کیا عالمِ اسلام دنیا کی قیادت سنبھالنے کا اہل ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ تحریک آزادی کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، اور پاکستان بننے کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک کو منظم کرنے میں مگن ہو گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا منظم اور مختلف ممالک تک وسیع نیٹ ورک انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ بہت معاملہ فہم اور زیرک رہنما تھے اور پبلک جلسوں میں مشکل سے مشکل مسئلہ کو آسان ترین انداز میں پیش کرنے اور سمجھانے کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ گزشتہ روز ایک دوست کے ہاں پرانے رسالوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے ماہنامہ لولاک ملتان کا دو سال پہلے کا ایک پرچہ نظر سے گزرا تو حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی ایک تقریر سامنے آ گئی جو انہوں نے کسی دور میں پکالاڑاں ضلع رحیم یار خان میں کی تھی اور ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے اسے مرتب کیا گیا تھا۔
تقریر میں انہوں نے سندھ کی معروف خانقاہ امروٹ شریف کا ذکر کیا اور حضرت مولانا تاج محمد امروٹیؒ کے ایک دو واقعات بیان کیے ہیں۔ حضرت مولانا تاج محمد امروٹیؒ ایک تاجدار بزرگ، مجاہد عالم دین اور ممتاز روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے سرگرم مجاہد بھی تھے۔ ان کا روحانی تعلق بھرچونڈی شریف کے حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھا جو اپنے دور میں مرجع خلائق تھے اور سلسلہ عالیہ قادریہ کی روحانی عظمتوں کے امین تھے۔ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی انہی کے فیض یافتہ تھے اور انہی کی صحبت نے اس نومسلم نوجوان کو فکری روحانی اور اخلاقی بلندیوں سے روشناس کرایا تھا۔ جبکہ امروٹ شریف کا فکری اور سیاسی رابطہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک سے تھا اور حضرت شیخ الہندؒ نے برطانوی استعمار سے جنوبی ایشیا کی آزادی کے لیے جو تحریک منظم کی تھی امروٹ شریف اس کے اہم مراکز میں سے تھا۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا بیان کردہ واقعہ یہ ہے کہ ایک روز کسی عقیدت مند نے حضرت امروٹیؒ سے دریافت کیا کہ حضرت! آپ جو آزادی کی جنگ کے لیے اس قدر تگ و دو کر رہے ہیں اور اپنے رفقاء سمیت اتنی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، اس کی بجائے آپ اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کیوں نہیں کرتے کہ یا اللہ! ان ظالم انگریزوں سے دنیا کا اقتدار واپس لے لے۔ حضرت امروٹیؒ نے فرمایا کہ میں نے کئی بار عرض کیا ہے، مگر ادھر سے جواب آتا ہے کہ ’’ان سے تو اقتدار واپس لے لوں مگر دوں کس کو؟‘‘
اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ عالم اسباب میں مسلمان ابھی اس قابل نہیں ہیں کہ وہ دنیا کا اقتدار سنبھال سکیں۔ اس واقعہ کو اندازاً پون صدی گزر چکی ہے اور اس دوران عالمی قیادت کا تاج انگریزوں کے سر سے منتقل ہو کر امریکیوں کے سر کی زینت بن چکا ہے، مگر عالم اسلام کے حوالے سے یہ سوال اسی طرح قائم ہے اور اس میں کسی بھی حوالے سے کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے اسباب کے حوالے سے چلا رکھا ہے اور اس کا ضابطہ و قانون یہ ہے کہ دنیا میں ساری باتیں اسباب و و سائل ہی کے حوالے سے طے پاتی اور چلتی ہیں۔ کبھی کبھار اللہ تعالی اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اسباب سے ہٹ کر کوئی بات ظاہر فرما دیتے ہیں، لیکن اسے قانون اور ضابطے کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ اس کی ہر وقت توقع رکھی جائے اور محض اس کی امید پر اجتماعی فیصلوں اور پروگراموں کی بنیاد قائم کر دی جائے۔ اسباب کی کمی بیشی کا خلا تو اللہ تعالیٰ پر کر دیتے ہیں اور محض اس وجہ سے اہلِ حق کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ دستِ غیب سے سہارا دے دیتے ہیں، لیکن اسباب اور عدمِ اسباب کے خلا کو پر کرنا اللہ تعالیٰ کے ضابطے کے خلاف ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توکل کی یہی تعریف فرمائی ہے کہ اپنے امکان و استطاعت کی حد تک اسباب مہیا اور اختیار کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ دست گیری فرماتے ہیں۔
ہمارے استاد محترم اس کی مثال اس طرح دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ ان کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے مینار پر ہو گا اور وہاں سے وہ مسجد کے صحن میں کھڑے لوگوں کو آواز دیں گے کہ سیڑھی لائی جائے تاکہ وہ نیچے اتر سکیں۔ چنانچہ سیڑھی لائی جائے گی اور وہ نیچے تشریف لائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ کے جو فرشتے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں سے جامع مسجد دمشق کے مینار تک پہنچائیں گے ان کے لیے نیچے صحن میں ان کو اتارنا مشکل نہیں ہو گا، لیکن چونکہ زمین کا نظام اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اسباب کے دائرہ میں چل رہا ہے، اس لیے زمین تک پہنچنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی سیڑھی کا سبب اختیار کرنا پڑے گا اور غیبی فرشتے انہیں اسباب کے دائرہ تک پہنچا کر واپس چلے جائیں گے۔
اس پس منظر میں آج کے عالمی تناظر میں حضرت مولانا تاج محمد امروٹیؒ کے اس ارشاد کو دیکھا جائے تو یہ سوال بدستور اپنی اصلی کیفیت میں قائم ہے کہ عالمی قیادت امریکہ کے ہاتھوں سے چھین تو لی جائے مگر دی کس کو جائے؟ کیا آج عالم اسلام موجودہ معروضی حالات میں دنیا کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یہ سوال بہت تلخ ہے اور ہمارے بہت سے دوستوں کو ہضم نہیں ہو گا، لیکن اس سے سوال کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس روز میں نے حضرت امروٹیؒ کا یہ واقعہ پڑھا اسی روز گوجرانوالہ میں اہلحدیث دوستوں کی ایک تنظیم نے اس موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا کہ عالم اسلام کی موجودہ صورتحال میں علم اور تعلیم کی اہمیت اور کردار کیا ہے؟ میں نے اپنی گفتگو میں یہی واقعہ بیان کر کے سیمینار کے شرکاء سے مذکورہ سوال کیا تو وہ تعجب اور پریشانی سے میرا منہ دیکھنے لگے۔
میں نے عرض کیا کہ حضور! ہمارا حال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ پون صدی کے دوران ہمیں تیل کی عظیم اور بے پناہ دولت سے مالامال کیا مگر اسے سنبھالنے کی اہمیت و صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے ہم اسے دوسروں بلکہ دشمنوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جب عالم اسلام میں تیل کے وسیع ذخائر کی موجودگی کا انکشاف ہوا تو ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود نہیں تھی کہ ہم خود کھدائی کر کے تیل نکال سکتے، تیل نکال کر اس کی ریفائنری کا اہتمام کر سکتے اور اسے قابلِ استعمال حالت میں لا کر دنیا میں اس کی مارکیٹنگ کے تقاضے پورے کر سکتے۔ ان تینوں صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے ہمیں تیل کے چشموں کی کھدائی، ریفائنری اور مارکیٹنگ کا پورا نظام مغربی کمپنیوں کے سپرد کرنا پڑا اور انہی کے ذریعے ہم اپنی تمام تر دولت، معیشت اور سیاست سمیت مغربی استعمار کے آہنی شکنجے میں جکڑے جا چکے ہیں۔ جو قوم اپنے گھر کی دولت کو سنبھالنے، اسے اپنے مصرف میں لانے اور اس پر کنٹرول قائم رکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو، وہ اگر دنیا کی قیادت کے خواب دیکھنے لگے تو اسے نرم سے نرم الفاظ میں ’’خوش فہمی‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔
ہمیں اسلام کے روشن مستقبل اور دنیا پر ملتِ اسلامیہ کی دوبارہ قیادت کا اتنا ہی یقین ہے جتنا کل صبح سورج طلوع ہونے کا یقین ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات کا بھی پختہ یقین ہے کہ یہ موجودہ حالات میں نہیں ہو گا اور موجودہ سیاسی، علمی اور دینی قیادتوں کے ہاتھوں نہیں ہوگا۔ اس کے لیے عالم اسلام میں ایک نئے علمی و فکری دور کی شمع جلانا ہوگی، نئی نسل کو ایمان و اخلاق کی مستحکم بنیادوں کے ساتھ عالمی قیادت کے لیے تمام تر ضروری صلاحیتوں اور استعداد سے بہرہ ور کرنا ہو گا، اور نسل انسانی کو اس کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے اسلام کی فطری تعلیمات اور عادلانہ نظام کی افادیت و ضرورت کا احساس دلانا ہو گا۔ یہ اس جدوجہد کے ناگزیر اسباب ہیں اور اس سفر کا ضروری زادِ راہ ہے۔ ہمارے ارباب علم و دانش اس زادِ راہ کا جس قدر جلد اہتمام کر لیں گے، دنیا پر اسلام کے غلبے اور ملت اسلامیہ کے روشن مستقبل کی منزل قریب تر ہوتی جائے گی۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی

(481) فَاَمْکَنَ مِنْہُمْ کا ترجمہ
فعل أمکن کے دو مفعول آتے ہیں، ایک راست مفعول بہ ہوتا ہے اور دوسرے پر من لگتا ہے۔ أمکنت فلانًا من الصید میں نے فلاں کو شکار پر قابو دے دیا۔ درج ذیل آیت میں فَأَمْکَنَ مِنْہُمْ میں مفعول بہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا ترجمہ و تفسیر کرتے ہوئے عام طور سے لوگوں نے مفعول بہ کو محذوف مانا ہے۔ یعنی فَأَمْکَنَکَ مِنْہُمْ۔ اس کے مطابق ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے انھیں تمہارے قابو میں دے دیا۔ عام طور سے اہل لغت نے یہ لکھا ہے کہ یہ فعل مفعول بہ اور جار مجرور (منہ) کے ساتھ آتا ہے۔ مَکَّنْتُہ من الشیءِ، وأمْکَنْتُہ منہ (القاموس المحیط)، یعنی کسی چیز کو کسی کے قابو میں دے دینا۔ درج ذیل ترجمے اسی کے مطابق کیے گئے ہیں:
وَإِنْ یُرِیدُوا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللَّہَ مِنْ قَبْلُ فَأَمْکَنَ مِنْہُمْ۔ (الانفال: 71)
”لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آ گئے“۔ (سید مودودی، قابو میں آنا سزا نہیں ہوتی ہے، سزا تو اس کے بعد ملتی ہے)
”اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے“۔ (احمد رضا خان، لگتا ہے کہ منھم میں من کو تبعیضیہ مان کر ”اتنے“ کہا ہے۔ یہاں من برائے صلہ ہے، تبعیضیہ نہیں ہے۔)
”اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کردیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اگر وہ تجھ سے خیانت کا خیال کریں گے تو یہ تو اس سے پہلے خود اللہ کی خیانت کر چکے ہیں آخر اس نے انہیں گرفتار کرا دیا“۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں مفعول بہ کو ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن ترجمہ فعل متعدی والا ہے۔یہاں خیانت کا خیال نہیں بلکہ ارادے کی بات ہے۔)
”اور اگر یہ تم سے بدعہدی کریں گے تو اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بدعہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا“۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ فعل مفعول بہ کے بغیر صرف جار مجرور (منہ) کے ساتھ بھی آتا ہے۔ اس لیے آیت میں مفعول بہ ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ترجمہ ہوگا:
”تو خدا نے ان کو قابو میں کرلیا۔“
یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ کیا یہ فعل مفعول بہ کے بغیر بھی آتا ہے۔ یعنی کسی کے قابو میں دینے کے بجائے خود اپنے قابو میں کرنے کے معنی میں۔ اس سلسلے میں لغات خاموش ہیں۔ البتہ جملے میں اگر مفعول بہ ذکر نہ کیا جائے تو ذہن بغیر مفعول بہ والے مفہوم کی طرف جاتا ہے۔ عربی لٹریچر میں اس کا استعمال بھی ملتا ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے ابوحیان توحیدی کی درج ذیل عبارت میں اس کا برجستہ استعمال کیا گیا ہے:
وقل من تکبر علی الناس وحقر أہل الفضل إلا عاجلتہ العقوبة، ونہکتہ اللائمة، وأمکن منہ الدہر۔ (البصائر والذخائر: 2/ 221)
ظاہر ہے کہ ابوحیان توحیدی کا قول زبان کے سلسلے میں حوالہ نہیں بن سکتا، لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم کے یہاں یہ استعمال موجود ہے۔
اس آیت کے ضمن میں امام طبری نے امام سدّی کی تفسیر ذکر کی ہے اس میں مفعول بہ کے محذوف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ یَقُولُ: قَدْ کَفَرُوا بِاللَّہِ وَنَقَضُوا عَہْدَہُ، فَأَمْکَنَ مِنْہُمْ بِبَدْرٍ۔ (تفسیر الطبری)
جن لوگوں نے مفعول بہ محذوف مانا ہے اور قابو میں دینے کا مفہوم مراد لیا ہے، انھوں نے اس سے جنگ بدر میں ہونے والے انجام کو مراد لیا ہے۔ لیکن اگر مفہوم اپنے قابو میں کرنا ہے تو پھر اللہ تعالی نے بدعہدوں کی جب جب پکڑ کی سب اس میں آجائے گا۔ ویسے بھی اصل ڈرنے کی چیز تو اللہ کی پکڑ میں آنا ہے۔
(482) إذ کے بعد فعل مضارع کا ترجمہ
إذ کے بعد جب فعل مضارع آتا ہے تو وہ ماضی کے مفہوم میں ہوتا ہے۔ لیکن ’إذ کے بعد فعل ماضی‘ اور ’إذ کے بعد فعل مضارع‘ میں فرق ہوتا ہے۔ ”إذ قال“ کا ترجمہ ہوگا ’جب اس نے کہا‘ اور ”إذ یقول“ کا ترجمہ ہوگا ’جب وہ کہہ رہا تھا‘۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے:
(۱) وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللَّہُ إِحْدَی الطَّاءِفَتَیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ۔ (الانفال: 7)
”یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارا لقمہ بنے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا“۔ (سید مودودی)
”اور جس وقت دو جماعتوں میں سے ایک کا اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی“۔ (احمد علی)
”اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا“۔ (محمد تقی عثمانی)
درج بالا سبھی ترجمے ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق ہیں۔
”اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے“۔ (احمد رضا خان)
درج بالا ترجمے میں فعل مضارع کے بجائے فعل ماضی کا ترجمہ ہوگیا۔ حالاں کہ یہاں یعدکم ہے، وعدکم نہیں ہے۔
”اور جس وقت وعدہ دیتا ہے اللہ تم کو ان دو جماعت میں سے کہ ایک تم کو ہاتھ لگے گی“۔ (شاہ عبدالقادر)
درج بالا ترجمہ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق نہیں ہے، اس میں فعل مضارع سے پہلے اذ کا خیال نہیں رکھا گیا اور ماضی کے بجائے حال کا ترجمہ کردیا ہے۔
(۲) إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَاءِکَةِ مُرْدِفِینَ۔ (الانفال: 9)
”اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں“۔ (سید مودودی، فَاسْتَجَابَ لَکُمْ کا ترجمہ جواب دینا نہیں، بلکہ دعا قبول کرنا ہے۔ اللہ نے تمہاری فریاد قبول کرلی۔)
”جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی“ (احمد رضا خان)
”اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی“۔ (امین احسن اصلاحی)
درج بالا سبھی ترجمے ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق ہیں۔
(۳) إِذْ یُغَشِّیکُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔ (الانفال: 11)
”اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا“۔ (سید مودودی)
درج بالا ترجمے ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق ہیں۔
”جس وقت ڈال دی تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کو اور اتارا تم پر آسمان سے پانی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا“۔ (احمد رضا خان)
”جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
درج بالا ترجمے ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق نہیں ہیں۔ فعل مضارع کے بجائے فعل ماضی والا ترجمہ کردیا ہے۔
”یاد کرو جب کہ وہ تم کو چین دینے کے لیے اپنی طرف سے تم پر نیند طاری کردیتا ہے اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
درج بالا ترجمہ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق نہیں ہے، اس میں فعل مضارع سے پہلے اذ کا خیال نہیں رکھا گیا اور ماضی کے بجائے حال کا ترجمہ کردیا ہے۔
(۴) إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَاءِکَةِ أَنِّی مَعَکُمْ۔ (الانفال: 12)
”اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں“۔ (سید مودودی)
”جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں“۔ (احمد رضا خان)
”جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی، معکم کا مطلب ساتھی ہوں نہیں ہوگا، ساتھ ہوں ہوگا۔)
درج بالا سبھی ترجمے ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق ہیں۔
”یاد کرو جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)
درج بالا ترجمہ’اذ کے بعد فعل مضارع‘ کے قاعدے کے مطابق نہیں ہے، اس میں فعل مضارع سے پہلے اذ کا خیال نہیں رکھا گیا اور ماضی کے بجائے حال کا ترجمہ کردیا ہے۔
”جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں ساتھ ہوں تمہارے“۔ (شاہ عبالقادر)
”اذ کے بعد فعل مضارع“ کا ترجمہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بہتر ہوگا کہ ایک بار پیش آنے والا واقعہ بار بار پیش آنے والا واقعہ محسوس نہ ہو۔ ”جب کررہا تھا“ اور ”جب کرتا تھا“ پر غور کریں تو موخر الذکر سے یہ گمان ہوتا ہے کہ واقعہ کئی بار پیش آیا۔ اوپر جتنی آیتیں ذکر کی گئی ہیں وہ سب ایک بار پیش آنے والے واقعہ کی خبر دے رہی ہیں، اس لیے ترجمے میں اس کا لحاظ بھی ہونا چاہیے۔
(483) ذَات الشَّوْکَۃِ کا ترجمہ
عربی میں شوکة کانٹے کو کہتے ہیں۔ لیکن جنگ کے سیاق میں شوکة ہتھیار، ہتھیار کی تیزی اور دشمن کی قوت وسطوت کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ فیروزابادی کے الفاظ میں:
والشَّوْکَةُ: السِّلاحُ، أو حِدَّتُہُ، ومن القِتالِ: شِدَّةُ بأْسِہِ، والنِّکایَةُ فی العَدُوِّ۔ (القاموس المحیط)
درج ذیل آیت میں غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ کا ترجمہ بعض لوگوں نے کم زور کیا ہے۔ یہ لفظ کا موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے الشَّوْکَةِ کا ترجمہ کانٹا کیا ہے، یہاں جنگ کے سیاق میں کانٹا بالکل موزوں معلوم نہیں ہوتا ہے۔ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ کا مناسب ترجمہ غیر مسلح ہے۔
وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُونُ لَکُمْ۔ (الانفال: 7)
”تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے“۔ (سید مودودی)
”اور تم چاہتے تھے کہ جس میں تم کو کانٹا نہ لگے وہ ملے تم کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور تم چاہتے تھے جس میں کانٹا نہ ہو وہ تمہیں ملے“۔(احمد علی)
”اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے“۔ (محمد تقی عثمانی)
”اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو)“۔ (احمد رضا خان)
درج ذیل دونوں ترجموں میں شوکة کا مفہوم مناسب لفظوں میں ادا کیا گیا ہے۔
”اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے“۔(امین احسن اصلاحی)
”اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(484) یَضْرِبُونَ وُجُوہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ کا ترجمہ
أدبار دبر کی جمع ہے۔ دبر کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کا پچھلا حصہ۔ الدُّبُرُمن کُلِّ شیءٍ: عَقِبُہ ومؤخَّرُہ (القاموس المحیط)، جب یہ لفظ انسان کے لیے استعمال ہوتا ہے تو انسان کی پوری پشت مراد ہوتی ہے۔ بعض لوگوں نے أدبار کا ترجمہ کولہے یا سرین کیا ہے۔ کولہے یا سرین پشت کا ایک حصہ ہیں لیکن أدبار سے مراد آدمی کی پوری پشت ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:
(۱) وَلَوْ تَرَی إِذْ یَتَوَفَّی الَّذِینَ کَفَرُوا الْمَلَاءِکَةُ یَضْرِبُونَ وُجُوہَہُمْ وَأَدْبَارَہُمْ۔ (الانفال: 50)
”کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منھ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی رُوحیں قبض کر رہے تھے وہ ان کے چہروں اور ان کے کولھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے“۔(سید مودودی)
”اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منھ پر اور ان کی پیٹھ پر“۔ (احمد رضا خان)
”اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اگر تم دیکھ پاتے جب فرشتے ان کفر کرنے والوں کی روحیں قبض کرتے ہیں مارتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر“۔ (امین احسن اصلاحی)
(۲) فَکَیْفَ إِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلَاءِکَةُ یَضْرِبُونَ وُجُوہَہُمْ وَأَدْبَارَہُمْ۔ (محمد: 27)
”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور اِن کے منھ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟“۔ (سید مودودی)
”تو کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے منھ اور ان کی پیٹھیں مارتے ہوئے“۔ (احمد رضا خان)
”تو اُس وقت (ان کا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے اور ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پس ان کی کیسی (درگت) ہوگی جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی سرینوں پر ماریں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(485) عَذَاب الْحَرِیقِ کا ترجمہ
حریق اور نار میں فرق ہے۔نار آگ کو کہتے ہیں اور جب آگ کسی چیز کو جلاتی ہے اور تباہ کرتی ہے تو اسے حریق کہتے ہیں۔ چولہے کی آگ کو حریق نہیں کہیں گے لیکن جلتے ہوئے مکان کو حریق کہیں گے۔ آگ کے عذاب یا جہنم کے عذاب سے عذاب الحریق کے مکمل صحیح مفہوم کی ادائیگی نہیں ہوتی ہے، اس کے لیے جلانے والی آگ کا عذاب یا جلنے کا عذاب موزوں ہے۔ ماہر لغت ابوہلال العسکری لکھتے ہیں: والحریق النار الملتہبة شیئا وإہلاکہا لہ۔ (معجم الفروق اللغویۃ)
کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
(۱) ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (آل عمران: 181)
”چکھو آگ کا عذاب“۔ (احمد رضا خان)
”چکھو عذاب آگ کا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”عذاب جہنم کا مزا چکھو“۔ (سید مودودی، یہ موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ سورۃ البروج میں جہنم اور حریق کو الگ الگ کہا گیا ہے)
”عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)
”جلنے والا عذاب چکھو! (محمد جوناگڑھی)
(۲) وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (الانفال: 50)
”تم جلنے کا عذاب چکھو“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور چکھو آ گ کا عذاب“۔ (احمد رضا خان)
”عذاب آتش (کا مزہ) چکھو“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اب چکھو مزا جلنے کے عذاب کا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”لو اب جلنے کی سزا بھگتو“۔ (سید مودودی،ذوقوا کا مطلب بھگتنا نہیں بلکہ چکھنا ہے۔)
(۳) وَنُذِیقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (الحج: 9)
”اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے“۔ (سید مودودی)
”اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”اور ہم قیامت کے دن ان کو آگ کا عذاب چکھائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۴) وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ۔ (الحج: 22)
”چکھو آگ کا عذاب“۔ (احمد رضا خان)
”جلنے کا عذاب چکھو!“۔ (محمد جوناگڑھی)
”چکھو اب جلنے کا عذاب“۔ (امین احسن اصلاحی)
”جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)
”چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا“۔ (سید مودودی)
(۵) فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیقِ۔ (البروج: 10)
”تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے“۔(محمد جوناگڑھی)
”ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا“۔(فتح محمد جالندھری)
”یقینا اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے“۔ (سید مودودی)
”ان کے لیے لازماً جہنم کی سزا اور جلنے کا عذاب ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے آگ کا عذاب“۔ (احمد رضا خان)
درج بالا تمام ترجموں میں آگ کے عذاب سے زیادہ موزوں جلنے کا عذاب ہے۔
پاکستان میں مذہبی سیاست کو درپیش تحدیات
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

پاکستان میں مذہبی سیاست کو منظم کرنے کے دو ماڈل جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے اختیار کیے۔ اہداف میں زیادہ فرق نہیں تھا، اور ریاست کی نظریاتی شناخت طے کرنے نیز اس کے بعد آئینی و قانونی سطح پر اسلامائزیشن کی جدوجہد میں دونوں شریک رہے، تاہم انداز سیاست مختلف تھا۔ جماعت اسلامی نے خالصتاً نظریاتی بیانیے پر مذہبی سیاست کو استوار کرنے کی کوشش کی اور نتیجتا سیاسی میدان میں کبھی بھی کوئی قابل لحاظ قوت نہیں بن سکی۔ جمعیت علماء نے تدریجاً اپنے سیاسی بیانیے اور اہداف کو قومی سیاست کے عمومی دائرے سے ہم آہنگ کر لیا اور مختلف سیاسی قوتوں کے ساتھ تعامل کا راستہ اختیار کر کے قومی سیاست میں اپنی ایک جگہ بنا لی جس کے ذریعے سے اسے اپنے مذہبی اہداف کی طرف بھی پیش رفت کرنے میں سہولت رہی۔
مذہبی سیاست کے جتنے اہداف قابل حصول تھے، وہ کم وبیش سب حاصل ہو چکے ہیں۔ ملک کی نظریاتی شناخت طے ہو گئی ہے، آئین میں اسلامی دفعات شامل ہیں، اہم دائروں میں قانون سازی ہو چکی ہے، اہم آئینی وعدالتی فورم وجود میں آ چکے ہیں جو کسی بھی ایشو پر مذہبی موقف کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا مزید ہدف جو عملاً قابل حصول ہو، منظر پر موجود نہیں۔ نتیجتاً مذہبی سیاست کی سرگرمی میں پیش قدمی کا عنصر مفقود ہے اور وہ مختلف ایشوز کے حوالے سے اپنی کامیابیوں کے تحفظ اور مخالف بیانیوں کی مزاحمت تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ مزاحمت چونکہ مذہبی سیاست پر منحصر نہیں اور معاشرے میں اس کے اور بھی پلیٹ فارم موجود ہیں، اس لیے عوامی پرسیپشن میں بھی مذہبی سیاست کے بیانیے میں زیادہ اپیل نہیں رہی۔
اس صورت حال کا اثر قومی سیاست کے رویوں اور حرکیات پر پڑنا بھی ناگزیر ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے سیاسی عمل مذہبی ایشوز کی گرفت سے نکل کر خالص سیاسی ایشوز پر یکسو ہوتا جا رہا ہے، مذہبی سیاسی قوتوں کی اہمیت فطری طور پر کم اور ان کا دائرہ اثر سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی تو اپنے انداز سیاست کی وجہ سے پہلے ہی قومی سیاسی عمل سے باہر تھی۔ اب مذہبی سیاست کے لیے پیش قدمی کا کوئی قابل عمل ایجنڈا موجود نہ ہونے کی وجہ سے جمعیت علماء کو بھی اسی قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔
مذہبی سیاست کو درپیش عمومی چیلنج کے ساتھ جمعیت علماء کے اپنے خاص چیلنجز بھی سامنے ہونے چاہییں۔ ان چیلنجز کا تعلق دیوبندی حلقے کی داخلی تقسیم، حریف سیاسی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔
قیام پاکستان کے بعد دیوبندی جماعت کو دینی فکر اور سیاست کے میدان میں بنیادی چیلنج جماعت اسلامی کی طرف سے درپیش تھا۔ سیاسی میدان میں جماعت اسلامی نے خود اپنے نظریے اور حکمت عملی کی وجہ سے زیادہ مسائل پیدا نہیں کیے اور مذہبی قوتوں کی قیادت اصلاً جمعیت علماء ہی کے پاس رہی۔ دینی فکر کے میدان میں مولانا کے نتائج فکر پر روایتی مذہبی حلقوں نے بھرپور تنقید کی جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو مولانا کی دینی فکر سے ایک فاصلہ پیدا کرنا پڑا۔ یوں دونوں میدانوں میں دیوبندی حلقہ فاتح رہا۔ جماعت اسلامی اب روایتی دینی حلقوں کے طے کردہ حدود میں دینی خدمات اور اس کے باہر سماجی خدمات انجام دے کر ثواب دارین حاصل کرتی ہے۔
داخلی تقسیم کے پہلو سے جمعیت علماء کو تدریجاً اپنی مرکزیت کھونا پڑی ہے۔ مختلف مذہبی ایشوز مثلاً ختم نبوت اور دفاع صحابہ وغیرہ تقسیم ہو کر دوسری جماعتوں کے پاس چلے گئے ہیں اور جمعیت کا کردار ایسے مسائل میں ثانوی ہے۔ دینی مدارس کی تنظیم وفاق کے پلیٹ فارم سے ہوئی جس میں بنیادی کردار جمعیت کا ہی تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہاں بھی دوسرے حلقہ ہائے فکر غالب آتے چلے گئے۔ کچھ عرصہ قبل نئے تعلیمی بورڈز کے قیام سے یہ مرکزیت اور بھی کمزور ہوئی ہے۔ اب جمعیت کو ایک اور طاقتور نظریاتی حریف کا سامنا ٹی ٹی پی کی صورت میں ہے جو اپنا نظریاتی اور سیاسی اثر دیوبندی طبقے میں وسیع کرنا چاہتی ہے۔ یہ چیلنج صرف نظریاتی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ سنگین اور خطرناک بھی ہے۔
یہ ساری تقسیم داخلی عوامل سے بھی ہوئی ہے اور یقیناً اس میں اسٹیبلشمنٹ کی بھی منشا اور رضامندی شامل ہے۔ مقتدرہ کو فطری طور پر کسی ایک منظم سیاسی قوت کے ساتھ معاملہ کرنے کے مقابلے میں تقسیم شدہ اور محدود قوت رکھنے والے سیاسی عناصر سے معاملہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ جمعیت کا عمومی سیاسی رجحان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے، یعنی اس میں خود اپنی سیاسی بقا کا تحفظ بنیادی محرک ہے۔ اس کے علاوہ جمعیت کی قیادت بجا طور پر سمجھتی ہے کہ مقتدرہ یا عالمی قوتوں کے پیش نظر جس نئے سیاسی منظرنامے کی تشکیل ہے، اس میں جمعیت کی بطور ایک سیاسی قوت کے زیادہ جگہ نہیں ہے۔ یہ سیاسی چیلنجز میں سے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔
سیاسی قوتوں میں سے زیادہ بڑا چیلنج بدیہی طور پر پی ٹی آئی نے پیدا کیا ہے اور عین اس صوبے میں کیا ہے جو جمعیت کی سیاسی سپورٹ کی آماجگاہ ہے۔ اس تناظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کی حالیہ پیش رفت کی اہمیت بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے چیلنج کا سامنا کرنے کے حوالے سے ہے۔ ابھی یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ ایک حریف سیاسی قوت کے ساتھ جمعیت کے دیرپا تعلقات کیا نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔
مولانا مفتی محمودؒ
مجیب الرحمٰن شامی

پیشانی کشادہ، مطلعِ انوار، آنکھیں روشن، زندہ وبیدار،
ابھرتے ہوئے مسکراتے رخسار، گندمی رنگ میں سرخی کے آثار،
سر کے بال پٹے دار، ڈاڑھی پھیلی ہوئی باوقار،
سیاہی پر سپیدی ژالہ بار، شانے چوڑے اور مضبوط مردانہ وار،
ناک ستواں، قد میانہ، جسم گھنا، ایک شجرِ سایہ دار، پر ُسکون جیسے دامنِ کوہسار،
لباس سے سادگی آشکار، کندھوں پر مستقل رومال کہ جسدِ خاکی کا حاشیہ بردار،
دمِ گفتگو، دلیل کی گفتار، دمِ جستجو، فرض کی پکار،
آرام سے ہر لحظہ انکار، مطمحِ نظر اسلامی اقدار،
عوامی حقوق کا پاسدار، ان کی حفاظت کے لیے ہر دم چوکس و تیار،
وزیر اعلیٰ، مگر چٹائی سے سروکار، تکلفات سے بیزار،
بوریے پر دربار، عجیب صاحبِ اختیار، غلامِ احمدِؐ مختار،
اس کی نگاہ میں ہیچ دولت کے انبار، اس کی نگاہ میں ایک مفلس و زردار،
تنہا بھی لشکرِ جرّار، کثرتیں اس کے سامنے نگوں سار، استقامت کا کوہسار، نعرۂ حیدرِ کرارؓ،
فرقہ بندی کے خلاف کھلی تلوار، اتحاد کا علمبردار، تحریکِ نظامِ مصطفٰیؐ کا سالار،
قوم کا بے تاج تاجدار، نویدِ قافلۂ بہار، میدانِ سیاست کا شہسوار،
اہلِ دیں کے لیے سرمایۂ افتخار، اہلِ دل کے لیے وجہِ قرار،
دیوبند کے گلے کا ہار، پاکستان پر سو جان سے نثار، افغانستان پر اشک بار، جہاد کی للکار،
اس سے لرزہ بر اندام اشتراکی و سرمایہ دار، ہر جنسِ بازار،
وہ ایک کلمۂ پائیدار، باوقار، با کردار، عابدِ شبِ زندہ دار،
روایاتِ اسلاف کا نگہ دار، رحمتِ پروردگار،
خوابیدہ اس شرر میں تھے آتش کدے ہزار،
تری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول۔
(ماہنامہ قومی ڈائجسٹ لاہور ۔ فروری ۱۹۸۱ء)
قادیانی مسئلہ اور دستوری و قانونی ابہامات
قاضی ظفیر احمد عباسی

مورخہ ۱۲ جولائی ۲۰۲۳ء کو اوصاف اخبار میں مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ایک مضمون عنوان بالا کے تحت نظر سے گزرا جس میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی کی قادیانی گروہ سے متعلق تجویز کو آگے بڑھایا جس میں مفتی رویس صاحب نے قادیانیوں کی حالیہ سرگرمیوں کے بارے میں پائے جانے والے ابہامات کی وجہ سے دستوری تقاضوں اور بعض عدالتی فیصلوں میں ظاہری تضاد قرار دیا، اور ایک بیان میں تجویز دی کہ اس ابہام اور کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے دستوری اور قانونی طور پر قادیانی گروہ کو ایک مستقل امت کے طور پر تسلیم کرنے کے بجائے غیر قانونی قرار دیا جائے۔ یہ بات موجودہ حالات میں گہرے غور و خوض کے متقاضی ہے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتوں اور اداروں کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔ متذکرہ بالا تجویز راقم نے مولانا زاہد الراشدی صاحب کے الفاظ میں درج کر دی ہے جس پر انہوں نے تبصرہ کیا ہے اور چند سال پہلے بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیرِ اہتمام عظیم الشان کانفرنس میں اس نوع کی تجویز خود پیش کرنے کا ذکر کیا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب اس فتنے کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں وہ اس محاذ پر پیش پیش رہے ہیں اور انہوں نے تحفظ ختم نبوت کے لیے اپنی توانائیاں صرف کی ہیں۔ مولانا کا اس تجویز پر دینی حلقوں کو نوائے محراب سے متوجہ کرنا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ نوائے وقت ہے، تمام مکاتبِ فکر کے ذمہ داروں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ جب تک امتِ مسلمہ قادیانی فتنہ کو دیگر تمام غیر مسلموں سے مختلف گروہ سمجھ نہ پائے گی اس وقت تک دستوری و قانونی ابہامات کی دلدل سے جان نہیں چھوٹ سکتی۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر مہم و ازسرِنو دینی بیداری کی ضرورت ہے۔
ہمیں مغرب اور دیگر طاغوتی قوتوں سے کیا شکوہ، خود دنیائے اسلام میں اکثریت مسلمانوں کی ایسی ہے جو اس فتنے سے آگاہ نہیں ہیں، یا زیادہ سے زیادہ یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانی غیر مسلم ہیں جس طرح دیگر غیر مسلم ہیں ان کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہی وہ دھوکہ ہے جس نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ گروہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے دیمک کا کام کر رہا ہے۔ قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کو دیکھ کر اب یہ بات فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے کہ قادیانی گروہ کو ملک و دستور کا باغی قرار دے کر ان کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی جائے جب تک یہ گروہ دستور کے مطابق اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتا۔ اور ان کی فنڈنگ پر نظر رکھتے ہوئے ان کے فنڈ منجمد کر دیے جائیں۔ مگر یہ بات قادیانی گروہ کے طاقتور ہونے کے باعث اتنی آسان بھی نہیں جب تک دنیا ان کی حقیقت سے آشنا نہیں ہو جاتی۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی تنظیمیں اور تمام مکاتبِ فکر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی طرح متحد اور متحرک نہیں ہوتے۔ اس کے لیے اکابرین امت کو ایک مرتبہ پھر مل بیٹھنا ہو گا اور حکمتِ عملی طے کرنی ہو گی۔
اس وقت تحفظ ختم نبوت کے لیے ملک کے اندر جو جدوجہد ہو رہی ہے اس کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔ اب قوم کو اتنی بات بتانے سے قادیانیت پر کوئی ضرب کارگر ثابت نہیں ہو گی کہ قادیانی کافر ہیں، کیونکہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں اور دنیا کو یہ سمجھانے میں مصروف ہیں کہ وہ بھی امتِ مسلمہ کا حصہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں کیونکہ وہ شعارِ اسلام کے باعث قادیانیوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اور پھر جب کوئی مسلمان قادیانی ہو جاتا ہے تو یہ گروہ اسے زن و زر کا لالچ دے کر مکمل طور پر جال میں پھنسا دیتے ہیں۔
اس پر مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول مبنی پر حقائق ہونے کے باعث قابل غور ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے اس مسئلہ پر بطور جنرل سیکرٹری یا صدر مجلس کئی کئی مہینے دن رات غور کیا کہ برصغیر میں انگریزوں کی حکومت ہونے کے باوجود لوگوں نے عیسائیت کو قبول نہیں کیا حالانکہ سرکاری سرپرستی میں لوگوں کو عیسائی بنانے کا مشن جاری تھا مگر انگریز کو اس میں ناکامی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ عیسائیت کو قبول کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا یا ہندو و سکھ مذہب اختیار کرنے پر مسلمان نہیں رہے گا، لیکن اگر وہ مرزائیت اختیار کر لیتا ہے تو وہ مسلمان ہی رہے گا۔ فرمایا یہی وہ دھوکہ ہے جس کی بنا پر لوگ مرتد ہو رہے ہیں۔ لہٰذا ماضی میں اکابرین نے یہ مطالبہ بڑے واشگاف الفاظ میں پیش کیا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ دستوری و قانونی طور پر قرار دیا جائے تاکہ مسلمانوں کو اس سے دھوکہ نہ ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ مرزائیوں پر شعارِ اسلام کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جائے اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ بے شمار شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجے میں الحمد للہ ملک پاکستان میں ۱۹۷۴ء میں مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار پائے اور پھر ۱۹۸۴ء میں ان پر شعارِ اسلام استعمال کرنے پر پابندی بھی ہوئی، مگر عملی طور پر مرزائیوں کی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ جس کی بڑی وجہ خود مسلمانوں کے اس فتنہ سے کماحقہ آگاہی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں اس فتنے کا جو نیٹ ورک ہے پوری امتِ مسلمہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ اور یہ ایک غیر معمولی عالمی مسئلہ ہے جس کے لیے او آئی سی پلیٹ فارم کو دو ٹوک مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ درست ہے کہ اگر ملک میں بعض تنظیموں کو مثلاً سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، جماعت الدعوہ، سنی فورس وغیرہ کو کالعدم و غیر قانونی قرار دے کر ان کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور ان کے فنڈز منجمند کیے جا سکتے ہیں اور ان کے نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے، حالانکہ ان تنظیموں کا معاملہ مرزائیوں کے معاملے سے بالکل مختلف ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ قادیانیوں کو کھلی چھٹی اور ان کے ساتھ نرم رویہ کیوں اپنایا جاتا ہے؟ جبکہ یہ گروہ خود مملکتِ پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات ارباب حل و عقد، اسٹیبلشمنٹ و عدلیہ کے لیے قابل غور ہے اور اس بارے میں کنفیوژن کو دور کرنا ہو گا اور ایک متفقہ موقف اپنانا ہو گا تاکہ کسی بھی ادارے کو ابہامات کی آڑ میں راہِ فرار حاصل نہ ہو سکے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دستوری و قانونی و عدالتی فیصلوں کے منشا کے مطابق قادیانیوں کو آئین کا باغی قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے جو حقوق ہیں ان کا اطلاق ایسی صورت میں قادیانیوں پر نہیں ہوتا جب تک ہندوؤں سکھوں کی طرح یہ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کر لیتے۔ لہٰذا وقت کا تقاضہ ہے کہ قادیانیوں کو امتِ مسلمہ سے علیحدہ ایک غیر مسلم گروہ قرار دیا جائے اور حکومت کو ایسی پالیسی اور اقدامات پر مجبور کیا جائے کہ جس کے باعث اس فتنے سے امتِ مسلمہ کی جان چھوٹ جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
قاضی ظفیر احمد عباسی
نیلہ بٹ، آزاد جموں و کشمیر
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی
ریٹائرڈ ضلع قاضی عدلیہ آزاد کشمیر
جسٹس غزالی کی شخصیت کے دو دلفریب رنگ
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

غالباً ۲۰۰۹ء کے گرما کی بات ہے، جسٹس محمود احمد غازی نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: "سید سلمان ندوی پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں کہ کچھ احباب کو گھر عشائیے پر بلاتے ہیں۔ ذرا اچھا وقت گزر جائے گا"۔ پھر مجھے ہدایت کی کہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری, پروفیسر فتح محمد ملک اور سید سلمان ندوی کو میری طرف سے عشائیے پر مدعو کریں۔ ڈاکٹر یوسف فاروقی، غزالی آپ اور میں تو ہوں گے ہی۔ یوں یہ کل 7 افراد ہو جائیں گے۔ آپ کسی اور کو بلانا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔" میں نے جسٹس امجد علی صاحب کا نام تجویز کیا۔ جسٹس صاحب کے قانونی فہم نے تو مجھے کبھی متاثر نہیں کیا تھا لیکن پلاٹوں کا جال اٹھائے جب انتظامیہ نے عدلیہ کا قلعہ فتح کرنے کا ارادہ کیا تو جسٹس صاحب نے بلا تامل دور سطری خط لکھ دیا: "میرا اپنا مکان موجود ہے۔ مجھے مزید کسی پلاٹ کی حاجت نہیں"۔ تب سے انہوں نے مجھے اپنا بندہ بے دام بنا لیا۔ ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ کی خواہش پر یہ تمام شرکا وقت مقررہ پر ان کے گھر واقع جی الیون میں تشریف لائے جہاں ساڑھے تین گھنٹے کی دلفریب نشست ہوئی۔
اس رات علم و دانش کے یہ چوٹی کے نمائندہ رتن حالات حاضرہ، علم و ادب، امت مسلمہ اور پاکستان جیسے موضوعات پر بلا تکان گفتگو کرتے رہے۔ شروع ہی میں مجھے میری قوت مشاہدہ نے ٹہوکا مار کر ڈاکٹر غزالی صاحب کی طرف متوجہ کر دیا۔ پھر میں دیگر کی طرف واجبی سا لیکن اصلا انہی کی طرف متوجہ رہا۔ اس رات ہر شخص نے کسی نہ کسی موضوع پر رائے دی, باہم اختلاف کیا, دیگر کو کسی نئے پہلو سے روشناس کرایا, دلائل کے ذریعے اسے نظر انداز کرنے کا داعیہ پیش کیا۔ لیکن صاحب ! اس رات میں نے غزالی صاحب کو سنا بھی تو کس انداز میں، ملاحظہ کیجیے ! "اچھا" ؟ "جی ہاں" ! "کیا واقعی" ؟ "ارے واہ, بھئی کیا کہنے" ! "آپ کا خیال صائب ہے، میرا کچھ کہنا تو محل نظر ہی ہوگا"۔ "جی آپ درست فرما رہے ہیں۔" حتی کہ کسی نے نظریں ملا کر براہ راست مخاطب ہو کر بھی ان کی رائے لینے کی کوشش کی تو اسے ہلکے سے قہقہے ساتھ یوں جواب ملا: "بھئی واہ! آپ کا استفسار ہے تو لائق توجہ, لیکن میں نے اس موضوع پر کبھی غور نہیں کیا۔ بھائی صاحب (غازی صاحب) سے پوچھ لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہوں گے"۔
اپنے علم اور قوت مدرکہ کے اعتبار سے ڈاکٹر غزالی مرحوم ان شرکائے مجلس میں سے متعدد سے کہیں آگے تھے، کہیں بہتر تھے۔ لیکن مجلسی زندگی کا خوب ادراک رکھنے والے جسٹس غزالی مرحوم کے نزدیک اظہار رائے سے کہیں زیادہ اہم یہ ہوا کرتا تھا کہ بڑوں کے سامنے لب کشائی نہ کی جائے۔ مذکورہ مجلس کے تمام شرکا غزالی صاحب سے عمر میں بڑے تھے۔ جسٹس صاحب کی شخصیت کے متعدد پہلوؤں سے احباب واقف ہوں گے۔ استغنا، خودداری، دبنگ انداز گفتگو، صاحبان اختیار سے کوسوں دوری، علم و دانش کی رفعتوں سے معموری، حسن بیان، تلفظ کی باریکیوں پر نظر، لب و لہجے پر قدرت، الفاظ پر گرفت، یہ سب خصائص اپنی جگہ لیکن ان کا یہ پہلو بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ مجلس میں وہ بڑے بھائی کے سامنے خاموشی کو ردائے حکمت و دانش بنا کر اس کے پیچھے جا چھپتے کہ اسی میں عافیت ہے۔
ان کی ہفت رنگ شخصیت کا ایک وہ پہلو ہے جس کا مشاہدہ شاید میں ہی کر سکا ہوں۔ میرا گمان ہے کہ جس رنگ کا میں اب ذکر کرنے جا رہا ہوں، وہ شاید ہی کسی اور کے علم میں ہوگا۔ اور وہ ہے ان کی غیر معمولی اور بے پناہ ذہانت۔ کئی احباب یہ جملہ پڑھ کر مسکرا دیں گے لیکن کتنی غیر معمولی ذہانت؟ یہ میں ہی آپ کو بتا سکتا ہوں۔ ان کا دماغ، یوں سمجھ لیجئے، کمپیوٹرائزڈ دماغ تھا جس کی کوئی اور مثال میرے پاس نہیں ہے۔ یونیورسٹی ہال میں شیخ الازہر کی فی البدیہہ تقریر جاری تھی۔ ڈاکٹر غزالی بغیر نوٹس لیے ترجمہ کیے جا رہے تھے۔ کیا کیا بتاؤں, شیخ الازہر بے تکان بولے جا رہے تھے اور مجال ہے، غزالی صاحب نے ترجمہ کرتے وقت کسی شوشے کامے کو بھی نظر انداز کیا ہو۔ شیخ الازہر نے دو مواقع پر ۱۰ - ۱۲ اکابر کے نام پورے آداب و القاب کے ساتھ لیے لیکن مجال ہے کہ ترجمہ کرتے وقت ڈاکٹر غزالی نے کوئی نام آگے پیچھے کیا ہو یا کسی کا کوئی لقب, کنیت, عہدہ یا کوئی معمولی سا جزو ادا ہونے سے رہ گیا ہو۔ جس ترتیب سے شیخ الازہر نے نام ادا کیے، کسی معمولی فرق کے بغیر غزالی صاحب نے اسی ترتیب سے سب نام جوں کے توں دہرا دیے۔ یوں لگ رہا تھا کہ ریاضی کے منضبط فارمولے پر کوئی مشین بول رہی ہے ایک حرف کم نہ آدھا بیش۔
کم و بیش ساڑھے ۴ عشروں پر محیط ہمارے تعلقات ہمیشہ بصورت دھوپ چھاؤں رہے، تعلقات جن میں گاہے کبیدگی آ جاتی اور کبھی تعطل کا شکار ہو جاتے۔ شکر رنجی تو ہماری سلام دعا کا ہمیشہ جزو لاینفک رہی۔ پچھلے سال ڈاکٹر شافعی پر میری ایک تحریر انہیں کیا پسند آئی کہ پڑھتے ہی فون کیا اور ۲ گھنٹے ۴۸ منٹ تک انہوں نے میری معلومات میں وہ وہ اضافے کیے کہ اللہ دے اور بندہ لیتا جائے۔ آخر میں پوچھا: "میری یہ گفتگو ریکارڈ کر رہے ہیں نا آپ"؟ میں نے کہیں کہہ دیا: "جناب اجازت کے بغیر میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں"؟ فوراً خفا ہو گئے اور یہ کہہ کر فون جھٹکے سے بند کر دیا: "تو گویا میں ایسے ہی بولتا رہا، آپ اتنی باتیں یاد رکھنے والے کہاں"؟ اور مجھے ٹھنڈی چھاؤں سے نکل کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا ہونا پڑا۔ بس یہی ہمارے تعلقات کی دھوپ چھاؤں ہوا کرتی تھی۔ لیکن چند دن بعد مجھے برستے بادل کا سایہ پھر مل گیا۔ ۶ نومبر ۲۰۲۲ء کو ان کا واٹس ایپ ان کے اپنے مخصوص انداز میں یوں تھا: "۔۔۔۔چلیں یوں کریں جب فرصت ملے آ جائیے۔ کل مجھے اے ایف آئی سی میں اینجیو گرافی کے لیے داخل ہونا ہے۔ زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔ کچھ دیر قیام و طعام ہوگا۔ پھر کلام ہوگا۔ ہلکا پھلکا ملام بھی رہے گا۔ اس کے بعد اپنے اپنے گھونسلوں میں منام ہوگا"۔
موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میں بغیر اجازت لیے فورا انہیں فون کر گزرا اور ذرا زور دے کر کہا: "میں اے ایف آئی سی میں رات کو آپ کے ساتھ قیام کروں گا"۔ خیال تھا کہ یوں خوب باتیں کرنے کا موقع ملے گا, مان گئے۔ لیکن اگلے دن تحریک انصاف کے مظاہروں کے باعث راستے بند ہو گئے، مجھ سے راستوں کا احوال پوچھتے رہے۔ پھر واٹس ایپ یوں ملا: "اب چونکہ صورت حال ایمرجنسی کی ہے۔ اس لیے کل کا پروگرام منسوخ"۔ لیکن اپنی صحت کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی سوئی وہیں شافعی صاحب پر جوں کی توں اٹکی ہوئی تھی۔ ۱۲ نومبر کو ان کا واٹس ایپ اپنے متعلق یا اپنی خیر خیریت پر نہیں، یوں تھا: "شافعی صاحب پر اگلا مضمون کب آئے گا؟"
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے؟
’’لماذا طوفان الاقصیٰ‘‘
مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد

حماس کے مکتب کی جانب سے ’’لماذا طوفان الاقصیٰ‘‘ کے نام سے بک لیٹ شایع کی گئی جس میں طوفان اقصی کے اسباب، صہیونی ریاست کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کے جوابات، اور حماس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اردو قارئین کے لیے اس اہم دستاویز کا ترجمہ کیا گیا ہے:
اے ہماری بہادر فلسطینی قوم کے مجاہدو! عالم عرب و اسلام کے باسیو! دنیا کے باضمیر لوگو! جنہوں نے ہر جگہ حق کی نصرت اور ظالم کے چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے، حریت، عدل اور انسانی شرافت کے علم کو بلند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ غزہ اور فلسطین کے مغربی کنارے پر اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، اس کے مقابلے میں اہلِ غزہ اسرائیل کے ظلم و جور سے آزادی حاصل کرنے کے لیے، اپنے دشمن کے سامنے جرات و بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ہم نے اس مضمون میں اپنے عوام، امتِ مسلمہ، اور دنیا کے باضمیر لوگوں کو ’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ کے اسباب، مسئلہ فلسطین کی حقیقت، صہیونیوں کی جانب سے اٹھائے جانے بے بنیاد اعتراضات کی حقیقت کو واضح کیا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ حماس کی حقیقت اور اس معرکہ کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔
اول: طوفانِ اقصیٰ کے اسباب
❶ استعمار اور قابض اسرائیل کے ساتھ اہلِ فلسطین کی جنگ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس جنگ کو ۱۰۵ سال بیت چکے ہیں۔ ۳۰ سال برطانوی سامراج نے قبضہ جمائے رکھا، اور ۷۵ سالوں سے اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۱۸ء میں اہلِ فلسطین ۹۸.۵% زمین کے مالک تھے، جبکہ ۹۲% فلسطینی وہاں آباد تھے۔
اس کے بعد ۱۹۴۸ء سے قبل ایک مہم کے تحت برطانوی سامراج نے یہودیوں کو بسانے کے لیے فلسطین کے دروازے کھول دیے، اور صہیونی ریاست قائم کرنے کے لیے ماحول سازگار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ظلم و ستم سے دبانا شروع کیا، اور جبراً ۶% فیصد زمین پر قبضہ کر لیا جس پر ۳۱.۷% یہودی آباد ہوئے۔ اس طریقے سے انہوں نے فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت سے محروم کر دیا۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے صہیونیوں نے ۵۰۰ بستیوں کو تہس نہس کر کے ۷۷% زمین پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ۵۷% فیصد فلسطینی ہجرت کرنے مجبور ہوئے۔ اس ناجائز طریقے سے ۱۹۴۸ء میں صہیونی ریاست کو قائم کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔
۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے فلسطین کی باقی زمین ہتھیانا شروع کر دی، جس کے لیے اس کے فوجیوں نے عرب کے دیگر علاقوں کے علاوہ فلسطین کے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مسجد اقصیٰ پر ظلم و ستم پہاڑ توڑ دیے۔
➋ اہلِ غزہ طویل عرصہ سے کس مپرسی اور سخت ظلم و ستم کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مختلف پالیسیوں کے ذریعے ان کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ۱۷ سال سے غزہ کا محاصرہ کر کے دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس دوران ہم پانچ جنگوں سے گزر چکے ہیں، جس میں اسرائیل پہل کرتا رہا ہے۔ دشمن کے ظلم و ستم کا اندازہ اس امر سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ جب اہلِ غزہ نے ۲۰۱۸ء میں ’’مسیرات العودہ‘‘ (ہمیں اپنے علاقوں کی طرف واپس جانے دیا جائے) کے نام سے پرامن احتجاج و مظاہروں کا آغاز کیا تو اسرائیلی درندوں نے ان پرامن مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے ۳۶۰ فلسطینوں کو شہید کیا، جبکہ ۱۹ ہزار سے زائد لوگوں کو زخمی کر دیا، جس میں ۵ ہزار بچے بھی شامل تھے۔
➌ اعداد و شماریاتی ادارے کے مطابق سن ۲۰۰۰ء سے لے کر ستمبر ۲۰۲۳ء (۷ اکتوبر سے قبل) صہیونیوں نے ۱۱۲۹۹ فلسطینی قتل کیے ہیں، جبکہ ۱۵۶۷۶۸ زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پورے منظر نامے میں امریکہ اور اس کے اتحادی مظلوم فلسطینوں کی مدد و نصرت (اور اس ظلم کو روکنے کے بجائے) صہیونیوں کی درندگی پر پردہ ڈالتے رہے، اور جب (مجاہدین نے) ۷ اکتوبر کو معرکہ طوفانِ اقصیٰ شروع کیا تو انہوں نے اسرائیلیوں کی ہلاکت پر چیخنا شروع کر دیا اور حماس کے خلاف اور اہلِ غزہ خون کی ندیاں بہانے کے لیے مالی اور جنگی سازوسان سے معاونت سلسلہ تاحال جاری ہے۔
➍ اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ پر کی جانے والی ہولناکیوں اور مقدس مقامات کی پامالیوں کو اقوام متحدہ کی تنظیموں، تحقیقاتی کمیٹیوں، عالمی انسانی حقوق کے اداروں (ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ) نے دستاویزات کی شکل میں مرتب کیا ہے۔ جس میں فلسطینی تنظیموں کے علاوہ اسرائیلی تنظیمیں بھی شامل ہیں، جن کو پورا عالم صلاحیت اور دیانتداری کے عنوان سے پہچانتا ہے۔ ان دستاویزات کو مرتب کرنے کے بعد اہلِ فلسطین پر جاری ظلم و ستم پر کسی نے آواز بلند نہیں۔ اس پر مزید یہ کہ اسرائیلی نمائندے جعل اردان نے ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۱ کو اقوام متحدہ کے اسٹیج پر اقوام متحدہ کی تیار کردہ انسانی حقوق کی رپورٹ کو چاق کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس چارٹر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کیا گیا اسی کو اگلے سال کے لیے اقوام متحدہ کا نائب صدر مقرر کر دیا گیا۔
➎ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اہلِ فلسطین پر زندگی تنگ کرتے ہوئے مقدس مقامات کی توہین اور ان کی زمین کو یہودی رنگ دینے کے لیے اسرائیل کے قیام ہی سے اس کے ممد و معاون بنے ہوئے ہیں۔ اہلِ فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ کی جانب سے ۷۰۰ سے زائد قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں۔ لیکن اسرائیل کسی ایک قرارداد کو بھی خاطر میں نہیں لایا، امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اس کی اس ضد اور ہٹ دھرمی، اہلِ فلسطین پر اس کے ظلم و ستم میں برابر کے شریک ہیں۔
➏ اہلِ غزہ پر ظلم و ستم کرتے ہوئے مغربی کنارے پر کثرت سے یہودیوں کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ۳۰ سال کے بعد اوسلو معاہدے کی راہ ہموار کرنے والوں کو معلوم ہوا کہ تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہ فلسطین کے لیے تباہی کا سبب بن رہا ہے۔
➐ اسرائیلی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ اہلِ فلسطین اپنی ریاست قائم نہیں کر سکتے، یہی وجہ ہے کہ طوفانِ اقصیٰ سے قبل ستمبر ۲۰۲۳ء میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ فلسطین کے تاریخی نقشہ کو اسرائیل کا نقشہ بنا کر پیش کیا، جس میں غزہ اور فلسطین کا مغربی کنارہ بھی شامل تھا۔ اسرائیل کی جانب سے کی جانب والی سنگین بددیانتی، گھمنڈ اور اہلِ فلسطین کی خودارادیت کے سلب کیے جانے پر پورا عالم خاموش رہا۔
اوپر بیان کردہ صورتحال ۷۵ سال سے مسلسل قبضے اور مصائب، آزادی اور گھروں کو واپسی کی تمام امیدوں کے ٹوٹ جانے، اور پرامن تصفیے کے تمام امکانات ملیامیٹ ہو جانے کے بعد ساری دنیا فلسطینی قوم سے مندرجہ ذیل ظلم و ستم کے خلاف کن اقدامات کی امید رکھتی ہے:
✦ فلسطینی اس حالت میں کیا کریں کہ جب مسجد اقصیٰ کی زمانی و مکانی تقسیم کی دھمکی آمیز منصوبے بنائے جا رہے ہوں، اور مسجد اقصیٰ میں قابض اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازیاں اور اشتعال انگیزیاں بڑھتی جا رہی ہوں۔
✦ فلسطینی اس حالت میں کیا کریں جب دائیں بازو کے انتہا پسند یہودی مغربی کنارے کو کنٹرول کرنے اور اسے اپنے ساتھ ضم کرنے کا پورا منصوبہ رکھتے ہوں، اور مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدسات پر کنٹرول کا منصوبہ بنائے ہوئے ہوں، اور مغربی کنارے سے پوری فلسطینی قوم کو بے دخل کرنے اور ہجرت پر مجبور کرنے کا منصوبہ رکھتے ہوں۔
✦ فلسطینی اس حالت میں کیا کریں کہ جب اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی قیدی جو اسرائیلی فاشسٹ وزیر Itamar Ben-Gvir کی براہ راست نگرانی میں اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کے ساتھ ساتھ حملوں اور تذلیل کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
✦ غزہ کی پٹی پر ۱۷ سالوں میں مسلط کردہ غیر منصفانہ فضائی، سمندری اور زمینی ناکہ بندی کے خلاف وہ کیا کریں کہ جب وہ ناکہ بندی انہیں آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جا رہی ہو۔
✦ وہ کیا کریں جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو ایسی غیر معمولی توسیع دی جا رہی ہو جس کی ماضی میں کوئی مثال نہ ملتی ہو۔ اسی طرح وہاں فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف قابض آباد کاروں کی طرف سے تشدد اور جرائم اس قدر بڑھ گئے ہوں کہ ماضی میں ان کی مثال نہ ملتی ہو۔
✦ وہ کیا کریں کہ جب ۷۰ لاکھ فلسطینی ۷۵ سال بعد بھی اپنے گھروں کی واپسی سے مایوس ہوچکے ہوں اور انہیں ٹکڑوں میں بانٹ کر رکھ دیا گیا ہو۔
✦ وہ کیا کریں جب ان سارے جرائم کے سامنے دنیا عاجز ہو چکی ہو، اور بعض بڑی طاقتیں فلسطین کے قیام کے راستے میں رکاوٹ ہوں، اور یہ دنیا کی واحد قوم ہو جو قابض طاقت کے تحت زندگی گزار رہی ہو۔
کیا اس (دردناک) صورتحال پر ۷۵ سال گزرنے کے باوجود ہماری عوام سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہے گا کہ ہم عدل و انصاف کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے بے بس اداروں پر بھروسہ کرتے رہیں؟ جبکہ آسمانی شریعتوں، انسانوں کے عرف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہمیں حق حاصل ہے کہ اپنی خودمختاری، مقدس مقامات کی حفاظت، اور کے دفاع کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کریں۔ اسی بنیاد پر ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو طوفانِ اقصیٰ کا آغاز کیا گیا، کیوں کہ فطری و ضروری اقدام صرف یہی بچا تھا۔ جس کے ذریعے فلسطینی قضیے کو ختم کرنے کے اسرائیلی منصوبوں اور سرزمین فلسطین پر قبضے اور اسے یہودیانے، مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدسات کو کنٹرول کرنے، غزہ کی پٹی سے ظالمانہ حصار کو ختم کرنے، قابض قوت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیا جا سکے۔ اور صرف یہی اقدام تھا جس کے ذریعے یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ اہلِ فلسطین اپنے وطن کے حقوق کی واپسی، اہلِ فلسطین کا دیگر آزاد اقوام کی طرح آزادی و حریت کے ساتھ رہنے، حقِ خود ارادیت کے حصول اور فلسطینی ریاست، جس کا دارالخلافہ قدس ہو، قائم کر سکیں۔
دوم: ۷ / اکتوبر کے واقعات اور صہیونیت کے الزامات
اکتوبر ۲۰۲۳ء سے متعلق اسرائیل کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے اور ان کی طوفانِ اقصیٰ سے متعلق غیر مصدقہ معلومات کے حوالے سے حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (حماس) کی جانب سے ذیل میں چند امور کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ طوفانِ اقصی (۷ اکتوبر) کو صرف اسرائیل کے عسکری مقامات کو نشانہ بنایا، اور اسرائیل کی قید میں موجود ہزاروں فلسطینیوں کے تبادلے کے پیش نظر دشمن کے فوجیوں اور جنگجوؤں کو گرفتار کیا۔ اسی طرح اس حملے کو غزہ کے اردگرد اسرائیلی عسکری مقامات پر مرکوز رکھا، کیونکہ غزہ پر بمباری انہی مراکز سے کی جاتی ہے۔
➊ حماس اسلامی فکر کی حامل تحریک ہے، اس تحریک سے وابستہ افراد کی اسلامی فکر کے مطابق ذہن سازی کی جاتی ہے، جس میں جنگ کے دوران پرامن شہریوں، بالخصوص پرامن بچوں، بزرگوں، عورتوں کو کسی بھی قسم کے نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔ اس وقت کتائب القسام کے مجاہدین اسی تعلیم پر عمل پیرا ہیں۔ طوفانِ اقصیٰ کے آغاز کے وقت اگر کسی شہری کو نقصان پہنچا بھی تو وہ غیر ارادی طور پر پہنچا ہوگا۔ اس لیے کہ اس وقت ہم بھی ظالم دشمن سے دفاع کے ساتھ ساتھ اس کا مقابلہ بھی کر رہے ہیں، اس لئے کہ وہ دن رات ہمارے بچوں، بزرگوں، عورتوں کو مہلک ۔۔۔
➋ صہیونی مجرم (باروخ جولدشتاین) نے خلیل شہر ’’ہیبرون‘‘ میں ابراہیم مسجد میں نمازیوں کا قتل عام کیا تو اس وقت بھی حماس اور دیگر جماعتوں نے اس امر پر زور دیا کہ لڑائی کی زد میں شہریوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ لیکن قابض اسرائیل نے اس کا جواب دینا بھی گوارا نہ سمجھا، لیکن حماس شہریوں کو جانی و مالی نقصان سے بچانے کی صدا بلند کرتی رہی، لیکن صہیونی اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے اس جرم سے باز نہ آیا۔ طوفانِ اقصی کے آغاز کے وقت دونوں جانب سے فورسز کے نقل وحرکت، باڑ کی وسیع خلاف ورزیوں اور غزہ کی پٹی کو ہمارے آپریشن کے علاقوں سے الگ کے نتیجے میں شہریوں کو نقصان پہنچا ہوگا۔
➌ جن اسرائیلی شہریوں کو غزہ میں قید کیا گیا ان کے ساتھ حماس کے مجاہدین کا حسنِ سلوک دنیا کے سامنے آچکا ہے۔ ان کو ہم نے جلد آزاد کرنے کی کوشش کی، جو عملاً ۷ دن کی عارضی جنگ بندی کے دوران ہو سکا۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل نے بین الاقوامی قانون، انسانی معاشرے کے عرف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ انسان دشمنی پر مبنی سلوک کیا۔
➍ ۷ اکتوبر کے دن کتائب القسام کے اسرائیلی شہریوں کے نشانہ بنانے کے حوالے سے قابض اسرائیل کے بیانات صرف جھوٹ و بہتان پر مبنی ہیں، اس لیے اس امر کا دعویٰ اسرائیلی ذارئع نے کیا ہے، کسی آزاد اور مصدقہ ذرائع نے ان کی تصدیق نہیں کی۔ یہ امرِ معروف ہے کہ اکثر اسرائیلی ذرائع کے ادارے اپنی حکومت کے حقائق اور ان کی جعل سازی چھپانے کوشش کرتے ہیں، تاکہ اس کے جرائم کو صحیح ثابت کر کے حماس کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اسرائیل کے کذب و بہتان کی حقیقت ذیل میں دی گئی اہم معلومات سے واضح ہو گی:
اس دن لیے گئے ویڈیو کلپس اور خود اسرائیلیوں کی گواہیوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ القسام کے جنگجوؤں نے عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اسرائیلی فوج سے الجھنے کے باعث غلط فہمی کے نتیجے میں ان میں سے کئی پولیس فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔
یہ بات پورے یقین کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ چالیس شیر خوار بچوں کے قتل کا دعویٰ جھوٹا تھا، اور اس کا اعتراف اسرائیلی ذرائع نے بھی کیا ہے۔ یہ وہ پروپیگنڈہ ہے جو مغربی میڈیا میں بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا ہے۔
یہ الزام کہ مزاحمتی جنگجوؤں نے اسرائیلی خواتین کی عصمت دری کی، جھوٹا ثابت ہوا اور حماس نے اس کی قطعی طور پر نفی کی تھی۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو ایک ویب سائٹ پر جنوری ۲۰۲۴ء کو شائع کی گئی جس میں نے عصمت دری کے تمام الزامات اور ان کی تردید کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبارات روزنامہ بدیعوت احرونوت (اشاعت ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۳ء) اور روزنامہ ہارتس (اشاعت۱۸ نومبر ۲۰۲۳ء) کی رپورٹ کے مطابق (طوفان الاقصیٰ کے دن) یہودی اپنی عید عرش کی مناسبت سے مقام رعیم کے قریب محفل لگائے ہوئے تھے، جس سے مجاہدین لاعلم تھے۔ مجاہدین جب وہاں داخل ہوئے تو اسرائیل نے اباشی نامی طیاروں سے ۳۶۴ اسرائیلی شہریوں کو قتل کیا۔ اسی طرح بدیعوت احرونوت اخبار کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹر سے حملے کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مجاہدین کو قتل کر دیا جائے اور (محفل میں شریک یہودی) ان کے قیدی نہ بن سکیں۔
اسرائیلی اخبارات کی رپورٹس سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملوں اور جنگی کاروائیوں کے نتیجے میں غزہ کے اطرف میں اسرائیلی قیدیوں کی بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے۔ اسی طرح ان کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں اور تحریکِ حماس سے جھڑپوں کے نتیجے میں مجاہدین کے ساتھ ساتھ اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں، اور ان کے گھر مسمار کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی کا حماس کے پاس اسرائیلی قیدیوں کو قتل کرنے کے حوالے سے ’’ہانیبال‘‘ پروٹوکول کی روشنی میں اسرائیلی فوج کا واضح موقف ہے کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح قابض دشمن اپنی جارحیت کے ذریعے سے شہریوں، مجاہدین اور قیدیوں کو جانی نقصان پہنچانے پر کاربند ہے۔
ان کے مکروفریب، بہتان تراشی کی حقیقت کا اندازاہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ طوفانِ اقصیٰ کے آغاز میں اسرائیلی حکام نے یہ اعلامیہ جاری کیا کہ اسرائیلی مقتولین شہریوں کی تعداد ۱۴۰۰ ہو چکی ہے۔ پھر چند ہفتوں کے بعد اس تعداد میں خفت کرتے ہوئے کہا کہ ۱۲۰۰ اسرائیلی شہریوں کو جانی نقصان پہنچا ہے، جبکہ ۲۰۰ کتائب القسام کی نعشیں تھیں۔ یہاں دو سوالات پیدا ہوتے ہیں: ایک یہ کہ کیا یہ قتل عام اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فضائی کا نتیجہ نہیں ہے؟ دوم یہ کہ کیا اس خطے میں اسرائیل کے علاوہ کس کے پاس ایسی مہلک ہتھیار ہیں جو انسانوں کو جلا کر بھسم کر سکیں؟ لیکن اسرائیل کے مصدقہ ذرائع نے ان کے اس جھوٹ سے پردہ ہٹاتے ہوئے دنیا کے سامنے ان کے پروپیگنڈے کو واضح کر دیا ہے۔
قابض اسرائیل کے جرائم کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی جانب سے غزہ پر کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں ۶۰ اسرائیلی قیدی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دشمن کو اپنے فوجی اور (حماس) کی قید میں موجود اسرائیلی شہریوں کی کتنی فکر ہے۔ مزید یہ ہے کہ وہ ان کی بھاری قیمت کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
➎ دوسری جانب غزہ کے اطراف میں مسلح آباد کاروں کی بڑی تعداد موجود تھی جو قابض فوج کی جانب سے حماس کے ساتھ جنگی کاروائیوں میں شریک رہے، اس دوران ان میں جو قتل ہوئے ان کو اسرائیل نے شہریوں کی لسٹ میں درج کر دیا۔
➏ یہ امر قابلِ تعجب ہے کہ (ممکن اکثر لوگ اس سے ناواقف ہوں) کہ جس اسرائیلی شہری کی عمر ۱۸ سال سے زیادہ ہے، ریاست کی جانب سے اس کے لیے ضروری ہے کہ فوجی کاروائیوں میں حصہ لے، جس میں مرد کے لیے ۳۲ ماہ اور عورت کے لیے ۲۴ ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے، جس میں وہ جنگی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس قانون کی روشنی میں اسرائیلی نظریۂ امن کے اعتبار سے وہ تمام ہی جنگی سپاہی ہیں نہ کہ عام شہری، اور وہ ’’مسلح قوم‘‘ کا تصور ہے۔ یہی تصور اسرائیلی مملکت کے وجود کو ’’مملکت برائے فوج‘‘ بناتا ہے نہ کہ ’’فوج برائے مملکت‘‘۔
➐ صیہونیوں نے اب تک بڑی تعداد میں بچوں، خواتین کو شہید کر کے اہلِ فلسطین کو ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔
➑ الجزیرہ کی شایع کردہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے اوسطاً ۱۳۶ بچے یومیہ شہید ہوئے ہیں، جبکہ یوکرین اور روس کے مابین جنگ کے دوران (جس کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے) اوسطاً ایک بچہ قتل ہوا ہے۔
➒ صہیونیوں کے تشدد کا دفاع کرنے والے اس جنگ میں ہونے والے بڑے نقصانات اور واقعات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ نہیں کرتے، بلکہ وہ ان کے قتلِ عام کا دفاع کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف حماس کے خلاف ہر جھوٹے دعوے کے معاون بنے ہوئے ہیں۔
➓ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں جب منصفانہ اور آزادانہ تحقیق کی جائے گی تو ہمارا بیانیہ سچ ثابت ہوگا، جبکہ قابض اسرائیل کے من گھڑت الزامات کی تردید ہو گی۔ جس طرح غزہ پر جارحیت کے دوران اس کی جانب سے دیئے گئے اعدادوشمار جھوٹ اور فریب پر مبنی تھے، اسی طرح اس کی جانب سے حماس کی قیادت پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس نے الشفاء ہسپتال کو ہیڈکوارٹر بنایا ہوا ہے، جہاں عسکری آپریشن کے دفتر کے علاوہ قیدیوں کو رکھنے کا ٹھکانہ ہے (جس کی بنیاد پر اس نے اس پر بمباری کی)۔ اس الزام کے بعد جو کچھ حاصل ہوا وہ اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ قابض اسرائیل اپنے دعوے میں جھوٹا تھا۔ لہٰذا ہمیں اس بات پر شرح صدر ہے کہ جب غیرجانبدارانہ اور منصفانہ تحقیق کی جائے گی تو اس سے فلسطینی (حماس) بیانیہ کی تصدیق ہو جائے گی۔
سوم: بین الاقوامی طور پر غیر جانبدرانہ کی تحقیق
➊ فلسطین نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شمولیت کرتے ہوئے روم کے قانون پر دستخط کیے۔ اور جب فلسطین نے اپنی زمین پر ہونے والے جرائم کی تحقیق کا مطالبہ کیا تو اسے جرائم کو مسترد نہ کرنے کی صورت اسرائیل کی دھمکیوں اور اس کی جانب سزا کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ قابض حکام نے اہلِ فلسطین پر جارحیت کا سلسلہ مزید بڑھا دیا۔
➋ ہم امریکہ، جرمنی، برطانیہ، اور کینیڈا کو اس امر کی دعوت دیتے ہیں کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو وہ فلسطین پر کی جانے والی اسرائیلی جارحیت کے جرائم کی تحقیق میں معاونت کا اعلان کریں ۔ اور اس کی کاروائی کو مؤثر بنانے میں عملاً معاون بنیں۔
➌ مندرجہ بالا کی روشنی میں، اور ہمارے پاس موجود شکوک و شبہات اور عدمِ اعتماد کے باوجود جن وجوہات کی ہم نے وضاحت کی ہے، ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت، خاص طور پر پراسیکیوٹر، اس کی تفتیشی ٹیم اور اقوام متحدہ کی متعلقہ تحقیقاتی کمیٹیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اور فوری طور پر عدالت میں پیش ہوں، مقبوضہ فلسطین، جرائم کی تحقیقات کے لیے۔ اور تمام خلاف ورزیوں، اور دور دراز سے نگرانی اور غزہ کی پٹی کے کھنڈرات پر کھڑے ہونے، یا اسرائیلی پابندیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے مطمئن نہیں۔
➍ ہمارے عوام نے کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونی دائرہ اختیار میں قابض اسرائیل کی جارحیت کے تسلسل کو رکوانے کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ دار اداروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے یہ فیصلہ صادر کرے، تو قابض اسرائیل کے سہولت کار ممالک نے اس جنگ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اسی طرح اس سے قبل جب ہم یورپی ممالک میں مقامی عدالتوں میں، جن کو عالمی عدالتی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے، قابض رہنماؤں کے جنگی جرائم کے خلاف مقدمہ درج کیا تو ہم پر ہر طرف سے دروازے بند کر دیے گئے۔
➎ سات اکتوبر کے واقعہ کو استعمار اور غیر ملکیوں کے قبضہ، عصرِ حاضر میں نسل پرستی پر مبنی نظریہ سے نجات کے لیے آزادی کی تحریک کے تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ تمام حقائق (گزشتہ صفحات) سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قابض اسرائیل نے طاقت کے بل بوتے پر اہل فلسطین پر ظلم ڈھایا، جس کے نتیجے میں مظلوم فلسطینی عوام نے بھرپور قوت کے ساتھ قابض کے خلاف مزاحمت شروع کی۔ اور یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ قابض کی جانب سے کیا جانے والا مسلسل ظلم و ستم عالمی استحکام و سلامتی کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے ۔
➏ فلسطینی عوام اور پورے دنیا کے لوگ یہاں تک کہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والے ممالک بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اسرائیل کے بیانات کذب، دھوکہ دہی پر مبنی ہیں۔ لیکن اس کی ممد و معاون ممالک اس کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں تاکہ اس سے اتحاد و اتفاق برقرار رہے۔ اسی طرح پورا عالم اس امر سے واقف ہے کہ اس خونریزی کا اصل سبب قابض اسرائیل ہی ہے، جبکہ اہلِ فلسطین اپنی سر زمین پر آزادی سے سے زندگی بسر کرنے کے لیے اور اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مزاحمت کر رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت اہلِ فلسطین کے اس جائز حق میں یہ ممد و معاون بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
➐ ہم دنیا کے تمام ممالک کے باضمیر لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں، جن کا تعلق مختلف مذاہب، قومیتوں اور رجحانات سے ہے کہ انہوں نے قابض اسرائیل کے جرائم، وحشیانہ قتل کے خلاف اور اہلِ فلسطین کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیے دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں احتجاج کے لیے نکلے، جس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ مسئلہ فلسطین بالجبر قبضے، نسل پرستی کی پالیسی، اور اجتماعی نسل کشی سے نجات حاصل کرتے ہوئے آزادی، انصاف اور انسانی وقار سے زندگی گزارنے کا مسئلہ ہے۔
چہارم: حماس کی حقیقت
➊ حماس کی تحریک اسلامی فکر اور اعتدال پر مبنی ہے، اور یہ فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے جو حق، انصاف اور آزادی پر یقین رکھتی ہے جبکہ ظلم اور تشدد کی حرمت کی حامل ہے۔ اسی طرح یہ تحریک مذہبی آزادی، کثیر الثقافتی معاشرے پر یقین رکھتی ہے، اور ہر اس امر کے خلاف جو مذہبی آزادی اور کسی بھی انسان پر ظلم و جبر کر کے اور اس کے بنیادی قومی، دینی اور گروہی حق سے محروم کرے۔
➋ حماس صہیونی منصوبے کے خلاف اس لیے ہے کہ وہ ہماری عوام، زمین اور مقدس مقامات پر قابض ہے، نہ کہ اس بنیاد پر ہم ان کے مخالف ہیں کہ یہودیت ان کا مذہب ہے۔ اس کے برخلاف اسرائیل اپنے دینی دعوے کی بنیاد پر یہودی پس منظر رکھتے ہوئے فلسطینی عوام پر ظلم ڈھاتے ہوئے ان کو ان کے حقوق سے محروم کیے ہوئے ہے۔ نیز مذہبی بنیاد پر ان کی زمین اور مقدس مقامات کو یہودی بنانے کے درپے ہیں۔ اسرائیل دنیا میں واحد ملک ہے جس کی اساس اپنے دین پر ہے، ان کو پورے عالم میں شہریت دی جا سکتی ہے، جبکہ وہ خود اہلِ فلسطین کو ان کی سرزمین سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔
➌ اہل فلسطین ہمیشہ سے ہی شہریوں کے خلاف ظلم و جبر، قتلِ عام و ناانصافی کے خلاف رہے ہیں، چاہے اس کا ارتکاب کرنے والے کوئی بھی ہو، اگرچہ مظلوم کوئی بھی ہو۔ ہمارے دینی عقائد، انسانی اقدار اور اخلاق کی بنیاد پر ہم نے یہودیوں پر ظالم جرمنی کی جانب سے کیے جانے والے جرائم اور ظلم کے خلاف آواز بلند کر کے پرزور مذمت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودیت کے جوہر میں اہل یورپ کی صفات شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں ہمارے عربی اور اسلامی ماحول میں ہمیشہ سے ہی یہودیوں اور ہر وہ شخص جو کسی بھی دین یا قوم کا حامل ہو ان کو پر امن ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ جو مذہبی آزادی، کثیر الثقافتی معاشرے کی ایک مثال تھا۔
➍ تحریک حماس بین الاقوامی قانون، چارٹر اور معاہدوں کے مطابق فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے۔ اس کے اہداف و غرض و غایت اور اس کے وسائل قابض اسرائیل سے مزاحمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ان کا حق لوٹانے، آزاد اور خود مختار بنانے کے لیے ممد و معاون ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کے قبضے کے خاتمے اور ان کو اپنے وطن لوٹانا حماس کا مقصد ہے۔ اس تحریک کے اغراض و مقاصد سے واضح ہے کہ فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے، اسی بنیاد پر اس کی تمام سرگرمیوں کا محور و مرکز مقبوضہ فلسطین کی سرزمین کو بنایا ہوا۔ اس کے برخلاف صہیونیوں نے فلسطینی عوام پر مقبوضہ فلسطین کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اہلِ فلسطین پر ظلم و ستم کرتے ہوئے ان بھیانک طریقے سے قتل کے جرم کا ارتکاب کیا۔
➎ ہم اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں دینی اور بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ حق حاصل ہے کہ مسلح ہو کر تمام وسائل کے ساتھ قابض اسرائیل کا مقابلہ کریں۔ سب سے اہم قرارداد (۳۲۳۶)اد اقوام متحدہ نے ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء صادر کی جس میں یہ فلسطینیوں کو واپس اپنے وطن ہجرت کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اسی طرح اب تک جتنی بھی ممالک نے استعمار سے آزادی حاصل کی ہے اس کی بنیاد بھی انہی قوانین پر مبنی تھی، آج وہ آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
➏ اس وقت اہل فلسطین صبر و بہادری کے ساتھ اپنے سرزمین اور جائز حقوق کے لیے فلسطین سرزمین پر قابض کے خلاف میدان میں برسرپیکار ہیں، جن کا ظلم و ستم طویل عرصے سے جاری ہے، اور جس نے وحشیت برپا کرنے میں تمام حدود پامال کر دی ہیں۔ اس نے انسانوں کے ہدف بنانے کے ساتھ زندگی کی تمام سہولیات کو برباد کر دیا ہے۔ اس کی بربریت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے معصوم بچوں، پر امن بزرگوں اور خواتین کے خون کی ندیاں بہا دی ہیں۔ ان کی جارحیت سے مساجد و مدراس، یونیورسٹیز، چرچ، ہاسپٹلز، یہاں تک ایمبولنسز بھی نہ بچ سکیں۔ یہ سب کچھ پورے عالم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لیکن اسرائیلی کی پشت پناہی کرنے والے طاقتور ممالک نے بین الاقوامی قانون میں ان جرائم کی سزا کے باوجود سکوت اختیار کیا اور اس جرم و اجتماعی نسل کشی کو رکوانے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
➐ اسرائیل اپنے حق دفاع کی آڑ میں فلسطینی قوم کو مٹانے کے درپے ہے۔ درحقیقت یہ گمراہ کرنے، جھوٹ بولنے اور حقائق کو مسخ کرنے کا عمل ہے۔ قابض قوت کو اپنے قبضے اور اپنے جرائم کے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ فلسطینی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قابض کو غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے اور فلسطینی عوام کی جائز امنگوں کے حصول کے لیے مجبور کرنے کے لیے مزاحمت کریں۔ ہمیں یاد ہے کہ بین الاقوامی قانون، بشمول دیوار کے بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے (۲۰۰۴)، ’’اسرائیل‘‘ کے حق کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی، جیسا کہ یہ ہے۔ وحشیانہ قابض قوت جسے ’’خود کا دفاع‘‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت جو اپنے قانونی اور اخلاقی جواز اور جوہر کے بغیر بین الاقوامی قانون کے مطابق قبضے میں ہے۔
پنجم: مطلوب کیا ہے؟
قبضے کرنے والا قابض ہی کہلاتا ہیں چاہے وہ اپنے قبضے کو مختلف ناموں اور اوصاف سے متصف کر کے کوئی صورت دینا چاہے لیکن وہ قابض ہی کہلائے گا۔ قوموں کی آزادی سے یہ تجربات سامنے آتے ہیں کہ قابض اور استعمار سے آزادی کے لیے مزاحمت کرنا ہی واحد راستہ ہے، جس کے ذریعے سے استعماری قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دفاعی کوششوں، مزاحمت اور قربانیوں کے بغیر کوئی بھی قوم آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔
تمام ممالک پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ فلسطینی عوام کی مزاحمتی تحریک کے ممد و معاون بنیں، نہ کہ اس کو ختم اور کچلنے کی سازش کریں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی فرض ہے کہ قابض اسرائیل کے جرائم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اہلِ فلسطین آزادی اور خودمختاری کے ساتھ اپنے وطن میں زندگی بسر کر سکیں، جس طرح دیگر اقوام امن سے زندگی بسر کر رہی ہیں۔
اس بنیاد پر ہم مطالبہ درج ذیل امور کا مطالبہ کرتے ہیں:
➊ اسرائیل غزہ سے اپنی دشمنی جلد ختم کرتے ہوئے اجتماعی نسل کشی کرنے سے باز آجائے جس میں ہمارے بچوں، بزرگوں، عورتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غزہ کی گزرگاہوں کو کھولا جائے، امدادی سامان کو لوگوں تک پہچانے کی سہولت فراہم کی جائے۔
➋ قابض اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین میں جو ظلم ڈھایا ہے، اس کے جرائم کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اس سے شہریوں کے قتل کے جرم میں مالی جرمانہ وصول کیا جائے، اسی طرح اس کی فضائی، زمینی حملوں کے نتیجے میں عمارتیں، مدارس، جامعات، مساجد۔ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک حماس کی تمام دستیاب ذرائع سے حمایت کرنا، اس لیے کہ وہ اس آسمانی ادیان اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔
➌ ہم پورے عالم کے باضمیر لوگوں بالخصوص عالمی جنوبی ممالک کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ فلسطین کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کریں، اور اسرائیل کی جانب ڈھائے جانے والے ظلم کی تردید کریں۔ اور اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ ایسا کردار ادا کیا جائے جو قابض اسرائیل کے دہرے معیارات کے خلاف ہوں۔ عالمی سطح پر ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جائے جو اہلِ فلسطین کو انصاف، آزادی اور عزت کے ساتھ جینے کا ذریعہ بن سکے۔
➍ طاقتور ممالک صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈالنے سے گریز کریں، جن کی معاونت کے سبب وہ ۷۵ سال سے ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ اسی طرح ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کیے جانے فیصلوں کو نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں، تاکہ اہلِ فلسطین اپنا کامل حق حاصل کر سکیں۔
➎ بین الاقوامی ممالک اور اسرائیل غزہ کے مستقبل کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔ اس لیے کہ اہلِ غزہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے حوالے سے خود کفیل ہیں۔ لہٰذا اس نوعیت کے منصوبوں کا انکار کیا جائے۔ اسی طرح اسرائیل کو اس امر سے روکنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے کہ وہ اہلِ غزہ کو ہجرت پر مجبور نہ کرے۔
➏ اہلِ فلسطین کو سینا، اردن اور دیگر ممالک کی جانب بالجبر ہجرت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۸ء میں جو اہلِ فلسطین بے گھر کر دئیے گئے تھے ان کو واپس فلسطین میں لانے کے لیے اقوام متحدہ ۱۵۰ سے زائد مرتبہ قرارداد صادر کر چکا ہے، لہٰذا اس کے لیے کوشش کی جائے۔
➐ اہلِ عرب، تمام مسلم ممالک اور دنیا کے باضمیر عوام قابض اسرائیل کے خاتمے کے لیے مظاہروں کے ذریعے دباؤ جاری رکھیں، اسرائیل کی ریاست قبول کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں رہیں، اسی طرح ان کے مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک جاری رکھیں۔
مترجم: مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد
نائب مدیر مرکز تعلیم و تحقیق اسلام آباد
awaheedshahzad@gmail.com
923027286144
اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل سسٹم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
بی_بی_سی

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے غزہ سے حماس کے عسکریت پسند گروپ کی طرف سے داغے گئے راکٹوں سے ملک کی حفاظت میں مدد کی ہے۔
آئرن ڈوم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
آئرن ڈوم کو آنے والے مختصر فاصلے کے ہتھیاروں سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ تمام موسمی حالات میں کام کرتا ہے۔
یہ راکٹوں کو ٹریک کرنے کے لیے ریڈار کا استعمال کرتا ہے اور ان میں فرق کر سکتا ہے جو ممکنہ طور پر تعمیر شدہ علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور جو نہیں ہیں۔ انٹرسیپٹر میزائل صرف ایسے راکٹوں پر فائر کیے جاتے ہیں جن کی توقع آبادی والے علاقوں پر گرنے کی ہوتی ہے۔
یہ سسٹم پورے اسرائیل میں موجود بیٹریوں پر مشتمل ہے، ہر ایک میں تین سے چار لانچرز ہیں جو 20 انٹرسیپٹر میزائل فائر کر سکتے ہیں۔ سسٹم کے فکسڈ اور موبائل دونوں ورژن ہیں۔
آئرن ڈوم سب سے پہلے کب استعمال ہوا؟
آئرن ڈوم کو 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد تیار کیا گیا تھا، جو جنوبی لبنان میں واقع ایک عسکریت پسند گروپ ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغے جس سے بھاری نقصان ہوا اور درجنوں شہری مارے گئے۔ جواب میں اسرائیل نے کہا کہ وہ ایک نئی میزائل ڈیفنس شیلڈ تیار کرے گا۔
آئرن ڈوم کو اسرائیلی فرموں رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز نے کچھ امریکی تعاون سے بنایا تھا۔ اسے خاص طور پر غزہ سے فائر کیے جانے والے راکٹ جیسے ابتدائی ہتھیاروں سے لڑنے میں مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اس نظام کو پہلی بار 2011ء میں جنگ میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس نے غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے میزائل کو ناکارہ بنا دیا جو 2007ء سے حماس کے کنٹرول میں ہے۔ 2019ء میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ کچھ آئرن ڈوم بیٹریاں خریدے گا اور ان کی جانچ کرے گا۔
آئرن ڈوم کتنا موثر ہے؟
اسرائیل کی فوج نے آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح 90 فیصد تک کا دعویٰ کیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے حملے کے پہلے دن اس نے 5000 راکٹ داغے، حالانکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شاید اس تعداد سے نصف داغے ہیں۔ آئرن ڈوم کو زیر کرنے کی کوشش میں تھوڑی ہی دیر میں اتنے راکٹ فائر کیے گئے۔ دیگر (راکٹس) کو حزب اللہ نے لبنان سے داغا۔
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیل پر 8000 سے زیادہ راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق کچھ راکٹ آئرن ڈوم سے بچ گئے ہیں اور تعمیر شدہ جگہوں پر گرے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ 27 اکتوبر کو تل ابیب میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت پر راکٹ گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے۔
تاہم، اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا:
"ہلاک اور زخمی ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی اگر یہ آئرن ڈوم سسٹم نہ ہوتا، جو ہمیشہ کی طرح زندگی بچانے والا رہا ہے۔"
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل میں کام کرنے والی دو آئرن ڈوم بیٹریاں دے کر اسرائیل کے اینٹی راکٹ دفاع کو مزید تقویت دے گا۔ یہ ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) میزائلوں کی بیٹری اور پیٹریاٹ میزائلوں کی بیٹری بھی فراہم کرے گا۔
https://www.bbc.com/news/world-middle-east-20385306
اسرائیل کے تحفظ کیلئے دفاعی میزائلی نظام
نصرت مرزا

(۱۹۹۸ء کی ایک تحریر حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کے تناظر میں ایک بار پھر شائع کی جا رہی ہے۔ ادارہ)
امریکی وزیر دفاع ولیم کوہن نے بحرین کے دورہ کے دوران ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو یہ تجویز دی کہ خلیجی ریاستوں کو، ایران اور دوسری جگہوں میں بلاسٹک میزائل کی جو تیاری ہو رہی ہے، اس سے محفوظ ہونے کے لیے ایک میزائل نظام کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام بہت مہنگا ہے اور طویل مدتی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز بحرین کے مناط شہر میں دی ہے۔ بحرین کے حکمران ایران سے دفاع کے معاملہ میں کافی حساس ہیں، لیکن انہوں نے Elsewhere کا لفظ استعمال کیا۔ شاید یہ لفظ پاکستان کے لیے ہو، لیکن بحرین کو پاکستان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ بحرین پاکستان سے میزائل خرید سکتا ہے جو زیادہ مہنگا سودا نہیں ہو گا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے وزیردفاع یہ سب کچھ اسرائیل کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔ وہ پیسہ تو نکلوائیں گے عربوں کا، دفاع کریں گے اسرائیل کا، اور ڈرائیں گے بھی عربوں کو۔
میرے خیال میں عربوں کو قطر کانفرنس کی طرح اس دفعہ بھی امریکہ کو جھنڈی دکھا دینا چاہیے کہ وہ کسی نظام کا حصہ نہیں بنیں گے، جب تک اسرائیل سے ان کو رعایتیں نہ مل جائیں۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور میزائل نظام کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی یہ کہتے سنے گئے تھے کہ عربوں کی چال ڈھال بدل گئی ہے۔ میرے خیال میں ایران کو بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عربوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں تاکہ امریکی منصوبہ ناکام بنایا جا سکے۔
امریکن تو اپنے ملک کی فوجی پیداوار کی فیکٹریاں چالو رکھنا چاہتے ہیں، وہ اپنا ریسرچ پروگرام عربوں کے پیسے جاری رکھنا چاہتے ہیں، اور پھر عربوں کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیردفاع نے بحرین کے حکمرانوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ ایران نے حال ہی میں ’’شہاب ۳‘‘ کا تجربہ کیا، جبکہ دوسرے ممالک ایسے میزائل بنا رہے ہیں جو یا تو کیمیائی، بائیولوجیکل، یا ایٹمی ہتھیار لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اپنے ہزاروں کی تعداد میں فوجی اس علاقے میں موجود ہیں، اس صورتحال میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ ممالک آپس میں میزائل سے بچاؤ کا نظام تیار کریں۔
افغانستان پر امریکی کروز میزائلوں کے حملے کے بعد میں نے اپنے یکم ستمبر ۱۹۹۸ء کو شائع ہونے والے مضمون ’’پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ کا خطرہ‘‘ میں یہ تحریر کیا تھا کہ کراچی میں غوری میزائل فٹ کر دیے جائیں اور ان کا رخ امریکی جہازوں کی طرف ہو تاکہ وہ پھر افغانستان پر حملہ کی حرکت نہ کریں۔ اب امریکی وزیر دفاع اس تجویز کے ساتھ وارد ہو گئے ہیں جو خود عربوں کے خلاف ہے۔ میرا خیال ہے کہ قطر کانفرنس کی ناکامی کے بعد امریکیوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کی کیفیت پیدا کر دی تھی، لیکن پھر یہ جنگ ایٹمی جنگ کی خوفناکی میں تبدیل ہوتی دکھائی دی، تو انہوں نے پاکستان کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے افغانستان پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا، جس کے اپنے مضمرات تھے۔ پھر عربوں سے پیسے نکلوانے کے لیے آ موجود ہوئے۔ میرے خیال میں پاکستان کی وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ عربوں کو لوٹنے کے منصوبے سے آگاہ کرے۔ اسرائیل کو پاکستان اور ایران کے میزائلوں سے جو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، اس لیے عرب کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ رعایت حاصل کریں۔
پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت مسلمان ممالک کے لیے ایک نعمت ہے، اس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اسرائیل کے دباؤ سے آزاد محسوس کر سکتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کی اس صلاحیت کی وجہ سے کتنا پریشان ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے پوری مسلم دنیا کے جھگڑوں کو ابھار دیا ہے۔ ایران اور افغانستان، ترکی اور شام کے درمیان جنگ کے بادل چھاتے نظر آ رہے ہیں۔
ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔ اسرائیل کی دھمکی کا یہی جواب ہے کہ ایران پر کسی بھی حملہ کی صورت میں پاکستان جوابی حملہ کا حق محفوظ کرے۔ میں انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے امریکہ کے دفاعی نظام کو مشرقِ وسطیٰ میں بے اثر کر دیا ہے۔ اسرائیل کی علاقے کے پولیس مین کی حیثیت متاثر ہوئی ہے، اور عرب اسرائیل کی طرف سے اپنے آپ کو زیادہ آزاد محسوس کر رہے ہیں۔ اس لیے اب شام اور ترکی کے درمیان لڑائی کرانے کا سوچا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کے معاملہ میں ان کی بارگیننگ پوزیشن متاثر نہ ہو۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھایا تو امریکہ حالات کو ہمارے خلاف کرتا چلا جائے گا۔ امریکہ کے وزیر دفاع کا خلیج کے دفاعی نظام کے تصور کا مقصد دراصل پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے اثرات کو زائل کرنا ہے۔ پاکستان کو اس صلاحیت سے اپنی معیشت کی بہتری کے لیے کام لینے کا راستہ روکنا مقصود نظر آتا ہے، تاکہ مسلمان ممالک پاکستان کی طرف نہ دیکھیں، یا اپنے بھائی ملک سے مدد حاصل نہ کر سکیں۔ امریکن کسی صورت بھی یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سینٹ سے پابندیوں میں نرمی کا بل پاس ہونے کے باوجود امریکی صدر بل کلنٹن نے اس بل کو ویٹو کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو امداد دینے کے لیے اپنے معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔ وہ پاکستان میں انتشار کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، اپنے مہروں کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ پاکستان کی حکومت گھٹنے ٹیک دے۔
میں اپنے اس مضمون میں ایرانی بھائیوں کو تدبر کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ امریکی وزیردفاع کے بیان کو دیکھیں کہ وہ کس قدر ایران کا ورد کر رہا ہے اور ایران افغانستان تصادم کی سوچ رہا ہے۔ امریکی انتظار کر رہے ہیں کہ ایران سرحد عبور کرے گا اور پھر وہ ایران پر پل پڑیں۔ سچ پوچھیں تو افغانستان پر کروز میزائلوں سے جو حملہ کیا گیا، اس کی ایک وجہ ایران کو آگے بڑھنے کی ترغیب دینا تھا۔
امریکی سفیر نے عربوں کو شام کے میزائل پروگرام سے بھی ڈرایا ہے، لیکن خلیجی ملکوں کو شام کے میزائلوں سے کیا خطرہ ہے؟ اس کے میزائلوں سے خطرہ تو اسرائیل کو ہو سکتا ہے۔
- جو خطرہ اسرائیل کو ہو گیا ہے وہ عربوں کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عربوں کی دولت لوٹی جائے۔
- دوسرے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔
سارا کھیل مسلمانوں کو باندھ کر رکھنے کے لیے کھیلا جا رہا ہے، یہ مسلمانوں کی فراست پر منحصر ہے کہ وہ کس طور امریکہ کے داؤ سے بچ کر نکلتے ہیں۔
(ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۱۹۹۸ء بحوالہ روزنامہ نوائے وقت )
فلسطین اور یہود: خلافتِ عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان عبد الحمیدؒ کا خط
ادارہ

(خلافتِ عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان عبد الحمید مرحوم کا معزولی کے بعد اپنے روحانی پیشوا الشیخ محمود آفندی ابو الشاماتؒ کے نام تاریخی خط)
یا ہو —— بسم اللہ الرحمٰن الرحیم —— وبہ نستعین
حمد اس خدا کی جو سارے جہانوں کا پالن ہار ہے، اور افضل ترین درود اکمل ترین سلام نازل ہو ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو رب العالمین کے رسول ہیں، اور آپ کے تمام آل و اصحاب اور متبعین پر قیامت تک درود و سلام نازل ہو۔
میں اپنا یہ عریضہ سلسلہ شاذلیہ کے شیخ روح و حیات کو فیضان پہونچانے والے شیخِ وقت محمود آفندی ابوالشامات کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور دعواتِ صالحہ کا امیدوار ہو کر ان کے مبارک ہاتھوں کا بوسہ لیتا ہوں۔ آداب و احترام کے بعد عرض کرتا ہوں کہ آپ کا سالِ رواں کے ۲۲ مئی کا تحریر کردہ گرامی نامہ موصول ہوا، میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ جناب والا برابر صحت و سلامتی کے ساتھ ہیں۔ میرے آقا! میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سلسلہ شاذلیہ کے اورد و وظائف شب و روز پابندی سے پڑھ رہا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ دائمی طور پر آپ کی دلی دعاؤں کا محتاج ہوں۔
اس تمہید کے بعد میں آپ کی خدمت میں اور آپ جیسے دوسرے عقلِ سلیم رکھنے والوں کی خدمت میں ایک اہم مسئلہ پیش کرتا ہوں تاکہ یہ امانت تاریخ کی حفاظت میں آجائے۔
میں خلافتِ عثمانیہ سے صرف اس لیے الگ ہوا ہوں کہ مجھے جمعیت اتحاد و ترقی کی طرف سے بہت تنگ کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور خلافت ترک کرنے پر بالکل مجبور کر دیا گیا۔ سبب یہ ہوا کہ ان اتحادیوں نے مجھ سے بار بار اصرار کیا کہ ارضِ مقدس فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کی تاسیس پر اتفاق کروں۔ ان کے پیہم اصرار کے باوجود میں یہ بوجھ اٹھانے پر راضی نہ ہوا۔ اخیر میں ان لوگوں نے پندرہ کروڑ برطانوی لیرہ سونا دینے کا وعدہ کیا۔ میں نے قطعی طور پر اس تجویز کو ٹھکرا دیا اور انہیں مندرجہ ذیل دوٹوک جواب دیا کہ
’’اگر تم لوگ پندرہ کروڑ لیرہ سونے کی بجائے دنیا بھر کا سونا دو، تب بھی اس بوجھ کو نہیں اٹھاؤں گا۔ میں نے ملتِ اسلامیہ امتِ محمدیہؐ کی تیس سال سے زائد خدمت کی، اب میں اپنے آباؤ اجداد خلفاء و سلاطین کی تاریخ کو سیاہ نہیں کروں گا، میں یہ بوجھ قطعی طور پر قبول نہیں کر سکتا۔‘‘
میرے قطعی جواب کے بعد ان لوگوں نے مجھے معزول کرنے پر اتفاق کر لیا اور یہ پیغام پہونچایا کہ وہ مجھے شہر بدر کر کے سالونیکا بھیج دیں گے، میں نے یہ تکلیف گوارا کر لی۔ میں اللہ کی حمد کرتا ہوں کہ میں نے ارضِ مقدس فلسطین میں یہودی حکومت کے قیام کو تسلیم کر کے دولتِ عثمانیہ اور عالمِ اسلام کو اس عیب و عار سے داغدار کرنا قبول نہیں کیا۔ اس لیے میں مکرر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ میں نے جو باتیں پیش کر دی ہیں وہ اس موضوع کے بارے میں کافی ہیں۔ اپنے اس اہم خط کو ختم کرتا ہوں۔ میں آپ کے مبارک ہاتھوں کو چومتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ آداب قبول فرمائیں اور تمام بھائیوں دوستوں کو سلام کہیں۔ میرے بزرگ استاد ! خط طویل ہو گیا لیکن آپ کو اور آپ کی جماعت کو مطلع کرنے کے لیے میں اس طوالت پر مجبور تھا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خادم المسلمین، عبد الحمید بن عبد المجید
۲۲ ستمبر ۱۹۲۹ء
(ماہنامہ الشریعہ اپریل ۱۹۹۶ء بحوالہ ماہنامہ الفرقان لکھنؤ)
امریکی صدر ٹرومین اور سعودی فرمانروا شاہ عبد العزیز کی تاریخی خط وکتابت
ادارہ

(مالیر کوٹلہ بھارت کے دینی جریدہ ماہنامہ ’’دار السلام‘‘ نے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین کے ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء کے تحریر کردہ ایک خط اور ملک عبد العزیز آل سعود کی طرف سے اس کے جواب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان، کشمیر، فلسطین کے حوالے سے امریکہ جو کردار اب ادا کر رہا ہے، وہ کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں بلکہ بہت پہلے سے طے شدہ پالیسی اور پروگرام کا ایک تسلسل ہے اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ ہمارے مسلم حکمران امریکہ کے ان عزائم اور پروگرام کے بخوبی واقف ہونے کے باوجود ابھی تک زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر پائے اور انہوں نے عالم اسلام کے وسائل اور دولت امریکہ کے قدموں پر ڈھیر کر کے ذاتی، خاندانی اور طبقاتی سطح پر مفادات حاصل کرنے کے سوا عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے لیے کسی مشترکہ منصوبہ بندی اور پیشرفت کی آج تک ضرورت محسوس نہیں کی۔ ادارہ)
صدر ٹرومین کی جانب سے شاہ عبد العزیز کے نام خط
حضور جلالت ملک عبد العزیز آل سعود، فرماں روائے مملکت سعودی عرب
قابل قدر بادشاہ!
جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے ملک باہمی طور پر ایسی دیرینہ محبت اور مودت کے تعلقات میں مربوط ہیں جس کی بنیاد عدل وانصاف، آزادی، عالمی سطح پر امن وسلامتی کے قیام کی رغبت اور ساری انسانیت کی بھلائی پر قائم ہے، نیز ہماری باہمی اقتصادی مصلحتوں نے ان تعلقات کو اس وقت مزید مضبوط اور گہرا بنا دیا جب آپ نے اپنے ملک سعودی عرب میں دریافت کیے جانے والے تیل کے کنووں سے تیل نکالنے کا معاہدہ ہمارے ملک کی کمپنیوں سے کیا۔ اس طرح ہمیں وہاں تیل نکالنے والے وسیع وعریض پلانٹ قائم کرنے کے مواقع دستیاب ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ہمارے تعلقات اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ دونوں میں کسی ایک ملک میں ہونے والے ہر خوشگوار وناخوشگوار واقعہ کی صدائے بازگشت دوسرے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ ویسے بھی ہمارے نزدیک مشرق وسطیٰ میں امن وسلامتی کا قیام نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس علاقے سے آپ کا ملک دینی، تاریخی اور لسانی بنیادوں پر جڑا ہوا ہے۔ اس علاقے کے تمام ملکوں کو عرب لیگ جیسے ادارے نے باہم مربوط کر رکھا ہے۔ چونکہ عرب لیگ اور ساری عرب قوم کے دلوں میں آپ کے ملک کا ایک اونچا مقام ہے لہذا میں نے یہ مناسب سمجھا کہ عالمی سلامتی اور ایک ستائی ہوئی مظلوم قوم کے نام پر آپ سے مدد طلب کروں تاکہ آپ مقدس سرزمین پر اس کے باشندوں، عرب اور یہود کے درمیان برپا خانہ جنگ کو روکنے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کر سکیں اور عرب قوم کو اپنے ہم وطن یہودیوں کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر لیں۔ ہٹلر کے دور میں یہودیوں نے جو عذاب جھیلے، کیا وہ ان کے لیے کافی نہیں کہ اب بھی وہ ستائے جاتے ہیں؟ آپ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ یہودی اب بھی عذاب وتکلیف میں گرفتار رہیں چہ جائیکہ آپ ان عربوں کا ساتھ دیں جو اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد (جو ارض مقدس کو دونوں قوموں کے درمیان تقسیم کرنے سے متعلق ہے) کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔ عربوں کا یہ انداز اقوام متحدہ میں شامل تمام ملکوں کے خلاف جس میں سرفہرست آپ کا ملک آتا ہے، سرکشی اور زیادتی کے مترادف ہے۔
جس بات کا مجھے ڈر ہے، وہ یہ کہ کہیں مختلف ممالک متحدہ طور پر ان بغاوت کرنے والوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر درست کرنے کے لیے ان پر فوج کشی نہ کر دیں جس سے آپ کی قوم کی ہزاروں جانوں کے تلف ہو جانے کا خدشہ ہے۔ یقیناًیہ امر ہمارے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی باعث رنج وتکلیف ہوگا۔ میں اس امر کو بھی آپ سے مخفی رکھنا نہیں چاہتا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو یہ چیز ہمارے خوشگوار تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے جس سے ہمارے مشترکہ مفادات بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکہ قوم مظلوم یہودیوں کے لیے اپنے اندر عطف وکرم کا شدید جذبہ رکھتی ہے۔ ان یہودیوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جوں کا توں قبول کر لیا ہے جبکہ یہ قرارداد ان کے تمام مطالب کی تکمیل بھی نہیں کر رہی لہذا عرب قوم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کریں اور یہودی قوم سے اس معاملے میں پیچھے رہ جائیں۔
جلالۃ الملک! تاریخ آپ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ آپ کا نام اس انداز میں رقم کیاجائے کہ شاہ عبد العزیز وہ بادشاہ ہے جنہوں نے اپنی حکمت اور اثر ورسوخ کے ذریعے سے اراضی مقدسہ میں امن وسلامتی کو قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لہذا اپنی قوم کے لوگوں کو عالمی بائیکاٹ کی تکالیف سے بچا لیجیے اور مجبور ومظلوم اسرائیلی قوم کو سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیجیے۔
میری جانب سے سلام، نیک تمنائیں اور پیشگی پرخلوص شکریہ۔
آپ کا مخلص
ہیری ٹرومین
ملک عبد العزیز آل سعود کی جانب سے جواب
شاہی محل، ریاض
۱۰ ربیع الثانی ۱۳۶۷ھ
عزت مآب جناب ہیری ٹرومین، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ
معزز صدر!
آپ کا۱۰ فروری کو تحریر کردہ مکتوب موصول ہوا۔ آپ نے میرے متعلق محبت اور الفت کے جو جملے اپنے خط میں تحریر کیے ہیں، ان پر میں آپ کا شکر گزار ہوں مگر اس بات کی صراحت بھی ضروری سمجھتا ہوں (کیونکہ صراحت اور کھری بات کرنا ہمارے آداب میں شامل ہے) کہ جوں جوں میں آپ کے خط کی عبارت سنتا رہا، اسی طرح میری حیرت اور استعجاب میں اضافہ ہوتا رہا کہ آپ نے کس طرح یہودی قوم کے باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش میں مجھ جیسے عربی بادشاہ کے بارے میں یوں بد گمانی کر لی جس کی اسلام اور عرب کے ساتھ وابستگی اور اخلاص کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ نے یہ تصور کر لیا کہ میں اپنی قوم کے حق کے مقابلے میں یہودیوں کے ساتھ ان کے باطل پر تعاون کروں گا۔ ہمارے دلوں میں فلسطین کا ایک مقام ہے۔ اس کی وضاحت میں ایک مثال کے ذریعے سے کروں گا۔
اگر کوئی ملک آپ کی کسی اسٹیٹ پر قبضہ کر لے اور اس کے دروازے دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والوں کے لیے کھول دے تاکہ وہ اس کو اپنا ملک بنا کر اس میں مقیم ہو جائیں اور جب امریکی عوام اس جبری قبضے کو ختم کرنے کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوں اور ہم آپ سے دوستی اور سلامتی کے نام پر اس معاملہ میں مدد کے خواہاں ہو جائیں اور کہیں کہ امریکی قوم کے نزدیک آ پ اپنے مقام اور اثر ورسوخ کو استعمال کر کے امریکی قوم کو غیر ملکیوں کے ساتھ مقابلہ سے روکیں تاکہ یہ اجنبی قوم اپنا ملک قائم کر سکے اس طرح تاریخ بھی آپ صدر ٹرومین کو اپنے روشن صفحات میں امریکہ میں اپنی حکمت اور نفوذ کے ذریعے سے امن قائم کرنے والا کہے، اس وقت آپ کے دل میں ہمارے اس مطالبہ کا کیا رد عمل ہوگا؟
جناب صدر! عرب قوم میں میرے جس مقام ومرتبہ کا ذکر آپ نے کیا ہے، مجھے وہ مقام محض عرب اور اسلام سے شدید دلی وابستگی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ لہذا آپ مجھ سے ایسی بات کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں جو کسی ذمہ دار عرب کے لیے ناممکن ہے اور پھر فلسطین میں جاری جنگ کوئی داخلی جنگ نہیں جیسا کہ آپ کا خیال ہے بلکہ یہ اس کے اصل حق دار عرب قوم اور ان صہیونی جنگ جوؤں کے درمیان جاری لڑائی ہے جو فلسطینیوں کی چاہت کے علی الرغم عالمی سلامتی کے قیام کا دعویٰ کرنے والے چند ایک ملکوں کی مدد سے اپنا قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں۔ نیز فلسطین کو تقسیم کرنے کی منظور کردہ قرارداد جس کو مختلف ملکوں سے منظور کروانے میں آپ کا رول نمایاں رہا ہے، محض ظلم وناانصافی پر مبنی ایسی قرارداد ہے جس کو ابتدا ہی سے تمام عرب ملکوں نے نیز ان ملکوں نے بھی رد کر دیا جو حق کا ساتھ دے رہے ہیں لہذا حالیہ نتائج کے ذمہ دار عرب نہیں جس پر آپ ہمیں محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
میں اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لیے انتہائی محبت اور شفقت کے جذبات رکھتا ہوں جو فلسطین میں صہیونی حملہ آوروں کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے نذرانہ شہادت پیش کر رہے ہیں کیونکہ ہم عرب لوگ اس کو ایسا شرف سمجھتے ہیں جو ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر ان فلسطینی بھائیوں کی تائید سے دست بردار نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ صہیونی حملہ آوروں کے خوابوں کو چکنا چور نہ کر دیں۔ جہاں تک آپ نے باہمی اقتصادی مصلحتوں کا ذکر کیا ہے جن سے میرا اور آپ کا ملک جڑا ہوا ہے، تو یاد رکھیے کہ یہ اقتصادی مفادات میرے نزدیک پرِ کاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ میں ان اقتصادی مفادات کو قربان کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ منظور نہیں کہ اس کے بدلے میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی مجرم یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کر دوں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ میں تیل کے ان کنووں کو بند کر سکتا ہوں۔ تیل کے یہ کنویں اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے آج ہم پر جاری فرمائی ہیں لہٰذا ہم ان کو کبھی عذاب الٰہی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ میں نے اس سے قبل کئی دفعہ ساری دنیا پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ میں اپنے تمام بیٹوں سمیت فلسطین کے لیے لڑنے مرنے پر تیار ہوں۔ پھر اس کے باوجود میرے لیے تیل کے یہ کنویں میری اپنی جان اور میری اولاد سے کیسے عزیز تر ہو سکتے ہیں؟
قرآن مجید کہ جس پر ہمارا ایمان ہے، جو ہماری زندگی ہے اور جس پر ہم اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، اس کتاب نے تورات اور انجیل کی طرح یہود قوم پر لعنت کی ہے۔ یہی قرآن مجید ہم پر اس امر کو فرض قرار دیتا ہے کہ ہم اپنی جانوں اور مالوں کے ذریعے سے اس مقدس سرزمین کو یہودی دخل اندازی اور تسلط سے روکیں جس میں کوئی اور راستہ نہیں۔ اگر امریکی عیسائیوں اور ان کے دیگر حواریوں کے دینی عقیدہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ یہودیوں کو ان کے ناپاک قدموں کے ذریعے سے مقدس سرزمین کو ناپاک کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں تو ہمارے دل بھی آج اس ایمان سے معمور ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس سرزمین کو یہودیوں سے پاک وصاف کریں۔
جس قسم کے الفت اور محبت اور جانب دارانہ تعلقات آپ کی حکومت نے یہودیوں سے استوار کیے ہیں اور اس کے مقابلے میں عرب کے ساتھ جس طرح آپ نے اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے، یہی ایک بات کافی ہے کہ ہم آ پ کے ساتھ خیر سگالی کے تعلقات کو منقطع کر دیتے، امریکی کمپنیوں کے ہمارے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو منسوخ قرار دے دیتے لیکن ہم نے اس لیے جلد بازی سے کام لینا مناسب نہیں سمجھا کہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ کا ملک فلسطین کے موقف پر نظر ثانی کرے گا اور واضح باطل کی تائید سے کنارہ کش ہو کر واضح حق کا ساتھ دے گا۔ہم اس معاملہ میں آپ پر کوئی دباؤ ڈالنا نہیں چاہتے، نہ اس کے لیے تجارتی تعلقات کو ذریعہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم عربی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حق کو بذریعہ حق غالب کیا جائے نہ کہ ان یہودیوں کی طرح جو رشوت دے کر مختلف ملکوں کو اپنی تائید پر ابھارنے کی کوشش میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود جب ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ حق کو کیوں پامال کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے تحفظ کے لیے ہر وہ وسیلہ اختیار کریں گے جو اس میں موثر ثابت ہوگا۔ خصوصاً عرب لیگ قومیت اور اس کے حقوق کی حفاظت کے لیے جو تجویز بھی منظور کرے گی، ہم اس کی تائید میں ہوں گے۔
یقیناًیہ بات میرے لیے باعث مسرت ہے کہ جو امریکی ہمارے ملک میں مقیم ہیں، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ جب تک وہ ہماری سرزمین میں ہیں، انہیں ہماری جانب سے کوئی شکایت یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ اس بات کا اطمینان رکھیں۔ سب سے زیادہ اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچ سکتی ہے تو یہی کہ ہمارے ملک میں ان کے قیام کی مدت کو مختصر کر کے پوری عزت واکرام کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے ملک امریکہ واپس بھجوا دیں۔
اخیر میں صاحب صدر! میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ جن تجارتی اشیا کی بنیاد پر ہمارے مابین اقتصادی تعلقات قائم ہیں، یہ وہ مال ہے کہ دنیا کی مارکیٹ میں ا س کے فروخت کرنے والے بہت کم ہیں لیکن اس کے خریدنے والے بہت زیادہ۔
صاحب صدر! میری نیک تمنائیں اور آداب قبول فرمائیں۔
مخلص عبد العزیز آل سعود
ملک المملکۃ العربیۃ السعودیۃ
(ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ جنوری ۲۰۰۲ء بحوالہ ماہنامہ ’’دارالسلام‘‘ مالیر کوٹلہ، بھارت)
یہودیوں کی طوطا چشمی
طلال خان ناصر

(مضمون نگار کی یونیورسٹی اسائنمنٹ کا ایک حصہ)
آج کے زمانے میں یورپ کی مسیحی اقوام اور یہودیوں کے درمیان موجودہ اتحاد کے پس منظر میں یہ بات دلچسپ ہے کہ پچھلے دو ہزار سال میں یہودیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں یورپ کی ہی مسیحی اقوام سب سے آگے تھیں۔ رومی دور میں یروشلم سے یہود کو جلاوطن کرنے سے لے کر صلیبی جنگوں میں یہود کا قتل عام کرنے والے عیسائی تھے۔ پھر مسلم اندلس کے زوال کے وقت ملکہ ازابیلا کی جبراً عیسائی بنانے کی ریاستی مہم کا شکار ہونے والوں میں مسلمانوں کے ساتھ یہودی بھی شامل تھے۔
’’یہودیوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ مسلمان ریاستیں ہوتی تھیں۔ خود یہودی مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں اچھی دو پناہ گاہیں میسر تھیں:
- اندلس میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی، وہ ہماری پناہ گاہ تھی، وہاں ہمیں خرچہ اور تحفظ بھی مل جاتا تھا۔
- اور اس کے بعد خلافت عثمانیہ کے بارے میں غیر جانبدار اور معتدل یہودی مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنے پورے دور میں یہود کی پناہ گاہ تھی۔ عیسائی ان کو اٹلی، برطانیہ، فرانس میں مارتے اور یہ قسطنطنیہ، ترکی میں آ جاتے۔‘‘ (چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ۔ ص ۲۸۔ فروری ۲۰۲۴ء)
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ عیسائیوں کے ہاتھوں صدیوں ظلم سہنے اور مسلمانوں کے پاس پناہ گزین ہونے والے یہود نے کیسے طوطا چشمی کا مظاہرہ کر کے اپنے محسن مسلمانوں کے خلاف اپنے پرانے دشمن عیسائیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے خلافت عثمانیہ کے زوال کے دور یعنی بیسیوں صدی کے پہلے بیس سال کی تاریخ دیکھنا ضروری ہے۔ اس دور میں سلطان عبد الحمید ثانیؒ خلافت عثمانیہ حکمران تھے۔ فلسطین کے بارے میں عثمانیوں کا قانون یہ تھا کہ یہودیوں کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور بیت المقدس میں عبادت کی اجازت تھی لیکن فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ خلافت کے آخری چند سالوں میں یہود کی عالمی تنظیموں نے سلطان عبد الحمید سے بارہا فلسطین کے علاقے میں آباد ہونے کی اجازت مانگی۔
’’سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ یہودی کی عالمی تنظیم کے سربراہ ہر تزل نے متعدد بار ان سے خود ملاقات کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں زمین خرید کر محدود تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں مگر سلطان مرحوم نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک بار ہرتزل نے سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے سامنے چیک بک رکھ کر منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش کی جس کے جواب میں سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے انتہائی تلخ لہجے میں ہرتزل کو ڈانٹ دیا اور اس سے کہا کہ میری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد وہ ہرتزل سے ملاقات کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے ۔ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے خلاف اس کے بعد تحریک چلی اور انہیں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف ترکی میں چلنے والی تحریک اور ان کی معزولی میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انہیں خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا۔ ‘‘ (مولانا زاہد الراشدی۔ روزنامہ اسلام لاہور ۔ ۲۶ جون ۲۰۰۲ء)
جب سلطان عبد الحمید کے ساتھ مذاکرات میں یہود کو دال گلتی نظر نہ آئی تو یہود کی عالمی تنظیم نے برطانیہ کا رخ کیا اور ایک معاہدے کے تحت جنگ عظیم اول میں جرمنی اور عثمانی ترکوں کے خلاف برطانویوں کے ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کا وعدہ کیا۔ جنگ میں عثمانیوں کی شکست کے بعد فلسطین کا علاقہ برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا اور یہود کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت ایک برطانوی یہودی کو فلسطین کا گورنر بنا کر پوری دنیا کے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس معاہدے پر اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور کے دستخط ہوئے جس بنا پر یہ معاہدہ بالفور ڈکلیریشن کہلاتا ہے۔ ۱۹۱۷ء میں بالفور معاہدے سے لے کر ۱۹۴۸ء میں اسرائیل بننے تک فلسطین ایک برطانوی نوآبادی رہا ہے۔
رفح
ہلال خان ناصر

رفح فلسطینیوں کیلئے چھوڑے گئے چند علاقوں میں سے وہ علاقہ جو فلسطین کے جنوب میں مصر کے ساتھ ۲۵ مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد جہاں کہیں اسرائیل نے حملہ کیا، ادھر کے شہریوں کو جنوب کی طرف ہانک دیا کہ وہاں بمباری سے نجات ملے گی اور اس وقت الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۴ سے ۱۵ لاکھ کے درمیان فلسطینی اس علاقے میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ نجات فی الوقت تو ملتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس علاقے پر حملے کا اعلان کیا جس کی وجہ یہاں پر چھپے چند حماسی مجاہدین کا خاتمہ بیان کی گئی اور حملے سے پہلے فلسطینی عوام کو ایک ”محفوظ مقام“ پر منتقل کرنے کے پلان کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے محفوظ مقام چھوڑا کدھر ہے؟ فلسطینیوں کیلئے فلسطین کی اسرائیل کے ساتھ ملتی حدود سے خان یونس تک تباہی، اور رفح سے آگے مصر کی حدود جس نے اپنی ”بارڈر سکیورٹی“ کیلئے ۴۰ کے قریب ٹینک بارڈر پر ’’خوش آمدید‘‘ کہنے کیلئے تیار کر رکھے ہیں۔
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا کا اس مسئلے پر یہی رویہ نظر آ رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ سمیت بہت سے مغربی ممالک نے قولیہ تو اس اعلان کی ”شدید“ مزاحمت کی ہے، مگر فعلیہ بدستور اسرائیل کو ہتھیار اور حمایت جاری ہے۔ اس وقت بھی امریکہ میں اسرائیل کو ۱۴ بلین ڈالر کی سپورٹ فراہم کرنے کا بل امریکی سینیٹ میں زیر بحث ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین میں قائم کیے گئے رفاہی کیمپ(UNRWA) پر اسرائیلی وزیر اعظم نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا کہ طوفان الاقصی ٰمیں ان کیمپ کے چند ملازمین نے حماس کا ساتھ دیا تھا اور الزام کے فوراً بعد یورپ اور امریکہ کی طرف سے اس ادارے کی امداد کھینچ لی گئی۔ اس کے برعکس انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی تصدیق کی مگر اسرائیل کو بدستور اسلحہ اور مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک آدمی نے ایک اسرائیلی افسر سے سوال کیا کہ عام عوام کی موجودگی میں فلسطین کے ہسپتالوں میں بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ جس پر اسرائیلی افسر نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ ان ہسپتالوں میں حماس کے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ سوال کرنے والے نے دوسرا سوال کیا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ یہی حماس کے دہشت گرد اسرائیل کے کسی شہر میں گھس آئے ہوتے، اور اسرائیل کے کسی ہسپتال میں چھپ جاتے تو کیا تب بھی اسرائیل کا رد عمل یہی بمباری ہوتی؟ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اسرائیلی افسر کا جواب نفی میں آیا۔
ایک طرف پورا مغرب اسرائیل کی پشت پر ، دوسری طرف فلسطینیوں کیلئے ایران کے خالی وعدے اور مصر کے بند بارڈر۔ سعودیہ کا تو اللہ ہی حافظ اور پاکستان اپنے ایٹم بموں کا محافظ۔ اللہ تعالیٰ رفح کی خبروں کو ”سانحہ رفح“ کی خبریں ہونے سے پہلے عالم اسلام کے حکمرانوں کو ہوش میں آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ایامِ حج و زیارتِ مدینہ کی یاد میں
سید سلمان گیلانی

کس منہ سے کروں شکر ادا تیرا خدایا
اک بندۂ ناچیز کو گھر اپنا دکھایا
واللہ اس اعزاز کے قابل میں کہاں تھا
یہ فضل ہے تیرا کہ مجھے تو نے بلایا
جس گھر کے ترے پاک نبی نے لیے پھیرے
صد شکر کہ تو نے مجھے گرد اس کے پھرایا
لگتا نہ تھا دل اور کسی ذکر میں میرا
لبیک کا نغمہ مجھے اس طرح سے بھایا
مزدلفہ وعرفات ومنیٰ وصفا مروہ
ہر جا تری رحمت نے گلے مجھ کو لگایا
ہوتی رہی بارش تری رحمت کی بھی چھم چھم
مجھ کو بھی بہت میری ندامت نے رلایا
محشر میں بھی رکھ لینا بھرم اپنے کرم سے
جیسے میرے عیبوں کو ہے دنیا میں چھپایا
محشر میں بھی کوثر کا مجھے جام عطا ہو
جیسے یہاں پانی مجھے زم زم کا پلایا
جیسے یہاں سایہ ترے کعبے کا ملا ہے
محشر میں بھی حاصل ہو ترے عرش کا سایا
مت پوچھیے مکے میں جو گزرے مرے ایام
ہر آن نیا کیف نیا لطف اٹھایا
مکے سے مدینے کے سفر کو جو میں نکلا
بے نام سا اک خوف تھا دل پر مرے چھایا
ہمت نہیں پاتا تھا کروں سامنا ان کا
ہر پل تو بغیر ان کی اطاعت کے گنوایا
وہ تو کہو یاد ان کا کرم آ گیا مجھ کو
ہر رنج والم دل سے لگا اس نے مٹایا
رفتار تھی اس شوق کی پھر دیکھنے والی
خود سے بھی قدم دو قدم آگے اسے پایا
ہونٹوں پہ درودوں کے مچلنے لگے نغمے
جب دور سے ہی گنبد خضرا نظر آیا
کچھ عرض زباں سے تو وہاں کرنا ہے مشکل
حال اپنا بس اشکوں کی زبانی ہی سنایا
جتنا بھی کروں ناز مقدر پہ وہ کم ہے
سرکار نے اپنا مجھے مہمان بنایا
سلمان مرے دل میں جو کعبے کے ہیں جلوے
آنکھوں میں مری گنبد خضرا ہے سمایا
’’صہیونیت اور اسرائیل کا تاریخی پس منظر‘‘
مولانا حافظ کامران حیدر

اللہ رب العزت نے جانشینِ امام اہلسنتؒ حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی دامت فیوضہم کو جن گوناگوں اوصاف اور ہمہ جہت دینی خدمات سے متصف فرما رکھا ہے وہ اہلِ علم و اہلِ نظر سے مخفی نہیں۔ بحمد اللہ تعالیٰ راقم الحروف کو گزشتہ دس سال سے حضرت استاذ گرامی کے مواعظ و محاضرات ضبط و تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہے، اس سے قبل کئی مجموعے چھپ چکے ہیں۔ ’’خلافتِ اسلامیہ اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد‘‘ کے عنوان سے ایک مجموعہ مرتب ہو چکا ہے جو عنقریب منظر عام پر آ جائے گا، ان شاء اللہ۔
حالیہ اسرائیل فلسطین کشیدگی کے تناظر میں ہونے والے بیانات سمیت اس عنوان پر گزشتہ بیانات کو یکجا کرتے ہوئے زیرِ نظر مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے، جس میں یہودیت کے آغاز سے لے کر آج تک کی تاریخ، مسلم یہودی تعلقات کی نوعیت، اسرائیلی ریاست اور مسئلہ فلسطین کے پس منظر اور حالیہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے پیش منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
میں حضرت الشیخ مدظلہ کا دل کی گہرائی سے شکر گزار ہوں کہ اعتماد اور حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اس خدمت کے لیے میرا انتخاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھیں، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ امت اور قوم کی رہنمائی کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں اور ہمیں ان کے افادات سے کما حقہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
الشریعہ اکادمی اور مکتبہ ختمِ نبوت کا شکر گزار ہوں کہ اس مجموعہ کی اشاعت کا اہتمام کر کے اس کی افادیت کو عام کیا، اور محترم حافظ شاہد الرحمٰن میر صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جن کی ترغیب و تحریض سے حالیہ تمام بیانات شاملِ اشاعت کرنے کا حوصلہ بڑھا، بلکہ انہی کے توسط سے اکثر بیانات میسر آئے۔ ان میں سے تکرار کو حذف کرتے ہوئے موضوع میں تسلسل اور روانی پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ کتاب کی تصحیح میں حتی المقدور پوری سعی کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود تقریر سے تحریر میں منتقل کرتے ہوئے غلطی کا امکان موجود ہے، جس کی نسبت مرتب کی طرف کی جائے۔ نیز قارئین سے التماس ہے کہ دورانِ مطالعہ جہاں غلطی محسوس کریں تو مرتب یا ناشر کو ضرور مطلع فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
Election 2002: Our Expectations from Muttahida Majlis-e-Amal
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی



(Excerpt from an interview published in the December 2002 issue of the monthly "Youth Contact" Gujranwala.)
Question: What are your impressions about the success of Muttahida Majlis-e-Amal in the recent general elections of Pakistan?
Answer: I think Muttahida Majlis-e-Amal was well received by the public for two reasons. One is because of their unity that the history of half a century of Pakistan is a witness that whenever religious circles and religious schools of thought have united and raised the voice of the nation for a common cause, the nation has never disappointed them. The second reason is the apocalypse that the US and its allies have made in Afghanistan over the past year to topple the Islamic government of the Taliban, and impose their own puppet government. And the shameful way in which the people of Afghanistan have been subjected to brutality and terrorism, the people of Pakistan, especially the people of Frontier Province and Balochistan, have expressed their hatred and anger against them in the election, and with it they also gave a practical answer to the negative propaganda of the elements who were saying that religious parties in Pakistan do not get the support of the people. I think America and all its allies should learn a lesson from this and read the inscription and review their policies and practices.
Question: What do you expect from Muttahida Majlis-e-Amal regarding national politics?
Answer: In my opinion, the Muttahidda Majlis-e-Amal should not have participated in the power struggle at the federal level. They should have concentrated all their attention on protecting the constitutional foundations of the 1973 Constitution. At present, the most prominent and strong voice in the country for the protection of the real democracy and the foundations of the 1973 constitution is Muttahida Majlis-e-Amal. It would have been better if this voice had not been mixed with the desire for power and ministries. However, it is still a good thing that the Muttahidda Majlis-e-Amal has announced not to negotiate on the principles. I pray that Allah Ta'ala blesses the Muttahida Majlis-e-Amal with persistence and success on this principled stand. However, my opinion in this regard is that:
✦ It should stay away from the power game at the federal level, and sit in the opposition and express the sentiments of the people.
✦ The government of Muttahida Majlis-e-Amal in Frontier Province should present a model of Islamic governance with the solution of people's problems, which is a beacon for other provinces, and the people of other provinces should also find themselves forced to give Muttahida Majlis-e-Amal a chance in the next election.
✦ Muttahida Majlis-e-Amal got these votes with the blessing of the blood of the oppressed people of Afghanistan. And these votes have been received due to strong opposition to global colonial powers. Therefore, there should not be any flexibility in the stance and practical role of the Muttahidda Majlis-e-Alam in this regard.
✦ The unity of religious schools of thought should be maintained at all costs. Its scope should be expanded with mutual self-sacrifice and trust. And one should always be alert that the most effort by the opponents will be to put cracks in this unity and mutual trust in one way or another.
✦ The government of the Muttahida Majlis-e-Amal in the Frontier Province should establish an academic commission to study the recommendations of the Islamic Ideological Council closely, separate the recommendations related to the provincial powers from them, and suggest methods for their practical implementation.
✦ The ministers of the Muttahida Majlis-e-Alam should set an example of simplicity, contentment, and frugality, detaching themselves from the desires of protocol and prestige, and illustrate by their actions how the ministers of an Islamic government function.
(Translated with Google Translate)