الشریعہ — اگست ۲۰۲۴ء

صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے بارے میں ائمہ اہلِ سنتؒ کے ارشاداتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
متنِ قرآن کی حفاظت و استنادڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
پاکستان قومی اتحاد کے صدر مولانا مفتی محمود سے ایک اہم انٹرویومجیب الرحمٰن شامی 
مسئلہ قادیانیت: جدوجہد کے تیسرے مرحلے کی ضرورت!محمد عرفان ندیم 
تصوف ایک متوازی دین — محترم زاہد مغل صاحب کے جواب میںڈاکٹر عرفان شہزاد 
حضرت رفیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہامولانا محمد جمیل اختر ندوی 
مولانا ولی الحق صدیقی افغانی کی رحلتمولانا شاہ اجمل فاروق ندوی 
کتائب القسام کے ترجمان ابوعبیدہ کا تاریخی خطابابو عبیدہ 
اسرائیل و صہیون مخالف ناطوری یہود (۱)محمود الحسن عالمیؔ 
گزشتہ دہائی کے دوران عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ اسرائیل کی جھڑپیںالجزیرہ 
اہلِ عرب کی غزہ سے لا پرواہی اور اس کی وجوہاتہلال خان ناصر 
خلیفۂ ثانی سیدنا فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہسید سلمان گیلانی 
’’شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ: شخصیت و افکار‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘مولانا زبیر اشرف عثمانی 
سپریم کورٹ مبارک ثانی کیس کا ایک بار پھر جائزہ لےمتحدہ علماء کونسل پاکستان 
The Environment of the Judicial System and Our Social Attitudesمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے بارے میں ائمہ اہلِ سنتؒ کے ارشادات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی تنازعات و مشاجرات کے حوالہ سے راقم الحروف کا ایک مضمون ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مئی ۱۹۶۸ء کے دو شماروں میں شائع ہوا تھا جسے تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔   (ابوعمار زاہد الراشدی ۔ ۸ جولائی ۲۰۲۴ء)


مشاجراتِ صحابہؓ کا موضوع اس قدر نازک اور پیچیدہ ہے کہ اسے زیر بحث لاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ایک طرف صحابہ کرامؓ کا وہ مقدس گروہ ہے جس کی عدالت و دیانت، صداقت و امانت، اور شجاعت و استقامت بحث و تمحیص سے بالاتر ہے، اور بارگاہِ رسالتؐ سے اس قدوسی گروہ کا تعلق کچھ اس نوعیت کا ہے کہ مجموعی حیثیت سے پورے گروہ یا اس میں کسی خاص طبقہ کی، یا انفرادی طور پر کسی ایک فرد کی عدالت و دیانت اور صداقت و شجاعت کو زیر بحث اور محلِ نظر قرار دینے سے براہ راست بارگاہِ رسالت کی صفتِ تزکیہ و تطہیر اس کی زد میں (خاکم بدہن) آ جاتی ہے۔ اور دوسری طرف تاریخِ اسلام کے نام سے ہمارے سامنے اس گروہ کے باہمی مناقشات و مشاجرات کے بارہ میں روایات و قصص کا جو مواد پیش کیا گیا ہے اس کی روشنی میں اس جماعت پر صداقت و دیانت اور عدالت و دیانت جیسے الفاظ کا اطلاق ایک خوبصورت فریب سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل السنۃ والجماعت نے مشاجراتِ صحابہؓ کی بحث میں ایک مبنی بر صداقت اور معقول موقف متعین کر کے اس سے زیادہ اس بحث میں غور و خوض کی ممانعت کر دی ہے، اور اس موقف کی حدود سے تجاوز کرنے کو ’’ضلال‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ آج جب گلشنِ تاریخ سے گلچینی کے بلند بانگ دعویداروں کے دامن ابن سبا کی ملعون ذریت کے بوئے ہوئے کانٹوں کی بدتمیزی کا شکار ہو کر تار تار ہوتے نظر آتے ہیں اور بڑے بڑے شہسواران رہوارِ قلم کی شیخی اس سنگلاخ وادی میں کرکری ہوتی دکھائی دیتی ہے تو صحیح معنوں میں ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کی طرف سے مسلک اہل السنۃ والجماعۃ کی حدود سے تجاوز کی ممانعت کا پس منظر اور اس کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک اس قدر معقول اور معتدل ہے کہ اس کے بعد کسی مزید غور و خوض اور بحث و تمحیص کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ اور جن لوگوں کو معتزلہ کے ہشامیہ فرقہ اور خوارج و روافض کی باہمی نظریاتی جنگ کا علم ہے کہ ایک طرف ہشامیہ فرقہ مشاجراتِ صحابہؓ یعنی سیدنا عثمانؓ کے خلاف بغاوت، جنگِ جمل اور محاربہ صفین کے وقوع ہی سے انکار کر کے تمام تر تاریخی روایات کو دیا برد کرنے کے درپے تھا (بحوالہ شرح مواقف سید شریفؒ ص ۷۴۵ والنبراس علی شرح العقائد للفرہاروی ص ۵۰۴) اور دوسری طرف روافض و خوارج کے بیشتر گروہ صحابہ کرامؓ کے بغض و عناد کی وجہ سے ہر قسم کی رطب و یابس روایات کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔ وہی لوگ اہل السنۃ والجماعۃ کے مسلک اعتدال کی حقیقی قدر و قیمت کو جان سکتے ہیں۔
آج چونکہ مشاجرات صحابہؓ کا موضوع ایک بار پھر زیر بحث لایا جا رہا ہے اور تاریخ کی رطب و یابس روایات کا سہارا لے کر نئی پود کے اذہان و قلوب کو مسموم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اس لیے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس موضوع پر ائمہ کرام اور محققین اہل السنۃ والجماعۃ کے ارشادات کو قوم کے سامنے لایا جائے تاکہ پاکستان کے سواد اعظم اہل السنۃ والجماعۃ کے ’’توارثی عقائد و نظریات‘‘ کی جڑوں پر کلہاڑے چلانے والوں کی مذموم کوششیں بے نقاب ہو سکیں۔
مشاجرات کے باب میں بنیادی طور پر تین امور بحث طلب ہیں اور تینوں امور پر ائمہ نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے:
    ۱۔ پہلے نمبر پر یہ کہ مشاجراتِ صحابہؓ میں مابہ النزاع کونسا سوال تھا؟
    ۲۔ دوسرے نمبر پر یہ کہ فریقین کی اصولی حیثیت کیا تھی؟
    ۳۔ اور تیسرے نمبر پر یہ کہ مشاجرات کے بارے میں تاریخ کی پیش کردہ روایات کی کیا حیثیت ہے؟
اب ہم شق وار تینوں امور پر ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کے ارشادات پیش کریں گے۔

(۱) مشاجراتِ صحابہؓ میں مابہ النزاع کیا امر تھا؟

(۱) عقائد اہل السنۃ والجماعۃ کے نامور امام علامہ کمال بن ہمامؒ اور ان کی مایہ ناز تصنیف ’’المسایرہ‘‘ کے شارح علامہ کمال بن شریف فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مابین جو محاربہ واقع ہوا، وہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے کے سوال پر تھا، اور اس کی بنیاد اجتہاد پر تھی، یہ حضرت معاویہؓ کی طرف سے خلافت کی جنگ نہ تھی۔  کیونکہ حضرت علیؓ کی رائے یہ تھی کہ قاتلینِ عثمانؓ اس وقت بہت زیادہ ہیں اور لشکرِ اسلامی میں خلط ملط ہو چکے ہیں، اس لیے اگر ان پر فوری طور پر ہاتھ ڈالا گیا اور انہیں ورثائے عثمانؓ کے سپرد کیا گیا تو امارت و خلافت کا سوال نئے سرے سے اضطراب میں پڑ جائے گا۔ اس واسطے حضرت علیؓ اس سپردگی میں اس وقت تک مہلت اور تاخیر چاہتے تھے جب تک انہیں نظم و نسق پر پورا کنٹرول حاصل نہیں ہو جاتا۔‘‘ (المسایرہ ص ۱۵۹)
(۲)      امام عبد الوہاب شعرانیؒ ارشاد فرماتے ہیں:
’’حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو محاربہ رونما ہوا وہ خلافت کی جنگ نہ تھی جیسا کہ بعض لوگوں کو خواہ مخواہ اس کا وہم ہوا ہے۔ بلکہ یہ جنگ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو ان کی برادری کے سپرد کرنے کے سوال پر واقع ہوئی تھی۔ کیونکہ حضرت علیؓ اس سپردگی میں تاخیر چاہتے تھے اور ان کی رائے یہ تھی کہ اگر فی الفور ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو امارت کا مسئلہ اضطراب میں پڑ جائے گا۔ اور اس چیز نے اس رائے کو اور زیادہ وزنی کر دیا تھا کہ جنگِ جمل کے موقع پر حضرت علیؓ نے قاتلینِ عثمانؓ کو لشکر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جس پر  یہ  لوگ آپ کے قتل کے درپے ہو گئے تھے۔ اور حضرت معاویہؓ کی رائے یہ تھی کہ قاتلوں کو ورثاء عثمانؓ کے سپرد کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے تاکہ ورثاء جلد از جلد حضرت عثمانؓ کا قصاص لے سکیں۔ پس حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں اپنے اپنے اجتہاد پر تھے اور ان کی باہمی جنگ سے یہی مراد ہے۔‘‘ (الیواقیت والجواہر ص ۷۷ ج ۲)
(۳)    حجۃ الاسلام امام غزالیؒ المتوفی ۵۰۵ھ کا ارشاد ہے:
’’اور اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ سب صحابہؓ کو پاک سمجھا جائے اور ان کی اسی طرح تعریف و ثناء کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ اور حضرت معاویہؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان جو جنگ ہوئی وہ خلافت کی جنگ نہ تھی بلکہ ان بزرگوں کی اجتہادی آراء میں اختلاف پر مبنی تھی۔ کیونکہ حضرت علیؓ کا اجتہاد اور ان کی رائے یہ تھی کہ قاتلینِ عثمانؓ کو اگر فی الفور ورثاء عثمانؓ کے سپرد کیا گیا تو امارت کا معاملہ مضطرب ہو جائے گا۔ کیونکہ قاتلین کا گروہ تعداد میں زیادہ ہونے کے علاوہ لشکر میں خلط ملط ہو چکا تھا۔ اس لیے حضرت علیؓ اس سپردگی میں تاخیر کو بہتر سمجھتے تھے۔ لیکن حضرت معاویہؓ کی رائے یہ تھی کہ اگر ان لوگوں کو کچھ بھی مہلت دی گئی تو اتنے بڑے گناہ کے ہوتے ہوئے ان سے قصاص لینے میں تاخیر کرنے سے خلفاء کے خون کی قدر و قیمت گھٹ جائے گی اور روز روز اس قسم کے لوگ خونریزی پر تلے رہیں گے۔‘‘ (احیاء العلوم ص ۹۹ ج۱)
(۴)    امام ابن حجر المکیؒ المتوفی ۹۷۴ھ فرماتے ہیں کہ
’’اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد میں سے یہ بات بھی ہے کہ حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مابین جو جنگ ہوئی وہ خلافت کا جھگڑا نہیں تھا۔ اس لیے کہ حضرت علیؓ کی خلافت پر اجماع متحقق ہو چکا تھا۔ پس اس کے سوال پر فتنہ بپا نہیں ہوا، بلکہ اس لیے ہوا تھا کہ حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت علیؓ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ قاتلینِ عثمانؓ کو ہمارے سپرد کر دیا جائے۔ کیونکہ حضرت معاویہؓ حضرت عثمانؓ کے چچازاد بھائی تھے، لیکن حضرت علیؓ یہ خیال کر کے قاتلوں کو ان کے سپرد کرنے سے رک گئے کہ ابھی خلافت کا فیصلہ تازہ تازہ ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باغی کوئی اور شورش بپا کر کے امارت کے مسئلہ کو نئے سرے سے اضطراب میں ڈال دیں۔ اور اس وقت خلافتِ اسلامی اتحاد کا نشان تھی اور ابھی تک پوری طرح مستحکم بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت علیؓ نے اس سپردگی کو اس وقت تک مؤخر کرنا مناسب سمجھا جب تک ان کے قدم پوری طرح جم نہیں جاتے اور مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہو جاتے، تاکہ اس کے بعد وہ ایک ایک قاتل کو پکڑ کر ورثاء عثمانؓ کے سپرد کر سکیں۔‘‘ (الصواعق المحرقۃ ص ۲۱۶)
یہ چند حوالے معتمد ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کی عبارت سے پیش کیے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے مندرجہ ذیل تین امور روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتے ہیں:
    ۱۔ مشاجرات کی بنیاد خلافت کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ حضرت معاویہؓ اس وقت خلافت کے دعویدار تھے۔
    ۲۔ مشاجرات کی بنیاد قاتلینِ عثمانؓ کو حضرت عثمانؓ کے وارثین کے سپرد کرنے کا سوال بھی نہیں تھا، بلکہ خلیفۂ وقت حضرت علیؓ قاتلینِ عثمانؓ کو حضرت معاویہؓ کے مطالبہ کے مطابق ورثاء کے سپرد کرنے کو تیار تھے اور انہیں نفسِ سپردگی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں تھا۔
    ۳۔ اصل تنازعہ اس سپردگی میں تعجیل اور تاخیر کے سوال پر تھا۔ حضرت معاویہؓ تاخیر کو ناروا سمجھتے ہوئے تعجیل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اور حضرت علیؓ تعجیل کو خلافِ مصلحت خیال کر کے تاخیر کو اصوب (زیادہ صحیح) قرار دیتے تھے۔
جب ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کے ارشادات کی روشنی میں قاتلینِ عثمانؓ کو ورثاء عثمانؓ کے سپرد کرنے کا مسئلہ صحابہ کرامؓ کے درمیان ایک متفق علیہ امر تھا اور حضرت علیؓ خلیفۂ وقت کو بھی سپردگی پر اعتراض نہیں تھا، بلکہ تنازعہ صرف اور صرف تعجیل اور تاخیر کے سوال پر تھا، تو بعض حضرات کی طرف سے حضرت معاویہؓ کے اس مطالبہ کو غیر آئینی جاہلیت کے قبائلی نظام سے اشبہ اور غیر اسلامی مطالبہ قرار دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اس دعویٰ کو کہ حضرت معاویہؓ کو یہ مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کہ قاتلینِ عثمانؓ کو حضرت عثمانؓ کے ورثاء کے سپرد کر دیا جائے،  اگر ان کے ہاں کوئی وقعت حاصل ہو تو ہو، بہرحال ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ ان کے اس دعویٰ کو ماننے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ کیونکہ جو مطالبہ تمام صحابہؓ کا متفق علیہ ہے، اور خلافتِ راشدہ کے منصب جلیلہ پر فائز سیدنا علیؓ بھی نفسِ مطالبہ کو مانتے ہیں، تو اس مطالبہ کو غیر آئینی اور جاہلیت کے قبائلی نظام سے اشبہ قرار دینے کی بات قابلِ قبول نہیں ہے۔ 
الغرض مشاجراتِ صحابہؓ میں ما بہ النزاع نہ تو خلافت کا مسئلہ تھا، جیسا کہ امام شعرانیؒ کے بقول بعض لوگوں کو خواہ مخواہ اس کا وہم ہوا ہے، اور نہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے کا سوال تھا، کیونکہ یہ مطالبہ متفقہ علیہ تھا اور ائمہ عقائد کی تمام کتابوں میں مابہ النزاع ’’تسلیم قتلۃ عثمانؓ الی الورثاء‘‘ کو نہیں بلکہ ’’تاخیر تسلیم‘‘ اور ’’استعجال تسلیم‘‘ کو قرار دیا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ’’نفسِ تسلیم‘‘ میں اختلاف نہیں تھا بلکہ تعجیل اور تاخیر میں اور سپردگی کے وقت میں اختلاف تھا۔
قصاص کا مسئلہ قرآن پاک کا منصوص مسئلہ ہے، بھلا حضرت علی رضی اللہ عنہ (یا) اور کوئی صحابیؓ اس سے انکار کر سکتا تھا؟ اختلافِ رائے صرف یہ تھا کہ فی الحال ان قاتلوں کو حضرت عثمانؓ کے وارثوں کے سپرد کر دیا جائے یا مصلحتاً کچھ عرصہ بعد جبکہ امرِ خلافت مضبوط ہو جائے۔

(۲) فریقین کی اصولی حیثیت

جب اتنی بات واضح ہو گئی کہ مابہ النزاع صرف قاتلینِ عثمانؓ کی ورثاء کو سپردگی میں تعجیل و تاخیر کا سوال تھا، تو اب ہم نے ائمہ کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ دیکھنا ہے (کہ) ان دونوں فریقوں کی اصولی حیثیت کیا تھی؟
(۱)   امام اہل السنۃ والجماعۃ حضرت الامام ابو الحسن الاشعریؒ فرماتے ہیں کہ :
’’جو کچھ واقعات حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کے درمیان واقع ہوئے ہیں ان کی بنیاد اجتہاد اور تاویل پر تھی، سب کے سب اہلِ اجتہاد تھے۔ اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور شہادت کی خوشخبری دی تھی جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ اجتہاد میں حق پر تھے۔
اور اسی طرح جو  واقعات حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان واقع ہوئے ہیں وہ بھی اجتہاد اور تاویل پر مبنی ہیں اور سارے صحابہ کرامؓ مامون ہیں جن کے دین پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرامؓ کی تعریف و ثنا کی ہے اور ہم کو ان کی توقیر و تعظیم کرنے کا، ان سے محبت رکھنے کا، اور ان کے بارے میں ہر اس بات سے براءت ظاہر کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ان میں سے کسی ایک کی تنقیص ہوتی ہو۔‘‘ (کتاب الابانۃ للاشعریؒ ص ۸۸)
(۲)   امام عبد الوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں کہ :
’’صحابہ کرامؓ سب کے سب باتفاق اہل السنۃ والجماعۃ عادل ہیں۔ جنگِ جمل و صفین واقعہ سے قبل بھی وہ عادل تھے اور بعد میں بھی عادل ہی رہے۔ یہ اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کے آپس کے جھگڑے اجتہاد کے سبب سے تھے۔ کیونکہ مختلف فیہ امور اجتہادی مسائل تھے اور دونوں فریقوں نے اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کیا۔ اب ’’کل مجتہد مصیب‘‘ (ہر مجتہد حق پر ہوتا ہے) کا قاعدہ مدنظر رکھ کر سب کو حق پر قرار دیا جائے۔ یا ’’المصیب واحد والمخطئ معذور بل ماجور‘‘ (درست فیصلہ ایک کا ہوتا ہے اور دوسرا معذور بلکہ ماجور ہوتا ہے) کے قاعدہ کے پیش نظر ایک فریق کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھا جائے۔ اس سے عدالتِ صحابہؓ پر کوئی زد نہیں پڑتی۔‘‘ (الیواقیت والجواہر ص ۷۶ ج ۲)
(۳)   حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا ارشاد ہے کہ:
’’شیخ ابو شکور سالمیؒ نے اپنی کتاب ’’تمہید‘‘ میں تصریح کی ہے کہ حضرت معاویہؓ اور صحابہ کرامؓ میں سے ان کے وہ رفقاء جو جنگ میں ان کے ساتھ تھے، اگرچہ خطا پر تھے، لیکن ان کی یہ خطا اجتہادی تھی۔ اور ابن حجرؒ نے الصواعق المحرقۃ میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ سے حضرت معاویہؓ کا نزاع اجتہاد پر مبنی تھا۔ اور اس کو انہوں نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد میں شمار کیا ہے۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول مکتوب ص ۲۵۱)
ایک اور مقام پر حضرت مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:
’’جمہور اہل السنۃ والجماعۃ کا دلائل کی روشنی میں یہ عقیدہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ میں حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور ان کے مخالفین نے خطا کا راستہ اپنایا تھا۔ لیکن چونکہ یہ خطا اجتہادی ہے اس لیے ملامت اور اعتراض سے مبرا اور بالاتر ہے اور اہلسنۃ والجماعۃ محاربینِ علیؓ کے حق میں صرف خطاء کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں، کیونکہ اس میں تاویل کی گنجائش ہے، اس کے بغیر ان پر کسی لفظ کا اطلاق روا نہیں رکھتے۔‘‘ (مکتوبات حصہ شسشم دفتر دوم ص ۷۹)
(۴)   امام شرف الدین نوویؒ شارح مسلم شریف المتوفی ۶۷۶ھ فرماتے ہیں کہ
’’اور جو محاربات صحابہ کرامؓ کے دور میں رونما ہوئے ان میں ہر گروہ کے لیے ایسے شبہات موجود تھے جن کی بنا پر وہ گروہ اپنے آپ کو حق پر کہتا تھا اور سارے کے سارے عادل اور محاربات کے سلسلہ میں اپنے اپنے طرز عمل کے مؤدل تھے۔ اور ان محاربات میں سے کوئی چیز بھی ان صحابہ کرامؓ کی عدالت پر اثر انداز نہیں ہوتی، کیونکہ وہ سارے مجتہد تھے جنہوں نے اجتہادی مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا تھا۔‘‘ (شرح مسلم ص ۲۷۳ ج ۳)
ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات سے حسبِ ذیل امور واضح ہوتے ہیں کہ
    ۱۔ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ کے مطابق حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے میں تاخیر یا تعجیل کا مسئلہ ایک اجتہادی معاملہ تھا۔
    ۲۔ اس اجتہادی مسئلہ میں حضرت علیؓ نے اپنے اجتہاد کے مطابق ’’تاخیر تسلیم‘‘ کو اصوب سمجھا اور حضرت معاویہؓ نے اپنے اجتہاد کی روشنی میں ’’تعجیل تسلیم‘‘ کو مناسب خیال فرمایا۔
    ۳۔ دونوں بزرگوں کے پاس اپنے اپنے اجتہاد کو صحیح سمجھنے کے لیے شبہات کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور موجود تھی، جس کی بنا پر ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر کہتا تھا۔
    ۴۔ اس اجتہادی اختلاف میں حضرت علیؓ کا اجتہاد اپنے نتیجہ کے لحاظ سے صواب اور حضرت معاویہؓ کا اجتہاد خطاء تھا۔
    ۵۔ اس اجتہادی اختلاف اور حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کی خطاء اجتہادی کے سلسلہ میں لفظ خطاء سے زیادہ اور کوئی لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی ان کو اس خطاء پر ملامت کی جا سکتی ہے اور نہ ان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔
الغرض اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ کی رو سے جنگِ جمل کی ابتدا سے واقعہ تحکیم تک جو کچھ واقعات رونما ہوئے ان کی بنیاد اجتہاد پر تھی۔ اور اجتہادی مسئلہ میں اگر دو مجتہد مختلف رائے قائم کریں تو اپنے اپنے اجتہاد کی رو سے تو وہ دونوں حق پر ہوتے ہیں، لیکن نفس الامر میں ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا خطاء پر، لیکن یہ خطاء بھی قابلِ ملامت نہیں ہوتی بلکہ اس پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔
اس لیے صحابہ کرامؓ میں سے اجتہادی مسائل میں خطاء کر جانے والوں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، جیسے بعد کے چاروں امامانِ فقہ حضرت ابوحنیفہؒ، حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت امام مالکؒ میں بیسیوں مسائل میں اختلاف ہے، مگر چونکہ یہ اہلِ اجتہاد تھے اس لیے چاروں مذاہب کو اصولاً‌ حق پر سمجھا جاتا ہے۔ ایک کو حسنِ ظن کی وجہ سے حق پر سمجھا جا کر اس کی پیروی کی جاتی ہے، دوسرے کو اس کے اجتہادی خطاء پر ملامت نہیں کیا جاتا بلکہ مستحقِ اجر قرار دیا جاتا ہے۔

(۳) تاریخی روایات کی صحیح حیثیت

واقعاتی صورتحال یہ ہے کہ مشاجرات میں مابہ النزاع امور اجتہادی مسائل تھے، جن میں مجتہدین کا آپس میں اختلاف ہو گیا، اور اس اختلاف سے باغیوں کے گروہ نے سازشوں اور حیلوں کے ذریعہ پوری طرح فائدہ اٹھا کر صحابہ کرامؓ کے دو مقدس گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ یہ وہی سبائی گروہ تھا جس نے حضرت عثمانؓ کو شہید کرایا اور پھر حضرت علیؓ کے لشکر میں گھل مل گئے، اپنی سازشوں سے اسلام کو کمزور کرنے اور باہم لڑانے کے سوا ان کا کوئی مقصد نہ تھا۔  
البتہ ایک سوال یہ ہے کہ اس مسلک اور عقیدہ پر پختگی سے قائم رہنے کی صورت میں ان بے شمار تاریخی روایات کا کیا بنے گا جو اس عقیدہ کے بالکل الٹ ایک بالکل دوسرا ہی نقشہ پیش کرتی ہیں؟ اس کے جواب میں اب ہم ائمہ کرامؒ کی عبارات پیش کرتے ہیں تاکہ تاریخی روایات کی صحیح حیثیت واضح ہو سکے۔
(۱)   حجۃ الاسلام امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’پس ہمیں صحابہ کرامؓ کے حق میں نیک گمان رکھنا چاہیے اور ان کے بارے میں برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔ اور جو واقعات اس قسم کے تاریخوں میں نقل کیے گئے ہیں جن سے اس حسنِ ظن پر زد پڑتی ہے تو اس کا بیشتر حصہ تعصب اور عناد کی وجہ سے ان مخالفوں نے خودبخود گھڑا ہے، جس کی کوئی اصل نہیں۔ اور اگر کوئی واقعہ نقل کے لحاظ سے ثابت ہو جائے تو بھی اس کی تاویل کی جائے گی، اور ایسی کوئی خبر نہیں جس میں خطاء اور سہو کا احتمال نہ ہو۔ اور صحابہ کرامؓ کے افعال کو نیک عمل اور قصدِ خیر پر محمول کرنا چاہیے اگرچہ کسی ایک آدھ معاملہ میں وہ صواب پر نہ ہوں۔ اور حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ سے حضرت علیؓ کی جو جنگ مشہور ہے، اس میں حضرت عائشہؓ کے بارے میں تو یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ قاتلینِ عثمانؓ کے بپا کیے ہوئے فتنہ کو بجھانا چاہتی تھیں لیکن معاملہ ان کے ضبط اور کنٹرول سے نکل گیا، اور حضرت معاویہؓ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ تاویل اور اجتہاد کی بنا پر حضرت علیؓ سے اختلاف رکھتے تھے۔ اور اس کے سوا جو حکایتیں بیان کی جاتی ہیں ان میں صحیح اور باطل آپس میں خلط ملط ہو چکے ہیں۔ اور وہ روایات آپس میں بھی مختلف ہیں جن کا اکثر و بیشتر حصہ روافض، خوارج اور ان کے اربابِ فضول کی اختراع ہے جو ہر وقت من گھڑت اور جھوٹے قصے پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ پس مناسب بات یہ ہے کہ جب تک کوئی روایت اصولِ روایت و درایت کی روشنی میں صحیح ثابت نہ ہو جائے اس کی صحت کا صاف انکار کر دیا جائے۔ اور جو روایت اصول کی کسوٹی پر صحیح ثابت ہو جائے لیکن وہ بظاہر حسنِ ظن کے خلاف ہو تو اس کی تاویل و توجیہ کی جائے۔ اور اے مخاطب! اگر تو کسی روایت کی تاویل و توجیہ کرنے سے عاجز رہے اور تجھ کو کوئی راستہ تاویل و توجیہ کا نظر نہ آئے تو یہ کہہ دے کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی تاویل ہو جو میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔‘‘ (الاقتصاد فی الاعتقاد للغزالیؒ ص ۱۰۱۰)
آپ نے دیکھا کہ امام غزالیؒ کا تقویٰ اور احتیاط کہ اپنی سمجھ کا قصور مان لو مگر صحابہ کرامؓ پر بدگمانی نہ ہو، کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا اللہ کے لیے کیا اور حق سمجھ کر کیا۔ 
(۲)   امام ابن حجر المکیؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ
’’کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مشاجراتِ صحابہؓ کے سلسلہ میں روایات پیش کر کے صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ پر تنقید و اعتراض کا دروازہ کھول دے اور عوام کو صحابہ کرامؓ سے بدظن کرنے کا باعث بنے۔ اور اس قسم کی حرکتیں وہ بدعتی اور جاہل قسم کے لوگ ہی کیا کرتے ہیں جو ہر وہ بات نقل کر ڈالتے ہیں جو تاریخ کے کسی حصہ سے ان کو دستیاب ہو جائے اور روایت کی سند وغیرہ پرکھے بغیر ہی اسے پیش کر دیتے ہیں۔‘‘ (تطہیر الجنان للمکیؒ ص ۳۱)
ایک دوسرے مقام پر امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ:
’’واجب اور ضروری امور میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص ’’مشاجراتِ صحابہؓ‘‘ کے بارے میں کوئی روایت سنے تو اسے قبول کرنے سے رک جائے اور محض کسی مؤرخ کی کتاب میں اس روایت کے موجود ہونے یا کسی شخص سے وہ روایت سن لینے ہی کی بنا پر اس روایت میں بیان کردہ قصہ کو صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی طرف منسوب نہ کر دے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اس روایت کی چھان بین کرے، اس کی اسناد پرکھے، اور جب تک وہ روایت پوری طرح صحیح ثابت نہ ہو جائے اسے تسلیم نہ کرے۔ اور جب وہ روایت صحیح ثابت ہو جائے تو اس میں تاویل کرے اور اس کی توجیہ بیان کرنے کی پوری کوشش کرے۔‘‘ (الصواعق المحرقۃ ص ۲۱۶)
(۳)   حضرت ملا علی القاریؒ المتوفی ۱۰۱۴ھ فرماتے ہیں کہ
’’علامہ ابن دقیق العیدؒ نے اپنے عقائد میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے، جو روایات مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں نقل کی گئی ہیں ان میں باطل اور جھوٹی روایات بھی ہیں، ان کی طرف التفات نہیں جائے گا۔ اور جو روایت صحیح ثابت ہو جائے اس کی ہم کوئی مناسب تاویل کریں گے۔‘‘ (شرح فقہ اکبر ص ۸۷)
ان ارشادات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ
    ۱۔ مؤرخین کی کتابوں میں جو روایات بیان کی گئی ہیں ان میں غلط اور صحیح دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔
    ۲۔ غلط روایات رافضیوں، خارجیوں اور دوسرے گمراہ لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ کے تاریخ میں گھسیڑی ہیں۔
    ۳۔ غلط اور صحیح روایات میں تمیز کرنے کے لیے روایت کی سند کو پرکھ کر اصول و ضوابط کی روشنی میں اس کے راویوں پر باقاعدہ جرح و تنقید کی جائے گی۔
    ۴۔ جو شخص تاریخی روایت کو محض کسی کتاب میں موجود ہونے کی بنا پر قبول کر لیتا ہے اور اس کی سند کو پرکھنے اور راویوں پر جرح و تنقید کو ضروری خیال نہیں کرتا وہ جاہل اور بدعتی ہے۔
بحمد اللہ تعالیٰ ہم نے مشاجراتِ صحابہؓ کے سلسلہ میں تینوں بنیادی امور (۱) مابہ النزاع (۲) فریقین کی اصولی حیثیت اور (۳) تاریخی روایات کی اصل حقیقت پر ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کے واضح اور روشن ارشادات پیش کر دیے ہیں جن سے واضح ہو جاتا ہے، اور دو بزرگوں کے ارشادات پر اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں: 
(۱)   امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’واعظوں اور ان جیسے دوسرے لوگوں پر حضرت حسینؓ کی شہادت اور مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں ایسی روایات کا بیان کرنا حرام ہے جن سے صحابہؓ پر اعتراض و تنقید کا دروازہ کھلتا ہو اور عوام میں ان کے بارے میں برے خیالات پیدا ہونے کا احتمال ہو۔‘‘ (بحوالہ الصواعق المحرقۃ ص ۲۲۳)
(۲)  علامہ ابن عابدین شامیؒ المتوفی ۱۲۵۸ھ فرماتے ہیں کہ:
’’ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کا احترام اور ان کی تعظیم کریں، ان پر اعتراض و تنقید کو حرام سمجھیں اور ان کے باہمی مشاجرات کے بارے میں سکوت اختیار کریں، کیونکہ یہ سارے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے۔ یہ اہلِ حق اہل السنۃ والجماعۃ کا مذہب ہے، جس شخص نے اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یا تو ضال اور مبتدع ہے، اور یا زیادہ غلو کرنے کی وجہ سے کافر ہے۔‘‘ (رسائل ابن عابدین ص ۳۵۷)

اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر (۱۱۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی


(519) وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ کا مطلب

درج ذیل آیت میں تین باتیں غور طلب ہیں۔ ایک یہ کہ وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ  کا الوالدان پر عطف ہے یا وہاں سے نیا جملہ شروع ہوتا ہے جس کا وہ مبتدا ہے؟ دوسری بات یہ کہ وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ سے مراد کون لوگ ہیں جن کا شریعت میں حصہ ہے، جسے دینے کا اس آیت میں حکم ہے؟ تیسری بات یہ کہ فَآتُوہُمْ نَصِیبَہُمْ میں کن لوگوں کو ان کا حصہ دینے کی بات ہے؟ ھم ضمیر کا مرجع صرف  وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ ہے یا آیت میں مذکور تینوں کے موالی یعنی وارثین ہیں؟
عام طور سے لوگوں نے وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ کو نئے جملے کا مبتدا مانا ہے اور ان سے مراد وہ لوگ لیے ہیں جن سے بھائی چارے کا معاہدہ ہو۔ پھر یہ بحث بھی ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے یا باقی ہے۔ غرض وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ سے معاہداتی رشتہ اخوت مراد لینے سے کئی پیچیدہ سوالات سامنے آتے ہیں۔ بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُونَ وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَآتُوہُمْ نَصِیبَہُمْ (النساء: 33)
’’ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں اور جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہدہ کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں ہر ایک کے لیے وارث ٹھہرا دیے ہیں اور جن سے تم نے کوئی پیمان باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کردیے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور ہم نے ہر شخص کے لیے وارث مقرر کر دیے ہیں، جو کچھ ماں، باپ اور قریب ترین رشتہ دار اور جن سے تم نے عہدوپیمان کر رکھا ہے، چھوڑ جائیں انہیں (وارثوں کو) ان کا حصہ دو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہاں قابل ذکر ہے۔ ان کے مطابق  وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ سے مراد عقد نکاح سے وجود میں آنے والے شوہر بیوی کے رشتے ہیں۔ وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ کا عطف  الوالدان پر ہے۔ آیت میں تینوں (الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُونَ وَالَّذِینَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ) کے وارثین کو ان کا حصہ دینے کا حکم ہے۔ دراصل رشتے تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک والدین جن سے انسان کا جنم ہوتا ہے۔ دوسرے خونی رشتے جنھیں اقربین کہا گیا ہے، جیسے اولاد اور بھائی بہن۔ ان دو کے علاوہ بس ایک رشتہ اور ہے جو عقد اور معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے اور وہ شوہر اور بیوی کا رشتہ ہے۔ قرآن میں مذکور وراثت کا نظام اصل میں انھی تینوں طرح کے وارثوں پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں انھی تین طرح کے وارثوں کو ان کا حصہ جو اسی سورۃ النساء میں مذکور ہے، ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس توجیہ کی روشنی میں ترجمہ اس طرح ہوگا:
’’اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار اور وہ (شوہر یا بیوی) چھوڑیں جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوئے ہیں، تو ان کا حصہ انھیں دو‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

  (520) مَا طَابَ لَکُمْ کا ترجمہ

طاب کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کا  اپنے آپ میں مناسب اور سازگار ہونا۔ فیروزابادی لکھتے ہیں: طابَ: لَذَّ وَزَکَا (القاموس المحیط)۔ پسند آنے کے لیے عربی میں أعجب کا لفظ آتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے: وَلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ (الاحزاب: 52) (اگرچہ ان کا حسن تمھیں پسند آجائے) درج ذیل آیت میں پسند آنے کے بجائے سازگار ہونا بہتر ترجمہ ہے۔
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔ (النساء: 3)
’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرلو اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو ایک پر بس کرو یا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری ملک میں ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، طاب کا مطلب جائز ہونا نہیں ہے۔)
’’اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں‘‘۔ (سید مودودی، اس ترجمے میں ایک غلطی یہ ہے: ’’یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں‘‘ یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ اپنی لونڈیوں سے نکاح نہیں کیا جاتا، ان سے ملکیت کا رشتہ ہوتا ہے نہ کہ زوجیت کا رشتہ۔ زوجیت میں لانے کے لیے انھیں آزاد کرنا ہوگا۔ جب وہ آزاد ہوجائیں گی تو وہ عام عورتوں کے حکم میں ہوں گی، پھر الگ سے ان کے ذکر کی معنویت ختم ہوجائے گی۔ ’’بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو‘‘ کے بجائے ’’انصاف نہ کرپانے کا اندیشہ ہو‘‘ بہتر ترجمہ ہوگا۔)
’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، یتامی کا ترجمہ یتیم لڑکیوں کرنا درست نہیں ہے۔ یتامی میں تو لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ پھر جملے میں نکاح کرنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔ یہ باتیں تفسیر میں بیان کی جاسکتی ہیں لیکن ترجمہ تو لفظ کے مطابق ہونا چاہیے۔)
’’اور اگر ڈرو کہ انصاف نہ کرو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں تو نکاح کرو جو تم کو خوش آویں عورتیں دو دو تین تین چار چار پھر اگر ڈرو کہ برابر نہ رکھو گے تو ایک ہے یا جو اپنے ہاتھ کا مال ہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر، طاب کا ترجمہ مناسب ہے البتہ یتامی کا ترجمہ یتیم لڑکیاں مناسب نہیں ہے۔)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم سے یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ ہوسکے گا تو عورتوں میں سے جو تمہارے لیے سازگار ہوں دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرلو اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو ایک پر بس کرو یا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری ملک میں ہو‘‘۔

(521) مَا آتَیْتُمُوہُنَّ سے مراد

درج ذیل آیت کے ٹکڑے میں مَا آتَیْتُمُوہُنَّ سے مراد وہ سب کچھ ہے جو شوہر نے بیوی کو دیا ہو۔ مہر بھی اس میں شامل ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ متعین طور پر مہر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے لفظ کی وسعت متأثر ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں عضل کا مطلب روکنا نہیں بلکہ تنگ کرنا ہے۔ عضل  کے لغوی استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ضیق اور تنگی کا مفہوم ہے۔ ابن منظور لکھتے ہیں: وعَضَّلَ عَلَیْہِ فِی اَمرہ تَعْضِیلًا: ضَیَّق مِنْ ذَلِکَ وحالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ مَا یُرِیدُ ظُلْمًا۔ وعَضَّلَ بِہِمُ المکانُ: ضَاق۔ وعَضَّلَتِ الاَرضُ باَہلہا اِذا ضَاقَتْ بِہِمْ لِکَثْرَتِہِمْ۔ (لسان العرب) 
زیر نظر آیت میں تنگ کرنے کا ترجمہ کرنے سے بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔ روکنا بھی اس کا ایک معنی ہے مگر وہ یہاں موزوں معلوم نہیں ہوتا۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَلَا تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ۔ (النساء: 19)
’’اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’انہیں اس لیے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(522) حَلَائِلُ کا ترجمہ

لفظ حلیلۃ کا اطلاق بیوی پر بھی ہوتا ہے، لیکن اس کے معنی میں وسعت ہے۔ بیوی کے ساتھ لونڈی بھی اس میں شامل ہے۔ ترجمہ میں اس وسعت کا اظہار کرنا زیادہ مناسب ہے، ترجمے دیکھیں:
وَحَلَائِلُ اَبْنَائِکُمُ الَّذِینَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ۔ (النساء: 23)
’’اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور تمہارے نسلی بیٹوں کی بیبییں ‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو تمہاری پشت سے ہیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور ان عورتوں سے جن سے تمہارے ان بیٹوں کا جو تمہارے صلب سے ہیں ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہے‘‘۔ (محمد امانت اللہ اصلاحی)

(523) وَأَنْ تَجْمَعُوا کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ٹکڑے کے بعض ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَاَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ۔ (النساء: 23)
’’اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
’’اور دو بہنوں کو (ایک نکاح میں) اکٹھا کرنا حرام ہے‘‘۔ (احمد علی)
مذکورہ بالا ترجموں میں لفظ ’ایک نکاح‘ درست نہیں ہے۔’ ایک نکاح‘ کہنے سے یہ بات نکل سکتی ہے کہ دو نکاح  کے ذریعے  دو بہنوں کو جمع کرسکتے ہیں۔ صرف ’نکاح ‘ کہیں ، تب بھی یہ کم زوری پیدا ہوتی ہے کہ دو سگی بہنوں کو ملک یمین کی صورت میں جمع کرنا اس ممانعت میں شامل نہیں ہوگا، جب کہ وہ بھی شامل ہے۔
درج ذیل ترجمے درست ہیں:
’’اور دو بہنیں اکٹھی کرنا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور یہ کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرو‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
درج ذیل ترجمے میں ’نہ‘ غلطی سے درج ہوگیا ہے۔ ممنوع باتیں ذکر ہورہی ہیں، تو ساتھ رکھنا منع ہے نہ کہ ساتھ نہ رکھنا۔
’’اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نہ رکھو‘‘۔(اشرف علی تھانوی)

(524) نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ٹکڑے میں سیئات کا لفظ آیا ہے۔ سیئات کا مطلب برائیاں ہیں وہ چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ سیئات صرف چھوٹی برائیوں کے لیے نہیں آتا ہے۔ قرآن میں متعدد بار یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ عمومی معنی میں آیا ہے۔ یہاں بھی  سیئات کا ترجمہ برائیاں کرنا چاہیے۔ کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:
 اِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ۔ (النساء: 31)
’’اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے‘‘۔ (سید مودودی)
’’اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’تم جن باتوں سے روکے جا رہے ہو اگر ان کے بڑے گناہوں سے تم بچتے رہے تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں جھاڑ دیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’تم جن باتوں سے روکے جا رہے ہو اگر ان کے بڑے گناہوں سے تم بچتے رہے‘‘ یہ غیر فصیح عبارت ہے۔ بڑے گناہوں سے روکے جانے اور انھی سے بچنے کی بات ہے۔ یہاں اضافت صفت کا مفہوم دے رہی ہے۔
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
’’اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے‘‘۔ (احمد رضا خان)

(525)  وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبَی کا ترجمہ

درج ذیل قرآنی عبارت میں دو طرح کے پڑوسیوں کا ذکر ہے: 
وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ۔ (النساء: 36)
’’اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے‘‘۔ (سید مودودی)
اس ترجمے میں  وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبَی کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ اس میں رشتے دار کو موصوف بنادیا ہے اور پڑوسی کو صفت۔ حالاں کہ عبارت کی رو سے پڑوسی موصوف ہے۔ درج ذیل تینوں ترجمے درست ہیں:
’’اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’قرابت دار پڑوسی، بیگانہ پڑوسی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درج ذیل ترجمہ بھی نادرست ہے۔ پاس اور دور کے پڑوسی کی بات نہیں ہے، بلکہ رشتے دار پڑوسی اور غیر رشتے دار پڑوسی کی بات ہے۔ ذی القربی کا مطلب رشتے دار پڑوسی چاہے وہ غیر رشتے دار پڑوسی سے کچھ زیادہ فاصلے پر کیوں نہ ہو۔
’’اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے‘‘۔ (احمد رضا خان)

(526) ہَؤُلَائِ أَہْدَی مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا کا ترجمہ

اسم تفضیل کبھی یہ بتانے کے لیے آتا ہے کہ مذکورہ صفت دونوں افراد میں ہے مگر ایک فرد میں زیادہ ہے اور کبھی یہ بتانے کے لیے بھی آتا ہے کہ ایک میں ہے اور دوسرے میں نہیں ہے۔ درج ذیل آیت میں اسم تفضیل ’اَہْدَی‘ اسی دوسرے مفہوم میں ہے۔ اہل کتاب یہ نہیں کہتے تھے کہ مومنین ہدایت پر ہیں اور کفار ان سے زیادہ ہدایت پر ہیں۔ وہ تو یہ کہتے تھے کہ کفار ہدایت پر ہیں اور یہ لوگ جو خود کو مومن کہتے ہیں گم راہ ہیں۔ ترجمے ملاحظہ ہوں:
وَیَقُولُونَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ہَؤُلَائِ اَہْدَی مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا۔ (النساء: 51)
’’ اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درج ذیل ترجمہ مفہوم کی صحیح ادائیگی کرتا ہے:
’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
’’اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں کے مقابلے میں یہ ہدایت پر ہیں‘‘۔

متنِ قرآن کی حفاظت و استناد

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر


قرآن کے متن کی حفاظت اور استناد سے متعلق گزشتہ دنوں جو بحث چھیڑی گئی، اس میں کسی دوست کی پوسٹ میں اختلافات قراءت کے حوالے سے یاسر قاضی صاحب کا یہ تبصرہ پڑھا کہ عمومی طور پر اہل علم کی طرف سے اس مسئلے کی جو تفہیم بیان کی جاتی ہے، اس میں کچھ خلا ہیں اور وہ آج کے تعلیم یافتہ اور تاریخی معلومات رکھنے والے ذہن کو مطمئن نہیں کرتی، اس لیے اس سوال کو بہتر انداز میں ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے خیال میں یہ بنیادی طور پر درست تجزیہ ہے، البتہ اس تجزیے کا معروض اصلاً‌ مروج دینی تعبیرات یا مواقف کو قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں تک اعلیٰ سطحی علمی روایت کا تعلق ہے تو اس کی صورت حال ہماری رائے میں مختلف ہے۔ بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو اس سوال کا تعلق دراصل دینی روایت کے اس عمومی انتظام سے بنتا ہے کہ بہت سی چیزوں کی ایک تفہیم عام مسلمانوں کی ذہنی سطح اور استعداد کے لحاظ سے کر دی جائے جو ان کی دینی ضروریات کے لیے کافی ہو، جبکہ علمی سطح پر اس مسئلے کی جو پیچیدگیاں ہیں، ان پر گفتگو اہل علم تک محدود رہے اور عام مسلمانوں کو تفصیلات میں زیادہ نہ الجھایا جائے۔
یہ طریقہ قرآن مجید کے متن کی قراءت کے علاوہ دیگر معاملات مثلاً‌ دینی اعتقادات کی تشریح، قرآن اور حدیث کے براہ راست مطالعہ، صحابہ کے دور کے سیاسی اختلافات اور فقہی مسائل میں اجتہاد وغیرہ کے حوالے سے بھی اختیار کیا گیا اور خاص تاریخی حالات میں عملاً‌ کارگر بھی رہا ہے۔ تاہم جدید دور کی بنیادی تبدیلیوں، خصوصاً‌ معلوماتی انقلاب اور عام آدمی کے لیے خود غور وفکر اور فیصلہ کرنے جیسے رجحانات کے زیر اثر یہ بندوبست زیادہ موثر نہیں رہا۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر مذکورہ تمام دائروں میں اہل مذہب کے مواقف اور انداز فکر میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے اور عام آدمی کے لیے معلومات یا قابل غور سوالات کی تحدید کا زاویہ نظر سکڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
تجربہ یہی ہے کہ جدید عہد کے پیدا کردہ سوالات کا سامنا کرنے کے لیے جہاں بھی اپالوجیٹک طرز فکر اختیار کیا گیا ہے، چاہے وہ دینی مصادر کے دائرے میں ہو یا اسلامی تاریخ یا مذہبی وفقہی احکام کے دائرے میں، اس کا الٹا ہی اثر مرتب ہوا ہے، کیونکہ ہر طرح کی معلومات تک رسائی کی وجہ سے جب تاریخی معلومات مختلف شکل میں تنقیدی ذہن رکھنے والے فرد یا طبقے کے سامنے آتی ہیں تو اس سے ’’مستند’’ مذہبی بیانیوں اور مواقف کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ علمی اخلاقیات اور دعوت کی حکمت عملی، دونوں لحاظ سے بہتر یہی ہے کہ گمراہی اور انتشار کے ڈر سے عام آدمی کے علم اور معلومات کے ’’حدود’’ طے کرنے اور فتوے بازی کے ہتھیار سے مخصوص مواقف کی ’’اجارہ داری’’ برقرار رکھنے کی سعی لاحاصل چھوڑ کر دینی روایت کے اعلی سطحی مباحث کو، جنھیں علمی اشرافیہ کے لیے خاص مانا جاتا ہے، عام تعلیم یافتہ ذہن کے لیے صحیح تناظر میں قابل فہم بنانے کی کوشش کی جائے۔ دور انتشار میں انتشار کو مصنوعی طریقوں سے روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن بہتر حکمت عملی سے اس کے مفاسد کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم

پاکستان قومی اتحاد کے صدر مولانا مفتی محمود سے ایک اہم انٹرویو

مجیب الرحمٰن شامی


مولانا مفتی محمود راولپنڈی میں ہوں تو ان کا قیام جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ میں رہتا ہے۔ بالائی منزل کے ایک حجرے میں۔ ۲۲ اگست کو ان سے ٹیلیفون پر بات ہوئی اور ملاقات کے لیے ساڑھے نو بجے رات کا وقت مقرر ہوا۔ جامعہ اسلامیہ پہنچا تو مفتی صاحب عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے۔ میں برادران عزیز مختار حسن اور سعود ساحر کے ہمراہ انتظار کی لذت میں ڈوبنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ جناب صبح صادق کھوسو تشریف لے آئے۔ ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ کھوسو صاحب کا ذہن توانا، لہجہ والہانہ اور تیور مجاہدانہ تھے۔ وہ ۱۹۵۶ء سے جمعیۃ العلمائے اسلام میں شامل ہیں اور کل انہیں وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانا تھا۔ چند لمحوں بعد مفتی صاحب انٹرویو کے لیے تیار تھے۔ حجرے میں پہنچے تو وہ ایک چٹائی پر عقیدت مندوں کے ہجوم میں گھرے بیٹھے تھے۔ سینیٹر محمد زمان اچکزئی بھی تشریف فرما تھے۔ یہی چٹائی جناب مفتی صاحب کا ’’ڈرائنگ روم‘‘ تھی۔ چھوٹے سے کمرے کے ایک کونے میں چارپائی پڑی تھی، یہ ان کا ’’بیڈ روم‘‘ تھا۔
مفتی صاحب پر ذیابیطس کا حملہ شدید ہے لیکن وہ اسے زیر کرتے آ رہے ہیں۔ دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر زخم ہوا، انگوٹھے کا ناخن کٹا، ابھی تک ٹانگ پر بھی سوجن ہے، لیکن مفتی صاحب کی سرگرمی کو ان کا زخم روک نہیں سکا۔ وہ قوم کے زخموں کا مرہم ڈھونے میں ہمہ تن مشغول ہیں اور اپنا زخم یاد ہی نہیں رکھتے۔ ۷ مارچ ۷۷ء کے انتخابات کی مہم کے دوران بھی ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ زیادہ آرام اور کم کام۔ ان کی صحت کے بارے میں شدید خدشے بھی ظاہر کیے گئے تھے، لیکن مفتی صاحب کام کے آدمی ہیں، آرام سے کیا کام؟ وہ ملک بھر میں اس طرح گھومے پھرے جیسے بالکل صحت مند ہوں، جیسے بیماری ان کے قریب تک نہ ہو اور واقعی بیماری کو انہوں نے قریب نہیں آنے دیا۔ کسی سے شکست نہ ماننے والا بیماری سے شکست کیسے مان سکتا ہے؟ ان کی توانا قوتِ ارادی شکست سے واقف ہی نہیں، وہ تو بس شکست دینا ہی جانتی ہے۔
مفتی صاحب کھدر پہنتے، دو ٹوک بولتے، سادہ کھاتے، انکساری برتتے، پہلو دار تجزیے کرتے، کارکنوں سے گھل مل جاتے، ہر لحظہ ہنستے مسکراتے اور سیاست کے منہ زور گھوڑے پر بڑی مہارت سے سواری فرماتے ہیں۔ واقعات کی کوئی تفصیل ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو پاتی۔ ان کے لہجے میں متانت، بات میں صداقت اور تجزیے میں ذہانت کھل کھل جاتی ہے۔
باقاعدہ سوال جواب سے پہلے کچھ گپ شپ بھی رہی۔ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ کا سلسلہ بھی چلا۔ میرے کان مفتی صاحب کی باتوں پر تھے اور آنکھوں کے سامنے اس شخص کے گزشتہ روز و شب ابھر رہے تھے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے فکر و نظر، سوچ کے انداز سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس سے اختلاف نہیں کہ اس نے سرحد کی وزارتِ اعلیٰ اس شان سے سنبھالی کہ اسلامی اقدار کو سربلند کیا۔ وہاں اردو سرکاری زبان قرار پائی، شراب مکمل طور پر بند ہوئی، احترامِ رمضان کا قانون نافذ ہوا، اور سرکاری افسروں پر پابندی لگی کہ وہ دفتر کے اوقات میں لباس شلوار قمیض ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ وزیر اعلیٰ، وزارتِ کے دوران بھی چٹائی پر بیٹھتا رہا۔ موٹا جھوٹا پہنتا رہا، اور جب استعفیٰ دیا تو اس کے اہل و عیال اس ٹھاٹھ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس سے رخصت ہوئے کہ ایک کار کی ڈگی میں گھر بھر کا سامان سما گیا۔ منہ بگاڑ بگاڑ کر انگریزی بولنے والے مسٹروں کے مقابلے میں سرحد کے اس ’’ملّا‘‘ (جسے سرحد کے عوام ’’نر مُلّا‘‘ کہہ کر زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں) نے کیسی مثال قائم کر دکھائی تھی، اور کیسی حکومت چلا دکھائی تھی۔ یہی شخص بلوچستان میں مینگل وزارت کی برطرفی پر وزارت سے مستعفی ہو گیا اور کرسی کو خدا ماننے والوں کے عہد میں، کرسی کا بت پاش پاش کر دیا۔ اسی شخص نے قومی اتحاد کی لازوال تحریک کی رہنمائی کی اور اسلامی نظام کا مطالبہ اسی کے زیر قیادت اس طرح بلند ہوا کہ گوشہ گوشہ گونج اٹھا۔ یہی ۵۹ سالہ کھلتے ہوئے رنگ کا بھاری بھر کم شخص آج بھی اتحاد کی آواز دے رہا ہے، اتحاد کا پرچم بلند کیے ہے۔ میں اسی شخص کی آنکھ سے حالات اور واقعات کی رفتار دیکھنے آیا تھا۔ گفتگو شروع ہوئی اور طویل ہوتی گئی۔ بارہ بجے کے بعد اٹھے۔ اس کے بعد ٹیلیفون پر بھی میں نے رابطہ قائم رکھا۔ لاہور آئے تو لاہور میڈیسن کمپنی کے ’فرماں روا‘ جناب غلام دستگیر کے مکان پر پھر ایک نشست ہوئی، اور یوں یہ انٹرویو مکمل ہوا۔

س: مفتی صاحب! پاکستان قومی اتحاد نے مارشل لا کے تحت حکومت بنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ آپ کے ’’دوست‘‘ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کرسی سے محبت کا نتیجہ ہے، آپ نے عوام کے مفاد سے غداری کی ہے اور اب قومی اتحاد، قومی اتحاد نہیں درباری پارٹی بن گیا ہے؟ کیا اس الزام میں کوئی صداقت موجود ہے؟
ج: میں نے یہ بات ہمیشہ کہی ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ رکھنے والی کوئی جماعت مارشل لا کے تحت کسی حکومت میں شامل نہیں ہو سکتی اور آج بھی یہی کہتا ہوں۔ یہ طے شدہ مسئلہ ہے اور ایک ایسا اصول جس کی صحت سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ البتہ بعض اوقات ایسی ایمرجنسی ہو جاتی ہے کہ معاملات کو خالصتاً‌ کتابی نظریات کے حوالے سے نہیں، عملی حقائق کی روشنی میں دیکھنا پڑتا ہے۔ اسے ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھیے۔ 
کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونا قانون، اخلاق اور معاشرتی اقدار کے یکسر خلاف ہے۔ لیکن اگر کسی مکان میں آگ لگ جائے تو آپ پانی کی بالٹی ہاتھ میں لے کر باہر کھڑے صاحبِ خانہ سے اجازت مانگتے رہیں گے، یا آگے بڑھ کر آگ بجھانے کے لیے سرگرم ہوں گے؟ اگر آپ آگ میں گھرے ہوئے اہل خانہ کو اجازت کے لیے پکارتے رہیں، تو آپ کی آواز بھی ان تک نہ پہنچے گی اور وہ جل کر بھسم بھی ہو جائیں گے۔ کیا کوئی صحیح العقل ایسے عالم میں پانی لے کر بغیر اجازت مکان میں داخل ہونے والے پر طعن توڑ سکتا ہے، اسے بد اخلاق قرار دے سکتا ہے، اسے اصول شکنی کا مرتکب قرار دے سکتا ہے؟ اس شخص کی تو تعریف ہو گی، اسے شاباش ملے گی اور اس کی کاوش قابلِ صد مبارک ٹھہرے گی کہ اس نے آگ بجھائی اور آگ میں گھرے ہوؤں کی جان بچا لی۔ 
پاکستان کو بھی آج ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، مسائل کی آگ بھڑک رہی ہے، مارشل لا اور عوام کے درمیان کوئی رابطہ استوار نہیں ہو سکا، بیوروکریسی کے وہ کل پرزے جو بھٹو کے عہد میں قانون اور اخلاق کی دھجیاں بکھیرتے رہے، جوں کے توں ہیں اور حالات کو اور بھی آگ دکھا رہے ہیں ۔ ایسے عالم میں اہلِ سیاست پر لازم ہو گیا کہ وہ آگے بڑھ کر مارشل لا کا ہاتھ بٹائیں اور انتظامی ذمہ داریوں میں اس طرح شریک ہوں کہ عوام کے مسائل کم ہوں، حادثات کی رفتار تھمے، اسلامی اقدار کو فروغ ہو اور منتخب حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے۔
پاکستان قومی اتحاد نے حکومت کی ذمہ داری سنبھال کر بڑی قربانی دی ہے، حالات کو سنوارنے کا چیلنج قبول کیا ہے، اسلامی نظام کے قیام کا راستہ کھولا ہے اور انتخابات کو درپیش خطرات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتحاد بھی ذمہ داری سے فرار کی راہ اختیار کر کے تند و تیز بیانات دینے اور اپوزیشن کے منصب پر خود کو فائز کرنے کا کام بآسانی کر سکتا تھا، لیکن ہم نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ ہمارا ماضی گواہ ہے کہ جب اپوزیشن میں بیٹھنا، بھٹو آمریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا، جان جوکھوں میں ڈالنا تھا؛ تب ہم نے اپوزیشن کا فرض ادا کیا۔ ہم کرسیوں کے بھوکے ہوتے تو مسٹر بھٹو کی پیشکشوں سے فائدہ اٹھا کر یہ شوق پورا کر لیتے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ خود میں نے سرحد کی وزارتِ اعلیٰ سے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب بلوچستان میں مینگل حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کر دیا گیا۔ اگر اقتدار پیارا ہوتا تو میں کبھی استعفیٰ نہ دیتا، اور اگر میں استعفیٰ نہ دیتا تو کوئی مجھے کوئے اقتدار سے باہر نہ نکال سکتا۔ لیکن میں نے اپنے بلوچ بھائیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، ان پر ظلم اور زیادتی کو اپنے اوپر ظلم اور زیادتی سمجھا اور وزارتِ اعلیٰ کو اپنے گھر سے نکال باہر کیا۔
ہم تو مشکلات اور مصائب کے راستے پر چلنے کے عادی ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، میں اور میرے رفقاء نے اس وقت اپوزیشن کا پرچم بلند رکھا جب اس سے مشکل کام کوئی نہ تھا۔ اور اب اس وقت ہم نے اتحاد کے نمائندوں کو اقتدار میں شریک کیا ہے جب حکومت کرنے سے مشکل کام کوئی اور نہیں ہے۔ آج اپوزیشن کرنے سے آسان کام اور کیا ہے کہ تقریریں اخبارات میں چھپ رہی ہیں، آمد و رفت کی آسانیاں ہیں، اندرونِ ملک تو کیا بیرونِ ملک بھی دورے کرنے کی آزادی ہے، اور جھوٹ بولنے، پھیلانے اور شائع کرنے سے روکنے والا بھی کوئی نہیں۔ یہ طعنہ دینا کہ ہم درباری پارٹی ہیں، اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہو سکتا، ہم نے تو اقتدار کو اسلام اور جمہوریت کے رنگ میں رنگنے کا عہد کیا ہے اور اسی کے لیے آگے بڑھے ہیں۔ اگر اس مقصد میں کامیابی نظر نہ آئی تو ہمارے نمائندے وزارتوں پر لات مار کر واپس آ جائیں گے۔
یاد رکھیے، با مقصد اور با اختیار حکومت میں شامل ہونا عوام سے غداری نہیں، بلکہ اتحاد کو انتشار میں بدلنا عوام سے غداری ہے۔ لیکن ہم گالی کی سیاست کو فروغ دینے کے قائل نہیں، ہمارے دشمن جانتے ہیں اور ’’دوست‘‘ بھی کہ ہم سنجیدگی اور متانت سے اختلافِ رائے کے اظہار کے عادی ہیں اور اختلاف کو برداشت بھی کرتے ہیں۔ ہم تنقید کا خیرمقدم کریں گے، ہم شکر گزار ہوں گے اگر کوئی ہماری غلطی ہم پر واضح کر دے، ہمیں ٹوکے۔ لیکن ہم کسی کے حریفِ دُشنام نہیں ہیں۔ ہماری مجبوری ہے کہ ہم گالی نہیں دے سکتے، گالی دینا ہماری سیاست میں حرام ہے۔
س: جناب، کیا تاریخ سے ایسی کوئی مثال مل سکے گی کہ جب جمہوری قوتوں نے کسی غیر نمائندہ حکومت کے قیام پر اتفاق کیا ہو اور اس میں شرکت اختیار کی ہو؟
ج: بالکل، دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اس برصغیر پاک و ہند ہی میں ایسا ہو چکا ہے۔ آزادی سے پہلے جب انگریز نے دیکھ لیا کہ اب وہ حکمران نہیں رہ سکتا، تو انتقالِ اقتدار کی تفصیلات طے کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے ’’غیر نمائندہ حکومت‘‘ کی تشکیل ہوئی۔ اس میں کانگریس بھی شامل تھی اور مسلم لیگ بھی۔ قائد اعظمؒ کے پیرو بھی اس حکومت کا حصہ بنے اور گاندھی کے نمائندے بھی۔ اس حکومت کا سربراہ انگریز وائسرائے تھا۔ آزادی کے لیے جان لڑانے والے اگر عملی حکمت کی وجہ سے انگریز وائسرائے کے زیر نگرانی کابینہ میں شامل ہو سکتے ہیں، تو آج جمہوریت کے سپاہی، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی تشکیل کردہ وزارت میں کیوں شریک نہیں ہو سکتے؟ جبکہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تو کسی سامراج کے نمائندے نہیں، بلکہ ہماری قومی فوج کے سربراہ ہیں۔ آخر پاکستانی فوج سے بامقصد تعاون کرنا اور اس لیے تعاون کرنا کہ انتخابی اور جمہوری عمل کا آغاز ہو، جمہوریت کی نفی کیسے ہو گیا؟
س: جناب، حکومت میں شرکت کے سوال پر قومی اتحاد میں اختلافات پیدا ہوئے اور آپ کی ایک اہم حلیف جماعت این ڈی پی نے تُند و تیز ردعمل ظاہر کر کے اتحاد سے علیحدگی کی راہ اختیار کر لی۔ کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ آپ اتحاد کی یکجہتی کو مقدم رکھتے اور حکومت میں شریک ہو کر ایک اہم حلیف کو حریف بنانے کے بجائے حکومت سے تعاون کی کوئی متفقہ راہ ڈھونڈنے کو اولیت دیتے۔
ج: یہ سوال ایک بڑے مغالطے کی پیدا وار ہے۔ آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ این ڈی پی نے حکومت میں شرکت کے سوال پر اتحاد سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ حالانکہ یہ واقعات کے خلاف ایک مفروضہ ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ۲۵ مئی کو قومی اتحاد کی جنرل کونسل کی منظوری سے میں نے بحیثیت صدر قومی اتحاد، جنرل ضیاء الحق کو ایک خط لکھا تھا جس میں مارشل لا حکام کی طرف سے حکومت میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مجوّزہ حکومت با اختیار اور با مقصد ہونی چاہیئے، اس میں باکردار سیاسی عناصر شامل ہوں؛ گویا شرکت کے اصول پر تو اتفاق تھا، لیکن تفصیلات کے بارے میں گفتگو مطلوب تھی۔ اس خط میں این ڈی پی ہمارے ساتھ تھی۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں این ڈی پی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی اور اتفاقِ رائے سے طے کیا گیا تھا کہ اتحاد بامقصد، با اختیار اور سیاسی عناصر پر مشتمل کابینہ میں شرکت پر رضامند ہے۔ اس خط کی بنیاد پر مذاکرات ہوئے۔ یہ مذاکرات ٹوٹ کر جڑتے، اور جُڑ جُڑ کر ٹوٹتے رہے، لیکن کسی نے اس خط سے انحراف نہ کیا۔
۲۵ جون کی نشری تقریر میں جنرل ضیاء الحق نے مذاکرات کی ناکامی کا یکطرفہ اعلان کرتے ہوئے سیاسی حکومت بنانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ۵ جولائی کو نئی کابینہ بنا ڈالی جس میں اتحاد کی ایک جماعت بھی شریک کر لی گئی۔ یہ بڑی افسوس ناک صورتِ حال تھی کہ اتحاد کی ایک جماعت حکومت میں شامل ہو گئی جبکہ باقی جماعتیں شمولیت کا یہ انداز قبول نہ کر سکیں۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ جنرل صاحب نے سیاسی حکومت بنانے کا ارادہ ترک کر دیا، اس طرح انہوں نے حالات کی ذمہ داری اپنے ہی کاندھوں پر اٹھا لی تھی اور ہمارے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی کہ ہم آزمائش میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہ گئے۔ 
لیکن کابینہ کی تشکیل کے بعد جنرل صاحب نے پھر پیشکش کو تازہ کر دیا۔ میں کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھا کہ وہ ملنے آئے اور ایک بار پھر حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی ساتھ لائے۔ میں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا، تفصیل سے گفتگو ہوئی، تلخ اور تند شکایتیں زیر بحث آئیں۔ بالآخر میں نے اتحاد کی مرکزی کونسل کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ تازہ ترین صورتِ حال پر غور کر کے لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔ اس اجلاس نے مجھے جنرل ضیاء الحق سے مذاکرات کرنے کا اختیار دے دیا۔ میں جس نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس اجلاس میں این ڈی پی کے نمائندے بھی تھے اور مجھے گفتگو کا اختیار دینے میں وہ بھی فریق تھے، انہوں نے بھی مجھ پر اس سلسلے میں اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
اب بتائیے، جب اتحاد کی مرکزی کونسل کے دیے گئے اختیارات کے تحت میں نے مذاکرات کیے اور ۲۵ مئی کے خط کی بنا پر کیے تو پھر این ڈی پی کے لیے کیا جواز رہا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کو بنیاد بنا کر اتحاد سے الگ ہو جائے۔ ہم کسی کے دل کی کیفیت اور اس کی نیت کا ایکسرے تو کر نہیں سکتے۔ این ڈی پی کا موقف یہ تھا کہ وزارت سازی کا مرحلہ آگیا تو ایسی صورت میں ہم اپنی جماعت کے ارکان وزارتوں کے لیے نامزد نہیں کریں گے، لیکن اتحاد میں رہتے ہوئے حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور دوسری جماعتوں کے نمائندوں کو اتحاد کا نمائندہ سمجھ کر تعاون کریں گے۔ مذاکرات کامیابی کی طرف مڑتے ہی این ڈی پی نے جو موقف اختیار کیا، وہ توقعات اور واقعات کے یکسر خلاف تھا۔
این ڈی پی کو اپنا موقف اس طرح تبدیل کرنا تھا، تو ہماری اور ان کی پرانی رفاقت کا تقاضا تھا کہ وہ ہمیں اعتماد میں لیتے اور جو نئی صورتِ حال (ان کے مطابق) پیدا ہو گئی تھی، اس پر ہم سے تبادلۂ خیال کرتے، لیکن انہوں نے تو یہ کیا کہ اپنے کنونشن میں دھواں دار تقریریں کر کے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور ہمیں دُشنام طرازی کا نشانہ بھی بنایا۔ اس پورے پس منظر کو سامنے رکھیے تو آپ کا سوال بے معنی ہو جاتا ہے۔
س: آپ کے خیال میں این ڈی پی کے اِس فیصلے کا محرّک کیا تھا؟
ج: یہ فیصلہ کیوں کیا گیا، اس بارے میں میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا، حالات خودبخود واضح ہوتے جائیں گے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پشتونوں اور بلوچوں کی روایات کے خلاف ہے۔ کوئی پشتون یا بلوچ اس طرح اپنا عہد نہیں توڑ سکتا۔ اسی لیے میں نے این ڈی پی سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، لیکن انہوں نے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ مجھے امید ہے کہ این ڈی پی کو سرحد اور بلوچستان میں تند و تیز رائے عامہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
س: آپ نے جناب ولی خاں کی وطن واپسی کے بعد ان سے رابطہ قائم نہیں کیا، کیا آپ کے نزدیک وہ بھی اس فیصلے میں شریک ہیں؟
ج: ولی خاں کی وہ تقریریں ابھی تک فضا میں گونج رہی ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور پاکستان قومی اتحاد لازم و ملزوم ہیں۔ اس سے پہلے جمعیت سے نیپ کا معاہدہ ہوا، تو ولی خاں ہی نے بار بار کہا تھا کہ ہم پٹھان ہیں، جب ساتھ نبھانے کا عہد کرتے ہیں تو پھر اسے توڑتے نہیں، ہم جب کسی کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو اسے چھوڑتے نہیں؛ حتیٰ کہ مر جائیں تو بھی ہمارا ہاتھ دوست کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ زندہ ہیں لیکن ان کا ہاتھ ہمارے ہاتھ سے الگ ہے۔ ولی خاں کی بیگم صاحبہ این ڈی پی کے کنونشن میں شریک ہونے لندن سے تشریف لائی تھیں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنے رفیقِ زندگی اور رفیقِ سیاست سے مشورہ کر کے نہ آئی ہوں، اس لیے ولی خاں کو این ڈی پی کے فیصلے سے الگ تھلگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے وطن واپس آنے کے بعد اس فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس طرح گویا قومی اتحاد سے بھی ان کا رشتہ ٹوٹا اور جمعیت سے سات برس پرانا معاہدہ بھی ختم ہوا۔ 
ہم نے کوئی عہد نہیں توڑا، ہم نے کوئی وعدہ خلافی نہیں کی، ہم تو پشتونوں اور بلوچوں کی ایفائے عہد کی روایات کے پاسبان ہیں۔ اس لیے ہم کسی سے رابطہ قائم کیا کریں؟ رابطہ تو ان کو کرنا چاہیے تھا جو اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے پشتون اور بلوچ ہوتے ہوئے اپنا عہد کچے دھاگے کی طرح توڑ ڈالا ہے؛ تاہم یہ نوٹ کر لیجیے کہ ہمارے لیے کوئی معاملہ بھی انا کا نہیں ہے، اولین اہمیت قومی مفاد کی ہے۔ میں حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہوں، میرا ارادہ ہے کہ کم از کم ایک بار تو ولی خاں سے بات کروں، اور تفصیل کے ساتھ کروں اور ان سے کہوں این ڈی پی کے فیصلے پر نظرثانی کرائیں، ’’شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مرے بات‘‘۔
س: اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ این ڈی پی سے تعلق استوار ہونے پر آپ کو اب بھی کوئی اعتراض نہیں؟
ج: جی ہاں، کوئی اعتراض نہیں، ہمارے دروازے کھلے ہیں، اگر این ڈی پی اپنی غلطی کا احساس کر لے، اعتراف کر لے، تو تعلق استوار ہو سکتا ہے۔ ہم سیاست میں محاذ آرائی کے قائل نہیں ہیں۔ آپ این ڈی پی کی بات کرتے ہیں، میں تو ان سب جماعتوں کو، جو اتحاد سے الگ ہوئی ہیں، دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ ہمارے دل میں سب کے لیے جگہ ہے۔ انہوں نے اور ہم نے مشترکہ منشور کے تحت گزشتہ انتخاب میں حصہ لیا تھا، اب اس منشور سے منحرف ہونا کسی کے لیے بھی انتہائی بداخلاقی کی بات ہو گی۔ جب منشور مشترک ہے تو پھر اختلاف کیسا؟ جب مقاصد ایک ہیں تو پھر دوری کیوں؟ ہم نے کسی کو اتحاد سے نہیں نکالا، ہم کسی کو آنے سے نہیں روکیں گے۔ آئیے، مل کر اپنے وطن کے مسائل حل کریں اور مصائب کے بھنور سے کشتی نکال کر آگے بڑھیں۔
یہ وقت ذاتی اور گروہی اختلافات کو نمایاں کرنے اور انہیں اچھالنے کا نہیں، ایک ہو جانے کا ہے، متحد ہو جانے کا ہے۔ کیا مشرقی پاکستان کے سانحے سے ہماری آنکھیں نہیں کھلیں؟ وہاں کس طرح خون بہا، کس طرح عزتیں داغدار ہوئیں اور کس طرح غیر ملکی مداخلت نے ہمارا پیارا پاکستان توڑ دیا۔ میں وارننگ دیتا ہوں، اور اعلان بھی کرتا ہوں کہ پاکستان کے اس حصے کو محفوظ رکھنا ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ سازشیں ہو رہی ہیں، اردگرد کے حالات تشویشناک ہیں، لیکن ہمارا عزم پختہ ہے، ہم پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ اگر کوئی جارحیت کا مرتکب ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی سالمیت کی لڑائی دشمن کی سرزمین پر لڑی جائے گی۔ ہماری نظریں دشمن پر لگی ہوئی ہیں، ہم اس کی نقل و حرکت دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ میں بھی پٹھان ہوں، مجھ سے بڑھ کر پشتونوں کے حقوق کی بات اور کون کر سکتا ہے؟ ایک مسلمان، ایک پاکستانی اور ایک پشتون ہونے کی حیثیت سے میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے پشتون اور بلوچ، پاکستان کی لڑائی میں سب سے پیش پیش ہیں۔ خدانخواستہ کوئی مشکل مرحلہ آیا تو ان کا خون پاکستان کے لیے سب سے پہلے بہے گا، اس لیے ہمارے روٹھے ہوئے ساتھیو! آؤ کہ ہم اپنا سب کچھ اس پاک سرزمین کی حفاظت کے لیے لگا دیں، اور یہاں ایک مثالی اسلامی معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھ دیں۔
س: محترم، بات کسی اور سمت بڑھ گئی، میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ آخر وہ اچانک تبدیلی کیا ہوئی، کون سا واقعہ پیش آ گیا جس سے جناب جنرل ضیاء الحق سے مذاکرات ٹوٹنے کے باوجود جڑے اور پھر کامیاب ہو گئے؟
ج: کوئی خفیہ بات تو میں نہیں جانتا، اور شاید کوئی خفیہ بات موجود بھی نہ ہو۔ تاہم یہ سوال آپ جنرل ضیاء الحق سے کریں تو بہتر ہو گا۔ مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم ہوئے، کابینہ کو با اختیار اور بامقصد بنانے پر اتفاق ہوا، الیکشن کے لیے ۷۹ء کا سال مقرر ہوا، سیاسی عناصر کی اکثریت کو تسلیم کر لیا گیا، تو ہم حکومت میں شامل ہو گئے۔
س: کابینہ میں کوئی جرنیل شامل نہیں کیا گیا، اس کا سبب قومی اتحاد کا کوئی رویہ تو نہیں؟
ج: ۲۲ جون کو قومی اتحاد کے رہنماؤں نے جنرل ضیاء الحق کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ کابینہ میں کوئی جرنیل شامل نہ کیا جائے، اور یہ کہ صوبوں سے مارشل لا اٹھا لیا جائے۔ یہ کوئی پیشگی شرائط نہیں تھیں، نہ وزارت سازی میں اتحاد کی شرکت ان سے مشروط تھی، یہ صرف تجاویز تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ ان پر عمل کرنا ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔ صوبوں سے مارشل لا اٹھا لیا جاتا تو جمہوری عمل کا آغاز زیادہ واضح اور ٹھوس ہو جاتا، لیکن میں اس پر زیادہ گفتگو نہیں کروں گے کہ اس بارے میں دو رائیں ہو سکتی ہیں۔
 جہاں تک کسی جرنیل کو وزیر نہ بنانے کا سوال ہے، تو یہ سراسر قومی سوچ کی وجہ سے تھا۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ فوج سیاست میں ملوث رہے اور تنقید کا نشانہ بنے۔ ہم اس باوقار اور قابلِ احترام قومی ادارے کی حیثیت، قومی ادارے کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط پر زور دے رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کابینہ سیاسی اور شہری عناصر پر مشتمل ہو گی تو حریفوں کا سامنا بھی وہی کریں گے اور حالات کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہو گی۔ سیاستدان ایک انتہائی مشکل صورتحال کا بوجھ اٹھانے کے لیے اس طرح تیار تھے کہ جو بھی نتیجہ نکلے، اس کی زد انہی پر پڑے، فوج کے قومی ادارے کو ہدف نہ بنایا جا سکے۔
 جنرل ضیاء الحق نے ان تجاویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا لیکن پھر یکطرفہ طور پر کابینہ بنا لی۔ بعد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تو ہم نے اس تجویز پر اصرار نہ کیا اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے علاوہ تین جرنیلوں کی کابینہ میں شمولیت کو قبول کر لیا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تجویز اور اس کی پشت پر کارفرما دلیل کا وزن ہمارے ان جرنیلوں نے خود ہی محسوس کر لیا اور رضاکارانہ طور پر وزارتوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس فیصلے پر میں ان حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یقیناً‌ ان کا فیصلہ ملک کے عظیم تر مفاد میں ہے۔
س: خود نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر جناب ایئر مارشل اصغر خاں نے بھی اس بات پر اظہارِ مسرت کیا ہے کہ سیاستدانوں کی حکومت بننے سے فوج کا ادارہ زیر بحث نہیں آئے گا۔ کیا آپ اس کی داد نہیں دیں گے؟
ج: جناب ایئر مارشل کا یہ اظہارِ خیال کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قومی اتحاد نے حکومت میں شرکت کر کے بڑی قربانی دی ہے۔ اور یہ کرسیوں سے محبت کا نہیں، اپنے وطن سے محبت کا نتیجہ ہے۔ اگر اتحاد بھی بعض دوسرے سیاسی لیڈروں کی طرح حکومت میں شرکت سے انکار کر کے اپوزیشن میں جا بیٹھتا، تو کیا یہ فوج کی اپوزیشن نہ ہوتی، اور اس طرح اس قومی ادارے کو نقصان نہ پہنچتا؟ ہم نے فوج کے بجائے خود منظر پر آ کر سیاست کو ایک مثبت سمت دی ہے، اپنی سیاست کو داؤں پر لگا دیا ہے۔ ہم اقتدار کے بھوکے ہوتے تو بھٹو سے معاملہ کر لیتے، اس کی پیشکشیں قبول کر لیتے۔ لیکن ہم نے وزارتوں کو کبھی اہمیت نہیں دی، سرحد کی وزارتِ اعلیٰ سے میرا استعفیٰ ان لوگوں کو یاد کیوں نہیں رہتا؟
س: مفتی صاحب! کہتے ہیں کہ قومی اتحاد نے حکومت میں شامل ہو کر مستقبل کے واقعات کو بھی متاثر کیا ہے اور حال کو بھی؟
ج: اتحاد نے یقیناً‌ حال اور مستقبل کے واقعات کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ غور تو کیجیے:
  1. فوج جیسا قومی ادارہ سیاست میں فریق بننے سے محفوظ ہو گیا۔
  2. انتخاب کا انعقاد یقینی ہوا کہ اب کوئی عنصر انتخاب کی منزل اوجھل کرنے کی سازش نہ کر سکے گا۔
  3. محدود سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملی اور غیر محدود سرگرمیوں کی بحالی کا واضح امکان پیدا ہوا۔
  4. عوام سے حکومت کا رابطہ بحال ہوا اور یوں بد اعتمادی کی فضا یکسر ختم ہونے کا سامان فراہم ہوا۔
  5. نوکر شاہی کے منفی رویوں کی روک تھام کا راستہ نکلا۔
  6. سیاستدانوں کا احتساب چیونٹی کی رفتار سے نہیں بلکہ تیز سے تر ہونے کی روشن جھلک نظر آئی۔
  7. سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی اقدار کے فروغ کے امکانات روشن تر ہوئے۔ جو اسلام دشمن عناصر حیلوں بہانوں سے کوئی عملی اقدام نہیں ہونے دیتے تھے، ان کی حوصلہ شکنی ہوئی، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو مزید غور و فکر کے بعد نافذ کرنے کا سامان ہوا۔
س: لیکن جناب، اگر نئی کابینہ حالات کو سنوار نہ سکی تو پھر؟
ج: اس کے خطرات بھی سامنے ہیں، صورتحال بدتر بھی ہو سکتی ہے اور دھماکہ خیز بھی۔ لیکن خطروں کی سنگینی حوصلوں کو شکست تو نہیں دے سکتی، اس سے تو حوصلوں کی پختگی کا سامان ہوتا ہے۔
س: نئی کابینہ سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟
ج: میری توقعات تو یہی ہیں کہ نئی کابینہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
  • گرانی کے معاملے کو پہلی ترجیح دی جائے اور اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جائے۔
  • اسلامی نظام کی طرف اس طرح پیش قدمی ہو کہ اس کی برکتیں پہلے برستی نظر آئیں۔
  • بیوروکریسی کا شدید احتساب کیا جائے۔ جن لوگوں نے بھٹو کے اشاروں پر ذاتی ملازموں کا کردار کیا، دستور اور قانون کی دھجیاں اڑائیں، انہیں کسی صورت معاف نہ کیا جائے۔ بیوروکریسی کے خلاف جلد کاروائی نہ کی گئی تو یہ موجودہ کابینہ کے خلاف کاروائی کر گزرے گی۔ وہ قرطاس ابیض چھاپے جا چکے ہیں لیکن لا قانونیت کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا، یہ تماشا اب برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
  • سادگی اختیار کی جائے، وزیر اپنا نمونہ پیش کریں، اپنے گھروں کی تزئین و آرائش پر ہزاروں روپے خرچ نہ کریں۔ ڈرائنگ روم میں قیمتی صوفوں کے بجائے چٹائی کیوں نہیں بچھائی جا سکتی؟ اور بیڈ روم میں نفیس پلنگوں کے بجائے عام چارپائی کیوں نہیں کام دے سکتی؟
  • میں تو یہاں تک کہوں گا کہ شہری علاقوں میں بڑے مکانوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے۔ حکومت نے ایک ہزار گز سے بڑے مکانات بنانے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ حد بھی بے حد ہے۔ تین سو گز سے زیادہ مکان کسی صورت نہ بننے دیا جائے۔
  • تعلیم اور ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز ہو۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس کے لیے ٹیکس وغیرہ کی چھوٹ بھی دی جا سکتی ہے۔
  • ہمارے اکثر ملکی قوانین ایسے ہیں جو رشوت کا دروازہ کھولتے اور لوگوں کے مصائب میں اضافہ کرتے ہیں، ان کا جائزہ لے کر ہر ہر قانون میں چور دروازے بند کر دیے جائیں۔
  • رشوت، بدعنوانی اور ملاوٹ پر کڑی سزائیں دی جائیں اور ان کا قلع قمع کر دیا جائے۔
  • ہر سطح پر اردو نافذ کی جائے، جیسے کہ میری وزارت کے دوران سرحد میں اردو کو سرکاری زبان بنا دیا گیا۔
  • شلوار اور قمیص کی حوصلہ افزائی ہو، سرکاری ملازم دفتر میں قومی لباس پہن کر آئیں، اس طرح غیر ملکی لباس جو نفسیاتی رعب داب عطا کرتا ہے، اس سے نجات مل سکے گی۔
  • ایسے ضوابط بنائے جائیں کہ جھوٹ چھاپا یا لکھا نہ جا سکے۔ جھوٹ ایک زہر ہے جو معاشرے کی اچھائیوں کو ڈس لیتا ہے۔ بے حیائی اور فحاشی کی روک تھام بھی ہو۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلموں کی فوری اصلاح ضروری ہے۔ عورتوں کو اشتہار کی جنس بنا کر ان کا جو ’’استحصال‘‘ کیا جا رہا ہے اسے بند کیا جائے۔ صنفِ نازک کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہ توہین کوئی باحمیت معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا۔
س: میں نے سنا ہے قومی اتحاد اپنے وزراء سے علیحدہ حلف کا پروگرام بھی بنا رہا ہے، کیا یہ درست ہے؟
ج: جی ہاں، یہ درست ہے، ہم اپنے وزراء سے علیحدہ حلف بھی لیں گے۔ جمعیت العلمائے اسلام کے وزیر تو حلف برداری کی یہ رسم ادا بھی کر چکے ہیں۔ میں آپ کو حلف نامے کا متن سناتا ہوں۔ (اس کے بعد مفتی صاحب نے اپنا بریف کیس منگوا کر اس میں سے حلف نامہ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔)
’’میں، اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ وزارت میں شامل ہو کر مندرجہ ذیل مقاصد کے لیے کام کروں گا:
    ۱۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی آخری کوشش تک بروئے کار لاؤں گا۔
    ۲۔ خلافِ قانون و اخلاق کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے میری ذات، جماعت یا معاشرہ بدنام ہو۔
    ۳۔ ذاتی مفادات کے حصول سے ہمیشہ الگ تھلگ رہوں گا۔ متعارف اور معمول کے مطابق جائز کاموں کے علاوہ سرکاری ذرائع سے اور کسی قسم کا استفادہ نہیں کروں گا۔
    ۴۔ صرف خدمتِ ملک و قوم کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کروں گا۔ جائز کام سب کا سرانجام دینے کی کوشش کروں گا، مگر ناجائز کام کسی کا نہیں کروں گا۔
    ۵۔ قومی اتحاد یا میری جماعت جس وقت استعفیٰ پیش کرنے کا حکم دے گی، وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘
س: اعلان ہے آئندہ انتخاب جداگانہ بنیادوں پر ہو گا، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
ج: میں جداگانہ یا مخلوط انتخاب کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ، میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اقلیتوں کے نمائندے منتخب کرنے کا موجودہ طریق کار انتہائی ناقص ہے۔ اسمبلیوں کے ارکان اقلیتوں کے نمائندے چنتے ہیں اور یہ حضرات نام کے تو اقلیتی ہوتے ہیں لیکن اقلیتوں کے نمائندے نہیں ہوتے، بلکہ اسمبلی کی اکثریت کے خوشامدی اور درباری ہوتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ اقلیتوں کو اپنے نمائندے آپ چننے کا اختیار دیا جائے، وہ مطالبہ تسلیم کیا گیا ہے، تو یہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ قومی اتحاد نے جس منشور کی بنیاد پر مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخاب میں حصہ لیا تھا، اس میں واضح طور پر درج تھا کہ اقلیتیں اپنے نمائندے آپ چنیں گی، کوئی ایسی جماعت جو اتحاد میں شامل تھی، اس عہد سے روگردانی کرتی ہے، تو یہ بدترین عہد شکنی ہے۔
س: جناب، آپ نے بلوچستان میں حکومت کی برطرفی کے بعد سرحد کی وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا، بلوچستان کے بعض مقید رہنماؤں کی رہائی کے لیے مہم چلائی، حیدر آباد ٹربیونل آپ کے مطالبے پر ٹوٹا، اسیر رہا ہوئے، کیا رہائی کے بعد کالعدم نیپ کے بلوچ لیڈروں نے آپ سے اپنے سیاسی مستقبل یا ملک کے سیاسی حالات پر بھی تبادلۂ خیال کیا؟
ج: ملاقات تو ہوئی ہے لیکن اس طرح کی بات نہیں ہوئی جو آپ کہہ رہے ہیں۔
س: اگر کوئی اسے ان لیڈر حضرات کی ناشکرگزاری قرار دے تو نامناسب تو نہیں ہو گا؟
ج: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، ہم نے اپنا فرض ادا کیا، کسی پر احسان نہیں کیا۔ ہم اصولی سیاست کے قائل ہیں، اور ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنے اصولوں کے حوالے سے کیا، حقِ رفاقت ادا کرنے کے لیے کیا۔ دوسرے لوگ جو کچھ کرتے ہیں، اپنی سوچ اور اپنے اصولوں کے حوالے سے کرتے ہیں، اس لیے ہمیں کسی سے گلہ نہیں، ہمیں تو خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے دوستوں کے لیے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس کی بدولت ان کو مصائب سے نجات ملی۔
س: جناب، یہ جو بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو آج حل کرنے کی بات کی جاتی ہے، وہ کیا ہے، کیا اب بھی بلوچستان کا ایسا مسئلہ موجود ہے؟
ج: بلوچستان کا سیاسی مسئلہ نام کی کوئی شے آج اپنا وجود نہیں رکھتی، ایسا کہنا حقائق کے مطابق نہیں ہو گا۔ بلوچستان کو جن مصائب میں بھٹو نے دھکیلا تھا، وہ مصائب ختم ہو چکے۔ اب تو لے دے کر یہی ایک مسئلہ ہے کہ بھٹو کی کارروائیوں کے متاثرین کی آبادکاری کیسے ہو۔ اور یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر محاذ آرائی کے پہلو نکلیں۔ حکومت کو بیوروکریسی کی سازشوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اس مسئلے کو فراخدلی سے حل کر دینا چاہیئے۔
س: آج کل صوبائی خودمختاری کا سوال پھر زیر بحث لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا آپ کے خیال میں اس مسئلے پر ازسرِنو گفتگو ہونی چاہیے؟
ج: صوبائی خودمختاری کا مسئلہ طے شدہ ہے۔ ۷۳ء کے دستور پر ساری جماعتوں نے دستخط کیے تھے۔ اس دستور میں کئی خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت تھی، لیکن صوبائی خودمختاری کے معاملے پر کسی نے اختلاف کا اظہار نہیں کیا۔ تمام جماعتوں کے نزدیک صوبائی خودمختاری کی حدود متفقہ تھیں۔ بھٹو کے عہد میں جو خرابی پیدا ہوئی، وہ یہ تھی کہ دستور پر عمل ہی نہیں کیا گیا۔ صوبوں کو دستور نے جو حقوق دیے تھے، وہ بھی بھٹو نے سلب کر لیے۔ اس لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ صوبائی خودمختاری کی حدود بڑھا دی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ صوبوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا موقع ملے۔
س: صوبوں میں وزارتوں کی تشکیل کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس سے کسی صوبے میں تلخی پیدا ہونے کا امکان تو نہیں؟
ج: صوبوں میں حکومتیں فوراً‌ قائم ہو جانی چاہئیں۔ اگر دیر ہوئی تو نتائج ناخوشگوار ہوں گے اور مرکزی حکومت کی کارکردگی بھی متاثر ہو گی۔ عوام کا براہ راست اور فوری رابطہ صوبائی حکومت ہی سے ہوتا ہے اور صوبائی حکومت ہی مسائل اور مصائب کے فوری خاتمے میں معاون ہو سکتی ہے۔ بیوروکریسی کی روک تھام بھی اسی سے ممکن ہے۔ اس لیے جلد از جلد صوبوں میں حکومتیں قائم کر دی جائیں۔ جہاں تک کسی صوبے میں تلخی پیدا ہونے کا سوال ہے، میرے نزدیک اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ قومی اتحاد ایک ملک گیر تنظیم ہے اور ہم ہر صوبے میں اور ہر سطح پر ایسے نمائندے منتخب کر سکتے ہیں جو مخلص اور دیانتدار ہوں اور عوام کے اعتماد سے بھی بہرہ ور ہوں۔
س: جناب، یہ جو پشتونوں اور بلوچوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، تو اس کا پس منظر کیا ہے، آخر پشتونوں اور بلوچوں کے حقیقی مسائل کیا ہیں؟
ج: پشتونوں اور بلوچوں کے جو بھی مسائل ہیں، وہ پوری قوم کے مسائل ہیں، اور انہیں قومی نقطۂ نظر ہی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ تو پسماندگی اور غربت ہے۔ اگرچہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی غربت بہت ہے، لیکن اگر موازنہ کریں تو پسماندگی سرحد اور بلوچستان میں کہیں زیادہ ہے، صنعتی ترقی بھی وہاں کچھ نہیں ہوئی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ان دو صوبوں کو آئندہ ترقیاتی پروگرام میں ترجیح دی جائے۔ سرحد کے معاملے میں دیکھیے کہ 
  • تربیلا بند کی تعمیر میں ہمارے اَسی گاؤں غرق ہوئے لیکن ہمیں تربیلا سے ایک بوند پانی بھی نہیں دیا گیا۔
  • دریائے سندھ پانچ سو میل تک فرنٹیر سے گزرتا ہے اور یہ مسلّمہ اصول ہے کہ دریا جہاں سے پہلے گزرے وہاں کے رہنے والوں کا اس پر پہلا حق ہے، لیکن ہمارے حصے میں اس دریا سے کیا آتا ہے، کوئی جواب تو دے؟ 
  • چشمہ رائٹ بنک کینال کی طرف آئیے، میں نے وزارت کے دوران اس منصوبے پر بڑی توجہ دی تھی، لیکن یہ نہر کہاں ہے؟ اس کا جواب اربابِ اختیار کے ذمے ہے۔ 
  • ڈیرہ اسماعیل خاں کا ضلع بہت وسیع و عریض ہے، یہاں ۱۷ لاکھ ایکڑ زمین غیر آباد پڑی ہے، اگر صرف ڈیرہ ہی سیراب ہو جائے تو صوبہ سرحد خوراک میں خودکفیل ہو سکتا ہے، لیکن پانی ہی نہیں ہے۔
 یہ اور اس طرح کے کئی حقیقی مسائل موجود ہیں، انہیں قومی سطح پر اولیت دی جائے تو پھر چھوٹے صوبوں کی شکایات دور ہو سکتی ہیں۔
س: میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے بیماری کے عالم میں بھی شفقت فرمائی اور یہ طویل انٹرویو ممکن ہو سکا۔ اب آخری سوال عرض کر رہا ہوں اور وہ ہے قومی اتحاد کے بارے میں۔ جناب، اس کا مستقبل؟
ج: قومی اتحاد، پارٹیوں یا گروہوں کا نہیں، قوم کا اتحاد ہے۔ کسی پارٹی یا گروہ نے اسے چھوڑ دیا ہے تو اس نے خسارے کا سودا کیا ہے۔ میں مانتا ہوں بعض لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی، بہت سے ذہن اور دل بجھے، لیکن اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں، ہم نے تو اتحاد کا جذبہ برقرار رکھنے کی کوشش کی، اور آج بھی اس سے وابستہ ہیں، اور ان شاء اللہ وابستہ رہیں گے۔ قوم آج بھی ہمارے ساتھ ہے، قوم کی توقعات ہم سے وابستہ ہیں، اتحاد آج بھی سب سے سے مؤثر سیاسی قوت ہے، اور اس کا مظاہرہ انتخاب کے دوران ہو جائے گا، یومِ انتخاب آنے تو دیں!

(مطبوعہ: ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور ، ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء ۔ بشکریہ: ماہنامہ قومی ڈائجسٹ)

مسئلہ قادیانیت: جدوجہد کے تیسرے مرحلے کی ضرورت!

محمد عرفان ندیم


آج سے تقریبا پچاس سال قبل 1974ء میں پاکستانی مقننہ نے تمام مذہبی مسالک اور ریاست کے باہمی اتفاق سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانان ہند کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا تھا۔ نصف صدی پہلے کے حالات کے تناظر میں یہ اہم پیشرفت اور بڑی کامیابی تھی اور اس سے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ قادیانیوں کا مسئلہ جو پچھلی ایک صدی سے مسلمانان ہند کے لیے باعث پریشانی بنا ہوا تھا حل ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے کچھ ہی سالوں بعد مذہبی طبقات اور خود ریاست کو احساس ہو گیا تھا کہ قادیانیوں کو صرف غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ اس کے کئی پہلو تاحال ادھورے اور حل طلب ہیں۔ معاملے کی اس تشنگی نے قادیانیوں کے حوالے سے مزید ریاستی بندوبست کے مطالبات پیدا کیے۔
قادیانیوں کے حوالے سے مذہبی طبقات کی اب تک ہونے والی جدوجہد کو تین مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا مرحلہ 1974ء میں انہیں ریاستی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دینا تھا۔ دوسری مرحلہ 1984ء سے 1993ء تک کا ہے۔ اس مرحلے کا پس منظر اور تحرک یہ تھا کہ ریاستی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے باوجود قادیانی دھوکہ دہی سے اپنے مذہب کی ترویج و تبلیغ سے باز نہیں آئے ۔یہ خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی کوششوں میں مسلسل مصروف عمل رہے۔اس صورت حال کے پیش نظر مذہبی طبقات نے ایک بار پھر تحریک چلائی اور قادیانیوں کی اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے اور ان پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1984ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا جس میں قادیانیوں کو پابند کیا گیا کہ آئندہ وہ خود کو مسلمان ڈکلیئر نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسلامی شعائر کا استعمال کر سکتے ہیں۔
اس آرڈیننس کے اجراء کے بعد دو اہم کیسز سامنے آئے جن کی روشنی میں قادیانیوں کے حوالے سے آئندہ کی ریاستی حکمت عملی اور ان کی سماجی حیثیت کے تعین میں اہم پیشرفت ہوئی۔ ان میں پہلا کیس یہ تھا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہونے کے بعد قادیانی اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں چلے گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون اسلامی تعلیمات کے منافی ہے کیوں کہ مذہب اسلام تمام اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے طویل غور و خوض کے بعد فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس اسلامی احکام اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے منافی نہیں ہے۔
دوسرا کیس نوے کی دہائی میں سامنے آیا جو مجیب الرحمان کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ 23 مارچ 1989ء کو قادیانیوں نے چناب نگر میں صد سالہ جشن منانے کا اعلان کیا۔ ایک صدی قبل 23مارچ 1889ء کو مرزا غلام قادیانی نے لدھیانہ (بھارت) میں اس مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔ اس جشن کو منانے کے لیے چناب نگر میں خصوصی اور پرشکوہ انتظامات کیے گئے۔ چناب نگر اور گردونواح کی پہاڑیوں اور عمارتوں پر چراغاں کے لیے ڈیکوریشن پارٹیوں سے معاہدے کیے گئے۔ سو گھوڑے، سو ہاتھی اور سو ملکوں کے جھنڈے لہرانے کا انتظام کیا گیا۔ مقامی مسلمانوں نے اس جشن کے خلاف احتجاج کیا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ نے حالات کو دیکھتے ہوئے اس جشن پر پابندی لگا دی۔
قادیانیوں نے اس پابندی کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن نے 17 ستمبر 1991ء کو قادیانیوں کی رٹ خارج کر دی۔ قادیانیوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ چیف جسٹس محمد افضل نے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا جو جسٹس شفیع الرحمن ،جسٹس عبدالقدیر چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد اور جسٹس سلیم اختر پر مشتمل تھا۔ جسٹس شفیع الرحمان اس بنچ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 3 فروری 1993ء کو مقدمہ کی سماعت مکمل ہوئی اور 3 جولائی 1993ء کو سپریم کورٹ نے ایک چار کی اکثریت سے فیصلہ سنایا دیا۔ اس فیصلے کے اہم مندرجات یہ تھے:
امتناعِ قادیانیت آرڈیننس آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہے۔
یہ قانون قادیانیوں کو ایسے القابات و خطابات استعمال کرنے سے روکتا ہے جو مسلمانوں کے لیے خاص ہیں اور ان پر قادیانیوں کا کسی قسم کاک وئی حق نہیں ہے۔ البتہ ان پر نئے القابات و اصطلاحات وضع کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ آئین و قانون کا احترام کریں اور اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کے لیے مخصوص خطابات، القابات و اصطلاحات کے استعمال سے گریز کریں۔
قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ آخر ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر مذاہب نے بھی اپنی مقدس شخصیات کے لیے القاب و خطاب وضع کر رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پرامن طور پر مناتے ہیں۔
انتظامیہ جو امن و امان قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی ذمہ دار ہے مذکورہ بالا اقدار میں سے کسی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مداخلت کر سکتی اور مناسب پابندیاں لگا سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ دستور کی دفعہ 20 کے تحت ’’مذہبی آزادی ‘‘کی جو ضمانت دی گئی ہے اس کا تحفظ صرف ان مذہبی افعال کو حاصل ہے جو مذہب کا لازمی اور ضروری حصہ ہیں جبکہ اس مقدمے میں اپیل کنندگان یہ دکھانے میں ناکام رہے ہیں کہ صد سالہ تقریبات ان کے مذہب کا لازمی اور ضروری حصہ ہیں اور یہ افعال صرف عوامی سطح پر اور عوام کی نظروں کے سامنے سڑکوں اور گلیوں میں یا عوامی مقامات پر سرانجام دیے جانے تھے۔
1984ء اور 1993ء کے ان کیسز کے فیصلوں کی بنیاد دو اصولوں پر تھی۔ ایک ،کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی کو دھوکا دے اس لیے قادیانیوں کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خود کو مسلمان ڈکلیئر کر کے دوسروں کو دھوکا دیں۔ دو، قادیانیوں کی ایسی سرگرمیوں سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اس لیے حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے حقوق پر مناسب قیود عائد کر سکتی ہے۔ قصہ مختصر !دوسرے مرحلے کی یہ جد وجہد 1993ء میں مجیب الرحمان کیس کے فیصلے کی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ ان دو مرحلوں کی جدوجہد میں مسلمانوں کو دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ایک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت ڈکلیئر کر دیا گیا۔ دو، انہیں دھوکہ دہی کی روش اپنانے اور مسلمانوں کے شعائر استعمال کرکے خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور اس کے نتیجے میں اپنی تبلیغ سے روک دیا گیا۔
تیسرے مرحلے کی جدوجہد 1993ء کے بعد شروع ہوتی ہے جو تاحال جاری ہے۔ اس مرحلے کا دائرہ کار کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں ہے یہ اہم سوال ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ دھوکہ دہی کی روش قادیانیوں کی سرشت میں داخل ہے۔ جب انہیں سرے عام اسلامی شعائر کے استعمال اور اس کے نتیجے میں اپنی تبلیغ سے روک دیا گیا تو انہوں نے اپنی عبادت گاہوں، تعلیم گاہوں اور گھروں کے اندر اسلامی شعائر کا استعمال اور اس کے نتیجے میں اپنی تبلیغ اور سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ اس تبلیغ اور ان کی چار دیواری کے اندر کی سرگرمیوں کے نتیجے میں سینکڑوں سادہ لوح مسلمان ان کے دام تزویر میں آ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے وقتا فوقتا مذہبی طبقات ان کے مکر و فریب اور دھوکہ دہی کی روش کو عدالتی اور سماجی سطح پر واضح کرتے رہے۔ لیکن عدالتی سطح پر جب بھی یہ کیس ڈسکس ہوا تو مذہبی طبقات اور خود عدالت کو ایک تضاد کا سامنا کرنا پڑا۔ مذہبی طبقات کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہوں، تعلیم گاہوں اور گھروں کے اندر بھی اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے۔ جو چیز باہر جرم ہے وہ اندر بھی جرم ہے۔ مزید یہ کہ قادیانی چاردیواری کی آڑ لے کر اب تک سینکڑوں مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا کر ان کی آخرت برباد کر چکے ہیں۔ جبکہ عدالت کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ آئینی و قانونی طور پر دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح قادیانیوں کو بھی اپنی عبادت گاہوں، تعلیم گاہوں اور چار دیواری کے اندر اپنی مذہبی رسومات اور دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل ہے کہ یہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کا مطالبہ ہے۔
اس ضمن میں عدالت اپنے پیش رو شریعہ کورٹ 1984ء اور سپریم کورٹ 1993ء کے فیصلوں کو بنیاد بناتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں فیصلوں میں بھی تضاد موجود تھا۔ وہ تضاد یہ ہے کہ عدالتیں یہ تو تسلیم کرتی ہیں کہ مرزائی کھلے عام اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے، مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے لیکن ساتھ ہی انہیں یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ، تعلیم گاہ اور چار دیواری کے اندر اپنی مذہبی رسومات کے نام پر اسلامی شعائر بھی استعمال کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دے کر منحرف بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی دونوں فیصلوں میں اس بنیادی مستدل کو تو مانا گیا کہ مرزائی دھوکہ دہی کی روش سے باز نہیں آتے لیکن اس مستدل سے متفرع ہونے والے حکم کو مقید کر دیا گیا کہ قادیانی عبادت گاہ اور چار دیواری کے اندر دھوکہ بھی دے سکتے ہیں، سادہ لوح مسلمانوں کو منحرف بھی کر سکتے ہیں اور اسلامی شعائر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس متضاد اصول کو بنیاد بنا کر عدالتیں نئے تضادات پیدا کرتی ہیں اور یہ وہ مسئلہ ہے جو سالوں سے حل نہیں ہو رہا۔ اصولی طور پر اس تضاد کو ختم ہونا چاہئے تھا اور عبادت گاہ کے اندر بھی قادیانیوں کو اسلامی شعائر اپنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ مگر عملا ایسا نہیں ہوا اور اس تضاد کا فائدہ قادیانیوں نے اٹھایا اور مسلسل اٹھایا ہے۔
مذہبی طبقات اپنے مؤقف کے حق میں عقلی و نقلی دونوں طرح کا استدلال پیش کرتے ہیں۔ نقلی استدلال یہ ہے کہ قرآن میں مسجد ضرار کا ذکر موجود ہے، مسجد ضرار منافقین کی پرائیویٹ جگہ اور پراپرٹی تھی۔ اس کی علیحدہ چاردیواری تھی اور وہ اپنے کفر و نفاق کو اسلام کے نام پر وہاں استعمال کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید نے مسجد ضرار کو گرانے کا حکم دیا۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب کا گروہ اپنے علاقے میں پرائیویٹ طور پر اذان، نماز، ذبیحہ، کلمہ اور قرآن کا نام استعمال کرتا تھا۔ مگر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کی سازشوں کا قلع قمع کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی روایت میں ایسے بہت سے استدلال مل جاتے ہیں۔
عقلی استدلال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جیسا فعل ہونے کے باوجود ایک چیز باہر جرم ہے لیکن اندر جرم نہیں ہے۔ مثلاً‌ چرس اور ہیرون بیچنا جرم ہے تو کیا کسی کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ گھر کے اندر یہ جرم کر لے۔ شراب نوشی اور Adultery باہر جرم ہے کیا کسی کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ گھر کے اندر ان جرائم کا ارتکاب کر لے۔ ان دونوں معقول استدلالات کے ساتھ مذہبی طبقات کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔
مذہبی طبقات کے اس استدلال پر عدالت اور خود مذہبی طبقات میں سے کچھ لوگ آئین کا حوالہ دیتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل بیس کی شق اے کہتی ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔ شق بی کہتے ہے کہ ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار رکھنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔ آرٹیکل بائیس کی شق کہتی ہے کہ کسی مذہبی فرقے یا گروہ کو کسی تعلیمی ادارے میں جو کلی طور پر اس فرقے یا گروہ کے زیر اہتمام چلایا جاتا ہو اس فرقے یا گروہ کے طلباء کو مذہبی تعلیم دینے کی ممانعت نہ ہوگی۔ آئین کی ان شقوں کا حوالہ دے کر عدالت اپنا دامن صاف کر لیتی ہے۔
مذہبی طبقات کا مطالبہ ہے کہ شعائر اسلام کا استعمال اگر باہر جرم ہے تو اندر بھی جرم ہے۔ عدالت کہتی ہے اگر ان افعال کی قادیانیوں کی عبادت گاہ کے اندر بھی اجازت نہ دی جائے تو اس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ مذہبی طبقات کا استدلال ہے کہ اسلام کے نام رجسٹرڈ حقوق کو، اگر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے استعمال پر پابندی سے اگر کسی کے بنیادی حقوق کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ۔مذہبی طبقات اور عدالت کے فہم کے مابین یہ وہ خلا ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کا نکتہ نظر سمجھنے نہیں دے رہا اور قادیانی اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مذہبی طبقات اپنے استدلال کو لے کر پر اعتماد ہیں اور عدالت آئین کا حوالہ دے کر خاموش ہو جاتی ہے۔
فہم کے اس اختلاف کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے یہ عدالت اور مذہبی طبقات کے سامنے اہم سوال ہے اور جب تک فہم کا یہ اختلاف ختم نہیں ہوتا قادیانی مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ فہم کے اس اختلاف کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے اس کے لیے ہم بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
کچھ باتیں طے شدہ ہیں اور اس پر قادیانیوں کا ماضی اور عدالتی فیصلے گواہ ہیں۔ مثلا:
  • عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں تسلیم کیا ہے کہ قادیانی دھوکہ دہی کی روش سے باز نہیں آتے۔
  • یہ شعائر اسلام کے استعمال سے بھی باز نہیں آتے۔
  • یہ شعائر اسلام کی آڑ میں خود کو مسلمان ثابت کرنے اور تبلیغ سے باز نہیں آتے۔
  • اپنے مذہب کی تبلیغ ان کے عقائد کا حصہ ہے۔
  • تبلیغ کے لیے یہ تحریف عقائد، توہین رسالت اور تحریف قرآن کے مرتکب ہوتے ہیں۔
  • یہ اب تک ہزاروں مسلمانوں کو قادیانی بنا چکے ہیں۔
  • ان سب اعمال کی صورت میں مسلمان اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
ان طے شدہ امور کے علاوہ کچھ سوالات بھی اہم ہیں۔ مثلا :
  • اگر انہیں چاردیواری کے شعائر اسلام کے استعمال اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہے تو یہ تبلیغ کس کو کر رہے ہیں؟ یقینا عام مسلمانوں کو کی جاتی ہے تو یہ جرم کیوں نہیں ہے؟
  • اگر انہیں چار دیواری کے اندر تبلیغ کی اجازت ہے تو دیگر مذاہب مثلا عیسائی اور سکھوں کو اس چیز کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
  • اگر مسلمانوں کے مختلف مسالک کے نفرت انگیز لٹریچر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو قادیانیوں کا سارا لٹریچر مسلمانوں کے نزدیک نفرت انگیز اور توہین آمیز ہے تو اس پر کیوں پابندی نہیں لگائی جاتی؟
  • اگر مسلمانوں کے مختلف مسالک کے لٹریچر کے خلاف 23000 ایف آئی آر درج ہو سکتی ہیں تو قادیانیوں کے تحریف شدہ اور نفرت انگیز لٹریچر پر کیوں نہیں؟
  • کیا مختلف مسالک کے نفرت انگیز لٹریچر کو چار دیواری کے اندر جائز قرار دیا جا سکتا ہے ؟
  • کیا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کو چاردیواری کے اندر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
مذکورہ طے شدہ امور اور سوالات کے علاوہ ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ وہ یہ کہ اگر 1974ء کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ اب تک قادیانی دھوکہ دہی اور تبلیغ کے ذریعے کتنے سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانی بنا چکے ہیں تو یہ حقائق چشم کشا اور ہوش ربا ہیں۔ قادیانیوں کی اپنی رپورٹس کے مطابق پچھلے چند سالوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں نے قادیانیت کو بطور مذہب قبول کیا ہے اور ان میں اکثریت سادہ لوح مسلمانوں کی ہے۔ یہ ہزاروں مسلمان قادیانیوں کی ’’چار دیواری‘‘ کے اندر کی آزادی کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ کیا بطور سربراہ ریاست، بطور سربراہ عدالت اور بطور عام مسلمان میں چاردیواری کے اندر کا جواز پیش کر سکتا ہوں۔ کیا کل قیامت کے دن بطور سربراہ ریاست اور بطور سربراہ عدالت مجھ سے سوال نہیں ہو گا ؟جو نبی ایک ایک امتی کے لیے فکر مند رہا آج اس کے ہزاروں امتی چار دیواری کی بھینٹ چڑھ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہم، ہماری عدالتیں اور ہماری ریاست چاردیواری کا استدلال پیش کر کے خاموش ہے۔
پھر آئین میں چار دیواری کے اندر بنیادی حقوق کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے وہ مطلق نہیں بلکہ آئین ، قانون، اخلاقیات اور امن عامہ کے تابع ہے۔ اسی طرح کسی مذہب و مسلک کے تعلیمی اداروں کے اندر اسی مذہب و مسلک کی تعلیم کے حق کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے وہ خالص مذہبی اداروں کے اندر ہے۔ جبکہ قادیانیوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ انہوں نے مختلف عصری تعلیمی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں قادیانیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے بچے بھی زیر تعلیم ہوتے ہیں اور قادیانی دیگر مذاہب کے بچوں کو تبلیغ سے باز نہیں آتے ۔
حالیہ دنوں میں مبارک ثانی کیس اس کی بہترین مثال ہے۔ مبارک ثانی نصرت جہاں کالج فار ویمن میں قادیانیوں کی تفسیر صغیر کو، قرآن کی تفسیر کہہ کر تقسیم کر رہا تھا جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی اور 295 سی کی تحت صریح جرم تھا لیکن عدالت نے اسے جرم اس لیے تسلیم نہیں کیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق کے تحت ہر مذہب و مسلک کو اپنے مذہبی تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان میں تعلیم دینے کا حق ہے۔ (یہاں پھر اسی تضاد کا سہارا لیا گیا جس کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے کہ شعائر اسلام کا استعمال اگر باہر جرم ہے تو اندر جرم کیوں نہیں ہے، لیکن یہاں ہمارا موضوع بحث آرٹیکل بائیس کی شق ہے) حالانکہ مبارک ثانی نے جس جرم کا ارتکاب کیا وہ مذہبی تعلیمی ادارے میں نہیں بلکہ عصری تعلیمی ادارے میں ہوا اور اس تعلیمی ادارے پر آئین کے آرٹیکل 22 کی شق کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں مسلمانان پاکستان کا یہ مطالبہ جائز اور صائب ہے کہ اگر کوئی گروہ ان کے نام پر رجسٹرڈ حقوق کو، اپنی چاردیواری کے اندر یا باہر دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرتا ہے اور ان کے ہم مذہبوں کی دنیا و آخرت تباہ کرتا ہے اور اس پر مسلمان عدالت جاتے ہیں تو انہیں انصاف ملنا چاہیے۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اس میں جذباتیت ہے نہ ہی کسی کے بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کا معاملہ ہے۔ نہ ہی کوئی مذہبی و سیکولر قانون مسلمانوں کے اس بنیادی حق کی مخالفت کرتا ہے۔ بلکہ اگر مسلمان اس دھوکہ دہی اور اپنی شناخت کے غلط انتساب پر سوال نہیں اٹھاتے تو یہ ان کے عقل و شعور اور ان کے ایمان پر سوالیہ نشان ہے۔
اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی چاردیواری کے اندر بھی ان کے نام رجسٹرڈ حقوق اور ان کی شناخت کو غلط طور استعمال نہ کیا جائے تو ان کے اس مطالبے سے اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔ یہ مسئلہ جس فریق کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اس کا حل ڈھونڈنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ کوئی گروہ میرے رجسٹرڈ حقوق اور میری میراث کو دھوکہ دہی سے اپنی طرف منسوب کرے اور میں اس کے خلاف آواز بلند کروں تو الٹا مجھے ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ اس سے تو میرے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ مجھ سے میری شناخت چھینی جا رہی ہے۔ بلکہ مجھ سے چھین کر کسی اور کو دی جا رہی ہے اور الٹا مجھے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ جس شناخت کی حفاظت و اشاعت کے لیے میرے پرکھوں نے ہر عہد میں قربانیاں دی آج اس کے حقوق عدالتی چھتری تلے مجھ سے چھین کر کسی اور کے نام کیے جا رہے ہیں۔ مجھ سے میرے بنیادی حقوق اور میری بنیادی شناخت چھین کر میرے ہی خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ میں کسی اور کے بنیادی حقوق چھین رہا ہوں۔
اگر کل قادیانیوں میں سے کوئی گروہ اٹھ کر مرزا کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور قادیانیت کی نئی تشریح کرتا ہے اور کہتا ہے جو اس نئی تشریح کو قبول نہیں کرتا وہ کافر ہے تو کیا قادیانی اس نئے گروہ کو یہ سب کرنے کی اجازت دیں گے؟ اگر قادیانی اس گروہ کے خلاف عدالت جائیں اور عدالت فریق مخالف کے بنیادی حقوق کا حوالہ دے کر انہیں خاموش کروا دے تو کیا قادیانی اس فیصلے کو تسلیم کریں گے؟ کیا یہ پریکٹس دنیا کے دیگر مذاہب پر بھی اپلائی کی جا سکتی ہے۔ مثلاً‌ عیسائیوں یا یہودیوں میں کوئی گروہ اٹھ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور عیسائیت یا یہودیت کی نئی تشریح کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ اصل عیسائیت اور یہودیت یہ ہے اور جو اس نئی عیسائیت یا یہودیت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کافر ہے، تو کیا یہودیت اور عیسائیت اس دجل کو تسلیم کر لیں گے۔ یقیناً‌ دنیا کا کوئی بھی مذہب اس دجل کا روادار نہیں ہو سکتا تو پھر مجھ سے یہ مطالبہ کیوں ہے کہ میں اس دجل کو قبول کر لوں اور اپنے رجسٹرڈ حقوق اور اپنی میراث پر کسی اور کا حق تسلیم کر لوں۔
اپنے ان بنیادی اور رجسٹرڈ حقوق اور اپنی میراث کی حفاظت کے لیے میرے عدالت جانے سے اگر کسی کے بنیادی حقوق کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ جس فریق کا پیدا کردہ ہے یہ اسی کا مسئلہ ہے اور اس کا حل تلاش کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں اگر مجھے کوئی جذباتی کہتا ہے تو وہ خود غلط فہم پر کھڑا ہے۔مجھے کوئی آئین کا حوالہ دیتا ہے تو وہ آئین کی غلط تشریح کر رہا ہے۔ مجھے کسی کے بنیادی حقوق کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے تو وہ غیر شعوری طور پر میرے بنیادی حقوق سلب کر کے کسی اور کو دینے کی بات کر رہا ہے۔
اس مسئلے کا صرف ایک اور واحد حل یہ ہے کہ میرے نام رجسٹرڈ اور میرے بنیادی حقوق متاثر نہ کیے جائیں۔ میری میراث میرے نام منسوب کی جائے اور کسی اور کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ دھوکہ دی سے اسے اپنی طرف منسوب کرے۔ اگر کسی نے میرے حقوق اور میری میراث پر ڈاکہ ڈالا ہے تو میں اگر اس کے خلاف عدالت جاؤں تو مجھے انصاف دیا جائے۔ دھوکہ دہی کے مجرم کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنے لیے نئے حقوق اور نئی میراث وضع کرے۔ اپنے پہچان اور شناخت کے لیے نئے نام سامنے لے کر آئے اور اپنے مذہب کا نیا نام اور نئی اصطلاحات وضع کرے۔
قادیانیت کے حوالے سے تیسرے مرحلے میں کرنے کا یہ کام ہے اور جس دن یہ مرحلہ سر ہو گیا قادیانیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ اس مرحلے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت کے سامنے مذہبی و عقلی استدلال کے ذریعے یہ ثابت کیا جائے کہ کس طرح قادیانی چار دیواری کا سہارا لے کر دھوکہ دہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کس طرح یہ گروہ چاردیواری اور عبادت گاہ کی آڑ کا سہارا لے کر ہزاروں لاکھوں لوگوں کا ایمان لوٹ چکا ہے۔ عدالت کو یہ باور کرایا جائے کہ جرم اگر چار دیواری سے باہر جرم ہے تو وہ اندر بھی جرم ہے۔ اگر میرے نام رجسٹرڈ حقوق سے کسی کے بنیادی حقوق کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہ اس کی طرف سے پیدا کردہ ہے اور اس کا حل ڈھونڈنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ جس دن ہم عدالت کو ان سب حقائق پر قائل کرنے کے قابل ہو گئے اور عدالت نے بھی آنکھیں بند نہ کی ہوئی ہوں تو اس دن یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے بحر ہند میں دفن ہو جائے گا۔
ختم نبوت اور قادیانیت پر کام کرنے والی جماعتوں ، افراد اور اداروں کو اپنی جدوجہد اور حکمت عملی کو اس رخ پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے آباء نے اپنے عہد کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق جدوجہد کے پہلے دو مراحل کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کو اون کریں اور صحیح رخ پر جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ اس کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کرنے اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں، افراد اور اداروں کو مل بیٹھ کر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام الناس کی ذہن سازی ، مقننہ اور عدلیہ کو مذہبی و عقلی استدلال کے ذریعے مسئلے کی تفہیم، مذہبی و سماجی دانش، سوشل میڈیا سمیت مین اسٹریم میڈیا ،با اثر حلقوں تک رسائی اور ریاستی مشینری کو اس جدوجہد میں شامل کرنے سے اس مسئلے کے حل کے امکانات بہت زیادہ حد تک بڑھ جائیں گے۔

تصوف ایک متوازی دین — محترم زاہد مغل صاحب کے جواب میں

ڈاکٹر عرفان شہزاد


قرآن مجید میں نبی اور رسول کی اصطلاح مخاطبہ الہی سے سرفراز اس شخص کے لیے استعمال ہوئی ہے جو ایک خاص منصبِ ہدایت پر فائز ہوتا اور خدا کی مرضیات سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کی اطاعت اس کے مخاطبین پر فرض ہوتی ہے۔ اسی کا تقاضا سے اس کا انکار کفر قرار پاتا ہے۔
نبی اور رسول میں ان کی دعوت کے نتائج کے لحاظ سے ایک فرق البتہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ رسول کی دعوت کے ساتھ زمین ہی پر خدا کی عدالت کا ظہور بھی ہوتا ہے اور اتمام حجت کے بعد قوم کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ دعوت حق کے منکرین اور معاندین سزا یاب ہوتے ہیں اور مومنین نجات پاتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (یونس، ۱۰: ۴۷)
(اُس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آجاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔
نبی اور رسول کے درمیان اس فرق کی بنیاد قرآن مجید کی نصوص ہیں۔ تاہم، نبی اور رسول کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں اور اس لحاظ سے دونوں مترادف ہیں۔
قرآن مجید میں نبیوں کی کوئی اقسام بیان نہیں ہوئیں۔ نبوت عامہ اور نبوت خاصہ، نبوت تشریعی اور نبوت غیر تشریعی کی کوئی تقسیم مذکور نہیں اور نہ ان تقسیمات کے استنباط کے لیے کوئی مضبوط بنیاد ہی دستیاب ہے۔ رسول کی طرح نبی کے لفظ کو لغوی مفہوم میں استعمال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، مگر اس سے آگے بڑھ کر اسے ایک مختلف مفہوم کی نئی اصطلاح بنانا التباس پیدا کرتا اور ایک مفہوم کو دوسرے میں ملانے کی راہ کھولتا ہے۔ اور یہ ہوا بھی۔ نبوت عامہ میں نبوت خاصہ کے خصائص شامل کر دیے گئے۔ یہی نہیں، بلکہ نبوت عامہ کے حامل اولیائے انبیا نبوت خاصہ کے حامل انبیا سے برتر قرار پائے۔ یہ ہونا ہی تھا کیوں کہ انبیا کے ہوتے ہوئے دوسری قسم کے انبیا کے وجود تبھی جواز پا سکتا تھا جب کوئی وجہ امتیاز بتائی جا سکے۔ چناں چہ بتایا گیا کہ حضرت موسی علیہ السلام جیسا پیغمبر بھی خضر کے در پر پہنچ کر فیضانِ علم باریاب ہوتا ہے۔ یہ اولیائے انبیا کائنات کے ستون ہیں۔ نظم کائنات چلانے میں یہ خدا کے ساتھ شامل ہیں۔ خدا کا کوئی تکوینی فیصلہ ان کے علم میں لائے بغیر نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں کے ذریعے سے نافذ ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ وہ مقام ہے کہ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے گروہِ انبیا تمھیں تو بس نبی کا لقب ہی ملا اور ہمیں وہ کچھ ملا جو تمھیں نہیں ملا۔ یہ سب وہ نظریات ہیں جو دوسرے ادیان میں دیوتاؤں اور اوتاروں کے تصور کے ذریعے سے پیش کیے گئے۔ یہاں یہ قطب ، ابدال اور غوث وغیرہ کے ناموں سے متعارف کروائے گئے ہیں۔
فنون سے متعلق اصطلاحات انسان بناتے ہیں۔ وہاں یہ اعتراض پیدا نہیں ہوتا یا نہیں ہونا چاہیے کہ مختلف ماہرین فن نے ایک ہی اصطلاح کو دو مختلف مفاہیم میں استعمال کر لیا۔ التباس وہاں بھی پیدا ہوتا ہے مگر علم کی روایت میں اسے گوارا کیا گیا ہے، التباس کے سبب وضاحت بہرحال وہاں بھی کرنی پڑتی ہے۔ مگر دینی اصطلاحات کی نزاکت کے پیش نظر اصطلاحات کا اشتراک گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا کسی بھی دوسری عبادت یا کسی خاص دعا کو 'الصلواۃ' یعنی نماز نہیں کہا جا سکتا، خواہ لفظ کے لغوی مفہوم، یعنی، دعا میں اس کی گنجایش موجود ہو۔ اسی طرح نبی اور رسول کے اصطلاحی مفہوم کے متوازی ایک نئی اصطلاح بنا کر کوئی نیا یا مختلف مفہوم پیدا نہیں کیا جا سکتا، خواہ لغوی معنی میں اس کی گنجایش موجود ہو۔
محترم زاہد مغل صاحب نے صوفیا کی نبوت عامہ کی اصطلاح سازی کے لیے جو جواز پیدا کیے ہیں ان کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہو گا کہ انھوں نے لفظ 'نبا' یعنی خبر اور 'نبی' یعنی حاملِ خبر کے لغوی مفہوم میں گنجایش پا کر ہر چیز جس کی طرف خدا کا امر یا تکوینی الہام ہو، اسے نبی قرار دے دیا ہے۔ تکوینی نوعیت کے الہامات جو مثلا شہد کی مکھی کو ہوتے ہیں، غیر متعین قسم کے عمومی الہامات جو گاہ گاہ انسانوں کو ہو جاتے ہیں، سچے خواب جو مسلم اور غیر مسلم، مومن اور مشرک سبھی کو آ جاتے ہیں اور دور نبوت میں نبی کی کسی ضرورت کے تحت فرشتوں کا کسی غیر نبی کو مخاطب کر لینا، جیسا کہ مریم علیھا السلام سے فرشتے کا کلام، جیسے استثنائی واقعات کے مجموعے کونبوت عامہ کا مفہوم پہنا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کی رو سے ان پر آنے والی وحی کو نبوت کے اجرا کے ثبوت کے طور پر پیش کر کے اسے بھی نبوت عامہ میں شامل کر دیا اور اس کے ساتھ ہی نبوت خاصہ کے خصائص بھی نبوت عامہ میں منتقل کر دیے۔ گھپلا یہاں ہی کیا گیا ہے۔ مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی ان کی اصطلاحی تقسیم کے مطابق وہ نبوت خاصہ کے حامل ہیں۔ ان کی نبوت کو نبوت عامہ میں کیسے شامل کر دیا گیا؟ یہی وہ درز ہے جس کے ذریعے سے نبوت عامہ سے نبوت خاصہ میں نقب لگائی گئی ہے۔
نبوت عامہ کا سارا قصر درج بالا اس تخیل پر استوار ہے۔ یہی نکتہ اعتراض ہے کہ اللہ تعالی نے ایسا نہیں کیا۔ نہ شہد کی مکھی نبی ہے نہ مریم علیھا السلام کو نبییہ کہا گیا ۔ مریم علیھا السلام سے نبی کی پیدایش سے متعلق ایک وقتی ضرورت کی وجہ سے مخاطبت کی گئی تھی۔ یہ ضرورت پوری ہو جانے کے بعد پھر مخاطبت نہیں کی گئی۔ استثنائی واقعات سے کوئی عمومی کلیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ غیر متعین الہامات کو نبوت قرار دے دیا جائے تو ہر فکر و فن کے بعض ماہرین نبی قرار پائیں گے جن کے اپنے میدان تحقیق میں بعض انکشافات الہامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں میں اس کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔ اس سب کے باوجود اولیائے انبیا کے لیے مخاطبہ الہی کی خصوصیت شامل کرنے کےلیے جواز پھر نبوت خاصہ ہی لیا گیا ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔
نبوت عامہ کی اصطلاح سازی کے بعد اب یہ بھی ضروری تھا کہ نبوت عامہ اور نبوت خاصہ میں کوئی فرق اور امتیاز بھی دکھایا جائے۔ اس کے لیے دو معیارات پیش کیے گئے۔ ایک یہ کہ یہ فرق تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا ہے۔ نبوت عامہ کا حامل غیر تشریعی نبی ہوتا ہے۔ وہ لوگوں پر کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔ دوسرا معیار پہلے معیار سے پیدا ہوتا ہے کہ نبوت عامہ کا حامل خود کو نبی نہ ماننے والوں کی تکفیر نہیں کرتا، اس لیے ان میں سے جو تکفیر کرے، وہ غلط ہے۔ یہاں پہنچ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی الہامی نبوت کا انکار ممکن ہو پاتا ہے۔ لیکن یہیں سے مرزا قادیانی کا استدلال پیدا ہو جاتا ہے کہ نبی کا انکار اگر کفر ہے تو نبی تشریعی ہو یا یا غیر تشریعی اس کا انکار کفر ہی ہو گا۔ بنی اسرائیل میں تشریعی نبی صرف موسی علیہ السلام تھے، مگر منصب رہنمائی پر فائز غیر تشریعی انبیا کا انکار بھی کفر ہی تھا۔ یوں صوفیا اور زاہد مغل صاحب کے استدلال کی ساری پیش کاری در حقیقت قادیانیت کو استدلال مہیا کرتی ہے اور ختم نبوت کا خاتمہ کر دیتی ہے۔
جہاں تک تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی تقسیم کا مسئلہ ہے تو یہ بھی قرآن مجید نے نہیں بتائی۔ قرآن مجید کے مطابق ہر نبی خدا کی ہدایت اور اس کی شریعت کا تابع اور پابند تھا، خواہ یہ شریعت اس کے ذریعے سے دی گئی یا اس سے پہلے کے نبی کے ذریعے سے۔ اس لحاظ سے محمد رسول اللہ ﷺ بھی تابع نبی تھے۔ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم کی ملت اور گزشتہ انبیا کی ہدایت کی پیروی کریں اور جو شریعت انھیں ملی وہ اس کے بھی پابند تھے۔
قرآن مجید میں ختم نبوت کے ذکر پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہاں دراصل بغیر شریعت کے نبی نہ آنے کی نفی بدرجہ اتم مراد ہے۔ وہ یوں کہ شریعت کی تکمیل کا اعلان تو خود قرآن نے کر دیا تھا۔ اس سے واضح تھا کہ نئی شریعت نہیں آ سکتی تھی۔ اب کوئی امکان ہو سکتا تھا تو یہی کہ نبی انذار، اخلاقی ہدایات اور رہنمائی کے لیے آتے، جیسے کہ بنی اسرائیل میں نزول تورات کے بعد آتے رہے۔ لیکن نبیوں کے سلسلے پر مہر لگنے کے اعلان سے انبیا کی آمد کے اس امکان کا خاتمہ ہوگیا۔
کسی غیر نبی کو خدا سے مخاطبت کا شرف حاصل نہیں۔ نہ غیب کی طرف کوئی کھڑکی کھلتی ہے جس کے ذریعے سے جب چاہیں جھانک کر عالم بالا کے احوال معلوم کر لیے جائیں۔ بلکہ نبی کا معاملہ بھی یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں وحی نہ آتی تو رسول اللہ ﷺ بے تابی سے منتظر رہتے مگر ایسا نہ ہوتا کہ آپؐ کی روحِ مبارک خود صعود کر کے عالم بالا سے خبر لے آئے۔ صحابہ کرام کو دینی اور دنیاوی امور میں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے حل کے لیے وہ اجتہاد اور مشاورت سے کام لیتے تھے۔ اس عمل میں ایک دوسرے سے اختلاف اور مباحثہ کرتے ، مگر الہام اور کشف کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہ کرتے تھے۔ ایسا کوئی طریقہ ہوتا تووہ اسے اختیار کرتے۔ صحابہ کے ہاں اس قسم کے خیالات اور دعاوی کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا ۔ مسلمانوں میں تصوف اہل عجم کے متصوفانہ حلقوں اور فلسفے کی اشراقی روایت سے در آیا اور انھیں کے اوہامات کو الہامات کے نام سے مسلمانوں میں رائج کر دیا گیا۔
صوفیا کی اس آزادانہ باطنی سیر کے نتائج دیکھیے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے الہامات اور مکاشفات کا منبع خدا نہیں ہو سکتا۔ یہ دین اسلام کے متوازی تعلیمات کا ایک مجموعہ ہے۔ تصوف میں اصل چیز مشاہدہءِ حق ہے، جو باطنی حواس کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے جب کہ دین میں یہ ایمان بالغیب، یعنی بن دیکھے ایمان ہے، جس کے لیے علم و استدلال کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ دین میں خدا سے تعلق بیم و رجا کا ہے۔ تصوف میں یہ عاشق و معشوق کا ہے۔ اسلام کا منتہائے مقصود بندگی اور عاجزی ہے۔ تصوف میں یہ خدا کی ذات میں شامل ہو کر خود خدا ہو جانے کا فخر ہے۔ ہندو مت یا سناتن دھرم میں اسے آتما کا پرماتما میں مل جانا کہتے ہیں۔ قرآن میں بیان ہونے والی توحید ان کے مطابق عوامی قسم کی ہے۔ صوفیا کو خدا کا عرفان جب حاصل ہوتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا وجود موجود ہی نہیں ہے۔ خالق اور مخلوق ایک ہیں۔ ساجد اور مسجود کی دوئی محض وہم ہے۔ توحید کی حقیقت ان کے نزدیک یہی ہے۔ یہ درحقیقت وحدت الوجود یا ہمہ اوست کا فلسفہ ہے جو قدیم مصر، یونان کے فلاسفہ اور ہندو مت یا سناتن دھرم کے پرچارکوں نے پیش کیا تھا۔ عقیدہءِ تثلیث اسی نظریے پر مبنی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ خدا نے تین اشخاص میں ظہور کیا۔ اس کی رو سے مسیح علیہ السلام خدا ہی کا جسدی ظہور تھے۔ اللہ تعالی نے اس فلسفے کو تسلیم نہیں کیا اور اسے کفر اور شرک قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (مائدہ، ۵ : ۷۲)
اُن لوگوں نے بھی یقینا کفر کیا ہے جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے۔
ساری کائنات کو خدا کا ظہور مان لینا وہی کفر اور شرک ہے۔ صوفیا کا یہ مشاہدہء حق اگر کسی حقیقت کا انکشاف ہوتا تو اس میں تضاد اور تخالف نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر صوفیا ایک دوسرے کے نتائجِ کشف کو تسلیم نہیں کرتے۔
تصوف میں انسانِ کامل (روح محمدی) صوفیا میں حلول کر جاتا ہے۔ وحدت الوجود کے نتیجے میں صوفیا پہلے خود خدا ہوئے تھے، اب روح محمدی کے حلول کے بعد نبی بھی ہوگئے ۔ خود کو کمالات نبوت اور نبوت عامہ کا حامل سمجھنے کا منبع یہی خیال ہے۔ اس پر استدلال بعد میں وضع کیا گیا ہے۔ حلول کا یہ عقیدہ بھی خارجی فلسفوں سے در آیا ہے۔ مسیح علیہ السلام میں روحِ خدا کے حلول کا نظریہ اسی کا ایک مظہر ہے ،جسے خدا نے تسلیم نہیں کیا اور اسے بھی کفر قرار دیا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہوتا ہے:
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ (مائدہ، ۵: ۷۳)
اِسی طرح اُن لوگوں نے بھی یقینا کفرکیا ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔
خدا تک رسائی پا کر صوفیا خدا سے حصول ہدایت کے لیے نہ نبی کے محتاج رہتے ہیں نہ فرشتوں کے۔ یہ براہ راست خدا سے ہدایت لیتے ہیں۔ شریعت کی ظاہری پابندی اس لیے کرتے ہیں کہ خدا ہی کی طرف سے انھیں اس کا پابند کیا جاتا ہے، ورنہ خود نبی کے کہنے سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق شریعت کی پابندیاں اصلاً عوام کے لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیا کے ہاں ترکِ شریعت یا اس میں تساہل کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ خود کو شریعت کا تابع نہیں سمجھتے، مگر نظم اجتماعی میں خلل یا خوفِ فسادِ خلق سے اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔
خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے جو شریعت انھوں نے ایجاد کی ہے اس کا بھی کوئی شائبہ اسلام میں نہیں ہے۔ چِلّے، ریاضیتں اور ذکر و اشغال کی کثرت میں خود کو گم کر دینا، اور اس سب کے لیے ترکِ علائق ، یہ رہبانیت ہے جس کی دین مذمت کر چکا ہے۔ دنیا کی خواہشیں اس دینِ صوفیا کے مطابق روح کی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اسی کا اثر ہے سادگی کو ایک قابل ترجیح قدر کے طور پر اپنانے کی تلقین عام ہوئی۔ اس کے برعکس قرآن مجید بتاتا ہے کہ دنیا کی زینتیں خدا نے اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ تو کون ہے جو ان کو حرام قرار دے؟
ارشاد ہوتا ہے:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (اعراف، ۷ : ۳۲)
اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدانے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔
ابلیس کی طرف داری اور وکالت کی جسارت بھی تصوف کی راہ سے مسلمانوں کے لٹریچر میں آئی۔ قرآن مجید میں ابلیس کا موقف خود اس کی زبانی نقل ہوا ہے کہ اس کی سرتابی کی وجہ اس کا احساس برتری تھا۔ اس سے جب باز پرس کی گئی تو اس نے کسی ندامت کا اظہار کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اعلان کیا وہ خود تو گم راہ ہوا ہی ہے، اب وہ خدا کے بندوں کو بھی آخری دم تک گم راہ کرتا رہے گا۔
اس کے برعکس صوفیا کے ہاں ابلیس ایک سچا موحّد تھا جو خدا کے سوا کسی دوسرے کے آگے سجدہ کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس نے لوح محفوظ پر لکھا دیکھا تھا کہ کوئی ایک ایسا ہو گا جو خدا کی نافرمانی کرے گا۔ آدم علیہ السلام کو سجدے کا حکم ہوا تو اس نے دیکھا کہ سبھی سربسجود ہیں تو اس نے مشیئت الہی کو غلط ہونے سے بچانے کے لیے خود کو پیش کر دیا اور سجدہ نہ کیا۔ صوفیا کے اس مکاشفے کو مبارک شاہ صاحب نے اپنی نظم 'الّا ابلیس' میں یوں منظوم کیا ہے:
جس نے مٹّی کے بُت کو نہ سجدہ کیا
روزِ اوّل سے جو مُنکرِ شِرک تھا
جُز تِرے جس کی نظروں میں کوئی نہ موجُود تھا
تیرا مردُود تھا ؟
جس کے پیشِ نظر تیری تقدیس تھی
کس قدر وُسعت ظرفِ ابلیس تھی
سینۂ آدمی کا ہر اک وسوسہ
جس سے منسُوب ہے
تیرا معتُوب ہے ؟
ہے تو ہو گا ، مگر مُنصفِ دو جہاں !
اُس کے دِل کی خَلِش کس کے سَر جائے گی
جس نے ہر حال میں تیری لوحِ ازل کا بھرم رکھ لیا
جس نے تیرے لیے بے طلب راستوں پر قدم رکھ لیا
اب قرآن مجید ابلیس کے بارے میں جو کہتا رہے، صوفی کا یقین اس الہام اور مکاشفے پر ہے، اس لیے کہ دین تصوف میں اصل سند قرآن یا نبی نہیں بلکہ صوفی کا الہام ہے۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ابلیس کی براءت کے بارے میں یہ الہام اور مکاشفہ انھیں کس کی طرف سے انھیں پیش آیا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں اس ربط کے بارے میں قرآن مجید میں مطلع کیا گیا ہے:
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ‎(انعام، ۶ : ۱۲۸)
اُس دن کو یاد رکھو، جب وہ اِن سب (مجرموں) کو اکٹھا کرے گا، (پھر فرمائے گا): ا ے جنوں کے گروہ، تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا لیا اور انسانوں میں سے اُن کے ساتھی (فوراً) کہیں گے: پروردگار، ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے خوب حظ اٹھایا اور (آج) اپنی اُس مدت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دی تھی۔ اللہ فرمائے گا: اب آگ تمھارا ٹھکانا ہے، تم اُس میں ہمیشہ رہو گے، مگر جو اللہ چاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار حکیم و علیم ہے۔
اہل تصوف سے مکالمہ کے لیے کوئی مشترک علمی اور عقلی بنیاد دستیاب نہیں۔ قرآن کے الفاظ کی ظاہری اور باطنی معانی میں تقسیم کے نظریے سے انھوں نے قرآن سے اپنے لیے باطنی معانی اخذ کرنے کا جواز بنا لیا ہے جو لسانی قواعد کو ملحوظ نہیں رکھتا۔ ان سے یہ بات نہیں کی جا سکتی کہ دینی اختلافات میں فیصلہ قرآن سے ہوگا۔ الفاظ اور جملوں کے متبادر معانی ان کے نزدیک محض ظاہری معانی ہوتے ہیں، جب کہ ان کے فیصلے ان کے الہام یا کسی دوسرے صوفی کے الہام پر اعتماد پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کی تائید قرآن کے باطنی معانی سے ہوتی ہے جو صرف ان پر کھلتے ہیں۔
اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کیوں تصوف ایک متوازی دین ہے۔ اس کی سند دین محمدی نہیں ہے، باطنیت ہے۔ مسلمانوں میں باطنیت کی یہ تحریک اہل تشیع کے بعض گروہوں میں پیدا ہوئی تھی۔ انھیں کی طرف سے یہ خیال بھی تصوف میں رائج ہوا کہ علم تصوف کا منبع حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان سے اِس علم کا صدور عالم روحانیت میں کہیں ہوا۔ اس لیے اس واقعہ کی کوئی سند بھی طلب نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ اسے تلاش کرنا ممکن ہے۔
تصوف بادشاہت کے متوازی ایک روحانی بادشاہت کا خیالی جہان بھی ہے ۔ مسلمانوں میں بادشاہ کے لیے رائج لقب، خلیفہ انھوں نے اسی وجہ سے اختیار کیا ایک مخصوص علاقے میں ان کی روحانی بادشاہت یا خلافت قائم ہوتی ہے۔ ۔ پھر خلفا کی طرح ہی خلعت خلافت دے کر یہ اپنے نائبین مختلف علاقوں میں تعینات کرتے ہیں جو ان کے خلیفہ کہلاتے، ان کی روحانی سلطنت کو پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں۔ ان نائبین سے یہ خفا ہو جائیں تو خلعت خلافت چھین کر انھیں معزول بھی کر دیتے ہیں۔ اپنی روحانی سلطنت کا تاثر انھوں نے اس طرح مضبوط کیا ہے کہ حکمران اور سیاسی زعما بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اپنی سلطنت کی سند یا حکومت کے حصول اور بقا کے لیے ان کے آشیرباد یا دعاؤں کے لیے ان کے در پر حاضری دیتے رہے۔
عام لوگوں کے نزدیک تصوف اصلاحِ باطن یا اصلاحِ اخلاق کا ایک ادارہ اور ذریعہ ہے، لیکن اپنی اصل میں یہ درحقیقت کچھ اور شے ہے۔ یہاں مرشد کی ذات، اس کا حکم اور اس کی تعبیرات دین کا ماخذ ہیں۔ اس کا حکم خلاف دین بھی معلوم ہو تو بجا لایا جائے گا۔
اصلاح تصوف کی تمام تحریکیں ظاہری طور پر شریعت کی پابندی کی تلقین تک محدود ہی رہ سکتی ہیں، نظریاتی سطح پر کوئی تبدیلی اس میں ممکن نہیں، ورنہ تصوف کی عمارت ڈھے جائے گی۔

حضرت رفیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

عہدِ اسلامی کی اولین خاتون آرتھوپیڈک سرجن

مولانا محمد جمیل اختر ندوی


تاریخ ِاسلام کے خزاں دیدہ اوراق جس طرح باکمال مردوں سے بھرے ہوئے ہیں، اسی طرح باکمال خواتین سے بھی مملو ہیں اور یہ تاریخی خواتین ابتدائے آفرینش سے اپنا سکہ جمائی ہوئی ہیں، انھیں جیسوں کے متعلق تو قرآن نے کہا ہے: ولیس الذکر کالأنثی ’’مرد عورتوں کے مثل نہیں ہیں‘‘، پھر یہ خواتین کسی ایک فیلڈ میں ہی باکمال نہیں ہیں؛ بل کہ مختلف میادین میں انھوں نے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ بسا اوقات ان کے سامنے مرد بھی بونے نظر آتے ہیں، یہ خواتین صرف تاریخ اسلامی کے روشن صفحات کی زینت ہی نہیں بنی ہوئی ہیں؛ بل کہ آج بھی وہ مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔
انھیں باکمال خواتین میں ایک نام ’’حضرت رفیدہ‘‘ رضی اللہ کا ہے، جنھیں اولین خاتون آرتھوپیڈک اور ’’أول ممرضۃ فی الإسلام‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اس سلسلہ میں فلورنس نائی ٹنگیل (Florence Nightingale) کا نام بھی لیا جاتا ہے کہ وہ تاریخ کی پہلی نرس اور ممرضہ ہے؛ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ اس کی پیدائش ۱۸۲۰ء میں ہوئی ہے، جب کہ حضرت رفیدہؓ کی پیدائش ۶۲۰ء کی دہائی میں ہوئی ہے اور یہ بات جگ ظاہر ہے کہ انھوں نے جس طرح مریضوں کی دیکھ بھال کی، جس طرح میدان جنگ سے مریضوں کو اٹھا اٹھا کر اپنے خیمہ میں لاتیں اور ان کے زخموں کا علاج کرتیں، وہ کسی بھی طرح سے کسی جدید نرس؛ بل کہ آرتھوپیڈک سرجن سے کم نہیں ہے، اسی لئے خود ویکی پیڈیا میں اس کی صراحت موجود ہے کہ حضرت رفیدہؓ فلورنس سے ۱۲۰۰ سال قبل نرسنگ کی دنیا کی ماہر مانی گئیں ہیں۔
لیکن یہ عجیب بات ہے کہ تاریخ نویسوں نے ان پر کچھ لکھا ہی نہیں ہے، بس معمول کی چند سطریں ہی مل پاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ باوجود کوشش کے، ان کی زندگی کے کئی گوشے صیغۂ راز میں ہی رہ گئے ہیں، جو کچھ اہل سیر اور مؤرخین نے ان کے تعلق سے لکھا ہے، ان تمام کو مرتب انداز میں قارئین کے نذر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیدائش اور نام و نسب

آپ کے نام کے سلسلہ میں اہل سیر کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک آپ کا نام رُفیدہ بنت سعد بن عتبہ (إمتاع الأسماع:۹؍۲۵۴) ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کا نام کُعیبہ بنت سعد (یا سعید) ہے (ابن سعد اور حافظ ابن عبد البر نے اسی نام سے ان کا تذکرہ کیا ہے، دیکھئے: الطبقات الکبری:۱۰؍۲۷۶، نمبرشمار:۵۰۷۲، الاستیعاب، ص:۹۳۵، نمبرشمار: ۳۴۴۳)، آپ کا تعلق قبیلہ اسلم سے ہے، اس قبیلہ کی نسبت ان کے جد امجد اسلم بن اقصیٰ کی جانب ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ لوگ الیاس بن مضر سے تعلق رکھتے ہیں اور خزاعہ میں ضم ہوگئے تھے؛ تاہم اکثر اہل انساب کی رائے یہ ہے کہ یہ خزاعہ کے بھائی تھے اور بنو مزیقیاء سے تعلق رکھتے تھے، آج بھی یہ لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اطراف میں اپنے دیار میں آباد ہیں، بالخصوص وادی حجر میں۔
ڈاکٹر شوکت شطی کے مطابق رفیدہ اور کعیبہ دو الگ خواتین ہیں، رفیدہ طبیبہ تھیں اور سرجری میں مہارت رکھتی تھیں، جب کہ کعیبہ طبیبہ تھیں؛ لیکن سرجری میں مہارت نہیں رکھتی تھیں، انھیں نرسنگ میں مہارت تھی؛ البتہ دونوں ہی قبیلۂ اسلم سے تعلق رکھتی تھیں (دیکھئے: تاریخ العلوم الطبیۃ لاحمد شوکت الشطی، ص:۱۷۵-۱۷۶)۔
حضرت رفیدہؓ کی پیدائش راجح قول کے مطابق مدینہ منورہ (یثرب) میں (620ء کی دہائی میں) ہوئی، جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ مقیم تھیں اور ان کی نشوونما بھی یہیں ہوئی۔

والد

ان کے والد کے نام کے تعلق سے بھی دو قول ہیں: بعض مؤرخین نے ’’سعد‘‘ (دیکھئے: الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۷۶)، جب کہ بعض نے ’’سعید‘‘ رقم کیا ہے (دیکھئے: الاستیعاب، ص۹۳۵)، یہ صحابی ہیں یا نہیں؟ اس تعلق سے کوئی حتمی بات مرقوم نہیں ملی؛ البتہ اہل سیر نے ’’سعد اسلمی عرجی‘‘ کا تذکرہ کیا ہے کہ ہجرت کے موقع پر مقام عرج میں نبی کریم ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی اور یہاں سے یہی آپ ﷺ کے رہبر و رہنما بن گئے، یہ دراصل اسلمیین کے ’’مولی‘‘ تھے، شرف صحابیت ان کو حاصل ہے (الاستیعاب، ص: ۲۷۶)؛ لیکن صراحت کے ساتھ کہیں یہ مذکور نہیں ہے کہ یہی حضرت رفیدہ کے والد ہیں؛ البتہ حکیم راجی عباس تکریتی کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رفیدہ کے والد بھی صحابی تھے، وہ لکھتے ہیں: کان أبوہا أنصاریاً من بنی أسلم، اسمہ سعد۔ (الإسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص:۸۳) ’’ان کے والد بنو اسلم کے تھے اور انصاری تھے، نام سعد تھا‘‘، ظاہر ہے کہ انصاری ہونے کا خطاب مدینہ کے ان باسیوں کو ملا ہے، جو مسلمان تھے اور مہاجرین کے مددگار بھی۔
لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ وہ اپنی قوم کے ایک اچھے، ماہر اور تجربہ کار طبیب تھے، صالح عبد الغنی محمد لکھتے ہیں:
واکتسبت فی التمریض عن أبیہا سعد الأسلمی الذی کان کاہن قومہ بیثرب، وعرافہم وطبیبہم، وکان یجید فن التمریض والتطبیب۔ (الحقوق العامة للمرأة، ص:۱۳۷، نیز دیکھئے: عمل المرأة فی المملکة العربیة السعودیة، ص: ۹۷) ۔
’’انھوں (حضرت رفیدہؓ) نے اپنے والد سعد اسلمی سے علاج و معالجہ کی تعلیم حاصل کی، جو یثرب میں اپنی قوم کے کاہن، نجومی اور طبیب تھے، وہ نرسنگ اور طب کے فن میں ماہر تھے۔‘‘

اسلام

مدینہ میں حضرت مصعبؓ کی کوششوں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں ایک حضرت رفیدہؓ بھی ہیں، پھر جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو انھوں نے براہ راست آپ ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کیا، یہ اہل مدینہ میں اولین اسلام قبول کرنے والوں میں ہیں؛ بل کہ ان خواتین میں ہیں، جنھوں نے آپ ﷺ کا والہانہ استقبال کیا تھا، صلاح عبد الغنی محمد لکھتے ہیں:
عند مشارف یثرب، ومع جموع الأنصار تقدمت بنت سعد الأسلمیة تنشد فرحة بقدوم الرسولﷺ وتبایعہ، وتؤکد عزمہا علی الجہاد فی سبیل اللہ بعد أن أسلمت علی ید مصعب بن عمیر۔ (الحقوق العامة للمرأة، ص: ۱۳۶)
’’یثرب کے مضافات میں، انصار کے ہجوم کے ساتھ، مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد، بنت سعد اسلمیہ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر خوشی کے گیت گاتے، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کرتے اور جہاد فی سبیل اللہ کا عزمِ مصمم کرتے ہوئے آگے بڑھی۔‘‘
حکیم راجی عباس تکریتی لکھتے ہیں:
وکانت سباقة إلی الإسلام، وہی من بین نساء الأنصار اللائی استقبلن النبی محمدﷺ عند ہجرتہ من مکة إلی المدینة بالمزامیر والزغارید۔ (الإسناد الطبی فی الجیوش العربیة الإسلامیة، ص:۸۳)
’’وہ اولین مسلمانوں میں تھیں اور انصار کی ان خواتین میں تھیں، جنھوں نے مکہ سے مدینہ کی ہجرت کے وقت نبی کریم ﷺ کا استقبال نغمہ و راگ کے ساتھ کیا تھا۔‘‘

شادی

اہل تاریخ و سیر نے حضرت رفیدہ رضی اللہ عنہا کے حالات اس طرح تفصیل کے ساتھ نہیں لکھے ہیں، جس قدر تفصیل ہونی چاہئے، اسی لئے ان کے اکثر حالات صیغۂ راز میں ہیں، بس اندازہ سے ہی بات کی جاتی ہے، ان کی شادی کے تعلق سے بھی ایسا ہی کچھ معاملہ ہے، حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے؛ البتہ اندازہ لگا کر حافظ ابن حجرؒ کا کہنا ہے کہ ان کی شادی بنو غفار کے کسی فرد سے ہوئی تھی، وہ لکھتے ہیں:
قولہ: (خیمة من بنی غفار) تقدم أن ابن إسحاق ذکر أن الخیمة کانت لرفیدة الأسلمیة، فیحتمل أن تکون کان لہا زوج من بنی غفار۔ (فتح الباری:۷؍۴۷۹، حدیث نمبر: ۴۱۲۲)
’’(خیمۃ من بنی غفار کا قول)، یہ بات گزر چکی ہے کہ ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ یہ خیمہ رفیدہ اسلمیہ کا تھا، جس سے یہ احتمال ہوتا ہے کہ ان کا شوہر بنو غفار کا تھا۔‘‘

جہاد میں شرکت

حضرت رفیدہؓ کے اندر جذبۂ جہاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، انھوں نے بیعت بھی اسی پر کیا تھا اور خوب نبھایا بھی، اسلام کے اولین غزوہ سے ان کی شرکت رہی، جس وقت غزوۂ بدر کے لئے بگل بج رہا تھا، یہ اس سوچ میں تھیں کہ کس طرح آج مجاہدین کی صفوں میں شمار ہونے کا موقع ملے؟ بس موقع ملتے ہی وہ اس میں شریک ہوگئیں، صلاح عبد الغنی محمد لکھتے ہیں:
ووراء جیش المسلمین، خرجت ثلة من النساء یحملن الماء للمحاربین تتقدمہن کعیبة، ثم دارت رحی المعرکة، وحمی وطیسہا، وجُرح فیہا بعض المسلمین، فأسرعت کعیبة تنتقل بین صفوف المسلمین تسعف المصاب منہم، وتشعرہ بالعنایة والعطف۔
’’مسلمان لشکر کے پیچھے، عورتوں کی ایک جماعت مجاہدین کے لئے پانی لے کر نکلیں، جن کی پیشوائی کعیبہ کر رہی تھیں، پھر معرکۂ کارزار گرم ہوا اور بعض مسلمان زخمی ہوگئے، بس کعیبہ پھرتی کے ساتھ ان زخمیوں کو مسلمانوں کے لشکر سے منتقل کرنے لگیں اور ان کی دیکھ ریکھ پر توجہ مرکوز کر دی۔‘‘
غزوہ احد میں بھی انھوں نے شرکت کی تھی اور بہتر طریقہ پر اپنا کام انجام دیا تھا، پھر جب سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تو ان کی شرکت اس غزوہ میں نمایاں طور پر رہی، زخمیوں کا علاج اور ان کی مرہم پٹی میں نہ صرف یہ پیش پیش رہیں؛ بل کہ خندق کے قریب ہی اپنا طبی کیمپ بھی لگا دیا؛ چنانچہ جب حضرت سعد بن معاذؓ زخمی ہوگئے تو انھوں نے میدانِ کارزار میں ہی ان کا علاج کیا، صلاح عبد الغنی محمد لکھتے ہیں:
لقد أصیب سعد بن معاذ سید الأوس-من الأنصار-وأسرعت کعیبۃ إلیہ، وکشفت عن جراحہ حیث أصابہ سہم بأعلی الصدر، والدماء تنزف منہ، فأخذت تعالج جراحہ وترعاہ لتوقف نزیف الدمائ، وترکت سہم المستقر فی مکانہ لیحول دون انبثاق المزید من الدم۔ (الحقوق العامة للمرأة، ص: ۱۳۷)
’’انصار کے قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ زخمی ہوگئے تو کعیبہ ان کی طرف تیزی سے گئیں اور ان کے اس زخم کا معاینہ کیا، جو سینے کے اوپری حصہ میں تیر لگنے کی وجہ سے تھا اور جہاں سے خون بہے جا رہا تھا، انھوں نے خون بند کرنے کے لئے ان کا علاج کیا اور تیر کو اس کی جگہ پر رہنے دیا؛ تاکہ مزید خون نہ بہے۔‘‘
غزوۂ خندق کے معاً بعد جب غزوۂ خیبر کا اعلان ہوا تو بنو غفار کی عورتیں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کناں ہوئیں: یارسول اللہ! قد أردنا أن نخرج معک إلی وجہک ہذا -وہو یسیر إلی خیبر- فنتداوی الجرحی ونعین المسلمین بما استطعنا۔ ’’اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کے ساتھ خیبر جانے کا ارادہ کیا ہے؛ تاکہ ہم زخمیوں کا علاج کر سکیں اور مسلمان مجاہدین کی بقدر استطاعت مدد کر سکیں‘‘، آپ ﷺ نے ’’علی برکۃ اللہ‘‘ کہہ کر ان کو اجازت دیدی (مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۷۱۸۰)، ان عورتوں میں حضرت رفیدہؓ بھی تھیں، وہ نہ صرف اس میں شریک ہوئیں؛ بل کہ اچھے طریقہ سے اپنے حصہ کا کام بھی انجام دیا، جس کی وجہ سے اللہ کے رسولﷺ نے ان کو مردوں کے برابر حصہ دیا، حافظ ابن عبدالبرؒ رقم طراز ہیں:
شہدت خیبر مع رسول اللہ ﷺ، فأسہم لہا سہم رجل۔ (الاستیعاب، ص: ۹۳۵، نمبرشمار: ۳۴۴۳، طبقات ابن سعد: ۱۰؍۲۷۶، نمبرشمار: ۵۰۷۲)
’’وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر میں شریک تھیں؛ چنانچہ رسول اللہﷺ نے ایک مرد کا حصہ ان کو بھی عطا کیا۔‘‘

طبابت

حضرت رفیدہؓ کا شمار ان خواتین میں نمایاں طور پر ہوتا ہے، جنھوں نے عہد نبوی میں طب کے میدان میں عملی طور پر خدمت انجام دی ہے، عمر رضا کحالہ لکھتے ہیں:
مجاہدة کانت تداوی الجرحی وتحتسب بنفسہا علی خدمة من کانت بہ ضیعة من المسلمین۔ (أعلام النساء فی عالمی والعرب والاسلام: ۱؍۴۵۱)
’’وہ ایک مجاہدہ تھیں، زخمیوں کا علاج کرتیں، انھوں نے اپنے آپ کو ان مسلمانوں کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا، جن کے حالات دگرگوں تھے۔‘‘
یہ عمل جراحی (Orthopedic Surgery) میں ماہر تھیں، ان کی اسی مہارت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے خیمہ لگوایا تھا، شوکت شطی لکھتے ہیں:
رفیدة: طبیبة متمیزة بالجراحة، ولذلک اختارہا الرسول لتقوم بالعمل فی خیمة متنقلة۔ (تاریخ العلوم الطبیة، ص:۱۷۵)
’’رفیدہ: جراحت میں ممتاز طبیبہ تھیں، اسی سے وجہ سے رسول اللہﷺ نے ان کو ایک موبائل ٹینٹ میں خدمت کے لئے منتخب کیا۔‘‘
انتصاف عبد العزیز عبدالرحمن اقرع لکھتے ہیں:
اشتہرت ہذہ الصحابیة الجلیلة فی الجراحة وتجبیر العظام۔ (فقہ الطبیب المسلم وأخلاقہ فی المسائل الطبیة المستجدة، ص:۲۲)
’’یہ عظیم صحابیہ سرجری اور آرتھوپیڈکس کے لئے مشہور تھیں۔‘‘
حضرت رفیدہؓ کی طبی مہارت پر نبی کریم ﷺ کو اعتماد بھی تھا، اسی اعتماد کا نتیجہ تھا کہ حضرت سعد بن معاذؓ کو غزوۂ خندق میں تیر لگا اور زخم کے علاج کی ضرورت پیش آئی تو آپﷺ نے اُن کو انہی کے خیمہ میں منتقل کر دیا تھا، ابن اثیر جزری لکھتے ہیں:
أخبرنا عبیداللہ بن أحمد بإسنادہ عن یونس عن ابن اسحاق قال: وکان رسول اللہ ﷺ حین أصاب سعداً السہم بالخندق، قال لقومہ: اجعلوہ فی خیمة رفیدة؛ حتی أعودہ من قریب۔ (أسد الغابة فی معرفة الصحابة: ۷؍۱۱۱، نمبرشمار: ۶۹۲۵، الإصابة فی تمییز الصحابة: ۱۳؍۳۸۳، نمبرشمار: ۱۱۳۱۲)
’’عبید اللہ بن احمد نے اپنی سند بواسطہ یونس عن ابن اسحاق ہمیں بتایا کہ جس وقت سعدؓ کو خندق کے موقع سے تیرل گا، اس وقت رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: انھیں رفیدہ کے خیمہ میں منتقل کرو؛ تاکہ میں قریب سے عیادت کر سکوں۔‘‘
حضرت رفیدہؓ نے یہ علم طب اپنے والد سعد اسلمی سے حاصل کی تھی؛ کیوں کہ وہ اپنی قوم کے طبیب تھے، عربک پورٹل ’’الالوکۃ‘‘ میں ایک مضمون بہ عنوان: ’’الأطباء فی الجزیرۃ العربیۃ فی فجر الإسلام‘‘ ہے، اس میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:
سعد الأسلمی: کان کاہن قومہ بیثرب وعرافہم وطبیبہم، وکان ماہراً خبیراً بالتمریض التطبیقی، وہو والدة رفیدة الأسلمیة۔
 (https://www.alukah.net)
’’سعد اسلمی: یثرب میں اپنی قوم کے کاہن، نجومی اور طبیب تھے، وہ تطبیقی نرسنگ  (ٖPractical Nursing) کے ماہر اور واقف کار تھے، یہ رفیدہ اسلمیہ کے والد تھے۔‘‘
ڈاکٹر حنان ولید محمد سامراتی اور زینۃ ابراہیم خلیل اپنے مشترکہ مضمون ’’المرأۃ و تاریخ تطور مہنۃ الطب من العصر الجاہلی و حتی العصر الحدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:
رفیدة نشأت فی عائلة لہا صلة قویة بالطب، وأن والدہا ’’سعد الأسلمی‘‘ کان طبیباً ومعلمہا الخاص حیث اکتسبت رفیدة منہ خبرتہا الطبیة، ولذلک کرست نفسہا للتمریض ورعایة المرضی، وأصبحت طبیبة متخصصة، وعلی الرغم من استحواذ الرجال وحدہم بعض المسؤولیات کالجراحة وبتر الأعضائ، مارست رفیدة الأسلمیة مہاراتہا فی خیمتہما التی کانت تقام فی العدید من الغزوات؛ حتی فی المسجد النبوی نفسہ حیث أمر النبی محمدﷺ بنقل الجرحی إلی خیتمہا، والتی توصف بأول مستشفی میدانی فی الإسلام۔ (مجلة التطویر العلمی للدراسات والبحوث، المجلد الثالث، العدد:۱۱، ۲۰۲۲ئ، ص:۲۸۳)
’’رفیدہ علم طب سے مضبوط تعلق رکھنے والے خاندان پروان چڑھی، ان کے والد سعد اسلمی ایک طبیب اور ان کے معلم خاص تھے، رفیدہ نے انہی سے طبی تجربات حاصل کئے اور اپنے آپ کو نرسنگ اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے وقف کر دیا اور اس طرح وہ ایک ماہر ڈاکٹر کے روپ میں ابھری، اگرچہ کہ تنہا مردوں نے سرجری اور اعضاء کے کاٹنے جیسی ذمہ داریوں سنبھال رکھا تھا؛ لیکن رفیدہ اسلمیہ نے اپنے اس خیمہ میں اپنی مہارتوں کی مشق کی، جو مختلف غزوات میں لگائے جاتے تھے؛ حتی کہ خود مسجد نبوی میں خیمہ موجود تھا، جہاں نبی کریم ﷺ زخمیوں کو منتقل کرنے کا حکم دیتے تھے اور جسے اسلام کا پہلا فیلڈ اسپتال ہونے کا شرف حاصل ہے۔‘‘
حضرت رفیدہؓ کے لئے تیار کردہ یہ طبی خیمہ اسلام کا پہلا ’’بیمارستان‘‘ یا ایسا ’’فوجی اسپتال‘‘ (موبائل کیئر یونٹس) تھا، جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ وقت ضرورت منتقل کیا جا سکتا تھا، جس کا آغاز نبی کریم ﷺ نے کیا (تاریخ البیمارستان فی الإسلام ، ص:۹، أعلام الحضارۃ العربیۃ الإسلامیۃ فی العلوم الأساسیۃ لزہیر حمدان:۱؍۳۳) اور اس بیمارستان کے پہلے ممرضہ اور طبیبہ حضرت رفیدہ انصاریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

وفات

یہ عجیب بات ہے کہ جن کو تاریخ میں اولین خاتون آرتھوپیڈک ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کی زندگی کے اکثر گوشوں سے تاریخ کے صفحات خالی ہیں، انھیں گوشوں میں سے ایک ان کی وفات بھی ہے، اہل و سیر و تاریخ نے اس سلسلہ میں کچھ نہیں لکھا ہے؛ اس لئے ان کی تاریخ وفات کے بارے میں نہ کچھ لکھا جا سکتا ہے اور نا ہی کچھ کہا جا سکتا ہے، بس یہ ہے کہ ایک اللہ کی مخلص بندی، جس نے ایمان و اخلاص اور احتساب نیت کے ساتھ اپنے فن کے ذریعہ سے خدمت انجام دیتی رہی، جسے نبی کریمﷺ کا پورا اعتماد حاصل تھا، رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ المخلصۃ التی تعد أول ممرضۃ فی الإسلام۔

مولانا ولی الحق صدیقی افغانی کی رحلت

مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

۵؍ذوالحجہ ۱۴۴۵ھ / ۱۲؍جون ۲۰۲۴م کو افغانستان سے یہ افسوس ناک خبر آئی کہ یادگارِ اسلاف اور سرزمینِ افغانستان پر باعثِ برکات مولانا ولی الحق صدیقی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی ولادت افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے سرخرود میں ۱۳۴۷ھ / ۱۹۲۷م میں ہوئی تھی۔ اس طرح انھوں نے تقریباً سو سال عمر پائی۔ ان کا خاندان اہل علم و فضل کا خاندان تھا۔ ان کے والد گرامی مفتی عبدالحق صدیقی اور چچا مولانا عبدالخالق صدیقی دونوں مستند عالم تھے۔ اسی طرح ان کے دادا قاضی صاحب گل صدیقی بڑے عالم اور پر دادا جناب احمد گل صدیقی بھی معتبر شخصیت کے مالک تھے۔
مولانا ولی الحق صدیقی اُس دور کی یادگار تھے، جس دور میں افغانستان اور موجودہ پاکستان و بنگلہ دیش کے طلبہ خاصی تعداد میں ہندستان آتے تھے۔ اپنے اپنے مسلک و مشرب کے لحاظ سے ملک کے مختلف حصوں میں قائم مدارس اور شخصیات سے استفادہ کرتے تھے۔ ایسے طلبہ کی اچھی تعداد دیوبند بھی پہنچتی تھی۔ اُسی زمانے میں دارالعلوم دیوبند میں ہمارے مخدوم و محترم مولانا تبارک اللہ صدیقی ململی بھی زیر تعلیم تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ’’ہمارے وقت میں دارالعلوم دیوبند میں کم و بیش ستّر بہتّر افغانی طلبہ پڑھتے تھے۔‘‘ ہمارے ممدوح مولانا ولی الحق صدیقی بھی انھی طلبہ میں شامل تھے۔ انھوں نے دیوبند میں تقریباً دس سال قیام کیا۔ وہ ۱۳۶۰ھ / ۱۹۴۰م میں دیوبند پہنچے اور ۱۳۷۰ھ / ۱۹۵۰م میں وہاں سے اپنے وطن واپس لوٹے۔
افغانستان میں اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دارالعلوم دیوبند کا تعارف شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی شخصیت اور اثرات کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس لیے شیخ الہند کی حیات میں دیوبند آنے والے طلبہ کا مرکز و محور شیخ الہند ہی کی ذات گرامی ہوتی تھی۔ ۱۹۲۰م میں اُن کے وصال کے بعد جو طلبہ دیوبند پہنچے وہ شیخ الہند کے رنگ میں سب سے زیادہ رنگی ہوئی شخصیت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو اپنی عقیدت کا سب سے بڑا مرکز بناتے تھے۔ اُس زمانے میں بالعموم صحیح بخاری اور جامع ترمذی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، صحیح مسلم علامہ محمد ابراہیم بلیاوی اور سنن ابو داؤد شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی پڑھایا کرتے تھے۔ یہ تینوں بزرگ شیخ الہند کے شاگرد تھے۔ اس لیے افغانی طلبہ اپنے ان تینوں اساتذہ سے سب سے زیادہ قرب رکھتے تھے۔ بعد میں شیخ الہند کے ایک اور شاگرد مولانا سید فخرالدین احمد مرادآبادی بھی شیخ الحدیث بن کر دارالعلوم دیوبند پہنچے تھے، لیکن اُن کے دور میں ملک کی تقسیم کو اچھا خاصا وقت گزر چکا تھا اور افغانی طلبہ کی آمد کا سلسلہ موقوف ہوچکا تھا۔ اس لیے اُن کے ذریعے ۱۹۷۲م تک شیخ الہند کی نسبت تو عام ہوتی رہی لیکن افغانوں اور سرحدی قبائل تک یہ فیض نہیں پہنچ سکا۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا ولی الحق صدیقی نے دارالعلوم دیوبند کے زریں عہد میں دس سال گزارے۔ خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی اور صاحب زادہ شیخ الاسلام مولانا محمد اسعد مدنی اُن کے ہم سبق رہے۔ یہ بات تقریباً وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اُس صف کا کوئی فرد اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ امارت اسلامی افغانستان کو بھی مولانا کی اس عالی نسبت کی قدر تھی۔ اسی لیے کچھ عرصے پہلے وہاں کے ایک مرکزی وزیر نے ایک وفد کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضری دی تھی۔
مولانا ولی الحق صدیقی نے دارالعلوم دیوبند میں صحیح بخاری مولانا حسین احمد مدنی سے، صحیح مسلم علامہ محمد ابراہیم بلیاوی سے، سنن ابو داؤد مولانا اعزاز علی امروہوی سے، جامع ترمذی مولانا حسین احمد مدنی سے، سنن نسائی مولانا محمد ادریس کاندھلوی سے، سنن ابن ماجہ مولانا قاری محمد طیب قاسمی سے پڑھی تھی۔ عالم عرب کے علمائے حدیث کے درمیان مولانا ولی الحق صدیقی کی اہمیت ایک تو اس لیے تھی کہ مولانا حسین احمد مدنی کے اتنے قدیم تلامذہ اب نہیں پائے جاتے۔ اسی لیے شامی عالم و محقق ڈاکٹر زیاد التکلۃ نے دو سال قبل شعبان کے مہینے میں مولانا کے سامنے صحیح بخاری مکمل پڑھنے کا اہتمام کیا تھا۔ اس مبارک سلسلے کی اختتامی مجلس ۲۷؍شعبان المعظم ۱۴۴۳ھ / ۳۱؍مارچ ۲۰۲۲م منعقد ہوئی۔ پوری دنیا سے سیکڑوں علمائے حدیث اور ہم جیسے طلبہ نے ان آن لائن مجالس میں شرکت کی۔ روزانہ تقریباً تین گھنٹے قرأت ہوتی تھی۔ مولانا بہت سکون کے ساتھ پوری مجلس سماعت فرماتے تھے۔ آخر میں پرسوز انداز میں دعا بھی کراتے تھے۔ اُن کی مبارک زبان سے نکلنے والے دعائیہ کلمات آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔
علمائے حدیث کے درمیان مولانا ولی الحق صدیقی کی اہمیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انھوں نے موطأ امام محمد شیخ التفسیر محمد مولانا محمد ادریس کاندھلوی سے پڑھی تھی۔ مولانا کاندھلوی نے مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمان عثمانی سے اور انھوں نے دارالعلوم کے استاذِ اول ملا محمود دیوبندی سے۔ ملا محمود کو شاہ عبدالغنی مجددی سے اجازت حاصل تھی۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی دارالعلوم دیوبند میں شیخ التفسیر کی مسند پر فائز تھے۔ تفسیر بیضاوی اور تفسیر ابن کثیر کا درس دیا کرتے تھے۔ حسب ضرورت احادیث کی مختلف کتابیں بھی اُن کے زیر درس رہیں۔ غالباً موطأ امام محمد صرف ایک ہی سال پڑھائی تھی۔ مولانا ولی الحق صدیقی بھی اس جماعت میں تھے، جس نے مولانا کاندھلوی سے یہ کتاب پڑھی تھی۔ اس لیے عرب علماء و طلبہ مولانا صدیقی کے ساتھ موطأ امام محمد کی آن لائن مجالس بھی منعقد کرتے تھے۔ ایک دورے میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ یہ مجالس ۱۶؍شوال المکرم۱۴۴۲ھ / ۲۹؍مئی ۲۰۲۱م سے ۲۲؍شوال / ۴؍جون تک جاری رہی تھیں۔ مصری عالم شیخ احمد حسن محمد القاضی نے مولانا ولی الحق صدیقی کا ثبت بھی ترتیب دیا ہے۔ اس کا نام الرضی الکافی فی بعض أسانید مولانا ولی الحق الصدیقی ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں نظر ثانی کی بھی محتاج ہیں۔
مجھے ایک مرتبہ مولانا ولی الحق صدیقی سے آن لائن ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اُن کے لباس، بول چال اور اردگرد کے ماحول سے بہت سلیقہ مندی جھلکتی تھی۔ اپنے اساتذہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اُن کی آواز بھرا جاتی تھی۔ شاید یہ اُن کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اُن کے اہل خانہ اُن کا بھی غایت درجہ ادب کرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی اُن سے مستفید ہونے کا موقع دیتے تھے۔ ہمارے ملک میں حال ہی میں وفات پانے والے کچھ عالی نسبت علماء ایسے بھی تھے، جن کے گھر والوں نے صحت و حفاظت کے نام پر انھیں تقریباً محصور کر کے رکھ دیا تھا۔ حد تو یہ کہ کسی سے فون پر گفتگو کی بھی اجازت نہیں تھی، لیکن مولانا ولی الحق صدیقی اس لحاظ سے خوش نصیب تھے کہ اُن کے اہل خانہ اُن کی صرف خاندانی حیثیت سے واقف نہیں تھے، بلکہ اُن کی ملّی، دینی، علمی اور تاریخی اہمیت سے بھی واقف تھے۔ اس لیے انھوں نے مرضِ وفات میں مبتلا ہونے سے پہلے تک بہت منظم انداز میں ان سے استفادے کا دروازہ کھلا رکھا۔ علماء و طلبہ اُن سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتے تو انھیں بآسانی ملنے دیا جاتا۔ دنیا بھر سے اہل علم آن لائن استفادے کی کوشش کرتے تو ایک وقت متعین کر دیا جاتا۔ پھر متعینہ وقت پر مولانا کو پوری یکسوئی فراہم کر کے گھر کے کسی بچے کو بھی اُن کے ساتھ بٹھا دیا جاتا تھا، تاکہ کوئی تکنیکی دشواری پیش آئے تو وہ درست کر سکے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے سامنے صحیح بخاری جیسی بڑی کتابیں بھی بہت مرتب انداز میں شروع سے آخر تک ختم کر لی گئیں۔ اہل خانہ کی اس راست فہمی کے نتیجے میں مولانا سے استفادہ کرنے والے علماء، طلبہ اور عام افراد کی تعداد بلا مبالغہ کئی ہزار ہوگی۔ اب یہ فیض عام ہوتا جائے گا اور اس کا ثواب مولانا کے ساتھ ساتھ اُن کے اہل خانہ کے حصے میں بھی لکھا جاتا رہے گا۔
مولانا ولی الحق صدیقی کی رحلت سے افغانستان میں دینی علوم کی ایک روایت اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ وہ برصغیر کی تاریخ کے ایک خوب صورت دور کی یادگار تھے۔ اُن کے ہم سبق خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کی رحلت پر جو احساس ہم ہندستانی طلبہ کو ہوا تھا، شاید وہی احساس آج افغانی طلبہ کو ہو رہا ہوگا۔ اس احساس کو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:
وفات پا چکے سب رہ رَوانِ جادۂ عشق 
ملال یہ ہے کہ دہلیزِ عاشقاں بھی گئی

کتائب القسام کے ترجمان ابوعبیدہ کا تاریخی خطاب

ابو عبیدہ

مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد


7 جولائی 2024ء کو کتائب القسام کے ترجمان ابوعبیدہ نے جامع خطاب کیا، جس میں تفصیل کے ساتھ مجاہدین، غزہ کے عوام کی کامیابیوں کی نوید سناتے ہوئے دشمن کے کبر و نخوت کے ٹوٹنے کی نوید سنائی، اسی طرح اس خطاب میں امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ کب تک دشمن سے میدان قتال میں برسر پیکار رہیں گے۔ اردو قارئین کو غزہ کی اس وقت کی صورتحال سے آگاہی کے لیے ان کے خطاب کے اہم نکات کا ترجمہ ذیل ہے۔
 پچھلے 9 ماہ سے ہمارے عوام صہیونی و امریکی ظالم دشمن کے ہاتھوں اجتماعی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ظلم و بربریت اس لیے روا رکھی گئی ہے کہ یہ اپنی مقدسات کی حفاظت کی شمع اپنے سینوں میں فروزاں کیے ہوئے ہیں اور اپنی مقدس دھرتی کی حفاظت ان کا بنیادی حق ہے۔ مزاحمتی تحریک اپنا دینی فریضہ سمجھتی ہے کہ وہ غاصبوں کے ہاتھوں سے انہیں حقوق واپس دلائے، اور انہیں ظالمانہ تشدد سے نجات دلائے۔
  •  9 ماہ بعد ہم پورے عالم کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں یہ معرکہ ان کے لیے بہت بڑی تباہی کا سبب بن چکا ہے۔ یہ اس دشمن کے خلاف جدوجہد ہے جو دشمنی کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانےکے درپے ہے۔
  •  صہیونی حکومت کی دشمنی تمام حدود کو پامال کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے وجود کا علی الاعلان انکار کر رہی ہے، اس ظلم کی پاداش میں ہمارے عوام غزہ میں اور قدس شریف میں ان کی عصبیت، انسانی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا پورا عالم مشاہدہ کر رہا ہے۔
  •  ہمارے عوام اس معرکہ کی سنگینی اور فلسطین کی آزادی کی تحریک میں اس کی اہمیت کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ 9 ماہ کا ظلم و جبر بھی ان کے حوصلوں کو پست نہ کر سکا۔ وہ مزاحمتی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور وہ مجاہدین کا حفاظتی حصار بنے ہوئے ہیں۔
  •  ہماری مزاحمتی تحریک کو 9 ماہ گزرنے کے باوجود دل شکستہ اور ضعف و کمزوری نے چھوا تک نہیں ہے، ان کے حوصلے بلند ہیں اور ان کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہیں آئی۔ ہم اتنے طویل عرصہ سے کسی خارجی اسلحہ و دیگر جنگی آلات کی مدد کے بغیر دشمن سے برسرپیکار ہیں۔ جبکہ ہمارے عوام ثابت قدمی کے ساتھ زندگی کی بنیادی سہولیات کی محرومی کے سبب ظالمانہ، وحشیانہ درندگی اور نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔
  •  غزہ نے آزادی کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے، اور یہ کہ جبر و استبداد کے خلاف برسرپیکار تمام قوموں کے لیے غزہ ایک مثالی تربیت گاہ / مدرسہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک غیرت مند اور باوقار قوم کیا ہوتی یہ غزہ نے دنیا کو سکھایا ہے۔
  •  اے اہل غزہ، ملت اسلامیہ، دنیا کے باضمیر لوگو! ہمارے نہتے اور غیور عوام پچھلے نو ماہ سے انتہائی جرأت و بہادری سے اس دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، جو ہر طرح کے جدید اسلحے سے لیس ہے، وہ سمندر، خشکی اور فضا سے اہل غزہ پر مسلسل آہن و بارود کی بارش کر رہا ہے، جسے امریکا، بریطانیا جیسی طاغوتی قوتوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔
  •  آزمائش و ابتلاء کی طویل ساعتوں اور دشمن کی سفاکیت و بربریت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باوجود ہمارے مجاہدین ایک ایسے دشمن سے معرکہ آراء ہیں جو ہر طرح کی انسانی اخلاقیات سے عاری ہے، جو اس جنگ میں ہر طرح کے مکر و فریب کا سہارا لیے ہوئے ہے۔
  •  غزہ کے شہریوں کو بظاہر محفوظ جگہوں کی طرف ہجرت پر آمادہ کرتا ہے، اور پھر ان کے قافلوں پر آہن و بارود کی بارش کر دیتا ہے۔ اس وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ہسپتال، بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر، مدارس، کیمپ، تاریخی مقامات، مساجد ، کنائس، مقبرے، لائبریریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ اور ان کی سفاکیت و مکروفریب پوری دنیا کے سامنے آشکارا ہو چکی ہے۔ یہ سب جان لیں جارح استعمار کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اور یہ سب تاریخ کے کوڑے دان کا مستقبل ہوں گے۔
  •  غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ دنیا نے انسانی حقوق کی تنظیموں کا دوغلاپن، اور ان کے دوہرے اخلاقی معیار بھی دیکھ لیا ہے۔
  •  ہمارے مجاہدین جنگی آلات و وسائل میں جدت کے ساتھ ساتھ ایمانی روح سے حامل ہو کر جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے اس عمل نے صحابہ کرامؓ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں سے ایسی کرامتوں کا ظہور فرما رہے ہیں جس کے وصف کو بیان کرنے سے لسان عاجز ہے۔ اللہ رب العالمین نے سچ فرمایا: اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے، یقیناً اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
  •  اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے 24 دستے 9 ماہ سے بیت حانون کے کنارے سے لے کر رفح کے جنوب تک دشمن سے قتال کر رہے ہیں، اس جہاد میں ہمیں دیگر مزاحمتی تحریکوں کا تعاون بھی حاصل ہے، جو ہمیں افرادی قوت و اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔
  •  ہمارے دستوں کا دشمن سے بارہا مقابلہ ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ لیکن ہمارے مجاہدین پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر حکمت عملی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں، ہماری قیادت نے اس مقدس جہاد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ لیکن جہاد کا علم بلند و بالا ہے، اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے کوئی بھی طاقت اس کو سرنگوں نہیں کر سکے گی۔
  •  دشمن یہ جان لے کہ غزہ میں اس کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، وہ ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں، کرایے کے فوجیوں اور بزدلوں کی طرح چھپنے والے کوئی جنگ جیت نہیں سکتے۔
  •  دو ماہ سے رفح میں اور دو ہفتوں سے شجاعیہ میں ہمارے مجاہدین پامردی کے ساتھ دشمن کی ناک میں دم کیے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے شمال، وسط اور جنوب میں دشمن کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے، اور ہمارے مزاحمت کاروں اور اس کے نوجوانوں نے ہر محاذ پر دشمن کو ذلت و رسوائی سے دوچار کیا ہوا ہے۔
  •  اس معرکہ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اس کے جنگی امور کے وزیر کی دھوکہ دہی اور چالبازی بھی سامنے آچکی ہے، جو اپنے عوام کو یہ امید دلا رہے تھے کہ رفح پر حملہ مزاحمت کاروں کے خلاف فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ تاہم اسرائیل شہریوں پر بمباری اور ان کے قتل عام کے علاوہ کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔
  •  مزاحمتی تحریک کے زیر سایہ مجاہدین کی جانب سے رفح سے دشمن کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان کے آلات جنگ تباہ و برباد کیے جا چکے ہیں، گھات لگا کر ان کی عسکری قوت کو کمزور سے کمزور تر کیا جا رہا ہے، اور جہاں بھی اسرائیل نے نیا محاذ کھولا اسے وہاں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
  •  اللہ کے حکم سے مجاہدین کی جانب سے یہ کاروائیاں قابض دشمن کی فوج کے لیے اس کی موت کا پروانہ ثابت ہوں گی، وہ غزہ سے ذلیل و رسوا ہو کر نکلیں گے۔
  •  دشمن سے مبارزت میں نتیجے میں ہمارے مجاہدین کے لیے اللہ کے فضل سے قتال کے میدان میں ثابت قدمی اور پختہ عزائم کا سبب بن چکی ہے۔ اور انتقام کی آگ جس کو دشمن نے اپنے جرائم و وحشیت سے بڑھکایا ہے، ان کو زمین بوس کرنے اور ان کے منصوبوں کو ہواؤں میں اڑانے کا سبب بن چکی ہے۔
  •  اس مزاحمتی تحریک کے زیر سایہ ایک ایسی نسل وجود میں آچکی ہے جو جذبہ جہاد اور قوت ایمانی سے لیس ہے۔ اور یہ دشمن کے خلاف ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا ادراک اس کو بعد میں ہوگا۔
  •  ہم اس امر کا اعلان کرنا چاہتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے کتائب القسام کے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں ہے، اللہ کی مدد سے ہزاروں مجاہدین میدان قتال میں اتارے جا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں اس عظیم معرکہ میں شرکت کے لیے قیادت کے حکم امر کے منتظر ہیں۔
  •  اس عرصہ میں اپنی جنگِ حکمت عملی کو بڑھانے کا بھی موقع ملا ہے۔ یہ ایک جامع پروگرام ہے، جس میں بارودی سرنگیں بچھانا، میزائل تیار کرنا، دشمن کے چھوڑے ہوئے اسلحہ اور میزائلوں کو قابل استعمال بنانا شامل ہے۔
  •  ہم ہر محاذ پر دشمن سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں، ہماری قوت کا اندازہ شاید ہمارے دشمن کو نہیں ہے۔
  •  اسرائیلی عوام بالخصوص صہیونی قیدیوں کے خاندانوں کو ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو جس کامیابی کا ڈھول پیٹ رہا وہ محض دنیا کو دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صرف ذاتی کامیابی اور حکومت پر طویل عرصہ تک براجمان رہنے کے لیے تمہاری اولاد کو قربان کر رہا ہے۔
  •  تمہارے وہ لوگ جو ہمارے قبضہ میں ہیں ان کو آزاد کرانے کے لیے نیتن یاہو اور اس کے وزراء کا مقصد تمہارے ساتھ چالبازیاں کرنا ہے۔ نیتن یاہو حقائق سے فرار اختیار کر رہا ہے، جس کا پچھتاوا اس کو پوری زندگی ہوگا۔
  •  سات اکتوبر سے اب تک خفیہ خبر رساں اداروں نے اسرائیلی کی عسکری قوت کو پہنچنے والے زبردست نقصان کی جو رپورٹ پیش کی ہے جو سب کے علم میں ہے، گو کہ یہ اعلان کردہ نقصان اس حقیقی نقصان کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے، جس کا انکشاف ہم جلد ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ دنیا کے سامنے کریں گے۔
  •  مقبوضہ مغربی کنارے، بالخصوص جنین، نابلس اور قدس شریف میں جو مزاحمت کی تحریک پھوٹی ہے وہ غزہ کے عزائم کے لازوال جدوجہد کا نتیجہ ہے، یہ جدوجہد غاصب صہیونی ریاست کی ان کاوشوں کے خلاف ہے جو فلسطینیوں کے وجود کو ختم کر کے ان کی سرزمین کو یہودی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسرائیل و صہیون مخالف ناطوری یہود (۱)

محمود الحسن عالمیؔ


"ناطوری کارتا"یہودیوں کا وہ مذہبی مکتب فکر ہے کہ جو قیام اسرائیل 1948ء سے لے کر آج تک نہ صرف یہ کہ ریاست و حکومت اسرائیل کا سخت مخالف ہے۔بلکہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تقریباً عین وہی موقف رکھتا ہے کہ جو اِس وقت پوری اُمت مسلمہ کا ہے۔یعنی اہل فلسطین مسلمانوں کا نہ صرف یروشلم،مسجد اقصٰی و گنبد صخرہ  پر حق ہے بلکہ تمام فلسطینی مسلمان  اُس ساری سرزمین فلسطین  پر بھی عین حق ملکیت رکھتے ہیں کہ جو تقسیم فلسطین1948ء سے پہلے اپنی وسیع سرحدی حدبندیوں کے ساتھ  قائم ودائم تھی۔
ناطوری یہود کا مسئلہ  فلسطین کے حوالے یہ موقف اپنے فکری پس منظر میں یہ دو بنیادی عقائد رکھتا ہے۔اول یہ کہ اِس ناطوری فرقے کے مذہبی عقیدے کے مطابق یہودی مذہبی کتب کی مستند آیات و اقوال سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہودی مسیحا کے آنے سے پہلے تک کسی بھی سطح پر یہودیوں کا ایک قومی یا اجتماعی نظم قائم کرتے ہوئے یہودی ریاست بنانا سخت حرام ہے کیونکہ خدا نے قرب قیامت میں مسیحا کی آمد سے پہلے تک یہودیوں کے  مقدر میں بطورِ سزا در بدر کی خاک نشینی  لکھ دی ہوئی ہے۔لہذا اِسی سارے مقدمے کی بنیاد پر صہیونیت نواز مملکتِ یہود ”اسرائیل“ کا قیام اصل میں  خداوند یکتا کے خلاف اعلانِ جنگ، نافرمانی اور صریح بغاوت ہے۔
دوم یہ کہ یہ یہودی فرقہ"ناطوری کارتا" اسرائیلی حکومت و اقتدار کی حامل قومی تحریک"صہیونیت" کا بھی سخت نظریاتی مخالف اؤر عملی دشمن ہے حتیٰ کہ  یہودی مذہبی کتب کی تعلیمات کی روشنی میں صہیونیت کو سرے ہی سے مذہبِ یہودیت سے خارج و مُرتد سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی اِسی ایجنڈے کی تحریک تلے صہیونی  اسرائیل کی طرف سے کیے جانے مظالم اور پورے صہیونی مکتب کی نہ صرف سخت ترین مذمت کرتا ہے بلکہ مختلف ذرائع جیسے اسرائیل مخالف اسلامی ممالک خصوصاً  خطہء ایران و عرب کے مسلم رہنماؤں سے ملاقاتوں، پریس کانفرنسز ، لیکچرز  ، انٹرویوز ، کتب و مضامین ، مغربی ممالک میں پُرزور احتجاجی مظاہروں اور  سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کے ذریعے پُرزور عملی مزاحمت بھی کرتا ہے۔مُسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں اور عالمی کانفرسزز  میں شراکت کے حوالے سے خصوصاً    " بین الاقوامی کانفرس  برائے تجزیہ ہولوکاسٹ عالمی نقطہء نظر 2006ء "سے لے کر سابقہ سال 2023ء میں فلسطینی اسلامی جہاد (پی-آئی-جے) کے ممتاز عہدیداروں اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے اہل خانہ سے ملاقاتیں قابلِ ذکر ہے کہ ان تمام تر ملاقاتوں اور کانفرنسز میں شراکت کے ردعمل کے طور پر ہر بار صہیونی اسرائیلی حکومت نے ناطوری یہود کے خلاف سخت ترین کاروائیاں عمل میں لائی ہیں۔بہرحال مغربی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے اسرائیلی ایامِ مظالم سے لے کر اسرائیل کے یوم آزادی تک اسرائیل و صہیونیت مخالف سخت نعرے ، تقریریں اور خصوصاً  اسرائیلی و صہیونی نمائندہ پرچموں کو جلانا خاص طور پر قابل ذکر  ہے۔جبکہ سوشل میڈیا کے حوالے سے یوٹیوب ، فیس بُک ، انسٹا گرام اور ٹویٹر وغیرہ پر "ناطوری کارتا" نامی پلیٹ فارمز اور خصوصاً  گوگل آفشل ویب سائٹس: https://www.nkusa.org قابلِ توجہ ہے۔
قارئین محترم ! شاید اب آپ اِس یہودی فرقے کے یہ  حالات و واقعات ملاحظہ فرما کر سخت متجسس و حیران ہوگئے ہونگے۔لہذا آپ کی اِسی متجسس حیرت کے پیشِ نظر آئیے یہودیوں کے اِس "ناطوری فرقے" کے  نظریاتی اور تاریخی وجود کو ٹٹولتے ہیں۔
یہود کے اِس فرقے"ناطوری کارتا"کی بطورِ ایک باقاعدہ عالمی تحریک کے بنیاد یہودی ربی(علامہ)"عمرام بلاؤ"اور ربی(علامہ )"ہارون کٹزینی-لبوگن" نے 1938ء میں رکھی۔تب سے لے کر آج تک یہ اپنے اسرائیل و صہیونیت مخالف ایجنڈے اور سرگرمیوں کے حوالے سے پوری دنیا میں مصروفِ عمل رہتی ہے۔اِس  تنظیم کے موجودہ ترجمان”یسرائیل  ڈاوِد وائس" ہیں۔ناطوری یہود کے ارکان پوری دنیا بالخصوص اسرائیل ، امریکہ و برطانیہ اور دیگر کئی اہم یورپی ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔اِن کی درست تعداد کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مختلف ممالک میں منتشر ہونے کے باعث کھبی اِن کی باقاعدہ کوئی مردم شُماری ہی نہیں ہو پائی البتہ ناطوری کارتا اپنی آبادی کے حوالے سے اپنے ارکان کی تعداد اچھی خاصی بتاتے ہیں اور یہ پُر زور موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اسرائیلی کٹ پتلی مغربی ذرائع ابلاغ"میڈیا" جان بوجھ کر اِن کے نقطہء نظر کو دبانے کے لیے اِن کی زیادہ تعداد کو کم کر دیکھاتے ہیں۔
"ناطوری کارتا یہود" نے درج ذیل بالا اپنی آفشل ویب سائٹ پر سوالات جوابات پر مبنی انٹرویوز  کو انگریزی مضامین کی شکل میں شائع کیا ہوا ہے۔اِن انٹرویوز میں چند بنیادی اور اہم سوالات و جوابات کا اُردو ترجمہ ذرا دِلوں کو تھام کر غور سے ملاحظہ فرمائیے: 
(1) آپ کون لوگ ہیں ؟
  ہم وہ بنیاد پسند یہودی ہیں کہ جو اصل یہودی قدیم عقائد اور تورات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
(2)آپ کا مقصد کیا ہے؟
ہمارا  مقصد دنیا کو اُس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ جو ہر کوئی نہیں جانتا،یعنی یہ حقیقت کہ اصل یہودیت صہیونیت کے تصور اور صہیونی ریاست دونوں سے ہرگز متفق نہیں ہے۔بلکہ یہودیت اور صہیونیت دونوں ایک دوسرے سے ایسے ہی متضاد ہیں جیسے دن اور رات۔
(3) کیا یہ سچ ہے کہ سر زمین مقدس( یعنی  فلسطین ) کے حوالے سے ناطوری کارتا  نامی عالمی تنظیم فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتی ہے؟
بالکل، کہ ہمارا جواب واضح طور پر "ہاں" ہے۔البتہ اِس جواب کے سلسلے میں حفظ ما تقدم کچھ پیشگی وضاحت درکار ہے۔ ہم بنیادی طور پر ایک صہیونیت مخالف بنیاد پسندانہ تنظیم ہے۔لہذا ہمارا صہیونیت کے ساتھ تنازعہ بھی کئی سطحوں پر ہے:
1۔ سب سے پہلے یہ کہ صہیونیت اصل یہودی مذہب و روحانیت سے یہودی وطن پرستی اور مادیت پرستی کی طرف ایک ہجرت کا نام ہے۔
2۔صہیونیت نے فلسطینی عوام کے ساتھ انتہائی بُرا سلوک برتتے ہوئے سنگین اخلاقی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
3۔    خداوند یکتا نے ہمیں  یہودی مسیحا کے آنے تک جلا وطنی کا حکم دیتے ہوئے یہ پہلے ہی فرما دیا تھا کہ اب دوبارہ کوئی یہودی ریاست بنانا ہم پر عین حرام ہے۔
4۔"نظریہء صہیونیت الٰہی آزمائش و سزا سے بغاوت کرتے ہوئے سرزمینِ فلسطین پر یہودی ریاست کا قیام عمل میں لاتا ہے۔تو آپ اِسی بات سے یہ اندازہ لگائیے کہ اِس خدائی نافرمانی و بغاوت کے مرتکب اِس صہیونی گروہ کی روحانی حالت کیا ہوگئی کہ اُنھوں نے یہودیوں کی جلاوطنی کے الہامی حکم کو محض چند دنیاوی مفادات کی خاطر کُچل ڈالا۔
5۔ "  صہیونیت" نے  اصل یہودی روایتی عقائد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایڑی سے لے کر چوٹی تک کا زور لگایا ہے۔
(4)آپ کس چیز کی وکالت کرتے ہیں؟
ہم  بغیر کسی سمجھوتے و مصالحت پسندی کے"اسرائیل" کی ریاست کا پُرامن خاتمہ چاہتے ہیں کہ جب ایک بار ریاست اسرائیل کا خاتمہ ہوجائے تو پھر یہ بات مکمل طور پر ہم فلسطینی رہنماوں اور عوام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ وہاں کتنے یہودیوں کو رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔
(5) کیا آپ اِپنی اس تجویز سے ڈرتے نہیں  کہ آپ کی اِس تجویز سے سرزمین مقدس پر رہنے والے یہودیوں پر کیا نتیجہ اثر انداز ہوگا؟
واقعی ہی ہم ڈرتے ہیں لیکن اِس موجودہ مایوسانہ صورت حال میں(اپنی ہی آستینوں کے سانپ)اِن صہیونی یہودیوں سے  کہ جنھوں نے سابقہ تقریباً 7 دہائیوں میں لاتعداد جنگوں اور نہ ختم ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے دونوں اطراف میں بے گناہ شہریوں کو مارنے کے باوجود"مسلہء فلسطین" کا کوئی حل نہیں سُلجھایا کہ دائیں اور بائیں دونوں ہاتھ کے اسرائیلی(یعنی موجودہ سیاسی حکومت اسرائیل و سیاسی حرب اختلاف اسرائیل) دونوں اِس صورتحال کو سُلجھانے میں انتہائی بُرے طریقے سے ناکام رہے ہیں۔لہذا ہم اِن کی اِسی ناکامی کے پیشِ نظر  یہ متبادل حل پیش کر رہے ہیں کہ جو بے شک  (اسرائیلی عام یہودیوں کے لیے عارضی طور پر ) ایک الم ناک تجربہ ہوسکتا ہے۔
(6)لیکن کیا یہودی ایک وطن کے مستحق نہیں ہے ؟
ہرگز نہیں، کہ تقریباً ایک ہزار نو سو سال تک یہ عقیدہ یہودی مذہب کا ایمان کامل تھا کہ ہمیں  کسی بھی قسم کی عسکری قوت کے ذریعے کسی بھی  خطہء زمین پر دعویٰ ملکیت ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔مطلب یہودی اِس عقیدے پر یقین رکھتے تھے کہ دنیا کے آخری دِنوں (یعنی قرب قیامت میں) جب خالق کائنات تمام بنی نوع انسانی کی نجات کا ارادہ فرمائے گا تو تب تمام بنی نوع انسانی اِس کی عبادت میں شریک ہوجائے گئی۔لہذا اِس عبادت کے اہتمام میں ہمیں کسی بھی قسم کے لوگوں کو بے دخل کرنے یا محکوم بنانے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔پس یہی وہ وقت ہوگا کہ جب سرزمین مقدس"فلسطین "میں عالمی بھائی چارے کا ایک روحانی مرکز قائم ہوگا۔ اُس وقت سے پہلے یہودیوں کو اپنی جلا وطنی کے عرصے میں خاص اعمال سونپے گئے ہیں۔
(7)اور وہ حاض اعمال کیا ہیں ؟
یہی کہ یہودی اپنے پورے ایمان و خلوص کے ساتھ اپنی جلاوطنی کا اقرار کرئے اور اپنے قول و فعل سے ، خاموشی و انکساری کی روش اپنائے۔اخلاقی اور روحانی مقام و مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کرئے اور عام طور پر تورات کی تلاوت کرتے ہوئے   خداوند یکتا کے حضور بندگی بجا لاتے نمازیں پڑھے اور دیگر نیک اعمال بجا لائے۔
(8)آپ نے اِس مقصد کے لیے کیا کیا کوششیں کی ہیں؟
خداوند قادر مطلق  کی مدد و نصرت سے ہم نے فلسطینی دعووں کی حمایت اور اُن کے دکھ درد میں اظہار ہمدردی کے لیے اکثر کئی بیانات شائع کیے ہیں۔ہم ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر شریک ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں خصوصی طور پر یہودی اور اسلامی دنیا میں عوامی رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں کی گئی ہے۔تاکہ خداوند قادر مطلق  کی مدد سے عملی طور پر یہودیوں کی مقدس روایات اور صہیونیت مخالف تورات کو فراموش نہ کیا جاسکے۔پس خداوند یکتا کی مدد سے ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں تورات کی صحیح تعلیمات پر مبنی راستے کا دُوبارہ احیاء ہو جائے گا۔
(9)امن و امان کے قیام کے لیے (فلسطین و اسرائیل کے مابین)اوسلو معاہدے،سڑکوں کے نقشے اور انیپولس معاہدے کو آپ کس زاویہء نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟
مصیبت زدہ فلسطینیوں کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی مدد اُس اخلاقی ضمیر کی چھوٹی سی فتح کا ثبوت ہے کہ جس(اخلاقی ضمیر) کا حامل ہر یہودی کو ہونا چاہیے۔تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ یہ تمام تر منصوبے نیک نیتی پر قیاس کرنے کے باوجود آخرکار عمل کرنے کے وقت برباد ہو جاتے ہیں۔
 یہودیوں کو سرزمینِ مقدس پر سیاسی حاکمیت کے حوالے سے زور آزمائی کرنے سے منع کیا گیا تھا۔تمام انسانوں کے ساتھ امن و امان قائم رکھنے اور کسی بھی انسان پر ظلم کرنے سے منع کیا گیا تھا۔لہذا اِن  احکام کی روشنی میں تمام یہودیوں پر اب یہ لازم ہے کہ وہ فلسطینیوں کے  حقوق کی مکمل بحالی کرتے ہوئے سارے فلسطین کو آزاد کر دئے۔کہ یہی آزادی صہیونی تحریک کی بد نامی اور عملی ناکامی کا مقدر  بنے گئی۔
(10)اسلامی دنیا کے لئے یہودی نقطہ نظر کیا ہونا چاہیے؟
یہودیوں کو تمام انسانوں کے ساتھ اخلاق اور ایمانداری کے ساتھ نمٹنے کے لیے کہا گیا ہے۔اگرچہ صہیونیت نے بہت سے یہودیوں کو فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت پر مبنی کاروائیوں میں گمراہ کیا ہے۔لہذا اِس بات کا اہتمام تمام یہودیوں کو بہترین طور پر کرنا چاہیے کہ وہ اپنی اِس قومی صورتحال کی اصلاح کے پیشِ نظر تمام اسلامی اقوام اور(بالخصوص) فلسطینی عوام سے امن ، مفاہمت اور مذاکرات کے لیے ذریعے رابطے قائم کرئے۔کہ یہ بات یہودیوں کے سامنے یہ ایک عظیم روحانی آزمائش کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کتنے اچھے اخلاقی تعلقات قائم  کر کے دیکھاتے ہیں۔
(11)حقیقت پسندی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے  یہ بتائیے کہ کیا  آپ کے اِس سارے پروگرام میں عمل درآمد کا بھی کوئی امکان ہے؟
 اول تو یہ کہ بےشک خالق کائنات ہی اِس دنیا کو چلاتا ہے، پس یہ اُسی کی حمایت و نصرت کے ساتھ  سب کچھ ممکن ہے کہ حق و انصاف بالآخر غالب آجائے۔
 دوم یہ کہ دنیا بھر کے یہودیوں میں  اسرائیلی ریاست اور صہیونیت دونوں کے لیے بالعموم بیزاری اور تھکن کے شدید احساسات و جذبات پائے جاتے ہے کہ بہت سے یہودی سمجھتے ہیں کہ(روحانی و اخلاقی سطح پر) صہیونیت کی پیروی کے اصول اُنھیں بارہا ایک کے بعد دوسری موت جیسی کڑی اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔لہذا وہ کسی دوسرے (برحق) راستے کے لئے در در بھٹک رہے ہیں۔( پس یہ وہی برحق راستہ ہے) کہ جو  ہمارا راستہ ہے۔ہمارا راستہ خالصتاً یہودیت کی قدیم روایت سے ملحق بہت سے یہودیوں میں تیزی سے ایک معقول دلیل کے طور پر اُبھر کر سامنے آرہا ہے۔ پس وہ دن بھی نوٹ فرما لیجیے کہ شاید یہ دن اب بہت دُور مستقبل نہیں کہ خالق کائنات  کی مدد سے ہم یہ دعا اور اُمید رکھتے ہیں کہ جب نہ ہی کسی یہودی کا خون بہایا جائے گا اور نہ ہی کسی عرب کا۔یقین جانیے! کہ ہم اُس دن کے سچ ہونے کے انتظار میں تڑپ رہے ہیں۔کہ جب بہت سے یہودیوں کو یہ احساس ہوگا کہ یہودیوں کے لیے امن و امان کا واحد اصل راستہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے تفویض کردہ(اخلاقی و روحانی)اعمال کی طرف لوٹنے ہی سے خاص ہے اور اخلاقیات،سلامتی  و ایمانداری کی بحالی کے لیے خالق کائنات کی شرک سے بالکل پاک عبادت اور عقیدت  سے ہی مشروط ہے۔
بالآخر ہم یہی چاہتے ہیں اور اُس دن کے لئے دعاگو  بھی ہیں کہ جب سارے عالم کے لیے کی گئی ہماری دعائیں رنگ لاتے ہوئے ہمیں   وحدت کا وہ منظر دیکھائی گئی کہ جب تمام اقوام عالم  پورے خلوصِ دل کے ساتھ ایک ہوگئی۔" جیسا کہ زبور مقدس میں فرمایا گیا ہے "تمام قومیں اور حکومتیں مل کر حق تعالیٰ کی عبادت کے لیے جمع ہوںگی۔"(102:23)۔خدا ہم سب کو یہ دن جلد دیکھائے۔آمین۔
(12)صہیون کیا ہے اور صہیونیت کیا ہے؟
صہیون ایک نام ہے جو تورات میں یروشلم کے لیے استعمال ہوا ہے۔جبکہ صہیونیت وہ نام ہے جسے 1890ء کی دہائی میں قائم ہونے والی غیر مذہبی یہودیوں کی ایک تحریک نے اپنایا۔اِس تحریک کا مقصد یہودیت کے معنی کو بدلنا اور یہودی تاریخ کے دھارے میں انقلاب لانا تھا۔ عرض یہودیت کے مفہوم کو روحانیت، مذہب اور تقدس سے مادیت پسندی اور قوم پرستی میں تبدیل کرنا اور خداوند مطلق کو مکمل طور اپنی ترجیحات سے ہٹانا تھا۔  انہوں نے یہودیوں کی جلا وطنی کے مسئلے کے لیے بدعت پر مبنی ایک عسکری اور سیاسی نوعیت پر مبنی حل پیش کیا اور پھر فلسطین کی غیر یہودی مسلم آبادیوں کے حقوق کی پرواہ کیے بغیر ایک بڑے پیمانے پر یہودی آبادیوں کو فلسطین میں لا کر آباد کر دیا۔فلسطینی مسلم آبادیوں کی بیح کنی کرنے کے لیے فوجی حکمت عملی سے کام لیا  گیا۔
 حتیٰ کہ یہ جھوٹا دعویٰ تک کر ڈالا کہ صرف اُن کی تحریک یعنی صہیونیت پر قائم رہنا ہی یہودی ہونے کا معیار ہے آگر کوئی اس تحریک سے بغاوت کرئے گا تو وہ یہودی قوم اور یہودیت دونوں سے بغاوت کرنے کا مرتکب ہوگا یعنی اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیا کوئی شخص   خداوند یکتا اور اس کی تورات پر ایمان رکھتا ہے کہ نہیں ؟ فرق بس اِس سے پڑتا ہے کہ وہ صہیونیت سے وفادار ہے کہ نہیں؟
1948ء میں صہیونیوں نے اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے فلسطین میں ایک ریاست کی بنیاد رکھی  اور تقریباً 750,000 فلسطینیوں کو یوں اکھاڑ پھینکا گیا کہ ان کی زمینیں تک ضبط کرلی گئیں۔  ایک اندازے کے مطابق اس وقت صہیونیوں کے ہاتھوں 12000 کے قریب عرب ہلاک ہوئے، اور کئی فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں کو  مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ظلم و بربریت کی آخری حدوں کا اندازہ آپ اِس بات سے لگائے کہ اُس وقت کے ایک  فوجی کمانڈر” موشے دیان“ نے عرب فلسطینیوں کو اُن کے گاؤں سے نکالنے کے لیے اُن کے گھروں کو بلڈوز کرنے، اور پانی کے کنوؤں کو ٹائفس اور پیچش  جراثیموں(مہلک امراض) کے ساتھ ناقابل استعمال بنانے کا حکم دئے دیا۔
نئے تارکین وطن(یہودیوں ) کو اپنے نئے صہیونی نظام کے ساتھ جذب کرنے کے لیے طرح طرح کے جال بچھاتے ہوئے برین واشنگ کی گئی۔ یہاں تک کہ مذہبی برادری میں بھی صہیونیت نے قدم جماتے ہوئے کچھ یہودیوں کو اِس بات پر قائل کیا کہ یہودیوں کی جلاوطنی کو فوجی طاقت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ برین واشنگ کی تکنیک سے یہودیوں کو یہاں تک باور کرواتے ہوئے خوف زدہ کیا گیا کہ عرب نازیوں کی طرح یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عرب تمام یہودیوں کو سمندروں میں غرق کردئے گے،یعنی بنیادی طور پر دوسرے ہولوکاسٹ کا جعلی فوبیا پھیلایا گیا۔ 
خداوند یکتا کا شکر ہے کہ یہودیوں کا ایک اہم طبقہ صہیونیت کا شکار نہیں ہوا اور وہ تورات کے قوانین کو برقرار رکھتے ہوئے صہیونیت اور ریاست "اسرائیل" کی مکمل مخالفت میں کھڑے ہیں۔
آج تک فلسطین پر صہیونیوں کا قبضہ جاری ہے۔  ان کی جنگجوانہ پالیسیوں نے پوری دنیا میں یہودیوں اور غیر ملکی تعلقات پر دباو ڈالا ہے۔ صہیونیت آج عالمی سطح پر سامیت دشمنی(یہود دشمنی) کو بڑھانے کا سب سے بڑا محرک ہے۔
(جاری)

گزشتہ دہائی کے دوران عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ اسرائیل کی جھڑپیں

الجزیرہ


غزہ کی حالیہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور عالمی فوجداری عدالت (ICC) کے درمیان 2015 سے لے کر آج تک کے تنازعہ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 
مارچ 2021 میں ICC کے پراسیکیوٹر فاتو بنسودا نے فلسطین میں اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل کے اس وقت کے جاسوسی (ادارہ) کے سربراہ یوسی کوہن نے عدالت کے خلاف اس خفیہ جنگ کو تیز کر دیا جو اسرائیل 2015 میں فلسطین کی ICC میں شمولیت کے بعد سے چھیڑ رہا ہے۔
بنسودا کو "ذاتی طور پر خطرہ" محسوس ہوا جب کوہن نے نگرانی اور دھمکی کا استعمال کرتے ہوئے اسے فلسطین کیس کی تحقیقات سے باز رکھنے کی کوشش کی۔
اسرائیل نے ICC کے ’’روم سٹیٹیوٹ‘‘ پر دستخط نہیں کر رکھے، اور نہ ہی اس کے اتحادی امریکہ نے کیے ہیں، لیکن ICC کی طرف سے گرفتاری کا وارنٹ اس کے رہنماؤں کے لیے زندگی مشکل بنا سکتا ہے۔
نگرانی کی کارروائیوں سے لے کر عوامی مذمت تک، ICC پر اسرائیل کے ’’اقدامات‘‘ کا خلاصہ یہ ہے:

7 جنوری 2015

یہ اعلان کیا گیا کہ فلسطین ICC کا ایک ریاستی فریق بننے کے لیے تیار ہے، جس سے علاقے پر ICC کا دائرہ اختیار قائم ہو گا۔ اسے یکم اپریل 2015 کو حتمی شکل دی گئی۔

16 جنوری 2015

ICC کے پراسیکیوٹر فاتو بنسودا نے "فلسطین کی صورتحال" کا ابتدائی جائزہ شروع کیا۔

17 جنوری، 2015

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بنسودا کے فیصلے کو "مضحکہ خیز" قرار دیا۔

فروری 2015

ہیگ میں بنسودا کی رہائش گاہ پر دو نامعلوم افراد آئے اور اسے نقد رقم اور ایک اسرائیلی فون دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ایک نامعلوم جرمن خاتون کا تحفہ ہے۔ 28 مئی 2024 کو شائع ہونے والی گارڈین کی تحقیقات کے مطابق ICC نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ممکنہ طور پر اسرائیل کا بنسودا کو یہ بتانے کا طریقہ تھا کہ "انہیں پتہ ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے"۔

2019-2017

ممتاز اسرائیلی وکیل اور سفارتکار ٹال بیکر کی قیادت میں ایک اسرائیلی وفد نے ICC کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں، جس میں 2015 میں شروع ہونے والی تحقیقات کے سلسلے میں فلسطین پر بنسودا کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا۔

20 دسمبر 2019

بنسودا نے اعلان کیا کہ فلسطین کی صورتحال کے ابتدائی جائزہ میں یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ایک "مناسب بنیاد" ملی کہ اسرائیل اور فلسطینی مسلح گروپوں نے مقبوضہ علاقے میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے،  اور یہ مقدمہ تحقیقات کے آغاز کے لیے روم کے آئین کے تحت تمام معیارات پر پورا اترتا ہے۔ 

2021-2019

اس وقت موساد کے ڈائریکٹر کوہن نے بنسودا کو تحقیقات کے خلاف قائل کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ بنسودا نے رسمی طور پر ICC کے اندر گنے چنے لوگوں کے سامنے انکشاف کیا کہ انہیں "ذاتی طور پر دھمکی" دی گئی تھی۔

2021-2019

موساد کی سرگرمیوں سے واقف پانچ ذرائع نے ’’گارڈین‘‘ کو بتایا کہ جاسوسی ایجنسی بنسودا اور اس کے عملے اور فلسطینیوں کے درمیان فون کالز کو باقاعدگی سے سنتی ہے۔ اسرائیلی کارندوں نے ICC کے ساتھ رابطے میں رہنے والے فلسطینی گروپوں کی ای میلز کو بھی ہیک کیا۔ موساد نے بنسودا کے شوہر، جو کہ گیمبیائی مراکشی تاجر ہیں، کے ریکارڈنگ ٹرانسکرپٹس کی خفیہ نقلیں بھی حاصل کیں۔

مارچ 2020

مبینہ طور پر اسرائیلی حکومت کے ایک وفد نے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر امریکی حکام کے ساتھ ICC کے خلاف "مشترکہ اسرائیلی امریکی جدوجہد" کے بارے میں بات چیت کی۔

جون 2020

سینئر امریکی حکام نے کہا کہ وہ ICC حکام پر پابندیاں عائد کریں گے، اور کہا کہ ان کے پاس "پراسیکیوٹر کے دفتر کی اعلیٰ ترین سطح پر مالی بدعنوانی اور خردبرد" کے حوالے سے چھپائی گئی معلومات ہیں۔

فروری 2021

بنسودا نے ICC پراسیکیوٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کریم خان نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔

3 مارچ 2021

بنسودا نے تصدیق کی کہ ICC نے "فلسطین کی صورتحال" کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

2 اپریل 2021

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت کے دوران بینسوڈا پر عائد پابندیاں ختم کر دیں۔ تاہم امریکہ نے واضح کیا کہ وہ فلسطین سے متعلق ’’ICC کے اقدامات سے سختی سے غیر متفق  " ہونے کی پالیسی جاری رکھیں گے۔

8 اپریل 2021

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے فلسطین کے اندر  ICC کے اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔

30 اپریل 2024

نیتن یاہو نے وارنٹ کی درخواستیں دائر ہونے سے پہلے "آزاد دنیا کے رہنماؤں" سے مطالبہ کیا کہ وہ  اسرائیلی حکام کے خلاف ICC کے ممکنہ وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کریں۔

20 مئی 2024

2021 میں شروع ہونے والی تحقیقات کی تکمیل بنسودا کے جانشین (کریم) خان کے ہاتھوں ہوا، جس میں نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے ساتھ حماس کے تین رہنماؤں یحییٰ سنوار، محمد دیاب ابراہیم المصری اور اسماعیل ہنیہ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کی گئی۔ اپنے بیان میں خان نے کہا: "میں اصرار کرتا ہوں کہ اس عدالت کے عہدیداروں کو روکنے، ڈرانے یا غلط طریقے سے زیر اثر لانے کی تمام کوششیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔"

21 مئی 2024

نیتن یاہو نے گرفتاری کے وارنٹ کو غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں مداخلت کی "شرمناک کوشش" قرار دیا۔

29 مئی 2024

نیتن یاہو نے کہا کہ وہ بائیڈن کے ICC کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرنے سے انکار پر حیران اور مایوس ہیں۔ انہوں نے یہ بات سیریس ایکس ایم کے ’’ دی مورگن آرتاگیس شو‘‘ کے لیے ایک انٹرویو میں کہی، جو یکم جون کو نشر ہونے والا ہے۔ انٹرویو کی ریکارڈنگ ’’پولیٹیکو‘‘ نے حاصل کی تھی۔

https://www.aljazeera.com/news/2024/5/30/israels-clashes-with-the-icc-over-the-past-decade-a-timeline-of-events

اہلِ عرب کی غزہ سے لا پرواہی اور اس کی وجوہات

ہلال خان ناصر


الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو واقع ہونے والے طوفان الاقصیٰ سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً‌ ۳۸ ہزار اموات واقع ہو چکی ہیں جن میں سے ۱۵ ہزار سے زائد اموات بچوں کی ہے، زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ۸۸ ہزار کے لگ بھگ،  جبکہ غزہ میں فی الوقت موجود عوام کی تعداد ۱۳ سے ۱۵ لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ دن بدن اسرائیلی فوج کی بے رحمی بڑھتی چلی جا رہی ہے مگر اہلِ عرب کی طرف سے اہلِ غزہ کے حق میں کسی مؤثر ردعمل کا اظہار نہ تو فوجی اور نہ ہی معاشی طور پر نظر آرہا ہے۔ مزاحمت کی عدم موجودگی کے پیچھے حقیقت سمجھنے کیلیے یہ ضروری ہے کہ موجودہ عرب حکومتوں کے قیام اور ان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے۔
جنگِ عظیم اول کے دوران خلافت عثمانیہ کا جرمن افواج کا ساتھ دینا برطانوی سلطنت کیلیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس رکاوٹ کو ختم کرنے کیلیے انگریز حکومت نے وقت کے شریفِ مکہ حسین بن علی کے ساتھ ایک عرب سلطنت کا وعدہ کر کے ان کو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسایا۔ ۱۹۱۶ء میں یہ بغاوت برطانوی افواج کی مدد سے شروع ہوئی اور ۱۹۱۸ء تک شام، عراق، اردن، فلسطین اور حجاز کا علاقہ خلافتِ عثمانیہ سے چھین لیا گیا۔ مگر جنگ ختم ہونے کے بعد برطانیہ نے شریفِ مکہ کے ساتھ وعدہ خلافی کرتے ہوئے فلسطین اور عراق کے علاقے پر خود قبضہ کر لیا اور شام اور اردن کا علاقہ فرانس کے حوالے کر دیا۔ شریفِ مکہ کو صرف حجاز کی حکمرانی دی گئی جو کچھ ہی عرصہ کے بعد ۱۹۲۵ء میں عبد العزیز السعود نے چھین کر موجودہ سعودی عرب قائم کر لیا۔ فلسطین میں برطانیہ نے یہودی آباد کرنے شروع کر دیے جبکہ عراق، شام اور اردن میں اپنی من پسند کے حکمران بٹھا کر ان کو بادشاہت دے دی۔ چند سال تو امن رہا مگر اپنا دائرہ اقتدار بڑھانے کیلیے جب جنگِ عظیم دوم کے بعد ان ممالک کی آپس میں جنگیں بڑھنے لگیں تو ہر ملک نے دوسرے کے خلاف امریکہ سے مدد حاصل کرنے کیلیے تیل کے بدلے فوجی اور معاشی معاہدے شروع کر دیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ امریکی افواج اور کمپنیوں نے اپنا اثر و رسوخ اتنا بڑھا لیا کہ آج عرب ممالک کا دفاعی نظام امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر منحصر ہے۔ جن ممالک نے امریکی فوج کو اپنے ہاں جگہ دی ان کو امریکہ نے تحفظ فراہم کیا۔ اس وقت امریکہ کے ۳۰ سے زائد فوجی اڈے عمان، قطر، بحرین، کویت، عراق ، متحدہ عرب امارات، اردن اور سعودی عرب میں موجود ہیں۔ عراق جیسے جن ممالک نے خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کی ان کی معیشت اور فوج کو تباہ کر دیا اور باقی ممالک کیلیے عبرت کا نشان بنا دیا۔
ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دو بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں:
    ۱) عرب ممالک اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسرائیل کا مقصد صرف غزہ کا حصول ہے۔ اسرائیلی حکومت کا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا خواب جس میں اردن، شام، عراق اور سعودی عرب کا کافی حصہ شامل ہے، اب بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا وقتا فوقتا ان کے وزراء اور افسران اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس ایجنڈے کے تحت یہ ممالک بھی اسرائیلی عزائم کے شر سے محفوظ نہیں۔
    ۲) عرب ممالک کے بادشاہ اپنی بادشاہت کو برقرار رکھنے کیلیے اور عراق ثانی بننے سے بچنے کیلیے خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ جو افواج آج ان کی حفاظت پر مامور ہیں، کل کو امریکہ کے کہنے پر ان کی بادشاہت کو با آسانی بربادی میں بدل سکتی ہیں۔
اہل عرب کی خاموشی پر جہاں ان کو بے حس کہا جا سکتا ہے وہاں ان کا بے بس ہونا بھی نظر آتا ہے۔ جو ملک اپنے دفاع اور معاش کے فیصلے خود کرنے کے قابل نہیں وہ کسی اور کیلیے کیسے آواز اٹھا سکتا ہے؟ معاشی اور فوجی طاقت کے ذریعے ملک کو بے بس کرنے کا یہی حربہ اور بھی مسلمان ملکوں میں استعمال ہوتا نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، آمین۔

خلیفۂ ثانی سیدنا فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سید سلمان گیلانی


ہے روم کا میدان بھی میدان عمرؓ کا

ایران کی بھی فتح ہے فیضان عمرؓ کا

اب کعبے کے اندر ہی ادا ہوں گی نمازیں

روکے تو کوئی اب یہ ہے اعلان عمرؓ کا

ہیں نام عمرؓ سن کے لرزتے وہ ابھی تک

کفار پہ ہے دبدبہ ہر آن عمرؓ کا

اکرام دل و جان سے ایماں کی قسم ہے

کرتا ہے اک صاحبِ ایمان عمرؓ کا

تب سے نہ ہوا خشک ابھی تک یہ سنا ہے

ہے جب سے مِلا نیل کو فرمان عمرؓ کا

یہ دیکھ علیؓ نے کسے داماد بنایا

اے دشمنِ دیں نام تو پہچان عمرؓ کا

مداح ہے اصحابؓ کا ہر ذاکرِ حق گو

ہر شاعرِ برحق ہے حدی خوان عمرؓ کا

روضے میں رہوں یاروں کے ہمراہ میں تاحشر

اللہ نے پورا کیا ارمان عمرؓ کا

قرآن میں جو لفظ اشداء ہے آیا

دراصل اشارہ ہے یہ سلمان عمرؓ کا


(بشکریہ: ادارہ ارشاد المبلغین پاکستان)

’’شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ: شخصیت و افکار‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


نحمدہ تبارک و تعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ العزیز کو متحدہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک سنگم اور سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے:
  • تحریکِ آزادی کا رخ عسکری جدوجہد سے سیاسی جدوجہد کی طرف موڑا،
  • حکومتِ الٰہیہ کے عنوان سے تحریکِ آزادی کا نظریاتی اور تہذیبی ہدف متعین کیا،
  • قوم کے تمام طبقات کو تحریکِ آزادی میں شریک کرنے کی روایت ڈالی،
  • مسلمانوں کے ماحول میں قدیم اور جدید تعلیم سے ہر دو طبقات کو مشترکہ جدوجہد کے راستے پر گامزن کیا،
  • اور آزادی کی جنگ کو جنوبی ایشیاء کے دائرے تک محدود رکھنے کی بجائے عالم اسلام بلکہ ہم خیال عالمی قوتوں کو بھی اس میں شریک کار بنایا۔
آج بھی ملتِ اسلامیہ کی وحدت، مسلم ممالک کی آزادی و خودمختاری، شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور استعماری قوتوں کے مکروہ عزائم کا راستہ روکنے کی جدوجہد میں حضرت شیخ الہندؒ کے یہ نقوشِ پا ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
میں نے خود کو ہمیشہ ولی اللہی فکر و فلسفہ اور شیخ الہندؒ کی عملی جدوجہد کا ایک کارکن سمجھا ہے اور اپنی فکری و عملی استطاعت کے دائرے میں اس کے لیے تگ و تاز میری سرگرمیوں کا محور رہی ہے۔ اس حوالے سے وقتاً‌ فوقتاً‌ لکھتا بھی رہا ہوں اور میرے بہت سے مضامین اخبارات و جرائد میں اشاعت پذیر ہوتے آ رہے ہیں۔ عزیزم حافظ خرم شہزاد سلّمہ ہمارے باذوق اور باہمت ساتھی اور سرگرم شاگرد ہیں، انہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کے بارے میں میرے مضامین کو کتابی صورت میں جمع کرنے کی گراں قدر خدمت سرانجام دی ہے جس پر میں ان کا شکرگذار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ان کی اس کاوش کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
ابوعمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
۱۳ مئی ۲۰۲۲ء

’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘

مولانا زبیر اشرف عثمانی


علم کی اہمیت اور اس کی فضیلت بالکل واضح اور دوٹوک ہے، انسان کو انسان بنانے والی چیز وہ علم ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو قرآن پاک کی تعلیم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روشناس کروایا، اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک نازل فرمایا اور اس کی تعلیم کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن پاک کی تعلیم اور اس کے معنی اور مطالب سکھائے۔ جب تک حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی کے مبعوث نہیں ہوئے تھے، اس وقت تک عرب کا پورا معاشرہ ان کی تہذیب و تمدن، سخت ترین خلفشار، گمراہی، بدامنی، اور بے شمار خرابیوں میں مبتلا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، اور انہوں نے دین اور شریعت کی تعلیم دی جس سے متاثر ہو کر ایک ایک کر کے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے، اور اسلام کے زیور سے آراستہ ہو کر انسانیت اور تہذیب و تمدن کے ایسے علمبردار بنے کہ ان کو دیکھ کر، ان سے مل کر لوگ نہ صرف یہ کہ متاثر ہوئے بلکہ دین اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے، یہ حضرات اپنے اخلاق، کردار، اور بہترین انسانی نمونے کی بنیاد پر دین کی اور شریعت کی ایک مکمل ہمہ جہت دعوت تھے، ان کے اندر یہ اوصاف نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم کی صحبت، اور قرآن پاک کی تعلیم کی بدولت تھے، اسی لیے علم وہ زیور ہے، جو انسان کو ایک گوہر نایاب بنا دیتا ہے، اور اس میں اہل علم کی معیت، اور صحبت چار چاند لگا دیتے ہیں، جس کی بنیاد پر انسان گمراہی، بد عملی اور دیگر خرابیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
زیر نظر کتاب جو کہ مفکر اسلام حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہم کے محاضرات کا مجموعہ ہے، جس کا نام ”علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں“ ہے، یہ اس موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے، جو کہ درحقیقت اس موضوع پر بہترین مواد پر مشتمل ہے، یہ کتاب ایک ایسے وقت میں تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے، جب کہ انسانیت ظلم، زیادتی، قتل و غارت گری، اور بے شمار اخلاقی اور اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہے، اگر ہم اقوام عالم پر نظر ڈالیں، تو اس میں عدل و انصاف کی کمی، خاندانی نظام کی تباہی، ماحول اور معاشرے کا گروہی اور تعصبات پر منقسم ہونا سب کے سامنے ہے، ان تمام وجوہات کی بنیاد درحقیقت علم دین سے دوری ہے، اس لئے علم کا حصول نہایت ضروری ہے، اور علم کو اہل علم سے ہی سیکھنے کی ضرورت ہے، اس کتاب میں یہی واضح کیا گیا ہے کہ علم کیا ہے، کس طرح حاصل ہو گا، اسلام پر مستشرقین کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے جوابات کیا ہیں، خاندانی اور فیملی سسٹم کو کیسے سنبھالا جا سکتا ہے، اور انسان کی تعمیر ایک بہترین انداز میں کیسے کی جا سکتی ہے، اور اس سلسلے میں علمائے کرام کی کیا ذمہ داریاں ہیں، علماء کس طرح عوام الناس کی رہنمائی کر سکتے ہیں، کس طرح سیاسی قیادت، اور حکومتی اداروں کی دینی اور فکری رہنمائی کی جا سکتی ہے، اس لئے اس کتاب کا بہت اہتمام کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اس سے بہترین رہنمائی حاصل کر سکیں۔
محمد زبیر اشرف عثمانی
نائب صدر  جامعہ دارالعلوم کراچی
۲۱؍۱۱؍۱۴۴۵ھ
۳۰؍۵؍۲۰۲۴ء

سپریم کورٹ مبارک ثانی کیس کا ایک بار پھر جائزہ لے

متحدہ علماء کونسل پاکستان

متحدہ علماء کونسل پاکستان کے زیر اہتمام دینی جماعتوں اور علمائے کرام کا مشترکہ اجلاس گزشتہ روز جامع مسجد آسٹریلیا میکلوڈ روڈ لاہور میں منعقد ہوا جس میں مبارک ثانی کیس کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے 24 جولائی 2024ء کے فیصلہ کا قرآن و سنت اور آئین و قانون کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں متحدہ علماء کونسل کے صدر مولانا زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل مولانا سردار محمد خان لغاری، ڈاکٹر فرید پراچہ، مولانا عبدالغفار روپڑی، ڈاکٹر حافظ محمد سلیم، پروفیسر غضنفر عزیز، طاہر سلطان کھوکھر ایڈووکیٹ، غلام مصطفیٰ چودھری ایڈووکیٹ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈاکٹر محمد امین و دیگر علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متحدہ علماء کونسل پاکستان اس امر پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ عوام، دینی جماعتوں اور علمائے کرام کی طرف سے مبارک ثانی کیس کے 6 فروری 2024ء کے فیصلہ کے بارے میں جن تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، 24 جولائی 2024ء کے فیصلہ میں ان کو دور نہیں کیا گیا۔ حالیہ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قادیانیوں کے حوالہ سے اگرچہ آئینی و قانونی پوزیشن کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ ایک سے زیادہ دفع ان کے حوالے سے اپنے موقف کا بھی اظہار کیا ہے، نیز وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے 1993ء کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود مبارک ثانی کیس کے فیصلہ کے تینوں حصوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

جیسا کہ سپریم کورٹ نے تحریفِ قرآن کے ایشو میں، جو کہ اس مقدمہ کی بنیاد ہے، خود ساختہ تکنیکی بنیادوں پر مبارک ثانی کو ریلیف دیتے ہوئے اسے برقرار رکھا ہے اور ازخود یقین کر لیا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بے حرمتی نہیں ہوئی۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ کے پیرا گراف 42 میں قادیانیوں کو سر عام تبلیغ کی مشروط اجازت دی ہے اور چار دیواری کے اندر ان کے گھروں، عبادت گاہوں اور نجی اداروں کو معقول قید کے ساتھ گھر کی خلوت کا حق دیا گیا ہے۔ حالانکہ امتناعِ قادیانیت قانون میں قادیانیوں پر مکمل مذہبی پابندی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مرتبہ پھر اپیل کرتا ہے کہ وہ قادیانیوں کے سلسلے میں امت مسلمہ کے متفقہ موقف، آئین پاکستان کے واضح آئینی آرٹیکلز، امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء، اشاعتِ قرآن سے متعلق قوانین، اور خود سپریم کورٹ کے سامنے تمام دینی جماعتوں، مدارس اور ملک کے معروف علمائے کرام کے دیے گئے تحریری بیان کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر نظر ثانی کریں تاکہ امت مسلمہ میں موجود اضطراب کا مداوا ہو سکے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سڑکوں، چوراہوں سمیت ہر سطح پر پر امن احتجاج کیا جائے گا۔

The Environment of the Judicial System and Our Social Attitudes

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

According to a news article published in the Daily Express Gujranwala on August 18, 2016, Supreme Court Justice Asif Saeed Khosa made the following remarks:
“Punjab is the only region in the world where lies are told even on one’s deathbed. While hearing an application for the cancellation of bail for a robbery suspect, the honorable judge remarked that it was not his own observation, but rather a statement made by an English judge of the Lahore High Court in 1925. The English judge had written in his decision: ‘Do not believe the last statements of the people of Punjab; they lie even while dying.’ The judge noted that enmity is maintained even in final statements, often implicating entire families. He further explained that initially, a robbery is committed, and subsequently, the plaintiff, in collusion with the police, commits another robbery. The accused are first identified with the plaintiff’s help, and later, the ‘property’ is recovered through a raid. The plaintiff is then asked to certify that the recovered property belongs to him.”
The remarks of the honorable Supreme Court judge reflect our general social environment and psyche. This issue is not confined to Punjab; similar situations exist in many other parts of the country. One of the major reasons for this is the judicial system, which focuses not on resolving cases but on delaying them through various tactics and lengthy procedures. As a result, the pursuit and delivery of justice often become secondary objectives, overshadowed by the tendency to secure personal interests. Instead of controlling crime, this approach encourages it, leading to a continuous increase in criminal activities. These interests are not limited to the plaintiff and the defendant; the police, the legal system, and the courts also become complicit in this conflict of interests, creating a web of lies and deceit that permeates our judicial environment. This is encapsulated in the popular proverb: ‘He who lies in the panchayat, and the one who speaks the truth in the court, can never succeed in his case.’
I have expressed this proverb in very mild terms; the actual words are so unpleasant that it may not be appropriate to describe them here. In this regard, I would like to mention some experiences and observations, which are as follows:
  • A very religious gentleman, in order to file a report of a quarrel, demanded that his leg be broken outright so that he could file a strong case against the opposing party.
  • There was a theft in my house where some family gold jewelry was stolen. I consulted a well-known lawyer, now deceased, to file a case. He wrote a lengthy story for the FIR and handed it to me. Upon reading it, I exclaimed, ‘My brother! There should be at least fifty percent truth in it.’ He replied that there was no point in filing an FIR then, so I calmly left.
  • “The former district president of JUI, Allama Muhammad Ahmad Ludhianvi, narrated this incident to me: Some jewelry was stolen from his house. When he spoke to the district police authorities, the concerned police officer later came to him with some jewelry and said, ‘This is your jewelry which has been recovered.’ The late Allama replied, ‘Brother, this is not our jewelry.’ The officer insisted on showing it to the family members, claiming it was the stolen property, but the late Allama refused to accept it, saying, ‘I recognize my family’s jewelry, and this is not ours.’
Hundreds of such stories are scattered around us, lamenting the state of our social psyche and judicial environment. Instead of being seen as faults and sins, these actions are now considered demands of justice, echoing even in the chambers of the Supreme Court.
But the question remains: What is the real reason for this situation, and how can we find a way out of this quagmire? If this question is posed to any citizen of the country, the answer will likely be that people’s distance from Islamic education, training, and religious ethics is the biggest reason. Such a situation cannot exist in a society where education and training are conducted in the light of the teachings of the Holy Quran and the traditions and Sunnah of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). However, the next question will be met with complete silence: Are our state institutions, education system, media, and centers of public mental training ready to accept this responsibility? Another major reason for this situation is the complexities of the current judicial system, the lengthy time frames, and the ambiguity of cases, which cannot be resolved without a simple and natural Sharia judicial system. However, it must be acknowledged that none of the three main pillars of the judicial system—the bench, the bar, and the police—would be ready for this and would not find themselves prepared to organize such a solution.
We agree with the remarks of Honorable Justice Asif Saeed Khosa and consider them a reflection of the overall environment and psyche of society. However, we also request the Honorable Justice to recognize that his role is not only to point out defects but also to present solutions and create an environment for practical progress towards these solutions, which may also be part of his constitutional duties. The solution to our social problems lies in returning to the teachings of the Holy Quran and the Sunnah of the Prophet. However, this will not be achieved through statements and sermons alone. All state institutions, including the government, judiciary, parliament, lawyers, police, educational institutions, and the media, must play a practical role in this. If this cannot be done, then lamenting such defects on various forums will achieve nothing.
(Published: The Monthly Nusrat-Al-Uloom, Gujranwala – September 2016)