پاکستان شریعت کونسل پنجاب کی مجلس عاملہ کا اجلاس
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس (۱۰ مارچ ۲۰۲۴ءکو) مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں صوبائی امیر مولانا مفتی محمد نعمان پسروری کی زیرصدارت منعقد ہوا۔
مہمان خصوصی پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تمام تغیرات کے باوجود ہم اپنے مشن پر کھڑے ہیں اور وطنِ عزیز میں نفاذِ شریعت، ختمِ نبوت کے تحفظ، قومی خودمختاری کی بحالی، ملکی سالمیت اور دستورکی بالادستی، قومی اور ملی وحدت کو اپناتے ہوئے غیر اسلامی روایات کی روک تھام کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ وطن عزیز کے اسلامی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ قادیانیوں کے متعلق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے حالیہ ریمارکس پہ بھرپور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ریمارکس کی آئین اور قانون کی روشنی میں وضاحت کریں۔ ختم نبوت کے حوالے سے طے شدہ دستوری فیصلہ جات کو چھیڑنے سے اجتناب کیا جائے۔ حالیہ متنازعہ فیصلہ پر احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے جن دینی اداروں، یا جماعتوں سے راہنمائی کے لیے رابطہ کیا ہے انہیں چاہیے اس مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر باہمی رابطہ اور مشاورت کے بعد ایک مضبوط موقف اختیار کیا جائے۔ فلسطین کی موجودہ صورت پہ اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے امیر مرکزیہ مفتی محمد رویس خان ایوبی کے یکجہتئ فلسطین کے حوالے سے حالیہ دنوں میں جاری ہونے والے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ علامہ راشدی نے علماء کرام، خطباء اور تمام طبقات کے نمائندگان سے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ہر سطح پر آزادئ مسجد اقصٰی کی صدا بلند کرنے کی ضرورت پہ زور دیا۔ امتِ مسلمہ کے نمائندہ ملکوں کے سربراہان کی خاموشی قابل تشویش ہے۔
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ’’یکجہتی فلسطین اور آزادی مسجد اقصٰی‘‘ کے حوالے سے بھرپور طریقے سے منایا جائے گا، اور مضبوط عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے زیرِ اہتمام یکم اور ۲ جون کو مری میں دو روزہ صوبائی ورکر کنونشن منعقد کیا جائے گا۔
اجلاس میں مولانا عبیداللہ عامر، قاری محمد عثمان رمضان، مفتی نعمان احمد، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مولانا عبد الواحد قریشی، مولانا محمد جاوید، مولانا عمیر چنیوٹی، مولانا قاسم عباسی، مولانا عبد الرؤف محسن، مولانا ذوالفقار عباسی، حکیم محمد ارشد، مولانا فضل الہادی، صاحبزادہ نصر الدين خان عمر، مولانا خبیب عامر، مولانا زبیر جمیل، عبد القادر عثمان، مولانا شیراز نوید، حافظ شاہد میر، حافظ عبد الجبار، صہیب عامر، فضل اللہ راشدی اور دیگر نے شرکت کی۔
احکام القرآن،عصری تناظر میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الحمد للہ ۵ مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورہ تفسیر قرآن کریم کی سالانہ کلاس تکمیل پذیر ہوئی۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے جاری ہے اور کرونا کے دور میں کچھ وقفہ کے ساتھ یہ بارہویں کلاس تھی۔ ۱۰ فروری سے اس کا آغاز ہوا اور ملک کے مختلف حصوں سے فضلاء اور طلبہ نے اس میں شرکت کی۔ ہمارے ہاں ترجمہ و تشریح کے ساتھ قرآن کریم سے متعلقہ دیگر ضروری معلومات بھی کورس کا حصہ ہوتی ہیں اور مختلف اساتذہ ان کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اس سال کورس کے مضامین میں (۱) احکام القرآن عصری تناظر میں (۲) قرآنی جغرافیہ اور فلکیات (۳) قرآن پاک کے حوالے سے مستشرقین کی سرگرمیوں کا تعارف (۴) قرآن و سنت کا باہمی تعلق (۵) مروجہ قانونی نظام کا تعارف وغیر ذٰلک، جبکہ اساتذہ میں راقم الحروف کے علاوہ ڈاکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر، مولانا حافظ فضل الہادی، مولانا حافظ محمد یوسف، ڈاکٹر معظم محمود بھٹی ایڈووکیٹ، مولانا محفوظ الرحمٰن، ڈاکٹر حافظ وقار احمد، مولانا ظفر فیاض، اور ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز شامل تھے۔
میرے ذمے (۱) سورۃ البقرہ کا ترجمہ و تشریح اور (۲) احکام القرآن عصری تناظر میں کے دو مضمون تھے جو بحمد اللہ تعالیٰ دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ مختصراً شرکاء کے گوش گزار کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ احکام القرآن میں میرا ذوق آج کے عالمی نظام و قوانین میں قرآن کریم اور شریعتِ اسلامیہ کے جو احکام و قوانین قابل اعتراض سمجھے جاتے ہیں، اور ہم سے جن احکام و قوانین میں ردوبدل کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ان سے علماء کرام کو متعارف کرانا اور اس سلسلہ میں اپنا موقف واضح کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اس سال جن قوانین کا تذکرہ کیا گیا وہ بالترتیب مذکور ہیں:
- قصاص کو قرآن کریم نے حکم اور فرض کے درجہ میں بیان فرمایا ہے اور معاشرہ میں قصاص کے قانون کے نفاذ کو امن اور زندگی کے تحفظ کا ذریعہ بتایا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی جرم میں مجرم کو موت کی سزا نہ دی جائے۔ جس کی بنیاد پر عالمی حلقوں کا ہم سے مسلسل یہ مطالبہ ہے کہ نہ صرف قصاص بلکہ کسی بھی جرم میں موت کی سزا کو قانونی نظام میں ختم کر دیا جائے۔
- مرد اور عورت کی مساوات کے عنوان سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کے حوالے سے یہ مطالبہ ہے کہ خاندانی نظام میں مرد اور عورت کے لیے طلاق کا یکساں حق تسلیم کیا جائے۔ جس پر ہم نے ۱۹۶۲ء میں نکاح کے فارم میں ’’تفویضِ طلاق‘‘ کا سوال شامل کر کے عالمی اداروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب ثابت نہیں ہوئی، اور مسلسل دباؤ بڑھنے پر اب ہمارے قانونی نظام میں ’’خلع‘‘ کو عورت کے مساوی حقِ طلاق کا درجہ دے کر اس کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔
- وراثت میں مرد اور عورت کے حصوں میں فرق کو عورت اور مرد میں مساوات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ جس پر سندھ ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ انسانی حقوق کے مسلّمہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مردوں اور عورتوں کو وراثت میں برابر حصہ دینا ضروری ہے۔
- زنا کو قرآن کریم نے مطلقاً جرم بلکہ سنگین جرم قرار دے کر اس کی سب سے سخت سزا مقرر فرمائی ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق صرف جبری زنا جرم ہے اور باہمی رضامندی سے کیا جانے والا زنا جرم نہیں ہے اور اسے قابلِ سزا قرار دینا عالمی قوانین کے مطابق قابل اعتراض ہے۔
- ہم جنس پرستی قرآن کریم اور شریعتِ اسلامیہ کی رو سے سنگین جرائم میں شامل ہے اور اس پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے مروجہ نظام میں ہم جنس پرستی جرائم کی بجائے حقوق کے دائرہ میں شامل ہے۔
- قرآن کریم نے مجرم کو سر عام سزا دینے کی تلقین فرمائی ہے۔ مگر آج کے عالمی نظام میں کسی بھی جرم میں دی جانے والی سزا کو جسمانی تشدد اور مجرم کی تذلیل و توہین سے خالی رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے ہماری سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ریکارڈ میں موجود ہے کہ کسی مجرم کو سرعام سزا نہ دی جائے۔
- کوڑے مارنے اور قصاص میں جسمانی اعضا کاٹ دینے کی سزا جسمانی تشدد کے دائرے میں آتی ہے، اس لیے وہ بھی قابل اعتراض ہے اور ہم سے ایسی تمام سزائیں ختم کرنے کا بار بار مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
- حلال و حرام کے حوالے سے قرآنی احکام اور آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر کسی چیز کو حرام قرار دینا مروجہ عالمی نظام کے لیے قابل قبول نہیں ہے، اس لیے معیشت و تجارت اور عمومی استعمال کے کسی دائرہ میں قرآنی احکام پر عمل کو ضروری نہیں سمجھا جاتا، اور عالمی معاشی و تجارتی نظام و ماحول اس کی مکمل حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
- حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مذہبی طور پر قابل احترام شخصیات و مقامات اور شعائر کی توہین اسلام میں سنگین جرم ہے۔ مگر مروجہ عالمی نظام میں اسے آزادئ رائے میں مداخلت قرار دے کر اس حوالے سے رائج قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
- قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر امتِ مسلمہ کا حصہ تسلیم نہ کرنا اور پاکستان میں انہیں غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینا آج کے عالمی نظام میں آزادئ مذہب کے منافی قرار دیا جا رہا ہے اور ملک کے دستور و قانون سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وغیر ذٰلک۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے قرآنی احکام و قوانین عالمی فلسفہ و نظام کے حوالے سے قابل اعتراض ہیں جن سے دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کو کم از کم آگاہ کرنا اور اس کی وضاحت کرنا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔
مرتد کی سزا کی بحث
مرتد کی سزا قتل کو متنازعہ بنانے کے لیے قانونی موشگافیوں کے سہارے نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ یہ بحث قیام پاکستان سے قبل مرزا غلام احمد قادیانی کے لاہوری پیروکاروں کے امیر مولوی محمد علی نے چھیڑی تھی جس پر شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے رسالہ ’’الشہاب‘‘ میں تفصیلی نقد کیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ مرتد کی سزا شرعاً قتل ہے اور یہ ’’حدِّ شرعی‘‘ ہے۔ اہل علم کے لیے اس رسالہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ایک صاحب نے اس حوالے سے یہ کہہ کر مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ارتداد پر قتل کی سزا خدائی حکم نہیں ہے بلکہ فقہاء کرام اور قانون دانوں کی صوابدید کے مطابق یہ ’’تعزیری سزا‘‘ ہے جسے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ
- بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کی کر دی تھی ان کی سزا ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا تھا اور اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے عمل کیا تھا۔
- پھر بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعئ نبوت مسیلمہ کذاب کا خط لانے والے اس کے دوپیروکاروں سے فرمایا تھا کہ تم مجھے رسول ماننے کے بعد مسیلمہ کو بھی رسول مانتے ہو اس لیے ’’لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما‘‘ اگر سفیروں کو قتل کرنے کا معروف ضابطہ نہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ ماننے کے بعد ایک اور شخص کو بھی خدا کا رسول ماننے لگے تھے جس پر وہ قتل کی سزا کے مستحق ہو گئے تھے، البتہ کسی قوم کا سفیر ہونے کی وجہ سے انہیں قتل نہیں کیا گیا تھا۔ جبکہ ان میں سے ایک شخص ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں امام بیہقیؒ کی بیان کردہ روایت کے مطابق حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں کوفہ میں گرفتار ہوا تھا اور اپنے اسی سابقہ عقیدہ کے دوبارہ اظہار اور اس سے توبہ کرنے سے انکار کی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔
کیا قانون کا غلط استعمال اسے ختم کر دینے کا جواز بنتا ہے؟
مذہب، مذہبی شخصیات و مقامات اور مذہبی اقدار و روایات کی توہین کو جرم تسلیم کرنے کی بجائے آزادئ رائے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے متعلقہ شعبہ کی طرف سے پاکستان سے باقاعدہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ توہینِ مذہب کے قوانین کو ختم کر دیا جائے۔
یہ سوال اپنی جگہ مستقل ہے کہ اگر عام انسان کی توہین جرم ہے اور کسی بھی ملک کے عام شہری کی توہین جرم ہے تو مذہبی شخصیات کی توہین کیوں جرم نہیں؟ مگر اس سے ہٹ کر بعض حضرات کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ اس قانون کا غلط استعمال بھی ہو جاتا ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہیے۔ یہی بات مغرب کی طرف سے خود مذہب کے بارے میں کہی جاتی ہے کہ چونکہ بعض لوگ مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں اس لیے مذہب کے معاشرتی کردار کو ختم کر دینا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی قانون کا غلط استعمال اسے ختم کر دینے کی دلیل یا جواز ہے تو پاکستان میں دیگر بہت سے قوانین کی طرح اقدامِ قتل سے متعلق دفعات 302 اور 307 کا بھی عام طور پر باہمی دشمنیوں میں غلط استعمال ہوتا ہے، تو کیا یہ قانون ختم کر کے قتل کو بھی جرائم کی فہرست سے نکال دینا چاہیے؟
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی

(486) وَإِذْ قَالَتْ أمَّةٌ مِنْہُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا
اصحاب سبت کے واقعہ کے سلسلے میں جب درج ذیل تین آیتوں پر غور کریں تو تین سوالات سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں بنی اسرائیل کے کتنے گروہوں کا ذکر ہے، دوسرا یہ کہ عذاب کن گروہوں پر آیا اور تیسرا یہ کہ عذاب کتنی بار آیا۔ ان سوالوں کا جواب لوگوں نے ترجمے میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْہُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ۔ فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ أَنْجَیْنَا الَّذِینَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِینَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِیسٍ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ۔ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُہُوا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِینَ۔ (الاعراف: 164 - 166)
”اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے“ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں۔ آخرکارجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار“۔ (سید مودودی، اس ترجمے کی رو سے تین گروہ تھے، ایک نافرمانی کرنے والے، دوسرے خاموشی اختیار کرنے والے اور تیسرے برائی سے روکنے والے۔ اول الذکر دو گروہوں پر عذاب آیا اور دو بار عذاب آیا۔)
”اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔ جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔ غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری، اس ترجمے کی رو سے عذاب ایک بار آیا)
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلی آیت میں أُمَّةٌ مِنْہُمْ کہہ کر ایک ہی گروہ کا ذکر ہوا ہے۔ اس گروہ نے یہ بات اپنے سے مختلف کسی دوسرے گروہ سے کہی تھی اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ یہ ایک گروہ کی باہم گفتگو ہو۔ اللَّہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیدًا کی تعبیر بتارہی ہے کہ یہ بات کہنے والے اللہ کے عذاب کے سلسلے میں گہرا شعور رکھتے تھے، اللہ کے عذاب سے لاپروا قسم کے لوگ نہیں تھے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی قوم کی نافرمانیوں سے شدید نفرت اور بیزاری بھی رکھتے تھے اور ان کے عمل سے قطعًا راضی نہیں تھے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ اس قوم کی نافرمانیوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کی باہمی گفتگو ہے۔ اس تحریک کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ اب ماننے والے نہیں ہیں انھیں سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، اب اللہ کا عذاب ان کا مقدر ہوچکا ہے، اس پر ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ہی وہ سب لوگ یکسو ہوگئے۔
اصلاحی تحریکوں کے طویل سفر کے دوران اس طرح کے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ کوششوں کو جاری رکھنے کی افادیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ تحریکوں کی استقامت اسی میں ہوتی ہے کہ اس کے افراد ان سوالوں کے سلسلے میں اپنے ساتھیوں کو مطمئن کرتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھنے کے موقف پر جمے رہیں۔
اگر یہ طے ہوجاتا ہے کہ پہلی آیت میں جس گفتگو کا ذکر ہے وہ مصلح گروہ کی آپس کی گفتگو ہے۔ تو یہ بات بھی طے ہوجاتی ہے اس پورے قصے میں دو ہی گروہ تھے ایک مصلحین کا اور دوسرا فاسقین کا، اسی کے ساتھ یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دوسری آیت میں جس عذاب کا ذکر آیا ہے وہ نافرمانی کرنے والے گروہ پر نازل ہوا، کسی اور پر نہیں۔ کیوں کہ وہاں دو ہی گروہ تھے، ایک نافرمانوں کا اور دوسرا مصلحین کا۔ نافرمانی پر خاموشی اختیار کرنے والوں کا گروہ تھا ہی نہیں۔
عذاب صرف نافرمانوں پر نازل ہوا، اس کے لیے عذاب کے مستحقین کے سلسلے میں ان آیتوں میں مذکور تعبیرات خود واضح دلیل ہیں:
(۱) فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ، (۲) الَّذِینَ ظَلَمُوا، (۳) کَانُوا یَفْسُقُونَ، (۴) عَتَوْا عَنْ مَا نُہُوا عَنْہُ، یہ چاروں تعبیریں انہی لوگوں پر چسپاں ہوتی ہیں جو نافرمانی کا ارتکاب کررہے تھے۔ چاروں تعبیروں میں سے کسی کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا جو نافرمانوں کو نصیحت کرنے کی افادیت محسوس نہ کریں۔
جہاں تک تیسرے سوال کا تعلق ہے کہ عذاب ایک بار آیا یا دو قسطوں میں آیا، تو اس سلسلے میں بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ عذاب ایک بار آیا، پہلی آیت میں اس کی شدت کو بتایا گیا اور دوسری آیت میں اس کی تفصیلات بیان کردی گئیں۔ یہاں فلمّا کی تکرار لفظی ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ وہ واقعہ دو بار پیش آیا۔ اللہ کا سخت عذاب آجانے کے بعد بھی ان لوگوں کو اپنی روش پر قائم رہنے کا موقع ملے، یہ بعید از قیاس بات ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے ترجمہ ہوگا:
”اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے (آپس میں کہا) کہ ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے“ تو انہوں نے کہا انھیں نصیحت کرتے رہو اپنے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے اور اس امید پر کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں۔ آخرکارجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کرگئے جن سے ان کی یاددہانی کی گئی تھی تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ تو جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہوجاؤ ذلیل اور خوار“۔
مَعْذِرَةً إِلَی رَبِّکُمْ میں ضمیر مخاطب کم آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بارے میں بات نہیں بلکہ مخاطب کے بارے میں بات ہے۔ اس لیے مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ کرتے ہیں:”یہ کام کئے جاؤ اپنے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے“، جب کہ دوسرے لوگ ترجمہ کرتے ہیں: ”ہم یہ کام کررہے ہیں تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے“۔ لیکن اس ترجمے سے اس کی توجیہ نہیں ہوپاتی ہے کہ متکلم کی ضمیر کے بجائے مخاطب کی ضمیر کیوں آئی ہے۔
(487) فَلَا یَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ مِنْہُ
حرج کا لفظ اپنے اندر ایک طرز کے متعدد معانی کے لیے وسعت رکھتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لوگوں نے اس کا ترجمہ کرنے کے لیے مختلف تعبیرات اختیار کی ہیں، جیسے جھجک، رکاوٹ، تنگی، پریشانی، وغیرہ:
کِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ مِنْہُ۔ (الاعراف: 2)
”یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمدؐ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو“۔ (سید مودودی)
”اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اُتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے“۔ (احمد رضا خان)
”(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے یہاں حرج کے لیے ’الجھن‘ کا لفظ تجویز کیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اس کتاب کو لے کر تم کسی الجھن میں گرفتار نہ رہو۔ دیگر تعبیرات کے مقابلے میں یہ تعبیر موزوں تر معلوم ہوتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہاں صدر کا لفظ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ دل نہیں بلکہ سینہ ہونا چاہیے۔ عام طور سے لوگوں نے دل ترجمہ کیا ہے۔
(488) وَلِلَّہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَی
وَلِلَّہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُوا الَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِی أَسْمَاءِہِ۔ (الاعراف: 180)
”اور اللہ کے لیے تو صرف اچھی ہی صفتیں ہیں تو انہیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے باب میں کجروی اختیار کر رہے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
اس جملے میں حصر کا اثر لفظ ’َلِلَّہِ‘ پر ہے۔ یعنی اللہ کے لیے ہی اچھے نام ہیں۔ نام کا ترجمہ صفت کرنا بھی محل نظر ہے۔
”اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں“۔ (سید مودودی)
’اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے‘ ایک تو حصر کا اظہار نہیں ہوا، دوسرے ’مستحق‘ کا لفظ یہاں موزوں نہیں ہے۔ درست ترجمہ ہوگا: ”اللہ کے لیے ہی اچھے نام ہیں“۔ فِی أَسْمَاءِہِ کا ترجمہ ”نام رکھنے“ میں مناسب نہیں ہے۔ عمومی بات ہے کہ جو ”اللہ کے ناموں میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں“۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
”اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
(489) بدّل شیئا غیر شیء کا اسلوب
یہ اسلوب قرآن مجید میں آیا ہے، اس اسلوب میں غیر کا ترجمہ سوا، علاوہ اور خلاف موزوں نہیں ہے، بلکہ اور یا دیگر مناسب ہے۔ یعنی جو چیز پہلے سے ہے اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا۔ غیر کو دیکھ کر جب سوا وغیرہ جیسے الفاظ لائے جاتے ہیں تو ترجمہ غیر ضروری طور پر بوجھل ہوجاتا ہے۔
(۱) کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُودًا غَیْرَہَا۔ (النساء: 56)
”جس وقت پک جاوے گی کھال ان کی، بدل کر دیں گے ان کو اور کھال“۔ (شاہ عبدالقادر)
”جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
آخری دونوں ترجموں میں ’سوا‘ لانے سے ترجمہ بوجھل ہورہا ہے۔
(۲) یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَیْرَ الْأَرْضِ۔ (ابراہیم: 48)
”جس دن بدلی جاوے اس زمین سے اور زمین“۔ (شاہ عبدالقادر)
”جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا“۔ (احمد رضا خان)
یہاں بھی آخری دونوں ترجموں میں ’سوا‘ لانے سے ترجمہ بوجھل ہورہا ہے۔
مذکورہ بالا آیتوں کی طرح درج ذیل دونوں آیتوں میں بھی یہی مراد ہے کہ جو بات کہی گئی تھی اس کی جگہ وہ دوسری بات لے آئے۔ شاہ عبدالقادر نے درج ذیل دونوں آیتوں میں ’سوائے‘ کا غیر ضروری استعمال کرلیا، جس سے انھوں نے اوپر کے دونوں مقامات پر احتراز کیا تھا۔
(۳) فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَہُمْ۔ (البقرۃ: 59)
”پر بدل لی بے انصافوں نے اور بات سوائے اس کے جو کہہ دی تھی ان کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
”تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا“۔(فتح محمد جالندھری، قول کا ترجمہ بات ہونا چاہیے، ’لفظ‘ موزوں نہیں ہے۔ ’کہنا شروع کیا‘ بھی زائد از عبارت ہے،یہاں صرف ایک بات کو دوسری بات سے بدلنے کا ذکر ہے۔)
”مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اُسے بدل کر کچھ اور کر دیا“۔ (سید مودودی)
”پھر ان ظالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی“۔ (محمد جوناگڑھی)
درج بالا دونوں ترجموں کے سلسلے میں عرض ہے کہ عبارت کی رو سے جو بات کہی تھی اس کو بدلنا مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کی جگہ ایک دوسری بات کو لے آنا مراد ہے۔
درج ذیل ترجمہ درست ہے:
”تو جنہوں نے ظلم کیا انہوں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(۴) فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَہُمْ۔ (الاعراف: 162)
”سو بدل لیا بے انصافوں نے ان میں سے اور لفظ سوائے اس کے جو کہہ دیا تھا“۔ (شاہ عبدالقادر)
”سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی“۔ (محمد جوناگڑھی، عبارت کے اسلوب کو پیش نظر نہ رکھنے کی وجہ سے ترجمہ کتنا کم زور ہوگیا۔)
”مگر جو لوگ اُن میں سے ظالم تھے اُنہوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا“۔ (سید مودودی، بات کو نہیں بدلا، اس کی جگہ دوسری بات لے آئے۔)
”تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا“۔ (احمد رضا خان، غیر کی وجہ سے ’خلاف‘ لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ایک بات کی جگہ دوسری اس سے مختلف بات لانا مراد ہے۔)
”مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا“۔ (فتح محمد جالندھری، یہاں بھی وہی تسامح ہے)
”تو ان میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات سے“۔ (امین احسن اصلاحی، ’اس کو بدل دیا‘ نہیں بلکہ کہی ہوئی بات کو بدل دیا مختلف بات سے۔)
اجتہاد کی شرعی حیثیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ انسانی ضروریات اور انسانی ماحول ایک حالت پر قائم رہنے والی چیز نہیں ہے، اور تمدنی ترقیات کے ساتھ ہی ساتھ انسانی ضروریات کا تبدیل ہونا ضروری امر ہے۔ لہٰذا آپؐ نے بہت سی فرعی باتوں سے متعلق خود احکام صادر فرمانے مناسب نہیں سمجھے، اور ان لوگوں کے فہم و فراست پر فیصلہ چھوڑ دیا ہے جو قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری پیغمبر مانتے اور کتاب و سنت کے اصولی احکام کو واجب التعمیل جانتے ہیں۔
کتاب و سنت کے قوانین کو لازمی اور قابلِ عمل جاننے والوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اجتہاد و تفقہ سے کام لیں اور کتاب و سنت کی روشنی میں ضروری اور ہنگامی قانون بنائیں۔ اس کو فقہ اور قیاس کہتے ہیں۔ اور مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مخطی بھی۔ لیکن اگر صاحبِ اجتہاد نے اپنی پوری طاقت اور وسعت صَرف کی اور مع ہذا اس سے غلطی ہو گئی، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ وہ ماجور ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتِ بے پایاں سے ثواب کا مستحق ہو گا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا حکم الحاکم فاجتہد و اصاب فلہ اجران، واذا حکم فاجتہد واخطا فلہ اجر واحد۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۰۹۲ و مسلم ج ۲ ص ۷۶ و مشکوٰة ج ۲ ص ۳۲۴)
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ کرے اور اجتہاد کرتے ہوئے درست فیصلہ کرے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ اگر اس سے خطا سرزد ہو تو اس کو ایک ہی اجر ملے گا۔‘‘
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت اور مشقت کو ہرگز رائیگاں نہیں کرتا، تو اجتہاد کرتے وقت جو تکلیف اور کاوش مجتہد کو ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس پر اس کو ضرور ایک اجر مرحمت فرمائے گا۔ اور اصابتِ رائے کی صورت میں ایک اجر اجتہاد کا اور ایک اصابتِ رائے کا اس کو حاصل ہو گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مجتہد صحیح معنی میں مجتہد ہو۔ ورنہ ’’القضاۃ ثلاثہ‘‘ کی حدیث میں اس کی تصریح ہے کہ جاہل آدمی کا فیصلہ اس کو دوزخ میں لے جائے گا (رواہ ابوداؤد، ابن ماجہ، مشکوٰۃ ج ۲ ص ۳۲۴)۔
اس صحیح روایت سے اجتہاد کا درست ہونا، اور خطا کی صورت میں مجتہد کا معذور بلکہ ماجور ہونا صراحت سے ثابت ہوا۔ صرف بطور تائید و شاہد کے حضرت معاذ بن جبلؓ (المتوفی ۱۸ھ) کی روایت بھی سن لیجئے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو اس وقت آپؐ نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ
کیف تقضی اذا عرض لک قضاء؟ قال اقضی بکتاب اللہ۔ قال فان لم تجد فی کتاب اللہ؟ قال فبسنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ قال فان لم تجد فی سنة رسول اللہ؟ قال اجتہاد برایی ولا آلو۔ قال فضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی صدرہ و قال الحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یرضی بہ رسول اللہ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد والدارمی و مشکوٰة ج ۲ ص ۳۲۴)
’’تو کس طرح فیصلہ کرے گا جب تیرے سامنے کوئی جھگڑا پیش ہوا؟ حضرت معاذؓ نے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر کتاب اللہ میں تجھے وہ بات نہ مل سکے؟ عرض کیا تو پھر سنتِ رسول اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر سنتِ رسول اللہ میں بھی نہ ہو؟ تو حضرت معاذؓ نے عرض کیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا کہ الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ کا رسول راضی ہے۔‘‘
حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی ۷۷۴ھ) اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: باسناد جید کما ہو مقرر فی موضعہ (تفسیر ج ۱ ص ۳) ۔ اس روایت کی سند عمدہ اور کھری ہے جیسا کہ اپنے موقع پر ثابت ہے۔
اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کے اس جواب پر کہ اجتہد برایی (کہ میں قیاس اور رائے سے کام لوں گا) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا فرمایا اور اظہارِ مسرت کیا۔ جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے فروعی قوانین کو منجمد رکھنا پسند نہیں فرمایا بلکہ ضرورت کے پیش نظر ایسے قوانین کو استقرائی رکھنا چاہا ہے۔ تاکہ انسان کے قوائے دماغیہ کی نشوونما اور انسانی ترقیات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (المتوفی ۱۳ھ) کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تھا تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو تلاش کرتے تھے، ورنہ اجتہاد سے کام لیتے تھے۔
ان ابابکرؓ اذا نزلت بہ قضیہ لم یجد لھا فی کتاب اللہ اصلاً ولا فی السنہ اثرا فقال اجتہد برایی فان یکن صوابا فمن اللہ وان یکن خطا فمنی واستغفر اللہ۔ (طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۳۶)
’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تھا تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر ان کو اس کی وضاحت نہ ملتی تو فرماتے: میں اپنی رائے سے اجتہاد کرتا ہوں، اگر درست ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہو گی، ورنہ میری خطا ہو گی اور میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشہور تابعی قاضی شریحؒ (المتوفی ۸۵ھ) کو خط لکھا۔ اس میں کتاب و سنت اور اجماع کے بعد خاص طور پر اجتہاد کرنے کا ذکر ہے۔ (دیکھیے مسند دارمی ص ۳۴ و مثلہ فی کنز العمال ج ۳ ص ۱۷۴)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی اجماع کے بعد قیاس اور اجتہاد کرنے کا حکم دیا کرتے تھے (مسند دارمی ص ۳۴)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کا یہ معمول تھا کہ جب کتاب و سنت کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے کوئی ثبوت نہ مل سکتا تو قال فیہ برایہ (مسند دارمی ص ۳۳ و مستدرک ج ۱ ص ۱۲۷ و قالا صحیح علی شرطہما) اپنی رائے سے کام لیتے تھے۔
الغرض جمہور اہلِ اسلام قیاسِ شرعی کو صحیح اور حجت تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جمہور از صحابہؓ و تابعین و فقہاء و متکلمین باں رفتہ کہ اصلے از اصولِ شریعت است استدلال میرود بداں بر احکام واردہ بسمع و ظاہریہ انکارش کردہ اند۔‘‘ (افادۃ الشیوخ ص ۱۲۲)
’’جمہور صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہاء و متکلمین اس کے قائل ہیں کہ قیاس شریعت کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اس کے احکام واردہ بسمع میں باقاعدہ استدلال صحیح ہے اور اہلِ ظاہر نے قیاس کا انکار کیا ہے۔‘‘
اہلِ ظاہر کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ انہوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ غیر نبی کو یہ مقام کیسے حاصل ہو گیا کہ وہ دین کی باتوں میں دخل دے۔ اعتراض بظاہر بڑا معقول اور وزنی ہے مگر حقیقت سے بالکل دور ہے۔ اس لیے کہ موجبِ حکم مجتہد اور قائس کا قیاس و اجتہاد نہیں ہے، بلکہ موجب اصل میں وہی شرعی دلیل ہے جو قرآن کریم اور حدیث وغیرہ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ مجتہد کا کام صرف اتنا ہے کہ مسکوت عنہ جزئی کی کڑی دلیلِ شرعی سے جوڑ دیتا ہے اور بس۔ چنانچہ مشہور فیلسوفِ اسلام علامہ ابن رشد ابو الولید محمد بن احمد (المتوفی ۵۹۵ھ) لکھتے ہیں:
واما القیاس الشرعی فھو الحاق الحکم الواجب لشی ما بالشرع بالشی الذی اوجب الشرع لہ ذٰلک الحکم او لعلہ جامعہ بینھما۔ (بدایة المجتہد ج ۱ ص ۳)
’’قیاسِ شرعی اس کو کہتے ہیں کہ جو حکم شریعت میں کسی چیز کے لیے ثابت ہو چکا ہو، اس حکم کو اس چیز کے اوپر بھی چسپاں کیا جائے جو مسکوت عنہ ہے۔ یا تو اس لیے کہ یہ اس کے مشابہ ہے، اور یا اس لیے کہ ان دونوں میں علت جامعہ مشترک ہے۔‘‘
نواب صاحبؒ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں:
’’و اما قیاس پس در اصطلاح فقہاء حمل معلوم بر معلوم است در اثبات حکم یا نفی او بامر جامع میان ہر دو از حکم یا صفت و اختارہ جمہور المحققین‘‘۔ (افادۃ الشیوخ ص ۱۲۱)
مولانا حافظ محمد عبد اللہ صاحب روپڑی لکھتے ہیں:
’’جب انسان کو کوئی مسئلہ قرآن و حدیث سے صراحتاً نہیں ملتا تو وہ قرآن و حدیث میں اجتہاد و استنباط کرتا ہے۔ اور وہ اجتہاد و استنباط قرآن و حدیث سے الگ نہیں کہلاتا۔ اسی طرح صحابی کے اس قول کو، جو اجتہاد و استنباط کی قسم سے ہو، اس کو قرآن وحدیث سے الگ نہ سمجھنا چاہیے بلکہ قرآن و حدیث میں داخل سمجھنا چاہیے۔‘‘ (بلفظہ ضمیمہ رسالہ اہل حدیث ص ۷)
اجتہاد کی اہلیت
یہ بات طے شدہ ہے کہ اجتہاد کے لیے چند نہایت ضروری شرطیں ہیں، جن میں وہ نہ پائی جا سکیں ان کی بات ہرگز حجت نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ صوفیاء کرامؒ کی باتیں بھی شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، الّا یہ کہ وہ شریعت کے موافق ہوں۔ چنانچہ علامہ قاضی ابراہیم الحنفی (المتوفی حدود ۱۰۰۰ھ) لکھتے ہیں:
’’اور جو عابد و زاہد اہلِ اجتہاد نہیں وہ عوام میں داخل ہیں۔ ان کی بات کا کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں اگر ان کی بات اصول اور معتبر کتابوں کے مطابق ہو تو پھر اس وقت معتبر ہو گی۔‘‘ (نفائس الاظہار ترجمہ مجالس الابرار ص ۱۲۷)
’’مجالس الابرار‘‘ کی حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ نے بڑی تعریف کی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے کیا ہی خوب ارشاد فرمایا ہے کہ
’’عملِ صوفیہ در حل و حرمت سند نیست۔ ہمیں بس است کہ ما ایشاں را معذور درایم و ملامت نہ کنیم و مر ایشاں را بحق سبحانہ و تعالیٰ مفوض داریم۔ اینجا قول امام ابوحنیفہؒ و امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ معتبر است، نہ عمل ابوبکر شبلیؒ و ابو حسن نوریؒ۔‘‘
’’صوفیاء کی بات حل و حرمت میں سند نہیں ہے۔ یہی کافی ہے کہ ہم ان کو ملامت نہ کریں اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔ اس جگہ حضرت امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا قول معتبر ہو گا، نہ کہ ابوبکر شبلیؒ اور ابو حسن نوری جیسے صوفیاء کرام کا۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول ص ۳۳۵ مکتوب ص ۲۲۶)
یہ بالکل ٹھیک ہے کہ دین کی تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہو چکی تھی۔ مگر تکمیلِ دین کا یہ مطلب ہے کہ قواعد اور کلیاتِ دین پورے طور پر مکمل ہو چکے تھے۔ بعد کو پیش آنے والے واقعات اور حوادث کو ان اصول اور کلیات کے تحت درج کرنا، اور انہی جزئیات کو کلیات پر منطبق کرنے کا نام قیاس و اجتہاد ہے۔ لیکن بسا اوقات جزئیات کا کلیات میں داخل کرنا کسی خاص عارضہ کی وجہ سے بعض لوگوں پر مخفی رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فروعی مسائل میں فقہاء اسلام کا اختلاف رہا ہے۔ اور ایسے مواقع پر جو چیز اقرب الی الحق ہو، اس کو قبول کر لینا اور اس پر عمل کرنا نجات کے لیے کافی ہے۔ ہاں اگر قرآن وحدیث سے کوئی نص مل جائے، یا اجماع پر اطلاع ہو جائے، تو اس صورت میں قیاس سے رجوع کرنے میں ہرگز تامل نہیں ہونا چاہیے۔
(ماہنامہ الشریعہ جولائی ۱۹۹۵ء)
مقبوضہ بیت المقدس اور بین الاقوامی قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(۲۰ مئی ۲۰۲۱ء کو یوٹیوب چینل ’’شیبانی فاؤنڈیشن‘‘ پر نشر ہونے والی گفتگو)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آج اس نشست میں ہم اس پر گفتگو کریں گے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں فلسطین کے اس تنازع کی حیثیت کیا ہے۔ اس موضوع پر گفتگو کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سارے لوگوں کو اس معاملے میں بین الاقوامی قانون کی تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ اور اس وجہ سے اس موضوع پر جتنے مباحثے ہو رہے ہیں اور جتنی گفتگو ہو رہی ہے میری ناقص رائے میں اس میں بنیادی ایشیوز کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور جو بحث ہے وہ صحیح نہج پر نہیں جا رہی۔ اس لیے میں چاہتا یہ ہوں کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کچھ بنیادی جو نکات ہیں وہ آپ کے سامنے رکھوں۔
جہاں تک بین الاقوامی قانون کے متعلق مسلمانوں کے نقطۂ نظر کا تعلق ہے، وہ اپنی جگہ ایک مستقل مسئلہ ہے، کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون اور جو موجودہ بین الاقوامی نظام ہے یہ مغربی اقوام کی پروڈکٹ ہے، اور انہوں نے ظاہر ہے اپنے مقاصد اور اپنے اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سسٹم بنایا ہوا ہے۔ اور اگر اس کی تاریخ کو دیکھیں تو ۱۶۴۸ء سے جب ویسٹفالیا (Westphalia) کا معاہدہ ہوتا ہے، اور جدید قومی ریاستوں کا آغاز ہوتا ہے تو اگلے دو سو سال تک تو اس قانون کو اور اس نظام کو صرف یورپ تک ہی محدود سمجھا جاتا رہا۔ اور غیر یورپی اور غیر مسیحی اقوام کا تو اس میں کوئی کردار ہی نہیں تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ مختلف وجوہات کی بنا پر بالآخر بیسویں صدی میں غیر یورپی غیر مسیحی اقوام بھی اس نظام میں شامل ہو گئیں۔ لیکن اس نظام میں غیر مسیحی اور غیر یورپی اقوام کی شمولیت کے لیے جو شرائط تھیں، اگر آپ انٹرنیشنل لاء کی کسی بھی بنیادی کتاب جیسے مثال کے طور پر اوپن ہائم کی مشہور کلاسک کتاب ’’انٹرنیشل لاء‘‘ اس میں دیکھیں تو وہ شرائط یہی تھیں کہ آپ نے ہماری شرائط پر اور ہماری اقدار کو مانتے ہوئے اس نظام کا حصہ ہونا ہے۔ اور اگر ہم آپ کو اس میں شامل ہونے دیں گے تب آپ اس میں شامل ہو سکیں گے۔ اس طرح کے امور بالکل واضح ہیں۔ تو ہم ان کی شرائط پر اور ان کے سسٹم اور ان کے رولز آف دی گیم کو مانتے ہوئے یوں کہیں کہ اس میں شامل ہوئے ہیں، اور تب شامل ہوئے ہیں جب انہوں نے ہمیں شامل کرنا چاہا۔
انٹرنیشل لاء کے متعلق ہماری بنیادی ریزرویشنز (تحفظات) اپنی جگہ موجود ہیں۔ لیکن اس وقت ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ انٹرنیشنل لاء جس طرح بنا ہوا ہے، اس کی روشنی میں اور اس کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی حیثیت کیا ہے، اور یہ تنازع اصل میں بنتا کیا ہے۔ ورنہ اگر ہم اسلامی اصولوں کی روشنی میں بات کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں تو ہمارے نزدیک تو اسرائیل کا وجود ہی سرے سے ناقابلِ تسلیم ہے اور بہت بڑا ظلم ہے۔ اور اس کے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں الگ سے گفتگو ہم کر سکتے ہیں اور کریں گے ان شاء اللہ۔ لیکن اس وقت یہ دکھانا مقصود ہے کہ جو موجودہ بین الاقوامی قانونی نظام ہے، اگر ہم اس کے اصولوں پر اور اس کے اندر رہتے ہوئے بات کریں تو پوزیشن کیا بنتی ہے۔
میں شروع کروں گا اس معاملے کو پہلی جنگِ عظیم سے۔ جب پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی خلافت اور دیگر جن کے ساتھ ان کا اتحاد تھا ان کو شکست ہوئی، اور برطانیہ اور فرانس وغیرہ نے جنگ میں کامیابی حاصل کی، تو اس کے بعد مفتوحہ جو علاقے تھے اور جتنے ممالک تھے ان کا کرنا کیا ہے؟ اس معاملے میں ان فاتح اقوام کا آپس میں ایک معاہدہ ہوا، ورسائی (The Treaty of Versailles 1919) کا معاہدہ جس کو کہا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے طے کیا کہ فرانس کے پاس کونسا علاقہ ہو گا، برطانیہ کے پاس کون سا ہو گا وغیرہ۔ اس معاہدہ کی رو سے انہوں نے آپس میں طے کیا تھا کہ فلسطین اور آس پاس کا علاقہ برطانیہ کے کنٹرول میں ہو گا۔ اور جنگ کے دوران میں برطانیہ نے صہیونی تنظیم کو باقاعدہ تحریری طور پر ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر جب فلسطین کا کنٹرول ہمیں ملے گا تو ہم یہاں یہودیوں کا قومی وطن بنائیں گے۔ اس کو بالفور ڈیکلریشن (Balfour Declaration) کہتے ہیں جو انہوں نے ۱۹۱۷ء میں انہوں نے تحریری طور پر صہیونی تنظیم کے سربراہ کو لکھ کر اپنا وعدہ دیا تھا۔
جب برطانیہ نے ورسائی معاہدے کے تحت یہ کنٹرول بھی حاصل کیا اور پھر ۱۹۱۹ء میں جب نئے عالمی نظام کی تشکیل کیلئے ایک میثاق طے پایا اور ایک معاہدہ طے پایا اور ’’لیگ آف نیشنز‘‘ وجود میں آ گئی، تو اس لیگ آف نیشنز نے، یوں کہیں کہ ان فاتح اقوام کی آپس میں جو انڈرسٹینڈنگ تھی اسی کو قانونی صورت دے کر مینڈیٹ سسٹم ایک بنایا۔ انتداب کا نظام جس کو اردو میں کہا جاتا ہے۔ اور برطانیہ کو یہ فلسطین اور آس پاس کا علاقہ بطور مینڈیٹ دیا گیا، بطور امانت دیا گیا۔ اور آئیڈیا یہ تھا کہ یہاں آپ نے یہاں کے لوگوں کو اپنی حکومت خود چلانے کیلئے اہل بنانا ہے۔ یہ ابھی تہذیب کی سطح سے ذرا نیچے ہیں۔ اور بحیثیت سفید فام آپ کی ذمہ داری ہے ان کو مہذب بنانے کی، تو آپ نے ان لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ نہ صرف فلسطین اور آس پاس کے علاقے بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی ان کا کنٹرول ہوا، انہوں نے مینڈیٹس بنا کر ان کے تین درجے بنا دیے تھے۔ مینڈیٹ اے، مینڈیٹ بی، مینڈیٹ سی۔ تو فلسطین اور یہ جو علاقے تھے یہ مینڈیٹ اے میں تھے۔ اور معاہدہ میں یہ طے پایا تھا کہ مینڈیٹ اے کے تحت جو اقوام آتی ہیں ان کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنے آقا کا انتخاب کریں کہ انہوں نے فرانس کے تحت زندگی گزارنی ہے یا برطانیہ کے تحت زندگی گزارنی ہے۔ لیکن عملاً اس چوائس کو نافذ نہیں کیا گیا۔ بہرحال برطانیہ نے مینڈیٹ کی ذمہ داری اٹھائی اور پھر یوں کہیں کہ ۱۹۱۷ء، ۱۹۱۸ء سے لے کر ۱۹۴۸ء تک جب برطانیہ کا کنٹرول یہاں رہا، تو دنیا بھر سے یہودیوں کو یہاں اکٹھا کر کے آباد کرانے کی ایک پوری مہم چلائی گئی۔ ورنہ یہاں یہودیوں کی آبادی بہت تھوڑی تھی۔
۱۹۴۷ء میں برطانیہ نے اقوام متحدہ کے سامنے، جب نئی تنظیم دوسری جنگِ عظیم کے بعد بنی، نیا نظام بنا، تو ۱۹۴۷ء میں برطانیہ نے اقوام متحدہ کے سامنے معذوری ظاہر کی کہ اب میں مزید مینڈیٹ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور یہ میں آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔ اس موقع پر اقوام متحدہ نے ایک پارٹیشن پلان، تقسیم کا ایک منصوبہ منظور کیا۔ اس منصوبے پر بھی ہمیں بہت سارے تحفظات ہیں۔ لیکن اگر ہم اس منصوبے کو جوں کا توں لے لیں تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، تو اس منصوبے کے مطابق اس علاقے کو تقسیم ہونا تھا عربوں میں اور یہودیوں میں۔ اور اس دوران میں جب یہودیوں نے اسرائیل ریاست کے قیام کا اعلان کیا تو اس منصوبے میں جو اُن کو زمین دی گئی تھی اس سے کہیں زیادہ انہوں نے قبضے میں لے لی۔
اب قبضے کے متعلق ایک بنیادی بات یہ یاد دلانی ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز تک فتح کے بعد قبضہ اور اس کے بعد اس علاقے کا اپنے ساتھ الحاق کرنا، یہ بین الاقوامی عرف کا حصہ تھا اور اس کو باقاعدہ ایک قانونی جواز مل جاتا تھا۔ اگر کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کے علاقے پر قبضہ کر لیتی، اپنا قبضہ مستحکم کر لیتی، پھر اس حصے کو اپنا حصہ ڈکلیئر کر لیتی، اس کا اپنے ساتھ الحاق کر الیتی، تو اس کے بعد کہا جاتا کہ یہ جگہ اب اس قابض ریاست کا حصہ ہو گئی ہے، اور اب اس پر ان کا کنٹرول ہے اور ان کا ٹائٹل ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز سے اس سلسلہ کو روکا گیا، اور ۱۹۲۸ء میں ایک بنیادی معاہدہ ہوا امریکہ اور فرانس کے درمیان ابتدائی طور پر، لیکن بعد میں دیگر ریاستیں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔ اس معاہدہ کو ’’پیکٹ آف پیرس‘‘ کہا جاتا ہے یا Kelogg-Briand Pact بھی کہتے ہیں۔ اس میں یہ طے پایا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے، جنگ کے ذریعے تنازعات کو حل نہیں کیا جائے گا، اور اس وجہ سے یہ اصول طے پایا کہ اگر جنگ کے نتیجے میں کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کے علاقے کو قبضہ میں لے لے تو وہ قبضہ ناجائز ہو گا، اور جلد یا بدیر قابض طاقت کو وہاں سے نکلنا ہو گا۔
اسی طرح ۱۹۴۵ء میں اقوام متحدہ کا منشور بنا، اقوام متحدہ کی تنظیم وجود میں آئی، تو اس کے منشور میں بھی باقاعدہ طور پر صراحت سے کہا گیا کہ طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی ناجائز ہے۔ اور کسی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا، نہ اس کی دھمکی دی جائے گی۔ چنانچہ نہ صرف جنگ اور طاقت کا استعمال بلکہ اس کی دھمکی بھی ناجائز ہو گئی۔ اس وجہ سے قبضے کے ذریعے، فتح کے ذریعے، زبردستی الحاق کر کے کسی علاقے کو اپنے قبضے میں لے لینا، یہ اب بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز ہے۔
نہ صرف یہ بلکہ اس کے ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کیجئے کہ بین الاقوامی قانونِ جنگ، جس کو بین الاقوامی قانونِ انسانیت بھی کہا جاتا ہے، انٹرنیشنل ہیومینیٹرین لاء، اس کے اصولوں کی رو سے یہ بات مسلّم ہے، یہ طے ہے کہ جب تک قبضہ برقرار ہے تو حالتِ جنگ برقرار ہے۔ بلکہ یہاں تک اس قانون کی رو سے مسلّم ہے، جنیوا کنونشنز میں اس کی صراحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی ریاست کسی علاقے کو قبضے میں لے لے تو خواہ اس قبضے کے خلاف کوئی مزاحمت نہ ہو، ایک گولی بھی نہ چلے، کوئی قابض طاقت کو روکے بھی نہ، اور نہ قبضے کے بعد اس کے خلاف کوئی مزاحمت ہو، اس کے باوجود یہ قبضہ ناجائز ہو گا اور یہ حالتِ جنگ ہو گی۔ مزید یہ کہ جنیوا کنونشنز اور جو بھی انٹرنیشنل ہیومنیٹیرین لاء کے معاہدات ہیں اور جو اس کے ساتھ متعلقہ بین الاقوامی عرف ہے اور بین الاقوامی قانون کے قواعدِ عامہ ہیں، ان کی رو سے یہ بات بھی مسلّم ہے کہ جو مقبوضہ علاقے ہیں ان کے لوگوں کو قابض طاقت کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے۔ وہ مقبوضہ علاقے کے اندر سے بھی مزاحمت کر سکتے ہیں، وہ کسی اور علاقے میں جا کر جیسے جلاوطن حکومت قائم کی جاتی ہے، وہاں سے بھی مزاحمت جاری رکھ سکتے ہیں، دوسری ریاستیں بھی ان کی مدد کر سکتی ہیں، یہ ساری باتیں بین الاقوامی قانون کی رو سے طے شدہ ہیں۔
اب ایک اور بات کو بھی میں یہاں شامل کرنا چاہوں گا وہ حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، Right to Self Determination کا۔ اس کے متعلق بہت پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر ہم پہلی جنگ عظیم کے آس پاس ہی شروع کریں تو وُڈرووِلسن جو امریکی صدر تھا، اس کے جو مشہور فورٹین پوائنٹس (چودہ نکات) تھے ان میں حقِ خود ارادیت کا بھی ذکر تھا کہ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ کس طرح کی حکومت ان کی ہو گی؟ اور کون ان پر حکومت کرے گا؟ اور جو بھی حکومت کرے گا تو حاکم کو جو اختیار ہو گا وہ محکوم کی مرضی سے حاصل ہو گا۔ اسی طرح چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں بھی اس طرح کی باتیں کی تھیں لیکن جیسے مغربی طاقتوں کا منافقت کا ایک عمومی طریقہ ہوتا ہے تو چرچل کو بھی بعد میں کہنا پڑا کہ نہیں یہ جو میں نے باتیں کہیں تھیں ان کا تعلق تو صرف یورپ کی حد تک تھا کہ یورپ میں جرمنی نے یا دیگر طاقتوں نے جن علاقوں کو قبضے میں لیا تھا تو ان کو آزادی کا حق حاصل ہے۔ لیکن وقت کا پہیہ رکتا نہیں ہے، آگے بڑھتا ہے۔ تو اس لیے جب اقوام متحدہ کی تنظیم بنی تو اس میں بھی حقِ خود ارادیت تمام اقوام کیلئے تسلیم کیا گیا۔ پھر جو انسانی حقوق کا بین الاقوامی اعلان کیا گیا ، یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس ۱۹۴۸ء میں، اس میں بھی ، اور پھر جو سیاسی حقوق سے متعلق بنیادی معاہدہ (The International Covenant on Civil and Political Rights) اقوام متحدہ کی کوششوں سے تشکیل پایا ۱۹۶۶ء میں ، اس میں بھی حقِ خود ارادیت کو بنیادی ترین حق کے طور پر مانا گیا تمام لوگوں کیلئے۔ اس کے ساتھ اس بات کا اضافہ کیجئے کہ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بہت ساری قراردادیں حقِ خود ارادیت کے متعلق منظور کی ہیں۔ اور اس وجہ سے ۱۹۶۰ء کی دہائی کو تو یوں کہیں ڈی کولونائزیشن کی دہائی کہتے ہیں۔ کیونکہ افریقہ میں، ساؤتھ امریکہ میں، ایشیا میں بہت ساری ریاستیں آزاد ہو گئیں، مغربی طاقتوں سے انہوں نے آزادی حاصل کی۔
اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے ایک اور جنگ کے ذریعے بہت سارے علاقے قبضے میں لے لیے، شام سے، لبنان سے، مصر سے، اردن سے، تو یہ سارے علاقے مقبوضہ علاقے (Occupied Territories) ہیں۔ اور اقوام متحدہ کا سرکاری موقف اب بھی یہ ہے کہ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے جو علاقے قبضے میں لیے ہیں وہ مقبوضہ علاقے ہیں، ان میں اسرائیل کو قابض طاقت کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ علاقے اسرائیل کے ملک کا حصہ نہیں ہیں۔ یروشلم یعنی ہمارا القدس انہی علاقوں میں شامل ہے۔ القدس پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے۔ چاہے ۱۹۶۷ء میں یہ قبضہ ہوا ہو، ترپن چون سال ہو گئے ہوں، لیکن یہ قبضہ ہے، یہ ناجائز ہے، یہ جرم ہے، اور جلد یا بدیر اسرائیل کو بہرحال یہاں سے نکلنا ہو گا۔
جب فلسطینی آزادی کی تحریک چل پڑی تو یاد رکھیے کہ حقِ خود ارادیت کے متعلق بین الاقوامی فورمز پر، جنرل اسمبلی میں، یا جہاں کہیں بھی جتنی بھی بحث ہوئی ہے، تو بنیادی طو رپر حقِ خود ارادیت کی بحث میں مرکزی فریق کی حیثیت فلسطین کے لوگوں کو حاصل رہی۔ اور حقِ خود ارادیت کے معاملے میں عام طور پر جو بھی بحث ہوتی تھی ، اس کے حق میں ہوتی تھی، یا اس کے خلاف مغربی طاقتوں کی جانب سے ہوتی تھی، تو بیک گراؤنڈ میں فلسطین کا مسئلہ ہوتا تھا۔ اسی لیے جب اس سے تقریباً دس سال بعد ۱۹۷۷ء میں جنیوا معاہدات کے ساتھ دو مزید معاہدے اضافی شامل کیے گئے جن ہم ایڈیشنل پروٹوکولز کہتے ہیں، ان میں جو پہلا ایڈیشنل پروٹوکول ہے ۱۹۷۷ء کا، اس میں جب یہ قرار پایا کہ حقِ خود ارادیت کے لیے لڑنے والوں کو باقاعدہ Combatant (جنگجو) کی حیثیت حاصل ہے، یعنی بین الاقوامی قانون کی رو سے ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں، وہ جنگ میں شامل ہوں۔ اور جب وہ فریقِ مخالف کی قید میں آئیں گے تو ان کو جنگی قیدی کی حیثیت حاصل ہو گی۔ تو یہ ساری بحث بھی بنیادی طور پر فلسطینی آزادی کی تحریک کے تناظر میں ہو رہی تھی۔ اس میں یہ تسلیم کیا گیا کہ ان کو آزادی کیلئے لڑنے کا حق حاصل ہے۔ اور جب ان کو لڑنے کا حق حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ ان کو دوسری ریاستوں کی جانب سے سپورٹ ملنے کا حق بھی حاصل ہے۔
اس ضمن میں ایک اور اہم ترین دستاویز کی طرف میں اشارہ کرنا چاہوں گا، وہ ۲۰۰۳ء میں اقوام متحدہ کی جو عدالت ہے جس کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کہا جاتا ہے، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، اس کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ قابض اسرائیلی طاقت نے مقبوضہ علاقے میں دیوار تعمیر کرنی شروع کی تاکہ وہ خود کو حملوں سے محفوظ کرے۔ جیسے امریکہ آج بھی کہتا ہے کہ اس کو دفاع کا حق حاصل ہے۔ تو یہ دفاع کا حق کیسے حاصل ہے اسے؟ وہ تو قابض طاقت ہے، وہ تو خود جارح ہے، اس نے علاقے کو قبضے میں لیا ہوا ہے، اور اس کا قبضہ ناجائز ہے۔ تو کیا اب وہ اپنے آپ کو محفوظ کرنے کیلئے مقبوضہ علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس میں دیوار تعمیر کر سکتا ہے؟
یہ سوال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی طرف بھیجا کہ آپ اس کے قانونی نتائج ہمیں بتائیں۔ کیا قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل کو اس دیوار کی تعمیر کا اختیار حاصل ہے؟ اور اگر یہ دیوار کی تعمیر ناجائز ہے تو پھر اسرائیل کیلئے اس کے نتائج کیا ہیں؟ بین الاقوامی اداروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ دیگر ریاستوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟
اقوام متحدہ کی جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف ہے، اس میں اور سلامتی کونسل وغیرہ میں آپ نے فرق کرنا ہے۔ جو سلامتی کونسل ہے وہ سیاسی ادارہ ہے، وہاں فیصلے قانون اور اصول کی بنیاد پر نہیں ہوتے، سیاسی مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اور جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف ہے تو وہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کرتی ہے۔ اس لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے اس فیصلے کی بڑی اہمیت ہے۔ اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے تمام احباب سے میری گزارش ہو گی کہ وہ یہ فیصلہ تو ضرور پڑھیں۔ یہ فیصلہ بھی آپ کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ویب سائیٹ سے مل سکتا ہے، اس کی سمری بھی مل سکتی ہے۔ کم از کم وہ سمری تو ضرور پڑھیں۔
اس میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے طے کیا ہے کہ اس مقبوضہ علاقے پر اسرائیل نامی قابض ریاست کے قبضے کی کیا حیثیت ہے۔ اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ پھر قبضے سے متعلق جو قانون ہے Occupation Law اس کے تحت قابض ریاست یا قابض طاقت کیا کر سکتی ہے اور کیا نہیں کر سکتی؟ مثال کے طور پر وہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں سے اپنی وفاداری کا حلف نہیں لے سکتی، ان کو اس پر مجبور نہیں کر سکتی۔ پھر مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو کیا حقوق حاصل ہیں؟ پھر بین الاقوامی جو انسانی حقوق کا قانون ہے، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس لاء، اس کے تحت کیا کیا نتائج اس پر مرتب ہوتے ہیں؟ اسی طرح بین الاقوامی قانونِ جنگ کی رو سے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ اسرائیل نے کیا کیا خلاف ورزیاں کی ہیں؟ پھر دیگر ریاستوں کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟ اور بین الاقوامی اداروں کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟ یہ سارا کچھ اس فیصلے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وسیع پیمانے پر اشاعت بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے جب اس معاملے کا جائزہ لیا تو وہ کن نتائج تک پہنچی ہے؟
اگر ہم اسلامی شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس معاملے کا جائزہ لیں تو مظالم کی فہرست میں مزید بھی اضافہ ہو جاتا ہے، اور ہماری ذمہ داریوں کی فہرست میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم دوسرے فریق کے ساتھ گفتگو کیلئے بین الاقوامی قانون کو ایک مشترکہ معیار کے طور پر مانیں، اور ان کے ساتھ اس پر بحث کریں کہ آئیں کم از کم اس معیار کو تو مانیں جس کو آپ نے ہم پر مسلط کیا ہوا ہے۔ اس معیار کی رو سے دیکھیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟ ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟ اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے؟ تو اس کیلئے سب سے اہم دستاویز یہ ۲۰۰۳ء کا بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا فیصلہ ہے۔
اس بحث کی روشنی میں خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے اسرائیل کو ان علاقوں میں قابض طاقت کی حیثیت حاصل ہے، وہ یہاں آبادکاری نہیں کر سکتا، یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل نہیں کر سکتا، یہاں ایسی تبدیلیاں نہیں لا سکتا جو دور رَس ہوں، جو ریورس نہ کی جا سکتی ہوں۔ یہاں کے لوگوں پر وہ اس طرح کا اختیار نہیں رکھتا جیسے کوئی جائز حکومت اپنے لوگوں پر رکھتی ہے۔ اور جلد یا بدیر اس کو یہاں سے نکلنا ہو گا۔ اب اس کیلئے عملاً یہ جو مظلوم لوگ ہیں، ان کو ان ظالم لوگوں سے بچانے کیلئے بین الاقوامی قانون کی رو سے ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں اور ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان پر ہم انشاء اللہ آئندہ نشست میں گفتگو کریں گے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
- The Peace of Westphalia 1648
- Balfour Declaration 1917
- President Woodrow Wilson's 14 Points 1918
- British Palestine 1917-1948
- The Treaty of Versailles 1919
- League of Nations 1920
- The Kellogg-Briand Pact 1928
- United Nations 1945
- The Geneva Convention 1949/1977
- International Covenant on Civil rights 1966
- Six-Day War 1967
- International Court of Justice's Judgment 2003
- Oppenheim's "International Law"
قراردادِ مقاصد پر غصہ؟
مجیب الرحمٰن شامی

پاکستان کے انتہائی ممتاز اور سنجیدہ دانشور وجاہت مسعود یہ خبر لائے ہیں کہ 12 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی میں منظور کی جانے والی قراردادِ مقاصد نے ہماری قومی شناخت کی تشکیل میں کھنڈت ڈالی۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا ہے کہ لیاقت علی خان جمہوریت پسند نہیں تھے، ان کی کم نگاہی نے سکندر مرزا اور ایوب خان کو قوم پر کم و بیش آٹھ برس کا نادیدہ اقتدار سونپ دیا۔ مزید فرمایا گیا: لیاقت علی مغفور سمجھتے تھے کہ شبیر عثمانی سے ہاتھ ملا کے متحدہ ہندوستان میں مغل عہد کی تعلقہ دار نشانیوں کے لیے پاکستان میں غلبے کی ضمانت حاصل کر لیں گے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے کہ محمد علی جناحؒ رہنما تھے، لیاقت علی نے بیڑہ ڈبو دیا۔ لیاقت علی اور شبیر عثمانی کی عنایت کوئی چالیس برس ہمارے گلے میں حائل رہی، پھر جالندھر کے میاں طفیل محمد (امیر جماعت اسلامی) اور ضیاء الحق کے گٹھ جوڑ سے ہمارے دستور کے نافذ و متن کے درجے کو پہنچی، ہمیں اپنی مہلتِ نفس میں اس صبح کی اُمید نہیں جب دستورِ پاکستان کو اس آلودگی سے پاک کیا جائے گا۔
یہ تحریر پڑھ کر سر چکرا گیا ہے۔ وجاہت مسعود انگریزی ادب کے استاد ہیں۔ پاکستان میں جمہوری اقدار کی بحالی اور بالادستی کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ تاریخ پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ احتیاط اور آداب کے ساتھ بات کرنا ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ کڑوی باتوں کو بھی میٹھے الفاظ میں لپیٹنے کا فن جانتے ہیں۔ اُن سے اختلاف کرنے والے بھی اُن کو احترام سے دیکھتے اور وہ بھی اختلاف کرنے والوں کا احترام کرتے ہیں۔ دِل آزاری اُن کا شیوہ نہیں۔ وہ ہمارے اُن لکھاریوں میں سے ہیں جن سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھا جاتا ہے، پھر کیا ہوا کہ ''قراردادِ مقاصد‘‘ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ بے قابو ہو گئے۔ اکابرین کے شخصی احترام کے بھی قائل نہ رہے۔
قراردادِ مقاصد قرآن کا حصہ ہے نہ اس کے الفاظ الہامی ہیں۔ یہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ پاکستان بنانے والوں نے اس کے بارے میں سوچا اور اسے الفاظ کا قالب عطا کر دیا۔ پہلی دستور ساز اسمبلی نے اسے منظور کیا اور آج تک پاکستان کی ہر اسمبلی اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی آ رہی ہے۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے 1954ء میں جو پہلا دستوری مسودہ منظور کیا، یہ اس کا حصہ تھی۔ دوسری دستور ساز اسمبلی 1956ء میں ملک کو اس کا پہلا دستور دینے میں کامیاب ہوئی تو یہ اس دستاویز میں بھی شامل تھی۔ جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر کے دستور منسوخ کر ڈالا۔ 1962ء میں قوم کو ایک نیا دستور دینے کی ’’گستاخی‘‘ کی تو اس میں بھی یہ قرارداد شامل کرنا پڑی۔ 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زیر قیادت ’’نئے پاکستان‘‘ کی دستور ساز اسمبلی نے جو دستور اتفاقِ رائے سے منظور کیا، اس میں بھی قراردادِ مقاصد جوں کی توں رہی۔ تمام سیاسی جماعتوں نے خواہ وہ سیکولر تھیں یا مذہبی، قدامت پرست تھیں یا ترقی پسند، علاقائی تھیں یا قومی، اس قرارداد کو تسلیم کیا اور اسے دستور کا حصہ بنائے رکھنے کی تائید کی۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران چیف جسٹس حمود الرحمن کے ایک فیصلے کی روشنی میں اسے آئین کا قابلِ عمل حصہ بنایا گیا تو اس پر بھی کسی حلقے نے اعتراض نہیں کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف نے دستور کو معطل کرنے کی جسارت کی لیکن قراردادِ مقاصد دستور کا مؤثر حصہ رہی۔ صدر آصف علی زرداری کے زیر قیادت تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاقِ رائے سے آئین میں بڑی بنیادی تبدیلیاں کر ڈالیں، لیکن قراردادِ مقاصد کے کسی لفظ یا حرف تو کیا شوشے کو تبدیل کرنے کی کسی کو جرأت ہوئی، نہ کسی نے اس بارے میں کوئی مطالبہ کیا۔
اس تفصیل سے یہ واضح ہے کہ قراردادِ مقاصد کسی ایک یا دو افراد کی اختراع نہیں تھی، یہ شبیر عثمانی یا لیاقت علی خان کی سازش تھی نہ میاں طفیل اور ضیاء الحق جالندھری کو اس کی تخلیق کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ شرف تو پاکستان بنانے والوں کا تھا کہ اُنہوں نے مملکت کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا سامان کر دیا۔ یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کس لیے بنایا گیا تھا اور اسے کس طرح چلایا جا سکتا ہے۔
مقامِ حیرت ہے کہ لیاقت علی خان اور مولانا شبیر احمد عثمانی کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے فاضل دوست ان آداب کو بھی فراموش کر بیٹھے جن پر وہ ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں۔ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم سے بڑھ کر تحریکِ پاکستان کے دوسرے بڑے لیڈر تھے۔ وہ تحریکِ پاکستان کے دوران مسلسل کئی برس تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے، یہ شرف اُن سے چھینا نہیں جا سکتا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کو زمانہ شیخ الاسلام کے نام سے جانتا ہے، اُنہی نے مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی تائید و حمایت کے لیے جمعیت العلمائے اسلام کی بنیاد رکھی۔ اُنہیں قائد اعظمؒ ہی کے حکم کے تحت پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا رکن منتخب کرایا گیا تھا۔ مسلم لیگ کے اعلیٰ ترین قائدین سے لے کر ادنیٰ کارکن تک اُن کا نام احترام سے لیتے اور اس سے روحانی تقویت حاصل کرتے ہیں۔ لیاقت علی خان کو ایوب خان اور سکندر مرزا کی تقرری کا ذمہ دار قرار دے کر ان کا کِیا دھرا ان کے کھاتے میں ڈالنا انتہائی بے تکی بات ہے۔ اگر اس طرح کی منطق پر تاریخ کی عمارت استوار کی جانے لگی تو پھر کسی بھی شخص کی بداعمالی کا ذمہ دار اس کے والد، استاد، افسر یا آجر کو قرار دے کر اسے بآسانی بری الزمہ قرار دیا جا سکے گا۔
جس قراردادِ مقاصد پر ہمارے عزیز دوست چراغ پا ہوئے ہیں، وہ اسے اچھی طرح پڑھ کر تو دیکھیں۔ اس میں بنیادی بات یہی کہی گئی ہے کہ مملکت کا نظام عوام کے منتخب نمائندے چلائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ اسلامیانِ پاکستان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے گا۔ ان میں سے کون سی بات ہے جو گراں گزری ہے؟
یہ درست ہے کہ پاکستان میں اسلام کے نام پر فرقہ واریت پھیلائی گئی، یہ بھی درست ہے کہ فقہی جھگڑوں میں قوم کو اُلجھایا گیا، یہ بھی صحیح ہے کہ اسلام کے اعلیٰ اور ارفع اصولوں کو اجتماعی زندگی میں اپنایا نہیں جا سکا، لیکن یہ سب اس لیے ہوا کہ ملک کا نظام عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں رہا، ان سے یہ حق بار بار چھینا گیا۔ ہمارا المیہ قراردادِ مقاصد کی منظوری نہیں، اس کی نامنظوری ہے۔ ہم نے اسے کتابِ آئین کا حصہ تو بنا ڈالا لیکن عملاً اس کو نامنظور کر دیا۔ عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کرنے میں لگے رہے۔
پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں پر مشتمل تھا۔ اگر مذہب محض نجی معاملہ ہوتا، اسے اجتماعی زندگی سے کوئی سروکار نہ رکھنا ہوتا تو متحدہ ہندوستان میں بھی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا تھا۔ آل انڈیا کانگرس کا مؤقف یہی تھا۔ قائد اعظمؒ اور ان کے رفقاء نے اس نعرے کے ساتھ ہی تو الگ مملکت حاصل کی تھی کہ انہیں اپنی اجتماعی زندگی کو بھی اسلامی اصولوں پر استوار کرنا تھا۔ اگر ہم اپنے نظمِ اجتماعی کی ترتیب اپنے آدرشوں کے مطابق نہیں کر سکے تو آدرشوں سے دستبرداری اختیار کرنے کو تو شیوۂ مردانگی نہیں کہا جا سکتا۔
(روزنامہ پاکستان لاہور — ۱۷ مارچ ۲۰۲۴ء)
چیف جسٹس آف پاکستان کے قادیانیوں سے متعلق فیصلے پر ملی مجلسِ شرعی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا متفقہ تبصرہ اور تجاویز
ملی مجلس شرعی

ملی مجلس شرعی، جو تمام دینی مکاتب فکر کے علماء کا مشترکہ علمی فورم ہے اور 2007ء سے کام کر رہا ہے، اس کے علماء کرام کا ایک اجلاس 5 مارچ 2024ء کو جامعہ عثمانیہ/ جامع آسٹریلیا لاہور میں مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت ہوا۔ علماء کرام نے چیف جسٹس صاحب کے قادیانیوں سے متعلق فیصلے پر شق وار غور کیا اور مندرجہ ذیل رائے دی جسے سپریم کورٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔
(۱) پیرا گراف 6
اپنے فیصلے کے پیراگراف 6 میں چیف جسٹس صاحب نے قرآن حکیم کی آیت (لا اکراہ فی الدین) [البقرہ ۲۵۶:۲] کا حوالہ دیا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ جبکہ زیر بحث موضوع سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ کیس یہ ہے ہی نہیں کہ مسلمان قادیانیوں کو زبردستی مسلمان کر رہے ہیں، نہ قادیانیوں نے یہ شکایت کی ہے کہ مسلمان انہیں زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں، لہٰذا چیف جسٹس صاحب کا یہاں اس آیت کا حوالہ دینا غیر متعلق ہے۔
(۲) پیراگراف 7
یہاں چیف جسٹس صاحب نے قرآن حکیم کی دو آیتیں پیش کی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری دین پہنچا دینے کی تھی نہ کہ لوگوں کو زبردستی مسلمان کرنے کی۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ حوالہ بھی زیر بحث کیس سے غیر متعلق ہے اور خلط مبحث کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیس زیربحث میں زبردستی مسلمان کرنے کی شکایت نہ تو قادیانیوں نے کی ہے اور نہ مسلمان اس کے مدعی ہیں اور نہ اس پر عامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا۔ پھر پہنچا دینے کا مفہوم بھی چیف جسٹس صاحب غلط لے رہے ہیں۔ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین ذمہ داری دین پہنچا دینے ہی کی تھی، لیکن قرآنی تعلیمات اس پر شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اس کا گواہ ہے کہ آپؐ نے اسلامی معاشرہ بھی قائم کیا اور اسلامی ریاست بھی اور ریاست کی قوت سے اسلامی احکام پر عمل بھی کرایا۔ لہٰذا ’’پہنچا دینے‘‘ کا جو مفہوم چیف جسٹس صاحب لے رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔
چیف جسٹس صاحب نے اس پیراگراف میں یہ بھی کہا ہے کہ دین میں جبر تصورِ آخرت کے بھی منافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام دین میں جبر کا قائل ہی نہیں، نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس پر عمل کیا، نہ اس کا حکم دیا، نہ مسلمان اس کے قائل ہیں، نہ قادیانیوں نے یہ شکایت کی ہے کہ مسلمان انہیں زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں، تو چیف جسٹس صاحب کو یہ مقدمہ پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لہٰذا اس آیت کا ذکر بھی یہاں بے محل اور غیر متعلق ہے۔
(۳) پیراگراف 8
اس میں چیف جسٹس صاحب کہتے ہیں کہ قرآن غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اور اس کے لیے انہوں نے قرآن حکیم کی دو آیات نقل کی ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کیس میں آیات پر تدبر کرنے کی بجائے مدعی کی خواہش یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ملزمان کو توہین قرآن اور گستاخی رسول کا مرتکب قرار دے۔
اس کو اردو محاورے میں کہتے ہیں ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘۔ جناب! قرآن حکیم میں تدبر کرنے کا اس بات سے کیا تعلق ہے کہ کسی مرتد (و اولادِ مرتد) اور غیر مسلم کو قرآن کی غلط تشریح کرنے اور اس کی مسلمانوں میں تشہیر کرنے سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ جبکہ ریاست قرآن کی اس تشریح کو غلط اور مسلمانوں کے لیے مضر اور اشتعال انگیز قرار دے کر پہلے ہی اس پر پابندی لگا چکی ہے۔
پھر چیف جسٹس صاحب نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن پر غور و تدبر کا مقصود کیا ہے؟ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور اس پر غور و تدبر کرنے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ اس پر عمل کیا جا سکے۔ اور تعلیم ہی اگر غلط ہو تو اس پر عمل بھی غلط ہو گا۔ لہٰذا اگر کسی مسلمان نے کسی غیر مسلم کو قرآن کی غلط تشریح کرنے پر ٹوکا ہے، یا ریاست نے اسے اس سے روکا ہے تو ٹھیک کیا ہے۔ یہ قرآن حکیم پر صحیح تدبر کا صحیح نتیجہ ہے، لیکن چیف جسٹس صاحب اسے خلافِ تدبر قرار دے رہے ہیں۔
پھر اس پیراگراف میں چیف جسٹس صاحب نے قرآن حکیم کی اس آیت کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن ہم پر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس بات کا زیربحث کیس سے کیا تعلق ہے؟ یا یہ مدعی کے خلاف اور مدعا علیہم کے حق میں کیسے جاتی ہے؟ اس آیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسلمان اور ان کی ریاست متنِ قرآن کی حفاظت کریں اور قرآن کی اس تشریح کی حفاظت کریں جو مسلمانوں کی 1450 سالہ جمہور اہل علم اور جمہور امت کی روایت ہے۔ اس لحاظ سے اگر کوئی اس آیت کو پیش کر کے اس کی تشریح کرے تو یہ مدعی کے حق میں جاتی ہے نہ کہ مدعا علیہم کے حق میں۔ جو مسلمانوں کی قرآن کی متفقہ علیہ تعبیر کی مخالفت کرتے ہیں اور انہوں نے اس پر ایک نیا مذہب کھڑا کر لیا ہے۔
(۴) چیف جسٹس صاحب کو مشورہ
i۔ مندرجہ بالا تصریحات سے ظاہر ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میں جتنی قرآنی آیات کا بھی حوالہ دیا ہے وہ اس موضوع سے غیر متعلق ہیں، جس کی وجہ سے خلط مبحث پیدا ہوا ہے۔ لہٰذا ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ انہیں خود محسوس کرنا چاہیے کہ وہ قرآنی علوم کے ماہر نہیں ہیں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ قرآن حکیم سے براہ راست خود استفادہ کرنے کی بجائے ان اہلِ علم سے مشورہ لے لیا کریں جنہوں نے ساری عمر قرآن حکیم کو سمجھنے اور سمجھانے اور سیکھنے سکھانے میں گزاری ہے۔ جیسا کہ خود انہوں نے 26 فروری 2024ء والے فیصلے میں کیا ہے کہ بعض دینی اداروں کو اس سلسلے میں معاونت کے لیے کہا ہے۔ یہ کام انہیں 6 فروری 2024ء کے فیصلہ کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔
ii۔ اہلِ علم سے مشورہ لینے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ مشورہ ان سے لیا جائے جو امت کی 1450 سالہ علمی روایت کے امین ہیں اور ’’جمہور علماء‘‘ اور ’’جمہور امت‘‘ کہلاتے ہیں، نہ کہ شاذ رائے رکھنے والے کسی ایسے متجدد سے جو مغرب کی الحادی فکر و تہذیب سے مرعوب ہو کر قرآن و سنت کی تشریح ایسے کرتا ہو جو مغربی فکر و تہذیب اور اس کے علمبرداروں کے مفادات کے مطابق ہو، جیسے جاوید احمد غامدی صاحب جنہیں سارے پاکستان کے علماء گمراہ قرار دے چکے ہیں اور جن کے ادارے المورد کو چیف جسٹس صاحب نے دینی امور میں مشاورت کے لیے بلایا ہے۔ اگر وہ ان جیسے لوگوں سے مشاورت کریں گے تو پاکستان کی ملت اسلامیہ کبھی ان کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی، لہٰذا انہیں المورد کو مشاورت کے لیے نہیں بلانا چاہیے تھا۔
(۵) پیراگراف 8
چیف جسٹس صاحب نے یہاں فرمایا ہے کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق غیر مسلموں کو اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے مذہب کی تعلیم و تلقین کی اجازت دیتے ہیں۔
i۔ یہاں پہلی بات تو نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ آئین یہ اجازت غیر مشروط طور پر نہیں دیتا بلکہ اسے قانون کی مطابقت سے مشروط کرتا ہے۔ اب یہ دیکھیے کہ آئین پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے اور قانون ان کو اسلامی شعائر اور مصطلحات کے استعمال سے روکتا ہے، جیسے امیر المومنین، صحابہ کرامؓ، اہل بیت ، مسجد، اذان وغیرہ۔
ii۔ دوسرے یہ کہ قادیانی حضرات اپنے مذہب کو ساری دنیا میں، اور پاکستان میں صحیح اسلام اور صحیح مسلمان کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنا لٹریچر وسیع پیمانے پر طبع اور تقسیم کرتے ہیں اور اس مقصد سے سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے مسلمانوں کو (یعنی عامۃ المسلمین) کو وہ کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی مسلمان اور علماء کرام اس کو صحیح تسلیم نہیں کر سکتے کہ قادیانیوں کو بنیادی انسانی حقوق کے کور (Cover) کے تحت غیر اسلامی مواد کی طباعت اور تقسیم کی اجازت دی جائے، اپنے اداروں میں بھی اور باہر بھی۔
(۶) دفعہ 298C
چیف جسٹس صاحب کو یہ نکتہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تھا کہ حکومت پنجاب کے ادارے ’’قرآن بورڈ‘‘ نے اس قرآنی تفسیر ’’تفسیر صغیر‘‘ پر 2016ء سے اسے غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن حکیم کی تشریح قادیانی نقطۂ نظر سے اس طرح کی گئی ہے کہ اس کی طباعت اور تقسیم عام مسلمانوں کے لیے مضر اور اشتعال کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی نہ صرف اسے پاکستان میں چھپوا رہے ہیں اور تقسیم کر رہے ہیں بلکہ ساری دنیا میں اسے صحیح اسلامی تفسیر کہہ کر پھیلا رہے ہیں۔ ملزم اس کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کو اصل مسلمان ثابت کرنے کے لیے اس کتاب کی ترویج و تقسیم میں مصروف تھا جو 298C کے تحت جرم بنتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ملزم نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ میں کسی جگہ اس دفعہ کے خارج کیے جانے کا مطالبہ ہی نہیں کیا، لیکن فاضل چیف جسٹس نے اس خود ملزمان کو اس دفعہ سے خارج کر دیا ہے۔
(۷) دفعہ 295B
چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ ملزم کے خلاف 295B کا الزام ثابت نہیں ہوتا اور اسے مقدمے سے خارج کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ جب 295B میں Defilement کا لفظ موجود ہے جس کے معنی آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق یہ ہیں:
To make something dirty or no longer pure
اور اس کے مترادفات (Synonyms) ہیں: Spoil, Debase, Pollute, Degrade, Dishonour جبکہ یہی بات تو یہاں زیر بحث ہے کہ ملزمان نے قرآن کے متن، ترجمہ اور تفسیر کی ایسی طباعت و اشاعت کی ہے جس میں قرآنی مفاہیم میں تحریف اور زیادتی کی گئی ہے، تو اس پر 295B کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ اور چیف جسٹس صاحب نے کیونکر اس پر 295B کے اطلاق سے انکار کیا ہے؟
(۸)
جس مواد پر حکومت پابندی لگا دے، اس کی طباعت و اشاعت دہشت گردی کے ضمن میں آتی ہے (دیکھیے دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ 8 اور 11W)۔ لیکن فاضل چیف جسٹس صاحب اس پر غور ہی نہیں فرما سکے اور ملزمان کو بری کر دیا۔
(۹)
چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ اس مقدمے پر کریمنل امینڈمنٹ ایکٹ 1932ء لاگو ہوتا ہے جس کے تحت اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 6 ماہ قید ہے (جبکہ ملزم اس سے زیادہ قید کاٹ چکا ہے لہٰذا اس کی ضمانت قبول کی جانی چاہیے تھی) ۔ جبکہ مذکورہ ایکٹ 64 سال پہلے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ 1960ء کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔ جس کے ثبوت میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جبکہ اس کیس پر اطلاق درحقیقت ’’پنجاب ہولی قرآن پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ایکٹ 2011ء دفعہ 7 اور 9 کا ہوتا ہے جس کے تحت اس کی سزا عمر قید اور کم از کم تین سال ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے ایسا کیوں کیا ہے؟ اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔
(۱۰) پیراگراف 9
چیف جسٹس صاحب اس میں فرماتے ہیں کہ ہر شہری کو مذہبی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے۔ مگر بنیادی حقوق کی دفعہ 4 میں یہ آزادی مشروط ہے قانون کی مطابقت سے۔ پھر آئین کے آرٹیکل 260B کے مطابق قادیانی کوئی مذہب نہیں (ہندوؤں اور عیسائیوں کی طرح) بلکہ چند افراد کا ایک گروپ ہے جو اسلام کے حساس عقائد میں تحریف کرتا ہے۔ یہ بات قومی اسمبلی کی ان ابحاث سے بالکل واضح ہے جو 260B بناتے وقت قومی اسمبلی میں ہوئیں۔
(۱۱) پیراگراف 10
چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ اگر متعلقہ ادارے قرآن، آئین اور قانون کو دیکھ لیتے تو FIR درج ہی نہ ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ آئین کا آرٹیکل 4 کہتا ہے کہ ہر فرد کو آزادی حاصل ہے مگر قانون کے مطابق۔ اور قانون کہتا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور وہ مسلمانوں کے شعائر اور اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے۔ تحریف شدہ ترجمہ قرآن بھی خلافِ قانون اور قابلِ سزا ہے۔ قرآن بورڈ نے ہولی قرآن ایکٹ 2011ء کے تحت اس پر پابندی لگائی ہے تو عدالت کیسے کہہ سکتی ہے کہ FIR درج ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
(۱۲) پیراگراف 16
چیف جسٹس صاحب اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مذہبی جرائم کی روک تھام ریاست کا کام ہے نہ کہ کسی اکیلے آدمی کا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آئین کی رو سے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس میں کوئی قانون خلافِ اسلام نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اگر بن جائے تو ہر مسلمان کو حق ہے کہ وہ اسے اس بنیاد پر چیلنج کرے کہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں کہ مذہب کے خلاف قوانین کو کوئی فرد چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہاں تو ریاست کی حالت یہ ہے کہ مدعی نے 2019ء میں ریاست سے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ ملزمان توہین قرآن کے مرتکب ہو رہے ہیں، لیکن پوری کوشش اور بھرپور فالو اَپ کے بعد کہیں ۲۰۲۲ء میں جا کر ملزمان کے خلاف FIR کاٹی گئی۔
(۱۳)
ایک ملزم چیف جسٹس صاحب کے پاس ضمانت کرانے آیا تھا، باقی ملزمان مفرور تھے۔ چیف جسٹس صاحب نے انہیں بغیر مانگے، ان کی درخواست ضمانت کو اپیل میں بدلا اور پھر اسے قبول کرنے کا اعلان کر دیا، یعنی وہ سب جرم سے بری قرار دیے گئے۔ قادیانیوں سے یہ آوٹ آف دی باکس مہربانی کی وجہ چیف جسٹس صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔ اور پھر ان کا مشہورِ زمانہ رویہ کہ وکیلوں کو بولنے نہ دو، ڈانٹ ڈپٹ کر کے انہیں توہینِ عدالت کی دھمکی دو، خود بولتے رہو اور خود ہی فیصلہ کر دو۔ چیف جسٹس صاحب کا Tenure بہت تھوڑا ہے لیکن اپنے اس رویے کی وجہ سے وہ مدتوں یاد رکھے جائیں گے، جیسا کہ لوگ آج بھی اس چیف جسٹس کو یاد کرتے ہیں جس کے پاس ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر قوانین میں تبدیل کرنے کی اجازت لینے گیا اور سپریم کورٹ نے اسے آئین تبدیل کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ ما شاء اللہ!۔
(۱۴) آئین و قانون میں تبدیلی کی ضرورت
i۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علماء کرام اور عوام نے تحریک چلا کر 1974ء میں پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا۔ پھر تجربے نے ثابت کیا کہ قادیانیوں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور وہ مسلسل خود کو اصلی مسلمان ظاہر کرتے اور مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر علماء کے مطالبے پر جنرل ضیاء الحق کو امتناعِ قادیانیت آرڈیننس 1984ء میں پاس کرنا پڑا ۔ اور 295B میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی بعض اصطلاحات اور شعائر کا نام لے کر ذکر کرنا پڑا کہ وہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود ہمارا تجربہ یہ ہے کہ قادیانی بدستور التباس پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لہٰذا ایسے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ کچھ چیزوں کے نام لے کر ان کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے کہ قادیانیوں کو ان کے استعمال سے روک دیا جائے جن کی فہرست ہم یہاں دے رہے ہیں۔
ii۔ آئین میں تبدیلی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ چیف جسٹس صاحب اور ان کی طرح کے کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف جو قانون سازی کی گئی ہے وہ اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر اور آئین پاکستان میں مذکور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس بات سے اگر صرفِ نظر بھی کر لیا جائے کہ آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق سے لیے گئے ہیں اور ان میں سے کئی قرآن و سنت کے خلاف ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اس التباس سے بچنے کی موزوں صورت یہ ہے کہ آئین کے متعلقہ بنیادی حقوق میں جہاں شہری آزادیوں کا ذکر ہے، وہاں اسے قادیانیوں سے متعلق قوانین سے مشروط کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ یہ وجہ بہت اہم ہے، اور وہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا مسئلہ غیر مسلموں (ہندوؤں اور عیسائیوں) جیسا نہیں ہے بلکہ وہ مرتد (اور اولادِ مرتد) ہیں اور انہوں نے اسلام ترک کیا ہے۔ لہٰذا ان پر ایسی پابندیوں کا اطلاق تقاضائے انصاف ہے جن سے وہ خود کو مسلمان نہ ظاہر کر سکیں اور انہیں مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی اجازت نہ ہو۔
اس لیے ہم چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو آئین میں مذکورہ آئینی تبدیلی کے علاوہ 295B میں مندرجہ ذیل امور کو قانون میں شامل کرنے کی تجویز دیں:
۱۔ ’’احمدیوں‘‘ کو ’قادیانی غیر مسلم‘ اور ’لاہوری غیر مسلم‘ کہا جائے اور انہیں ’احمدی‘ نہ کہا جائے، کیونکہ احمدی اور محمدی تو عام مسلمان ہیں۔
۲۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھا جائے اور اس میں انہیں ’قادیانی غیر مسلم‘ اور ’لاہوری غیر مسلم‘ لکھا جائے۔
۳۔ قادیانی اور لاہوری غیر مسلموں کو مسلمانوں جیسے نام رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
۴۔ وہ قرآن کو اپنی مذہبی کتاب نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کی طباعت و اشاعت و تدریس کر سکتے ہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب ہے نہ کہ ان کی۔ یہی معاملہ کتبِ حدیث کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔
۵۔ ان کے مرد و خواتین کا لباس اور ان کی وضع قطع (داڑھی ٹوپی وغیرہ) مخصوص ہونی چاہیے اور عام مسلمانوں جیسی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ عہدِ صحابہ میں تھا اور حضرت عمرؓ نے اس کا حکم دیا تھا۔
۶۔ وہ اسلام کے کسی رکن مثلاً صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج اور جمعہ، عیدین، قربانی کو اپنی عبادت کے طور پر اختیار نہیں کر سکتے۔
۷۔ وہ اسلام کی اصطلاحات، شعائر، اسماء اور کسی بھی ایسے امر/رسم کو اختیار اور استعمال نہیں کر سکتے جس سے وہ یہ التباس پیدا کر سکیں کہ وہ مسلمان ہیں، اور نہ انہیں کسی بھی شکل میں خود کو مسلمان کہلانے کی اجازت ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ وہ عام کفار یعنی ہندوؤں، عیسائیوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ مرتد ہیں اور ترکِ اسلام کے مجرم ہیں، لہٰذا ان کا مسلمانوں سے اور ان کے شعائر، مقدسات، عبادات، اصطلاحات، رسوم و رواج سے الگ اور متمیز ہونا ضروری ہے، تاکہ ان کی الگ شناخت ممکن ہو سکے۔
اسمائے گرامی شرکاء مجلس
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم و ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)
۲۔ مولانا مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان (چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ، لاہور)
۳۔ مولانا عبد المالک (صدر وفاق رابطۃ المدارس، لاہور)
۴۔ مولانا عبد الرؤف ملک (سرپرست جامعہ عثمانیہ و آسٹریلیا مسجد، لاہور)
۵۔ مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی (مہتمم جامعہ اہلحدیث، چوک دالگراں، لاہور)
۶۔ مولانا محمد الیاس چنیوٹی (امیر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، پاکستان)
۷۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی (مہتمم جامعہ اسلامیہ و مرکز تحقیق اسلامی، کامونکی)
۸۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (نائب امیر جماعت اسلامی، پاکستان)
۹۔ مولانا سردار محمد خان لغاری (ناظم اعلیٰ متحدہ علماء کونسل، لاہور)
۱۰۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (مہتمم جامعہ رحمانیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی، لاہور)
۱۱۔ مولانا حافظ محمد عمران طحاوی (نائب ناظم اعلیٰ ملی مجلسِ شرعی، لاہور)
۱۲۔ مولانا عبد اللہ مدنی (ناظم تعلیمات جامعہ فتحیہ و مسئول وفاق المدارس العربیہ لاہور)
۱۳۔ حافظ ڈاکٹر محمد سلیم (مہتمم جامعہ عثمانیہ و آسٹریلیا مسجد، لاہور)
۱۴۔ مولانا ڈاکٹر محمد امین (سابق پروفیسر علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور)
فقہ الصحابہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

ابن عباس کے مولیٰ، شعبہ بیان کرتے ہیں کہ مسور بن مخرمہؓ عبد اللہ بن عباسؓ سے ملنے کے لیے آئے تو ابن عباس نے ریشم کا لباس پہن رکھا تھا (اور انگیٹھی یا چولہے پر پرندوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں)۔ مسور بن مخرمہ نے لباس پر اعتراض کیا تو ابن عباس نے کہا کہ میں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ریشم پہننے سے منع فرمایا تو آپ کے پیش نظر تکبر اور تجبر سے منع فرمانا تھا (جو اس وقت اس لباس کے ساتھ وابستہ تھا)، لیکن ہم بحمد اللہ ایسے نہیں ہیں (جو تکبر کے اظہار کے لیے اسے پہنتے ہوں)۔ مسور نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی پر تصویریں کیسی ہیں؟ ابن عباس نے کہا کہ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم نے انھیں کیسے آگ کے ساتھ جلا رکھا ہے؟ جب مسور رخصت ہو گئے تو ابن عباسؒ نے کہا کہ یہ لباس بھی میرے جسم سے اتار دو اور ان تصویروں کے سر بھی کاٹ دو۔ (معجم کبیر، مسند احمد ودیگر کتب حدیث)
مسور بن مخرمہ اور ابن عباس (جو دونوں جلیل القدر صحابی ہیں) کے اس مکالمے سے ایک طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ فقہائے صحابہ کیسے احکام کو ان کی علت کی روشنی میں سمجھتے تھے اور دوسری طرف یہ کہ اکابر اہل علم کیسے اپنے لیے زیادہ مبنی بر احتیاط طریقے کو پسند کرتے تھے۔ یہ اس بات کا بھی ایک عمدہ نمونہ ہے کہ اکابر اہل علم موجب اشتباہ اور خلاف اولیٰ چیزوں پر ایک دوسرے کو متنبہ کرتے اور ایک دوسرے کی نصیحت اور تنبیہ کو قبول کیا کرتے تھے۔
ابن عباسؓ نے ریشم پہننے اور تصاویر کے نمایاں ہونے کی ممانعت کو ان کی علت یعنی تجبر وتکبر اور تصویر کی تعظیم سے متعلق قرار دیا اور اس سے یہ اخذ کیا کہ اگر ریشم پہننے کا محرک تکبر نہ ہو اور تصویر نمایاں ہونے کے باوجود اس میں تعظیم کا پہلو دکھائی نہ دیتا ہو تو یہ دونوں امور حدود جواز میں آ جاتے ہیں۔ مسور بن مخرمہ نے بھی بظاہر ان کے استدلال پر کوئی معارضہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ممانعت کا اصل مدار اس کی علت پر ہوتا ہے اور علت کے انفکاک سے ممانعت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود ابن عباسؓ نے مسور بن مخرمہ کے جانے کے بعد یہ محسوس کیا کہ علم دین میں لوگوں کے لیے ایک نمونہ اور مرجع ہونے کی حیثیت سے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ احتیاط کے طریقے پر کاربند رہیں اور ریشم پہننے اور تصویر آویزاں کرنے کی ممانعت کی، ظاہر کے لحاظ سے ہی پابندی کریں تاکہ یہ عام لوگوں کے لیے اشتباہ کا موجب نہ ہو اور سد ذریعہ کا اصول غیر موثر نہ ہو جائے۔
جسٹس ڈاکٹر محمد الغزالی: لفظ بدون متبادل
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

3 اکتوبر 2010ء کو مولانا زاہد الراشدی کے یہاں الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں منعقدہ ریفرنس بسلسلہ ناگہانی رحلت جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ میں میری تقریر کی تحریری شکل ماہنامہ الشریعہ میں شائع ہوئی تھی۔ سفاک ارضی عصر رواں کی بندشوں میں کسے ہوئے کسی اتفاق ہی کا نتیجہ ہے کہ 18 دسمبر 2023ء کو انہی کے بھائی جسٹس ڈاکٹر محمد الغزالی رحمہ اللہ کی ناگہانی رحلت پر اب کی بار مجھے دو جگہ منعقدہ ریفرنس میں تقریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ پہلا ریفرنس کورنگ ٹاؤن اسلام آباد میں مرحوم پروفیسر افتخار بھٹہ کے گھر اتوار 31 دسمبر صبح 10 بجے تھا۔ بستی کے سینکڑوں مرد و زن شریک ہوئے۔ ڈاکٹر محمد الغزالی کے صاحبزادے اور میں نے مرحوم کی خوبصورت یادوں کی خوشبو سے محفل کو معطر کرنے کی کوشش کی۔ دوسرا ریفرنس پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقات اسلامی نے ادارے میں منعقد کیا جہاں سے مرحوم محترم اور میں بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے تھے۔ اس موقع پر جسٹس غزالی مرحوم کے اہل خانہ، ان کے متعدد رفقا کی اور میری معروضات شامل رہیں۔ دونوں تقاریب میں میری گفتگو کی ذرا بہتر شکل اس خیال کے ساتھ بطور شہادت پیش خدمت ہے کہ مرحوم کی زندگی کا ہر گوشہ محفوظ ہو کر بعد میں آنے والوں کے کام آ سکے:
محترم سامعین! عشروں قبل غالباً اردو ڈائجسٹ میں ایک سائنس فکشن پڑھا تھا۔ ایک شخص کو کوئی ایسا مرض لگ گیا جس کا علاج محققین کے اندازے میں 100 سال بعد ممکن تھا۔ مریض صاحبِ حیثیت تھا، لہٰذا معالجوں نے تجویز کیا کہ ہم تمہیں بے ہوش کر کے تمہارا جسم منجمد کر دیتے ہیں۔ علاج دریافت ہونے پر ہوش میں لا کر تمہیں ٹھیک کر دیا جائے گا۔ مریض مان گیا۔ طویل قانونی و طبی مراحل کے بعد اسے لٹا کر بے ہوش کیا جانے لگا تو وہ اچانک بھاگ کھڑا ہوا۔ دوڑ بھاگ کر پکڑے جانے پر پوچھا گیا کہ بھائی مسئلہ کیا ہے، تو اس نے چیخ و پکار مچا دی:
’’اے لوگو! مجھ بے عقل کو ابھی اسی وقت مرنے دو. میں یہ کیوں نہ سوچ سکا کہ آج مجھ 50 سالہ مریض کے پاس درجنوں تیماردار کھڑے ہیں۔ 100 سال بعد 150 سالہ شخص کو پہچاننے والا کوئی ایک بھی نہیں ہوگا، تو میں جی کر کروں گا کیا؟ یہ سمجھا سکو تو کر دو بے ہوش, ورنہ مجھے مرنے دو۔۔۔۔۔۔ مجھے مرنے دو۔۔۔۔ مجھے مرنے دو۔‘‘
معزز سامعین! 18 دسمبر کی کو رات 11 بج کر 21 منٹ پر، وہ ہمارے سامنے بیٹھے، جناب ڈاکٹر وقار مسعود نے گھٹی گھٹی آواز میں مجھے فون کیا۔ وہ جسٹس غزالی رحمہ اللہ کی رحلت کی تصدیق کرنا چاہ رہے تھے۔ آزردہ خاطر تصدیق تو میں نے کرنا ہی تھی لیکن ذہن میں جو فی البدیہہ جواب آیا تھا وہ اس وقت دینا ممکن نہیں تھا۔ وہ جواب میں انہیں آج سنائے دیتا ہوں۔ میں نے جس عہد میں زندگی گزاری، میں جن ستاروں کی ضوفشانی کے سہارے صحرائے زیست میں راستہ تلاش کیا کرتا تھا، علم و ادب کے جن قطب مناروں اور انسان دوست فرشتوں سے میں استفادہ کرتا رہا، جناب وہ تو ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے۔ اب اس شوریدہ سر بستی میں زندہ رہ کر میں نے کیا کرنا ہے۔ جسٹس ڈاکٹر محمود غازی، ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر انوار صدیقی، ڈاکٹر ممتاز، جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور ہائے ہائے! برادر بزرگ ڈاکٹر محمد میاں صدیقی بھی جب خاک نشین ہو گئے تو میں زندہ ہوں تو کیوں:
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی
شہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئیں
وہ تو اللہ کریم نے وسعتِ افلاک سے کوئی نور بھری لہر بھیج دی جس نے جھنجوڑا اور ڈانٹ کر تسلی دی:
"نادان! ابھی قحط الرجال کہاں؟ پروفیسر عطا اللہ چوہدری, ڈاکٹر انیس احمد, ڈاکٹر یوسف فاروقی, بیرسٹر فرخ کریم قریشی, ڈاکٹر طاہر منصوری اور پروفیسر حامد شریف کیا تمہاری دل جوئی کو کافی نہیں ہیں؟‘‘
نہ ہوئے لسانیات کے بے تاج بادشاہ، وہی اپنے آج کے ممدوح جسٹس غزالی مرحوم۔ فرمایا کرتے تھے:
"لفظ کے مفہوم کا تو ابلاغ ہو سکتا ہے، اس کا متبادل نہیں ہوتا۔ متبادل کی اپنی شناخت، اپنا استعمال اور اپنا نسبی شجرہ ہوتا ہے"۔
آج زندہ ہوتے تو میں یہ ٹکڑا لگا دیتا کہ انسان کا بھی کوئی متبادل نہیں ہوتا، اور ان سے پوچھتا کہ آپ کا متبادل لاؤں تو کیسے اور کہاں سے کہ جب لفظ اور انسان کا متبادل ہوتا ہی نہیں۔ یہ بھی فرمایا کرتے تھے:
"رشتوں میں صرف باپ، اور دیگر میں صرف استاد ہی وہ دو شخص ہیں جو بیٹے اور شاگرد کو زندگی کی دوڑ میں اپنے سے ایک قدم آگے دیکھنا چاہتے ہیں"۔
میں علم و تقویٰ میں تو خیر ان سے کیونکر آگے نکل پاتا۔ معلوم نہیں ان کی آنکھوں میں کوئی ریڈار لگا تھا، یا کوئی مخفی قوت انہیں پہلے خبر دے دیا کرتی تھی۔ 42 سالہ مسلسل اور براہ راست تعلق میں ان سے ہزاروں مرتبہ آمنا سامنا ہوا لیکن خواہش اور بھرپور کوشش کے باوجود میں انہیں سلام میں پہل کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔ بسا اوقات کہ جب انہیں خدشہ ہوتا کہ پہل کرنے میں شاید وہ کامیاب نہ ہو پائیں تو دور ہی سے باآواز بلند تجوید کے ساتھ السلام علیکم کانوں میں اچھال دیتے تھے۔
آپ نے جسٹس غزالی مرحوم کی حق گوئی و بے باکی کا بہت کچھ سن رکھا ہوگا۔ بعض افراد شاید اس کے چشم دید گواہ بھی ہوں۔ تاریخ سے البتہ گزارش ہے کہ اپنے صفحات میں ایک شہادت میری بھی مرقوم کر لے۔ آنجناب اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر حسن عبداللطیف شافعی کے غیر معمولی مداح تھے۔ کوئی سوا سال قبل میں نے ڈاکٹر شافعی کے احوال پر ایک اخباری مضمون لکھا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے پڑھا تو اصرار کر کے مزید مضمون لکھوائے اور مرتے دم تک مصر رہے کہ مزید لکھوں اور لکھوں بھی تو ڈاکٹر شافعی کے علمی مرتبے پر۔ یہ ذرا ناممکنات میں سے تھا۔ انہی دنوں انہوں نے دو گھنٹے 48 منٹ فون کر کے مجھے علاوہ ازیں بے پناہ معلومات دیں۔ ان میں سے ایک بات ڈاکٹر شافعی کے بارے میں تھی۔ لیکن ان کی بے باکی سمجھانے کے لیے پہلے مجھے چند دیگر واقعات کا سہارا لینا ہوگا۔
ڈاکٹر شافعی اسلامی یونیورسٹی کے چار سال صدر رہے۔ صدر جامعہ یونیورسٹی کا بورڈ آف ٹرسٹیز 4 سال ہی کے لیے مقرر کرتا ہے۔ 4 سال پورے ہوئے تو بورڈ کا اجلاس نہ ہو سکا۔ یوں ڈاکٹر شافعی قائم مقام صدر جامع قرار پائے۔ 6 سال بعد بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ روایت کے مطابق ڈاکٹر شافعی کے پچھلے دو سال کی توثیق کر کے انہیں مزید 2 سال کے لیے صدر جامعہ مقرر کر دیا جاتا۔ لیکن ہوا یہ کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اجلاس میں ڈاکٹر شافعی کے پچھلے 2 سالوں کی توثیق تو کرا دی لیکن اگلے 2 سال کے لیے ڈاکٹر محمود غازی مرحوم کو صدر جامعہ بنا دیا۔ اب آئیے واپس ڈاکٹر غزالی مرحوم کی طرف آتے ہیں۔ اسی مذکورہ طویل ترین فون پر اس بابت انہوں نے اپنے سگے بھائی کے بارے میں جو رائے دی وہ انہی کے الفاظ اور انداز بیان میں کچھ یوں تھی۔
"صاحب میں نے تو اس موقع پر بھائی صاحب (ڈاکٹر غازی مرحوم) سے کہہ دیا تھا کہ شافعی صاحب کے ہوتے ہوئے آپ کو یہ عہدہ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا. شافعی صاحب کے چھ سالہ عہد صدارت میں بھلا بتائیے، صاحب کیا عملاً وہی صدر جامعہ نہیں تھے جبکہ ذمہ داری کلیتاً شافعی صاحب کی تھی۔ بھائی صاحب مرحوم بقیہ دو سال بھی یوں ہی گزر جانے دیتے۔ شافعی صاحب جس رنجیدگی کے ساتھ مصر واپس گئے تھے، وہ کس سے پوشیدہ ہے؟ بھائی صاحب کو شافعی صاحب کے ہوتے ہوئے یہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا"۔
مرحوم کو جواب دینا میرے حسبِ حال نہیں تھا۔ لیکن میرے خیال میں صورت یوں رہی کہ منصب کے اعتبار سے ڈاکٹر غازی بورڈ کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اور شاید ہوئے بھی نہیں۔ بطور ممبر نیشنل سیکیورٹی کونسل یا وفاقی وزیر کے بطور وہ کئی سال جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کام رہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ کسی دیگر حیثیت میں وہ بورڈ کے اس اجلاس میں شریک ہوئے یا نہیں، دونوں صورتوں میں اپنی تقرری میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جب فیصلہ ہو گیا تو ان کے منصب قبول نہ کرنے پر یونیورسٹی کا کوئی صدر نہ ہوتا کیونکہ بورڈ کا دوبارہ اجلاس فی الفور بلانا ناممکن تھا، لہٰذا مجھ خاکسار کی رائے میں ڈاکٹر غازی صاحب کا عمل "مباحات زیست" میں سے ایک مباح ہی تھا۔ دوسری طرف ڈاکٹر غزالی رحمہ اللہ کی حق گوئی اور بے باکی کا اندازہ آپ نے کر لیا ہوگا۔ وہ غازی صاحب مرحوم کی وفات کے 13 سال بعد بھی ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے رہے جو ان کے دل و دماغ سے پھوٹ رہا تھا۔ ان کا اپنا ذخیرہ الفاظ لگی لپٹی سے خالی تھا۔
دعا ہے کہ اللہ کریم ان کو اپنے قریب کہیں انہی جیسے صالحین، مستغنی اور ماہرین لسانیات کے جلو میں جگہ دے، آمین۔
بعد اَز رمضان رب کا انعام بصورت عید الفطر
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

مسلمان رمضان المبارک میں اللہ پاک کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں، اسے منانے میں فرائض و واجبات کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب رب راضی ہوتا ہے تو خوشی کے اظہار کے لیے اپنے بندوں کو ایک دن بھی عنایت کرتا ہے اور وہ دن عید الفطر کا ہوتا ہے۔ عید الفطر یا عید عالمِ اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو کہ ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے اور ہر سال بڑی دھوم دھام سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے، جبکہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔
عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی خوشی، جشن، فرحت اور چہل پہل کے ہیں۔ جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں، یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالی بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہٰذا اس تہوار کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔ عید الفطر وہ انعام ہے جو امتِ مسلمہ کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کے بعد عطا ہوا ؎
یہ خوشی ہے روزہ داروں کے لیے
روزے جو گئے اُن کی رسید آئی ہے
عالمِ اسلام ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں؛ عید الفطر اور عید الاضحٰی۔ عید الفطر کا یہ تہوار جو کہ پورے ایک دن پر محیط ہے اسے چھوٹی عید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں سورت البقرہ میں اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق؛ ہر مسلمان پر ماہ رمضان کے تمام روزے رکھنا فرض ہیں جبکہ اسی ماہ میں قرآن مجید کے اتارے جانے کا بھی تذکرہ ہے، لہٰذا اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔
عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں عید مبارک کہنا، گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ آپس میں مرد حضرات کا مردوں سے بغل گیر ہونا، رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور جگہ جگہ میلے ٹھیلے منعقد ہوتے ہیں، جن میں اکثر مقامی زبان اور علاقائی ثقافت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
خصوصی طور پر مسلمان صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں، پھر دن چڑھے ایک مختصر سا ناشتہ یا پھر کھجوریں کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ،جو کہ ایک طرح سے اس دن روزہ کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ مسلمانوں کی ایسے مواقع پر اچھے یا نئے لباس زیب تن کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جبکہ نئے اور عمدہ لباس پہن کر مسلمان اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد، عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں جاتے ہیں۔ شاعر (احمد علی برقی اعظمی) نے اس عید الفطر کے منظر کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
دلوں سے سب کے کدورت مٹائے عیدالفطر
نقوشِ بُغض و حسد کو مِٹائے عیدالفطر
دلوں میں شمعِ محبت جَلائے عیدالفطر
جو غمزدہ ہیں اُنہیں آکے شادکام کرے
جو رو رہے ہیں انہیں بھی ہنسائے عیدالفطر
بڑھائے حوصلہ پژمُردہ دل ہیں جو اُن کا
جو گِر رہے ہیں اُنہیں بھی اُٹھائے عیدالفطر
یہ اُستوار کرے رشتہ محبت کو
ہے جو بھی عہدِ وفا وہ نِبھائے عیدالفطر
دیار غیر میں ہیں جو، رہیں خوش و خُرم
وطن کی یاد کو دل سے بُھلائے عیدالفطر
ہوں ہمکنار خوشی سے سبھی امیر و غریب
ہمیں بھی اور اُنہیں، راس آئے عیدالفطر
خزاں کی زد میں نہ گُلزارِ زندگی ہو کبھی
چمن میں اپنے نئے گل کِھلائے عیدالفطر
یہ سدِ باب کرے تیرگی کا اے برقی
کبھی نہ شمعِ اخوت بُجھائے عیدالفطر
یاد رکھیے! نماز عید میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ تکبیریں کہنا اور راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔ عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا، اور اچھا لباس پہننا سنت ہے۔ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام ہے۔ عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہو نے سے ضحوہ کبریٰ تک ہے۔ ضحوہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے۔ ہر نماز کے ادا کرنے سے پہلے اذان کا دیا جانا اور اقامت کہنا ضروری ہے، مگر عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ جبکہ اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں، پہلی رکعت میں ثنا کے بعد اور دوسری رکعت میں قراءتِ سورت کے بعد ہاتھ اٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔
عید الفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالمِ اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔ جس میں اللہ تعالی سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے اس کی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خطبہ عید میں عید الفطر سے متعلق مذہبی ذمہ داریوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے فطرانہ کی ادائیگی وغیرہ۔ اس کے بعد دعا کے اختتام پر ہر فرد اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے افراد کو عید مبارک کہتا ہوا بغل گیر ہو جاتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں دوستوں اور جان پہچان کے تمام لوگوں کی طرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ زیارت القبور کی خاطر قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔
شوال یعنی عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ جبکہ ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت کی اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں، یعنی آہستہ آواز سے تکبیریں کہی جاتی ہے: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد۔ تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک چلتا ہے۔
عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر صدقہ فطر ادا کرتے ہیں جو کہ ماہِ رمضان سے متعلق ہے۔ جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو، یا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو اس پر عید الفطر کے دن کا صدقہ فطر دینا واجب ہے، چاہے وہ سوداگری کا مال ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو شریعت میں ’’صدقہ فطر‘‘ کہتے ہیں (درمختار)۔ صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے، بڑے سب پر واجب ہے۔ صدقہ فطر میں اگر گیہوں یا گیہوں کا آٹا، ستو دیا جائے تو نصف صاع یعنی پونے دو سیر بلکہ احتیاطاً دو سیر دے دینا چاہیے۔ اور اگر گیہوں اور جو کے علاوہ کوئی اور غلہ دینا چاہے جیسے چنا، چاول تو اتنا دے کہ اس کی قیمت نصف صاع گندم یا ایک صاع جو کے برابر ہو جائے۔ اور اگر غلہ کے بجائے اس کی قیمت دی جائے تو سب سے افضل ہے (درمختار)۔
ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی حدیث میں ملتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ دو دن بطور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا: یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ (یعنی اب تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے؟) انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں، یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر۔ غالباً وہ تہوار جو اہلِ مدینہ اسلام سے پہلے عہدِ جاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نوروز اور مہرجان کے ایام تھے، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا اللہ تعالی نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا جزا ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اے فرشتو! میرے بندوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کیلئے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں۔ مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرور قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے) لوٹتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔
قرآن مجید میں سورہ المائدہ کی آیت ۱۱۴ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے: ارشاد باری تعالی ہے: عیسٰی ابن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے (بطور) عید (یادگار) قرار پائے، اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں یہ (خوان) تم پر اتار تو دیتا ہوں، مگر اس کے بعد جو کفر کرے تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کو نہ دیا ہو۔
کسی قوم کی خوشی اور مسرت کے دن کو قرآن نے عید کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اور جو دن کسی قوم کے لیے اللہ تعالی کی کسی خصوصی نعمت کے نزول کا دن ہو وہ اس دن کو اپنا یومِ عید کہہ سکتی ہے۔
آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں، جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوامِ عالم امت ِمسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس خوشی کے موقع پر اپنے ان بھائیوں کو بھی یاد رکھیں جنہیں گلے ملنے والا کوئی نہیں، جن کو نیا لباس میسر نہیں، جن کا چولہا اس مبارک دن بھی جلتا دکھائی نہیں دیتا۔ اصل عید تو اس کی ہوتی ہے جو عید کے اس مبارک دن بے سہارا لوگوں کو سہارا دیتا ہے۔ اسلام میں صدقہ فطر بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جو اس خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے آج کے دن وہ بھی صدقہ فطر کے مستحق بن کر اس خوشی میں شامل ہو جائیں۔
آئیے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم بھی ان لوگوں کو گلے لگائیں گے جو گلے لگانے کے اصل مستحق ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی حق داروں کی قدر اور ان کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بحرمۃ سید الانبیاء والمرسلین۔
فحاشی و عریانی: معاشرے کی تباہی کا سبب
مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد

اللہ رب العزت نے انسان کو خیر کے کاموں پر عمل کرنے اور اس کی اشاعت کرنے کی تلقین کی ہے، اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جن سے اللہ رب العزت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، ان میں سے فحاشی و عریانی ہے۔ ذیل میں اس سے فحش کاموں سے اجتناب سے متعلق قرآن حکیم کی آیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پیش کیے جا رہے ہیں:
شیطان فحش کاموں کی تعلیم دیتا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (النور ۲۱)۔
ترجمہ: اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پیروی نہ کرنا شیطان کے نقش قدم کی، اور جو کوئی پیروی کرے گا شیطان کے نقش قدم کی تو یقینا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا کہ بیشک وہ تو بے حیائی اور برائی ہی سکھاتا ہے۔
کھلے عام، چھپ کر گناہ کرنا حرام ہے
ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ..... وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ( الانعام ۱۵۱)۔
ترجمہ: آپ کہیے کہ آؤ تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے ۔۔ اور بےحیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ، ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔
ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ....(الأعراف۳۳)
ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں ، اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو ناحق کسی پر ظلم کرنے کو۔
امام رازیؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس آیت کے الفاظ مَا ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ میں ایک نقطہ پوشیدہ ہے کہ: انسان جب ظاہری معصیت کے کاموں سے اجتناب کرتا ہے لیکن سری گناہوں سے اجتناب نہیں کرتا، تو یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا یہ اجتناب لوگوں کے ڈر کی وجہ سے ہے نہ کہ اللہ کی بندگی و اطاعت کی وجہ سے، تو یہ تصور سراسر باطل ہے اور جو اس نیت سے ظاہراً گناہ نہیں کرتا لیکن چھپ کر تمام معصیت کے کام کرتا ہے تو اس امر کا اندیشہ کہ وہ کفر میں مبتلا نہ ہو جائے۔ اور جو شخص ظاہری و باطنی گناہوں سے اجتناب کرتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی اطاعت و بندگی میں اپنے آپ کو معصیت کے کاموں سے بچاتا ہے۔ ( رازی،محمد بن عمر(606)،التفسیر الکبیر،دار إحياء التراث العربي - بيروت1420 هـ ج۱۳،ص۱۷۸)
ڈاکٹر وھبۃ الزحیلیؒ فرماتے ہیں: ایک قول یہ ہے کہ الظاہر سے مراد وہ معصیت کے کام ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرتا ہے اور باطن سے مراد وہ معصیت کے کام ہیں جن کا تعلق دل سے ہو جیسے تکبر، حسد۔ ( زحیلی،وھبہ بن مصطفی ،التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنھج،ج۸،ص۹۷)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت نے سختی کے ساتھ ظاہری اور باطنی گناہوں کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
فحشاء سے مراد
اس کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں قبیح ہو وہ فحش ہے۔ مثلاً: بخل، زنا، برہنگی، عریانی، عملِ قومِ لوط، جنسی زیادتی، محرمات سے نکاح کرنا، چوری، شراب نوشی، گالیاں بکنا، بدکلامی کرنا وغیرہ۔
اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا فحش کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈہ، بہتان تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے، ڈرامے اور فلم، عریاں تصاویر آویزاں کرنا، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا وغیرہ۔
حیا اور فحاشی کے نتائج
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَلَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ» (ترمذی،محمد بن عیسیٰ،سنن ترمذی،ح۱۹۷۴)۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بھی بے حیائی آتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے“۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» ( سنن ترمذ،ح۲۲۲۷)۔
حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں۔‘‘
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَبِي سَمُرَةُ جَالِسٌ أَمَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْفُحْشَ، وَالتَّفَحُّشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ، وَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ إِسْلَامًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" (مسند احمد بن حنبل ،۲۰۸۳۱)۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔‘‘
فحاشی کے فروغ کے وسائل
فحش کاموں میں مبتلا ہونے کے دو اہم وسیلیں ہیں: (۱) زبان کے ذریعے فحاشی کا فروغ ، (۲) آنکھ کے ذریعے فحش کام۔
(۱) زبان کے ذریعے فحاشی کا فروغ
انسانی جسم کے اعضاء میں ایک عضو زبان ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنا مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس نعمت کو خیر اور بھلائی کی اشاعت میں استعمال کرنے کی تعلیم دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زبان کا استعمال اگر درست کیا جائے تو معاشرے میں امن قائم رہتا ہے، خاندان مستحکم ہوتے ہیں، آپس کے تعلقات برقرار رہتے ہیں اور ہر طرف خیر کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔ لیکن اگر اس کا استعمال درست نہ کیا جائے تو بدتمیزی کا غلبہ ہوتا ہے، معاشرتی اقدار پامال ہو جاتے ہیں، رشتوں کی اہمیت فنا ہو جاتی ہے، آپس میں عدم اعتمادی کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ معاشرے کو پرامن اور تہذیب یافتہ رہنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی تعلیم دی ہے کہ فحش گوئی سے اجتناب کیا جائے، ذیل میں چند احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان کو غلط استعمال کرنے سے انفرادی و اجتماعی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ فَسَكَتُّ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ» ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّأمُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ، وَهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ، وَعَلَى آمِينَ» (ابن خزیمہ،محمد بن اسحاق،(م:۳۱۱)،صحیح ابن خزیمہ،ح۱۵۸۵)۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السام علیک یا محمد (اے محمد آپ پر ہلاکت ہو) ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک (اور تجھ پر بھی)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ میں خاموش رہی۔ پھر دوسرا یہودی داخل ہوا اس نے بھی یہی کہا: السام علیک، میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ پھر تیسرا یہودی داخل ہوا اور کہا: السام علیک، مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا: وعليك السام وغضب اللہ ولعنته، اخوان القردة والخنازیر (تم پر بھی ہلاکت ہو اور اللہ کا غضب اور اس کی لعنت بندروں اور خنزیر کے بھائیو) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا سلام کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ فحش کو پسند نہیں کرتا نہ ہی تکلف سے فحش کہنے کو پسند کرتا ہے، انہوں نے ایسی بات کہی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا۔ یقیناً یہودی حاسد قوم ہے، کسی چیز پر یہ ہم سے اتنا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ ہم سے”سلام“ اور ”آمین“ پر کرتے ہیں
عن عبد الله بن عمرو بن العاصي قال: سمعت رسول الله - صلي الله عليه وسلم - يقول: "الَظلم ظلمات يومَ القيامة، وإياكم والفحْشِ، فإن الله لا يحب الفحْش ولا التفَحُّش،.. (احمد بن حنبل،مسند احمد بن حنبل،ح۶۴۸۷)۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا۔
بدگوئی، فحش کلام کی کثرت قیامت کی علامت میں ہے
عبد الله بن عمرو عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: إن الله تعالى لا يحب الفاحش و لا المتفحش ثم قال: و الذي نفس محمد بيده لا تقوم الساعة حتى يظهر الفحش و التفحش و سوء الجوار و قطيعة الأرحام و حتى يخون الأمين و يؤتمن الخائن (محمد بن عبداللہ حاکم نیساپوری،مستدرک علی الصحیحن علی الصحیحن،ح۸۵۶۶)۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدگوئی اور فحش گوئی كو نا پسند كرتا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تك امین کو خائن نہ سمجھا جائے اور خائن کو امین نہ سمجھا جانے لگے، اور فحش گوئی، بدگوئی، قطع رحمی اور برے پڑوسیوں كی اكثریت نہ ہو جائے۔
درج بالا احادیث سے یہ امر معلوم ہوا کہ زبان کے توسط سے فحش پھیلانا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی قباحت اس سے بھی ثابت ہے کہ اللہ رب العزت بھی اس کو پسند نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ انسانی فطرت بھی ہر اس کام سے دور رہنا پسند کرتی ہے کہ جو اس کی طبیعت کے موافق نہ ہو، لیکن شیطان اپنی ذمہ داری بخوبی انجام دیتے ہوئے انسان کو فحش گوئی اور بدکلامی پر آمادہ کرنے کے لیے مستقل کوشش کرتا رہتا ہے ۔اب یہ بندہ مؤمن کا امتحان ہے کہ وہ اپنے آپ کو شیطانی امر کا پابند بناتا ہے یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت تیزی کے ساتھ فحش گوئی اور بدکلامی ،الزام تراشی کی بیماری پھیلتی جا رہی ہے، ایک شخص کسی دوسرے پر اعتراض کرتا ہے تو دوسرا شخص ذاتیات پر اتر آتا ہے اور بے جا الزام تراشی کی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں معاشرتی ماحول آلودہ ہو جاتا ہے اور یہ کام اگر ٹی وی ٹاک شوز کے ذریعے کیا جائے تو معاشرے پر اس کے ہولناک اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ آج اس امر کا لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ بدکلامی کے نتیجے میں معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اور ہماری اولاد اور ہمارا معاشرہ پر امن رہے اور تہذیب یافتہ بنے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کریں بالخصوص خاندانی زندگی میں اور میڈیا پر ہونے والے مارننگ شوز وغیرہ پر۔ اس کے نتیجے میں اللہ رب العزت اپنی رحمتیں نازل فرمائیں گے۔
(۲) آنکھ کے ذریعے فحش کام
جس دور میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں انسانوں کے درمیان روابط کے وسائل غیر محدود ہیں، جہاں ان کے ذریعے سے انسان کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے اسی طرح یہ وسائل اپنے اندر نقصانات بھی سمیٹے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بندہ مؤمن اللہ کے ہاں اپنے ہر عمل کا جوابدہ ہے حتیٰ کہ اپنے جسم کے اعضاء کا بھی کہ اس نے ان اعضاء سے خیر کا کام کیا یا برائی کا، اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔ آنکھ کے جسم کا ایک عضو ہے جس کی حفاظت کرنا بندہ مومن کی ذمہ داری ہے اس لیے کہ قیامت کے روز اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِه عِلْمٌ إنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل ۳۶) ۔
جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔
آج کے دور میں ان اعضاء کی حفاظت کی ذمہ داری مزید بڑھ چکی ہے کہ انٹرنیٹ پر فحش ویڈیوز کی بھر مار ہے ،جب کوئی ویب سائٹ پر جاتے ہیں تو ایک طرف عریاں تصاویر، ویڈیوز کے لنک دستیاب ہوتے ہیں، اسی طرح ٹک ٹاک، سنیک ویڈیوز جن کے ذریعے بے ہودگی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اپنی اپنے اہلِ خانہ کی اور اپنے اردگرد رہنے والوں کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔ اسی طرح اس زمرے میں مختلف محافل بھی شامل ہیں جن میں ناچ گانے ہوتے ہیں، اسی طرح غیر محرم خاتون کو دیکھنا اور اس کے برعکس بھی کہ کوئی لڑکی غیر محرم لڑکے کو کو دیکھے۔ گویا جتنے بھی برائی کے کام دیکھنے کے ذریعے سے ہو سکتے ہیں وہ سب حرام ہیں۔ اس لیے بحیثیت مومن و مومنہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو برائی کے دلدل سے بچائیں تاکہ اللہ رب العزت بھی ہم مہربان ہو۔
فحاشی عریانی کے معاشرتی زندگی پر اثرات
فحاشی کے ذریعے سے معاشرتی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :
- اللہ کی نافرمانی عام ہو جاتی ہے
- برائی کا راستہ آسان ہو جاتا ہے
- دل سیاہ ہو جاتا ہے
- رزق سے برکت ختم ہو جاتی ہے
- مختلف قسم کی وبائیں پیدا ہو جاتی ہیں۔
- بداعتمادی کی فضا قائم ہو جاتی ہے
- مختلف صورت میں اللہ کی طرف عذاب آتے ہیں۔
برائی سے نجات کے وسائل و ذرائع
- اللہ سے توبہ و استغفار کرنا اور گناہ دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔ یہ بات ذہن رکھیے کہ انسان کتنے ہی گناہ کر لے اگر وہ موت سے قبل توبہ تائب ہوتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔
- اللہ کے بتائے ہوئے نظام زندگی سے اپنی زندگی کو مرتب کرنا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا۔
- پنج وقتہ نماز کی پابندی کرنا۔
- قرآن حکیم کی تلاوت کرنا۔
- برائی کے تمام راستوں کو اپنے اوپر حرام کر لینا۔
- اللہ سے خیر کے راستوں پر استقامت کی دعا کرنا۔
- خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔
اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور دین اسلام کے موافق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حیدر: پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ نیا مرکزی جنگی ٹینک
آرمی ریکگنیشن

IDEX 2023 کے دوران، پاکستان کی دفاعی صنعت نے حیدر نامی مقامی ساختہ مین بیٹل ٹینک کی نئی نسل کی نقاب کشائی کی۔ IDEX 2023 ایک بین الاقوامی دفاعی نمائش ہے جو ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئی۔ نیا ٹینک پہلی بار نومبر 2022ء میں پاکستان میں دفاعی نمائش ’’آئیڈیاز‘‘ کے دوران پیش کیا گیا۔
کئی سالوں سے پاکستان مقامی ساختہ مرکزی جنگی ٹینک تیار کرتا آ رہا ہے ، جن میں ’’الضرار‘‘ جو چینی ساختہ Type59 پر مبنی ہے، اور ’’الخالد‘‘ جو چینی ساختہ MBT2000 کے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ جبکہ حیدر ٹینک چینی VT4 پر مبنی ہے۔ IDEX 2023 کے دوران پاکستان کے پویلین پر حیدر کا سکیل ماڈل آویزاں کیا گیا۔ ایک پاکستانی صنعت کار کے مطابق نئے حیدر ایم بی ٹی کو چینی VT4 کے ڈیزائن کو استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ VT4 جسے MBT-3000 بھی کہا جاتا ہے، ایک تیسری نسل کا مرکزی جنگی ٹینک ہے جسے چینی کمپنی NORINCO نے تیار کیا ہے۔ یہ Type۔99G ٹینک کا ایکسپورٹ ایڈیشن ہے جو اس وقت چینی پیپلز لبریشن آرمی کے استعمال میں ہے۔
حیدر کا ڈیزائن روایتی ہے۔ ڈرائیور اس کے ہَل (مین باڈی) کے سامنے بیچ میں بیٹھتا ہے، ٹریٹ (گھومنے والا حصہ) درمیان میں ہے، اور انجن عقب میں ہے۔ ٹینک میں ڈرائیور، کمانڈر اور گنر سمیت تین افراد کا عملہ ہے۔ حیدر ٹینک کا مرکزی اسلحہ ایک 125 ملی میٹر اسموتھبور بندوق پر مشتمل ہے جو گولہ بارود کی ایک وسیع رینج کو فائر کرنے کے قابل ہے، اور APFSDS (آرمر پیئرسنگ فِن اسٹیبلائزڈ ڈِسکارڈنگ سبوٹ)، HE (ہائی ایکسپلوسِو) ، HEAT (ہائی ایکسپلوسِو اینٹی ٹینک) کے ساتھ ساتھ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل بھی شامل ہیں۔ ٹینک کے پاس 38 راؤنڈز ہوتے ہیں۔ دوسرے اسلحے میں ایک 7.62 ملی میٹر کواکسیئل مشین گن کے علاوہ کمانڈر ہیچ کے عقب میں نصب ایک ریموٹ سے چلنے والے ہتھیار کا نظام ہے جو ایک 12.7 ملی میٹر ہیوی مشین گن سے لیس ہے۔ حیدر ٹینک کے گھومنے والے حصے پر نصب اسلحہ اور اس کی مین باڈی مل کر فوری ردعمل کیلئے متوازن اور کشادہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ سب سیرامکس، دھاتوں اور پولیمر جیسے مواد کی تہوں سے مل کر بنے ہوئے ہیں جو (مخالف سمت سے) فائر کیے گئے میزائلوں کو گھسنے سے روکنے کیلئے مل کر کام کرتے ہیں۔ ردعمل والا اسلحہ آنے والے میزائلوں میں خلل ڈالنے اور ان کو ہٹانے کے لیے دھماکہ خیز چارجز کا استعمال کرتا ہے۔ جب کہ سپیسڈ آرمر دو تہوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے درمیان خلا ہوتا ہے جو آنے والے میزائلوں کی توانائی کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ٹینک کی مین باڈی ERA (ایکسپلوسِو ری ایکٹِو آرمر) کی صلاحیت کے ساتھ لیس ہے۔
حیدر ٹینک کا سسپنشن سسٹم دونوں طرف چھ چھ پہیوں پر مشتمل ہے، جس میں پہلے اور آخری پہیے جھٹکا جذب کرنے والے ہائیڈرولک سسٹم پر نصب ہیں۔ ٹینک میں ٹورشن بار قسم کا سسپنشن سسٹم ہے، جس میں ہر پہیہ اپنے ٹورشن بار (دونوں اطراف کے پہیوں کو جوڑنے والی سلاخ) پر لگا ہوا ہے۔ سادہ پہیے سامنے ہیں جبکہ ٹینک کو چلانے والے پہیے عقب میں ہیں۔ یہ ٹینک فور اسٹروک ٹربو چارجڈ ڈیزل انجن سے چلتا ہے جو الیکٹرانیکلی کنٹرول ہوتا ہے۔ یہ انجن ہائیڈرو مکینیکل آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ 1,200 ہارس پاور دیتا ہے۔ ٹینک 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے چل سکتا ہے اور (اپنے فیول کے ساتھ) 500 کلومیٹر کے زیادہ سے زیادہ فاصلے تک پہنچ سکتا ہے۔
حیدر ٹینک ایک جدید فائر کنٹرول سسٹم سے لیس ہے جس میں سینسرز اور ٹارگٹ کرنے والے آلات کی ایک رینج شامل ہے تاکہ میدانِ جنگ میں ٹینک کی درستگی اور مہلکیت کو بڑھایا جا سکے۔ یہ نظام ٹینک کے عملے کو میدانِ جنگ کی ایک واضح تصویر فراہم کرنے، اور اہداف کو تیزی اور مؤثر طریقے سے شناخت اور ختم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ٹینک کی مرکزی بندوق تھرمل امیجنگ ویژن سے لیس ہے جو کم روشنی والی حالتوں میں بھی لمبی دوری پر ہیٹ سِگ نیچرز کی مدد سے اہداف کی نقل و حرکت دیکھنے کی سہولت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک لیزر رینج فائنڈر سے بھی لیس ہے، جو بندوق باز کو کسی ہدف کے فاصلے کو درست طریقے سے ماپنے کے قابل بناتا ہے۔ تھرمل امیجنگ ویو کے علاوہ ٹینک ایک پینورامک سسٹم سے بھی لیس ہے جو کمانڈر کو میدانِ جنگ کا 360 ڈگری منظر پیش کرتا ہے۔
فائر کنٹرول سسٹم میں ایک بیلسٹک کمپیوٹر بھی شامل ہے جو ہدف کے فاصلے، زاویہ اور دیگر عوامل کی بنیاد پر مرکزی بندوق کے لیے فائرنگ کے حل کا حساب لگاتا ہے۔ اس سے یہ بات یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ ٹینک کے فائر اپنے مطلوبہ ہدف کو درست طریقے سے اور زیادہ سے زیادہ اثر کے ساتھ نشانہ بنا سکیں۔ مجموعی طور پر حیدر کا فائر کنٹرول سسٹم ٹینک کے عملے کو حالات سے متعلق آگاہی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی اعلیٰ صلاحیت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو اسے جدید میدان جنگ میں ایک مؤثر اور مہلک جنگی گاڑی بناتا ہے۔
جامعہ گجرات کے زیر اہتمام’’تعمیرِ شخصیت میں مطالعۂ سیرت النبیؐ کی اہمیت‘‘ لیکچر سیریز
ادارہ

جامعہ گجرات کی قائد اعظم لائبریری کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں طلبہ کی کردار سازی کے لیے ایک لیکچر سیریز ’’تعمیر شخصیت میں مطالعہ سیرت النبیؐ کی اہمیت‘‘ کا انعقاد ’’حافظ حیات کیمپس‘‘ میں کامیابی سے تکمیل پذیر ہوگیا۔ اس سیریز میں دوسرا لیکچر پاکستان کی ممتاز علمی و دینی شخصیت مولانا زاہد الراشدی کے فکر انگیز خطاب سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ڈین فیکلٹی برائے آرٹس پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف نے صدارت کے فرائض سرانجام دئیے۔ جبکہ مہمانان اعزاز میں چیف لائبریرین ڈاکٹر ذکی الزماں عاصم، صدور و چیئرپرسن شعبہ جات، یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئر اراکین اور اساتذہ و طلبہ شامل تھے۔
مولانا زاہد الرشدی نے کہا کہ سیرتِ محمدیؐ سے استفادہ کرتے ہوئے ایک بہترین قوم کی کردار سازی ممکن ہے۔ سیرت محمدیؐ ایک بحرناپیدا کنار ہے۔ رسول اکرمؐ کی تبلیغ کا مخاطب تمام تر انسانیت ہے۔ حضور اکرمؐ کی آفاقی تعلیمات کا دائرہ وسیع تر ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں نسلِ انسانی کے لیے تمام اصولِ انسانیت بلیغ انداز میں بیان کر دئیے گئے۔ یہ خطبہ ایک اہم ترین معاہدہ ہے جو حقوق انسانی کی حفاظت و نفاذ کا عندیہ دیتا ہے۔ ریاست کی تشکیل کے سلسلہ میں میثاقِ مدینہ بے مثال دستاویز ہے۔ دنیا بھر میں دیر پا امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی مذہبی ہم آہنگی لازم ہے۔ صحابہ کرامؓ کی شخصیت و کردار سازی میں حضور اکرمؐ نے اہم ترین کردار ادا کرتے ہوئے ایک ملتِ بیضا کے قیام کی بنیادیں استوار کیں۔ صحابہ کرامؓ کی جید شخصیات کے مختلف روشن پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے حضور اکرمؐ کی ذاتِ بابرکات بنائے عشق و محبت ہے۔ طلبہ سیرت محمدیؐ سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر وسیع تفکر و مطالعہ کے ذریعے بہترین انسان بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ذکی الزماں عاصم نے کہا کہ سیرت نبی کریم ؐ کردار سازی کے حوالے سے بے مثال ہے۔ دورہ حاضر میں طلبہ کی تربیت اور سیرت و کردار سازی جامعات کا اہم فریضہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف نے مولانا زاہد الراشدی کو جامعہ گجرات کی یادگاری شیلڈ پیش کی۔ یاسر حسین جامی نے خوبصورت و بلیغ الفاظ کے چناؤ اور زورِ بیاں کے ذریعے نقابت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے تقریب کو چار چاند لگائے۔ طلبہ فکر انگیز سوالات کے ذریعے حضور اکرمؐ کی دینی و روحانی تعلیمات کی روشنی میں فیوض و برکات سے مستفید ہوئے۔ علاوہ ازیں قائد اعظم لائبریری میں سیرت النبیؐ پر مختلف ملکی و غیر ملکی مصنفین کی تصنیف کردہ سینکڑوں کتب بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں ہیں۔ لیکچر سیریز کا مقصد طلبہ میں سیرت محمدیؐ کے روشن پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہوئے کردار و عمل کی تطہیر اور اصلاح و تعمیر شخصیت کے شعور کو پروان چڑھانا تھا۔
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور برگد کے اشتراک سے ’’مساوات، جامع اور پائیدار مستقبل‘‘ کانفرنس
ادارہ

۵ مارچ ۲۰۲۴ء کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور برگد کے اشتراک سے ’’مساوات، جامع اور پائیدار مستقبل‘‘ کے عنوان پر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پنجاب کی مختلف جامعات کے 30 وائس چانسلرز نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر افضل، ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر فلیحہ کاظمی، ڈاکٹر ظل ہما نازلی، ڈاکٹر خلیق الرحمن، ڈاکٹر کلثوم پراچہ، ڈاکٹر رؤف اعظم، ڈاکٹر محمد علی شاہ، ڈاکٹر عزیرہ رفیق، ڈاکٹر زرین فاطمہ رضوی، ڈاکٹر اشفاق محمود، ڈاکٹر انیلہ کمال، ڈاکٹر محمود سلیم، ڈاکٹر بلال خاں، ڈاکٹر اسلام خاں، ڈاکٹر بلال خاں، ڈاکٹر ندیم بھٹی، ڈاکٹر عامر گیلانی، ڈاکٹر نجمہ نجم، ڈاکٹر عامر گیلانی، ڈاکٹر عدنان نور اور ڈاکٹر اسلام اللہ خاں و دیگر شامل ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا، ڈاکٹر شعیب اختر، ڈاکٹر کنول امین، ڈاکٹر احمد عثمان، ڈاکٹر راشد کمال الرحمٰن، مولانا زاہد الراشدی، رنجیت سنگھ، پنڈت کاشی رام، سائمن رابن، ڈاکٹر تنویر قاسم، ڈاکٹر آصف منیر، صبیحہ شاہین اور اسامہ نے مکالماتی سیشن میں بطور ماہر اور میزبان شرکت کی۔
کانفرنس کے تین مکالماتی سیشن ہوئے جس میں وائس چانسلرز، ٹیکنوکریٹس، بیوروکریٹس، علماء، اقلیتی راہنما اور سائنس، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شریک تھے۔ اختتامی سیشن میں بین المذاہب ہم آہنگی مکالمے کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا زاہد الراشدی، سردار رنجیت سنگھ، کاشی رام، مسٹر رابن اور ڈاکٹر تنویر قاسم نے حصہ لیا۔ برگد کی چیئرپرسن ڈاکٹر غزالہ عرفان نے کانفرنس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی وائس چانسلرز کانفرنس میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے لحاظ سے پاکستان کمزور خطہ ہے جس سے ماحولیاتی نظام، غذائی تحفظ اور توانائی کو خطرات لاحق ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مؤثر فیصلہ سازی ناگزیر ہے۔ کانفرنس نے اقلیتوں کے لئے ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں 2 فیصد اور ملازمتوں کے 5 فیصد کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد منیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتیں ملک اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں مثبت اور فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان کا آئین اور اسلام کی تعلیمات اقلیتوں کے انسانی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور وقار کے احترام اور تحفظ کے لیے نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والے انتہا پسندانہ نظریات کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے پنجاب ایچ ای سی تمام جامعات میں بین المذاہب ہم آہنگی کی مہم چلا رہا ہے جس کے تحت سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کریں گے۔ جامعات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قائم کمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کریں۔ اقلیتی برادریوں کے لئے ملازمتوں کے مختص کوٹے پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ہماری حکومتوں نے اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہمیشہ پائیدار اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پانی، قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت اور دیگر وسائل سے مالامال ہے، تاہم اسے فیصلوں پر عملدرآمد اور مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 150 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جو سپرے اور ڈرپ اریگیشن جیسی جدید زرعی تکنیک کو اپنانے اور آبپاشی کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کی صورت میں اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم قومی آبی پالیسی اور دیگر متعلقہ قوانین کے عملی نفاذ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ای سی اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت کر رہا ہے، انہیں اعلی تعلیم کے لیے سکالرشپس کی فراہمی اور بصیرت فراہم کر رہا ہے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات میں امن اور رواداری کے فروغ کے لیے تعلیمی بیانیہ تیار کر لیا جس کی سفارشات حکومت پنجاب کو پیش کی جائیں گی۔
ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ امن کے فروغ کیلئے مذہبی ہم آہنگی ناگزیر ہے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ رواداری پر مبنی تعلیمی بیانیہ معاشرے کے مختلف طبقات کو اختلافات کم کرنے اور پرامن طور پر ایک ساتھ رہنے کے قابل بنائے گا۔ جامعات معاشرے میں امن، رواداری، بقائے باہمی کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے میڈیا، سول سوسائٹی، انجمنوں، سرکاری حکام اور عام لوگوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں مکالمے اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔ اگر عام افراد باشعور ہوں گے تو نفرت پر مبنی بیانیہ نہیں پھیل سکے گا اور شدت پسندی کم ہو گی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے سول سوسائٹی سے اشتراک کریں گے۔ احترام انسانیت اور رواداری تعلیم یافتہ معاشرے کی پہچان ہے، امن اور رواداری کے بغیر اعلیٰ تعلیم کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ قوموں کی ترقی کے لیے ہم آہنگی اور مساوات ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس تھنک ٹینک ہیں جو درپیش چیلنجز کی روشنی میں سفارشات تیار کرتے ہیں اور اپنے ممالک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں۔ ہم ماہرین پر مشتمل ایک ’’مارل تھنک ٹینک‘‘ قائم کریں گے جو متوازن معاشرے کے قیام کے لیے سفارشات تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے جامعات میں مکالمے، افہام و تفہیم کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا کو غربت، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلیوں اور مختلف تنازعات کا سامنا ہے۔ زینو فوبیا، اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور تفرقہ بازیاں ایسے انتہا پسند رویے معاشروں کو توڑتے ہیں۔ ہمیں انسانوں اور معاشروں کو جوڑنا ہے، ایک دوسرے کے قریب لانا ہے، ترقی کے لیے تہذیب اور رواداری پیدا کرنی ہے، ہم نے انسانی وسائل کو بڑھانے کے مواقع پیدا کرنے ہیں، عدمِ برداشت کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں، ترقی خانہ جنگی کی فضا میں نہیں ہو سکتی۔ سیاسی، سماجی، مذہبی راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اچھے اخلاق سکھائیں۔
’’خطابت کے چند رہنما اصول‘‘
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

قوتِ گویائی بنی آدم کا امتیازی خاصہ ہے، بنی آدم میں ہر فرد چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے اور اس کی بات پر غور کیا جائے۔ بات میں یہ تاثیر کیسے پیدا کی جائے کہ وہ محض سماعت سے ٹکرانے کے بعد فضا میں تحلیل نہ ہو، بلکہ دلوں میں اتر کر گداز پیدا کرے۔ جذبات کو ابھارے، حوصلوں کو بڑھائے، عزائم کو مضبوط کرے، سوئی ہوئی قوم کو جگائے، غفلت کی دھوپ سینکنے والوں کو اشہب عمل پر سوار کر دے، کامیابی کا یقین دلائے اور خالق کے احکام سلجھے ہوئے انداز میں مخلوق کو پہنچائے۔ اس کے لیے ماہرینِ فن نے ہر عصر اور ہر زبان میں مختلف اسالیب میں کچھ اصول وضع کیے ہیں۔
عہدِ موجود میں اردو زبان کے دائرے میں جن حضرات کو باشعور طبقہ میں سنا جاتا ہے اور جن کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے ان میں ایک نمایاں نام مفکر اسلام حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کا ہے۔ آپ مستشرقین کے پھیلائے ہوئے شبہات کا مدلل جواب بھی دیتے ہیں، انسانی حقوق کے خوشنما لیبل کی آڑ میں خاندانی اور معاشرتی اقدار پر ہونے والے مہلک صہیونی وار کے عواقب و نتائج سے بھی امت کو آگاہ کرتے ہیں، قادیانی مغالطوں کا بھی پردہ چاک کرتے ہیں، عصرِ حاضر میں احکامِ شریعت کے نفاذ اور اس کی عملی شکل کے خدوخال بھی واضح کرتے ہیں، سودی معیشت کے خاتمے اور اسلامی اقتصادی نظام کی ترویج کے لیے بھی مختلف پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ چاہتے ہیں کہ یہ تگ و دو ان کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ ہر فاضل اور عالم ان کی طرح سماج کے مختلف طبقوں میں نفوذ کریں، اور ان کی ذہنی سطح کے مطابق جدید محاورے اور زمانۂ حال کے اسلوب سے ہم آہنگ کلام کرے۔ اس کے لیے آپ وقتاً فوقتاً نوجوان فضلاء کرام کے سامنے کچھ اساسی اصول اور جوہری نکات رکھتے ہیں جن کو ملحوظ رکھ کر ایک فاضل انتہائی مؤثر طریقے سے معاشرے میں دینِ اسلام کو ایک زندہ جاوید ضابطۂ حیات کی شکل میں پیش کر سکتا ہے۔ آپ کے یہ ارشادات مختلف رسائل و جرائد کے صفحات میں منتشر اور بکھرے ہوئے تھے، حافظ خرم شہزاد صاحب نے انتہائی محنت، لگن اور محبت سے ان کو ترتیب کی لڑی میں پرو کر کتابی شکل میں امت کے سامنے پیش کیا، اور آخر میں ’’ختامہ مسک‘‘ کے مصداق حضرت مولانا محمد شاہ نواز فاروقی مدظلہ مہتمم دارالعلوم فاروقیہ گوجرانوالہ کے فنِ خطابت کے حوالے سے بیان فرمودہ اہم نکات بھی شامل کر دیے ہیں۔
حافظ خرم شہزاد صاحب کو رب العزت نے اپنے اساتذہ کے علوم و معارف اور افکارِ امت تک پہنچانے کا خاص ذوق نصیب فرمایا ہے۔ اصحابِ علم کو ایسے تلامذہ ملنا یقیناً قدرت کا ایک خصوصی انعام ہوتا ہے، جس طرح امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ کے علوم و معارف کی تشریح، توضیح اور تسہیل کا کام مسبب الاسباب نے حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب سے لیا، اسی طرح خود علامہ زاہد الراشدی صاحب کے ارشادات، خطبات اور مقالات کو ترتیب کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے اللہ پاک نے حافظ خرم شہزاد صاحب کو موفق کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی سعی قبول فرما کر ان کو مزید توفیق سے نوازیں۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب کی صلابتِ فکر اور حافظ خرم شہزاد صاحب کی حسنِ ترتیب کا یہ حسین مرقع (۴۸) صفحات پر مشتمل ہے، کاغذ اعلیٰ، سرورق عمدہ اور طباعت صاف ہے۔
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ’’دورہ تفسیر و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
مولانا محمد اسامہ قاسم

افتتاحی تقریب
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ستائیس ایام پر مشتمل دورہ تفسیر و محاضرات علوم قرآنی کی اختتامی نشست ۱۰ / فروری ۲۰۲۴ء بروز ہفتہ صبح دس بجے الشریعہ اکادمی میں ہوئی۔ افتتاحی نشست سے استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جو گفتگو کی وہ پیش خدمت ہے:
شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قراء کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ زیادہ تر قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے دورے ہوتے ہیں جو شعبان کے آغاز سے شروع ہو کر رمضان المبارک کے وسط تک جاری رہتے ہیں۔ ان میں اساتذہ کرام اپنے اپنے ذوق کے مطابق طلبہ کو قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر مختصر دورانیہ میں پڑھاتے ہیں۔ اس طرح عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے کورسز کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے۔ یہ سب کورسز ہماری اجتماعی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں اور ان سے تعلیمی ذوق بڑھنے کے ساتھ ساتھ چھٹیوں کے اوقات کا صحیح مصرف بھی مل جاتا ہے اور تعلیمی ترقی بھی ہوتی رہتی ہے۔ ہمارا دورہ تفسیر ان شاء اللہ رمضان المبارک سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔
ہمیں قرآن پاک کی تفسیر کی مختلف اقسام ملتی ہیں، بعض تفاسیر فقہی ہیں اور بعض کلامی، بعض نحوی ہیں اور بعض معقولات پر مبنی ہیں۔ لیکن ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم قرآن پاک کو آج کی ضروریات کے دائرے میں پڑھائیں، قرآن پاک کا سماجی مطالعہ ہمارا اہم مقصد ہے۔ آج کی ضروریات کیا ہیں اور قرآن پاک ہماری اس حوالے سے کیا راہنمائی کرتا ہے اور آج کے سماج کو قرآن پاک کی کتنی ضرورت ہے؟ مثال کے طور معاشی عدم توازن سے دو چار ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عیسائی دنیا کے بڑے پوپ پاپائے روم ہیں۔ آج سے بیس سال پہلے معاشی حل چل مچی، ویٹی کن سٹی ادارے نے اس مسئلےکے اسباب تلاش کرنے کے حوالے سے کمیٹی بنائی، معاشی عدمِ توازن سے نکالنے کے لیے انہوں جو موقف اختیار کیا وہ یہی تھا کہ قرآنی اصول پر چل کر انسانی معیشت کو توازن اور بیلنس کے ٹریک پر لایا جائے۔ ہمارا مقصد آج کی انسانی سوسائٹی ہے، نسلِ انسانی کی ضروریات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صفا پہاڑ پر ’’یا ایھا الناس‘‘ سے اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ ہم بھی ان شاء اللہ اس کورس میں سماج کی ضروریات کے بارے میں بتائیں گے کہ قرآن و حدیث سے کس قدر سماج کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
اختتامی تقریب
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام پچیس ایام پر مشتمل ’’دورہ تفسیر و محاضرات علومِ قرآنی‘‘ کی اختتامی نشست ۵ مارچ ۲۰۲۴ء بروز منگل صبح اٹھ بجے الشریعہ اکادمی میں ہوئی، جس میں استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خصوصی گفتگو کی:
الشریعہ اکادمی میں دورہ تفسیر و محاضرات علوم کو پندرہ سال ہوئے، دراصل یہ کورس حضرت امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے ذوق تفسیر کا تسلسل ہے۔ امام اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ کی جامع مسجد بوہڑ والی میں صبح نماز کے بعد روزانہ درسِ قرآن کریم کا آغاز کیا اور جب تک صحت نے اجازت دی، کم و بیش پچپن برس تک اس سلسلہ کو پوری پابندی کے ساتھ جاری رکھا۔ انہیں حدیث میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی سے اور ترجمہ و تفسیر میں امام الموحدین حضرت مولانا حسین علی سے شرف تلمذ و اجازت حاصل تھی، اور انہی کے اسلوب و طرز پر انہوں نے زندگی بھر اپنے تلامذہ اور خوشہ چینوں کو قرآن و حدیث کے علوم و تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کی مسلسل محنت کی ہے۔
حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے درسِ قرآن کریم کے چار الگ الگ حلقے رہے ہیں۔ ایک درس بالکل عوامی سطح کا تھا جو صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ دوسرا حلقہ گورنمنٹ نارمل سکول گکھڑ میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تھا جو سالہا سال جاری رہا۔ تیسرا حلقہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں متوسط اور منتہی درجہ کے طلبہ کے لیے ہوتا تھا اور دو سال میں مکمل ہوتا تھا۔ اور چوتھا مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۱۹۷۶ء کے بعد شعبان اور رمضان کی تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر کی طرز پر تھا جو پچیس برس تک پابندی سے ہوتا رہا اور اس کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ ماہ ہوتا تھا۔ ان چاروں حلقہ ہائے دروس کا اپنا اپنا رنگ تھا اور ہر درس میں مخاطبین کی ذہنی سطح اور فہم کے لحاظ سے قرآنی علوم و معارف کے موتی ان کے دامن قلب و ذہن میں منتقل ہوتے چلے جاتے تھے۔ ان چاروں حلقہ ہائے درس میں جن علماء کرام، طلبہ، جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور عام مسلمانوں نے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے براہ راست استفادہ کیا ہے، ان کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس ہزار سے زائد بنتی ہے۔
الشریعہ اکادمی میں ہونے والے دورہ تفسیر و محاضرات علوم قرآنی میں بھی حضرت امام اہلسنت کے تلامذہ ہی اسباق پڑھاتے ہیں، چند پارے استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب جبکہ بقیہ حصہ مولانا فضل الہادی، مولانا محمد یوسف مولانا ظفر فیاض، مولانا ڈاکٹر وقار اور مولانا محفوظ الرحمن صاحب نے پڑھائے۔ ترجمہ و تفسیر کے علاوہ اس کورس میں چند اہم عنوانات پر محاضرات علوم قرآنی بھی پیش کیے جاتے ہیں، ملک بھر سے اپنے فن اور عنوان کے ماہر حضرات تشریف لاتے ہیں اور طلباء کرام سے تفصیلی نشست کرتے ہیں۔
اس سال حضرت استاد جی مولانا زاہد الراشدی صاحب اور دیگر اساتذہ کرام نے جن موضوعات پر محاضرات پیش کیے درج ذیل ہیں: احکام قرآن اور مروجہ بین الاقوامی معاہدات، عصر حاضر میں علماء کرام کی ذمہ داریاں، انسانی حقوق کے اسلامی احکام اور مغربی فلسفہ حقوق کا تقابلی جائزہ، مشکلات القرآن، قرآن کریم کے مشکل مقامات کو حل کرنے کی عملی مشق، مختلف مناہج تفسیر کا تعارف، تاریخ تفسیر، ممتاز عربی تفاسیر کا تعارف، جغرافیہ قرآنی و قصص القرآن، اصول ترجمہ ، اصول تفسیر، اختلاف قرات کا تفسیر قرآن کریم پر اثر، علوم القرآن اور کتب علوم القرآن کا تعارف، ممتاز اردو تفاسیر کا تعارف، قرآن و مستشرقین، علم المیراث، علم القوافی اور علم العروض کا مختصر تعارف، عالم اسلام کی دینی تحریکات کا تعارف، اصول تحقیق اور تحریر کی اقسام، خطابت کی اہمیت اور اس کا تعارف، اس کے علاوہ شرکاء کورس کو ترجمہ و تفسیر کی تیاری کے حوالے سے عملی مشقیں بھی کرائیں گئیں۔
تقریب سے مولانا زاہد الراشدی، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد یوسف اور مولانا محفوظ الرحمٰن نے گفتگو کی، مولانا ریاض جھنگوی صاحب کی دعا سے تقریب کا اختتام ہوا۔
Quaid-e-Azam`s Vision of Pakistan
Rule of Law, Human Rights and Democracy
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah was the great political leader of the Muslims of South Asia, whose efforts created an Islamic state in the name of Pakistan at a time when the world was at the peak of ending the relationship between religion and the state. Even the Ottoman Empire, which represented the Islamic Caliphate, had lost its existence. And Turkey, the center of the Ottoman Caliphate, following Europe, broke the relationship of Islam with the state and collective affairs of the society and took the form of a secular country.
In such a conditions, it seems strange that a Western-educated and Western-style leader would campaign for the establishment of a new country in the name of Islam and then establish such a state. It is generally believed that it was the charisma of the intellectual guidance of Mufakkir-e-Pakistan Allama Muhammad Iqbal who set Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah on this path, and offered the Muslims of South Asia the idea of a separate state for themselves by providing the basis for a new political campaign. There is no doubt and it is a matter of fact that the intellectual leader of Pakistan is actually Allama Iqbal, while the general impression about Quaid-e-Azam is that he successfully expressed these sentiments of Muslims politically and played the role of a good lawyer.
But did Quaid-e-Azam have only that much connection with Islam and did he not have any thoughts and feelings of his own regarding Islam? When we consider Quaid-e-Azam's various statements, speeches and his expressions on many important occasions, this is negated. And it is estimated that he himself had clear feelings and position about Islam. And in the struggle for the establishment of an Islamic state and the implementation of the Islamic system in it, he was not only a lawyer, but he himself had the same position in this regard. And he was fully aware of the ideas of other nations about Islam in the global environment of his time, especially the ideological and cultural conflict between the West and Islam. We would like to quote some of his statements in this regard:
According to a booklet published by Maktaba Mahmood Lahore, "Nazria-e-Pakistan Aur Islam", while addressing the meeting of the All India Muslim Students Federation in 1943, Quaid-e-Azam said, "I am asked what the style of government of Pakistan will be? Who am I to determine the style of government of Pakistan? This work belongs to the people of Pakistan, and in my opinion, the style of government of the Muslims was decided by the Holy Quran thirteen hundred years ago.
According to the same booklet, in a letter written to Mahatma Gandhi during August 1944, Quaid-e-Azam wrote that "The Quran is a complete code of life. It provides for all matters, religious or social, civil or criminal, military or penal, economic or commercial. It regulates every act, speech and movement from the ceremonies of religion to those of daily life, from the salvation of the soul to the health of the body; from the rights of all to those of each individual, from punishment here to that in the life to come.
On 15 July 1948, Quaid-e-Azam said in his address on the occasion of the inauguration of the State Bank of Pakistan: “I shall watch with keenness the work of your Research Organization in evolving banking practices compatible with Islamic ideals of social and economic life. The economic system of the West has created almost insoluble problems for humanity and to many of us it appears that only a miracle can save it from disaster that is now facing the world. It has failed to do justice between man and man and to eradicate friction from the international field. On the contrary, it was largely responsible for the two world wars in the last half century. The Western world, in spite of its advantages of mechanization and industrial efficiency is today in a worse mess than ever before in history. The adoption of Western economic theory and practice will not help us in achieving our goal of creating a happy and contented people. We must work our destiny in our own way and present to the world an economic system based on true Islamic concept of equality of manhood and social justice. We will thereby be fulfilling our mission as Muslims and giving to humanity the message of happiness and prosperity of mankind.”
According to Mr. Muhammad Ali Chiragh's book "Quaid-e-Azam Ke Meh Wa Saal”, while addressing the Karachi Bar Association meeting on January 25, 1948, Quaid-e-Azam said that "Islamic rules and regulations are applicable even today, as they were thirteen hundred years ago. Islam is not just a collection of customs, traditions and spiritual ideas, it is also a code of life for every Muslim. In Islam there is no difference between man and man. Equality, freedom and brotherhood are the basic principles of Islam. We will make the Constitution of Pakistan and tell the world that it is a supreme constitutional model.”
From the speeches, statements and messages of the Quaid-e-Azam, many such passages can be cited which show that he was not just representing his "clients" as a lawyer, but his own feelings and thoughts were also involved in this successful advocacy. It is also known that his concept of Islam was not limited and general, but he was fully aware of the constitutional and social character of Islam, as well as the perversion of western ideology and philosophy and the negative effects of the western economic system on the world.
Recently, a young man asked Justice (R) Dr. Javed Iqbal on the occasion of a seminar of the Islamic Ideological Council in Islamabad that what was the concept of Islam of Quaid-e-Azam? I was also present in this meeting. He replied that Quaid-e-Azam believed that (1) rule of law (2) human rights and (3) democracy were not in conflict with Islam and this was his concept of Islam. In my opinion, by saying this, Dr. Javed Iqbal has correctly interpreted the concept of Islam of Quaid-e-Azam, because this is reflected in his statements, speeches, letters and messages, and this approach of Quaid-e-Azam about Islam is not contrary to the events.
The rule of law means that the final authority is the law rather than the individual, and all institutions and individuals of the country are subject to the law rather than the individual. We believe that after the Holy Prophet, peace and blessings be upon him, Islam introduced the concept of the rule of reason and law instead of individual and personality, and made even the Khulafa-e-Rashideen (may Allah be pleased with them) bound by the law and ended the rule of the individual.
The concept of human rights in detail was also first presented by Islam, and it gave the world a balanced system of rights under the title of Huqooq-Allah (Allah’s rights) and Huqooq-al-Ibaad (Human rights) which includes all essential political, social, economic and civil rights.
In the same way, by basing the opinion of the people on the selection of the first Caliph after the Holy Prophet, Islam has told the world that according to it, the ideal system is the one in which the government is formed by the will of the people. And Islam has a one thousand year lead over the West in presenting and implementing this concept.
Therefore, if according to Dr. Javed Iqbal, these are the three foundations of Quaid-e-Azam's concept of Islam, then there is nothing new in it, but it is actually the interpretation of ancient Islamic traditions and teachings.
In this regard, an incident recorded in the memoirs of the late General Muhammad Akbar Khan, "Meri Akhri Manzil" is also of interest. General Akbar Khan writes about a military ceremony in the presence of Quaid-e-Azam after the establishment of Pakistan:
“At the time of the march-past, the instrument of "Long live O the King of Britain" started playing. Quaid-e-Azam protested against the playing of these tunes and ordered me not to welcome me by playing these tunes at any future official function or military parade as it hurts my sentiments. I fought to establish an independent state for the Muslims, and having achieved this state, we pray that the crown of Great Britain will remain upon us forever.”
After the establishment of Pakistan, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah's sentiments were hurt by hearing the lyrics of "Long live O the King of Britain" and there was a regular protest and alternative order from him. Since his demise, we as a nation have been continuously dancing to the tune of the “greatness” and “long-live” of not only the King of Great Britain but also the King of America. Can no part of Quaid-e-Azam's feelings find a little way to enter the confines of our hearts?
(Google Translate was used for this translation.)
(ترجمہ: ’’قائد کا تصورِ پاکستان: قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوریت‘‘ ۔ روزنامہ پاکستان لاہور ، ۱۹ جولائی ۲۰۰۶ء)