الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۴ء

قراردادِ مقاصد کا پس منظر اور پیش منظرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دستور میں حکومتی ترامیم: ملی مجلسِ شرعی کا موقفڈاکٹر محمد امین 
اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
انسانیت کے بنیادی اخلاق اربعہ (۱)شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
مسئلہ جبر و قدر: متکلمین کا طریقہ بحثڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 
’’اقوالِ محمودؒ‘‘ سے ’’نکہتِ گُل‘‘مولانا فضل الرحمٰن 
علما کیا خاموش ہو جائیں؟خورشید احمد ندیم 
مدارس دینیہ میں تدریسِ فقہ: چند غور طلب پہلوڈاکٹر عبد الحی ابڑو 
اہلِ کتاب خواتین سے نکاح: جواز و عدم جواز کی بحثمولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری 
جارج برنارڈشا کی پیشِین گوئیحامد میر 
سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی، اردو کے پہلے ادیب و مصنّفطفیل احمد مصباحی 
صحابیاتؓ کے اسلوبِ دعوت و تربیت کی روشنی میں پاکستانی خواتین کی کردار سازی (۲)عبد اللہ صغیر آسیؔ 
حضرت الشفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہامولانا جمیل اختر جلیلی ندوی 
افغانستان میں طالبان حکومت کے تین سالعبد الباسط خان 
سائنس یا الحاد؟ہلال خان ناصر 
ختمِ نبوت کانفرنس مینار پاکستان پر مبارکبادمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
A Glimpse of Human Rights in Islamمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

قراردادِ مقاصد کا پس منظر اور پیش منظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک نشست سے خطاب)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اکثر ’’قراردادِمقاصد‘‘ کا لفظ سنتے رہتے ہیں اور  اخبارات وغیرہ میں اس کے حق میں بھی اور  اس کے خلاف بھی پڑھتے رہتے ہیں ۔  یہ قراردادِمقاصد کیا چیز ہے اور  اس کی اہمیت کیا ہے؟      متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارا ملک ہندوؤں سے الگ کیا جائے،  ہم اکٹھے نہیں رہنا چاہتے۔الگ ملک بنانے کی غرض یہ بیان کی گئی ہیں کہ ہم چونکہ مسلمان ہیں، ہمارا اپنا دین و مذہب ہے، اپنی تہذیب و ثقافت ہے اور ہم بحیثیت مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہیں، یہاں ہندوستان میں ہندو اکثریت  میں ہوں گے تو ہم اپنے مذہب پر آزادی سے عمل نہیں کر سکیں گے،  اس لیے جہاں ہماری اکثریت ہے وہاں  ہم اپنا  الگ ملک بنائیں گے۔ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم  نے تحریکِ پاکستان کی قیادت کی تھی اور بارہا اعلان کیا تھا کہ  ہم پاکستان اس لیے بنا رہے ہیں تاکہ اسلام کی بالا دستی، قرآن و سنت کی حکمرانی،  شریعت کے قانون اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت  کے مطابق اپنا نظام بنا سکیں۔ بالآخر کافی جدوجہد کے بعد پاکستان کے نام سے الگ ملک  بن گیا۔
 جب دستور بنانے کے لیے پہلی دستور ساز اسمبلی بنی تو   اس میں یہ مسئلہ کھڑا ہوا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یا سیکولر ریاست ہے؟  اسلامی ریاست اس کو  کہتے ہیں جہاں قرآن و سنت کی حکمرانی ہو اور اللہ و رسول کے احکام نافذ ہوں۔  زمین اللہ کی ہے اور   خلقت بھی اللہ کی ہےتو نظام بھی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا  چلے گا۔ جبکہ  سیکولر کا معنی یہ ہے کہ جہاں مذہب کا کوئی دخل نہ ہو،  لوگ اپنی مرضی سے ملک کا نظام اور قانون جو چاہیں بنا لیں۔    دستور ساز اسمبلی میں یہ جھگڑا کھڑا ہوا کہ  ملک کا نظام سیکولر ہونا چاہیے یا اسلامی ہونا چاہیے؟   آزاد نظام ہونا چاہیے  یا مذہبِ اسلام کے تابع ہونا چاہیے ؟ بہت سے حلقوں کی کوشش تھی کہ پاکستان سیکولر  ریاست بنے جس میں  مذہب کا کوئی حوالہ نہ ہو،  ٹھیک ہے مسلمان رہیں لیکن ملک کے نظام کے ساتھ مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔  لیکن علماء کرام اور دینی جماعتوں نے محنت کی  اور کہا کہ  ہم نے پاکستان بنایا ہی اس لیے تھا کہ ہم  مسلمان ہیں اور ہمارا اپنا  مذہب ہے، تہذیب و ثقافت ہے،   اسی کی حفاظت کے لیے تو الگ ملک بنایا تھا۔  چنانچہ دستور ساز اسمبلی کے اندر اور باہر بھی یہ بحث چلتی رہی۔  
حسنِ اتفاق سے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ، جو ہمارے بزرگ  عالم اور پاکستان کی تحریک کے بڑے قائد تھے،  وہ دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے،  مشرقی پاکستان سے منتخب ہو کر آئے تھے اورہر حلقے میں ان کا احترام پایا جاتا تھا۔   انہوں نے اسمبلی کے اندر جبکہ مختلف  دینی جماعتوں نے  اسمبلی سے باہر، جن میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے علاوہ اہل حدیث اور بریلوی علماء بھی  تھے، سب نے محنت کی کہ ہم مذہب سے  دستبردار نہیں ہوں گے اور  ملک کا نظام اسلام کی  بنیاد پر ہوگا۔  یہ کشمکش چلتی رہی،  اللہ رب العزت نے علماء کو کامیابی دی اور دستور ساز اسمبلی نے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کی جس میں بنیاد یہ طے ہو گئی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست  ہو گا، سیکولر ریاست  نہیں ہو گا ۔ اور یہ بنیاد اس طرح طے ہوئی  کہ سیکولر اور  جمہوری ریاستوں میں اصولاً‌ حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی ہوتی ہے،  جمہوریت کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ’’عوام کی حکومت عوام پر عوام کے لیے‘‘  ۔ لیکن قراردادِمقاصد  منظور کر کے پہلی بات یہ طے کی گئی کہ پاکستان میں دستوری طور پر حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی نہیں ، اللہ تعالیٰ کی ہو گی۔  
دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حکومت کون کرے گا؟  جو بندے حکومت کریں گے وہ کدھر سے آئیں گے؟  حکومت اصل میں تو اللہ ہی کی ہے لیکن  ملک کے صدر وزیراعظم  کیسے بنیں گے؟  دنیا میں دو ہی طریقے ہوتے تھے (۱) جسے لوگ منتخب  کر لیں   (۲) یا جو طاقت کے زور سے  قبضہ کر لے۔ اس میں  حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو بنیاد بنایا گیا  کہ  وہ طاقت کے طور پر خلیفہ نہیں بنے تھے، فوج کے ذریعہ قبضہ نہیں کیا تھا ، بلکہ لوگوں کی مشاورت سے خلیفہ منتخب ہوئے  تھے۔  خلیفہ مہاجر  ہونا چاہیے یا  انصاری ہونا چاہیے، اس ساری بحث کے بعد امت کا اتفاق حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہوا تھا۔   پاکستان میں بھی یہی طریقہ اپنایا گیا کہ طاقت کے زور سے قبضہ ٹھیک نہیں ہے،   حکومت عام لوگوں کا حق ہے وہ جسے چاہیں منتخب کریں۔
وزیر اعظم خان لیاقت علی خان مرحوم نے قرارداد  پیش کی اور بڑی زبردست تقریر کی، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے بھی تقریر کی،  حمایت اور مخالفت میں تقریریں ہوئیں، لیکن اسمبلی نے اکثریت کے ساتھ قرارداد پاس کی کہ پاکستان اسلامی ریاست ہو گی اور  حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی  ہوگی جبکہ حکومت کا حق  اس کو ہوگا جسے لوگ چنیں گے  اور وہ حکومت قرآن و سنت کی پابند ہو گی۔ اسے  قراردادِمقاصد  کہتے ہیں جس  کا متن یہ ہے:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلا شرکتِ غیر حاکمِ مطلق ہے، اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکتِ پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً‌ عطا فرمایا ہے، اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا جمہورِ پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور ساز فیصلہ کرتی ہے کہ آزاد و خودمختار مملکتِ پاکستان کے لیے دستور مرتب کیا جائے: 
جس کی رو سے مملکت کے جملہ حقوق و اختیاراتِ حکمرانی جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے سے استعمال کرے۔ جس میں اصولِ جمہوریت و حریت و مساوات و رواداری اور عدلِ عمرانی کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و متقضیات کے مطابق، جو قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ میں متعیّن ہیں، ترتیب دے سکیں۔ 
جس کی رو سے وہ علاقے جو فی الحال پاکستان میں داخل ہیں یا شامل ہو گئے ہیں، اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاقیہ بنائیں، جس کے ارکان مقررہ حدودِ اربعہ و متعینہ اختیارات کے ماتحت خودمختار ہوں۔
جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے۔ اور ان حقوق و اخلاقِ عامہ کے ماتحت مساواتِ حیثیت و مواقع؛ قانون کی نظر سے برابری؛ عمرانی، اقتصادی اور سیاسی عدل؛ خیال، اظہار، عقیدہ، دین، عبادت اور ارتباط کی آزادی شامل ہو۔ 
جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا وافی انتظام کیا جائے۔ 
جس کی رو سے نظامِ عدل کی آزادی کامل طور پر محفوظ ہو۔ 
جس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی صیانت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا، جن میں اس کے بر و بحر اور فضائیہ پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔ 
تاکہ اہلِ پاکستان فلاح و خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں، اقوامِ عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں، اور امنِ عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی و بہبودی میں کماحقہٗ اضافہ کر سکیں۔‘‘
اس کے بعد یہ ہوا کہ قراردادِ مقاصد ملک کے ہر دستور  میں بطور دیباچہ کے شامل رہی مگر یہ دستور کا حصہ نہیں تھی۔  جس طرح ہم کسی بھی جلسے میں برکت کے لیے ابتدا میں تلاوت کر لیتے ہیں، آگے عمل کریں یا نہ کریں ہماری مرضی ہے، اسی طرح  برکت کے لیے اسے رکھا  ہوا تھا ۔  جنرل ضیاء الحق مرحوم نے جب مارشل لاء لگایا اور سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں دستوری ترامیم کا اختیار  دیا گیا تو   انہوں نے اپنے  اختیار سے کچھ فائدے اٹھائے۔  ایک کام یہ کیا کہ قراردادِمقاصد کو تمہید  سے نکال کر دستور  کے اندر  شامل کر  دیا  کہ   یہ محض تبرک نہیں ہے بلکہ دستور کا واجب العمل حصہ ہو گی۔  اس سے ایک دروازہ ہم لوگوں کے لیے کھل گیا ہے کہ قراردادِمقاصد اللہ  تعالیٰ کی حاکمیت کی بات کرتی ہےاور حکومت کو  قرآن  وسنت   کا پابند کرتی ہے تو ملک کا جو قانون بھی قرآن و سنت کے منافی ہے ہم اسے دستور کی بنیاد پر چیلنج کر سکتے ہیں کہ اسے ختم کیا جائے۔  قرارداد مقاصد کے دستور کا باقاعدہ حصہ بننے سے  ہمارا یہ حق بن گیا کہ خلافِ قرآن و سنت قوانین کو ہم سپریم کورٹ میں لے جائیں اور سپریم کورٹ انہیں ختم کرنے کی  پابند ہوگی۔
 چنانچہ ایک کیس میں پیش رفت ہوئی۔  صدر پاکستان کو قانوناً‌ یہ اختیار ہے کہ کسی قاتل کو پھانسی کا حکم ہو جائے  اور سپریم کورٹ سے اپیلیں مسترد ہو جائیں  تو صدر اس کی سزا معاف کر سکتا ہے۔ جبکہ شرعی قانون یہ ہے کہ مقتول کے وارث اگر معاف نہ کریں اور قصاص لینا چاہیں تو   کسی اور کو معافی کا اختیار نہیں ہے۔  اس بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس آیا۔  مقتول کے  وارثوں نے صدر کے اختیار کو چیلنج کر دیا  کہ ہمارے مقتول کے قاتل کو سزائے موت ہو گئی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اپیل مسترد کر دی ہے تو صدر  کہیں معاف نہ کر دے۔یہ کہہ کر لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا کہ صدر کا   یہ اختیار روکا  جائے کیونکہ یہ قرآن و سنت کے منافی ہے اور قراردادِمقاصد ضمانت دیتی ہے کہ حکومت قرآن و سنت  کی  پابند ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دے دیا  کہ چونکہ قراردادِمقاصد دستور کی بنیاد ہے اور اس میں قرآن و سنت کی پابندی کی ضمانت  دی گئی ہے،  اور قاتل کی پھانسی کو معاف کرنا مقتول کے وارثوں کے سوا کسی کا حق  نہیں ہے، لہٰذا  صدر کا یہ اختیار شریعت کے منافی ہے   اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے۔  لیکن لاہور ہائی کورٹ  کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں  چیلنج ہو گیا کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ صاحب  تھے۔ بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قراردادِمقاصد دستور  کا حصہ تو ہے  لیکن اگر یہ دستور کی کسی اور دفعہ سے ٹکراتی ہے   تو کیا  اسے بالادستی حاصل ہے؟ مثلاً  صدر کا معافی کا  اختیار بھی دستور  میں ہے اور قراردادِ مقاصد بھی دستور میں ہے۔ چنانچہ یہ نکتہ زیر بحث آیا  کہ دونوں کے ٹکراؤ کی صورت میں اگر قراردادِمقاصد کو بالادستی حاصل ہے پھر تو دوسری متصادم دفعہ  ختم ہو جائے گی ، اور اگر دونوں  برابر ہیں تو پھر اس سے فیصلہ نہیں ہو گااور  کوئی تیسری طاقت فیصلہ کرے گی۔  
اگر سپریم کورٹ  ہائی کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیتی  تو آج  تقریباً اسی فیصد معاملات صاف ہوتے،  لیکن سپریم کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ دیا  کہ قراردادِمقاصد دستور کا حصہ ہے اور  اس کی  پابندی ضروری ہے لیکن اگر یہ دستور کی کسی اور دفعہ سے یہ ٹکرائے گی تو اس کو کوئی بالادستی حاصل نہیں ہے، لہٰذا پھر  فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی یا پارلیمنٹ کرے گی۔  اس سے ہائی کورٹ کا فیصلہ  منسوخ ہو گیا۔  اس پر تفصیل سے پڑھنا ہو تو ۱۹۹۴ء میں سپریم کورٹ کے وکیل سردار شیر عالم ایڈووکیٹ مرحوم  نے اس پر تبصرہ لکھا تھا اور ہمارے ساتھی چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ صاحب نے اس کا ’’قرادادِ مقاصد بنام سپریم کورٹ آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا  جو اکادمی کی طرف سے شائع ہو چکا ہے۔ 
  قراردادِمقاصد دستور کا حصہ ہے اور اگرچہ  یہ بالادست نہیں ہے پھر بھی عالمی قوتوں کو اور  دنیا کی طاقتوں کو یہ مسلسل چبھ رہی ہےکیونکہ یہ قرآن و سنت کی بات کرتی ہے اور  اللہ  تعالیٰ کی حاکمیت کی بات  کرتی ہے۔ عالمی سیکولر قوتیں  اور ملک کے سیکولر حلقے   سب سے زیادہ جس چیز کی مخالفت کر رہے ہیں وہ قراردادِمقاصد ہے، اس لیے کہ یہ پاکستان کے دستور کو اسلامی حیثیت دیتی ہے اور قرآن و سنت کے قوانین کی بات کرتی ہے۔
یہ قراداد مقاصد کا مختصر پس منظر اور موجودہ صورتحال ہے۔  اس وقت کشمکش یہ ہے کہ ملک کے تمام دینی حلقے اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ دستور کی اسلامی حیثیت  برقرار رہے گی، جبکہ  ملک اور بیرون ملک تمام سیکولر حلقے اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ کسی طریقے سے قراداد مقاصد کو سرنگوں کیا جائے   تاکہ دستور کی اسلامی حیثیت  اور پاکستان کی اسلامی شناخت ختم ہو اور  ہم پھر  زیرو پوائنٹ پر چلے جائیں کہ یہاں سیکولر  نظام ہونا چاہیے یا اسلامی نظام ہونا چاہیے؟ یہ میں نے قراداد مقاصد کے حوالے سے مختصر گزارشات پیش کی ہیں، امید ہے اصولی بات سمجھ آ گئی ہو گی۔ 

دستور میں حکومتی ترامیم: ملی مجلسِ شرعی کا موقف

ڈاکٹر محمد امین


پریس ریلیز

ملّی مجلسِ شرعی پاکستان جو مختلف دینی مسالک کے علماء کرام کا ایک علمی پلیٹ فارم ہے، اس کے صدر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے جو اگلے چند دن میں حکومت کی مجوزہ دستوری ترامیم کا جائزہ لے گی اور اس امر پر بھی غور کرے گی کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کون سی دستوری ترامیم دینی قوتوں کو پیش نظر رکھنی چاہئیں:

۱۔ مولانا سردار محمد خان لغاری

۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

۳۔ مولانا غضنفر عزیز

۴۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی

۵۔ ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری)

۲۰ ستمبر ۲۰۲۴ء

روداد اجلاس

روداد اجلاس کمیٹی برائے دستوری ترامیم منعقدہ ۲۲ ستمبر ۲۰۲۴ء بمقام ۱۷۸ نیلم بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن،  لاہور۔

اجلاس میں مندرجہ ذیل احباب نے شرکت کی: 

ا۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی 

۲۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

۳۔ مولانا غضنفر عزیز

۴۔ حافظ محمد عمران طحاوی 

۵۔ ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری)

مولانا سردار محمد خان لغاری بوجوہ تشریف نہ لا سکے جبکہ  عبد الرحمٰن ایڈوکیٹ صاحب اسلام آباد سے آن لائن شرکت کی۔ 

موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ جو خود دھاندلی کی پیداوار ہے اور اس کی آئینی حیثیت مشکوک ہے، وہ مجوزہ ۲۶ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کئی ایسی دستوری ترامیم کرنی چاہ رہی ہے جس کے بارے میں شرکاء کی متفقہ رائے یہ تھی کہ حکومت یہ ترامیم اپنی سیاسی اور وقتی ضرورت کے تحت کر رہی ہے۔ اس کے پیش نظر عدالتی اصلاحات نہیں بلکہ عدلیہ میں اپنے ہم خیال افراد کو توسیع دینا اور اختلاف کرنے والے ججوں سے نمٹنا ہے۔ سپریم کورٹ کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اس کے اوپر ایک آئینی عدالت بنانے کا منصوبہ ہے جس کے ججز کی تقرری حکومت (یعنی وزیراعظم اور صدر) کرے گی۔ ہائی کورٹ کے ججوں کا ان کی مرضی کے بغیر تبادلہ کیا جا سکے گا، ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کی بجائے پارلیمانی کمیٹی کو با اختیار بنایا جائے گا وغیرہ۔ دیگر ترامیم میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع، آرمی ایکٹ کو آئین کا حصہ بنانا، سویلینز کا ملٹری ٹرائل وغیرہ سے فوج کو وسیع تر آئینی کردار مل جائے گا۔ نیز پارٹی سربراہ کی مرضی کے خلاف ووٹ کو گنا جانا، چیف الیکشن کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قرارداد سے توسیع وغیرہ ایسے امور ہیں جو حکومت کی وقتی سیاست کی ضرورت ہیں۔ لہٰذا دینی قوتوں کو چاہیے کہ وہ ان آئینی ترامیم کی مخالفت کریں اور ان کی منظوری کو روکنے کی کوشش کریں۔

شرکاء نے اس پر بھی زور دیا کہ جب آئین میں ہر نوع کی ترامیم ہو رہی ہیں تو دینی قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ آئین کے اسلامی کردار کو مؤثر بنانے کے لیے ترامیم پیش کریں۔

شرکاء نے کہا کہ ان کی رائے میں دینی قوتوں کو مندرجہ ذیل آئینی ترامیم پیش کرنی چاہیے:

ا۔ دستور کی دفعہ 2A میں یہ اضافہ کیا جائے کہ دستور کی تشریح و تطبیق قرارداد مقاصد کے متن کی روشنی میں کی جائے گی اور دستور اور اسلامی تعلیمات میں کسی ممکنہ تعارض کی صورت میں اسلامی تعلیمات پر ترجیحاً‌ عمل کیا جائے گا۔ (جیسا کہ نفاذ شریعت ایکٹ 1991ء کی دفعہ 4 میں ہے)۔

۲۔ دفعہ 8 کے شروع میں یہ اضافہ کر دیا جائے کہ بنیادی حقوق کا تعین قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہوگا۔

۳۔ دفعہ 203D2D کو تبدیل کر دیا جائے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ اپیلیٹ بینچ میں اپیل کے باوجود نافذ العمل ہوں گے، الا یہ کہ سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ کسی معاملے میں stay کا حکم دے۔ نیز وفاقی شرعی عدالت میں علماء ججز کی تعداد کو بڑھایا جائے اور اس عدالت کے ججز کے حقوق و اختیارات وہی ہونے چاہئیں جو دوسری ہائی کورٹس کے ہیں۔ 

۴۔ سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کو ریگولر سماعت کرنی چاہیے اور جو کیس اس کے پاس آئے، تین ماہ کے اندر اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس بیچ میں جو اہم امور عرصے سے زیر التوا ہیں مثلاً سود کا معاملہ، ٹرانس جینڈر ایکٹ، وقف املاک ایکٹ، دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ڈگریوں کی منظوری کا معاملہ وغیرہ، انہیں ترجیحاً‌ جلد سن کر ان پر فیصلہ کیا جائے۔

۵۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کو مؤثر بنانے کے لیے دستور میں ترمیم کی جائے۔ کونسل کی رپورٹس کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں لازماً‌ زیر بحث لایا جائے، اور اگر دو سال کے اندر اس کے مطابق قانون سازی نہ ہو تو سپیکر اور وزیر قانون کو قابل مواخذہ ٹھہرایا جائے اور سزا دی جائے۔ نیز ریاست کے مختلف ادارے جو ذیلی قوانین بناتے رہے ہیں، ان کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ نفاذ سے پہلے اس کی منظوری اسلامی نظریاتی کونسل سے لیں تاکہ ان میں کوئی پہلو خلافِ اسلام اور خلافِ عدل نہ ہو۔ 

۶۔ صدر مملکت کو سزائے موت معاف کرنے کا حکم (دفعہ 245) غیر شرعی ہے، اس دفعہ کو حذف کر دیا جائے۔

۷۔ دستور کی دفعہ 37 میں سماجی برائیوں کے خاتمے کا ذکر ہے لیکن ان کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا تعین کون اور کیسے کرے گا۔ لہٰذا یہاں ’’بمطابق قرآن و سنت‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا جائے۔

پریس ریلیز

ملّی مجلسِ شرعی جو سارے دینی مکاتبِ فکر کا علمی پلیٹ فارم ہے، اس کے صدر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے حکومتی دستوری ترامیم پر غور کرنے اور دستور میں اسلامی ترامیم تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں ڈاکٹر محمد امین، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا غضنفر عزیز اور حافظ محمد عمران طحاوی شامل تھے۔
۲۲ ستمبر ۲۰۲۴ء کو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس نے حکومتی ترامیم کے بارے میں یہ رائے دی کہ حکومت کے پیش نظر اس کی سیاسی اور وقتی ضرورتیں ہیں اور عدلیہ کے ان ججوں کی حمایت و توسیع ہے جو اس کے حامی ہیں اور ان سے نمٹنا مقصود ہے جو حکومتی رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان تجاویز سے وفاق کو اور سیاسی و عدالتی نظام کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے لہٰذا دینی قوتوں کو ان ترامیم کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
کمیٹی نے تجویز کیا کہ دینی قوتوں کو اس موقع پر دستور کے اسلامی پہلو کو مؤثر بنانے کے لیے مزید ترامیم پیش کرنی چاہیے مثلاً یہ کہ قراردادِ مقاصد کو دیگر قوانین پر بالادستی حاصل ہو۔ دستور اور اسلامی تعلیمات میں تعارض کی صورت میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے اور اپیل کو ان کے خلاف stay نہ سمجھا جائے۔ اس کے ججوں کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کے حقوق و اختیارات وہی ہوں جو دوسرے ہائی کورٹ ججز کے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے طریق کار وضع کیا جائے، اور عمل نہ کرنے کی صورت میں سپیکر اور وزیر قانون قابلِ مواخذہ اور قابل سزا ہوں۔ سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کو ریگولر سماعت کرنی چاہیے اور تین ماہ کے اندر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سزائے موت کی معافی کا صدارتی اختیار (دفعہ245) ختم کیا جائے۔ بنیادی حقوق (دفعہ8) پر عمل اور سماجی برائیوں کے خاتمے کی (دفعہ37) پر عمل درآمد کو قرآن و سنت کی مطابقت سے مشروط کیا جائے۔
کمیٹی نے تجویز کیا کہ یہ تجاویز مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور دوسری دینی جماعتوں کو بھجوائی جائیں اور ان سے درخواست کی جائے کہ وہ حکومت سے گفتگو میں انہیں پیش نظر رکھیں۔

ڈاکٹر محمد امین

سیکرٹری دستوری ترامیم کمیٹی

۲۳ ستمبر ۲۰۲۴ء

اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی


(536) جدال کا معنی

عربی میں جدل اور جدال بحث و مباحثے کے لیے آتا ہے۔ خواہ یہ بحث و مباحثہ دلیل کی بنیاد پر ہو یا دلیل کے بغیر ہو۔ بحث و مباحثہ آگے بڑھ کرجھگڑے کی صورت اختیار کرلے یہ الگ بات ہے لیکن اس لفظ کا اصل معنی جھگڑا نہیں ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف صیغوں میں متعدد بار آیا ہے۔ کہیں مثبت معنی میں ہے اور کہیں منفی معنی میں۔ جدال کا مثبت مفہوم یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ بات پیش کی جائے، منفی مفہوم یہ ہے کہ دلیل کے بغیر کٹھ حجتی کی جائے۔ عربی میں لفظ خصومۃ اور لفظ  جدال ہم معنی ہیں۔ قرآن میں بھی یہ دونوں ایک ہی مفہوم میں آئے ہیں۔
لسان العرب میں ہے:
والجَدَل: اللَّدَدُ فِی الخُصومۃ والقدرۃُ عَلَیْہَا، وَقَدْ جَادَلَہُ مُجَادَلَۃً وجِدَالًا۔۔۔ الجَدَل: مُقَابَلَۃُ الْحُجَّۃِ بِالْحُجَّۃِ؛ وَالْمُجَادَلَۃُ: الْمُنَاظَرَۃُ وَالْمُخَاصَمَۃُ۔
القاموس المحیط میں ہے:
والجَدَلُ۔۔۔: اللَّدَدُ فی الخصومَۃِ، والقُدْرَۃُ علیہا۔
الصحاح میں ہے:
وجادَلَہُ، أی خاصمہ، مُجادَلۃً وجِدالاً: والاسم الجَدَلُ، وہو شدّۃ الخصومۃ.
اسی طرح خصومۃ کے بارے میں القاموس المحیط میں ہے:
الخُصومَۃُ: الجَدَلُ.
لسان العرب میں ہے:
خصم: الخُصومَۃُ: الجَدَلُ. خاصَمَہ خِصاماً ومُخاصَمَۃً فَخَصَمَہُ یَخْصِمہُ خَصْماً: غَلَبَہُ بِالْحُجَّۃِ.
درج ذیل آیتوں میں جدال کے ترجموں پر غور کرنے کی ضرورت ہے:
(۱)  وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِینَ یَخْتَانُونَ أَنْفُسَہُمْ۔ (النساء: 107)
’’اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور مت جھگڑو ان کی طرف سے جو اپنے دل میں دغا رکھتے ہیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور ان لوگوں کی وکالت نہ کرو جو اپنے آپ سے خیانت کررہے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا آیت میں جدال بحث کرنے اور وکالت کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ جھگڑا تو کر نہیں رہے تھے کہ اس سے روکا جاتا۔   
(۲)   ہَاأَنْتُمْ ہَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَمَنْ یُجَادِلُ اللَّہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْ مَنْ یَکُونُ عَلَیْہِمْ وَکِیلًا ۔(النساء: 109)
’’سنتے ہو تم لوگ جھگڑے ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں، پھر کون جھگڑے گا ان کے بدلے اللہ سے قیامت کے دن‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’سنتے ہو یہ جو تم ہو دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟‘‘۔ (فتح محمد جالندھری، پہلے مقام کا ترجمہ صحیح اور دوسرے کا صحیح نہیں ہے)
’’(اے مسلمانو!) یہ تم ہو جو دنیاوی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑتے ہو (ان کی طرفداری کرتے ہو)۔ تو قیامت کے دن ان کی طرف سے خدا سے کون بحث کرے گا؟ یا کون ان کا وکیل (نمائندہ) ہوگا؟‘‘۔ (محمد حسین نجفی، پہلے مقام کا ترجمہ صحیح نہیں اور دوسرے کا صحیح ہے)
نہ تو دنیا میں مسلمانوں نے ان کے سلسلے میں جھگڑا کیا تھا اور نہ ہی قیامت کے دن جھگڑا کرنے کا کوئی موقع ہوگا۔ یہاں بھی بحث کرنا ہی مناسب ترجمہ ہے۔
(۳)   یَوْمَ تَأْتِی کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِہَا  (النحل: 111)
’’جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لیے لڑتا جھگڑتا آئے گا‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
’’جس دن آوے گا ہر جی جواب سوال کرتا اپنی طرف سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’جس روز ہر شخص اپنی ہی طرفداری میں گفتگو کرے گا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی) 
قیامت کے دن جھگڑا کرنے کا کسی یارا ہوگا؟ ہاں اپنی وکالت کرنے اور اپنے حق میں گفتگو کرنے کے لیے ہر کوئی بے چین ہوگا۔
(۴)   قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ وَاللَّہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا۔ (المجادلۃ: 1)
’’سن لی اللہ نے بات اس عورت کی جو جھگڑتی ہے تجھ سے اپنے خاوند کے حق میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان))
’’بے شک اللہ تعالی نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی تھی ‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اللہ نے سن لی اُس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
آیت میں جس خاتون کی طرف اشارہ ہے، وہ اللہ کے رسول سے بحث کررہی تھی، اسے جھگڑا کہنا مناسب نہیں ہے۔  
(۵)   أَتُجَادِلُونَنِی فِی أَسْمَاءٍ سَمَّیْتُمُوہَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا نَزَّلَ اللَّہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ۔ (الاعراف: 71)
’’کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’کیا تم مجھ سے بحثا بحثی ان ناموں کے بارے میں لگائے ہوئے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ (دادوں) نے ٹھیرا رکھے ہیں اللہ نے تو ان پر کوئی دلیل اتاری نہیں‘‘۔ (عبدالماجد دریابادی)
یہاں بھی بحث و مباحثے کا محل ہے نہ کہ جھگڑے کا۔
(۶)  وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ۔ (الحج: 3)
’’اور بعضا شخص ہے کہ جھگڑتا ہے اللہ کی بات میں بن خبر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر علم (و دلیل) کے جھگڑا کیا کرتے ہیں‘‘۔ (عبدالماجد دریابادی)
’’بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
یہاں بھی بحث و مباحثے کا محل ہے نہ کہ جھگڑے کا۔
(۷)  وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَلَا ہُدًی وَلَا کِتَابٍ مُنِیرٍ۔ (الحج: 8)
’’اور بعضا شخص ہے جو جھگڑتا ہے اللہ کی بات میں بن خبر اور بن سوجھ اور بن کتاب چمکتی‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور انسانوں میں کوئی کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کے باب میں حجت کرتا رہتا ہے بغیر علم کے اور بدون دلیل کے بدون کسی روشن کتاب کے‘‘۔ (عبدالماجد دریابادی)
یہاں بھی بحث و مباحثے کا محل ہے نہ کہ جھگڑے کا۔
(۸)   وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَلَا ہُدًی وَلَا کِتَابٍ مُنِیرٍ ۔ (لقمان: 20)
’’ اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر واقفیت بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے بحث کیا کرتے ہیں‘‘۔ (عبدالماجد دریابادی)
یہاں بھی بحث و مباحثے کا محل ہے نہ کہ جھگڑے کا۔
(۹)   فَلَمَّا ذَہَبَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْرَی یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ۔ (ہود: 74)
’’پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’پھر جب گیا ابراہیم سے ڈر اور آئی اس کو خوش خبری جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے حق میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’جب ابراہیم کا ڈر خوف جاتا رہا اور اسے بشارت بھی پہنچ چکی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں کہنے سننے لگے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
ظاہر بات یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام بحث کررہے تھے نہ کہ جھگڑا کررہے تھے۔
(۱۰)  وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَائِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ۔ (الانعام: 121)
’’ اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور یقیناً شیطان اپنے دوستوں کو تعلیم دے رہے ہیں تاکہ یہ تم سے (بے کار) جدال کریں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
آخری ترجمہ زیادہ مناسب ہے۔ شیاطین انسانوں کے دل میں کٹھ حجتی کی باتیں ڈالتے ہیں، جن کے سہارے وہ  کٹھ حجتی کرتے ہیں۔ 
(۱۱)  وَقَالُوا أَآلِہَتُنَا خَیْرٌ أَمْ ہُوَ مَا ضَرَبُوہُ لَکَ إِلَّا جَدَلًا۔ (الزخرف: 58)
’’اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور کہتے ہیں کہ ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ؟ یہ بات وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہ کج بحثی کا محل ہے نہ کہ جھگڑے کا۔
(۱۲)   قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَکْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِینَ ۔ (ہود: 32)
’’آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ ،اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے آؤ جس کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’(قوم کے لوگوں نے) کہا اے نوح! تو نے ہم سے بحث کر لی اور خوب بحث کر لی۔ اب تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ، اگر تو سچوں میں ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
آخری ترجمہ مناسب معلوم ہوتا ہے، انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو کج بحثی سے تعبیر کیا۔ جھگڑے کا یہ محل نہیں ہے۔
(۱۳)   وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ۔  (النحل: 125)
’’اور جھگڑا کر ان سے ساتھ اس چیز کے کہ وہ بہت بہتر ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجیے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
یہاں تو تقریباً سبھی کی رائے ہے کہ جدال بحث کے معنی میں ہے، لیکن حیرت ہوئی یہ دیکھ کر کہ شاہ رفیع الدین نے یہاں بھی جھگڑا ترجمہ کردیا۔
(۱۴)  وَلَا تُجَادِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ۔(العنکبوت: 46)
’’اور مت جھگڑو اہل کتاب سے مگر اس طرح سے کہ وہ بہت اچھی ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’اور جھگڑا نہ کرو اہل کتاب سے مگر اس طرح پر جو بہتر ہو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور اہل کتاب کے ساتھ بحث ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور تم اہل کتاب سے بجز مہذب طریقہ کے مباحثہ مت کرو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے‘‘ (سید مودودی)
یہاں بھی جھگڑے کا محل بالکل نہیں ہے۔ بحث و مباحثے کے سلسلے میں ہدایت دی جارہی ہے، لیکن حیرت ہوتی ہے کہ اچھے خاصے لوگوں نے یہاں’ جھگڑا‘ ترجمہ کردیا۔
جدال کا ترجمہ جب لفظ اور محل دونوں کی رعایت کرتے ہوئے بحث و مباحثہ کرتے ہیں تو بحث و مباحثہ کے سلسلے میں قرآنی ہدایات کو سمجھنے کی راہ کھلتی ہے۔ جب ہم’ جھگڑا‘ ترجمہ کرتے ہیں تو کئی جگہ ترجمہ بالکل بے محل اور غیر موزوں معلوم ہوتا ہے۔

(537) وَلَا تَہِنُوا فِی ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ

وَلَا تَہِنُوا فِی ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِنْ تَکُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّہُمْ یَأْلَمُونَ کَمَا تَأْلَمُونَ۔ (النساء: 104)
’’اِس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں‘‘۔ (سید مودودی، ’تکلیف اٹھا رہے ہو‘، نہیں بلکہ ’تکلیف اٹھاتے ہو‘)
’’اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہارے دل ہو کر بیٹھ نہ رہو! اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، بے آرامی نہیں بلکہ تکلیف)
’’اس (مخالف) جماعت کی تلاش اور تعاقب میں سستی نہ دکھاؤ۔ اگر اس میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’اور خبردار دشمنوں کا پیچھا کرنے میں سستی سے کام نہ لینا کہ اگر تمہیں کوئی بھی رنج پہنچتا ہے تو تمہاری طرح کفار کو بھی تکلیف پہنچتی ہے‘‘۔ (ذیشان جوادی)
درج بالا آیتوں میں القوم سے مراد کوئی متعین گروہ نہیں ہے، نہ عام گروہ کفار ہے، بلکہ عام دشمن مراد ہیں۔ 
ترجمہ اس طرح کیا جائے گا:
’’دشمنوں کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں‘‘۔

(538) لَا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ

(۱)  إِنَّ اللَّہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ ۔(النساء: 48)
’’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا‘‘۔ (سید مودودی، یہاں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے۔ اس لیے ترجمہ ہوگا اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا)
’’بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے‘‘۔ (احمد رضا خان، یہاں کفر کے الفاظ نہیں بلکہ شرک کے الفاظ ہیں۔ شرک کا ترجمہ کفر کرنا درست نہیں ہے)
’’اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے‘‘۔ (ذیشان جوادی، ’معاف کرسکتا‘ نہیں بلکہ ’معاف نہیں کرتا ہے‘ ہونا چاہیے)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’یقینا اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
(۲)   إِنَّ اللَّہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ ۔(النساء: 116)
’’اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے‘‘۔ (سید مودودی، یہاں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے۔ اس لیے ترجمہ ہوگا اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا)
’’خدا اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے‘‘۔(ذیشان جوادی، ’معاف نہیں کرسکتا‘ کے بجائے ’معاف نہیں کرتا‘ ہونا چاہیے)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے ‘‘۔ (احمد رضا خان)
(جاری)

انسانیت کے بنیادی اخلاق اربعہ (۱)

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ


امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ یہ چار انسانیت کے وہ بنیادی اخلاق ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بِعثت سے مقصود یہ ہے کہ ان اخلاق کی تکمیل و اشاعت کرائی جائے۔ یہ چار اخلاق طہارت، اِخبات (خضوع)، سَماحت (فیاضی) اور عدالت ہیں۔ 
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ اس فقیر کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تہذیبِ نفس (نفسِ انسانی کو شائستہ اور اس قابل بنانا کہ وہ خطیرۃ القدس اور بارگاہِ الٰہی میں پہنچنے کے قابل بن سکے) کے سلسلہ میں شریعت میں جو چیز مطلوب ہے وہ ان چار اخلاق (خصلتوں) کا قائم کرنا ہے اور ان کے ساتھ متصف ہونا ہے اور ان کی اضداد کی نفی کرنا ہے (طہارت کی ضد نجاست ہے، اخبات کی ضد تکبر ہے، سماحت کی ضد بخل اور خَساسَت ہے، اور عدالت کی ضد ظلم اور تعدی ہے)۔ حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو انہی چار خصلتوں کی تکمیل اور اشاعت کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور تمام شرائع (یعنی آسمانی شریعتوں کے جملہ قوانین و احکام) دراصل انہیں چار خصلتوں کی طرف ارشاد و رہنمائی کرتے ہیں اور ان کے حاصل کرنے کی تحریص و ترغیب دیتے ہیں اور ان کے مواقع اور مظان ہی کی تفصیلات ہیں اور شرائع کی تمام تر ترغیبات ان ہی کے اخلاق کی طرف مصروف ہیں اور ان کی اضداد سے تربیت کی طرف راجع ہیں۔ اور بر (نیکی) انہیں خصلتوں کے اَشباح ہیں (وہ اشکال اور طریقے جن سے یہ خصلتیں حاصل ہوتی ہیں) اور ان کے کواسب ہیں یعنی ان اخلاق کو کمانے اور حاصل کرنے کے ذرائع اور اسباب ہیں، اور اثم (بدی) ان کے اضداد و کواسب کے مواقع اور اسباب سے عبارت ہے۔  انسانیت کے وہ اخلاق جن کی موجودگی معاد میں مفید ہے اور ان کا فقدان ضرر رساں ہے، وہ یہی چار بنیادی اخلاق ہیں۔ او ریہ اخلاق کسی نبی کی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئے اور ہمارے پیغمبر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بھی یہ اخلاق محکم ہیں۔ جو شخص اس حقیقت کو ذوق اور وجدان کے طریق پر جان لے، او رمعلوم کر لے کہ ہر دور اور ہر طبقہ میں شرائع کس طرح ان اخلاق تک پہنچاتے ہیں تو وہ شخص یقیناً‌ فقیہ فی الدین اور راسخ العلم ہو گا۔ اور جو شخص شرائع کے اَشباح سے ان خصلتوں تک پہنچے گا اور ان اخلاق سے رنگین ہو گا اور اس کے نفس نے اپنے اصل جوہر میں ان خصلتوں کو قبول کر لیا تو وہ محسنین میں شمار ہو گا۔ در حقیقت ان چار خصلتوں کی معرفت امور عظام یعنی بڑے امور میں سے ایک بڑا امر ہے جو اس بندہ ضعیف پر وارد ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہم پر او ردوسرے لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں ادا کرتے۔

(۱) طہارت

ان اخلاق میں سے ایک طہارت ہے۔ طہارت کا معنی تو نظافت و پاکیزگی ہوتا ہے لیکن طہارت کی حقیقت اور اس کی طرف میلان نفوسِ سلیمہ میں سے ہر ایک نفس میں ودیعت رکھا ہوا ہے۔ پس اگر نفس اپنی فطری سلامتی کی حالت پر ہو اور کوئی عارض اس کو مُشوَّش نہ کرے تو لامحالہ وہ طہارت پر ہو گا۔  
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری مراد طہارت سے صرف وضو اور غسل نہیں بلکہ روحِ وضو اور روحِ غسل ہے اور نورِ وضو اور نورِ غسل ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر پاکیزہ نفس جس کا مزاج صحیح اور سلیم ہو اور اس کا مادۂ نوعی احکام قبول کرنے سے انکا رنہ کرتا ہو (جیسا کہ مُنحرِج اور ناقص مادۂ نوعی احکام قبول کرنے سے انکار کرتا ہے) اور سفلی حالت سے فارغ ہو اور طبعی طور پر مشوش کرنے والی باتوں سے خالی ہو۔ جیسا کہ شَبق یا غلبۂ شہوت کی حالت یا غضب اور بھوک وغیرہ کی حالت سے خالی ہو، تو ایسا نفس جب نجاسات سے آلودہ ہوتا ہے اور میل کچیل سے پُر ہوتا ہے اور غیر طبعی بالوں کی افزائش اس کے جسم پر ہوتی ہے اور بول و براز کا شدید تقاضا ہوتا ہے اور معدہ میں ریاح کا غلبہ اور گرانی ہوتی ہے، یا وہ شخص جماع اور اس کے وداع سے قریب العمد ہوتا ہے، تو ایسا شخص اگر اپنے وجدان کی طرف رجوع کرے گا تو لامحالہ اپنے اندر انقباض، تنگی اور غم پائے گا، پھر وہ جب دونوں خبیث چیزوں (بول و براز سے فارغ اور ہلکا ہو گا اور غسل کرے گا اور زائد بالوں کو اپنے جسم سے دور کر دے گا اور نیا لباس زیب تن کرے گا اور خوشبو کا استعمال کرے گا او رپھر اپنے وجدان کی طرف رجوع کرے گا تو لامحالہ ایک خاص قسم کا اِنشراح اور طبیعت کی کشادگی، سرور اور اِنبساط پائے گا۔  
پہلی حالت حدث کی ظلمت اور تاریکی کی حالت ہے اور دوسری حالت نورِ طہارت کی حالت ہے۔ جب حدث کی ظلمت نفس کا احاطہ کرتی ہے تو شیاطین کے وسوسے اور خوفناک خواب ظاہر ہوتے ہیں اور دل پر سیاہی ہجوم کرے گی۔  اور جب نورِ طہارت نفس کا احاطہ کرتا ہے تو ملائکہ کے الہامات اور رویائے صادقہ یعنی اچھے خواب ظاہر ہوں گے، اور خواب و بیداری دونوں کی حالت میں اس کے دل پر نور کا ہجوم ہو گا۔ کبھی ایسا ہوتا ہےکہ یہ شخص خواب میں آفتاب کو اپنے دل یا دھن میں جلوہ گر دیکھتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے، اور کبھی ستارے اس کی پیشانی اور تمام اعضاء کے ساتھ چھپاں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور کوئی یہ دیکھتا ہے کہ اس پر نور کی بارش برس رہی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اس قسم کے خواب دیکھتا ہے۔ 
حاصل یہ ہے کہ یہ سب طہارت کے اشباح (اشکال) و آثار ہیں اور ان کی حقیقت وہ ہیئت وجدانیہ ہے جس کو بجز اُنس اور نور کے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ حالت انسان کی حالتوں میں ملاء اعلیٰ کی تجریدی حالت سے مشابت رکھتی ہے۔ یعنی جس طرح ملاء اعلیٰ بہیمی آلودگیوں سے دور ہوتے ہیں اسی طرح یہ شخص بھی اس حالت میں بہیمی آلودگی سے دور اور صاف ہوتا ہے۔ اور جس طرح ملاء اعلیٰ میں سرور اور اِبتہاج ہوتا ہے اس طرح اس حالت میں اس شخص کو بھی انس، سرور اور ابتہاج میں ان کے ساتھ مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب بھی کوئی ملاء اعلیٰ کے ساتھ مشابہت پیدا کر لیتا ہے تو وہ وہاں بے اندازہ سرور و ابتہاج اور انس محسوس کرتا ہے۔ اور جب یہ شخص اس حالت کو اپنے نفس میں پختہ اور راسخ کر لیتا ہے اور وہ اس کا ملکہ بن جاتی ہے تو اس شخص کے اور املاء اعلیٰ کے درمیان ایک خاص قسم کی مناسبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے درمیان اور بہشت کی خوشیوں اور راحت کے درمیان دروازہ کھل جاتا ہے۔
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مسلسل احداث او رخباثات کے ساتھ آلودہ ہوتا ہے اور درمیان میں طہارت کی صورت نہیں اختیار کرتا تو اس کا علاج انتہائی مبالغہ کے ساتھ بدن اور کپڑوں کو پاک صاف کرنے سے ہو گا۔
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ انوارِ طہارت کی نسبت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے جو کسی شخص میں پیدا ہوتی ہے۔ اس نسبت کی حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص غسل اور وضو کرتا ہے اور خوشبو استعمال کرتا ہے او ربدن سے گندگی دور کرتا ہے اور اسی طرح لباس کو بھی پاک و صاف رکھتا ہے تو اس میں ایک قسم کا سرور و انشراح پیدا ہوتا ہے اور خاص قسم کا انس اپنے اندر محسوس کرتا ہے، اور یہ انس و سرور قُوائے طبعیہ کے قبیل سے نہیں ہوتا بلکہ یہ قوتِ ملکیہ کی میراث اور اس کا پَرتو ہے۔ اور جب یہ بات بار بار حاصل ہوتی رہے تو نفس کا ملکہ بن جاتی ہے او رایک ہیئتِ راسخہ اس کی وجہ سے نفس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک عارف آدمی اس ہیئت کو پہچانتا ہے اور اس سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ اور جب حدث لاحق ہوتا ہے یا جنابت طاری ہو جاتی ہے یا اس کا بدن اور لباس نجس ہو جاتے ہیں اور وہ اس کی وجہ سے اپنے نفس میں انتہائی وحشت اور انقباض پاتا ہے اور اس کے دل میں بے چینی اور پراگندگی پیدا ہو جاتی ہے اور خبیث اور ردی باتیں اور وسواس اس کے دل سے اٹھنے لگتے ہیں،  جب یہ شخص طہارت کی اشکال و امثال سے تمسک کرتا ہے تو اس کے اندر وہ مطلوب حالت دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے اور یہ شخص اپنے اندر آرام و سکون پاتا ہے۔ جب عارف ان دونوں حالتوں کو پہچان لیتا ہے اور ایک حالت سے اسے ایذا تکلیف پہنچتی ہے اور دوسری حالت سے وہ لطف اندوز ہوتا ہے، اور یہ حالت طہارت کی کثرت اور وضو اور غسل پر مُواظبت کرنے سے حاصل ہوتی ہے، پھر اس شخص کے اندر ملائکہ کی حقیقت کی طرف ایک کشادہ شاہراہ کھل جاتی ہے اور ان ملائکہ کا اُنس و سرور اس کو حاصل ہوتا ہے اور اس مقام پر یہ شخص ایک ایسے بحرِ بیکراں کا مشاہدہ کرتا ہے جو ثلج (برف)، برد (اولے) اور راحت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور دنیا میں یہ شخص ملائکہ کی طرح مُلہِم ہوتا ہے یعنی اس پر ملائکہ کی طرح پاکیزہ الہامات ہوتے ہیں۔ اور جس طرح اس پر الہام ہوتا ہے اسی طرح اس کے حق میں ملائکہ پر بھی الہام ہوتا ہے تاکہ وہ ملائکہ اس کی رِفاحیت میں کوشش کریں، کبھی الہام کی شکل میں اور کبھی حالت کی تبدیلی کی شکل میں اور آخرت میں یہ شخص منجملہ ملائکہ میں شمار ہو گا۔
طہارت کی اس نسبت کے حاصل ہونے کی علامت یہ ہے کہ بہت سے مَلکی واقعات اس سے ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ انوار کا دیکھنا اور آفتاب و ماہتاب کا اس کے منہ سے ظاہر ہونا اور دریں حالات یہ شخص اپنے آپ کو ایک بلِور اور شفاف جوہر کی شکل میں دیکھتا ہے (کیونکہ روشن اور شفاف چیز میں نور و تجلی کو نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے)۔ اسی طرح لذیذ قسم کے طعام کا کھانا، دودھ اور شہد اور گھی جیسی پاکیزہ چیزوں کا تناول کرنا اور حریر کا لباس زیب تن کرنا اور عمدہ اور پاکیزہ باغات کی سیر کرنا اور ان میں اترنا بشرطیکہ وہ ایسی رونق و اطمینان اور تازگی اپنے دل میں محسوس کرے جیسا بیداری کی حالت میں ایک بھوکا آدمی طعام سے آرام پاتا ہے۔ اور یہ طہارت دوسری نسبتوں پر بھی تنبیہ کرتی ہے اور ان کے لیے بھی اِنبعاث پیدا کرتی ہے۔ طہارت کی نسبت رکھنے والا شخص جب ملائکہ سے نسبت پیدا کرتا ہے اور اپنےلوحِ نفس کو پاکیزہ بنا لیتا ہے تو بسا اوقات اس کے روحِ نفس پر اور اس کے دل پر بھی عشقِ الٰہی اور اس کی بے چینی اور قَلَق مُنقَّش ہوتا ہے اور عشق کے آثار یہاں سے پھوٹتے ہیں اور اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے فیض اور مَوہبَت خیال کرنا چاہیے۔
امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طہارت کی نسبت سے نابلد ہو تو اس کی یہ تدبیر اختیار کرنی چاہیے کہ خلوت گزین ہو کر غسل کرے اور نیا لباس پہنے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کے اسم پاک نور کا زیادہ وِرد کرے تازہ بتازہ غسل اور تازہ بتازہ وضو کرتا رہے اور پوری ہمت او رتوجہ کے ساتھ فکر کرے کہ اس کے دل میں پہلے کی نسبت کوئی فرق پیدا ہوا ہے یا نہیں؟ ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد اس کیفیت کو پا لے گا۔ یہ بات خوب جان لینی چاہیے کہ طہارت کی حقیقت صرف وضو اور غسل میں منحصر نہیں بلکہ بہت سی چیزیں وضو اور غسل کے حکم میں داخل ہیں جن سے طہارت حاصل ہوتی ہے یا قوی ہوتی ہے۔ چنانچہ صدقہ دینے سے اور فرشتوں او ربزرگوں کو خوبی سے یاد کرنے سے اور ایسے کام کرنے سے جو عوام کے لیے مفید ہوں اور عام لوگ ان کی وجہ سے اس شخص کے حق میں دعا کریں او رخوش ہوں، اور نیز اپنی وضع قطع ڈاڑھی مونچھ اور تمام بالوں کو اس ہیئت پر بنائے جو ملت میں مستحسن اور مُعتاد ہوں او ربالوں کی حفاظت او راُن کو پراگندگی سے بچانا او رمتبرک مقامات او رمعظم مساجد اور سلف کے مُشاہَد میں اعتکاف کرنا، اور اگر اہلِ دنیا کی رسوم کا ہجوم ہو تو اس کا علاج ہجرت اوطان اختیار کرنے سے ہو گا۔ او رپاک صاف اور سفید لباس پہننا اور خوشبو استعمال کرنا، طہارت کی حالت میں سونا اور خواب کے وقت ذکر کرنا اور پریشان خواطر او رپراگندہ خیالات سے اپنے دل کی حفاظت کرنا اور موذی مواد کو بدن سے خارج کرنا (استفراغ) اور ظلمانی اخلاط کو بدن سے باہر نکالنا اور نفس کا نسیم (پاکیزہ) اور خوشبو سے راحت پانا، اور ایسی چیزوں کا کھانا جن سے کَیلوس صالح پیدا ہو تاکہ خوف اور بے چینی اس میں نہ رہے۔ یہ سب اشیاء طہارت کی کیفیت کو پیدا کرتی ہیں یا اس کی تقویت کا باعث ہوتی ہیں۔
اس کے برخلاف ہیئاتِ منکرہ شیطانیہ یعنی شیطانی بد وَضعی اور فحش کلمات کا زبان سے نکالنا او رسلف صالحین پر طعن اور نکتہ چینی کرنا اور بے حیائی کا اظہار کرنا اور جانوروں کی جُفتی وغیرہ دیکھنی اور حسین عورتوں اور اَمارِد (نوخیز بچے) کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرنا اور اپنی فکر ان کے محاسن اور بناؤ سگار میں مصروف کرنا اور لمبے وقت تک اپنے دل میں مباشرت کے خیالات کو جمع کرنا اور اس سے زیادہ مباشرت میں مشغول و مصروف رہنا جتنا کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے مصروف کار ہوتا ہے او رکتوں اور بندوں کے ساتھ رفاقت رکھنی اور امراض جلدیہ میں مبتلا ہونا : حبیسی، پتی، چنبل، داد، جرب، کھجلی وغیرہ اور دَموی امراض میں مبتلا ہونا۔  یہ سب باتیں اس صفت کو بتلاتی ہیں جو طہارت کے بالمقابل اور اس کی ضد ہے۔  اس اجماع اور مباشرت میں جو دفعِ اذیت کے لیے ہو اور اس میں جو تحصیلِ لذت کے لیے ہو، فرق ہے۔ پہلی قسم طہارت کے باب سے ہے اور دوسری قسم نجاست کے باب سے ہے۔
ان میں سے بعض چیزوں کے بارہ میں شریعت نے صراحت سے طہارت اور نجاست کا نام دیا ہے اور بعض کی طرف اشارہ اور ایما کیا ہے۔ یہ سب باتیں وجدانی طریق پر معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نظیف ہے، نظافت کو پسند فرماتا ہے۔ حدیث میں ’’الطہور شطر الایمان‘‘ آیا ہے یعنی طہارت ایمان کا جز ہے۔ اسی بنا پر امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ
’’اربابِ بصیرت نے یہ بات سمجھی ہے کہ شارع علیہ السلام کی مراد صرف یہ نہیں کہ طہارت میں صرف ظاہر کو پانی سے صاف اور نظیف بنا لیاجائے بلکہ طہارت کے چار مراتب ہیں: پہلا مرتبہ یہ ہے کہ ظاہر کو احداث اور اخباث سے پاک کیا جائے۔ دوسرا مرتبہ جوارح و اعضاء کو آثام و جرائم سےپاک کیا جائے۔ تیسرا مرتبہ قلب کو اخلاقِ مذمومہ اور رزائلِ ناپسندیدہ سے پاک کرنا۔ اور چوتھا مرتبہ سر کو عماسوای اللہ سے پاک کرنا اور یہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور صدیقین کی طہارت ہے۔‘‘
امام ولی اللہ فرماتے ہیں روحِ طہارت دراصل نورِ باطن، انس و انشراح کی حالت ہے اور افکار کو مٹانا ہے اور تشویشات بے چینی، فکری پراگندگی، فجر، تنگدلی اور جزع فزع کو روکنا اور کم کرنا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ حدث کے اسباب یہ ہیں: قلب کا سفلی حالات سے پُر ہونا جیسا کہ عورتوں سے قضاء شہوت اور مباشرت کی حالت اور قلب میں حق کی مخالفت مضمر رکھنا اور ملاء اعلیٰ کی لعنت کا احاطہ کرنا، بول و براز کو روکے رکھنا اور بول و براز اور ریح کے ساتھ قریب العہد ہونا یہ معدہ کے فضول مواد ہیں ۔ اور بدن کا میل کچیل سے بھر جانا،  گند دہنی رینٹھ وغیرہ کا جمع ہونا۔ زیر ناف اور بغل کے بالوں کا اگنا اور ان کی افزائش اور بدن کا نجاست اور گندگی سے آلودہ ہونا اور حواس کا ایسی حالت سے پُر ہونا جو سفلی حالت کو یاد دلاتی ہو۔ جیسا کہ مختلف قسم کی غلاظتیں اور گندگی،  شرمگاہ کی طرف نظر کرنا، حیوانات کی جفتی دیکھنا، جماع او رمباشرت میں زیادہ عمیق اور گہری نظر رکھنا اور ملائکہ اور صالحین پر طعن کرنا اور لوگوں کو ایذا پہنچانے کی سعی کرنا، یہ سب نجاست کے اسباب ہیں۔ اور طہارت کے اسباب ان کا ازالہ کرنا اور ان کی اضداد کو حاصل کرنا ہے اور ایسی چیزوں کا استعمال کرنا جو عادتاً‌ نظافت خیال کی جاتی ہیں جیسا کہ غسل و وضو کرنا، اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننا، خوشبو استعمال کرنا، یہ سب چیزیں طہارت کی صفت پر تنبیہ کرنے والی ہیں۔
اور جب طہارت انسان کی طبیعت بن کر راسخ ہو جاتی ہے تو اس کے اندر ملائکہ کے الہامات قبول کرنے کی استعداد پیدا کرتی ہے اور مناماتِ صالحہ یعنی اچھے خواب اور انوار کا ظہور ہوتا ہے اور طیّبات یعنی پاکیزہ اور مبارک چیزوں کا تمثل ہوتا ہے۔ اور جب انسان میں نجاست کی حالت راسخ ہو جاتی ہے تو شیاطین کے وساوس قبول کرنے کی استعداد پیدا کرتی ہے اور ایسا انسان حس مشترک کے خاصہ سے شیاطین کو بعض اوقات دیکھتا ہے اور وحشت ناک خواب آتےہیں اور نفس کے اس پہلو پر جو نفسِ ناطقہ سے ملتا ہے ظلمت کا ظہور ہوتا ہے اور ملعون اور ذلیل جانور متمثل ہوتے ہیں اور خواب میں نظر آتے ہیں۔
طہارت کا مفہوم شرائع الٰہیہ میں اس قدر وسیع ہے جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ اس میں طہارت صوری جیسا کہ بول و براز، مادہ منویہ،  مذی، خون، ودی، قی، پیپ و اقذار و نجاسات سے طہارت بھی ضروری ہے۔ اسی طرح باطن کی تطہیر، کفر، شرک، نفاق، الحاد، ارتداد، شک اور تمام عقائدِ باطلہ، نیاتِ فاسدہ اور اخلاقِ ذمیمہ، کھوٹ، کینہ، دغا بازی، حسد، تکبر وغیرہ سے طہارت ضروری ہے۔ نیز غصب، سرقہ، خیانت و حرام سے مردوں کو ریشمی لباس، سونے چاندی کے زیور اور مسرفانہ مبذرانہ افعال اور وضع قطع سے احتراز ضروری ہے۔ بدن کو حدث و جنابت سے وضو، غسل و تیمّم کے ذریعہ اور مختلف قسم کے فضلات، غیر طبعی بال، ناخن او رمیل کچیل پاک کرنا، او رمال تطہیر زکوٰۃ و صدقات نکالنے اور سود کی آمیزش اور دیگر حرام چیزوں سے، قمار بازی، ناپاک چیزوں کی تجارت سے طہارت ضروری ہے۔
الغرض کہ طہارت کا وسیع نظام ہے جس میں اخلاق و عقائد کی تطہیر سے لے کر ظاہری طہارت کے تمام مواقع بدن، مکان، دیگر ماحول، گلی محلہ، شہر، میونسپلٹی، اسمبلی، ٹریڈ یونین وغیرہ اور قانون کا پاک ہونا اور صاف ہونا، افکار کی پاکیزگی، اصول و اعمال و نفسیات سب کی تطہیر پر مشتمل ہے۔ انسان اپنی فطرت کے مطابق بعض چیزوں کو اپنے بدن اور جسم کے لیے باعث نجاست و گندگی خیال کرتا ہے اور اپنی پوری قوت و وسعت کے ساتھ ان سے بچتا رہتا ہے۔ مثلاً‌ بول و براز وغیرہ جب انسان کے نزدیک نجس ہیں تو ممکن نہیں کہ پھر انسان ان سے ایک لحظہ بھی آلودہ ہونے کے لیے تیار ہو۔ جب یہ صفت انسان کو حاصل ہو جائے تو اس کی تکمیل اس کے لیے آسان ہو گی۔ جب انسان کے نفس میں کوئی کلام فکر و عادت یا جذبہ پیدا ہو اور اس کے قلب میں وہ ایسا مؤثر ہو جیساکہ بول وبراز کی تاثیر اس کے جسم پر ہوتی ہے جب وہ اس پر پڑ جائے تو انسان اس کو نجس خیال کرنے کے ساتھ پختہ ارادہ کرے گا اس کے ازالہ کا اور یہ خصلت اس کے اندر پختہ ہو گی۔
طہارت انسانیت کے اہم ترین بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ اس اصول پر کاربند رہنا ملاء اعلیٰ کے ساتھ مشابہت پیدا کرنا ہے، اور اس طہارت کے ذریعہ انسان خطیرۃ القدس میں داخل ہونے کا اہل اور اس کا ممبر بن سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچنے کے قابل بن سکتا ہے۔ عبادت اس کے بغیر مقبول نہیں جیسا کہ ’’ان اللہ لا یقبل صلوٰۃ بغیر طہور و لا صدقہ‘‘  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتے اور خیانت وغیرہ کے مال سے صدقہ و خیرات قبول نہیں فرماتے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’واللہ یحب المطہرین‘‘ کہ اللہ تعالیٰ طہارت اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ اور جہاں تمیم کی حکمت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اس میں بھی یہی ارشاد ہوتا ہے ’’یرید اللہ لیطہرکم‘‘ اللہ تعالیٰ چاہتا ہےکہ تمہیں پاک و صاف کر دے۔ 
قرآن و سنت میں طہارت کے متعلق مفصل احکام موجود ہیں اور امام ولی اللہؒ نے حکیمانہ طریق پر اس کا فلسفہ سمجھا دیا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ طہارت جس کا اثر نمایاں اور ظاہری طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے او ریہ ایسا وصف ہے کہ جس کے ساتھ جمہور انسان یعنی عوام کو خطاب کیا جا سکتا ہے اور اس طہارت کا آلہ متمدن دنیا میں بکثرت پایا جاتا ہے یعنی پانی۔ طہارت کا معاملہ ضبط و قانون میں آ سکتا ہے اور جو انسانی نفوس میں زیادہ وقیع طریق پر مؤثر ہوتا ہے اور مسلّماتِ مشہورہ کی طرح اور طبعی مذہب کی طرح ہوتا ہے۔ یہ طہارت استقراء و تتبع سے دو قسموں میں منحصر ہے   طہارتِ صغریٰ اور طہارتِ کبریٰ ۔ (طہارتِ کبریٰ) عام بدن کو پانی کے ساتھ دھونا اور خوب مل کر صاف کرنے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ پانی نجاسات کو زائل کرنے والا خود پاک اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کا آلہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’وانزلنا من السماء ماء طہورً‌ا‘‘۔  طبائع اس کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ آلہ صالحہ ہے کہ نفس کو طہارت کی صفت پر تنبیہ کرے او رخبر کر دے اور یہ تنبیہ اس طرح حاصل ہو گی کہ انسانوں کے نفسوس میں جو ایک بات گڑی ہوئی ہے کہ یہ طہارت بلیغہ کر دے اور یہ صرف پانی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
اور طہارت صغریٰ میں صرف اطراف ہاتھ پاؤں منہ کے دھونے پر اکتفا کیا جاتا ہے کیونکہ عادتاً‌ یہی مواقع متمدن ممالک میں منکشف ہوئے ہیں اور لباس سے باہر ہوتے ہیں اور ان کا لباس سے باہر ہونا سب لوگوں کے لیے ایک طبعی بات ہے اور ان کے دھونے میں کوئی حرج بھی نہیں ہوتا برخلاف تمام اعضاء کے دھونے کے لیے خاص اہتمام اور تستر وغیرہ کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ نیز شہروں میں عادت ہے کہ ان اعضاء کو بالعموم لوگ ہر دن میں پاک و صاف رکھنے کے عادی ہوتے ہیں اور بڑے لوگوں کے پاس جائے وقت مثلاً‌ حکّام، بادشاہ، امرا، عاظم رجال کے پاس جانے کی صورت میں ان کو پاکیزہ اور نظیف رکھا جاتا ہے اور نیز پاکیزہ اور اچھے اعمال انجام دینے کے وقت بھی ان کو پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ان اعضاء کے طرف ہی میل کچیل گرد و غبار دھواں وغیرہ جلدی سرایت کرتا ہے اور ملاقات کے وقت یہی اعضاء لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں اس لیے ان کا پاک صاف ہونا ضروری ہے۔
یہ بات سمجھ میں آتی ہے نیز تجربہ شاہد ہے کہ اطراف اور منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے سے نفس نیند اور غشی وغیرہ کی حالت میں بیدار ہوتا ہے اور متنبہ ہو جاتا ہے اور اس سے نفس میں قوی درجہ کی تنبیہ حاصل ہوتی ہے۔ انسان خود بھی اس کا تجربہ کر سکتا ہے اور اطباء حضرات بھی غشی وغیرہ کو دور کرنے کے لیے اس تدبیر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ او رطہارت صرف تنظیف ہی نہیں بلکہ یہ ارتفاقِ ثانی (انسان کی اجتماعی اور شہری ضرورتوں) کے ابواب میں بھی داخل ہے جس پر انسان کا کمال موقوف ہے اور انسانوں کی طبیعت اور جبلت میں داخل ہے اور اس میں ملائکہ سے قرب ہے اور شیاطین سے بُعد ہے۔ نیز یہ طہارت انسان کو عذابِ قبر سے بچانے کا ذریعہ بھی ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ پیشاب سے بچو کیونکہ عام طور پر عذابِ قبر اس سے واقع ہوتا ہے۔ نیز اس طہارت کو بڑا دخل ہے اس بات میں کہ انسان کا نفس اس کی وجہ سے احسان کا رنگ قبول کرتا ہے ’’واللہ یحب المطہرین‘‘ کی آیت سے ظاہر ہوتی ہے۔
اور جب یہ طہارت کی صفت نفس میں پختہ اور راسخ ہو جاتی ہے تو پھر نفس میں ملائکہ کے نور کا (ملکیت کا) ایک شعبہ ٹھہر جاتا ہے اور ٹک جاتا ہے اور بہیمیت کی ظلمت کا ایک شعبہ مقہور و مغلوب ہوتا ہے، اور یہی مطلب ہے کتابتِ حسنات او تکفیرِ سیئات کا۔ یعنی جو حدث میں آیا ہے کہ طہارت کر کرنے سے حسنات لکھی جاتی ہیں اور خطاؤں کو معاف کیا جاتا ہے اور مٹایا جاتا ہے۔ 
اور اگر اس طہارت کو رسمِ فاشی بنا دیا جائے کہ عام و خاص لوگ اس کی پابندی کرنے لگ جائیں تو یہ مہلک رسومات سے بچانے کا ذریعہ بھی بن جائے گی۔ اور جب طہارت والا انسان اس کی ہیئات کی حفاظت کرے گا جیسا کہ بڑے لوگوں کے پاس جاتے وقت کرتے ہیں اور نیت اور اذکار بھی اس کے ساتھ مل جائیں تو سوءِ معرفت کا علاج بھی اس سے ہو گا۔ اور جب انسان خوب اپنی عقل سے اس کو جان لے کہ یہ انسان کے حق میں کمال ہے اور اپنے جوارح کو ان آداب کا پابند بنائے لیکن عقل تقاضے کے بغیر کسی حسی داعیہ کے تو اس سے طبیعت کے عقل کے تابع ہونے کی مشق ہو گی اور حجاب طبع کابھی علاج اس سے ہو سکے گا۔
(جاری)

مسئلہ جبر و قدر: متکلمین کا طریقہ بحث

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل


متکلمین الہیات کے باب میں تین سطح پر گفتگو کرتے ہیں: ذات باری کا ثبوت اور اس کے احکام، صفات باری تعالی اور اس کے احکام، افعال باری تعالی جو اس بات سے عبارت ہیں کہ خدا اور کائنات کا تعلق کس نوعیت کا ہے اس لئے کہ کائنات خدا کا فعل ہے ۔ مسئلہ جبر و قدر اللہ کے افعال سے متعلق بحث ہے، یعنی یہ بحث کہ خدا کے فعل اور بندے کے فعل میں کیا نسبت ہے۔ افعال باری کی یہ بحث دراصل مسائل حسن و قبح کی ایک فرع ہے۔ چونکہ افعال باری کی بحث ذات و صفات پر متفرع ہے، لہذا جو اصول و نتائج پہلی دو سطحوں میں طے ہو چکیں افعال باری کی بحث میں ان کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جس اصول کو پہلے قبول کیا گیا ہو، مسئلہ جبر و قدر کی بحث میں اسے ترک کر دیا جائے کہ یہ ایک غیر علمی طریقہ گفتگو ہے۔ اس مسئلے سے متعلق وہ ماقبل امور جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ان میں سے اہم ترین اصول یہ ہیں:
1) ہر حادث کے لئے محدث ہونا لازم ہے
2) عالم حادث ہے، یعنی یہاں اشیاء یک بعد دیگرے عدم سے وجود پذیر ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ لامتناہی نہیں۔
3) اللہ کی قدرت و ارادہ ہر شے پر جاری ہے، اس عالم میں اس کے ارادے کے بنا کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا (اسے "عموم قدرت" کا اصول بھی کہتے ہیں)
4) کیا ان اشیاء کے مابین علت و معلول "بمعنی تاثیر" کی نسبت جاری ہے؟ جمہور اشاعرہ و ماتریدیہ جبکہ معتزلہ کی ایک جماعت کے نزدیک ان کے مابین ایسی نسبت نہیں بلکہ خدا تمام اشیاء کا براہ راست خالق ہے اور وہ ہر لمحے پوری کائنات کو وجود دیتا ہے۔ ہمارے مشاہدے میں آنے والی علتی نسبتیں علامات ہیں۔ معتزلہ کی ایک جماعت کے نزدیک ان کے مابین تاثیری نسبت قائم ہے، گویا وہ ثانوی علتوں کے بھی قائل ہیں اور ان کے مطابق اللہ تعالی ہر چیز کا براہ راست خالق نہیں۔
ان امور پر متکلمین افعال باری سے قبل بحث نبٹاتے ہیں۔ ان کے بعد مسئلہ جبر و قدر سے متعلق متعلقہ پہلووں کو نوٹ کرنا ضروری ہے:
1) انسان کی طرح اس کے افعال بھی حادث ہیں
2) فعل چند امور سے عبارت ہے:
الف) قدرت: اس کا مطلب دو امکانات کے مابین بطریق تساوی (indifference or equality) اس طور پر نسبت ہونا ہے کہ قادر چاہے تو کچھ کرے اور چاہے تو نہ کرے۔
ب) ارادہ: اس کا مطلب دو مساوی امکانات میں سے کسی ایک جانب ترجیح قائم کرنا ہے، گویا ارادہ قدرت کے مقابلے میں خاص معنی ہے کہ وہ کسی ایک جانب بطریق ترجیح (preference) نسبت ہونا ہے۔
ج) فعل بطور مصدر اور حاصل بالمصدر: جب زید کھانا کھاتا ہے تو اس کے بازو، ہاتھ و منہ وغیرہ حرکت کرتے ہیں جو ایسے امور ہیں جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ "کھانا کھانے" کا ایک معنی منہ و ہاتھ وغیرہ کی حرکت ہوتی ہے اور اس کا دوسرا معنی از خود "کھانا کھانے" کا تجریدی (abstract) تصور ہے۔ موخر الذکر کو "فعل بمعنی مصدر" کہتے ہیں اور اول الذکر کو "حاصل بالمصدر" (انگریزی زبان میں فعل بمعنی مصدر کو gerund کہتے ہیں جیسے to eat)۔ ہاتھ و منہ کی حرکت کو حاصل بالمصدر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ "کھانا کھانے" کے تجریدی تصور کے مظاہر ہیں اور اس کے تجریدی معنی سے حاصل ہوتے نیز اس پر دال ہیں۔ اگر کوئی مثلاً بھاگ رہا ہو تو اسے "کھانا کھانا" نہیں کہتے بلکہ "بھاگنا" (To run) کہتے ہیں جو ایک اور مصدری معنی یا تصور ہے۔
د) فعل بمعنی قلبی ارادہ: ہاتھ کی حرکت کا ہونا کبھی ارادہ و نیت سے ہوتا ہے اور کبھی اضطراری طور پر، مثلا جیسے رعشہ ذدہ انسان کے ہاتھ کا ہلنا۔ قلب میں کسی شے کا ارادہ مصمم قائم ہونا، یہ بھی فعل کی ایک جہت ہے جسے قلب کا فعل کہا جا سکتا ہے۔
ھ) داعیہ: یہ وہ جذبہ و خواہش (motivation or inclination) وغیرہ ہے جس کی بنا پر انسانی سطح پر دو امور میں سے کسی ایک جانب کا ارادہ قائم ہوتا ہے ، یعنی ان میں ترجیح قائم ہوتی ہے۔
و) افعال متولدۃ: کسی فعل کے ساتھ بعض امور سامنے آتے ہیں۔ مثلاً ہاتھ کی حرکت سے پتھر کو پھینکے پر پتھر کا لڑھکنا یا ہاتھ کی چوٹ لگانے سے جسم میں تکلیف ہونا وغیرہ۔ انہیں افعال متولدۃ (generated actions) کہتے ہیں۔
چنانچہ مسئلہ جبر و قدر میں سوال یہ ہے کہ (الف ) تا (و) میں خدا اور بندے کی قدرت و ارادے میں کیا نسبت ہے؟ انسانی افعال (theory of human action) سے متعلق کسی بھی نظرئیے کو ان سب امور کا لحاظ رکھتے ہوئے جواب دینا ہے۔ اس کے بالعموم تین جواب ہیں، ذیل میں ان کا تعارف کرایا جاتا ہے۔

معتزلہ و شیعہ امامیہ کا نظریہ

معتزلہ کی جماعت کا کہنا ہے کہ بندہ جس قدرت سے افعال سرانجام دیتا ہے وہ قدرت خدا کی طرف سے معین فعل کے حدوث سے قبل ہوتی ہے۔ یہاں قبلیت (priority) بااعتبار زمان نہیں بلکہ تقدم بااعتبار علیت یا تاثیر (causality) کی بات ہے، یعنی جو شے کسی پر مؤثر ہوتی ہے وہ اس سے ماقبل ہوتی ہے چاہے زمانی حوالہ ہو یا نہ ہو ۔ ان کے نظرئیے کی تفہیم کے لیے ہم اسے "بیٹری ماڈل" سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ جب ایک بیٹری میں ایک خاص مقدار کا کرنٹ بھر دیا گیا ہو تو آپ اسے ساتھ لئے گھوم سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مثلاً کوئی بلب روشن کر سکتے ہیں اور چاہیں تو پنکھا۔ یہی معاملہ انسانی قدرت کا ہے جو اسے ایک صلاحیت کی طرح عطا کر دی گئی ہے اور بندہ اس کے ذریعے امور میں ترجیح قائم کرتا رہتا ہے۔ بندے کے ارادہ کرنے سے اس کی قدرت کے تحت جو افعال بمعنی حاصل بالمصدر سامنے آتے ہیں، مثلا ہاتھ پیر کی حرکت، وہ بھی بندے کی وجہ سے ہوتے ہیں اور خدا ان کا براہ راست خالق نہیں بلکہ بالواسطہ خالق ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ معتزلہ بندے کو کلی طور پر مستقل مانتے تھے بلکہ خدا جب چاہے بندے سے افعال خلق کرنے کی قدرت سلب کر سکتا ہے۔ افعال متولدۃ میں معتزلہ کا اختلاف ہوا، ان کی ایک جماعت کی رائے میں ان کی نسبت بھی براہ راست بندے کی جانب ہوگی اور خدا کی جانب بالواسطہ جبکہ ایک جماعت کے مطابق اس کی نسبت براہ راست خدا کی جانب ہوگی، یعنی ان کے مطابق یہ افعال متولدۃ بندے کے فعل کی تاثیر کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتے بلکہ خدا انہیں ہمارے افعال کے ساتھ عادتاً اسی ترتیب سے پیدا کرتا ہے (یہ اختلاف مادی اشیاء میں ثانوی علل ماننے یا نہ ماننے پر متفرع ہے)۔ معتزلہ کا کہنا ہے کہ اگر بندے کی قدرت قبل از فعل نہ ہو اور اسے اپنے افعال کا خالق نہ کہا جائے (یعنی حدوث افعال کی نسبت براہ راست بندے کی جانب نہ کی جائے) تو شرعی تکلیف اور انسانی ذمہ داری کا تصور پورا نہیں ہوتا۔ اس کی ایک اور اہم وجہ کا تعلق معتزلہ کے تصور حسن و قبح کے ساتھ بھی ہے جس کے تحت وہ خدا کی بارگاہ میں "مسئلہ شر" (problem of evil) کو حل کرنا چاہتے تھے لیکن اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ جو قدرت اپنے اثر کی ایجاد و خلق پر مؤثر ہوتی ہے اس کا اثر سے مقدم ہونا لازم ہے اور چونکہ معتزلہ بندے کے لئے ایجاد افعال کے قائل تھے اس لئے ان کا کہنا تھا کہ قدرت قبل از فعل لازم ہے تاکہ وہ فعل کی ایجاد و عدم دونوں پر مؤثر ہو۔ چنانچہ اصطلاحی زبان میں ان کے نظرئیے کا خلاصہ یہ ہے:
الف) بندے کی قدرت قبل از فعل ہے
ب) ارادہ کرنا اور قلبی فعل بندے کی جانب سے ہے
ج) فعل بمعنی حاصل بالمصدر کی نسبت بندے کی جانب ہے
د) افعال متولدۃ کی نسبت پر ان کا اختلاف ہے
معتزلہ کی بحث میں ایک پیچیدگی داعیے کی بحث سے پیدا ہوتی ہے جو انسانی ارادے کی توجیہہ سے متعلق ہے۔ انسان دو امور میں سے کسی ایک جانب ترجیح جس وجہ سے قائم کرپاتا ہے اسے داعیہ یا غرض کہتے ہیں۔ تمام داعیات بالاخر جلب منفعت (pursuit of benefit or pleasure) و دفع مضرت (avoidance of pain) سے عبارت ہیں۔ یعنی انسان آخر کار اس شے کا ارادہ کرتا ہے جس میں لذت و سرور ہو یا زیادہ ہو اور یا جس میں اذیت و ضرر نہ ہو یا کم ہو۔ جونہی انسان کے پاس یہ علم آجائے کہ فلاں فعل ضرر رساں ہے تو وہ اس سے دور رہنے کا فیصلہ کرتا ہے اور جب یہ علم و یقین آجائے کہ فلاں چیز میں اس کا فائدہ ہے تو وہ اس کی جانب لپکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ داعیہ بندے کا ارادی طور پر پیدا کردہ نہیں ہوتا، اگر ایسا کہا جائے تو اس سے دور (یعنی دلیل کا سرکلر ہونا) لازم آئے گا کیونکہ اس کا مطلب یہ کہنا ہے کہ ارادے کی علت داعیہ ہے اور داعیے کی علت ارادہ ہے! پس اس داعیے کا خالق بندہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس کی علت اس سے خارج ہوگی اور چونکہ تسلسل علل محال ہے لہذا ماننا ہوگا کہ اس حادث داعیے کی علت یا محدث ذات باری کا ارادہ ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوا کہ کیا داعیے کے آجانے کے بعد ارادہ یعنی ترجیح قائم ہو جانا لازم ہے یا نہیں نیز اگر داعیے کی علت انسانی ارادے سے خارج ہے تو جبر سے کیسے بچا جائے؟ چنانچہ معتزلہ میں سے بعض نے کہا کہ داعیے کے آنے کے بعد بھی ارادہ قائم ہونا لازم نہیں بلکہ انسان کے پاس ترجیح قائم کرنے کا پھر بھی اختیار رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس جواب کے بعد داعیے اور ارادے کا باہمی تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور حادث ارادے کی توجیہہ نہیں ہوپاتی، اس سے چند دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں جن پر آگے بات کی جائے گی۔ بعض نے مان لیا کہ داعیے کے بعد ارادے کا قائم ہونا لازم ہے، البتہ اس کے بعد معاملہ جبر کی جانب جانکلتا ہے جس سے معتزلہ بچنا چاہتے تھے۔
امامیہ شیعہ حضرات کا موقف اس مسئلے میں وہی ہے جو معتزلہ کا موقف ہے۔ اس مسئلے پر ان کے ائمہ یہی موقف لکھتے ہیں کہ بندے کی قدرت محدثہ قبل از فعل ہوتی ہے نیز بندہ اپنی اس قدرت سے امور کے مابین ترجیح قائم کرتا ہے نیز وہ اپنے افعال (بمعنی حاصل بالمصدر) کا خالق بھی ہے لیکن یہ سب خدا کی قدرت کے ماتحت ہی ہوتا ہے، اسی طرح وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا ازل سے بندے کے افعال کو جاننے والا ہے جس سے جبر لازم نہیں آتا۔ اس مذہب کو وہ ائمہ اہل بیت سے منسوب "امر بین الامرین" کہتے ہیں۔ اس مسئلے میں ان کی کتب میں درج دلائل بھی وہی ہیں جو معتزلہ کے دلائل تھے کہ مثلاً اگر خدا کو بندے کے افعال کا خالق کہا جائے تو بندے کے برے افعال خلق کرنے کی بنا پر خدا کا شریر ہونا لازم آئے گا۔

ماتریدیہ کا نظریہ

معتزلہ کے نظرئیے سے یہ لازم آتا ہے کہ عدم سے وجود دینا یا خلق کرنا صرف خدا کا فعل نہیں بلکہ بندے بھی اپنے افعال کے خالق ہوتے ہیں۔ اس بنا پر معتزلہ کا ماڈل خلق مستمر کی مکمل تصویر کشی نہیں کرتا کیونکہ یہاں انسانی قدرت بیٹری کی صلاحیت کی طرح بندے میں گویا انسٹال ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ماتریدیہ کے نظرئیے میں انسان جس قدرت سے فعل سر انجام دیتا ہے (جسے "قدرت محدثہ" کہتے ہیں) وہ قدرت لمحہ بہ لمحہ ہر لمحے (spontaneously or instantaneously) بندے میں از سر نو فعل کے ساتھ خلق کی جاتی ہے۔ جیسا کہ آگے واضح ہوگا کہ یہ قدرت دراصل دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ جو حدوث فعل سے قبل (اور کم از کم ایک فعل پر مؤثر) ہوتی ہے اور دوسری وہ جو فعل کے ساتھ ہوتی ہے جس سے فعل کسب ہوتاہے۔ اصطلاحی زبان میں اس دوسری قدرت کو "قدرت مع الفعل" کہتے ہیں۔ ماتریدیہ کے نزدیک بندے کی قدرت کی دو خصوصیات ہیں:
1) یہ ایک معین فعل سے متعلق ہوتی ہے جسے کسی دوسرے فعل میں صرف نہیں کیا جا سکتا، یعنی جو قدرت کھانا کھانے کے لئے عطا کی جاتی ہے وہ مثلاً پانی پینے یا دوڑنے میں صرف نہیں ہو سکتی اس لئے کہ کسی خاص لمحے میں ادا کئے جا سکنے والے معین فعل کے لئے اس کے ساتھ ہی ایک معین قدرت حادث ہوتی ہے،
2) یہ قدرت کسی معین فعل کی دو اضداد (opposite nodes) سے متعلق ہوتی ہے، یعنی "کرو یا نہ کرو"۔ مثلاً کسی خاص لمحے میں عطا کردہ قدرت "کھانا کھانے یا نہ کھانے" دونوں سے متعلق ہوتی ہے۔ بندہ اس قدرت سے کسی ایک جانب ترجیح قائم کرتا یا اس کا ارادہ کرتا ہے (مثلا "میں کھانا کھاؤں")۔
چونکہ ذات باری نے بندوں کو آزمائش میں ڈالا ہے، لہذا بندے کا ارادہ کرتے ہی اللہ بھی اس کے ارادے کی موافقت کرتا ہے اور نتیجتاً بندے کے ارادہ کرنے کے بعد جو افعال صادر ہوتے ہیں (جنہیں حاصل بالمصدر کہا گیا جیسے ہاتھ و منہ کی حرکت)، وہ افعال خدا اس کے ارادے (یعنی ترجیح قائم کرنے) کے ساتھ خلق کر دیتا ہے جس سے بندے کا ارادہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ یوں ماتریدیہ کے ہاں افعال عباد (بمعنی حاصل بالمصدر) کے ایجاد کی براہ راست نسبت خدا کی جانب رہتی ہے۔ تاہم ان افعال کے ساتھ ہی خدا بندے میں ایک ایسی قدرت پیدا کرتا ہے جن سے وہ افعال کا کسب کرنے والا (acquirer) کہلاتا ہے* جس کا مفہوم یہ ہے کہ کیونکہ اس نے قدرت سے اس شے کا ارادہ کیا تھا (یعنی اسے ترجیح دی تھی)، اس لئے خدا نے متعلقہ افعال پیدا کئے جنہیں بندے نے پا لیا۔ یوں اس بندے پر ان افعال کی ذمہ داری عائد ہو گئی اور یہی اس کے مختار ہونے کا مفہوم ہے کہ وہ اپنے ارادے کی بنا پر ان افعال کے وجود کا سبب بنا ہے۔ بندہ خدا کی جانب سے ان افعال کی ایجاد کا محل (locus) ہے مگر یہ افعال اس کے ارادے سے اس محل میں پیدا کئے جاتے ہیں، اس بنا پر بندہ ان افعال کو حاصل کرنے والا یعنی ان کا کاسب (acquiring agent) کہلاتا ہے جبکہ خدا ان افعال کا موجد (creating agent)۔ جس قدرت محدثہ سے بندہ یہ افعال کسب کرتا ہے چونکہ وہ فعل کی ایجاد نہیں بلکہ ایجاد شدہ افعال کے حصول یا کسب سے متعلق ہوتی ہے، اس لئے یہ قدرت ان افعال کے ساتھ (concurrent) ہوتی ہے نہ کہ ان سے قبل یا ان کا باعث (cause)۔ ماتریدیہ کے نزدیک افعال متولدۃ بھی خدا کی جانب سے براہ راست خلق کئے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بندے کی ذمہ داری ثابت ہونے کے لئے بندے کی جانب سے کسی فعل کا ارادہ کر لینے کی بات متحقق ہونا کافی ہے، اس کے لئے اسے افعال کا خالق ماننا بھی لازم نہیں کیونکہ اس کے ارادے کے بعد خدا کی جانب سے اس کے ارادے کے موافق افعال پیدا کرنے کی ذمہ داری بندے پر عائد ہو جاتی ہے۔ یوں معتزلہ کے ماڈل کے مقابلے میں ماتریدیہ کے ہاں بندے کے استقلال کا دائرہ سکڑ کر ایسی قلبی حرکت (یعنی ارادہ کرنے) تک محدود ہو جاتا ہے جس کے لئے ماقبل میسر قدرت بھی خدا کی جانب سے ہر لمحہ عطا ہوتی ہے نیز اس کی مابعد اثر پذیری بھی خدا کی موافقت کی محتاج رہتی ہے۔ ان امور کی بنا پر ماتریدیہ اس مسئلے میں یہ اصول قائم کرتے ہیں:
الف) قدرت مع الفعل ہوتی ہے
ب) بندے کے افعال (یعنی حاصل بالمصدر) کا خالق خدا ہے
ج) افعال متوالدۃ کا خالق خدا ہے
د) داعیات کا خالق خدا ہے
ھ) بندے کے ارادے کی نسبت بندے کی جانب ہے
و) بندہ افعال کسب کرنے والا ہے
ماتریدیہ کے نظرئیے میں اصل مشکل سوال اس قلبی حرکت کی نوعیت سے متعلق ہے۔ کیا یہ قلبی حرکت بذات خود ایک فعل ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کی بنا پر بندے کی ذمہ داری کا کیا مطلب ہوا؟ اور اگر یہ فعل ہے، تو ماننا ہوگا کہ کم از کم ایک فعل ایسا ہے، یعنی ارادہ محدثہ، جس کا خالق بندہ ہے۔ باالفاظ دیگر حادث بندے کے حادث ارادے کی علت گویا بندہ خود ہوتا ہے نہ کہ ذات باری کا ارادہ، اس لئے کہ ذات باری کا ارادہ یہاں بندے کے ارادے کی موافقت کرنے کا کردار ادا کرتا ہے نہ کہ اسے متعین کرنے کا۔ "کھانا کھانے یا نہ کھانے" میں ترجیح کا قیام بہرحال بندے کی جانب سے ہے۔
اس مشکل کا ایک حل علامہ صدر الشریعۃ محبوبی (م747ھ) نے یہ کہہ کر کرنے کی کوشش کی کہ فعل بمعنی مصدر کی نسبت بندے کی جانب ہوتی ہے جبکہ فعل بمعنی حاصل بالمصدر کی نسبت رب کی جانب۔ یعنی کھانا کھانے کے فعل میں ہاتھ پیر منہ وغیرہ کی حرکت کی نسبت تو رب کی جانب ہے کہ وہ ان کا خالق ہے لیکن کھانا کھانے کے مصدری معنی کی نسبت بندے کی جانب ہوتی ہے۔ علامہ صدر الشریعۃ بندے کو افعال کا خالق قرار دینے سے بچنے کے لئے کہتے ہیں کہ اعیان میں یا خارجی وجود حاصل بالمصدر کا ہوتا ہے، رہا فعل بمعنی مصدر تو اس کا کوئی خارجی وجود نہیں۔ یوں اس سے ثابت ہوا کہ جو شے خارج میں حادث ہو کر موجود ہوتی ہے (یعنی حاصل بالمصدر) اس کا خالق خدا ہی رہا، اور جس شے کی نسبت بندے کی جانب ہوئی (یعنی معنی مصدری) اس کا کوئی خارجی وجود نہیں لہذا بندے کی جانب کسی حادث کو خلق کرنے کی نسبت ثابت نہ ہوئی۔ تاہم یہ حل تکلف سے خالی نہیں کیونکہ حاصل بالمصدر کا حصول مصدری معنی ہی سے متحقق ہوتا ہے نیز حاصل بالمصدر کے بدون مصدری معنی کا تحقق بامعنی بات نہیں۔ اگر حاصل بالمصدر رب کی جانب سے ہے تو مصدر معنی کی نسبت بندے کی جانب ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یعنی جب ہاتھ بازو منہ وغیرہ کی حرکت کی نسبت خدا کی جانب ہے تو کھانا کھانے کی نسبت بندے کی جانب ہونے کا کیا مطلب بنا؟ ایسی بات یہ کہنے کے مترادف ہے کہ مصدر حاصل بالمصدر کے بغیر بھی متحقق ہو جاتا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ علامہ صدر الشریعۃ کے نظرئیے کی رو سے ماننا ہوگا کہ جس چیز کی نسبت بندے کی جانب ہے (یعنی فعل کا مصدری معنی)، وہ نہ موجود ہے اور نہ معدوم بلکہ اس کی حیثیت ان دونوں کے مابین ایک واسطے (لاموجود و لا معدوم) کی ہے۔ اگر اسے معدوم کہا جائے تو معدوم کی بنا پر بندے کی تکلیف متحقق ہونے کا کوئی مطلب نہیں جبکہ اس کے موجود ہونے کی صدر الشریعۃ خود ہی نفی کرتے ہیں۔ اگر علامہ صدر الشریعۃ قلبی حرکت ہی کو فعل بمعنی مصدر قرار دیتے ہیں تو اس کے بعد سوال باقی رہا کہ کیا یہ قلبی حرکت فعل ہے یا نہیں؟
اس سوال کا دوسرا حل یہ مان لینا ہے کہ بندہ کم از کم ایک فعل کا خالق ہے، یعنی ارادہ کرنے کا قلبی فعل۔ ماتریدیہ میں یہ نتیجہ علامہ ابن الہمام (م861ھ) نے قبول کیا ہے اور اس لئے وہ خلق افعال عباد کے اصول میں اس ایک فعل کی تخصیص کرتے ہیں۔ اس تخصیص کے بعد ماتریدیہ کا نظریہ خلق افعال عباد کے معاملے میں معتزلہ کے نظرئیے سے کچھ قریب آجاتا ہے کیونکہ یہ اصول بہرحال مان لیا گیا کہ بندہ بھی کسی درجے میں خالق و محدث ہے، باالفاظ دیگر کوئی ایک ایسی قدرت محدثہ ہے جو قبل از فعل ہے۔ اگر بیٹری والی مثال کو یہاں منطبق کیا جائے تو معاملہ گویا یوں ہے کہ ایک بڑے چارج والی بیٹری کے بجائے بندے کے پاس چھوٹی سی بیٹری میسر ہے جس سے ایک فعل وہ از خود سر انجام دے سکتا ہے، ہاں ہر نئے فعل کے لئے اس بیٹری کا پھر سے چارج ہونا (یا نئی بیٹری آنا) لازم ہے۔ علامہ ابن الہمام اس تجزئیے میں اس تخصیص کی بات کرتے ہوئے ساتھ کہتے ہیں کہ اس قدرت محدثہ سے نیکی کا عزم یا ترجیح عام طور پر اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہوتی جبکہ شر کی ترجیح خود بندے کی اپنی جانب سے ہوتی ہے۔ بندے کو نیکی کی توفیق دینا اللہ پر واجب نہیں اور نہ ہی خذلان سے بچانا اس پر واجب ہے، اس لئے اس قدرت محدثہ کو استعمال کر کے شر کا ارادہ کرنا بندے کو ذمہ دار بنا دیتا ہے۔ تاہم علامہ ابن الہمام کے اس تجزئیے سے بہرحال یہ لازم آتا ہے کہ کم از کم ایک قدرت قبل از فعل ہوتی ہے جس سے بندہ شر کی ترجیح خود قائم کرتا ہے اور وہ اس کے قائل ہیں۔ یعنی ایک قدرت وہ ہے جس سے بندہ ترجیح قائم کرتا ہے جو قبل از فعل ہے، جبکہ دوسری قدرت وہ ہے جس سے بندہ اس ترجیح کے موافق اللہ کے ایجاد کردہ افعال کا کسب کرتا ہے اور یہ قدرت فعل کے ساتھ ہے۔ پہلی قدرت مؤثر (active) ٹھہرتی ہے اور دوسری انفعالی (passive) ۔اس قبل از فعل قدرت کو ماتریدیہ اصطلاحی زبان میں "سلامتی آلات و اسباب" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عادت ہے کہ وہ متعلقہ قدرت خاص اعضاء ہی میں پیدا کرتے ہیں، مثلاً دیکھنے کی قدرت آنکھ میں چکھنے کی زبان میں۔ اگرچہ ہم اس قدرت کا مشاہدہ نہیں کر سکتے جس سے بندہ ترجیح قائم کرتا ہے، تاہم عالم مشاہدہ میں ان اعضا کی سلامتی کو اس قدرت کا مظنۃ یا علامت (indicator) مانتے ہوئے کہا جائے گا کہ جس شخص کے یہ اعضاء سلامت ہوتے ہیں جن سے خاص افعال صادر ہورہے ہیں، اسے خدا نے وہ قدرت عطا کر دی تھی جس سے بندے نے ترجیح قائم کی اور نتیجتاً ان اعضاء سے متعلقہ افعال صادر ہوئے جن کا کسب کر کے وہ ذمہ دار ہے۔ اس بنا پر ماتریدیہ کہتے ہیں کہ سلامتی اسباب و اعضاء تکلیف کی شرط ہے۔ یاد رہے کہ ماتریدیہ عام طور پر اس نتیجے کو قبول نہیں کرتے کہ خلق افعال عباد کے اصول سے بندے کے اس ایک فعل کو فعل کہہ کر اس کی تخصیص ہو گی۔ تاہم بندے کی جانب خلق افعال عباد کی نفی کرتے ہوئے وہ بندے کی ذمہ داری ثابت کرنے کے لئے ارادہ محدثہ کی نسبت بہرحال بندے ہی کی جانب کرتے ہیں جو اپنی اثر پذیری (actualization) میں رب کی موافقت کا محتاج ہوتا ہے۔ علامہ ابن الہمام کی بات کی ایک توجیہہ یہ کی جا سکتی ہے کہ قلبی فعل کو "لاموجود و لا معدوم" کی قبیل میں رکھا جائے۔

اشاعرہ کا نظریہ

دلیل حدوث پر مبنی نظریہ خلق مستمر انسانی اعمال کی ڈومین میں اپنے تمام مضمرات کے ساتھ اشاعرہ کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ماتریدیہ کی طرح اشاعرہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جس قدرت سے بندہ فعل کسب کرتا ہے وہ ہر لمحے بندے میں از سر نو خلق کی جاتی ہے، بندے کے افعال بھی ذات باری کی مخلوق ہیں اور اسی طرح افعال متولدۃ۔ ان اعتبارات سے اشاعرہ کا نظریہ ماتریدیہ جیسا ہے اور یہ دونوں گروہ معتزلہ کے مقابلے میں بندے کے ارادے و فعل کی اثر پذیری (efficacy) کو ہر لمحے ذات باری کے اختیار کا پابند رکھتے ہیں۔ البتہ اشاعرہ کا نظریہ ایک اہم جہت سے ماتریدیہ سے مختلف ہے۔
اشاعرہ کا کہنا ہے کہ ہر لمحے عطا ہونے والی قدرت محدثہ نہ صرف یہ کہ ایک معین فعل ہی کے لئے ہوتی ہے (نہ کہ متبادل افعال کے لئے بھی، یعنی کھانا کھانے کی قدرت کھانے ہی کے لئے استعمال ہو سکتی ہے نہ کہ پانی پینے کے لئے) بلکہ وہ یک جہتی (single nodded) بھی ہوتی ہے۔ مثلاً کھانا کھانے کی قدرت دو اضداد (categorical opposites) کی جانب اوپن اینڈڈ نہیں ہوتی بلکہ صرف کھانے کے لئے ہوتی ہے۔ اس پر امام اشعری (م324ھ) کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے:
  • قدرت محدثہ فی الفور (instantaneously) فعل کے ساتھ خلق ہوتی ہے
  • یہاں دو امکان ہیں: یہ قدرت دو اطراف کے ساتھ یا تساوی کی نسبت رکھے گی اور یا کسی ایک جانب ترجیح کی
  • اگر یہ دونوں کے ساتھ عدم ترجیح یا تساوی کی ایسی نسبت رکھے ہو کہ کسی بھی ایک جانب کو بطریق بدل کیا جا سکے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قدرت بدون مقدور (without object of power) موجود ہے۔ ایسا اس لئے کہ جو قدرت مقدور کے دو جوانب بطریق تساوی متوجہ ہو گی وہ ان دونوں مقدورات میں سے ہر ایک کے وجود سے مقدم ہوگی اور نتیجتاً قدرت و مقدور میں گیپ ہوگا (یعنی جب قدرت ہوگی تو مقدور نہ ہوگا)۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب مقدور ہوگا تب قدرت نہ ہوگی اس لئے کہ حادث قدرت ہر لمحے زائل ہو جاتی ہے اور یوں وہ قدرت متعلقہ اثر کو توجیہہ نہیں بن سکتی۔ اس کا حل یا یہ ماننا ہے کہ دو امور کے مابین ترجیح بلا مرجح قائم ہو گئی جس کا باطل ہونا واضح ہے اور یا پھر یہ کہا جائے کہ قدرت کے ساتھ ایک اور شے مل کر ترجیح قائم کرنے کا باعث ہے لیکن پھر یہی سوال اس اضافی شے پر قائم ہوگا (کہ اس اضافی شے کی علت کیا ہے وغیرہ) اور یوں یہ سلسلہ لامتناہی چلے گا۔
  • اگر یہ قدرت کسی ایک جانب بطریق ترجیح قائم ہو تو یہ تب ممکن ہے جب قدرت و مقدور ایک ساتھ ہوں۔ اس صورت میں تین امکان ہیں: (الف) یہ قدرت دونوں اضدد کے ساتھ ایک ساتھ پائی جارہی ہے جبکہ یہ محال ہے، (ب) یا ایک جانب دوسری کے بعد ظاہر ہو مگر یہ بھی محال ہے کیونکہ قدرت محدثہ پہلی جانب سے متعلق ہونے کے بعد زائل ہوجاتی ہے، (ج) یا یہ کہا جائے کہ یہ قدرت کسی ایک ہی جانب کے لئے عطا کی جاتی ہے، امام اشعری اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ باالفاظ دیگر قدرت محدثہ نہ دو متبادل افعال کی ادائیگی کے لئے ہوتی ہے اور نہ ہی دو اضداد کے لئے، بلکہ یہ صرف یک جہتی ہوتی ہے۔ پس امام اشعری کے ہاں قدرت حادثہ کی کسی فعل کے حدوث یا اس کا سبب بننے میں تاثیر نہیں بلکہ وہ صرف اس کے ساتھ ہوتی ہے اور فعل کے حدوث سے قبل اس قدرت کا فعل سے تعلق نہیں۔
یہ بات اوپر گزری کہ ماتریدیہ کے ہاں بندہ خالق افعال نہیں بلکہ ان کا "کاسب" کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بندے نے جس فعل کا ارادہ کیا وہ اس ارادے کے موافق افعال (اور ان پر مرتب ہونے والے ثواب و گناہ) کا کسب کرتا ہے۔ لیکن اشعری نکتہ نگاہ سے کسب کا مطلب بندے کا خدا کی جانب سے قدرت اور افعال پیدا کئے جانے کا بس محل (locus) بن جانا ہے، اس لئے کہ ان کے ہاں نہ حادث قدرت دو جانب معلق ہوتی ہے اور نہ بندہ دو میں سے ایک جانب ترجیح قائم کرتا ہے۔ یوں بندہ ذات باری کے افعال کے لئے ایک محل قرار پاتا ہے۔ اگر بیٹری والی مثال کو یہاں لاگو کیا جائے تو بات یوں ہے کہ انسان کے پاس نہ معتزلہ کے نظرئیے والی زیادہ چارج کی بڑی و مستقل نما بیٹری ہے اور نہ ہی ماتریدیہ کے نظرئیے میں پیوست مسلسل چارج ہوتے رہنے والی چھوٹی بیٹری جس کے کرنٹ کو بندہ امور میں ترجیح قائم کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے بلکہ یہاں معاملہ گویا یوں ہے کہ بندہ ایک ایسی تار کی مانند ہے جس سے مسلسل کرنٹ کے نئے (یا حادث) یونٹس گزر رہے ہیں (یعنی وہ کرنٹ کی ایسی گزرگاہ ہے جس میں کسی بھی لمحے کرنٹ اس طرح محفوظ نہیں ہوتا کہ وہ اسے متبادل طریقے سے استعمال کر سکے)۔ بندے میں ایک خاص لمحے میں حادث ہونے والی قدرت کا خالق بھی خدا ہے، اور وہی خدا عادتاً اس کے ساتھ بندے میں اس قدرت حادثہ کے احساس کے موافق افعال (بمعنی حاصل بالمصدر) اور متعلقہ افعال متولدۃ پیدا کرتا ہے۔ یوں یہ معاملہ پوری طرح خدا کے ارادہ و اختیار کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک بندے کا قدرت حادثہ اور حدوث افعال کا محل بن جانا اس کی ذمہ داری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ اس سے بندے میں یہ احساس قائم ہو جاتا ہے کہ "یہ فعل میں کر رہا ہوں"۔ گویا ماتریدیہ کے برخلاف اشاعرہ کے نزدیک انسان کی ذمہ داری کی بنیاد اس تصور و احساس سے بھی کم ہے جس کی طرف ماتریدیہ معتزلہ کے جواب میں گئے۔
اشاعرہ کے نظرئیے پر اصل مشکل سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ یہاں انسانی اختیار اور کسب کس جہت سے بامعنی (یعنی اس کی تکلیف کا باعث) ہوا جبکہ بندہ ترجیح قائم کرنے والا بھی نہیں؟ اس سوال کو ائمہ اشاعرہ نے مختلف انداز سے حل کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً اس معاملے میں امام جوینی (م478ھ) کا نظریہ یہ ہے کہ بندے کی قدرت کسی معنی میں افعال عباد پر مؤثر ہے، البتہ اشاعرہ ان کی بات قبول نہیں کرتے۔ قاضی باقلانی (م403ھ) کہتے ہیں کہ فعل کی تخلیق و ایجاد پر تو بندہ قادر نہیں ہوتا تاہم فعل کے ساتھ طاعت و معصیت کے اوصاف کی نسبت بندے کی جانب ہوتی ہے۔ یعنی مثلاً ہاتھ کی حرکت کبھی طاعت کہلاتی ہے اور کبھی نافرمانی حالانکہ یہ دونوں معاملے حرکت ہونے میں یکساں ہیں۔ تو ان میں جو مشترک ہے، یعنی حرکت ہونا، اس کی موجد ذات باری ہے لیکن اس فعل سے متعلق طاعت و معصیت کے یہ اوصاف بندے کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ گویا کسی خاص فعل کا حرکت ہونا خدا کی جانب سے ہے جبکہ اس کا مثلاً بدکاری ہونا یہ بندے کی طرف سے ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ بندے کی جانب اس وصف کی نسبت کا معنی کیا ہے؟ یعنی کیا اس کی بنیاد یہ ہے کہ بندے نے اس کا ارادہ کیا تھا یا یہ ہے کہ بندہ بس اس کا محل بنا ہے؟ بہرحال اشاعرہ نے اس توجیہہ کو بھی نہیں لیا۔ استاد ابو اسحاق اسفرائینی (م418ھ) نے کہا کہ بندے کے افعال دو قدرتوں کے مجموعے کا نتیجہ ہیں، ایک قدرت ذات باری کی اور دوسری بندے کی حادث قدرت (اسے "مجموع القدرتین" کا نظریہ کہتے ہیں)۔ یعنی بندے کی قدرت از خود غیر مؤثر نہیں لیکن خدا کی قدرت کی اعانت کے ساتھ وہ مؤثر ہو جاتی ہے۔ اس نظرئیے کے مطابق بندے کے افعال کی نسبت ان دونوں قدرتوں کی جانب کیا جانا درست ہے، البتہ یہ بھی محل نظر تعبیر ہے (ان کے دلائل امام رازی (م606ھ) و علامہ آمدی (م631ھ) کی کتب میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں، یہاں تفصیل کا موقع نہیں)۔ امام غزالی (م505ھ) بھی کسی حد تک اس رائے کی جانب رجحان رکھتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایک طرف وہ بندے کی قدرت کو "نہ ہونے جیسا" کہتے ہوئے دوسری طرف تجزئیے میں داعیے کی بالادستی کا عنصر بھی شامل کرتے ہیں، یعنی دو جانب بطریق تساوی معلق حادث قدرت کا کسی ایک جانب رجحان داعیے کا رہین منت ہوتا ہے جو خدا کی مخلوق یا فعل ہوتا ہے اور جس کے پیدا ہونے کے ساتھ ایک جانب رجحان قائم ہو جاتا ہے۔ داعیے کے عمل دخل کی بنا پر امام غزالی کہتے ہیں کہ انسانی اختیار دراصل ایک خاص قسم کے ارادے کا نام ہے جہاں داعیے کی وجہ سے علم آجانے کے بعد امور میں ترجیح قائم ہو جاتی ہے۔ باالفاظ دیگر انسانی اختیار علم و قدرت کے خاص تعلق کا نام ہے اور اس معنی میں انسان "اختیار پر مجبور" ہے، یہاں جبر یہ ہے کہ انسان کے ارادے سے خارج ایک فاعل نے اسے حدوث افعال کے لئے محل بنایا ہے اور اس کا اختیار یا کسب یہ ہے کہ وہ ان افعال کا محل ہے جس کا اسے شعور ہے۔ امام رازی کے ہاں یہی بات مزید صراحت سے ملتی ہے کہ قدرت حادثہ کے کسی ایک جانب رجحان کی علت داعیہ ہے اور داعیے کی علت ارادہ باری تعالی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اشعری کے ہاں جو معاملہ ابتدا ہی سے "یک جہتی قدرت" کی صورت عطا کا تھا کہ ان کے نظرئیے میں داعئے کا عمل دخل نہیں، امام غزالی و رازی کی توجیہہ میں قدرت ابتداءً دو اضداد سے متعلق ہوتی ہے لیکن پھر داعیہ آکر اسے ایک طرف یعنی ارادے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس توجیہہ کے بعد انسانی اختیار کی حقیقت ایک بلیک بکس (black box) نما شے بن کے رہ جاتی ہے۔ اس مسئلے پر اشاعرہ کے اصول کا خلاصہ یوں ہیں:
الف) قدرت مع الفعل ہوتی ہے
ب) بندے کے افعال کا خالق خدا ہے
ج) افعال متوالدۃ کا خالق خدا ہے
د) داعیات کا خالق خدا ہے
ھ) ترجیح متعین کرنے والا خدا ہے
و) بندہ افعال کسب کرنے والا ہے

اشاعرہ پر جبریت پسندی کا الزام

اشاعرہ کے ٹھیٹ معتزلی و ماتریدی مخالفین انہیں جبریہ جیسا عقیدہ رکھنے کا الزام دیتے ہیں کہ اس کے بعد انسانی فعل گویا کسی پتھر کے لڑھکنے یا اضطراری فعل سے مختلف نہ رہا۔ اس الزام کا جواب متاخرین اشاعرہ چند طرح دیتے ہیں جس کا خلاصہ یوں ہے:
1) یہ دکھانا کہ مخالفین دلیل حدوث کا لحاظ نہ کر کے داخلی غیر ہم آہنگی کا شکار ہیں اس لئے کہ مخالفین کے نظرئیے کی رو سے ذات باری کے اثبات کی یہ دلیل ٹوٹ جاتی ہے۔ اشاعرہ کے مطابق معتزلہ کی جانب سے "خلق افعال عباد" کو بندے کی جانب منسوب کرنا ہو یا ماتریدیہ کی جانب سے "ارادہ محدثہ" کو بندے کا فعل کہنا، ہر ایک صورت میں دلیل حدوث کا یہ پہلا مقدمہ جاتا رہتا ہے کہ ہر حادث کے لئے محدث ہے کیونکہ ان کے نظرئیے سے یہ ماننا لازم آتا ہے کہ بعض حوادث کی کوئی علت نہیں۔ ایسا اس لئے کہ بندے کا ارادہ از خود حادث ہے۔ تو یہاں معاملہ یوں ہے کہ جو بندے کی جو حادث قدرت فعل و ترک فعل دونوں جانب مساوی ہو وہ کسی ایک جانب رجحان کے لئے یا کسی علت کی محتاج ہوگی اور یا نہیں ہوگی۔ اگر محتاج نہ ہو تو مطلب یہ ہوا کہ بعض حوادث بدون محدث ہو رہے ہیں۔ اور اگر علت کی محتاج ہو تو وہ علت یا بندہ ہوگا یا اس کا غیر۔ اگر وہ علت بندے کا کوئی فعل ہو تو وہ حادث ہوگا اور یوں پہلی صورت لوٹ آئی کہ اس کی بھی علت ہوگی۔ اشاعرہ کے مطابق دلیل حدوث اور اس پر مبنی عموم قدرت کے اصول کے تقاضوں کی دو ٹوک تصدیق کرنا بندے کی ذمہ داری ثابت کرنے کے لئے اختیار کردہ ایسے پیرایوں کی تصدیق سے زیادہ اہم دینی مقدمہ ہے۔ اسی طرح خلق مستمر کے نظرئیے میں اشاعرہ یہ بھی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حادث قدرت کا مقدور سے قبل ہونا محال ہے جس کے دلائل کتب کلام میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔
2) یہ دکھانا کہ مخالفین کے نظرئیے سے بھی جبر کا انکار نہیں ہو پاتا۔ مثلاً قدیم علم باری (کہ ذات باری ازل سے سب جانتی ہے) کی جہت سے بھی بندے پر جبر لازم آتا ہے۔ اس کا جواب عام طور پر یہ دیا جاتا ہے کہ علم ہونے سے جبر لازم نہیں آتا کیونکہ علم معلوم کے تابع ہوتا ہے، تاہم بندے کا اختیار ثابت کرنے والوں کا یہ جواب محل نظر ہے۔ نیز حادث ارادے کی علت دراصل داعیہ ہوتا ہے اور داعیے کے پیدا ہوتے ہی ارادہ قائم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قدرت حادثہ کسی ایک جانب یا تو کسی اصول یا داعیے کی وجہ سے راجح ہوگی اور یا بدون داعیہ۔ اگر قدرت و داعیہ مل جانے کے بعد ترجیح قائم ہونا لازم ہو تو اس سے جبر لازم آیا اس لئے کہ ترجیح کے قیام کا اصول خود ارادے سے ماقبل و خارج ہے، اور اگر قدرت و داعیے کے ملاپ کے باوجود بھی ایک جانب ترجیح قائم نہ ہو بلکہ کبھی اس کے بعد فعل ہو اور کبھی نہ ہو تو مطلب یہ ہوا کہ یہ ترجیح بدون کسی اصول و داعیہ یونہی اتفاقی یا حادثاتی طور پر الل ٹپ (randomly) کسی جانب ہو جاتی ہے اور اس سے بھی جبر لازم آیا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بندے کے پاس ترجیحات کے قیام کا اختیاری کنٹرول نہیں۔ الغرض ہر دو صورت میں جبر لازم آیا۔
3) بندے کو افعال کا خالق ماننے کی بنا پر اشاعرہ اپنے مخالفین کو قدریہ جیسا عقیدہ رکھنے کا الزام دیتے ہیں۔ اگر قائلین اختیار کا یہ کہنا ہے کہ بندے کی قائم کردہ حادث ترجیح کی علت بایں معنی بندہ خود ہے کہ بندے میں ایسی صلاحیت ہے کہ وہ خود ترجیح قائم کر لیتا ہے تو یہ بندے کو قیام ترجیح کے معاملے میں مستقل مانتے ہوئے محدث کہنا ہے جو عموم قدرت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ ذات باری کے سوا کوئی محدث نہیں۔ لہذا انسانی قدرت کی ایسی تعبیر کرنا درست نہیں جو اس قطعی اصول کے خلاف ہو۔ بندے کا حقیقی یا جنیون اختیار ماننے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ خدا بندے کے حادث ارادے کا علم نہیں رکھتا یہاں تک کہ بندہ وہ ارادہ کرے (یعنی بندہ دو امور کے مابین ترجیح قائم کرے)، اس لئے کہ وہ ارادہ خدا کی مخلوق نہیں ہوتا بلکہ بندے کی مخلوق ہوتا ہے، اور بندہ کسی لمحے کیا ارادہ کرے گا یہ بندہ ایک خاص حادث لمحے پر طے کرتا ہے اور اس خاص لمحے پر خدا کا ارادہ بندے پر مؤثر نہیں ہوتا، لہذا بندہ اس خاص لمحے پر کیا کرے گا اسے جاننے کی بنیاد موجود نہیں (اس پر اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ خدا بندے کے ارادے کی تعیین کے اصول و داعیات کو جانتا ہے اس لئے وہ بندے کے ارادے کو ازل سے جانتا ہے تو اس سے اختیار کی نفی ہو گئی کہ ارادے کی تعیین ارادے سے خارج ہو گئی)۔ ابتدائی صدیوں میں قدریہ گروہ والوں میں سے بعض کا یہی کہنا تھا کہ خدا کا علم بندے کے ارادے پر موقوف ہوتا ہے۔ بندے کے حقیقی اختیار کو مانتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشاعرہ کے مطابق بندے کے حقیقی اختیار کو ثابت کرنے والے نظریات خدا کے اختیار کو گویا بیک فوٹ پر کھڑا کرنے یا پھر اسے بندے کے ارادے کے تابع کرنے پر صاد ہیں۔
4) یہ دکھانا کہ یک جہتی قدرت سے صادر ہونے والے افعال کو نہ تو جمادات جیسی عدم قدرت پر محمول کرنا درست ہے (مثلاً ایسے انسانی فعل کو کسی پتھر کے لڑھکنے پر محمول نہیں کیا جا سکتا) اور نہ ہی ایسے اضطرار پر جہاں فاعل چاہے یا نہ چاہے اس سے فعل صادر ہوتا ہے، اس لئے کہ یہاں یک جہتی ہی سہی لیکن وجودی معنی میں بندے کی قدرت پائی جاتی ہے۔ اگر ایک انسان کو کسی ایسے تنگ کمرے میں بند کر دیا جائے جہاں اس کے پاس مثلا سیدھا کھڑے ہونے کے سوا کوئی آپشن نہ ہو تو قدرت اس حال میں بھی بہرحال موجود ہے کیونکہ بندہ پتھر نہیں بن گیا اور نہ ہی یہ رعشہ ذدہ انسان کے ہاتھ کی حرکت کی طرح اضطراری فعل ہے بلکہ اس کا یہ احساس قائم ہے کہ وہ یہ کر رہا ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک قدرت کا اس کم از کم حد تک اثبات و مفہوم بھی انسانی ذمہ داری کے لئے کافی ہے۔ اس ضمن میں وہ ان نظائر کو بھی پیش کرتے ہیں جہاں مثلاً سوتے ہوئے شخص سے صادر ہونے والے بعض افعال پر بھی شرعی احکام جاری ہوتے ہیں جس سے مقصود یہ کہنا ہے کہ جس قدرت کی مخالفین بات کرتے ہیں تکلیف کے لئے اس کا مدار ہونا ضروری نہیں۔ اگر اس پر تکلیف مالا یطاق کا الزام عائد کیا جائے تو یہ اشاعرہ کے خلاف موثر نہیں ہوسکتا کیونکہ اشاعرہ کے نزدیک شارع کا بندوں کو تکلیف مالا یطاق دینا بھی عقلاً جائز ہے نیز انسانی سطح پر جاری اخلاقی قضایا کو بنیاد بنا کر افعال باری پر کوئی اعتراض کرنا درست نہیں (عقل اسے جائز کہتی ہے کہ خدا سب انسانوں کو ہر قسم کے فعل کے باوجود جہنم میں ڈال دے اور اسے بھی جائز کہتی ہے کہ سب کو جنت دے)۔ جدید دور کے بعض مصفین نے یہ تاثر قائم کرانے کی کوشش کی ہے کہ امام غزالی و امام رازی جیسے اشاعرہ جبریہ نما اس عقیدے کے اس لئے قائل ہوئے کیونکہ وہ تکلیف مالا یطاق کو جائز سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے یہ اشاعرہ کے مقدمے کی غلط تکییف ہے کیونکہ ان کی اصل بنیاد دلیل حدوث اور "عموم قدرت و علم" کے اصول اور اس کے لوازمات ہیں، یہ پہلو ایک اضافی دفاعی دلیل ہے۔
5) مخالفین کے دلائل کا جواب دینا جو چند طرح کے ہیں:
الف) اشاعرہ کے مخالفین کی مضبوط ترین دلیل اس بدیہی انسانی احساس کو بنیاد بنانا ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے افعال کو اس معنی میں ارادی ہونا محسوس کرتا ہے جو معتزلہ و ماتریدیہ کی رائے ہے، مخالفین کے مطابق اشاعرہ جس انسانی ارادے کی بات کرتے ہیں وہ ایک وہم ہے ۔ مثلاً لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر آویزاں کسی خاص بٹن کا میرے ارادے کے مطابق انگلی کی جنبش سے پریس ہونے یا میری جانب سے اس پریس ہونے کا ارادہ کئے جانے کا احساس بدیہی ہے۔ اس دلیل پر امام رازی کا تبصرہ یہ ہے کہ ہم ان دو امور (یعنی انسان کے اس احساس اور کسی خاص بٹن کے پریس ہونے) کے وجودی اقتران (co-existence) کو مانتے ہیں لیکن اس اقتران سے ان کے مابین علیتی نسبت (causation) ثابت نہیں ہوتی بلکہ عقل کی رو سے یہ امکان موجود ہے کہ یہ دونوں ہی امور کسی خارجی علت کے اثر ہوں جو انہیں ایک ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ یعنی میں اپنے اندر قدرت تخلیق کئے جانے کی وجہ سے خاص طرح کی شے کی جانب اس رجحان کا احساس پاتا ہوں کہ "وہ ہو" اور ساتھ ہی اس شے کو پاتا ہوں۔ پس ہمارا احساس صرف اس چیز سے متعلق ہے کہ افعال ہمارے ارادے کے مطابق اور ان کے ساتھ ہو رہے ہیں لیکن یہ "اس کی وجہ سے" بھی ہو رہے ہیں یا "ان کے مابین ترجیح ہم قائم کر رہے ہیں" یہ احساس ایک اضافی دعوی ہے جس کی دلیل نہیں۔ ذات باری کے ہر چیز کے خالق ہونے کی قطعی دلیل اس اضافی احساس کو بدیہی حقیقت کہنے کی دلیل سے زیادہ مضبوط دلیل ہے۔
ب) مخالفین کی دوسری اہم دلیل یہ کہنا ہے کہ کسی فاعل کے اختیار کا معنی کچھ "کرنے یا نہ کرنے" کے مابین ترجیح قائم کرنے سے عبارت ہے۔ اگر یہ ترجیح کسی خارجی علت سے متعین ہو رہی ہے تو یہ اختیار نہ ہوا۔ امام رازی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ تمہاری اس بات کا مطلب اگر یہ ہے کہ حادث فاعل (یعنی انسان) کی جانب سے دو میں سے کسی ایک جانب قائم ہونے والی حادث ترجیح بلا علت و بلا مرجح ہے تو یہ بات ناقابل قبول ہے اس لئے کہ حادث کے لئے محدث ہونا لازم ہے۔ اور اگر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ یہ ترجیح متعدد داعیات کا نتیجہ ہے تو ہم اس بات کو مانتے ہیں لیکن اس سے مخالف کی دلیل ٹوٹ گئی کیونکہ اس نے مان لیا کہ ارادے کی علت ارادے سے خارج ہے۔
مسئلہ جبر و قدر میں اشاعرہ کی آخری بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک خدائی راز ہے جس کی حقیقت اس دنیا میں جان سکنا انسان کے بس میں نہیں کیونکہ یہاں امور (یعنی قدرت حادثہ کا پیدا ہونا، داعیے کا جنم لینا، اس کا ترجیح میں تبدیل ہونا، پھر اس کا انسانی افعال سے متعلق ہونا) یہ سب اس سرعت و پیچیدگی کے ساتھ صادر ہوتے ہیں کہ معاملے میں بندے کا کردار غموضگی کا شکار رہتا ہے۔ البتہ چونکہ دلیل حدوث اور خدا کی قدرت کے عموم کا اصول قطعی ہے لہذا اس کا اقرار کیا جائے گا، اور چونکہ شارع نے یہ بتا دیا ہے کہ بندے مکلف ہیں لہذا ہم شریعت پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ رہا بندے کی ذمہ داری کی بنیاد بننے والا یہ احساس کہ "یہ میں کر رہا ہوں"، امام غزالی کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہونے والی انسانی فاعلیت کی حقیقت کے راز سے پردہ کشائی شاید موت کے بعد ہو۔ امام رازی کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں اٹھنے والے مشکل سوالات کی حتمی گلو خلاصی اس بات کو قبول کرنا ہے کہ ذات باری فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ ہے، وہ جو چاہے کرے نیز لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ۔

اختتامی نکات

آخر میں چند نکات کے ساتھ تحریر کا خاتمہ کیا جاتا ہے:
1) مسئلہ جبر و قدر میں جو مشکل درپیش ہے اس کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ دو مستقل ارادوں کا تحقق محال ہے، ایک ہی اثر دو مستقل ارادوں یا علل کے تحت نہیں ہو سکتا۔ اگر ترجیح قائم کرنے والی دونوں علتیں مستقل (independent) ہوں تو مطلب یہ ہوا کہ دونوں ہی مستقل نہیں کیونکہ مستقل علت وہ ہوتی ہے جو الگ و آزادانہ حیثیت میں اثر پیدا کر سکے۔ دو علتیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کا مجموعہ مل کر ایک مستقل علت بنتا ہے، یوں یہ دونوں مستقل نہ ہوئیں۔ اگر دونوں میں سے ایک الگ حیثیت میں اثر پیدا کر سکتی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ دوسری علت غیر ضروری (redundant) ہے۔ اگر ایک علت دوسری کے ساتھ مل کر اثر پیدا کرتی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ پہلی چیز علت نہیں بلکہ علت یہ دوسری چیز ہے جس کے آنے سے اثر پیدا ہوا۔ الغرض دو مستقل علتوں کا تصور محال ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ارادہ دراصل علت کو کہتے ہیں، یعنی وہ عنصر جو ترجیح قائم کرتا ہے۔ پس ترجیح قائم کرنے والے دو مستقل اصولوں کا وجود محال ہے۔ اگر کہا جائے کہ خدا و بندے کے ارادے کا مجموعہ مل کر اثر یا نتیجہ پیدا کرتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ خدا کا ارادہ مستقل نہیں، اگر یہ کہا جائے کہ دونوں میں سے ایک ارادہ الگ حیثیت میں اثر پیدا کر سکتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ایک علت اضافی و غیر ضروری ہے، اگر کہا جائے کہ خدا و بندے میں سے ہر ایک کا ارادہ بطریق بدل یہ اثر پیدا کر سکتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ بندے کا ارادہ خدا کے ارادے کی طرح مستقل اور اس کا متبادل ہے، اور اگر کہا جائے کہ بندے کا ارادہ خدا کے ارادے کے ساتھ مل کر اثر پیدا کرتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ بندے کا ارادہ ترجیح قائم کرنے والا نہیں بلکہ اثر خدا کے ارادے سے ہوتا ہے۔ الغرض اس کائنات میں جاری ہونے والے حوادث کے لئے ایک ہی علت یا ارادہ مؤثر ہو سکتا ہے، یہ "توحید" کے لازمی تقاضوں میں سے ایک ہے (یعنی مؤثر و محدث ایک ہی ہو سکتا ہے)۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر مسئلہ جبر و قدر کا ایسا کوئی حل ممکن نہیں جو خدا اور بندے دونوں کے ارادوں کو مؤثر ثابت کر سکے، ان دونوں میں سے کسی ایک کے ارادے کو پیچھے دھکیلے بغیر چارہ نہیں۔ اس مشکل کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ جب بندے کے ارادے (یعنی اس کی جانب سے امور میں ترجیح کے قیام) کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو دلیل حدوث جاتی رہتی ہے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ کہنا ہے کہ کچھ حوادث کی کوئی علت نہیں اور یا پھر بندے کو مستقل ماننا لازم آتا ہے جس سے بھی دلیل حدوث باطل ہوجاتی ہے۔ اگر دلیل حدوث کو اس کے تمام لوازمات کے ساتھ مانا جائے (یعنی یہ بات کہ ہر چیز خدا کے ارادے سے ہوتی ہے) تو بندے کی جانب سے ترجیح قائم کرنے کا مفہوم دھندلا جاتا ہے۔ اسی لئے اس مسئلے کو خدائی راز کہا گیا۔
2) اس مشکل کی بنا پر اہل سنت کا کہنا ہے کہ شرعی لحاظ سے اصل مطلوب چیز شریعت کے بیان کردہ اس عقیدے کا اقرار ہے جس پر اہل سنت کا جبریہ و قدریہ کے برخلاف اجماع ہوا۔ جبریہ کا کہنا تھا کہ انسان اپنے افعال میں مجبور محض ہے اور اس بنا پر انہوں نے انسانی تکلیف کے تصور اور شریعت کو معطل قرار دیا کہ جبر ثابت ہونے کے بعد شرعی امور کی تکلیف لایعنی بات ہے۔ قدریہ نے جواباً کہا کہ بندہ مختار ہے اور جب اس پر یہ سوال قائم ہوا کہ اس کے بعد خدا کے عالم و قادر ہونے کا کیا مطلب ہوا کیونکہ بندہ جب تک ارادہ نہ کر لے خدا کو اس کا علم نہیں ہو سکتا، تو انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا کہ خدا کا علم انسان کے ارادے پر موقوف ہے نیز خدا چاہ کر بھی بندے کے ارادے کو بدل نہیں سکتا اور نہ ہی وہ بندے کے افعال کا خالق ہے۔ اس کے برعکس اہل سنت کا نصوص کی روشنی میں اجماع ہوا کہ اللہ عالم بھی ہے اور قادر مطلق بھی، وہی پوری کائنات سمیت بندوں کے افعال کا خالق ہے اور بندوں پر اس کے احکام کی تکلیف بھی ثابت ہے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ دونوں ان کا اقرار کرتے ہیں۔ رہ گئیں ان کے تجزیاتی طریقے سے لازم آنے والی مشکلات، تو محض ان لوازمات کی بنا پر کسی فریق کی تضلیل نہیں کی جائے گی۔ مثلاً اشاعرہ پر جبریہ جیسا عقیدہ رکھنے کا الزام عائد کرنے کے باوجود ماتریدیہ انہیں اہل سنت سے خارج نہیں سمجھتے اس لئے کہ ان کے نظرئیے میں جس بات کا لزوم نظر آتا ہے (یعنی بندے کی تکلیف اور شریعت کی تعطیل)، اشاعرہ اس کے قائل نہیں بلکہ وہ اسے اپنے نظرئیے کا لازمہ نہیں مانتے اور اس کا صراحتاً انکار کرتے ہوئے بندے کو مکلف کہتے ہیں۔ اسی طرح اشعری نکتہ نگاہ سے ماتریدیہ کا نظریہ خلق افعال عباد کی نسبت بندے کی جانب کرنے کو لازم ہے، لیکن ماتریدیہ اس لزوم کو قبول نہیں کرتے بلکہ وہ سب افعال کا خالق خدا کو کہتے ہیں۔ اس کے برعکس معتزلہ کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ بندے کے لئے خلق افعال عباد کے صراحتاً قائل ہوئے اور نتیجتاً وہ اہل سنت کے اجماع سے نکل گئے۔ پس اشاعرہ و ماتریدیہ کو جبریہ یا قدریہ کہنا درست نہیں اس لئے کہ جبریہ و قدریہ خاص نتائج کو قبول کرنے والی آراء کا نام ہے۔ اسی طرح معتزلہ کو بھی پوری طرح قدریہ کہنا درست نہیں۔ ہمارا یہ تاثر بھی ہے کہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مابین اختلاف وجودی یا حقیقت کے لحاظ سے نزاع لفظی ہو جہاں ہر گروہ الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ایک دوسرے پر غیر ہم آہنگی کا الزام عائد کر رہا ہو۔ تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
3) متکلمین مسئلہ جبر و قدر پر دلیل حدوث کے مجموعی فریم کے اندر رہتے ہوئے بحث کرتے ہیں کیونکہ وہ دیگر امور کا جواب بھی اس مجموعی و ہم آہنگ دلیل سے اخذ کرتے ہیں (یہ نہیں کہ ایک مسئلے کو ایک طرح حل کر لو اور دوسرے کو کوئی اور بات بنا کر، یہ غور کئے بغیر کہ دونوں کے پس پشت اصول میں کیا تعلق ہے)۔ اگر آج ان کی آراء کا کوئی ناقد صرف مسئلہ جبر و قدر پر الگ تھلگ ایک رائے بنا کر ان پر نقد کر لے یا مثلا کوئی نئی بات کہہ لے تو اہل کلام اس میں دلچسپی نہیں لیں گے یہاں تک کہ یہ دکھایا جائے کہ یہ نتیجہ دلیل حدوث میں کیسے فٹ آتا ہے۔ متکلمین الہیاتی مسائل پر الل ٹپ انداز سے گفتگو نہیں کرتے۔ پس ان کے ناقدین کو ان پر نقد کرنے سے پہلے ان کا نظام استدلال سیکھنا چاہئے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مثلاً ناقدین دلیل حدوث کے تناظر میں اشاعرہ کی پوری بات سمجھے بغیر ہی ان پر نقد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ایسی باتوں سے وہ میدان مار لیں گے۔ اشعری اس بحث کو مسئلہ جبر و قدر سے شروع نہیں کرے گا بلکہ وہ پہلے آپ سے دلیل حدوث کے پس منظر مقدمات کے بارے میں پوچھے گا کہ ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اس کے بعد وہ آپ سے کہے گا کہ اب ان امور کا خیال کرتے ہوئے ہم آہنگی کے ساتھ اس مسئلے پر بات کرو۔
4) اشاعرہ کے نظرئیے کا مطلب وہی ہے جسے امام غزالی اور صوفیا "لا فاعل الا اللہ" کہتے ہیں، یعنی یہ کہ بندہ اللہ کے افعال کا محل یا ان کی گزرگاہ ہے، وہ بھی ذات باری ہی کی مقرر کردہ گزرگاہ (امام صاحب درجات توحید میں "لا فاعل الا اللہ" کی حقیقت کے ادراک کو توحید کا تیسرا درجہ کہتے ہیں)۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ "لا فاعل الا اللہ" سے "لا وجود الا اللہ" چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ مسئلہ جبر و قدر میں خدا کے ارادے کے سامنے بندے کے ارادے پر اشاعرہ جس طرح حیرت کا شکار ہیں، صوفیا مسئلہ وجود میں بندے کے وجود پر اسی طرح حیرت کا شکار ہیں!
5) شیخ ابن عربی (م638ھ) کے اعیان ثابتہ کے نظرئیے سے مسئلہ جبر و قدر پر اس پہلو سے اضافی توجیہی روشنی پڑتی ہے کہ اعیان انفعالی استعدادات (passive potentials) ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ فاعل واحد اگرچہ ذات باری ہی ہے مگر اس دنیا میں ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کے وہ قابل و لائق ہے اور یہ بندے کے لئے اطمینان کا ایک پہلو ہے۔ لیکن جب یہ سوال پوچھا جائے کہ "میرا عین ثابتہ ویسا کیوں ہے جیسا کہ وہ ہے" تو اس کا جواب صرف یہ ہے کہ اعیان حقائق کی طرح ہیں جن پر کیوں کا سوال درست نہیں۔ یوں شیخ ابن عربی اشاعرہ کی بات کو اس طرح مزید مؤکد کر دیتے ہیں کہ جو خوش بخت ہے وہ ازل سے خوش بخت ہے اور جو بدبخت ہے وہ ازل سے بدبخت ہے، یہ فیصلے ہوچکے جنہیں لکھ کر قلم اٹھ چکے اور صحیفے سوکھ چکے! متکلمین اسے قضا و قدر کہتے ہیں۔ ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
اعلم ان الامۃ لو اجتمعت علی ان ینفعوک بشیء لم ینفعوک إلا بشیء قد کتبہ اللہ لک، ولو اجتمعوا علی ان یضروک بشیء لم یضروک إلا بشیء قد کتبہ اللہ علیک، رفعت الاقلام وجفت الصحف
مفہوم: (عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ایک روز رسول اللہﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: اے لڑکے، میں تمہیں چند حقائق بتاتا ہوں:) یہ بات جان لو کہ اگر سب لوگ جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائیں تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، (یہ سب امور لکھ کر) قلم اٹھائے جا چکے اور صحیفے خشک ہوچکے۔


*  کسب کالغوی مطلب کسی شے کو پانا یا طلب کرنا ہے جبکہ متکلمین کی اصطلاح میں اس کا مطلب انسان کا یہ احساس ہے کہ اس سے فعل صادر ہو رہا ہے۔

’’اقوالِ محمودؒ‘‘ سے ’’نکہتِ گُل‘‘

مولانا فضل الرحمٰن


بسم اللہ الرحمٰن الرحيم۔ الحمد للہ وكفیٰ والصلوٰۃ والسلام علیٰ عبادہ الذين اصطفیٰ اما بعد۔
میرے والد محترم شیخ الحدیث و التفسیر، مفتی اعظم، قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ اپنے عہد کے جامع الصفات والکمالات انسان تھے، وہ محاسن و کمالات کی جملہ خوبیوں سے مزین تھے۔ قدرت نے انہیں صورتاً‌ حسن وجاہت سے نوازا تھا تو سیرتاً‌ ان کو اخلاقِ حمیدہ سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ عظیم انسان پیدا ہوتے رہے اور پیدا ہوتے رہیں گے لیکن بعض شخصیات بارگاہِ ایزد تعالیٰ سے اپنے ساتھ ایسی خصوصیات و کمالات لے کر پیدا ہوتی ہیں جن کی تمام حیات مستعار انسانیت کی خدمت اور ان کی فلاح میں گزرتی ہے، وہ اپنے دلوں میں مخلوقِ خدا کا درد اور ملک و ملّت کی خدمت کا مخلصانہ جذبہ لے کر دنیا میں آتی ہیں اور اپنی سیرت و کردار کے ایسے نقوش ثبت کر جاتی ہیں جو رہروانِ منزل کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ قرآن و حدیث کے بہترین عالم، بے مثال مدرس، ملّی مفکر، عظیم سیاسی رہنما اور صحیح معنوں میں عالم باعمل تھے۔ قدرت نے ان کو فہم و فراست اور علم و فضل کے ساتھ قوتِ استدلال سے بھی خوب مالا مال فرمایا تھا۔ وہ دلائل کے دھنی تھے۔ وہ ہر بات کو مدلل انداز سے مثالوں کے ذریعے واضح فرماتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک تاریخ، ایک تحریک، ایک ادارہ اور ایک جماعت تھے، وہ جہدِ مسلسل پر یقین رکھتے تھے اور ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔ وہ عمل کے انسان تھے۔ وہ اپنے نصب العین کے لئے زندگی بھر لڑتے رہے، ان کا نصب العین اور زندگی کا مقصد متحد تھا۔ ان کے سامنے ہر دنیوی منصب، ذاتی مفاد اور مصلحت نے دم توڑ دیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے موقف کو سچا سمجھا اور اس پر ڈٹ جانے کو ترجیح دی اور اسی کے پیش نظر ایک صوبہ کی حکمرانی کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا۔ حکمرانوں نے آپ کو بڑے لالچ دیے مگر آپ نے اپنے کردار پر آنچ نہ آنے دی۔ 
برصغیر پاک و ہند کے عظیم خطیب، جدوجہدِ آزادی کے رہنما حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مجلس سے تشریف لے جانے کے بعد حاضرینِ مجلس سے سوالیہ انداز میں فرمایا تھا: ’’جانتے ہو یہ کون ہے؟‘‘ پھر یہی سوال دہرایا اور پھر ازخود فرمایا ’’تم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے، یہ عہدِ گزشتہ کے قافلہ کے ایک فرد تھے جو اِس دور میں آگئے ہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ایک سومنات فتح کرنے والا محمود (غزنوی) تھا اور ایک یہ محمود ہے، اس سے بھی اللہ تعالیٰ کسی سومنات کو فتح کرنے کا کام لے گا۔‘‘
ایک عہد نے دیکھا اور تاریخ اس کی گواہ ہے کہ شاہ جی کی وہ پیشین گوئی حرف بحرف اس وقت سچی ثابت ہوئی جب منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف ایک صدی سے جاری جدوجہد اس عظیم الشان انسان کے ہاتھوں تکمیل تک پہنچی۔ آپ کی کوششوں، رابطوں اور دلائل کے ذریعہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے فتنۂ قادیانیت کو ہمیشہ کے لئے بحیرہ عرب میں غرق کر دیا تھا اور قادیانیت کو ساری دُنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہنے دیا۔ یہ سعادتِ عظمیٰ قدرت نے آپ کو عطا فرمائی تھی اور آپ اس عمل کو حشر میں اللہ کے ہاں سرخروئی کا باعث قرار دیتے تھے۔ ایسے دیگر کئی مواقع پر جب بھی ملک و قوم نے ان کو پکارا انہوں نے ہمیشہ لبیک کہتے ہوئے اپنی خدمات وقف کر دیں اور ہر بار ملک کی تمام مذہبی اور سیاسی قیادت نے ان ہی کے سر پر متفقہ طور پر قیادت کا تاج رکھا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اسلامی فکر سے آشنا کیا، علماء کو وقار دیا، مدارس کو تحفظ فراہم کیا، جبکہ دینداروں کو دین کی صحیح سمجھ عطا کی ہے۔
والد محترم حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ نے ستر کی دہائی میں پاکستان میں سرمایا دارانہ نظام اور سوشلزم دونوں کی نفی کی اور انسان کے بنائے ہوئے ان دونوں معاشی نظاموں کو خلافِ اسلام ثابت کر کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے معاشی نظام کا مکمل خاکہ قوم کے سامنے پیش فرمایا۔ انہوں نے مزدوروں، کسانوں اور دیگر محنت کش طبقات کو یہ تسلی دی کہ تمہارے تمام معاشی مسائل و مشکلات کا حل اسلام کے معاشی نظام میں ہے۔ سرمایہ داروں کے ایجنٹوں نے معاشی لحاظ سے پسماندہ طبقات کو اسلام اور علماء کرام سے متنفر کرنے کی شعوری کوششیں کی تھیں۔ حضرت مفتی صاحب نے ان محنت کاروں کو ایک معاہدہ کی صورت میں قریب کیا، انہیں گلے لگایا اور اسلام کے معاشی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں ان کو شریک کیا اور اس طرح ایک حکمتِ عملی کے تحت ان کو سوشلزم کی جھولی میں گرنے سے بچایا۔
سامراج دشمنی ان کو اپنے اسلاف سے وراثت میں ملی تھی۔ بزرگوں کی اس وراثت کو انہوں نے آگے بڑھایا اور نوجوان نسل میں سامراج دشمنی کی ایسی روح پھونکی کہ سامراج کو اپنا کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی میں ناکام ہونا پڑا۔ 
بارگاہِ ایزد تعالیٰ سے جو دل و دماغ میں لے کر آئے تھے اس کی کئی جہات تھیں۔ وہ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بہترین مقرر اور شیخ الحدیث والتفسیر تھے۔ علمِ فقہ میں انہوں نے اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا اور وہ اس کے مزاج شناس بن گئے تھے۔ وہ شریعت و طریقت کے جامع اور ایک عظیم سیاسی رہنما تھے۔ اپنے عہد کے تمام علماء، زعماء اور سیاسی قائدین کی محفلوں میں نہ صرف انہیں ادب واحترام حاصل تھا بلکہ وہ محفل کی جان ہوتے تھے، سب کی نگاہیں ان ہی کی طرف اُٹھتی تھیں، انہوں نے قیادت و سیادت اس انداز کی کہ اس کی نظیر ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی مذہبی اور سیاسی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری اور نامکمل رہے گی۔ وہ ایک عہد ساز شخصیت تھے، وہ پاکستان میں واحد دینی اور سیاسی رہنما تھے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
متعدد مرتبہ بین الاقوامی سطح پر عالمِ اسلام کے علماء نے آپ کی علمیت، فراست اور بصیرت کا اعتراف کیا ہے۔ جدید شرعی مسائل پر آپ نے ہمیشہ اسلام کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔ جامعہ الازہر مصر کے زیر اہتمام مختلف اجلاسوں میں خصوصی طور پر آپ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی تھی جہاں دنیا بھر کے علماء شریک ہوتے تھے۔ ان سے جہاں تعارف کے مواقع ملتے تھے ایک دوسرے کے خیالات سے افادہ و استفادہ بھی کرتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب اس وقت کے اہم دینی و سیاسی مسائل کو اس پلیٹ فارم پر زیر غور لانے کے لئے متحرک رہتے تھے۔ آپ نے کئی دفعہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو وہاں زیربحث لانے کی کوششیں کی ہیں۔ 
آپ علمی و سیاسی لحاظ سے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ، حضرت شاہ ولی اللہؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ، حضرت سید اسماعیل شہیدؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ رحمہم اللہ سے متاثر تھے۔ ان کی فکری پرداخت میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا کفایت اللہؒ، حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ رحمہم اللہ کا وافر حصہ ہے، اور وہ بھی بجا طور پر اس پر فخر کیا کرتے تھے اور وہ حضرت شیخ الہندؒ کے مقدس مکتبِ فکر کے علمبردار تھے۔ انہوں نے دین و سیاست میں انہی کی قیادت کو قبول کیا تھا۔ اور یہی وہ فکر تھی جس نے تشکیلِ پاکستان کے بعد ان کو بے چین رکھا تھا۔ اسی فکر کو لے کر انہوں نے ملک کے کونے کونے کا دورہ کیا اور خلوت گاہوں، خانقاہوں اور درس گاہوں سے علماء و مشائخ کو میدانِ سیاست میں آنے پر آمادہ اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے نظم سے ایک منظم جدوجہد میں شریک کیا۔ انہوں نے علماء اور دین دار طبقے کے وقار کو اپنے روشن کردار سے دوچند کیا۔
حضرت مفتی صاحبؒ نے سرکار کی دستبرد سے بچانے کے لئے مساجد، مدارس اور دینی مراکز کے تحفظ کے لئے بھرپور جدوجہد کی۔ آپ نے جس جذبہ، تڑپ ، انہماک، بصیرت، فہم و فراست اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی اس کا اعتراف دینی حلقوں میں برملا کیا جاتا ہے۔ دینی لحاظ سے متعلقہ طبقات میں ان سے انس و محبت اور عقیدت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ان کا جنازہ اُٹھا، اس شان و شوکت سے روانہ ہوا جو اللہ کے مقبول بندوں کا خاصہ ہے کہ یہ اعزاز بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔ کراچی، ملتان، ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور عبدالخیل میں ہر مقام پر لاکھوں افراد نے ان کے جنازہ میں شرکت کی تھی، ایک جنازہ ملتان ایئرپورٹ پر بھی پڑھایا گیا تھا۔ 
والد محترم حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ نے اپنی سیرت و کردار اور دینی، مذہبی اور سیاسی جدوجہد کے لحاظ سے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن کو مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے بیانات و تقاریر اور انٹرویوز فکری و نظری اعتبار سے نوجوان نسل کے لئے نشانِ منزل ہیں، اس سے پڑھنے والوں کے لئے فکر کی کشادہ راہیں روشن ہوتی ہیں۔ ان کی فکر میں گہرائی بھی ہے اور ادبی چاشنی بھی پائی جاتی ہے، ان کے ہر قول میں ایک پیغام ہے کیونکہ وہ ایک طویل تجربہ کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ان کے اقوال سے ایک فکر، ایک نظریہ پروان چڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جن میں ان کے اعتقادات و خیالات کا تموج ہے اور جہاں پڑھنے والے کو روحانی لذت ملتی ہے وہاں ان میں غور و فکر کا تعمق اور عمل کی دعوت ہے۔ ان کے اقوال ان کے نظریات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان کے اقوال کو ان کے بیانات و تقاریر اور ان کے رسائل، اخبارات میں بکھرے ہوئے انٹرویوز سے جمع کیا گیا ہے۔ 
حضرت مفتی صاحب کی حیات میں ۱۹۷۴ء میں جناب اختر کاشمیری نے پاکٹ سائز میں شائع کرایا تھا جو مقبول خاص و عام ہو کر ہاتھوں ہاتھ نکل گئی۔ ۱۹۷۴ء کے بعد ۷ سال آپ حیات رہے اور یہ سات سال آپ کی جدوجہد کے بہت ہی تاریخی کارناموں سے بھر پور ہیں۔ ضرورت تو بہت پہلے سے تھی کہ ان میں اضافہ کیا جاتا مگر بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ 
بالآخر اس بیڑے کو جناب محمد فاروق قریشی نے اُٹھایا جنہوں نے مفتی محمود اکیڈیمی کے زیراہتمام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی حیات و خدمات سے متعلق متعدد کتب کو شائع کیا ہے۔ اکیڈیمی کے تحت مختلف سیمینارز کا اہتمام اور اس کی کارروائی کی تدوین و اشاعت کر کے حضرت مفتی صاحبؒ کے کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے زیراہتمام مفتی محمود اکیڈیمی نوجوان نسل کی فکری آبیاری کے لئے فعال کردار ادا کر رہی ہے ۔ ’’اقوالِ محمود‘‘ میں قابل قدر اضافہ اور عنوانات سے مرصع خوبصورت اشاعت سے انہوں نے قومی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی قبول فرمائے اور حضرت مفتی صاحبؒ کے اقوال ’’اقوالِ محمود‘‘ کو شرفِ قبولیت اور قبولیتِ عامہ عطا فرمائے۔ آمین
(’’نکہتِ گل‘‘ از ’’اقوالِ محمودؒ‘‘ ص ۱۱ تا ۱۶۔ اشاعت ستمبر ۲۰۱۵ء)

علما کیا خاموش ہو جائیں؟

خورشید احمد ندیم


مذہب پر بات کرتے ہوئے اب خوف آنے لگا ہے۔ کیا معلوم کب کوئی کسی جملے کو اپنے معنی پہنا کر توہین کا مرتکب قرار دے دے۔ یہ خوف اب اُن گھروں کو لوٹ رہا ہے جہاں سے یہ چلا تھا۔
ایک مفتی صاحب برسوں سے سوشل میڈیا پر اپنے فہم کے مطابق دین بیان کر رہے ہیں۔ دین کے مسلمات پر ان کا ایمان ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ ضروریاتِ دین میں سے وہ کسی ایک کا بھی انکار نہیں کرتے کہ ان کے اسلام پر سوال اٹھایا جائے۔ ایک عصبیت بھی ان کی پشت پر کھڑی ہے۔ اس کے باوصف وہ آج توہینِ مذہب کے مرتکب قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر وہ اس الزام سے محفوظ نہیں تو کون ہے، اس الزام سے جس کی حفاظت کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟
پاکستان میں الزام کا مطلب الزام نہیں ہوتا، الزام خود ایک ثبوت ہے۔ گلی بازار میں جو عدالتیں لگتی ہیں، وہ اسی 'ثبوت، کی بنیاد پر فیصلہ سناتیں اور اسی 'عدالت، کے 'منصف، اپنا یہ فیصلہ اپنے ہاتھوں سے نافذ کر دیتے ہیں۔ چونکہ الزام ہی ثبوت ہے اس لیے برأت کا تو کوئی امکان نہیں۔ اس سے بچنے کی ایک ہی صورت باقی ہے۔ وہ یہ کہ مذہب پر بات کرنے ہی سے گریز کیا جائے۔
مفتی صاحب نے اپنے کہے پر معافی مانگ لی ہے لیکن اُس عدالت کی طرف سے ان کی معافی کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے جس عدالت کا ابھی ذکر ہوا۔ سوشل میڈیا پر بہت سے جانے پہچانے چہرے انہیں قابلِ گردن زدنی قرار دے رہے ہیں۔ مفتی صاحب اب کسی عوامی جگہ پر جانے کے قابل نہیں رہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ہجوم میں سے کوئی کیا کر گزرے۔ اب اس صورتحال کا سامنا کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ ان کو بھی جو اس وقت مفتی صاحب کے تعاقب میں ہیں۔ اس میں مسلکی تعصب صاف جھلک رہا ہے۔ تو کیا ان علما اور مفتی صاحبان کو یہ مشورہ دیا جائے کہ جان کی امان چاہتے ہیں تو مذہب پر بات کرنے سے گریز کریں؟
کسی مفتی، کسی عالم یا کسی سکالر کو یہ مشورہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی نہ رہے جو لوگوں کو دین بتائے۔ دین ایک نجی معاملہ بن جائے۔ کوئی کسی عالم سے سوال پوچھے اور وہ جواب دینے سے گریز کرے کہ کیا معلوم کوئی اس سے کیا مفہوم کشید کرے۔ ہر طرف ہیجان اور جنون کا غلبہ ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ سب ہی اس جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔ جو ہدف ہیں وہ بھی اس رویے کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے لیے آمادہ نہیں۔ انہیں اپنے ہم مسلک کو بچانا ہے اور بس۔ وہ یہ نہیں جان سکے کہ مسئلہ مسلک کے دفاع کا نہیں، اس رویے اور تفہیمِ دین کا ہے جو آج خوف کی علامت بن چکے۔
اہلِ مذہب کا ایک دوسرے کو گستاخ اور توہین کا مرتکب قرار دینے کا چلن نیا نہیں ہے۔ پہلے کی بات مگر اور تھی۔ ایک تو یہ الزام کسی مضمون یا کتاب کی صورت میں سامنے آتے تھے۔ یہ تحریر ایک مخصوص طبقے تک محدود رہتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ لوگ کسی جلسے میں بیان کر دیتے تھے۔ فتویٰ لگا دیا جاتا تھا اور بات اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ اب معاملہ یہ نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر بات اس طرح پھیلتی ہے جس طرح جنگل میں آگ۔ معاشرتی ہیجان کے باعث لوگ ردِ عمل کے لیے اب کسی فتوے کا بھی انتظار نہیں کرتے۔
عوام کے جان و مال کی حفاظت، ریاست کی بنیادی ذمہ داری بلکہ اس کے وجود کا حقیقی جواز ہے۔ میں تکرار کے ساتھ یہ لکھ رہا ہوں کہ جب ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت نہ کر سکے تو اس کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔ میں سمجھ نہیں سکا کہ ریاست اس سارے معاملے سے اتنی لاتعلق کیوں ہے؟ مذہب کے نام پر لگائی گئی عوامی عدالتوں کے خاتمے کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ پارلیمان میں کوئی بحث کیوں نہیں ہو رہی؟ کوئی قانون کیوں نہیں بن رہا۔ عدالت از خود کوئی نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟
مذہب اور سیاست دو بڑی قوتیں ہیں۔ دونوں میں ہیجان کا غلبہ ہے۔ دونوں سماج کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان ہی دو عنوانات نے سماج کو بنایا بھی ہے اور بگاڑا بھی ہے۔ ان کو اگر درست رخ نہ دیا جائے تو سماج جنگل بن جاتا ہے۔ یہ کوئی کتابی بات نہیں۔ انسان کی ساری تاریخ اس کی گواہ ہے۔ یورپ میں اس وقت امن آیا جب اہلِ مذہب کو ریاست وسماج کے امور سے لا تعلق کر دیا گیا۔ مسلم تاریخ میں تہذیبی اور سیاسی ارتقا اس وقت ہوا جب مذہب و سیاست کو فطری انداز میں آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ یہ ہماری ترقی کا سنہری دور تھا۔ اُمویوں کے دور میں ایسا نہیں تھا۔ مذہب کے نام پر ایک ہیجان تھا جس نے مسلمانوں کو خانہ جنگی کے عذاب میں مبتلا کیے رکھا۔
دورِ حاضر میں اگر کوئی مسلم معاشرہ اس کا درست ادراک کر سکا ہے تو انڈونیشیا ہے۔ کسی حد تک ملائیشیا اور پھر ترکیہ۔ تیونس میں راشد غنوشی نے اس بات کو سمجھا مگر تاخیر کے ساتھ۔ اس کے اثرات سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ انڈونیشیا میں مذہب اخلاقی اور سماجی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہاں مذہب خیر کی ایک قوت ہے۔ اس کے علاوہ ہر جگہ مذہب ایک ہیجان کا نام ہے۔ کہیں سیاست کا حصہ بن کر، کہیں کسی اور عنوان سے۔
پاکستان ان معاشروں میں سرِ فہرست ہے۔ مجھے اس پر حیرت ہے کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ریاست اس معاملے میں مکمل خاموش ہے۔ اس کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے کہ وہ مذہب کے سوئے استعمال کو روکنے کے بارے میں سنجیدہ ہے جس نے لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سنجیدگی تو دور کی بات، اس کا ادراک کہیں موجود نہیں۔ یہ حیرت کے ساتھ خطرے کی بات ہے۔ اب تو حکومتی اداروں کے اندر بھی یہ خوف سرایت کرتا جا رہا ہے۔ پولیس کے لوگ بھی جنونی ہو رہے ہیں اور عوام ان پر پھول پھینک رہے ہیں۔ چند سال پہلے جب اسی طرح پھول برسائے جا رہے تھے تو اس وقت بھی متنبہ کیا گیا تھا کہ یہ ہیرو سازی سماج کو ایک عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ کل کا یہ اندیشہ آج کی حقیقت ہے۔
اس سوال پر غور کرنا ہو گا کہ 'پیغامِ پاکستان، کیوں اپنے نتائج نہیں دکھا سکا؟ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں منعقد کی جانے والی مجالس کیوں سماجی تبدیلی لانے میں ناکام رہیں؟ ان سوالات کی مخاطَب ریاست ہے۔ چونکہ لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے، اس لیے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کا تدارک کرے۔ ان سوالات کے جواب علما کے پاس ہیں نہ کسی اور کے پاس۔ یہ جواب صرف ریاست ہی دے سکتی ہے۔
جب تک ریاست ان سوالوں کے جواب تلاش نہیں کرتی، میرا علما اور مفتی صاحبان کو مشورہ ہو گا کہ وہ دینی معاملات پر خاموشی اختیار کر لیں۔ وہ چپ کا روزہ رکھ لیں۔ کوئی پوچھے تو 'لا اَدری، (میں نہیں جانتا) کہہ کر اپنی جان بچائیں۔ جو مفتی صاحب اس وقت زیرِ عتاب ہیں، ان کی پشت پر ایک مسلکی عصبیت موجود ہے۔ اس کے باوجود ان کی جان خطرات میں گھر گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک دوسری مسلکی عصبیت اب ان کے درپے ہے۔ صرف عصبیت ہی نہیں بلکہ گروہی مفادات بھی، جو مسالک کے اندر تک سرایت کر چکے ہیں۔
یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ میرے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ ریاست اس کی سنگینی کا ادراک نہیں کر پا رہی۔ اس کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا صرف ریاست کے درپے ہے، درآں حالیکہ وہ سماج کو اپنی لپیٹ میں لے چکا۔ مذہب ایک سماجی قوت ہے اور اس کا سوئے استعمال آگ کا دریا بنتا جا رہا ہے۔
(روزنامہ دنیا، ۲۶ ستمبر ۲۰۲۴ء)

مدارس دینیہ میں تدریسِ فقہ: چند غور طلب پہلو

ڈاکٹر عبد الحی ابڑو


اسلامی علوم میں فقہِ اسلامی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ تمام اسلامی علوم کی جامع ہے۔ تفسیر، حدیث، تصوف، بلاغت اور لغت و ادب سمیت تمام علوم میں ایک خاص حد تک درک پیدا کیے بغیر فقہ کی جزئیات اور باریکیوں سے واقفیت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں خالصتاً مادی نقطۂ نظر سے بھی ایسا جامع، انسانی ضرورت سے ہم آہنگ، فطرتِ انسانی کا آئینہ دار، اور اپنے وقت کے ہی نہیں بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات کے حل کی صلاحیت سے مالامال نہیں جیسا کہ یہ نظامِ قانون ہے۔ موجودہ دور میں ایجادات کی کثرت، ذرائع مواصلات، برق رفتاری، سیاسی و اقتصادی نظام میں دور رس تبدیلی، اور عالمگیریت کی وجہ سے نت نئے فقہی قضایا اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن کے حل کے لیے ایسے علماء کی ضرورت ہے جو ایک طرف فقہی ذخیرے پر گہری نظر رکھتے ہوں اور دوسری طرف اپنے زمانے کی تبدیلیوں سے بھی آگاہ ہوں۔ ایسے افراد کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ فقہ و اصول فقہ کی تدریس کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
فقہ و اصولِ فقہ میں جو کتابیں ہمارے مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، یقیناً‌ بڑی اہم اور سلف کی بہترین کاوشوں کا نتیجہ ہیں؛ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان کتابوں کے درس کے بعد طلبہ میں یہ استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے احوال پر اس کو منطبق کر سکیں۔ کیا استحسان کی بحث پڑھنے والا طالب علم اس قابل ہو جاتا ہے کہ موجودہ دور کے ان مسائل کا ادراک کر سکے جو استحسان پر مبنی ہیں؟ بیوع کے مباحث پڑھنے والا طالب علم ڈیبٹ کارڈ، اے ٹی ایم، آن لائن ٹرانزیکشن جیسے پیش آمدہ مسائل کا حکم جان سکتا ہے؟ صرف و نحو کے اصولوں کو عبارت پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھنے والا طالب علمِ  فقہ کے مسائل میں ظاہریہ کا سا طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے قدیم فقہی جزئیات، جن میں سے بیشتر استقرا اور مصنف کے ذاتی یا معاشرتی مشاہدے و تجربے پر مبنی ہیں، کو حرفِ آخر سمجھتا ہے اور تمام فقہی اصولوں کو بھول جاتا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ فقہ کے نصاب میں کمی و خامی کہاں ہے جس کی وجہ سے اس میدان میں طلبہ کی صلاحیت کار زنگ آلود ہی رہ جاتی ہے۔
موجودہ نصاب پر کئی دہائیاں قبل مولانا یوسف بنوریؒ کا یہ تبصرہ آج بھی بہت وقیع محسوس ہوتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’مدارسِ دینیہ عربیہ میں اس وقت جو نصابِ تعلیم رائج ہے، حدیث و فقہ کی چند کتابوں کو مستثنیٰ کرنے کے بعد زیادہ تر ساتویں صدی ہجری اور اس کے بعد کے قرون کی یادگار ہے جہاں سے صحیح معنے میں انحطاط کا دور شروع ہو چکا تھا۔ قدمائے امت کی وہ تالیفات جن میں علم کی روح موجود تھی، عبارت سلیس و شگفتہ، مسائل و قواعد واضح، جن میں نہ عبارت تعقیدات تھیں نہ دور از کار ابحاث۔ جن کے پڑھنے سے صحیح معنے میں دل و دماغ متاثر ہو سکتے تھے۔ نہ وقت ضائع ہوتا تھا، نہ دماغ پر بوجھ کا خطرہ ہوتا تھا، ان کی جگہ ایسی کتابیں تصنیف ہوئیں جن میں سب سے زیادہ کمال اختصار نویسی کو سمجھا گیا، زیادہ زور لفظی بحثوں پر دیا گیا، لفظی موشگافیاں شروع ہوئیں، یوں اگر کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ کاغذ تو کم خرچ کیا گیا، لیکن وقت و دماغ کو اس کے حل پر زیادہ صَرف گیا گیا، بڑا کمال یہی سمجھا گیا کہ عبارت ایسی دقیق و غامض ہو جس کے لیے شرح و حاشیہ کی ضرورت ہو۔ کئی کئی توجہات کے بغیر حل نہ ہو، آخر یہ علمی عیاشی نہیں تو اور کیا ہے۔ میرے ناقص خیال میں یہ علم کا سب سے بڑا فتنہ تھا جس سے علوم اور اسلامی معارف کو بڑا نقصان پہنچا۔ بطور مثال اسلامی علوم میں اصولِ فقہ کو لیجیے جو علومِ دین اور علومِ اجتہاد میں ایک لطیف ترین اور اہم ترین فن ہے، جو قرآن و سنت سے نئے نئے استنباطات کے لیے سب سے اہم راستہ تھا جس کی باقاعدہ تدوین کا فخر دولتِ عباسیہ کے سب سے پہلے قاضی القضاۃ امام ابو یوسفؒ کو حاصل ہے، اور امت میں اس کے بعد سب سے پہلی کتاب امام محمد بن ادریس الشافعیؒ کی کتاب الرسالہ ہے جو عرصہ ہوا کہ مصر میں کتاب الام کے ساتھ چھپ چکی تھی اور اب کچھ عرصہ ہوا بہت آب و تاب سے دوبارہ قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ اسی فن میں امام ابوبکر رازی جصاص (متوفی ۳۷۰ھ) نے کتاب الفصول فی الاصول لکھی جس کا ایک عمدہ نسخہ دارالکتب المصریہ قاہرہ میں موجود ہے اور جس کی نقل راقم الحروف کے توسط سے مجلس علمی ڈابھیل، حال کراچی کے لیے ہندوستان و پاکستان آئی۔ امام فخر الاسلام بزدوی نے کتاب الاصول لکھی جس کی عمدہ ترین شرح عبدالعزیز بخاری کی ہے جو ترکی کے سابق دارالخلافہ سے دو دفعہ شائع ہوئی اور جس کی محیر العقول عظیم ترین شرح امیر کاتب عمید الدین اتقانی کی الشامل دس جلدوں میں دارالکتب المصریہ قاہرہ میں موجود ہے اور اس کا ایک نسخہ استنبول کے کتب خانہ فیض اللہ آفندی میں ہے لیکن افسوس کہ دونوں جگہ ابتدائی دو ڈھائی جزو کا نقص ہے۔ اس کی نقل بھی راقم الحروف کے توسط سے مجلس علمی میں آچکی ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے کتاب الاصول لکھی جس کے نسخے ترکی و مصر میں موجود ہیں۔ یہ اور اس کے علاوہ اس فن میں متقدمین کی عمدہ و نافع کتابیں ہیں۔ امام حجۃ الاسلام غزالی کی الاصول اس فن کی عمدہ کتاب ہے اور اس کے علاوہ اس فن میں امام ابو زید و بوسی کی کتاب "تقویم الادلۃ" بے نظیر ہے۔ 
اب خیال فرمائیے کہ ایسی نادرۂ روزگار کتابوں کی جگہ امام ابن ہمام کی تحریر الاصول اور ابن حاجب کی مختصر الاصول اور بیضاوی کی منہاج الاصول یا ابوالبرکات نسفی کی منار الاصول یا صدر الشریعۃ کی تنقیح الاصول نے لی۔ اگر تحریر الاصول کی شرح التحبیر والتقریر ابن امیر الحجاج کی نہ ہو یا التیسیر ابن امیر بخاری کی نہ ہو اور قاضی بیضاوی کی منہاج کی شرح الاسنوی کی نہ ہو تو یہ چیستانیں امت کے کیا کام آسکتی ہیں؟ یہ مانا کہ ان میں کچھ دقیق و لطیف ان کے مختارات یا خصوصی ابحاث بھی ہیں، لیکن دوسری طرف مہمات جس تعبیر میں ادا ہوئی ہیں وہ کوئی علمی روح پیدا کرنے کے لیے مفید نہیں ہوسکتیں۔"1
آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:
"اس ماحول میں اگر ہم اب بھی ان غیر اہم وسائل پر جمے رہیں گے تو علوم اسلامیہ سے توجہات ہٹ جائیں گی اور ہمارا یہ طرز عمل ہمارے اکابر و اسلاف کی اس تراث فاخر اور اس علمی ثروت و سرمائے کو فنا کے گھاٹ اتار دے گا۔ یہ درحقیقت علم کی خیر خواہی نہیں بلکہ نادان دوست کا سا طرز عمل ہوگا، کیا فقہ اسلامی میں کنز الدقائق، وقایہ، نقایہ اور شرح وقایہ کے بہترین بدل اسلاف کی کتابوں میں موجود نہیں؟ کیا جامع صغیر، جامع کبیر وغیرہ براہ راست مدون فقہ امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتابیں ہر حیثیت سے جامع نہیں؟ ان میں جو علم اور برکت ہوگی وہ ان متاخرین کی کتابوں میں کہاں سے ملے گی۔ میرے ناقص خیال میں کتب فقہ میں نورالایضاح، قدوری اور ہدایہ کے علاوہ بقیہ سب قابل تبدیلی ہیں۔"
یہ صرف مولانا بنوری کا ہی درد دل نہیں بلکہ ان سے بھی نصف صدی قبل مولانا اشرف علی تھانوی بھی یہ ہی رونا رو چکے ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی مولانا تھانوی کے الفاظ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہ میری بہت پرانی رائے ہے اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہو گئی اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا۔ وہ رائے یہ ہے کہ تعزیراتِ ہند کے قوانین اور ڈاک خانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارس اسلامیہ کے درس میں داخل ہونے چاہییں۔ یہ بہت پرانی رائے ہے مگر کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں۔"2

مدارس کا موجودہ نصاب فقہ

گفتگو کو آگے بڑھانے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مدارس اور و فقہائے مدارس کے نظام میں فقہ کا جو نصاب مقرر ہے، وہ پیش کیا جائے۔
اس وقت ملک میں مدارس کے پانچ بڑے بورڈ یا وفاق و تنظیمات پائی جاتی ہیں جن کے ماتحت ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مدارس چل رہے ہیں۔ ان وفاقوں میں تدریس فقہ کا نصاب کچھ یوں ہے:
وفاق المدارس العربیہ پاکستان (ملتان) کے زیر انتظام مدارس میں رائج فقہ کا نصاب درج ذیل ہے:3
ثانویہ عامہ سال اول: ۔
ثانویہ عامہ سال دوم: مختصر القدوری
ثانویہ خاصہ سال اول: کنزالدقائق (علاوہ کتاب الفرائض)
ثانویہ خاصہ سال دوم : شرح وقایہ اخیرین
عالیہ سال اول: ہدایہ (جلد اول)
عالیہ سال دوم: ہدایہ (جلد دوم)
عالمیہ سال اول: ہدایہ (سوم، چہارم)
عالمیہ سال دوم: ۔
تنظیم المدارس کے مدارس میں ترتیب کے معمولی فرق کے ساتھ یہی نصاب مروج ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:4
ثانویہ عامہ سال اول: قانون شریعت (جلد اول)
ثانویہ عامہ سال دوم: نورالایضاح
ثانویہ خاصہ سال اول: مختصر القدوری
ثانویہ خاصہ سال دوم : ہدایہ (ربع اول)
عالیہ سال اول: ہدایہ (ربع ثانی) ماسوا نکاح الرقیق و اہل الشرک، کتاب العتاق، کتاب السیر، کتاب الاباق
عالیہ سال دوم: ہدایہ (ربع ثالث) منتخب ابواب: کتاب البیوع، ادب القاضی، المضاربہ، الھبۃ، الاجارات، الغصب
عالمیہ سال اول: ہدایہ (ربع آخر) منتخب ابواب: کتاب الشفعۃ، کتاب الذبائح والاضحیۃ، کتاب الکراھیۃ، کتاب الاشربۃ، کتاب الرھن، کتاب الجنایات، کتاب الوصایا
عالمیہ سال دوم: ۔
اکثر حنفی مدارس میں درجہ تخصص فی الفقہ میں درج ذیل کتب رائج ہیں:
رسم المفتی ردالمحتار شرح الدرالمختار
سلفی مدارس کا نصاب فقہ
مالا بد منہ قدوری شرح وقایہ
الہدایہ (اولین) کنزالدقائق الروضۃ الندیۃ
بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد فقہ السنۃ

کتاب وار جائزہ

فقہ کی کتابوں میں: مالا بدمنہ، نور الایضاح، قدوری، کنز الدقائق، شرح وقایۃ اور ہدایہ اول کے ابواب عموماً عبادات سے متعلق ہیں، کچھ مدارس میں قدوری کے بھی شروع کے عبادات والے ابواب ہی پڑھائے جاتے ہیں، مجموعی طور پر عبادات کے بیشتر ابواب کے علاوہ مناکحات اور معمولی سا حصہ معاملات کا پڑھایا جاتا ہے، سال کے اختتام پر فقہی نصاب کی جانچ کی جائے تو بہت حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے۔
اس میں نئے ناتجربہ کار اساتذہ عربی کے ابتدائی درجات میں بھی فقہی دقیق بحثیں اور اختلافات کی بھرمار سے درس کو بوجھل اور کم عمر طلبۂ عزیز کے کچے دماغوں کو وحشت زدہ کر دیتے ہیں، نفسِ مسئلہ کی وضاحت کرنے کی بجائے شروحات میں پڑھا ہوا ہی بیان کر دیا جاتا ہے۔

نورالایضاح

یہ ابوالبرکات حسن بن عمار الشرنبلالی کی تصنیف ہے۔ اس میں ارکان اربعہ یعنی عبادات سے بحث کی گئی۔ اکثر مدارس میں درجہ اعدادیہ یا اولیٰ میں پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب کی ابتدا طہارت کے مسائل سے کی گئی ہے۔ طرز نگارش سادہ اور اسلوب سہل ہے۔ یہ کتاب مبتدی طلبہ کے لیے بہت مفید ہوتی اگر اس میں مصنف سے سنن و آداب اور مسائل کے نقل کرنے میں جابجا غلطی نہ ہوتی۔مبتدی طلبہ کے ذہن کچے اور شعور کی دہلیز کو ابھی چھو ہی رہے ہوتے ہیں اس لیے ایسی کوئی بھی کتاب بطور نصاب پڑھانا مفید نہیں ہو سکتا جس کی استنادی حیثیت قابل اطمینان نہ ہو۔ چھوٹے درجوں میں پڑھانے والے اساتذہ بھی عام طور پر نوخیز ہوتے ہیں (یہ موضوع الگ سے توجہ کا متقاضی ہے) اور یہ تحقیق کیے بغیر کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے، سب کچھ پڑھا دیتے ہیں جو کہ عبادات کے باب میں خاصی خطرناک چیز ہے۔

مختصر القدوری

یہ ابوالحسن احمد بن محمد قدوری بغدادی (۳۶۳ھ ۔ ۴۲۸ھ) کی غیر معمولی شہرت کی حامل کتاب ہے جو فقہ حنفی کے متفق علیہ متن کی حیثیت رکھتی ہے اور متأخرین حنفیہ نے جن چار متون فقہ کو سب سے زیادہ مستند قرار دیا ہے ان میں سے ایک ہے۔ اس میں ۶۱ کتب اور ۶۲ ابواب ہیں اور بیسیوں کتابوں سے تقریباً بارہ ہزار ضروری مسائل کا انتخاب ہے۔ فقہ حنفی کی کتب میں اس کتاب کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ بعض شارحین نے اس کا خاص امتیاز یہ لکھا ہے کہ اس کتاب کا ہر مسئلہ کسی آیت، حدیث، قول صحابی یا فتویٰ تابعی پر مبنی ہے، بہت کم مسئلے ہوں گے جو قیاس کر کے لکھے گئے ہوں اور وہ بھی اصول کے تحت مستخرج ہیں۔ صاحب ہدایہ نے شرح کے لیے جو متن (بدایۃ المبتدی) تیار کیا اس کے لیے اسی کتاب کو منتخب کیا اور اسی کو بنیاد بنا کر اس کی عظیم الشان شرح لکھی جس کو پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہے۔

کنز الدقائق

یہ ابوالبرکات حافظ الدین محمود نسفی (متوفیٰ ۷۱۰ھ) کی مشہور تالیف ہے اور فقہ حنفی کی اہم اور معتبر متون میں شامل ہے، اس متن میں مصنف نے اپنی کتاب الوافی کی تلخیص کی ہے، کتاب میں اختصار و ایجاز اغلاق کی حد تک ہے۔ نسفیؒ نے اپنی اس مختصر میں دو باتوں کا خاص اہتمام کیا ہے: اول یہ کہ اس میں بالالتزام دینی مسائل ذکر کیے ہیں جو ظاہر الروایت ہیں۔ دوم یہ کہ اس میں زیادہ تر ائمہ ثلاثہ کے وہی اقوال لیے ہیں جو مفتیٰ بہ ہیں لیکن کچھ مسائل غیر ظاہر الروایت اور غیر مفتی بہ بھی ہیں۔ اہل علم نے اس کتاب کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ ابن نجیم کی البحر الرائق، زیلعی کی تبیین الحقائق اور عمر بن نجیم کی النہر الفائق اس کی اعلیٰ درجہ کی شرحیں ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی مسئلہ اس کا اسلوب بیان ہے جس میں انتہائی اختصار و ایجاز سے کام لیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے کتاب کو مختصر سے مختصر کرنے کی پوری کوشش کی کی ہے اور اگر ان کا بس چلتا تو پوری کتاب کو چند سطور میں سمو دیتے۔ بعض مسائل کو انہوں نے چند لفظوں میں سمونے کی کوشش کی ہے مثلاً کتاب الطہارۃ میں کنویں کے مسائل بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر لکھتے ہیں: "ومسألۃ البئر جحط"۔ جس مسئلے کو انہوں نے آدھی سے بھی کم سطر میں ذکر کیا ہے، فقہ کے طلبہ جانتے ہیں کہ یہ پوری دو تین صفحات کی بحث ہے اور جحط کے تین الفاظ سے تین فقہی مذاہب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک سمجھ نہیں آسکتا جب تک تمام فقہی مذاہب کی تفصیلات معلوم نہ کر لی جائیں۔ 
سوال یہ ہے کہ ایسے اغلاق کی کیا ضرورت ہے؟ عبادات کے ابواب میں طلبہ و اساتذہ ان باریک نقاط کے حل میں سال کا بیشتر حصہ گزار دیتے ہیں اور جب بیوع وغیرہ جیسے اہم موضوعات کی باری آتی ہے تو سال ختم ہو رہا ہوتا ہے اور پھر طلبہ میں مقبول محاورے "آخری سہ ماہی میں استاد کو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی طلبہ کو" پر عمل ہوتا ہے اور یہ ابواب طلبہ کے سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔

شرح وقایہ

تاج الشریعۃ محمود بن صدر الشریعۃ الاکبر احمد بن جمال الدین عبداللہ محبوبی نے فقہ کا متن "وقایۃ الروایۃ فی مسائل الہدایہ" اپنے پوتے صدر الشریعۃ الاصغر عبید اللہ بن مسعود کے حفظ کرنے کے لیے لکھا اور اس میں ہدایہ کے مسائل کا خلاصہ تیار کیا۔ یہ کتاب بھی متونِ اربعہ میں سے ایک ہے۔ بعد میں پوتے یعنی صدر الشریعہ الاصغر نے ہی اس کتاب کی شرح لکھی جو شرح وقایہ کے نام سے مشہور ہے اور خود ہی وقایہ کا اختصار کیا جو نقایہ اور عمدہ کہلاتا ہے۔ اس کتاب کی استنادی حیثیت ہدایہ، قدوری اور کنز کے درجے کی نہیں اور اسلوب بیان دور از کار تفاصیل اور طوالت کا شکار ہے جس کی وجہ سے کتاب کو ختم کرنا اور سمجھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

الہدایۃ

یہ ابوالحسن علی بن بکر مرغینانی (۵۱۱ھ ۔ ۵۹۶ھ) کی شہرہ آفاق تالیف ہے، موصوف نے قدوری اور جامع صغیر کو سامنے رکھ کر جامع صغیر کی ترتیب پر بدایۃ المبتدی تصنیف کی، پھر اس کی مبسوط شرح اسی جلدوں میں کفایت المنتہی کے نام سے مرتب کی، پھر خود ہی اس کا اختصار کیا، جس کو ہدایہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب مدارس نظامیہ میں پڑھائی جانے والی فقہ کی حیرت انگیز کتاب ہے، اس میں صاحبِ ہدایہ نے پوری کوشش کی ہے کہ مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا جائے، چنانچہ مسئلہ کو ذکر کرنے کے بعد عقل و نقل کے ذریعے حنفیت کی ترجیح ثابت کرتے ہیں۔ اسی لیے قوی دلیل کو اخیر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ رد پر مذکور تمام امور کا جواب بھی ہو جائے۔ صاحبِ ہدایہ کی بالغ نظری، تصنیف کے میدان میں ان کی حاکمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ مولانا بنوریؒ نے علامہ زیلعی کی نصب الرایہ کے مختصر سے پیش نامہ میں علامہ کشمیریؒ کا قول براہ راست نقل کیا ہے کہ ابن ہمام کی فتح القدیر جیسی کتاب لکھنے کے لیے اگر مجھ سے کہا جائے تو میں کام کر سکتا ہو، لیکن اگر ہدایہ جیسی کتاب لکھنے کا مطالبہ کیا جائے تو ’’ہرگز نہیں‘‘ کے سوا میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔
یہ بلاشبہ پورے فقہی ذخیرہ میں اپنے تقابلی منہج اور استدلال کی قوت کے باعث ایک منفرد حیثیت کی حامل کتاب ہے۔ اگرچہ یہ کتاب صدیوں سے نصاب درس کا حصہ رہتی آئی ہے لیکن طول کلامی کے باعث اب اس کے منتخب ابواب ہی پڑھانے کی سفارش کی جا سکتی ہے، بلکہ مختلف مذاہب فقہ کے تقابلی مطالعہ کے لیے اپنے سہل اسلوب کے باعث بدایۃ المجتہد لابن رشد القرطبی (۵۲۰ھ ۔ ۵۹۵ھ) اس کی زیادہ مستحق ہے کہ اسے ہدایہ پر ترجیح دی جائے۔

الدر المختار

یہ محمد بن علی بن محمد بن علی الحصکفی (۱۰۲۵ھ ۔ ۱۰۸۸ھ) کی لائق افتخار تالیف ہے، جس میں انہوں نے تنویر الابصار کے مغلقات کو اختصار کے ساتھ حل کیا ہے۔ یہ کتاب معتبر و مستند بھی ہے اور جامع و مختصر بھی ۔ بعض مواقع پر اختصار و ایجاز اغلاق کی حد کو پہنچ گیا ہے۔ علامہ محمد امین ابن عابدین (۱۱۹۸ھ ۔ ۱۲۵۲ھ) نے اس کی عظیم الشان شرح لکھی ہے جو حاشیہا بن عابدین، فتاویٰ شامی اور ردالمحتار کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتاب برصغیر میں کافی عرصے سے افتاء کا مدار بھی ہے۔ مدارس سے فقہ میں تخصص کرنے والے طلبہ عام طور پر فتویٰ دیتے ہوئے کسی اور کتاب کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ حال ہی میں دمشق سے اس کا ایک محقق نسخہ چھپا ہے جس میں کئی نسخوں کو سامنے رکھا گیا ہے، معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں مروج نسخوں میں کئی مقامات پر اغلاط تھیں جن کو درست کر دیا گیا ہے۔

رسم المفتی

ابن عابدین شامی کا مشہور رسالہ ہے اور ہمارے مدارس میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں اپنے موضوع پر اول و آخر کتاب ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق فتاوی نویسی کے آداب و اصول اور حدود و شرائط پر یہ کتاب سند کا درجہ رکھتی ہے جس میں علامہ شامی نے حتی الوسع وافر معلومات اور علمائے سابقین کی آرا کو جمع کر دیا ہے۔

تجاویز

تقابلی مطالعہ (فقہ مقارن)

اس وقت موجودہ نصاب فقہ میں جس مواد کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے وہ فقہ کا تقابلی مطالعہ ( فقہ مقارن)، قواعد فقہیہ مقاصد شریعت و استحسان وغیرہ کی باقاعدہ تدریس کا نہ ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے طلبہ و علماء بعد بہت سارے امور کو حرام قطعی قرار دے دیتے ہیں حالانکہ وہ دوسرے فقہی مذہب میں عین جائز کام ہوتا ہے۔ نیز فروعی مسائل میں شدت پر مبنی موقف اختیار کرنے کی بھی ایک وجہ ہے۔ قدما کی کتب میں سے درج ذیل کتابوں کو فقہ مقارن میں شمار کیا جا سکتا ہے:
۔ فقہ حنفی میں بدائع الصنائع للکاسانی، ہدایہ للمرغینانی، تبیین الحقائق للزیلعی
۔ فقہ مالکی میں بدایۃ المجتہد لابن رشد
۔ فقہ شافعی میں المجموع شرح المہذب للنووی
۔ فقہ حنبلی میں المغنی لابن قدامہ
۔ فقہ ظاہری میں المحلیٰ لابن حزم اندلسی
۔ فقہ زیدی میں البحر الزخار

قواعد فقہیہ و مقاصد شریعت

فقہ اور افتاء میں جزئیات کے ساتھ ساتھ قواعد شرعیہ اور مقاصد شریعت کی کتابیں بھی رکھی جانی چاہییں، ہر عالم تو مفتی نہیں ہوگا؛ لیکن وہ کچھ قواعد شرعیہ اور مقاصد شریعت سے واقف ہوگا تو اس کی روشنی میں اسلامی قوانین اور احکام شرعیہ پر ہونے والے اعتراضات کا تشفی بخش جواب دے سکتا ہے۔
قواعد کے لیے شیخ احمد زرقا کی شرح القواعد الفقہیہ، جمال الدین عطیہ کی اسلامی شریعت کا عمومی نظریہ اور شیخ مصطفیٰ زرقا کی المدخل الفقہی العام اور مقاصد شریعتِ کے لیے حامد العالم کی المقاصد العامۃ، ریسونی کی نظریۃ المقاصد عند الامام الشاطبی و الامام ابن عاشور، اور محمد طاہر ابن عاشور کی مقاصد الشریعہ وغیرہ کتابیں مفید ہیں۔
افتاء میں اسلام اور جدید معیشت، اسلامی معاشیات (مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ)، اسلام کا اقتصادی نظام (مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی) اور بینکنگ کے نظام وغیرہ کی بنیادی معلوماتی کتابیں پڑھانی چاہییں، مروجہ ملکی قانون سے بھی افتا کے طلبہ کو واقف کرایا جائے، اس کے کچھ ابواب پڑھائے جائیں۔
اسی طرح مدارس کے نصاب میں اصول فقہ کی قدیم کتابوں کے ساتھ ساتھ شیخ ابو زہرہ مصریؒ کی اصول الفقہ یا مصطفیٰ الزرقا کی المدخل الفقہی العام کے منتخبات اور اگر دو سالہ نصاب ہو تو اصولِ قانون میں عبد الرزاق سنہوری کی مصادر الحق کے منتخبات (جو یورپی اور اسلامی اصول قانون کا موازنہ کرتے ہوئے دونوں اصول سے طلبہ کو واقف کراتی ہے) کو بھی داخل نصاب کیا جائے۔ معاشیات کے لیے مولانا تقی عثمانی کی اسلام اور جدید معیشت و تجارت، اور علی گڑھ سے معاشیات، سیاست اور اصولِ قانون وغیرہ موضوعات پر لکھی ہوئی اردو کی کتابیں بھی بہت مفید ہوں گی۔ افتاء کے طلبہ و اساتذہ اس کو مطالعہ میں رکھیں تو بہت فائدہ ہوگا اور جدید مسائل کی تفہیم میں بہت معاون ثابت ہوں گی۔

عِلَل وحِکَم کی تعلیم

ایک اور چیز جس کی طرف توجہ دینے کی اس وقت ضرورت ہے وہ احکام کی علتوں اور حکمتوں اور ان کے اسرار سے آگہی پیدا کرنا۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی بہت ہے کہ موجودہ دور میں جو مسائل پیش آرہے ہیں اور جو مستقبل میں درپیش ہوں گے، ان کا حل اور قابلِ عمل شرعی متبادل پیش کرنا اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب احکام کی علتوں اور حکمتوں پر نظر ہو۔ یہ معلوم ہو کہ جہاں علت و حکمت کا رشتہ ٹوٹ جائے وہاں حکم کیسے معلوم کرنا ہے۔ گو کہ قدیم و معاصر فقہی لٹریچر میں اس موضوع پر مستقل کتابیں تصنیف نہیں کی گئیں لیکن موجودہ دور اس اہم پہلو سے اغماض کی اجازت نہیں دیتا۔ دینی اداروں کے نمائندہ وفاقوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغۃ، امام غزالی کی احیاء علوم الدین، حافظ ابن قیم کی اعلام الموقعین اور عزبن عبد السلام کی قواعد الاحکام کو سامنے رکھ کر نصاب کے لیے ایک دو جلدوں میں کتاب مرتب کی جا سکتی ہے۔

فقہ القرآن والسنۃ / آیات الأحکام اور احادیث الأحکام

گو کہ سات سال تفسیر قرآن بطور سبق مدارس میں پڑھائی جاتی ہے لیکن اس کا دائرہ کار زیادہ تر ترجمے، اسرائیلی روایات اور جلالین و بیضاوی وغیرہ کی عبارتوں کے حل تک ہی محدود رہتا ہے۔ فقہ القرآن پر عام طور پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ قرآن جو کہ فقہ کا اصل منبع ہے اس پر فقہی حوالے سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں احکام القرآن جصاص، احکام القرآن قرطبی، امداد الاحکام مولانا ظفر احمد عثمانی کے منتخب ابواب کا مطالعہ کرایا جانا چاہیے تاکہ مسائل کی اصل نوعیت کا ادراک کرنے کے لیے قرآن کریم کی طرف رجوع کا ذوق پیدا ہو۔

قواعدِ فقہیہ

تدریسِ فقہ کا ایک پہلو قواعدِ فقہیہ کی تدریس ہے۔ مدارس میں یہ بھی طاقِ نسیاں کی زینت ہے۔ تخصص فی الفقہ کرنے والے طلبہ بھی عام طور پر قواعدِ فقہیہ سے ناواقف ہوتے حالانکہ قواعدِ فقہیہ ہی تمام فقہی تفریعات کی بنیاد ہیں۔ قواعدِ فقہیہ کو نظر انداز کرنے کی ہی وجہ ہے کہ ہمارے مفتیان کرام فقہ کے معاملے میں ظاہریہ والا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ قدیم فقہاء نے اپنے زمانے کے تجربے، عرف اور شخصی مشاہدے و قیاس کی بنیاد پر جو تفریعات ذکر کر دی ہیں موجودہ دور میں بھی عرف اور زمانے کا خیال کیے بغیر ان کو اختیار کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی مجتہد فیہ مسئلے کا حکم قدیم تراث سے معلوم کرتے وقت اس حکم سے متعلقہ قاعدہ فقہیہ کو بھی پیش نظر رکھا جائے تاکہ لوگوں سے تنگی و مشقت اور حرج دور رہو۔ اس سلسلہ میں موجودہ دور کے نامور عرب علماء کے چند وقیع کام سامنے آئے ہیں، ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

فقہ صحابہ

کم از کم ۱۲ کبار فقہائے صحابہ (۱۔۴) خلفائے راشدینؓ، (۵) ابن مسعودؓ (۶) عائشہؓ، (۷) ابوموسیٰ الاشعریؓ، (۸) زید بن ثابتؓ، (۹) جابر بن عبداللہؓ، (۱۰) ابوہریرہؓ، (۱۱) ابن عمرؓ، (۱۲) ابن عباسؓ کی فقہ کا مطالعہ کرایا جائے  یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ موجودہ دور میں احوالِ شخصیہ (عائلی قوانین) اور معیشت و تجارت کے کچھ احکام ایسے بھی ہیں جن کی نظیر متداول فقہی ذخیرے میں نہیں ملتی، لیکن عام طور پر فقہائے صحابہ میں سے کسی کا قول یا انفرادی رائے ان مسائل میں معتدل نقطۂ نظر اختیار کرنے میں معاون ثابت ہو جاتی ہے۔

خاتمہ

تدریسِ فقہ کے ان چند ایک پہلوؤں کو سامنے رکھ کر نصاب کی ازسرنو تدوین کی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ مدارس کے فضلاء سے اکثر علم اور دیگر حضرات شکوے و شکایات ہیں ان کا ازالہ ہو سکے گا۔

دینی مدارس میں فقہ و اصول فقہ کی تدریس: اصلاحات کی ضرورت

دینی مدارس کا نظام بہت سی خوبیوں کا حامل ہے تاہم اسے مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کرنا ہمارے پیش نظر نہیں، ہم صرف مختصر طور پر فقہ و اصول فقہ کی تدریس کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔
دینی مدارس کا فقہ و اصول فقہ کا موجودہ نصاب جن علمائے کرام نے ابتداءً‌ تجویز کیا تھا غالباً‌ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ طلبہ اپنے فقہی ذخیرے سے واقف ہو جائیں، اور چونکہ برصغیر میں مسلمانوں کی کثیر تعداد حنفی تھی، لہٰذا انہوں نے حنفی متون میں سے قدوری اور ہدایہ اور ان کے اصول استنباط کو سمجھنے کے لیے اصول میں نورالانوار اور مسلم الثبوت جیسی کتب شامل کرنے پر اکتفا کیا۔ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ علماء کرام مساجد میں عام مسلمانوں کو دینی مسائل بتا سکیں، فتاویٰ جاری کر سکیں اور مدارس میں فقہ کی تدریس کے اہل ہوجائیں۔ جب کہ آج حالات بدل چکے ہیں اور مقاصد تدریس کے حوالے سے ہم مندرجہ ذیل تجاویز اہل مدارس کے غور و فکر کے لیے ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں: 
  • فقہ میں تقابلی مطالعہ کو رواج دیا جائے اور حنفی فقہ کے ساتھ دوسرے مذاہب کا مطالعہ بھی کرایا جائے۔ اس سے طلبہ کے علم میں وسعت آئے گی، توسع پیدا ہوگا اور مسلک پرستی کا اثر کم ہوگا۔ اس کے لیے پرانی کتابوں میں سے بدایۃ المجتہد اور نئی کتابوں میں سے وہبۃ الزحیلی کی الفقہ الاسلامی وادلتہ کا مطالعہ کرایا جا سکتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو سے مذاہب کے فقہ کے اساتذہ سے کچھ محاضرات دلوا دیے جائیں۔
  • پاکستان کے آئین اور قوانین خصوصاً‌ اسلامی قوانین کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
  • مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مسلم ممالک پر انطباق کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قوانین (مثلاً‌ بنیادی انسانی حقوق کا ڈکلیریشن) کا مطالعہ بھی کرایا جانا چاہیے۔
  • فقہ القرآن والسنۃ کو بھی جزو نصاب ہونا چاہیے اور طلبہ کو اس کی پریکٹس بھی کروائی جانی چاہیے تاکہ انہیں قرآن و سنت سے استنباط کا سلیقہ آجائے۔
  • متون رٹنے کی بجائے طلبہ کو ان کے فہم کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اس کے لیے کوئی حرج نہیں اگر ابتدائی درجوں میں فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں اردو میں پڑھیں اور آخری سالوں میں جب ان کی عربی بہتر ہو جائے تو پھر عربی مراجع سے بھی استفادہ کر لیں۔
  • تقابلی مطالعے اور پاکستانی و بین الاقوامی قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو عربی کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی اتنی مہارت ہو کہ وہ انگریزی عبارتوں کو بسہولت پڑھ اور سمجھ سکیں۔
  • عصری علوم کا ضرورت کی حد تک مطالعہ بھی ناگزیر ہے کیونکہ ڈی این اے، بینکنگ، انتقالِ اعضا اور دوسرے بہت سے جدید امور میں علمائے اسلام سے سوالات کیے جاتے ہیں۔
  • جن دینی مدارس میں تخصص فی الفقہ کا انتظام ہوتا ہے وہاں بالعموم فتویٰ جاری کرنے کی صلاحیت اور ٹریننگ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے حالانکہ انہیں مذکورہ بالا تجاویز کے مطابق تقابلی مطالعے اور جدید فقہی مسائل کے حل پیش کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ اس کے لیے تخصص کی سطح پر طرقِ تحقیق کا ایک پرچہ لازماً‌ ہونا چاہیے تاکہ تخصص کے طلبہ جدید جامعات کے فقہ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مساوی سمجھے جا سکیں۔
  • اسی طرح اصولِ فقہ کی تدریس کے وقت احناف کے منہجِ استنباط کے ساتھ دوسرے مذاہب کے مناہج استنباط کا تقابلی مطالعہ بھی ضروری ہے۔ دوسرے مذاہب کے وجوہِ استدلال سامنے آنے کے بعد ان کے باطل و گمراہ ہونے کا رجحان یقیناً‌ کمزور پڑے گا اور ذہن میں یہ راسخ ہوگا کہ یہ ایک اجتہادی اور نصوص کی تعبیر و تشریح کا معاملہ ہے۔ ہمارے پاس ہمارے موقف کی دلیل ہے۔ ہم صرف ایک موقف کو بوجوہ ترجیح دے رہے ہیں۔
  • ایک فقیہ اور ایک عام عالم میں اور ان کے طریق تربیت میں فرق ہونا چاہیے۔ فقیہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ میں فقہ و استنباط کا ملکہ اور صلاحیت پیدا کی جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کے عمومی مطالعے کا خصوصی ذوق بیدار کیا جائے اور ماضی کے فقہاء اور ان کے کام پر نظر رکھنے کے بعد ان کے سامنے فرضی اور تقدیری امور رکھ کر (جدید جامعات میں case study کی طرز پر) ان سے استنباط کی باقاعدہ مشق کرائی جائے تاکہ ان میں مجتہدانہ شان پیدا ہو جائے۔ آئیڈیل تربیت کا یہ معیار سامنے رکھا جائے تو پھر ہی کچھ ایسے طلبہ سامنے آئیں گے جو آج کے معاشرے اور ریاست کو جدید مسائل اور قانونی شعبے میں رہنمائی مہیا کر سکیں۔
امید ہے دینی مدارس ہماری ان تجاویز پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے تاکہ دینی مدارس میں فقہ و اصول فقہ کی تدریس کا معیار بہتر سے بہتر ہو سکے۔

حواشی

(1) میری علمی ومطالعاتی زندگی ، مولانا عبد القیوم حقانی ، ص  94-96
(2) دینی مدارس نقد و نظر کے آئینے میں ، مولانا زاہد الراشدی بحوالہ الافاضات الیومیہ ، جلد دشسشم، ص 435
(3) http://www.wifaqulmadaris.org/nisab.php
(4) http://tanzeemulmadaris.com/Syllabus.aspx?Path_Id=5


اہلِ کتاب خواتین سے نکاح: جواز و عدم جواز کی بحث

مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری


اسلام میں مشرکین سے واضح امتیاز برتتے ہوئے اہلِ کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ہے اور ان کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ و تابعین کو اس سے اختلاف بھی رہا ہے۔اسلامی تاریخ میں جمہور کے قول پر ہی عمل رہا ہے۔ البتہ موجودہ دور میں کئی اعتبارات سے اس مسئلے پر سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور اس حوالے سے مختلف رجحانات ابھر کر سامنے آئے ہیں: ایک رجحان جمہور صحابہ و تابعین کے موقف کے مطابق بالکلیہ جواز کے حق میں رہا ہے۔ جب کہ دوسرا رجحان اس کے مکمل طور پر حرام ہونے کا قائل ہے۔ 
دورِ جدید میں عالمِ اسلام کی بعض اہم شخصیات مثلاً‌ محمد یوسف موسیٰ، علامہ ابن بادیس وغیرہ مطلق تحریم کی قائل رہی ہیں۔ یوسف موسیٰ کی اس موضوع پر کتاب کا نام ہے: جریمۃ الزواج بغیر المسلمات: فقہا وسیاسۃ۔ تیسرا رجحان ان دونوں کے مابین ہے یعنی یہ کہ کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ مع الکراہت اس کی اجازت ہے۔کم و بیش یہی تینوں رجحانات اپنی تائید میں دلائل کے اختلاف کے ساتھ ماضی میں بھی رہے ہیں۔

کتابیہ کے ساتھ نکاح کے جواز کے دلائل

اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کے جواز کی دلیل سورہ مائدہ کی پانچویں آیت ہے: 
الیوم احل لکم الطیبت و طعام الذین اوتوا الکتب حل لکم و طعامکم حل لہم و المحصنت من المؤمنت و المحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم۔
’’آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی‘‘۔ (المائدۃ:۵)
اس پر عمل کرتے ہوئے متعدد صحابہ کرام نے بھی اہل کتاب خواتین سے شادیاں کیں۔ خود خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی نے نائلہ بنت الفرافصہ الکلبیہ سے شادی کی جو بعد میں مسلمان ہو گئیں۔ اسی طرح طلحہ بن عبید اللہ اور حذیفہ بن الیمان وغیرہ کے بارے میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے کتابی خواتین سے شادیاں کیں۔(۱) چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں ہے: 
وقد تزوج جماعۃ من الصحابۃ من نساء النصاری ولم یروا بذلک باسا اخذا بہذہ الآیۃ الکریمۃ (ای آیۃ المائدۃ:۵)
’’اسی سورہ مائدہ کی پانچویں آیت سے استدلال کرتے ہوئے صحابہ و تابعین کی ایک جماعت نے نصاریٰ کی عورتوں سے شادی کی اور اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا‘‘۔(۲)
البتہ بعض فقہاء سے مختلف شرطیں اور قیود مروی ہیں۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل کے نزدیک بنی تغلب (مسیحی عرب قبیلہ) کی خواتین سے نکاح جائز نہیں ہے۔ امام شافعی اس کے جواز کو صرف اسرائیلی خواتین کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ آیت ہے جس میں بنی اسرائیل کو اہلِ کتاب قرار دیا گیا ہے:
ولقد آتینا بنی اسرائیل الکتاب والحکم والنبوۃ۔
’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت اور نبوت سے نوازا۔ (الجاثیۃ،۱۶)
صحابہ میں سے عبد اللہ ابن عباس کا موقف ہے کہ صرف ذمی و معاہد خواتین سے نکاح جائز ہے۔(۳) تاہم جمہور اس تفریق کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک ذمی و غیر ذمی اور معاہد و محارب دونوں طرح کی خواتین اہل کتاب سے نکاح جائز ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کے جواز کے ساتھ اس میں کراہت پائی جاتی ہے۔

عدمِ جواز کے قائلین اور ان کے دلائل

 عدمِ جواز کے قائلین میں صحابہ کرام میں حضرت عبد اللہ بن عمر کا نام آتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ جب ان سے یہودی و نصرانی خواتین کے ساتھ نکاح کی بابت سوال کیا جاتا تھا تو وہ جواب دیتے تھے کہ:
ان اللہ حرم المشرکات علی المسلمین ولا اعلم من الشرک شیئا اعظم من ان تقول ربھا عیسی بن مریم وہو عبد من عبید اللہ۔
’’اللہ تعالی نے مومنین پر مشرک خواتین کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس سے بڑھ کر اور شرک کیا ہوگا کہ وہ (یعنی مسیحی خواتین) اس کی قائل ہوں کہ ان کا رب حضرت مسیح ہیں۔ حالانکہ وہ خدا کے بندے تھے‘‘۔(۴)
حضرت عبد اللہ بن عمر کا استدلال سورہ بقرہ کی اس آیت سے ہے جس میں اللہ تعالی نے مشرکین کی عورتوں سے نکاح سے منع کیا ہے:
ولا تنکحوا المشرکات حتی یؤمن و لامۃ مؤمنۃ خیر من مشرکۃ و لو اعجبتکم۔
’’اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہو جائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔‘‘ (البقرۃ،۲۲۱)
موجودہ دور میں اس رجحان کے نمائندگان کی دلیل یہ ہے کہ اب اہلِ کتاب خاص طور پر مسیحی اپنے صحیح دین پر عامل نہیں رہے۔سیکولر مادیت کا رجحان اس پر اس قدر غالب آچکا ہے کہ مذہب کے بنیادی حقائق اور اساسی تصورات پر ان کا یقین باقی نہیں رہا۔ اس طرح اصل مسیحیت گم ہو چکی ہے۔ بنا بریں ان کے ذبیحے اور ان کی خواتین کے ساتھ نکاح کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بعض اصحابِ علم کی رائے یہ رہی ہے کہ اس سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو غیر محرف مذہبی کتابوں کے پیروکار ہیں لیکن یہ نہایت کمزور بات ہے۔ علامہ رشید رضا تفسیر المنار میں لکھتے ہیں:
قد احل اکل طعام اہل الکتاب و نکاح نسائہم علی الحال التی کانو اعلیہا فی زمن التنزیل وکان ہذا من آخر ما نزل من القرآن۔ وقد وصفہم بانہم حرفوا کتبہم ونسوا حظا مما ذکروا بہ فی ہذہ السورۃ نفسہا کما وصفہم فیما نزل قبلہا ولم یتغیر یوم استنبط الفقہاء تلک المسألۃ شئ من ذلک۔
’’اہلِ کتاب کے ذبیحے اور ان کی خواتین کے ساتھ نکاح کو اس حال کے باوجود جائز قرار دیا گیا جس حال پر نزولِ قرآن کے زمانے میں وہ تھے۔ قرآن کی یہ آیت جس میں اہلِ کتاب کے ذبیحے اور ان کی خواتین کے ساتھ نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے، نزولِ قرآن کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ قرآن کے مطابق اہلِ کتاب اپنی کتابوں میں تحریفات کے مرتکب ہوئے اور احکاماتِ خداوندی کے بڑے حصے کو انہوں نے بھلا دیا تھا، اسی کا ذکر اسی سورت میں موجود ہے۔ اہلِ کتاب کے اوصاف کا ایسا ہی بیان سورہ مائدہ سے قبل نازل ہونے والی آیاتِ قرآنی میں موجود ہے۔ اور اس بیان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی (یعنی اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا تھا) جب فقہاء نے اہلِ کتاب کے ذبیحے اور ان کی خواتین کے ساتھ نکاح کے حلال ہونے کا مسئلہ مستنبط کیا۔‘‘(۵)

ممکنہ درست موقف کیا ہے؟

ابن قدامہ المغنی میں لکھتے ہیں: 
لیس بین اہل العلم اختلاف فی حل حرائر نساء اہل الکتاب و من روی عنہ ذلک عمر و عثمان و طلحہ و حذیفہ و سلمان و جابر و غیرہم۔
’’اہلِ علم کے درمیان اہلِ کتاب آزاد خواتین کے ساتھ نکاح کے حلال ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عمر، عثمان، طلحہ، حذیفہ، سلمان اور جابر رضی اللہ عنہم سے اس کے حلال ہونے کا موقف مروی ہے‘‘۔(۶)
رئیس المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس کا موقف ہے کہ یہ آیت جس میں مشرک خواتین سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت سے منسوخ ہے۔ جہاں تک حضرت عبد اللہ ابن عمر کے موقف کا سوال ہے، بعض علماء نے اسے تحریم کے بجائے کراہت پر محمول کیا ہے۔ ابن تیمیہ اور بعض دوسرے علماء کی یہی رائے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس شدت کے ساتھ یہ قول ان سے مروی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی حرمت کے ہی قائل تھے اور اس آیت (البقرہ:۲۲۱) کو جس میں مشرکین کے ساتھ نکاح سے منع کیا گیا ہے، دوسری آیت (المائدۃ،۵) کا ناسخ تصور کرتے تھے، جس میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ابن تیمیہ کے نزدیک حضرت ابن عمر کا قول کراہت پر محمول ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
وقد روی انہ کرہ نکاح النصرانیۃ وہ الیوم مذہب طائفۃ من اہل البدع وقد احتجوا بالآیۃ فی سورۃ البقرۃ۔
’’روایت کے مطابق حضرت عمر نصرانی عورت سے نکاح کو پسند نہیں کرتے تھے۔ آج اہل بدعت کے ایک گروہ کا مذہب یہی ہے۔ انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت سے استدلال کیا ہے‘‘۔(۷)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ علم کا ایک طبقہ مطلقاً‌ اس کے عدمِ جواز کا بھی قائل رہا ہے لیکن مستند اہلِ علم اسے بدعت سے تعبیر کرتے تھے۔ چناں چہ فقہ جعفری کا نقطہ نظر وہی ہے جو حضرت عبداللہ ابن عمر کا ہے۔
میرے خیال میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس حوالے سے علمائے امت کے درمیان دو موقف رہے ہیں۔ دو مواقف کی تعبیر اس وقت درست ہوگی جبکہ دوسرے موقف کے حاملین میں قابل ذکر علماء کی ایک تعداد شامل ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک حضرت عبد اللہ بن عمر کے موقف کا معاملہ ہے تو اسے ان کے تفرد پر محمول کرنا چاہیے جس کی مثالیں صحابہ کرام کے یہاں بکثرت پائی جاتی ہیں، جیسے ابو طلحہ اولہ کھانے کو ناقض صوم تصور نہیں کرتے تھے اور حضرت حذیفہ طلوع آفتاب تک سحری کھانے کی گنجائش کے قائل تھے۔
جواز و عدم جواز سے ہٹ کر ایک رجحان ابتدا سے جواز کے ساتھ کراہت کا رہا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر نے حضرت حذیفہ سے فرمایا کہ وہ اپنی کتابی بیوی کو طلاق دے دیں۔ حضرت علی سے بھی کراہت منقول ہے۔ اسی طرح تابعین میں عطا بن رباح اور تبع تابعین و فقہائے مجتہدین میں حضرت امام مالک سے شدت کراہت کا قول مروی ہے۔ جبکہ ابن تیمیہ نے اکثر علماء سے کراہت نقل کی ہے۔

معاصر کتابی خواتین کے ساتھ نکاح کا حکم

اس موضوع پر گفتگو کی دوسری شق اور اس کا مرکزی پہلو یہ ہے کہ موجودہ دور میں کتابی خواتین کے ساتھ نکاح کے جواز و عدمِ جواز کے حوالے سے ممکنہ درست موقف کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے پیدا ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سے اہم یہ ہیں:
  • یورپ میں اصلاح اور نشاۃِ ثانیہ کی تحریک کے بعد مسیحیت کے مذہبی تصورات میں اساسی نوعیت کا تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً‌ خدا کے حوالے سے ڈے ازم (Deism) کا تصور جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا کا فعال تعلق اس کائنات کے ساتھ باقی نہیں رہا۔ اس نے دنیا کی تخلیق تو ضرور کی ہے لیکن اب نظام کائنات سے وہ دست کش ہو چکا ہے۔ اسی طرح غیر مشخص یا امپرسنل گاڈ (Impersonal God) کا تصور جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا کی ذات اس کائنات سے الگ نہیں ہے بلکہ اس کا حصہ ہے۔ وہ کوئی مشخص ذات نہیں کہ ہر شخص اس سے اپنا تعلق قائم کرے اور اس سے دعائیں مانگے۔ یہ تو تب ہے جب کہ کم از کم خدا کے وجود کو تسلیم کیا جائے۔ ورنہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کے اکثر مفکرین ملحد و مادیت پرست رہے ہیں جیسے نطشے، مارکس، فرائڈ ،فیورباخ وغیرہ۔ اب اس وقت سیکولرزم نے الحاد کی ہی نہیں بلکہ بقول کنیڈین فلاسفر چارلس ٹیلر الحاد کے دھماکہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس پہلو کا سب سے بہترین مطالعہ ٹیلر نے اپنی کتاب A Secular Age میں کیا ہے۔
  • دوسری اہم وجہ یورپ کا سماج ہے۔ وحی کے بجائے مجرد اور تکنیکی عقل اور روحانیت سے مکمل پہلو تہی کے ساتھ محض سیکولر مادیت کی بنیاد پر یورپ میں جس اخلاقیات کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی ہے، اس میں حیا و عفت کے تصورات بہت حد تک اباحیت میں گم ہو چکے ہیں۔
  • تیسری وجہ یہ ہے کہ اسلام میں کتابیہ سے شادی کا جواز اس سماجی سیاق سے تعلق رکھتا ہے جب اسلام کو ایک تہذیبی قوت حاصل تھی۔ وہ اپنا سیاسی و ثقافتی غلبہ رکھتا تھا۔ اس لیے کتابی خواتین کے حوالے سے یہ امید غالب تھی کہ وہ اسلامی ماحول میں اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہو کر یا تو اسلام قبول کر لیں گی یا کم از کم شوہر اور بچوں پر زیادہ اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ لیکن اب صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے ۔سیاسی و تہذیبی مغلوبیت کے شکار مسلمانوں کی اکثریت دوسروں کو اپنے اسلامی رنگ میں رنگنے کی بجائے اس کے غیر اسلامی رنگ میں رنگ جانے کی صلاحیت زیادہ رکھتی ہے۔ مغرب کی آزاد سوسائٹی میں بچوں کی اسلامی تربیت تو ویسے ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ ماں غیر مسلم ہو اس کا یہ امکان بہت کم رہ جاتا ہے کہ اس تربیت کی کمی باپ سے پوری ہو جائے گی۔
ایسی صورت میں درست موقف یہ نظر آتا ہے کہ اہلِ کتاب خواتین سے نکاح جائز تو ہے لیکن وہ جن شرطوں کے ساتھ مشروط ہے ان کا وجود معدوم نہیں تو بہت حد تک مشکوک ضرور ہے۔ اہلِ کتاب اور محصنات کے تصور میں شرط کے طور پر بظاہر یہ بات شامل ہے کہ کتابی خواتین سماوی دین کے بنیادی تصورات پر قائم ہوں اور یہ ہے کہ وہ عفیفہ اور پاک باز ہوں جو آج مغربی معاشرے میں بہت کم ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نص کے جواز کو محدود سے محدود تر رکھنے کی کوشش کی جائے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کا موقف اس حوالے سے بہت حد تک اعتدال پر مبنی ہے۔ وہ متعلقہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی حد تک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کر لے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہلِ کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحوی، اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔ اسلام کے بہت سے قوانین دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں‘‘۔(۸)

حواشی و حوالہ جات

۱۔ احکام القران، جصاص، ج، ۲، دیوبند: زکریا بک ڈپو، سن ندارد، ص، ۴۰۸۔۴۰۹
۲۔ ابن کثیر، ج، ۲، الریاض، دار عالم الکتب، ۱۹۹۷، ص،۲۸
۳۔ ابوبکر جصاص، احکام القرآن، ج، ۲ص،۴۱۱
۴۔ ایضا، ص،۴۰۹
۵۔ رشید رضا، تفسیر المنارج،۶، ، بیروت:دارالفکر، سن ندارد، ص،۱۷۹
۶۔ ابن قدامۃ، المغنی ج،۹،ص،۵۴۵، مکتبہ شاملہ
۷۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج،۱۴، ص،۹۱ مکتبہ شاملہ
۸۔ مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن جلد ۲، دہلی: تاج کمپنی،۲۰۰۹، ص،۴۶۶

جارج برنارڈشا کی پیشِین گوئی

حامد میر


جارج برنارڈ شا کو شیکسپیئر کے بعد انگریزی کا دوسرا بڑا ڈرامہ نگار اور ادیب کہا جاتا ہے۔ جارج برنارڈ شا کو 1925ء میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ وہ جنگ کا مخالف تھا اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں کا ناقد بھی تھا۔ جارج برنارڈشا نے اپنی زندگی میں ایک ایسی پیشِین گوئی کی جس پر مسلمان بہت فخر کر سکتے ہیں لیکن فخر کے ساتھ ساتھ یہ پیشِین گوئی سب سے زیادہ غور و فکر کا تقاضا بھی مسلمانوں سے کرتی ہے۔ 
جارج برنارڈشا نے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کہا تھا کہ میں نے ان کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور میرے خیال میں وہ اینٹی کرائسٹ (مسیحیت کے مخالف) نہیں تھے بلکہ محمدؐ انسانیت کے نجات دہندہ تھے۔ جارج برنارڈشا نے یہ پیشِین گوئی کی کہ آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب برطانیہ بلکہ پورے یورپ پر حکومت کر سکتا ہے تو وہ صرف اسلام ہو سکتا ہے۔ 
برنارڈشا ابتدا میں اسلام کا ناقد تھا۔ 1935ء میں کینیا کے شہر ممباسا میں اس کی ملاقات ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا عبد العلیم صدیقی سے ہوئی۔ اس ملاقات میں صلیبی جنگوں پر گفتگو کے دوران برنارڈشا نے کہا کہ کیا درست نہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا؟ مولانا عبد العلیم صدیقی نے بتایا کہ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ دین میں جبر نہیں۔ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات وہی ہیں جو حضرت ابراہیمؑ سے حضرت عیسٰیٰؑ تک سبھی انبیاء کو بتائی اور سکھلائی گئیں، لیکن جب ان تعلیمات کو کچھ پیروکاروں نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے مسخ کرنا شروع کر دیا تو پھر آخری نبی ﷺ کے ذریعے قرآن پاک کی سورہ شوریٰ میں کہا گیا کہ 
’’اللّٰہ نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا ہے جسے اختیار کرنے کا حکم ہم نے نوحؑ کو دیا تھا اور جس کی اے نبیؐ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی اور جس کا ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو حکم تھا۔’’
قرآن مجید کے یہ حوالے سن کر جارج برنارڈ شا نے مولانا عبد العلیم صدیقی کا شکریہ ادا کیا اور پھر لندن واپس آ کر برنارڈشا نے قرآن کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ اس نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حضرت محمد ﷺ کو محسنِ انسانیت اور اسلام کو یورپ کا مستقبل قرار دیا، لیکن مسلمانوں کے متعلق اس کی رائے اتنی اچھی نہ تھی۔ وہ مولانا عبد العلیم صدیقی جیسے علماء کی تعظیم کرتا تھا لیکن اکثر مسلمانوں کے کردار کو اسلامی تعلیمات کے برعکس پاتا تھا۔ اسلامی تعلیمات اور اکثر مسلمانوں کے کردار میں پائے جانیوالے تضاد کے باوجود جارج برنارڈشا نے اسلام کو یورپ کا مستقبل کیوں قرار دیا؟ جارج برنارڈ شا نے جب نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا تو اسے ریاستِ مدینہ کا تصور اس فلاحی مملکت کے تصور کے بہت قریب نظر آیا جو ہر امن پسند ادیب اور دانشور کا خواب ہوتا ہے۔ 
میں دوسروں کی کیا بات کروں؟ جب اپنے آپ پر نظر ڈالتا ہوں تو خود کو بڑا خوش قسمت پاتا ہوں کہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا لیکن جب اپنے کردار و عمل کا جائزہ لیتا ہوں تو کمزوریاں ہی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ میرے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے۔ یہ حدیث مجھ جیسے مسلمانوں کو اچھی تو بہت لگتی ہے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت رکھتے ہیں؟ جابر سلطان تو دور کی بات ہم اپنے باس کے سامنے سچ نہیں بولتے بلکہ چھوٹے چھوٹے مفاد کیلئے جھوٹ بولتے رہتے ہیں جبکہ قرآن میں جھوٹ کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ تو جیسے عوام ویسے حکمران۔ عوام ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں اور حکمران عوام سے جھوٹ بولتے ہیں۔ ہماری عدالتوں کے جج اپنے فیصلوں میں قرآنی آیات کے حوالے دیتے ہیں لیکن کردار یہ ہے کہ اکثر ججوں کی عدالت میں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی فیصلے کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے۔ 
جس اسلام کا مطالعہ جارج برنارڈ شا نے کیا اس کی بنیاد امن، انصاف اور جمہوریت ہے۔ لیکن جس اسلام کو ہم ایک دوسرے پر نافذ کرنے کی کوشش میں ہیں اس میں ہمیں اپنے اردگرد چھوٹے چھوٹے ڈکٹیٹروں کی بہتات نظر آتی ہے۔ میں ایسے طاقتور لوگوں کو اپنے لئے اللّٰہ کا عذاب سمجھتا ہوں جو ہر تقریر میں قرآنی آیات کے حوالے دیتے ہیں لیکن ان کا کردار ان آیات کے مفہوم سے بہت دور نظر آتا ہے۔ 
پاکستان کی پارلیمنٹ کی مثال لے لیں۔ اسے مجلسِ شوریٰ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے تمام معاملات صلاح مشورے سے طے کرنے کا حکم دیا۔ اس پارلیمنٹ کی پیشانی پر کلمہ طیبہ تحریر ہے۔ اس پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ اسلام کے عین مطابق ہے؟ سب جانتے ہیں کہ اس پارلیمنٹ میں ملک و قوم کے مفاد میں کون سا قانون بنتا ہے اور کسی فرد یا گروہ کے مفاد کیلئے کیسے قانون بنایا جاتا ہے؟ سب کو پتہ ہے کہ قانون سازی کیلئے یا اہم عہدوں کے انتخاب کیلئے اس پارلیمنٹ کے ارکان کے ووٹ کیسے خریدے جاتے ہیں؟ اور جو اپنا ووٹ نہ بیچے اسے اغوا کر کے کون کون کیسے کیسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے؟ ستم ظریفی دیکھئے کہ اپنے ذاتی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے اراکینِ پارلیمنٹ کے ووٹوں کی خرید و فروخت کرنیوالے حکمران ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو سیرت کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہیں اور ہم جیسے گناہ گاروں سے یہ توقع کرتے ہیں ہم انہیں اسلام کا سپاہی قرار دے کر ان کی منافقانہ سیاست کی حمایت کریں۔ ہم سب بھول جاتے ہیں کہ ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کو جان بھی دینی ہے اور پھر ہمارا حساب کتاب بھی ہونا ہے۔ کیا ہمارے کردار کو دیکھ کر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے گا؟ بالکل نہیں! 
یورپ میں اسلام اس لئے پھیل رہا ہے کہ وہاں علم و فکر پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ آزادئ اظہار پر ویسی قدغنیں نہیں لگائی جاتیں جیسی پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک میں لگائی جاتی ہیں، جہاں جمہوریت کے نام پر آمریت قائم کرنے کا کام پارلیمنٹ سے لیا جاتا ہے۔ یورپ میں اسلام اس لئے پھیل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا کہ 
’’خبردار! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو عربی پر۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر نہ کالے کو گورے پر فضیلت حاصل ہے، فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔‘‘ 
یورپ میں اسلام اس لئے پھیل رہا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات میں علم سے محبت کی گئی، مساوات کا درس دیا گیا اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا، یہاں تک کہ جانوروں اور نباتات کو بھی تحفظ دیا گیا۔ آج یورپ میں مسلمانوں کو جو حقوق حاصل ہیں کیا ہم نے وہ حقوق غیر مسلموں کو دیئے ہیں؟ ریاستِ مدینہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کیلئے انصاف برابر تھا۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اسلام تو تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن ہم جیسے پیدائشی مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں۔ فلسطین میں جو ظلم ہوا اس پر بھی یورپ میں زیادہ بڑے جلوس نکالے گئے جبکہ پیدائشی مسلمانوں کے ابن الوقت حکمران گول مول تقریروں سے کام چلاتے رہے۔ ۱۲ ربیع الاول خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا یومِ ولادت ہے، اس دن تقاریر بھی کریں، بڑی بڑی مجالس کا انعقاد بھی کریں لیکن پیارے نبی ﷺ کی پیروی میں حقوق العباد کا بھی خیال کریں۔ وہ حقوق العباد جن کے تحفظ نے جارج برنارڈ شا کو ہمارے نبی ﷺ کا گرویدہ بنایا۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۶ ستمبر ۲۰۲۴ء)

سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی، اردو کے پہلے ادیب و مصنّف

دلائل و شواہد کے تناظر میں

طفیل احمد مصباحی


اردو زبان و ادب کے فروغ و استحکام اور اس کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام کی خدمات تاریخی مسلمّات سے ہیں۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق کی بلند پایہ تحقیقی کتاب "اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام" اس کی واضح مثال ہے، جس میں صوفیائے کرام کی ادبی و لسانی کارگذاریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان نفوسِ قدسیہ نے دین و مذہب کی تبلیغ و توسیع کے علاوہ کس طرح گیسوئے ادب کی مشاطگی کی ہے اور اس کی نشو و نما میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے ضروری ہے کہ مبلغ عوامی زبان سے پوری طرح واقف ہو۔ اردو زبان سے صوفیائے کرام کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ دعوت و تبلیغ بھی رہی ہے۔ عوام و خواص کے دلوں پر حکومت کرنے والے صوفیائے کرام اور مشائخِ ملت عوامی زبان اس لیے سیکھتے کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ بہتر اور مؤثر طریقے پر انجام پا سکے۔ مولوی عبد الحق کے بقول:
’’علما و امرا بلکہ حکومتوں اور بادشاہوں سے بھی وہ کام نہیں ہو سکتا جو فقیر اور درویش کر گزرتے ہیں۔ بادشاہ کا دربار خاص ہوتا ہے اور فقیر کا دربار عام ہے جہاں بڑے چھوٹے، امیر غریب، عالم جاہل کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ بادشاہ جان و مال کا مالک ہوتا ہے، لیکن فقیر کا قبضہ دلوں پر ہوتا ہے۔ اس لیے اُن کا اثر محدود ہوتا ہے اور اِن کا (صوفیوں اور درویشوں) بے پایاں۔ اور یہی سبب ہے کہ درویش کو وہ قوت و اقتدار حاصل ہو جاتا تھا کہ بڑے بڑے جبّار اور با جبروت بادشاہوں کو بھی اس کے سامنے سر جھکانا پڑتا تھا۔ مسلمان درویش ہندوستان میں پُرخطر اور دشوار گزار رستوں، سر بفلک پہاڑوں اور لق و دق بیابانوں کو طے کر کے ایسے مقامات پر پہنچے جہاں کوئی اسلام اور مسلمان کے نام سے بھی واقف نہ تھا اور جہاں ہر چیز اجنبی اور ہر بات ان کی طبعیت کے مخالف تھی۔ جہاں کی آب و ہوا، رسم و رواج، صورت و شکل، آداب و اطوار، لباس، بات چیت غرض ہر چیز ایسی تھی کہ ان کو اہلِ ملک سے اور اہلِ ملک کو ان سے وحشت ہو۔ لیکن حال یہ ہے کہ انہیں وصال کیے صدہا سال گزر چکے ہیں، لیکن اب بھی ہزاروں لاکھوں بندگانِ خدا صبح و شام ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں اور جن جن مقامات پر ان کے قدم پڑے تھے وہ اب تک "شریف" اور "مقدس" کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ کیا بات تھی؟ بات یہ تھی کہ ان کے پاس دلوں کے کھینچنے کا وہ سامان تھا جو نہ امرا و سلاطین کے پاس ہے اور نہ علما و حکما کے پاس۔ لیکن دلوں کو ہاتھ میں لانے کے لیے سب سے پہلے ہم زبانی لازم ہے۔ ہم زبانی کے بعد ہم خیالی پیدا ہوتی ہے۔ درویش کا تکیہ سب کے لیے کھلا تھا۔ بلا امتیاز ہر قوم و ملت کے لوگ ان کے پاس آتے اور ان کی زیارت اور صحبت کو موجبِ برکت سمجھتے۔ عام و خاص کی کوئی تفریق نہ تھی۔ خواص سے زیادہ عوام ان کی طرف جھکتے تھے۔ اس لیے تلقین (دعوت و تبلیغ) کے لیے انہوں نے جہاں اور ڈھنگ اختیار کیے، ان میں سب سے مقدم یہ تھا کہ اس خطے کی زبان سیکھیں تاکہ اپنا پیغام عوام تک پہنچا سکیں۔ چنانچہ جتنے اولیاء اللہ سر زمینِ ہند میں آئے یا یہاں پیدا ہوئے، وہ باوجود عالم و فاضل ہونے کے عوام سے انہیں کی بولی میں بات چیت کرتے اور تعلیم و تلقین فرماتے تھے۔ یہ بڑا گُر تھا اور صوفیا اسے خوب سمجھتے تھے۔‘‘ (اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام، ص : 3، 4، ناشر: انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی)
ہندوستان میں چشتی صوفیائے و مشائخ نے جہاں دین و مذہب کی گراں قدر خدمات انجام دیں، وہیں علوم و ادبیات کے فروغ و استحکام میں بھی نمایاں طور پر حصہ لیا۔ کتب و رسائل اور ملفوظات و مکتوبات کی صورت میں صوفیائے چشت اہلِ بہشت کے علمی و ادبی کارناموں کی سینکڑوں مثالیں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ محبوبِ الہٰی حضرت نظام الدین اولیاء اور آپ کے خلفا اور خلفا کے خلفا نے دین و دانش اور ادب و ثقافت کی اہم خدمتیں انجام دیں۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیگم ریحانہ فاروقی (مدیرۂ اعلیٰ آستانہ، دہلی) لکھتی ہیں:
’’اگر ہم یہ کہیں کہ دلی میں اردو ادب کی خدمت کے آغاز اور اس کی ترویج و ترقی کے بانی و معمارِ اول حضرت محبوب الہٰی خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ حضرت کی خانقاہ دینی و روحانی تعلیم کا تو مرکز تھی ہی، لیکن یہاں ظاہری تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ محبوب الہٰی یہ چاہتے تھے کہ ایک ایسی ہلکی پھلکی زبان وجود میں آئے جو عوام کے درمیان باہمی خلوص و رابطہ کا آسان ذریعہ بن سکے اور صوفیا و مشائخین اور علمائے دین اس کے ذریعہ بہ آسانی مؤثر طور پر تبلیغِ دین کر سکیں، درسِ طریقت و ریاضت دے سکیں اور اس زبان کے ذریعہ بندگانِ خدا کی حقیقی معنوں میں اثر آفریں رہنمائی و رہبری کر سکیں۔ یہ صحیح ہے کہ حضرت نے خود اردو میں کوئی تحریری کام انجام نہیں دیا، جس کا سبب یہی ہو سکتا ہے کہ حضرت موصوف نے عبادت و ریاضت اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کو اولیت اور ترجیح دی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان مصروفیات کے حلقہ میں رہ کر کوئی تحریری کام کرنے کا وقت نکالنا ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے عزیز ترین سعادت مند و فرماں بردار مرید و شاگرد رشید حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس مقصد کے آغاز و حصول کے لیے احساس دیا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت امیر خسرو اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے کامیاب معمار اول ثابت ہوں گے۔‘‘ (دہلی کے مشائخ کی ادبی خدمات، ص : 24، ناشر: اردو اکادمی، دہلی)
حضرت نظام الدین اولیاء کے خلفا کے خلفا میں ایک نمایاں ترین ہستی کا نام حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ ہے، جنہوں نے دعوت و تبلیغ، مذہب و روحانیت اور علم و ادب کی وسیع پیمانے پر خدمت انجام دی۔ آپ جامعِ شریعت و طریقت تھے۔ لطائفِ اشرفی اور مکتوباتِ اشرفی کے مطالعہ سے علومِ ظاہری و باطنی میں آپ کے رسوخ و مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مختلف دینی و علمی موضوعات پر دو درجن سے زائد کتب و رسائل آپ کے تبحرِ علمی پر دلالت کرتے ہیں۔ آپ کو بہت ساری علمی و روحانی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ کے علمی و ادبی فضائل میں سے ایک نمایاں ترین فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ اردو کے پہلے مصنف ہیں۔ حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کے اردو رسالۂ اخلاق و تصوف کی دریافت میر نذر علی دردؔ کاکوروی کا ایک عظیم کارنامہ ہے اور اس کے لیے وہ پوری دنیائے ادب کی طرف سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور ڈاکٹر فرقان علی مخمورؔ کاکوروی نے نذر علی دردؔ کاکوروی کی اس عظیم تحقیقی دریافت کو سراہا ہے اور دوسرے ادبا و محققین کی صرف اس لیے سرزنش کی ہے کہ اس تحقیقی دریافت کا سہرا دردؔ کاکوروی کے بجائے پروفیسر حامد حسن قادری کے سر کیوں باندھا جاتا ہے۔ اردو کی پہلی تصنیف اور اردو کے پہلے مصنف کے بارے میں طرح طرح کی خیال آرائیاں اور قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ کسی نے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کو تو کسی نے کو حضرت امیر خسرو کو اردو کا پہلا مصنف قرار دیا ہے، لیکن میر نذر علی دردؔ کاکوروی کی تحقیق و دریافت کے مطابق حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی اردو کے پہلے ادیب و مصنف قرار پاتے ہیں۔ دردؔ کاکوروی جب یہ نئی تحقیق لے کر اپنی دھماکے دار انٹری کے ساتھ میدانِ ادب میں وارد ہوئے تو اردو نثر کی تاریخ کے سابقہ بلند بانگ دعوے اور بہت سارے مزعومات و مسلّمات کی دیواریں منہدم ہو گئیں اور رفتہ رفتہ اربابِ ادب و تحقیق اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی واقعی اردو کے پہلے ادیب و مصنف ہیں اور اخلاق و تصوف سے متعلق ان کا تحریر کردہ بلند پایہ رسالہ اردو نثر کی پہلی کتاب ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں عصری دانش گاہوں سے تعلق رکھنے والے فضلا اور ماہرینِ زبان و ادب کے وقیع افکار و آرا جمع کیے گئے ہیں، تاکہ علمی و ادبی حلقوں میں اس فکر و خیال کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جا سکے۔
(۱) سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ سے متعلق دردؔ کاکوروی کی تحقیقی دریافت اور دردؔ صاحب کی تحقیقی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر فرقان علی مخمورؔ کاکوروی لکھتے ہیں:
’’دنیا کی ہر زبان کے نگار خانے میں ہم کو تین طرح کے لوگ نظر آتے ہیں۔ ایک وہ جو صرف شاعری کرتے ہیں۔ دوسرے جنہوں نے نثر نگاری کو اپنا شعار بنایا اور تیسرے وہ جو شاعری کرنے کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی بہترین صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ میر نذر علی دردؔ کاکوروی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے شاعری بھی کی اور نثر کے میدان میں بھی اپنے اشہبِ قلم کو جولاں کیا۔ یہاں یہ بھی عرض کر دینا بعید از موضوع نہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کی تعداد خال خال ہے جن کو نظم اور نثر دونوں میں کامل دستگاہ حاصل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دردؔ کی ایوانِ ادبِ اردو میں اہمیت و افادیت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ دردؔ کاکوروی نے اپنے عہدِ شباب میں شاعری کے ساتھ نثر نگاری کی طرف بھی خاص توجہ کی اور مختلف تاریخی، ادبی اور مذہبی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی نثر میں سادگی اور سلاست کے ساتھ علمی سنجیدگی ہے۔ اسی لیے ان کے ادبی اور تاریخی مضامین میں ان کی فکر پوری طرح ظاہر ہوئی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس وقت دردؔ نے زبان پر جس قدرت کا ثبوت دیا ہے، وہ انشا پردازی نہیں ہے، بلکہ فکر و خیال کی ترسیل کا کامیاب نمونہ ہے۔ نثر میں دردؔ کئی حیثیتوں سے نمودار ہوتے ہیں۔ وہ بیک وقت مصنف بھی ہیں اور مؤلف بھی، محقق بھی ہیں اور ناقد بھی، مرتب بھی ہیں اور مؤرخ بھی۔ انہوں نے اپنی نثر میں مختلف النوع مضامین یادگار چھوڑے ہیں۔‘‘
دردؔ کاکوروی جس پایہ کے شاعر ہیں، اسی پایہ کے نثر نگار بھی ہیں۔ اردو نثر میں ان کے دو مضامین ایسے ہیں جنہوں نے بحیثیتِ نثر نگار ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ایک مضمون تو وہ ہے جس میں انہوں نے مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے "رسالۂ معرفت" کو اردو نثر کی پہلی کتاب قرار دیا ہے۔ اگرچہ یہ بات ابھی تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچ سکی ہے، پھر بھی اس کتاب کے وجود سے یکسر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دردؔ کاکوروی نے خود ۲۰۷ صفحات پر مشتمل مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی اس قلمی کتاب کو دیکھا تھا اور اس کے چند جملے بھی بطورِ نمونہ پیش کیے تھے۔ ان کا یہ مضمون (ماہنامہ) نگار، دسمبر ۱۹۲۵ ء میں شائع ہوا تھا اور پروفیسر حامد حسن قادری نے اپنی کتاب " داستانِ تاریخ اردو " میں اس رسالہ کو اردو کی پہلی کتاب تسلیم کرتے ہوئے لکھا:
’’میر نذر علی دردؔ کاکوردی رسالہ نگار بابت دسمبر ۱۹۲۵ ء میں لکھتے ہیں کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی نے اپنے سلسلہ کے ایک بزرگ مولانا وجیہ الدین کے ارشادات کو اردو زبان میں ( جس کو اس زمانہ میں زبان ہندی کہا کرتے تھے )، خود جمع کیا ہے۔ میں نے اپنے بزرگ کے پاس خود اس کتاب کو دیکھا ہے۔ یہ قلمی کتاب ۲۰۷ / صفحہ کی ہے۔ اس کے ص : ۱۱۸ کی عبارت کا ایک ٹکڑا یہ ہے: "اے طالب ! آسمان و زمین سب خدا میں ہے۔ ہوا سب خدا میں ہے۔ جو تحقیق جان اگر تجھ میں سمجھ کا کچھ ذرہ ہے تو صفات کے باہر بھیتر سب ذات ہی ذات"۔‘‘
دردؔ کاکوروی کی یہ تحقیق حامد حسن کے حوالے سے اتنی مشہور ہوئی کہ ادبی حلقوں میں انہیں کے نام سے منسوب ہو گئی۔ حالاں کہ قادری صاحب نے اس سلسلہ میں دردؔ کاکوروی کی تحقیق کا ہی حوالہ دیا تھا۔ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے ڈاکٹر نسیم قریشی نے بھی یہی غلطی کی ہے کہ حامد حسن قادری کی کتاب دیکھے بغیر ہی انہوں نے اپنی کتاب " اردو ادب کی تاریخ " کے ص: ۱۱۹ پر لکھ دیا کہ پروفیسر حامد حسن قادری کی تلاش و تحقیق نے ایک اردو رسالہ کا پتہ لگایا ہے جو "دہ مجلس" سے سوا چار سو برس پہلے ۱۳۰۰ء میں تصنیف ہوا۔ اس کے مصنف خواجہ سید اشرف جہانگیر سمنانی ہیں۔ اب علمی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جانے لگی ہے کہ یہ دریافت دردؔ کاکوروی کی مرہون منت تھی۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری ایڈیٹر ماہنامہ نگار، کراچی (پاکستان) نے لکھا ہے کہ:
’’شعبۂ تحقیق میں بھی اہل کاکوری کے بعض اضافے بہت اہم ہیں۔ میر نذر علی دردؔ کاکوروی نے "نگار" دسمبر ۱۹۲۵ء کے شمارے میں حضرت امیر خسرو کے ایک معاصر اشرف جہانگیر سمنانی کے "رسالۂ معرفت" کا سراغ دے کر اہلِ نظر کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اردو نثر کی پہلی تصنیف یہی رسالہ ہے اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو اردو میں نظم و نثر کے آغاز کا زمانہ ایک ہی قرار پاتا ہے اور اُردو نثر کی تاریخ بھی کوئی سات سو سال پرانی ہو جاتی ہے۔‘‘ (میر نذر علی دردؔ کاکوروی : حیات اور کارنامے، ص : 285، 286، ناشر : مخمور کاکوروی، تقسیم کار: مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی)
(۲) ڈاکٹر حامد حسن قادری، دردؔ کاکوروی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’خواجہ سید اشرف جہاں گیر سمنانی نے (جن کا مزارِ مبارک کچھوچھہ شریف علاقۂ اودھ میں ہے) اُردو میں ایک رسالہ "اخلاق و تصوف" پر ۱۳۰۸ء / ۷۰۸ھ میں تصنیف کیا۔ نثرِ اردو میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں۔ سید اشرف جہاں گیر سمنانی صاحب ۱۲۸۹ء / ۶۸۸ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۰ سال کی عمر پا کر بہ حسابِ قمری ۱۴۰۵ء / ۸۰۸ھ میں وفات پائی۔ "خالقِ باری" کا سالِ تصنیف معلوم نہیں۔ لیکن چوں کہ امیر خسرو، سید اشرف صاحب سے عمر میں ۳۵ سال بڑے ہیں، اس لیے "خالقِ باری" کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے سید اشرف صاحب کی کتاب پہلے لکھی گئی ہو اور اردو زبان میں تصنیفِ اولین یہی ہو۔ بہرحال اولیت انہیں دونوں (حضرت امیر خسرو و حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی علیہما الرحمہ) میں دائر ہے۔ اب تک اربابِ تحقیق متفق الرائے تھے کہ شمالی ہند میں اٹھارہویں صدی عیسوی (بارہویں صدی ہجری) سے پہلے تصنیف و تالیفِ نثر کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چار سو برس پہلے اُردو کی تصانیف کا آغاز ہوا۔ اب سید شرف جہاں گیر کے " رسالہ تصوف " کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند میں امیر خسرو اور سید اشرف جہاں گیر نے نظم و نثر دونوں کی بنیاد ڈال دی تھی۔‘‘ (تاریخ و تنقید، ص: ۹، ناشر : لکشمی نرائن اگروال پبلشر، آگرہ)
ڈاکٹر حامد حسن قادری اپنی دوسری مدلل تحقیقی کتاب "داستان تاریخِ اردو" میں لکھتے ہیں:
’’خواجہ سید اشرف جہانگیر سمنانی (جن کا مزار کچھوچھہ شریف علاقۂ اودھ میں ہے) نے اُردو میں ایک رسالہ اخلاق و تصوف پر ۱۳۰۸ء / ۷۰۸ھ میں تصنیف کیا۔ میر نذر علی دردؔ کاکوروی "رسالہ نگار لکھنؤ" بابت دسمبر ۱۹۲۵ء میں لکھتے ہیں کہ "سید اشرف جہانگیر نے اپنے سلسلے کے ایک بزرگ مولانا وجیہہ الدین کے ارشادات کو اردو زبان میں (جس کو اس زمانے میں ہندی زبان کہا کرتے تھے) خود جمع کیا ہے۔ میں نے اپنے ایک بزرگ کے پاس خود اس کتاب کو دیکھا ہے۔ یہ قلمی کتاب ۲۰۷ صفحہ کی ہے۔ اس کے صفحہ: ۱۱۸ کی ایک عبارت کا ٹکڑا یہ ہے: اے طالب! آسمان و زمین سب خدا میں ہے۔ ہوا سب میں خدا ہے۔ جو تحقیق جان اگر تجھ میں کچھ سمجھ کا ذرہ ہے تو صفات کے باہر بھیتر سب ذات ہی ذات۔ نثرِ اُردو میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں ہے۔ سید اشرف صاحب جہانگیر ۱۲۸۹ء / ۶۸۸ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۰ سال کی عمر کو پہنچ کر ۱۴۰۵ء / ۸۰۸ھ میں وفات پائی۔ "خالقِ باری" کا سال تصنیف معلوم نہیں لیکن چوں کہ امیر خسروؔ، سید اشرف سے عمر میں ۳۵ سال بڑے ہیں۔ اس لیے خالق باری کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے سید اشرف صاحب کی کتاب پہلے لکھی گئی ہو اور اُردو زبان میں تصنیفِ اولین یہی ہو۔ بہرحال اولیت انہیں دونوں میں دائر ہے۔ بعض محقیقین کی نظر میں " خالقِ باری " کا انتساب حضرت امیر خسرو سے مشتبہ ہے۔ اس نظریہ کی بنا پر اگر خالق باری کسی بعد کے مصنف کا کارنامہ ہے تو پھر سید اشرف جہانگیر کا رسالہ تصوف ہی اُردو کی پہلی کتاب ہے۔ اب تک اربابِ تحقیق متفق الرائے تھے کہ شمالی ہند میں اٹھارویں صدی عیسوی (بارہویں صدی ہجری) سے پہلے تصنیف و تالیفِ نثر کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چار سو برس پہلے اُردو کی تصانیف کا آغاز ہوا۔ اب سید اشرف جہانگیر کے رسالۂ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ دکن میں اُردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند میں امیر خسرو اور سید اشرف جہانگیر نے نظم و نثر دونوں کی بنیاد ڈال دی تھی۔‘‘ (داستان تاریخِ اردو، ص : ۵۳، ۵۴، ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی)
(۳) پروفیسر اختر اورینوی (صدر شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی، بہار) اپنے تحقیقی مضمون "بولیوں کا سنگم" میں لکھتے ہیں:
’’دہلی اور بہار اسکول میں مماثلت ضرور ہے۔ لیکن ہر دو نے ایک دوسرے پر اثر ڈالتے ہوئے انفرادی طور پر ترقی کی ہے اور دونوں اسکول از خود پیدا ہوئے۔ میر حسن کے استاد میر ضیاؔ دہلی سے عظیم آباد چلے آئے۔ اشکؔی اور جمالؔی نے خواجہ میر دردؔ سے اصلاحیں لیں، مگر اس کو کیا کیجیے کہ خود میر تقی میرؔ، جعفرؔ عظیم آبادی کے شاگرد تھے۔ راسخؔ عظیم آبادی اور جوششؔ عظیم آبادی کی شاعری میرؔ و سوزؔ کی شاعری کا جواب ہے۔ غالبؔ نے بیدلؔ عظیم آبادی کے کلام کو سامنے رکھ کر مشقِ سخن کی۔ موجودہ تحقیقات کی بنا پر تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امیر خسروؔ اور حضرت خواجہ سید اشرف جہانگیر سمنانی کے بعد دہلی اور صوبۂ متحدہ میں اُردو کو اُس وقت تک فروغ نہ ہوا، جب تک ولؔی دکنی نے دہلی کے تخیل کو آ کر نہ چھیڑا۔‘‘ (تحقیق و تنقید، ص: ۳۰، ناشر: کتابستان، الہٰ آباد)
(۴) اردو کے مایۂ ناز ادیب و محقق پروفیسر مظفر اقبال (سابق صدر شعبۂ اردو بھاگل پور یونیورسٹی، بھاگل پور، بہار) کے بقول:
’’مولوی عبد الحق صاحب کی کوششوں سے جب جنوبی ہند کا بیش قیمت سرمایۂ ادب اہلِ فکر و نظر کے سامنے پیش ہوا تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آیا کہ شمالی ہند سے بہت پیش تر جنوبی ہند میں اُردو نثر میں ترجمہ و تالیف کا کام شروع ہو چکا تھا۔ محققین نے دکن میں اردو نثر کا پہلا مصنف شیخ عین الدین گنج العلم متوفیٰ: ۱۳۹۳ء / ۷۹۵ھ کو قرار دیا ہے لیکن ان کے رسائل کا پتہ نہیں چلتا۔ اس لیے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز متوفیٰ: ۱۴۲۲ء / ۸۲۵ھ ھم نہ کی تصنیف "معراج العاشقین" کو دکن میں اردو نثر کا قدیم ترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کتاب کا سنِ کتابت ۱۴۴۲ء بتایا جاتا ہے اور سنِ تصنیف ۸۰۱ھ مطابق ۱۳۹۸ء سے قبل۔ معراج العاشقین کی دریافت کے بعد عرصۂ دراز تک اسے اُردو نثر کی اولین تصنیف کا درجہ حاصل رہا اور اردو نثر نویسی کے سلسلے میں جنوبی ہند کی اولیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن سید اشرف جہانگیر سمنانی کی نثری تصنیف کی دریافت کے بعد اولیت کا سہرا پھر شمالی ہند کے سر پر باندھ دیا گیا اور اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ معراج العاشقین کی تصنیف سے ۱۷  سال پیش تر شمالی ہند کے جلیل القدر صوفی سید اشرف جہانگیر سمنانی (متولد: ۶۸۸ھ مطابق ۱۲۸۹ء - وفات: ۸۰۸ھ مطابق ۱۴۰۵ء) نے اردو نثر میں جو رسالہ تصنیف کیا تھا، وہی اُردو نثر کی سب سے پہلی کتاب ہے۔ اس کا سنِ تصنیف ۷۰۸ھ مطابق ۱۳۰۸ء ہے اور موضوع اخلاق و تصوف ہے۔‘‘ (بہار میں اردو نثر کا ارتقا، ص: ۱۴، ۱۵، ناشر: کتاب خانہ ترپولیا، پٹنہ، بہار)
(۵) مشہور محقق پروفیسر وقار احمد رضوی لکھتے ہیں:
’’اردو نثر کی تاریخ آٹھویں صدی ہجری سے شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ اردو نثر کا قدیم نمونہ سید اشرف جہانگیر سمنانی کا رسالہ ہے جو ۷۰۸ھ مطابق ۱۳۰۸ء کا ہے۔ پھر شیخ عین الدین گنج العلم متوفیٰ: ۷۹۵ھ کی تصانیف کا حوالہ ملتا ہے۔ اس کے بعد معراج العاشقین از خواجہ بندہ نواز گیسو دراز گلبرگوی کا ذکر آتا ہے۔‘‘ (ممبئی عظمیٰ کی تاریخ، ص: ۶۶، ناشر: ادارہ معارفِ اسلامی، ممبئی، بحوالہ تاریخِ نقد، ناشر: نیشنل بک فاؤنڈیشن، کراچی، پاکستان ۲۰۰۴، ص : ۲۸۵)
(۶) ڈاکٹر عابدہ بیگم (شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی) لکھتی ہیں:
’’تمام محققین نے "کربل کتھا" کو شمالی ہند کی پہلی تصنیف قرار دیا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق اس سے پہلے نثری تصانیف کا آغاز ہو چکا تھا۔ ان کے ادبی یا معیاری ہونے کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کو نثری تصانیف کی صف سے خارج بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ابتدائی تحریروں کا ذکر کرتے ہوئے مؤرخین نے سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ نے ممدو خاں کے رسالے کو نقشِ اول بتایا ہے۔ انھیں یہ رسالہ بیجا پور میں دستیاب ہوا۔ اس رسالے کے ساتھ دو اور منظوم رسالے پند نامہ اور چکی نامہ بھی منسلک تھے، سنِ تصنیف درج نہیں۔ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ اس کی زبان اور اندازِ بیان کو دیکھتے ہوئے اسے سید اشرف جہانگیر سمنانی سے قبل کی تصنیف قرار دیتی ہیں ........ حامد حسن قادری نے سید اشرف جہانگیر سمنانی کے اردو رسالے کا ذکر کیا ہے۔ قادری صاحب نذرؔ کاکوری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سید مخدوم اشرف کا یہ رسالہ اخلاق و تصوف پر مبنی ہے۔ اس رسالہ میں مصنف نے اپنے بزرگ کے ارشادات کو جمع کر کے رسالے کی شکل دے دی ہے۔‘‘ (اردو نثر کا ارتقا، ص: ۱۳، ۱۴، ناشر: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی)
(۷) مشہور ناقد و محقق اور ادیب و صحافی ڈاکٹر فرمان فتح پوری (ایڈیٹر "نگار") نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی کا رسالۂ تصوف و معرفت اردو کی پہلی تصنیف ہے اور اردو نظم و نثر کے آغاز کا زمانہ تقریباً ایک ہی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’شعبۂ تحقیق میں بھی اہل کاکوری کے بعض اضافے بہت اہم ہیں۔ میر نذر علی دردؔ کاکوروی نے "نگار" دسمبر ۱۹۲۵ء کے شمارے میں حضرت امیر خسرو کے ایک معاصر اشرف جہانگیر سمنانی کے "رسالۂ معرفت" کا سراغ دے کر اہلِ نظر کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اردو نثر کی پہلی تصنیف یہی رسالہ ہے اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو اردو میں نظم و نثر کے آغاز کا زمانہ ایک ہی قرار پاتا ہے اور اُردو نثر کی تاریخ بھی کوئی سات سو سال پرانی ہو جاتی ہے۔‘‘ (پیش لفظ سخنورانِ کاکوری، ص: 13، ناشر: میخانۂ ادب، ناظم آباد، کراچی)
(۸) ڈاکٹر نسیم قریشی (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اپنی بلند پایہ تصنیف "اردو ادب کی تاریخ" میں سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالۂ اردو (جو اخلاق و تصوف پر مشتمل ہے) کی لسانی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور دردؔ کاکوروی و حامد حسن کی تائید کرتے ہوئے آپ کے کے مذکورہ بالا رسالے کو اردو کی پہلی تصنیف قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’شمالی ہند میں اردو شعر گوئی کا عام رواج محمد شاہ رنگیلے کے عہد سے ہوا۔ جب ولؔی دکنی کے دوبارہ دورۂ دہلی نے دار السلطنت میں ادبی چہل پہل کی نئی فضا پیدا کر دی، شمالی ہند کے با کمالوں نے اس ذوق و شوق، طبیعت داری اور فن کے رچاؤ کے ساتھ اُردو شاعری کو وسیلۂ اظہارِ خیال بنایا کہ بہت جلد اس کا بلند فنی معیار قائم ہو گیا، لیکن شمالی ہند میں ادب اور زندگی پر فارسی کا تسلط اس قدر شدید اور قوی تھا کہ اردو نے بڑی صبر آزما منزلیں طے کر کے اور ایک حد تک اپنا جوہر کھو کر با قاعدہ ادبی حیثیت اختیار کی۔ ۱۸۰۰ء تک شمالی ہند میں اردو نثر نے کوئی خاص ترقی نہیں کی۔ اب تک عام خیال یہ تھا کہ شمالی ہندی اردو نثر کی پہلی کتاب فضلی کی "دہ مجلس" ہے جس کا سنِ تصنیف ۱۷۳۲ء ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تلاش و تحقیق نے ایک اور رسالہ کا پتہ لگایا ہے جو "دہ مجلس" سے سوا چار سو برس پہلے ۱۳۰۸ء میں تصنیف ہوا۔ اس کے مصنف خواجہ سید جہانگیر اشرف سمنانی ہیں۔ رسالہ اخلاق و تصوف سے متعلق ہے۔ اس کی تمام تر اہمیت لسانی ہے۔‘‘ (اردو ادب کی تاریخ، ص: 129، ناشر: ادارۂ فروغِ اردو، لکھنؤ)
(۹) ڈاکٹر عبد الرؤف (سابق صدر شعبۂ اردو کلکتہ یونیورسٹی) لکھتے ہیں:
’’اردو کا ایک رسالۂ تصوف اور چند فقرے حضرت اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ سے منسوب ہیں ......... خواجہ سید اشرف جہانگیر سمنانی نے اردو میں ایک رسالہ اخلاق و تصوف پر ۱۳۰۸ء / ۷۰۸ھ میں تصنیف کیا۔‘‘ (مغربی بنگال میں اردو کا لسانیاتی ارتقا، ص: 99، ناشر : مغربی بنگال اردو اکیڈمی، کلکتہ)
(۱۰) ماضی قریب کے مشہور محقق و مؤرّخ پروفیسر سید حسن عسکری، پٹنہ نے بھی سید اشرف جہانگیر سمنانی کی طرف ایک اردو رسالہ منسوب کیے جانے کی بات کہی ہے اور بتایا ہے کہ جب تک اس پر تنقیدی نظر نہ ڈالی جائے، اس کی قدامت و اصلیت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’حضرت اشرف جہانگیر سمنانی سے ایک رسالہ اردو منسوب ہے، لیکن جب تک اس پر نظرِ غائر نہ ڈالی جائے اس کی قدامت و اصلیت کے متعلق صرف دو تین اشعار سے کچھ فیصلہ کرنا مناسب نہ ہو گا۔ لیکن ہندی کی واقفیت اور استعمال کی شہادت تو خود لطائفِ اشرفی میں موجود ہے۔‘‘ (عہدِ وسطیٰ کی ہندی ادبیات میں مسلمانوں کا حصہ، ص: 52، 53، ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
ان دلائل و شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کا شمار اردو ادب کے سابقین اولین مصنفین میں ہوتا ہے اور آپ کا مذکورہ رسالہ اردو کی پہلی تصنیف ہے۔ حضرت مخدوم پاک کثیر التصانیف بزرگ تھے۔ بعض سوانح نگاروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ سلسلۂ چشتیہ میں آپ نے تصنیف و تالیف کی طرف جس قدر توجہ دی ہے اور جتنی کتابیں لکھی ہیں، شاید ہی کوئی دوسرے چشتی بزرگ آپ کے مثل ہوئے ہوں۔ آپ کی زندگی کا چوتھائی حصہ (تقریباً تیس سال) سفر میں گذرا۔ سفر میں کتابوں کا ذخیرہ ساتھ رکھتے اور دورانِ سفر وعظ و ارشاد اور تعلیم و تلقین کا سلسلہ جاری رہتا۔ دورانِ سفر لوگوں کی فرمائش پر کتابیں لکھ کر ان کے حوالے کر دیتے اور آگے بڑھ جاتے۔ اگر آپ کی کتابوں کی نقلیں محفوظ رکھی جاتیں تو آج دنیا آپ کی تصنیفی کثرت کا اعجاز ملاحظہ کرتی۔ مجدّدِ سلسلہ اشرفیہ، شیخ المشائخ حضرت مولانا شیخ محمد علی حسین اشرفی کچھوچھوی (معروف بہ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں) آپ کی تصانیفِ عالیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا ابو الفضائل نظام الدین یمنی خلیفۂ مخدوم اشرف و جامعِ ملفوظات لطائفِ اشرفی فرماتے ہیں کہ حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خدا داد علم تھا۔ روئے زمین میں جہاں تشریف لے جاتے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کر کے وہاں کے لوگوں کے لیے چھوڑ آتے۔ بہت سی کتابیں آپ نے عربی، فارسی، سوری، زنگی اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں تصنیف فرمائیں، جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک طومار ہو جائے گی۔ علمائے جلیل القدر کا قول ہے کہ جس قدر تصانیف حضرت محبوب یزدانی نے فرمائیں بہت کم علماء اس قدر تصانیفِ کثیرہ کے مصنف ہوں گے۔ کتاب کنز الاسرار، ذکر اسمائے الہٰی اور تسخیرِ کواکب حضرت نے تالیف فرمائی جس کی تعلیم مجھ کو حضور سے حاصل ہوئی تھی۔ یہ عجیب کتاب آپ کی تالیفات سے فنِّ تکسیر میں تھی۔ تصانیفِ کثیرہ آپ کی اس قدر ہیں کہ جس کی فہرست لکھنا محال ہے۔ اکثر کتابیں آپ کی تالیفات سے بنام قدوۃ الخوانین حضرت سیف خاں (خلیفۂ مخدوم اشرف) جو داماد فیروز شاہ بادشاہ دہلی کے تھے، تصنیف ہوئیں اور اس فقیر نظام یمنی نے دو جلدیں حضرت کے ملفوظات سے کتاب "لطائف اشرفی" اور کتاب "سرّ الاسرار" اور رقعات حضرت کے جمع کر کے اس کو "مرقوماتِ اشرفی" کے نام سے موسوم کیا اور کتاب "سکندر نامہ" حضرت نظامی گنجوی کی بھی شرح لکھی۔ ان کتب کے علاوہ مقاماتِ مختلفہ میں حضور محبوب یزدانی نے جو کتابیں تحریر فرمائیں، ان میں سے خاص خاص کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
امام عبد اللہ یافعی کے ارشاد اور شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہ کی روحانی بشارت سے کتاب "عوارف المعارف" کی آپ نے شرح لکھی۔ جب روم تشریف لے گئے تو حضرت مولانا شیخ محیی الدین ابن عربی قدس سرہ کی کتاب "فصوص الحکم" کی شرح لکھی اور اس کو صاحب المعارف شیخ نجم الدین ابن شیخ صدر الدین فغانی کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شرح کو حضرت شیخِ اکبر کے حکم پر لکھا ہے۔
حضرت محبوب یزدانی جب عرب تشریف لے گئے تو اہلِ عرب نے حضرت کے رسائلِ تصوف کی طرف بڑی توجہ دی کیا اور وہاں آپ نے کتاب "قواعد العقائد" عربی زبان میں تصنیف فرمائی۔ حضرت نے اہلِ عرب میں تقسیم کے واسطے خاص کر یہ کتاب لکھی، جیسا کہ مولانا اعظم مولانا علی نے لمعات کو عربی کیا۔ آپ نے اس کی شرح بھی عربی زبان میں لکھی اور بہت کچھ اسرارِ معارفِ الہٰی اس میں درج فرمائے۔ جب حضرت محبوب یزدانی اطرافِ عراق و خراسان و ماوراء النہر میں تشریف لے گئے تو وہاں کے سادات نے کتاب "بحر الانساب" پیش کی۔ حضرت محبوب یزدانی نے کتاب مذکور سے منتخب کتاب "اشرف الانساب" تصنیف کی اور کتاب "بحر الاذکار" بھی وہاں تصنیف فرمائی اور رسالہ "اشرف الفوائد" اور "فوائد الاشرف" صوبۂ گجرات میں تصنیف فرمایا اور کتاب "بشارۃ الذاکرین" اور رسالہ "تنبیہ الاخوان" اور رسالہ "بشارۃ الاخوان" بپاسِ خاطر حضرت سیف خان تصنیف فرمائے اور روم کے سفر میں رسالہ "مصطلحاتِ تصوف" تحریر فرمایا اور رسالہ "مناقب خلفائے راشدین و فضائل اصحاب رسول اللہ ﷺ" لکھا جس پر علمائے محمد آباد گوہنہ نے کثیر مناقبِ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سبب اعتراض کیا تھا اور چند رسائل تصوف میں بمقام روم اور لکھے جن کے نام یاد نہیں۔ رسالہ "حجۃ الذاکرین" بنگال میں تصنیف فرمایا۔ اس رسالہ میں پانچوں وقت بعد ادائے فریضہ تین بار بآوازِ بلند کلمۂ طیبہ کا ثبوت احادیت اور تفاسیر سے فرمایا ہے۔ اس رسالہ کو "نصیحت نامہ" کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ کتاب "فتاوائے اشرفیہ" بزبان عربی محض بپاسِ خاطر حضرت نور العین تحریر فرمایا۔ اس کتاب میں مسائلِ فقہ بڑی بڑی کتابوں سے انتخاب کر کے تصنیف فرمایا۔ یہ فتاویٰ جامعِ مسائل ضروریہ مذہبِ حنفیہ میں اس خوبی کے ساتھ لکھا کہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا کہ جس کی سفر و حضر میں دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔
علم تفسیر میں کتاب "تفسیرِ ربح سامانی" اور کتاب "تفسیرِ نور بخشیہ" تصنیف فرمائی اور کتاب "ارشاد الاخوان" اوراد و اشغالِ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں تصنیف فرمائی اور ایک رسالہ بحثِ "وحدۃ الوجود" میں لکھا، یہ ایک نایاب رسالہ ہے جس میں "سرِّ ہمہ او ست" کو بہ دلائل احادیث و تفسیر تحریر فرمایا اور رسالہ "تجویزیہ" در جواز بر لعنِ یزید جون پور میں علما کے مباحثہ کے بعد تحریر فرمایا اور موافقِ عقیدۂ صاحب شرحِ عقائد نسفی یزید پر لعنت فسقی کہنا جائزہ ثابت کیا اور کتاب "بحر الحقائق" میں معرفت و حقیقت کے اسرار و رموز بیان فرمائے۔ علم نحو میں "نحوِ اشرفیہ" تصنیف فرمایا جس میں تمام مسائل نحوی بالتفصیل درج فرمائے۔ نیز کتاب "کنز الدقائق" تصوف میں تصنیف فرمائی اور رسالہ "بشارۃ المریدین" حسبِ درخواست سلطان ابراہیم شرقی جون پور میں تصنیف کیا اور "رسالہ غوثیہ" ذکرِ مردان اہل خدمات ابدال و اوتاد و غوث و قطب وغیرہ میں تصنیف کیا۔ "رسالہ قبریہ" اپنی قبر شریف میں لکھا جس میں حالاتِ نزولِ ملائکہ، اظہار اپنے عقائدِ حقہ اور بشارتِ عالمِ غیب تحریر فرمایا اور علم اصول میں "فصولِ اشرفی" لکھی۔ ایک جلد "مکتوباتِ اشرفی" آپ کے صاحبِ سجادہ حضرت نور العین نے جمع کی۔ "مرقوماتِ اشرفی" حضرت مولانا نظام الدین یمنی حضرت کے خلیفہ نے جمع کیا۔ ایک جلد "رقعاتِ اشرفی" جس کو حضرت مولانا شیخ محمد دُرّ یتیم نے جمع کیا تھا۔ اس میں مختصر رقعاتِ حضرت محبوب یزدانی درج کیے گئے ہیں اور "دیوانِ اشرفؔ" ایک مبسوط کتاب منظوم ہے، جس کو اہلِ زمانہ مثلِ دیوانِ حافظؔ شیرازی مانتے ہیں۔‘‘ (تحائفِ اشرفی، حصہ اول، ص: 115 تا 118، ناشر: ادارہ فیضانِ اشرف دار العلوم محمدیہ، ممبئی)
اس اقتباس سے حضرت مخدوم اشرف کی کثرتِ تصانیف کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات دو ٹوک کہی جا سکتی ہے کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو کے پہلے مصنف تھے اور اخلاق و تصوف کے موضوع پر آپ کا یہ رسالہ اردو کی پہلی نثری تصنیف ہے۔ دردؔ کاکوروی سمیت اردو کے ایک درجن کے قریب محققین و مؤلفین کے اقوال و آرا ہمارے دعویٰ کی تائید و توثیق کے لیے کافی ہیں۔

صحابیاتؓ کے اسلوبِ دعوت و تربیت کی روشنی میں پاکستانی خواتین کی کردار سازی (۲)

عبد اللہ صغیر آسیؔ


دعوت کے مختلف وسائل و ذرائع

عمومی طور پر دعوت و تبلیغ کے تین وسائل و ذرائع بیان کئے جاتے ہیں۔ 
(داعی یا داعیہ کی مثالی سیرت و کردار کے ذریعے تبلیغ) اسی بات کو ذرا مختلف انداز میں ڈاکٹر عبد الکریم زیدان یوں بیان کرتے ہیں کہ: تبليغ الدعوة إلى الله تكون بالقول و بالعمل وبسيرة الداعي التي تجعله قدوة حسنه لغيرہ فتجذهم إلى الإسلام9۔ (یعنی دعوت الی اللہ زبان کے ذریعے سے ہو، عمل کے ذریعے سے ہو اور داعی مخلصین کی اعلیٰ سیرت و کردار کے ذریعے ہو۔)

(۱) زبانی تبلیغ

زبانی تبلیغ کا مطلب یہ ہے کہ زبان کے ذریعے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا، ان کو وعظ و نصیحت کرنا، ان کی اصلاح کرنا، ان پر مناسب موقع پر نکیر کرنا وغیرہ، یہ زبانی تبلیغ ہے۔ دعوت و تبلیغ میں قولی اور زبانی دعوت کو بہت اہمیت حاصل ہے، اور تمام انبیاء کرامؑ نے اپنی اپنی امتوں کو احکام الہی زبانی طور پر پہنچائے۔ اس ضمن میں مولانا اشرف علی تھانویؒ نے کچھ اس طرح فرمایا کہ: کہنے کا بھی طریقہ ہوتا ہے، کہنا کبھی صراحتہً ہوتا ہے اور کسی تدبیر سے موقع محل کا خیال کرنا چاہیے، یاد رکھو نصیحت میں سختی ہرگز نہ کرو، لطافت اور نرمی سے کہو اور اگر ممکن ہو تو زبان سے کہہ کر اپنی بات سناؤ اور بعض اوقات کچھ نہ کہنے کا بھی اثر ہوتا ہے، جہاں جو طریقہ مناسب ہو، اسی کو اختیار کرنا چاہیے10۔ البتہ ایک داعی یا داعیہ کے لئے ز بانی تبلیغ میں چند امور کو مدِنظر رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ بجائے فائدے کے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ وہ امور درج ذیل ہیں:

۱۔ زبان کی حفاظت کرنا

عام طور ہر دیکھا جاتا ہے کہ زبان کی بے احتیاطی کی وجہ سے اختلاف و نزاع پیدا ہوتا ہے، اگر کوئی داعی یا داعیہ معمولی سی توجہ بھی اس طرف دے تو کبھی بھی اختلاف کی نوبت نہ آئے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا11۔ (انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں، اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ )اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ایک داعی یا داعیہ کے لئے زبان کی حفاظت کا اہتمام کرنا کس قدر ضروری ہے۔

۲۔ بلا تحقیق گفتگو نہ کرنا

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ ایک داعی یا داعیہ کسی کے بارے میں سنی سنائی بات پر عمل درآمد کر لیتے ہیں، اس سے بد گمان ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں سے بھی اس کو بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے باہم نزاع و لڑائی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بلا تحقیق گفتگو کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح ایک داعی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کلام بہتان تراشی اور لعن طعن پر مشتمل نہ ہو بلکہ اس کی زبان آسان فہم اور قرآن و سنت سے مزین ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ12۔ (اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، (٣) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ )اسی طرح حدیث مبارکہ میں بھی ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے کہ جو سبی سنائی بات کو بلا تحقیق آگے بیان کر دے، اس طرح آپﷺ نے فرمایا: كفى بالمرء كذبا، ان يحدث بكل ما سمع13۔ ‏‏‏‏(آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ کافی ہے کہ جو سنے اس کو بیان کرے۔) لہذا یہاں سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ بلا تحقیق گفتگو کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے لہذا ایک داعی یا داعیہ کو دوران تبلیغ اس سے بچنا چاہیے، تاکہ اس کی بات مؤثر ہو سکے۔ ویسے بھی عام مشاہدہ ہے کہ جب کسی شخص کے بارے میں یہ بات عام ہو جائے کہ اس کی بات کی سند مضبوط نہیں ہوتی یا یہ کہ یہ شخص جھوٹ بھی بولتا ہے تو اس کے بعد معاشرے میں اس شخص کی اپنی شخصیت متنازعہ ہو جاتی ہے۔

۳۔ داعی کا کلام’’کلامِ ایجاز‘‘ ہو

داعی یا داعیہ کو چاہیے کہ وہ مختصر مگر گامع انداز میں اپنی بات سامعین تک پہنچائے۔ ایجاز سے مراد یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ میں معنی کو واضح کر دیا جائے یعنی مخاطبین کے سامنے بہت لمبی چوڑی گفتگو کرنے کی بجائے مختصر الفاظ کا چناؤ کیا جائے تاکہ مخاطب داعی یا داعیہ کی بات سن کر فوراً سمجھ جائے اور کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ جیسا کہ حضرت اسماءؓ نے اپنے بیٹوں کو مختصر انداز میں دعوت پیش کی تھی۔ کیونکہ جب الفاظ نپے تلے ہوں اور پراثر ہوں تو بات سیدھی مخاطب کے دل میں اتر جاتی ہے۔

زبانی تبلیغ کی مختلف اقسام

اب ہم زبانی تبلیغ کی مختلف اقسام بیان کرتے ہیں۔
۱۔ خطبہ
۲۔ لیکچر
۳۔ درس
۴۔ بحث و مباحثہ یا ٹیبل ٹاک (مناظرہ)
۵۔ علمی سیمینارز یا کانفرنسز
۶۔ آن لائن ویڈیو بیانات

۱۔ خطبہ کے ذریعہ دعوت

داعی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کا خطبہ یا تقریر زیادہ لمبی نہ ہو جس سے سامعین اکتا جائیں، دوسرا یہ کہ موسم کا بھی لحاظ رکھا جائے، کبھی سخت سردی یا سخت گرمی میں بھی کوئی چیز سننا مشکل ہوتا ہے۔ اس ضمن میں امین احسن اصلاحیؒ کا قول پہلے گزر چکا کہ: ’’کلام مبین کا مطلب ہے کہ وہ اپنے وقت کی اس بولی میں گفتگو کرتے ہیں جو زیادہ خوبی اور صفائی کے ساتھ حروف مدعا کو قوم کے ہر حلقہ تک پہنچا سکے، اس میں نہ اجمال و ابہام ہوتا ہے، نہ غیر ضروری طوالت۔14‘‘

۲۔ لیکچرز کے ذریعہ دعوت

زبانی تبلیغ کا ایک ذریعہ لیکچر ہے، اس میں کوئی متعین موضوع ترتیب سے جمع کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک علمی بیان ہوتا ہے جو جوش و جذبات سے بالکل عاری ہوتی ہے۔ لیکچر ایک متعین موضوع پر مشتمل ہوتا ہے جس میں اس موضوع کے تمام دلائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر احمد عمر لکھتے ہیں:’’ لیکچر دیتے وقت ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ وہ درس ہو، اس میں زائد از ضرورت اور جذباتی گفتگو نہ ہو کیونکہ جذباتی طرزِ گفتگو تقریر میں ہوتا ہے۔ لیکچر کی ایک ضرورت یہ ہے کہ موضوع کے مقدمات اور اس کے نتائج میں سامعین کو شریک رکھا جائے تاکہ جن نتائج پر لیکچر منتج ہوا، سامعین بھی ان نتائج تک پہنچ سکیں15۔‘‘

۳۔ درس و تدریس کے ذریعے دعوت

درس بھی زبانی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس لئے کہ درس کے اندر جتنے مخاطبین ہوتے ہیں، داعی حضرات یا داعیات ان کی ضرورتوں اور دلچسپیوں سے واقف ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان سامعین کو اپنے معلم یا داعی سے ایک خاص انسیت بھی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ابو الفتح البیانوی لکھتے ہیں: ’’اکثر درس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ قرآن کی آیت یا حدیث یا فقہی مسائل کی تشریح کر دی جائے اور حاضرین کی تعداد مختصر و محدود ہے تو داعی کو یہ موقع میسر آجاتا ہے کہ وہ حاضرین کو اچھی طرح نصیحت کر سکے۔ داعی درس کو طویل نہ کرے کیونکہ زیادہ طوالت سے سامعین اکتا جاتے ہیں16۔‘‘ اسی طرح بعض اوقات تربیتی نشستوں کا بھی ایک محلے کی مسجد کی سطح پر یا علاقے کی جامع مسجد کی سطح پر انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں مختلف اسکالرز تشریف لاتے ہیں اور دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، لہذا داعیات کو بھی اس میدان کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ عمومی طور پر خواتین کی تربیتی نشستوں کا اہتمام مردوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، لہذا داعیات کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھ کر اپنی خدمات انجام دیں۔

۴۔ بحث و مباحثہ یا ٹیبل ٹاک

کبھی کبھی ایک خاص عنوان کے تحت تیاری کر کے اہل علم حضرات آمنے سامنے گفتگو کرتے ہیں اور اس کو بحث و مباحثہ یا ٹیبل ٹاک کا نام دیا جاتا ہے، لیکن ایک داعی یا داعیہ کو اس سلسلے میں یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مباحثہ یا مناظرہ صرف اس نیت سے کیا جائے کہ حق بات کو واضح کیا جائے نہ کہ دل میں فریقِ مخالف کو ہرانے کا یا نیچہ دکھانے کا جذبہ ہو۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محی الدین رقم طراز ہیں کہ: ’’بحث و مناظره دو یا زیادہ افراد کے درمیان ہوتا ہے اور اس میں ہر فریق اپنی رائے اور نقطہ نظر کی وضاحت کرتا ہے اور جب داعی مخاطب کو اللہ کی جانب بلاتا ہے اور وہ حق کو قبول نہیں کرتا اور داعی سے بحث و مناظرہ پر تیار ہو جاتا ہے، اس صورتحال میں داعی کو سکون و اطمینان اور مخاطب پر شفقت و نرمی ترک نہیں کرنی چاہئے۔ اگر مخاطب اپنے باطل پر مصر ہے تو پھر داعی کے لئے مناسب ہے کہ وہ اس سے مزید بحث نہ کرے17۔‘‘

۵۔ علمی سیمینارز یا کانفرنسز

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، تمام شعبہ ہائے زندگی میں جدت آگئی ہے۔ عوام الناس بھی اب بہت حد تک سمجھدار ہو گئی ہے اور بہت سے ایسے نام نہاد اسکالرز سے جو دینِ حق کی صحیح ترجمانی نہیں کرتے، ان سے متنفر ہو کر ان کو سننا چھوڑ چکے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب عوام کے لئے علمائے حق کی جانب سے علمی سیمینارز یا کانفرنسز کا اہتمام بہت نچلی سطح تک ہو رہا ہے۔ لوگ اب خصوصی دلچسپی کے ساتھ ان سیمینارز میں شرکت کرتے ہیں لہذا عصر حاضر کی داعیات کو چاہیے کہ وہ بالخصوص خواتین کی اصلاح و تربیت کی نیت سے ایسی کانفرنسز کا اہتمام کریں جن میں بالخصوص خواتین کو مدعو کیا جائے، کیونکہ ایک عورت کی اصلاح سے پورا خاندان اصلاح پا جاتا ہے۔ آج کل تو آنلائن سیمینارز اور کانفرنسز بھی ہو رہے ہیں جن میں تمام سامعین اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے ان میں شامل ہو جاتے ہیں لہذا بہت زیادہ اخراجات سے بھی داعیات اپنے آپ کو بچاتے ہوئے اس طرح سے تبلیغ ِ دین کا فریضہ سرانجام دے سکتی ہیں۔

۶۔ آن لائن ویڈیو بیانات

اسی طرح تبلیغ دین کے ذرائع میں دور حاضر میں ایک جدید اور پراثر ذریعہ آنلائن ویڈیو بیانات کا ہے جس میں داعی یا داعیہ براہ راست یا ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے انٹرنیٹ پر اپنے بیانات پھیلا دیتے ہیں اور عوام الناس جب چاہیں، انٹرنیٹ کا استعمال کر کے ان بیانات کو سن سکتے ہیں۔ لہذا داعیات کو بھی چاہیے کہ وہ شرعی پردے کا خیال رکھتے ہوئے اس میدان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اگر انٹرنیٹ پر ان کے بیانات میسر ہوں گے تو ہماری وہ خواتین، جو گھریلو مصروفیات کی وجہ سے گھروں سے نہیں نکل سکتیں، وہ بھی ان بیانات سے مستفید ہو سکیں گی۔

(۲) تبلیغ بذریعہ تحریر

قلم و تحریر اور صحافت کے ذریعے تبلیغ، دعوت الی اللہ کی ایک تحریری قسم ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً خطوط، رسائل، کتابیں وغیرہ۔ آج کل دنیا میں کتابوں کی کمی نہیں ہے، ہر گھر میں بلکہ ایک چھوٹے سے مکتب میں بھی کتابوں کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ کتاب اور چھپائی کی حیرت انگیز ایجاد نے کتابت کی صنعت کو مزید ترقی دی، آج کی دنیا ایک ترقی یافتہ دنیا ہے، روزانہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں چھپتی ہیں، موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے دو چیزیں داعیان ِحق کے لئے نہایت اہم ہیں:
۱۔ موجود و سائل و ذرائع کو بہتر ڈھنگ سے استعمال کریں، جن کے ذریعہ ہم مخاطبین کی شخصیت کی تعمیر کر سکیں اور نئی نسل کی بہتر تربیت کر سکیں۔
۲۔ کتابوں کے اس بازار میں جو ظاہری خامیاں ہیں، ان کی اصلاح کریں۔
تحریری دعوت کی چند صورتیں درج ذیل ہیں:
     •  خطوط اور رسائل
     •  تصنیف و تالیف
     •  صحافت

۱۔ دعوت بذریعہ خطوط اور رسائل

خطوط و رسائل دعوت و تبلیغ کا نہایت ہی مؤثر طریقہ ہے۔ رسالہ کبھی تو کسی متعین موضوع پر ایک کتابچہ ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص دوسرے کو خطاب کر کے کچھ لکھتا ہے، جس کو خط سے تعبیر کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺنے بھی از خود دعوت الی اللہ کے سلسلے میں خطوط و رسائل سے مدد لی ہے، آپﷺ نے دنیا کے مختلف بااثر لوگوں، بادشاہوں اور حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور تبلیغِ حق کا فریضہ انجام دیا۔ لہذا ایک داعی یا داعیہ خطوط و رسائل کے ذریعے دعوت کا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ خود صحابیاتؓ کی سیرت سے بھی یہ اسلوب ہمیں ملتا ہے۔ اس ضمن میں اماں عائشہ صدیقہؓ کا وہ خط مشہور ہے جو انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کو نصیحت طلب کرنے پر لکھا تھا۔ اسی طرح آج کل بعض مدارس یا یونیورسٹیز ماہانہ سطح پر مختلف دعوتی عنوانات کے تحت رسائل کا اجراء بھی کرتے ہیں، لہذا داعیات کو چاہیے کہ وہ بھی اس میدان میں خلوصِ نیت کے ساتھ ایسے رسائل کا اجراء کریں جو بالخصوص خواتین کے معاملات سے متعلق ہوں۔

۲۔ تصنیف و تالیف

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی موضوعات پر مشتمل تحریکی و دعوتی کتب کا جو خلاء ہے، اس کا پُر ہو نا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ میدان وسیع اور کھلا ہوا ہے، ضرورت صرف صبر اور احتیاط کی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ہم دین میں گہری بصیرت حاصل کریں۔ کسی موضوع پر لکھتے ہوئے اس بات کی کوشش کی جائے کہ ہم اس میں ایسا مواد اکھٹا کریں جو اس سے پہلے کسی اور نے نہ کیا ہو اور اسی طرح اپنی تحریر یا کتاب کو منظر عام پر لانے سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے علماء و محققین کے نقطہ ہائے جان لیں تاکہ اس کتاب کو اہلِ علم حضرات کی جانب سے تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایسا مواد اکٹھا کیا جائے جو دعوتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں معاون ثابت ہو۔
اس ضمن میں سید قطب شہیدؒ تحریر کرتے ہیں:
قلم و تحریر کے ذریعے دعوت کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً داعی جن کو دعوت حق دینا چاہتا ہے انہیں خطوط لکھے، کتا ہیں اور مضامین تحریر کرے، دعوتی مقالات تحریر کرتے وقت اس امر کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان تحریروں کی زبان سہل ہو اور لوگ ان کو بخوبی سمجھ سکیں18۔
لہذا عصر حاضر کے داعی یا داعیہ کو چاہیے کہ وہ میدانِ دعوت میں ان باتوں کا خصوصی خیال رکھے۔

۳۔ صحافت

فن صحافت کی اہمیت میں عالمی پیمانے پر دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً وہ ممالک جنہیں فکر و عمل کی پوری آزادی ہے، وہ اس میدان میں سب سے آگے ہیں، اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کامیاب صحافی پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ لہذا دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ اس سلسلے میں چند اصول ایک داعی یا داعیہ کو ہمیشہ یاد رکھنے چاہییں۔

صحافت کے اصول

اب ہم اسلامی نقطہ نظر سے صحافت کے چند اصول ذکر کرتے ہیں جن کو اپنا کر ایک داعی یا داعیہ صحافت کے میدان میں بھی دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔

۱۔ داعی کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے

ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ایک اندھیرا ہے، لہذا اس گناہ سے خود بھی بچنا اور امت کو بھی اس سے بچانا ایک داعی یا داعیہ کا فرض ہے۔

۲۔ فحاشی و عریانی کا سدِ باب کرنا چاہیے

ایک داعی کو معاشرے میں فحاشی و عریانی پھیلانے والوں کا بھی سدِباب کرنا چاہیے کیونکہ اس کے سدباب کا حکم درحقیقت اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ: اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ19۔ (بیشک اللہ انصاف کا، احسان کا، اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ )اسی طرح ایک داعی یا داعیہ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بے حیائی کا قلع قمع اس لئے بھی کیا جائے کہ دراصل بے حیائی عذاب الہی کو دعوت دیتی ہے۔

۳۔ صحافت کے ذریعے کسی کی دل آزاری نہ کی جائے

اس میدان میں کام کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کی کسی تحریر یا تقریر سے کسی مخاطب کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یا کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ایک داعی یا داعیہ کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ: يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ۭ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ20۔ (اے ایمان والو ! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہے ہیں) خود ان سے بہتر ہوں، اور نہ دوسری عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہی ہیں) خود ان سے بہتر ہوں۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے۔ اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں تو وہ ظالم لوگ ہیں۔) اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحافت کے میدان میں کام کرنے والے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کسی کی بلا وجہ دل آزاری نہ ہو بلکہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ صحافت کے ذریعے تعمیر سیرت اور دعوت الی اللہ کا کام ہو۔ ایک داعی صحافی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اچھائی کی دعوت دیں اور برائی سے روکیں، لیکن کسی کی برائی تلاش کرنے کا کام ان کے لیے مفید نہیں ہے اور نہ وہ کسی کے نجی معاملات میں تجسس کرے۔

۴۔ بلا تحقیق کوئی خبر یا بات شائع نہ کی جائے

صحافت کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ کوئی خبر بغیر تحقیق کے شائع نہ کریں، اگر وہ خبر واقعی سچی ہے تو اسے شائع کیا جائے اور اس میں کوئی ایسا پہلو ضرور رکھیں جس سے دعوت کا پہلو نکلتا ہو۔ مثلاً عبرت یا رغبت و غیرہ۔ کیونکہ بغیر تحقیق کے بات کرنا حکمِ الہی کی بھی خلاف ورزی ہے۔

(۳) عمل کے ذریعے دعوت

دعوت و تبلیغ کا تیسرا ذریعہ عمل ہے کہ داعی اپنے کردار اور عمل کو اتنا اعلیٰ اور اچھا بنائے کہ لوگ اس کے طرز زندگی کو دیکھ کر متاثر ہو جائیں اور دعوت الہی کو خودبخود قبول کرتے چلے جائیں۔ صحابیاتؓ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ وہ عوام کے درمیان اپنے اخلاق و عادات اور مضبوط کردار کی وجہ سے ضرب المثل ہوتی تھیں، اس لیے عصر حاضر کی داعیہ کی سب سے پہلی ذمہ داری اپنی ذات کی اصلاح ہے اور پھر اپنی شخصیت کو عوام کے سامنے نمونے کے طور پر پیش کر کے دعوت دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی جب دعوت کا آغاز کیا تو سب سے پہلے مشرکین ِ مکہ کے سامنے اپنا کردار پیش کیا اور کردار ایسا تھا کہ شدید دشمن بھی آپﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ خود اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک ذات کو امت کے لئے آئیڈیل اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔ ویسے بھی ایک فطری بات ہے کہ جب سامع یہ دیکھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا بذاتِ خود اس بات پر عمل نہیں کر رہا تو ایسی صورت میں اس کے اپنے دل میں بھی وہ نصیحت زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی۔ اسی بات کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بات نہ کریں کہ جس پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ21۔ (اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی قابل نفرت ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔ )لہذا ایک داعی یا داعیہ کو اپنا کردار سب سے پہلے عوام الناس کے سامنے بطور مثال پیش کرنا چاہیے، اس کے بعد ان کو دعوت الی اللہ کی طرف راغب کرنا چاہیے، اس بات سے اس داعی کے کلام میں تاثیر بھی زیادہ ہوگی اور سامعین پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔

جدید ذرائع ابلاغ اور دعوت و تبلیغ

بیسویں صدی درحقیقت سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ اس صدی کے اوائل سے سائنس کی انقلابی ایجادات نے تہلکہ مچا رکھا ہے اور نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ ان ایجادات نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو متاثر کیا ہے۔ روز مرہ زندگی میں کام کرنے والی اشیاء زندگی کا لازمی بن گئی ہیں۔ انٹرنیٹ، ریڈیو، ٹی۔ وی، وی۔ سی۔ آر، ٹیپ ریکارڈر، موبائل فون اور الیکٹرانکس نے تمام ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ آدھی سے زیادہ دنیا اس وقت گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر کے انٹرنیٹ کی بدولت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، 4۔جی (4G) اور اب اس کے بعد 5۔جی (5G) نے دنیا کے تمام فاصلے مٹا دیئے ہیں۔ سمندر پار رہنے والے لوگ بھی اب ایک دوسرے کے پل پل کے حالات سے باخبر رہتے ہیں۔ لہذا ایسی صورت میں ایک داعی یا داعیہ کو انٹرنیٹ سمیت جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کہتے ہیں:’’ آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، دنیا میں نت نئے ایجادات روز معمول بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں زندگی کے تمام شعبوں میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ کل تک بادشاہوں اور حکمرانوں کو باخبر رکھنے کے لئے ہر کاروں اور وقائع نگاروں کا اہتمام کیا جاتا تھا اور حالات و واقعات سے صرف اہل اقتدار ہی مستفید ہوتے تھے لیکن آج کے دور نے ابلاغ کے تمام ذرائع کو ہر امیر غریب کے گھر تک پہنچا دیا ہے22۔‘‘

مختلف ذرائع ابلاغ

۱۔ دعوت و تبلیغ کے لیے ریڈیو کا استعمال

دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں ریڈیو سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس کام کے لیے الگ ریڈیو سٹیشن قائم کر سکتے ہیں اور اس کے قیام کے دوران اس بات کا اہتمام ہونا چاہیے کہ مفید اور عام فہم پروگرام سامعین کو سنائے جائیں اور ہر ماہ اور ہر موسم کے خاص حالات کے متعلق احکام و مسائل کو بیان کیا جائے۔ ریڈیو کے بارے میں مفتی محمد شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں: ’’ریڈیو کا استعمال اگرچہ عام حکومتوں اور عوام کی بد مذاقی سے مخرب اخلاق اور غیر مشروع چیزوں میں زیادہ تر کیا جا رہا ہے، لیکن خبروں اور دوسری مفید اور جائز معلومات کا درجہ بھی اس میں خاص اہمیت رکھتا ہے23۔‘‘ موجودہ دور میں ریڈیو اسٹیشن کی یہی حیثیت ہے جو ایک نشر و اعلام کا آلہ ہے، جس کا استعمال برائی کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے اور بھلائی کے لئے بھی۔ اس کے ذریعے دینی پروگرام پیش کئے جائیں۔

۲۔ دعوت و تبلیغ کے لیے ٹی-وی کا استعمال

اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ایک داعی یا داعیہ دعوت الی اللہ کا کام بہترین انداز میں کر سکتے ہیں اور بلاشبہ اس کا استعمال آج بہت سے مذہبی اسکالرز دعوت کے لئے کر بھی رہے ہیں۔ اس معاملے میں ٹی-وی کو چند خصوصیات حاصل ہیں جن کو ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
  • اندرونِ ملک اسلامی خبروں اور حالات حاضرہ سے باخبر رہنا
  • بیرونِ ملک اسلامی خبروں اور عالمی حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا
  • امت مسلمہ سے متعلق اہم خبروں، حالات و حادثات کی ویڈیوز کو براہ راست دیکھنا
  • دنیا بھر کے ممتاز اور جید علماء اور اسکالرز کے بیانات سے براہ راست مستفید ہونا
ان خصوصیات کی وجہ سے یہ بات مانی جا چکی ہے کہ ٹی-وی نے آج کی دنیا پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ ٹی-وی پر چلنے والی خبریں کچھ اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ سامعین کو ان کی سچائی میں ذرہ برابر بھی شک نہیں رہتا لیکن دوسری طرف اس کے نقصانات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ٹی-وی کے تعلیمی و تربیتی اور معلوماتی پروگرام بے حیائی اور فحاشی کی گندگیوں (اشتہارات) سے خالی نہیں ہیں۔ اسی (ٹی-وی) کے ذریعے ہی ملٹی نیشنل کمپنیز تجارت کی بلندیوں پر پہنچی ہیں۔ ٹی-وی کے جواز کے سلسلے میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ہم ٹی-وی رکھیں گے لیکن اس پر تفریحی پروگرام، فلم، سیریل، ناچ گانا نہیں دیکھیں گے، لیکن ایسی صورت میں ان حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں نسبتاً کم لیکن تمام خرابیاں موجود ہیں۔ عرب کے اکثر علماء ٹیلی ویژن کی تصویر کو تصویر کے حکم میں نہیں مانتے، اس لیے وہ ٹیلی ویژن پر ہر اس پروگرام کو جائز سمجھتے ہیں، جس میں کوئی قباحت اور غیر شرعی افعال نہ ہوں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس ذریعہ سے تبلیغِ دین اور درس و تدریس کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ بالفعل اس میں حصہ بھی لیتے ہیں، ان علماء کرام میں علامہ یوسف قرضاوی، شیخ صالح فوزان، شیخ ابراہیم الشریم جیسے نام قابل ذکر ہیں۔

۳۔ دعوت و تبلیغ کے میدان میں انٹرنیٹ کی اہمیت

جس طرح اخبار، کتب، رسالے، ٹی-وی وغیرہ ابلاغ کے ذرائع ہیں ایسے ہی انٹرنیٹ دور حاضر کا سب سے جدید اور تیز ترین ذریعہ ابلاغ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صدی انٹرنیٹ کی صدی ہے۔ انٹرنیٹ اپنے خیالات کو پھیلانے اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک آلہ ہے، اس پر باطل اقوام کی اجارہ داری ہونے کی وجہ سے اس کو بسا اوقات اسلام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے لیکن صرف اسی بات پر اسے شجر ممنوعہ قرار دینا درست نہیں ہے، بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے ذریعے متلاشیان حق کو صحیح غذا پہنچانے کا بندوبست کریں۔ لہذا ایک داعی یا داعیہ کے لئے اس کا استعمال نہ صرف درست ہے بلکہ یہ دعوت و تبلیغ کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انٹرنیٹ پر دعوت کا کام مختلف طریقوں سے ہو سکتا ہے۔

فیس بک:

فیس بک پر اپنے نام سے پیج بنا کر اس پر اپنے ویڈیو بیانات اور مختلف موضوعات پر اپنی تحریرات اور کالمز سے عوام الناس کو مستفید کرنا۔ جیسا کہ آج کل بہت سے اسکالرز (داعی اور داعیات) اس طرح سے دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں۔ فیس بک کا استعمال عصر حاضر میں تقریباً ہر طبقہ ہائے زندگی کے افراد کرتے ہیں، امیر و غریب سبھی اس وقت اسمارٹ فونز کی مدد سے فیس بک کا استعمال کرتے ہیں، اس لئے ایک داعی یا داعیہ اگر اس پلیٹ فورم پر کام کریں گے تو ان کی دعوت ہر خاص و عام تک پہنچے گی۔

ٹویٹر:

ٹویٹر بھی اس وقت دعوت کے لئے ایک موزوں ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں لوگ ٹویٹر پر ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے اور بالخصوص عرب کے نامور علماء اور اسکالرز ٹویٹر کے ذریعے دعوت الی اللہ کا فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ لہذا پاکستان میں موجود داعی حضرات اور داعیات ِاسلام کو بھی اپنی توجہ اس طرف مرکوز کرنی چاہیے۔

واٹس ایپ:

عصر حاضر میں واٹس ایپ بھی فیس بک کی طرح ایک ایسی سہولت ہے، جو امیر و غریب تمام ہی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایک داعیہ واٹس ایپ گروپ بنا کر اس میں مختلف خواتین کو شامل کر لے تو تمام خواتین بیک وقت اس داعیہ کے اصلاحی بیانات اور دیگر دعوتی مواد سے مستفید ہو سکتی ہیں۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وقت کا تعین اس میں ضروری نہیں ہے بلکہ کسی بھی وقت میں داعیہ اپنے اوقات میں سے وقت نکال کر اس میں معلوماتی مواد مہیا کر سکتی ہے، اس وقت بیشمار واٹس ایپ گروپس ایسے ہیں جو آن لائن درس و تدریس، حفظِ قرآن اور ناظرہ اور آن لائن دارالافتاء جیسی دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ داعیات کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے کہ یہ سب سہولیات خواتین کے لئے بھی مہیا کی جا سکیں، تاکہ مردوں کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔

یوٹیوب:

یوٹیوب پر اپنا دینی چینل بنا کر اس میں اپنے ویڈیو بیانات اور اصلاحی دروس کو ڈال دیا جاتا ہے اور لوگ انٹرنیٹ کی مدد سے ان تک دسترس حاصل کر لیتے ہیں۔ اس پلیٹ فورم پر بھی بے شمار علماء اور اسکالرز دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ لہذا داعیات کو بھی اپنی توجہ اس طرف مرکوز کرنی چاہیے۔ عمومی طور پر وہ گھریلو خواتین جو اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے گھر سے باہر جا کر کسی باقاعدہ مکتب کے ذریعے درس و تدریس نہیں کر سکتیں، وہ یوٹیوب کے ذریعے گھر بیٹھ کر اسلامی معلومات حاصل سکتی ہیں۔ ویسے بھی دیکھا گیا ہے کہ خواتین کسی بھی معاملے میں رہنمائی لینے کے لئے سب سے پہلے یوٹیوب کا دروازہ ہی کھٹکھٹاتی ہیں، جیسا کہ مختلف انواع و اقسام کے کھانے بنانے کی ترتیب وغیرہ عام طور پر عورتیں یوٹیوب سے سیکھتی ہیں، لہذا اگر یوٹیوب پر ان کے لئے دعوتی و اصلاحی مواد مہیا کر دیا جائے تو یقیناً وہ اس سے بھی مستفید ہوں گی۔ ایک داعیہ کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے غور و فکر کرے۔

دعوت کے اہداف جو ایک داعیہ کے پیشِ نظر رہنے چاہئیں

داعیات کو دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مختلف اہداف کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ بنیادی طور پر امتِ مسلمہ کو دین کی تبلیغ کرنے کے علاوہ دیگر بہت سے ایسے اہداف ہیں، جو ایک داعیہ کے پیشِ نظر ہونے چاہئیں۔

۱۔ امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کو پیدا کرنا

اگر ایک طائرانہ نگاہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ فلسطین سے لیکر برما اور کشمیر تک دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ مسلمان کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اور پھر اس پر ظلم یہ کہ کسی بھی عالمی نظام انصاف کے پلیٹ فورم سے مسلمانوں کے حق میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ امت مسلمہ کی جان، مال، عزت و آبرو کو بالکل بھی تحفظ نہیں ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسی صورتحال سے مسلم امہ بذاتِ خود بہت حد تک ناواقف ہے۔ مسلمان خود مسلمانوں کے حالات سے ناآشنا ہیں جس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کی آپس کی رنجشیں اور بے حسی ہے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کی باہمی محبت اور اتحاد کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا24۔ (ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کے مانند ہے، جس کی ایک (اینٹ) دوسری (اینٹ) کو مضبوط کرتی ہے۔) لیکن آج امت مسلمہ اس قدر بے حس ہو چکی ہے۔ ایک داعی یا داعیہ کو دورانِ تبلیغ اس بات کی طرف بھی توجہ ملحوظ خاطر رکھنی ہے کہ وہ امت مسلمہ میں یہ جذبہ دوبارہ سے ابھار سکے۔ ان میں یہ احساس دوبارہ سے پیدا کر سکے کہ ہم مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور ہمیں باہمی اتحاد اور محبت کی فضا کو دوبارہ سے قائم کرنا ہے۔ ایک داعیہ کا فرض ہے کہ وہ امت مسلمہ بالخصوص خواتین اسلام کو صحابیاتؓ کی مبارک زندگیوں سے متعارف کروائے تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام واپس لے سکیں۔ امت کو یہ بات باور کروانا ایک داعیہ کا فرض ہے کہ ہم جب تک اپنے اسلاف بالخصوص صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کے نقش قدم پر نہیں چلیں گے، ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔

۲۔ امت کو ’’وہن‘‘ کی بیماری سے نجات دلانا

ایک داعی یا داعیہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امت مسلمہ میں یقین محکم، عمل صالح، خوفِ الہٰی اور فکر آخرت کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی باقاعدہ دعوت دینے کی ضرورت ہے کہ امت اپنے دل و دماغ سے’’ وہن‘‘ کی بیماری کو یعنی دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی یا کراہت کو ختم کر دے، کیونکہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، موت کی ناپسندیدگی بزدلی اور غیروں کی غلامی کا سبب بنتی ہے۔ جب ہم اس بیماری سے نجات پا جائیں گے تو اس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔

۳۔ امت مسلمہ میں حصولِ علم کا جذبہ پیدا کرنا

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسی امت ہیں کہ جن کے نبی ﷺ کو استاد اور معلم بنا کر مبعوث کیا گیا لیکن اس کے باوجود آج ہماری امت تعمیر و ترقی تو ایک طرف، بنیادی دینی تعلیم سے بھی نابلد ہے۔ لوگوں کو بنیادی پاکی و ناپاکی، حلال و حرام، نماز و روزے کے احکام تک بھی معلوم نہیں ہیں۔ لہذا ایک داعی یا داعیہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عنوان پر پوری توجہ کے ساتھ کام کرے۔ حصول ِعلم کا جذبہ لوگوں میں بیدار کرے تاکہ لوگ بالخصوص خواتین بنیادی ضروریاتِ دین کو جان لیں، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ25۔ (علم طلب کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔) لہذا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے کہ وہ حصولِ علم کے لئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ یہی جذبہ ان لوگوں میں بیدار کرنا دراصل ایک داعیہ کی ذمہ داری ہے۔

۴۔ امت سے سستی و کاہلی اور عیش پسندی کا خاتمہ کرنا

اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جو قوم خود سست اور کاہل ہو جاتی ہے اور عیش پسندی میں مبتلا ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس قوم کے حالات کبھی بھی ٹھیک نہیں کرتے، بلکہ انسان کو سب سے پہلے خود ہمت کرنی پڑتی ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کچھ یوں بیان کیا ہے: لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ26۔ (ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں، یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کا ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہوسکتا۔) امت مسلمہ کے مسائل میں سے ایک اور بڑا مسئلہ ہماری اجتماعی اور انفرادی سستی، کاہلی اور عیش پرستی بھی ہے، لہذا ایک داعی یا داعیہ کو اپنے دعوت کے اہداف میں یہ بھی شامل کرنا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو دوبارہ سے فکری و جسمانی طور پر بیدار کریں کیونکہ حد سے زیادہ جسمانی عیش و آرام بھی درحقیقت سستی و کاہلی کا سبب بن جاتے ہیں۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ بوڑھے تو بوڑھے، جوان بھی سستی و کاہلی کی بدولت جسمانی قوت و طاقت بہت حد تک کھو چکے ہیں اور لغویات نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جوانوں میں دوبارہ سے جوش و جذبہ اور ایک تحریک پیدا کی جائے اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ بہترین اور طاقتور جسم ہی ایک طاقتور دماغ کو پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ رسولﷺ نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ وَإِيَّاكَ وَاللَّوْ فَإِنَّ اللَّوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ27۔ (کمزور مومن کی نسبت طاقتور مومن بہتر ہے اور اللہ کو زیادہ پیارا ہے۔ اور سب میں خیر موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے سکتی ہے ا سکی (کوشش اور) حرص کر اور عاجز نہ بن۔ اگر تجھ پر (تیری مرضی کے خلاف) کوئی چیز غالب آجائے تو کہہ: یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس نے جو چاہا کیا۔ (لفظ لَوْ) ’’اگر‘‘ سے بچ کیونکہ ’’اگر‘‘ سے شیطان کا کام شروع ہو جاتا ہے۔) فطری بات ہے کہ ایک طاقتور مومن اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو نیک کاموں کی انجام دہی، نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کی راہ روکنے میں خرچ کرتا ہے جب کہ کمزور آدمی بہت سے ایسے کام نہیں کر سکتا جو طاقت ور آدمی انجام دے سکتا ہے۔ اس لحاظ سے طاقت ور مومن کمزور سے بہتر ہے۔ لہذا یہ ایک داعی یا داعیہ کا فرض ہے کہ وہ اس انفرادی اور اجتماعی کمزوری کا احساس کریں اور اس کی اصلاح کے لئے کوشش کریں۔

۵۔ امت مسلمہ سے احساس کمتری کو ختم کرنا

آج المیہ یہ ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ غیروں کی ٹیکنالوجی اور قوت اور طاقت دیکھ کر ان سے خائف ہو چکی ہے اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو انہوں نے غیروں کا غلام تسلیم کر لیا ہے، ہر بات میں غیروں کی مثالیں دیتے نظر آتے ہیں اور صورتحال ایسی ہے کہ امت نے انہی کو اپنے لئے آئیڈیل تسلیم کر لیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ کیفیت صرف عوام الناس ہی کی نہیں بلکہ بڑے بڑے حکمران بھی اپنی تقریروں میں یہی فلسفہ پیش کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو امت مسلمہ کو ’’بہترین امت‘‘ قرار دیا تھا۔ لہذا ایک داعی یا داعیہ کا فرض ہے کہ وہ امت مسلمہ میں پائی جانے والی اس محرومی کو دور کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان باور کروائیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہترین امت قرار دیا ہے، لہذا تمہیں غیروں کے طریقوں پر چلنے کی بجائے دین اسلام ہی کو اپنا آئیڈیل بنانا ہے اور اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹنی ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ28۔ (مسلمانو! تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔) ایک داعی یا داعیہ کا فرض ہے کہ وہ امت کو باور کروائے کہ غیروں سے مرعوب ہو کر ان کی پیروی کرنے کی بجائے دین اسلام کی پیروی کرنے ہی میں ایک مسلمان کی بقا ہے۔ لہذا امت کے اندر خود اعتمادی اور دین اسلام کے ساتھ ایسی لگن پیدا کرنا کہ وہ اسلام ہی کو اپنا آئیڈیل تسلیم کریں اور اپنے جملہ معاملات میں اسی سے رہنمائی طلب کریں، یہ سب ایک داعی کی ذمہ داری ہے۔

۶۔ جدید ٹیکنالوجی پر سے غیروں کے غلبے کو ختم کرنے کی سعی کرنا

ایک داعی کا فرض ہے کہ وہ امت کو یہ نظریہ اچھی طرح سے سمجھائے کہ اسلام صرف مسجد اور مدرسے کی حد تک محدود نہیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں رہنمائی کرنے والا دین ہے۔ آج لادین طبقہ یہی وسوسہ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر اسلام نے کونسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے؟ آج کی جدید دنیا میں اسلام نے لوگوں کی بقا کے لئے کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟ یہ طبقہ لوگوں کو کفار کی طرف اس انداز میں متوجہ کرتا ہے کہ سادہ لوگ مسلمان کفار سے ذہنی و فکری طور پر مرعوب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی وہ دین اور مذہب ہے جس نے ٹیکنالوجی کی ترویج پر دراصل زور دیا ہے۔ ہم اگر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بڑے بڑے سائنسدان، علمِ کیمیاء کے ماہرین، ریاضی دان، حکماء اور علماء کے نام ملتے ہیں۔ مثلاً امام محمد بن زکریا الرازی، ابونصر فارابی، جابر بن حیان، حکیم یحییٰ منصور، عباس بن سعید الجوہری، خالدبن عبدالملک المروزی، محمد بن موسیٰ خوارزمی، ابن خلدون، ابن جوزی، ابن تیمیہ، امام جلال الدین السیوطی، احمد بن موسیٰ شاکر، ابوعباس احمد بن کثیر فرغانی، ابو جعفر محمد بن موسیٰ شاکر، حجاج بن یوسف کے کارناموں سے دنیا واقف ہے۔ دنیا نے جتنی بھی ترقی کی، اس کی بنیاد ڈالنے والے یہی مسلمان رہنما تھے، البتہ المیہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں۔ یہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے آج کا مسلمان بجائے اس کے کہ وہ جدید تعلیم حاصل کر کے غیروں کے مقابلے میں اپنی خدمات دنیا کو پیش کرے، وہ اپنے ماضی کو بھلا کر غیروں سے امید لگائے بیٹھا ہے اور انہیں کو اپنا پیشوا تسلیم کر چکا ہے۔ اس کے دل میں یہ جذبہ دوبارہ سے بیدار کرنا کہ اس کو دنیا کی امامت کے لئے بھیجا گیا ہے، یہ ایک داعی اور داعیہ کا فرض ہے۔

خلاصہ بحث

اگر ہم ماڈرن اور جدید ترقی یافتہ دور کی بات کریں تو وقت کے تقاضے بدلنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معیار زندگی بھی بدل گئے ہیں، اب لوگ سوشل میڈیا کی زندگی میں رہتے ہیں لہذا داعیات کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس علمی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے جدید دور کے تقاضوں سے اچھی طرح باخبر ہوں اور ان تمام وسائل اور ذرائع کو اچھی طرح جان لیں جو اس دعوت کے میدان میں ان کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ اماں عائشہ صدیقہؓ کے پاس علمی مسائل پوچھنے کے لئے آتے تھے۔ اسی طرح دیگر صحابیاتؓ نے بھی دعوتی میدان میں شاندار خدمات انجام دیں۔ عصرِ حاضر میں پاکستان کی خواتین اور بالخصوص داعیات کے لئے دعوت کے میدان میں صحابیاتؓ کی زندگی عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ دعوت کے مختلف وسائل اور ذرائع استعمال کر کے داعیات اپنی دعوت کو مؤثر بنا سکتی ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ چند مزید اہداف کا تعین کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ایک داعیہ دعوت کے میدان میں کما حقہ نتائج حاصل کر سکے۔

تجاویز و سفارشات

۱۔ ضروری ہے کہ صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت و کردار اور ان کی زندگیوں کے دعوتی پہلوؤں جیسے عنوانات پر بھی مقالہ جات لکھے جائیں اور ان کی شخصیت و کردار کو بھی عوام الناس سے متعارف کروایا جائے تاکہ آج کے مسلمان اپنے اسلاف کو جان سکیں اور ہدایت اور رہنمائی کے لئے غیروں کے دروازے پر بھیک نہ مانگنی پڑے۔
۲۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ عصر حاضر کے اسلامی معاشرے میں اور بالخصوص پاکستانی معاشرے میں خواتین کی دینی تربیت کا باقاعدہ کوئی دینی نظام موجود نہیں ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ خواتین شادی شدہ ہوں اور گھریلو ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ دینِ حق کو سیکھنا چاہتی ہوں۔ ایسے معاشرے میں ضروری ہے کہ خواتین کو یہ بات باور کروائی جائے کہ وہ کم از کم صحابیاتؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کریں، ان کی سیرت و کردار کو اپنانے کی کوشش کریں اور پھر توقع کی جا سکتی ہے کہ یہی خواتین آگے چل کر داعیات بھی بن سکتی ہیں اور دیگر خواتین کو بھی دعوت دین کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔

References

  1. Muḥammad b. Ismā,īl al-Bukhārī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ , (Alr-Riaz: Dār as-Salām, 1998), Hadīth:4993
  2. Muftī Muhammad Shafīe,Maārf Al- Qur’ān,(Karachi:Adarah Al- Qur’ān wal Uloom Al-Islamia,2008),V:5,P:92
  3. Ashraf Ali Thānvī,Dewat wa Tablīgh,(India,Lakhnao:Adarah Afadat Ashrafia,2010),P:329
  4. Muḥammad b. Ismā,īl al-Bukhārī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ , Hadīth:6786
  5. Muḥammad b. Ismā,īl al-Bukhārī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ , Hadīth:03
  6. Al-Asfhānī,Abu Naeem Ahmad Bin Abdullah,Huliya Al-auliyā wa Tabqāt Al-Asfiyā,(Misar :Dār Al-Fikar,1996),V:1,P:333
  7. Qārī Muhammad Tayyab,Deenī Dewat ky Qur’ānī Asool,(UP India: Maārf Al- Qur’ān Diyoband,2011),P:66
  8. Muslim, bin Ḥajjāj al-Qusheirī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ, (Alr-Riaz: Dār as-Salām, 2000)Hadith:785
  9. Abdul Karīm Zaidaān,Asool Al-Dah’wah,(Bairut:Al-ketab Al-Arabia,2013),V:1,P:452
  10. Ashraf Ali Thānvī,Dewat wa Tablīgh, P:183
  11. Tirmazī,Muhammad Bin Eīsā,Sunan,( Alr-Riaz:Maktabah Al-Maārif,2007),Hadith No:2407
  12. Al-Qur’ān 49:6
  13. Muslim, bin Ḥajjāj al-Qusheirī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ, (Alr-Riaz: Dār as-Salām, 2000)Hadith:8956
  14. Ameen Ahsan Islahī,Dewat –e-Deen Aur is ky Tariqy,(Dehlī,India:Maktabah Islamī,1987),P:76
  15. Ahmad Umar,Al-Dah’wah Al- Islamia,(Maktabah Ghareeb Al-Fujaālah),P:200
  16. Abu Al-Fatah Al-Bianī,Madkhal Ela Ilam Al-Dah’wah,(Bairut:Mausuat Al-Rasalah,1995),P:510
  17. Muhyu Al-Deen,Al-Dah’wah Al-Islamia wa Al- Aalam Al-Daolī,(Qaāhirah:Dar Al-Fikir,2008),P:180
  18. Syed Qutab,Dewat Ka Manhaj Kia Ho,(Lāhore: Maktabah Rahmania,2014),P:283
  19. Al-Qur’ān 16:90
  20. Al-Qur’ān 49:11
  21. Al-Qur’ān 61:2-3
  22. Liaqat Ali Niazī,Islam Ka Qanoon-e- Sahafat,( Lāhore:Book Taak,2018),P:130
  23. Muftī Muhammad Shafīe,Aālāt-e-jadeed ky Shareī Ahkam,(Karachi:Adarah Al- Maārif,2018), P:17
  24. Muslim, bin Ḥajjāj al-Qusheirī, al-jāmi‘al-Ṣaḥīḥ,Hadith:6585
  25. Ibn-e-Majah Muhammad Bin Yazeed,Al-Sunan, (Alr-Riaz: Dār as-Salām, 1999)Hadith:224
  26. Al-Qur’ān 13:11
  27. Ibn-e-Majah Muhammad Bin Yazeed,Al-Sunan, Hadith:4168
  28. Al-Qur’ān 3:110

حضرت الشفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا

عہد نبوی میں رقیہ اور جلدی امراض کی ماہر خاتون

مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی


تمہید

عہدِ نبوی کی خواتین میں کئی ایسی خواتین ہیں، جن کی خصوصیات کی بنیاد پر آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے، شجاعت و بہادری، فراست و سمجھ داری، ذہانت و ذکاوت، تعلیم و تعلم، اخلاق و کرادر؛ حتی کہ علاج و معالجہ میں بھی بعض خواتین نے وہ نمایاں کارکردگی دکھائی کہ خود رسول اللہ ﷺ نے ان کی تعریف و مدح کی، انہیں خواتین میں سے ایک ’’شفاء بنت عبداللہ عدویہ قرشیہ‘‘ ہیں، حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں:
کانت من عقلاء النساء، وفضلائہن، وکان رسول اللہ ﷺ یأتیہا، ویقیل عندہا فی بیتہا، وکانت قد اتخذت لہ فراشاً وإزاراً ینام فیہ۔1
’’وہ عاقل و فاضل خواتین میں سے تھیں، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آتے اور ان کے گھر میں قیلولہ فرماتے، انھوں نے آپﷺ کے لئے ایک بستر اور ایک ازار رکھا ہوا تھا، جس میں آپ آرام فرماتے تھے‘‘۔ان کا شمار قریش کے ان معدودے خواتین میں ہوتا تھا، جو لکھنا پڑھنا جانتی تھیں، جس کی وجہ سے یہ شہرت بھی رکھتی تھیں۔ احمد خلیل جمعہ لکھتے ہیں: 
وکانت الشفاء رضی اللہ عنہا إحدی النساء والقرشیات ممن یعرفن الکتابۃ والقراءۃ- وکن قلیلات- ولہٰذا السبب فقد تربعت فی عالم الشہرۃ بین قومہا، وقادہا ہذا إلی معرفتہا لبعض الأسرار فی علم الطب والرقیۃ وما یتعلق بہما من المعارف عصر ذاک۔2
’’شفاء رضی اللہ عنہا ان عورتوں اور قریشیات میں سے تھیں، جنھیں لکھنا پڑھنا آتا تھا- اور یہ بہت کم تھیں- جس کی وجہ سے اپنی قوم میں انھیں شہرت حاصل تھی اور اسی سبب سے انھوں نے اپنے زمانہ کے علوم: رقیہ اور طب کے اسرار و رموز سے بھی واقفیت حاصل کی تھی‘‘۔
رقیہ اور جلدی امراض کی یہ اسپیشلسٹ اور ماہر سمجھی جاتی تھیں، جس کا نتیجہ تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے ان سے درخواست کی کہ: 
ألا تعلمین ہذہ رقیۃ النملۃ کما علمتیہا الکتابۃ؟3
’’کیا تم یہ نملہ (ایک قسم کی جلدی امراض یا اکزیما) کا رقیہ حفصہ کو اسی طرح نہیں سکھاؤ گی، جس طرح کتابت کی تعلیم انھیں دی ہے؟‘‘
تعلیم و تدریس اور علاج و معالجہ کی خدمات کی وجہ سے ہی رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں انھیں ایک گھر دے رکھا تھا، جہاں صحابہ کرام، بالخصوص عورتیں رضوان اللہ علیہم اجمعین حاضر ہو کر تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ علی بن نایف الشحود لکھتے ہیں:
وکان لہا دور بارز فی مجال التعلیم ومعالجۃ القروح والامراض؛ لذا خصص لہا رسول اللہ ﷺ داراً بالمدینۃ تقدیراً لدورہا الاجتماعی، وکانت تعیش فیہا ہی وابنہا سلیمان، وأصبحت تلک الدار مرکزاً علمیاً للنساء، تعلمت فیہا الکثیرات من نساء المؤمنین تعالیم الدین، بالاضافۃ إلی القراءۃ والکتابۃ والطب، وکان من بین المتعلمات السیدۃ حفصۃ زوج الرسول ﷺ۔4
’’تعلیم اور امراض و زخموں کے علاج کے سلسلہ میں ان کی خدمت نمایاں تھی، ان کے اسی سوشل کردار کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ان کے لئے ایک گھر خاص کر رکھا تھا، جس میں یہ اور ان کے بیٹے سلیمان رہائش پذیر تھے، ان کا یہ گھر عورتوں کے لئے علمی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، یہیں بہت ساری خواتین نے ان سے طب، کتابت، قراءت اور دین کی تعلیم حاصل کی، ان تعلیم حاصل کرنے والیوں میں رسول اللہﷺ کی بیوی سیدہ حفصہ بھی تھیں‘‘۔

پیدائش اور نام و نسب

آپؓ کے نام کے سلسلہ میں دو قول ہیں: ایک قول یہ ہے کہ آپ کا نام ’’الشفاء‘‘ ہے اور یہی مشہور ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نام ’’لیلیٰ‘‘ ہے اور الشفاء لقب ہے، کنیت ’’ام سلیمان‘‘ ہے۔ سلسلۂ نسب کچھ اس طرح ہے: 
الشفاء (لیلیٰ) بنت عبد اللہ بن عبد شمس بن خلف ابن شداد بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب القرشیۃ العدویۃ۔ 
دادا پرداد کے ناموں میں بھی کچھ کچھ اختلاف ہے؛ چنانچہ ’’خلف‘‘ کی جگہ ’’خالد‘‘، ’’شداد ‘‘کی جگہ ’’صداد‘‘ اور ’’ضرار‘‘ بھی کہا گیا ہے، ان کی تاریخ پیدائش تو مذکور نہیں؛ البتہ اتنی بات ضرور لکھی گئی ہے کہ زمانہ ٔجاہلیت میں ہی پیدا ہوئی ہیں، ان کی والدہ کا نام: فاطمہ بنت أبی وہب بن عمرو بن عائذ بن عمران المخزومیۃ ہے۔5

ازواج و اولاد

ان کی شادی سب سے پہلے ابوحثمہ بن حذیفہ بن غانم بن عامر بن عبداللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب سے ہوئی، جس سے ایک لڑکا ’’سلیمان‘‘ پیدا ہوا، اسی مناسبت سے آپ کو ’’ام سلیمان‘‘ کہا جاتا ہے۔ ابوحثمہ نے فتح مکہ کے موقع سے اسلام قبول کیا تھا۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: 
قال ابن السکن: لہ صحبۃ، وہو من مسلمۃ الفتح۔6
’’ابن السکن کہتے ہیں: انھیں (نبی کریم ﷺ کی) صحبت حاصل تھی اور یہ فتح مکہ کے موقع سے اسلام لانے والوں میں سے ہیں‘‘۔
حضرت شفاءؓ کے بطن سے تولد ہونے والے ابوحثمہ کے بیٹے سلیمان کی پیدائش عہدِ نبوی میں ہوئی تھی، عہدِ عمر میں وہ جوان تھے، حضرت عمرؓ نے انھیں عورتوں کی امامت پر مامور کر رکھا تھا۔ ابن سعد لکھتے ہیں: 
وُلد سلیمان بن أبی حثمۃ علی عہد النبی علیہ السلام، وکان رجلاً علی عہد عمر بن الخطاب، وأمرہ عمر أن یؤم النساء، وقد سمع من عمر۔7
ابن اثیر کے بقول انھیں شرف صحابیت حاصل نہیں ہو سکی، وہ لکھتے ہیں: 
سلیمان بن أبی حثمۃ الانصاری، ذکر فی الصحابۃ، ولایصح۔8 
’’سلیمان بن ابوحثمہ انصاری کو صحابہ میں ذکر کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔‘‘
حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: 
ہاجر صغیراً مع أمہ الشفاء، وکان من فضلاء المسلمین، وصالحیہم، واستعملہ عمر علی السوق، وجمع علیہ و علی أبی بن کعب الناس لیصلیا بہم فی شہر رمضان، وہو معدود فی کبار التابعین۔9
’’انھوں نے اپنی ماں کے ساتھ بچپن میں ہی ہجرت کی، ان کا شمار نیک اور صالح مسلمانوں میں ہوتا تھا، حضرت عمرؓ نے ان کو بازار کا ذمہ دار مقرر کیا تھا، نیز ان کی اور ابی بن کعبؓ کی امامت پر لوگوں کو متفق کر دیا تھا؛ تاکہ وہ دونوں رمضان نماز پڑھائیں، وہ کبار تابعین میں شمار کئے جاتے ہیں‘‘۔
حضرت شفاء کی دوسری شادی ان کے پہلے شوہر کے بھائی مرزوق بن حذیفہ بن غانم بن عامر بن عبد اللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب سے ہوئی تھی، ان سے بھی ایک لڑکا تھا۔ ابن سعد لکھتے ہیں: 
وولدت أیضاً لمرزوق بن حذیفۃ بن غانم ابن عامر بن عبداللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب أبا حکیم بن مرزوق، ووکان شریفاً۔10 
’’مرزوق بن حذیفہ کا بھی ایک لڑکا ’’ابو حکیم‘‘ ان سے تولد ہوا، جو ایک شریف شخص تھا‘‘۔
ان کی اولاد میں ایک لڑکی کا بھی ذکر ملتا ہے؛ چنانچہ خود انہی سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں:
جئت یوماً حتی دخلت علی النبیﷺ، فسألتہ وشکوت إلیہ، فجعل یعتذر إلی وجعلت ألومہ، قالت: ثم حانت الصلاۃ الاولیٰ فدخلت بیت ابنتی، وہی عند شرحبیل بن حسنۃ، فوجدت زوجہا فی البیت، فجعلت ألومہ، وقلت: حضرت الصلاۃ وأنت ہاہنا؟ فقال: یاعمۃ! لاتلومینی، کان لی ثوبان استعار أحدہما النبیﷺ، فقلت: بأمی وأمی! أنا ألومہ وہذاشأنہ، فقال شرحبیل: إنما کان أحدہما درعاً فرقعناہ۔11
’’ایک دن میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، ان سے شکایت بھی کی اور مانگا بھی، وہ مجھ سے معذرت کرنے لگے اور میں انھیں الٹا سیدھا کہنے لگی، وہ کہتی ہیں: پھر نماز کا وقت ہوگیا تو میں اپنی بیٹی کے گھر چلی گئی، جو شرحبیل بن حسنہ کے نکاح میں تھی، میں نے اس کے شوہر کو گھر میں پایا تو اسے ملامت کرنے لگی، میں نے کہا: نماز کا وقت ہوگیا ہے اور تم یہیں ہو؟ اس نے کہا: خالہ! ملامت نہ کریں، اصل میں میرے پاس دو کپڑے تھے، ایک کو رسول اللہ ﷺ نے عاریتاً لیا ہے، میں نے کہا: میرے ماں باپ قربان! ان کی حالت تو یہ ہے اور میں انھیں برا بھلا کہہ رہی تھی، شرحبیل نے کہا: ان میں سے ایک ’’درع‘‘ (کنیز کا چھوٹا کرتا) تھا تو ہم نے پیوند لگا دیا‘‘۔
تاہم مؤرخین اور اہل سیر نے یہ صراحت نہیں کی ہے کہ یہ کس شوہر کی بیٹی تھیں؟ البتہ اس روایت سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ یہ صحابیہ تھیں؛ کیوں کہ ان کے شوہر ’’شرحبیل بن حسنۃ‘‘ نہ صرف صحابی تھے؛ بل کہ’’ صاحب ہجرتین‘‘ بھی تھے12 اور جس وقت کا واقعہ ذکر کیا جا رہا ہے، اس وقت یہ شادی شدہ تھیں۔

اسلام و ہجرت

یہ مکہ کی ان خواتین میں سے ہیں، جو ہجرت سے پہلے ہی حلقہ بگوش اسلام ہو گئی تھیں اور جنھوں نے ابتدائی دور میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی، حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں: 
أسلمت الشفاء قبل الہجرۃ، فہی من المہاجرات الأول۔13
’’شفاء نے ہجرت سے قبل اسلام قبول کیا تھا، بس وہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں۔‘‘
ابن سعد لکھتے ہیں: 
أسلمت الشفاء قبل الہجرۃ قدیماً، وبایعت النبی ﷺ۔14
’’شفاء نے ہجرت سے پہلے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی‘‘۔
اس تعلق سے محمود طعمہ حلبی لکھتے ہیں:
دخلت الشفاء فی دین الاسلام عن وعی وفہم، وکان إسلامہا قبل ہجرۃ النبیﷺ إلی المدینۃ، وکانت بین النساء اللواتی بایعن النبیﷺ وشملہن قول اللہ تعالیٰ {یا أیہا النبی اذا جاءک المؤمنات یبایعنک علی أن لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن أولادہن ولا یأتین ببہتان یفترینہ بین أیدیہن وأرجلہن ولا یعصینک فی معروف فبایعہن واستغفر لہن اللہ إن اللہ غفور رحیم} [الممتحنۃ:۱۲]، وکانت مبایعۃ رسول اللہ ﷺ للنساء دون مصافحۃ؛ لانہ لایصافح النساء، فاذا مدت امرأۃ یدہا لتصافحہ امتنع عن المصافحۃ، وأخبرہا بذلک۔15
’’شفاء پورے شعور و عقل کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئیں، ہجرتِ مدینہ سے قبل انھوں نے اسلام قبول کیا تھا، وہ ان خواتین میں سے تھیں، جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اللہ تعالیٰ کے قول {اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ اللہ کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی، نہ چوری کریں گی، نہ بدکاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے} میں شمولیت اختیار کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بغیر مصافحہ کے بیعت لی تھی کہ آپﷺ عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے، جب کوئی خاتون مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتی تو آپ رک جاتے اور اسے بتاتے (کہ عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے)‘‘۔

غزوات میں شرکت

عہدِ نبوی میں خواتین آپﷺ کی اجازت سے میدانِ جہاد میں جایا کرتی تھیں، جہاں ان کے ذمہ مجاہدین کو پانی پلانا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا اور مریضوں کی دیکھ بھال کرنا جیسے امور ہوا کرتے تھے، صلاح عبد الغنی لکھتے ہیں: 
ثبت أن النساء کن یخرجن باذن رسول اللہ ﷺ مع الجیش لخدمۃ الرجال، وتمریض الجرحی، والقیام بأعمال الاسعاف، فیقول الإمام الشیخ محمدعبدہ: إن تمریض المرضی ومداواۃ الجرحی کانت تقوم بہ النساء فی عصر النبی ﷺ، وعصر الخلفاء رضی اللہ عنہم، بخروج النساء مع الغزاۃ فی سبیل اللہ، وقد ترجم لہ البخاری بقولہ: باب غزوۃ النساء وقتالہن، وجاء فیہ عن الربیع بنت معوض قالت: کنا نغزو مع رسول اللہ ﷺ: نسقی القوم، ونخدمہم، ونرد القتلیٰ والجرحیٰ إلی المدینۃ…وماکان رسول اللہ ﷺ یقوم بغزوۃ إلا ومعہ نساء۔16
’’یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عورتیں نبی کریم ﷺکی اجازت سے مردوں کی خدمت، زخمیوں کی تیمارداری اور ریلیف کے امور انجام دینے کے لئے لشکر کے ساتھ جاتی تھیں؛ چنانچہ شیخ محمد عبدہ لکھتے ہیں: عہدِ نبوی اور عہدِ خلفاء میں مریضوں کی دیکھ بھال اور زخمیوں کا علاج عورتیں کیا کرتی تھیں، جس کے لئے وہ اللہ کے راستے میں غازیوں کے ساتھ نکلتی تھیں، اس سلسلہ میں امام بخاری نے ایک باب: باب غزوۃ النساء وقتالہن کے نام سے قائم کیا ہے، اس میں حضرت ربیع بنت معوذ کی روایت نقل کی گئی ہے، وہ فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قوم کی خدمت کرنے، ان کو پانی پلانے اور مقتولین و زخمیوں کو مدینہ منتقل کرنے کی غرض سے جہاد میں جایا کرتی تھیں…رسول اللہ ﷺ کے ہر غزوہ میں خواتین شریک رہیں‘‘۔
حضرت شفاء رضی اللہ عنہا بھی خواتین کی اسی جماعت سے تعلق رکھتی تھیں، جن کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ میدان جہاد میں جایا کرتی تھیں،محمد سمیر نجیب لبدی لکھتے ہیں: 
کانت تخرج مع رسول اللہ ﷺ فی غزواتہ، فتداوی الجرحی، وکان یأتیہا الصحابۃ فی بیتہا للتطبیب، وقد اشتہرت برقیۃ النملۃ۔17
’’وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، صحابہ علم طب کے حصول کے لئے ان کے گھر آیا کرتے تھے، وہ رقیہ نملہ میں شہرت رکھتی تھیں‘‘۔

حضرت شفاء اور علم طب

حضرت شفاءؓ کا شمار عہدِ نبوی کی ان خواتین میں ہوتا ہے، جنھیں علم طب میں مہارت تھی، راجی عباس تکریتی لکھتے ہیں:
ومن النساء اللواتی زاولن مہنۃ الطب (الشفاء بنت عبداللہ) ورفیدۃ التی اشتہرت بالجراحۃ، وکانت تداوی الجرحی من المسلمین۔18
’’علم طب کو بطور پیشہ اختیار کرنے والی خواتین میں شفاء بنت عبداللہ اور رفیدہ ہیں جو جراحی میں مشہور تھیں اور یہ مسلمان زخمیوں کا علاج کرتی تھیں‘‘۔
ان کی شہرت جلدی امراض کے ماہر کے طور پر تھی۔ ڈاکٹر حنان ولید محمد سامرائی اور زینت ابراہیم خلیل لکھتے ہیں:
کانت طبیبۃ مشہورۃ بمداواۃ الأمراض الجلدیۃ فی العصر النبوی۔19
’’عصرِ نبوی میں جلدی امراض کے علاج کی یہ مشہور طبیبہ تھیں‘‘۔ڈاکٹر عبد اللہ عبدالرزاق نے انھیں جلدی ناسور کا اسپیشلسٹ قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: 
الشفاء بنت عبد اللہ القرشیۃ: الاخصائیۃ فی علاج القرحات الجلدیۃ(النملۃ)۔20
’’جلدی ناسور (نملہ) کے علاج کی اسپیشلسٹ شفاء بنت عبداللہ قریشی‘‘۔
علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ زمانہ جاہلیت میں رقیہ و منتر کے ذریعہ نملہ21 کا علاج کرتی تھیں، پھر جب اسلام لائیں تو انھوں نے اس سلسلہ میں باقاعدہ نبی کریم ﷺ سے اس کی اجازت لی، ابن قیم لکھتے ہیں:
وروی الخلال: أن الشفاء بنت عبداللہ کانت ترقی فی الجاہلیۃ من النملۃ، فلما ہاجرت إلی النبی ﷺ، وکانت قدبایعتہ بمکۃ، قالت: یارسول اللہ! إنی کنت أرقی فی الجاہلیۃ من النملۃ، وإنی أرید أن أعرضہا علیک، فعرضت علیہ، فقالت: بسم اللہ ضلت حتی تعود من أفواہہا، ولاتضر أحداً، اللہم اکشف البأس رب الناس، قال: ترقی بہا علی عود سبع مرات، وتقصد مکانا نظیفاً، وتدلکہ علی حجر بخل خمر حاذق، وتطلبہ علی النملۃ۔22
’’خلال نے روایت کیا ہے کہ: شفاء بنت عبداللہ زمانۂ جاہلیت میں نملہ بیماری کا علاج رقیہ سے کرتی تھیں، یہ مکہ میں ہی حضورﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر چکی تھیں؛ اس لئے جب ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو ان سے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں جاہلیت میں نملہ کا علاج رقیہ سے کرتی تھی تو میں چاہتی ہوں وہ آپ کے روبرو پیش کروں، پھر میں نے پیش کیا، جو اس طرح تھا: بسم اللہ ضلت حتی تعود من أفواہہا، ولاتضر أحداً، اللہم اکشف البأس رب الناس، راوی کہتے ہیں کہ وہ ان کلمات کو لکڑی پرسات مرتبہ دم کرتی تھیں، پھر ایک صاف ستھری جگہ جا کر شراب کے سرکہ میں تر پتھر پر اس کو رگڑتی تھیں اور نملہ پر قابو پا لیتی تھیں‘‘۔
احمد خلیل جمعہ نے انھیں ماہر نفسیات (Psyciatry) بھی قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
وستکون رحلتنا مع واحدۃ من الصحابیات ممن برعن فی مجال الطب- وخصوصاً الطب النفسی، وہذہ الصحابیۃ اشتہرت بالاسترقائالشفاء بنت عبد اللہ بن عبد الشمس القرشیۃ العدویۃ۔23
’’ہمارا یہ علمی سفر طب کے میدان، خصوصیت کے ساتھ نفسیات میں مہارت رکھنے والی ایک صحابیہ کے (حالات کے) ساتھ طے ہوگا، جو شفاء بنت عبداللہ بن عبد شمس قریشی عدوی سے مشہور ہیں‘‘۔

وفات

یہ جلیل القدر صحابیہ میدان علم و طب میں خدمت انجام دیتے ہوئے حضور ﷺ کی وفات کے نو سال بعد بالآخر ۲۰ھ میں اِس جہانِ فانی کو خیرباد کہہ کر اُس جہانِ ابدی کی طرف کوچ کر گئیں، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ احمد خلیل جمعہ لکھتے ہیں: 
وظلت الشفاء رضی اللہ عنہا تتابع حیاۃ العلم والعمل، والزہد والعبادۃ إلی أن لقیت ربہا فی خلافۃ سیدنا عمر -رضی اللہ عنہ- نحوسنۃ (۲۰ھ) رضی اللہ عنہا۔24
’’شفاء علم و عمل اور زہد و تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے حضرت عمرؓ کی خلافت۲۰ھ میں اپنے رب حقیقی کے پاس چلی گئیں، رضی اللہ عنہا‘‘۔
رضی اللہ عنہا و رحم علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ التی یقیل وینام عندہا النبی ﷺ۔

حوالہ جات

  1. القرطبی، النمری، ابوعمریوسف بن عبداللہ بن عبدالبر،الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۱۵، نمبرشمار: ۳۳۶۵، صححہ وخرج احادیثہ: عادل مرشد، ناشر: دارالاعلام، اردن، عمان، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۲ء
  2. جمعۃ، احمد خلیل، نساء من عصر النبوۃ، ص: ۱۵۹، ناشر: دارابن کثیر، دمشق، بیروت، الطبعۃ الثانۃ ۲۰۰۰ء
  3. السجستانی، سلیمان بن الأشعث، أبوداود، سنن أبی داود، باب ماجاء فی الرقی، حدیث نمبر: ۳۸۸۷،اعتناء بہ: أبوعبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان، ناشر: مکتبۃ المعارف للنشر والتوزیع، الریاض ۱۴۲۴ھ، الجوزیۃ، ابن القیم، محمد بن أبی بکر، أبوعبداللہ، زاد المعاد: ۴؍۱۸۴،تحقیق، تخریج، تعلیق: شعیب الأرنؤوط وعدبالقادر الأرنؤوط، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ السادسۃ والعشرون ۱۹۹۲ء
  4. الشحود، علی بن نایف،مشاہیرالنساء المسلمات، ص: ۱۸۸-۱۸۹، Doc
  5. دیکھئے: العسقلانی، ابن حجر، احمدبن علی الحافظ، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۳؍۵۱۷، نمبرشمار: ۱۱۵۱۱، تحقیق: دکتور عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکز ہجرللبحوش والدراسات العربیۃ الإسلامیۃ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۸ئ، السعید، مسعود، عبداللہ عبدالرزاق، الدکتور،الطب ورائداتہ المسلمات، ص:۸۰، ناشر: مکتبۃ المنار، الزرقائ، الاردن، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۸۵ء
  6. العسقلانی، ابن حجر، احمدبن علی الحافظ،الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۲؍ ۱۴۷، نمبرشمار: ۹۷۷۶، تحقیق: دکتور عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکز ہجرللبحوش والدراسات العربیۃ الإسلامیۃ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۸ئ، الجزری، ابن الأثیر، علی بن محمد أبوالحسن،اسدالغابۃفی معرفۃ الصحابۃ: ۶؍۶۶، نمبرشمار: ۵۸۰۱، تحقیق وتعلیق: الشیخ علی محمد معوض والشیخ عادل احمد عبدالموجود، نادر: دارالکتب العلمیۃ، بیروت ، لبنان
  7. الزہری، محمدبن سعد،الطبقات الکبری: ۷؍ ۳۰، نمبرشمار: ۱۴۳۶، تحقیق: دکتورعلی محمدعمر،ناشرمکتبۃ الخانجی، قاہرہ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۱ء
  8. الجزری، ابن أثیر، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۲؍۵۴۷، نمبرشمار: ۲۲۲۹، تحقیق وتعلیق: الشیخ علی محمد معوض والشیخ عادل احمد عبدالموجود، ناشر: دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان
  9. القرطبی، النمری، ابوعمریوسف بن عبداللہ بن عبدالبر،الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۲۹۴- ۲۹۵، نمبرشمار: ۹۵۵، صححہ وخرج احادیثہ: عادل مرشد، ناشر: دارالاعلام، اردن، عمان، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۲ء
  10. الزہری، محمدبن سعد، الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۵۴، نمبر شمار: ۵۰۴۳، تحقیق: دکتورعلی محمدعمر،ناشرمکتبۃ الخانجی، قاہرہ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۱ء
  11. النیسابوری، الحاکم، محمد بن عبداللہ، ابوعبداللہ، المستدرک علی الصحیحین: ۴؍ ۶۴، نمبرشمار: ۶۸۹۲، دراسہ وتحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا، ناشر: دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۲ء
  12. حبشہ کی دوسری ہجرت میں یہ شریک تھے، دیکھئے:الزہری، محمدبن سعد، الطبقات الکبری: ۲؍۱۱۹، نمبرشمار: ۴۰۶، تحقیق: دکتورعلی محمدعمر،ناشرمکتبۃ الخانجی، قاہرہ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۱ء
  13. القرطبی، النمری، ابوعمریوسف بن عبداللہ بن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۱۵، نمبرشمار: ۳۳۶۵، صححہ وخرج احادیثہ: عادل مرشد، ناشر: دارالاعلام، اردن، عمان، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۲ئ، العسقلانی، ابن حجر، احمدبن علی الحافظ،الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۱۳؍۵۱۷، نمبرشمار: ۱۱۵۱۱، تحقیق: دکتور عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکز ہجرللبحوش والدراسات العربیۃ الإسلامیۃ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۸ء
  14. الزہری، محمدبن سعد،الطبقات الکبری: ۱۰؍ ۲۵۴، نمبرشمار: ۵۰۴۳، تحقیق: دکتورعلی محمدعمر،ناشرمکتبۃ الخانجی، قاہرہ، الطبعۃ الاولیٰ ۲۰۰۱ء
  15. حلبی، محمد طعمۃ، المائۃ الأوائل من صحابیات رسول اللہ، ص: ۳۹۶، ناشر: دارالمعرفۃ بیروت، لبنان، الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۶ء
  16. صلاح، عبدالغنی، محمد، الحقوق العامۃ للمرأۃ، ص: ۱۳۲-۱۳۳، ناشر: مکتبۃ الدارالعربیۃ للکتاب، مدینۃ نصر، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۹۸ء
  17. اللبدی، محمد سمیرنجیب، الدکتور، معانی الأسمائ، ص: ۱۰۵، ناشر: دارالفلاح للنشر والتوزیع ، الأردن، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۹۸ء
  18. التکریتی، راجی عباس، الحکیم، الاسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص: ۵۳، ناشر: وزارۃ الثقافۃ والاعلام، الجمہوریۃ العراقیۃ(مکتبۃ المہتدین الإسلامیۃ) ۱۹۸۴ء
  19. مجلۃ التطویر العلمی للدراسات والبحوث، المجلد الثالث، العدد: ۱۱(۲۰۲۲)، السامرائی، حنان ولید محمد، وزینۃ إبراہیم خلیل، المرأۃ وتاریخ تطور مہنۃ الطب من العصر الجاہلی وحتی العصر الحدیث، ص: ۵۰-۲۸۳، جامعۃ سامرائ، العراق
  20. السعید، عبداللہ عبدالرزاق مسعود، الدکتور،الطب ورائداتہ المسلمات، ص:۸۰، ناشر: مکتبۃ المنار، الأردن، الطبعۃ الأولیٰ ۱۹۸۵ء
  21. نملہ بیماری کے تعلق سے ابن قیم لکھتے ہیں: النملۃ: قروح تخرج فی الجنین، وہوداء معروف، وسمی نملۃ؛ لأن صاحبہ یحس فی مکانہ کأن نملۃ تدب علیہ وتعضہ۔ (زاد المعاد: ۴؍۱۸۴)، شوکت شطی اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مرض جلدی من نوع الاکزیماEczema۔(تاریخ العلوم الطبیۃ، ص: ۱۷۴-۱۷۵)
  22. الجوزیۃ، ابن القیم، محمد بن أبی بکر، أبوعبداللہ،زاد المعاد: ۴؍۱۸۴-۱۸۵،تحقیق، تخریج، تعلیق: شعیب الأرنؤوط وعبدالقادر الأرنؤوط، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ السادسۃ والعشرون ۱۹۹۲ء ، الشطی، دکتور احمدشوکت، تاریخ العلوم الطبیۃ لطلاب السنۃ التحضیریۃ فی الکلیات الطبیۃ ، ص:۱۷۴-۱۷۵، ناشر: وزارۃ التعلیم العالی الجمہوریۃ العربیۃ السوریۃ ۲۰۱۵-۲۰۱۶ء
  23. جمعۃ، أحمد خلیل،نساء من عصر النبوۃ، ص: ۱۵۸-۱۵۹، ناشر: دارابن کثیر، دمشق، الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۰ء
  24. جمعۃ، أحمد خلیل، نساء من عصر النبوۃ، ص: ۱۶۳، ناشر: دارابن کثیر، دمشق، الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۰ئ، کحالۃ، عمر رضا، الدکتور، أعلام النساء فی عالمی العرب والإسلام: ۲؍۳۰۱، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الخامسۃ ۱۹۸۴ء

افغانستان میں طالبان حکومت کے تین سال

عبد الباسط خان


 15 اگست کو امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں۔ ان تین سالوں میں افغان باشندوں کی زندگیوں کے کچھ پہلوؤں میں بہتری آئی تو کچھ معاملات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ کچھ معاملات میں طالبان نے نظریاتی طور پر سختی برتی تو کچھ جگہوں پر عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ اس تحریر میں گذشتہ تین سالوں میں طالبان کی حکمرانی میں معیشت، سکیورٹی، علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات اور سفارتی مصروفیات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
طالبان کی تحریک شورش سے حکومت کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں، جہاں غیر مرکزیت، نسلی اختلافات، اشخاص کے تنازعات اور پالیسی میں اختلاف ایک فطری عمل ہے۔
طالبان حکومت میں ازبک اور تاجک دھڑے پشتون گروہوں کی غالبیت اور امتیازی سلوک کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی طرح پشتون دھڑوں میں قندھاری اور حقانی دھڑوں کے درمیان طاقت کے توازن پر اختلافات ہیں۔ قندھاری دھڑوں کا خیال ہے کہ قطر میں ملا برادر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 2020 میں دوحہ معاہدے نے افغانستان سے امریکی انخلا کو آسان بنا کر فتح کی راہ ہموار کی تھی۔ اس کے برعکس حقانی دعویٰ کرتے ہیں کہ میدان جنگ کے دباؤ نے امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
تاہم، ان اختلافات کے باوجود طالبان کی طاقت کا مرکز قندھار ہے اور سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ تحریک کے ایک متحد شخصیت اور غیر متنازع رہنما ہیں۔
پچھلے تین سالوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسئلے پر طالبان رہنما منقسم نظر آتے ہیں۔عملیت پسند لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والے اس کی مخالفت کرتے ہیں، جس نے 14 لاکھ نوجوان افغان لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کردیا ہے۔پرائمری سطح پر لڑکیوں کے سکول میں داخلے میں اضافے کے باوجود انہیں چھٹی جماعت سے آگے سکول جانے کی اجازت نہیں۔
طالبان رہنماؤں اور عالمی سفیروں کے درمیان حالیہ دوحہ کانفرنس کے دوران افغان خواتین کی وکالت، لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرنے والے اور سول سوسائٹیز کے رہنماوں کو باہر رکھا گیا تھا، جس سے لڑکیوں کی تعلیم کو بحال کرنے کی کوششوں کو بڑا ایک دھچکا لگا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کو اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے علاوہ سکیورٹی کے محاذ پر کسی قسم کے خاص چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اگرچہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2024 کے مطابق افغانستان دنیا میں دہشت گردی کے سبب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، تاہم تشدد کے واقعات میں خاطرخواہ کمی آئی ہے۔
طالبان اپنی فوج کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ اپنی آپریشنل صلاحیتیں بڑا رہے ہیں، جس میں وزارت داخلہ کے تحت دو لاکھ پولیس اہلکار اور وزارت دفاع کے تحت ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کو بھرتی کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
 تاہم، طالبان کو مالی مشکلات کا سامنے ہے حالانکہ حکومت اپنے بجٹ کا 40 فیصد دفاع پر خرچ کرتی ہے۔
اگرچہ طالبان کو اس وقت کوئی بڑا سکیورٹی چیلنج درپیش نہیں، لیکن داعش خراسان جیسے خطرات موجود ہیں، جس نے نظریاتی اور پرتشدد حملوں کے ذریعے طالبان کی نظریاتی و قانونی حیثیت اور حکمرانی کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ داعش خراسان نے افغان سرزمین کو بیرونی دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے دوحہ معاہدے کے تحت انسداد دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرنے کے حوالے سے طالبان کے دعوؤں کو نقصان پہنچایا ہے۔ روس، یورپ، ترکی، ایران، وسطی ایشیا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کڑیاں افغانستان میں داعش خراسان سے ملتی ہیں۔ داعش خراسان نے طالبان کے کریک ڈاؤن کے مقابلے میں تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ افغان نیشنل آرمی کے سابق چیف آف سٹاف یاسین ضیا کا افغانستان فریڈم فرنٹ اور احمد مسعود کا نیشنل ریزسٹنس فرنٹ بھی طالبان مخالف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ تائم انہیں خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی۔
اسی طرح القاعدہ کے ساتھ طالبان کے دیرانیہ تعلقات قائم ہیں اور کابل میں ایمن الظواہری کی موت کے بعد القاعدہ نے طالبان کے لیے سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز پیدا نہ کرنے کے لیے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ لیکن یہ گروپ طالبان کو سٹریٹجک رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی مختلف رپورٹس کے مطابق، القاعدہ اپنی آپریشنل صلاحیت کو بہتر بنا رہی ہے اور علاقائی عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات کی تعمیرنو کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کا طالبان کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور وہ پاکستان میں بلاامتیاز حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان معیشت ناکامی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اس خطرے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ 
برین ڈرین، منجمد اثاثہ جات، بینکنگ پابندیوں نے افغان معیشت کو بحال کرنے کی طالبان حکومت کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
2021 اور 2022 میں افغانستان نے اپنی مجموعہ گھریلو پیداوار کا تقریباً 26 فیصد کھو دیا جس کی وجہ سے معیشت سکڑ گئی اور لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
گذشتہ تین سالوں میں طالبان کا زیادہ تر انحصار بیرونی امداد پر ہے۔ امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے سات ارب ڈالر کے ذخائر کو غیر منجمد نہیں کیا۔ ان میں سے 3.5 ارب ڈالر ستمبر 2022 میں سوئٹزرلینڈ میں قائم ٹرسٹ میں منتقل کیے گئے ہیں تاکہ افغانستان کو معاشی استحکام میں مدد ملے، لیکن اس کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
اس کے باوجود طالبان حکومت ٹیکس جمع کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی اور گذشتہ حکومت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔ ورلڈ بینک کے سروے کے مطابق اگست 2021 سے پہلے 62 فیصد کاروباری ادارے 82 فیصد کسٹم حکام کو رشوت دے کر ٹیکس سسٹم سے بچنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اب ان شعبوں میں رشوت کا تناسب محدود ہو کر آٹھ فیصد رہ گیا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان کی سالانہ برآمدات دگنی ہوکر دو ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ افراط زر اب سنگل ہندسوں پر آ گیا ہے۔
چین نے میس عینک تانبے کی کان میں سرگرمیاں شروع کر دی ہیں، جہاں تانبے کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ بیجنگ نے افغانستان میں تیل کی پیداوار میں 49 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے ملک کی یومیہ تیل کی پیداوار میں 1,100 میٹرک ٹن اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں 95 فیصد کمی ہوئی ہے، جو دنیا میں کہیں بھی انسداد منشیات کی سب سے کامیاب مہم ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے ہر قسم کی منشیات کی خلاف مہم شروع کی۔ منشیات کے عادی افراد اور فروخت کرنے والوں کو گرفتار کیا اور افیون اور بھنگ کے فصلوں کو تباہ کیا۔
اگرچہ سفارتی محاذ پر کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم تو نہیں کیا، لیکن روس اور چین نے کابل کے ساتھ اپنی سفارتی نزدیکی کو بڑھایا ہے۔ چین اور افغانستان نے ایک دوسرے کے ممالک میں اپنے اپنے سفیر مقرر کیے ہیں جبکہ انڈیا نے بھی گذشتہ افغان حکومت کے افغان سفارت کاروں کو دہلی میں سفارت خانہ خالی کرنے پر مجبور کیا ہے۔دونوں ممالک کی سفیر تعینات نہ کرنے کے باوجود یہ فیصلہ اس سمت میں ایک چھوٹا اقدام ہے۔
دوسرے ممالک کو اپنی حکومت کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے میں ناکامی کے باوجود طالبان سفارتی محاذ پر کافی متحرک رہے ہیں۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے مطابق طالبان کے نمائندوں نے گذشتہ تین سالوں میں 92 ممالک کے ساتھ 1,864 مرتبہ ملاقاتیں کیں، جن میں سب سے زیادہ مصروفیات چین، ترکی، ایران، قطر اور پاکستان کے ساتھ ہوئیں۔
پاکستان اور تاجکستان کو چھوڑ کر طالبان کے چین، روس، ازبکستان، قطر کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ طالبان حکومت انڈیا، متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر ریاستوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔
امریکہ نے بھی طالبان کو محدود اور خفیہ طور پر داعش خراسان جیسے خطرناک گروہوں سے نمٹنے کے لیے علیحدگی کی پالیسی کو ترک کر کے کچھ معاملات پر تعاون جاری رکھا ہے۔
طالبان کی طاقت کے استحکام کے باوجود افغانستان ایک فعال آئین کے بغیر ایک نازک حالت میں ہے۔
طالبان کی گذشتہ تین سالوں کی کامیابیاں اتنی بڑی نہیں کہ ان سے انہیں سفارتی شناخت حاصل ہو سکے، جبکہ ناکامیاں اتنی سنگین نہیں کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنیں۔
(انڈیپنڈنٹ اردو ۔ ۱۹ اگست ۲۰۲۴ء)

سائنس یا الحاد؟

ہلال خان ناصر


دور حاضر میں وہ مذاہب جن میں خدا کے وجود کا اقرار کیا جاتا ہے، ان سب کیلیے ایک بڑا چیلنج جدید سائنس کو مانا جاتا ہے۔ یہ چیلنج بذات خود سائنس نہیں بلکہ سائنسی تعلیم کی وجہ سے منکر خدا ہونا ہے جسے الحاد یا Atheism کہا جاتا ہے۔ سائنسی علم کی اگر تعریف لکھی جائے تو ایسا علم جس میں تجربے اور مشاہدے کے بعد عقل کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا جائے، اس کو سائنس کہتے ہیں۔ اگر عقل کی بنیاد پر مبنی علم الحاد کی طرف لے جاتا ہے تو کیا مذہب ایک غیر عقلی اور گھڑی ہوئی چیز ہے؟ یہ سوال مذہب اور سائنس کے مابین جھگڑے کی بنیاد ہے جو آج بھی جاری ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے اس سوال کے دو اہم پہلو سمجھنا ضروری ہیں۔

۱۔ مذہب غیر ضروری ہے

’’کیا صحیح اس لیے صحیح ہے کیونکہ خدا نے اس کو صحیح کہا ہے، یا خدا نے اس کو صحیح کہا ہے کیونکہ وہ صحیح ہے؟‘‘ مشہور یونانی فلسفہ نگار افلاطون نے اپنے استاد سقراط کا یہ جملہ ایک جگہ نقل کیا جو اس نظریے کی بنیاد بنی۔ اس نظریے کو پروان چڑھانے میں از خود مذہب (عیسائیت) کا بہت کردار ہے۔ سوال اٹھایا گیا کہ خدائی قانون کی بجائے اگر صرف عقل کی بنیاد پر صحیح اور غلط کے درمیان افتراق کیا جائے، تو کیا تب بھی انسانی معاشرہ برقرار رہے گا یا نہیں؟ یہ سوال اٹھانے کی وجہ کیتھولک چرچ اور ان کے مذہب کے نام پر مظالم تھے۔ کسی بھی شخص نے اگر پوپ یا کتاب مقدس کے خلاف ثبوت تو دور کی بات، صرف بات ہی کر دی تو اس کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اٹلی کے سائنسدان جیورڈانو برونو نے سولہویں صدی میں دریافت کیا کہ کائنات لا محدود ہے اور ہمارے نظام شمسی کے علاوہ بھی بہت سے نظام شمسی کائنات میں موجود ہیں۔ چرچ نے اس کو سات سال کی قید کے بعد زندہ جلا دیا۔ ایک دور میں چرچ کا دعوی تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج سمیت پوری کائنات زمین کے گرد گھومتی ہے۔ مشہور سائنسدان گلیلیو نے تجربے کے بعد دعوی کیا کہ دراصل زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس اختلاف پر چرچ شاید گلیلیو کو بھی جلا دیتا، مگر وہ وقت کے مشہور ترین سائنسدانوں میں سے تھا تو اس کو نظر بند کر دیا گیا اور اسی حالت میں اس کی وفات ہوئی۔ اسی نظریہ نے بڑھ کر اٹھارہویں صدی میں ایک اور شکل اختیار کر لی۔ ’’جو مجھے درست لگتا ہے وہ درست ہے، اور جو غلط لگتا ہے وہ غلط ہے‘‘ یعنی جس بات کو عقل صحیح مانتی ہے وہ صحیح ہے ، اس میں خدا یا کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ فلسفہ نگار جان جاکس روسو کے اس نظریے نے لبرل ازم کی بنیاد رکھی جس میں مذہب کے مقابلے میں عقل کو سامنے لایا گیا۔ اسی صدی میں انقلاب فرانس میں مذہب کی اجارہ داری ختم ہوئی اور لبرل ازم کی حکمرانی شروع ہو گئی۔

۲۔ علم کا معتبر ذریعہ صرف عقل ہے

لبرل ازم نے جب فروغ پانا شروع کیا تو چونکہ یہ نظام عقل پر مبنی تھا، اس لیے ہر وہ علم جس کی بنیاد عقل نہیں ہے، اس کونا قابل اعتبار سمجھا جانے لگا۔ یہ بات طے ہو گئی کہ جس چیز کو تجربے اور مشاہدے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے ہی نہیں۔ چونکہ روح کو تجربے سے ثابت نہیں کر سکتے، اس کا انکار کر دیا گیا۔ پھر روح کے ذریعے سے حاصل ہونے والا علم ( وحی) کا انکار کیا گیا۔ چونکہ صحیح اور غلط میں افتراق اب عقل کا کام تھا، اس لیے خدائی قانون بھی ختم کر دیے گئے۔ جب خدائی قانون بھی ختم ہوگئے، خدائی علم بھی ختم ہوگیا، خدائی تخلیق بھی ختم ہوگئی، تو نظام میں خدا کا تصور کیسے باقی رہتا؟
ان دو پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جدید سائنس از خود الحاد کا راستہ نہیں بلکہ اس کو لبرل لوگوں نے ہائیجیک کر کے مذہب سے چھٹکارا پانے کیلیے استعمال کیا ہے۔ جدید سائنس کی بنیاد ہی ایسی باتوں پر رکھی گئی جن میں خدا کا تصور ہی نہ ہو۔ مثلاً‌ کائنات کی شروعات کو بگ بینگ کا نام دیا جس کے مطابق ساری کائنات پہلے ایک جگہ اکٹھی تھی۔ پھر کسی وجہ سے یہ پھٹ کر پھیلنے لگی اور مسلسل پھیلتی چلی گئی اور اس میں زندگی اپنے آپ ہی پیدا ہو گئی۔ سائنس نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی مادہ اور توانائی تخلیق نہیں کی جا سکتی، بلکہ وہ صرف شکل بدلتی ہیں۔ لکڑی جلانے سے لکڑی ختم نہیں ہوتی بلکہ راکھ اور گرمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مگر جدید سائنس اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ اگر کسی چیز کی تخلیق نہیں کی جا سکتی، تو بگ بینگ کے وقت جو کائنات کا مادہ موجود تھا، وہ کہاں سے آیا؟ سائنس یہ تو بتا دے گی کہ آگ جلانے سے گرمائش پیدا ہوتی ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ گرمائش ہی کیوں پیدا ہوگی؟ کس نے یہ اصول طے کیا ہے کہ آگ جلنے سے گرمائش ہی ہو گی؟ کیونکہ اگر اس بات کا جواب تلاش کیا جائے تو سوائے اس جواب کے کہ کائنات اور کائنات کے اصولوں کو بنانے والی کوئی ذات موجود ہے، کوئی اور جواب نہ مل پائے گا۔

ختمِ نبوت کانفرنس مینار پاکستان پر مبارکباد

مولانا فضل الرحمٰن کا جواب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کی گراؤنڈ میں ختم نبوت گولڈن جوبلی کا عظیم الشان اور تاریخ ساز اجتماع ہماری دینی جدوجہد کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے جس نے دنیا پر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کی نظریاتی شناخت، دستور کی اسلامی اساس، اور امت مسلمہ کے اجتماعی عقائد، روایات اور تہذیب و ثقافت پر ہمیشہ کی طرح آج بھی پوری استقامت اور دل جمعی کے ساتھ قائم ہیں اور اس سلسلہ میں تمام تر ابہامات اور خدشات کو پوری قوت کے ساتھ مسترد کر رہے، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔
پاکستان شریعت کو نسل کے امیر حضرت مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی دامت برکاتہم اور ان کی قیادت میں پاکستان شریعت کونسل اس موقع پر تحریک ختم نبوت میں اس شاندار پیشرفت پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت خواجہ ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم، اور دیگر تمام قائدین، رفقاء کرام اور شرکاء کانفرنس کو مبارک باد پیش کرتی ہے، اور کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کا اظہار کرتی ہے۔
راقم الحروف باضابطہ دعوت کے باوجود گھٹنوں کے شدید درد کے باعث کانفرنس میں حاضر نہیں ہو سکا، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے تمام راہنماء اور کارکن ختم نبوت گولڈن جوبلی کانفرنس کی تیاریوں اور کامیابی کی جدوجہد میں ہر سطح پر لمحہ بہ لمحہ شریک چلے آرہے ہے ہیں اور آئندہ بھی شریک رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں کسی جگہ بھی یوم ختم نبوت کے حوالے سے کسی بھی جماعت، حلقہ اور طبقہ کی طرف سے جو اجتماعات منعقد ہوئے ہیں، ان سب کے منتظمین اور شرکاء کو پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے ہدیہ تبریک و تشکر پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمارے ان جذبات و احساسات اور حمیت دینی کو ہمیشہ قائم رکھیں اور ملک و قوم کے بہتر مستقبل کا ذریعہ بنا دیں، آمین یا رب العالمين۔
ابو عمار زاہد الراشدی
سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کو نسل
۸ ستمبر ۲۰۲۴ء
مفکر اسلام مولانا زاہدالراشدی صاحب کے خط کے جواب میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا جوابی میسج: 
’’آپ کا بہت شکریہ اور یوم الفتح کی عدیم المثال کانفرنس کی کامیابی پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت قبولیت سے سرفراز فرمائے، آمین۔‘‘

جاری کردہ: 
مولانا مفتی محمد نعمان پسروری (امیر)، 
مولانا محمد عثمان رمضان (سیکرٹری جنرل) 
پاکستان شریعت کونسل پنجاب

A Glimpse of Human Rights in Islam

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


Verse 36 of Surah al-Nisa outlines both the rights of Allah and the rights of His servants. Given the contemporary emphasis on human rights and the perceived limitations of Islam's approach in certain circles, this verse offers a valuable perspective.
The verse initially directs believers to worship Allah alone, prohibiting all forms of Shirk. This is the most fundamental right of Allah and the cornerstone of fulfilling His due. A person's life, the greatest gift, enables him/her to benefit from other blessings. As this life is bestowed by Allah, gratitude, obedience to His commandments, and refraining from associating partners with Him become paramount responsibilities.
Then the verse emphasizes on the importance of treating parents with kindness. This theme is echoed throughout the Quran, often paired with discussions of monotheism and servitude. Commentators explain that while Allah is the ultimate creator, parents serve as immediate cause of a person's life. Therefore, after fulfilling one's obligations to Allah, honoring and obeying parents becomes a priority. 
It's essential to note that acknowledging Allah's oneness and serving Him encompasses all aspects of Islamic law, including the rights of Allah, His Messenger, and others. True worship involves not only performing specific rituals but also adhering to the Quran and Sunnah in all aspects of life.
The verse then identifies the individuals whom Allah has designated as deserving of human kindness:
  • Close relatives
  • Orphan children
  • Indigent and poor people
  • Neighbors who are also relatives
  • Neighbors who are not relatives
  • Companions and fellow travelers
  • Passengers and guests
  • Slaves and subordinates
The verse concludes by emphasizing that neglect of the rights of Allah and His servants is considered arrogance and boasting in His sight. Just as neglecting Allah's service is a sign of arrogance, disregarding the rights of His creations is equivalent to boastfulness and contempt for humanity.
The Prophet's example sheds light on the significance of observing social rights. In a gathering, with a young child on his right and an elderly companion on his left, the Prophet was offered a drink. After finishing, he wanted to give the remaining drink to the elderly companion. However, recognizing the child's right, he asked for permission. The child responded by asserting his right to the Prophet's blessing.
The narrator, Sahl bin Saeed RA, recounts that upon hearing the child's response, the Prophet placed the cup in the child's hand with a gesture that conveyed displeasure. This incident underscores the Prophet's emphasis on the importance of mutual rights. Despite his desire to give the cup to the elderly companion, he recognized the child's right and respected it. By doing this, the Messenger of Allah (PBUH) taught us the level of significance with regard to mutual rights.
Our greatest challenge today is our own ignorance of the Quran's teachings and our failure to share them with the world. If we were to do so, the Quran's comprehensive and balanced approach to rights would be unparalleled in any global system.

https://zahidrashdi.org/669