ ہاتھ رکھے، بس۔ باڈی کو بھی ٹچ کرنے کی اجازت نہیں ہے، یہ فساد کا دور ہے۔ تو کسی بھی مسجد میں مدرسے میں سکول میں کہیں بھی ایسا ہو رہا ہے کہ قاری صاحب بچے کو تھپڑ مار رہا ہے، ماں باپ بولیں بھئی آپ کو پرمیشن نہیں دی ہاتھ لگانے کی۔ ٹھیک ہے وہ اب فتویٰ لائیں گے جائز ہے، میں ان فتووں میں نہیں پڑ رہا، میں بات کر رہا ہوں کس کی؟ اس زمانے کی۔ قطعاً اجازت نہیں ہے، کیونکہ اس کی کوئی لمٹ نہیں ہے، آپ نے ایک تھپڑ کی اجازت دے دی، وہ دو چار دس، کوٹتا ہے، وہ اپنی ٹھرک نکالتا (ہے)، ہاتھ پاؤں ٹوٹتے ہوئے دیکھے ہیں میں نے قاریوں کے ہاتھوں بچوں کے۔
ایک بچے سے میں ملا، سنتا ہی نہیں ہے، بڑا ہو گیا ہے اب تو، شادی ہو گئی، اس کے بچے ہو گئے، سنتا ہی نہیں ہے۔ میں نے کہا، کیا ہوا، سماعت کیوں کمزور ہے؟ کہہ رہے ہیں، قاری نے ایک تھپڑ مارا تھا اتنی زور سے، کانوں کی سماعت چلی گئی۔ تو اس لیے۔
سارے قاری ایسے نہیں ہوتے، ہم نے بھی قاریوں سے پڑھا ہے، اللہ کا شکر ہے کبھی نہیں تھپڑ مارا۔ میں نے جس مدرسے میں پڑھا ہے، کبھی نہیں مار پڑی۔ صرف ایک دفعہ پڑی تھی، مجھے آٹھ سال میں ایک تھپڑ پڑا تھا، اتنا تو حق بنتا ہے، وہ تو دو چار پڑتے، ہم تو اور۔ ہمیں تو خوشی ہوتی تھی ہمارے استاذ ماریں، کیوں؟ ہمارے استاذ ہی اتنے نرم دل ہمیں ملے، اتنے پیارے پیارے سویٹ سویٹ سے استاذ تھے کہ وہ تو ہمیں مارتے تو ہمیں خوشی ہوتی یار اس سے فائدہ بھی تو ہوتا ہے نا۔ لیکن ایسے استاذ مارکیٹ میں بھی تو شارٹ چل رہے ہیں۔ تو مجھے ایک تھپڑ پڑا ہے، طالب علمی، مدرسے کی بات کر رہا ہوں۔ استاذ بھی پٹھان، پٹھان ٹیچر تھے، بڑے سخت تھے، پورے دورہ حدیث تک انہوں نے ایک تھپڑ مارا، وہ بھی گردن پہ۔ وہ بھی کیسے مارا؟ دورہ حدیث کا پرچہ، دورہ حدیث نہیں، اس سے پہلے جو موقوف علیہ ہوتا ہے، میں ایسے تیاری کر رہا ہوں رات کو حاشیے دیکھ رہا ہوں، صبح پیپر ہے، ایک دم ایک غیبی آواز آئی نا، تو مجھے لگا، پہلے میں سمجھا کوئی فرشتوں کی آواز ہے کہیں سے، پھر مجھے لگا کہ کچھ محسوس سا ہوا یہاں (گردن) پر۔ لیکن تکلیف بعد میں ہوتی ہے، سنتا پہلے ہے۔ تکلیف کی سپیڈ سے آواز کی سپیڈ تیز ہے۔ تو مجھے یہ بھی اندازہ ہو گیا اس دن کہ تکلیف محسوس کرنے کی سپیڈ سے جو آواز کی سپیڈ ہے، دیکھو سائنسدان اسی طرح تو فارمولے نکالتے ہیں۔ تو میں نے دیکھا یہ ہوا کیا ہے؟ تو میرے استاذ کھڑے ہوئے تھے، انہوں نے گردن پہ ایک رکھ کے لگایا۔ انہوں نے کہا پورے سال تمیز سے محنت کرتے نا تو اس وقت ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے نہیں (ہوتے)۔ انہوں نے دیکھا نا کہ۔ ہمیں ذرا بھی نہیں دل میں، ہمیں تو خوشی ہوتی تھی یار ہم ویسے کہاں سے بخشے جائیں گے بھئی۔ تھوڑا سا استاذوں سے پٹ جائیں تو شاید اللہ بخشش کر دے۔ تو ہمیں تو خوشی ہوئی، بس وہ ایک لگا تھا۔
اور ایک سزا ملی ہے مجھے دورہ حدیث میں۔ دورہ حدیث میں آدمی پورا مولانا بن چکا ہوتا ہے۔ ہو یہ رہا تھا کہ ہم رات کو مطالعہ کرتے تھے، صبح کوئی طالب علم کتاب اٹھا کر کہیں اور رکھ دیتا تھا، وہ صفائی والا۔ کتاب ہی نہیں ملتی تھی، دو چار دفعہ ایسا ہوا، سبق میں بیٹھے ہوئے ہیں، کتاب ہی نہیں ہے۔ وہ کتاب صفائی والا پتہ نہیں کہاں رکھ دیتا تھا۔ تو ہم چار طالب علم تھے دورہ حدیث میں، چاروں کے پاس کتاب نہیں ہے۔ تو ہمارے استاذ نے دو دن تین دن تنبیہ کی، اس کے بعد ہم چاروں کو مرغا بنا دیا۔ اب اچھے بھلے بڑے مرغے تھے۔ ہم چاروں بنے ہوئے ہیں مرغا۔ بس، تھوڑی دیر بنائے رکھا، پھر ڈانٹا، بولے انسان کے بچے بنو، کتاب، تو پھر ہم کتاب لا کر بیٹھتے تھے، بس۔
اور ایک اور یاد آ گئی مجھے ایک سزا۔ وہ سزا یہ تھی کہ، روزانہ میرا واش روم کا ٹائم اس وقت تھا جب کلاس شروع ہوتی تھی۔ ایک دن دو دن ہو گئے استاذ نے دیکھا روز لیٹ آ رہا ہے، میرا ٹائم، سیٹنگ ہی ایسی ہو گئی تھی۔ تو مجھے استاذ نے تھوڑی دیر کھڑا رکھا کہ آپ کو اب آنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ وہ بھی پٹھان استاذ تھے۔ بس اتنا۔ پھر بھی ہم ٹوٹا پھوٹا پڑھ ہی لیے نا یار۔ خوامخواہ میں جنگلیوں کی طرح کوٹنا پیٹنا مارنا، اس سے بچے کے اخلاق خراب ہوتے ہیں۔
اور ایک اور واقعہ میں بار بار سناتا ہوں، یہ بعض ٹیچر اور استاذ کہتے ہیں کہ بچے مار کے بغیر پڑھتے نہیں ہیں۔ یہ بھی ہنڈرڈ پرسنٹ غلط ہے۔ ایک مدرسے میں، میں نے چند دنوں کے لیے پڑھایا، بلکہ چند دن نہیں چھ سات مہینے کے لیے پڑھایا۔ میرے پاس پچاس بچے تھے چھوٹے چھوٹے پدے پدے، اتنے اتنے سے۔ یعنی ایک کلاس کے دو حصے تھے، سیکشن اے سیکشن بی ہوتا ہے نا، تو پچاس بچے میرے پاس، پچاس بچے اسی کلاس کے سامنے ٹیچر کے پاس۔ اور کتابیں دونوں کی سیم (same)۔ میں نے چھ سات مہینے میں نہ کسی کو تھپڑ مارا ہو گا، نہ کسی کو ڈانٹا ہو گا، مزے سے گپ شپ لگا کے لطیفے سنا سنا کے ان کو میں نے پڑھا دیا۔ سامنے ٹیچر، روزانہ بچے پٹ بھی رہے ہیں، کوئی مرغا بنا ہوا ہے، کوئی ایک ٹانگ پہ، کوئی ہیلی کاپٹر، کوئی بغیر کرسی کے بیٹھا ہوا ہے، سمجھ رہے ہیں؟ اور میرے بچوں کا رزلٹ بھی وہی جو ان کے بچوں کا رزلٹ۔
میں نے کہا، الگ الگ بھی مدرسہ بھی ہوتا نا، میں کہتا اس مدرسے کے بچے نالائق ہیں۔ یا الگ الگ کلاسیں ہوتیں، یا الگ الگ کتابیں ہوتیں تو کوئی کہہ سکتا تھا بھئی وہ کتاب ایسی ہے جو مار کے بغیر نہیں پڑھائی جا سکتی، اور یہ کتاب ایسی ہے جو مار کے بغیر پڑھائی جا سکتی ہے۔ میں نے کہا، میرا ایمان اور مضبوط ہو گیا، یہ جو کہتے ہیں نا مار کے بغیر بچے پڑھتے نہیں ہیں، یہ ان کی اپنی ٹھرک ہوتی ہے، گھر میں بیوی کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوتا ہے، مسائل ہوتے ہیں، یا یہ خود اتنے پٹے ہوتے ہیں بچپن میں، کہ وہ پٹائی آگے پارسل کر رہے ہوتے ہیں۔
تو ہم نے تو پڑھایا ہے بھئی، ایسے بچے، چٹکلے سناتا تھا، ہنستے تھے، پھر پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ بچوں کو بچوں کے سٹائل میں پڑھانا پڑتا ہے۔ میں ترنم سے پڑھاتا تھا بچوں کو۔ ترنم سے، ایسی سر لگا کر، لے لگا کر، بچے بھی وہی لے میں یاد کرتے تھے۔ تو آپ کی اپنی بد اخلاقی ہوتی ہے، آپ کی اپنی ٹھرک ہوتی ہے، آپ سمجھتے ہو کہ بچے مار کے بغیر پڑھیں گے نہیں۔ بچے پہ ہاتھ اٹھایا اگر آپ نے، بچہ معاف بھی کرے گا تو وہ معاف۔ دیکھو بڑے کو آپ نے تھپڑ مار دیا نا، آپ نے سوری کی، اس نے کہا میں نے معاف کیا، اللہ کیا کر دے گا؟ معاف۔ لیکن آپ نے بچے کو مارا نا، بچہ سو دفعہ کہے میں نے معاف کیا، اللہ کہتا ہے بچے کی معافی کا شریعت میں اعتبار نہیں ہے۔ ہے ہی نہیں اعتبار۔
اس لیے بچے کے حقوق بہت زیادہ ہیں بھئی! بچے پہ صرف ماں باپ ہاتھ اٹھا سکتے ہیں، اور ماں باپ کی پرمیشن سے جو ان کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو خاندان کے بڑے ہوتے ہیں، باقی کوئی بھی بچے پہ ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔
مولانا محمد فاروق شاہین: ایک ہمہ جہت شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق
مولانا حافظ عزیز احمد
تقریظ ہمدم عمرؓ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم اما بعد۔
زیر نظر کتاب ’’ہمدم عمرؓ‘‘ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد امیر المؤمنین سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ پر لکھی جانے والی پہلی غیر منقوط کتاب ہے جو کہ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم کے استاذ الحدیث برادرم حضرت مولانا محمد فاروق شاہین صاحب مدظلہ کے منفرد علمی ذوق کا مظہر اور حضرات خلفائے راشدینؓ سے والہانہ عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قبل ازیں وہ خلیفہ اول بلا فصل سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ پر ’’ہمدم مکرمؓ‘‘ کے نام سے پہلی غیر منقوط کتاب تحریر کرنے کی سعادت بھی حاصل کر چکے ہیں۔
مولانا موصوف کا شمار جامعہ کے ان قابلِ فخر فضلاء میں ہوتا ہے جن میں اپنے اکابرین بالخصوص قائد اہلِ سنت وکیلِ صحابہؓ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ اور فخرِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب جہلمیؒ کی تعلیمات اور تربیت کا اثر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اور ان اکابرین کے فیض یافتگان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ یہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہؓ اور اہلِ بیت بالخصوص حضرات خلفائے راشدینؓ کی سچی محبت و عقیدت سے سرشار ہوتے ہیں، ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
رب تعالیٰ مولانا موصوف کی اس عظیم علمی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطاء فرمائیں اور ان کی زندگی و صحت میں، علم و عمل میں، تقویٰ اور اخلاص میں مزید برکت عطاء فرمائیں۔ آمین بجاہ النبی الکریمؐ۔
خادم اہلسنت والجماعت، قاری محمد ابوبکر صدیق غفرلہ
۱۵ ذی الحجہ ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات بمطابق ۱۲ جون ۲۰۲۵ء
مولانا محمد فاروق شاہین: ایک ہمہ جہت شخصیت
دینی و علمی شخصیات کا تذکرہ محض سوانحی بیان نہیں، بلکہ اہلِ علم کے لیے رہنمائی، جذب و شوق کی بیداری اور اخلاصِ عمل کا آئینہ ہوتا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ کی حیات میں علم کی جستجو، عمل کی استقامت، اور خدمتِ دین کی وہ بے لوث روح پوشیدہ ہوتی ہے جسے دیکھ کر دلوں میں خیر کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ مولانا محمد فاروق شاہین صاحب بھی ان ہی باکمال شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہوں نے درس و تدریس، علم و ادب اور تصنیف و تالیف کے میدان میں ایک خاص مقام پیدا کیا۔ ان کا سفرِ حیات نہ صرف مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ ہے بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے بھی بصیرت کا سرمایہ ہے۔
نسب و مقامِ ولادت
ہزارہ کے سرسبز و شاداب پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد فاروق شاہین صاحب پنجاب کے تاریخی شہر جہلم کی قدیم و معروف دینی درسگاہ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام میں استاذ الحدیث ہیں۔ آپ 11 دسمبر 1977ء کو اندر کوٹ دروازہ، ایبٹ آباد ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ محترم کا نام "محمد اذان عباسی" ہے جو ایک عرصہ تک چئیر لفٹ ایوبیہ میں سپروائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
ابتدائی عصری تعلیم
آپ نے عصری تعلیم کا آغاز گورنمنٹ پرائمری سکول خانس پور ایوبیہ سے کیا۔ مڈل گورنمنٹ مسلم ہائی سکول بنی چوک راولپنڈی سے پاس کی، جبکہ میٹرک تک کی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول خانس پور ایوبیہ سے مکمل فرمائی۔
ناظرہ و حفظ قرآن مجید
1989ء میں آپ کا تعلق دارالعلوم فیض القرآن عیدگاہ روڈ راولپنڈی سے قائم ہو گیا۔ یہاں رہ کر آپ نے صرف ایک سال کی قلیل مدت میں قاری غلام یاسین رحمۃ اللہ علیہ (آف کوٹ گلہ تلہ گنگ) سے ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد قرآن حکیم کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کی آرزو لیے، قاری عابدالرشید صاحب کھوکھر کی نگرانی میں تقریباً ڈھائی سال کی پیہم ریاضت کے بعد حفظ قرآن مجید کا اعزاز پایا، جبکہ تجوید و قرأت کے فن میں کمال حاصل کرنے کے لیے قاری سلیم صاحب سے فیض حاصل کیا۔
دینی تعلیم کے حصول کے سلسلے میں جامعہ حنفیہ جہلم آمد
سن 1993ء میں دینی تعلیم کے حصول کی غرض سے آپ نے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں داخلہ لیا۔ ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث شریف تک کی تعلیم اسی مدرسے میں رہ کر مکمل ہوئی۔ آپ کے مشہور اساتذہ میں مولانا نور اشرف صاحب ہزاروی، شیخ الحدیث مدرسہ ہذا مولانا قاری ظفر اقبال صاحب مدظلہ، مناظر اعظم علامہ عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا منیر احمد منور مدظلہ اور مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (ظاہر پیر) کے نام نمایاں ہیں۔
دورانِ تعلیم اساتذہ و علوم کی تفصیل
دورانِ تعلیم درسِ نظامی کے نصاب میں، آپ نے مولانا نور اشرف ہزاروی سے صرف، تفسیر اور ابو داؤد شریف کا درس لیا۔ مولانا سعید احمد صاحب اٹکی سے نحو، معانی و بیان اور مشکوٰۃ شریف پڑھی۔ مولانا قاری ظفر اقبال صاحب میانوالوی سے منطق، اصولِ فقہ اور بخاری شریف، مولانا عبدالودود صاحب سے ترمذی، اور مولانا سلطان صاحب کوہستانی سے مسلم شریف کی تعلیم حاصل کی۔ فقہ کے دقیق علوم کی تحصیل کے لیے آپ نے مولانا رانا احمد خان صاحب سرگودھوی اور مولانا عبد الودود صاحب ہزاروی کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کیا۔
درس و تدریس کا آغاز
2002ء میں درسِ نظامی کی رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد اگلے سال 2003ء میں اپنے مادرِ علمی جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم ہی سے تدریس کا آغاز کیا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں درسِ نظامی کی متعدد چھوٹی بڑی کتب آپ کے زیرِ تدریس رہیں، جس سے سیکڑوں طلبہ مستفید ہوئے۔ اس سال بھی نحومیر، شرح تہذیب، توضیح تلویح، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور شمائل ترمذی کے اسباق آپ سے متعلق ہیں۔
تحصیل علم کا تسلسل
راقم الحروف کو سن 2011ء میں مولانا محمد فاروق شاہین صاحب سے "شرح تہذیب" پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس وقت ان کا ایک جملہ، جو انہوں نے ہمیں بطور نصیحت فرمایا تھا، مجھے اب بھی یاد ہے: "علماء کی حصولِ علم سے فراغت دراصل تکمیلِ علومِ دین نہیں بلکہ آغازِ علومِ دین ہے"۔ آپ مزید فرماتے تھے کہ "درسِ نظامی کا یہ کورس تو محض ایک چابی ہے جس سے علوم کے دروازے کھلتے ہیں، یہ تکمیل ہرگز نہیں"۔ یہ نصیحت صرف علماء کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ آپ نے خود اس پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ چنانچہ، اگرچہ مولانا موصوف نے 2002ء میں سندِ فراغت حاصل کرکے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کر لی تھی، تاہم آپ نے حصولِ علمِ دین کو کبھی ترک نہیں کیا۔ آپ نے اس سلسلے میں در در کی خاک چھانی اور تاحال آپ کی جہدوجہد جاری ہے۔ آپ کچھ عرصہ دارالمبلغین، نواں شہر ملتان میں بھی مقیم رہے، جہاں آپ نے علامہ عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالغفار تونسوی مدظلہ العالی، مولانا منیر احمد منور اور مولانا بشیر احمد الحسینی (شور کوٹ والے) سے علمِ جدل و مناظرہ کے مختلف اسباق پڑھے۔اسی تسلسل میں، آپ نے محترم مولانا مفتی انور غازی صاحب مدظلہ سے صحافت اور مضمون نگاری کا علم بھی حاصل کیا۔
تخصصات کی تفصیل
2004ء کی سالانہ تعطیلات میں آپ نے جامعہ حقانیہ ساہیوال سے ممتاز اساتذہ مفتی سید عبد القدوس صاحب ترمذی اور مفتی محمد اعظم صاحب ہاشمی (فیصل آبادی) کی نگرانی میں تخصص فی الفقہ کیا۔ تخصص فی علم المیراث کی تعلیم اپنے استاذ مولانا محمد سعید صاحب اٹکی سے حاصل کی۔
تصوف و سلوک
تصوف و سلوک میں آپ نے پہلی بیعت قائد اہل سنت وکیل صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمۃ اللہ علیہ تلمیذ و خلیفہ مجاز حضرت مدنی قدس سرہ سے کی۔ 2004ء میں جب آپ کا وصال ہو گیا تو اس کے بعد آپ نے خلیفہ مجاز حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب سومرو سے اپنا روحانی تعلق قائم کیا۔
اخلاق و مزاج
آپ نہایت خوش مزاج، کریمانہ اخلاق اور صاف ستھرے کردار کے پیکر ہیں، طبیعت میں بے حد تواضع و انکساری پائی جاتی ہے۔ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا شخص، خواہ کتنا ہی وقت گزار لے، ان کے اندر تکبر یا بڑائی کا ذرہ برابر بھی شائبہ محسوس نہیں کرتا۔
نام کی تبدیلی
آپ کا پیدائشی نام محمد شاہین تھا، مگر بانی تحریک خدامِ اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسین نے اس نام میں تبدیلی کا حکم دے کر دو نام تجویز فرمائے: محمد فاروق اور فاروق احمد۔ بانیِ مدرسہ ہذا مولانا قاضی عبد اللطیف جہلمی (خلیفۂ مجاز حضرت لاہوری) نے پہلے نام کو منتخب فرما کر آپ کا نام "محمد فاروق" رکھ دیا۔ بعد ازاں، حضرت جہلمی کے جانشین صاحبزادہ مولانا قاری خبیب احمد عمر نے اس میں مزید تبدیلی کے ساتھ آپ کا نام "محمد فاروق شاہین" کر دیا، اور اب یہی نام آپ کی پہچان بن چکا ہے۔
درسِ قرآن و حدیث اور فتویٰ نویسی
جہلم شہر کی مرکزی جامع مسجد گنبد والی میں آپ عرصہ دراز سے روزانہ فجر کی نماز کے بعد درسِ حدیث جبکہ عشاء کی نماز کے بعد درسِ قرآن دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اب مفتی محمد شریف صاحب مدظلہ، جو پہلے اس مرکزی جامع مسجد سے ملحقہ دارالافتا میں لوگوں کو مسائل کا حل بتاتے اور فتویٰ دیتے تھے اور جو مجاہدِ اہلِ سنت مولانا قاضی عبداللطیف جہلمی کے پرانے رفیق ہیں، کی ضعیف العمری کے باعث دارالافتا کی تمام ذمہ داریاں بھی حضرت مفتی صاحب ہی کی نگرانی میں مولانا محمد فاروق شاہین صاحب کو سونپ دی گئی ہیں۔
خطابت کی خدمات
2004ء میں آپ جامع مسجد عمر (مشین محلہ نمبر 3) میں خطیب مقرر ہوئے، جسے آپ نے کم و بیش پندرہ برس بحسن خوبی انجام دیا۔ 2021ء میں آپ جہلم شہر سے کچھ فاصلے پر راولپنڈی جی ٹی روڈ پر واقع علی جامع مسجد سٹی ہاؤسنگ راٹھیاں جہلم میں منصبِ خطابت پر فائز ہوئے اور تاحال یہ خدمت وہیں انجام دے رہے ہیں۔
تصنیفی خدمات
آپ تدریسی ذوق کے ساتھ ساتھ خارجی کتب کے وسیع اور گہرے مطالعے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ اسی وُسعتِ نظر اور غور و خوض کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے منفرد کام کی توفیق بخشی جو اردو ادب میں یکتائے زمانہ کہلانے کا مستحق ہے۔ اِس وقت آپ کی دو ایسی تالیفات منظرِ عام پر آ چکی ہیں جو صرف عنوان ہی کے اعتبار سے نہیں، بلکہ اپنے اسلوبِ تحریر اور فنی ترتیب کی بنا پر بھی اہلِ علم کے لیے باعثِ حیرت و تحسین ہیں۔ ان میں پہلی کتاب "ہمدم مکرم" ہے، جو یارِ غار و مزار، خلیفۂ بلا فصل، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں بے نقط زبان میں تحریر کی گئی ہے۔ اس نادر اسلوب کی جھلک دیکھنے کے لیے یہ اقتباس پڑھیں:
ہمدم مکرم اور علمائے اسلام کا کلام
"علمائے اسلام سے مروی ہے کہ ہمدم مکرم، دور موسوی کے مرد مسلم سے اس لئے اولیٰ ہے کہ وہ موسی رسول اللہ صلی اللہ علی روحہ وسلم کا کلامی حامی رہا؛ مگر ہمدم مکرم کا حوصلہ ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کا روح و دل سے ممد رہا اور دامی درمی، کلامی، عملی ہر طرح سے مددگار اور حامئ رسول رہا۔ سرّہ اللہ۔" (ہمدم مکرم، صفحہ 42)
ہمدم عمر سرّہ اور مکے والوں کا سردار
دوسری کتاب "ہمدم عمر" ہے، جو خلیفۂ دوم، فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ اور سیرت پر اسی فنی اسلوب میں مرتب کی گئی ہے۔لیجیے اس کتاب سے بھی ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
"سرکار دو عالم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کو اطلاع ہوئی کہ اہل مکہ معاہدہ صلح کے مکسّر اور اس سے روگرداں ہو گئے ادھر اس معاہدہ صلح کو ٹکڑے کر کے اہل مکہ سرگرداں اور ڈرے سہمے رہے کہ اہل اسلام کسی لمحے مکہ مکرمہ دھاوا آور ہوں گے اس لئے رائے دی گئی کہ اس حال کے سدھار کے لئے کہ مکّہ والوں کا سردار معمورہ رسول راہی ہو اور معاہدہ کو سرے سے کر کے لوٹے گمراہوں کا سردار اس ارادے سے مکہ مکرمہ سے راہی ہوا معمورہ رسول آ کر اولاً رسول اللہ صلی اللہ علی رسولہ وسلم سے ملا اور صلح کے واسطے سے کلام کی مگر رسول اکرم صلی اللہ علی رسولہ وسلم کے کلام و عمل سے اسے معلوم ہوا کہ صلح کا معاملہ اعسر و محال ہے وہاں سے اٹھ کر ہمدم مکرم سرّہ اللہ سے آ کر ملا مگر وہ اس کی مدد سے دور رہے ہمدم عمر اور ہمدم علی کرّمہ اللہ کے ہاں وارد ہوا اور دوڑ، سعی کی ہر دو کے واسطے سے معاہدہ صلح سرے سے طے ہو مگر وہ ہر دو اس کی امداد سے الگ رہے مروی ہے کہ ہمدم عمر سرّہ اللہ آگے ہوئے اور کہا عمر گوارا کر سکے گا کہ رسول اکرم صلی اللہ علی رسولہ وسلم سے کہے اے رسول اکرم صلی اللہ علی رسولہ وسلم اہل مکہ سے ملائمی و رحم کرو واللہ اگر اہل اسلام کو لکڑی کے ٹکڑوں کے سوا کوئی اور اسلحہ ہی ملے گا اسی کو لے کر مکّہ والوں سے لڑائی کے لئے ہماری آمادگی اور سعی ہو گی، اس سے سردار مکہ کو محسوس ہوا کہ معاہدہ صلح کی راہ مسدود ہے سو وہ معمورہ رسول سے،،دل مسوس کرکے ،، محروم ہی لوٹا۔" (ہمدم عمر، صفحہ 76)
اگر غور کیا جائے تو یہ کام محض ایک ادبی چیلنج نہیں، بلکہ ایک علمی مشقت، لسانی مہارت، اور فکری ریاضت کا امتزاج ہے۔ اردو کے کل چھتیس حروفِ تہجی میں سے اکیس غیر منقوط حروف کو بروئے کار لاتے ہوئے 256 صفحات کی مکمل، ہم آہنگ اور مربوط المعانی کتب تحریر کرنا عام اہلِ قلم کے بس کی بات نہیں۔ یہ کارنامہ نہ صرف نثرنگاری میں انفرادیت رکھتا ہے بلکہ اردو ادب کی اس صنف میں ایک نئی راہ کھولنے کے مترادف ہے۔ مولانا محمد فاروق شاہین صاحب نے بے نقط نثر میں جس روانی، معنویت اور فکری گیرائی کا ثبوت دیا ہے، وہ ان کے عالی ذہن اور زبان پر عبور کی گواہی دیتا ہے۔ یہ تصانیف اس وقت علمی حلقوں میں نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہیں بلکہ آئندہ اردو ادب کی فہرستِ نایاب میں ایک دلکش اضافہ ثابت ہوں گی۔ یقیناً جب بھی اردو ادب میں بے نقط نثر کا تذکرہ ہو گا، مولانا محمد فاروق شاہین کا نام اس فن کے نمائندہ اور نمایاں خدمت گار کے طور پر سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ مولانا موصوف کی علمی کاوشیں، تدریسی وابستگی، اور ادبِ اسلامی میں بے نقط تصانیف جیسے کارنامے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض ایک مدرس یا خطیب نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عالمِ دین ہیں۔ اُن کی زندگی میں علم و عمل، ادب و اخلاق، تواضع و وقار اور دینی غیرت کی حسین آمیزش ہے۔ خاص طور پر اُن کی تصانیف "ہمدم مکرم" اور "ہمدم عمر" نہ صرف اردو نثر کا نادر نمونہ ہیں بلکہ اسلامی سیرت نگاری میں بھی ایک نیا باب ہیں۔ ایسے علماء کی زندگیوں سے روشنی لینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسلیں شخصیت سازی، علمی محنت، اور دینی وفا شعاری کے اصل معانی سے واقف ہو سکیں۔ بلاشبہ مولانا موصوف کا یہ علمی و فکری سفر ابھی جاری ہے، اور آنے والے وقت میں ان سے مزید گراں قدر خدمات کی امید کی جا سکتی ہے۔
نوٹ: یہ دونوں غیر منقوط کتابیں حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبرز پر رابطہ کریں:
3075813350
0544277828
جمعہ کے دن خرید و فروخت اور ہفتہ وار تعطیل کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ
یہاں دو مسئلے الگ الگ ہیں، بسا اوقات دونوں میں خلط ملط ہونے کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں:
- ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ کیا جمعہ کے دن حلال کاروبار کرنا جائز ہے یا ناجائز۔
- اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کی مروجہ ہفتہ وار سرکاری وغیر سرکاری سطح پر عام تعطیل کا انتظامی نظم جمعہ کے دن طے کیا جائے یا اتوار کو یا کسی اور دن۔
جمعہ کے دن خرید و فروخت کا حکم
پہلے مسئلے کا جواب واضح ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جمعہ یا کسی بھی دن حلال اور جائز کاروبار کرنے سے منع نہیں کیا، جب تک کہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آئے، چنانچہ جس طرح دوسرے دنوں میں شرعی احکام کو اپنے اپنے مقام پر بجا لاتے ہوئے کاروبار کرنا جائز ہے، اسی طرح جمعہ کے دن بھی جائز ہے۔
البتہ جہاں جمعہ کی نماز قائم ہوتی ہے، وہاں جمعہ کی نماز کی اذان ہونے پر خرید و فروخت، بلکہ ہر وہ چیز ممنوع ہو جاتی ہے، جو جمعہ کی نماز کی تیاری میں داخل نہ ہو اور وہ خطبہ اور جمعہ کی نماز کی حاضری میں مخل ہو۔ اور اس کا صحیح انتظام جب ہو سکتا ہے کہ جب بازار اور دکانیں بند کر دی جائیں، کیونکہ اس طرح کرنے میں خریداری خودبخود بند ہو جائے گی، وجہ اس کی یہ ہے کہ گاہکوں اور خریداروں کا تو کوئی حد شمار نہیں ہوتا، ان سب کے روکنے کا انتظام آسان نہیں، لیکن فروخت کرنے والے دکاندار افراد خریداروں کے مقابلے میں محدود ہوتے ہیں، ان کو اشیا کے فروخت سے روک دیا جائے تو باقی سب خریداری سے خود رک جائیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں ’’وذرو البيع‘‘ یعنی ’’تم فروخت چھوڑ دو‘‘ میں صرف بیع چھوڑ دینے کے حکم پر اکتفا فرمایا، تاکہ فروخت کرنے والوں کے کاروبار بند کرنے سے خریداری خودبخود بند ہو جائے۔
پھر جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو جائیں، اس کے بعد پھر سے کاروباری مشاغل کو اللہ تعالیٰ نے جائز قرار دیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ:
یآیہا الذین آمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الیٰ ذکر اللہ وذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔ فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون۔ (سورۃ الجمعۃ الآیۃ ۹)
ترجمہ: اے ایمان والو! جب ندا دی جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن کی تو تم سعی کرو اللہ کے ذکر کی طرف اور چھوڑ دو بیع کو، یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم رکھتے ہو علم، پھر جب پوری ہو چکے نماز تو تم منتشر ہو جاؤ زمین میں اور تلاش کر و اللہ کے فضل (یعنی روزی) کو اور ذکر کرو اللہ کا کثرت سے، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کی طرف سے انفرادی طور پر جمعہ کے دن اذان سے نمازِ جمعہ ختم ہونے تک خرید و فروخت ممنوع نہیں ہے۔
ہفتہ وار سرکاری و غیر سرکاری عام تعطیل
جہاں تک دوسرے مسئلہ کا تعلق ہے کہ آج کل کی مروجہ ہفتہ وار سرکاری و غیر سرکاری سطح پر عام تعطیل کا انتظامی نظم جمعہ کے دن طے کیا جائے یا اتوار کو یا کسی اور دن؟
تو اگرچہ شریعت نے ہفتہ وار چھٹی کو فرض اور واجب وغیرہ قرار نہیں دیا کہ اگر کوئی ہفتہ وار چھٹی نہ کرے تو وہ گناہ گار ہو، اس لیے فی نفسہ شرعاً ہفتہ کے تمام دنوں میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا جائز ہے۔
اور اسی وجہ سے اگر کسی ملک یا علاقہ میں ہفتہ میں سے کسی ایک دن بھی چھٹی کا نظم یا قانون نہ ہو تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر ہفتہ وار چھٹی کا نظم بنایا جائے اور کسی وجہ سے اس کی ضرورت سمجھی جائے تو مسلمانوں کو ہفتہ وار عام تعطیل اور چھٹی کا جمعہ کے دن کر نا چند وجوہات کی بنا پر مستحب اور افضل ہے۔ اور وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) جمعہ کا دن اس امت کے لیے خاص عبادت کا دن ہے، جو اس امت کو بطورِ خاص عطا ہوا ہے (جیسا کہ پہلے تفصیلاً ذکر ہو چکا ہے) لہٰذا اس دن میں دنیاوی مشغولیات کم کر کے عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرنا چاہیے اور اس دن میں ہفتہ وار تعطیل اور چھوٹی ہونے سے اس مقصد کو بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(۲) جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جانے کے احادیث میں بہت فضائل آئے ہیں اور ان فضائل کو حاصل کرنے کے لیے پہلے زمانے میں بہت سے حضرات صبح سویرے جامع مسجد پہنچ جایا کرتے تھے۔ اور احادیث میں بیان شدہ جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت کا پہلا درجہ صبح سورج طلوع ہونے پر شروع ہو جاتا ہے اور اس فضلیت کو حاصل کرنا کم از کم مستحب ہے۔ ظاہر ہے کہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے بھی صبح سے فراغت کی ضرورت ہو گی اور اس غرض کے لیے دوسرے مشاغل سے فارغ ہونا اور کاروباری چھٹی کرنا بھی مستحب ہوگا۔
(۳) جمعہ کے دن ایک گھڑی خاص قبولیت کی ہوتی ہے جس میں دعا قبول کی جاتی ہے اور یہ گھڑی کس وقت ہوتی ہے؟ اس بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، اگرچہ بعض حضرات کسی قول کو اور بعض نے دوسرے کسی قول کو ترجیح دی ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ تمام اقوال صبح سے لیکر سورج غروب ہونے کے وقت کے درمیان دائر ہیں۔ لہٰذا اس قبولیت کی گھڑی کو حاصل کرنے کے لیے بھی جمعہ کے دن کو دنیاوی مشغولیات سے فارغ رکھنے کی ضرورت ہوگی اور جمعہ کے دن تعطیل سے اس پر بآسانی عمل ہو سکتا ہے۔
(۴) جمعہ کے دن ہفتہ وار عام تعطیل ہونے میں اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت کا اظہار ہے، وہ اس طرح سے کہ دوسرے مذاہب والے اپنے خاص عبادت و تعظیم والے دنوں میں ہفتہ وار عام تعطیل کر کے اس دن کی شرافت و کرامت کا اظہار کرتے ہیں، جب مسلمان جمعہ کے دن یہ عمل کریں گے تو دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں جمعہ کے اس عظمت و فضیلت والے اسلامی دن کی کرامت و شرافت کا اظہار ہو گا اور جمعہ کے دن کے عبادت و فضیلت والا دن ہونے کی عملی طور پر تبلیغ ہوگی۔
(۵) بعض احادیث میں جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے، لہٰذا عید کے دن جس طرح چھٹی کو ترجیح دی جاتی ہے، اسی طرح یہ دن بھی چھٹی کا مستحق ہے۔ کئی احادیث میں جمعہ کے دن کے بارے میں عید کا دن ہونے کا ذکر آیا ہے۔
(۶) بطورِ خاص ہمارے ملک پاکستان کے آئین کا تقاضا یہ ہے کہ ہفتہ یا اتوار کے بجائے جمعہ کے دن کی عام تعطیل کا نظم ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان کے آئین میں یہ صاف ذکر ہے کہ: مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جو قرآن مجید اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں (’’تصورِ پاکستان بانیانِ پاکستان کی نظر میں‘‘ ۱۵۳)۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ دلائل کا تقاضا ہفتہ یا اتوار کے دن چھٹی کا نہیں، بلکہ جمعہ کے دن چھٹی کا ہے۔
(۷) تجارت اور کاروبار میں مشغولی کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مبتلا ہو کر انسان عموماً غافل ہو جاتا ہے اور مال و پیسہ کی کشش اس کو اپنے اندر ایسی منہمک کر دیتی ہے کہ اس کی وجہ سے جلدی جان نہیں چھوٹتی۔ تو اگر جمعہ کے دن کاروبار میں مشغولی رکھی جائے گی تو اس سے خطرہ ہے کہ جمعہ کی نماز تک یہ مشغولی جاری رہے اور جمعہ کی نماز کی سعی اور جمعہ کی نماز کے خطبہ کے حصول میں بھی خلل آئے (جیسا کہ آجکل مشاہدہ ہے) اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ شروع دن ہی سے دنیاوی مشغولیات موقوف رکھی جائیں اور اس دن تعطیل کی جائے۔
(۸) اسلاف اور متقدمین سے بھی جمعہ کے دن کی چھٹی کا معمول ثابت ہے اور ان کی اتباع مستحب ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر جمعہ کے دن چھٹی کرنا اور عبادت میں مشغول ہونا مستحب ہے۔ لیکن اگر کسی ملک و علاقہ میں اتوار کے روز چھٹی کا نظم ہو اور اس کی وجہ سے کسی کو اتوار کے دن چھٹی کرنی پڑے اور اس کی نیت اتوار کے دن کی تعظیم کی نہ ہو، بلکہ انتظامی مجبوری اور ضرورت ہو، تو ایسا شخص مجبور ہے اور وہ گناہ گار بھی نہیں ہے۔
اتوار کے دن بین الاقوامی کاروبار کا معاملہ
آج کل اتوار کے دن چھٹی کرنے کے خواہش مند حضرات میں سے بعض لوگ ملکی سطح پر اتوار کے دن چھٹی کرنے پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ اس دن عالمی منڈیاں خصوصاً مغربی ممالک کی مارکیٹیں بند رہتی ہیں، اس لیے بین الاقوامی سطح پر ان کے ساتھ اس دن کاروبار نہیں کیا جا سکتا اور اس کے برعکس جمعہ کے دن عالمی منڈیوں اور مارکیٹوں میں کاروبار جاری رہتا ہے، اس لیے اتوار کے بجائے جمعہ کے دن چھٹی کرنے میں ملک کو معاشی نقصان ہوتا ہے اور جمعہ کے بجائے اتوار کے دن چھٹی کرنے میں اس نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ
- اولاً تو ایک مسلمان اگر جمعہ کے دن کی چھٹی جمعہ کے دن عبادت اور اطاعت میں مشغولی کے باعث کرے اور اس دن میں عبادت و دعا وغیرہ میں مشغولی اختیار کرے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کو اتنا رزق عطا فرمائیں گے، جس کا گمان بھی نہیں ہو سکتا۔
- دوسرے، مغربی ممالک سے سارا دن گزرنے کے بعد رابطہ ہوتا ہے، کیونکہ جب ہمارے ہاں صبح ہوتی ہے تو وہاں شام ہو جاتی ہے، اس لیے چھٹی کے اعتبار سے اتوار یا جمعہ دونوں دن برابر ہیں، لہٰذا یہ شبہ زیادہ وزنی معلوم نہیں ہوتا۔
- تیسرے، مسلمانوں کے دنیا میں بہت سے ممالک ہیں (اور بہت سے ملکوں میں جمعہ کے دن عام تعطیل بھی ہوتی ہے) اگر سب مسلمان باہم مل کر تجارتی و کاروباری معاملات چلائیں اور جمعہ کے دن چھٹی کریں اور اتوار کو کاروبار کریں تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غیر مسلموں سے زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔
جمعہ کا دن خرافات اور فضولیات کا نہیں
بعض لوگ جمعہ کے دن چھٹی ہونے میں یہ عذر پیش کیا کرتے ہیں کہ لوگ چھٹی کی وجہ سے اس دن کئی خرافات میں مبتلا ہو کر اس دن کی ناقدری کرتے ہیں، مگر یہ عذر تو ایسا ہے کہ جیسے کسی مسجد میں اہلِ علاقہ نماز پڑھنے میں کوتاہی کریں، مسجد کو عبادت سے آباد نہ کریں، تو کوئی ’’سمجھدار‘‘ اس کا یہ حل تجویز کرے کہ مسجد کو گرا دو یا اس میں دکانیں بنا دو۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کو مسجد آباد کرنے پر راغب کرنا چاہیے، نہ کہ مسجد کی بندش کرنی چاہیے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس طرزِ فکر سے باز آنا چاہیے، جمعہ کا دن خرافات اور فضولیات کا دن نہیں، بلکہ عبادت و اطاعت کا دن ہے، جو اس امت کو بطورِ خاص عطا ہوا ہے، نہ یہ کہ الٹا جمعہ کے دن کی ناقدری کریں۔
خلاصہ یہ کہ فی نفسہ جمعہ کے دن کاروبار کرنا گناہ نہیں، لیکن اگر ہفتہ وار تعطیل اور چھٹی کرنی ہو تو اس کے لیے جمعہ کا دن منتخب کرنا مستحب اور افضل ہے، تاکہ مسلمان اس دن زیادہ سے زیادہ عبادت کر کے اس دن کے فضائل سے فائدہ اُٹھا سکیں اور اس دن کے عظمت و فضیلت والا ہونے کا اظہار کر سکیں، نہ یہ کہ اس وجہ سے کہ کاروباری مشاغل سے فارغ رہ کر اس دن کو فضولیات و خرافات اور منکرات و گناہوں کی نذر کریں۔
جمعہ کے دن کی چھٹی اہلِ علم کی نظر میں
بہت سے اہلِ علم حضرات نے جمعہ کے دن چھٹی کی تحسین و تصویب فرمائی ہے۔
چنانچہ کفایت المفتی میں ہے کہ:
اگر وہ جمعہ کی اذان سے پہلے کاروبار کو ناجائز نہ سمجھتے ہوں، بلکہ باوجود جائز اور حلال سمجھنے کے محض انتظام، ضروریاتِ نماز کے خیال سے دکانیں بند رکھیں، کیونکہ غسل وغیرہ کے لیے اور نمازِ جمعہ میں تبکیر یعنی جلدی سے حاضری کے واسطے اس صورت میں آسانی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ موجبِ اجر ہے۔ (كفایت المفتی مبوب جلد ۳ صفحہ ۲۸۵)
اور فتاوی محمودیہ میں ہے کہ:
اتوار کے دن تعطیل کرنے میں تشبہ ہے غیروں کے ساتھ، دینی مدرسہ میں اس کو ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ (فتاوی محمودیہ مبوب جلد ۸ صفحہ ۳۶۳، باب صلاة الجمعۃ)
اور حیاتِ ترمذی میں ہے کہ:
جمعہ کے دن جامع مسجد میں بہت جلدی جانا اور صبح سے ہی وہاں پہنچنا شرعاً مستحب اور قربت ہے۔ حدیث شریف میں اس کا ثواب بتلا کر اس کی ترغیب اور فضیلت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے آدابِ جمعہ میں فرمایا ہے: الرابع: البکور إلی الجامع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویدخل وقت البکور بطلوع الفجر وفضل البکور عظیم۔ (شرح الاحياء ج ۳ ص ۲۴۵)
جب صبح صادق سے ہی جامع مسجد میں جانا باعثِ ثواب اور موجبِ قربت ہے تو پھر جمعہ کے دن کاروبار بند کر کے ہی یہ فضیلت حاصل کی جا سکتی ہے اور عام تعطیل کر کے ہی تبكيرِ مستحب اور سویرے جانے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے امام غزالی رحمہ اللہ نے ایسے تمام اشغال اور کاموں سے فارغ رہنے کو آدابِ جمعہ میں شمار فرمایا ہے، جن میں مشغول ہو کر جمعہ میں سویرے جانے کی فضیلت حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ویفرغ قلبہ من الأشعال التی تمنعہ من البکور إلی الجمعۃ۔ (شرح الاحياء ج ٣ ص ۲۷۰)
تبكيرِ مستحب کے بھی اگرچہ درجات ہیں اور ہر درجے کا علیحدہ ثواب وارد ہوا ہے، مگر افضل درجہ صبح کے وقت جامع مسجد جانا ہی ہے اور یہ درجہ کاروبار اور اشغال دنیا میں مصروفیت کے ساتھ حاصل نہیں ہو سکتا، اس لیے جمعہ کے دن صبح سے ہی تعطیل عام اور کاروبار بند کرنا مستحب ہوگا۔
البتہ اذانِ جمعہ کے بعد کاروبار بند کرنا لازم اور واجب ہوگا، جس کا آیت جمعہ میں ذکر ہے اور شریعت کا مشہور حکم ہے، مگر اذانِ جمعہ کے بعد کاروبار بند ہونے کے وجوبی حکم سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ اذان سے قبل کاروبار کرنا واجب ہے اور یہ کہ کاروبار بند کرنا مستحب بھی نہیں ہے۔ ایسا سمجھنا حدیث تبكير الی الجمعۃ (یعنی جمعہ کے دن جلدی اور سویرے جانے) کے خلاف ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اذانِ جمعہ کے بعد تو کاروبار بند کرنا واجب ہے، اور اذانِ جمعہ سے قبل اگرچہ وجوبی حکم نہیں ہے لیکن اس کا استحبابی حکم اوپر ثابت کر دیا گیا ہے، اس لیے اگر اذانِ جمعہ کے قبل استحبابی حکم سمجھ کر تعطیل کی جائیگی تو درست ہے۔
تحریر بالا سے واضح ہو گیا ہو گا کہ اذانِ جمعہ سے قبل کی تعطیل بدعت اور گناہ اور شریعت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستحب اور کارِ ثواب ہے، گو واجب بھی نہیں ہے، واجب صرف اذانِ جمعہ کے بعد نمازِ جمعہ سے فارغ ہونے تک ہے۔ فقط واللہ اعلم، سید عبدالشکور ترمذی عفی عنہ، ساہیوال ضلع سرگودھا، ۱۸ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ (حیاتِ ترمذی صفحہ ۴۰۷ و صفحہ ۴۰۸)
مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے عربی میں ایک سوال کے جواب میں جمعہ کے دن تدریس سے تعطیل کو مستحب اور سنت مسلوکہ للسلف الصالحين قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ فرمائی ہے ’’لتفردہم فی ہذا الیوم للعبادۃ ولکونہ یوم عیدنا‘‘ (ملاحظہ ہو: امداد المفتيين صفحہ ۴۰۶،۴۰۵)
اور ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں ہے کہ:
چھٹی تو جمعہ کے دن ہی کی ہونی چاہیے (اگر ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی ضروری ہو)، رہا یہ کہ لوگ اس مقدس دن کو لغویات میں گزارتے ہیں، اس کے لیے ان لغویات پر پابندی ہونی چاہیے اور جو لوگ ان لغویات میں مبتلا ہو کر جمعہ کی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، اُن کو اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہیے (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۸ صفحہ ۴۱۴)
اور انعام الباری میں ہے کہ:
اگر ہفتے میں کسی بھی دن چھٹی کرنی ہے تو جمعہ کا دن زیادہ مستحق ہے، اس لیے کہ چھٹی کی وجہ سے اس دن کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں خرچ کرنے کا موقع ہوگا۔ اگر اس دن کو کام کا دن بنایا تو پھر عبادت کا موقع کم ہوگا، لہٰذا مقصد فوت ہو جائے گا۔ جمعہ کے علاوہ اتوار کو چھٹی کرنے میں دوسری خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں ایک غیر قوم کی نقالی کا شبہ ہے۔ (انعام الباری جلد ۴ صفحہ ۴۱)
اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو جمعہ کے دن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(المستفاد، جمعہ مبارکہ کے فضائل و احکام، مؤلف مولانا رضوان صاحب، ص: ۳۱۲ - ۳۲۲ / ط: ادارہ غفران، راولپنڈی)
Ummul-Mumineen Khadija Radhi Allahu Anhaa
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
The household of Prophet Muhammad (peace be upon him) began with his marriage to Ummul-Mumineen Khadijah al-Kubra (may Allah be pleased with her). While residing in Makkah, the Prophet (peace be upon him) did not marry another woman during her lifetime. He was twenty-five years old at the time of their marriage, and they remained together for twenty-five years. Khadijah (may Allah be pleased with her) passed away in the eleventh year of Prophethood.
She was the Prophet’s first wife and the mother of his children. All of his offspring—except for Ibrahim (may Allah be pleased with him)—were born to Ummul-Mumineen Khadijah. These included four daughters and three to five sons, according to differing narrations. Qasim (may Allah be pleased with him) reportedly lived nearly to adolescence, rode horses by the age of thirteen or fourteen, and passed away. Due to him, the Prophet (peace be upon him) was called “Abul Qasim.” Other sons named include Abdullah, Tahir, and Tayyib, though none reached adulthood. His daughters grew up, were married, and had children. The Prophet (peace be upon him) lovingly raised his daughters and even cared for their children. Though he had no biological grandson, he raised one as if he were: Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) was nurtured in the Prophet’s care and received love like a grandson.
Speaking of Ummul-Mumineen Khadijah al-Kubra (may Allah be pleased with her), the marital love and bond between her and the Prophet (peace be upon him) is a timeless example for the entire world. She was a prominent and wealthy woman of Makkah, and she spent all her wealth in the service of the Prophet (peace be upon him). He used to say he could never forget the kindness of two individuals who sacrificed everything for him—among men, Abu Bakr (may Allah be pleased with him), and among women, Ummul-Mumineen Khadijah (may Allah be pleased with her).
When the Angel Jibreel (Gabriel, peace be upon him) brought the first revelation in the Cave of Hira, it was a sudden experience for the Prophet (peace be upon him). He accepted the divine message, but the extraordinary nature of the event weighed heavily on him. After the revelation, he returned home and shared the experience with Ummul-Mumineen Khadijah (may Allah be pleased with her). She is the noble wife of the Prophet (peace be upon him) and remains a revered mother of Muslims until the Day of Judgment. The Prophet (peace be upon him) said Khadijah (may Allah be pleased with her) was the most generous woman toward him personally. She was highly intelligent and deeply understanding. Upon hearing what had happened in the cave, and noticing his natural concern, her first response was: By Allah, He will never disgrace you. She reassured him that Allah would never abandon him. She explained: انک لتصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علیٰ نوائب الحق You uphold family ties, support the helpless, provide for the needy, host guests with generosity, and aid those facing hardship in the path of truth.
In essence, Allah does not forsake someone who serves society and supports the vulnerable. The Prophet’s earliest public recognition came as someone who helped widows, orphans, and the impoverished. Social service is a right of society, and the Prophet (peace be upon him) fulfilled this duty himself while also teaching it to others.
Ummul-Mumineen Khadijah (may Allah be pleased with her) always remained close to the Prophet’s heart. She passed away in Makkah during the eleventh year of Prophethood. After migrating to Madinah, the Prophet (peace be upon him) entered into other marriages. Among them, Ummul-Mumineen Aisha (may Allah be pleased with her) was the most beloved. She was the daughter of Abu Bakr (may Allah be pleased with him), a woman of brilliant intellect, and was blessed with many virtues by Allah. Though she had many co-wives, the Prophet (peace be upon him) had nine at one time, she confessed feeling strongest jealousy not toward any living companion, but whenever the Prophet frequently spoke about Khadijah (may Allah be pleased with her): “Khadijah was like this,” “Khadijah did that.” According to a narration in Sahih Bukhari, Ummul-Mumineen Aisha (may Allah be pleased with her) once said: O Messenger of Allah, do you never forget that old woman? Allah has granted you better wives now. To which the Prophet (peace be upon him) replied: Aisha, she was my companion in hardship. A companion in hardship is never forgotten. How can I forget the time of trials, pain, and adversity?
The deaths of Khadijah (may Allah be pleased with her) and the Prophet’s uncle Abu Talib occurred around the same time. At home, Khadijah was the greatest support, and outside the home, it was Abu Talib. Though he did not accept Islam, history attests that he fully upheld his role as an uncle and protector. He even stood with the Prophet (peace be upon him) during the siege of Sha’b Abu Talib. While Abu Talib was alive, no one dared confront the Prophet directly; any complaints were addressed to him. His presence carried weight. The year in which both Abu Talib and Khadijah passed away was extremely sorrowful for the Prophet (peace be upon him), as he lost two of his greatest worldly supporters. He declared that year عام الحزن (the year of sorrow).
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر : باقاعدہ سلسلہ کی تکمیل
ابو الاعلیٰ سید سبحانی
ادارہ الشریعہ
قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ گزشتہ ماہ ’’اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر‘‘ کا باقاعدہ سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ہماری اس گزارش کے جواب میں کہ ’’کچھ اختتامی کلمات لکھ دیں تو ایک طرح سے ’تتمہ‘ ہو جائے گا اور یہ سلسلہ بخیر و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ‘‘، جناب ابوالاعلیٰ سید سبحانی صاحب نے درج ذیل پیغام ارسال کیا ہے:
’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ بخیر وعافیت ہوں گے
بہت بہت شکریہ آپ حضرات کا کہ دس سال سے زیادہ عرصے تک اس سلسلے کو اپنے موقر رسالے میں جگہ دی۔ سلسلے کی ابھی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ باقی ماندہ وقفے وقفے سے آتا رہے گا۔ باقی بکھرے نکات کو تلاش کرنا اپنے آپ میں ایک بڑا کام ہے۔
جزاکم اللہ خیرا‘‘
ہم محترم ڈاکٹر صاحب اور جناب سید سبحانی صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے قارئین کو اردو تراجمِ قرآن کے تنوع اور ترجمہ کے دقیق اصولوں سے متعارف کرانے کا یہ علمی سلسلہ قائم رکھا۔ یہ تقابلی جائزہ نہ صرف مترجمین کی تعبیراتی ترجیحات کو واضح کرتا ہے بلکہ قرآن کریم کے معانی تک رسائی میں زبان اور اسلوب کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس سلسلہ کی موصول ہونے والی مزید اقساط ان شاء اللہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی رہیں گی۔
ادارہ الشریعہ
’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف
پیش لفظ
نحمدہ تبارک و تعالیٰ و نصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین۔
جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور ہمارے خطے کے قدیم ترین دینی اداروں میں سے ایک ہے جو 1875ء سے دینی تعلیم و تدریس اور عوامی اصلاح و ارشاد کی مساعی جمیلہ میں مصروف چلا آ رہا ہے اور مختلف اوقات میں جہاں مشاہیر اہلِ علم و فضل تعلیمی خدمات دیتے رہے ہیں وہاں بہت سی علمی شخصیات نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تاریخ کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مراد آباد، اور مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری بنگلہ دیش کے ساتھ قدیم دینی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
جامعہ فتحیہ کے مہتمم حافظ میاں محمد نعمان لاہور کی اہم سماجی و سیاسی شخصیت ہیں اور جامعہ کے نظام میں اپنے اسلاف کی بخوبی نمائندگی کر رہے ہیں، ان کے ارشاد پر مجھے چند سالوں سے جامعہ فتحیہ میں جزوی طور پر تدریسی خدمات میں شرکت کی سعادت اس طرح حاصل ہو رہی ہے کہ ہفتے کے دن کو ظہر کے وقت حاضر ہوتا ہوں اور دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے چند منتخب ابواب کا درس دیتا ہوں، جبکہ عصر کے بعد عوام الناس سے کسی عمومی موضوع پر گفتگو کا موقع مل جاتا ہے۔ اس دوران مشاورت سے یہ طے ہوا کہ کچھ خصوصی خطبات ’’احکام القرآن‘‘ پر دیے جائیں اور عصرِ رواں کے منتخب مسائل کو زیر بحث لا کر انھیں حکمتِ قرآنیہ کی روشنی میں حل کیا جائے، اس پس منظر میں یہ چودہ خطبات دیے ہیں۔
اسلام کے خاندانی نظام کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی اور دینی مدارس کے کردار و مسائل اور آئندہ حکمتِ علمی پر بھی گفتگو ہوئی، اور کچھ نشستوں میں سرور کائنات ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے کچھ حصوں پر گزارشات پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
جامعہ فتحیہ کے خطیب مولانا محمد سعید عاطف ہمارے قابلِ احترام دوست اور باذوق ساتھی ہیں۔ انھوں نے اس گفتگو کو بہت حد تک مرتب کر دیا ہے جس کا بیشتر حصہ خاندانی نظام کے بارے میں ہے۔ گفتگو تو سادہ اور عوامی سطح کی ہے مگر حافظ صاحب محترم کے حسنِ ذوق نے اسے مستقل کتاب کی شکل دے دی ہے۔ جس میں انھوں نے آیات و احادیث و اقوالِ سلف کی تخریج کے ساتھ ساتھ ضروری مقامات پر وضاحتی نوٹس شامل کیے ہیں اور ان کے علاوہ میرے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں میں متعلقہ مضامین کو بھی اس کا حصہ بنایا ہے، آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست بھی مرتب فرمائی ہے، جو ان کے عمدہ تحقیقی ذوق کی علامت ہے۔ علاوہ ازیں ان خطبات کے آخر میں حافظ سعید صاحب نے میرے ایک پرانے مضمون بعنوان ’’انسانی اجتماعیت کے تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام‘‘ کو بھی شامل کر دیا ہے، اس طرح سے کچھ عصری مباحث پر میری علمی رائے بھی ان خطبات کا حصہ بن گئی ہے (الحمد للہ)
حافظ صاحب موصوف کے شکریہ کے ساتھ تمام احباب سے میری درخواست ہے کہ جامعہ فتحیہ کے بانیان اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ساتھ ہم دونوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تادمِ آخر اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں اور قبولیت و رضا کے ساتھ انھیں ہمارے لیے ذخیرہ آخرت بنا دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ، گوجرانوالہ
نزیل جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور
12 جولائی 2022ء
قرآن کریم کے معاشرتی احکام اور عصرِ حاضر
خطبہ نمبر 1: مؤرخہ 28 اگست 2016ء (تمہیدی خطبہ)
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید الرسل و خاتم النبیین و علیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ اما بعد!
دینِ اسلام کے حوالے سے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ موضوعِ بحث اسلام کے بہت سے احکام ہیں۔ ان میں کہیں بحث ہے اور کہیں کشمکش اور اشکالات و شبہات ہیں۔ لیکن آج کی تمہیدی گفتگو میں، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ اور ہمارے دل میں کیوں یہ داعیہ پیش آیا کہ ہم اس عنوان کو اپنی گفتگو کے لیے منتخب کریں۔
قرآن کریم کا بڑا معجزہ اس کا محفوظ ہونا ہے
شاہ ولی اللہ نے اس بات پر گفتگو کی ہے کہ قرآن پاک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے اس کے معجزہ ہونے کی بہت سی وجوہ ہیں جنہیں ہم وجوہِ اعجاز کہتے ہیں۔ قرآن پاک کے بیسیوں وجوہِ اعجاز بیان کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن پاک کے اعجاز کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ قرآن پاک جوں کا توں محفوظ ہے جیسا نازل ہوا تھا ویسا ہی آج الحمد للہ موجود ہے۔ یہ کتابی شکل میں مرتب ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، پھر اس کے بعد ایک قراءت پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں امت کو یکجا کیا گیا، بعینہ آج وہی قرآن پاک جوں کا توں محفوظ ہے۔
اور باقی سب آسمانی کتابیں نہ تو مکمل طور پر محفوظ ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بات عرض کرتا ہوں۔ بائبل بنی اسرائیل کی کتابوں کا مجموعہ ہے، تورات بھی ہے، زبور بھی ہے، انجیل اور اس سے متعلقہ صحیفے بھی ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں: عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید۔ لاہور میں پاکستان بائبل سوسائٹی، ایک ادارہ ہے اس کے قیام کو ایک سوسال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے یہ ایک قدیم اشاعتی ادارہ ہے۔ گوجرانوالہ میں کیتھولک عیسائیوں کا بہت بڑا مرکز ہے، یہ تعلیم دیتے ہیں، کتابیں چھاپتے ہیں۔ ان کا گوجرانوالہ سے ایک ماہانہ رسالہ ‘‘کلام حق‘‘ کے نام سے نکلتا ہے۔ کئی سال تو مجھے پڑھتے ہوئے ہو گئے ہیں۔ کلامِ حق نے آج سے کوئی دس بارہ سال پہلے انارکلی بائبل سوسائٹی کے حوالے سے ایک رپورٹ چھاپی۔ اس میں یہ تھا کہ انارکلی میں جو پاکستان بائبل سوسائٹی ہے، اس نے پاکستان بننے سے پہلے جو انگلش میں بائبل چھاپی تھی 1931ء میں، اس کا اور سن 2001ء میں نئی چھپنے والی کا حوالہ دیا ہے۔
کلامِ حق نے لکھا ہے کہ دونوں ایڈیشنوں میں پینتالیس آیات کا فرق ہے۔ انھوں نے باقاعدہ نقشہ بنایا ہے کہ پہلے یہ لفظ تھا اب نہیں، پہلے نہیں تھا اب ہے، ایک ہی مکتبہ ایک ہی شہر کے دو ایڈیشنوں میں پینتالیس آیات کا فرق ہے۔ تو اس پر میں نے کالم لکھا اور اس پر ایک جملہ کہا کہ ستر سال سے ان کی کتاب میں پینتالیس آیات کا فرق پڑ گیا ہے، اندازہ کریں کہ اس ’’غریب‘‘ کے ساتھ دو ہزار سال میں کیا کچھ ہوا ہو گا۔ یہ میں نے مثال دی ہے۔ الحمد للہ ہمارا قرآن پاک جوں کا توں محفوظ ہے۔ اللہ تعالی کی بے نیازی دیکھیے محفوظ بھی کس اہتمام کے ساتھ ہے۔
حضرت سید نفیس شاہ صاحب ہمارے بڑے بزرگ تھے۔ ان کا کتب کے حوالے سے بڑا اچھا ذوق تھا۔ ہم لندن میں اکٹھے ہو گئے، حضرت شاہ صاحب بھی تشریف لے گئے تھے، میں بھی وہاں تھا۔ کتاب کا تھوڑا بہت ذوق میرا بھی ہے، شاہ صاحب کا کتاب کا بہت عمدہ ذوق تھا، مشورہ ہوا کہ انڈیا آفس لائبریری جاتے ہیں۔ ہم شاہ صاحب کی قیادت میں گئے، وہاں مصحفِ عثمانی کا ایک نسخہ موجود ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو قرآن پاک تھے ان کے چھ سات نسخے لکھوائے گئے تھے جو پوری دنیا میں بھیجے گئے۔ اعلان یہ تھا کہ یہ ایک معیاری (Standard) نسخہ ہے، اپنے نسخے اس کے مطابق کر لو۔ جس کو ہم مصحفِ عثمانی کہتے ہیں، اس کا ایک اصلی (Original) نسخہ وہاں پر اب بھی موجود ہے۔ میں نے اس کی زیارت کی ہے، اس پر مختلف بادشاہوں کی مہریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ شاہ جہاں کی، بادشاہ جہانگیر کی۔
ایک جملہ میں نے پڑھا: ’’ھذا مصحف عثمان بن عفان‘‘، یہ مصحف عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ہے۔ تو میں وہاں سوچنے لگا کہ یا اللہ! تو اپنے قرآن کی حفاظت کن سے کروا رہا ہے، پتہ نہیں اس نسخہ کی حفاظت ہم کر سکتے یا نہ کر سکتے، تو، اللہ حفاظت کن سے کروا رہا ہے اور کہاں کروا رہا ہے۔ انگریزوں سے ظاہرًا حفاظت کروائی اور محفوظ طریقے سے انگلستان میں رکھوایا۔ صرف حفاظت ہی نہیں بلکہ اس کی پوری سند لکھی ہے کہ یہ مصحف کس کے پاس تھا، اس کے بعد کسی خلیفہ کے پاس آیا، باقاعدہ ایک مکمل سند موجود ہے کہ یہ نسخہ فلاں فلاں سے ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔
حضرت عثمانؓ کی تلاوت والا نسخہ استنبول میں محفوظ ہے
قرآن پاک کے اعجاز میں سے ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ قرآن پاک جوں کا توں موجود ہے۔ دو نسخے تو پہلے والے موجود ہیں: ایک یہ، اور دوسرا استنبول میں ہے۔ جس نسخے کی تلاوت کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور اس پر خون کے نشانات بھی موجود ہیں، وہ استنبول میں ہے۔ اس کی زیارت کے لیے جانے کا ایک مرتبہ تقاضا ہوا لیکن کسی وجہ سے زیارت نہیں کر سکا۔
حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور میں، ہم تینوں گئے، راستے میں لندن جاتے ہوئے ہم استنبول ٹھہرے، ہمارا ارادہ تھا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضری دیں گے اور مصحف کی زیارت بھی کریں گے۔ مزار پر تو حاضری ہو گئی لیکن قرآن پاک کی زیارت نہیں کر سکے، اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں توپکاپی میوزیم بوجہ مرمت ایک ہفتہ کے لیے بند تھا۔
ایک سروے کے مطابق حفاظ کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے
وجوہِ اعجاز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ لاکھوں سے بھی زیادہ قرآن پاک کے حفاظ موجود ہیں۔ آج (2016ء) سے پانچ سال پہلے امریکہ کے ایک ادارے نے دنیا میں سروے کیا تھا کہ قرآن پاک کے حافظ کتنے ہوں گے، تو رپورٹ چھپی تھی کہ دنیا میں باقاعدہ حافظوں کی تعداد 13 ملین کے لگ بھگ ہے، یعنی ایک کروڑ 30 لاکھ، یہ تو آج سے پانچ چھ سال پہلے تھے، اب یقیناً کم تو نہیں ہوئے ہوں گے بلکہ پہلے سے بھی بڑھ چکے ہیں، تو یہ اس قدر حفاظ کا ہونا بھی قرآن پاک کے وجوہِ اعجاز میں سے ہے۔
قرآن کریم میں معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل ہے
قرآن پاک کے اعجاز کے بیسیوں پہلو ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے کہ آنے والے دور میں سب سے بڑا پہلو یہ ہوگا کہ سوسائٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قرآن پاک کیا رہنمائی کرتا ہے، قرآن پاک سوسائٹی کے مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ (الفوز الکبیر: الباب الثالث الفصل الرابع فی وجوہ اعجاز القرآن الکریم، مکتبۃ البشریٰ، کراچی، 2011ء، ص 86)
اس پر شہادتیں موجود ہیں، کھلی شہادتیں، دستاویزی شہادتیں، لوگ قرآن پاک کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ان میں دو واقعات عرض کرنا چاہوں گا:
پاپائے روم اس وقت پوپ فرانسیس ہیں۔ اس وقت (جب) اس سے پہلے پوپ بینی ڈکٹ پاپائے روم تھے، انھوں نے دنیا کے معاشی بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کی رپورٹ یہ تھی کہ دنیا کے معاشی نظام میں بیساکھیوں کے سہارے مزید چلنے کی سکت نہیں رہی۔ دنیا کو معاشی انصاف فراہم کرنا ہے تو وہ معاشی اصول اپنانے ہوں گے جو قرآن پاک نے انسانیت کو دیے ہیں۔
جبکہ پولوشن اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے نیویارک کی ایک کانفرنس میں شہزادہ چارلس نے بھی اس قسم کی بات کی تھی۔ اس کا ایک جملہ عرض کرتا ہوں، اس نے کہا کہ دنیا میں جو آلودگی (Pollution) ہے وہ سائنسدانوں کی پھیلائی ہوئی ہے۔ وہ ان سائنسدانوں سے لڑتا ہے کہ تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے، اس کے لیکچر کا یہ خلاصہ ہے جو اس نے نیویارک میں دیا تھا۔ اس نے کہا کہ دنیا کو اگر تباہی سے بچانا چاہتے ہو تو تمھیں وہ معاشرتی اصول اپنانے ہوں گے جو قرآن نے دیے ہیں۔ سماج کے، زندگی کے، فطرت کے، جو قرآنی قوانین ہیں وہ اپنانے ہوں گے۔
حضرت شاہ ولی اللہ کی قرآن کے بارے میں پیشین گوئی
حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا تھا کہ آنے والے دور میں قرآن پاک کے اعجاز کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہوگا کہ قرآن اور قرآن کے بیان کردہ احکام، قرآن کی بیان کردہ شریعت، سوسائٹی کا سسٹم، سماج کا نظام، یہ دنیا کو ماننا پڑے گا کہ سب سے بہتر نظام ہے۔ اور مسلمانوں کے اہلِ علم کو اس پر کام کرنا ہوگا کہ سماج کے مسائل پر، سوسائٹی کی مجبوریوں پر، معاشرے کی مشکلات پر قرآن پاک کیا رہنمائی کرتا ہے، اور جس طرح قرآن رہنمائی کرتا ہے اس طرح رہنمائی کریں۔ شاہ صاحب یہ بات تین سو سال پہلے فرما گئے تھے، دنیا پر یہ بات اب واضح ہو رہی ہے۔
ولی اللہی اسلوبِ بیان کے بارے میں چند نو مسلموں کی رائے
امریکن نومسلم خاتون ہیں ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن صاحبہ، اس پر کام کر رہی ہیں، انھوں نے دینی علم پڑھا ہے۔ اس خاتون نے حضرت شاہ ولی اللہ پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بھی کام لے رہے ہیں۔ شکاگو یونیورسٹی کی شاہ ولی اللہ چیئر کی چیئرپرسن ہیں، وہاں بیٹھی کام کر رہی ہیں، گوجرانوالہ میں ایک مرتبہ ہمارے ہاں تشریف لائی تھیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ مغرب سے اگر اسلام کی بات کہنا چاہتے ہو تو شاہ ولی اللہ کی زبان سے کہو، ان کے اسلوب میں کہو۔
برطانیہ میں ایک نو مسلم ڈاکٹر یحییٰ برٹ بھی اسی پر کام کر رہا ہے، اس کا کہنا یہ ہے کہ دنیا سے اگر اسلام کی بات کرنی ہے تو شاہ ولی اللہ سے اِس کے انداز سیکھو اور ان کی زبان سیکھو۔
کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ میں ایک نو مسلم ملائیشیا سے تشریف لائے جو ایک بڑے بدھ مذہبی راہنما کے فرزند ہیں۔ انھوں نے اٹھارہ سال اسلام کا مطالعہ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے علوم کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر آج کی جدید دنیا سے اسلام کی بات کرنی ہے تو شاہ ولی اللہ کا اسلوبِ بیان سیکھو وگرنہ دنیا سے اسلام کی بات نہ کرو۔
دانائی کی زبان، حکمت کی زبان، لوگوں کے مسائل کے پس منظر اور ضروریات کی بات۔ میں مشرق و مغرب دنیا میں بہت سے نو مسلموں کی مثالیں دے سکتا ہوں جن سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اب دنیا کہہ رہی ہے کہ شاہ ولی اللہ کو سمجھو، شاہ ولی اللہ کی بات کرو، ان کے لہجے و اسلوب میں بات کرو۔ جبکہ شاہ ولی اللہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اپنے حوالوں سے ضرور باتیں کرو لیکن قرآن پاک کی بات سماج کے حوالے سے بھی کرو۔
قرآن کریم کے پیش کردہ نظام کے مقابل کوئی نظام نہیں
یہ قرآن پاک کا چیلنج ہے:
وإن کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شہداءکم من دون اللہ ان کنتم صادقین (سورۃ البقرۃ 2، آیت: 23)
(اور اگر تم اس (قرآن) کے بارے میں ذرا بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد ﷺ) پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلالو۔)
ایک آیت اور ایک سورت کا مقابلہ تم نہیں کر سکتے۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ پچھلے زمانے میں ان آیات کا مفہوم یہ سمجھا جاتا تھا کہ فصاحت میں بلاغت میں، لیکن آنے والے دور میں اس چیلنج کا ترجمہ یہ ہوگا کہ قرآن پاک نے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی سوسائٹی کی مشکلات کے حل کے لیے جو قانون اور ضابطے دیے ہیں ان جیسا ایک قانون لا کر دکھاؤ۔ قرآن پاک کے معاشرتی احکام، سنتِ رسولؐ کے معاشرتی احکام، اور اسلام کا جو سماجی نظام ہے، ان میں سے کسی ایک کے ضابطے اور قوانین میں سے کسی ایک کا مقابلہ کر کے دکھاؤ۔
حضرت شاہ ولی اللہ کی ایک تحریک یہ تھی کہ قرآن کی بات کرو، معاشرتی مسائل کے حوالے سے سماج کی مشکلات کے حوالے سے جو لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ان کو سامنے رکھو، قرآن اور سنتِ رسولؐ سے استنباط کر کے اس کا حل پیش کرو۔
آج کی بڑی ضرورت، قرآن سے معاشرتی مسائل کا حل پیش کرنا ہے
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت قرآن مجید سے معاشرتی مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔ مجھے پڑھتے پڑھاتے ہوئے دورِ طالب علمی میں ساٹھ سال ہو گئے ہیں اسی میں وقت گزارا ہے اور اسی طرح آخر تک وقت گزارنے کا ارادہ ہے، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ زندگی بھر کا تجربہ یہی ہے کہ قرآن پاک کے اعجاز کے سارے پہلوؤں پر بات کریں۔ آج کی ضرورت یہ ہے، سماج کے حوالے سے جو انسانی مشکلات درپیش ہیں، معاشرے کے جو مسائل ہیں، ان مسائل کے حل کے لیے قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ کیا کہتی ہے، اس حوالے سے قرآن پاک کو پڑھا جائے، سمجھا جائے، پیش کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ لوگوں کے مسائل کا حل اس دنیا کے بتائے ہوئے سسٹم میں نہیں ہے بلکہ قرآن پاک میں ہے۔
سماج اور وحی الٰہی کا باہمی تعلق
ہماری دنیا کے آج کے سماج کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کیا مذہب اور ریاست کا کوئی باہمی تعلق ہے؟ یہ آج کے سماج کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سماج اور وحی کا باہم کوئی تعلق ہے؟ معاشرے کا اور آسمانی تعلیمات کا ایک دوسرے سے کوئی رشتہ ہے؟ اور ہے تو کس لیول پر ہے؟ میں عرض کرتا ہوں کہ سماج کا آغاز کہاں سے ہوا اور کیسے ہوا، قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ قرآن پاک سے پوچھ لیں کہ انسانی سوسائٹی کا آغاز کہاں سے ہوا؟ انسانی سوسائٹی کا آغاز ایک جوڑے سے ہوا۔ اللہ جل شانہ نے جنت میں فرمایا تھا:
وقلنا یا اٰدم اسکن انت و زوجک الجنۃ
(اے آدمؑ تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو۔)
تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو، یہ سماج کا آغاز ہے۔ پھر ان پر ایک پابندی لگا دی:
وکلا منھا رغدا حیث شئتما ولا تقربا ھذہ الشجرۃ (سورۃ البقرہ 2، آیت: 35)
(اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس بھی مت جانا۔ )
کیا مطلب؟ یعنی سوسائٹی مکمل آزاد نہیں ہے بلکہ جائز اور ناجائز کی پابندیوں کے ساتھ ہے۔ سوسائٹی ہر لحاظ سے آزاد نہیں ہے بلکہ پابندیوں کے حصار میں ہے۔ میں دو باتیں عرض کیا کرتا ہوں: (1) انسانی سوسائٹی کا آغاز فرد سے نہیں جوڑے سے ہے (2) انسانی سوسائٹی کا آغاز پابندیوں سے ہے۔ یہ انسانی سوسائٹی کا آغاز اور زیرو پوائنٹ ہے کہ یہ کھانا ہے اور یہ نہیں کھانا، یہ پابندی تھی۔ انھوں نے درخت سے کھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، نقل مکانی کرو (ہجرت کرو) چلو زمین کی طرف۔
اھبطوا منہا جمیعا
(اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔)
حکم تو ہو گیا کہ جنت سے اتر جاؤ، زمین پر جاؤ، دو باتیں اللہ رب العزت نے اس موقع پر ارشاد فرمائیں:
ولکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین
(اور تمھارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کر دیا) گیا ہے)
(یہ میں سماج کا آغاز بیان کر رہا ہوں) کہ زمین پر اتر جاؤ وہاں رہنے کی جگہ بھی ہو گی اور کھانے پینے کا بندوبست بھی ہوگا، روٹی کپڑا مکان بھی ہو گا۔ ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک مدت متعین ہے۔ کسی کا زمانہ چالیس سال، کسی کا پچاس سال، ساٹھ سال، نوے سال۔ کرنا کیا ہے؟ صرف زمین پر نہیں بھیج رہا بلکہ:
فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون والذین کفروا و کذبوا باٰیتنا اولٰئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون (سورۃ البقرہ 2، آیت: 38)
(پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمھیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔ اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان کو ہدایات میں دوں گا اور میں بتاؤں گا کہ کیا کرنا ہے۔ جس نے میری ہدایت کی پیروی کی جو میری ہدایت (Direction) پر چلا، وہ تو خوف اور غم سے نجات پائے گا اور اپنے گھر جنت میں واپس آئے گا۔ اور جس نے میری ہدایت پر عمل نہیں کیا وہ دوسرے گھر جائے گا (یعنی جہنم میں)۔
والذین کفروا و کذبوا باٰیتنا اولٰئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون (سورۃ البقرہ 2، آیت: 38، 39)
(اور جو کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔)
یہ ہے انسانی سوسائٹی کا نقطہ آغاز، یہ ہے زیرو پوائنٹ، تو قرآن نے انسانی سوسائٹی کا آغاز یہاں سے بیان کیا ہے اور ایک جگہ فرمایا:
وبث منھما رجالا کثیرا ونساء (سورۃ النساء 4، آیت: 1)
(اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)
ساری سوسائٹی کا پھیلاؤ ان دونوں سے یعنی حضرت حوا اور حضرت آدم علیہ السلام سے ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ یہ بات کہنا کہ سوسائٹی کا سماج کا آسمانی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، سماج خود مختار ہوتا ہے، سماج اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ قرآن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ بھیجا بھی میں نے ہے، بکھیرا، پھیلایا بھی میں نے ہے، مستقر (دنیا کا ٹھکانہ) بھی میں نے دیا ہے، اور متاع (وسائلِ زندگی) بھی میں نے دیے ہیں، اور ہدایات بھی میں دوں گا۔ سماج کا یہ آغاز قرآن کا بیان کردہ ہے۔
نسلِ انسانی کے آغاز کے بارے میں مغربی نظریہ اور قرآنی موقف
ہمیں مغربی نظامِ فکر سے متاثر ہو کر انسانی سوسائٹی کا آغاز یوں پڑھایا جاتا ہے، وہ یہ کہ انسان جانوروں کی طرح جنگل میں رہتا تھا اور آہستہ آہستہ انسانی سوسائٹی میں شعور آیا لباس کا، قانون اور تعلیم کا، سوسائٹی آہستہ آہستہ خود پیش رفت کر کے آگے بڑھی۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید سے پوچھو کہ قرآن کیا کہتا ہے، یہ علم اور تعلیم سوسائٹی کے ارتقاء کا نتیجہ ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو پہلے کیا کِیا؟
وعلم اٰدم الاسماء کلھا (سورۃ البقرۃ 2، آیت: 31)
(اور آدم علیہ السلام کو (اللہ نے) سارے نام سکھا دیے۔)
یہ علم وہبی (اللہ کی طرف سے عطا کردہ) ہے۔ آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے کیا سکھایا تھا؟ درمیان میں ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔ ایجوکیشن کا زیرو پوائنٹ بھی یہی ہوتا ہے، نام سکھائے جاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کو آپ دیکھ لیں اس کے سکھانے کی ابتدا ناموں سے ہوتی ہے۔ یہ بکری ہے، یہ گائے ہے، آغاز ناموں سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ میں نے سکھایا تھا۔
الرحمٰن علم القرآن، خلق الانسان، علمہ البیان (سورۃ الرحمٰن 55، آیت: 1-4)
(وہ رحمٰن، جس نے قرآن کی تعلیم دی۔ اس نے انسان کو پیدا کیا۔ اسی نے اس کو بیان کرنا سکھایا۔)
دوسری جگہ فرمایا:
وعلم اٰدم الاسماء کلھا (سورۃ البقرۃ 2، آیت: 31)
(اور آدمؑ کو (اللہ نے) سارے نام سکھا دیے۔)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہبی علم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو اس کا بنیادی اور ضروری علم وہبی (فطری) طور پر دیا ہے، کسبِ عمل بعد میں ہے، اس میں بتدریج ترقی ہوتی ہے اور توسع ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال دوں گا، ساری چیزیں انسان کسب (ذاتی علم، جدوجہد) سے حاصل نہیں کرتا۔ بنیادی چیز وہبی ہوتی ہے، آگے کسب سے انسان ترقی کرتا ہے۔
دیکھیں بچہ پیدا ہوا ہے، پیدا ہونے سے پہلے ماں کے پیٹ میں اس کی خوراک کا راستہ ناف تھا، پیدا ہوتے ہی ناف کاٹ دیتے ہیں۔ بچے کو بھوک لگتی ہے، منہ مارتا ہے، ماں کا سینہ تلاش کرتا ہے۔ اس کو یہ کس نے بتایا؟ کس نے بتایا کہ مجھے خوراک یہاں سے ملنی ہے۔ حالانکہ پہلے یہاں سے خوراک کبھی نہیں ملی لیکن منہ بلا رہا ہے، ماں کا سینہ تلاش کر رہا ہے کہ کہاں سے دودھ ملے گا؟
ایک منظر اور دیکھیں آنکھ میں خارش ہوئی ہے، بچہ کیا کرتا ہے؟ ہاتھ کی پشت سے خارش کرتا ہے، آپ نے اس کو خارش کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو اس کو یہ کس نے بتایا ہے؟ میں نے آپ کو یہ چھوٹی سی مثال دی کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت کا علم فطری طور پر دیا ہے یعنی بنیادی علم انسان کے پاس وہبی ہے۔
انسانی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان وغیرہ) کا آغاز قرآن کی روشنی میں
یہاں ایک عجیب بات کہی جاتی ہے کہ انسان جنگلوں میں ننگا رہتا تھا، اس نے تدریجاً ترقی کی اور وہ مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھا، اسے آہستہ آہستہ شعور میسر آیا۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ جنت میں جب آدم اور حوا علیہما السلام نے درخت سے پھل کھایا تو
بدت لھما سواتھما وطفقا یخصفان علیھما من ورق الجنۃ (سورۃ الاعراف 7، آیت: 22)
(تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔)
جنت کا لباس چونکہ اتر گیا تھا اس لیے بے ساختہ درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنے وجود کو چھپانے لگے۔ یہ فطرت ہے، نیچر (Nature) ہے۔ انسان کا لباس ان کے پاس تھا، لباس کوئی تعلیم اور ڈپلومہ حاصل کر کے تو انھوں نے نہیں بنایا تھا۔ ان کی پاکیزہ فطرت میں لباس بھی تھا اور اس کی اہمیت کا احساس بھی تھا۔ اور قرآن پاک نے ہمیں بھی یہ سبق دیا ہے:
یا بنی اٰدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما (سورۃ الاعراف 7، آیت: 27)
(اے آدمؑ کے بیٹو اور بیٹیو! شیطان کو ایسا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا کہ وہ تمھیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکالا، جبکہ ان کا لباس ان کے جسم سے اتروا لیا، تاکہ ان کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے۔)
پورا فلسفہ بیان کر دیا قرآن پاک نے کہ دیکھو! تمھارے باپ دادا کو شیطان نے ورغلایا تھا اور بے لباس کر دیا تھا، کہیں تمھیں بھی یہ شیطان لباس سے محروم نہ کر دے۔ قرآن کہتا ہے کہ تمھارے باپ آدم اور اماں حواء علیہما السلام کا لباس کس نے اتروایا تھا؟ شیطان نے۔ کہاں اتروایا تھا؟ جنت میں۔ تمھیں بھی گمراہ کرنے پر آئے گا تو سب سے پہلے لباس اتروائے گا۔ قرآن پاک ہمیں خبر دار کر رہا ہے۔ شیطان نے وہاں بھی یہی حربہ اختیار کیا تھا۔ اور زمین میں سوسائٹی کو خراب کرنے کے لیے بھی یہی حربہ استعمال کرے گا اور لباس اتروائے گا، بے حیا بنائے گا۔ لباس نیچر کا حصہ ہے لیکن پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ انسان جنگل میں جھونپڑیوں میں رہتا تھا، وہاں سے ہوتے ہوئے کچے کوٹھے تک پہنچا۔ اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے:
ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ (سورۃ آل عمران 3، آیت: 96)
(حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے۔)
پہلا بیت یا گھر کہاں بنا تھا؟ کب بنا تھا؟ مکہ میں کس نے بنایا تھا؟ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا ہے زمین پر۔ جناب باری تعالیٰ کی بارگاہ میں دونوں آدم و حوا علیہ السلام اپنے رب سے معافی مانگتے رہے:
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین (سورۃ الاعراف 7، آیت: 23)
(اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہو جائیں گے)
پھر جب معافی مل گئی تو فرمایا کہ زمین کو تمھارا منفرد گھر بنایا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے انسان کو شعور بہت دیر بعد آیا۔ دیکھیے قرآن پاک سماج کا آغاز کہاں سے کر رہا ہے اور کیسے بیان کر رہا ہے۔
قرآن کی رو سے قوانین و ضوابط کا خالق اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ خود انسان
کہا جاتا ہے، قانون ضابطہ بھی انسان کی اپنی پیدا کردہ چیز ہے۔ قرآن کہتا ہے، نہیں۔ پہلا قتل کیوں ہوا تھا؟ کس نے کیا تھا؟ قتل کون ہوا تھا؟ قانون کا جھگڑا تھا۔ روایات کے مطابق جو رشتہ اس کے لیے جائز نہیں تھا اس کا تقاضا کر رہا تھا؟ تو جائز ناجائز ہی قانون ہوتا ہے۔ پورا مکالمہ قرآن نے ذکر کیا ہے۔ ایک نے دھمکی دی، کہا، میں تجھے مار دوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ میں ہاتھ نہیں اٹھاتا، آپ کی مرضی ہے (دیکھیے سورۃ المائدۃ 5، آیت: 27 تا 31)۔ تو قتل کا سبب ضابطہ اور قانون تھا۔ (جائز اور ناجائز) ضابطے اور قانون کی خلاف ورزی جھگڑے کا باعث بنی تھی۔
میں نے یہ چند باتیں اس لیے عرض کیں کہ قرآن پاک سماج اور معاشرے کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟ سماج کا آغاز کہاں سے اور کن خصوصیات کے ساتھ ہوا تھا۔ قرآن مجید ان کو بیان بھی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ قدم قدم پر ہم ان کی کس طرح رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ ایک ایک کر کے پیغمبر بھیجتے رہے جب تک سوسائٹی کا نظام انتہا اور کمال کو نہیں پہنچ گیا۔ جگہ جگہ پیغمبرؑ بھیجے جو تمھاری رہنمائی کرتے رہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام نے عقیدے اور عبادت کے ساتھ ساتھ سماج کی بات بھی کی
پہلے فرد (Person) ہے، پھر خاندان (Family) پھر سوسائٹی (Society) پھر ریاست (State) ہے۔ ان چاروں مراحل میں قرآن پاک ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے ان چاروں دائروں میں رہنمائی کی ہے۔ یہ بات جو لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اس لیے آئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو، شرک نہ ہو، وہ اللہ کی عبادت کا درس دینے آئے تھے، یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن انبیائے کرام علیہم السلام نے سوسائٹی میں صرف عقیدے کی بات نہیں کی بلکہ سوسائٹی کی خرابیوں کی بات بھی کی اور ان کی نشاندہی کی بلکہ ان کے خلاف جدوجہد بھی کی۔ مثلاً حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر ہے، انھوں نے کہا:
قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الٰہ غیرہ (سورۃ ہود 11، آیت: 84)
(اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔)
آگے فرمایا:
ویا قوم اوفوا المکیال والمیزان بالقسط ولا تبخسوا الناس اشیاءھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین (سورۃ ہود 11، آیت: 85)
(اور اے میری قوم کے لوگو! ناپ تول پورا پورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔)
کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو، تم ایک نمبر مال دکھا کر دو نمبر مال مت دو، اور ان کو ان کی چیزیں کم کر کے مت دو۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو طعنے سننے پڑے۔ ایک طعنہ یہ دیا تھا، ’’لانت الحلیم الرشید‘‘ (سورۃ ہود، آیت: 87) کہ تُو تو سمجھدار آدمی ہے، یہ کیا باتیں شروع کر دیں تو نے کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو، مارکیٹ میں کیسے دخل اندازی شروع کی؟ پھر یہ طعنہ بھی ملا:
اصلاتک تامرک ان نترک ما یعبد اٰباؤنا او ان نفعل فی اموالنا ما نشآء (سورۃ ہود 11، آیت: 87)
(کیا تمھاری نماز تمھیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے، ہم انھیں بھی چھوڑ دیں۔)
کیا یہ باتیں تمہاری نمازیں تمھیں سکھاتی ہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو، یہ بیچو یہ حلال ہے، یہ نہ بیچو یہ حرام ہے؟ تو حضرت شعیب علیہ السلام نے صرف عقیدہ اور عبادت کی بات نہیں کی بلکہ معاشرے کی خرابی اور حلال و حرام کی بات بھی کی۔ آپ نے قوم کے معاشی و تجارتی نظام کو موضوع بنایا ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا کہ تم مرد کے مرد کے ساتھ جنسی فعل کرتے ہو اور یہ بہت غلط حرکت ہے، تم اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہو، باز آجاؤ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کا میدان خاندانی نظام، عفت اور پاک دامنی تھی۔ جس سے انحراف و انکار پر اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو پتھر مار کر زمین میں دھنسا دیا تھا۔
جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو آزادی کا پرچم لے کر کھڑے ہو گئے تھے۔
فارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبھم (سورۃ طہ 20، آیت: 47)
(بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو اور انھیں تکلیفیں نہ پہنچاؤ۔)
تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام ہی تھے، ان میں سے کوئی ہم جنس پرستی کی مذمت کی بات کر رہا ہے، تو کوئی ناپ تول میں کمی اور حلال و حرام پر بات کر رہا ہے، اور کوئی قوم کی آزادی کی بات کر رہا ہے۔ یہ معاشرتی مسائل تھے انبیاء کرام علیہم السلام نے جن کی نشاندہی فرمائی۔
اب دیکھیں وقت کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے میں کیا اصلاحات فرمائیں۔ ایک جملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عرض کرنا چاہتا ہوں، آپؐ نے جب صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر پہلی دعوت دی تھی تو اس کے بائیس سال بعد حجۃ الوداع میں منیٰ میں کھڑے ہو کر بھی ایک بات فرمائی:
کل امر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی (صحیح مسلم، باب حجۃ النبی ﷺ، حدیث نمبر 1218)
(آج جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں کون سی قدریں پاؤں تلے روندی تھیں۔ شرک اور کفر تو تھا ہی، شراب تھی، سود، عریانی، فحاشی، ہم جنس پرستی، بچیوں کو زندہ دفن کرنا، قبائلی عصبیت، ناچ گانا، یہ ساری باتیں تھیں یا نہیں؟ تو میں نے آج یہ بات تمہیدی طور پر عرض کی کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک صرف عقیدہ اور عبادت کی بات نہیں کرتے بلکہ سماج اور معاشرت کی بات بھی کرتے ہیں، اسلام کی بات کرتے ہیں، اور اسلام کا جامع پیغام بھی یہی ہے کہ آنے والا دور سسٹم کے ٹکراؤ اور اسلام کی بالادستی کا دور ہو گا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی، بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (۳)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم
یاجوج اور ماجوج
یاجوج اور ماجوج بائبل، قرآن، اور احادیث میں مذکور قومیں ہیں۔ قرآن میں یاجوج اور ماجوج کی رہائی کو قیامت کی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یاجوج اور ماجوج کی تاریخ
پرانے عہد نامے میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر
کتاب پیدائش114 میں، ماجوج کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے بیان کیا گیا ہے۔ یافث کی نسل کو روایتی طور پر "سفید قوموں" سے منسوب کیا جاتا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے شمالی علاقوں، جیسے اناطولیہ، بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے قریب کے خطے، وسطی ایشیا اور یورپ تک پھیلے ہوئے تھے۔
حضرت حزقی ایل (علیہ السلام) نے، جو اللہ کے نبی تھے، بابل میں جلاوطن بنی اسرائیلی کو امید کا پیغام دیا۔ یہ پیغام 586 قبل مسیح میں پہلے یہودی معبد کی تباہی کے بعد دیا گیا تھا۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ اللہ اسرائیلیوں کو مستقبل میں ایک کثیر النسلی فوج پر فیصلہ کن فتح عطا کرے گا، جس کی قیادت ماجوج کی زمین سے آنے والے یاجوج نامی شخصیت کرے گا115۔ یاجوج، "مسک اور توبال کا سردار شہزادہ"، ایک اتحاد کی قیادت کرتا ہے جو "دور شمال" کے علاقوں سے آتا ہے۔116 117 تاریخی اور جغرافیائی روایات ان علاقوں کو اکثر بحیرہ اسود کے قریب علاقوں سے جوڑتی ہیں۔
حضرت حزقی ایل (علیہ السلام) کی پیشگوئی اس وقت کے واقعات سے مطابقت رکھتی ہے، جب یونانیوں کے سلوقی بادشاہ انطیوکس چہارم نے 167 قبل مسیح میں دوسرے یہودی معبد کی بے حرمتی کی118۔ یہ واقعہ یہودیوں کی مکابی بغاوت کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں معبد کی بحالی ہوئی۔ یہ واقعات یہودیوں کے لیے عید ہنوکا کے تہوار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے سلوقی افواج سے جنگی مال اور اہم قلعے و شہر واپس حاصل کیے، جو حضرت حزقی ایل (علیہ السلام) کے خواب میں اسرائیل کے لیے الہی مداخلت اور فتح کی عکاسی کرتا ہے۔
تاریخی ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ وسطی ایشیا اور بحیرہ اسود کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائل کو ان کی عمدہ گھڑسوار فوجی صلاحیتوں کی وجہ سے مختلف سلطنتوں نے کرائے کے سپاہیوں کے طور پر بھرتی کیا۔ یونانیوں کی سلوقی سلطنت، جو اپنے علاقوں، خاص طور پر اناطولیہ اور پڑوسی شمالی علاقوں سے فوجیوں کو بھرتی کرتی تھی، اسی طریقہ کار پر عمل کیا۔ یاجوج کی قیادت میں کثیر النسلی فوج کو سلوقی سلطنت کے تحت یہودیہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یاجوج کا کردار حضرت حزقی ایل (علیہ السلام) کے خواب میں وسطی ایشیا اور ایران کے جنگجو گروہوں کے عروج سے مطابقت رکھتا ہے، جو تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے سلوقی افواج کے اتحادی یا کرائے کے سپاہی بنے۔ یہ علاقے سلوقی افواج کی عسکری بنیاد بنے اور ان کی مہمات اور علاقائی غلبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔119
قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر
سورہ کہف120 میں قرآن یاجوج اور ماجوج نامی ایک فساد پھیلانے والے گروہ کا ذکر کرتا ہے ۔ ان کے خلاف ذوالقرنین ایک دیوار تعمیر کرتے ہے تاکہ ان کے فساد کو روکا جا سکے۔ ذوالقرنین کو ایران کے ہخامنشی سلطنت کے رہنما، کوروش اعظم کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، کیونکہ حضرت دانیال (علیہ السلام) کے خواب میں ہخامنشی سلطنت کو دو سینگوں والے مینڈھے کے طور پر پیش کیا گیا ہے121 — یہ دو سینگ اس سلطنت میں فارسی اور مادی قوموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاریخ میں باقی دیواروں کی طرح یہ دیوار بھی ٹوٹ چکی ہے اور غالباً قفقاز کے پہاڑی سلسلے میں تعمیر کی گئی تھی122—وہی خطہ جو وسطی ایشیا کے شمالی قبائل اور مشرقِ وسطیٰ کی مہذب دنیا کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ کے طور پر قائم رہا۔
ذوالقرنین کا واقعہ اسرائیلی روایات میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، تاہم ان روایات میں ذوالقرنین کو اسکندر اعظم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔123 مؤرخین نے اس نسبت پر اعتراض کیا ہے، کیونکہ قفقاز میں تعمیر کی گئی دیواریں جن کا ذکر اسرائیلی روایات میں ملتا ہے، درحقیقت اسکندر اعظم سے پہلے ایران کی ہخامنشی سلطنت کے دور میں تعمیر ہوئی تھیں۔
پرانے عہد نامے میں "ماجوج کی زمین سے یاجوج" کا تصور، نئے عہد نامے اور قرآن میں "یاجوج اور ماجوج" کے اجتماعی ذکر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وقت کے ساتھ، یاجوج کا انفرادی کردار یا لقب ماجوج کی وسیع تر آبادی کے ساتھ جڑ گیا، اور یوں "یاجوج و ماجوج" کا اطلاق ان شمال کی قوموں پر ہونے لگا جو زمین میں فساد اور جارحیت پھیلاتی تھیں۔
تاریخی ریکارڈ میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر
پہلی صدی عیسوی کے یہودی مؤرخ جوزیفس نے ماجوج کو سکوتی قبائل کے ساتھ منسلک کیا، جو ایک خانہ بدوش گروہ تھا اور بحیرہ اسود کے شمالی علاقوں میں آباد تھا۔124
یاجوج اور ماجوج کا خروج – یورپی نوآبادیاتی تسلط
نیا عہد نامہ میں یاجوج اور ماجوج کا خروج
کتابِ مکاشفہ125 میں یہ ذکر ملتا ہے کہ "صادق" اور "امین" کے ایک ہزار سال بعد، یاجوج و ماجوج زمین کے چاروں کونوں سے نکل کر، شیطان کے دھوکے میں آ کر جنگ کے لیے جمع ہوتے ہیں، اور زمین پر پھیلتے ہوئے 'مقدسوں کی لشکرگاہ' اور 'عزیز شہر' کا محاصرہ کر لیتے ہیں۔
کتاب مکاشفہ126 میں درج "صادق" اور "امین" کے القابات حضرت محمد ﷺ کے عام طور پر پہچانے جانے والے نام ہیں، جو ان کے نبوت سے بھی پہلے کے القابات تھے۔ اس لحاظ سے "ہزار سال" کے بعد کا دور سترہویں صدی عیسوی کے زمانے سے مطابقت رکھتا ہے — وہی دور جب یورپی اقوام (خصوصاً شمالی اور مغربی یورپ) "زمین کے چار کونوں" یعنی امریکہ، افریقہ، چین، ہندوستان اور انڈونیشیا تک پھیل چکی تھیں۔ شیطان کا یاجوج و ماجوج کو سترہویں صدی میں دھوکہ دینا اس عملی اور فکری تبدیلی کی علامت ہے، جس کے نتیجے میں یہی یورپی اقوام نئے علاقوں کی دریافت، تجارتی راستوں اور ساحلی تجارتی چوکیوں تک محدود رہنے کے بجائے باقاعدہ سامراجی حکمرانوں میں تبدیل ہو گئیں، جب یورپی اقوام کا عہدِ دریافت اختتام پذیر ہوا اور عہدِ سلطنت کا آغاز ہوا۔ شیطان کا دھوکہ ان کے درمیان لالچ، غرور، اور طاقت کے حصول کی دوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔
کتاب مکاشفہ میں "مقدسوں کی لشکرگاہ" مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ "عزیز شہر" مکہ مکرمہ کی علامت ہے۔127 تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پہلی جنگِ عظیم کے بعد ان دونوں مقدس شہروں کے گرد واقع خطے یورپی استعمار کے زیرِ اثر آ گئے:
- برطانوی قبضہ: اردن، عراق، خلیج کے ساحلی علاقے (یو اے ای)
- برطانوی مینڈیٹ: فلسطین
- برطانوی اثر: عدن (یمن)
- فرانسیسی کنٹرول: شمالی افریقہ، شام، لبنان
شمالی اور مغربی یورپ کی نسب
شمالی اور مغربی یورپ کا نسب یامنایا ثقافت (3300–2500 قبل مسیح) سے جڑا ہے، جو بحیرہ خزر کے قریب میدانوں سے ابھری اور ممکنہ طور پر حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد سے تھی۔ یہ ثقافت انڈو-یورپی زبان بولنے والے گروہوں کی بنیاد بنی، جنہوں نے یورپ، وسطی ایشیا، اور اناطولیہ میں اپنے جینیاتی اور ثقافتی اثرات پھیلائے۔
ان انڈو-یورپی زبان بولنے والے گروہوں میں سے، جرمن قبائل نے خاص طور پر نقل مکانی کے دور (تقریباً 300–800 عیسوی) کے دوران، یورپ کے ثقافتی، سیاسی، اور نسلی منظرنامے کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سکوتی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ حصے، جیسے آلان اور سرمتی باشندے بھی جرمن قبائل کے ساتھ شامل ہوگئے۔128 نمایاں جرمن قبائل کا درج ذیل میں ذکر کیا گیا ہے:
- سیکسن، اینگل، فرینک: ان قبائل نے برطانیہ، فرانس، اور جرمنی کی ثقافت اور سیاست پر گہرا اثر ڈالا، خاص طور پر مغربی رومی سلطنت کے زوال کے بعد۔
- اوستروگوتھ: اٹلی میں سلطنت قائم کی، لیکن بازنطینی سلطنت کے ہاتھوں گوتھک جنگوں میں شکست کھائی۔
- وزیگوتھ: روم پر 410 عیسوی میں حملہ کیا اور آئبیریا میں سلطنت قائم کی، جس نے ہسپانوی ثقافت پر دیرپا اثر ڈالا۔
- وانڈلز: بحیرہ روم کے راستے شمالی افریقہ ہجرت کی اور قرطاج میں سلطنت قائم کی لیکن فرانس اور آئبیریا میں بھی اثرات چھوڑے۔
- وائکنگ: اسکینڈے نیویا سے نکل کر برطانیہ، مشرقی یورپ، اور نارمنز کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔
ان جرمن قبائل نے یورپی ثقافت، سیاست اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے، جنہوں نے جدید یورپی شناخت کی بنیاد رکھی اور برطانیہ، فرانس، اسپین، جرمنی اور اسکینڈے نیویا جیسے ممالک کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لہٰذا شمالی اور مغربی یورپ کے جرمن قبائل کو یاجوج و ماجوج کی اولاد سے جوڑنا معقول اور قابل قبول معلوم ہوتا ہے۔
قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا خروج
سورہ الانبیا129 میں یاجوج و ماجوج کے قیامت سے قبل خروج کا ذکر ہے۔
شمالی اور مغربی اقوام کا یورپ سے نکلنا — یعنی ان کا خروج — مختلف موجوں میں وقوع پذیر ہوا۔ ڈاکٹرین آف ڈسکوری اور پوپ کے 1493 میں جاری کردہ "انٹر کیٹرا"130 جیسے احکامات نے ہسپانوی اور پرتگالی توسیع کو جھوٹی خدائی توثیق دی، جس کے بعد واسکو ڈی گاما 1497 میں ہندوستان کے لیے روانہ ہوا۔ نیچے اہم یورپی نوآبادیاتی طاقتوں اور ان کے زیرِ اثر علاقوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جو شمالی اور مغربی یورپ سے منسلک ہیں۔ یہ فہرست ان اقوام کے عالمی غلبے اور دنیا بھر میں ان کی نوآبادیاتی وسعت کو واضح کرتی ہے۔
- پرتگال: افریقہ، ایشیا، برازیل
- اسپین: امریکہ، فلپائن
- نیدرلینڈز: انڈونیشیا، کیریبین
- فرانس: امریکہ، افریقہ، ایشیا
- برطانیہ: دنیا بھر میں (امریکہ، ہندوستان، افریقہ، ایشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ)
- ڈنمارک-ناروے: گرین لینڈ، کیریبین، ہندوستان
- سویڈن: شمالی امریکہ، کیریبین
- بیلجیم: کانگو، روانڈا، برونڈی
- اٹلی: لیبیا، ایتھوپیا، صومالیہ
- جرمنی: افریقہ، بحر الکاہل
حدیث میں یاجوج اور ماجوج کا خروج
قرآن میں ذوالقرنین کے واقعے کو ایک حقیقی واقعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے یاجوج اور ماجوج کی رہائی کو علامتی طور پر اسی واقعے سے بیان کیا۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے دیوار میں سوراخ کے بڑھنے کو ان کے قریب الوقوع خروج کی نشانی قرار دیا131۔
یاجوج اور ماجوج کا آپس میں تصادم – دوسری جنگ عظیم میں یورپی اقوام کا ٹکرائو
بائیبل، قرآن اور احادیث میں یاجوج و ماجوج کے قیامت سے پہلے آخری بڑے معرکے کو بیان کیا گیا ہے۔ ان واقعات کی تاریخی مطابقت دوسری جنگِ عظیم کے ان مناظر سے ملتی ہے جب یورپی اقوام ہر سمت سے حملہ آور ہو کر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔
نیا عہد نامہ میں یاجوج اور ماجوج کا آخری معرکہ
کتابِ مکاشفہ میں شیطان یاجوج و ماجوج کو جنگ کے لیے جمع کرتا ہے۔ پھر آسمان سے ایک آگ نازل کی جاتی ہے جو انہیں کھا جاتی ہے—جو اُن کی مکمل ہلاکت کی ایک طاقتور علامت ہے۔132 یہ علامتی آگ یاجوج و ماجوج کے عظیم معرکے، یعنی دوسری عالمی جنگ، کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس آگ میں ان کا جل کر ختم ہونا نہ صرف نازی جرمنی کی فیصلہ کن شکست کو ظاہر کرتا ہے بلکہ جنگ کے بعد نوآبادیاتی نظام کے زوال کی علامت بھی بنتا ہے۔
قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا آپس میں تصادم
سورہ کہف133 میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن کا ذکر فرماتے ہیں جب یاجوج اور ماجوج "موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے"، اور صور پھونک دیا جائے گا۔
قرآن ہمیشہ وقت کو سیاق و سباق کے مطابق بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، سورہ الاعراف134 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین چھ دنوں میں پیدا کیے گئے، جہاں "دن" سے مراد ایک مکمل دور یا زمانہ ہے۔ اسی اصول کے تحت، یاجوج اور ماجوج کے تصادم کا "دن" عالمی واقعات کے آخری دور کو ظاہر کرتا ہے۔
سورہ انبیاء135 میں اسی تصادم کے پہلے مرحلے کو یاجوج اور ماجوج کے ہر بلند مقام سے حملہ آور ہونے سے ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد "وعدۂ حق" یعنی قیامت کے قریب آنے کا بیان ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی طاقتور فوج بلندی سے تیزی کے ساتھ دشمن پر حملہ آور ہو، جو ان کی جارحیت، برق رفتاری اور ناقابلِ مزاحمت عسکری قوت کی علامت ہے۔
سورہ کہف کا بیان دوسری جنگ عظیم کے مجموعی منظرنامے سے مشابہ ہے، جب یورپی اقوام—جو یاجوج و ماجوج کی نمائندہ ہیں—سمندر کی لہروں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ جبکہ سورہ انبیاء کا ذکر جنگ کے آغاز میں نازی جرمنی کے تیز رفتار حملوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے احادیث میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
احادیث اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ اس تصادم اور صور پھونکنے کے درمیان ایک مختصر خوشحالی کا دور ہوگا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس درمیانی دور میں ہیں۔
احادیث میں یاجوج اور ماجوج کے واقعات
احادیث میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق واقعات دوسری جنگ عظیم سے مطابقت رکھتے ہیں:
یاجوج اور ماجوج کا ہر بلندی سے حملہ آور ہونا – نازی جرمنی کا حملہ آور ہونا
حدیث میں یاجوج و ماجوج کی آخری عظیم جنگ کے آغاز کو سورۃ الانبیاء کی قرآنی تعبیر "ہر بلندی سے حملہ آور ہوں گے" کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
تاہم، جہاں قرآن مجید میں لفظ "فُتِحَتْ" (یعنی "وہ کھول دیے جائیں گے") استعمال ہوا ہے،136 وہاں حدیث میں اس کی جگہ "يَبْعَثُ اللہ" (یعنی "اللہ انہیں بھیجے گا") استعمال کیا گیا ہے۔137 یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ یاجوج و ماجوج کا ابتدائی ظہور (مثلاً نوآبادیاتی دور میں) پہلے ہی ہو چکا تھا، لیکن اللہ نے انہیں آخری اور فیصلہ کن جنگ کے لیے بھیجا۔
اس تناظر میں، یہ بیان یاجوج و ماجوج کے ہی ایک حصے، یعنی نازی جرمنی، کی دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں تیز رفتار، جارحانہ اور وسیع پیمانے پر کی گئی علاقائی توسیع کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ نازی فوجی قوت اور ان کی برق رفتار حربی حکمت عملیوں نے ابتدائی مراحل میں یورپ کے مختلف حصوں میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ فتوحات حاصل کیں۔ یہ بالکل ویسے ہی تھا جیسے کوئی حملہ آور بلند مقام سے اچانک اور تیز رفتاری کے ساتھ نیچے اتر کر مخالفین کو تہس نہس کر دے۔
یاجوج اور ماجوج کا طبریہ کی جھیل کا پانی پینا – نازی جرمنی کا دوسری عیسائی اقوام کے وسائل کا استحصال کرنا
حدیث138 میں یاجوج اور ماجوج کا طبریہ کے جھیل کا پانی پینے کا ذکر ہے۔
طبریہ کی جھیل، جسے بحیرہ گلیل بھی کہا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں شام کے علاقے میں واقع ایک اہم میٹھے پانی کا ذخیرہ تھی، جس سے عرب بخوبی واقف تھے۔ حدیث میں یاجوج و ماجوج کا اس جھیل کا پانی پی جانا دراصل اس امر کی علامت ہے کہ نازیوں نے مقبوضہ علاقوں میں موجود قدرتی وسائل — جیسے تیل، خوراک، اور صنعتی ساز و سامان — کو بے دردی سے استعمال کیا۔ ان وسائل کی شدید طلب نے نہ صرف مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دیا بلکہ جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ خود جرمنی کی معیشت اور جنگی طاقت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
یاجوج اور ماجوج کا بیت المقدس پہنچنا اور آسمان کی طرف تیر چلانا – نازیوں کا یہودیت اور عیسائیت پر حملہ
حدیث139 میں یاجوج و ماجوج کے بیت المقدس کے قریب پہنچنے کا ذکر ہے، جب وہ کہیں گے: "ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا، اب آسمان والوں کو ماریں گے۔" وہ تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، جو خون میں لت پت واپس آئیں گے۔
دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں نازی جرمنی کی غیر متوقع کامیابیاں اس کے حکمرانوں کے تکبر میں اضافے کا باعث بنیں۔ آسمان سے "خون آلود تیروں" کا آنا جرمنی کے مذہب پر طاقت کے ذریعے حملے کی علامت ہے۔ بیت المقدس، جو دورِ نبوی ﷺ میں یہود و نصاریٰ کا مرکز و مسکن تھا، نازیوں نے انہی دونوں مذاہب کو بالخصوص نشانہ بنایا، مثلاً:
- پادریوں اور علماء کو گرفتار یا قتل کیا گیا
- یہودی عبادت گاہیں تباہ کی گئیں
- ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودی قتل کیے گئے
- عیسائی یہوواہ کے گواہوں کو قید یا قتل کیا گیا
- گرجا گھروں کو بند یا حکومتی کنٹرول میں لیا گیا
- نازی مخالف مسیحیوں کو قتل کیا گیا
علاوہ ازیں، نازی قیادت، خاص طور پر ہینرک ہیملر، نے ہٹلر کو مسیحائی شخصیت کے طور پر پیش کیا اور جرمن نسلی برتری و صوفیانہ عقائد پر مبنی ایک نیا نظریاتی مذہب بنایا۔ نازیوں نے نیٹشے کے "خدا مر چکا ہے" کے فلسفے کو فروغ دیا اور روایتی مذاہب کے خاتمے کے ذریعے اپنی نظریاتی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، جو ان کی طاقت اور اعتماد کے بڑھنے کی علامت تھی۔
یاجوج اور ماجوج کی موت – نازی جرمنی کی شکست
حدیث140 میں اللہ کا کیڑے بھیجنے کا ذکر ہے جو یاجوج اور ماجوج کی گردنوں پر حملہ کریں گے اور وہ سب ایک ہی جان کے مرنے کی طرح مر جائیں گے۔
یہ تشبیہ نازی جرمنی کے زوال کو بیان کرتی ہے۔ یہاں "گردنوں میں کیڑے پڑنے" کی تعبیر اُس اچانک خودکشی کی علامت ہے جو ہٹلر نے اپریل 1945ء میں کی — جیسے یاجوج و ماجوج کی گردنوں پر کیڑوں کا حملہ ہو، جس نے ان کے اقتدار و اختیار کی رگ کاٹ کر رکھ دی ہو۔ ہٹلر کی موت کے فوراً بعد نازی حکومت نے چند ہی دنوں میں، مئی 1945ء میں، مکمل طور پر غیر مشروط ہتھیار ڈال دیے — بالکل اُسی منظر کی مانند جسے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب یاجوج و ماجوج کی گردنوں پر کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ یکایک ہلاک ہو جاتے ہیں۔
تعبیر سے متعلق سوالات
دجال اور یاجوج و ماجوج کے متوازی بیانیے
صحیح مسلم کی حدیث141 میں دجال کے واقعات پہلے اور یاجوج و ماجوج کے واقعات بعد میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس ترتیب سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ دجال کی موت یاجوج و ماجوج کے حملے سے پہلے ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ دونوں واقعات ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئے، جیسا کہ متوازی بیانیوں میں عام طور پر ہوتا ہے، جہاں ایک موضوع کو مکمل بیان کر کے دوسرے متوازی موضوع کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے — خواہ دونوں واقعات تاریخی طور پر ایک ہی دور میں واقع ہوئے ہوں۔
اس سیاق میں، دجال سے مراد سوویت یونین ہے، جو 1922 میں قائم ہوا اور 1991 میں ختم ہوا؛ جبکہ یاجوج و ماجوج سے مراد نازی جرمنی ہے، جس نے 1939 سے 1945 کے دوران دوسری جنگِ عظیم میں مہلک حملے کیے۔ چونکہ سوویت یونین کا ظہور نازی جرمنی سے پہلے ہوا، اس لیے حدیث میں اس کا تذکرہ اور انجام پہلے بیان کیا گیا، جب کہ یاجوج و ماجوج کے واقعات کو بعد میں تفصیل سے بیان کیا گیا — جیسا کہ متوازی بیانیوں میں عمومی طور پر ہوتا ہے۔
مزید برآں، حدیث کے مطابق دجال کی ہلاکت کے بعد سات سال کا ایک پُرامن دور آئے گا، جس کے اختتام پر ٹھنڈی ہوائیں چلیں گی جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لیں گی، جس کے دل میں رتی برابر بھی ایمان موجود ہوگا۔142 اگر یہ مفروضہ اختیار کیا جائے کہ یاجوج و ماجوج کا فتنہ دجال کے بعد ظاہر ہوا اور پھر ان کے بعد یہ ہوائیں چلیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یاجوج و ماجوج کا عظیم فساد اسی سات سالہ پُرامن دور میں برپا ہوا — جو کہ اس دور کے "پُرامن" ہونے کے تصور سے سراسر متصادم ہے۔ یہ تضاد اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یاجوج و ماجوج کا خروج دجال کے فتنے کے ساتھ متوازی تھا، یعنی دونوں فتنوں کا ظہور ایک ہی تاریخی عرصے میں ہوا۔ حدیث میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بعد میں آنا صرف اسلوبِ بیان اور ترتیبِ تفصیل کا حصہ ہے، نہ کہ اس سے مراد زمانی ترتیب ہے۔
احادیث میں یاجوج اور ماجوج اور نازی جرمنی
احادیث میں خاص طور پر نازی جرمنی کو یاجوج و ماجوج سے تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کی دیگر یورپی اقوام بھی شامل تھیں، جو تاریخی و نسلی اعتبار سے یاجوج و ماجوج اقوام کا حصہ ہیں۔ اس تخصیص کا مقصد دراصل وضاحت اور صاف گوئی ہے تاکہ یہ مغالطہ پیدا نہ ہو کہ یہ احادیث جنگ کے کس فریق کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔
یاجوج و ماجوج کی پہچان ہمیشہ شمال کی اُن اقوام سے کی گئی ہے جو دوسری قوموں پر چڑھائی کر کے تباہی مچاتی ہیں، اور ان کے وسائل کو بے دریغ لوٹتی ہیں۔ یہی صفات نازی جرمنی کے طرزِ عمل میں پوری شدت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ اس وجہ سے نازی جرمنی کو خصوصاً ان احادیث میں یاجوج و ماجوج سے تشبیہ دی گئی ہے تاکہ مفہوم میں ابہام باقی نہ رہے۔
حوالہ جات
114) Genesis 10:2: https://www.bible.com/bible/1/GEN.15.18-20.KJV
115) Ezekiel 38:2-3: https://www.bible.com/bible/111/EZK.38.2-3.NIV
116) Ezekiel 39:2: https://www.bible.com/bible/111/EZK.39.2.NIV
117) Ezekiel 38:15: https://www.bible.com/bible/111/EZK.38.15.NIV
118) " معبد کی مکروہ بربادی " بائبلی پیش گوئی سے ماخوذ ہے، خاص طور پر کتابِ دانیال میں۔ یہ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب یونانی دیوتا زیوس کے لیے قربان گاہ قائم کی گئی اور یہودی ہیکلِ مقدس میں خنزیر کی قربانی دی گئی، جس نے اس مقدس مقام کو ویران اور ناپاک بنا دیا۔
119) Rolf Strootman, ‘The Seleukid Empire’, in: R. Mairs ed., The Graeco-Bactrian and Indo-Greek World. Routledge Worlds (London and New York: Routledge, 2021) 11–37.
120) Quran 18:93-98: https://quran.com/18/93-98
121) Daniel 8: https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.NIV
122) https://en.wikipedia.org/wiki/Darial_Gorge
123)سفر یوسیپون (Sefer Josippon)، دسویں صدی عیسوی کی عبرانی تاریخ۔
124) https://jewishencyclopedia.com/articles/10279-magog
125) Revelation 20:7-9: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.7-9.NIV
126) Revelation 19:11: https://www.bible.com/bible/111/REV.19.11.NIV
127) جاوید احمد غامدی، میزان (علامات قیامت)
128) جارج لیپوویوِچ، "یورپ میں الان اور سرماتی اقوام": https://www.academia.edu/17774436/Alans_and_Sarmatians_in_Europe
129) Quran 21:96: https://quran.com/21/96
130) https://www.gilderlehrman.org/history-resources/spotlight-primary-source/doctrine-discovery-1493
131) Sahih Bukhari 3347: https://sunnah.com/bukhari:3347
132) Revelation 20:7-9: https://www.bible.com/bible/111/REV.20.7-9.NIV
133) Quran 18:99: https://quran.com/18/99
134) Quran 7:54: https://quran.com/7/54
135) Quran 21:96-97: https://quran.com/21/96-97
136) Quran 21:96 https://quran.com/21/96
137) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
138) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
139) Sahih Muslim 2937b: https://sunnah.com/muslim:2937b
140) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
141) Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
142) Sahih Muslim 2940a: https://sunnah.com/muslim:2940a
(جاری)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
ڈاکٹر ثمینہ کوثر
مسلم فکر اور نظریہ ارتقا
تعارف
گذشتہ صفحات میں ہم نے عیسائی سیاق و سباق میں نظریہ ارتقا سے متعلق چار اہم موضوعات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد باب 3 میں، ہم نے اسلامی صحیفے کا مطالعہ کیا، جہاں ارتقا سے متعلق مختلف قرآنی آیات اور احادیث کو سامنے رکھ کر عیسائی مفکرین اور مذہبی گروہوں کے مؤقف کا اسلامی تناظر میں موازنہ اور تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیے کے دوران کچھ ایسے نکات بھی سامنے آئے جو اسلامی تناظر کے باوجود، عیسائی سیاق کے لیے زیادہ موزوں یا اہم دکھائی دیے۔ یہاں ہم اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ان مسلم مفکرین کے دلائل کا جائزہ لیں گے جنہوں نے اسلام اور نظریہ ارتقا کے مابین مطابقت تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس بحث کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان مختلف درجہ بندیوں (classification schemes) کو بھی سمجھیں، جو اس موضوع کو منظم انداز میں سمجھنے کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔ یقیناً ہر درجہ بندی کسی مخصوص زاویے کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جاتی ہے، جس کے ذریعے مصنف یا محقق وہ نکات اجاگر کرنا چاہتا ہے جو اس کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ خطرہ بھی موجود رہتا ہے کہ یہ درجہ بندیاں کسی اور سیاق و سباق میں ، بالخصوص مسلم فکری روایت پر پوری طرح لاگو نہ ہو سکیں۔ مثلاً بعض درجہ بندیاں امریکہ یا مغرب کے مخصوص فکری ماحول کے لیے بہت موزوں ہیں، مگر وہ مسلم تناظر میں قدرے غیر فطری یا غیر متعلق محسوس ہوتی ہیں۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس باب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا حصہ ان مختلف درجہ بندیوں اور فریم ورکس کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے جو ارتقا اور مذہب کے تعلق کو سمجھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ ہم یہاں دیکھیں گے کہ ان درجہ بندیوں پر کی جانے والی تنقیدات کیا ہیں، اور ان میں سے کون سا فریم ورک زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ آخر میں ہم ایک مخصوص درجہ بندی کو اختیار کریں گے جو صرف اور صرف مشترکہ نسب (common ancestry) کے مسئلے پر مرکوز ہے، وہیں اس انتخاب کی عقلی توجیہ بھی بیان کی جائے گی۔ دوسرا حصہ اسی منتخب درجہ بندی کو مسلم مفکرین کے بیانات، افکار اور تحریروں پر لاگو کرے گا۔ اس حصے میں ایک جامع جدول (summary table) بھی شامل کیا جائے گا جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ہر مفکر مشترکہ نسب کے تصور سے کس حد تک اتفاق یا اختلاف کرتا ہے، اور اس کی کیا وجوہات ہیں۔
درجہ بندیوں کا جائزہ
اسلام اور ارتقا کے حوالے سے لوگوں کی آرا کو کس طرح ترتیب دیا جائے اور ان کی درجہ بندی کیسے جائے ؟ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور محنت طلب کام ہے۔ جیسا کہ ہم باب اول میں دیکھ چکے ہیں، ارتقا ایک کثیرالمضامین (multipropositional) نظریہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ارتقا کو بیان کرنے کے لیے کئی پہلو بیک وقت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں "طویل زمانی تسلسل" (deep time) اور "مشترکہ نسب" (common ancestry) شامل ہیں، جبکہ بے ترتیب تغیرات (random mutation) اور قدرتی انتخاب (natural selection) جیسے عوامل اسے نیو ڈارونیت (Neo-Darwinism) کی شکل دیتے ہیں۔ اسی لیے جب لوگوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا وہ "ارتقا" پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، اور یہ سوال ایک مجموعی اور مبہم انداز میں کیا جاتا ہے، تو اس میں ایک بڑی الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جواب صرف دو میں سے ایک ہو سکتا ہے یعنی ہاں یا ناں ، حالانکہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ نہیں جان پاتے کہ وہ اصل میں ارتقا کے کس پہلو کو قبول یا رد کر رہے ہیں۔ کیا وہ طویل زمانی عمل (یعنی زمین اور زندگی کی قدیم تاریخ) کو نہیں مانتے؟ یا مشترکہ نسب (یعنی تمام جانداروں کا ایک ہی جد امجد ہونا) کو؟ یا پھر وہ ارتقا کے سائنسی طریقۂ کار جیسے بے ترتیب تغیر اور قدرتی انتخاب کو مسترد کر رہے ہیں؟ یا شاید وہ ان تمام باتوں کو ایک ساتھ رد کر رہے ہیں؟ اگر "ارتقا" کو ایک ہی جامع اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جائے تو ان مختلف اور اہم اجزاء میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور بحث مبہم ہو جاتی ہے۔
اس مسئلے کے علاوہ ایک اور پیچیدگی مفاہیم (connotations) سے متعلق ہے۔ "ارتقا" اور "(نیو)ڈارونیت" بعض سیاق و سباق میں ایسے بھاری بھرکم مفہوم کی حامل اصطلاحات بن چکی ہیں کہ وہ سننے والے کے ذہن میں فوراً الحاد، مادہ پرستی اور فطرت پرستی جیسے تصورات کو جنم دیتی ہیں ۔ حالانکہ یہ تصورات منطقی طور پر ارتقا سے لازم و ملزوم نہیں۔ یعنی، ارتقا پر یقین رکھنے کا لازمی مطلب الحاد یا مادہ پرستی نہیں ہے۔ تاہم تاریخی اور سماجی حوالوں سے ارتقا کو تھیزم بمقابلہ الحاد کی بحث میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ "ارتقا" یا "ڈارونیت" جیسی اصطلاحات اپنی غیر جانب داری کھو چکی ہیں۔ مشہور نیو ایتھیسٹ ریچرڈ ڈاکنز جیسے مفکرین ارتقا اور الحاد کو ہم معنی بنا کر پیش کرتے ہیں، اسی لیے وہ پرزور انداز میں کہتے ہیں کہ آدمی یا تو مومن ہو سکتا ہے یا ارتقائی مفکر (believer or evolutionist)، درمیانی راستہ کوئی نہیں(Elsdon-Baker 2009; 2017) ۔ یہی زبان، یہی اندازِ استدلال، اور یہی سادہ ثنویت (binarism) اس اہم علمی بحث کو غیر ضروری الجھاؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ اسی طرح عوامی سطح پر سائنسی اصطلاحات کے عمومی فہم میں بھی الجھن پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم باب اول میں دیکھ چکے ہیں،جیسے "نظریہ" (theory) کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو روزمرہ بول چال میں لیا جاتا ہے۔ لیکن عام لوگ اس فرق سے ناآشنا ہوتے ہیں، اور یوں "نظریہ ارتقا" کو محض ایک قیاس یا غیر مصدقہ رائے سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مسلمانوں کے ہاں ارتقا سے متعلق سروے اور شماریاتی ڈیٹا کو بہت محتاط انداز میں پڑھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ریاض حسن (2007) نے متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں ایک جامع سروے کیا، جن میں مصر، قازقستان، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور ملائیشیا شامل تھے۔ اس سروے میں یہ سوال پوچھا گیا تھا "کیا آپ ڈارون کے نظریہ ارتقا سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف؟" کارلائل وغیرہ (2019: 152) نے اس سوال پر تنقید کرتے ہوئے بجا طور پر درج ذیل نکات اٹھائے:
یہ سوال کئی حوالوں سے مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ اول، یہ فرض کرتا ہے کہ جواب دینے والے کو ڈارونیت کی تفصیلات کا علم ہے۔ دوم، اس میں 'نظریہ' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جسے عام لوگ شک یا غیر یقینی کے مفہوم میں لیتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ سائنسی برادری میں ارتقا کتنی اچھی طرح سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔ سوم، یہ سوال ایک جدید تحقیقی شعبے کو صرف ڈارون سے منسوب کرکے ایک تاریخی شخصیت سے جوڑ دیتا ہے، جس سے ارتقا کا سائنسی تصور مغربی استعماری مادہ پرستی کی علامت بن جاتا ہے۔ آخر میں، یہ سوال انسانی اور غیر انسانی ارتقا کے درمیان فرق نہیں کرتا Carlisle et al. (2019, 152) ۔
کارلائل وغیرہ کی یہ آخری تنقید خاص طور پر قابلِ غور ہے، کیونکہ بعض مسلم مفکرین انسانی ارتقا اور غیر انسانی (یعنی جانوروں و نباتات) ارتقا میں فرق کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس فرق سے ناآشنا ہوتے ہیں، وہ پورے ارتقائی نظریے کو یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔ یہی مسئلہ ہمیں Pew World Muslim Poll (2013) میں نظر آتا ہے، جس میں درج ذیل سوال اور جوابی اختیارات دیے گئے تھے:
ارتقا کے بارے میں سوچتے ہوئے، درج ذیل میں سے کون سا جواب آپ کے خیال سے زیادہ قریب ہے؟
- انسان اور دیگر جاندار وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل سے گزرے ہیں
- انسان اور دیگر جاندار ابتداء سے اپنی موجودہ شکل میں موجود ہیں
- معلوم نہیں
ایلزڈن بیکر (2015) نے اس سوال کو بھی مسئلہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس کا فریم امریکی ماحول سے شدید متاثر ہے، جہاں " سب کچھ مانو یا کچھ بھی نہیں" کا رجحان پایا جاتا ہے(Elsdon-Baker 2015, 434)۔ وہ بجا طور پر اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ ہمارے سروے کے انداز اور سوالات کا طریقہ خود بخود ایسے افراد پیدا کر دیتا ہے جو تخلیق پرستی (creationism) کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
چنانچہ انسانی اور غیر انسانی ارتقا کے درمیان فرق کرنا اس بحث کو زیادہ مؤثر اور متوازن بنا سکتا ہے، کیونکہ اس سے ارتقا کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے جزوی طور پر قبول کرنے کی گنجائش نکلتی ہے۔
مثال کے طور پر Unsworth and Voas (2018) نے اپنے سروے میں ان دونوں پہلوؤں کو الگ الگ پرکھا۔ انہوں نے 815 مسلمانوں پر مشتمل نمونے کے ذریعے مختلف مذہبی گروہوں کے ردعمل کا جائزہ لیا۔ ان کے نتائج سے پتا چلا کہ جب غیر انسانی ارتقا (یعنی پودوں اور جانوروں کی ارتقائی تبدیلی) کی بات کی گئی تو 42.4فیصد شرکا نے اس سے مضبوط اتفاق ظاہر کیا، جبکہ صرف 26.2 فیصد نے اس سے سخت اختلاف کیا۔ باقی شرکا نے کوئی واضح رائے نہیں دی۔ دوسری جانب، جب سوال انسانی ارتقا سے متعلق تھا تو صرف26.9 فیصد شرکا نے اس کی حمایت کی، جبکہ44.2 فیصد نے اس سے واضح اختلاف کیا۔ باقی شرکا غیر جانب دار رہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسانی اور غیر انسانی ارتقا کے درمیان فرق کرنا نہایت اہم ہے، اور اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر کوئی درست یا متوازن رائے قائم کرنا مشکل ہو سکتا ہے (also see Elsdon-Baker et al. 2017)۔
ایلزڈن بیکر کی یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ کس طرح بعض چیزوں کو امریکی ماحول میں ایک خاص انداز سے پیش کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے باب2 اور3 میں دیکھ چکے ہیں، کچھ موضوعات بعض عیسائی حلقوں میں مسلم حلقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساسیت کے حامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم ایسی درجہ بندی اپنائیں جو ان حساسیتوں کو ایک سیاق و سباق سے اٹھا کر کسی دوسرے سیاق میں جوں کا توں منتقل کر دے، تو یہ طریقہ کار زیادہ مفید نہیں ہو گا۔ مثال کے طور پر، Eugenie Scott (2002) کی جانب سے پیش کردہ درجہ بندی کو دیکھیں، جو مختلف آرا کے ایک تسلسل پر مبنی ہے اور امریکی سیاق میں موجود مذہبی اور سائنسی حساسیتوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔
اصل کتاب کے صفحہ 109 پر موجود Table 4.1 کو دیکھیں تو اس کے بالائی اور نچلی سطحیں آرا کے ایک تسلسل کے دو انتہاؤں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ Eugenie Scott اس درجہ بندی کا آغاز اُن لوگوں سے کرتی ہیں جو زمین کو بالکل چپٹی (flat earth) مانتے ہیں، اور اس کا اختتام مکمل مادیاتی ارتقا (materialist evolution) پر ہوتا ہے، جس کا مطلب خدا کے تصور کا انکار ہوتا ہے۔ یہ درجہ بندی امریکی تناظر میں شاید موزوں ہو، جہاں بعض مذہبی گروہ سائنسی علم کے پورے دائرے کو مشتبہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ Scott نے اس تسلسل میں flat earthers (زمین کو چپٹا ماننے والے) اور geocentrists (زمین کو کائنات کا مرکز ماننے والے) جیسے گروہوں کو بھی شامل کیا۔ مگر یہ سوچنا کہ یہی درجہ بندی مسلم دنیا پر بھی اسی طرح لاگو کی جا سکتی ہے، ایک محتاط جائزے کے بغیر درست نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم دنیا میں flat earthers یا geocentrists موجود ہی نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ پائے جاتے ہوں۔ 2017 میں تیونس کی ایک طالبہ نے ایک تھیسس جمع کروایا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ زمین کی عمر صرف 13ہزار پانچ سو سال ہے، یہ ساکن ہے اور کائنات کا مرکز بھی ہے (Guessoum 2017)۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ صرف ایک انفرادی کیس ہے یا پھر ایک وسیع تر رجحان؟ اس کا تعین کیے بغیر مسلم تناظر میں ایسی درجہ بندی کو اپنانا قبل از وقت ہوگا۔ Unsworth and Voas (2018, 82) کی تحقیق کی طرف واپس آئیں تو ان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ50 فیصد مسلمان شرکا نے اس بات سے واضح اتفاق کیا کہ زمین کی عمر اربوں سال ہے، جبکہ صرف5.5فیصد نے اس سے سخت اختلاف کیا (باقی شرکا غیر جانبدار رہے)۔ یہ سب یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید مسلم دنیا میں زمین کو چپٹا ماننے کا رجحان زیادہ عام یا فکری مسئلہ نہیں ہےمگر یہ بات بھی صرف احتیاط کے ساتھ ہی کہی جا سکتی ہے۔
اس درجہ بندی کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی عقائد کو خدا پر ایمان یا انکار سے مربوط کر کے یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس تسلسل (spectrum) میں ایک طرف وہ مقام ہے جہاں سائنسی اور مذہبی عقائد سے کم از کم مطابقت پائی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ مقام ہے جہاں سائنسی نظریات سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی خدا کے وجود کا انکار بھی کیا جاتا ہے (Huskinson 2020, 9)۔ اس درجہ بندی میں موجود یہ دہرا میلان دراصل اسی "دو انتہاؤں کی طرف کھینچنے والے رجحان" (bifurcation tendency) کو نمایاں کرتا ہے جس کی طرف پہلے رچرڈ ڈاکنز کے تناظر میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اس درجہ بندی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص سائنسی سوچ رکھتا ہے تو اسے لازماً خدا کے وجود کا انکار کرنا ہو گا، جو کہ ایک غیر ضروری اور غیر منطقی تصور ہے۔
ان مشاہدات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی ایک مخصوص سماجی یا فکری سیاق میں تیار کی گئی درجہ بندی کو کسی دوسرے تناظر پر لاگو کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، یہ درجہ بندیاں غلط فہمی، فکری الجھن اور غیر موزوں نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔
کچھ مسلم مفکرین جنہوں نے اسلام اور نظریہ ارتقا کے مابین ہونے والی علمی بحث کا جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس موضوع کو مختلف انداز میں درجہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ جسّوم (Guessoum, 2016) نے اس کے لیے ایک تین سطحی درجہ بندی اپنائی، جس میں وہ افراد شامل ہیں جو ارتقا کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں (rejectionists)، وہ جو درمیانی یا معتدل رائے رکھتے ہیں (moderates)، اور وہ جو ارتقا کے حامی ہیں (pro-evolutionists)۔ مالک (Malik 2018; 2019) نے جسّوم کی درجہ بندی کو اختیار کرتے ہوئے ملتا جلتا خاکہ پیش کیا، لیکن انہوں نے اصطلاحات میں قدرے تبدیلی کی۔ وہ "رد" (rejection)، "موافقت" (accommodative)، اور "قبولیت" (acceptance) کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مالک اور جسّوم کی درجہ بندی میں Eugenie Scott کے ماڈل کے مقابلے میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ ان کے ہاں ارتقا کو قبول کرنے کے لیے خدا کے انکار کی شرط نہیں ہے۔ یہ تصور خاص طور پر مسلم تناظر میں زیادہ معقول محسوس ہوتا ہے۔ اس درجہ بندی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر گروہ (خیمہ) میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے، بعض مفکرین جو ارتقا کو مکمل طور پر قبول یا رد کرتے ہیں، ان کے دلائل سائنسی بھی ہو سکتے ہیں، الہیاتی (theological) بھی، یا پھر تفسیری اصولوں (hermeneutic) پر مبنی بھی یا ان سب کا مجموعہ۔ چنانچہ جسّوم اور مالک کا اندازِ درجہ بندی ان مختلف جہات کو سنبھالنے میں مدد دیتا ہے۔
البتہ اس اسکیم میں ایک کمزوری یہ ہے کہ کسی مفکر کے مؤقف کو قبول یا رد کے زمرے میں شامل کرنا دراصل اس شخص کی اپنی رائے نہیں بلکہ درجہ بندی کرنے والے کی تشریح پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جسّوم اور مالک دونوں ڈیوڈ سولومن جلاجیل (David Solomon Jalajel) کو "رد کرنے والوں" کے زمرے میں رکھتے ہیں (Guessoum 2016; Malik 2019, 210)، حالانکہ خود جلاجیل (2018) اپنے مؤقف کو ارتقا سے مکمل طور پر ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات درجہ بندی کرنے والے کی تشریح اور اصل مفکر کی خود فہمی میں تضاد ہو سکتا ہے۔ اس درجہ بندی کا ایک اور ممکنہ مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ یہ بہت وسیع اصطلاحات پر مشتمل ہے، اس لیے بعض اوقات مختلف آرا کا تقابلی مطالعہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اتفاق یا اختلاف کی وجوہات کئی پہلوؤں سے پیدا ہو سکتی ہیں — جیسے سائنسی تشخیص، ما بعد الطبیعی اصول (metaphysical principles)، یا تفسیر سے متعلق وابستگیاں۔ لہٰذا ان اختلافات یا اتفاقات کو کسی ایک مشترک بنیاد پر پرکھنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
اس عنوان پر موجود علمی ذخیرے میں ایک اور اہم درجہ بندی غفوری فرد اور محمد اکرمی (2011) کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ ان کی درجہ بندی چار اقسام پر مشتمل ہے، اور اس کا بنیادی محور قرآن و سنت اور سائنسی علم کے درمیان تعلق ہے۔ پہلا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ ارتقا محض ایک "نظریہ" ہے، لیکن انسان کی تخلیق کو ایسے انداز سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جس سے وہ ارتقا کے تصور سے ہم آہنگ ہو جائے۔ دوسرا گروہ یہ مؤقف رکھتا ہے کہ قرآن و حدیث کے متون بالکل واضح ہیں اور انسان کی تخلیق کی تعبیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ لہٰذا اگر ارتقا درست بھی ہو، تب بھی انسان اس سے مستثنیٰ ہے۔تیسرا گروہ یہ خیال رکھتا ہے کہ قرآن اور سائنس بالکل مختلف دائروں میں کام کرتے ہیں، یعنی ان کا باہمی تعلق یا براہِ راست مکالمہ ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک قرآن سائنسی کتاب نہیں، اس لیے سائنسی نظریات پر ایمان رکھنا یا نہ رکھنا غیر متعلق ہے۔ چوتھا گروہ یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ انسانی ارتقا کو براہِ راست قرآن سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ گروہ سائنس کی صحت اور اسلامی متن سے انسانی ارتقا کی قطعی تعبیر کا قائل ہے۔ اس گروہ اور پہلے گروہ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلا گروہ ارتقا کو ممکن بنانے کے امکانات پر زور دیتا ہے، جبکہ چوتھا گروہ اسے یقینی حقیقت کے طور پر مانتا ہے۔
اگرچہ یہ درجہ بندی خاص طور پر انسانی ارتقا پر مرکوز ہے، مگر اس میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ مختلف فکری وابستگیوں (epistemic commitments)، تفسیری رجحانات (hermeneutic commitments)، اور سائنس و وحی کے باہمی تعلق کو ایک ہی سانچے میں سمو دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض علمی یا فکری موقف محض درجہ بندی کی نوعیت کے باعث ایک دوسرے سے غیر ضروری طور پر مختلف نظر آتے ہیں، حالانکہ وہ صرف شدت یا درجے میں مختلف ہوتے ہیں، نوعیت میں نہیں۔
مثال کے طور پر، پہلا اور چوتھا گروہ بظاہر ایک ہی سمت میں سوچتے ہیں، لیکن ان کے درمیان فرق محض یقین کی شدت کا ہے، نہ کہ بنیادی موقف کا۔ اس درجہ بندی میں ایک اور کمی یہ ہے کہ وہ اُن افراد کو شامل نہیں کرتی جو صرف ایک پہلو (مثلاً صرف سائنسی دلیل) کی بنیاد پر ارتقا کو قبول یا رد کرتے ہیں، اور دینی متون پر کوئی واضح رائے نہیں رکھتے۔ یعنی ایک فرد صرف اس بنیاد پر ارتقا کو مسترد کرتا ہے کہ موجودہ سائنسی دلائل اسے قائل نہیں کرتے، لیکن وہ دینی متون سے متعلق کوئی مؤقف نہیں رکھتا۔ ایسے شخص کو اس درجہ بندی میں کسی واضح خانے میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
آخر میں، خود مصنفین کے مطابق، کچھ مفکرین ایسے بھی ہوتے ہیں جو ارتقا کو سائنس یا دینی دلائل کے بجائے کسی ما بعد الطبیعیاتی نقطہ نظر سے قبول یا رد کرتے ہیں۔ سید حسین نصر اس کی ایک واضح مثال ہیں، جن کے ہاں ارتقا کو رد کرنے کی بنیادی وجہ ان کا وہ روحانی ما بعد الطبیعیاتی وژن ہے جس میں ارتقا کا کوئی وجود ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک سائنس یا تفسیر کی بحث ثانوی ہے، جس کے باعث ان کے مؤقف کو اس درجہ بندی میں رکھنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
یقیناً، ہر درجہ بندی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ درجہ بندی کرنے والا کس پہلو کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ جسّوم (2016) اور مالک (2018؛ 2019) کے ہاں یہ جھکاؤ واضح نظر آتا ہے کہ وہ ایک وسیع اور جامع درجہ بندی اختیار کرتے ہیں جو علمی ادب میں موجود مختلف آرا کو سمیٹ سکے، بالخصوص ان کے درمیان مطابقت یا عدم مطابقت پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس غفوری فرد اور محمد اکرمی (2011) کی درجہ بندی کا محور زیادہ تر سائنس اور وحی کے باہمی تعلق پر مرکوز ہے۔ ہر نظام درجہ بندی کی اپنی خوبیاں بھی ہیں اور مشکلات بھی۔ اس کتاب میں جو درجہ بندی اختیار کی گئی ہے، وہ نہ صرف مذکورہ دونوں نظاموں میں بیان کردہ مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے بلکہ پہلے بیان کیے گئے دیگر نکات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔ اس درجہ بندی کو وضع کرنے میں تین بنیادی اصول رہنمائی کرتے ہیں:
پہلا اصول:
مرکزی بنیاد کے طور پر مشترکہ نسب (common ancestry) پر توجہ مرکوز کرنا۔
چونکہ اصل بحث کا مرکز انسانی ارتقا ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ نسب کو درجہ بندی کا واحد اور اساسی معیار بنایا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مختلف مفکرین کے موقف کو ایک واضح معیار پر جانچنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دوسرااصول:
اس بات کو الگ کرنا کہ کوئی شخص ارتقا کو کیوں قبول یا مسترد کرتا ہے، اور وہ ارتقا کے کن اجزا کو مشترکہ نسب کے تحت مانتا یا نہیں مانتا۔
چونکہ مختلف مفکرین ارتقا کو سائنسی، مابعد الطبیعیاتی (metaphysical)، یا تفسیری (hermeneutic) زاویوں سے قبول یا رد کرتے ہیں، اس لیے ان کے اسباب کو خود درجہ بندی سے الگ رکھنا زیادہ مفید سمجھا گیا۔ اس سے درجہ بندی سادہ، قابلِ فہم اور موازنہ کے لیے آسان ہو جاتی ہے۔
تیسرااصول:
مطابقت پذیری (reconciliation) کے سوال کو درجہ بندی سے الگ رکھنا۔ یہ اصول دوسرے اصول سے ملتا جلتا محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک الگ نکتہ ہے۔ ارتقا پر ایمان رکھنا ایک بات ہے، اور اسے اپنے دینی عقائد سے ہم آہنگ کرنا (یا نہ کرنا) ایک اور بات۔ اس اصول کو اختیار کرنے سے اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے جس میں درجہ بندی کرنے والے اور متعلقہ مفکر کے ذاتی موقف کے درمیان فہم کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ آگے چل کر واضح کیا جائے گا کہ یہ نکتہ کس طرح اہم ثابت ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں اصل کتاب کے صفحہ 111 پر موجود Table 4.2 میں ایک نئی درجہ بندی کا نظام پیش کیا گیا ہے، جو زیادہ منظم، سادہ، اور فکری تنوع کو بہتر طور پر سنبھالنے کے قابل ہے۔
مشترکہ نسب (common ancestry) میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، اس کا خلاصہ تین بنیادی زمروں میں کیا جا سکتا ہے: غیر انسانی مخلوقات، انسان، اور آدم علیہ السلام۔ سادگی کے لیے "آدمی استثنائیت" (Adamic exceptionalism) کے تحت حضرت حوّا کو بھی حضرت آدم کے ساتھ شامل کر لیا جاتا ہے، کیونکہ دونوں کو معجزاتی طور پر پیدا شدہ مانا جاتا ہے۔ اگر کوئی مفکر یہ مؤقف رکھتا ہے کہ ہر مخلوق ارتقائی عمل سے خارج ہے، یعنی کوئی بھی ارتقا کا حصہ نہیں، تو اسے تخلیقیت (Creationism) کہا جاتا ہے۔ انسانی استثنائیت (Human Exceptionalism) کا مطلب یہ ہے کہ غیر انسانی مخلوقات (مثلاً جانور، پودے وغیرہ) کے ارتقا کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن حضرت آدم (جنہیں اس تناظر میں پہلا انسان مانا جاتا ہے) اور پوری انسانیت کو ارتقا کا نتیجہ نہیں سمجھا جاتا۔ آدمی استثنائیت (Adamic Exceptionalism) کا مطلب یہ ہے کہ غیر انسانی مخلوقات اور انسان دونوں ارتقا کے ذریعے وجود میں آئے، لیکن صرف حضرت آدم ارتقائی عمل سے مستثنیٰ ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت آدم کو پہلا انسان نہیں مانا جاتا، بلکہ وہ ایک معجزاتی استثناء تھے۔ آخر میں، بلا استثنا مؤقف (No Exceptions) وہ نظریہ ہے جس میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ارتقائی عمل سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں۔ یعنی غیر انسانی مخلوقات، انسان اور حضرت آدم سب ارتقائی عمل کے تحت وجود میں آئے ہیں۔
(جاری)
قانونِ ناموسِ رسالت پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کیا جائے
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی، جو پاکستان کے تمام دینی مکاتب فکر کا ایک مشترکہ علمی فورم ہے، اس کا ایک اجلاس آج مولانا زاہد الراشدی صاحب (صدرِ مجلس) کی زیر صدارت جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہوا جس میں قانون ناموسِ رسالت پر عمل درآمد کے حوالے سے غور کیا گیا۔
علماء کرام کا موقف یہ تھا کہ سیکولر اور لبرل لابی اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز اس قانون کے غلط استعمال کا پروپیگنڈا کر کے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنا چاہتی ہیں اور اس قانون کو ختم اور غیر مؤثر کرنا چاہتی ہیں۔ علماء کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ نبی کریم ﷺ کی حرمت و عزت سارے مسلمانوں کے دین و ایمان کا مسئلہ ہے۔
علماء کرام نے حکومت پر زور دیا کہ اس قانون کے غلط استعمال پر کمیشن کی بجائے قانون پر مؤثر اور بلاتاخیر عمل درآمد کیا جائے۔ جن کیسوں پر فیصلہ ہو چکا ہے ان پر فوراً عمل کیا جائے اور زیر ٹرائل کیسز کو بلاتاخیر نمٹایا جائے۔ علماء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توہین انبیاء کو قابلِ سزا جرم بنانے کے لیے عالمی سطح پر قوانین بنوانے کی کوشش کی جائے۔ صدر مجلس نے علماء کرام کی مشاورت سے ایک سات رکنی کمیٹی قائم کی جو اس سارے معاملے پر غور کر کے اپنی سفارشات جلد پیش کرے گی۔
اس مجلس میں سارے مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی خصوصاً مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد یوسف خان، مفتی شاہد عبید، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا ڈاکٹر محمد کریم خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی، حافظ محمد عمران طحاوی، مولانا عبد الودود، حافظ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، مولانا مجیب الرحمٰن انقلابی، چوہدری غلام مصطفیٰ ایڈووکیٹ، مفتی شمس الدین ایڈووکیٹ، حافظ نعمان حامد جالندھری، مولانا ڈاکٹر حسیب قادری، مولانا خان بہادر، عرفان جہانگیر ایڈووکیٹ، مفتی خالد محمود، حافظ مبشر اقبال چوہدری، محمد یونس ایڈووکیٹ، مولانا محمد امجد، مولانا مزمل رسول، اور دوسرے بہت سے علماء کرام نے شرکت کی۔
(۳۱ جولائی ۲۰۲۵ء)
توہینِ مذہب کے مقدمات اور اسلام آباد ہائی کورٹ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
توہینِ رسالتؐ کے مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو کمیشن قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس پر ایک بار پھر اس حوالہ سے بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بہت سے دوستوں نے تقاضہ کیا ہے کہ اس سلسلہ میں ہم بھی کچھ گزارش کریں۔ چنانچہ اس مقدمہ کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت اور فیصلہ کے معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اصولی طور پر اس مسئلہ کے چند ضروری تقاضوں پر چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔
جہاں تک توہینِ رسالتؐ کے سنگین جرم اور اس کی سزا پر عالمی سطح پر ہونے والی تگ و دو اور بحث و مباحثہ کی بات ہے یہ اب تک کی مسلّمہ حقیقت ہے کہ عالمی اداروں اور ماحول میں توہینِ رسالتؐ اور دینی شعائر کی بے حرمتی کو جرم تسلیم کرنے کی بجائے آزادئ رائے اور آزادئ فکر کے عنوان سے اسے حقوق کی فہرست میں شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی سیکولر لابیوں کی منظم محنت کا اہم ایجنڈا ہے ، مگر اس کے جواب میں اس سطح پر کوئی منظم اور مربوط جدوجہد نظر نہیں آ رہی۔ مسلم حکومتوں کو تو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، عالمِ اسلام کے نجی علمی و فکری ادارے بھی اس کے لیے اس درجہ میں متفکر دکھائی نہیں دیتے کہ اس سلسلہ میں کسی منظم جدوجہد کا اہتمام کر سکیں۔
ملک کے اندر توہینِ رسالتؐ و توہینِ صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہ قانوناً جرم ہونے کے باوجود ان کے حوالہ سے درج مقدمات کی کاروائی کو جلد از جلد نمٹانے اور بزرگ شخصیات کی گستاخی کرنے والوں کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانے میں سنجیدگی کا ماحول نہیں ہے۔ جبکہ مختلف لابیاں اور این جی اوز ان مقدمات کو غیر مؤثر بنانے اور ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے مسلسل محنت کر رہی ہیں۔
ہمارے ہاں مختلف مکاتبِ فکر کے مشترکہ فورم تحفظِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالتؐ دونوں حوالوں سے کسی اشد ضرورت کے وقت تو متحرک ہو جاتے ہیں اور کچھ نہ کچھ کر بھی لیتے ہیں مگر دوسری طرف کی محنت روز مرہ اور مستقل ایجنڈے کی بنیاد پر ہے، اس کا سامنا کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے یہ مشترکہ فوم مستقل کام کے موڈ میں نہیں ہیں حالانکہ جس انداز سے یہ کام سیکولر حلقوں کی طرف سے ہر سطح اور ہر دائرے میں مسلسل ہو رہا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتؐ کے حوالہ سے مشترکہ فورم مستقل بیدار اور حرکت میں رہیں اور لادین عناصر کی سرگرمیوں کا سنجیدگی کے ساتھ علمی، فکری اور تحریکی سطح پر مقابلہ کریں۔
اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ایسے مقدمات بھی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گروہی، مسلکی اور طبقاتی عصبیت کے پس منظر میں درج ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر ان میں بہت سے بے گناہ افراد کو پھنسایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس قسم کے بہت سے مقدمات ہمارے ریکارڈ میں شامل چلے آ رہے ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کی اہمیت کو کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جس طرح کسی گستاخِ رسولؐ کو کیفر کردار تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اسی طرح کسی بے گناہ کو سزا سے بچانا بھی ہم سب کی دینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس کا تمام دینی حلقوں کو احساس کرنا چاہیے۔
اس تناظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالہ سے ہمارے نزدیک تمام مکاتبِ فکر کے سنجیدہ راہنماؤں کی باہمی مشاورت اور اس کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل و معاملات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ محنت وقت کا ناگزیر تقاضہ ہے جس کی طرف ہماری اعلیٰ قیادتوں کو سنجیدہ توجہ دینی چاہیے ورنہ صورت حال کے مزید خلفشار کا شکار ہونے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مختلف دینی مکاتب فکر کی اعلیٰ قیادتوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ کی عالمی صورت حال اور ملک کے داخلی تناظر میں باہمی مشاورت کا جلد از جلد اہتمام کریں اور قوم کی صحیح سمت راہنمائی فرمائیں۔
(۱۷ جولائی ۲۰۲۵ء)
حافظ امجد محمود معاویہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے توہینِ مذہبؐ کے سلسلہ میں درج مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے کمیشن قائم کرنے کی جو ہدایت جاری کی گئی تھی، اسے اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کے دو رکنی بنچ نے معطل کر دیا ہے۔
مولانا راشدی: ان عدالتی مقدمات میں ہم نہ فریق ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں ہم نے کسی بحث میں حصہ لیا ہے۔ ہمارا ایک اصولی موقف شروع سے چلا آ رہا ہے جس کا اظہار وہ گذشتہ دو عشروں کے دوران متعدد کالموں میں کر چکے ہیں کہ توہینِ رسالتؐ کے سنگین جرم کے حوالہ سے درج مقدمات میں بہت سے ایسے مقدمات بھی ریکارڈ پر ہیں جو مسلکی، گروہی اور دیگر وجوہات کے باعث درج ہوئے ہیں اور بہت سے بے گناہ افراد سالہا سال سے ان میں زیر حراست ہیں۔ جبکہ جس طرح صحیح مقدمات میں گستاخان رسولؐ و صحابہ کرامؓ کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانا شرعاً اور قانوناً ضروری ہے اسی طرح غلط مقدمات میں ملوث بے گناہ افراد کو بچانا بھی شرعاً و قانونا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ اس لیے اس سلسلہ میں محنت کرنے والے اداروں اور دینی جماعتوں کے لیے دونوں باتوں کا یکساں طور پر لحاظ رکھنا ضروری ہے ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے اور توہینِ رسالتؐ و صحابہ کرامؓ پر سزا کے قانون کو بھی نقصان پہنچے گا کیونکہ اگر غلط مقدمات کا اندراج اور ان کی ریکارڈ پر موجودگی معروضی حقیقت ہے تو انہیں نظرانداز کر دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ اس معاملہ کے دونوں پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی اور انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے گا۔
(۲۵ جولائی ۲۰۲۵ء)
پاکستان کا دستوری نظام اور افغانستان کا قانونِ اساسی 2004ء
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
محمد اسرار مدنی
مولانا اسرار مدنی: ہماری بہت خوش قسمتی ہے کہ ہمارے استاذ، سینئر پروفیسر، قانون دان اور مصنف جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب، سابق ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، اور اس کے علاوہ وہ لاء ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی رہے ہیں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے، کئی کتابوں کے مصنف ہیں، اور خیبرپختونخوا سے ان کا تعلق ہے، تو آپ لوگ پشتو میں بھی ان سے بات کر سکتے ہیں، اور وہ بہت اچھی پشتو لکھ بھی سکتے ہیں بول بھی سکتے ہیں، اور ان کا جو ٹاپک تھا کہ (۱) پاکستان کے آئین کے حوالے سے اور افغانستان کے آئین کے حوالے سے اس کا ایک تقابلی جائزہ، (۲) اور پھر جو اسلامائزیشن کی بات ابھی چل رہی تھی اسلامی قوانین کے حوالے سے اور پھر انسانی حقوق کے حوالے سے، ان دونوں کے تناظر میں وہ بات کریں گے، اور اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہو گا، یہ اس ورکشاپ کا ایک اہم ترین سیشن ہے، کل بھی آپ سے اس پہ گزارش کی تھی تو براہ کرم آپ بھرپور توجہ کے ساتھ سنیں بھی، اور سوالات اپنے ساتھ لکھتے رہیں تو آخر میں پھر ان شاء اللہ سر کے پاس ٹائم ہو گا، ہماری کوشش ہو گی کہ اس ڈیبیٹ کو جاری رکھیں گے، اور بہت بہت شکریہ سر آپ کے آنے کا اور ٹائم دینے کا، بہت مشکور ہوں میں ذاتی طور پر، جزاک اللہ۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بہت شکریہ مولانا اسرار مدنی صاحب! آپ اسی طرح مجھ سے اپنی محبت کا اور تعلق کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مجھ پر اعتماد کا بھی اظہار کرتے ہیں جو میرے لیے خوشی کی بات ہے۔ اور میں کوشش کروں گا کہ، وقت تو مختصر ہے لیکن کچھ بنیادی جو نکات ہیں وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کروں، اور کچھ اپنی سناؤں کچھ ان کی سنوں۔ ظاہر ہے یہ قانونی مسائل ہیں، اور پھر بالخصوص قانون میں بھی وہ حصہ، بالکل بنیاد کے ساتھ جس کا تعلق ہے، جس کو ہم اساسی قانون کہتے ہیں، کانسٹیٹیوشن، تو اس میں کچھ پیچیدگیاں تو ہوں گی، کچھ مسائل تو ہوں گے، میں کوشش کروں گا کہ ان کو آسان بنا کر پیش کروں، لیکن بہت زیادہ آسان بنا کر اس لیے بھی نہیں پیش کیا جا سکتا کہ پھر جو اصل پرابلمز ہیں مسائل ہیں وہ سامنے نہیں آتے۔ تو اس لیے اگر تھوڑی بہت اس میں کچھ ٹیکنیکل ڈسکشن ہو جس کی وجہ سے کچھ مسائل بظاہر گھمبیر نظر آئیں، تو اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جہاں بھی جو بھی ایشو میں کلیئر نہیں کر سکا تو آپ ضرور اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں اور سوالات کریں، ہم اس کو ڈسکس کریں گے ان شاء اللہ۔
جو مجھے انہوں نے ٹاپک دیا تھا تو اس کے تین بنیادی اجزا ہیں:
- ایک تو کانسٹیٹیوشن کے حوالے سے میں نے بات کرنی ہے، اور میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ کانسٹیٹیوشن سے مراد کیا ہے۔ یعنی ہم جب کہتے ہیں کہ پاکستان کا کانسٹیٹیوشن یا افغانستان کا دستور یا قانونِ اساسی، تو قانونِ اساسی ہوتا کیا ہے؟ اور اس میں کیا مواد ہوتا ہے؟ ان میں کیا سوالات ہوتے ہیں جن کا جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے؟ دیگر قوانین کے ساتھ قانونِ اساسی کا تعلق کس نوعیت کا ہوتا ہے؟ اس طرح کی کچھ چیزیں ڈسکس کر کے پھر میں آپ کے سامنے پاکستان کے دستوری نظام کا، اساسی قانون کا، ایک خاکہ پیش کروں گا کہ ہم نے یہاں کس طرح دستور سازی کی ہے اور سسٹم ہماری حکومت کا ہماری ریاست کا کیسے چل رہا ہے؟
- پھر میں کوشش کروں گا کہ اسی طرح افغانستان کا جو کانسٹیٹیوشن ہے بلکہ مدنی صاحب پوچھ رہے تھے اس دن کہ یہ جو ابھی حال ہی میں افغانستان میں تبدیلی آئی ہے اور حکومت تبدیل ہو گئی ہے تو اس کے بعد کانسٹیٹیوشن کی کیا حیثیت ہے۔ تو ایک دو پوائنٹس میں اس پر بھی ذکر کروں گا۔ اور بنیادی طور پر میرا فوکس ہو گا اس پر کہ اسلامائزیشن کے حوالے سے، اسلامی دفعات کے حوالے سے، اسلامی قانون کے حوالے سے پاکستان میں اور افغانستان میں سسٹم کیسے کام کر رہا ہے۔
- اور اسی طرح ہیومن رائٹس کے تناظر میں حقوقِ انسانی کا جو بین الاقوامی قانون ہے، اس کو کیسے دونوں نظاموں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ وہ بنیادی خاکہ ہے جو میں کوشش کروں گا کہ آدھے گھنٹے میں آپ کے ساتھ ڈسکس کر سکوں۔
① پاکستان کا دستوری نظام
دستور یا قانونِ اساسی کیا ہوتا ہے؟
کانسٹیٹیوشن یا اساسی قانون، بنیادی بات تو وہی ہے کہ یہ ہے قانون۔ لیکن اسے جب ہم اساسی قانون کہتے ہیں، افغانستان میں عام طور پر اس کے لیے یہی ترکیب استعمال ہوتی ہے، پاکستان میں ہم اس کو دستور یا آئین کہتے ہیں، تو یہ عام قوانین سے ذرا مختلف چیز ہے۔ اب مختلف کیوں ہے؟ اس کے دو بنیادی مظاہر ہیں، یعنی دو پہلوؤں سے ہم کہہ سکتے ہیں، دو زاویوں سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دستور یا قانونِ اساسی عام قوانین سے مختلف ہے۔
ایک تو اِس کی حیثیت دوسرے قوانین سے بالاتر ہوتی ہے، باقی قوانین اِس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ مواد کے لحاظ سے، سبجیکٹ میٹر کے لحاظ سے، کہ اس قانون میں کون سے مسائل ہوتے ہیں، کون سے سوالات ہوتے ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب پاکستان میں ہم کہتے ہیں کہ یہ کریمنل لاء ہے، فوجداری قانون ہے، جنایات کا قانون ہے، تو وہاں ظاہر ہے جرم، سزا، اس پر بحث ہوتی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں یہ مدنی قانون ہے افغانستان میں، یا پاکستان میں ہم اس کو سول لاء کہتے ہیں، دیوانی قانون کہتے ہیں، تو وہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ دو بندوں کا آپس میں مثال کے طور پر ایک معاہدہ ہوا، عقد ہوا، اس کی ایک بندے نے خلاف ورزی کی، اب دوسرا عدالت میں آیا ہے قضا کے پاس، اب وہاں کیسے مسئلہ ڈیسائیڈ ہو گا، دو افراد کا مسئلہ ہے، وہاں سزائیں نہیں ہوتیں، لیکن وہاں یہ ہوتا ہے کہ ایک بندے نے دوسرے کے حق کو تسلیم نہیں کیا، یا تسلیم کرنے کے بعد اس کو اس کا حق دے نہیں رہا، تو اس طرح کے تنازعات ہوتے ہیں، تو وہ تو سول لاء ہو جاتا ہے، مدنی قانون، جنایات کا قانون ہو جاتا ہے۔ اسی طرح فیملی لاء، اسی طرح اور قوانین، تجارت کا قانون وغیرہ۔
دستور کی رو سے حکومتی نظام کیسے تشکیل پاتا ہے؟
جب ہم کہتے ہیں قانونِ اساسی، تو قانونِ اساسی میں ہم بنیادی طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ جو آپ کی ریاست ہے جو آپ کی حکومت ہے اس کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ حکمران کون ہوگا؟ حکومت کیسے وجود میں آئے گی؟ الیکشنز ہوں گے یا کسی اور طریقے سے حکومت تبدیل ہو گی؟ حکومت کے پاس کون سے اختیارات ہوں گے؟ اب جو کانسٹیٹیوشنل لاء، دستوری قانون دنیا بھر میں پڑھایا جاتا ہے تو اس میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت کے تین شعبے ہوتے ہیں، تین شاخیں ہوتی ہیں:
- ایک کو کہا جاتا ہے مقننہ، قانون سازی کا ادارہ، جیسے پاکستان میں پارلیمنٹ ہے۔پاکستان میں ایک مرکزی سطح پر ہے جس کو ہم پارلیمنٹ کہتے ہیں، یہ مرکزی سطح پر قانون بناتی ہے۔ اور پھر پاکستان میں چار صوبے ہیں اور ہر صوبے کی اپنی مقننہ ہے، اس کو ہم صوبائی اسمبلی کہتے ہیں، پرووِنشل اسمبلی، وہ قانون بناتی ہے۔
- پھر کہتے ہیں کہ حکومت کا دوسرا شعبہ ہے عدلیہ، قضا، جوڈیشری۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ قانون کی تشریح اور تعبیر کرتی ہے۔ قانون کیا کہتا ہے، یہ ہمیں بتاتی ہے۔ مقننہ نے، پارلیمنٹ نے قانون بنا لیا، اب آپ کہتے ہیں اس قانون کی رو سے میرا یہ حق ہے۔ وہ کہتا ہے، نہیں، اس کی رو سے آپ کا یہ حق نہیں بنتا، یہ بنتا ہے۔ آپ کے درمیان تنازع اٹھا، آپ جاتے ہیں عدالت میں، وہاں فیصلہ ہوتا ہے۔ عدالت قانون کو بھی دیکھتی ہے، آپ کے دعووں کو بھی دیکھتی ہے، پھر فیصلہ کرتی ہے کہ آپ کا دعویٰ درست ہے یا اُس کا درست ہے، یا کسی حد تک آپ کی بات ٹھیک ہے، کسی حد تک اُس کی بات ٹھیک ہے۔ قانون کی رو سے وہ فیصلہ کرتی ہے، اس کو ہم کہتے ہیں عدلیہ۔
- پھر کہتے ہیں کہ حکومت کا تیسرا شعبہ وہ ہے جس کو انتظامیہ کہتے ہیں، ایگزیکٹو، جو اس قانون کا نفاذ کرتی ہے، تنفیذ کرتی ہے۔ قانون بن گیا، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، اس نے کہا اِس کا یہ حق ہے، اُس کا یہ حق ہے، اب اس پر عمل درآمد کیسے ہو؟ اب وہ فیصلہ نافذ کیسے کیا جائے؟ اس کے لیےحکومت کا ایک پورا شعبہ ہوتا ہے، اس کو انتظامیہ کہا جاتا ہے۔
یہ تینوں شعبہ: مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ، یہ تینوں مل کر حکومت کی تشکیل کرتے ہیں۔ تو اس کے بارے میں کانسٹیٹیوشن میں ہمیں بتایا جاتا ہے، قانونِ اساسی میں بتایا جاتا ہے کہ مقننہ کیسے وجود میں آئے گی؟ مقننہ کے ارکان کون ہوں گے؟ ان کا انتخاب ہو گا یا سلیکشن ہو گی تو کن بنیادوں پر ہو گی؟ کتنے عرصے کے لیے وہ ممبر رہیں گے؟ ان کے اختیارات کیا ہوں گے؟ کن کن موضوعات پر وہ قانون سازی کر سکیں گے؟ جیسے پاکستان میں ہمارا سسٹم ہے فیڈرل، وفاقی اس کو ہم کہتے ہیں۔ یہاں چار صوبے ہیں: خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کو الگ حیثیت حاصل ہے، اس کو ہم کہتے ہیں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT)، یہ وفاقی علاقہ ہے، یہاں وفاقی، مرکزی حکومت ہوتی ہے ہماری۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے ساتھ ہمارا الگ، یوں کہیں کہ ایک تعلق ہے، اور آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ ایک اور طرح کا تعلق ہے۔ تو ان دونوں کو تو ایک طرف رکھیں لیکن چار بنیادی طور پر ہمارے صوبے ہیں اور ایک یہ مرکز کا علاقہ ہے اسلام آباد۔
وفاق اور صوبائی سطح پر قانون سازی کیسے ہوتی ہے؟
اب ایک ہماری وفاقی حکومت ہوتی ہے جس کے سربراہ اِس وقت عمران خان ہیں، اور ہر صوبے کی اپنی حکومت ہوتی ہے، صوبے کی حکومت کے سربراہ کو وزیر اعلیٰ کہتے ہیں۔ یہ جو وفاقی حکومت ہے یہ پورے ملک کے لیے قانون بناتی ہے، جیسے میں نے کہا پارلیمنٹ اس کام کے لیے ہے۔ اور جو صوبائی اسمبلی ہوتی ہے وہ اس صوبے کی حد تک قانون بناتی ہے۔ اب اگر وفاقی حکومت نے قانون بنایا اور صوبائی حکومت نے بھی بنایا، اور ان میں تعارض ہو تصادم ہو، پھر کیا ہو گا؟ ایک قانون کچھ کہتا ہے دوسرا قانون کچھ اور کہتا ہے۔ یا اگر صوبہ پنجاب کی اسمبلی نے ایک قانون بنایا، صوبہ سندھ کی اسمبلی نے دوسرا قانون بنایا، پھر کیا ہو گا؟ ہم نے اپنے قانونِ اساسی میں، دستور میں، موضوعات کی تقسیم کی ہے کہ یہ موضوعات ہیں جن پر صرف وفاقی حکومت قانون سازی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی سارے امور صوبوں کے پاس ہیں۔ پہلے صوبوں کے پاس اختیارات نسبتاً کم تھے۔ ہماری جو فہرستیں تھیں قانون سازی کے لیے وہ تین تھیں:
- ایک وفاقی، جس پر وفاق قانون سازی کر سکتی تھی، جیسے ملک کا دفاع، اس کے لیے اگر کوئی قانون بنایا جائے گا تو وہ وفاق کے اختیار میں ہے۔ امورِ خارجہ، دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات۔ کرنسی، اور اس طرح کے کچھ امور ایسے ہیں، جن پر صرف وفاق کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے۔
- پھر کچھ امور ایسے ہیں پر جن میں صرف صوبہ قانون سازی کر سکتا ہے، وہ صوبے کے اپنے اختیار میں ہے۔ جیسے مثال کے طور پر بہت سارے، یوں کہیں کہ عائلی قوانین جو ہوتے ہیں، جن کا تعلق خاندانی امور سے ہے، نکاح، طلاق، میراث وغیرہ۔ اور بھی بہت سارے امور ہیں جن پر صرف صوبہ قانون سازی کر سکتا تھا۔
- پھر درمیان میں ہم نے ایک مشترک فہرست رکھتی تھی، اس کو ہم concurrent list کہتے تھے، مشترک فہرست میں وہ موضوعات تھے جن پر وفاق بھی قانون بنا سکتا تھا اور صوبہ بھی، جیسے تعلیم ہے، تعلیم کے لیے وفاق بھی قانون بنا سکتا تھا اور صوبہ بھی۔
اب اگر ان قوانین میں تعارض آجائے تصادم آجائے تو ہمارے ہاں اصول یہ تھا کہ وفاقی قانون پر عمل ہو گا۔ یہ سلسلہ ہم نے دستور میں ترمیم کر کے، amendment کر کے ۲۰۱۰ء میں ختم کر دیا، اٹھارہویں ترمیم اس کو ہم کہتے ہیں۔ یعنی وہ اٹھارہویں دفعہ تھی جب ہم نے دستوری قانون میں تبدیلی کی۔ تو اس کے ذریعے ہم نے یہ مشترک فہرست بھی ختم کر دی، صوبائی فہرست بھی ختم کر دی، اور اب ہمارے پاس صرف وفاقی فہرست ہے اور اس میں ہم نے کہا ہے کہ وفاق ان امور پر قانون سازی کر سکتا ہے، باقی سارے امور صوبوں کے پاس ہیں۔ تو گویا ہم نے صوبوں کو زیادہ اختیار دے دیا، صوبائی خودمختاری جس کو کہا جاتا ہے، provincial autonomy، یہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ہوا۔ اب صوبے کہاں تک اس اختیار کو استعمال کر سکتےہیں، کر پا رہے ہیں، اور کہاں ان کو مسائل ہیں، تو وہ الگ بحث ہے، لیکن ہم اس تجربہ سے اس وقت گزر رہے ہیں۔
عدلیہ کی مختلف سطحوں پر مقدمات کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں؟
اسی طرح صرف مقننہ کے حوالے سے ہی نہیں، جو عدلیہ کا سسٹم ہے ہمارے ہاں، اس کا بھی اس طرح ایک پورا شجرہ ہم نے بنایا ہے۔
ضلعی اور صوبائی سطح کی عدالتیں (سول، ڈسٹرکٹ، ہائی کورٹس)
سب سے نچلی سطح پر، بنیادی یونٹ آپ اس کو کہیں تو وہ ہمارے ہاں ہوتا ہے ڈسٹرکٹ کا، ضلع، ایک صوبے کے اندر کئی اضلاع، جیسے ڈسٹرکٹ مردان ہے، ڈسٹرکٹ پشاور ہے، ڈسٹرکٹ چارسدہ ہے، ڈسٹرکٹ صوابی ہے وغیرہ۔ اب ڈسٹرکٹ میں مدنی قانون کے حوالے سے جو عدالتیں ہیں ان کو ہم سول کورٹس کہتے ہیں، مدنی عدالتیں کہیں ان کو۔
- وہ جو سول کورٹس ہیں، ان میں سب سے نیچے، بنیادی، جہاں سے مقدمہ شروع ہوتا ہے، اگر آپ کا کسی دوسرے بندے کے ساتھ تنازع اٹھے، سب سے پہلے آپ جس عدالت میں جائیں گے، سول کورٹ میں، اس کو ہم کہتے ہیں سول جج۔ اس کے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہوئے، اس نے فیصلہ کیا، آپ کو اس پر اطمینان نہیں ہے۔
- آپ اس کے فیصلے کے خلاف اس سے اوپر کی عدالت میں جاتے ہیں۔ تو اس کو ہم کہتے ہیں ڈسٹرکٹ جج۔ ڈسٹرکٹ جج کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ سول جج کے فیصلے پر نظر دوڑائے اور اس کو اگر معلوم ہو کہ اس میں غلطی ہوئی ہے تو اس کی تصحیح کر دے، یا اس کو ختم کر دے، کالعدم کر دے اور اس کی جگہ نیا فیصلہ سنا دے۔
- ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں، یا دوسرا فریق مطمئن نہیں ہے، تو وہاں سے معاملہ جاتا ہے صوبے کی سطح پر بڑی عدالت میں۔ اس کو کہا جاتا ہے ہائی کورٹ۔ اور چاروں صوبوں میں ایک ایک ہائی کورٹ ہے۔ پشاور میں ہے، لاہور میں ہے، کراچی میں ہے، کوئٹہ میں ہے، اور ایک اسلام آباد میں ہے، اسلام آباد کے اپنے علاقے کے لیے۔ تو یہ پانچ ہمارے ہاں ہائی کورٹس ہیں۔
اسی طرح جنایات کا جو قانون ہے، فوجداری قانون، جہاں جرائم (کے مقدمات آتے ہیں)، کسی بندے پر الزام ہے کہ اس نے جرم کیا، اس کو سزا سنائی گئی۔ مقدمہ کے لیے، سزا کے لیے جو آپ کے پاس پہلا فورم ہوتا ہے، جو پہلی عدالت ہوتی ہے اس کو ہم کہتے ہیں مجسٹریٹ کی عدالت۔ مجسٹریٹ کی عدالت کے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں، آپ اس کے خلاف ڈسٹرکٹ کی سطح پر جاتے ہیں، اس کو ہم کہتے ہیں سیشن جج، سیشن کی عدالت۔ اچھا، سیشن جج کے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں، آپ آتے ہیں ہائی کورٹ میں۔
وفاق کی سطح کی عدالت (سپریم کورٹ)
ہائی کورٹ سے اوپر ملک کی سطح پر سب سے بڑی عدالت کو کہا جاتا ہے ہمارے ہاں سپریم کورٹ۔ سپریم کورٹ کو پورے ملک پر اختیار حاصل ہے، لیکن سپریم کورٹ میں سارے مقدمات نہیں آتے۔ سپریم کورٹ کی دو حیثیتیں ہیں:
- ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ فائنل کورٹ آف اپیل ہے۔ یعنی ہائی کورٹ کے فیصلے سے بھی آپ مطمئن نہیں ہیں تو آپ آخری اپیل کے لیے سپریم کورٹ میں جاتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ ہر اپیل نہیں سنتی۔ پہلے دو جج آپ کی درخواست سنتے ہیں، دیکھتے ہیں، آپ کے دلائل سنتے ہیں کہ اس میں آپ کو اپیل کا حق دیا جائے یا نہ دیا جائے، سپریم کورٹ آپ کی اپیل سنے یا نہ سنے؟ تو وہ دو جج آپ کی اپیل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ ہاں اس میں گنجائش ہے اور اس کو سنا جا سکتا ہے۔ یا کہہ دیں، نہیں نہیں، بس وہ جو ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا وہ کافی ہے۔ ایک تو یہ کورٹ آف اپیل کی حیثیت ہے سپریم کورٹ کی۔ (مولانا اسرار مدنی: ایک بار ہو سکتا ہے یا دو بار بھی، ایک بار خارج کر دے تو؟) نہیں، بس خارج کر دیا تو خارج ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور امکان ہوتا ہے اس کو نظرِثانی کہتے ہیں لیکن وہ اس لیول پر نہیں ہوتی۔ وہ جب آپ کی درخواست اپیل کے لیے وہ تسلیم کر لیں کہ ہاں آپ کی درخواست اب سنی جائے گی، اس کے بعد عدالت نے آپ کو سن کر فیصلہ سنا دیا، پھر بھی آپ مطمئن نہیں ہیں، آپ ایک دفعہ پھر درخواست کر سکتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر دیکھیے، اس کو نظرثانی کہتے ہیں، لیکن وہ بہت ہی محدود اختیار ہوتا ہے، اس میں صرف اس پورے کیس کو ایک دفعہ اوپر سے نیچے تک دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بڑی غلطی تو نہیں ہوئی۔ تو یہ سپریم کورٹ کی ایک حیثیت ہے، اس کو فائنل کورٹ آف اپیل کہتے ہیں۔
- اور دوسری حیثیت سپریم کورٹ کی یہ ہے کہ وہ قانونِ اساسی کی تعبیر اور تشریح کرتی ہے۔ ہمارا جو کانسٹیٹیوشن ہے، اس میں ہم نے پاکستان کے شہریوں کے لیے بھی اور اُن تمام لوگوں کے لیے جو پاکستان میں موجود ہیں، چاہے وہ غیر ملکی ہوں، باقاعدہ ویزہ لے کر آئے ہوں، یا حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو بغیر ویزے کے ہیں، کسی وجہ سے پاکستان میں اس وقت موجود ہیں، تو کچھ حقوق ایسے ہیں جو ان کے لیے بھی قانونِ اساسی میں تسلیم شدہ ہیں۔ البتہ کچھ حقوق ایسے ہیں جو صرف پاکستانی شہریوں کے لیے ہیں۔ تو وہ حقوق جو دستوری قانون میں، جو قانونِ اساسی میں مذکور ہیں، ان کو ہم فنڈامینٹل رائیٹس کہتے ہیں، بنیادی حقوق۔
ویسے تو مختلف جتنے بھی قوانین ہیں ان میں آپ کے حقوق کا ذکر ہوتا ہے، لیکن وہ حقوق جن کی ضمانت دی گئی ہے، جن کی حفاظت کا دعویٰ کیا گیا ہے کانسٹیٹیوشن میں، قانونِ اساسی میں، ان کو ہم فنڈامینٹل رائیٹس کہتے ہیں، بنیادی حقوق۔ اب اگر اُن حقوق میں کسی حق کی خلاف ورزی ہو جائے تو آپ سول جج کے پاس، یا مجسٹریٹ کے پاس، پھر اس کے بعد سیشن جج یا ڈسٹرکٹ جج کے پاس، پھر ہائی کورٹ، اس لمبے چکر میں نہ جائیں۔ بلکہ اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے آپ براہ راست ہائی کورٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس کو ہم کہتے ہیں writ jurisdiction ، رِٹ پٹیشن آپ فائل کر لیتے ہیں وہاں، رٹ کی درخواست آپ کرتے ہیں، ہائی کورٹ سے کہتے ہیں کہ کانسٹیٹیوشن میں جو میرا حق ہے وہ متاثر ہوا ہے، آپ اس پر میری مدد کریں، دادرسی کریں اور میرا حق مجھے دلوائیں۔ ہائی کورٹ مطمئن ہو تو وہ آپ کو وہ حق دے دے گی۔ آپ کو اس فیصلے پر اعتراض ہو یا دوسرے فریق کو اعتراض ہو، وہ سپریم کورٹ میں جاتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ پھر حتمی ہوتا ہے۔ تو یہاں وہ جو بیچ میں سول جج اور ڈسٹرکٹ جج، یا مجسٹریٹ اور سیشن جج والا سلسلہ تھا وہ نکل جاتا ہے، براہ راست ہائی کورٹ میں، پھر ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں۔
اور اگر معاملہ فنڈامینٹل رائیٹس کا بھی ہو اور اس کے علاوہ عوامی اہمیت کا ہو۔ یعنی بنیادی حقوق جو کانسٹیٹیوشن میں مذکور ہیں، ان کی خلاف ورزی کا معاملہ ہو، اور صرف ایک دو بندوں کا معاملہ نہ ہو بلکہ بہت وسیع پیمانے پر بہت سارے لوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہوں اس سے، تو آپ ہائی کورٹ کو بھی چھوڑ کر براہ راست سپریم کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ اس کو public interest litigation کہتے ہیں (PIL) کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اس میں آپ براہ راست سپریم کورٹ میں آ گئے۔
اور بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جب یہ دیکھتے ہیں کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، کوئی بندہ خود نہیں آ رہا سپریم کورٹ میں لیکن چیف جسٹس نے یہ دیکھا کہ معاملہ بہت اہم ہے، تو وہ اَزخود نوٹس لیتا ہے، اور وہ حکومت کو بھی اور باقی لوگوں کو بھی نوٹس دے کر بلا لیتا ہے کہ آپ اِدھر آئیں اور اس مسئلے کو یہاں ہمارے سامنے پیش کریں، یہ کیا ہوا ہے، یہ جو فلاں جگہ فلاں خاتون کے ساتھ مثال کے طور پر ریپ کا معاملہ ہوا اور وہ بہت زیادہ ہائی لائٹ ہوا، وہ جو بچی کا معاملہ تھا قصور میں، زینب کا۔ اس کو ہم کہتے ہیں suo moto notice (of its own motion) کہ کسی نے وہاں درخواست نہیں دی تھی بلکہ سپریم کورٹ نے از خود اس پر کارروائی شروع کی۔
دستور و قانون میں اسلامی پہلو سے کیا کام ہوا ہے؟
اب اس میں اسلامی قانون کے پہلو سے کہاں ہم نے کام کیا ہے اور کیسے کیا ہے؟
قراردادِ مقاصد کی منظوری
سب سے بنیادی کام ہم نے یہ کیا کہ پاکستان 1947ء میں وجود میں آیا تو دو سال بعد جو ہماری دستور ساز اسمبلی تھی، جس نے دستور بنانا تھا، قانونِ اساسی بنانا تھا، اس نے ایک قرارداد منظور کی جس کو ہم کہتے ہیں قراردادِ مقاصد (Objectives Resolution) اس میں ہم نے بنیادی اصول طے کیے کہ ہمارا دستوری نظام، اساسی جو قانون ہے وہ کن اصولوں پر مبنی ہو گا۔ اس میں سب سے پہلا اصول جو ذکر کیا گیا، اس میں ہم سب یہ اقرار کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حکم صرف اللہ کا ہے
۔ whereas sovereignty of entire world belongs to Almighty Allah alone کہ پوری کائنات پر حکم صرف اللہ کا ہے۔ اس کے بعد ہم نے مزید یہ کہا کہ انسانوں کے پاس، پاکستانی قوم کے پاس جو اختیار ہے وہ اللہ کی دی ہوئی امانت ہے، جو اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کیا جائے گا۔ within the limits prescribed by Him اور sacred trust کے الفاظ ہم نے استعمال کیے کہ یہ مقدس امانت ہے جو اللہ نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے، اور ہم یہ ذمہ داری پوری کریں گے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر۔
اس کے بعد جب ہم نے باقاعدہ قانونِ اساسی بنایا 1956ء میں، پھر 1962ء میں ایک اور بنا کیونکہ بیچ میں مارشل لاء آ گیا، وہ قانونِ اساسی منسوخ کیا گیا، اس کے بعد پھر مارشل لاء آیا، 1962ء کا قانونِ اساسی بھی منسوخ ہوا، پھر 1973ء میں کانسٹیٹیوشن آیا۔ بیچ میں ایک دفعہ ضیاء الحق اور دو دفعہ جنرل مشرف نے بھی اس قانون کو کلی طور پر یا جزوی طور پر منسوخ کیا لیکن پھر بحال ہوا۔
1973ء کا دستور
اب یہ جو ہمارا قانونِ اساسی ہے اس میں ہم نے دو بنیادی وعدے کیے ہیں، دو بنیادی اعلانات کیے ہیں, ایک یہ کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گا۔ دوسرا یہ کہ جتنے موجودہ قوانین ہیں ان میں اگر کچھ شقیں ایسی ہیں، کچھ دفعات ایسی ہیں جو قرآن و سنت کے خلاف ہیں، تو ہم ان کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کر لیں گے، ہم ان سے وہ غیر اسلامی چیزیں نکال لیں گے۔
اسلامی نظریاتی کونسل
اب یہ کریں گے کیسے؟ یہ دو دعوے تو ہم نے کر لیے کہ پاکستان میں جتنے موجودہ اس وقت رائج قوانین ہیں، ان سے غیر اسلامی امور کو ہم دور کر لیں گے۔ مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان جب بنا تو یہاں اس سے پہلے انگریزوں کی حکومت رہی، اور انہوں نے بہت سارے، سینکڑوں نہیں ہزاروں قوانین بنائے تھے اور نافذ کیے تھے، اور پھر وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ وہی قوانین یہاں رائج رہے، ان میں ظاہر ہے بہت ساری چیزیں ایسی تھیں جو شریعت سے متصادم تھیں۔ تو اب ان کا جائزہ لے کر ان میں سے جو چیزیں قرآن و سنت کے خلاف ہیں ان کو کیسے دور کریں، اس مقصد کے لیے ایک ادارہ وجود میں لایا گیا، جس میں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل (Council of Islamic Ideology)۔ اس کو یہ کام دیا گیا کہ آپ ان قوانین کا جائزہ لیں اور ان میں جو جو چیزیں قابلِ اعتراض ہیں ان کی نشاندہی کر کے آپ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیں، پارلیمنٹ کو اپنی سفارشات دے دیں، پارلیمنٹ چونکہ قانون بناتی ہے، وہ اس کے مطابق وہ چیزیں تبدیل کر لے گی۔
وفاقی شرعی عدالت
دوسرا وعدہ یہ تھا کہ آئندہ بھی جو ہم قانون بنائیں گے قرآن و سنت کے مطابق بنائیں گے، اس کے خلاف نہیں بنائیں گے۔ تو اگر صوبائی اسمبلی کوئی قانون بناتی ہے یا پارلیمنٹ کوئی قانون بناتی ہے نیا قانون بناتی ہے اس معاملے میں بھی وہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے کہ ہم یہ قانون بنا رہے ہیں، آپ اس پر ایک نظر ڈال کر ہمیں بتا دیجیے کہ اس میں کون سی چیزیں قابلِ قبول ہیں، کون سی غلط ہیں، تاکہ ہم قانون اس کے مطابق کر لیں۔
اب یہ تجربہ ہم نے کیا اور اس کے فوائد بھی نکلے اور یہاں شاید آپ کو اس کے بارے میں کچھ تفصیل دی بھی گئی ہو، یا دے دی جائے گی۔ دوسرا اس کے بعد ہم نے ایک اور تجربہ کیا کہ چونکہ یہ جو کونسل ہے، اسلامی نظریاتی کونسل، یہ سفارشات تو دے دیتی ہے پارلیمنٹ کو، لیکن پھر پارلیمنٹ اس پر عمل نہیں کرتی، اب اس کو مجبور کیسے کریں کہ وہ اس پر عمل کرے۔ یا پارلیمنٹ نے کوئی قانون بنایا اور اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھا ہی نہیں، یا پوچھ لیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا، قانون بنا لیا، اب کیا کریں؟ تو 1979ء میں ہم نے پہلے ہائی کورٹس میں، پھر ان کو ختم کر کے ایک مستقل الگ عدالت بنائی، اس عدالت کو کہا جاتا ہے وفاقی شرعی عدالت (Federal Shariat Court)، یہ 1980ء میں بنی ہے۔ پہلے ہم نے ہائی کورٹس میں شریعت بینچ بنائے، پھر شریعت بینچز کو ختم کر کے اگلے سال 1980ء میں ہم نے فیڈرل شریعت کورٹ بنائی۔
وفاقی شرعی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے، قانونِ اساسی کی رو سے، کہ اگر پاکستان کا کوئی شہری یہ سمجھے کہ اس قانون میں یہ یہ چیزیں اسلام کے خلاف ہیں، وہ اس کے خلاف درخواست لکھ کر عدالت میں آئے، عدالت اس کی درخواست دیکھے گی، اس کے دلائل سنے گی، حکومت کے نمائندوں کو بھی طلب کرے گی، ان کی رائے بھی لے گی، ان کے دلائل بھی سنے گی، اس کے بعد عدالت اگر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ یہ چیز اسلام کے خلاف ہے تو وہ اس کے خلاف فیصلہ دے گی۔ اور وہ فیصلہ ماننا لازمی ہو گا۔ اگر وفاقی قانون ہے تو پارلیمنٹ کو کہے گی، اگر صوبائی قانون ہے تو صوبائی اسمبلی کو کہے گی کہ اتنی مدت میں، تین مہینوں میں چار مہینوں میں، یہ قانون تبدیل کر لیں، اس سے یہ یہ چیزیں نکال لیں۔ اگر پارلیمنٹ نے اس پر عمل کیا، صوبائی اسمبلی نے اس پر عمل کیا، تو بہت خوب۔ اگر پارلیمنٹ نے اس پر عمل نہیں کیا، صوبائی اسمبلی نے اس پر عمل نہیں کیا اور وہ مدت گزر گئی، تو اس مدت کے گزرنے کے بعد وہ چیزیں اس قانون سے خودبخود نکل جائیں گی، شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق۔ شریعت کورٹ نے کہا، اس میں سیکشن 18 مثال کے طور پر، سیکشن 19 اسلام کے خلاف ہے، آپ 31 جنوری تک اس کو تبدیل کر لیں۔ اکتیس جنوری کی تاریخ گزر گئی آپ نے تبدیل نہیں کیا، وہ چیزیں نہیں نکالیں، تو اکتیس جنوری کے بعد وہ چیزیں خودبخود نکل جائیں گی، اب وہ قانون کا حصہ نہیں رہیں گی۔
سپریم کورٹ کا شریعت اپیلٹ بنچ
اگر شریعت کورٹ کے فیصلے پر کسی کو اعتراض ہو تو اپیل میں وہ سپریم کورٹ میں جاتے ہیں۔ اور سپریم کورٹ میں اس کے لیے الگ سے ایک خصوصی شعبہ ہے، اس کو کہا جاتا ہے شریعت اپیلٹ بنچ۔ شریعت اپیلٹ بنچ میں چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہیں، دو سینئر جج ہوتے ہیں اور دو علماء ہوتے ہیں۔ تو وہ پانچ ججوں پر مشتمل بینچ ہوتا ہے، وہ شریعت کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیتا ہے اور سب کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتا ہے جو حتمی اور آخری فیصلہ ہوتا ہے۔
یہ سسٹم ہم نے اِدھر پاکستان میں بنایا ہوا ہے، اور اس میں ظاہر ہے مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن ہم نے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے اور بہت اہم فیصلے پاکستان میں اس طرح کے آئے بھی ہیں۔
② افغانستان کا قانونِ اساسی 2004ء
اب کچھ چیزیں میں افغانستان کے حوالے سے ذکر کروں گا، افغانستان کے کانسٹیٹیوشن کے حوالے سے، پھر میں آپ کے سوالات لینا چاہوں گا۔ مجھے موقع ملا 2018ء میں کابل جانے کا، اور وہاں جو دستور کے حوالے سے کمیشن بنایا گیا تھا، قانونِ اساسی کی تعبیر اور تشریح کے لیے، تو اس کے ممبرز اور ریسرچ سٹاف کی ٹریننگ تھی، اس کے لیے مجھے بلایا گیا تھا، تو میں وہاں گیا۔ اور اس کے لیے مجھے افغانستان کا جو کانسٹیٹیوشن 2004ء سے نافذ ہے اس پر کام بھی کرنا پڑا۔ اور جو پچھلے قوانین تھے ان کا بھی میں نے جائزہ لیا۔ اسی طرح ایک دو کیسز میں، جو انگلینڈ میں عدالتوں میں چلے، اس میں مجھے وہاں کی عدالتوں کے لیے کچھ رپورٹس تیار کرنی پڑیں expert opinion کے طور پر۔
افغانستان کے ایک مقدمہ کا جائزہ
ان میں ایک بڑا دلچسپ مقدمہ وہ تھا جس میں قندھار میں بازار میں جاتے ہوئے برطانوی جو افواج تھیں، انہوں نے فائرنگ کی تھی اور کچھ لوگ اس میں شہید ہوئے تھے، کچھ زخمی ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک شخص جو شہید ہوا تھا بلکہ اس کا بیٹا بھی، تو اس کا بھائی چلا گیا انگلینڈ میں اور وہاں اس نے مقدمہ درج کیا برطانوی فوج کے خلاف۔ اور اس نے کمال یہ کیا تھا، جس نے بھی اسے یہ مشورہ دیا تھا، کہ اس نے سزا کے لیے مقدمہ نہیں دائر کیا بلکہ اس کا مقدمہ تھا تاوان کے لیے، کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے، میں ذہنی اذیت میں مبتلا ہوا، میرے سامنے میرے بھائی کو مارا گیا بغیر کسی وجہ کے، میرے بھتیجے کا قتل ہوا، مجھے اتنی شدید تکلیف پہنچی ہے۔ انگلینڈ کے قانون میں اس کی بنیاد پر آپ کو ظاہر ہے ہرجانہ یا جرمانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ وہاں کی عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ واقعہ چونکہ انگلینڈ میں نہیں ہوا ، افغانستان میں ہوا ہے، تو کیا انگلینڈ کی عدالت اس مقدمے کو سن سکتی ہے؟ اس کو ہم کہتے ہیں principle of territorial jurisdiction کہ عدالت ان امور پر مقدمہ سن سکتی ہے جو اس علاقے میں ہوں جن پر عدالت کا اختیار ہے۔ اب وہ علاقہ افغانستان ہزاروں کلومیٹر دور انگلینڈ سے، تو انگلینڈ میں تو واقعہ ہوا نہیں، افغانستان میں ہوا ہے، تو کیا انگلینڈ کی عدالت اِس مقدمے کو سن سکتی ہے۔ اس پر بالآخر عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ چونکہ وہ علاقہ برطانوی فوج کے ماتحت تھا، اور برطانوی فوج پر برطانیہ کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو اس وجہ سے مقدمہ ہم سن سکتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا سوال یہ تھا کہ اب مقدمے کا فیصلہ کس قانون کے تحت کریں گے، انگلینڈ کے قانون کے تحت کریں گے، یا جہاں واقعہ ہوا ہے وہاں کا قانون اس پر لاگو کریں گے؟ دلچسپ سوال ہے نا۔ تو انگلینڈ کی عدالت نے بالآخر یہ طے کیا کہ اس پر اس علاقے کے قانون کا اطلاق ہو گا جہاں یہ واقعہ ہوا ہے، افغانستان کا قانون اس پر ہم لاگو کریں گے۔ اب افغانستان کا قانون اس میں ہے کیا؟ وہ تو ظاہر ہے انگلینڈ کے جج کو معلوم نہیں تھا، بلکہ انگلینڈ کے وکیلوں کو بھی معلوم نہیں تھا۔ تو وہاں پھر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اب اُس علاقے کا قانون ہم نے نافذ کرنا ہے تو اس قانون کے جو ماہرین ہوتے ہیں ان سے پوچھنا ہے۔ وہ عدالت کے لیے اپنی رائے تفصیل سے لکھ کر دیں گے۔ جیسے آپ مفتی سے استفتاء کرتے ہیں، وہ فتویٰ دیتا ہے۔ جب جج کو پتہ نہیں ہوتا کہ ابھی ہم نے کیا کرنا ہے تو وہ اس طرح expert opinion لے لے گا۔
اس میں دلچسپ سوال یہ تھا کہ افغانستان کے مدنی قانون کی رو سے جب آپ کسی معاملے میں تاوان کے لیے ہرجانے کے لیے جرمانے کے لیے دعویٰ کرتے ہیں تو اس کے لیے تین سال کی مدت ہے، تین سال کے بعد آپ مقدمہ دائر نہیں کر سکتے۔ یہاں اس کو چار پانچ سال ہو گئے تھے۔ تو وہاں انگلینڈ کی عدالت سے جب وہ معاملہ میری طرف بھیجا گیا تو اس میں ایک سوال یہ تھا کہ کیا تین سال کے بعد اس مقدمے کو ہم سن سکتے ہیں یا نہیں سن سکتے؟ اور وہاں کے قانون کی رو سے اس میں اب کیا چیزیں ہوں گی؟
اب اس میں بہت ساری تفصیلات ہیں جو وقت کی کمی کی وجہ سے میں نہیں بتا سکتا لیکن میں مختصراً یہ بتا دیتا ہوں کہ ظاہر ہے اس میں مجھے دیکھنا پڑا افغانستان کے جنایات کے قانون کو بھی، مدنی قانون کو بھی، اور یہ جو مدت کی تحدید جس قانون میں کی گئی ہے، مدنی قانون میں، اس کا بھی میں نے جائزہ لیا۔ اور اس میں ظاہر ہے ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ افغانستان کے قانونِ اساسی میں بھی، ابھی ہم ذکر کریں گے، اور مدنی قانون میں بھی، اور جنایات کے قانون میں بھی، اور دیگر کئی قوانین میں بھی، لیکن چونکہ میرا تعلق اس وقت ان تینوں سے تھا، قانونِ اساسی بھی، مدنی قانون بھی، جنایات میں بھی، تینوں میں صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ حنفی فقہ پر فیصلہ ہو گا، اگر کہیں کوئی تنازع ہو، قانون میں دو یا تین طرح کی تشریح ممکن ہو تو کون سی تشریح پر، کس تعبیر پر ہم عمل کریں گے، تو اس کےلیے ہم حنفی فقہ کا جائزہ لیں گے۔ تو اس وجہ سے اس میں مجھے حنفی فقہ کا تڑکہ بھی لگانا پڑا، تو وہ بہت دلچسپ چیز سامنے آئی اور نتیجہ اس میں ہم نے یہ نکالا کہ تین سال کی یہ جو مدت ہے اس کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا، مقدمہ چل سکتا ہے، اور تاوان اس میں اچھا خاصا لیا جا سکتا ہے، اور اس میں ہم نے دیت اور عرش وغیرہ کی تفصیلات بھی کافی تفصیل سے ذکر کیں۔ مطلب یہ ہےکہ جب آپ کام کرنے پر آئیں تو بہت سارے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں قانون کے اندر بھی۔
اسلامی دفعات پر ایک نظر
اب قانونِ اساسی کے حوالے سے میں صرف وہ چند دفعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن پر ہم نے وہاں کابل میں کافی تفصیل سے گفتگو کی تو بہت دلچسپ وہاں سوالات بھی اٹھے تھے۔ چند ایک میں کوشش کروں گا اگر موقع ملا یہاں ڈسکس کر لیں گے۔ لیکن میں پہلے جلدی سے اس فہرست پر آپ کے ساتھ ایک نظر دوڑاؤں، اسلامی قانون کے حوالے سے جو چیزیں 2004ء کے قانونِ اساسی میں مذکور ہیں۔
- ایک تو جو بالکل مقدمہ ہے دستور کا ، دیباچہ، اس میں یہ اقرار کیا گیا، جو بالکل پہلا فقرہ ہے، اس میں یہ صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اسلام ہمارا عقیدہ ہے اور اسلام پر ہم عمل پیرا ہوں گے۔
- اسی طرح جو بالکل پہلی شق ہے، پہلی دفعہ ہے، پہلا مادہ ہے کانسٹیٹیوشن کا۔ وہ یہ کہتا ہے کہ افغانستان اسلامک رپبلک ہے، اسلامی جمہوریہ ہے۔
- پھر آرٹیکل 2 میں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام ریاست کا مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہو گی۔
- آرٹیکل 3 میں، دفعہ تین میں یہ کہا گیا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جائے گا افغانستان میں۔ یہ تو کہا گیا کہ نہیں بنایا جائے گا، وہاں کابل میں جب ہم یہ ڈسکس کر رہے تھے تو میں نے وہاں دوستوں سے پوچھا کہ اگر بنایا گیا تو پھر کیا کریں گے؟ یعنی ہم نے یہ تصریح تو کی ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، لیکن اگر بنایا گیا، یا اگر کسی شخص کا یہ کہنا ہے کہ یہ جو قانون بنایا گیا ہے یہ اسلام کے خلاف ہے، دوسرا کہہ دے کہ نہیں ہے۔ اب کیا کریں گے؟ ظاہر ہے اس کے لیے آپ کے ہاں ایک تو یہ جو کمیشن ہے اس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ دستور کی تعبیر و تشریح کرے۔ تو وہ اس دستور کی تعبیر اور تشریح کرتے ہوئے یہ اختیار استعمال کر سکتا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ قانون دستور کے مطابق ہے یا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ ہے۔ سپریم کورٹ کو کانسٹیٹیوشن کے تحت یہ اختیار دیا گیا ہے کہ قانونِ اساسی کی تشریح اور تعبیر کرے۔ اور پھر بعض امور میں جو رئیس المشر، صدر ہیں جمہوریہ کے، ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ قوم کے سربراہ کی حیثیت سے فرمان جاری کریں، کوئی حکم نامہ جاری کریں ، تو وہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے اس سسٹم کو چلنے میں اور ڈیویلپ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ جیسے میں نے کہا پاکستان میں ہم نے اس کے لیے الگ سے باقاعدہ ادارے بنا لیے۔ کسی فرد کو دینے کی بجائے ہم نے اِدھر ایک تو یہ ادارہ بنایا کونسل آف اسلامی آئیڈیالوجی کا، جو پارلیمنٹ کو اس سلسلہ میں سفارشات دیتا ہے، تجاویز دیتا ہے، اور پھر ہم نے الگ سے عدالت بنائی، مستقل عدالت جس کو ہم فیڈرل شریعت کورٹ کہتے ہیں، وفاقی شرعی عدالت، جو اس بارے میں اپنے فیصلے بھی سناتی ہے۔
- پھر آگے دفعہ 35 میں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے خصوصاً یہ کہا گیا ہے کہ سیاسی جو جماعتیں ہوں گی افغانستان میں، ان کے منشور میں کوئی چیز اسلام کے خلاف نہیں ہو گی۔
- پھر دفعہ 45 میں بہت اہم بات کہی گئی ہے تعلیم کے حوالے سے۔ اور دیکھیں پاکستان میں آج ہم یکساں نصاب کی بات کر رہے ہیں لیکن افغانستان کے کانسٹیٹیوشن 2004ء میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاست کی، دولۃ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ یکساں نصابِ تعلیم تشکیل دے اور اس میں اسلام کے عقیدے اور تصورات کے مطابق لوگوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ چلائے۔
- اسی طرح دفعہ 54 میں خاندان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے گی، اور ماں کے لیے بچے کے لیے خصوصی حقوق کا بھی ذکر ہے۔ اور وہ رسوم و رواج جو اسلام کے خلاف ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ بھی بہت اہم بات ہے۔
- پھر آرٹیکل 62 میں، دفعہ باسٹھ میں، ملک کے صدر کے لیے، سربراہ کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں، ان میں ایک شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو، افغان ماں باپ کا بیٹا ہو، افغانستان کا شہری ہو، کسی اور ملک کا شہری نہ ہو۔
- اسی طرح دفعہ 63 میں صدر کے حلف کے حوالے سے، اس میں باقاعدہ اللہ کے نام سے قسم کھا کر اور پھر اسلام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کر کے اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے، ان چیزوں کا ذکر ہے۔
- آرٹیکل 74 میں، جو وزیر ہیں ان کے حلف کا ذکر ہے، اس میں بھی اس طرح کی باتیں ہیں۔
- پھر آرٹیکل 118 میں سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں یہ کہا گیا ہے، جو بہت اہم بات ہے میرے نزدیک، کہ سپریم کورٹ کے ججز کے لیے اہلیت کی شرط یہ ہے کہ اصول الفقہ میں، اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم انہوں نے حاصل کی ہوئی ہو، اور افغانستان کے عدالتی نظام میں ان کا اچھا خاصا تجربہ ہو۔
- ایک اور بہت اہم شق، دفعہ 149 ہے، جس میں قانونِ اساسی میں ترمیم کا ذکر ہے کہ اگر قانونِ اساسی کو کوئی تبدیل کرنا چاہے تو اس کے لیے کیا شرائط ہیں اور کیا اس میں قیود ہیں۔ سب سے پہلی قید یہ ذکر کی گئی ہے کہ یہ جو اسلامی دفعات ہیں یہ ناقابلِ تبدیل ہیں، ان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری بات، حقوقِ انسانی کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ جو حقوق ہیں، ان میں آپ تبدیلی کر سکتے ہیں ان کو بہتر بنانے کے لیے، یعنی کم کرنے کے لیے نہیں۔
- اور اس سلسلہ میں آخری اہم جو شق ہے وہ آرٹیکل 130 ہے جس میں حنفی فقہ (jurisprudence) اور اصول کا ذکر ہے کہ جہاں باقاعدہ کوئی تصریح نہ ہو یا جہاں ابہام ہو تو وہاں حنفی فقہ اور اصول پر عمل ہو گا۔
ہیومن رائیٹس کے حوالے سے تین چیزیں بہت اہم ہیں افغانستان کے کانسٹیٹیوشن میں:
- ایک تو ظاہر ہے جو دیباچہ ہے، اس میں یہ خصوصاً ذکر کیا گیا ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر بھی عمل پیرا ہوں گے اور یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائیٹس، جو انسانی حقوق کا عالمی اعلان ہے، اس پر عمل کریں گے۔
- اور اسی طرح آرٹیکل 6 ہے، دفعہ چھ، اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاست پر یہ فرض ہے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرے اور مساوات اور جمہوریت کے لیے کام کرے اور ان کو یقینی بنائے۔
- اور آرٹیکل 7 میں پھر یہ کہا گیا ہے، باقاعدہ طور پر تصریح کی گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، دیگر ریاستوں کے ساتھ معاہدات کی افغانستان پابندی کرے گا۔ اور جو انسانی حقوق کا عالمی منشور ہے، اعلان ہے، اس پر بھی عمل کرے گا۔
اچھا، میں نے یہ سوال وہاں بھی کیا تھا، یہاں بھی ظاہر ہے اس پر بحث کی ضرورت ہے کہ اگر اس سلسلہ میں کوئی سوال ہو کوئی مسئلہ ہو کہ آپ ہیومن رائیٹس پر عمل پیرا ہیں یا نہیں ہیں، پھر کیا ہوتا ہے؟ یعنی پاکستان میں مثال کے طور پر، میں پہلے پاکستان کا ذکر کروں گا، پھر افغانستان کا، یہ میری اس سلسلہ میں آخری بات ہے، اس کے بعد آپ لوگوں کے سوالات میں سنوں گا۔
③ اسلامی احکام و قوانین اور بین الاقوامی معاہدات
پاکستان نے بہت سارے بین الاقوامی معاہدات پر دستخط کیے ہیں، ان کی توثیق کی ہوئی ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا جو قانون ہے، اس کی رو سے یہ ضروری ہے، یعنی پاکستان نے مثال کے طور پر جو بچے کے حقوق سے متعلق معاہدہ ہے Convention on the Rights of the Child، پاکستان نے اس پر دستخط بھی کیے ہیں، اپنے اوپر اس کی پابندی لازم کروائی۔ لیکن کیا کوئی شخص اس بین الاقوامی معاہدے کی کسی شق کی بنیاد پر پاکستان کی کسی عدالت میں مقدمہ شروع کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا، جب تک اس کے بعد ایک اور قدم نہ اٹھایا جائے۔ اس کو کہتے ہیں incorporating legislation کہ اُس بین الاقوامی معاہدے میں جو باتیں کہی گئی ہیں، پارلیمنٹ ان کو باقاعدہ ایک قانون کے ذریعے، ایک قانون منظور کرے، اس میں وہ چیزیں ڈالے، تو اب وہ جو قانون پارلیمنٹ منظور کرے گی اس کے بعد وہ چیزیں پاکستان میں نافذ ہو جائیں گی، پھر آپ عدالت میں جا سکتے ہیں، اس قانون کی بنیاد پر جو پارلیمنٹ نے بنایا ہے۔
اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں مثال کے طور پر بہت ساری اس طرح کی قانون سازی پچھلے کچھ عرصے سے ہونے لگی ہے۔ جیسے domestic violence کا مسئلہ ہے، گھریلو تشدد کا، کہ گھر میں بچوں پر یا خواتین پر اگر تشدد ہوتا ہے۔ اب، تشدد نہیں ہونا چاہیے، اور پھر بالخصوص جب آپ نے بین الاقوامی معاہدات پر دستخط بھی کیے ہیں توثیق بھی کی ہوئی ہے، اب ان کی پابندی بھی آپ پر لازم ہے تو اس سلسلہ میں آپ نے قوانین بنانے ہیں۔ تو ہم نے سندھ میں، اور پھر بلوچستان میں، پھر پنجاب میں، اور اب حال ہی میں خیبرپختونخوا میں، اس سلسلہ میں الگ الگ قانون سازی کی ڈومیسٹک وائلینس کے خلاف۔ اور اسلام آباد میں جب کی جا رہی تھی تو اس پر پھر بہت ساری باتیں ہوئیں، تو وہ معاملہ ابھی معلق ہے۔ اور جو پنجاب میں قانون سازی ہوئی تو اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست گئی ہے کہ اس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اسلامی شریعت سے متصادم ہیں۔
اب یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ایک جانب آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے، یہ اقرار کیا ہے، اور بحیثیتِ مسلمان ظاہر ہے آپ کی ذمہ داری بھی ہے کہ آپ کے ملک میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہ ہو۔ دوسری جانب آپ نے بین الاقوامی معاہدات پر دستخط بھی کیے ہیں، ان کی توثیق بھی کی ہے، ان کی پابندی اپنے اوپر لازم بھی کی ہے، وعدے کی پابندی بھی مسلمان پر لازم ہے۔ لیکن اب اگر اس بین الاقوامی معاہدے میں کوئی ایسی بات کی گئی ہے، جو آپ نے اپنے اوپر لازم کر دی ہے، آپ نے اس بات کو یہاں قانون کے ذریعے ملک میں نافذ کر لیا، لیکن وہ بات اسلام کے خلاف ہے۔ تو اب اگر اس کے خلاف درخواست جائے وفاقی شرعی عدالت میں، اور عدالت کہہ دے کہ یہ چیزیں اسلام کے خلاف ہیں ان کو ختم کر دیں۔ تو مسئلہ یہ ہو جاتا ہے کہ آپ اس کو اسلام کے خلاف قرار دے کر ختم کر رہے ہیں، اُدھر آپ نے بین الاقوامی معاہدے کی پابندی اپنے اوپر لازم کی ہے، وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ کیوں ختم کیا؟ کیونکہ آپ نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اب دوسرے فریق آپ سے پوچھتے ہیں۔ لیکن اِدھر بھی سوال یہ ہے کہ اگر وہ بین الاقوامی معاہدہ میں مان لوں اور اس کو یہاں نافذ کر لوں تو یہاں اسلام کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو وہ بھی میں نہیں کر سکتا۔
اب اس میں توازن کیسے قائم کیا جائے، اور اس میں تطبیق کی راہ کیسے اختیار کی جائے، یہ بہت اہم ہے۔ اور میرے خیال میں اس سے بھی زیادہ اہم یہ بات ہے کہ جس وقت معاہدات تشکیل پا رہے ہوں، جب ابھی معاہدہ لکھا جا رہا ہے، یا اگر لکھا جا چکا ہے پہلے ہی سے اور آپ اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تو اس مرحلے پر اچھی خاصی سوچ بچار کی ضرورت ہے، بہت زیادہ ڈسکشن کی ضرورت ہے، بہت زیادہ تحقیق اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاکہ وہاں سے معلوم ہو کہ ہم اس معاہدے کو مان سکتے ہیں یا نہیں مان سکتے، اس میں کون سی چیزیں ہیں جو ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ پھر آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ آپ کہیں کہ اس معاہدے میں سو دفعات ہیں، ان میں نوے تو میرے لیے قابلِ قبول ہیں، لیکن یہ آٹھ نو دس ایسی ہیں جن پر مجھے تحفظات ہیں، یہ میرے لیے ناقابلِ قبول ہیں، تو میں ان پر ریزرویشن (تحفظات) رکھتا ہوں، میں باقی باتیں مانوں گا، یہ والی نہیں مانوں گا۔ تو یہ امکانات آپ کے پاس ہوتے ہیں بشرطیکہ جس وقت آپ معاہدے پر دستخط کر رہے ہوں، معاہدے میں شامل ہو رہے ہوں، اس وقت آپ اچھی خاصی تیاری کر کے جائیں، سوچ بچار کریں۔
بلکہ اس کے بعد بھی امکان ہوتا ہے، بعض اوقات یہ ہوا کہ امریکہ کے صدر نے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے، لیکن امریکہ میں معاہدہ امریکہ پر ماننا تب لازم ہوتا ہے جب اس معاہدے کی توثیق امریکی سینٹ کرے۔ امریکہ میں جو قانون ساز ادارہ ہے، اس کا جو ایوانِ بالا ہے اُس کو سینٹ کہتے ہیں۔ سینٹ جب اس معاہدے کی منظوری دے دے، اس کے بعد وہ امریکہ پر ماننا لازم ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ جو بچے کے حقوق کا معاہدہ ہے، اس پر امریکہ کی جو وزیر خارجہ تھیں، میڈلین البرائٹ نے اس پر دستخط کیے، امریکی وزیر خارجہ نے دستخط کیے 1995ء میں، یعنی آج سے چھبیس سال پہلے، لیکن آج تک امریکی سینٹ نے اس کی منظوری نہیں دی، تو امریکہ ابھی تک ’’کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ‘‘ بچے کے حقوق کے معاہدے کو اپنے اوپر لازم نہیں مانتا۔ اور دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کی تمام ممبر اسٹیٹس میں امریکہ اس وقت واحد ملک ہے جو اس معاہدے میں شامل نہیں ہے، بچے کے حقوق کے متعلق جو معاہدہ ہے۔ اس لیے کہ وہاں معاہدے میں تفصیلی بحث ہوتی ہے سینٹ میں، اور اس کے بعد طے کیا جاتا ہے کہ ہم اس معاہدے کو اپنے اوپر لازم کریں یا نہ کریں۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ معاہدہ ہو جاتا ہے، دستخط ہو جاتے ہیں، توثیق ہو جاتی ہے، ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب ہوا، کیا ہوا، کس نے کیا۔ کیونکہ پاکستان میں برطانیہ کے ماڈل کو فالو کرتے ہوئے معاہدے کی توثیق کرنا، یہ پارلیمنٹ کا کام نہیں، وزارتِ خارجہ میں سیکرٹری لیول کا بندہ کرتا ہے، بیوروکریٹ کرتا ہے۔ تو یہ اصل میں، اگر پارلیمنٹ میں آئے، وہاں ڈسکس ہو، وہاں اس پر مختلف اطراف سے بحث ہو، تو شاید بہتری کی صورت پیدا ہو۔ ویسے پارلیمنٹ کی بھی حالت کچھ اتنی بہتر تو نہیں ہے، ایک دن میں اب چالیس چالیس قوانین بھی منظور کر لیتے ہیں، اللہ رحم کرے۔
سوالات کے جوابات
عبوری نظامِ حکومت اور اس کا بین الاقوامی تصور
پاکستان میں بھی بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ اگر کانسٹیٹیوشن کے مطابق حکومت وجود میں نہیں آتی یعنی مثال کے طور پر مارشل لاء آ گیا، جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا، یا جنرل مشرف نے کیا، اب وہ کانسٹیٹیوشن کے مطابق تو نہیں تھا، لیکن وہ پورے کانسٹیٹیوشن کو معطل نہیں کرتے، پورے کانسٹیٹیوشن کو منسوخ نہیں کرتے، بلکہ ایک آرڈر جاری کرتے ہیں، پاکستان میں اس طرح سے سسٹم چل رہا تھا، اس کو کہتے ہیں PCO پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر، یعنی عارضی یا عبوری دستوری حکم نامہ۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ دستور کی یہ یہ جو شقیں ہیں، یہ معطل ہو گئی ہیں، باقی نظام اسی طرح چلتا رہے گا۔ البتہ اس میں یہ یہ چیزیں ہم ڈال رہے ہیں۔ یعنی یہ چیزیں ہم نے معلق کیں، معطل کیں، یہ چیزیں ہم نے اضافہ کیں، باقی سسٹم اسی طرح چلتا رہے گا۔
اب یوں کہیں کہ افغانستان میں بھی اس وقت "PCO" چل رہا ہے، پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر کے تحت سسٹم چل رہا ہے، جس میں سسٹم اسی طرح چل رہا ہے جیسے چل رہا تھا، لیکن اگر پارلیمنٹ کے حوالے سے، اس کو معطل کیا گیا ہے، یا صدر کے حوالے سے جو شقیں تھیں، وہ معطل ہو گئی ہیں، اور اب تحریر میں چونکہ کوئی چیز موجود نہیں ہے، تو ہم عمل کو دیکھتے ہیں، اور دستوری نظام میں ویسے بھی ہر چیز لکھی ہوئی نہیں ہوتی، حتیٰ کہ برطانیہ میں اس وقت بھی دستوری امور سے متعلق بہت سارے امور تو ایسے ہیں جو مختلف قوانین میں بکھرے ہوئے ہیں، ایک ڈاکومنٹ میں نہیں ہیں۔ امریکہ میں تو ایک ڈاکومنٹ ہوتا ہے جس کو آپ کانسٹیٹیوشن کہتے ہیں، پاکستان میں بھی ایک ڈاکومنٹ ہے، افغانستان میں بھی یہ تھا، برطانیہ میں تو بہت سارے قوانین میں وہ چیزیں بکھری ہوئی الگ الگ ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں جو لکھی ہوئی موجود نہیں ہوتیں، وہ عمل میں موجود ہوتی ہیں، اور عملاً ایک سسٹم چل رہا ہوتا ہے اس کو ہم دیکھتے رہتے ہیں۔
تو اس وقت یوں کہیں کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے ایک عبوری حکم نامہ نافذ کیا گیا ہے، جس کی رو سے 2004ء کے اس کانسٹیٹیوشن کے کچھ حصے معطل ہو گئے ہیں، لیکن باقی سسٹم اسی طرح چل رہا ہے۔ اب ان کا اپنا سسٹم کیسے چل رہا ہے؟ تو اس پر ظاہر ہے تفصیل میں جانے کا موقع بھی نہیں ہے، لیکن ان کا اپنا کچھ سسٹم تو بہرحال موجود ہے، حکم کہاں سے آتا ہے، کیسے نافذ ہوتا ہے، وہ آپس میں کیسے اس کو چلاتے ہیں؟ لیکن یوں کہیں اس وقت ہم عبوری دور میں ہیں افغانستان میں۔ اور ویسے بھی جہاں بہت زیادہ خانہ جنگی ہو، جنگ ہوئی ہو، بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہوں، اور پھر برسوں تک ہوئے ہوں، جیسے افغانستان کے ساتھ اتنے عرصے سے ہو رہا ہے، تو اس میں اسی طرح ہوتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بہتری کی طرف جاتی ہیں۔
اور ایک تصور جو بین الاقوامی سطح پر آج کل بہت زیادہ مقبول ہے، اس کو کہا جاتا ہے transitional justice کا یعنی عبوری انصاف کا۔ مکمل انصاف تو آپ نہیں دے سکتے، وہ تو جب باقاعدہ نظام قائم ہو جائے گا، پورا سسٹم چلے گا، اس کے بعد صحیح سسٹم چلے گا۔ لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے خلاف بہت سارے جو ہمارے گلے شکوے ہیں ان کو دور کر کے کچھ بڑی بڑی چیزوں پر اقدامات کریں، باقی چھوٹے چھوٹے مسائل چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو شاید معاملہ آگے جائے۔
حصولِ انصاف میں تاخیر کا معاملہ
ٹائم کا جہاں تک تعلق ہے، ہمارے ہاں بھی مقدمات کے لیے مختلف مواقع پر ٹائم مقرر کیا گیا ہے، بعض خصوصی عدالتیں ہوتی ہیں، ان کو خصوصی ٹائم بھی دیا جاتا ہے، دہشت گردی کے حوالے سے بالخصوص، اسی طرح ریپ کے معاملے میں، اسی طرح جو فیملی لاز ہیں ان میں بھی مدت کی تحدید کی گئی ہے۔ اور یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جب مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کا نقصان ہوتا ہے اور وہ بے انصافی ہوتی ہے۔ لیکن مقدمات کے فیصلوں میں جب آپ جلدی کرتے ہیں تو اس میں بھی نقصان ہوتا ہے۔ یعنی اگر یہ بات درست ہے کہ justice delayed is justice denied تو یہ بھی درست ہے کہ justice rushed is justice crushed جب آپ جلدی میں فیصلہ کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ انصاف کی بجائے بہت بڑا ظلم کر بیٹھیں۔ تو اس وجہ سے دوسرے فریق کو سننا پڑتا ہے۔ بلکہ میں جب سٹوڈنٹس کے پیپرز چیک کرتا ہوں تو جن کا پیپر اچھا ہوتا ہے وہ تو بندہ جلدی چیک کر لیتا ہے، جس بندے نے فیل ہونا ہوتا ہے، یعنی اس کا پیپر ایسا ہے کہ وہ پاس نہیں ہو سکتا، اس کا پیپر مجھے بغور پڑھنا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس کا فائدہ اسے پہنچ سکتا ہو اور میں اسے نہ دوں۔ اسی طرح جب آپ کسی کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں تو وہ تو معاملہ آسان ہوتا ہے، لیکن جب آپ نے کسی کو سزا دینی ہے تو پھر اس کے لیے تو آپ کو بہت زیادہ احتیاط کرنی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے موقع دینا پڑتا ہے اور بعض اوقات اس ٹائم کی پابندی نہیں ہو سکتی۔
افغان صدر کی دوہری شہریت کا سوال
dual nationality کا سوال تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ افغانستان کے قانون کی رو سے ڈوئل نیشنلٹی کا جو حامل ہوتا ہے، جو شخص ڈوئل نیشنل ہو وہ صدر نہیں ہو سکتا، یعنی یہ باقاعدہ اس میں تصریح کی گئی ہے۔ (حاضرین میں سے سوال) اب، نہیں ہو سکتا ایک بات ہے، ہو گیا تو وہ دوسری بات ہو جاتی ہے۔ (حاضرین میں سے سوال) کیا واقعی اس کے پاس ڈوئل نیشنلٹی تھی یا ہے، مجھے نہیں معلوم، میں یقین سے نہیں کہہ سکتا، (حاضرین میں سے سوال) میرا مفروضہ تو یہی ہے، اچھا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کینسل کی ہو، ٹھیک ہے۔
اسلامی احکام اور بین الاقوامی معاہدات کی ہم آہنگی کا معاملہ
کیا اسلامی قانون میں اور بین الاقوامی قانون میں کوئی بہت بڑی چیز ہے جہاں اختلاف ہو؟ کئی لوگ کئی ساری مثالیں پیش کرتے ہیں، اس میں بحث کی جا سکتی ہے، لیکن میں ایک سیدھی سادی مثال دوں گا کہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے خواتین کے حقوق کے حوالے سے جس کا ٹائٹل ہے Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination Against Women (CEDAW) اس کے آرٹیکل 16 میں یہ کہا گیا ہےکہ جو ممبر سٹیٹس ہیں وہ اس کو یقینی بنائیں گے کہ خواتین کا وہی حق ہو جو مردوں کا ہے، equal right to marriage and divorce
اب equal right to divorce پر تو پھر بھی اسلامی قانون کی رو سے بحث کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ حنفی فقہ میں بالخصوص جب آپ طلاقِ تفویض کی بات کرتے ہیں، اور خاتون کو بھی طلاق دینے کا حق delegate کر دیتے ہیں۔ اگرچہ delegated divorce اور divorce میں فرق بھی ہوتا ہے نتائج کے اعتبار سے، لیکن بہرحال ایک امکان اس کا پیدا ہو جاتا ہے۔
لیکن equal right to marriage آپ کیسے انشور کریں گے، اگر کریں گے، اب پاکستان میں مثال کے طور پر سیکشن 6 ہے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کا، جس کا یہ کہنا ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک شادی کی ہے، وہ دوسری کر رہا ہے، یا دو کی ہیں اور وہ تیسری کر رہا ہے، یا تین کی ہیں اور وہ چوتھی کر رہا ہے، تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ پہلے اس علاقے کی یونین کونسل کو درخواست دے اور اس میں وجوہات ذکر کرے کہ وہ کیوں دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس میں اس کی جو پہلے سے موجود بیوی یا بیویاں ہیں، تو ان کی نمائندگی بھی ہو گی، اگر ان کو اعتراض ہو تو وہ اپنا اعتراض بھی ذکر کریں گی۔ اور پھر اس کے بعد کونسل فیصلہ کرے گی کہ اس کو دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے، اور اگر دی جائے تو کن شرائط کے تحت دی جائے۔ اور پہلے سے موجود بیوی یا بیویوں کے حقوق کے لیے اگر وہ آپس میں کوئی سمجھوتہ کرنا چاہیں۔
اگر کسی نے اس قانون کو فالو نہیں کیا اور دوسری تیسری یا چوتھی شادی کر لی، قانون اس دوسری تیسری چوتھی شادی کو ناجائز نہیں کہتا، لیکن قانون کی خلاف ورزی پر اس شخص کو سزا ہو سکتی ہے۔ اور اس کے علاوہ پہلے سے موجود بیوی یا بیویوں کے حقوق کے حوالے سے بھی اس پر کچھ نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ اب یہاں دوسری تیسری یا چوتھی شادی ناجائز نہیں ہے پاکستانی قانون کی رو سے، لیکن اس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے، اور فیملی کے مسائل کو محدود کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان شرائط کے تحت کیا کسی خاتون کو دوسری تیسری چوتھی شادی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ ظاہر ہے اسلامی شریعت کی رو سے نہیں دی جا سکتی۔ تو اب equal right to marriage and divorce آپ کیسے انشور کریں گے؟ جب ہم نے CEDAW پر سائن کیے تو ہمارے صدر مملکت تھے ان دنوں فاروق لغاری صاحب مرحوم، انہوں نے اس پہ لکھا تھا کہ subject to the constitution of Islamic Republic of Pakistan کہ ہم اس معاہدے پر عمل پیرا ہوں گے پاکستانی دستور کی حدود کے اندر رہتے ہوئے۔ اب عملاً کیسے ہو گا؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم
اچھا، پرووِنسز کے جو ریسورسز ہوتے ہیں، تو جو امور جن پر قانون سازی کا اختیار پرووِنسز کے پاس ہے تو ان پر ریسورسز کی بھی لسٹ اس میں شامل ہے تو ظاہر ہے وہ انہی کے پاس ہو گی۔ البتہ کچھ ریسورسز ایسے ہیں جن کو ہم نے وفاق کے اختیار میں رکھا ہوا ہے، جیسے سوئی گیس ہے مثال کے طور پر، جو، سوئی، بلوچستان کا علاقہ ہے، وہاں سے وہ نیچرل گیس نکلتی ہے، اور بھی کئی علاقوں سے اب نکلتی ہے، لیکن بہرحال اس کو ابھی تک سوئی گیس ہی کہا جاتا ہے۔ اس طرح منرلز کے حوالے سے اور بھی چیزیں ہیں، تو وہ وفاق کے اختیار میں ہوتی ہیں۔ بلکہ اب تو بعض اوقات یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ پرووِنسز کے پاس ریسورسز ہوتے ہیں اور وہ ان کو استعمال نہیں کر پاتے اور بجٹ laps ہو جاتا ہے۔
پاکستان کا پہلا دستور کہاں سے آیا؟
فرسٹ کانسٹیٹیوشن پاکستان کا؟ انگریزوں نے جاتے ہوئے ایک قانون کے تحت ہندوستان کو تقسیم کیا، اس قانون کو کہتے ہیں The Indian Independence Act 1947 ’’قانونِ آزادئ ہند ۱۹۴۷ء‘‘۔ اس میں باقاعدہ طور پر صراحت کی گئی کہ جو پہلے سے نظام چلا آ رہا ہے، یہ چلتا رہے گا، جب تک ہندوستان یا پاکستان اپنے لیے نیا نظام نہ بنا لیں۔ تو 1935ء میں انگریزوں نے ایک قانون نافذ کیا تھا، The Government of India Act 1935 ’’قانونِ حکومتِ ہند ۱۹۳۵ء‘‘ اس کے تحت نظام چل رہا تھا۔ وہی پاکستان کا بھی، وہی بھارت کا بھی عبوری یا عارضی دستور ہوا۔ تو اس کے بعد ہم نے اس کو replace کیا۔
جمہوریت اور بادشاہت کی بحث
اس کا جواب یہ ہے کہ ایک بہت پرانا ٹی وی کا ڈرامہ تھا، اس میں ہم نے یہ ڈائیلاگ سنا تھا، کہ اس میں دیکھا کہ وہ جو خاتون ہے اس کو اپنی بہو سے بہت سارے مسائل تھے، اکثر ہوتے ہیں، بلکہ ہیلری کلنٹن آئی تھیں اِدھر لاہور میں تو ان کو بھی جب بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔ تو ساس کو بہو کے ساتھ اور بہو کو ساس کے ساتھ، ایک یونیورسل مسئلہ ہے۔ تو اس (ساس) سے پوچھا گیا مسئلہ کیوں ہے، یعنی کون قصور وار ہوتا ہے ساس بہو کے جھگڑے میں، تو اس نے کہا کہ جس وقت میں بہو تھی اس زمانے کی ساس بہت بری ہوتی تھی، اور آج جو بہو ہے وہ بہت بری ہوتی ہے۔
ویسے جو سوالات طالبان سے کرنے ہیں وہ طالبان سے ہی کیے جائیں، میں ان کا spokesperson نہیں ہوں، لیکن جہاں تک انسانی نفسیات کا مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ جب آپ receiving end پر ہوتے ہیں، جب آپ کو مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر آپ پر الزام ہے خدانخواستہ، تو وہ تمام حقوق آپ کو یاد آ جائیں گے جو کسی بھی ملزم کو دینے کے لیے دنیا کے تمام نظاموں میں ضروری ہیں۔ اس کو right to fair trial ہونا چاہیے، اگر وہ خاموش ہے تو اس کو زبردستی بولنے پر مجبور نہ کیا جائے، نہ اس کی خاموشی کو اس کے خلاف سمجھا جائے (نہ) اس کا اقرار سمجھا جائے، اس کو دفاع کا پورا موقع دیا جائے، اس کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے دیا جائے، اس کو اپیل کا حق ملے، جو اس کے خلاف گواہ ہیں ثبوت ہیں ان کا جائزہ لینے کا حق اسے ہو، وغیرہ وغیرہ، سارا کچھ۔ اور اس میں بہت ٹائم لگے گا۔ لیکن آپ کہیں گے یار میرا حق ہے اور مجھے سنے بغیر آپ کیسے مجھے سزا دے سکتے ہیں؟ لیکن اگر آپ دوسری سائیڈ سے ہیں تو پھر آپ کہیں گے یار اس ایک مسئلے میں آپ نے اتنے مہینے لگائے، جلدی سے لٹکاؤ۔
تو مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت کہاں آپ کو فائدہ دیتی ہے، اور بادشاہت آپ کو کہاں فائدہ دیتی ہے، یہ ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ آپ اِس سائیڈ پر ہیں تو آپ کو جمہوریت اچھی لگے گی، کیونکہ اس میں آپ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے خلاف فیصلہ مرضی سے نہیں ہو گا بلکہ کسی قاعدے ضابطے کسی اصول کے مطابق ہو گا۔ اور اگر آپ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو آپ کے پاس اس کے خلاف جانے کے لیے یا اس پر نظر ثانی کرانے کے لیے گنجائش موجود ہے۔ آپ اِس فورم پر جائیں گے یا اُس پر جائیں گے۔ لیکن اگر آپ دوسری سائیڈ پر ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ فوری طور پر کھڑکاؤ، لٹکاؤ، معاملہ ختم کرو، تو پھر آپ کہیں گے یار یہ کیا راستیں میں مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ہمارے عمران خان صاحب بھی کہتے ہیں نا یار یہ جوڈیشری راستے میں حائل ہو گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ تو حائل ہوتی رہے گی۔
افغانستان کے قانونِ اساسی کی اسلامی حیثیت
وہ جو دستور کے متعلق پوچھا گیا تھا، پرانا (ظاہر شاہ کے دور کا) یا نیا (2004ء والا)۔ کوئی خاص فرق قانون میں تو نہیں ہے، قوانین تو وہی ہیں جو پہلے سے ہی نافذ ہیں۔ یعنی مدنی قانون آپ لیں، جنایات کا لیں، دیگر قوانین لے لیں۔ بلکہ مجھے افغانستان کے جنایات کے قانون میں یہ بات بہت زیادہ اچھی لگی تھی کہ جو اس کا بالکل سیکشن 1 ہے وہ کہتا ہے کہ یہ جو قانون ہے یہ صرف تعزیر کے متعلق ہے، اور جہاں تک قصاص اور حدود اور دیت کا تعلق ہے، تو وہ حنفی فقہ پر ہو گا۔ انہوں نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ اس پر تو اس قانون کا اطلاق ہی نہیں ہوتا، یہ تعزیر کے معاملات میں ہم جا رہے ہیں۔ اسی طرح مدنی قانون میں بھی۔ اس کانسٹیٹیوشن میں، یہاں تک کہ جو ڈاکٹر نجیب کے دور کا کانسٹیٹیوشن ہے، اس میں بھی آپ کو حنفی فقہ کا ذکر نظر آتا ہے۔ تو مسئلہ اس میں نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ جو "PCO" عملاً نافذ ہے افغانستان میں، تو ان کو دستور کے کن کن حصوں سے اصل میں مسئلہ ہے، جس کو انہوں نے معطل کیا ہوا ہے۔ وہی اصل مسئلہ ہے۔ اور میرے نزدیک اس مسئلے کا حل یہ ہے، جیسے کچھ دیر پہلے میں نے ذکر کیا، کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا سوچنا چاہیے، اگر ہم ماضی میں ہی اسی طرح قید رہے کہ میرے ساتھ فلاں نے یہ کیا، فلاں نے وہ کیا۔
افغان قوم کی ’’مستقل مزاجی‘‘
علامہ اقبال 1933ء میں، آج سے گویا اٹھاسی سال پہلے نادر شاہ کی دعوت پر افغانستان گئے تھے۔ اور انہوں نے نثر میں بھی، لیکن شعر میں بہت کچھ افغانستان کے بارے میں کہا ہے، فارسی میں، اردو میں۔ ایک پوری مثنوی ہے ان کی، مثنوی مسافر، جس میں انہوں نے افغانستان کے اس سفر کو منظوم پیش کیا ہے۔ بابر کے مزار پر گئے تو کیا ہوا، غزنی میں کیا تھا، حکیم سنائی، اور وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے ضربِ کلیم میں ایک پورا حصہ رکھا ہے جس کو انہوں نے نام دیا ہے، یا ارمغانِ حجاز میں، ‘‘محراب گل افغان کے افکار‘‘۔ اب محراب گل افغان کوئی حقیقی کردار تھا یا فکشن، بہرحال وہ بھی، لیکن محراب گل کی زبانی انہوں نے بہت ساری باتیں کہی ہیں۔ 1933ء میں وہ گئے تھے۔ 2018ء میں، میں ہفتہ دس دن کے لیے گیا۔ اور ویسے بھی افغانستان میں، جیسے میں نے ذکر کیا، سینکڑوں میرے سٹوڈنٹس ہیں اور سینکڑوں شاگرد ہیں، تو رابطہ بھی رہتا ہے، تو جو صورتحال 1933ء میں تھی وہ 2018ء میں بھی تھی وہ 2021ء میں بھی ہے۔ اقبال کے دو شعروں پر میں اس کا خاتمہ کروں گا:
ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی
کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زنّاری
عزیز تر ہیں انہیں نامِ وزیر و محسود
ابھی یہ خلعتِ افغانیت سے ہیں عاری
تو اس پر بہت، یعنی آپ جیسے پڑھے لکھے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ کب تک اس طرح چلتا رہے گا اور کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر آگے جانے کا نہیں سوچ سکتے؟ اللہ ہم سب کو اس پر سوچنے کی اور عمل کی توفیق دے۔
مولانا اسرار مدنی: بہت شکریہ جی ڈاکٹر صاحب۔
غزہ میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو پا رہی ہے؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
پچیس جولائی 2025 کو مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے دوحہ میں جاری حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی اچانک ناکامی کا اور اپنی ٹیم کو دوحہ سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔ اس نے مذاکرات کی ناکامی کا سارا الزام حماس کے سر ڈال دیا۔ اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ، جس نے ہفتہ عشرہ قبل خود اپنی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کا پیشگی اعلان کیا تھا، نے رعونت بھرے لہجے میں کہا کہ:
"حماس موت چاہتی ہے اور اسرائیل کو اب اسے ختم کر دینا چاہیے" (They wanna death, Israel should finish the job)
جبکہ حماس اس بار بھی اور اس سے قبل بھی کئی بار مذاکرات کی شرائط مان چکی تھی، البتہ ایک دو شقوں میں اس نے کچھ ترمیم چاہی تھی مگر اسٹیو وِٹکوف اور خود ٹرمپ بھی سو فیصد اسرائیلی خواہشات کے غلام بنے ہوئے ہیں اس لیے اسی کے بیانیہ کو بلا چون و چرا تسلیم کر کے وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں کے ذریعے اس کو پھیلا رہے ہیں۔
ساری دنیا جانتی ہے اور خود اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظم ایہود باراک اور ایہود اولمرٹ بھی جنگی مجرم نیتن یاہو کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔ لیکن امریکی انتظامیہ کو غزہ کے لاکھوں معصوموں کی جان کی فکر نہیں، وہ تو بس مجرم نیتن یاہو کو ہر قیمت پر اس کے جرائم سے بچانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس عدالت کے چھ ججوں پر پابندی لگائی گئی اور تو اور خود اسرائیلی کورٹ میں مجرم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے کیسوں کی شنوائی کو مؤخر کروا دیا گیا۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کس مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ جنگی جرائم اور نسل کشی کے مجرم نیتن یاہو کی حمایت اندھا بہرا ہو کر کر رہا ہے۔ اب فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا تو امریکہ اور اسرائیل دونوں نے بلا تاخیر اس کے اعلان کو سبوتاژ کر دینے کی مجرمانہ کوشش شروع کر دی۔
جنگ بندی مذاکرات بار بار صرف نیتن یاہو کی ضد کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود اسرائیلی فوجی حکام بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ غزہ میں اپنے اہداف پورے کر چکے اور اب سیاسی قیادت کو فیصلے کرنے چاہییں۔ اسرائیل میں لیفٹ کی طرف جھکاؤ رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں نیتن یاہو کی جنگ بازی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں مگر امریکی سرپرستی اور آشیرواد کی وجہ سے اور خطہ میں عرب حلیفوں کی خفیہ اور علانیہ حمایت کے باعث نیتن یاہو غزہ کے دو ملین لوگوں کی جان لینے پر تلا ہوا ہے۔
غزہ میں یہ مذاکرات بار بار صرف نیتن یاہو کی ضد کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دو ملین فلسطینی بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ غزہ میں وحشت ناک حد تک بھکمری، دواؤں کی قلت اور خوراک کی کمی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بچے اور بوڑھے اور مریض بلک بلک کر جان دے رہے ہیں۔ دو سال سے غزہ کے لوگوں نے گوشت نہیں چکھا ہے مگر دنیا کے لوگ ان کا گوشت کھا رہے ہیں۔ چاروں طرف سے اسرائیل کا محاصرہ ہے۔ چھ ہزار امدادی ٹرک مختلف کراسنگز (رفح بارڈر، معبر کرم ابو سالم، فلاڈیلفیا کوریڈور وغیرہ) پر مہینوں سے امدادی سامان لیے اسرائیلی اجازت کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ان پر جو غذائی سامان لدا ہوا ہے وہ اب خراب ہونے لگا ہے۔
یو این او کی امدادی ایجنسی اونروا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کم از کم دو ملین لوگوں کی غذائی ضرورت دو مہینے تک پوری کرنے کا سامان موجود ہے مگر اس کو امریکہ اور اسرائیل امدادی خدمات انجام ہی دینے نہیں دیتے۔ اس بہانے سے کہ اس کے ذریعے حماس کے لوگوں تک یہ سامان پہنچ جائے گا۔ اونروا پر حماس کا ساتھ دینے کا یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ یہاں تک کہ 26 جولائی کو خود امریکہ کی متعین کردہ تفتیشی ایجنسی نے اونروا کو کلین چٹ دی اور کہا کہ اس کو کوئی شواہد نہیں ملے کہ حماس نے بین الاقوامی امدادی سامان کی چوری کی ہو یا اونروا کسی غلط مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہو۔
اس کے مقابلہ میں غزہ ہیومینٹیرین ایڈ (GHA) نامی جس ادارے کو امریکہ اور اسرائیل نے سیٹ کیا ہے وہ غزہ کے لوگوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ وہ وہاں امداد لینے جاتے ہیں اور ان پر اسرائیلی فوجی فائر کھول دیتے ہیں۔ اب تک ایک ہزار لوگوں کو اس طرح سے شہید کیا جا چکا ہے۔ مصر کی شقاوت اور جنرل سیسی کی بدبختی ہے کہ اس نے اسرائیلی کنٹرول سے باہر واحد کراسنگ رفح بارڈر کو بھی بند کر رکھا ہے۔ اور شیخ الازہر نے اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے حق میں جو فتویٰ جاری کیا تھا اسے بھی سیسی کے دباؤ میں واپس لینا پڑا ہے۔
مصریوں کی اس بے حسی و بے غیرتی پر شدید دکھ کا اظہار عرب سوشل میڈیا پر جب شروع ہوا تو سیسی کے خلاف ہیش ٹیگ مہم چلی۔ مظاہرین نے نعرے لگائے: "حکومت عربیہ یا للعاہ! باعوا غزۃ بالدولار" (عرب حکومتیں ہائے ہائے، انہوں نے غزہ کو ڈالروں کے لیے بیچ ڈالا) تو شاید مصریوں کو کچھ غیرت آئی اور انہوں نے رفح بارڈر سے 167 امدادی ٹرک غزہ کے اندر بھجوائے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مصداق تھے۔
دنیا بھر میں، یورپ و امریکہ میں، افریقہ کے عرب مسلم ملکوں تیونس، الجزائر وغیرہ میں لوگ اب بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر آ رہے ہیں اگر کہیں سکوت طاری ہے تو وہ ہیں ترکی، سعودی عرب، امارات، اردن اور بحرین، انڈونیشیا و ملیشیا اور پاکستان وغیرہ۔ قطر اور مصر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکہ میں مقیم عرب امریکیوں کی ٹرمپ کی حمایتی سیاسی تنظیم (عرب امریکہ من اجل ٹرمپ) کے فلسطینی نژاد صدر بشارہ بحبوح جو ٹرمپ انتظامیہ سے قربت رکھتے ہیں وہ بھی ان مذاکرات کا حصہ ہیں اور دوحہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے العربیہ چینل کو حال ہی میں تفصیلی انٹرویو دیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بشارہ بحبوح کی رائے میں عرب ممالک ٹرمپ انتظامیہ کو اپنا یہ موقف پہنچا چکے ہیں کہ ان کو فلسطینیوں کی جبری مہاجرت قابل قبول نہیں ہو گی لہٰذا اب ٹرمپ اس پر اصرار نہیں کریں گے۔ اور ان کی کوشش ہو گی کہ اسرائیل کو کسی طرح منا کر کسی طرح کی ایک فلسطینی ریاست قائم کر دی جائے (جو اسرائیل کے لیے بالکل بے ضرر ہو)۔ بشارہ بحبوح نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے مذاکرات کو کسی سیاسی ایشو کے بطور نہیں بلکہ اقتصادی فائدہ کے سودے کے طور پر دیکھتی ہے وہ تبھی اس کو کامیاب کرائے گی جب اس کو اس میں کوئی اقتصادی فائدہ دکھائی دے گا۔ حماس کو آگے بڑھ کر اس کی شرائط مان لینی چاہییں کیونکہ کسی سیز فائر میں دیری سے امریکہ یا اسرائیل کا نقصان نہیں حماس کا اور فلسطینیوں کا نقصان ہے ان کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ممکن ہے کہ اسٹیو وِٹکوف کی اچانک پلٹی مارنا جبکہ اسرائیل بھی حماس کے جواب کو غور کے قابل قرار دے چکا تھا، شاید حماس پر مزید دباؤ بنانے کے لیے ہو۔
جبکہ کچھ عرب چینلوں پر بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ ایسی کوئی خیر سگالی غزہ والوں کے لیے نہیں دکھائیں گے اور چونکہ اسرائیل حماس کو ختم کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ اب وہ اس کام کے لیے خصوصی امریکی کمانڈوز وہاں بھیجیں یا ایف بی آئی کے ذریعے سے کوئی خفیہ بڑی کارروائی کروائیں اور حماس کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کریں۔
ان سطور کے لکھنے تک اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اور غالباً ٹرمپ کے اشارہ پر اسرائیل نے محاصرہ میں تھوڑی نرمی دکھائی اور کچھ وقت کے لیے راستے کھول دیے اور تقریباً ایک ہزار امدادی ٹرکوں کو اندر آنے کی اجازت دی۔ امارات اور اردن نے ریلیف کا کچھ سامان فضا سے بھی غزہ میں پھینکا ہے جس میں کئی لوگوں کی جان چلے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو رہی؟ — ایک تجزیاتی نظر
1- اسرائیلی سیاسی قیادت کے اہداف
اسرائیل کی موجودہ حکومت، بالخصوص وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، اپنے سیاسی مستقبل اور اندرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے جنگ کو طول دے رہی ہے۔ نیتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور اسے عوامی احتجاجات کا سامنا ہے، اور جنگ کی موجودگی اس کے لیے "قومی سلامتی" کے نام پر سیاسی بقا کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔
2- مکمل ہدف کا حصول (حماس کا خاتمہ)
اسرائیل کا سرکاری موقف یہ ہے کہ جنگ کا مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ جب تک یہ ہدف پورا نہیں ہوتا، اسرائیل جنگ بندی کو ایک "ادھورا کام" تصور کرتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ حماس جیسی تنظیم کو مکمل طور پر ختم کرنا زمینی حقائق کے برعکس ایک خواب ہے۔
3- امریکی حمایت اور بین الاقوامی دوہرا معیار
اگرچہ دنیا کے کئی ممالک جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اب تک اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کر رہا ہے اور سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو بھی کرتا رہا ہے۔ یہ عملی حمایت اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ وہ کتنا ہی انسانیت کے خلاف جرائم کرے فوری طور پر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
4- حماس کے مطالبات اور اسرائیلی انکار
حماس کی طرف سے مستقل جنگ بندی کے لیے شرائط رکھی گئی ہیں — مثلاً غزہ سے فوجی انخلا، معاشی محاصرہ ختم کرنا اور اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کی رہائی — جنہیں اسرائیل فوری طور پر ماننے کو تیار نہیں۔ اس فاصلے کی وجہ سے جنگ بندی کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں کی نیت کسی اچھے ارادہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ وہ دونوں بس اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس کی قید سے رہا کروانا چاہتے ہیں اس کے بعد لاکھ امریکی وعدوں اور ضمانتوں کے باوجود سب جانتے ہیں کہ اسرائیل فوراً غزہ پر دوبارہ حملے کرے گا اور اپنے اہداف یعنی حماس کا خاتمہ اور یوں فلسطینی جدوجہد آزادی سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا چاہنا، کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
5- خطے میں بڑی طاقتوں کا مفاد
امریکہ، روس اور چین سب ہی اس خطہ میں اپنے مفادات کا حصول چاہتے ہیں مگر ابھی امریکہ کو سب پر اَپر ہینڈ ملا ہوا ہے کیونکہ خطہ کی تمام بڑی عرب حکومتیں امریکی چھتری کے نیچے ہیں۔ وہ اگرچہ روس اور چین کے ساتھ بھی تعلقات استوار کر رہی ہیں تاہم امریکہ اپنی فوجی قوت کے ذریعے بالکل ان کے سروں پر بیٹھا ہے اس لیے وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی طور پر امریکہ یا اسرائیل دونوں کے لیے کچھ خطرہ بن سکیں یا ان کی مخالفت ہی کر سکیں۔
- امریکہ تو بہت کھل کر اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ ہی رہتا ہے مگر روس اور چین دونوں کی پالیسی گومگو کی ہے وہ نہ کھل کر اس کی حمایت کرتے ہیں اور نہ کھل کر مخالفت۔ مخالفت کرتے بھی ہیں تو بس بیان بازی کی حد تک۔ ورنہ چین سے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور روس کی حمایت بھی اس کو حاصل ہے کیونکہ اسرائیل میں روسی نژاد یہودی بیس فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔
- ان کے علاوہ خطہ کی دو بڑی معیشتیں سعودی عرب اور امارات میں امارات تو کھل کر اسرائیل کے پالے میں جا چکا ہے۔ سعودی عرب ابھی پس و پیش میں ہے مگر یہ سب جانتے ہیں کہ خفیہ خفیہ اس کے تعلقات اسرائیل سے کب کے قائم ہو چکے ہیں وہ تو عوامی رد عمل کا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے رد عمل کا خوف ہے جو ابھی سعودی عرب کو اس کا باضابطہ اعلان کرنے سے روکے ہوئے ہے۔
- باقی خطہ کے دوسرے چھوٹے ممالک یا تو سعودی کیمپ میں ہیں یا امارات کے دستِ نگر۔ قطر ان دونوں سے آزاد ہے مگر امریکہ کی بیڑیوں میں کسا ہوا ہے اور ویسے بھی اس کا رقبہ چھوٹا، دفاعی صلاحیت نہ ہونے کے برابر، لہٰذا اس کی بہت زیادہ تزویراتی اہمیت نہیں ہے۔ البتہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ عرب ممالک میں صرف وہی ہے جو کھل کر فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اور غزہ پر مسلط اس جنگ کو رکوانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
6- انسانی بحران کو نظرانداز کرنا
غزہ میں بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، لیکن چونکہ فلسطینیوں کو عالمی سیاست میں انسان نہیں بلکہ صرف "سیکورٹی مسئلہ" سمجھا جاتا ہے، اس لیے انسانی ہمدردی کے تقاضے پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ بڑی عرب معیشتیں سعودی عرب اور امارات امریکہ پر (مہنگے معاشی سودے کرنے کی وجہ سے) کچھ دباؤ بنا سکتی تھیں مگر انہوں نے خاموشی کو ہی ترجیح دی ہے۔ سعودی عرب کو غزہ کے انسانوں کی نہیں اپنے منصوبہ ویژن 2030ء کی کامیابی کی فکر ستا رہی ہے۔ اور امارات کو اپنے ملک میں AI (مصنوعی ذہانت) کے منصوبہ کی تکمیل کی فکر ہے۔
7- ثالثی کی کوششوں میں سنجیدگی کا فقدان
مصری، قطری اور امریکی ثالثی کے باوجود اب تک کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا۔ ہر فریق اپنے مفادات کے مطابق ثالثی کرتا ہے، نہ کہ فلسطینی عوام کی زندگی بچانے کی نیت سے۔ قطر ایک بہت چھوٹا اور کمزور کھلاڑی ہے جو اپنی حفاظت کے لیے بھی امریکہ پر ہی منحصر ہے۔ مصر امریکہ سے زبردست معاشی امداد سالانہ وصول کرتا ہے جو اس کی فوج کی جیب میں جاتی ہے اور فوج ہی ملک پر قابض ہے لہٰذا مصر امریکی خواہشات کے برخلاف نہیں جا سکتا۔ اور امریکہ خود جانبدار ثالث ہے۔
نتیجہ
عرب اور اسلامی ممالک کی اسرائیل کی مخالفت صرف زبانی جمع خرچ ہے اور عملاً وہ کچھ نہیں کرتے نہ غالباً کرنا چاہتے اور اس حقیقت کو اسرائیل اور امریکہ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں۔ خود اسرائیل کے اندر جنگ کے خلاف جو آوازیں ہیں وہ بہت کمزور ہیں اور زیادہ تر بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ اسرائیلی سماج پوری طرح دائیں بازو کے جنونی صہیونیوں کے زیر اثر ہے جو حقیقتاً تمام فلسطینیوں کو ختم کرنے اور مغربی کنارہ اور غزہ پر اسرائیل کے مکمل قبضہ کی حمایت کرتا ہے۔ اور اس کے دباؤ میں ہی 25 جولائی 2025ء کو اسرائیلی کنیست نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کر لیا جائے۔ اس کوشش کو امریکی صدر ٹرمپ کی پہلے ہی سے حمایت حاصل ہے۔ غزہ میں جنگ بندی نہ ہونے کی بنیادی وجہ صرف "جنگ" نہیں، بلکہ عالمی سیاست، مفادات کی جنگ، اور انسانی جان کی بے توقیری ہے۔ جب تک اس طرز فکر میں تبدیلی نہیں آتی، جنگ بندی کی تمام کوششیں عارضی اور ناکام ہی رہیں گی۔
اب بظاہر جنگ بندی کا زیادہ امکان اس چیز میں دکھائی دیتا ہے کہ
- حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیمیں گوریلا حملوں سے اسرائیلی فوج اور اہداف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائیں۔ ایک یہی چیز ہے جو اسرائیلی سماج کو جنگ بندی کے لیے تیار کر سکتی ہے۔
- دوسرے یہ کہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت گر جائے اور اس کی جگہ کسی دوسرے لیڈر مثلاً یائیر لیپڈ کی سرکار بن جائے جو جنگ بندی کا مخالف نہیں ہے، جس کا امکان کچھ نہ کچھ موجود ہے کیونکہ نیتن یاہو کی حکومت کو اب پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں رہ گئی ہے۔
- ایک تیسرا امکان یہ ہے کہ فرانس، انگلینڈ اور دوسرے مغربی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں جس سے اسرائیل مزید پریشر میں آئے۔ اور امریکہ خود کسی اور علاقہ میں زیادہ شدت کے ساتھ انوالو ہو جائے۔
بہرحال مسلم دنیا پر سرکاری سطح پر ایسا ہی موت کا سکوت طاری ہے جیسے کبھی حسینؓ کے قافلہ کو تمام مسلمانوں نے کربلا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا اور جیسے 1492ء میں خلافت عثمانیہ جیسی سپر پاور اور مصر کے سلطانوں نے اندلس میں اسلام کی ٹمٹماتی شمع غرناطہ کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا جس کو صلیبی بھیڑیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا اور اقتصادی ناکہ بندی کر کے ویسے ہی بھکمری کے حالات پیدا کر دیے تھے جن حالات سے آج اہل غزہ دوچار ہیں۔ افسوس کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اخلاقی صورت حال بالکل وہی ہو گئی ہے جس کا اقبال نے ماتم کیا تھا یہ کہہ کر ؎
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
فلسطینی ریاست تسلیم کرنے والے ممالک اور آسٹریلیا کا موقف
اے بی سی نیوز آسٹریلیا
ویکی پیڈیا
2025 تک تقریباً 147 ممالک باقاعدہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ فرانس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا ہے، جس کے بعد یہ تعداد 148 ہو جائے گی۔ تاہم اس وقت تک دنیا میں کوئی فلسطینی ریاست موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا وجود ہے، جن میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم شامل ہیں۔ فی الوقت صرف ایک یہودی ریاست — اسرائیل — موجود ہے۔ کچھ فلسطینی اسرائیل میں شہریوں کے طور پر رہتے ہیں جبکہ دیگر لبنان، شام اور مصر میں بطور پناہ گزین زندگی گزار رہے ہیں۔
کن ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے؟
مارچ 2025 تک، اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 (تقریباً 75 فیصد) فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ 2024 میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں تاکہ اسرائیل-غزہ جنگ کے دوران فوری جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد نو ممالک نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کیا: آرمینیا، سلووینیا، آئرلینڈ، ناروے، اسپین، بہاماز، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، جمیکا اور بارباڈوس۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی اکثریت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتی ہے۔
جمعرات کو فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ایسا اقدام "دہشتگردی کو انعام دینے" کے مترادف ہے اور "ایرانی پراکسی ریاست" کے قیام کا خطرہ پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا: "ایسے حالات میں فلسطینی ریاست اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے لانچ پیڈ ہو گی، نہ کہ اس کے ساتھ امن سے رہنے کی خواہشمند۔"
یورپ کے دیگر حصوں میں، سلووینیا، مالٹا اور بیلجیم نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا، جاپان اور جنوبی کوریا بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔
آسٹریلیا کا موقف کیا ہے؟
آسٹریلیا فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے محکمۂ خارجہ و تجارت کی ویب سائٹ کے مطابق: "آسٹریلیا دو ریاستی حل کا حامی ہے جس میں اسرائیل اور ایک مستقبل کی فلسطینی ریاست، عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن و امان کے ساتھ ساتھ رہیں۔"
آسٹریلین فلسطین ایڈووکسی نیٹ ورک (APAN) کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو علامتی طور پر تسلیم کرنا، فلسطین کے ساتھ ایک باضابطہ سفارتی تعلق قائم کرنے کے مترادف ہو گا۔ فی الحال آسٹریلیا کا اسرائیل میں سفیر موجود ہے، جبکہ فلسطین کے لیے صرف ایک نمائندہ ہے۔
وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے حالیہ تبصروں میں براہ راست فلسطین کو تسلیم کرنے کا ذکر نہیں کیا، مگر انہوں نے کہا: "فلسطینی عوام کی ریاست کے قیام کی جائز خواہشات کو تسلیم کرنا آسٹریلیا کی دو طرفہ سیاسی روایت کا حصہ رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "دو ریاستی حل اس لیے عالمی برادری کا ہدف ہے کیونکہ ایک پائیدار اور منصفانہ امن اسی پر منحصر ہے۔"
آسٹریلیا اس مستقبل کے لیے پُرعزم ہے جس میں اسرائیلی اور فلسطینی دونوں عوام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن و تحفظ کے ساتھ رہ سکیں۔ گزشتہ سال وزیر خارجہ پینی وونگ نے عندیہ دیا کہ آسٹریلیا فلسطینی ریاست کو امن عمل کا حصہ سمجھ کر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے، نہ کہ بطور حتمی نتیجہ۔ اسی ہفتے، آسٹریلیا نے 27 ممالک کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ نومبر 2024 میں آسٹریلیا نے اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس میں فلسطینیوں اور جولان کی پہاڑیوں کے قدرتی وسائل پر "مستقل خودمختاری" کو تسلیم کیا گیا۔ یہ دو دہائیوں میں پہلا موقع تھا کہ آسٹریلیا نے اس نوعیت کی قرارداد کی حمایت کی۔ اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی میں 159 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، نیوزی لینڈ، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل تھے۔
فلسطینی ریاست کیسی ہو گی؟
فلسطینی آزادی تنظیم (PLO) نے 15 نومبر 1988ء کو باقاعدہ طور پر ریاستِ فلسطین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریاست مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) اور غزہ پر خودمختاری کا دعویٰ کرتی ہے۔
جنوبی آسٹریلیا یونیورسٹی کی ماہرِ قانون، جولیئٹ میکینٹائر کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ریاست کی کچھ بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں:
- مستقل آبادی
- متعین علاقہ
- مؤثر حکومت
- دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت
ڈاکٹر میکینٹائر کا کہنا ہے کہ: "کئی حوالوں سے، سب سے اہم چیز دوسری ریاستوں کی طرف سے تسلیم کیا جانا ہے — اس سے سفارتی تعلقات اور عالمی اداروں میں رکنیت ممکن ہو جاتی ہے۔" انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کی حکومت "سب فلسطینیوں کے لیے آزاد اور منصفانہ انتخابات" پر مشتمل ہو سکتی ہے، تاکہ وہ اپنی خود ارادیت کے حق کا استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا: "یہ فلسطینی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں اور اپنے طرزِ حکمرانی کا فیصلہ کریں۔"
ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنا "دو ریاستی حل" کا آغاز ہو سکتا ہے جس میں ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست ساتھ ساتھ موجود ہوں۔ انہوں نے کہا: "دو ریاستی حل کے لیے دو ریاستوں کا وجود ضروری ہے۔ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیل کے خلاف دشمنی نہیں ہے — اسرائیل پہلے ہی ایک قائم شدہ ریاست ہے اور فلسطین کو تسلیم کرنا اس پر اثرانداز نہیں ہوتا۔"
دنیا کے اکثر رہنما اب بھی دو ریاستی حل کو مسئلے کے حل کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اسرائیل اور بعض فلسطینی علاقوں میں اس کی مقبولیت کم ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر میکینٹائر کہتی ہیں: "دونوں ریاستوں کی علاقائی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے، اور نئی سرحدیں صرف باہمی معاہدے سے طے کی جا سکتی ہیں۔"
بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے 71 کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے مغربی کنارے کے الحاق کے حق میں ووٹ دیا، جس سے فلسطینی ریاست کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ یہ غیر پابند قرارداد وزیر اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ارکان اور بعض اپوزیشن اراکین نے منظور کی۔
نیتن یاہو نے حالیہ ایک پوسٹ میں کہا: "واضح ہو جائے: فلسطینی اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک ریاست نہیں چاہتے؛ وہ اسرائیل کی جگہ ایک ریاست چاہتے ہیں۔" نیتن یاہو اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے دیگر اراکین نے دو ریاستی حل کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔
اسی سال اقوامِ متحدہ، جو عموماً دو ریاستی حل کی حامی رہی ہے، 28 تا 29 جولائی نیویارک میں فلسطین کے سوال اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔ امریکہ نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست
- الجزائر — 15 نومبر 1988ء
- بحرین — 15 نومبر 1988ء
- انڈونیشیا — 15 نومبر 1988ء
- عراق — 15 نومبر 1988ء
- کویت — 15 نومبر 1988ء
- لیبیا — 15 نومبر 1988ء
- ملائیشیا — 15 نومبر 1988ء
- موریطانیہ — 15 نومبر 1988ء
- مراکش — 15 نومبر 1988ء
- صومالیہ — 15 نومبر 1988ء
- تیونس — 15 نومبر 1988ء
- ترکی — 15 نومبر 1988ء
- یمن — 15 نومبر 1988ء
- افغانستان — 16 نومبر 1988ء
- بنگلہ دیش — 16 نومبر 1988ء
- کیوبا — 16 نومبر 1988ء
- اردن — 16 نومبر 1988ء
- مڈغاسکر — 16 نومبر 1988ء
- نکاراگوا — 16 نومبر 1988ء
- پاکستان — 16 نومبر 1988ء
- قطر — 16 نومبر 1988ء
- سعودی عرب — 16 نومبر 1988ء
- متحدہ عرب امارات — 16 نومبر 1988ء
- سربیا — 16 نومبر 1988ء
- زیمبیا — 16 نومبر 1988ء
- البانیہ — 17 نومبر 1988ء
- برونائی — 17 نومبر 1988ء
- جبوتی — 17 نومبر 1988ء
- ماریشس — 17 نومبر 1988ء
- سوڈان — 17 نومبر 1988ء
- قبرص — 18 نومبر 1988ء
- چیک جمہوریہ — 18 نومبر 1988ء
- سلوواکیہ — 18 نومبر 1988ء
- مصر — 18 نومبر 1988ء
- گیمبیا — 18 نومبر 1988ء
- بھارت — 18 نومبر 1988ء
- نائیجیریا — 18 نومبر 1988ء
- سیشیلز — 18 نومبر 1988ء
- سری لنکا — 18 نومبر 1988ء
- نمیبیا — 19 نومبر 1988ء
- روس — 19 نومبر 1988ء
- بیلاروس — 19 نومبر 1988ء
- یوکرین — 19 نومبر 1988ء
- ویتنام — 19 نومبر 1988ء
- چین — 20 نومبر 1988ء
- برکینا فاسو — 21 نومبر 1988ء
- کوموروس — 21 نومبر 1988ء
- گنی — 21 نومبر 1988ء
- گنی بساؤ — 21 نومبر 1988ء
- کمبوڈیا — 21 نومبر 1988ء
- مالی — 21 نومبر 1988ء
- منگولیا — 22 نومبر 1988ء
- سینیگال — 22 نومبر 1988ء
- ہنگری — 23 نومبر 1988ء
- کیپ وردے — 24 نومبر 1988ء
- شمالی کوریا — 24 نومبر 1988ء
- نائجر — 24 نومبر 1988ء
- رومانیہ — 24 نومبر 1988ء
- تنزانیہ — 24 نومبر 1988ء
- بلغاریہ — 25 نومبر 1988ء
- مالدیپ — 28 نومبر 1988ء
- گھانا — 29 نومبر 1988ء
- ٹوگو — 29 نومبر 1988ء
- زمبابوے — 29 نومبر 1988ء
- چاڈ — 1 دسمبر 1988ء
- لاؤس — 2 دسمبر 1988ء
- سیرالیون — 3 دسمبر 1988ء
- یوگنڈا — 3 دسمبر 1988ء
- جمہوریہ کانگو — 5 دسمبر 1988ء
- انگولا — 6 دسمبر 1988ء
- موزمبیق — 8 دسمبر 1988ء
- ساؤ ٹومے و پرنسپے — 10 دسمبر 1988ء
- گیبون — 12 دسمبر 1988ء
- عمان — 13 دسمبر 1988ء
- پولینڈ — 14 دسمبر 1988ء
- جمہوری جمہوریہ کانگو — 18 دسمبر 1988ء
- بوٹسوانا — 19 دسمبر 1988ء
- نیپال — 19 دسمبر 1988ء
- برونڈی — 22 دسمبر 1988ء
- وسطی افریقی جمہوریہ — 23 دسمبر 1988ء
- بھوٹان — 25 دسمبر 1988ء
- روانڈا — 2 جنوری 1989ء
- ایتھوپیا — 4 فروری 1989ء
- ایران — 4 فروری 1989ء
- بینن — 12 مئی 1989ء
- کینیا — 12 مئی 1989ء
- استوائی گنی — مئی 1989ء
- وانواتو — 21 اگست 1989ء
- فلپائن — 4 ستمبر 1989ء
- ایسواتینی — 1 جولائی 1991ء
- قازقستان — 6 اپریل 1992ء
- آذربائیجان — 15 اپریل 1992ء
- ترکمانستان — 17 اپریل 1992ء
- جارجیا — 25 اپریل 1992ء
- بوسنیا و ہرزیگوینا — 27 مئی 1992ء
- تاجکستان — 2 اپریل 1994ء
- ازبکستان — 25 ستمبر 1994ء
- پاپوا نیو گنی — 4 اکتوبر 1994ء
- جنوبی افریقہ — 15 فروری 1995ء
- کرغیزستان — نومبر 1995ء
- ملاوی — 23 اکتوبر 1998ء
- مشرقی تیمور — 1 مارچ 2004ء
- پیراگوئے — 25 مارچ 2005ء
- مونٹینیگرو — 24 جولائی 2006ء
- کوسٹا ریکا — 5 فروری 2008ء
- لبنان — 30 نومبر 2008ء
- آئیوری کوسٹ — 1 دسمبر 2008ء
- وینزویلا — 27 اپریل 2009ء
- ڈومینیکن ریپبلک — 15 جولائی 2009ء
- برازیل — 1 دسمبر 2010ء
- ارجنٹائن — 6 دسمبر 2010ء
- بولیویا — 17 دسمبر 2010ء
- ایکواڈور — 24 دسمبر 2010ء
- چلی — 7 جنوری 2011ء
- گیانا — 13 جنوری 2011ء
- پیرو — 24 جنوری 2011ء
- سورینام — 26 جنوری 2011ء
- یوراگوئے — 15 مارچ 2011ء
- لیسوتھو — 3 مئی 2011ء
- جنوبی سوڈان — 14 جولائی 2011ء
- شام — 18 جولائی 2011ء
- لائبیریا — 19 جولائی 2011ء
- ایل سیلواڈور — 25 اگست 2011ء
- ہونڈوراس — 26 اگست 2011ء
- سینٹ ونسنٹ و گریناڈائنز — 29 اگست 2011ء
- بیلیز — 9 ستمبر 2011ء
- ڈومینیکا — 19 ستمبر 2011ء
- اینٹیگوا و باربوڈا — 22 ستمبر 2011ء
- گریناڈا — 25 ستمبر 2011ء
- آئس لینڈ — 15 دسمبر 2011ء
- تھائی لینڈ — 18 جنوری 2012ء
- گوئٹے مالا — 9 اپریل 2013ء
- ہیٹی — 27 ستمبر 2013ء
- سویڈن — 30 اکتوبر 2014ء
- سینٹ لوشیا — 14 ستمبر 2015ء
- کولمبیا — 3 اگست 2018ء
- سینٹ کیٹس و نیوس — 29 جولائی 2019ء
- بارباڈوس — 19 اپریل 2024ء
- جمیکا — 22 اپریل 2024ء
- ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو — 2 مئی 2024ء
- بہاماس — 7 مئی 2024ء
- آئرلینڈ — 28 مئی 2024ء
- ناروے — 28 مئی 2024ء
- سپین — 28 مئی 2024ء
- سلووینیا — 4 جون 2024ء
- آرمینیا — 21 جون 2024ء
- میکسیکو — 5 فروری 2025ء
بھارت کے چودہ ارب ڈالرز کے مسلم اوقاف کو کیسے لوٹا جا رہا ہے؟
حتیٰ کہ حکومت بھی اس میں ملوث ہے
الجزیرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے اجین شہر میں ایک ہندو مندر کی توسیع کے لیے 'وقف' زمین کا حصول ایک بڑے منصوبے کی عکاسی کرتا ہے۔
بھوپال، بھارت — اس سال جنوری کے دوران اُجین میں، جو کہ وسطی ہندوستانی ریاست مدھیہ پردیش کا ایک شہر ہے، حکام نے تقریباً 250 جائیدادوں کو مسمار کر دیا، جن میں گھر، دکانیں اور ایک صدی پرانی مسجد شامل تھی، تاکہ 2.1 ہیکٹر (5.27 ایکڑ) پر پھیلی ہوئی زمین کو خالی کیا جا سکے۔
یہ زمین مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی ملکیت تھی۔ عربی سے ماخوذ ’’وقف‘‘ کا مطلب ہے منقولہ یا غیر منقولہ جائیدادیں: مساجد، اسکول، قبرستان، یتیم خانے، ہسپتال اور حتیٰ کہ خالی پلاٹ، جو مسلمانوں کی طرف سے مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے خدا کے نام پر عطیہ کی جاتی ہیں، جس سے ایسی جائیداد کی منتقلی ناقابلِ تنسیخ ہو جاتی ہے اور اس کے فروخت اور دیگر استعمالات پر پابندی لگ جاتی ہے۔ لیکن اُجین کی وقف زمین ’’مہاکال کوریڈور‘‘ کے لیے صاف کی گئی، جو شہر کے مشہور مہاکالیشور مندر کے اردگرد ایک ارب ڈالر کا ایک سرکاری منصوبہ ہے۔
بھارت، جو 200 ملین (بیس کروڑ) سے زیادہ مسلمانوں کا ملک ہے، کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ وقف اثاثے ہیں: 872,000 سے زیادہ جائیدادیں، جو تقریباً 405,000 ہیکٹر (ایک ملین یعنی دس لاکھ ایکڑ) پر پھیلی ہوئی ہیں، جن کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 14.22 ارب ڈالر ہے۔ ان کا انتظام ہر ریاست اور وفاقی زیرانتظام علاقے کے وقف بورڈ کرتے ہیں۔ فوج اور ریلوے کے بعد وقف بورڈ ملک میں سب سے زیادہ زمین کے مالک ہیں۔
بھارتی پارلیمنٹ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ شاید اسی ہفتے دہائیوں پرانے وقف ایکٹ میں ترامیم پر بحث کرے گی، جس کے مطابق یہ وقف بورڈز چلائے جاتے ہیں، اور جس نے گزرے سالوں کے دوران ان کے ہاتھوں میں مزید سے مزید طاقت مرکوز کر دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو اکثریتی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے تجویز کردہ ترمیم بل حکومت کو وقف املاک پر ان کی مرضی کا کنٹرول دے سکتا ہے۔
مسلم طبقات کا الزام ہے کہ مودی انتظامیہ اپنی پارلیمانی طاقت کا استعمال کر کے اقلیتی برادری کو مزید تنہائی کا شکار بنا رہی ہے۔ لیکن جیسا کہ یہ بحث ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز میں بہت زیادہ ہو رہی ہے، کچھ کارکنان اور وکلاء اُجین کے معاملے کو وقف املاک سے وابستہ اُن گہرے مسائل کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جو طویل عرصے سے موجود ہیں، (مثلاً) کئی سالوں کی بدانتظامی، جس کے نتیجے میں قبضے ہوئے، اور جسے ترمیم شدہ قانون ممکنہ طور پر مزید بگاڑ سکتا ہے۔
'براہ راست خلاف ورزی'
مدھیہ پردیش، جو سائز کے لحاظ سے بھارت کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے، پچھلے 22 سالوں کے زیادہ تر حصے میں بی جے پی کے زیر اقتدار رہی ہے، سوائے دسمبر 2018ء سے مارچ 2020ء تک کے مختصر عرصے کے جب اعتدال پسند کانگریس پارٹی اقتدار میں تھی، پھر اس نے ریاستی اسمبلی میں اکثریت کھو دی۔
اُجین سے بی جے پی کے ایک سیاستدان موہن یادِو دسمبر 2023ء میں ریاست کے وزیر اعلیٰ مقرر ہونے کے بعد سے کمبھ 2028ء کی تیاری کر رہے ہیں، جو ہر 12 سال بعد شہر کے شِپرا دریا کے کنارے منعقد ہونے والی ایک ہندو یاترا ہے۔ مہاکالیشور مندر کے اردگرد وقف املاک کی مسماری کو بڑے پیمانے پر حکومت کی طرف سے کمبھ یاترا کے لیے زمینوں کے حصول کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں لاکھوں یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔
ناقدین کا الزام ہے کہ ریاستی حکام نے 1985ء کی ایک سرکاری دستاویز کو نظر انداز کیا ہے جس کی رو سے اُجین کی یہ جگہ ایک مسلم قبرستان تھی جہاں 2,000 افراد کی گنجائش رکھنے والی ایک تاریخی مسجد بھی موجود تھی۔ بعد کے سالوں میں سیاسی روابط رکھنے والی بااثر تعمیراتی کمپنیوں نے وہاں ایک رہائشی کالونی کے لیے غیرقانونی طور پر پلاٹ فروخت کیے جس کے نتیجے میں 250 سے زیادہ مستقل عمارتیں بنیں، جنہیں جنوری میں منہدم کیا گیا۔
الجزیرہ نے جو حکومت کی ملکیتی دستاویز حاصل کی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ جون 2023ء میں اُجین کے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے وقف زمین پر ریاستی انتظامیہ کے قبضہ کرنے کے منصوبے پر اعتراض کیا تھا۔ افسر نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ رہائشیوں نے اسے 1985ء کا گزٹ نوٹیفکیشن دکھایا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ یہ وقف زمین ہے۔
افسر نے تجویز دی کہ زمین حاصل کرنے کے لیے ریاستی وقف بورڈ سے ’’عدمِ اعتراض سرٹیفکیٹ‘‘ حاصل کیا جانا چاہیے۔ لیکن ایک ماہ کے بعد اُجین ضلع انتظامیہ نے ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ’’جب [زمین] سماجی مقصد کے لیے حاصل کی جاتی ہے تو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘۔
وکیل سہیل خان، جنہوں نے اُجین کے قبضے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے، نے کہا، ’’یہ قبضہ وقف ایکٹ کی براہ راست خلاف ورزی ہے‘‘۔
جن لوگوں کے گھروں یا دکانوں کو مسمار کیا گیا تھا، اگرچہ حکومت نے جنوری میں انہیں معاوضے کے طور پر 330 ملین روپے (3.8 ملین ڈالر) ادا کیے، شہر میں بہت سے لوگوں کا یہ سوال تھا کہ وقف بورڈ نے یہ رقم کیوں نہیں مانگی، ان لوگوں کے برعکس جنہوں نے مبینہ طور پر وہاں گھر اور دکانیں قائم کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر پلاٹ پر قبضہ کیا تھا؟
جب الجزیرہ نے مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے چیئرمین اور اُجین میں بی جے پی کے رہنما سَنوار پٹیل سے پوچھا کہ انہوں نے قبضہ کی مخالفت کیوں نہیں کی یا معاوضہ کا دعویٰ کیوں نہیں کیا، تو انہوں نے کہا کہ ’’میں وہی کروں گا جو پارٹی حکم دے گی کیونکہ میں یہاں پارٹی کی وجہ سے ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نے اُجین ضلع انتظامیہ کو ایک خط لکھا جس میں اس سے غیر قانونی گھروں کے رہائشیوں کو معاوضہ نہ دینے کی درخواست کی گئی۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ کو عدالت میں چیلنج کیوں نہیں کیا۔ پٹیل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ریاست میں 90 فیصد سے زیادہ وقف املاک یا تو تجاوزات کا شکار ہیں یا عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
اس دوران مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ترجمان آشیش اگروال نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے اُجین کی زمین ’’اپنی ضرورت کی بنیاد پر اور طے شدہ قوانین پر عمل کرتے ہوئے‘‘ حاصل کی۔ انہوں نے مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔
'تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی'
بھارت کے وقف بورڈ 1954ء کے وقف ایکٹ کے تحت قائم کیے گئے ہیں، اور مسلمان تب سے حکومتی تعاون کے ساتھ ان اداروں کو چلا رہے ہیں۔ بعد کے سالوں 1995ء اور 2013ء میں مزید قوانین پاس ہوئے جنہوں نے وقف بورڈز کو مزید اختیارات دیے اور حتیٰ کہ وقف ٹربیونلز بھی قائم کیے جو کہ متبادل عدالتیں ہیں جن کا مقصد وقف املاک سے متعلق تنازعات کو حل کرنا ہے۔
لیکن گزشتہ ماہ کے آخر میں مودی کی کابینہ نے وقف (ترمیمی) بل 2024ء کے مسودے کی منظوری دے دی، جو پرانے قانون میں 14 ترامیم تجویز کرتا ہے۔ چند متنازعہ مجوزہ ترامیم میں غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ کے اراکین کے طور پر مقرر کرنے کی اجازت دینا، اور ایسی جائیدادوں کو جو 'وقف' سمجھی جاتی ہیں، ان کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ لازمی رجسٹریشن شامل ہے۔
’’یہ مساجد اور درگاہوں [مزاروں] کی زمین پر قبضہ کرنے کی شروعات ہے۔ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی‘‘ اپوزیشن کی ’’عام آدمی پارٹی‘‘ (اے اے پی) کے ایک رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا، جو ایک جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے 31 اراکین میں سے ایک ہیں، جو اس ہفتے پارلیمنٹ میں ترامیم پر ہونے والی تفصیلی بحث سے پہلے ان مجوزہ ترامیم پر اپوزیشن کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر نے الجزیرہ کو بتایا کہ اُجین کا معاملہ ’’وقف املاک میں سیاسی مداخلت اور انحطاط کے قومی سطح پر پائے جانے والے خدشات کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھارت میں وقف املاک کا انتظام طویل عرصے سے بدانتظامی اور تجاوزات کا شکار رہا ہے‘‘۔ ’’مجوزہ وقف (ترمیمی) بل 2024ء ممکنہ طور پر مسائل کو بڑھا دے گا‘‘۔
لیکن مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے چیئرمین پٹیل نے دعویٰ کیا کہ حکومت یہ ترامیم ’’موجودہ مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور بے ضابطگیوں کو دور کرنے‘‘ کے لیے لائی ہے۔
سوچی سمجھی بے دخلی
جیسا کہ یہ سوچی سمجھی ترامیم اس بارے میں خدشات کا باعث بنی ہیں کہ ان کے ذریعے حکومت کو وقف املاک پر زیادہ کنٹرول ملنے کا امکان ہے، بہت سے مسلم کمیونٹی کے رہنما اور وکلاء کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون کے تحت بھی ان زمینوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی گئی ہیں۔
ماہرین نے حکومت کے زیر انتظام وقف املاک میں جان بوجھ کر بے دخلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کے دہائیوں پرانے طرزِ عمل کا حوالہ دیا ہے۔ انہیں ضلعی ریونیو حکام اور دیگر حکام کی طرف سے وقف املاک کی منظم منتقلی، اور وقف اراضی پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضے اور اسے نجی ملکیت میں تبدیل کرنے کے حوالے سے شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وقف اراضی یا املاک کو حکومت کے ریونیو ڈپارٹمنٹ نے غیر وقف قرار دے دیا ہے، جو کہ ریاستی ادارہ ہے جس کے پاس زمین کا ریکارڈ ہے اور وہ ان سے متعلق ٹیکس جمع کرتا ہے۔
مدھیہ پردیش وقف بورڈ نے اب تک اپنی جائیدادوں کے دو سروے کیے ہیں: 1960ء کی دہائی کے آخر میں اور 1980ء کی دہائی میں، جن سے پتہ چلا کہ 23,000 سے زیادہ جائیدادیں اس کے کنٹرول میں ہیں۔ اس کے بعد کے سالوں میں اس نے اپنے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا اور بہتر شناخت کے لیے انہیں جیو ٹیگ (جغرافیائی نشانزدہ) کیا۔ تاہم ماہرین یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ حکومت کے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے پاس زمین کے پرانے ریکارڈ ہیں جو اکثر آزادی سے پہلے کے سروے پر مبنی ہیں۔
اس کے باوجود کہ 1954ء کے وقف ایکٹ کی رو سے یہ لازمی تھا کہ وقف بورڈ کے سروے کی بنیاد پر محکمہ اپنے زمین کے ریکارڈ میں متعلقہ تبدیلیاں کرے، لیکن ریونیو ریکارڈ کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر 1985ء کے گزٹ کے مطابق اُجین میں 1,014 وقف املاک تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ریونیو ریکارڈ میں وقف اثاثہ کے طور پر درج نہیں ہے۔
اُجین کے ایک وکیل عاشر وارثی کی طرف سے دسمبر کے دوران مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک عوامی مفاد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’ان 1,014 اثاثوں میں سے 368 کو سرکاری ملکیت کے طور پر درج کیا گیا ہے، 454 کو نجی کے طور پر، اور 192 جائیدادوں کے ریکارڈ یا تو نامکمل ہیں یا مکمل طور پر غائب ہیں‘‘۔
2000ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہونے والی زمین کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن نے مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ چونکہ سافٹ ویئر میں صرف دو کالم تھے: سرکاری اور نجی، (فوری حل کے طور پر) ریونیو ریکارڈ میں وقف کی ملکیت کے طور پر ذکر کردہ زمینیں اکثر سرکاری کالم میں منتقل کر دی گئیں۔
وقف اراضی کی بحالی کے لیے مہم چلانے والے ایک کمیونٹی گروپ کے رکن مسعود خان نے کہا کہ ’’اس کی وجہ سے بھوپال کی تاریخی موتی مسجد جو 1857ء میں بنی تھی وہ ایک سرکاری جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ ہے، جو کہ مضحکہ خیز ہے‘‘۔ خان نے وقف ٹربیونل میں شکایت درج کرائی ہے جس میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کو مسجد سے متعلق اپنے ریکارڈ میں اصلاحات کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
الجزیرہ نے مدھیہ پردیش کے ریونیو منسٹر کرن سنگھ ورما سے پوچھا کہ سرکاری ریکارڈ میں ریونیو ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے دفتر نے جواب دیا کہ ’’چونکہ یہ ایک طویل مسئلہ ہے، وزیر کو اس کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے۔ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے‘‘۔
بدانتظامی اور بدعنوانی
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اُجین کا قبضہ ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ مدھیہ پردیش اور بھارت کے دیگر حصوں میں دیکھے جانے والے ایک سلسلہ کا حصہ ہے۔
وارثی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومتوں اور اس کے عہدیداروں کی نگرانی میں وقف املاک کی منظم اور جان بوجھ کر لوٹ مار‘‘ ہو رہی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ اور وفاقی اقلیتی بہبود کی وزارت کی جانب سے 2001ء سے 2023ء کے درمیان مدھیہ پردیش حکومت کو اپنے ریونیو ریکارڈ میں اصلاحات کرنے کا مشورہ دینے کے متعدد خطوط بھیجنے کے باوجود، اس نے اس مسئلے پر ’’کوئی توجہ نہیں دی‘‘ جس سے ’’وقف املاک کی لوٹ مار بلاروک ٹوک جاری رہی‘‘۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور وقف قانون کے ماہر محمود پراچہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’’ملک بھر میں وقف زمین کے ریکارڈ اور ریونیو ریکارڈ کے درمیان عدمِ مطابقت ایک عام رجحان ہے جو تجاوزات کرنے والوں کو تقویت دے رہا ہے‘‘۔
جنوری 2021ء میں مدھیہ پردیش حکومت نے ایک این جی او کو، بی جے پی کے رہنما جس کے ٹرسٹیز تھے، بھوپال میں 1.2 ہیکٹر (2.88 ایکڑ) وقف اراضی حاصل کرنے کی اجازت دی۔ زیادہ تر مسلم آبادی والے محلے میں واقع یہ جگہ ریاستی ریکارڈ میں قبرستان کے طور پر نامزد تھی اور اس پر آدھی درجن قبریں تھیں۔
اس سے پہلے کہ وقف بورڈ کا ٹربیونل یا کوئی عدالت اس کے حصول پر پابندی لگا سکتی، این جی او نے 2021ء میں اس کے اردگرد ایک دیوار بنائی اور پھر وہاں ایک کمیونٹی ہال کی تعمیر کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا اور کسی بھی احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی نفری تعینات کر دی۔
خان نامی ایک کارکن کا کہنا تھا کہ ’’وقف ایکٹ ضلعی انتظامیہ یا حکومت کو غیر مجاز تعمیرات کو ہٹانے کا پابند کرتا ہے، لیکن جب حکومت خود تجاوزات میں ملوث ہو تو قانون پر کون عمل کرے گا؟‘‘
وقف بورڈ کے ارکان کا کہنا ہے کہ بھوپال، اندور اور مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں میں سینکڑوں وقف املاک یا تو ریاستی حکومت کی تجاوزات میں ہیں یا بااثر نجی افراد کے پاس ہیں۔
ایک وقف بورڈ کے رکن نے گمنام رہنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ ’’مدھیہ پردیش پولیس ہیڈکوارٹر، بھوپال پولیس کنٹرول روم، ٹریفک پولیس اسٹیشن اور کئی دیگر سرکاری دفاتر وقف کی ملکیت والی قیمتی زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی دارالحکومت سے 100 سے زیادہ قبرستان غائب ہو گئے ہیں، جہاں کبھی تقریباً 140 قبرستان تھے۔
اکثر متولی یعنی وقف بورڈ کی طرف سے مقرر کردہ جائیداد کے نگہبان، وقف زمین کی دھوکہ دہی سے فروخت یا وقف املاک پر غیر مجاز تعمیرات میں ملوث پائے گئے ہیں۔
دسمبر 2024ء میں مدھیہ پردیش پولیس نے ناصر خان نامی ایک شخص کو، جو اندور میں ایک وقف جائیداد کا سابق نگہبان تھا، مبینہ طور پر ذاتی فائدے کے لیے وقف دستاویزات میں جعل سازی کرنے اور شہر میں ایک کروڑوں روپے کی وقف جائیداد فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ پولیس کو اس کے گھر سے جعلی لیٹر ہیڈ اور سرکاری وقف بورڈ کی مہریں ملیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سالوں سے جاری حکومتی اور نجی تجاوزات، بدعنوانی اور بدانتظامی نے وقف املاک کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ترامیم کے ساتھ حکومت انہیں قانونی طور پر اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے۔
وکیل پراچہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’’بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، زمینوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ چونکہ وقف بورڈ پورے بھارت میں قیمتی جگہوں پر وسیع املاک کے مالک ہیں، حکومت تازہ ترین ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے ان زمینوں پر ایک ہی بار میں کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے’’۔
دس فٹبالرز جنہوں نے اسلام قبول کیا
اسلام آن ویب
کلیرنس کلائیڈ سیڈورف — 2022ء
ایک ڈچ پیشہ ور فٹ بال منیجر اور سابق کھلاڑی جنہوں نے تین کلبوں: ریئل میڈرڈ، اے جیکس، اے سی میلان کے ساتھ چیمپئنز لیگ جیتی اور 1998ء کے فیفا ورلڈ کپ میں ہالینڈ کی نمائندگی کی، سیمی فائنل تک پہنچے۔ بہت سے لوگ انہیں اپنے دور کے بہترین مڈفیلڈرز میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مارچ 2022ء میں اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ سیڈورف نے کہا:
’’ مسلم خاندان میں شامل ہونے پر مجھے مبارکباد کے ملنے والے تمام اچھے پیغامات کے لیے خصوصی شکریہ۔ میں دنیا بھر کے تمام بھائیوں اور بہنوں، خاص طور پر اپنی پیاری صوفیہ کے ساتھ شامل ہو کر بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ صوفیہ نے مجھے اسلام کے معنی کو گہرائی سے سمجھایا ہے۔ میں نے اپنا نام نہیں بدلا اور اپنے والدین کی طرف سے دیے گئے نام کلیرنس سیڈورف کو جاری رکھوں گا! میں دنیا میں ہر ایک کو اپنی محبت (کا پیغام) بھیج رہا ہوں۔‘‘
تھامس ٹیئے پارٹے — 2022ء
گھانا سے تعلق رکھنے والے ایک پیشہ ور فٹبالر جو پریمیئر لیگ کلب آرسنل اور گھانا کی قومی ٹیم کے لیے بطور مڈفیلڈر کھیلتے ہیں۔ پارٹے نے 2018ء اور 2019ء میں گھانا پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا اور انہیں گھانا کا نائب کپتان نامزد کیا گیا۔
انہوں نے مارچ 2022ء میں مراکشی سارہ بیلا سے شادی کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام بدل کر یعقوب رکھ لیا۔ تھامس پارٹے نے جون 2022ء میں پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کلپ میں کہا:
’’میں ایک مسلمان ہوں، مجھے ایک لڑکی سے محبت ہے، اور میں جانتا ہوں کہ میرے کچھ دوست مجھے چھوڑ دیں گے لیکن کوئی بات نہیں، میں مسلمانوں کے ساتھ پلا بڑھا ہوں، میں اب شادی شدہ ہوں اور میرا نام اب یعقوب ہے۔‘‘
مارچ 2022ء میں، انسٹاگرام پر مسلم ایتھلیٹس اکاؤنٹ، جو کھیلوں کی خبروں میں مہارت رکھتا ہے، نے ایک تصویر شائع کی جس میں پارٹے ایک مسلمان شیخ کے ساتھ قرآن پاک پکڑے مسکراتے ہوئے نظر آئے، اور اس پر کیپشن تھا: ’’تھامس پارٹے نے اسلام قبول کر لیا، اللہ میرے بھائی کو برکت دے۔‘‘
ایمینوئل ایڈے بایور — 2015ء
ٹوگو سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور فٹبالر جو اس سے پہلے انگلش کلب آرسنل، مانچسٹر سٹی اور ہسپانوی ٹیم ریال میڈرڈ کے لیے کھیل چکے ہیں۔ ایڈے بایور نے 2006ء کے فیفا ورلڈ کپ جرمنی میں ٹوگو کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔ وہ اس وقت 32 گول کے ساتھ ٹوگو کے اب تک کے سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والے ہیں۔
اپنی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈے بایور نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی طرف رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنی تبدیلی کے بعد یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اسلام قبول کرنے کے پیچھے 13 وجوہات کے بارے میں بات کی۔
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سکھایا کہ صرف ایک خدا ہے اور صرف خدا کی عبادت کرنی چاہیے جیسا کہ ڈیوٹ 6:4، مارک 12:29 میں سکھایا گیا ہے۔ مسلمان بھی اس پر یقین رکھتے ہیں جیسا کہ قرآن کی آیت 4:171 میں سکھایا گیا ہے‘‘۔ دی ہیرالڈ (اکاٹش اخبار) نے ایڈے بایور کے حوالہ دیا ہے۔
ان کے اسلام کی طرف رجوع کرنے کی وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سور کا گوشت نہیں کھایا جیسا کہ مسلمان خنزیر اور ان کے گوشت کو ناپاک اور کھانے کے لیے غیر صحت بخش سمجھتے ہیں۔ ٹوگو کے فٹبالر کو پتہ چلا کہ ’’السلام علیکم‘‘ (تم پر سلامتی ہو) اور ’’ان شاء اللہ‘‘ (اگر خدا چاہے) جیسے الفاظ، جو قرآن میں مذکور ہیں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیشہ استعمال کیے۔
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نماز پڑھنے سے پہلے اپنا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دھوئے۔ مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور بائبل کے دیگر انبیاء نے اپنا سر زمین پر رکھ کر نماز پڑھی (دیکھیں میتھیو 26:39)۔ مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کی آیت 3:43 میں سکھایا گیا ہے‘‘۔ ایڈے بایور نے بتایا۔
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی داڑھی تھی اور وہ ایک جبہ پہنتے تھے۔ مسلم مردوں کے لیے بھی ایسا کرنا سنت ہے۔‘‘
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شریعت کی پیروی کی اور تمام انبیاء پر یقین رکھا، (دیکھیں میتھیو 5:17)۔ مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کی آیات 3:84 اور 2:285 میں سکھایا گیا ہے۔‘‘
ڈینی بلم — 2015ء
ایک جرمن پیشہ ور فٹبالر جو قبرصی فرسٹ ڈویژن کلب APOEL کے لیے ونگر کے طور پر کھیلتے ہیں۔ جرمن فٹ بال کھلاڑی نے 2014ء کے موسم گرما میں عیسائیت سے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا، اور باقاعدہ تبدیلی جنوری 2015ء میں ہوئی۔
بلم کے مطابق، وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے اور حلال کھانا کھاتا ہے۔ وہ اسلام کو امید اور طاقت کا مذہب قرار دیتا ہے۔ ڈینی بلم نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران ان جیسے جرمن کلابوں: ایس وی سینڈ ہاؤسن، آئینٹراخٹ فرینکفرٹ، ایف سی نیورن برگ اور دیگر کے لیے کھیلا۔
ایمیکا ایزیوگو — 2012ء
ایک سابق نائجیرین پیشہ ور فٹبالر جنہوں نے ہندوستانی کلب ایسٹ بنگال ایف سی کے لیے بطور پیشہ ور فٹبالر کے آغاز کیا۔ انہوں نے 1994ء میں فیفا ورلڈ کپ میں نائجیریا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی، اور اپنے 15 سالہ کھیل کے کیریئر کے دوران پانچ براعظموں کے کلبوں کے لیے پیشہ ورانہ طور پر کھیلا۔
ایمیکا ایزیوگو، جو ایک رومن کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے تھے، فروری 2012ء میں اسلام قبول کیا جب وہ بنگلہ دیش کے محمدن سپورٹنگ کلب کے کوچ تھے۔ انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ وہ عظیم پیغمبر کے پیروکار ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایمیکا نے کہا کہ انہوں نے مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا اور جب وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے واقف ہوئے تو وہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر مصطفیٰ محمد رکھ لیا۔ ایمیکا نے قبولِ اسلام کے وقت کہا کہ:
’’میں نے ابھی ایک بیج لگایا ہے اور اب مجھے اسے ایک درخت کے طور پر پروان چڑھانا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں وقت کے ساتھ اس فیصلے کے بہت سے اچھے پہلو دریافت کروں گا لیکن اس وقت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مذہب نے میری زندگی کو زیادہ منظم و ضبط والا بنایا ہے۔‘‘
تھیری ڈینیل ہینری — 2008ء
ایک فرانسیسی پیشہ ور فٹ بال کوچ اور سابق کھلاڑی جنہوں نے آرسنل، موناکو، جووینٹس اور بارسلونا کے لیے کھیلا۔ انہیں ہر وقت کے بہترین اسٹرائیکرز میں سے ایک، اور پریمیئر لیگ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ہینری 2003ء میں بیلن ڈی اور کے رنراَپ، 2004ء میں فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایئر، اور 2006ء میں بیلن ڈی اور کے لیے تیسرے نمبر پر رہے۔
ہینری نے فرانس کے ساتھ کامیابی حاصل کی، 1998ء کا فیفا ورلڈ کپ، UEFA یورو 2000ء، اور 2003ء کا فیفا کنفیڈریشنز کپ جیتا۔ انہیں ریکارڈ پانچ بار فرانسیسی پلیئر آف دی ایئر نامزد کیا گیا اور 2010ء کے فیفا ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائر ہوئے۔
قطر کے ایک چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ہینری نے کہا کہ فرانک ریبیری اور ایرک ابیدال نے ان کے اسلام قبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہینری کے مطابق وہ کسی بھی دوسرے مذہب کے مقابلے میں اسلام کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں، اور وہ اپنے مسلمان دوستوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں کسی مذہب میں تبدیل ہونا پڑا تو وہ اسلام ہوگا۔
کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انہوں نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کیا یا نہیں۔
ایرک سلوین ابیدال — 2007ء
ایک فرانسیسی سابق پیشہ ور فٹبالر جنہوں نے بنیادی طور پر لیون اور بارسلونا کے لیے کھیلا۔ فرانس کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر ابیدال نے دو ورلڈ کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔ ان کے بعد ان کا کیریئر جگر کے ٹیومر کی وجہ سے متاثر ہوا، جس کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔
انہوں نے 2007ء میں اسلام قبول کیا جب انہوں نے حیات کبیر سے شادی کی اور اپنا نام بدل کر بلال ایرک ابیدال رکھ لیا۔ جب انہوں نے کیتھولک مذہب سے اسلام قبول کیا تو ابیدال اپنی بیوی سے متاثر ہوئے تھے، جو الجزائر سے تعلق رکھتی ہیں۔ ابیدال نے اپنی تبدیلی کے بارے میں کہا:
’’یہ سب قدرتی مراحل میں ہوا۔ اسلام قبول کرنے کا انتخاب میری بیوی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک تحفہ تھا جو اچانک ظاہر ہوا تھا۔ یہ واقعی وہیں (ظاہر) ہوا۔ ایک بہاؤ تھا اور مجھے خوشی محسوس ہوئی۔ میں نے پورے اعتماد کے ساتھ اسلام قبول کیا۔‘‘
ابیدال نے ایک کامیاب کیریئر گزارا اور لیون اور بارسلونا کے ساتھ بہت سے اہم اعزازات حاصل کیے، جہاں وہ ایک دفاعی کھلاڑی کے طور پر کھیلے۔ 2011ء میں انہیں جگر کے ٹیومر کی تشخیص ہوئی اور دو جگر ٹرانسپلانٹ سرجریز سے گزرنا پڑا۔ اس سے ان کے کیریئر کا خاتمہ ہوا۔ وہ 2014ء میں 35 سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔
نکولس سیبسٹین انیلکا — 2004ء
نکولس انیلکا ایک فرانسیسی پروفیشنل فٹ بال مینیجر اور ایک ریٹائرڈ کھلاڑی ہیں جو بڑے یورپی فٹ بال کلبوں کی طرف سے کھیل چکے ہیں جن میں ریئل میڈرڈ، یووینٹس، پیرس سینٹ جرمین، چیلسی، آرسنل، مانچسٹر سٹی، ا ور لیورپول وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈچ ایریڈیویزی (لیگ) کےروڈا جے سی فٹ بال کلب کے تکنیکی عملے کے طور پر اور ممبئی سٹی فٹ بال کلب کے کھلاڑی مینیجر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
فرانسیسی فٹبالر نے اپنے بچپن کے دوستوں کی صحبت سے 16 سال کی عمر میں عیسائیت سے اسلام قبول کیا۔ فرانسیسی قومی ٹیم کے اپنے ساتھی کھلاڑی فرانک رِبیری کے برعکس نکولس انیلکا نے اپنے مذہبی عقائد کو طویل عرصے تک نجی رکھا اور 2004ء کے دوران متحدہ عرب امارات میں انہوں نے باقاعدہ اسلام قبول کیا۔ نکولس انیلکا نے اپنا مسلمان نام عبدالسلام بلال اپنایا۔
نکولس انیلکا نے ایک بار کہا کہ
’’ میں سولہ سال کا تھا جب میں نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بھائی چارہ کے پہلو سے ہٹ کر اس سے میری زندگی تبدیل نہیں ہوئی کیونکہ میں پہلے سے ہی انہی اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہا تھا — نیکی کی زندگی، اقدار کی پاسداری۔ میں رمضان کے روزے اس لیے رکھتا تھا کہ میں اپنے اردگرد روزے رکھنے والے لوگوں کی قدر کرتا تھا۔ جس چیز نے مجھے اسلام قبول کروایا وہ یہ یقین تھا کہ اسلام میرے لیے ہے۔ میں نے خدا کے ساتھ اس تعلق کو محسوس کیا اور اس نے میری زندگی کو منور کر دیا۔ میرے دل میں یہ یقین تھا کہ یہی میرا مذہب ہے۔ میں مسلمان ہونے پر خوش ہوں، اسلام امن کا مذہب ہے اور میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘‘
فرانک ہینری پیئر ریبیری — 2002ء
ایک فرانسیسی سابق پیشہ ور فٹبالر جنہوں نے بنیادی طور پر جرمن کلب بائرن میونخ اور فرانسیسی قومی ٹیم کے لیے دو فیفا ورلڈ کپ (2006ء اور 2010ء) میں کام کیا۔ ریبیری فرینچ پلیئر آف دی ایئر ایوارڈ اور جرمن فٹبالر آف دی ایئر ایوارڈ کے تین بار کے فاتح ہیں۔
انہوں نے 2002ء میں اسلام قبول کیا۔ ریبیری کے مطابق ان کی بیوی واہیبہ، جو الجزائر سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے قبولِ اسلام کی اہم وجہ تھیں۔ انہوں نے قبولِ اسلام کے بعد اپنے نام میں بلال کا اضافہ کیا۔ ایک انٹرویو میں فرانک ریبیری نے کہا:
’’مذہب میری ذاتی چیز ہے۔ میں ایک مومن ہوں اور جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے، میرے خیال میں، میں مضبوط ہو گیا ہوں، میں ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہو گیا ہوں۔ مذہب نے میری شخصیت یا دنیا کے بارے میں میرے تصور کو نہیں بدلا۔ میں دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں، میں یہ اس لیے کرتا ہوں کیونکہ یہ مجھے آزادی دیتا ہے اور مجھے اس کے بعد بہتر محسوس ہوتا ہے۔‘‘
فریڈرک عمر کانوٹے — 1999ء
مالی کے فرانسیسی نژاد بین الاقوامی کھلاڑی نے کئی یورپی ٹاپ ٹئیر کلبوں کے لیے کھیلا، جس میں لالیگا سائیڈ سیویا کے ساتھ اپنی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ کانوٹے کو 2007ء کا افریقی فٹبالر آف دی ایئر نامزد کیا گیا۔
کانوٹے نے اپنے کیریئر کا آغاز فرانس میں لیون کے ساتھ کیا اور پھر 2000ء میں پریمیئر لیگ کے ویسٹ ہیم یونائیٹڈ چلے گئے۔ لندن کے حریف ٹوٹنہم ہاٹ سپر میں ایک دور کے بعد کانوٹے ہسپانوی کلب سیویا چلے گئے جہاں انہوں نے 2006ء اور 2007ء میں لگاتار دو UEFA کپ جیتے اور اس کے علاوہ مختلف دیگر یورپی اور گھریلو اعزازات بھی حاصل کیے اور کلب کے سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والے غیر ملکی کھلاڑی ہیں۔
کانوٹے نے 1999ء میں 22 سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور اپنا نام فریڈرک عمر کانوٹے رکھا۔ انہوں نے کلب کے اسپانسر
888.com کے نام والی Sevilla کی شرٹ پہننے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ ویب سائٹ جوئے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کلب کو انہیں ہر میچ میں بغیر برانڈ کے جرسی دینی پڑتی تھی۔
2007ء میں کانوٹے نے سیویا میں نماز کی سہولت کے لیے ایک علاقہ خریدنے کے لیے اپنی جیب سے ساتھ لاکھ ڈالرز سے زیادہ ادا کیے۔ احاطے کا معاہدہ ختم ہو گیا تھا اور مسجد فروخت ہونے والی تھی۔ انہوں نے سیویا، اسپین میں 700 سال سے زیادہ عرصے میں پہلی بامقصد مسجد اور ثقافتی مرکز بنانے کے لیے ایک آن لائن کراؤڈ فنڈنگ مہم میں دس لاکھ ڈالرز اکٹھے کے۔
پاکستان کے قانون کی رو سے ٹرانسلیشنز اور ٹرانسکرپٹس کے جملہ حقوق
مرتب : ادارہ الشریعہ
گزشتہ کچھ عرصے سے ہم نے ماہانہ بلاگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس میں مختلف اداروں اور شخصیات کے شائع کردہ مواد کے تراجم (translations) اور ویڈیوز کے متون (transcripts) شامل کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ معیاری کام کیا جائے تاکہ اصل مواد کی اہمیت و قدر کسی طرح سے کم نہ ہو۔ لیکن بہرحال چونکہ تراجم اور متون اس طرح سے بغیر پیشگی اجازت کے شائع کرنا قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے، تو اس سلسلے میں اصل مواد کے مالکان سے تعاون کی توقع رکھتے ہوئے ہم قارئین کو یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس بارے میں کوئی اعتراض موصول ہوا تو متعلقہ مواد ہمارے ماہانہ بلاگ سے ہٹا دیا جائے گا۔ ادارہ
کاپی رائٹ آرڈیننس 1962ء
پاکستان میں تخلیقی کاموں، ادبی و فنّی اثاثوں، اور مواد کی ملکیت کے تحفظ کے لیے جو قانون نافذ ہے، وہ "کاپی رائٹ آرڈیننس 1962ء" (The Copyright Ordinance, 1962) ہے۔ یہ قانون ابتدائی طور پر 3 جولائی 1962ء کو نافذ ہوا، اور اس کے بعد متعدد ترامیم کے ذریعے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا۔ یہ قانون دراصل برطانوی نوآبادیاتی دور میں رائج "انڈین کاپی رائٹ ایکٹ 1914ء" کا تسلسل تھا، جسے آزادی کے بعد پاکستان میں نافذ کیا گیا، لیکن جلد ہی ایک آزاد قومی قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی، جو بعد میں 1962ء کے آرڈیننس کی شکل میں سامنے آئی۔
قانون کا دائرہ کار
کاپی رائٹ ایکٹ 1962ء پاکستان کے اندر درج ذیل تخلیقی اصناف کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے:
- ادبی تخلیقات (کتابیں، نظمیں، مضامین)
- فنّی کام (تصاویر، پینٹنگز، نقشہ جات)
- موسیقیاتی کمپوزیشنز
- ڈرامائی تخلیقات
- فلمیں اور سنیماٹوگرافک ورکس
- صوتی ریکارڈنگز
- کمپیوٹر سافٹ ویئر (بعد ازاں ترامیم کے ذریعے شامل)
اہم دفعات و شقیں
دفعہ 3: کاپی رائٹ کا حق
یہ دفعہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کون سا کام کاپی رائٹ کے تحت تحفظ کا اہل ہے اور کس حد تک۔
دفعہ 5: ملکیت کا تعین
یہ شق بتاتی ہے کہ اصل مصنف یا تخلیق کار کو عمومی طور پر کاپی رائٹ حاصل ہوتا ہے، تاہم مخصوص حالات (مثلاً اجرت پر تیار کردہ کام یا اشاعتی معاہدہ) میں حقوق کسی دوسرے شخص یا ادارے کو منتقل ہو سکتے ہیں۔
دفعہ 12: مدتِ تحفظ
ادبی، فنّی اور ڈرامائی کاموں کے لیے کاپی رائٹ کا تحفظ عام طور پر مصنف کی زندگی + 50 سال تک نافذ رہتا ہے۔
دفعہ 56 تا 70: خلاف ورزی اور سزائیں
اگر کوئی شخص کسی بھی تخلیق کو بغیر اجازت نقل کرے، شائع کرے یا نشر کرے تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے، اور اس پر جرمانہ، مقدمہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
دفعہ 74: کسٹم اتھارٹیز کو اختیارات
غیر قانونی درآمد یا برآمد ہونے والے مواد کو روکنے کے لیے کسٹم حکام کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔
ترمیمات
اس قانون میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئی ہیں جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
- 1992ء کی ترمیم: کمپیوٹر سافٹ ویئر کو کاپی رائٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا۔
- 2000ء کی ترمیم: ڈیجیٹل میڈیا اور انٹرنیٹ سے متعلق تحفظات شامل کیے گئے۔
- 2005ء کی ترمیم: پاکستان نے WTO اور TRIPS معاہدوں کی روشنی میں قانون کو ہم آہنگ کیا۔
عمل درآمد کا طریقہ کار اور عملی صورتحال
کاپی رائٹ کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے تحت "کاپی رائٹ آفس" (Copyright Office) کام کرتا ہے جس میں تخلیقات کو رجسٹر کروایا جا سکتا ہے۔ تاہم رجسٹریشن کا عمل لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے، اور قانونی تحفظ تخلیق کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی حاصل ہو جاتا ہے۔
عملی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ:
- پاکستان میں جعلی مواد، غیر قانونی سافٹ ویئر، اور کتابوں کی قسط وار کاپیاں عام ہیں، جو قانون کے عملی نفاذ میں کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
- کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے مقدمات اکثر لمبے عرصے تک عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں۔
- عام مصنفین اور فنکاروں کو اپنے حقوق کا شعور نہیں ہوتا جس کا فائدہ پبلشرز اور بڑے ادارے اٹھاتے ہیں۔
ٹرانسلیشنز اور ٹرانسکرپٹس کی قانونی حیثیت
تراجم (Translations) کی حیثیت
بطور ثانوی تخلیق (Derivative Work)
قانون کے مطابق، اگر آپ کسی اصل ادبی، ڈرامائی یا سائنسی تخلیق کا ترجمہ کرتے ہیں، تو یہ ترجمہ "Derivative Work" (ثانوی تخلیق) کے زمرے میں آتا ہے۔
ترجمے کے لیے اجازت درکار
آپ کو کسی بھی اصل مصنف کے کام کا ترجمہ کرنے سے پہلے اصل تخلیق کے کاپی رائٹ ہولڈر سے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔ اگر ترجمہ بغیر اجازت کے شائع کیا جائے تو یہ خلاف ورزی (Infringement) میں شمار ہوگا۔
ترجمے پر الگ کاپی رائٹ
اگر اجازت لے کر ترجمہ کیا جائے تو مترجم کو اپنے ترجمے پر کاپی رائٹ حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ ترجمہ ایک تخلیقی کاوش کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
پبلک ڈومین
اگر اصل تخلیق Public Domain (یعنی جس پر کاپی رائٹ ختم ہو چکا ہو) میں ہو، تو کوئی بھی فرد اس کا ترجمہ کر سکتا ہے اور اس ترجمے پر اسے الگ کاپی رائٹ حاصل ہوگا۔
ٹرانسکرپٹس (Transcriptions) کی حیثیت
اگر یہ تخلیقی نوعیت کے ہوں
اگر ٹرانسکرپٹ میں کوئی تخلیقی یا فنّی عمل شامل ہو—مثلاً کسی تقریر یا سمعی مواد کو واضح اور سلیقے سے تحریری شکل دینا—تو یہ نئی تخلیق تصور ہو سکتی ہے اور اس پر کاپی رائٹ حاصل ہو سکتا ہے۔
اصل مواد کا تحفظ
تاہم، اگر ٹرانسکرپشن کسی ایسے مواد پر مبنی ہو جو پہلے سے کاپی رائٹ کے تحت ہو (مثلاً ایک ناول کی آواز کی ریکارڈنگ)، تو اس مواد کو بغیر اجازت نقل کرنا کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہوگی، چاہے وہ نقل تحریری شکل میں ہو۔
تقاریر اور خطابات
اگر کوئی شخص اپنی ذاتی تقریر یا خطاب کا ٹرانسکرپٹ تیار کرے، تو اس پر اسے مکمل کاپی رائٹ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، اگر کسی اور کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ بنایا جائے، تو اجازت لینا لازم ہے۔
قانونی حوالہ
دفعہ 2، ذیلی دفعہ (m) میں "Adaptation" اور "Translation" دونوں کی تعریف شامل کی گئی ہے، اور بعد کی دفعات (خصوصاً دفعہ 3 اور دفعہ 5) کے تحت یہ واضح ہے کہ:
"کاپی رائٹ کا حق ہر اس کام پر ہوتا ہے جو اصل یا اجازت یافتہ تخلیق پر مبنی ہو، بشمول ترجمے، ماخوذہ کام، یا کسی دوسرے میڈیم میں تبدیلی۔"
عملی اطلاق
- ایک مترجم کسی انگریزی ناول کا اردو ترجمہ صرف اس صورت میں شائع کر سکتا ہے جب اسے اصل مصنف یا پبلشر سے باقاعدہ اجازت حاصل ہو۔
- کوئی تعلیمی ادارہ یا ادارہ نشریات (Broadcaster) کسی تقریر یا لیکچر کا ٹرانسکرپٹ صرف تب شائع کر سکتا ہے جب مواد کے اصل حقوق محفوظ نہ ہوں یا اجازت لی گئی ہو۔
- اردو کلاسیکی ادب، جیسے غالب، میر یا سعدی وغیرہ، جن پر کاپی رائٹ ختم ہو چکا ہے، ان کے تراجم یا ٹرانسکرپٹس پر مترجم کو الگ حقوق حاصل ہو سکتے ہیں۔
مناسب استعمال (Fair Use/Fair Dealing)
پاکستانی قانون میں "فیئر ڈیلنگ" (Fair Dealing) کا تصور موجود ہے، جو کہ کچھ خاص حالات میں کاپی رائٹ شدہ مواد کے استعمال کی اجازت دیتا ہے بغیر اجازت کے۔ تاہم، یہ بہت محدود ہوتا ہے اور درج ذیل مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے:
- ذاتی تحقیق یا نجی مطالعے کے لیے۔
- کسی کام پر تنقید یا تبصرہ کرتے وقت اس کے کچھ حصے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
- خبروں یا حالات حاضرہ کی رپورٹنگ کے لیے۔
- تعلیمی مقاصد کے لیے محدود استعمال۔
فیئر ڈیلنگ کا تعین کیس بہ کیس کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اس کی حدود کو سمجھنا ضروری ہے۔ بہت زیادہ مواد استعمال کرنا یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا فیئر ڈیلنگ کے تحت نہیں آتا۔ ایک ٹرانسلیشن یا مکمل ٹرانسکرپٹ عام طور پر فیئر ڈیلنگ کے زمرے میں نہیں آتی۔
ٹرانسلیشن خود ایک تخلیقی کام سمجھی جا سکتی ہے، لہٰذا ٹرانسلیٹر کے بھی اس پر کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ حقوق اصلی کام کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اجازت سے ٹرانسلیشن کر رہے ہیں، تو ہمیشہ اصلی مصنف اور کام کا حوالہ دیں اور اپنی ٹرانسلیشن کو اصلی کام کا ترجمہ قرار دیں۔ کسی بھی ٹرانسلیشن کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس تمام ضروری حقوق موجود ہیں۔
ترانسکرپٹس بنانا یعنی کسی کی تقریر، انٹرویو، یا آڈیو ریکارڈنگ کا متن تیار کرنا اور اسے شائع کرنا کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ تخلیقی نوعیت کا مواد ہو۔ اگر تقریر عوامی دائرے میں ہے (جیسا کہ پرانی تاریخی تقریریں جن کے کاپی رائٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے) تو اس کی ٹرانسکرپٹ بنائی جا سکتی ہے۔ براہ راست نشر ہونے والے پروگراموں یا لائیو ایونٹس کی ٹرانسکرپٹس اکثر خبروں کی رپورٹنگ کے تحت فیئر ڈیلنگ میں آ سکتی ہیں، لیکن مکمل ٹرانسکرپٹ شائع کرنے سے پہلے اجازت لینا بہتر ہے۔
کاپی رائٹ قوانین کے مطابق، کچھ مخصوص صورتیں ایسی ہیں جن میں ادبی، ڈرامائی، موسیقی یا فنکارانہ مواد کا استعمال خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر یہ مواد تحقیق، ذاتی مطالعہ، تنقید، جائزہ یا خبری رپورٹنگ کے لیے منصفانہ انداز میں استعمال کیا جائے، تو یہ جائز ہے۔ نثری مواد کے اقتباسات مخصوص حدوں کے اندر لیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ 400 الفاظ تک ایک اقتباس یا کل 800 الفاظ تک متعدد اقتباسات، جبکہ نظموں میں 40 اشعار تک کا اقتباس مجاز ہے۔ تعلیمی مقاصد کے لیے اساتذہ یا طلباء کی طرف سے مواد کی نقل یا ترمیم کی جا سکتی ہے، اور تعلیمی اداروں میں عملہ اور طلباء تخلیقی کام پیش بھی کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی کتاب فروخت کے لیے دستیاب نہ ہو، تو سرکاری یا غیر منافع بخش لائبریری اس کی تین نقلیں بنا سکتی ہے۔ بعض حکومتی کاموں کی اشاعت کی بھی اجازت ہے، جب تک اس پر پابندی نہ ہو۔ اسی طرح، "فریڈم آف پینوراما" کے تحت عوامی جگہوں پر موجود فن تعمیر یا مجسمے کی تصاویر، خاکے یا فوٹو بھی بنائے اور شائع کیے جا سکتے ہیں۔
خلاصہ
کاپی رائٹ آرڈیننس 1962ء پاکستان میں تخلیقی و فکری اثاثوں کے تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ اگرچہ اس قانون میں ضروری ترامیم اور توسیعات کی گئی ہیں، مگر عملی طور پر اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، تکنیکی اپ ڈیٹس، اور عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ ادبی و فنّی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ مصنفین اور فنکاروں کو اُن کے حقوق کا تحفظ دیا جائے، تاکہ تخلیق کا عمل ایک محفوظ اور باعزت ماحول میں فروغ پا سکے۔
ترجمہ اور ٹرانسکرپشن دونوں صورتوں میں کاپی رائٹ کا تصور اصل تخلیق کے تحفظ اور مترجم یا ٹرانسکرائبر کی محنت کی تسلیم شدہ حیثیت دونوں کو متوازن رکھتا ہے۔ بغیر اجازت ترجمہ یا ٹرانسکرپٹ بنانا قانونی خلاف ورزی ہے، مگر اجازت یا پبلک ڈومین کی صورت میں یہ تخلیقی کام شمار ہوتا ہے اور اس پر الگ کاپی رائٹ حاصل ہو سکتا ہے۔
(سورسز: چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنی، ویکیپیڈیا، مائیکروسافٹ کوپائیلٹ)
پاکستان کا ایٹمی پروگرام: کب، کیوں اور کیسے؟
ڈاکٹر رابعہ اختر
وائس آف امریکہ
(وائس آف امریکہ کے یوٹیوب چینل پر ۱۲ اگست ۲۰۲۴ء کو نشر ہونے والا یہ انٹرویو جون ۲۰۲۲ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جسے ضروری تسہیل کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)
پاکستان نے ایٹم بم کیوں بنایا؟
پاکستان 1947ء کے بعد ایک بہت ہی کمزور ملک تھا، اگر آپ اس کا انڈیا کے ساتھ موازنہ کریں تو پاکستان کے پاس آرمی، ایئرفورس، نیوی اور باقی گورنمنٹ سسٹمز بہت کمزور تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ دو ہی بڑی طاقتیں ہیں: ایک امریکہ کی اور ایک سوویت یونین کی۔ تو ’’سرد جنگ‘‘ کا جو شروع کا دور تھا، اس میں پاکستان نے ان میں سے کسی ایک کا سہارا لینا تھا، چنانچہ ابتدائی سالوں میں جب پاکستان کی تعمیر ہو رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ان کو امریکہ کے ساتھ رہنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ رہیں گے تو ان کی ترقی میں اس کا عمل دخل بھی رہے گا۔
دوسری طرف انڈیا نے سوویت یونین کی سائیڈ لی، اگرچہ شروع میں انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے ساتھ نہیں ملیں گے، لیکن پاکستان کے موازنے میں ان کا جھکاؤ سوویت یونین کی طرف تھا۔ آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کی متعدد جنگیں ہو چکی ہیں انڈیا کے ساتھ، تو شروع سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انڈیا کا عمل دخل بہت زیادہ نمایاں تھا، اور اس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو صرف یہی فکر ہوتی تھی کہ اگلی جنگ اگر ہوئی تو پاکستان کس طرح سے یہ جنگ جیتے گا؟ یا پاکستان کو اپنے بچاؤ کے لیے ضرورت تھی کہ اس کے پاس آرمی بھی ہو اور ہتھیار بھی ہوں تاکہ وہ انڈیا کے ساتھ لڑ سکے۔
انڈیا کی چائنہ کے ساتھ جو دشمنی تھی اور جو سرحدی تنازعات تھے اس کی وجہ سے انڈیا کا جھکاؤ جوہری پروگرام کی طرف ہم سے پہلے شروع ہوا تھا۔ 1964ء میں جب چائنہ نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اس کے بعد سے انڈیا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں حکمتِ عملی بنانا شروع کر دی تھی۔
پاکستان کے ساتھ انڈیا کی 1965ء میں جو جنگ ہوئی، اس جنگ میں پاکستان اور انڈیا دونوں کو امریکہ نے ہتھیار سپلائی کیے ہوئے تھے۔ ان کا ایک پروگرام تھا ’’میوچؤل اسسٹنس پروگرام‘‘ اس کے تحت یہ ہتھیار مہیا کیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ آپس میں استعمال نہیں کرنے، ہاں چائنہ کے خلاف اگر استعمال ہوں تو ان کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ لیکن 1965ء میں جب جنگ ہوئی تو وہ ہتھیار استعمال ہوئے۔
توانائی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت پہلے سے ہی کام کر رہے تھے لیکن 1965ء کی جنگ کے بعد انڈیا کے جوہری پروگرام نے زور پکڑنا شروع کیا کیونکہ اس سے بھی پہلے 1962ء میں انڈیا اور چائنہ کی جو جنگ ہوئی تھی اس میں انڈیا کو بہت بری طرح سے شکست ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ چائنہ اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بڑھ رہے ہیں، اس سے انڈیا نے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھا۔
اس وقت جب انڈیا نے مقابلے پر اپنا یہ پروگرام شروع کیا اور اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا، تو 1965ء کی جنگ اور اس کے مراحل سے آپ واقف ہیں، تب پاکستان میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اگر انڈیا جوہری ہتھیار بنا لیتا ہے تو پاکستان پیچھے رہ جائے گا۔ وہ جوہری ہتھیار چاہے چائنہ کے لیے کیوں نہ بنا رہا ہو، لیکن پاکستان اور انڈیا کے جس نوعیت کے تعلقات تھے اس کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے یہ سوچا کہ وہ ہتھیار پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ تب 1965ء کے بعد سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایوب خان کے دور میں اس بارے میں تھوڑی سی بات کرنی شروع کی لیکن جنرل ایوب کچھ زیادہ خوش نہیں تھے اس معاملے پر کہ پاکستان اپنا پروگرام شروع کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب 1971ء میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا، اور اس میں انڈیا کا پاکستان کو توڑنے میں اتنا بھرپور کردار رہا، تو اس کے بعد شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ پاکستان کی ڈائریکشن کیا ہو گی۔
پریسلر ترمیم اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام
پاکستان میں ایک بہت مشہور موقف یہ ہے کہ ’’پریسلر ترمیم‘‘ جو آئی وہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن پابندیاں تھیں۔ پریسلر ترمیم 1985ء میں پاس ہوئی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اپنے عروج پر تھے، جب سب سے زیادہ اقتصادی امداد آ رہی تھی۔ 1985ء میں جو میں نے انٹرویوز کیے، خارجہ پالیسی بنانے والے اپنے سفارتکاروں سے جب اس بارے میں پوچھا، اور اپنی تحقیق کے لیے جو دستاویزات تلاش کیں، تو اس سے ثابت یہ ہوا کہ جب یہ ترمیم پاس ہو رہی تھی تو پاکستان کو بتایا گیا تھا۔ اس ترمیم میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صرف یہ ایک بات تھی کہ اگر امریکی صدر یہ کہہ دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں، تو اس تصدیق کی بنیاد پر پاکستان کے لیے امریکہ کی طرف سے امداد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تو آپ نے دیکھا کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن نے تین دفعہ یہ سرٹیفکیشن دی، ایک سرٹیفیکیشن جارج بش (سینئر) نے دی۔
1985ء سے 1990ء تک جب ان کا مقصد پورا ہو گیا، سوویت یونین افغانستان سے نکل گیا، اور پاکستان کی مدد سے یہ سب کچھ ہوا، تو جو معروف بیانیہ ہے وہ یہ کہتا ہے کہ جی امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا اور جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو انہوں نے پاکستان پر پابندیاں لگا دیں۔ جبکہ یہ اس ترمیم کا حصہ تھا کہ اگر امریکی صدر تصدیق نہیں کرتا کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں، تو خودبخود پابندیاں لگ جائیں گی۔
1990ء میں پاکستان اور انڈیا کا ایک بحران ہوا تھا جس میں جوہری ہتھیاروں کا معاملہ بھی تھا جس کے لیے پاکستان کو سامنے آ کر کچھ باتیں کرنی پڑیں۔ جب وہ باتیں باہر نکلیں تو پھر امریکہ کے پاس کوئی جواز نہیں تھا سرٹیفیکیشن دینے کا۔ اس طرح 1990ء میں یہ پابندیاں ہم پر لگیں۔ مسئلہ ان پابندیوں کا صرف یہ تھا کہ اگر وہ ہماری اقتصادی امداد روک لیتے تو بالکل ٹھیک تھا، لیکن انہوں نے ہمارے 28 ایف سولہ جنگی طیارے، جن کی پاکستان نے 658 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی تھی، اس کی قسطوں میں ادائیگی ہو رہی تھی، وہ انہوں نے روک لیے۔ تو اس کی پاکستان کو بہت تکلیف تھی کیونکہ یہ امداد کا حصہ نہیں تھے۔
تو اب جو بیانیہ بنا پریسلر ترمیم کے بارے میں وہ یہ نہیں تھا کہ جی سرد جنگ ختم ہو گئی تو اب انہوں نے پاکستان پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ پابندیاں تو لگنی تھیں کیونکہ ہم نے بطور ملک کے 1990ء کے بحران کے بعد (ایٹمی پروگرام کے حوالے سے) بیان دیے تھے۔ جو مسئلہ اس پریسلر ترمیم میں تھا وہ ہمارے ایف سولہ کا تھا جو انہوں نے رکھ لیے تھے، جو کہ غیر قانونی چیز تھی۔ لیکن چونکہ امریکہ ایک سپرپاور ہے اور پاکستان کے پاس اتنی قوت نہیں تھی کہ وہ اپنے 28 ایف سولہ نکلوا سکتے، تو وہ ابھی تک بہت بڑا پوائنٹ ہے پاک امریکہ تعلقات میں۔
جب میں نے تحقیق کی اس مسئلہ پر اور انٹرویوز کیے تو مجھے پتہ چلا کہ 1990ء میں پاکستان پر پابندیاں لگی تھیں لیکن 1993ء تک پاکستان ان ایف سولہ جہازوں کی ادائیگی کرتا رہا۔ حالانکہ آپ کو نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس امید میں کہ جب یہ پریسلر ترمیم اٹھے گی تو ہمیں وہ 28 ایف سولہ مل جائیں گے۔ تو یہ پاکستان امریکہ تعلقات کا ایک بہت افسوسناک مرحلہ تھا جہاں ہمیں یہ لگا کہ ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی، اور واقعی ہوئی بھی تھی۔
ایٹمی دھماکے اور پابندیاں
اس وقت کلنٹن صدر تھے، اور دو دفعہ وہ صدر منتخب ہوئے تھے، 1998ء کے دھماکوں سے پہلے بھی پاکستان نے کلنٹن انتظامیہ کو انٹیلیجنس دی تھی کہ انڈیا دھماکے کرنا چاہتا ہے آپ ان کو روکیں۔ لیکن وہ انٹیلیجنس بیکار گئی کیونکہ دھماکے اس وقت نہیں ہوئے۔ لیکن پھر مئی کے مہینے میں انڈیا نے بھی دھماکے کیے اور ہم نے بھی کیے۔ اس کے بعد خودبخود ہم دونوں کے اوپر ’’گلین سینکشنز‘‘ لگیں جو کہ سینیٹر گلین نے پیش کی تھیں۔ اور وہ یہ تھی کہ جو بھی دھماکہ کرے گا اس کی بیرونی امداد اور اقتصادی تعاون رک جائے گا۔ تو وہ پابندیاں خودبخود انڈیا پر بھی لگ گئیں اور پاکستان پر بھی۔ لیکن جو بات بہت سے لوگوں کو نہیں پتہ وہ یہ ہے کہ اسی سال 1998ء کے آخر تک پاکستان اور انڈیا دونوں پر سے یہ پابندیاں ہٹ چکی تھیں اور امریکہ کے تعلقات دونوں کے ساتھ بحال ہو چکے تھے۔
ایک یہ تھا کہ انہوں نے قبول کر لیا کہ جی اب تو دھماکے ہو گئے ہیں، اب تو ہم کچھ نہیں کر سکتے، ساری عمر کے لیے تو بین نہیں لگا سکتے۔ اس طرح جو تجارت کے یا اور بہت سے معاملات تھے، ان پر سے کافی پابندیاں انہوں نے ہٹا دیں اور ہمارے ساتھ تعلقات بحال کیے۔
1999ء میں آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہوئے (جنرل مشرف اقتدار میں آئے) اور پھر کارگل بھی ہوا۔ اس میں بھی پاک امریکہ تعلقات کے اہم پہلو سامنے آئے۔ کارگل ایک بہت بڑا واقعہ ہے پاکستان کی تاریخ میں۔ پاکستان کا 1998ء سے 2001ء تک کا جو عرصہ ہے اس دوران کلنٹن انتظامیہ رہی ہے، اس نے پاکستان کے ساتھ بہت پازیٹو اور موافق تعلقات رکھنے کی کوشش کی ہے، ہر معاملے میں پاکستان کو سہولت پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ایف سولہ جہازوں کے علاوہ بھی ہمارا دفاعی سامان تھا، اس سلسلہ میں ہم کورٹ گئے اور ہم نے کہا کہ ہم نے جو ادائیگی کی ہے وہ واپس کریں، اس میں بھی کلنٹن انتظامیہ نے ہماری بہت مدد کی اور کچھ رقم واپس ملی، باقی کچھ گندم بھی ملی، آلو بھی ملے۔
2001ء میں جو معاملات سامنے آئے، تب پاکستان کی پھر ان کو ضرورت پیش آئی نائن الیون کے واقعات کے بعد۔ اور پاکستان سے ان کو پھر پابندیاں اٹھانی پڑیں، اسی طرح جیسے 1979ء میں انہوں نے پابندیاں ہٹائی تھیں۔ تمام کی تمام پابندیاں پاکستان سے اٹھا لی گئیں تاکہ ’’گلوبل وار آن ٹیررازم‘‘ جو انہوں نے شروع کی تھی نائن الیون کے دھماکوں کے بعد، اس میں پاکستان ان کا ساتھ دے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان پر الزامات
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، اللہ ان کو جنت نصیب کرے، پاکستان کے لیے بہت بڑا کردار تھے۔ جب وہ پاکستان واپس آئے تو ایسا نہیں تھا کہ امریکہ کو پتہ نہیں تھا۔ پوری دنیا کی انٹیلیجنس ان کے پیچھے تھی، اور جب وہ پاکستان ڈیزائنز لے کر آئے اور پاکستان کا یورینیم افزودگی کا پروگرام انہوں نے شروع کیا تو امریکہ کو اس بات کا پوری طرح سے علم تھا۔
اب بھی جب ہم کسی کانفرنس میں بیٹھتے ہیں تو وہ پاکستان کو ایک طرح سے ’’پوسٹر چائلڈ‘‘ بنا دیتے ہیں، پرولیفریشن اور عدم پھیلاؤ کے حوالے سے، اور وہ کہتے ہیں کہ جی ڈاکٹر عبد القدیر خان کا ایک پورا بلیک مارکیٹ کا نیٹ ورک تھا۔ لیکن آپ کتابیں پڑھیں اور ریسرچ پڑھیں، جنہوں نے اس بلیک مارکیٹ نیٹ ورک کو دیکھا ہے، اس میں 32 ممالک شریک تھے، سی آئی اے خود اس میں شامل تھی۔ چنانچہ 1974ء کے بعد سے پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا جو سفر ہے، اور جو بھی ان کی سرگرمیاں ہیں، اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے جو چیزیں انہوں نے حاصل کی ہیں، اس سب کا علم سی آئی اے کو شروع سے ہی ہے۔
ہم جب کسی کانفرنس میں بیٹھتے ہیں اور کوئی یہ کہتا ہے کہ جی پاکستان نے تو جھوٹ بولا امریکہ سے، پاکستان نے دنیا سے جھوٹ بولا، تو میرا ان سے ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ آپ مجھے یہ بتا دیں کہ پاکستان نے کون سا قانون توڑا ہے؟ پاکستان نے ’’ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدہ‘‘ پر دستخط نہیں کیے تھے تو پاکستان اس چیز کا مجاز نہیں ہے کہ وہ آپ کو بتائے کہ وہ کہاں سے چیزیں لا رہا ہے۔ قانون تو تب توڑا ہو جب آپ اس قانون کا حصہ ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ آرام سے بیٹھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی پاکستان نے یہ سب کچھ کیا، یہ پاکستان کی منافقت ہے، تو سی آئی اے کی بھی منافقت ہے، ڈاکٹر عبد القدیر خان کو تب کیوں نہیں روکا جب ان کے بارے میں سارے شواہد موجود تھے۔ 1970ء میں روک لیتے، 1980ء کی دہائی میں روک لیتے، 1990ء میں روک لیتے، 2000ء میں روک لیتے۔ لیکن پاکستان کی تاریخ میں جب سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاملات شروع ہوئے ہیں، ایک بھی دستاویز ایسی نہیں جس کے بارے میں کسی امریکی صدر نے پاکستان سے کہا ہو کہ یہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں، ہم اس ثبوت کی بنیاد پر یہ بات کر رہے ہیں، اس لیے آپ اپنا پروگرام بند کریں، ایک بھی موقع ایسا نہیں آیا۔
2004ء میں جب ان کو پاکستان کی ضرورت تھی اور ان کو یہ محسوس ہوا کہ پاکستان اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ پیچھے ہٹ رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی اپنی فوجی اور شہری جانیں ضائع ہو رہی تھیں اور پاکستان یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جنگ تو اس کی ہے ہی نہیں۔ تب امریکہ نے سوچا کہ اب اگر ہم ان ڈاکومنٹس کو سامنے لاتے ہیں تو پاکستان مجبور ہو جائے گا اور پاکستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ پھر 2004ء میں صدر مشرف کو مجبور کیا گیا کہ جی ہمارے پاس یہ ثبوت ہیں، جو 1970ء سے ہمارے پاس ہیں، اور اب یہ موقع ایسا ہے کہ آپ سوچ لیں ورنہ ہم پوری دنیا کو بتائیں گے کہ آپ نے کیا کیا ہے، اور پھر آپ پر پابندیاں لگیں گی۔
اس طرح یہ ایک سیاسی ایجنڈا تھا اور اس میں میرا نہیں خیال کہ پاکستان کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت ہے۔ ہر ملک اپنے قومی مفاد کو دیکھتا ہے، پاکستان نے بھی اپنے قومی مفاد کو دیکھا، اور جو خدمات ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہمارے لیے دی ہیں، ہمیں بطور پاکستان کے شہری کے ان پہ فخر ہونا چاہیے اور ہر فورم پر ان کا دفاع کرنا چاہیے۔
پاکستان کی نیوکلیئر ڈپلومیسی کتنی کامیاب؟
میں تو اس کو دس میں سے گیارہ نمبر دوں گی۔ پاکستان کی اتنی بہترین نیوکلیئر ڈپلومیسی رہی ہے کہ آپ سوچیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا ملک ہے، رقبے میں بھی اور اثرورسوخ کے لحاظ سے بھی۔ اور ایک سوپر پاور کے ساتھ آپ کے تعلقات کا عروج ہے، جب 1980ء کی دہائی ختم ہو رہی ہے اور آپ ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں، تب آپ کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی قابلیت آ چکی تھی۔ اس سے بڑی کامیابی ایک چھوٹی سی ریاست کے لیے، جو 1947ء کے بعد سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھ رہی تھی، اور اب ایک ایٹمی قوت بن گئی۔ یہ سب ہماری نیوکلیئر ڈپلومیسی اور ہماری قیادت کا نتیجہ ہے، اور میں یہ سمجھتی ہوں، جو میں نے اپنی ریسرچ میں بھی لکھا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام، حتیٰ کہ توانائی کے حوالے سے بھی، اس کے اندر تمام سیاسی و فوجی قیادت اور سیاسی جماعتوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور ان میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پروگرام ان کا ہے۔
پاکستان میں بھٹو سے لے نواز شریف تک جتنے لیڈرز آئے ہیں سب نے اس کو اپنا سمجھا ہے اور یہ وہ واحد مقصد ہے جس پر کبھی کسی نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمارے بہت بڑے ڈپلومیٹس گزرے ہیں، آغا شاہی صاحب، یعقوب صاحب، نجم الدین شیخ صاحب، ریاض محمد خان صاحب، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، یہ سارے وہ سفارتکار ہیں جنہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مشکل زمانے میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ اور پاکستان کا جو قومی مفاد تھا کہ یہ پروگرام بننا ہی بننا ہے، اس پر کمپرومائز نہیں کیا۔ تو میرا سلیوٹ ہے ہمارے ان سب لیڈرز اور ڈپلومیٹس کو جنہوں نے ہمیں یہ پروگرام دیا، اتنے مشکل وقت سے پاکستان کو نکالا، اور اس وقت جب حالات ہمارے خلاف تھے، بہت مشکلات تھیں، پابندیاں لگی ہوئی تھیں، اس دوران وہ ہمیں ایسے منصوبے کی تیاری کی طرف لے کر گئے اور کہا کہ خود پہ بھروسہ کرنا چاہیے۔
گزشتہ پچھتر سال جو پاکستان کے گزرے ہیں اس میں اتنی مشکلات اور پابندیوں کے دباؤ میں رہتے ہوئے پاکستان نے یہ منصوبہ تیار کیا ہے، اس سے بڑی مثال پاکستان کی برداشت کی نہیں ملتی۔ اس لیے یہ مجھے اگلے پچھتر سال کے لیے بھی بہت پرامید بناتا ہے کہ پاکستانی قوم اور پاکستانی قیادت اگر وطن کا مفاد سب سے اوپر رکھیں تو پاکستان کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سب سے زیادہ مددگار کون؟
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی سب سے زیادہ مدد امریکہ نے کی ہے اور شروع سے کی ہے، اور اس میں ظاہر ہے کہ امریکہ کا مفاد بھی ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ امریکہ کو وقتاً فوقتاً پاکستان کی ضرورت رہی ہے، اور 2001ء کے بعد بھی آپ نے دیکھا کہ امریکہ کے لیے بیس سال تک پاکستان ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ لڑتا رہا ہے، ہم نے خود جانیں گنوائی ہیں، جس میں 80 ہزار سے زیادہ ہمارے شہری اور فوجی مارے گئے ہیں۔
اس کے باوجود لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک ٹرانزیکشنل ریلیشن شپ ہے۔ عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے۔ میرا سب سے یہی سوال ہے کہ اس دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں، آپ مجھے کوئی ایک ریلیشن شپ بتا دیجیے جو ٹرانزیکشنل نہیں ہے۔ ممالک آپس میں جو بھی کام کرتے ہیں، چاہے وہ تجارت ہو، چاہے وہ کمیونیکیشن ہو، چاہے وہ سفارتی تعلقات ہوں، یہ کسی بنیاد پر ہوتے ہیں، وہ بھائی چارے پر نہیں ہوتے۔ اگر سعودی عرب ہمیں پیسے دیتا ہے، یا چائنہ سے ہم قرض لیتے ہیں، تو وہ پیار محبت میں یہ نہیں دیتے، ان کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے، ہمیں بھی ان کی ضرورت ہے۔ یہ سب ٹرانزیکشنل ہے۔ دیکھیں، جو پیسہ پاکستان میں 1980ء کی دہائی کے دوران آیا ہے وہ پاکستان کے لیے بہت کرامت ثابت ہوا ہے، اور ظاہری بات ہے کہ وہ جوہری پروگرام کی طرف منتقل ہوا، وہاں خرچ ہوا ہے۔ میں تو یہی کہوں گی کہ امریکہ سے زیادہ فائدہ مند پاکستان کے لیے ابھی تک کوئی نہیں رہا۔
پاکستان کا میزائل پروگرام
شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان کے جو تعلقات رہے اس حوالے سے اب بہت سی دستاویز سامنے آ چکی ہیں کہ ان کے ساتھ چیزوں کا تبادلہ ہوا، ایک دوسرے سے ڈیزائنز اور میزائلز وغیرہ لیے گئے۔ اسی طرح چائنہ کے حوالے سے بھی بہت زیادہ ڈاکومنٹیشن دستیاب ہے۔ لیبیا کے حوالے سے بھی موجود ہے، اور لیبیا پر اگر پابندیاں نہ ہوتیں اور اس پر دباؤ نہ ہوتا تو شاید وہ بھی ڈیزائن استعمال کر کے ایک ایٹمی ریاست بن سکتا تھا، لیکن انہوں نے پھر دباؤ میں آ کر نام لیا، اس طرح بلیک مارکیٹ نیٹ ورک ٹوٹ گیا۔ میں پھر کہوں گی کہ اس میں ڈاکٹر عبد القدیر خان اکیلے نہیں تھے، اس میں 32 ممالک شامل تھے۔ چونکہ لٹریچر میں ہر جگہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام ہے، تو پڑھنے والے لوگ انہی کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ اس میں سوئٹزرلینڈ تھا، اور بہت سے ممالک شریک تھے، آپ ان کی لسٹ دیکھ لیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام لیا جاتا ہے کہ ایسا کرنا آسان ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس بیانیے کو ختم کرنے کے لیے جو کام ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، اس پر اتنا لکھا نہیں گیا۔ شاید ہم نے سوچا کہ وقت کے ساتھ یہ بات ختم ہو جائے گی، لیکن اس کے اوپر لکھنا چاہیے، ہماری نئی جنریشن کو اس پر لکھنا چاہیے کہ وہ اکیلے نہیں تھے، لیبیا کو جو پروگرام یا ڈیزائنز ملے، یا ایران کو جو ری ایکٹرز کے ڈیزائنز ملے، تو اس میں پورا نیٹ ورک شریک تھا۔ میں خیال ہے کہ جہاں جہاں پاکستان کو ضرورت پڑی ہے اس نے اپنے فائدے کے لیے تعلقات استعمال کیے ہیں۔
ایٹمی پروگرام: ڈیٹرنس یا معیشت پر بوجھ؟
یہ ایک بہت بڑی بحث ہے، لیکن ڈیٹرنس کے حوالے سے جوہری ہتھیاروں کا جو بنیادی کردار ہے وہ تبدیل نہیں ہوا۔ آپ پاکستان اور انڈیا کے بحرانوں کا جائزہ لیں، کارگل کے بعد سے جتنے بھی بحران آئے ہیں، 2001ء کا، 2002ء کا، اس کے بعد پاکستان انڈیا CBMs (باہمی اعتماد بات چیت) پر بات کرنے کے لیے بیٹھے، اس کے بعد ممبئی کا بحران تھا، اڑی، پٹھان کوٹ، پلوامہ، تو آپ جنگ کی طرف کیوں نہیں گئے؟ آپ جنگ کی طرف جا سکتے تھے اور پاکستان نے کئی جنگیں لڑی ہیں انڈیا کے ساتھ۔ لیکن جب تک سٹریٹیجک لیول پر یہ ایک خوف موجود ہے کہ جوہری ہتھیار استعمال ہو سکتا ہے، اور جب سے پاکستان نے نصر بنایا ہے جو مختصر 60 کلومیٹر فاصلے کا جوہری ہتھیار لے جانے والا میزائل ہے، یہ سب چیزیں دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں، تو پاکستان کے مکمل دفاع کا جو تصور ہے، وہ یہ ہے کہ اسٹریٹیجک لیول سے لے کر سب کنونشنل لیول تک سب کا احاطہ کیا گیا ہے۔
میں اپنے سٹوڈنٹس کو ایک شعر سنایا کرتی ہوں کہ اگر ڈیٹرنس کو سمجھنا ہے تو وہ یہ ہے کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘۔ جب تک آپ کا یقین اس بات پر نہیں ہے کہ میں کسی بھی حد تک جا کر اپنا بچاؤ کروں گا چاہے میں خود ہی (ختم) کیوں نہ ہو جاؤں، تب تک ڈیٹرنس کام نہیں کرے گی۔ سو یہ ہمیشہ رہے گا۔
امریکہ تو اب چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف جا رہا ہے تاکہ وہ اس کو جنگ میں استعمال کر سکے۔ اس وقت جو ہتھیار ہیں وہ بہت بڑے ہیں، اس کا وزن بہت زیادہ ہے، اس کے کلو ٹن بہت زیادہ ہے، تو اس کی افادیت میں اور ایک چھوٹے قابل استعمال ہتھیار کی افادیت میں فرق ہے۔ تو اب دنیا اس طرف جا رہی ہے تاکہ ڈیٹرنس پر اعتماد بڑھایا جائے۔
اور ڈیٹرنس کے حوالے سے جو پابندیوں کی بات آپ نے کہی ہے، یا معیشت پر بوجھ پڑھنے کی بحث ہے، میرا خیال ہے کہ جب پاکستان نے یہ دکھا دیا ہے کہ ہمارا دفاع مضبوط ہے اور ہمارے پاس نیوکلیئر ڈیٹرنس موجود ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ قابل اعتماد بنانے کے لیے مزید بہتری لانی ہو گی کیونکہ انڈیا اس میں تجدید کر رہا ہے تو پاکستان کو بھی کرنی ہو گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہتھیار کے مقابلے میں ہتھیار بنائیں، پلیٹ فارم کے مقابلے میں پلیٹ فارم بنائیں، میزائل کے مقابلے میں میزائل بنائیں، یہ ضرورت سے زیادہ ہو جائے گا۔ پاکستان اور انڈیا کے پاس ایک دو ہتھیار ہونا کافی ہیں ایک دوسرے کو اڑانے کے لیے۔
پاکستان نے جب اپنا دفاع مضبوط بنا لیا تو اب پاکستان کو اپنی معیشت پر زور دینا چاہیے، پاکستان کی تعلیم اور صحت کے شعبے اس بات کے حقدار ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ اور جب تک آپ کی معیشت مضبوط نہیں ہو گی، آپ اپنے دفاع کو بھی مضبوط نہیں رکھ سکتے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ جی جوہری ہتھیار آپ کی معیشت کو تباہ ہونے سے بچا لیں گے، تو یہ بالکل نہیں بچا پائیں گے۔ ہاں جغرافیائی سالمیت اور آپ کی خودمختاری کو بچانے کے لیے ان کا ہونا لازمی ہے۔ اور انڈیا کے ذہن میں جو ایک خوف ہے وہ ہمارے ان ہتھیاروں کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ان کو ہماری کمزوریوں اور ہمارے مسائل کا بھی پتہ ہے، تو اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’ٹی ٹی پی‘‘ کو یا تخریبی عناصر کو فنڈ کر کے وہ پاکستان کو توڑ سکتے ہیں، تو یہ پاکستان کی ایک ریڈ لائن ہے، پاکستان کو اس کے اوپر کام کرنا چاہیے، اور اس کے لیے آپ کو مضبوط معیشت چاہیے، ایک مضبوط موقف چاہیے جس میں عام شہری ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، اور یہ جنگ جو پانچویں چھٹی سطح تک پہنچ چکی ہے، جس میں انفرمیشن ایک بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے، اس کی طرف سٹریٹجی بنانی چاہیے۔ مجھے دفاع کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہے، لیکن ہاں ایک حد سے زیادہ اب اس کو مزید بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، اس کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، اور جو آپ کے وسائل وہاں خرچ ہو رہے ہیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ انہیں بچا کر کہیں اور لگایا جا سکتا ہے تو ایسا کرنا چاہیے۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام کتنا محفوظ؟
اس حوالے سے پاکستان ہمیشہ خبروں میں رہا ہے، 2001ء کے بعد سے یہ باتیں ہوتی آ رہی ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار دہشت گرد لے جائیں گے، اگر تو یہ کوئی شب برات کے پٹاخے ہوتے تو وہ شاید لے جاتے، لیکن سیفٹی اور سکیورٹی پاکستان کے جوہری پروگرام کے دو بنیادی اجزاء ہیں، اور دونوں کے لحاظ سے پاکستان کے ہتھیار انتہائی محفوظ حالت میں ہے، کسی دہشت گرد کو اس تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ ایک دفعہ میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے انٹرویو کر رہی تھی، انہوں نے یہ کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ایسی حالت میں ہیں کہ ان کا وارہیڈ میزائل کے ساتھ ہی نہیں پڑا ہوا، بلکہ وارہیڈ کے اپنے حصے کئی مختلف جگہوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ تو اس سے زیادہ محفوظ حالت کیا ہو گی کہ ہتھیار کو قابل استعمال بنانے کے لیے آپ کو مختلف جگہوں سے جا کر اس کو جمع کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ اگر جب ہتھیار بن بھی جاتا ہے تو اس کے استعمال کے لیے جو کوڈز استعمال ہوتے ہیں وہ تین مختلف لوگوں کے پاس ہوتے ہیں، جب تک وہ کوڈز اکٹھے نہیں ہوں گے وہ ہتھیار نہیں چلے گا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے۔ اگر ہم چاہتے کہ ایسی حالت میں رکھیں کہ وہ فوراً ہی استعمال ہو سکیں تو یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوتا۔ جیسا کہ امریکہ اور روس کا ہے کہ ان کے ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار ہائی الرٹس پر ہیں۔ تو دنیا کو ان کی فکر کرنی چاہیے نہ کہ پاکستان کے ہتھیاروں کی جو قابل استعمال حالت میں موجود ہی نہیں ہیں۔ اور ایسا اس لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ جب بھی کوئی بحران ہو تو فوراً ہی کوئی جذباتی فیصلہ نہ کر لیا جائے، اس پر سوچا جائے کیونکہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ آپ کے پچھلے صحن میں پڑے ہوئے ہیں اور کوئی آ کر اٹھا لے جائے، ایسا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
یہ سب پروپیگنڈا ہے پاکستان کے پروگرام کے خلاف۔ پاکستان کی نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان کا اٹامک انرجی کمیشن، پاکستان کی اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، اور پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نہایت محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ سیفٹی اور سکیورٹی کے متعلق ایک باقاعدہ نظام ہے۔ IAEA جیسی آرگنائزیشن نے پاکستان کو ہر فورم پر سراہا ہے، اور پاکستان کے ہاں ’’نیوکلیئر سینٹر آف ایکسیلنس‘‘ بنایا ہے پاکستان کے حفاظتی نظام کو دیکھتے ہوئے۔
یہ بہت سی چیزیں ہیں جو عام لوگوں کو نہیں معلوم، اور کیونکہ جب تک سنسنی خیز چیز نہ ہو تو لوگ خبریں نہیں سنتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ پاکستان کا سیکیورٹی اور سیفٹی کا جو نظام ہے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے وہ کسی بھی جوہری ریاست کے اعلیٰ سے اعلیٰ نظام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
کیا پاکستان دنیا کے لیے اب بھی اہم ہے؟
پاکستان کا جو جغرافیائی محل وقوع ہے، میں سمجھتی ہوں کہ وہ پاکستان کے لیے مسئلہ بھی رہا ہے اور پاکستان کے لیے نعمت بھی رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں مختلف لیڈرز اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی رسائی میں روس اور چائنہ دونوں ہیں، اور آج کل سوپرپاورز کی کشمکش میں یہ امریکہ کے لیے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ تو پاکستان کے جغرافیہ کو دیکھتے ہوئے جب ’’چائنہ پاکستان ایکنامک کوریڈو‘‘ کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور آیا تو امریکہ یہ خدشہ تھا کہ اس کے پاکستان کے ساتھ ویسے تعلقات نہیں رہیں گے، جیسا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت استعمال کر کے اب تک جو کام وہ کرتا آیا ہے، وہ تعلقات شاید ختم ہو جائیں، اور پاکستان کا جھکاؤ چائنہ کی طرف زیادہ ہو جائے۔ اور ابھی آپ نے دیکھا ہے یہ 20 سال کے بعد امریکہ نے افغانستان سے جو اپنی فوجیں نکالی ہیں، تو اب اس کو واپس اس خطہ میں آنے کے لیے کوئی ملک اجازت دے گا تو وہ پاکستان ہو گا۔
چنانچہ پاکستان کی اہمیت موجود ہے، چاہے وہ امریکہ کے لیے ہو، چائنہ کے لیے ہو، وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ہو، اقتصادی ترقی کے لیے، یا خطوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے حوالے سے ہو۔ تو پاکستان بہت زیادہ اہم ہے، نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ ہمارے جو ہمسائے میں ممالک ہیں ان کے لیے بھی۔ اگرچہ پاکستان اپنی اس حیثیت کا پچھلے پچھتر سالوں میں جو فائدہ اٹھا سکتا تھا، وہ نہیں اٹھا پایا، لیکن اب اگلے پچھتر سال پر پاکستان کی نظر ہونی چاہیے اور ان سب طاقتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ اگر امریکہ کی یہاں اس وقت موجودگی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگلے پچھتر سال میں بھی نہیں ہو گا۔
پاکستان کو متوازن تعلقات قائم کرنا ہوں گے، امریکہ کے ساتھ، چائنہ کے ساتھ اور روس کے ساتھ بھی۔ اور یہ تب ہو گا جب آپ کے پاس ایسی قیادت ہو گی جو اگلے پچھتر سال کے بارے میں سوچے گی کہ اس میں پاکستان کا بنیادی قومی مفاد کیا ہے۔ پاکستان کا بنیادی مفاد حفاظت کا ہے اور مضبوط معیشت کا ہے، اسی سے دنیا میں بھی آپ کی عزت ہو گی، آپ علاقائی روابط کا مرکز بنیں گے اور یہاں سے سب ملک آپس میں منسلک رہیں گے، اور آپ کی معیشت مضبوط ہو گی۔ اور یہ تب ہو گا جب خطے میں پیس اینڈ سکیورٹی ہو گی، جس کے لیے ابھی اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں امن و امان کا نہ ہونا ہے۔
تو میرا خیال یہ ہے کہ اگلے پچھتر سال کے لیے اگر پاکستان ایسی سٹریٹجی بناتا ہے کہ اپنے جغرافیائی محل وقوع سے وہ فائدہ اٹھا سکے جو وہ پہلے نہیں اٹھا سکا۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ابھی تک قسمت کا بڑا عمل دخل رہا ہے، اگر روس 1979ء میں افغانستان نہ آتا اور وہاں دس سال نہ رہتا تو شاید پاکستان کا راستہ آج مختلف ہوتا، اور ہم جوہری ریاست بن تو سکتے تھے کہ جب ارادہ کر لیا تو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا تھا، لیکن اس کے اوقات شاید مختلف ہوتے، اور ہمارے آج کے حالات مختلف ہوتے، ہمارے تعلقات مختلف ہوتے، تو پاکستان کا جغرافیہ اس کے لیے بہت بڑی نعمت ہے اگر اس کے حوالے سے باقاعدہ منصوبہ سازی کی جائے۔
ایٹمی قوت کے حصول کا سفر اور ایٹمی سائنسدانوں کا ’’جرم‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ایٹمی قوت کے حصول کا سفر
بھارت کا پہلا ایٹمی تجربہ
انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا۔
ایٹمی توانائی کا دو طرفہ پہلو
ایٹم اس دور میں قوت و توانائی کا محور شمار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس قوت سے بہرہ ور ممالک ہی آج دنیا کے بڑے ممالک سمجھے جاتے ہیں اور عملاً دنیا کی قیادت انہی ممالک کے ہاتھ میں ہے۔ حتیٰ کہ اقوام عالم کے مابین عدل و انصاف کے سب سے بڑے علمبردار ادارہ اقوام متحدہ میں بھی ایٹمی قوتوں کو خصوصی اور امتیازی مراعات و اختیارات حاصل ہیں۔ ایٹم جہاں قوت و توانائی کا نشان ہے وہاں تباہی و بربادی کا بھی ایک خوفناک ذریعہ ہے۔ اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تہذیب و امن کی نام نہاد پرچارک بڑی طاقتوں نے اس عظیم قوت کو انسانیت کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی بجائے تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ نتیجتاً ایٹمی ہتھیاروں کی آج اس قدر بہتات ہو چکی ہے کہ خود ایٹمی طاقتیں دوسری اقوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بسا اوقات ایٹمی اسلحہ میں تخفیف کی بات کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
بڑی طاقتوں کے اسی دوہرے کردار کے باعث وہ ایٹم جو انسانی ترقی و فلاح میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے آج اس کا نام زبان پر آتے ہی تباہی و بربادی کے ہولناک تصورات ذہنوں میں لرزنے لگتے ہیں گویا ’’ایٹم‘‘ اور ’’تباہی‘‘ مترادف لفظ ہیں۔ اسی بنا پر بھارت کے اس دعوے کو عالمی رائے عامہ نے کوئی وقعت نہیں دی کہ وہ ایٹمی قوت کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا کیونکہ اس کی پیشرو ایٹمی قوتوں نے ’’پر امن مقاصد‘‘ کے حسین خول اور ’’تخفیف اسلحہ‘‘ کی خوبصورت اوٹ میں ہی انسان کی ہلاکت و خانماں بربادی کے سامان تیار کیے ہیں بلکہ دن رات ان ہتھیاروں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمِ اسلام کی خودانحصاری کا تقاضہ
ایٹمی طاقتوں میں ایک اور کے اضافے سے عالمی سطح پر کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی اور برصغیر میں کونسی اور حقیقتیں تسلیم کی میز پر رونمائی کے لیے تشریف فرما ہوں گے، اس کے بارے میں صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔ سردست ہم عالم اسلام کے قائدین کو اس طرف توجہ دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بھی اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں اور بڑی طاقتوں کے مفادات سے الگ ہو کر کچھ دیر کے لیے اپنے سود و زیاں کی بابت سوچیں۔ آخر عالم اسلام کب تک بے یقینی کی اس دلدل میں پھنسا رہے گا؟ جہاں تک وسائل کا تعلق ہے عالم اسلام کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن ان وسائل پر اغیار کا تسلط ہے اور مسلم ممالک اپنے وجود کی حفاظت تک کے لیے ’’دشمن‘‘ سے تحفظ کے حصول پر مجبور ہیں۔ عالم اسلام کے قائدین کو یہ باور کر لینا چاہیے کہ مسلم ممالک کا روشن مستقبل بڑی طاقتوں کے دامن سے وابستہ ہو کر سیاسی و دفاعی تحفظ کے حصول میں نہیں بلکہ اپنے تمام تر وسائل کو مجتمع کر کے صنعتی و دفاعی سائنس میں بڑی طاقتوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے میں مضمر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنی استطاعت اور وسائل کی حد تک قوت فراہم کرو۔ اور آج کے دور میں قوت و طاقت کے بغیر کسی قوم کا باوقار طور پر زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اس لیے ہم جس قدر جلد یہ راستہ اختیار کر لیں گے عالم اسلام کے لیے مفید اور یقین و اعتماد کا باعث ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے قائدین کو صحیح سمت چلنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۲۴ مئی ۱۹۷۴ء)
کینیڈا سے ایٹمی مواد کے حصول کا معاملہ
قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ کینیڈا نے کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کے لیے ایندھن وغیرہ سے جو انکار کیا ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اتنی کامیاب نہیں جتنی کہ اس کی تشہیر کی جاتی ہے چنانچہ میں نے ایک موقع پر قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کرنا چاہی تھی مگر حکومت اس مسئلہ پر بحث سے گریزاں ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء)
مفتی صاحب کے اس بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات محمد حنیف خان سیخ پا ہوئے ہیں اور روزنامہ امروز لاہور ۷ جنوری ۱۹۷۷ء کے مطابق:
’’وفاقی وزیر اطلاعات مسٹر محمد حنیف خان نے مفتی محمود کے بیان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جس میں مفتی صاحب نے حکومت پاکستان پر یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے کینیڈا سے ایٹمی مواد حاصل کرنے کے لیے منفی رویہ اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مفتی محمود سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کینیڈا کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے؟ مسٹر محمد حنیف نے کہا کہ مفتی محمود نے اس سلسلہ میں جو بیان دیا ہے وہ ان کے اپنے احساس کمتری کا مظہر ہے۔‘‘
اسے کہتے ہیں کہ ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘۔ سوال یہ ہے کہ مفتی صاحب نے کب کہا ہے کہ پاکستان کو کینیڈا کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہئیں، انہوں نے تو کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی سے انکار کو پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اور محمد حنیف خان صاحب کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ایٹمی مواد کی فراہمی سے کینیڈا کا انکار ایک الگ مسئلہ ہے، اور کینیڈا کی شرائط اور دباؤ کو قبول کرنے سے پاکستان کا انکار الگ مسئلہ ہے۔ بحث پاکستان کے انکار پر نہیں، کینیڈا کے انکار پر ہے۔ اور مولانا مفتی محمود نے یہی سوال اٹھایا ہے کہ حالات نے یہ رخ کیوں اختیار کیا کہ کینیڈا نے ایٹمی مواد فراہم کرنے سے انکار کر دیا، اس انکار کا پس منظر کیا ہے، اس کے محرکات و عوامل کیا ہیں، اور کیا کوئی بھی عقلمند شخص اس انکار کے پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متحرک، مضبوط اور کامیاب قرار دے سکتا ہے؟ محمد حنیف خان صاحب کو چاہیے کہ وہ خلط مبحث کر کے عوام کو ذہنی خلجان میں مبتلا کرنے کی بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ مولانا مفتی محمود کے سوال کا سامنا کریں اور عوام کو بتائیں کہ کامیاب اور متحرک خارجہ پالیسی کا دعویٰ کرنے والی حکومت پاکستان کینیڈا کو ایٹمی مواد کی فراہمی سے کھلم کھلا انکار سے باز کیوں نہیں رکھ سکی؟ رہی بات احساس کمتری کی تو اس کا مظہر مولانا مفتی محمود کا بیان نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا رویہ ہے جو قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی کو زیر بحث لانے سے مسلسل گریزاں ہے اور جسے پارلیمنٹ میں بحث کی صورت میں خارجہ پالیسی کی کامیابی کے بارے میں پراپیگنڈا کے غبارے سے ہوا نکلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۱۴ جنوری ۱۹۷۷)
فرانس سے ایٹمی پلانٹ خریدنے کا معاملہ
امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ (ملخص از جنگ کراچی ۸ جنوری ۱۹۷۸ء)
پاکستان کے بارے میں امریکہ کا رویہ باہمی دفاعی معاہدوں کے باوجود ہمیشہ محل نظر رہا ہے اور مذکورہ بالا خبر غماز ہے کہ ابھی تک امریکہ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر لیا اور وہ اسلحہ کے معاملہ میں کافی حد تک خود کفالت کی راہ پر گامزن ہے لیکن پاکستان کا فرانس سے ایٹمی پراسیسنگ پلانٹ خریدنے کا معاملہ ابھی تک امریکہ کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔ حالانکہ پاکستان بار بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی پلانٹ کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔
ہماری رائے میں پاکستان کو بڑی طاقتوں پر سہارا کرنے کی بجائے خود اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ کام میں لانے اور اسلامی ممالک کے تعاون سے اسلحہ کی بھاری صنعت کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی راستہ پاکستان اور عالم اسلام دونوں کے لیے عزت و وقار اور سلامتی کا واحد راستہ ہے۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء)
چھوٹے ملکوں کا دفاع برطانوی وزیر اعظم کی نظر میں
برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے گزشتہ دنوں اپنے دورۂ روس کے دوران ماسکو ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اصولی طور پر چھوٹے ملکوں کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی چھوٹا ملک ایٹم بم کے بغیر اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ایٹم بم ہی قیامِ امن کا ضامن بنا تھا۔ (بحوالہ روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۷ء)
ایٹمی توانائی پر بڑے ممالک کی اجارہ داری
ایٹمی توانائی آج کے دور میں ایک قوت ہے جو دفاع اور ترقی دونوں شعبوں میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے لیکن عالمی قوتیں، جن میں خود برطانیہ بھی شامل ہے، ایک عرصہ سے ایٹمی ٹیکنالوجی پر بڑی قوتوں کی اجارہ داری قائم رکھنے اور چھوٹے ممالک بالخصوص عالمِ اسلام کو ایٹمی قوت سے محروم رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کی ہر ممکن کوشش چلی آرہی ہے کہ ایٹمی توانائی کا دائرہ بڑی طاقتوں کے مخصوص مفادات سے تجاوز نہ کرنے پائے۔ عالمِ اسلام اپنے گرد عالمی طاقتوں کی سازشوں کے حصار کے باعث ابھی تک جدید ٹیکنالوجی اور ایٹمی توانائی کے جائز حقوق اور وسائل سے محروم ہے اور جو مسلم ممالک ان عالمی سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود ایٹمی قوت کے حصول کی راہ پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں قدم قدم پر مزاحمت کا سامنا ہے۔ عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی اور پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی سنٹر پر حملہ آور ہونے کی کوششیں اسی عالمی دہشت گردی کا ایک حصہ ہیں۔
جدید دفاعی صلاحیت کے حصول کا قرآنی حکم
ہمارا موقف شروع سے یہ رہا ہے کہ ایٹمی قوت پر کسی طاقت کی اجارہ داری نہیں ہے اور ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ترقی اور دفاع کے لیے ایٹمی توانائی کے حصول کی کوشش کرے۔ بالخصوص عالمِ اسلام کے لیے ایٹمی توانائی کا حصول اس لیے بھی ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق وقت کی جدید ترین قوت کا حصول مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ بہرحال اس پس منظر میں برطانوی وزیراعظم کی طرف سے ایٹم بم بنانے کے لیے چھوٹے ممالک کی کوششوں کی حمایت ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے جو ان طاقتوں کے موقف میں محسوس کی جا رہی ہے اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سچائی اور استحقاق ایک ایسی لازوال قوت ہے جسے زیادہ دیر نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مسترد کیا جا سکتا ہے۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء)
پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی پابندیوں کی زد میں
امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی اس قرارداد پر ایک نظر ڈال لینا بھی مناسب ہوگا جسے پاکستان میں امریکی لابی پاکستان کی بہت بڑی فتح قرار دینے پر مصر ہے اور اسے امریکہ کی پرخلوص پاکستان دوستی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹ کی قرارداد
اس قرارداد کی خبر روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء کو ’’امریکی امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا گیا‘‘ کی شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا جس کا متن یہ ہے:
’’امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کو چھ سال کے عرصے کے دوران چار ارب دو کروڑ ڈالر کی امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں قرارداد کی آٹھ کے مقابلے میں گیارہ ووٹوں سے منظوری دے دی ہے۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قرارداد کے مسودہ میں یہ شرائط بھی شامل ہیں کہ امریکی حکومت کو ہر برس یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ پاکستان نہ تو ایٹم بم بنا رہا ہے اور نہ ہی دوسری اقوام کو ایٹم بنانے کی تیاری میں کوئی مدد دے رہا ہے۔ وائس آف امریکہ نے مزید بتایا کہ قرارداد کے مسودہ میں امداد کی فراہمی کے ضمن میں پاکستان میں جمہوری عمل کے مسلسل جاری رہنے، انسانی حقوق کے احترام اور مذہبی آزادیوں کی شرائط بھی شامل ہیں۔ اب سینٹ اور ایوان نمائندگان میں علیحدہ علیحدہ پاکستان کو امداد کی فراہمی کی قراردادوں پر رائے شماری ہوگی اور یہ عمل جون تک مکمل ہو جائے گا۔‘‘
جبکہ روزنامہ جنگ کے خصوصی مضمون نگار جناب ارشاد احمد حقانی نے جنگ لاہور کی ۵ مئی ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ’’مشروط امریکی امداد اور پاکستان کا ردِعمل‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی مذکورہ قرارداد کے کچھ حصوں کا ترجمہ شامل کیا ہے جو ان کے الفاظ میں یوں ہے کہ ’’……اگر بھارت اپنی جوہری سہولتوں اور ساز و سامان پر جامع تحفظات قبول کرے تو پاکستان کو ملنے والا استثناء ختم ہو جائے گا۔ ہاں اگر صدرِ امریکہ یہ تصدیق کر دیں کہ پاکستان نے بھی ویسے ہی تحفظات قبول کر لیے ہیں تو اس کی امداد جاری رہ سکے گی‘‘……
عالمِ اسلام کے بارے میں عالمی قوتوں کا خوف
جہاں تک پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کا مسئلہ ہے یہ عالمی قوتوں کی اس طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے کہ عالمِ اسلام کے کسی ملک کو ایٹمی قوت کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے کیونکہ وہ اپنے طور پر یہ سمجھے بیٹھی ہیں کہ مسلمانوں کے اندر جہاد کا جو جذبہ ہے اگر وہ منظم ہوگیا اور اسے ایٹمی قوت کا سہارا بھی مل گیا تو جذبے اور قوت کا یہ امتزاج مسلمانوں میں عظمتِ رفتہ کی بحالی کے تصور کو اجاگر کر دے گا۔ اور ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ملتِ اسلامیہ ایک بار پھر عالمی قوت کی حیثیت سے ابھرے اور اپنے دورِ زوال کے عرصے میں جنم لینے والے سیاسی، نظریاتی اور معاشی نظاموں کو میدانِ عمل میں شکست دے کر دنیا میں ایک بار پھر اسلام کی بالادستی کا پرچم بلند کر دے۔
یہی وہ خوف ہے جو عالمی قوتوں کو مسلم ممالک کے اندرونی معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخیل ہونے پر مجبور کر رہا ہے اور اس خوف کی ایک ہلکی سی جھلک امریکہ کے سابق صدر مسٹر نکسن کی طرف سے روسی دانشوروں کو دی جانے والی اس دعوت میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں انہوں نے عالمِ اسلام کے مختلف ممالک میں ابھرنے والی دینی بیداری کی تحریکات کو امریکہ اور روس کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے روسی دانشوروں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اس خطرہ کا احساس کریں اور امریکہ کے ساتھ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر عالمِ اسلام کی دینی بیداری کی تحریکات کو غیر مؤثر بنانے کے لیے امریکی دانشوروں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی وضع کریں۔
سامراجی قوتوں کا یہ خوف بجا ہے لیکن اس خطرہ کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو ایٹمی قوت اور نظریاتی بیداری سے محروم رکھنے کی سازشیں کرنا ایسا طریقِ کار نہیں ہے جسے جرأت مندانہ یا اخلاقی طرزِ عمل قرار دیا جا سکے۔ مقابل کو ہتھیاروں اور مقابلہ کے مساویانہ ذرائع سے محروم رکھنے کی سوچ بنیادی طور پر خود اعتمادی کے فقدان کی دلیل ہے۔ امریکہ، روس اور دیگر بڑی قوتوں میں اپنے نظریات اور نظاموں کے بارے میں خود اعتمادی کا یہ فقدان ہی ان قوتوں کی ایسی پالیسیوں کا باعث بن رہا ہے جن کا مقصد عالمِ اسلام کو جدید ترین ٹیکنالوجی، ایٹم بم کی دفاعی قوت اور نظریاتی بیداری سے ہر حالت میں اور ہر قیمت پر روکنا ہے۔
عراق کی ایٹمی تنصیبات کی تباہی کے بعد پاکستان پر نظر
ہمیں عالمی قوتوں کی اس اجارہ دارانہ روش کے بارے میں بہرحال کوئی دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔ مسلمان دنیا میں ایک ارب کے قریب ہیں اور ان کے آزاد ممالک کی تعداد نصف صد کے لگ بھگ ہے لیکن وہ ایٹم بم جیسے ضروری ہتھیار سے محروم ہیں۔ عراق کا ایٹمی مرکز تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات ہر وقت دشمن کے حملے کی زد میں ہیں اور عالمی قوتوں کی مسلسل سازشوں کے حصار میں ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اگر امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو پاکستان کو اس کا حق کیوں نہیں ہے؟ اور اگر ان اجارہ دار قوتوں کو بھارت اور اسرائیل کا ایٹمی قوت ہونا گوارا ہے تو پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے تصور سے ان کی نیندیں کیوں حرام ہو جاتی ہیں۔ ایٹم بم پاکستان کا بلکہ عالمِ اسلام کا حق ہے، اور صرف حق نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی زبان میں یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ وقت کی جدید ترین قوت کو اس حد تک حاصل کریں جس سے وہ اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکیں اور طاقت کا توازن ان کے حق میں ہو۔ آخر امریکہ اور روس کی فوجی پالیسوں کا محور بھی تو یہی ہے کہ مخالف پر رعب اور خوف کی کیفیت طاری کر کے طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھا جائے۔ اس لیے اگر یہی بات قرآن کریم نے مسلمانوں سے کہہ دی ہے اور مسلمان اس مذہبی فریضہ کی تکمیل کے لیے ایٹم بم بنانے کے خواہاں ہیں تو اس پر پیشانیوں کو شکن آلود کر لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ہمارے نقطۂ نظر سے ایٹم بم پاکستان کی ضرورت اور اس کا جائز حق ہے اور اسے اس حق سے محروم رکھنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کے ساتھ دوستی کا عنوان اختیار نہیں کر سکتی۔ اس پسِ منظر میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی امداد کے لیے ایٹم بم نہ بنانے کی شرط سراسر غیر منصفانہ ہے جس کے بارے میں حکومتِ پاکستان کو دوٹوک اور جرأت مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دینا چاہیے۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور۔ ۲۶ جون ۱۹۸۷ء)
سی ٹی بی ٹی پر دستخط کا عالمی دباؤ
قومی حلقوں میں ان دنوں ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے سی ٹی بی ٹی (Comprehensive Nuclear-Test-Ban Treaty) پر دستخط کے لیے حکومت پاکستان کی آمادگی زیر بحث ہے اور اسے امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر اس پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ مجوزہ معاہدہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۵۱ ویں اجلاس میں زیر بحث آنے والا ہے اس کے تحت ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو کسی بھی ملک کی ایٹمی تنصیبات کو چیک کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس سمجھوتے کے ضمن میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ایٹمی توانائی کے حوالہ سے بین الاقوامی طاقتوں کی قائم کردہ حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کی اقتصادی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنے کا اختیار بھی عالمی ادارے کو مل جائے۔
اس وقت دنیا میں امریکہ، روس، چین، فرانس، اور برطانیہ باضابطہ طور پر ایٹمی قوت شمار ہوتے ہیں جبکہ اسرائیل، بھارت، اور پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور بھارت اپنی ایٹمی صلاحیت کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت غیر اعلان شدہ ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں کے بقول عالمی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی توانائی کے حصول کا پروگرام منجمد کیا جا چکا ہے اور اسے رول بیک کرنے کے لیے دباؤ جاری ہے۔
بھارت اور پاکستان کا دستخط سے انکار
سی ٹی بی ٹی پر پاکستان اور بھارت دونوں اب تک دستخط کرنے سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں اور پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ جب تک بھارت اس پر دستخط نہ کر دے پاکستان دستخط نہیں کرے گا کیونکہ یہ علاقہ میں فوجی قوت کے توازن کا مسئلہ ہے جس سے صرف نظر کرنا پاکستان کی سالمیت کے منافی ہوگا۔ مگر اب جبکہ بھارت دستخط سے انکار پر بدستور ڈٹا ہوا ہے، حکومت پاکستان نے اس سمجھوتے پر یکطرفہ طور پر دستخط کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جس پر قومی حلقوں میں بجا طور پر تشویش و اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی فوجی قوت کے بارے میں بھی امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کے اس دباؤ کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان اپنی قوت کو کم کر دے اور دفاعی اخراجات کو عالمی قوتوں کی مقرر کردہ حدود میں لے آئے، اس صورت میں پاکستان کے دفاع کی ضمانت دینے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔
قومی خودکشی سے بچنے کی قرآنی ہدایت
ہم اس موقع پر اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ایک مسلمان ملک ہونے کے علاوہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے نافذ العمل دستور کی رو سے بھی ہم ہر معاملہ میں شرعی حدود کے دائرہ میں رہنے کے پابند ہیں۔ فوجی قوت کے بارے میں قرآن کریم نے ایک ہی جملہ میں مسلمانوں کو واضح ہدایت دے دی ہے کہ ’’واعدّوا لھم ما استطعتم من قوۃ‘‘ (سورہ انفال ۸ ۔ آیت ۶۰) ’’اور ان کے مقابلہ میں جتنی قوت تمہارے بس میں ہو فراہم کرو‘‘۔ اس کے ساتھ ہی اس کی حد بھی بیان فرمائی کہ ’’ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ (سورہ انفال ۸ ۔ آیت ۶۰) ’’تاکہ اس قوت کے ساتھ تم اللہ کے اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکو‘‘۔ آج کی اصطلاح میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ دشمن کے مقابلہ میں طاقت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی ترمذی شریف کی ایک روایت بھی ملاحظہ فرما لیں جس میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ انصار مدینہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد اپنے باغات اور کاروبار وغیرہ سے بے نیاز ہو کر ہمہ تن حضور علیہ السلام کے ساتھ ہوگئے تھے اور مسلسل جنگوں کی وجہ سے ان کی معاشی حالت خاصی متاثر ہو گئی تھی، غالباً غزوۂ خیبر کے بعد انہوں نے باہمی مشورہ کیا کہ اب اسلام کو پہلے کی طرح کا خطرہ نہیں رہا اور صورتحال خاصی بہتر ہو گئی ہے اس لیے ہمیں جہاد پر زیادہ خرچ کرنے کی بجائے اب اپنے باغات اور کاروبار سدھارنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اس موقع پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ‘‘ (سورہ البقرہ ۲ ۔ آیت ۱۹۶) ’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو‘‘۔
گویا اللہ رب العزت نے انصار مدینہ کو تنبیہ فرمائی اور دفاعی اخراجات کی کمی کو ’’قومی خودکشی‘‘ قرار دیا۔ ان احکام الٰہی کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلہ میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا اور دفاعی اخراجات میں کمی کی تجاویز قومی خودکشی کے مترادف ہیں۔ چنانچہ ہر باغیرت اور محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ اس پر جتنا احتجاج اس کے بس میں ہو وہ اس سے گریز نہ کرے۔
(روزنامہ وفاق، لاہور۔ ۲ اگست ۱۹۹۶ء)
معاشی خوشحالی کے سبز باغ آخر کس لیے؟
امریکہ بھارت کو ایٹمی طاقت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے اور اسرائیل کے پاس ایٹم بموں کی موجودگی پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں ہے، اور وہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کو اسلام، جہاد اور ایٹمی قوت تینوں سے محروم کر دینے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہے اور اسی لیے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے حامی عناصر کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کر دینے سے پاکستان کی ایٹمی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر اس کے عوض ملک کو بہت سی مراعات حاصل ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ جب ایٹمی قوت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا تو بہت سی مراعات آخر کس چیز کے عوض حاصل ہوں گی؟ اور مغرب کا یہودی ساہوکار ہم پر کس لیے اتنا مہربان ہو رہا ہے کہ کوئی معاوضہ وصول کیے بغیر وہ ہمیں مراعات سے مالامال کر دینا چاہتا ہے؟ ہمیں جن اقتصادی سہولتوں کی خوشخبری دی جا رہی ہے اور جس معاشی خوشحالی کے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں آخر وہ کس چیز کے بدلے میں ہیں؟ سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں سے پاکستان کی ایٹمی پوزیشن میں کوئی فرق نہ پڑنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے دانشور اگر اس گتھی کو سلجھا سکیں اور مغرب کے یہودی سرمایہ کاروں کی ہم پر متوقع بے تحاشا نوازشات کی وجہ بتا سکیں تو ان کی بے حد نوازش ہوگی۔
سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دینے کی حمایت میں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ دستخط کر دینے کا مطلب ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنا نہیں بلکہ مزید آگے بڑھنے سے روکنا ہے، جبکہ ہم اس وقت اتنی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں کہ ہمیں اس میں مزید پیشرفت کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اگر اپنے ایٹمی پروگرام پر سی ٹی بی ٹی کے ذریعے بین الاقوامی کنٹرول قبول کر لیتے ہیں اور خود کو ایک معاہدہ کا پابند کر لیتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بین الاقوامی کنٹرول کی کنٹرولنگ اتھارٹی آئندہ ہمیں اس ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے کبھی نہیں کہے گی؟ آخر اس معاملہ میں کنٹرولنگ اتھارٹی خود ہم تو نہیں ہیں بلکہ یہ پوزیشن انہی بین الاقوامی اداروں اور قوتوں کو حاصل ہے جو نصف صدی سے ہمارے خلاف بھارت اور اسرائیل کو ہر طرح سپورٹ کرتے چلے آرہے ہیں اور ہماری کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان قوتوں اور اداروں کو ہم گزشتہ پچاس برس سے دیکھ رہے ہیں بلکہ بھگت رہے ہیں اس لیے ان کی کسی بات اور کسی وعدے پر بھروسہ آخر کس طرح کیا جا سکتا ہے؟
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد۔ ۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء)
بھارت کے ایٹمی دھماکے اور پاکستان پر عالمی و داخلی دباؤ
بھارت نے پے در پے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے لیے اپنے خیال میں جو مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے اس پر قومی حلقوں میں مسلسل بحث جاری ہے۔ حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ پاکستان کو بھی اپنی ایٹمی پوزیشن اب عملاً واضح کرنا ہی پڑے گی۔ باخبر حلقوں کے مطابق پاکستان اس کی تیاری کر رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک یقیناً اس کی کوئی عملی شکل سامنے آ چکی ہو گی۔ ادھر امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی دھماکہ نہ کرے اور اس کے بدلے کچھ مراعات حاصل کر لے جن میں قرضوں میں چھوٹ کے علاوہ ایف سولہ طیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔
بھارتی بالادستی قبول کرنے کی ترغیب
ہمارے خیال میں اصل قصہ یہ ہے کہ امریکہ بہادر ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو چین کے خلاف ایک بلاک کی شکل دی جائے جس کی قیادت بھارت کے ہاتھ میں ہو، اور پاکستان بھارت کی قیادت اور بالادستی کو قبول کرتے ہوئے اس بلاک میں ایک فعال ممبر کی حیثیت سے شریک ہو۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے نومبر ۱۹۹۸ء کے دوران جنوبی ایشیا کے مجوزہ دورے سے پہلے امریکی حکام چاہتے ہیں کہ صورتحال واضح ہو جائے تاکہ صدر امریکہ کو اس موقع پر معاملات اور ترجیحات طے کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری تھا کہ بھارت ایٹمی دھماکے کر کے اپنے بالاتری کا عملی اظہار کرے جو اُس نے کر دیا ہے۔ اور یہ بھی اس مقصد کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان ایٹمی دھماکے سے گریز کرے تاکہ وہ بھارت کے برابر کی پوزیشن حاصل نہ کر سکے۔ اور اس طرح جنوبی ایشیا کو بھارت کی قیادت میں چین کے خلاف متحد کرنے کا پروگرام مکمل کرایا جائے۔
ایٹمی دھماکے سے گریز اور مسلح افواج کی ڈاؤن سائزنگ کی تجویزیں
پاکستان کو ایٹمی دھماکے سے روکنے اور اس کی مسلح افواج کی ڈاؤن سائزنگ کی تجویزوں کے پیچھے یہی خواہش کارفرما ہے، اور اس کے لیے مسئلہ کشمیر کے کسی نہ کسی حل سمیت پاکستان کو بہت سے مفادات کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ لیکن بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی رائے عامہ نے جس پرجوش ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ ہر لحاظ سے حوصلہ افزا ہے، اور کسی بھی حکومت کے لیے قوم کے اس جوش و جذبہ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔
جہاں تک پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ہمارا موقف شروع سے واضح ہے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو ایسی عسکری قوت کے حصول کا حکم دیا ہے جو دشمن پر مسلمانوں کا رعب قائم رکھنے کا باعث ہو۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا بھر کی مسلم حکومتیں اس قرآنی حکم پر عمل کے سلسلہ میں کوتاہی سے کام لے رہی ہیں جس کی وجہ سے عالمِ اسلام جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور ایٹمی قوت سے مسلسل محروم چلا آ رہا ہے۔ اب اگر پاکستان اس طرف عملی پیش قدمی کرتا ہے اور استعماری قوتوں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کرتا ہے تو یہ نہ صرف قومی حمیت کا اظہار اور غیور مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی ہو گی بلکہ قرآن کریم کے ایک واضح حکم کی تعمیل بھی ہو گی جو یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد اور فضل و رحمت کا باعث بنے گی۔
(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ جون ۱۹۹۸ء)
پاکستان کا پہلا ایٹمی تجربہ اور مستقبل کے تقاضے
بالآخر تاریخ کا وہ فیصلہ کن مرحلہ آپہنچا جس کا پوری ملت اسلامیہ کو ایک مدت سے انتظار تھا اور جس کے لیے لاکھوں پیشانیاں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوتی رہی ہیں اور جسے دیکھنے کی حسرت دل میں لیے کروڑوں مسلمان قبروں میں جا بسے۔ جب مجھے مقامی صحافی دوست جناب محمد شفیق نے فون کر کے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی خبر دی تو دل اور آنکھوں پر قابو نہ رہا۔ انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے کو کہا تو زبان کو الفاظ نہیں سوجھ رہے تھے۔ انہیں چند منٹ انتظار کا کہہ کر حواس کو مجتمع کیا اور دل و دماغ اور زبان کا رشتہ پھر سے جوڑ کر بمشکل چند جملے ترتیب دے سکا۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا خطاب
شام چھ بجے ٹی وی پر وزیراعظم کا خطاب سنا اور رات نو بجے خبرنامہ دیکھا تو خوشی کی انتہا نہ رہی کہ یہ کیفیت صرف میری نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ہے جو پاکستان کے لفظ کا معنیٰ سمجھتا ہے، پاکستان کے قیام کے مقصد سے آگاہ ہے اور مسلم ممالک کی برادری میں پاکستان کے مقام و مرتبہ سے باخبر ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں حالات کا جو تناظر پیش کیا ہے اور ایٹمی دھماکوں کے ناگزیر ہونے کے جو اسباب بیان کیے ہیں وہ بلاشبہ حقیقت پسندانہ ہیں اور ان پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے والا کوئی بھی شخص ان کی واقعیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن ان کے خطاب سے پہلے تلاوت کرنے والے قاری صاحب نے قرآن حکیم کی جن آیات کا انتخاب کیا وہ عالم اسلام کے موجودہ حالات اور ملت اسلامیہ کی دینی ذمہ داریوں کی بہت صاف اور واضح عکاسی کر رہی تھیں۔ انہوں نے سورۃ الاحزاب کی چند آیات پڑھیں جن میں غزوۂ خندق کا ذکر ہے۔……
پوری ملتِ اسلامیہ مبارکباد کی مستحق ہے
میاں محمد نواز شریف اور ان کی حکومت کو اس عظیم کارنامے پر قوم کے ہر طبقے اور ہر محب وطن شہری نے مبارک باد دی ہے۔ اس مبارک باد میں ہمارے قابل فخر سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر، جنرل ضیاء الحق مرحوم اور جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم بھی شریک ہیں۔ اور اپنے جوش و جذبہ کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑی رہنے والی پاکستانی قوم اور پاکستان سے اپنی امیدیں اور آرزوئیں وابستہ کرنے والی پوری ملت اسلامیہ ان سب سے زیادہ مبارک باد کی مستحق ہے۔ لیکن میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اور عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ان جیسے دیگر عالمی اداروں کے ظالمانہ چنگل سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
دنیا کی زندگی دینِ اسلام کی نظر میں
اسلام کی بنیادی تعلیم بھی یہی ہے کہ یہ دنیا خواہشات کی نہیں بلکہ ضروریات کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں خواہشات کسی بھی شخص کی پوری نہیں ہو سکتیں اور خواہشات کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے آخرت کی وسیع اور لامتناعی دنیا سجا رکھی ہے۔ اس لیے اس دنیا میں ہم سب اگر اپنے آپ کو ضروریات تک محدود رکھیں تو سوسائٹی کے ہر شخص کی ضروریات با آسانی پوری ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں کچھ لوگ ضروریات کا دائرہ پھلانگ کر دنیا کے محدود وسائل سے لا محدود خواہشات پوری کرنے کے لیے لگژری اور تعیش کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے وسائل اور ضروریات کا توازن بگڑ جاتا ہے اور چند لوگوں کی خواہشات پر بے شمار لوگوں کی ضروریات قربان ہو جاتی ہیں۔ اسلام کے معاشی فلسفے کی بنیاد اسی پر ہے اور یہی خلافت راشدہ کا طرۂ امتیاز تھا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پورے معاشی نظام پر ازسرِنو نظر ڈالی جائے اور وزیراعظم جس انقلاب کی بات کر رہے ہیں اس کی ابتدا اسی شعبہ سے کی جائے۔ مگر اس کے لیے عمر بن عبد العزیزؒ بننا پڑے گا۔ اور میں وزیر اعظم محترم کو مشورہ دوں گا کہ اگر وہ فی الواقع ملک میں کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو عمر ثانی یعنی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی سوانح حیات اپنے ہاتھ میں رکھیں اور اس سے راہنمائی حاصل کریں۔ میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ ایسا کر گزرے تو اکیسویں صدی میں ملت اسلامیہ کا داخلہ ایسا شاندار ہوگا کہ پچھلی دس صدیاں تو کم از کم اس پر ضرور رشک کریں گی اور میاں نواز شریف تاریخ اسلام میں ہمیشہ کے لیے زندہ باد ہو جائیں گے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد۔ ۱۰ جون ۱۹۹۸ء)
پاکستانی سائنسدانوں کا ’’جرم‘‘
ایٹمی قوت پر چند ملکوں کی اجارہ داری کا یکطرفہ قانون
ایٹمی سائنسدانوں کی ’’ڈی بریفنگ‘‘ اور قومی ردعمل
ایٹمی سائنس دانوں کی ’’ڈی بریفنگ’’ جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، عوام کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز فروخت کیے اور دوسرے ممالک کو ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں مدد دی۔ سائنس دانوں کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا تذکرہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معزز جج صاحبان کو شکوہ ہے کہ انہیں ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ دینی اور سیاسی راہنما سائنس دانوں کو زیر حراست لینے اور ڈی بریفنگ کے عنوان سے ان سے تفتیش پر احتجاج کر رہے ہیں، عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں، احتجاجی بیانات میں شدت آ رہی ہے اور تحریک چلانے کا عزم کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ارباب قلم اور اصحاب دانش کی طرف سے ملے جلے ردعمل پر مشتمل افکار و خیالات سامنے آرہے ہیں۔ ایسے ارباب دانش بھی ہیں جو ڈی بریفنگ کے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی سارے الزامات کو درست تسلیم کیے بیٹھے ہیں اور ’’مجرم سائنس دانوں’’ کو کیفر کردار تک پہنچانے کو قومی مفاد کا سب سے بڑا تقاضا قرار دے رہے ہیں۔ اور ان اصحاب فکر و دانش کی بھی کمی نہیں جو اس ساری مہم کو پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے مغرب کی منظم اور مربوط منصوبہ بندی کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مغرب اگر کسی مقصد کے لیے پلاننگ کرتا ہے تو پلاننگ کے نقشے میں وہ تمام ضروری رنگ بڑی مہارت سے بھرتا ہے جو اس نقشے کو عالمی برادری سے منٖظور کرانے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ خواہ بعد میں وہ رنگ پھیکے ہی پڑ جائیں، لیکن ان کی ابتدائی چمک دمک خاصی چکاچوند کر دینے والی ہوتی ہے، اس لیے اس سارے قضیہ کو اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
وہ اصول جس پر عالمی مہم کی بنیاد رکھی گئی ہے
ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک بات بہت آگے بڑھ چکی ہو، لیکن تادم تحریر جو صورتحال ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلے کے ایک اہم پہلو پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس ساری مہم کی بنیاد اس مبینہ اصول پر ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام جن طاقتوں نے اس سے پہلے کر لیا ہے اور وہ اپنے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ کر چکی ہیں، ایٹمی صلاحیت کو صرف ان تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے علاوہ کسی ملک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا حق نہیں ہے اور جو اس کی طرف پیشرفت کرے گا، وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے جرم کا مرتکب ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قوانین بنائے گئے ہیں اور عالمی ادارے اس کی نگرانی اور تفتیش کے لیے مصروف عمل ہیں۔
ہم اس سے قبل اس بات کو بطور اصول تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں عملی طور پر ہمارا موقف یہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کا حق رکھتے ہیں اور خاص طور پر عالم اسلام کا یہ جائز حق ہے۔ نیز جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کے عدم توازن کے باعث پاکستان کی یہ دفاعی ضرورت اور اس کی قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرے۔ اسی موقف کی بنیاد پر ہم نے ایٹمی پروگرام تشکیل دیا اور اسے تکمیل تک پہنچا کر ایٹمی دھماکہ کر دکھایا، ورنہ ایٹمی دھماکے کی منزل تک پہنچنے سے قبل عالمی برادری کے سامنے ہماری پوزیشن یہی تھی جو اس وقت ایران اور لیبیا کی ہے۔ انہی سائنس دانوں پر جنہیں آج دوسرے ملکوں کو ایٹمی راز منتقل کرنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے، اس وقت یہ الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے ایٹمی راز حاصل کیے ہیں اور ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات چوری کیے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان پر اس حوالے سے باقاعدہ مقدمہ چلا جس میں پاکستان کے ممتاز قانون دان بالخصوص جناب ایس ایم ظفر ان کے دفاع میں پیش ہوئے۔ مغرب کے الزامات ایک ایک کر کے سامنے آتے رہے لیکن ہم نے کان لپیٹ کر انہیں سر کے اوپر سے گزر جانے دیا۔ یہی مغرب تھا، یہی الزامات تھے اور یہی دباؤ تھا، لیکن ہم نے سنی ان سنی کر دی اور مغرب کے واویلے کی طرف توجہ دیے بغیر ایٹمی دھماکے کی منزل تک جا پہنچے۔ لیکن آج صورتحال وہ نہیں ہے، آج ہم ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، ہم نے اپنے سائنس دانوں کو ان الزامات کی بنیاد پر حراست میں لے رکھا ہے اور ڈی بریفنگ کے نام سے ان کی تذلیل کر رہے ہیں۔
حکومتِ پاکستان کی خدمت میں چند گزارشات
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نے ایٹمی صلاحیت پر پانچ ملکوں کی اجارہ داری کے بارے میں ان کا موقف تسلیم کر لیا ہے اور اپنے اس موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا تھا۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب ہم چند تسلیم شدہ ایٹمی طاقتوں کے دائرے سے باہر ایٹمی صلاحیت اور ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا وہ بین الاقوامی قانون تسلیم کر رہے ہیں جسے ہم نے ایٹم بم بنا کر عملاً مسترد کر دیا تھا، مگر اَب اس قانون کی رو سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو جرم تسلیم کر کے اسی کی بنیاد پر اپنے سائنس دانوں کے خلاف کارروائی کے لیے پر تول رہے ہیں، تو یہ صرف موقف سے دستبرداری نہیں ہے بلکہ ایٹمی صلاحیت سے دستبرداری کا فیصلہ بھی ہے، کیونکہ
- اگر ٹیکنالوجی اور آلات مبینہ طور پر ایران اور لیبیا کو دینا ’’جرم‘‘ ہے تو پاکستان کے لیے انہیں حاصل کرنا بھی اسی طرح کا جرم تھا۔
- اور اگر حکومتوں سے ہٹ کر ’’افراد‘‘ کا ایران اور لیبیا کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہونا بلیک مارکیٹنگ ہے تو افراد کی سطح پر پاکستان کے لیے کیا جانے والا یہ عمل بھی ”بلیک مارکیٹنگ“ ہی کہلائے گا۔
اور جب ہم موقف کے حوالے سے ’’یوٹرن‘‘ کے اس مرحلے تک آجائیں گے تو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات کی مجرمانہ منتقلی، اور ایٹمی صلاحیت کی بلیک مارکیٹنگ کی بنیاد پر حاصل ہونے والی ایٹمی صلاحیت کا ہمارے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہے گا، اور اگر لیبیا کے ایٹمی پلانٹ کے آلات اور مشینوں کی طرح ہمارے ایٹمی اثاثے اور آلات واشنگٹن پہنچانے کے لیے ہوائی جہاز آ پہنچے تو اپنی ایٹمی صلاحیت کے تحفظ کے ہمارے دعوے ان کی پرواز کو روکنے کے لیے کسی سطح پر رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔
ہمارے نزدیک اس معاملے کا سب سے اہم اور نازک پہلو یہی ہے کہ ایٹمی صلاحیت پر چند ملکوں کی اجارہ داری کے نام نہاد اصول اور اس کے لیے بنائے گئے یکطرفہ بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کر کے ہم اب تک کے اپنے قومی اور عملی موقف سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے لیے اس بات کی وضاحت ممکن نہیں رہے گی کہ اگر ایران یا لیبیا یا کسی اور ملک کو ایٹمی صلاحیت اور آلات فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جرم، چوری اور بلیک مارکیٹنگ ہے تو پاکستان کے لیے بین الاقوامی قوانین اور نیٹ ورک سے ہٹ کر ایٹمی صلاحیت اور آلات کا حصول کیوں چوری اور بلیک مارکیٹنگ نہیں تھا؟ اس لیے ایٹمی سائنس دانوں کے خلاف کارروائی کے اس پس منظر اور جواز کو قبول کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۲ فروری ۲۰۰۴ء)
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا ’’اعترافِ جرم‘‘
ڈاکٹر عبد القدیر کے ’’اعترافِ جرم‘‘ اور وفاقی کابینہ کی طرف سے سفارش کے بعد صدر پرویز مشرف نے ان کے لیے جس معافی کا اعلان کیا ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے مسئلہ نمٹ جائے گا اور ایٹمی پھیلاؤ کے مبینہ جرم کے ارتکاب کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف جو الزامات عالمی سطح پر سامنے آرہے ہیں، ان کی شدت میں شاید اب کمی آجائے گی، لیکن دوسری طرف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کا مبینہ اعتراف جرم اس وسیع جال کی پہلی کڑی ہے جو ایٹمی پھیلاؤ کے لیے دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور جس میں اور بھی بہت سے حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ گویا جس بات کو ہم اس قضیے کا اختتام سمجھ رہے ہیں، وہ الزام عائد کرنے والوں کے نزدیک نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے ابھی صورتحال یہی ہے کہ ’’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘۔
قرآنی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے راہنمائی
یہ اتفاق کی بات ہے کہ آج جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے جب میں منبر پر بیٹھا اور قرآن کریم کی ورق گردانی کی کہ آج کے حالات کے مناسب کوئی آیت کریمہ تلاش کر کے اس کی روشنی میں کچھ معروضات پیش کروں تو چند اوراق آگے پیچھے کرتے ہوئے نظر سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۱۷ پر ٹک گئی جس میں اللہ تعالیٰ نے اسی نوعیت کے ایک واقعے کا تذکرہ فرمایا ہے اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ہدایات بھی دی ہیں۔
دور جاہلیت میں قمری سال کے چار مہینوں رجب، ذی قعدہ، ذی الحج اور محرم کو حرمت والے مہینے سمجھا جاتا تھا اور ان مہینوں میں باہمی قتل و قتال اور دشمنیاں عارضی طور پر موقوف ہوجاتی تھیں۔ جبکہ سال کے باقی آٹھ مہینوں کے دوران قبائلی معاشرہ میں باہمی لڑائیوں کا بازار گرم رہتا تھا، دشمن قبیلوں کے علاقہ سے گزرنا ممنوع ہوتا تھا اور دشمن قبائل کے درمیان عملاً حالت جنگ رہتی تھی۔ قبائل کا یہ قانون اور رواج ابتدا میں مسلمانوں کے ہاں بھی قابل احترام تھا جبکہ بعد میں ان مہینوں کی حرمت والا قانون منسوخ ہو گیا، لیکن منسوخی سے قبل مسلمانوں کے ہاں بھی ان مہینوں کی حرمت کے بارے میں عرب روایات اور ضابطوں کی پابندی کا اہتمام ہوتا تھا۔
اس دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحشؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر جہاد کے لیے روانہ کیا۔ یہ لشکر جب اپنے ہدف پر پہنچا تو جمادی الاخریٰ کے آخری ایام تھے اور رجب کا آغاز ہونے والا تھا۔ امیر لشکر حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے یہ سمجھ کر کہ جمادی الاخریٰ کا آخری دن ہے، دشمن پر ہلہ بول دیا۔ قتل و قتال بھی ہوا اور دشمن سے مال غنیمت بھی ہاتھ آیا، مگر اصل واقعہ یہ تھا کہ رجب کا چاند نظر آ چکا تھا اور یہ حملہ رجب میں ہوا تھا۔ اس پر مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور عرب روایات میں سے اس روایت کو توڑ دیا ہے جس کو وہ خود بھی تسلیم کرتے آ رہے ہیں، انہوں نے رجب کی حرمت توڑی ہے اور حرمت کے ضابطوں کو پامال کر دیا ہے۔ مشرکین مکہ نے اس بات کو بطور خاص اچھالا کہ ان کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ براہ راست دشمنی تھی۔ حضرت عبداللہ بن جحشؓ جب واپس آئے تو ان کی ”ڈی بریفنگ“ ہوئی اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صورتحال کے بارے میں تفتیش کی تو انہوں نے پورے حالات سے آگاہ کر دیا اور عذر بھی پیش کر دیا کہ اس خلاف ورزی کی اصل وجہ غلط فہمی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ فرما کر معاملہ نمٹا دیا لیکن مشرکین مکہ کی طرف سے طعن اور اعتراض کا سلسلہ جاری رہا جس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت میں چند اصولی باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
اس آیت کریمہ میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حرمت والے ماہ رجب میں لڑائی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے تو اے پیغمبرۖ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنا بڑی بات ہے، یعنی یہ غلطی ہے جس کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اعتراض کرنے والے اور طعنہ دینے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے جرائم تو اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں اور انہیں اس غلطی کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے بڑے بڑے جرائم کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ میں ان کے جرائم کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنا، اللہ تعالیٰ کے دین کا انکار کرنا، مسجد حرام سے لوگوں کو روکنا، اور مکہ والوں کو ظلم و جبر کے ساتھ وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دینا، (یہ) حرمت والے مہینہ میں لڑائی کی غلطی سے کہیں زیادہ بڑے جرم ہیں اور وہ فتنہ و فساد جو مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف ہر طرف بپا کر رکھا ہے، وہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔
قرآن کریم کے اس اسلوب سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ جہاں کسی غلطی کی نشان دہی ہوتی ہو اور اس وقت کے معروضی حالات میں اس کا اعتراف کرنا ضروری ہو تو اسے تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غلطی کا الزام لگانے والوں کو ان کے جرائم بھی یاد دلائے جائیں اور تقابل کر کے انہیں بتایا جائے کہ ان کے جرائم انسانیت کے حوالہ سے، امن کے حوالہ سے اور اصول و اخلاقیات کے حوالہ سے زیادہ بڑے جرائم ہیں، اس لیے انہیں دوسروں پر اعتراض کرنے سے قبل اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔
عالمِ کفر کا اصل ہدف اور عالمِ اسلام کی ذمہ داری
اس کے بعد اسی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم کفر اور عالم اسلام کی باہمی کشمکش اور تنازع و اختلاف کے حوالہ سے ایک اور حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ کافر قومیں جب مسلمانوں کے خلاف معرکہ آرا ہوتی ہیں تو ان کا اصل ہدف وہ اعتراضات اور شکایات نہیں ہوتیں جن کا وہ اظہار کرتی ہیں، بلکہ ان کا حقیقی ہدف اور حتمی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی طرح اپنے دین سے پھر جائیں اور اپنے عقائد اور اپنی روایات سے دستبردار ہوجائیں، اور جب تک عالم کفر کا یہ آخری ہدف حاصل نہیں ہو جاتا، ان کی یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف جاری رہے گی۔ چنانچہ آیت مبارکہ کے اس حصے کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’یہ کافر تم مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے واپس نہ پلٹا دیں، اگر یہ بات ان کے بس میں ہو۔ ‘‘ اور پھر آیت کریمہ کا اختتام اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اس تنبیہ پر کیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے دین سے پھر گیا تو اس کے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو جائیں گے اور یہ اس کے لیے سراسر خسارے کا سودا ہوگا۔
اس آیت کریمہ کے پس منظر میں ہم آج کے حالات، بالخصوص ایٹمی سائنس دانوں کے حوالہ سے صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں چند امور کی واضح رہنمائی ملتی ہے:
- بین الاقوامی عرف و تعامل کا احترام ضروری ہے مگر اس وقت تک جب تک اس کے بارے میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت اس کے خلاف سامنے نہ آجائے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں بین الاقوامی عرف و تعامل کے احترام میں ہمیں تامل نہیں ہے، مگر یہ دو وجہ سے اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ ایک اس وجہ سے کہ یہ بین الاقوامی عرف و تعامل یا قوانین ایٹمی صلاحیت پر چند ملکوں کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے کے اصول پر قائم ہیں جو انصاف اور قوموں کی برابری کے مسلمہ ضوابط کے منافی ہے۔ اور دوسرا اس وجہ سے کہ قرآن کریم نے سورۃ الانفال کی آیت ۶۰ میں مسلمانوں کو واضح حکم دیا ہے کہ وقت کی جدید ترین عسکری قوت کو حاصل کرو اور تمہاری عسکری صلاحیت اس درجہ کی ہونی چاہیے کہ عالمی تناظر میں قوت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے ایسے کسی بین الاقوامی عرف و تعامل اور قانون کی پابندی ہم پر ضروری نہیں ہے جو قرآنی احکام سے متصادم ہو۔
- اگر کسی معاملہ میں کوئی غلطی سامنے آجائے جو اس وقت کے عالمی ماحول میں غلطی تصور کی جاتی ہو تو اس کو تسلیم کر لینے میں قباحت نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ دشمن کو اس کے جرائم یاد دلاتے رہنا بھی ضروری ہے اور اعتراض و طعن کی زبان دراز کرنے والوں کے سامنے ان کے اعمال کا آئینہ رکھنا بھی ناگزیر ہے۔
- مسلمانوں کو کبھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اسلام پر ان کے قائم رہتے ہوئے عالم کفر ان کے ساتھ کوئی رواداری اور مصالحت برت سکتا ہے، اور اسلام سے دستبرداری اختیار کیے بغیر مسلمانوں کے خلاف کافروں کی محاذ آرائی میں کوئی کمی آسکتی ہے۔ اس لیے ان کی ہر پالیسی اور حکمت عملی کا تعین اس بنیادی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے طے ہونا چاہیے۔
فردِ جرم عائد کرنے والوں کے اپنے جرائم
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جس ’’جرم‘‘ کا اعتراف کیا ہے وہ فی الحقیقت جرم ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، لیکن دو منٹ کے لیے اسے جرم تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس جرم کی سنگینی اور حجم اس قدر نہیں جو اسے جرم قرار دینے والوں کے اپنے جرائم میں پائی جاتی ہے۔ انسانیت کی تاریخ میں اس سے بڑا جرم کون سا ہوگا کہ
- مٹھی بھر افراد نے دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ جمایا ہوا ہے،
- اقوام و ممالک کی آزادی اور خود مختاری پر پہرے بٹھا رکھے ہیں،
- سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری قوت و صلاحیت پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے،
- انسانی سوسائٹی پر آسمانی تعلیمات کی عمل داری کو قوت کے بل پر روک رکھا ہے،
- آسمانی تعلیمات کی نمائندگی کرنے والی ظاہری علامتیں بھی ان کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں،
- اور انہوں نے ملکوں اور قوموں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے، تفتیش کرنے، فیصلہ سنانے اور اسے نافذ کرنے کے تمام اختیارات خود سنبھال لیے ہیں۔
تاریخ انسانی کے اس سب سے بڑے استحصال، اجارہ داری، جبر و تشدد اور جنگل کے قانون کے بارے میں بھی کسی کو حرکت میں آنا چاہیے، ان کی بھی ڈی بریفنگ ہونی چاہیے، اور ان کی بھی نقاب کشائی ہونی چاہیے اور اگر یہ کام ہم نے نہ کیا تو قانون فطرت تو بہرحال حرکت میں آئے گا، اور جب وہ حرکت میں آتا ہے تو جرم کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے، دونوں اس کی گرفت میں ہوتے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۹ فروری ۲۰۰۴ء)
پاکستانی سائنسدانوں کو مجروح کرنے کا اصل مقصد
پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں پر ابتلا اور آزمائش کا جو دور گزر رہا ہے اس نے ہر محب وطن شہری کو الم و اضطراب سے دو چار کر رکھا ہے اور ذہنوں میں خودبخود یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ اس سلوک کے بعد ایٹمی پروگرام اور صلاحیت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ڈاکٹر عبد القدیر سمیت ممتاز سائنسدانوں پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی پھیلاؤ جیسے ’’ناقابل معافی‘‘ جرم کا ارتکاب کیا اور ایٹمی ٹیکنالوجی بعض ملکوں کو منتقل کرنے میں حصہ لیا ہے۔
صرف بڑے ممالک ایٹم بم بنانے کے حقدار ہیں؟
ایٹمی پھیلاؤ امریکہ اور اس کی ہمنوا قوتوں کے لیے آج کے دور کا سب سے بڑا جرم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جن ممالک نے اس سے قبل ایٹم بن بنا لیا تھا اور ایٹمی کلب کے ممبر بن چکے ہیں ان کے علاوہ دنیا میں کسی اور ملک کو ایٹم بم بنانے کا حق نہیں ہے اور اگر کسی ملک نے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی یا کسی نے ایسے ملک سے تعاون کیا تو وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ’’ایٹمی پھیلاؤ‘‘ کا مجرم ہوگا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس کے خلاف کسی بھی کاروائی کا حق حاصل ہے جو افغانستان اور عراق پر امریکہ کے مسلح حملہ اور قبضہ کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔ بلکہ عراق پر حملے اور قبضے کے لیے تو سلامتی کونسل کو اعتماد میں لینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا اور امریکہ نے تکلف کا یہ لبادہ بھی اتار کر ایک طرف رکھ دیا، اس لیے اب یہ امریکہ کی صوابدید پر ہے کہ وہ جس ملک کو چاہے ’’بدمعاش ریاست‘‘ قرار دے دے اور جسے چاہے اس کے ساتھ تعاون کے الزام میں مجرم ٹھہرا دے ۔اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لیبیا نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے اور بہت سے ایٹمی آلات امریکہ کے سپرد کر دیے ہیں جبکہ ایران پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے لیے بھی اس دباؤ کا زیادہ دیر تک سامنا کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
عالمِ اسلام سے امتیاز اور بھارت و اسرائیل کی پشت پناہی
یہ واضح طور پر چند بڑے ملکوں کی دھاندلی ہے کہ وہ خود تو ایٹم بموں کے انبار لگائے بیٹھے ہیں اور ان کی شہہ پر اسرائیل اور بھارت بھی ایٹم بموں کا ذخیرہ کیے ہوئے ہیں لیکن مسلم ملکوں کے لیے انہوں نے یہ مستقل پالیسی طے کر رکھی ہے کہ دنیا کا کوئی مسلم ملک ایٹمی قوت نہ بننے پائے، اسی وجہ سے پاکستان کا ایٹم بم ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے اس بات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہاتھ ڈالنے کا موقع ملے اور اسے اگر ختم نہ کیا جا سکے تو بین الاقوامی نگرانی کے نام سے امریکہ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔
مسلم دنیا کو ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کی مربوط منصوبہ بندی
پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں پر مذکورہ الزام، ان کی مسلسل کردارکشی اور انہیں حراست میں لینے یا گھروں میں محدود کر دینے کی حالیہ کاروائیاں بادی النظر میں اسی مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ اور اس سے جہاں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں وہاں یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں اور عالم اسلام کے پیچھے رہ جانے کی وجہ صرف مسلمانوں کی سستی اور غفلت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے مغربی ملکوں کی منظم اور مربوط منصوبہ بندی کار فرما ہے جس میں مسلم ممالک کے حکمران بھی مسلسل شریک ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ملک و قوم کے عظیم محسن اور ہیرو شمار ہونے والے سائنس دانوں کے ساتھ اس قسم کا معاملہ ہوگا تو کون اپنے بچوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تعلیم دلانے میں خوش ہوگا؟ اور جب بین الاقوامی قوانین کی آڑ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے باہمی تبادلہ کی راہیں اسی طرح مسدود رہیں گی تو دنیا کا کون سا ملک اس سمت آگے بڑھنے کا حوصلہ کر سکے گا؟ اس لیے عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنا اور عالم اسلام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی حوصلہ شکنی بھی اسی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مشاہدہ ہم کھلی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔
مسلم حکومتوں کا افسوسناک کردار
اس سلسلہ میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار مسلم دنیا کے حکمرانوں کا ہے جو مسلم ممالک کے دارالحکومتوں میں بیٹھ کر ملت اسلامیہ کی نمائندگی اور مسلمانوں کے جذبات کی پاسداری کرنے کی بجائے مسلم ممالک میں مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں اور یہی آج دنیا بھر کے سوا ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ مسلم دنیا کے دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ملت اسلامیہ کو اس مخمصہ سے نکالنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالم اسلام کی راہنمائی کریں۔
(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔ مارچ ۲۰۰۴ء)
پاکستان کا جوہری ریاست بننے کا سفر
مڈل ایسٹ آئی
ٹی آر ٹی ورلڈ
ڈاکٹر عبد القدیر خان کی جدوجہد اور اسرائیل کی منصوبہ بندی
پاکستانی سائنسدان اسرائیلی نگرانی میں
سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ انہیں اسامہ بن لادن سے کم خطرناک نہیں سمجھتے تھے۔ اور موساد کے سابق سربراہ شبطائی شاویٹ کو انہیں ہلاک نہ کرنے کا افسوس تھا۔ لیکن تقریباً پچیس کرور پاکستانیوں کے لیے عبدالقدیر خان، جو پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ہیں، ایک لیجنڈ اور قومی ہیرو ہیں۔ 1936ء میں پیدا ہونے والے اور 2021ء میں 85 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والے اس جوہری سائنسدان کا جنوبی ایشیائی ملک کو جوہری بم بنانے میں سب سے زیادہ کردار ہے۔ انہوں نے ایک خفیہ جوہری پروگرام بنایا جس کا سرکاری طور پر کوئی وجود نہیں تھا۔ انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ان کے جوہری پروگراموں میں مدد فراہم کرنے والا اس سے بھی زیادہ خفیہ ایک نیٹ ورک چلایا۔ اسرائیل، جو خود ایک جوہری طاقت ہے، نے مبینہ طور پر پاکستان کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کی کوشش میں قتل کی کوششیں اور دھمکیاں استعمال کیں۔ 1980ء کی دہائی میں اسرائیل نے بھارتی مدد سے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر بمباری کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔ ان میں سے کچھ بھی کام نہیں آیا اور پاکستان ایک جوہری طاقت بن گیا۔
بھارت کا پہلا ایٹمی دھماکہ اور ذوالفقار علی بھٹو کا عزم
اس سلسلہ کا آغاز 18 مئی 1974ء کو ہوا جب بھارت نے اپنے پہلے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا۔ پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے فوری طور پر اپنے ملک کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم گھاس یا پتے کھائیں گے، بھوکے بھی رہیں گے، لیکن ہم اپنا بم حاصل کریں گے۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’(پہلے) ایک مسیحی بم تھا، ایک یہودی بم تھا، اور اب ایک ہندو بم ہے، تو اسلامی بم کیوں نہیں ہو سکتا؟‘‘
ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان آمد
اے کیو خان، جیسا کہ پاکستانی عام طور پر ان کا ذکر اس نام سے کرتے ہیں، وہ شخصیت تھے جنہوں نے یہ بم بنایا۔ 1974ء میں خان ایمسٹرڈیم میں ایک بڑی جوہری ایندھن کمپنی یورینکو کے ذیلی ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہے تھے۔ خان کو تنصیبات کے انتہائی خفیہ علاقوں اور دنیا کے بہترین سینٹری فیوجز کے بلیو پرنٹس تک رسائی حاصل تھی، جو قدرتی یورینیم کو افزودہ کرتے اور اسے بم کے ایندھن میں تبدیل کرتے تھے۔ جنوری 1976ء میں انہوں نے نیدرلینڈز سے اچانک اور پراسرار طور پر روانگی اختیار کی، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں ’’پاکستان میں ایک ایسی پیشکش کی گئی ہے جسے وہ ٹھکرا نہیں سکتے۔‘‘ خان پر بعد میں یورینیم سینٹری فیوجز کا ایک بلیو پرنٹ چرانے اور اسے پاکستان لے جانے کا الزام لگایا گیا۔ اس سال جولائی میں انہوں نے راولپنڈی میں ایک ریسرچ لیبارٹری قائم کی جس نے جوہری ہتھیاروں کے لیے افزودہ یورینیم پیدا کرنا شروع کیا۔
اے کیو خان کے جوہری آپریشن کا مقصد بڑی حد تک نظریاتی تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا، ’’میں امریکیوں اور برطانویوں کے اس 'خودساختہ پارسائی' کے رویے پر سوال اٹھانا چاہتا ہوں، کیا یہ منحوس دنیا کے خدا کی طرف سے مقرر کردہ نگہبان ہیں؟‘‘
ایٹمی منصوبہ کی سرکاری سطح پر رازداری
پاکستان کے فوجی ادارے نے خان کے کام کی معاونت کی، البتہ سول حکومتوں کو عام طور پر اندھیرے میں رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھی ان کے جرنیلوں نے ایران کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی شیئرنگ پروگرام کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بتایا۔ انہیں اس کا علم 1989ء میں تہران میں اتفاقی طور پر ہوا۔ ایرانی صدر انہیں ایک طرف لے گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ خصوصی دفاعی امور پر دونوں ممالک کے معاہدے کی دوبارہ تصدیق کر سکتے ہیں۔ بھٹو نے حیران ہو کر پوچھا، ’’مسٹر صدر، آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں؟‘‘ ایرانی صدر نے جواب دیا، ’’جوہری ٹیکنالوجی، میڈم وزیراعظم، جوہری ٹیکنالوجی۔‘‘ بے نظیر بھٹو حیران رہ گئیں۔
تنصیبات کی تباہی کے لیے بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ
پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی سنگین کوششیں کی گئیں، جن میں قتل کی کوششوں کا ایک سلسلہ بھی شامل تھا جسے عمومی طور پر اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا کام سمجھا جاتا ہے۔ یورپی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کو نشانہ بنایا گیا جو عبد القدیر خان کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے۔ مغربی جرمنی میں ایک صاحب کو لیٹر بم بھیجا گیا، وہ بچ گئے لیکن ان کا کتا مارا گیا۔ ایک اور بم دھماکے میں سوئس کمپنی کورا انجینئرنگ کے ایک سینئر ایگزیکٹو کو نشانہ بنایا گیا جس نے پاکستان کے جوہری پروگرام پر کام کیا تھا۔
1980ء کی دہائی کے اوائل میں اسرائیل نے بھارت کو یہاں تک تجویز پیش کی کہ دونوں راولپنڈی میں پاکستان کی جوہری تنصیب پر بمباری اور اسے تباہ کرنے میں تعاون کریں۔ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے حملے کی منظوری دی۔ اسرائیلی بمبار طیاروں کے بھارت کے گجرات میں ایک فضائی اڈے سے پرواز کرنے اور پاکستانی تنصیب پر حملے کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ لیکن گاندھی بعد میں پیچھے ہٹ گئیں، اور منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
امریکہ کی پاکستان کے منصوبہ سے چشم پوشی
بھارتی اور اسرائیلی مخالفت کے باوجود امریکیوں نے جوہری پروگرام سے آنکھیں بند کر لیں کیونکہ پاکستان ’’سرد جنگ‘‘ کے دوران ایک اہم اتحادی تھا۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ اکتوبر 1990ء میں امریکہ نے جوہری پروگرام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کو اقتصادی اور فوجی امداد روک دی۔ پاکستان نے تب یہ کہا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا بند کر دے گا۔ تاہم، اے کیو خان نے بعد میں انکشاف کیا کہ آپریشن خفیہ طور پر جاری رہا۔
پاکستان کا کامیاب ایٹمی تجربہ
1998ء میں پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کا کامیاب تجربہ کیا۔ عبد القدیر خان ایک قومی ہیرو بن گئے۔ سڑکوں، سکولوں اور یہاں تک کہ کرکٹ ٹیموں کا نام بھی ان کے نام پر رکھا گیا۔ لیکن وہ خاص طور پر ایک اور خطرناک آپریشن بھی منظم کر رہے تھے۔ 1980ء کی دہائی کے وسط سے، عبد القدیر خان نے ایک بین الاقوامی جوہری نیٹ ورک چلایا جس نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو (جوہری) ٹیکنالوجی اور ڈیزائن مہیا کیے موساد نے مشرقِ وسطیٰ میں ان کے سفر کے دوران ان پر نظر رکھی، لیکن وہ یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ سائنسدان کی سرگرمیاں کس بارے میں ہیں۔ پھر موساد کے سربراہ شبطائی شاویٹ نے بعد میں کہا کہ اگر انہیں خان کے ارادوں کا احساس ہوتا تو وہ ان کے قتل کا حکم دینے پر غور کرتے۔
دیگر ممالک کو جوہری صلاحیت فراہم کرنے کا انکشاف
بالآخر لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی نے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں 2003ء کے دوران عبد القدیر خان کے آپریشن کا پردہ فاش کر دیا۔ قذافی نے سی آئی اے اور ایم آئی سِکس کو بتایا کہ عبد القدیر خان لیبیا کی حکومت کے لیے جوہری تنصیبات بنا رہے ہیں، جن میں سے کچھ کو مرغی فارمز کے طور پر چھپایا گیا تھا۔ سی آئی اے نے لیبیا کے لیے بھیجی جانے والی مشینری کو تب قبضے میں لے لیا جب اسے سوئز کینال کے ذریعے سمگل کیا جا رہا تھا۔ تفتیش کاروں کو اسلام آباد کے ایک ڈرائی کلینر کے تھیلوں میں ہتھیاروں کے بلیو پرنٹس ملے۔
2004ء میں عبد القدیر خان نے اس کا اعتراف کیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اکیلے کام کیا تھا اور پاکستانی حکومت کی کوئی حمایت حاصل نہیں تھی، اور امریکی دباؤ کے تحت پاکستانی حکومت نے عبد القدیر خان کو 2009ء تک اسلام آباد میں گھر پر نظر بند کر دیا۔
اپنے بعد کے سالوں میں خان نے اسلام آباد میں ایک کمیونٹی سینٹر کے لیے فنڈز فراہم کیے اور اپنا وقت بندروں کو پالنے میں گزارا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ’’میں نے پہلی بار ملک کو تب بچایا جب میں نے پاکستان کو ایک جوہری قوم بنایا، اور دوسری بار تب بچایا جب میں نے اعتراف کیا اور سارا الزام اپنے سر لے لیا‘‘۔ امریکہ میں، انہیں بڑے پیمانے پر مذمت کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن جو لوگ انہیں جانتے تھے انہوں نے کہا کہ عبد القدیر خان کو پختہ یقین تھا کہ انہوں نے جو کیا وہ صحیح تھا۔
قوم کو ڈاکٹر عبد القدیر خان کی یقین دہانی
2019ء میں اپنی موت سے دو سال قبل عبد القدیر خان نے عوامی طور پر کہا کہ قوم کو ’’یقین رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک محفوظ جوہری طاقت ہے، کوئی اس پر بری نظر نہیں ڈال سکتا۔‘‘
پاکستان واحد مسلمان ایٹمی ملک کیسے بنا؟
اسرائیل نے حال ہی میں ایران پر حملہ کرنے اور اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اس اقدام نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا جس میں دونوں ملکوں نے 12 دنوں تک مہلک حملوں کا تبادلہ کیا۔ یہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ جب علاقائی طاقت کی کشمکش میں جوہری عزائم بھی شامل ہو جائیں تو کیا کچھ داؤ پر لگ سکتا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے کسی مسلم ملک کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کی کوشش کی ہو۔ 1980ء کی دہائی میں تل ابیب نے بھارت کی خفیہ مدد سے پاکستان کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ تو پھر پاکستان نے، جو کہ معاشی طور پر ترقی یافتہ ملک نہیں تھا، ایک ایسا جوہری پروگرام کیسے بنا لیا جس سے وہ اسرائیل کے نشانے پر آ گیا۔ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں سرد جنگ کے دور میں جانا ہوگا۔
امریکہ کا ’’ایٹمز فار پیس‘‘ پروگرام
1956ء میں امریکی پروگرام ’’ایٹمز فار پیس‘‘ (Atoms for Peace) کے تحت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) قائم کیا گیا تھا۔ یہ اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور کا آئیڈیا تھا، جس کا مقصد ممالک کو عوامی جوہری توانائی تیار کرنے میں مدد فراہم کر کے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو سست کرنا تھا، اس کے بدلے میں کہ وہ بم نہ بنائیں۔ پاکستان نے 37 سائنسدانوں کو بیرون ملک بھیجا، امریکی امداد سے جوہری سازوسامان حاصل کیا، اور 1961ء تک لاہور میں اپنا تحقیقی مرکز قائم کر لیا۔ دو سال بعد اس کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا جوہری بجلی گھر قائم ہو چکا تھا۔ پھر 1965ء میں بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی۔
1965ء کی جنگ کے بعد پاکستان پر امریکی پابندیاں
امریکہ، جو پاکستان کو ہتھیار مہیا کرنے والا بنیادی ملک تھا، اس نے پاکستان پر بھارت کے خلاف امریکی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کرنے پر پابندیاں لگا دیں، کیونکہ اس نے اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ اپنے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ اسی دوران بھارت نے خاموشی سے جوہری ہتھیار کی تیاری شروع کر دی۔
فیروز حسن خان (مصنف اور نیول پوسٹ گریجویٹ سکول کے پروفیسر): اگر بھارت بم بناتا ہے تو اس کا تقاضہ تھا کہ پاکستان بھی بم بنائے گا۔
پاکستان کو اب دو فوری ضروریات کا سامنا تھا: (۱) قابلِ اعتماد اتحادی تلاش کرنا اور (۲) اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام شروع کرنا۔ وہ اتحادی چین بنا، اور اسلام آباد نے خود انحصاری کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت کے پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے واضح کیا کہ اگر نئی دہلی کے پاس بم ہوگا تو اسلام آباد بھی ایک حاصل کرے گا، چاہے اس کے لیے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔
1971ء کی جنگ میں شکست
1971ء میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہونے والی ایک اور جنگ کے بعد اپنا مشرقی حصہ کھو دیا، جو اب بنگلہ دیش ہے۔ اس کے تین سال بعد (1974ء میں) بھارت نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا جسے سمائلنگ بدھا (Smiling Buddha) کا نام دیا گیا۔ اور اسے امریکہ اور سابق سوویت یونین کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اندراگاندھی (وزیر اعظم بھارت): نہیں، میں نے پریسٹیج (وقار) کی کبھی پرواہ نہیں کی۔
پاکستان نے پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ واشنگٹن نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے ذریعے سرد مہری کا مظاہرہ کیا، گویا یہ کہا جا رہا ہو کہ ’’اسے برداشت کریں‘‘۔ 1972ء میں بھٹو نے ملتان میں ایک خفیہ اجلاس میں سائنسدانوں اور بیوروکریٹس کو جمع کیا جہاں انہوں نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا عہد کیا۔ اس خفیہ اقدام کو پروجیکٹ 706 کا نام دیا گیا، جو پاکستان کا اپنا ’’مین ہیٹن پروجیکٹ‘‘ تھا (مین ہیٹن پراجیکٹ امریکہ کا پہلا ایٹمی پروگرام تھا)۔
فیروز حسن خان: ’’ایک رجحان ہے جسے ’’پھر کبھی نہیں‘‘ کا نام جاتا ہے۔ جب ملک اور معاشرہ ایک ایسے عمل سے گزرتے ہیں کہ ہمیں پھر کبھی ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور یہ جوہری دور میں اس حوالے سے تمام ممالک کی ابتدائی تاریخ ہے۔ جیسا کہ سوویت یونین نے کہا، ’ہم پھر کبھی اس طرح سے ذلیل نہیں ہوں گے جیسے نازیوں نے کیا‘۔ بھارت جب چین کے ہاتھوں ذلیل ہوا تو انہوں نے کہا، ’یہ پھر کبھی نہیں ہو گا‘۔ لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک سلسلہ ہے ہر ملک کے اس احساس کا کہ اگر آپ کو ذلت ملے اور ایک طرح سے ٹھکانے لگنے کا احساس پیدا ہو، اور اس سے قومی فخر وابستہ ہوتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کردار
اور پھر یورپی یورینیم افزودگی فرم یورینکو (URENCO) میں کام کرنے والے ایک جوہری طبیعیات دان کا کردار شروع ہوتا ہے۔ عبد القدیر خان نے 1974ء میں بھٹو کو اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ ہالینڈ سے ’’چوری شدہ‘‘ سینٹرفیوج ڈیزائنز کے ساتھ پاکستان واپس آئے اور ملک میں ایک متوازی یورینیم افزودگی پروگرام شروع کیا۔
فیروز حسن خان: یہ پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ 1974ء میں ہونے والے بھارت کے تجربے کے بعد پاکستان کو کسی بھی ری پروسیسنگ سہولت یا کسی بھی تکنیکی مہارت کے حصول سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تو یہ اس وقت تھا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہالینڈ میں سینٹرفیوج پلانٹ پر کام کر رہے تھے، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک خط بھیجا کہ وہ ایک مختلف راستے سے مدد کر سکیں گے، جسے انتہائی افزودہ یورینیم کا راستہ کہا جاتا ہے، یورینیم-235 کو 90 فیصد سے زیادہ افزودہ کر کے (بم) بنانے کے ذریعے۔ انہوں نے سوچا کہ یہ وہ راستہ ہے جو جس کی آپ کو اصل میں ضرور ت ہے۔
PAEC، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے پلوٹونیم پر کام کیا، اور خان نے کہوٹہ نامی ایک چھوٹے سے پرسکون قصبے میں ایک یورینیم افزودگی لیبارٹری قائم کی۔
پاکستان نے منصوبہ خفیہ کیسے رکھا؟
یورپ سے سازوسامان خریدنے کے لیے عبد القدیر خان نے نمائندہ کمپنیوں کا ایک نیٹ ورک بنایا، ان میں سے ایک مکھن کی فیکٹری کے طور پر کام کرتی تھی۔
فیروز حسن خان: اس پروگرام کی خوبصورتی یہ تھی کہ یہ ملک کے اندر چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مدد سے ہتھیاروں کے نظام کو جوڑ سکتا تھا، ایسی چیزیں جن میں دوہرے استعمال کی صلاحیتیں ہوتی تھیں، جیسے کہ آپ جانتے ہیں، ویکیوم کلینر، واشنگ مشینیں اور معیاری انجینئرنگ کا سامان۔
اپنے روابط اور سرکاری حمایت کے ذریعے عبد القدیر خان نے ایک کارآمد افزودگی پلانٹ کے لیے درکار تقریباً ہر چیز درآمد کی یہاں تک کہ اسپیئر پارٹس بھی۔ 1977ء میں ایک بغاوت کے ذریعے بھٹو کو معزول کر دیا گیا، جس کے بعد واشنگٹن نے ملک پر مزید پابندیاں عائد کر دیں، لیکن عبد القدیر خان کے منصوبے کو بھٹو کے جانشین جنرل ضیاء الحق کی انتظامیہ کے تحت اور بھی زیادہ حمایت اور فنڈنگ ملی۔
فیروز حسن خان: انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں اس کا ذکر کیا اور یہ ان کا کہنا تھا کہ اگر عیسائی دنیا کے پاس بم ہو سکتا ہے، اگر یہودیوں کے پاس بم ہو سکتا ہے، ہندوؤں کے پاس بم ہو سکتا ہے، کمیونسٹوں کے پاس بم ہو سکتا ہے، تو مسلم ملک کے پاس بم کیوں نہیں ہو سکتا؟
1979ء میں برطانوی انٹیلی جنس اور اس کے بعد ایک جرمن دستاویزی فلم نے پاکستان کے جوہری عزائم کو بے نقاب کیا، اور اس بات کو بھی کہ وہ کیسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو نظرانداز کر رہا تھا۔
لیکن امریکہ نے کارروائی نہیں کی۔ کیوں؟ کیونکہ اسے پاکستان کی ضرورت تھی۔ سوویت یونین نے اسی دور میں افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ ایرانی انقلاب نے شاہ کا تختہ الٹ دیا تھا جو کہ امریکہ کا ایک اہم اتحادی تھا۔ واشنگٹن کو اب پاکستان کی ایک علاقائی اتحادی کے طور پر ضرورت تھی۔
جان مکلاکلن (امریکی صحافی): ’’آپ کے لیے یہ ایک بہترین صورتحال ہے۔ آپ نے وہ تاثر پیدا کیا ہے، اور یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں، کہ آپ کے پاس بم ہے لیکن آپ کے پاس بم نہیں ہے۔ تو آپ کو اب بھی امریکی امداد ملے گی اور آپ اب بھی بھارت کو فکرمند رکھیں گے۔‘‘
ضیاء الحق (صدر پاکستان): ’’میں اپنی تعریف نہیں کر رہا، لیکن پاکستانی ایک ذہین قوم ہے۔‘‘
ضیاء نے اس حوالے سے انکار جاری رکھا کہ پاکستان کے پاس کوئی جوہری ہتھیار ہیں۔
ضیاء الحق: ’’یہ غلط ہے۔ بالکل غلط۔ جب پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار رکھنے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں ہے، تو ہمیں ایسی چیزیں کیوں رکھنی چاہئیں؟‘‘
لیکن مارچ 1983ء میں اسلام آباد نے اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام عوامی کیا جس میں اپنے پہلا جوہری ہتھیار کا کولڈ ٹیسٹ کیا۔ اگلے سال تل ابیب نے پاکستان کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے نئی دہلی کے ساتھ شراکت کی۔
اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ
1979ء میں سی آئی اے کو معلوم ہوا کہ اسرائیل پاکستان کو بم بنانے سے روکنے کے لیے کہوٹہ پر فضائی حملہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ تاہم اسرائیل نے 1981ء میں عراق کی جوہری تنصیب پر بمباری کی، اور بھارت کی مدد سے پاکستان پر پیشگی حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔
فیروز حسن خان: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل ہمیشہ سے اس بارے میں فکرمند رہتا چلا آ رہا ہے کہ کون جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اس کا تعلق 1974ء میں (لاہور میں) ہونے والے اسلامی سربراہی اجلاس سے تھا جس میں اسرائیلیوں کو معلوم ہوا کہ اس وقت تمام مسلم ممالک پاکستان کے جوہری پروگرام کی خفیہ طور پر حمایت کر رہے تھے۔ اور اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ اگر کوئی ملک کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ بم بن جائے گا جو بالآخر اسرائیل کے لیے خطرہ ہوگا۔ امریکہ نے ایک طرح سے بھارت کو یہ سمجھایا کہ یہ ایک خطرناک کام ہو سکتا ہے۔ 1981ء میں جب اسرائیلیوں نے عراق میں اوسیراک ری ایکٹر پر حملہ کیا تو حالات بدلنے لگے۔ اور یہ ایک بڑا خطرہ بن گیا کیونکہ اس کے بعد بھارت نے اس کی نقل کرنے کی کوشش کی، 'اوہ، تم یہ کر سکتے ہو، میں بھی یہ کر سکتا ہوں‘۔ بھارت آج بھی یہی کرتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل جو کچھ کر کے بچا رہ سکتا ہے، وہ بھی اپنے پڑوس میں وہ کچھ کر کے بچے رہ سکتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی نے وہ حملہ کرنے میں براہ راست شرکت کرنی تھی یا نہیں، ہمارے پاس اس بارے میں کوئی یقینی معلومات نہیں ہے، لیکن یقینی طور پر اسرائیلی بھارتیوں کو تربیت دینے میں مدد کر رہے تھے۔
اس مشترکہ مشن کو آپریشن کہوٹہ (Operation Chakhuda) کا نام دیا گیا اور اس میں اسرائیلی جیٹ طیاروں نے بھارتی فضائی اڈوں کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی فضائی حدود میں ریڈار سے بچ کر اڑنا تھا۔ بھارت کی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس منصوبے پر دستخط کیے لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا۔ ان کے بیٹے راجیو، جو ان کے بعد آئے، انہوں نے شروع میں ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہ کیا۔
ضیاء الحق (بھارت کے دورہ کے موقع پر): اس وقت فضا اتنی سازگار نظر آ رہی ہے کہ جناب وزیر اعظم (راجیو گاندھی) مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان (صحافیوں) کے سوالات ختم ہو گئے ہیں۔
پھر 1986ء آیا، بھارت نے آپریشن براس سٹیکس (Operation Brasstacks) نامی بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کیا۔ ان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ 800,000 سے زیادہ فوجی اور بھاری جنگی ساز و سامان کا استعمال ہوا۔ اسلام آباد کا خیال تھا کہ یہ جنگ کا ایک منصوبہ ہے۔ 1987ء میں دونوں ممالک اپنی سرحدوں پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
فیروز حسن خان: ایک جنگ چھڑ جائے گی، ایک بحران پیدا ہو جائے گا، جو کہ پھر ایک طرح کی مخصوص کارروائی والی جنگ میں بدل جائے گا۔ وہی جیگوارز وغیرہ (طیاروں) کا منصوبہ، آپ جانتے ہیں، زمین کے قریب رہ کر، ریڈار سے بچنے کے لیے نچلی پرواز، اور پھر تقریباً 3 سے 5 منٹ کے وقفوں سے کہوٹہ پر حملہ۔
بھارت اور پاکستان کے ایٹمی دھماکے
1998ء میں بھارت نے پانچ مزید جوہری تجربات کیے۔ پاکستان کی جوہری تنصیبات پر بھارتی فضائی اڈوں سے اسرائیلی فضائی حملے کی خبروں کے درمیان، اسلام آباد نے اپنے تجربات کی ایک سیریز کے ساتھ جواب دیا، جس سے قابل اعتماد جوہری حفاظت (ڈیٹرنس) قائم ہوئی۔
ڈیوڈ بار ایلان (اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مشیر): یہ طاقت کے توازن کو بدل دے گا اور یہ عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ پیدا کرے گا۔
پاکستان کا بم کچھ پابندیوں اور تنازعات لے کر آیا۔ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ڈاکٹر عبد القدیر خان پر ایران، شمالی کوریا، اور لیبیا کو جوہری راز فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا۔ امریکی دباؤ پر پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے سائنسدان کو گھر میں نظر بند کر دیا۔ اے کیو خان کو قومی ٹیلی ویژن پر اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔
عبد القدیر خان: ’’تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہت سی رپورٹ شدہ سرگرمیاں واقعتاً ہوئیں اور یہ لامحالہ میری ایما پر شروع کی گئیں۔‘‘
2007ء میں مشرف کو معزول کیے جانے کے بعد اے کیو خان کے خلاف تمام الزامات خارج کر دیے گئے اور سائنسدان 2021ء میں انتقال کر گئے۔
فیروز حسن خان: اگر (جواباً) جوہری روک تھام نہ ہوتی تو جنوبی ایشیا میں اب تک بہت سی تباہ کن جنگیں ہو چکی ہوتیں۔ اس نے واضح طور پر جنگ کے (امکانات کو) بڑھنے کو روکا ہے۔ کیونکہ یہی سب سے بنیادی بات ہے، اس سے قطع نظر کہ یہ کیسے ہوا، ہم نے دیکھا ہے کہ آپ پاکستان کو کتنا ہی مجبور کرنے کی کوشش کریں، یہ مجبور نہیں ہوگا۔ یہ اپنی خودمختاری بنیادی طور پر اس لیے برقرار رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے پیچھے حتمی طاقت ہے۔ اور یہ پاکستانی فوج کو ایک بھرپور جواب دینے کے قابل بناتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس اپنا حتمی ہتھیار ہے، اس لیے وہ جواب دے سکتے ہیں۔ بھارت پاکستان کے ساتھ لبنان جیسا برتاؤ نہیں کر سکتا، جیسے اسرائیل اپنے پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر کون تھے اور ان کے رفقاء انہیں کیسے یاد کرتے ہیں؟
قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن
دی سینٹرم میڈیا
ڈاکٹر عبد القدیر خان: ایک تعارف
ایٹم بم کے خالق اور معروف پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں (یکم اپریل 1936ء کو) ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پندرہ برس تک یورپ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس اور بیلجیم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان شادی سے پہلے تک جرمنی میں ہی مقیم تھے۔ آپ کی زوجہ کا تعلق ہالینڈ سے تھا، لہٰذا انہوں نے بھی ہالینڈ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہالینڈ میں انہوں نے ڈیلفٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈیلفٹ یونیورسٹی میں ہالینڈ کے مقامی طلبہ کو بھی ڈگری حاصل کرنے کے لیے کئی سال تک تحقیق اور مشکل ترین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مگر ڈاکٹر عبد القدیر نے یہاں بھی اپنی بے مثال ذہانت کا لوہا منوایا اور 80 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کر کے ماسٹرز آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور ریکارڈ قائم کر دیا۔ بعد ازاں وہ کچھ عرصہ مشہور پروفیسر برگزر کے ساتھ بطور اسسٹنٹ کام کرتے رہے۔ ان کی صحبت میں رہ کر آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ بھی دائر کیا۔ لیکن ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خوش قسمتی تھی کہ جب ہالینڈ، بیلجیم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے وہ تو عام کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالتِ عالیہ نے ان کو باعزت بری کر دیا۔
آپ 31 مئی 1976ء کو پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر پاکستان تشریف لائے اور ’’انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز‘‘ (ERL) کے نام سے پاکستانی ایٹمی پروگرام پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں یکم مئی 1981ء کو اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے تبدیل کر کے ’’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘‘ (KRL) رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ایٹمی طاقت بننے کی کہانی ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زبانی کچھ یوں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ جب میں دسمبر 1975ء میں پاکستان آیا تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ درخواست کی کہ میں واپس نہ جاؤں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کروں۔ لہٰذا وطنِ عزیز سے اپنے جذبۂ محبت کی وجہ سے میں سب کچھ چھوڑ کر بیرون ملک سے پاکستان آیا۔ بہت ہی قلیل تنخواہ پر کام کیا اور اَن گنت مشکلات اور سازشوں کا سامنا کیا، لیکن ہمت نہیں ہاری۔ عزمِ مصمم کے ساتھ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے پرعزم رہا اور اپنی ٹیم کے ساتھ نہایت کم عرصے میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ میں نے اربوں ڈالرز کی ٹیکنالوجی پاکستان کو مفت فراہم کی۔ مجھے اٹامک انرجی کمیشن میں مشیر لگا دیا گیا اور میری تنخواہ تین ہزار روپے مقرر کی گئی جو مجھے چھ ماہ بعد ملی۔
مختلف طرح کی رکاوٹوں کی اطلاع وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہوئی تو بھٹو صاحب جو اس وقت لاہور میں تھے انہوں نے مجھے فوراً بلا لیا۔ میں نے حقائق سے آگاہ کیا تو کہنے لگے مجھے دو دن دیں، میں حالات ٹھیک کر دوں گا۔ دو دن بعد مجھے جنرل امتیاز کا فون آیا کہ شام پانچ بجے آغا شاہی کے دفتر میں میٹنگ ہے۔ میں پہلی مرتبہ آغا شاہی، غلام اسحاق خان اور اے جی این قاضی سے ملا۔ دوسرے دن پھر بلایا اور یہ کہا کہ میرے مشوروں کو قبول کر لیا گیا ہے، کل سے یہ پروگرام علیحدہ ہو گا اور میں اس کا سربراہ ہوں گا۔
پھر ٹھیک دو دن بعد بھٹو صاحب نے میٹنگ بلا لی، اور خوش آمدید کہنے کے بعد مجھ سے کہا کہ بتاؤ کیا چاہیے؟ میں نے کہا کہ فوج کی کور آف انجینئرز کی ایک ٹیم چاہیے۔ جنرل ضیاء الحق جو اس وقت آرمی چیف تھے اور میٹنگ میں شریک تھے، انہوں نے کہا کہ وہ کام کر دیں گے۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق نے جب اختیار سنبھالا تو اس کے تین ماہ بعد ہی انہوں نے ایٹمی پروگرام کو اول ترجیح دینا شروع کر دی۔ اور مہینے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور وہ اور جنرل ضامن نقوی مجھ سے تفصیلی ملاقات کرتے تھے۔
1979ء کے وسط میں مغربی ممالک کو ہمارے پروگرام کی بھنک پڑ گئی، جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان صاحب کو بڑی فکر ہوئی کہ سامان کی درآمد پر پابندی سے ہمارا پروگرام بند نہ ہو جائے۔ لیکن اتنا ضرور تھا کہ 1981ء اواخر میں ہم نے بہت ترقی کر لی تھی۔ اور ہمیں یقین تھا کہ ہم بہت جلد کامیابی حاصل کر لیں گے۔
ڈاکٹر قدیر خان نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹریز زیر تعمیر تھی تو وہ سہالہ میں پائلٹ پراجیکٹ چلا رہے تھے۔ انہی ایام کی بات ہے کہ اس وقت کے فرانسیسی فرسٹ سیکرٹری فوکو کہوٹہ کے ممنوعہ علاقے میں بغیر اجازت گھس آئے تھے، جس پر ان کی مار کٹائی ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تہران میں اپنے سی آئی اے باس کو لکھا کہ کہوٹہ میں کچھ عجیب و غریب ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں کہ 1983ء میں ہم نے کئی کولڈ ٹیسٹ کیے اور وہ بہت امید افزا تھے۔ 1984ء میں ہم نے مزید ٹیسٹ کیے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہم کامیابی کے قریب ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے میرے سامنے آغا شاہی اور بعد میں صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بھی سختی سے ہدایت کر دی تھی کہ وہ کسی بھی ملک سے ایٹمی پروگرام پر قطعی بات نہ کریں، بلکہ صاف کہہ دیں کہ یہ بات آپ ضیاء الحق کے ساتھ کریں۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام میرے مشورے پر ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے بعد صدر ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان مغربی دباؤ رد نہ کرتے تو بھی ہمارا پروگرام ختم نہ ہو سکتا تھا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان وہ مایہ ناز سائنسدان ہیں کہ جنہوں نے آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں ان تھک محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا۔ 28 مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلے میں حکومتِ وقت سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی۔ بالآخر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔
یوں آپ پوری دنیا میں مقبولِ عام ہوئے۔ سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا۔ اور اس وقت سعودی حکمرانوں نے پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈے کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا، جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کیا۔
پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر صاحب بہت اچھے لکھاری بھی ہیں، ادب سے آپ کو گہرا لگاؤ ہے، یہ ان کے اپنے ہی اشعار ہیں جن کو انہوں نے اپنے دکھ اور کرب کے اظہار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس قدر مشکلیں جھلینے اور بعد ازاں مسلسل نظر بندی کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہو گئے
؎
اس شہر باکمال میں اک ہمیں چھوڑ کر
ہر شخص بے مثال ہے ہر شخص لاجواب ہے
؎
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ قائد اعظم محمد جناح نے پاکستان بنایا، اور ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔ گویا ایک بنانے والا اور دوسرا استحکام بخشنے والا ہے۔
1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔ 14 اگست 1996ء میں صدر فاروق خان لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز ’’نشانِ امتیاز‘‘ دیا۔ جبکہ 1998ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ کا تمغہ بھی ان کو عطا کیا گیا۔ آپ نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان ایٹمی سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی رحم دل اور انسانیت کا دم بھرنے والے انسان ہیں۔ اور انسانیت کی خدمت کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اسی جذبے کے تحت پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے نام سے بنیاد رکھی ہے۔ ان کا یہ جذبہ انتہائی قابلِ تحسین ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستانی قوم کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صَرف کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر قیادت زندہ دلوں کے شہر لاہور میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے اور بادشاہی مسجد کے پہلو میں سات منزلہ عمارت پر مشتمل ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس ہسپتال کا کل رقبہ 16 کنال پر محیط ہے۔ ہسپتال کی تعمیر کا تخمینہ تقریباً 100 کروڑ روپے ہے۔ تین سو بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال غریب اور مستحق مریضوں کو کسی تفریق و امتیاز کے بغیر ہر طرح کے امراض کے علاج کے لیے بین الاقوامی معیار کی سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے رفقاء انہیں کیسے یاد کرتے ہیں؟
تعلیم و مہارت
ڈاکٹر افضل خان (ایٹمی سائنسدان) : ڈاکٹر صاحب کوالیفیکیشن کے اعتبار سے metallurgy engineer (دھاتوں کے انجینئر) تھے، تو ان کی جو پہلی ڈگری تھی بی ایس سائنس کی، وہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے کی تھی۔ اس کے بعد پھر وہ 1950ء کی دہائی میں چلے گئے تھے جرمنی، وہاں وہ ٹیکنیکل ایجوکیشن لیتے رہے، میٹلرجی انجینئرنگ کی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے ہالینڈ، وہاں ایم ایس کی انہوں نے میٹلرجی انجینئرنگ میں۔ پھر اس کے بعد وہ بلجیم چلے گئے، وہاں انہوں نے کیتھولک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی میٹلرجی انجینئرنگ میں۔ پھر اس کے بعد ان کو جاب مل گئی اسی یورینکو میں، جو یورینیم کمپنی تھی۔ تو ڈاکٹر صاحب اُن کےٹیکنیکلی رپورٹ رائٹر کہہ لیں، یا کنسلٹنٹ کہہ لیں، یا میٹلرجی کی جو پرابلمز آتی تھیں ان کو وہ حل کرتے تھے۔ تو ان (کمپنی والوں) کے پاس ان ملکوں میں، ہالینڈ، بیلجیم، جرمنی، فرانس، انگلینڈ، پانچ ملکوں میں کارخانے تھے یورینیم کے، تو جہاں بھی کوئی پرابلم آتی تھی تو اس کو وہ دیکھتے تھے۔ اچھا فرنچ جو ہے وہ انگلش نہیں سمجھتا، اور انگلش جو ہے وہ فرنچ نہیں سمجھتا، فرنچ جو ہے وہ جرمن نہیں سمجھتا، اور جرمن جو ہے وہ انگلش نہیں سمجھتا۔ تو ان کو بلا کر وہ ساری ڈرائنگز، ساری رپورٹس اور سارا ڈیٹا ٹرانسلیٹ کراتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب واحد آدمی تھے کیونکہ ان کو عبور تھا ان زبانوں کے اوپر۔
کام کا انداز
ڈاکٹر تسنیم شاہ (سابق سائنٹفک آفیسر خان ریسرچ لیبارٹری): کام کرنے کی خوبصورتی ان کی یہ تھی کہ جب لوگ راتوں کو کام کرتے تھے تو چار چار دن پانچ پانچ دن گھر نہیں جاتے تھے۔ اے کیو خان کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ وہ چھوٹے سے ٹیکنیشن کو کوئی کام دے کر جاتے، اور اسے کہتے کہ ان دو چیزوں کو جوڑنا ہے، جڑ نہیں رہیں، اس کی ویلڈنگ کرنی ہے، اس کو جوڑنا ہے، جب جوڑتے ہیں، اس کو چلاتے ہیں، گر جاتی ہے، جب جوڑتے ہیں، چلاتے ہیں، گر جاتی ہے۔ تو تم اس میں کوئی ایسی تکنیک لگا کر جوڑو، اور جونہی یہ کام مکمل ہو جائے مجھے فون کرنا، یہ نہیں دیکھنا کہ وہ ٹائم کون سا ہے، مجھے رنگ کرنا۔ تو وہ اے کیو خان کو فون کیا کرتے تھے۔ رات کو ڈھائی بجے گاڑی چلا کر، ایف ایٹ میں رہتے تھے اس زمانے میں، ایف ایٹ سے خود ڈرائیو کر کے، یہ پنڈی کے پاس ہمارے بریکس ہیں جہاں شروع میں کام ہوتا تھا، اس ٹیکنیشن کے پاس آتے، کافی کی ایک مشین ہوتی تھی، اس سے دو کپ کافی کے بناتے تھے، اسے کہتے تھے یہاں بیٹھ جاؤ میرے پاس، کام نہیں دیکھتے تھے، انہوں نے کہا اس نے فون کر دیا ہے تو کام تو ہو گیا ہے۔
اب دیکھیں حوصلہ افزائی اس کو کہتے ہیں، اسی کو کہتے ہیں ٹیکنیکل مینجنٹ کہ اس شخص نے کام کو ہاتھ نہیں لگایا، پوچھا نہیں، کافی بنائی، ایک کافی اس کو دی کہ میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ اب وہ ٹیکنیشن گیارہ گریڈ کا ہو گا بیچارہ۔ وہ تو کانپ رہا تھا ان کے سامنے کہ بھئی بیٹھوں کیسے ان کے سامنے، کافی کیسے پیوں۔ انہوں نے کہا بیٹھ جاؤ۔ اس کے سامنے کافی پی رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کون کون ہے گھر میں، گھر کیسے چلتا ہے، فلاں کیا ہوتا ہے، جنرل سی باتیں واتیں کر کے، اس کے پاس جاتے ہوئے اس کو ایک آنریریم (honorarium) دے دیتے تھے کہ بھئی یہ تمہارے کام کی آنریریم ہے، کام کو نہیں دیکھتے تھے، ان کو پتہ تھا کام تو ہو گیا ہے۔ اب جس لڑکے کے ساتھ وہ یہ والا کام کر جائیں، کافی پلا جائیں اس کو رات کو دو ڈھائی بجے آ کر، ذرا آپ سوچیں کہ اس کے اندر کیسا جذبہ ہو گا کام کرنے کا۔ وہ اس کے بعد تین تین دن تک گھر نہیں جاتے تھے۔ اس کو منع نہیں تھا کہ تم گھر نہیں جاؤ، وہ کہتا تھا میں گھر جا کر کیا کروں گا۔
پلانٹ ایسا تھا کہ سیڑھیوں سے چڑھ کر آپ جائیں، جہاں کنٹرول روم ہے، وہاں سے آپ کو پورا پلانٹ نظر آتا ہے۔ اور ایسے کئی پلانٹ تھے۔ اس پلانٹ میں دس دس ہزار کے سنٹری فیوجز نصب کیے گئے تھے۔ تو ہمارے جتنے بھی جنرلز آتے تھے وزٹ کرنے کے لیے، وہ پہلے سیڑھیاں چڑھ کر جاتے تھے، جب سیڑھیاں چڑھتے تھے اور سامنے پلانٹ کو دیکھتے تھے تو پلانٹ کو سلیوٹ کرتے تھے، خالی پلانٹ کو سلیوٹ کرتے تھے، اے کیو خان کو نہیں، پلانٹ کو سلیوٹ کرتے تھے۔ اس کی خوبصورتی ایسی تھی کہ لوگ کام کرنے والے ایسے لگتے تھے سویڈن میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا ہلنا جلنا، کپڑے، یہ وہ، سب اسی طرح سے تھا۔ سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس قدر ہائی ٹیکنالوجی تھی اس علاقے کے اندر، اس پلانٹ کے اندر کہ اس کو دیکھ کر آپ کو نہیں لگتا کہ یہ پاکستان میں ہم کھڑے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی ہائی کلاس ٹیکنالوجی کے کسی ملک میں ہم کھڑے ہیں۔ ورنہ ایسے پلانٹ، چائنہ بھی میں گیا ہوں، وہاں جا کر دیکھا انہوں نے مٹی میں بنائے ہوئے تھے، ہوٹل کو تبدیل کر کے بنایا ہوا تھا۔
اے کیو خان، لوگ تو یہ کہا کرتے تھے، میں ذاتی طور پر یقین نہیں کرتا کہ ڈرائنگز ان کے ہاتھ میں تھیں اور وہ کچھ باہر سے ڈرائنگز لے کر آئے تھے اور ان ڈرائنگز سے یہ (سب بنایا)۔ دیکھیں اگر ڈرائنگز ہوتیں تو ڈرائنگز سے جب کنسٹرکشن انسان کرتا ہے تو ڈرائنگ سے دیکھ کر کنسٹرکشن کیا اور ہال بن گیا۔ کم از کم سات آٹھ دفعہ وہ پورے کا پورا ہال بنا ہے، اور اس کے بعد توڑا گیا ہے اس کو۔ کیوں؟ جب بنا لیتے تھے تو سنٹری فیوج رکھتے تھے۔ جب رکھتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ ابھی اس میں دو کم رہ گئے ہیں، دو زیادہ ہو گئے ہیں، دو ایسے ہو گئے ہیں، دو ویسے ہو گئے ہیں۔ یہ سب ان کی یادداشت میں تھا، اس کا سائز، جہاں کہ وہ گھومتے رہے تھے، وہ کہتے تھے اچھا یہ سائز ہو گا، وہ سائز بنا دیا، جب سنٹری فیوج رکھے تو اس کے اندر پرابلمز آئیں، اس کو گرا دیا، انہوں نے کہا دوبارہ کنسٹرکشن ہو گی۔ تو کم سے کم، اگر میں مبالغہ نہ کروں تو تیسری چوتھی کنسٹرکشن میں جا کر ایک ہال مکمل ہوتا تھا۔ جس کے بارے میں ہم نے کہا کہ یہ وہ ہال بن گیا ہے جس میں کہ اتنے سنٹری فیوجز آسانی سے درست طریقے سے نصب ہو گئے ہیں۔ ان کے درمیان میں جگہ بھی ہے گھومنے پھرنے کی، سیڑھیاں بھی ہیں دیکھنے کے لیے، اور سب۔
تو یہ وہ والا پلانٹ ہے جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ nothing else۔ اس آدمی کی میموری کی آپ لوگ داد دیں، کہ وہ ایک دفعہ آپ کا نام سنتا تھا، اگر دس سال کے بعد آپ ملتے تھے تو آپ کو نام سے پکارتا تھا۔ ہزاروں لوگ ان کے سامنے سے گزرے ہیں، لیکن دیکھ کر ان کی یادداشت میں محفوظ ہو جاتا تھا، یہ ہے ان کی میموری کا عالم، چیزیں ازبر ہوا کرتی تھیں انہیں۔
تو یہی چیز انہوں نے وہاں پلانٹ میں (استعمال کی)۔ پندرہ دن صرف انہوں نے اس (ہالینڈ کے) پلانٹ میں کام کیا۔ اور روزانہ رات کو آ کر وہ اس کے بارے میں لکھا کرتے تھے کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہیں، کیسے ہیں، کس طرح ہیں، جتنا لکھ سکتے تھے، کیونکہ وہاں سے کچھ لانا اور لے جانا تو آپ کر نہیں سکتے تھے۔ تو یہ ساری چیزیں ان کی میموری میں تھیں، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا۔
اس لیے وہ جب ذوالفقار علی (بھٹو) سے ملے ہیں تو انہوں نے کہا اب آپ یہاں سے جائیں گے نہیں، آپ نے یہاں پر چھ مہینے تک سیر کرنی ہے، سب دیکھنا ہے، اور ایک کمرے میں بند ہو کر، یہ کہا گیا تھا ان سے، ایک کمرے میں بند ہو کر جو کچھ آپ نے وہاں دیکھا ہے ، وہ آپ نے یہاں بنانا ہے۔ لکھتے جائیں، لکھتے جائیں۔
مجھے نہیں پتہ، یہ تو جنوں کا کام ہوتا ہے، حضرت سلیمانؑ کرایا کرتے تھے جنوں سے یہ سارے کام۔ تو ہم لوگ اس زمانے میں، کچھ گروپس تھے ہمارے، جو نئے لڑکے آئے ہوئے تھے، ہم لوگ اے کیو خان کو جن بابا ہی کہا کرتے تھے، کہ یہ تو جن بابا ہیں جو کام کرواتے ہیں اس طرح۔
ایٹمی تجربات کا فیصلہ
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی (ایٹمی انجینئر): میں نمبر ٹو کے آفس میں تھا، ڈاکٹر ہاشمی صاحب نمبر ٹو تھے، خان صاحب نمبر وَن تھے۔ اور ہاشمی صاحب نے مجھے کہا بھئی ظفر، انڈیا نے تو کر لیا دھماکہ۔ تو میں نے کہا سر، ہم بھی کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا اگر تم نے نہیں کیا دو تین ہفتے میں، پھر ختم ہو تم۔ اتنے میں خان صاحب آئے اپنے آفس سے، یوں دروازہ کھول کر جھانکا، ڈاکٹر ہاشمی اور میں کچھ بات کر رہے تھے، میں نے ان کی طرف دیکھا ان کی آنکھوں میں۔ اب خان صاحب کے اوپر بہت، ظاہر ہے پورے ملک کا پریشر تھا۔ تو اس کے بعد میں نے یہ سنا کہ پریزیڈنٹ نے دونوں کو بلایا۔ ڈاکٹر اے کیو خان کو اور جو چیئرمین آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن تھے، ڈاکٹر اشفاق اس وقت چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر اشفاق نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو اس پراجیکٹ کا ہیڈ بنایا تھا۔ ڈاکٹر اشفاق اور ڈاکٹر اے کیو خان کی میٹنگ پریزیڈنٹ سے ہوئی، پریزیڈنٹ آف پاکستان سے۔ خان صاحب جب واپس آئے تو ہم سب کو بتا دیا کہ آپ لوگ تیار رہیں۔
دیکھیں، کچھ ہماری اندرونی سیاست بھی تھی، اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا، کہ ایک طرف ہم بہت خوش تھے، ایک طرف مایوسی تھی کہ ہمیں اہمیت نہیں دی گئی اس میں۔ اور خان صاحب کو، جب آپ کے لیڈر کو اہمیت نہ دی جائے تو ظاہر ہے، آپ جو ان کے ورکرز ہوتے ہیں، تو ہم سب کا ایک ڈاؤن پیریڈ بھی تھا، لیکن ہمیں ایک ایک اضافی تنخواہ بھی ملی۔ اور یہ بات میں ریکارڈ پر آپ کو لا دیتا ہوں کہ ڈاکٹر اے کیو خان کی تنخواہ چھبیس ہزار روپے تھی اس وقت۔ میری سترہ ہزار روپے تھی۔ تو ہم سب کو ایک ایک تنخواہ اضافی ملی۔ تو آپ سوچیں کہ ہم لوگوں نے اتنی تنخواہ میں اس ملک کے لیے کتنا بڑا کام کیا۔ آج سوچ سکتا ہے کوئی؟ آج تو لوگ کروڑوں کی اور کئی سو کروڑوں کی بات کرتے ہیں۔ ہم لوگوں نے، کیا تنخواہیں تھیں، کس جذبے سے کام کیا، اور جس شیڈ میں ہمارا فنکشن ہوا، خان صاحب مجھ سے کوئی دس فٹ آگے کھڑے تھے، ہم کوئی میرے خیال میں ہزار ڈیڑھ ہزار لوگ کھڑے تھے، ان کے سامنے ہم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ تو میرا تو آئی کانٹیکٹ تھا خان صاحب کے ساتھ۔ ہمیں پتہ تھا اصل ہیرو کون ہے، ہمیں تو پتہ تھا کہ اصل ہیرو کون ہے، ہمیں تو پتہ تھا کہ اصل آدمی کون ہے۔
الوداعی دن
ڈاکٹر افضل خان: میں جنازے پر گیا تھا، میرا بیٹا بھی ساتھ تھا، اور ہزاروں لوگ تھے، اور ہمیں جگہ نہیں ملی تھی، آخر میں فیصل مسجد کے عقب میں ہمیں جگہ ملی۔ وہاں دو بہت عجیب واقعات مجھے پیش آئے۔ ایک تو تیز بارش ہو رہی تھی نماز جنازہ کے دوران، دوسرا اوپر سے بجلی کڑک رہی تھی۔ تو میرے ساتھ جو تھے کچھ نوجوان آئے ہوئے تھے، ایک نوجوان کہتا ہے دیکھو، آج آسمان بھی رو رہا ہے اے کیو خان کے جنازے پر۔ تو پیچھے سے ایک زور سے آواز آئی، کہتا ہے، نہیں نہیں نہیں، یہ جو بجلی کڑک رہی ہے، یہ اللہ تعالیٰ اکیس توپوں کی سلامی دے رہے ہیں جنازے کو۔ تو خیر، مجھے بڑی خوشی بھی ہوئی، حیرت بھی، میں نے کہا دیکھو لوگوں کی سوچ کیا ہے، اس سے قطع نظر کہ گورنمنٹ کیا کرتی ہے یا باقی لوگوں نے کیا کیا ہے۔ لیکن بڑی دنیا آئی تھی اور اتنا رش تھا کہ ہمیں جگہ ہی نہیں مل رہی تھی، بڑی دیر بعد ہمیں جگہ ملی۔ یعنی میں یہ کہوں گا کہ ہزاروں لوگ تھے جنازے پر۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: وہاں پہ کھڑے ہوئے، پھر بارش شروع ہو گئی، تو پھر تین بجے بہت تیز بارش ہوئی، جیسے اللہ کی طرف سے کوئی اشارہ ملا ہو، پورے پاکستان کو، پوری دنیا کو، یہ سچ بات ہے کہ آسمان کالا ہوگیا تھا، اور جیسے آٹھ اکتوبر 2005ء کو ایک بہت بڑ ازلزلہ آیا تھا، میں ادھر ہی تھا ایئر یونیورسٹی میں ہفتے کے روز نو بج کر دو منٹ تھے صبح کے، اس شام کو بہت تیز بارش ہوئی تھی، تو جو میری عمر کے لوگ ہیں ان کو یاد ہو گا، وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا (اشارہ) تھا۔ اور یہ بارہ اکتوبر کو خان صاحب کے جنازے پر کالا آسمان ہو گیا تھا، اور اتنی تیز بارش ہوئی اور ہم سب کھڑے تھے، ہم سب گیلے ہو گئے، لیکن آپ یقین جانیں کہ مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اللہ کے سامنے ہم کھڑے ہیں۔ تو اس کے بعد آسمان صاف ہو گیا، آدھے گھنٹے کے بعد، جیسے کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے اس دن پشاور جانا تھا، پانچ بجے میں پشاور چلا گیا اور موٹر وے بالکل صاف تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
تو اس سے کیا آپ کو پتہ چلتا ہے اپنے ملک کے بارے میں۔ جہاں میں نے ایک طرف آپ کو شروع والی ہسٹری بتائی، تو دوسری ہسٹری بھی میں آپ کو بتا دوں کہ اس ملک نے ڈاکٹر اے کیو خان کی کوئی عزت نہیں کی۔ اور یہ آپ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کا جو مین لیڈر تھا، جو مین ہیرو تھا، جس کی وجہ سے آپ کا جھنڈا آج لہرا رہا ہے، جس آدمی کی وجہ سے آپ کی پریزیڈنسی کے آگے پاکستان کا اتنا اونچا جھنڈا لہرا رہا ہے، اس کو ہم کوئی اسٹیٹ فیونرل نہیں دے سکے۔ اس کو بیس سال ہم نے اس کے گھر میں بند رکھا۔ اس کو کوئی ہم نے عزت نہیں دی۔ اور جن حالات میں ان کا انتقال ہوا، میں کچھ کہنا بھی نہیں چاہتا، کیونکہ میری ان کے ساتھ لاسٹ ٹیلی فون کی بات ہوئی تھی، جب میں خود ہاسپٹل میں تھا ان کے انتقال سے دو مہینے پہلے، میں خود شفا ہسپتال میں داخل تھا، کچھ مسائل تھے، تو میری وائف اور سب سے چھوٹا بیٹا میرے ساتھ کمرے میں تھے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا مجھے کہہ رہا تھا کہ آپ کی تو کوئی ڈاکٹر اے کیو خان سے اتنی دوستی نہیں ہو گی۔ تو جب ہم ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو رہے تھے تو فون بجا، میں نے فون سنا تو ڈاکٹر اے کیو خان تھے، تو میں نے اپنے بیٹے اور وائف کے سامنے کیا کہ دیکھو ڈاکٹر اے کیو خان مجھے فون کر رہے ہیں۔ اور ڈاکٹر خان نے مجھے کہا کہ آپ کا پتہ چلا آپ ہاسپٹل میں ہیں تو کیسی طبیعت ہے؟ میں نے کہا سر میں تو ٹھیک ہوں، میں آج گھر جا رہا ہوں، آپ کیسے ہیں؟ سنا ہے کہ آپ آ گئے ہیں ہاسپٹل سے۔ وہ ملٹری ہاسپٹل میں داخل تھے اس وقت۔ ان کو کوویڈ ہوا تھا، پھر کچھ پیچیدگیاں ہوئی تھیں ان کی۔ تو میں نے کہا میں تو ٹھیک ہوں، آپ کے لیے ہم سب دعا مانگتے ہیں، آپ کیسے ہیں؟ فرمایا، میں ٹھیک ہوں ۔ پھر وہ گھر آئے، پھر مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد میری ان سے واٹس ایپ پر ہوتی تھی۔ میں نے ایک کتاب لکھی نیوکلیئر انجینئرنگ پر، میری کتاب امریکہ میں شائع ہوئی ہے مارچ ۲۰۲۲ء میں۔ میں نے ان کو واٹس ایپ بھیجا کہ میں آپ کو ایئر یونیورسٹی میں چیف گیسٹ انوائیٹ کرنا چاہتا ہوں۔
یومِ تکبیر کی کہانی، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی زبانی
ڈاکٹر ثمر مبارک مند
جاوید چودھری
جاوید جوہدری: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ لاکھوں کروڑوں درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر۔ آج اٹھائیس مئی ہے اور آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اہم ترین دن ہے۔ اور اگر ’’اٹھائیس مئی‘‘ نہ ہوتا تو شاید ’’دس مئی‘‘ بھی نہ ہوتا اور پاکستان کی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہوتی۔ اٹھائیس مئی کے بہت سارے ہیرو ہیں لیکن جو سب سے بڑا ہیرو ہے، جو لیجنڈ ہے پاکستان کا، اور جس کی وجہ سے آج ہم سکھ کے ساتھ اسی ملک کے اندر اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، وہ شخص اگر نہ ہوتا تو شاید پاکستان آج اس لیول پر نہ ہوتا۔ وہ شخص ہے، ان کا نام ہے ڈاکٹر ثمر مبارک مند صاحب، ایٹمی سائنس دان ہیں، اور ان کی وجہ سے پاکستان ایٹمی پاور بھی بنا، اور آج ہم اطمینان کے ساتھ خوشی کے ساتھ سکون کے ساتھ اس ملک میں زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ ان سے سب کچھ پوچھنا ہے کہ اٹھائیس مئی کو کیا ہوا تھا، یعنی 1998ء میں، اور اس کے ساتھ ساتھ جو دس مئی کا واقعہ ہے، دس مئی کا جو دن ہے، کتنا اہم ہے؟ اور مستقبل میں اس طرح کے اور دن آتے ہیں تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟
ڈاکٹر صاحب، بہت شکریہ آپ کا۔ یہ بتائیے گا کہ پاکستان کا جو دفاع ہے، ہمارے کنٹرول میں ہے اور محفوظ ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں دفاع جو ہے، جب آپ ایٹمی ہتھیاروں کی بات کرتے ہیں تو اس کی حفاظت اور اس کا کنٹرول ایک بہت اہم شعبہ ہے، اور ہم نے ہمیشہ سے بہت احتیاط سے اس کی پلاننگ کی ہے، اس کی ڈیزائننگ کی ہے۔ دنیا میں جتنے بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز ہیں ’’بِٹ فور / بِٹ فائیو پاورز‘‘ کے، ان کی جو بہترین خصوصیات ہیں، وہ لے کر ان کو ایک جگہ پر سمو کر ہم نے اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنایا۔ یہ 1998ء، 1999ء کی بات ہے، اس کا پہلا ڈرافٹ میں نے ہی بنایا تھا، مجھے اس کا پتہ نہیں تھا لیکن پڑھ پڑھا کر بنا لیا، پھر یہ ہمارے دفاعی ماہرین کے پاس گیا، انہوں نے اس میں اپنی آراء دیں، اس سب سے گزر کر یہ حتمی صورت میں آیا، تو بہت جلد اس کی آزمائش شروع ہو گئی، کیونکہ پاکستان 1998ء میں ایک جوہری ریاست بن چکا تھا، اور دہشت گردی ساتھ ہی شروع ہو چکی تھی۔ ہماری مغربی سرحد پر مصیبت پڑ گئی تھی، اِدھر دھماکہ، اُدھر دھماکہ، آپ کو پتہ ہے پاکستان میں کتنی جانیں ضائع گئیں، ایک نوبت یہ بھی آ گئی تھی کہ اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہا تھا۔ تو اس ماحول میں ہمارے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا ٹیسٹ ہوا۔ اور مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ نہ تو ہمارا کوئی چھوٹا یا بڑا ہتھیار دائیں بائیں ہو سکا، نہ ہمارے ایٹمی مواد کی کوئی چوری ہوئی، جس طرح آئے روز سنتے ہیں انڈیا میں تھوریم چوری ہو گیا، فلیروویم چوری ہو گیا، اب یہ چیز ہو گئی، پاکستان کا کبھی کوئی نیوکلیئر میٹیریل ایک گرام بھی مشکوک نہیں ہوا Everything is under control تو یہ اس کا ٹریک ریکارڈ ہے۔
2011ء، 2012ء جب تک دہشت گردی رہی یہاں پر، اس میں یہ ٹیسٹ ہوا، تو اس وقت انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے اس کا نوٹس لیا کہ یہ سسٹم کیا ہے کہ اتنے سخت وقت میں، یہ تیسری دنیا کا ملک ہے جہاں اتنے منظم نہیں ہوتے ہم لوگ، نہ اتنی یہاں تعلیم ہوتی ہے، بہرحال تو وہ بہت متاثر ہوا اس کارکردگی سے، تو پھر انہوں نے آ کر یہ سب کچھ دیکھا اور دیکھنے کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں جہاں جہاں ایٹمی قوتیں ہیں، جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، ان سب کو دعوت دی کہ اسلام آباد میں آؤ اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (چیک کرو)، ہمیں کہا کہ یہاں ایک ورکشاپ کا اہتمام کرو اور ان کو بتاؤ کہ آپ نے کیسے اتنا محفوظ اس کو بنایا ہے۔ کیونکہ ہم نے سب کے بیسٹ فیچرز کو لے کر بنایا تھا نا۔ ہر ایک نے آ کر دیکھا اور پھر انہوں نے بہت ساری امپروومنٹس جا کر کیں، اور اسے بین الاقوامی سطح پر بہت سراہا گیا۔ تو جہاں تک حفاظت کا تعلق ہے Everything is very safe
جاوید چوہدری: اس کے اندر کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: نہیں، ان شاء اللہ۔
جاوید چوہدری: یہ جو انڈیا کی طرف سے پراپیگنڈا ہوا تھا کہ یہاں پر لیکیج ہو گئی ہے اور ریڈی ایشن پھیل گئی ہے پاکستان کے اندر؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: جب ہم نے ایٹمی ٹیسٹ کیے تھے 1998ء میں، تو آخری ٹیسٹ خاران میں کیا تھا، تو اس وقت وہ کیا کہہ رہے تھے، کہ جی ہمیں پلوٹونیم کا پتہ چلا ہے، یہ پلوٹونیم بم ہے، باقی یورینیم کے ہوں گے، یہ پلوٹونیم کا ہے۔ اس وقت تک ہمارے پاس اس کا پلانٹ بھی نہیں تھا اور پلوٹونیم کی ہم نے ابھی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ دنیا کا پروپیگنڈا ہوتا ہے، وہ جھوٹے لوگ ہیں، جھوٹوں کے پیچھے لگنے کی ضرورت نہیں ہے، عقل مند لوگ انہیں نظرانداز کرتے ہیں، بس انہیں نظر انداز کریں، جو ان کی خبر ہے نا ریڈیو ایکٹیویٹی کی، اور جس لوکیشن کے بارے میں ہے There is nothing there at all
جاوید چوہدری: اس لوکیشن کے ساتھ تعلق ہی کوئی نہیں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: وہاں کچھ بھی نہیں ہے اب، وہاں پر تو ایک امیونیشن ڈپو ہے فوجیوں کا جہاں وہ بندوقیں اور گولیاں بارود وغیرہ سٹور کرتے ہیں، بس، ہمارا کیا واسطہ اس سے۔
جاوید چوہدری: اچھا اب یہ فرمائیے سر، پاکستان کا میزائل سسٹم جو ہے، اور انڈیا کا میزائل سسٹم، کیسے موازنہ کریں گے ان دونوں کا؟ اور پاکستان کے ایٹم بم کا انڈیا کے ایٹم بم سے کیسے موازنہ کریں گے؟ دونوں چیزیں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہاں، دو چیزیں ہیں نا۔ دیکھیں، ایٹم بم کا تو آپ نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس سے آپ نے کیا کام لینا ہے۔ اگر ایک میدانِ جنگ کی صورتحال ہے، لڑائی ہو رہی ہے، سرحد کے پار ان کی بیس پچیس آرمرڈ ڈیویژنز کھڑی ہیں، اِدھر آپ کی پانچ سات کھڑی ہیں، اور وہ آپ کو دھمکی دے رہے ہیں اور آپ کے سر پر چڑھ گئے ہیں، تو ایسے وقت کے لیے پاکستان نے ٹیکٹیکل (محدود پیمانے کے) ہتھیار بنائے ہوئے ہیں۔
اس کے لیے خاص طور پر کم فاصلے کا میزائل بنایا ہے، صرف ساٹھ ستر کلو میٹر رینج کا، انتہائی درستگی کے ساتھ وہ انچوں کے لحاظ سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح ایک چھوٹا ایٹمی وارہیڈ ہے، جو اتنا چھوٹا ہے کہ دنیا کے جو ترقی یافتہ مغربی ملک ہیں، وہ بھی دنگ رہ گئے کہ اتنا چھوٹا وارہیڈ پاکستان نے کیسے بنا لیا؟ اگر میں کہوں کہ ہاتھ کی گھڑی کو ایک کاغذ جتنا پتلا بنا لوں، تو ایسی ٹیکنالوجی آپ سمجھ لیں، وہ ہم نے بنایا ہے۔ اور جیسے آپ دیکھتے ہیں کہ ملٹی بیرل لانچرز سے پانچ پانچ سیکنڈز کے وقفے سے میزائل لانچ ہوتے ہیں، اس طرح سے وہ چھوٹی میزائل ہم فائر کر سکتے ہیں جس کا نام ہے ’’نصر‘‘۔ تو میدانِ جنگ کی صورتحال کے لیے ہم نے وہ بنائی ہے۔
جاوید چوہدری: نصر جو ہے، یہ شارٹ رینج ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: شارٹ رینج ہے، اور ایسے ہے جیسے آپ آمنے سامنے کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔ دیکھیں، تیس چالیس پچاس کلو میٹر میں آرمی کے مقابلے کے دوران، اللہ نہ کرے آپ کبھی اسے استعمال کریں، وہ تو آرمرڈ ڈویژن کو ہوا میں ایسے اڑا دے گی جیسے پتے ہوا میں اڑتے ہیں، کیونکہ ظاہر ہے وہ چھوٹے چھوٹے ایٹمی وارہیڈز ہیں جو بہت طاقتور ہیں۔ وہ تو ہو گیا سب سے چھوٹا ہتھیار۔
جاوید چوہدری: اچھا، ٹیکٹیکل ویپنز کے بارے میں مختلف قسم کی (باتیں ہیں)، شیخ رشید صاحب نے کہا کہ آدھا پاؤ کا بھی بنایا ہوا ہے، پاؤ کا بھی بنایا ہوا ہے۔ اور انڈیا کے اندر بھی وہ بہت زیادہ ڈسکس ہوتا ہے اور وہ ہنستے ہیں کہ اتنا چھوٹا کیسے بنا لیا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: چلیں، جیسے میں نے کہا نا کہ کچھ باتیں نظرانداز کرنے والی ہوتی ہیں، اب آپ بات اس سے کر رہے ہیں جس نے بنایا ہے، میرا خیال ہے درگزر کریں، آپ کا وقت ضائع ہو گا۔
جاوید چوہدری: لیکن یہ چھوٹی رینج کا ہے مثلاً پچاس کلو میٹر کے دائرے کا احاطہ کرے گا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: یہی نہیں، اگر آپ اسے لمبے فاصلے پر ماریں گے تو وہاں جا کر بھی وہی کام کرے گا جو یہاں (چھوٹے فاصلے) پر کرے گا۔ میں آپ کو میدانِ جنگ کا بتا رہا ہوں کہ اگر وہ آپ کے سر پر چڑھ آئیں تو ان کی آرمی کو بھی آپ نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد اس سے تھوڑا سا اور بڑا ہتھیار بنایا، جو آپ کے پاس دوسری سطح کے حملے کی صلاحیت ہے۔ یہ آپ کی (زیر سمندر) سب میرینز سے لانچ ہوتا ہے، جو برصغیر کے سمندر میں، بحیرۂ ہند میں پھر رہی ہوتی ہیں، آپ چاہیں تو وہاں سے فائر کریں اور انڈیا کے اندر کسی زمینی ہدف کو اڑا دیں۔ سب میرین میں اتنا بڑا بم تو نہیں لگ سکتا، اس کے لیے بھی چھوٹے بم ہوتے ہیں جو اس کے تارپیڈو (سمندر کے اندر سے نکلنے والا میزائل) میں لگ جائیں۔
جاوید چوہدری: اور اس کے لیے میزائل ہم نے کون سا بنایا ہوا ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: اس کے لیے تارپیڈو ہوتے ہیں جو سب میرین سے جنگی بیڑے (پر حملہ) کے لیے ہیں، اور اگر آپ نے سب میرین سے زمینی ہدف کی طرف فائر کرنا ہے تو اس کے لیے کروز میزائل ہے۔
جاوید چوہدری: کروز میزائل ہے، اور وہ بھی ہم نے اپنے بنائے ہیں؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہمارے اپنے ہیں۔ وہ نکلتے ہیں، پانچ سو چھ سو آٹھ سو کلو میٹر تک جا کر جہاں مرضی زمینی ہدف کو فنا کر دیں۔ یہ دوسرا سائز ہے۔
پھر اس کے بعد آپ کے پاس یہ جو فتح ون اور فتح ٹو میزائل ہے، ان کی گولائی تقریباً آدھے میٹر کے قریب ہے، اس کے اندر مزید بڑا وارہیڈ آ سکتا ہے، تو ظاہر ہے اس کا دھماکہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس میں روایتی بم بھی لگ سکتا ہے، ایٹم بم بھی لگ سکتا ہے۔ بلکہ ہر میزائل میں دونوں قسم کے بم لگ سکتے ہیں۔ اب اس کی درستگی اتنی زیادہ ہم نے بنائی ہے کہ آپ نے (حالیہ جنگی تصادم میں) گن کر پچیس سے تیس فتح وَن مارے ہیں، اور پچیس تیس ان کے ایئر بیسز اڑ گئے ہیں نا۔ اور ان کا آرٹلری ہیڈکوارٹر، ان کا ڈیویژن ہیڈکوارٹر، مقبوضہ کشمیر کے ان کے ٹریننگ سکولز، جو بھی چوکیاں وغیرہ تھیں، جتنے ہم نے مارے ہیں اتنی جگہوں پر جا کر انہوں نے تباہی کر دی۔ اس کے بعد ہماری ایئرفورس نے جا کر جو کوئی بلڈنگ وغیرہ بچی تھی اس کا صفایا کر دیا۔ یہ ایک کوارڈینیٹڈ اٹیک (نظاموں کا مربوط حملہ) تھا جس میں میزائل اور ایئرفورس دونوں استعمال ہوئے اور انہوں نے مکمل تباہی یقینی بنائی۔
اور پھر آپ شاہین سیریز میں آجائیں، ان کی بڑی جان نکلتی ہے شاہین سے، جس دن شاہین چلیں گے تو پھر یہ اپنے گھر میں سو نہیں سکیں گے جو آپ کو روز چیلنج کرتے ہیں۔ شاہین ون کی رینج ہے چھ سات سو، پھر شاہین ون اے ہے جس کی رینج ہے نو سو، پھر شاہین ٹو ہے جس کی رینج ہے دو ہزار بائیس سو، پھر شاہین تھری ہے جس کی رینج پونے تین ہزار سے تین ہزار تک ہے۔
تو ہم نے اپنی دفاعی ضروریات کو سامنے رکھ کر میزائلز اور وارہیڈز کے سائز کا انتخاب کیا ہے۔ شاہین تھری کا وارہیڈ بہت بڑا ہے اور اس کا بہت بڑا دھماکہ ہے، اور وہ اس لیے بنایا ہے کہ انڈیا کی جو دور دراز دفاعی تنصیبات ہیں وہ اینڈامین کے جزیرے میں ہیں، خلیج بنگال میں، جسے انگریزوں کے زمانے میں کالا پانی کہا کرتے تھے۔ وہاں پر انہوں نے میزائل بنانے والی تنصیبات لگائی ہوئی ہیں، اور لمبے فاصلے تک میزائل لانچ کرنے والی تنصیبات بھی، جو انہوں نے کبھی سوچا تھا کہ چائنہ تک ماریں گے۔ تو ان کو اب یہ احساس نہیں تھا کہ وہاں تک پاکستان کا شاہین میزائل جا سکے گا۔ انہوں نے وہاں تنصیبات بنائیں تو ہم نے شاہین تھری میزائل بنا لیا جو اسٹیج فور کا میزائل ہے۔ تو اس میزائل کی درستگی 0.0001 کی ہے، یعنی تین ہزار کلو میٹر تک جا کر وہ تین میٹر کے اندر درستگی کے ساتھ ہدف پر لگتا ہے، دس فٹ کے اندر۔ درستگی کی پیمائش ایسے کرتے ہیں کہ ایک دائرہ بناتے ہیں دس فٹ کا، اور اس کے اندر دس میزائل مارتے ہیں، اگر ان میں سے آٹھ میزائل اس دائرے کے اندر لگیں تو یہ اس کی درستگی ہوتی ہے۔ تو شاہین تھری کی یہ صلاحیت ہے۔
ہم ہمیشہ اعلان کر کے فائر کرتے ہیں، بحرِ ہند میں ٹیسٹ کرتے ہیں، بحری اور فضائی ٹریفک کو رکوا کر، پوری دنیا کو بتا کر، نوٹس جاری کر کے، تو سب اپنی سیٹلائیٹس سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، ہم کبھی چھپا کر نہیں کام کرتے، اور وہاں پر تیرتا ہوا ایک تختہ ہوتا ہے جس پر ہمارا جھنڈا لگا ہوتا ہے، اس کے اوپر جا کر میزائل لگتا ہے This is the accuracy of our systems
اور جو ہمارے ’’دوست‘‘ ہیں ادھر کے، جنہوں نے آج کل آپ کا موڈ خراب کیا ہوا ہے، ان کی حالت یہ ہے کہ یہ میزائل مارتے ہیں، اور جب وہ کہیں پہنچتے نہیں تو کہتے ہیں کہ ہم سسٹمز ٹیسٹ کر رہے تھے، اس کے بعد اب سسٹمز ٹیسٹ کرنے بھی انہوں نے بند کر دیے ہوئے ہیں۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ روس سے خرید کر براہموس میزائل انہوں نے مارے ہیں، وہ آپ کو پتہ ہی ہے کہ کہاں کہاں اور کتنے کتنے لگے ہیں۔
جاوید چوہدری: ہاں، وہ انڈیا کے اندر گر گئے، اور ایک افغانستان چلا گیا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: اور جہاں سے انہوں نے مارے تھے وہاں ہم نے اٹیک کیا تو ان کی چھٹی ہو گئی۔ دو جگہ بیاس میں اور ایک کشمیر میں ان کا اسٹوریج تھا، وہ دونوں ہم نے اڑا دیے۔ ان کی جتنی بھی دفاعی تنصیبات ہیں وہ ہمارے ہدف پر ہیں، وہ لاک ہو چکی ہیں۔
جاوید چوہدری: اگر خدانخواستہ کبھی ایٹمی جنگ ہو جاتی ہے تو انڈیا کہتا ہے کہ ہم پہلے حملہ نہیں کریں گے، اور پاکستان کہتا ہے کہ اگر ہمیں اپنی سلامتی کا خطرہ ہوا تو ہم باز نہیں آئیں گے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہماری تو تین ریڈ لائنز ہیں۔ ایک پانی ہے کہ اگر پانی روک دیا تو یہ پہلی ریڈ لائن ہے۔ اگر آپ نے حملہ کر کے اندر آ کر ہمارے علاقے پر قبضہ کر لیا تو یہ دوسری ریڈ لائن ہے۔ اگر آپ نے ہماری بندرگاہیں بلاک کر دیں یا ایسا کچھ کر دیا تو ہمارے بچاؤ کا سوال پیدا ہو جائے گا، اور جب وہ خطرے میں پڑ جائے تو پھر کیا کرنا ہے؟ تو پھر ہم نے ان کے نیچے لگ کر تو نہیں رہنا ہے جن پر ہم نے آٹھ سو سال حکومت کی ہے، تو عزت سے رہنا ہے نا برصغیر میں، اور عزت سے پھر ایسے ہی رہ سکتے ہیں، پھر جو ہو گا دیکھی جائے گی، اللہ مالک ہے۔
جاوید چوہدری: ڈاکٹر صاحب، آپ کے لیے سوال ہے کہ اگر انڈیا ہمارا پانی بند کر دیتا ہے تو پھر ہمارے پاس آپشن کیا بچے گا، کیونکہ پاکستان میں بہت سارے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پھر ہمیں میزائل سے ان کے ڈیمز کو اڑانا پڑے گا۔ کیا یہ آپشن ہے؟ پورا پاکستان یہ سوال پوچھنا چاہتا ہے، اور انٹرنیشنل آبزرورز کا بھی یہی سوال ہے، کہ اگر انڈیا ہمارا پانی بند کر دیتا ہے، سرِدست تو اس نے بند کیا ہوا ہے، اور سندھ طاس معاہدے کو بحال نہیں کرتا، تو ہمارے پاس آپشن پھر یہی بچے گا کہ ہم ان کے ڈیمز اڑا دیں۔ تو کیا یہ آپشن ہے ہمارے پاس؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہمارے لیے تو مسئلہ نہیں ہے، تین بٹنز دبانے ہیں اور تین ڈیمز اڑ جانے ہیں، ان کو بھی پتہ ہے اور ہمیں بھی پتہ ہے، اور جس درستگی سے وہ ڈیمز اڑیں گے وہ دنیا دیکھے گی تو حیران رہ جائے گی۔ ڈیمز تو اڑا سکتے ہیں ہم، لیکن آپ کو پتہ ہے کہ آپ سائبر اٹیک کر کے ڈیمز کے گیٹ بھی کھول سکتے ہیں، وہ بھی سارے الیکٹرانیکلی کنٹرولڈ ہیں۔ جیسے ابھی ہوا تھا کہ آپ نے ان کی ستر فیصد پاور بند کر دی تھی، تو آپ ان کے ڈیمز کے گیٹس کھول دیں یہاں سے بیٹھے بیٹھے۔
جاوید چوہدری: اچھا، تو ہمارے پاس آپشن ہے یہ، اور ہمارے پاس یہ صلاحیت بھی ہے، کہ جب چاہیں گیٹ کھول دیں؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ہاں ہاں بالکل، کیوں نہیں ہے صلاحیت، ابھی تو انہوں نے کھولے ہوئے ہیں، بند کرتے تو دیکھتے، پہلے بند کر دیے تھے، تو پھر تین چار دن کے بعد کھول دیے تھے۔ تو یہ بات ہے، آپشنز بہت ہیں، گیٹ بھی کھول سکتے ہیں، اور ہمارے دوست ان کا مشرق کی طرف سے آنے والا پانی بھی بند کر سکتے ہیں۔
جاوید چوہدری: چائنہ بند کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہاں تو پھر ایسے کا تیسا ہو سکتا ہے نا، یہ تو بات ہے۔
جاوید چوہدری: تو آخر کار چائنہ کو ہمارے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: لیکن آپ تو روایتی ہتھیاروں سے انڈیا کے ڈیمز توڑ سکتے ہیں، ایٹمی ہتھیار کی ضرورت بھی نہیں ہے، وہ تو ایسے ہی شاہین ٹو، شاہین تھری ماریں گے تو اڑا دیں گے ڈیمز۔ جیسے ان کو پتہ ہے پہلے جو (میزائل) لگے ہیں، اور ضرورت ہوئی تو اور ماریں گے۔
جاوید چوہدری: تو بالآخر انڈیا کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں، یہ تو وہ بیلنس آف پاور ہے کہ آپ کی میزائل ٹیکنالوجی نے، نیوکلیئر ٹیکنالوجی نے، ایئرفورس نے، اور آپ کی آرمی نے جس طرح سے اس کا مظاہرہ کر کے قائم کر دی ہے۔ یہ بیلنس آور پاور انڈیا کی بیلنس آف پاور سے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت زیادہ سوپیریئر ہے۔ اور یہ لوگ جھوٹ پر جو اپنے دفاع کو بنا کر دکھاتے ہیں، وہ وقت آنے پر، کرنچ ٹائم پر ناکام ہو جائیں گے۔
جاوید چوہدری: اچھا ڈاکٹر صاحب، انڈیا کے ایٹم بم اور پاکستان کے ایٹم بم میں فرق کیا ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ نے بم سے کرنا کیا ہوتا ہے۔ فرض کریں بہت بڑی فیکٹری ہے پانچ سو ایکٹر میں جہاں پر وہ میزائل بناتے ہیں، وہ آپ کا ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ کوئی فیول ڈپو آپ کا ٹارگٹ ہو سکتا ہے جہاں پیٹرول سٹور کیا ہوا ہے۔ کوئی امیونیشن فیکٹری ہو سکتی ہے۔ آپ نے دلی شہر کے بیچ میں جا کر لوگوں کو تو نہیں مارنا، یہ حرکت تو کمینے لوگ کرتے ہیں، اور ان سے تو ہمیں بعید نہیں ہے۔ جو بھی ٹارگٹس میں بتا رہا ہوں ان کے لیے ایک پانچ کلو ٹن کا یا دس کلو ٹن کا ایٹمی ہتھیار بہت ہے One is enough ہیروشیما پر جو ہوا تھا وہ دس بارہ کلو ٹن کا وہ بم تھا، اس سے آدھا بھی ہو تو کافی ہے۔ ایک فیکٹری کو ہی اڑانا ہے نا، یا ایک چھاؤنی کو اڑانا ہے۔
ما شاء اللہ (ہم نے یہ نہیں کیا) ہمیں بہت دفعہ کہا گیا کہ آپ ہائیڈروجن بم بنا لیں، بیس میگا ٹن، یا پچاس میگا ٹن کا۔ بھئی، بم ایک ٹارگٹ پر ہی مارنا ہے نا، وہ ٹارگٹ کیا ہو گا، وہی جو میں نے بتائے ہیں، تو اس کے اوپر اتنا بڑا بم مارنے کا کیا مقصد ہے؟ جیسے چیونٹی کے اوپر ہاتھی کا پیر رکھ کر مارنا ہو، بے وقوفی ہے نا؟ اس کے لیے جتنی ضرورت ہے اس سائز کا بم (ہونا چاہیے)۔ اور ہمارے پاس وہ سب ہیں۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک سے زیادہ وار ہیڈز والے میزائل (MIRVs) موجود ہیں جو مختلف ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ان کی رینج انڈین سب کانٹینٹ سے زیادہ ہے۔ میزائل جو کسی ایک ٹریک پر اڑ رہا ہے وہ راستے میں دائیں بائیں ہو سکتا ہے، تو وہ اپنے وارہیڈز پھینکتا جاتا ہے مختلف اہداف پر، یعنی ایک پرواز میں یہ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، اور اگر آپ چاہیں تو ایٹمی وارہیڈز کے ساتھ بھی۔
جاوید چوہدری: مختلف ڈائریکشنز میں چلیں گے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: وہ اس میزائل میں سے نکلیں گے اور ایک جا کر اس چھاؤنی کو ہٹ کرے گا، ایک اس کو کرے گا، ایک اس کو کرے گا This is called MIRVs (Multiple Independently Targetable Reentry Vehicle) اور یہ بھی پاکستان کے پاس ٹیسٹ شدہ موجود ہیں اور کامیاب ہیں۔
جاوید چوہدری: اور آپ نے خود بنائے ہیں یہ؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: بالکل، ہم نے خود بنائے ہیں۔ آپ ’’جینز ڈیفنس ویکلی‘‘ اٹھا لیں، ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کا جو ڈیفنس کے متعلق سپلیمنٹ ہے وہ اٹھا لیں۔ جینز ڈیفنس ویکلی میں پاکستان اور انڈیا کے ڈیفنس کا پورا موازنہ کیا گیا ہے کہ ایٹمی مواد کس کے پاس زیادہ ہے، ہتھیار کس کے پاس زیادہ ہیں، میزائل کس کے پاس زیادہ ہیں، ان کی کارکردگی کیا کیا ہے، ان کے فاصلے اور درستگی کیا ہے، وہ کتنے قابل اعتماد ہیں، ان کی ناکامی کی شرح کیا ہے۔ وہ آپ دیکھیں تو وہ ایسے ہے کہ پاکستان یہاں اوپر ہے اور انڈیا یہاں نیچے ہے۔ جس طرح (حالیہ تصادم میں) ایئرفورس میں ان کا موازنہ ہوا ہے نا، اس سے بھی زیادہ فرق ہے ان کی اور ہماری میزائل اور نیوکلیئر ٹیکنالوجیز میں۔
جاوید چوہدری: تو سر، ڈرونز میں کہاں پر ہیں ہم؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہمارے پاس سارے ڈرونز ہیں۔ جب یہ سلسلہ چلا تھا تو پورے دہلی کے اوپر ہمارا ڈرون اڑ رہا تھا۔
جاوید چوہدری: پہنچا تھا دہلی؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہاں، کلکتہ جا سکتا ہے، کہیں بھی جا سکتا ہے۔ آج سے نہیں یہ تو دس سال پہلے سے ہماری صلاحیت ہے۔ وہاں جا کر یہ انہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ کر کیا رہے ہیں، کون سا جہاز کہاں سے اڑ رہا ہے، کون سا ڈرون کہاں سے فائر ہو رہا ہے، آرمی کی ڈویژن کدھر جا رہی ہے، اس پر دن اور رات کے وقت دیکھنے والے کیمرے لگے ہوئے ہیں اور وہ ہر چیز آپ کو ٹرانسمٹ کر رہا ہے۔ اور وہ فضا میں بہت بلندی پر موجود رہتے ہیں اور راڈارز میں بھی نظر نہیں آتے، ہمارے جو ڈروزنز ہیں، ہم نے بنائے ہوئے ہیں۔
جاوید چوہدری: کہتے ہیں ترکی سے لیے ہیں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: جب جنگ ہوئی ہے ترکی سے تو اس دن جہاز آیا ہے نا، بیس سال سے ہم نے پوری ورائیٹی بنائی ہوئی ہے۔ ترکی کی بھی بڑی مہربانی ہے، ان کی بڑی سپورٹ ہے، ان کی جو دو بہترین چیزیں تھیں، وہ بھی انہوں نے بھیج دی تھیں۔ اور وہ (انڈیا والے) آج ترکی کے دشمن بھی ہو گئے ہیں۔
جاوید چوہدری: یہاں پر ڈاکٹر صاحب ایک سوال اور بھی ہے کہ جو اسرائیلی ڈرونز انڈیا نے استعمال کیے ہیں، وہ تقریباً نوے پاکستان کے اندر آئے تھے اور پاکستان نے نوے کے نوے گرا لیے تھے۔ اس ڈرون میں اور پاکستان کے ڈرون میں کیا فرق ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں، ڈرونز مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی کئی قسموں کے ڈرونز ہیں۔ Unmanned Aerial Vehicles (بغیر پائلٹ کے) بھی ہیں۔ ان کے پاس بھی ہیں اور اسرائیل سے بھی کچھ لیے ہوئے ہیں۔ اس میں ایک بڑا والا بھی تھا جسے ہم نے گرایا تھا۔ جب آپ 1+6 گنتے ہیں تو ایک وہ بڑا والا تھا، وہ پچیس تیس چالیس ملین ڈالرز کا ہوتا ہے۔ Some drones are just for obsevation جنہوں نے تصویریں لیں اور واپس آ گئے، آپ نے کیمرا نکالا اور تصویریں نکال لیں۔
جاوید چوہدری: جاسوسی کے ڈرونز۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: جاسوسی ڈرونز۔ اور ایک وہ ہوتا ہے جو اوپر جاتا ہے اور براہ راست آپ کو دکھاتا ہے۔ پھر جو مہنگے والے ہیں اور بڑے ہیں وہ مسلح ہیں، ان میں مختلف میزائل ہوتے ہیں جو لیزرگائیڈڈ بھی ہو سکتے ہیں، دوسرے عام میزائل بھی، گائیڈڈ میزائل بھی ہو سکتے ہیں، وہ بڑے سائز کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ابھی جو اسرائیل سے لیے ہیں بڑے والے، ایک آپ نے گرایا ہے۔ They were not seen anywhere (near) اور وہ دور سے فائر نہیں کر سکتے، ان کے چھوٹے چھوٹے میزائل ہوتے ہیں کہ نیچے کوئی گاڑی جا رہی ہے اس کو مار دیا، کسی گھر پر مار دیا، دہشت گرد کہیں چھپے ہوئے ہیں تو ان کو ختم کر دیا۔ تو وہ ڈرونز ادھر زیادہ نہیں آئے، ایک آیا تھا تو اسے آپ نے گرا دیا۔
جو زیادہ تر Nuisance پیدا کرنے کے لیے تھے وہ ایسے تھے کہ ان پر چھوٹا بم لگایا اور ہدف پر پہنچا کر اسے گرا دیا، جیسے دس پندرہ کلو کے چھوٹے بم ہوتے ہیں، جو لوگوں کے لیے افراتفری پیدا کے لیے ہوتے ہیں۔ انہیں وہ پیچھے سے ریموٹ کنٹرول سے اڑاتے ہیں، اس پر کیمرا لگا ہوتا ہے جو آپریٹر کو بتا رہا ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے، آپریٹر اسے گائیڈ کرتا ہوا ہدف پر لاتا ہے اور اسے کہتا ہے وہاں پر پھینک دو۔
اس کا ہم نے بڑا اچھا علاج رکھا ہوا تھا کہ ہم نے جیمنگ سسٹمز لگائے ہوئے تھے اپنے کافی علاقوں میں۔ جب وہ آتے تھے، تو ایک جگہ کو میں براہ راست اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھ رہا تھا، تو فیلڈ میں جو ہمارے جیمنگ سسٹمز تھے، ایک ڈرون سیدھا آ رہا تھا ٹارگٹ کی طرف، جب وہ جیمنگ سسٹم آن ہوا تو ڈرون دائیں بائیں کچھ ڈول کر دھڑام سے وہیں گر گیا So, we locked down the droes with our jamming systems ان کا جو پیچھے ریڈیو کنٹرول لنک ہوتا ہے، جیمنگ سے وہ لنک ٹوٹ جاتا ہے Then the drone does not get any signals
جاوید چوہدری: اور یہ جامرز بھی ہمارے اپنے بنے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: اپنے ہیں بالکل۔
جاوید چوہدری: بہت اچھا۔ اچھا، ڈاکٹر صاحب، اٹھائیس مئی 1998ء کی طرف جاتے ہیں واپس۔ جب یہ ایٹمی دھماکے کر رہے تھے تو آپ کو ڈر نہیں لگا کہ کہیں غلط بھی ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے بم چلے ہی نا اور ہماری بے عزتی ہو جائے دنیا میں۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: جب میں گیا تھا یہاں سے تو مجھے پرائم منسٹر نے بلایا تھا، مغرب کا وقت تھا، نماز ہم نے اکٹھے ہی پڑھی تھی۔ (سعید) مہدی صاحب تھے جو پرنسپل سیکرٹری تھے، وزیر اعظم تھے، اور میں تھا۔ ہم تین تھے۔ تو انہوں نے یہ پوچھا کہ آپ کی تیاری کیسی ہے، ہم کر سکتے ہیں، نہیں کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا، تیاری پوری ہے۔ ٹنلز کی تیاری؟ میں نے کہا، وہ بھی پوری ہے، آلات لگے ہوئے ہیں، دھماکے کی پیمائش بھی کر سکتے ہیں، سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ 1980ء (کی دہائی) سے تو میں نے وہ آلات تیار کر کے ٹنلز میں نصب کر کے ٹیسٹ کیے ہوئے تھے سارے۔ بہرحال، وہ کہنے لگے کہ اگر ٹیسٹ نہ ہوئے تو ہماری جتنی نیوکلیئر تنصیبات ہیں اسے دشمن نہیں چھوڑیں گے، اور دنیا میں ہمارا مذاق اور تمسخر الگ بنے گا۔ میں نے تو ان کو یہی کہا تھا، پوچھ لیجیے گا نواز شریف صاحب سے، میں نے کہا جی ہمارا ایمان ہے کہ ہم کوشش کر سکتے ہیں، نتیجہ اللہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے، آپ دعا کریں، اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا۔بہت اللہ کا شکر ہے، بڑا کرم ہوا، ہم نے چھ ٹیسٹ کیے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کتنے ٹیسٹ کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا انڈیا نے پانچ کیے ہیں ہم نے ایک زیادہ کرنا ہے۔ میں نے کہا جی ٹھیک ہے So, we took that many devices with us وہاں پر انہیں اسمبل کیا۔
پہلے میں نے ٹنلز وغیرہ کو جزوی طور پر پلگ کیا ہوا تھا کیونکہ آخری دن ان کی پلگنگ نہیں کر سکتے کہ کئی کلومیٹرز میں ان کی لمبائی ہے، ان کو آپ کنکریٹ سے بند تو نہیں کر سکتے۔ 1996ء میں ایک موقع آیا تھا کہ ٹیسٹ کرنے ہیں تو اس وقت ہمیں کہا گیا تھا کہ تیاری کریں، تو اس وقت ہم نے تاریں بچھا لیں، ہر کیبل یوں سمجھ لیں کہ تین انچ کے ڈایامیٹر کا ایک پائپ ہوتا ہے، کئی سو ٹن ان کا وزن ہوتا ہے۔ وہ ایسی تاریں نہیں ہیں جیسے یہ آپ نے یہ بچھائی ہوئی ہیں۔ اور کئی کلو میٹر ان کی لمبائی ہوتی ہے۔ وہ سارا کام اس وقت ہم نے کر کے ٹنلز کو ہم نے تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر تیار کر دیا تھا۔
جب ہم گئے ہیں تو ایٹم بم کو الگ الگ پارٹس میں لے کر گئے تھے اور ٹنل میں جہاں جا کر ہم نے رکھنا تھا، وہاں ہم نے اسے اسمبل کیا تھا۔ وہ تین چار دن میں ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تین چار دن میں ہم نے صرف ٹنلز کے گیپس کو کنکریٹ سے بند کرنا تھا، اور یہ ہم نے دو دن میں کر لیے تھے، جب کنکریٹ سخت ہو گئی تو ہم تیار تھے۔
یہ تو ہو گیا لیکن پھر اسے ریموٹ سے Detonate کرنا تھا، کوئی بیس تیس کلو میٹر دور سے۔ ہم نے اپنے سر پر تو نہیں مارنا تھا نا۔ ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ پہاڑ کتنا (مضبوط ہے)۔ ہم نے اپنی پیمائشیں بہت کی ہوئی تھیں لیکن کیکولیشنز اپنی جگہ ہوتی ہیں، اگر پہاڑ میں کوئی شگاف آجائے جہاں سے ریڈیو ایکٹیویٹی نکل پڑے تو آپ کیا کر لیں گے، کسی نے اس کے اندر گھس کر تو نہیں دیکھا … تو میری ٹیم کے اسی نوے لوگ تھے وہاں چاغی میں، ان سب کو ہم نے واپس بھیج دیا، اب ہم صرف پانچ چھ لوگ رہ گئے تھے چلانے کے لیے، باقیوں سے میں نے کہا کوئٹے واپس چلے جاؤ۔
جاوید چوہدری: پانچ چھ لوگ رہ گئے، انہوں نے اپنی جان کو رسک میں ڈالا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: میں ساتھ تھا۔ رسک تو دیکھیں کہ جب ہم نے یہ ٹرانسپورٹ کیے ہیں، یہاں سے جب گئے ہیں تو سامان تو کوئٹہ گیا نا۔ کریٹس میں پیک تھے ایٹم بمز، کوئٹے سے جب چاغی گئے تو ہیلی کاپٹر میں گئے، ساتھ بندے بھی تھے، اگر اس وقت میرا پاس موبائل کیمرا ہوتا، جو اس زمانے میں تھے نہیں، تو میں آپ کو دکھاتا کہ ہیلی کاپٹر میں کریٹس پڑے ہوئے ہیں ایٹم بم کے، اور کریٹس کے اوپر ہم ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس میں یہ نہیں سوچنا ہوتا کہ کیا ہو گا، سوچنا یہ ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔
جاوید چوہدری: اچھا، یہ ٹرانسپورٹیشن آپ نے اسلام آباد سے کی تھی، ٹیکنیکل سوال ہے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ظاہر ہے، وہ تو پاکستان ایئر فورس نے ہماری مدد کی تھی۔ کوئٹہ سے آگے ہیلی کاپٹرز پھر آرمی نے دیے تھے۔
جاوید چوہدی: تو کتنا وقت لگا آپ کو اسمبل کرنے میں اور تیاری میں؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہم بیس تاریخ کو پہنچے تھے رات کو بارہ بجے، بیس مئی کو۔ انڈیا نے ٹیسٹ کیے تھے گیارہ اور تیرہ مئی کو۔ چودہ کو DCC (ڈیفنس کمیٹی آف دی کیبینٹ) کی میٹنگ ہوئی تھی، اس میں فیصلہ ہوا کہ ہم نے ٹیسٹ کرنے ہیں۔ چار پانچ دن میں انہوں نے پھر اپنے دوست ممالک کو بتانا تھا۔ تو ہمیں بیس مئی کو اجازت ملی تھی۔ بیس کو ہم پی آئی اے کی فلائیٹ میں کوئٹہ پہنچ گئے تھے، وہاں سے رات کو بارہ بجے چاغی پہنچ گئے تھے۔ سامان ایک دو دن میں سارا پہنچ گیا تھا We started assembling, in four five days we were ready کنکریٹ بھی پلگ کر لی تھی اور سب کچھ۔
ستائیس کی رات کو ہم کام بالکل ختم کر کے سوئے تھے۔ صبح چار بجے ہم اٹھے پھر نماز پڑھی دعا مانگی اور پھر اللہ کے اوپر چھوڑ دیا سارا کچھ۔ دن کو تین بجے ٹیسٹ کا وقت تھا۔ وہاں آرمی کی پوری بریگیڈ تھی، ان کو میں نے کہا کہ آپ نکل جائیں۔
پھر ایک وقت تھا اس چیز کا مجھے خیال آتا ہے کہ ہم نے اتنے قریب جو چیز محفوظ رکھی ہوئی تھی، دل کے ساتھ لگا کر رکھی ہوئی تھی، خفیہ مقامات ہیں وغیرہ، اور جب بریگیڈ کو نکال دیا تو ایک وقت ایسا آیا کہ ایک گھنٹے کے لیے اس مقام پر کوئی ایک انسانی روح بھی نہیں تھی۔
Totally unattended, atom bombs were in place, all wired up waiting for the button to be pressed.
وہ جو ’’اللہ کا توکل‘‘ کہتے ہیں نا، اس وقت اللہ کے توکل پر چھوڑا تھا ہم نے۔ پھر بیس پچیس کلو میٹر دور سے ہم نے اس کی Detonation کی۔ جب کاؤنٹ ڈاؤن کیا … تو میرا انجینئر تھا جو ریموٹ کنٹرول سسٹم آپریٹ کر رہا تھا، میں نے کہا ’’یار تو کر دے اے کم‘‘۔ اس نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! تسی کرو‘‘۔ میں نے کہا نہیں ’’تم کرو یار تم نے بڑی محنت سے یہ کیا ہے‘‘۔ کہنے لگا ’’الٹی گنتی شروع کروں؟‘‘ میں نے کہا ’’الٹی گنتی کیوں شروع کرنی ہے؟ اللہ اکبر اور بٹن دبا دے بس‘‘۔ اللہ اکبر کہہ کر بٹن دبا دیا۔ اسی لیے اسے یومِ تکبیر کہتے ہیں۔ کوئی گنتی شنتی نہیں، میں نے کہا انگریز گنتی کرتے ہیں، نائن ٹین، فلان ٹینگ۔
اس کے بعد اب ہم کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ گاڑی میں تھے ہم، مرسڈیز کا بڑا زبردست ٹرک تھا، اس میں سب انسٹرومنٹس لگے ہوئے تھے۔ بٹن دبا کر ہم ٹرک سے باہر آ گئے، پہاڑ کی طرف دیکھنا شروع کیا، کچھ بھی نہ ہوا۔ میں نے کہا، یہ کیا ہوا یار؟ ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے ہیں ہم۔ پینتیس سیکنڈ کے بعد، ہم وہیں پر کھڑے تھے، اتنی زور سے جھٹکا لگے کہ ہم تقریباً گر ہی گئے، اتنی زور سے زلزلہ آیا۔ کالے پتھر کے پہاڑ تھے، دھوپ میں جلے ہوئے، پچپن ڈگری ٹمپریچر تھا، صدیوں سے، وہ پہاڑ سفید ہونے شروع ہوئے، جیسے برف پڑنی شروع ہوتی ہے نا۔ پورا پہاڑی سلسلہ، تیس کلو میٹر تک ہم دیکھ سکتے تھے، سارا اوپر سے سفید ہو گیا۔ اس کے بعد جہاں پر ہم نے بم لگایا تھا، وہاں جو پہاڑ سفید تھے وہ سرخ ہونا شروع ہو گئے They started getting red hot میں نے کہا یار یہ تو کام خراب ہونے لگا ہے، لیکن It stayed there پہاڑ نے اسے قابو میں رکھا۔ ہم نے بڑی احتیاط سے اس کا انتخاب کیا تھا This was a strongest highest density rock in the country سب سے مضبوط پہاڑ تھا یہ، راسو کا پہاڑا۔
جاوید چوہدری: آپ نے بتایا کہ جب وہ پہاڑ سرخ ہو رہا تھا تو آپ کو خوف تھا کہ کہیں پھٹ نہ جائے۔ اگر خدانخواستہ ڈاکٹر صاحب، وہ جو سرخ ہو رہا تھا پہاڑ، تو خطرہ آپ کو تھا کہ کہیں لیک نہ کر جائے؟ تو یہ پھٹنے سے کیا ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں، ہم نے ٹنل پلگ (بند) کی ہوئی تھی، تو اندر جب نیوکلیئر ڈیٹونیشن ہوتی ہے تو درجہ حرارت بہت اوپر چلا جاتا ہے، کئی ہزار ڈگریز پر پہنچ جاتا ہے، تو پہاڑ کے پتھر سرخ اور گرم ہو جاتے ہیں، اس سے بھی زیادہ درجہ حرارت ہو تو یہ پگھل بھی جاتے ہیں، اور پگھل گئے تو پھر یہ کھل جائیں گے۔ تو پگھلنے کی نوبت نہیں آئی، گرم ہونے کی نوبت آ گئی۔ اندر گیسز پھیل رہی ہوتی ہیں، اس میں ہیٹ بھی ہے اور پریشر بھی، دونوں چیزیں ہیں۔ ایک تو Shokwave ہے نا جو زلزلہ آیا ہے، وہ تو آسٹریلیا میں بھی ماپا گیا ہے اور امریکہ میں بھی، یہ پوری دنیا میں گھوما، اتنا زبردست جھٹکا ہوتا ہے ایٹمی دھماکے کا۔ لیکن جو تباہی ہوتی ہے، جیسے ہیروشیما اور ناگاساکی شہر تباہ ہوئے، وہ گرمی کی لہر ہوتی ہے، اور دھماکے سے ہوا کا جو پریشر ہوتا ہے، اس سے اموات ہوتی ہیں، عمارتیں گر جاتی ہیں، چیزیں پگھل جاتی ہیں۔
جاوید چوہدری: چاغی میں آج بھی ریڈی ایشن کے امکانات ہیں یا ختم ہو گئے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: وہ ایسے ہے کہ، آپ یہ دیکھیں کہ جب ٹیسٹ ہوئے تب ہم پندرہ بیس کلو میٹر دور تھے اور آٹھ دس لوگ ہی تھے۔ جو باقی میرے ساتھی تھے وہ کہنے لگے کہ ہم نے جا کر دیکھنا ہے۔ میں نے کہا، کیا دیکھنا ہے؟ کہتے ہیں جی ٹنل میں جانا ہے۔ میں نے کہا یار بات سنو، وہاں پہ ریڈیو ایکٹیویٹی نہ ہو کہیں۔ ہمارے پاس گاڑی تھی، ایک دو جیپیں تھیں، ریڈی ایشن مانیٹر لے کر گئے وہ، دس کلو میٹر دور تھا، دس پندرہ منٹ گزر گئے وہ واپس ہی نہ آئے اور نہ ہی وائرلیس پر کچھ بتایا۔ میں نے کہا، چلو میں بھی جاتا ہوں۔ کیونکہ ہم نے اندھیرے سے پہلے خاران پہنچنا تھا، اور یہ تین چار بجے کی بات تھی۔ اور رات کو آپ ہیلی کاپٹر میں سفر نہیں کر سکتے۔ تو وہ تماش بینی کر رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے۔ اور خوش تو ظاہر ہے کہ ہم بہت تھے، اس سے زیادہ اور کیا خوشی ہو سکتی ہے۔
ہم وہاں گئے تو ٹنل پر ہم نے ایسے ہی ایک گیٹ لگایا ہوا تھا، اس پر چائنیز تالا تھا جو ایسے ہی لٹک رہا تھا، اسے کچھ نہیں ہوا So the shockwave did not even destroy the outer gate لیکن جو بنکر تھا جس میں ہمارے سارے آلات وغیرہ تھے جنہوں نے دھماکے کی شدت وغیرہ ریکارڈ کی تھی، اس بنکر کی اڑتالیس انچ کی سیمنٹ اور سریے کے ساتھ ری انفورسڈ دیواریں بنائی گئی تھیں، وہ دیواریں ایسے پھٹی ہوئی تھیں کہ اس کے اندر سے آپ بندہ گزار دیں، پتلا سا بندہ اس میں گزر سکتا تھا، اتنے گیپ ان میں پڑ گئے تھے۔
جاوید چوہدری: اڑتالیس انچ کی دیوار ٹوٹ گئی۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: اتنا شدید وہ جھٹکا تھا، لیکن وہ تو ٹنل کے منہ کے اوپر تھا، اور شاک ویو تو پھر امریکہ بھی جانی تھی نا۔ ریڈیو ایکٹیویٹی کوئی نہیں تھی، ہم وہاں تھے، ہم نے مانیٹر کیا، کیونکہ کچھ لیک نہیں ہوا تھا، اگر لیک ہوتی تو پھر کام خراب ہوتا۔
جاوید چوہدری: اچھا آج تک ایک راز ہے کہ میاں نواز شریف صاحب شاید دھماکے نہیں کرنا چاہتے تھے، یا رائے کا اختلاف تھا، کچھ کہتے تھے چھوڑ دیں امریکہ سے پیسے لے لیں، کچھ کہتے تھے ہر صورت کرنا ہے، یاد ہے آپ کو سر، کیا فیصلہ ہوا تھا؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: بالکل یاد ہے، میں ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ میں تھا۔ انہوں نے پہلے تو انفرادی ملاقات کی تھی نا میرے ساتھ بارہ تیرہ تاریخ کو، پھر مجھے انہوں نے بلایا تھا کہ کمیٹی کی میٹنگ چودہ تاریخ کو ہو رہی ہے تو آپ کو میں اسپیشل انویٹیشن پر بلا رہا ہوں، ڈاکٹر (عبد القدیر) خان صاحب کو بھی بلا رہا ہوں، آپ کو بھی بلا رہا ہوں۔ پھر ہم دونوں گئے تھے اس میں۔ پھر وہ ساری ڈسکشن میرے سامنے ہوئی تھی۔ زیادہ لوگ نہیں تھے، کوئی چودہ پندرہ لوگ ہوں گے۔ پرائم منسٹر کے ساتھ ایک طرف کچھ منسٹر تھے۔
جاوید چوہدری: آرمی چیف تھے جنرل جہانگیر کرامت۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: آرمی، سروس چیف تھے، فنانس منسٹر تھے، وہ مجھے اس لیے یاد ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ نا کرو۔
جاوید چوہدری: سرتاج عزیز صاحب نے کہا تھا؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہاں، انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ بہت پابندیاں لگا دے گا، معیشت خراب ہو جائے گی، انہوں نے تو اکانومی کا سوچنا تھا نا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیسے بھی دے رہا ہے تو۔
جاوید چوہدری: لے لو۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہاں۔ خیر، سب کی باتیں سنیں۔ نواز شریف بہت ڈیموکریٹک بندہ ہے۔ انہوں نے بالکل ظاہر نہیں کیا کہ ان کی اپنی مرضی کیا ہے۔ انہوں نے گفتگو کا آغاز کروا دیا کہ Floor is open for discussion باری باری پوچھتے رہے۔ پھر انہوں ڈاکٹر خان صاحب کو بھی ایک ٹیکنیکل سوال پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب اگر ہم فیصلہ کریں اور آخری وقت پر آپ کو بھیج دیں کہ جا کر ٹیسٹ کریں، تو ایسا وقت بتائیں کہ جس کے بعد Point of no return ہو یعنی اب کرنا ہی کرنا ہے، ورنہ وہاں چھوڑ کر آجانا ہے بغیر ڈیٹونیشن کے، تو پوائنٹ آف نو ریٹرن کیا ہو گا؟ ڈاکٹر خان صاحب نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، جب آپ کہیں گے ہم ڈیٹونیشن کی تاریں اتار دیں گے اور باہر آجائیں گے۔
جاوید چوہدری: یعنی وہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ ہو۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: (یہ بات) نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسان ہے یہ، جب آپ کہیں گے کہ نہ کرو تو ہم نہیں کریں گے اور تاریں اتار کر بم اٹھا کر گھر لے آئیں گے۔
وہی سوال انہوں نے اس کے بعد مجھ سے پوچھا۔ میں نے کہا کہ بھئی جس وقت کنکریٹ پلگ ہو گئی تو اب یہ کام نہیں ہو گا، تاریں وغیرہ سب کچھ تو اندر ہے، اب کنکریٹ توڑنے جائیں گے تو بم بھی ٹوٹ جائیں گے، اس لیے یہ پوائنٹ آف نو ریٹرن ہے، کنکریٹ کا پہلا پلگ ڈالنے سے ایک گھنٹہ بعد تک، جب کنکریٹ سخت ہو گئی تو ختم۔
جاوید چوہدری: ختم، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر صاحب، یہ فرمائیے گا کہ جو پہلا بم چلا تھا 1945ء میں ہیرو شیما پر چلا تھا، وہ بم اور آج کے بم، کیا فرق ہے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: دیکھیں، اس بم میں اور آج کے بم میں فرق یہ ہے کہ وہ کوئی دس بارہ کلو ٹن کے بم تھے دونوں، اس کا سائز کوئی دو سے تین ڈایا میٹر کا تھا۔
جاوید چوہدری: ’’لٹل بوائز‘‘، عام جہاز سے گرایا تھا انہوں نے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: لٹل بوائز، عام جہاز سے گرائے تھے … اب جو چھوٹا Miniature بم ہے، جو شاہین ون پر لگتا ہے، وہ اتنا سا ہے (ایک ڈیڑھ فٹ)، اس کے دھماکے کی شدت ان بموں سے زیادہ ہے۔ ایک تو Miniaturization (مختصر کرنے کی تکنیک) بہت اچھی ہو گئی ہے، بم کے ڈیزائن بہت بہتر ہو گئے ہیں، کارکردگی ان میں بہت آ گئی ہے۔ وہ جو اتنا سا پانچ چھ انچ کا بم ہے جو ٹیکٹیکل میزائل میں لگتا ہے، وہ بھی بڑی بلا ہے۔
جاوید چوہدری: وزن میں کتنا ہو گا ویسے؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: ہمارے جو بڑے بم ہیں دس بارہ کلو ٹن کے، ان کا وزن ہیروشیما والے بم سے 1/20th ، 1/15th ہے۔ بہت چھوٹے بم ہیں۔ کیونکہ اگر بہت وزنی لگائیں تو پھر میزائل کی رینج نہیں ہوتی You have to make it compact and light
جاوید چوہدری: آج اگر خدانخواستہ یہ بم چل جاتے ہیں تو ہیروشیما سے دس گنا، پندرہ گنا، پچاس گنا زیادہ تباہی آئے گی؟
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: بہت زیادہ، تباہی تو بہت آئے گی، اللہ کرے اس کی نوبت نہ آئے، ہم لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتے، لیکن ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دشمن کو پتہ ہونا چاہیے کیونکہ اس کے پاس یہ بم ہیں، تو ایسے ہی کوئی غیر سنجیدہ قیادت وہاں آجائے تو وہ اٹھا کر اسے ہمارے سر پر نہ دے مارے، کیونکہ اگر وہ ایسے ماریں گے تو ان کا بھی سر پھٹے گا، ہم بھی ان کا سر توڑ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ڈیٹرنس کے لیے بنائے گئے ہیں۔
جاوید چوہدری: آخری کوئی پیغام جو آپ مودی صاحب کو دینا چاہیں، کیونکہ اس وقت تو وہ دیکھ رہے ہوں گے آپ کو۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند: مودی صاحب بزرگ آدمی ہیں، لیکن میرے سے وہ عمر میں چھوٹے ہیں So, I don't have to respect him like an elder, but I do respect him as a head of a neighboring state وہ ہمارے ہمسائے ہیں، تو ان کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کے اپنے جو بھی انتخابات کے مسئلے ہیں، جو آپ کے مقامی مسائل ہیں، جو آپ کی مجبوریاں ہیں، جو ملک کا اندرونی دباؤ ہے جیسے جمہوریت کے ہوتے ہیں، وہاں کئی تحریکیں چل رہی ہیں جیسے ناگالینڈ والوں کی اور سکھوں کی، تو آپ اپنے دباؤ کو خود برداشت کریں اور اٹھا اٹھا کر انہیں پاکستان کی طرف مت پھینکیں۔ اس frenzy (بے لگام اشتعال) میں پھر آپ کا پریس آجاتا ہے اور آپ کا میڈیا آجاتا ہے تو پھر بات بڑھ جاتی ہے، آپ بھی پھر حد پار کرنے کی کوشش کریں گے، آپ ایسی نوبت ہی نہ آنے دیں، آپ سمجھدار آدمی ہیں حکومت کے سربراہ ہیں، تو سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ اس طرف جو بندے بیٹھے ہیں نا، یہ بڑی ’’فائر برینڈ‘‘ قوم ہے، ’’مارشل ریس‘‘ بیٹھی ہے ادھر۔ اِدھر کوئی پنسل کاغذ والے بندے نہیں بیٹھے، برٹش آرمی ادھر سے ہی ریکروٹ ہوتی تھی اور دوسری جنگ عظیم بھی انگلینڈ نے ادھر سے ہی بیٹھ کر لڑی ہے، تو اس قوم کا دماغ خراب ہو گیا تو پھر آپ کی شامت آجائے گی۔
جاوید چوہدری: ڈاکٹر صاحب، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ (ناظرین) آپ نے گفتگو سنی، فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے، اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو ہر قسم کی مصیبت سے محفوظ رکھے، اللہ حافظ، پاکستان زندہ باد۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، خان ریسرچ لیبارٹریز، نیشنل کمانڈ اتھارٹی
مرتب : ادارہ الشریعہ
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کی بنیاد وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی نے مارچ 1956ء میں رکھی تھی۔ اس کا قیام پاکستان کے ایٹمی توانائی کے قانون (Energy Council Act) کے تحت عمل میں آیا، جس کا مقصد ملک میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال، سائنسی تحقیق، اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) ایک خودمختار وفاقی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا بنیادی ہدف قومی ترقی میں جوہری ٹیکنالوجی کا کردار متعین کرنا تھا۔ چنانچہ PAEC نے نہ صرف توانائی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں بلکہ طب، زراعت، صنعت، اور تعلیم میں بھی جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔
یہ ادارہ Atoms for Peace پروگرام کے تحت امریکہ کے ساتھ شراکت داری میں قائم ہوا تھا، جس کا مقصد جوہری توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنا تھا۔ PAEC نے بعد میں PINSTECH جیسے تحقیقی ادارے قائم کیے اور ملک کے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ KANUPP کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی طور پر PAEC نے غیر عسکری مقاصد کے لیے جوہری تحقیق کا آغاز کیا، جس میں خوراک کی شعاعی تحفظ، کینسر کے علاج کے لیے نیوکلیئر میڈیسن، اور زرعی تحقیق شامل تھی۔ 1960ء کی دہائی میں ادارے نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) قائم کیا، جو آج بھی جوہری تحقیق کا مرکز ہے۔ PAEC نے ملک کے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ، KANUPP، کی تعمیر میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
1974ء میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد پاکستان نے دفاعی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیرِاعظم جنہوں نے میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی، انہوں نے ’’اسلامی بم‘‘ کے تصور کو فروغ دیا اور PAEC کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف دیا۔ PAEC نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا اور 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب جوہری تجربات کیے، جنہیں ’’یومِ تکبیر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان تجربات نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں جوہری طاقت بنا دیا۔
PAEC آج بھی ملک کے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس چلا رہا ہے، جن میں چشمہ نیوکلیئر کمپلیکس کے یونٹس شامل ہیں۔ چشمہ یونٹ-5 کی تعمیر جاری ہے، جو 1200 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ PAEC نے کئی نیوکلیئر میڈیسن سینٹرز قائم کیے ہیں جو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں، جیسے کہ سائبر نائف ریڈیو سرجری۔ PAEC کی خدمات میں زرعی تحقیق بھی شامل ہے، جیسے فیصل آباد میں نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (NIAB)، جو بیماریوں سے مزاحم فصلیں تیار کر رہا ہے۔ PAEC کا عزم ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو امن، ترقی، اور خوشحالی کے لیے استعمال کیا جائے، اور یہ ادارہ قومی سطح پر سائنسی تعلیم و تحقیق کو فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے۔
ابتدائی طور پر اس ادارے کے پہلے چیئرمین نذیر احمد تھے، جو ایک تجرباتی طبیعیات دان تھے۔ ان کے ساتھ دیگر ممتاز سائنسدانوں جیسے سلیم الزمان صدیقی (نامور کیمیا دان) اور رضی الدین صدیقی (ریاضیاتی طبیعیات دان) نے تحقیقاتی شعبوں کی قیادت سنبھالی۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے ابتدائی دور میں PAEC کے ساتھ کام کیا اور نوجوان سائنسدانوں کی تربیت میں مدد دی۔ منیر احمد خان PAEC کے تیسرے چیئرمین تھے جنہیں بھٹو صاحب نے مقرر کیا، انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری، پلوٹونیم ری پروسیسنگ، اور چاغی کے تجربات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد PAEC کے چیئرمین رہے اور جوہری تعلیم و تحقیق کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں، انہوں نے CERN جیسے بین الاقوامی اداروں سے روابط قائم کیے۔ محمد نعیم PAEC کے سابق چیئرمین جنہیں نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا، انہوں نے نیوکلیئر میڈیسن اور پاور پلانٹس کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر انعام الرحمان اور ڈاکٹر قمر محبوب PAEC کے سائنسدان جنہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا، ان کی خدمات نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں نمایاں رہی۔
ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات
ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) سے گہرا اور دیرینہ تعلق رہا ہے۔ 1962ء میں انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) میں شمولیت اختیار کی اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپ حاصل کی۔ 1966ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے تجرباتی نیوکلیئر فزکس میں DPhil مکمل کرنے کے بعد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے منسلک ہو گئے۔ پھر وہ وہ جلد ہی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) سے منسلک ہو گئے جہاں انہوں نے نیوٹران فزکس اور گاما اسپیکٹروسکوپی جیسے شعبوں میں تحقیق کی۔ 1974ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کے مشورے پر اٹامک کمیشن نے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا جس کا نام ’’فاسٹ نیوٹران فزکس گروپ‘‘ (FNPG) رکھا گیا، اس کی سربراہی ڈاکٹر ثمر کو سونپی گئی، اس گروپ میں انہوں نے نیوٹران توانائی کی تقسیم، امپلوشن فزکس، اور ایٹمی دھماکوں سے متعلق اہم خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں انہیں اٹامک کمیشن کے ’’ڈائیگناسٹک گروپ‘‘ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے ایٹمی تجربات کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن سسٹمز، ڈیٹیکشن اور میئرمنٹ آلات کی تیاری کی نگرانی کی۔ 1983ء میں ہونے والے پاکستان کے پہلے کولڈ ٹیسٹ (Kirana-I) اور 1998ء کے چاغی کے ایٹمی تجربات (Chagai-I اور Chagai-II) میں ان کی قیادت اور تکنیکی مہارت بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ 1995ء سے 2000ء تک وہ اٹامک کمیشن کے ممبر ٹیکنیکل کے طور پر کام کرتے رہے، اس دوران انہوں نے کمیشن کے مختلف تکنیکی منصوبوں کی نگرانی کی جن میں ایٹمی میڈیسن، زراعت اور ایندھن کی ری پروسیسنگ شامل ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اٹامک کمیشن کے تحت ایک خفیہ ادارے ’’ڈائریکٹوریٹ فار ٹیکنیکل ڈیویلپمنٹ‘‘ (DTD) کے بھی سربراہ رہے، جہاں وہ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے بارودی لینز اور ٹریگرنگ میکنزم کے ڈیزائن پر کام کرتے رہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان ریسرچ لیبارٹریز کہوٹہ (KRL)
خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL)، جسے پہلے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کہا جاتا تھا، 31 جولائی 1976ء کو قائم کی گئی۔ اس ادارے کی بنیاد پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے رکھی، جنہوں نے ہالینڈ اور بیلجیئم سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے 1981ء میں اس ادارے کا نام تبدیل کر کے ’’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘‘ رکھ دیا۔ KRL کا بنیادی مقصد یورینیم کی افزودگی کے ذریعے پاکستان کو جوہری صلاحیت فراہم کرنا تھا۔ یہ ادارہ کہوٹہ کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے، جو اس کے خفیہ اور حساس نوعیت کے کام کے لیے موزوں ترین مقام تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک ماہر ٹیم تشکیل دی جس میں فوجی اور سویلین انجینئرز شامل تھے۔ اس ٹیم نے نہایت قلیل وقت میں یورینیم افزودگی کا عمل مکمل کیا، جو پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد بنا۔
KRL نے نہ صرف ایٹمی بم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ غوری میزائل، جو ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی ادارے میں تیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ KRL نے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، اور دیگر دفاعی آلات بھی تیار کیے، جو پاک فوج کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ KRL کی خدمات نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی اور سائنسی بنیاد فراہم کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی قیادت میں KRL نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ادارے نے صنعتی شعبے میں بھی خدمات انجام دیں، جیسے ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کے لیے آلات کی تیاری۔ KRL نے اپنے ملازمین کے لیے ہسپتال، رہائشی کالونی، سکول، اور کھیلوں کی سہولیات بھی فراہم کیں۔ اس ادارے نے کرکٹ کے شعبے میں بھی نامور کھلاڑی پیدا کیے، جن میں سعید انور، شعیب اختر، اور مصباح الحق شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان KRL کے بانی اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے روحِ رواں، انہوں نے یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی حاصل کی اور پاکستان کو جوہری طاقت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو انہوں نے ڈاکٹر خان کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آ کر جوہری پروگرام میں حصہ لیں، ان کی سیاسی حمایت نے KRL کے قیام کو ممکن بنایا۔ جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان جنہوں نے KRL کا نام ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا اور ادارے کو مکمل سیاسی و عسکری حمایت فراہم کی۔ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر خان فوجی انجینئر جنہوں نے KRL کی تعمیر اور انتظامی امور میں ڈاکٹر خان کے ساتھ مل کر کام کیا، ان کی ٹیم نے تمام کام وقت مقررہ ہدف سے پہلے مکمل کیا۔ ڈاکٹر فخر الحسن ہاشمی KRL میں حساس مشینوں کی تیاری کے ذمہ دار، میٹالرجی اور فزکس کے ماہر، جنہیں بعد میں ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا۔ ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا، ڈاکٹر اشرف عطا، منصور احمد، یہ تینوں سائنسدان برطانیہ اور امریکہ سے تعلیم یافتہ تھے اور KRL کے مختلف شعبوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بریگیڈیئر شیخ محمد جعفر، کرنل مجید، کرنل رشید علی قاضی فوجی افسران جنہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ، مشین سازی، اور دفاعی آلات کی تیاری میں اہم خدمات انجام دیں۔ میاں محمد نواز شریف وزیرِاعظم جن کے دورِ حکومت میں 28 مئی 1998ء کو چاغی میں کامیاب جوہری تجربات کیے گئے، جنہوں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو مکمل اختیار دیا تھا۔
جوہری بم سازی کا بانی کون ہے؟
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) اپنے قیام 1956ء سے ہی جوہری تحقیق اور ترقی میں شامل رہا تھا، اور 1970ء کی دہائی کے اوائل سے (خاص طور پر 1974ء میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد) ایک جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو فعال طور پر آگے بڑھایا، اصل ہتھیاروں کی تیاری ان تجربات کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے سب سے پہلے پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام شروع کیا، اس معنی میں کہ اسے ابتدائی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن اور بالآخر فوجی مقاصد دونوں کے لیے تلاش کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر توجہ دی گئی تھی، لیکن ایک ممکنہ ہتھیاروں کے پروگرام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1974ء میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے چیئرمین منیر احمد خان کی قیادت میں PAEC کو واضح طور پر ایک جوہری ہتھیار تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اس کا کوڈ نام پراجیکٹ-706 تھا۔
خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) بعد میں 1976ء میں قائم کی گئی، جسے ابتدائی طور پر انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز (ERL) کا نام دیا گیا تھا۔ اسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس ادارے کی توجہ خاص طور پر جوہری بم کی تیاری کے لیے یورینیم افزودگی کے راستے پر مرکوز تھی۔ PAEC کی بنسبت KRL اپنی سرگرمیوں میں بڑی حد تک آزاد تھا۔ ڈاکٹر اے کیو خان کی گیس سنٹرفیوج ٹیکنالوجی میں مہارت KRL کی ترقی کے لیے انتہائی اہم تھی۔ 1981ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کی ستائش کے طور پر اس وقت کے سربراہ مملکت صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اس ادارے کا نام تبدیل کر کے ’’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘‘ رکھ دیا۔
خلاصہ یہ کہ PAEC وہ وسیع ادارہ تھا جس نے سیاسی ہدایت کے بعد وسیع جوہری پروگرام شروع کیا، جس میں جوہری ہتھیاروں کا حصول بھی شامل تھا۔ KRL پھر اس ہتھیاروں کے پروگرام کا ایک مخصوص اور اہم جزو یعنی یورینیم افزودگی کے حوالے سے انتہائی خفیہ ادارے کے طور پر وجود میں آیا۔ اگرچہ دونوں کے درمیان اکثر کشیدگی کے ساتھ ساتھ ترقی کے علیحدہ راستے بتائے جاتے ہیں، لیکن PAEC حکومت کی براہ راست ہدایات کے تحت جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا ادارہ تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کے پاس 1987ء تک ہتھیار کے لیے کافی مواد موجود تھا، اور 1980ء کی دہائی میں مبینہ طور پر کولڈ ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ تاہم دونوں اداروں کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کا حتمی عوامی مظاہرہ مئی 1998ء میں ہوا جب حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر 28 مئی کو اٹامک کمیشن نے تجربات کیے اور 30 مئی کو خان لیبارٹریز کہوٹہ نے۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA)
پاکستان کا جوہری پروگرام ایک مضبوط اور محفوظ کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کے تحت ہے، جسے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) کہا جاتا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کی قومی سلامتی کے ایک اہم ستون کے طور پر کام کرتا ہے، اور اس کا مقصد جوہری ہتھیاروں اور ان کے متعلقہ مواد کی حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا ہے۔
NCA کا قیام 2000ء میں عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو ایک منظم اور محفوظ فریم ورک کے تحت لایا جا سکے تاکہ اس کی حفاظت اور استعمال کے حوالے سے تمام فیصلے ایک ہی جگہ سے کیے جا سکیں۔ NCA کا کنٹرول مکمل طور پر سول اور فوجی قیادت کے ہاتھ میں ہے اور اس کی سربراہی وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں۔
تنظیمی ڈھانچہ
NCA ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی ہے جس میں وزیراعظم کے علاوہ ملک کی اہم سول اور فوجی شخصیات شامل ہوتی ہیں، جیسے:
- وزیراعظم (چیئرمین)
- وزیر خارجہ
- وزیر دفاع
- وزیر داخلہ
- وزیر خزانہ
- چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی
- تینوں مسلح افواج کے سربراہان (آرمی، نیوی، ایئر فورس)
- ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس (ISI)
- ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن (SPD)
کردار اور ذمہ داریاں
NCA کی ذمہ داریوں میں درج ذیل اہم پہلو شامل ہیں:
- جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا۔
- جوہری تنصیبات اور مواد کی فیزیکل اور سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانا۔
- جوہری اثاثوں پر مکمل کنٹرول رکھنا اور انہیں غیر مجاز استعمال سے بچانا۔
- جوہری ٹیکنالوجی میں تحقیق اور ترقی کی نگرانی کرنا۔
- جوہری عدم پھیلاؤ (nuclear non-proliferation) کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا۔
اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن (SPD)
اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن (SPD) ایک انتہائی اہم ادارہ ہے جو پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا بنیادی کام پاکستان کے جوہری پروگرام کی پالیسیوں، منصوبہ بندی، اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف جوہری اثاثوں کے تحفظ اور انتظام کا ذمہ دار ہے بلکہ تمام متعلقہ اداروں، جیسے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)، ڈاکٹر عبد القدیر خان ریسرچ لیبارٹریز کہوٹہ (KRL)، اور دیگر دفاعی تحقیقی تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی بھی پیدا کرتا ہے۔ SPD ایک لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں کام کرتا ہے اور جوہری سلامتی کے حوالے سے روز مرہ کے انتظامی، مالی اور سکیورٹی معاملات کی دیکھ بھال کرتا ہے، تاکہ ملک کی جوہری صلاحیتیں ہر وقت محفوظ اور مؤثر رہیں۔
پراجیکٹ 706 : پاکستان کی جوہری بم سازی
دی سینٹرم میڈیا
قسط نمبر 1
اٹل بہاری واجپائی (بھارتی وزیر اعظم):
Today at 15:45 hours India conducted 3 underground nuclear tests in the Pokhran Range. (11th May 1998)
شمشاد احمد (سابق وزیر خارجہ پاکستان): 1998ء میں آ کر انڈیا نے 11 مئی کو تین ٹیسٹ کیے اور پھر 13 مئی کو دو اور ٹیسٹ کر دیے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی (ایٹمی انجینئر): میں نمبر ٹو کے آفس میں تھا، ڈاکٹر ہاشمی صاحب نمبر ٹو تھے، خان صاحب نمبر وَن تھے۔ اور ہاشمی صاحب نے مجھے کہا بھئی ظفر، انڈیا نے تو کر لیا دھماکہ۔ تو میں نے کہا سر، ہم بھی کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا اگر تم نے نہیں کیا دو تین ہفتے میں، پھر ختم ہو تم۔ اتنے میں خان صاحب آئے اپنے آفس سے، یوں دروازہ کھول کر جھانکا، ڈاکٹر ہاشمی اور میں کچھ بات کر رہے تھے، میں نے ان کی طرف دیکھا ان کی آنکھوں میں۔ اب خان صاحب کے اوپر بہت، ظاہر ہے پورے ملک کا پریشر تھا۔
اشرف ملخم (صحافی): پوکھران میں کہیں ایٹمی دھماکے کر دیے، پاکستان میں ایک وار کا ماحول ہو گیا۔ گو کہ جو پاکستان کی انٹیلی جنسیا ہے، جو با خبر ہیں، ان کو پتہ تھا کہ پاکستان کے پاس یہ capacity ہے capability ہے، صرف ٹائمنگ کی ضرورت ہے، لیکن پھر بھی ایک اناؤنسمنٹ تو رہتی تھی۔
شیخ رشید احمد (سیاستدان): میری سیاسی زندگی میں جو ہندوستان نے سب سے بڑی غلطی کی، وہ ایٹمی دھماکہ کیا۔ اگر ہندوستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا، سات کیے یا آٹھ کیے، یا جتنے بھی کیے، تو شاید ہم ایٹمی دھماکوں کی طرف نہ جاتے۔
فوزیہ شاہد (صحافی): اگر آپ اس کے پیچھے تھوڑا سا چلے جائیں نا تو پیچھے ڈیڑھ ماہ دو ماہ سے اس قسم کے اشارے ضرور مل رہے تھے۔ کیونکہ بھارت کی جانب سے خود بھی بہت سی جگہ پہ وہ آ رہا تھا۔
شمشاد احمد: اپریل میں، اپریل کے غالباً پہلے ہفتے میں، میں نے ایک خط بنا کر پرائم منسٹر نواز شریف کی طرف سے G8 کے جتنے بھی ہیڈز آف گورنمنٹ تھے، کیونکہ اس وقت واجپائی کی حکومت نئی نئی انتخاب جیت کر آئی تھی، اور آتے ہی انہوں نے اشارتاً کہہ دیا تھا کہ اب ہم اپنا نیوکلیئر آپشن استعمال کریں گے، ایکسرسائز کریں گے۔ اور ہم نے فوراً دنیا کو الرٹ کیا، اس خط کے ذریعے سے بتایا کہ روک لو ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔
سرتاج عزیز (سابق وزیر خارجہ پاکستان): فیصلہ تو وہ کر چکے تھے کہ کرنا ہے ہم نے، کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اگر ہم نے نہ کیا تو پھر کبھی نہیں کر سکیں گے، ہندوستان نے، خاص طور پر وہاں سے آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ پاکستان اب آزاد کشمیر کی خیر منائے، اب ہمارا بیلنس آف پاور چینج ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ (سابق چیف سائنٹسٹ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی): 1998ء میں جب انڈیا نے مئی میں ایکسپلوڈ کیا، ہمیں بھی موقع ملا کہ ہم بھی دکھائیں کہ ہمارے پاس بھی نیوکلیئر ویپن ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طارق پرویز (سابق کورپس کمانڈر کوئٹہ): if there is one man who is responsible for this اگر جہانگیر کرامت ان کو کہتا کہ کوئی ضرورت نہیں، تو آج یہ ٹیسٹ نہ ہو چکے ہوتے۔
سکرین:
The then PM Nawaz Sharif held several meetings starting from 12th May 1998 with his cabinet, defense chiefs and scientists, to discuss whether Pakistan should go for nuclear tests as its defense strategy or not.
شمشاد احمد: جب یہ پہلا ٹیسٹ ہوا، انڈیا نے، تو اس وقت پرائم منسٹر نواز شریف، میں ان کے وفد میں شامل تھا، تو ہم لوگ قازاقستان کا جو کیپیٹل ہے الماتی، وہاں تھے، تو وہاں مجھے میرے کولیگ سلمان بشیر کا ٹیلی فون آتا ہے تو میں، خیر، دوڑا دوڑا پرائم منسٹر کے کمرے میں گیا اور ان کو میں نے بتایا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کرنا ہے پھر اب، ہمیں کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا جی ہمیں جواب دینا ہو گا، لیکن اس کے لیے آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اسلام آباد میں آرمی چیف سے بات کر لوں۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: یہ دو ہفتے بڑے ٹینس تھے، اور گورنمنٹ آف پاکستان جو تھی، یعنی پرائم منسٹر نواز شریف اس وقت، وہ مختلف حلقوں سے اپنی انفرمیشن لے رہا تھا۔
فوزیہ شاہد: صرف ایک حکومت کا یہ فیصلہ نہیں ہوتا، پھر دیگر جو باتیں ہوتی ہیں، جو اپوزیشن ہوتی ہے، ان کو بھی اعتماد میں لینا ہوتا ہے۔ پھر اگر دیکھا جائے تو آپ کے دوسرے جو طبقۂ فکر ہوتے ہیں، ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
اشرف ملخم: بل کلنٹن اس وقت پریزیڈنٹ آف دی یو ایس اے تھے، انہوں نے بار بار شاید پانچ ارب ڈالرز کی آفر کی، ہم دے دیتے ہیں، تم دھماکے نہ کرو۔ لیکن نواز شریف، میں تعریف کروں گا اس مسئلے پر، کہ بڑا ڈپلومیٹ ہے، وہ اپنے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتے تھے جو غیر ضروری ہو he kept quite کنسلٹیشنز چلتی رہیں، لیکن ماحول بن گیا کہ اگر نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ نہ کیا تو پاکستان کی عوام اس کا دھماکہ کر دے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: ہم سارے کور کمانڈرز کو، جنرل جہانگیر کرامت چیف کمانڈر تھے، ہمیں بلایا اور رات کا وقت تھا، ہم چیف ہاؤس میں، یہ جو سامنے گھر ہے، اس میں جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ تمام کور کمانڈرز وہاں پہ موجود تھے، میں بھی موجود تھا، اور ہر دس منٹ کے بعد مسٹر نواز شریف کا ٹیلی فون آتا تھا کہ ابھی بتائیں کیا کرنا ہے، کیا کرنا ہے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی (ایٹمی انجینئر): پریزیڈنٹ نے دونوں کو بلایا۔ ڈاکٹر اے کیو خان کو اور جو چیئرمین آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن تھے، ڈاکٹر اشفاق اس وقت چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر اشفاق نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو اس پراجیکٹ کا ہیڈ بنایا تھا۔ ڈاکٹر اشفاق اور ڈاکٹر اے کیو خان کی میٹنگ پریزیڈنٹ سے ہوئی، پریزیڈنٹ آف پاکستان سے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ (سابق سائنٹفک آفیسر خان ریسرچ لیبارٹریز کہوٹہ): اس پہ ہم ڈسکشن بھی کرتے تھے کہ بھئی اگر یہ اس وقت نہیں ہوا اور اجازت نہیں ملی، تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، جو اتنے عرصے سے ہم بیٹھے ہوئے تھے۔
سرتاج عزیز: 14 یا 15 مئی کو کیبنٹ کی میٹنگ ہوئی، تو اس میں مجھے حیرت ہوئی کہ صرف تین لوگ تھے جن کو میں hawk کہوں گا۔ جو کہہ رہے تھے کہ فوری کریں اور یہ وہ۔ اور پانچ یا چھ جو تھے وہ doves تھے کہ جی اگر اس وقت اکنامک پیکج آپ کو مل رہا ہے اور آپ اپنی اکانومی کو ٹھیک کر سکتے ہیں تو کر لیں۔ اور جو باقی سات آٹھ تھے ان کو میں نے haves کہا ہے۔ نہ وہ doves تھے نہ وہ hawks تھے، وہ haves تھے، انہوں نے rhetoric استعمال کیا hawks کا اور پالیسی ریکمنڈ کی وہ doves کی کی کہ جی آپ باتیں وغیرہ کریں لیکن آپ کوئی ٹائم گین کریں جب بھی چاہیں گے کر لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میں اور ایک دو اور ممبر تھے، ہم یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں امریکہ اکنامک ایڈ تو آفر کر رہا ہے، سکیورٹی گارنٹی آفر کر رہا ہے کہ نہیں۔ اگر سکیورٹی گارنٹی نہیں ہے تو ہندوستان اس سے فائدہ اٹھا کر، conventional imbalance تو ہے، پھر ہمارا کیا فائدہ، تو وہ تو پھر ہو ہی نہیں سکتا۔
شیخ رشید احمد: ڈیفنس کی میٹنگ ہوئی جہاں سارے جرنیل بیٹھے ہوئے تھے، جرنیلز نے کہا کہ سیکشنز لگیں گی لیکن جو شیخ رشید کہتا ہے کہ یہ ایک موقع ہے، تو اس موقع کو آپ کنسڈر کر لیں۔ اور اس جرنیلز کی میٹنگز میں جس میں ساری کور بیٹھی ہوئی تھی، سارے کور ہیڈ کوارٹرز تھے، اور میں خصوصی طور پر، کیونکہ میں نے کیبنٹ میں یہ کیس زندگی اور موت کا کیس بنایا۔ تو جب یہ کیبنٹ میں آیا تو سب سے زیاوہ vocal میں اور راجہ ظفر الحق صاحب تھے، اور گوہر ایوب صاحب تھے۔ باقی ساری کیبنٹ جو ہے، سینکشنز لگ جائیں گی، اکانومی تباہ ہو جائے گی، ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: مختلف اوپینئنز ہوتی تھیں لیکن but generally overwhelmingly سب نے یہ کہا کہ یہ ٹیسٹ ہونا چاہیے۔
شمشاد احمد: میرے لیے سینکشنز یا اکنامک پابندیاں امپارٹنٹ نہیں ہیں۔ میں سفارتکار ہوں اور میری کمٹمنٹ ہے ریاست کی سلامتی کے لیے اور سالمیت کے لیے۔ اور وہ سلامتی اور سالمیت جو کہ جڑی ہوئی تھی ڈائریکٹلی ہمارے انڈیا کے جواب میں فیصلہ دینے کے لیے۔ تو میں نے اس وقت پرزور طریقے سے یہی کہا کہ جی ہمیں ایک موقع مل گیا ہے، اگرچہ ہمارے پاس نیوکلیئر کیپبلٹی 1980ء کی دہائی سے ہے، ہم نے بنا لیا ہوا تھا ٹیسٹ۔ انڈیا نے تو اس سے پہلے سے بنا لیا تھا، یعنی 1974ء میں تو وہ دھماکہ کر بیٹھا تھا۔ تو ہم نے بھی 1980ء کی دہائی میں بنا لی تھی یہ ٹیکنالوجی، ہم نے کولڈ ٹیسٹ کر لیے تھے، لیکن ہم نے اس وقت شو نہیں کیا تھا، تو میں نے کہا جی اب موقع ملا ہے تو کرنا ہو گا۔ میں نے بہت زور دے کر کہا، اور اس پر مجھے اب تک یاد ہے، کہ مجھے پھر کہا گیا کہ دیکھو، اکنامکلی بہت قیمت دینی پڑے گی، میں نے کہا جی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے آزادی کی، اور آپ کے وجود کی۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: ایک میٹنگ ہوئی فارن آفس میں، اس میں اتفاق سے میں بھی انوائیٹڈ تھا، پچیس تیس لوگ تھے، اور نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری، رپورٹ کرنے کے لیے وہ بھی تھے۔ تو وہ ڈسکس کر رہے تھے کہ فارن پالیسی کے لحاظ سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ مجھے انہوں نے پوچھا جی آپ بتائیں سائنٹیفکلی کیا کرنا چاہیے؟ تو میں نے ان کو صاف طور پر کہا کہ scientifically we must test it
ڈاکٹر افضل خان (ایٹمی سائنسدان): چار ادرے انوالو تھے اس میں۔ (۱) ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز، جس نے یہ ڈیوائس بنائی تھی۔ (۲) اس میں NESCOM انوالو تھی جنہوں نے پورا وہاں پر لائنیں ڈالی تھیں، یا کمپیوٹر سسٹم ڈالے تھے، یا ٹریگرنگ سسٹم ڈالے تھے، یا جو بھی ڈیوائس کو چلانے والے سسٹم ڈالے تھے۔ تو میں نے آپ کو کہا کہ ایک تو پہاڑ کے اندر تھا، اور ایک ان کنوؤں کے اندر تھا، تو یہ سارا انہوں نے کیا تھا۔ (۳) پاکستان اٹامک انرجی کے بھی سائنسدان تھے اس میں۔ (۴) پھر آرمی والے تھے، جنہوں نے پورے کا پورا یہ سیٹ اپ چھ سات سال لگا کر بنایا تھا۔ بلکہ 1984ء سے وہ شروع ہو گئے تھے، اِن ڈائریکٹلی، ضیاء الحق کے آرڈر سے، کہ آپ یہ سسٹم لگانا شروع کر دیں۔
شمشاد احمد: فوج نے ہی تو نیوکلیئر دھماکے کا سارا ارینجمنٹ کیا ہوا تھا۔ وہی تو سارا پروگرام چلا رہے تھے۔ تو اس وجہ سے یہ توقع کرنا کہ وہ نیوکلیئر دھماکے نہیں کر رہے، یہ لوگوں کی ایک اڑائی ہوئی غلط، جس طرح ہمیشہ کی طرح باتیں کرتے ہیں نا سیاستدان، انہوں نے اڑائی تھی۔ حالانکہ اس وقت یہ تھا کہ تینوں سروسز چیفس نے یہ کہا تھا، بالخصوص جنرل جہانگیر کرامت نے، کہ ہم تیار ہیں، آپ جو فیصلہ کریں گے we are ready لیکن آپ ذرا سوچ لیجیے کہ جو آگے ہونا ہے، آپ کے اس decision کے بعد جو نتائج ہیں، ان کا بھی سوچ لیجیے۔
سرتاج عزیز: 13 کو ہماری ڈیفنس کمیٹی آف دی کیبنٹ کی میٹنگ ہوئی، جس میں اے کیو خان صاحب اور اُدھر سے چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن تھے، انہوں نے بھی حصہ لیا۔ اور میرا اپنا جو اندازہ تھا اور جو بعد میں کنفرم ہوا، کہ نواز شریف نے اس وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم نے ٹیسٹ کرنا ہے، وہ باقی سب going through the motions تھا، کوئی اس میں بات نہیں تھی۔ تو اس میں انہوں نے پوچھا، تو انہوں نے کہا ہمیں دو ہفتے چاہئیں، ٹنلز تو تیار ہیں لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے لیے۔ تو انہوں نے اسی وقت گرین سگنل دے دیا کہ آپ اپنی تیاری کریں۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: بڑا hectic ٹائم تھا، ہماری ٹیم اَنڈر ڈاکٹر ثمر مبارک مند، اس وقت کوئی 150 بندے، سائنٹسٹس، انجینئرز، ٹیکنیشنز لے کر چاغی گئے۔ اور پھر جو KRL (خان ریسرچ لیبارٹریز کہوٹہ) کا تھا، وہ اس میں استعمال ہوا۔ اور within two weeks بڑا hectic تھا اور بڑا مشکل ٹائم تھا ان کے لیے۔
سوال:
Is Pakistan going to test its nuclear device?
میاں محمد نواز شریف:
We don't want to blindly follow the path of the Indians. They have tested a bomb again after 24 years and Pakistan has never done so, we never wanted to do so. But the present test of India has really shaken the balance of power in this region and we now have legitimate security concerns. (16th May 1998)
شمشاد احمد: میں نے بلکہ پرائم منسٹر کو مشورہ دیا کہ اس سے پہلے کہ ہم کوئی فیصلہ کریں ہم چائنہ کو ذرا اعتماد میں لے لیں۔ اور جو دو تین وزیر بیٹھے تھے فوراً jump ہوئے جی بالکل میاں صاحب ’’تسی جاؤ جی بلکہ‘‘، یہ مشورہ دینے لگے میاں صاحب کو کہ تسی خود جاؤ۔ میں نے ان سب کو دھیما کیا، میں نے کہا میاں صاحب کو، میں نے کہا سر ان کی باتوں پر نہ جائیں، آپ کو میں بالکل نہیں کہوں گا کہ آپ جائیں، کیونکہ اس سے دنیا میں غلط فہمی پیدا ہو جائے گی کہ جیسے ہم چائنہ سے کوئی اجازت لینے جا رہے ہیں۔ میں خفیہ طور پر جاؤں گا اور چائنہ کو صرف بتانے کے لیے کہ ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ اور اگر ہمارے ٹیسٹ کرنے کے بعد ہم پہ جو پریشرز پڑیں گے، اس میں چائنہ نے ہمارا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے بھی اسی طرح جس طرح ہمارے سروسز چیفس پرائم منسٹر کو متنبہ کر رہے تھے، چائنہ نے بھی یہی کہا کہ آپ یہ سوچ لیجیے کہ آپ پر پریشرز بہت ہوں گے، آپ کو قیمت بڑی دینی پڑے گی، مگر فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔ یعنی وہ یہ نہیں کہنا چاہتے تھے کہ ہمارے کہنے پہ کریں۔ لیکن فیصلہ آپ کر لیں، اگر آپ نے فیصلہ کرنے کا کر لیا، تو ہم سے جو کچھ بھی بن پڑے گا، ہم آپ کی مدد کر دیں گے۔
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) فیروز حسن خان (فارمر ڈائریکٹر کمبیٹ ڈیولپمنٹ ACDA): جیسے ہی ٹیسٹ ہوا، اب ان کو پتہ چلا کہ اگر پاکستان ٹیسٹ کرے گا تو ان پر سینکشنز لگ جائیں گی۔ جو آپ کے ایلیٹ لوگ تھے، میرے سامنے کی یہ بات ہے، جن جن کے بڑے بڑے پیسے تھے، ڈالرز اکاؤنٹ جن کے تھے، یہ بڑے بڑے جو بگ فِش تھے politicians and big businessmen سب کے پیسے باہر نکلنے شروع ہو گئے۔ پیسہ کس کا پھنس رہا ہوتا ہے؟ جو غریب باہر لے جا نہیں سکتا۔ آپ کا اور میرا جو ڈالر اکاؤنٹ تھا وہ فریز ہو رہا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: کیونکہ امریکنز کا بہت زیادہ پریشر تھا کہ آپ یہ نیوکلیئر ٹیسٹ نہ کریں، ہم آپ کو یہ دے دیں گے، ہم فلاں کر دیں گے، زمین آسمان کے قلابے ملاتے تھے، کہ کسی طریقے سے یہ ٹیسٹ نہ کریں۔
فوزیہ شاہد: 1998ء میں بلاسٹ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ آسان کام میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ دنیا میں پہلی دفعہ آپ ظاہر ہے کہ روس، امریکہ اور دیگر جو ایٹمی صلاحیت کے ممالک تھے، پہلی دفعہ آپ ان کو اپنی طاقت بتانے جا رہے تھے کہ ہمارے پاس یہ کوئی خواب نہیں ہے، وہ باقاعدہ ایک وجود رکھتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اگر کوئی ملک آپ کو ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی دکھا دے، جیسے انڈیا نے نیوکلیئر ٹیسٹ کیے اور آپ کو بتا دیا کہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں، تو اس کے دو تین ہفتے کے بعد آپ نہ کرتے تو پھر ساری دنیا کو پتہ چل جاتا کہ آپ ان کے برابر نہیں ہیں۔ یا آپ اپنے آپ کو ڈیفنڈ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
سرتاج عزیز: اگر ہم نہ کرتے ٹیسٹ، تو وہ ہندوستان، ظاہر ہے کہ پھر وہ ایسے حالات پیدا ہوتے کہ ہمارے لیے مشکل ہو جاتی۔ اور جب وہ ہمیں 5 بلین ڈالرز کا پیکج ملتا تو اس میں ایسی شرائط ہوتیں کہ رول بیک کریں اور کیا کریں، اور بعد میں بھی وہ لگے رہے رول بیک کے لیے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ضیاء الحق کا دور تھا یہ، 1984ء تک ہمارے پاس یہ تمام چیزیں بن کر تیار ہو گئی تھیں۔ 1984ء سے لے کر 1998ء تک ہم صرف انتظار کرتے رہے۔ چھ اور آٹھ، چودہ سال۔ اس میں کچھ کرنا نہیں تھا، صرف پرمیشن کی بات تھی کہاں اب آپ کریں۔ جب انڈیا نے کیا تو اس وقت یہ پریشر پڑا ہم پر، اور ہم نے کیا۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: پبلک بھی بڑی انوالو تھی، اس کا بھی پریشر تھا کہ بھئی ہماری ڈیفنس کے لیے۔ تو اس لیے پبلک بھی تیار تھی، سائنٹسٹس بھی تیار تھے، تو وہ ٹیسٹ ہوا۔
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) فیروز حسن خان: ان 17 دنوں کے اندر امریکن پریشر، انٹرنل پریشر، ملٹری کا پریشر، and actually physically the scientists were continuing as the tests were happening
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: I was in Quetta میرا ایک بریگیڈ under the orders of GHQ اس کو میں نے وہاں پر بھیجا۔ وہ جتنا area around the testing site تھا وہ سارے کو کور کیا ہوا تھا تاکہ اس علاقے میں کوئی نہ جائے، کوئی انٹرفیرنس نہ ہو، کوئی گراؤنڈ ایکشن نہ کر سکے اس ٹیسٹنگ کو سبوتاژ کرنے کے لیے۔
اشرف ملخم: اس پہ ایک بک لکھی تھی کوئی تین جرنلسٹس نے مل کے، تینوں امریکنز تھے، Deception کے نام سے۔ اس میں بڑی تفصیل سے اس کو ڈسکرائب کیا کہ how Pakistan deceived the world
شمشاد احمد: ان دنوں ہمارے جمبو جیٹس ہوا کرتے تھے، اور مجھے یاد ہے، میرے ساتھ میرے جو تین اور ساتھی تھے، میں اوپر بیٹھا تھا، اور وہ تینوں نیچے بیٹھے تھے، اتنے میں ایک ایئرہوسٹ آتی ہے میرے پاس اور مجھے ایک چٹ دیتی ہے کہ یہ آپ کے ساتھی نے چٹ بھجوائی ہے۔ جب میں نے وہ کھولا، اس پہ لکھا تھا Mr. Shamshad, you will be burnt alive, baked and roasted میرے دفتر میں بھی ایک دو ٹیلی فون کالز ایسی آئی تھیں کہ شمشاد کو کہہ دو کہ یہ نیوکلیئر ٹیسٹوں کی بات نہ کریں، ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: یہ ہمارے پورے ملک کے لیے ضروری تھا۔ جو بھی پرائم منسٹر تھا، پریزیڈنٹ تھا، کیونکہ ہم لوگوں نے، اس ایج کے جو لوگ ہیں، ہم نے دیکھا تھا کہ ہمارا ملک کتنے برے حالات سے 1971ء میں گزرا تھا۔ اور ظاہر ہے ہم تو پاکستان کو نہیں دیکھنا چاہتے تھے کہ ختم ہو۔ ہم سب تو یہی چاہیں گے کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہو۔ اور مضبوطی کے لیے پھر آپ کو ضروری ہوتا ہے کہ آپ کی ڈیفنس، لیٹسٹ ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہو۔
اشرف ملخم: تین دن پہلے خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ امریکنوں نے شور کرنا شروع کر دیا تھا کہ فلاں سائیٹ کی طرف پاکستان کی موومنٹس ہو رہی ہیں، ایکوپمنٹ کی، سکیورٹی پرسنلز کی، جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی تھی، کیونکہ وہاں پر ایک چھوٹی سی ایئر سٹرپ بھی بنائی ہوئی تھی، اٹامک انرجی کمیشن کے لوگ جاتے تھے وہاں پر، وہ جہاز پر ہی جاتے تھے، کافی دور ہے، دالبدین کے پاس جو چاغی کی پہاڑیاں ہیں۔ تو وہ موومنٹس سے نظر آ گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
Dr. A.Q. Khan used to say that a country that couldn't produce a decent bicycle is producing one of the most sophisticated technologies. in the world.
قسط نمبر 2
شمشاد احمد: 27 کی رات کو بارہ بجے مجھے ٹیلی فون آتا ہے GHQ سے، ڈی جی ملٹری آپریشنز تھے، انہوں نے مجھے کہا کہ سر ہمیں ابھی انٹیلی جنس رپورٹس ملی ہیں کہ فلاں ایئرپورٹ پر انڈیا میں، انڈیا اور اسرائیل کے سکواڈرن کھڑے ہیں اور وہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں پاکستان کی نیوکلیئر انسٹالیشنز جو بلوچستان میں ہیں، وہاں۔ تو میں نے اسی وقت رات کے ایک بجے انڈین ہائی کمشنر کو بلایا، ستیش چندر اس کا نام تھا، اس کو میں نے بلا کر کہا کہ یہ مجھے خبر ملی ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی حکومت سے چیک کر لو کہ اگر ایسی کوئی misadventure ہے تو یہ ایک میسج ہماری طرف سے کنوے کر دو کہ ہم بھی deployed ہیں پوری طرح۔ انڈین ہائی کمشنر کے بعد میں نے دوسرا بلایا چائنیز ایمبسڈر، اس کو رات ایک بجے، میں نے اس کو کہا کہ یہ ہمیں خبر ملی ہے، اور مجھے پتہ تھا کہ اسرائیل کا پرائم منسٹر نیتن یاہو اس وقت بیجنگ میں تھا، میں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ آپ لوگ اپنی حکومت کو کہیں کہ چاہے نیتن یاہو کو جگانا پڑے، اگر وہ سو رہے ہیں، تو اسے چیک کیا جائے کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے۔ اور اس کے بعد پھر میں نے امریکن ایمبیسڈر کو summon کیا، اس کو بلا کر میں نے کہا کہ بھئی یہ بات ہے، تو آپ چیک کیجیے۔ then I called Kofi Annan اس کے دفتر میں چیف آف سٹاف پاکستانی تھا، اقبال رضا، اس سے میں نے خود بات کی اور اس کو کہا کہ یہ کوفی عنان کے نوٹس میں لے آؤ۔ then I called our ambassador in New York, Ahmed Kamal اس کو میں نے کہا کہ CNN پہ لائیو جاؤ اور سی این این پہ یہ بات کہو کہ پاکستان کو یہ اطلاعات ملی ہیں کہ انڈیا اور اسرائیل پاکستان پر حملہ کرنے والے ہیں۔ میرے ایمبسڈر نے وہاں سی این این پہ لائیو بات کی، اور اس کا اچھا اثر ہوا، امپیکٹ ہوا، کیونکہ اگر انڈیا اور اسرائیل نے کوئی ایسا پلان بنایا ہوا تھا تو صبح تک وہ پلان ان کا ختم ہو گیا۔
احمد کمال:
The only way to reinstate balance in the region in South Asia was through deterrents and dissuasion which would visible and it would send a clear message to India not to embark on any actions which would be reckless of the type that they were promising to take in Kashmir and against Pakistan itself. (28th May 1998)
سکرین:
While the political decision was being made, the scientific institutes along with XII Corps (Quetta Corps) were alerted in order to move the nuclear bomb from Kahuta to Chagai.
سرتاج عزیز: ادھر جو ڈسکشن تھی، پبلک میں بھی اور نیوز پیپر میں بھی، کہ ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا، وہ ساری ایک ایموشنز تھیں، اور نواز شریف صاحب کو پتہ تھا کہ میں نے کرنا تو ہے، جو باتیں کر رہے ہیں لوگوں کو کرنے دیں۔
شیخ رشید (سابق وفاقی وزیر): نہ مندروں میں گھنٹیاں بجیں گی، نہ گھاس اگے گی، نہ چڑیاں چہکیں گی، آپ نے دھماکہ کیا ہے، ہم دھماکہ کرنے جا رہے ہیں۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
17 nights starting from 6pm 11th May onwards till 28th May and 30th May, this was totally a military program. The total program was executed as a complete military operation program including the scientific community and the military.
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: they got all the devices over there اور میرے بریگیڈ کی موجودگی میں وہاں پر یہ سلسلہ ہوا۔ I provided all the administrative support that was required for this test
فوزیہ شاہد: میری اطلاعات تھیں اور میں نے اس پر رپورٹ بھی کیا تھا، وہ یہ تھا کہ حکومت کی جانب سے مشاورت ضرور چل رہی تھی لیکن وہاں الرٹ بھی کر دیا گیا تھا۔ جو لیب تھا، یا ظاہر ہے کہ جس طرح انسٹالیشنز، یہ اس طرح اٹھا کے لے کر جانے والی چیز تو ہوتی نہیں، وہاں ان کو انفارم کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: دیکھیں، ہمارا اپریل میں ٹیسٹ ہو گیا تھا ڈیلوری سسٹم کا، کیونکہ نیوکلیئر بم صرف آپ نے لے جا کر تو نہیں، آپ نے ڈیلیور کرنا ہوتا ہے، ڈیلیور کسی میزائل کے اوپر کرتے ہیں، تو ہمارے میزائل کا ٹیسٹ کامیاب ہو گیا تھا اپریل 1998ء میں۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ایئرفورس نے بڑا کام کیا اس کے اندر کہ how to place this، دیکھیں نا، بہت مشکل ہوتا ہے کہ اتنی ڈینجرس چیز کو ہوائی جہاز، اب ہوائی جہاز اس طرح سے بنا نہیں تھا ہمارا F-16، ایف سکسٹین کے اندر وہ جگہ ہی نہیں تھی جس میں آپ اس کو رکھتے۔ یہ کام پھر ہماری ایئرفورس نے کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: بٹس اینڈ پارٹس میں آیا، ایک دم نہیں آ سکتا تھا اس لیے کہ they couldn't run the risk تھوڑی تھوڑی کر کے چیزیں لا کر آگے وہ بھیجتے رہے۔ اور جب وہ اسمبل کر لیا اور سب کچھ تو پھر then it was made public
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: نیوکلیئر بم کو لے جانا، بیسمنٹ میں ڈالنا، تیار کرنا ٹیسٹ کے لیے، it takes days and days اور سچی بات آپ کو بتاؤں کہ ہم لوگوں کو یہ انشورنس نہیں تھی کہ ہم کتنی جلدی یہ ٹیسٹ کر سکیں گے، ہمیں تو ٹائم کا پریشر تھا۔ پھر ہمیں یہ بھی پریشر تھا کہ، جیسے وہ عراق کا اٹیک تھا، ہمیں کوئی اٹیک نہ کر دے، ہماری سائیٹ کو کوئی اٹیک کر کے مار نہ دے (تباہ نہ کر دے)۔
اشرف ملخم: دھماکہ ہوتے ہی صبح پتہ چل گیا تھا۔ بلکہ ایک دن پہلے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وہاں پر کچھ ٹرانسپورٹیشن ایسی ہوئی، ریلوے استعمال ہوئی چاغی تک پہنچنے میں، کافی دور دراز مقام تھا چاغی، اتنی بڑی موومنٹ جب ہوئی، سکیورٹی پرسنلز کی ڈپلائمنٹ ہوئی، انٹرنیشنلی بھی لوگ دیکھ رہے تھے، ٹیلی فون کا دور بھی آ گیا تھا، موبائل آ گئے تھے، پتہ چل گیا تھا یہاں کچھ ہونے والا ہے۔
فوزیہ شاہد: میرے کچھ تھوڑے سورس ایسے تھے دو چار کہ مجھے یہ پتہ تھا کہ بلوچستان کسی جگہ یہ چیز ہونے جا رہی ہے، کب ہوگی، کیا ہو گا، کیا ٹائم ہو گا، اس بارے میں تو that was very secret وہ صرف دو لوگوں کو پتہ تھا۔ ایک تو پرائم منسٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو علم تھا، آرمی چیف، اور ڈاکٹر صاحب کو اس کے بارے میں علم تھا۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: اس وقت پھر کہتے ہیں کہ وہ پریزیڈنٹ کلنٹن جو یو ایس اے کا تھا، اس کا ٹیلی فون بھی آیا ان کو۔ اور ان کے سیٹلائٹ اوپر موو کر رہے تھے کہ ہماری موومنٹ کیسی ہے۔ تو ہمارے سائنٹسٹس نے کیلکولیٹ کیا ہوا تھا کہ ان کا جو سیٹلائیٹ ہمارے چاغی سائیڈ پہ آنا ہے وہ اس ٹائم پہ آنا ہے۔ تو یہ کرتے تھے کہ اس وقت ہمارے ٹرک وغیرہ کی موومنٹ نہیں کرتے تھے، ملٹری کے یا اپنے سائنٹسٹس کے۔ جب سیٹلائیٹ گزر جاتے تو پھر ہماری موومنٹ ہوتی تھی۔
بریگیڈیر فیروز حسن خان: ہمیں صرف اس بات کا چیلنج تھا کہ اس پروگرام کو وہ intercept نہ کر لیں، اس پر کوئی اٹیک نہ کر دیں، so that security was done, Air Force, Navy, everybody was on full alert یہ آپ کہہ لیں کہ undeclared سی ایمرجنسی تھی کہ ایسی ٹائیٹ سکیورٹی میں یہ کام ہوا۔ every unit, the entire Quetta, the entire corps were on alert, Air Force was alert, we were alert seawards as well, our eyes and ears were open
سکرین:
Pakistan conducted five simultaneous underground nuclear tests at 15:15 hours PST on 28th May 1998. It was codenamed as Chagai-I.
شمشاد احمد: نیشنل ڈیفنس کالج میں جو فوجی یوتھ تھی وہ اکٹھی ہوئی ہوئی تھی ساری۔ تو خیر، ہم گئے وہاں، وہاں وہی ہوا، جو نعرہ لگ رہا تھا do it now, do it now, I could see the prime minister sweating چہرے سے پسینہ نکل رہا تھا، تو مجھے کہنے لگے کہ شمشاد صاحب آپ میرے ساتھ آجائیں۔ میز پر ایک طرف جنرل جہانگیر کرامت بیٹھے ہیں اور اس طرف میں بیٹھا ہوں، تو نواز شریف نے ان سے پوچھا، جنرل صاحب، کیا کرنا ہے؟ انہوں نے وہی بات کہی جو ہمیشہ کہتے تھے کہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے، ہم تیار ہیں، لیکن آپ بطور چیف، ایگزیکٹو کے، ہیڈ آف گورنمنٹ کے، آپ کو ان حالات کی بھی انڈرسٹینڈنگ رکھنی ہو گی جو پیدا ہوں گی مشکلات ہمارے لیے۔ یہ انہوں نے کہا۔ اس کے بعد مجھ سے انہوں نے پوچھا کہ شمشاد صاحب، انہوں نے اسی طرح کہا، شمشاد صاحب۔ تو میں نے کہا سر، آپ کی آزادی اور بقا کے لیے کوئی بھی قیمت نہیں ہوتی۔ بس، یہ میرا فقرہ تھا۔ تو نواز شریف نے دونوں کا ہمارا شکریہ کیا کہ جاؤ۔ اور اس کے بعد شام کو جتنے بجے بھی، تین بجے، چار بجے، اب مجھے ایگزیکٹ ٹائم نہیں پتہ، ٹیسٹ ہو گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: this was at the staff level ہمیں بتا دیا گیا تھا اور میرے خیال میں کوئی ہفتہ دس دن پہلے ہم نے وہ بریگیڈ وہاں پر موو کر دیا تھا آگے، that brigade was moved into the area اور اس کی جتنی strategic locations تھیں جہاں سے کوئی intrusion ہو سکتا تھا، وہ ساری کور کی ہوئی تھیں۔
سرتاج عزیز: اکنامک پریشر تھے they were not relevant at that time ہمیں کسی نہ کسی طرح سے گزارا کرنا تھا۔ کیونکہ نیوکلیئر کیپسٹی ہمارے لیے جو ہے سب سے امپارٹنٹ پرائرٹی تھی۔ تو پریشر میں آ کر that we could compromise
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: اتنی محنت کے بعد ہم کر رہے ہیں، اگر کوئی ذرا سی بھی تار ہل گئی، یا کوئی نیڈل صحیح نہیں لگی، کوئی کنکشن صحیح نہیں ہوا، اور آپ پریس کر رہے ہیں اور وہ کرنٹ صحیح نہ گیا، اور ٹیسٹ اگر فیل ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ دیکھیں نا، پھر تو لوگ کہیں گے، اوئے یہ تو کچھ تھا ہی نہیں، آپ کو پتہ ہے پاکستانی کیسے ہیں۔
میاں محمد نواز شریف: گزشتہ دنوں بھارت نے جو ایٹمی تجربات کیے، آج ہم نے اس کا حساب بھی چکا دیا ہے اور پانچ کامیاب ایٹمی تجربات کیے ہیں۔
مظاہرین: پاکستان کا مطلب کیا؟ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ نعرہ تکبیر ’’اللہ اکبر۔
ڈاکٹر افضل خان: پہلا ان کا جو سیٹ اپ تھا وہ پچیس کلو میٹر دور تھا، جہاں سے بم چھوڑنا تھا۔ تو انہوں نے دیکھا ایک دم پہاڑ جو ہے، پہلی جب ڈیوائس چھوڑی، تو اس کو آگ لگ گئی، سرخ ہو گیا، یا آگ بگولا بن گیا۔ تو پھر یہ وہاں سے بھاگے کہ کہیں پہاڑ پھٹ نہ جائے، اور ریڈی ایشن باہر نکل آئے گی اور یہ مر جائیں گے سارے سائنس دان اور فوج والے اور جتنے بھی، تو یہ بہت زیادہ لوگ تھے سائنس دان، سارے اٹامک انرجی (PAEC) کے، نیس کام (NESCOM) کے، کے آر ایل کے (KRL) کے، سارے سائنسدان وہاں موجود تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: جتنے سائنسدان تھے یہ سارے وہاں پر گئے، اور انہوں نے from a distance یہ سارا دیکھا I was in Quetta at that time میرا بریگیڈ وہاں پر تھا مجھے لمحہ بہ لمحہ خبر مل رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے، کیسے ہو رہا، اور یہ ٹیسٹ ہوئے۔
اشرف ملخم: براؤن ٹائپ کے پہاڑ تھے بالکل خشک، گرینری کی وہاں دور دور تک کوئی چیز نہیں تھی، لیکن جب بلاسٹ ہوا تو اس کا کلر تھوڑا سا سلفر ٹائپ، پیلا رنگ جس طرح مسٹرڈ کلر ہوتا ہے اس طرح ییلوئش ٹائپ ہو گیا تھا۔ لیکن وہ بہت بڑا پہاڑ تھا، چھوٹے پہاڑ نہیں تھے that was huge تو پورے پہاڑ کو ہلا دیا تھا اس بلاسٹ نے، اتنا پاورفل تھا، تو وہ ہمیں دور سے دیکھنے کا ٹائم ملا تھا، قریب انہوں نے ہمیں نہیں جانے دیا تھا، کیونکہ جب تک وہ بڑا سکیور ڈریس نہیں پہنتے تھے، وہاں کہتے ہیں تابکاری کے خطرات اس وقت بھی تھے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اِدھر کے پہاڑ اتنے سالڈ نہیں ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے پہاڑ چنے گئے، وہ ذرا سالڈ راک ہے۔ یہاں کے پہاڑ ہوتے تو پہاڑ ہی اڑ جاتے۔ تو وہاں کے جو پہاڑ تھے وہ اڑے نہیں، لیکن آپ نے دیکھا کہ ییلو میں اس کا رنگ بدل گیا، اس کے بعد اس میں دھواں آیا۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: یہ پہاڑ ایسا تھا کہ اگر یہ کٹ گیا، پراسیس ہو گیا، آپ نے اس کے اندر سارا لے جا کر پلیس کیا، جب اس کا دھماکہ کیا تو اس سے جو چیز نکل کر باہر سامنے آئی، آپ دیکھیں کتنی شائننگ تھی اس کی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ سونا اگل رہا ہے، حالانکہ وہ سب ہیٹ تھی۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: دیکھیں دو قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ اوپن ایئر ٹیسٹ میں ریڈی ایشن پھیلتی ہے۔ تو ایسے پہاڑ کا انڈرگراؤنڈ لیا جاتا تھا تاکہ وہ نیوکلیئر ریڈی ایشن باہر نہ آئے۔ وہ اور جو ریموٹ ایریا بھی ہو پبلک، سیفٹی پوائنٹ آف ویو سے یہ چاغی جو تھا یہ 1980ء کی دہائی میں سلیکٹ ہو چکا تھا اور خندق بن چکی تھی۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان (ایٹمی سائنسدان):
Now that we have responded positively to the Indian arms race that when they got nuclear, we also developed nuclear capability, even though our program is for peaceful purposes, but we don't hide the face that we have the nuclear capability that if the country so decides, if there is political desire or a decision, then we can go nuclear in a very short span of time.
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: ایک سیٹ آفس ٹیسٹس 28 کو ہوئے، ایک 30 کو ہوئے۔ اٹھائیس کو جو ہوا وہ یورینیم کا تھا، اور جو تیس کو ہوئے وہ مکسڈ تھے یعنی کچھ پلوٹونیم کچھ یورینیم۔
فوزیہ شاہد: ISPR کی جو پریس ریلیز آئی تھی، وہ تو، مجھے ٹھیک ٹائم تو نہیں پتہ، کیونکہ آفس میں آئی تھی، ہمارے تھرو نہیں آئی تھی، رپورٹر کے تھرو نہیں آئی تھی۔ لیکن یہ ہے کہ اس سے پہلے ہی یہ بات پھیل گئی تھی کہ یہ ہو گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز:
They couldn't take any aerial action or ground action because we were fully prepared to counter any move to disrupt the process of carrying out these tests.
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: سب سے بڑا ٹینشن 28 مئی کو جو GHQ میں تھا، ہم سارے تھے وہاں، ہم جس جگہ پہ تھے، جب ہمیں پتہ تھا کہ کتنے بجے ٹیسٹ ہونا ہے، اور جب اسے پریس کیا، سیکنڈز میں جب وہ گیا، جب تک detonate ہو کر آیا نہیں، until we heard Allah Akbar on our phones ourselves سب کے دل کی دھڑکن رکی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر افضل خان: اس کا یومِ تکبیر نام اس لیے پڑا کہ جس وقت انہوں نے پہلا بٹن دبایا اور پہلا ایکسپلوژن ہوا تو ایک دم ایک آدمی جو سائنسدان تھا، اس نے نعرۂ تکبیر آواز دی۔ یومِ تکبیر اس سے نکلا ہے۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: ڈاکٹر ثمر، میرے ساتھ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ رہے تھے ابھی، جب میں لیکچرار تھا، تو سارا ان سے رابطہ تھا۔ وہ بتانے لگے کہ وہ جو ٹیسٹ تھا it was a very tough test کیونکہ وہاں پہ گرمی تھی، مئی کا مہینہ تھا، پوری گرمی تھی، کیونکہ ایمرجنسی میں سارے، پہلے تو وہاں بلڈنگیں نہیں بنائی گئی تھیں، ٹرین کے ڈبے سے ہوتے، ان میں انہوں نے رات کو سونا، باہر بچھو چل رہے ہیں، اِدھر اُدھر، مطلب بڑی ٹف کنڈیشنز تھیں، لیکن ایک قومی جذبہ تھا۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: جب ایکسپلوژن کرتے ہیں تو ایک لحاظ سے ہماری زبان میں اس کو تباہی کہتے ہیں۔ تو وہ تباہ ہو گیا سب کچھ جو کچھ بنایا تھا انہوں نے، لیکن اس تباہی سے وہ خوشی اس لیے ہو رہی تھی کہ جس طریقے سے ہم نے ارینج کیا تھا، جس طریقے سے ہم نے پلیس کیا تھا، اور جو ہماری کیکولیشنز تھیں، ہم لوگ جو بیٹھ کے کیلکولیٹ کرتے تھے، کمپیوٹر پر جو سیمولیشنز ہماری تھیں، اس سمولیشنز کے accordingly, more or less اس کے بہت قریب قریب yield اس کی نکلی، اس کی پاور نکلی۔
شمشاد احمد: ان کے نیوکلیئر دھماکوں سے امن کو نقصان پہنچا، ہم نے اس نقصان کو ختم کر کے peace کی طرف ایک قدم اٹھایا۔
سید مشاہد حسین (وزیر اطلاعات):
As a Pakistani I feel and this is a feeling shared by my colleagues that we are coming here for a spiritual pilgrimage. There is a new hope, confidence and faith in the future among the people of Pakistan after this historical, technological achievement which was made possible by Pakistan scientists. (2nd July 1998)
ڈاکٹر نور محمد بٹ: سائنٹسٹس ہمارے تیار تھے، اٹامک انرجی کمیشن کے، تیار تھے کہ ریڈی ایشن کو ٹیسٹ کرنا ہے، نظر تو نہیں آتی نا، وہ ہمارے پاس انسٹرومنٹس ہوتے ہیں کہ یہاں پہ ریڈی ایشن ہے کہ نہیں، یا کتنی ہے، یہ انسان کے لیے ڈینجرس ہے یا نہیں۔ تو یہ ساری چیزیں ایک ہفتے کے بعد وہاں سارا ٹیسٹ کیا گیا۔
اشرف ملخم: ایک تو بلوچستان کا وہ والا ایریا ویسے ہی، جو پاپولیشن ڈینسٹی ہے وہ بہت کم ہے، وہاں دور دور تک کوئی انسان نہیں ملتا آپ کو، پاپولیشن ہے نہیں، آبادی بہت کم ہے۔ لیکن پہاڑوں میں بہت دور، مجھے جہاں تک یاد ہے، شاید وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی ڈرائیو کے بعد ہم اس جگہ تک پہنچے تھے جہاں پر وہ ٹنل تھی، جہاں بلاسٹ ہوا تھا۔ ریڈی ایشن اگر تھی بھی تو انسان تو وہاں پہ تھا ہی نہیں جی۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: the estimate was 30 kilotons تو ہیروشیما، ناگاساکی پہ جو امریکہ نے دو گرائے تھے 1945ء میں ان کا 20 کلوٹن تھا۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: یہ امیرکنز نے بھی ریکگنائز کیا کہ ہمارا ٹیسٹ جو تھا بڑا ہائی کوالٹی کا تھا۔ انڈیا نے ایک اور کلیم کیا جی ہم نے ایک تھرمل بم بھی چلایا ہے نیوٹن بم۔ لیکن اس کا کوئی پروف نہیں ہے، امریکنز نے اس کو سرٹیفائی نہیں کیا۔
مظاہرین: (۱) مٹھائی کھائیں جی۔ (۲) اس کے لیے جو بھی قربانی دینی پڑی، فنڈ دینے پڑے، ہر قسم کے فنڈ دینے کے لیے تیار ہیں، چاہے ہم بھوکے بھی مر جائیں۔ (۳) پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر کے بہت اچھا کیا اور انڈیا کا ایک دفعہ پھر بچہ بچہ سو گیا ہے۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
More than the international community, more than your enemies, India, the most important was that the people of Pakistan would have not accepted anything other than this.
لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز: we are trained to, you know, undergo pressures and tensions and so on کسی قسم کا کوئی پریشر نہیں تھا کچھ نہیں تھا we were very happy that they have done it اور تین چار دن کے بعد جب سب چیزیں کمپلیٹ ہو گئیں my troops came back and business (went on) as usual
شیخ رشید احمد: ہمارے عوام تو بہت خوش تھے۔ ایک ہم نے اپنا دفاع مضبوط کیا۔ کنونشنل وار ہم انڈیا کے ساتھ، ہماری نہ اکانومی ہے، نہ حالات ہیں، روایتی جنگ ہو نہیں سکتی، ہمارے پاس یہ ہم نے پھلجھڑی کے لیے نہیں رکھا ہوا۔
فوزیہ شاہد: باقاعدہ لوگ اللہ اکبر کرتے کرتے گلی محلوں میں بھی نکلے تھے۔ اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے بہت بڑی چیز فتح کر لی ہے۔
اشرف ملخم: جب دھماکہ ہو گیا تو پورے پاکستان میں jubilation ہوئی بہت لوگوں نے celebrate کیا اس کو، نواز شریف بڑے مشہور ہوئے کہ ہم نے انڈیا کو جواب دے دیا۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ہم لوگ تو پتہ نہیں دو رات تک سوئے نہیں اس خوشی میں کہ بھئی ایک چیز ہو گئی ہے۔ پھر تو ہم خبروں سے سنتے تھے کہ کیا ہو گیا، دھماکے کیے، اس کی سٹرنتھ کتنی تھی، انڈیا نے پانچ کیے، ہم نے چھ کیے۔
ڈاکٹر افضل خان: پوری قوم نے جشن منایا تھا۔ پوری قوم نے اذانیں دی تھیں۔ پوری قوم نے مٹھائی تقسیم کی تھی۔ پوری قوم نے ختمِ قرآن شریف کرائے تھے۔ پوری قوم نے نفل پڑھے تھے شکرانے کے۔
شمشاد احمد: ان سترہ دنوں میں پاکستان میں ہر بندہ یہی توقع کر رہا تھا کہ ہم جواب فوراً دیں گے۔ جب ہم نے ٹیسٹ کیے تو نہ صرف یہ کہ لوگوں میں ایک خوشی کی نئی لہر دوڑ گئی بلکہ ایک تقویت یہاں پر ملی ہماری قوم کو کہ اب ہمیں انڈیا کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
قسط نمبر 3
سکرین:
Pakistan started its nuclear program as an energy program during the 1950s under supervision of Dr Abud Salam. Pakistan Atomic Energy Commission (PAEC) started its efforts towards safe usage of nuclear technology.
ڈاکٹر عبد السلام:
It's at the secondary level that we do not train enough technical people. What we do is, train 90% of our young people to go to the universities, and only 10% of the other people are trained in order to take up the technical subjects.
ڈاکٹر نور محمد بٹ: اٹامک انرجی کمیشن پاکستان کی بن چکی تھی 1956ء میں۔ اور 1961ء میں ڈاکٹر آئی ایس عثمانی صاحب، بہت ایک پی ایچ ڈی اٹامک فزکس میں تھے، لیکن وہ بیوروکریٹ بھی تھے، انڈین سول سروسز میں تھے، اور وہ پاکستان کے بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر تھے، وہ پھر چیئرمین بنے اٹامک انرجی کمیشن کے 1961ء میں۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
It was a triangle of PAEC chairman Mr. I.H. Usmano, and Dr Abdus Salam, and at the time before he became the foreign minister or the minister of science and technology and industries, Zulfiqar Ali Bhutto. These are the three people who initially laid down the foundation as to what to do with, what would be called the soft technology, educating people and creating the technological base.
ڈاکٹر نور محمد بٹ: اس وقت اٹامک انرجی کمیشن کے باقی سارے پروگرام جو ہیں، جس میں زیادہ جو basis تھا وہ safe application of nuclear technology تھا۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
The enthusiasts essentially wnated that because the world environment is changing, India is building a bomb, conventional matching is not going to be done, you know, 1965 war had happened, the world did not come to Pakistan's rescue, there were very strong arguments as to why Zulfiqar Ali Bhutto was actually sort of pushing the program at the time that you can turn the program now before India takes the lead.
اشرف ملخم: پہلی میٹنگ جس پہ امریکی بھی حیران ہو گئے تھے، ذوالفقار علی بھٹو، اس کا سارا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے، وہ پرائم منسٹر بنے، تو انہوں نے جون 1973ء میں، ملتان میں کوئی شادی تھی، انہوں نے جان بوجھ کر وہ شادی کا فنکشن اٹینڈ کیا اور سارے اٹامک انرجی کمیشن کے جتنے بھی سائنٹسٹس تھے ان کو وہاں انوائیٹ کیا۔ امریکیوں کو پہلے تو نہیں پتہ تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ملتان میں جون کی گرمی میں تھری پیس سوٹ پہن کر ایک لان میں میٹنگ ہو رہی ہے، اس پہ ان کی آنکھیں کھلیں، یہ کیا ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: I was present in that meeting سائنٹسٹس سارے پاکستان کے، نیو کلیئر سائنٹسٹس اور یونیورسٹیز کے وہاں ملتان میں ایک میٹنگ ہوئی، اس میں انہوں نے انڈیکیٹ کیا کہ ہم نیوکلیئر سائنس کی طرف جائیں گے۔
شمشاد احمد NPT (Non-Proliferation Treaty) کی جب نیگوشیشنز ہو رہی تھیں تو اس وقت ہم پارٹیسپنٹ تھے نیگوشیشن میں، کیونکہ ہمیں اس کے جو اغراض و مقاصد تھے اس ٹریٹی کے، ہم ان سے اتفاق کرتے تھے، اور ہم چاہتے تھے کہ دنیا میں یہ جو نیوکلیئر ویپنز کا بزنس ہے اس کو کنٹرول کیا جائے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جب وہ ٹریٹی تیار ہوا 1970ء میں تو انڈیا نے سائن نہ کیا، تو پھر ہم نے بھی نہیں سائن کیا۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
The moment he (Zulfiqar Ali Bhutto) took the power, within one month, he gave direction to PAEC which way the program direction would go, something that he always wanted, now he was in power.
فوزیہ شاہد: ذوالفقار علی بھٹو نے جب یہ صلاحیت لی تھی شروع میں ہی اس کا جو کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ہے وہ بہت سٹرانگ کر کے ایک ایسے ادارے کو دے دیا گیا تھا کہ وہ ادارہ اپنے طور پہ کام کرتا جائے۔ نیشنل سکیورٹی کا ایک بہت بڑا پراجیکٹ سمجھتے ہوئے سبھی حکومتیں اس کو فنڈنگ بھی کرتی رہیں۔
اشرف ملخم: اس وقت ذوالفقار علی بھٹو نے as prime minister کہہ دیا تھا کہ اس کا کوئی آڈٹ نہیں ہو گا، کوئی اس کا پوچھنے والا نہیں ہو گا، whatever you want, let me know we will provide it
سکرین:
In Decembter 1974, Dr. Abdul Qadeer Khan came back to Pakistan and joined the national effort to develop atomic weapons. He adopted the uranium route through centrifuges technology.
ڈاکٹر عبد القدیر خان:
I have no doubt and no reservation that it is a destructive weapon system, but you see, if you know, or if you talk to the people who know me very closely, I am one of the kindest persons in Pakistan.
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
But then in India in 1974 test happened, that completely changed. Every organization, every institution that was even sceptical, they all came on the same page. Then it became a question of now or never.
ڈاکٹر نور محمد بٹ: اس وقت تو ہمارے سارے نیوکلیئر پروگرام پیس فل پروگرام تھے۔ اور بھٹو صاحب نے پھر منیر احمد خان صاحب کو ایک سیپریٹ پراجیکٹ دیا کہ اب آپ نے nuclear defence weapon کی طرف کام کرنا ہے۔
فوزیہ شاہد: عبد القدیر خان صاحب کو جس طرح لے کر آئے، جس طرح ان کو یہاں ایک پوری جگہ، اس طرح کی facilities دی گئیں تھیں کہ شاید کسی کو، ظاہر ہے کہ ملک میں تو پتہ نہیں چل رہا تھا، لیکن یہ اشارہ مل گیا تھا کہ ہم ایٹم بم بنانے کی طرف جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: اے کیو خان کی زبانی جو سننے میں آیا کہ ان کو جب بلایا گیا تھا یہاں اس کام کے لیے، وائف کے ساتھ آئے تھے ملنے کے لیے، انہوں نے آ کے بتایا کہ جی میں تو وہاں کام کر رہا ہوں، ایمسٹرڈیم میں، ہالینڈ میں، اور آپ نے بلایا ہے، مل لیا۔ بھٹو صاحب بات چیت کرنے کے بعد کہنے لگے کہ ہمیں بہت جلدی ہے، ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے، آپ نے فیصلہ کر کے بتانا ہے کہ بس آپ یہ جاب سٹارٹ کریں یہاں۔ وہ کہنے لگے آپ مجھے اتنی تو مہلت دیں میں گھر جا کر وائف سے تو پوچھ آؤں۔ کہنے لگے ہاں آپ ان سے۔ وائف کو آ کر انہوں نے کچھ نہیں کہا، انہوں نے کہا کہ اب بس ہم نے پاکستان سے جانا نہیں ہے، اب یہیں رہنا ہے۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
A.Q. Khan arrived 1975-76 time frame, and offered the alternate route that highly enriched uranium could be done through the centrifuge methods, and that is how he became program in-charge eventually to sum it up all. He brought that technology from Holland and Germany which was a highly enriched uranium centrifuge based technology.
سکرین:
Kahuta, a tehsil of Rawalpindi district in Punjab province of Pakistan, was a place selected for making Pakistan's main nuclear weapons laboratory, now known as Khan Research Laboratories (KRL).
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
It is a very fascinating story about how they began doing it in a basement in Chaklala until you know have the Khan Research Laboratory.
ڈاکٹر نور محمد بٹ: چکلالہ میں کوئی بریکس میں شروع ہو گیا تھا کام، نیوکلیئر انجینئرنگ، جیسے ریسرچ لیبارٹری۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: ڈاکٹر اے کیو خان تو پاکستان میں 1970s میں آئے تھے اور انہوں نے شروع کیا تھا یہاں F-8 میں گھر میں شروع کیا تھا، اسلام آباد میں۔ پھر وہ شفٹ ہو گئے تھے ایئرپورٹ کے پاس، پھر وہ کہوٹہ شفٹ ہوئے۔
ڈاکٹر افضل خان: پہلے جو کہوٹہ پراجیکٹ شروع ہوا تھا 1975ء میں تو اس کا نام ’’انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری‘‘ رکھا گیا تھا۔ تو ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے اتنا کام کیا ہے، اتنی محنت کی ہے، اور آپ نے یہ کہوٹہ بنایا ہے، تو ہم اس کا نام، اس نے چینج کیا، اس نے ’’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری‘‘ اس کا نام رکھا۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: جب ہم نے جوائن کیا، جوائن کرنے کے بعد وہ ایک پتلی سی گلی سے ہوتے ہوئے ایئر پورٹ چوک کے پیچھے، وہاں وہ بنی ہوئی تھیں، بریکس، اس کے اندر جا کر جوائن کیا، جوائن کرنے کے بعد ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جا کر ہمیں بٹھا دیا کہ یہ آپ کا آفس ہے یہاں بیٹھیں۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اس وقت KRL کا انفراسٹرکچر معمولی تھا، زیادہ اچھا نہیں تھا، لیکن سپورٹ بہت اچھی ملی، جو بھی پریزیڈنٹ بنے پاکستان کے، ان سے فنانشل سپورٹ ملی، ٹیکنالوجی سپورٹ ملی، انجینئرنگ انفراسٹرکچر، آرمی سے سپورٹ ملی۔ ان میں میرے خیال میں 250-200 آفیسرز تھے، اور اس میں کوئی 8، 10 بلڈنگز تھیں۔ اور ایک centrifuge hall تھا ہمارا۔
ڈاکٹر افضل خان: 36 فیکٹریز تھیں کہوٹہ میں۔ تو یہ (ڈاکٹر عبد القدیر خان) ہر روز ہر دوسرے دن ہر جگہ جاتے تھے، جہاں بھی کوئی ٹیکنیکل پرابلم آتی تھی، یہ جاتے تھے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ان کو ٹاسک دیا گیا کہ چار مہینے کا کہ آپ پورے پنجاب میں، بلکہ پورے پاکستان میں تلاش کریں کہ سب سے موزوں بہترین جگہ کونسی ہے، جہاں یہ کام، ہم centrifuge کا پلانٹ لگانا چاہتے ہیں، جو کہ safe ہو ہر طرح سے۔ تو اے کیو خان چلتے رہے چلتے رہے، تمام علاقہ دیکھا انہوں نے، جا کر کہوٹہ کا علاقہ، جو اِس وقت کہوٹہ ہے، اُس زمانے میں وہ گاؤں ہوتا تھا۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: کہوٹہ کی ایک تو وجہ یہ ہو گی کہ کیپیٹل کے قریب تھا، اور سنا ہے کہ پہلے انہوں نے چکوال کی سائیٹ سلیکٹ کی تھی لیکن وہ پھر decision making سے دور ہو جاتی۔ تو ہم لوگ یہاں سے جاتے تھے تو ہمیں کوئی چالیس منٹ لگتے تھے پہنچنے میں۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: کہوٹہ جو چنا گیا تھا ایک لیبارٹری کے لیے for uranium enrichment باقی تو ہماری جگہیں، میں نے بتایا واہ (کینٹ) اور اِدھر اُدھر تھیں، اور ڈیفنس، وہاں پہاڑیوں کی وجہ سے، ڈیفنس کی وجہ سے وہ ایک سائیٹ سلیکٹ ہوئی۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: وہ علاقہ ایسا تھا کہ آپ سڑک بنا کر ایسے اندر لے گئے، تو ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کا جو فاصلہ تھا وہ تقریباً پچاس پچپن فٹ کا تھا، اور اس کے بعد یہ پہاڑی یوں ایسے پیالے کی طرح اوپر ہونا شروع ہو جاتی تھی۔ ہوائی جہاز کو انہوں نے ٹرائی کر کے دیکھا تھا، کہ وہ ہوائی جہاز جب ڈائیو کرتا اس علاقے میں، تو ڈائیو کرنے کے بعد جب وہ اڑتا تو پہاڑ سے جا کر ٹکرا جاتا۔
ڈاکٹر افضل خان: کہوٹہ پراجیکٹ، اٹامک انرجی والوں نے شروع کیا تھا بھٹو کے زمانے میں۔ وہ پہلے جو ٹیم تھی وہ ساری اٹامک انرجی سے آئی تھی، سائنسدان کہہ لیں، انجینئر کہہ لیں۔ بعد میں جب یہ سائیٹ سلیکٹ ہوئی، کہوٹہ جس کو ہم کہتے ہیں، تو یہ %100 ڈاکٹر اے کیو خان کی سپرویژن میں پورا سیٹ اپ لگا ہے، جس کو میں 36 فیکٹریز کہتا ہوں۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: دو آرگنائزیشنز کو کام دیے گئے تھے: ایک کو uranium کا کام دیا گیا تھا یعنی ڈاکٹر اے کیو خان۔ اور ایک کو plutonium کا کام دیا گیا تھا یعنی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
Nuclear program is a very collective effort. There is no one hero in a nuclear program, there are many heroes. What happened in Pakistan unfortunately is that people are fighting who is the hero? Of course there are more people who are technical heroes, there are political heroes, there are financial heroes, there are security heroes. Everyone has contributed in the program.
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: پاکستان نے پہلا اپنا یورینیم افریقہ سے لیا تھا۔ نائجیریا سے اوپر ایک ملک ہے نائجر، تو وہاں سے 1970-1969ء پانچ ہزار ٹن لیبیا کے تھرو آیا تھا۔ وہاں پر ایک پریزیڈنٹ ہوتے تھے حمانی دیوری، ان کے ساتھ پہلی ڈیل ہوئی تھی، نائجر یورنیم کا بہت بڑا، مائننگ ہوتی ہے وہاں پر، وہاں سے پانچ ہزار ٹن آیا۔ کچھ ڈیرہ غازی خان سے بھی یورینیم نکلتا ہے۔ تو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے U3O8 کو uranium oxide میں کنورٹ کیا، پھر uranium tetrafluoride میں کنورٹ کیا، پھر یورینیم hexafluoride میں کنورٹ کیا۔ تو ہمارے ہاں بڑے بڑے سلنڈرز آتے تھے اٹامک انرجی کے، جو ٹریلر پہ آتے تھے، جو ایک بہت بڑا ہوتا ہے ٹریلر، تو اس پہ آتے تھے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا، اس UF6 کا، کیونکہ وہ weapons grade نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں اس کو enrich کرتے تھے۔ انرچمنٹ پلانٹ تھا کے آر ایل۔ تو انرچ کا مطلب ہے آپ اس کو ویپنز گریڈ پہ لے کر جاتے تھے۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: جب پروگرام کی بگننگ ہوتی ہے، فیول کو کرنا ہوتا ہے، مائننگ کرنا ہوتا ہے، اس کو کور بنانا ہوتا ہے، اس میں ہیکسافلورائیڈ گیس ہوتی ہے، اس میں سب کی کنٹریبیوشن ہے۔
جان مکلاکلن:
You have created the illusion, and that would be your word, that you have the bomb and you don't have the bomb, so you still gonna get the American aid and you are still gonna keep India off balanced.
جنرل محمد ضیاء الحق:
I'm not indulging in self praise but Pakistanis are intelligent people. (1980s)
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: خان صاحب نے آ کر، جو یورپ سے آئے تھے، ان کے پاس سنٹریفیوج ٹیکنالوجی بہت اچھی تھی، ان کے پاس کیپبلٹی تھی کہ پاکستان کے لیے یورینیم کو انرچ کر سکتے تھے، یہی اس میں سب سے مین چیز تھی۔ اور آپ کو پتہ ہے اس کی ٹیکنالوجی اس وقت بہت ہی کم ملکوں کے پاس تھی۔
ڈاکٹر افضل خان: ان میں سے کوئی NASA میں کام کرتا تھا، کوئی کدھر کام کرتا تھا، کوئی کہاں کام کرتا تھا، تو کچھ جو تھے وہ بڑی بڑی فیکٹریوں میں کام کرتے تھے امریکہ میں اور انگلینڈ میں اور فرانس میں، تو یہ وہاں سے لے کر آئے لوگوں کو اپنے کام کے لیے۔ یہ سائنٹسٹس اور انجینئرز جو باہر سے آئے تھے، نیچرلی ان کی سپرویژن میں تھے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: میرا جو کام تھا وہ یہ تھا کہ ہم اس کی ساری verifications کرتے تھے، نیوکلیئر۔ میں نے بی ایس، ایم ایس، پی ایچ ڈی تینوں نیوکلیئر انجینئرنگ میں کیں اور میری ایکسپرٹیز تھیں نیوکلیئر انجینئرنگ۔ تو بیسکلی جو ویپن کا کور ہوتا ہے، اتنا بڑا تھا (دو ڈھائی فٹ) ہمارا نیوکلیئر بم، اس میں جو نیوکلیئر پارٹ تھا وہ صرف اتنا (سات آٹھ انچ گولائی) تھا۔ بعد اس کے آپ کو پتہ ہے (مختلف سائزوں میں) کیمیکل ایکسپلوسوز وغیرہ آتے ہیں۔ تو ہم اس (نیوکلیئر) پارٹ کی ٹیسٹنگ، ویریفیکیشن وغیرہ کرتے تھے کہ یہ ٹھیک ہے، نہیں ہے، اس کا میٹیریل اچھا بنا ہے، اس میں گیپس تو نہیں ہیں۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: we are here to make centrifuges اور وہ میٹیریل ہم نے نکالنا ہے ان سنٹریفیوجز سے جس سے کہ ہم ایک اٹامک بم بنا سکیں۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: اور بہت سا پروگرام جگاڑ سے بنا ہے۔ because technological things were being denied to them تو انہوں نے اننوویٹ کیا، ریورس انجینئر کیا، چین نہیں ملی تو بائیسکل کی چین لگا کر چلا لیا انہوں نے، they wanted the result, they did it
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اس کے لیے بہت خاص قسم کی سٹیل چاہیے تھی جو (revolutions per minute) 68000، کوئی سٹیل ایسی نہیں ہوتی، آپ کو پتہ ہے گاڑی کا انجن ٹوٹ جاتا ہے چھ سات ہزار RPM پر۔ تو پاکستان میں سپیشل سٹیلز بنے، سنٹریفیوج ٹیکنالوجی بنی، اور ہم سب لوگ مجھ سمیت، ہم سب ڈاکٹر خان کی ایک آرمی بنے، اور ہم سب ان کے ساتھ کام کرتے تھے اور وہ ہمارے لیڈر تھے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: کم از کم سات آٹھ دفعہ وہ پورے کا پورا ہال بنا ہے، پورا ہال، اور اس کے بعد توڑا گیا ہے اس کو۔ کیوں؟ جب بنا لیتے تھے تو سنٹری فیوج پلیس کرتے تھے، جب وہ پلیس کرتے تھے تو پتہ لگا اس میں ابھی دو کم رہ گئے ہیں، دو زیادہ ہو گئے ہیں، دو ایسے ہو گئے ہیں، دو ویسے ہو گئے ہیں۔ یہ سب ان کی photogenic memory میں اس کا سائز تھا، جہاں کہ وہ گھومتے رہے تھے اور وہ لے کر آئے تھے، وہ کہتے تھے اچھا یہ سائز ہو گا بھلا، وہ سائز بنا دیا، جب سنٹری فیوج پلیس کیا تو اس کے اندر پرابلمز آئیں، اس کو گرا دیا، انہوں نے کہا دوبارہ کنسٹرکشن ہو گی۔ تو کم سے کم، اگر میں مبالغہ نہ کروں تو تیسری چوتھی کنسٹرکشن میں جا کر ایک ہال مکمل ہوا تھا۔
ڈاکٹر افضل خان: نیوکلیئر کی کہوٹہ میں سنٹریفیوج مشین تھی، تو اس میں یہ enrich کرتے تھے uranium کو۔ تو اگر یورینیم %90 سے زیادہ انرچ ہو جائے تو پھر اس سے ایٹم بم بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اسلام آباد میں زلزلے ہلکے پھلکے آتے رہتے ہیں۔ تو سنٹریفیوج اتنی نازک چیز ہوتی ہے کہ ہلکے سے زلزلے میں ہزاروں سنٹریفیوجز ٹوٹ جاتے تھے۔ اور اب یہ کوئی نیشنل سیکرٹ نہیں ہے کہ ایک گھنٹے میں 4 گرامز بنتے تھے ہمارے، یعنی آپ سوچیں ایک دن میں 90 گرامز، تو ایک مہینے میں 3 کلو گرام یورنیم انچرڈ بنتی تھی۔ اور نیوکلیئر ویپن کے لیے 25 کلو گرام چاہیے ہوتی ہے، تو اس وقت ہماری capability تھی کہ ایک دو سال میں ہی ایک (بم) بن سکتا تھا۔ تو اس وقت مجھے یاد ہے 30 دسمبر 1984ء کو ایک بہت بڑا زلزلہ آیا تھا اسلام آباد میں تو ہمارے ملینز آف ڈالرز کا نقصان ہوا تھا، بہت سارے سنٹریفیوجز ٹوٹ گئے تھے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: اگر ایک ایٹم بم، اب تو سائز چھوٹے ہو گئے ہیں اس کے، اُس زمانے کی بات کر رہا ہوں، اس کے لیے 2 کلو گرام پیور +%95 یورینیم چاہیے، اور اس سے جو دھماکہ ہو گا، تقریباً 20 ٹن جتنی انرجی اس سے ریلیز ہو گی۔ لیکن چونکہ آپ %100 اچیو نہیں کر سکتے، اس میں مکسنگ ہوتی جاتی ہے، تو جتنی مکسنگ ہوتی جائے گی، یعنی %95 سے %85 ہو گا، %65 ہو گا، %35 ہو گا، تو چین ری ایکشن تو بنائے گا وہ، لیکن آپ کو دوسرے میٹیریلز ایکسپلوسِوز اور ڈالنے پڑیں گے۔ جب آپ اور ڈالیں گے تو وہ جو 2 کلو گرام ہے، وہ پھر 200 کلو گرام تک چلا جائے گا۔ تو جو ہمارا پہلا ٹارگٹ تھا around 200kg کے برابر تھا، اس لیے اس کا سائز بھی کوئی تقریباً 80 سینٹی میٹر، ایک میٹر جتنا سائز تھا، جس طرح round ball ہو۔
سکرین:
In 1981, India planned to bomb Kahuta, inspired by the Israeli attack on under-construction Iraqi nuclear reactors.
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: مجھے یاد ہے آرمی کی طرف سے balloons تھے اور پورا ایک umbrella بنا تھا surface to air missiles کا اور ہمارے آفسز کے باہر بھی اس طرح کی کھڑکیاں نہیں ہوتی تھیں، اس میں پتھر کی دیوار ہماری کھڑکی کے باہر ہوتی تھی کیونکہ اس وقت اسرائیل کا انڈیا کا بہت ڈر تھا۔
اشرف ملخم: اس کی خبر، اگر ایک ہی بلڈنگ میں چھ لوگ کام کر رہے ہیں، چھ کو ایک دوسرے کا نہیں پتہ ہوتا تھا کیا کر رہے ہیں، بڑا سیکرٹ رکھتے تھے، تو اے کو نہیں پتہ بی کیا کر رہا ہے، بی کو نہیں پتہ سی کیا کر رہا ہے، کہاں تک success پہنچی، جب پہنچی ہے تو کس نے کیا ہے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: اس زمانے میں ہم نے سنا تھا کہ اسرائیل وغیرہ لگے ہیں کہوٹہ کو تباہ کرنے کے لیے، دو چار ٹرائیاں بھی ہوئی ہیں، ہم نے اپنے سامنے جہازوں کو بھی دیکھا ہے آتے جاتے ہوئے یہاں۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
Information that India was planning to attack Kahuta in 1984, then they decided to do it in 1986 during Exercise Brasstacks. These are all well recorded. Yeah, so, India actually got the idea after the Israeli attacked the Osirak plant in Iraq, they thought that they can emulate and do the same to Kahuta. So they decided to have a special project in their combat school, that was, actually the project in-charge was General Sundarji himself, Lieutenant General, 3-star.
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: ایک چھوٹا سا ہمیں ملا تھا (انہوں نے) سینسر لگایا ہوا تھا کہوٹہ کی سڑک پہ، تو جو ٹرک آتا تھا اور جاتا تھا تو اس سے ان کو سیٹلائیٹ پہ سگنلز ملتے تھے کہ کتنی enriched uranium ہے۔ جنرل ضیاء الحق جب پریزیڈنٹ تھے تو امریکنز نے، سی آئی اے نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کتنے percentage تک یہ لوگ پہنچے ہیں۔ تو پھر پریزیڈنٹ ضیاء نے امریکن امبیسڈر کو بلا کر پورا بتایا تھا کہ آپ لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہیں، اور فرنچ کا بھی اس میں رول تھا، امریکنز کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
قسط نمبر 4
اشرف ملخم: وہاں پہ کچھ سائنٹسٹس ایسے تھے جو 1974ء، 1975ء سے سٹیشنڈ (مقیم) تھے ان پہاڑوں پر۔ وہ پہاڑ، بالکل بنجر پہاڑ جن کو ہم کہتے ہیں، براؤن ریڈش رنگ کے، دور دور تک کوئی گرینری کا نشان نہیں، تو جب میں گیا ہوں وہاں پانی کا ایک ٹینک کھڑا تھا، ایک چھوٹا سا ہٹ بنا ہوا تھا، کنٹینر کا گھر بنا ہوا تھا، جنریٹر تھا، اے سی تھا، جو صاحب تھے ان سے میں نے بات چیت چیک کرنا شروع کی، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں 1974ء سے یہاں سٹیشنڈ ہوں۔ وہ ٹنل جس میں بلاسٹ ہوئے اس کو کھودنے کا کام، جو بھی سکیورٹی فیچرز تھے وہ، 1974ء سے شروع ہو گیا تھا۔ جب اس نے سٹوری سنائی، بقول اس کے کہ جب وہ 1974ء میں یہاں سٹیشن ہوئے، نہ بجلی تھی، نہ پانی تھا، پانی کا ٹینکر بھی کوئٹہ سے آتا تھا، جو کہ آٹھ سے نو گھنٹے کی ڈرائیو تھی وہاں سے۔ نہ کوئی انسان تھا، سکیورٹی والوں نے آمد و رفت بند کر دی تھی، وہ بڑا خوش ہو کر بتا رہا تھا کہ صرف پرندوں سے یہاں میری واقفیت ہوتی تھی، مجھے پتہ تھا صبح کے وقت کون کون سے پرندے کس سمت سے آتے ہیں، کس سمت جاتے ہیں۔ سیملر، شام کو وہ کیسے واپس جاتے ہیں۔ تو میں نے اس سے پوچھا، میں نے کہا آپ کا زندگی سے پبلک سے رابطہ کیسے تھا؟ اس نے کہا صرف ریڈیو، کبھی کبھی اس کے سگنل آتے تھے، تو باقی اللہ سے ہی رابطہ تھا۔ بلکہ اس نے بتایا کہ کس طرح یہاں رہ کر مسلسل میرا اسلام پہ خدا کی ذات پہ یقین پختہ ہو گیا، انسان کو کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جان مکلاکلن:
You have created the illusion, and that would be your word, that you have the bomb and you don't have the bomb, so you still gonna get the American aid and you are still gonna keep India off balanced.
جنرل محمد ضیاء الحق:
I'm not indulging in self praise but Pakistanis are intelligent people. (1980s)
ڈاکٹر تسنیم شاہ: کہوٹہ جا کر جب کام کرتے تھے، چار چار پانچ پانچ دن رات کو وہیں رہتے تھے۔ ایک دفعہ وہ (ڈاکٹر عبد القدیر خان) آئے اور کہا تم لوگ گھر ور نہیں جاتے ہو، پرینٹس پوچھتے نہیں ہیں؟ ہم نے کہا کہ سر گھر جائیں گے تو امی سے لڑائی ہو گی، بہتر ہے کہ ہم یہیں رہیں۔ تو اس پہ وہ ذرا جوک، وہ بڑا نفیس سا کر جاتے تھے، کہتے تھے، نہیں، چلے جایا کرو، یہ نہ ہو کہ کبھی گھر بھول جاؤ تم لوگ۔ گھر جانا ہی ہے، اتنا اپنے آپ کو exert نہ کرو، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔
ڈاکٹر افضل خان: ذوالفقار علی بھٹو صاحب تو خیر آپ کو پتہ ہے وہ چلے گئے اس دنیا سے، لیکن جب تک وہ تھے نا، انہوں نے تو، اس طرف دیکھتے بھی نہیں تھے، اور ڈاکٹر صاحب کو کبھی نہیں کہتے تھے آپ کو کیا چاہیے کیا نہیں چاہیے، کیونکہ انہوں نے ان کو اتنی پاورز دے دی تھیں، کہ اس کو کسی گورنمنٹ منسٹری میں، کسی جگہ جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، ان کے پاس اپنی اتھارٹی ہوتی تھی، جو کچھ کرنا چاہیں وہ کرتے تھے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: نیوکلیئر ویپن بہت مشکل چیز ہوتی ہے۔ اس میں بہت ساری ٹیکنالوجیز آ کے perfect synchronisation کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس میں ہم سب مختلف کام کرتے تھے۔ میٹلرجی کے انجینئرز تھے، کیمیکل انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، اور میرے جیسے نیوکلیئر انجینئرز تھے۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: we are here in to make centrifuges اور وہ میٹیریل ہم نے نکالنا ہے ان سنٹریفیوجز سے جس سے کہ ہم ایک اٹامک بم بنا سکیں۔
شمشاد احمد: چوبیس سال پہلے (1998ء) یہ ساؤتھ ایشیا جو ہے یہ overly nuclearised ہوا تھا۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
Turning the nuclear program into a weapon program, the first publicly known idea that was planted was by Zulfikar Ali Bhutto. He was the one who was actually asked a question publicly, "what would you do if India builds a bomb?" Because it was China's nuclear test in 1964 followed by a change in India's program, that changed Pakistan's program into two camps.
فوزیہ شاہد: ہم نے early 1980s میں دیکھا بلکہ end of 1970s میں بھی ہم یہ جانتے تھے کہ اس قسم کی جو ڈیوائس ہے وہ ہمارے پاس آ چکی ہے۔ اس وقت جب ایٹم بم کی بات آتی تھی تو وہ ایک یورینیم کی افزودگی کی بات ہوتی تھی کہ اس کو کس طرح وہ کیا جا رہا ہے۔
اشرف ملخم: امریکی اسٹیبلشمنٹ کو بھی پتہ تھا کہ پاکستان بم کام کر رہا ہے، انہوں نے اٹامک بم بنایا ہوا ہے، لیکن چونکہ پاکستان کا کردار بہت اہم تھا اس وقت against Soviet Union اس لیے امریکنوں نے پاکستان کو یہ سارا کچھ کرنے دیا۔
سکرین:
In march 1976, France and Pakistan signed a mutual agreement for the supply of a plutonium-based nuclear reprocessing plant at Chashma. However, this deal came under attack from various countries, particularly the United States.
اشرف ملخم: mid 1970s میں کہیں پاکستان نے فرانس کے ساتھ ایک ری پراسیسنگ پلانٹ کا ایگریمنٹ کر لیا۔ ایکچوئلی وہ بھی ایک deception تھی، پاکستان never wanted کہ اس کے لیے جائے، پوری دنیا نے اس ایگریمنٹ کو کینسل کروانے کے لیے، سپیشلی انڈیا نے اور امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، بھٹو کہتا ہے ہم نہیں کینسل کریں گے، فرانس کینسل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پاکستان کبھی وہ ری پراسیسنگ پلانٹ کا ایگریمنٹ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔
ڈاکٹر افضل خان: ایٹم بم بنانے کے نا تین راستے ہیں۔ جو دنیا میں شروع میں تھا وہ یہ تھا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں سے جو یورینیم نکلتا ہے، اس کو پلوٹونیم کہتے ہیں، اس کو آپ ریفائن کر کے ایٹم بم بناتے تھے۔ دوسرا ہوتا ہے ایک ری پراسیسنگ ہے، کیمیکل طریقہ ہے۔ تیسرا یہ تھا سنٹری فیوج والا جو ڈاکٹر اے کیو خان صاحب لے کر آئے تھے۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: ہمارے دو پروگرام تھے نیوکلیئر۔ ایک ہوتا ہے پلوٹونیم سے، یا جو یورینیم ری ایکٹرز میں بنتا ہے، اس سے پلوٹونیم تیار ہوتا ہے، اس سے پرانے بم (بنتے ہیں) جو امریکہ نے چلائے تھے، وہ پلوٹونیم کا بم تھا۔
شمشاد احمد: تو 1974ء سے ہمیں بہت سخت پریشانی تھی کہ کیا کیا جائے۔ تو ہم نے بہت initiatives لیے، بھٹو نے، اور ان میں سب سے پہلا یہی تھا کہ یونائیٹڈ نیشنز میں ہم نے پروپوزل دی کہ ساؤتھ ایشیا کو نیوکلیئر فری زون قرار دیا جائے۔ اور ہم نے یہ کہا کہ joint renunciation of manufacture and acquisition of nuclear weapons ہونی چاہیے، ہم دونوں مل کر، انڈیا اور پاکستان، یہ ایک معاہدہ کریں۔ اور ہم نے یہ بھی آفر کیا کہ ہم mutually bilaterally agree کریں کہ کوئی نیوکلیئر ٹیسٹ نہیں کریں گے، کوئی میزائل کا ٹیسٹ نہیں کریں گے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اتنے سارے initiatives کرنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ انڈیا نے کوئی توجہ نہیں دی بلکہ پوری دنیا نے اس کو اگنور کیا۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان:
This is one element of Pakistan's (nuclear) policy that is never ever for compromise.
سکرین:
Pakistan carried out the first cold tests of weapon design between 1983 and 1984. By 1985, Pakistan was capable of testing the nuclear device.
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ضیاء الحق کا دور تھا یہ، 1984ء تک ہمارے پاس یہ تمام چیزیں بن کر تیار ہو گئی تھیں۔ 1984ء سے لے کر 1998ء تک ہم صرف انتظار کرتے رہے، چھ اور آٹھ چودہ سال۔
اشرف ملخم: ضیاء الحق اس وقت پریزیڈنٹ آف پاکستان تھے، یا شاید پریزیڈنٹ نہیں تھے وہ، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہی تھے، انہوں (ڈاکٹر عبد القدیر خان) نے کہا جی we are ready ہمارا بالکل پورا سسٹم ریڈی ہے، جب چاہیں گے ہم ایٹمی دھماکہ کر دیں گے، اناؤنس آپ نے کرنا ہے، ٹائمنگ آپ کی ہو گی we are ready for it
ڈاکٹر افضل خان: پہلے بھی ہمارے اوپر بہت زیادہ پریشر ہوتا تھا باہر کی گورنمنٹس کا، خاص طور پر یورپ کا اور امریکہ کا۔ تو یہ لوگ بہت ڈرتے تھے کہ کچھ ہو نہ جائے، کچھ ہو نہ جائے، تو یہ ہر چیز سیکرٹ کرتے تھے۔ تو کولڈ ٹیسٹ بھی انہوں نے سیکرٹلی کیا تھا۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: ایک cold test ہوتا ہے، ایک hot test، ہاٹ ٹیسٹ تو ایکسپلوژن کو کہتے ہیں۔ کولڈ ٹیسٹ وہ ہوتے ہیں جو آپ شروع میں بہت سارے کرتے ہیں تاکہ آپ میں کانفیڈنس آئے، تو جہاں تک مجھے پتہ ہے ہم کوئی 78 کولڈ ٹیسٹ کر چکے تھے کامیاب۔
ڈاکٹر تسنیم شاہ: ایک میٹیریل ہوتا ہے، اس کو پلیس کیا جاتا ہے سنٹرل میں، اس کے چاروں طرف لینزز ہوتے ہیں، اور الیکٹرانکلی (ان) لینزز کو چارج کیا جاتا ہے، اور لینز سے ہیٹ نکلتی ہے، اور وہ ہیٹ جنریٹ ہوتی ہے، اور وہ جو بیچ میں source پلیس ہوا ہوا ہے، اس سورس میں سے ایک منٹ میں 72 نیوٹرانز نکلنے چاہئیں، اگر اتنے نکل گئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اس کو hot test کریں گے تو chain reaction ہو جائے گا۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: کئی قسم کے کام ہوتے ہیں جو وہاں پہ، مین اٹامک انرجی کمیشن کی ٹیم، جس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند تھے، اور بھی کافی سائنٹسٹس تھے a few hundred scientists and engineers were involved اور یہاں تک کہ چاغی کی جو انڈرگرؤنڈ، پہاڑ کے نیچے جو ٹنل تھی، چھ سات کلو میٹر خندق کھودی گئی تھی، جس میں کیبلز ڈالنے تھے، کنٹرول روم، جس سے کمپیوٹر سے بم کو آن کرنا تھا وہ چھ سات کلو میٹر دور تھا۔ وہ ساری چیز مین اٹامک انرجی کمیشن کے جیالوجسٹس وغیرہ یا سائنٹسٹس وغیرہ نے تیار کی ہوئی تھی by 1980s ہم تیار تھے۔ 1984ء یا 1982ء وغیرہ میں ہم تیار تھے testing of our nuclear weapon لیکن پولیٹیکل ریزنز کی وجہ سے ہم نے اس کو روکے رکھا۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: غلام اسحاق جب تک زندہ تھے تب تک تو یہ (اٹامک کمیشن اور خان لیبارٹریز کا باہم اختلاف) کنٹرول میں رہا، لیکن after the death of Ghulam Ishaq Khan یہ 1993ء کے بعد سے it became very ugly until the nuclear test یہاں تک کہ ٹیسٹ کے اوپر بھی ہو گیا کہ میں کروں گا، تو کون کرے گا so that became a problem
پاکستانی سفارتکار:
These would have an adverse effect on the economy and I think the government and the people are prepared for it in the sense that, firstly, there would be no flow of capital coming from there, and I think the worst form of, the most adverse reaction would be as a consequence of the stopping of the investment, you know, which we were expecting as a consequence of the opening of our market. (30th May 1998)
سرتاج عزیز: یہ جو ہماری نیوکلیئر کیپسٹی ہے اس پہ شکر ہے خدا کا کہ ہم نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا، اور نہ صرف یہ کہ گورنمنٹ نے نہیں کیا، پوری قوم اس کے لیے تیار تھی۔
شیخ رشید احمد: اس میں بعد میں ان لوگوں نے بھی حمایت کی جنہوں نے مخالفت کی تھی۔
فوزیہ شاہد: سب کے علم میں تھا، امریکہ کی طرف سے سینکشنز کا بھی پتہ تھا، ہماری اکانومی کی کیا صورتحال ہے، وہ بھی تمام چیزوں کا سب کو علم تھا۔
سرتاج عزیز: اس سے پہلے جو پریسلر سینکشنز لگی تھیں 1990ء میں، وہ صرف امریکہ نے لگائی تھیں، کہ ہم نیوکلیئر کیپسٹی بلڈ کر رہے ہیں۔ لیکن جو 1998ء میں لگی تھیں وہ تمام G8 کنٹریز نے لگائی تھیں سینکشنز، اور ہماری پوری ایڈ جو ہے وہ ایک طریقے سے بند ہو گئی تھی، تو contigency پلان ہم نے بنایا کہ کس طریقے سے ہینڈل کرنا ہے۔ چھ مہینے کے اندر اندر جب ہم نے CTBT کی بات کی تو وہ کسی حد تک ریلیکس ہو گئی تھیں اور پھر ہماری aid بھی جو ہے وہ resume ہو گئی تھی۔
اشرف ملخم: جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیے، بڑی سخت سینکشنز آئیں امریکہ کی طرف سے، جب ماشل لاء لگا اکتوبر 1999ء میں تو ہم almost default کر گئے تھے، ہماری مالی پوزیشن اتنی خراب ہو گئی تھی کہ گورنمنٹ نے عام پبلک کے بینک اکاؤنٹس فریز کر کے ان سے ڈالرز لے لیے تھے، ڈالرز ان کو کبھی واپس نہیں ملے، روپیہ بھی بہت سالوں بعد ملا۔
شمشاد احمد: انڈیا کے 11 اور 13 مئی کو ٹیسٹ ہوئے، کسی کو سلامتی کونسل کی یاد نہیں آئی تھی، مگر جس دن ہم نے ٹیسٹ کیے، 28 مئی کو اور 30 مئی کو، تو 6 جون کو سلامتی کونسل کی ایک ایمرجنسی کی میٹنگ بلا لی گئی کہ condemn کرنے ہیں ٹیسٹ۔ یعنی ہمارے ٹیسٹوں سے دنیا پریشان ہو گئی، انڈیا کے ٹیسٹوں سے ان کو کوئی، لگتا تھا کہ جیسے کوئی مٹھاس ملی ہو۔
فوزیہ شاہد: تو اس وقت وہ بات آنے لگی تھی خودانحصاری کی، اپنے پہ ہم نے خود کرنا ہے وہ کرنا ہے، اور مجھے تو کچھ ایسے ایکسپیرئنسز لوگوں کے سننے میں آئے کہ وہ چیزیں جو ہم امپورٹ کر رہے تھے، اور خاص طور پر ڈیفنس ریلیٹڈ چیزیں بھی تھیں، اس میں، میں نیوی کے وہاں کراچی گئی تو وہاں سے بھی پتہ چلا کہ بہت سی چیزیں تھیں جو ہم پابند تھے کہ امریکہ لینے کے لیے، لیکن جب ہم پر سینکشنز لگیں تو وہ جو چیزیں تھیں، پرزے کہہ لیجیے، پیچ کہہ لیجیے، کچھ بھی کہہ لیجیے، چھوٹی چھوٹی چیزیں جو ہوتی ہیں مختلف اوقات میں بنتی رہتی ہیں، تو وہ انہوں نے خود بنانا شروع کر دیں۔
ڈاکٹر افضل خان: ایٹم بم سب سے پہلے کس نے بنایا ہے؟ امریکہ نے بنایا ہے۔ ایجاد کس نے کیا ہے؟ جرمنی نے کیا تھا ورلڈ وار ٹو سے پہلے۔ پھر کس نے بنایا تھا ایٹم بم؟ رشیا نے بنایا تھا۔ رشیا نے کہاں سے لیا تھا ڈیٹا؟ جرمنی سے لیا تھا۔ امریکہ نے ایٹم بم کا ڈیٹا کہاں سے لیا تھا؟ جرمنی سے لیا تھا۔ پھر یہ کس نے بنایا جی؟ انگلینڈ نے بنایا۔ پھر کس نے بنایا جی؟ فرانس نے بنایا۔ پھر چائنہ آجاتا ہے۔ اور اس کے بعد انڈیا آجاتا ہے۔ اور پھر ساتویں نمبر پر پاکستان آتا ہے۔
اشرف ملخم: جو peace process بہت آگے بڑھا تھا ان بم دھماکوں کی وجہ سے بڑھا تھا، دونوں سائیڈز کی جو انٹیلجنسیا تھی، جو اکانومسٹس تھے، جو دوسرے سپیشلائزڈ لوگ تھے، ڈپلومیٹ تھے، ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں صلح کر لینی چاہیے۔
شمشاد احمد: امریکہ نے کوشش اور جاری رکھی، دونوں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ، اور ایک ڈائیلاگ شروع کیا جس کے آٹھ آٹھ راؤنڈز ہوئے، انڈیا کے ساتھ سیپرٹلی اور پاکستان کے ساتھ سیپرٹلی۔ انڈیا کے وزیر خارجہ تھے جسونت سنگھ، وہ ان کی طرف سے لیڈ کرتے تھے، اور امریکہ کی طرف سے سٹروب ٹالبوٹ تھے جو ڈپٹی سیکرٹری تھے وہاں کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے۔ میں پاکستان کی ترجمانی کرتا تھا، اور سٹروب ٹالبوٹ میرا کاؤنٹر پارٹ تھا۔ تو ہم دونوں نے، انڈیا نے اور پاکستان نے اس کے ساتھ ڈائیلاگ کر کے اپنی اپنی پوزیشن رکھی۔ بلکہ ہم نے کشمیر کا ایشو بھی اس میں ڈالا۔ ان کا چار نکاتی ایجنڈا تھا۔ پہلی تھی کہ CTBT سائن کریں۔ نمبر دو Fissile Material Treaty پہ نیگوشیئشنز جوائن کریں۔ تیسرا تھا ایکسپورٹ کنٹرول۔ اور چوتھا تھا کہ non-deployment ہونی چاہیے۔ 2005ء میں جب جارج ڈبلیو بش، جو ینگ بش ہے، وہ انڈیا گیا، اور وہاں جا کر انڈیا کے ساتھ ایک ایگریمنٹ کر کے آیا من موہن سنگھ کے ساتھ بات چیت کر کے، اور اس ایگریمنٹ کے تحت نہ صرف انڈیا کے ساتھ ایک ڈیفنس ایگریمنٹ ہوا بلکہ نیوکلیئر ایگریمنٹ بھی کر لیا کہ انڈیا کو جو non-proliferation regime ہے اس سے waiver دینا شروع کر دیا، وہ ایگریمنٹ تھا۔ پہلے ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انڈیا پاکستان اکٹھا دورہ کیا کرتے تھے، لیکن اس دورے میں بش نے پاکستان آنے کے لیے کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی، ہاں، رکا تھوڑی دیر کے لیے آکے یہاں، اور امریکن ایمبسی میں رکا، تو جس وقت اس نے پریس کانفرنس مشرف کے ساتھ پریزیڈنسی میں کھڑے ہو کر ایڈریس کی تو ہمارے کسی جنرلسٹ نے پوچھا کہ آپ نے انڈیا کے ساتھ ایک waiver دے دیا ہے preferential treatment دیا ہے، تو پاکستان کو کیوں نہیں؟ تو اس نے کہا کہ Pakistan is a different country انڈیا ایک اور ملک ہے، انڈیا کی اپنی اور تاریخ ہے، پاکستان کی اپنی تاریخ ہے، تو ہم پاکستان کو انڈیا کے برابر نہیں سمجھتے۔ دوسرے لفظوں میں اس نے انڈیا کو پاکستان سے الگ کر دیا۔
شمشاد احمد (وزیر خارجہ):
We will not submit to browbeating. We will take all appropriate measures to protect our sovereignty, territorial integrity and national interests. Pakistan will uphold its image as a self-respecting nation with pride and dignity. (28th May 1998)
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: in order to prevent that unhealthy competition and to turn that into a synergy of efforts from both sides یہ کام پھر SPD (سٹریٹیجک پلانز ڈویژن) کے آنے کے بعد ہوا ہے جب ہم نے ایس پی ڈی فارم کیے نیوکلیئر ٹیسٹس کے بعد، پھر ایس پی ڈی نے یہ ساری چیزیں کنٹرول کر کے یہ ساری چیزوں کو ایک پیج پر لائے ہیں۔
ڈاکٹر نور محمد بٹ: ایک اور امپارٹنٹ پروگرام تھا میزائل پروگرام، کیونکہ جب ایٹم بم بن جائے تو اس کو ڈیلیور کرنے کے لیے بھی عام جہاز تو استعمال نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ سپیشل پروگرام جو میزائلز کا تھا وہ بھی خان صاحب نے شروع کیا۔ لیکن اس کے بعد پھر NESCOM جو ایک نیا (ادارہ بنا) جس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند چیئرمین بنے، ایکسپلوژن کرنے کے بعد، تو وہ پھر میزائل پروگرام انہوں نے پھر شروع کیا نئی ٹیکنالوجی سے۔
ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی: اس ملک کے سائنٹسٹس، انجینئرز بہت capable ہیں، اس ملک کے ٹیکنیشنز، میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا، KRL میں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قابلیت پاکستانیوں کی، محنت، جذبہ، اور یہ ملک مرا نہیں ہے زندہ ہے، اور یہ ملک، اگر آپ لوگ اگر آپ کی جنریشن اس کو ٹھیک چلائے تو آپ گاڑیاں بھی بنا سکتے ہیں، جہاز بھی بنا سکتے ہیں، کمپیوٹرز بھی بنا سکتے ہیں، مطلب پاکستان کوئی سیکنڈ کلاس ملک نہیں ہے۔
بریگیڈیئر فیروز حسن خان: the biggest example of independent foreign policy is Pakistan's nuclear program نیوکلیئر پالیسی تو پہلے سے evolve ہو رہی تھی، بہت پہلے سے، لیکن there was no structural organization جو کہ coherent طریقے سے comprehensively نیوکلیئر پالیسی کو پروڈیوس کرے۔ پالیسی کا فنڈامنٹل رول یہ تھا کہ we will never allow a humiliating defeat of the kind that happened in Dhaka in 1971
ڈاکٹر نور محمد بٹ: ہماری پالیسی ہے سیلف ڈیفنس کی، اور اگر پتہ لگے تو یہ ہماری پالیسی ہے we will not hesitate to attack، انڈیا کے لیے یہ جو وار کی تھریٹ تھی، نیوکلیئر کی، وہ تو ختم۔ لیکن یہ ہے کہ اب وہ دوسرے طریقے سے پاکستان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں، cultural revolution ہے، میڈیا میں خاص طور پہ۔
1998ء : بھارتی ایٹمی تجربوں سے پاکستان کے ایٹمی تجربات تک
کیری سبلیٹ
(یہ تحریر "نیوکلیئر ویپن آرکائیو" ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کا اردو ترجمہ ہے، جس میں 1998ء میں بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان کی طرف سے کیے گئے ایٹمی دھماکوں کے فیصلے، تیاریوں اور عملی اقدامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ترجمہ کرتے وقت حوالہ جات کو الگ ذکر کرنے کے بجائے ان کا مواد براہِ راست متن میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ مطالعہ میں روانی برقرار رہے، بعض مقامات پر اختصار سے کام لیا گیا ہے، نیز مواد کی درجہ بندی کی غرض سے ذیلی سرخیاں شامل کی گئی ہیں، البتہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے متعلق آخر میں دی گئی تکنیکی معلومات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ادارہ)
پس منظر
1998ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دوبارہ حکومت میں آمد دنیا کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس نے 24 سال بعد بھارت کے نئے جوہری تجربات کا فیصلہ کیا۔ بھارت کئی برسوں سے اس کوشش میں تھا کہ وہ جوہری تجربات کرے، اور متعدد حکومتیں اس کی باقاعدہ تیاریوں میں مصروف رہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات تجرباتی شافٹوں میں آلات نصب بھی کیے گئے۔ بی جے پی کی پہلی مختصر حکومت نے تجربات کے احکامات بھی جاری کیے۔ 1995ء تک بھارتی عوام میں جوہری حیثیت کے اعلان کی حمایت بڑھ چکی تھی، اور یہ بی جے پی کے منشور کا باقاعدہ حصہ بن چکی تھی۔ چنانچہ بی جے پی کی دوسری حکومت کے تحت تجربات کا کامیاب انعقاد ایک طے شدہ امر بن گیا۔
بھارت کی طرح پاکستان نے بھی برسوں تک جوہری تجربات کی تیاری کی تھی، اور اس لیے فوری طور پر اس پر عمل درآمد ممکن تھا۔
6 اپریل 1998ء کو پاکستان نے غوری میزائل کا پہلا تجربہ کیا۔ پاکستانی میڈیا نے 1100 کلومیٹر فاصلے اور 350 کلومیٹر بلندی کی خبر دی، مگر دیگر ذرائع کے مطابق میزائل صرف 800 کلومیٹر تک گیا۔ اس نظام کی دعویٰ کردہ حد 1500 کلومیٹر تھی۔ پاکستان نے میزائل کی مکمل مقامی تیاری کا دعویٰ کیا، مگر درحقیقت یہ شمالی کوریا کا تیار کردہ نو-ڈونگ میزائل تھا۔ یہ نو-ڈونگ کا دوسرا تجربہ تھا، اور کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے مبصرین موجود تھے۔ اگرچہ یہ تجربہ بھارت کی جانب سے پانچ ہفتوں کے بعد ہونے والے تجربوں کی تیاری پر اثر انداز نہیں ہوا، مگر اس نے خطے میں تناؤ کی وہ فضا پیدا کر دی تھی جس میں (ایٹمی دھماکے) کیے گئے۔
11 مئی 1998ء بروز پیر کو بعد دوپہر، بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایک فوری نوعیت کی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اسی روز بھارت نے تین جوہری تجربات کیے ہیں۔ دو دن بعد مزید دو تجربات کی خبر نے دنیا کو مزید حیرت میں ڈال دیا۔
تجربے کا فیصلہ
بھارت کے تجربات کے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف کے لیے صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ پاکستان نے فوری طور پر جوابی اقدام کی ضرورت محسوس کی تاکہ بھارت کو ممکنہ تکنیکی برتری کو زائل کیا جا سکے اور طاقت کا توازن بحال کیا جا سکے، نہ صرف خود پاکستان کی اپنی نظر میں بلکہ بھارت اور عالمی برادری کی نظر میں بھی۔
- تجربات کی حمایت سیاسی جماعتوں کے مختلف دھڑوں سے آئی،
- حتیٰ کہ حزب اختلاف کی رہنما بینظیر بھٹو نے مبینہ طور پر کہا کہ ’’اگر بھارت کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کی فوجی طاقت (پاکستان کے پاس) موجود ہے، تو اسے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘
- وزیر خارجہ گوہر ایوب خان سمیت شریف حکومت کے قدامت پسند عناصر نے شدید دباؤ ڈالا- بھارت کے پہلے تجربات کے اگلے دن (وزیر خارجہ) گوہر ایوب خان نے کہا کہ ایشیا کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں دھکیل دیا گیا ہے، اور پاکستان بھی تجربات کے لیے تیار ہے: ’’ہم بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے … ہم پاکستان میں ہر میدان میں بھارت کے ساتھ توازن قائم رکھیں گے۔‘‘
- اور پاکستانی فوج، جو اصل اختیار کی حامل تھی، برسوں سے تجربات کی خواہش مند تھی۔
چنانچہ نواز شریف کو شدید دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ جوہری تجربات کی اجازت دیں، اور غالب امکان یہ ہے کہ اگر وہ مزاحمت کرتے، تو ان کی حکومت فوری طور پر فوجی بغاوت کا شکار ہو جاتی (جو 17 ماہ بعد ویسے ہی ہو گئی)۔ وزیر اعظم نواز شریف نے محتاط لب و لہجے میں بیان دیا: ’’ہم صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی سلامتی کے حوالے سے مناسب اقدام کریں گے۔‘‘
اگرچہ پاکستان کا جوابی اقدام متوقع تھا، مگر یہ حکمتِ عملی کے لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوا۔ برسوں سے پاکستان پریسلر ترمیم کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا۔ اگر اس موقع پر پاکستان تجربات سے اجتناب کرتا، تو دنیا میں اس کا مقام بلند ہو جاتا، بطور اس ’’ذمہ دار فریق‘‘ کے جو اشتعال انگیزی کے باوجود صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس اقدام سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی مخالفت کرنے والے ممالک میں پاکستان کا امیج بہتر ہوتا، اور ممکن ہے کہ پریسلر ترمیم کا خاتمہ بھی ہو جاتا۔ لیکن جوابی تجربات کر کے پاکستان نے نہ صرف یہ مواقع کھو دیے بلکہ مزید پابندیوں کا سامنا بھی کیا۔
فیصلہ سازی کے مراحل اور جوہری تجربات پر مشاورت
13 مئی کو وسطی ایشیا کے دورے سے وطن واپس آنے کے بعد وزیرِاعظم نواز شریف نے سینئر عسکری افسران اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ کئی گھنٹے ملاقاتیں کیں تاکہ بھارت کے جوہری تجربات پر غور کیا جا سکے۔
ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کی دفاعی قیادت ان تجربات سے حیرت زدہ ہو گئی تھی۔ شریف کابینہ کے ایک رکن نے کہا: ’’ہمیں ان دھماکوں کے بارے میں پیشگی کوئی اطلاع نہیں تھی‘‘۔
کابینہ کے ایک اور رکن نے کہا: ’’جیسا کہ توقع تھی، کئی وزراء کا خیال تھا کہ یہ پاکستان کے جوہری آلات کے تجربے کے لیے مثالی موقع ہے‘‘۔
پاکستانی فوج نے وزیرِ اعظم کو اطلاع دی کہ وہ 24 گھنٹے کے نوٹس پر زیرِ زمین تجربہ کرنے کے لیے ’’ایک ہفتے‘‘ میں تیار ہو جائے گی۔ مگر اس وقت کے فیصلوں سے واقف حکام نے بتایا کہ کابینہ میں اس بات پر اختلاف تھا کہ پاکستان کو کس نوعیت کا جواب دینا چاہیے۔
وزیرِ اعظم کے ایک معاون کے مطابق نواز شریف ’’متوازن اور معتدل ردِعمل‘‘ کے حامی نظر آتے تھے، اور انہوں نے اس ممکنہ معاشی قیمت پر رپورٹ طلب کی جو پاکستان کو عالمی پابندیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی تھی۔
اسی روز صدر کلنٹن نے وزیرِ اعظم شریف سے فون پر رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ جوہری تجربہ نہ کریں: ’’غیر ذمہ دارانہ اقدام کا اسی طرح جواب نہ دیں‘‘۔
15 مئی کو ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس
15 مئی 1998ء کو وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ڈیفنس کمیٹی آف کیبنٹ (DCC) کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت خود وزیرِ اعظم نے کی۔ اس اجلاس میں وزیرِ دفاع، وزیرِ خارجہ گوہر ایوب خان، وزیرِ خزانہ سرتاج عزیز، خارجہ سیکریٹری شمشاد احمد خان، اور بری، فضائی و بحری افواج کے سربراہان: جنرل جہانگیر کرامت، پرویز مہدی قریشی اور ایڈمرل فصیح بخاری شریک ہوئے۔
چونکہ چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت امریکہ اور کینیڈا کے دورے پر تھے، اس لیے بھارتی تجربات کا تکنیکی تجزیہ اور پاکستان کی جوابی صلاحیت کا جائزہ پیش کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر ثمر مبارک مند پر تھی۔ وہ اٹامک کمیشن کے ٹیکنیکل ڈیولپمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ (DTD) تھے، جوہری پروگرام کا سب سے خفیہ ادارہ، جس کا محلِ وقوع دنیا بھر کے لیے ایک راز ہے۔ ثمر مبارک مند نے 1983ء سے کئی کولڈ ٹیسٹ کی نگرانی کی تھی اور خفیہ منصوبوں کے نگران تھے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈائریکٹر خان ریسرچ لیبارٹری (کہوٹہ) بھی شریک تھے۔
اجلاس کا ایجنڈا
اجلاس کا ایجنڈا دو نکات پر مشتمل تھا:
- کیا پاکستان کو بھارتی تجربات کے جواب میں اپنے جوہری تجربات کرنے چاہئیں؟
- اگر تجربات کیے جائیں تو اٹامک کمیشن یا خان لیبارٹری میں سے کون سا ادارہ یہ انجام دے؟
تبادلۂ خیال کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس میں معاشی، سفارتی، عسکری، تزویراتی اور قومی سلامتی کے پہلو زیرِ بحث آئے۔ وزیرِ خزانہ سرتاج عزیز واحد رکن تھے جنہوں نے معاشی بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کی بنیاد پر تجربات کی مخالفت کی۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے نہ حمایت کی نہ مخالفت؛ دیگر شرکاء نے تجربات کی حمایت کی۔
تکنیکی جائزہ اور اداروں کی مسابقت
ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے اٹامک کمیشن کی طرف سے بھارتی تجربات کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 11 مئی کو صرف ایک تجربہ کامیاب ہوا تھا، اور اگر تھرمونیوکلئر ڈیوائس استعمال ہوئی تھی تو وہ ناکام ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو تجربات کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو اٹامک کمیشن 10 دن میں مکمل تیاری کے ساتھ تجربات کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خان لیبارٹری کی جانب سے کہا کہ وہ بھی 10 دن کے اندر مکمل تیاری کے ساتھ جوہری تجربہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ ڈیفنس کمیٹی اجازت دے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یورینیم کی افزودگی، دھات میں تبدیلی، نیم کروی شکل میں دھات کی مشیننگ، بم کی ڈیزائننگ اور کولڈ ٹیسٹ، یہ سب کام خان لیبارٹری نے اٹامک کمیشن کی مدد کے بغیر خود انجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ خان لیبارٹری جوہری میدان میں مکمل خود مختار ہے، اور چونکہ اسی ادارے نے پاکستان کے جوہری سفر کی بنیاد رکھی تھی، اس لیے تجربات کرنے کا اعزاز اسی کو دیا جانا چاہیے؛ اگر ایسا نہ ہوا تو ادارہ مایوسی کا شکار ہوگا۔
اٹامک انرجی کمیشن کی اضافی برتری
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) اور خان ریسرچ لیبارٹریز کہوٹہ (KRL) دونوں جوہری تجربات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، تاہم اٹامک کمیشن کو دو اضافی برتری حاصل تھیں:
- اس ادارے نے چاغی (بلوچستان) میں پاکستان کے جوہری تجربے کے لیے سائیٹ تیار کی تھی۔
- کولڈ ٹیسٹ کی انجام دہی میں اٹامک کمیشن کو خان لیبارٹریز کی نسبت زیادہ تجربہ حاصل تھا۔
15 مئی کو ہونے والے دفاعی کمیٹی اجلاس میں ان دو نکات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
امریکی جاسوسی اور عوامی دباؤ
اسی ہفتے کے اختتام پر امریکی جاسوس سیٹلائٹس نے چاغی کی پہلے سے تیار کردہ سائیٹ پر آلات کی آمدورفت نوٹ کی، جو ایران کی سرحد سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ CIA نے اندازہ لگایا کہ تجربہ جلد سے جلد 17 مئی اتوار کے روز ہو سکتا ہے۔
ہفتے کے دوران وزیرِاعظم نواز شریف نے مختلف حلقوں سے مشاورت کی، اور انہیں تجربات کے لیے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ عوامی جذبات بھی فوری جواب کی حمایت میں تھے۔ سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے نہ صرف فوری تجربات بلکہ بھارت پر پیشگی حملے کر کے اس کی جوہری صلاحیت تباہ کرنے کا مطالبہ کیا اور نواز شریف کے استعفے کی اپیل بھی کی۔
گوہر ایوب خان، جو عسکری حلقوں سے قریب اور سخت گیر تصور کیے جاتے تھے، ہفتہ کے روز انہوں نے صحافیوں کو یہ بتا کر تناؤ کو مزید بڑھا دیا کہ ’’یہ صرف وقت کا معاملہ ہے، پاکستان کی حکومت خود فیصلہ کرے گی کہ کب تجربہ کرنا ہے، جوہری تجربہ تو یقینی ہے‘‘۔ اتوار کو بھی انہوں نے اسی موقف کو دہراتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’’پاکستان نے جوہری تجربہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات طے ہو چکی ہے، صرف وقت کا تعین باقی ہے‘‘۔
اتوار 17 مئی کو قیاس آرائیاں انتہا کو پہنچ گئیں، جب یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ جوہری ڈیوائس نصب کی جا چکی ہے۔ اس روز جرمنی کے صدر ہیلمٹ کوہل کے ایک غلط بیان نے سنسنی پھیلا دی جب انہوں نے کہا کہ میرے پاس معتبر اطلاع ہے کہ پاکستان نے جوہری دھماکہ کر دیا ہے۔ یہ اطلاع فوری طور پر غلط قرار دے دی گئی۔
وزیرِاعظم کی اٹامک کمیشن سے ذاتی مشاورت
چیئرمین اٹامک کمیشن ڈاکٹر اشفاق احمد اپنا غیر ملکی دورہ مختصر کر کے 16 مئی 1998ء کو پاکستان واپس پہنچ گئے۔ 17 مئی کی صبح انہیں فوجی ہیڈکوارٹر راولپنڈی سے فون موصول ہوا کہ وہ وزیرِاعظم سے ملاقات کے لیے تیار رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے ہمراہ نوازشریف سے ملاقات کی۔ نوازشریف نے 15 مئی کو ہونے والے اجلاس کے نکات پر ان کی رائے طلب کی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ اٹامک کمیشن مکمل طور پر تیار ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ ان کا کام نہیں کہ تجربہ کیا جائے یا نہیں۔ انہیں کہا گیا کہ تیاری مکمل رکھیں لیکن حتمی فیصلے کے انتظار میں رہیں۔
17 مئی کا ’’غیر سرکاری‘‘ خصوصی اجلاس
چونکہ 15 مئی کا اجلاس نتیجہ خیز نہ رہا، اس لیے 16 یا 17 مئی کو ایک محدود نوعیت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صرف وزیرِاعظم، وزیرِ خارجہ، وزیرِ خزانہ اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ یہ اجلاس سرکاری طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے، لیکن اس کا انعقاد ناگزیر تھا کیونکہ صرف وزیرِاعظم یا آرمی چیف تنہا یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس وقت چونکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) موجود نہیں تھی، اس لیے ڈیفنس کمیٹی (DCC) ہی واحد مجاز ادارہ تھا۔ اسی اجلاس میں دونوں اہم فیصلے ہوئے:
- بھارت کے تجربات کا مکمل اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
- تجربات کی ذمہ داری اٹامک انرجی کمیشن کو سونپی جائے گی، جو اس کام کے لیے موزوں ترین ادارہ تھا۔
حکومتِ پاکستان کا فیصلہ اور معاونت
18 مئی 1998ء کو چیئرمین اٹامک کمیشن کو دوبارہ وزیرِ اعظم ہاؤس طلب کیا گیا، جہاں انہیں ڈیفنس کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم کے الفاظ تھے: ’’دھماکہ کر دیں‘‘۔ یہی الفاظ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جوہری تجربات کرنے کے فیصلے کی اطلاع رسانی کے لیے استعمال ہوئے۔ چیئرمین اٹامک کمیشن دفتر واپس گئے اور اپنے عملے کو فوری تیاریوں کا حکم دیا۔ ساتھ ہی GHQ اور ایئر ہیڈکوارٹرز نے بلوچستان میں تعینات 12 کور، نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC)، آرمی ایوی ایشن کور اور نمبر 6 (ایئر ٹرانسپورٹ سپورٹ) اسکواڈرن کو متعلقہ تعاون فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے قومی ایئرلائن PIA کو ہدایت کی کہ اٹامک کمیشن کے سائنسدانوں، انجینئرز اور تکنیکی عملے کو بلوچستان لے جانے کے لیے مختصر نوٹس پر Boeing 737 طیارہ فراہم کیا جائے۔
خان ریسرچ لیبارٹریز کی ناراضگی اور شمولیت
جیسے ہی یہ خبر ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک پہنچی کہ تجربات کی ذمہ داری اٹامک کمیشن کو سونپی گئی ہے، انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت سے شدید احتجاج کیا۔ آرمی چیف نے معاملہ وزیرِ اعظم تک پہنچایا۔ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فیصلہ ہوا کہ خان لیبارٹریز کے عملے کو اٹامک کمیشن کے ساتھ تجرباتی مقام کی حتمی تیاریوں میں شریک کیا جائے گا اور وہ تجربے کے وقت موجود ہوں گے۔
مراعات کی امریکی پیشکش اور مزید پابندیوں کی دھمکی
اسی دوران امریکہ نے پاکستان کو تجربہ کرنے سے روکنے کے لیے مراعاتی پیکج کی تیاری شروع کر دی تھی۔
- پریسلر ترمیم کی منسوخی کی پیشکش کی گئی،
- پاکستان کو F-16 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، جن کی پاکستان نے ادائیگی کی تھی لیکن اسے موصول نہیں ہوئے تھے۔
- اضافی امداد پر بھی غور شروع ہوا۔
- ساتھ ہی بھارت کی طرح سخت پابندیاں عائد کرنے کی وارننگ دی گئی۔
وزیرِاعظم شریف نے گوہر ایوب کے بیانات کی تصدیق نہیں کی، اور اگلے ہفتے کے آغاز میں پاکستان بظاہر فوری فیصلہ کرنے سے پیچھے ہٹتا دکھائی دیا تاکہ امریکہ کی پیشکش کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم پسِ پردہ حالات تیزی سے پیش رفت کر رہے تھے۔
یہ امکان بڑھتا جا رہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی امداد کا پیکج پاکستانی توقعات پر پورا نہیں اُترے گا۔ اس وقت جو اہم پیشکشیں کی جا رہی تھیں وہ زیادہ پرکشش نہیں تھیں، جن میں وہ 28 ایف-16 طیارے شامل تھے جن کی قیمت پاکستان پہلے ہی ادا کر چکا تھا اور جن کا وعدہ صدر کلنٹن نے دو سال قبل کیا تھا، نیز قرضوں کی دوبارہ ادائیگی کی نئی ترتیب بھی زیر غور تھی۔ جبکہ پاکستان کی خواہش تھی کہ امریکہ واضح حفاظتی ضمانتیں دے، جو بظاہر دیے جانے کا امکان نہ تھا۔
تجربے کی عملی تیاری
ڈاکٹر اشفاق احمد نے اٹامک کمیشن کے سائنسدانوں اور انجینئرز بشمول ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے ساتھ منصوبہ بندی اجلاس منعقد کیا۔ مختلف ڈیوائسز کے انتخاب پر غور ہوا، اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ بھارت کے تجربات نے پاکستان کو 14 سال بعد کولڈ ٹیسٹ سے ہٹ کر تجربہ کرنے کا موقع دیا ہے، اس موقع سے مکمل فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس لیے مختلف طاقتوں اور ڈیزائنز کی چھ ایٹمی ڈیوائسز کا انتخاب کیا گیا، جنہیں پہلے کولڈ ٹیسٹ کیا جا چکا تھا۔ راس کوہ پہاڑوں کی سرنگ میں چھ تجربات کی گنجائش موجود تھی۔
بعد ازاں ان ڈیوائسز اور ٹیسٹنگ آلات کے اجزا کی کیفیت اور معیار کی جانچ شروع ہوئی۔ پاکستان آرمی اور ایئر فورس کے اشتراک سے ایک مؤثر لاجسٹکس آپریشن شروع ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے افراد، آلات اور جوہری ڈیوائسز کو تجرباتی مقام تک منتقل کیا گیا۔
جوہری تجربات کی جانچ کے متعلق تکنیکی شکوک و شبہات
اس تفصیل میں چند تشویشناک نکات سامنے آتے ہیں:
- پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ایک حقیقی جوہری تجربہ (جس میں پاکستان کو برسوں کے کولڈ ٹیسٹس کے باوجود کوئی تجربہ نہیں تھا) سے کامیابی کے ساتھ ڈیٹا اکٹھا کرنا اتنا سیدھا معاملہ نہیں تھا۔
- ایک ہی سرنگ میں کئی تجربے ہونے کی صورت میں غیر متوقع ردِعمل یا داخلی خرابی سے پورے ڈیٹا کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
- اگر اندرونی ٹیلی میٹری (جانچ/ریکارڈنگ) مکمل طور پر یا جزوی طور پر ناکام ہو جاتی ہے، تو بیک وقت قریب قریب کیے گئے کئی تجربوں کے نتیجے میں ہونے والے بیرونی زلزلہ کی پیمائش سے مفید نتائج حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
- ان چھ تجرباتی ڈیوائسز میں اندازاً 90 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم استعمال ہوا، جبکہ پاکستان کے پاس اس وقت صرف 210 کلوگرام دستیاب تھا۔ گویا پاکستان نے اپنے جوہری وسائل کا بڑا حصہ ایک بڑے مگر غیر یقینی تجربے پر لگا دیا۔ (اگرچہ پاکستان اپنے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو پروسیس کر کے چند سالوں میں یہ مقدار 800 کلوگرام تک پہنچا سکتا تھا۔)
مزید یہ کہ:
- بعد از تجربات کے بیانات کے مطابق تمام ڈیوائسز ایک ہی قسم کی تھیں — فِیوژن بوسٹڈ فِشن بم۔
- چار ڈیوائسز انتہائی کم طاقت کی تھیں (ایک ہزار کلوٹن سے کم رینج سے لے کر چند ہزار کلو ٹن تک کی رینج کے ساتھ)، جبکہ بقیہ دو میں نسبتاً زیادہ طاقت ظاہر کی گئی۔
- یہ امر قابلِ غور ہے کہ اس نوعیت کے اتنے مختلف نظاموں کی جانچ سے حقیقتاً کیا نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے؟ چونکہ ان کے غیر جوہری رویے پہلے ہی وسیع پیمانے پر جانچے جا چکے تھے، لہٰذا فقط ایمپلوژن اسمبلی میں تغیرات کے لیے جوہری تجربہ شاید ضروری نہ تھا۔
- ایک ہی بار چھ دھماکے کر کے نہ تو نتائج کا تجزیہ ممکن تھا، اور نہ دوبارہ تجربہ یا ڈیزائن میں بہتری کی گنجائش۔
یہ ماننا مشکل ہے کہ اتنے پیچیدہ اور حساس جوہری تجربات صرف 10 دن میں منصوبہ بند اور مکمل کیے جا سکتے تھے۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تیاریوں کی بنیاد کئی سال، بلکہ دہائیوں پہلے رکھی جا چکی تھی،آلات، طریقۂ کار اور انفرسٹرکچر پہلے سے موجود تھے، لیکن ایک بم کے مقابلے میں پانچ بموں کے تجربے کی پیچیدگی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ بغیر کسی پیشگی عملی تجربے کے اتنی جلدی کامیاب عملدرآمد کا ممکن ہونا مشکل ہے۔ تاہم ایک وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ سرنگوں میں (گزشتہ برسوں کے دوران) کیے جانے والے کولڈ ٹیسٹس حقیقی تجربات کی نقل کے طور پر کام آ سکتے تھے، کم از کم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی حد تک، لیکن کولڈ ٹیسٹنگ ان آلات کے درست رویے کی تصدیق نہیں کر سکتی جس کا مقصد لاکھوں گنا زیادہ توانائی کی کثافت اور پیداوار سے ڈیٹا اکٹھا کرنا ہو۔
اسی طرح بھارتی تجربات کے فوراً بعد جو تیاری شروع ہوئی، وہ امریکی انٹیلی جنس کی نظروں سے بچ نہ سکی۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے اصل منصوبہ بندی بھارتی تجربات سے پہلے ہی مکمل کی جا چکی تھی، جو کچھ انٹیلی جنس سے پتہ چلا وہ محض ان منصوبوں کا عملی آغاز تھا۔
یہ بھی اہم بات ہے کہ وزیراعظم شریف کی منظوری سے ایک ہفتہ قبل ہی تیاری کا عمل شروع ہو چکا تھا، جو اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ تجربات کی سرگرمیاں شاید مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں تھیں۔
تجرباتی سرنگ کی ساخت اور منصوبہ بندی
کوہ کمبران کے نیچے جو سرنگ تعمیر کی گئی تھی، وہ ایک کلومیٹر طویل تھی اور اسے L کی شکل میں بنایا گیا تھا (بالکل جیسے بھارتی عمودی سرنگیں L کی شکل کی تھیں)۔ اس طرزِ تعمیر کا مقصد یہ تھا کہ داخلی حصے کی جانب جانے والی شافٹ (سرنگ طرز کا راستہ) کو دھماکہ خیز آلے کی زد سے محفوظ رکھا جا سکے، تاکہ توانائی سیدھے اس شافٹ سے داخلی مقام تک منتقل نہ ہو سکے۔ سرنگ کی تفصیل میں الگ الگ اسمبلنگ رومز کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ آخری حصے میں L شکل کی سرنگ کے علاوہ مرکزی سرنگ میں ہر چند سو میٹر کے فاصلے پر متعدد چھوٹی شاخیں (side tunnels) بھی نکلتی تھیں۔
19 مئی 1998Tء کو اٹامک کمیشن کے 140 سائنسدانوں، انجینیئروں اور تکنیکی ماہرین کے دو الگ الگ گروہ دو پی آئی اے بوئنگ 737 طیاروں پر چاغی، بلوچستان روانہ ہوئے۔ ان پروازوں میں واہ گروپ، تھیوریٹیکل گروپ، ڈائریکٹوریٹ آف ٹیکنیکل ڈیولپمنٹ (DTD)، اور ڈائیگنوسٹک گروپ کے ارکان بھی شامل تھے۔ چند افراد اور آلات بذریعہ سڑک NLC کے ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیے گئے، جن کی حفاظت پاکستان آرمی کے خصوصی کمانڈو دستے SSG کے ارکان کر رہے تھے۔
جوہری ہتھیاروں کی باحفاظت خفیہ ترسیل
جوہری ہتھیاروں کو جزوی حصوں کی حالت میں راولپنڈی سے بلوچستان (ممکنہ طور پر کوئٹہ) تک ایک C-130 ہرکولیس طیارے پر منتقل کیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام حساس ڈیوائسز کو ایک ہی طیارے پر منتقل کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ چار F-16 طیارے اس C-130 کے ہمراہ تھے جنہیں خاص ہدایت دی گئی تھی:
- اگر C-130 پاکستانی فضائی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو اسے مار گرایا جائے۔
- F-16 کی ریڈیو کمیونیکیشن بند رکھی گئی تاکہ انہیں متضاد احکامات نہ دیے جا سکیں۔
- اگر کوئی پیغام پہنچ بھی جائے تو اس پر عمل نہ کیا جائے، چاہے وہ فضائی ہیڈکوارٹر سے ہی کیوں نہ ہو۔
جوہری ہتھیاروں اور جانچ کے آلات کی تنصیب
ہر جوہری ہتھیار الگ کمرے (اسمبلی روم / زیرو روم) میں جوڑا گیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ان تمام پانچ ڈیوائسز کی تیاری کی ذاتی نگرانی کی، اس عمل میں غالباً ایک دن سے زائد لگا۔ سرنگ کے اندر جانچ کی تاریں (ڈائیگناسٹک کیبلز) بچھائی گئیں جو جانچ کے مرکز (ٹیلیمیٹری اسٹیشن) سے 10 کلومیٹر دور مشاہداتی چوکی (کمانڈ/آبزرویشن پوسٹ) تک رابطہ فراہم کرتی تھیں۔ اس کے بعد ٹیلی کمانڈ کے ذریعے ایک مکمل مصنوعی تجربہ (سیمولیٹڈ ٹیسٹ) کیا گیا۔
یہ تمام تیاری بشمول ہتھیاروں کی تنصیب، تاروں کا بچھانا، اور مشاہداتی چوکی کا قیام وغیرہ تقریباً 5 دن میں مکمل ہوئی، یعنی 24 مئی تک۔
بین الاقوامی انٹیلیجنس کی سرگرمیاں
25 مئی کو ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کی جانب سے یہ خبر دی گئی کہ امریکی انٹیلیجنس حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جوہری تیاریوں میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے، اور یہ سرگرمیاں اس مقام پر ہو رہی ہیں جسے راسکوہ کہا جاتا ہے، جو چاغی کی پہاڑیوں میں واقع بتایا گیا۔ (بعد میں یہ واضح ہوا کہ جوہری تجربہ دراصل راس کوہ ہی کے علاقے میں کیا گیا، تاہم راس کوہ دراصل چاغی ہلز سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ایک الگ پہاڑی علاقہ ہے)۔ سرنگوں کی کھدائی اور دھماکہ خیز مواد کی نگرانی کے آلات کی تنصیب دیکھی گئی۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اب وہ کسی بھی وقت جوہری تجربہ کر سکتے ہیں۔
28 مئی 1998: پاکستان کا جوہری تجربہ
سرنگ کی بندش اور فنی تیاری
تجرباتی سرنگ کو 25 مئی کو پاکستان آرمی کی 5 کور نے پاکستان آرمی انجینئرنگ کور، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO)، اور اسپیشل ڈیولپمنٹ ورکس (SDW) کی نگرانی اور مدد سے بند کیا۔ SDW ایک فوجی یونٹ تھا جو اس سے 20 سال قبل خاص طور پر جوہری تجربات کے لیے مقام کی تیاری کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے گھٹن زدہ سرنگوں میں 5 کلومیٹر پیدل چل کر آلات اور تاروں کی بار بار جانچ پڑتال کی، یہاں تک کہ کیبلز کو حتمی طور پر جوہری آلات سے جوڑ دیا گیا۔ سرنگ کو سیل کرنے کے لیے 6000 سیمنٹ کی بوریاں استعمال کی گئیں، اور یہ کام 26 مئی 1998ء کی دوپہر تک مکمل ہو گیا۔ 24 گھنٹے بعد ریگستانی گرمی میں سیمنٹ مکمل طور پر جم گیا اور انجینئرز نے سائٹ کو مکمل طور پر تیار قرار دے دیا۔ یہ خبر کہ تجربات کے لیے سب کچھ تیار ہے، جنرل ہیڈکوارٹرز کے ذریعے وزیرِ اعظم تک پہنچائی گئی۔
امریکی انٹیلیجنس اور صدر کلنٹن کی کال
27 مئی کو امریکی حکومت نے اطلاع دی کہ پاکستان چاغی پہاڑیوں میں تجرباتی سرنگ کو سیمنٹ سے بند کر رہا ہے، جو تجربے سے فوراً پہلے کا آخری قدم ہوتا ہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اس رات وزیراعظم نواز شریف سے 25 منٹ طویل اور جذباتی فون کال کی۔ 11 مئی کے بھارتی تجربے کے بعد یہ چوتھی کال تھی۔ مگر فیصلہ ہو چکا تھا: 28 مئی 3:00 بجے دوپہر۔
ظہر کی نماز
اُس تاریخی صبح کو جب پاکستان نے جوہری طاقت کے اظہار کی تیاری مکمل کر لی تھی، حفاظت اور رازداری کے تمام اقدامات اختیار کیے گئے۔ پاکستانی سیسمک اسٹیشنز (ارتعاشی اطلاعات کے مراکز) کے بیرونی دنیا سے مواصلاتی روابط کاٹ دیے گئے۔ ملک بھر کے فوجی اور اسٹریٹیجک تنصیبات کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا، اور پاک فضائیہ کے F-16A اور F-7MP طیارے کسی بھی لمحے اُڑان بھرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔
روشن، صاف دن تھا۔ دھماکہ اور جانچ کرنے والے گروپ کے کے علاوہ تمام افراد کو گراؤنڈ زیرو سے ہٹا دیا گیا۔ 10 افراد آبزرویشن پوسٹ پر پہنچے جو گراؤنڈ زیرو سے 10 کلومیٹر دور تھی۔ 1:30 بجے فائرنگ آلات کی جانچ کی گئی، اور نماز ادا کی گئی۔
قومی قیادت کی آمد
2:30 بجے پاکستان آرمی کے فوجی ہیلی کاپٹر نے سینئر سائنسدانوں اور عسکری افسران کو اس مقام پر پہنچایا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد (اٹامک کمیشن)، ڈاکٹر عبدالقدیر خان (خان لیبارٹریز)، چار دیگر سائنسدان بشمول ڈاکٹر فخر ہاشمی (خان لیبارٹریز)، ڈاکٹر جاوید اشرف مرزا، ڈاکٹر نسیم خان، اور ایس منصور احمد سائیٹ پر پہنچے۔ نیز ان کے ساتھ پاکستان آرمی کی ایک ٹیم تھی جن کی سربراہی چیف کامبیٹ ڈویژن جنرل ذوالفقار علی کر رہے تھے۔
یومِ تکبیر — اللہ اکبر
دوپہر 3 بجے، ایک ٹرک جس میں سائٹ کی تیاری میں شامل آخری اہلکار اور فوجی سوار تھے، آبزرویشن پوست کے سامنے سے گزرا۔ جلد ہی یہ اطلاع دی گئی کہ سائٹ مکمل طور پر خالی کر دی گئی ہے تو تجربے کے لیے اجازت دے دی گئی۔
موقع پر موجود 20 افراد میں سے ایک نوجوان چیف سائنٹیفک آفیسر محمد ارشد کو بٹن دبانے کے لیے منتخب کیا گیا، جنہوں نے ٹریگرنگ میکنزم تیار کیا تھا۔ ان سے کہا گیا کہ اللہ اکبر کہیں اور بٹن دبائیں۔ ٹھیک 3:16 بجے بٹن دبایا گیا اور محمد ارشد گمنامی سے تاریخی ہو گئے۔
جیسے ہی بٹن دبایا گیا، کنٹرول سسٹم کمپیوٹر کے ذریعے سنبھال لیا گیا، سگنل ایئر لنک کے ذریعے منتقل ہوا جس نے فائرنگ کے چھ مراحل کا آغاز کیا، اور ساتھ ہی ساتھ حادثاتی دھماکے کو روکنے کے لیے لگائے گئے تمام سیکیورٹی سسٹم کو یکے بعد دیگرے بائی پاس کیا۔ ہر مرحلے کی کمپیوٹر نے تصدیق کی اور ہر اسٹیج کے لیے پاور سپلائی آن کر دی۔ آخری مرحلے میں نیوکلیئر ڈیوائسز کو دھماکے سے اڑانے والی ہائی وولٹیج پاور سپلائی کو فعال کر دیا گیا۔ ہر سطح سے گزرنے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے مراحل میں حفاظتی سوئچز کو بند کیا گیا اور پاور سپلائی کو آن کیا گیا۔ کمپیوٹر نے ہر قدم کو ٹیلی میٹری کے ذریعے ریکارڈ کیا، ایک ایسا نظام جو آلات کی سرگرمیوں کو ریڈیو کے ذریعے منتقل کرتا ہے۔ ایک تابکاری سے محفوظ ٹی وی کیمرہ خاص لینز کے ساتھ پہاڑ کی بیرونی سطح کو ریکارڈ کر رہا تھا۔ وولٹیج پانچوں جوہری آلات تک بیک وقت پہنچا، تمام ایکسپلوسیو لینزز میں مائیکرو سیکنڈ کی ہم آہنگی کے ساتھ۔ فائرنگ کے مراحل آگے بڑھتے رہے، اور آبزرویشن پوسٹ میں موجود 20 افراد کی آنکھیں 10 کلومیٹر دور پہاڑ پر مرکوز تھیں۔ اندر اور باہر مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔
بٹن دبانے کے تھوڑی دیر بعد راس کوہ کی پہاڑیوں میں اور اس کے گرد زمین لرز اٹھی۔ آبزرویشن پوسٹ ہلنے لگی کیونکہ دھواں اور گرد و غبار ان پانچ مقامات سے پھٹ پڑا جہاں جوہری آلات نصب تھے۔ پہاڑ لرز اٹھا اور اس کا رنگ تبدیل ہونے لگا، ہزاروں سال کی گرد سطح سے ہٹ گئی، اور اس کا سیاہ پتھر سفید ہو گیا کیونکہ اندر موجود تابکار قوتوں نے ڈی آکسیڈائزیشن کا عمل شروع کیا، پھر ایک بڑا خاکی گرد کا بادل پہاڑ پر چھا گیا۔
یہ تمام عمل، بٹن دبانے سے لے کر پہاڑ میں دھماکے ہونے تک، صرف 30 سیکنڈ پر محیط تھا۔ آبزرویشن پوسٹ میں موجود افراد کے لیے، جو مکمل خاموشی میں پہاڑ پر نظریں جمائے تھے، وہ 30 سیکنڈ زندگی کے سب سے طویل لمحے تھے۔ یہ ایک ایسے سفر کی انتہا تھی جو دو دہائی قبل شروع ہوا تھا: آزمائشوں، مشکلات اور ناامیدیوں کے باوجود حقیقت اور فتح کا لمحہ۔ ان 30 سیکنڈز کا اختتام، یہ پاکستان کی تقدیر کا لمحہ تھا۔
سیسمک ریڈنگز کے مطابق دھماکے کا وقت 10:16:17.6 UCT تھا (±0.31 سیکنڈ)۔ اس کی ابتدائی زلزلاتی معلومات اور سرکاری اعلان پاکستان حکومت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
بعد ازاں وزارت خارجہ نے اس لمحے کو ’’پاکستان کی شاندار ترین گھڑی‘‘ قرار دیا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں جوہری طاقت اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری ریاست بن گیا۔
وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کا اعلان
28 مئی کو شام 8 بجے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ٹیلی ویژن تقریر کا آغاز کیا (جو چار گھنٹے قبل پیشگی طور پر اعلان کی گئی تھی) اور کہا: ’’آج ہم نے حساب چکایا ہے اور پانچ کامیاب جوہری تجربات کیے ہیں‘‘۔
بعد میں پاکستانی و غیر ملکی صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا: ’’پاکستان نے آج کامیابی سے پانچ جوہری تجربات انجام دیے، نتائج توقع کے مطابق تھے، کسی قسم کی تابکاری خارج نہیں ہوئی۔ میں تمام پاکستانی سائنسدانوں، انجینیئروں اور تکنیکی ماہرین کو ان کی محنت، ٹیم ورک اور جدید و پیچیدہ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز اور متعلقہ اداروں کی کامیابیوں پر بجا طور پر فخر کرتی ہے… ہماری سلامتی، اور پورے خطے کا امن و استحکام سنگین خطرے میں تھا۔ ایک خوددار قوم کی حیثیت سے ہمارے پاس کوئی اور راستہ باقی نہ تھا۔ موجودہ بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے ہمیں مجبور کر دیا۔ ہم خطرے کی شدت کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے… پاکستانی قوم اپنی بقا اور زندگی سے متعلق امور پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جوہری آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ قومی خود دفاع کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار جارحیت کو روکنے کے لیے ہیں، خواہ وہ جوہری ہو یا روایتی۔‘‘
ایک دلچسپ اور اہم پہلو اس تقریر میں یہ تھا کہ وزیراعظم شریف نے اداروں کو مبارکباد دینے میں جس ترتیب کو اختیار کیا، اس میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کو اولین حیثیت دی گئی، حالانکہ عام طور پر زیادہ معروف ادارہ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور قابلِ ذکر نکتہ یہ ہے کہ تجربات اور وزیراعظم کی سرکاری تقریر کے درمیان جو ابتدائی رپورٹس پاکستان سے جاری ہوئیں، ان میں دو تجربات کا ذکر تھا، نہ کہ پانچ۔ جیسا کہ آگے بیان کیا گیا ہے، ایک ہی سرنگ میں بیک وقت کیے گئے تجربات کی تکنیکی حدود کے باعث دو تجربات کرنا زیادہ قابلِ فہم معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر ایسی ریاست کے لیے جس کے پاس پہلے سے کوئی تجرباتی تاریخ نہ ہو اور جوہری مواد کی مقدار محدود ہو۔
جوہری تنصیبات پر بھارتی حملے کا خطرہ
پاکستان میں جوہری تجربات کے وقت کی شدید کشیدگی کی ایک مثال یہ ہے کہ وزیرِاعظم شریف کے اعلان کے پانچ گھنٹے بعد (جیسا کہ ایجنز فرانس پریس نے رپورٹ کیا)، پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا اور انہیں اطلاع دی کہ ’’قابلِ اعتبار معلومات‘‘ ملی ہیں کہ بھارت کی جانب سے قبل از صبح پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایسی صورت میں ’’فوری اور شدید جوابی کارروائی‘‘ کی جائے گی۔ سفیر ستیش چندر سے کہا گیا کہ وہ نئی دہلی کو یہ پیغام پہنچائیں کہ اسلام آباد ’’بھارتی حکومت سے کسی غیر ذمہ دارانہ اقدام سے باز رہنے کی توقع رکھتا ہے‘‘۔ اس کے فوراً بعد صدر رفیق تارڑ نے ایک مختصر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پاکستان میں ہنگامی حالت اور بنیادی حقوق کی معطلی کا اعلان کیا، جس میں غیر واضح ’’بیرونی جارحیت‘‘ کے خطرات کو وجہ قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان اور اٹامک انرجی کمیشن کے تبصرے
30 مئی 1998ء کو ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اسلام آباد کے معروف اخبار دی نیوز کو بتایا کہ ’’پانچوں تجربات یورینیم-235 استعمال کرنے والے بوسٹڈ فشن آلات‘‘ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی دھماکہ تھرمو نیوکلئیر نہیں تھا، ہم تحقیق کر رہے ہیں اور اگر کہا گیا تو فیوژن تجربہ بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ حالات، سیاسی صورتحال اور حکومت کے فیصلے پر منحصر ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ان میں سے پہلا تجربہ ایک بڑا بم تھا جس کی طاقت تقریباً 30–35 کلوٹن تھی، جبکہ باقی چار کم طاقت کے حربی ہتھیار تھے جو چھوٹے میزائلوں پر نصب کیے جا سکتے ہیں اور میدانِ جنگ میں فوجی دستوں کے اجتماع کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے اخبار کو بتایا: ’’یہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب جوہری دھماکہ تھا، سب کچھ بالکل ویسا ہی ہوا جیسے ہم نے منصوبہ بنایا تھا اور نتائج اتنے ہی اچھے تھے جتنی ہمیں امید تھی‘‘۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پانچوں دھماکوں نے richter scale پر 5.0 درجے کی شدت پیدا کی، اور ان کا اثر 40 کلوٹن TNT کے برابر تھا۔ سابق چیئرمین کمیشن منیر احمد خان نے ایجنز فرانس پریس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’یہ بوسٹڈ آلات تھرمو نیوکلئیر بم کے درمیانی مرحلے کی مانند ہیں۔ یہ تھرمو نیوکلئیر عمل کے اجزا استعمال کرتے ہیں اور اصل میں زیادہ طاقتور ایٹم بم کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 1984ء سے جوہری صلاحیت رکھتا ہے اور تمام پاکستانی آلات افزودہ یورینیم سے تیار کیے گئے ہیں۔
ہم نے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن قائم کر دیا ہے
ڈاکٹر عبد القدیر خان
دی نیوز پاکستان
مشہور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جمعہ کے روز (30 مئی 1998ء) کہا کہ پاکستان کے جوہری دھماکوں نے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن قائم کر دیا ہے۔ دی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر خان نے کہا کہ بھارت نے جوہری دھماکے کر کے پاکستان کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر ’’ہم نے مناسب جواب دیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انشقاقی آلات (fission devices) کا تجربہ کیا ہے، لیکن اگر حکومت چاہے تو تھرمو نیوکلیئر بم بھی بنا سکتا ہے۔
سوال: پاکستان کو ان تجربات سے کیا حاصل ہوا؟
جواب: یہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب جوہری دھماکہ تھا، بالکل ویسا ہی ہوا جیسے ہم نے منصوبہ بندی کی تھی، اور نتائج ہماری توقعات کے مطابق تھے۔
سوال: یہ ہتھیار فِشن (انشقاقی) تھا یا فیوژن (مربوطی)؟
جواب: یہ تمام یورینیم 235 پر مشتمل بوسٹڈ فِشن ڈیوائسز تھیں۔ ہم گزشتہ 18، 19 سال سے کہوٹہ میں اسے تیار کر رہے ہیں۔ پہلا افزودہ یورینیم 4 اپریل 1978ء کو تیار ہوا۔ پلانٹ 1979ء میں فعال ہوا، اور 1981ء میں ہم قابلِ ذکر مقدار میں یورینیم پیدا کر رہے تھے۔
سوال: پلوٹونیم اور یورینیم پر مبنی دھماکے میں کیا فرق ہے؟
جواب: دونوں فِشن مواد ہیں، مگر ان کی ٹیکنالوجی مختلف ہے۔ پلوٹونیم کا عمل زیادہ مشقت طلب اور خطرناک ہوتا ہے، یہ مہنگا اور پیچیدہ طریقہ ہے۔ یورینیم نسبتاً محفوظ ہے، مگر مشکل، بہت کم ممالک یہ صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوال: ہمارا جوہری پروگرام بھارت سے کیسے مختلف ہے؟
جواب: میں یہ کہوں گا کہ انہوں نے استعمال شدہ ایندھن (spent fuel) سے حاصل کیے گئے پلوٹونیم کی پرانی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے، جبکہ ہم نے افزودہ یورینیم (enriched uranium) استعمال کیا ہے جو کہ کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور محفوظ طریقہ کار ہے۔ پلوٹونیم سے بنائے گئے آلات کے نتائج برے ہوتے ہیں، لیکن اس کا عمل نسبتاً زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
سوال: ان تجربات کی مجموعی طاقت کتنی تھی؟
جواب: جیسا کہ وزیراعظم نے بتایا ہے، ایک بڑا بم تھا جس کی طاقت تقریباً 30–35 کلوٹن تھی، جو کہ ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے دو گنا بڑا تھا۔ باقی چار چھوٹے، کم طاقت والے ٹیکٹیکل ہتھیار تھے، یہ چھوٹے میزائلوں پر نصب کیے جا سکتے ہیں اور فوجی جتھوں کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی دھماکہ تھرمونیوکلیئر نہ تھا، مگر ہم تحقیق کر رہے ہیں اور حکومت کے کہنے پر فیوژن دھماکہ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سیاسی حالات اور حکومت کے فیصلے پر منحصر ہے۔
سوال: اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟
جواب: توقع سے کہیں کم۔ بھارتی وزیراعظم کے حکم پر ان کے سائنسدانوں نے ایک ماہ لیا، جبکہ ہمارے سائنسدانوں نے 15–16 دن میں مکمل کر لیا۔
سوال: کیا ہدف حاصل ہو گیا؟
جواب: تحقیقی ترقی ایک مسلسل عمل ہے۔ ہمیشہ نئے اہداف ہوتے ہیں،آپ ہتھیار کا حجم کم کر سکتے ہیں، طاقت بڑھا سکتے ہیں، اور اس کی ذخیرہ اندوزی کی مدت بڑھا سکتے ہیں۔ ہم انہیں مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔
سوال: ذخیرہ اندوزی کی مدت کتنی ہے؟
جواب: افزودہ یورینیم کی خرابی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی عمر لا محدود ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی عمر دس سال ہوتی ہے، مگر یہ عام مواد ہے اور آسانی سے بدلا جا سکتا ہے۔
سوال: بھارت کے پاس کتنے بم ہیں؟
جواب: تعداد سے زیادہ اہمیت ان کی مؤثریت اور تکنیکی سطح کی ہوتی ہے۔ جنگ میں چند ہی بم کافی ہوتے ہیں۔ اصل فائدہ (بھارت کو) باز رکھنے والی قوت کا ہے۔ اب بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں، تو حملے سے پہلے دس بار سوچے گا۔
سوال: ان آلات کا دھماکہ کرنے والی ٹیم کی نگرانی کس نے کی؟
جواب: ٹیم بہت اچھی اور بہت قابل، اعلیٰ تعلیم یافتہ، اور بہادر افراد پر مشتمل تھی۔ میری موجودگی ضروری نہ تھی۔
سوال: کیا پروگرام پابندیوں کے بغیر جاری رہ سکتا ہے؟
جواب: ہاں، ہم کر سکتے ہیں، پابندیاں ہمارا پروگرام متاثر نہیں کرتیں۔ ہم مکمل طور پر آزاد ہیں، خود کفیل ہیں، اور ہر چیز یہاں بناتے ہیں۔
سوال: کیا حکومتوں کی تبدیلی نے کبھی پروگرام پر اثر ڈالا؟
جواب: یہ قومی منصوبہ ہے، کسی حکومت نے رکاوٹ نہیں ڈالی۔ صدر غلام اسحاق خان اس میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے شامل رہے۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی انہیں برقرار رکھا۔ پھر انہوں نے ایک بورڈ بنایا جس میں آغا شاہی، آفتاب غلام نبی قاضی، صاحبزادہ یعقوب اور جنرل خالد محمود عارف شامل تھے۔ غلام اسحاق خان کی اس میں بہت خاص دلچسپی تھی، وہ ہر ماہ کہوٹہ کا دورہ کرتے اور پیشرفت دیکھتے۔ چونکہ ضیاء الحق کا دور طویل ترین تھا، ہم نے سب سے زیادہ ترقی اسی دور میں کی۔ وزیراعظم جونیجو نے بھی مکمل حمایت دی کہ غلام اسحاق یہ کام جاری رکھ سکیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی پروگرام کی مکمل حمایت کی۔ بے نظیر بھٹو نے بھی ایسا ہی کیا جب وہ وزیراعظم تھیں۔ ہر حکومت نے اسے قومی ترجیح سمجھا۔
سوال: ہم کب جوہری دھماکہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے تھے؟
جواب: ہم نے 1984ء کے آخر میں یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی۔ پاکستان کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا تھا۔ حالات نے اسے مجبور کیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے پاکستان کو کمزور کر دیا تھا۔ بھارت کا 1974ء کا دھماکہ ایک واضح تبدیلی تھا۔ ہم خاموش رہے کیونکہ کوئی اشتعال انگیزی نہ تھی، جنرل ضیاء سے کہا گیا کہ وہ دھماکہ کریں مگر انہوں نے کہا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غیر اعلانیہ تعطل (moratorium) موجود ہے، دھماکہ کیوں کیا جائے؟ مگر جب بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی اور وزیراعظم واجپائی نے کہا کہ بھارت ایک جوہری ریاست ہے، تو پاکستان کے لیے سلامتی کا مسئلہ بن گیا۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ یہ ہمارے لیے مشکل کام نہ تھا۔ ہم اس سے زیادہ مشکل کام پہلے کر چکے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے وزیراعظم اور عوام سے کہتے رہے: جب آپ کہیں گے، ہم کر دیں گے۔
سوال: ہمارے ملک کے مخالفین کہتے ہیں کہ پاکستان پہلے چین میں دھماکہ کر چکا ہے، کیا یہ درست ہے؟
جواب: کوئی ملک دوسرے ملک کو اپنے ہتھیار پھاڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ صرف امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایسا معاہدہ ہے۔ چونکہ ’’کولڈ ٹیسٹ‘‘ سے کافی اچھا اندازہ ہو جاتا ہے، ہمیں چین میں دھماکہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہم نے 1983ء میں کولڈ ٹیسٹ کیے تھے اور 1984ء میں جنرل ضیاء سے کہا تھا کہ جب آپ حکم دیں گے، ہمیں ایک یا دو ہفتے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔