الشریعہ — دسمبر ۲۰۲۴ء

نومسلمین کے مسائل، صوفیائے کرام، اسوۂ سرورِ کونینؐمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۹)ڈاکٹر محی الدین غازی 
انسانیت کے بنیادی اخلاقِ اربعہ (۳)شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
الہٰیات کے عدمِ امکان پر کانٹ کی دلیل اور علمِ کلام کے منہج پر اس کا محاکمہڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل 
عشقِ رسول ﷺ اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒمولانا محمد طارق نعمان گڑنگی 
’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱)ڈاکٹر شعیب احمد ملک 
’’قرآنی معاہدات: اللہ اور انسانوں کے تعلق کے قانونی زاویے‘‘محمد اسرار مدنی 
’’جنوبی ایشیا کے فقہی و اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ‘‘ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی 
’’مہر نستعلیق ویب فونٹ‘‘محمد ذیشان نصر 
یادِ حیات (۲) : دورِ طالب علمی / تحریر و تصنیف کی ابتدامولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
Islamic Democracy and Western Democracyمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

نومسلمین کے مسائل، صوفیائے کرام، اسوۂ سرورِ کونینؐ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’عصرِ حاضر میں نو مسلمین کو درپیش سماجی، معاشی، قانونی مسائل اور ان کا حل‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم- دنیا کے ہر انسان تک دینِ اسلام کی دعوت پہنچانا اور اسے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دینا ہماری دینی و ملّی ذمہ داری ہے اور اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کا منطقی تقاضہ ہے، مگر آج کی گلوبل سوسائٹی میں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے مسلسل اختلاط اور شہری و انسانی حقوق کے نئے تصورات نے جو مسائل کھڑے کر دیے ہیں، ان سے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت کا عمل بہت سی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا ہے، جس سے ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی مرکزیت یعنی خلافت کے موجود نہ ہونے کے باعث ان مسائل کا کوئی حل سامنے آنے کی بجائے پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جن پر سنجیدہ بحث و مباحثہ اور ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہوئے قابلِ عمل حل نکالنا اس شعبہ میں کام کرنے اور اس کی اہمیت و ضرورت کا صحیح طور پر ادراک رکھنے والے اصحابِ علم و دانش کے لیے وقت کے ایک اہم چیلنج کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
مثلاً‌ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی بھی غیر مسلم آبادی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا مسلمان ہو جانا اس کے لیے کچھ ایسے مسائل کا باعث بن جاتا ہے جس کو ازخود حل کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے اور وہ استقامت اور دلجمعی کی بجائے کنفیوژن کا شکار دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایک عرصہ سے نو مسلموں کو درپیش معاشرتی، قانونی اور تہذیبی مسائل و مشکلات پر اس سطح کے بحث و مباحثہ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جو ایسے مسائل، مشکلات اور پیچیدگیوں کے مناسب حل کی طرف متعلقہ حلقوں اور اداروں کی راہنمائی کا باعث ہو۔
مجھے خوشی ہے کہ محترم بشریٰ عزیز الرحمٰن صاحبہ نے جامعہ کراچی کے تحت اپنے ایم فل کے مقالہ میں اس اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور مسئلہ کے ضروری پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے مسائل کی نوعیت کو اجاگر کرانے کے ساتھ ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر سید غضنفر احمد صاحب کی نگرانی میں ترتیب پانے والا یہ وقیع مقالہ اس اہم دینی و معاشرتی مسئلہ کی نوعیت اور حل کو سمجھنے کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس علمی و تحقیقی کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ حضرات کے لیے راہنمائی اور استفادہ کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
۲۲ نومبر ۲۰۲۴ء

’’صوفیائے کرام اور اصلاحِ امت‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ تصوف و سلوک دینِ اسلام کا اہم شعبہ ہے جس کے دائرہ میں اولیائے امت رحمہم اللہ تعالیٰ نے قلب و نظر کی طہارت اور اعمالِ صالحہ کو بہتر سے بہتر بنانے کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو عملی طور پر منظم کیا ہے اور امتِ مسلمہ کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اس شعبہ کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے کچھ اس نوعیت کا رہا ہے کہ
احب الصالحین و لست منہم
لعل اللہ یرزقنی صلاحاً‌
’’نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں حالانکہ ان میں سے نہیں ہوں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اصلاح کا کچھ حصہ عطا فرما دیں۔‘‘
بہت سے اولیاء کرام رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیات و خدمات مطالعہ سے گزری ہیں اور اپنے دور کے متعدد صلحاء کرام سے استفادہ و زیارت کا تعلق رہا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ اب بھی قائم ہے۔ دین میں سلوک و احسان کی حیثیت و مقام اور صوفیاء کرام رحمہ اللہ تعالیٰ کی دینی، معاشرتی اور اصلاحی خدمات پر وقتاً‌ فوقتاً‌ محاضرات و مضامین کچھ نہ کچھ عرض کرتا آ رہا ہوں، جن کا ایک انتخاب عزیز محترم مولانا حافظ کامران حیدر فاضل جامعہ نصرۃ العلوم نے زیر نظر مجموعہ میں مرتب کیا ہے جس پر وہ شکریہ و تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت و کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بناتے ہوئے ہم سب کے لیے نجات و اصلاح کا ذریعہ بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔
۱۸ نومبر ۲۰۲۴ء

’’اسوۂ سرورِ کونین ﷺ‘‘

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ایک ایسا بحرِ ناپیدا کنار ہے جس کی وسعتوں اور گہرائی کو آج تک نہیں ماپا جا سکا، اور چونکہ اسوۂ نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام انسانی سماج کی قیامت تک ہمہ نوع ضروریات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جن کا حل وقت اور ضرورت کے ساتھ ساتھ سامنے آتا رہے گا، اس لیے اس بحرِ ناپیدا کنار کی وسعت و گہرائی کو قیامت تک پیمائش کے دائرے میں لانا ممکن بھی نہیں ہے۔ سیرتِ طیبہ ماضی کی طرح آج کی سماجی ضروریات کو بھی محیط ہے اور مستقبل کی سماجی ضروریات اور انسانی مسائل و مشکلات کا حل بھی اس میں پنہاں ہے، اس لیے ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق سیرتِ مبارکہ اور اسوۂ حسنہ کے اظہارِ بیان میں تنوع و تسلسل بھی جاری ہے جو قیامت تک اسی طرح قائم و ساری رہے گا۔
دینِ اسلام کے ایک کارکن اور دینی تعلیمات کے ایک داعی کے طور پر مجھے بھی اپنے بیانات، دروس اور مضامین میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے مختلف اور متنوع پہلوؤں پر اظہارِ خیال کی سعادت حاصل رہی ہے اور اس کا سلسلہ بحمداللہ آج بھی جاری ہے، اور یہ گزارشات اخبارات و جرائد اور بیانات میں بکھری ہوئی ہیں جن کا ایک انتخاب فرزند عزیز حافظ ناصر الدین خان عامر نے زیرنظر مجموعہ میں حسنِ ذوق کے ساتھ مرتب کیا ہے، جس میں عصرِ حاضر کی بہت سی علمی، معاشرتی، تہذیبی اور دیگر ضروریات پر ان معروضات کو اپنے ذوق و ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا ہے، امید ہے کہ علماء و طلبہ کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے بہرہ ور شائقین کے لیے بھی یہ مجموعہ مفید ہو گا۔ اللہ رب العزت عزیزم عامر خان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں میں ہمارا نام شامل فرما کر اسے ہمارے لیے ذخیرۂ آخرت بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔
۱۸  نومبر ۲۰۲۴ء

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۹)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(548) وھن کا ترجمہ

لغت میں وھن کا معنی کم زوری بتایا گیا ہے۔ الوَہْنُ: الضعفُ (الصحاح، جوھری) قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ لفظ آیا ہے۔ بعض اردو تراجم میں وھن کا ترجمہ سست ہونا یا دل شکستہ ہونا کیا گیا ہے۔ لفظ کی رو سے درست ترجمہ کم زور پڑنا، کم زوری دکھانا اور ہمت ہار جانا ہوگا۔ یہ بات درست ہے کہ اردو میں سست کم زور و ناتواں کو بھی کہتے ہیں لیکن اس کا اصل اور مشہور معنی کاہل ہے۔ جب کہ لفظ وھن کاہلی نہیں کم زوری کا معنی دیتا ہے۔ جب وھن کا ترجمہ سستی کرتے ہیں تو ذہن کثرت رواج کی وجہ سے کم زوری کے بجائے کاہلی کی طرف جاتا ہے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ کریں: 
(۱)  فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا۔ (آل عمران: 146)
’’پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں نہ سست ہوئے ہیں نہ دب گئے ہیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر) ضَعُفُوا کا ترجمہ بھی سست پڑنا نہیں ہوگا۔
’’اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں ہوئے‘‘۔ (سید مودودی) دل شکستہ ہونے کا مطلوب تو غم گین اور مایوس ہونا ہوتا ہے۔ یہاں یہ مراد نہیں ہے۔ 
’’تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے‘‘۔ (احمد رضا خان) 
’’تو جو مصیبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’انہیں بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری نہ سست رہے اور نہ دبے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
درج ذیل ترجمے میں تینوں الفاظ کا حق ادا کیا گیا ہے:
’’تو وہ ان مصیبتوں کے سبب سے جو انہیں خدا کی راہ میں پہنچیں نہ تو پست ہمت ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے گھٹنے ٹیکے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۲)  وَلَا تَہِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ۔ (آل عمران: 139)
’’تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی) سستی کرنا وھن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مُؤْمِنِینَ  کا ترجمہ ایمان دار مناسب نہیں ہے۔ ایمان والے مناسب اردو ترجمہ ہے۔ 
’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ‘‘۔(سید مودودی) دل شکستہ ہونا وھن نہیں ہے۔
’’اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ‘‘۔ (احمد رضا خان) سست ہونا یا سستی کرنا وھن نہیں ہے۔
’’اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری) بے دل ہونا وھن نہیں ہے۔
درج ذیل ترجموں میں وھن کا درست ترجمہ کیا گیا ہے:
’’ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
(۳)  وَلَا تَہِنُوا فِی ابْتِغَائِ الْقَوْمِ إِنْ تَکُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّہُمْ یَأْلَمُونَ کَمَا تَأْلَمُونَ۔  (النساء: 104)
’’اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بے آرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بے آرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بے آرام ہوتے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری) ألم بے آرامی کو نہیں کہتے ہیں بلکہ دکھ اور تکلیف کو کہتے ہیں۔ بے آرامی سے ألم  والی بات ادا نہیں ہوپاتی ہے۔ 
’’ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہارے دل ہو کر بیٹھ نہ رہو! اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور مت ہارو ان کا پیچھا کرنے سے اگر تم بے آرام ہوتے ہو تو وہ بھی بے آرام ہیں جس طرح تم ہو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور دشمن کے تعاقب میں تھڑدلا پن نہ دکھاؤ۔ اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو آخر وہ بھی تو تمہاری ہی طرح دکھ اٹھاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی) وھن کا ترجمہ تھڑدلا پن دکھانا درست نہیں ہے۔
درج ذیل ترجمے میں ’’لَا تَہِنُوا‘‘ کا درست ہے:
’’اِس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں‘‘۔ (سید مودودی) 
پوری آیت کا مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’دشمنوں کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو تمہاری طرح انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے‘‘۔
(۴)  فَلَا تَہِنُوا وَتَدْعُوا إِلَی السَّلْمِ۔ (محمد: 35)
’’پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو‘‘۔ (سید مودودی)
’’تو تم سستی نہ کرو اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
لفظ بودے میں کافی وسعت ہے، اس لیے ذہن دوسری طرف جاسکتا ہے۔ جب کہ یہاں لفظ وھن سے متعین طور پر ہمت ہارنا اور کم زوری دکھانا مراد ہے۔ درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:
’’سو تم ہمت مت ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’تو تم کم زور نہ پڑو اور سمجھوتے کی دعوت نہ دو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

(549) أمانی کا ترجمہ

لَیْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلَا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ۔ (النساء: 123)
’’آرزؤئیں نہ تمہاری پوری ہونی ہیں نہ اہل کتاب کی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ آرزوئیں پوری ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ آرزوؤں کے مطابق فیصلہ ہونے کی بات ہے۔
’’کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر‘‘۔ (احمد رضا خان)
أمانی کا معنی خیال اور ہوس نہیں ہے۔ مزید برآں دونوں گروہوں کے لیے فرق کرنا اور ایک جگہ خیال اور ایک جگہ ہوس ترجمہ کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’انجام کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر‘‘۔ (سید مودودی)

(550) وَہُوَ یَرِثُہَا إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہَا وَلَدٌ

درج ذیل قرآنی آیت کے ترجمے ملاحظہ ہوں:
إِنِ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَہُوَ یَرِثُہَا إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہَا وَلَدٌ۔ (النساء: 176)
’’اگر کوئی مرد ہلاک ہوجاوے نہیں ہو واسطے اس کے اولاد اور نہ باپ اور واسطے اس کے ہو ایک بہن پس واسطے اس کے ہے آدھا اس چیز سے کہ چھوڑ گیا اور وہ وارث ہوتا ہے اس کا اگر نہ ہو واسطے اس کے اولاد‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
اس آیت میں باپ کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے، صرف ولد آیا ہے، لیکن ترجمے میں باپ کا اضافہ کردیا گیا جو درست نہیں ہے۔
’’اگر کوئی شخص مرجاوے جس کے اولاد نہ ہو (اور ماں باپ) اور اس کے ایک (عینی یا علاتی) بہن ہو تو اس کو اس کے تمام ترکہ کا نصف ملے گا اور وہ شخص اس (اپنی بہن) کا وارث ہوگا اگر (وہ بہن مرجاوے اور) اس کے اولاد نہ ہو (اور والدین بھی نہ ہوں)‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
اس ترجمے میں (اور ماں باپ) نیز (اور والدین بھی نہ ہوں) کا اضافہ مناسب نہیں ہے اگرچہ قوسین میں ہے۔ 
’’اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
اس ترجمے میں قوسین(اور نہ ماں باپ) کا اضافہ مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح ’تمام مال‘ کا اضافہ بھی درست نہیں ہے۔ دوسرے ورثہ بھی جیسے شوہر اس مال کے حصے دار ہوں گے۔
’’اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور صرف بہن وارث ہو تو اسے ترکہ کا نصف ملے گا اور اسی طرح اگر بہن مر جائے اور اس کی اولاد نہ ہو تو بھائی اس کا وارث ہوگا‘‘۔ (ذیشان جوادی)
اس ترجمے میں ’صرف‘ کہنا درست نہیں ہے۔ ’صرف‘ کا اضافہ مترجم کے اپنی طرف سے ہے اور نادرست ہے۔
’’اگر کوئی شخص مرے، اس کے کوئی اولاد نہ ہو، اس کے ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کے ترکہ کا نصف ہے اور وہ مرد اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہاں ’اور وہ مرد‘ نے ترجمے کو خراب کردیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے مرنے والے مرد کی بات ہورہی ہے۔ 
’’اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)
اس ترجمے میں امرؤ کا ترجمہ مرد کیا ہے، حالاں کہ مرد عورت دونوں اس لفظ میں شامل ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی مرے اور پیچھے ایک بہن چھوڑے تو وہی حکم ہوگا جو آیت میں مذکور ہے۔
’’اگر ایک مرد مر گیا کہ اس کو بیٹا نہیں اور اس کو ایک بہن ہے تو اس کو پہنچے آدھا جو چھوڑ مرا اور وہ بھائی وارث ہے اس بہن کا اگر نہ رہے اس کو بیٹا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
اس ترجمے میں ولد کا ترجمہ بیٹا کیا ہے، حالاں کہ ولد کا ترجمہ اولاد کرنا چاہیے۔ وراثت کی آیتوں میں جہاں جہاں ولد آیا ہے اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی دونوں ہی مراد ہیں۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
’’اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا‘‘۔ (سید مودودی)

(551) اعتصام کا معنی

اعتصام کہتے ہیں کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لینے کو۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
والاعْتِصَامُ: التّمسّک بالشیئ۔ (المفردات فی غریب القرآن)
عصام اس رسی کو کہتے ہیں جس سے باندھا جائے۔ 
والعِصَامُ: ما یُعْصَمُ بہ. أی: یشدّ۔ (المفردات فی غریب القرآن)
اس وضاحت کی روشنی میں کچھ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)  وَمَنْ یَعْتَصِمْ بِاللَّہِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔ (آل عمران: 101)
’’جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا‘‘۔ (احمد رضا خان)
سہارا لینا اعتصام کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔
(۲)  وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا۔ (آل عمران: 103)
’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو‘‘۔ (سید مودودی)
(۳)  إِلَّا الَّذِینَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّہِ۔ (النساء: 146)
’’البتہ جو اُن میں سے تائب ہو جائیں او ر اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور سنورے اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’لیکن جو لوگ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں اور اللہ تعالی پر وثوق رکھیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
وثوق رکھنا اور یقین رکھنا اعتصام کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔
(۴)  فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَاعْتَصَمُوا بِہِ۔ (النساء: 175)
’’تو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کو انہوں نے مضبوطی سے پکڑلیا ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے‘‘۔ (سید مودودی)
پناہ ڈھونڈنا اعتصام کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔
(۵)  وَاعْتَصِمُوا بِاللَّہِ۔ (الحج: 78)
’’اور اللہ کو مضبوط تھام لو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور اللہ ہی کو مضبوط پکڑے رہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
جملے میں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے کہ ’ہی‘ کا استعمال کیا جائے۔
’’اور خدا کے دین کی (رسی کو) پکڑے رہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
آیت میں خدا کو مضبوطی سے تھامنے کی بات ہے نہ کہ خدا کے دین کو۔

انسانیت کے بنیادی اخلاقِ اربعہ (۳)

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

(۳) سماحت

تیسرا خُلق ان اخلاقِ اربعہ میں سے سماحت (فیاضی) ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ نفس خسیس بہیمی دواعی کے سامنے مغلوب نہ ہو۔ لذت کی طلب میں، انتقام کی خواہش پورا کرنے میں، یا بخل یا حرص اور اس جیسی دیگر رذیل خصلتوں میں نفس حقیر اور خسیس جذبات کے تابع نہ ہو۔ سماحت کی خصلت کا ہر شعبہ اس داعیہ کے اعتبار سے الگ الگ نام سے یاد کیا جاتا ہے، مثلاً‌:

عفت: اگر نفس داعیہ شہوتِ فرج اور بطن کو قبول نہ کرے تو وہ عفت (پاکدامنی نزاہت) کہلاتا ہے۔

اجتہاد: اگر نفس رباہیت یعنی خوشحالی و آرام پسندی اور ترکِ عمل کے داعیہ کو قبول نہ کرے تو وہ اجتہاد کہلاتا ہے۔

صبر: اگر تنگ دلی، جزع اور بے صبری کے داعیہ کو قبول نہ کرے تو وہ صبر کہلاتا ہے۔

عفو: اگر انتقام کی خواہش کے داعیہ کو قبول نہ کرے تو وہ عفو (درگزر) کہلاتا ہے۔

قناعت: اگر حرص کے داعیہ کو قبول نہ کرے تو یہ قناعت کہلاتا ہے۔ 

تقویٰ:  اگر شریعت کی مخالفت کے داعیہ کو قبول نہ کرے جو شریعت نے حدود و مقادیر کی حفاظت کے سلسلہ میں مقرر و معیّن کیے ہیں تو اس کو تقویٰ کہتے ہیں۔ خود امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں و تقویٰ عبارت از محافظت بر حدود شرع است (الطاف القدس)۔ (اور اسی طرح حضرت ابو حسین فارسیؒ فرماتے ہیں: ظاہر تقویٰ محافظت حدود کا نام ہے اور باطن تقویٰ نیت اور اخلاص)۔ امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ ان سب خصلتوں کی اصل ایک ہی چیز ہے اور وہ رائے کلی (عقلی تقاضے) کا دواعی خسیسہ بہیمیہ پر غالب ہونا ۔ اسی خصلت یعنی سماحت کے اشکال و شعب سے نفس میں ایک معنی داخل ہوتا ہے اور اس کو نفس اپنا ملکہ بنا لیتا ہے یعنی خسیس اور کمینہ دواعی کو قبول نہ کرنے کا ملکہ اس نفس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اور جس وقت یہ خصلت کسی نفس میں راسخ اور پختہ ہو جاتی ہے تو جب یہ آدم مرتا ہے تو تمام خسیس ہیئتیں جو اس عالم میں اس کے نفس پر ہجوم کرتی تھیں وہ یکسر نیست و نابود ہو جاتی ہیں اور وہ نفس اس طرح ہو جاتا ہے جس طرح خالص سونا کٹھالی سے نکلتا ہے  اس طرح وہ زرِ خالص بن کر نکلتا ہے۔ اور یہ ایسی خصلت ہے کہ جس کی وجہ سے انسان قبر کے عذاب سے دور اور بچا رہتا ہے۔ اور صوفیائے کرام اس خصلت کو زُہد (دنیا میں بے رغبتی) اور حریت اور ترکِ دنیا یا قطع تعلقات دنیا اور فناء خسائس بشریہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جیسا کہ منصور حلاجؒ کے اس شعر میں ہے:

’’اطعت مطامعی  فاستعبدتنی 
ولو انی قنعت لکنت حرا‘‘
(یعنی میں نے اپنی طمع او رلالچ کی پیروی کی تو ان چیزوں نے مجھے غلام بنا لیا۔ اگر میں قناعت اختیار کرتا تو آزاد ہوتا۔)

اور اس خصلت کو حاصل کرنے کا عمدہ ذریعہ یہ ہے کہ ایسے مواقع و مظان سے گریز کرے جو اس خصلت کے اضداد ہیں اور اپنے قلب میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ترجیح دے اور عالمِ تجرد کی طرف نفس کا میلان ہو اسی قبیل سے ہے۔ 

حضرت زید بن حارثہؓ کا قول ہے ’’میرے نزدیک دنیا کا سونا اور پتھر یکساں ہیں۔‘‘ 

امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں (حجۃ البالغہ میں) کہ سماحت حقیقت میں اس ہیئت کا نام ہے جو انسان میں کمال مطلوب کی ضد کو پختہ ہونے سے روکتی ہے خواہ علم کمال مطلوب ہو یا عمل کے اعتبار سے۔ سماحت اور اس کی ضد کے بہت سے القاب ہیں، جس قسم میں ہو گی اس کے اعتبار سے اس کا نام ہو گا،  مثلاً‌ :

بخل کے اعتبار سے ہو تو اس کا نام سماحت و سخاوت ہو گا اور اس کی ضد شح (بخل) کہلائے گی۔ 

اگر یہ داعیہ شہوتِ فرج اور بطن سے ہو، سماحت میں عفت اور اس کی ضد شہرہ (حرص ندیدہ پن) کہلائے گی۔

اگر خوشحالی اور آرام طلبی کے داعیہ اور مشقت کے کاموں سے دور رہنے کے اعتبار سے ہو تو سماحت میں صبر اور اس کی ضد صلع (شدید جزع اور بے صبری) کہتے ہیں۔ 

اگر شرع میں معاصی ممنوعہ کے داعیہ سے ہو تو اس کو تقویٰ کہتے ہیں اور اس کی ضد کو فجور کہتے ہیں۔

اور جب سماحت انسان میں پختہ ہو جاتی ہے تو اس کا نفس شہواتِ دنیا سے خالی ہو جاتا ہے اور لذاتِ عالیہ مجردہ (عالم بالا اور خطیرۃ القدس کی روحانی لذات) کے لیے مستعد ہوتا ہے۔

امام ولی اللہؒ بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’سماحت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ نفس قوتِ بہیمیہ کے دواعی کے تابع نہ ہو اور قوت بہیمیہ کے نقوش اس میں متمثل نہ ہوں اور بہیمیت کے اوساخ (میل کچیل) یا آلودگیاں اور اس کا اثر اس پر لاحق نہ ہو کیونکہ جب انسان اپنے امورِ معاش میں تصرف کرتا ہے اور عورتوں سے ملنے کا اشتیاق رکھتا ہے اور لذات کے تحصیل کا خوگر اور عادی ہو جاتا ہے اور کسی خاص طعام کی چاہت کرتا ہے اور پھر ان اشیاء کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان سے اپنی ضروریات پوری کرتا ہے تو خاص کیفیت اور ہیئت اس میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر انسان کسی پر ناراضگی اور غصہ کا اظہار کرتا ہے یا کسی چیز کے دینے پر بخل کرتا ہے تو ضرور اس حالت میں وہ ایک وقت تک مستغرق ہو گا، اس کے علاوہ کسی چیز کی طرف سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا، لیکن پھر جب یہ حالت اس سے زائل ہو گی تو اگر آدمی سماحت کی صفت سے موصوف ہوا تو ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرے گا، ایسا ہو گا کہ گویا کوئی چیز واقع ہی نہیں ہوئی۔ اور اگر سماحت والا نہ ہوا تو یہ کیفیت اس کے ساتھ چسپاں ہو جائے گی جس طرح انگوٹھی کا نقش موم میں چسپاں ہو جاتا ہے۔ جب اس آدمی کے مادی جسم سے روح مفارقت اختیار کرے گی یعنی طبعی موت سے جب یہ مر گیا اور ظلماتی جہاں کے تعلقات جو تہہ بہ تہہ اس پر چڑھے ہوئے تھے ان سے جب ہلکا ہو گیا اور اس نے اس چیز کی طرف رجوع کیا جو اس کے نفس کے پاس تھی تو دنیا میں جو چیزیں ملکیت کے منافی اور مخالف تھیں وہ اس میں موجود نہ ہوں گی تو اس کو اُنس حاصل ہو گا اور اچھی اور عمدہ عیش میں ہو گا۔ اور بخیل نفوس کے اندر اس بخل کے نقوش متمثل ہوں گے جیسا کہ تم مشاہدہ کرتے ہو۔ بعض آدمیوں کا جب کوئی نفیس مال چوری ہو جاتا ہے تو اگر وہ سخی اور سماحت والا ہو گا تو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کر ےگا۔ اور اگر وہ رکیک النفس یعنی بخیل کنجوس ہو گا تو اس کی حالت ایسی ہو گی اور وہ واویلا اور جزع فزع کرتا رہے گا۔‘‘

اسی طرح امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ سماحت کے اسباب یہ ہیں کہ اپنے نفس کو سخاوت کا خوگر بنایا جائے اور خرچ کرنے پر ہر وقت آمادہ اور تیار بنایا جائے اور جس نے اس پر ظلم و زیادتی کی ہو اس کو معاف کر دے اور مشکلات کے وقت اپنے نفس کو صبر پر کاربند کرنے کا عادی بنائے۔

امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی سماحت اصولِ اخلاق میں اہم ترین خُلق ہے کیونکہ نفس دواعی خسیسہ بہیمیہ کا مطیع نہ ہو یہ اہم بات ہے۔ انتقام کا جذبہ اس میں موجود ہوتا ہے اور وہ انتقام لینا چاہتا ہے اور غضب و غصہ کا اظہار بھی چاہتا ہے۔ بخل اور حرص علی المال اور حرص علی الجاہ بھی اس میں پایا جاتا ہے۔ اور اگر ان دواعی خسیسہ کے مطابق وہ اعمال انجام دے گا تو ان کا رنگ اس کے نفس کے جوہر میں چسپاں ہو گا اور اس میں متمثل ہو گا۔ اگر سماحت والا انسان ہوا  تو ان خسیس ہیئتوں کو ترک کرنا اس کے لیے سہل ہو گا۔ وہ ان سے چھوٹ کر اللہ کی رحمت کی طرف پہنچ جائے گا اور انوار و تجلیات میں مستغرق ہو جائے گا جیسا کہ نفسوس کی جبلت اس کا تقاضہ کرتی ہے۔ اور اگر فیاض اور سماحت والا نہ ہوا تو ان خسیس اعمال کے الوان و رنگ اور دنیا کی چکناہٹ اور آلودگی اس کے نفس میں مل جائے گی اور اس پر سہل نہیں ہو گا کہ وہ ان ہیئات کو ترک کر سکے۔

جب اس کا نفس اس خاکی جسم سے الگ ہو گا تو اس کےگناہ ہر طرف سے اس کا احاطہ کریں گے اور اس کے درمیان اور ان انوار و تجلیات کے درمیان جن کو نفس کی جبلت چاہتی ہے نہایت غلیظ یعنی دبیز حجات ڈال دیے جائیں گے اور ان کی وجہ سے وہ اذیت او ردکھ پاتا رہے گا۔

امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ نورِ ایمان ان دواعی خسیسہ میں سے ہر ایک کی مدافعت کرتا ہے۔ نفسِ بہیمی اور قلبِ سبعی جب یہ خسیس داعیات رکھتے ہیں تو نورِ ایمان ان کی مدافعت کرتا ہے ،اور ہر ایک کا جدا جدا نام ہوتا ہے۔ جو ملکہ جزع فزع کے داعیہ کی مدافعت کرتا ہے اس کو صبر علی المصیبت کہتے ہیں، اس کا مستقر قلب ہے۔ آرام طلبی اور فارغ البالی کے داعیہ کی مدافعت کا ملکہ اجتہاد اور صبر علی الطاعہ کہلاتا ہے۔ حدودِ شرعیہ کی مخالفت اور ان کے ساتھ تہاون اور سستی اختیار کرنے کے داعیہ کی مدافعت تقویٰ کرتا ہے۔ اور جس سے غصہ کے داعیہ کی مدافعت ہوتی ہے اس کو حلم اور بردباری کہتے ہیں، اس کا مستقر بھی قلب ہے۔ حرص کے داعیہ کی مدافعت قناعت کہلاتی ہے۔ عجلت اور جلد بازی کے داعیہ کی مدافعت تانی (پختگی، آہستگی، تثبت) کہلاتا ہے۔ شہوت فرج کے داعیہ کی مدافعت عفت (پاکدامنی) کہلاتی ہے۔ منہ پھٹ ہونے اور بیہودہ گوئی کے داعیہ کی مدافعت صمت، خاموشی اور رعی کہلاتی ہے۔ دوسروں پر نمایاں ہونے اور غالب آنے کے داعیہ کی مدافعت خمول (گمنامی) کہلاتی ہے۔ محبت اور نفرت دونوں میں تلون مزاجی کے داعیہ کی مدافعت استقامت کہلاتی ہے۔

الطاف القدس میں امام ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ انسان میں رذیل صفات کی وجہ سے جو درندوں جیسے افعال اور شہوانی اعمال جب نفسِ ناطقہ کے ساتھ دامن گیر ہوتے ہیں تو اسی سماحت کی خصلت کی وجہ ہی انسان ان صفاتِ رذیلہ کے رنگ کو اپنے آپ سے جھٹک دیتا ہے اور صفائی اور پاکیزگی کی خوبی اور صفت اس کو حاصل ہوتی ہے۔ 

اور اسی طرح جو شخص سماحت کی ضد کے ساتھ متصف ہو گا اور دنیاوی اور مادی تعلقات جو حبِ مال، حبِ جاہ اور حبِ اولاد وغیرہ سے متعلق ہیں، اور اس کے علاوہ ہیئاتِ خسیسہ مثلاً‌ بھوک، پیاس وغیرہ اس کے دل پر ہجوم کرتی ہیں اور اس پر چسپاں ہو جاتی ہیں، جس طرح انگوٹھی کو زور سے موم وغیرہ پر مارا جائے تو اس کی صورت اور نقوش اس موم میں مُنطبع ہو جاتے ہیں۔ لیکن سماحت والا انسان ایسا ہوتا ہے جیسا کہ پانی کی حالت ہوتی ہے کہ جب انگلی وغیرہ کو اس سے اٹھا لیا جائے تو وہ نقش و صورت زائل ہو جاتی ہے۔ امام ولی اللہؒ کا اپنا ایک شعر ہے ؎

بوسعت مشرباں رنگ تعلق درنمے گیرد 
اگر نقشے زنی بر روئے دریا بے اثر باشد
(وسیع المشرب لوگوں کے ساتھ یعنی سماحت والے لوگوں کے ساتھ تعلقات کا رنگ چسپاں نہیں ہوتا، جس طرح دریا کے پانی پر اگر نقش بناؤ تو بے اثر ہو گا، نقش ٹھہرتا نہیں۔)

انسان بالطبع بعض چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ مثلاً‌ خاص قسم کا کھانا، خاص لباس، عمدہ اور خوبصورت مکان۔ اور یہ بھی پسند کرتا ہے کہ لوگوں کے اجتماع میں وہ عزیز اور محترم ہو۔ اور ساتھ یہ بھی کہ عند اللہ مقرب بھی ہو۔ یہ سب انسان کی ضروریات ہیں۔ جب انسان اپنی ضروریات کو اچھی طرح پوری کرتا ہے تو وہ اس کے لطف کو فراموش نہیں کر سکتا، بلکہ یہ لذت اس کے لیے دوسرے کاموں اور حاجتوں کو پورا کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ 

جب انسان اس کے برخلاف ایسے ہوتے ہیں مثلاً‌ لذیذ کھانا کھاتے ہیں اور اس کی لذت بھی پوری طرح محسوس کرتے ہیں، لیکن جب وہ اس سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اس کو فراموش کرتے ہیں اور اس کے بارے میں پھر سوچتے بھی نہیں، اور یہ لذت ان کے لیے کسی دوسرے کام سے مانع نہیں ہوتی، ایسا انسان یقیناً‌ اپنے اخلاق کی تکمیل کرنے کا اہل ہوتا ہے۔  یہ سماحت کا اخلاق بھی ایسا ہے کہ اس خلق والے کی طبیعت پانی کی طرح ہوتی ہے۔ پانی میں انگلی ڈبوئی جائے تو بہت سی جگہ پانی سے خالی نظر آتی ہے، لیکن جب انگلی اٹھا لی جائے تو پھر پانی پہلی حالت پر لوٹ آتا ہے۔ 

اور در حقیقت سماحت اور عدالت میں من وجہ تنافر و تناقص بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ قلب کا میلان تجرد کی طرف، اور اس کا رحمت و مودت کے لیے مطیع ہونا، یہ دونوں باتیں اکثر لوگوں کے حق میں باہم مخالف ہیں۔ اسی لیے بہت سے اہل اللہ کو تم دیکھو گے کہ وہ تبتل اور انقطاع عن الناس کو اختیار کرتے ہیں اور اہل و اولاد سے دور ہو جاتے ہیں۔ اور عام لوگوں کو تم دیکھو گے کہ اہل و اولاد سے میل جول ان پر اس قدر غالب و حاوی ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ لیکن انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام دونوں مصلحتوں کی رعایت کا حکم دیتے ہیں، اور یہ کہ مصلحتوں کو جہاں تک ممکن ہو جمع کیا جائے۔ اس لیے سماحت کے نوامیس آپس میں ملے جلے ہوں گے۔ معاملہ حسنِ خلق سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مجموعہ ہے سماحت اور عدالت کا کیونکہ یہ مشتمل ہے جود پر، اور جو ظلم و زیادتی کرتا ہے اس کو معاف کرنے پر، اور تواضع پر، اور حسد و حقد اور غضب کو ترک کرنے پر۔ اور یہ سب سماحت کے باب میں داخل ہیں۔ اور لوگوں کے ساتھ مودت، صلہ رحمی، حسنِ صحبت اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی و مواسات، یہ عدالت کے باب سے تعلق رکھتے ہیں۔

اور آفاتِ لسان سب مخل بالاخبات و سماحت اور عدالت ہیں، کیونکہ اکثار فی الکلام یعنی زیادہ بولنا اللہ تعالیٰ کے ذکر کو فراموش کراتا ہے، اور غیبت و بدگوئی آپس کے تعلقات کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں، اور قلب بھی زبان کے کلام سے رنگین ہوتا ہے، غصہ کے کلمہ سے قلب بھی غضبناک ہوتا ہے، اور غیبت، جدال اور مراء (جھگڑا) وغیرہ لوگوں کے درمیان فتنے برپا کرتے ہیں۔ اور ہر قسم کا کلام کرنا اور ہر وادی میں گھس جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ایسا آدمی توجہ الی اللہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں حلاوت نہیں پاتا۔ اگر سب و شتم کرتا ہو یا عورتوں کے محاسن کا ذکر کرتا ہو تو اس کے نفس پر شہوانی اور سبعی (درندوں جیسے خیالات کا) نقش چھا جائے گا۔ اور اگر ایسا کلام کرے گا مثلاً‌ کسی بادشاہ کو ملک الملوک کہے تو اس سے اللہ کے جلال کو فراموش کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس سے غفلت پیدا ہو گی۔ اور اگر ایسی چیز زبان پر لائے گا جو مصالحۂ ملت کے خلاف ہو مثلاً‌ ملت نے جس چیز کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ترغیب دینے لگ جائے مثلاً‌ شراب کی مدح کرے یا عنب (انگور) کو کرم کہنے لگے، یا اللہ کی کتاب کو عجمی بنائے جیسا مغرب کو عشاء اور عشاء کا عتمہ کہے، یا قبیح اور شنیع کلام کرے جیسا کہ شیطانی شنیع افعال کا ذکر، یا فحش باتیں اور جماع کا ذکر، یا اعضاء مستورہ کا ذکر، یا شگون وغیرہ کے الفاظ، یہ سب ملت کی مصلحت کے خلاف ہیں۔

ویسے بھی انسانی فطرت ہے کہ انسان جب کوئی اخلاق حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے مطابق افعال و ہیئات پر اپنے آپ کو کاربند بناتا ہے اگرچہ وہ معمولی بات ہو۔ مثلاً‌ شجاعت کا خلق حاصل کرنے والا گارے میں گھسنے اور سورج کی دھوپ اور رات کے اندھیرے میں چلنے سے گریز نہیں کرے گا۔

سماحت کے مواقع

شریعت میں سماحت کے مظان و مواقع ہیں اور جن کو سماحت نہیں بتایا ان میں امتیاز کرنا بھی ضروری ہے۔

زُہد

انسان کا نفس طعام کی طرف حرص رکھتا ہے اور اسی طرح لباس اور عورتوں کا اشتیاق بھی رکھتا ہے،  جب تک ان کو حاصل نہ کرے اس کو قرار نہیں آتا۔ اور اس سے اس کے نفس کے جوہر میں ایک فاسد رنگ پیدا ہو جاتا ہے،جب انسان اس رنگ کو اپنے نفس سے پھینک دے تو اس کو ’’زہد‘‘ کہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ

’’حلال کو حرام بنانے سے یا مال کو ضائع کرنے سے زہد حاصل نہیں ہوتا، بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہارے پاس جو چیز ہے اس پر تمہیں زیادہ اعتماد و بھروسہ نہ ہو، اس چیز کے مقابلے میں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور مصیبت کے وقت اس کے ثواب میں زیادہ راغب ہو، بہ نسبت اس کے کہ اس مصیبت کو تم سے اٹھا دیا جائے۔‘‘

اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ

’’ابن آدم کے لیے ان خصلتوں (بنیادی حقوق) کے علاوہ حق نہیں ہے، اور وہ خصلتیں یہ ہیں: ایک مکان جس میں انسان سکونت اختیار کر سکے، دوسرا کپڑا جس سے ستر پوشی کر سکے، تیسری جیسی کیسی بھی ہو روٹی میسر ہو، چوتھی پانی۔ (یہ بنیادی حق ہیں جو ہر انسان کو ملنے چاہئیں، ان چار حقوق کے علاوہ دو حق صحت اور تعلیم بھی ہیں جن کا ذکر قرآن و سنت میں موجود ہے۔)‘‘

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ

’’ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھ سکیں۔‘‘

اور یہ بھی آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ

’’دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے اور تین کا چار کے لیے کفایت کرتا ہے۔‘‘

یعنی دو آدمیوں کا کھانا اگر کفایت کے طریق پر تقسیم کر دیا جائے۔ یہ مواسات کی ترغیب اور حرص کی ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔

قناعت

مال کی حرص بسا اوقات نفس پر غالب ہوتی ہے اور اس کے جوہر میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ سے اس حرص کو دور کرتا ہے اور اس پر اس کا ترک آسان ہو جاتا ہے تو یہ قناعت ہے۔ قناعت کا مفہوم نہیں کہ جو چیز بغیر طمع کے اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اس کو بھی چھوڑ دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ

’’ غنیٰ (دولت مندی اور غنی ہونا) سامان کی زیادتی سے نہیں ہوتی بلکہ غنی نفس کا غنی ہے کہ انسان کا نفس اور دل مستغنی ہو۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حکیمؓ سے فرمایا کہ

’’اے حکیمؓ! یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ جو شخص اس کا نفس کی سخاوت (فیاضی) سے لے گا اس کو برکت دی جائے گی۔ اور جو حرص سے لے گا اس کو برکت نہیں دی جائے گی، اور وہ ایسا ہو گا جو کھاتا ہے (جوع البقر یا جوع الکلب کی وجہ سے) اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اور دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس یہ مال بغیر طمع اور لالچ کے آجائے تو اس کو لے لو اور اپنے نفس کو اس کی طمع میں مت لگاؤ۔‘‘

جود 

سخاوت و بخشش۔ مال کی محبت انسان کے لیے ایک فطری امر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’وانہ لحب الخیر لشدید‘‘ کہ انسان مال کی محبت میں بڑا پکا ہے۔ انسان مال کو اپنے پاس رکھنے اور اس کو روکنے کی محبت رکھتا ہے۔ اور یہ محبت بسا اوقات اس کے قلب پر غالب آتی ہے اور اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔ ہر طرف سے جب انسان اس مال کے صَرف و خرچ کرنے پر قادر ہو اور اس کی پروا نہ رکھے تو یہ ’’جود‘‘ ہے۔ جود یہ نہیں کہ مال کو بلاوجہ اور بے محل ضائع کر دے۔ مال بذاتہ کوئی مبغوض چیز نہیں، یہ تو ایک نعمت کبیرہ ہے۔ 

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بخل اور کنجوسی سے بچو۔ اس بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو خونریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے حرام چیزوں کو حلال خیال کیا۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قابلِ رشک دو آدمیوں کا حال ہے۔ ایک علم والا جس کو پڑھاتا اور پھیلاتا ہے، اور دوسرا مال جس کو خرچ کرتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کیا گیا کہ حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام! کیا خیر بھی شر کو لاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تو شر کو نہیں لاتا لیکن جو چیز موسم ربیع میں پیدا ہوتی ہے (گھاس، سبزہ، چارہ وغیرہ) اور جانور اس کو حرص سے کھاتے ہیں تو وہ مہلک ہوتا ہے۔ یعنی جس کو تم خالص خیر خیال کرتے ہو اس میں دوسرا پہلو بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

اور حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ

’’جس کے پاس زائد سواری موجود ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری موجود نہیں، اور جس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد توشہ موجود ہو، وہ اس کو دے دے جس کے پاس توشہ نہیں۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی مختلف قسموں کا ذکر فرمایا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم میں سے زائد چیز میں کسی کا حق ہی نہیں۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ترغیب اس لیے دی ہے کہ لوگ جہاد میں مصروف تھے اور مسلمانوں کی جماعت کو اس کی ضرورت تھی۔ اس میں ایک طرف سماحت ہے اور دوسری طرف نظامِ ملت کو قائم کرنا اور مسلمانوں کی جانوں کو بچانا مقصود ہے۔ سماحت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی ضروریات کو مؤخر کر دیا جائے۔ چنانچہ عربی زبان کا ایک شاعر مقنع کندی کہتا ہے؎

لیس العطاء من الفضول سماحة 
حتی تجود و مالدیک قلیل
’’ایسا عطیہ سماحت نہیں کہ انسان زائد مال میں سے دے۔ سماحت تب ہو گی کہ تم سخاوت کرو یہاں تک کہ تمہارے پاس قلیل بھی نہ رہے۔‘‘

قصرِ امل 

(آرزو کو مختصر کرنا)۔ انسان پر زندگی کی محبت غالب ہوتی ہے اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور دراز زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے جس کو پا نہیں سکتا۔ اگر ایسی حالت میں ہی انسان مر جائے تو اس کو عذاب ہو گا کہ اس کا میلان و اشتیاق اس چیز کی طرف تھا جس کو پا نہیں سکا۔ یہ مزید باعثِ کلفت ہو گا۔ ورنہ عمر تو بنفسہ کوئی مبغوض چیز نہیں بلکہ نعمتِ عظیم ہے۔ آرزو کو مختصر کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے یہ فرمایا ہے کہ

’’دنیا میں اس طرح رہو جیسا مسافر ہوتا ہے، یا راستے پر گزرنے والا۔‘‘

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

’’لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد کیا کرو یعنی موت کو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اپنے ہمعصروں کی موت سے عبرت پکڑو۔ اور فرمایا کہ کوئی شخص بھی اپنی موت کی تمنا نہ کرے اور نہ موت کے لیے دعا کرے، کیونکہ جب انسان مر جاتا ہے تو تمام اعمال انسان کے منقطع ہو جاتے ہیں۔‘‘

تواضع

انکساری یہ ہے کہ انسان کا نفس تکبر او رخودپسندی کے داعیہ کا اتباع نہ کرے اور لوگوں کو حقیر نہ جانے کیونکہ لوگوں پر زیادتی و ظلم اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا یہ انسان کے نفس کو بگاڑنے والی بات ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہو تو وہ بہشت میں نہ جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، انسان پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو، جوتا اچھا ہو، تو کیا یہ تکبر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، یہ تکبر نہیں۔ تکبر لوگوں کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر جاننے سے ہوتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اہلِ نار یعنی دوزخی نہ بتلاؤں۔ ہر اکڑنے والا، اکھڑ مزاج، مغرور آدمی اہل النار ہو گا۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’’ ایک شخص تم سے پہلی امتوں میں سے تھا جو زمین پر اکڑ کر چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا۔ بس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔‘‘

حلم

بردباری، حوصلہ، آہستگی اور نرمی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان داعیہ غضب کے تابع نہ ہو۔ حتیٰ کہ وہ غوروفکر سے کام لے اور مصلحت کو دیکھے۔ غضب کے تمام مواقع مدفوع نہیں۔ 

اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

’’جو شخص رفق (نرمی) سے محروم ہوا وہ ہر قسم کی خیر سے محروم ہو گا۔ ایک شخص نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ مت کرو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بار بار فرمائی۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ آگ پر کون لوگ حرام ہیں۔ ہر حلیم الطبع نرم اخلاق انسان آگ پر حرام ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے، پہلوان تو درحقیقت وہ ہے جو غصے کے وقت نفس پر قابو رکھتا ہو۔

صبر

نفس آرام طلبی، جزع فزع، شہوت، اترانے، راز کو ظاہر کرنے، اور موت کو ختم کرنے کے داعیہ کے تابع نہ ہو۔ یہ صبر ہے۔  

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ افضل عطیہ اور اس سے زیادہ وسیع کوئی چیز نہیں ملی۔ 

الہٰیات کے عدمِ امکان پر کانٹ کی دلیل اور علمِ کلام کے منہج پر اس کا محاکمہ

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

اس تحریر میں ہم کانٹ کی اس دلیل  کا علم کلام کے منہج پر جائزہ لیں گے جو وہ عقلی الہیات کے عدم امکان (impossibility  of  rational  metaphysics  or theology) کے لئے پیش کرتا ہے۔ اس کا محاکمہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہاں علامہ اقبال رحمہ اللہ سے لے کر متعدد مفکرین اس دلیل سے متاثر ہوئے ہیں اور آج بھی ایسے حضرات موجود ہیں۔ اگر کانٹ کی دلیل درست ہے تو نبی کی نبوت کے اثبات کی ہم آہنگ علمی دلیل فراہم کرنا ممکن نہیں کیونکہ اثبات نبوت ذات باری کے وجود اور اس کی صفات پر موقوف ہے نیز اگر کانٹ درست ہے تو مسلمانو ں کی عقیدے و کلام کی روایت غیر معتبر ہے۔  اس لئے کانٹ کی دلیل کا تجزیہ ضروری ہے۔ 

1) الہیات کے عدم امکان پر کانٹ کی دلیل 

دلیل کے تجزئیے سے قبل اس دلیل کے اجزا کا مستحضر ہونا ہے۔ یہاں اس کی دلیل چند نکات کی صورت پیش کی جاتی ہے۔

1۔ ذرائع علم کا جائزہ

کانٹ کا کہنا ہے کہ حقیقت پر بحث سے قبل ہمیں اپنے پاس میسر ذرائع علم کا جائزہ لینا ہوگا جن کی بنیاد پر ہم حقیقت سے متعلق کسی علمی قضیے (knowledge-claim) کا دعوی کرتے ہیں۔ انسان کے پاس دو قسم کے ذرائع علم ہیں:
الف) ایک خاص قسم کی ذہنی ساخت یا ڈھانچہ (structure of  mind) جو انسانی ذہن میں ماقبل تجربہ (a priori) موجود ہے۔ یہ ذہنی سانچے کسی شے کے ادراک و تفہیم سے متعلق ہیں جو دو طرح ہیں:
  •  زمان و مکان: ایک وہ جو کسی شے سے متعلق میرے ادراک و شعور (intuition) کو ممکن بناتے ہیں اور یہ زمان و مکان کے سانچے ہیں، ہر تجرباتی علم ان پیمانوں کے اندر ہوتا ہے۔ ان سانچوں کو کانٹ pure forms of  intuition کہتا ہے۔
  •  ذہنی خاکے: دوسرے وہ جو شے کی صورت (concepts) وضع کرتے ہیں اور یہ 12 خاکے یا مقولات (categories) ہیں جن کے ذریعے ذہن حسی مشاہدے میں آنے والے تجربات کو منظم کرکے انہیں مفہوم دیتا ہے، جیسے کہ انسان تجرباتی معلومات کو وحدت و کثرت، کیف، علت و معلول وغیرہ کے تصورات میں دیکھتا ہے۔ دوسری قسم کے خاکوں کو کانٹ pure forms of  thought کہتا ہے۔
ب) حواس(sensory input) جن کے ذریعے بیرون سے متعلق معلومات (data) حاصل ہوتی ہیں جنہیں ذہن درج بالا ادراکی و تفہیمی خاکوں کی مدد سے ترتیب دیتا ہے۔

2۔ ذہنی سانچوں اور حسی تجربے کا امتزاج

اول الذکر یعنی ذہنی سانچے بذات خود کسی حقیقت کے ادراک یا کسی معین علم (substantive knowledge) کے حصول کا باعث نہیں ہوتے کیونکہ یہ خالی ڈھانچوں یا گھڑھوں (vessels) کی طرح ہوتے ہیں اور جب تک انہیں حسی تجربے کے ذریعے کوئی مواد نہ ملے یہ نرے خیال ہیں۔ البتہ یہ ڈھانچے تجربے کے لئے شرائط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علم (الف) اور (ب) کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے، یعنی جب ذہن کے سانچے اور حسی تجربے کے ذریعے ملنے والے مواد کا امتزاج ہوتا ہے۔

3۔ درج بالا کی دلیل و موٹیویشن

کانٹ نے درج بالا تجزیہ اپنے پیش رو عقلیت پسند و تجربیت پسند (rationalist and empiricist) مفکرین کے مابین فصل نزاع کے طور پر پیش کیا۔ اس ضمن میں وہ بالخصوص ڈیوڈ ہیوم کے ایک شبہے کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ تجربیت پسندوں کا دعوی تھا کہ سارے بامعنی علمی قضایا تجربے سے جنم لیتے ہیں۔ کانٹ ہیوم کے اس نتیجے سے متاثر ہوا تھا کہ علت (cause) کا تصور کسی خارجی مشاہدے سے حاصل نہیں ہوتا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام علم نرے تجربے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ کانٹ اس شبہے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ علت کا تصور دراصل انسانی ذہن میں ماقبل تجربہ ایک تصور (a priori concept) یا ڈبے کے طور پر موجود ہے اور ان ڈبوں کو مانے بغیر تجربی علم کی تشکیل کا امکان نہیں۔ چنانچہ امکان علم کے بارے میں درج بالا منہج پر یقین رکھنا کانٹ کے خیال میں اس لئے ضروری ہے کیونکہ اس طرح وہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے جو ہیوم کو درپیش تھا کہ ہمارے علمی قضایا میں ایسے تصورات کہاں سے در آتے ہیں جو خارجی مشاہدے سے حاصل نہیں ہوتے۔

4۔ شے فی نفسہ اور مظاہر کا فرق

کانٹ کے مطابق ذہنی سانچوں اور حسی معلومات کے امتزاج سے حاصل ہونے والے علم کے ذریعے ہم "شے فی نفسہ" (thing in it self) کو نہیں جانتے، بلکہ اس کے صرف مظہر (phenomena) کو سمجھتے ہیں، یعنی ان شبیہات (appearances) کو جو ہمارے ذہن کے سانچے خارجی معلومات پر لاگو ہوکر ان کی صورت گری کرکے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں پیوست سانچوں کے ذریعے حسی معلومات کو وحدت و ترتیب دیتا ہے، لہذا انسان دراصل خارجی دنیا کی اشیاء کی اصل حقیقت یا شے فی نفسہ (thing in itself) کو دریافت نہیں کرتا بلکہ اپنے ذہن کے ادراکی سانچوں سے تشکیل پانے والے اشیاء کے مظاہر یا شبیہات کو دریافت کرتا ہے۔ شے فی نفسہ (یعنی وہ حقیقت جو ہماری ادراکی و تفہیمی ساختوں سے پرے ہے) ہمارے ادراک سے ماوراء رہتی ہے جسے ہم نہیں جان سکتے، ہم شے کو صرف ویسا جانتے ہیں جیسا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا۔ گویا حصول علم کی کیفیت یوں ہے جیسے میں ایک چھوٹے سے انسان کی طرح اپنے ذہن کے اندر بیٹھ کر ذہن کی سکرین پر ابھرنے والی شبیہات کا مشاہدہ کررہا ہوں۔ اس عمل کے دوران میں خارجی اشیاء (external world) کی صفات یا کیٹیگریز نہیں بلکہ ان سے متعلق مظاہر و شبیہات (phenomenon of  the world)  کے ذریعے ذہن کے خاکوں (categories of  mind) کو دریافت کرتا ہوں۔

5۔ علم کی حدود اور الہیات کا عدم امکان

درج بالا تجزئیے کی بنیاد پر کانٹ کا کہنا ہے کہ صرف انہی حقائق یا امور کا علم ممکن ہے جو بذریعہ حس گرفت میں آئیں کیونکہ ذہنی خاکے انہی سے متعلق کوئی اطلاع پانے پر انہیں منظم کرکے صورت گری کرسکتے ہیں۔ وجود باری جیسے الہیاتی یا مابعد الطبعیاتی امور کا علم ممکن نہیں اس لئے کہ خدا زمان و مکان سے ماوراء ہے۔ لہذا اسے حسی تجربے سے نہیں جانا جاسکتا اور نتیجتاً ذہنی خاکے ایسے وجود کی صورت گری کرنے سے قاصر ہیں۔ چونکہ ذہنی خاکے از خود کوئی علم فراہم نہیں کرتے بلکہ نرے خیال (menta  concepts) ہیں اور حسی تجربہ خدا جیسے مابعد الطبعیاتی امور کا احاطہ نہیں کرتا، اس لئے الہیات کے مسائل (مثلاً وجود باری اور اس کی صفات) کے اثبات پر عقلی استدلال ایک ایسی بے معنی ذہنی مشق ہے جس کا کوئی خارجی مصداق (correspondent) نہیں۔ ذہنی ڈبوں سے متعلق خارجی مصداق صرف اس شے کا ہوتا ہے جو حس میں آئے اور میٹافیزیشنز اس حقیقت کو نہ پہچاننے کے باعث ڈاگمیٹک انداز سے الہیات کے اثبات میں مصروف رہے۔

6۔ علت کا تصور اور خدا

کانٹ کا دعوی ہے کہ علت کا تصور صرف زمان و مکان کی اشیاء پر لاگو ہوتا ہے، اس لئے کہ تفہیمی خاکوں میں جس ڈبے یا کیٹیگری کا نام علت و معلول ہے وہ اشیاء کے مابین زمانی ترتیب و تسلسل (temporal procession) سے عبارت ہے نیز علت زمانی طور پر معلول سے مقدم ہوتی ہے۔ چونکہ علت کا تصور بامعنی علم پیدا کرنے کے لئے زمانی ترتیب کا محتاج ہے، لہذا زمانی و مکانی علتوں کی سیریز کے مشاہدے کو اس سے ماوراء لاگو کرنا غیر منطقی چھلانگ ہے۔ ایسا اس لئے کہ اس ماورا کے بارے میں ہمارے پاس خبر حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں، لہذا یہ کہنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں کہ زمان و مکان سے ماوراء بھی زمانی و مکانی تصورات لاگو ہیں۔ پس زمانی اور مکانی اصول خدا جیسے ماورائی وجود پر لاگو نہیں ہو سکتے، لہذا علت کے تصور کو خدا “بطور علت اولی” یا “کائنات کی علت” کے طور پر لاگو کرکے ایک وجود ثابت کرنا بے سود ہے۔

دلیل کا نتیجہ

کانٹ کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حسی تجربے سے ماوراء الہیات اور مابعد الطبیعیات جیسے موضوعات کے بارے میں نظری عقل (theoretical reason) سے علم حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انسانی علم کا دائرہ صرف حواس کے ذریعے حاصل شدہ معلومات اور ذہن کے خاکوں کے دائرے تک محدود ہے، اور خدا جیسے امور اس دائرے سے باہر ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ کانٹ خدا کے وجود کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا، بلکہ اس کے خیال میں خدا کا تصور انسان کے اخلاقی شعور یاعقل  عملی (practical reason) کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس کا قائل تھا۔ لیکن نظری عقل یا عقل محض (pure reason) کے ذریعے اس کا ادراک وہ ناممکن قرار دیتا ہے۔ کانٹ جس طرز پر عملی عقل میں خدا کو جگہ دیتا ہے وہ بذات خود غیر تسلی بخش و غیر مفید ہے، تاہم یہاں اس  پر بحث نہیں کریں گے۔ 
کانٹ کی اس دلیل سے متاثر ہوکر بعض مذہبی مفکرین الہیات کے عقلی امکان سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد ان میں سے بعض حضرات وجود و صفات باری سے متعلق مذہبی مقدمے کا دفاع مذہبی تجربے (religious experience) کی بنیاد پر کرنے کا دعوی کرتے ہیں جیسا کہ علامہ اقبال کا یہ خیال ہے، بعض اسے کلیتاً نبی کی خبر پر موقوف کرتے ہوئے عقل و ایمان کی دوئی قائم کرکے اسے ایمانی شے کہتے ہیں، بعض کانٹ کی اس دلیل کو الحاد پسندوں کےخلاف استعمال کرتے ہیں کہ اگر عقل سے خدا کا اثبات ممکن نہیں تو انکار بھی ممکن نہیں جبکہ بعض متذبذب رہتے ہیں۔بعض مذہب پسند حضرات کا خیال ہے کہ کانٹ نے یہ بات کہہ کر اہل مذہب پر احسان کیا کہ ہمیں حقائق اشیاء کا علم حاصل نہیں ہوتا، یوں گویا نبوت کی عظمت کے لئے یہ دروازہ کھل گیا کہ حقیقت نبی بتاتا ہے۔ رہا نبی کی صداقت کا سوال تو اسے ایمان کے زور پر منوا لیا جائے، یوں ایمان ان کے نزدیک ایک ماورائے عقل مقدس شے کا نام ہے۔ 

2) کانٹ کی دلیل کا جائزہ 

اب ہم اس پر بالترتیب نکتہ وار اس دلیل تبصرہ کریں گے۔ 
کانٹ کی دلیل پر قائم ہونے والے سوالات دو قسم کے ہیں، وہ جو اس کی دلیل کی داخلی ساخت یا ہم آہنگی سے متعلق ہیں اور وہ جہاں وہ غیر ضروری طور پر ایک مفروضے کو درست مان کر اپنا مقدمہ وضع کرتا ہے، ان امور کی بنا پر اس کی پیش کردہ توجیہہ غیر اطمینان بخش رہتی ہے۔ دوسری طرز پر دیکھیں تو یہ سوالات تین قسم کے ہیں: وہ جو اس کے بیان کردہ ذرائع علم اور ان کی نوعیت سے متعلق ہیں، وہ جو ان سے حاصل شدہ علم کی کیفیت سے متعلق ہیں اور وہ جو ان سے اخذ کردہ نتائج سے متعلق ہیں۔ درج ذیل میں سے سب نکات براہ راست اس کے نظرئیے پر نقد کے لئے نہیں ہیں بلکہ بعض نکات اس کے نظرئیے کی تنقیح کے لئے بھی ہیں تاکہ قاری کے سامنے کانٹ کی بات کھل کر آسکے۔ کانٹ کے مقدمے پر دس نکات کے تحت بات ہوگی اور اب تک اس پر ہم نے جو کچھ لکھا ہے اسے یہاں جمع کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ وما توفیقی الا باللہ۔ 

پہلا نکتہ:کانٹ کے فلسفے کی سچائی داخلی تضاد کو مضمر ہے 

مان لیا کہ علم کے ذرائع کا جائزہ لینا اہم ہے اور تمام متکلمین بھی حقائق کے ادراک کی بحث کا آغاز انسان کے پاس میسر ذرائع علم ہی سے کرتے ہیں، لیکن آپ نے یہ کس بنیاد پر کہا کہ حصول علم کی کیفیت اس خاص طرز پر منحصر ہے جس کا آپ نے دعوی کیا؟ یعنی آپ کے اس فلسفے (جسے آپ transcendental idealism کہتے ہیں) کی سبسٹنٹو سچائی کا علم آپ کو کس طرح ہوا؟ یہاں دو امکان ہیں: علم کی تعمیر سے متعلق آپ کا یہ دعوی یا درست و حقیقت ہے اور یا یہ محض خیال ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو اس کی سچائی کی بنیاد آپ کے نظرئیے کی رو سے یا تجربے سے ماخود ہوگی اور یا اس ذہنی ساخت یا ڈبوں سے جسے آپ ذہنی خاکہ کہتے ہیں۔ ذہنی خاکوں سے اس کی سچائی ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ خاکے آپ کے بقول کوئی حقیقی علم فراہم نہیں کرتے۔ اس کا ذریعہ تجربہ بھی نہیں ہوسکتا اس لئے کہ یہ دعوی ماقبل تجربہ امور سے متعلق ہے، اور اگر ایک لمحے کے لئے مان بھی لیں کہ بذریعہ تجربہ ان کی تصدیق ہوتی ہے تو بھی آپ کے مطابق تجربے سے محض مظاہر یا appearance کا علم حاصل ہوتا ہے نہ کہ حقیقت کا، تو تجربے سے ماخوذ ہونے کے باوجود بھی یہ محض appearance کا علم ہوگا۔ پس خود اپنے اس دعوے کو آپ نے ایک قسم کے ڈاگمیٹزم کے علاوہ کس بنیاد پر سچائی فرض کرلیا ہے کہ علم اس طرح تعمیر ہوتا ہے جیسے آپ کا دعوی ہے؟ کانٹ کی فکر کا یہ تضاد اس کے ہم عصر جرمن فلاسفہ نے بھانپ لیا تھا (اس کے حوالے ہم نے ایک تحریر میں پیش کئے تھے)۔ کانٹ کے یہ ناقدین مزید کہتے ہیں کہ کانٹ کے فلسفے کی رو سے منطق کے بنیادی قوانین (جیسے جمع بین النقیضین کا محال ہونا) بھی فنامینا یا appearances قرار پاتے ہیں جبکہ کانٹ کی یہ بات متناقض و self-defeating ہے، اس لئے کہ منطق و عقل کے قوانین appearances قرار دینے کے لئے جو دلیل لائی جائے گی وہ بھی ان قوانین کو نفس الامر میں درست مانے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ان قوانین کو appearances ثابت کرنے کے لئے بھی خود انہی قوانین کو حقیقت فرض کرکے ان سے مدد لینا ہوگی۔ چنانچہ کانٹ کو اپنی اس بات کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے کہ منطق کے قوانین محض appearances سے متعلق ہیں” تجربہ اور ان منطقی قوانین سے ماورا کسی ماخذ کی طرف جانا ہوگا لیکن ایسا کوئی ماخذ موجود نہیں۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ آپ کا یہ فلسفہ بھی نرا خیال ہے، اس صورت میں اس کی بنیاد پر کسی اثباتی دعوے کرنے یا کسی دعوے کی تردید کی کوئی راہ نہیں۔ 
الغرض کانٹ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے نزدیک روایتی میٹافزکس پر گفتگو سے قبل ہمیں میسر ذرائع علم کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا وہ ہمیں اس سے متعلق کوئی بات کہنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں یا نہیں، لیکن کانٹ خاموشی کے ساتھ خود اپنے منہج کو اس پیمانے پر جانچنے سے چشم پوشی اختیار کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کانٹ کی یہ بات درست ہے کہ انسان کا تمام علم appearances تک محدود ہے تو خود اس کا یہ دعوی بھی اسی نوعیت کا ہوگا لیکن کانٹ اپنے اس دعوے کو سچ و حقیقت مانتا ہے، اور اگر یہ دعوی بھی appearance ہے تو اس کی بنیاد پر کسی دعوے پر نقد کا کوئی مطلب نہیں۔ الغرض ہر سوفسطائی فکر کی طرح کانٹ کا فلسفہ خود اپنے دعوے کی ذد میں ہے۔ 

دوسرا نکتہ: ذہنی مقولات کا علم کیسے ہوا؟ 

مان لیا کہ آپ کا دعوی حقیقت ہے، لیکن آپ کو ان خالی گھڑھے نما ذہنی سانچوں یا مقولات کے وجود کا علم کیسے ہوا؟ یہاں چار امکان ہیں: 
  • یا ان خاکوں کے وجود ہونے کا علم کسی اور ماقبل خاکوں سے ہوا ہوگا، اگر کسی ماقبل خاکوں کو اس کا ماخذ کہا جائے تو ان کی حقیقت کا علم ان سے ماقبل کسی خاکوں پر موقوف ہوگا اور یوں یہ تسلسل لامتناہی چلے گا جو جائز نہیں
  • یا انہی خاکوں سے ہوا ہوگا، اگر انہی خاکوں کو ان کی حقیقت کا ذریعہ کہا جائے تو مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے نزدیک از کود ان خاکوں سے کوئی علم حاصل نہیں ہوتا اور 
  • یا ان کا علم بدیہی حقیقت یا اضطراری نوعیت کا ہے، اگر انہیں بدیہی حقائق کہا جائے تو آپ نے مان لیا کہ بعض حقائق کا علم ان دو ذرائع کے سوا بھی انسان کو حاصل ہے، فھو المطلوب اور اس کے بعد آپ کے لئے دیگر بدیہی حقائق جن کا آگے ذکر ہوگا ان کی تردید کی بنیاد نہیں
  • یا ان کا علم کسی تجربے سے ہوگا، لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ مقولات یا خالی ڈبے آپ کے نزدیک تجربے کی شرط ہیں
اگر ان چار کے سوا کوئی امکان ہے تو اسے پیش کیا جائے تاکہ اس پر بات ہوسکے۔ کانٹ کی جانب سے ایک ممکنہ توجیہہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ ماقبل مقولے اس معنی میں حق ہیں کہ یہ روز مرہ مشاہدے سے ہمارے اندر جنم لینے والے تاثرات کی سب سے بہتر توجیہہ کرتے ہیں، یعنی تجربہ اور ہمارے علمی قضایا کی نوعیت اپنی توجیہہ کے لئے یہ تقاضا کررہے ہیں کہ چند ماقبل مقولوں کو بطور شرط فرض کیا جائے۔ اس معنی میں اس علم کا نکتہ آغاز ہمارے اندر موجود تصورات ہیں جن کے تجزئیے و تحلیل سے گویا ہم نے جان لیا کہ بعض تصورات شرط کی حیثیت رکھتے ہیں، یوں یہ علم ایک قسم کے عقلی استنباط و تجزئیے سے حاصل ہوا ہے۔ تاہم اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ جن تصورات کو یہاں ابتدائی خام مال قرار دیا جارہا ہے، کانٹ واضح طور پر انہیں اپیرنس یا تشبیہی مظاہر (یعنی فنامینا) کہتا ہے۔ پس اگر یہ تشیہی مظاہر ہی ان مقولات کی دریافت کا نکتہ آغاز ہیں تو ان سے ان مقولات کی حقیقت کا علم حاصل ہوگا یا صرف ایک مزید اپیرنس کا؟ الغرض کانٹ کی جانب سے یہ توجیہہ بھی اس کے فلسفے کے تضاد کو رفع کرنے والی نہیں۔ نیز اس پر یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ خود اس استدلال و تجزئیے کا علمی آلہ کیا ہے جس سے ان ماقبل تجربہ مقولوں کا علم ہوا؟ اس پر معارضہ (counter argument)  یہ ہے کہ کہ ان مقولوں کو "ماقبل تجربہ خالی گھڑھے" فرض کئے بغیر بھی دیگر طرق سے مشاہداتی علم کی توجیہہ کی جاسکتی ہے اور آپ کا طریقہ لازم نہیں جیسا کہ آگے ذکر ہوگا۔ 
درج بالا دو سوالات ذرائع علم سے متعلق ہم آہنگی کے بارے میں ہیں۔ اگلے دو سوالات ان کی نوعیت سے متعلق ہیں۔ 

تیسرا  نکتہ: ذہنی مقولے وجودی ہیں یا عدمی؟ کانٹ کا سوفسطائیت ذدہ تصور سچائی

مان لیا کہ ذہنی خاکوں یا مقولوں کے وجود سے متعلق آپ کا دعوی درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تفہیمی خاکے وجودی ہیں، عدمی ہیں اور یا نہ وجودی و نہ عدمی؟ 
  • اگر یہ وجودی (real or existent) ہیں تو فھو المطلوب جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ از خود کسی بدیہی وجودی حقیقت سے متعلق ہیں، لیکن اس صورت میں کانٹ کو اس کی وہ وجودی بنیاد بتانا ہوگی (اگر کہا جائے کہ یہ مقولے استعداد کی طرح ہیں، تو یہ بھی انہیں وجودی ماننا ہے)،
  • اگر یہ عدمی (nothing or non-existent) ہیں تو یہ کسی علم یعنی وجودی حکم کا ذریعہ نہیں بن سکتے، اور 
  • اگر یہ نہ وجودی ہیں اور نہ عدمی بلکہ نرے خیال ہیں تو ان سے شے سے متعلق وجودی حکم کا حصول ممکن نہیں بلکہ ان سے حاصل شدہ حکم بھی ایسا ہی ہوگا۔ کانٹ کا قرین از قیاس جواب یہی انتخاب ہوگا کہ یہ نہ وجودی ہیں اور نہ عدمی کیونکہ اس کے نزدیک یہ ذہنی خاکے خارجی اشیاء (مثلا سیب) کی طرح وجودی نہیں جن کا مشاہدہ ہوسکے، دوسری طرف وہ انہیں نرے عدمی بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کا مطلب انہیں وہم وغیرہ قرار دینا ہے جبکہ یہ خاکے اس کے نزدیک تجربی علم کی شرائط ہیں جنہیں وہ علمی قضایا کی توجیہہ کے لیے لاتا ہے۔ علم کے اس ذریعے کی اس مبہم حیثیت کی طرح کانٹ حقیقت کو بھی نامینا اور فنامینا میں تقسیم کرکے ہمارے علم کو خارجی شے سے متعلق ہوئے بغیر صرف ہمارے ادراک تک محدود کردیتا ہے۔ اس لحاظ سے سب علمی قضایا "نہ وجودی اور نہ عدمی" کے حال پر رہتے ہیں۔ کیا یہ موقف علمی قضایا کی اطمینان بخش توجیہہ ہوگی؟ 
اس کے جواب میں کانٹ ممکنہ طور پر کہہ سکتا ہے کہ حقیقت، سچائی و علم کا مطلب ادراک اور وجود میں مطابقت (correspondence) یا ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ حقیقت تو میرے ذہن کے تابع ہے کیونکہ علم ذہن کی ایسی ادراکی ساخت کو لاگو کرنے سے جنم لیتا ہے جو ماقبل تجربی متعین شدہ ہے، لہذا حقیقت و علم سے متعلق تمہارا یہ خیال فرسودہ ہے اس لئے کہ علم و حقیقت میرے اندر جنم لینے والے تاثرات کا میرے ذہن کی ساخت سے ہم آہنگ ہوجانا ہے اور بس۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم آپ کی اسی سوفسطائیت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اصلاً آپ کے نزدیک حقیقت و علم کا تصور سوفسطائیہ کے گروہ "عندیہ" جیسا ہے جس کا اس تصور سے واسطہ نہیں جسے علم کہتے ہیں (یعنی نفس الامر اور اعتقاد میں ہم آہنگی)۔ کانٹ کہہ سکتا ہے کہ البتہ میں ان مقولات کو ماننے پر اس لئے مجبور ہوں کیونکہ ان کے بغیر میرے ذہن میں موجود ایک یقینی ہم آہنگی اور وحدت کے احساس کی توجیہہ نہیں ہوپاتی۔ ہم کہتے ہیں کہ اس احساس کی توجیہہ کے لئے آپ کا سوفسطائیت ذدہ نظریہ غیر مفید ہے جو ساری حقیقت کو میرے ذہن کی تشکیل کردہ تشبیہہ بنا کر مجھے ہر وجودی (بشمول نفس و خارج کی) حقیقت سے غیر متعلق کردے (یاد رہے کہ کانٹ کے نزدیک جس طرح خارج کی حقیقت نامینا ہے، نفس انسانی بھی نامینل ہے جو بس ہمیں فرض کرنا پڑتا ہے تاکہ انسان کی آزادی کی توجیہہ ہوسکے)۔ یقینی علم کی ایسی بنیاد جو نہ صرف یہ کہ ہر حقیقت کے علم کو غیر یقینی بنا دے بلکہ خود آپ کے یقین کا یہ مفروضہ پیمانہ (یعنی ادراکی ساخت) بھی اپنی قائم کردہ اس بے یقینی کی ذد میں آجائے (جیسا کہ پہلے نکتے میں اشارہ ہوا)، کیا یہ اطمینان بخش فلسفہ ہے؟ آپ کا یہ فلسفہ یقین کے احساس کی توجیہہ کرکے اسے بطور یقین قبول کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے یا اسے سراب بتا رہا ہے؟ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کانٹ نیوٹن کی فزکس سے متاثر تھا اور اس کی آفاقیت و تیقن پر ہیوم کے فلسفے سے جو شکوک پیدا ہورہے تھے، اپنے تئیں وہ انہیں رفع کرنا چاہتا تھا! 

چوتھا نکتہ: علم اضطراری کا انکار درست  نہیں 

مان لیا کہ ان دو ذرائع کے ملاپ سے علم پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ نے یہ کیوں کہا کہ ان کے سوا حقیقت کے ادراک کا کوئی ماخذ نہیں؟ یہاں ایک اعتراض ہے اور دو معارضے (counter arguments) ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ان ذرائع علم میں حصر (reductionism) کا دعوی درست نہیں۔ 
اعتراض یہ کہ اس نفی (یا حصر) کا علم آپ کو اپنے بیان کردہ دو ذرائع میں سے کس ذریعے سے ہوا؟ مزید معین سوال یہ ہے کہ آپ نے علم ضروری کا انکار کس بنا پر کیا؟ 
دو معارضے یہ ہیں: 
اول، لازمی وجودی حقائق کے علم کو اگنور کرنا، جبکہ یہ ناگزیر طور پر ثابت ہے
دوئم، وجود (being) اور جاننے (knowing) میں دوئی فرض کرنا، جبکہ معاملہ ایسا نہیں 
پہلا معارضہ: علم اضطراری ثابت ہے 
علم ضروری میں وجود و عدم کاتصور، اور اس پر مبنی جمع بین النقیضین کامحال ہونا، اصول علیت وغیرہ جیسے حقائق شامل ہیں۔ بعض فلاسفہ کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ وجودی قضایا گویا ایسے خیال یا محض علمی (epistemic) فارمز کی طرح ہیں جن کی از خود کوئی وجودی بنیاد نہیں۔ "وجود" کا اضطراری و بنیادی ترین احساس انسان کے اس اضطراری ادراک کی بنیاد ہے کہ وجود کا مفہوم ہونا یا پایا جانا ہے، انسان کو یہ علم لازمی طور پر اس لئے حاصل ہے کیونکہ وجود کی حقیقت "ہویت" (is-ness) ہے، اس کے سوا وجود کا اور کوئی ادراک ممکن ہی نہیں۔ وجود کا تصور بدیہی (self-evident) ہے جسے کسی دوسرے تصور سے بیان کرنا ممکن نہیں کہ یہ سب سے بنیادی (primary) ہے۔ وجود کا یہ تصور تبھی ممکن ہے جب کوئی شے پائی جائے، انسانی ادراک کی ایسی کوئی ساخت ممکن نہیں جو میری حالت عدم میں میرے لئے وجود (یعنی "ہونا") مفہوم کردے۔ چنانچہ "میں موجود ہوں" کے بغیر "میں ہونے کے مفہوم کا ادراک رکھتا ہوں" کا کوئی مطلب نہیں، ایسی بات کہنے والا ہر شخص یہ کہتے ہوئے خود اپنی نفی کرنے پر مجبور ہے اس لئے کہ وجود ادراک و شعور پر مسلط ہے۔ وجود کا غیر "لاوجود" (یا عدم ) ہے، یہاں سے ہمیں یہ بنیادی قضیہ (first fundamental judgement) حاصل ہوتا ہے کہ شے اثبات و نفی (assertion and negation) میں بند ہوگی اور ان سے خالی نہیں ہوگی اس لئے کہ ہویت (being) کی واحد نفی عدم ہویت (non-being) ہے۔ یعنی وجود کے احساس پر مبنی تصور (concept) ہی انسان کے علم ضروری کے اس پہلے قضیے (judgement) کو جنم دیتا ہے کہ "شے یا ہوتی ہے یا نہیں ہوتی" (something either exists or does not) کیونکہ وجود کا الٹ عدم ہے اور وجود کا معنی کبھی عدم نہیں بن سکتا۔ تمام احکام عقلیہ اسی قضئے کے اندر دائر ہیں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ یہ اتنا بنیادی قضیہ ہے کہ اسے درست فرض کئے بغیر اس پر دلیل قائم کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ ہر دلیل کا حاصل کسی شے کے بارے میں کسی شے کے ثبوت یا عدم کا حکم لگانا ہوتا ہے لیکن اگر شے ثبوت و عدم ہی سے خالی ہوسکتی ہو تو کوئی دلیل کارگر نہیں ہوسکتی۔ یہی پہلا وجودی قضیہ جمع بین النقیضین کے محال ہونے (law of non-contradiction) کی بنیاد فراہم کرتا ہے اس لئے کہ جمع بین النقیضین ایک ہی شے کے وجود و عدم کو جمع کرنے سے عبارت ہے جبکہ ایک شے کا وجود اور عدم جمع نہیں ہوسکتے کہ وجود (being) بیک وقت عدم (non-being) نہیں ہوسکتا، ایسی بات میرے وجودی احساس سے قائم ہونے والے اضطراری علمی احساس کے خلاف ہے اور اس لئے انسان اس سے پوری طرح ابا کرتا ہے۔ 
امام رازی کہتے ہیں کہ یہ بنیادی وجودی قضیہ چند مزید لازمی قضایا کو جنم دیتا ہے (سب کی تفصیل دینا مقصود نہیں)، مثلا: 
  • کل جزو سے بڑا ہوتا ہے (اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ کل کے بعض اجزاء کا ہونا اور نہ ہونا یکساں ہے جبکہ یہ محال ہے کہ یہ جمع بین القیضین ہے۔ فرض کریں ایک کل دو اجزا کا مرکب ہے، اگر ایک جزو کل کے مساوی ہو تو پھر کسی ایک جزو کا وجود و عدم ہم معنی ہے)، 
  • وجود یا حادث ہوگا (یعنی وہ جس کی ابتدا ہو) یا قدیم (وہ جس کی ابتدا نہ ہو)۔ یہ قضیہ بھی درج بالا بنیادی قضیے کی ایک خاص قید کے ساتھ اس کی فرع ہے، یعنی یہ کہ وجود ابتدا ہونے کے ثبوت و عدم ثبوت سے خالی نہ ہوگا، اسی طرح قدیم ہونے یا نہ ہونے کے حکم سے خالی نہ ہوگا 
  • دو اشیاء جو کسی تیسری شے کے متوازی (parallel) ہوں وہ باہم متوازی ہوتی ہیں نیز ایک ہی جسم بیک وقت دو مکانوں میں نہیں ہوسکتا
  • اسی طرح "حادث کو محدث یا علت کی احتیاج ہے"، اس لئے کہ عدم از خود وجود نہیں ہوسکتا۔ اسے یوں سوچئے کہ ممکن وہ شے ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے وجود و عدم دونوں جانب مساوی رجحان رکھتی ہے۔ اب کسی ایک جانب رجحان یا خود اس کی ذات کی وجہ سے ہوگا اور یا کسی منفصل امر کی وجہ سے۔ خود اپنی ذات کی وجہ سے ممکن میں یہ رجحان نہیں ہوسکتا کہ یہ تضاد ہے اس لئے کہ اس کا مطلب یہ کہنا ہے کہ جو شے اپنی ذات کے اعتبار سے دو جانب مساوی رجحان رکھتی ہے وہ اپنی ذات کی وجہ سے کسی ایک جانب رجحان بھی رکھتی ہے (جانبین کی طرف مساوی رجحان رکھنا کسی ایک جانب رجحان رکھنے سے متناقض ہے)! پس لازم ہے کہ کسی ایک جانب ترجیح کے لئے وہ خود اپنے سوا ایک منفصل امر کا محتاج ہے۔ یہ منفصل امر یا عدم ہوگا اور یا وجود۔ یہ بات بداہتاً معلوم ہے کہ عدم ممکن کے وجود کے رجحان کی وجہ نہیں ہوسکتا۔ عدم بھی وجود کا سبب ہوسکتا "ہے"، ایک متضاد جملہ ہے کہ یہ عدمیت (nothingness) کو "ہویت" (is-ness) کہے بغیر بامعنی نہیں۔
ان علوم ضروریہ کی تفصیلات کے لئے امام رازی کی کتب "محصل افکار المتقدمین والمتاخرین"، "المباحث المشرقیة"  نیز "المطالب العالیۃ" وغیرہ ملاحظہ کیجئے۔ یہ سب قضایا اصلاً وجود کی حقیقت یا ساخت سے متعلق ہیں نہ کہ ادراک کی، یعنی یہ قضایا ذہن کی کوئی اختراع نہیں اور نہ ہی یہ خالی گھڑھے نما خیال ہیں۔ انسانی شعور پر منعکس یہ قضایا وجود کا پرتو (reflection) ہیں، اور اسی معنی میں وجود خود کو ادراک پر مسلط کرتا اور اس پر طاری ہے (ایسے یوں بھی کہتے ہیں کہ عقل وجود کی خود شعوری ہے)۔ علم اضطراری کے یہ وہ بنیادی قضایا ہیں جو ہر استدلالی علم کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، متکلمین انہیں "اولیات عقلیات" (first principles) یا "عقل محضہ" بھی کہتے ہیں اور یہ شک سے ماوراء ہیں، الا یہ کہ کوئی سفسفہ ذدہ مکابرہ کرے۔ جو شخص اپنے ہی دعوے کی نفی کرنے والا دعوی کرے اور اس کا احساس بھی نہ رکھے، امام رازی کہتے ہیں کہ اسے صرف اس پر تنبیہہ کی جاسکتی ہے کیونکہ علم لازمی کے معاملے میں مکابرے کے علاوہ کبھی عدم توجہ کی بنا پر ذھول بھی ہوجاتا ہے اس لئے کہ ان کا حصول اتنا واضح ہے کہ انہیں فار گرانٹڈ لیتے ہوئے بعض اوقات انکی جانب توجہ نہیں جاتی، امام غزالی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ کسی شے کے حصول کا زیادہ قرب بھی بعض اوقات اس سے دوری کا باعث بن جاتا ہے اور جو علم بطور میرے حال کی صورت مجھے حاصل ہو اس کے حصول کی دلیل قائم کرنے سے وہ دور ہوجاتا ہے کہ ہر دلیل اس حاصل شدہ حال سے کمتر واضح ہوگی (نوٹ: یہاں سے یہ اعتراض رفع ہوجاتا ہے کہ علم اضطراری بیان کرنے کے لئے ہمیں اسے سمجھانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے جبکہ یہ اضطراری طور پر سب کو حاصل ہے، یہ تنبیہہ ہے)۔ 
کانٹ اس علم اضطراری کی جگہ اپنے خالی گھڑھے نما ذہنی سانچوں کو لاتا ہے۔ اگر کسی کی رائے میں کانٹ کے یہ نرے خیال نما سانچے علم کی توجیہہ کے لئے انسان کے وجودی حال کے مظہر علم اضطراری سے زیادہ مستحکم اور ہم آہنگ بنیاد فراہم کرتے ہیں، تو یہ انتخاب ان دوستوں کو مبارک ہو۔ 
دوسرا معارضہ: وجود و شعور میں دوئی نہیں  
یہ معارضہ پہلے معارضے ہی سے منسلک ہے جو اس کے پس پشت مفروضے کو کھولتا ہے۔ کانٹ کے نظریہ علم کے پس پشت یہاں جو مفروضہ کارفرما ہے اسکے دو اجزا ہیں:
الف) وجود اور ادراک کی دوئی (duality)، یعنی "ادراک کی ساخت" وجود (being or reality) سے الگ ہے اور
ب) اس دوئی کی حقیقت کا علم ہمیں حاصل ہے
اسی مفروضے کی بنا پر وہ اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ شے سے متعلق علم انسانی ادراک کی ساخت کو شے پر لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ حقیقت کی ساخت کا علم ممکن نہیں کیونکہ ادراک کی ساخت اس کے خیال میں حقیقت سے مربوط ہونے سے ماقبل ہی متعین ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ وجود (being) اور ادراک (knowing) کی دوئی کا یہ دعوی غیر ثابت شدہ مفروضہ ہونے کے علاوہ غلط بھی ہے جس کی وضاحت اوپر گزری کہ ادراک وجود پر طاری نہیں ہے بلکہ وجود ادراک پر طاری ہے۔ "ادراک کی ان ساختوں کا ہونا" بذات خود ایک وجودی دعوی ہی ہے۔ انسانی علم کی بنیاد "موجود ہونے" کا بنیادی ترین احساس ہے اور اسی معنی میں وجود (being) اور ادراک (knowing) باہم الگ نہیں جیسا کہ سوفسطائیوں کا مفروضہ ہے بلکہ یہ مربوط ہیں۔ سوفسطائی اس کا انکار کرتے ہوئے عین اپنے دعوے کی نفی کرتا ہے (یعنی اس ادراک کو وہ حقیقت و سچ ہی فرض کرتا ہے کہ ان میں دوئی ہے)۔ 
یہاں اس بات کا پھر سے اعادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بنیادی وجودی حقائق و قضایا جو علم اضطراری کی بنیاد ہیں، یہ نری لسانیاتی سچائیاں (linguistic truths) یا ادراکی ساخت پر مبنی نرے منطقی قضئے (logical propositions) کی فارمز کا بیان نہیں ہیں (جیسا کہ logical positivists کا مفروضہ تھا) بلکہ یہ وجود کے بنیادی تصور سے جنم لینے والے قضایا (judgements) ہیں۔ اگر قضایا کا تعلق کسی وجود سے نہیں (یعنی وہ about being نہیں ) تو وہ باہم متضاد ہوسکتے ہیں۔ ان کا متضاد ہونا تبھی بامعنی ہوتا ہے جب وہ "ہونے" سے متعلق ہوں، یعنی وہ کچھ assert کریں، اور جونہی وہ ایسا کرتے ہیں وجود انہیں جکڑ لیتا ہے۔ چنانچہ ادراک، منطق و لینگویج درحقیقت ان وجودی حقائق کے پابند ہیں۔ وجود سے متعلق پہلا بدیہی قضیہ ("شے یا ہوتی ہے یا نہیں") ادراک کی ساخت پر مسلط ہے، جمع بین النقیضین محال ہونے کا قاعدہ قضیئے (judgement) پر مسلط ہے اور یہ قضیہ لسانیاتی اصولوں میں ڈھل کر زبانوں پر جاری ہے۔ یہ سب قضایا اصلاً وجود کی ساخت سے متعلق ہیں نہ کہ ادراک کی، اور اسے نہ سمجھنے کی وجہ ہی سے کانٹ سمیت متعدد مفکرین اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ جمع بین النقیضین کا محال ہونا صرف فنامینا (یا کسی خاص عالم یا کسی خاص ذہنی ساخت و ادراک وغیرہ) سے متعلق ہے، گویا ان کے خیال میں کوئی ایسا عالم بھی قابل تصور یا ممکن ہے جہاں یہ اضطراری قضایا شعور پر لاگو نہ ہوں اور جہاں وجود عدم کے ہم معنی ہوکر جمع بین النقیضین کا اجتماع ممکن ہو جائے! کانٹ ایسی فاش غلطی کا شکار اس لئے ہوا کیونکہ وہ وجود کے شعور پر حاوی ہونے کے بجائے شعور کے وجود پر حاوی ہونے کا قائل تھا اور اس لئے اسے فرض کرنا پڑا کہ شعور اور وجود میں دوئی ہے (کیونکہ شعور کی ساخت اس کے نزدیک ماقبل تجربی حقائق متعین ہے)، جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ وجود و شعور میں لازمی ہم آہنگی قائم ہے۔ اسی لئے علم کا معنی وجود و شعور میں مطابقت قرار دیا جاتا ہے اور آخری درجے میں علم و عقل کا مطلب اولیات عقلیات ہیں۔ اس معاملے کو نہ پہچاننے اور علمیات کے باب میں کاپرنیکن انقلاب (Copernican revolution) برپا کرنے کی کاوش میں کانٹ نے حقیقت، سچائی و علم کا مطلب ہی بدل دیا۔ 
امام رازی کہتے ہیں کہ عقل کا وہ کم از کم مفہوم جو اسے شرع کا مخاطب بناتا ہے وہ انہی اولیات عقلیات سے عبارت ہے۔ امام غزالی کہتے ہیں کہ یہ اولیات عقلیات اتنے بنیادی، لازمی و قطعی ہیں کہ اگر بالفرض نبی سے بھی ایسی خبر منسوب ہو کر ہمیں ملے جو ان اولیات کے خلاف ہو تو اس خبر کو جوں کا توں قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے کہ اگر وحی ان اضطراری علمی مقدمات کو غلط قرار دے سکتی ہے تو خود صاحب وحی کی نبوت کا اعتبار و دلیل قائم کرنا محال ہوجائے گا (بلکہ اس صورت میں نصوص میں ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے نسخ، ترجیح و تطبیق کی خاطر عموم و خصوص، مطلق و مقید وغیرہ جیسی ساری بحثیں بے معنی ہیں)۔ باالفاظ دیگر جن بنیادی حقائق کا ادراک رکھنے والی "عقل محض" متکلمین کے نزدیک شرع کی مخاطب ہے، کانٹ کے نزدیک وہ عقل ثابت ہی نہیں۔ کانٹ کے اسلامی مداحین کے لئے یہ مقام غور طلب ہونا چاہئے نیز انہیں بتانا چاہئے کہ ان کے نزدیک عقل کس مفہوم میں شرع کی مخاطب ہے۔
اگلے سوالات حاصل شدہ  علم کی نوعیت اور اس سے جنم لینے والے نتائج کے بارے میں ہیں۔ 

پانچواں نکتہ : انسانی ادراک "شے" سے متعلق ہے یا یہ "شے کے ادراک" سے متعلق؟ 

آپ نے یہ کیوں کہا کہ "شے فی نفسہ" اور "مظہر شے یا اس کی شبیہہ" میں فرق ہے؟ اس دعوے پر تین اعتراضات ہیں اور ایک معارضہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ حصول علم کی کیفیت کے بارے میں آپ کا دعوی لازم نہیں بلکہ اس سے بہتر توجیہہ موجود ہے۔ اعتراضات یہ ہیں: 
پہلا اعتراض: آپ کا یہ دعوی بتا رہا ہے کہ شے فی نفسہ کو آپ موجود فرض کررہے ہیں، لیکن اس کے "ہونے " کا حکم لگانے کا آپ کے پاس کیا ذریعہ ہے؟ اگر ایسا کوئی ذریعہ نہیں تو "اسے نہ جان سکنے" کا کیا مطلب ہوا؟ باالفاظ دیگر حقیقت کی نامینا اور فنامینا میں تقسیم جاننے کی بنیاد کیا ہے؟ 
دوسرا اعتراض: آپ کا یہ دعوی دراصل چوتھے سوال کے دوسرے معارضے میں مذکور مفروضے سے جنم لیتاہے کہ ہونے اور جاننے میں فرق ہے جبکہ یہ مفروضہ ثابت نہیں 
تیسرا اعتراض: جب آپ کہتے ہیں کہ ہمیں صرف شبیہہ کاعلم ہوتا ہے نہ کہ شے فی نفسہ کا، تو آپ نے یہ فرض کیا ہے گویا میں اپنے اندر بیٹھ کر ذہن کی سکرین دیکھ رہا ہوں۔ اگر ہم ذہن میں بیٹھے سکرین دیکھ رہے ہیں تو پھر اس چھوٹے سے انسان کے ذہن میں ایک اور سکرین ہونی چاہئے تاکہ وہ خود سے ماوراء دیکھ سکے اور یہ لامتناہی تسلسل ہوگا جو جائز نہیں۔ 
معارضہ یہ ہے کہ یہ کیوں ممکن نہیں کہ جسے آپ فنامینا کہہ رہے ہیں وہ نامینا ہی ہو جبکہ یہ کہنا زیادہ قرین از قیاس بھی ہو؟ اس کی تفصیل یوں ہے کہ آپ کے مفروضے کے مطابق ہمارا ادراکی نظام خارجی شے (object) اور ہمارے ادراک (perception) کے مابین شے کی شبیہہ (appearance of object) کی صورت حائل ہے، لیکن اس مفروضے کی کیا دلیل ہے؟ اس اشکال کو سمجھنے کے لئے ادراک (perception) اور مدرَک (perceived object) کے پیش نظر یہ جانئے کہ کسی شے سے متعلق ہمارے ادراک کے بارے میں دو مفروضے ہوسکتے ہیں: 
  • ایک یہ کہ مدرَک وہ خارجی شے ہے جس کا ادراک ہو جیسے مثلا سیب۔ یہا ں ادراک وہ ذہنی حال ہے جو ہمارے اندر پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم اس شے کے مدرِک یا ادراک کرنے والے ہوتے ہیں جو ہمارے ادراک کا آبجیکٹ یا مدرَک ہے، یعنی سیب۔ 
  • دوسرا مفروضہ یہ ہوسکتا ہےکہ مشاہدے کے عمل میں ہم خارجی دنیا میں نہیں جھانکتے بلکہ اپنے ذہن میں جھانکتے ہیں۔ اس نظرئیے کے مطابق جو حال ہمارے اندر پایا جاتا ہے (یعنی ادراک)، وہ از خود ہمارے ادراک کا آبجیکٹ ہے نیز ہمارا ادراک "شے کے ادراک " کا ادراک ہے نہ کہ شے کا ادراک (our perception is about perception of the object and not about object)۔ یعنی ہم خارج میں موجود سیب نہیں دیکھتے بلکہ سیب کی شبیہہ یا ادراک دیکھتے (یا سیب کے ادراک کا ادراک رکھتے) ہیں۔ کانٹ ادراک کے بارے میں اس دوسرے مفروضے کے قائل تھے ۔ اسی مفروضے کی وجہ سے کانٹ نامینا اور فنامینا میں تقسیم کرتے ہیں کہ چونکہ ہمارا ادراک ہمارے ادراک کے بارے میں ہوتا ہے نہ کہ شے کے بارے میں، لہذا شے اور ہمارے ادراک میں کبھی نہ پرہوسکنے والا خلا برقرار رہتا ہے کیونکہ مشاہدے کے عمل میں انسان "شے کی کیٹیگریز" کو نہیں بلکہ "ذہن کی کیٹیگریز" کو دریافت کرپاتا ہے۔ 
چنانچہ کانٹ کے برخلاف یہ کیوں نہ کہا جائے کہ جسے ہم ادراک کہتے ہیں وہ ہمارا ایک حال ہے (perception is a state) جو ہمیں براہ راست خارج سے متعلق کرتا ہے نیز یہ کہ ادراک از خود مدرَک (perceived or object of perception) نہیں ہے جس کا ادراک ہورہا ہو؟ یہ اسی طرح ہے جیسے علم از خود معلوم یا علم کا آبجیکٹ نہیں ہے بلکہ علم ایک ایسی صفت یا حال ہے جس کے ذریعے ہم اس معلوم کو جانتے ہیں جو خارج میں ہے، مثلا سیب۔ پس یہ کہنا کہ میں اپنے ذہن میں بیٹھ کر اپنے ذہن کی سکرین پر بننے والی شبہیات دیکھ رہا ہوں ایک پر تکلف خیال ہےجو کسی حد تک سفسفہ کی ایک صورت ہے۔ یہاں یہ بات نوٹ کیجئے کہ حصول علم کی کیفیت کے بارے میں علامہ ابن سینا بھی اسی موقف کے قائل تھے کہ انسانی ادراک و شعور شے نہیں بلکہ ہمارے ادراک و شعور سے متعلق ہوتا ہے، امام رازی نے "شرح الاشارات والتنبیهات"میں علامہ ابن سینا کے اس نظرئیے پر نقد کرتے ہوئے دونوں جانب کے دلائل پر بحث کی ہے ۔ چنانچہ "انسانی شعور کے شعور کا مطالعہ" کرکے یہ رائے قائم کرنے میں کانٹ نے کوئی نیا اضافہ نہیں کیا۔ کانٹ کا یہ استدلال ان تجربیت پسندوں کے خلاف مؤثر ہوسکتا ہے جو ادراک کو مدرَک (perceived object) نہیں بلکہ "شے کے ادراک" کا ادراک کہتے تھے اور جن کا کہنا ہے کہ حس سے متعلق یہ ذہنی تصورات علم کی بنیاد ہیں۔ اس پر کانٹ کا کہنا تھا کہ ان حسی ذہنی تصورات مانے جانے والوں کی فہرست میں ایسے تصورات بھی شامل ہیں جو براہ راست حسی نہیں ہیں بلکہ وہ حسی تصورات کی ترکیب سے جنم لیتے ہیں (جیسے ایک شے علت اور دوسری کا معلول ہونا)۔ لہذا ذہن میں جنم لینے والے تمام سادہ و مرکب تصورات کی صورتیں ذہن میں موجود ہونا چاہیئں اور انہیں ماقبل حس ذہن کی ادراکی ساخت کے طور پر فرض کرنا ہوگا۔ اس کے برعکس جن کا کہنا یہ ہے کہ تصور و ادراک از خود ادراک کا آبجیکٹ نہیں جس کے ذریعے میں عالم کو جانتا ہوں بلکہ تصور خارجی دنیا سے متعلق ایک ناقابل تجزیہ علم ہے، انہیں کانٹ کی یہ ذہنی کیٹیگریز ماننے کی ضرورت نہیں۔ درج بالا دوسرے نظرئیے کی رو سے ہمارے تصورات خارج پر پردہ ڈالنے والے ہیں جبکہ پہلے نظرئیے کی رو سے وہ ہمیں خارج کا مدرک بنانے والے ہیں۔ 

چھٹا نکتہ: ذہنی  مقولات سے خارجی علم کا انکار لازم نہیں آتا 

مان لیا کہ ذہن میں ایسی کیٹیگریز موجود ہیں جن کی آپ نے بات کی اور جن کے لاگو ہونے سے علم پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ نے یہ کیوں کہا کہ ان کے ذریعے ہمیں خارج سے متعلق کوئی خبر نہیں ملتی؟ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ تجربہ ممکن ہونے کے لئے ماورائے تجربہ چند مقولات کاوجود ذہنی شرط ہے، تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حسی تجربے میں آنے والے امور وجود خارجیہ کی صفات نہیں، بلکہ اس کے برعکس ماننا زیادہ قرین از قیاس ہے کہ یہ انہی اشیاء کی صفات ہیں۔ خارج میں شے موجود اور ایک دوسرے سے مختلف ہوئے بغیر ذہن کی ادراکی ساخت از خود مختلف نوعیت کا علم پیدا نہیں کرسکتی۔ مثلا فرض کیجئے کہ ادراک کی ساخت میں "مقدار" کا ایک سانچہ ہے۔ تاہم یہ سانچہ سب موجودات کے ساتھ مساوی طور پر متعلق ہے اور یہ سانچہ از خود یہ طے نہیں کرسکتا کہ مثلا فٹبال کرکٹ بال سے بڑا کیوں ہے، یہ اسی طرح ہے کہ مثلاً زبان کی ساخت یہ توجیہہ نہیں کرسکتی کہ شہد میٹھا اور مرچ کڑوی کیوں ہے نہ کہ اس سے برعکس۔ چنانچہ کانٹ کو ماننا ہوگا کہ چھوٹا، بڑا، گول، چوکور وغیرہ ہونا بہرحال وجود خارج (شے فی نفسہ) کی صفات بھی ہیں نہ کہ محض ادراک کی ساخت کی۔ 
یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ اگر خارج میں یہ صفات موجود نہ ہوں تو ان متنوع ادراکات کی وجہ ترجیح خود ذہن کی ساخت و صلاحیت نہیں ہوسکتی۔ اگر امکانی طور پر اس کے جواب میں کانٹ کی جانب سے یہ کہا جائے کہ اشیا خارج میں کچھ اس طرح پائی جاتی ہیں کہ وہ ذہن میں خاص طرح کی مقداروں (مثلاً بڑا پن و چھوٹا پن) کی شبیہات تو پیدا کرسکتی ہیں اگرچہ وہ خود ان صفات سے متصف نہ ہوں، تو اس جواب کا سفسفہ ہونے میں شک نہیں۔ 
پس جن لوگوں کا کہنا ہے کہ علم ادراکی ساخت کو مشاہدے میں آنے والے امور پر لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے، انہیں ماننا ہوگا کہ ادراک کی ساخت سے ہمیں شے فی نفسہ سے متعلق امور و صفات کا ہی علم حاصل ہوتا ہے اگرچہ یہ امکان موجود ہے کہ شے فی نفسہ کی کچھ ایسی خصوصیات ہوں جو ہمارے ادراک سے باہر ہوں۔ مثلاً فرض کیجئے کسی شے میں 100 خصوصیات ہیں، انسانی ذہن میں مختلف سانچوں کی صورت کچھ ایسی ساخت موجود ہے جن کے ذریعے میں 60 خصوصیات کا ادراک کرسکتا ہوں جبکہ بقایا میری پہنچ سے اس لئے باہر ہیں کہ ان سے متعلق میرے ذہن کی ساخت میں کوئی سانچہ موجود نہیں جسے لاگو کرکے میں ان بقایا کو جان سکوں۔ الغرض کانٹین فکر کے حاملین کے لئے یہ مانے بغیر کوئی چارہ نہیں اور نہ اسے رد کرنے کی کوئی دلیل ہے کہ ذہن کی ساخت ان 60 خصوصیات کا ادراک اس لئے کررہی ہے کیونکہ وہ شے فی نفسہ میں موجود ہیں، ذہن میں محض چند سانچوں کی موجودگی ان کی توجیہہ نہیں بن سکتی۔ اسے ایک اور پہلو سے یوں سمجھئے کہ انسانی کان 20 ھرٹز سے لے کر 20000 ھرٹز تک آواز سن پاتے ہیں۔ چنانچہ سماعت کی حدبندی تبھی بامعنی ہے جب یہ مانا جائے کہ آواز کی یہ لہریں خارج میں موجود ہیں، محض میرے کان کی ساخت انہیں پیدا نہیں کررہی۔ یہی نسبت ذہنی مقولوں اور خارجی اشیاء کی ہے۔ پائل گائیر (Paul Gayer) نے کانٹ کے فلسفے کی اس کمزوری کے پہلو کو واضح کیا ہے۔ اس تعبیر کی رو سے ذہنی مقولات خارجی صفات کی توثیق (validation) کا ذریعہ ہیں نہ کہ تخلیق (creation) کا۔ اس بات کا انکار کرنے سے یا سفسفہ جنم لیتا ہے اور یا تضاد۔ سفسفہ کا پہلو اوپر واضح ہوچکا، تضاد یوں کہ کانٹ کے مطابق ذہن کی ادراکی ساخت شے فی نفسہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے سکتی، ہمیں صرف ان کی ظاہری صورت (appearances) کا علم حاصل ہوتا ہے۔ تاہم بذات خود یہ بات کہتے ہوئے وہ یہ فرض کرتا ہے کہ خارج میں ان ظاہری تاثرات سے علی الرغم شے فی نفسہ "موجود ہے" جو میرے ان تاثرات کا "سبب ہے"۔ غور کیجئے کہ یہاں وہ سبسٹنس (substance) اور علت (cause) کی اپنی بیان کردہ دو ادراکی مقولات (categories) کو شے فی نفسہ یعنی نامینا سے متعلق قرار دے رہا ہے۔ الغرض کانٹ جس طرح خالی ڈبے نما خاکوں کے نام پر ادراکی ساخت کو اپنی فکر میں جگہ دیتا ہے، وہ حاصل شدہ علم کے بارے میں خود اس کے دعوے کو ثابت کرنے میں نہ مفید ہے اور نہ ہی اس کے دعوے سے ہم آہنگ۔ 

ساتوں نکتہ : علت کا درست مفہوم اور کانٹ کی غلطی 

مان لیا کہ ذہن میں ایسی کیٹیگریز موجود ہیں جن کی آپ نے بات کی اور جن کے لاگو ہونے سے علم پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ نے یہ کیوں کہا کہ علت کا مطلب اشیاء کے مابین زمانی ترتیب و تسلسل ہے؟ نیز آپ نے علت سے کیا مراد لی ہے، یہ کہ ایک زمانی و مکانی شے دوسری پر موجب و مؤثر ہے؟ 
اس پر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ علت کا جو مفہوم آپ نے مقرر کیا ہے وہ سطحی بھی ہے اور غلط بھی کیونکہ: 
  •   علت کے مفہوم میں نہ زمانی تقدم کا مفہوم شامل ہے اور نہ ہی مکانی اقتران کا 
  •   اور نہ ہی زمانی و مکانی اشیاء کو ایک دوسرے کے لئے مؤثر ہونے کے معنی میں علت کہنے کی کوئی دلیل ہے بلکہ عقل اس کا غلط ہونا لازم قرار دیتی ہے۔ 
ان امور پر ہم متعدد جگہ پہلے بحث کرچکے ہیں۔ یہاں ہم اسے ترتیب وار نکات کی صورت پیش کرتے ہیں: 
سب سے پہلے علت کا معنی سمجھیں۔ علت وجہ ترجیح کو کہتے ہیں، اس کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی۔ حقیقی معنی کی رو سے علت کا مطلب مؤثر ہونا اور مجازی کی رو سے "علت کی نشانی ہونا" ہے۔ مؤثر ہونے یعنی حقیقی معنی میں علت کے دو مفہوم ہیں: 
الف) موجب (necessitating) ہونا: علت موجبہ وہ ہے جس سے ممکن الوجود معلول کا صدور بطریق لزوم ہو (جسے سورج سے روشنی کا صدور)۔ اس معنی میں علت یا تاثیریت کسی کی طبع یا ماہیت کا تقاضا ہوتا ہے  اور اس لئے اسے essential cause کہتے ہیں، ایسی علت کسی وجود کی بنیاد (یا گراؤنڈ) تو ہوتی ہے مگر وجود عطا کرنے والی نہیں ہوتی۔ جن لوگوں نے علت سے مراد موجب سمجھا انہوں نے کہا کہ اشیاء کے اندر ایسی تاثیرات پائی جاتی ہیں جو اپنے اثر کو اس طرح لازم کرنے والی ہیں کہ ان میں اقتران (concurrence) اٹوٹ و محال ہے۔ موجب کے معنی میں علت و معلول ساتھ پائے جاتے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ علت تو موجود ہو مگر معلول معدوم ہو، اس لئے اگر علت قدیم ہے تو معلول بھی قدیم ہوگا۔ ارسطو اور اس کے پیروکار مسلم فلاسفہ کا علت کے بارے میں یہی تصور ہے اور اسی لئے یہ لوگ قدم عالم کے قائل ہوئے۔
ب) مختار یا موجد (existence granting) ہونا: اختیار کے معنی میں علت کا مطلب ایسی وجہ ترجیح ہے جو چاہے تو فعل کرکے اثر کو ظاہر کرے اور چاہے تو نہ کرے، اس معنی میں علت ممکن الوجود کو لاحق عدم و وجود کے مساوی امکان میں سے کسی ایک جانب میں ترجیح قائم کرتی ہے، اس لئے اسے موجد یا فاعل (agent) بھی کہتے ہیں۔
چنانچہ یہاں پہلا سوال یہ ہے کہ عقل محض کے تحت کانٹ فنامینا سے متعلق جس تفہیمی مقولے کو علت کہتا ہے، یہاں علت سے اس نے دو میں سے کونسا مفہوم مراد لیا؟ کانٹ کا جواب "موجب ہونا" ہے۔ اصول علیت کو فرض کرنے کی دلیل کانٹ یہ دیتا ہے کہ اس کے بغیر ہم اپنے ذہن میں موجود امور کے مابین قائم ہونے والی ہم آہنگی و وحدت کی توجیہہ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ اس ہم آہنگی و وحدت کے لئے ہمیں علت کو "موجب" کے معنی میں ہی مراد لینا ہوگا؟ اس کا جواب کانٹ کی جانب سے ہمارے فہم کے مطابق یہ ہے کہ وہ نیوٹن کی فزکس سے متاثر تھا جو یہ تاثر قائم کرتی ہے کہ عالم شاہد کے امور منظم میکانکی قوانین میں ڈھلے ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ اشیاء کے مابین لزومی تعلق ہے۔ اس دلیل کا ضعف اہل علم پر بخوبی واضح ہے اس لئے کہ مشاہدے کے عمل میں ان مفروضہ "تاثیرات" کا کوئی مشاہدہ نہیں ہوتا جو ایک شے کو دوسرے کے لئے موجب ماننے پر مجبور کریں۔ لہذا کائنات کی اشیاء کے مابین ایجابی تعلق فرض کرنے کی نہ کوئی مشاہداتی دلیل ہے اور نہ ہی عقلی، یہ کانٹ کے تحکم پر مبنی مفروضہ ہے۔ علت کو موجب کے معنی میں مراد لینے کا ایک مسئلہ یہ نتیجہ بھی ہے کہ یہ کائنات قدیم ہوگی جبکہ ایسا ہونا محال ہے، تاہم ہم بحث کو ان اطراف میں پھیلانا نہیں چاہتے، ہم یہاں اتنی ہی بات کریں گے جو متکلمین کے مقدمے کی رو سے کانٹ کی غلطی ہے کیونکہ یہی ہمارا مقصود ہے۔ اس اعتبار سے بات یوں ہے کہ کانٹ خلط مبحث کرتے ہوئے علت کے مجازی معنی کے اطلاق کو حقیقی معنی کے ساتھ خلط ملط کردیتا ہے، اس کائنات کی اشیاء پر علت کے معنی کا اطلاق غلط ہے۔ 
اس کے لئے یہ سمجھئے "مؤثر ہونے" کے معنی میں اصول علیت کی بنیاد کسی وجود کا امکان (contingency) ہے اور امکان کی بنیاد حدوث، یعنی علت کی احتیاج ہر وجود کو نہیں ہے بلکہ اس وجود کو ہے جو حادث (یعنی مسبوق بالعدم) ہو۔ حادث یا ممکن وہ وجود ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے عدم و وجود کے ساتھ مساوی نسبت رکھ، وہ شے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ان دونوں جانب مساوی نسبت رکھے مگر پھر بھی موجود ہو تو معلوم ہوا کہ اس کی وجود کی جانب نسبت ترجیح یافتہ ہوگئی اور یہ ترجیح اس کی ذاتی صفت نہیں بلکہ اس پر زائد ہے۔ ممکن کی یہ ترجیح چونکہ ثبوتی امر ہے لہذا وجہ ترجیح بھی لازماً ثبوتی ہے۔ حادث کی اس وجہ ترجیح کو علت کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حادث اصلا اثر یا معلول کو کہتے ہیں جو علت کا محتاج ہوتا ہے۔ 
علت کا تصور کسی شے پر تب لاگو ہوتا ہے جب عقل کو وجود اور پھر اس سے متعلق واجب، محال اور ممکن کا ادراک حاصل ہوچکا ہو۔ جو وجود واجب و محال ہو اس کے لئے علت کی کیٹیگری غیر متعلق ہوجاتی ہے، پھر جو حادث و ممکن ہو عقل اس کی احتیاج کی پیاس بجھانے کا سفر شروع کرتی ہے۔ یعنی علت کے تصور کا اطلاق شروع ہی تب ہوا جب عقل کے پاس حادث و ممکن کا تصور آیا، جب اس نے حادث پر غور کیا تو جان لیا کہ یہ خود اپنی توجیہہ نہیں کرسکتا، اسی لئے مرجح کا محتاج ہے۔ چنانچہ علت کے تصور کا اطلاق دو حقائق کے ادراک کے بعد شروع ہوتا ہے: متعلقہ وجود حادث و ممکن ہے نیز حادث وجود خود اپنی توجیہہ نہیں ہوتا (چہ جائیکہ دوسرے کی علت بن سکے)۔ اس سے یہ اعتراض بھی رفع ہوگیا کہ تغیر ایک ایسا تصور ہے جو تجربے سے ماخوذ ہے لہذا علیت کا تصور بدیہی نہیں نظری ہے۔ علت کا تصور نہیں بلکہ حدوث کا تصور عدم سے وجود کے تغیر پر منحصر ہے، عدم وجود کی علت نہیں ہوسکتی یہ بدیہی ہے اور یہ دوسری بات علیت کی بنیاد ہے۔ 
حادث کے لئے وہی شے وجہ ترجیح ہوسکتی ہے جو مخصص (specifier) ہو اس لئے کہ حادث چار امور میں وجہ ترجیح کا محتاج ہے: 
  • عدم سے وجود کی ترجیح
  • وجود کے بعد معدوم ہونے کے بجائے وجود پر بقا کی ترجیح
  • حوادث میں زمانی و مکانی تقدیم و تاخیر کی ترجیح (اس لئے کہ ہر زمانی و مکانی تخصیص حدوث ہے اور ہر حدوث ایک تخصیص ہے)
  • حوادث کی کیفیات و مقدار کی ترجیح 
جو علت ان چار سوالات کا جواب دے، وہ حادث کی وجہ ترجیح کہلا سکتی ہے۔ ایسے مرجح ہی کو "ارادہ" یا اختیار کہتے ہیں۔ ارادے کا مطلب دو مساوی امکانات میں سے ایک جانب کی ترجیح و اختیار ہے، اگر یہ اختیار ثابت نہیں تو ترجیح کا کوئی مطلب نہیں۔ معلوم ہوا کہ حادث جس علت کا محتاج ہے وہ دراصل فاعل (agent) ہوتا ہے، ایسا فاعل جو مرید اور مختار ہے۔ ایسی علت کو "موجد" (existence giver) کہتے ہیں۔ پس کائنات گواہی دے رہی ہے کہ یہ وجہ ترجیح کی محتاج ہے اور وہ وجہ ترجیح ایک فاعل مختار ہے نہ کہ موجب (یاد رہے کہ علت موجبہ "مخصص" نہیں ہوتی بلکہ اپنی طبع و فطرت کا ظہور کرتی ہے)۔ یعنی خدا اور کائنات کا تعلق علت (موجبہ) و معلول کا نہیں بلکہ فاعل و اثر کا ہے۔
اب یہ سمجھئے کہ علت کے تصور میں زمانی ترتیب (temporal procession) و تقدم اور مکانی اقتران کوئی شرط نہیں جیسا کہ ہیوم و کانٹ کو غلطی لگی۔ اگر علت زمانی طور پر ماقبل اور معلول ایسے دوسرے لمحے میں ہو جس لمحے علت موجود نہیں تو وہ دوسرے لمحے میں موجود معلول کی علت کیسے ہے جبکہ وہ خود اس لمحے معدوم ہے؟ علت و معلول میں مکانی اقتران ہونا بھی علت ہونے کی شرط نہیں، حکمران جب حکمانے سے کسی کو قاضی مقرر کرتا ہے تو یہاں اس کا حکم سبب سمجھا جاتا ہے مگر مکانی اقتران کا یہاں کوئی تصور نہیں۔ بلکہ زمان و مکان چونکہ از خود حادث یعنی اثر ہیں اس لئے علت (یعنی فاعل) زمان و مکان میں نہیں ہوسکتی کہ اگر وہ زمانی و مکانی ہو تو حادث اور اس لئے اثر ہوگی نہ کہ علت۔ پھر یاد رہے کہ کسی خاص زمان و مکان میں ہونا مخصص شدہ (specified) ہونا ہے اور جو مخصص شدہ ہو وہ ایسی تخصیص کرنے والے (specifier) کا محتاج ہوتا ہے جو حادث کو لاحق ہوسکنے والے دو امکانات میں سے کسی ایک کو ترجیح دے (یعنی جو وجود کسی خاص زمان و مکان میں ہے اس کے لئے یہ ممکن تھا کہ کسی دوسرے زمان و مکان میں ہوتا اور اس لئے اس تخصیص کے لئے وہ مرجح کا محتاج ہے)۔ پس دلیل عقلی بتا رہی ہے کہ حادث کی علت لازما زمان و مکان سے ماوراء ہوگی۔ علت کے معلول پر اس تقدم کو "وجودی تقدم" (existential priority) کہتے ہیں نہ کہ زمانی و مکانی تقدم۔ علت جب فاعل مختار ہو تو یہ لازم نہیں کہ اس کا اثر ہمیشہ اس کے ساتھ پایا جائے، اس صورت میں یہ بات نہ صرف یہ کہ قابل فہم ہے کہ موجِد (existence granting) تو ہو مگر موجَد نہ ہو بلکہ ایسا ہونا قطعی طور پر لازم ہے کیونکہ فعل کا اثر قدیم ہونا محال ہے (اس نکتے کو نہ سمجھنے سے علامہ ابن سینا قدم عالم کے پرزور طور پر قائل ہوئے تھے، دیکھئے اس پر ہماری تحریر: "ذات باری کا عالم پر تقدم کس نوعیت کا ہے؟ علامہ ابن سینا کو جواب")۔ 
پس علت کو زمان و مکان میں بند کرنے پر اصرار کرنا دراصل معلول کو علت کہتے رہنا ہے۔ کانٹ نے علت کے عامیانہ سے تصور کو بنیاد بنا کر علت کا مفہوم مقرر کیا ہے جبکہ علت کا یہ مفہوم سادہ لوحی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ تجزیاتی طور پر بھی غلط ہے نیز یہ اس عالم شہادت کی توجیہہ کے لئے بھی لازم نہیں جیسا کہ اگلے نکتے میں آرہا ہے۔ 
اس کے بعد یہ سوال رہ گیا کہ عالم شہادت میں حوادث کی ترتیب و اقتران سے انسانی ذہن میں علت و معلول کا جو نقشہ ابھرتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ جب یہ ثابت ہوگیا کہ اشیاء کے مابین ایجابی تاثیری تعلقات کی کوئی دلیل موجود نہیں اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حادث علت نہیں اثر ہوتا ہے، تو معلوم ہوگیا کہ حوادث کے مابین یہ تعلقات حقیقی معنی میں علت نہیں ہوسکتے، بلکہ یہاں علت سے مجازی مفہوم والی وہ نسبتیں ہیں جنہیں علت کی علامات یا نشانی کہتے ہیں۔ پس عالم شہادت سے متعلق یہ نسبتیں ایک حادث کے دوسرے پر مؤثر ہونے نہیں بلکہ علم یا نشانی ہونے سے عبارت ہیں، یعنی یہ ترتیبات ایک فاعل کی اس عادت پر دال ہیں کہ وہ ایک کے بعد دوسرے حادث کو ایک خاص ترتیب سے وقوع پزیر کرتا ہے۔ جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ الف و ب اثرات کو ایک ترتیب سے ظاہر کرتا ہے تو اس سے ہم استقرائی طور پر یہ جان سکتے ہیں کہ اگر الف آئے گا تو پھر اس کے ساتھ یا بعد ب آئے گا اور استقرا سے حاصل ہونے والے اس علم کا درجہ ظن اس پر منحصر ہے کہ کتنی مرتبہ اس واقعے کا مشاہدہ ہوا۔ اس کی آسان مثال یوں ہے کہ اگر میں موٹروے پر سفر کروں اور “ریسٹ ایریا 2 کلومیٹر” بورڈ کے 2 کلو میٹر بعد ریسٹ ایریا موجود ہو اور کئی سو کلومیٹر سٖفر میں بار بار اس ترتیب کا مشاہدہ ہو کہ اس بورڈ کے ٹھیک 2 کلومیٹر بعد ریسٹ ایریا ہوتا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خاص قسم کا سائن بورڈ ریسٹ ایریا پر مؤثر (یعنی اس کا سبب) ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سائن بورڈ ریسٹ ایریا کی علامت ہے کہ اس کے بعد ہم ریسٹ ایریا کی امید رکھ سکتے ہیں (کہ یہ ہائی وے اتھارٹی کے فعل کرنے کی ترتیب ہے)۔ پس تجرباتی علم ممکن ہے اور اس کی بنیاد فاعل کی عادت ہے۔ معلوم ہوا کہ تجرباتی علوم کی تشکیل کے لئے ایک شے کے دوسرے پر مؤثر ہونے کا نظریہ لازم نہیں، استقرائی طور پر مقرر ہونے والی مجازی علتیں (یعنی علامات) بھی اس علم کی اتنی ہی قطعی بنیاد فراہم کرسکتی ہیں جتنا کوئی اور نظریہ کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ کانٹ کا نظریہ بھی خارج میں موجود حوادث کے مابین علت و معلول کے تعلق پر اس استقرائی قطعیت سے زیادہ کوئی بات کہنے سے قاصر ہے جیسا کہ پال گائیر نے واضح کیا ہے۔ بلکہ کانٹ تو اس میں یہ مزید خرابی پیدا کرتا ہے کہ وہ علت و معلول کے علم کو صرف ذہنی مظاہر کا علم کہتا ہے جس کا شے فی نفسہ سے تعلق ہی نہیں۔ پس کم از کم کانٹ کے مداحین متکلمین کو یہ الزام نہیں دے سکتے کہ یہ لوگ علتی نسبتوں کو علامت کہہ کر سفسفہ میں مبتلا ہوگئے جبکہ کانٹ کا نظریہ تو سارے ہی علم کو خارج (یعنی شے فی نفسہ) سے کاٹ دینے والا ہے۔ 
الغرض شاہد کی یہ علاماتی علتیں چونکہ فاعل کے فعل اور عادت پر دال یا اس کی مظہر ہیں، لہذا ان علامات کو مجازاً علت کہنا درست ہے اور زبان میں یہ استعمال عام ہے۔ عالم کی اشیاء کے مابین علت کا یہ علامتی معنی ہی قابل فہم ہے کیونکہ عقل پہلے قدم پر یہ جانتی ہے کہ یہ سب حادث یعنی اثر ہیں، انہیں از خود مؤثر سمجھنا غیر عقلی ہے۔ البتہ فاعل مؤثر چاہے تو انہیں علامات بنا سکتا ہے۔ پس کانٹ علت کے نام پر جس مقولے کے احکام حوادث کے مابین جاری کرتا ہے، ہم بھی ان احکامات کے اجراء کے قائل ہیں لیکن ایجابی طور پر مؤثریت کے معنی میں نہیں بلکہ علم ہونے کے معنی میں۔ کانٹ مجاز ہی کو حقیقت سمجھ بیٹھا۔ 
خلاصہ یہ کہ علت کا مفہوم مقرر کرنے میں کانٹ تین غلطیاں کرتا ہے: 
الف) معلول یا اثر کو علت فرض کرتے رہنا
ب) علت کو موجب کے معنی میں تاثیری تعلقات فرض کرنا جبکہ سوائے حوادث کے اقتران اس کی کوئی مشاہداتی و عقلی دلیل موجود نہیں 
ج) علت کے مفہوم میں زمانی تقدم و مکانی اقتران کو شرط قرار دینا 

آٹھواں نکتہ: میٹا فزکس یا غیب کا علم ممکن  ہے

آپ نے یہ کیوں کہا کہ زمان و مکان سے ماورا کسی حقیقت کے وجود کا ادراک ممکن نہیں؟ س پر معارضہ یہ ہے کہ محال ہونے کا آپ کا یہ دعوی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ علم اضطراری کوئی حقیقت نہیں جبکہ اوپر اس مفروضے کی غلطی کو واضح کیا جاچکا جس سے معلوم ہوا کہ لازمی وجودی حقائق نہ کسی کے "بنانے سے" ہیں اور نہ یہ کسی قدرت و ارادے کے تابع ہیں جنہیں جیسے چاہے تشکیل دے دیا جائے۔ وجوبی حقائق صرف ہوتے ہیں، یہ شاہد (physical realm) و غائب (metaphysical realm) ہر ڈومین میں یکساں ہوں گے۔ وجود کا معنی ہی ہونا یا پایا جانا ہے اور یہ وجود کے ہونے (ہویت) ہی سے مفہوم ہے، ایسا کوئی امکان نہیں کہ عدم میں بھی وجود کا ادراک ہوجائے۔ وجود کا معنی و حقیقت عدم طے کردینا یا حادث کو علت کی ضرورت سے غنی کردینا، یہ انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ اسی لئے علمائے کلام کہتے ہیں کہ محال عقلی (یعنی محال لذاتہ) مقدور نہیں ہوتا کیونکہ یہ وجود کی نفی (یعنی عدم کو وجود کہنے) کا نام ہے، جس طرح وجود اضطراری حقیقت ہے اسی طرح اس کی نفی کا غلط ہونا بھی اضطراری ہے۔ وجود و عدم کا معنی، جمع بین النقیضین کا محال ہونا، کل کا جزء سے بڑا ہونا، حادث کا محدث کے لئے محتاج ہونا وغیرہ سب ایسے حقائق ہیں جو شاہد اور اس سے ماورا ہر غائب میں یکساں ہیں نیز ان کا علم و شعور اس بنا پر اضطراری طور پر حاصل ہے کہ وجود شعور پر حاوی ہے۔ اسی بنا پر متکلمین کہتے ہیں کہ جمع بین النقیضین شاہد و غائب دونوں میں محال ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہمارے لئے تو یہ جمع محال ہو لیکن خدا کے لئے ممکن ہو، نیز ایسا کوئی امکانی عالم (conceivable possible world) نہیں ہوسکتا جہاں یہ جمع ممکن ہوجائے۔ پس یہ کہنا غلط ہے کہ غائب کے بارے میں کچھ کہنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اگر دلیل غائب کے اس وجود کے ہونے پر دلالت کرے تو اس وجود کو مانا جائے گا اور اگر دلیل نہ ہو تو اس معاملے میں توقف کیا جائے گا تاہم اس کے علم کو ناممکن ہونا نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس کے علم کو محال کہنے کی آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ 

نواں نکتہ: علت اور خدا  

آپ نے یہ کیوں کہا کہ علت کے تصور سے خدا کا تصور ثابت نہیں ہوتا؟ اس پر کانٹ کی یہ دلیل ہے کہ علت تو نرا ذہنی مقولہ ہے جو بغیر تجربہ کوئی علم فراہم نہیں کرتا نیز یہ مقولہ ہمیں خارج سے متعلق بھی کوئی علم نہیں دیتا نیز خدا حسی تجربے سے ماوراء ہے۔ 
اس دلیل پر اعتراض یہ ہے کہ خود کانٹ کے فلسفے کی رو سے بھی یہ دلیل دو وجوہ سے غلط ہے: 
الف) کانٹ خود علت کا ایک "سبسٹنٹو تصور" ہی مقرر کرتا ہے، یعنی زمانی تقدم و مکانی اقتران سے متعلق موجب، چنانچہ اس کے بعد کانٹ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ خود اپنے فلسفے میں علت کے مقولے کا ایک "سبسٹنٹو مفہوم" متعین کرکے دوسروں کو یہ کہتا رہے کہ تمہارا قائم کردہ علیت کا مفہوم تو نرا خیال ہے۔ کانٹ اس غلط فہمی کا شکار ہے گویا علت کا اس کی جانب سے مفروضہ مفہوم غیر سبسٹنٹو خیال ہے جبکہ معاملہ ایسا نہیں۔ 
ب) کانٹ اپنے فلسفے میں "علت" کے مقولے کو نامینا پر ہی لاگو کرتا ہے جیسا کہ نکتہ نمبر چھ میں نشاندہی ہوئی۔ پس اگر آپ کے لئے یہ جائز ہے کہ علت کی کیٹیگری نامینا پر لاگو کریں تو دوسروں کے لئے یہ کیوں ناجائز ہے؟ 
رہا اس پر معارضہ تو اس کی تفصیل پچھلے نکات میں ہوچکی جس سے یہ بات صاف ہوچکی کہ: 
  • علیت (حادث کے لئے محدث ہوتا ہے) نرا ذہنی خیال نہیں بلکہ یہ ذہن پر منعکس شاہد و غائب سے متعلق وجودی حقیقت ہے (دیکھئے نکتہ نمبر 4)
  • ہمارا ادراک ذہن کی ساخت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خارجی حقیقت کے بارے میں ہے جس کی توجیہہ کو اولاً ان ماقبل مقولات سے مشروط کرنا ضروری نہیں اور اگر ان مقولات کا وجود مان بھی لیا جائے تب بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ذہن کو خارج سے متعلق اطلاع نہیں دیتے بلکہ درست بات یہی ہے کہ ان سے ہمیں خارجی اشیاء اور ان کی صفات کا ادراک ہوتا ہے (دیکھئے نکتہ نمبر 5 اور 6)
  • پس خارجی اشیاء سے متعلق یہ اطلاق مجھے حاصل ہے کہ انہیں حدوث لاحق ہے (یعنی یہ کہ اشیاء متنوع صفات کی حامل بھی ہیں اور متغیر بھی نیز یہ کہ یہ متحیز ہیں) 
الغرض ادراک سے ماوراء حقیقت موجود ہے اور ادراک اس کے تابع ہے اور اولیات عقلیہ کے دائرے میں یہ تابعیت اتنی قطعی ہے کہ کچھ اور ادراک ہوسکنا محال ہے۔ 
آپ کی یہ دلیل دراصل اس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ علت زمانی و مکانی ایجابی تصور ہے جبکہ ہم واضح کرچکے کہ زمانی و مکانی ہونا علت کے مفہوم میں شامل نہیں نیز زمانی و مکانی وجود اثر ہوتا ہے نہ کہ علت نیز اس علت کو موجب کے مفہوم میں لینے کی کانٹ کے پاس کوئی صریح دلیل نہیں (دیکھئے نکتہ نمبر 7)۔ جب عقل یہ پہچان لے کہ "عالم حادث ہے" (حدوث عالم کے دلائل پر یہاں بحث نہیں کی جائے گئی)، تو جس کیٹیگری کا نام آپ نے "علت" رکھا آخر وہ اپنے مافیہ کے اطلاق (یعنی "مرجح") کو اسی حادث عالم کے اندر موجود فرض کرکے کیسے احکام جاری کرسکتی ہے جس کے بارے میں اسے پہلے سے یہ خبر موصول ہوچکی کہ یہ عالم معلول (حادث) ہے نہ کہ مرجح؟ پس اس غلط مفروضے کو ترک کیجئے کہ عالم کے اندر مشاہدے میں آنے والی بعض چیزیں بعض کے لئے "علت (مرجح) ہیں، عقل پہچان چکی ہے کہ یہاں سب حوادثات (یعنی معلولات ہیں) اور حادث علت نہیں ہوا کرتا۔ وہ جانتی ہے کہ زمانی و مکانی عالم میں صرف ایک کے بعد دوسرا حادث رونما ہورہا ہے اور اس لئے وہ ان میں سے ہر ایک کو علت کا مصداق قرار دینے سے انکاری ہے۔ پس وہ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ جب عالم حادث ہے تو علت کے حکم کا اطلاق اس عالم سے ماورا کسی موجود پر ہوگا جو اس زمانی و مکانی عالم پر متصرف ہے۔ ہیوم و کانٹ ایک ایسے تصور (یعنی حادث) کو مرجح ثابت کرنے کی کوشش میں تھے جو اپنی وضع میں مرجح ہونے کے عقلی حکم کو قبول ہی نہیں کرتا۔ 
جب یہ معلوم ہوگیا کہ حادث ممکن ہے اور کسی ایک جانب ترجیح کے لئے مرجح کا محتاج ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ حادث موجود ہے، تو عقل لازما کہتی ہے کہ مرجح بھی موجود و ثابت ہے، اگرچہ وہ غائب ہی میں ہو کیونکہ وجوبی حقائق شاہد و غائب میں یکساں ہیں۔ 
اس تقریر کے بعد عقلی الہیات کے ناممکن ہونے پر کانٹ کی دلیل ختم ہوجاتی ہے، فللہ الحمد۔ 

دسواں نکتہ: کانٹین فلسفہ ایک اہم سوال کا جواب نہیں دیتا 

کانٹ کے موقف پر آخری تبصرہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ آخر میرے ادراک کی ساخت وہ کیوں ہے جیسی کہ وہ ہے؟ میرے وجود اور ادراک کی ساخت ہم آہنگ کیسے ہیں؟ نیز خارج میں موجود حقیقت اور میرا ادراک ہم آہنگ کیوں ہیں؟ ظاہر ہے جب آپ اس غلط مفروضے پر فکر کی بنیاد رکھیں گے کہ ادراک کی ساخت وجود سے الگ و ماقبل متعین ہے تو ان سوالات کا کوئی جواب ممکن نہیں۔ علم کی ہر سنجیدہ جستجو انسانی ادراک، خود اس کے وجود اور خارج میں موجود اشیاء کے مابین ہم آہنگی (harmony) کے لازمی مفروضے پر قائم ہوتی ہے اور یہ ہم آہنگی انسان کو ایک ایسے اصول سے متعلق کرتی ہے جو اس ہم آہنگی کا سبب ہے، یعنی جو انسان کے اس سوال کا جواب ہو کہ آخر یہ اضطراری ہم آہنگی کیوں پائی جاتی ہے؟ چنانچہ ایسی فکر بے اطمینانی و انتشار پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کانٹین فکر سے متاثر ہوکر کانٹ کے جانشینوں نے ہر اخلاقی قدر کی سچائی و آفاقیت کا انکار کردیا گیا۔اسلامی فکر میں اس سوال کے جواب کی ایک صورت وہ ہے جو شیخ اکبر  کی روایت  میں ملتا ہے، یعنی پوری کائنات  جس ذات کے اسما کا ظہور ہے اسی کے اسما کا ظہور انسان میں جامعیت کے ساتھ ہوا ہے۔

3) حاصل بحث 

کانٹ کا نظریہ علم غیر ضروری و پرتکلف مفروضات پر مبنی ہونے کے علاوہ بعض سطحی و غلط مقدمات پر بھی مبنی ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ذہن میں مقولات موجود ہیں جو تجربے کی شرط ہیں تب بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ الہیات کا علم ناممکن ہے۔ اس حوالے سے اس کے نظرئیے کی چار بنیادی خامیاں ہیں: 
1) ذہنی مقولات کو کوئی وجودی حقیقت یا اس کا مظہر نہ ماننا بلکہ انہیں خالی گھڑھے نما شے کہنا جبکہ ساتھ ہی کانٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ مقولے ممیز (differentiated) ہیں۔ یوں کانٹ کے نظرئیے کی سچائی خود داخلی طور پر متضاد ہوکر اپنی ہی سوفسطائیت کی ذد میں آجاتی ہے۔ 
2) وجود اور ادراک کی دوئی کے مفروضے پر علم کی عمارت قائم کرنے کی کوشش میں لازمی وجودی حقائق کو اگنور کرتے ہوئے اپنے نظریہ علم میں انہیں جگہ نہ دینا۔ اس غلطی کی وجہ سے کانٹ شاہد و غائب کے مابین واسطے کو کھو دیتا ہے۔
3) حصول علم کی کیفیت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شے فی نفسہ سے متعلق نہیں ہوسکتا جبکہ خود اس کے اپنے فریم ورک میں اایسا کہنے کی کوئی قطعی دلیل موجود نہیں بلکہ اس کے برعکس بات زیادہ قرین از قیاس ہےکہ ہمیں ادراک "شے کا" ہوتا ہے نہ کہ "شے کے ادراک کا"۔ 
4) علت کا ایک عامیانہ (naive) و غلط تصور قائم کرنا کہ یہ زمانی تسلسل و ترتیب میں ڈھلی ہوئی ایجابی نسبتوں سے عبارت ہے جبکہ یہ دعوی معلول کو علت فرض کرنے کی غلطی پر مبنی ہے۔ 
ان غلطیوں کی اصلاح کرلی جائے تو کانٹ کا فلسفہ دلیل حدوث کے دو میں سے کسی قضیے کو غلط ثابت نہیں کرسکتا: 
الف) حادث کے لئے محدث ہے (یعنی حادث موجود ہے تو محدث بھی موجود ہے) 
ب) عالم حادث ہے 
نتیجہ) عالم کے لئے محدث ہے (چونکہ عالم موجود ہے لہذا اس کا محدث بھی موجود ہے)
دلیل حدوث کی صحت کی کم از کم علمی شرط یہ ماننا ہے کہ ذہن سے ماوراء خارجی حقیقت موجود ہے اور انسانی ذرائع سے وہ لائق ادراک ہے۔ 

کیا ذات باری کی حقیقت ہمیں معلوم ہے؟ 

کانٹ کے مذہبی مداحین کا کہنا ہے کہ کانٹ نے یہ بات بتا کر اہل مذہب پر احسان کیا کہ اشیاء کے حقائق ہمیں معلوم نہیں، وہ ماورائی حقیقت ذات باری ہے جسے عقل نہیں جان سکتی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ذات باری کی حقیقت سے مراد اس کی ماہیت ہے تو یہ بات محقق متکلمین جیسے کہ امام غزالی و رازی اور صوفیاء پہلے ہی بیان کرتے آئے ہیں کہ ہمیں اس کا کوئی ادراک نہیں (اس پر ہم نے تحاریر لکھی ہیں، ملاحظہ کیجئے:"کیا مباحث الہیات میں کانٹ کا کوئی بامعنی کنٹریبیوشن ہے؟" نیز "وجود باری پر ناقابل تصور و ناقابل مشاہدہ ہونے کا سوال")۔ لہذا اس بات کے لئے ہمیں کانٹ کا احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ 
علیتی دلیل دو طرح کی ہوتی ہے: دلیل لمی اور دلیل انی۔ اول الذکر میں ہم علت سے معلول کی جانب سفر کرتے ہیں جبکہ مؤخر الذکر میں معلول سے علت کی جانب۔ خدا کے بارے میں ہمارا علم دلیل "انی" پر مبنی ہے، یعنی ہم نے عالم کو دیکھا تو جان لیا کہ یہ حادث ہے، اور حدوث سے جان لیا کہ یہ کسی ارادی فعل کا اثر ہے۔ ارادہ نام ہے ترجیح قائم کرنے کا اور قیام ترجیح تبھی مفہوم ہے جب قدرت بھی متحقق ہو۔ اگر عالم میں اشیاء عدم سے وجود پزیر ہورہی ہیں تو وہ معنی بھی لازماً ثابت ہے جو عدم کو وجود بخشنے سے عبارت ہے، اسی معنی کو "قدرت" کہتے ہیں۔ جب ارادی ترجیح ثابت ہے تو علم بھی ثابت ہے کیونکہ ارادی ترجیح قصد کا نام ہے اور قصد علم کو فرض کرتا ہے۔ ارادہ، قدرت و علم، یہی فعل کی حقیقت ہیں اور جو ان سے متصف ہو اسے "فاعل مختار" کہتے ہیں۔ اور چونکہ یہ سب معنی صفات ہیں اور عقل جانتی ہے کہ صفت کا قیام بدون موصوف محال ہے، تو اگر صفت ثابت ہے تو موصوف بھی ثابت ہے۔ عقل کی رسائی بس صفات تک ہے، اس سے آگے عقل کے پاس صاحب صفات (یعنی صاحب اختیار) کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کیسا ہے۔ امام غزالی مثال سے واضح فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے ہاتھ میں ایسا خط ہو جس کے مصنف کو تم نہیں جانتے اور کوئی تم سے پوچھے کہ یہ خط کس کا ہے تو تم کہہ سکتے ہو کہ یہ خط اس کا ہے جو کاتب ہے اور وہ قدرت و علم سے متصف ہے۔ ظاہر ہے اس سے خط لکھنے والے کی ذات کی حقیقت کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔ صفات عقل کی رسائی میں اس لئے ہیں کہ یہ عالم ان صفات کا مظہر ہے، مظہر بس وہاں تک ہی لے جاسکتا ہے جس کی وہ نشانی ہے۔ اس سے آگے نہ عقل کو راہ ہے، نہ وجدان کو اور نہ کسی الہام کو (یہی محقق صوفیا کا قول ہے کہ ذات باری الہام سے بھی نامعلوم ہے)۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نبی کی وحی سے خبر پالینے کے بعد بھی اس ذات کی ماہیت و حقیقت ہمارے لئے نامعلوم ہے۔ اگر وحی کی خبر ہمارے حق میں اس دائرے میں پردہ کشا ہوتی جہاں عقل کی رسائی نہیں تو ہم اللہ کے "ید" و "عین" کے معنی کی تفویض نہ کررہے ہوتے، اس بات کو سمجھو۔ الغرض یہ جو بات بنالی گئی ہے کہ عقل سے تو ذات باری تک ہماری رسائی نہیں لیکن نبی کی اخبار کے ذریعے ہے، یہ خلط مبحث ہے۔ 

ضمیمہ: کانٹ کی دلیل کا اجمالی جواب 

کانٹ کی دلیل کا مختصر جواب یہ ہے کہ کانٹ کا نظریہ علم غیر ضروری و پرتکلف مفروضات پر مبنی ہونے کے علاوہ بعض سطحی و غلط مقدمات پر بھی مبنی ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ذہن میں مقولات موجود ہیں جو تجربے کی شرط ہیں تب بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ الہیات کا علم ناممکن ہے۔ چنانچہ کانٹ کی یہ بات مانتے ہوئے کہ ذہن میں ایک ادراکی ساخت موجود ہے، الہیات پر اس کے ساتھ یوں گفتگو ہوگی:
  • ہمارا دعوی: علت ہونے کا مطلب زمانی ترتیب و تسلسل میں مقدم ہونا نہیں ہے جیسے کہ کانٹ نے فرض کرلیا، کسی شے کا "زمانی ہونا"  تو اس چیز کی علامت ہے کہ متعلقہ شے علت نہیں معلول یا اثر (effect) ہے کیونکہ کوئی خاص زمانی تعین ہونا از خود تخصیص ہے جو مخصص کی متقاضی ہے۔ لہذا علت کے بارے میں کانٹ کا بیان کردہ تصور غلط ہے۔ عقل کہتی ہے کہ علت زمان و مکان سے ماوراء ہو۔
  • کانٹ پوچھے گا: عقل علت کے بارے میں ایسا کیوں کہتی ہے کہ وہ زمان و مکان سے ماوراء ہو؟ نیز اگر ایسی علت ہو بھی تو کیا ہم اس ماورائی علت کی حقیقت کے بارے میں کچھ جان سکتے ہیں؟
    ہم کہتے ہیں: عقل ایسا اس لئے کہتی ہے کیونکہ یہ عالم حادث ہے اور حادث محتاج یعنی معلول یا اثر ہوتا ہے نہ کہ علت۔ پس علت لازماً اس سے ماوراء ہی ہوگی۔ چونکہ لازمی وجودی حقائق شاہد و غائب میں یکساں ہیں، لہذا اثر (یعنی عالم) اگر موجود ہے تو فاعل بھی یقیناً موجود ہے۔ البتہ متکلمین اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ عالم کی اس علت کی حقیقت و ماہیت ہم اس دنیا میں نہیں جان سکتے، مگر اس کی ذات کی ماہیت نہ جان سکنا اس ذات کے موجود ہونے کو جاننے میں رکاوٹ نہیں۔
  • کانٹ کہے گا: میرے بیان کردہ مقولے یا ذہنی ساختیں شے سے متعلق علم نہیں دیتیں، لہذا حادث و علت کا لفظ یا ایک ذہنی تصور ہے اور یا ادراک سے متعلق فنامینا، نہ کہ خارجی شے سے متعلق امور۔
    ہم کہتے ہیں: آپ کا یہ دعوی قابل قبول نہیں، ذہنی مقولات کی جانب سے جاری کردہ قضایا خارجی اشیاء کی صفات مانے بغیر قابل فہم نہیں ہوسکتے۔ پس حدوث مشاہدے میں آنے والی خارجی شے ہی کی صفت ہے نہ کہ ذہنی خیال۔ حادث عالم کا وجود اس کی علت کے وجود کو مستلزم ہے کہ اثر بدون مؤثر ہونا محال ہے اور یہ ایک بدیہی وجودی حقیقت اور علم اضطراری ہے۔ وجودی حقائق شاہد و غائب میں یکساں لاگو ہوتے ہیں، شاہد میں حادث وجود غائب کے محدث یا مؤثر وجود پر مستقل دلالت کررہا ہے جس کا انکار مکابرہ ہے۔

عشقِ رسول ﷺ اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

لفظ ’’عشق‘‘ روزمرہ کی اصطلاح اور معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق ایک وسیع اور خصوصی جذبۂ عقیدت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ لغت کے لحاظ اور معنی کے طور پر لفظ ’’عشق‘‘ کی تعریف گہری محبت یعنی (Great Passion) ہے، لیکن عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لفظ ’’عشق‘‘ نہایت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ لکھتے ہیں ’’عشق کسی شے کو اپنے اندر جذب کر لینے اور اپنا جزوِ حیات بنا کر اپنا لینے کا نام ہے‘‘۔ مغربی مفکرین نے بھی عشق کی اسی قسم کی تعریف کی ہے۔ 
برٹرینڈ رسل کے خیال میں حیاتِ انسانی میں رنگینی اور دلچسپی کا وجود دو قدروں سے ہے: ایک علم اور دوسرے عشق۔ مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ بھی زندگی میں دو قوتوں کو بنیادی اہمیت کی حامل قرار دیتا ہے: ایک تخریبی قوت یعنی موت، اور دوسری تعمیری قوت جو عشق ہے۔
اردو زبان کے دو عظیم شاعر، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ اور الطاف حسین حالیؒ نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہائی گہرائی اور گیرائی سے اپنے اپنے کلام میں اظہار کیا ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نہ صرف بلند پایہ مفکر اور عظیم المرتبت شاعر تھے بلکہ وہ بہت بڑے عاشقِ رسولؐ بھی تھے۔ ان کی منظومات، خطوط اور دیگر نثر پارے اس امر کے شاہد ہیں کہ انہیں حبیبِ خدا اور محبوبِ کبریا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات مجموعۂ کمالات سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی سنتے ہی آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانحِ حیات کا بغور مطالعہ کیا تھا جس کی بنا پر ان کے موروثی عشقِ رسولؐ میں بہت زیادہ پختگی اور وارفتگی کی مثال پیدا ہو گئی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کے تار و پود میں عشقِ رسولؐ کا جذبہ اس قدر رچا بسا تھا کہ جس طرح سونے کی انگوٹھی میں ہیرے کا نگینہ جڑا ہو۔
سچے عاشقِ رسولؐ کے سامنے جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا ہے تو اس کی دلچسپی اور دلجمعی دیکھنے والوں کو تعریف پہ مجبور کر دیتی ہے۔ عاشق کے سامنے جب محبوب کا ذکر ہوتا ہے تو وہ جذبات پہ قابو نہیں رکھ سکتا۔ یہی سلسلہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا بھی تھا، جب ان کے سامنے ’’اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ آتا یا ان کے کان اس اسمِ مبارک کو سنتے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے اور دل بے تاب و بے قرار ہو جاتا۔
فقیر سید وحید الدین روزگار فقیر میں لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر صاحب کا دل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گداز کر رکھا تھا۔ زندگی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی تھی اور وہ کئی منٹ تک مکمل سکوت اختیار کر لیتے تھے تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں اور گفتگو جاری رکھ سکیں۔ (روزگار فقیر جلد اول ص ۹۴-۹۵ ، مطبوعہ سپننگ ملز کراچی ۱۹۶۴ء)
علامہ محمد اقبالؒ کا یہی عشقِ رسول ہمیں ان کی اردو اور فارسی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ اپنی شاعری کو فیضانِ رسولؐ قرار دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 
تب و تاب دل از سوز غم تست
نوائے من ز تاثیر دم تست
ترجمہ: ’’میرے دل میں جو گرمی اور بے تابی ہے آپؐ کے سوز غم کی بدولت ہے۔ میرے نالے آپ ہی کی توجہ کا فیضان ہے۔‘‘
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
مرا ایں سوز از فیض دم تست
بتاکم موج مئے از زم زم تست
خجل ملک جم از درویشی من
کہ دل در سینہ من محرم تست
ترجمہ: ’’مجھے جو سوز عطا ہوا ہے وہ آپؐ ہی کا فیضان ہے۔ میرے انگوروں کی بیل میں جو شراب ابل رہی ہے وہ آپؐ ہی کے زمزم سے نکلی ہے۔ میری درویشی سے مملکتِ کسریٰ و جمشید بھی شرماتی ہے کیوں کہ میرے سینے میں جو دل ہے وہ آپؐ ہی کے اسرار کا محرم ہے۔‘‘

میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

شعراء کرام اپنے کلام میں زیادہ تر جذبۂ محبت کی شدت اور ذاتی حالات پر زور دیتے ہیں، بہت کم شعراء جذبات کی شدت کے ساتھ ساتھ بلندئ افکار اور جدتِ خیالات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ بہترین شاعر ہونے کے علاوہ بلند مرتبہ فلسفی اور مفکر بھی تھے، اس لئے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے گہرے جذبات کو اعلیٰ افکار کے ساتھ اس طرح ملا دیا کہ ان کی شاعری کو نئی آب و تاب میسر تھی۔ وہ اپنے جذبات اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلک عالمِ دنیا کو اس انداز سے پیش کیا کرتے تھے کہ دنیا محوِ حیرت ہو جاتی۔ رحمتِ عالم اور سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس طرح نعت سرا ہوتے:
آیہ کائنات کا معنی دیر بایاب تو 
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِجنیدؒ و بایزید ؒتیرا جمالِ بے نقاب
شوق ترا اگرنہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
جبرائیل بھی آئینہ رسالت کا جوہر
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی نظروں میں عشقِ رسولؐ ہی حاصلِ دنیا و دین تھا، اور اس کا سرچشمہ وہ ذاتِ اقدس ہے جس کے طفیل سارے عالم کی تخلیق ہوئی اور جس کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے ان اشعار کو پڑھیے اور محسوس کیجیے کہ شاعر نے جب یہ اشعار کہیں ہوں گے تو اس کے دل کی کیا کیفیت ہو گی:
جہاں از عشق و عشق از سینہ تست
سروش از مئے دیرینہ تست
جز ایں چیزے نمی دانم ز جبریل
کہ او یک جوہر از آئینہ تست
ترجمہ: ’’دنیا عشق کی دولت سے قائم ہے اور عشق کی دولت آپؐ کے سینہ مبارک سے حاصل ہوتی ہے۔ اس عشق میں سرور اس شرابِ کہن سے پیدا ہوتا ہے جو آپؐ نے کشید فرمائی اور پلائی۔ مجھے جبرئیل کی بابت بھی صرف اتنا معلوم ہے کہ جبرئیل بھی آئینۂ رسالتؐ کے ایک جوہر کا نام ہے۔‘‘
مری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناری
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا عشقِ رسول اس کمال پر پہنچا ہوا تھا کہ بسا اوقات فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر وہ اپنی اور مسلمانانِ عالم کی بے بسی و بے کسی کی فریاد براہ راست رحمت للعالمین کے حضور کرنے لگتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے روبرو تشریف فرما ہیں اور آپ ان فریاد رسی کی التجا کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اس شعر سے معلوم ہوتا ہے:
تو اے مولائے یثرب! آپ میری چارہ سازی کر 
مری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناری
کرم اے شہہ عرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظر کرم
وہ گدا کہ تونے عطا کیا ہے جنہیں دماغِ قلندری
دگرگوں کرد لادینی جہاں را
ز آثار بند گفتند جاں را
ازاں فقرے کہ با صدیق داری
پشورے آور ایں آسودہ جاں را
ترجمہ: ’’ساری دنیا کو لادینی نے دگرگوں کر دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا والے روح کو بھی جسم کے آثار میں شمار کرنے لگے ہیں۔ جو فقر آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بخشا تھا اس سے ہماری بے حس روحوں میں سوز و حرکت پیدا فرما دیجیے۔‘‘

علامہ اقبالؒ کی سوچ و فکرِ اطاعتِ رسولؐ

آج ہم مسلمان عشق رسول کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہمارا کردار اس کے برعکس ہے۔ دعوئ عشق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اتباع و اطاعت محبوب نہ ہو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل و عمل پر نظر رکھتے اور دل و جان سے ان کی تقلید کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ جب حج کو جاتے تو بلا کسی ظاہری سبب کے جا بجا رکتے، یا اٹھتے بیٹھتے جاتے۔ کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپؓ نے جواب دیا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سفرِ حج میں جس جگہ جس حالت اور جس انداز میں دیکھا، میں چاہتا ہوں کہ ان طریقوں پر جوں کا توں عمل کروں۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعودؓ ایک مرتبہ جمعہ کے لیے مسجد میں آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ یکایک ان کے کان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی کہ بیٹھ جاؤ! حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اس وقت دروازے پر تھے، سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ کو بیٹھے دیکھا تو فرمایا اے ابن مسعود! آگے آجاؤ۔
علامہ اقبالؒ نے سیرتِ رسولؐ و صحابہؓ کا بغائر مطالعہ کیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ بغیر اطاعتِ رسولؐ کے قربتِ رسولؐ بلکہ قربتِ خدا بھی ممکن نہیں ہے، وہ فرماتے ہیں:
در اطاعت کوش ائے غفلت شعار
می شود از جبر پیدا اختیار
ناکس از فرماں پذیری کس شود
آتش ار باشد ز طغیاں خس شود
ترجمہ: ’’اے غافل! اطاعت میں سرگرم رہ۔ اسی جبر ہی سے تو اختیار کا رتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اتباع اور فرماں برداری سے نااہل بھی اہل بن جاتے ہیں۔ آگ بھی ہو تو اس کے شعلے بجھ جاتے ہیں۔‘‘
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے سنتِ رسولؐ کی پیروی کو اپنا شیوۂ حیات بنا لیا تھا۔ ’’جوہرِ اقبال‘‘ میں ایک عجیب اور بصیرت افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس سے علامہ اقبالؒ کے جذبۂ شوق و اطاعتِ رسول کا اندازہ ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورے کے لیے اقبال اور سر فضل حسین اور ایک دو مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا، اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر، اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پا کر معاً ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں ، اس نے بوریے پر سو کر زندگی گذار دی تھی۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اسی بستر پر لیٹنا ان کے لیے نا ممکن ہو گیا۔ اٹھے اور برابر کے غسل خانے میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئے، اور مسلسل رونا شروع کر دیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلوا کر اپنا بستر کھلوایا، اور ایک چارپائی اسی غسل خانے میں بچھوائی۔ اور جب تک وہاں مقیم رہے، غسل خانے ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ (محمد حسنین سید۔ جوہرِ اقبال۔ ص ۳۹-۴۰، مطبوعہ مکتبہ جامعہ دہلی ۱۹۳۸ء)

بولہبی اور بے دینی

علامہ محمد اقبالؒ کی زندگی اور ان کی شاعری عشقِ رسولؐ کے جذبے سے مملو ہے۔ ذاتِ محمدیؐ تک رسائی کو ہی وہ سراپا دین قرار دیتے تھے۔ اس کے علاوہ سب کچھ ان کی نظروں میں بولہبی اور بے دینی ہے:
بہ مصطفی بہ رساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است
ترجمہ: ’’حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بارگاہ سے خود کو متصل کر لو کیونکہ دینِ اسلام کی اساس حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اگر تو وہاں تک نہیں پہنچ پاتا، تو تیرے تمام اعمال بولہبی (کفر اور اسلام دشمنی کی علامت) ہیں۔‘‘
علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اگر حق اور سچ کے طالب ہو تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اپنا ناطہ جوڑ لو اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرو کیونکہ آپ کا اسوۂ حسنہ ہی مکمل دین ہے۔
دین خود کو کسی خاص ملک جماعت یا قومیت سے متصل کرنے کا نام نہیں یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مضبوط قلبی اور روحانی تعلق قائم کرنے کا نام ہے اگر ان کے اسوۂ حسنہ سے روگردانی کرو گے تو کسی لادینی قوت کا ایجنڈا پورا کرو گے جو سراسر بولہبی کے زمرے میں آتا ہے اور بولہبی اسلام کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

عشقِ رسولؐ کا معیار تقلیدِ رسولؐ

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے جس عظیم ترین انسانی ہستی کی مدح سرائی کی اس پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتے صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں۔ ایسی بے نظیر ہستی کی شان دیکھئے کہ خود خالقِ کائنات اس کا گرویدہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کے اوراق الٹتے جائیں، آپ کو کہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہمہ جہت، مجموعۂ کمالات، مونس و غم خوار اور انقلابی شخصیت نظر نہیں آئے گی، جس میں تمام ظاہری اور باطنی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں۔ بلاشبہ آپ کی رسالت تمام دنیا والوں کیلئے بہترین نمونۂ عمل اور اسوۂ کامل کی حامل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام امیر و غریب حاکم و محکوم، سپہ سالاروں، سیاستدانوں، مصلحین، مفکرین قانون سازوں اور رہنماؤں وغیرہ کیلئے اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ بہترین نمونہ عمل ہیں۔ 
قارئین کرام! شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ اور عشقِ رسولؐ کے عنوان پہ لکھنے اور ان کے نعتیہ کلام کا مکمل جائزہ لینے کیلئے کئی صفحات درکار ہیں۔ نعتِ پیغمبرؐ نے ان کے کلام پر ابدیت اور ان کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ شاعرِ مشرق کے کلام کے متن میں قرآنی تعلیمات اور عشقِ رسولؐ کی روح بولتی ہے تو یہ مبالغہ نہیں۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے نزدیک عشقِ رسولؐ کا معیار تقلیدِ رسولؐ ہے جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں: مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسوۂ رسول کو مد نظر رکھیں تاکہ جذبۂ تقلید اور جذبۂ عمل قائم رہے۔ (میلاد النبیؐ کے موقع پر تقریر ۱۹۲۶ء)

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱)

مصنف : ڈاکٹر شعیب احمد ملک

مترجم : محمد یونس قاسمی

ہم بڑی مسرت کے ساتھ ڈاکٹر شعیب احمد ملک کی کتاب "اسلام اور ارتقاء: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات" کے تعارفی باب کا اردو ترجمہ قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس کتاب میں مؤلف نے اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے مابین توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر الغزالی کے نقطہ نظر کے تناظر میں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ تعارفی باب قارئین کے لیے بصیرت اور علم کا ایک قیمتی ذریعہ ثابت ہوگا۔ 

اسلام اور سائنس کے میدان میں پچھلی چند دہائیوں میں مستقل ترقی ہو رہی ہے، اور اس کے مختلف پہلوؤں نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ان میں خدائی تخلیق کے ممکنہ طریقوں، کوانٹم میکینکس، ارتقا، حیاتیاتی اخلاقیات، سائنس اور مقدس کتب جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ارتقا کا نظریہ یہ بیان کرتا ہے کہ ہر حیاتیاتی وجود، بشمول انسان، تاریخی طور پر آپس میں منسلک سلسلوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق انسان ایک سابقہ نسل سے وجود میں آئے ہیں اور براہ راست پیدا نہیں کیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم اور حوا کے بھی والدین ہونے چاہئیں ، جنہیں اسلام میں عمومی اور روایتی طور پر انسانیت کی پہلا جوڑا تصور کیا جاتا ہے جو ماں باپ کے بغیر وجود میں آیا ۔ یہاں پر تنازعہ جنم لیتا ہے، اور یہ اسلام اور ارتقا کے پورے مباحثے کا فکری نقطہ آغاز ہے۔
جیسا کہ ہم آگے پڑھیں گے، مسلم مفکرین نے ارتقا کے نظریے کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ زیر نظر مطالعے کا مقصد ارتقا کی بحث کو ایک الٰہیاتی نقطہ نظر سے دیکھنا ہے، اور یہ مطالعہ قرون وسطیٰ کے مسلم ماہر الٰہیات ابو حامد الغزالی کے نظریات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ لیکن الٰہیات ہی کیوں؟ الغزالی کون ہیں؟ اور ارتقا کے موضوع میں ان کی اہمیت کیا ہے؟ یہ تعارفی باب ان سوالات کے جوابات دینے اور پوری کتاب کے لیے بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ تعارفی باب تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے میں اسلام اور ارتقا کے درمیان تعلق اور اس وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے بعد، اس مطالعے میں اپنائے جانے والے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی، الغزالی کا تعارف اور ان کے فکری فریم ورک کو اپنانے کی وجہ بتائی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں کتاب کے دیگر ابواب کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

مشکل منظرنامہ

تفصیلات میں جانے سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس منظرنامے کے اردگرد مختلف رکاوٹیں موجود ہیں۔ جب اسلام اور ارتقا کی مطابقت (یا عدم مطابقت) کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو انسان کو گفتگو کے ساتھ وابستہ غیر ضروری اور الجھاؤ والے مواد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس نے اس مکالمے کو بدنام کر دیا ہے۔ مزید برآں، اس بحث کی فطری پیچیدگی اس میں مختلف النوع علوم کے شامل ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو کچھ لوگوں کے لیے اس موضوع کی پیروی کرنا اور اس کے مختلف نقطہ ہائے نظر اور باریکیوں کے تجزیے کو مشکل بنا دیتی ہے جو اس گفتگو کا حصہ ہیں۔

اسلام اور سائنس کے درمیان راہ نکالنا

ایک طرف، ہمارے سامنے دوٹوک موقف رکھنے والے سائنسدان ہیں جو کہتے ہیں کہ ارتقا ہماری حیاتیاتی، تاریخی تنوع کے حوالے سے بہترین اور ٹھوس بنیادوں پر قائم سائنس ہے، اور انسان بھی اس عمل سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ دوسری طرف، ہم دیکھتے ہیں کہ آدم کی تخلیق کا بیانیہ اسلامی متون میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ آدم اور حوا معجزانہ طور پر بغیر والدین کے پیدا کیے گئے اور وہ انسانیت کے پہلے فرد تھے۔ یہ مسلمانوں کے درمیان ایک روایتی بیانیہ رہا ہے ۔ اسی لیے ہمیں خیالات کا ایک ابھرتا ہوا تضاد نظر آتا ہے، جس سے بہت سے مسلمان بظاہر دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں: اسلام یا ارتقا1۔ اس کا نتیجہ بہت مختلف قسم کے بیانات اور نتائج کی شکل میں نکلتا ہے۔ کچھ لوگ سائنس کو رد کر دیتے یا مشکوک ٹھہراتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں دی گئی تخلیق کی داستان مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، کچھ مسلمان اپنی اسلامی وابستگیوں پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ سائنس زیادہ ٹھوس جوابات فراہم کرتی ہے۔ نتیجتاً ان میں سے بعض افراد اسلام کو مکمل طور پر ترک کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی مسلم شناخت برقرار رکھتے ہیں، لیکن اسلام اور ارتقا کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے طریقے تلاش کرتے ہیں۔
درحقیقت، منظرنامہ متنوع ہے۔ اس کے ساتھ ہی اختیار کا سوال بھی موجود ہے ۔ سائنس انسانی علم کو بڑھانے میں بے حد کامیاب رہی ہے2۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو، اسلامی گفتگو اپنے آغاز سے اب تک جمود کا شکار نظر آتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں نیچرل سائنسز ترقی پسند اور مسلسل متحرک ہیں۔ اس واضح تضاد کے پیش نظر، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ سائنس کا اختیار اسلام (اور درحقیقت، علم کے دیگر شعبوں) کے اختیار پر غالب آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اختیار کا ایک تنازعہ پیدا کرتا ہے، جہاں الٰہیات دان کو سائنسدان کے مقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے؛ جب بات کسی بیرونی مسلط کیے گئے نظریے یا اختیار کی ہو ،ہر ایک کے اپنے احساسات ہوتے ہیں۔ اسی طرح، یہ سمجھنا معقول ہے کہ ارتقا کی قبولیت مسلم مفکرین، خاص طور پر الٰہیات دانوں میں، انہیں اپنے متون پر دوبارہ غور کرنے کی طرف دھکیلتی ہے، اور اسے کسی حد تک 1,400 سالہ قدیم روایت پر ایک بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
قدیم روایات، مذہبی و علمی اختیار ( قدیم یا جدید)، اور روایتی اسلامی بیانیے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے خلاف عمومی شکوک و شبہات ایک مشکل ماحول پیدا کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، جب کچھ افراد ہم آہنگ نظریات پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں اوقات "ترقی پسند"، "تجدید پسند"، "موقع پرست"، اور "جدیدیت پسند" جیسے القابات منفی انداز میں دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، جب اہل مذہب سائنسدانوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ کچھ علمی دائرے سائنس کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، جیسے تخلیق آدم یا پیغمبرانہ معجزات تو اس سے بھی ایک تناؤ پیدا ہوتا ہے کیونکہ سائنسدانوں کے لیے ایسی باتوں کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ سائنس کو ایک طریقہ کار کے طور پر سائنس کے نظریے، یعنی سائنس ازم، سے کیسے الگ کیا جاتا ہے، اور اس کے مختلف رنگ اور اشکال کیاکیا ہیں۔ کیونکہ ایک رائے کا دائرہ کار تصادم سے لے کر ہم آہنگی تک ہو سکتا ہے3۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ارتقا ایک جدید تصور ہے، اور اس لیے انیسویں صدی سے پہلے مسلم مفکرین کے لیے اس پر غور کرنا ممکن نہیں تھا۔ صرف پرانی مثالوں کو بنیاد بنا کر ارتقا کو مکمل طور پر رد کر دینا مناسب نہیں ہے، کیونکہ ماضی کے مسلم علماء کو اس طرح کے سوالات کا سامنا نہیں تھا۔ یہی معاملہ دیگر جدید مسائل جیسے کہ اعضا کی پیوندکاری (organ transplantation)، منجمد حیاتیات (cryogenics)، اور کوانٹم مکینکس (quantum mechanics) کے ساتھ بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو نظریات مستحکم ہو چکے ہیں انہیں معاصر افکارکی روشنی میں رد کر دیا جائے یا نظرانداز کر دیا جائے، بلکہ ایک کھلے ذہن کے ساتھ ان کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ نئے فکری تحدیات کے مقابلے میں یہ نظریات کتنے مضبوط ہیں۔ فطری طور پر، کچھ لوگوں کو یہ فکر لاحق ہو سکتی ہے کہ ایسے جدید افکار کو اپنانا مذہبی نظریات کو کمزور کرنے یا ان کے ساتھ اختلاط کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی نظریات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال ہونے والے، بے ربط اور غیر مستقل فریم ورک میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور شاید وہ پہچانے بھی نہ جا سکیں۔ یہ ایک قابل فہم تشویش ہے جو کسی بھی جدید تحقیق کو اپنے مذہبی روایات کی روشنی میں اپنانے سے پیدا ہوتی ہے۔
اس تشویش کے پیش نظر، اس کتاب میں اختیار کیا گیا طریقہ کار ایک مکالماتی طریقہ ہے۔ میں اسلام اور سائنس دونوں کے درمیان موجود مضبوط مگر لچک دار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گا، انہیں مکالمے کی صورت میں پیش کروں گا، اور وہ امکانات طے کرنے کی کوشش کروں گا جن تک پہنچا جا سکتا ہے، اور انہیں اپنانے کا اختیار اپنے قاری کو دوں گا۔ میرے اس مکالمے کا مقصد اسلام اور ارتقا کے درمیان ہونے والے مباحثے کے دوران پیدا ہونے والی مختلف حساسیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔
مختلف شعبوں کے ماہرین کے اپنے اپنے اصول و نظریات ہوتے ہیں، جن پر وہ سمجھوتا نہیں کر سکتے اور وہ توقع کرتے ہیں کہ دوسرے ان کے نقطہ نظر کو تسلیم کریں اور ان کی قدر کریں۔ سائنسدان بھی دوسروں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس مکالمے میں شامل سائنسی بحثوں کی باریکیوں کو سمجھیں ، اور مسلم مفکرین بھی مابعد الطبیعات اور تعبیرات کی اسی طرح کی قدر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ کشیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فریقین کو غیر اہم بنا دیا جائے اور پہلے سے طے شدہ نتائج تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہم سب کو خوش کر سکتے ہیں، لیکن یہ بہت اہم ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہر شخص کا نقطہ نظر کیا ہے۔

غلط فہمیاں

یہ گفتگو اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ارتقا کے ساتھ مختلف "ازم" منسلک کیے جاتے ہیں۔ ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ارتقا کو مختلف نظریات جیسے کہ الحاد (Atheism)، نظریہ فطرت (Naturalism)، مارکس ازم (Marxism)، کمیون ازم (Communism)، نیہلس ازم (Nihilism)، سرمایہ داری (Capitalism)، فاش زم (Fascism)، نو آبادیاتی نظام (Colonialism)، امپیریلزم (Imperialism)، سیکولرزم (Secularism) اور سائنٹسزم (Scientism) سے منسلک کیا جاتا ہے4۔ ارتقا کو مذکورہ نظریات سے جوڑے جانے کے باعث اس کے بارے میں خالصتاً ایک سائنسی نظریے کے طور پر بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ارتقا کیا ہے؟ اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ارتقا کیا نہیں ہے۔ اگر کوئی ارتقا کو ان منفی مفاہیم سے الگ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے تو یہ اس مشکل کا آدھا حل ہے۔ غیر سائنسی پس منظر رکھنے والے افراد کو ارتقا کی سائنس سمجھانے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ارتقا کے بارے میں عوامی سطح پر بات چیت کرنا سائنسی برادری کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے5۔ یہ خیال کہ انسان بندروں سے ترقی پا گیا ہے، اب بھی عام ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرنا اور ان میں کنفیوژن پیدا کرنا کتنا آسان ہے۔ دوسری صورتوں میں، تعلیمی نظام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں ، کئی مطالعات موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم تعلیمی ماحول میں ارتقا کو منفی، مشکوک یا دشمنی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے، جو مذہبی اور ثقافتی حساسیتوں کی وجہ سے ہے6۔ جبکہ کچھ خامیاں مسائل کے شکار تعلیمی نظام سے منسلک کی جا سکتی ہیں، ایک اور عنصر مشہور مسلم علماء اور مصلحین کے غلط بیانیوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر ذاکر نائیک، جو مسلم دنیا میں مقبول معذرت خواہ مبلغین میں سے ایک ہیں ، اب بھی ارتقا کو "صرف ایک نظریہ" کے طور پر بیان کرتے ہیں، جو کہ اس اصطلاح کے سائنسی مفہوم کے بالکل برعکس ہے۔ مزید برآں، مسلم دنیا میں سخت گیر تخلیق پسندوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ارتقا کو بے فائدہ اور اسے اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہارون یحییٰ، ایک نمایاں مسلم مبلغ ہیں جو تخلیق پسندانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور انہوں نے ارتقا کو ایک ناقص نظریہ کے طور پر ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ ارتقا ایک بے بنیاد بیانیہ ہے جس کا مقصد مذہب کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے درجنوں کتابیں لکھی ہیں جو بعض اوقات امریکی اداروں کے تیار کردہ تخلیقیت پسند مواد کی عین نقل معلوم ہوتی ہیں۔ مجموعی طور پر، ارتقا کے بارے میں غلط مفاہیم اور غلط نمائندگی نے اس پورے مکالمے کو غیر ضروری طور پر مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مشکل تقسیمات

رچرڈ ڈوکنز (Richard Dawkins)، ڈینیل ڈینٹ (Daniel Dennett)، سیم ہیریس (Sam Harris) اور کرسٹوفر ہیچنز (Christopher Hitchens) ،جو نئی ملحدانہ تحریک کے "چارگھڑ سوار" کے طور پر جانا جاتے ہیں ، نے مذہبی اور سائنسی کمیونٹی کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے7۔ یہ لوگ بحث کو متنازع بیانیوں کے ساتھ تقسیم کر دیتے ہیں۔ ان کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ارتقا مذہبی عقائد، خاص طور پر خدا کی عدم موجودگی کا ایک مضبوط دعویٰ پیش کرتا ہے۔یہ وضاحت کرتے ہوئے مذہب کو ایک بے بنیاد نظریہ سمجھا جاتا ہے کہ کیسے ارتقا خدا پر لوگوں کے ایمان کو جینیات (Genes) اور میمز (Memes) کے ذریعے کمزور کرتا ہے ۔ اسی تناظر میں، ڈینٹ ڈارون کے نظریہ ارتقا کو عالمی تیزاب "universal acid" کہتے ہیں، جبکہ ڈوکنز مذہبی خیالات (جیسے خدا پر ایمان) کو وائرس قرار دیتے ہیں۔ دراصل، وہ ایک متضاد انتخاب کو پیش کر رہے ہیں کہ ارتقا صحیح ہے یا مذہب (اس صورت میں اسلام)، لیکن دونوں ایک ہی وقت میں درست نہیں ہو سکتے8۔ وہ مسلمان جو نئے ملحدین کے کاموں سے شدید متاثر ہوتے ہیں، ممکنہ طور پر اس غلط تقسیم کے آگے نہیں دیکھ پاتے۔
اس نکتے سے متعلق کچھ مسلم علما کے فیصلے ہیں جو اسلام اور ارتقا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ نوح میم کیلر ایک معروف معاصر عالم دین ہیں، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانی ارتقا پر یقین رکھنا کفر کے مترادف ہے9۔ ان کے نزدیک اسلام اور انسانی ارتقا بنیادی طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں، اور اسلام کے مقابل کسی نظریہ کو درست سمجھنا کفر ہے۔ وہ اپنے اس موقف کے لیے کئی وجوہات بیان کرتے ہیں، جن پر یہاں بحث ممکن نہیں۔ تفصیلات سے قطع نظر، دیگر مذہبی مفکرین نے نوٹ کیا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری اور سخت اقدام معلوم ہوتا ہے۔ سلمان یونس ، ایک اور معاصر مسلم مفکر ہیں، جو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ارتقا پر یقین رکھنے والے کسی ایسے دیانت دار مسلمان پر کیلر کا اس قدر سخت لیبل لگانا غلط ہے ۔ ان کے مطابق، قرآن کی ارتقائی تشریح زیادہ سے زیادہ ایک غلط تشریح ہو سکتی ہے، لیکن جب تک کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ خدا نے آدم کو پیدا کیا، چاہے وہ ارتقائی بیان کے تحت ہو، اس پر کفر جیسا سخت الزام لگانے کی ضرورت نہیں ہے10۔
واضح رہے کہ اس اختلافِ رائے کا ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ خود علما کے درمیان بھی اسلام اور ارتقا کے مکالمے پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور کفر جیسے فیصلے یا ارتقا کی یکسر تردید اس گفتگو کو غیر ضروری طور پر بڑھاوا دے سکتی ہے، جو جدید ملحدوں کے مفہوم کو مزید تقویت پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس گفتگو میں سخت روی "یا یہ/یا وہ" کی بجائے نرمی لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مکالمے کی شدت کو کم کیا جا سکے۔

جذبات

اسلام اور ارتقاء کی بحث میں عقلی پہلو کے علاوہ بہت سے اخلاقی اور جذباتی پہلو بھی شامل ہیں۔ انسان حیاتیاتی طور پر باقی حیاتیاتی دنیا سے جڑا ہوا ہے تو لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ کم از کم میرے تجربے میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ کوئی ناراضگی میں یہ کہے: "کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں بندر سے بنا ہوں؟" ارتقاء کو سمجھنے میں غلط فہمیوں کے علاوہ، یہ تصور کہ ہمارا جانوروں سے کوئی حیاتیاتی تعلق ہے، ایسا غیر معمولی اور ناقابل فہم خیال ہے کہ بعض اوقات اس نظریے کو محض جذباتی بنیادوں پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اس کی مذہبی جڑیں بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ اسلامی متون میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ پیدا کیا ہے، لیکن اسے کسی کی ثقافت کے مطابق ایک توہین کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور واقعہ ہے جو اس موضوع کی حساسیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ملک کے ایک ادارے میں میری تقرری کے بعد مجھے دیگر نئے اساتذہ کے ساتھ ایک ہفتہ بطور انڈکشن ویک (Induction Week) گزارنا پڑا۔ آپ کو یہ پڑھتے ہوئے حیرانی ہوگی کہ ادارے کے رئیس الاساتذہ نے ہمیں واضح طور پر یہ بتایا کہ ارتقا کے موضوع کو طلبہ کے ساتھ انتہائی احتیاط سے پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہمیں ایک ایسے استاذ کے بارے میں بتایا جس نے کلاس روم میں اس بحث کو چھیڑا جو بعض طلبہ کو ناگوار گزری۔ تین دن کے اندر اندر اس استاذ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے رئیس الاساتذہ نے مزاحیہ انداز میں ہمیں کہا کہ حیاتیات (Biology) پڑھانے والے اساتذہ ارتقا کو "نظریہ تبدیلی" کے عنوان سے پڑھا سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں ارتقا جیسی اصطلاحات سے طلبہ ناراض ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ایک حساس اور بھاری بھر کم اصطلاح ہے، اس لیے طلبہ کے سامنے اس کے استعمال سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
بظاہر یہ واقعات معمولی لگتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سائنسی اور الٰہیاتی سچائیوں کا فیصلہ ہمیں جذباتی تعصبات سے بلند ہو کے کرنا چاہیے۔

کتاب کا تعارف

اس پیچیدہ منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسلام اور ارتقا کے درمیان مکالمے میں چلنا مشکل، گنجلک اور بعض اوقات مخالفانہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، میں یہ تجویز نہیں دینا چاہتا کہ یہ مکالمہ اتنا برا یا ساکت ہے۔ مسلم دنیا میں ارتقا کی پذیرائی بہت متنوع ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس وقت، کہاں، اور کس سے سوال کرتے ہیں۔ آپ کو اس کے مختلف جوابات ملیں گے۔ یہ بحث بلاشبہ ترقی کی جانب گامزن ہے اور ایک منظرنامہ بہت واضح طور پر ابھر رہا ہے۔ کچھ مسلمان ارتقا کو بہت آرام دہ انداز میں دیکھتے ہیں اور اسے اسلام کے ساتھ غیر مزاحم نہیں پاتے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو انہیں دو ناقابل مصالحت حقیقتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بھی کچھ افراد ہیں جن کی آرا مختلف ہیں، جن کا اظہار مختلف شکلوں (مضامین، کتابیں، ویڈیوز، اور کانفرنسز وغیرہ) میں ہوتا رہتا ہے۔
اس کتاب میں موجود مواد اس بڑھتی ہوئی ادبیات میں اپنا حصہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کوشش اس وسیع مفروضے کے ساتھ انجام دی گئی ہے کہ اسلامی روایت کے پاس اسلام اور سائنس جیسے عصری مسائل کے حل کے لیے کچھ نہ کچھ پیش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی چیز اس کتاب کو دیگر تحریروں سے منفرد کرتی ہے۔ میں یہاں "الہیات" سے مراد وہ بنیادی دینی اصول لے رہا ہوں جس میں دو اہم پہلو شامل ہیں: پہلا یہ کہ مابعد الطبیعیاتی اعتبار سے (کیا خدا کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ارتقا کے عمل کو تخلیق کرے؟) اور دوسرا تعبیری پہلو سے (کیا ارتقا کا تصور اسلامی صحیفوں سے متصادم ہے؟)۔ ان دونوں باتوں کو مدنظر رکھ کر ایک مسلمان اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا ارتقاء کا نظریہ اُس کے عقائد سے ٹکراتا ہے یا نہیں۔ یہ پہلی کوشش نہیں ہے جو اسلامی علم الکلام اور ارتقا کے درمیان ربط قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ عبد المعبود کی "Theory of Evolution: Assessment from the Islamic Point of View" اور محمد شہاب الدین ندوی کی کتاب "تخیلق آدم اور نظریہ ارتقا" میں ارتقا کی سائنس اور اس کی تعبیرات کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسلام اور نظریہ ارتقا کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہو سکتی۔ داؤد سلیمان جلاجل David Solomon Jalajel اپنی تحریروں میں مختلف سنی کلامی مکاتب فکر کی گفتگو پر توجہ دیتے ہیں اور ان کے نظریات کا استعمال کرتے ہوئے مابعد الطبیعیاتی (metaphysical) اور تعبیری (hermeneutic) مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ اسلام اور ارتقا کے درمیان کوئی بنیادی تضاد نہیں ہے۔ ان کے مطابق، آدم اور حوا (علیہما السلام) معجزاتی تخلیقات ہیں، مگر اسلامی متون میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے کہ ایسے انسان موجود ہو سکتے ہیں جو ارتقا کا نتیجہ ہوں، چاہے وہ ماضی میں ہوں یا موجودہ دور میں۔ اس لحاظ سے، آدم اور حوا کی نسل ان دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی انسانی نسل تشکیل دے سکتی ہے جس کی ارتقائی تاریخ ہو۔ اس طرح، مسلمان اپنے ایمان کو برقرار رکھتے ہوئے ارتقا کو قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ آدم اور حوا کو اس عمل سے علیحدہ رکھا جائے۔
یاسر قاضی (ایک امریکی عالم دین) نے پچھلی ایک دہائی کے دوران اس موضوع پر اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ حال ہی میں، انہوں نے نذیر خان کے ساتھ اپنے خیالات کو تحریر کیا ہے۔ قاضی بنیادی طور پر اسلامی متون پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور آثاری نقطہ نظر (Atharī perspective) اپناتے ہیں۔ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور انسانوں کی تخلیق کی کہانی کو اسلامی متون میں بیان کردہ صورت میں لیتے ہیں، یعنی یہ مانتے ہیں کہ حضرت آدم کو معجزاتی طور پر تخلیق کیا گیا۔ تاہم، وہ یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ حضرت آدم میں وہ تمام حیاتیاتی خصوصیات موجود تھیں جو ارتقا کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ اس طرح، اگر ہم سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں، جو معجزات کو نظرانداز کرتا ہے، تو ارتقا کے تقاضوں کے مطابق ایک بلا رکاوٹ تسلسل (continuity) پایا جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور ارتقا کے درمیان مفاہمت پوری طرح ممکن ہے۔ اس موضوع پر مزید بحث کتاب کے باب 4 میں کی جائے گی۔
میرے خیال میں اسلامی علم کلام اس بحث میں کچھ بہتر پیش کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میں نے اس موضوع پر سنی نقطہ نظر اپنایا ہے۔ جلاجل کے برعکس، جو تمام سنی مکاتب فکر کا ایک وسیع جائزہ لیتے ہیں، اور یاسر قاضی اور نذیر خان کے برعکس، جو آثاری نقطہ نظر سے بحث کرتے ہیں، میں نے ایک مخصوص "اشعری نقطہ نظر" اختیار کیا ہے۔ یہ نقطہ نظر عموماً "حادثیت" (Occasionalism)، "ذرّیت" (Atomism)، اور "الٰہی احکامات کا نظریہ" (Divine command theory) پر مشتمل ہے۔ یہ نظریات تخلیق کی غیر یقینی نوعیت، خدا کی بے پناہ عظمت، اور اس کی مکمل قدرت پر زور دیتے ہیں11۔
اشعری ازم کو دیگر الٰہیاتی نظریات، جیسے کہ ماتریدی ازم یا دیگر سنی اور غیر سنی نقطہ نظر کی توہین کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ ان نظریات پر مزید تحقیق کی جا سکتی ہے، لیکن یہ دوسرے محققین کا کام ہے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ صرف اشعری نقطہ نظر ہی اسلامی نظریہ ہے یا یہی اپنایا جانا چاہیے۔ اشعری ازم میں بھی کچھ مسائل موجود ہیں، جن پر اس کتاب کے مختلف ابواب میں بات کی گئی ہے۔
میں صرف اشعری مکتب فکر کو ایک مخصوص نقطہ نظر کے طور پر لیتا ہوں اور ارتقا کے مابعد الطبیعیاتی (metaphysical) اور تعبیری (hermeneutic) پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہوں۔ میں یہ سوال بھی اٹھاتا ہوں کہ اگر ارتقا درست ہے، تو اشعری اصولوں کے مطابق اس کا کتنا حصہ الٰہیاتی طور پر قبول کیا جا سکتا ہے؟
کلاسیکی الٰہیاتی نظریات کے تناظر میں ارتقا جیسے موضوع کی تحقیق کرنا ایک اہم کوشش ہے، کیونکہ یہ نظریات آج بھی مسلمانوں کی مذہبی وابستگی اور حقیقت کی تشریح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یقیناً، ان نظریات کے کچھ پہلوؤں کو جدید دور کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن یہ وہ مستند عقائد ہیں جو آج مسلمانوں کے درمیان موجود ہیں اور دنیا کے بڑے تعلیمی اداروں، جیسے الأزہر (مصر)، زیتونہ کالج (امریکہ)، اور کیمبرج مسلم کالج (برطانیہ) میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس لیے ماضی کے نظریات کو اپنانا جو وسطی دور سے جڑے ہیں، آج کے مسلمانوں کے عقیدے کے مسائل کی تحقیق میں ان کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ البتہ، کچھ محققین نے اس نقطہ نظر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی ذہنی ورثے کو مکمل طور پر چھوڑنے یا اس کی قدر کو کم کرنے کے بجائے ایک صحت مند توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور روایات کی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید چیلنجز کا سامنا کیا جائے۔

الغزالی

اشعری مکتب فکر کے اصولوں اور نظریات کو ترقی دینے والے اہم شخصیات میں ابوحسن الاشعری (متوفی 936؛ جو اس مکتب فکر کے بانی ہیں)، ابوبکر الباقلانی (متوفی 1013)، ضیاء الدین الجوینی (متوفی 1085)، ابو حامد الغزالی (متوفی 1111)، فخر الدین الرازی (متوفی 1210)، سیف الدین الآمدی (متوفی 1233)، اور عضد الدین الایجی (متوفی 1355) شامل ہیں۔ تاہم، میں اس کتاب میں ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے بنیادی طور پر ابوحامد الغزالی کے کاموں سے حاصل کردہ خیالات کا استعمال کروں گا ۔ یہ نقطہ نظر اس کتاب کو اسلام اور ارتقا کے سابقہ مطالعوں سے خاص طور پر ممتاز کرتا ہے۔
ابو حامد الغزالی 1058 میں طوس، خراسان (جو آج کل ایران ہے) میں پیدا ہوئے۔ اپنے بچپن ہی سے انہوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور بعد میں اپنے وقت کے مشہور الٰہیاتی اور فقہی عالم ضیاء الدین الجوینی کے شاگرد بن گئے۔ الجوینی کی 1085 میں وفات کے بعد، الغزالی نے ان کی جگہ لے لی اور بغداد کے معروف مدرسہ نظامیہ کے استاد بن گئے۔ اس دوران، انہیں کئی روحانی بحرانوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
الغزالی نے اپنے دور کے مختلف نظریاتی علوم جیسے منطق، فلسفہ، فقہ، اور الٰہیات میں مہارت حاصل کی، لیکن پھر بھی انہیں ایک اندرونی کمی کا احساس رہا۔ 1095 میں، انہوں نے مدرسہ نظامیہ سے طویل وقفہ لیا اور روحانی خلوت کے مراحل میں داخل ہوئے، حالانکہ مکمل طور پر نہیں، کیونکہ ان کے پاس سماجی ، خاندانی، اور تدریسی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ آخرکار، انہوں نے اپنی زندگی کو زہد کی طرف مائل کر لیا اور 1111 میں وفات پائی۔
وہ ایک ماہر مفکر تھے اور منطق، فقہ، کلامی الٰہیات، اور تصوف جیسے مختلف موضوعات پر کئی کتابیں لکھیں۔ چونکہ یہ کتاب ایک الٰہیاتی کوشش ہے، میں ان کے خیالات کو اپنی کتاب میں کلامی الٰہیات کے حوالے سے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ الغزالی کو اس کام کے لیے منتخب کرنے کی وجوہات کا ذکر میرے نزدیک یہاں ضروری ہے:
  • الغزالی مسلم تاریخ کے معزز علماء میں سے ایک ہیں، جنہیں "حجۃ الاسلام" کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کے کام آج بھی مسلم مدارس اور علمی حلقوں میں انتہائی اہم ہیں۔ اگر ہم ثابت کر سکیں کہ ان کے نظریات کی روشنی میں ارتقا کو بغیر کسی الٰہیاتی عقیدے پر اثر ڈالے قبول کیا جا سکتا ہے (اگرچہ کچھ وضاحتوں کے ساتھ)، تو یہ اسلام اور ارتقا کے درمیان منفی تاثرات کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔
  • الغزالی کا ایک واضح مابعد الطبیعیاتی نظام ہے جو ان کے تعبیری اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے نظریات ایک مربوط اور مستقل ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، خاص طور پر جب ہم ارتقا سے متعلق خدشات کا تجزیہ کرتے ہیں۔
  • الغزالی کی کئی اہم کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ان کے خیالات پر وسیع ثانوی ادب بھی موجود ہے۔ اس لیے نئے قارئین آسانی سے ان کے خیالات پر بحث کرنے والے مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
الغزالی کو اس منصوبے کے لیے منتخب کرنے کا مقصد دوسرے اشعری علما کی علمیت کو کم کرنا نہیں ہے۔ دیگر اشعری علما کی کتابیں بھی اس منصوبے میں شامل کی جا سکتی ہیں، لیکن میں نے الغزالی کا انتخاب ان کی بعض خصوصیات کی وجہ سے کیا ہے۔ میں الغزالی کے نظریات کو سختی سے اپنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میں انہیں جدید ترقیات کے ساتھ ملانے کی کوشش کروں گا، حالانکہ انہوں نے شاید کبھی ان کا استعمال نہیں کیا۔ یہ کام الغزالی کے خیالات کی ایک جدید شکل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور میں اس کا فیصلہ قاری پر چھوڑتا ہوں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اگر الغزالی آج زندہ ہوتے تو وہ ارتقا کے بارے میں کیا سوچتے، اور میں یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب ان کے اپنے علمی کام کا نتیجہ ہے۔ یہ ضروری ہے کہ الغزالی کے مابعد الطبیعیاتی نظریات پر موجودہ مباحث کو سمجھا جائے۔ کچھ محققین کہتے ہیں کہ وہ اتنے اشعری نہیں تھے جتنا کہ انہیں سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیگر ان کے مخصوص طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ میں اس بحث کی پیچیدگیوں کو تسلیم کرتا ہوں اور محققین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اپنے دلائل پیش کریں۔ اس مطالعے میں، میں الغزالی کی کلاسیکی تشریح کو ایک اشعری مفکر کے طور پر فرض کر رہا ہوں، حالانکہ دیگر تشریحات بھی قابل قبول ہیں۔
میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ جن کاموں کا میں جائزہ لوں گا وہ ایک مخصوص علمی ماحول میں تحریر کیے گئے تھے۔ میں ان کا تاریخی تناظر میں جائزہ نہیں لوں گا، سوائے اس کے کہ چند مواقع پر وضاحت کے لیے ایسا ہوگا۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ میں ان نظریات کی شناخت کروں جو انہوں نے پیش کیے ہیں، اور انہیں اسلام اور ارتقا پر ایک جدید بحث کے لیے استعمال کروں۔

کتاب کا خاکہ

یہ کتاب چار حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔

حصہ 1 – سیاق و سباق کا تعین (دو ابواب)

باب اول میں ارتقاء پر سائنسی نقطہ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ارتقاء کے سائنسی اصولوں کا جائزہ، اس کی حمایت کرنے والے شواہد، اور ایک مختصر تاریخی جائزہ شامل ہیں۔ اس میں کچھ اعتراضات بھی شامل کیے گئے ہیں جو ارتقا کے خلاف عموماً اٹھائے جاتے ہیں، جن سے یہ بحث بلا ضرورت پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ باب دوم میں ارتقا کے بارے میں عیسائی جوابات پر توجہ دی گئی ہے۔ اس میں نوجوان زمین کی تخلیق (Young-Earth Creationism)، قدیم زمین کی تخلیق (Old-Earth Creationism)، ذہین ڈیزائن (Intelligent Design)، اور الہی ارتقا (Theistic Evolution) کے موقف کا احاطہ کیا گیا ہے*۔ یہ باب ان مختلف مقامات کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے؛ ان میں سے کچھ وجوہات اسلامی روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی جبکہ کچھ میں کوئی مماثلت نہیں ہوگی۔ اسی پس منظر میں کتاب کے دوسرے حصہ میں ارتقا پر مسلم نقطہ نظر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

حصہ 2 – ارتقاء پر اسلامی نقطہ نظر (تین ابواب)

باب سوم میں انسانی پیدائش کی اسلامی کہانی سے متعلق تمام قرآنی آیات اور احادیث کا مطالعہ کیا گیا ہے، جس میں تبصرہ کم سے کم شامل کیا گیا ہے تاکہ بعد کے ابواب کے لیے ایک جائزہ فراہم کیا جا سکے۔ یہ باب چوتھے باب کے لیے متنی پس منظر اور اس کی تعبیری بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
باب چہارم میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان ارتقا کو کس طرح قبول کرتے ہیں، اسے مسترد کرتے ہیں، یا اپنے موقف میں لچکدار رہتے ہیں۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک ہی گروہ میں موجود مفکرین کیسے ملتے جلتے نتائج پر پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ان کے موقف کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کی مختلف حیثیتوں کو درج ذیل طریقوں سے مرتب کیا گیا ہے:
  1. تخلیق پرستی – سب کچھ فوری طور پر خدا کی طرف سے تخلیق کیا گیا ہے (ارتقا کی مکمل تردید)؛
  2. انسانی خصوصیت – سب کچھ ارتقا کے عمل کے ذریعے تخلیق کیا گیا سوائے انسانوں کے؛
  3. آدمی کی خصوصیت – سب کچھ ارتقا کے عمل کے ذریعے تخلیق کیا گیا سوائے آدم (اور حوا) کے؛
  4. کوئی استثنا نہیں – سب کچھ ارتقا کے عمل کے ذریعے تخلیق کیا گیا۔
باب پنجم مختلف معاصر مصنفین کا جائزہ پیش کرتا ہے جو ارتقا کو تاریخی متون پر پڑھتے ہیں، جنہیں قرون وسطی کے مسلم مفکرین نے لکھا تھا۔ یہ واضح کیا جائے گا کہ یہ پڑھائی غلط ہے، کیونکہ یہ مخصوص پیراگراف کو ان کے موضوعاتی اور تاریخی تناظر سے علیحدہ کر کے سمجھی گئی ہے۔ یہ بحث کی گئی ہے کہ ان کے کاموں کو وجود کی عظیم زنجیر کے تناظر سے ترتیب دیا گیا نہ کہ ارتقا کے۔

حصہ 3 – مابعد الطبیعیاتی غور و فکر (تین ابواب)

باب ششم میں اشعری نقطہ نظر کا مابعد الطبیعیاتی فریم ورک پیش کیا گیا ہے، جیسا کہ الغزالی نے بیان کیا ہے۔ اشعری فریم ورک کا موازنہ سائنس اور مذہب میں ایک حالیہ ترقی، جسے الہی عمل منصوبہ (DAP) کہا جاتا ہے، سے کیا گیا ہے۔ یہ اشعریت اور DAP کے فریم ورک کے مابین فرق کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔ اس کے بعد، طبیعیات، موقع، اور عدم کارکردگی (ضائع کرنے والے عمل) کے مسئلے پر نظر ڈالی گئی ہے جو ارتقا کے تناظر میں ہے۔ یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خیال اشعری نظریے کے دائرے میں مسائل پیدا نہیں کرتا۔ مزید برآں، یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ الغزالی کا فریم ورک تخلیق پرستی، انسانی خصوصیت، آدمی کی خصوصیت، اور کوئی استثنا نہیں کے ساتھ مابعد الطبیعیاتی طور پر ہم آہنگ ہے۔ باب ہفتم میں ذہین ڈیزائن (ID) کے کیمپ میں پیش کیے جانے والے ڈیزائن کے دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ارتقا کے حوالے سے ہیں۔ اشعری نقطہ نظر کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ چاہے حیاتیاتی جاندار یا حقیقت میں پوری کائنات واضح ڈیزائن دکھائے، یہ ایک ثانوی بحث ہے۔ اشعری نظریے میں اہمیت ممکنہ طور پر ہے، جو کسی بھی قسم کے وجود کی حمایت کر سکتی ہے، چاہے وہ ڈیزائن کیا گیا ہو، پیچیدہ، سادہ، یا بلا ترتیب ہو۔ لہذا، ارتقا کے متبادل کے طور پر ID کے لیے خود کو وقف کرنا کیونکہ یہ زیادہ "خدا دوست" معلوم ہوتا ہے، اشعری نظریے میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔ باب ہشتم ارتقا کے تناظر میں اخلاقیات کے سوال پر بات کرتا ہے۔ یہ باب دکھاتا ہے کہ الغزالی کے نزدیک اخلاقیات فطری نہیں ہیں، یعنی انسانوں کے کوئی مستقل اخلاقی کوڈ نہیں ہے، بلکہ یہ سماجی طور پر جذب شدہ عادات ہیں۔ مزید برآں، الغزالی الٰہی حکم کے نظریے کو اپناتے ہیں، جو اس خیال پر مبنی ہے کہ صرف خدا کا حکم ہی یہ طے کرتا ہے کہ کیا اخلاقی طور پر اچھا ہے اور کیا برا۔ ارتقا کے تناظر میں اخلاقیات سے متعلق مسائل کے پیش نظر، میں یہ ثابت کرتا ہوں کہ الغزالی کے خیالات اخلاقیات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

حصہ 4 – تعبیری غور و فکر (دو ابواب)

باب نو میں الغزالی کے تعبیری فریم ورک کا تعارف دیا گیا ہے۔ اس میں عقل اور وحی کے درمیان توازن، سائنس اور مقدس متون کے درمیان تعلق، حرفی اور مجازی تعبیر میں تفریق کرنے کا طریقہ، اور احادیث پر بحث شامل ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ الغزالی کا تعبیری ڈھانچہ اس کے مابعد الطبیعیاتی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے، جس میں معجزات کا وقوع ممکن ہے۔ یہ باب چوتھے باب میں سامنے آنے والے مسلم نقطہ نظر کا جائزہ لینے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے۔ باب دس میں یہ جانچ پڑتال کی گئی ہے کہ الغزالی کے تعبیری فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے، ارتقا کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل پیش کرنے کی کوششیں کس طرح کی گئی ہیں۔ نتیجہ یہ اخذ کیا گیا ہے کہ الغزالی کا تعبیری فریم ورک تخلیق پرستی، انسانی خصوصیت، اور آدم کی خصوصیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی استثنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الغزالی کی تفہیم کے مطابق، آدم کی تخلیق کو معجزاتی طور پر دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن الغزالی اپنے مابعد الطبیعیاتی اور تعبیری نظریے کی بنا پر یہ قبول کرنے میں کوئی مشکل نہیں محسوس کریں گے کہ آدم کو معجزاتی طور پر تخلیق کیا گیا12۔
یہ کتاب ایک سفر کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد اسلام اور ارتقا کے پیچیدہ اور حساس موضوعات کی کھوج کرنا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے، میں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ میں اس بحث کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں ابتدائی طور پر کافی نا تجربہ کار تھا۔ اس سفر کے دوران میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے مختلف تخصصات جیسے علم الکلام، فلسفہ، سائنس، اور دینی مدارس کے پس منظر رکھنے والے کئی اہل علم سے ملنے اور ان کے خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملا ہے، جنہوں نے اس اہم گفتگو کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں میری مدد کی ہے۔ میں نے مسلمانوں کے سوالات اور خدشات کو سننے کی کوشش کی ہے جو ارتقا کو سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں یا اسے اسلام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔
ابتدائی طور پر، میں "کوئی استثنا نہیں" کے نظریے کی حمایت کرتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ میری رائے میں تبدیلی آئی ہے، اور اب مجھے یقین ہے کہ "آدمی کی خصوصیت" (Adamic exceptionalism) وہ بہترین نقطہ نظر ہے جسے سائنسی طریقہ کار اور الغزالی کے اشعری فریم ورک کی روشنی میں اپنایا جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلی میری فکری ترقی کی عکاسی کرتی ہے، اور اسی طرح یہ کتاب بھی میرے خیالات کی ترقی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے نظریات کو دوبارہ جانچا اور ان کے مطابق اپنے نقطہ نظر کو ترتیب دیا۔


حاشیہ

*   نوجوان زمین کی تخلیق (Young-Earth Creationism): یہ نظریہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ زمین اور کائنات کی عمر تقریباً 6,000 سے 10,000 سال ہے، جیسا کہ بائبل کی تعلیمات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے پیروکار عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام زندگی خدا کی براہ راست تخلیق ہے، اور وہ ارتقا کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ قدیم زمین کی تخلیق (Old-Earth Creationism): یہ نظریہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ زمین کی عمر لاکھوں یا اربوں سال ہے، جیسا کہ سائنسی شواہد میں دیکھا گیا ہے۔ تاہم، اس نظریے کے پیروکار بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا نے زندگی کی تخلیق میں براہ راست مداخلت کی، اور وہ ارتقا کی کچھ شکلوں کو قبول کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ خدا کی تخلیق کی حیثیت کو برقرار رکھتے ہیں۔ ذہین تخلیق (Intelligent Design): یہ نظریہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کچھ پہلوؤں میں زندگی کی پیچیدگی اتنی زیادہ ہے کہ یہ صرف قدرتی انتخاب کے ذریعے نہیں بن سکتی۔ اس میں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ کسی ذہین تخلیق کار کی مداخلت موجود ہے، لیکن یہ نظریہ خدا کے وجود کا براہ راست ذکر نہیں کرتا۔ الٰہی ارتقا (Theistic Evolution): یہ نظریہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا نے کائنات اور زندگی کی تخلیق کے عمل کو ارتقائی طریقوں کے ذریعے انجام دیا۔ اس کے مطابق، ارتقا اور مذہبی عقائد آپس میں متصادم نہیں ہیں، اور خدا کی رہنمائی کے تحت زندگی کا ارتقاء ہوا۔
یہ نظریات مختلف طریقوں سے ارتقا کے بارے میں عیسائیوں کے خیالات کی عکاسی کرتے ہیں اور ہر ایک کے پیچھے مخصوص دلائل اور عقائد موجود ہیں۔ مزید تفصیل متعلقہ ابواب میں دیکھیں یا اس کتاب کا مطالعہ کریں (مترجم):
"Four Views on Creation, Evolution, and Intelligent Design"
Editors: Zondervan 


حوالہ جات

(1) Mabud, Shaikh Abdul. 1992. Theory of Evolution: Assessment from the Islamic Point of View. Cambridge: Islamic Academy.
(2) Tayob, Abdulkader. 2009. Religion in Modern Islamic Discourse. London: Hurst and Company.
(3) Porter, Andrew P. 2001. By the Waters of Naturalism: Theology Perplexed Among the Sciences. Eugene, OR: Wipf and Stock Publishers.
(4) ندوی، محمد شہاب الدین۔ 1998۔ تخلیق آدم اور نظریہ ارتقا۔ بنگلور، انڈیا: فرقانیہ اکیڈمی ٹرسٹ۔
(5) Jones, Leslie S, and Michael J Reiss, eds.2009. Teaching About Scientific Origins: Taking Account of Creationism. New York, NY: Peter Lang.
(6) Mansour, Nasser. 2011. Science Teachers’ Views of Science and Religion vs. the Islamic Perspective: Conflicting or Compatible? Science Education, 95(2): 281–309.
(7) Elsdon-Baker, Fern. 2009. Selfish Genius: How Richard Dawkins Rewrote Darwin’s Legacy. London: Icon Books.
(8) Malik, Shoaib Ahmed. 2018. Atheism and Islam: A Contemporary Discourse. Abu Dhabi: Kalam and Research Media.
(9) Keller, Nuh Ha Mim. 2011. Sea Without Shore: A Manual of the Sufi Path. Amman: Sunna Books.
(10) Younas, Salman. 2017. “Am I a Disbeliever by Believing in Evolution?” Accessed 5th of October 2024. Available at: https://seekersguidance.org/answers/islamic-belief/am-i-a-disbeliever-by-believing-in-evolution/
(11) Qadhi, Yasir, and Nazir Khan. 2018. “Human Origins: Theological Conclusions and Empirical Limitations.” Yaqeen Institute. Accessed 5th of October 2024. Available at: https://yaqeeninstitute.org/nazir-khan/human-origins-theologicalconclusions-and-empirical-limitations/
(12) Watt, Montgomery. 1963. Muslim Intellectual: A Study of al-Ghazali. Edinburgh: The Edinburgh University Press.

’’قرآنی معاہدات: اللہ اور انسانوں کے تعلق کے قانونی زاویے‘‘

محمد اسرار مدنی

استاد محترم احمر بلال صوفی صاحب سے پہلی ملاقات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد کے ایک وقیع کورس ’نیشنل سکیورٹی ورکشاپ‘ کے دوران ہوئی۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور پاکستان کو اس ضمن میں درپیش مسائل پر انتہائی عالمانہ گفتگو کی۔ اُس وقت میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں بطور رفیق و نگران شعبہ مؤتمر المصنفین مصروفِ عمل تھا۔ صوفی صاحب کی بین الاقوامی قانون پر گفتگو نے بے حد متاثر کیا، اور کئی اہم امور پر ازسرِنو سوچنے پر مجبور کیا۔ تب راقم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ علما اور دینی مدارس کے اساتذہ و مفتیان کرام کی تربیتی ورکشاپس میں صوفی صاحب کو دعوت دیں گے تاکہ وہ مجھ سمیت دیگر طلبہ کو بین الاقوامی قانون سے روشناس کریں۔
احمر بلال صوفی، جنوبی ایشیا کے معروف بین الاقوامی وکیل اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون ہیں۔ وہ اِس وقت پیرس کی ’بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی‘ کے رکن ہیں۔ عالمی عدالتِ انصاف اور دیگر بین الاقوامی عدالتی فورمز میں نمائندگی کر چکے ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں کئی سال بین الاقوامی قانون پڑھاتے رہے ہیں، اور دنیا بھر میں اس پر لیکچرز دیے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے امور پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ان سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک معروف تھنک ٹینک ’ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء‘ (RSIL) کی بنیاد رکھی، جو بین الاقوامی قانون کو سمجھنے کی ضرورت کے حوالے سے کام کرتا ہے۔
انٹرنیشل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مختلف تربیتی ورکشاپس میں صوفی صاحب voluntarily اپنا قیمتی وقت نکال کر تشریف لاتے رہے ہیں۔ ان کے مختلف سیشنز سے جید علماء کرام نے بھر پور استفادہ کیا۔ انہوں نے ایک پروگرام میں بین الاقوامی قانون سے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:
’’آج سے 35 سال پہلے جب میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویٹ ہوا تھا، تو میرا پہلا ارادہ ایل ایل بی کرنے کا تھا۔ میرے والدین دونوں ڈاکٹر تھے۔ والد صاحب ہری پور سے تھے اور والدہ دلّی سے تھیں۔ ان کی شادی کوئٹہ میں ہوئی تھی اور میں لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ میری ابتداء سے ہی قانون میں دلچسپی تھی اور میں نے سوچا تھا کہ میں صرف وکالت ہی کروں گا۔ اس لیے میں نے دیگر شعبوں میں بہت سے مواقع ترک کر دیے، جیسے سی ایس ایس، بینک کی ملازمت، وغیرہ۔ میرا ہدف صرف یہ تھا کہ میں وکیل بنوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں بچپن میں قائد اعظم کی ایک تصویر سے متاثر ہو گیا تھا۔ میں نے ان کی ایک تصویر دیکھی تھی جس میں وہ ایک وجیہ اور پُروقار لباس پہنے ہوئے اپنی لائبریری میں کھڑے ہیں۔ یہ تصویر مجھے بہت متاثر کن لگی۔ قائد اعظم کی شخصیت میں ایک خاص وقار اور عظمت تھی۔ مجھے لگا کہ یہ وقار اور عظمت ان کے پیشے سے وابستہ ہے۔ میں نے فورً‌ا ارادہ کیا کہ میں ان جیسا وکیل بنوں گا۔ لیکن پھر مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ یہ پیشہ اتنا لچکدار ہے کہ اگر آپ اپنا ماڈل اور اپنی اقدار درست رکھیں تو آپ نہ صرف اس پیشے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، بلکہ اس میں آپ اپنے معاشرے، اپنے ملک اور اپنے مذہب کے لیے اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے بین الاقوامی قانون کا شوق بھی تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ بین الاقوامی قانون کی سمجھ سے بہت سی چیزیں بہتر کی جا سکتی ہیں۔ میں نے اپنے ملک، معاشرے کے لوگوں، پیشہ ور دوستوں کی بہت سی چیزوں میں رہنمائی کی۔ میں نے اکثر دیکھا کہ جب لوگ پاکستان کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو وہ جذباتی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ کیمبرج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے میں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے کیا مسائل ہیں اور سب سے بنیادی مسائل کیا ہیں۔ کیونکہ بین الاقوامی قانون (international law) کا تعلق حکومت سے نہیں ہے کہ کون ملک کے اندر اقتدار میں ہے اور کون صوبے میں اقتدار میں ہے۔ اس لیے کہ بین الاقوامی قانون کا سارا تعلق ریاست کے مخصوص مسائل سے ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے بہت سے طبقات میں غلط فہمیاں یا کنفیوژن نظر آتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین پاکستان کے لیے کیسے کس طرح معاون ہیں اور کس طرح ان سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے، یہ سمجھنے کی ضرورت ہے1۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے صوفی صاحب بیمار ہوئے اور علاج معالجے کے دوران تنہائی میں چلے گئے۔ انہوں نے کئی سال پر محیط بین الاقوامی قانون کے وسیع تر تجربے کے تناظر میں قرآن حکیم کا مطالعہ کیا۔ ان پر قرآن حکیم کا قانونی فریم ورک کھلتا گیا۔ قلم اُٹھایا اور سلسلہ وار لکھنا شروع کیا، اور انگریزی زبان میں ایک منفرد کتابچہ Qur'anic Covenants: An Introduction (قرآنی معاہدات: ایک تعارف) کے نام سے مکمل کر کے شائع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ QCRC (The Quran Covenant Research Center) کے نام سے اپنے دفتر میں ایک ذیلی ادارہ بھی قائم کیا۔ صوفی صاحب اس تحقیق کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
’’مسلم تاریخ میں قرآن کریم سے متعلق لکھا گیا زیادہ تر لٹریچر مقاصدِ شریعت، آزادی، اصولِ فقہ اور احکام و مسائل کے گرد گھومتا ہے۔ تاہم، قرآن کے حوالے سے معاہدہ (Covenant) کے پہلو پر اتنا کام نہیں ہوا ہے، جس میں یہ عنصر نمایاں ہو کہ یہ کتاب، اللہ اور انفرادی و اجتماعی سطح پر لوگوں کے درمیان ایک عہد یا معاہدہ کا فریم ورک بھی ہے۔ اس کمی کی کچھ سکالرز نے نشاندہی کی ہے۔ زیر نظر مقالہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے اور بتاتا ہے کہ معاہداتی فریم ورک قرآن کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کے گرد ضمنی ہدایات، قوانین، نصیحتیں، احتیاطی تدابیر، یقین دہانیاں اور تنبیہات ملتی ہیں۔ یہ مطالعہ قرآن کے پیغام کو منفرد انداز میں سمجھانے کی کوشش بھی ہے، کیونکہ اس کے وسیع تر سماجی، ثقافتی اور قانونی اثرات ہیں۔ مثال کے طور پر، قرآن کے معاہداتی پہلو پر غور کرنا اسلامی معاشروں کے لیے ایک نیا زاویہ پیش کر سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر پالیسی سازی اور قانونی عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس طرح، یہ تحقیق علمی دائرے میں اہم ہے اور حقیقی دنیا اور اس کے مسائل کے متعلق ہے۔ مزید برآں، یہ مقالہ خاص طور پر قرآن کے اندر موجود مختلف معاہدوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ قرآنی اسلوب کی ساخت، اصطلاحات اور الفاظ کا تجزیہ کرتے ہوئے، یہ مقالہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان تعلق کی متعدد جہات کی نشاندہی کرتا ہے2۔‘‘
جب انہوں نے اس منفرد تحقیق کے بارے میں بریفنگ دی تو راقم نے وعدہ کیا کہ اس کا اُردو ترجمہ اور اشاعت ہمارا ادارہ کرے گا۔ گزشتہ تین ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد تحقیقات کی ادارتی ٹیم کے لائق و فاضل رکن جناب شفیق منصور نے اس ترجمے کو انتہائی عمدگی کے ساتھ مکمل کیا۔ نیز صوفی صاحب کی ٹیم کے تین لائق و فائق نوجوان سکالرز جناب سفیان بن منیر، جناب عاطف صدیق، اور جناب حنظلہ منصور کا بھر پور تعاون رہا۔ اس کتاب کے ترجمے میں کئی مسائل درپیش تھے۔ خصوصاً‌ قانون کے متعلق اصطلاحات کی تعبیر و تشریح ایک پیچیدہ مسئلہ تھا، جس میں صوفی صاحب نے بذاتِ خود رہنمائی فرمائی۔ ہمارے لیے یہ اطمینان کی بات تھی کہ ملک کے جید اساطینِ علم نے انگریزی ایڈیشن پر نظرِ ثانی کی جس میں کئی ممتاز نام حسبِ ذیل ہیں:
ڈاکٹر قبلہ ایاز (سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل)، 
ڈاکٹر خالد مسعود (شریعہ اپیلٹ بینچ، سپریم کورٹ)، 
ڈاکٹر محمد منیر (سابق ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی، بیین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)، 
شیخ اسماعیل موسیٰ (مفتی جنوبی افریقا)، 
ڈاکٹر محسن نقوی (سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل)، 
ڈاکٹر محمد مشتاق (سابق ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)، 
پروفیسر عمران احسن نیازی (پروفیسر آف لاء، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)، 
ڈاکٹر سید عاطر رضوی (سربراہ شعبہ قانون، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور)، 
سید معاذ شاہ (ضیاء الدین یونیورسٹی)، 
مولانا راشد الحق سمیع (مدیر اعلیٰ ماہنامہ الحق، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک)، 
ڈاکٹر ضیاء الحق صاحب (ڈی جی ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد) 
میرے خیال میں قرآن مجید کا یہ منفرد اور تحقیقی پہلو اہلِ علم پر قرض تھا جسے ہمارے احمر بلال صوفی صاحب نے چکایا ہے۔ اگر مسلم سماج میں قرآن مجید کے اس خاص پہلو کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تربیتی نظام وضع کیا جائے تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ مسلم معاشروں سے لاقانونیت کا خاتمہ ہو گا، عام لوگ خود کو خدا کے زیادہ قریب محسوس کریں گے، معاہدوں کی اہمیت کو سمجھا جائے گا، اور مجموعی طور انسان کے مذہب کے ساتھ تعلق کا ایک آسان اور عام فہم تناظر سامنے آئے گا۔
’’قرآن مجید کی آیات کا ایک قانونی پس منظر بھی ہے۔ یہ قانونی پس منظر صرف ان امور سے متعلق نہیں ہے جو ریاستی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ قرآن مجید کی چھ ہزار سے زائد آیات میں سے، صرف ایک سو آیات عبادات وغیرہ جیسے نماز، روزہ اور حج سے متعلق ہیں۔ ستر آیات پرسنل لاء کو موضوع بناتی ہیں۔ سول لاء کے معاملات پر بھی تقریباً‌ اتنی ہی آیات ہیں، تیس آیات تعزیرات کے قوانین پر مشتمل ہیں، اور بیس آیات عدلیہ کے معاملات اور گواہی سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً میں آیات انصاف کے انتظام سے متعلق ہیں۔ بعض علماء ان کو مختلف انداز میں شمار کرتے ہیں۔ گویا پانچ سو سے کم شرعی احکامات سے متعلق ہیں۔ تو پھر سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ تقریباً‌ چھ ہزار آیات کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ یہ تحقیق ہمیں باور کرواتی ہے کہ ان میں سے بیشتر آیات اللہ اور انسان کے مابین عہد اور معاہدے کی بابت ہیں۔ اس لیے بہت کم آیات ایسی ہیں جنہیں حکومتی سطح پر صرف اس وقت نافذ کرنا ہوتا ہے جب اسلامی حکومت برسراقتدار آئے۔ تو پھر، قرآن کی بقیہ آیات کی قانونی نوعیت کیا ہے؟ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر آیات اللہ اور انسانوں، یعنی بشمول مسلمان اور غیر مسلموں، کے درمیان عہد اور معاہدے کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں3۔‘‘
جب بھی اسلامی تناظر میں معاہدات کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر ہمارے یہاں رسول اللہ ﷺ کے مختلف قبائل و طبقات کے ساتھ اپنی زندگی میں کیے گئے معاہدات کا ذکر ہوتا ہے، پھر اس میں بھی زیادہ تر جو پہلو نمایاں ہوتا ہے وہ تعلقاتِ عامہ اور بالخصوص مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلق کا پس منظر ہوتا ہے۔ اسی طرح، قرآن کریم میں بھی معاہدات کی بابت بحث کی جہت تقریباً یہی ہوتی ہے اور چند ایسے معاہدات کی تفسیر پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے جو اپنے متن میں صراحتاً اسی موضوع کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ 
اس کتاب کے مصنف جناب احمر بلال صوفی صاحب نے قرآن کریم میں معاہدات کا ایک ایسا منفرد پہلو پیش کیا ہے جس کی جانب بہت کم اہلِ علم کی توجہ گئی ہے۔ انہوں نے اس میں واضح کیا ہے کہ معاہدہ (Covenant) بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اور جس طرح تمام انسانیت، اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ تعلق باللہ یا دائرہِ اسلام میں داخل ہونے یا نہ ہونے کے جو اصول و ضوابط، وعدے وعیدیں، یا فوائد و نقصانات بیان کیے گئے ہیں، یہ اسلوب واضح طور پر معاہداتی لہجہ و پس منظر رکھتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے کلامِ الٰہی کا ایک نیا زاویہ سامنے آتا ہے اور ہر انسان انفرادی طور پہ خود کو اللہ تعالی کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔ اسے خالقِ کائنات کا خطاب ماورائی اور بلاغت میں اعجاز کے رتبے پر فائز ہونے کے باوجود بہت عام فہم لگتا ہے۔
دینی لٹریچر سے ایک گہرا ربط ہونے کے سبب اس طرح کے موضوعات دل کے قریب رہے ہیں اور ہمیشہ یہ شوق رہا ہے کہ مذہب اور مذہبی متون کی وہ تعبیرات لوگوں کے سامنے آسکیں جنہیں پڑھ کر ایک عام آدمی دین کے زیادہ قریب ہو، اسے مذہب یا مذہبی شعائر و احکام آسان اور سمجھ میں آنے والے محسوس ہوں۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ حائل ہے۔ اسی لیے جب پہلی بار اس کتاب کا انگریزی نسخہ پڑھا تو روحانی طور پہ بہت تسکین کا احساس ہوا۔ کلامِ الٰہی کا یہ رخ مذہب کے بارے میں ایک مسلمان کے فہم کو کلی طور پر پلٹ دیتا ہے اور دین کی تصویر پیچیدہ نظر آنے کی بجائے، بڑی شفاف اور دوٹوک محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
اس کتاب کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اندازِ بیان بہت سیدھا سادہ ہے، لہٰذا یہ صرف اہلِ علم کے حلقے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہر وہ مسلمان جو خواندہ ہو اور مذہب سے تھوڑا بہت بھی ربط رکھتا ہو، وہ اسے آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ 
کتاب کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، دل چاہتا ہے کہ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اہلِ مدارس اگر اس طرف توجہ دیں، اسی طرح جدید تعلیمی اداروں کے مذہبی نصاب میں بھی اسے شامل کیا جائے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہو گی۔ اس میں نہ تو کوئی مسلکی چھاپ ہے اور نہ ہی اس میں دقیق مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ صرف ایک انسان کے خدائے تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو واضح اور مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ یہ نوجوانوں کو روحانی طور پر مذہب کے قریب کرے گی۔

حواشی

1- فیلوشپ ورکشاپ، زیر اہتمام انٹر نیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور “ ۔ (2023ء)
2- Qur'anic Covenants: An Introduction - Ahmer Bilal Soofi
3- .ibid

’’جنوبی ایشیا کے فقہی و اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ‘‘

ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبركاتہ۔ 
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ نے ’’جنوبی ایشیا کے فقہی و اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ‘‘ کے موضوع پر ایک مختصر مگر جامع تحریر لکھ کر فقہ اسلامی کے طلبہ پر بڑا احسان فرمایا، خاص طور پر ان طلبہ پر جو مختلف جامعات میں بحث و تحقیق میں مصروف ہیں۔ عام طور پر طلبہ کو تحقیقی مقالات کے لیے موضوع کی تلاش ہوتی ہے، آپ کا مضمون پڑھ کر انہیں بہت سے موضوعات کی طرف رہنمائی مل جائے گی۔ ہمارے دینی مدارس کے طلبہ جو فقہ اسلامی یا افتاء میں تخصص کرتے ہیں وہ بھی رہنمائی حاصل کر کے مزید علمی کام کر سکتے ہیں۔
برصغیر میں بیسویں صدی کے اوائل میں مولانا اشرف علی تھانوی کا فقہی کنٹریبیوشن شاید سب سے زیادہ ہے۔ ان کے کام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اجتماعی اور مشاورتی تحقیق پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ احکام القرآن کی تدوین کے لیے علماء کی کمیٹی نے تقسیمِ ہند سے بہت پہلے کام شروع کر دیا تھا اور مولانا ظفر احمد عثمانی مرحوم کا کام شائع بھی ہو گیا تھا، اعلاء السنن جیسا عظیم الشان کام بھی تکمیل کو پہنچ گیا تھا، فتاویٰ امدادیہ کے علاوہ اور بہت سے فقہی موضوعات پر رسائل تحریر فرمائے۔ شائد سب سے اہم رسالہ، "الحیلۃ الناجزۃ للحليلۃ العاجزۃ" ہے۔ 
آپ کی تحریر نے بحث و تحقیق کے میدان میں کام کرنے والوں کو مزید کام کرنے اور غور فکر کرنے کا موقعہ فراہم کر دیا ہے، اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں اور ہم جیسے طلبہ کے استفادہ کے لیے آپ کی عمر اور صحت میں برکت عطاء فرمائے آمین۔


’’مہر نستعلیق ویب فونٹ‘‘

محمد ذیشان نصر

اردو ویب سائیٹس اور موبائل ایپس کے لیے اب تک کا سب سے موزوں فونٹ، جسے معروف خطاط جناب نصر اللہ مہر اور ان کے صاحبزادے محمد ذیشان نصر نے مل کر تیار کیا ہے، اس کے متعلق ضروری معلومات یہاں شائع کی جا رہی ہیں جو محمد ذیشان نصر کی ایک ویڈیو اور ماہنامہ کمپیوٹنگ کراچی (اکتوبر ۲۰۱۳ء) کے ایک مضمون سے لی گئی ہیں۔



السلام علیکم ویورز، میں ہوں آپ کا ہوسٹ محمد ذیشان نصر اور آپ دیکھ رہے ہیں ’’مہر ٹائپ یو ٹیوب چینل‘‘۔ آج مجھے آپ سے یہ اطلاع شیئر کرتے ہوئے بہت زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ الحمد للہ مہر ٹائپ کی طرف سے ’’مہر نستعلیق ویب فونٹ‘‘ کا ورژن 2 ریلیز کر دیا گیا ہے۔ آپ میں سے اکثر لوگ تو پہلے ہی مہر نستعلیق ویب فونٹ کے بارے میں جانتے ہوں گے۔  لیکن جو لوگ مہر نستعلیق ویب فونٹ کے بارے میں نہیں جانتے ان کے لیے میں بتاتا چلوں کہ مہر نستعلیق ویب فونٹ ایک اوپن ٹائپ کریکٹر بیسڈ فونٹ ہے جو نصر اللہ مہر صاحب کی خطاطی پر مشتمل ہے اور جس کی پروگرامنگ محمد ذیشان نصر یعنی میں نے خود کی ہے۔  

پانچ سال پہلے ۲۰۱۷ء کے انہی ایام میں مہر نستعلیق ویب فونٹ کا ورژن 1 آئی ٹی یونیورسٹی لاہور کے تعاون سے ریلیز کیا گیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس کو استعمال کر رہے ہیں۔ مختلف جگہوں پر، ویب سائیٹس پر، موبائل ایپس میں، اور حتیٰ کہ ڈیسک ٹاپ پبلشنگ میں بھی یہ فونٹ استعمال ہو رہا ہے۔ اور اس وقت یہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا (اردو) فونٹ بن چکا ہے۔ تو اس کی مقبولیت کے پیچھے کیا وجہ ہے، اس کی کیا نمایاں خصوصیات ہیں، وہ میں آپ سے شیئر کرتا چلوں۔ 

مہر نستعلیق ویب فونٹ کی خصوصیات

سب سے اہم چیز یہ ہے کہ یہ اوپن ٹائپ کریکٹر بیسڈ یعنی حرفی بنیادوں پر بنایا گیا فونٹ ہے۔ اس میں پورے پورے لفظ لکھ کر شامل نہیں کیے گئے، بلکہ اس کو ٹیکنیکلی پروگرام کیا گیا ہے کہ ہر ہر لفظ کے جوڑ اور پیوند اس کو بتائے گئے ہیں۔ ان جوڑوں اور پیوندوں کے پیچھے ڈھیر ساری پروگرامنگ ہے۔ اس پروگرامنگ کی مدد سے یہ سارے جوڑ اور پیوند مل کر کوئی بھی لفظ جو ہم ٹائپ کرتے ہیں وہ تشکیل پاتا ہے۔ 

دوسری اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ لاہوری نستعلیق یعنی پاکستانی نستعلیق بھی جسے کہتے ہیں، یہ اس کا نمائندہ خط ہے۔ 

تیسری اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی جو رینڈرنگ اسپیڈ ہے یعنی فونٹ کو لوڈ کر کے رینڈر کرنے کی اسپیڈ سب سے زیادہ ہے۔ جتنے بھی دیگر اردو کے فونٹس ہیں نستعلیق کے فونٹس ہیں ان میں سب سے فاسٹسٹ رینڈرنگ اسپیڈ اس کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ویب پیج لوڈ ہونے میں دس سیکنڈز لے رہا ہے دوسرے کسی فونٹ میں، تو مہر نستعلیق ویب فونٹ میں وہ صرف دو سیکنڈز میں لوڈ ہو گا۔ 

اس کی چوتھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی فائل کا سائز صرف 100kb تک ہے۔ ویب ایمبیڈنگ کے لیے جب ہم اس کو WOFF فارمیٹ میں کنورٹ کرتے ہیں تو یہ صرف 58kb تک رہ جاتا ہے۔ 

اس کے بعد اس کی اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اعراب کی مکمل سہولت موجود ہے، یعنی آپ کسی بھی لفظ پر اعراب لگا سکتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس جو لگیچر بیسڈ فونٹس ہوتے ہیں ان میں آپ کسی بھی لفظ پر اعراب لگاتے ہیں تو لفظ ٹوٹ جاتا ہے، ان لفظوں کی شکل خراب ہو جاتی ہے، لیکن اِس فونٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ 

اس فونٹ کی ایک اور بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی مدد سے آپ دنیا کا جو مرضی لفظ لکھ سکتے ہیں، یعنی اس میں کوئی پابندی نہیں ہے کہ (فونٹ میں) لگیچر (لفظ) شامل نہیں ہے تو یہ نہیں لکھے گا۔ بلکہ اس کی مدد سے آپ جو لفظ چاہے وہ مہمل لفظ ہو، چاہے کسی بھی زبان کا لفظ ہو، اسے آپ خطاطی کے قواعد کے مطابق بالکل درست طریقے سے لکھ سکتے ہیں۔ 

نیز اس فونٹ میں محدود پیمانے پر کشیدہ کی  یعنی لفظوں کو کھینچ کر لمبا کر کے لکھنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔

تو یہ ساری سہولتیں آپ کیسے استعمال کریں گے اس کے لیے میں ان شاء اللہ الگ ویڈیو بناؤں گا جس میں بتاؤں گا کہ  آپ مہر نستعلیق ویب فونٹ کو اپنے کمپیوٹر پر، اپنے موبائل پر، اپنی ویب سائیٹ پر ، یا موبائل ایپس میں کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ 

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس فونٹ کے ورژن 2 میں کیا کچھ خاص ہے، کیا اہم چیزیں ہیں، جو امپرومنٹس اس فونٹ میں کیے گئے ہیں۔ 

سب سے پہلی اور اہم چیز یہ ہے کہ اس میں انگلش لینگویج کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ یعنی انگلش کے جو کریکٹرز پہلے شامل نہیں تھے فونٹ میں، وہ اب شامل کیے گئے ہیں۔ پہلے انگلش میں کوئی لفظ لکھتے تھے تو لفظوں کے درمیان فاصلے کا مسئلہ آتا تھا، اسے اب درست کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی (اردو) اشکال کو مزید خوبصورت اور موڈیفائی کیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اب اس فونٹ کو ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے مین سافٹ ویئرز یعنی ایڈوبی پروڈکٹس میں بھی استعمال کیاجا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم بات میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ’’مہر نستعلیق ویب فونٹ‘‘ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ویب کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ اس کا جو مین فوکس اور بنیادی مقصد ہے وہ ویب سائیٹس اور موبائل ایپس میں نستعلیق فونٹ کی ایمبیڈنگ ہے۔  اس کو ڈیسک ٹاپ پبلشنگ سافٹ ویئرز مثلاً‌ ان پیج، ایم ایس ورڈ، ان ڈیزائن، یا السٹریٹر وغیرہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ان کے لیے زیادہ موزوں فونٹ نہیں ہے۔  ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے لیے  ہمارے جو فونٹس ہیں جیسے ’’مہر نستعلیق جلی‘‘ اور ’’مہر نستعلیق خفی‘‘ اور اس کے علاوہ کچھ اور فونٹس بھی جلد ان شاء اللہ قیمتاً‌ دستیاب ہوں گے، اور کچھ پیڈ اور فری فونٹس بھی  جلد ریلیز کیے جائیں گے۔

https://youtu.be/3MWF2Oe6Ek8

یونیکوڈ اسٹینڈرڈ

’’یونی کوڈ کی اصطلاح سے اکثر لوگ واقف نہیں ہیں۔ یونی کوڈ مختلف زبانوں کا ایک مشترکہ بین الاقوامی کوڈ ہے جو کہ فونٹس کے لیے اسٹینڈرڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہر وہ سافٹ ویئر جو یونی کوڈ کو سپورٹ کرتا ہے اس میں ہمارا یہ (مہر نستعلیق) فونٹ قابل استعمال ہوگا۔ جب کہ اس کے مقابل سمبل بیسڈ فونٹ (Symbol based font) صرف اپنے مخصوص سافٹ ویئر ہی میں قابل استعمال ہوتے ہیں۔ ویسے اب اکثر فونٹ یونی کوڈ بیسڈ ہی بن رہے ہیں۔‘‘

نسخ اور نستعلیق فونٹ کا فرق

’’نسخ اور کوفی دونوں خطوں میں ہر حرف تہجی کی چار شکلیں ہوتی ہیں: ابتدائی، درمیانی، آخری اور اکیلے۔ کچھ حروف جیسے ’’ر‘‘ کی کوئی ابتدائی یا درمیانی شکل نہیں۔ نستعلیق کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں۔ اس میں حرف کی شکل حجم و مقام، اور اس کے آگے پیچھے موجود دیگر حروف پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نستعلیق فونٹ بنانا مشکل کام ہے اور اس (کی فائل) کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یونی کوڈ فونٹ میں کسی حروف کی مختلف شکلیں متعین کرنے کی سہولت موجود ہے، لیکن نستعلیق خط کے لیے چونکہ حروف کی اشکال بہت زیادہ ہیں اس لیے یونی کوڈ فونٹ میں انہیں مرکب الفاظ کی شکل میں شامل کیا جاتا ہے۔‘‘

نستعلیق فونٹ کی تیاری

’’اس وقت اردو کے لیے دستیاب نستعلیق فونٹس کی اکثریت دراصل Glyph بیسڈ فونٹس ہیں۔ یہ تقریباً‌ وہی تکنیک ہے جس پر اردو کا مشہور زمانہ سافٹ ویئر ان پیج کام کرتا ہے۔ Character بیسڈ فونٹس میں کسی حرف کی کسی خاص پوزیشن پر شکل، رولز کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہے۔ جبکہ Glyph بیسڈ فونٹ میں ہر مرکب لفظ (دو یا دو سے زیادہ حروف کا مجموعہ) کو الگ الگ بنایا جاتا ہے اور پھر ایک میپنگ ٹیبل کے ذریعے یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر فلاں فلاں حروف ٹائپ کیے جائیں تو فلاں Glyph یا مرکب شکل ظاہر ہو جائے۔ اس طرح کے فونٹس میں Glyphs کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے فونٹ کا فائل سائز بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ اردو کے لیے دستیاب نستعلیق فونٹس کی اکثریت کا حجم 10MB سے بھی زیادہ ہے۔ کریکٹر بیسڈ فونٹس میں چونکہ Glyphs کی تعداد کم ہوتی ہے اس لیے ان کا سائز بھی کم (عام طور پر KBs میں) ہوتا ہے۔ Glyph بیسڈ فونٹس کو ویب سائیٹس پر استعمال کرنا بھی ایک مشکل امر ہے۔ انہیں ان کے زیادہ حجم کی وجہ سے embed کرنا دانشمندی نہیں۔‘‘

’’کرننگ (Kerning) تمام فونٹس کا ایک مسئلہ ہے لیکن نستعلیق میں یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی ٹیڑھا ہے۔ کرننگ سے مراد دو حروف یا حروف کے مجموعے کے درمیان فاصلہ اور پوزیشن ہے۔ انگریزی فونٹس میں کرننگ کا عمل بہت سادہ اور آسان ہوتا ہے کیونکہ انگریزی حروف اپنی پوزیشن کے حساب سے شکلیں نہیں بدلتے۔ لیکن نستعلیق طرز تحریر کی خوبصورتی ہی اس کی حرف با حرف تبدیل ہوتی شکلیں ہیں۔ بدقسمتی سے نستعلیق فونٹس کی قلت کا ایک اہم سبب بھی یہی ہے۔‘‘

http://techurdu.org/45


یادِ حیات (۲) : دورِ طالب علمی / تحریر و تصنیف کی ابتدا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر کے فرزندانِ عزیز حافظ طلال خان ناصر اور حافظ ہلال خان ناصر کا انٹرویو مولانا راشدی کی نظر ثانی کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ سلسلہ ’’یادِ حیات‘‘ کی تمام ویڈیوز اس لنک پر دستیاب ہیں ⇱)


ہلال خان ناصر: السلام علیکم۔ آج ہم دوسری نشست کے ساتھ حاضر ہیں۔ پچھلی نشست میں ہم نے دادا ابو کی حفظ کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ باتیں کی تھیں، آج ہم اسی کے بارے میں مزید سوالات کریں گے۔
سوال: دادا ابو! یہ بتائیے کہ آپ نے حفظ کتنی عمر میں مکمل کیا؟
جواب: میں نے بارہ سال کی عمر میں حفظ مکمل کیا۔ گکھڑ میں اس مدرسہ سے آغاز ہوا تھا، لیکن کچھ عرصہ تک ایسا ہوا کہ قاری حضرات بدلتے رہے۔ بعد میں ہمارے استاد محترم قاری محمد انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا، وہ آ کر ٹک گئے اور انہوں نے مدرسے کو سنبھالا۔ یوں سمجھیں کہ میں نے دوبارہ سارا حفظ ان سے کیا ہے۔ میرا حفظ ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو مکمل ہوا تھا۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ، استاد القراء حضرت مولانا قاری فضل کریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا قاری حسن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی موجودگی میں، گکھڑ کی مرکزی جامع مسجد میں پبلک جلسہ میں، میں نے آخری سبق سنایا تھا۔
اس کا ایک لطیفہ بھی ہے کہ سورۃ المرسلات کا دوسرا رکوع میرا آخری سبق تھا، میں بارہ سال کا بچہ تھا، سامنے پبلک جلسہ تھا اور یہ بزرگ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے تو میری ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں۔ میں سبق میں ایک آیت ”واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون“ بھول گیا۔ خیر تصحیح ہو گئی۔ اس کے دو سال بعد حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ گوجرانوالہ علماء کی ایک مجلس میں تشریف لائے، میں تب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں پڑھتا تھا، میں بھی زیارت کے لیے چلا گیا۔ مجھے تصور بھی نہیں تھا کہ حضرت مجھے پہچان لیں گے، اس لیے میں جا کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے کہ ادھر آؤ، اب ملتے بھی نہیں ہو۔ ”واذا قیل لھم ارکعوا“ سبق یاد ہے؟ میرے تو پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی کہ انہیں ابھی تک یاد ہے کہ میں فلاں آیت بھولا تھا۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ ایک بزرگ نے جلسے میں میرا سبق سنا ہے اور دو سال بعد انہیں یاد ہے کہ یہ بچہ بھولا تھا اور فلاں آیت بھولا تھا۔ فرمایا دوبارہ سبق سناؤ، چنانچہ میں نے انہیں دوبارہ سنایا۔
سوال: اب سبق یاد تھا؟
جواب: یاد تھا، میں دو دفعہ قرآن پاک سنا بھی چکا تھا۔ حضرت قاری محمد انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ میرے بڑے شفیق استاد تھے، آخری عمر میں انہوں نے تقریباً تیس سال مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں پڑھایا ہے اور جنۃ البقیع میں مدفون ہیں۔ سچی بات ہے کہ میں جب کبھی مدینہ منورہ جایا کرتا تھا، الحمد للہ بہت دفعہ جانے کا اتفاق ہوا تو آپؒ برآمدے میں بیٹھ کر پڑھا رہے ہوتے تھے اور میں ستون کے پیچھے کھڑا ہو کر ان کو دیکھا کرتا تھا کہ کیا ہی اعزاز کی بات ہے کہ میرے استاذ محترم مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے برآمدے میں صبح کی نماز کے بعد قرآن پاک پڑھا رہے ہیں۔ بڑے بڑے لوگ ان کے شاگردوں میں ہیں۔ ان سے میں نے حفظ مکمل کیا، پھر انہوں نے دوبارہ میرے ساتھ خود دور کیا تاکہ خوب یاد ہو جائے۔ گکھڑ کے ساتھ گاؤں ہے بدوکی گوسائیاں، جو کہ اب کینٹ میں ہے، وہاں میں نے پہلا مصلیٰ سنایا۔ اس کے بعد میں تقریباً تیس پینتیس سال گکھڑ میں، گوجرانوالہ میں مختلف مقامات پر سناتا رہا ہوں۔ اب پڑھتا تو ہوں لیکن سنانا مشکل ہو گیا ہے۔
بعد میں گکھڑ میں تجوید کا مدرسہ شروع ہوا، حضرت مولانا قاری عبدالحلیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو سوات کے تھے پھر بحرین چلے گئے، وہیں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بیٹے قاری محمد طیب بحرین کے بڑے قاری ہیں۔ قاری عبدالحلیم صاحب سے میں نے تھوڑی بہت تجوید پڑھی اور مشق کی۔ پھر میں نے مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ گوجرانوالہ میں مشق کی ہے۔ یہ بڑا مدرسہ ہے، وہاں کے بڑے استاد حضرت مولانا قاری عبدالصمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ میں ان کی خدمت میں جاتا رہا ہوں اور ان سے بھی قرآن پاک کی مشق کرتا رہا ہوں۔ میرے مشق کے استاذ یہ دو بزرگ ہیں اور حفظ کے استاد قاری محمد انور صاحب ہیں، اس طرح میں نے الحمد للہ حفظ مکمل کیا۔
سوال: حفظ کے اس دور میں آپ کے ساتھ کچھ ساتھی ہوں جو معروف ہوں یا جنہوں نے آگے۔ ۔ ۔
جواب: حفظ کے دور کے میرے ساتھی قاری فدا محمد صاحب مانسہرہ کے تھے، ریاض میں کافی عرصہ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بدوکی گسائیاں کے قاری رحم الدین صاحب میرے حفظ کے ساتھی تھے۔ اور میرے حفظ کے ایک ساتھی بڑے معروف ہیں ڈاکٹر حافظ محمود اختر جو کہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے صدر رہے ہیں، اب ریٹائر ہو گئے ہیں، گفٹ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ ہم نے اکٹھے حفظ کیا تھا اور اب کبھی کبھی میں انہیں چھیڑتا ہوں کہ حافظ صاحب! آپ مجھے بڑی مار پڑواتے تھے۔ غلطی نکالی تو استاد نے مارنا، میں ان کی غلطیاں نکالا کرتا تھا اور وہ میری غلطیاں نکالا کرتے تھے۔ اللہ پاک سلامت رکھے، اللہ پاک نے ان کو بڑی عظمت دی۔ ابتدا میں تو بہت ساتھی تھے، لیکن تکمیل تک حفظ میں میرے ساتھ یہی رہے ہیں۔
سوال: دورانِ حفظ آپ کو سبق یاد نہ ہونے کی وجہ سے یا شرارتوں کی وجہ سے کبھی مار پڑی؟
جواب: بہت دفعہ پڑی ہے، اس وقت معمول یہی تھا۔ والد صاحبؒ بھی ٹھیک ٹھاک پٹائی کیا کرتے تھے۔ ایک کا میں ذکر کر دیتا ہوں جو کہ تاریخی واقعہ ہوا کہ ایک دفعہ مجھے سبق یاد نہیں تھا تو قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے تین چار چھڑیاں مار دیں۔ میں اٹھ کر گھر چلا گیا کہ گھر جا کر شکایت کروں گا تو ماں مجھے سینے سے لگائے گی، دلاسہ دے گی، والدہ مرحومہ نے مجھے بے وقت گھر میں دیکھا تو پوچھا کہ کدھر پھر رہو؟ میں نے منہ بسور کر جواب دیا کہ قاری صاحب نے مارا ہے۔ کیوں مارا ہے؟ سبق یاد نہیں ہوگا؟ میں نے کہا جی سبق یاد نہیں تھا۔ کس چیز سے مارا تھا؟ میں نے کہا ڈنڈے سے۔ کتنے؟ میں نے کہا چار۔ کہاں مارا؟ دائیں ہاتھ پر۔ وہ خود بھی استاد تھیں، ان کی بھی ایک چھڑی تھی۔ والدہ مرحومہ نے اپنا ڈنڈا پکڑا اور میرے بائیں ہاتھ پر پانچ ڈنڈے مارے اور کہا کہ چلو پہنچو مدرسے۔
اس وقت مجھے غصہ آیا اور آنا بھی تھا، لیکن آج اماں جان کو دعائیں دیتا ہوں کہ اگر اس وقت میری والدہ مجھے سینے سے لگا کر سہارا دے دیتیں اور گھر میں بٹھا لیتیں کہ قاری کون ہے مارنے والا تو پتہ نہیں پھر کیا ہوتا اور میں کہاں ہوتا۔ اب بھی یہ واقعہ سناتا ہوں تو اپنے شاگردوں سے کہا کرتا ہوں کہ سارا کمال ان پانچ ڈنڈوں کا ہے، وہ ماں کی مار مجھے بچا گئی ہے کہ آج میں بحمد اللہ صحیح ٹریک پر ہوں، ورنہ میرا کانٹا بدل چکا ہوتا۔
سوال: حفظ مکمل کرنے کے فوراً بعد آپ مدرسہ نصرۃ العلوم میں داخل ہو گئے؟
جواب: مجھے والد صاحبؒ نے صرف و نحو کی گرامر کی ابتدائی کتابیں میزان الصرف، نحو میر وغیرہ ایک سال گھر پڑھائی ہیں۔ پھر میں ۱۹۶۲ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں آیا اور وہاں سے میں نے باقاعدہ درس نظامی کی تعلیم کا آغاز کیا اور ۱۹۶۹ء تک پورا درس نظامی میں نے وہاں اس دور کی ترتیب کے مطابق مکمل کیا۔ اب تو وفاق کی ترتیب ہے، اس زمانے میں ہم وفاق میں نہیں تھے تو اپنی ترتیب ہوتی تھی۔ اپنی ترتیب کے مطابق میں نے وہیں درس نظامی کی مسلسل تعلیم حاصل کی اور ۱۹۶۹ء میں دورہ حدیث سے فارغ ہو گیا تھا، میری ساری تعلیم جو کچھ بھی ہے وہیں کی ہے۔
سوال: مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کا غیر نصابی کتابوں کا بھی کوئی ذوق شوق تھا؟
جواب: ہاں بالکل، الحمد للہ۔ میں اپنے کتابی ذوق کے بارے میں تفصیل سے عرض کروں گا۔ کتاب سے میرا تعارف پانچ چھ سال کی عمر سے ہے۔ حضرت والد صاحبؒ کا کام لکھنا پڑھنا تھا۔ ان کے چاروں طرف کتابیں بکھری ہوتی تھیں، وہ لکھتے رہتے تھے، کبھی کبھی انہیں حوالوں کی ضرورت پڑتی تھی تو ہم دو تین بہن بھائی بڑی ہمشیرہ، میں اور ہماری پھوپھی زاد بہن ہمیں والد صاحبؒ فرماتے کہ فلاں نام کی کتاب نکال کر لاؤ تو ہم تینوں کا مقابلہ ہوتا تھا کہ کون پہلے لاتا ہے۔ اس دوران بڑی بڑی حدیث کی کتابوں کے نام ہمیں یاد تھے اور ان کی جلدیں بھی یاد تھیں۔ ہم مطلوبہ کتاب تلاش کر کے والد صاحبؒ کے پاس لایا کرتے تھے۔
گکھڑ میں ماسٹر بشیر احمد صاحبؒ بڑے پکے احراری تھے اور حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص عقیدت مندوں میں سے تھے، ان کے گھر بھی کتابوں کا ماحول تھا، تاریخی اور سیاسی قسم کی کتابیں تھیں۔ ان کے ہاں ہمارا آنا جانا تھا۔ ان کے ہاں رسائل و جرائد بھی آیا کرتے تھے مثلاً ہفت روزہ چٹان، ترجمان اسلام، خدام الدین اور تبصرہ وغیرہ اور گھر میں والد صاحبؒ کے ہاں دہلی سے ماہنامہ برہان، لکھنؤ سے الفرقان، اور دیگر رسالے آیا کرتے تھے تو رسالوں کے ساتھ میرا تعارف اس زمانہ میں تھا۔
پھر جب میں نصرۃ العلوم میں آیا تو چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا اپنا ذوق تھا۔ ان کے ہاں لکھنؤ سے تعمیرِ ملت اور دیگر مختلف رسائل بھی آتے تھے، وہ پڑھتے تھے، پھر مجھے پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ ان دونوں بزرگوں نے میری یہ سرپرستی کی ہے کہ جو سمجھتے تھے کہ میرے دائرے کی کتاب یا رسالہ ہے تو وہ مجھے دیتے تھے کہ اس کو پڑھو۔ چچا جان مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ نے میری باقاعدہ سرپرستی فرمائی۔ ایک زمانے تک یہ معمول رہا ہے کہ کوئی کتاب آتی تو حضرت صوفی صاحبؒ خود پڑھتے، پھر مجھے دیتے تھے میں پڑھتا تھا، اس کے بعد لائبریری میں جاتی تھی۔ یوں مطالعہ کا ذوق مجھے وہاں سے پیدا ہوا۔
پھر ایک بات درمیان میں ہوئی، اس کا کچھ ذکر کر دیتا ہوں، تفصیل سے بعد میں کروں گا۔ ۱۹۶۲ء کی بات ہے کہ گکھڑ میں ماسٹر بشیر احمد صاحب کا اور ایک دو دوستوں کا ذوق تحریکی تھا وہ بھی میرا ذوق بنا۔ ہوا یہ کہ ایوب خان مرحوم نے پاکستان کا عبوری آئین بنایا تو ملک کے نام سے اسلامی کا لفظ ہٹا دیا تھا اور ” جمہوریہ پاکستان“ نام قرار دیا تھا۔ اس کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلی تھی اور محضرناموں پر دستخط کروائے گئے تھے کہ ملک کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ رہے گا۔ میں اس تحریک میں شریک ہوا تھا، وہاں سے میرا تحریکی ذوق شروع ہوا، جو آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ میں نے بہت سے محضرناموں پر دستخط کروا کے بھجوائے تھے۔ میں اس مہم کا حصہ تھا۔
جب نصرۃ العلوم میں آیا تو غالباً ۱۹۶۳ء کے لگ بھگ کی بات ہے کہ نصرۃ العلوم کے طلباء نے اپنی ایک انجمن بنائی، جسے یونین کہتے ہیں۔ ہمارے پھوپھی زاد بھائی سید عطاء اللہ شاہ شیرازیؒ اس کے صدر بنے، مجھے سیکرٹری بنا لیا۔ یہ سیکرٹری کی ’’بیماری‘‘ تب سے مجھے مسلسل چمٹی ہوئی ہے الحمد للہ۔ لکھنے پڑھنے کا اور اخبارات میں خبریں دینے کا ذوق بھی پرانا ہے
گوجرانوالہ چوک نیائیں کے پاس اہل حدیث حضرات کا ایک ”اسلامی دارالمطالعہ “ تھا۔ ہم عصر کے بعد وہاں چلے جایا کرتے تھے۔ عصر تا مغرب کوئی کتاب یا کوئی رسالہ دیکھتے تھے۔ میں نے صرف ایک موضوع کا نہیں کیا، بلکہ متنوع مطالعہ کیا ہے۔ میرا زیادہ ذوق تاریخ کا ہے۔ میں نے بہت سے تاریخی اور جاسوسی ناول پڑھے۔ نسیم حجازی اور ایم اسلم، ابن صفی، اکرم الٰہ آبادی وغیرہ کے ناول پڑھے اور ہر قسم کے ناول پڑھے ہیں۔ سینکڑوں ناول پڑھے ہوں گے اور سینکڑوں کتابیں پڑھی ہوں گی تو وہاں سے پھر ذوق بڑھتا گیا، پھر میں نے آہستہ آہستہ لکھنا بھی شروع کر دیا۔
سوال: تعلیمی دور میں مختلف قسم کے طالب علم ہوتے ہیں بعض تیاری کر کے امتحان دیتے ہیں، جبکہ بعض کا آیۃ الکرسی اور درود شریف پر بڑا یقین ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لیں گے تو پیپر ٹھیک ہو جائے گا، آپ کا کیا طریقہ تھا؟
جواب: میں نے نہ تیاری کی ہے اور نہ وظیفے کیے ہیں، بس سبق دھیان سے پڑھتے تھے الحمد للہ۔ جتنی تعلیم حاصل کی ہے، توجہ سے پڑھا ہے۔ میرے بزرگ میری ساری سرگرمیاں برداشت کرتے تھے اس لیے کہ میں پڑھتا بھی تھا۔ استاد کو اپنے شاگرد کا پتہ ہوتا ہے۔ میں ساری ساری رات گھومتا تھا، پتہ نہیں کہاں کہاں ہوتا تھا۔ میری سرگرمیاں سب دیکھتے تھے لیکن برداشت کرتے تھے اور یہ اعتماد رکھتے تھے کہ جو ہم سبق دیتے ہیں وہ پڑھتا ہے، اس لیے میرا کام چلتا رہا، ورنہ میرے جیسا آوارہ طالب علم کوئی نہیں ہوگا۔
سوال: مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کے آپ کے جو معروف اساتذہ تھے ان کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: میرے سب سے بڑے استاذ حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ ہیں۔ ان کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو مانسہرہ کے تھے، صوفی صاحبؒ کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے اور معقولات کے بہت بڑے مدرس تھے، ان کی بھی خاص توجہ اور شفقت مجھ پر ہوتی تھی۔ ان کے علاوہ میرے اساتذہ میں ہری پور کے حضرت مولانا قاضی محمد اسلم صاحبؒ، حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ صاحبؒ اور بنوں کے حضرت مولانا مفتی جمال احمد بنوی صاحبؒ فاضل مظاہر العلوم ہیں۔ یہ میرے درس نظامی کے بڑے اساتذہ کرام ہیں، جن سے میں نے استفادہ کیا ہے، شفقت بھی پائی ہے اور جھڑکیں بھی کھائی ہیں۔
سوال: آپ کو تعلیمی دور میں غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے کبھی بڑے ابا جی سے یا حضرت صوفی صاحبؒ سے جھاڑ پڑی ہو؟
جواب: کئی دفعہ جھاڑ پڑی ہے، لیکن چھوڑی نہیں ہیں۔ میری غیر نصابی سرگرمیاں یہ تھیں کہ مختلف لائبریریوں میں مطالعہ کے لیے جانا اور جماعت سازی وغیرہ، جیسا کہ ذکر کیا کہ طلباء کی یونین بنی اور میں اس کا سیکرٹری تھا۔ ۱۹۶۵ء میں گوجرانوالہ شہر میں جب جمعیت علماء اسلام بنی تو اس کا سیکرٹری اطلاعات تھا، پھر وہیں سے ترقی کرتے کرتے مختلف تنظیمیں بنائیں۔ ہم تین چار ساتھیوں نے گکھڑ میں ”انجمن نوجوانانِ اسلام“ کے نام سے ایک انجمن بنائی تھی۔ ہمارے ساتھی افتخار رانا اب بھی موجود ہیں۔ اس انجمن کے تحت ہم نے لائبریری بنائی تھی، مشاعرے کرایا کرتے تھے، جلسے کرایا کرتے تھے اور ۱۹۶۵ء کی جنگ کا جب آغاز ہوا ہے کہ تو اس سے ایک دن قبل پانچ ستمبر کو گکھڑ میں اس حوالے سے ہمارا جلسہ تھ۔ رَن کچھ کی لڑائی تھی تو فوجیوں کے لیے خون مہیا کرنا ہے۔ رات کو ہمارا جلسہ تھا۔ میں نے بھی اس میں تقریر کی تھی، فاضل رشیدی صاحب اور دیگر حضرات نے بھی تقاریر کیں۔ اسی روز صبح جنگ شروع ہو گئی تھی۔
۱۹۶۵ء میری طالب علمی کے بالکل وسط کا دور ہے۔ اس دوران گوجرانوالہ میں شہری دفاع جس کو سول ڈیفنس کہتے ہیں، اس کا علماء کا گروپ بنا تھا۔ مولانا عبدالرحمان جامی ہمارے کمانڈر تھے اور علماء اس کے ممبر تھے۔ ہم تقریریں کرتے تھے، پریڈ کرتے تھے اور پہرے بھی دیتے تھے۔ میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے ۱۹۶۵ء کی جنگ رپورٹ کی ہے۔ میری رپورٹیں چھپی ہوئی ہیں اور اسی رپورٹ کا ایک حصہ یہ تھا کہ چھ ستمبر کی صبح کو گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر انڈین طیارے نے بمباری کی تھی، جس میں ہمارے ایک ساتھی صفدر باجوہ شہید ہو گئے تھے، تو میرا پہلا فیچر صفدر باجوہ پر ہے، جو روزنامہ وفاق میں چھپا تھا۔ بعد میں ایک دفعہ جنرل قمر باجوہ صاحب کو میں نے بتایا کہ آپ کی فیملی کے صفدر باجوہ پر میرا فیچر ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہ میرے چچا جی تھے۔ میری یہ سرگرمیاں چلتی رہتی تھیں اور میرے بزرگ دیکھتے رہتے تھے، لیکن چونکہ انہیں یہ علم تھا کہ پڑھتا بھی ہے، اس لیے میری ساری سرگرمیاں برداشت کرتے تھے، بلکہ صوفی صاحبؒ تو باقاعدہ سرپرستی کرتے تھے۔
سوال: آپ نے بڑے ابا جی سے اور صوفی صاحب سے نصابی کتابوں کے علاوہ بھی کچھ باقاعدہ طور پر پڑھا ہے؟
جواب: جی ہاں پڑھا ہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ کا ذوق یہ تھا کہ اپنے ذوق کے کچھ طلباء دیکھ لیتے تھے اور نصاب سے الگ کچھ کتابیں پڑھاتے تھے۔ ہم نے مصری شیخ محمد حضری بک کی نور الیقین فی سیرۃ سید المرسلینؐ، اخوان الصفا،  کلیلہ دمنہ، لطفی منفلوطی کی العبرات  اُن سے پڑھی، سبع معلقہ انہوں نے ہمیں پڑھائی جو کہ اس زمانے میں نصاب میں نہیں تھی۔ اسی طرح ملا علی قاریؒ کی شرح نقایہ بھی انہوں نے ہمیں سبقاً سبقاً پڑھائی ہے۔ وہ دیکھتے تھے کہ کونسی کتاب ان کے ذوق کی ہے، ایک کتاب منتخب کر لیتے تھے اور طلبہ میں سے بھی انتخاب کر لیتے تھے اور پڑھاتے تھے۔ میں نے کم از کم دس بارہ کتابیں نصاب سے ہٹ کر سبقاً سبقاً حضرت صوفی صاحبؒ سے پڑھی ہوں گی، اس ذوق کے مطابق۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایسا کرتے تھے، کوئی کتاب مطالعہ کے لیے دیتے، پھر پوچھتے تھے کہ بتاؤ کیا پڑھا ہے۔ اس کے علاوہ شعبان رمضان میں ہماری چھٹیاں ہوتی تھیں، میں گکھڑ چلا جاتا تھا تو سال کے دوران جو کتابیں پڑھی ہوتی تھیں، تو والد صاحبؒ ان میں سے ایک کتاب کا انتخاب کر لیتے تھے کہ یہ مجھے تم نے سنانی ہے۔ چنانچہ میں انہیں روزانہ وہ سنایا کرتا تھا۔
میری لکھنے کی مشق ایسے ہوئی کہ حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب کتاب ”فیوضاتِ حسینی“ لکھی تو اس کا مسودہ مجھ سے لکھوایا کہ یہ لکھو، یہ لکھو۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی فاتحہ خلف الامام پر ”احسن الکلام “ نامی کتاب ہے، اس کی تلخیص انہوں نے مجھ سے اپنی نگرانی میں کروائی کہ یہ کاٹ دو، یہ لکھو۔ وہ تلخیص ”اطیب الکلام“ کے نام سے چھپی ہوئی ہے۔ حضرت والد صاحبؒ میرا پورا مضمون چیک کرتے تھے کہ یہ صحیح لکھا ہے، یہ غلط لکھا ہے اس کو یوں لکھو۔ الغرض ساتھ ساتھ وہ میری یہ تربیت بھی کرتے رہے، یہ ان کا ذوق تھا۔ تعلیم کے دوران میری غیر نصابی سرگرمیوں کی سرپرستی بھی کرتے تھے اور کہیں کہیں جب کوئی زیادہ مسئلہ ہو جاتا تو ڈانٹ بھی دیتے تھے۔
سوال: آپ نے بتایا کہ آپ کے نانا جی کا بھی کتابی ذوق تھا تو اس حوالے سے کچھ بتائیں۔
جواب: ان کا بھی علمی ذوق تھا اور مطالعہ کا بہت اچھا ذوق تھا۔ ان کے پاس ادارہ اصلاح و تبلیغ آسٹریلیا مسجد لاہور کا پندرہ روزہ درسِ قرآن،  جس میں خطبات ہوتے تھے، آیا کرتا تھا، خدام الدین، دلی سے برہان، اور لکھنؤ سے النجم آیا کرتے تھے۔ میں ان کے پاس بھی مطالعہ کیا کرتا تھا، ان کے ہاں آتا جاتا تھا تو کوئی رسالہ پڑھ لیتا تھا۔
سوال: ایک چیز ہے مطالعہ کرنا اور ایک ہے مطالعے سے تحقیق کا فن وہ ایک الگ چیز ہے، آپ نے یہ کس سے زیادہ سیکھا؟ صوفی صاحب سے یا بڑے ابا جی سے؟
جواب: تحقیق اور ریسرچ زیادہ حضرت والد صاحبؒ سے سیکھی کہ یہ زبان استعمال کرنی ہے، جواب ایسے دینا ہے، وغیرہ۔
سوال: طالب علمی کے دوران کتابوں اور نصاب سے علاوہ آپ کا تفریح کی کیا سرگرمیاں ہوتی تھیں؟
جواب: میں سیاح آدمی ہوں، زیادہ تر گھومتا پھرتا تھا، اسی لیے حضرت والد صاحبؒ مجھے دابۃ الارض کہا کرتے تھے۔ لیکن میں نے ابتدا میں کچھ سال کرکٹ کھیلا ہے۔ گکھڑ میں آزاد کلب اور یونین کلب تھے، میں آزاد کلب کا ممبر ہوتا تھا، صفدر باجوہ، یونس بھٹی، عبداللہ خالد اور افتخار رانا یہ ہماری ٹیم ہوتی تھی، میں نے کچھ عرصہ کرکٹ کھیلا ہے، اس کے بعد جب نصرۃ العلوم میں آگیا تو پھر میری زیادہ توجہ کیرم بورڈ پر چلی گئی۔ میں نے کیرم بورڈ بہت کھیلا ہے۔ اس کے علاوہ لڈو وغیرہ بھی کھیلتے رہے ہیں۔ یہ میرا ذوق رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ میرا ادبی ذوق تھا، گوجرانوالہ کی محفلوں میں جانا، وہاں بیٹھنا، سننا۔
اس بارے میں یہ ذکر کرنا چاہوں گا کہ مجلس فکر و نظر ایک باقاعدہ ادبی تنظیم تھی، اس میں بڑے بڑے سینئر لوگ تھے، مثلاً پروفیسراسرار سہالوی صاحب، افتخار ملک، ارشد میر، اثر لدھیانوی۔ ٹاپ کے شاعر اور شہر کے ٹاپ کے دانشور اس میں تھے۔ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جہاں سفینہ مارکیٹ ہے، اس کے اوپر خیام ہوٹل ہوتا تھا، وہاں اتوار کی شام کو دو گھنٹے ادبی محفل جمتی تھی۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ ایک آدمی کسی موضوع پر مقالہ پڑھتا تھا، اس پر نقد ہوتا تھا۔ یوں ہی کوئی شاعر غزل، نظم پڑھتا تھا تو اس پر نقد ہوتا تھا۔ میں اس کا حاضر باش ممبر تھا۔ ہر اتوار کو جاتا اور ایک سامع کے طور پر شریک ہوتا۔ اس میں ایک دفعہ لطیفہ یہ ہوا جس نے میری آگے پیش رفت کروا دی کہ اتوار کی مجلس تھی، اگلی مجلس کی ترتیب طے ہو رہی تھی کہ مضمون کون پڑھے گا؟ کوئی تیار نہیں ہو رہا تھا، تو ایک شریک محفل نے غالباً تعریضاً مجھے کہہ دیا کہ مولوی صاحب! آپ ہی مضمون پڑھ دیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، میں پڑھ دوں گا۔ پہلے تو یہ دھماکہ ہوا کہ ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں مضمون پڑھ دوں گا۔ انہوں نے پوچھا کس موضوع پر پڑھیں گے؟ اس زمانے میں معروف مستشرق پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب ”عرب اور اسلام“ نئی نئی ترجمہ ہو کر آئی تھی، میں نے تازہ تازہ پڑھی تھی اور میں نے کچھ نشانیاں بھی لگا رکھی تھیں، تو میں نے کہا کہ ”فلپ کے ہٹی کی عرب اور اسلام پر ناقدانہ نظر“ میرا موضوع ہو گا۔ اس سے تو گویا وہاں بم پھٹا کہ ہٹی کی کتاب پر یہ مولوی تبصرہ کرے گا۔ سب مجھے حیران ہو کر دیکھنے لگ گئے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ میں نے تازہ تازہ پڑھی ہوئی تھی، نشان بھی لگائے ہوئے تھے تو میرا تو دو گھنٹے کا کام تھا۔ ارشد میر صاحب جو بعد میں میرے اچھے دوستوں سے تھے، اس موقع پر انہوں نے طنزاً کہا کہ اچھا مولوی صاحب! آپ پڑھ لیں۔ چنانچہ اگلے اتوار کو میں نے فلپ کے ہٹی کی کتاب پر ایک مضمون پڑھا، جو تین چار قسطوں میں ترجمان اسلام میں چھپا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنا باقاعدہ سیریس ممبر سمجھا اور مجھ سے فرمائش کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے ’’اسلام اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر مجھ سے لکھوایا۔ میں اس مجلس میں اور دیگر مجلسوں، مشاعروں میں بہت جاتا تھا۔
سوال: آپ کا باقاعدہ صحافت کا سفر کب سے ہے؟
جواب: گوجرانوالہ میں نصرۃ العلوم کے قریب غریب نواز چوک میں ہفت روزہ نوائے گوجرانوالہ اخبار کا دفتر ہوتا تھا، اس کے ایڈیٹر حافظ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم و مغفور تھے، جو کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مجاز صحبت حضرت حافظ عنایت علی ؒکے فرزند تھے۔ ہمارا آپس میں تعلق تھا تو میں ان کے پاس جا کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ کبھی کبھی ان کے اخبار میں خبر لکھ دیتا، کبھی اپنے میٹنگ کی رپورٹ لکھ دیتا، پھر آہستہ آہستہ بیان دینا شروع کیا۔ اس کے علاوہ گوجرانوالہ میں ایک اور اخبار ”قومی دلیر“ تھا۔ بشیر صحرائی صاحب بہت معروف صحافی تھے، ان کا اخبار تھا۔ ان دونوں اخباروں سے میں نے آغاز کیا۔ میں نے رپورٹنگ سے آغاز کیا، جلسے کی رپورٹ، پھر ہلکے پھلکے فیچر، مطالعے کا حاصل لکھتا، مثلاً امام غزالی پر لکھ دیا یا کسی اور پر لکھ دیا۔ 
سوال: آپ کی پہلی تحریر جو چھپنے کے بعد آپ کے ذہن میں آیا ہو کہ میں زاہدالراشدی ہو گیا ہوں۔
جواب: ہاں، ایک تحریر ایسی تھی۔ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، نسیم حجازی کا روزنامہ کوہستان اس زمانے کے بڑے قومی اخبارات میں تھا۔ میں نے ایک مضمون لکھا جو انہوں نے ادارتی صفحے پر چھاپ دیا تو اس سے میرا دماغ خراب ہو گیا، میں اپنے آپ کو ابو الکلام آزاد سمجھنے لگا کہ روزنامہ کوہستان نے میرا مضمون ادارتی صفحے پر چھاپا ہے تو میری تعلیم کی طرف توجہ کم ہو گئی۔ حضرت والد صاحبؒ نے محسوس کر لیا، چنانچہ مجھے گکھڑ لے گئے۔ ۱۹۶۵ء کا سال میں نے گکھڑ میں گزارا ہے، ایک سال میں نے اس نشے میں ضائع کیا ہے کہ میں اتنا بڑا صحافی ہوں۔ والد صاحبؒ کا سمجھانے کا اپنا انداز تھا، حضرت صوفی صاحبؒ کا انداز مختلف تھا۔ ایک دن میں گوجرانوالہ آیا ہوا تھا تو حضرت صوفی صاحب ؒ نے بڑے پیار سے مجھے پاس بٹھایا اور فرمایا بیٹا! قلم اچھی چیز ہے، لیکن یہ ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے کوئی چیز منتقل ہوتی ہے، جبکہ منتقل کرنے کے لیے پہلے وہ چیز پاس ہونی چاہیے۔ اس لیے پہلے کچھ پڑھ لو، اپنے اندر کچھ ڈالو، پھر باہر نکالنا۔ اس پر انہوں نے مثال دی کہ ٹونٹی سونے کی ہو، بہت خوبصورت ہو، ٹینکی پر لگی ہو، لیکن ٹینکی میں کچھ ہوگا تو ٹونٹی سے باہر آئے گا، خالی ٹونٹی کھولو گے تو شاں شاں کرے گی۔ ان کی وہ شاں شاں اب تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ چچا جان کی نصیحت سے میرا رخ بدل گیا، پھر میں نے چار سال خوب محنت سے پڑھا ہے۔
سوال: آپ نے بتایا کہ آپ کے مطالعہ اور تحقیقی ذوق کی سرپرستی بڑے ابا جیؒ نے اور صوفی صاحبؒ نے کی ہے، آپ کے صحافتی ذوق کی پرورش کن لوگوں نے کی؟
جواب: میں جو مضمون لکھا کرتا تھا، اکثر ابا جی کو دکھا لیا کرتا تھا۔ ایک مضمون کی بات بتاتا ہوں، صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں ایک بار رؤیت ہلال میں شہادت کے مسئلہ پر علماء کرام میں اختلاف پیدا ہوگیا اور اخبارات و رسائل میں مضامین و بیانات شائع ہونے لگے۔ اہل حدیث علماء میں حضرت مولانا عبدالقادر روپڑیؒ بڑے عالم تھے، بعد میں تو میرا ان سے بڑا نیاز مندی کا تعلق رہا۔ ان کا ایک مضمون چھپا تھا، جو ہمارے موقف کے برعکس تھا تو میں نے اپنے طور پر اس کا جواب لکھا اور تصحیح کے لیے والد صاحبؒ کو دکھایا۔ اس میں میں نے ایک جملہ اس انداز سے لکھا تھا کہ ’’حافظ عبد القادر لکھتا ہے۔ “ اس پر مجھے ان کی سخت ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا اور شاید انہوں نے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ بھی اٹھایا مگر بات صرف ہاتھ اٹھانے تک رہ گئی۔ والد صاحب ؒنے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’وہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے؟ ہو سکتا ہے عمر میں تمہارے باپ سے بھی بڑا ہو۔ اس لیے اس طرح لکھو کہ ”مولانا حافظ عبد القادر روپڑی یوں لکھتے ہیں، مگر مجھے ان کی اس بات سے اتفاق نہیں ہے۔ “
اسی طرح ایک واقعہ یہ ہوا تھا کہ گکھڑ میں شاہ سلیمان کی مسجد میں جلسہ تھا، حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر تھی۔ حضرت قاری محمد انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ مجھے دو چار جملے رٹا کر سٹیج پر کھڑا کر دیا کرتے تھے۔ روڈ پر پبلک جلسہ تھا، قاری صاحب نے مجھے دو چار جملے سکھائے کہ حافظ صاحب تقریر کرو۔ تقریر میں مرزا غلام احمد کا نام آ گیا تو میں نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں دو چار سنا دیں۔ حضرت والد صاحبؒ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اٹھے، مجھے گریبان سے پکڑا اور پیچھے بٹھا دیا۔ خود مائیک پر آکر ارشاد فرمایا کہ بچہ ہے، بیوقوف ہے، جذبات میں غلط باتیں کر گیا ہے، میں معذرت خواہ ہوں۔
ان دو واقعات کے ساتھ ایک تیسرا واقعہ بھی ذکر کرتا ہوں، جنہوں نے میرا رُخ بالکل متعین کر دیا۔ میرے قادیانیت کے استاذ فاتحِ قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحب ہیں، آپؒ استاذ المناظرین تھے جنہوں نے اس دور میں قادیان میں بیٹھ کر مقابلہ کیا تھا۔ میں نے ان سے باضابطہ قادیانیت پڑھی ہے، ان سے کورس پڑھا ہے۔ گوجرانوالہ میں ہم کورس میں شریک تھے۔ آپؒ طلبہ سے کبھی کبھی تقریر بھی کرواتے تھے۔ ایک دن حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل لکھوا رہے تھے کہ فرمایا مولوی صاحب! جو پڑھا ہے اسے ذرا بیان کرو۔ میں نوجوان تھا، جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بات کا حوالہ دینے کا موقع آیا تو میں نے اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا کہ ’’مرزا بھونکتا ہے“۔ مولانا محمد حیاتؒ نے فوراً یہ کہہ کر مجھے ٹوک دیا کہ ’’ناں بیٹا ناں، ایسا نہیں کہتے، وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے۔ اس لیے بات یوں کرو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں، لیکن ان کی یہ بات اس وجہ سے غلط ہے، مجھے اس سے اختلاف ہے۔
ان تین واقعات نے مجھے بالکل ٹریک پر چڑھا دیا۔ والد صاحبؒ کہا کرتے تھے کہ لفظ نرم، لہجہ ہمدردانہ، بات مضبوط۔ موقف بے لچک ہو، زبان لچکدار ہو اور لہجہ ہمدردانہ ہو۔ اب تک الحمد للہ میں اسی ٹریک پر ہوں۔
طلال خان ناصر: ہم نے دادا ابو کے ساتھ ان کے تعلیمی سفر اور ان کے صحافتی سفر کے بارے میں کچھ گفتگو کی ہے، اب ہم اس نشست کا اختتام کرتے ہیں۔ اگلی نشست میں ہم دادا ابو کی مختلف سیاسی تحریکات میں شرکت و شمولیت کے بارے میں ان سے گفتگو کریں گے، ان شاء اللہ العزیز۔
https://www.youtube.com/watch?v=PqOKKPRoYCQ



Islamic Democracy and Western Democracy

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

If we consider that a democratic system implies a relationship of trust between the government and the people, this aligns with the spirit of Islam. According to a narration in Sahih Muslim, the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has defined the ruler as follows:
“Your good rulers are those who love you and you love them, and your bad rulers are those who hate you and you hate them, they curse you and you curse them.”
This clearly signifies that a relationship of trust between the government and the people is necessary, and there is no religious issue in expressing this public trust in any manner adopted according to the circumstances.
However, the contemporary concept of democracy, wherein the representatives of the people are perceived to possess all kinds of absolute powers, is contrary to the principles of Islam. Allama Syed Sulaiman Nadvi, in his presidential address at the annual session of the Jamiat-ul-Ulema-e-Hind in Calcutta on March 14, 1926, clarified the fundamental difference between Islam and the prevailing democracy with these words:
“There is some difference between the present democracy and Islamic democracy. For the present democracy, knowledge of the divine law is not necessary. Knowledge of the divine law is necessary along with other conditions for the governance of Islamic democracy. The second difference is that the majority or minority of narrators/voters is not the criterion of error and rightness, but being close or not to the Book and Sunnah is the identification/sign of rightness and wrongness. For this, it is necessary that our members of the state, just as they are familiar with Roman law and European laws, should also be familiar with Islamic laws, or rather, just as they are experts in European laws, if they are also familiar with Islamic law and its sources, then they are scholars themselves. They will no longer have to complain about the narrow-minded ‘mullahs’ and they will be saved from the conflict of religion or civilization.”
https://zahidrashdi.org/4332