انبیاء کی اہانت کا جرم اور عالمی برادری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(حکومتِ پاکستان کے اعلان کردہ ’’یومِ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ‘‘ کے سلسلہ میں ۱۵ مارچ کو شُبانِ ختمِ نبوت گوجرانوالہ کے قائم کردہ کیمپ سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی، حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ناموس اور عزت کے ساتھ بیداری بڑھ رہی ہے اور آج اس بیداری کے اظہار کے لیے حکومتِ پاکستان کی اپیل پر پاکستان میں، پورے ملک میں یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت منایا جا رہا ہے۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نفوسِ قدسیہ ہم سب کے لیے ایمان کی بنیاد ہیں، محبت کی بنیاد ہیں، عقیدت کی بنیاد ہیں، اور ان کی عزت کا تحفظ، ان کے ناموس کا تحفظ، پوری ملتِ اسلامیہ کا اور ہم سب کا فریضہ ہے۔
آج فکر کی بات یہ ہے کہ دنیا کی بین الاقوامی قوتیں ایک عام شہری کی عزت کو بھی عزت قرار دیتی ہیں، اور ایک عام شہری کی ہتک اور توہین کو جرم قرار دیتی ہیں، لیکن انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ناموس کے تحفظ کے لیے دنیا میں بین الاقوامی سطح پر کوئی قانون نہیں ہے اور وہ گستاخانِ رسول کے سب سے زیادہ پشت پناہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ تمام مسلمان حکومتیں بالخصوص حکومتِ پاکستان عالمی سطح پر، اقوامِ متحدہ میں، بین الاقوامی اداروں میں، توہینِ رسالت کو جرم قرار دینے کی پیشرفت کریں اور وہاں یہ تسلیم کروائیں کہ جس طرح ایک عام شہری کی توہین جرم ہے، حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات میں سے کسی بھی بزرگ کی بالخصوص جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین، یہ بھی جرم ہے، بلکہ یہ ڈبل جرم ہے۔ ایک جرم یہ ہے کہ مقدس شخصیت، محترم شخصیت کی توہین۔ اور دوسرا جرم یہ ہے کہ جس شخصیت کی توہین سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل مجروح ہوتے ہوں، یہ دوہرا جرم ہے۔
انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی اہانت اور توہین ڈبل جرم ہے۔ اس حوالے سے بھی کہ ان کی توہین ہے، اور اس حوالے سے بھی کہ ان میں سے کسی بزرگ کی توہین سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچتی ہے، یہ دوہرا جرم ہے، اسے تسلیم کروانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اور اپنے معاشرے پر نظر رکھنا اور اپنے ماحول کو اس حوالے سے کنٹرول میں رکھنا، گستاخانِ رسول پر، ان کے سہولتکاروں پر نظر رکھنا، یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں محبتِ رسولؐ نصیب فرمائیں، اور اس کے شہری، قانونی، دستوری، اور دینی تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ میں گوجرانوالہ شُبانِ ختمِ نبوت کے دوستوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے یہ کیمپ لگایا اور لوگوں کے جذبات کے اظہار کا ایک ذریعہ اختیار کیا، اللہ پاک سب کو اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ اللھم صلِ علیٰ محمد۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ خلافِ شریعت ہے
ملی مجلس شرعی کے علماء و مفتیان کا متفقہ فیصلہ
ڈاکٹر محمد امین
ملی مجلس شرعی، جو سارے دینی مکاتب فکر کا ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم ہے، اس کے صدر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے لاہور ہائی کورٹ کے ناجائز بچی کے نان و نفقہ کے حوالے سے متنازعہ فیصلہ کا جائزہ لینے کے لیے مفتی ڈاکٹر کریم خاں صاحب (جامعہ علمیہ، درس نظامی و پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ)، مولانا حافظ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب (جامعہ لاہور الاسلامیہ، درس نظامی و پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ)، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (جماعت اسلامی، ایل ایل بی و پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ)، مولانا مفتی شاہد عبید صاحب (جامعہ اشرفیہ، درس نظامی)، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی صاحب (درس نظامی و پی ایچ ڈی سکالر علومِ اسلامیہ)، اور سیدہ عظمیٰ گیلانی صاحبہ (ایل ایل ایم، وکیل ہائی کورٹ لاہور) پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین (پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ [فقہ و اصول فقہ]) کو اس کا کنوینر مقرر کیا۔
کمیٹی کا اجلاس بروز ہفتہ ۲۲ مارچ ۲۰۲۵ء صبح ۱۱ بجے مجلس کے کیمپ آفس علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں ہوا جس میں حاضر ارکان کے علاوہ مفتی شاہد عبید صاحب اور سید عظمیٰ گیلانی صاحبہ نے آن لائن شرکت کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے مجوزہ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا:
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ مندرجہ ذیل حقائق کی بناء پر خلافِ شریعت ہے:
۱۔ ایف آئی آر مدعیہ کی طرف سے دفعہ 376 و 109 کے تحت کٹوائی گئی تھی یعنی یہ زنا بالجبر و دہشت گردی کا کیس تھا۔ زنا بالجبر آئینِ پاکستان کی رو سے حد ہے لہٰذا ایف آئی آر کا اندراج حدود قوانین کے تحت ہونا چاہیے تھا اور کیس وفاقی شرعی عدالت کو سننا چاہیے تھا لیکن پولیس نے اسے زنا بالجبر و دہشت گردی کی دفعات کے تحت رجسٹر کیا جس کی رو سے یہ کیس سیشن عدالت یا دہشت گردی کی عدالت میں سنا جانا چاہیے تھا لیکن خاتون کے وکلاء نے غلطی سے یا عمداً اسے مدعیہ کی ناجائز بیٹی کی طرف سے نان و نفقہ کا کیس بنا کر فیملی کورٹ میں پیش کر دیا کہ مدعا علیہ بچی کا ’’بایولاجیکل فادر‘‘ ہے لہٰذا وہ بچی کے نان و نفقہ کا پابند ہے۔ ’’بایو لوجیکل فادر‘‘ کی اصطلاح کا استعمال یہاں غلط تھا کیونکہ بچی کا باپ یا تو نکاح ہونے کی صورت میں بچی کا جائز اور قانونی باپ ہو سکتا ہے یا نکاح نہ ہونے کی صورت میں زانی، ناجائز اور غیر قانونی باپ۔ اور اس صورت میں شرع اسلامی کی رو سے ناجائز بچی نہ اس زانی باپ سے نان و نفقہ کی مستحق ہے {FR 338} اور نہ وراثت کی بلکہ اس کی پرورش ریاست کی ذمہ داری ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے بحیثیت سربراہ ریاست اُس وقت ناجائز بچی کی پرورش ایک ایسے مسلمان کو سونپ دی تھی جو اس پر راضی تھا۔ {FR 339}
۲۔ نیز اگر بچی نکاح کے بغیر پیدا ہوئی تھی تو زنا کے ثابت ہونے کے بعد زانی والد کو زنا بالجبر یا دہشت گردی (جسے شرع اسلامی میں ’حرابہ‘ {FR 340} کہا جاتا ہے) کی سزا ملنی چاہیے تھی لیکن یہ ثابت کرنا فیملی کورٹ کا دائرۂ اختیار ہی نہیں تھا: اس کے باوجود فیملی کورٹ نے بغیر کسی ثبوت کے اور باپ کے اس مؤقف کے باوجود کہ وہ اس بچی کا نہ شرعی والد ہے اور نہ غیر شرعی، اسے بچی کا ’’بایولاجیکل فادر‘‘ قرار دے کر اسے تین ہزارر وپے خرچہ/نان و نفقہ قرار دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
فیملی کورٹ کے اختیارات میں قانون شہادت کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے فیملی کورٹ ایکٹ کے سیکشن 17A کے تحت یا علاوہ ازیں مکمل فیملی ٹرائل کے تحت اس کیس یا اس جیسے کسی بھی کیس میں فیصلہ دینا ممکن نہیں جب تک حدود آرڈیننس کے تحت تفصیلی شہادت کے ساتھ مدعیہ / مدعا علیہ کا موقف ثابت نہ ہو جائے۔
نیز فیملی کورٹ ایکٹ کے شیڈول I (ایک) کے تحت صرف قانونی و شرعی شادی سے ثابت شدہ رشتے ہی ماں اور ماں کے ساتھ رہنے والے بچے شمار ہو سکتے ہیں۔ نیز عدالت نے فیملی کورٹ سے اگر ولدیت کا تعین کروانا تھا تو 2020ء سے دائر ایف آئی آر کی مستغیثہ کو کیوں واضح دادرسی نہیں دلائی؟
اسلامی شریعت کے تحت پہلے یہ معاملہ طے کرنا ضروری ہے کہ نو مولود / نابالغہ جائز اولاد ہے یا ناجائز؟ نیز یہ کہ مسئلہ صرف نان و نفقہ کا نہیں بلکہ ناجائز اولاد کا دھبہ لگ جانا نومولود کا اصل مسئلہ ہے؟ اس لیے لازم ہے کہ ہر پاکستانی عدالت مکمل اختیارات کے تحت شرعی طریقے سے جڑنے والے رشتوں (والدین اور بچے) کو تحفظ دے اور ’’غیر قانونی تعلقات قائم کرنے اور ان ناجائز تعلقات کے تحت ناجائز بچوں کی پیدائش‘‘ کی قطعاً سرپرستی نہ کرے۔ جبکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے بے راہ روی کے شکار معاشرے میں مرد و زن سبھی مسلم خاندانی نظام کو ناکام بنانے میں مغربی طرز پر عدالتی کاروائیوں کے ذریعے ’’بائیولوجیکل باپ‘‘ یا ’’بائیولوجیکل ماں‘‘ یا ’’بایولاجیکل بیٹی یا بیٹا‘‘ جیسی اصطلاحات سے ناجائز رشتوں کی نئی تشریح کر کے اس بے راہ روی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوں وہ مغربی قانون کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی بجائے اسلامی قانون کو مغربی تہذیب کے مطابق ڈھالنے (یعنی Westernization of Islamic Law) پر عمل کر رہے ہیں۔
۳۔ فیملی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ملزم نے بنیادی انسانی حقوق کی آئینی خلاف ورزی کی بنیاد پر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس احمد ندیم ارشد نے بجائے اس کے کہ مدعی کو ایف آئی آر کی دفعات کے مطابق زنا بالجبر کا ملزم قرار دیتے اور معاملہ دہشت گردی کی عدالت یا سیشن کورٹ بھجواتے یا اسے حدود کیس سمجھتے ہوئے معاملہ وفاقی شرعی عدالت کو ریفر کر دیتے لیکن انہوں نے معاملہ فیملی کورٹ کو واپس بھجوا دیا اور اسے حکم دیا کہ پہلے طے کیا جائے کہ ملزم مذکورہ لڑکی کا ’’بایولاجیکل فادر‘‘ ہے یا نہیں اور اگر وہ ایسا ثابت ہو تو وہ اسے بچی کے نان و نفقہ کا حکم دے۔
ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص ’’بایولاجیکل فادر‘‘ ثابت ہو بھی جائے تو بھی شرعاً زانی ہونے کی وجہ سے اس سے خرچہ / نان نفقہ نہیں لیا جا سکتا بلکہ اُسے زنا کی سزا ملے گی اور بچی کا خرچہ / نان و نفقہ ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔
۴۔ نیز فیملی کورٹ میں اس کیس کی طرز کے جو دیگر معاملات آتے ہیں ان میں دوسری شادی کو مخفی رکھنے یا کسی بے نامی بچے کو متبنیٰ بنانے کا معاملہ بھی اہم ہے جس پر قانون سازی ہونی چاہیے اور مجرموں کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ جسٹس صاحب نے ایف آئی آر اور ٹرائل کورٹ کی تفصیلات کو غالباً اس لیے بیان نہیں کیا کہ اس سے ان کا مؤقف کمزور پڑتا تھا۔ نیز انہوں نے قرآن و سنت کے جو حوالے دیے ہیں، ان سے بھی ان کا مؤقف ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کے خلاف جاتے ہیں۔
۵۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہر سطح پر پہلے پولیس نے، پھر فیملی کورٹ نے اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ ملزم کو زنا بالجبر کے مرتکب ہونے کی شرعی سزا سے بچانے کی کوشش کی۔ پولیس کو حدود کا پرچہ کاٹنا چاہیے تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ فیملی کورٹ صرف نکاحی ماں اور جائز اور قانونی اولاد کے نان و نفقہ کا حکم دے سکتی ہے لیکن اس معاملے میں اس نے ملزم کو ’’بایولاجیکل فادر‘‘ تصور کر کے اس کی ناجائز بیٹی کو نان و نفقہ کا حق دار قرار دے دیا اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ ایف آئی آر کی رو سے کیس زنا بالجبر اور دہشت گردی کا ہے نہ کہ نان و نفقہ کا۔ اور آخر میں ہائی کورٹ کے جسٹس صاحب نے بھی ایف آئی آر کو نظر انداز کیا اور ملزم کو زنا بالجبر اور دہشت گردی کی سزا کے لیے کیس سیشن کورٹ یا دہشت گردی کورٹ کو بھجوانے کی بجائے اُسے فیملی کورٹ کو ریمانڈ کر دیا اور فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار کو خوامخواہ وسیع کر دیا کہ پہلے وہ یہ طے کرے کہ مذکورہ شخص اس لڑکی کا ’’بایو لاجیکل فادر‘‘ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اسے نان و نفقہ کا حکم دے۔
۶۔ کمیٹی نے اس رائے کا بھی اظہار کیا کہ مذکور خاتون نے حمل کے ساتویں ماہ مذکورہ شخص کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرایا جو اس بات کا قرینہ ہو سکتا ہے کہ یہ زنا بالجبر نہ ہو بلکہ حقائق مختلف ہوں اور مذکورہ خاتون اور اس کے گھر والے مذکورہ شخص سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر مک مکا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہوں اور اس میں ناکام ہو کر انہوں نے ایف آئی آر کٹوا دی ۔ اگر یہ زنا بالجبر کا حقیقی واقعہ ہوتا تو اس کی ایف آئی آر حادثے کے فورًا بعد درج ہونی چاہیے تھی لہٰذا ٹرائل عدالت کو چاہیے کہ وہ معاملے کی اس پہلو سے بھی تحقیق کرے اور اگر یہ زنا بالرضا ثابت ہو تو مرد و خاتون دونوں کو شرعی اور قرار واقعی سزا دی جائے۔
۷۔ کیس کی ان تفصیلات کے پیش نظر کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ فیملی کورٹ کے علاوہ، لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بھی غیر شرعی اور غیر آئینی ہے۔
۸۔ کمیٹی نے دینی جماعتوں اور اسلام پسند وکلاء سے اپیل کی کہ وہ اس تفصیل کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کے اس سنگل بنچ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔ ملزم کو’’ بایو لاجیکل فادر‘‘ کی اس متنازعہ، مغرب سے درآمدہ اور فتنہ پرور اصطلاح کے پیچھے نہ چھپنے دیں بلکہ جب مختلف ثبوتوں اور قرائن سے ثابت ہو جائے کہ وہ اس لڑکی کا باپ ہے تو دہشت گردی کی عدالت یا سیشن کورٹ اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دے۔ یا اگر کیس وفاقی شرعی عدالت کو بھیجا جائے تو وہ اسے بطور حد یا تعزیر سخت سزا دے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، کنوینر کمیٹی برائے جائزہ فیصلہ ہائی کورٹ و جنرل سیکٹری ملی مجلس شرعی
(۲۶ مارچ ۲۰۲۵ء)
تحکیم سے متعلق حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کے مواقف کا مطالعہ اور خوارج کا قصہ
علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ
مرتب : ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
(علامہ شبیراحمد ازہر میرٹھی نے مسند احمد بن حنبل کی اردو میں ایک مفصل (ناتمام) شرح لکھی ہے۔ اس شرح کی مسند عثمانؓ بن عفان اور مسند علیؓ بن ابی طالب کے مسودات کے مطالعہ کے دوران یہ طویل نوٹ ملا، اس کو بعض ضروری حوالوں کے اضافہ اور بعض عبارتوں کے ترجمہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ غ)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند صفحات جنگِ نہروان اور اس کے پس منظر اور فتنۂ خوارج کے متعلق ہدیۂ ناظرین کر دیے جائیں تاکہ تحکیم سے متعلق سیدنا حضرت علیؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے مواقف کے بارے میں جو آثار و روایات آئی ہیں ان کے فہم میں سہولت ہو سکے۔
جنگِ صفین جب انتہائی خطرناک صورت اختیار کر گئی اور مسلمانوں کی شجاعت کا وہ قیمتی سرمایہ جو تقریباً تمام دنیا کی فتح کے لیے کافی ہو سکتا تھا باہمی خانہ جنگی کی نذر ہو کر رہ گیا تو حضرت امیر معاویہؓ کی جانب سے نیزوں پر مصاحف (قرآن کی کاپیاں) بلند کیے گئے اور بہ آواز بلند پکار پکار کر کہا گیا:
من لثغور الشام بعد اہل الشام و من لثغور اہل العراق بعد اہل العراق؟ فلما رأ الناس المصاحف قد رفعت قالوا نجیب الی کتاب اللہ عز و جل و نثیب الیہ۔ (الطبری تاریخ الرسل والممالک الجزء الخامس تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم الطبعۃ الثانیۃ دارالمعارف مصر ص 48)
’’اہلِ شام فنا ہو گئے تو ان کے بعد شام کی سرحدوں کی حفاظت اہلِ کفر سے کون کرے گا؟ اور اہلِ عراق فنا ہو گئے تو ان کی سرحدیں کس کی حفاظت میں رہیں گی؟ لوگوں نے جب مصاحف کو بلند دیکھا تو کہا ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر لبیک کہتے اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘
ابو مخنف یحیٰ بن لوط (جو مشاجراتِ صحابہ میں طبری کا خاص راوی ہے اور تمام ائمہ رجال نے اس کو کذاب قرار دیا ہے) نے عبدالرحمٰن بن جندب کے طریق سے روایت کی ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکر کو سمجھایا اور جنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی اور اس موقع پر قرآن کی طرف دعوت کو معاویہ و اہلِ شام کا مکر و فریب قرار دیا (دیکھیے ایضاً صفحہ 49) ہماری تحقیق میں حضرت سیدنا علیؓ کے بارے میں یہ بات درست نہیں جو اس روایت کے ذریعہ سے پھیلا دی گئی ہے اور عام طور پر مؤرخین اس کو صحیح تسلیم کیے بیٹھے ہیں۔ اس کی تحقیق آگے آئے گی۔ طبری کے مطابق اس پر مسعر بن فدکی تمیمی اور زید بن حصین طائی اور دیگر قاریانِ قرآن نے جو اُن کے ساتھ تھے حضرت علیؓ سے بڑی دیدہ دلیری سے کہا:
یا علی اجب الی کتاب اللہ اذا دعیت الیہ والاندفعک برمتک الی القوم او نفعل کما فعلنا بابن عفان۔ ان علینا ان نعمل بما فی کتاب اللہ عز و جل فقبلناہ۔ واللہ لتفعلنہا او لنفعلنہا بک الخ (ایضاً ص 49)
’’اے علی کتاب اللہ کی دعوت تمہیں دی جا رہی ہے تو اسے قبول کرو ورنہ ہم تمہیں پکڑ کر اہلِ شام کے حوالہ کر دیں گے یا تمہارے ساتھ بھی وہی کریں گے جو عثمانؓ کے ساتھ کر چکے ہیں۔ ہم پر کتاب اللہ پر عمل کرنا لازم ہے۔ ہم نے اُسے قبول کر لیا ہے۔ خدا کی قسم تمہیں بھی اسے قبول کرنا پڑے گا ورنہ ہم تمہیں ہلاک کر دیں گے۔‘‘
(یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے ساتھ انتہائی شریر و بدتمیز لوگوں کا بڑا عنصر جمع ہو گیا تھا جنہیں امیر المؤمنین سے تمیز سے بات کرنی بھی نہیں آتی تھی، نیز یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ ہی وہ باغی تھے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کو انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔غ)
اس روایت کے مطابق مجبور ہو کر حضرت علیؓ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور اشتر نخعی کو جو ہنوز جنگ میں مصروف تھا واپس بلا لیا۔ ابن جریر کہتے ہیں:
قال ابو مخنف حدثنی عبد الرحمٰن بن جندب الازدی عن ابیہ ان علیا قال عباد اللہ امضوا علی حقکم و صدقکم قتال عدوکم، ان معاویۃ و عمرو بن العاص و ابن ابی معیط و حبیب بن مسلمۃ و ابن ابی سرح والضحاک بن قیس لیسوا باصحاب دین ولا قرآن، انا اعرف بہم منکم قد صحبتہم اطفالاً وصحبتہم رجالا فکانوا شر اطفال و شر رجال۔ وبحکم انہم ما رفعوہا ثم لا یرفعونہا ولا یعلمون بما فیہا وما رفعوہا لکم الا خدیعۃ ودَہنا و مکدیدۃ الخ (ایضاً تاریخ الطبری ص49 حرب صفین)
’’یعنی حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کے بندو! اپنے حق و صدق کے لیے دشمن سے لڑتے رہو، معاویہ، عمرو بن العاص، ابن ابی معیط، حبیب بن مسلمہ فہری، عبد اللہ بن ابی سرح اور ضحاک بن قیس یہ لوگ قرآن اور دین والے لوگ نہیں، میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں، جب یہ بچے تھے تب اور جب یہ بڑے ہوگئے تب بھی بہت بُرے لوگ تھے۔ یہ قرآن کو جو بلند کر رہے ہیں اس کے معانی نہیں جانتے اور یہ صرف تمہیں دھوکہ اور جل دینے کے لیے قرآن بلند کر رہے ہیں۔‘‘
یہاں بطور جملہ معترضہ چند کلمات میں حضرت علیؓ کے اس اعتذار کے بارے میں بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں جو اولاً تحکیم کے عدمِ قبول کے سلسلہ میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا۔
صفین میں جب امیر معاویہؓ کی جانب سے مصاحف بلند ہوئے اور کہا گیا کہ ہمارے تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے، باہمی خوں ریزی کی بجائے ہم اس کتابِ عزیز سے اپنے نزاعات کا فیصلہ طلب کریں۔ تو لشکرِ علی میں سے ایک معتدبہ گروہ نے اس آواز پر لبیک کہی۔ لیکن آگے اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’انی اعلم بالقوم منکم‘‘ میں ان لوگوں یعنی معاویہ و عمرو بن العاص وغیرہما کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ ’’انہم لیسوا باصحاب دین ولا قرآن‘‘ یقیناً یہ لوگ نہ دین والے ہیں نہ قرآن والے، یعنی دین و قرآن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے کس بناء پر یہ انتہائی سخت بات فرمائی تھی؟ کیا معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ وغیرہ نے دینِ اسلام میں داخل ہونے کے بعد کبھی اس سے خروج کیا تھا؟ کیا یہ لوگ فرائضِ دین اور احکام کے پابند نہ تھے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب قطعاً نفی میں ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں تھا کہ معاویہؓ و عمروؓ نے علیؓ سے بیعت کر لی ہو اور اس کے بعد ان کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکاہو اور خود خلافت کا دعویٰ کیا ہو کہ ان حضرات کو باغی ہی قرار دیا جا سکے۔ بلکہ بظاہر تو معاویہؓ و عمروؓ اپنے ساتھ دین اور قرآن کی تائید ہی رکھتے تھے، کیونکہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ خلیفۂ مظلوم عثمانؓ کے قاتلین میں سے جو لوگ علیؓ کے ساتھ ہیں، علیؓ کو چاہیے کہ ان پر کتاب اللہ کا حکم نافذ کریں۔ اور حکمِ شرعی کے مطابق انہیں اولیاءِ مقتول کے حوالہ کر دیں۔ حضرت سیدنا علیؓ ان کے اس مطالبہ کو، جو سراسر حق مطالبہ تھا، تسلیم نہیں فرماتے تھے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ اور ان کے اصحاب و اعوان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر فوج کشی نہیں فرمائی تھی، یہ لوگ حملہ آور نہ تھے بلکہ مدافعت کی پوزیشن میں تھے۔ پس اِن لوگوں کے متعلق ’’لیسوا باصحاب دین ولا قرآن‘‘ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟
اسی تبصرہ میں آگے حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’انی صحبتہم اطفالاً و رجالاً فکانوا شر اطفال و شر رجال‘‘ میں نے ان لوگوں کا بچپن بھی دیکھا اور بلوغ کے بعد کا زمانہ بھی، یہ لوگ ہمیشہ سے شر پسند اور شریر رہے ہیں، جب بچے تھے تو بدترین بچے تھے اور جب مرد بنے یعنی بالغ ہوئے تو بدترین مرد رہے۔
میں کہتا ہوں کہ تاریخی طور پر یہ بات بالکل غلط ہے۔ اس لیے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ حضرت علیؓ کی پیدائش کے وقت جوان تھے۔ عمرو بن العاص آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چار سال پہلے پیدا ہوئے۔ وہ کہتے تھے کہ مجھے عمر بن الخطابؓ کی پیدائش کی رات یاد ہے۔ ہجرتِ نبویہ کے وقت تقریباً ستاون (۵۷) سال کے تھے۔ اور تقریباً ایک سو سال کی عمر پا کر سنہ ۴۳ھ میں وفات پائی۔ جبکہ حضرت علیؓ سنہ ۴۰ھ میں بعمر تریسٹھ یا چونسٹھ یا پینسٹھ یا اٹھاون سال شہید ہوئے ہیں اور ہجرتِ نبویہ کے وقت علیؓ ۲۳ سالہ یا ۲۴ یا ۱۸ سالہ نوجوان تھے۔ یوں حضرت علیؓ نے عمروا ابن العاصؓ کا بچپن تو پایا ہی نہیں۔
رہے حضرت امیر معاویہؓ تو وہ حضرت علیؓ کے ہم عمر تھے، معاویہؓ کی وفات بعمر اٹھتر یا چھیاسی سال سنہ ۵۹ھ یا سنہ ۶۰ھ میں ہوئی ہے۔ یوں ہجرتِ نبویہ کے وقت حضرت معاویہؓ ۱۸ سالہ یا ۲۶ سالہ نوجوان تھے یعنی عمر میں حضرت علیؓ کے لگ بھگ تھے۔ لیکن جاہلیت یا اسلام میں حضرت علیؓ کے حضرت معاویہ سے کبھی بھی مصاحبانہ روابط نہیں رہے۔
پھر عمرو ابن العاصؓ تو کیا معاویہؓ کے متعلق بھی علیؓ کا ’’انی صحبتہم اطفالا و رجالاً‘‘ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ پھر اسلام سے قبل معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ خواہ کچھ بھی رہے ہوں لیکن سعادتِ اسلام سے بہرہ مند ہو جانے کے بعد خلافتِ عثمانی کے ختم ہونے تک طویل مدت میں حضرت عمرو ابن العاصؓ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی کوئی شرارت نہ حضرت علیؓ کے علم میں آئی نہ کسی اور صحابی کو اس کی اطلاع ہوئی۔ لہٰذا ان کے متعلق ’’فکانوا شر اطفال و شر رجال‘‘ کہنا ظاہر ہے کہ ایک فضول و غیر معقول بات ہے۔
اس کے بعد اس روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا ’’انما رفع القوم ہذہ المصاحف خدیعۃ ووہنا ومکیدۃ‘‘ ان لوگوں نے اس وقت مصاحف صرف اس لیے بلند کیے ہیں کہ اس طرح یہ ہمیں جُل دے کر اور مکر و فریب سے کام لے کر شکست سے بچنا چاہتے ہیں، ان کے دھوکے میں نہ آؤ۔
ممکن ہے کہ فی الواقع حضرت علیؓ نے یہ بات کہی ہو اور بدگمانی کے باعث انہوں نے حضرت معاویہؓ کی طرف سے رفع مصاحف کو مکر و فریب پر ہی حمل کیا ہو۔ لیکن ظاہ رہے کہ حضرت علیؓ نبی معصوم نہیں تھے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے محض حضرت علیؓ کے اس فرمانے کی بنا پر یہ سمجھ لینا درست نہیں ہے کہ فی الواقع حضرت معاویہ و عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہما نے اس طرح اصحابِ علیؓ کو جُل دینا ہی چاہا تھا۔ بلکہ سیدھی سادھی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں جب کشتوں کے پشتے لگ گئے اور باہمی خوں ریزی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو معاویہؓ وغیرہ کو اندیشہ ہوا کہ جنگ کی چکی اسی طرح پستی رہی اور مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو اسی طرح ذبح کرتے رہے تو اس کا نتیجہ خطرناک ہو گا۔ جب شام و عراق کی طاقتیں اس میدان میں ضائع ہو جائیں گی تو شام و عراق کی حفاظت کرنے اور پڑوس کے کافر دشمن ممالک کی دستبرد سے مملکتِ اسلام کو بچانے کا کیا ذریعہ رہ جائے گا؟ اس لیے انہوں نے مومنانہ خلوص اور دلسوزی کے ساتھ عامۃ المسلمین کو جنگ سے باز رہنے اور کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی تھی۔
لیکن بُرا ہو روافض اور افسانہ نویس مؤرخوں کا کہ ان بدبختوں نے اس واقعہ کو اس طرح پیش کیا ہے کہ جیسے یہ لوگ میدانِ صفین میں ہر وقت معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ کے پیچھے لگے رہتے تھے اور ان کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ نوٹ کرتے جاتے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ سہ شبانہ روز کی مسلسل جنگ نے بالآخر اہلِ شام کی ہمتیں پست کر دیں اور حضرت علیؓ کی ذوالفقار اور اشترنخعی کی شمشیر آبدار نے لشکرِ معاویہؓ کی صفوں کو تہ و بالا اور درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ معاویہؓ نے گھبرا کر عمرو ابن العاصؓ سے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے۔ عمرو ابن العاصؓ نے کہا کہ نیزوں پر قرآن بلند کرا کر منادی کراؤ کہ مسلمانو آپس میں مت لڑو، ہمارے تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے، اس کے احکام کے مطابق اپنے جھگڑے طے کر لو۔ عمروؓ نے کہا تھا کہ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ لشکرِ علیؓ میں پھوٹ پڑ جائے گی، کچھ لوگ ہماری بات کو نہ مانیں گے تو کچھ ماننے والے بھی ضرور نکل آئیں گے، ان میں باہم اختلاف ہو جائے گا اور یہ ہی ہمارا مقصد ہے۔ (ایضاً ص 49)
یہ افسانہ روافض کا ساختہ و پرداختہ ہے اور اُس کے بیان کرنے والوں میں سے کسی شخص کا ثقہ ہونا تو الگ رہا کوئی شخص ایسا بھی نہیں ہے جو جنگ میں خود موجود رہا ہو۔ اس افسانہ کے غلط اور خالص جھوٹ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ تجویز معاویہؓ و عمرو ابن العاصؓ نے محض وقتی طور پر جنگ کو روکنے اور شکست سے بچنے کے لیے رکھی ہوتی تو وہ معاہدۂ تحکیم کی بعد میں پابندی بالکل نہ کرتے۔ حالانکہ تاریخ طبری وغیرہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علیؓ سے بڑھ چڑھ کر اس معاہدہ کی پابندی معاویہؓ نے کی تھی۔
مثلاً معاہدہ میں یہ بھی شامل تھا کہ حکمین یعنی عمرو بن العاص و ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ اجتماع گاہ میں معاویہؓ و علیؓ دونوں بذاتِ خود موجود رہیں گے۔ چنانچہ طبری ہی میں ہے کہ چار شنبہ ۱۳ صفر سنہ ۳۷ھ کو فریقین کے درمیان معاہدۂ تحکیم لکھا گیا۔
علی ان یوافی علی موضع الحکمین بدومۃ الجندل فی شہر رمضان و معاویۃ مع کل واحد منہما اربع مأۃ من اصحابہ وتباعہ ( ایضاً ص 58)
حضرت معاویہؓ قرارداد کے مطابق وقتِ مقرر پر دومۃ الجندل پہنچ گئے لیکن حضرت علیؓ نے خود جانے سے انکار کیا اور اپنی بجائے ابوموسیٰ اشعریؓ کے ساتھ شریح بن ہانی و عبد اللہ بن عباسؓ کو بھیج دیا۔
’’وافی معاویۃ باہل الشام وابی علی واہل العراق ان یوافوا‘‘ (ایضاً ص 58) اور طبری میں یہ بھی ہے کہ جب حکمین جمع ہوئے تو حضرت عمرو ابن العاصؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے کہا: سب سے پہلے ہمیں جس حق کا فیصلہ کر دینا چاہیے وہ یہ ہے کہ معاہدہ کی دفعات کی پابندی کرنے والوں کے بارے میں ہم یہ طے کر دیں اور مان لیں کہ یہ لوگ اہلِ وفا ہیں۔اور پابندی نہ کرنے والوں کے متعلق طے کر دیں کہ یہ لوگ اہلِ غدر ہیں۔ ابو موسٰیؓ نے اس سے اتفاق کیا اور یہ بات لکھ لی گئی کہ اس معاہدہ کے بارے میں معاویہؓ نے وفا اور علیؓ نے غدر کا طریق اختیار کیا ہے۔
طبری نے اس کو یوں روایت کیا ہے:
فلما اجتمع الحکمان وتکلما قال عمرو ابن العاص یا ابا موسٰی رأیت اول ما نقضی بہ من الحق ان نقضی لاہل الوفاء بوفائہم و علی اہل الغدر بغدرہم قال ابو موسیٰ وما ذاک؟ قال الست تعلم ان معاویۃ واہل الشام قدوفوا وقدموا للموعد الذی واعدناہم ایاہ؟ قال بلیٰ قال عمروا فاکتبہا فکتبہا ابو موسیٰ (ایضاً ص 58)
الغرض تحکیم کو اولاً نہ ماننے کے سلسلہ میں حضرت سیدنا علیؓ کے اعتذار میں ان کی طرف تین باتیں منسوب کی گئی ہیں:
اول یہ کہ آپ نے معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ کے متعلق فرمایا: ’’انہم لیسوا باصحاب دین ولا قرآن‘‘۔
دوم یہ کہ آپ نے فرمایا: ’’انی صحبتہم و عرفتہم اطفالا و رجالا فکانوا شر اطفال و شر رجال‘‘۔ یہ دونوں ہی باتیں بالکل غلط ہیں جیسا کہ اوپر تفصیل آئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ روافض نے زبردستی اپنے گندے ذہن سے یہ گندے کلمات حضرت علیؓ کی زبان میں رکھنے کی کوشش کی ہے جس کے متعلق ہمیں یقین ہے کہ وہ ایسی بازاری اور ناشائستہ زبان ہرگز نہ تھی۔ بے شک حضرت علیؓ نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ، طلحہ، زبیر اور معاویہ و عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے جنگ کی ہے، لیکن ان حضرات کی شان میں حضرت علیؓ نے ایسے گندے کلمات ہرگز استعمال نہ کیے ہوں گے جن کی بے حیا اور دروغ باف لوگوں نے آپ کی طرف نسبت کی ہے۔ سبحان اللہ کیا عجیب بات ہے کہ معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ سیدنا علیؓ کی شان میں کبھی کوئی گستاخانہ کلمہ زبان سے نہ نکالیں اور علیؓ ہر وقت انہیں گالیاں دیتے رہیں؟ کیا عقل اسے باور کر سکتی ہے؟ فی الواقع حضرت علیؓ کے ساتھ ان کے ان دوست نما دشمنوں نے بڑی زیادتیاں کی ہیں اور تہذیب و شرافت اور اخلاق کے لحاظ سے اپنی جھوٹی روایات کے ذریعہ علیؓ کی جو تصویر کھینچی ہے یقیناً یہ تصویر اُس عظیم و جلیل الشان صحابی رضی اللہ و کرم وجہہ کی تصویر نہیں ہو سکتی جو آغازِ عمرسے ہی صاحبِ خلقِ عظیم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ صحبت سے مستفیض رہا ہے۔
تیسری بات اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ امیر معاویہؓ کی طرف سے رفعِ مصاحف کو حضرت علیؓ نے مکر و فریب پر مبنی قرار دے کر اپنی فوج کو ہدایت کی کہ اسے نظر انداز کر دیں اور برابر جنگ و قتال میں مصروف رہیں۔ اوپر میں نے برسبیل تنزل اس بات کے متعلق کہا تھا کہ ممکن ہے حضرت علیؓ نے بدگمانی کی بنا پر یہ بات کہہ دی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بات بھی کسی صحیح اسناد کے ساتھ مروی نہیں ہے اور جس روایت میں اس کا ذکر ہے وہ موضوع اور جھوٹی روایت ہے۔ اس کے موضوع ہونے کی دلیل یہ ہی کافی ہے کہ اس میں ولید بن عقبہ بن ابی معیط اور عبداللہ بن سعد بن عمرو بن ابی سرح کا بھی ذکر ہے۔ حالانکہ یہ دونوں نہ حرفِ صفین میں شریک ہوئے نہ اہلِ اسلام کی کسی اور خانہ جنگی میں۔ ظاہر ہے کہ جب یہ موجود ہی نہیں تھے اور حضرت علیؓ کے خلاف کسی جنگ میں انہوں نے حصہ ہی نہیں لیا تو علیؓ ان کو معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ کے ساتھ اس تبصرہ میں کیسے شامل کر سکتے تھے؟ رہی اس کی سندی حیثیت تو اس کا راوی عبد الرحمٰن اور اس کا والد جندب دونوں مجھول شخص ہیں، صحاح ستہ تو کیا مسند احمد میں بھی ان کی کوئی روایت درج نہیں ہے۔
بہرحال ان روایتوں کے مطابق حضرت علیؓ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور اشتر نخعی کو جو ہنوز جنگ میں مصروف تھا واپس بلا لیا۔ جنگ بند ہو جانے پر حضرت علیؓ کی طرف سے اشعث بن قیس کندی نے حضرت معاویہؓ سے جا کر پوچھا کہ تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ امیر معاویہؓ نے فرمایا:
لنرجع نحن وانتم الی ما امر اللہ بہ فی کتابہ، تبعثون منکم رجلا ترضون بہ ونبعث منا رجلا ثم ناخذ علیہما ان یعملا بما فی کتاب اللہ لا یعدوانہ ثم نتبع ما اتفقا علیہ فقال لہ الاشعث بن قیس ہذا الحق فانصرف الی عنی فاخبرہ بالذی قال معاویۃ (ایضاً ص 51)
’’ہم تم دونوں فریق کتاب اللہ کی طرف رجوع کریں تم اپنا ایک آدمی جو تمہیں پسند ہو مقرر کرو اور ہم اپنا ایک آدمی مقرر کریں۔ ان دونوں سے ہم عہد لیں کہ وہ کتاب اللہ پر عمل کریں اس سے تجاوز نہ کریں۔ وہ دونوں جس فیصلہ پر متفق ہو جائیں ہم سب اسے مان لیں۔ اشعث نے کہا، یہ تجویز درست ہے۔ اشعث نے واپس آکر حضرت علیؓ کو اس سے آگاہ کیا۔‘‘
شیعانِ علیؓ نے بھی اس تجویز سے اتفاق کر لیا۔ اس تجویز پر اتفاق ہو جانے کے بعد معاویہؓ نے کہلا بھیجا کہ ہم اپنی طرف سے عمرو بن العاصؓ کو حَکم مقرر کرتے ہیں۔ اشعث بن قیس وغیرہ نے کہا: ہم ابوموسیٰ اشعریؓ کو منتخب کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: تم نے میری نافرمانی کرتے ہوئے جنگ بندی کر دی تو کم ازکم حَکم مقرر کرنے میری رائے مانو، ابو موسیٰ اشعریؓ کو اپنا حَکم و نمائندہ مت بناؤ۔ اشعث و زید بن حصین و مسعر بن فدکی نے کہا: ہم ابوموسٰیؓ کے علاوہ کسی کو پسند نہیں کرتے ’’فانہ ماکان یحذرنا وقعنا فیہ‘‘ کیونکہ ابو موسٰیؓ جس چیز سے ہمیں ڈراتے تھے ان کی بات نہ ماننے کی وجہ سے ہم اُسی آفت یعنی خانہ جنگی اور قتلِ مسلمین کی مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ حضرت علیؓ نے کہا: ’’فانہ لیس لی بثقۃ قد فارقنی و خذل الناس عنی ثم ہرب منی حتی آمنتہ بعدا شہر‘‘ یعنی مجھے ابو موسٰیؓ پر بھروسہ نہیں ہے، وہ خود بھی مجھ سے الگ ہو گئے اور لوگوں کو بھی میرے پاس آنے سے روکا، پھر وہ بھاگ گئے یہاں تک کہ کئی ماہ بعد میں نے ان کو امن دیا۔
حضرت علیؓ نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ تم عبد اللہ بن عباس کو اپنا نمائندہ بناؤ۔ ان لوگوں نے کہا: ابن عباس تو آپ کے بھائی اور جانب دار ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا اچھا تو اشتر نخعی کو حَکم مقرر کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں اشعث نے کہا: ’’وہل سعر الارض غیر الاشتر؟‘‘ اشتر نے ہی تو زمین میں اس خانہ جنگی کی آگ بھڑکائی ہے۔ نیز اشعث نے کہا: ’’وہل نحن الا فی حکم الاشتر؟‘‘ جناب عالی ہم اشتر کے ماتحت اور زیر حکم تو بنے ہوئے ہیں ہی۔ حضرت علیؓ نے پوچھا: ’’وما حکمہ؟‘‘ اشتر کا حکم کیا ہے جسے مان رہے ہو؟ اشعث نے کہا: ’’حکمہ ان یضرب بعضنا بعضا بالسیوف حتی یکون ما اردت وما اراد‘‘ اس کا حکم یہ ہے کہ ہم باہم لڑتے اور ایک دوسرے کی گردنیں مارتے رہیں تا آنکہ آپ کی اور اس کی مراد حاصل ہو۔ بالآخر حضرت علیؓ نے ان کی بات قبول فرما لی اور ابو موسٰیؓ کو نمائندہ و حَکم بنانے کی منظوری دے دی اور ابوموسٰیؓ جو فریقین سے الگ تھلگ اور بالکل غیر جانبدار ہو کر مقامِ عُرض میں مقیم تھے، بلا لیے گئے۔ ابو موسٰیؓ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اہلِ عراق و اہلِ شام یعنی علیؓ و معاویہؓ میں صلح ہو گئی اور جنگ رک گئی ہے تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ آپ کو حَکم مقرر کیا گیا ہے تو اس پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور اظہارِ افسوس کیا۔ (ایضاً ص 52)
طبری کے اس بیان سے چند باتیں مستفاد ہوتی ہیں:
اول یہ کہ حضرت علیؓ نے جنگ بندی اور تحکیم کو اپنی صوابدید و مرضی سے نہیں بلکہ بالجبر قبول فرمایا تھا اور ظاہر ہے کہ جبر اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ لشکرِ علیؓ کی اکثریت نے علیؓ کو مجبور کیا ہو۔ کیونکہ اگر اکثریت جنگ بندی کے خلاف ہوتی اور صرف ایک حقیر سی اقلیت ہی اس پر اصرار کرتی تو حضرت علیؓ ہرگز اس کو قبول نہ فرماتے۔ (طبری اور دیگر مؤرخین کی یہ بات درست نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا)۔
دوم یہ کہ باہمی خانہ جنگی کا عظیم نقصان اہلِ شام کی طرح اہلِ عراق بھی محسوس کر رہے تھے اور اہلِ عراق کے قلوب اشتر نخعی کی طرف سے مکدر ہو گئے تھے کیونکہ اسی فتین شخص نے جنگ کی آگے بھڑکانے میں زیادہ حصہ لیا تھا اور اب بھی وہ جنگ جاری رکھنے پر مصر تھا۔
سوم یہ کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اصحابِ علیؓ اور خصوصاً اہلِ کوفہ نے اس لیے پسند کیا تھا کہ وہ اہلِ اسلام کی باہمی خانہ جنگی کو نہایت ناپسند کرتے تھے اور ان دونوں متحارب فریقوں سے الگ تھلگ ہوگئے تھے اور جنگِ جمل کے موقع پر جب کہ حضرت علیؓ نے عمار بن یاسرؓ و حضرت حسنؓ اور اشتر نخعی کو کوفہ میں مقاتلین کی فراہمی کے لیے بھیجا تھا تو اس وقت ابوموسٰی اشعریؓ نے جو کہ والئ کوفہ تھے لوگوں کو جنگ و قتال سے باز رہنے کی فہمائش کی تھی اور فتنہ سے مجتنب رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔ مگر اشتر نخعی نے ابو موسٰیؓ کی سخت توہین و بے عزتی کی اور انہیں قصرِ امارت سے نکال باہر کیا تھا۔ لیکن اہلِ کوفہ کو جب جمل و صفین کے معرکوں میں اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنا پڑا اور ان کے ہاتھوں سے قتل ہونا پڑا تو انہیں ابو موسٰیؓ کی نصیحتیں یاد آئیں۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کی پختہ سیرت، خدا ترسی، خلوص اور امن پسندی کا ان لوگوں کو طویل تجربہ تھا، اس لیے اس مصالحت کے موقع پر ابو موسٰیؓ کے تقرر پر ان لوگوں کا اصرار بالکل بجا و معقول تھا۔
الغرض فریقین میں مصالحت کی بات پختہ ہو گئی اور طے ہو گیا کہ دونوں حَکم کتاب اللہ کی روشنی میں جو فیصلہ کریں گے فریقین اسے قبول کریں گے اور اس پر کاربند ہوں گے۔یہ معاہدہ لکھا جانے لگا تو حضرت علیؓ نے بسم اللہ کے بعد اس کا عنوان یہ لکھوایا: ’’ہذا ما تقاضی علیہ علی امیر المؤمنین و معاویۃ بن ابی سفیان‘‘ یہ وہ معاہدہ ہے جو امیر المؤمنین علی اور معاویہ کے درمیان طے پایا ہے۔ اس میں لفظ امیر المؤمنین پر حضرت معاویہؓ کی طرف سے اعتراض ہوا کہ ہم نے علیؓ امیر المؤمنین تسلیم ہی نہیں کیا ہے، یہ لفظ کتابت سے ساقط کر دینا چاہیے۔ آخر حضرت علیؓ نے اسے بھی مان لیا اور فریقین کے درمیان معاہدہ پختہ و مکمل ہو گیا۔
اس واقعہ کو ابو مخنف نے عبد الرحمٰن بن جندب سے اور اس نے اپنے باپ جندب سے بہ این لفظ روایت کیا ہے:
فقال عمرو اکتب اسمہ و اسم ابیہ ہو امیرکم فاما امیرنا فلا۔ و قال لہ الاحنف لا تمح اسم امارۃ المؤمنین فانی اتخوف ان محوتہا الاترجع الیک ابدا، لا تمحہا و ان قتل الناس بعضہم بعضا۔فابی ذلک علی ملیا من النہار ثم ان الاشعث بن قیس قال امح ہذا لاسم برحہ اللہ فمحی وقال علی اللہ اکبر سنۃ بسنۃ ومثل بمثل واللہ انی لکاتب بین یدی رسول اللہ ﷺ یوم الحدیبۃ اذ قالوا لست رسول اللہ ولا نشہد لک بہ ولکن اکتب اسمک واسم ابیک فکتبہ عمرو ابن العاص سبحان اللہ ومثل ہذا ان نشبہ بالکفار ونحن مؤمنون؟ فقال علی یا ابن النابغۃ ومتی لم تکن للفاسقین ولیا وللمسلمین عدوا؟ وہل تشبہ الاامک التی وضعت بک؟ فقام فقال لایجمع بینی وبینک مجلس ابدا بعد ہذاالیوم۔ فقال لہ علی وانی واللہ لا ارجوا ان یطہر اللہ مجلسی منک و من اشیاعک؟(الطبری الجزء الخامسص 52)
’’یعنی اس موقع پر حضرت علیؓ نے صلح حدیبیہ کے واقعہ کو یاد کیا تو عمرو بن العاصؓ نے کہا کہ سبحان اللہ ہمیں کافروں سے تشبیہ دی جا رہی ہے حالانکہ ہم مسلمان ہیں! اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا اے نابغہ کے بیٹے! (عمرو بن العاص کی والدہ کو نابغہ کہا جاتا تھا، طبری نے ایک جگہ بعض بد زبان راویوں کے حوالہ سے یا ابن العاہرۃ کے الفاظ بھی نقل کیے ہیں، نعوذ باللہ۔ غ) تم فاسقوں کے دوست اور مسلمانوں کے دشمن کب نہیں رہے؟ تمہاری نسبت اس ماں ہی کی طرف تو کی جائے گی جس نے تم کو جنا ہے؟ عمروؓ نے کہا: آج کے بعد میں اور تم کسی مجلس میں اکٹھے نہ ہوں گے۔ علیؓ نے جواب دیا: مجھے امید ہے کہ اللہ تم جیسوں سے میری مجلس کو پاک ہی رکھے گا۔‘‘
لیکن باور کرنا چاہیے کہ علیؓ و عمرو بن العاصؓ کا یہ مکالمہ جو اس روایت میں مذکور ہے جندب یا اس کے بیٹے کا گھڑا ہوا ہے۔ (اوپر گزر چکا ہے کہ یہ دونوں روای نہایت ضعیف ہیں۔غ) حضرت عمرو بن العاصؓ کو گالیاں بک کر اس رافضی نے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ عمرو بن العاصؓ عمر میں علیؓ سے ۳۳ یا ۳۴ سال بڑے تھے۔ اسلام میں ان کے شاندار کارنامے ہیں، کوئی ڈھکی چھپی چیز نہ تھے۔ اور تہذیب و شرافت کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہرگز اتنے پست اور فروتر نہ تھے کہ عمرو بن العاصؓ تو ان کی شان میں ایک نازیبا بات بھی اپنی زبان سے نہ نکالیں اور علیؓ انہیں ایسی مغلظ گالیاں بکیں۔
اس کے متعلق قابلِ اعتماد روایت وہ ہے جسے ابن جریر نے ابو مخنف کی ذکر کردہ اس روایت کے بعد ثبت کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
حدثنی علی بن مسلم الطوسی ثناحبان ثنا مبارک عن الحسن قال اخبرنی الاحنف ان معاویۃ کتب الی علی ان امح ہذا الاسم ان اردت ان یکون صلح فاستشار وکانت لہ قبۃ یاذن لبنی ہاشم فیہا ودیاذن لی معہم، قال ماترون فی ما کتب بہ معاویۃ ان امح ہذا لاسم قالوا برحہ اللہ، فان رسول اللہ ﷺ حین وادع اہل مکۃ کتب ’’محمد رسول اللہ‘‘ فابوا ذلک حتی کتب: ’’ہذا ما قاضی علیہ محمد بن عبد اللہ فقلت لہ ایہا الرجل مالک وما لرسول اللہ ﷺ: و انا لو علمنا احدا من الناس احق بہذا الامر منک لبا یعناہ ثم قاتلناک وانی اقسم باللہ لئن محوت ہذا لاسم الذی بایعت علیہ وقاتلتہم لایعود الیک ابدا۔ (طبری ایضاً الجزء الخامس ص 53)
علی بن مسلم طوسی نے حبان بن ہلال بصری سے اور حبان نے مبارک بن فضالہ بصری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ حسن بصری نے ذکر کیا کہ مجھے احنف بن قیس نے بتایا کہ امیر معاویہؓ نے صفین میں معاہدہ صلح کے متعلق حضرت علیؓ کو لکھا کہ اگر آپ واقعی صلح چاہتے ہیں تو صلح نامہ سے لفظ ’’امیر المؤمنین‘‘ ساقط کر دیں۔ علیؓ نے اس کے متعلق اپنے اس خاص خیمہ میں مشورہ لیا جس میں بنی ہاشم کو اور مجھ کو آنے کی اجازت دیتے تھے۔ فرمایا کہ معاویہؓ کے اس اصرار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، ہم اسے قبول کر لیں یا رد کر دیں؟ بنی ہاشم نے کہا: اللہ نے اس لفظ کو مٹانے کی اجازت دی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین مکہ کے اصرار پر لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو مٹا دیا تھا اور لکھا تھا کہ ’’ہذا ما قاضی علیہ محمد بن عبد اللہ‘‘۔ احنف کا بیان ہے کہ یہ سن کر میں نے (احنف نے) کہا: اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کے اس عمل سے استدلال کرنا درست نہیں ہے (کہ آپؐ کا رسول ہونا کسی کے ماننے نہ ماننے پر موقوف اور امت کے انتخاب پر مبنی نہ تھا بلکہ آپؐ کی رسالت تو من جانب اللہ تھی اور آپ اللہ کی طرف سے صریح وحی کی وجہ سے رسول تھے، جبکہ کسی شخص کا امیر المؤمنین ہونا وحی الٰہی پر مبنی نہیں بلکہ اس کا تعلق امت کی رضامندی اور اس کے انتخاب سے ہے، رسول کا دعویٰ رسالت سے دست بردار ہونا یا اللہ تعالیٰ کا اسے معزول کر دینا متصور نہیں، جبکہ امیر المؤمنین مستعفی بھی ہو سکتا ہے اور امت بھی اسے معزول اور برطرف کر سکتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے عصبیت کی بنا پر آپ سے بیعت نہیں کی ہے بلکہ اپنے علم میں آپ کو خلافت کا اہل تر سمجھ کر آپ کی خلافت و امارت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالا ہے اور اگر ہمارے علم میں آپ کی بہ نسبت خلافت و امارتِ عامہ کا کسی اور شخص کو زیادہ حق حاصل ہوتا اور وہ اس کا آپ کی بہ نسبت اہل تر ہوتا تو ہم اسی سے بیعت کر کے آپ سے جنگ کرتے جس طرح کہ آپ سے بیعت کر کے ہم معاویہؓ وغیرہ سے برسر پیکار ہیں۔) اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے یہ لفظ ’’امیر المؤمنین‘‘ جس کی آپ نے بیعت لی ہے اور جس کی بنا پر آپ نے لوگوں سے جنگ کی ہے مٹا دیا تو یہ خطاب آئندہ کبھی آپ کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئے گا، یعنی پھر آپ امیر المؤمنین نہ بن سکیں گے۔
یہ روایت سند کے اعتبار سے قابلِ اعتماد ہے اور معنی و درایت کے لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے تمام رواۃ صدوق و ثقہ ہیں۔ علی مسلم طوسی امام بخاری و ابوداؤد و نسائی کے شیوخ میں سے ہیں اور ثبت و ثقہ ہیں۔ اور حبان بن ہلال بصری بھی بالاتفاق ثبت و ثقہ ہیں۔ امام احمد نے ان کے متعلق کہا ہے: ’’الیہ المنتہی فی التثبت بالبصرۃ‘‘۔ ابن سعد نے ان کو ثبت و ثقہ و حجت بتایا ہے۔ اور مبارک بن فضالہ بصری امام حسن بصری کے مشہور تلامذہ میں سے ہیں، صدوق و ثقہ ہیں۔ حسن بصری اور احنف دونوں ثقہ تابعی ہیں۔
دیکھیے اس روایت میں اس تہذیب سے گرے ہوئے مکالمہ کا کوئی ذکر نہیں جس کی ابو مخنف کی روایتِ سابقہ میں حضرت علیؓ و حضرت عمرو ابن العاصؓ کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ علاوہ بریں یہ روایتِ صحیحہ کذب و دروغ کے اُن دبیز پردوں کو بھی چاک کر دیتی ہے جو مؤرخین نے صفین میں اس مصالحت اور جنگ بندی کے معاملہ میں حضرت علیؓ کے موقف پر تیرہ سو سے برس سے ڈال رکھے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں جیسا کہ ہم اوپر تفصیل سے بتا چکے ہیں کہ حضرت علیؓ اس موقع پر مصالحت اور جنگ بندی کے خلاف تھے اور اپنی فوج کے خصوصاً اُن علماء وقاریانِ قرآن کے دباؤ میں آکر جو بعد میں باغی ہو گئے تھے حضرت علیؓ نے جنگ بندی و تحکیم کو منظور کیا تھا۔ لیکن اس مشہورِ عام افواہ کے برعکس یہ روایت بتاتی ہے کہ حضرت علیؓ نے بطوع و رغبت جنگ بندی و مصالحت کو منظور فرمایا تھا اور اس میں کسی کے دباؤ اور جبر و اکراہ کو دخل نہ تھا۔
اس میں مذکور ہے کہ امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کو لکھا تھا: ’’امح ہذا الاسم ان اردت ان یکون صلح‘‘ اگر آپ صلح کے خواہش مند ہیں تو معاہدہ کی تحریر میں اپنے نام کے ساتھ ’’امیرالمؤمنین‘‘ لفظ نہ لکھوائیں، اس کو مٹادیں۔ پس امیر معاویہؓ نے اس لفظ کو محو کرنے کو شرطِ صلح قرار دیا تھا۔ اگر حضرت علیؓ اسے تحریر سے محو نہ فرماتے تو معاویہؓ آمادۂ صلح نہ تھے۔ لہٰذا اگر حضرت علیؓ نے جبر و اکراہ اور دباؤ کی وجہ سے صلح کو منظور کیا ہوتا اور انہیں جنگ جاری رکھنے پر اصرار ہوتا تو اس وقت نہایت آسانی کے ساتھ وہ صلح کی گفتگو کو توڑ سکتے تھے۔ اور اگر وہ فی الواقع جویائے صلح نہ ہوتے تو احنف بن قیس کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے امیر معاویہؓ کی ضد پوری کرنے سے انکار فرما دیتے۔
نیز احنف بن قیس کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ امیرالمؤمنین کے محو اثبات کے بارے میں حضرت علیؓ نے خاص کر بنی ہاشم اور احنف بن قیس سے رائے لی تھی۔ بنی ہاشم نے محو کا مشورہ دیا تھا تاکہ صلح کی گفتگو ٹوٹنے نہ پائے، اور احنف نے سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی تھی اور اسے ثابت رکھنے پر زور دیا تھا خواہ اس کے نتیجہ میں جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ احنف کی رائے تنہا احنف کی رائے نہ تھی، احنف اپنی قوم کا سردار اور ذی اثر شخص اور اصابتِ رائے میں ضرب المثل تھا۔ مگر حضرت علیؓ نے صلح جوئی کی خاطر احنف کی رائے مسترد کر دی تھی۔
حالانکہ بعد میں ثابت ہوا کہ جو احنف کی رائے تھی وہ حضرت علیؓ کی فوج میں ایک معتدبہ جماعت کی رائے تھی۔ آٹھ ہزار کی تعداد میں جو لوگ حضرت علیؓ سے کٹ کر نہروان میں جمع ہوگئے تھے ان کا حضرت علیؓ پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے معاہدہ کی تحریر سے اپنے لیے امیرالمؤمنین کا لفظ کیوں ساقط کیا، وہ قمیص جو اللہ نے آپ کو پہنائی تھی خود اپنے ہاتھوں سے کیوں اتار دی؟
(نیز ابن کثیر کی ایک اور روایت بھی اصل حقیقت کو سامنے لے آتی ہے۔ ابو وائل بیان کرتے ہیں: کنا بصفین فلما استحر القتال باہل الشام اعتصموا بتل، فقال عمرو بن العاص لمعاویۃ ارسل الی علی بمصحف فادعہ الی کتاب اللہ فانہ لن یابی علیک، فجاء بہ رجل فقال بیننا و بینکم کتاب اللہ … فقال علی نعم انا اولی بذالک بیننا و بینکم کتاب اللہ۔ ہم صفین میں تھے جب اہلِ شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی، شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ عمرو ابن العاصؓ نے معاویہؓ سے کہا: آپ علیؓ کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، مجھے امید ہے کہ وہ اس سے انکار نہ کریں گے۔ معاویہؓ کی طرف سے ایک آدمی علیؓ کی طرف آیا اور کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔ علیؓ نے قبول کر لیا اور کہا: میں لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا زیادہ حقدارہوں، ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، البدایۃ والنہایۃ ج 7 ص 272، اس روایت کی سند امام احمد نے یہ بیان کی ہے: حدثنا یعلی بن عبید عن عبد العزیز بن سیاہ عن حبیب بن ابی ثابت عن ابی وائل احمد سے ہی ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔غ)
فریقین کے درمیان معاہدہ لکھا گیا۔ تب حضرت علیؓ کے حکم سے اشعث ابن قیس نے لشکرِ علیؓ کے ایک ایک قبیلہ اور ایک ایک دستہ کے سامنے اُسے پڑھنا اور اس کے مضمون سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کیا۔ چنانچہ ابو مخنف نے ابو جناب یعنی یحییٰ بن ابی حیہ الکلبی سے روایت کی ہے کہ:
خرج الاشعث بذلک الکتاب یقرئہ علی الناس ویعرضہ علیہم فیقرؤنہ حتی مربہ علی طائفۃ من بنی تمیم فیہم عروۃ بن ادیۃ وہو اخو بلال فقرء علیہم فقال عروۃ بن ادیہ تحکمون فی امر اللہ عز و جل الرجال لا حکم الا للہ ثم شذ بسیفہ فضرب بہ عجز دابتہ ضربۃ خفیفۃ واندفعت الدابۃ (تاریخ الرسل والممالک الجزء الخامس تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم الطبعۃ الثانیۃ دارالمعارف مصر ص 55)۔
اس معاہدہ کے برخلاف یہ آواز تنہا عروۃ بن ادیۃ کی ہی بلند نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک اچھا خاصا گروہ کثیر یہی کہنے لگا۔ اب لشکرِ علیؓ دو گروہوں میں منقسم ہو گیا تھا۔ ایک گروہ وہ تھا جس نے اس مصالحت و معاہدہ کو درست قرار دیا تھا ،دوسرا وہ تھا جو اسے نہ صرف غلط بلکہ فعلِ کفر سمجھ رہا تھا۔ بے شک پہلے گروہ کی لشکرِ علیؓ میں اکثریت تھی لیکن یہ دوسرا گروہ بھی تعداد میں کچھ کم نہ تھا۔
حضرت معاویہؓ اپنی فوج لے کر دمشق واپس ہوئے اور حضرت علیؓ نے صفین سے کوفہ کا رخ کیا۔ اور راستہ بھر لشکرِ علیؓ کے ان دونوں گروہوں میں باہم گالم گلوچ اور مار پیٹ ہوتی رہی۔ چنانچہ ابن جریر طبری لکھتے ہیں:
قال ابو مخنف ثنا ابو جناب الکلبی عن عمارہ بن ربیعہ قال خرجوا مع علی الی صفین وہم متوادون احباء فرجعوا متباغضین اعدائ۔ مابرحوا من عسکرہم حتی فشا فیہم التحکیم ولقد اقبلوا یتدافعون الطریق کلہ ویتشائمون ویضطربون بالسیاط۔ یقول الخوارج یا اعداء اللہ ادہنتم فی امر اللہ عزوجل وحکمتم۔ وقال الآخرون فارقتم اما منا و فرقتم جماعتنا فلما دخل علی الکوفۃ لم یدخلوا معہ حتی اتوا حروراء، فنزل بہا منہم اثنا عشر الفا و نادی منادیہم ان امیر القتال شبث بن ربعی التمیمی و امیر الصلاۃ عبد اللہ بن الکواء الیشکری والامرشوری بعد الفتح والبیعۃ للہ عزوجل والامر بالمعروف والنہی عن المنکر۔ (ایضاً ص 63)
’’عمارہ بن ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ کے لشکر والے جب صفین کی طرف اہلِ شام پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو اس وقت سب آپس میں دوست اور محبت کرنے والے تھے اور جب صفین سے واپس ہوئے تو اس وقت ایک دوسرے سے بغض رکھنے والے تھے۔ دوست دوست ہو کر گئے تھے اور دشمن دشمن بن کر لوٹے۔ صفین سے ہنوز کوچ نہیں ہوا تھا کہ تحکیم کا واقعہ لوگوں میں پھیل کر موجبِ نزاع بن گیا، وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے گالیوں کا تبادلہ کرتے اور باہم کوڑے مارتے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔ خوارج یعنی مصالحت اور تحکیم کو قبول نہ کرنے والے کہتے تھے کہ اے اللہ کے دشمنو! تم نے اللہ کے بارے میں مداہنت برتی اور دین میں انسانوں کو حَکم بنا لیا۔ اور دوسرا گروہ کہتا تھا کہ تم نے ہمارے امام کو چھوڑ دیا اور ہماری جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ تو جب علیؓ کوفہ میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ یہ لوگ کوفہ میں نہیں گئے بلکہ راستہ میں ان سے کٹ کر حروراء پہنچ گئے۔ وہاں ان میں سے بارہ ہزار لوگوں نے پڑاؤ کیا۔ منادی نے اعلان کیا کہ جنگ کا امیر شبث بن ربعی تمیمی رہے گا اور نماز کا امام عبداللہ بن الکواء یشکری ہوگا۔ اور فتح کے بعد خلیفہ کا تقرر باہمی مشورہ سے ہو گا اور بیعت اللہ تعالیٰ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے لی جائے گی۔‘‘
یہ روایت بتاتی ہے کہ خوارج وہ لوگ تھے جو مصالحت کو نادرست سمجھتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ معاویہؓ سے برابر جنگ کی جائے۔ حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھی ان کے نزدیک شرعاً واجب القتل والقتال تھے۔ اور جن لوگوں کو شرعاً قتل کرنا ضروری اور جن سے قتال کرنا واجب ہو ان سے مصالحت درست نہیں۔ (ان میں بہت سے وہ لوگ بھی تھے جو قاتلینِ عثمانؓ میں شامل تھے اور فریقین میں کسی مصالحت کو اپنے لیے موت سمجھتے تھے۔غ)
تحکیم ان دو شخصوں کے بارے میں ہوتی ہے جن میں سے کسی ایک کے متعلق متعین طور پر نہ بتایا جا سکے کہ وہ برسرِحق ہے اور یہ برسرِ باطل ہے۔ لیکن اگر کسی کا برسرِ باطل ہونا ظاہر ہو اور وہ کھلم کھلا جرم کا مرتکب ہو تو اس کے بارے میں تحکیم بے معنی ہے۔ اگر چند لوگوں نے مل کر چوری کی ہو یا زنا کا ارتکاب کیا ہو یا چند لوگ مل کر معاذ اللہ مرتد ہو گئے ہوں تو نہ ایسے مجرمین سے مصالحت ہو سکتی ہے نہ ان کے بارے میں تحکیم کی کوئی گنجائش ہے۔ خصوصاً یہ صورت بالکل غیر معقول و غیر مشروع ہے کہ خود ان مجرمین میں سے ہی ایک شخص کو حَکم بنا لیا جائے۔
یہ تھا ان خوارج کا حضرت معاویہؓ وغیرہ کے بارے میں اور مصالحت و معاہدۂ تحکیم کے متعلق نظریہ و استدلال۔ ان کج فہموں سے کوئی پوچھتا کہ تم لوگ امیر معاویہؓ اور ان کے اصحاب کو واجب القتل اور واجب القتال کیوں سمجھتے ہو؟ جن جرائم کی بنا پر کوئی مسلمان اسلامی قانون کی رو سے واجب القتل ہوتا ہے حضرت امیر معاویہؓ وغیرہ نے ان میں سے کس جرم کا ارتکاب کیا تھا؟ لے دے کر ان پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ صرف بغاوت کا الزام ہے۔ لیکن فی الواقع یہ الزام بھی ان پر عائد نہیں ہوتا، اس لیے کہ حکومتِ اسلامیہ قائمہ کے برخلاف خروج کر کے اسے مٹانے کی کوشش کرنا بغاوت ہے اور بے شک اس جرم کا مرتکب واجب القتل ہے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے برخلاف جن لوگوں نے خروج کیا تھا وہ بلااستثناء سب کے سب باغی اور شرعاً واجب القتل تھے۔
امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی تھی تو حضرت سیدنا علیؓ نے بھی بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کی چھ مہینے تک بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے عام مسلمانوں کے بعد یہ بیعت چھ ماہ بعد کی تھی، لیکن چونکہ اس پوری مدت میں ان کی طرف سے ابوبکرؓ کے خلاف خروج نہیں ہوا تھا اور عملاً انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی حکومت کو مٹانے کی کوئی کوشش نہیں فرمائی اس لیے وہ بغاوت کے الزام سے بری رہے۔
حضرت عثمانؓ کے عہد میں اگرچہ حضرت علیؓ امیر المومنین عثمانؓ سے ناخوش سے تھے اور متعدد روایات بتاتی ہیں کہ باغیوں کے سرغنوں مثلاً مالک اشتر سے ان کے تعلقات تھے، اور اس فتنۂ بغاوت کو انہوں نے مٹانے کی کوئی خاص کوشش بھی نہیں فرمائی تھی بلکہ اخیر میں وہ تقریباً غیر جانبدار سے ہو کر رہ گئے تھے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک ان روایات کی تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن باین ہمہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی تھی یا بغاوت میں حصہ لیا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیدنا علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے خلاف خروج نہیں فرمایا تھا۔
پس اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ و عمرو بن العاص و سعد بن ابی وقاص و عبد اللہ بن عمر و مغیرہ بن شعبہ و نعمان بن بشیر و زید بن ثابت و کعب بن مالک و محمد بن مسلمہ و رافع بن خدیج و فضالہ بن عبید و کعب بن عجرہ و عبد اللہ بن سلام و اسامہ بن زید و صہیب بن سنان و سلمہ بن سلامہ و حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم کو محض اس وجہ سے باغی نہیں قرار دیا جا سکتا کہ ان حضرات نے حضرت علیؓ سے بیعت نہیں کی۔ کیونکہ بیعت نہ کرنے کے باوجود ان لوگوں نے عملاً حضرت علیؓ کی حکومت کو ختم کرنے اور ان کے خلاف خروج کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔
رہی جنگِ صفین تو اس میں حضرت امیر معاویہؓ کی حیثیت مدافعانہ تھی۔ معلوم ہے کہ معاویہؓ پورے ملک شام کے حاکم اور ہر دل عزیز امیر تھے۔ ان کے پاس باقاعدہ تربیت یافتہ فوج تھی جس کی وفاداری و اطاعت شعاری ضرب المثل تھی۔ اگر معاویہؓ چاہتے تو علیؓ پر اسی وقت حملہ آور ہو جاتے جب وہ ام المومنین حضرت عائشہ اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں بصرہ پہنچے تھے اور جنگِ جمل واقع ہوئی تھی۔
تاریخ طبری وغیرہ میں مذکور ہے کہ دراصل حضرت علیؓ نے معاویہؓ ہی پر فوج کشی کے ارادہ سے مدینہ میں تیاریاں کی تھیں اور لشکر کو لے کر ربذہ میں قیام فرمایا تھا۔ اسی دوران انہیں یہ اطلاع ملی کہ ام المؤمنین عائشہؓ اور طلحہؓ و زبیرؓ مکہ سے بصرہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے شام کا ارادہ ملتوی فرما کر بصرہ کا رخ کیا، اور جب جنگِ جمل سے فارغ ہو گئے تو پھر نوے ہزار کی تعداد میں فوج لے کر شام کی طرف بڑھے۔ حضرت معاویہؓ کو جب اس کا علم ہوا تو وہ بھی تقریباً ستر ہزار سپاہیوں کو لے کر مقابلہ پر آگئے۔ الغرض امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کے خلاف مسلح خروج کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ انہیں اس بناء پر باغی قرار دیا جا سکے۔
اچھا تو پھر حضرت علیؓ ان کے درپہ کیوں تھے، اور آپ نے ان پر فوج کشی کیوں فرمائی تھی؟ اس لیے کہ امیر معاویہؓ کا حضرت علیؓ کی بیعت سے انکار یقیناً یہ معنی رکھتا تھا کہ پورا ملک شام حضرت علیؓ کے قبضہ و تصرف سے الگ رہے، اور پوری مملکت اسلامیہ دو حصوں اور دو فرمانرواؤں میں منقسم ہو جائے۔ جو بالکل نئی بات ہوتی جس کی گذشتہ اسلامی ادوار میں کوئی نظیر نہیں تھی۔ نیز حضرت علیؓ سمجھتے تھے کہ خلافت کے لیے میرا انتخاب بجا ہے، اور ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ امیرالمؤمنین کی حیثیت سے میرا حکم مانے۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے امیر معاویہؓ سے اقرار اور اطاعت کا مطالبہ کیا جسے حضرت معاویہؓ نے رد کر دیا۔ حضرت علیؓ نے انہیں باغی قرار دیا اور سمجھا کہ میری اطاعت قبول نہ کر کے معاویہ امت میں تفرقہ ڈال رہے ہیں۔
پھر حضرت علیؓ کو غلط یا صحیح ایسی اطلاعات بھی پہنچی ہیں کہ معاویہؓ اور ان کے ساتھی خونِ عثمانؓ کا بدلہ خود علیؓ سے لینا چاہتے ہیں اور قتلِ عثمانؓ کی ذمہ داری علیؓ پر ڈال رہے ہیں۔ پس حضرت علیؓ کو معاویہؓ کی طرف سے حملہ کا خطرہ تھا اس لیے بمصداق ؎ ’’علاج واقعہ پیش وقوع باید کرد‘‘ حضرت علیؓ نے خیال فرمایا ہو گا کہ امیر معاویہؓ کے حملہ سے پہلے خود ان پر حملہ کر کے متوقع فتنہ کا سر کچل دیں۔
لیکن حضرت معاویہ یہ سمجھتے تھے اور ان کا یہ سمجھنا غالباً بجا تھا کہ امتِ مسلمہ میں سے اصحابِ عدل نے خلافت کے لیے علیؓ کا انتخاب نہیں کیا ہے، یہ انتخاب گردن زدنی بلوائیوں اور قاتلینِ عثمانؓ کا ہے۔ اور ان فاسقین کا کیا ہوا فیصلہ پوری امت پر کیسے مسلط کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے معاویہ اس انتخاب کو غلط اور ناقابلِ اعتبار قرار دے کر حضرت علیؓ کو جائز امیر المؤمنین ماننے سے منکر تھے۔
ظاہر ہے کہ ایک غیر متعصب اور صحیح واقعات سے باخبر شخص کے لیے مشکل ہے کہ حضرت علیؓ و حضرت معاویہؓ میں سے کسی ایک کو برسرِ حق اور دوسرے کو برسرِ باطل قرار دے سکے۔ اس وقت بھی یہ معاملہ پیچیدہ تھا اور آج بھی پیچیدہ ہے اور غالباً ہمیشہ پیچیدہ رہے گا۔ اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ دونوں بزرگ معذور تھے اور دونوں ہی اپنی جگہ برسرِ حق تھے۔
ہاں تو صفین کی باہمی خوں ریزی کو روکنے کی خاطر حضرت معاویہؓ کی طرف سے تحکیم کی تجویز پیش کی گئی جسے حضرت علیؓ نے بطیب خاطر منظور فرما لیا (ہمارے نزدیک وہ روایات غلط ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے اس مصالحت و تحکیم کو اپنی فوج کے دباؤ سے قبول کیا تھا اور وہ فی نفسہ جنگ جاری رکھنے کے خواہش مند تھے۔)
تحکیم کا مطلب یہ تھا کہ ایک شخص ذی فہم اور ذی علم حضرت معاویہؓ کی طرف سے ہو جو اُن کے موقف سے پوری طرح باخبر ہو اور ان کی حجتوں اور دلیلوں سے بخوبی واقف ہو کہ کس بنا پر معاویہؓ نے علیؓ کی بیعت سے انکار کیا ہے اور اس معاملہ میں ان کے پاس کیا شرعی حجت ہے۔ اور ایک شخص حضرت علیؓ کی جانب سے ہو جو اُن کے موقف سے اچھی طرح باخبر ہو اور یہ بتا سکے کہ معاویہؓ کو اس دلیلِ شرعی کی بنا پر علیؓ سے بیعت کر لینی چاہیے اور علیؓ فلاں دلیل کی بنا پر جائز امیرالمؤمنین ہیں اور ان کی اطاعت تمام اہلِ ایمان پر لازم ہے اور قاتلانِ عثمانؓ سے علیؓ نے ان وجوہ کی بنا پر قصاص نہیں لیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
یہ تجویز نہایت معقول تجویز تھی اور خوارج نے جو اس پر اعتراض کیا تھا وہ ان کی کم فہمی و کج نظری پر مبنی تھا۔ جاہلوں کا یہ گروہ جنگ بندی اور مصالحت کو دین میں مداہنت اور ضعفِ ایمان کا نتیجہ اور تجویزِ تحکیم کے قبول کرنے کو کفر قرار دے رہا تھا۔ حالانکہ ان دونوں باتوں کا منشاء امت کی خیر خواہی اور ایمان کی قوت تھی۔
خوارج کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ بھی پھیلی ہوئی ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پہلے حضرت علیؓ کو جنگ بندی و مصالحت قبول کر لینے پر مجبور کیا تھا۔ اور جب فریقین کے درمیان معاہدہ مکمل ہو گیا تو ان ہی لوگوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور اسے کفر قرار دینے لگے، اورحضرت علیؓ سے کہا کہ ہمارا یہ فعل کفر تھا، ہم اس سے تائب ہو چکے ہیں آپ بھی اس سے توبہ کر لیجئے اور اقرار کیجئے کہ یہ ہمارا فعل نہایت غلط اور کافرانہ فعل تھا۔
ہم بتا چکے ہیں کہ حضرت علیؓ نے کسی دباؤ کی بنا پر مصالحت کو قبول نہیں کیا تھا اور ابتدا ہی سے لشکرِ علیؓ میں ایسے لوگ موجود تھے جو کسی قیمت پر مصالحت نہیں چاہتے تھے۔ یہ خوارج ان ہی میں سے (تھے) اور اس سے بھی اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ ان میں قاتلینِ عثمانؓ تھے۔
حروراء میں جمع ہو جانے والے خارجیوں کے پاس حضرت علیؓ نے اول عبد اللہ بن عباسؓ کو بھیجا پھر خود تشریف لے گئے اور سمجھا بجھا کر انہیں کوفہ لے آئے۔ کوفہ میں یہ لوگ وقتاً فوقتاً حضرت علیؓ کو پریشان کرتے رہے، خصوصاً جب آپ خطبہ کے لیے منبر پر کھڑے ہوتے تو چاروں طرف سے ’’لا حکم الا للہ‘‘ کا شور بلند کر دیتے۔ بسا اوقات حضرت علیؓ کو خطبہ جاری رکھنا دشوار ہو جاتا۔
پھر جب حضرت علیؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کو اور ان کے ساتھ شریح بن ہانی و ابن عباسؓ کو چار سو آدمیوں کے ساتھ جائے موعود یعنی دومۃ الجندل میں مقام ’’اذرح‘‘ کی طرف بھیجا جہاں ہر دو حکم عمرو بن العاصؓ اور ابوموسٰیؓ کو مل کر گفتگو کرنی تھی۔ تو کوفہ کے خارجی عبد اللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ہوئے، ان سب نے عبد اللہ بن وہب کو اپنا امیر منتخب کیا اور طے کیا کہ ہم سب ہم خیال لوگوں کو نہروان میں جمع ہو جانا چاہیے۔ راسبی نے خوارجِ بصرہ کو خط لکھ کر صورت ِحال سے مطلع کیا اور انہیں اپنے ساتھ مل جانے کی ترغیب دی۔ راسبی نے مدائن پر قبضہ کر لینے کا پلان بنایا۔ اس کے ساتھ تیس آدمی نکلے، بقیہ لوگ آگے پیچھے نہروان کی طرف روانہ ہوئے۔ راسبی اور اس کے ساتھیوں کو مدائن میں داخل ہونا نصیب نہ ہو سکا، کیونکہ سعد بن مسعود ثقفی نے، جو حضرت علیؓ کی طرف سے مدائن کا حاکم تھا، ان لوگوں سے مطلع ہو کر پانچ سو سواروں کے ساتھ ان کا راستہ روک لیا۔ فریقین میں ہلکی سی جھڑپ ہوئی مگر رات کی تاریکی میں راسبی اپنے ساتھیوں کو لے کر نہروان کی طرف نکل گیا۔ بصرہ سے بھی مسعر بن فدکی تمیمی کی قیادت میں پانچ سو خارجی نہروان جا پہنچے۔
تحکیم کا قضیہ حضرت علیؓ کے موافق نہ ہوا۔ حضرت علیؓ نے اس فیصلہ کو ناحق و باطل قرار دے کر اہلِ کوفہ کو پھر شام پر فوج کشی کے لیے آمادہ فرمایا اور نہروان میں جمع ہونے والے ان خوارج کو لکھا کہ قضیۂ تحکیم ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب ہم اہلِ شام کی سرکوبی کا قصد رکھتے ہیں، تم سب لوگ بھی لشکر میں واپس چلے آؤ۔ خوارج نے اس کا یہ جواب دیا:
اما بعد فانک لم تغـضب لربک انما غضبت لنفسک فان شہدت علی نفسک بالکفر و استقبلت التوبۃ نظرنا فی ما بیننا و بینک والا فقد نابذناک علی سواء ان اللہ لا یحب الخائنین (ایضا ص 78)
’’حمد و صلاۃ کے بعد واضح ہو کہ آپ اپنے رب کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لیے غضبناک ہوئے۔ پس آپ اس کا اقرار کریں کہ آپ نے تحکیم قبول کر کے کفر کا ارتکاب کیا تھا اور ازسرنو توبہ کریں تو ہم اپنے اور آپ کے معاملہ میں غور کریں گے ورنہ ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں، ہم کھلم کھلا آپ کے مخالف ہیں، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘
حضرت معاویہؓ و اہلِ شام سے نبرد آزما ہونے کے لیے حضرت علیؓ کے پاس مقام نخیلہ میں اڑسٹھ ہزار دو سو مردوں پر مشتمل لشکر جمع ہو گیا اور مزید فوج کے لیے آپ نے سعد بن مسعود ثقفی عاملِ مدائن کو تاکید لکھی۔ اِدھر خوارج نے عبد اللہ بن خباب کو، جو حضرت علیؓ کی طرف سے مدائن کے کچھ علاقہ پر حاکم تھے اور اپنی حاملہ کنیز کے ساتھ کوفہ کی طرف آرہے تھے، پکڑ کر ذبح کر دیا۔ حضرت علیؓ کو اس کی اطلاع ہوئی، تحقیقِ حال کے لیے حارث بن مرہ عبدی کو بھیجا، خوارج نے اسے بھی قتل کر دیا۔ تب حضرت علیؓ نے وہ لشکر لے کر نخیلہ سے نہروان کی طرف کوچ کیا۔ آخری بار آپ نے ان بدبختوں کو پھر راہِ راست پر لانے کی کوشش کی اور کہلایا کہ تم میں سے جن لوگوں نے عبداللہ بن خباب و حارث بن مرہ کو قتل کیا ہے انہیں ہمارے حوالہ کر دو۔ خوارج نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم سب ہی اس قتل میں شریک تھے۔ بالآخر میدانِ کارزار گرم ہوا۔ خوارج کل چار ہزار تھے، ان میں سے تقریباً سو آدمی امان مانگ کر حضرت علیؓ کے ساتھ آملے۔ پانچ سو آدمیوں کو لے کر فروہ بن نوفل اشجعی الگ ہو گیا، کچھ لوگ متفرق طور پر کوفہ کو چلے گئے۔ عبد اللہ بن وہب راسبی کے ساتھ صرف دو ہزار آٹھ سو لوگ بچے جو چشمِ زدن میں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیے گئے۔ ان میں سے کئی آدمی قاتلانِ عثمانؓ میں شامل تھے جیسے حرقوص بن زہیر اور شریح بن اوفی عبسی۔
مذہبی شناختیں: تاریخی صورتحال اور درپیش چیلنجز
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ادارہ تعلیم وتحقیق (ORE) کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے اساتذہ کی ایک نشست میں ’’مذہبی شناختیں، تاریخی صورت حال اور درپیش چیلنجز’’ کے عنوان پر ڈیڑھ دو گھنٹے گفتگو کا موقع ملا۔ کئی اہم سوالات بھی سامنے آئے جن پر معروضات پیش کی گئیں۔ چند بنیادی نکات جن پر گفتگو کی گئی، ملخصاً حسب ذیل ہیں:
۱۔ برصغیر میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت بنیادی طور پر سنی حنفی صوفی اسلام کی شناخت رہی ہے، تاہم تاریخی عوامل سے یہاں تدریجاً سنی اسلام کے مقابلے میں شیعہ اسلام، حنفی اسلام کے تقابل میں اہل حدیث اسلام، اور صوفی اسلام کے مقابلے میں سلفی اسلام کی شناختیں بھی قائم ہو چکی ہیں۔ قریبی زمانے میں اس تقسیم میں روایتی اسلام بمقابلہ تجدد پسند اسلام کا اور دعوتی اسلام بمقابلہ سیاسی اسلام کا بھی اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی دستیابی کے بعد یہ تفریق اب گروہی شناختوں سے آگے بڑھ کر شخصی فرقوں کی شکل میں بھی سامنے آ رہی ہے، اور مختلف اقسام کے داعیان اسلام اپنے اپنے شخصی حلقے تشکیل دے رہے ہیں۔
۲۔ اس صورت حال میں کسی قسم کی تخفیف کے امکانات بظاہر مفقود اور اضافے کے امکانات بہت واضح ہیں۔ اس کے دیگر تاریخی اسباب کے علاوہ ایک بہت بنیادی سبب جدید سیاسی طاقت کی خاص ساخت ہے جو نہ صرف اپنے وجود اور بقا کے لیے کسی مذہبی شناخت یا مذہبی قانون کی محتاج نہیں، بلکہ اپنے بنیادی تصور کے اعتبار سے مذہبی شناختوں پر کنٹرول قائم کرنے کا اختیار حاصل ہونے کی مدعی بھی ہے۔ اس کے مقابلے میں دارالاسلام اپنی بنت میں ایک دینی سیاسی تصور تھا جس میں حکمران طبقے کو قانونی جواز حاصل کرنے اور نظم سلطنت چلانے کے لیے کسی نہ کسی دینی تعبیر اور فقہی ضابطے کی احتیاج ہوتی تھی۔ یہ چیز جدید ریاست کو، چاہے وہ کتنی ہی ’’اسلامی’’ ہو، دار الاسلام کے ماقبل جدید سیاسی تصور سے بالکل مختلف بنا دیتی ہے۔
۳۔ دار الاسلام کا دینی سیاسی تصور اس نکتے کو بھی متضمن تھا کہ حکمران منحرف دینی رجحانات کا قلع قمع کرنے اور ان کے شیوع کا سدباب کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس کے نتیجے میں کسی خاص دینی تعبیر اور سیاسی طاقت کے مابین سمبندھ قائم ہونے کا اثر بسااوقات مخالف دینی گروہوں کی پرسیکیوشن کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا تھا۔ جدید ریاست اس کے بالکل برعکس، نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتی بلکہ خود کو ہر قسم کی مذہبی شناختوں کے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کا ذمہ دار مانتی ہے۔
۴۔ سیاسی طاقت کی اس نئی وضع کو نہ سمجھنے اور ذہنی طور پر قدیم تاریخی صورت حال میں مقید ہونے کی وجہ سے مذہبی شناختوں نے اپنی تقویت اور توسیع کے لیے، باہمی اختلافات کے دائرے میں تکفیر وتضلیل کی اور سیاسی طاقت کے روبرو مذہبی سیاست کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اس کے تین براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کا مرتب ہونا ناگزیر ہے۔ یہ تین اثرات حسب ذیل ہیں:
(۱) سیکولرائزیشن کے لیے جواز
(۲) مذہبی اظہارات پر ریاستی نگرانی اور تحدیدات کے قیام کا جواز
(۳) مذہب سے لاتعلقی، تنفر اور الحاد
۵۔ جدید ریاست چونکہ فی نفسہ اپنے قیام یا جواز کے لیے کسی قسم کی مذہبی بنیاد کی دست نگر نہیں، اس لیے مذہبی سیاست کے راستے سے یہ سمبندھ مصنوعی طور پر اور زبردستی قائم کرنے کا راستہ ایک خاص حد تک ہی آگے جا سکا ہے۔ بنیادی طور پر اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت علامتی سطح تک اور ظواہر کی حد تک محدود ہے، اور ریاستی نظام پر اس کے کوئی عملی اثرات مرتب نہیں ہو سکے۔ البتہ اس کھینچاتانی میں ایک طرف مذہب اور مذہبی قیادت کی اخلاقی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے، اور دوسری طرف اہل حل وعقد کے طبقات میں جوابی اقدامات کی ضرورت کا احساس بھی بیدار ہو رہا ہے جس کے نتائج بھلے کچھ عرصے کے بعد ظاہر ہوں، لیکن اس کے واضح آثار اس وقت بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
۶۔ سماجی سطح پر مذہبی شناختوں کی باہمی کشمکش نے جو بدنما صورت اختیار کی، اس میں ریاست ظاہر ہے، کسی خاص شناخت کی پشت پناہ تو بن نہیں سکتی تھی، لیکن مذہبی منافرت اور تصادم نے ریاست کو یہ موقع ضرور مہیا کیا ہے کہ وہ قیام امن کے لیے مذہبی اظہارات کو کنٹرول کرنے کے ایسے نظم وضع کرے جو ریاست کی نگرانی میں کام کریں۔ ہر انتظامی سطح پر مختلف قسم کی امن کمیٹیاں، علماء بورڈ، فرقہ وارانہ کتابوں پر پابندی، مذہبی ہم آہنگی کے اعلامیے، اور پیغام پاکستان جیسی دستاویزات اسی پیش رفت کے مختلف مظاہر ہیں اور یہ مجموعی پیغام دیتے ہیں کہ فرقہ وارانہ شناختوں کو ’’اچھا بچہ’’ بن کر رہنے کے لیے ریاست کی نگرانی اور محاسبے کی ضرورت ہے۔
۷۔ اپنی بقا اور تقویت کی موجودہ حکمت عملی کی وجہ سے مذہبی شناختوں کو سب سے زیادہ جس میدان میں پسپائی اور چیلنج کا سامنا ہے، وہ نئی نسل کو نفس مذہب سے، چہ جائیکہ کسی خاص مذہبی شناخت سے، وابستہ رکھنے کا میدان ہے۔ یہاں بھی مذہبی دانش کی تفہیم وتجزیہ معروضی نہیں، بلکہ غیر حقیقی خواہشات پر مبنی ہے۔ مذہبی طبقے سمجھتے ہیں کہ شناخت کو درپیش خطرات کے جواب میں شناخت کے حصار کو جتنا زیادہ تنگ اور بے لچک رکھیں گے، اتنا ہی شناخت کی حفاظت ممکن ہوگی جبکہ یہ تجزیہ بالکل غلط اور برعکس نتائج پیدا کرنے کا موجب ہے۔ بھاری بھرکم اور بے لچک مذہبی شناختوں کا جوا اٹھائے رکھنے کا تحمل نئی نسل میں نہیں ہے۔ جدید علم اور جدید دنیا نے مذہب کے بنیادی مسلمات پر اعتقاد رکھنے کو جتنا مشکل بنا دیا ہے، تعبیراتی اضافوں اور بھاری بھرکم شناختوں پر اصرار اس مشکل کو کم نہیں کرتا بلکہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
اس کا پہلا اور زیادہ عام مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ جب ہر فرقہ بہتر (۷۲) گمراہ فرقوں کے انجام کا ڈراوا دے کر خود کو ’’واحد نجات یافتہ’’ گروہ قرار دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس سے تکلیف اور ذمہ داری اور خدائی محاسبے کا جو دینی تصور پیدا ہوتا ہے، اس کو ہضم کرنا ذرا سا بھی اخلاقی شعور رکھنے والے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اگر اختلافات اور تعبیرات کے ہجوم میں واحد نجات یافتہ تعبیر دین متعین طور پر کسی ایک فرقے کے پاس ہے اور اس کے ساتھ وابستگی نجات کی شرط اولین ہے تو کتنے لوگ ہیں جو سارے کام چھوڑ کر اس تحقیق کے لیے خود کو فارغ کر سکتے ہیں؟ اور اگر تحقیق کے بغیر اپنے موروثی فرقے کے ساتھ جڑا رہنا مطلوب ہے تو اس میں کسی ایک فرقے اور دوسرے فرقے کی تخصیص کیسے ہو سکتی ہے؟
یہ وہ پہاڑ جیسا سوال ہے جس کا جواب کسی بھی فرقے کے پاس نہیں ہے، لیکن چونکہ کوئی بھی فرقہ اس میں ذرا بھی گنجائش دینے کے لیے آمادہ نہیں، اس لیے انسان کا فطری نفسیاتی ردعمل یہی بنتا ہے کہ وہ اس سوال سے ہی ذہناً لاتعلق ہو جائے۔ یہی لاتعلقی پھر مذہب کی مشہود صورت حال اور مذہبی طبقے کی اخلاقیات سے تنفر میں بدلتی ہے اور اس سے اگلا مرحلہ الحاد کا ہوتا ہے۔ پس الحاد کے اسباب جتنے خارجی ماحول اور جدید دنیا میں ہیں، اتنے ہی فرقہ وارانہ تعبیرات پر اصرار اور مذہبی رویوں میں بھی ہیں اور یہ رویے، مذہبی شناختوں کے تحفظ کے ارادے سے دراصل اس بنیاد (یعنی نفس مذہب سے وابستگی) کو ہی ڈھا دینے کا سبب بن رہے ہیں جس پر کوئی بھی مذہبی شناخت استوار ہو سکتی ہے۔
اقبال: پاکستانی جوہری توانائی منصوبے کا معمارِ اوّل
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
تعارف
کہا جاتا ہے کہ پاکستان بنانے کا خواب علامہ اقبال رحمہ اللہ نے دیکھا تھا۔ یہ بات کچھ اس شدّومدّ سے بیان گئی ہے کہ گویا علامہ موصوف نے شاید یہی ایک خواب دیکھا تھا، پھر ان کی آنکھ کھل گئی، اور وہ روزمرہ معمولات میں مشغول ہوگئے۔ پھر پاکستان بن گیا۔ اس ایک مثال پر اپنی تاریخ کی ایسی متعدد مثالیں قیاس کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً کیا یہی کافی نہیں ہے کہ اسلام، اسلامی تعلیمات اور اسلامی قانون سے متعلق قائد اعظم علیہ رحمہ کی تمام تقاریر کو عہدِ حاضر کے متنوّرین و متجدّدین چھوڑ کر ان کی 11 اگست 1947ء والی ایک ہی تقریر کو مصرع طرح بنا کر اس سے سیکولرازم پر مبنی تصورات کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ تقریر بدعنوانی اور اقربا پروری کی بیخ کنی پر تھی کوئی نظریاتی موضوع اس میں پیشِ نظر نہیں تھا۔
علامہ اقبال مرحوم نے امتِ مسلمہ کے لیے کوئی ایک خواب دیکھا ہو تو ہم کسی تعبیر والے کی تلاش کریں کہ وہ ہمیں تعبیر بتائے۔ علامہ مرحوم کی دیدہ بینا تو زندگی بھر مسلمانوں کے مآل و استقبال سے جڑی رہی۔ مسلمانوں کی زندگی کا وہ کون سا بند باب تھا جس پر آنجناب نے دستک نہ دی ہو۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تصورِ پاکستان کے بانی و موسس تو تھے لیکن وہاں پاکستان میں بستے مسلمانوں کے ریاستی امور سے لاتعلق تھے؟ یہ بات کہنے کے لیے شاید ہمیں ایک شخص بھی نہ ملے۔ حیاتِ اقبال کے گوشے جمع کرنے کی نسبت سے اہلِ علم کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ انھوں نے علامہ مرحوم کی زندگی کے کم و بیش ہر گوشے پر وہ وہ گوہرِ نایاب اور نازک آبگینے بحرِ اقبال کی غواصی کے بعد پیش کیے ہیں کہ علامہ کی روح شاید ہم سے کوئی شکوہ نہ کر سکے۔
علامہ اقبال، ایک ہمہ رخ مفکر
لیکن اقبالیات کا بڑے سے بڑے ماہر بھی شاید یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ علامہ مرحوم کی فکری زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اب مزید کسی تحقیق کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ علامہ علیہ رحمہ دراصل ایک فکری بجلی گھر کا نام ہے جس سے قلب و جگر کی تاریں جوڑ کر ہر برقی آلہ چلایا جا سکتا ہے۔ اور یہ عمل صرف پاکستان کے مسلمانوں کے برقی آلات چلانے کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ کبھی وہ ترکی کے مولانا رومی کے حلقۂ ارادت میں شریک ہو کر خود کو مریدِ ہندی قرار دیتے ہیں تو کبھی تہران کو عالمِ مشرق کا جنیوا قرار دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ 2007ء میں راقم ایران میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پڑھنے قزوین، ایران گیا تو وہاں ایک ترک پروفیسر سے بھی خوب نشست و برخاست رہی۔ ایک دفعہ دورانِ گفتگو میں راقم کے منہ سے بے دھیانی میں ایک جملہ یوں پھسل گیا: ’’ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اس بارے میں یوں کہا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی ترک پروفیسر نے قدرے خفگی اور محبت آمیز خفگی سے بھرے مجمع میں گفتگو رکوا کر پوچھا: ’’اس آفاقی شخصیت اور فیلسوفِ عہدِ حاضر کو تم لوگوں نے کب قومیا لیا ہے اور اگر قومیا ہی لیا ہے تو اس کمپنی کے کچھ حصص بیرونِ پاکستان باقی مسلمانوں کے پاس بھی ہیں، ان کا کیا ہوا؟‘‘ راقم کو معذرت کرنا پڑی۔
اکابر کے مطبوعہ ملفوظات
اکابر کے ملفوظات اور احوال و آثار اصاغر تک پہنچانے کے متعدد اسالیب میں سے ایک اسلوب ان کی بزم آرائیوں کی تحریری شکل بھی رہا ہے۔ بہت پیچھے جائیں تو ہمیں اس کا سراغ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی تحریری اناجیل کی صورت میں ملتا ہے۔ محرمِ راز خالقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احوال و ملفوظات ہمیں ان کے اصحاب ہی کے توسط سے ملے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے جملہ افکار ہم تک ان کے مصاحبین اور شاگردوں کے توسط سے پہنچے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک مثال عالی مقام مولانا انور شاہ کشمیری ہیں جن کا تعارف ان کے شاگردوں اور مصاحبین کے توسط ہی سے جاوداں رہے گا۔ ایک مثال سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی ہے۔ تحریروں، تقریروں، انٹرویو اور خطوط کی شکل میں ان کے ملفوظات بڑی حد تک احاطہ تحریر میں لائے جا چکے ہیں۔ ان کے گھر پر منعقدہ عصری مجالس کی ایک تحریری مثال ہمارے سامنے ’’5 اے ذیلدار پارک‘‘ کی صورت میں موجود ہے1۔ علامہ اقبال بھی انہی بڑے لوگوں میں سے ہیں جن کے الفاظ ممکنہ حد تک محفوظ ہو چکے ہیں۔ ان کی بزم آرائی کی ایک تحریری مثال دو جلدوں میں ’’روزگارِ فقیر‘‘ ہے۔ مؤلفِ کتاب علامہ مرحوم کے متعدد مصاحبین میں سے ایک تھے2۔
مسلمانوں کے امور سے متعلق محققین کی قابلِ قدر کوششوں کے باوجود بہت کم لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے کہ مسلمانوں کے لیے جوہری توانائی کے حصول کا سب سے پہلا خواب بھی علامہ اقبال ہی نے دیکھا تھا۔ اس داعیے کی بنیاد پر اگر راقم کچھ کہتا ہے تو یقینی بات ہے، اسے لائقِ التفات نہ سمجھنے والے اہلِ علم حق بجانب ہوں گے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے جوہری توانائی کا خواب دیکھا تھا بلکہ ان کے اپنے الفاظ میں ’’(اس کے حصول کے) اس کام میں جو اخراجات ہوں گے ان کو پورا کرنے کے لیے اگر مجھے گھر گھر جا کر مانگنا پڑا تو میں ضرور مانگوں گا‘‘3۔
ایٹمی انشقاق میں علامہ کی دلچسپی
علامہ اقبال کے متعدد مصاحبین میں سے ایک وہی مذکورہ بالا صاحب ’’روزگارِ فقیر‘‘ ہیں۔ جوہری توانائی میں علامہ اقبال کی دلچسپی کو وہ ایک واقعے سے کشید کرتے ہیں:
’’ایٹمی توانائی کا راز
ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی نے اس حیرت انگیز واقعے کا انکشاف کیا کہ علامہ اقبال جن دنوں لندن میں تھے تو میں ایک دن دوپہر کو گیارہ بجے ان سے ملنے کے لیے گیا۔ وہاں مجھ سے پہلے ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ یہ نوجوان غالباً امرتسر کے کسی مسلمان کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور 1932ء میں اس نے انگلستان کی کسی یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس نوجوان نے عرض کیا: ’میرے والد نے مجھے خط لکھا ہے کہ تم نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے، ڈاکٹر اقبال حسنِ اتفاق سے لندن میں تشریف رکھتے ہیں، اپنے مستقبل کے بارے میں ان سے مشورہ کرو‘ (دراصل یہ نوجوان علامہ کے اثرورسوخ کے ذریعے کسی موزوں کام اور ملازمت کی تلاش میں تھا.)
علامہ نے اس نوجوان کو سر سے پاؤں تک بغور دیکھا بلکہ جائزہ لیا اور فرمایا ’تم بڑے صحیح وقت پر آئے ہو۔ تم جیسے نوجوان کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے بعد کہا میں جب ہندوستان سے روانہ ہو رہا تھا تو اس وقت استنبول سے استنبول لائبریری کے لائبریرین کا میرے پاس خط آیا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ میرے پاس ایٹم توڑنے (Atom Breaking) کا جو نسخہ موجود ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے جرمن مجھ پر بہت دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ میرا خط لے کر استنبول چلے جاؤ اور وہاں اس مقصد کے لیے اپنی زندگی کے کم از کم پانچ سال وقف کر دو۔ اس کام میں جو اخراجات ہوں گے ان کو پورا کرنے کے لیے اگر مجھے گھر گھر جا کر مانگنا پڑا تو میں ضرور مانگوں گا۔
وہ نوجوان علامہ کے اس مشورے کو سن کر بولا ’میرے والدین نے بڑی تکلیفیں اٹھا کر مجھے لکھایا پڑھایا ہے، اس لیے مجھے آپ کے مشورے پر اچھی طرح سوچنا پڑے گا۔‘
افسوس ہے، بات جہاں تھی، وہیں کی وہیں رہ گئی نہ تو یہ نوجوان طالب علم استنبول جانے کی ہمت کرسکا اور نہ علامہ اقبال کسی دوسرے پر اس اہم کام کے لیے اعتماد کر سکے۔ اس طرح سائنس کا یہ عظیم کارنامہ مسلمانوں کی بجائے یورپی اقوام کے مستقبل میں لکھا گیا‘‘4۔
اس واقعے کی روایت اور درایت
اس واقعے کے راوی اور مولف کتاب کے دوست، ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ مولف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کے مطابق وہ ایبٹ آباد کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے 1918ء میں گلاسکو یونیورسٹی سے طب میں امتیازی شان سے سند حاصل کی۔ رائل انڈین میڈیکل سروس میں کمیشن حاصل کرنے والے وہ پہلے ہندوستانی اور مسلمان تھے۔ آگرہ اور کاکول کے فوجی اسپتالوں کے سربراہ رہے۔ 1921ء میں ملازمت ترک کر کے انگلستان جا کر وہاں پریکٹس کرنے لگے۔ مولف کے بقول
’’نہایت صحیح العقیدہ اور درد مند مسلمان ہیں۔ علامہ اقبال کا فیضِ صحبت، ان کی گفتگو اور خیالات میں صاف جھلکتا ہے اور ’’جمال ہم نشیں‘‘ ان میں خاصا اثر کر گیا ہے۔‘‘
مولف روزگارِ فقیر ڈاکٹر قریشی کے بارے میں مزید فرماتے ہیں:
’’انھوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اس کا اظہار کیا کہ میں علامہ سے متعلق واقعات اور یادداشتوں کو محفوظ کرنے کا کام سرانجام دوں گا۔ لیکن کہاں کراچی اور کہاں لندن؟ یہ بُعدِ مسافت اس کام میں حائل اور مانع رہا۔ اوائل مارچ میں انھوں نے یہ اطلاع دی، بلکہ نوید ِ جانفزا سنائی کہ میں کراچی پہنچ رہا ہوں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ نہ جانے کب بلاوا آجائے۔ اس لیے چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم سے متعلق جو یادداشتیں میرے ذہن و حافظے میں محفوظ رہ گئی ہیں، انھیں آپ کو منتقل کروں تاکہ آپ ان کو قوم تک پہنچا سکیں‘‘5۔
حدیثِ اقبال کے اس مخلص راوی کے احوال زیادہ معلوم نہیں ہو سکے۔ اصولِ روایت کی روشنی میں اگر علامہ اقبال کا درد مند مصاحب فقیر وحید الدین کسی شخص کے حق میں نہایت صحیح العقیدہ اور درد مند مسلمان کی تراکیب کا سہارا لے تو سلسلہ سند متصل اور درست ہونے کے باعث اس باب میں مزید کسی کلام کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ یہ واقعہ خبر آحاد ہوتے ہوئے بھی ضعف سے خالی ہے۔
اس واقعے کا تجزیہ اصولِ درایت کی روشنی میں کیا جائے تو علامہ اقبال کی قدرومنزلت ہمارے دلوں میں دو چند ہو جاتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور علامہ مرحوم نے الہ آباد کے مقام پر 1930ء میں دیا تھا۔ پھر ایک طویل خاموشی کے بعد 1937ء کے انتخابات کے بعد کانگریسی حکومتوں کے کارہائے ابلیسی کے ردِعمل میں 1940ء میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی۔ اسے ہندو ذرائع ابلاغ نے طنزاً قراردادِ پاکستان کہا جو نوشتۂ دیوار بن گئی۔ 1932ء میں انگلستان کی کسی یونیورسٹی سے انجنئیرنگ کی اعزازی سند حاصل کرنے والا مذکورہ نوجوان 1932ء ہی میں، غالباً تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر علامہ اقبال سے ملا۔ اندازہ کیجیے، یہ وہ عہد تھا جس میں مسلمانوں کے علیٰحدہ وطن کے آثار کم و بیش نہ ہونے کے برابر تھے۔ ادھر مسلمانوں کے علیٰحدہ وطن کے تصور کا مصنف خود اپنے بارے میں خطبۂ الہ آباد شروع ہونے سے قبل یوں کہتا ہے6: I lead no party, I follow no leader بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بے خانماں مسلمانوں کے لیے وطن کا خواب دیکھنے والا علامہ سیاسی بصیرت ہی سے مالا مال نہیں تھا، وہ مسلمانوں کی آسودہ حالی کی خاطر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے سر سید احمد خان کی طرح گھر گھر جا کر مانگنے کو بھی تیار تھا۔
صاحبِ ’روزگارِ فقیر‘ کی تحقیق
ملفوظاتِ اقبال کے کسی اور گوشے میں راقم کے علم کے مطابق اس واقعے کے متعلق کچھ نہیں ملتا۔ البتہ خود مولف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کو جستجو لاحق ہوئی۔ گمان غالب ہے کہ انھوں نے کیا تو بہت کچھ ہوگا لیکن ہمیں اس کا زیادہ علم نہیں ہو سکا۔ تاہم جو کچھ انہوں نے لکھا، وہ ان الفاظ میں ہے:
’’یہ نسخہ کب تک ترکی میں محفوظ رہا؟ جرمن اسے لے جانے میں کامیاب ہوئے تو کب؟ اگر اس کا مصنف کوئی مسلمان سائنس دان تھا تو کون؟ اسے اسپین میں لکھا گیا یا عرب میں؟ وہ مسلمان نوجوان جسے علامہ نے اس مقصد کے لیے دعوت دی تھی، آج کل کہاں ہے اور علامہ نے اسے مزید کیا بتایا تھا؟ یہ اور بعض ایسے ہی سوالات تحقیق طلب ہیں۔ راقم الحروف نے اس نوجوان کا نام معلوم ہوئے بغیر کیمبرج یونیورسٹی سے رابطہ قائم کیا۔ لیکن خاطر خواہ معلومات نہ مل سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ترکی سفارت خانہ برائے پاکستان سے اس ترکی لائبریرین یا عالم کا پتہ لگانے میں تعاون کی درخواست کی گئی۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کے ذریعے پاکستانی سفارت خانہ برائے ترکی سے مراسلت شروع کی گئی۔ چنانچہ 10 مئی 1964ء کو وزارتِ خارجہ پاکستان کی طرف سے مصنف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کو ایک خط موصول ہوا، جس میں ڈائریکٹر وزارتِ خارجہ پاکستان کے نام سفارت خانۂ پاکستان برائے ترکی کا ایک خط اور مطلوبہ معلومات کی ایک نقل ملفوف تھی۔ ان معلومات میں کہا گیا ہے کہ:
’’ترکی میں علامہ اقبال کے ایک بڑے اچھے دوست پروفیسر خلیل خالد گزرے ہیں۔ خلیل خالد ایک معروف ترک خاندان کے فرد تھے۔ آکسفورڈ میں تعلیم مکمل کی۔ استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ علامہ سے ان کی خط و کتابت کا ذکر مکاتیبِ اقبال کے مجموعوں میں آچکا ہے۔ ایک خط میں علامہ پروفیسر خلیل خالد کو بعض کتابیں تجویز کر کے ان کے ناموں کی فہرست بھیجتے ہیں اور انھیں Prof. A Fischer of Lipzig سے رابطہ قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘
خیالِ غالب ہے کہ علامہ نے مندرجہ بالا واقعے میں جس ایٹمی نسخے کا حوالہ دیا تھا، اس کا تعلق کسی لائبریرین سے نہیں، پروفیسر خلیل خالد سے ہو سکتا ہے۔ پروفیسر خلیل خالد بقیدِ حیات ہوتے تو شاید یہ مسئلہ، مسئلہ نہ رہتا بلکہ ساری دنیا اس پوشیدہ حقیقت سے باخبر ہو کر حیران رہ جاتی۔ کیا عجب تھا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیق کے نتیجے میں مسلمانوں کی علمی عظمت کا کوئی شاندار پہلو سامنے آسکتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ قدرت کو شاید یہی منظور تھا کہ اس حقیقت پر گم نامی کا پردہ پڑا رہے۔ بہرحال یہ مسئلہ اقبالیات، سائنس اور خصوصاً ایٹمی توانائی کے استعمال کی دریافت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے دعوتِ غور و فکر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘7۔
خلاصہ کلام اور راقم کی رائے
کتاب روزگارِ فقیر پہلی دفعہ 1964ء میں چھپی۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مولف کو ملنے والے پاکستانی دفتر خارجہ کے خط محررہ 10 مئی 1964ء کی خط و کتابت کی شروعات سال چھ ماہ قبل ہوئی ہوں گی۔ یہ وہ عہد ہے جس میں ہر طرف علمی ہی نہیں عوامی سطح پر بھی علامہ اقبال کا جادو سر پر چڑھ کر بول رہا تھا۔ یہ خط ڈائریکٹر وزارتِ خارجہ برائے ترکی کے دستخطوں سے تھا۔ اس زمانے میں ریاستی ڈھانچہ آج کل کی طرح بوجھل اور فیلِ بے زنجیر کے مثل نہیں تھا۔ اور ذرا دل تھام کے غور کریں، 1964ء میں پاکستان کا وزیر خارجہ کون تھا، ذوالفقار علی بھٹو! اب اس کے آگے سرکاری فائلوں تک رسائی کا معاملہ ہے جو قاعدے کے مطابق تیس سال بعد نیشنل آرکائیوز میں رکھ کر مؤرخین اور محققین کے لیے عام کر دی جاتی ہیں۔ راقم کو وہاں جانے کا صرف دو دفعہ موقع مل سکا، جس ناگفتہ بے حالت میں اور الل ٹپ طریقے پر کاغذات اور فائلیں وہاں پر ملتے ہیں، وہ کچھ دیکھ کر تیسری دفعہ وہاں جانے کی ہمت نہیں ہو سکی۔ امید کی جاتی ہے کہ 1964ء کے آس پاس اس بارے میں ہونے والی اس خط و کتابت پر محققین تحقیق کریں گے۔
تاہم پوری زندگی اسلام آباد ہی میں گزارنے کے باعث ملکی اربابِ حل و عقد سے گاہے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق اس وقت کی اعلیٰ بیوروکریسی کی متفق علیہ روایت ہے کہ پاکستان کے موجودہ جوہری پروگرام سے کہیں قبل (جس کی داغ بیل 1974ء کے ہندوستانی ایٹمی دھماکے کے جواب میں خود بھٹو صاحب نے رکھی تھی) جبکہ وہ وزیر تجارت تھے۔ تب سے وہ جوہری تحقیق کے متعلق کابینہ کے اجلاسوں اور نجی محفلوں میں اس کے داعی اور مؤبد رہے۔ کیوں؟ کیا اس کا سبب یہ تھا کہ علامہ اقبال سے متعلق فقیر وحید الدین کے خطوط بالخصوص جوہری توانائی کی بابت لکھے گئے مذکورہ خطوط ان کی نظروں سے گزرے تھے۔ یا یہ محض توارد ہے؟ وجہ کچھ بھی ہو اس کی دریافت محققین کے ذمہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیسویں صدی میں جب سے جوہری توانائی کا ذکر عام ہوا، علامہ اقبال وہ پہلے مسلمان تھے جنھوں نے اس علم کے حصول کا خواب دیکھا اور اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے گھر گھر جا کر مانگنے پر بھی وہ رضامند تھے۔ تعجب اس پر ہے کہ اس علم کے حصول کے لیے مصور پاکستان گھر گھر جا کر مانگنے کا عہد کرتے ہیں تو عملاً اس پروگرام کی داغ بیل ڈالنے والا قائد عوام کہتا ہے: ’’گھاس کھالیں گے، مگر ایٹمی توانائی ضرور حاصل کریں گے۔‘‘
علمِ انشقاقِ جوہر کے حصول کی علامہ کی خواہش دیگر ضمنی شواہد سے یکسر بیگانہ یا تہی دامن نہیں ہے۔ تشکیلِ الہٰیاتِ جدید جیسے مباحث سے لے کر علامہ کے شاعرانہ کلام تک ہمیں جگہ جگہ یہ شواہد ملتے ہیں کہ علامہ اقبال طبعی سائنس اور جوہری توانائی کا بخوبی علم رکھتے تھے۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کے خیال میں اقبال طبعی سائنس اور کائنات کے متعلق تحقیق و تجسس کو عبادت کی قسم قرار دیتے تھے8۔ اسی طرح فکرِ اقبال سے واجبی سی دلچسپی رکھنے والوں نے بھی علامہ کا وہ شعر یقیناً پڑھا سنا ہو گا جو خالصتاً ان کے علمِ انشقاقِ جوہر کا بین ثبوت ہے9:
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
زیرِ نظر تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے محققین جامعات خصوصاً اور دیگر اہلِ علم میں سے کوئی صاحبِ دل محقق بالعموم اس موضوع کو اپنی تحقیق کا مدار بنائے اور پتا ماری کر کے حقیقت کا سراغ لگائے۔ تاریخِ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور اکابر پاکستان کے مخفی گوشوں کا سراغ لگانا آخر محققین ہی کے ذمہ تو ہے۔
حوالہ جات
- مظفر بیگ، ’’5 اے ذیلدار پارک روداد مجالس سید ابوالاعلی مودودی‘‘، البدر پبلی کیشنز، لاہور، 1979ء
- فقیر سید وحید الدین، ’’روزگار فقیر (شاعر مشرق کے واقعات، نادر اشعار اور تصاویر کا مجموعہ)‘‘، لائن آرٹ پریس (کراچی) لمیٹڈ، کراچی 1965ء۔ دو مجلدات میں سے جلد دوم کا تعلق زیر نظر موضوع سے ہے۔ تمام حوالہ جات اسی دوسری جلد ہی ہیں۔
- روزگارِ فقیر، ج 2، ص 81
- ایضاً، ص 82-80
- ایضاً، ص 79-78
- علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد 1930ء کثرت سے شائع ہو چکا ہے کہیں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
- روزگارِ فقیر، ایضاً، ص 85-84
- رضی الدین صدیقی، ’’اقبال کا تصورِ زمان و مکان‘‘، اقبال اکیڈمی پاکستان، لاہور، ص 4
- علامہ اقبال کا یہ مشہورِ زمانہ شعر بانگِ درا کی نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
عید کا تہوار اور شوال کے روزے
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی
عید الفطر، انعام کا دن
رمضان المبارک کا برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ایک عظیم مہمان تھا جس نے روزہ داروں کا بھی اکرام کیا اور انہیں مختلف قسم کی خوشیوں سے سرفراز فرمایا، اب یہ رونقیں سال بعد کسی کی زندگی ہوئی تو نظر آئیں گی۔ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی عید کی رات شروع ہو جاتی ہے جسے عرفِ عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس رات کو عبادات میں ہم مسلمانوں نے گزارنا تھا لیکن مختلف قسم کی خرافات اس چاند رات میں کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو عیدین کی راتوں میں شب بیداری کر کے قیام کرے اس کا دل نہیں مرے گا جس دن کہ سب لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ)
ہمیں اس رات کو اللہ کے آگے گڑگڑانا چاہیے اور اپنی مزدوری مانگنے کے لئے بے قرار ہونا چاہیے، زیادہ سے زیادہ استغفار و نوافل پڑھنے چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں اور عبادات کو قبول فرمائے۔ چاند رات کو ایک خرابی یہ بھی کی جاتی ہے کہ ماہِ مبارک کے وہ تمام انوار و برکات جو مسلمانوں نے حاصل کی ہوتی ہیں اس رات میں لہو و لعب میں مشغول ہو کر ضائع کر دی جاتی ہیں، وہ تمام خرافات جن سے عام مسلمان بچے رہتے تھے اس رات میں وہ سب خرابیاں پھر سے نمودار ہو جاتی ہیں۔
حدیث شریف میں اس رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کی رات میں ثواب کی نیت سے جاگ کر عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ فضیلت کے اعتبار سے فطر کی رات رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی طرح ہے، اس رات کو لیل الجائز یعنی انعام کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ (قیام رمضان لمحمد بن نصر المروزی، ص: 262)
یکم شوال مسلمانوں کی عید کا دن ہوتا ہے اس دن روزہ داروں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ عید کا لفظ عود سے بنا ہے جس کا معنی ہے لوٹنا۔ عید ہر سال لوٹتی ہے اور اس کے لوٹ کر آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ فطر کا معنی ہے روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے روز روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہٰذا اس دن کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔
عید، انبیاءؑ ماسبق کی مستقل روایت
اگر تاریخِ امم سابقہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر مذہب میں عید منانے کا تصور موجود تھا۔ ان میں سے بعض کا ذکر یوں ملتا ہے:
ابوالبشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو جس دن اللہ رب العزت نے قبول فرمایا، بعد میں آنے والے اس دن عید منایا کرتے تھے۔
جد الانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی تھی۔
اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تھی۔
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اس روز عید مناتی تھی جس روز آسمان سے ان کے لئے مائدہ نازل ہوا تھا۔
الغرض عید کا تصور ہر قوم، ملت اور مذہب میں ہر دور میں موجود رہا ہے لیکن عید سعید کا جتنا عمدہ اور پاکیزہ تصور ہمارے دینِ اسلام میں موجود ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں، اے مسلمانو! اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو! تمھیں قیام اللیل کا حکم دیا گیا، لہٰذا تم نے اسے بجا لایا، تمھیں دن میں روزے کا حکم دیا گیا، تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی؛ لہٰذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہو جاتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمھارے رب نے تمھاری مغفرت کر دی، اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ، یہ یومِ جائزہ (انعام کا دن) ہے۔ (الترغیب والترہیب، حدیث نمبر 1659)
عید کے دن کی سنتیں اور مستحبات
عید کے دن مندرجہ ذیل اعمال مستحب ہیں: غسل کرنا، مسواک کرنا، مباح عمدہ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا، صبح سویرے بیدار ہونا تاکہ ضروریات سے فارغ ہو کر جلدی عید گاہ پہنچ سکے، نماز عید الفطر کے لیے جانے سے پہلے کچھ میٹھی چیز کھانا (جیسے طاق عدد کھجور وغیرہ)، عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا، فجر کی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا، پیدل عید گاہ جانا، عید کی نماز کے لیے عید گاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، عید الاضحیٰ میں بھی عید الفطر کی طرح ان اعمال کو کیا جائے مگر عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے۔
راستے میں عید الفطر میں آہستہ اور عید الاضحیٰ میں بلند آواز سے تکبیر ’’اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد‘‘ پڑھتے جانا۔
صدقہ فطر
جو مسلمان اتنا مالدار ہے کہ ضروریات سے زائد اس کے پاس اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر عید الفطر کے دن صدقہ فطر واجب ہے، چاہے وہ مال و اسباب تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گزرے یا نہیں۔ غرضیکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے زکوٰۃ کے فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانی ضروری نہیں ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل و اعیال کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔
عید الفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے اور جو بچہ صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا ہے اس کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔ صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ہے، البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لئے جانے سے قبل ادا کر دیا جائے۔ (بخاری ، مسلم)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتیٰ کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے۔ (بخاری)
نماز عید الفطر کی ادائیگی تک صدقہ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نمازِ عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں، لیکن زیادہ تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں کیونکہ اس سے صدقہ فطر کا مقصود اور مطلوب ہی فوت ہو جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابلِ قبول زکوٰۃ ہو گی اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (ابو داؤد)
کھجور اور کشمش کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک پیمانہ ہے، صدقہ فطر ادا کرنا ہے۔ البتہ گیہوں کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علماء امت میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ گیہوں میں بھی ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنا ہو گا، جبکہ علماء امت کی دوسری رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابو ہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر، اور اسماء رضی اللہ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان و پاکستان کے بیشتر علماء بھی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں گیہوں آدھا صاع ہے، یہی رائے مشہور و معروف تابعی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی تحریر کیا ہے کہ صدقہ فطر میں آدھا صاع گیہوں نکالنا کافی ہے۔ (الاختیارات الفقیہ)
عید کی نماز کا طریقہ
نماز عیدالفطر کی نیت کے عربی الفاظ یہ ہیں:
نویت ان اصلِی رکعتی الواجِبِ صلوۃ عِیدِ الفطرِ مع سِت تکبِیرات واجِبۃ۔
اردو میں یوں کہے: ’’میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عید الفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں۔‘‘
عید الاضحیٰ کی نیت میں صلوۃ عید الفطر کی بجائے صلوٰۃ عید الاضحیٰ کہے، باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے، واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے۔ امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک اللھم) پڑھیں۔ پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں۔ اسی طرح تین مرتبہ کہیں، لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسبِ دستور باندھ لیں۔ امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار یا حسبِ ضرورت زیادہ وقفہ کرے۔ پھر امام تعوذ و تسمیہ آہستہ پڑھ کر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ جہر سے پڑھے۔ مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلٰی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں۔ پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلے سورۃ فاتحہ اور ساتھ کوئی سورۃ کی قرأت جہر سے کرے۔ بہتر یہ ہے کہ سورت الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں۔ قراٗت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں، پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے، تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد اور تعوذ و بسم اللہ و الحمد سے پہلے۔ اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قراٗتِ سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے۔ یہی افضل و اولیٰ ہے۔ واضح رہے کہ عید الاضحیٰ کی نماز بھی دو رکعتیں ہیں جو اسی طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ ان دونوں نمازوں کے بعد خطبہ واجب ہے، لہٰذا امام دو خطبے پڑھے گا اور مقتدی کو خاموشی کے ساتھ ان خطبوں کو سننا چاہیے۔
یہ مختصراً عیدین کے مسائل بھی ذکر کر دیے گئے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے اور خوشیوں کے یہ لمحات بار بار نصیب فرمائے، آمین یارب العالمین۔
شوال المکرم کے چھ روزے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا کہ انہیں رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ عطا کیا، اس میں نیکی کی توفیق بھی دی، اللہ کے نیک بندوں نے صدقہ خیرات کیا، قرآن پاک کی تلاوت کی، نماز تراویح کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے رزق میں بھی وسعت و برکت عطا فرمائی جس کے سبب مسلمانوں کے اندر انسانی ہمدردی اور غم خواری کے جذبات بیدار ہوئے۔ یہ سب رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کی برکات تھیں، اس مبارک مہینے کے بعد آنے والے مہینے کو بھی خاص مقام اور فضیلت حاصل ہے۔
شوال المکرم ہجری سال کا دسواں مہینہ ہے، اس کی پہلی تاریخ کو نماز دوگانہ (عید الفطر) ادا کی جاتی ہے، بہتر سے بہتر بدلے کی اللہ رب العالمین سے توقع ہوتی ہے، تشکر و امتنان سے نگاہیں جھکی ہوتی ہیں، بس ایک عجیب سماں ہوتا ہے جس سے روح تازہ ہوتی ہے۔ رمضان کے ساتھ شوال کے چھ روزوں کا اہتمام سال بھر کے روزوں کے ثواب کو آسان کر دیتا ہے۔ غور کرنے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے متعینہ روزوں میں سے روزہ اجر و ثواب کے اعتبار سے رمضان کے روزوں کی برابری رکھتا ہے۔ اس ابہام کی تھوڑی سی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ رمضان کا ہر روزہ دوسرے دس روزوں کے برابر ہے، اس طرح تیس روزے تین سو دنوں یعنی پورے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور پھر شوال کے چھ روزوں کو ملا لیا جائے تو پورے تین سو ساٹھ دنوں (ایک سال) کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
شوال کے چھ روزوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ اہلِ اسلام کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شوال کے چھ روزے رکھیں جس میں فضلِ عظیم اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال المکرم میں بھی چھ روزے رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزے کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شوال کے چھ روزے رمضان المبا رک کے روزوں کے ساتھ مشروط ہیں، یعنی رمضان کے ساتھ زوال کے بھی چھ روزے رکھے جائیں تب پورے زمانے کا ثواب ملے گا، ایسا نہیں کہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھ لیے تو پورے زمانے کا ثواب ملے گا، بلکہ رمضان کے بھی روزے رکھے پھر شوال کے رکھے تب یہ سعادت حاصل ہوگی۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام رمضان، ثم اتبعہ سِتا مِن شوالِ کان کصِیامِ الدھرِ۔ (صحیح مسلم)
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔’’
ایک دوسری حدیث پاک میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے:
سمِعت رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم یقول من صام رمضان وسِتا مِن شوالِ فکانما صام السن کلھا۔
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے رمضان المبارک کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو شوال کے چھ ایام میں پیدا فرمایا، تو جس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے ہر ایک کے بدلے اسے ایک حسنہ عطا فرمائے گا اور اس سے اس کے گناہ مٹا دے گا اور اس کے درجات کو بلند فرمائے گا۔‘‘ (در الناصحین)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد روایت کرتے ہیں کہ
’’جس نے شوال المکرم کے چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح بچہ اپنی ماہ کے بطن سے پیدا ہوتے وقت گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب)
اب یہ چھ روزے متواتر رکھ لئے جائیں یا ناغہ کر کے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے فرض روزے بیماری یا سفر وغیرہ یا کسی اور شرعی عذر کی وجہ سے رہ گئے ہوں ان کے لئے اہم یہ ہے کہ پہلے وہ فرض روزوں کی قضا کریں۔ اس بارے میں رائج موقف یہی ہے کہ بہتر تو یہی ہے کہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضا دی جائے کیونکہ یہ فرض ہیں، البتہ دلائل کی بنیاد پر یہ گنجائش موجود ہے کہ رمضان کی قضا سے پہلے شوال کے روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ رمضان کے روزوں کی قضا فوری طور پر واجب نہیں ہے بلکہ کسی بھی ماہ میں رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا کی جا سکتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں حتیٰ کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اپنے رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا عموماً گیارہ ماہ بعد ماہِ شعبان میں کیا کرتی تھیں جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔
شوال المکرم کے چھ روزے رکھنے کے فوائد
- رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پورے سال فرض روزہ رکھنے کا اجر ملتا ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔
- رمضان سے قبل و بعد شعبان و شوال کے روزے فرض نماز سے قبل و بعد والی موکدہ سنتوں کے مشابہ ہیں، جن کا فائدہ یہ ہے کہ فرض عبادتوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے قیامت کے دن سنتوں سے اس کمی کو پورا کیا جائے گا، جیسا کہ بہت سی حدیثوں میں اس کا ذکر وارد ہے۔ (سنن الترمذی)
- رمضان کے روزے رکھ لینے کے بعد شوال کے روزوں کا اہتمام کرنا رمضان کے روزوں کی قبولیت کی ایک اہم علامت ہے، کیونکہ جب اللہ تعالی بندے کی کسی نیکی کو قبول فرماتا ہے تو اسے مزید نیکی کی توفیق بخشتا ہے۔ جس طرح اگر کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان ہو، پھر اگر رخصتی کے وقت میزبان دوبارہ آنے کی دعوت دے اور اس پر اصرار کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مہمان کی آمد پر اسے خوشی ہے اور اس کی آمد قبول ہے۔ اسی طرح اگر ایک نیکی کے بعد بندے کو اسی قسم کی یا کسی اور قسم کی نیکی کی توفیق مل جائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی یہ نیکی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی ہے، جس طرح کہ اگر کوئی شخص نیک عمل کرنے کے بعد پھر گناہ کے کام کرنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا یہ نیک عمل اللہ تعالی کے نزدیک مردود ہے۔
قارئین کرام! شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔‘‘ (المعجم الاوسط)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ماہِ شوال المکرم کے یہ چھ روزے رکھا کریں، اللہ تعالیٰ ہم پر یقیناً رحمتیں نازل فرمائے گا۔ آخر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور ہماری تمام عبادات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بحرمۃ سید الانبیاء والمرسلین۔
موجودہ عرف و حالات کے تناظر میں نمازِ جمعہ کیلئے شہر کی شرط
مفتی سید انور شاہ
اتنی بات تو متفقہ طور پر مسلم ہے کہ جمعہ دیگر پانچ نمازوں کی طرح نہیں ہے کہ ہر قسم کی آبادی میں، جنگل میں، حضر ہو یا سفر، زمین ہو یا سمندر کی سطح، انفرادا ہو یا جماعت کے ساتھ، ادا ہو یا قضاء، ہر طرح پڑھنے کی اجازت ہو۔ بلکہ نماز جمعہ کیلئے کچھ خصوصی شرائط ہیں، یہی وجہ ہے کہ ائمہ اربعہ اور محدثین میں سے کسی کے نزدیک بھی آبادی سے دور صحراء اور جنگل میں جمعہ جائز نہیں۔ انہی شرائط میں سے ایک شرط احناف کے نزدیک مصر یعنی شہر کا ہونا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیت مبارکہ اپنے عموم اور اطلاق پر باقی نہیں ہے۔ تمام ائمہ نماز جمعہ درست اور واجب ہونے کیلئے کچھ نہ کچھ تخصیص ضرور کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ احناف کے ہاں شہر کی قید کی وجہ سے تخصیص بڑھ گئی ہے۔ دوسرے ائمہ کے ہاں دیہات میں جمعہ درست ہے، اس لیے ان کے ہاں تخصیص کچھ کم ہے۔
نماز جمعہ کیلئے شہر کے شرط ہونے پر حنفیہ کے دلائل
نماز جمعہ صحیح ہونے کیلئے شہر کے شرط ہونے پر حنفیہ کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
(١) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: أنہ قال: "لا جمعۃ ولا تشریق إلا فی مصر جامع۔ (کتاب الآثار لأبی یوسف: باب صلاۃ العیدین)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جمعہ اور عید کی نماز صرف بڑے شہر میں درست ہے۔‘‘
یہ حدیث مرفوعا و موقوفا دونوں طرح مروی ہے، چنانچہ محقق علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر، ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق اور علامہ ابن حزمؒ سے اس روایت کی تصحیح نقل کی ہے۔
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری اور درایہ میں اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں اسنادہ صحیح اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ومن ذلک حدیث علی لا جمعۃ ولا تشریق إلا فی مصر جامع أخرجہ أبو عبید بإسناد صحیح۔ (فتح الباری، باب فضل العمل فی أیام التشریق: ۲/۴۵۷/ط: دار المعرفۃ، بیروت)
(٢) بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے، جن کو ’’عوالی‘‘ کہا جاتا ہے، وہاں جمعہ نہیں پڑھا جاتا تھا اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی وہاں جمعہ ادا نہیں کیا، وہاں کے لوگ باری باری نماز جمعہ کیلئے مدینہ طیبہ حاضر ہوا کرتے تھے۔ اگر گاؤں میں جمعہ قائم کرنا جائز ہوتا، نیز اگر گاؤں، دیہات والوں پر نماز جمعہ فرض ہوتا تو مدینہ منورہ کے آس پاس دیہات کے لوگ سات سات میل کے فاصلے سے باری باری مدینہ طیبہ کیوں حاضر ہوتے، اپنے یہاں کیوں نہیں پڑھا کرتے تھے؟ اور جو مسجد نبوی نہیں آتے تو کیا ان پر جمعہ فرض تھا؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گاؤں، دیہات میں جمعہ قائم کرنا درست نہیں، ورنہ مدینہ کے اہل عوالی اپنے یہاں جمعہ قائم فرماتے۔
عن عائشۃ، زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، قالت: کان الناس ینتابون یوم الجمعۃ من منازلہم والعوالی، فیأتون فی الغبار یصیبہم الغبار والعرق، فیخرج منہم العرق، فأتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنسان منہم وہو عندی، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: «لو أنکم تطہرتم لیومکم ہذا» ( صحیح البخاری ،باب من أین تؤتی الجمعۃ، وعلی من تجب: ۲/۶/ط: دار طوق النجاۃ)
(۳) راجح قول کے مطابق جمعہ کی فرضیت مکہ مکرمہ میں ہو چکی تھی، مگر چونکہ قدرت نہیں تھی، اس لیے وہاں جمعہ ادا کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لا رہے تھے تو مدینہ طیبہ سے باہر بنو عمرو بن عوف کی بستی میں بخاری شریف کی روایت کے مطابق چودہ روز قیام فرمایا، جہاں جمعہ کا دن اور وقت آیا، کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی، چاہتے تو ادا کر سکتے تھے، مگر چونکہ چھوٹی بستی تھی اس لیے خود بھی جمعہ ادا نہ کیا اور دوسروں کو بھی ادائیگی کا حکم نہیں دیا۔
(۴) حجۃ الوداع کے موقع پر جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں قیام فرمایا، عرفات میں مسلمانوں کا بڑا مجمع موجود تھا، مگر آپ نے یہاں جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)۔ کیوں کہ آبادی نہ ہونے کی وجہ سے مقام عرفات محل جمعہ نہیں تھا۔
مصر کی لغوی اور شرعی تعریف
عربی لغت کی مشہور کتاب ’’لسان العرب‘‘ میں ہے کہ مصر لغت میں بکری یا اونٹنی کا دودھ تین انگلیوں سے یا پوروں سے دوہنے کو کہتے ہیں، دودھ والی اونٹنی کا دودھ کم ہونے کو بھی مصر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لفظ مصر کا اطلاق دو چیزوں یا دو زمینوں کے درمیان آڑ، رکاوٹ، باڑ وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔ مصر القوم المکان، کسی جگہ کو آباد کرنا، شہر بنانا، شہر کا نام۔ المصران، شہر کو فرو بصرہ، سرخ مٹی۔ (لسان العرب: تحت لفظ مصر، ۵/۱۷۵، بیروت) (القاموس الوحید ۸/۱۵۵/مادہ، مصر، ط: ادارہ اسلامیات ،لاہور)
واضح رہے کہ مصر ان اصطلاحات میں سے ہے، جس کی قرآن و سنت میں کوئی تعریف، تحدید اور تعیین نہیں کی گئی ہے۔ اور یہ متفقہ مسلمہ اصول ہے کہ جن الفاظ اور اصلاحات کی شریعت نے کوئی مخصوص معنی اور تعریف کی وضاحت بیان نہ کی ہو، تو ان کی تحدید و تعیین لغت اور عرف عام سے کی جاتی ہے۔ اس لئے فقہائے کرام نے اپنے فقیہانہ بصیرت کے مطابق اپنے زمانے کے عرف و حالات کا اعتبار کرتے ہوئے مصر یعنی شہر کی تحدید و تعریف کی ہے۔ تعریف چونکہ عرف کے اعتبار سے تھی اس لئے عرف کے بدلنے سے تعریف بدلتی رہی۔
حاصل یہ کہ فقہاء کرام نے مصر کی تعریف حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے بیان نہیں کی ہے، بلکہ جس زمانے میں جیسا عرف تھا، اس کے موافق علامات و آثار متعین کر کے تعریف کی ہے۔ ظاہر ہے علامات عرف کے بدلے سے بدلتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی علامات ایسی ہیں جو پہلے زمانے میں قابل رعایت تھیں، اب ان کا اعتبار نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مصر کی تعریف کے سلسلے میں فقہاء کرام کے اقوال میں اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ وجہ وہی ہے کہ ان حضرات نے اپنے زمانے کے عرف کے مطابق مصر کی تعریفات بیان کی ہیں۔ حقیقی تعریف اور ماہیت کی تعریف مقصود نہیں تھی۔ اور عرف کے تبدیل ہونے کی وجہ سے عرفی تعریف بھی بدل جاتی ہے۔ اس لئے فقہاء کرام کی بیان کردہ تعریفات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور نہ ان تعریفات پر مصر کا مدار ہے، بلکہ اس کا مدار عرف پر ہو گا۔ عرف میں جو جگہ اور مقام شہر کہلائے گی وہی شہر ہو گا، اور جس جگہ کو عرف میں گاؤں، دیہات سمجھا جائے گا وہ گاؤں، دیہات ہی ہو گا۔
مصر کی تعریف کے سلسلے میں فقہاء کرام کے متداول اقوال
مصر کی تعریف کے متعلق فقہاء کرام کے متداول اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱) امام ابو حنیفہؒ نے مصر کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ مصر وہ ہے جہاں گلی کوچے ہوں، بازار ہو، اس کے ماتحت دیہات ہو، وہاں والی (حاکم) ہو جو اپنے اثر و رسوخ اور اختیارات کی بنیاد پر ظالم اور مظلوم کے درمیان برحق فیصلہ کرتا ہو، نیز پیش آمدہ مسائل میں لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہوں۔
(٢) حنفیہ کی ظاہر روایت کے مطابق مصر وہ جگہ ہے جہاں امیر، قاضی اور مفتی موجود ہو اور ان کو اتنی قدرت حاصل ہو کہ وہاں شرعی احکامات اور حدود نافذ کر سکیں، اور اس کی کم از کم آبادی منی کے برابر ہو۔
(۳) امام کرخیؒ اور صاحب ہدایہؒ کے قول کے مطابق مصر وہ جگہ ہے جہاں امیر اور قاضی موجود ہو، جو احکام اور حدود نافذ کرنے پر قدرت رکھتے ہوں۔
(۴) امام ابویوسفؒ کے ایک قول کے مطابق مصر اس بڑی بستی کا نام ہے کہ اگر اس بستی کے آبادی کے لوگ وہاں کی بڑی مسجد میں اکھٹے ہو جائیں تو مسجد ان کیلئے ناکافی ہو۔
(۵) امام ابو یوسفؒ سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ مصر وہ مقام ہے جہاں کی مجموعی آبادی دس ہزار ہو۔
(۶) بعض مشائخ نے مصر کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے کہ مصر وہ مرکزی جگہ ہے جہاں ایک پیشہ کا آدمی کسی دوسرے پیشے میں لگے بغیر ایک سال تک صرف اپنے پیشے سے روزی کما کر زندگی بسر کر سکے۔
(۷) فقیہ ابو القاسم الصفارؒ فرماتے ہیں کہ مصر اس جگہ کا نام ہے جہاں اس قدر لوگ آباد ہوں جو کسی بھی بیرونی جارحیت اور حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرنے پر پوری طرح قادر ہوں۔
(۸) امام سفیان ثوریؒ سے منقول ہے کہ جس جگہ کو لوگ اپنے زمانے کے عرف کے اعتبار سے شہر سمجھتے ہوں وہی شہر ہے، اور جس مقام کو لوگ اپنے عرف میں شہر نہ سمجھیں وہ شہر نہیں ہو گا۔
(۹) ایک تعریف یہ بھی نقل کی جاتی ہے کہ مصر وہ جگہ ہے جہاں دینی اور دنیاوی ضروریات اور لوازم میسر ہوں۔
(۱۰) جہاں روزانہ کی بنیاد پر پیدائش اور موت کا سلسلہ جاری ہو۔
(۱۱) بعض حضرات نے یہ تعریف کی ہے کہ وہ آبادی جس کا شمار کرنا کچھ دشواری اور تکلف کے بغیر معلوم نہ ہو سکے۔
(۱۲) امام محمدؒ سے منقول ہے کہ وہ موضع جس کو وقت کا حکمران شہر کی حیثیت دے، وہ شہر ہے۔
(۱۳) بعض مشائخ سے منقول ہے کہ جہاں ہر پیشہ اور صنعت کا آدمی ہو اور بنیادی ضروریات میسر ہو، وہ شہر ہے۔
(بدائع الصنائع ۲ / ۱۹۲/ فصل فی بیان شرائط الجمعہ/ ط: دارالحدیث قاہرۃ، سنۃ الطبع : ۱۴۲۶ھ)
(المحیط البرہانی ۲۱ / ۴۳۹ /الفصل الخامس والعشرون صلاۃ الجمعۃ / ط: ادارۃ القرآن کر اتشی الطبعۃ الثانیۃ : ۱۴۳۹ھ)
(الفتاوی التاتارخانیۃ ۲ / ۵۴۸/ النوع الثانی : شرائط الجمعۃ / ط : فاروقیۃ کوئٹہ، ۱۴۳۱ھ)
فقہائے کرام کی ذکر کردہ تعریفوں میں قدر مشترک
مصر کی تعریف کے متعلق فقہاء کرام کے متداول اقوال ذکر کرنے کے بعد، اب اس امر کی وضاحت کی جاتی ہے کہ فقہاء کرام کے ان مختلف اقوال میں قدر مشترک کیا ہے؟ چنانچہ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ فقہاء کرام کے ان تمام اقوال کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک عام گاؤں، دیہات اور مصر میں فرق کی بنیاد دو اہم امور ہیں:
(۱) ایک آبادی کی کثرت اور قلت کا فرق کہ گاؤں، دیہات کی آبادی شہر کی آبادی کی بنسبت کم ہوتی ہے۔
(۲) دوسرا فرق یہ ہے کہ مصر کو ایک نمایاں اور مرکزی مقام کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں آس پاس مضافات اور اطراف کے لوگوں کا اہم اور بنیادی چیزوں کے سلسلے میں رجوع ہوتا ہے۔ لوگوں کیلئے ایک مرجع اور مرکزی جگہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے حوالے سے جو تعریف نقل کی جاتی ہے، اس میں مصر کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ وہاں گلی کوچے ہوں، بازار ہو، اس کے ماتحت دیہات ہو، یہ آبادی کی کثرت کی طرف واضح اشارہ ہے۔ قاضی، مفتی اور والی کا موجود ہونا اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اطراف کے لوگ وہاں مقدمات، تنازعات اور پیش آمدہ مسائل میں رجوع کریں گے۔ اور یہ لوگوں کیلئے ایک مرکزی مقام اور جگہ ہوگی۔
ظاہر الروایت کی تعریف اور امام کرخیؒ و صاحب ہدایہؒ سے منقول تعریف کہ جہاں قاضی، امیر اور مفتی موجود ہو اور ان کو شرعی احکام اور حدود کے تنفیذ پر قدرت ہو۔ اسی طرح بعض مشائخ کی ذکر کردہ یہ تعریف کہ جہاں ایک پیشہ کا آدمی کسی دوسرے پیشہ میں لگے بغیر ایک سال تک صرف اپنے پیشہ پر گزر بسر کر سکے، اسے دوسرا پیشہ اختیار کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ نیز یہ تعریف کہ جہاں انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات و لوازم میسر ہو۔
ان تمام تعریفات سے بالکل واضح طور پر معلوم ہوتا ہے مصر وہ جگہ ہے جو لوگ کیلئے مرکزی مقام ہو، جہاں اطراف کے لوگوں کا رجوع رہتا ہو۔
مصر کی دیگر دوسری تعریفات
ما لا یسع اکبر مساجدہ اھلہ آبادی کے لوگوں کیلئے بڑی مسجد نہ کافی ہو۔
مجموعی آبادی دس ہزار ہو، جہاں اتنے لوگ آباد ہوں جو کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے دفاع پر قادر ہو۔
جہاں روزانہ پیدائش اور موت کا وقوع ہو۔
جہاں کی آبادی بغیر زحمت کے معلوم نہ ہو سکے۔
یہ تمام تعریفات آبادی کی معتد بہ کثرت پر صریح دلیل ہے۔
مصر کی تعریف میں دو اہم بنیادی امور
مذکورہ بالا تفصیل اور وضاحت سے بھی صاف طور پر معلوم ہوا کہ درحقیقت فقہائے کرام کے ان مختلف اقوال میں کوئی تعارض اور اضطراب نہیں ہے، بلکہ جگہ کے مرکزی مقام اور آبادی کی کثرت کے اظہار کیلئے ہر فقیہ نے اپنے زمانے کے عرف کے اعتبار سے الگ الگ تعبیر اختیار کی ہے۔ اور یہ وھذا من اختلاف عصر و زمان لا من حجۃ و برہان کے قبیل سے ہے۔
لہذا جو علاقہ ایسا ہو، جہاں عام انسانی زندگی کے بنیادی ضروریات میسر ہونے کی وجہ سے مرکزی مقام اور لوگوں کیلئے مرجع ہونے کی شان رکھتا ہو اور اس میں عام علاقوں کے اعتبار سے آبادی زیادہ ہو تو وہ مصر کہلانے کا مستحق ہو گا، اور اس میں جمعہ کی ادائیگی ضروری ہوگی۔
مصر کا مدار عرف پر ہے
واضح رہے کہ مقام کی مرکزیت اور آبادی کی کثرت کیلئے فقہاء کرام نے کسی تعداد کو حتمی طور پر متعین نہیں کیا ہے اور نہ کسی تعریف کو حتمی طور پر حرف اخیر قرار دیا ہے، بلکہ اس کا مدار عرف پر رکھا ہے۔ عرف ہی فیصلہ کرے گا کہ کس آبادی کی کیا حیثیت ہے؟ اور جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ شریعت نے مصر کی تحدید و تعین نہ کرتے ہوئے اس کا مدار عرف عام پر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے اپنے اجتہاد کے موافق اپنے زمانے کے عرف و احوال کا اعتبار کرتے ہوئے مصر کی تعیین و تشخیص کی ہے۔ کونسی آبادی مصر کہلائے گی اور کونسی گاؤں، دیہات؟ اور پھر کونسی قصبہ اور قریہ کبیرہ ( بڑا گاؤں)؟ شہر کی کیا خصوصیات ہیں؟ گاؤں، دیہات اور قصبات کے کیا امتیازات ہیں؟ قریہ کبیرہ اور قریہ صغیرہ کہتے وقت عموما کن صفات کا لحاظ رکھا جاتا ہے؟ ان تمام امور کا تعلق عرف کے ساتھ ہے، عرف عام ہی سے ان امور کی پہچان ہو گی۔
محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں: مصر کی تعریف عرف اور لغت پر محمول ہے۔ (فیض الباری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری)
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی صاحبؒ لکھتے ہیں: عرفا جس قریہ کو کبیرہ سمجھیں وہ کبیرہ ہے اور جس کو صغیرہ سمجھیں وہ صغیرہ ہے۔ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں، قریہ کی تعریف عرف پر مفوض ہے۔ (فتاری دار العلوم دیوبند کتاب الجمعۃ : ۱ / ٣٨ - ٥٣)
فتاوی محمودیہ میں ہے: مصر کی تعریف میں بہت سے اقوال ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر اور قریہ ہونا عرفی چیزیں ہیں، جس زمانے میں جیسا عرف ہوا ویسی ہی علامات متعین کر کے، علماء نے تعریف کر دی۔ (٨ / ١٤١ / باب صلاۃ الجمعۃ)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ مصر ان اصطلاحات میں سے ہے کہ کتاب و سنت میں، اس کی تحدید و تعیین نہیں کی گئی ہے، اس لئے اس کا مدار عرف پر ہے، لوگ عرف میں جس زمانہ میں جو جگہ شہر کہلائے اور حکومت کی طرف سے جس کو شہر کی حیثیت دی جائے، وہی شہر ہے۔ (جدید فقہی مسائل : ۱/ ۱۱۴ / عبادات، ط: زمزم پبلشرز)
خلاصہ یہ کہ عرف میں جو مقام اور جگہ کثرت آبادی اور مرکزیت کی وجہ سے شہر سمجھا جاتا ہو، وہ شہر ہو گا اور جس جگہ کو عرف میں گاؤں دیہات قرار دیا جاتا ہو وہ گاؤں، دیہات ہو گا۔
مصر، قصہ، بڑا گاؤں، چھوٹا گاؤں میں فرق اور جمعہ کا حکم
جہاں تک مصر کا تعلق ہے، تو وہ معروف و متعین ہے، کوئی کسی شہر کو دیہات نہیں کہتا اور نہ کوئی دیہات کو شہر سمجھتا ہے۔ قصبہ جو عام دیہات اور گاؤں سے بڑی ہوتی ہے اور شہر سے چھوٹی، جس کو آج کل تحصیل بھی کہا جاتا ہے، انگریزی زبان میں اس کو ٹاؤن کہتے ہیں، اس کی حیثیت بھی شہر کی طرح نمایاں اور ممتاز ہوتی ہے۔ عام طور پر اس کی پہچان میں اشتباہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ البتہ چھوٹے گاؤں اور بڑے گاؤں کے فرق میں بعض اوقات اشتباہ ہو جاتا ہے اور جمعہ قائم کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔ چھوٹے گاؤں اور بڑے گاؤں کو پرکھنے کے لیے یہ معیار اور اصول یاد رکھا جائے تو کافی حد تک ذہنی الجھن اور اشتباہ ختم ہو جائے گا کہ کثیر آبادی کی وجہ سے عرف میں جسے بڑا گاؤں سمجھا جاتا ہو اور لوگوں کی بکثرت رجوع کی وجہ سے اسے مرکزی مقام کی حیثیت حاصل ہو تو اسے بڑا گاؤں قرار دے کر اس میں جمعہ قائم کرنا درست ہو گا، اگر ایسا نہ ہو بلکہ عام گاؤں، دیہات ہو تو اس میں جمعہ کرنا درست نہیں ہو گا۔
بڑے گاؤں کی آبادی کی کوئی حتمی تعیین و تحدید اور تعداد فقہاء کرام نے بیان نہیں فرمائی ہے بلکہ اس کو عرف پر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ فتاوی محمودیہ میں لکھتے ہیں کہ مردم شماری کے لحاظ سے کوئی خاص عدد لازم نہیں۔ یہ علامات کچھ مدت پہلے تین چار ہزار کی آبادی میں ہوتی تھیں۔ اب تمدن تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اب اس سے کم آبادی میں بھی یہ علامات جمع ہوتی ہیں۔ بعض بستیوں کی آبادی دو ہزار ہے، اس میں بھی یہ علامات موجود ہیں، بعض میں نہیں ۔(فتاویٰ محمودیہ، ۸ / ٨٣ / باب صلاۃ الجمعۃ / مکتبہ فاروقیہ کراچی)
مذکورہ بالا مباحث کی روشنی میں احناف کے نزدیک مندرجہ ذیل مقامات میں جمعہ قائم کرنا واجب ہے: (۱) شہر میں (۲) قصبہ میں (۳) بڑے گاؤں میں (۴) فناء مصر میں (۵) ربض المصر میں۔
کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی حکم سے گاؤں میں جمعہ قائم کرنا
اصل مسئلے سے پہلے بطور تمہید عرض یہ ہے کہ احناف کے نزدیک جمعہ صحیح ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ جس مقام پر جمعہ قائم کیا جائے وہ شہر ہو یا بڑا گاؤں۔
چھوٹے گاؤں، دیہات میں جمعہ کی ادائیگی درست نہیں ہوتی۔ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں گاؤں، دیہات میں بعض شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے جمعہ ادا کرنا درست ہوتا ہے، لیکن کسی ایک مسئلے میں مالکیہ یا شافعیہ کے قول کو لینا اور باقی نماز حنفیہ کے طریقے پر پڑھنے میں ’’تلفین‘‘ کا اندیشہ ہے، جو جمہور فقہاء کرام کے ہاں باطل ہے اور اس سے نماز درست نہیں ہوتی۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر کسی مسئلے میں ائمہ اربعہ کے مابین اختلاف ہو اور حاکم وقت یا اس کا نائب چاروں مذاہب میں کسی ایک مذہب کے مطابق حکم جاری کر دے تو رعایا کیلئے ایسی صورت میں مذہب الغیر پر عمل کرنا جائز ہوتا ہے، کیونکہ مجتہد فیہ مسائل میں حکم حاکم رافع اختلاف ہوتا ہے۔
اس تمہید کے بعد اصل مسئلہ یہی ہے کہ اگر کسی جگہ احناف کے مسلک کے مطابق جمعہ قائم کرنے کی شرائط موجود نہ ہوں، لیکن امام شافعیؒ کے مسلک کے موافق جمعہ ادا کرنا درست ہو، اور اس علاقے کے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر جمعہ قائم کرنے کا حکم دے دے، تو وہاں امام شافعیؒ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے جمعہ ادا کرنا صحیح ہو گا۔
وفی الدر المختار: إذن الحاکم ببناء الجامع فی الرستاق إذن بالجمعۃ اتفاقا علی ما قالہ السرخسی وإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ وفی حاشیۃ ابن عابدین: إذا أذن الوالی أو القاضی ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعۃ لأن ہذا مجتہد فیہ فإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ، وفیما ذکرنا إشارۃ إلی أنہ لا تجوز فی الصغیرۃ التی لیس فیہا قاض ومنبر وخطیب کما فی المضمرات والظاہر أنہ أرید بہ الکراہۃ لکراہۃ النفل بالجماعۃ؛ ألا تری أن فی الجواہر لو صلوا فی القری لزمہم أداء الظہر، وہذا إذا لم یتصل بہ حکم، فإن فی فتاوی الدیناری إذا بنی مسجد فی الرستاق بأمر الإمام فہو أمر بالجمعۃ اتفاقا علی ما قال السرخسی اہ فافہم والرستاق القری کما فی القاموس۔ [تنبیہ]
فی شرح الوہبانیۃ: قضاۃ زماننا یحکمون بصحۃ الجمعۃ عند تجدیدہا فی موضع بأن یعلق الواقف عتق عبدہ بصحۃ الجمعۃ فی ہذا الموضع وبعد إقامتہا فیہ بالشروط یدعی المعلق عتقہ علی الواقف المعلق بأنہ علق عتقہ علی صحۃ الجمعۃ فی ہذا الموضع وقد صحت ووقع العتق فیحکم بعتقہ فیتضمن الحکم بصحۃ الجمعۃ، ویدخل ما لم یأت من الجمع تبعا اہ قال فی النہر وفی دخول ما لم یأت نظر فتدبر۔ اہ۔
أقول: الجواب عن نظرہ أن الحکم بصحۃ الجمعۃ مبنی علی کون ذلک الموضع محلا لإقامتہا فیہ وبعد ثبوت صحتہا فیہ لا فرق بین جمعۃ وجمعۃ فتدبر۔ وظاہر ما مر عن القہستانی أن مجرد أمر السلطان أو القاضی ببناء المسجد وأدائہا فیہ حکم رافع للخلاف بلا دعوی وحادثۃ۔ وفی قضاء الأشباہ أمر القاضی حکم کقولہ: سلم المحدود إلی المدعی، والأمر بدفع الدین، والأمر بحبسہ إلخ وأفتی ابن نجیم بأن تزویج القاضی الصغیرۃ حکم رافع للخلاف لیس لغیرہ نقضہ۔:(باب الجمعۃ،۵/۱۰/ ط:دار الثقافۃ والتراث)
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ:لو أذن الوالی أو القاضی أن یعقد الجمعۃویبتنی المسجد الجامع فی قریۃ کبیرۃ فیھا سوق جاز بالاتفاق لأن عند الشافعی تصلی الجمعۃبالقریۃ التی فیھا أربعون رجال حر بالغا عاقلا مقیما،فکان فصلا مجتھدا فیہ،فإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ۔(کتاب الصلاۃ، شرائط الجمعۃ،۲/۵۵۴)
فتنے کے خوف سے گاؤں، دیہات میں جمعہ جاری رکھنے کا حکم
جن گاؤں، دیہات میں جمعہ کی شرائط موجود نہ ہونے کے باوجود ایک عرصہ دراز سے جمعہ ہو رہا ہو، تو اگر وہاں کے علمائے کرام کو یہ ظن غالب ہو کہ اگر عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ اس علاقے میں جمعہ کی ادائیگی درست نہیں ہے بلکہ ظہر کی نماز پڑھنا ضروری ہے، تو لوگ اس بات کو سن کر قبول کریں گے، اور جمعہ کو بند کرنے سے فتنہ، انتشار اور فسادات پیدا نہیں ہوں گے، تو ایسی صورت میں علمائے کرام پر لازم ہے کہ حکمت و بصیرت اور پیار و نرمی سے لوگوں کو مسئلہ بتائیں اور انہیں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز پڑھنے پر آمادہ کریں۔
لیکن اگر اس کے باوجود لوگ اس بات کو تسلیم نہ کریں اور جمعہ روکنے کی صورت میں گاؤں میں اختلاف و انتشار، فتنہ و فسادات برپا ہونے کا خطرہ ہو تو بہتر صورت یہ ہے کہ اس علاقے کے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر سے باضابطہ طور پر جمعہ قائم کرنے کی اجازت لی جائے، اور وہ جمعہ کے اجراء کا حکم جاری کر دے، تو پھر وہاں جمعہ کی ادائیگی درست ہو جائے گی، بشرطیکہ آبادی کم از کم چالیس افراد پر مشتمل ہو۔ اور اگر کمشنر سے اجازت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو یا اس کی ترتیب نہ بن پا رہی ہو، اور جمعہ رکوانے سے واقعتا فتنہ و فساد، اختلاف و انتشار کی فضا قائم ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو اس صورت میں بھی امام شافعیؒ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے جمعہ پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ اس صورت میں فتنہ و فساد کو ضرورت کے دائرہ میں داخل کر کے مذہب غیر پر عمل کی گنجائش دی گئی ہے، کیونکہ جس مسئلے میں ضرورت و حاجت اور ابتلاء عام کی وجہ سے اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنے میں شدید دشواری ہو تو ایسی صورت میں فقہاء کرام نے مذہب غیر پر فتوی دینے کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء احناف نے ضرورت و حاجت اور ابتلاء عام کی وجہ سے کئی مسائل میں دوسرے مذہب پر فتوی دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہاں چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: پہلی بات یہ ہے کہ ایسی جگہ پر جمعہ کی نئی جماعت قائم نہ کی جائے۔ اگر جمعہ رکوانے سے فتنہ اور فسادات کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں جمعہ بند کرنا ضروری ہے۔ ایک مرتبہ نماز جمعہ میں انقطاع آنے کے بعد دوبارہ شروع کرنے سے گریز ضروری ہے۔
مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت دہلویؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’حنفی مذہب کے موافق قری یعنی دیہات میں جمعہ صحیح نہیں ہوتا، اس لئے اگر کسی گاؤں میں پہلے سے جمعہ قائم نہیں ہے تو وہاں جمعہ قائم نہ کرنا چاہیئے، کیونکہ حنفی مذہب کے موافق اس میں جمعہ صحیح نہ ہو گا، اور فرض ظہر جمعہ پڑھنے سے ساقط نہ ہو گا۔ لیکن اگر وہاں قدیم الایام سے جمعہ قائم ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
(۱) یا یہ کہ اسلامی حکومت میں بادشاہ اسلام کے حکم سے قائم ہوا تھا، تو حنفی مذہب کی رو سے بھی وہاں جمعہ صحیح ہوتا ہے، اس لئے بند کرنا درست نہیں۔
(۲) یا یہ کہ بادشاہ اسلام کے حکم سے قائم ہونا ثابت نہیں، یا یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں نے خود قائم کیا تھا، مگر ایک زمانہ دراز سے پڑھا جاتا ہے، اس صورت میں حنفی مذہب کے اصول کے موافق تو اسے بند کرنا چاہیئے، یعنی بند کرنا ضروری ہے، لیکن چونکہ عرصہ دراز سے قائم شدہ جمعہ کو بند کرنے میں جو فتنے اور مفاسد پیدا ہوتے ہیں، ان کے لحاظ سے اس مسئلے میں حنفیہ کو شوافع کے مذہب پر عمل کر لینا جائز ہے، اور جبکہ وہ شوافع کے مذہب پر عمل کر کے جمعہ پڑھیں گے تو پھر ظہر ساقط نہ ہونے کے کوئی معنی نہیں۔ مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور مفاسد لازمہ عمل بمذہب الغیر کیلئے وجہ جواز ہیں۔‘‘ (کفایت المفتی: ۵/۱۲۱/ فصل فی شرائط المصر الجمعۃ/ط: ادارۃ الفاروق کراچی)
فتاوی عثمانی میں ہے:
’’فقہائے کرام کے ہاں جمعہ کی ادائیگی شرائط پر موقوف ہے، اور جہاں شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔ اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز جمعہ ادا ہوتی ہو اور اس کو بند کرنے سے آپس میں انتشار اور فتنہ بر پا ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں اس جگہ نماز جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر ایک مرتبہ نماز جمعہ میں انقطاع آنے کے بعد اس انقطاع کو برقرار رکھنے میں کوئی مانع نہ ہو تو دوبارہ شروع کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے‘‘۔ (فتاوی عثمانیہ پشاور: ۲/۵۱۲/باب الجمعۃ/ط:العصر اکیڈمی)
وفی الدر المختار:
إذن الحاکم ببناء الجامع فی الرستاق إذن بالجمعۃ اتفاقا علی ما قالہ السرخسی وإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ وفی حاشیۃ ابن عابدین: إذا أذن الوالی أو القاضی ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعۃ لأن ہذا مجتہد فیہ فإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ، وفیما ذکرنا إشارۃ إلی أنہ لا تجوز فی الصغیرۃ التی لیس فیہا قاض ومنبر وخطیب کما فی المضمرات والظاہر أنہ أرید بہ الکراہۃ لکراہۃ النفل بالجماعۃ؛ ألا تری أن فی الجواہر لو صلوا فی القری لزمہم أداء الظہر، وہذا إذا لم یتصل بہ حکم، فإن فی فتاوی الدیناری إذا بنی مسجد فی الرستاق بأمر الإمام فہو أمر بالجمعۃ اتفاقا علی ما قال السرخسی اہ فافہم والرستاق القری کما فی القاموس۔فی شرح الوہبانیۃ: قضاۃ زماننا یحکمون بصحۃ الجمعۃ عند تجدیدہا فی موضع بأن یعلق الواقف عتق عبدہ بصحۃ الجمعۃ فی ہذا الموضع وبعد إقامتہا فیہ بالشروط یدعی المعلق عتقہ علی الواقف المعلق بأنہ علق عتقہ علی صحۃ الجمعۃ فی ہذا الموضع وقد صحت ووقع العتق فیحکم بعتقہ فیتضمن الحکم بصحۃ الجمعۃ، ویدخل ما لم یأت من الجمع تبعا اہ قال فی النہر وفی دخول ما لم یأت نظر فتدبر۔ اہ۔
أقول: الجواب عن نظرہ أن الحکم بصحۃ الجمعۃ مبنی علی کون ذلک الموضع محلا لإقامتہا فیہ وبعد ثبوت صحتہا فیہ لا فرق بین جمعۃ وجمعۃ فتدبر۔ وظاہر ما مر عن القہستانی أن مجرد أمر السلطان أو القاضی ببناء المسجد وأدائہا فیہ حکم رافع للخلاف بلا دعوی وحادثۃ۔ وفی قضاء الأشباہ أمر القاضی حکم کقولہ: سلم المحدود إلی المدعی، والأمر بدفع الدین، والأمر بحبسہ إلخ وأفتی ابن نجیم بأن تزویج القاضی الصغیرۃ حکم رافع للخلاف لیس لغیرہ نقضہ۔ (باب الجمعۃ،۵/۱۰/ ط:دار الثقافۃ والتراث)
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ:
لو أذن الوالی أو القاضی أن یعقد الجمعۃ ویبتنی المسجد الجامع فی قریۃ کبیرۃ فیھا سوق جاز بالاتفاق لأن عند الشافعی تصلی الجمعۃ بالقریۃ التی فیھا أربعون رجال حر بالغا عاقلا مقیما، فکان فصلا مجتھدا فیہ، فإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعا علیہ۔ (کتاب الصلاۃ، شرائط الجمعۃ، ۲/۵۵۴)
وفی رشد المجلۃ للرستم باز لبنانی:
درء المفاسد أولی من جلب المنافع، أی إذا تعارض مفسدۃ ومصلحۃ، قدم رفع المفسدۃ، لأن اعتناء الشرع بالمنھیات أشد من اعتنائہ، بالمامورات۔ (المادۃ،۳۰،۳۲،/ط:المکتبۃ الحنفیۃ کوئٹۃ)
وفی حاشیۃ ابن عابدین:
لو افتی بہ فی موضع الضرورۃ لا بأس بہ علی ما أظن،قلت ونظیر ھذہ المسألۃ عدۃ ممتدۃ الطھر التی بلغت برویۃ الدم ثلاثۃ أیام ثم امتد طھرھا فإنھا تبقی فی العدۃ إلی أن تحیض ثلاث حیض، و عند مالکؒ تنقضی عدتھا بتسعۃ أشھر، وقال فی البزازیۃ: الفتوی فی زماننا علی قول مالک وقال الزاھدی کان بعض أصحابنا یفتون بہ للضرورۃ۔ (کتاب المفقود،۴/۲۹۰)
وفی أصول الإفتاء وأدابہ:
أن یکون فی مسألۃ مخصوصۃ خرج شدید لا یطاق، أو حاجۃ واقعیۃ لا محیص عنھا، فیجوز أن یعمل بمذھب آخر للحرج وإنجاز للحاجۃ، وھذا کما أفتی علماء الحنفیۃ بمذھب الشافعیۃ فی جواز الإستئجار علی تعلیم القرآن و بمذھب المالکیۃ، فی مسألۃ زوجۃ المفقود والعنین والمتعنت۔ (الإفتاء بمذھب أخر،۲۰۳/ط:مکتبہ:معارف القران)
وطن کا ہر جواں فولاد کی دیوار ہو جائے
سید سلمان گیلانی
خدا شاہد، اگر سینے میں دِل بیدار ہو جائے
تری ہر ہر نظر کون و مکاں سے پار ہو جائے
جو تو حق کی حمایت کے لیے تیار ہو جائے
نگاہیں تیر بن جائیں زباں تلوار ہو جائے
خلیل اللہ کا جذبہ اگر پیدا کوئی کر لے
تو نمرودوں کی آتش آج بھی گلزار ہو جائے
خدا سے تو مدد مانگے اگر اے نا خدا اب بھی
تو ہر طوفان سے تیرا سفینہ پار ہو جائے
سحر ہونے کو ہے، ایسا کوئی نغمہ سنا بلبل
چمن کا غنچہ غنچہ خواب سے بیدار ہو جائے
وہی رہتے ہیں زندہ، موت سے جن کو محبت ہے
وہی مرتے ہیں جن کو زندگی سے پیار ہو جائے
ارادے دشمنوں کے ہم سے ٹکرانے کے ہیں سلؔمان
وطن کا ہر جواں فولاد کی دیوار ہو جائے
(ہفت روزہ ترجمانِ اسلام، لاہور ۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء)
بین الاقوامی معیارات اور توہینِ مذہب کے قوانین پر رپورٹ
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ
(انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن کی طرف سے مئی ۲۰۲۳ء میں شائع کردہ رپورٹ کے تعارفی کلمات کے ایک حصے کا ترجمہ دوسری طرف کے موقف کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
توہینِ مذہب کے قوانین صحافت کے لیے ایک انوکھا چیلنج پیش کرتے ہیں۔ توہینِ مذہب کے قوانین غالب مذہبی روایات کو ترجیح دیتے ہیں اور انسانی حقوق کے اصولوں کی بہتری کی حوصلہ افزائی کے اظہار کو محدود کر کے مذاہب کے متعلق ترجیحات قائم کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ مذاہب کو ارتقاء سے روکتے ہیں کہ مذہبی نظریات پر اثر انداز ہونے والی رپورٹنگ اور رائے کو محدود کرتے ہیں اور نتیجتاً ترقی کے عمل کو سست کرتے ہیں یا روک دیتے ہیں۔ درحقیقت نسلی-مذہبی سیاسی تقسیم/نظاموں کے موجودہ دور میں توہینِ مذہب کے قانون کا سیاسی صحافت پر بھی حوصلہ شکنی کا سنگین اثر پڑتا ہے۔
توہینِ مذہب کے قوانین، جو مذہب پر تنقید یا توہین کرنے والے بیانیہ کی اجازت نہیں دیتے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، سوائے بعض محدود صورتوں کے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسی پابندیاں صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہیں جب وہ ایسے قومی، نسلی یا مذہبی نفرت کے اظہار کو ہدف بنائیں جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد پر اکسانے کا باعث بنتا ہو، جیسا کہ بین الاقوامی شہری اور سیاسی حقوق کے معاہدے کے آرٹیکل 20(2) میں بیان کیا گیا ہے۔
آرٹیکل 18 کے تحت آزادئ فکر، ضمیر اور مذہب کے حق کا تجزیہ اکثر ایسے حق کے طور پر کیا جاتا ہے جسے آرٹیکل 19 کے تحت آزادئ رائے کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے، اور آرٹیکل 20 کے ساتھ بھی جو کہ آزادئ رائے پر قابلِ اجازت پابندیوں کا تعین کرتا ہے۔ تاہم آرٹیکلز کو سرسری پڑھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آرٹیکل 18، 19 اور 20 اس طرح سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ باہم ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں (یا مکمل کرتے ہیں)۔
جبکہ صورتحال یہ ہے کہ آدھی دنیا، کم از کم 95 ممالک، اب بھی ایسے قوانین رکھتے ہیں جو توہینِ مذہب کی سزا دیتے ہیں۔ یہ تناسب بعض خطوں میں زیادہ ہے: مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے زیر تجزیہ تمام ممالک میں توہینِ مذہب کا کوئی نہ کوئی قانون موجود ہے، جبکہ 70 فیصد ایشیائی ریاستوں میں بھی توہینِ مذہب پر پابندی ہے۔ اگرچہ بعض ممالک، خاص طور پر یورپ میں، اپنے توہینِ مذہب کے قوانین کو منسوخ کر چکے ہیں، لیکن کئی انہیں برقرار رکھتے ہیں، اور موریطانیہ، نیپال، عمان اور روس جیسی ریاستوں نے تو انہیں مضبوط کیا ہے۔ تقریباً یہ تمام توہینِ مذہب کے قوانین فوجداری ہیں جو قید کی سزائیں دیتے ہیں۔ اور کم از کم چار منظور شدہ توہینِ مذہب کے قوانین اس جرم کے لیے سزائے موت نافذ کرتے ہیں۔
نتیجے کے طور پر توہینِ مذہب کے معاملے میں بین الاقوامی قانون اس ریاستی طرزعمل کے بالکل برعکس ہے جس میں اب بھی بہت سے ایسے قوانین نافذ ہیں، ان میں مغربی جمہوریتیں اور یورپ بھی شامل ہیں، جن میں سے اگرچہ بعض ممالک میں وہ متروک ہو چکے ہیں۔ اس ریاستی طرزِ عمل سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ توہینِ مذہب کے قوانین صحافت کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ اس کی ایسی رپورٹنگ اور رائے کم ہے جو مذہبی نظریات پر اثر انداز ہوتی ہو۔ مثال کے طور پر افغانستان، الجزائر، مصر، بھارت، انڈونیشیا، ایران، موریطانیہ، پاکستان، روس اور سعودی عرب سمیت بہت سی ریاستوں میں میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے توہینِ مذہب کے قوانین کا استعمال دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ممالک میں اس جرم کی سزا موت ہے اور اس کے نتیجے میں پھانسیاں دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے برعکس توہینِ مذہب پر پابندیوں کی اخلاقی حیثیت علاقائی اور قومی سطح پر متنازعہ ہے، خصوصاً مقامی سطح پر عدالتوں، حکومتوں، میڈیا اور شہریوں کے درمیان جمہوری مباحثوں میں۔ اس طرح صحافت اور درحقیقت خود حق گوئی ہی توہینِ مذہب کے قوانین کا شکار ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر 2022ء کے دوران ایران میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کے جواب میں صحافتی آزادئ رائے پر حکومتی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ احتجاج کے بعد تقریباً 95 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، بعض کو توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت۔ ان میں سے ایک کیس کھیلوں کے صحافی احسان پیربرناش کا ہے جنہیں اکتوبر 2022ء میں مہسا امینی کی موت کے بعد ٹویٹر کے ذریعے مظاہروں کی کھلے عام حمایت اور رپورٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ان الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور سزا دی گئی: (i) اسلام کی توہین کرنے کا جرم، (ii) اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے خلاف جارحیت پر اکسانا، اور (iii) اسلامی جمہوریہ کے نظام کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانا۔ انہیں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی (جس میں سے آٹھ سال معطل/تخفیف کیے گئے)۔
دنیا بھر میں توہینِ مذہب کے مخالف قوانین کو منسوخ کرنا آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ تاہم توہینِ مذہب کے قوانین پر بین الاقوامی بحث نامکمل ہو گی جب تک کہ توہینِ مذہب کے نفرت انگیز مذہبی اظہار کے بارے میں بات نہ کی جائے، یا ایسے اظہار کے بارے میں جس سے مذہبی نظریات کی تنقید کی آڑ میں اس کے پیروکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دائرہ کار اور طریقہ کار
یہ رپورٹ پانچ حصوں میں تقسیم کی گئی ہے:
پہلے حصے میں مصنف اور نیشنل لاء یونیورسٹی دہلی کے اصل کام کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں عالمی سطح پر توہین مذہب کے قوانین کو مرتب کیا گیا ہے۔ پھر بین الاقوامی آزادئ رائے کے معیارات کے بنیادی اجزاء اور توہینِ مذہب سے ان کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد رپورٹ توہینِ مذہب کے قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے یہ تجزیہ کرتی ہے کہ کیسے اور کیوں یہ قوانین ان (بین الاقوامی معیارات) پر کم از کم طور پر پورا اترنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
دوسرے حصے میں توہینِ مذہب اور نفرت انگیز اظہار کے درمیان پائے جانے والے ابہام کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
تیسرے حصے میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ ریاستوں کی طرف سے توہین مذہب کے قوانین کا نفاذ صحافت کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے اور اس سلسلہ میں اکثر منصفانہ مقدمہ اور ضروری مراحل کے کم از کم تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، جس میں کہ ان قوانین کے تحت صحافیوں پر مقدمات چلانے پر توجہ دی گئی ہو۔
چوتھے حصے میں توہین مذہب کے قوانین میں حالیہ اصلاحات پر غور کیا گیا ہے، جن میں ان کے اثرات کو ختم یا کم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مضبوط بنانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
اور آخر میں ریاستوں کے لیے توہینِ مذہب کے قوانین کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
اس رپورٹ میں توہینِ مذہب کے وہ قوانین شامل ہیں جو کسی ایک یا زیادہ خداؤں، کسی خاص مذہب کے اصولوں، رہنماؤں یا پیروکاروں، یا عام طور پر مذہب کی توہین یا بدنامی والے اظہار سے نمٹتے ہیں۔ اس میں ریاستی نظاموں میں توہینِ مذہب کے طور پر موجود قوانین کے ساتھ ساتھ ارتداد (جو مذہبی عقیدے کو ترک کرنے یا اس کا انکار کرنے سے روکتے ہیں) یا انحراف (جو قبول شدہ عقائد کے برخلاف رائے یا نظریے کو ہدف بناتے ہیں) کو جرم قرار دینے والے قوانین بھی شامل ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے قوانین کا مکمل جائزہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ہتکِ عزت کے عمومی قوانین، نفرت انگیز اظہار کے قوانین، یا ان قوانین سے متعلق بین الاقوامی معیارات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی بنیادی تحقیق بڑی حد تک 2019ء اور 2020ء کے درمیان کی گئی تھی، جبکہ اپریل 2023ء تک ان قوانین میں ہونے والی تبدیلیاں اور ترامیم شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ممکن ہے اس رپورٹ میں اس طرح کی معلومات مکمل طور پر شامل نہ ہو سکی ہوں۔
Blasphemy Against Prophets and the International Community
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(Address from the camp established by Shubban-e-Khatam-e-Nabuwat Gujranwala on March 15th, in connection with observing the day "Yaum-e-Tahaffuz-e-Namoos-e-Risalat" {Protection of the Honor of the Prophet PBUH} declared by the Government of Pakistan)
It is a matter of great joy that there is a growing awareness regarding the honor and dignity of the esteemed Prophet Muhammad (peace be upon him) and all the prophets (peace be upon them all). To express this awareness, "Yaum-e-Tahaffuz-e-Namoos-e-Risalat" is being observed throughout Pakistan on the appeal of the Government of Pakistan.
The sacred personalities of the Prophet Muhammad (peace be upon him), all the prophets (peace be upon them all), and the companions of the Prophet (may Allah be pleased with them all) are the foundation of our faith, the foundation of our love, and the foundation of our devotion. Protecting their honor and dignity is the duty of the entire Muslim Ummah and all of us.
Today, the matter of concern is that the international powers of the world recognize the honor of an ordinary citizen as honor and the insult of an ordinary citizen as a crime. However, there is no international law in the world for the protection of the honor of the prophets (peace be upon them all), and this makes them appear as the big supporters of those who insult the Prophet(s). Therefore, our first responsibility is that all Muslim governments, especially the Government of Pakistan, should take steps at the global level, in the United Nations, and in international institutions to criminalize blasphemy. And they should get it recognized there that just as the insult of an ordinary citizen is a crime, similarly, the insult of any of the prophets (peace be upon them all), especially the Prophet Muhammad (peace be upon him), is also a crime.
In fact, it is a double crime. One crime is the insult of a sacred and respected personality. And the second crime is that it injures the hearts of millions of people in the world and causes them pain, so it becomes a double crime. Therefore, it is the responsibility of the governments to get it recognized as a crime. While keeping an eye on those who insult the Prophet(s) and their facilitators in our society, is our responsibility.
May Allah grant us true love for the Prophet (peace be upon him) and give us the ability to fulfill its civic, legal, constitutional, and religious requirements. I congratulate our friends of Shubban-e-Khatam-e-Nabuwat Gujranwala who set up this camp and provided a means for people to express their feelings. May Allah reward everyone abundantly. O Allah, send blessings upon Muhammad.
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(579) العفو کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں العفو کا ترجمہ کیا گیا ہے وہ مال جو ضرورت اور حاجت سے فاضل بچ رہے۔ اس مفہوم پر عمل کرنا عام انسان کے لیے ناممکن محسوس ہوتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بڑی عزیمت والوں کا کام ہے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَیَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ۔ (البقرۃ: 219)
’’تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو فاضل بچے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیے حاجت سے زائد چیز‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’پوچھتے ہیں: ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو‘‘۔ (سید مودودی، یہاں ’’راہ خدا میں‘‘ میں مترجم کا اضافہ ہے۔ یہ مفہوم الفاظ میں موجود نہیں ہے۔)
لیکن العفو کے لفظ کے حقیقی معنی کو سامنے رکھیں تو دوسری بات سامنے آتی ہے۔ العفو کا لغوی معنی فاضل از ضرورت نہیں ہے۔ لفظ العفو کا مفہوم بتاتے ہوئے زمخشری لکھتے ہیں:
الْعَفْوَ نقیض الجہد وہو أن ینفق ما لا یبلغ إنفاقہ منہ الجہد واستفراغ الوسع، قال: خُذِی الْعَفْوَ مِنِّی تَسْتَدِیمِی مَوَدَّتِی، ویقال للأرض السہلۃ: العفو۔
یعنی عفو مشقت کی ضد ہے۔ مطلب یہ کہ وہ اتنا خرچ کرے کہ اس خرچ کی وجہ سے وہ خود مشقت میں نہ پڑجائے۔
درج ذیل ترجمے میں لفظ کی کسی قدر رعایت ہے:
’’اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (خیر خیرات میں) کتنا خرچ کیا کریں آپ فرمادیجیے کہ جتنا آسان ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’پوچھتے ہیں: ہم کیا خرچ کریں؟ کہو: بلا تکلف جو بھی دے سکتے ہو‘‘۔
گویا انسان کے اندر جذبہ انفاق بھی ہو اور وہ خود کو مشقت میں بھی نہ ڈالے۔ نیکی اور آسانی میں توازن قائم رکھنے کے حوالے سے العفو کا یہ لفظ معنی خیز ہے۔
ضرورت سے زائد تمام مال کو خرچ کردینا انسان کو مشقت اور تنگی میں ڈال سکتا ہے، جب کہ انسان خود کو مشقت سے بچاتے ہوئے خرچ کرے، اس میں وسعت ہے۔
(580) سَتَذْکُرُونَہُنَّ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں سَتَذْکُرُونَہُنَّ آیا ہے۔ ذَکَرَہُ کا مطلب اس کا ذکر کرنا ہے نہ کہ اس سے ذکر کرنا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں ذکر یاد اور خیال کے معنی میں ہے نہ کہ بیان وتذکرے کے معنی میں۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
عَلِمَ اللَّہُ أَنَّکُمْ سَتَذْکُرُونَہُنَّ۔ (البقرۃ: 235)
’’اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان سے ذکر کرو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’خدا کو معلوم ہے کہ تم بعد میں ان سے تذکرہ کرو گے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
درج ذیل ترجمے مذکورہ بالا غلطی سے خالی ہیں:
’’اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی‘‘۔ (سید مودودی)
’’ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اللہ کو معلوم ہے کہ تم جلد ان کو یاد کروگے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
(581) لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں بعض مترجمین نے جناح کا درست ترجمہ نہیں کیا ہے:
لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ مَا لَمْ تَمَسُّوہُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَہُنَّ فَرِیضَۃً۔ (البقرۃ: 236)
’’تم پر کچھ مطالبہ نہیں تم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)
جناح کا مطلب مطالبہ نہیں ہے۔
’’اور تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر تم نے عورتوں کو اس وقت طلاق دے دی جب کہ ان کو چھوا بھی نہیں ہے اور ان کے لیے کوئی مہر بھی معین نہیں کیا ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
جناح کا مطلب ذمے داری نہیں ہے۔
’’اور اگر تم عورتوں کو اس صورت میں طلاق دو کہ نہ ان کو ہاتھ لگایا ہو اور نہ ان کے لیے متعین مہر مقرر کیا ہو تو ان کے مہر کے باب میں تم پر کوئی گناہ نہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمے میں ’’ان کے مہر کے باب میں‘‘ بے مطلب کا اضافہ ہے۔
’’اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کیے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں ’بھی‘ کا کوئی محل نہیں ہے۔
’’تم پر (مہر کا) کچھ مواخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لیے کچھ مہر مقرر کیا ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
مہر کے مواخذے تک بات کو محدود کرنا عبارت کے مطابق نہیں ہے۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دو تم عورتوں کو جب تک یہ نہیں کہ ان کو ہاتھ لگایا ہو یا مقرر کیا ہو ان کا کچھ حق‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
(582) یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ کا ترجمہ
درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
أُولَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَاللَّہُ یَدْعُو إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ۔ (البقرۃ: 221)
’’ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’یہ مشرکین تمہیں جہّنم کی دعوت دیتے ہیں اور خدا اپنے حکم سے جنّت اورمغفرت کی دعوت دیتا ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنے حکم سے (تمہیں) جنت اور مغفرت (بخشش) کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
درج بالا ترجموں میں ’’تمھیں‘‘ اور ’’تم کو‘‘کے اضافے غیر ضروری ہیں۔ یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ وہ تمھیں آگ کی طرف بلاتے اور اللہ تمھیں جنت کی طرف بلاتا ہے، بلکہ عمومی بات بتائی جارہی ہے کہ مشرکین جس راستے کے داعی ہیں وہ جہنم کی طرف جاتا ہے اور اللہ جنت کی طرف بلاتا ہے۔ درج ذیل ترجمہ بجا طور پر ان اضافوں سے خالی ہے:
’’وہ لوگ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ بلاتا ہے جنت کی طرف اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
(583) مِنْ مُشْرِکَۃٍ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں مشرکۃ کے لفظ میں عموم ہے، اسے آزاد یا شریف زادی سے متصف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
وَلَأَمَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَۃٍ۔ (البقرۃ: 221)
’’ ایک مومنہ کنیز مشرکہ (آزاد عورت) سے اچھی ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’ ایک مومن کنیز مشرک آزاد عورت سے بہتر ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے‘‘۔ (سید مودودی)
مذکورہ بالا ترجموں میں آزاد اور شریف وغیرہ کی صفت غیر ضروری طور پر ذکر کی گئی ہے، الفاظ میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اور البتہ لونڈی مسلمان بہتر ہے کسی شرک والی سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’کوئی بھی مسلمان لونڈی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے‘‘۔
(584) خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں مشرک کے لفظ میں عموم ہے، اسے آزاد یا شریف سے متصف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ۔ (البقرۃ: 221)
’’بے شک مسلمان غلام مشرک (آزاد شوہر) سے بہتر ہے‘‘۔(محمد حسین نجفی)
’’مسلمان غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے‘‘۔(ذیشان جوادی)
’’ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے‘‘۔(سید مودودی)
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’اور البتہ غلام مسلمان بہتر ہے کسی شرک والے سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’کوئی بھی مسلمان غلام کسی بھی مشرک سے بہتر ہے‘‘۔
(585) إِثْمٌ کا ترجمہ
إِثْمٌ کا معنی گناہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے مقابلے میں منافع اور نفع کے الفاظ دیکھ کر إِثْمٌ کا ترجمہ نقصان کردیا۔
یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا۔ (البقرۃ: 219)
’’ لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ ہے‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’تو کہہ ان میں گناہ بڑا ہے اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو اور ان کا گناہ فائدے سے بڑا‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
گویا شراب اور جوئے میں اصل مسئلہ نقصان کا ہونا نہیں بلکہ گناہ کا ہونا ہے۔ ان کا گناہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے آگے ان کے تمام فائدے ہیچ ہیں۔
(586) تَوَلَّی کا ترجمہ
قرآن مجید میں تَوَلَّی کئی جگہ آیا ہے۔ عام طور سے وہ پیٹھ پھیرنے کے معنی میں آیا ہے اور یہی ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ البتہ درج ذیل دو آیتوں میں بعض لوگوں نے اقتدار حاصل کرنا ترجمہ کیا ہے:
(۱) وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا۔ (البقرۃ: 205)
’’اور جب حاکم ہوتا ہے کوشش کرتا ہے بیچ زمین کے تو کہ فساد کرے بیچ اس کے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور جب پیٹھ پھیرے دوڑتا پھرے ملک میں کہ اس میں ویرانی کرے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
(۲) فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ۔ (محمد: 22)
’’پھر تم سے یہ ہی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت ہو کہ خرابی ڈالو ملک میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منھ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘۔ (سید مودودی، َتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ کا ترجمہ گلے کاٹنا غور طلب ہے۔ اصل معنی تو رشتے کاٹنا ہے، اس کے نتیجے میں باہم خون خرابے تک بات پہنچتی ہے۔)
’’سو اگر تم کنارہ کش رہو تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچادو اور آپس میں قطع قرابت کرو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں بیشتر لوگوں نے پیٹھ پھیرنا ترجمہ کیا ہے، بہت کم لوگوں نے اقتدار حاصل کرنا کیا ہے، جب کہ دوسری آیت میں بیشتر لوگوں نے اقتدار حاصل کرنا ترجمہ کیا ہے، بہت کم لوگوں نے دوسرا ترجمہ کیا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ دونوں مقامات پر تولّی کا ترجمہ پیٹھ پھیرنا ہوگا۔ تَوَلَّی جب بغیر مفعول کے آتا ہے تو پیٹھ پھیرنے کے معنی میں ہوتا ہے، کیوں کہ اسی کے لیے اسے شہرت حاصل ہوگئی ہے۔ تَوَلَّی اقتدار کے معنی میں جب آتا ہے تو اس کے بعد مفعول بہ کا ذکر ہوتا ہے جیسے تَوَلَّی فلان الحکم وغیرہ۔
دونوں آیتوں کے سیاق پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاص ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو نہیں ہورہی ہے جنھیں اقتدار حاصل ہو، گفتگو عمومی طور پر فساد پسند لوگوں کے بارے میں ہورہی ہے جن کے دل ایمان سے خالی ہیں۔
(587) آتِنَا فِی الدُّنْیَا کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں صرف آتِنَا فِی الدُّنْیَا ہے، جب کہ اس کے بعد والی آیت میں آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ہے۔ بعض لوگوں نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا اور پہلی آیت میں بھی حَسَنَۃً کا مفہوم بڑھادیا۔
فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا۔ (البقرۃ: 200)
’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں کامیابی دے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ پروردگار ہمیں دنیا ہی میں نیکی دے دے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ‘‘۔(محمد تقی عثمانی)
درج ذیل ترجمے درست ہیں:
’’بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر کوئی آدمی کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
اس کی معنویت یہ ہے کہ جو ظاہر پسند اور دنیا طلب ہوتے ہیں وہ بھلائی برائی سے قطع نظر دنیا کی ہر چیز کے طلب گار ہوتے ہیں جب کہ جوحقیقت آگاہ ہوتے ہیں وہ دنیا و آخرت ہر جگہ بھلائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔
حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی
عظیم آباد کی ادبی و علمی مجلسوں میں وہ ہر جگہ شمع محفل نظر آتے، شعراء و ادباء سب انہیں تسلیم کرتے، اور انہیں صدر نشیں کا مقام حاصل تھا، اس وقت عظیم آباد شعر و ادب میں دہلی و لکھنؤ کی طرح اردو کا اہم مرکز تھا، نوابان و رؤسائے شہر کی نگرانی و سرپرستی میں شعر و ادب کی مجلسیں منعقد ہوتیں اور ان امراء کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی، گھر گھر مشاعرے ہوتے اور عوام الناس ان میں ذوق و شوق سے شریک ہوتے، اس وقت یہاں جو اہلِ کمال تھے اور جن کے دم سے یہاں کی ادبی بہار قائم تھی، ان میں مولانا عبد الغفور شہباز، علامہ عبد الحمید پریشان، حافظ فضل حق آزاد عظیم آبادی، مولانا عبدالغنی وارثی اور مولانا سید رحیم الدین استھانوی کے نام نمایاں تھے، ان کے علاوہ خانقاہ کے بزرگوں اور دیگر مشائخ کا ایک بڑا حلقہ تھا، جن کے وجود سے یہ شہر آباد تھا، اگرچہ خانقاہوں سے جن سے یہ شہر معمور ہے ان کے مراسم کا پتہ نہیں چلتا۔ علامہ شوق نیموی اسی حلقہ کے ایک نامور رکن بلکہ صدر نشیں تھے، شاد عظیم آبادی کا حلقہ اس سے الگ تھا، دونوں میں علمی معرکہ آرائی کا بازار گرم رہتا۔ شہر عظیم آباد کے معروف مورخ سید بدر الدین بدر عظیم آبادی، جنہوں نے ان کو دیکھا تھا، لکھتے ہیں:
’’پٹنہ کے شعر و سخن کے معرکے بڑی حد تک ان کے دم سے بہت دنوں تک جاری رہے، مشاعروں میں کسی شاعر کو ٹوک دینا، زبان اور لفظ کی صحت کا جھگڑا اٹھانا ان کے لئے آئے دن کی باتیں تھیں‘‘۔31
حلیہ و مزاج
بدر الدین عظیم آبادی نے اپنی کتاب میں ان کا سراپا پیش کرتے ہوئے اور ان کے دیگر اوصاف ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’درمیانہ قد، سانولا رنگ، داڑھی نہ لانبی نہ خشخشی، بلکہ قرینے کی درمیانی، معمولی مگر صاف ستھرا لباس، گفتگو میں متانت، یہ تھے مولانا محمد ظہیر احسن شوق نیموی … مرحوم جو پٹنہ کی علمی اور ادبی انجمنوں میں اور تمام مشاعروں میں اکثر محشر بدوش نظر آتے تھے، وضع سیدھی سادی تھی، ظاہر میں عالمانہ تکبر کا پتہ نہ تھا، مگر جب بپھر جاتے تو ہر بات میں عالمانہ تبحر جھلکنے لگتا، کہیں پر گرفت کرتے تو آخر دم تک نہ چھوڑتے، نئی پرانی منطقی دلیلیں پیش کر کے خاموش کر دیتے‘‘۔
اس کے بعد انہوں نے ان کے مذہبی مناظروں پر بھی روشنی ڈالی ہے، لکھتے ہیں:
’’حضرت شوق کی طبیعت کی جولانی علمی انجمنوں کو اور شعر و سخن کی محفلوں کو بھی ان کی جولاں گاہ بنائے رکھتی تھی، مذہبی مسائل پر جیسی ان کی زبان چلتی ویسا ہی ان کا قلم بھی چلتا تھا، مذہبیات سے متعلق ان کی متعدد تصنیفیں ہیں، شعر و ادب کے متعلق بھی اور صحت زبان کے اصول پر بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن سے ان کے مسلم الثبوت استاد اور بلند پایہ محقق ہونے کا پتہ چلتا ہے‘‘۔32
ان کے فرزند مولانا فوقانی نے ان کا حلیہ ان الفاظ میں ذکر کیا ہے:
نحیف بدنہ لا بطویلہ ولا بقلیلہ اسمر لونہ کثیر لحیتہ۔33
(وہ دبلے پتلے تھے، نہ بہت لمبے نہ بہت پستہ، داڑھی گھنی تھی اور رنگ سانولا۔)
ان کے ایک اور معاصر جنہوں نے شاید بچپن میں ان کی زیارت کی ہو گی، جناب فصیح الدین بلخی عظیم آبادی ہیں، انہوں نے بھی ان کے حلیہ اور اوصاف و کمالات پر اجمالی روشنی ڈالی ہے جو دوسری کتابوں میں نہیں ملتی، لکھتے ہیں:
’’آپ کی وضع قطع میں کوئی نمائش نہ تھی، طبیعت میں سادگی بہت تھی، علماء کی وضع پر معمولی قسم کے کپڑے زیب تن ہوتے تھے، رنگ سانولا، قد میانہ اور داڑھی معمولی وضع کی تھی، گفتگو میں متانت بہت تھی، اشعار پر تاثیر لہجے میں پڑھتے تھے اور فرط جوش میں اکثر اٹھ اٹھ جاتے تھے‘‘۔
لیکن اس کے ساتھ ان کے اندر دوسروں کا اعتراف بھی موجود تھا، عظیم آباد کے مشہور شاعر جناب شاد عظیم آبادی سے ان کے پورے حلقہ کو رقابت تھی، اور شاد کی بعض اغلاط پر ہی پورا گروہ مل کر ایک ہفتہ وار اخبار الپنچ نکال رہا تھا، جس میں شاد سے علمی معرکہ آرائی اور چھیڑ چھاڑ مسلسل جاری رہتی، حضرت شوق کا تعلق ان کے حریف حلقہ سے تھا، اس لئے وہ بھی کبھی کبھی شاد پر نقد کرتے لیکن ہفتہ وار الپنچ کے جو شمارے موجود ہیں ان کے صفحات میں ان کی تحریریں زیادہ نہیں ملتیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں شاد کے کمالات کا اعتراف بھی تھا، بدر الدین عظیم آبادی لکھتے ہیں:
’’حضرت شوق نیموی کی طبیعت جنگجو ضرور تھی اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر ان کے دیکھنے والوں کو میں نے کہتے سنا ہے کہ وہ بڑی حد تک انصاف پسند اور ملنسار بھی تھے، اگر بحث و مباحثہ کی تلخی مٹ جاتی تو اپنے مخالفین کے کمال کا اعتراف بھی کرتے تھے، چنانچہ جب حضرت شاد عظیم آبادی سے ۱۹۰۲ء میں میل ملاپ ہوا اور بادشاہ نواب صاحب مرحوم کے مشہور چھ طرحی مشاعرہ میں پٹنہ کے مختلف گروہ کے کل شعراء دلی کدورتوں کو صاف کر کے اس مشاعرہ میں شریک ہوئے، تو حضرت شوق نیموی نے اس مشاعرے میں جو رباعی پڑھی وہ میرے بیان کی پورے طور پر تصدیق کرتی ہے، رباعی یہ ہے:
ہے اہل کمال سے یہ پٹنہ آباد
شاگرد کے شاگرد یہاں ہیں استاد
کامل ہیں یہاں کے سیکڑوں اہل سخن
یہ ہیں، وہ ہیں، یہ شاد ہیں وہ آزاد‘‘۔34
بدر الدین عظیم آبادی کے بقول ان کے مضامین بھی اس دور میں اخبارات میں شائع ہوتے رہے، اودھ پنچ لکھنؤ، الپنچ عظیم آباد جیسے اخبارات کے وہ مستقل مضمون نگار رہے، لیکن ان مضامین کی تفصیل نہیں ملتی۔ ان کے مذکورہ بالا اور معاصرین کے اعتراف کی توثیق خود ان کی تحریر سے بھی ہوتی ہے، شاد کے ساتھ ان کے قدیم حریف جلال لکھنوی سے بھی ان کی معاصرانہ چشمک تھی اور ادبی معرکہ ہو چکا تھا، لیکن بایں ہمہ انہوں نے اپنی خود نوشت میں اس پورے واقعہ کو ذکر کر کے اخیر میں لکھا:
’’چوں کہ میری تحریر سے ایک عالم حضرت جلال سے بد اعتقاد ہو گیا ہے، اور تالیف و تصنیف میں انہوں نے جو خون جگر کھپایا ہے اس کی بے قدری ہو رہی ہے، میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ انصاف کا خون ہو، اور ان کا دل بالکل کھٹا ہو جائے، بفحوائے ’’عیب گو جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو‘‘ صاف صاف کہے دیتا ہوں کہ حضرت جلال کی تالیفات سے اگر کوڑا کرکٹ دور کر دئے جائیں تو جواہرات سے تولنے کے قابل ہو جائیں‘‘۔35
اس سلسلہ میں ان کے نامور معاصر صفیر بلگرامی نے بھی، جو آرہ میں مقیم تھے، ان کا اجمالی ذکر کیا ہے، اور حضرت نیموی کو اپنا دوست بتایا ہے، اور جلال لکھنوی کے تذکرہ میں لکھا ہے:
’’اس سلسلہ میں ہمارے دوست مولوی ظہیر احسن شوق نیموی عظیم آبادی نے جو کچھ جھگڑا ان سے کیا وہ ایک مزاحاً جھگڑا تھا، ورنہ مولوی صاحب کو بھی ان کی استادی میں شک نہیں ہے، اور اس سال انہوں نے لکھ کر چھپوا بھی دیا ہے‘‘۔36
ادبی معرکے
ان کے ادبی معرکوں میں سب سے مشہور معرکہ تو جلال لکھنوی سے ہوا تھا، جس کی تفصیل ان کی خودنوشت میں موجود ہے، جس کی گونج ایک مدت تک دنیائے ادب میں سنائی دیتی رہی، لیکن ایک معرکہ دبستان عظیم آباد کی ادبی تاریخ کا بھی بہت اہم حصہ ہے، یہاں حضرت شاد سے جن اہلِ علم کو اختلاف تھا، جو ان کے نظریات سے متفق نہیں تھے ان میں حضرت شوق بھی تھے، اور ان کے ساتھ حافظ فضل حق آزاد بھی تھے، جنہوں نے اپنے ان تمام رفقاء کے ساتھ مل کر الپنچ اخبار نکالا تھا، لیکن پھر اتفاق کہ خود حضرت شوق و حضرت آزاد میں معرکہ کا میدان گرم ہوگیا، فضل حق آزاد کی سوانح نگار ڈاکٹر روحی مجید حسن لکھتی ہیں:
’’آزاد اور شوق نیموی کے معرکے کا زمانہ جون ۱۸۹۵ء ہے، اس معرکے کی ساری تفصیلات الپنچ کی فائلوں میں ملتی ہیں، کیوں کہ اس بار بھی حسبِ دستور الپنچ کے صفحات ہی کو میدانِ رزم بنایا گیا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب شوق نیموی کے علم و فضل اور زبان دانی کا شہرہ بہار اور بہار سے باہر دور دور تک پھیل چکا تھا، شوق کے لسانی معرکے جلال لکھنوی کے سلسلہ میں کافی مشہور ہوچکے تھے، اس وقت تک آزاد بھی بحیثیت نظم نگار منفرد مقام حاصل کر چکے تھے، شوق نے زبان دانی کے زعم میں کہیں یہ دعویٰ کیا کہ ان کی شاعری عیوب و اغلاط سے پاک ہے، اور یہ بھی کہا ’’جس کا جی چاہے مجھے میری لغزشوں سے مطلع کرے‘‘۔ اس چیلنج کے ساتھ انہوں نے آزاد کے کلام پر اعتراضات کا سلسلہ جاری کر دیا، آزاد نے اس کے جواب میں شوق کی مثنوی سوز و گداز کو تختۂ مشق نقد بنایا، اب یہ سلسلہ قائم ہوگیا، آزاد نے حسبِ عادت شوق کی ہجو بھی لکھی … یہ سلسلہ جاری تھا کہ شوق کے کسی شاگرد واصل نے آزاد پر شوق کی شاگردی کا الزام رکھ دیا، اور اس سلسلہ میں کئی بے بنیاد باتیں اپنے دل سے گڑھیں، مثلاً یہ کہ آزاد پہلے شوق کے خاصے معتقد تھے، اور وہ برابر بغرضِ اصلاح شوق کے گھر جایا کرتے تھے، آزاد کی بہت سی نظمیں شوق کی اصلاح شدہ ہیں … مگر اب شوق کی بے پناہ مقبولیت کے پیش نظر آزاد شوق سے حسد کرنے لگے ہیں، اور اس جذبۂ رقابت کے زیر اثر وہ نہ صرف شوق کی استادی سے انکار کرتے ہیں بلکہ شوق کے مقابلہ پر اتر آئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔‘‘
آگے لکھتے ہیں:
’’آزاد کی غیور طبیعت ان الزامات کو کیسے گوارا کر سکتی تھی، انہوں نے فوراً ایک جوابی قطعہ لکھا جو الپنچ ۶ جون ۱۸۹۵ کے صفحہ ۵ پر شائع ہوا۔ ملاحظہ فرمائیے، آزاد کہتے ہیں:
ہوں بندۂ حق منکر و ملحد نہیں واللہ
میں منحرف خالق واحد نہیں واللہ
آزاد کو کیا کہتے ہو تم شوق کا شاگرد
الزام کبھی اس پہ یہ عائد نہیں واللہ
اور ساتھ ہی ساتھ نثر میں انہوں نے تمام بے بنیاد الزامات کا بالتفصیل جواب دیا، اور انہیں بدلائل غلط ثابت کیا، اور آخر میں لطیف طنز کیا، ان الفاظ میں … ہاں اب سمجھے، یہ دعویٰ دخل مقدر ہے، یعنی میں اس صحبت کی بنا پر دعوائے استادی نہ کر سکوں، سو میں اطمینان کامل کئے دیتا ہوں، نہ میں کسی کا شاگرد ہوں نہ میرا کوئی شاگرد ہو گا‘‘۔37
حضرت شوق کے علومِ اسلامیہ کے تلامذہ میں تو شاید ایک دو کے علاوہ کوئی نام نہیں ملتا لیکن ادبیات و اصلاحِ سخن کے لئے ان کے استفادہ کرنے والوں میں ان کے شہر و صوبہ اور ملک کے کئی باکمالوں کے نام ہیں۔ ان میں باہر کے لوگوں میں دو نام بہت اہم ہیں، ایک مولانا ابوالکلام آزاد کا نام جنہوں نے ان کے ادبی و لسانی رسائل کا مطالعہ بھی کیا تھا اور ان سے اصلاح بھی لی تھی۔ دوسرا نام قلعہ معلیٰ دہلی کے ایک شاہزادہ زبیر کا نام ہے۔ ان کے علاوہ شمالی ہند کے دسیوں کاملانِ ادب ہیں جنہوں نے ان سے اصلاح لی ہے، ان کا ذکر انہوں نے اپنی خود نوشت میں کیا ہے، جس کی تفصیل ان کے تلامذہ کے ذیل میں آئے گی۔
نظریات و افکار
حضرت شوق جس وقت عظیم آباد میں مقیم تھے، اس وقت علمائے شریعت سے بھی ان کا شہر عظیم آباد تھا، مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلامذہ کے ایک گروہ شہر و مضافات میں یکجا ہوگیا تھا، جس کے ذریعہ فقہ حنفی کے مسائل کی تردید میں جابجا رسائل و مضامین نکلتے رہتے تھے۔ حضرت شوق پکے حنفی اور فکری اعتبار سے مکمل صوفی الفکر تھے، مناظرانہ طبیعت پائی تھی، اس لئے قدرتی طور پر ان سے مناظروں، مباحثوں اور ان موضوعات پر تحریروں کا صادر ہونا عین ممکن تھا، وہ ایسے ماحول میں بالکل خاموش رہ جاتے نا ممکن تھا۔ یوں بھی شہر کے علماء احناف جن میں خانقاہوں کے اکابرین تھے اس تحریک کے تئیں خاموش تھے۔ علامہ شوق نیموی کے علاوہ قاضی عبد الوحید فردوسی تھے جنہوں نے فقہ حنفی کا محاذ سنبھال رکھا تھا، لیکن قاضی صاحب کے یہاں سنجیدہ علمی تحریر سے زیادہ ہجوگوئی پر زور تھا، وہ مولانا احمد رضا خاں کے خلیفہ تھے اور انہیں کے نقش قدم پر تھے، اس لئے سنجیدہ علمی مضامین کے بجائے ذاتیات و شخصیات کو موضوع بناتے، انہوں نے مسلسل بیس سال پٹنہ سے ماہنامہ تحفہ حنفیہ نکالا جس میں ان کے قلم سے علمی تحریریں بہت کم نظر آتی ہیں، اسی لئے فکری ہم آہنگی کے باوجود علامہ شوق نیموی کی ایک بھی تحریر اس کے شماروں میں نہیں نظر آتی، حالاں کہ وہ وہی دور ہے جب حضرت شوق کے قلم سے فقہ حنفی کی تائید میں رسائل نکل رہے تھے۔ اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ حضرت شوق مناظرانہ طبیعت کے باوجود شخصیت و آدمیت کے احترام کے پوری طرح قائل تھے، اور کسی طرح کی غیر سنجیدہ تحریر سے پوری طرح گریز کرتے تھے۔ ان کے بیشتر علمی رسائل انہیں معرکوں کی یادگار ہیں اور فقہ حنفی اور تصوف پر اعتراضات کے جوابات ہیں، جن کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ بڑے پختہ صوفی بھی تھے اور حنفی بھی۔ اور اپنی قدیم اقدار کو بچانے اور ان کا دفاع کرنے میں انہوں نے بہت کچھ طاقت صَرف کی۔تفقہ میں وہ علامہ عبدالحی فرنگی محلی کے شاگرد ہونے کے باوجود کسی طرح مصالحت کے قائل نہیں تھے۔ اور فقہ حنفی کے ہر اعتراض کا عالمانہ جواب دے کر ہی خاموش ہوتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ندوۃ العلماء کی تحریک میں ان کا نام کہیں نظر نہیں آتا جب کہ اس تحریک میں بیشتر ان کے خواجہ تاش یعنی حضرت گنج مراد آبادی کے خلفاء و مستفیدین ہی شریک تھے، اور پٹنہ اس تحریک کا اہم مرکز تھا۔
پٹنہ کے علاوہ ان کا قیام اور تدریس سے متعلق ایک بحث
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ترہٹ کے علاقہ میں آواپور (موجودہ ضلع سیتا مڑھی) کے مدرسہ شرعیہ میں بھی تعلیم دی تھی، لیکن نہ انہوں نے اپنی خودنوشت سوانح میں کہیں اس کا ذکر کیا ہے نہ ان کے کسی سوانح نگار کے یہاں اس کا ذکر ملتا ہے۔ تاریخ مدرسہ اشرف العلوم کنہواں (سیتامڑھی) کے مرتب نے اس سلسلہ میں مفروضہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے، اور بعض شواہد پیش کئے ہیں، لکھتے ہیں:
’’بعض اہلِ قلم کو حضرت علامہ شوق نیموی کے مدرسہ شرعیہ آوا پور سیتا مڑھی میں تدیسی خدمت انجام دینے میں شبہ ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت کی سوانح متعدد حضرات نے لکھی ہے، جس میں آوا پور میں تدریسی خدمات کا کسی نے بھی ذکر نہیں کیا، لیکن یہ صرف انہیں کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اس ادارہ کے دوسرے خادم التدریس حضرت مولانا عبدالاحد صاحب جالوی والد بزرگوار حضرت قاضی مجاہد الاسلام علیہ الرحمہ کی سوانح میں بھی آواپور کے اس مدرسہ میں ان کی تدریسی خدمت کا ذکر نہیں ملتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ میں زبانی نقل کا زیادہ دخل ہے، اور جس کے نقل کرنے والے آج بھی بحمد اللہ بقید حیات ہیں، اس نوخیز ادارہ میں پڑھنے والے حضرت مولانا صوفی رمضان علی علیہ الرحمہ، حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب بسنتی علیہ الرحمہ، حضرت مولانا جمال الدین خستہ مکیاوی، حضرت مولانا دل جان صاحب عرف چنگل شاہ، حضرت مولانا محمد جان صاحب بچھارپوری علیہ الرحمہ جیسے جبال علم ہیں، جن میں سے ہر ایک نے علم دین کی نشر و اشاعت کے کتنے ہی مدارس قائم کئے، جن کے خوشہ چیں آج بھی موجود ہیں، انہیں خوشہ چینوں میں حضرت مولانا محمد آفاق صاحب القاسمی سابق پرنسپل اسلامیہ عربک کالج مظفر پور دامت برکاتہم کی ذات گرامی بھی ہے، موصوف نے اپنی غیر مطبوعہ نقوش حیات میں اپنے اساتذہ سے سن کر یہ بات نقل کی ہے کہ حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیمویؒ یہاں مدرس تھے، اس سے خلاف واقعہ کا شبہ کم رہ جاتا ہے، اس لئے کہ حضرت مولانا محمد آفاق صاحب قاسمی کا وطن مالوف بھی آواپور ہے اور وہیں قیام پذیر ہیں، عمر ۸۵ سے متجاوز ہے … سوانح نگاروں کے تذکرہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو انہوں نے تحقیق نہیں کی ہوگی یا یہ کہ اس ادارہ نے بہت جلد اپنا وجود کھو دیا‘‘۔38
لیکن اس کے باوجود بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک وہاں خدمت انجام دی ہو، زیادہ سے زیادہ چھ ماہ یا ایک سال تک وہاں رہنے کا امکان ہے، ان کے متعدد تلامذہ اس علاقہ کے تھے ممکن ہے کہ ان کی دعوت پر وہ وہاں گئے ہوں اور چند ماہ یا ایک سال کے قریب وہاں ان کا قیام رہا ہو، ورنہ ان کی پوری زندگی پٹنہ ہی میں گذری، اور وہ یہاں پوری طرح سرگرم عمل رہے، یہیں طویل دور قیام میں ان کی تمام فقہی و علمی تصانیف منظر عام پر آئیں، یہیں انہوں نے آثار السنن جیسی کتاب کی تصنیف کا کام انجام دیا، اور یہیں اٹھارہ انیس سال کے قیام کے بعد وفات پائی، اور ان کا جسد خاکی شہر سے ان کے وطن نیمی لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین ہوئی، اس دوران انہوں نے کہاں کہاں کا سفر کیا اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی، نہ اس کا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ لکھنؤ و دہلی مشاعروں اور علمی مجلسوں میں وہ شریک ہوتے تھے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کتبِ حدیث کی تلاش و جستجو کے لئے حجاز و شام کے سفر کا ارادہ ہے، لیکن یہ ارادہ بھی تشنہ تکمیل ہی رہا۔ ان کے شیخ حضرت گنج مراد آبادی بھی لکھنؤ سے قریب ہی تھے، ان کی خدمت میں حاضری کے لئے بھی کچھ چند اسفار تو ضرور ہوئے ہوں گے۔
روحانی استفادہ اور ان کے شیخ
ان کے شیخ حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادی تھے، جن کی خدمت میں پہلی حاضری کا ذکر تو گذر چکا جس میں وہ بیعت ہوئے تھے، لیکن پھر ایسا لگتا ہے کہ مسلسل ان کی حاضری ہوتی رہی، اور تکمیل تعلیم کے بعد جب حضرت والا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان سے اجازت حدیث کی گذارش کی، انہیں اپنے شیخ سے غایت درجہ کی محبت تھی، اسی لئے ان کی منقبت میں ایک طویل قصیدہ بھی کہا اور جب ان پر ایک اہل حدیث عالم نے اعتراض کیا تو اس کے جواب میں المقالہ الکاملہ کے نام سے پورا رسالہ لکھا، اس کے آغاز میں لکھتے ہیں:
’’اما بعد، امیدوار رحمت رب ہادی محمد ظہیر احسن نیموی عظیم آبادی عرض کرتا ہے کہ ہمارے پیر و مرشد جامع شریعت غرا، مجمع طریقت بیضاء، عمدۃ الاولیا، زبدۃ الاصفیاء ولایت مآب قطب الاقطاب، معدن ایقان، مخزن عرفان حضرت سیدنا و مولانا فضل رحمن مدظلہ المنان کی ذات بابرکات بھی عجب نعمت الہی ہے، خدا نے مستجاب الدعوات ایسا بنایا ہے کہ آپ کی دعا سے ہزاروں کی مرادیں حاصل ہوگئیں، سیکڑوں کامیاب ہوگئے، گنج مرادآباد جو حضرت کی جائے سکونت ہے آپ کے وجود باجود سے اسم بامسمیٰ ہوگیا، بات کی بات میں شہرۂ آفاق ہوگیا، عوام تو عوام سیکڑوں علمائے کرام آپ کے مرید ہیں، لاکھوں مشتاق زیارت ہیں، آپ کا طریقہ نقشبندیہ ہے جس کی مدح و ثنا میں خامہ و زبان عاجز و حیران ہے، اور زبان قاصر البیان‘‘۔39
اپنے سفرنامہ بنگال میں بھی ایک صاحب کا جو حضرت والا کے مستفیدین میں تھے بڑی عقیدت سے ذکر کرتے ہیں، ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’مولانا ذوقی صاحب فقیر کے برادر طریقت ہیں، حضرت پیر و مرشد مولانا فضل رحمٰن گن مرادآبادی قدس سرہ سے ان کو بھی بیعت ہے‘‘۔40
حضرت مولانا سید تجمل حسین دسنوی نے حضرت گنج مرادآبادی کے اہم مستفیدین میں ان کا ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’مولوی ظہیر احسن صاحب نیموی مناظر صاحب تصنیف۔‘‘41
حضرت مونگیری کی سوانح میں بھی ان کا ذکر آیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت گنج مرادآبادی کے بعد ان سے وابستہ ہوئے تھے، ہو سکتا ہے کہ ان کو حضرت مونگیری نے خلافت بھی دی ہو۔42 کیوں کہ ان کے فرزند ایک صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ طریقت میں حضرت نیموی کے مرید طریقت تھے، یعنی جناب مولوی عبدالعزیز ساکن اشرف پور عظیم آباد، جنہوں نے حضرت نیموی کی تاریخ وفات بھی کہی تھی، وفات کے ذیل میں اس کا ذکر ہے۔
ویسے حضرت شوق عمر کے اس مرحلہ کو نہیں پہنچے تھے کہ بحیثیت شیخ ان کی شہرت ہوتی، اس لئے بھی ممکن ہے کہ ان کی سوانح کا یہ پہلو اتنا نمایاں نہ ہو سکا۔
لیکن علمی و ادبی مشاغل کے ساتھ اوراد و اذکار کے پوری طرح پابند تھے، اور ان کی تقریر میں بھی بہت تاثیر تھی، ان کے مختلف واقعات سے جو انہوں نے اپنے سفرنامہ بنگال میں ذکر کئے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
وفات
حضرت شوق نے عین عالمِ شباب میں وفات پائی، ان کے فرزند کے بقول ۱۷ رمضان شریف ۱۳۲۲ھ مطابق ۲۵ نومبر ۱۹۰۴ء روز جمعہ وقت خطبہ ایک بج کے دس منٹ پر بعمر ۴۴ سال ہلالی واقع ہوا، چنانچہ آپ کے مرید طریقت جناب مولوی عبدالعزیز مرحوم ساکن اشرف پور نے یہ شعر لکھا:
ایک بج کر دس منٹ پر روح اقدس آپ کی
دار فانی سے ہوئی رخصت سوئے دارالسلام
فصلی، ہجری، عیسوی تاریخ یوں لکھ دے عزیز
عبر غم، شوق سخنور، مرشد ذی الاحترام
(۱۳۱۲فصلی) (۱۳۲۲ھ) (۱۹۰۴ء)43
ان کے انتقال ملک کے اور لوگوں نے بھی مرثیے کہے، مضامین کا رواج نہ تھا، اس لئے مضامین نہیں نظر آتے، لیکن اس وقت عظیم آباد کے مشہور اخبار الپنچ نے جس سے ان کا تعلق تھا، ان کی وفات پر ان کا پروز ماتم کیا، اور جو اس کے مدیر خیر رحمانی دربھنگوی نے جو تحریر لکھی وہ خونِ دل میں انگلی ڈبو کر لکھی، اسے وفیاتی تحریر کے بجائے نثری مرثیہ کہا جائے تو بالکل درست ہوگا:
’’انتقال پر ملال حضرت شوق نیموی:
آج ہم نہایت غم و الم کے ساتھ عالم باعمل فاضل بے بدل جامع معقول و منقول منبع فقہ و اصول کامل الفن صاحب آثار السنن حضرت مولانا حکیم ظہیر احسن صاحب شوق نیموی محدث عظیم آبادی کے انتقال کی خبر شائع کرتے ہیں، جن کا وصال ۱۶ رمضان ۱۳۲۳ھ کو جمعہ کے دن ٹھیک جمعہ کے وقت ہوا، پہلے آپ کو بخار آیا، پھر طحال ہوئی، ضعف بڑھتا گیا، ساتھ ہی آپ کو زندگی سے مایوسی بھی تھی، آپ کے خاندان میں اکثر موتیں اسی عارضہ سے ہوئی تھیں، آپ کے خاندان کا کوئی مریض طحال سے جاں بر نہ ہو سکا بس یہی وجہ تھی کہ آپ کی زبان سے اکثر کلمات یاس نکل جایا کرتے تھے، آپ قریب قریب ڈیڑھ سال تک بیمار رہے، اس درمیان میں تبدیل آب و ہوا کے لئے راجگیر بھی تشریف لے گئے، مگر کچھ فائدہ نہ ہوا، ابھی ابھی بغرض علاج اپنے عزیز ڈاکٹر محمد صدیق کے یہاں کندھولی، مظفرپور چلے گئے تھے، آج دوسرا ہفتہ ہے ان کا ایک عنایت نامہ اس ناچیز ایڈیٹر کے پاس آیا تھا کہ بیماری طول کھنچتی جاتی ہے، زندگی کا اعتبار نہیں، گو دو روز سے طبیعت ہری ہے اور ہر طرح سے افاقہ معلوم ہوتا ہے، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرا کلام میری زندگی ہی میں چھپ جائے، مجھے تم پر بھروسا ہے، اپنے اہتمام سے چھاپ دو، ہم نے کلام مانگ بھیجا مگر اس کا کچھ جواب نہ آیا، یکایک یہ جگر خراش اور روح فرسا خبر ملی کہ آپ مظفر پور سے عظیم آباد (شاہ کی املی) چلے آئے، یہاں طبیعت بگڑنے لگی، اور یہاں تک بگڑی کہ تیمارداروں اور متعلقین کا سارا کھیل بگاڑ گئی اور مرحوم کی ساری بگڑی بنا گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔نماز جنازہ یہیں ہوئی، نماز میں لوگوں کی کثرت تھی، لاش آپ کے مولد موضع نیمی میں پہنچائی گئی، آپ کی عمر ۳۷ سال کی تھی، آپ نے فارسی کی درسی کتابیں اور عربی کی ابتدائی کتابیں یہیں پٹنہ میں پڑھیں پھر غازی پور تشریف لے گئے اور وہاں عربی درسی کتابیں تمام کیں، اور لکھنؤ میں فارغ التحصیل ہوئے، اور یہیں دستار فضیلت باندھی گئی، آپ کے علم و فضل، زہد و اتقا کا شہرہ نہ اسی صوبہ بہار و بنگال تک محدود تھا بلکہ پچھم میں بھی آپ خاص اثر رکھتے تھے، آپ کو حضرت مولانا فضل الرحمٰن [کذا، صحیح فضل رحمن] مرادآبادی قدس سرہ سے بیعت تھی، نہایت محنتی اور کاسب آدمی تھے، دینیات میں آپ کی بیش بہا تصانیف رد السکین، اوشحۃ الجید، حبل المتین اور (حدیث میں) آثار السنن نہایت ہی قابل قدر کتابیں ہیں، اردو لٹریچر میں، ازاحۃ الاغلاط، سرمۂ تحقیق، اصلاح، ایضاح، مثنوی، سوزوگداز، معرکۃ الآرا تصانیف ہیں، جنہوں نے آپ کی استادی منوا دی، پورب سے پچھم تک سب نے آپ کو مان لیا، آپ کی مذکورہ بالا کتابیں شائع ہو چکی ہیں، اور ملک و قوم نے اس کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ کا ضخیم دیوان غیر مطبوعہ ہے، جس کے چھاپنے کی باتیں ہو رہی تھیں، اس جامعیت، اس قابلیت، اس ذہانت اور اس ذکاوت کا اس عظیم آباد میں تو کیا اس صوبہ میں نہیں، اور قرینہ ہے کہ ایسا با مذاق صوفی مشرب محدث عظیم آباد میں جلد پیدا ہو سکے گا، عظیم آباد آپ کی وفات پر جتنا ماتم کرے بجا ہے، صوبہ بہار آپ کے وصال پر جتنا غم کرے جائز ہے، آپ نے اس سن و سال میں تحصیل علم بھی کی، سیاحت بھی کی، اور اس قدر تصانیف بھی، بیشک آپ کی ذات غنیمت ہی غنیمت تھی، خدا مرحوم کے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور آپ کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے، آپ کے احباب تو چاہتے ہیں کہ مولانا کی یادگار میں ان کا دیوان ہی چھپوا دیں‘‘۔44
ان کی یاد میں زیادہ قصائد تو نہیں ملتے، جو اس دور میں عام پر مضامین کی جگہ رائج تھے، لیکن ایک بڑا دلدوز مرثیہ عظیم آباد کے ایک دوسرے نامور شاعر مبارک عظیم آبادی کا ہے، جو اپنی نظیر آپ ہے اور اپنی ندرت کی وجہ سے اس لائق ہے کہ یہاں مکمل درج کیا جائے۔ اس سے پہلے اس وقت کے معروف شاعر اور ان کے شاگرد مائل سمستی پوری کا حسب ذیل قطعہ تاریخ ملاحظہ فرمائیے:
قطعۂ تاریخ وفات مولانا ظہیرا حسن شوق نیموی مرحوم بصنعت فوق النقط:
ھا محمد ظہیر احسن شوق
عارف زاھد من الفتاح
کان ھا سائل مائل المغموم
عالم فاضل من النصاح
مبارک عظیم آبادی کا مرثیہ یہ ہے:
حسرت اے صبح و شام ماہ صیام
حسرت اے خوش لیالی و ایام
حسرت اے ماہ رحمت و برکت
حسرت اے شہر عزت و عظمت
حسرت اے وقت سبحہ گردانی
حسرت اے عہد دور قرآنی
حسرت اے وقت تحفۂ تحیات
حسرت اے عہد طاعت و قربات
حسرت اے روزگار اسلامی
حسرت اے شان و شوکت و نامی
حسرت اے مقتدی و پیش امام
حسرت اے سجدہ و قعود و قیام
حسرت اے زاہدان شب بیدار
حسرت اے شیخ صد نماز گذار
حسرت اے صرف و نحو و فرع و اصول
حسرت اے فن منطق و معقول
حسرت اے طب و ہیئت و حکمت
حسرت اے جملگی جمعیت
حسرت اے درس گاہ علم و عمل
حسرت اے بارگاہ علم و عمل
حسرت اے طالبانِ علم و ادب
حسرت اے کاسبان علم و ادب
حسرت اے عالمان پیرو حق
حسرت اے عاملان رہرو حق
حسرت اے حسن فن نثاری
حسرت اے نظم و نغز گفتاری
حسرت اے واقفانِ نثر حسن
حسرت اے ماہران شعر و سخن
حسرت اے رسم و راہ تالیفات
حسرت اے دستگاہ تالیفات
حسرت اے نامہائے نو تزیین
حسرت اے نسخہائے نو آئین
حسرت اے صد ہزارتحقیقات
حسرت اے صد ہزار تصدیقات
آہ! عمامہ فضیلت آہ!
آہ اے جامہ فضیلت آہ!
آہ اے مولوی ظہیر احسن
آہ اے ذی کمال منبع فن
آہ اے طالب رسول خدا
آہ اے نائب رسول خدا
آہ اے بلدۂ عظیم آباد
آہ اے شہر خانماں برباد
آہ کس شخص نے قضا کی آہ
آہ یہ کس شخص نے جان دے دی آہ
استاد سخن تخلص ذوق
شخص بامذاق صاحب ذوق
ہاتھ میں خامہ حدیث نگار
سامنے آمہ حدیث نگار
بات ایسی زبان پر تلمیح
کبھی توضیح تھی کبھی تلویح
وہ محدث محدث کامل
ایسا عالم کہ علم پر عامل
پیرو خضر راہ عرفانی
ذرہ خاک پائے رحمانی
حضرت مولوی و مولانا
فضل رحمان کہ باخدا دانا
شیخ صاحب دل مراد آباد
شہرت افزا، ولی مادر زاد
پیر روشن ضمیر وہ عارف
ماہ و مہر منیر وہ عارف
مرشد باخدا سے بیعت تھی
بے ارادہ دلی ارادت تھی
مرض الموت اک طحال ہوئی
دشمن جاں یہ ڈیڑھ سال ہوئی
اس گھرانے میں اس مرض سے بشر
نہ ہوا آج تک کوئی جان بر
سولہویں روز جمعہ وقت نماز
رمضان ہے زہے یہ راز و نیاز
نیم جان جب مہ صیام ہوا
آپ کا کام ہی تمام ہوا
شہر میں آپ کی نماز ہوئی
بھیڑ سی بھیڑ تھی خدائی تھی
گئی پٹنہ سے لاش نیمی آہ
مولد و مسکن قدیمی آہ
رونق افزائے قریہ نیمی
کیا ہوا ہائے قریہ نیمی!
وہ تری خاک میں ملا افسوس!
فصل گل میں یہ گل کھلا افسوس
آہ اے عمر بے وفا صد آہ
سن تھا سینتیس سال کیا صد آہ
دیدہ مہر و ماہ کو حیرت
فلک کینہ خواہ کو حیرت
کیوں نہ ہو روز جلوہ تاگرشب تار
کیوں نہ ہو ایسی دوپہر شب تار
داد اے دور روزگاراں داد
داد اے جور روزگاراں داد
سینہ سینہ ہے معدن سیماب
خانہ خانہ ہے خانۂ بے تاب
کیوں نہ دریا بنیں یہ دیدہ تر
کیوں نہ بہ جائیں سارے خانہ و در
کیوں نہ اٹھے جگر میں درد جگر
کیوں نہ تڑپے پڑا دل مضطر
کیوں نہ کھولے کوئی لب فریاد
کس طرح بھولے ایسے شخص کی یاد
پئے تاریخ فوت طبع حزیں
بول اٹھی اے مبارک غمگیں
بے سر درد نام سے روشن
یہی لکھ مولوی ظہیر احسن
(۱۳۲۲ھ)45
ان کے مشہور شاعر علامہ شفق عماد پوری نے یہ قطعہ تاریخ لکھا:
آہ مولانا ظہیر احسن محدث باکمال
ماہر سخن مغفور شوق نیموی
لکھ شفق سال وفات ان کا مع نام
کامل و علامہ مشہور شوق نیموی46
ان کی وفات پر حرم شریف میں دعائے مغفرت بھی ہوئی، اس وقت علامہ انور شاہ کشمیری وہاں موجود تھے، انہیں اسی کے ذریعہ ان کی وفات کا علم ہوا، جس سے علامہ شوق نیموی کی شہرت اور بین الاقوامی تعارف کا اندازہ ہوتا ہے، علامہ کشمیری کے شاگرد مولانا ابوسلمہ شفیع احمد بہاری لکھتے ہیں:
’’حضرت شاہ انور صاحب فرماتے تھے کہ میں جب مکہ میں تھا تو حرم پاک میں دیکھا کہ قرآن خوانی ہو رہی ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شوق نیموی کوچ کر گئے‘‘۔47
اس کے برعکس ان کے ایک دوسرے شاگرد اور سوانح نگار نے ذکر کیا ہے کہ
’’خود فرماتے تھے میں مدینہ منورہ پہنچا تو مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کے لئے دعا ہو رہی تھی۔ مدینہ منورہ مسجد نبوی میں، تب معلوم ہوا کہ حضرت نیموی کا وصال ہوگیا‘‘۔48
دونوں شاگردوں کے بیانات میں اختلاف ہے، ممکن ہے کسی ایک سے سننے میں غلطی ہوئی لیکن اس سے اتنا ضرور معلوم ہوا کہ حضرت نیموی کی وفات پر حرم شریف میں بھی دعا ہوئی، جو ان کی مقبولیت عند اللہ اور مقبولیت عند الناس دونوں کی دلیل ہے۔
تلامذہ
حضرت نیموی شہر عظیم آباد میں طبابت کے مشغلہ کے ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی مشغول تھے، اور ساتھ ہی وقت نکال کر عوام الناس میں وعظ و ارشاد کی خدمت بھی انجام دیتے تھے، اور چند طلبہ کو علوم اسلامیہ کا درس بھی دیتے تھے، جیسا کہ گذشتہ صفحات میں گذر چکا ہے۔ ان سے کتنے طلبہ نے علوم اسلامیہ کا درس لیا اس کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا، انہوں نے اپنی خود نوشت میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے، البتہ شاعری میں ان سے اصلاح لینے والوں اور استفادہ کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے جن کی ایک فہرست ان کی خودنوشت میں موجود ہے، لیکن اس میں ان کے دس سال کے دوران قیام ان کے علاوہ جن لوگوں نے ان سے استفادہ کیا ان کا ذکر نہیں ہے، البتہ ان کے فرزند مولانا عبدالرشید فوقانی نے چند ناموں کا اضافہ کیا ہے۔ ان سے علومِ اسلامیہ اور شاعری دونوں میں استفادہ کرنے والوں میں ایک اہم نام مولانا محفوظ الرحمٰن واصل عظیم آبادی کا ہے اور دوسرا نام علامہ شفق عمادپوری گیاوی کا ہے، شفق عماد پوری کے مجموعہ کلام میں ان کے بارے میں ہے، شفق کا پہلا تخلص حسن تھا پھر مولانا شوق نیموی مرحوم نے شفق تجویز کر دیا، دو تین برس تک جو کچھ کہتے رہے جناب کوثر خیر آبادی اور مولانا شوق نیموی دونوں ہی کو دکھاتے رہے … اور مولانا ظہیر احسن شوق نیموی سے فن طب کے علاوہ تحصیل حدیث بھی کی تھی۔49
انہوں نے اپنے جن تلامذہ ادب و شعر کا نام اور شاعری کے نمونے اپنی خود نوشت میں درج کئے ہیں ان میں بیشتر کا تعلق شمالی ہندسے ہے، اور گذر چکا کہ یہ ان کے ابتدائی دور کی تحریر ہے، اس کے بعد کتنے لوگوں نے ان سے استفادہ کیا ہوگا اس کی تفصیل نہیں ملتی۔ لکھنؤ جہاں وہ ایک مدت تک رہے وہاں کے کسی فرد کا نام ان کے تلامذہ میں نہیں ملتا۔ البتہ ان کے فرزند نے ان کے تلامذہ میں چند ناموں کا اضافہ کیا ہے جن میں ملتان کے ایک عالم کا نام بھی شامل ہے، اس قلعہ معلیٰ دہلی کے شاہزادے مرزا زبیر الدین متخلص بہ زبیر نے بھی ان سے اصلاح لی تھی، جس کا ذکر اس کے دیوان میں ہے، اور مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ان سے اصلاح لی تھی اور ان کی تمام کتابوں کا بھی مطالعہ کیا تھا، جیسا کہ خود ان کی خود نوشت میں بھی ہے اور حضرت نیموی کے صاحبزادے مولانا عبدالرشید فوقانی سے بھی ایک ملاقات میں انہوں نے اس کا اعتراف کیا تھا، جس کا ذکر مولانا فوقانی نے کئی جگہ کیا ہے۔50
حوالہ جات
- حقیقت بھی کہانی بھی از بدرالدین بدر، ص ۵۷۶، بہاراردو اکیڈمی پٹنہ، ۲۰۰۴ء۔
- حوالہ سابق، ص ۵۷۵
- ترجمہ المولف العلام۔القول الحسن۔
- حوالہ سابق، ص ۵۷۸
- یادگار وطن، ص ۹۹
- جلوہ خضر جلد دوم ص ۲۹۵ جدید ایڈیشن کراچی
- فضل حق آزاد از ڈاکٹر روحی حسن مجید، ص ۲۱۸ پٹنہ۔
- تاریخ اشرف العلوم، نسیم احمد قاسمی، ۲۰۱۸ء سیتامڑھی بہار۔
- مقالہ کاملہ، ص
- سیر بنگال، ص ۱۸
- فضل رحمانی، مولانا سید تجمل حسین دسنوی، ص ۱۶۹۔مطبع شاہجہانی بھوپال ۱۳۱۵ھ ۔
- سیرت محمد علی مونگیری از مولانا سید محمد الحسنی، ص ۳۳۷، لکھنؤ، ص ۲۰۱۶ھ۔ کمالات محمدیہ کے حوالے سے ان کو خلفاء میں نہیں مریدین میں شمار کیا گیا ہے۔
- القول الحسن، از فوقانی نیموی۔ ص ۱۶۵
- الپنچ، ص ۳ ۔۔۳دسمبر ۱۹۰۴ء۔
- ہفتہ وار اخبار الپنچ پٹنہ ۳۱ دسمبر ۱۹۰۴۔اس پر مدیر اخبار نے اخیر میں نوٹ لکھا ہے ’’واہ! کیا تاریخ لکھی ہے، تاریخ اور مثنوی پھر قصیدہ کی تشبیب، سبحان اللہ وجزاک اللہ‘‘۔ص ۳۔
- گنجینہ تاریخ، مطبوعہ ۱۳۳۹ھ بحوالہ القول الحسن ص ۱۶۸
- کتب خانہ ڈیاواں، ماہنامہ برہان دہلی جولائی۱۹۵۰ ص ۵۵۔
- انور انوری، از مولانا محمد انوری، کراچی ۱۴۲۵[۲۰۰۵ء]ص ۲۰
- ریاض شفق بحوالہ القول الحسن ص ۱۶۸
- دیکھئے القول الحسن ص۱۶۷
(جاری)
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۳)
مصنف : ڈاکٹر شعیب احمد ملک
مترجم : محمد یونس قاسمی
ارتقا کی مختصر ترین تاریخ
پہلے بیان کیے گئے ارتقا کے سائنسی اصول وہی ہیں جو نیو ڈارونزم(Neo-Darwinism) یا جدید امتزاج (Modern Synthesis) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، "Neo" کے معنی کو سمجھنے کے لیے اس نظریے کی تاریخی بنیادوں میں جھانکناضروری ہے، اور یہی اس حصے میں بیان کیا جائے گا۔ اس سیکشن میں واضح کیا جائے گا کہ ارتقا کا نظریہ وجود میں کیسے آیا، کس طرح ترقی کرتا رہا، اور آج اسے کن چیلنجز کا سامنا ہے۔ البتہ، یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ یہ ایک سادہ خاکہ ہے، جب کہ ارتقا کی اصل تاریخ بہت طویل اور پیچیدہ ہے۔ مؤرخین، تاریخ کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے اسے مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ تقسیم حقیقت کو مسخ بھی کر دیتی ہے۔ لہٰذا، اس حصے کو ارتقا کی تاریخ کا محض ایک بنیادی خلاصہ سمجھا جائے۔ تاریخی تفصیلات وہی مؤرخین فراہم کرسکتے ہیں، جنہوں نے اس موضوع پر گراں قدر کام کیا ہے (Moore 1981; Bowler 1983; Bowler 2007; Young 2007; Bowler 2009; Depew 2009; Spencer 2009; Bowler 2015; Johnson 2015; Jenkins 2019; Gribbin and Gribbin 2020)۔
مزید برآں، یہاں اختیار کیے گئے مخصوص نقطہ نظر کی وضاحت ضروری ہے۔ ڈارون کے دور میں یہ عام تصور تھا کہ خدا نے تمام چیزوں کو ایک خاص ڈیزائن اور مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ لیکن ارتقا کے نظریے کے بعد، حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کو کسی مافوق الفطرت وضاحت کے بغیر بھی سمجھنا ممکن ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن اور ارتقا کے تصورات کو بعض اوقات ایک دوسرے کے متضادبھی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بحث بہت اہم ہے، لیکن اسے یہاں تفصیل سے زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ ڈیزائن اور ارتقا کے باہمی تعلق پر گفتگو مکمل طور پر ساتویں باب میں کی جائے گی، جب کہ ٹیلیالوجی (teleology) سے متعلق بحث چھٹے باب میں شامل ہوگی۔
قرونِ وسطیٰ کے تصورات
یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مشترکہ نسب (common ancestry) کا تصور عہد روشن خیالی (تقریباً سترہویں سے انیسویں صدی) سے پہلے موجود نہیں تھا۔ اس وقت کا غالب نظریہ یہ تھا کہ تمام جاندار ہمیشہ اپنی موجودہ حالت میں رہتے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ یہ تصور عظیم سلسلہءِ وجود (Great Chain of Being - GCB) کے نام سے معروف ایک فکری ڈھانچے پر مبنی تھا۔ یہ ایک درجہ بندی پر مبنی نظریہ تھا جو مخلوقات کو ایک مخصوص ترتیب میں رکھتا تھا، جہاں خدا سب سے بلند مقام پر تھا، کیونکہ وہ کبھی بھی ناقص نہیں ہو سکتا۔ اس کے نیچے موجود ہر چیز ناقص مخلوقات پر مشتمل تھی۔ اس نظریے کے مطابق، سب سے نچلے درجے پر بے جان اشیا جیسے معدنیات (minerals) تھیں، اس کے بعد نباتات (plants)، پھر حیوانات (animals)، پھر فرشتے، اور سب سے آخر میں خدا کا مقام تھا (Bowler 2009, 62–66)۔
GCB کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ اس نے دنیا کو مستقل اور غیر متغیر وجودی اکائیوں (fixed ontological units) کے طور پر دیکھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک جاندار کا کسی اور جاندار میں تبدیل ہونا ناممکن تھا (Morvillo 2010, 144)۔ بلی ہمیشہ بلی رہے گی، شیر ہمیشہ شیر رہے گا، اور انسان ہمیشہ انسان رہے گا۔ اس نظریے سے مکمل انحراف کرنے کے لیے سائنسی (اور فلسفیانہ) ارتقا میں کئی اہم پیش رفتوں کی ضرورت تھی۔
اس مخصوص نظریے پر باب پنجم میں مزید تفصیل سے گفتگو کی جائے گی، جہاں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح بعض معاصر مسلم مفکرین ارتقائی نظریات کو تاریخی مسلم مفکرین کے کام میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ درحقیقت وہ GCB کے ہی تصورات پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔
قبل از ڈارون ارتقائی نظریات
ارتقا کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ چارلس ڈارون پہلے شخص تھے جنہوں نے ارتقا کا تصور پیش کیا۔ یہ درست نہیں، کیونکہ ڈارون سے پہلے بھی ارتقائی نظریات موجود تھے۔ تاہم، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جینیات (genetics) بطور ایک منظم علم 1930 کی دہائی سے پہلے موجود نہیں تھا، جو کہ ڈارون کے بعد کا دور ہے۔ لہٰذا، ان نظریات کو اسی سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔
ارتقا کا ایک منظم نظریہ پیش کرنے والے ابتدائی مفکرین میں ایک فرانسیسی سائنسدان جین باتیست لامارک (Jean-Baptiste Lamarck) شامل تھے۔ ان کا نظریہ چند بنیادی نکات پر مبنی تھا۔
- لامارک کے مطابق، تمام جانداروں کے اندر ایک سیال (fluid) موجود ہوتا ہے، جو انہیں مسلسل زیادہ پیچیدگی کی طرف لے جاتارہتا ہے (Larson 2006, 41)۔ دوسرے الفاظ میں، حیاتیاتی مخلوقات میں اندرونی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، جانداروں کی نشوونما ایک درجہ وار ترقی (ladder-like progression) میں ہوتی ہے۔
- اسی سیال کی مدد سے جاندار اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی جاندار کسی مخصوص عضو کو مسلسل استعمال کرتا رہے، تو وہ ترقی کرتا ہے، اور جو عضو غیر ضروری ہو جائے، وہ زوال پذیر ہو جاتا ہے (Bowler 2009, 92)۔ اس اصول کو استعمال اور ترک کرنے کا قانون (law of use and disuse) بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک زرافہ لمبے درختوں کی پتیاں کھانے کے لیے مسلسل اپنی گردن کو کھینچ کر استعمال کرتا رہے، تو وقت کے ساتھ اس کی گردن لمبی ہو جائے گی، تاکہ وہ اپنے ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکے۔
- لامارک نے وراثتِ صفات (inheritance of acquired characteristics) کے اصول کو اپنایاتھا۔ اس کے مطابق، اگر کسی جاندار نے اپنی زندگی کے دوران کسی خاص صفت یا صلاحیت کو حاصل کیا، تو وہ اس کی آئندہ نسلوں میں خود بخود منتقل ہو جائے گی۔یعنی اگر کسی زرافے نے اپنی زندگی میں ایک لمبی گردن حاصل کرلی، تو اس کی نسل میں آنے والے بچے بھی لمبی گردن کے ساتھ پیدا ہوں گے، بجائے اس کے کہ انہیں کوشش کرکے خود یہ صفت پیدا کرنی پڑے (Bowler 2009, 92)۔
- لامارک نے سختی سے مشترکہ نسب (common ancestry) کے نظریے کو نہیں اپنایا۔ ان کے خیال میں زندگی مسلسل خود بخود وجود میں آتی رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں مختلف، الگ الگ ارتقائی راستے بنتے ہیں، جو زیادہ پیچیدہ شکل کی طرف جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ارتقائی تعلق کو کسی جھاڑی (bush) کی مانند نہیں دیکھتے تھے، بلکہ الگ الگ سیڑھیوں (independent ladders) کے طور پر دیکھتے تھے، جن پر مختلف انواع (species) اپنے اپنے راستے پر ترقی کر رہی تھیں (Larson 2006, 42; Waters 2009, 123; Morvillo 2010, 146)۔ لہٰذاکچھ انواع اپنی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہوتی تھیں (یعنی تاریخی طور پر نئی)، جب کہ کچھ زیادہ ترقی یافتہ، قدیم اور بلند درجے پر پہنچ چکی ہوتی تھیں (Shanahan 2004, 14–17)۔ اس نظریے کا مطلب یہ بھی تھا کہ انواع کا خاتمہ (extinction) ممکن نہیں تھا۔ جو فوسلز دریافت ہو رہے تھے، وہ محض کسی مخصوص نوع کے انفرادی نمونے تھے، نہ کہ اس نوع کے مکمل خاتمے کا ثبوت (Bowler 2009, 89)۔
یہ تمام نظریات مجموعی طور پر لامارکیت (Lamarckism) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
چارلس ڈارون
ڈارون کی سوانح حیات نہایت دلچسپ ہے۔ کئی محققین نے ان کے کام، تاریخی پس منظر، اور اس کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ اپنے نظریے تک کیسے پہنچے (Spencer 2009; Johnson 2015)۔ تاہم، یہاں ہمارا مقصد ڈارون کی شخصیت یا ان کے تمام کام پر بحث کرنا نہیں، بلکہ ان کے نظریے کی انفرادیت کو سمجھنا ہے۔
1859 میں، چارلس ڈارون نے اپنی مشہور کتاب On the Origin of Species by Means of Natural Selection, or the Preservation of Favoured Races in the Struggle for Life شائع کی، جسے یہاں On the Origin of Species کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ اس کتاب میں انہوں نے ارتقا کے نظریے کو تین بنیادی نکات پر استوار کیا۔
پہلا نکتہ قدرتی انتخاب (Natural Selection) پر ان کا زور تھا، جو ان کے نظریے کو منفرد بناتا ہے۔ ڈارون نے یہ تصور مصنوعی انتخاب (Artificial Selection) سے اخذ کیا، جو کسان افزائشِ نسل میں استعمال کرتے ہیں (Larson 2006, 69; Waters 2009, 124)۔ مصنوعی انتخاب، جسے Selective Breeding بھی کہا جاتا ہے، وہ عمل ہے جس میں مخصوص جانوروں یا پودوں کو افزائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تاکہ ان کی اگلی نسل میں مخصوص صفات کو فروغ دیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، تیز رفتار گھوڑے پیدا کرنے کے لیے مربی تیز رفتار نر اور مادہ گھوڑوں کو ملاپ کے لیے چنتے ہیں۔ اس عمل میں انسانی مداخلت ایک متعین نتیجے کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔
ڈارون نے اسی تصور کو قدرتی ماحول پر منطبق کیا (Largent 2009)۔ چونکہ ہر ماحول کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، اس لیے وہ جاندار جو اپنے ماحول سے بہتر مطابقت رکھتے ہیں، ان کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ تصور دو بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔ اولاً انواع کو خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ مثلاً، گھنے بالوں والے جانور جو جسم کی گرمی کو زیادہ دیر برقرار رکھتے ہیں، گرم صحرائی ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ثانیاً انواع کو اپنے ماحول میں دستیاب محدود وسائل کے لیے مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے (Larson 2006, 85)۔
زندگی کی بقا کے اس پیچیدہ عمل میں، قدرت فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی انواع کامیاب ہوں گی۔ یہی اصول قدرتی انتخاب (Natural Selection) کہلاتا ہے، جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کی بنیاد بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظریے کو "ڈارون ازم" (Darwinism) کہا جاتا ہے، جس کا آگے "نیو ڈارون ازم" (Neo-Darwinism) سے موازنہ کیا جائے گا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ڈارون کو جینیات (Genetics) کا علم نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اگلی نسل والدین سے صفات کس طرح حاصل کرتی ہے۔ انہوں نے محض ایک قیاس پیش کیا، جسے Pangenesis کہا جاتا ہے (Endersby 2009, 82–86)۔ اس نظریے کے مطابق، جسم کے تمام خلیے چھوٹے ذرات خارج کرتے ہیں، جنہیں "جیمولز" (Gemmules) کہا جاتا ہے، جو والدین کے جنسی خلیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان جیمولز کے ذریعے اولاد والدین کی خصوصیات وراثت میں حاصل کرتی ہے۔
یہ نظریہ دو پہلوؤں سے اہم تھا:
- یہ کسی حد تک لامارکیت (Lamarckism) سے مشابہت رکھتا تھا، خاص طور پر اس اصول سے کہ حاصل شدہ خصوصیات وراثت میں منتقل ہو سکتی ہیں (Larson 2006, 86)۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص جوانی میں دبلا پتلا ہو اور بعد میں لحیم و شحیم ہو جائے، تو اس کے ابتدائی بچوں کی جسامت دبلے پتلے والد جیسی اور بعد میں پیدا ہونے والے بچوں کی جسامت والد کی نئی جسمانی ساخت سے مشابہ ہو سکتی ہے۔
- اس نظریے سے مرکب وراثت (Blended Inheritance) کا تصور پیدا ہوتا تھا، جس میں والدین کی خصوصیات مل کر ایک اوسط صفت پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً، اگر والدین کے بالوں کا رنگ مختلف ہو تو اولاد میں درمیانی رنگ کے بال پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اس نظریے میں ایک مسئلہ تھاکہ اگر خصوصیات مسلسل مدغم ہوتی رہیں، تو وہ کئی نسلوں کے بعد مدھم ہو جاتیں، جو مشاہدے اور تجربات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے بعد میں اسے مسترد کر دیا گیا (Morvillo 2010, 152)۔ ڈارون کو معلوم تھا کہ ان کا نظریہ اس وقت دستیاب شواہد کی بنیاد پر محض ایک قیاس تھا (Lustig 2009)۔ ان کے نظریے کے مطابق ارتقا ایک طویل اور تدریجی عمل تھا، لیکن اس وقت کے طبیعیاتی اصولوں کے مطابق زمین کی عمر اتنی زیادہ تسلیم نہیں کی جا رہی تھی (Larson 2006, 120)۔ لارڈ کیلون (Lord Kelvin) نے سائنسی حسابات کی بنیاد پر زمین کی زیادہ سے زیادہ عمر 500 ملین سال اور ممکنہ عمر 200 ملین سال بتائی تھی (Hattiangadi 1971, 505)، جو ڈارون کے نظریے کے لیے ناکافی تھی، اور وہ خود بھی اس مسئلے سے آگاہ تھے (Hattiangadi 1971, 506)۔
مزید یہ کہ، فوسل ریکارڈ کی عدم تکمیل بھی ایک مسئلہ تھا (Shanahan 2004, 247–282; Herbert and Norman 2009)۔ اگر ارتقا واقعی ایک تدریجی عمل ہے، تو فوسل ریکارڈ میں بہت سے عبوری مراحل ہونے چاہییں تھے، لیکن ان کی کمی کی وجہ سے ارتقائی نظریے میں کچھ خلا باقی رہے (Larson 2006, 125; Rogers 2011, 5; Berry 2012, 26)۔ ان نامکمل شواہد کی وجہ سے متبادل تشریحات کے امکانات بھی موجود رہے۔
نیو ڈارون ازم
ڈارون کے نظریات کو ملا جلا ردعمل ملا۔ کچھ لوگ اس کے نظریے کے سخت مخالف تھے، جبکہ کچھ اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ مائل نظر آئے (Larson 2006, 177–218; Bowler 2009, 177–273; Brooke 2012)۔ اس حوالے سے مختلف افراد اور تحریکوں کے نظریات سے قطع نظر، اس حصے میں اہم بات یہ ہے کہ ڈارون ازم آخرکار ارتقائی اصول کے طور پر مستحکم ہوگیا۔ ڈارون کے نظریے میں سائنسی مسائل پہلے ہی زیر بحث آ چکے ہیں، لیکن کچھ مذہبی و فلسفیانہ خدشات بھی تھے جن کی وجہ سے ڈارون ازم کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ "کائنات میں مقصدیت" (Teleology) تھا، یعنی یہ سوال کہ کیا فطرت میں ہر چیز کسی خاص مقصد کے تحت بنی ہے، یا محض اتفاقیہ عمل کا نتیجہ ہے؟ اگر ڈارون کے بیان کردہ اصول کے مطابق ارتقا درست ہے اور یہ بنیادی طور پر ماحولیاتی دباؤ اور وراثت پر منحصر ہے، تو یہ کائنات کے روایتی تصور کو چیلنج کرتا ہے، جس سے خدائی مشیت کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں (Berry 2012, 21–22)۔ اگر جانداروں کی بقا ان کے بدلتے ہوئے ماحول پر منحصر ہے، تو کسی مخصوص موافقت کو اچھا یا برا کہنا محض ایک اضافی تصور بن جاتا ہے۔ جو خصوصیت ایک دن کسی جاندار کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، وہی دوسرے دن غیر مؤثر یا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے (Morvillo 2010, 153)۔ اس لحاظ سے، ارتقا کی سمت غیر یقینی اور غیر متوقع نظر آتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض افراد نے ڈارون کے نظریہ ارتقا میں انسان کے ظہور کو ایک "اتفاقیہ واقعہ" سمجھا، جو کہ خدائی منصوبہ بندی کے تصور سے متصادم تھا۔
اسی بنا پر نیو لامارکیت (Neo-Lamarckism) کو ایک بہتر نظریہ تصور کیا گیا، کیونکہ اس میں استعمال اور ترک کا قانون (law of use and disuse) شامل تھا، جس کے تحت جاندار اپنی زندگی کے دوران کچھ حد تک اپنی خصوصیات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے (Bowler 1988, 200–201; Bowler 2009, 236–247)۔ جیسا کہ Bowler (2009, 367) نے لکھا ہے:
انیسویں صدی کے آخر میں نیو لامارک ازم نے ایک نہایت مؤثر دلیل پیش کی کہ ڈارون ازم ایک مشینی نظریہ ہے جو جانداروں کو صرف وراثتی قوانین کے تحت چلنے والی کٹھ پتلیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ انتخابی نظریہ زندگی کو ایک رُوسی رُولیٹ (Russian roulette) بنا دیتا ہے، جہاں کسی کی زندگی یا موت محض موروثی جینز پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، لامارکیت میں فرد کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ماحولیاتی چیلنجز کے مطابق اپنے طرز زندگی کو بدلے اور ارتقا کی سمت پر اثر ڈالے۔
دوسرا مسئلہ فطری انتخاب (natural selection) اور خدائی رحمت (omnibenevolence) کے درمیان تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق، کرۂ ارض پر 99 فی صد انواع (species) معدوم ہو چکی ہیں (Urry et al. 2016, 472)۔ اگر خدا رحیم و کریم ہے، تو اس نے ایسا نظام کیوں بنایا جس میں جانداروں کی بقا اور ان کی نسلوں کی معدومی ایک مستقل حقیقت ہو؟ یہ سوال آج بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے (Larson 2006, 90–93)۔
تیسرا مسئلہ انسانی انفرادیت (human uniqueness) کا تھا (Bowler 2009, 207–223)۔ عام تصور یہ تھا کہ انسان دیگر جانداروں، خاص طور پر بندروں، سے بالکل منفرد ہیں۔ لیکن اگر ارتقا درست ہے، تو انسان اور دیگر جانداروں میں فرق محض درجے (degree) کا ہوگا، نہ کہ نوعیت (kind) کا (Moore 1981, 156; Larson 2006, 97–99)۔ اس نظریے نے انسان کے شعور اور عقل پر سوالات کھڑے کر دیے (Larson 2006, 95)۔ اگر انسان فطری انتخاب اور تصادفی تغیر (random mutation) کے ذریعے وجود میں آیا ہے، تو انسان کے نظریات اور عقائد کی سچائی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ Darwin (1881) لکھتا ہے:
میرے ذہن میں ہمیشہ یہ ہولناک شک پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کا ذہن حیوانی دماغ کی ترقی یافتہ شکل ہے، تو اس کی سچائی کی کیا ضمانت ہے؟ کیا کوئی بندر کے دماغ کے نظریات پر اعتماد کرے گا، اگر اس میں کوئی نظریات ہوتے بھی؟
انسانی انفرادیت سے جڑا ایک اور مسئلہ اخلاقیات (morality) کا تھا۔ اگر ارتقا محض "سب سے طاقتور کی بقا" (survival of the fittest) پر مبنی ہے ) ایک اصطلاح جو ڈارون نے نہیں بلکہ ہربرٹ اسپنسر نے متعارف کروائی تھی ، (Larson 2006, 72) تو پھر معروضی اخلاقیات (objective morality) کے لیے جگہ کہاں رہ جاتی ہے؟ اگر ہمارے آباؤ اجداد کی بقا کا دارومدار محض بقا کی جبلت پر تھا، تو پھر کسی بھی عمل کو ضروری قرار دیا جا سکتا تھا، چاہے وہ ضعیف، معذور یا غریب افراد کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو (Larson 2006, 95)۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقا کو بعض نظریات، جیسے یوجینکس (eugenics)، کمیونزم (communism)، اور سرمایہ داری (capitalism) سے جوڑا جاتا ہے (Moore 1981, 153–173; Larson 2006, 70; Bowler 2015, 153–170)۔
اسی طرح، "فطرت" (natural) کے تصور پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اگر جبلت ارتقا کا لازمی حصہ ہے، تو پھر ایسی چیزیں جو روایتی طور پر ممنوع سمجھی جاتی ہیں، جیسے عصمت فروشی، جوا، شراب نوشی، اور دیگر اخلاقی برائیاں، انہیں بھی انسان کی حیاتیاتی ساخت کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے (Morvillo 2010, 155; Huskinson 2020, 108–111)۔ یہ وہ مسائل ہیں جو ارتقا کے نظریے میں انسانی وقار اور اخلاقی اصولوں کے لیے چیلنج بنے رہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ رکاوٹوں کے باوجود سائنسی دریافتوں نے ڈارون کے نظریے کو ارتقائی اصول کے طور پر مستحکم کیا (Bowler 1983)۔ 1930 کی دہائی میں مینڈیلین جینیات (Mendelian genetics) کی دوبارہ دریافت نے وراثت کے مسئلے کو حل کر دیا (Bowler 1983; Bowler 1988, 105–130; Larson 2006, 153–174; Bowler 2015)۔ جب مینڈیلین جینیات اور قدرتی انتخاب (natural selection) کو یکجا کیا گیا، تو اسے نیو ڈارون ازم (Neo-Darwinism) یا جدید ترکیب (Modern Synthesis) کا نام دیا گیا، جسے بعد میں ایک جین پر مرکوز بیانیہ (gene-centred narrative) کے طور پر قبول کر لیا گیا (Larson 2006, 221–243; Walsh and Huneman 2017, 4)۔ علاوہ ازیں، آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے ان حیاتیاتی خلا کو پُر کیا گیا جو ڈارون کے دور میں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح تابکاری (radioactivity) کی دریافت سے زمین کی عمر تقریباً 4.6 بلین سال تک بڑھا دی گئی، جس نے لارڈ کیلون (Lord Kelvin) کے اندازوں کو مسترد کر دیا۔ یہ سائنسی انکشافات آخرکار ارتقا کے دیگر متبادل نظریات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے اور نیو ڈارون ازم کو جدید حیاتیاتی سائنس میں مرکزی حیثیت دے دی۔
موجودہ مباحثے
نیو ڈارون ازم کی کامیاب کہانی کے باوجود، سائنسی دنیا نے اب اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے (Larson 2006, 267–286; Pigliucci and Müller 2010; Fodor and Piatelli-Palmarini 2011; Jablonka and Lamb 2014; Laland et al. 2014; Marshall 2015; Walsh and Huneman 2017; Uller and Laland 2019)۔ اصل مسئلہ جین پر مرکوز بیانیہ پر ہے۔ جیسا کہ Laland et al. (2014, 162) نے کہا:
ہمارے خیال میں یہ "جین پر مرکوز" نقطہ نظر ارتقاکے تمام عوامل کو مکمل طور پر نہیں سمجھاتا جو ارتقا کی سمت طے کرتے ہیں۔ جو چیزیں غائب ہیں ان میں جسمانی ترقی کس طرح تنوع پیدا کرتی ہے؟ یعنی(developmental bias) ماحول کس طرح جانداروں کی خصوصیات کو براہِ راست متاثر کرتا ہے ؟یعنی( (plasticity جاندار کس طرح ماحول کو تبدیل کرتے ہیں؟ یعنی (niche construction) اور جاندار نسلوں کے درمیان صرف جین نہیں بلکہ مزید خصوصیات کس طرح منتقل کرتے ہیں؟ یعنی (extragenetic inheritance)۔
دوسرے الفاظ میں، ایسا لگتا ہے کہ ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لیے دوسرے عوامل کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جین پر مبنی نقطہ نظر ارتقا کے تمام پہلوؤں کی وضاحت نہیں کرتا۔ یاد رکھیں کہ نیو ڈارون ازم قدرتی انتخاب اور بے ترتیب تغیر کو ارتقا کے اہم اسباب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہمیں دوسرے اسباب کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، اور اگر ایسا کیا جائے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ یہ تمام عوامل ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جڑے ہوئے ہیں اورکیسے ارتقا کے محرکات بناتے ہیں۔ نیوڈارون ازم یا جدید ترکیب کی یہ نئی تبدیلی "Extended Evolutionary Synthesis" کہلاتی ہے۔ اس کے باوجود نیوڈارون ازم کے حامی اس تبدیلی سے قائل نہیں ہوئے ہیں (Wray et al. 2014)۔یہاں اس بحث کی تفصیلات میں جانا ضروری نہیں ہے۔ان پیش رفتوں سے جو بنیادی بات نکالنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اب سائنسدانوں کے درمیان ارتقاء کے اسبابی میکانزم پر ایک صحت مندانہ بحث جاری ہے۔ اس کے مطابق، درج ذیل دو سوالات کے درمیان فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:
- کیا ارتقا ہوا؟
- ارتقا کیسے ہوتا ہے؟
نیو ڈارونزم کے حامی اور دوسرے سائنسی متبادل پہلے سوال پر متفق ہیں، لیکن دوسرے سوال پر ان کے درمیان اختلافات ہیں (Rogers 2011, 3)۔ یعنی اکثر ماہرین حیاتیات مشترکہ آبا پر یقین رکھتے ہیں (Glansdorff et al. 2008; Koonin and Wolf 2010; Theobald 2010) ۔ لہٰذا وہ چیز جس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے وہ نیو ڈارونین پیراڈائم ہے، نہ کہ ارتقا۔ اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ بعض ناقدین ماہرین حیاتیات کے درمیان موجود اختلافات کو یہ سمجھتے ہیں کہ ارتقا کے پورے نظریے کو مسترد کر دیا گیا ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔ ارتقا ایک پیچیدہ نظریہ ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اختلافات کو صحیح طریقے سے سمجھیں (Huskinson 2020, 149–151)۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اختلاف کا نقطہ ارتقا کے اسبابی میکانزم پر ہے، نہ کہ مشترکہ آبا پر۔ یہ فرق اس بات سے بھی جڑا ہے کہ بعض اہل مذہب ارتقا کو اس لیے مسئلہ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اسے آسمانی کتابوں میں ذکر کردہ آدم و حوا کی تخلیق کے بیان سے متصادم پاتے ہیں، جسے روایتی طور پر والدین کے بغیر انسانوں کا پہلا جوڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ارتقا کے اسباب پر موجودہ مباحثوں کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایک اہم مذہبی تنازعہ بہر حال باقی رہتا ہے۔
مختصر یہ کہ ارتقا کے نظریے نے کافی ترقی کی ہے۔ ڈارون کے ابتدائی تصور کو بہت مزاحمت کا سامنا تھا۔ تاہم، جب اسے مینڈیلیئن جینیات کے ساتھ جوڑا گیا اور دیگر بڑھتی ہوئی شہادتوں سے اس کی حمایت کی گئی، تو یہ موجودہ متبادل پیراڈائمز کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس ترقی کو نیو ڈارونزم کے طور پر جانا گیا۔ تاہم، اگرچہ نیو ڈارونزم آج ارتقا کو سمجھنے کے لیے اہم فریم ورک کے طور پر موجود ہے، ارتقائی حیاتیات کے ماہرین نے اس کے اسبابی میکانزم اور انکی افادیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بحث کا نتیجہ ابھی تک غیر یقینی ہے، لیکن اس سے ارتقا کی مجموعی صداقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ارتقا پر تنقیدات اور ان کا جائزہ
یہاں مختصراً ان اہم اعتراضات کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے جو ارتقا کے ناقدین کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے بعض سائنسی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض فلسفیانہ یا دینی پہلو رکھتے ہیں۔ مؤخر الذکر اعتراضات کے بعض جوابات مختصر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی تفصیلاگلے ابواب میں آرہی ہے۔ یہ تمام اعتراضات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی ترتیب میں پڑھا جا سکتا ہے۔ کہیں کہیں بعض مخصوص مسلم شخصیات کا حوالہ بھی آئے گا جن کی طرف سے یہ اعتراضات سامنے آتے ہیں، اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ وہ قارئین جو اس علمی مکالمے سے واقف ہیں، انہیں عیسائی تخلیقیت پسندوں (Christian Creationists) اور معذرت خواہوں (Apologists) کی تحریروں میں بھی پہچان سکیں۔
مسلم مفکرین پر خصوصی توجہ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عیسائی حلقوں میں پائے جانے والے بعض اعتراضات مسلم علمی حلقوں میں بھی موجود ہیں۔ فی الحال ان شخصیات کا مختصر ذکر کیا جائے گا، جبکہ ان پر تفصیلی بحث آگے ایک باب میں آئے گی۔
کیا ارتقا محض ایک نظریہ ہے؟
ارتقا کے خلاف ایک عام اعتراض یہ ہے کہ یہ "محض ایک نظریہ" ہے۔ مشہور مبلغین، جیسے کہ ذاکر نائیک، اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں (Samuel and Rozario 2010, 428; Gardner et al. 2018, 383)، لیکن بدقسمتی سے، ایسے بیانات سائنس (اور فلسفۂ سائنس) کی ناقص سمجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سائنس میں عام زبان کے الفاظ کا استعمال کوئی غیر معمولی بات نہیں، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ ہم نے ارتقا کے عام فہم تصور اور سائنسی تصور میں فرق واضح کیا۔ اسی طرح، "نظریہ" (theory) کے عام فہم اور سائنسی مفہوم میں بھی نمایاں فرق ہے۔ روزمرہ کی زبان میں "نظریہ" سے مراد قیاس یا اندازہ ہوتا ہے، جو کسی موقع پر غیر ثابت شدہ رائے کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کچھ دوست کسی ماضی کے جنگی واقعے پر گفتگو کر رہے ہوں اور ان میں سے کوئی کہے: "میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ جنگ فلاں وجہ سے ہوئی تھی"، تو یہ محض ایک امکان یا قیاس ہوگا، کیونکہ وہ شخص مؤرخ نہیں ہے اور اس کی بات کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں۔ ہم روزمرہ کی گفتگو میں ایسے جملے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، سائنس میں "نظریہ" کا مفہوم بالکل مختلف ہے۔
یہ جاننے کے لیے کہ سائنس میں نظریہ کیا معنی رکھتا ہے، سائنسی عمل کی ایک بنیادی تفہیم ضروری ہے۔ سائنس میں دعوے کرنے کے لیے سب سے پہلے حقائق یا ڈیٹا درکار ہوتا ہے، کیونکہ ڈیٹا کے بغیر سائنس دان کسی مظہر (phenomenon) کے بارے میں کوئی مفروضہ (hypothesis) قائم نہیں کر سکتے۔ جب ڈیٹا حاصل ہو جاتا ہے، تو سائنس دان مختلف مفروضے تشکیل دیتے ہیں۔ پھر ان مفروضات کو تجربات کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور ان سے ریاضیاتی اصول (laws) اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب یہ اصول واضح ہو جاتے ہیں اور بار بار آزمائے جا چکے ہوتے ہیں، تب وہ ایک سائنسی نظریہ (scientific theory) کی صورت اختیار کرتے ہیں (Scott 2009, 11–14)۔
سائنسی نظریہ دراصل ایک ایسا نمونہ (model) ہوتا ہے جو دستیاب حقائق کی سب سے بہتر وضاحت کرتا ہے اور پیش گوئیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی نظریہ نئے دریافت شدہ حقائق سے ہم آہنگ رہتا ہے اور اس کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی رہتی ہیں، تو وہ سائنسی طور پر درست تصور کیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سائنسی نظریہ کسی بھی سائنسی دعوے کی سب سے زیادہ ثابت شدہ شکل ہوتی ہے۔
عام زبان میں "نظریہ" کا مفہوم سائنس کے "مفروضہ" (hypothesis) کے قریب تر ہے، لیکن کسی بھی صورت میں یہ سائنسی نظریہ کے مساوی نہیں۔ لہٰذا یہ ایک بنیادی غلطی ہے کہ ارتقا کو "محض ایک نظریہ" کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔
ارتقا قابلِ ابطال (Falsifiable) نہیں ہے
ایک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ارتقا ایک ناقابلِ تردید نظریہ ہے کیونکہ یہ خود کو کسی بھی تنقید سے محفوظ رکھتا ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ارتقا ایک سائنسی نظریہ نہیں ہے کیونکہ یہ قابلِ ابطال (Falsifiable) نہیں ہے، جبکہ قابلِ ابطال ہونا کسی سائنسی نظریے کی ایک بنیادی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ اس تصور کو فلسفہ سائنس کے معروف ماہر کارل پوپر (Karl Popper) نے پیش کیا تھا۔ لہٰذا، اس سے پہلے کہ ہم یہ بحث کریں کہ آیا ارتقا قابلِ ابطال ہے یا نہیں، بہتر ہوگا کہ ہم مختصراً یہ سمجھ لیں کہ اس اصطلاح کا مطلب کیا ہے تاکہ کچھ وضاحت حاصل ہو سکے۔
پوپر (Popper) قابلِ ابطال ہونے کے تصور کو واضح کرنے کے لیے تین نظریات کا موازنہ کیا: سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) کا تحلیل نفسی (psychoanalytic theory) کا نظریہ، الفریڈ ایڈلر (Alfred Adler) کا تحلیل نفسی کا نظریہ، اور البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) کا نظریہ اضافیت (theory of relativity)۔ پوپر کے مطابق پہلے دو نظریات غیر سائنسی ہیں، جبکہ تیسرا ایک معتبر سائنسی نظریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ اور ایڈلر کے نفسیاتی نظریات اتنے وسیع اور عمومی ہیں کہ وہ ہر قسم کے اعداد و شمار کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں، یعنی، اگر کوئی بھی ڈیٹا ان نظریات کے تحت رکھا جائے، تو یہ ہمیشہ کسی نہ کسی طرح نظریے کی تائید کر دیتے ہیں، چاہے وہ متضاد ہی کیوں نہ ہو۔
مثال کے طور پر، دو بالکل متضاد واقعات لیجیے: پہلا، جب ایک آدمی جان بوجھ کر کسی بچے کو پانی میں ڈبو کر مار دیتا ہے، اور دوسرا، جب ایک آدمی خود کو قربان کرتے ہوئے ( خود ڈوب کر) ایک بچے کو بچا لیتا ہے۔ فرائیڈ اور ایڈلر دونوں کے تحلیلِ نفسی کے نظریات ان دونوں واقعات کو باآسانی اپنے دائرے میں سمو سکتے ہیں (Popper 2002, 43–77)۔
یہ کیسے ممکن ہے؟ فرائیڈ کے مطابق، پہلے واقعے کو دباؤ (repression) کی مثال سمجھا جائے گا، جبکہ دوسرے کو والہانہ پن (sublimation) کی مثال کے طور پر لیا جائے گا (یہ اصطلاحات فرائیڈ کے مخصوص نظریاتی فریم ورک کا حصہ ہیں)۔ اسی طرح، ایڈلر کا نظریہ بھی دونوں واقعات کو باآسانی بیان کر سکتا ہے۔ ایڈلر کے مطابق، ہر چیز خود کو احساسِ کمتری (inferiority complex) سے نکال کر اعلیٰ سطح پر پہنچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ لہٰذا، پہلے کیس میں آدمی نے بچے کو ڈبونے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ خود کو ثابت کر سکے کہ وہ یہ جرم کر سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیس میں آدمی نے خود کو قربان کرکے خود کو بہادر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ دونوں نظریات ڈیٹا کو ایسے قبول کر لیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ درست ثابت ہوں، اور یوں وہ خود کو غلط ثابت کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ اس کے برعکس، پوپر کا خیال تھا کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (relativity) مختلف تھا۔ تفصیلات میں الجھے بغیر، آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت (general theory of relativity) نے ایک سادہ سی پیش گوئی کی تھی: روشنی بھاری اجسام (جیسے سورج) کے گرد مڑتی ہے۔ اگر ایسا ہے، تو اس کو تجرباتی طور پر جانچا جا سکتا تھا، اور 1919 میں ایسا ہی ہوا، جب ثابت کیا گیا کہ روشنی واقعی بھاری اجسام کے گرد مڑتی ہے۔
آئن سٹائن کے نظریے اور فرائیڈ و ایڈلر کے تحلیلِ نفسی کے نظریات میں فرق یہ تھا کہ آئن سٹائن کا نظریہ غلط ثابت ہونے کے امکان کو تسلیم کرتا تھا اور کسی بھی قسم کے ڈیٹا کو بلاجواز قبول نہیں کرتا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جسے پوپر نے "قابلِ ابطال ہونا" (Falsifiability) قرار دیا (Popper 2002, 57–73)۔
اس اصطلاح کو سمجھنے کے بعد ہم یہ تعین کر سکتے ہیں کہ آیا ارتقا قابلِ ابطال ہے یا نہیں۔ سائنسی طور پر ارتقا بالکل قابلِ ابطال ہے (Isaak 2007, 21)۔ مثال کے طور پر، اگر کسی ایسے فوسل (fossil) کو دریافت کر لیا جائے جو اس تہہ (stratum) میں نہیں ہونا چاہیے جہاں وہ پایا گیا ہے، تو ارتقا کی نفی ہو سکتی ہے۔ ارتقا کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انواع (species) کی پیچیدگی اور حیاتیاتی تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جو فوسل ہمیں قدیم تہوں (older strata) میں ملنے چاہییں وہ زیادہ سادہ ہونے چاہییں، جبکہ جدید تہوں (recent strata) میں پائی جانے والی انواع زیادہ پیچیدہ ہونی چاہییں۔
ارتقا کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ جانداروں میں پیچیدگی اور تنوع بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم زمین کی تہوں میں ہمیں نسبتاً سادہ جانداروں کی باقیات ملنی چاہئیں، جبکہ جدید تہوں میں زیادہ پیچیدہ جاندار ہونے چاہئیں۔ اگر کسی ایسے جاندار کی باقیات کسی قدیم تہہ میں مل جائیں جو نظریے کے مطابق بعد میں نمودار ہونی چاہیے تھی، تو ارتقا کا نظریہ رد ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہمیں "کیمبرین دھماکے" (Cambrian Explosion) (550 ملین سال پہلے کا واقعہ جب اچانک پیچیدہ جاندار نمودار ہوئے) سے پہلے کسی خرگوش کی باقیات مل جائیں، تو یہ ارتقا کے لیے ایک سنگین چیلنج ہوگا یا اگر یہ معلوم ہو جائے کہ جینیاتی ترتیب (gene sequences) ہماری پیش گوئی سے میل نہیں کھاتی، تو یہ بھی ارتقا کے خلاف ایک بڑی دلیل بن سکتی ہے۔ یہ چند ایسی مثالیں ہیں جن کی مدد سے ارتقا کو باآسانی غلط ثابت کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا، یہ دعویٰ کہ ارتقا قابلِ ابطال نہیں ہے اور اس لیے غیر سائنسی ہے، سراسر غلط ہے۔
اس نکتے کے متعلق، پوپر کے اپنے موقف کو بھی واضح کرنا ضروری ہے، کیونکہ ارتقا کے خلاف دلائل میں اکثر انہی کو بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے (Bakar 1984; Sonleitner 1986; Ibrahim and Baharuddin 2014)۔ پوپر نے ایک موقع پر ارتقا کی سائنسی حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا (Sonleitner 1986, 11): "میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ڈارون ازم ایک قابل آزمائش سائنسی نظریہ نہیں بلکہ ایک مابعد الطبیعاتی تحقیقی پروگرام ہے، جو ممکنہ طور پر سائنسی نظریات کی جانچ کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔"
تاہم، بعد میں انہوں نے اپنا مؤقف واضح طور پر بدل دیا اورکہا کہ (Sonleitner 1986, 11): "میں نے نظریہ انتخابِ فطری (natural selection) کی قابل آزمائش حیثیت اور منطقی مقام کے بارے میں اپنا موقف بدل لیا ہے، اور میں خوش ہوں کہ مجھے اس کی وضاحت کا موقع مل رہا ہے۔"
لہٰذا، اگر پوپر کو ارتقا کو مسترد کرنے کے لیے بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے، تو یہ دلیل بھی غلط ہے، کیونکہ خود پوپر نے بعد میں تسلیم کیا کہ ارتقا واقعی قابلِ ابطال ہے۔
فوسل ریکارڈ میں خلا ہے
نوح میم کیلر (Nuh Ha Mim Keller) جو کہ ایک ممتاز عالم دین ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ فوسل ریکارڈ(وہ تمام اہم شواہد یا فوسلز (fossils) جو ارتقائی تاریخ کے مختلف مراحل اور جانداروں کی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں) میں خلا موجود ہے، اور اسی وجہ سے اس کی متعدد تشریحات ممکن ہیں۔ چنانچہ، ہر تشریح زیادہ سے زیادہ صرف ممکنہ (probable) ہوتی ہے ، قطعی نہیں۔
کیلر کے سائنسی دلائل کے ساتھ پہلا مسئلہ اس ثبوت سے منسلک امکان (probability) سے متعلق ہے۔ سائنسدان تسلیم کرتے ہیں کہ فوسل ریکارڈ لازمی طور پر نامکمل ہوتا ہے اور اس کی وضاحت بھی پیش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہڈیوں اور بافتوں (tissues) کا محفوظ رہنا مخصوص اور محدود حالات میں ہی ممکن ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی حیاتیاتی باقیات (biological specimens) دفن بھی ہو جائیں یافوسل میں تبدیل ہو جائیں، تو وہ بالآخر تحلیل (eroded) یا گل سڑ (decomposed) بھی سکتی ہیں (Berra 1990, 31–51; Futuyma and Kirkpatrick 2017, 432–435)۔ مزید برآں، جو نمونے ہمیں ملتے ہیں، ان میں مکمل اور ترقی یافتہ اشکال (fully-fledged forms) شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ عام طور پر، ہمیں حیاتیاتی نمونوں کے کچھ حصے، جیسے کہ انگلی کی ہڈی، ملتی ہیں، جو فوسل ریکارڈ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مزید محدود کر دیتی ہیں (Futuyma and Kirkpatrick 2017, 435)۔ اس لیے، سائنسدانوں کے لیے فوسل ریکارڈ میں خلا حیران کن نہیں ہے، بلکہ اس کے وجود کے سائنسی اسباب موجود ہیں (Padian and Angielczyk 2007)۔ فوسل ریکارڈ میں پائی جانے والی مشکلات اور پیچیدگیوں کے باوجود، سائنسدان ایک بہت بڑی تعداد میں فوسلزدریافت کر چکے ہیں جو پہلے نامعلوم تھے۔
ارتقا کے خلاف کیلر کے سائنسی دلائل کے ساتھ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دیگر شواہد سے ناواقف ہیں جو ارتقا کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ فوسل ریکارڈ کو الگ سے دیکھا جائے تو اسے غیر یقینی (uncertain) سمجھا جا سکتا ہے، لیکن آزاد ذرائع سے ملنے والے شواہد ارتقا کے نظریے کی تصدیق کرتے ہیں (van den Brink et al. 2017, 463) ۔ ارتقا کو اب جینیات (genetics)، حیاتی جغرافیہ (biogeography)، ہم ساختیت (homology) اور دیگر کئی مخصوص شعبہ جات کی حمایت حاصل ہے (Morvillo 2010, 185–210; Rogers 2011; Futuyma and Kirkpatrick 2017)۔ آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں، یعنی consilience of induction، جو ہمیں یہ قوی علمی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ ارتقا ایک سچائی ہے۔
سائنس دانوں کا ارتقا پر اختلاف
یہ دعویٰ اس مشاہدے پر مبنی ہے کہ سائنس دانوں میں ارتقا کے بعض اصولوں یا شواہد پر اختلاف پایا جاتا ہے، جو بظاہر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ تھیوری بحران کا شکار ہے۔ ارتقائی مفکرین (اور حیاتیات کے فلسفی) ارتقا کی سائنس کے مختلف مسائل کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سائنسدانوں کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ "نوع" ہونے کا کیا مطلب ہے۔ اگرچہ یہ معمولی لگتا ہے، لیکن یہ ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ نوع کے وجود میں آنے کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط تعریف کی ضرورت ہوتی ہے (Mayr 1991, 26–34; Ershefsky 2017)۔ ایک اور مثال چمپنزیوں اور انسانوں کے درمیان جینیاتی موازنہ کا مسئلہ ہے۔ چونکہ چمپنزیوں کے کروموسوم طویل ہوتے ہیں، اس لیے یہ کچھ حد تک مشکل ہوتا ہے کہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون سے حصے انسانی کروموسوم سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ مختصراً، کروموسومز کو اس طرح سے درجہ بندی کرنا تاکہ جینیاتی مماثلت کو غیر متنازعہ طور پر ثابت کیا جا سکے، بھی ایک مسئلہ ہے (Marks 2002, 23–50; Castle 2017)۔ یہ اور دیگر متعدد مسائل ماہرین کے علم میں ہیں اور ان پر تفصیل سے بحث کی جاتی ہے (Sober 2006; Gee 2013; Thompson and Walsh 2017)۔
تاہم، جو بات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح سائنس کبھی مکمل جوابات کے ساتھ نہیں آتی اور یہ ہمیشہ ایک جاری کام ہوتا ہے۔ ناقدین اسے ارتقا کو مسترد کرنے کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ سائنسدان اسے مزید تحقیق کے امکانات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اس واضح عدم توافق کے باعث، سائنسی مباحثے بدقسمتی سے مذہبی وسیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ باؤلر (2009, 348) نے مشاہدہ کیا:
ناقدین جو سائنسی برادری کا حصہ نہیں ہیں، ان کے لیے یہ اختلافات خوش آئند ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سائنسدانوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں بن پاتا، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی نظریہ زندگی کی ترقی کے بارے میں صحیح نہیں ہے۔ زیادہ تر سائنسدان ان اختلافات کو اس بات کا اشارہ سمجھتے ہیں کہ وہ ابھی بھی اہم مسائل پر غور کر رہے ہیں اور حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ سائنسی تحقیق میں شامل نہیں ہیں، ان کے لیے یہ ماننا کہ نظریات فوراً ثابت نہیں ہو سکتے، کمزوری کی علامت لگتی ہے۔ مذہبی مفکرین جو یہ مانتے ہیں کہ اللہ نے دنیا کو اس کی موجودہ شکل میں بنایا، سائنسدانوں کے درمیان اختلافات کو اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ مادی دنیا کا نظریہ غلط ہے۔
سائنسدانوں کے درمیان اختلافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید معاملات پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے اور مزید کام کرنا باقی ہے۔ لیکن عارضی اور محدود سائنسی اختلافات پر مضبوط نتائج (خصوصاً مذہبی) اخذ کرنا اس بحث میں کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی معاملے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا جائے اور غیر جانبدار یا محتاط رہ کر اس پر مزید تحقیق یا غور کیا جائے کیونکہ جو آج متنازعہ ہے وہ کل ایک ٹھوس جواب کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے (یا نہیں)۔ اس لیے، ارتقا کے ناقدین کو ان اختلافات پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ارتقا زندگی کی ابتدا کو وضاحت نہیں دے سکتا
نظریہ ارتقا کے خلاف یہ ایک عام اعتراض ہے کہ یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا۔ اس اعتراض میں چند مسائل ہیں۔ زندگی کے بنیادی غیر متحرک مادے سے وجود میں آنے کو سمجھانے کے لیے مختلف قیاسات پیش کیے گئے ہیں۔ اگرچہ سائنسدانوں نے زندگی کی ابتدا کے لیے ممکنہ حالات اور میکانزم کے بارے میں قیاس آرائیاں کی ہیں، تاہم اس شعبے میں موجود سائنس ابھی تک قیاس پر مبنی ہے (Walker 2017؛ Kitadai and Maruyama 2018؛ Maruyama et al. 2019؛ Schreiber and Mayer 2020)۔ اس سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ ایک درست اور مکمل وضاحت کبھی نہیں سامنے آئے گی (Lazcano 2007؛ Ruse 2008، 52–71)۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو چیزیں ایک وقت میں سائنسی طور پر ناممکن سمجھی جاتی تھیں، آج وہ ممکنہ طور پر درست سمجھی جا رہی ہیں، جیسے انسان کا چاند پر جانا۔
فرض کریں کہ سائنس دانوں نے زندگی کی ابتدا کے بارے میں ایک سائنسی طور پر قابل قبول نظریہ پیش کر لیا۔ اس میں مسئلہ کیا ہو گا؟ بعض لوگ اس کو اس لیے مسئلہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس سے خدا کا کردار مزید غیر ضروری ہو جائے گا۔ اس دلیل میں مسئلہ یہ ہے کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ خدا اور سائنس (یا قدرت) زندگی کی ابتدا کی مختلف وضاحتیں ہیں، جو اسلامی نقطہ نظر سے درست نہیں۔ اس معاملے میں بنیادی اور ثانوی علت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے (Pope 2007)؛ Rieppel 2011، 47، 52۔ سائنسی وضاحت یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ قدرت کیسے کام کرتی ہے (ثانوی علت)، لیکن یہ ہمیشہ خدا کی ہدایت اور مدد سے ہوتی ہے (بنیادی علت)۔ اگر ہم ان دونوں کے درمیان فرق کو ختم کر دیں، تو ہم خدا اور قدرت (یا سائنس) کو حریفوں کی طرح دیکھنے لگتے ہیں، جس سے "خدا کے خلا" کا نظریہ جنم لیتا ہے (Pennock 2007)۔ اس نظریے کے مطابق، جو قدرتی مظاہر پہلے خدا کی طرف سے سمجھائے جاتے تھے، وہ اب سائنسی وضاحتوں سے بدل گئے ہیں۔ اس طرح، جیسے جیسے ہمارا سائنسی علم بڑھتا ہے، خدا کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے۔ مختصراً، خدا کا کردار صرف تب تک ضروری سمجھا جاتا ہے جب تک ہمارے علم میں خلا موجود ہو، اور جب وہ خلا بھر جائیں، خدا کو معادلات سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ ایک غلط نقطہ نظر ہے، جس کو ہم باب 6 میں تفصیل سے دیکھیں گے۔
اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ اعتراض پوری طرح غلط ہے۔ زندگی کی ابتدا اور انواع کی ابتدا میں واضح فرق کرنا ضروری ہے۔ زندگی کی ابتدا اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے کہ زندگی کیسے شروع ہوئی، جب کہ انواع کی ابتدا یہ وضاحت کرتی ہے کہ انواع کیسے وجود میں آئیں (Rau 2012، 82–152)۔ ارتقا صرف انواع کی ابتدا کی وضاحت کرتا ہے (اسی لیے ڈارون کی کتاب کا نام "On the Origins of Species" ہے)۔ ارتقا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب زندگی شروع ہو چکی ہو، لیکن یہ بذات خود زندگی کی ابتدا کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ صاف طور پر کہا جائے تو، ارتقا، انواع کی ابتدا کی وضاحت کرنے کے لیے ایک مستند وضاحت پر انحصار کرتا ہے، لیکن یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا۔لہذا، ارتقا پر تنقید کرنا کیونکہ یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا، ارتقا کی طرف کی جانے والی ایک غلط تنقید ہے۔
کیا ارتقا کا اتفاقیہ ہونا خدا کی قدرت اور علم کو کمزور کرتا ہے؟
جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، جینیاتی تبدیلیاں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ یعنی یہ اچھی، بری یا غیر مؤثر ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ ارتقا کو ایک غیرمنظم عمل سمجھتے ہیں، جو اس نظریے کے خلاف جاتا ہے کہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی گئی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں" (الذاریات: 56)
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے۔ لیکن اگر ارتقا ایک اتفاقیہ عمل ہے، تو پھر ایسا لگ سکتا ہے کہ انسان کا وجود محض ایک خوش قسمتی کا نتیجہ ہے، یعنی انسان کا پیدا ہونا لازمی نہیں تھا۔ ماہرِ حیاتیات اسٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) کے مطابق، اگر زندگی کے ارتقائی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے تو ضروری نہیں کہ وہ تمام جاندار، بشمول انسان، دوبارہ وجود میں آئیں۔ یہ نظریہ دو وجوہات کی بنا پر قابلِ فکر محسوس ہوتا ہے:
- مابعد الطبیعیاتی پہلو: اگر ارتقا محض ایک تجرباتی عمل ہے تو یہ تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ خدا "کوشش و خطا" (trial and error) کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے، گویا وہ اپنے فیصلوں کے بارے میں غیر یقینی ہے۔ یہ تصور اسلامی عقیدے میں بیان کردہ قادرِ مطلق اور عالمِ مطلق خدا کے برعکس ہے۔
- دینی پہلو: یہ خیال، براہِ راست یا بالواسطہ، قرآن کی مذکورہ آیت سے متصادم محسوس ہو سکتا ہے، کیونکہ اس آیت میں انسانی تخلیق کا ایک واضح مقصد بتایا گیا ہے۔
اس بحث پر غور کرتے ہوئے دو باتیں کہی جا سکتی ہیں:
اول، سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ارتقا کا عمل مکمل طور پر بے سمت (random) نہیں ہے۔ کچھ سائنسی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قدرتی عوامل ارتقائی راستوں کو مخصوص حدود میں رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ خاص خصوصیات لازمی طور پر پیدا ہوتی ہیں (McGhee 2008)۔ مثال کے طور پر، آنکھوں کا ارتقا کئی بار آزادانہ طور پر مختلف جانداروں میں ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک ناگزیر ارتقائی نتیجہ ہے (Morris 2003, 147–196)۔ دوم، اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ ارتقا واقعی ایک کھلا اور غیر متعین عمل ہے، تب بھی اس سے خدا کے علم و قدرت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر کائنات میں کچھ چیزیں احتمالی (probabilistic) اصولوں کے تحت چلتی ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ خدا چاہے تو ایک ایسی دنیا تخلیق کر سکتا ہے جو بظاہر غیر متعین قوانین پر کام کرے، لیکن پھر بھی وہ اپنی حکمت اور قدرت سے اس کا مکمل علم رکھتا ہو۔ اگر ہم یہ کہیں کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا، تو دراصل ہم اپنی انسانی سوچ کو خدا پر مسلط کر رہے ہیں، جو ایک غلط فہمی ہے۔ یہ اور دیگر متعلقہ مباحث کو مزید تفصیل سے باب ششسم میں بیان کیا جائے گا۔
کیا ارتقا فطری اور دہریہ نظریہ ہے؟
ترک مصنف عدنان اکتار (Adnan Oktar)، جوہارون یحی (Harun Yahya) کے قلمی نام سے معروف ہیں، نے اپنی زندگی ارتقا کے رد میں وقف کر رکھی ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ارتقا ایک فطری (naturalistic) اور دہریہ (atheistic) نظریہ ہے۔ ان کے مطابق، چونکہ اسلامی تصورِ حیات میں مافوق الفطرت عناصر جیسے خدا اور فرشتے شامل ہیں، اس لیے ارتقا کو اگر ہر چیز کی مکمل وضاحت سمجھا جائے تو یہ خدا کے وجود کو غیر ضروری بنا دیتا ہے اور نتیجتاً ایک بے خدا تصورِ کائنات پیش کرتا ہے۔اس پر تین نکات غور طلب ہیں:
- یہ دعویٰ کہ ارتقا کا نظریہ لازمی طور پر دہریہ ہے، سائنسی نظریات کی بنیادی نوعیت کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔ سائنسی نظریات قدرت کے قوانین اور کائنات میں پائے جانے والے نظم و ضبط کو دریافت کرتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، یہ فطری قوانین بھی خدا کی تخلیق ہیں اور اسی کے حکم سے قائم ہیں (Malik 2019)۔ چنانچہ کسی سائنسی نظریے کو محض اس بنیاد پر "بے خدا" قرار دینا کہ وہ مافوق الفطرت عناصر کا ذکر نہیں کرتا، ہمارے نزدیک یہ درست طرزِ فکر نہیں ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ سائنسی تحقیق کو اس نظر سے دیکھا کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
- دلچسپ بات یہ ہے کہ ارتقا کو تو دہریت کا نظریہ کہا جاتا ہے، مگر دیگر سائنسی تصورات جیسے ایٹم، کوارکس، کیمیکل ردعمل، کشش ثقل اور بجلی کی طاقت کو اسی انداز میں چیلنج نہیں کیا جاتا۔ اگر ارتقا کو اس بنیاد پر رد کرنا ہے کہ وہ فطری قوانین کے ذریعے وضاحت پیش کرتا ہے، تو پھر جدید ٹیکنالوجی جیسے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی اسی بنیاد پر مسترد کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ بھی انہی سائنسی قوانین پر مبنی ہیں۔ اس سلسلے میں رابرٹ پیناک (1999) نے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ وہ ارتقا پر تنقید کرنے والے فلپ جانسن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر سائنسی طریقہ کار کا فطری ہونا ہی مسئلہ ہے، تو پھر کیمیا، موسمیات، برقیات اور یہاں تک کہ گاڑیوں کے مکینکس کو بھی رد کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ تمام علوم بھی "فطری اصولوں" کے تحت چلتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان علوم کے فطری ہونے سے خدا کا انکار لازم آتا ہے۔
- یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: فلسفیانہ فطریت (Philosophical Naturalism - PN) کا نظریہ کہتا ہے کہ فطرت ہی سب کچھ ہے اور اس سے باہر کوئی مافوق الفطرت ہستی یا قوت موجود نہیں۔ سائنسی فطریت (Methodological Naturalism - MN) یہ نظریہ محض سائنسی تحقیق کے دائرہ کار کو بیان کرتا ہے، یعنی سائنس صرف فطری دنیا کا مطالعہ کر سکتی ہے اور مافوق الفطرت معاملات پر کوئی رائے نہیں دے سکتی۔
ایک دیندار شخص سائنسی فطریت کو بآسانی اپنا سکتا ہے اور ارتقا کو ایک سائنسی وضاحت کے طور پر قبول کر سکتا ہے، جبکہ یہ بھی مان سکتا ہے کہ اس پورے نظام کے پیچھے خدا کی حکمت اور منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ یہ فرق مزید تفصیل سے باب ششسم میں زیر بحث آئے گا۔
کیا ارتقا اخلاقیات کو کمزور کرتا ہے؟
یہ اعتراض ڈارون کے دور میں بھی موجود تھا اور آج بھی ہارون یحی جیسے ناقدین اسے دہراتے رہتے ہیں۔ اخلاقیات اور ارتقا کے تعلق پر دو بنیادی خدشات سامنے آتے ہیں:
ایک تشویش یہ ہے کہ اگر اخلاقی اصولوں کی بنیاد فطرت پر ہو، تو وہ رویے جو ہمیں غیر اخلاقی لگتے ہیں، قدرتی طور پر جائز قرار پا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہمارے آبا و اجداد کسی مخصوص رویے (جیسے قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادی) کو اپناتے تھے، اور اگر یہ ارتقائی طور پر فائدہ مند تھا، تو اس کی کوئی حیاتیاتی توجیہ ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کچھ ایسے اعمال، جو سماجی یا مذہبی طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں، وہ فطری طور پر قابلِ قبول قرار دیے جا سکتے ہیں، جو کہ اخلاقی لحاظ سے ایک پیچیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اخلاقیات ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں، تو یہ کسی مخصوص اصول یا حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ صرف زندگی کے تاریخی حالات پر منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر زندگی کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کیا جائے اور ارتقائی عوامل مختلف ہوں، تو ممکن ہے کہ جو اصول ہم آج "اخلاقی" سمجھتے ہیں، وہ تبدیل ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سچ بولنا یا دھوکہ دہی سے بچنا جیسے اصول ہمیشہ لازمی طور پر درست نہیں ہوں گے، بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ بدل سکتے ہیں (Ruse 2008)۔
اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے: اگر اخلاقیات محض قدرتی قوانین پر مبنی نہیں ہیں، تو کیا وہ کسی اور بنیاد پر قائم ہو سکتی ہیں؟ ایک مذہبی نقطۂ نظر یہ ہے کہ اخلاقیات کا تعین فطرت یا ارتقائی عوامل کے بجائے خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، جو کچھ خدا درست قرار دیتا ہے، وہی اخلاقی ہے، اور جو کچھ وہ منع کرتا ہے، وہ غیر اخلاقی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد کسی مادی یا سائنسی حقیقت پر نہیں بلکہ وحی یا الہامی ہدایت پر ہونی چاہیے۔ ارتقا اور اخلاقیات کے اس تعلق پر مزید تفصیل سے بحث باب 8 میں کی جائے گی۔
کیا چارلس ڈارون (Charles Darwin) ملحد تھا؟
کسی دلیل کو رد کرنے کا ایک عام طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ماخذ پر اعتراض کردیا جائے۔ ارتقا کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے عام طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس نظریے کو پیش کرنے والا شخص، یعنی چارلس ڈارون، ایک ملحد تھا، اس لیے مسلمانوں کو اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک منطقی مغالطہ ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ کوئی نظریہ کسی ایسے شخص سے آیا ہے جس کے خیالات سے ہم متفق نہیں، اس نظریے کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی آمر جیسے ہٹلر، اسٹالن، یا ماؤ (یا حتیٰ کہ شیطان، اگر ہم اس دلیل کو انتہا تک لے جائیں) یہ کہے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں، تو ان کی شخصیت کا اس بیان کی سچائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح، اگر ڈارون واقعی ایک ملحد ہوتا اور اس نے ارتقا کا نظریہ پیش کیا ہوتا، تو اس کا ملحد ہونا اس نظریے کی سچائی یا غلطی پر اثرانداز نہ ہوتا۔
پھر تاریخی طور پر یہ دعویٰ درست نہیں کہ ڈارون ایک ملحد تھا، کم از کم اس مفہوم میں نہیں جس طرح ناقدین اسے پیش کرتے ہیں۔ ارتقا کے نظریے تک پہنچنے سے قبل وہ مذہب کے قریب تھا اور پادری بننے کی راہ پر گامزن تھا (Brooke 2009, 393; Osborn 2017, 26–28)۔ اگرچہ بعد میں اس کا مذہب سے تعلق کمزور پڑ گیا اور اس نے خدا پر یقین کھو دیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مکمل طور پر ملحد ہو گیا تھا (Bowler 2009, 146)۔
ڈارون کے دور میں قدرتی الہیات (Natural Theology) کا نظریہ غالب تھا۔ تاہم، اپنے قریبی عزیزوں، خصوصاً اپنی بیٹی این (Anne) کی موت اور ارتقا کے بے رحم عمل کے اثرات نے اسے کریم مطلق خدا (Omnibenevolent God) کے تصور پرشک میں مبتلا کر دیا (Brooke 2009, 396; Spencer 2009, 100)۔ اگر ڈارون کے خیالات کو دیانت داری سے پڑھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی کبھی تذبذب کا شکار ہوتا تھا، آخرمیں وہ ایک لامذہب (agnostic) کی حیثیت سے مطمئن دکھائی دیتا ہے (Brooke 2009, 394; Spencer 2009, 101)۔ لہٰذا، جو لوگ ڈارون کے ایمان سے ہٹ جانے کو ارتقا کے انکار کی بنیاد بناتے ہیں، وہ غلط فہمی اور لاعلمی کا شکار ہیں۔
حوالہ جات
- Al-Aʿẓamī, Muhammad Muṣṭafā. 2003. The History of the Qurʿānic Text, from Revelation to Compilation: A Comparative Study with the Old and New Testaments. Leicester: UK Islamic Academy.
- Alexander, Denis. 2008. Creation or Evolution: Do We Have to Choose? Michigan: Monarch Books.
- Ayala, Francisco J., and Camilo J. Cela-Conde. 2017. Process in Human Evolution: The Journey from Early Hominins to Neanderthals and Modern Humans. Oxford: Oxford University Press.
- Bakar, Osman. 1984. “The Nature and Extent of Criticism of Evolutionary Theory.” In Osman Bakar, ed. Critique of Evolutionary Theory: A Collection of Essays. Kuala Lumpur: The Islamic Academy of Science and Nurin Enterprise, 123–152.
- Bard, Jonathon. 2017. Principles of Evolution Systems, Species, and the History of Life. Abingdon: Routledge.
- Berra, Tim M. 1990. Evolution and the Myth of Creationism: A Basic Guide to the Facts of Evolution Debate. Stanford, CA: Stanford University Press.
- Berry, R. J. 2012. “Biology Since Darwin.” In Andrew Robinson, ed. Darwinism and Natural Theology: Evolving Perspectives. Newcastle Upon Tyne: Cambridge Scholars Publishing, 12–38.
- Bowler, Peter J. 1983. The Eclipse of Darwinism. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 1986. Theories of Human Evolution: A Century of Debate, 1844–1944. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 1988. The Non-Darwinian Revolution: Reinterpreting A Historical Myth. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 2007. Monkey Trials and Gorilla Sermons: Evolution and Christianity from Darwin to Intelligent Design. Cambridge, MA: Harvard University Press.
- Bowler, Peter J. 2009. Evolution: The History of an Idea. Berkeley, CA: University of California Press.
- Bowler, Peter J. 2015. The Mendelian Revolution: The Emergence of Hereditarian Concepts in Modern Science and Society. London: Bloomsbury Academic.
- Brooke, John Hedley. 2009. “Darwin and Religion: Correcting the Caricatures.” Science and Education, 19: 391–405.
- Brooke, John Hedley. 2012. “Christian Darwinians.” In Andrew Robinson, ed. Darwinism and Natural Theology: Evolving Perspectives. Newcastle Upon Tyne: Cambridge Scholars Publishing, 47–67.
- Brown, Jonathon A. C. 2011. Hadith: Muhammad’s Legacy in the Medieval and Modern World. Oxford: Oneworld.
- Cambridge Dictionary. “Devolution.” Accessed 14th of June 2020b. Available at: https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/devolution
- Cambridge Dictionary. “Evolution.” Accessed 14th of June 2020a. Available at: https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/evolution
- Castle, David. 2017. “DNA Barcoding and Taxonomic Practice.” In R. Paul Thompson, and Denis M. Walsh, eds. Evolutionary Biology: Conceptual, Ethical, and Religious Issues. Cambridge: Cambridge University Press, 87–106.
- Cotner, Sehoya, D. Christopher Brooks, and Randy Moore. 2010. “Is the Age of the Earth One of or ‘Sorest Troubles?’ Students’ Perceptions About Deep Time Affect Their Acceptance of Evolutionary Theory.” Evolution, 64(3): 858–864.
- Darwin, Charles. 1881. “Letter to William Graham, Down, July 31, 1881.” In Francis Darwin, ed. The Life and Letters of Charles Darwin Including an Autobiographical Chapter. Volume 1. London: John Murray, 315–316.
- Delisle, Richard G. 2017. Debating Humankind’s Place in Nature 186-2000: The Nature of Paleoanthropology. Abingdon: Routledge.
- Depew, David. J. 2009. “Darwinian Controversies: An Historiographical Recounting.” Science and Education, 19: 323–366.
- Dobzhansky, Theodosius. 1973. “Nothing in Biology Makes Sense Except in the Light of Evolution.” American Biology Teacher, 35(3): 125–129.
- Eldredge, Niles. 2008. “Experimenting With Transmutation: Darwin, the Beagle, and Evolution.” Evolution: Education and Outreach, 2: 35–54.
- Endersby, Jim. 2009. “Generation, Pangenesis and Sexual Selection.” In Jonathon Hodge, and Gregory Radick, eds. The Cambridge Companion to Darwin. Cambridge: Cambridge University Press, 73–95.
- Ershefsky, Marc. 2017. “Consilience, Historicity, and the Species Problem.” In R. Paul Thompson, and Denis M. Walsh, eds. Evolutionary Biology: Conceptual, Ethical, and Religious Issues. Cambridge: Cambridge University Press, 65–86.
- Fairbanks, Daniel J. 2010. Relics of Eden: The Powerful Evidence of Evolution in Human DNA. New York, NY: Prometheus Books.
- Finlay, Graeme. 2013. Human Evolution: Genes, Genealogies, and Phylogenies. Cambridge: Cambridge University Press.
- Flannery, Michael A. 2018. Nature’s Prophet: Alfred Russel Wallace and His Evolution from Natural Selection to Natural Theology. Tuscaloosa, AL: The University of Alabama Press.
- Fodor, Jerry, and Miassimo Piatelli-Palmarini. 2011. What Darwin Got Wrong. London: Profile Books.
- Fowler, Thomas, and Daniel Kuebler. 2007. The Evolution Controversy: A Survey of Competing Theories. Ada, MI: Baker Academic.
- Futuyma, Douglas J., and Mark Kirkpatrick. 2017. Evolution. Sunderland, MA: Sinauer Associates, Inc.
- Galera, Andrés. 2016. “The Impact of Lamarck’s Theory of Evolution Before Darwin’s Theory.” Journal of the History of Biology, 50: 53–70.
- Gardner, Vika, E. Carolina Mayes, and Salman Hameed. 2018. “Preaching Science and Islam: Dr. Zakir Naik and Discourses of Science and Islam in Internet Videos.” Die Welt Des Islams, 58: 357–391.
(جاری)
’’نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے‘‘
مولانا طارق جمیل
حضرت عمرؓ کا زمانۂ خلافت ہے اور ابو سفیان، عکرمہ بن ابی جہل، حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ (رضی اللہ عنہم) یہ سارے سردار مکے کے، آپؓ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اتنے میں حضرت بلالؓ آئے، تو آپؓ نے کہا آپ لوگ تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔ پھر حضرت سلمانؓ آ گئے، آپؓ نے کہا آپ لوگ تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔ پھر مقدادؓ آ گئے، آپؓ نے کہا آپ لوگ تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔ پھر ابو ہریرہؓ آئے، آپ نے کہا آپ لوگ تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔ حضرت سلمان فارسیؓ آ گئے، آپؓ نے کہا آپ لوگ تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔ جیسے جیسے پرانے صحابہؓ آتے گئے، اُن کو ہٹاتے ہٹاتے جوتیوں تک پہنچا دیا۔
تو وہ غصے سے اٹھ کر باہر نکل گئے، اور ابو سفیانؓ کہنے لگے، یہ کِیا کیا ہے عمرؓ نے ہمارے ساتھ؟ غلاموں کو آگے بٹھایا ہے اور ہمیں جوتوں پر بٹھا دیا۔ تو سہیل بن عمروؓ کہنے لگے، ابو سفیان! عمرؓ کا قصور نہیں، ہمارا قصور ہے۔ ہم نے اسلام لانے میں دیر کی، انہوں نے جلدی کی، وہ آگے نکل گئے۔
ا ب یہ سردارانِ مکہ ہیں اور یہ فتحِ مکہ پہ ایمان لائے ہیں، لمبا زمانۂ صحبت بھی نہیں ہے، قربان جاؤں۔ سارے آپس میں کہنے لگے، اگر جنت میں بھی پیچھے رہ گئے تو کیا بنے گا؟ سبحان اللہ۔ تو سارے واپس آ گئے۔ کہنے لگے عمرؓ! جو تو نے کیا ہمارے ساتھ، ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں فکر یہ ہے کہ اگر ہم جنت میں بھی ایسے ہی اس طرح تمہارے پیچھے رہ گئے تو ہمارا کیا بنے گا؟ کوئی راستہ بتاؤ کہ ہم تم سے آگے تو نہیں نکل سکتے، برابر تو ہو جائیں۔ (اللہ کے نبیؐ نے) افراد تیار کیے، افراد۔
آپؓ نے فرمایا کہ تم اللہ کے راستے میں نکل جاؤ، جس طرح وہ نکلے تھے، تم بھی نکل جاؤ، اپنی جانوں کے نذرانے دو تو ان شاء اللہ ہمارے ساتھ ہو جاؤ گے۔ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے۔
تو یہ سارے حضرات مکہ آئے اور انہوں نے مکہ چھوڑا۔ اور چار سو قریشی نوجوان، انہوں نے ہجرت کی، ملکِ شام میں جہاد ہو رہا تھا۔ حارث بن ہشامؓ کون ہیں؟ یہ ابو جہل کے چھوٹے بھائی ہیں، یہ ایمان لے آئے تھے فتح مکہ پر۔ ان کو چھوڑنے کے لیے مکے کا بچہ بچہ باہر نکلا۔ اور جب وہ مکے سے باہر آگئے تو سب رونے لگے کہ یہ تو اب واپس نہیں آئیں گے۔ تو حضرت حارثؓ کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں تمہارا رونا دیکھ رہا ہوں، اللہ کی قسم! مکے سے محبوب کوئی جگہ نہیں ہے، لیکن اللہ کے نبی کی آواز پر ہمارے نوکروں نے لبیک کہا اور وہ اتنا آگے جا چکے ہیں کہ اگر مکہ کے پہاڑ سونا بن جائیں اور میں سارے خرچ کر دوں تو میں ان کے ایک مٹھی جَو، جو انہوں نے اُس وقت اللہ کے نام پر خرچ کیا تھا، میں اس کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا، ہم اپنی جانیں دے کر شاید وہاں تک چلے جائیں۔
جب یہ لوگ پہنچے تو اجنادین کی جنگ ہو رہی تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے آسانی سے فتح دے دی۔ آگے یرموک کی جنگ آ گئی۔ یرموک کی جنگ میں عیسائیوں کا سردار تھا باہان اور تین لاکھ کا لشکر تھا۔ اور صحابہؓ چھتیس ہزار تھے۔ او ران کے امیر تھے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ نو دن یہ جنگ چلتی رہی، اور اس میں ایک دن ایسا ہوا کہ صحابہؓ کو رومی ہٹاتے ہٹاتے خیموں تک لے آئے۔ تو ایک دم حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سر سے لوہے کی ٹوپی اتار کر پھینک دی۔ اور اپنی تلوار کا جو کور تھا، اس کو توڑ دیا۔ اور کہا کون ہے جو میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرتا ہے؟ حضرت خالدؓ اور حضرت عکرمہؓ ایک ہی قبیلہ بنو مخزوم کے ہیں۔ تو خالدؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا نہیں نہیں، ایسا نہ کرو، ابھی تیری ضرورت ہے۔ تو انہوں نے جھٹکا دے کر ہاتھ چھڑا کر کہا ’’الیک عنی‘‘۔ میں اس کا ادب والا ترجمہ ہی کروں گا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ۔ لیکن انہوں نے بہت سخت لفظ استعمال کیا ’’الیک عنی‘‘ ہٹ جا پرے۔ میں وہ ترجمہ نہیں کر رہا ہوں، مقامِ ادب کی وجہ سے ۔ ’’انی و ابی کان من اشد الناس عداوۃ لرسول اللہ وافر منکم الیوم‘‘۔ ساری زندگی میں اور میرے باپ نے اللہ کے نبی کی دشمنی میں گزار دی ،اور آج جب اس داغ کو دھونے کا وقت آیا تو میں بھاگ جاؤں گا؟ میں نہیں ٹلوں گا۔
تو سب سے پہلے کس نے بیعت کی؟ ان کے بیٹے عمرو بن عکرمہؓ نے۔ اور وہ جو چار سو قریشی تھے، ان سب نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اپنی تلواروں کے کور توڑ دیے، اپنی ٹوپیاں اتار کر پھینک دیں، اور گھوڑوں سے اتر گئے، اور سینہ سپر ہو گئے، اور لڑتے لڑتے رومیوں کو پیچھے دھکیلا، اور رومیوں میں بھگدڑ مچ گئی، جونہی بھگدڑ مچی تو حضرت خالد بن ولیدؓ دوڑے دوڑے واپس آئے، عکرمہؓ کدھر ہے؟ عکرمہؓ کدھر ہے؟ کہا جی وہ پڑے ہیں۔ دیکھا تو وہ آخری سانسوں میں تھے۔ اور ان کے بیٹے عمروؓ، وہ شہید ہو چکے تھے۔ دونوں باپ بیٹا قریب قریب تھے۔ حضرت عمروؓ کو انہوں نے یہاں اپنی پنڈلی پر رکھا، اور حضرت عکرمہؓ کو گود میں لے لیا اور پانی لے کر منہ میں ٹپکایا۔
حضرت عکرمہؓ نے آنکھیں کھولیں، کہا، کون؟ کہا، میں خالد۔ کہا، کیا ہوا؟ کہا، اللہ نے آنکھیں ٹھنڈی کیں، مسلمانوں کو فتح دی۔ کہنے لگے، عمرؓ کو کہہ دینا، جو تو نے کہا تھا وہ ہم نے کر دیا، اب آگے اللہ کی مرضی، جو تو نے کہا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ اور ان کی جان نکل گئی۔ جو تو نے کہا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ اے عمرؓ ! جو تو نے کہا تھا وہ ہم نے کر دیا۔
اب خالد بن ولیدؓ کو غصہ آگیا، غصہ نہیں جوش آگیا۔ عرب جب خوش ہوتے تھے تو باپ کے نام سے پکارتے تھے، جب غصے ہوتے تھے تو ماں کے نام سے پکارتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے باپ کا نام خطاب ہے اور ماں کا نام ہے حنطمہ ۔ تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے کہا، اب حنطمہ کا بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ سرداروں نے قربانیاں نہیں دیں۔
میرے نبیؐ نے ایک نسل تیار کی۔ یہ نبیوں کے کام کا مقصد تھا کہ انسانوں کو ایسا بنانا کہ وہ اللہ کو راضی کرنے والے بنیں۔ اور اللہ کی محبوب زندگی اپنائیں۔ نکلنے کا پہلا مقصد ہی یہ ہے کہ میری ذات بنے۔ سارے جنت میں چلے جائیں اور میں جہنم میں چلا جاؤں تو مجھے کیا فائدہ ہوا؟
جنگ جاری تھی، تو اگلے دن باہان نے جبلہ بن الایہم غسانی کو بلایا۔ عرب میں دو قبیلے بدنصیب نکلے جو ایمان نہ لا سکے۔ ایک بنو غسان، ایک بنو تغلب۔ یہ دونوں عیسائی رہے، ایمان نہیں لائے۔ بنو غسان اردن میں آج بھی آباد ہیں۔ وہاں بھی ایک شہر کرک، وہاں ہماری جماعت گئی تھی، وہاں وہ کافی آباد ہیں۔ تو باہان نے اسے بلایا کہ تم ایسا کرو، تم آج اپنے عرب لشکر کو لے کر ان پر اٹیک کرو۔ عرب لوہا لوہے کو کاٹے گا۔ پھر جب تم شکست دو گے، پیچھے ہم آجائیں گے۔ تو ساٹھ ہزار تھے عرب اس میں، غسانی اور باقی ملے ہوئے۔
چونکہ آمنے سامنے لشکر تھے، تو خالد بن ولیدؓ تک یہ خبر پہنچ گئی، ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک۔ ابوعبیدہؓ اس وقت امیر بن چکے تھے، حضرت خالدؓ کو حضرت عمرؓ نے ہٹا دیا تھا۔ تو حضرت خالدؓ نے ابوعبیدہؓ سے کہا مجھے تیس آدمی دے دو، میں ان ساٹھ ہزار کا مقابلہ کروں گا۔ تو ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، مذاق کر رہے ہو یا سنجیدہ ہو؟ کہنے لگے، تو کفر میں تو بڑا دلیر بنتا تھا، اب بزدل بنتا ہے؟ کہنے لگے کہ بزدلی کی بات نہیں ہے، انصاف کی بات ہے، اگر تم نے کوئی جوہر دکھانا ہے تو ساٹھ تو کرو، ایک کے مقابلے میں ایک ہزار۔ ابو عبیدہؓ کہنے لگے، یہ ٹھیک ہے۔ خالد! ساٹھ لے جاؤ۔
میں نے بہت تاریخ پڑھی ہے اللہ کے فضل سے، آپ نے بھی سنی ہو گی یا پڑھی ہو گی۔ کبھی دنیا میں دیکھا ہے کوئی ایسے انسانوں کا مجمع جو ساٹھ کو لے کر ساٹھ ہزار پر حملہ کرنے چل پڑے؟
تو ابو عبیدہؓ کہنے لگے خالد! تو ہی چناؤ کر لے پھر، کس کو لے جائے گا؟ کہنے لگے ابو عبیدہؓ! میں ایسے لوگوں کو اس لشکر میں جانتا ہوں کہ جب وہ کسی بات کے لیے یوں ہاتھ اٹھاتے ہیں، تو ان کے ہاتھ کبھی اللہ خالی نہیں لوٹاتا۔
یہ نبی کی محنت ہے۔ بڑے بڑے مرکز بنانا تو ضروریات میں سے ہے، کام میں سے نہیں، کام کی ضروریات میں سے ہے۔
کہا، تو بلا جس کو بلانا ہے۔ تو پہلا نام لیا این عمرو بن تمیم؟ ان فضل بن عباس؟ این زبیر بن العوام؟ این رافع بن عمیرہ الطائی؟ این عبد اللہ بن عمر؟ این عبد الرحمٰن بن ابی بکر؟ این ضرار بن الازور؟ این مقداد بن الاسود؟ این ابو ایوب الانصاری؟ این ہاشم مرقال؟ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)۔ ساٹھ آدمیوں کے نام لیے۔ ان میں چوالیس انصاری تھے اور سولہ مہاجر تھے۔ تو ایک انصاری کہنے لگا، ہمیں مرواتے ہو، اپنوں کو بچاتے ہو؟ تو خالدؓ کہنے لگے، اللہ کی قسم، ہرگز نہیں! میں نے یہ دیکھا نبی کریمؐ کے ساتھ کہ مشکل وقت میں انصار کو آگے کرتے تھے۔ تو آج اس مشکل گھڑی میں، میں نے انہیں آگے کیا ہے۔ سب کو اکٹھا کیا اور فرمایا جاؤ آج رات تیاری کرو۔ کیا تیاری تھی؟ ساری رات یہ نفلوں میں اور رونے میں، نفلوں میں اور رونے میں۔
جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے خالد بن ولیدؓ زرہ پہن کر باہر نکلے، تو انہوں نے دیکھا حضرت زبیر بن العوامؓ کو، ان کی بیوی حضرت اسماءؓ، ابوبکرؓ کی بیٹی، انہوں نے اپنے خاوند کے گھوڑے کی لگام پکڑی ہوئی۔ کیا عورتیں تھیں اور کیا مرد تھے۔ گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے لائیں اور زبیرؓ کو لا کر حضرت خالدؓ کے برابر کھڑا کر دیا۔ ضرار بن ازورؓ جو تھے، وہ جب لڑتے تھے تو ننگے بدن لڑتے تھے، صرف تہبند ہوتا تھا، اور کرتا بھی نہیں، بنیان بھی نہیں، اور زرہ بھی نہیں۔ کہتے، میں تو شہادت کے لیے نکلتا ہوں، میں کیوں زرہ پہنوں؟ مجھے تو شہادت چاہیے۔ اور نیزے سے لڑتے تھے، تلوار سے نہیں۔ تو وہ اسی طرح آ گئے نیزہ لیے اور ننگے بدن۔ آپؓ نے کہا، واپس جاؤ، زرہ پہنو، تلوار لے کر آؤ، آج نیزہ کام نہیں آئے گا، آج تلوار کام آئے گی۔
اور یہ ساٹھ آدمی! زمین آسمان نے آج تک ایسا منظر نہ دیکھا نہ دیکھے گی۔ جب جبلہ نے دیکھا کہ ساٹھ آدمی آ رہے ہیں۔ کہنے لگا، دیکھا ڈر گئے ہیں نا۔ اب آ رہے ہیں میرے ساتھ منتیں کرنے کہ صلح کر لو، ہم لڑنے کے قابل نہیں رہ گئے، مہربانی کرو، ہمارے ساتھ صلح کرو۔ میں بھی آج ان کو قابو کروں گا۔ اتنی بڑی شرطیں میں رکھوں گا کہ ان کے ناک زمین پر جا لگیں گے۔ جب آمنے سامنے ہو گئے، آوازیں پہنچ لگیں تو جبلہ کہنے لگا، آ گئے ہو صلح کے لیے؟ کہا، صلح، یہ کس نے کہا؟ ہم تو تمہارے سر کاٹنے آئے ہیں۔ اس نے کہا، تیرا دماغ ٹھیک ہے، تیری عقل سلامت ہے؟ تمہارے اوپر سے ہم ویسے ہی گزر جائیں تو تم ختم ہو جاؤ گے۔ کہنے لگے، شکاری جب چڑیاں پکڑتا ہے تو ایک ہوتا ہے اور ہزاروں چڑیاں پکڑ لیتا ہے، تم ہمارے لیے چڑیوں کی طرح ہو، جس کو پکڑ لیں جس کو چھوڑ دیں۔ تو اس کو بڑا طیش آیا، کہنے لگا، آخر میری رگوں میں بھی عرب کا خون ہے، میں نہیں چاہتا کہ تاریخ طعنہ دے کہ جبلہ نے ساٹھ ہزار کے ساٹھ پر حملہ کر دیا۔ کہا، پتر آؤ تو سہی پھر تمہیں پتہ چلے گا۔ تو اس کو غصہ چڑھا، کہا اٹیک کرو۔
پہلا حملہ ساٹھ پر، پیچھے ساٹھ ہزار، صف ٹوٹ نہیں سکی، صف نہیں توڑ سکے۔ پھر دوسرا حملہ ہوا، صف نہیں ٹوٹی۔ کیا لوگ تیار کیے میرے نبیؐ نے۔ اصل تو انسان سازی ہے تبلیغ کا کام۔ نبیوں کا کام انسان سازی ہے۔ ایسا انسان بنے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نظر اس پر پڑتی رہے۔ تیسرا حملہ کیا تو صف ٹوٹ گئی۔ خالد بن ولیدؓ نے اعلان کیا کہ چھ چھ ہو جاؤ۔ اپنی کمر ملا لو اور چھ چھ کی ٹولی بنا لو۔ دس چھ، ساٹھ۔ دس ٹولیاں بن گئیں۔ خالد بن ولیدؓ کے ساتھ تھے فضل بن عباسؓ، زبیر بن العوامؓ، عبد الرحمٰن بن ابو بکرؓ، ضرار بن ازورؓ اور رافع بن عمیرہ الطائیؓ۔ یہ چھ آدمی حضرت خالدؓ کے ٹولے میں تھے۔ اور پورا زور لگا رہے تھے عیسائی عرب خالدؓ کو قتل کرنے کے لیے، کہ یہ مارا گیا تو پھر کام بن جائے گا۔
تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ صدقے جاؤں میں ان چھ آدمیوں کے، اور خاص طور پر فضل بن عباسؓ اور زبیر بن العوامؓ پر، کہ بیس دفعہ حملہ کیا عرب عیسائیوں نے خالدؓ کو قتل کرنے کے لیے، اور صرف فضل بن عباسؓ اور زبیرؓ بن العوامؓ نے ان ہزاروں کا منہ پھیر دیا۔ اور فضل بن عباسؓ کہتے تھے ’’یامعاشر الکلاب‘‘ … اصحابِ رسول سے ہٹ جاؤ، اصحابِ رسول سے ہٹ جاؤ۔ اور شرحبیل بن حسنہؓ زو رزور سے قرآن (پڑھ رہے تھے)۔ کہاں پڑھا جاتا تھا اور کہاں پڑھا جا رہا ہے۔ ختموں پر قرآن پڑھو، میت پر قرآن پڑھو۔ وہ زور زور سے تلاوت کر رہے تھے:
ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وعدا علیہ حقا فی التوراۃ والانجیل والقرآن ومن اوفیٰ بعھدہ من اللہ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ وذالک ھو الفوز العظیم۔ (التوبۃ ۱۱۱)
قرآن پڑھنے کا بھی مزا آئے اور سننے کا بھی مزا آئے۔ عصر قریب ہوئی تو ابو عبیدہؓ کہنے لگے، خالدؓ نے ہلاک کر دیا، خالدؓ نے صحابہؓ کو ہلاک کر دیا، میں عمرؓ کو کیا جواب دوں گا، نکلو سب۔ ابو سفیانؓ کہنے لگے، ابو عبیدہؓ! اب نہیں نکلنا۔ ان کی موت بھی کامیابی ہے۔ اب یہ بزدلی ہے، صبر کرو، انتظار کرو۔ عصر ڈھلی تو ایک خوفناک چیخ کی آواز آئی اور عرب عیسائیوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ نکلے۔ اور سورج ڈوب چکا تھا۔ وہ بھاگ نکلے تو آپؓ نے اعلان کیا کہ کوئی بھاگنے والوں کے پیچھے نہ جائے۔
تو جب کھڑے ہوئے تو دیکھا بیس آدمی۔ تو حضرت خالد بن ولیدؓ ایسے اپنا ماتھا پیٹنے لگے کہ ہائے ہائے، میں نے اصحابِ رسول کو ہلاک کر دیا، اب میں عمرؓ کو کیا جواب دوں گا۔ تو حضرت رافعؓ نے کہا کہ ایسا کرو کہ دیکھو یہ جو میتیں ہیں ان میں ہمارے آدمی کتنے مرے ہیں؟ تو مشعلیں لے کر آئے اور سارے مرے ہوؤں کا جائزہ لیا تو ٹوٹل دس صحابہؓ شہید ہوئے تھے، اور ان کے پانچ ہزار مرے پڑے تھے۔ وہ کہنے لگے بیس اور دس (ہوئے) تیس۔ باقی تیس کہاں گئے؟ تو حضرت مقدادؓ کہنے لگے کہ لگتا ہے وہ ان کے تعاقب میں پیچھے چلے گئے ہیں۔ تو ابو عبیدہؓ کہنے لگے، کون جائے گا ان کے لیے؟ خالدؓ کہنے لگے، میں جاؤں گا۔ کہنے لگے، تو بہت تھک گیا ہے، آرام کر لے۔ کہنے لگے، آرام تو اکٹھا جنت میں ہی ہو گا۔ میں جاؤں گا۔ تھوڑی دور گئے تو سامنے سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی تو خالد بن ولیدؓ نے تکبیر پڑھی، اللہ اکبر! تو ادھر سے تکبیر کی آواز آئی، فضل بن عباسؓ کی آواز تھی، اللہ اکبر! تو دیکھا کہ وہ وہاں سے واپس آ رہے تھے۔ کہا، تم لوگوں نے میری آواز نہیں سنی کہ پیچھے نہیں جانا۔ کہا، نہیں ہم نے نہیں سنی، ہم نے کہا (بس) دھکیل دیں ان کو۔
آئے عشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
تھے ہمیں ایک تیرے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
ایک امت تیار کی، ہم اسی امت کا حصہ ہیں، اسی امت کا حصہ ہیں، ہم بھول گئے کہ ہم نے اچھا انسان بننا ہے، ہم نے عالم تک پیغام پہنچانا ہے، ان کو بھی اچھا انسان بننے پہ لانا ہے۔
اتحادِ مذاہب کی دعوت اور سعودی علماء کا فتویٰ
سنہ آن لائن
تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپؐ کے اہل و عیال، صحابہ اور ان لوگوں پر جو قیامت تک آپؐ کی راستبازی سے پیروی کرتے ہیں۔
’’مستقل کمیٹی برائے اسلامی تحقیق و افتاء‘‘ نے ان استفسارات، آراء اور مضامین کا جائزہ لیا ہے جو ذرائع ابلاغ میں ’’مذاہب کے اتحاد کی دعوت‘‘ یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے حوالے سے پھیلائے جا رہے ہیں؛ اور اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ اس دعوت سے کیا مطلب لیا جا رہا ہے:
- ایک ہی جگہ پر مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کرنا خاص طور پر یونیورسٹیوں، ہوائی اڈوں اور عوامی مقامات وغیرہ میں،
- قرآن مجید، تورات اور بائبل کو ایک کتاب میں چھاپنا،
- کانفرنسوں، اجتماعات اور مشرق و مغرب میں ہونے والے مطالبات کی صورت میں ایسی دعوت کے دیگر نتائج۔
جامع مطالعہ کے بعد کمیٹی مندرجہ ذیل موقف پیش کرتی ہے:
اسلام میں ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ایک، جو دین کے ایک لازمی حصے کے طور پر جانا جاتا ہے اور جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، یہ ہے کہ زمین پر اسلام کے سوا کوئی سچا دین نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جس نے تمام سابقہ مذاہب اور عقائد کو منسوخ کر دیا ہے۔ لہٰذا زمین پر اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب باقی نہیں ہے جس کے ذریعے اللہ کی عبادت کی جا سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔‘‘ (آل عمران ۸۵)
اسلام میں ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) آخری کتاب ہے جو رب العالمین نے نازل فرمائی ہے۔ اس نے ان تمام کتابوں کو منسوخ کر دیا جو اللہ نے اس سے پہلے نازل کی تھیں، جیسے کہ تورات، زبور اور انجیل۔ اور اس طرح کوئی دوسری کتاب باقی نہیں رہی جس کے ذریعے اللہ کی عبادت کی جا سکے سوائے قرآن کے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور ہم نے تم پر (اے محمد!) کتاب (القرآن) حق کے ساتھ نازل کی ہے، جو اس سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگہبان ہے۔ پس تم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔‘‘ (المائدۃ ۴۸)
ہمارا عقیدہ ہے کہ تورات اور انجیل دونوں کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے، اور یہ کہ ان کے پیروکاروں نے ان میں اضافے یا حذف کے ذریعے تبدیلیاں کی ہیں۔ اس کا ذکر اللہ کی کتاب قرآن مجید کی بعض آیات میں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قرآن میں فرماتا ہے:
’’تو ان کے عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور اس نصیحت کا ایک بڑا حصہ بھول گئے ہیں جو انہیں بھیجی گئی تھی۔ اور تم ان میں ہمیشہ دھوکہ بازی پاتے رہو گے، سوائے ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے۔‘‘ (المائدۃ ۱۳)
’’پس ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے کچھ قیمت حاصل کریں۔ ان کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی چیز کے لیے ان پر افسوس ہے اور جو کچھ وہ کماتے ہیں اس کے لیے ان پر افسوس ہے۔‘‘
’’اور بے شک ان میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو کتاب کو اپنی زبان سے مروڑتے ہیں (جب وہ پڑھتے ہیں)، تاکہ تم سمجھو کہ یہ کتاب میں سے ہے، لیکن وہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، لیکن یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے، اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔‘‘ (آل عمران ۷۸)
چنانچہ ان کتابوں میں جو کچھ صحیح بھی سمجھا جاتا ہے وہ بھی اسلام نے منسوخ کر دیا ہے۔ باقی حصے تبدیل شدہ ہیں۔ یہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ثابت ہوتا ہے:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصے میں آگئے جب انہوں نے (حضرت) عمر بن الخطابؓ کو ایک ورق پکڑے ہوئے دیکھا جس میں تورات کی کچھ آیات تھیں۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: اے عمر! کیا تم شک میں ہو؟ کیا میں (وحی) سفیدی کی طرح واضح نہیں لے کر آیا؟ اگر میرا بھائی موسٰیؑ زندہ ہوتا تو وہ بھی میری پیروی کرتا۔‘‘ (احمد، الدارمی اور دیگر سے مروی)
اسلام میں ایمان کا ایک اور بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمارے نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے خاتَم ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے آخر (خاتَم) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (الاحزاب ۴۰)
اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور رسول کی پیروی نہیں کی جا سکتی۔ اگر اللہ کے کوئی نبی اور رسول زندہ ہوتے تو وہ بھی اپنے پیروکاروں سمیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور (یاد کرو) جب اللہ نے انبیاء سے عہد لیا کہ ’جو کچھ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت (اللہ کے قوانین کی سمجھ وغیرہ) سے دیا ہے، پھر تمہارے پاس ایک رسول (محمدؐ) آئے جو تمہارے پاس جو کچھ ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہو، تم ضرور اس پر ایمان لاؤ اور ضرور اس کی مدد کرو ۔‘ اللہ نے فرمایا، ’کیا تم (اس کا) اقرار کرتے ہو اور میرا عہد قبول کرتے ہو (جو میں نے تم سے کیا ہے)؟‘ انہوں نے کہا، ’ہم نے اقرار کیا۔‘ فرمایا، ’پھر گواہ رہو اور میں بھی (اس پر) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔‘ ‘‘ (آل عمران ۸۱)
جب اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام بعد کے زمانے میں آئیں گے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکومت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’جو لوگ رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو اُمی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات (Deut. XVIII, 15) اور انجیل (Gospel of John XIV, 16) میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘ (الاعراف ۱۵۷)
اس کے علاوہ اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لیے بھیجے گئے تھے، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’(اے محمد!) کہہ دیجیے کہ اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ (الاعراف ۱۵۸)
اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جو یہودی یا عیسائی اسلام قبول نہیں کرتا اسے کافر (ماننے) کے ساتھ ساتھ اللہ، اس کے رسولوں اور مومنین کا دشمن سمجھا اور قرار دیا جانا چاہیے، اور ایسے لوگ اللہ کے فرمان کے مطابق جہنم والے ہوں گے:
’’جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین میں سے، تب تک (کفر سے) باز نہ آنے والے تھے جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آجائے۔‘‘ (البینۃ ۱)
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’بے شک جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین میں سے، جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے، وہ بدترین مخلوق ہیں۔‘‘ (البینۃ ۶)
صحیح مسلم میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس امت کا کوئی بھی فرد، خواہ یہودی ہو یا عیسائی، جس نے میرے بارے میں سنا اور مجھ پر جو نازل ہوا اس پر ایمان لائے بغیر مر گیا، وہ جہنم والوں میں سے ہو گا۔‘‘
مندرجہ بالا کی بنیاد پر، جو شخص یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر کو نہیں مانتا وہ خود شرعی اصول کے مطابق کافر ہو گا۔ مذاہب کے اتحاد کی دعوت کی غرض سے اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں اور اسلامی قانون (شریعت) کے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے انہیں آپس میں ملانا اور ایک سانچے میں ڈھالنا ایک بری دعوت ہے۔ اس کا مقصد حق کو باطل کے ساتھ ملانا، اسلام کو تباہ کرنا، اس کی بنیادوں کو ڈھانا، اور تمام مسلمانوں کو واضح ارتداد (رِدَّہ) کی طرف لے جانا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں دیکھا جا سکتا ہے:
’’اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین (اسلامی توحید) سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلے۔‘‘ (البقرۃ ۲۱۷)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’وہ چاہتے ہیں کہ تم کفر کرو جیسا کہ وہ کر چکے ہیں، تو تم برابر ہو جاؤ (ایک دوسرے کی طرح)۔‘‘ (النساء ۸۹)
ایسی بری دعوتوں کا لازمی نتیجہ یہ ہے: اسلام اور کفر، حق اور باطل کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا، اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی مکمل نفی۔ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرق کی حدود کو مٹانا تاکہ نہ کوئی وفاداری ہو، نہ جہاد ہو، نہ اللہ کے کلام کو زمین پر بلند کرنے کے لیے کوئی جدوجہد ہو۔ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے:
’’ان لوگوں سے لڑو جو (۱) اللہ پر ایمان نہیں لاتے، (۲) نہ یوم آخرت پر، (۳) نہ اس چیز کو حرام مانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، (۴) جو اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے سچے دین (یعنی اسلام) کو نہیں مانتے، یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کرنا قبول کریں اور محکوم ہو جائیں۔‘‘ (التوبۃ ۲۹)
’’اور مشرکین سے اجتماعی طور پر لڑو جس طرح وہ تم سے اجتماعی طور پر لڑتے ہیں۔ لیکن جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ (التوبۃ ۳۶)
اگر یہ (اتحاد کی) دعوت کسی مسلمان سے صادر ہوتی تو اسے اسلام سے صریح ارتداد سمجھا جاتا، کیونکہ یہ اسلامی عقیدے کے اصولوں سے متصادم ہے، اور اللہ کے بارے میں کفر کو قبول کرنا ہے۔ یہ دعوت اس چیز کو منسوخ کرتی ہے جو قرآن سے سچ ثابت ہوئی ہے، اور اس بات سے انکار کرتی ہے کہ قرآن نے اس سے پہلے کی تمام کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے، اور اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ اسلام نے تمام سابقہ مذاہب کو منسوخ کر دیا ہے۔
اس بنیاد پر اتحاد کی دعوت کو شریعت کے مطابق مسترد کر دیا گیا ہے اور قرآن، سنت اور اجماع میں اسلام کے تمام شواہد کی رو سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا کی بنیاد پر کسی مسلمان کے لیے جو اللہ کو رب (خالق،رازق،مالک) کے طور پر، اسلام کو دین کے طور پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول کے طور پر مانتا ہے، اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اس مکروہ عقیدے کی دعوت دے، یا دوسروں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دے، یا اسے دوسرے مسلمانوں میں پھیلائے، چہ جائیکہ اسے قبول کرنا، اس کی کانفرنسوں یا اجتماعات میں شرکت کرنا اور اس کی مجالس سے وابستہ ہونا۔ کسی مسلمان کے لیے تورات اور انجیل کو آزادانہ طور پر چھاپنا بھی منع ہے۔ تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ انہیں قرآن کے ساتھ ایک کتاب میں چھاپا جائے؟
چنانچہ جو شخص ایسا کرتا ہے یا اس کی دعوت دیتا ہے، وہ (راہ راست سے) بہت دور بھٹک گیا ہے، کیونکہ یہ حق (قرآن مجید) کو تورات اور انجیل کی تبدیل شدہ یا منسوخ شدہ کتابوں کے ساتھ ملانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کسی مسلمان کے لیے ایک عمارت کے اندر (مسجد، چرچ اور مندر کی) تعمیر کی اس دعوت کا (مثبت) جواب دینا جائز نہیں، کیونکہ اس کا مطلب یہ اعتراف کرنا ہے کہ اسلام کے علاوہ بھی ایسے مذاہب ہیں جن کے ذریعے اللہ کی عبادت کی جا سکتی ہے۔ اس میں اس بات کا انکار بھی شامل ہو گا کہ اسلام دوسرے تمام مذاہب سے پاکیزہ ترین ہے۔ اس کا مطلب یہ سنگین اعتراف ہو گا کہ مذاہب تین ہیں اور زمین پر لوگ ان میں سے جو چاہیں یکساں طور پر اختیار کر سکتے ہیں، اور یہ کہ اسلام نے ان مذاہب کو منسوخ نہیں کیا جو اس سے پہلے تھے۔
بلاشبہ اس دعوت کی منظوری، اس پر یقین، یا اسے قبول کرنا کفر اور صریح غلطی سمجھی جائے گی کیونکہ یہ قرآن مجید، سنت طیبہ اور مسلم اجماع سے واضح طور پر متصادم ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے کی گئی تبدیلیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ مزید یہ کہ گرجا گھروں کو اللہ کے گھر کہنا جائز نہیں کیونکہ عیسائی ایسی صحیح عبادت نہیں کرتے جو اللہ کے ہاں قبول ہو، اور یہ ایسی عبادت ہے جو اسلام پر مبنی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔‘‘ (آل عمران ۸۵)
بلکہ وہ (گرجا گھر) ایسے گھر ہیں جہاں اللہ کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے۔ ہم کفر اور اس سے تعلق رکھنے والوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجموع الفتاویٰ ۱۶۲/۲۲ میں اس طرح بیان کیا ہے:
’’گرجا گھر اور یہودی عبادت گاہیں اللہ کے گھر نہیں ہیں بلکہ اللہ کے گھر مساجد ہیں۔ بلکہ وہ (گرجا گھر اور یہودی عبادت گاہیں) کفر کے گھر ہیں اگرچہ ان میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ گھر لوگوں کے عقیدے کے مطابق سمجھے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسترد کر دیا اور اس طرح وہ کافر ہیں، لہٰذا ان کے گھر صرف کافروں کی عبادت کے لیے مخصوص گھر ہیں۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمومی طور پر کفار اور خاص طور پر اہل کتاب کو اسلام کی دعوت دینا تمام مسلمانوں پر فرض ہے جیسا کہ ہماری عظیم کتاب قرآن اور سنت کے واضح نصوص میں ہے۔ تاہم صرف نرم الفاظ اور ٹھوس دلائل کے ذریعے ہی مائل کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ اس شرط پر کیا جانا چاہیے کہ اسلام کے کسی حکم کو نہ چھوڑا جائے، تاکہ وہ یا تو اسلام سے قائل ہو کر اسے قبول کر لیں، یا اسے رد کر دیں اور واضح انتباہ کے بعد (کفر پر) مر جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’(اے محمد!) کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! (یہود و نصاریٰ) ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور نہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں، اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا دوسروں کو رب بنائے۔ پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو کہہ دیجیے کہ ’گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘‘ (آل عمران ۶۴)
تاہم، ان کے ساتھ مباحثے، ملاقاتیں اور بات چیت، جو انہیں ان کی خواہشات کو حاصل کرنے، ان کے مقاصد کو پورا کرنے، اسلام کے بندھنوں کو توڑنے، اور اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرنے کی غرض سے منعقد کیے جاتے ہیں، سب باطل قرار دیے جاتے ہیں، جو کہ اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور تمام مومنین کے نزدیک مردود ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ان سے بچو کہ کہیں وہ تمہیں (اے محمد!) اللہ کے نازل کردہ میں سے بعض سے دور نہ کر دیں۔‘‘ (المائدۃ ۴۹)
کمیٹی (اس مسئلہ کا) حل پیش کرتے ہوئے اور فیصلے کو سب کے لیے جاری کرتے ہوئے، تمام مسلمانوں سے بالعموم اور علماء سے بالخصوص، اللہ سے ڈرنے، اسلام کی حفاظت کرنے، مسلم عقیدے کو غلطی سے بچانے، اور اس کی دعوت دینے والوں کو غلطی اور کفر سے بچانے کا تقاضہ کرتی ہے۔ اور ان سے اس (مذاہب کے اتحاد کی) واضح دعوت برائے کفر اور اس کے جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے احتیاط برتنے کی بھی تاکید کرتی ہے۔
ہم ہر مسلمان کے لیے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ایسی غلطی کو مسلم اقوام تک پہنچانے اور ان میں پھیلانے کا سبب بنے۔ ہم اللہ سے اس کے اعلیٰ ناموں اور صفات کے ذریعے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان گمراہ کن آفتوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں ہدایت یافتہ بنائے اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والا بنائے، اور ہمیں ہمارے رب سے (ملنے والی) روشنی اور رہنمائی سے اسلام کے محافظ بنائے یہاں تک کہ ہم اس سے جا ملیں اور وہ ہم سے راضی ہو۔
وہ کامیابی عطا کرنے والا ہے، اور اس کا سلام ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے اہل و عیال اور ان کے تمام صحابہ پر ہو۔
صدارت اسلامی تحقیق و افتاء، ریاض، مملکت سعودی عرب — علماء کی اعلیٰ کونسل کی نگرانی میں — جو (اُس وقت) عبدالعزیز بن باز (صدر)، عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ عبداللہ (نائب صدر)، صالح بن فوزان الفوزان (رکن) اور بکر بن عبد اللہ ابو زید (رکن) تھے۔ فتویٰ نمبر: 19402، تاریخ: 25 محرم 1418ھ۔
امام ترمذیؒ، ایک منفرد محدث و محقق
ایم ایم ادیب
محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن الضحاک ترمذیؒ موجودہ ازبکستان میں 824ء میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ اعلیٰ و ارفع دور تھا جب معتبر ترین محدثینِ حدیث تدوینِ حدیث کا عظیم فریضہ سرانجام دینے میں مصروف تھے، وہ محدثین جنہوں نے ترویجِ حدیث میں بھی اہم کر دار ادا کیا۔ اسی ماحول میں امام ترمذیؒ پلے بڑھے اور جوان ہوئے اور اپنے وقت کے مشہور و معروف محدثین کی قربت سے سرفراز ہوئے اور ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا، جن میں بڑے نام حضرت امام بخاری رحمہ اللہ، حضرت امام مسلم رحمہ اللہ اور حضرت ابو داؤد رحمہ اللہ تھے۔
امام ترمذیؒ پہلے امام ہیں جنہوں نے حدیث و فقہ ہی نہیں، اجتہادی مفکر کے حوالے سے بھی شہرت حاصل کی۔ امام ترمذیؒ نے جہاں بہت ساری اور کتب تصنیف کیں وہاں ’’صحاحِ ستہ‘‘ میں بھی اپنا نام درج کرایا۔ آپؒ نے امامِ کائنات، فخرِ موجودات، مولائے کُل، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ عالیہ پر مبنی کتاب ’’الشمائل المحمدیہ‘‘ بھی مرتب فرمائی۔
امام ترمذیؒ نے ’’جامع ترمذی‘‘ میں فقط احادیث ہی جمع نہیں کیں بلکہ احادیث کی صحت، راویوں اور فقہی مسائل پر بھی تبصرہ کیا۔ آپؒ کی یہ کتاب راویانِ احادیث کے حالات پر بھی ایک با اعتبار دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا بنیادی ڈھانچہ جن خصوصیات پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں:
- صحیح احادیث یعنی ’’حسن احادیث‘‘۔
- ضعیف احادیث، ایسا پہلی بار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے امامؒ تنقید کا نشانہ بنے۔
- انہوں نے حدیث پر فقہی بحث کا بھی رواج ڈالا اور مختلف مکاتبِ فکر: احناف، شوافع اور حنابلہ کے فکری اقوال کو بیان کیا، ہر مسئلے میں موجود اختلافی رائے کی وضاحت فرمائی۔
- راویوں کی ثقاہت یا ضعف کو بھی زیربحث لائے۔
جامع ترمذی پچاس ابواب سے زیادہ پر مشتمل ہے جن میں عقائد، معاملات، اخلاقیات، ذکر و اذکار اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں احادیث جمع کی گئی ہیں۔ سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس میں فقہی مذاہب کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو کہ محدثین، فقہاء اور دینی طلباء تک کے لیے استفادے کا سامان ہے۔
جبکہ کتاب الشمائل میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے چھوٹے بڑے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شمائلِ ترمذی میں امامؒ نے کمال حسنِ ترتیب سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جسمانی خصوصیات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت، گیسوئے مبارک، آنکھوں اور دیگر اعضائے جسمانی کا خوبصورت پیرائے میں ذکر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ خوراک، عمامہ و پاپوش اور لباس و خوشبو تک کے بارے میں بیان کیا ہے، اور اس سے بڑھ کر ان تمام امور سے متعلق آپؐ کے طریقوں اور آداب و اطوار تک کا ذکر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ وسلم کے علم، حلم، صبر و تواضع، شفقت و محبت اور حسنِ اخلاق و شائستہ مزاج، حسِ مزاح اور اندازِ گفتار کے ساتھ ساتھ مردوں اور عورتوں کے ساتھ طرزِ تکلم تک سے آگہی بخشی ہے۔ غرض امام مکرم ترمذیؒ نے اپنی اس تصنیف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آئینہ ذات بنا دیا ہے۔
ایک اور کتاب ’’العلل الصغیر‘‘ ہے جس میں اصولِ حدیث، اسنادِ حدیث اور روایات کی کمزوریوں کا بیان ہے۔ لفظ ’’العلل‘‘ کے معنی کمزوری یا نقص کے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں خفیہ اور بعض کمزوریوں کا ذکر باریک بینی سے کیا ہے اور حدیث کی اسناد میں تضاد بھی عیاں کر دکھایا ہے اور اس قاعدے کلیے کی وضاحت کی ہے کہ بعض احادیث صحیح اسناد کے باوجود ضعیف کیوں کہلاتی ہیں۔ گویا کہ حدیث کی کمزوری کا اندازہ لگانے کے اصول اور حدیث کو سمجھنے کے قواعد کو فقہ کی روشنی میں آشکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسی طرح ایک کتاب ’’العلل الکبیر‘‘ ہے جس میں احادیث کی خفیہ کمزوریوں، نقائص اور اختلافات کا ذکر اور اسناد میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک حدیث کے مختلف الفاظ میں روایت ہونے کے اسباب، اور روایت میں شکوک و شبہات کے پہلوؤں کی تلاش، ان سب امور کو موضوع بنایا ہے۔ امام ترمذیؒ نے متعدد معروف راویوں کی جرح تعدیل پر بحث کر کے ان اسرار و رموز کی نشاندہی کی ہے کہ کن راویوں کی روایت کو قابلِ قبول یاناقابلِ قبول گردانا جاتا ہے۔ امام ترمذیؒ نے حدیث کے فنی اصولوں کو جامع انداز میں پیش کیا اور آئمہ کے حدیث کے نظریات اور ان کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا بھی جائزہ لیا۔ اس لیے ان کی تصنیف العلل کو گہری تحقیقی اور فنی کتاب کا نام دیا گیا ۔
حقیقت یہ ہے ترمذیؒ نے سب سے جدا اسلوب میں احادیث کی جانچ پرکھ کا انداز اپنایا اور معاصرین سے ہٹ کر طرز کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے علماء، محدثین اور فقہاء ان کے کیے ہوئے کام کو منفرد قرار دیتے اور تسلیم کرتے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف، ۱۷ فروری ۲۰۲۵ء)
نوٹ: شمائلِ ترمذی (الشمائل الممحمدیہ) پر مولانا حامد سراج عطاری مدنی کی ایک تفصیلی تحریر اس لنک پر دستیاب ہے۔ شمائلِ ترمذی کی عربی شروحات کی ایک فہرست ویکیپیڈیا کے اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔ (ادارہ)
شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
کچھ دن قبل بھی اس موضوع پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار سے نجات دلانے کی کوشش کی اور نتیجتاً میزان کے ابواب میں اپنی فقہ دے دی جسے وہ شریعت قرار دیتے ہیں۔
بعض دوستوں نے "شرع منزل" اور "شرع غیرمنزل" کے فرق کی بات کی تو عرض کیا کہ ان دونوں میں عملاً آپ کیسے فرق کرتے ہیں؟ جسے آپ شرع منزل کہتے ہیں وہ آپ کا فہم ہی تو ہے۔ ضروری نہیں کہ کوئی دوسرا بھی اسے شرع منزل مان لے اگر اس کے اصولوں کی روشنی میں وہ شرع منزل کا حصہ نہیں ہے۔
مثال کے طور پر فقہاے کرام کا اتفاق ہے کہ قتل خطا میں قاتل پر کفارہ ہے لیکن ان کا اس پر اختلاف ہے کہ قتل عمد میں قاتل پر کفارہ ہے یا نہیں؟ امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر قتل خطا میں کفارہ ہے تو قتل عمد میں تو بدرجۂ اولی ہونا چاہیے۔ اسے دلالۃ النص کہتے ہیں (جسے بعض نے قیاس المعنی بھی کہا اور یہ قیاس کی وہ قسم ہے جس کے متعلق شافعیہ تو کیا، ظاہریہ کا بھی ماننا ہے کہ یہ صحیح ہے۔) گویا شافعیہ قتل خطا کے کفارے کی طرح قتل عمد کے کفارے کو بھی نص سے ثابت مانتے ہیں۔ اس کے برعکس امام ابوحنیفہ کا کہنا ہے کہ قتل عمد کی سزا کے متعلق نصوص (جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ العمد قود) کے اشارے سے معلوم ہوا کہ قتل عمد میں کفارے کی سزا نہیں ہے اور حنفیہ کے اصول کی رو سے دلالۃ النص کی بہ نسبت اشارۃ النص زیادہ قوی ہے۔
اب ہمارے دوست ہی ہمیں بتا دیں کہ قتل عمد میں کفارہ شرع منزل کا حصہ ہے یا شرع غیر منزل کا؟ ویسے وہ جو کچھ بھی بتائیں گے، وہ ان کی فقہ ہی ہوگی۔
یہیں سے اس سوال کا جواب بھی واضح ہونا چاہیے جو بعض اہل علم نے اٹھایا کہ شریعت تو ایک ہے لیکن فقہ تو کئی ہیں۔ جی نہیں۔ میرے لیے شریعت وہی ہے جو میرے فہم کے مطابق شریعت ہے۔ میں اپنے فہم میں غلطی کا امکان مانتا ہوں اور غلطی واضح ہونے پر مان بھی لوں گا کہ شریعت یہ نہیں وہ ہے لیکن اس کے بعد سابقہ راے میرے لیے شریعت نہیں رہے گی۔
بھئی، یہ وہی مسئلہ ہے جسے اصول فقہ میں یوں ذکر کیا جاتا ہے کہ مجتہدین کے اختلاف میں کیا سب حق پر ہوتے ہیں یا حق پر کوئی ایک ہی ہوتا ہے؟ حنفی اصول یہی ہے کہ حق پر ایک ہی ہوتا ہے، اگرچہ دوسروں کو بھی اجتہاد کا اجر ملے گا۔ اپنی حد تک مکمل کوشش کے بعد جسے میں نے حق سمجھا وہ میرے لیے حق ہے۔ امر واقعہ میں وہ حق ہے یا نہیں؟ اس کا علم اللہ کے سوا کس کو ہو سکتا ہے؟ اس نے مجھے حتی الوسع کوشش کا مکلف ہی بنایا ہے۔
باقی رہا یہ سوال کہ کیا قیاس سے ثابت شدہ حکم شریعت کا حصہ ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب بھی بالکل واضح ہے۔ جو فقہاے کرام یہ مانتے ہیں کہ قیاس حجت ہے وہ اصل میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں منصوص احکام پر قیاس کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے ان کے لیے قیاس سے ثابت شدہ حکم بھی شریعت کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم جو ظاہری فقہاے کرام قیاس کو حجت نہیں مانتے ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول نے منصوص احکام پر قیاس کی اجازت نہیں دی ہے۔ اسی لیے ان کے نزدیک قیاس سے ثابت احکام شریعت کا حصہ نہیں ہیں۔
یہی بات استحسان، استصحاب اور استنباط کے دیگر طرق کے متعلق بھی کہی جائے گی۔
بلکہ یہی بات غامدی صاحب کا حلقہ اپنے اصولوں کے متعلق بھی مانتا ہے، جیسے نظم قرآن، اتمام حجت وغیرہ۔
بلکہ یہی کچھ "فقہ دستور" کے متعلق بھی صحیح ہے۔ دستور کی تعبیر کے متعلق بعض اصول کچھ جج صاحبان مانتے ہیں اور اس وجہ سے قرار دیتے ہیں کہ فلاں بات دستور کی رو سے ضروری ہے۔ جو ان اصولوں کو نہیں مانتے وہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ دستور میں یہ کہاں لکھا ہوا ہے؟
ھذا ما عندی، و العلم عند اللہ۔
فقہی منہاج میں استدلال کے سقم اور اہلِ فلسطین کے لیے استطاعت کی شرط
ڈاکٹر عرفان شہزاد
استدلال کے منہاج میں سُقم کن غیر معقول نتائج تک لے جا سکتا ہے، ذیل میں فقہ سے اِس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ یہ حدیث سے غلط استدلال کا ایک نمونہ ہے۔ ایسے بیسیوں مسائل ہماری فقہ کو لاحق ہیں۔ اِس سے یہ بھی واضح ہوگا ہے کہ
- فکر غامدی میں استدلال کی بنیادوں کی تنقیح کیوں اہم ہے۔
- حدیث کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف کیوں درست ہے۔
- نظمِ کلام سے فہمِ کلام کے حقیقی مفہوم تک رسائی کا منہاج کیونکر ایک درست طرزِ فہم ہے۔
- کلام اپنے لسانی اور عقلی مضمرات کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔
- کلام کا تاریخی پس منظر بھی نظمِ کلام میں شامل ہوتا ہے۔
متن فہمی کے یہ مسلّمہ اصول اگر قرآن اور حدیث کی تفہیم میں نہ برتے جائیں تو نتائج کس قدر غلط پیدا کیے جا سکتے ہیں، یہ درج ذیل مثال سے واضح ہوگا۔
غامدی صاحب کا موقف ہے کہ احادیث دین کا مستقل ماخذ نہیں ہیں۔ دین کے مستقل ماخذ قرآن اور سنت متواترہ ہیں، جو اجماع و تواتر کے قطعی ذرائع سے ملے ہیں۔ احادیث اخبارِ احاد کی صورت میں منتقل ہوئی ہیں، اِس لیے یہ ایک ظنی ذریعہءِ علم ہیں۔ یہ اپنے سیاق و سباق کے ساتھ بالعموم بیان نہیں ہوتیں، اِس لیے اِنھیں علم اور عقل کے مسلّمات کی روشنی میں رکھ کر سمجھا جائے گا۔ احادیث میں اصل دین کی تبیین و تشریح، اُس کے اصولوں کا اطلاق، رسول اللہ ﷺ کا اسوہءِ حسنہ، آپ کی سیرت و سوانح کا بیان ہوتا ہے۔ اِن میں کوئی مستقل حکم بیان نہیں ہوتا۔ اِن سے قرآن کے کسی حکم میں نسخ اور تبدیلی نہیں ہوتی۔
اِس کے برعکس، فقہا احادیث کو ایک ظنی ماخذ تسلیم کرنے کے باوجود دین کے مستقل احکام اخذ کرنے کا ایک ذریعہ مانتے ہیں اور اُن سے قرآن کے حکم میں نسخ و تبدیلی کے بھی قائل ہیں۔ متن میں لسانی اور عقلی تقییدات عائد کرنے میں بھی اُن کے ہاں سقم پائے جاتے ہیں۔
اب محولہ مسئلے کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا بارہ ہزار کا لشکر مغلوب نہیں ہو سکتا۔
پوری روایت یہ ہے:
عن ابن عباس، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:" «خیر الصحابۃ أربعۃ، وخیر السرایا أربعمائۃ، وخیر الجیوش أربعۃ آلاف، ولن یغلب اثنا عشر ألفا من قلۃ» قال أبو داود : والصحیح أنہ مرسل۔ (ابو داؤد، 2611)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلّت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی۔“
یہ ایک مرسل حدیث ہے۔ اِس کی سند سے قطعِ نظر، روایت کو متن فہمی کے درج بالا اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے تو اِس کا درست مفہوم متعین کرنا دشوار نہیں ہے۔ اِسے اِس کے تاریخی پس منظر میں دیکھیے۔
عرب میں راستے دشوار اور غیر محفوظ تھے، اِس صورتِ حال میں یہی مشورہ دیا جانا چاہیے تھا کہ کم از کم دو چار لوگ مل کر سفر پر نکلیں۔ دوسرے یہ کہ عرب کے متفرق قبائل کے مقابلے میں سب سے بڑی جنگی قوت رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہو گئی تھی، جو مختلف قبائل پر مشتمل تھی۔ ہمسایہ قبائل سے چھوٹی جھڑپوں اور عرب کے بڑے قبائل سے باقاعدہ جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اِس تناظر میں رسول اللہ ﷺ نے کسی موقع پر اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی یا اُن کی تنبیہ کے لیے فرمایا کہ عرب کے قبیلوں کی بکھری ہوئی طاقت کے مقابل چھوٹی چھڑپوں کے لیے چار سو اور بڑی جنگ کے لیے چار ہزار اور پھر بارہ ہزار ایک بڑا لشکر ہے، جو اِن متفرق قبائل سے مغلوب نہیں ہو سکتا، یا اسے مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔
روایت میں وارد اِس بیان سے فقہا نے اپنے اصول فقہ کے مطابق ایک مستقل حکم برآمد کر لیا کہ اگر مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار ہو تو وہ جنگ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے خواہ اُن کا دشمن افرادی قوت اور جنگی ہتھیاروں میں اُن سے کتنا ہی فائق کیوں نہ ہو۔ البتہ اُن کی تعداد بارہ ہزار سے کم ہو اور اُن کا دشمن برتر ہتھیار رکھتا ہو تو وہ جنگ سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، چاہے اُن کی افرادی قوت دشمن سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر یہ روایت نہ ہوتی یا فقہا اِس سے ایسے استدلال نہ کرتے جیسے اُنھوں نے کیا تو یقینا ً جو معقولیت اُنھوں نے بارہ ہزار سے کم لشکر کے معاملے میں دکھائی، وہ بارہ ہزار کے لشکر کے لیے بھی دکھا پاتے۔
فقہا نے یہ نتیجہ اِس علم کے باوجود نکالا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بھی مسلمانوں کا بارہ ہزار کا لشکر غزوہءِ حنین کے موقع پر ایک بار شکست سے دوچار ہو گیا تھا۔ البتہ، اُنھوں نے دوبارہ ہمت مجمتع کر کے شکست کو فتح میں تبدیل کر لیا تھا۔ چنانچہ واقعہ بھی سامنے تھا، جس کے مطابق بارہ ہزار کا لشکر بھی ہزیمت کا شکار ہو سکتا ہے۔ مگر حدیث میں وارد الفاظ واقعہ پر غالب آ گئے اور ایک غلط استدلال قائم کر لیا گیا۔
فقہا اِس روایت میں صرف ایک عقلی قید کا اضافہ کرتے ہیں کہ غلبے کی یہ بشارت اِس سے مشروط ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متحد ہو۔ یعنی اُن میں باہم کوئی اختلاف نہ ہو۔ یہ اضافہ بھی وہ اِس لیے کرتے ہیں کہ اِسی روایت کے بعض دیگر متون میں، جن کی سند بھی قابل احتجاج نہیں، یہ بات مذکور ہوئی ہے۔ اگر یہ عقلی قید یہاں لگائی جا سکتی ہے تو دیگر عقلی قرائن سے مزید قیدیں بھی اِس میں مضمر سمجھی جا سکتی تھیں، جن کا ذکر پیشتر کیا گیا۔
فقہا کے استدلال کے منہاج میں یہ اِسقام ہیں۔ اس میں پہلے ایک روایت کو دین میں مستقل حکم کا ایک ماخذ باور کیا جاتا ہے، اور پھر اُسے اُس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر ایک مستقل حکم برآمد کر لیا جاتا ہے اور پھر قرآن کے حکم میں نسخ کر دیا جاتا ہے۔ وہ یوں کہ قرآن مجید دشمنوں سے افرادی طاقت کے تناسب کی رعایت رکھتے ہوئے مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ دشمنوں کی تعداد اُن سے دس گنا زیادہ بھی ہو تو وہ اُن سے جنگ کریں۔ مسلمان اگر استقامت دکھائیں گے تو غالب رہیں گے۔ پھر اِس تناسب کو تبدیل کر کے ایک اور دو کی نسبت مقرر کرتا ہے کہ اُن میں کچھ کم زوری در آئی ہے۔ (انفال، 66)۔ مگر فقہا تناسب کی اِس رعایت کو اُس صورت میں کالعدم قرار دیتے ہیں جب مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار ہو۔
اِس روایت کی بنا پر قرآن کے حکم میں یہ نسخ فقہا کے اپنے اصول فقہ کی رو سے بھی درست نہیں۔ احناف قرآن مجید میں نسخ کے لیے روایت کا کم از کم مشہور ہونا لازم قرار دیتے ہیں۔ مگر یہاں ایک مرسل روایت سے قرآن کے حکم میں نسخ کر دیا گیا ہے۔
قانون کے ایک پروفیسر صاحب فقہا کے اِس نتیجہ کی بنیاد پر آج کے مسلمانوں کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ جنگی ٹیکنالوجی کے فرق کی وجہ سے وہ دشمنوں کے مقابلے سے صرف اُسی صورت میں دست بردار ہو سکتے ہیں، جب اُن کی تعداد 'بارہ ہزار' سے کم ہو، لیکن اُن کی تعداد بارہ ہزار یا اِس سے زائد ہو تو پھر اُنھیں ہر صورت مقابلہ کرنا ہوگا، کیونکہ بارہ ہزار کا لشکر مغلوب نہیں ہو سکتا۔
پروفیسر صاحب امام ابو بکر جصاص سے نقل کرتے ہیں:
"و الذي روي عن النبي ﷺ فی اثنی عشر ألفاً، فھو أصل فی ھذا الباب؛ و إن کثر عدد المشرکین، فغیر جائز لھم أن یفروا منھم، و إن کانوا أضعافھم، لقولہ ﷺ (إذا اجتمعت کلمتھم)، وقد أوجب علیھم بذلک جمع کلمتھم۔
(اور بارہ ہزار کے متعلق جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا گیا تو وہ اس باب میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ مشرکین کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو، مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ وہ ان کے مقابلے سے بھاگ جائیں چاہے وہ ان سے کئی گنا زیادہ ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اگر ان کا کلمہ ایک ہو) اور اس قول کے ذریعے ان پر واجب کیا کہ وہ کلمہ ایک کریں۔")
اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
"پس ایسی صورت میں (یعنی جب ان کی تعداد بارہ ہزار ہو) مسلمان یہ عذر نہیں پیش کر سکتے کہ ان کا آپس میں اتحاد نہیں ہے اور اس لیے وہ اس حکم سے مستثنی ہیں۔ اس کے برعکس ایسی صورت میں ان پر شرعاً واجب ہوگا کہ وہ متحد ہو کر دشمن کے خلاف لڑیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور انھیں دشمن پر غالب کرے گا۔" ((قدسیوں کے لیے قدرت اور استطاعت کی شروط، از ڈاکٹر مشتاق https://daleel.pk/36962))
ایک طرف جنگی طاقت اور ٹیکنالوجی کے فرق کی ناقابل تردید حقیقت اور دوسری طرف بارہ ہزار کی تعداد سے فقہا کے استدلال کی رعایت، اِس نازک مقام سے پروفیسر صاحب یوں گزرے ہیں:
"۔۔۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ عددی نسبت کا لحاظ تو اس زمانے میں رکھا جا سکتا تھا جب افرادی قوت ہی میدان جنگ میں اہم کردار ادا کرتی تھی ۔ موجودہ دور میں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے فرد کی اہمیت کو نسبتاً کم کر دیا ہے کیا زیادہ اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دشمن کہاں کھڑا ہے؟ اگر مسلمان فوج کی تعداد دس ہزار ہے مگر اس کے پاس روایتی بندوق ہیں اور دشمن کی تعداد سو ہے مگر اس کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں تو مقدرت کا اندازہ تعداد سے لگایا جائے گا یا اسلحے کی نوعیت سے ؟ ۔۔۔"امام سرخسی نے اس موضوع پر جو کچھ کہا ہے وہ یقینا قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔
إن کان عدد المسلمین مثل نصف عدد المشرکین لا یحل لھم أن یفروا ۔۔۔ وکان الحکم فی الابتداء أنھم إذا کانوا مثل عشر المشرکین لا یحل لھم أن یفروا ۔۔۔ وھذا إذا کان بھم قوۃ القتال بأن کانت معھم الأسلحۃ؛ فأما من لا سلاح لہ، فلا بأس بأن یفر ممن معہ سلاح؛ و کذلک لا بأس بأن یفر ممن یرمي إذا لم یکن معہ آلۃ الرمي۔ ألا تری أن لہ أن یفر من باب الحصن، ومن الموضع الذی یرمی فیہ بالمنجنیق، لعجزہ عن المقام فی ذلک الموضع۔ وعلی ھذا ، لا بأس بأن یفر الواحد من الثلاثۃ، إلا أن یکون المسلمون اثني عشر ألفاً کلمتھم واحدۃ، فحینئذٍ لا یجوز لھم أن یفروا من العدو و ان کثروا، لأن النبي ﷺ قال : لن یغلب اثنا عشر ألفاً عن قلۃ ۔ ومن کان غالباً، فلیس لہ أن یفر۔
(اگر مسلمانوں کی تعداد مشرکین کے نصف کے برابر ہو تو ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ فرار اختیار کریں ، اور ابتدا میں حکم یہ تھا کہ اگر ان کی تعداد مشرکین کے دسویں حصے کے برابر ہو تو ان کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ فرار اختیار کرتے ۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب ان میں جنگ کی قوت ہو ، یعنی ان کے پاس اسلحہ ہو۔ پس جس کے پاس اسلحہ نہ ہو اس کے لیے اسلحہ رکھنے والے کے مقابلے سے فرار اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اسی طرح اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس رمی کا آلہ نہ ہو تو وہ رمی کرنے والے سے فرار اختیار کر لے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس کے لیے جائز ہے کہ قلعے کے دروازے سے اور اس جگہ سے جہاں منجنیق سے گولے پھینکے جا رہے ہوں فرار ہو جائے کیونکہ وہ اس جگہ ٹھہرنے سے عاجز ہوتا ہے؟ ان اصولوں کی بنا پر تنہا شخص کے لیے تین افراد کے مقابلے سے فرار اختیار کرنا جائز ہے ، سوائے اس حالت کے جب مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار ہو اور ان کا کلمہ ایک ہو۔ پس اس حالت میں ان کے لیے دشمن سے فرار اختیار کرنا جائز نہیں خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بارہ ہزار کا گروہ تعداد میں کمی کے سبب سے مغلوب نہیں ہو سکتا ۔ اور جو غالب ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ فرار اختیار کر لے۔) "(قدسیوں کے لیے قدرت اور استطاعت کی شروط)
اِس نتیجہءِ فہم پر عملاً کبھی کسی لشکر، کسی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ ایسا کرتے تو بارہ ہزار تک ہی فوج رکھا کرتے۔ بڑی فوجیں رکھنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ مگر پروفیسر صاحب کو اصرار ہے کہ اہل فلسطین اس پر عمل کریں۔ وہ اپنے سے کئی گناہ طاقت ور دشمن سے جنگ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتے، کیونکہ بارہ ہزار جنگجو تو اُنھیں میسر ہی ہیں۔ تاہم، وہ اِس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ بارہ ہزار سے زائد 'قدسیوں 'کا لشکر ہر بار مغلوب کیوں ہو جاتا ہے؟ حدیث فقط یہ تو نہیں کہتی کہ بارہ ہزار کا لشکر جنگ سے دست بردار نہیں ہو سکتا، بلکہ اُنھیں مغلوب نہ ہونے کی بشارت سناتی ہے۔ اگر قدسیوں کا ایمان کم زور ہے یا اُن کا کلمہ متحد نہیں تو اِس صورت میں بھی اُنھیں جنگ روک کر پہلے اپنے ایمان کی مضبوطی اور کلمہ کے اتحاد پر کام کرنا چاہیے۔
کم زور مظلومین کے لیے لائحہ عمل وہ نہیں جو فقہا کے ایک غلط استدلال کی بنیاد پر علم و عقل سے دست بردار ہو کر جنگ زدہ فلسطین اور دیگر کم زور مسلمانوں کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے، بلکہ وہ ہے جو اللہ تعالی نے سورہ نساء میں مکہ اور گرد و نواح کے مظلوم اور بے بس مسلمانوں کے لیے خود وضع کیا تھا۔
ارشاد ہوا ہے:
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا أخرجنا من ہذہ القریۃ الظالم أہلہا واجعل لنا من لدنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیرا (نساء 75)
(ایمان والو)، تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ پروردگار، ہمیں اِس بستی سے نکال کہ جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہم درد پیدا کر دے اور اپنے پاس سے حامی اور مددگار پیدا کر دے۔
کم زور مظلوموں کی مدد کرنا مسلمانوں کی ریاستوں کا فرض ہے۔ وہ اگر اپنا فرض نبھانے کی جرات یا طاقت نہیں رکھتیں تو اب یہ کم زور مظلوموں کا کام نہیں اور نہ یہ اُن کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے خود ہتھیار اٹھا لیں۔ اِس سے اُن کے مصائب میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ مظلوم کا ہتھیار دعا ہے، اسے تلوار اٹھانے کا مشورہ یا حکم خدا نے نہیں دیا۔
موجودہ صورتِ حال میں اہلِ فلسطین کے پاس تین ہی راستے ہیں:
- اگر اُنھیں جنگ سے احتراز کی صورت میں جان، مال اور آبرو کا تحفظ حاصل ہے، تو اُنھیں جو میسر ہے اُس پر قناعت کریں اور اپنے حقوق کی جدوجہد کو پر امن طریقوں سے جاری رکھیں اور اپنی تعمیر پر توجہ دیں۔
- اگر اُنھیں پر امن رہنے کے باوجود یہ تحفظ حاصل نہیں تو وہ ہجرت کر جائیں۔
- اگر ہجرت کرنے پر پابندی ہے یا ہمسایہ ریاستیں اُنھیں پناہ دینے پر تیار نہیں، تو اب اُنھیں صبر سے عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا ہے، یہاں تک کہ کوئی بیرونی طاقت اُن کی مدد کو آ جائے
پرامن رہنے کے باوجود اُنھیں اگر انخلا پر مجبور کیا جاتا ہے اور عالمی برادری بھی ظالم کا ہاتھ نہیں پکڑتی تو جان اور زمین کے درمیان انتخاب انھیں اپنی جان کا کرنا چاہیے۔ کیونکہ لڑنے کی صورت میں وہ اپنی زندگی اور زمین دونوں گنوا دیں گے۔ انخلا کر جانے کی صورت میں جان تو بچ جائے گی اور جدوجہد کے امکانات پیدا ہوتے رہیں گے۔ مجبوری کے ایسے عالم میں انفرادی سطح پر عقل یہی راستہ سجھاتی ہے۔ اجتماعی معاملے میں بھی اِسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
تاہم، اگر پر امن رہنے کے باوجود اُن کی نسل کشی کی جاتی ہے تو اب یہ اضطراری حالت ہے۔ اِس صورت میں اپنے دفاع میں وہ چاہیں تو لڑتے ہوے موت کو گلے لگا لیں۔ لیکن یہ صورتِ حال، درحقیقت اہلِ فلسطین کو درپیش نہیں۔ اُنھیں حماس کی جنگی کارروائیوں کے بعد تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حماس، فقط دفاعی جنگ نہیں لڑتی، بلکہ آگے بڑھ کر اقدام کرتی ہے۔ اور یہ وہ اُس وقت بھی کرتی ہے جب جنگ نہیں ہو رہی ہوتی۔ یہ دفاع نہیں، دعوتِ مبارزت ہے، جسے دے کر وہ زیرِِ زمین چھپ جاتی اور عام لوگوں کو کھلے آسمان تلے بے رحم میزائلوں اور بموں کا نشانہ بننے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔
صرف یہی نہیں کہ کم زور مظلوم کے لیے جوابی طور پر لڑنا دینی فریضہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے لیے حکم یہ ہے کہ جنگ سے پہلے وہ دشمن کی طاقت سے اپنی طاقت کی نسبت کا لحاظ رکھ کر مقاومت کا فیصلہ کرے۔
سورہ انفال کی آیت 65 میں صحابہ کرام کی جماعت کے لیے اُن کے دشمنوں سے جنگ کے لیے یہ نسبت ایک اور دس رکھی گئی تھی۔ کچھ مدت بعد اِسے بھی تبدیل کر کے ایک اور دو کی نسبت قائم کی گئی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ اُن میں کچھ کم زوری در آئی تھی۔ یہ کم زوری نئے مسلمان ہونے والوں کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔
ارشاد ہوا ہے:
یا أیہا النبی حرض المؤمنین علی القتال ۚ إن یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین ۚ وإن یکن منکم مائۃ یغلبوا ألفا من الذین کفروا بأنہم قوم لا یفقہونالآن خفف اللہ عنکم وعلم أن فیکم ضعفا ۚ فإن یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین ۚ وإن یکن منکم ألف یغلبوا ألفین بإذن اللہ ۗ واللہ مع الصابرین (انفال، 8: 65-66)
اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے لوگوں میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔
اِس وقت، البتہ اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اِس لیے کہ اُس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے۔ اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں ) ثابت قدم رہیں۔
یہ وہ جماعت تھی جسے خدا کی نصرت حاصل تھی۔ فرشتے اُن کی مدد کو قطار اندر قطار اترنے کے منتظر رہتے تھے۔ اُن کے لیے بھی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں اُن کی کم زوری کی رعایت رکھتے ہوئے طاقت کی نسبت میں تبدیلی کر دی گئی تھی۔ اِس سے یہ تعلیم ملتی ہے طاقت کی نسبت میں یہ رعایت بعد والوں کو بدرجہ اولی ملحوظ رکھنی چاہیے۔ اِن کے ہاں طاقت کی نسبت اب جنگی ٹیکنالوجی کے فرق سے طے ہوگی۔ غرض یہ کہ کامیابی کے امکان کا اندازہ کر کے جنگ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
نتائج سے بے پروا ہو کر لڑتے چلے جانا، یہ انیسویں اور بیسویں صدی میں نظریہءِ قومیت کے متاثرین کا ایجاد کردہ جنون ہے، جو زمین اور اقتدار کے حصول کو انسانی جان پر فوقیت دیتا ہے، جو غیر قومی اور غیر مقامی انسانوں کی حکومت کو حرام اور ہم قومی اور مقامی حکومت ہی کو جائز تصور کرتا ہے اور اِن چیزوں کے لیے انسانی جانوں کے بے دریغ ضیاع کو قربانی اور شہادت کا نام دیتا ہے۔ نظریہءِ قومیت کا اپنا دین اور اپنی شریعت ہے۔
اِس کے برعکس، خدا کی نظر میں سب سے قیمتی چیز خود انسان ہے، جسے یہ بھی اجازت ہے کہ وہ کلمہءِ کفر کہ کر اپنی جان بچا لے۔ اُس پر مکہ کی مقدس زمین بھی اگر تنگ ہو جائے تو وہ وہاں سے بھی ہجرت کر جائے، مگر بے فائدہ لڑ مر کر 'امر' ہونے کی ضرورت نہیں۔ اندھا دھند شہادتیں دین کا تقاضا نہیں۔
ساری طاقتیں رکھتے ہوئے بھی خدا نے جو رعایتیں جماعتِ صحابہ کے لیے ملحوظ رکھیں، اُنھیں آج کے مسلمان، اُن کے جذباتی دانش ور اور علما غیروں سے سیکھی طرزِِ مقاومت کی بنیاد پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اِس کا نتیجہ مسلسل ہزیمت کی صورت میں سامنے ہے۔ یہ ایسا ہی چلتا رہے گا جب تک وہ ہوش کے ناخن لینے پر تیار نہیں ہو جاتے، کیوں کہ خدا اپنے طریقے بدلنے والا نہیں۔
تراث، وراثت اور غامدی صاحب
حسان بن علی
تقسیمِ میراث کی بعض صورتوں میں بالاتفاق یہ صورتحال پیش آتی ہے کہ جب ورثاء کے حصے (shares) ان کے مجموعی مفروضِ نصیب سے بڑھ جاتے ہیں تو ایسی صورتحال تزاحم کی صورتحال ہے يعنی ایسے میں تمام ورثاء کو اپنے مقررہ حصے دینا ممکن نہیں رہتا۔
جیسے ایک عورت نے اپنے پیچھے شوہر ماں باپ اور دو بیٹیاں چھوڑی تو اگر ہر حصے کا فیصدی تناسب دیکھا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہے۔ 25 فیصد شوہر کے لیے، 16.6 فیصد باپ کے لیے، 16.6 فیصد ماں کے لیے، 66.6 فیصد بیٹیوں کے لیے۔ لہٰذا اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو حاصل 124.8 فیصد ٹھہرتا ہے جو کہ 100 فیصد سے زیادہ ہے یعنی عملاً ورثاء کو ان کے حصے بغیر کمی بیشی دینا ممکن نہیں۔
جس کا حل مذاہبِ اربعہ کے ہاں یہ تجویز کیا گیا کہ تمام حصوں میں برابر نقص داخل کر دیا جائے جسے عول سے تعبیر کیا جاتا ہے (شوہر = 20، باپ = 13.3، ماں= 13.3، بیٹیوں = 53.3) اور یہ مسلک جمہور صحابہ سے مروی ہے۔ جبکہ ظاہريہ اور شیعہ امامیہ کے ہاں اس کا حل یہ ہے کہ تمام ورثاء کے حصوں پر نقص داخل کرنے کی بجائے متعین طبقے پر نقص داخل کیا جائے جیسے بیٹیاں بہنیں، اور یہ مسلک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے (شوہر = 25، باپ =16.6، ماں= 16.6، بیٹیوں = 41.8)۔
اور ایک طریقہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے بھی ایجاد کیا جس کے نتیجے میں نصوص کو اپنی مرضی سے کچھ ایسے تاویل دی گئی کہ حصوں اور مفروضِ نصیب کے مابين تزاحم سرے سے وجود میں ہی نہیں آتا لیکن ان كی ساری ریاضت کا حاصل یہ ہے کہ کسی بھی طور اپنی دانست میں ریاضی کو درست کر لیا جائے چاہے اس کے نتیجے میں قرآن کے منطوق سے روگردانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ قرآن اپنے الفاظ میں بالکل واضح ہے ثلثا ما ترك (جو میت نے چھوڑا) یعنی کل مال کا دو تہائی نہ کہ بچے ہوئے مال کا دو تہائی۔
چنانچہ غامدی صاحب کے نزدیک بیٹیوں کو ہر صورت (زیر نظر مثال سے قطع نظر) ترکے کے فاضل حصے (ما بقی) میں سے دو تہائی دیا جائے گا نہ کہ کل ترکے کا دو تہائی۔ لیکن زیر نظر مثال میں ان کی ریاضی سے گزر کر بھی کچھ فیصد حصہ (14) تقسیم ہونے سے بچ جاتا ہے (شوہر = 25، باپ =16.6، ماں= 16.6، بیٹیوں= 27.7) اس سے بڑھ کے یہ انہوں نے مرنے والے (مورث) کے لیے یہ اختیار بھی مانا ہے کہ وہ کسی وارث کے حق میں اس زائد حصے کی وصیت کر دے۔
اسی طرح تقسیمِ میراث کی بعض دیگر صورتیں جن میں امت 1400 سال سے تزاحم کے وجود کا اقرار کرتی چلی آئی ہے اسے اپنے تئیں ختم کرنے کے لیے غامدی صاحب نے سورۃ النساء 12 اور آیت 176 كی من مانی تفسیر کی حالانکہ بالاتفاق سورۃ النساء کی آیت 12 ماں شریک بہن بھائیوں کے حصے سے متعلق ہے اور اسی سورت کی آیت 176 باپ شریک اور حقیقی بہن بھائیوں کے حصے سے متعلق۔ اس تقيید (ماں شریک باپ شریک حقیقی بہن بھائی) کو قراءات میں سے مانا جائے یا وہ تفسیری اضافے جو کہ قراءات میں درج ہوئے، دونوں صورتوں (اطلاق کی یہ تقيید اصلاً ہو یا الحاقاً) میں اس کا منقول ہونا ایک طے شدہ اور مسلّم امر ہے۔ لہٰذا اہلِ تشیع جو کہ حفص کے علاوہ دیگر قراءات کے قرآن ہونے کے قائل نہیں ان کے نزدیک بھی اس کا منقول ہونا ایک مسلّم امر ہے۔ لہٰذا اگر اسے محض قراءات کا مسئلہ بنا کر رد کرنا ہوتا تو غامدی صاحب سے بہت پہلے یہ کام اہلِ تشیع کر چکے ہوتے۔
چنانچہ وراثت سے متعلق آیات کا مجمع علیہ فہم (جس کی بابت سنی شیعہ سب متفق ہیں) اس بات پر منتج ہے کہ تقسیمِ وراثت كی بعض صورتوں میں حصوں اور مفروضِ نصیب کے مابين تزاحم كا واقعہ ہونا ناگزیر ہے۔ رہی بات اب اس تزاحم کو دور کیسے کیا جائے تو یہ محلِ اجتہاد تھا جس میں ایک طریقہ تو یہ اختیار کیا گیا کہ سب ورثاء کے حصے میں برابر تناسب کے ساتھ کمی کی جائے اور دوسرا طریقہ یہ کہ متعین ورثاء کے تناسب میں کمی کی جائے۔ لیکن سرے سے تزاحم واقع ہی نہ ہو تو زبان و بیان کو جاننے والوں (سلفاً و خلفاً) کو تو یہ سمجھ میں نہیں آیا لیکن یہ غامدی صاحب ہی ہیں جن کے نزدیک تزاحم کی عدمِ موجودگی بغیر تکلف دیکھی جا سکتی ہے.
واضح رہے کہ دو چیزوں میں فرق ہے، ایک تزاحم کا وجود تو یہ محلِ اجتہاد نہیں، اور دوسرا تزاحم کا حل تو یہ بے شک محلِ اجتہاد رہا ہے اور فریقین (سنی اور اماميۃ) كا اس کی بابت مختلف زاویہ نظر رہا ہے لیکن غامدی صاحب نے وہاں جا کے اجتہاد کیا جہاں تو سرے سے اجتہاد کا سوال ہی نہیں جہاں زبان و بیان کے حوالے سے سرے سے كوئی اشكال موجود ہی نہیں چنانچہ متعدد روایات اس تزاحم کی موجودگی پر دال ہیں۔
غامدی صاحب کی اس ایجاد کے پیچھے جو سبب کار فرما ہے وہ انہی کے نزدیک یہ ہے کہ جب قرآن نے ورثاء کے حصے مقرر کر دیے تو ان میں کمی بیشی کا کوئی جواز نہیں لیکن کوئی ان سے یہ پوچھے کہ کیا قرآن کے الفاظ اور اس کے متفقہ مدلول کے بارے میں انسانی کمی بیشی روا ہے؟ اور جہاں تک ان کا یہ اشکال ہے کہ قرآن کے مقرر کردہ حصوں میں کمی بیشی درست نہیں، تو جاننا چاہیے کہ (فردًا فردًا) ورثاء سے متعلق قرآن کے مقرر کردہ حصے دوسرے ورثاء کے ساتھ مل کر اپنا تعین حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا کبھی تو حجبِ حرمان کی صورت پیش آتی ہے تو کبھی حجبِ نقصان کی (اور یہ امر خود قرآن کے بیان سے واضح ہے) اور بسا اوقات ایسی صورتحال کا بھی سامنا ہوتا ہے جس میں سہام اور نصيب کے مابين تزاحم واقعہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ورثاء کے حصے برابر تناسب کی کمی (يا کسی مخصوص وارث کے حجبِ نقصان) کے ساتھ اپنا تعین حاصل کرتے ہیں۔ جیسے بالاتفاق ایسی صورت بھی پیش آتی ہے جس میں ورثاء کے حصے مفروضِ نصیب سے کم ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مقرر کردہ حصے اضافے کے ساتھ اپنا تعین حاصل کرتے ہیں (يعنی رد کے قانون کا اطلاق کیا جاتا ہے)
اسی طرح تقسیمِ میراث کے دوران مسئلہ مشرکہ (حماریہ یا ہجریہ) کا وجود مسلّم حقيقت ہے جس کے شواہد روایتوں میں موجود ہیں لیکن غامدی صاحب کی سورۃ النساء آيت 12 اور آیت 176 كی خود ساختہ تفسیر کے نتیجے میں یہ مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ مرنے والی نے شوہر، ماں شریك بھائی اور حقیقی بھائی چھوڑے (شوہر = 50، ماں = 16.6، ماں شریک بھائی = 33.3، حقیقی بھائی = بچا ہوا حصہ) اب شوہر، ماں، ماں شریک بھائیوں کے حصوں کو جمع کیا جائے تو 100 فیصد بنتا ہے لہٰذا حقیقی بھائیوں کے لیے کچھ نہیں بچا۔ اس کا حل یہ نہیں کہ قرآن میں ماں شریک بھائیوں کے حصے کی موجودگی کا انکار کر دیا جائے جیسا کہ غامدی صاحب نے سورۃ النساء 12 میں کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اس مسئلہ كا المجتہد فيہا ہونا واضح ہو چکا تھا اور اس کے مختلف حل تجویز کیے گئے۔ ایک اجتہاد یہ ٹھہرا کہ اس صورت میں حقیقی بھائیوں کو وراثت سے محروم ركھا جائے کیونکہ جو حصہ انہیں ملنا تھا وہ بطور عصبہ ملنا تھا، اور دوسرا حل بعض نے یہ دیا کہ حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کے ساتھ ثلث میں شریک کر لیا جائے۔ واضح رہے کہ غامدی صاحب بخلاف دیگر فقہاء اس مسئلے کا حل نہیں بتا رہے بلکہ ان کے نزدیک یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور دوسرے لفظوں میں سلف نے اسے خود سے ایک مسئلہ بنایا اور پھر اس کے مختلف حل تجویز کیے۔
جاننا چاہیے کہ ’’کلالہ‘‘ کا لفظ جیسے وارث کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح مورث اس کے لیے بھی جس کا اقرار غامدی صاحب بھی کرتے ہیں ليكن ان کے نزدیک سورۃ النساء کی آیت 12 ميں لفظ کلالہ بمعنی وارث يعنی مرنے والے کے قریبی رشتہ داروں (ما سوى الوالد والولد) کے لیے آيا ہے نہ کہ اس مورث کے لیے جس کے نہ اصول میں کوئی ہو نہ فروع میں (من لا والد لہ ولا ولد) اور غامدی صاحب كی دليل یہ ہے کہ چونکہ ’’یوصی‘‘ کا فعل مجہول ہے لہٰذا یہ امر اس میں مانع ہے کہ آیت 12 میں کلالہ کو مورث کے لیے مانا جائے۔
اولاً: اس پر عرض یہ ہے کہ کلالہ کو بطور وارث لیے جانے کی صورت میں یہ کہیں لازم نہیں آتا کہ ’’رجل‘‘ بھی وارث ہی ٹھہرے بلکہ ’’رجل‘‘ پھر بھی مورث ہو سکتا ہے۔ جيسے آیت کی نحوى ترکیب يوں بھی ہو سکتی ہے: كان كو تامہ مانا جائے، رجل كان کا فعل ہے، یورث رجل کی صفت ہے، كلالۃ محذوف مصدر كی صفت ہو (إرث الكلالۃ أو وراثۃ الكلالۃ) اگر ایسا مرد ہو یا ايسی عورت ہو جس سے وارث ہو كلالۃ وارث۔ یہاں رجل مورث ہے اور کلالہ وارث ہے نہ کہ مورث۔ اسی طرح نحوی ترکیب يوں بھی ہو سکتی ہے: رجل كان کا اسم ہو، یورث رجل کی صفت ہو، كلالۃ کان کی خبر ہے۔ آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا اگر مرد یا عورت جس سے جو وارث ہو وہ کلالہ ہو۔ لہٰذا کلالہ کو قریبی رشتہ دار (ما سوى الوالد ولولد) ماننے کی صورت میں بھی رجل مورث كی صورت برقرار رہ سکتا ہے۔ لہٰذا جن مفسرین (جيسے امام طبری) نے کلالہ کو بمعنی میت کے قریبی رشتہ دار لیا بھی ہے ان کے نزدیک بھی ’’ولہ اخ او اخت‘‘ سے مراد میت (مورث) کا بھائی اور میت کی بہن ہے نہ کہ وارث کی۔
غامدی صاحب کی اختیار كردہ تركيب کچھ اس طرح ہے: رجل كان کا اسم ہے، یورث کان کی خبر ہے، كلالۃ مفعول لہ ہے۔ آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے، اگر مرد یا عورت وارث بنايا جائے کلالہ ہونے کی وجہ سے (اس کے علاوہ آیت کا ترجمہ یوں بھی درست ہے: وہ مرد اور عورت جس سے وارث ہو اس کے کلالہ ہونے کی وجہ سے۔ اس صورت میں بھی رجل مورث ٹھہرتا ہے لیکن غامدی صاحب کا اختیار أول الذكر ہے) عربیت کی رو سے غامدی صاحب کی اختیار كردہ تركيب اور ترجمہ (جس کے نتیجے میں رجل وارث بنتا ہے نہ کہ مورث) بھی درست ہے (اگر فعل يورث ورث ثلاثی کی بجائے أورث رباعی سے ہو) ليكن تمام دیگر نحوی تراکیب کو چھوڑ کر محض اس نحوى ترکیب اور ترجمہ کو اختیار کرنا جو کہ نہ صرف آیت کے متفقہ مفہوم سے ہم آہنگ نہ ہو بلکہ اس سے اپنی مرضی کا اپنا مفہوم برآمد کرنے میں تکلف بھی برتا گیا ہو جبکہ متعدد نحوی تراكیب موجود ہوں جس میں کلالہ کو وارث ماننے کے باوجود بھی رجل مورث ہی ٹھہرتا ہو۔
ثانياً: واضح رہے کہ غامدی صاحب نے باقی ديگر نحوى تراکیب کو ذکر کیے بغیر محض اس بنا پر رد کر دیا کہ اس جملے کے ما بعد یوصی کا فعل مجہول (المبنی للمفعول) آیا ہے۔ حالانکہ اگر ’’رجل‘‘ کو وارث مانا جائے تو يوصی کے فعل مجہول پر تو اشکال کیا جا سکتا ہے لیکن رجل کو مورث ماننے کی صورت میں ہرگز نہیں، جیسا کہ زمخشری نے رجل کو وارث ماننے کی صورت میں تو فعل مجہول کے اشکال کا جواب دیا ہے لا عكسہا۔ کیونکہ وصیت تو مرنے والے کا فعل تھا اب اگر مورث پیچھے موجود ہی نہیں تو اس کو وارث کے ساتھ کیسے جوڑا جائے، لہٰذا زمخشری کے نزدیک یہ امر لائقِ اشکال ہو سکتا تھا۔ یعنی جو اشکال غامدی صاحب نے کیا زمخشری کے نزدیک یہ اشکال بنتا ہی نہیں بلکہ زمخشری کے نزدیک غامدی صاحب کا یہ اختیار کہ رجل كو وارث لیا جائے لائقِ اشکال ہو سکتا تھا جس کا زمخشری نے جواب دیا۔
ثالثاً: یوصی کے فعل کو خارجی يا اضافی قرینہ تو کہا جا سکتا ہے لیکن اس سے پہلے کلالہ کے لفظ کی مختلف اعرابی صورتیں اس کے معنی کا تعین کریں گی اور غامدی صاحب کے نزدیک بھی اصول یہی ہے کہ لفظ کا معنی جملے کی تالیف سے طے کیا جائے گا لیکن یہاں انہوں نے اپنے اصول کو پوری طرح برتنا ضروری نہ سمجھا جيسے وہ پہلے سے ہی کسی خاص معنی کا ارادہ کر چکے تھے۔
رابعاً: یہ کہ یوصی کے اس فعل کی معروف انداز (المبنی للفاعل) میں متواتر قراءات بھی موجود ہے (قرأ بہا سبعۃ من عشرۃ القراء) اور حفص (عن عاصم) کی قراءات کی پابندی کو غامدی صاحب نے خود پر لازم کیا ہے جبکہ دیگر جو حفص کے علاوہ بھی متواتر قراءات کے قرآن ہونے کے قائل ہیں تو ان پر غامدی صاحب کی دلیل کیسے حجت بن سکتی ہے؟ لہٰذا اتفاقی موقف کہ کلالہ کو یہاں بطور مورث لیا جائے نہ کہ وارث مزيد قوی ہو جاتا ہے۔
خامساً: آیت کا سیاق اس چیز کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ آیت بہن بھائیوں کے حصوں سے متعلق ہو کیونکہ شروع میں بیٹوں کے حصے بیان ہوئے، اس کے بعد ماں باپ کے، اس کے بعد زوجین کے، اس کے بعد بہن بھائی ہی آتے ہیں۔ اب یہ بہن بھائی کون سے ہیں اس اطلاق میں تقيید حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ یہ ماں شریک بہن بھائی ہیں۔ رہی سورۃ النساء کی آیت 176، تو وہ حقیقی اور باپ شریک بہن بھائیوں سے متعلق ہے۔ اگر بات کریں آیتوں کی ترتیب میں موجود حکمت كی کہ ماں شریک بہن بھائیوں کے حصے کو مقدم ذکر کیا گیا (سورۃ کے شروع میں باقی حصوں کے ساتھ ذکر کرنا) جبکہ حقیقی بہن بھائی اور باپ شریک بہن بھائیوں کے حصے کو مؤخر ذکر (سورۃ کے آخری حصے میں ذکر کرنا) تو اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ عرب ماں شریک بہن بھائی کے حصے میں کوتاہی کرتے تھے اور سورۃ النساء کے نام النساء سے واضح ہے کہ اس سورۃ میں اہلِ عرب عورتوں کے حقوق کے معاملے میں جن کوتاہیوں کے مرتکب تھے اسے نہ صرف بخوبی واضح کیا گیا ہے بلکہ اس کے تدارک کے لیے احکام دیے گئے ہیں۔ جبکہ غامدی صاحب کے اختیار کردہ مفہوم کی روشنی میں زیر نظر آیت میں ماموں اور پھوپھی کے بہن بھائی مراد ہیں نہ کہ مرنے والے کے بہن بھائی اور يہ بات آیات کے سیاق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ رہی بات حقیقی بہن بھائیوں کے حصے کو سورۃ کے آخر میں علیحدہ سے ذکر کرنے کی تو وہ بھی سورۃ کے نظم میں جمال لیے ہوئے ہیں، وہ اس طرح کہ سورۃ النساء کے شروع میں نسلِ انسانی کی ابتدا کی بات تھی (يا أيہا الناس اتقوا ربكم الذی خلقكم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا كثيرا ونساء) اور سورت کے آخر میں نسلِ انسانی کے اختتام کی طرف اشارہ ان الفاظ میں موجود ہے: إن امرؤ ہلك ليس لہ ولد۔
بات یہ ہے کہ جس چیز کا وہ اپنے علم کے ذریعے احاطہ نہیں کر سکے اسے انہوں نے جھٹلا دیا بل كذبوا بما لم يحيطوا بعلمہ (يونس 39)۔
غزہ کے لیے عرب منصوبہ: رکاوٹیں اور امکانات
عرب سینٹر ڈی سی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 فروری کی تجویز میں غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے، اس کے مقامی فلسطینیوں کو بے گھر کرنے، اور اسے ’’مشرقِ وسطیٰ کا تفریحی ساحل‘‘ بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں عرب رہنماؤں نے 4 مارچ کو قاہرہ میں ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس منعقد کیا تاکہ غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے لیے ایک متبادل مصری منصوبے پر تبادلۂ خیال اور پھر اس کی توثیق کی جا سکے۔ مصری منصوبے میں فلسطینیوں کو کہیں منتقل کیے بغیر مختلف مراحل میں غزہ کی تعمیرِ نو کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق 2007ء سے اس علاقے پر حکومت کرنے والی حماس کی بجائے فلسطینی اتھارٹی کو دعوت دی جائے گی کہ وہ دوبارہ اس خطہ پر حکومت قائم کرے، اور فلسطینی پولیس افسران کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور شدہ بین الاقوامی امن دستوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جبکہ حماس پہلے ہی غزہ پر حکومت کرنے کے اپنے دعوے سے دستبردار ہو چکی ہے بشرطیکہ سب فلسطینیوں کی مرضی کے مطابق ہو، لیکن اس نے اپنے غیر مسلح ہونے کے بارے میں کسی بھی طرح کی بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
عرب رہنماؤں نے متفقہ طور پر مجوزہ مصری منصوبے کی منظوری دی، لیکن اسرائیل اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے مسترد کر دیا۔ اسرائیل نے بہت پہلے ہی اس علاقے میں حماس یا فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی کردار کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے عرب سربراہ اجلاس میں شریک نمائندگان پر ’’فرسودہ نقطہ نظر میں جڑے رہنے‘‘ کا الزام لگایا، اور یہ بات دہرائی کہ ٹرمپ کا منصوبہ ہی فلسطینیوں کے لیے اصل راستہ ہے۔ امریکہ نے اپنی طرف سے فلسطینیوں اور عرب دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسے اس علاقے کی مقامی آبادی کی پرواہ ہے، یہ یاد دلا کر کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں ہے، لیکن اس بات کو تسلیم کیے بغیر کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ ہی اس کی تباہی کی اصل وجہ ہے۔
عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی (ACW) نے اپنے تجزیہ کاروں اور رفیق کاروں سے سربراہی اجلاس اور غزہ کے لیے مصری تجویز کے حوالے سے موجود وسیع تر جغرافیائی سیاسی ماحول پر روشنی ڈالنے کے لیے مختصر تبصرے فراہم کرنے کی درخواست کی۔ ان کے نقطہ نظر ذیل میں ہیں۔
مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی ناکام ہو گئی ہے
(یارا ایم آسی، غیر رہائشی رفیق کار؛ اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا)
دسمبر 2024ء کے اوائل میں، فلسطینی اتھارٹی (PA) نے مغربی کنارے میں جنین مہاجر کیمپ پر چھاپے مارے۔ بہت سے مبصرین کے سامنے اس کے مقاصد واضح تھے: اسرائیل اور آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو یہ ظاہر کرنا کہ پی اے کنٹرول قائم کر سکتی ہے اور ممکنہ طور پر غزہ میں جنگ بندی کے بعد گورننگ اتھارٹی کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ پی اے جس طریقے سے یہ ثابت کرتی ہے وہ یقیناً یہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں کو مناسب خدمات فراہم کی جائیں، جن پر وہ مبینہ طور پر حکومت کرتی ہے، یا اپنی عوام کے لیے انصاف اور احتساب کے حوالے سے محنت کی جائے؛ نہ ہی وہ ایک ایسے معاشی بحران پر قابو پانے کی صلاحیت دکھا سکتی ہے جس نے دسیوں ہزاروں فلسطینیوں کو بے روزگار کر دیا ہے یا وہ اپنی تنخواہوں کا آدھا حصہ وصول کر رہے ہیں؛ یا یہ کہ وہ انہیں اسرائیلی آباد کاروں اور فوجی دستوں کے روزانہ کے حملوں سے تحفظ فراہم کر رہی ہو۔ اس کے بجائے اس کا مقصد طاقت دکھانا ہے، خاص طور پر ان فلسطینیوں کے خلاف جو مزاحمتی گروپوں میں سرگرم ہیں،یا جن پر سرگرم ہونے کا شبہ ہے، یا محض ان لوگوں کے خلاف جو خود پی اے پر تنقید کرتے ہیں۔ درحقیقت، ان چھاپوں میں راہگیروں سمیت کئی فلسطینی زخمی یا ہلاک ہوئے۔ کیا پی اے کے اسی طرزِ حکمرانی کو عرب ممالک غزہ لانے کے لیے کام کر رہے ہیں؟
ایسے وقت میں جب فلسطینی عوام کو تاریخی فلسطین میں رہنے کے حوالے سے انوکھے خطرات کا سامنا ہے، شاید کوئی بھی قوت فلسطینی عوام کی نمائندگی کی جائز حقدار اور ان کے لیے جدوجہد کے حوالے سے پی اے سے کم موزوں نہیں ہے۔ 1990ء کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے پی اے نے فلسطینی عوام میں اپنی حمایت تسلسل کے ساتھ کھوئی ہے۔ خاص طور پر جس طرح سے اس نے بدعنوانی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئی ہیں اور محمود عباس کی صدارت کو برقرار رکھا ہوا ہے، جو کہ 2005ء میں منتخب ہوئے تھے اور تب سے انہوں نے انتخابات نہیں ہونے دیے۔ عوامی رائے شماری نے مسلسل یہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اپنی اتھارٹی برقرار رکھنے کے لیے پی اے کے لیے بہت کم حمایت ہے، غزہ کی پٹی تک اپنا دائرہ کار بڑھانا تو دور کی بات ہے۔
مصر اور اردن کے تقاضے کیا ہیں؟
(ہبہ گوید، غیر رہائشی رفیق کار؛ پروفیسر آف سوشیالوجی، سی یو این وائی ہنٹر کالج)
فلسطینیوں کی نسل کشی کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا سلسلہ جاری رکھنے پر مصر اور اردن کے ساتھ ساتھ دیگر عرب ریاستوں کی قیادت پر مہینوں کی اندرونی و بین الاقوامی تنقید کے بعد عرب سربراہی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو ’’مسمار شدہ علاقہ‘‘ قرار دینے اور اس تجویز کے ہفتوں بعد منعقد ہوا کہ فلسطینی ’’دہائیوں کی موت‘‘ کے بعد مصر یا اردن میں ’’صاف ستھری نئی زمین‘‘ پا کر خوش ہوں گے۔ ان کے تبصرے، جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن ڈی سی کے دورے سے عین قبل کیے گئے تھے، اس کے بعد ٹرمپ کی جانب سے نام نہاد غزہ تفریحی ساحل (Riviera) کی مصنوعی ذہانت سے بنی ایک پریشان کن ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جس میں فلسطینی زمین پر ایک ساحلی ٹرمپ ریزورٹ کو دکھایا گیا تھا۔
اردن اور مصر کے رہنماؤں کا خود ارادیت اور غزہ کی تعمیرِ نو کے حوالے سے 53 بلین ڈالر کے منصوبے پر فلسطینیوں کے ساتھ تعاون کرنے کا اظہار مہینوں کے سکوت سے فرار ہے۔ دونوں ممالک میں مظاہرین نے اپنی حکومتوں سے نسل کشی کو روکنے اور اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مصر میں مظاہرین نے انسانی امداد کے لیے رفح کراسنگ کھولنے کا مطالبہ کیا اور اپنی حکومت پر ناکہ بندی میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام لگایا۔
قاہرہ سربراہی اجلاس کی سیاسی اہمیت اس حقیقت سے بڑھ جاتی ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خدشات کو ٹرمپ کی مضحکہ خیز سوچ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ فروری 2024ء میں، جب اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو مصر کے ساتھ رفح سرحد میں دھکیل دیا گیا، مصری حکام نے خفیہ طور پر سینائی میں چھ میٹر اونچی دیوار بنائی تاکہ آٹھ مربع میل کے علاقے کو بند کیا جا سکے۔ مبصرین کے خیال میں یہ رکاوٹ اس صورتحال سے بچنے کے لیے بنائی گئی ہے کہ رفح پر اسرائیل کی بمباری فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر مصر میں داخل ہونے پر مجبور کر سکتی ہے۔ کیونکہ غزہ جنگ کے آغاز سے ہی اس اسرائیلی منصوبہ کی افواہیں تھیں، جیسا کہ 2023ء میں نیتن یاہو سے وابستہ ایک تھنک ٹینک نے ’’پوری غزہ آبادی کی منتقلی اور حتمی آبادکاری‘‘ کا بلیو پرنٹ شائع کیا تھا۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مالی اعانت کے راستے کیا ہیں؟
(عماد کے حرب، ڈائریکٹر آف ریسرچ اینڈ اینا لسٹس)
اقوام متحدہ، یورپی یونین، اور عالمی بینک نے غزہ کی تعمیرِ نو کی لاگت 50 بلین ڈالر سے زیادہ بتائی ہے۔ عرب سربراہی اجلاس نے ابھی ایک مرحلہ وار تعمیرِ نو کا منصوبہ تجویز کیا ہے جس میں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے عرب اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے مالی اعانت کی ضرورت ہو گی۔ خلیجی عرب ریاستیں بنیادی عطیہ دہندگان ہوں گی جنہوں نے مختلف پیمانوں میں پہلے بھی فلسطینیوں کی مالی مدد کی ہے۔ دیگر ممکنہ عطیہ دہندگان مسلم ممالک ہیں جو فلسطینی زندگی اور املاک کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں، یا ایشیا، یورپ اور (شمالی) امریکہ کے امیر ممالک ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے جیسے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، یورپی بینک برائے تعمیرِ نو اور ترقی، اور دیگر ادارے اپنی تنظیمی نوعیت کی وجہ سے مدد نہیں کر سکتے کیونکہ وہ قرض دینے والے ادارے ہیں نہ کہ عطیہ دہندگان۔
عرب سربراہی اجلاس میں تجویز کردہ مصری منصوبے کو ٹرمپ کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد، اور امریکہ کی جانب سے دی جانے والی زیادہ تر غیر ملکی امداد کے حوالے سے ان کی مخالفت کے پیش نظر، اس کا امکان بہت کم ہے کہ ان کی انتظامیہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عطیہ دینے میں کوئی جلدی دکھائے گی۔ پراپرٹی کے کاروبار والی سوچ جو اِس وقت فلسطین کے حقوق کے حوالے سے امریکی نقطۂ نظر کی نمائندگی کر رہی ہے، وہ غزہ کو محض ایک ساحل سمندر کے طور پر دیکھتی ہے جو ریزورٹس اور خوبصورت تفریح گاہ بننے کے لیے تیار ہے۔ برطانیہ اور جرمنی جیسے یورپی ممالک غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی حمایت کرنے میں اتنے ہی قصوروار ہیں جتنا کہ امریکہ، اس لیے ان کی طرف سے اس تعمیرِ نو میں مدد کا امکان بھی کم ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے جان چھڑانے کے بعد یورپ اس وقت یوکرین کے لیے فنڈنگ اکٹھی کرنے کی مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر یورپ غزہ کی مدد کرتا بھی ہے تو اس کی شرکت بامعنی طور پر مطلوبہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہے گی۔
لیکن فنڈز دینے والے جو بھی ہوں اور وہ جو بھی حصہ ڈال سکیں، ایک ضروری سوال کا جواب دیا جانا چاہیے: اگر مقصد پورا ہو جاتا ہے تو کیا غزہ کی تعمیرِ نو وقتاً فوقتاً ہونے والی اسرائیلی جنگ سےاور جو کچھ تعمیر کیا گیا ہو اس کی تباہی سے بچ جائے گی، جیسا کہ 2008ء-2009ء، 2014 ءاور 2021ء میں ہوا تھا؟ فلسطینی زمین پر اسرائیلی قبضے اور فلسطینی زندگی کی تباہی کا سلسلہ ختم کیے بغیر، تعمیرِ نو کے فنڈز دینے والوں کو کیسے یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ان کی نیک خواہش کو قائم رہنے دیا جائے گا؟
ٹرمپ کی جانب سے عرب سربراہی اجلاس کو دھوکہ
(خلیل ای جہشان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر)
اندرون اور بیرون ملک مبصرین صدر ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے کے ’’دہشت اور حیرت‘‘ والے اعلان سے متوقع طور پر چونک گئے، اگرچہ وہ اس وقت ان کی خوفناک تجویز کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ عرب رہنما، خاص طور پر مصر اور اردن جیسے متاثرہ ممالک کی نمائندگی کرنے والے، ٹرمپ کے منصوبے کو روکنے، یا کم از کم، اس کو محدود کرنے کے لیے اپنے متبادل منصوبوں کو سامنے لانے کے لیے صاف نظر آنے والی گھبراہٹ میں نکل پڑے۔ ان کے نقطہ نظر سے، اس منصوبے میں نہ صرف غزہ کی آبادی کی غیر قانونی نسلی صفائی ہو گی بلکہ یہ ان کے ممالک کے لیے جغرافیائی، معاشی اور سیاسی سطح پر قومی سلامتی کا خطرہ بھی ہے۔
عرب دنیا کی جانب سے تفصیلی 112 صفحات پر مشتمل مصری منصوبے کی تیز رفتار منظوری شرکاء خاص طور پر واشنگٹن کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنے والوں کے درمیان اس وسیع تاثر کی وجہ سے فوری طور پر ممکن بنائی گئی کہ ٹرمپ انتظامیہ ان کی کوششوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ غزہ کی نسلی صفائی کے متبادل کے طور پر ان کی تجاویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ تاثر اس غلط مفروضے سے مزید تقویت پا گیا کہ امریکی صدر نے یہ کہہ کر غزہ کی آبادی کو ختم کرنے کے اپنے موقف کو بتدریج نرم کیا کہ وہ کسی پر بھی اپنی غزہ تجویز ’’مسلط نہیں کر رہے‘‘ ہیں۔
قاہرہ میں سربراہی اجلاس کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد ہی عربوں کی امیدیں چکنا چور ہوگئیں۔ ہفتوں کی سرگرم سفارت کاری، زمینی تحقیق اور حل کی تلاش کے باوجود، شرکاء کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے سامنے اپنے تفصیلی منصوبے کو باضابطہ طور پر پیش کرنے کا موقع بھی نہیں ملا، جیسا کہ ان کا ارادہ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اور نیتن یاہو حکومت نے اپنے ماہرین کی جانب سے اس کے مندرجات پر تفصیلی نظر ڈالنے سے پہلے ہی عرب غزہ تعمیرِ نو کے منصوبے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ قومی سلامتی کے ترجمان برائن ہیوز نے اعلان کیا کہ عرب لیگ کا تعمیرِ نو کا منصوبہ ’’اس حقیقت کا ذکر نہیں کرتا کہ غزہ اس وقت رہنے کے قابل نہیں ہے اور اس کے رہائشی ملبے اور بغیر پھٹے گولہ بارود سے ڈھکے علاقے میں انسانی طور پر نہیں رہ سکتے‘‘۔
آیا عرب سربراہی اجلاس کی تعمیرِ نو کا منصوبہ اس قابل ہے یا نہیں، یہ بنیادی طور پر ایک اہم سوال ہے۔ اس کی اصل قدر دیکھنے والے کی نظر میں ہے۔ اسے تیار کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ ایک قابلِ عمل منصوبہ ہے جو غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور تباہ شدہ علاقے میں درکار بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کے ابتدائی مراحل کا آغاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عرب کیمپ کے ارکان اس بات کو شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ ان کا منصوبہ اپنی خامیوں کے باوجود کہیں زیادہ بہتر اور طویل عرصے تک خطے کے لیے بہتر رہے گا، ٹرمپ کے متبادل منصوبہ کی بہ نسبت، جو خطے اور اس سے بھی آگے مزید افراتفری، لڑائی اور بدحالی کا باعث بنے گا۔
اسی وجہ سے، امریکہ کے اتحادی سمجھے جانے والے عرب ممالک ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں منصفانہ شنوائی حاصل کرنے میں اپنی ناکامی پر کافی مایوس ہیں، اور واضح طور پر موجودہ انتظامیہ کی جانب سے غزہ میں فلسطینی انسانی زندگی کے معیار کے حوالے سے دکھائی جانے والی اچانک ہمدردی اور جعلی تشویش سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ آج عرب رائے سازوں کے غالب جذبات اس حقیقت پر مرکوز ہیں کہ صدر ٹرمپ نے امریکی علاقائی اتحادیوں کو کئی ہفتوں کے ایک احمقانہ مشن پر بھیج کر دھوکہ دیا ہے، کیونکہ منصوبے کے اصل مواد سے قطع نظر اسے سنجیدگی سے لینے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
کیا فلسطینی اتھارٹی غزہ پر حکومت کرنے کے لیے واپس آسکتی ہے؟
(یوسف منایر، فلسطین/اسرائیل پروگرام کے سربراہ اور سینئر رفیق کار)
فتح کی بھرپور حمایت یافتہ پی اے کی غزہ پر کنٹرول کے لیے واپسی کی راہ میں حائل بہت سی رکاوٹیں اسرائیلی نسل کشی اور غزہ کی تباہی کے بعد ہی بڑھ گئی ہیں۔ فتح کی حمایت یافتہ پی اے کی غزہ پر کنٹرول کے لیے واپسی پر اثر انداز ہونے والے بہت سے معاملات عرصہ دراز سے چلے آ رہے ہیں جو کہ مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم یہ ہیں: حماس کی طرف سے تعاون کا عزم، پی اے کی طرف سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کا عزم، اور پی اے کی حکومت کرنے کی صلاحیت ہے۔
حماس کا موقف شاید واحد معاملہ ہے جو گزشتہ 16 مہینوں میں قابل قدر انداز سے تبدیل ہوا ہے، کیونکہ اس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ غزہ فلسطینیوں کے کنٹرول میں رہے۔ یہ پہلے اس کا موقف نہیں تھا، اگرچہ حماس طویل عرصے سے مزاحمتی تحریک کے طور پر اپنے کردار پر توجہ مرکوز کرنے کا خواہشمند تھا، نہ کہ حکومتی اتھارٹی کے طور پر، لیکن آج یہ معاملہ زیادہ لگتا ہے۔ جہاں تک غزہ پر حکومت کرنے کے پی اے کے عزم کا تعلق ہے، رملہ اس مشن سے وابستہ مسائل کی وجہ سے کبھی بھی اس کا خواہشمند نہیں رہا۔ جیسا کہ پی اے بمشکل مقبوضہ مغربی کنارے کے ان علاقوں پر حکومت کرتی ہے جہاں اس کا مبینہ طور پر دائرہ اختیار ہے۔ نسل کشی کے بعد غزہ پر حکومت کرنے کا کام پہلے سے کہیں زیادہ چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے، اور یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ پی اے اس کے امکانات کے بارے میں کتنا پرجوش ہوگا۔
اس کام کو اتنا ناپسندیدہ بنانے کی ایک وجہ پی اے کی ناقص صلاحیتیں ہیں، خاص طور پر غزہ کے معاملے میں۔ 2007ء میں حماس کے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کئی سالوں تک فتح کی قیادت پر مشتمل پی اے نے غزہ میں اپنے بہت سے وفاداروں اور سرکاری ملازمین کو اپنی تنخواہ پر رکھا۔ بالآخر یہ ادائیگیاں سست یا مکمل طور پر بند ہوگئیں، جس سے غزہ میں پی اے کی رسائی بہت کم ہوگئی۔ مزید برآں، نسل کشی کے دوران غزہ سے باہر جانے والے زیادہ تر فلسطینی حماس سے وابستہ نہیں تھے، جس کا مطلب ہے کہ باقی ماندہ میں سے بہت سے لوگ حماس کی حمایت کرتے ہیں، پی اے کی نہیں۔ اس کے نتیجے میں، اگرچہ حماس اب غزہ کا کنٹرول کسی مختلف فلسطینی دھڑے کے حوالے کرنے کے لیے زیادہ رضامند ہے، تب بھی پی اے اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بارے میں پہلے سے کہیں کم پرجوش ہے۔
کیا عرب سربراہی اجلاس کی تجویز ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قابل قبول ہے؟
(اینیل شیلین، غیر رہائشی رفیق کار)
غزہ کے لیے عرب منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ دو اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے: ایک غزہ کے حالات سے متعلق اور دوسرا علاقے میں حماس کی مسلسل موجودگی سے متعلق۔
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز کے مطابق عرب منصوبہ ’’اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ غزہ اس وقت ناقابل رہائش ہے اور وہاں کے رہائشی ملبے اور غیر پھٹنے والے ہتھیاروں سے ڈھکے ہوئے علاقے میں انسانی طور پر نہیں رہا جا سکتا‘‘۔ ہیوز نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں جدید تاریخ کی سب سے شدید بمباری کے 16 ماہ کے دوران یہ خوفناک حالات پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم نہیں کیا کہ اسرائیل اس وقت تمام سامان اور امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، جو کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین ہے، جن میں سبھی کے لیے اسے امریکہ کی طرف سے اجازت اور حمایت حاصل ہے۔
حماس کے بارے میں ہیوز نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ حماس غزہ پر حکومت جاری نہیں رکھ سکتی‘‘ اور یہ کہ ’’صدر ٹرمپ حماس کے بغیر غزہ کی تعمیرِ نو کے اپنے وژن پر قائم ہیں‘‘۔ ہیوز نے اس سوال پر توجہ نہیں دی کہ امریکہ اس وژن کو کیسے حاصل کرے گا۔ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ غزہ کا ’’مالک‘‘ ہوگا، یہاں تک کہ سینٹ کے چند ری پبلکنز نے بھی وہاں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان کی مخالفت کا اظہار کیا۔ ہیوز نے مزید کہا: ’’جیسا کہ جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے صدر اپنے جرأتمندانہ وژن پر قائم ہیں، وہ خطے میں ہمارے عرب شراکت داروں کی جانب سے تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں‘‘ ۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے قدرے مفاہمت آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسے ’’بہت ساری زبردست خصوصیات‘‘ کے ساتھ ’’نیک نیتی کا پہلا قدم‘‘ قرار دیا۔ نہ ہی ہیوز، نہ ہی وٹکوف، اور نہ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں نے حماس یا اس کی جگہ لینے والی کسی بھی تنظیم کے بنیادی رجحان پر توجہ دی ہے: فلسطین پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد کے خلاف مزاحمت۔
غزہ کی خاموش وبا
الجزیرہ
حدیل عواد
غزہ میں جنگ بندی شروع ہوئے دو ماہ ہو چکے ہیں۔ فلسطینی اب بھی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں، لیکن مسلسل بمباری رک گئی ہے، کم از کم ابھی کے لیے، غزہ پٹی میں داخل ہونے والی اشد ضروری امداد کو دو ہفتے قبل روک دیا گیا تھا۔
گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں جو کچھ داخل ہوا وہ غزہ کے تباہ حال صحت کے نظام کو بمشکل ہی بحال کر سکا۔ بہت سے ہسپتال اور کلینک تباہ ہو چکے ہیں، خاص طور پر شمال میں، کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو لاکھوں زندہ بچ جانے والوں کو بنیادی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے خیمے لگانے پڑے ہیں۔ آنے والی طبی سپلائی ابھی سے ختم ہو رہی ہے۔
اس مسلسل اذیت کے درمیان، غزہ میں صحت کا نظام بحال ہونا تو دور کی بات، یہ عام شہریوں کو درپیش کئی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ ان میں سے سب سے بدترین ان معذور افراد کی چونکا دینے والی تعداد ہے جو اسرائیل کے 15 ماہ تک اندھا دھند دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کے بعد بچے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے ستمبر 2024ء تک غزہ میں 22,500 افراد زندگی بدل دینے والے زخموں کا شکار ہوئے، جن میں اعضاء کے شدید زخم، اعضاء کا کٹنا، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، دماغی چوٹیں اور شدید جلنا شامل ہیں۔
نسل کش جنگ کے عروج پر امدادی ایجنسیاں اور طبی تنظیمیں رپورٹ کر رہی تھیں کہ غزہ میں روزانہ 10 سے زیادہ بچے ایک یا دو اعضاء سے محروم ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ بغیر بے ہوشی کے آپریشن کروا رہے تھے، اور ان میں سے بہت سے اعضاء کو بچایا جا سکتا تھا اگر صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ نہ ہو جاتا۔ دسمبر میں اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں ’’دنیا میں فی کس بچوں کے اعضاء کٹنے کی شرح سب سے زیادہ ہے‘‘۔
جولائی 2024ء میں الاقصی شہداء ہسپتال کے فیلڈ دورے کے دوران میں نے خود دیکھا کہ غزہ کے آخری فعال ہسپتالوں میں سے یہ ایک ہسپتال کس طرح دھماکہ خیز ہتھیاروں سے زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔ جب میں ہسپتال پہنچی تو کئی بمباریوں سے زخمی ہونے والے بہت سے لوگ موجود تھے۔
عملے کی شدید قلت کے باعث میں میں نے فوراً مدد دینا شروع کی۔ میں نے جس پہلے مریض کا علاج کیا وہ چار سالہ طالا نامی ایک زخمی لڑکی تھی، بمباری کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی اور وہ شدت سے رو رہی تھی اور چیخ رہی تھی۔ اس کی ماں، جو خود بھی شدید زخمی تھی، اسے حوصلہ دینے کے لیے نہیں آ سکی۔ میں اس چھوٹی بچی کی پٹی تبدیل کرنے اور درد کھینچنے والی دوا دینے کے سوا زیادہ کچھ نہیں کر سکی۔
پھر میں نے عبداللہ نامی ایک نوجوان کو دیکھا جو شدید زخمی اور بے ہوش تھا، ہسپتال پہنچنے پر اس کی باقی ٹانگ بھی کاٹ دی گئی۔ اس کے والد نے مجھے بتایا کہ عبداللہ کی دادی اور اس کا بھائی یا بہن بھی مارے گئے تھے۔
میں دسمبر 2024ء میں ہسپتال واپس آئی جہاں میری ملاقات دو چھوٹی بچیوں، 3 سالہ حنان اور 1 سال 8 ماہ کی مِسک سے ہوئی، جنہوں نے چند ماہ قبل اسرائیلی حملے میں اپنے اعضاء اور اپنی ماں کو کھو دیا تھا۔ حنان کے دونوں پاؤں کاٹ دیے گئے تھے، جبکہ اس کی بہن مِسک کا ایک پاؤں ضائع ہو گیا تھا۔ ان کی خالہ جس سے میں نے بات کی، اس نے ان کی دیکھ بھال کے حوالے سے مشکلات کا بتایا۔ مِسک نے ابھی چلنا سیکھا ہی تھا کہ بمباری سے اس کا پاؤں ضائع ہو گیا۔ حنان اتنی بڑی تھی کہ وہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں کے پاؤں کو دیکھ اور سمجھ سکتی تھی، اور پوچھتی تھی کہ اس کے پاؤں کیوں غائب ہیں۔
یہ ان ہزاروں بچوں کی کہانیوں میں سے چند ایک ہیں جن کا بچپن اسرائیلی بموں نے چھین لیا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوڑنے اور کھیلنے سے قاصر ہیں، ایک ایسی جگہ پر شدید صدمے کا شکار ہیں جو انہیں بنیادی نگہداشت بھی فراہم نہیں کر سکتی۔
غزہ اس نسل کش جنگ سے پہلے ہی معذور افراد کی ایک بڑی تعداد کے لیے جدوجہد کر رہا تھا جو پچھلی اسرائیلی جنگوں اور پرامن مظاہروں پر حملوں کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن کچھ مراکز اور تنظیمیں ان کی مدد کر رہی تھیں۔ حمد ہسپتال برائے بحالی و مصنوعی اعضاء، معذور افراد کو مصنوعی اعضاء فراہم کرنے کے قابل تھا۔ مختلف اقدامات نے صدمے اور مایوسی پر قابو پانے کے لیے نفسیاتی سماجی مدد اور شفایابی کے پروگرام فراہم کیے۔ لیکن یہ سب اب ختم ہو چکے ہیں۔ حمد ہسپتال نسل کش جنگ کے پہلے چند ہفتوں میں ہی تباہ ہو گیا تھا۔
تباہ شدہ ہسپتال اور عارضی کلینک دائمی بیماریوں کے لیے بمشکل ہی کوئی نگہداشت فراہم کرنے کے قابل ہیں، معذور افراد کے لیے تو دور کی بات ہے۔ رفح کی سرحدی گزرگاہ ایک بار پھر بند ہو گئی ہے اور کوئی بھی زخمی علاج کے لیے سفر نہیں کر سکتا۔ مصنوعی اعضاء اور بیساکھیوں اور وہیل چیئرز جیسے ہزاروں امدادی آلات کی فوری ضرورت ہے، لیکن انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
غزہ کے صحت کے شعبے کو جس پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسے دوبارہ تعمیر ہونے میں کئی سال لگیں گے، اور یہ تب ہے جب اسرائیل اجتماعی سزا کے طور پر امداد کو روکنا بند کر دے۔ اس دوران معذور افراد لازمی طور پر نہ صرف نگہداشت اور بحالی کی کمی کا شکار ہوں گے بلکہ گہرے نفسیاتی صدمے کا بھی شکار ہوں گے جو غیر علاج شدہ رہے گا۔ یہ غزہ کی خاموش وبا ہو گی۔
حافظ حسین احمد بھی چل بسے
سید علی محی الدین شاہ
سیاست میں ظرافت، برجستہ گوئی اور فی البدیع جملوں کے ذریعے سنگلاخ اور مشکل موضوعات کو چٹکلوں میں ہنستے مسکراتے بیان کرنے والے سابق سنیٹر و ممبر اسمبلی حافظ حسین احمد بھی چوہتر سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ فرما گئے، انا للہ واناالیہ راجعون۔
حافظ صاحب نے پاکستان کے ایک نظر انداز اور پسماندہ صوبے بلوچستان سے جمعیت علماء اسلام کے پرچم تلے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور پھر اپنی صلاحیتوں، فطری استعداد، مشن اور نظرئیے سے مضبوط وابستگی، نظریاتی استقامت اور نشیب و فراز میں جماعت سے وفاداری کے نتیجے میں ملکی سیاست میں نمایاں طور پر ابھرے اور اپنا ایک بلند مقام اور مرتبہ قائم کیا۔ اپنی پوری زندگی کو ایک مشن اور نظرئیے کے لئے بغیر کسی طمع اور لالچ کے وقف کرنے سے ان کی ساری جدوجہد عبارت تھی اور چند سالوں سے گردوں کے عارضے مبتلا ہونے کی وجہ سے لاغر پن اور کمزوری کے باوجود بھی ان کی آواز میں وہ ہی گرج، ظریفانہ چٹکلے اور سیاسی فہم و بصیرت موجود ہوتی تھی اور عملی سیاست سے کسی حد تک کنارہ کشی کے باوجود بھی کبھی کبھار ان کی رگ ظرافت پھڑک اٹھتی اور بڑے جاندار اور معنی خیز تبصرے فرماتے تھے۔
2002ء میں جب ملکی سیاست میں پہلی بار مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور دو صوبوں میں ان کی حکومت بنی اور مرکز میں بھی یہ اتحاد ایک مضبوط سیاسی قوت بن کر سامنے آیا تو اس عرصے میں مذہبی جماعتوں کے دیگر ممبران اسمبلی کے علاوہ حافظ صاحب کو بھی قریب سے دیکھنے اور طویل نشستوں میں ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا۔
یہ دور جنرل مشرف کی روشن خیالی، اعتدال پسندی اور ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ جیسے پرفریب نعروں کا تھا تو اس وقت میڈیا کے محاذ پر جناب حافظ حسین احمد اور جناب لیاقت بلوچ نہایت حکمت، دلیری، جرات مندی کے ساتھ مذہبی قوتوں کا مقدمہ لڑتے اور حکومتی اثر و رسوخ سے بعض نظریات اور عملی اقدامات کو جبرا معاشرے پر مسلط کرنے کی کوششوں کا دلیل اور حکمت سے مقابلہ کرتے۔
حافظ صاحب ہٹو بچو، تکلفات اور پروٹوکول کی قیدوبند سے آزاد سیاست دان تھے اور ملکی سطح کے سیاست دان اور ہر وقت میڈیا کی چکاچوند میں رہنے کے باوجود عام سی گاڑی اور سواری میں نظر آتے بلکہ بعض اوقات اگر گاڑی میسر نہ بھی ہوتی تو موٹر سائیکل ہی پر منزل مقصود پر پہنچ جاتے اور اس میں کوئی ہتک اور شرمندگی محسوس نہ کرتے اور اپنی طاقت اور قوت مضبوط اور توانا موقف کو سمجھتے اور جانتے۔
حافظ صاحب کے چند ظریفانہ چٹکلے جو بہت عرصے تک میڈیا کی سرخیوں میں رہتے اور زبان زد عام ہوتے ان میں سے ایک یہ تھا کہ جب باریش اور شریف النفس صدر مملکت جناب رفیق تارڑ مرحوم پر جنرل مشرف نے عہدہ صدارت سے استعفی دینے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا تو حافظ صاحب نے اس معاملے پر نہایت برجستگی کے ساتھ تبصرہ فرمایا کہ میں رفیق ہوں کسی اور کا مجھے تاڑتا کوئی اور ہے۔
اسی طرح کئی اور موقعوں پر ایسے برجستہ جملوں اور فقروں سے تبصرے فرمائے جن میں اس وقت اور ماحول کی پوری صورتحال سمٹ آتی اور اگر کوئی شخص محنت کر کے انہیں جمع کر لے تو علم و ادب کی دنیا میں ایک وقیع اضافہ ہو جائے گا اور سیاست کی سنگلاخ اور ظرافت سے خالی تاریخ میں ایک عجوبہ شمار ہوگا۔
وفاداری اور نظریاتی استقامت کے اس پہاڑ کی وفات سے معتدل، نرم، شریفانہ اور ادبی سیاست کا ایک سنہری باب بند ہوگیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور اگلی منازل آسان فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم!
حافظ حسین احمد، صدیوں تجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
مولانا حافظ خرم شہزاد
جمعیۃ طلباء اسلام میں جب شعور کی آنکھ کھولی تو وہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا بدترین دور تھا۔ لولی لنگڑی جمہوریت بھی موجود تھی، ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) کی وجہ سے دینی طبقے کو ایک حوصلہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا ابتدائی دور تھا اور جن چند شخصیات کا میڈیا پر راج تھا ان میں سرِ فہرست نام حافظ حسین احمد صاحب کا تھا۔ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز ان کے بغیر ادھورے اور پرنٹ میڈیا ان کی خبر لگائے بغیر پھیکے رہتے۔
اس وقت حافظ صاحب کی شخصیت فُل پیک پر تھی۔ پھر ان کی شخصیت اور وجاہت بھی توجہ کا مرکز رہتی۔ خوبصورت چہرہ، حسین داڑھی، سر پر بلوچی ٹوپی کے گرد لپٹی کریم کلر سفید چمکیلی پگڑی جو صرف انہی کو ہی جچتی۔ سفید شلوار قمیص اور زیب تن نفیس ویسکوٹ کے علاوہ چشمہ اور ہاتھ میں پہنی انگوٹھی ان کی شخصیت کو مزید نمایاں کرتیں۔ وہ پارلیمنٹ میں جاتے تو سب ہاتھ باندھے ان کی شخصیت کو ویلکم کہتے، پارلیمنٹ سے نکلتے تو میڈیا اُن پر امنڈ آتا، ہر ایک کو اپنی شہ سرخیوں کے لیے حافظ صاحب کے برجستہ بزلہ سنج جملوں اور تبصروں کا انتظار ہوتا۔ ٹاک شوز میں جاتے تو اپنے اندازِ بیاں اور شگفتہ گفتگو سے اپنے سیاسی مخالف کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان، جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن سب انہیں اپنی پارٹیوں میں شمولیت پر زور دیتے رہے مگر وہ اپنی معمولی اور وقتی جماعتی ناراضگی کے باوجود تحریک انصاف، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور کسی اور جماعت میں شمولیت تو دور کی بات اس کے قریب سے بھی نہ گزرے۔ وہ مکمل نظریاتی شخصیت تھے، انہیں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کی قیادت میں کام کرنے کی سعادت حاصل رہی۔ اور ویسے بھی ان کے والدِ گرامی حضرت مولانا عرض محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک صاحبِ نسبت بزرگ تھے، وہ شیخ الاسلام حضرت مدنی اور شیخ التفسیر حضرت لاہوری رحمہما اللہ کے خصوصی فیض یافتگان میں سے تھے، حضرت لاہوری سے انہیں خلافت بھی حاصل تھی۔ حافظ حسین احمد صاحب مولانا عرض محمد کے اکلوتے بیٹے تھے۔
حافظ صاحب سے میرا زمانۂ طالب علمی سے عقیدت اور آخر وقت تک تعلق قائم رہا۔ اکثر وہ خود فون کر کے خیریت دریافت کرتے۔ متعدد مرتبہ وہ میرے ہاں کامونکی (ضلع گوجرانوالا) بھی تشریف لائے۔ آٹھ نو سال سے وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور ان کی صحت دن بہ دن کمزور ہوتی گئی۔ مگر اس کے باوجود وہ اسفار بھی کرتے اور متحرک رہتے۔ گزشتہ سال عید الفطر کے بعد کوئٹہ جانا ہوا تو چند روز انہیں کے ہاں مہمان رہا۔ بڑی طویل مجلسیں اور ملاقاتیں رہیں۔ اسی دوران انہیں اپنے چیک اپ کے لیے لاہور آنا پڑ گیا۔ آتے ہوئے اپنے صاحبزادے حافظ زبیر احمد کو میرے سامنے مخاطب کر کے فرمایا کہ "یہ جب تک ادھر رہیں ان کی مہمانی کا خیال رکھنا"۔ یہ فرما کر رخصت ہوئے اور لاہور جانے کے لیے کوئٹہ ایئرپورٹ روانہ ہوگئے۔ دو دن بعد میری کوئٹہ سے واپسی تھی، دورانِ سفر حافظ صاحب کا فون آیا، فرمایا کہ "آپ کی ٹھیک مہمان نوازی نہیں ہو سکی، مجھے بھی لاہور آنا پڑا گیا، امید ہے آپ محسوس نہ فرمائیں گے" یہ تھے حافظ حسین احمد! جو اپنی حسین یادیں چھوڑ کر خلدِ بریں ہوگئے ہیں۔ ان سے وابستہ بڑی حسین یادیں اور باتیں ذہن میں محفوظ ہیں، جو نوکِ قلم ہوتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت اور درجات بلند فرمائے۔ آمین یارب العالمین
2004ء کی بات ہے، میں اس وقت جمعیۃ طلباء اسلام ضلع گوجرانوالہ کا ذمہ دار تھا اور بعد میں پنجاب کا سیکرٹری اطلاعات بھی بن گیا۔ میڈیا سے مضبوط رابطہ تھا اور اس کا وقت میڈیا اخبارات تھے، پریس ریلیز پہ خبر لکھنا، اس کی کاپیاں کروا کر خود اخباری دفاتر میں پہنچانا، نمائندگان سے علیک سلیک رکھنا اور انہیں اچھی کوریج کے ساتھ خبر کی درخواست کرنا اور پھر اگلے روز علی الصبح اخباری اسٹال پر جا کر اخبارات چیک کرنا اور مطلوبہ اخبار خرید کر خبروں کی کٹنگ کر کے رجسٹر میں محفوظ رکھنا یہ ہمارا محبوب مشغلہ ہوتا تھا۔ اس وقت جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت میں حافظ حسین احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر چھائے ہوئے تھے۔ کسی ذمہ دار سے ان کا نمبر حاصل کیا، رابطہ کیا اور تعارف کروایا تو فرمانے لگے آپ بھی ہمارے میڈیا کے ہی نمائندہ ہوئے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت اگر کبھی کبھار مجھے فون پر بیان لکھوا دیا کریں تو گوجرانوالہ اسٹیشن سے بھی خبریں لگ جایا کریں گی۔ تو خوشی سے فرمانے لگے کہ کیوں نہیں۔ پھر اکثر و بیشتر ان سے فون پر رابطہ ہوتا، وہ بیان لکھواتے اور میں پریس ریلیز تیار کر کے دفاتر میں پہنچاتا اور اگلے روز مین پیجز پر ان کا بیان شائع ہوتا۔
ایک مرتبہ وہ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سابق مرکزی صدر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کی وفات کے بعد تعزیت کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے۔ لاہور سے روانگی وقت مجھے فون پر بتایا کہ "گوجرانوالہ آرہا ہوں، تعزیت کے بعد آپ کے ہاں کچھ دیر قیام کروں گا اور پھر اسلام آباد روانگی ہوگی"۔ میں نے کہا کہ صحافیوں کو بلا لوں؟ فرمانے لگے ہاں بلالیں۔ میرے دیرینہ دوست اور بھائی حافظ سعد کو اطلاع دی اور انہی کے گھر حافظ صاحب کا قیام طے ہوا، صحافیوں کو اطلاع دی تو پندرہ بیس کے قریب ٹی وی چینلز کے رپورٹر اور کیمرہ مین حافظ صاحب سے پہلے ہی قیام گاہ پہنچ گئے۔ حافظ صاحب تشریف لائے، سب کی خدمت میں چائے پیش کی گئی، اس دوران میں نے عرض کی کہ حالاتِ حاضرہ پر ان صحافتی برادری کو بریف کر دیا جائے۔ حافظ صاحب چائے پی رہے تھے اور ساتھ برجستہ گفتگو بھی فرما رہے تھے۔ اس دوران ایک لطیفہ ہوا، کہ روزنامہ نوائے وقت کے ٹی وی وقت نیوز (جو اک عرصہ سے بند ہو چکا ہے) کا نمائندہ پریس بریفنگ کے بعد آخر میں پہنچا اور حافظ صاحب سے ملتے ہوئے کہنے لگا کہ "سر معذرت چاہتا ہوں، میں لیٹ ہوگیا، مجھے اطلاع لیٹ ہوئی تھی"۔ حافظ صاحب نے پوچھا کہ آپ کس چینل سے ہیں؟ اس نے کہا وقت نیوز سے! حافظ صاحب نے برجستہ فرمایا اسی لیے بے وقت پہنچے ہو۔ اس پر مجلس میں قہقہوں کی بارش برس گئی اور حاضرین دیر تک اس جملے کا لطف اٹھاتے رہے۔ بعد میں حافظ صاحب نے اسے الگ سے ریکارڈنگ کروا دی۔
گزشتہ سال رمضان المبارک کے دوران مجھے قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کے ہاں ایک افطاری کے موقع پر ملاقات کی سعادت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ آج قائد محترم نے صحافی حضرات کو مدعو کیا ہے۔ افطاری کے دوران میں نے اس مجلس میں گوجرانوالہ کا یہ واقعہ سنا دیا کہ حافظ صاحب نے اس صحافی سے کہا کہ "اس لیے بے وقت آئے ہو"۔ یہ سنتے ہی سب کے قہقہے چھوٹ گئے۔ وہاں موجود ایک سینئر صحافی نے کہا کہ حافظ حسین احمد کا سامنا کرنا ہر ایک کے بس میں نہیں۔
2018ء میں حافظ حسین احمد صاحب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سالانہ جلسہ برائے دستارِ فضیلت میں تشریف لائے اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اجتماع سے خطاب بھی فرمایا، وہ اپنی علالت کے باوجود میری درخواست پر کوئٹہ سے گوجرانوالہ تشریف لائے، مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب سے بڑی بے تکلفی سے گفتگو کرتے رہے ۔ اسی طرح ناظم جامعہ حضرت مولانا محمد ریاض خان سواتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی جب انہیں اطلاع دی گئی تو اپنی علالت کے باعث وہ تعزیت کے لیے تشریف تو نہ لا سکے مگر انہوں نے اپنے وائس میسج میں جس انداز سے تعزیت کی اس سے ان کے جامعہ نصرۃ العلوم اور شیوخِ جامعہ سے والہانہ تعلق اور عقیدت کا پتا چلتا ہے۔ وہ اکثر و بیشتر جب گوجرانوالہ کے احباب کا احوال پوچھتے تو مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ اور حضرت مولانا محمد فیاض خان سواتی صاحب مدظلہ کی خیریت ضرور دریافت فرماتے اور اپنی صحت اور تندرستی کے لیے دعاؤں کی درخواست کرتے۔
آہ! لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں اور قہقہے بکھیرنے والا آج ہم سب کو غمگین کر کے چلا گیا، حق مغفرت فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
دارالعلوم جامعہ حقانیہ کا دورہ / یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان
پاکستان شریعت کونسل
پاکستان شریعت کونسل کے وفد کا دارالعلوم جامعہ حقانیہ کا دورہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ خطرے کی گھنٹی اور ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ لگ رہی ہے، سدباب کے لیے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، مولانا حامد الحق حقانی کو شہید کر کے پورے خطے کے علماء کو صدمے سے دوچار کیا گیا ہے، دارالعلوم حقانیہ سے ہماری وابستگی کو کسی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم حقانیہ میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
تفصیلات کے مطابق مولانا زاہد الراشدی کی قیادت میں 12 مارچ کو پاکستان شریعت کونسل کے ایک بھرپور وفد نے دارالعلوم جامعہ حقانیہ آمد کے موقع پر بم دھماکے میں مولانا حامد الحق حقانیؒ سمیت دیگر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور جامعہ حقانیہ کے مہتمم مولانا انوار الحق، نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع، مولانا حامد الحق شہید کے سیاسی جانشین مولانا عبد الحق ثانی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔ وفد میں کونسل کے سرپرست اعلیٰ مفتی رویس خان ایوبی، سرپرست مولانا عبد القیوم حقانی، سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد، گلگت بلتستان کے امیر مولانا ثناء اللہ غالب، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری حافظ علی محی الدین، مری کے امیر مولانا قاسم عباسی، قانونی مشیر ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان، ادارۃ النعمان گوجرانوالہ کے مدیر مفتی نعمان احمد، مفتی محمد اسامہ اور دیگر شامل تھے۔
وفد کے اراکین نے مولانا عبد الحقؒ، مولانا سمیع الحقؒ اور مولانا حامد الحقؒ کی قبور پر حاضری بھی دی، اس موقع پر وفد کے اراکین نے مولانا حقانی کے پسماندگان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ دارالعلوم حقانیہ کی وجہ سے ہم سب کے دل زخمی اور سینے چھلنی ہیں، جامعہ کے ذمہ داران، اساتذہ و طلباء اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، ہمیں وہ ہر موقع پر اپنے ساتھ پائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علمائے کرام کا خون بہانے والے خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے اور علماء و مدارس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
(جاری کردہ: پروفیسر حافظ منیر احمد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ۔ ۱۳ مارچ ۲۰۲۵ء)
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اہم اجلاس 12 مارچ کو جامعہ ابو ہریرہ نوشہرہ میں مفتی محمد رویس خان ایوبی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، سرپرست مولانا عبد القیوم حقانی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد، گلگت بلتستان کے امیر مولانا ثناء اللہ غالب، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری حافظ سید علی محی الدین، مری کے امیر مولانا قاسم عباسی، قانونی مشیر ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان، ادارة النعمان گوجرانوالہ کے مدیر مفتی نعمان احمد، مفتی اسامہ اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں 15 مارچ کو ’’یوم تحفظ ناموس رسالت‘‘ کے طور پر منانے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دینے کیلئے کوششوں میں تیزی لائی جائے، توہین رسالت کے گھناؤنے جرم میں سزا یافتہ مجرموں کی سزاؤں پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نیز زیر التوا مقدمات کے جلد فیصلے سنائے جائیں، کیونکہ ان فیصلوں میں تاخیر کے باعث شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت قانون کے غلط استعمال اور اس قانون کے تحت بیگناہوں کو سزا سے بچانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور اس حوالے سے درج ہونے والے غلط مقدمات پر نظر ثانی کی جائے۔
پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ 23 مارچ کو ’’یوم تکمیلِ نظریۂ پاکستان‘‘ کے طور پر منائیں گے، مختلف سیمینارز اور پروگرامات کے ذریعے اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ آگہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ اجلاس میں ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری سدباب اور علمائے کرام و دینی رہنماؤں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ شریعت کونسل کے رہنماؤں نے جعفر ایکسپریس پر حملے اور بیگناہ مسافروں کی شہادت کے واقعے پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کونسل کے نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھانے کے لیے اپنی تمامتر توانائیاں صَرف کریں گے۔ اجلاس میں مولانا حامد الحق حقانی شہید سمیت مختلف واقعات میں شہید ہونے والے علمائے کرام اور شہریوں، کونسل کے سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان کے چچا جان اور دیگر مسافران آخرت کی بخشش و مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا بھی کی گئی۔
(جاری کردہ: مولانا عبد الرؤف محمدی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل۔ ۱۴ مارچ ۲۰۲۵ء)
23 مارچ: یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان
پاکستان شریعت کونسل نے اپنے اہم اجلاس منعقدہ جامعہ ابوہریرہؓ نو شہرہ (خیبر پختونخوا) میں فیصلہ کیا ہے کہ 23 مارچ یومِ پاکستان کو یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان کے طور پر منایا جائے گا اور اس سلسلہ میں منعقدہ تقریبات میں قوم اور سیاستدانوں کو یاد دلا یا جائے گا کہ اس تاریخ کو 1940ء میں جو قراردادِ پاکستان منظور کی گئی اس پر من و عن عمل نہیں ہو سکا اور تحریکِ پاکستان اور ہندوستان کے علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے کے دوران دی گئی بے پناہ قربانیوں کا قرض ابھی تک قوم اور پاکستان کے حکمرانوں کے ذمہ موجود ہے۔
کونسل نے طے کیا کہ اس حوالے سے تکمیلِ نظریہ پاکستان یعنی نفاذِ شریعت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا جو قراردادِ مقاصد اور آئینِ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے دی گئی ضمانت کی روح ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے استحکام اور قیام امن کی بنیاد ہے کہ پاکستان جغرافیائی، نظریاتی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے صرف اور صرف اسی صورت میں اپنی کھوئی ہوئی منزل اور اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے کہ نظریہ پاکستان کی حقیقی معنوں میں تکمیل ہو۔
کونسل نے تمام دینی، سیاسی جماعتوں بالخصوص کو نسل کے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر تقریبات منعقد کرائیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے اکابر امت کی لازوال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ملک کے ساتھ اپنی وفاداری اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کا عہد کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کو تیز کرنے کے لیے ذہن سازی کریں۔ ملکی استحکام اور حالیہ دہشت گردی، معاشی عدم استحکام اور قومی بحرانوں کا حل تکمیلِ نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔
(جاری کردہ: مولانا عبد الرؤف فاروقی، مرکزی سیکرٹری جنرل۔ ۱۸ مارچ ۲۰۲۵ء)
یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان: تقریبات کا انعقاد
لاہور (تحصیل رپورٹر) پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی قیادت، مفکرِ اسلام مولانا زاہد الراشدی کی ہدایت پر، 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فکری نشستوں اور دروس کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقریبات میں علماء کرام، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور عوام الناس نے شرکت کی۔ مقررین نے نظریہ پاکستان کی بنیاد، اس کے تحفظ کی اہمیت اور اسلامی نظام کے نفاذ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے رہنماؤں، مولانا مفتی محمد نعمان پسروری (امیر پاکستان شریعت کونسل، پنجاب)، قاری محمد عثمان رمضان (سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل، پنجاب)، مولانا عبید اللّٰہ عامر، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مولانا عبدالمالک فاروقی، مولانا فیصل احمد، مولانا مفتی حفظ الرحمن نعمانی، مفتی زین العابدین، مولانا عبداللہ، مولانا حماد انذر قاسمی، ڈاکٹر عبدالواحد قریشی، پروفیسر محمد زاہد نعمانی، مولانا قاسم شعیب، حافظ نصرالدین خان عمر، مولانا حافظ محمد زبیر جمیل، مولانا عثمان میاں، مولانا انعام الحق، اور پروفیسر حافظ مدثر سلیم گجر نے اپنے بیانات میں کہا کہ 23 مارچ 1940ء کو منظور کی جانے والی قراردادِ لاہور، برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کا سنگِ میل ثابت ہوئی۔ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسا ملک بنانا تھا جہاں قرآن و سنت کے مطابق نظام نافذ ہو۔
مولانا مفتی محمد نعمان پسروری نے پسرور شاہی مسجد جبکہ قاری محمد عثمان رمضان نے مکی مسجد، ملتان روڈ، لاہور میں درس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تجدیدِ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نظریہ پاکستان کے اصل مقاصد سے نہ ہٹیں اور ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگر ہم اپنے اصل نظریے پر قائم رہیں، تو پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا۔
تقریبات کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل اپنے مشن کو جاری رکھے گی اور نوجوان نسل میں نظریہ پاکستان کے احیاء کے لیے مزید مؤثر کوششیں کرے گی۔
(جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، سیکرٹری اطلاعات پنجاب۔ ۱۸ مارچ ۲۰۲۵ء)
ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا مولانا عبد القیوم حقانی نمبر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی کے ساتھ گذشتہ نصف صدی سے رابطہ ہے جو مسلکی، تعلیمی اور جماعتی دائروں سے بڑھ کر فکری و ذہنی ہم آہنگی اور رفاقت میں دن بدن وسعت پذیر ہے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں سلام و دعا کی غرض سے کبھی حاضری ہوتی تو ان کی خدمت اور ان سے استفادہ میں ہمیشہ مولانا عبد القیوم حقانی کو منہمک دیکھتا جو بہرحال قابلِ رشک بات تھی۔ پھر دارالعلوم حقانیہ کے تاریخی اور علمی و تہذیبی کردار میں بھی ان کو مصروف دیکھتا رہا اور محبت و تعلق میں اضافہ ہوتا رہا۔
والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کی زبان سے ان کا تذکرہ جس شفقت و محبت کے لہجے میں کئی بار سنا اس نے اس رابطہ و تعلق کو عروج و دوام تک پہنچا دیا جس سے اب بھی مسلسل حظ اٹھا رہا ہوں۔
تدریس و تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریر و تقریر کے میدان بھی مولانا عبدا لقیوم حقانی کی مستقل جولانگاہ چلے آ رہے ہیں جس میں انہوں نے حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کی رفاقت اختیار کی اور تعلیم یافتہ حلقوں میں نمایاں مقام بنا لیا، ان کا قلم علمی معاملات کے ساتھ ساتھ فکری اور تحریکی دائروں میں بھی خوب چلتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے سامع اور قاری کو احساسات و جذبات کی رو میں اپنے ساتھ لے کر چلنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔
ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک کے مدیر محترم مولانا راشد الحق سمیع ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دو ضخیم جلدوں پر مشتمل خصوصی اشاعت میں مولانا عبد القیوم حقانی کی تعلیم و تدریس اور تقریر و تحریر کے ساتھ ساتھ حالاتِ زندگی اور سرگرمیوں کو سمیٹنے کی صورت اختیار کی ہے جو بلاشبہ ایک بڑی خدمت ہونے کے علاوہ نئی نسل پر ایک بڑ احسان ہے جس پر وہ سب کی طرف سے تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔ مجھے مولانا حقانی کا یہ ذوق بہت اچھا لگا ہے کہ علمی اور فکری طور پر جو بات بھی محسوس کی ہے اور جسے صحیح سمجھا ہے اسے خود تک محدود رکھنے کی بجائے تحریری ریکارڈ میں محفوظ کر دیا ہے جو یقیناً آنے والے ادوار میں حق کے متلاشیوں کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہو گا۔ ان کی یہی کاوش اور ذوق ’’الحق‘‘ کی زیر نظر خصوصی اشاعت میں مرتب ہو کر ہمارے سامنے ہے۔
مولانا حقانی ہمارے رفیق کار ہی نہیں بلکہ پاکستان شریعت کونسل کے سرپرست کی حیثیت سے ہمارے راہنما بھی ہیں، جو دینی و ملّی مسائل میں قوم کی راہنمائی میں مصروفِ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر یہ خدمت سرانجام دیتے رہنے کی توفیق دیں اور ماہنامہ ’’الحق‘‘ کے مدیر محترم اور رفقاء کو اجرِ جزیل سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا خصوصی نمبر دو جلدوں میں
ڈاکٹر محمد امین
بہ اہتمام و نگرانی: مولانا راشد الحق سمیع حقانی
ترتیب: مولانا عماد الدین محمود
کیا آپ مولانا عبد القیوم حقانی کو جانتے ہیں؟ نہیں جانتے؟ تعجب ہے! آپ نے اکوڑہ خٹک (ضلع نوشہرہ) کا نام تو سنا ہو گا، وہی جہاں جامعہ حقانیہ ہے، پاکستان میں دارالعلوم دیوبند ثانی۔
کہیں پڑھا تھا کہ جو بڑے درخت ہوتے ہیں جیسے بڑ کا یا پیپل کا، ان کے نیچے چھوٹے درخت نہیں اُگتے، ان کی ہمت ہی نہیں ہوتی اُگنے کی، اتنے بڑے درخت کے نیچے اگ کر وہ اس کا مقابلہ کیا کریں گے، اپنا وجود ہی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ لیکن ٹھہریے! مولانا عبد القیوم حقانی اگرچہ فنا فی الحقانیہ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ جامعہ حقانیہ کے چھتنار درخت سے نکلے اور اس کی بغل میں جامعہ ابوہریرہ اور القاسم اکیڈمی کی بستی بسائی۔ بستی نہیں بسائی بلکہ خالق آباد میں ایک جہانِ معنی تخلیق کر لیا، چھتنار درخت کے ساتھ ایک اور بڑا درخت۔ یہ کمال ہے مولانا عبد القیوم حقانی کا کہ اس وقت جامعہ ابوہریرہؓ میں تقریباً ایک ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے دورہ حدیث میں ۱۵۰ سے زائد طلبہ ہیں۔
میں مزاجاً اور ذوقاً سادہ ہوں، سادہ نثر لکھتا ہوں، سادہ نثر پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ جو لوگ نثر میں شاعری کرتے ہیں، سچ کہوں تو انہیں پڑھنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے۔ میں نے ابوالکلام آزادؒ کو زیادہ نہیں پڑھا کیونکہ وہ نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ اردو ڈائجسٹ جب نکلا تو پڑھا کرتا تھا لیکن الطاف حسن قریشی صاحب کی نثر میں شاعری پڑھ کر طبیعت اوبھتی تھی۔ چلیے، ابوالکلام آزادؒ کو حق ہے کہ وہ نثر میں شاعری کرے کہ وہ ’’ابوالکلام‘‘ ہے، لیکن بھائی! مولانا عبد القیوم حقانی کو کیا حق ہے کہ وہ نثر میں شاعری کریں۔ پٹھانوں کی تو تذکیر و تانیث ہی درست نہیں ہوتی (ہم پنجاب کے رہنے والے پشاور سائیڈ میں رہنے والے سب لوگوں کو پٹھان ہی سمجھتے ہیں خواہ وہ پشتون اور پٹھان نہ بھی ہوں) لیکن مولانا حقانی نثر میں شاعری کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں اور کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے جاتے ہیں۔ اس وقت تک ان کی تصانیف و تالیفات کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہو چکی ہے جن میں شرح صحیح مسلم (۲۳ جلدیں)، شرح شمائل ترمذی (تین جلدیں)، توضیح السنن شرح آثار السنن (دو جلدیں)، اور بزرگوں کے سوانح پر ۲۲ کتب شامل ہیں۔ اور ان کے زیرانتظام القاسم اکیڈمی ۱۵۰ کتابیں شائع کر چکی ہے۔
میں لاہور میں رہتا ہوں جسے لوگ علمی ادبی اعتبار سے پاکستان کا دل کہتے ہیں، بلاشبہ یہ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور لائبریریوں کا شہر ہے۔ یہاں جامعہ اشرفیہ، جامعہ مدنیہ اور جامعہ نعیمیہ جیسے بڑے دینی مدارس بھی ہیں، لیکن میں حیران ہوتا ہوں جب میں خیبرپختونخوا میں بڑے بڑے مدارس اور بڑے بڑے علماء کثرت سے دیکھتا ہوں۔ حد تو یہ کہ ان میں مولانا عبد القیوم حقانی جیسے ذہین و فطین و متین علماء موجود ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر رشک تو آتا ہی ہے، بعض اوقات تھوڑا سا حسد بھی ہونے لگتا ہے (اللہ اس سے بچائے) کہ آخر ان دینی مدارس کو اتنے بڑے بڑے آدمیوں کی ضرورت کیا ہے؟ دیکھیے معاشرہ ایک وسیع تر کینوس (Canvas) ہوتا ہے، دینی مدارس اس کا محض ایک جزو ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر مولانا عبد القیوم حقانی جیسے عبقری حضرات پورے معاشرے کے لیے ہوتے، اگر جدید تعلیم و تہذیب و تمدن کے لیے ہوتے تو وہ کیا کیا گل افشانیاں کرتے، ان کی تخلیقی صلاحیتیں رنگ و بو کے کتنے نئے جہاں تخلیق کرتیں، لیکن اب وہ اور ان کی صلاحیتیں مدارس کی تنگ دامانی میں مقید ہو کر رہ گئی ہیں۔
جن لوگوں نے جامعہ حقانیہ کی طبع کردہ مولانا عبد القیوم حقانی کی سوانح نہیں پڑھی، میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ وہ اسے پڑھیں، خود نہیں پڑھتے تو اسے اپنی اولاد کو پڑھائیں اور اس سے یہ قیمتی سبق سیکھیں کہ بڑے آدمی وہ نہیں ہوتے جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوں، بڑے آدمی وہ ہوتے ہیں جو سیلف میڈ ہوں، جو یتیم پیدا ہوں، جن کی مائیں غربت کی چکی میں پس کر انہیں پالیں، جو چھوٹے چھوٹے مدرسوں میں دھکے کھائیں، پھر وہ دھکے کھاتے مولانا عبد القیوم حقانی کی طرح کسی جامعہ حقانیہ میں پہنچ جائیں جہاں انہیں کوئی مولانا عبد الحق جیسا پارس مل جائے جو انہیں مانجھ رگڑ کر سونا بنا دے۔
مولانا عبد القیوم حقانی زندہ باد۔ جامعہ ابوہریرہ و القاسم اکیڈمی پائندہ آباد۔
مولا نا عبدالقیوم حقانی کی سوانح اور ان کی تالیفات خریدنے کے لیے رابطہ:
03013019928
03464010613
(ماہنامہ البرہان فروری ۲۰۲۵ء بحوالہ ماہنامہ القاسم مارچ ۲۰۲۵ء)
ماہنامہ نصرۃ العلوم کا فکرِ شاہ ولی اللہؒ نمبر
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ان مجددین علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں تجدید و اجتہاد کا عظیم کام کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے منہجِ بیان اور طرزِ تحقیق کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی سعی و کاوش کے کئی دائرے ہیں مگر آج کی دنیا میں ان کی خدمات کو جو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے وہ اس حوالے سے ہے کہ انہوں نے اسلامی عقائد، شرعی احکام اور نصوص کی ایسی حکیمانہ تشریح کی ہے کہ سماج کے خیر و شر کی بنیادوں کو واضح کیا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کی کتابوں کو پڑھتے ہوئے مشکل یہ پیش آتی ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ علمیت اور تحقیق کے ثریا پر ہوتے ہیں اور فلسفہ و حکمت کے طالب علم کا پرواز ادراک وہاں پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لئے فلسفہ شاہ ولی اللہ کی تسہیل کی کوشش ہر دور میں علماء کرام کرتے رہے ہیں۔
اس سلسلہ کی تازہ کاوش ہمارے برادر زادہ محترم مولانا محمد خزیمہ خان سواتی زید مجدہم کا مقالہ "شرائع الٰہیہ اور انسانی تمدن کا باہمی تعلق: فکر شاہ ولی اللہ کی روشنی میں" ہے جس کو ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی خصوصی اشاعت بعنوان "فکرِ شاہ ولی اللہ نمبر" کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔
مولا نا محمد خزیمہ خان سواتی ہمارے برادر کبیر مولانا محمد فیاض خان سواتی کے بیٹے اور مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے پوتے ہیں۔ ان کے دادا کو اللہ تعالیٰ نے فکرِ شاہ ولی اللہ سے خصوصی مناسبت، الفت اور شغف نصیب فرمائی تھی، آپ ماضی قریب کے اکابر علماء میں فلسفہ شاہ ولی اللہ کے بہترین شارح اور نقیب تھے۔
مولانا محمد خزیمہ خان سواتی صاحبِ سعادت مند ہیں کہ انہوں نے اپنی شناخت و پہچان بنانے کے لئے کوئی نئی راہ نہیں نکالی بلکہ اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عصرِ حاضر اور عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلاف کے علوم کی تسہیل و تشریح میں مصروفِ عمل ہیں۔
زیر تبصرہ مقالے میں آپ نے انسانی تمدن کے آغاز، ارتقاء اور اس میں بگاڑ کے اسباب، شرائع الٰہیہ کی حقیقت اور اس میں اختلاف کے اسباب، بعثتِ انبیاء کرام کے تمدنی مقاصد اور ان کے منہجِ اصلاح، اسلامی تعلیمات کی تمدنی جہات اور سیاستِ مدن کی بابت اسلامی تعلیمات کو حضرت شاہ ولی اللہؒ کے فلسفہ کے تناظر میں انتہائی آسان تعبیرات کے ساتھ بیان کیا ہے جس سے فکر و نظر کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور معاشرے کے موجودہ بگاڑ کے اسباب اور ان کے سد باب کی مختلف جہات سامنے آتی ہیں۔
یہ تحقیقی مقالہ ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ کاغذ اعلیٰ، طباعت عمدہ اور کتابت صاف ہے۔
برائے رابطہ: اداره نشر و اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ 03026693479
مولانا عبد القیوم حقانی کی تصانیف
ادارہ
- شرح صحیح مسلم (۲۳ جلدیں مکمل)
- شرح شمائل ترمذی (۳ جلدیں مکمل)
- توضیح السنن شرح آثار السنن للامام النیمویؒ (دو جلدیں مکمل)
- حقائق السنن شرح جامع السنن للترمذی (جلد اول)
- اسلامی معاشرہ کے لازمی خدوخال
- گنبد خضریٰ کے سایے میں
- اے زائرِ حرم
- خصوصی اشاعت ماہنامہ الحق بیاد شہیدِ اسلام و ناموسِ رسالت شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحقؒ (۴ جلدیں)
- صحبتے با اہلِ حق
- ساعتے با اہلِ حق
- مولانا سمیع الحقؒ: حیات و خدمات (۳ جلدیں)
- علماء دیوبند کی علمی اور مطالعاتی زندگی
- (زین المحافل) کے حوالے سے ماہنامہ القاسم کی خصوصی اشاعت (یادگار روح پرور اجتماع)
- اماں جی مرحومہ و مغفورہ
- ابوحنیفۂ ہند مولانا مفتی کفایت اللہؒ نمبر
- اسلامی سیاست اور اس کے انقلابی خدوخال
- اسلامی انقلاب اور اس کا فکری لائحہ عمل
- اسلامی معاشرہ کے لازمی خدوخال
- بنیاد کا پتھر
- خطباتِ حقانی
- دفاعِ امام ابوحنیفہؒ
- سوانح مولانا محمد یوسف بنوریؒ (جمالِ یوسف)
- سوانح علامہ انور شاہ کشمیریؒ (جمالِ انور)
- سوانح قائدِ ملت حضرت مولانا مفتی محمودؒ
- سوانح مجاہدِ ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ
- ساعتے با اولیاء
- سوانح شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ
- سُراغِ زندگی
- سوانح شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
- سوانح حضرت درخواستیؒ (مردِ قلندر)
- امام لاہوریؒ کے رسائل
- سوانح مولانا محمد احمدؒ
- سوانح حیاتِ امامِ پاکستان سید احمد شاہ بخاریؒ
- سوانح امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
- سوانح حضرت مولانا حافظ محمد حسن جان شہیدؒ
- سوانح حضرت خواجہ خواجگان مولانا خان محمدؒ
- سوانح حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ
- سوانح حضرت علامہ سید شبیر احمد عثمانیؒ
- سوانح حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
- سوانح حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ
- سوانح محمد منصور الزمان صدیقی
- سوانح الامام الکبیر مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
- سوانح امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ
- شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ نمبر
- اسلامی آدابِ زندگی
- اربابِ علم و کمال اور پیشۂ رزقِ حلال
- علماء احناف کے حیرت انگیز واقعات
- عبد اللہ بن مبارکؒ کے حیرت انگیز واقعات
- علماءِ دیوبند کی علمی اور مطالعاتی زندگی
- فانی زندگی کے چند ایام
- قدرِ زَر (مجلد)
- کشکولِ معرفت (مکمل)
- مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ
- میرے حضرت، میرے شیخ
- میر محسن، میرے دوست
- مکتوباتِ افغانی
- مکاتیب الکریم نمبر
- ماہنامہ القاسم کا ’’قلم و قرطاس نمبر‘‘
- مجالسِ مسیح الامت (۲ جلدیں)
- مکاتیب طالب ہاشمیؒ
- والد کا پیغام، اولاد کے نام
- ہدایہ اور صاحبِ ہدایہ (اردو)
مولا نا عبدالقیوم حقانی کی سوانح اور ان کی تالیفات خریدنے کے لیے رابطہ:
03013019928
03464010613