الشریعہ — جون ۲۰۲۴ء

تعارفِ ادیان و مذاہب: چند ضروری تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
خطبہ حجۃ الوداع کی روایاتڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
آپ فنِ تفسیر اور اصولِ تفسیر کیسے پڑھیں اور پڑھائیں!مولانا محمد صدیق ابراہیم مظفری 
صوفیہ، مراتبِ وجود اور مسئلہ وحدت الوجود (۲)ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 
تصوراتِ محبت کو سامراجی اثرات سے پاک کرنا (۲)ڈاکٹر ابراہیم موسٰی 
غیر مسلم راہبروں کی اہانت کیوں منع ہے؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’امام اعظم ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘مولانا حافظ خرم شہزاد 
Should Israel be Recognized?مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

تعارفِ ادیان و مذاہب: چند ضروری تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


(۲۰۱۷ء کے دوران الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک نشست سے گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہمارے ہاں ”تقابلِ ادیان“ کے عنوان سے مختلف مدارس اور مراکز میں کورسز ہوتے ہیں جن میں ادیان و مذاہب کے درمیان چند اعتقادی اختلافات پر مباحثہ و مناظرہ کی تربیت دی جاتی ہے، جو اپنے مقاصد کے اعتبار سے انتہائی ضروری ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں ہے۔ مگر میری طالب علمانہ رائے میں یہ اس وسیع تر موضوع کے لحاظ سے انتہائی محدود اور جزوی سا دائرہ ہے جبکہ اس عنوان پر اس سے کہیں زیادہ وسیع تناظر میں گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔

تقابلِ ادیان سے پہلے تعارفِ ادیان

اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقابل سے پہلے تعارف ضروری امر ہے کہ جس گروہ سے آپ اختلاف کر رہے ہیں اس کا کم از کم اجمالی تعارف تو آپ کے سامنے ہو کہ:
  • اس کا آغاز کب ہوا تھا اور اس کی مختصر تاریخ کیا ہے؟
  • آپ کے ساتھ اس گروہ کے اختلافات کا بنیادی دائرہ کیا ہے؟
  • بڑے بڑے مختلف فیہ مسائل کون سے ہیں؟
  • اس گروہ کے ساتھ آپ کے سماجی اور معاشرتی تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
  • اور اعتقادی اختلافات سے ہٹ کر آپ دونوں کے درمیان سیاسی، معاشرتی اور سماجی تنازعات کیا ہیں؟
اس مجموعی تناظر سے آگاہی کے بغیر چند اختلافی مسائل پر مباحثہ کرنا مناظرے کے ماحول میں تو یقیناً‌ فائدہ مند ہوتا ہے، لیکن آج کے عالمگیر ماحول میں اس گروہ کے صحیح معاشرتی مقام کی پہچان اور اس کے ساتھ معاملات و تنازعات کے تعیّن میں اس سے کوئی راہنمائی نہیں ملتی۔ مثلاً مسیحیت کے بارے میں دیکھ لیجئے کہ اس مذہب کے ساتھ اعتقادی مباحث میں (۱) توحید یا تثلیث (۲) کفارہ (۳) ابنیت مسیح (۴) حضرت عیسٰی علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا وغیرہ مسائل یقیناً‌ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عملی معاملات میں اس سے کہیں زیادہ اہم امور یہ ہیں کہ:
  • جناب نبی اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ کے دور میں مسیحی مسلم تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟
  • رومیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں کا تناظر کیا تھا؟
  • صلیبی جنگوں کا مقصد اور نتیجہ کیا تھا؟
  • خلافتِ عثمانیہ اور صلیبیوں کی کشمکش کا ماحول کیا تھا؟
  • بہت سے مسلمان ممالک پر چند مسیحی ممالک نے نوآبادیاتی قبضہ کیسے کر لیا تھا؟
  • مسلمانوں کے علوم و معارف کو تشکیک کا نشانہ بنانے کے لیے استشراق کی علمی و فکری تحریک کے اہداف و نتائج کیا تھے؟
  • اور اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں اور مسیحیت کے باہمی تعلقات و تنازعات کی صورتحال کیا ہے؟ وغیر ذٰلک۔
اعتقادی مباحث تو مسیحی دنیا نے ایک عرصہ سے ترک کر رکھے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت سے دیگر ذرائع اور اسباب اختیار کیے ہوئے ہیں جو ہمارے تعلیمی موضوعات سے ہی خارج ہیں۔ یہی صورتحال یہودیت، ہندومت، سکھ مت اور بدھ مت کے بارے میں بھی ہے۔ یہ وہ مذاہب ہیں جو آج کی موجود دنیا میں ہمارے معاصر ہیں اور ان کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو ہر وقت مسائل درپیش رہتے ہیں۔

اسلام سے منسوب مذاہب

اسی طرح مسلمانوں کے داخلی مذاہب کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان کہلانے والی تقریباً دو ارب کے لگ بھگ آبادی کو جس گروہ بندی کا سامنا ہے، اور جن حصوں بخروں میں وہ اس وقت نہ صرف تقسیم بلکہ باہم برسرِ پیکار ہے اس کے پورے تناظر میں ہم اگر کہیں بات کرتے بھی ہیں تو وہ چند اعتقادی مباحث تک محدود ہوتی ہے۔ مجھے اس کی اہمیت و ضرورت سے کسی درجہ میں بھی انکار نہیں ہے لیکن یہ صرف ایک جزوی سا پہلو ہے جو ناکافی ہے۔ یہاں میں مثال کے لیے قادیانیت کا حوالہ دوں گا کہ ان کے ساتھ ہمارے اعتقادی مباحث میں (۱) ختمِ نبوت یا اجرائے نبوت (۲) رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام (۳) صدق و کذبِ مرزا جیسے مسائل یقیناً‌ بنیادی اور مرکزی نوعیت کے ہیں جن کا علماء و طلبہ کو پڑھانا ضروری ہے، لیکن:
  • قادیانی گروہ کا تعارف و پس منظر،
  • اس کے دو بڑے گروہوں میں فرق،
  • تحریکِ آزادی میں اس گروہ کا کردار،
  • پاکستان کے قیام اور تقسیمِ پنجاب میں اس کا کردار،
  • بین الاقوامی اداروں میں اس کی اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل سرگرمیاں،
  • اور عالمی سطح پر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ اس کا اشتراکِ عمل وغیرہ
بھی کم اہمیت کے امور نہیں ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے نہ صرف قادیانیت بلکہ ختمِ نبوت کا انکار کرنے والے دیگر معاصر گروہوں مثلاً بہائیت، ذکری مذہب اور نیشن آف اسلام وغیرہ سے بھی اسی درجہ کی آگاہی ضروری ہے۔

اختلاف کے مسلّمہ آداب

تیسرے نمبر پر میں توجہ دلانا چاہوں گا کہ اختلافات پر بحث و مباحثہ میں اختلافات کی درجہ بندی اور اختلاف کے مسلّمہ آداب کا ہمارے ہاں عام طور پر لحاظ نہیں رکھا جاتا:
  • بعض اختلافات کفر و اسلام کے ہیں مثلاً مسیحیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ مت، قادیانیت، بہائیت، نیشن آف اسلام وغیرہ۔
  • بعض اختلافات حق و باطل کے ہیں مثلاً خوارج، روافض، معتزلہ وغیرہ کے ساتھ، جن کا دائرہ پہلے دائرے سے یقیناً‌ مختلف ہے۔
  • بعض اختلافات خطا و صواب کے ہیں جیسا کہ احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ اور ظواہر کے فقہی اختلافات، ان کا درجہ محض صواب و خطا کا ہے اور حق و باطل کے معرکہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
  • اس سے نیچے اختلافات کا ایک بہت بڑا دائرہ اولیٰ اور غیر اولیٰ کا ہے جسے صواب و خطا میں تقسیم کرنا بھی درست نہیں ہوتا۔
لیکن ہمارے مناظرانہ مباحث میں یہ سب دائرے اس طرح خلط ملط ہو گئے ہیں کہ بسا اوقات اولیٰ غیراولیٰ کے مسائل میں ہم حق و باطل کے لہجے میں بات کر رہے ہوتے ہیں، اور خطا و صواب کا معرکہ تو کبھی کبھی کفر و اسلام کی باقاعدہ جنگ بن جاتا ہے۔ عمومی ماحول میں ان معاملات میں بے احتیاطی اور لاپروائی کے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ میرے جیسے کمزور لوگوں کو ایمان خطرے میں محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک بڑے خطیب صاحب جو وفات پا چکے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائیں، آمین۔ وہ ایک بار کسی عوامی جلسہ میں مادۂ تولید کے پاک یا ناپاک ہونے کے اختلافی مسئلے پر مخالف فریق کے وہ لتے لے رہے تھے کہ ان کے قریب بیٹھے مجھے شرم آرہی تھی۔ انہوں نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں لتاڑنے کی خوب مہارت دکھائی۔ جلسہ سے فارغ ہونے پر جب کھانے کے لیے بیٹھے تو میں نے پوچھ لیا کہ حضرت! منی کے پاک ہونے کا یہ موقف، جسے آپ نے موضوعِ بحث بنایا ہوا تھا، متقدمین میں سے بھی کسی کا ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت امام سفیان ثوریؒ کا موقف ہے۔ اس پر وہ چونکے۔ میں نے گزارش کی کہ کسی فقہی مسئلہ پر طعن و تشنیع کا توپ خانہ گاڑتے وقت یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ اس کا رخ کدھر ہے؟
ایسے مسائل میں خاص طور پر اساتذہ سے ہماری گزارش ہوتی ہے کہ اختلافات سکھاتے وقت ادب الاختلاف بھی پڑھایا کریں تاکہ ہمارے نوجوان علماء کو معلوم ہو کہ کس سے کس درجہ میں اختلاف کرنا ہے اور کس لہجے میں کرنا ہے۔ ”ادب الاختلاف“ پر متقدمین اور متاخرین علماء نے بہت کچھ لکھا ہے جسے باقاعدہ پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ اس سلسلہ میں دو سال قبل کراچی کے ایک فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن نے ماہنامہ ”تعمیرِ افکار“ کا پونے چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ضخیم نمبر شائع کیا ہے جو مسلکی اور فقہی اختلافات کی حدود و قیود اور آداب کے تقریباً تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ میرے خیال میں اعتقادی اور فقہی علوم پڑھانے والے اور ان مباحث کی تربیت دینے والے تمام مدرسین اور اساتذہ کو لازماً یہ رسالہ پڑھنا چاہیے جسے زوار اکیڈمی پبلیکیشنز، اے ۸۱/۴ ناظم آباد ۴ کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

زمانے کے ماحول سے واقفیت

اس وقت انسانی سوسائٹی میں ہمیں کن مذاہب، کن مسالک اور کن افکار سے واسطہ ہے؟ سوسائٹی تو گلوبل ہوتی جا رہی ہے اور مشرق، مغرب، شمال، جنوب میں کوئی فرق نہیں رہا، نہ معلومات کے حوالے سے اور نہ رابطوں کے حوالے سے۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس زمانے کی نشاندہی کی تھی ”یتقارب الزمان“ یہ آپؐ کی پیشین گوئیوں میں ہے جو آپؐ نے قیامت کی نشانیوں میں بیان فرمائی تھی کہ زمانے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے، جس کا آسان ترجمہ ہم کیا کرتے ہیں کہ فاصلے سمٹ جائیں گے۔ آج کے دور میں زمینی فاصلے بھی اور زمانی فاصلے بھی سمٹ گئے ہیں اور مزید سمٹتے جا رہے ہیں۔ پہلے اونٹوں کا سفر ہوتا تھا، اب جہازوں کا ہوتا ہے۔ پہلے پیغام، خط و کتابت کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا، اب واٹس اپ کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اردگرد ماحول اور دنیا سے واقف ہونا چاہیے۔
قرآن کریم نے بھی یہی کیا تھا جب جناب نبی کریمؐ تشریف لائے اور مکہ مکرمہ میں آپؐ کی ایک جماعت بنی تو قرآن کریم کا اسلوب یہی رہا ہے کہ جزیرۃ العرب کے دائرے میں جن مذاہب سے عملی واسطہ تھا ان مذاہب کا تفصیل سے تعارف کروایا ہے۔ زیادہ تر مشرکینِ عرب تھے جو خود کو اسماعیلی یا قریشی کہتے تھے، ان کے اسلوب و عقائد، ان کی سماجی و تہذیبی روایات، ان کا خاندانی نظام، ان کا پورا سسٹم قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ مدینہ منورہ جا کر یہودیوں سے واسطہ پیش آیا تو یہودیوں کا بھی قرآن کریم نے پورا تعارف کروایا ہے۔ ان کا پس منظر، ان کی تاریخ، ان کے عقائد اور ان کی گمراہیاں کھول کر بیان فرمائیں۔ تیسرے مسلمانوں کا واسطہ جزیرۃ العرب میں نجران کے عیسائیوں سے تھا۔ نجران میں عیسائی بہت بڑی تعداد میں تھے اور بنو تغلب بھی عیسائی تھے۔ تو قرآن کریم نے عیسائیوں کا تعارف بھی کروایا ہے۔ تینوں حوالوں سے کہ ان کے عقائد کیا ہیں، ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے، ان کی روایات و معمولات کیا ہیں، تہذیبی ماحول کیا ہے، اور چوتھے نمبر پر ان کی گمراہیاں تفصیل سے بیان فرمائی ہیں۔
قرآن کریم کا اسلوب یہ بتا رہا ہے کہ اردگرد کے ماحول سے واقف ہونا چاہیے، خود عمل کرنے کے حوالے سے بھی اور تحریکات کے حوالے سے بھی۔ جزیرۃ العرب میں اس وقت سب سے کم واسطہ صابئین سے تھا لیکن قرآن کریم نے ان کا ذکر بھی کیا ہے، اگرچہ ان کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ اس تناظر میں ہر دور میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ماحول سے واقف ہوں کہ جن مذاہب سے ہمیں واسطہ ہے، ہمارا ان کا فرق کیا ہے؟ تنازعات کہاں ہیں؟ اتفاقات و اختلافات کہاں کہاں ہیں؟
ہمارے ہاں عام طور پر ایک مغالطہ ہے کہ ہم جب تقابلِ مذاہب کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ہاں چند مناظرانہ مسائل ہی تقابلِ مذاہب سمجھے جاتے ہیں۔ عیسائیوں سے بات ہوگی تو مناظرے کے دوچار مسائل موضوع بن جائیں گے اور اسی پر سارا وقت صَرف ہو جائے گا۔ وہ ایک حصہ ہے لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ یا مثلاً ہم قادیانیوں کی بات کریں گے تو چند مناظرانہ مسائل پر مباحثہ سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم ان کے پس منظر سے واقف ہوں، تاریخ سے واقف ہوں، اور ان کا تعارف حاصل ہو۔
اس لیے میری ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے تعارفِ ادیان اور پھر تقابلِ ادیان، مناظرے کے طور پر نہیں بلکہ بریفنگ کے طور پر کہ ہمارا اور ان کا فرق کیا ہے۔ پہلے تعارف کہ یہ کون لوگ ہیں ان کی ابتدا کب ہوئی؟ یہ کہاں کہاں ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ ہمارا اُن سے فرق کیا ہے؟ اور یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ اس وقت عالمی سوسائٹی میں ہمارے معاملات کی نوعیت کیا ہے، کہاں جھگڑا ہے، کہاں نہیں ہے، کہاں ہم اکٹھے ہیں، کہاں الگ الگ ہیں، ہمارے عملی مسائل اس وقت کیا ہیں؟ یہ تین باتیں (۱) ان کا تعارف (۲) ان کا مسلمانوں سے بنیادی معاملات کا فرق (۳) اور تنازعات کی موجودہ صورتحال (۴) مناظرہ چوتھے نمبر پر ہوتا ہے۔ میرا ذوق مناظرے کا نہیں ہے لیکن میں مناظرے مجادلے کی نفی نہیں کرتا، مناظرہ مجادلہ کیا جاتا ہے، کیا جانا چاہیے۔

مذاہب کی درجہ بندی

اس کے بعد مذاہب کی درجہ بندی بھی ضروری ہے۔ ہم جب تقابلِ مذاہب کی بات کرتے ہیں تو ہمارے نزدیک یہودی مسلم جھگڑا اور حنفی غیر مقلد جھگڑا ایک ہی لیول کا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا لہجہ دونوں جگہ ایک ہی ہوتا ہے، گفتگو کا انداز بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ درجہ بندی کے بغیر کسی مذہب سے بات کرنا بنیادی طور پر صحیح بات نہیں ہے۔ درجہ بندی کیا ہے؟ ایک درجہ بندی تو حضرت شاہ ولی اللہؒ نے کی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے ”حجۃ اللہ البالغۃ“ میں درجہ بندی اس اسلوب سے بیان کی کہ 
  1. ایک دائرہ ہے مذاہب و ادیان عیسائی اور یہودی وغیرہ۔
  2. شاہ صاحبؒ اہلِ اسلام میں درجہ بندی کرتے ہوئے اہلِ قبلہ کا دائرہ بناتے ہیں۔ اہلِ قبلہ میں قرآن کریم، جناب نبی کریمؐ، اور قبلہ کی بات کرنے والے سب کو شامل کرتے ہیں۔ ان میں اہلِ سنت تو ہیں ہی۔ مگر خوارج، معتزلہ، روافض اور کرامیہ جیسے اعتقادی فرقوں کو بھی اہلِ قبلہ میں شمار کرتے ہیں۔
  3. تیسرے نمبر پر اہلِ سنت کے داخلی مذاہب، فقہاء کا دائرہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ۔ 
لیکن شاہ صاحبؒ کے زمانے میں بعض باتیں نہیں تھیں جو کہ اب ہو گئی ہیں، اس لیے میری ترتیب میں یہ ہوتا ہے کہ:
  1. سب سے پہلے ادیان و مذاہب جو مستقل ہیں، مثلاً اس وقت آٹھ ارب کے لگ بھگ آبادی میں ہم مسلمانوں کو مجموعی طور پر جن مذاہب سے واسطہ ہے ان میں یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ  اور مجوسی وغیرہ مستقل مذاہب ہیں۔
  2. اس کے بعد ہمیں واسطہ ہے منحرفین سے۔ یہ مستقل دائرہ بن گیا ہے منحرف مذاہب کا جیسے قادیانی، بہائی، نیشن آف اسلام، ذکری، رشادی وغیرہ، جو نام اور ٹائٹل اسلام کا استعمال کرتے ہیں مگر نبوت و وحی کے نام پر نیا مذہب بنا لیا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے زمانے میں یہ دائرہ نہیں تھا، یہ دونوں کفر و اسلام کے دائرے ہیں۔
  3. تیسرے نمبر پر جنہیں شاہ صاحبؒ اہلِ قبلہ کہتے ہیں جو نئی نبوت کی بات نہیں کرتے اور اسلام کی چند بنیادی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں، یہ حق و باطل کا دائرہ ہے۔ ان میں اہلِ سنت اہلِ حق ہیں جبکہ خوارج، معتزلہ، روافض اہلِ باطل ہیں۔
  4. چوتھا دائرہ اہلِ سنت کے داخلی اختلافات کا ہے۔ اس دائرے میں تین ذیلی دائرے ہیں: ایک اعتقادی، دوسرا فقہی، تیسرا روحانی۔ ان تینوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے:
    1. اعتقادی تو یہ ہے کہ تمام اہلِ سنت کے عقائد ایک ہی ہیں البتہ تعبیرات میں فرق ہے۔ اس میں تین مستقل مکاتب ہیں: اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر۔ آج کے دور میں ظواہر کی جگہ سلفی یا اہلِ حدیث ہیں۔ ان میں کچھ متشددین ہیں اور کچھ معتدل، جو کہ ہر جگہ ہوتے ہیں۔
    2. دوسرا دائرہ فقہی احکام و مسائل کا ہے۔ احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ، ظواہر۔ پانچ مکاتبِ فکر ہیں۔ ان میں بھی ایک خطا و صواب کا دائرہ ہے اور ایک اولیٰ و غیر اولیٰ کا دائرہ ہے۔
      • فقہاء کے آپس کے مسائل کی نوعیت خطا و صواب کی ہے۔ ہماری الجھن یہ ہے کہ ہم کسی وقت اولیٰ و غیر اولیٰ کے مسئلہ پر یا خطا و صواب کے مسئلہ پر بات کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہتھیار ہمارے پاس کفر و اسلام کے ہوتے ہیں۔ فقہاء (احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ، ظواہر) کا آپس کا دائرہ خطا و صواب کا دائرہ ہے، حق و باطل کا دائرہ نہیں ہے۔ ہم مجتہد کے بارے میں اصولی بات یہ کرتے ہیں ”المجتھد یخطئ و یصیب“۔ مثال کے طور پر ہم امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہیں ان کے فتوے کو دلیل پوچھے بغیر مانتے ہیں، لیکن یہ کہہ کر مانتے ہیں ”صواب یحتمل الخطاء“ اور اس کو حق و باطل کا عنوان نہیں دیں گے۔ حضرت امام شافعیؒ کے کسی فتویٰ کو ہم قبول نہیں کرتے تو یہ کہہ کر کہ ”خطاء یحتمل الصواب“ اور اس کو باطل نہیں کہیں گے۔
      • اس سے اگلا دائرہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے۔ ہمارے بیسیوں فقہی اختلافات اولیٰ و غیر اولیٰ پر جا کر منتج ہو جاتے ہیں۔ فقہی احکام میں بالخصوص ہم بعض اوقات بہت تشدد کر جاتے ہیں، ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا ہو گا۔ میں حنفی ہوں اور الحمد للہ شعوری حنفی ہوں، متصلب حنفی ہوں، احناف کے دائرے کو سمجھتا بھی ہوں، پابندی بھی کرتا ہوں، عمل بھی کرتا ہوں، تلقین بھی کرتا ہوں۔ لیکن یہ عرض بھی کیا کرتا ہوں کہ حنفیت کے مجادلے میں صحیح ترجمان اور آئیڈیل امام طحاویؒ ہیں۔ حنفی اور غیر فقہی اختلاف کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے میرے ذوق کے مطابق امام طحاویؒ سے بڑا کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔ فقہی مجادلے میں امام طحاویؒ کی ”شرح معانی الآثار“ کی چند خصوصیات کا میں ذکر کیا کرتا ہوں، آپ نے اس کتاب کا کوئی حصہ پڑھا ہو گا، اس کے چند صفحات پر دوبارہ غور کریں۔ طحاوی کی تمہید کی تین چار سطروں میں انہوں نے ذکر کیا کہ فقہی مجادلے کی بنیاد انہوں نے کس پر رکھی ہے۔ امام طحاویؒ کہتے ہیں: احادیث مختلف ہیں، ایک ایک مسئلہ پر تین تین چار چار مختلف احادیث ملتی ہیں جس سے (۱) ملحدین غلط فائدہ اٹھاتے ہیں (۲) اور کمزور ایمان کے مسلمان شک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ دو وجہیں بیان کی ہیں۔ امام طحاویؒ کہتے ہیں میں نے الحاد کو دور کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے تذبذب کو رفع کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔
        گویا فقہی مجادلہ کا بنیادی مقصد امام طحاویؒ کے ہاں اختلافات کو پھیلانا نہیں بلکہ سمیٹنا ہے، شکوک کو بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے۔ امام طحاویؒ نے یہ اسلوب اختیار کیا کہ ایک مسئلہ پر مثلاً تین موقف ہیں تو تینوں کے دلائل الگ الگ بیان کریں گے۔ پہلے مخالفین کے دلائل بیان کریں گے، پوری دیانت داری سے بیان کریں گے، پھر اپنے نقطۂ نظر سے اس میں کمزوری واضح کریں گے۔ پھر دوسرا موقف بیان کریں گے، ان کے دلائل بیان کریں گے، پھر اپنا موقف بیان کریں گے۔ پھر دلائل کا تقابل کریں گے۔ دلائل کے تقابل کی علمی بحث کے بعد اس کی درجہ بندی کریں گے کہ یہ ہمارے نزدیک جواز اور عدمِ جواز کا مسئلہ ہے، یا مکروہ اور غیر مکروہ کا مسئلہ ہے، یا اولیٰ اور غیرا ولیٰ کا مسئلہ ہے۔ اور جہاں اپنے دلائل میں کمزوری محسوس کریں گے وہاں اعتراف کریں گے کہ یہاں ہمارے دلائل کمزور ہیں۔
    3. اور تیسرا دائرہ روحانی ہے۔ صوفیاء کرام کا تزکیہ و اصلاح کا خانقاہی نظام بھی مسلم معاشرے کا حصہ چلا آ رہا ہے۔ ہمارے ہاں نقشبندی، قادری، چشتی اور سہروردی سلسلے روحانی تربیت کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چنانچہ اہلِ سنت کے داخلی دائروں میں اعتقادی تعبیرات کا مسئلہ ہو، یا فقہی احکام کا مسئلہ ہو، یا روحانی سلسلے کا آپس کا کوئی مسئلہ ہو، اس پر حق و باطل کی بات نہیں کریں گے بلکہ خطا و صواب کی بات کریں گے۔

اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی


(500) القلائد کا ترجمہ

قلائد قلادۃ کی جمع ہے۔ اس کا مطلب وہ پٹّا ہے جو کسی کے گلے میں ڈالا جاتا ہے۔ لسان العرب میں ہے: والقِلادَۃ: مَا جُعِل فِی العُنُق یَکُونُ للإنسان والفرسِ والکلبِ والبَدَنَۃِ الَّتِی تُہْدَی ونحوِہا.
راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والْقِلَادَۃُ: المفتولۃ التی تجعل فی العنق من خیط وفضّۃ وغیرہما۔ (المفردات فی غریب القرآن)
درج ذیل دو آیتوں میں دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ایک الْہَدْی ہے، جس کا مطلب قربانی کا جانور ہے۔ دوسرا لفظ  الْقَلَائِد ہے، جس کا معنی گلے کے پٹے ہے۔ مترجمین نے الھدی کا ترجمہ تو قربانی کے جانور کیا، لیکن القلائد  کا ترجمہ پٹے کے بجائے پٹے پڑے ہوئے جانور کیا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ پٹوں کی حرمت کا مفہوم ان کے ذہن نے قبول نہیں کیا تو انھوں نے پٹے پڑے ہوئے جانور مراد لے لیا۔ لیکن اس توجیہ کو کم زور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں الھدی اور القلائد کا مصداق ایک ہی ہوجائے گا۔ دونوں سے مراد قربانی کے جانور جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہوں۔ کیوں کہ اس بات کی ہمیں صراحت ملتی ہے کہ قربانی کے جانور جسے ہدی کہتے ہیں اس کے گلے میں بھی یہ پٹے ڈالے جاتے تھے۔ 
بہتر یہ ہے کہ القلائد کا ترجمہ پٹے ہی کیا جائے۔ پٹے کی اہمیت یہ ہے کہ وہی اصل نشانی ہے،اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانور قربانی کے لیے خاص کیا گیا ہے۔ اس لیے دل میں اس کا بھی احترام ہونا چاہیے۔
(۱)   یَاأیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّہِ وَلَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْیَ وَلَا الْقَلَائِدَ۔ (المائدۃ: 2)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خد ا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ جن کے گلے میں علامتیں آویزاں‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: 
’’نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان کے گلے پر بندھے ہوئے پٹوں کی‘‘۔
(۲) جَعَلَ اللَّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلَائِدَ۔ (المائدۃ: 97)
’’اللہ نے مکان محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنا دیا)‘‘۔ (سید مودودی)
’’حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’قربانی کے جانوروں اور گلے میں پٹے پڑے جانوروں کو شعیرہ ٹھہرایا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں شعیرہ کہنے کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ جس طرح اللہ نے بیت حرام کو قیاما للناس بنایا ہے اسی طرح باقی چیزوں کو بھی قیاما للناس یعنی قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ہے:
’’قربانی کے جانوروں اور گلے میں پڑے ہوئے پٹوں کو‘‘۔

(501) وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ کا ترجمہ

شَنَآنُ شنأ سے ہے، اس کے اندر بغض و نفرت کا مفہوم ہے۔ راغب اصفہانی کے مطابق: شَنِئْتُہُ: تقذّرتہ بغضا لہ، اس لفظ کا صحیح ترجمہ غصہ نہیں بلکہ دشمنی اور نفرت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ کا ترجمہ مشتعل نہ کردے، اس لفظ کی صحیح عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اس کا صحیح مفہوم ہے ’’تم سے ایسا نہ کرائے‘‘ زمخشری لکھتے ہیں: جرم یجری مجری کسب فی تعدیہ إلی مفعول واحد واثنین. تقول: جرم ذنبا، نحو کسبہ. وجرمتہ ذنبا، نحو کسبتہ إیاہ۔ (تفسیر الکشاف)
(۱)  وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أنْ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أنْ تَعْتَدُوا ۔(المائدۃ: 2)
’’اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تواس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو‘‘۔ (سید مودودی)
درج ذیل دونوں ترجمے اس پہلو سے مناسب ہیں:
’’اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری، ’ان پر‘ کے اضافے کی ضرورت نہیں ہے، مطلق زیادتی سے منع کیا گیا ہے۔)
’’اور خبردار کسی قوم کی عداوت فقط اس بات پر کہ اس نے تمہیں مسجد الحرام سے روک دیا ہے تمہیں ظلم پر آمادہ نہ کردے‘‘۔ (ذیشان جوادی، یہاں فقط کا لفظ نامناسب ہے۔ یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ ان کا مسجد حرام سے روکنا چھوٹا جرم تھا، اس لیے فقط اس وجہ سے ایسا نہ کرو۔ بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ جرم تو بہت بڑا ہے پھر بھی وہ زیادتی کے لیے وجہ جواز نہیں بن سکتا)
(۲)  وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی ألَّا تَعْدِلُوا۔ (المائدۃ: 8)
’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ‘‘۔ (سید مودودی، یہاں شَنَآنُ  کا ترجمہ دشمنی تو درست ہے، البتہ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ کا ترجمہ مشتعل نہ کردے مناسب نہیں ہے۔)
’’ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(۳)  وَیَاقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی أنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أوْ قَوْمَ ہُودٍ أوْ قَوْمَ صَالِحٍ۔ (ہود: 89)
’’اور اے برادران قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخر کار تم پر بھی وہی عذاب آ کر رہے جو نوحؑ یا ہودؑ یا صالحؑ کی قوم پر آیا تھا‘‘۔ (سید مودودی، یہاں لَا یَجْرِمَنَّکُمْ کا ترجمہ مناسب ہے۔)

(502) النَّطِیحَۃُ کا ترجمہ

نطح کا مطلب ہے سینگ سے مارنا۔ نَطیحۃُ کہتے ہیں اس جانور کو جو سینگ مارنے سے مر جائے۔ فیروزابادی لکھتے ہیں:
نَطَحَہ، کمنعہ وضَرَبَہ: أصابَہ بقَرْنِہ. وانْتَطَحَتِ الکِباشُ: تَناطَحتْ. والنَّطیحۃُ: التی ماتَتْ منہ۔ (القاموس المحیط)
قرآن میں النَّطِیحَۃُ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا صحیح ترجمہ ہے: وہ جانور جس کی سینگ لگنے سے موت ہوجائے۔ سینگ کے علاوہ کسی ٹکر سے اگر کسی جانور کی موت ہوجاتی ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا مگر قیاس کے تحت نہ کہ لفظ کے حقیقی معنی کی رو سے۔ درج ذیل میں پہلے دونوں ترجمے لفظ کے مطابق نہیں ہیں:
وَالنَّطِیحَۃُ۔ (المائدۃ: 3)
’’یا ٹکر کھا کر مرا ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جو کسی ٹکر سے مرجاوے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور جو سینگ لگ کر مرجائے ‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
نطیحۃ کا مخصوص لفظ شاید اس لیے استعمال کیا گیا کہ جانوروں کی موت کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے۔ 

(503) تَعَاوَنُوا کا ترجمہ

عربی کے تعاون اور اردو کے تعاون میں فرق ہے۔ عربی میں تعاون کا مطلب ہوتا ہے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ اگر کوئی گروہ دوسرے گروہ کی کام میں مدد کرتا ہے تو اس کے لیے تعاون کا لفظ نہیں أعان کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ درج ذیل آیت کے ترجمے میں سب سے تعاون کرو اور کسی سے تعاون نہ کرو اس لفظ کا درست ترجمہ نہیں ہے۔
وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ (المائدۃ: 2)
’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘۔ (سید مودودی)
سب سے تعاون کرو، مدد واعانت کے یک طرفہ عمل کو بتاتا ہے۔ جب کہ یہاں لفظ تعاون آیا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس فعل کی انجام دہی میں سب شریک ہیں۔
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیز گاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور زیادتی پر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(504) یَبْحَثُ فِی الْأَرْضِ  کا ترجمہ

بحث کا مطلب ہوتا ہے تلاش کرنا۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: البحث الکشف والطلب، یقال بحثت عن الأمر وبحثت کذا، قال اللہ تعالی:  فبعث اللہ غرابا یبحث فی الأرض۔ (المفردات)
درج ذیل آیت میں کوّے کے لیے یبحث فی الأرض کے الفاظ استعمال ہوئے۔ اس کا ترجمہ بہت سے لوگوں نے ’کھودنا‘ کیا ہے۔ لیکن لفظ کی بھرپور رعایت ’کریدنا‘ سے ہوتی ہے۔ آیت کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ کوّا اس طرح سے زمین کرید رہا تھا گویا وہ زمین میں چھپائی ہوئی کوئی چیز تلاش کررہا ہو۔ اس سے اس قاتل بھائی کا ذہن اس طرف گیا کہ زمین چھپانے کے لیے مناسب جگہ ہے۔ گویا کوّے سے کھودنے کی تعلیم نہیں بلکہ چھپانے کی تعلیم ملی۔ 
فَبَعَثَ اللَّہُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْأرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْفَ یُوَارِی سَوْءَ ۃَ أَخِیہِ۔ (المائدۃ: 31)
’’پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے‘‘۔ (سید مودودی)
’’پھر خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا کہ اسے دکھلائے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے گا‘‘۔ (ذیشان جوادی)
’’پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی نعش کو چھپا دے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودتا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا کریدتا زمین کو کہ اس کو دکھاوے کس طرح چھپانا ہے عیب اپنے بھائی کا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(505) سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا ترجمہ

سمع کا مطلب سننا ہے اور اطاع کا مطلب ماننا ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ دونوں الفاظ ایک ساتھ آئے ہیں، اس لیے نہیں کہ سمع اور اطاعت دونوں ہم معنی لفظ ہیں، بلکہ اس لیے کہ دونوں ساتھ مل کر ایک خاص مفہوم ادا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ سننے کے بعد فورًا اطاعت کی، ذرا دیر نہیں کی۔ اردو میں سمع و طاعت کا مرکب اس طرح عام ہوا کہ گویا دونوں کا معنی ایک ہے۔ صاحب تدبر قرآن سے بھی یہ تسامح ہوگیا۔ انھوں نے سمعنا  کا ترجمہ کیا ہم نے مانا، قرآن مجید میں سمع  کے متعدد استعمالات میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔ لغت بھی اس کی تائید نہیں کرتی ہے۔ خود صاحب تدبر نے دو جگہ ماننا اور دو جگہ سننا ترجمہ کیا ہے۔ 
(۱)  وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأطَعْنَا۔ (البقرۃ: 285)
’’اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۲)  إذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأطَعْنَا۔ (المائدۃ: 7)
’’جب کہ تم نے اقرار کیا کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
مذکورہ بالا دونوں مقامات پر درست ترجمہ ہے ’’ہم نے سنا اور اطاعت کی‘‘۔
(۳)  أنْ یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأطَعْنَا۔ (النور: 51)
’’تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۴)  وَاسْمَعُوا وَأطِیعُوا۔ (التغابن: 16)
’’اور سنو اور مانو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(506) فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِینَ

جب ہم اردو میں وہ نادم ہوا، شرمندہ ہوا اور پشیمان ہوا کہتے ہیں، تو ذہن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ تائب ہوگیا۔ قرآن مجید میں أصْبَحَ مِنَ النَّادِمِینَ جیسی تعبیرات جہاں آئی ہیں وہاں مراد یہ ہے کہ پچھتانا اب اس کا مقدر ہوگیا۔ بعض لوگوں نے ترجمے میں اس مفہوم کو نمایاں کرنے کا اہتمام کیا ہے، بعض ترجمے پیش ہیں: 
(۱)  فَأصْبَحَ مِنَ النَّادِمِینَ۔ (المائدۃ: 31)
’’اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا‘‘۔ (سید مودودی)
’’ پھر تو (بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہوگیا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ پھر وہ پشیمان ہوا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’تو پچھتاتا رہ گیا‘‘۔ (احمدرضا خاں)
آخری ترجمے میں جملے کے مفہوم کو خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔
(۲)  فَعَقَرُوہَا فَأصْبَحُوا نَادِمِینَ۔ (الشعراء: 157)
’’مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے‘‘۔ (سید مودودی)
’’اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے‘‘۔ (احمد رضا خان)
یہ دونوں ترجمے مفہوم کو خوبی سے بیان کرتے ہیں۔

(507) یُسَارِعُونَ فِیہِمْ کا ترجمہ

سارع فیہ کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنا۔ قرآن میں اس کی کئی واضح مثالیں ہیں۔ جیسے: یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ (آل عمران: 176)، یُسَارِعُونَ فِی الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدۃ: 62)، یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ (الانبیاء: 90)۔ درج ذیل آیت میں یسارعون فیھم آیا ہے، اس سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں فی برائے ظرف ہوگا۔ لیکن یہاں بھی یہ صلہ مفعول ہی ہے۔  
فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَض یُسَارِعُونَ فِیہِمْ۔ (المائدۃ: 52)
’’تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا تینوں ترجموں میں فی کو ظرفیہ مانا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُن کی طرف لپک رہے ہیں‘‘۔

(508) اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ کا ترجمہ

اتَّبَعَ کا مطلب پیروی کرنا ہوتا ہے، طلب کرنا نہیں۔ لغت کے علاوہ قرآن کے تمام استعمالات سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ درج ذیل آیت میں چوں کہ اتَّبَعَ کا مفعول بہ رضوان ہے، شاید اس لیے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہاں اتَّبَعَ طلب کے معنی میں ہے۔ کیوں کہ رضائے الٰہی کی پیروی کیسے کی جائے گی، اس کی تو طلب کی جائے گی۔
یَہْدِی بِہِ اللَّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلَامِ۔ (المائدۃ: 16)
’’اس کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں دکھا رہا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالی ایسے شخصوں کو جو رضائے حق کے طالب ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
تاہم اگر اس پہلو سے دیکھا جائے کہ رضائے الٰہی کی پیروی یہ ہے کہ وہ کام کیے جائیں جن سے رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہو تو اتَّبَعَ کا لغت کے مطابق ترجمہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں رہ جاتا ہے۔ درج ذیل ترجمہ مناسب ہے۔ اس میں لفظ کے لغوی معنی کی رعایت کی گئی ہے:
’’جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

(509) یَمْلِکُ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا کا ترجمہ

ملک لہ شیئا کا مطلب ہوتا ہے کسی کے سلسلے میں کوئی اختیار رکھنا۔ جیسے آیا ہے:
قُلْ إنِّی لَا أمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا۔ (الجن: 21)
’’کہہ دو میں نہ تمہارے لیے کسی ضرر پر کوئی اختیار رکھتا نہ کسی نفع پر‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
جب اس میں من بھی آجائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کسی کے مقابلے میں کوئی اختیار رکھنا۔
قرآن کی کئی آیتوں میں یہ اسلوب آیا ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں ’من‘     ’سے‘ کے معنی میں لیا ہے کہ اللہ کی طرف سے اختیار ملنا۔ جن آیتوں میں یہ اسلوب آیا ہے ان کے سیاق وسباق پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے اختیار پانے کی بات نہیں بلکہ اللہ کے مقابلے میں اختیار رکھنے اور اللہ کے اختیار میں دخل دینے کی بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مَنْ یَمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْئًا کا مطلب اللہ پر اختیار رکھنا نہیں ہے بلکہ اللہ کے مقابل اختیار رکھنا اور اپنی چلانا ہے۔ 
مختلف مقامات پر یہ دونوں غلطیاں مختلف ترجموں میں نظر آتی ہیں۔
(۱)  قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْئًا إنْ أرَادَ أنْ یُہْلِکَ الْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَأمَّہُ وَمَنْ فِی الْأرْضِ جَمِیعًا۔ (المائدۃ: 17)
’’پوچھو، کون اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور جو زمین میں ہیں ان سب کو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، ’کون اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہے‘ کی جگہ ’کسے اللہ کے فیصلے کو بدلنے کا اختیار ہے‘ ہونا چاہیے۔)
’’ ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اُس کو اِس ارادے سے باز رکھ سکے؟‘‘۔ (سید مودودی، اللہ کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کی بات نہیں ہے، درست ترجمہ ہے: کس کی اس کے آگے کچھ چل سکتی ہے؟) 
’’پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو‘‘۔ (احمد رضا خان، ’اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے‘ درست نہیں ہے۔ ’اللہ کے مقابلے میں کیا کرسکتا ہے‘ درست ترجمہ ہے۔)
’’آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، ’اللہ پر اختیار رکھتا ہو‘ غلط ترجمہ ہے۔ درست ترجمہ ہے ’اللہ کے مقابلے میں اختیار رکھتا ہو‘)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(۲)  وَمَنْ یُرِدِ اللہُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنَ اللہِ شَیْئًا۔  (المائدۃ: 41)
’’جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے‘‘۔ (سید مودودی، یہاں فتنہ میں ڈالنے کی بات ہے تو گرفت سے بچانے کی بات کہاں سے آگئی؟) 
’’اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لیے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، یہ ترجمہ الفاظ سے الگ ہٹ کر کیا گیا ہے۔)
’’ اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری، ’خدا سے اختیار‘ ترجمہ کرنا درست نہیں ہے)
’’اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا‘‘۔ (احمد رضا خان، یہاں ’اللہ سے‘ درست نہیں ہے، اللہ کے مقابلے میں ہونا چاہیے)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اور جس کو اللہ فتنہ میں ڈالنا چاہے تو تم اللہ کے مقابل اس کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۳) فَلَا تَمْلِکُونَ لِی مِنَ اللہِ شَیْئًا۔ (الاحقاف: 8)
’’تو تم میرے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں ’اللہ کی طرف سے‘ درست نہیں ہے۔ ’اللہ کے مقابلے‘ میں ہونا چاہیے۔)
’’تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے‘‘۔ (احمد رضا خان، ’میرا اختیار نہیں رکھتے‘ کے بجائے ’میرے حق میں کچھ نہیں کرسکتے‘ ہونا چاہیے)
درج ذیل ترجمہ اس پہلو سے درست ہے:
’’تو تم میرا بھلا نہیں کرسکتے اللہ کے سامنے کچھ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
(۴) قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللہِ شَیْئًا إنْ أرَادَ بِکُمْ ضَرًّا أوْ أرَادَ بِکُمْ نَفْعًا۔ (الفتح: 11)
’’ان سے کہ، کون ہے جو تمہارے لیے اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہو اگر وہ تم کو کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے؟‘‘۔(امین احسن اصلاحی، ’اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہو‘ کے بجائے ’اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار رکھتا ہو‘ ہونا چاہیے۔)
’’آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں ’اللہ کی طرف سے‘ کے بجائے ’اللہ کے مقابلے میں‘ ہونا چاہیے۔)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
(۵)  وَمَا أمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ مِنْ شَیْئٍ۔ (الممتحنہ: 4)
’’اگرچہ میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ’اللہ کی طرف سے‘ کے بجائے ’اللہ کے مقابلے میں‘ ہونا چاہیے۔)
’’اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے‘‘۔ (سید مودودی، یہ ترجمہ الفاظ سے ہم آہنگ نہیں ہے)  
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(۶)  لَا یَمْلِکُونَ مِنْہُ خِطَابًا۔ (النبأ: 37)
’’جس کی طرف سے یہ کوئی بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، ’جس کی طرف سے‘ کے بجائے ’جس کے سامنے‘ ہونا چاہیے)
درج ذیل ترجمے درست ہیں:
’’جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے‘‘۔ (احمد رضا خان)

(510)  فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ کا ترجمہ

متعدد مترجمین نے درج ذیل جملے میں فَافْرُقْ کا ترجمہ جدائی ڈال دے کیا ہے۔  
فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ۔(المائدۃ: 25)
’’پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان علیحدگی کردے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) 
’’ پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کردے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’پس تو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے‘‘۔ (سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں فرق جدائی اور علیحدگی کرنے کے مفہوم میں نہیں بلکہ فرق اور امتیاز کرنے کے معنی میں ہے۔ وہ ترجمہ تجویز کرتے ہیں:
’’پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان الگ الگ معاملہ کر‘‘۔
درج ذیل ترجمہ بھی اسی مفہوم کی ادائیگی کرتا ہے:
’’سو فرق کر ہمارے اور بے حکم قوم میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

خطبہ حجۃ الوداع کی روایات

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

نوٹ: روایات کا انتخاب اور تخریج درج ذیل دو سی ڈیز کی مدد سے کی گئی ہے:
۱۔  موسوعۃ الحدیث الشریف (الکتب التسعۃ) ، شرکۃ البرامج الاسلامیۃ الدولیۃ، الاصدار الثانی
۲۔  المکتبۃ الالفیۃ للسنۃ النبویۃ ، مرکز التراث لابحاث الحاسب الآلی، الاصدار 1.5


یوم عرفہ (۹ ذی الحجہ) سے متعلق روایات

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ: غدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من منی حین صلی الصبح صبیحۃ یوم عرفۃ حتی اتی عرفۃ فنزل بنمرۃ وہی منزل الامام الذی ینزل بہ بعرفۃ حتی اذا کان عند صلاۃ الظہر راح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہجرا فجمع بین الظہر والعصر ثم خطب الناس ۔ (ابو داؤد، رقم ۱۶۳۴)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یوم عرفہ (۹ ذو الحجہ) کو صبح کی نماز ادا کر لی تو آپ منیٰ سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ میدان عرفات میں پہنچ گئے۔ آپ نے نمرہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا جو عرفہ میں امام کے قیام کرنے کی جگہ ہے۔ جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ذرا جلدی روانہ ہوئے، ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا کی اور پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔‘‘
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ:  رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب علی جمل احمر بعرفۃ قبل الصلاۃ۔  (نسائی، ۲۹۵۷)
’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عرفہ میں نماز سے قبل ایک سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دے رہے تھے۔‘‘
خالد بن العذاء بن ہوذۃ رضی اللہ عنہ: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب الناس یوم عرفۃ علی بعیر قائم فی الرکابین۔  (ابو داؤد، ۱۶۳۸)
’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ یوم عرفہ کو ایک اونٹ پر اس کی دونوں رکابوں میں پاؤں جما کر کھڑے تھے اور خطبہ دے رہے تھے۔‘‘
عبادۃ بن عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ:  قال کان ربیعۃ بن امیۃ بن خلف الجمحی ہو الذی یصرخ یوم عرفۃ تحت لبۃ ناقۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصرخ وکان صیتا ۔ (المعجم الکبیر، ۴۶۰۳)  
’’یوم عرفہ کو ربیعہ بن امیہ بن خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سینے کے نیچے کھڑے (آپ کے کلمات کو) بلند آواز سے دہرا رہے تھے۔ ان کی آواز بہت بلند تھی اور آپ نے ان سے کہا تھا کہ اونچی آواز سے (یہ کلمات) کہو (جو میں کہہ رہا ہوں)‘‘۔
 یقول لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قل یا ایہا الناس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ....۔  (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۶/۱۰)
’’آپ ربیعہ سے کہتے کہ کہو: اے لوگو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ...‘‘۔
[ ابن عباس (المعجم الکبیر، ۱۱۳۹۹۔ صحیح ابن خزیمہ، ۲۹۲۷) ]
 محمد بن قیس بن مخرمۃ: خطب یوم عرفۃ فقال ہذا یوم الحج الاکبر۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۰۴)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روزہ خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے۔‘‘
[مرۃ الطیب عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مسند احمد، ۱۵۳۲۲)]
عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید:  قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ: الیوم الذی یعرف الناس فیہ۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۶۰۹۔ سنن الدارقطنی، ۲/۲۲۳)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن فرمایا کہ آج وہ دن ہے جس میں لوگ عرفات میں ٹھہریں گے۔‘‘
زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو بعرفۃ یقرا ہذہ الآیۃ شہد اللہ انہ لا الہ الا ہو والملئکۃ واولو العلم قائما بالقسط لا الہ الا ہو العزیز الحکیم وانا علی ذلک من الشاہدین۔ (مسند احمد، ۱۳۴۷)
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: شہد اللہ انہ لا الہ الا ہو والملئکۃ واولو العلم قائما بالقسط لا الہ الا ہو العزیز الحکیم (اللہ بھی گواہی دیتا ہے اور فرشتے اور اہل علم بھی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے) رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔‘‘
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما:  ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطب بعرفات فلما قال لبیک اللہم لبیک قال انما الخیر خیر الآخرۃ ۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۸۸۱۶)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں خطبہ دیا۔ جب آپ ’لبیک اللہم لبیک‘ کہہ چکے تو فرمایا کہ اصل بھلائی تو آخرت ہی کی بھلائی  ہے۔‘‘
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ:  یا ایہا الناس خذوا مناسککم فانی لا ادری لعلی غیر حاج بعد عامی ہذا۔  (طبرانی، المعجم الاوسط، ۱۹۲۹) 
’’اے لوگو! حج کے مناسک سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد مجھے حج کرنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔‘‘
مسور بن مخرمۃ رضی اللہ عنہ:  [خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعرفۃ فحمد اللہ واثنی علیہ ثم قال اما بعد] ان اہل الجاہلیۃ کانوا یدفعون من عرفۃ حین تکون الشمس کانہا  عمائم الرجال فی وجوہہم قبل ان تغرب ومن المزدلفۃ بعد ان تطلع الشمس حین تکون کانہا عمائم الرجال فی وجوہہم وانا لا ندفع من عرفۃ حتی تغرب الشمس وندفع من المزدلفۃ قبل ان تطلع الشمس ہدینا مخالف لہدی اہل الاوثان والشرک ۔ (مسند الشافعی، ۱/۳۶۹۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۰۴)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میدان عرفات میں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اہل جاہلیت عرفہ سے سورج کے غروب ہونے سے قبل اس وقت روانہ ہو جاتے تھے جب سورج اس طرح نمایاں ہوتا جیسے مردوں (کے سروں پر ان) کی پگڑیاں ہوتی ہیں، اور مزدلفہ سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اس وقت روانہ ہو جاتے تھے جب سورج طلوع ہو کر اس طرح نمایاں ہوچکا ہوتا جیسے مردوں (کے سروں پر ان) کی پگڑیاں ہوتی ہیں، لیکن ہم عرفہ سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوں گے جب تک سورج غروب نہ ہو جائے، اور مزدلفہ سے سورج کے طلوع ہونے سے قبل روانہ ہو جائیں گے۔ ہمارا طریقہ بت پرستوں اور اہل شرک کے طریقے کے خلاف ہے۔‘‘
عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ:  قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ ایہا الناس ان اللہ تطول علیکم فی ہذا الیوم فیغفر لکم الا التبعات فی ما بینکم ووہب مسیئکم لمحسنکم واعطی محسنکم ما سال اندفعوا بسم اللہ۔  (مصنف عبد الرزاق، ۸۸۳۱)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن اللہ تعالیٰ نے تم پر خاص عنایت فرمائی ہے اور تمھارے گناہ بخش دیے ہیں، سوائے ان حق تلفیوں کے جو تم نے آپس میں ایک دوسرے کی کی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تم میں سے خطا کاروں کو تم میں سے نیکو کاروں کے حوالے کر دیا ہے اور نیکو کاروں نے جو مانگا ہے، وہ انھیں عطا کر دیا ہے۔ اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔‘‘
ام الحصین رضی اللہ عنہا:  سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعرفات یخطب یقول غفر اللہ للمحلقین ثلاث مرار قالوا والمقصرین فقال والمقصرین فی الرابعۃ۔ (مسند احمد، ۲۶۰۰۳)
’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ اللہ سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ آپ نے یہ دعا تین مرتبہ مانگی۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ، بال کٹوانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ نے چوتھی مرتبہ کہا کہ یا اللہ، بال کٹوانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔‘‘
ابن عباس رضی اللہ عنہ: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب بعرفات من لم یجد النعلین فلیلبس الخفین ومن لم یجد ازارا فلیلبس سراویل للمحرم۔  (بخاری، ۱۷۱۰)
’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں جسے چپل نہ میسر ہوں، وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہ بند نہ ہو، وہ سلی ہوئی شلوار پہن سکتا ہے۔‘‘
ام الفضل رضی اللہ عنہا: انہم شکوا فی صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ فارسلت الیہ بلبن فشرب وہو یخطب الناس بعرفۃ علی بعیرہ۔ (مسند احمد، ۲۵۶۴۷۔ مسند اسحاق بن راہویہ (۴۔۵)  ۱/۲۶۷)
’’لوگوں کو عرفہ کے دن شک ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں یا نہیں، تو ام الفضل نے آپ کے لیے دودھ بھیجا جسے آپ نے نوش فرمایا جبکہ آپ اپنے اونٹ پر سوار میدان عرفات میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔‘‘
نبیشۃ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  نادی رجل وہو بمنی فقال یا رسول اللہ انا کنا نعتر عتیرۃ فی الجاہلیۃ فی رجب فما تامرنا یا رسول اللہ قال اذبحوا فی ای شہر ما کان وبروا اللہ عزوجل واطعموا قال انا کنا نفرع فرعا فما تامرنا قال فی کل سائمۃ فرع تغذوہ ماشیتک حتی اذا استحمل ذبحتہ وتصدقت بلحمہ۔  (نسائی، السنن الصغریٰ، ۴۱۵۶)
’’ایک شخص نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا یا رسول اللہ! ہم جاہلیت کے زمانے میں رجب کے مہینے میں ایک جانور قربان کیا کرتے تھے، پس اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو، قربانی کرو اور اللہ کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر و اور (قربانی کا گوشت) لوگوں کو کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم اونٹنی کے پہلے بچے کو بھی ذبح کیا کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (صرف اونٹنی میں نہیں، بلکہ) ہر چرنے والے جانور کے پہلے بچے کو (اللہ کے نام پر) ذبح کرنا درست ہے، (لیکن اسے پیدا ہوتے ہی ذبح نہ کرو، بلکہ) تمھارے مواشی اس کو دودھ پلائیں، یہاں تک کہ جب وہ سواری کے قابل ہو جائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کر دو۔‘‘
زید بن اسلم عن رجل عن ابیہ او عمہ:  شہدت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعرفۃ وسئل عن العقیقۃ فقال لا احب العقوق ومن ولد لہ ولد واحب ان ینسک عنہ فلینسک  وسئل عن العتیرۃ فقال حق وسئل عن الفرع فقال حق ولیس ہو ان تذبحہ غراۃ من الغراء  ولکن تمکنہ من مالک حتی اذا کان بن لبون او بن مخاض زخربا یعنی ذبحتہ وذلک خیر من ان تکفا اناء ک وتولہ ناقتک وتذبحہ یختلط لحمہ بشعرہ۔  (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۹۱۲۵)
’’میں میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ’عقوق‘ کو پسند نہیں کرتا۔ جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ آپ سے عتیرہ (رجب میں کی جانے والی قربانی) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ درست ہے۔ آپ سے فرع (یعنی اونٹنی کے پہلے بچے کو ذبح کرنے) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ بھی درست ہے، لیکن اس کا طریقہ یہ نہیں کہ تم اسے (پیدا ہوتے ہی) ذبح کر دو جبکہ اس کی ماں کا دل اس کے ساتھ بندھا ہوا ہے، بلکہ تم اسے اپنے مال میں سے کھلاؤ پلاؤ یہاں تک کہ جب وہ ایک سال یا دو سال کا ہو جائے اور خوب پل جائے تو پھر اسے ذبح کرو۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے برتن کو انڈیل دو، اپنی اونٹنی کو (بچے کی جدائی کے غم میں) باؤلا کر دو اور بچے کو اس طرح ذبح کرو کہ اس کا گوشت اور اس کے بال آپس میں چپکے ہوئے ہوں۔‘‘
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہا: انہ لقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع وہو علی ناقتہ العضباء [وہو بمنی او بعرفات ویجئ الاعراب فاذا راوا وجہہ قالوا ہذا وجہ مبارک] [وکان الحارث رجلا جسیما فنزل الیہ الحارث فدنا منہ حتی حاذی وجہہ برکبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاہوی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمسح وجہ الحارث فما زال نضرۃ علی وجہ الحارث حتی ہلک] فاتیتہ من احد شقیہ فقلت یا رسول اللہ بابی انت وامی استغفر لی فقال غفر اللہ لکم ثم اتیتہ من الشق الآخر ارجو ان یخصنی دونہم فقلت یا رسول اللہ استغفر لی فقال بیدہ غفر اللہ لکم [فذہب یبزق فقال بیدہ فاخذ بہا بزاقہ فمسح بہ نعلہ کرہ ان یصیب احدا ممن حولہ]  فقال رجل من الناس یا رسول اللہ العتائر والفرائع قال من شاء عتر ومن شاء لم یعتر ومن شاء فرع ومن شاء لم یفرع، فی الغنم اضحیتہا وقبض اصابعہ الا واحدۃ [وفی روایۃ: وقال باصبع کفہ الیمنی فقبضہا کانہ یعقد عشرۃ ثم عطف الابہام علی مفصل الاصبع الوسطی ومد اصبعہ السبابۃ وعطف طرفہا یسرا یسرا]۔ (نسائی، ۴۱۵۴۔ مسند احمد، ۱۵۴۰۵۔ طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱، ۳۳۵۲۔ الآحاد والمثانی، ۱۲۵۷)
’’حجۃ الوداع کے موقع پر حارث بن عمرو کی ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور آپ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے۔ آپ منیٰ یا عرفات میں تھے اور بدو لوگ آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو بہت مبارک چہرہ ہے۔ حارث بھاری جسم کے آدمی تھے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، یہاں تک کہ ان کا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے برابر آ گیا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھک کر حارث کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کی برکت سے وفات تک حارث کے چہرے پر تروتازگی قائم رہی۔ حارث کہتے ہیں کہ میں ایک طرف سے آپ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔آپ نے فرمایا: اللہ تم سب کی مغفرت کرے۔ پھر میں اس امید پر دوسری طرف سے آیا کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تم سب کی مغفرت کرے۔ آپ نے تھوک پھینکنا چاہی تو اس خدشے سے کہ اردگرد موجود لوگوں میں سے کسی پر جا پڑے گی، آپ نے اپنے ہاتھ میں تھوک پھینک کر اسے اپنے جوتوں کے ساتھ صاف کر دیا۔ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! عتیرہ اور فرع کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا جو چاہے، عتیرہ کی قربانی کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اور جو چاہے، اونٹنی کے پہلے بچے کو قربان کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ بکریوں میں بس ایک (عید الاضحیٰ) کی قربانی ہی لازم ہے۔ آپ نے ایک انگلی کے علاوہ ہاتھ کی باقی انگلیاں بند کر لیں۔ [ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کو یوں بند کر لیا جیسے دس کا عدد بنا رہے ہوں۔ پھر انگوٹھے کو درمیانی انگلی کے جوڑ پر رکھ دیا اور شہادت کی انگلی کو کھڑا کر کے اس کے کنارے کو تھوڑا سا ٹیڑھا کر لیا۔]‘‘
حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ:  انتہیت الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ قال وہو یقول ہل تعرفونہا قال فما ادری ما رجعوا علیہ قال فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی کل بیت ان یذبحوا شاۃ فی کل رجب وکل اضحی شاۃ  (مسند احمد، ۱۹۸۰۴۔ مصنف عبد الرزاق، ۸۱۵۹)
’’میں عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو آپ فرما رہے تھے کیا تم اس کو جانتے ہو؟ مجھے نہیں معلوم کہ لوگوں نے کیا جواب دیا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اہل خانہ پر لازم ہے کہ وہ رجب کے مہینے میں ایک بکری ذبح کریں، اور ہر قربانی ایک بکری کی ہونی چاہیے۔‘‘
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ: یا ایہا الناس علی کل اہل بیت فی کل عام اضحیۃ وعتیرۃ ہل تدرون ما العتیرۃ ہی التی تسمونہا الرجبیۃ۔ (ترمذی، ۱۴۳۸)
’’اے لوگو! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی اور ایک عتیرہ لازم ہے۔ (راوی کہتا ہے کہ) کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو تم رجب کی قربانی کہتے ہو۔‘‘
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ:  ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم سئل عنہا یوم عرفۃ فقال ہی حق یعنی العتیرۃ۔ (المعجم الاوسط، ۶۲۳۰)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ حق ہے۔‘‘
حرملۃ بن عمرو رضی اللہ عنہ: حججت حجۃ الوداع مردفی عمی سنان بن سنۃ قال فلما وقفنا بعرفات رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضعا احدی اصبعیہ علی الاخری فقلت لعمی ماذا یقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یقول ارموا الجمرۃ بمثل حصی الخذف۔  (مسند احمد، ۱۸۲۴۳)
’’میں حجۃ الوداع میں شریک تھا اور میرے چچا سنان بن سنۃ نے مجھے (سواری پر) اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ جب میں عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ایک انگلی دوسری انگلی پر رکھی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ آپ فرما رہے ہیں کہ جمرات پر اتنے چھوٹے کنکروں سے رمی کرو جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکے جا سکیں۔‘‘
عبد الرحمن بن معاذ التیمی رضی اللہ عنہ: نحن بمنی قال ففتحت اسماعنا حتی ان کنا لنسمع ما یقول ونحن فی منازلنا قال فطفق یعلمہم مناسکہم حتی بلغ الجمار فقال بحصی الخذف ووضع اصبعیہ السبابتین احداہما علی الاخری۔  (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۲/۱۸۵)
’’ہم منیٰ میں تھے کہ ہماری شنوائی تیز ہو گئی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ جو فرما رہے تھے، ہم اپنے اپنے ٹھکانوں میں بیٹھے اس کو سن رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوںکو حج کے مناسک کی تعلیم دینے لگے، یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو فرمایا کہ اتنے چھوٹے کنکروں سے رمی کرو جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکے جا سکیں۔ آپ نے (چھوٹے کنکر کا حجم بتانے کے لیے) اپنی دوانگلیوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا۔‘‘
حبشی بن جنادۃ السلولی رضی اللہ عنہ: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع بعرفۃ واتاہ اعرابی فاخذ بطرف رداء ہ فسالہ ایاہ فاعطاہ فعند ذلک حرمت المسالۃ وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان المسالۃ لا تحل لغنی ولا لذی مرۃ سوی الا لذی فقر مدقع او غرم مفظع ومن سال الناس لیشتری مالہ کان خموشا فی وجہہ یوم القیامۃ ورضفا یاکلہ من جہنم فمن شاء فلیقل ومن شاء فلیکثر۔  (الآحاد والمثانی، ۱۵۱۲)
’’میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، ایک اعرابی آیا اور اس نے آپ کی چادر کا کنارہ پکڑا اور آپ سے سوال کیا۔ آپ نے اس کو کچھ دے دیا۔ اس موقع پر سوال کرنا ممنوع قرار دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوال کرنا نہ کسی مال دار کے لیے حلال ہے اور نہ کسی تنومند اور صحت مند شخص کے لیے۔ ہاں شدید غربت زدہ یا قرض کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا شخص سوال کر سکتا ہے۔ اور جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرے گا، اس کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر زخموں کی صورت میں نمایاں ہوگا اور اسے جہنم کے گرم اور تپتے ہوئے پتھر کھانے پڑیں گے۔ پس جو چاہے کم سوال کرے اور جو چاہے زیادہ۔‘‘

یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) سے متعلق روایات

رافع بن عمرو المزنی رضی اللہ عنہ:  ونبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب الناس علی بغلۃ شہباء وعلی یعبر عنہ یوم النحر حتی ارتفع الضحی بمنی۔  (نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۴۔ الآحاد والمثانی، ۱۰۹۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۴۰۰)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر (۱۰ ذو الحجہ) کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطاب کر رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی بات کو لوگوں تک پہنچا رہے تھے، یہاں تک کہ دن خوب چڑھ گیا۔ ‘‘
عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ: کنت آخذا بزمام ناقۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اوسط ایام التشریق اذود عنہ الناس۔ (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)
’’ایام التشریق کے وسط میں (یعنی ۱۰ ذو الحجہ کو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھام رکھتی تھی اور میں لوگوں کو آپ سے پرے ہٹا رہا تھا۔‘‘
ابو کاہل عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب علی ناقۃ آخذ بخطامہا عبد حبشی۔  (نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۶)
’’میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر سوار لوگوں کو خطبہ دے رہے ہیں اور اونٹنی کی نکیل ایک حبشی غلام نے پکڑ رکھی ہے۔‘‘
سلمۃ بن نبیط الاشجعی رضی اللہ عنہ: ان اباہ قد ادرک النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان ردفا خلف ابیہ فی حجۃ الوداع قال فقلت یا ابت ارنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال قم فخذ بواسطۃ الرحل قال فقمت فاخذت بواسطۃ الرحل فقال انظر الی صاحب الجمل الاحمر الذی یؤمی بیدہ فی یدہ القضیب۔  (مسند احمد، ۱۷۹۷۶)
’’نبیط اشجعی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ حجۃ الوداع میں اپنے والد کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اے ابا جان، مجھے دکھائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ والد نے کہا کہ اٹھ کر پالا ن کے اگلے حصے کو پکڑ لو۔ پس میں اٹھا اور میں نے پالان کے اگلے حصے کو پکڑ لیا۔ پھر انھوں نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو جو سرخ اونٹ پر سوار ہے اور اس کے ہاتھ میں چھڑ ی پکڑی ہوئی ہے اور وہ ہاتھ کے اشارے سے (گفتگو کر) رہا ہے۔‘‘
ام الحصین رضی اللہ عنہا: رمی جمرۃ العقبۃ ثم انصرف فوقف الناس وقد جعل ثوبہ من تحت ابطہ الایمن علی عاتقہ الایسر قال فرایت تحت غضروفہ الایمن کہیئۃ جمع  [فانا انظر الی عضلۃ عضدہ ترتج]۔ (صحیح ابن حبان، ۴۵۶۴۔ ترمذی، ۱۶۲۸)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پررمی کی، پھر واپس آئے اور لوگوں کوروک لیا۔ آپ نے اپنی چادر اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں (کندھے کی) نرم ہڈی کے نیچے مٹھی کی طرح (گوشت کا) ایک ابھار ہے، اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپ کے بازو کے عضلات (حرکت کی وجہ سے) پھڑک رہے ہیں۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: وہو علی ناقتہ الجدعاء قد ادخل رجلیہ فی الغرز ووضع احدی یدیہ علی مقدم الرحل والاخری علی موخرہ یتطاول بذلک۔ (المعجم الکبیر، ۷۶۷۶۔ مسند احمد، ۲۱۱۴۰) 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی، جدعا پر سوار تھے، آپ نے دونوں پاؤں رکاب میں جما رکھے تھے اور آپ کا ایک ہاتھ پالان کے اگلے حصے پر جبکہ دوسرا اس کے پچھلے حصے پر رکھا ہوا تھا۔ اس طرح آپ (اونچے ہو کر) لوگوں کو نمایاں دکھائی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: لما کان فی حجۃ الوداع قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو یومئذ مردف الفضل بن عباس علی جمل آدم۔ (مسند احمد، ۲۱۲۵۹۔ المعجم الکبیر، ۷۸۹۸)
’’حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ کے لیے) ایک گندمی رنگ کے اونٹ پر کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے فضل بن عباس بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ فی حجۃ الوداع استنصت الناس۔  (بخاری، ۱۱۸، ۴۰۵۳)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جریر بن عبد اللہ سے کہا کہ لوگوں کو چپ کراؤ۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  قال یا ایہا الناس انصتوا فانکم لعلکم لا ترونی بعد عامکم ہذا۔  (المعجم الکبیر، ۷۶۷۶)  
’’آپ نے فرمایا کہ لوگو، خاموش ہو جاؤ، کیونکہ ہو سکتا ہے اس سال کے بعد تم مجھے نہ دیکھ سکو۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: کان اول ما تفوہ بہ ان قال ان اللہ عزوجل یوصیکم بامہاتکم ثم حمد اللہ عزوجل ثم قال ما شاء اللہ ان یقول۔ (المعجم الکبیر، ۷۶۴۷)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی بات جو فرمائی، وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے ہیں۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور اس کے بعد جو ارشاد فرمانا چاہا، فرمایا۔‘‘
سلمۃ بن قیس الاشجعی رضی اللہ عنہ:   الا انما ہن اربع ان لا تشرکوا باللہ شیئا ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا تزنوا ولا تسرقوا۔ (مسند احمد، ۱۸۲۲۰)
’’آگاہ رہو! ان چار باتوں سے بچنا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خدا کی حرام کردہ کسی جان کو ناحق قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: ایہا الناس لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم وصوموا شہرکم وادوا زکاۃ اموالکم طیبۃ بہا انفسکم واطیعوا ولاۃ امرکم تدخلوا جنۃ ربکم۔ (مسند الشامیین، ۵۴۳۔ الآحاد والمثانی، ۲۷۷۹)
’’اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمھارے بعد کوئی امت نہیں۔ پس اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، رمضان کے مہینے کے روزے رکھو، پوری خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو۔ ایسا کرو گے تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘
[ابو قتیلۃ  (طبرانی، مسند الشامیین، ۱۱۷۳۔ ابوبکر الشیبانی، الآحاد والمثانی، ۲۷۷۹)]
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: الا لعلکم لا ترونی بعد عامکم ہذا الا لعلکم لا ترونی بعد عامکم ہذا الا لعلکم لا ترونی بعد عامکم ہذا فقام رجل طویل کانہ من رجال شنوء ۃ فقال یا نبی اللہ فما الذی نفعل فقال اعبدوا ربکم [وفی روایۃ: اتقوا اللہ ربکم] وصلوا خمسکم وصوموا شہرکم وحجوا بیتکم وادوا زکاۃ اموالکم طیبۃ بہا انفسکم [واطیعوا ذا امرکم]  تدخلوا جنۃ ربکم عز وجل۔  (مسند احمد، ۲۱۲۳۰۔ ترمذی، ۵۵۹)
’’سنو! ممکن ہے اس سال کے بعد تم مجھے نہ دیکھ سکو۔ سنو! ممکن ہے اس سال کے بعد تم مجھے نہ دیکھ سکو۔ سنو! ممکن ہے اس سال کے بعد تم مجھے نہ دیکھ سکو۔ ایک لمبے قد کا شخص، جو قبیلہ شنوء ۃ کا فرد لگتا تھا، کھڑا ہوا اور اس نے کہا، اے اللہ کے نبی، پس ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو (ایک روایت میں ہے کہ اپنے رب سے ڈرتے رہو)، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، رمضان کے مہینے کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، پوری خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو۔ ایسا کرو گے تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: یا ایہا الناس ان ربکم واحد وان اباکم واحد الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا اسود علی احمد الا بالتقوی ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ (بیہقی، شعب الایمان، ۵۱۳۷، ج ۴، ص ۲۸۹۔ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء ۳/۱۰۰۔ مسند احمد، ۲۲۳۹۱)
’’اے لوگو! بے شک تمھارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک۔ آگاہ رہو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جو زیادہ حدود کا پابند ہے۔ ‘‘
عداء بن عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ:  ان اللہ عزوجل یقول یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم فلیس لعربی علی عجمی فضل ولا لعجمی علی عربی فضل ولا لاسود علی ابیض ولا لابیض علی اسود فضل الا بالتقوی۔ (المعجم الکبیر، ۱۸/۱۲، رقم ۱۶)
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھیں قوموں او رقبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ یہ باہم تمھاری پہچان کا ذریعہ ہو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جو زیادہ حدود کا پابند ہے۔ اس لیے کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر اور کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔‘‘
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  الا کل شئ من امر الجاہلیۃ تحت قدمی موضوع۔  (مسلم، ۲۱۳۷)
’’آگاہ رہو! جاہلیت کا ہر کام میں اپنے ان دونوں قدموں کے نیچے دفن کر رہا ہوں۔‘‘
عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ:  الا وان کل دم ومال وماثرۃ کانت فی الجاہلیۃ تحت قدمی ہذہ الی یوم القیامۃ۔  (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)
’’آگاہ رہو! جاہلیت کے دور کا ہر خون، (سود کی قسم کا) ہر مال اور فخر ومباہات کی ہر بات قیامت تک کے لیے میرے ان دو قدموں کے نیچے دفن کر دی گئی ہے۔‘‘
عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ:  الا وان کل دم کان فی الجاہلیۃ موضوع واول دم وضع من دماء الجاہلیۃ دم الحارث بن عبد المطلب کان مسترضعا فی بنی لیث فقتلتہ ہذیل۔ (ترمذی، ۳۰۱۲)
’’آگاہ رہو! جاہلیت کے زمانے کا ہر خون معاف کیا جاتا ہے، اور زمانہ جاہلیت کے خونوں میں سے پہلا خون جس کو معاف کیا جاتا ہے، وہ حارث بن عبد المطلب کا خون ہے۔ (راوی بتاتے ہیں کہ) حارث کو دودھ پلانے کے لیے بنو لیث کے ہاں بھیجا گیا تھا جہاں اسے بنو ہذیل نے قتل کر دیا۔‘‘
[جابر بن عبد اللہ (مسلم، ۲۱۳۷)  عم ابی حرۃ الرقاشی (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  عبد اللہ ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶)]
عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ:  الا وان کل ربا فی الجاہلیۃ موضوع لکم رؤوس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون غیر ربا العباس بن عبد المطلب فانہ موضوع کلہ ۔  (ترمذی، ۳۰۱۲)
’’آگاہ رہو! زمانہ جاہلیت کا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ تم صرف اپنے اصل مال کے حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ ہاں عباس بن عبد المطلب کا لوگوں کے ذمے جو سودی قرض ہے، وہ سارے کا سارا معاف کیا جاتا ہے۔‘‘
[جابر بن عبد اللہ (مسلم، ۲۱۳۷)  عم ابی حرۃ الرقاشی (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶)]
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ: ایہا الناس ان النسئ زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ ویحرموا ما احل اللہ ان الزمان قد استدار فہو الیوم کہیئتہ یوم خلق اللہ السموات والارض وان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض  منہا اربعۃ حرم رجب مضر بین جمادی وشعبان وذو القعدۃ وذو الحجۃ والمحرم وان النسئ زیادہ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیوطئوا عدۃ ما حرم اللہ ۔  (مسند عبد بن حمید، ۸۵۸)
’’اے لوگو! حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا کفر میں مزید آگے بڑھنا ہے جس کے ذریعے سے اہل کفر (لوگوں کو) گمراہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی کو پورا رکھنے کے لیے ایک سال کسی مہینے کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال حرام، اور اس طرح اللہ کے حرام کردہ مہینے کو حلال اور اللہ کے حلال کردہ مہینے کو حرام کر دیتے ہیں۔ زمانہ آج پھر اسی ترتیب کے مطابق ہو چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو اس دن سے اس کی کتاب میں درج ہے جب اس نے زمین وآسمان کو پیداکیا۔ ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ ایک رجب کا مہینہ جو جمادیٰ اخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے، اور ذو القعدہ، ذو الحجۃ اور محرم۔ حرام مہینوں کی ترتیب کو آگے پیچھے کرنا کفر میں مزید آگے بڑھنا ہے جس کے ذریعے سے اہل کفر (لوگوں کو) گمراہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی کو پورا رکھنے کے لیے ایک سال کسی مہینے کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال حرام۔‘‘
عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ:  الا وان الزمان قد استدار کہیئتہ یوم خلق اللہ السموات والارض ثم قرا ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیہن انفسکم ۔  (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  [ابوبکرہ (بخاری ۴۰۵۴)  ابو ہریرہ (تفسیر الطبری، ۱۰/۱۲۵۔ بزار، مجمع الزوائد ۳/۲۶۸)  ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۹]
’’آگاہ رہو! زمانہ آج پھر اسی ترتیب پر واپس آ  چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیہن انفسکم‘۔ (اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو اس دن سے اس کی کتاب میں درج ہے جب اس نے زمین وآسمان کو پیداکیا۔ ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی صحیح اور راست دین ہے، اس لیے ان مہینوں میں (حدود سے تجاوز کر کے) اپنی جانوں پر ظلم نہ ڈھاؤ۔‘‘
ایہا الناس ان الزمان قد استدار کہیئتہ یوم خلق السماوات والارض فلا شہر ینسی ولا عدۃ تحصی الا وان الحج فی ذی الحجۃ الی یوم القیامۃ  (مسند الربیع بن حبیب البصری، ۴۲۲)
’’اے لوگو! زمانہ آج پھر اسی ترتیب پر واپس آ چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔ اب نہ کوئی مہینہ بھلایا جائے گا اور نہ مہینوں کی گنتی رکھنا پڑے گی۔ آگاہ رہو! اب قیامت تک حج ذو الحجہ کے مہینے میں ہی ادا کیا جائے گا۔‘‘
ابوبکرۃ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ:  ای شہر ہذا؟ قلنا اللہ ورسولہ اعلم فسکت حتی ظننا انہ سیسمیہ بغیر اسمہ، قال الیس ذو الحجۃ؟ قلنا بلی، قال فای بلد ہذا؟ قلنا اللہ ورسولہ اعلم فسکت حتی ظننا انہ سیسمیہ بغیر اسمہ، قال الیس البلدۃ؟ قلنا بلی، قال فای یوم ہذا؟ قلنا اللہ ورسولہ اعلم، فسکت حتی ظننا انہ سیسمیہ بغیر اسمہ، قال الیس یوم النحر؟ قلنا بلی، قال فان دماء کم واموالکم قال محمد واحسبہ قال واعراضکم [وابشارکم] علیکم حرام کحرمۃ یومکم ہذا فی بلدکم ہذا فی شہرکم ہذا۔  (بخاری، ۴۰۵۴، ۶۵۵۱)
’’(لوگو) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ اس مہینے کا نام کچھ اور رکھ دیں گے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ ذو الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا، جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا یہ بلد حرام نہیں ہے؟ ہم نے کہا، جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے کہا، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تمھاری جانیں، تمھارے مال، تمھاری آبروئیں اور تمھارے چمڑے تم پر (آپس میں) اسی طرح حرام ہیں جیسے اس شہر اور اس مہینے میں تمھارے اس دن کی حرمت ہے۔‘‘
[عبد اللہ بن عمر (بخاری، ۶۲۸۷)  عبد اللہ ابن عباس (بخاری، ۱۶۲۳)  ابو سعید (ابن ماجہ، ۳۹۲۱۔ مسند احمد، ۲۲۳۹۱۔ بیہقی، شعب الایمان، ۵۱۳۷، ج ۴، ص ۲۸۹)  جابر بن عبد اللہ (مسلم، ۲۱۳۷۔ مسند احمد، ۱۴۴۶۱)  نبیط بن شریط (مسند احمد، ۱۷۹۷۳۔ الآحاد والمثانی، ۱۲۹۸)  حذیم السعدی (مسند احمد، ۱۸۱۹۸۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۰۲)  عبد اللہ بن مسعود (ابن ماجہ، ۳۰۴۸)  عداء بن خالد الکلابی (مسند احمد، ۱۹۴۴۷)  عمرو بن الاحوص (ترمذی، ۲۰۸۵، ۳۰۱۲)  مرۃ عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مسند احمد، ۲۲۳۹۹۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۹)  عم ابی حرۃ الرقاشی  (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  جبیر بن مطعم (دارمی، ۲۲۹)  ابو مالک اشعری (طبرانی، مسند الشامیین، ۱۶۶۷)  عمار بن یاسر (طبرانی فی الکبیر والاوسط، مجمع الزوائد ۳/۲۶۹)  حارث بن عمرو (طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱)  وابصۃ بن معبد الجہنی (طبرانی، المعجم الاوسط، ۴۱۵۶)  عبد اللہ بن الزبیر (طبرانی فی الاوسط والکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۰)  عبادۃ بن عبد اللہ بن الزبیر (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۰)  حجیر (مسند الحارث (زوائد الہیثمی)، ۲۷۔ الآحاد والمثانی، ۱۶۸۲)  ابو امامۃ صدی بن عجلان الباہلی  (طبرانی، المعجم الکبیر، ۷۶۳۲۔ مسند الشامیین، ۱۲۴۲)  براء بن عازب وزید بن ارقم  (طبرانی فی الکبیر والاوسط، مجمع الزوائد ۳/۲۷۱)  کعب بن عاصم الاشعری (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۲)  عبد الاعلیٰ بن عبد اللہ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۳)  سراء بنت نبہان (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۴۶۳۔ طبرانی، المعجم الاوسط، ۲۴۳۰)  جمرۃ بنت قحافۃ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۳) ابو غادیۃ (ابن سعد ۲/۱۸۴) سفیان بن وہب الخولانی(مسند احمد، ۱۶۸۷۷) ]
فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ:  فدماؤکم واموالکم واعراضکم علیکم حرام مثل ہذا الیوم وہذہ البلدۃ الی یوم تلقونہ وحتی دفعۃ دفعہا مسلم مسلما یرید بہ سوء ا حراما۔  (مسند البزار، ۳۷۵۲) 
’’تمھارے خون اور مال اور آبروئیں تم پر اس دن اور اس شہر کے مانند حرام ہیں، اس دن تک جب تم اپنے رب کے سامنے پیش ہوگے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ناجائز طور پر اذیت پہنچانے کے لیے دھکا بھی دیتا ہے تو وہ بھی حرام ہے۔‘‘
ابو مالک کعب بن عاصم الاشعری رضی اللہ عنہ:  المومن حرام علی المومن کحرمۃ ہذا الیوم لحمہ علیہ حرام ان یاکلہ بالغیب ویغتابہ وعرضہ علیہ حرام ان یخرقہ ووجہہ علیہ حرام ان یلطمہ ودمہ علیہ حرام ان یسفکہ ومالہ علیہ حرام ان یظلمہ واذاہ علیہ حرام وہو علیہ حرام ان یدفعہ دفعا۔  (طبرانی، مسند الشامیین، ۱۶۶۷) 
’’مسلمان کی حرمت مسلمان کے لیے اسی طرح ہے جیسے آج کے دن کی۔ ایک مسلمان کے لیے دوسری مسلمان کی غیبت کرتے ہوئے اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔ اس کی عزت کو پامال کرنا حرام ہے۔ اس کے چہرے پر تھپڑ مارنا حرام ہے۔ اس کا خون بہانا حرام ہے۔ ظلم کرتے ہوئے اس کا مال لے لینا حرام ہے۔ اس کو اذیت دینا حرام ہے اور اس کو دھکا تک دینا حرام ہے۔‘‘
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  فاتقوا اللہ فی النساء فانکم اخذتموہن بامان اللہ واستحللتم فروجہن بکلمۃ اللہ ولکم علیہن ان لا یوطئن فرشکم احدا تکرہونہ فان فعلن ذلک فاضربوہن ضربا غیر مبرح ولہن علیکم رزقہن وکسوتہن بالمعروف۔  (مسلم، ۲۱۳۷)
’’پس عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم نے انھیں اللہ کی امان کے تحت اپنے نکاح میں لیا ہے اور خدا کی اجازت کے تحت ان کی شرم گاہوں سے فائدہ اٹھانا تمھارے لیے حلال ہے۔ تمھارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ کسی کو تمھارے بستر پامال نہ کرنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم انھیں اتنا مار سکتے ہو کہ چوٹ کا نشان نہ پڑے۔ اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم معروف کے مطابق ان کا رزق اور پوشاک انھیں مہیا کرو۔‘‘
[عم ابی حرۃ الرقاشی (مسند احمد، ۱۹۷۷۴) ]
عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ:  الا واستوصوا بالنساء خیرا فانما ہن عوان عندکم لیس تملکون منہن شیئا غیر ذلک الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ فان فعلن فاہجروہن فی المضاجع واضربوہن ضربا غیر مبرح فان اطعنکم فلا تبغوا علیہن سبیلا الا ان لکم علی نساء کم حقا ولنساء کم علیکم حقا فاما حقکم علی نساء کم فلا یوطئن فرشکم من تکرہون ولا یاذن فی بیوتکم لمن تکرہون الا وان حقہن علیکم ان تحسنوا الیہن فی کسوتہن وطعامہن۔  (ترمذی، ۳۰۱۲)
’’سنو، عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو۔ وہ تمھارے پاس امانت ہیں اور تم اس کے علاوہ ان پر کسی قسم کا حق نہیں رکھتے، سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں ان کے بستروں میں الگ کر دو اور انھیں اتنا مار سکتے ہو کہ چوٹ کا نشان نہ پڑے۔ پھر اگر وہ تمھاری اطاعت کریں تو ان پر (زیادتی کی) راہ نہ ڈھونڈو۔ آگاہ رہو! تمھارے بھی تمھاری عورتوں پر حقوق ہیں اور تمھاری عورتوں کے بھی تم پر حقوق ہیں۔ تمھارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو تمھارے بستر پامال نہ کرنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور نہ تمھارے پسندیدہ افراد کو تمھارے گھروں میں آنے کی اجازت دیں۔ اور سنو، ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم دستور کے مطابق ان کا رزق اور پوشاک انھیں مہیا کرنے میں بہترین طریقہ اختیار کرو۔‘‘
[عبد اللہ ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶) ]
یزید بن جاریۃ رضی اللہ عنہ:  ارقاء کم ارقاء کم ارقاء کم اطعموہم مما تاکلون واکسوہم مما تلبسون فان جاء وا بذنب لا تریدون ان تغفروہ فبیعوا عباد اللہ ولا تعذبوہم۔  (مسند احمد، ۱۵۸۱۳۔ مصنف عبد الرزاق، ۱۷۹۳۵)
’’اپنے غلام لونڈیوں کا خیال رکھو۔ اپنے غلام لونڈیوں کا خیال رکھو۔ اپنے غلام لونڈیوں کا خیال رکھو۔ جو تم خود کھاتے ہو، انھیں بھی کھلاؤ۔ جو تم خود پہنتے ہو، انھیں بھی پہناؤ۔ اگر ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جائے جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو بیچ دو لیکن انھیں عذاب نہ دو۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  اوصیکم بالجار فاکثر حتی قلت انہ سیورثہ ۔ (طبرانی، مسند الشامیین، ۸۲۳)
’’میں تمھیں پڑوسی کا خیال رکھنے کی تاکید کرتا ہوں۔ (ابو امامہ کہتے ہیں کہ) آپ نے یہ بات اتنی مرتبہ کہی کہ مجھے خیال ہوا کہ آپ پڑوسی کو وراثت میں بھی حق دار قرار دیں گے۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: لا تنفق امراۃ شیئا من بیت زوجہا الا باذن زوجہا قیل یا رسول اللہ ولا الطعام قال ذاک افضل اموالنا۔  (ترمذی، ۶۰۶، ۲۰۴۶)
’’کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے۔ کہا گیا کہ یا رسول اللہ، کھانا بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ تو ہمارا سب سے بہترین مال ہے (اس لیے اس کو خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں)۔‘‘
[انس بن مالک  (المقدسی، الاحادیث المختارۃ، ۲۱۴۷)]
فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ: الا اخبرکم بالمومن من امنہ الناس علی اموالہم وانفسہم والمسلم من سلم الناس من لسانہ ویدہ والمجاہد من جاہد نفسہ فی طاعۃ اللہ والمہاجر من ہجر الخطایا والذنوب ۔ (مسند احمد، ۲۲۸۳۳۔ صحیح ابن حبان، ۴۸۶۲)
’’کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ مومن کون ہے؟ وہ جس سے لوگ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو محفوظ سمجھیں۔ اور مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے لوگ بچے رہیں۔ اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔ اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور غلطیوں کو ترک کر دے۔‘‘
[ابو مالک الاشعری  (طبرانی، مسند الشامیین، ۱۶۶۷) ]
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ:  وامر بالصدقۃ فقال تصدقوا فانی لا ادری لعلکم لا ترونی بعد یومی ہذا۔  (طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱) 
’’آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ صدقہ کرو، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ تم آج کے بعد مجھے دیکھ سکو گے یا نہیں۔‘‘
سلیم بن اسود عن رجل من بنی یربوع:  ید المعطی العلیا امک واباک واختک واخاک ثم ادناک فادناک۔  (مسند احمد، ۱۶۰۱۸)
’’دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔ پہلے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر خرچ کرو، پھر درجہ بدرجہ اپنے قریبی رشتہ داروں پر۔‘‘
[اسامۃ بن شریک(المعجم الکبیر، ۴۸۴۔ حجۃ الوداع، ۱۹۱، ۱/۲۱۵۔ معجم الشیوخ، ۳۱)]
جمرۃ بنت قحافۃ رضی اللہ عنہا:  سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی حجۃ الوداع تصدقن ولو من حلیکن فانکن اکثر اہل النار فاتت زینب فقالت یا رسول اللہ ان زوجی محتاج فہل یجوز لی ان اعود علیہ قال نعم لک اجران۔  (المعجم الکبیر، ۲۴/۲۱۰، رقم ۵۳۸)
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا کہ اے خواتین، صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی اتار کر دے دو، کیونکہ اہل جہنم میں تمھاری تعداد سب سے زیادہ ہے۔ پس (عبد اللہ بن مسعود کی اہلیہ) زینب آئیں اور کہا کہ یا رسول اللہ، میرا شوہر ضرورت مند ہے، تو کیا میرے لیے اس کو صدقہ دینا جائز ہے؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔ تمھیں دوہرا اجر ملے گا۔‘‘
[کتب حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد اور زینب رضی اللہ عنہا کے استفسار کا محل ورود حجۃ الوداع کے بجائے مدینہ منورہ بیان ہوا ہے، جبکہ حجۃ الوداع کے موقع پر اس ہدایت کی تصریح ہمیں صرف مذکورہ روایت میں ملی ہے۔]
عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ:  الا لا یجنی جان الا علی نفسہ الا لا یجنی والد علی ولدہ ولا ولد علی والدہ۔  (ترمذی، ۳۰۱۲)
’’خبردار! کوئی بھی زیادتی کرنے والا اس کا خمیازہ خود ہی بھگتے گا۔ سنو، نہ باپ کی زیادتی کا بدلہ اس کے بیٹے سے لیا جائے اور نہ بیٹے کی زیادتی کا بدلہ اس کے باپ سے۔‘‘
حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ عنہ:  لا یؤخذ الرجل بجریرۃ اخیہ ولا بجریرۃ ابیہ۔  (المعجم الاوسط، ۴۱۶۶) 
’’کسی شخص کو اس کے بھائی یا باپ کے جرم میں نہ پکڑا جائے۔‘‘
[عبد اللہ بن مسعود  (رواہ البزار، مجمع الزوائد ۶/۲۸۳)  اسود بن ثعلبۃ الیربوعی (الاستیعاب، ۱/۹۰) ]
سلیم بن اسود عن رجل من بنی یربوع:  قال رجل یا رسول اللہ ہولاء بنو ثعلبۃ الذین اصابوا فلانا قال فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا لا تجنی نفس علی اخری۔  (مسند احمد، ۱۶۰۱۸)
’’ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنھوں نے فلاں شخص کو قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کسی شخص کی زیادتی کا بدلہ دوسرے شخص سے نہ لیا جائے۔‘‘
[اسامۃ بن شریک (طبرانی، المعجم الکبیر، ۴۸۴۔ الصیداوی، معجم الشیوخ، ۳۱۔ ابن حزم، حجۃ الوداع، ۱/۲۱۵]
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ:  ان کل مسلم اخ المسلم المسلمون اخوۃ ولا یحل لامرئ من مال اخیہ الا ما اعطاہ عن طیب نفس ولا تظلموا۔ (مستدرک حاکم، ۳۱۸)
’’ہر مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ لے، مگر وہی جو وہ اپنے دل کی خوشی سے دے دے۔ اور ظلم نہ کرو۔‘‘
عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ:  اسمعوا منی تعیشوا، الا لا تظلموا، الا لا تظلموا، الا لا تظلموا، انہ لا یحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ۔  (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)
’’میری بات سنو، زندگی پا جاؤ گے۔ سنو، ظلم نہ کرو۔ سنو، ظلم نہ کرو۔ سنو، ظلم نہ کرو۔ کسی شخص کا مال اس کے دل کی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں۔‘‘
[عبد اللہ ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۱۳۰۶)  عمرو بن الاحوص (ترمذی، ۳۰۱۲]
 عمرو بن یثربی الضمری: ولا یحل لاحد من مال اخیہ الا ما طابت بہ نفسہ فلما سمعہ قال ذلک قال یا رسول اللہ ارایت لو لقیت غنم ابن عمی فاخذت منہا شاۃ فاجتززتہا فعلی فی ذلک شئ؟ قال ان لقیتہا نعجۃ تحمل شفرۃ وزنادا بخبت الجمیش فلا تمسہا۔  (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۱۳۰۵)
’’کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ لے، مگر وہی جس پر وہ دل سے راضی ہو۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر مجھے اپنے چچا زاد بھائی کی بکریوں کا ریوڑ دکھائی دے اور میں ان میں سے ایک بکری لے کر اس کو ذبح کر لوں تو کیا مجھے اس کا گناہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا، اگر تمھیں کوئی بکری وادی حمیش میں اس حال میں ملے کہ چھری اور (آگ جلانے کے لیے) پتھر بھی اس نے ساتھ اٹھا رکھے ہوں، تب بھی تم اس کو ہاتھ مت لگانا۔‘‘ 
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  العاریۃ موداۃ والمنحۃ مردودۃ والدین مقضی والزعیم غارم۔  (ترمذی، ۲۰۴۶)
’’عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ دودھ پینے کے لیے جو جانور کسی نے دیا ہو، اسے لوٹایا جائے۔ لیا ہوا قرض ادا کیا جائے اور جس شخص (قرض کی واپسی کا) ضامن بنا ہو، وہ (مقروض کی طرف سے ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں) ذمہ دار ہوگا۔‘‘
[انس بن مالک  (المقدسی، الاحادیث المختارۃ، ۲۱۴۷)]
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ:  یا ایہا الناس من کانت عندہ ودیعۃ فلیردہا الی من ائتمنہ علیہا۔  (مسند الرویانی، ۱۴۱۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۱۳۰۶)
’’اے لوگو! جس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو، وہ اسے اس کو واپس کر دے جس نے اس کے پاس اسے امانت رکھا ہے۔‘‘
محمد بن مہران عن ابیہ: یا معشر التجار انی ارمی بہا بین اکتافکم لا تلقوا الرکبان لا یبع حاضر لباد۔  (ابن حجر، الاصابہ، ۸۶۳۸، ۶/۳۸۵)
’’اے تاجروں کے گروہ! میں یہ بات تمھیں علی الاعلان کہتا ہوں کہ (بازار کے نرخ سے کم قیمت پر مال خریدنے کے لیے) تم تجارتی قافلوں (کے شہر میں آنے سے پہلے ہی ان) سے مال نہ خرید لو۔ کوئی شہری کسی دیہاتی کا دلال نہ بنے۔‘‘
[کتب حدیث کی عام روایات میں یہ ارشاد حجۃ الوداع کے حوالے کے بغیر نقل کیا گیا ہے، جبکہ حجۃ الوداع کی تصریح ہمیں صرف اس روایت میں ملی ہے۔]
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  ان اللہ قد اعطی لکل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث۔  (ترمذی، ۲۰۴۶)
’’اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لیے اب کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔‘‘
[انس بن مالک (الاحادیث المختارۃ، ۲۱۴۷)  عمرو بن خارجۃ  (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۱۱)  (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۲/۱۸۳)]
عمرو بن خارجۃ رضی اللہ عنہ:  الولد للفراش وللعاہر الحجر ومن ادعی الی غیر ابیہ او تولی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ صرفا ولا عدلا۔   (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۱۱۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۲/۱۸۳)
’’بچے کا نسب اسی سے ثابت ہوگا جس کے نکاح میں عورت ہوگی، جبکہ بدکاری کرنے والے کا بچے پر کوئی حق نہیں، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ جو شخص اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اور جو غلام اپنی نسبت اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف کرے گا، اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے کوئی معاوضہ یا تاوان قبول نہیں کریں گے۔‘‘
[ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ (ترمذی، ۲۰۴۶)  انس بن مالک (الاحادیث المختارۃ، ۲۱۴۷)]
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  لا تالوا علی اللہ فانہ من تالی علی اللہ اکذبہ اللہ۔  (المعجم الکبیر، ۷۸۹۸)  
’’قسم کھا کر اللہ پر کوئی بات لازم نہ کرو، کیونکہ جو ایسا کرے گا، اللہ اس کو جھوٹا کر دکھائے گا۔‘‘
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ: لا یزال ہذا الدین ظاہرا علی من ناواہ لا یضرہ مخالف ولا مفارق حتی یمضی من امتی اثنا عشر امیر ا ....کلہم من قریش ۔  (مسند احمد، ۱۹۸۸۷)
’’یہ دین ان لوگوں کے مقابلے میں غالب رہے گا جو اس کی مخالف میں اٹھیں گے۔ نہ اس کو کوئی مخالف نقصان پہنچا سکے گا اور اس سے جدا ہونے والا، یہاں تک کہ میری امت میں بارہ امیر حکومت کر چکیں جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔‘‘
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ:  ذکر المسیح الدجال فاطنب فی ذکرہ وقال ما بعث اللہ من نبی الا انذر امتہ انذرہ نوح والنبیون من بعدہ وانہ یخرج فیکم فما خفی علیکم من شانہ فلیس یخفی علیکم ان ربکم لیس علی ما یخفی علیکم ثلاثا ان ربکم لیس باعور وانہ اعور عین الیمنی کانہ عینہ عنبۃ طافیۃ۔  (بخاری، ۴۰۵۱۔ مسند احمد، ۵۹۰۹)
’’آ پ نے مسیح دجال کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ نے جس نبی کو بھی بھیجا ہے، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے۔ نوح علیہ السلام نے بھی اور ان کے بعد آنے والے سب نبیوں نے اس سے آگاہ کیا۔ اور دجال کا خروج تمھارے اندر ہوگا۔ پس اس کی اور باتوں اگر تم پر مخفی رہیں تو یہ بات تم پر چھپی ہوئی نہیں ہے کہ تمھارے رب کی صفات تم پر پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی۔ تمھارا رب کانا نہیں ہے، جبکہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، یوں جیسے اس کی آنکھ انگور کا کوئی پھٹا ہوا دانہ ہو۔‘‘
ام الحصین رضی اللہ عنہ:   ان امر علیکم عبد مجدع حسبتہا قالت اسود یقودکم بکتاب اللہ تعالیٰ فاسمعوا لہ واطیعوا۔  (مسلم، ۲۲۸۷)
’’اگر کسی کٹے ہوئے کان والے سیاہ فام غلام کو بھی تم پر امیر مقرر کیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘
ابو الزوائد رضی اللہ عنہ:  یا ایہا الناس خذو العطاء ما کان عطاء فاذا تجاحفت قریش علی الملک وکان عن دین احدکم فدعوہ ۔ (ابو داؤد، ۲۵۶۹، ۲۵۷۰)
’’اے لوگو! جب تک (حکمرانوں کی طرف سے ملنے والا) عطیہ، عطیہ رہے، تب تک لیتے رہو۔ پھر جب قریش بادشاہت پر آپس میں جنگ وجدال کرنے لگیں اور عطیہ تمھارے دین وایمان کی قیمت پر ملے تو اسے لینا چھوڑ دو۔‘‘
ابو الزوائد رضی اللہ عنہ:  خذوا العطاء ما کان عطاء فاذا تجاحفت قریش الملک فی ما بینہا وکان العطاء رشوۃ علی دینکم فلا تاخذوہ۔  (ابوبکر الشیبانی، الآحاد والمثانی، ۲۶۴۶) 
’’جب تک عطیہ، عطیہ رہے، تب تک لیتے رہو۔ پھر جب قریش بادشاہت پر آپس میں جنگ وجدال کرنے لگیں اور عطیہ دین وایمان کے معاملے میں رشوت کے طور پر ملے تو مت لو۔‘‘
سفیان بن وہب الخولانی: روحۃ فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیہا وغدوۃ فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیہا۔  (مسند احمد، ۱۶۸۷۷)
’’اللہ کے راستے میں ایک شام گزارنا دنیا اور جو کچھ اس میں پایا جاتا ہے، سب سے بہتر ہے، اور اللہ کے راستے میں ایک صبح گزارنا دنیا اور جو کچھ اس میں پایا جاتا ہے، سب سے بہتر ہے۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  من اسلم من اہل الکتابین فلہ اجرہ مرتین ولہ مثل الذی لنا وعلیہ مثل الذی علینا ومن اسلم من المشرکین فلہ اجرہ ولہ مثل الذی لنا وعلیہ مثل الذی علینا۔  (طبری، جامع البیان، ۲۷/۲۴۴)
’’اہل کتاب، یہود ونصاریٰ میں سے جو اسلام لائے گا، اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ اس کے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں اور وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو ہماری ہیں۔ اور مشرکین میں سے جو اسلام قبول کرے گا، اس کو بھی اس کا اجر ملے گا اور اس کے حقوق اور فرائض بھی وہی ہوں گے جو ہمارے ہیں۔‘‘
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: یا ایہا الناس خذوا من العلم قبل ان یقبض العلم وقبل ان یرقع العلم وقد کان انزل اللہ عزوجل یا ایہا الذین آمنوا لا تسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم وان تسالوا عنہا حین ینزل القرآن تبد لکم عفا اللہ عنہا واللہ غفور حلیم قال فکنا قد کرہنا کثیرا من مسالتہ واتقینا ذاک حین انزل اللہ علی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فاتینا اعرابیا فرشوناہ برداء قال فاعتم بہ حتی رایت حاشیۃ البرد خارجۃ من حاجبہ الایمن قال ثم قلنا لہ سل النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال فقال لہ یا نبی اللہ کیف یرفع العلم منا وبین اظہرنا المصاحف وقد تعلمنا ما فیہا وعلمنا نساء نا وذرارینا وخدمنا قال فرفع النبی صلی اللہ علیہ وسلم راسہ وقد علت وجہہ حمرۃ من الغضب قال فقال ای ثکلتک امک ہذہ الیہود والنصاری بین اظہرہم المصاحف لم یصبحوا یتعلقوا بحرف مما جاء تہم بہ انبیاؤہم الا وان من ذہاب العلم ان یذہب حملتہ ثلاث مرار ۔ (مسند احمد، ۲۱۲۵۹)
’’اے لوگو! علم حاصل کر لو اس سے قبل کہ علم کو قبض کر لیا جائے اور اٹھا لیا جائے۔ (ابو امامہ کہتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کر رکھا تھا کہ اے ایمان والو، ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی گئیں تو تمھیں نقصان دیں گی اور اگر تم ان کے بارے میں پوچھو گے تو جب تک قرآن نازل ہو رہا ہے، وہ تمھیں بتائی جاتی رہیں گی۔ اللہ نے خود ہی ان کو بیان نہیں کیا اور اللہ معاف کرنے والا بردبار ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت اتاری تو اس کے بعد ہم آپ سے بہت سی باتیں پوچھنے سے گریز کرنے لگے۔ (جب آپ نے یہ فرمایا کہ علم حاصل کر لو اس سے قبل کہ علم کو قبض کر لیا جائے تو) ہم ایک بدو کے پاس گئے اور اسے ایک چادر کی رشوت دی۔ اس نے اس چادر کا عمامہ سر پر باندھ لیا ، یہاں تک کہ مجھے چادر کا کنارہ اس کی دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا دکھائی دیا۔ پھر ہم نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی، ہمارے اندر سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ قرآن مجید کے مصحف ہمارے مابین ہوں گے اور ہم نے ان کو سیکھ رکھا ہوگا اور اپنی عورتوں اور بچوں اور اپنے خادموں کو بھی اس کی تعلیم دے رکھی ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ کے چہرے پر غصے کی وجہ سے سرخی نمایاں تھی۔ آپ نے فرمایا، تمھاری ماں تم سے محروم ہو جائے، یہود ونصاریٰ کو دیکھو، ان کے مصاحف ان کے پاس موجود ہیں لیکن ان کے انبیا جو تعلیمات لائے تھے، وہ ان میں سے کسی بات پر بھی قائم نہیں رہے۔ سنو، علم کے چلے جانے کی صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ علم کے حامل رخصت ہو جائیں۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی۔‘‘
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ:  ووقت یلملم لاہل الیمن ان یہلوا منہا وذات عرق لاہل العراق او قال لاہل المشرق۔ (طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱) 
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف سے آنے والوں کے لیے یلملم کو اور عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں۔‘‘
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ:  ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بینا ہو یخطب یوم النحر فقام الیہ رجل فقال کنت احسب یا رسول اللہ ان کذا وکذا قبل کذا وکذا ثم قام آخر فقال کنت احسب یا رسول اللہ ان کذا وکذا قبل کذا وکذا لہولاء الثلاث فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم افعل ولا حرج۔  (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۹۳)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کے پا س آیا اور کہا کہ یارسول اللہ، میں سمجھا کہ حج کا فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے کرنا ہے۔ پھر ایک اور شخص اٹھا اور اس نے بھی کہا کہ یا رسول اللہ، میں سمجھا کہ حج کا فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔‘‘
اسامۃ بن شریک:  سالہ رجل نسی ان یرمی الجمار فقال ارم ولا حرج ثم اتاہ آخر فقال یا رسول اللہ نسیت الطواف فقال طف ولا حرج ثم اتاہ آخر حلق قبل ان یذبح فقال اذبح ولا حرج [ان اللہ عز وجل وضع الحرج الا من اقترض امرا مسلما ظلما او قال بظلم فذلک حرج وہلک] ۔ (صحیح ابن خزیمہ، ۲۲۹۵۔ المعجم الکبیر، ۴۸۲، ۴۸۴۔ حجۃ الوداع، ۱۹۱، ۱/۲۱۵)
’’ایک شخص نے جو جمرات پر رمی کرنا بھول گیا تھا، آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ، میں طواف کرنا بھول گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا جس نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں حرج اور گناہ نہیں رکھا، ہاں جو شخص کسی مسلمان پر زیادتی کرتے ہوئے اس کی عزت کو پامال کرے گا، حقیقت میں وہی حرج میں پڑے گا اور برباد ہوگا۔‘‘
[عبد اللہ ابن عباس  (ابو داؤد، ۱۷۲۲) ]
قرۃ بن دعموص رضی اللہ عنہ: قال الفینا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع فقلنا یا رسول اللہ ما تعہد الینا قال اعہد الیکم ان تقیموا الصلاۃ وتؤتو ا الزکاۃ وتحجوا البیت الحرام وتصوموا رمضان فان فیہ لیلۃ خیر من الف شہر وتحرموا دم المسلم ومالہ والمعاہد الا بحقہ وتعتصموا باللہ والطاعۃ ۔  (بیہقی، شعب الایمان، ۵۳۳۳۔ ابن حجر، الاصابہ، ۵/۴۳۵)
’’حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ، آپ ہمیں کس چیز کی تاکید فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا، میں تمھیں اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت الحرام کا حج کرو، رمضان کے روزے رکھو کیونکہ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اور تم مسلمان اور معاہدہ کافر کی جان اور اس کے مال کو حرام سمجھو، الا یہ کہ کسی حق کے تحت اس سے تعرض کیا جائے، اور تم اللہ کی فرماں برداری اور اس کی اطاعت پر قائم رہو۔‘‘
عمیر بن قتادۃ:  ان رجلا سالہ فقال یا رسول اللہ ما الکبائر فقال ہو تسع: الشرک باللہ وقتل نفس مومن بغیر حق وفرار یوم الزحف واکل مال الیتیم واکل الربا وقذف المحصنۃ وعقوق الوالدین المسلمین واستحلال البیت الحرام قبلتکم احیاء وامواتا۔ (مستدرک حاکم، ۱۹۷)
’’ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ، کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا کبیرہ گناہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، کسی پاک دامن خاتون پر الزام لگانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت الحرام کی، جو تمھارا قبلہ ہے، زندگی یا موت کی حالت میں بے حرمتی کرنا۔‘‘
اسامۃ بن شریک:   قالوا یا رسول اللہ انتداوی من کذا وکذا مرتین قال نعم تداووا فان اللہ عز وجل لم ینزل داء الا انزل لہ شفاء غیر داء واحد الہرم۔  (المعجم الکبیر، ۴۸۲، ۴۸۴)
’’لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا ہم فلاں فلاں چیز کو دوا کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟ دو مرتبہ یہ سوال کیا۔ آپ نے فرمایا، ہاں، دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، سوائے ایک بیماری یعنی بڑھاپے کے۔‘‘
اسامۃ بن شریک:   قالوا یا رسول اللہ ما خیر ما اعطی الناس قال خلق حسن۔  (المعجم الکبیر، ۴۸۲)
’’لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، لوگوں کو ملنے والی چیزوں میں سے بہترین چیز کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق۔‘‘
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ:  لاقتلن العمالقۃ فی کتیبۃ فقال لہ جبریل علیہ السلام او علی قال او علی بن ابی طالب۔   (مستدرک حاکم، ۴۶۳۶۔ طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۱۰۸۸) 
’’میں ایک لشکر لے کر عمالقہ (یعنی خوارج) کو قتل کر دوں گا۔ جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یا پھر علی۔ آپ نے فرمایا:  یا پھر علی بن ابی طالب۔‘‘
[امام ذہبی فرماتے ہیں کہ اس روایت کا راوی سلمہ بن کہیل بے حد ضعیف ہے اور امام حاکم کا مذکورہ روایت کو مستدرک میں قوی قرار دینا درست نہیں۔ (میزان الاعتدال، ۷/۱۸۵)]
عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ:  الا ان الشیطان قد ایس ان یعبدہ المصلون ولکنہ فی التحریش بینہم۔  (مسند احمد، ۱۹۷۷۴) 
’’سنو! شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ عبادت گزار اس کی عبادت کریں، لیکن وہ اہل ایمان کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی پوری کوشش کرے گا۔‘‘
عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہ:  الا وان الشیطان قد ایس من ان یعبد فی بلادکم ہذہ ابدا ولکن ستکون لہ طاعۃ فی ما تحتقرون من اعمالکم فسیرضی بہ ۔  (ترمذی، ۲۰۸۵)
’’آگاہ رہو! شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ تمھارے اس علاقے میں اس کی دوبارہ کبھی عبادت کی جائے۔ ہاں ان اعمال میں ضرور اس کی اطاعت کی جائے گی جنھیں تم حقیر خیال کرتے ہو، اور وہ اسی پر خوش رہے گا۔‘‘
[عبد اللہ ابن عباس (مستدرک حاکم، ۳۱۸)  عبد اللہ ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶) ]
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ:  ایہا الناس ان الشیطان قد یئس ان یعبد فی بلدکم ہذا آخر الزمان وقد رضی منکم بمحقرات الاعمال فاحذروہ فی دینکم محقرات الاعمال۔  (مسند عبد بن حمید، ۸۵۸)
’’اے لوگو! شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ تمھارے اس علاقے میں قیامت تک کبھی اس کی دوبارہ عبادت کی جائے۔ ہاں وہ تمھارے ایسے اعمال پر خوش ہوتا رہے گا جنھیں تم حقیر خیال کرتے ہو، اس لیے اپنے دین کے معاملے میں ان اعمال سے خبردار رہو جنھیں حقیر اور معمولی سمجھا جاتا ہے۔‘‘
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ:  یا ایہا الناس انی قد ترکت فیکم ما ان اعتصمتم بہ فلن تضلوا ابدا کتاب اللہ وسنۃ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم۔  (مستدرک حاکم، ۳۱۸)
’’اے لوگو! میں تم میں وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کا دامن تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔‘‘
[ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۱۰]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  یا ایہا الناس انی قد ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی۔  (ترمذی، ۳۷۱۸)
’’اے لوگو! میں تم میں وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کا دامن تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت۔‘‘
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ۔  (مسلم، ۲۱۳۷)
’میں تم میں وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کو تھامے رکھنے کی صورت میں تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے، یعنی اللہ کی کتاب۔‘‘
[عبد اللہ ابن عمر (مسند الرویانی، ۱۴۱۶) ]
ابوبکرۃ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ:  وستلقون ربکم فیسالکم عن اعمالکم الا فلا ترجعوا بعدی ضلالا یضرب بعضکم رقاب بعض۔  (بخاری ۴۰۵۴)
’’اور جلد ہی تمھاری اپنے رب سے ملاقات ہوگی اور وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ آگاہ رہو! میرے بعد دوبارہ گمراہی کی طرف نہ پلٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے رہو۔‘‘
[جریر بن عبد اللہ (بخاری، ۱۱۸)  ابن عباس (بخاری، ۱۶۲۳)  ابن عمر (بخاری، ۳۰۵۱)  عداء بن خالد الکلابی (مسند احمد، ۱۹۴۴۷)  عبد الاعلیٰ بن عبد اللہ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۳)  حذیفۃ بن الیمان (المعجم الاوسط، ۴۱۶۶)  عبد اللہ بن مسعود (بزار ورجالہ رجال الصحیح، مجمع الزوائد ۶/۲۸۳)  حجیر (مسند الحارث (زوائد الہیثمی)، ۲۷۔ الآحاد والمثانی، ۱۶۸۲)  ابو غادیۃ (ابن سعد ۲/۱۸۴)]
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ:  الا ان کل نبی قد مضت دعوتہ الا دعوتی فانی قد ادخرتہا عند ربی الی یوم القیامۃ ۔ (طبرانی المعجم الکبیر، ۷۶۳۲۔ مسند الشامیین، ۱۲۴۲)  
’’سنو! ہر نبی نے اپنی مخصوص دعا (دنیا ہی میں) مانگ لی ہے، جبکہ میں نے اپنی خاص دعا مانگنے کا حق قیامت کے دن تک کے لیے اپنے رب کے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے۔‘‘
جریر بن الارقط رضی اللہ عنہ:  رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع فسمعتہ یقول اعطیت الشفاعۃ۔ (ابن حجر، الاصابۃ، ۱۱۳۶۔ وقال: رواہ بن مندۃ من طریق یعلی بن الاشدق وہو متروک عنہ)
’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں یہ فرماتے سنا کہ مجھے (اپنی امت کے لیے) شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔‘‘
[حجۃ الوداع کے موقع کی تصریح کے بغیر یہ روایت ’اعطیت الشفاعۃ وہی نائلۃ من لا یشرک باللہ شیئا‘ کے الفاظ سے ابو جعفر سے مصنف ابن ابی شیبہ (رقم ۳۱۷۴۲) میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابن ابی عاصم کی ’السنۃ‘ (رقم ۸۰۳) میں مروی ہے۔]
مرۃ عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم:  الا وانی فرطکم علی الحوض انظرکم وانی مکاثر بکم الامم فلا تسودوا وجہی الا وقد رایتمونی وسمعتم منی وستسالون عنی فمن کذب علی فلیتبوا مقعدہ من النار الا وانی مستنقذ رجالا او اناثا ومستنقذ منی آخرون فاقول یا رب اصحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک۔  (مسند احمد، ۲۲۳۹۹۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۹)
’’آگاہ رہو! میں تم سب سے پہلے حوض پر پہنچ کر تمھارا منتظر ہوں گا۔ اور میں تمھارے ذریعے سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت ظاہر کروں گا، اس لیے مجھے رسوا نہ کرنا۔ سنو، تم نے مجھے دیکھا بھی ہے اور میری باتیں بھی سنی ہیں۔ اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، اس نے اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لیا۔ سنو، (قیامت کے دن) کچھ لوگوں کو میں (اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے) بچا لوں گا لیکن کچھ لوگوں کو مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یا اللہ، یہ میرے ساتھی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انھوں نے کیسی کیسی بد اعمالیاں انجام دیں۔‘‘
[عبد اللہ بن مسعود  (ابن ماجہ، ۳۰۴۸)  ابو امامہ باہلی  (مسند الشامیین، ۱۲۴۲۔ المعجم الکبیر، ۷۶۳۲) ]
عداء بن خالد بن عمرو رضی اللہ عنہ:  یا معشر قریش لا تجیئونی بالدنیا تحملونہا علی اعناقکم ویجئ الناس بالآخرۃ فانی لا اغنی عنکم من اللہ شیئا۔  (المعجم الکبیر، ۱۸/۱۲، رقم ۱۶)  
’’اے گروہ قریش! ایسا نہ ہو کہ (قیامت کے دن) تم اپنی گردنوں پر دنیا کو اٹھائے ہوئے آؤ اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لے کر آئیں، کیونکہ میں اللہ کی پکڑ کے مقابلے میں تمھارے کچھ کام نہ آؤں گا۔‘‘
  عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ:  الا لیبلغ شاہدکم غائبکم لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم ۔  (مسند الرویانی، ۱۴۱۶، ۲/۴۱۲۔ مسند عبد بن حمید، ۸۵۸، ۱/۲۷۰)
’’تم میں سے جو موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو موجود نہیں۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمھارے بعد کوئی امت۔‘‘
ابوبکرۃ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ:  الا لیبلغ الشاہد الغائب فلعل بعض من یبلغہ ان یکون اوعی لہ من بعض من سمعہ۔  (بخاری، ۴۰۵۴)
’’سنو، جو موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو موجود نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جن کو یہ باتیں پہنچیں، ان میں سے کچھ ان کی بہ نسبت ان کو زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والوں ہوں جنھوں نے براہ راست مجھ سے سنی ہیں۔‘‘
[عبد اللہ ابن عباس (بخاری، ۱۶۲۳)  ابو سعید (مسند احمد، ۲۲۳۹۱۔ بیہقی، شعب الایمان، ۵۱۳۷، ج ۴، ص ۲۸۹)  عم ابی حرۃ الرقاشی (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  حارث بن عمرو (طبرانی فی الکبیر والاوسط، مجمع الزوائد ۳/۲۶۹)  وابصۃ بن معبد الجہنی (طبرانی فی الاوسط وابو یعلی، مجمع الزوائد ۳/۲۶۹)  حجیر (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد ۳/۲۷۰)  حجیر (مسند الحارث (زوائد الہیثمی)، ۲۷۔ الآحاد والمثانی، ۱۶۸۲)  سراء بنت نبہان (المعجم الاوسط، ۲۴۳۰) ]
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ:  ایہا الناس انی واللہ لا ادری لعلی لا القاکم بعد یومی ہذا بمکانی ہذا فرحم اللہ من سمع مقالتی الیوم فوعاہا فرب حامل فقہ ولا فقہ لہ ورب حامل فقہ الی من ہو افقہ منہ ۔ (دارمی، ۲۲۹۔ مسند ابی یعلیٰ، ۷۴۱۳۔ مستدرک حاکم، ۲۹۴)
’’اے لوگو! بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد میں ا س جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں۔ پس اللہ اس شخص پر رحمت کرے جس نے آج کے دن میری باتیں سنیں اور انھیں یاد کیا، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں سمجھ داری کی باتیں یاد ہوتی ہیں لیکن انھیں ان کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی۔ اور بہت سے لوگ سمجھ داری کی باتوں کو یاد کر کے ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔‘‘
[عبد اللہ ابن عمر (مسند الشامیین، ۵۰۸۔ الکفایۃ فی علم الروایۃ، ۱/۱۹۰)  ابو سعید الخدری (رواہ البزار، مجمع الزوائد۱/۱۳۷۔ الترغیب والترہیب ۱/۲۳)  انس بن مالک (المعجم الاوسط، ۹۴۴۴)  ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۸]
ابو موسیٰ مالک بن عبادۃ الغافقی رضی اللہ عنہ: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قام خطیبا فی حجۃ الوداع فقال علیکم بالقرآن وسترجعون الی اقوام یشتہون الحدیث عنی فمن عقل عنی شیئا فلیحدث بہ ومن قال علی ما لم اقل فلیتبوا مقعدہ جہنم۔ (الآحاد والمثانی، ۲۶۲۶۔ مسند احمد، ۱۸۱۸۲۔ المحدث الفاصل، ۱/۱۷۲)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ تم قرآن کو لازم پکڑے رکھنا، اور تم لوٹ کر ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو میری باتیں سننے کے خواہش مند ہوں گے، پس جس نے میری کوئی بات اچھی طرح سمجھ کر یاد کی ہو، وہ اس کو بیان کر دے، اور جس نے میری طرف ایسی بات کی نسبت کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ:  وانتم تسالون عنی فما انتم قائلون؟ قالوا نشہد انک قد بلعت وادیت ونصحت فقال باصعبہ السبابۃ یرفعہا الی السماء وینکتہا الی الناس اللہم اشہد اللہم اشہد ثلاث مرات۔ (مسلم، ۲۱۳۷)
’’تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، پس تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا، ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا اور پوری خیر خواہی کے ساتھ ذمہ داری ادا کر دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور اس کے ساتھ لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔‘‘
[ابوبکرۃ (بخاری ۴۰۵۴)  ابو سعید (ابن ماجہ، ۳۹۲۱۔ مسند احمد، ۱۱۳۳۸)  ابن عمر (بخاری، ۳۰۵۱)  ابن عباس (بخاری، ۱۶۲۳)  جابر بن عبد اللہ (مسند احمد، ۱۴۴۶۱)  نبیط بن شریط(مسند احمد، ۱۷۹۷۳۔ الآحاد والمثانی، ۱۲۹۸)  عداء بن خالد الکلابی(مسند احمد، ۱۹۴۴۷)  عمرو بن الاحوص (ابن ماجہ، ۳۰۴۶)  سفیان بن وہب الخولانی(مسند احمد، ۱۶۸۷۷)  عم ابی حرۃ الرقاشی (مسند احمد، ۱۹۷۷۴)  حارث بن عمرو (المعجم الکبیر، ۳۳۵۰)  وابصۃ بن معبد الجہنی (المعجم الاوسط، ۴۱۵۶)  ابو الزوائد (ابو داؤد، ۲۵۷۰)  ابو غادیۃ (ابن سعد ۲/۱۸۴)]

آپ فنِ تفسیر اور اصولِ تفسیر کیسے پڑھیں اور پڑھائیں!

مولانا محمد صدیق ابراہیم مظفری


بارہویں صدی ہجری کے اوساط میں دہلی کی فقید المثال شخصیت ملا نظام الدین بن ملا قطب الدین سہالوی متوفی ۱۶۱اھ رحمہ اللہ کی وساطت سے پاک و ہند میں علومِ اسلامیہ کی تعلیم و ترویج کا ایک نیا دور شروع ہوا کہ ملا صاحب نے مختلف علوم و فنون میں درجہ بدرجہ تعمیر و ترقی کے لئے ایک مستقل نصاب تعلیم ترتیب دیا، جس میں صرف، نحو، لغت اور استعدادی فنون کی تعلیم شروع کے درجات میں رکھی گئی، اور علومِ عالیہ یعنی عقیده، تفسیر، حدیث اور فقہ کی اعلیٰ تعلیم نصاب کے آخری مراحل میں طے پائی۔ ملا نظام الدین سہالوی رحمہ اللہ کا مرتب کردہ یہی نصابِ تعلیم بعد میں "درسِ نظامی" کے عنوان سے معروف ہوا اور پورے بر صغیر میں چھا گیا۔
نتائج کے اعتبار سے یہ نصابِ تعلیم بہت ہی حوصلہ افتر اثابت ہوا کہ اس کی وجہ سے تمام اہم اسلامی علوم و فنون ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے۔  اس سے بہت سے شائقین کو مختلف علوم و فنون میں بسہولت تعمیر و ترقی کے یکجا مواقع میسر آئے اور بر صغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں فکری وحدت و سلامتی کے حوالے سے من جانب اللہ یہ ایک نعمتِ عظمیٰ ثابت ہوئی، بعد کے ادوار میں اگرچہ جزوی طور پر اس میں ترمیم و تبدیلی ہوتی رہی اور متعدد اہم کتب کو شاملِ نصاب کیا گیا، مگر اس کا عنوان اور اصل ڈھانچہ وہی باقی ہے، جو شروع میں تھا۔ 
درسِ نظامی میں داخلِ نصاب کتب سے متعلق ذیل کی یہ تحریر اس جذبے سے لکھی جارہی ہے کہ طلبہ کرام کے وقت کو کس طرح زیادہ سے زیادہ قیمتی بنایا جائے اور نصابی کتب سے بھر پور استفادے کی راہیں کس طرح ہموار کی جائیں ؟ 
ہم نے اپنی اس تحریر میں بطورِ خاص موجودہ دور میں ’’درسِ نظامی‘‘ کے تحت پڑھائی جانے والی کتب کو فنون کی ترتیب پر ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے ہم تفسیر واصولِ تفسیر کی داخلِ نصاب کتب کو ذکر کریں گے، اور اس کے بعد بالترتیب حدیث ،اصولِ حدیث اور دیگر فنون کی کتب کو ذکر کریں گے۔ اس دوران ہم نے پورے اہتمام کے ساتھ تمام کتب کے صحیح نام باحوالہ درج کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ بحیثیتِ فن کسی بھی کتاب کے مطالعہ سے پہلے اُس کا درست اور مکمل نام معلوم ہوناضروری ہے کہ اس سے ایک تو مؤلف کے وضع کردہ اصل نام کا پتہ چل جاتا ہے اور دوسرا یہ چیز اس کتاب کے تعارف اور منہجِ مؤلف کو سمجھنے میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوتی ہے۔ 
کتاب کے درست نام کے بعد اس کے منہج اور مواد پر مختصر انداز سے تبصرہ کیا گیا ہے، درسی حوالے سے اُس کے بہترین نسخے کی تعیین کی گئی ہے ، ہر کتاب کی چند اہم شروحات کے نام درج کیے گئے ہیں، اور گراں قدر درسی فوائد اور تجاویز کو مختصر الفاظ میں قلم بند کیا گیا ہے، جن میں سے بعض تجاویز ورمیان میں اور بعض فن کی جملہ کتب کے آخر میں ہیں۔ باقی درسِ نظامی کے فنون میں سے ہر فن کا مفصل تعارف اور اس فن کی داخلِ نصاب کتب میں سے ہر کتاب کے منجِ مؤلف اور شروح و حواشی و غیرہ کا تفصیلی بیان ہماری کتاب ’’قرۃ العيون في تعريف كتب المنہج النظامي والفنون‘‘  میں آئے گا ۔ ان شاء اللہ۔

علومِ قرآن / اصولِ تفسیر

اس فن کے تحت دو کتابیں ’’درسِ نظامی‘‘  میں داخل نصاب ہیں:

(۱) الفوز الکبیر

اس کتاب کے پہلے چار ابواب وفاق المدارس العربیہ کے تحت درجہ سادسہ میں داخلِ نصاب ہیں اور اس کا پورا نام ’’الفوز الكبير في أصول التفسیر‘‘ ہے۔  یہ پاک وہند کے معروف علمی وروحانی پیشوا امام الہند شیخ احمد بن عبد الرحیم المعروف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی ۱۷۶ اھ ) رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ، جو کہ اپنے حَجم کے اعتبار سے اگرچہ مختصر ہے، مگر فنِ اصولِ تفسیر میں نہایت جامع کتاب ہے ۔  اس کے کل پانچ ابواب ہیں، جن میں سے پانچواں باب (جو کہ قرآنِ کریم کے غریب المعنی الفاظ کی تشریح اور اسباب نزول کے بیان میں ہے اور مصنف نے اسے ’’ فتح الخیر ‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے ، یہ باب) عربی میں ہے اور باقی مکمل کتاب فارسی زبان میں ہے، جس کا دار العلوم دیو بند کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری (متوفی ۱۴۴۱ھ ) رحمہ اللہ اور دیگر کئی علماء کرام نے عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور اس وقت درس نظامی میں تقریباً ہر جگہ یہی عربی
ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔
کسی بھی کتاب سے صحیح طور پر استفادے کے لیے ضروری ہے کہ طالب علم کے پاس اس کا ایسا نسخہ ہونا چاہیے کہ جو محقق بھی ہو اور سہل الاستفادہ بھی ہو ۔ نیز یہ نسخہ طالب علم کا اپنا ذاتی ہونا چاہیے تا کہ وہ دورانِ درس مختلف مباحث کو نشان زد کر کے اُن کی تنقیح و تحقیق کر سکے اور پھر زندگی بھر ان تنقیحات کی روشنی میں فن کے اندر اپنے علمی سفر کو مزید آگے بآسانی جاری رکھ سکے۔ اس حوالے سے ’’الفوز الکبیر‘‘  کے موجودہ نسخوں میں سے ’’مکتبۃ البشری کراچی‘‘ سے طبع ہونے والا نسخہ سب سے بہترین ہے، جو کہ حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ کی تعریب اور تعلیق پر مشتمل ہے اور اس کے عربی تراجم میں سے یہی بہترین اور مقبولِ خاص و عام ترجمہ ہے۔  البتہ ! دیگر ناشرین کی طرح مکتبۃ البشری نے بھی ’’الفوز الکبیر‘‘  کے صرف پہلے چار ابواب کو شامل اشاعت کیا ہے اور پانچویں باب کو شاید الگ عنوان اور الگ زبان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے باقی چار ابواب کے ساتھ شائع نہیں کیا گیا۔ 
اس کے دیگر عربی تراجم میں سے شیخ محمد منیر ابن عبدہ دمشقی (متوفی ۱۳۶۷ھ ) رحمہ اللہ کا ترجمہ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے اور اس کے اُردو مترجمین میں مولانا سعید احمد انصاری، مولانا محمد رفیق چودھری اور مولانا محمد اختر مصباحی شامل ہیں۔ 
اس کتاب کی عربی شروحات میں سے حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ کی شرح ’’العون الكبير‘‘ اور مولانا محمد الیاس گجراتی حفظہ اللہ کی شرح ’’روح القدیر‘‘ بہت بہترین ہیں۔ اور اس کی اُردو شروحات میں سے حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی (متوفی ۱۴۲۹ھ ) رحمہ اللہ کی ’’عون الخبیر ‘‘  اور حضرت پالنپوری رحمہ اللہ کی  ’’الخیر الکثیر ‘‘  قابلِ ذکر ہے۔

(۲) التبیان

یہ وفاق المدارس کے تحت درجہ سابعہ میں مکمل کتاب داخلِ نصاب ہے اور اس کا پورا نام ’’التبيان في علوم القرآن‘‘ ہے۔  یہ عالمِ عرب کی مشہور اور معاصر علمی شخصیت شیخ محمد علی صابونی (متوفی ۱۴۴۲ھ) رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے علوم القرآن (اصولِ تفسیر) کی ابتدائی معلومات سے لے کر آخر تک کے مباحث کو بہت عمدگی کے ساتھ جمع فرمایا ہے، اور اسے انہوں نے گیارہ فصلوں پر مرتب کیا ہے۔  اس کتاب میں کافی مفید مواد جمع ہے، البتہ ! اس کی زبان ہماری عمومی کتب سے ہٹ کر قدرے مشکل اور لغتِ جرائد کی طرف مائل ہے۔
اس کے موجودہ نسخوں میں سے ’’مکتبۃ البشری ‘‘ سے طبع ہونے والا نسخہ تقریباً سب سے بہترین ہے ، جو کہ خود مؤلف رحمہ اللہ کے مختصر حواشی کے ساتھ مطبوع ہے ، چونکہ اس کتاب کو داخلِ نصاب ہوئے کوئی بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا، اس وجہ سے اس پر ابھی تک کوئی خاطر خواہ علمی کام بھی نہیں ہو سکا، اس کی موجودہ شروحات میں سے مولانا محمد آصف ندیم جھنگ شہری کی اُردو شرح ’’نسیم البیان‘‘ سب سے اچھی ہے۔ 

فائدہ

کسی بھی کتاب کو بحیثیتِ فن سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس فن کی دیگر کتب کو پڑھے، اس سے مطالعے میں وسعت پیدا ہوتی ہے، فہم میں پختگی آتی ہے، اور یہ پتہ چلتا ہے کہ فلاں بحث کے بارے میں مؤلف کے علاوہ دیگر اہلِ فن کی رائے کیا ہے۔  کسی کتاب کی محض شروحات پر اکتفا کرنے سے آدمی محدود ہو کر رہ جاتا ہے اور اس محدود فکری کی وجہ سے بسا اوقات موروثی علمی تسامحات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 
اساتذۂ کرام اور ادارے کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ہر فن کے طلبہ کو وسیع پیمانے پر اس فن کے اہم مصادر و مراجع مہیا کریں، اصولِ تفسیر کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ ان دو کتب کے ساتھ علامہ بدر الدین زرکشی (متوفی ۷۹۴ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’البرھان في علوم القرآن‘‘، علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’ الإتقان في علوم القرآن‘‘ اور شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کی کتاب ’’علوم القرآن ‘‘  اور ’’مقدمہ معارف القرآن ‘‘  کو کم از کم ضرور مطالعہ میں رکھے، اس سے ان شاء اللہ علمی طور پر بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔
باذوق طالب علم کے پاس درسِ نظامی کے فنون میں سے ہر فن کے لیے ایک مخصوص ڈائری ہونی چاہیے کہ جس میں وہ اس فن کے اہم مباحث کی تنقیحات درج کرتار ہے اور دورانِ تعلیم سامنے آنے والی اس فن کی کتب کی فہرست بناتا ہے۔  اس طرح کرنے سے طالب علم کے پاس ہر فن سے متعلق بہترین مواد جمع ہو جائے گا اور اس کے لیے ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔  اصولِ تفسیر کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنی اس کاپی میں فن کی دیگر کتب کے نام درج کرنے کے ساتھ ساتھ ’’الاتقان‘‘  کی فہرست کا نصابی کتب کے مباحث سے موازنہ ضرور تحریر کرے اور اس کی وجہ سے سامنے آنے والے فروق اور جدید اہم مباحث کو نوٹ میں لائے۔

ترجمہ و تفسیر قرآن

اس عنوان کے تحت دو اہم تفاسیر اور ایک بار مکمل قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر ’’درسِ نظامی‘‘  میں داخلِ نصاب ہے: 

(۱) ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

مکمل قرآن کریم کا اُردو ترجمہ اور اس کی مختصر تفسیر درجۂ ثانیہ، ثالثہ، رابعہ اور خامسہ میں متفرق طور پر وفاق المدارس کے تحت داخلِ نصاب ہے، اور عام طور پر ان درجات کے طلبہ اور اساتذۂ کرام اُردو تراجم و تفاسیر کی مدد سے ترجمہ و تفسیر پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، جس کی وجہ سے تفسیرِ قرآن کی مبارک صف سے وابستہ طلبہ مفرداتِ قرآن کو الگ سے حل کر کے اُن کے معانی کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے محض اُردو تراجم و تفاسیر میں درج مفاہیم پر اپنے علم و تحقیق کا مدار رکھتے ہیں،  حالانکہ علمی اعتبار سے یہ عوام الناس کا درجہ ہے۔ چنانچہ اس کی وجہ سے اتنی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے ، مگر یہ مطلب ان الفاظ سے کس طرح مفہوم ہو رہا ہے اور ان میں سے کون سا لفظ کس معنی کی خبر دے رہا ہے ؟ اس کی طرف طلبہ کرام کی کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہو پاتی۔ 
یہی وجہ ہے کہ باطل پرست لوگ جب رُخ بدل بدل کر قرآنِ کریم کے حوالے سے مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نصوصِ قرآنیہ میں تحریف کر کے معاشرے میں انحراف والحاد کی راہیں ہموار کرتے ہیں، تو اس وقت عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے فاضل کی سوچ اسی جگہ جا کر ٹھہر جاتی ہے، جہاں پر عوام الناس کی رہنمائی کی خاطر لکھی جانے والی اُردو تفاسیر اور تراجمِ قرآن نے اُسے چھوڑا ہوتا ہے۔  اس سے آگے بڑھ کر اسلاف کے علوم سے گہری وابستگی کے نتیجے میں وہ اس حوالے سے اپنے طور پر کچھ نہیں کر پاتا۔ اگر یہی صورت حال چلتی رہی تو عنقریب ہمارے درمیان سے قرآنِ کریم کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے والے لوگ ختم ہو جائیں گے ! 
فہمِ قرآن کا ملکہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ علومِ عربیت میں مہارت حاصل کی جائے اور اسلاف کی کتب کی گہری مراجعت رکھی جائے۔ قرآنی آیات کے معانی و مطالب تک پہنچنے میں ہمارا عزیز طالب علم محض دوسروں کا مقلد بن کر نہ رہ جائے، بلکہ اس سلسلے میں خود محنت کرے، جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ پہلے ہر لفظ کی صرفی، پھر لغومی اور پھر نحوی تحقیق کرے ،اس کے بعد علمِ بلاغت اور بدیع کی مدد سے اُس کے رموز کو حل کرے، اور آخر میں اسلاف کی کتب میں مراجعت کر کے اس کی مراد متعین کرے۔
قرآن پاک کے مفردات اور مشکل الفاظ کے حل میں متقدمین سے لے کر دورِ حاضر تک کے علماءِ تفسیر نے مستقل طور پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ ) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الإتقان في علوم القرآن‘‘ کی چھتیسویں فصل کے شروع میں اس حوالے سے فرمایا ہے: ’’أفردہ بالتصنيف خلائق لا يُحصون‘‘۔ اور معاصر عرب محقق ڈاکٹر فوزی یوسف حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ’’معاجم معاني ألفاظ القرآن الكریم‘‘  میں خاص اس موضوع پر لکھی جانے والی ایک سو آٹھ کتب کے نام مع مختصر تعارف ذکر کیے ہیں۔
لغات قرآن کے حل کے لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ کم از کم علامہ حسین بن محمد دامغانی (متوفی ۴۷۸ھ) رحمہ اللہ کی كتاب ’’الوجوہ والنظائر  في القرآن الكريم‘‘ ، امام راغب اصفہانی (متوفی ۵۰۲ھ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’المفردات في غريب القرآن ‘‘ ، سابق مدرسِ حرمِ مکی شیخ ابو بکر الجزائری (متوفی ۱۴۳۹ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’أيسر التفاسير لكلام العلي الكبير‘‘، اور اُردو زبان میں مولانا عبد الرحمن کیلانی (متوفی ۱۴۱۶ھ ) رحمہ اللہ کی منفرد تصنیف ’’مترادفات القرآن‘‘ کو ضرور دیکھے۔  بلکہ ان میں سے الوجوه والنظاہر ، ایسر التفاسیر اور مترادفات القرآن تو ہر طالب علم کی ذاتی ہونی چاہیے، اور اگر ممکن ہو ، تو اس کے ساتھ ساتھ دورۂ حدیث میں داخلِ نصاب کتبِ ستہ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابی داود، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ ) وغیرہ کی ’’کتاب التفسیر‘‘  کی بھی مراجعت رکھی جائے، اس سے حدیث کی برکت حاصل ہو گی، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ اور صحابہ کرامؓ کے تفسیری فرامین کا علم ہو گا، اور یہی تفسیر کے میدان میں اصل چیز ہے۔  باقی نحومی اور بلاغی رموز کے حل کے لیے کم از کم شیخ محی الدین درویش ( متوفی ۱۴۰۳ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’إعراب القرآن و بیانہ‘‘ ضرور دیکھ لی جائے۔ 
نیز عربی تفاسیر میں سے کم از کم شہاب الدین آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ ) رحمہ اللہ کی تفسیر ’’روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثانی‘‘ کی، اور اُردو کتب میں سے حضرت مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ کے ’’ترجمۂ قرآن‘‘ ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (متوفی ۱۳۶۲ھ ) رحمہ اللہ کی تفسیر ’’بیان القرآن ‘‘، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی (متوفی ۱۳۹۶ھ) رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ اور حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری (متوفی ۱۴۲۲ھ ) رحمہ اللہ کی تفسیر ’’انوار البیان ‘‘  کی ضرور مراجعت رکھی جائے۔ 
اس سلسلے میں تعمیر و ترقی کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ بطورِ خاص درجہ ثانیہ ، ثالثہ ، رابعہ اور خامسہ کا طالب علم ترجمۂ قرآن کے درس میں بیاض و الا قرآن اپنے سامنے رکھے، اُستاذ کی تقریر کی روشنی میں مفردات کی لغوی، صرفی اور نحوی تحقیق وغیرہ تحریری طور پر اس میں درج کرے، اور اُن کے بتلائے ہوئے تفسیری فوائد نوٹ کرے، پھر درس سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم درجِ بالا کتب کی روشنی میں اُس درس کی دوبارہ مراجعت کرے، اور اس دوران سامنے آنے والے نئے علمی فوائد کو اپنے پاس نوٹ کرلے، اس طرح کرنے سے قرآنی نصوص کے معانی و مطالب طبیعت میں راسخ ہو جائیں گے اور فہمِ قرآن کا عظیم ملکہ نصیب ہو گا۔ 
اساتذۂ کرام کو چاہیے کہ وہ درجہ ثانیہ سے ہی اس حوالے سے طالب علم کی ذہن سازی کریں، اسے بہتر سے بہتر منہج اپنانے کی سوچ دیں، اور اس کے وقت کو قیمتی بنانے میں اپنے اپنے حصے کا مؤثر کردار ادا کریں، جس کی ایک بہترین عملی صورت یہ ہے کہ اساتذۂ کرام عم پارہ پڑھاتے ہوئے نوٹس بورڈ پر مفردات حل کروائیں اور طلبہ کرام کو حل شدہ مفردات اپنی کا پہیوں میں درج کرنے کا مکلف بنائیں، اس سے ان شاء اللہ طلبہ کرام میں تحقیق اور جستجو کی عادت پڑ جائے گی۔ 
باقی یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قرآنی لغات کو حل کرنے کے لیے عام عربی لغات ناکافی ہیں، کیونکہ قرآنِ پاک کا ایک خاص اسلوب اور بدیع اندازِ بیان ہے ، جو کہ عام طور پر انسانی فہم و فراست سے بالا تر ہوتا ہے، اور دوسرا عام لغات کے ذریعہ قرآنِ پاک کی کسی تعبیر کا از خود مطلب متعین کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ قرآنِ پاک میں ایک ایک مادہ مختلف مقامات پر پانچ پانچ ، دس دس اور بارہ بارہ معافی کے لیے استعمال ہوا ہے ، اس لیے ماہرین علماءِ تفسیر کی کتب ہی بتا سکتی ہیں کہ کون سی جگہ اور کس سیاق میں یہ لفظ کس معنی کے لیے آیا ہے۔ 
مثال کے طور پر ’’ت، ب، ع‘‘،  یہ مادہ قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر الگ الگ سات معانی کے لیے آیا ہے: ( صحبت، اقتداء، اختیار، عمل، نماز، استقامت اور طاعت)، اسی طرح ماده  ’’خ، ف، ف‘‘  قرآن مجید میں پانچ معانی (معمولی چیز ، جوانی، آسانی، نقصان اور تخفیف) کے لیے استعمال ہوا ہے ،  اسی طرح ماده ’’ر، ء، ي‘‘ مختلف مقامات پر پانچ معانی میں،  مادہ  ’’ر، ج ، ع‘‘  آٹھ معانی میں، اور مادہ ’’ ر، ح، م‘‘ چودہ معانی میں استعمال ہوا ہے۔  [ دیکھیے: الوجوہ والنظائر للدامغاني + المفردات للأصفھاني] 

(۲) تفسیر الجلالین

قرآن کریم کی یہ مکمل تفسیر وفاق المدارس کے تحت درجۂ سادسہ میں داخلِ نصاب ہے اور یہ عربی زبان میں نہایت مختصر اور عمدہ تفسیر ہے ۔ اس کا انداز عام تفاسیر سے مختلف ہے ، اس میں قرآنی آیات کے بیچوں بیچ مشکل الفاظ کی تشریح، مجملات کی توضیح اور مہمات کی تعیین کی گئی ہے۔ مختلف آیات کے شانِ نزول ذکر کیے گئے ہیں اور فصاحت و بالاغت کے قواعد کی روشنی میں محذوفات کی تعین کی گئی ہے، مختلف تفسیری اقوال میں سے راجح قول کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، اور مختصر الفاظ میں ضروری اعراب اور مشہور قراءات کو بیان کیا گیا ہے۔ 
اس تفسیر کو دو مفسرین نے لکھا ہے اور دونوں کا لقب جلال الدین ہے، جس کی وجہ سے یہ " تفسیر الجلالین " کے نام سے مشہور ہو گئی ہے۔  باقی ان دونوں مصنفین نے اپنی تفسیر کا اصل نام کیا رکھا ہے، اس بارے میں کوئی تفصیل ہمیں نہیں مل سکی۔  مختصر نام کے طور پر اسے جلالین کے بجائے ’’تفسیر الجلالین‘‘ کہنا چاہیے ۔ 
اس میں سورۂ کہف سے لے کر سورۂ ناس تک، اور سورۂ فاتحہ کی تفسیر علامہ جلال الدین محمد بن احمد محلی (متوفی ۸۶۴ھ ) رحمہ اللہ کی تحریر کردہ ہے کہ شروع میں انہوں نے نصف آخر کی تفسیر لکھی، اور اس سے فارغ ہو کر نصف اول میں سے صرف سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھ پائے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ پھر اُن کے انتقال کے چھ سال بعد علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ ) رحمہ اللہ نے تقریباً بائیس سال کی عمر میں چالیس دنوں کے اندر سورۂ بقرہ سے لے کر سورۂ بنی اسرائیل تک اس کا تکملہ لکھا۔ 
اس کے عرب و عجم میں مختلف محقق نسخے مطبوع ہیں۔  ہمارے ہاں موجودہ نسخوں میں سے "مکتبۃ البشری" سے طبع ہونے والا نسخہ سب سے بہترین ہے، اس کی عربی اور اُردوزبان میں متعدد شروحات لکھی گئی ہیں۔ عربی شروحات میں سے ملا علی قاری ( متوفی ۱۰۱۴ھ) رحمہ اللہ کی ’’الجمالین‘‘، شیخ عطیہ بن عطیہ الأجهوری (متوفی ۱۱۹۰ھ ) رحمہ اللہ کی ’’الكوكب النبرین في حل ألفاظ [ تفسير] الجلالین‘‘ اور شیخ احمد بن محمد صاوی (متوفی ۱۲۴۱ھ ) رحمہ اللہ كى ’’بلغۃ السالك لأقرب المسالك‘‘ بہترین ہیں، جو کہ ’’حاشیۃ الصاوي علی تفسیر الجلالین‘‘ کے عنوان سے مشہور ہے، اور اُردو میں دار العلوم دیوبند کے استاذ حضرت مولانا محمد جمال بلند شہری حفظہ اللہ کی شرح ’’جمالین‘‘مناسب ہے۔) 
تفسیر جلالین کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے دیگر عربی تفاسیر کی مراجعت کے ساتھ ساتھ کم از کم تفسیر جلالین ہی کے طرز پر لکھی جانے والی حضرت مولانا علامہ عبد العزیز پر ہاڑوی (متوفی ۱۲۳۹ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’السلسبيل في تفسير التنزیل‘‘ اور سابق مدرس مسجد نبوی شیخ ابو بکر الجزائری (متوفی ۱۴۳۹ھ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’أيسر التفاسير لكلام العلي الكبير‘‘ کو ضرور دیکھے۔ اور اُردو تراجم و مختصر تفاسیر میں سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (متوفی ۱۳۶۲ھ) رحمہ اللہ کے ترجمۂ قرآن و خلاصہ تفسیر، اور حضرت مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ کے ترجمۂ قرآن کی ضرور مراجعت کرے کہ ان دونوں حضرات کی بطور خاص بین القوسین کی عبارات اغراضِ جلالین کے حل میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ 

(۳) تفسیر بیضاوی

ویسے تو یہ مکمل قرآن پاک کی تفسیر ہے، مگر وفاق المدارس کے تحت درجۂ سابعہ میں اس کے جز اول کا صرف پہلا ربع در ساً‌ پڑھایا جاتا ہے۔ اس تفسیر کا پورا نام ’’أنوار التنزيل وأسرار التأويل‘‘  ہے۔ [خطبۃ المؤلف] 
یہ قاضی ناصر الدین عبد اللہ بن عمر بیضاوی ( متوفی ۶۸۵ھ ) رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآنِ کریم کے ہر ہر حرف، بلکہ ہر ہر نقطے کے معنی و مفہوم کو عربی کے قواعد اور شرعی اصولوں کی روشنی میں اُجاگر کیا ہے، اور فنِ تفسیر میں یہ منتہی درجے کے طلبہ کی کتاب ہے۔ مختصر نام کے طور پر اسے بیضاوی کے بجائے ’’تفسیر بیضاوی‘‘  کہنا چاہیے، کیونکہ بیضاوی مؤلف کی نسبت ہے، کتاب کا نام نہیں۔ ورنہ تو یہ ایسے ہو گا کہ جیسے تاویل کر کے ملتان کے رہنے والے کسی مصنف کی کتاب کو ’’ملتانی‘‘  کہا جانے لگے ! 
اس کے عرب و عجم میں مختلف محقق نسخے مطبوع ہیں، درسی حوالے سے ہمارے ہاں موجودہ نسخوں میں سے "مکتبۃ البشری" سے طبع ہونے والا نسخہ سب سے بہترین ہے ، جو کہ سندھ کے مشہور عالم مولانا عبد الکریم کورائی (متوفی ۱۳۶۳ھ ) رحمہ اللہ کے حواشی کے ساتھ مطبوع ہے۔ اس کے عربی اور اُردو میں متعدد شروح و حواشی لکھے گئے ہیں، اس کی عربی شروحات میں سے علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’نواھد الأبكار و شوارد الأفکار‘‘ اور شہاب الدین خفاجی (متوفی ۱۰۶۹ھ) رحمہ اللہ كا حاشیہ ’’عنايۃ القاضي وكفايۃ الراضي‘‘  بہت عمدہ ہے، جو کہ ’’حاشيۃ الشھاب علی تفسير البيضاوي‘‘ کے عنوان سے مشہور ہے۔  اسی طرح تفسیر بیضاوی پر شیخ عبد الرحمٰن بن محمد شیخی زاده (متوفی ۱۰۷۸ھ ) رحمہ اللہ اور شیخ عبد الحکیم سیالکوٹی (متوفی ۱۰۶۷ھ ) رحمہ اللہ کا حاشیہ بھی شان دار ہے اور اول حلِ کتاب میں بہت زیادہ معاون ہے۔
اس کی اُردو شروحات میں سے دار العلوم دیوبند کے معقولات کے مشہور استاذ حضرت مولانا فخر الحسن گنگوہی (متوفی ۱۳۱۵ھ ) رحمہ اللہ کی شرح ’’التقرير الحاوي‘‘،  جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا منظور احمد نعمانی (متوفی ۱۴۲۳ھ ) رحمہ اللہ كى ’’الھديۃ النعمانيۃ‘‘، اور اُن کے عظیم شاگرد حضرت مولانا منظور الحق (متوفی ۱۴۰۴ھ ) رحمہ اللہ کی شرح  ’’النظر الحاوي‘‘   قابل ذکر ہیں ۔ ان میں سے اول الذکر علمیت سے خوب آراستہ ہے، مگر اس کی تعبیرات قدرے مغلق اور عبارات مکر رہیں۔ 
تفسیر بیضاوی کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اسے منطق کی کتاب سمجھ کر نہ پڑھے ، بلکہ اس کے اغراض و مقاصد کا بغور جائزہ لے، اپنے مصادر میں وسعت پیدا کرے ، دیگر تفاسیر کی مدد سے فنِ تفسیر کے رموز کو جاننے کی کوشش کرے، اور تفسیر بیضاوی کے لیے لغات القرآن سے متعلق کتب کے ساتھ ساتھ کم از کم فخر الدین رازی (متوفی ۶۰۶ھ ) رحمہ اللہ کی ’’التفسير الكبير‘‘ اور شہاب الدین آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ ) رحمہ اللہ کی ’’روح المعانی‘‘ کی ضرور مراجعت رکھے۔ 

فائدہ (۱)

تفسیر قرآن کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ تفسیر پڑھنے سے پہلے اُصولِ تفسیر میں اچھی مناسبت پیدا کر لے اور پھر تفسیر پڑھنے کے دوران اصولِ تفسیر کی کتب کی ضرور مراجعت رکھے ۔ وفاق المدارس العربیہ کے حضرات کو چاہیے کہ وہ ترجمہ و تفسیر کے ابتدائی درجات سے ہی اصولِ تفسیر کے موضوع پر ہلکے پھلکے رسائل بطورِ نصاب شامل فرمادیں، تاکہ باذوق طلبۂ کرام تفسیر کے میدان میں بتدریج ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

فائدہ (۲)

تفسیر قرآن کے طالب علم کو چاہیے کہ وہ مستند کتبِ تفسیر کو مطالعہ میں رکھے ، بطورِ خاص تفسیری روایات کے حوالے سے مکمل احتیاط سے کام لے، اور حتی الوسع کوشش کرے کہ جید علماء کرام سے مشاورت کیے بغیر کوئی کتاب نہ پڑھے، کیونکہ بعض کتبِ تفسیر ایسی ہیں کہ ان میں رطب و یابس ہر طرح کی روایات جمع کر دی گئی ہیں ، جیسے ’’تفسیر مظہری‘‘ ہے کہ اپنے طور پر یہ ایک سمندر ہے، اس میں آیاتِ قرآنیہ کی بہت تفصیل کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے، اور بعض قصص و واقعات کی اس میں بہت شان دار تاویل ملتی ہے، مگر اس میں کثرت کے ساتھ ہر طرح کی تفسیر کی روایات بیان کی گئی ہیں، جن کو بغیر تحقیق کے آنکھیں بند کر کے ہر گز نہیں لیا جا سکتا، اور ان کی تنقیح و تحقیق اور جانچ پڑتال ہر طالب کے بس کی بات نہیں ہے، اسی نوعیت کی بعض دیگر عربی تفاسیر بھی ہیں کہ جو اُردو میں مترجم نہیں، جیسے ’’تفسیر ابی سعود‘‘ وغیرہ۔
روایات کی تنقیح کے حوالے سے اُردو تفاسیر میں حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری (متوفی ۱۴۲۲ھ ) رحمہ اللہ کی کتاب ’’انوار البیان‘‘  مناسب تفسیر ہے کہ اس میں تفسیر بالقرآن کے ساتھ ساتھ تفسیر بالحدیث کا بھی کافی زیادہ اہتمام کیا گیا ہے، اور تفسیری روایات نقل کرنے میں وسعت بھر تنقیح کی کوشش کی گئی ہے، جیسا کہ عربی تفاسیر میں سے ’’تفسیر ابن کثیر‘‘  اس حوالے سے بہت عمدہ ہے۔ 

صوفیہ، مراتبِ وجود اور مسئلہ وحدت الوجود (۲)

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

سہیل طاہر مجددی


ب) مرتبہ واحدیت اور اعتبارات شئون

مرتبہ "واحدیت" (یعنی زیریں قوس) میں وجود و عدم کے بعض تعینات شامل ہو جاتے ہیں، یعنی یہاں ذات واحد کی صفت وجود بعض اعتبارات سے جمع یا کثرت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ عدم کا مطلب وجودی قضئے کی نفی ہے، وجود مطلق کے مدمقابل عدم محض آتا ہے (یعنی "وجود ہے" کے حکم کی نفی "وجود نہیں ہے" بنتی ہے)۔ پھر جوں جوں وجود مطلق کے ساتھ تخصیص کرنے والے احکام لاگو ہوتے جاتے ہیں، "وجود مطلق" متعین و مقید بن جاتا ہے۔ مثلاً "گھر ہے" ایک مطلق حکم ہے، جبکہ "نیلا گھر ہے" یا "چھوٹا گھر ہے" وغیرہ مقید احکام ہیں۔ اسی طرح "گھر نہیں ہے" کے مقابلے میں "نیلا گھر نہیں ہے" مقید نفی یا عدم ہے۔ اسی طرز پر وجود مطلق اگر "نرا ہونا ہے" تو مثلاً "قدرت کا ہونا" وجود مقید ہے (یعنی وجود قدرت کی قید کے ساتھ پایا جا رہا ہے)، وجود محض کی نفی اگر عدم محض ہے تو "قدرت نہیں ہے" عدم خاصہ ہے (عدم کا تصور یہاں علمی ہے نہ کہ وجودی)۔ تمام تخصیصی تفصیلات یا احکام اگرچہ کسی مقید چیز کے وجود کے تابع ہوتے ہیں، تاہم مرتبہ اطلاق میں وہ ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً "گھر نہیں ہے" میں "نیلا گھر نہیں ہے" شامل ہے، اسی طرح "نیلا گھر ہے" کا حکم "گھر ہے" میں شامل ہے (کہ "گھر ہوگا" تبھی وہ نیلا ہوگا، اگر گھر ہی نہیں تو نیلے کا سوال نہیں)۔
مرتبہ احدیت و واحدیت میں اطلاق و تقیید کا اسی طور پر فرق ہے، موخر الذکر میں بعض کثرتی اعتبارات پائے جاتے ہیں۔ واحدیت کے یہ کثرتی اعتبارات چار ہیں جنہیں "شناخت شئون" بھی کہتے ہیں (شئون لفظ شان سے ہے)۔ اگلے تنزلات میں ان شئون کے تحت صفات ہیں اور اس کے تحت اسماء اور اس سے افعال کا صدور ہے۔ واحدیت کے چار اعتبارات یہ ہیں: وجود، نور، علم و شہود10۔
  • وجود: کُل اسمائے غیر مشروطی کی قابلیتِ محض کو کہتے ہیں
  • نور: کُل اسماء مشروطی کی قابلیتِ محض ہے
  • شہود: قابلیتِ شرائط اسماء ہے
  • علم: ان تینوں پر محیط ہے
اسمائے مشروطی اور غیر مشروطی سے مراد اپنے معنی کے لحاظ سے متعددی و غیر متعددی مفہوم رکھنے والے اسماء ہیں۔ جہاں توجہ سیدھی الله کی جانب ہو وہ غیر مشروطی اسماء ہیں، ان کے ظہور کی جہت ذات باری خود ہی ہے۔ مثلاً الحی کا معنی غیر متعددی ہیں نیز اس کے مفہوم کے لئے ذات باری کے سوا کسی غیر کا تصور ہونا ضروری نہیں، اس لئے یہ غیر مشروطی اسم ہے جبکہ المحی (حیات دینے والا) مشروطی اسم ہے کیونکہ المحی میں خیال ذات کے علاوہ کسی غیر کی طرف بھی جاتا ہے جبکہ الحی میں توجہ غیر کی جانب نہیں جاتی۔ جو المحی ہے وہ الحی سے حیات لے کر کسی کو عطا کرتا ہے۔ پس ایسا اسم جو کسی تعین یا تقیید کا تقاضا کرتا ہو وہ مشروطی ہے اور جو اسماء ایسے نہیں ہیں وہ غیر مشروطی ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسمائے مشروطیہ کسی پر اثر کرنے یا فعل کی صلاحیت سے عبارت ہیں۔ "قابلیتِ شرائط اسماء" کا مطلب ان دو قسم کی اسماء کی قابلیتوں کا فرق ذات کو معلوم ہونا ہے۔ وجود اور نور میں تفریق شہود نے قائم کی ہے۔ شہود کی تعریف یوں بھی ہے کہ یہ خود اپنی ذات کا خود پر حاضر ہونا ہے، جیسے ہم خود پر خود حاضر ہیں غائب نہیں البتہ نیند میں غائب ہوجاتے ہیں۔ علم کی چادر نے ان تینوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ ذات کا اپنے بارے میں علم ہے۔ تفہیم کی خاطر ان میں یوں بھی فرق کیا جا سکتا ہے:
  • از خود پایا جانا وجود ہے
  • غیر کے پائے جانے کو ممکن کر سکنا نور ہے
  • ان دونوں کا حضور شہود ہے
  • ان سب کا احاطہ علم ہے
یاد رہے کہ تعین اولی میں اسماء متحقق و ظاہر نہیں ہیں بلکہ صرف ان کی قابلیتیں باقی رہ جاتی ہیں جو مشروطی اور غیر مشروطی میں منقسم ہیں اور مرتبۂ شُیُون میں یہ اعتباری ہیں۔ شرائطِ اسماء کی قابلیت "اعتباری" ہے جس سے اسماء اعتباری طور پر مشروط اور غیر مشروط قابلیت ہونے والے میں تقسیم ہیں۔ اس سب پر شان العلم اعتباری طور پر حاوی ہے نیز ان اعتبارات اور قابلیتوں کی شناخت کا ماخذ بنی ہوئی ہے۔ اصلاً یہ تفریق مفہوم کی ادائیگی کو ہے ورنہ ان میں باہم داخلی سطح پر ایسی کوئی تفریق نہیں ہے جو حقیقی ہو۔ اسی لیے یہ اعتبارات کہلاتے ہیں۔ یعنی ہمارے (جہت تحت کے) لحاظ سے یہ شہود نور و علم سے جدا مگر بالائی قوس میں کوئی تفریق موجود نہیں ہے (ہم دیکھیں گے کہ اس پہلی تجلی کے زیریں قوس میں اعتبارِ وجود نے تجلی ثانی میں جو تفصیلِ وحدت ہے اسے قیام دیا ہوا ہے جن پر اسماء متفرع ہیں اور ان پر افعال۔ یعنی صفات دوسری تجلی میں اعتبار وجود پر قائم ہیں اور شئون پہلی تجلی میں شان العلم سے ظاہر و قائم ہیں)۔
چونکہ ہر اعتبار یا مرتبہ اپنے سے ماقبل کا لاعین ولا غیر (ھو ولا ھو) ہوتا ہے، یہی معاملہ مرتبہ واحدیت کا احدیت سے ہے۔ یعنی اس لحاظ سے اعتبارات شئون وجود مطلق کے عین ہیں کہ وجود کی بنا پر یہ قائم و موجود ہیں لیکن اس لحاظ سے اس کا غیر ہیں کہ شئون وجود مقید ہیں نہ کہ وجود مطلق۔

ج) برزخ کبری یا حقیقت محمدیہﷺ

اوپر والی قوس کا رخ "لاتعین" کی طرف ہے اور زیریں قوس کا "تعین" کی طرف، دونوں کے اِن احکام کو الگ الگ کرنے کا کام برزخِ کُبریٰ کا ہے جو ذات اور اس کی تجلیات میں فرق کرنے والی تجلی ہے۔ یہاں اتنا سمجھنا کافی ہوگا کہ یہ نچلے مراتب کو اوپری مرتبے سے الگ کرنے والی "فصل" (differentiating factor) ہے۔ اس برزخ کبری کو حقیقتِ محمدیہﷺ کہتے ہیں۔ برزخ دراصل دو مختلف چیزوں میں واصل اور فاصل شے کو کہتے ہیں، جیسے آخرت اور اس دنیا کی زندگی کے مابین موت برزخ ہے، یا پھر ایک شیشے کا گلاس جو پانی سے لبالب بھرا ہوا ہے وہ اس پانی اور بیرونی ماحول میں تفریق کا ذریعہ بن گیا ہے۔ برزخ کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ دونوں اطراف کے ساتھ متصل ہوتی ہے، اسی لئے یہ انہیں منفصل یعنی الگ کرنے کا کام دیتی ہے۔ کوئی شے دو اشیاء میں حد فاصل (dividing line) تبھی بنتی ہے جب وہ انہیں ملانے والی ہو، اس کا ایک رخ ایک شے کی طرف اور دوسرا رخ دوسری شے کی طرف ہو، یوں یہ برزخ ایک پہلو سے دونوں کی جامع بھی ہوتی ہے مگر ایک لحاظ سے دونوں سے الگ (یہی وجہ ہے کہ جب دو تصورات کو لاگو کیا جائے تو ان کے مابین باؤنڈری پر ایسی اطلاقی صورتیں جنم لیتی ہیں جو برزخی نوعیت کی ہوتی ہیں، یعنی ان کا جھکاؤ من وجہ ہر دو طرف ہوتا ہے)۔ برزخ کا یہ دوگانہ پہلو شیخ ابن عربی کی فکر کا ایک اہم ستون ہے اور اسے سمجھے بغیر ان کی فکر میں "ھو ولا ھو" کا معاملہ سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ شیخ کی فکر میں دو مراتب وجود کے مابین خلا یا گیپ نہیں ہوتا، ہر درجہ اپنے سے ماقبل اور مابعد کا عین اور غیر دونوں ہوتا ہے (یعنی من وجہ "ھو" اور من وجہ "لاھو")۔ ارسطوی منطق میں کسی شے کا تصور قائم کرنے کا طریقہ ایسی حد فاصل تلاش کرنا تھا جو ایک شے کو جامع و مانع طور پر دوسری سے الگ کر دے۔ شیخ کو حد فاصل کے اس تصور پر اعتراض ہے، آپ کے مطابق یہ حد فاصل دراصل کثرت کو وحدت میں بدلنے والی برزخ ہوتی ہے11۔ باالفاظ دیگر ہر برزخ حد فاصل ہونے کے ساتھ ساتھ حد جامع بھی ہوتی ہے۔ اس بنا پر شیخ کا تصور دوئی ارسطوی منطق کے برخلاف کچھ الگ نوعیت کا حامل ہے۔ فی الوقت شیخ کے تصور برزخ کی اتنی تفصیل کافی ہے اگرچہ اس میں کچھ مزید عمیق پہلو بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ شیخ تنزیہہ و تشبیہہ کے مسئلے کو بھی اسی برزخی تصور کے طور پر دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنزیہہ بھی ہے اور تشبیہہ بھی جیسا کہ قرآن میں آیا:
لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْء وَھُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ12  (اور اس کی مانند کوئی شے نہیں، اور وہی سننے و دیکھنے والا ہے)
یعنی لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْءٌ میں تنزیہہ کا بیان ہے تو وَھُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ میں تشبیہہ کا۔ یہاں بھی خوب دھیان رہے کہ یہ جو برزخ کبری ہے، اسے بھی وجود مطلق سے "ھو ولا ھو" کی نسبت ہے کہ یہ مرتبہ احدیت و واحدیت کی جامع ہے اور مرتبہ واحدیت بہرحال اعتبارات سے عبارت ہے۔ یہاں سے حقیقت محمدیہﷺ اور ذات باری کے تعلق سے متعلق وہ بدگمانیاں صاف ہو جاتی ہیں جن کا شکار صوفی فکر کے انجان ناقدین ہو جاتے ہیں اور وہ اس معاملے کو شرک بنا ڈالتے ہیں۔ چونکہ بزرخ کبری یعنی حقیقت محمدیہﷺ کو دیگر تمام احکام و تعیینات و مراتب کے مقابلے میں تجلی اول سے سب سے زیادہ قرب حاصل ہے، اسی کے لئے کہا گیا: "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر"۔ قرآنی آیت "فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أوْ أَدْنَیٰ"13 اس قرب کا بیان ہے (نوٹ: قوسین کا تصور آیت کے الفاظ قوسین سے ماخوذ ہے)۔ مخلوقات پر اپنی اولیت کو آپﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح و جسم کے مابین تھے14 ،  یعنی نہ صرف یہ کہ آپﷺ موجود تھے بلکہ نبی بھی تھے جبکہ دیگر انبیاء دنیاوی زندگی کے وقت ہی نبی ہوئے15۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے آپﷺ کے نور کو مقدر فرمایا16۔
ہم آگے دیکھیں گے کہ ہر تعین کی الگ برزخ ہے، لہذا جب برزخ کا ذکر تعین اول میں ہو تو مراد برزخِ کُبریٰ ہوتی ہے جو یہاں اس دائرے کو دو قوسوں میں بانٹ رہی ہے۔ اس برزخ کے نام یہ ہیں: ۱۔ برزخ کُبریٰ، ۲۔ برزخِ اکبر، ۳۔ برزخِ اعظم، ۴۔ برزخِ جامعہ، ۵۔ برزخِ اَوَّل، ۶۔ حقیقتِ مُحمَّدؐیہ، ۷۔ عُلُو

مرتبہ سوئم: تجلی دوئم یا دائرہ وحدانیت (یا عالم لاھوت 17)

دوسری تجلی پہلی تجلی کی تفصیل ہے، یعنی وحدت (تجلی اول) اگر اجمال ہے تو تجلی ثانی یعنی وحدانیت اس کی تفصیل، اور تفصیل کا مطلب وجود مطلق پر تعیین یا تخصیصی احکام کا اضافہ ہونا ہے۔ تعین ثانی کے لئے مختلف مصنفین کے ہاں یہ نام بھی استعمال ہوتے ہیں:
۱۔ تجلیٔ ثانی، ۲۔ حقیقتِ انسانی، ۳۔ منتهی العالمین، ۴۔ حضرت اسماء والصفات، ۵۔ احدیت الکثرت، ۶۔ وُجُودِ اضافی، ۷۔لاہوت، ۸۔ حضرت الوہیت، ۹۔ فلک الحیوٰۃ، ۱۰۔ منشاءالسوےٰ، ۱۱۔ عالم جبروت، ۱۲۔ معدن الکثرت، ۱۳۔ نفس رحمانی، ۱۴۔ قابلیت ظُہُور، ۱۵۔ منشاءکثرت، ۱۶۔ معدن الکثرت، ۱۷۔ حضرت جمع الوجود، ۱۸۔ منتہیٰ العابدین، ۱۹۔ عَما، ۲۰۔ حقیقت انسانی
اس دائرے کی بھی دو قوسیں ہیں اور ایک برزخ جیسا کہ شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔ اوپری قوس کو "ظاہر الوجود" اور نچلی کو "ظاہر العلم" کہتے ہیں۔ دائرہ دوئم چونکہ پہلے دائرے کے مقابلے میں مقید ہے اس لئے یہ اس کے اندر ہے (آگے ان شاء اللہ ایک جامع شکل پیش کی جائے گی)۔ اس دو قوسوں اور بزرخ کی تفصیل یہ ہے۔

الف) ظاہر الوجود یا بحر الوجود

یہ اس دائرے کی اوپری قوس ہے۔ پہلے تعین میں اس بات کا ذکر ہوا کہ تجلی باری کی بدولت انسانی فکر کا جو بلند ترین شعور ہے وہ وجود ہے اگرچہ اس وجود کی حقیقت و ماہیت سے ہم واقف نہیں ہو سکتے، ماسوا اس سے کہ "وہ ہے"۔ جو وجود مطلق مرتبہ احدیت میں پنہاں تھا، اس قوس میں یہاں بطور "نفس الرحمٰن" (breadth of the merciful) ظاہر ہوگیا ہے اور جو صفات و اسماء اور ان کے تحت مخلوق کے قیام کا سبب بن گیا ہے (دیگر مراتب کی طرح "نفس الرحمن" کی اصطلاح بھی نص سے ماخوذ ہے)18۔ اس مرتبے میں کثرت مائل بوحدت ہے یعنی مرتبہ بالا کے اجمال کی تفصیل ہے۔ یہ مرتبہ اپنے اوپری مرتبے کے لحاظ سے اعتباری اور نیچے والوں کے لحاظ سے حقیقی ہے۔ علمی اعتبار سے یہاں کثرت حقیقی ہے اور وحدت اعتباری ہے اور یہ تمام اسماء الٰہیہ کو گھیرے ہوئے اور ان کی حقیقت ہے۔ نفس الرحمن کے اسی پہلو کی بنا پر شیخ ابن عربی کہتے ہیں کہ کائنات الله کے کلمات سے عبارت ہے اور از روئے قرآن ان کلمات الله کی تعداد کا شمار ناممکن ہے۔

ب) ظاہر العلم یا بحر العلم

دوسری قوس کو "ظاہر العلم" کہتے ہیں، مرتبہ واحدیت میں شئون کا علمی اعتبار یہاں اسماء و صفات کے عدمات خاصہ کی صورت نمایاں ہوگیا ہے (عدمات خاصہ کی تشریح آگے آرہی ہے)۔ اس میں کثرت اعتباری (یعنی ظاہر) ہے اور وحدت حقیقی (یعنی باطن)۔ یہ تمام اسمائے کونیہ یعنی مخلوقات کے اعیان ثابتہ کو گھیرے ہوئے ہے، اعیان ثابتہ اسمائے مشروطیہ کے برعکس انفعالی استعدادات ہیں جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔ چونکہ اس مرتبے پر اعیان ثابتہ وجود خارجی نہیں رکھتیں بلکہ ان کا تحقق مرتبہ علم میں ہے، اس لئے اس قوس کو ظاہر یا بحر العلم کہتے ہیں۔ اس دائرے کی برزخ کی وضاحت سے قبل شان، صفت اور اسم کا مفہوم پیش نظر ہونا مفید ہوگا جو مراتب وجود کی بحث میں تجرید (abstraction) کی مختلف سطحوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

مبدا، شان، صفت اور اسم کا فرق

جب شان العلم کہتے ہیں تو "ذی العلم" ذات مراد ہے، اور جب علیم کہتے ہیں تو مراد اگرچہ وہی ذات ہے مگر علم کی نوعیت مخلوق کی معلومات سے عبارت ہے۔ یعنی علم جو کہ صفت ہے، اس کی جہت مخلوق یا معلوم کی جانب ہے جبکہ شان کی نسبت ذات کی جانب۔ "ذی القوۃ" اور "قدیر" ہونے میں یہی فرق ہے، اول الذکر شان جبکہ موخر الذکر صفت ہے۔ شئون میں ملکیت کا مفہوم بھی ہے، یعنی جو ذی القوۃ ہے وہ قوت والا اور قوت کا مالک ہے نیز اس میں خود اپنے اوپر شہود و حضور ہونے کا مفہوم ہے، پس شان صفت سے قبل ذات باری کا ادراک و حضور خود اس پر اور اس کے لئے ہونا ہے اور یہ ذات و صفات کے مابین برزخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ کی شئون ذاتیہ کا ظہور کسی پر نہیں ہوتا اور وہ غیب الغیب میں ہیں۔ صفت شان پر متفرع ہوتی ہے۔ "اعتبارات شئون" چار ہیں (یعنی اعتبارات اربعہ) جن کی تفصیل پیچھے گزر چکی، ان "اعتبارات شئون" کو مبدا شئون بھی کہا جاتا ہے۔ رہے شئونات یا شانیں، تو وہ لامتناہی ہیں جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا: كُلَّ يَوْمٍ ھُوَ فِي شَأنٍ 19 (وہ ہر آن نئی شان میں ہوتا ہے)۔ شیخ ابن عربی کہتے ہیں کہ اللہ کی شانوں کی کثرت کا عالم یہ ہے کہ وہ ذات کسی ایک شان کے اظہار دو مرتبہ نہیں کرتی بلکہ ہر آن وہ ایک الگ شان کے ساتھ جلوہ گرہ ہوتا ہے، یعنی نہ تو کسی دو مظاہر میں ایک شان کا ظاہر ہوتا اور نہ ہی کسی ایک مظہر میں دو مرتبہ ایک ہی شان کا20۔ صفات ذاتیہ سات یا آٹھ ہیں (حسب اختلاف اشاعرہ و ماتریدیہ)، انہیں "امہات صفات" کہا جاتا ہے۔ جمیع صفات فعلیہ کا رجوع ان امہات صفات کی جانب ہے۔ سب صفات کا قیام وجود کے ساتھ ہے مگر یہ وجود پر زائد بھی ہیں اور الگ الگ مفہوم بھی۔ اسی لئے متکلمین کی طرح صوفیہ کے ہاں بھی انہیں لاعین ولا غیر (ھو ولا ھو) کہا جاتا ہے۔ اللہ کا ظہور مخلوق کے لئے بواسطہ یا بحوالہ صفات ہے اور ان صفات کے سوا اس کا کوئی ادراک ممکن نہیں۔ "شان" چونکہ "صفت" کے مقابلے میں ایک درجہ مزید تجرید یا تعین کا کم تر درجہ ہے، لہذا اسے صفت سے اوپری مرتبے پر رکھا گیا ہے۔
اسم کا لغوی معنی "نام" ہے جس کی جمع اسماء ہے۔ جس لفظ یا عبارت سے الله سبحانہ کی طرف اشارہ کیا جائے وہ اسم ہے، چاہے وہ اشارہ باعتبار اس کی ذات ہو یا باعتبار کسی صفت۔ صفت موصوف کا حال بیان کرتی ہے، یہ ایک معنی ہے جو ذات کے ساتھ قائم ہے اور اسماء ان صفات یا معنی کی جانب اشارے کے نام ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسماء صفات کا ظہور اور افعال کے بطون ہیں، لہٰذا صفت کسی اسم کا باطن یا حقیقت ہوتی ہے۔ ان کے عکوس (opposites and negations) صفات کی نشانیاں اور اسماء کے آثار ہیں۔ صفات کی اصلیت الوہیت اور اسماء کی اصل ربوبیت ہے۔ کل صفات کا اشتقاق اسم "اللہ" سے ہے اور کل اسماء کا اشتقاق "رب" سے ہے۔ انہیں ذات باری کے جمالی اور جلالی حجابات کہتے ہیں۔ صوفیہ کے نزدیک جو شخص ان حجابات سے آگے نظر بڑھاتا ہے وہ حد سے تجاوز کرتا ہے کیونکہ اسماء و صفات الہیہ سے ماوراء حقائق کی نوعیت تک رسائی کا کوئی انسانی ذریعہ موجود نہیں۔

ج) برزخ صغری یا حقیقت آدمیہ

اس دائرے کی برزخ "حقیقت آدم" کہلاتی ہے۔ یہ بھی نہ عین ذات ہے اور نہ غیر، البتہ یہاں اسماء کی تمیز قائم ہے جیسا کہ قوسین کی تفصیل سے واضح ہوا۔ اس کو "حضرت الوہیت" بھی کہتے ہیں اس لئے کہ ذات باری کے "اله" ہونے کا تعلق مخلوق کی جہت سے ہے اور مخلوقات کا پہلا تعین اس دوسری تجلی میں بصورت اعیان ہے (لفظ "حضرت" یہاں "حضور" سے ہے، یعنی presence)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ ذات باری کا بلند ترین مرتبہ "اله" ہونا نہیں بلکہ "احد" ہونا ہے، الوہیت کی نسبت مخلوق کے اعتبار سے متحقق ہوتی ہے جبکہ ذات باری "ہونے" کے لئے مخلوق کے اعتبار کی محتاج نہیں۔ پس "اله" اور "احد" میں صوفیہ کی توجہ "احد" پر بھی رہی اور اسی بنا پر "لا الہ الا اللہ" کی آخری منزل وہ "لا موجود الا اللہ" کہتے ہیں (پہلے دائرے کی اوپری قوس یعنی مرتبہ "احدیت" یاد کیجئے)۔ قرآن میں ہر جگہ "الہ واحد" کی ترکیب آئی ہے نہ کہ "الہ احد"، یعنی احدیت اور واحدیت دو الگ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور صوفیہ دونوں مراتب میں فرق کرتے ہیں نہ کہ مترادف۔ سورہ اخلاص میں "احد" کی بات ہوئی ہے۔
اس دائرے کا مرکزی اسم الله ہے جو حقیقت انسانیہ یا آدمیہ کا مرکز ہے۔ سب اسماء کا رجوع اسی اسم کی طرف ہے اور یہی ان سب کا سرچشمہ فیض ہے۔ یہاں اسم سے اسما کو فیض ملنے کی بات ہو رہی ہے یعنی وہ فیض جو اسم الله سے باقی تمام اسماء کو ہو رہا ہے، نہ کہ اس فیض کی جو اسم سے اس کے مربوب (یعنی عین ثابت) کو حاصل ہوتی ہے، جیسے رب اور مربوب کی نسبت جہاں خلق کو فیض منتقل ہوتا ہے (انہیں "فیض اقدس" و "فیض مقدس" کہتے ہیں جس کی وضاحت آگے آرہی ہے)۔ اسی لئے الله اسما کا مرکز اور ذاتی اسم یعنی فیاض ہے، اکثر کے نزدیک اسم اعظم الله ہے۔ اس تجلی کا نام حضرت الوہیت اسم الله کی وجہ سے ہے۔ اس تعین کو چونکہ نچلے درجات میں موجودات سے خارج میں تحقق کی نسبت ہے اس لئے اسے "وجود اضافیہ" بھی کہتے ہیں۔
برزخ سے اوپر اسمائے الٰہیہ ہیں، نیچے اسمائے کونیہ ہیں اور دائرے کا مرکز حقیقت آدمیہ یا اسم الله ہے کہ تمام اسماء کا باطنی یا ظاہری رجوع اسی کی جانب ہے، اس لئے اسے برزخ کہا گیا ہے۔ صفات اور اسماء اوپری قوس میں ایک دوسرے پر متفرع ہیں اور اسی قوس میں صفات میں سے سات امہات صفات (حیوٰۃ، علم، قدرۃ، ارادۃ، سماعۃ، بصارۃ اور کلام) کا ظہور ہوا۔ حقائقِ الٰہیہ بھی اسی دائرے یا تعین کا نام ہے جو اسمائے الہیہ و اسمائے کونیہ سے عبارت ہیں۔ آدم علیہ السلام چونکہ از روئے آیت عَلَّمَ آدَمَ الْاَسمَاءَ كُلَّھََا21 (اللہ نے آدم کو سب اسماء سکھائے) ذات باری کے تمام اسماء و صفات کے جامع ہیں، اس بنا پر اس دائرے کی برزخ حقیقت آدم کہلاتی ہے جو تمام حقائق الہیہ کی جامع مظہر ہے۔ حدیث خلق اللہ آدم علی صورتہ22 (اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا) کا یہی مفہوم ہے۔ اس جامعیت ہی کے سبب آدم علیہ السلام خلیفہ بننے کے مستحق قرار پائے۔

اعیان ثابتہ کا مفہوم

اعیان ثابتہ حقائق الٰہیہ سے عبارت ہیں جو اسماءِ الٰہیہ پر مشتمل ہیں اور جو اعیانِ ممکنات یا اسمائے کونیہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اسمائے الٰہیہ سے مُراد ایسی فعلی استعدادات (active potentials) یا وہ خاص معنی ہیں جو حق تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوں۔ اسمائے کونیہ وہ ہیں جن کے معنی مخلوق کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور یہ انفعالیت یا اثر قبول کرنے (passivity) کی استعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسمائے کونیہ کی پرورش اسمائے الٰہی کے تحت ہوتی ہے، اس لیے اسمائے الٰہیہ ارباب ہیں اور اسمائے کونیہ مربوب۔ مثلاً "خالق" اسم الہی ہے جس کا مربوب "مخلوق" ہے۔ "البدیع" اسم الہی ہے، اسمائے کونی میں اس کا مربوب "عقل کل" ہے۔ اسم الٰہی "مُحیط" ہے جس کا مربوب "عرش" ہے۔ الغرض صفات و اسمائے الہیہ کے عکوس (opposites or negations) صفات کی نشانیاں اور اسماء کے آثار ہیں۔ مزید وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ اسمائے کونیہ یا ممکنات اسماء الہیہ کی تاثیرات کے مدمقابل وہ انفعالی تراکیب (combinations) ہیں جو علم الہی میں ازل سے مقدر اور ثابت ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عالم امکان میں اسمائے الہیہ کی تجلیات سے جو کچھ ظاہر ہونا (یا موجود ہونا) تھا یہ ان سے متعلق علم الہی میں ثابت شدہ صورتیں ہیں۔ مثلاً زید الله کے فلاں فلاں اسماء کی تجلی کا مظہر ہوگا وغیرہ، یوں ہر مخلوق کا عین یا استعداد یا صورت علم الہی میں ثابت ہے۔ اسی لئے اعیان ثابتہ کو اعیان ممکنہ کے حقائق کی علمی صورتیں کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس مرتبے (یعنی تعیین ثانی) پر اسمائے کونیہ مخلوق ہو کر خارج میں موجود نہیں ہیں بلکہ صفت علم میں ثابت ہیں، یعنی اس مرتبے پر یہ اسمائے کونیہ مخلوق ہو کر خارج میں موجود نہیں ہیں بلکہ علم میں بطور صفات الہیہ کے عکوس ثابت ہیں، اگرچہ اپنا رخ یہ مخلوق کی جانب رکھتے ہیں۔ جو شے وجود حاصل نہیں کر سکتی، یعنی ممتنع ہو، وہ اسمائے کونیہ سے محروم ہوتی ہے کہ اگر وہ اسم کونی ہوتا تو یا ظاہر ہو چکتا یا ہو رہا ہوتا اور یا ہو جانے والا ہوتا۔ چونکہ اعیان ثابتہ تعیین کے مراتب میں سے ہیں، لہذا اسمائے کونیہ یا اعیان ثابتہ ذات باری کا صرف عین نہیں ہیں جیسا کہ ناقدین شیخ ابن عربی کو شبہ لگا اور انہوں نے شیخ پر خالق و مخلوق کے ایک ہونے یعنی اتحاد کا حکم لگا دیا۔ البتہ یہ اعیان ثابتہ بایں معنی حقائق کی طرح ہیں کہ اگر اسمائے الہیہ بطور تاثیری استعدادات ثابت حقائق ہیں تو ان کے برعکس انفعالی استعدادات بھی ثابت شدہ حقائق ہیں۔ یعنی اگر خدا کا قادر ہونا حقیقت ہے تو اس کے برعکس عاجزی بھی ایک ثابت حقیقت ہے (کیونکہ "قدرت کی نفی" بھی ثابت ہے اور وہی عاجزی کہلاتی ہے)، اگر اس کا بصیر ہونا حقیقت ہے تو بصارت نہ ہونا یعنی اندھا پن بھی حقیقت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان اعیان کے خارجی وجود کی نوعیت پر ان شاء الله آگے بات ہوگی۔ یہاں یہ نوٹ کیجئے کہ شیخ کے مطابق از روئے قرآن وجود خارجی یا تخلیق کا معاملہ انہی اعیان ثابتہ سے متعلق ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا:
وَإن مِّن شَيْءٍ إلَّا عِندَنَا خَزَائِنُہُ وَمَا نُنَزِّلُہُ إلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ23 (اور ایسی کوئی شے نہیں مگر ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے معین مقدار میں نازل کرتے ہیں)
اور "کن" کا حکم بھی انہی سے خطاب ہے:
إنَّمَا أمْرُہُ إذَا أرَادَ شَيْئًا أن يَقُولَ لَہُ كُن فَيَكُونُ24 (اور اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ جاتی ہے)
پس اس دائرے میں بالائی قوس کو دیکھیں تو مائل بہ وحدت ہے یعنی ان اسماء کی اصل یا حقیقت صفات الٰہیہ کی طرف لوٹ رہی ہے اور ان صفات کا رجوع نفس الرحمن کی جانب اور نفس الرحمن کا رجوع پہلی تجلی کی اوپری قوس میں وجود مطلق کی جانب، جبکہ زیریں قوس کو دیکھیں تو یہ پہلی تجلی کی زیریں قوس میں اعتبارات شئون کی کثرت کی جانب مائل ہے، اس زیریں قوس میں اعیان ممکنہ مزید کثرت کے ساتھ ہیں اور پھر یہ اگلے مرتبے میں افعال کی طرف نزول کر رہی ہے۔ اسی لئے اس دوسرے مرتبہ تعین کو وحدت در کثرت اور کثرت در وحدت، یعنی موصوف کا ایک اور صفات و اسماء کا لامتناہی ہونا، کہتے ہیں۔ وحدت اور کثرت کے اعتباری ہونے کی بنا پر اس دائرے کی بزرخ کو "حضرت الجمع" بھی کہتے ہیں۔ نیچے کی جہت سے دیکھیں تو اس مرتبہ تعین تک اسماء نے وجود کو محجوب کر رکھا ہے (دوسری قوس کو بحر العلم اسی لئے بھی کہتے ہیں، یہاں ہمارے لحاظ سے وجودی حقیقت محجوب اور علمی حقیقت نمایاں ہے)۔ اسی وجہ سے ابتدائی دو تنزلات کو علمی کہا جاتا ہے اور یہاں تک جو بھی ترتیب ہے (یعنی شئون پر صفات کا، صفات پر اسماء کا اور اسماء پر اعیان کا متفرع ہونا) اسے "حرکت علمی" کہتے ہیں نہ کہ زمانی و مکانی۔ مخلوق ذات باری کا جو بھی ادراک کر سکتی ہے وہ اسی مرتبے سے متعلق ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آتا ہے :
كُنْتُ كَنْزًا مخفياً فَأحْبَبْتُ أنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقًا25 (اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچاناجاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا)
یہاں پہلا حصہ (كُنْتُ كَنْزًا مخفياً) مرتبہ احدیت کا بیان ہے اور دوسرا مرتبہ واحدیت کا۔

مرتبہ چہارم : تجلی سوئم یا دائرہ روحانیت (یا عالم جبروت )

ابتدائی دو دائروں کے بعد نچلے تین مراتب کا تعلق امور کونیہ سے ہے، قرآن میں اسے "کن" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان دائروں میں ایسے اسماء کی تجلیات ہیں جو اسماء کے غیر کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی لئے یہاں اسم خالق اور اس کے تحت صفات فعلیہ کا اثر ظاہر ہے جیسے اسم المصور، اسم الرزاق وغیرہ۔ ہم دیکھیں گے کہ اسی لئے خالق و مخلوق کے مابین یہاں غیریت گہری و حقیقی ہے۔ از روئے آیت وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ26 (میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے) چونکہ ذات باری کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تو "صفت رحمت" یہاں باطن ہے۔ اس بنا پر تیسرے مرتبے کی اوپری قوس کو "الرحمۃ" کہتے ہیں جیسا کہ شکل 3 میں دکھایا گیا ہے۔ اس تیسرے تعین کو "عالم ارواح" و "عالم جبروت" وغیرہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں ارواح کا ظہور ہے، یہاں سب کچھ نور سے متعلق ہے، نور بمعنی منور کرنے یا ظاہر کرنے والا۔
اوپری قوس ظہور ملأ اعلیٰ ہے جہاں انبیاء و صلحاء کی ارواح ہیں۔ لوح، کتاب، قلم و کرسی سب اوپری قوس میں ہیں اور یہیں عرش سے بالا وقوعِ استَوی ہے۔ متکلمین کی اصطلاح میں جنہیں صفات خبریہ یا متشابہات کہتے ہیں جیسے کہ ید (ہاتھ)، ساق (پنڈلی) وغیرہ، وہ بھی اوپری قوس میں ہیں اور اس موقف کی رو سے یہ صفات دراصل خلق و افعال سے متعلق ہیں۔ یعنی ایسی صفات چونکہ نصوص میں کسی شے سے متعلق ہو کر بیان ہوئی ہیں اس لئے انہیں صفات فعلیہ کے تحت رکھا جاتا ہے۔ مثلاً از روئے حدیث "ساق" کی تجلی سے اہل ایمان کو ذات باری کی زیارت ہوگی27، "قدم" کی تجلی سے جہنم بھرے گی28، "اصابع" (انگلیاں) ایسی تجلی ہے جو مخلوق کے قلوب پلٹ دے29، اسی طرح از روئے قرآن "یدان" (دو ہاتھ) سے آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی 30 جس سے مراد اللہ کی صفات جمال و جلال ہیں کہ آدم سب صفات کے مظہر تام ہوئے وغیرہ (صوفیہ ذات باری کی تمام صفات و اسماء کو صفات جمال و جلال میں تقسیم کرتے ہیں)۔ اس دائرے میں دو قسم کے ملائکہ ہیں، ایک وہ جو مشاہدہ وحدانیت میں غرق رہتے ہیں، انہیں قرآن کی اصطلاح میں "عالین" کہا جاتا ہے اور یہ اوپری قوس میں ہیں31۔ زیریں قوس میں کارکنان قضا و قدر سے متعلق ملائکہ ہیں اور عام ارواح انسانیہ بھی یہاں ہیں۔ ذریت آدم سے "عہد الست"  32 نیز زمین و آسمان اور پہاڑوں پر امانت کا پیش کیا جانا 33 بھی اسی عالم سے متعلق امور ہیں۔

دائرے کا مرکز یا برزخ اسم "الخالق" ہے اور یہ اوپری مرتبے یا تعین میں اسمائے کونیہ یا اعیان ثابتہ کو ظہور میں لاتا یا ایجاد کرتا ہے۔ بالائی قوس کا باطن یعنی اسم "الرحمٰن" بتا رہا ہے کہ تخلیق کا فعل اللہ کے لیے اضطراری نہیں بلکہ یہ اس کی رحمت سے ہے۔ یاد رہے کہ خلق کی تجلی نرا صدور نہیں ہے بلکہ ارادی ہے۔ قرآن میں جو ذکر ہوا کہ ہم نے ہر شے کو گن رکھا ہے، وہ اس عالم اور اس سے مابعد تجلیات کا معاملہ ہے کہ یہاں سے افعال کے اثرات شروع ہوگئے ہیں۔ اس کی برزخ کو "عرش" بھی کہتے ہیں جو عالم ارواح سے شروع ہونے والے ایجاد کے تمام سلسلوں کا احاطہ کرنے والا ہے، "استوی علی العرش" بھی اسی سے متعلق ہے اور اسی طرح حاملین عرش فرشتے بھی۔
اس دائرے کی زیریں قوس کو قہر و غضب کہتے ہیں کہ جزا و سزا کا نظام یہاں جاری ہے۔ اس لیے یہاں وہ فرشتے متحقق ہیں جو عالم سفلی سے متعلق یا امور جہنم سے تعلق رکھتے ہیں۔ مخلوق کا وجود رحمت سے ہے، قہر و غضب سے کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ صفات رحمت و محبت کی بنا پر ہیں۔ ذات باری کا کسی سے دشمنی یا اس پر غضب فرمانا اصلاً اپنے محبوب بندوں سے محبت و رحمت کا اظہار ہے۔ یعنی چونکہ ذات باری نے محمؐد ﷺ کو پسند فرمایا تو ان کے دشمن ابتر کے حکم میں آئے اور ابولہب دشمن قرار پایا، حضرت موسی علیہ السلام کی بنا پر ہی فرعون کے ذکر کو بقا ملی وغیرہ۔ پس جو ظاہراً قہر و غضب ہے، باطناً وہ رحمت و محبت ہے۔

فیضِ اقدس اور فیضِ مُقدس کا مفہوم

شیخ ابن عربی کے مطابق فیض اقدس وہ تجلی ذاتی ہے جو اعیان ثابتہ کی صورت اشیاء کے وجود و استعدادِ کا باعث ہوئی۔ فیض مقدس ان تجلیاتِ کو کہتے ہیں جو اعیان کے ظہورِ خارجی، ان کے تمام لوازم اور توابع کی موجب ہیں۔ گویا فیض اقدس اسم الہی سے عین ثابت کا تعلق ہے جبکہ فیض مقدس عین ثابت سے وجود خارجی کا۔ موخر الذکر فیض اول الذکر پر مرتب ہوتا ہے۔ چونکہ اعیان ثابتہ کی حقیقت اسمائے الہیہ ہیں، اس لئے اعیان ثابتہ کے اثبات کے لحاظ سے ذات باری "اول و باطن" ہے۔ اگلی بحث سے واضح ہوگا کہ ان معدوم اعیان کا بطور وجود ظاہر ہونا چونکہ وجود ذات باری کی تجلی سے ہے، اس پہلو سے ذات باری ہی "آخر و ظاہر" ہے۔ فیض اقدس و مقدس کو الگ کرنے کی بنیاد نصوص میں لفظ "خلق" کا استعمال ہے۔ خلق کا مطلب مقدر یا متعین کرنا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
ألَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأمْرُ34 (آگاہ ہوجاؤ کہ خلق اور حکم سب اسی کا کام ہے)
شیخ کہتے ہیں کہ یہاں خلق "تقدیر" کے معنی میں ہے نہ کہ ایجاد کہ ایجاد کا تعلق امر سے ہے جیسا کہ کہا گیا:
إنَّمَا أمْرُہُ إذَا أرَادَ شَيْئًا أن يَقُولَ لَہُ كُن فَيَكُونُ35 (اور اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ جاتی ہے36)

مرتبہ پنجم: چوتھا تعین یا عالم مثال

یہ وہ عالم ہے جسے اہل عقل یا فلاسفہ مقولات یا "کیٹیگریز" کہتے ہیں۔ مقولات کی تعداد میں مسلم فلاسفہ و متکلمین کے مابین اختلاف ہے۔ یہاں ہم فلاسفہ کے موقف کی رو سے بات کریں گے جن کے مطابق مقولات کی تعداد دس ہے جو اس دائرے کی نچلی قوس میں رکھے جاتے ہیں جبکہ اوپری قوس میں "نفس" بطور ایک الگ کیٹیگری ہے جو ان مقولات کے قیام کا باعث ہے۔ عالم مثال میں عقل عالم ناسوت کی اشیاء کو مجرد صورتوں میں دیکھتی ہے، اسی طرح اعمال کی صورتیں اور خواب سے متعلق امور بھی اسی عالم سے متعلق ہیں، ھادی و مضل کی تجلیات بھی یہاں متحقق ہیں اور امور کرامت بھی۔ شاہ ولی اللہ نے متعدد نصوص کے ذریعے اس عالم کے نظائر پیش فرمائے ہیں۔ اس عالم کو "خیال منفصل" بھی کہتے ہیں اور اس بنا پر اسے "عالم الخیال" بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اسے عالم الخیال کہنے کا مطلب "وھمی" کہنا نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانی خیال سے متعلق یہ امور بطور حقائق فی نفس الامر موجود ہیں اور اسی لئے یہ انسانی خیال کی آماجگاہ بنتے ہیں (خیال منفصل کے برعکس ایک خیال وہ ہے جو کسی شے کے مشاھدے سے جنم لیتا ہے، مثلا سیب کو دیکھ کر ذہن میں ایک صورت بننا، اسے خیال متصل کہتے ہیں)۔ اس کی برزخ کو "نفس" کہتے ہیں۔ اوپری درجات سے ہر شے عالم مثال سے گزر کر آتی ہے۔

مرتبہ ششم: پانچواں تعین یا عالم شہادت (یاناسوت)

اس عالم میں جوہر و عرض (طبعیات و کیمیا و توانائی وغیرہ) کے تعینات لاگو ہیں، یعنی مقولات متعین تشخصات کے ساتھ یہاں ظاہر ہیں اور اسی بنا پر یہ عالم حد درجہ کثیف ہے۔ نفس انسانی کی تربیت کے لئے یہاں احکام شرع متحقق ہیں اور اوپری درجے کے حقائق الہیہ کے ادراک کو انبیاء و رسل کی اطاعت کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس کی اوپری قوس کا رخ "علم" کی جانب اور نچلی کا "جہل" کی طرف ہے اور اس کا مرکز "انسان" ہے اور اسے "ذھن" بھی کہتے ہیں۔ اس عالم میں نیکوکاروں کو بدکاروں سے الگ کر دیا گیا ہے۔ انسان کا جسم اگرچہ "جہل" سے تیار ہوا تاہم اس میں چمکنے والی روح عالم امر یا روح سے ہے۔ نیچے والی قوس جہل اس لئے کہ انسان حقائق سے دور ہو جاتا ہے اور ایسے حقائق بھی سوچ لیتا ہے جو ممکن نہیں۔ جہل جب فعل میں تبدیل ہو تو یہ ظلوم ہے (انسان کی حقیقت میں "ظلوم و جھول" ہونا بھی ہے)۔
شکل نمبر 4 میں ساری گفتگو کا خلاصہ دیا گیا ہے، اس دائرے کو اگر گلوب (globe) کی صورت گول تصور کیا جائے تو شاید زیادہ بہتر منظر کشی ہو سکے۔ یہاں دائرے کی برزخ اور اوپری و نیچی قوس کا نام دیا گیا نیز یہ بتایا گیا ہے کہ ہر دائرے میں کس درجے کا وجود متحقق ہوا۔ نیچے سے اوپر کی جانب سفر کے نتیجے میں ہم متعین وجود سے مطلق وجود کی جانب بڑھتے ہیں، ہر اوپری مرتبہ وجود نچلے مرتبے سے بایں معنی زیادہ حقیقی ہے کہ وہ اس پر مشتمل ہے۔

علامہ اقبال کے بعض اشعار

اگرچہ علامہ اقبال کے اشعار پر گفتگو سے ہم اپنے موضوع سے دور ہو جائیں گے، تاہم درج بالا فریم ورک میں آپ کے بعض اشعار کی معنویت پوری طرح نکھر کر سامنے آتی ہے۔
  • اوپر اس بات کا ذکر ہوا کہ وجود کے تعیناتی احکام میں وجود مطلق کے ساتھ سب سے زیادہ قرب حقیقت محمدیہﷺ کو حاصل ہے جو تجلی اول کی برزخ کبری ہے،
  • یہ بھی واضح ہوا کہ وجود کا ہر اوپری مرتبہ بایں معنی نچلے مراتب پر حاوی اور ان کا جامع ہے کہ ہر ذیلی تخصیص اپنے سے اوپری تخصیص میں شامل ہے،
  • نیز یہ ابھی واضح ہوا کہ لوح، قلم، کتاب وغیرہ تیسرے تعین یعنی عالم ارواح سے متعلق امور ہیں اور یہ عالم رنگ و بو جس میں ہم سانس لے رہے ہیں یہ پانچویں درجے کی بات ہے۔
اسی لئے شیخ کہتے ہیں کہ آپﷺ کے فلک نے سب افلاک کو گھیر رکھا ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کا سب سے جامع کلمہ ہیں جیسا کہ از روئے حدیث آپﷺ نے اپنی ایک خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ "اعطیت جوامع الکلم" 37 (مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں)۔ حدیث کے ان الفاظ کو آپﷺ کی فصاحت و بلاغت یا شریعت کی جامعیت وغیرہ کے محدود معنی میں لیا جاتا ہے، تاہم شیخ اسے عالم کے ذات باری کے کلمات ہونے اور ان قرآنی آیات کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں:
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدًا38‎ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا اگرچہ ہم اس کے مثل اور سمندر مدد کے لئے لے آئیں)
لَوْ أنَّمَا فِي الْأرْضِ مِن شَجَرَۃٍ أقْلَام وَالْبَحْرُ يَمُدُّہُ مِن بَعْدِہِ سَبْعَۃُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّہِ39 (اور زمین میں جتنے درخت ہیں وہ سب قلم ہوں اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اللہ کے کلمات تب بھی ختم نہ ہوں گے)
آپ کی شریعت کی جامعیت دراصل آپﷺ کی جامعیت کا مظہر تھی کہ آپﷺ کو ایسی کتاب دی جائے جو سب کلمات کی جامع ہو، اس لئے آپﷺ کو قرآن جیسی تمام کتب کی جامع کتاب عطا کی گئی جو ام الکتاب ہے ("ام" ماں کو کہتے ہیں کہ وہ جمع کرنے والی ہوتی ہے)۔ آپﷺ کو اولین و آخرین کا علم عطا ہوا، شیخ کے نزدیک اس علم کی وجہ آپ کی یہ جامعیت اور اللہ سے آپ کا قرب ہی ہے، اولین کے علم سے مراد آدم علیہ السلام کو عطا کیا جانے والا اسماء کا علم تھا40۔ اسی طرح روز قیامت آپﷺ کو تمام مخلوق کا سردار بنایا جانا، مقام محمود عطا کیا جانا، لوا کے تلے حمد و ثنا فرمانا، آپﷺ کی شریعت کا جامع ہونا، آپ کو خاتم الانبیاء قرار دیا جانا، آپ کا یہ فرمانا کہ اگر آج موسی علیہ السلام حیات ہوتے تو وہ بھی میری شریعت کے تابع ہوتے41۔ الغرض یہ سب امور ذات باری کے ہاں آپ کے ایسے خصوصی و جامع مرتبے کی بنا پر ہیں۔ یعنی ان سب امور کا تقاضا صوفیا نے وجودی مراتب میں یہ مقرر کیا ہے کہ آپﷺ ان مراتب میں سب سے اوپر ہیں اور اسی بنا پر آپ ان خصائص کے مستحق ہوئے۔ باالفاظ دیگر یہ آپ ﷺ کے فلک کی وسعت کے نتائج ہیں۔ اب علامہ اقبال کا یہ نعتیہ شعر ملاحظہ کیجئے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب 
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ 
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
نیز علامہ اقبال کہتے ہیں:
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر 
وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

2۔ توحید وجودی سے متعلق مسائل


اعیان ثابتہ کے وجود خارجی کی نوعیت

اب ہم تیسرے مرتبے اور مابعد اعیان ثابتہ کے خارجی وجود کا جو سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، وجود حقیقی کے ساتھ اس نسبت پر گفتگو کرتے ہیں جسے نہ سمجھنے کے سبب متعدد غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ سب سے پہلے عدم کا مفہوم سمجھنا چاہئے کیونکہ صوفیہ عدم سے تخلیق کے قائل ہیں تاہم عدم سے ان کی مراد نفی محض (absolute nothing) نہیں۔

عدم کا مفہوم

عدم کسی شے کی نفی کو کہتے ہیں (یعنی وہ نہیں پائی جا رہی)، لہذا عدم کا حکم کسی شے کے پائے جانے کے ساتھ ہے۔ دوسرے لفظوں میں عدم کسی وجود کی وجہ سے ہوتا ہے، کسی شے کے وجود کی نفی اس کی "ہویت" (ہونے) کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ مثلاً قدرت کا عدم عاجزی ہے، علم کا عدم جہل ہے، بصارت کا عدم اندھا پن وغیرہ۔ انہیں "عدمات خاصہ" کہا جاتا ہے۔ ہر تعیین (یعنی خاص قید کے ساتھ شے کے ہونے) کی نفی سے خاص قسم کا عدم ثابت ہوگا۔ زید کا معذور ہونا ایک عدم ہے تو زید کا نابینا ہونا ایک اور قسم کا۔ ہر عدم ایک "عدم متمیز" (differentiated nothing) کے طور پر مفہوم ہے کہ وہ ایک خاص حکم کا منشا ہے۔ الغرض ہر اسم الہی کا عکس ایک عدم خاص ہے۔ اس کے برعکس "عدم عامہ" کا مطلب ایسا عدم ہے جو کسی بھی حکم (اثبات و نفی) کو قبول نہ کرے، یہ عدم محض (یا امکان محض) ہے جو "وجود محض" (یا واجب) کے مقابلے پر ہے۔ چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ عدم (یعنی "پایا نہ جانا") بھی اللہ کی طرف سے ہے کہ اللہ قادر ہے تو اس بنا پر اس کا عدم عاجزی ہے، وہ موجود ہے تو اس اعتبار سے عدم محض ہے۔
اوپر وضاحت گزری کہ اسمائے کونیہ یا اعیان ثابتہ کی حقیقت عدمات خاصہ یا اسمائے الہیہ کے عکوس ہونا ہے۔ ان کا یہ اعتباری عدم صفات و اسماء کی وجہ سے مفہوم ہے کہ چونکہ ذات باری قادر ہے تو قدرت کی نفی کے تصور سے اس کا الٹ مفہوم ہے (یعنی عاجز ہونا)، چونکہ وہ المحی ہے لہذا اس خاص فعلیت کی نفی سے ایسا عکس ثابت ہے جو اس فعل کا اثر قبول کرنے میں مفہوم ہے (یعنی میت ہونا)۔ الغرض اعیان ممکنہ کی اپنی حقیقت عدم کے سوا کچھ نہیں، اور یہ بطور انفعالی استعدادات ثابت ہیں۔ ان انفعالی استعداد میں سب سے بنیادی استعداد وجود قبول کر کے اس کا مظہر بن سکنا ہے۔ اسمائے الہیہ ازلی حقائق یا قابلیتیں ہیں جو اپنی حقیقتوں (یا اعیان ثابتہ) کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً الوہیت (یا معبودیت) عبد کا تقاضا کرتی ہے، اسم خالق کا تقاضا ہے کہ مخلوق ہو نیز اللہ کے انگنت اسماء میں سے بعض وہ ہیں (مثلاً الرازق وغیرہ) جو اپنے جلوے کے لیے مخلوق کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسماء الہیہ سے ثابت ہونے والے یہ اعیان ان اسماء کے محتاج ہیں۔

عدم سے خلق کا مفہوم

درج بالا وضاحت سے یہ واضح ہوا کہ عدم کی حقیقت یہ ہے کہ ذات باری نے موجودگی یا عدم کے احکام کو بنایا ہے۔ جس کا حصہ وہ اس کے عین ثابتہ سے کاٹ دے وہ معدوم کہلائے گی اور جس کا حصہ ظاہر کر دے وہ موجود ہو جائے گی۔ لہٰذا جس وجودی نسبت یا حکم کو اللہ نے عدم فرمایا ہے اور اس کے وجود کی غیر موجودگی (یا عکس) پر اس کو لاگو کر دیا ہے، صوفیہ نے اس کو اشیا کے وجود کا مواد یا مسالہ ماننے یا نہ ماننے پر بحث کی ہے۔ لہذا مخلوق کے مسالے یا مواد سے متعلق اب سوال یوں ہے کہ یہ مخلوقات اسماء الہیہ (جو کہ مراتب وجود میں وجودی حقائق ہیں) کی وجہ سے ہیں یا ان کے عدمات کی وجہ سے؟ اس پر صوفیہ کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ:
الف) یہ اسماء کی تجلی ہے،
ب) یہ ان کا عدم (یعنی عکوس) ہے،
ج) یہ ان دونوں کا مرکب ہے، یعنی ایک جہت سے دیکھو تو تجلی اور دوسری سے عدم ہے۔
اشیاء کو اعتباری وجود کہنے والوں نے ان کو اسماء کی تجلیات کہا جو بس اپنے عدمات خاصہ پر چمک اٹھی ہیں۔ مطلب یہ کہ قدرت نے عجز (یعنی قدرت کے عکس) کو وجود اعتباری دے کر اسے چمکا دیا ہے تو اب عاجز بھی ہیں اور قادر بھی۔ جنہوں نے مخلوق کو حقیقی وجود مراد لیا انہوں نے دوسری بات کہی کہ معاملہ تو یوں ہی ہے مگر ہماری موجودگی کی اصل عاجزی یا میت ہونا ہے، ہم صرف اس لیے قادر یا زندہ ہیں کہ الحی اور قادر مطلق کی نیست پر تجلی ہوئی ہے۔ ان دو آراء والوں کے مابین معاملہ بڑھ گیا تو شاہ ولی اللہ (م 1762ء ) نے تیسری بات کہہ کر اسے ختم کر دیا کہ یہ نزاع لفظی ہے42۔

مثال سے وضاحت

پس صوفی فکر کی رو سے اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ اعیان ثابتہ کے وجود خارجی کی حقیقت کیا ہے، یا باالفاظ دیگر ان کے وجود کو وجود حقیقی سے کیسی نسبت ہے؟ تو شیخ ابن عربی و صوفیہ کی ایک پسندیدہ مثال کی رو سے اس کا جواب یہ ہے کہ یا اس کی صورت یہ ہے کہ تجلی اسماء گویا آئینے کی طرح ہے جس کے روبرو ہونے کے سبب اس میں اعیان ثابتہ کے احکام و تعیینات ظاہر ہوگئے ہیں اور یا پھر اعیان ثابتہ آئینے کی طرح ہیں جن میں اسماء و صفات الہیہ کی تجلیات ظاہر ہوئی ہیں43، دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان اعیان ثابتہ میں ان کی حسب استعداد وجود متعین ہوا ہے اور اگرچہ یہ وجود متعین وجود حقیقی نہیں (کہ وجود حقیقی وجود مطلق ہے)، تاہم اس متعین وجود کا منبع وجود حقیقی ہی ہے کہ اس کے سوا کوئی وجود نہیں۔ ہر دو صورت میں اعیان ثابتہ از خود ظاہر نہیں ہوتے (کہ ان کی حقیقت عدم ہے) بلکہ جو ظاہر ہوتا ہے اول اعتبار میں وہ بصورت اسماء و صفات وجود ہے جس کی تجلی کی بنا پر اعتبار ثانی میں اعیان ثابتہ کے احکام ظاہر ہو جاتے ہیں۔ فیض اقدس جس طرح اعیان ثابتہ کے ظہور فی العلم کا مبداء ہے، اسماء کی تجلی ان احکام کے وجود خارجی کا مبداء ہیں۔ پس اعیان اپنی حقیقت میں معدومات یعنی فاقد الذات ہیں، جب ان پر اسمائے الہی کی تجلی پڑتی ہے تو یہ عدمات بقدر اسم کی تجلی چمک اٹھتے ہیں۔ یعنی "جو نہیں تھا" قادر اسے بھی اعتباراً موجود کر دیتا ہے (شہودیہ کی اصطلاح میں موجود تو نہیں کرتا البتہ انہیں موجود ہونے کا شہود یا حضور عطا کردیتا ہے)، تو اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ عالم اعیان ثابتہ کا صرف خارجی عکس ہے جو وجود کے آئینے میں جھلکا ہے۔ اسی بنا پر شیخ کہتے ہیں کہ اعیان ثابتہ نے وجود کی بو تک نہیں سونگھی اور وہ اب بھی حالت عدم ہی میں ہیں۔ قرآن میں آیا:
كُلُّ شَيْءٍ ھالِك إلَّا وَجْھَہُ44 (ہر شے ہلاک ہے اور ہونے والی ہے، سوائے اس کی ذات کے)
امام غزالی (م 1111ء ) نور وجود سے اشیاء کے منور ہونے کے معاملے کی مثال یوں دیتے ہیں کہ تصور کیجئے کہ اس دنیا میں روشنی کا سورج کے سوا کوئی ذریعہ نہ ہو اور سورج طلوع نہ ہو ۔ ایسے میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا اور کچھ ظاہر نہ ہوگا۔ اس اندھیرے کو آپ عدم تصور کیجئے۔ پھر جب سورج طلوع ہوگا تو جہاں جہاں تک اس کی کرنیں پہنچیں گی وہاں تک مختلف رنگوں کی اشیا ظاہر ہو جائیں گی ۔ سورج کی یہ کرنیں نہ اس کا عین ہیں اور نہ غیر، جن اشیاء پر پڑ کر وہ انہیں رنگ برنگی دکھا رہی ہیں نہ وہ ان کرنوں کے عین ہیں اور نہ غیر۔ تو کوئی کہنے والا اگر کہے کہ میں سورج کی روشنی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا تو ایک جہت سے وہ بھی درست ہے ، جو کہتا ہے کہ سورج کی روشنی نے جو ظاہر کیا وہ نہ سورج ہے اور نہ اس کی کرن تو وہ بھی درست ہے۔ ایک مثال آپ یہ دیتے ہیں کہ جیسے ایک شخص گھر کے سوراخ سے چاند کی روشنی کو کسی ایسے آئینے پر پڑتا ہوا دیکھے جو دیوار میں نصب ہے، جس کی روشنی پھر اس آئینے کے مد مقابل دوسری دیوار پر پڑے اور پھر وہ روشنی زمین پر پڑے جس سے زمین منور ہو جائے۔ تو زمین کا نور دیوار کے نور کے، دیوار کا نور آئینے کے نور کے اور آئینے کا نور چاند کے نور کے تابع ہے اور پھر چاند آفتاب سے نور حاصل کرتا ہے، ان میں سے ہر نور دوسرے کے مقابلے میں کامل تر ہے اور اپنے اپنے درجے پر ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے45۔ اس مثال میں حقیقی نور آفتاب ہی کا ہے اور آئینے اور اس کے ماتحت نور کو آفتاب کے نور کے مقابلے میں بس مجازی طور پر نور ہونے کی نسبت ہے۔ اسی لئے آپ کہتے ہیں کہ عارفین نے مجاز کی پستی سے حقیقت کی بلندی کی جانب سفر کر کے اس حقیقت کو جان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں اور اس کے سوا ہر شے نہ صرف یہ کہ ہلاک ہونے والی ہے بلکہ وہ ازل تا ابد ہلاک ہے46۔ آئینے میں ظاہر ہونے والا عکس نہ اصل ہوتا ہے اور نہ اصل سے الگ، یعنی "من وجہ ھو " و "من وجہ لا ھو"47۔ پھر مزید غور کرو کہ شے جب آئینے کے روبرو ہو تو صرف اپنا عکس دیکھتی ہے، رہا آئینہ تو وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح اعیان ثابتہ وجود مطلق کے آئینے میں اپنا آپ (یعنی وجود متعین) تو دیکھتے ہیں مگر وجود مطلق کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ شیخ کہتے ہیں کہ دیکھنے والا جب بغور دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اپنا عکس اپنی بصارت اور آئینے کے مابین حائل دکھائی دیتا ہے، یہی معاملہ یہاں ہے اور اس سے آگے بڑھنے کی جستجو کرنا ایک محال شے کی طلب کرنا ہے کیونکہ وجود متعین کی نفی کر کے وجود مطلق کی جستجو کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ بندہ اپنی حقیقت یا صفت ذاتی کو فنا کر کے عدم کے گھاٹ جا اترے۔ اسی لئے شیخ کہتے ہیں کہ بندے کی جانب سے اعیان کے عکس سے آگے ادراک کی کوشش عدم محض کی جستجو ہے48۔
وحدت میں کثرت کی مثال یوں ہے جیسے کسی شے کے ارد گرد مختلف رنگوں و سائز کے آئینے رکھ دئیے جائیں تو وہی شے اب مختلف رنگوں و مقداروں میں دکھائی دینے لگے گی جبکہ دکھائی دی جانے والی چیز اصلاً ایک ہے نیز وہ ان رنگوں و مقداروں سے متصف بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہی شے ان سب صورتوں کے قیام کا ذریعہ بن کر ان کا قیوم ہے۔ پس اعیان ثابتہ کو جب اپنی ذات میں دیکھا جائے تو یہ عدم ہیں اور اس لئے وجود کا غیر (یا نفی) ہیں، اور جب اس جہت سے دیکھا جائے کہ ان پر اسماء کی تجلی ہوئی ہے جس کی بنا پر یہ اپنی انفعالیت کے ساتھ اعتباراً موجود ہیں تو یہ اسماء کا عین ہیں (یعنی اس کے مفہوم میں شامل ہیں اور اس بنا پر اسماء الہیہ ان اسمائے کونیہ کے باطن و حقائق ہیں)۔ جس طرح ہر انفعالیت کی حقیقت فعل کا اثر ہونا ہے اور اس اثر کے سوا نہ یہ قابل تصور ہوتی ہیں اور نہ موجود، اسی معنی میں اعیان ثابتہ کی حقیقت اسمائے الہیہ ہیں۔ وجود کی تجلی سے اعیان کو عکس یا سائے کی طرح موجود کرنا ذات باری ہی کا کام ہے، قرآن میں ارشاد ہوا:
ألَمْ تَرَ إلَیٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْہِ دَلِيلًا49 (کیا تم نے اپنے رب کی جانب نگاہ نہ ڈالی کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلاتا ہے، اگر وہ چاہتا تو اسے ساکن کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے )
یعنی اعیان کا وجود خارجی سائے کی مانند ہے اور رب تعالی چاہتا تو انہیں مستقلاً مرتبہ علمی کے پردہ خفا ہی میں روکے رکھ سکتا تھا، پھر اس معاملے کو سمجھانے کے لئے اس نے سورج کی روشنی کو دلیل بنا دیا۔ شیخ کہتے ہیں کہ واجب الوجود نور ہے تو ممکن الوجود سائے کی مانند جبکہ ممتنع الوجود نری ظلمت ہے۔ شیخ ایک مثال سے معاملے کو یوں سمجھاتے ہیں کہ جب ممکن الوجود (یعنی اعیان) کو موجود کیا گیا تو انہوں نے اپنے بائیں جانب خود سے پھوٹنے والے سائے کو پا کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ دائیں جانب وجود سے آواز آئی کہ یہ تمہاری حقیقت (یعنی عدم) ہے، اگر تم بھی روشنی یعنی وجود ہوتے تو تمہارے عدم کی یہ پرچھائی نہ ہوتی، میں وہ روشنی ہوں جو اس سائے کو ختم کرنے والی ہے۔ یہ جو نور وجود تمہیں میسر ہے یہ اس بنا پر ہے کہ تمہارا چہرہ میری جانب ہے اور اس سبب ہی تمہیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ تم "میں" یعنی وجود مطلق نہیں ہو سکتے کہ میں نور بلا سایہ ہوں اور تم بوجہ اپنے امکان ملاوٹ زدہ نور ہو۔ اگر تم اپنے سائے سے بھاگنے کی کوشش کرو گے تو یہ عین اپنی حقیقت یعنی ممکن ہونے سے فرار کی بات ہوگی اور اگر تم نے اپنی حقیقت یعنی ممکن الوجود ہونے سے فرار کی کوشش کی تو تم مجھ سے جاہل و غافل ہو جاؤ گے اور مجھے کبھی نہ پہچان سکو گے کیونکہ تیرے پاس اپنے ممکن الوجود ہونے کے سوا یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ میں تمہارا الہ، رب اور پیدا کرنے والا ہوں۔ پھر اگر تم سائے کے مشاہدے میں ہمہ وقت مشغول ہو کر روشنی سے کلی طور پر منہ موڑ بیٹھے تو تمہیں یہ معلوم نہ ہو سکے گا کہ یہ دراصل تمہارے امکان کا سایہ ہے کیونکہ روشنی ہی سے سایہ مفہوم ہو سکتا ہے۔ اس حال میں تمہیں یہ محسوس ہوگا گویا یہ محال کا سایہ ہے، واجب اور محال ہر لحاظ سے متضاد ہیں، اگر تم محال ہوتے اور اس حال میں تمہیں حکم دیتا کہ "ھوجا" تو تم اسے سن کر اس پر لبیک نہ کہتے کیونکہ محال ہونے کا حال تمہیں میری پکار سننے سے بہرا کر دیتا۔ پس اپنی نگاہ کو میری جانب اس طرح نہ ٹکا کہ تجھ سے تیرے سائے کا شعور و ادراک ختم ہو جائے کیونکہ اس حال میں تو یہ کہے گا "تو میں ہے" اور ایسا دعوی جہالت میں پڑ جانا ہے کیونکہ ممکن واجب نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی اپنے سائے میں اس طرح گم ہو جا کہ تجھے مجھ سے بے شعور کر دے کہ پھر تو بہرہ ہو جائے گا اور یہ جان نہ سکے گا کہ تجھے کیوں پیدا کیا۔ پس تو 'نفی و اثبات' یا 'ھو ولا ھو' کا مجموعہ بن کر کبھی ایک شعور کا حامل ہو اور کبھی دوسرے کا۔ الله نے تجھے دو آنکھیں اسی لئے عطا کیں کہ ایک سے تو اس کی جانب دیکھے اور ایک سے سائے کی جانب50۔

حواشی


    9. صحیح بخاری  : رقم الحدیث 3019 نیز 6982 
    10. اعیانِ ثابتہ 15 از ڈاکٹر محمد خان چشتی
    11. الفتوحات المکیۃ: 3 / 518 
    12. القرآن: الشوری 11 
    13. القرآن: النجم 9 
    14. مسند الإمام أحمد: 16623 نیز ترمذی: 3609۔  ایک اور روایت میں "پانی و مٹی کے مابین" کے الفاظ آئے ہیں، تاہم علمائے ظاہر کے ہاں یہ الفاظ ثابت نہیں مگر اہل کشف کےہاں مضمون کے لحاظ سے درست ہیں، واللہ اعلم۔  
    15. الفتوحات المکیۃ: 3 / 141 
    16. روایت کے الفاظ یہ ہے: یَاجَابِرُ اِنَّ اللہَ قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْیَاءِ نُوْرَ نَبِیّکَ مِنَ نُوْرِہ (اےجابرؓ! بےشک اللہ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبیؐ کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا) ، کشف الخفاء، جلد ۱، تحت الحدیث ۸۲٦، ص ۲۳۷۔  علمائے ظاہر کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں مگر اہل کشف اس مضمون کی متعدد احادیث سے تمسک کرتے ہیں نیز یہ دیگر نصوص میں مذکور احکام کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ مثلا ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا:  اعطیت جوامع الکلم(مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں)، شیخ اس حدیث کو "کائنات اللہ کے کلمات ہیں" کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں۔ 
    17. فرھنگ اصطلاحات تصوف 148 نیز سر دلبراں 354
    18. قَالَ رَجُل: يَا رَسُولَ اللہِ، بُوھِيَ بِالْخَيْلِ وَألْقِيَ السِّلاحُ، وَزَعَمُوا أنْ لَا قِتَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: «كَذَبُوا، الآنَ حَانَ الْقِتَالُ، لَا تَزَالُ مِنْ أمَّتِي أمَّۃ قَائِمَۃ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرۃ» وَقَالَ وَھُوَ مُوَلِّي ظَھْرِہِ إلَى الْيَمَنِ: «إنِّي أَجِدُ نَفَسَ الرَّحْمَنِ مِنْ ھَاھُنَا، وَلَقَدْ أوحِيَ إلَيَّ أنِّي كَفُوف غَيْرُ مُلَبَّثٍ، وَلْيَتْبَعُنِّي أفْنَادًا، وَالْخَيْلُ مَعْقُود فِي نَوَاصِيھَا الْخَيْرُ إلَی يَوْمِ الْقِيَامَۃِ، وَأھْلُھَا مُعَانُونَ عَلَيْھَا  (مسند سلمة بن نفيل السكوني، التاریخ الکبیر للبخاری: 4 / 70)، نیز یہ الفاظ بھی منقول ہیں: قال: قال النبي، صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ألا إن الإيمان يمان والحكمۃ يمانيۃ وأجد نفس ربكم من قبل اليمن 
    19. القرآن: الرحمن 29 
    20. الفتوحات المکیۃ: 1 / 292، نیز  2 / 384 ، نیز  2 / 639 ، نیز 3 /199 
    21. القرآن: البقرۃ  31
    22. صحیح بخاری : 6227 ، صحیح مسلم: 7163  
    23. القرآن:الحجر  21 
    24. القرآن: یس 82 
    25. اس روایت کی سند علمائے ظاہر کے نزدیک ثابت نہیں تاہم اہل کشف کے نزدیک یہ حدیث ثابت ہے،  نیز اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ روایت درست ہے  جیسا کہ آگے اعیان ثابتہ کے تحت آئے گا کہ یہ اعیان ازل سے علم الہی میں مخفی خزانے کی صورت ثابت تھے جنہیں "کن" کے تحت ظاہر کیا جاتا ہے، ارشاد ہوا: وَإن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُہُ وَمَا نُنَزِّلُہُ إلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (اور ایسی کوئی شے نہیں مگر ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے معین مقدار میں نازل کرتے ہیں)۔ ملا علی قاری (1013ھ ) نے بھی اس کے مضمون کو درست قرار دیا ہے (دیکھئے، كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس، لإسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (1162 ھ ): 2 / 132 )
    26. القرآن: الاعراف 156 
    27. القرآن: القلم 42 
    28. بخاری: 4850 
    29. مشکوۃ المصابیح: 89 
    30. القرآن: ص 75 
    31. بعض محقق صوفہ ملائکہ کو دو درجات میں رکھتے ہیں، عالین ایک الگ مرتبے کے ملائکہ ہیں، جن فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو سجدے کا حکم دیا گیا وہ عالین نہیں بلکہ الگ قسم والے تھے۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب ابلیس نے سجدہ نہ کیا تو اللہ نے اس سے کہا کہ تو نے سجدہ کیوں نہ کیا، کیا تو خود کو عالین میں سے سمجھتا ہے؟ (القرآن: ص 75 )۔  دیکھئے "تنزلات ستہ" 
    32. القرآن: الاعراف 172 
    33. القرآن: الاحزاب 72 
    34. القرآن: اعراف 54 
    35. القرآن: یس 82 
    36. الفتوحات المکیۃ: 4 / 210 
    37. صحیح مسلم: 523۔  ایک روایت میں آیا: أوتِيتُ ‌جَوَامِعَ الْكَلِمِ. وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي (مجھے جامع کلمات سے نوازا گیا اور میں نیند کے عالم میں تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور انہیں میرے ہاتھوں میں دے دیا گیا)، صحیح مسلم: 523۔  اس مفہوم کی دیگر روایات بھی ہیں، مثلاً بخاری کے یہ الفاظ: اعطیت مفاتیح الکلم (مجھے سب کلمات کی کنجیاں عطا کی گئیں ہیں)، صحیح بخاری : 6597۔ 
    38. القرآن:الکہف 109 
    39. القرآن: لقمان 27 
    40. الفتوحات المکیۃ: 2 / 171 
    41. الفتوحات المکیۃ: 2 / 171 ،نیز  2/ 88 ، نیز 2 / 134 ، نیز  3 / 141 
    42. فیصلہ وحدت الوجود و الشہود  
    43. فصوص الحکم  48  
    44. القرآن: القصص 88 
    45. مشکاۃ الانوار: 53 
    46. مشکاۃ الانوار: 55 
    47. الفتوحات المکیۃ: 1 / 204 
    48. فصوص الحکم: 61 
    49. القرآن: الفرقان 45 
    50. الفتوحات المکیۃ:  2 / 303  

تصوراتِ محبت کو سامراجی اثرات سے پاک کرنا (۲)

اسلام میں محبت کی اساسیات غزالیؒ کے حوالے سے

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

مترجم : ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی


خدا کے بارے میں غزالی کے خیالات

اگر ہم ابن عربیؒ کی پیروی کریں جو غزالیؒ کے کئی صدیوں بعد ہوئے ہیں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کے استدلال میں محبت رحمت کا نتیجہ ہے لیکن اس سے مشابہ نہیں۔ رحمت عالمگیر اور بنیادی منبع ہے۔ غزالی کے ہاں الوہی محبت اور الوہی صفات کے بارے میں بہت کچھ تفصیل ہے۔ چنانچہ انہوں نے خدا کے افعال اور اس کی صفات میں فرق کیا۔ صفات کے سلسلہ میں ان کے ذہن میں وہ بنیادی صفات ہیں جو اضافی ہیں۔ یہ ہیں:
زندگی، علم، قوت، قوت ارادی، سماعت، بصارت اور گویائی جیسی صفات۔ خدا کے اعمال تخلیقی اعمال تھے: انہوں نے واقعات اور چیزوں کو وقوع پذیر کیا۔ یہ واقعات اس کی مخصوص نسبتی صفات کا نتیجہ تھے، جیسا کہ خالق، عطا کرنے والا، ہدایت دینے والا وغیرہ۔ اگرچہ ان معاملات پر مسلم جدلیاتی ماہرینِ الہٰیات کے درمیان ہونے والی بحثیں خشک مذہبی بحثیں ہیں، لیکن غزالی جیسے متکلم اپنے نقطہ نظر میں زیادہ صوفیانہ تھے۔
خدا کے فرمانبردار ہونے کے تجربے میں بھی متعدد درجات ہیں جن کے ذریعہ خدا کا کشف اولیاء کو ہوتا ہے۔ غزالی کے خیال میں، خدا بغیر عمل کرنے والے انسان کا حصہ بنے اس کے اندر ہے۔ سالکین کا ہدف یہ رہا ہے کہ وہ دوسری تمام چیزوں یعنی غیرِ خدا کے لیے فنا ہو جائیں یہاں تک کہ صرف خدا ان کے شعور میں زندہ رہ جائے۔ خدا ولی یا ولیہ کے شعور میں زندہ رہتا ہے، ولی اپنے وجدان میں خدا کے وجود کا تجربہ کرتا ہے۔یہاں تک کہ سالک اس کے علاوہ کسی شیئی کے وجود کا احساس نہیں کرتا۔ خدا محبت، غور و فکر اور عبادت کی شیئی ہے۔ سالک کے لیے فنا کا متبال ایک وجدانی شعور ہے جس میں اس کو خدا کے سِوا کسی چیز کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا25۔علمی اور فلسفیانہ سطح پر غزالی نے یہ بھی کہا کہ خدا بے مثال ہے اس کو جانا نہیں جا سکتا۔ تاہم، جیسا کہ اسکالر فضل شہادی نے اشارہ کیا:
"خدا کے غزالی والے تصور کو یا مسلم تصور کو محض کسی مذہبی ضرورت کے نقطہ نظر سے تشریح کرنے کی کوئی بھی کوشش اس طاقت ور بصیرت کو کھو دیتی ہے جو اسلام کی خصوصیت ہے۔ شہادی یوں خدا کے منفرد ہونے کے تصور جو اسلامی روایت کا نمایاں حصہ ہے، کے غیاب پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ شہادی بتاتے ہیں کہ خدا کو پیش کرنے کے اسلامی تصورات، خدا کو اپنی خاطر دیکھنے کا اور اس کے بارے میں سوچنے کا ایک طریقہ ہیں یوں کہ گویا کوئی اور چیز موجود ہی نہیں ہے۔ اگر مذہب بنیادی طور پر انسان اور اللہ کے درمیان تعلق کا نام ہے، تو اسلام میں یہ نقطہ نظر مذہب کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے کہ وہ اللہ کے لیے اس فکر کو یوں شامل کریں گویا انسان تصویر میں نہیں تھا۔ لیکن مذہبی آفاق فکر کی سب سے گہری وسعت خود خدا کے بارے میں مذہب کا یہ تصور ہے کہ اس کے سِوا گویا کوئی اور چیز موجود ہی نہیں ہے خاص کر انسانی منظر یا جسمانی دنیا کے سلسلے میں۔ خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ وہ انسان کا خیال رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوصف خدا تخلیق سے اوپر ہے، ربوبیت سے بالا اور ہر رشتہ سے جدا ہے۔ اس خدا کی بنائی ہوئی انسانی کائنات اس کے لیے کچھ نہیں۔ کتنی لامحدود کھلی، کتنی بے کراں وسیع، کتنی بے جان پراسرار دنیا ہے جہاں خدا تعالی ٰکسی بھی کنبے سے پرے، کسی بھی رشتے سے بالاتر ("مقدسین" سے بالادست مقدس) اور شاندار و عظیم ہے27۔
شہادی کے خدا کی ضرورت، تخلیق اور دنیا سے بالاتر ہونے کے نکتہ کو بہت پسند کیا گیا ہے۔ مسلم مذہبی عقائد کا ایک مضبوط بیانیہ مسلم الٰہیات کو مستحکم کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرے گا۔ یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے درمیان مذہبی تعامل میں، اکثر فاتح کے مفاد میں خصوصیت اور فرق کو نظر انداز کرنے کا سطحی رجحان آجاتا ہے، لیکن اکثر تینوں روایات کے درمیان ابراہیمی مشترکات کے لیے بہت کم احترام ہوتا ہے۔
مسلم الٰہیات کا کوئی بھی قاری اس حقیقت سے ناواقف نہیں رہ سکتا کہ اسلام درحقیقت خدا کے ماوراء ہونے پر زور دیتا ہے۔ غزالی کی تصنیفات میں بھی دیا گیا ہے۔ غزالی کے نزدیک کوئی بھی لفظ کسی بھی پہلو کے تحت خدا کی فطرت کو مناسب طور پر بیان نہیں کر سکتا، جس میں انسانوں اور دنیا سے خدا کا تعلق بھی شامل ہے28۔ پھر بھی جب غزالی انسانوں کے لیے خدا کی تصویر بناتے ہیں تو وہ مثبت صفات اور پیشین گوئی کی قابل رسائی زبان استعمال کرتے ہیں۔ غزالی کہتے ہیں کہ اللہ کوئی معلوماتی وضاحتی فنکشن نہیں رکھتا۔ بلکہ اللہ انسانوں کے مقابلے میں ایک عملی ہدایت کا فنکشن رکھتا ہے29۔ دوسرے الفاظ میں، خدا کی صفات کی مثبت تعبیر خدا کی انسانی زبان کی تصویر ہے۔ خدا کی ذات کا مابعد الطبیعاتی تصور یہ ہے خدا متحیز نہیں نہ ہی خدا کائنات کا حصہ ہے اور نہ ہی کائنات سے باہر، نہ اس سے جڑا ہوا ہے اور نہ ہی اس سے منقطع ہے30۔ پھر بھی، خدا کی ہستی مومنوں کے دلوں میں بسی ہوئی ہے، کیونکہ ان کے دل اس کی یاد سے آباد ہیں۔ خْدا کی یاد ہی ان کا حاصلِ زندگی ہے31۔
؎   میرا ہی دل ہے وہ جہاں تو سما سکے
انسان خدا سے کیسے ملتا ہے؟ مسلم عمل میں اللہ سے سب سے قریبی تعلق خدائی اخلاق اختیار کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ انسانوں کو وحی کے ذریعے بتائے گئے منابع کے ذریعے خدا کی خصوصیات کو اپنانا چاہیے۔ جس کا حکم ’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ سے دیا گیا ہے۔ جس میں دین کے عمل اور نبی محمدﷺ کی مثالی تعلیمات کی پیروی شامل ہے۔ ان طریقوں میں لازمی رسومات کے ساتھ ساتھ غور و فکر کے عمل جیسے یاد کرنا، عبادت کرنا اور خدا سے محبت کا اظہار کرنا شامل ہیں۔ لہٰذا عقیدتی اعمال جو خدا کی سراسر انفرادیت اور خدا کو نہ جان سکنے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں وہ خدا کی ذات کی تشریح کرنے والے نہیں ہو سکتے بلکہ انہیں عملی ہونا چاہیے.
کارکردگی کی سطح پر خدا کی ہستی زمین پر خدا کے "مسکن" یعنی عبادت گزاروں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔ لہٰذا، مسلم الہیات میں یہ کہنا بالکل قابل قبول ہے کہ انسانوں پر خدا کا انکشاف اس زبان میں ہو جسے وہ سمجھتے ہیں۔ لیکن کسی نہ کسی سطح پر یہ ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
غزالی کو جس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا، جسے شہادی نے اسے اتنی فصاحت کے ساتھ بیان کیا، وہ یہ ہے کہ ان کی الہیات مندرجہ ذیل سوال کی طرف لے جاتی ہے: آدمی خدا کے بارے میں کیسے یوں کہے کہ مثلاً وہ عادل اور رحم کرنے والا ہے؟ کیونکہ اسی لمحے جب کوئی ایسا کہتا ہے تو فوراً یہ کہہ کر اس کی نفی کرنی پڑتی ہے کہ خدا درحقیقت اتنا ہی نہیں ہے۔ مطلب، خدا اس سے کہیں زیادہ انصاف کرنے والا یا رحم کرنے والا ہے جتنا کہ انسان کبھی بھی محسوس کر سکتے ہیں، دوسرے لفظوں میں، کم از کم غزالی کے لاہوتی فریم ورک میں، انسان ایک ایسی انسانی زبان کے ذریعے خدا کی عبادت کر رہا ہے جو کہ خدا کے بارے میں وضاحتی طور پر قابل اطلاق یا ناکافی ہے۔ انسانوں سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی عبادت کریں، گویا وہ خدا کو دیکھ رہے ہیں، اس علم کے ساتھ کہ یہ ادراک حقیقت سے کم ہے۔ یوں انسان علمیاتی طور پر اللہ کو سمجھ تو سکتا ہے لیکن اس کی ذات انسان کے ادراک سے پرے ہے۔ یعنی ایسا ڈھانچہ اس خیال سے بھی مطابقت رکھتا ہے کہ خدا اپنی ذات اور فطرت میں بالکل منفرد ہے اور اس کی حقیقت کو جانا نہیں جا سکتا ہے۔
اگر ہم اس نکتے کو قبول کرتے ہیں تو یہ وحی کے بارے میں اصل سوال پیدا کرتا ہے: کیا یہ بھی ناقص معیار کا شکار ہے؟ اس کا جواب ہے، ہاں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ وحی خدا کی مرضی کو ظاہر کرتی ہے، خدا کی فطرت کو نہیں۔ وحی کا مقصد انسانوں کی زندگیوں کو اس زبان میں رہنمائی کرنا ہے جسے وہ سمجھ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، عقیدہ مستند وحی کے ذریعے محفوظ ہوتا ہے۔ یہ اسلام اور شاید دوسری توحید پرست روایات کے درمیان اہم فرق ہے جہاں وحی الوہی کلام کے ایک خاص ذوق کے ذریعہ رہنمائی فراہم کرتی ہے نہ کہ خود اللہ کی ذات کی وضاحت32۔
رہنمائی کا سوال اصولوں اور معیارات کے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ درحقیقت، مسلم الٰہیاتی نظریہ اس بات پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے کہ ہم خدا کی مرضی کو کس طرح جان سکتے ہیں، اور یہ کہ خدا کی مرضی کس طرح مستند ذریعہ سے جانی جا سکتی ہے۔ اس طرح وجودیاتی سوال علمی سوال سے بہت قریب سے جڑ جاتا ہے۔

محبت پر غزالی کے خیالات

جب غزالی محبت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں تو اپنی شہ کار کتاب احیاء علوم الدین کی فصل ”کتاب الحب و الشوق و الانس والرضا (عشق، آرزو، قربت اور قناعت) میں وہ انسان کے مختلف مسائل کا سامنا کرتے ہیں جیسے کہ اللہ کے ساتھ ملاقات وغیرہ۔ فی الحال میں اس بحث کے لیے چند منتخب موضوعات پر کلام کروں گا۔
محبت، قربت اور قناعت کی تمہید میں غزالی خوبصورت اور وضاحتی انداز میں لکھتے ہیں:33
”خدا اپنے اولیاء کے دلوں کو بلند کرتا ہے، ان کے باطن کو دنیاوی خلفشار سے پاک کرتا ہے اور صرف اولیاء کے دلوں میں اپنی موجودگی (حضرۃ) کو مرکوز رکھتا ہے"۔34 غزالی پھر اس الہٰی عظمت کی جھلکیوں پر روشنی ڈالتے ہیں جو ولی کو عشق الٰہی کی آگ میں جلا سکتی ہیں۔ یا پھر سالک کی عقل و مشاہدہ پر ایک خاص قسم کی دھول پڑ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وجاہت کا ادرک نہیں کر پاتا۔ ایسی حالت سے دوچار ہونے پر عابد یا سالک کو صبر کی تلقین کی جائے گی۔ غزالی کے بقول: ”سالکین کے دل خدا کا سامنا کرنے میں، انکار اور قبولیت کے درمیان معلق رہے اور حصول و تردد کے درمیان معلق رہے۔ کبھی وہ خدا کی معرفت کے اتھاہ سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور کبھی اس کی محبت کی آگ میں جھلس گئے“35۔
اور دل کے عجائبات کی کتاب (عجائب القلوب) میں اپنی تحریر کا ایک حصہ غزالی نے توحید پرستانہ عقیدت، معرفت کے کشف، ذات الٰہی سے پرجوش محبت، تحیر پیچیدگی، اور تضاد جیسے موضوعات پر صرف کیا ہے۔
محبت ان تمام موضوعات کو اپناتی ہے۔ اس کے مشاہدہ کے ذریعہ خدا کی معرفت کا حصول محبت کے آداب (Economy of Love) میں سے ہے۔ خدا کی یہ معرفت درحقیقت اس دنیا میں انسانوں کی "خوبصورتی، کمال اور جلال" کی بنیاد ہے۔ انسان کا اخلاقی اور سیاسی وجود الوہیت کا تجربہ کرتا ہے۔ جیسے جیسے اللہ کی معرفت قوی ہوتی جاتی ہے محبت کے آداب میں بھی شائستگی آتی جاتی ہے۔ انسان اس کی ایک قابل تفہیم تعریف تک پہنچ جاتا ہے لیکن کبھی بھی پوری طرح سے ذہنی گرفت میں نہیں لا سکتا۔ بہرحال وہ اس سے پورے طور پر متاثر ضرور ہوتا ہے- بڑی صراحت کے ساتھ تاہم، غزالی نے واضح کیا ہے کہ:
"بغیر معرفت اور ادراک کے محبت کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ انسان محبت نہیں کرتا سوائے اس کے جسے وہ جانتا ہو“ 36۔
نامعلوم خدا کے بارے میں اپنے تصور سے بالکل مطابقت رکھتے ہوئے، غزالی محبت کو بے خودی اور اضطراب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ الٰہی قربت کا گہرا علم محبت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ پھر بھی، محبت کے مخمصے اور الجھنوں کا حل نہیں ہوتا بلکہ تخلیقی تناؤ میں برقرار رہتا ہے۔ یہاں محبت کی آگ ہے اور مصائب کے شعلے ہیں۔ دلیل کے ساتھ ساتھ یقین کے بیابان میں ہچکچاہٹ؛ عقل کا تحیر میں ڈوب جانا اور محبت کے شعلے میں جلنا۔ پردہ اور نقاب کشائی. مختصر یہ کہ محبت کا محال ہونا ہی اس کے امکان کو وجود دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب یہ نور روشن ہوتا ہے تو اپنے اطراف کو تابناک کرتا ہے اور دوسری طرف اس نور کی چوکاچوند چیزوں کو ناقابل مشاہدہ بھی بنا دیتی ہے۔
غزالی نے واضح طور پر کہا ہے کہ خدا اور اس کے رسول سے محبت ایک فرض ہے37۔ لیکن پھر وہ پوچھتے ہیں: تم کسی چیز کو فرض کیسے کر سکتے ہو جب وہ چیز یعنی محبت موجود ہی نہ ہو؟ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر محبت کو اطاعت کی زائدہ مان لیا جائے تو پھر اس کو اطاعت کے ہم معنی کیسے مانا جا سکتا ہے؟ غزالی کے پرجوش بیانات اور قرآنی اور حدیث کی تعلیمات کے حوالوں میں بہ ظاہر یوں لگ سکتا ہے کہ محبت ہر چیز پر مقدم ہے کیونکہ وحی مومنوں کی صفت یہ بتاتی ہے کہ کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے خدا محبت کرتا ہے اور بدلے میں وہ خدا سے محبت کرتے ہیں" (قرآن 5:54) غزالی قرآن کا حوالہ دیتے ہیں:
”اور جو لوگ ایمان لائے وہ خدا کی محبت میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔" (قرآن2:165) ایک حدیث نبوی میں ہے: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہ ہو جب تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے ہر چیز سے زیادہ محبت نہ کرو۔"38
اس کے بعد انہوں نے متعدد مراجع سے متعدد روایات بیان کیں جن میں حضرت محمد ﷺکے ارشادات شامل ہیں۔ اولیائے کرام اور صوفیاء کے بیانات ہیں۔ یہ سب محبت کی عظمت کو تقویت دیتے ہیں۔ لہٰذا، غزالی جن دو چیزوں کو اٹھاتے اور جن کا تقابل کرتے ہیں وہ ہیں خدا سے محبت کی دعوت اور اس کی اطاعت کا فرض۔ ان دونوں تصورات کے درمیان ظاہری طور پر تناؤ ہے۔ لہٰذا، سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ غزالی محبت کو کس طرح متصور کرتے ہیں:
’’محبت مسرت آگیں چیز کی طرف کسی کے میلان کا نام ہے۔ جب یہ رجحان شدت اختیار کرتا ہے تو اسے عشق کہا جاتا ہے۔‘‘39
وہ چیزیں جو انسان کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہوں وہ محبوب ہوتی ہیں اور جو اس سے مطابقت نہیں رکھتیں وہ ناپسند ہوتی ہیں۔ نفرت کسی چیز سے لاتعلقی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن محبت کا تصور اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس سے پہلے معرفت اور ادراک کی ایک شکل نہ ہو، وہ یہ مثل نقل کرتے ہیں:
”انسان محبت نہیں کر سکتا سوائے اس کے جسے وہ جانتا ہو“40۔
مختصر یہ کہ غزالی کی محبت کے مظاہر (Phinominology of love) تجرباتی ہیں۔ لیکن یہ تجربہ بھی معرفت و ادراک پر منحصر ہے۔ اس سے میرا مطلب ہے کہ یہ کچھ چیزوں پر منحصر ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے شعور اور تجربات کا دارومدار ادراک، حسی ادراک کی شکلوں، سوچ کے انداز یا جستجو پر ہے۔ محبت کی اساس کے بارے میں یہ کہنا شاید کوئی بعید از قیاس نہ ہو کہ اگر آگسٹین محبت کو ایک قسم کی خواہش سمجھتا تھا تو غزالی کے لیے محبت معرفت، ادراک اور حقیقت کی تلاش کی ایک شکل تھی۔ معرفت اور ادراک کے اس مظہر کی ساخت بیرونی محرکات کو حاصل کرنے والے پانچ حواس سے الگ تو نہیں ہے تاہم محبت کا اصل سرچشمہ اندرونی ہے۔ اس باطنی حس کو عقل، نور، قلب یا بصیرت کہتے ہیں۔ اس کے بعد غزالی انسانی تجربات سے اخذ کردہ محبت کے کئی مظاہر کو واضح کرتے ہیں:
وہ لکھتے ہیں:
”یہ کوئی راز نہیں ہے کہ انسان اپنے آپ سے محبت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے بھی کسی دوسرے سے محبت کر سکتا ہے۔ لیکن کیا کوئی شخص اپنے علاوہ کسی دوسرے سے اسی دوسرے شخص کی خاطر بھی محبت کر سکتا ہے جبکہ اس کا اپنا کوئی فائدہ نہ ہو؟ کمزور ذہنوں کے لیے یہ ایک مشکل سوال ہے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ بات ناقابل تصور ہے کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کی خاطر کسی اور سے محبت کرے جب تک کہ عاشق کو اس سے محض ادراک کے علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ لیکن حقیقت میں یہ نہ صرف قابل فہم ہے، بلکہ حقیقت میں ایسا ہوتا ہے۔ اس کے بعد غزالی انسانی تجربات سے اخذ کر کے محبت کے مظاہر کی وضاحت کرتے ہیں۔‘‘41
غزالی رقم فرماتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے بے لوث محبت کرتا ہے صرف اسی شخص کی خاطر، بغیر اپنے کسی فائدہ کے۔ وہ پوچھتے ہیں: "کیا یہ قابل فہم ہے کہ ایک انسان دوسرے سے محبت کرے اُسی کے لیے نہ کہ اپنے نفس کی خاطر؟"۔ پھر وہ جواب دیتے ہیں:
”درحقیقت تمام جانداروں میں سب سے پہلا محبوب خود انسان کی ذات ہے۔ اور اس خود پسندی کا مقصد اس حقیقت سے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کے کردار میں اپنے وجود و بقا کا رجحان پیوست ہے اور فنا ہو جانے اور برباد ہونے سے انسان کو نفرت ہوتی ہے۔ اس لیے انسان اپنی بقا (وجود) کو دائمی رکھنا پسند کرتے ہیں اور موت اور تباہی سے نفرت کرتے ہیں۔ الا یہ کہ زندگی میں کچھ اذیتیں پیش آجائیں“42
غزالی بتاتے ہیں، جسے میں محبت کا مجرد مظاہرہ کہوں گا، کہ ہم کس طرح دنیا میں محبت کا تجربہ کرتے ہیں اور اس کی شکلوں اور حقیقت پر غور کرتے ہیں جو انسانوں کے درمیان محبت کے اپنے مشاہدات پر مبنی ہے۔ بالکل یہی معاملہ انسان اور خدا کے مابین محبت کے رشتے کی بنیاد بن جاتا ہے۔
سب سے پہلے غزالی بتاتے ہیں کہ انسان اپنے آپ سے کیسے پیار کرتا ہے کہ کسی کے وجود کو برقرار رکھنا محبت کی تقریباً ابتدائی تحریک پر مبنی ہے جس کا انسان تجربہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ اسے خود پسندی یا اپنے آپ سے محبت کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ غزالی محبت کو حقیقت کے ایک اظہار، انکشاف کی شکلوں اور محبت اور محبت کرنے والے کے مابین رشتوں اور مختلف انسانوں کے درمیان رشتوں کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس طرح، کسی کے جسم اور اعضاء سے محبت، اولاد، خاندان، اور دوست احباب سب محبت کے دائرے کا حصہ ہیں کیونکہ یہ کسی کے وجود کو برقرار رکھتے اور بڑھاتے ہیں اور اسے مکمل کرتے ہیں۔
محبت کی دوسری شکل وہ ہے جب کسی محبت کرنے والے میں احساس ِمحبت پروان چڑھتا ہے۔ یعنی محبت کی اس دوسری قسم میں کوئی شخص دوسرے آدمی پر کوئی احسان کرے یا اس کے ساتھ حسن سلوک کرے تو جس پر احسان کیا جاتا ہے اس کے اندر اپنے محسن کے لیے تشکر و امتنان کے یہی جذبات محبت میں بدل جاتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی ردعمل بھی ہو سکتا ہے جسے ہم محبت کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں یعنی وصول کنندہ (عاشق) اور احسان کرنے والا (محبوب) قیمتی چیز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ تقریباً ایک تحفہ وصول کرنے جیسا ہو سکتا ہے۔ اس کو ہم ایک آلہ کار یا فائدہ مند محبت کی مفید شکل کے طور پر بھی بیان کر سکتے ہیں کہ انسان اس سے محبت کرتا ہے جو اسے فائدہ دے اس پر احسان کرے۔ اگرچہ احسان کرنے والا اجنبی ہی کیوں نہ ہو۔ احسان ایک اہم زمرہ ہے کیونکہ یہ ایک انسان کا عمل ہے جو دوسرے انسان کے سلسلے میں انجام دیا جاتا ہے۔ توجہ، نیت اور عمل جو وصول کنندہ تک پہنچتا ہے وہ محسن کو محبوب شخص یا محبت کا سامان بنا دیتا ہے43۔
تیسری صورت یہ ہے کہ کسی سے اس کی بھلائی یا نیکی کی وجہ سے محبت کرنا۔ محبت کی یہ شکل خالصتاً نیکی کے لیے وقف ہے۔ یہ نیکی کی اندرونی فطرت سے محبت ہے۔ انسانوں میں اچھی خوبیاں اور خصلتیں انسان کو پسند ہیں، لیکن غزالی دو خوبیوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں جو اس دائرہ کو تشکیل دیتی ہیں: علم اور قدرت/صلاحیت۔ اس میں ہمارا تعلق ایسے رہنماؤں اور پڑھے لکھے لوگوں سے ہوتا ہے جن کو ہماری حمایت اور تعریف حاصل ہوتی ہے چاہے ہم ان سے کبھی نہ ملے ہوں اور نہ ہی ہم ایسے لوگوں کے ہم عصر رہے ہوں۔ پھر بھی ہم ایسے لوگوں کے لیے پیار اور محبت کے گہرے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
محبت کی چوتھی شکل وہ ہے جب خوبصورتی اور اچھائی کو خود خوبصورتی اور اچھائی کی خاطر چاہا جائے۔ ہم خوبصورتی اور اچھائی کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور پھر وہ ہمارے حواس کو بیرونی طور پر متاثر کرتی ہیں۔ اندرونی طور پر یا اثر انگیز طور پر، خوبصورتی اور اچھائی کا تجربہ دل میں جذباتی ادراک کے طور پر ہوتا ہے جس کو ایسے نتیجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو محبت کے مترادف ہے۔ اسے یوں بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ اچھائی اور خوبصورتی محبت کا ذریعہ ہیں۔ محبت کے اعلی ترین اظہار کے طور پر جمالیات ذہن میں آتی ہے۔ غزالی لکھتے ہیں:
"اس کی ایک واضح مثال انبیاء علیہم السلام اور اہل علم سے محبت ہے، نیز بلند خصلتوں اور خوشنما کرداروں سے محبت حالانکہ یہ ممکن ہے کہ ان کے چہرے اچھے نہ ہوں جسم میں کوئی خرابی ہو پھر بھی ان سے محبت ہو تو یہ قابل فہم ہے۔ باطن کی خوبصورتی سے یہی مراد ہے“44۔
عشق کی پانچویں شکل وہ ہے جسے غزالی نے عاشق اور معشوق کے درمیان ”پوشیدہ وابستگی“ کہا ہے۔ محبت روحانی وابستگی کے اظہار کے طور پر دو روحوں کے درمیان شدت اختیار کرتی ہے۔ یہاں محبت ایک ماورائی رشتے کے ذریعے موجود ہے جہاں روحیں باہم جڑی ہوتی ہیں۔
غزالی نے محبت کی شکلوں میں سب سے زیادہ جس شکل سے بحث کی ہے وہ، وہ محبت ہے جو اپنے آپ میں خود ایک مقصود ہو۔
غزالی لکھتے ہیں:
”کسی چیز سے محبت اس کی اپنی حقیقت (جوہر) کی بنا پر ضروری ہے، نہ کہ اس حقیقت سے ماوراء کسی فائدے کی وجہ سے۔ حقیقت کا تجربہ کرنا اپنے آپ میں مقصود ہے۔ یہ گہری اور مستند محبت ہے جو بڑھنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ یہ حسن اور جمال سے محبت کی طرح شاندار ہے۔ خوبصورتی کی ہر چیز اس انسان کو محبوب ہے جو خوبصورتی کی حقیقت (essance) کے لیے خوبصورتی کو سمجھتا ہے۔ خوبصورتی کا ادراک لذت کی حقیقت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اور لذت کو خود اس کی حقیقت کے لیے پسند کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں45۔"
عشق کے غزالی والے مظاہر میں یہاں دو اہم باتوں کا ذکر ضروری ہے۔ سب سے پہلے، محبت کا آلہ وجود اور عمل کے درمیان ایک رکاوٹ یا وقفہ پیدا نہیں کرتا ہے۔ مسلم الٰہیات میں خدا کی ذات وجود اور عمل کے درمیان منقطع نہیں ہے، جیسا کہ عیسائیت میں خدا کے سہ رخی تصور کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ہوا، جہاں خدا اپنے وجود اور مادہ کے حوالے سے تو ایک ہی مانا جاتا ہے لیکن "اس کو ایک Oikonomia کے اندر آپریٹ کرنا ہے تو وہ مختلف ہو جاتا ہے یعنی جس طریقے سے وہ اپنے گھر، زندگی اور اپنی تخلیق کردہ دنیا کو چلاتا ہے۔ وہ اس لحاظ سے سہ رخی ہو جاتا ہے۔ (اقانیم ثلاثہ)46۔
دوسرا غزالی کی محبت پر بحث کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ محبت کو اخلاقی عمل اور کارکردگی سے جوڑتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت کے طریقوں میں تمام نیک اعمال (محاسن الدین) اور اعلیٰ صفات (مکارم الاخلاق) غزالی کے لفظوں میں محبت کے نتائج (ثمرۃ الحب) میں داخل ہیں47۔
اس کے پیش نظر یہ بیان یہ تاثر دے سکتا ہے کہ غزالی محبت کو عبادت کا مرکز اور بنیادی سورس قرار دے رہے ہیں۔ اور اس عام بیانیہ سے کامن ورڈ کے مصنفین کے دعووں کی سطحی تصدیق محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس نتیجے پر کوئی صرف اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جب وہ دین کے لیے اپنے عہدِ اطاعت کو نظر انداز کر دے۔ غزالی کے خاکے میں رحمت کا اہم مقام ہے جو اطاعت کے ایسے رشتے کی آبیاری کرتا ہے کہ جو پھر خدا اور فرمانبردار مخلوق کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ یاد کریں کہ غزالی نے پہلے تو حیرانی سے پوچھا تھا کہ اطاعت محبت کی زائدہ کیسے ہو سکتی ہے؟ پھر انہوں نے جواب دیا تھا کہ کس طرح اطاعت کے عمل سے جسم اور روح میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ کہنا مناسب ہو سکتا ہے کہ محبت اور اطاعت دونوں ہم آہنگ ہیں۔ محبت اور فرمانبرداری کے تعلق پر اس سوال کا جواب خود غزالی متعدد طریقوں سے دیتے ہیں۔
غزالی کے نزدیک کچھ علماء یہ مانتے ہیں کہ محبت ایک ہی جیسی ہستیوں اور انواع کے درمیان ممکن ہے۔ لہٰذا ان کے نزدیک خدا اور انسانوں کے درمیان (دونوں میں) مطلق فرق کی وجہ سے کوئی محبت نہیں ہو سکتی ہے48۔ تاہم یہ واضح ہے کہ غزالی اس استدلال کو قبول نہیں کرتے کیونکہ مسلم روایت میں خدا اور بندے کے درمیان محبت کے رشتہ کی دعوت اور تاکید کے کافی ثبوت موجود ہیں۔
یہاں غزالی کا سب سے زیادہ قائل کر دینے والا جواب محبت کے لیے علمیاتی سہاروں کو تخلیق کرنا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ محبت کا تصور معرفت اور ادراک سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔ خدا اور بندے کے رشتے میں محبت خود بخود قائم نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے کچھ اور ہوتا ہے۔ محبت سے پہلے معرفت اور ادراک کا ایک خاص مظہر ہوتا ہے۔ یہ وہی معرفت اور ادراک ہے جو سب سے پہلے اطاعت کو واجب کرتا ہے۔ اس مظہر یا معرفت کے نظام کو سمجھے بغیر محبت قابل فہم یا قابل تجربہ نہیں ہے۔ غزالی وضاحت کرتے ہیں کہ صرف انسانوں یا حساس مخلوقات کو ہی یہ ادراک حاصل ہوتا ہے49۔ غزالی کے ہاں محبت کا معرفت اور ادراک کے مظاہر سے گہرا تعلق ہے جو کہ اخلاقی فلسفہ پر اور اصول الفقہ پر ان کی سب تحریروں میں جلوہ گر ہے۔ اور اسی طرح ان کی تصنیف احیاء علوم الدین میں بھی 50۔ ان کے مطابق انسان ان چیزوں کو ترجیح دیتا اور پسند کرتا ہے جو اس کی فطرت کے مطابق ہوتی ہیں اور ان چیزوں سے نفرت کرتا ہے جو اس کے لیے ناخوشی اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔
"ہر وہ ادراک جس میں لذت اور سکون ہو، دیکھنے والے کو محبوب ہے۔ اور ہر وہ ادراک جس میں درد ہوا سے اچھا نہیں لگتا“ غزالی نے لکھا51۔ یعنی آدمی ان تصورات سے لاتعلق ہوتا ہے جو نہ تو خوشی کا سبب بنتے ہیں اور نہ ہی درد کا۔
کونسا عامل کسی کو علم اور ادراک کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کرتا ہے؟ خدا سے محبت اور اس کے نبی سے محبت پر مقدم کیا چیز ہے؟ ان تمام پر جو چیز مقدم ہے وہ سمع و اطاعت یعنی دین کی دعوت کو سننے اور سنجیدگی سے لینے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس کلامی نظام اور دائرہ کے اندر پروان چڑھتی ہے۔
تو اب امید ہے کہ یہ بات واضح ہو جائے گی جب میں یہ کہوں کہ غزالی کا دعویٰ ہے کہ محبت اخلاقی عمل کا بیج اور ذیلی شاخ ہے۔ محبت کی جڑ بنیاد معرفت و ادراک کے اوپر رکھی گئی ہے یا یوں کہیں کہ اس کی تہ میں معرفت و ادراک اور اطاعت موجود ہے۔ اس طرح، محبت روایت کے ذریعہ فراہم کردہ علم، ادراک اور اطاعت کی ایک مخصوص شکل کی پیداوار ہے۔ لیکن اطاعت اور اخلاقی عمل خود بخود محبت کے مماثل نہیں ہیں۔ اگر مثال کے طور پر آپ محبت کا اقرار کرتے ہیں لیکن آپ کے اندر فرمانبرداری اور اخلاقی عمل غائب ہیں تو یہ محبت کا اقرار جھوٹا اور منافقانہ دعویٰ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اطاعت کے عمل میں روایت کی پابندی کی جائے۔ غزالی کی نظر میں جو کچھ بھی اطاعت کے بیج سے نہیں اُگا وہ سفلی خواہش اور اخلاقی پستی کی پیداوار ہے۔ محبت شریعت سے رہائی کا بہانہ نہیں بنتی بلکہ اس کے برعکس ہے۔ دوسرے لفظوں میں محبت کو اخلاقی وجود میں تحمل یا اطاعت پیدا کرنی چاہیے۔ خدا کی فرمانبرداری، جسے بائیبل کی اصطلاح میں ناموس (nomos) کہا جاتا ہے، محبت کا ایک عمل ہے۔
غزالی کے یہاں محبت کے مظاہر خدا اور انسانوں کے درمیان تعلق کی وضاحت ہیں۔ ان مظاہر میں شامل یہ خیال ہے کہ خود شناسی کا تعلق معرفت نفس یا معرفت ِذات کی اس معروف تعلیم سے ہے کہ ”جو اپنے آپ کو جانتا ہے، وہ اپنے رب کو بھی جانتا ہے۔“ من عرف نفسہ فقدعرف ربہ 52۔ انسان خدا پر منحصر ہیں۔ خود شناسی کا فقدان خدا اور دنیا کے خالق سے جہالت کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا، محبت کو سمجھنے کے لیے نہ صرف خود علم ضروری ہے، بلکہ علم ہمیشہ انسانی صلاحیت اور طاقت سے جڑا ہوتا ہے۔
غزالی نے واضح طور پر کہا ہے: عشق الٰہی معرفتِ الٰہی کا ثمر ہے، محبت بکھر جاتی ہے جب خدا کی معرفت ختم ہو جائے۔ معرفت کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی اس کی محبت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ خدا کے علم اور محبت کو خدا کے علم کی مضبوطی سے تقویت ملتی ہے53۔ اگر یہ کچھ بتاتا ہے تو یہ بتاتا ہے کہ محبت معرفت اور ادراک پر کتنی منحصر ہے۔ تو اس سے محبت کے اسلام اور عیسائیت کے مشترک ہونے کے سطحی دعوے کا بطلان ثابت ہوتا ہے، جب کہ حقیقت میں یہ دونوں ہی مذہبی روایات کو مجروح کرتا ہے۔ اسلامی کلامیات اور عمل میں محبت کا مقام متعدد عیسائی فرقوں کی کلامیات میں اس کے مقام سے بہت مختلف ہے۔
غزالی محبت اور خوبصورتی کے درمیان اور ساتھ ہی ساتھ خواہش اور جمالیات کے درمیان گہرا رشتہ کھینچتے ہیں۔ خوبصورتی سے محبت اپنے آپ میں خاص ہے۔ اس حد تک کہ ان کا اصرار ہے کہ یہ محبت "فطرت میں پیوست ہے“54۔ جسمانی آنکھ سے نظر آنے والی خوبصورتی اس کی بیرونی شکل ہے جبکہ "دل کی آنکھ" سے جو نظر آئے وہ اس کی اندرونی شکل ہے. مؤخر الذکر اعلیٰ اور انتہائی قابل قدر ہے۔
تجرباتی سطح پر وہ حسن و جمال جو دل کی بصیرت دیکھتی ہے اُس کا پتہ ہماری اُس محبت سے چلتا ہے جو ہمیں پیغمبروں سے، علماء و صلحاء سے اور اعلیٰ اخلاق کے حاملین سے ہوتی ہے۔ جب ہم کسی نثر پارے، کسی نظم، کسی تصویر یا کسی عمارت کے حسن کی تعریف کرتے ہیں تو غزالی بتاتے ہیں، کہ ہماری مدح و ثنا اس حقیقت کی وجہ سے ہوتی ہے کہ آرٹ کے یہ نمونے ہمارے سامنے اپنے حسن کی داخلی خصوصیات آشکارا کر دیتے ہیں۔ اور آرٹ کے ان نمونوں کا حسن دیکھنے والے کے سامنے اس لیے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ سب ”علم و صلاحیت کی جستجو“ سے بہت قریب سے جڑے ہوتے ہیں۔ جس کا ان نمونوں کے خالق اور مصنف کو وافر حصہ ملا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب بھی کوئی معلوم حسن و جمال میں رفیع و کامل ہو گا تو اس کا علم بھی کامل اور خوب رو ہو گا۔ اسی طرح کوئی قوت اپنے رتبہ میں شاندار اور عظیم ہو گی تو اس قوت کا مظاہرہ جس سے ہو گا وہ بھی مکرم اور باوقار ہو گا55۔
جب لوگ کسی سے پیار کرتے ہیں اور پورے خلوصِ دل سے تعریف کرتے ہیں تو دراصل وہ ممدوح کی اچھی صفات کی تعریف کرتے ہیں۔ امام غزالی ایک طرف تو حسن و جمال اور محبت کی شناخت کے لیے علم اور قدرت کو ضروری گردانتے ہیں دوسری طرف برے کاموں اور فساد انگیز چیزوں سے اجتناب کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ دونوں زاویے ایک دوسرے کا جزء ہیں الگ نہیں۔ الہام کا ایک مرجع خدا تعالیٰ، اس کے پیغمبر، اس کی نازل کردہ کتابیں اس کے احکامات اور اس کے فرشتے ہیں۔ دوسرا منبع لوگوں کا اپنے آپ کو اور دوسروں کو خدا کی رہنمائی کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اپنے نفس اور دوسروں کو شرع کا پابند بنانا بُرے اعمال سے اپنے آپ کو روکنا اور نظم و ضبط و ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہے 56۔ جو لوگ یہ عالی صفات حاصل کر لیتے ہیں وہ پیغمبروں سے محبت رکھتے، علماء کا احترام کرتے اور عدل کرنے والے اور سخی لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔ خاص کر ان حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کی جو ان معیاروں پر پورے اترتے ہیں۔ تاہم علم، قوت اور اعلیٰ مدارج کا حصول انسان میں محدود ہوتا ہے اور خدا کی ذات اِن صفات سے اکمل انداز میں متصف ہوتی ہے، انسان کا اس میں خدا تعالیٰ کا کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ صفات اس کے اندر کامل تر، عمیق تر اور بے نظیر معیار پر ہوتی ہیں57۔
_________________

حواشی و تعلیقات

(25) Shehadi, Ghazali's Unique and Unknowable God, 33.
(26) Ibid. (Franz Rosenzweig in The Star of Redemption (Notre Dame: Notre Dame Press, 1985), 238-239 and adherents of immanentism in dominant modes of Jewish thought, often critique Muslim theology for the aloofness of the Muslim God. Rosenzweig, for example, found it unthinkable that God did not have a "need" for humans in Islam).
فرانزروزینزویگ اوریہودی فکرمیں خداکی حلولیت کے دوسرے قائلین اکثرمسلم علم کلام پر یوں تنقیدکرتے ہیں کہ اس میں خدااتنابے نیازہے کہ اس کوانسانوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
(27) Ibid
(28) ابراہیم موسیٰ، غزالی اور تخیل کی شعریات دیکھیں۔
Moosa, Ghazali and the Poetics of Imagination.
(29) شہادی، غزالی کا منفرد اور نامعلوم خدا، 62۔
(30)  الغزالی، میزان العمل، 164۔
(31)  ابو حامد الغزالی، "کتاب شرح عجائب القلب"، 3:14 خاص طور پر۔ fn 4۔
(32) Moosa, Allegory of the Rule (Hukm): Law as Simulacrum in Islam?. 
(33) الغزالی، "کتاب المحبۃوالشوق و الانس و الرضا"ص 1. 34 الغزالی ارمسبی، محبت، آرزو، قربت اور قناعت، 1. 35۔
(34) Al-Ghazali and Ormsby, Love, Longing, Intimacy and Contentment,1
(35) Ibid
(36) الغزالی،کتاب المحبۃ 259:4
(37) Ibid 4,:257
(38) Ibid-38 4:258.
(39) Ibid-39، 4:259.
(40) Ibid
(41) الغزالی اور ارمسبی محبت، آرزو، قربت اور قناعت 12-13۔ میں نے ارمسبی کا ترجمہ بھی کچھ ترمیم کے ساتھ استعمال کیا ہے۔
(42)  الغزالی،کتاب المحبۃوالشوق و الانس و الرضا4:260؛ الغزالی اور ارمسبی محبت، آرزو، قربت اور قناعت، 13۔
(43) Lingis- 11;subjectification, اگمبین، ایک اپریٹس کیا ہے؟
(44) الغزالی، کتاب المحبۃوالشوق 4:265؛ الغزالی اور ارمسبی محبت، آرزو، قربت اور قناعت، 30۔Al-Ghazali and Ormsby Love, Longing) Intimacy and Contentment)
(45)  الغزالی، کتاب المحبۃوالشوق 4:261؛ الغزالی اور ارمسبی محبت، آرزو، قربت اور قناعت، 16۔
(46) Agamben, What Is an Apparatus?, 9-10.
(47) الغزالی،کتاب المحبۃ 4:295; Al-Ghazali and Ormsby Love, Longing, Intimacy and
(48) Contentment, 130. ۔ایضاص:4:257 
(49)  ایضاص:4:259
(50)  ایضا ص167-178.
(51) ایضا ص  4:259
(52)  ایضا ص 4:263.
(53)  ایضا 
(54) ایضا ص 4:265.
(55) ایضا  
(56) ایضا ص 4:266.
(57) ایضا ص 4:265



غیر مسلم راہبروں کی اہانت کیوں منع ہے؟

مولانا زاہد الراشدی کا جواب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حافظ نصر الدین خان عمر


سوال: جب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بلکہ مسلمان بھی نہیں سمجھتے تو اس کا بطور نبی احترام ہم پر کیوں ضروری ہے؟
جواب: یہی بات دنیا کے وہ سب لوگ کہہ سکتے ہیں جو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہیں مانتے کہ جب ہمارے نزدیک وہ اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں ہیں تو نبی کی حیثیت سے ان کا ادب و احترام ہم پر کیوں ضروری قرار دیا جا رہا ہے؟ ایسے مواقع پر بات بین الاقوامی مسلمات کے حوالے سے ہوتی ہے اور انہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔
ہمارا عالمی اداروں سے مسلسل مطالبہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دیا جائے۔ اگر عالمی ادارے ہمارا یہ مطالبہ تسلیم کر لیتے ہیں تو قانون پوری دنیا کے مجموعی ماحول کو دیکھ کر بنے گا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی فہرست ہم سے نہیں مانگی جائے گی بلکہ جس شخص کو بھی دنیا کی آبادی کا کوئی حصہ نبی مانتا ہے وہ اس فہرست میں شامل ہو گا اور اس کی توہین اس قانون کے تحت جرم سمجھی جائے گی۔
مثال کے طور پر سکھ مذہب میں بابا گورونانک کو خدا کے فرستادہ نبی کی حیثیت حاصل ہے جبکہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے ساتھ ایمان و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مذہبی کتاب گروگرنتھ میں قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا حوالہ موجود ہے، البتہ وہ خود کو مسلمان کہلانے کی بجائے نئے مذہب کا پیروکار کہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا ان کے ساتھ کوئی گروہی تنازعہ نہیں ہے۔ قادیانیوں کے ساتھ اصل جھگڑا یہ ہے کہ وہ سکھوں اور بہائیوں کی طرح اپنی الگ حیثیت تسلیم کرنے کی بجائے مسلمانوں میں شمار ہونے پر بے جا اصرار کیے جا رہے ہیں جو انصاف کے ہر اصول کے خلاف ہے۔ ان کے ساتھ ہمارا یہ جھگڑا اس وقت تک قائم رہے گا جب تک وہ دستور پاکستان کے فیصلے کو تسلیم نہیں کر لیتے۔ البتہ زبان اور اسلوب میں تہذیب و شائستگی کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے جس کا ہمیں لحاظ رکھنا چاہیے۔

’’امام اعظم ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘

مولانا حافظ خرم شہزاد

استاد گرامی حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب مدظلہ کے فرزندِ گرامی مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ذہانت اور کئی خوبیوں سے نوازا ہے۔ علمی، فکری حلقوں میں ان کا ایک بڑا نام ہے۔ ان کی علمی و تحقیقی تصانیف بھی اہل علم و دانش سے خراجِ تحسین وصول کر چکی ہیں۔ ان کی باقاعدہ پہلی تصنیف ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘ تھی جو ۱۹۹۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے شائع ہوئی جبکہ ڈاکٹر عمار صاحب اس وقت اسی ادارے میں مدرس بھی تھے۔ کتاب کا موضوع اور سبب تالیف استاد گرامی مدظلہ نے اپنے پیش لفظ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’اجتہاد اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے جس کا مقصد قرآن کریم کی صورت میں وحئ الٰہی کے مکمل ہو جانے کے بعد قیامت تک پیش آنے والے نئے حالات و مسائل کا وحئ الٰہی کے ساتھ ربط قائم رکھنا اور قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرنا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اجتہاد کی اہمیت بیان فرمائی ہے بلکہ دیانت و اہمیت کے ساتھ اجتہاد کرنے والے مجتہد کو خطا کی صورت میں بھی اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ دورِ نبویؐ کے بعد ضروریات و مسائل کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہونے کے ساتھ ساتھ اجتہاد کا دامن بھی اس کے ساتھ ہی پھیلتا چلا گیا۔ اور بیسیوں اربابِ علم و دانش نے اس جولان گاہ میں رہوارِ فکر دوڑائے، جن میں امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعی، امام احمد بن حنبلؒ اور ظواہر کے اجتہادی اصولوں اور طریق کار کو اہل سنت والجماعت میں درجہ بدرجہ قبولیت حاصل ہوئی اور ان کی بنیاد پر مستقل فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آ گئے۔
ان میں سے امام اعظم ابوحنیفہؒ کے فقہی اصولوں اور اجتہادی مکتبِ فکر کو امتِ مسلمہ میں سب سے زیادہ پذیرائی ملی۔ چنانچہ آج بھی امت کی سب سے بڑی تعداد فقہ حنفی کی پیروکار ہے۔ اس کی وجہ عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد امام ابویوسفؒ کے عباسی خلافت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہونے سے فقہ حنفی کو اقتدار کا سایہ حاصل ہو گیا اور اس کے ذریعے اسے دنیا کے طول و عرض میں تعارف و ترویج کا موقع ملا۔ یہ بات درست ہے کہ فقہ حنفی طویل عرصہ تک برسراقتدار رہی ہے حتیٰ کہ مسلم ممالک میں استعماری قوتوں کے تسلط سے قبل دنیا کی دو بڑی مسلم سلطنتوں خلافتِ عثمانیہ اور مغل بادشاہت میں فقہ حنفی بطور قانون نافذ تھی، لیکن ہمارے نزدیک اسے قبولیت کی وجہ قرار دینے کی بجائے اس کا نتیجہ تسلیم کرنا زیادہ قرینِ انصاف ہو گا، کیونکہ اہلِ علم و دانش کے ہاں فقہ حنفی کی قبولیت اور پذیرائی کی اصل وجہ دو امور ہیں:
(۱) فقہ حنفی رائے اور عقل کے صحیح استعمال اور روایت و درایت کے توازن پر مبنی ہے۔
(۲) امام ابوحنیفہؒ نے مسائل کے استنباط و استخراج میں اہلِ علم و فن کی باہمی مشاورت اور اجتماعی بحث و مباحثہ کا طریق کار اختیار کیا۔
یہی دو اصول ہیں جنہوں نے امام ابوحنیفہؒ کو اپنے معاصرین میں سب سے نمایاں حیثیت دی اور امامِ اعظمؒ کے لقب سے سرفراز کیا ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ ایک مجتہد تھے، اور مجتہد کے اجتہادات میں صواب اور خطا دونوں کا احتمال ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اسی بنیاد پر امام صاحبؒ سے بہت سے مسائل میں ان کے معاصرین حتیٰ کہ ان کے تلامذہ نے بھی اختلاف کیا ہے اور یہ اختلاف اجتہاد کا ایک مسلّمہ اصول اور اہلِ علم کا جائز حق ہے۔
مختلف مسائل میں امام صاحبؒ سے اختلاف کرنے والوں میں تیسری صدی کے نامور محدث الحافظ ابوبکر ابن ابی شیبہؒ بھی ہیں جو محدثین میں ممتاز حیثیت کے حامل اور امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابوداؤدؒ، اور امام ابن ماجہؒ جیسے جلیل القدر محدثین کے استاذ ہیں۔ ان کی روایت کردہ احادیث کا عظیم الشان ذخیرہ ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ کے نام سے معروف ہے جس سے اہلِ علم ہر دور میں استفادہ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس کتاب کے ایک مستقل باب میں ایک سو پچیس (۱۲۵) ایسے مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں ان کے بقول امام ابوحنیفہؒ نے احادیثِ رسولؐ کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔ ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ کے اس باب میں مذکور اعتراضات کے جواب میں ممتاز اہلِ علم نے مختلف ادوار میں قلم اٹھایا ہے اور اس امر کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ ان مسائل میں امام ابوحنیفہؒ نے احادیثِ رسولؐ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کے موقف کی بنیاد بھی بعض دوسری احادیثِ رسولؐ پر ہے جنہیں وہ اپنے اصولِ اجتہاد کے مطابق ترجیح دے رہے ہیں، اور یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ اعتراض کرنے والوں کی رسائی ان احادیث تک نہ ہو سکی ہو۔ لیکن اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو میں عام فہم انداز میں ان مسائل پر حضرت امام ابوحنیفہؒ کے موقف اور دلائل کی وضاحت کر دی جائے تاکہ امام صاحبؒ پر حدیثِ رسولؐ کی مخالفت کے بے جا الزام کی صفائی کے ساتھ ساتھ عام پڑھے لکھے حضرات بھی امام صاحبؒ کے اسلوبِ اجتہاد سے آگاہ ہو سکیں۔
چنانچہ اسی ضرورت کے پیش نظر عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور الحافظ ابوبکر ابن ابی شیبہؒ کے ذکر کردہ ایک سو پچیس (۱۲۵) مسائل کا ترتیب وار ذکر کر کے ان کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کے موقف اور دلائل کو عام فہم انداز میں واضح کر دیا ہے۔ جس سے امام ابوحنیفہؒ کے طرزِ اجتہاد اور روایت و درایت کے حوالہ سے فقہ حنفی کی خصوصیات کا بھی ایک حد اندازہ ہو جاتا ہے۔
یہ عزیزم عمار سلّمہ کی پہلی علمی کاوش ہے، اس لیے اہلِ علم سے گزارش ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے اسی حیثیت سے دیکھا جائے اور اپنے ایک نووارد عزیز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ جہاں کوئی کوتاہی یا غلطی محسوس ہو، اسے بزرگانہ شفقت کے ساتھ ضرور آگاہ فرمایا جائے تاکہ اگلا ایڈیشن زیادہ بہتر صورت میں پیش کیا جا سکے، نیز خصوصی دعا بھی فرمائیں۔ اللہ رب العزت عزیز موصوف کو اپنے عظیم اسلاف بالخصوص اپنے دادا محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے علوم و روایات کا صحیح امین و وارث بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
ابوعمار زاہدالراشدی
۲۲ اپریل ۱۹۹۶ء‘‘
دو سال قبل (۲۰۲۱ء میں) انڈیا کے ایک ادارے القاضی پبلشرز دہلی نے اس کتاب کو نئی کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے جو انڈیا میں پہلا اور مجموعی طور پر دوسرا ایڈیشن ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور فقہ حنفی کے موضوع پر یہ ایک مثالی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے جس کا ہر عالم دین کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر عمار صاحب اس پر نظرِثانی کے بعد پاکستان میں دوبارہ اشاعت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اللہ کرے یہ کتاب جلد شائع ہو اور طالبانِ علم و تحقیق کی پیاس بجھائے۔ آمین

Should Israel be Recognized?

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


The reasons for opposing recognition of Israel and diplomatic relations with it are varied:
❶ For example, the main reason is that the settlement of Jews in Palestine did not take place with the consent of the population that has been there for centuries, that is, the Palestinians. Rather, the British occupied this region in 1917 and settled the Jews in Palestine on the basis of military force.
And now the United States and its allies are using full military force to force the Palestinians to accept this forced settlement of Jews. The Palestinians do not agree to this because it is a way of tyranny and oppression that no civilized nation in the world can accept. 
I think that as we have a principled stand on Kashmir, the Indian army should leave from there, and the Kashmiris should be given the opportunity to decide their future under the UN order without any pressure. Similarly, our principled position regarding Palestine and the entire Middle East should be that the United States withdraw its troops from the region, and free not only Palestine but also other countries of the Gulf from military pressure and give the people a free opportunity to decide their own future.
This is certainly the requirement of justice, and if the superior forces do not come to this in the drunkenness of power, it does not mean that we give up our position and  accept injustice and tyranny as principles and laws.
❷ Then there is a practical obstacle to recognizing Israel, which without removing it would be absolutely unjust. That is, what are the borders of Israel? This has not been decided yet. Many Arab countries and the majority of the Palestinian people do not accept the partition of Palestine at all. Israel does not recognize the UN resolutions that define the borders between Israel and Palestine:
  • Israel's UN-defined borders are different.
  • At present, the borders of the territory occupied by Israel are different.
  • Intruding all over Palestine without regard to any rule or law makes the map of its borders look completely different.
  • And then, according to the ambitions of the Israeli rulers, the map of "greater Israel" that exists on record is different from all of the above.
  • Along with this, Israeli Prime Minister Sharon has repeatedly announced that he will recognize the proposed state of Palestine only on the condition that its borders will not be determined and it will not have a separate army. What does this mean except that Israel is declaring its right to rule over all of Palestine and is not prepared to give the Palestinians even a small nominal state with demarcated borders?
❸ Also, before recognizing Israel, you have to reconsider your position on Jerusalem, and there are only two ways to do this: either persuade Israel to withdraw from Jerusalem, or take a U-turn yourself and decide to withdraw from Bait al-Maqdis.
All three obstacles I have mentioned are practical and obvious. If we come up with a dignified and workable solution to them, surely we should recognize Israel as a Jewish state in the same way we have been recognizing many Christian countries. In my opinion, the discussion in this regard should be on practical issues and should be on objective facts. This issue should not be further complicated by entanglement in ideological and religious debates.
(Monthly Al-Sharia, September 2003)