ستمبر ۲۰۲۳ء

تحفظ مذہب کی سیاست اور اس کی حرکیاتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۷)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
کاروباری جھگڑوں کےعمومی اسباب اور ان کا حلمفتی سید انور شاہ 
سانحہ جڑانوالہ اور انصاف کے تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تحریک تحفظ ختم نبوت کی معروضی صورت حالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۰)ڈاکٹر شیر علی ترین 
"امام و صحیح بخاری کے مآخذ: ناقدانہ جائزہ"وقار اکبر چیمہ 

تحفظ مذہب کی سیاست اور اس کی حرکیات

محمد عمار خان ناصر

ایچ ای سی پنجاب نے جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ سوک ایجوکیشن کے موضوع پر 16 اور 17 اگست کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں دو روزہ نشست کا اہتمام کیا۔ اس کے ایک سیشن میں ڈاکٹر راغب نعیمی، علامہ سید جواد نقوی، مولانا صہیب میر محمدی، جناب سبیسٹین فرانسس اور دیگر حضرات کے ساتھ راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔  اتفاق  سے عین انھی دنوں میں جڑانوالہ میں قرآن مجید کی توہین کا  اور اس کے  ردعمل میں  مسلمانوں کی جانب سے مسیحی عبادت گاہوں  اور بستیوں کو جلا دینے کا  سانحہ رونما ہوا جس پر مذکورہ مجلس میں بھی گفتگو ہوئی۔

ایک بنیادی نکتہ جس پر پوری مجلس کا عمومی اتفاق دکھائی دیا، یہ تھا کہ اس حوالے سے قومی شرمندگی کا باعث بننے والے واقعات اور رویوں پر اعلی دینی قیادت کا اظہار افسوس اور مذمت وغیرہ اپنی جگہ، لیکن مسئلے کی جڑ نچلی سطح پر منبر ومحراب سے مذہب کی نمائندگی کرنے والا وہ طبقہ ہے جو نہ کسی دینی یا سماجی ادارے کو جواب دہ ہے اور نہ ریاست کی نگرانی میں ہے۔ ایسے تمام واقعات میں یہی عنصر پیش پیش  ہوتا ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ مساجد جو اوقاف کے تحت ہیں یا بڑے دینی اداروں یا جماعتوں  کی نگرانی میں ہیں یا مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کے زیر اہتمام کام کر رہی ہیں، وہاں سے ایسے غیر ذمہ دارانہ کردار کا اظہار نہیں ہوتا۔ یہ وہی طبقہ ہوتا ہے جو یا تو مستند دینی تعلیم سے بہرہ ور نہیں ہوتا یا کہیں نہ کہیں سے دینی سند لے کر (جو بہرحال سند جاری کرنے والے دینی اداروں کے لیے بھی غور کا مقام ہے) اپنے زور خطابت سے عام لوگوں میں ایک حلقہ اثر پیدا کر لیتا ہے اور پھر کسی نہ کسی پرتشدد بیانیے سے مدد لے کر لوگوں کو بھڑکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس خاص طبقے کا بندوبست ریاست، دینی اداروں اور سماج سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یونیورسٹیاں سوک ایجوکیشن (شہری حقوق وفرائض کی تعلیم) کے مضمون کے ذریعے سے طلبہ میں ذمہ داری کا شعور پیدا کر کے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ایک بہت اہم بات ڈاکٹر راغب نعیمی نے یہ کہی کہ سوک ایجوکیشن کا مضمون مدارس کے نصاب میں شامل نہیں جبکہ اس کو ہونا چاہیے۔ یہ بہت اہم بات ہے، کیونکہ دراصل اسی مضمون سے طلبہ کو پتہ چل سکتا ہے کہ وہ جس ریاست کے شہری ہیں، وہ کن سیاسی وقانونی تصورات پر قائم ہے اور اس میں اقلیتوں کو کیا آئینی وقانونی ضمانتیں دی گئی ہیں جن کو پورا کرنا ریاست اور معاشرہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے خیال میں اس مضمون کی اہمیت عصری جامعات سے بھی زیادہ دینی مدارس کے لیے ہے، کیونکہ مدارس میں جو فقہی سیاسی تصورات پڑھائے جاتے ہیں، وہ بالکل مختلف ہیں اور اگر فکری سطح پر یہ واضح نہ ہو کہ ہماری ریاست اس تصورات پر قائم نہیں ہوئی اور نہ یہاں کے غیر مسلموں کی آئینی حیثیت کو "اہل ذمہ" کے تصور سے سمجھا جا سکتا ہے تو وہ تمام الجھنیں پیدا ہوتی ہیں جو مذہبی طبقے میں اس حوالے سے عموما" اور احمدی کمیونٹی کے حوالے سے خصوصا" پائی جاتی ہیں۔

البتہ اس مجلس میں اس نکتے پر بات نہیں ہو سکی کہ نچلی سطح کا غیر ذمہ دار مذہبی طبقہ جن پرتشدد مذہبی بیانیوں کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، وہ کہاں سے اور کیسے وجود میں آتے ہیں؟ یہ نکتہ گفتگو میں نظروں سے اوجھل رہا جس کی وجہ سے ہمارے خیال میں بحث تشنہ رہی۔ لیکن بہرحال، جس بنیادی نکتے پر اتفاق رائے سامنے آیا، وہ بھی بہت اہم اور قابل قدر ہے۔ اس پر توجہ مرکوز کی جائے گی تو دوسرا نکتہ بھی خود بخود موضوع بنتا چلا جائے گا۔


گلی محلے کی سطح کے ائمہ وخطباء کے معیار اور کردار کی اور اس کو بہتر بنانے کی جب بھی بات ہوتی ہے، ایک خوف جو مذہبی طبقے کو فوری طور پر لاحق ہو جاتا ہے، وہ یہ کہ مساجد کو حکومتی کنٹرول میں لینے اور علمبرداران حق کو حکومتی ترجیحات کا پابند بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ یہ درست ردعمل یا تاثر نہیں اور یہ مسئلے کے حل کا واحد طریقہ بھی نہیں۔ طریقے اور بھی ہو سکتے ہیں، لیکن پہلے مسئلے کی موجودگی کو تو ماننا چاہیے اور یہ بھی کہ اس کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم نے ذکر کیا کہ یہ ایک تجرباتی بات ہے کہ جو مساجد محکمہ اوقاف کے تحت ہیں یا ذمہ دار دینی اداروں کی نگرانی میں ہیں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز کی انتظامیہ کو جواب دہ ہیں، وہاں کے ماحول اور خطباء سے متعلق یہ شکایت موجود نہیں کہ وہ عوام کو اشتعال دلانے میں ملوث ہوں۔ جہاں بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، وہاں جواب دہی کا نظام مفقود ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایسے خطباء جو اپنے محلے کی مسجد میں شعلہ بیانی کر رہے ہوتے ہیں، کسی ذمہ دار فورم پر جانے سے ان کی ٹون بھی بدل جاتی ہے اور وہ بڑی مہذب گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خطیب یا امام کا کسی نہ کسی اتھارٹی کو یا اپنے مخاطبین کو جواب دہ ہونا غیر ذمہ دارانہ رویے کے سدباب کا آزمودہ طریقہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ائمہ مساجد کی اکثریت جو ایسی کسی اتھارٹی کو جواب دہ نہیں اور مقامی مسجد کمیٹیاں بھی عموماً‌ تیز طرار خطیبوں کے زیر اثر ہی ہوتی ہیں، کیا انھیں جواب دہی کے کسی میکنزم کے تحت لایا جا سکتا ہے؟ مساجد کو حکومتی کنٹرول میں دے دینا ہمارے تناظر میں کوئی قابل عمل حل نہیں، لیکن کیا اس کے علاوہ کوئی اور طریقے بھی ہو سکتے ہیں؟  اہل فکر ودانش کو اس سوال کو سنجیدہ  اظہار خیال کا موضوع بنانا چاہیے تاکہ ایک سماجی ودینی مسئلے کا کوئی بہتر اور قابل عمل حل ریاست، دینی اداروں اور سماج کے سامنے آ سکے۔


کسی دور میں علماء کرام، ہمارے ہاں مروج رسوماتی دین پر اس طرح کی پھبتیاں کستے تھے اور درست کستے تھے کہ محلے کے مولوی کی روزی روٹی یا اس کی سماجی اہمیت کسی نہ کسی کے مرنے سے وابستہ ہے۔ ایک آدمی مرے گا تو تیس چالیس دن تک مقامی مولوی صاحب کے  رزق کا انتظام ہو جائے گا، اور یہ مدت پوری ہوتے ہوتے کوئی اور مر جائے گا۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ہمارے خیال میں ذمہ داری مذہبی قیادت  کو اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ معاشرتی حالات کے بدلنے سے نچلی سطح کے ایک خاص مذہبی  طبقے نے اپنی روزی روٹی اور معاشرتی اہمیت کو برقرار رکھنے کے کیا نئے طریقے ایجاد کیے اور کون سے نئے ایشوز کے ساتھ اس کو وابستہ کیا ہے۔ گذشتہ ایک ڈیڑھ صدی کے سماجی تغیرات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ لمبے عرصے تک مسلکی اور فرقہ وارانہ تنازعات اس طبقے کے لیے وسیلہ رزق بنے رہے ہیں، پھر ریاستی سرپرستی میں فروغ پانے والے جہادی کلچر نے اس کے قیمتی مواقع پیدا کیے اور بدبخت سلمان رشدی کے بپا کردہ فتنے کے بعد سے پچھلی تین دہائیوں میں توہین مذہب، توہین رسالت اور توہین صحابہ واہل بیت نے ایک پوری نئی مارکیٹ تخلیق کی ہے۔ اس میں بے شمار بے گناہ لوگ شکار بنے ہیں اور اب بھی بن رہے ہیں۔ معاشرے پر اور نئی نسل کے دین وایمان پر اس کے جو تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وہ اگلی نسل تو آنکھوں سے دیکھ لے گی۔ سوال موجودہ نسل کا ہے کہ ذمہ دار دینی قیادت کو اس کا کچھ احساس ہے یا نہیں؟ یا وہ یہ میدان اسی طبقے کے سپرد کر کے اپنی ذمہ داریوں میں سرخرو ہے؟

یہ فرق ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ فطری اور ذمہ دار دینی قیادت ان ایشوز میں کردار ادا کرتی ہے جو واقعتاً‌ سامنے آ جائیں۔ جب مذہبی لیڈر شپ کی ایک پوری مارکیٹ کھل جائے تو جدید دور تو سرمایہ داری کا دور ہے۔ بزنسز صرف مارکیٹ کی فطری طلب کو پورا نہیں کرتے، بلکہ ضرورت کو تخلیق کرنا اور بڑھاتے چلے جانا بزنس کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد ایک سرسری نظر ڈال کر دیکھ لیں، بلاسفیمی کے واقعات پر ایک مسلمان کو جو دکھ اور اضطراب ہونا چاہیے، وہ کتنا نظر آتا ہے اور اس کو شخصی یا گروہی اقتدار بڑھانے کے لیے ایک سنہری موقع  کی نظر سے دیکھنے کا رویہ کتنا ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے حضرات کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں جب ان کے علم میں کوئی ایسا واقعہ آتا ہے یا کسی واقعے کو یہ رنگ دینے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔

جب ہم بزنس کہتے ہیں تو ضروری نہیں کہ اس کا نفع مالی صورت میں ہی ہو۔ اس کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور انسان کی نفسیاتی پیچیدگیاں بیشتر اوقات اس کو احساس بھی نہیں ہونے دیتیں کہ اس کے افعال کے اصل محرکات کیا ہیں۔  بہرحال، سرمایہ دارانہ نظام میں جو بھی مارکیٹ وجود میں آتی ہے، اسے اپنی بقا اور پھیلاؤ کے لیے مسلسل مصروف کار رہنا پڑتا ہے۔ تحفظ مذہب یا تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے وجود میں آنے والی مذہبی مارکیٹ کا بھی یہی معاملہ ہے اور ہمارے معاشرے میں یہ مختلف سطحوں پر مختلف رنگ اور شکلیں پیدا کرنے اور اپنی بقا اور پھیلاؤ کے اسباب فراہم کرنے کی پوری استعداد بھی رکھتی ہے۔

ہماری معروضات کا حاصل یہ ہے کہ ایسی چیزوں کو انفرادی واقعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے سماج، سیاست اور معیشت کی حرکیات کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ  بحیثیت مجموعی پورا مذہبی طبقہ اپنی حالت اور رویوں کا جائزہ لے، کیونکہ   معاشرتی تبدیلیوں کے تناظر میں  نچلی سطح پر غیر ذمہ دار مذہبی  قیادت کے سوال کا سامنا سبھی دینی طبقات کو ہے۔



اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(423) وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں بعض لوگوں نے وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ گویا وہ اسے حال مان رہے ہوں۔ ایسی صورت میں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جن پر اللہ صواعق بھیجتا ہے وہ اللہ کے بارے میں جدال میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب کہ یہ ضروری نہیں ہے۔ بجلیاں تو کسی پر بھی کسی بھی حالت میں گرسکتی ہیں۔ صحیح مفہوم تک پہنچنے کے لیے وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کو حال نہیں بلکہ نیا جملہ ماننا ہوگا۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے کرشموں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ ایک طرف اللہ کی قدرت کے یہ زبردست مظاہر ہیں اور دوسری طرف یہ اللہ کے بارے میں جدال کررہے ہیں۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہِ وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِیفَتِہِ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیبُ بِہَا مَنْ یَشَاءُ وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ وَہُوَ شَدِیدُ الْمِحَالِ۔ (الرعد: 13)

”بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات) اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں، فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے“۔ (سید مودودی)

”اور وہ خدا کے باب میں جھگڑتے ہی ہوتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

مذکورہ بالا تینوں ترجموں میں وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کو حال مان کر ترجمہ کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ جب کہ درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہ لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور یہ لوگ اللہ کے باب میں جھگڑتے ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)

ایک اور بات قابلِ توجہ ہے۔ اس آیت میں سبھی لوگوں نے یجادلون کا ترجمہ جھگڑا کرنا کیا ہے، جدال کا اصل معنی جھگڑا کرنا نہیں بلکہ بحث کرنا ہے۔ یہاں بھی بحث کرنے کا محل ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اور وہ اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں“۔

(424) فَلَا مَرَدَّ لَہُ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں فَلَا مَرَدَّ لَہُ  کا ایک ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ”کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی“ یا ”کوئی ٹال نہیں سکتا ہے“۔ جب کہ الفاظ میں کسی کے ٹالنے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ صرف اس کے نہیں ٹلنے کا ذکر ہے۔ دونوں باتوں میں بہرحال فرق ہے اور اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ درج ذیل آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ جب ایسا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ پھر ہوکر رہتا ہے۔

وَإِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِقَوْمٍ سُوءً ا فَلَا مَرَدَّ لَہُ۔ (الرعد: 11)

”اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی“۔ (سید مودودی)

”اور جب خدا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے“۔ (ذیشان جوادی)

”اور جب کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی“۔ (احمد رضا خان)

”اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجمے الفاظ کے مطابق ہیں۔

(425) یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ کا ترجمہ عام طور سے یہ کیا گیا ہے: ”اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔“ حالاں کہ اس جملے میں مثال کا ذکر ہی نہیں ہے۔ مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں:  

أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِیَةٌ بِقَدَرِہَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُہُ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْأَرْضِ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ. (الرعد: 17)

”اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آ گئے اور ویسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں اِسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے“۔ (سید مودودی)

”اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے“۔(فتح محمد جالندھری)

”اللہ تعالی حق (یعنی ایمان وغیرہ) اور باطل (یعنی کفر وغیرہ) کی اسی طرح کی مثال بیان کررہا ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

جب ہم آیت پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جملے سے پہلے اللہ نے کوئی مثال بیان نہیں کی ہے بلکہ اس امر کا مشاہدہ کرایا ہے کہ جھاگ کہاں کہاں نمودار ہوتا ہے، اس کے بعد حق اور باطل کو ٹکرانے کا ذکر کیا ہے، اور اس کے بعد جھاگ کے اڑ جانے کی مثال سے باطل کی بے بضاعتی کو واضح کیا ہے۔ جس کے بعد کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ کہا ہے۔ گویا مثال بعد میں ہے نہ کہ پہلے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ میں مثال کے مفہوم پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ نہیں ہے۔ اس لیے کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللَّہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ کا درج ذیل ترجمہ صحیح ہے:  

”اسی طرح اللہ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(426) سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا کا ترجمہ

یہ تعبیر سورہ یوسف میں دو جگہ آئی ہے۔ اس لفظ کی لغوی توضیح اور زیر نظر آیت کے متعلقہ جملے کی تشریح لسان العرب میں عمدہ طریقے سے بیان کی گئی ہے:

التَّسْوِیل: تَحْسِینُ الشَّیْءِ وتزیینُہ وتَحْبِیبُہ إِلی الإِنسان لِیَفْعَلَہُ أَو یَقُولَہُ. وَفِی التَّنْزِیلِ الْعَزِیزِ: بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْراً فَصَبْرٌ جَمِیلٌ؛ ہَذَا قَوْلُ یَعْقُوبَ، عَلَیْہِ السَّلَامُ، لِوَلَدِہِ حِینَ أَخبروہ بأَکل الذِّءْبِ یوسفَ فَقَالَ لَہُمْ: مَا أَکَلَہُ الذءْب بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفسکم فِی شأْنہ أَمراً أَی زَیَّنَتْ لَکُمْ أَنفسکم أَمراً غَیْرَ مَا تَصِفُون، وکأَنَّ التَّسْوِیلَ تَفْعِیلٌ مِنْ سُوِلَ الإِنسان، وَہُوَ أُمْنِیَّتہ أَن یَتَمَنَّاہا فتُزَیِّن لِطَالِبِہَا الباطلَ وغیرَہ مِنْ غُرور الدُّنْیَا۔ (لسان العرب)

یعنی تسویل کہتے ہیں کسی کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا اور اسے کرنے پر آمادہ کرنا۔

درج ذیل دونوں آیتوں میں تسویل سے مراد کیا وہ بات ہے جو اپنے والد کے سامنے انھوں نے بیان کی، جس کے بارے میں والد نے کہا کہ یہ تمہاری گھڑی ہوئی یا بنائی ہوئی بات ہے؟

یا تسویل سے مراد وہ پورا حیلہ ہے جو ان کے والد کے اندازے کے مطابق ان کے نفس نے انھیں سجھایا اور جس حیلے کو استعمال کرکے ان کے والد کے اندازے کے مطابق انھوں نے پہلے یوسف اور بعد میں ان کے بھائی کو غائب کردیا۔

لفظ تسویل کی رو سے دوسرا مفہوم صحیح معلوم ہوتا ہے، لیکن مترجمین نے عام طور سے پہلا مفہوم اختیار کیا ہے۔ جیسے:

(۱) قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا۔ (یوسف: 18)

”اس نے کہا کہ (نہیں!) بلکہ یہ تو تمہارے جی کی ایک گھڑی ہوئی بات ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی حسب ذیل ترجمہ کرتے ہیں:

”بلکہ تمہارے نفس نے تم کو کوئی چال سجھائی ہے“۔

(۲) قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا۔ (یوسف: 83)

”اس نے کہا: بلکہ تمہارے دل نے یہ بات گھڑ لی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”کہا یہ تو نہیں، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنالی“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی دونوں جگہ حسب ذیل ترجمہ کرتے ہیں:

”بلکہ تمہارے نفس نے تم کو کوئی چال سجھائی ہے“۔

اس ترجمے کے حق میں ایک بات تو یہ ہے کہ أَمْرًا  نکرہ آیا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ بات ہوگی جو سامنے نہیں ہے۔ وہ بات ان کی خفیہ چال ہوسکتی ہے نہ کہ ان کی وہ بات جو انھوں نے سامنے پیش کردی تھی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس واقعہ میں ان بھائیوں کا باتیں بنانا زیادہ اہم نہیں تھا، زیادہ اہم تو ان کی وہ چال تھی جو ان کے نفس نے انھیں سجھائی ہے، جسے چھپانے کے لیے وہ باتیں بنارہے تھے۔

(427) وَأَسَرُّوہُ بِضَاعَةً کا ترجمہ

درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَأَسَرُّوہُ بِضَاعَةً۔ (یوسف: 19)

”اور انھوں نے اس کو ایک پونجی سمجھ کر محفوظ کرلیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا“۔ (سید مودودی)

”اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا“۔ (احمد رضا خان)

”اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور چھپالیا اس کو پونجی سمجھ کر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

ان ترجموں کے بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ قافلے والوں نے یوسف کو پونجی سمجھا نہیں، بلکہ پونجی بنالیا تھا۔ وہاں سمجھنے کا معاملہ ہی نہیں تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ انھوں نے یوسف کو نہیں چھپایا بلکہ اس بات کو چھپایا کہ وہ ان کی پونجی نہیں تھے بلکہ کنویں میں ملے تھے۔

ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”انھوں نے خاموشی سے اسے پونجی (مال تجارت) بنالیا“۔

(428) وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاہِدِینَ کا ترجمہ

درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاہِدِینَ۔ (یوسف: 20)

”اور وہ اس کے معاملے میں بالکل بے پروا تھے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بے پروا ہونے کی بات نہیں ہے، بے رغبت ہونے کی بات ہے)

”اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے“۔ (سید مودودی، کم یا زیادہ قیمت کی بات نہیں ہے، بات یہ ہے کہ وہ یوسف کو اپنے ساتھ رکھنے کی رغبت نہیں رکھتے تھے)

”اور ہورہے تھے اس سے بے زار“۔ (شاہ عبدالقادر، یہاں بیزار ہونے کی نہ کوئی بات ہے نہ اس کی کوئی وجہ ہے۔ رغبت نہ ہونا ایک بات ہے اور بے زار ہونا دوسری بات ہے۔)

”اور وہ لوگ ان کے کچھ قدر دان تو تھے ہی نہیں“۔ (اشرف علی تھانوی، یہاں قدر دانی کی بات نہیں ہے، قدر دانی سے قطع نظر انھیں حضرت یوسف کو اپنے پاس رکھنے میں کوئی رغبت نہیں تھی)

درج ذیل ترجمے الفاظ کی بہتر ترجمانی کررہے ہیں:

 ”اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی“۔ (احمد رضا خان)

”اور انھیں اس کے معاملے میں کوئی دلچسپی نہ تھی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(429) آتَیْنَاہُ حُکْمًا کا ترجمہ

درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّہُ آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا۔ (یوسف: 22)

”اور جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا ہم نے اس کو حکومت اور علم عطا کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا“۔ (اشرف علی تھانوی)

 حکم حکومت واقتدار کے لیے بھی آتا ہے اور حکمت و دانائی کے لیے بھی۔ زیر نظرمقام پر وہ حکمت و دانائی کے لیے آیا ہے، کیوں کہ اس وقت تک انھیں اقتدار حاصل نہیں ہوا تھا۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت یحییٰ کے بارے میں فرمایا: یَایَحْیَی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ وَآتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ (مریم: 12)

اس پہلو سے آخری دونوں ترجمے بہتر ہیں۔

(430) وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ کا بظاہر عطف یخل پر ہے، یعنی وہ جواب امر ہے۔ گویا ایک طرح سے نتیجے کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو راستے سے ہٹادو گے تو یہ دو فائدے تمھیں حاصل ہوں گے، ایک تو والد کی پوری توجہ تمھیں ملے گی اور دوسرے تم ان کی نظر میں نیک ہوجاؤ گے، ابھی تو یوسف ان کی نگاہ میں نیک ہے۔ بعض لوگوں نے وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ کا ترجمہ امر کا کیا ہے، یعنی یہ کرنے کے بعد تم نیک بن جانا۔ آیت کی ترکیبی ہیئت میں اس مفہوم کے لیے زیادہ گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

اقْتُلُوا یُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوہُ أَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْہُ أَبِیکُمْ وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ۔ (یوسف: 9)

”چلو یوسفؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا“۔ (سید مودودی)

”اور ہو رہیو اس کے پیچھے نیک لوگ“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا“۔ (احمد رضا خان)

”اس کے بعد تم نیک ہو جانا“۔ (محمد جوناگڑھی)

درج ذیل ترجمے زیادہ بہتر ہیں:

”اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تمہارے سب کام بن جاویں گے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اور اس کے بعد تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(جاری)

مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۷)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: نبی ﷺنے حضرت علی کو درمیانی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔1 اس کی کیا وجہ تھی؟

عمار ناصر: بعض چیزیں اتنی لطیف ہوتی ہیں کہ پیغمبر کا ذوق ان کو محسوس کرتا ہے، ہماری ذوقی گرفت میں نہیں آتیں۔ اسی طرح بعض بہت لطیف چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق پیغمبر کوئی عمومی ہدایت بھی بیان نہیں کرتا۔صرف اپنے لیے اور اپنے خاص متعلقین کے لیے ان سے گریز کو پسند کرتا ہے۔ یہ بھی انھی میں سے ہے۔ روایت میں دو تین اور چیزوں کابھی ذکر ہے جن کے متعلق حضرت علی بتاتے ہیں کہ ان سے ہمیں منع کیاگیاہے، لیکن میں نہیں کہتاکہ تمہیں بھی یعنی عام لوگوں کو بھی منع کیاگیاہے۔

مطیع سید: جیسے ایک صحابی کو آپ نے چھوٹی عمر کا جانور قربان کرنے کی اجازت دی اور فرمایا کہ تمھارے بعد کسی اور کے لیے یہ رخصت نہیں ہے۔

عمار ناصر: نہیں، وہ تو ایک فقہی حکم تھا جس میں خصوصی طور پر کسی کو رخصت دی جا سکتی ہے۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ آپﷺ صرف انھی کو ان کا پابند کرتے تھے جن کے بارے میں آپ چاہتے ہیں کہ یہ میرے شخصی ذوق کا بھی خیا ل رکھیں،لیکن عمومی طورپر لوگوں کو اس کا پابند نہیں بناتے تھے۔

مطیع سید: نبیﷺ نے بال لگوانے سے منع فرمایا2 لیکن آج تو علما اس کی اجازت دیتے ہیں۔

عمار ناصر:حدیث میں جس صورت سے منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اصل بالوں کے ساتھ زائد بال اس طرح جوڑ لیے جائیں کہ وہ قدرتی اور اصلی دکھائی دیں۔ یہ تصنع ہے جس کو نبیﷺ کے مزاج اور ذوق نے پسند نہیں کیا۔ اگر اس میں دھوکے اور تلبیس کا پہلو بھی شامل ہو جائے تو پھر یہ حرمت کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ آج کل بھی اگر اسی طرح کی صورت ہو تو اس کاحکم یہی ہوگا۔ لیکن ایک چیز اور جدید ٹیکنالوجی نے پیدا کی ہے کہ آپ گنجے پن کا علاج مصنوعی طور پر بال لگوا کر کر سکتے ہیں۔ یہ اور چیز ہے، اس کی نوعیت علاج کی یا ایک عیب کو دور کرنے کی ہے۔ یہ اس حدیث کے تحت نہیں آتی۔

مطیع سید: نبیﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ انا قاسم واللہ یعطی، میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ دیتا ہے۔3 یہ آپ ﷺ نے کن معنوں میں فرمایا؟علم کے حوالے سے یا مال کی تقسیم کے حوالے سے؟

عمار ناصر: جس سیاق میں آپﷺ نے یہ فرمایا، وہ تو مال کے حوالے سے ہی تھا۔ اگر علمی حوالے سے کہا ہوتو وہ بھی ٹھیک ہے۔البتہ اس میں وہ تصور بالکل نہیں پایا جاتا جو بریلوی حضرات بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ کو مختار کل بنا دیا گیا تھا۔ تکوینی امور میں آپ بھی اللہ کے دوسرے بندوں کی طرح دعا کے ہی محتاج تھے اور دعا ہی کر سکتے تھے۔

مطیع سید: رباح،یسار، نافع وغیرہ ناموں سے آپﷺ نے منع فرمایا۔4 یہ تو اچھے نام ہیں، ان سے کیوں منع کیا گیا؟

عمار ناصر: اس کی وجہ حدیث میں ہی ذکر ہوئی ہے کہ آپ نے اس کو ناپسند کیا کہ کوئی پوچھے، کیا گھر میں رباح (یعنی فائدہ اور نفع) ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں ہے۔ اسی طرح پوچھا جائے کہ نافع گھر میں ہے اور کہا جائے کہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ایک لطیف ذوق کی بات ہے کہ بلا ارادہ بھی گھر میں نفع اور فائدہ کی موجودگی کی نفی نہ کی جائے۔ یہ ایک طرح سے تفاول کے اصول کا اطلاق ہے۔ البتہ حدیث میں ہی یہ وضاحت بھی ہے کہ آپ نے ان ناموں سے منع کرنے کا بس ارادہ ہی فرمایا، عملاً‌ ایسا کیا نہیں اور نہ ہی ایسے ناموں کو تبدیل کیا۔

مطیع سید: عام طورپر جونبیﷺ نے نام تبدیل فرمائے، وہ بھی اسی طرح کی وجوہ سے فرمائے؟

عمار ناصر: جی، عموماً‌ نام کے معنی میں کوئی ایسی بات ہوتی تھی۔ جیسے ایک لڑکی کا نام برّۃ تھا جس کا معنی ہوتا ہے بڑی نیک تو آپﷺ نے فرمایا کہ بدل دو۔لاتزکوا انفسکم، خود کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرو۔لیکن آپ اس کی بنیاد پر کوئی اصول اخذ کرنا چاہیں کہ کوئی بھی ایسانام جس میں تعریف کا پہلو ہو، وہ نہیں رکھنا چاہیے تو وہ بھی نہیں ہو سکتا۔کئی صورتوں میں بس پیغمبر کے ذوق اور پسند سے ہی حکم کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔ اس سے کوئی عام شرعی اصول اخذ نہیں ہوتا۔

مطیع سید: اہلِ کتاب کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایاکہ ان کو سلام میں پہل نہ کرو اور وہ سلام کریں تو صرف وعلیکم کہو۔5 یہ بات میرے خیال سے اس وقت کے خاص حالات سے متعلق ہی لگتی ہے۔

عمار ناصر:میرا خیال بھی یہی ہے کہ اس وقت کا جو خاص ماحول تھا، اس کے تناظر میں یہ کہا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تھی اور اہلِ کتاب کا ایک گروہ تھا جو پیغمبر کو سامنے پا کر اور صداقت کی نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لا رہا تھا۔تو ان سے ایک خاص طرح کا فاصلہ رکھنے اور ان سے براءت کے اظہار کا طریقہ اختیار کیا گیا۔بہت سے فقہاء اس کی تعمیم بھی کرتے ہیں، یعنی تمام غیر مسلموں پر اس کا اطلاق کرتے ہیں۔لیکن میری رائے میں اگر کسی ماحول میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے عمومی تعلقات پرامن اور خوشگوار ہوں اور ایک دوسرے کو سلام نہ کرنے سے معاشرتی تعلقات میں بدمزگی پیدا ہوتی ہو یا مسلمانوں سے متعلق کوئی منفی تاثر پیدا ہوتا ہو جو دعوت کے لیے یا مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو تو پھر اس پر اصرار کرنا درست نہیں۔ یہ کیا جا سکتا ہے کہ سلام کرتے ہوئے ہدایت کی نیت ذہن میں رکھ لی جائے، لیکن ظاہری میل جول کے آداب کی حد تک سلام اور سلام کا جواب دینا چاہیے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کے متعلق بھی مروی ہے کہ ایک سفر میں وہ کچھ یہودی یا مسیحی رفقاء سے جدا ہونے لگے تو ان کو سلام کیا۔ ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا تو ابن مسعود نے فرمایا کہ رفاقت کا حق ہوتا ہے، وہ ادا کرنا چاہیے۔

مطیع سید: نظر کے بارے میں آپﷺ نے فرمایاکہ تقدیر سے سبقت لے جانے والی کوئی چیز اگر ہوتی تو نظر ہوتی۔6 گویا یہ تقدیر سے سبقت نہیں لے جاسکتی، لیکن پھر نظر کے برحق ہونے کا کیا مطلب؟

عمار ناصر: نظر کا برحق ہونا تو تقدیر کے منافی نہیں۔ جیسے باقی تمام اسباب جو کسی فائدے یا نقصان کا ذریعہ بنیں، وہ تقدیر کے منافی نہیں۔ نظر لگنا بھی اسباب میں سے ایک سبب ہے اور اس حدیث میں اس کی تاثیر کی شدت بیان کی جارہی ہے کہ اگر تقدیر سے آگے بڑھ جانے والی کوئی چیز ہوتی تو یہ ہوتی، یعنی اتنا موثر سبب ہے۔

مطیع سید: آپﷺ جب بیمار تھے تو آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے گی جو یہاں موجود ہیں۔7 یہ کس حوالے سے نبی ﷺ نے فرمایا؟کیا آپ دوا نہیں پیناچاہ رہے تھے؟

عمار ناصر: جی، آپ پینا نہیں چاہ رہے تھے، لیکن حضرت عباس نے ازواج کے ساتھ مل کر زبردستی پلادی۔ بدلے میں پھر آپ نے بھی سب کو دوا پلوائی۔ یہ آپ کا اہل خانہ کے ساتھ دل لگی کا ایک انداز تھا۔

مطیع سید:آپﷺ نے فرمایاکہ مجھے فال پسند ہے۔8

عمار ناصر: اس سے اچھی فال مرادہے۔ بری فال کی تو آپﷺ نے نفی کی ہے۔

مطیع سید: اچھی فال اور بری فال میں فرق کیسے کریں گے؟

عمار ناصر: بری فال وہ ہے جسے ہم بدشگونی کہتے ہیں۔مثلاً‌ کوئی ایسا کام ہو گیا جو بظاہر ناخوشگوار ہے تو آدمی یہ سوچے کہ یہ گویا اشارہ یا نشانی ہے کہ اس کام کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔یہ توہم ہے۔اچھی فال اچھی سمجھی گئی ہے،اس لیے کہ وہ آپ کے دل میں امید پیداکرتی ہے،اور اس سے دل میں اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا اعتقاد پیداہوتاہے۔ اس کی تحسین اسی پہلو سے ہے کہ اس سے انسان کے دل میں اللہ کے بارے میں اچھا گمان اور اچھی امید پیداہوتی ہے۔مثلاً‌ آپ کوئی کام کرنے جارہے ہیں اور اچانک کوئی بندہ آگیا جس کا نام فلاح یا نافع ہے تو آپ اس سے یہ اچھی توقع قائم کریں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابی ملے گی۔اصل میں آپ اللہ سے امید وابستہ کررہے ہیں جو کہ اللہ کو پسند ہے۔ایمان کی یہ نشانی ہے کہ آپ اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھیں۔

مطیع سید: یہ دست شناس اور نجومی وغیرہ بھی اگر آپ کے اندر ایسے ہی امید پیداکریں تو ان کے پاس جانا کیسا ہے؟

عمار ناصر:یہ بالکل اور چیز بن جاتی ہے۔ اچھی امید انسان کے اپنے احساس اور گمان کی بنیاد پر ہو تو یہ اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔ لیکن اس کو آپ ایک فن بنا دیں اور غیب دانی کا کوئی ذریعہ سمجھ لیں تو وہ انسان کو توہم پرست بنادیتاہے۔ ایمان تو چاہتاہے کہ آپ مستقبل کے بارے میں اللہ پر اعتماد رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کرتے ہوئے معاملات کو انجام دیں۔ خود کو یقین دلانے کے مصنوعی اور غیر یقینی طریقے اختیار نہ کریں۔

مطیع سید:چھپکلی کو مارنے کا خاص طورپر اجر بیان کیا گیاہے9 حالانکہ چوہا اور دیگر جانور بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

عمار ناصر: بعض روایات میں اس کا تعلق حضرت ابراہیم کے واقعے سے جوڑاگیاہے کہ یہ چونکہ ان کی آگ کو بھڑکانے کے لیے پھونک مارتی تھی، اس لیے اس کو مار دیا کرو۔مختلف جانوروں کی طبیعت میں شر تو ہوتا ہی ہے جس کی وجہ سے وہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جانوروں میں کفر وایمان کے ساتھ بھی مناسبت ہوتی ہے۔ تو چھپکلی طبعاً‌ بھی ایک خبیث چیزہے جس کے اندر شر کا مادہ پایاجاتاہے اور کفر وایمان کے تقابل میں بھی اس کی مناسبت کفر سے ہے۔

مطیع سید:آپﷺ نے فرمایاکہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آنے سے کچھ لوگوں کو روک دیا جائے گا۔وہ میرے صحابہ میں سے ہوں گے جو دنیا میں میرے ساتھ رہے ہوں گے۔10 یہ اصحابِ رسول میں سے ہی کچھ لوگوں کی طرف اشارہ ہے؟

عمار ناصر: حدیثوں میں اصحاب کی تعبیر دو طرح سے آتی ہے۔بعض حدیثوں میں اصحاب کالفظ آپ کے ان قریبی ساتھیوں کے لیے بولا گیا ہے جو آپ کے انتہائی معتمد تھے۔بعض دوسرے مواقع پر ذرا عموم کے ساتھ یہ لفظ آپ کے دور کے مسلمانوں کے لیے بولا گیا ہے جو مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے۔ان میں بہت سے منافقین بھی تھے اور بہت سے وہ لوگ بھی تھے جو آپ کی وفات کے بعد ارتداد کے فتنے کا شکار ہو گئے۔یہ بھی ہو سکتاہے کہ ان میں سے کچھ لوگ جس طرح ایک منتخب گروہ اپنے عہد پر قائم رہا،وہ اس طرح قائم نہ رہے ہوں۔ تو حوض کوثر سے روک دیے جانے والوں میں یہ سب لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد اور ثابت قدم اصحاب کی جو جماعت تھی، وہ اس سے مراد نہیں ہے۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کےدرمیان مہرِ نبوت تھی۔11 روایت سے معلوم ہوتاہے کہ آپ نے اسے ازخود بطور دلیل نبوت پیش نہیں فرمایا۔کسی نے دیکھاتو چھپ چھپا کر یا فرمائش کر کے ہی دیکھا۔اگر یہ مہرِ نبوت تھی تو آپﷺ نے باقاعدہ اسے بطور دلیلِ نبوت پیش کیوں نہیں فرمایا؟

عمار ناصر:نبوت کی مہر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے کندھے پر مہر کا ہونا اس کو نبی ثابت کرتاہے۔یہ اس نوعیت کی چیز نہیں ہے۔یہ تو من جملہ علامات میں سے ایک جسمانی علامت تھی جو اہل کتاب کو بتائی گئی تھی،اور ظاہر ہے کہ یہ سب کے لیے اس طرح مفید بھی نہیں ہوسکتی تھی۔یہ تو انھی کے لیے مددگار ہو سکتی تھی جن کو ان نشانیوں کا کچھ علم تھا۔ تو جس نے آکر تحقیق کرنا چاہی، آپﷺ نے اس کو دکھا دی، لیکن عمومی طور پر ظاہر ہے یہ کوئی ایسی دلیل نہیں تھی کہ اسے یوں پیش کیا جاتا کہ دیکھو، چونکہ میرے کندھے پر مہر نبوت ہے، اس لیے میں نبی ہوں۔

مطیع سید: آپﷺ نے فرمایا کہ جب بچہ پیداہونے کے بعد روتاہے تو شیطان کے کچوکا لگانے سے روتا ہے۔12 سائنسی لحاظ سے توپیدائش کے فوراً بعد بچے کا رونا نہایت ضروری ہوتاہے۔اسی سے اس کے پھیپھڑے کام کرنا شروع کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات اسے خود رُلایا جاتا ہے۔

عمار ناصر: اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس کا رونا اچھا ہے یا براہے۔یہ بھی نہیں کہا گیا کہ اس کو رونا نہیں چاہیے۔ رونے کے، طبی یا جسمانی لحاظ سے بہت سے فوائد بھی ہیں، لیکن ایک پہلو سے رونا بظاہر ناخوشی اور دکھ کی بھی علامت ہے۔ اس پہلو سے اس کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔ حدیثوں میں آپ کو یہ اسلوب عام ملے گا کہ کسی بھی بُرے عمل کی نسبت عموماً‌ شیطان کی طرف کی جاتی ہے۔اس سے مقصود انسان کو شیطان سے متنفر کرنا ہوتا ہے۔ حدیث سے مزید یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک سلسلہ اسباب وہ ہے جو ہمارے لیے مادی لحاظ سے قابل ادراک ہے،اور اس کے ساتھ ایک اور سلسلہ بھی ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔بہت سی احادیث میں اس غیبی سلسلہ اسباب کے کچھ پہلو بیان کیے جاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جیسے ملائکہ کسی انسان کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں،اسی طرح شیاطین بھی پیدائش کے وقت سے ہی وابستہ ہو جاتے ہیں۔

مطیع سید: ختنہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے نہیں ہوتا تھا؟13

عمار ناصر:بظاہر تو حدیث سے اور بائبل کے بیان سے بھی یہی لگتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ سے ہی ایک رسم کے طور پر اس کی ابتدا کی گئی۔ اول من اختتن کے الفاظ آئے ہیں۔ البتہ تاریخی لحاظ سے حتمی طور پر یہ کہنا کہ اس سے پہلے یہ طریقہ بالکل ہی نہیں تھا، مشکل ہے۔ ممکن ہے، فی نفسہ یہ طریقہ تو موجود ہو، لیکن خاص ماحول اور خطے میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت ہوئی، ثقافتی روایت کے طور پر یا مذہبی عمل کے طور پر اس کا رواج نہ ہو۔ اس صورت میں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے دور میں پہلی مرتبہ اس کو شریعت کا حصہ بنایا گیا اور ایک پوری امت نے اس کو اختیار کر لیا۔

مطیع سید: حضرت ابراہیم ؑ نے تین خلاف واقعہ باتیں کہیں،یہ مشہور روایت ہے۔14 اس کی آپ کیا تاویل کرتے ہیں؟ قرآن تو ان کو صدیقا نبیا کہتاہے۔

عمار ناصر:عربی میں اصل میں کذب کا لفظ وہاں بھی بول دیاجاتاہے جب حقیقت کے لحاظ سے یا سننے والے کے فہم کے لحاظ سے بات خلاف واقعہ ہو، لیکن کہنے والے کی نیت غلط بیانی کی یا جھوٹ کی نہ ہو۔اسی طرح بعض جگہ قائل جان بوجھ کر کسی حکمت کے تحت ایسے ذومعنی الفاظ بولتا ہے جن کی اصل مراد کو سامع سے اوجھل رکھنا مقصود ہوتا ہے۔ اس کو توریہ کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے جن مثالوں کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے، وہ اسی نوعیت کی ہیں۔ معروف اور اصطلاحی مفہوم میں جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے، وہ یہاں مراد نہیں۔

مطیع سید: آپﷺ نے فرمایاکہ انبیا کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ایک موقع پرفرمایا کہ یونس بن متی پر بھی مجھ کو فضیلت نہ دو۔15 جبکہ قرآن کہتاہے کہ ہم نے بعض انبیا کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

عمار ناصر:یہ دونوں باتیں درست ہیں، لیکن موقع ومحل الگ الگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو باہم فضیلت تو دی ہےاور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر بھی کرتے ہیں۔نبیﷺ نے بھی بعض مواقع پر آپ کو جو خاص فضیلتیں دی گئیں،ان کا ذکر کیا۔لیکن بعض صورتوں میں وہی بات جو فی نفسہ درست ہوتی ہے، محرک بدل جانے سے نادرست قراردی جاتی ہے۔اگر تو محض اللہ کے فضل اور انعام کو بیان کر نا مقصود ہے،پھر تویہ ٹھیک ہے کہ انبیاء کی باہمی فضیلت کا ذکر کیا جائے۔ لیکن اگر یہ پہلو شامل ہو جائے کہ ایک نبی کی فضیلت کے ذکر سے دوسرے نبی کو کم تر دکھانا مقصود ہے تو پھر یہ جائز نہیں۔ اسی طرح دوسرے انبیاء کے ماننے والوں کے سامنے فضیلت جتائی جائے تو ان کی عقیدت کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس سے بھی حدیث میں منع کیا گیا ہے۔

مطیع سید: آپﷺ نےفرمایا کہ کوئی ایسا نبی ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔16 ایسے تو کئی انبیا ہیں مثلا ً‌ حضرت سلیمان جنھوں نے شاید کبھی بکریاں نہیں چرائی ہوں گی۔ حضرت یوسف تو بچپن میں ہی مصر چلے گئے اور شاہی محل میں پہنچ گئے۔

عمار ناصر: حضرت سلیمان نے بھی ہو سکتاہے، بکریاں چرائی ہوں۔حضرت داؤد تو چراتے رہے ہیں، ہو سکتا ہے حضرت سلیمان بھی ساتھ چراتے رہے ہوں۔ اسی طرح حضرت یوسف نے بھی ممکن ہے، بچپن میں چرائی ہوں یا مصر میں جس عرصے میں غلام رہے، تب چرائی ہوں۔ البتہ یہ سمجھنا چاہیے کہ حدیث میں بعض دفعہ تعمیم کے اسلوب میں کہی جاتی ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ اس میں کوئی استثنا نہیں ہوگا، یہ ضروری نہیں ہوتا۔

مطیع سید: یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ انبیا ء کی اکثریت ایسی تھی؟

عمار ناصر: جی، مثلاً‌ اگر یہ کہنا ہو کہ کم ہی کوئی نبی ہوگا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں تو عربی میں اس کے لیے بھی تھوڑے سے مبالغے کے اسلوب میں یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ ما من نبی الا۔ اور یہ سمجھ میں بھی آتاہے کہ انبیاء کا تعلق عموماً‌ دیہی کلچر سے ہی رہا ہے۔ اس زمانے میں شہری کلچر بھی بڑی حد تک دیہی ہی ہوتا تھا۔

مطیع سید: روایت ہے کہ نبیﷺ کچھ لکھوانا چاہ رہے تھے،تو حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں ابوبکر کے حوالے سے تحریر لکھوا دوں تاکہ کوئی خلافت کی تمنا نہ کرے۔17 اس روایت سے تو بڑا واضح ہو جاتاہے کہ نبیﷺ کیا لکھواناچاہ رہے تھے۔

عمار ناصر:جی، واضح ہے۔ صورت حال اور سیاق بھی یہ تھا اور آپ ﷺ چاہ بھی یہی رہے تھے کہ اس معاملے کو بالکل واضح کردیں تاکہ کوئی مسئلہ نہ کھڑاہو۔

مطیع سید: عبد اللہ بن ابی کے جنازے پر حضرت عمر نے آپﷺ کو روکنے کی کو شش کی لیکن آپ نے پھر بھی پڑھا دی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع فرمادیا۔18 اس کے بعد باقی منافقین کہاں گئے؟ حضرت عائشہ کے بقول تو منافقوں کا ایک سمندرتھا۔تو کیا کسی روایت میں آیاہے کہ کسی منافق کے جنازے کا مسئلہ نبیﷺ کے دور میں پیدا ہواہو اور آپﷺ نے اس کا جنازہ پڑھنے سے انکارکر دیاہو؟ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد منافقت کی پوری تحریک ہی زیرِزمین چلی گئی۔

عمار ناصر: اصل میں کچھ لوگ تھےجو منافقت میں بالکل نمایاں ہوکر سامنے آگئے تھے۔ قرآن نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کا نفاق مختلف مواقع پر بالکل ابھر کر سامنے آگیاہے، ان کو نماز جنازہ پڑھانے کا اعزاز نہ دیا جائے۔ اسی طرح جن کے متعلق آپ کو وحی کے ذریعے سے بتا دیا گیا کہ وہ منافق ہیں، قرین قیاس یہی ہے کہ آپ اس ممانعت کے بعد ان کی بھی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے ہوں گے۔ البتہ یہ ضروری نہیں تھا کہ آپ اس کا اعلان بھی کریں کہ میں اس لیے جنازہ نہیں پڑھا رہا کہ یہ منافق تھا۔ اصل میں رسول اللہﷺ کو منع کیا گیا تھا کہ آپ نے ان کا جنازہ نہیں پڑھانا۔یہ نہیں کہا گیا کہ ان کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھی جائے۔ البتہ بعد میں حضرت عمر بھی اس کا اہتمام کرتے تھے کہ کسی منافق کی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔حضرت حذیفہ کو آپﷺ نے ایک خاص واقعے میں بہت سے لوگوں کے نام بتائے تھے جو درپردہ منافق تھے۔تو مدینہ میں جب کوئی شخص فوت ہوتا تو حضرت عمر دیکھتے تھے کہ جنازے میں حذیفہ ہیں یا نہیں۔ اگر حذیفہ ہوتے تو حضرت عمر بھی جنازے میں شریک ہو جاتے تھے، ورنہ نہیں ہوتے تھے۔

مطیع سید: حضرت امیر معاویہ نے حضرت سعد کو خط لکھا کہ تم علی کو برا بھلاکیوں نہیں کہتے؟ یہاں لفظ "سبّ" آیاہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں علی کے بارے میں تین ایسی باتیں جانتاہوں کہ اگر ان میں سے ایک بھی میرے پا س ہوتی تو میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا۔19 اس روایت میں تو بڑا واضح ہے کہ وہ انہیں ابھار رہے ہیں کہ تم علی پر سب و شتم کیا کرو۔ تو یہ کیوں کہاجاتاہے کہ حضرت امیر معاویہ نے حضرت علی پر سب وشتم نہیں کروایا؟

عمار ناصر:جی،ہمارے ہاں تو ایسا ہی ماحول بن گیاہے کہ اس طرح کی ہر روایت کو کہہ دیا جاتاہے کہ یہ وضع کی گئی ہے۔تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں باہمی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے بارے میں برا بھلا کہنے کا عمل ہوا تھا۔ اس رسم بد کی ابتدا مخالفین عثمان نے کی تھی اور حضرت عثمان پر سیاسی ودینی اعتراضات اٹھانے کے علاوہ ان کے خلاف فتنہ برپا کرنے کے لیے لعن طعن اور سب وشتم کی رسم بھی جاری کی تھی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حالات کے جبر کے نتیجے میں یہ سارا کیمپ حضرت علی کی چھتری تلے جمع ہو گیا تو دوسری طرف سے سب وشتم کی اسی بد رسم کا ہدف حضرت علی کو بنا لیا گیا، کیونکہ حضرت عثمان کے برابر کی شخصیت وہی تھے۔ ظاہر ہے، حضرت عثمان کے متعلق عیب جوئی یا بدزبانی کا بدلہ مالک اشتر کو گالی دینے سے نہیں ہو سکتا تھا، تسلی اور اطمینان تبھی ہو سکتا تھا جب نعوذ باللہ حضرت علی کو برا بھلا کہا جائے۔ گویا دونوں بزرگ اپنے مقام اور حیثیت کی وجہ سے فریقین کے سب وشتم کا مرکزی ہدف بن گئے تھے، حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی شخصی جھگڑا نہیں تھا۔

البتہ اس "سبّ" کی نوعیت کیا تھی،یہ دیکھنے کی چیزہے۔وہ غالباً‌ اسی مفہوم میں تھا کہ متحارب گروہ اور سیاسی فریق ایک دوسرے کے لیڈروں کے بارے میں معائب یا نقائص بیان کرتے تھے یا مختلف حوالوں سے نکتہ چینی کرتے تھے۔بسا اوقات خود کو حق پر اور مخالف کو باطل پر سمجھ کر ایک دوسرے پر لعن بھی کرتے تھے۔یہ لعن کا عمل صرف ایک طرف سے نہیں ہوا، حضرت علی کی طرف سے اور ا ن کے ساتھیوں کی طرف سے بھی مخالفین کے خلاف ہوا۔اہل شام کے بارے میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام اور ان پر لعنت کی ابتدا حضرت علی نے کی تھی،اس لیے کہ وہ اپنے برحق ہونے کا پورا یقین رکھتے تھے اور مخالفین کو باغی سمجھتے تھے۔جواب میں اہل شام نے بھی قنوت نازلہ شروع کر دی۔

مطیع سید: حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں اسلام لانے سے تین سال پہلے بھی نماز پڑھتاتھا۔20 غامدی صاحب اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے نماز کا ڈھانچہ اس لیے بیان نہیں کیا کہ وہ عربوں کے ہاں معروف تھا۔ کیا یہ درست ہے؟

عمار ناصر: یہ بات تو ٹھیک ہے کہ نماز کا تصور اور اس کا طریقہ عرب میں معروف تھا۔ قرآن نے جب کہا کہ اقیموا الصلوۃ تو وہ ایک نئی اصطلاح نہیں تھی،بلکہ عرب کے ہاں معروف تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی ابتداءً‌ اسی کے مطابق نماز پڑھتے تھے۔ روایات میں ہے کہ آپ نبوت کے بعد ابتدائی سالوں میں چاشت کے وقت کی نماز تو کھلے بندوں پڑھتے تھے، کیونکہ قریش کے لوگوں میں یہ وقت نماز کے لیے معروف تھا اور وہ بھی یہ نماز پڑھتے تھے، البتہ دیگر نمازیں آپ اور اہل ایمان چھپ کر ادا کرتے تھے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے طریقے میں ابتداءً‌ خاص فرق نہیں تھا۔ لیکن پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تدریجاً‌ اس میں ضروری تبدیلیاں بھی کیں اور بہت سے نئے احکام شامل کیے۔ وہ ظاہر ہے، پہلے سے معروف نہیں تھے بلکہ پیغمبر کے بتانے سے شریعت کا حصہ بنے۔

مطیع سید: ایک واقعہ تفسیروں میں بیان کیا جاتاہے کہ حضرت داؤد کو ایک عورت پسند آگئی تھی جو کسی کی بیوی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ جب وہ عورت انہیں پسند آگئی تو انہوں نے اسے طلاق دلوا دی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کے خاوند کو جنگ میں بھیج کر مروا دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دورکا یہ کلچر تھا کہ کسی کی بیوی پسند آ جائے تو اس کے خاوند سے بات کرلیتے تھے کہ تم اسے چھوڑ دو۔کیاقرآن نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیاہے؟

عمار ناصر: یہ واقعہ بائبل میں بیان ہواہے کہ حضرت داود علیہ السلام چھت پر چڑھے تو دیکھا کہ ان کے پڑوسی اوریا حتی کی بیوی نہا رہی تھی۔ وہ انہیں پسند آگئی۔ پھر انھوں نے اس کو اس نیت سے کسی محاذ جنگ پر بھیج دیا کہ وہ جنگ میں مر جائے اور وہ اس کی بیوی سے نکاح کر لیں۔قرآن میں یہ واقعہ تو نہیں ہے، لیکن قرآن نے حضرت داود کے حوالے سے ایک خاص مثال بیان کی ہے کہ انھیں متنبہ کرنے کے لیے ان کے پاس دو ایسے فریق بھیجے گئے جن میں سے ایک دوسرے کی دنبی لے لینا چاہتا تھا، حالانکہ اس کے پاس ایک ہی دنبی تھی اور دوسرے کے پاس ننانوے تھیں۔ اس سے مفسرین نے قیاس کیا ہے کہ یہ شاید اسی طرح کے کسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے، بعینہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو،لیکن اس واقعہ کے علاوہ اور بھی کوئی بات ہو سکتی ہے۔

مطیع سید: اسرائیلی واقعہ کو اگر ہم لیں تو اس سے ایک پیغمبر کی شان پر حرف نہیں آتا؟ پرانےمفسرین نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس واقعہ کو لے لیا تو کیا اُن کے سامنے یہ پہلو نہیں تھا؟

عمار ناصر: بائبل میں جو تفصیلات مذکور ہیں، ان کے متعلق تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ساری صحیح ہیں یا قرآن ان کی تصدیق کر رہا ہے۔ ہمارے قدیم مفسرین عموماً‌ اس آیت کے تحت اسرائیلی واقعہ ہی نقل کر دیتے ہیں، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے۔لیکن دورجدید میں زیادہ تر مفسرین اس روایت پر نقد کرتے ہیں۔

مطیع سید:اگر یہ واقعہ نہیں تھا، لیکن اس سے ملتا جلتا کوئی اور واقعہ تھا تو کیا نبی سے ایسا فعل صادر ہو سکتا ہے؟

عمار ناصر: انبیا کے بارے میں قرآن یہ بیان کرتاہے کہ وہ اللہ کے بہت منتخب بندے ہوتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ بشریت بھی ہوتی ہے، خواہشات بھی ہوتی ہیں، اور ان سے کچھ نامناسب چیزیں بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔ لیکن وہ فوراً‌ متنبہ ہو کر معافی کے طلب گار ہو جاتے ہیں۔وہ بالکل فرشتہ نہیں ہوتے۔ قرآن نے جو دنبیوں والی مثال بیان کی ہے، اس سے حضرت داؤد کو ان کی کسی غلطی کی طرف متوجہ کرنا ہی مقصود تھا۔قرآن کے بیان کے مطابق وہ فوراً‌ سمجھ گئے اور انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے بھی وہ خطا معاف کر دی۔فغفرنا لہ ذالک۔

مطیع سید: مجھے ایسے لگتاہے کہ نبی جب دنیا سے وفات پاتاہے، تب اس کی پوری زندگی عصمت والی ہوجاتی ہے۔مطلب جب تک وہ زندہ ہوتاہے،اس بات کا امکان ہے کہ اس سے کوئی خطاہو جائے۔ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کا عمل بھی جاری رہتاہے، لیکن جیسے ہی وہ دنیا سے چلا جاتا ہے،اس کی زندگی مکمل ہو جاتی ہے۔ اب وہ مکمل طور پر گناہوں یا خطاوں سے پاک ہے۔

عمار ناصر:جی، یہ بھی تعبیر درست ہے کہ نبی دنیا سے گویا طاہر ومطہر ہوکر جاتا ہے۔

مطیع سید:کسی نے ایک اونٹنی پر لعنت کی،آپﷺ نے فرمایاکہ اسے چھوڑ دو۔ یہ ملعونہ ہے، یہ ہمارے ساتھ نہیں چلے گی۔21  ایک آدمی کی غلطی کی وجہ سے اونٹنی کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟

عمار ناصر: مراد یہ تھی کہ ایک ایسی چیز جس پر لعنت کر دی گئی ہے، وہ سفر میں ہمارے ساتھ نہ ہو۔ اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ لوگوں پر جانوروں پر لعنت کرنے کی شناعت واضح کی جائے، تاکہ وہ اس کو ہلکا اور معمولی عمل نہ سمجھیں۔ یعنی یہ حساسیت پیدا کرنے کا ایک حکیمانہ اسلوب تھا۔

مطیع سید: وعدہ الست مجھے تو یاد نہیں ہے۔کسی کو بھی یاد نہیں،کوئی نہیں کہتا کہ مجھے اس کا شعور ہے۔تو کیا یہ اعتراض نہیں بن جاتا کہ ایسے واقعے کا حوالہ دیاجارہاہے جو کسی کو یادنہیں؟

عمار ناصر:یہ کوئی ضروری بھی نہیں کہ مجھے اس وقت یاد ہو۔انسانی شعور کی مختلف سطحیں ہیں۔ نفسیات بتاتی ہے کہ جو اس کی تین سطحیں(شعور، تحت الشعور، لاشعور ) ہیں،اس میں احساس آپ صرف اسی کاکرسکتے ہیں جو آپ کےشعور کی سطح پر ہے۔ہمیں اس وقت وہ عہد یاد نہیں ہے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جب ہم سے یہ عہد لیا گیا تھا، اس وقت یہ پوری طرح ہماری شخصیت کا حصہ تھا،اور قیامت میں جب ہم سے پوچھا جائے گاتو پھر یہی کیفیت ہوگی۔

مطیع سید: بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بعد کی بات ہے جب آدم علیہ السلام پیداہوگئے اور دنیامیں آگئے تو ان کو اور ا ن کی اولاد کو مخاطب کرکے یہ کہا گیاہے۔

عمار ناصر: جی، بعض مفسرین مثلاً‌ ابن کثیر اس کو ایک واقعہ نہیں مانتے۔ان کی رائے یہ ہے کہ یہ روحوں کی دنیا میں کوئی حقیقی واقعہ نہیں ہوا۔بلکہ مطلب یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر دیا اور ان کی اولاد کے لیے اس دنیا میں خدا کی معرفت کے دلائل اور معاون ذرائع مہیا کردیے۔پھر ان سے کہا کہ اِن دلائل کو دیکھو اور خدا کو پہچانو۔ یعنی وہ اس کو ایک تمثیلی تعبیر سمجھتے ہیں۔لیکن قرآن کے الفاظ بظاہر اس کو قبول نہیں کرتے۔الفاظ سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ واقعہ ہوا۔ وہ واقعہ عالمِ ارواح میں ہوا ہو،قرآن کے الفاظ اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔وہ واقعہ اس دنیا میں آدم علیہ السلام کے آنے کے بعد ہوا،اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ عالمِ ارواح کا واقعہ ہے،کیونکہ اس میں حضرت آدم کا ذکر نہیں ہے۔اس میں ذکرہے کہ اللہ نے بنو آدم سے عہد لیا،جبکہ دنیا میں تو ابھی سارے بنی آدم آئے ہی نہیں۔اس لیے یہ امکان زیادہ درست لگتا ہے کہ عالمِ ارواح میں یہ عہد لیا گیا۔

مطیع سید: ایک بندہ تھا،وفات پا گیا۔اس نے اپنے وارثوں سے کہا کہ مجھے جلا کر میری راکھ پانی میں پھینک دینا اور ہوا میں اڑا دینا تاکہ مجھے اللہ کے سامنے پیش نہ ہونا پڑے۔22 ایک طرف وہ ایمان والا ہے اور اسے اتنا خوف ہے اور دوسری طرف وہ عجیب قسم کی وصیت کر تاہے۔ کیا اسے خدا کی قدرت کے بارے میں معلوم نہیں تھا؟

عمار ناصر: یہ بڑادلچسپ واقعہ ہے۔اس واقعے سے مختلف کلامی گروہوں کے بنائے ہوئے قاعدے اور قانون ٹوٹتے ہوئے لگتے ہیں۔لیکن واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل چیز دل کی کیفیت ہے،ظاہری اعمال اتنے اہم نہیں۔ اس شخص کو اللہ کی قدرت کا بھی علم تھا اور گناہوں کے مواخذے کا قانون بھی معلوم تھا، لیکن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا خوف اتنا غالب تھا کہ اس نے یہ وصیت کر دی اور اللہ تعالیٰ کو بھی اس کا یہ جذبہ اتنا پسند آیا کہ اسی پر اس کی بخشش کا فیصلہ کر دیا گیا۔

مطیع سید: کیا اس کو یہ اندازہ نہیں تھاکہ ایساکرنے سے کچھ نہیں ہوگا؟ اللہ تو قادر ہے، وہ مجھے پھر جسم عطاکر کے اپنے حضور کھڑ اکر دے گا؟

عمار ناصر: نہیں، یہ ضروری نہیں کہ وہ یہ سمجھتاہوکہ اس طرح اگر کر لیا جائے تو میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ جاؤں گا۔یہ ایک ایسا بندہ ہے جو اپنے احساس ندامت کی وجہ سے اللہ کے حضور میں پیش ہونے سے بچنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق جو کچھ سکتاہے، کر گزرتاہے۔ بس اس کا یہی احساس اللہ کو پسند آیا اور اس کی بخشش کا ذریعہ بن گیا۔

مطیع سید: قیامت کے دن جہنم سے چھٹکارا پانے کے لیے مسلمان کو ایک فدیہ دے دیاجائے گا۔ مسلمان کو کہاجائے گا کہ تم اپنی طرف سے فدیے کے طور پر ایک آدمی دےدو اور جہنم کی سزا سے بچ جاؤ۔پھر کوئی یہودی یا نصرانی اس کے حوالے کر کے کہاجائے گا اس کو اپنی جگہ فدیے میں دے دو اور جہنم سے بچ جاؤ۔23 اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ تو عجیب سی بات لگتی ہے۔

عمار ناصر: اصل میں تو اللہ تعالیٰ مومن کو بخشنا چاہتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کے طے کردہ کسی اصول پر بھی کوئی زد نہیں آرہی۔ جس یہودی یا نصرانی نے اپنے اعمال یا کفر کی وجہ سے جہنم میں ہی جانا ہے، اسی کو مسلمان کا فدیہ بنا دیا جائے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ سزا سے بچانے کے لیے ایک رسمی کارروائی اس طرح ہو جائے گی، ورنہ اصل میں تو اللہ کی طرف سے چھٹکارے کا فیصلہ ہی اس کی بنیاد ہوگا۔

مطیع سید:آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے24 جبکہ حضرت عائشہ ایک روایت میں فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو مدینہ میں منافقین کا سمندر تھا۔

عمار ناصر:اس روایت میں جو آپﷺ نے بارہ منافقین کا ذکر کیا ہے، یہ تو وہ ہیں جن کے نام آپﷺ نے حضرت حذیفہ کو بتائے تھے۔ یہ مدینہ کے سرکردہ منافقین تھے۔ باقی آپ کی وفات کے بعد کئی کمزور ایمان کے لوگ بھی متزلزل ہو گئے تھے اور بہت سے کچے پکے منافق بھی کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ سیدہ عائشہؓ اس کا ذکر کر رہی ہیں۔

مطیع سید: ایک دفعہ آندھی چلی تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ آندھی کسی بڑے منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔25 وہ کون تھا؟

عمار ناصر: احادیث کی کتابوں میں تو اس کے نام کی تصریح نہیں ملتی۔بس اتنا ذکر ہے کہ آپﷺ ایک سفر میں تھے اور آندھی چلی تو یہ بات ارشاد فرمائی۔ جب صحابہ مدینہ پہنچے تو پتہ چلا کہ ایک بہت سرکردہ منافق کا انتقال ہو چکا ہے۔ البتہ بعض تفسیری روایات میں ذکر ہے کہ یہ رفاعہ بن زید نامی ایک یہودی تھا جو منافقین کی بڑی سرپرستی کرتا تھا۔ بغوی اور ابن کثیر وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔

مطیع سید:حضرت آدم کے قد کے بارے میں جو روایتوں میں آتاہے،26 وہ جنت میں ان کے قد سے متعلق ہے یا زمین پر بھی اتنا ہی قد تھا اور پھر کم ہوتا چلا گیا؟ تاریخی طورپر تو اس کا ثبوت نہیں ملتا۔انسانوں کے انتہائی پرانے ڈھانچے بھی جو ملے ہیں، ان کا قد ہمارے جیسا ہی ہے۔

عمار ناصر: بظاہر تاریخی شواہد سے اس کی تائید نہیں ہوتی اور صحیح بخاری کے شارح حافظ ابن حجر نے بھی اس اشکال کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ اس کا کوئی جواب ان کے سامنے نہیں ہے۔ ابن خلدون نے بھی یہ اشکال پیش کیا ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ابتدائی حالات کے بارے میں ہمار ی تحقیق ابھی مکمل نہیں،اور اگر روایت صحیح نہیں تو غالباً‌ اسرائیلیات میں سے ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر اہل علم کا رجحان یہ ہے کہ حدیث صحیح ہے اور ہماری موجودہ معلومات ناقص ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض اہل علم سیدنا ابوہریرہ کی مرویات میں اسرائیلیات کے مخلوط ہو جانے کی متعدد دیگر مثالوں کے پیش نظر یہ رجحان رکھتے ہیں کہ یہ روایت بھی اسی قبیل سے ہے۔ دونوں آرا کی علمی طور پر گنجائش نظر آتی ہے، حقیقت حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

مطیع سید: یاجوج ماجوج کے دیوار چاٹنے والی روایت سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

عمار ناصر: مسند احمد میں یہ روایت ہے۔ اس پر ابن کثیر نے یہ تبصرہ کیاہے کہ یہ اسرائیلیات میں سے ہے۔سند اس کی اگرچہ صحیح ہے لیکن اسرائیلیات میں سے ہے اور غلطی سے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہو گئی ہے۔ویسے جس طرح کی تفصیل اس میں بیان ہوئی ہے، وہ کافی افسانوی سی چیز بن جاتی ہے۔

مطیع سید:قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک جہجاه نامی شخص بادشاہ نہ بن جائے۔27 کیا اس نام کا کوئی شخص بادشاہ بنا ہے؟

عمار ناصر: ابھی تک تو نہیں ہوا۔اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ہوگا۔

مطیع سید:قیامت کے قریب یہودی جب درختوں کے پیچھے چھپیں گے تو سارے درخت ان کا چھپنا بتادیں گے، سوائے غرقدکے درخت کے۔28 آپﷺ نے فرمایا کہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔درخت یا اس طرح کی چیزیں تو کسی مذہب کی نہیں ہوتیں۔یہ کس پہلو سے نبیﷺ نے فرمایا؟کیا درخت کے اندر فطری طورپر ایساکچھ ہے؟

عمار ناصر:یقیناً‌ چیزوں میں ایسی مناسبتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ادراک کے لحاظ سے بظاہر درخت وغیرہ شعور اور کسی خاص چیز سے مناسبت نہیں رکھتے، لیکن یہ ہمارے ادراک کا قصور ہے۔ نبی کو اس طرح کے بہت سے غیبی امور کی بھی اطلاع ہوتی ہے۔

مطیع سید: ابن صیاد کے بارے میں پڑھ کر بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ آپﷺ اس سےسوال پوچھتے ہیں اور وہ جواب دیتاہے۔پھر آپ نے پوچھا کہ جنت کی مٹی کیسی ہوگی،وہ اس کا صحیح جواب بتادیتاہے۔پھرآپ نے فرمایا کہ میں نے دل میں ایک بات سوچی ہے، بتاؤ وہ کیا ہے۔وہ بھی وہ آدھی بو جھ لیتاہے۔پھر جب ابن صیاد جوان ہوتاہے تو اس سے اس طرح کے واقعات صادر نہیں ہوتے۔پھر وہ حج کے لیے جاتے ہوئے یہ گلہ بھی کرتاہے کہ دیکھو تم نے مجھے دجال سمجھا اور میں تو مکہ میں داخل ہوں گا۔لیکن پھر آخر میں یہ کہہ کر پھر شک میں ڈال دیتاہے کہ مجھے پتہ ہے کہ وہ یعنی دجال کہاں ہے۔29

عمار ناصر:جی، یہ ایک دلچسپ کردار تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اند رکچھ خفیہ اور غیرمعمولی نفسی صلاحیتیں تھیں جن کی بدولت اس کو کشف صدور وغیرہ ہو جاتا تھا۔بعض صحابہ کو تو ان واقعات کی وجہ سے پورایقین تھا کہ وہی دجال ہے۔

مطیع سید: نبیﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا۔30 جب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ حضرت نوح،ادریس، ابراہیم علیہم السلام کے دور میں وہ نہیں آئے گا تو پھر ہر نبی اپنی امت کو اس سے کیوں ڈرارہا ہے؟ جب ایک نبی کی امت کو ایک فتنہ سے واسطہ ہی نہیں پڑنا تو اس سے اپنی امت کو ڈرانے کی کیا ضرورت ہے؟

عمار ناصر: اصل میں یہ پیش گوئی کے طور پر یعنی لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے اور اس فتنے سے متعلق پیشگی آگاہی دینے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔دیکھیں، حضرت مسیح علیہ السلام کی دوبارہ آمد اور قربِ قیامت کے بہت سے مناظر اور بہت سے واقعات بھی آپ کو پیشین گوئیوں میں ملیں گے۔اسی طرح سابقہ صحائف میں بھی اور خصوصاً‌ یوحنا کے مکاشفہ میں بھی ایسی بہت سی چیزیں ہیں۔تواس پہلو سے اسے دیکھاجا سکتاہے۔

مطیع سید: یاجوج وماجوج کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ یورپی اقوام ہیں،اور یاجوج وماجوج کے دنیا میں پھیل جانے سے انہی اقوام کا دنیا میں چھا جانا مرادہے۔لیکن حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح کے بعدان کا ظہور ہوگا۔پھر تو یہ تاویل درست معلو م نہیں ہوتی۔

عمار ناصر: اصل میں بابئل کے بیانات ہیں،جن میں سے کچھ ہمارے ذخیرے میں بھی نقل ہوئے ہیں کہ حضرت نوح کے تین بیٹے تھے،سام، حام اور یافث۔ حام جو سیاہ فام نسلیں ہیں،ان کا ابوالآبا ہے۔ عرب اور بنو اسرائیل وغیرہ، یہ سام کی نسل سے ہیں۔اور جوسفید فام نسلیں ہیں، ان کا باپ یافث ہے۔ روایت میں اہل روم کا لفظ آیا ہے جس سے مرا د یہی سفید فام نسلیں ہوتی ہیں۔ انھی یعنی یافث کی اولاد میں سے یاجوج وماجوج کے قبیلے تھے۔

یورپی اقوام کو یاجوج وماجوج قرار دینا یہ مولانا آزاد اور علامہ أنور شاہ صاحب وغیرہ کا رجحان ہے۔ علامہ أنور شاہ صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یاجوج وماجوج کے خروج کی پیشین گوئیوں میں کسی ایک خاص اور متعین واقعے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ایک سلسلہ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے خروج کا پہلا مرحلہ سد ذو القرنین کے ٹوٹنے کا تھا جس کے بعد یاجوج وماجوج، اپنے علاقے سے باہر نکلنا شروع ہو گئے۔ شاہ صاحب کے مطابق یہ تاریخ میں کئی صدیاں پہلے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد فوقتاً‌ فوقتاً‌ مختلف مراحل پر ان کے خروج کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ ترکی نسل، اہل روس اور اہل برطانیہ یاجوج ماجوج کی اولاد ہیں اور دنیا میں فساد اور تباہی پھیلانے کے لیے ان کے خروج کا آغاز منگولوں کے حملوں کی صورت میں ہو چکا ہے۔ شاہ صاحب چنگیز خان، ہلاکو اور تیمور لنگ کی تباہ کاریوں کو بھی اسی پیشین گوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ جب یہ سلسلہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دنیا کی تباہی اور فساد کے آخری مرحلے میں داخل ہوگا تو وہ بالکل قیامت کا قریبی زمانہ ہوگا جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں بھی ہے اور احادیث میں بھی اس کا ذکر ہے۔

مطیع سید: یہ جو جساسہ والا واقعہ ہے، بڑا دلچسپ ہے۔ حضرت تمیم داریؓ ایک سمندری سفر میں ایک جزیرے پر جا پہنچتے ہیں اور وہاں ان کی ملاقات ایک عجیب وغریب جانور سے ہوتی ہے جس کو وہ جساسہ کہتے ہیں۔ وہ ان کو دجال کے متعلق اطلاع دیتا ہے۔31  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ لوگوں کو سنانے کے لیے خصوصی مجلس منعقد فرمائی اور لوگوں سے کہا کہ دیکھو، میرا بھائی تمیم داری بھی وہی بات کہہ رہاہے جو میں تمھیں بتاتا تھا۔ آج تو دنیا نے ہر جزیرہ چھان ماراہے۔اگر ایسا کوئی جزیرہ تھا تو دوبارہ صحابہ اس طرف کیوں نہیں گئے؟ اور وہ جزیرہ کہاں غائب ہوگیا؟

عمار ناصر: جی، یہ روایت کافی سوالات پیداکرتی ہے۔مثلاً‌ اس روایت میں تمیم داری کہتے ہیں کہ وہ عجیب سی بولی بولتاتھا اور ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔لیکن اسی روایت میں اس کے ساتھ جو اتنا لمباچوڑا مکالمہ مذکور ہے، وہ کیسے سمجھ میں آگیا؟ بہرحال اس طرح کا ایک واقعہ عباسی عہد کے معروف سیاح ابن فضلان نے بھی اپنے سفرنامے میں بڑے وثوق سے بیان کیا ہے جس نے تیسری صدی ہجری میں روس اور ترکی کے بہت سے علاقوں کا سفر کیا تھا۔ حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔

مطیع سید: دجال سےمتعلق جو روایات ہیں،32 ان کو ہم دورِ جدیدکے الحاد پر منطبق کر سکتے ہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دورِ حاضر میں جو انکارِ خداکی لہر پھیل رہی ہے اور الحاد بڑھ رہاہے، اسی کی انتہا دجال کا ظہور ہوگا۔

عمار ناصر: ظاہر ہے، انسان کا اپنا تخیل بھی کام کرتا رہتا ہے۔وہ جن چیزوں کو دیکھتا ہے، ان کا آپس میں رشتہ جوڑنے کی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔میرے خیال میں الحاد کو فتنہ دجال کے متعلقات یا تمہیدات کے معنی میں لے سکتے ہیں، لیکن بعینہ فتنہ الحاد کو آپ دجال کا مصداق قرار دے دیں، یہ کافی مشکل لگتا ہے۔دجال بظاہر ایک شخص ہی ہوگا۔

مطیع سید:ایسے لگتا ہے جیسے وہ کوئی غیر مذہبی آدمی ہوگا۔ جس طرح یہ دور چل رہاہے،ترقی ہورہی ہے اور الحادبڑھ رہا ہے،اسی کا ایک نمائندہ آئے گا۔

عمار ناصر: یہ تو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ غیر مذہبی ہوگا۔ وہ تو خدائی کے دعوے کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ یہودی تو بالکل اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔ جو خداہونے کا دعویٰ کرے گا، وہ غیر مذہبی کیسے ہوسکتاہے؟ وہ یہی دعویٰ کرکے آئے گا کہ میں وہ مسیح ہوں جس کو اللہ نے یہ سارے اختیارات دیے ہوئے ہیں،لیکن حقیقت میں ہوگا نہیں۔وہ غیر مذہبی نہیں ہوگا بلکہ تینوں مذاہب کے اندر جو حضرت مسیح کا ایک انتظارِ شدید ہے، وہ اسی انتظار کو اپنے دعوے کی بنیاد بنائے گا۔ مطلب یہ کہ وہ غیر مذہبی نوعیت کی چیز نہیں ہوگی،بلکہ مذہبی قسم کا ایک فتنہ ہوگا۔

مطیع سید: کچھ دیہاتی آئے،انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟آپﷺ نے فرمایاکہ یہ جو سامنے نوجوان ہے، اس کے بوڑھاہونے سے پہلے آجائے گی۔33 اس سے کیا مرادتھا؟

عمار ناصر: یہاں اصل مقصود قیامت کا وقت بتانا نہیں ہے،اور وہ آپﷺ کے علم میں بھی نہیں ہے۔ قرآن مجید بیان کرتاہے کہ سوائے اللہ کے کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کا وقت کیا ہے۔اصل میں آپ کا مقصود مخاطب کے لحاظ سے جواب دینا ہوتا ہے کہ اس کو کیا بات بتانی چاہیے یا کس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔مثلاً‌ ایک مرتبہ آپ سے سوال ہوا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری قیامت کے لیے کتنی تیاری ہے؟ اسی طرح اس واقعے میں آپ نے سائل کی تقریبِ ذہنی کے پہلو سے فرمایا کہ تم یہ سمجھو کہ گویا اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے آجائے گی۔مطلب یہ کہ اس کے لیے تم اب تیاری کرو۔قرآن میں بھی یہی اسلوب ہے۔قرآن میں آپ کو قیامت کا ذکر بہت سی جگہوں پر ایسے ہی ملے گا جیسے وہ بہت ہی قریب ہے۔اسی سے بعض مستشرقین نے یہ کہا ہے کہ شروع کے دنوں میں محمد ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے اور قیامت کا وقت بالکل آ پہنچا ہے۔


حواشی

  1. صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ، باب النہی عن التختم فی الوسطى والتی تليہا، رقم الحدیث: 2095، جلد:3،ص:1659
  2. صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ، باب تحريم فعل الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ، رقم الحدیث: 2122، جلد:3،ص:1676
  3. صحیح مسلم،کتاب الآداب، باب النہی عن التكنی بابی القاسم وبيان ما يستحب من الاسماء، رقم الحدیث: 2133، جلد:3،ص:1682
  4. صحیح مسلم،کتاب الآداب، باب كراہۃ التسميۃ بالاسماء القبیحۃ وبنافع ونحوه، رقم الحدیث: 2136، جلد:3،ص:1685
  5. صحیح مسلم،کتاب السلام، باب النہی عن ابتداء اہل الكتاب بالسلام وكيف يرد علیہم، رقم الحدیث: 2163، جلد:4،ص:1705
  6. صحیح مسلم،کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقى، رقم الحدیث: 2188، جلد:4،ص:1719
  7. صحیح مسلم،کتاب السلام، باب كراہۃ التداوی باللدود، رقم الحدیث: 2213، جلد:4،ص:1733
  8. صحیح مسلم،کتاب السلام، باب الطيرة والفال، رقم الحدیث: 2224، جلد:4،ص:1746
  9. صحیح مسلم،کتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ، رقم الحدیث: 2240، جلد:4،ص:1758
  10. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبينا صلى الله عليہ وسلم وصفاتہ، رقم الحدیث: 2290، جلد:4،ص:1793
  11. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب اثبات خاتم النبوة وصفتہ ومحلہ من جسده صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 2344، جلد:4،ص:1823
  12. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب فضائل عيسى عليہ السلام، رقم الحدیث: 2366، جلد:4،ص:1838
  13. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب من فضائل ابراہیم الخليل صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 2370، جلد:4،ص:1839
  14. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب من فضائل ابراہیم الخليل صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 2371، جلد:4،ص:1840
  15. صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب فی ذكر يونس عليہ السلام، رقم الحدیث: 2376، جلد:4،ص:1846
  16. صحیح البخاری، ‌‌ابواب الاجارۃ، ‌‌باب رعی الغنم على قراريط، رقم الحدیث: 2262، ص:580
  17. صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابۃ رضی الله تعالى عنہم، باب من فضائل ابی بكر الصديق رضی الله عنہ، رقم الحدیث: 2387، جلد:4،ص:1857
  18. صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابۃ رضی الله تعالى عنہم، باب من فضائل عمر رضی الله عنہ، رقم الحدیث: 2400، جلد:4،ص:1865
  19. صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابۃ رضی الله تعالى عنہم، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی الله عنہ، رقم الحدیث: 2404، جلد:4،ص:1871
  20. صحیح مسلم، كتاب فضائل الصحابۃ رضی الله تعالى عنہم، باب من فضائل ابی ذر رضی الله عنہ، رقم الحدیث: 2473، جلد:4،ص:1923
  21. صحیح مسلم، كتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن لعن الدواب وغيرہا، رقم الحدیث: 2595، جلد:4،ص:2004
  22. صحیح مسلم، كتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ الله تعالى، وانہا سبقت غضبہ، رقم الحدیث: 2756، جلد:4،ص:2109
  23. صحیح مسلم، كتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وان كثر قتلہ، رقم الحدیث: 2767، جلد:4،ص:2119
  24. صحیح مسلم، كتاب صفات المنافقين واحكامہم، رقم الحدیث: 2779، جلد:4،ص:2143
  25. صحیح مسلم، كتاب صفات المنافقين واحكامہم، رقم الحدیث: 2782، جلد:4،ص:2145
  26. صحیح مسلم، كتاب الجنۃ وصفۃ نعيمہا واھلہا، باب اول زمرة تدخل الجنۃ على صورة القمر ليلۃ البدر وصفاتہم وازواجہم، رقم الحدیث: 2834، جلد:4،ص:2179
  27. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتى يمر الرجل بقبر الرجل، رقم الحدیث: 2911، جلد:4،ص:2232
  28. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتى يمر الرجل بقبر الرجل، رقم الحدیث: 2922، جلد:4،ص:2239
  29. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذكر ابن صياد، رقم الحدیث: 2927، جلد:4،ص:2241
  30. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذكر الدجال وصفتہ وما معہ، رقم الحدیث: 2933، جلد:4،ص:2248
  31. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسۃ، رقم الحدیث: 2942، جلد:4،ص:2261
  32. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب احادیث الانبیاء، ‌‌باب قول الله واذكر فی الكتاب مريم اذ انتبذت من اهلہا، رقم الحدیث: 3439، ص:884
  33. صحیح مسلم، كتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب قرب الساعۃ، رقم الحدیث: 2952، جلد:4،ص:2269


(مکمل)

کاروباری جھگڑوں کےعمومی اسباب اور ان کا حل

مفتی سید انور شاہ

ہمارے سماج میں آپس کے، رنجشوں، نفرتوں،جھگڑوں اور تنازعات کا جو سلسلہ چل رہا ہے، ان کی تہہ میں اگر دیکھا جائے، تو ان کے اسباب میں سےایک بنیادی سبب کاروباری معاملات کو صاف اورواضح نہ رکھنا ہے، چنانچہ روپیہ، پیسہ، زمین وجائداد اور دیگر مالی معاملات کو صاف نہ رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات جو جھگڑے اورعداوت پیدا ہوتی ہے، وہ کئی پشتوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور پرانے تعلقات کو دیکھتے ہی دیکھتے بھسم کرڈالتا ہے، اور اس کی وجہ سے بڑی مثالی دوستیاں آن کی آن میں دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وجہ وہی زروزمین اوربزنس کے معاملات کا ابہام اور واضح نہ ہونا ہی ہوتا ہے۔

حالانکہ اسلام نے معاملات کی صفائی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے کہ جو بھی معاملہ کیا جائے، خواہ وہ قریب ترین رشتہ دار،بھائیوں کے درمیان ہو، باپ بیٹے کے درمیان ہو، شوہر اور بیوی کے درمیان ہو، غرض کسی بھی شخص اور فرد کے ساتھ جو بھی معاملہ ہو، وہ بالکل واضح اور بے غبار ہونا چاہئے۔ اس میں ایسا ابہام نہیں ہونا چاہئے جو آئندہ کسی تنازع اور جھگڑے کا باعث ہو، اسی لئے خرید وفروخت کی ایسی تمام صورتوں کو منع کیا گیا ہے، جس میں فروخت کی جانے والی چیز، ادا کی جانے والی قیمت، سامان کی سپردگی کے مقام اور ادھار کی صورت میں قیمت یا ادائیگی کا وقت مبہم ہو، تجارت کے بہت سے احکام اسی اصول پر مبنی ہیں۔ اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے جو معاملات کسی بھی پہلو سے ابہام کی وجہ سے آئندہ کسی نزاع کا سبب بن سکتے ہیں وہ درست نہیں ہوں گے۔

آپس میں بھائیوں کی طرح رہو مگر معاملات اجنبیوں کی طرح کرو

معاملات کے باب میں اہل علم حضرات لکھتے ہیں: "آپس میں بھائیوں کی طرح رہو، لیکن لین دین کے معاملات اجنبیوں کی طرح کرو"(1)۔ مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ اور حسن سلوک کرو، جیسے ایک مخلص بھائی کو دوسرے بھائی کے ساتھ کرنا چاہیئے، جس میں ایثار، محبت، شفقت، مروت، رواداری، تحمل اور انسانیت کا جذبہ ہو، لیکن جب روپے پیسے اور تجارت ونفع کے لین دین، جائداد کے معاملات اور شرکت وحصہ داری کا معاملہ آجائے ،تو اچھے تعلقات کی حالت میں بھی انہیں اس طرح انجام دو، جیسے دو اجنبی ا فراد انہیں انجام دیتے ہیں۔ کہ معاملہ کا ہر پہلواور بات صاف اور واضح ہو، نہ کوئی پہلو مبہم رہے، اور نہ معاملہ کی حقیقت میں کوئی اشتباہ باقی رہے۔

اگر محبت، اتفاق اور خوشگوار تعلقات کی حالت میں اس اصول پر عمل کر لیاجائے، تو بعد میں پیدا ہونے والے بہت سے فتنوں اور جھگڑوں کا سد باب ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوسناک صورت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس اصول کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے ،جس کی ایک واضح صورت ہمارے معاشرے میں یہ ہے:

کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت

ہمارے ہاں تجارت وکاروبار میں عام طور پر یوں ہوتا ہے، کہ ایک شخص نے کاروبار شروع کیا، اس وقت اس کے بچے چھوٹے تھے۔ رفتہ رفتہ کاروبار بھی بڑھا اور بچے بھی بڑھے ہو کر اپنے والد کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، ان کے کاروبار میں پورے طور پر معاونت کرتے ہیں ، اس کاروبار کو اپنا کاروبار تصور کرتے ہیں اور حسب استطاعت اس کو ترقی دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ، والد ان کی جملہ ضروریات کی مکمل کفالت کرتا ہے اور جب تک حالات خوشگوار رہتے ہیں ،ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ مشترکہ نظام برقرار رہے۔ لیکن جب والد کی زندگی میں اور یا ان کے انتقال کے بعد اس کا روبار کی تقسیم کا مسئلہ سامنے آتا ہے، تو بڑے لڑکوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاروبار میں چھوٹے بھائیوں کی بنسبت ان کا تعاون زیادہ رہا ہے ، اسلئے اسی تناسب سے انہیں زیادہ حصہ ملنا چاہئیے،پھر جب تمام بھائیوں کے درمیان کاروبار کی مساوی طور پر تقسیم کی بات ہوتی ہے۔توان کی احساس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اور وہ اس میں اپنی حق تلفی محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بھائیوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ یوں قریبی رشتہ داروں کے درمیان نفرت کی دیوار قائم ہوتی ہے۔ اور بات مقدمہ بازی اور خون بہانے تک پہنچ جاتی ہے ،اسلئے ہونا یہ چائیے کہ اگر کسی کاروبار میں والد کے ساتھ ان کے بچے بھی شریک ہوں ،تو جس وقت وہ شریک ہوں اسی وقت یہ طے ہونا چائیے ،کہ اس کا روبار میں ان کی شرکت کس حیثیت سےہے ؟ کیا وہ اس میں پاٹنر ہیں ؟ یا ان کی حیثیت ملازم کی ہے ؟ یاوه محض اپنے والد کے معاون و مددگار ہیں؟ لیکن جس وقت لڑ کے والد کے خواہش پر کا روبار میں عملی طور پر شریک ہو جاتے ہیں، تو اس وقت معاملہ کو واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ چنانچہ ہر شخص اپنی خواہش یا ضررورت کے مطابق کاروبار کی آمدنی استعمال کرتا رہتا ہے۔

اگر کسی وقت کوئی شخص یہ تجویز پیش کرے کہ کاروبار میں حصہ یا تنخواہ وغیرہ متعین کر لینی چاہیے، تو اسے محبت، اتفاقی اور غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسطرح کے کاروبار کا انجام اکثر وبیشتر یہ ہوتا ہے کہ دل ہی دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اور رنجشیں پرورش پاتی رہتی ہیں ،خاص کر جب تقسیم کا مرحلہ آتا ہے، تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ دوسرے نے کاروبار سے زیادہ فائدہ اُٹھایا ہے۔ اندر ہی اندر ان رنجشوں کا لاوا پکتار رہتا ہے اور بالآخر جب رنجشیں بدگمانیوں کے ساتھ مل کر پہاڑ بن جاتی ہیں تو یہ آتش فشاں پھٹ پڑتا ہے۔محبت واتفاق کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ زبانی تو تکار سے لیکر لڑائی ، جھگڑے اور مقدمہ بازی تک کسی کام سے دریغ نہیں ہوتا۔ بھائی بھائی کی بول چال بند ہو جاتی ہے۔ ایک بھائی دوسرے کی صورت دیکھنے کا روادار نہیں رہتا۔ جس کے قابو میں کاروبار کاجتنا حصہ آتا ہے وہ اس پر قابض ہو کر عدل وانصاف کا جنازہ نکال لیتا ہے۔ اپنی نجی مجلسوں میں ایک دوسرے کے خلاف ، الزامات ، بد زبانی اور بدگمانی جسے خطر ناک گناہوں کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے۔ چونکہ سالہا سال مشترکہ کا روبارکا نہ کو ئی اصول طے تھا اور نہ حساب و کتاب کا خیال رکھا گیا ہو تا ہے۔ اسلئے بسا اوقات اختلاف کو ختم کرنے کے لئے افہام وتفہیم کی بھی کوشش کی جائے، تو بھی مصالحت کا کوئی ایسا فارمولاوضع کرنا بھی انتہائی دشوار ہوجاتا ہے،جو تمام متعلقہ فریقوں کے لئے قابل قبول ہو۔

معاملہ کرتے وقت کن پہلوؤں کو واضح کرنا ضروری ہے؟

یہ سارا فتنہ وفساد اس وجہ سے پیدا ہوتا ہےکہ کاروبار کےآغاز میں معاملہ صاف اور واضح نہیں رکھا تھا۔اگرشروع ہی میں یہ بات واضح کی جائے کہ کس کی کیا حیثیت ہے؟ آیا وہ ملازمت کےطور پر کام کررہا ہے؟یاشرکت اور تعاون کے طورپر؟تو بعد میں پیش آنےوالی پیچیدگیوں اورجھگڑوں کا سد باب ہوجائے، لہذا اگر کسی کاروبار میں ایک سے زیادہ افراد کام کررہے ہیں،توپہلے ہی مرحلے میں ان میں سے ہر شخص کی حیثیت کا تعین ضروری ہے،کہ وہ تنخواہ پر کام کرےگا؟یا کاروبار میں باقاعدہ حصہ دار ہوگا؟یا محض اپنے والد کی معاونت کرےگا؟

پہلی صورت میں اس کی تنخواہ متعین ہونی چاہئے،نیز یہ وضاحت بھی کرلی جائے کہ وہ کاروبارکا حصہ دارنہیں ہوگا۔ دوسری صورت میں اگراسے ملکیت میں باقاعدہ حصہ داربنانا ہےتو اس کے لئے شرعایہ بھی ضروری ہےکہ اس کی طرف سے کاروبار میں کچھ سرمایہ شامل ہوناچاہئے(جس کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باپ اسے کچھ نقد رقم ہبہ کردےاوروہ اس رقم سےکاروبارکا فیصد کے اعتبار سےایک متعین حصہ خریدلےاور فیصد کےاعتبارسے نفع کی تعیین بھی کرلے۔

یہ تمام تفصیلات تحریری طورپر ایک معاہدہ کی شکل میں محفوظ کرلینی چاہئے،تاکہ بعد میں کوئی الجھن پیدانہ ہو۔

اگر کسی ایک حصہ دارکو کاروبار میں وقت اور کام زیادہ کرنا پڑتا ہو،تویہ بات بھی طےکرلینی چاہئے،کہ زیادہ کام وہ رضا کارانہ طورپر کرےگا؟یا اس کا کوئی معاوضہ اسےدیا جائےگا،اگرکوئی معاوضہ دیاجائےگاتووہ نفع کے فیصد حصے میں اضافہ کرکےدیاجائےگا، یاالگ سے متعین تنخواہ کی صورت میں؟غرض ہر فریق کے تمام امور وحقوق اتنے واضح ہوں کہ ان میں کوئی ابہام واشتباہ باقی نہ رہے۔

معاملات کی صفائی کو محبت، اتفاق اور غیرت کے خلاف سمجھنا دھوکا ہے

اگر بالفرض کسی کاروبار میں اب تک ان باتوں پر عمل نہ کیا گیاہو، تو جتنی جلدی ہوسکے ان امورکو واضح طور پر طے کرلیا جائے۔ اس میں کسی شرم،مروت اور طعن وتشنیع کو آڑےنہ آنے دیناچاہئے۔معاملات کےمتعلق اس صفائی اوروضاحت کومحبت، اخوت،احترام اور اتحاد واتفاق کے خلاف سمجھنا بہت بڑا دھوکہ ہے،ورنہ آگے چل کریہ محبت واتحاد عداوت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

والد کی بزنس میں شرکت کے متعلق اہم مسائل

آج کل دارالافتاؤں میں اس طرح کے مسائل کثرت سے آتے ہیں،خاص کر جب میراث کی تقسیم کا مرحلہ سامنے آتا ہے،تو اس وقت اس طرح کے تنازعات کثرت سے پیش آتے ہیں، چوں کہ میرا تعلق بھی دارالافتاءسے ہےاورفتوی کے کام سے منسلک ہوں، اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ شرعی نقطہ نظر سے ان مسائل کو تفصیل سے لکھ دوں،تاکہ ان مسائل سے آگاہ ہوکرہم سب اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔چنانچہ اس سلسلے میں عرض یہ ہےکہ شریعت کا اصل حکم تو وہی ہےکہ کاروبار کےشروع ہی میں ہر ایک کی حیثیت کاتعین کرلینا چاہئےاور معاملہ ہر پہلو سےواضح کردیناچاہئے۔

کاروبار میں شریک اولاد باپ کی زیر کفالت ہو

تاہم اگر معاملہ کوابتدا میں ویسی ہی چھوڑ دیا تھا، کسی چیز کی وضاحت نہیں ہوتی تھی ،تو اس پس منظر میں پہلے مسئلہ یہ ہے کہ اگر والد نے اپنے سرمائےسےکاروبار شروع کیا،بعد میں اس کے لڑکوں میں سےبعض والد کی خواہش پرکاروبارمیں شریک ہوگئے،مگر انہوں نےالگ سے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا اور والدنے بھی ایسے لڑکوں کی کوئی حیثیت متعین نہ کی ہو،تو اگر یہ لڑکےوالد کے زیرِ کفالت ہوں ،تواس صورت میں لڑکےوالد کے معاون شمارکئےجائیں گے،اور ان کی طرف سے یہ عمل تبرع شمار کیاجائےگا۔ان کی حیثیت پارٹنریا ملازم کی نہیں ہوگی،ہمارے ہاں عرف بھی یہی ہےکہ اس طرح کاروبارکی کل آمدنی باپ کی ملکیت شمار ہوتی ہےاور اولاد محض معاون ومددگارہوتے ہیں۔لہذا مذکورہ صورت میں کاروبارکی کل آمدنی باپ کی ملکیت ہوگی ،اور اس کے انتقال کےبعد معاونت کرنے والےلڑکوں کوالگ سے کچھ نہیں ملےگا،بلکہ دوسرےبیٹوں کے ساتھ ان کومیراث میں مساوی طورپرحصہ ملےگا۔(یعنی سب لڑکوں کو برابر حصہ ملےگا)

بزنس میں شریک بعض بیٹے زیرکفالت نہ ہوں

اگر بیٹےباپ کی کفالت میں نہ ہوں یعنی باپ ان کی جملہ ضروریات کے اخراجات برداشت نہ کرتاہو،توایسی صورت میں اگر متعین اجرت سے کام کرنا طے ہواہوتو لڑکےاسی اجرت کےحقدارہوں گے،تاہم اگر اس صورت میں اجرت طے نہ ہوئی ہ،وتو جہالت کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہوگا،جس کاحکم یہ ہےکہ کل سرمایہ بمع نفع باپ کاہوگا اوربیٹے اجرت مثل کے مستحق ہوں گے،خیال رہےکہ ان دوصورتوں میں اولادکی حیثیت ملازم کی ہوگی ،اور اگر اجرت کے متعلق بالکل بھی وضاحت نہ ہوئی ہو توایسے میں بیٹوں کا یہ عمل تبرع اوراحسان کے زمر ے میں آئے گااور وہ اجرت کے حقدار نہیں ہوں گے،کیوں کہ اجرت کا استحقاق عقدِاجارہ سے ثابت ہوتا ہے،جبکہ یہاں کوئی عقد نہیں ہوا ہے،لہذا اس صورت میں بیٹوں کی حیثیت محض معاون اور متبرع کی ہوگی۔کل مال باپ کی ملکیت شمار ہوگی۔

علامہ شامی ؒلکھتے ہیں :

الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب۔ (رد المحتار، فصل فی الشرکة، مطلب: اجتمعا فی دار واحد واکتسبا ولا یعلم التفاوت،/۶/۴۹۷)

ہندیہ میں ہے:

أب وابن یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ، ألا تری أنہ لو غرس شجرۃ تکون للأب۔ (الباب الرابع: فی شرکة الوجوہ وشرکة الأعمال،/۲/۳۳۲، مکتبة دارالفکر)

اولاد نے مشترکہ کاروبار میں کچھ سرمایہ بھی لگایا ہو

اگریہی صورت ہو لیکن بیٹوں نے کاروبار میں شریک ہوتے وقت اپنا کچھ سرمایہ بھی والدکی اجازت سے کاروبارلگایاہو، تو اس صورت میں اگر شرکت کی غرض سےسرمایہ لگایا گیا ہو ،توبیٹوں کی حیثیت شریک اور پاٹنر کی ہوگی اور بیٹےاپنے سرمایہ کے تناسب سے کاروباراوراس کے منافع میں شریک ہوں گے۔ اگر سرمایہ قرض کہہ کر دیا ہے تو قرض شمار ہوگا۔البتہ اگر زبانی طور پرشرکت یا قرض وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں ،مگر لڑکے کا مقصود سرمایہ لگانے سے والد کی اعانت اور اس کے ساتھ حسن سلوک ہے توپھریہ اس کی طرف سے تبرع ہے،کل کاروبار والد کاشمارہوگا۔

تاہم اگر مذکورہ صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں ہے۔ یعنی نہ کوئی صراحت ہےاور نہ ہی مقصد اعانت ہے تو پھر حسب عرف فیصلہ کیا جائے۔

فإذا خلطا المالين على وجه لا يمكن تمييز أحدهما عن الآخر؛ فقد ثبتت الشركة في الملك؛ فينبني عليه شركة العقد. ( المبسوط /کتاب الشرکة ۱۵۲ / ۱۱ )
وفي رد المحتار : يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.
ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا كما أفتى به في الخيرية۔(۶/۴۷۲/ کتاب الشرکة ، مطلب : فیما یقع کثیرا في الفلا حین )
وفي البدائع : وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية. (فصل في حكم القرض:۷/۳۹۶)

بعض بھائیوں نے کسب معاش کے دوسرے ذرائع اختیار کیے اور بعض نے والد کا ہاتھ بٹایا

۲۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک بھائی یا کچھ بھائیوں نے کاروبار میں والد کا ہاتھ بٹا دیا ہے ، جبکہ دوسرے دیگر بھائیوں نے کسب معاش کے دوسرے ذرائع اختیار کئے ہیں اور آپس میں ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے ،اس صورت میں اگر سب کا کھانا پینا ایک ساتھ ہواور تمام بھائی کمائی والد کے پاس جمع کرتے ہوں تو کل مال باپ کی ملکیت شمار ہوگا۔ والد کے انتقال کے بعد تمام لڑکے اس مال کے حق دار ہوں گے۔

( یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر بیٹےباپ کے عیال میں ہیں اور آپس میں تقسیم نہیں ہوئی ہے، تو خواہ سب ایک ہی کاروبار میں مشغول ہوں یا مختلف قسم کے کاروبار میں مشغو ل ہوں ، یعنی ایک کا کاروبار دوسرے کے کاروبار سے مختلف ہو، مثلا :ایک سبزی کے کاروبار میں لگا ہو اور دوسرا مارکیٹ میں فرنیچر کے کاروبار میں مشغول ہو ، بہر صورت تمام مال کا مالک باپ ہوگا ، اسلئے کہ ہمارے عرف میں سب بھائیوں کو ایک مشترک فیملی کا فرد سمجھا جاتا ہے ، ان کو علیحدہ تصور نہیں کیا جاتا۔ رہیں فقہاء کرام ؒکی وہ عبارتیں جن میں لڑکے کےمعاون ہونے کےلئے اتحاد ِصنعت کی صراحت ہے ، تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ بظاہر اتحاد ِصنعت کی وضاحت فقہائے کرام نے اپنے زمانے کے عرف کے اعتبار سے کی ہیں ، لہذا وہ اپنے زمانے کے عرف پر مبنی ہیں۔

آج کل صورت حال یہ ہے کہ بعض اوقات اولاد کو دوسرے ذرائعِ معاش اختیار کرنے کا مشورہ باپ دیتا ہے ، اس سلسلے میں وہ اپنا مالی تعاون بھی کرتا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بھی ، اس کے نفع و نقصان کی فکر بھی کرتا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ میرے مختلف بیٹے مختلف ذرائع سے میرے معاون ہیں ، بلکہ بسا اوقات معاشی پریشانی کی وجہ سے باپ اپنے بعض لڑکوں کو دوسرے ملک بھیجتے ہیں ، اور اس کے لیے لمبا چوڑا خرچہ برداشت کرتا ہے ، اس کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے ، کھانا سب مشترک ہی رہتا ہے ، ایسی صورت میں لڑکوں کی دوسرے ممالک کی کمائی پوری باپ کی ملک ہوگی ، ایسے لڑکے باپ کے معاون شمار ہوں گے ، وہ اپنی کمائی کے تنہا مالک نہ ہوں گے ، البتہ اس صورت میں اگر کوئی لڑکا اپنا کھانا پینا الگ کردے اور باقاعدہ الگ ہونے کا والد سے اظہار کردے ،تو اس کے بعد وہ الگ شمار ہوگا اور اپنی کمائی کا وہ خود مالک ہوگا۔ لہذا آج کل کے عرف میں لڑکے کے معاون ہونے کے لیے اتحاد ِصنعت کی شرط قابل نظرہے۔)

الگ ذرائع معاش اختیارکرنے والوں کی کمائی کا حکم

اگر الگ ذرائع معاش اختیار کرنے والے بھائیوں کا رہنا سہنا اور کھانا پینا الگ ہو اور انہوں نے اپنا سرمایہ علاحدہ جمع کر رکھا ہو تو پھر وہ کمائی ان کی ذاتی ملکیت ہوگی، دوسرے بھائی اس میں شریک نہ ہوں گے۔

كما في رد المحتار : زوج بنيه الخمسة في داره و كلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب، و للبنين الثياب التي عليهم لا غير . (فصل في الشركة الفاسدة:۴/۳۹۲ ).
وأيضا فيه : الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب۔ (رد المحتار،فصل فی الشرکة، مطلب: اجتمعا فی دار واحد واکتسبا ولا یعلم التفاوت،/۶/۴۹۷)
وفي الهندية : أب وابن یکتسبان فی صنعة واحدۃ ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ، ألا تری أنہ لو غرس شجرۃ تکون للأب۔ (الباب الرابع: فی شرکة الوجوہ وشرکة الأعمال،/۲/۳۳۲،مکتبة دارالفکر)
وفي درر الحکام : فإذا کان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فکسب الأب من الزراعة والابن من صناعة الحذاء ، فکسب کل واحد منهما لنفسه و لیس للأب المداخلة في کسب ابنه لکونه في عياله۔ (۳/۴۴۵/مادۃ:۱۳۹۸)

کاروبار ختم ہونے کے بعد اولاد میں سے کسی نے اپنے سرمایہ سے دوبارہ کاروبار شروع کیا

اس سلسلے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی وجہ سے والد کا کاروبار ختم ہوگیا ، لیکن کاروبار کی جگہ خواہ مملوکہ ہو یا کرایہ پر حاصل کی گئی ہو ، موجود ہو ، اولاد میں سے کسی نے اپنا سرمایہ لگا کر اسی نام سے دوبارہ کاروبار شروع کیا ،اس صور ت میں جس لڑکےنے سرمایہ لگاکرکاروبارشروع کیاہے،یہ کاروبار اسی کی ملکیت شمار ہوگی ، والد اور دیگر بھائیوں کی ملکیت شمار نہیں ہو گی۔ البتہ وہ مملوکہ جگہ والد کی ہوگی۔ یا اگر دوکان کرایہ پر تھی اور اس سلسلے میں کچھ رقم پیشگی والد کو ادا کردیا تھا تو وہ رقم بھی والد کی ملکیت شمار ہوگی ، اور تمام بھائی والد کے بعد اس میں شریک ہوں گے۔

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"الخراج بالضمان"۔ (سنن أبی داؤد: باب فيمن اشترى عبدا فاستعمله/۵/۳۶۸)
وفي الدر المختار : لا يستحق الربح إلا بإحدى ثلاث: بمال، أو عمل، أو تقبل.( مطلب شركة الوجوه:۴/۳۲۴)
اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك ( الدر المختار :کتاب الصید:۶/۴۶۳)
وفي رد المحتار : وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك۔ (کتاب الشرکة:۴/۳۰۷)

ائمہ، خطباء اور علماء کرام سے گزارش

ائمہ، خطباء اور علماء کرام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں اور حلقوں میں معاملات کی صفائی کے سلسلے میں لوگوں کی ذہن سازی کریں۔ شرکت اور میراث کے متعلق جو شرعی احکام ہیں ان سے ان کو آگاہ کریں۔ خاص طور پر والدین اولاد اور بھائیوں کے درمیان کاروبار اور شرکت کے بنیادی مسائل سے واقف کرائیں۔



سانحہ جڑانوالہ اور انصاف کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جڑانوالہ میں گزشتہ دنوں رونما ہونے والا سانحہ ان دنوں عوامی اور دینی حلقوں میں زیربحث ہے، اس کے بارے میں چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں چند روز قبل یہ سانحہ ہوا ہے کہ قرآن مقدس کے اوراق پھاڑ کر ان پر توہین آمیز جملے لکھ کر باہر پھینکے گئے جنہیں دیکھ کر لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا جو معاملات کو بروقت کنٹرول نہ کیے جانے کے باعث بڑھتے بڑھتے مسیحی آبادی کے بہت سے مکانات حتیٰ کہ عبادت گاہوں کے جلا دیے جانے تک جا پہنچا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کا دھواں آناً‌ فاناً‌ ملک بھر میں پھیل گیا۔

دوستوں نے بتایا ہے کہ علاقہ کے بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد یونس رضوی نے، جن کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے ہے، دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس کا بروقت نوٹس لیا اور موقع پر پہنچ کر حالات قابو کرنے کی سنجیدہ کوشش کی، ملزمان کی نشاندہی ہوئی، انہیں حراست میں لیا گیا اور پولیس سے رابطہ کر کے صورتحال کو سنبھالنے کی طرف توجہ دلائی گئی مگر انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کی مبینہ بے پروائی کے باعث تین چار گھنٹے گومگو کے ماحول میں گزر گئے اور اتنی دیر میں اشتعال اپنا کام کر گیا جو دنیا بھر میں ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بنا اور اس پر دنیا میں ہر سطح پر ردعمل کا مسلسل اظہار ہو رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مسیحی خاندان کے جن دو لڑکوں کو توہینِ قرآن کریم کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ان کے والدین اور خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اگر ان لڑکوں کا یہ جرم ثابت ہو جائے تو وہ ان کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور انہیں جو سزا بھی دی جائے وہ اس کا ساتھ دیں گے مگر اس سے قبل پوری طرح تحقیق کر لی جائے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ لڑکے مجرم نہیں ہیں اور انہیں کسی سازش کے تحت اس میں پھنسایا گا ہے جس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے ان اوراق کے ساتھ ان لڑکوں کے فوٹو اور ان کے فون نمبر بھی پائے گئے ہیں جبکہ کوئی مجرم موقع واردات پر اپنی تصویر اور فون نمبر نہیں چھوڑا کرتا۔

بہرحال اتنی بات تو طے ہے کہ قرآن کریم کی توہین ہوئی ہے، جس نے بھی کی ہے اسے اس سنگین جرم کی قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ اگر منصفانہ تحقیقات کے نتیجے میں یہ جرم ان لڑکوں کا ہے تو وہ کسی نرمی کے مستحق نہیں ہیں اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینا ضروری ہے ،لیکن اگر انہیں اس میں پھنسایا گیا ہے تو سازش کرنے والے بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں بلکہ پوری طرح سزا کے مستحق ہیں۔ البتہ یہ کام انتظامیہ اور عدلیہ کا ہے اور انہیں جلد از جلد اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایسی کسی کاروائی پر فوری اشتعال میں آنا اور سوچے سمجھے بغیر بہت کچھ کر گزرنا ہمارے معاشرتی مزاج کا حصہ بن گیا ہے اور ایسے متعدد واقعات ہمارے ہاں ہو چکے ہیں کہ فوری اشتعال کے تحت جذباتی ردعمل کا اظہار کیا گیا اور اس کے جانی و مالی نقصانات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ دین کی بدنامی کا باعث بن گئے۔ جبکہ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ محض سنی سنائی باتوں پر ایسا کیا گیا جبکہ حقائق اس کے برعکس ظاہر ہوئے۔ گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ قبل ایک حافظ قرآن کو ایسے ہی الزام میں سڑک پر گھسیٹ کر انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا اور الزام بعد میں غلط ثابت ہوا۔

یہ طرز عمل قرآن کریم کے اس ارشاد کے بھی منافی ہے کہ ’’فتبینوا ان تصیبوا قوما بجہالة فتصبحوا علیٰ ما فعلتم نادمین‘‘ (الحجرات ۶) کوئی بھی ایسی خبر آنے پر تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں تم کسی قوم پر حملہ کر دو اور بعد میں خبر غلط ثابت ہونے پر خود تمہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ اس لیے ایسے کسی اشتعال میں مکانات اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا بھی کوئی کم سنگین جرم نہیں ہے، اور یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اشتعال کا پیدا ہونا تو فطری بات ہے مگر اشتعال پیدا کرنا اور اس کے دائرے کو پھیلانا فطری نہیں بلکہ مصنوعی عمل ہے جو منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہوتا اور یہ بھی سنگین جرم ہے جس کا سخت نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ سانحہ جڑانوالہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور توہین قرآن کریم کے سنگین جرم کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں اور مکانات کو نذر آتش کرنے کے جرم پر بھی مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔


تحریک تحفظ ختم نبوت کی معروضی صورت حال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا جسے نصف صدی گزر چکی ہے اور آج ہم تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اس مرحلہ میں ضروری ہے کہ ہم تحریک تحفظ ختم نبوت کی معروضی صورتحال کا جائزہ لیں اور اب تک کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی طے کریں۔

اس سلسلہ میں پہلی گزارش یہ ہے کہ دستور و پارلیمنٹ کے اس فیصلہ کو ابھی تک قادیانیوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ ان کے سرپرست عالمی ادارے اور بین الاقوامی لابیاں بھی اس فیصلہ کو تبدیل کرانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ہم دستوری و قانونی طور پر عجیب سے مخمصہ کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس پس منظر میں ہمیں اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ ملک میں دستور و قانون کی بالادستی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی بہت سی جماعتوں اور حلقوں کو خلافِ قانون قرار دے کر ان کے خلاف ایکشن کی جو روایت چلی آ رہی ہے قادیانیوں کو بھی اس کے دائرے میں لینا ضروری ہو گیا ہے، اور حکومت سے یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر قادیانی دستور کو تسلیم نہ کرنے پر بضد ہیں تو ان کے خلاف دستور کی رٹ کو چیلنج کرنے پر کاروائی کی جائے اور اس وقت تک انہیں سرگرمیوں سے قانوناً‌ روک دیا جائے جب تک وہ دستور کی بالادستی اور قوم کے متفقہ فیصلہ کو تسلیم کرنے کا دوٹوک اعلان نہیں کرتے۔

دوسری گزارش یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت کے لیے محنت کرنے والی جماعتیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت اور شبان ختم نبوت عوامی محاذ پر تو مسلسل سرگرم عمل ہیں اور عوام میں بیداری قائم کرنے کے لیے بہت محنت کر رہی ہیں مگر قادیانیوں نے یونیورسٹیوں، تعلیمی اداروں، ابلاغ کے ذرائع، بیوروکریسی، سیاست دانوں، وکلاء اور دیگر حلقوں میں محنت کا جو جال پھیلا رکھا ہے ان دائروں میں جو کام ہونا چاہیے وہ نظر نہیں آ رہا۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور اداروں کو اس خلا کو پر کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔

تیسری گزارش یہ ہے کہ بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کی قادیانیوں کے حق میں سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کمیشن اور دیگر بین الاقوامی ادارے قادیانیوں کی کمین گاہیں ثابت ہو رہی ہیں جن کے ذریعے سے وہ وسیع تر مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان اداروں تک ہماری رسائی دیکھنے میں نہیں آ رہی اور جن فورموں میں یہ مسائل زیربحث آتے ہیں اور وہ فیصلے کیے جاتے ہیں جو حکومتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، ہم ان اداروں اور فورموں میں پہنچ کر اپنا موقف واضح نہیں کر پا رہے جو بہت بڑے نقصان کا باعث ہے۔ یہ ذمہ داری اصل میں تو ملک کی وزارت خارجہ اور وزارت مذہبی امور کی ہے کہ وہ ان عالمی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھیں اور باقاعدہ محکمانہ طور پر ملک کے قانون و دستور اور قوم کے متفقہ فیصلوں کے خلاف سازشوں کی نشاندہی کر کے ان کے تدارک کے لیے عالمی ماحول میں محنت کریں۔ لیکن اگر وہ نہیں کر رہے تو اس محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کو کوئی صورت ضرور نکالنی چاہیے اور قادیانیوں کی ان یکطرفہ سرگرمیوں کے سدباب کے لیے کوئی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، اور اس سلسلہ میں ہمارے ہم خیال نظریاتی حضرات مغربی ممالک میں موجود ہیں ان سے رابطہ کر کے مختلف ورکنگ گروپ بنائے جا سکتے ہیں۔

جبکہ چوتھی بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، اور ۱۹۸۴ء کی تحریکاتِ ختم نبوت میں تمام مذہبی حلقے اور طبقات مشترکہ طور پر سرگرم عمل تھے جس سے قومی تحریک کا ماحول بن گیا تھا۔ آج وہ صورتحال نہیں ہے، ہماری محنت سمٹ کر محدود ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ قادیانیوں کی ملکی اور بین الاقوامی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان تحریکات میں تمام مسالک کی قیادتیں فرنٹ پر تھیں اور مشترکہ جدوجہد ہوئی تھی، ان کے ساتھ وکلاء حضرات، تاجر برادری، اساتذہ اور طلبہ کی تنظیمیں بھی متحرک تھیں۔ یہ ماحول دوبارہ واپس لانے کی ضرورت ہے ورنہ قادیانی سازشوں اور ان کے حق میں بین الاقوامی حلقوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۰)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا گیارہواں باب)



امکانِ کذب یا امکانِ نظیر؟

دین کے بنیادی عقائد کے دفاع کے حوالے سے گہری بے چینی نے مولانا احمد رضا خان کو مجبور کیا کہ وہ علماے دیوبند کی تکفیر کریں۔ یہ بے چینی اس وقت مزید وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے، جب امکانِ کذب (خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) اور امکانِ نظیر (خدا کا نبی اکرم ﷺ کی طرح ایک اور نبی پیدا کرنے کے امکان) کے بارے میں شاہ محمد اسماعیل اور علماے دیوبند کے موقف پر خان صاحب کی عائد کردہ فرد جرم پر غور کیا جائے۔ ضروری پس منظر جاننے کے لیے تیسرے باب کو ذہن میں لائیے، جہاں شاہ محمد اسماعیل کا استدلال امکان اور وقوع کے درمیان امتیاز پر مبنی تھا۔

اگر چہ خدا استثنا کو قانون کی شکل دے سکتا ہے، اور اسی طرح وہ استثنائی حادثات کو وقوع میں لاکر اپنی قدرتِ کاملہ کا استعمال کر سکتا ہے، لیکن وہ حقیقت میں ایسا نہیں کرتا۔ یہ وہ امکان ہے جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوگا ، اور شاہ اسماعیل کے نزدیک یہ توحید کی کسوٹی ہے۔ شاہ اسماعیل پر اس موقف کی وجہ سے ان کی زندگی اور بعد میں بھی تنقید ہوتی رہی، لیکن علماے دیوبند بالخصوص مولانا گنگوہی اور مولانا سہارن پوری ان کے دفاع میں پیش پیش رہے۔ یہ واضح رہے کہ انھوں نے اس امر کی وضاحت کی کوشش کی کہ کوئی بھی بشمول شاہ اسماعیل اور وہ بذات خود اس بات سے اختلاف نہیں کرتے کہ جو کوئی یہ کہے کہ خدا نے فی الواقع جھوٹ بولا ہے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک اور اختلاف ہے ہی نہیں۔ مولانا گنگوہی نے واضح کیا کہ جس نکتے کو شاہ اسماعیل کے مخالفین سمجھ نہیں پا رہے، وہ یہ ہے کہ ان کا سارا زور اس امر کے اثبات پر تھا کہ خدا استثنا کو قانون کی شکل دے سکتا ہے، اس بات پر نہیں کہ خدا کی طرف جھوٹ جیسی صفت کی نسبت کی جا سکتی ہے۔ مولانا گنگوہی نے شاہ اسماعیل کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر چہ خدا نے بتایا ہے کہ وہ فرعون، ابولہب اور ہامان کو جہنم میں بھیجے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کو جنت میں بھیجنے سے عاجز ہو چکا ہے1۔

مولانا سہارن پوری نے اس مسئلے پر دیوبندی موقف کو وسعت دی، اور بریلوی موقف سے اس کا تقابل پیش کیا۔ انھوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اشاعرہ اور معتزلہ کے درمیان اختلاف کا ذکر کیا۔اپنے بریلوی مخالفین کو غیر مستند ثابت کرنے کےلیے مولانا سہارن پوری نے بتایا کہ بریلوی جدید معتزلی ہیں۔ انھوں نے اپنے قارئین کو یاد دلایا کہ بریلوی خدا کے حق میں یہ ناممکن سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس کسی نافرمان شخص کو سزا کے بدلے میں جزا دینے، یا ایک فرماں بردار بندے کو جزا کے بدلے میں سزا دینے کی قدرت نہیں۔ اسی طرح معتزلہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ خدا بالذات اور ضرور بالضرور عادل ہے، اور عدل اس پر واجب ہے۔ بالکل بریلوی جس طرح اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ خدا بالذات یہ قدرت نہیں رکھتا کہ اپنے وعدے سے پھر جائے، یا ایک اور محمد کو پیدا کرے۔ اس کے برعکس اشاعرہ نے، جو جمہور اہل سنت کے اعتقادی پیشوا ہیں، اس موقف کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کہ خدا ایک ناپسندیدہ کام مثلاً‌ بے انصافی یا جھوٹ بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ان کی نظر میں خدا کے لیے اس امکان کے اثبات سے اس کی قدرتِ مطلقہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔ مولانا سہارن پوری نے واضح کیا کہ دیوبندی اپنے پیش رو شاہ اسماعیل کی طرح صرف جمہور اشاعرہ کے مذہب پر ہیں اور بس۔

لیکن مولانا احمد رضا خان کے نزدیک دیوبندی ان وضاحتوں کی آڑ میں ایک خطرناک استدلالی ایجنڈے کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا مقصد اخلاقی اور اعتقادی فساد برپا کرنا تھا۔ ایک بار پھر ان کا استدلال اس نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ دیوبندیوں نے تصور کے دائرے کو خطرناک حد تک توسیع دی ہے۔ اگر کوئی یہ سوچنا شروع کرے کہ خدا کے لیے جھوٹ بولنا ممکن ہے تو اس کی کسی بات یا وعدے کا اعتبار کرنا ضروری نہیں رہے گا۔ ان کے اپنے الفاظ میں: "جب خدا کا جھوٹ بولنا ممکن ہوا تو اس کا سچا ہونا ضروری نہ رہا"۔ اس کے نتیجے میں دین کا سارا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا۔ آخرت میں ثواب وعذاب، بعث بعد الموت، جنت وجہنم: یہ تمام خدائی وعدے اور دعوے ناقابل تردید یا قطعی عقائد نہ رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی عقائد کی بلند وبالا عمارت زمین بوس ہو جائے گی۔ 

طنز پر توہین کا تڑکا لگاتے ہوئے خان صاحب نے واضح کیا کہ اگر خدا کے جھوٹ بولنے کا امکان کوئی مسئلہ نہ رہے، تو پھر خدا کی طرف کسی قسم کی نفرت انگیز، توہین آمیز یا سوقیانہ صفت کی نسبت سے لوگوں کو نہیں روکا جا سکتا۔ پھر خدا کے لیے ممکن ہے: "وہ زنا کرے، شراب پیے، چوری کرے، بتوں کو پوجے، پیشاب کرے، پاخانہ بھرے، اپنے آپ کو آگ میں جلائے، دریا میں ڈبوئے، جوتیاں کھائے"2۔

خان صاحب نے بتایا کہ جھوٹ بولنا ایک ایسا شنیع فعل ہے کہ جس میں معمولی سی بھی عزتِ نفس ہو، وہ اس سے بچنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔جس زبان میں خان صاحب نے ان جذبات کا اظہار کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے معاشرے کو کیسا خیال کرتے تھے۔ 'نیچ ذات' چمار کا غیر مہذب کردار ایک بار پھر ان کی بحث میں نمودار ہوتا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں: "ہر بھنگی چمار بھی اپنی طرف جھوٹ کی نسبت سے عار رکھتا ہے"3۔ تو ایک مسلمان یہ تصور بھی کیسے کر سکتا ہے کہ ناپاکی کے اس منبع کو، بداخلاقی کی اس علامت کو خدا کی طرف منسوب کرے؟ خان صاحب نے اپنے مخالفین کو ناقابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے ایک بار پھر چودھویں صدی کے شش جہت فارسی عالم علامہ سعد الدین التفتازانی کی کتاب شرح المقاصد کا حوالہ دیا: "اس بات پر علما کا اتفاق ہے کہ خدا کا جھوٹ بولنا محال ہے، کیوں کہ جھوٹ بولنا تمام عقلاء کے نزدیک عیب ہے، اور خدا کی ذات میں عیب ہونا محال ہے" (الكذب محال بإجماع العلماء لأن الكذب نقص باتفاق العقلاء، وهو على الله تعالى محال)4۔ خان صاحب کے نزدیک شاہ اسماعیل اور دیوبندیوں کے مواقف کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ وہ چند فلسفیانہ موشگافیوں کی خاطر اسلام کے بنیادی عقائد کی شدید گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ 

رسول اللہ ﷺ کے علمِ غیب کے معاملے میں بھی خان صاحب کا احساس یہی ہے کہ دیوبندیوں کے استدلالی قیاسات اور اعتقادی مباحثات توہین رسالت پر منتج ہوتے ہیں۔ لیکن اکابرِ دیوبند کے نزدیک انھوں نے جو استدلالی خطرے مول لیے ہیں، وہ ان فوائد کے حصول کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جو اخلاقی بحران اور انتشار کے اس دور میں توحید کے تحفظ سے حاصل ہوں گے۔

علم، معلومات اور مذہب کی حدود: مولانا محمد منظور نعمانی کا جواب

 یہ توقع بجا طور پر کی جا سکتی ہے کہ مسلکِ دیوبند کے بانیوں پر خان صاحب کے فتواے تکفیر کو ضرور چیلنج کیا گیا ہوگا۔ حسام الحرمین کی اشاعت سے دیوبندی اور بریلوی دونوں مسالک کے علما کی طرف سے تردیدات اور جوابی تردیدات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اوشا سانیال نے بجا کہا ہے کہ "فتووں کی ایک جنگ چھڑ گئی"5۔ اس مناظرے کے دوسرے ادوار کی طرح یہ واقعات بھی لاینحل متحارب بیانیوں میں الجھے رہے۔ بریلوی بیانیے کے مطابق عرب علما کی طرف سے حسام الحرمین کی تائیدات نے علماے دیوبند کو اس قدر سراسیمہ کیا کہ مولانا خلیل احمد سہارن پوری، جو اس وقت مکہ مکرمہ میں تھے، ہندوستان واپس بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری طرف دیوبندی بیانیے کی رو سے خان نے صریح جھوٹ اور غلط بیانی کی بنیاد پر بزعم خویش جو فتح حاصل کی، وہ زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی۔ علماے حجاز نے ابتداءً ان کے فتوے کی تائید اس لیے کی تھی کہ ان کے ہاں اپنے ایک معاصر عالم کی علمی دیانت اور اخلاص پر اعتماد کرنے کی روایت تھی۔ لیکن جب انھیں علماے دیوبند کے عقائد کے بارے میں مستند ذرائع سے پتا چلا تو ان میں سے اکثر نے اپنی تائیدات سے رجوع کر لیا ۔ انھوں نے مولانا احمد رضا خان پر بھی اس لحاظ سے تنقید کی کہ اس نے انھیں گمراہ کیا تھا۔ اس رجوع میں بنیادی کردار مولانا سہارن پوری نے ادا کیا۔ انھوں نے نومبر 1907 میں المهنَّد علی الـمُفنَّد کے نام سے عربی میں ایک کتاب لکھی6۔ اس کتاب میں مولانا سہارن پوری نے ان چھبیس سوالات/اشکالات کا جواب دیا، جو علماے حجاز نے مسلک دیوبند اور ان کے عقائد کے متعلق اٹھائے تھے۔ ان سوالات کا سارا زور دیوبندی فکر میں نبی اکرم ﷺ کے علم اور مقام پر ، اور  امکانِ کذب اور امکانِ نظیر جیسے اعتقادی مسائل پر تھا۔ اس کے ساتھ حسام الحرمین میں مولانا احمد رضا خان نے علماے دیوبند کی جو متنازعہ عبارات پیش کی تھیں، ان کے بارے میں بھی متعدد اشکالات تھے7۔ یہاں اس تاریخی سوال کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ اصل میں اس پورے واقعے میں ہوا کیا تھا، اور کس فریق نے علماے حجاز کو رام کرنے میں کام یابی حاصل کی، میں دیوبندی اور بریلوی نظریات کی تشکیل کرنے والے متحارب شرعی تصورات کا ذکر کروں گا۔ میں اس مناظرے میں اہم علمی وفکری اضافہ جات کرنے والے بیسویں صدی کے دیوبندی عالم مولانا محمد منظور نعمانی کی فکر کو زیرِ بحث لا کر ایسا کروں گا۔

حسام الحرمین کی اشاعت کی چند دہائیوں کے بعد خان صاحب کے فتواے تکفیر کے خلاف مولانا نعمانی علماے دیوبند کے دفاع میں شمشیر براں بن کر سامنے آئے۔ مولانا نعمانی اصلاً علوم حدیث کے ماہر تھے، اور مابعد استعماری ہندوستان کے علما میں ایک بے حد اثر ورسوخ رکھنے والے دیوبندی عالم تھے۔ اصلاً وہ بریلی کے تھے، لیکن انھوں نے اپنی بیش تر زندگی لکھنو میں گزاری، جہاں انھوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ایک ممتاز استاذِ حدیث کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ اس ادارے  سے انھوں اپنی پوری علمی زندگی میں قریبی تعلقات استوار رکھے۔ ان کی مشہور ترین کتابوں میں چار جلدوں پر مشتمل معارف الحدیث اور اسلام کے حوالے سے ایک تعارفی کتاب: 'اسلام کیا ہے؟' شامل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں، اور دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر شائع  ہیں۔

مولانا نعمانی نے فن مناظرہ میں بھی کمال حاصل کیا تھا۔ 1934 میں حسام الحرمین کی اشاعت کے اٹھائیس سال بعد انھوں نے 'فیصلہ کن مناظرہ' کے نام سے اس کی ایک تردید لکھی8۔ مولانا نعمانی کے مطابق انھوں نے یہ کتاب اسی سال لاہور میں بریلوی مسلک کے نمائندوں کے خلاف زبانی مناظرے کے لیے تیار کی تھی جس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو ثالثی کے فرائض سرانجام دینے تھے۔

جس وقت یہ مناظرہ ہونے جا رہا تھا، اس وقت لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس سے یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ "لیکن افسوس بریلوی علما مناظرے میں آنے سے باز رہے"! اس کے بعد مولانا نعمانی نے ارادہ کیا کہ اس مناظرے کے لیے انھوں نے جو یاد داشتیں مرتب کی تھیں، انھیں 'فیصلہ کن مناظرہ' کے نام سے کتابی شکل میں چھاپ دیں۔ تاہم مولانا نعمانی کی تردید میں میری دل چسپی کی وجہ وہ دل چسپ حالات نہیں، جن میں یہ سامنے آئی۔  بلکہ دیوبندی بریلوی مناقشے میں ان کا کردار اس بابت رہنما ہے کہ انھوں نے علم اور توحید کے درمیان تعلق کو کس طرح جوڑا، اور اس کے ساتھ جدیدیت میں مذہب اور غیر مذہب کی حدود کے بارے میں بڑے اہم سوالات کو زیر بحث لایا ہے۔ میں مولانا نعمانی کی فکر کے ایک معتد بہ حصے سے استفادہ کرکے ذیل کی بحث میں بتاؤں گا کہ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب پر مناقشے میں جو بنیادی مسئلہ زیر بحث تھا، وہ علم کی تعریف تھا۔ نتیجتاً علم کی تعریف مذہب کی حدود کی تحدید سے کوئی الگ عمل نہیں تھا۔ اس مناظرے کی تہہ میں یہ اہم سوال بھی زیر غور تھا کہ کون سی چیز مذہب ہے اور کون سی نہیں۔ ذیل میں، میں حسام الحرمین پر مولانا نعمانی کی تنقید کے ایک دقیق مطالعے سے اس استدلال کو آگے بڑھاؤں گا۔

مولانا منظور نعمانی نے مولانا احمد رضا خان پر الزام لگایا کہ وہ مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی کی بات کو اردو سے نابلد علماے عرب کے سامنے غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں: "ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حسام الحرمین لکھتے وقت مولانا احمد رضا خان نے قسم کھائی تھی کہ وہ سچ بولنے یا دیانت کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں گے" (184)۔ مولانا نعمانی نے بتایا کہ مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی پر کفر کا فتوی لگاتے وقت خان نے دانستہ یا نادانستہ ان کی عبارات کے سیاق وسباق کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ مولانا نعمانی نے واضح کیا کہ مثلاًمولانا تھانوی کی عبارت (جو اس باب میں پہلے گزر چکی) اس سوال کا جواب تھا: "کیا رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کہنا جائز ہے"؟ مولانا تھانوی کو اس سوال سے کوئی غرض نہیں تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس علمِ غیب ہے یا نہیں۔

مولانا تھانوی کا بنیادی مقصد یہ بتانا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کی صفت سے متصف کرنا جائز نہیں ہے (184)۔ ان دونوں سوالات میں کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے پاس علم غیب ہے؟ اور کیا ان کو عالم الغیب کہا جا سکتا ہے؟ زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے مولانا نعمانی نے ایک فلسفیانہ اصول وضع کیا اور وہ یہ تھا کہ کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کے لیے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو۔ مثال کے طور پر انھوں نے وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ وہ تمام مخلوق کا خالق ہے۔ مزید برآں تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہے، چھوٹا یا بڑا، معمولی یا غیر معمولی، سب خدا کی پیدا کردہ ہیں۔ تاہم اس کے باوجود خدا کو بندروں اور خنزیروں کا خالق کہنا جائز نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ اس قدر خود کفیل تھے کہ وہ اپنے جوتے تک خود سیتے تھے، اور اپنی بکریاں تک خود دوہتے تھے۔ اس کے باوجود یہ انتہائی نامناسب ہوگا کہ انھیں 'خاصف النعل' (موچی) یا 'حالب الشاۃ' (بکریاں دوہنے والا) سے پکارا جائے۔

جیسا کہ مولانا نعمانی اپنے مخاطبین سے تقاضا کرتے ہیں: "میں قارئین کو جو بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس علم غیب ہونا یا نہ ہونا الگ بحث ہے، اور آپ کی ذاتِ مقدسہ پر عالم الغیب کے اطلاق کا جواز اور عدم جواز ایک الگ مسئلہ ہے۔ ان دونوں میں باہم تلازم بھی نہیں" (185)۔ مولانا نعمانی کے مطابق مولانا تھانوی 'حفظ الایمان' میں بس یہی بتانا چاہ رہے تھے کہ 'عالم الغیب' کا اطلاق رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مقدسہ پر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا اس لیے ہے کہ عالم الغیب کا لقب صرف اسے دیا جا سکتا ہے جو علم غیب کا حصول کسی واسطے کی مدد کے بغیر کرے۔ خدا کے سوا ایسی ہستی اور کوئی نہیں۔ اس لیے عالم الغیب کے لقب کا اطلاق خدا کے علاوہ اور کسی ہستی پر بشمول نبی اکرم ﷺ کے نہیں ہو سکتا، مولانا نعمانی نے واضح کیا (185)۔

مولانا نعمانی نے تفصیل سے بیان کیا کہ مولانا تھانوی کی فکر کا خلاصہ کچھ یوں ہے: اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کہتا ہے، تو اس کے صحیح ہونے کی دو صورتیں ہیں: یا تو انھوں نے علمِ غیب کلی تک رسائی حاصل کی ہوگی یا بعض علمِ غیب تک۔ پہلی صورت تو درست نہیں ہو سکتی کیوں کہ علمِ غیب کلی صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسری صورت بھی درست نہیں، کیوں کہ بہت سی پست مخلوقات جیسے جانوروں، چوپایوں اور پاگلوں کو بھی علم کی ایسی کچھ اقسام عطا کی گئی ہیں، جو دوسروں کے پاس نہیں۔ اس لیے اگر کوئی اس اصول کو مان لے کہ علم غیب کے کچھ حصے تک رسائی کسی شخص کو عالم الغیب بناتا ہے، پھر تو  ساری دنیا کو اس لقب سے نوازا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مولانا نعمانی نے خان صاحب کے احتجاجی طرز استدلال کو الٹتے ہوئے ایک پر تجسس استفسار کیا: ایک ایسا لقب جس کا اطلاق دنیا کی ہر چیز پر ہو سکتا ہو، کس طرح رسول اللہ ﷺ کے مقام ومرتبے کو بڑھا سکتا ہے؟ اس کے برعکس ساری دنیا پر قابل اطلاق یہ لقب رسول اللہ کے مقام ومرتبے کی تنقیص کرتا ہے (185 – 188)۔ مولانا نعمانی نے مولانا تھانوی کے موقف کے دفاع میں ایک اور دلچسپ قیاس پیش کیا:

تصور کریں کہ ایک ملک ہے کہ جس کا بادشاہ انسانی ہمدردی کے لیے مشہور ہے۔ وہ ہزاروں فقرا کو دن رات کھانا کھلاتا ہے۔ پھر ایک احمق شخص مثلاً زید یہ اعلان کرے کہ وہ اس بادشاہ کو رازق کہے گا۔ اسی لمحے ایک دوسرا شخص مثلاً‌ عمرو زید سے یہ سوال پوچھے: جب تم اس بادشاہ کو رازق کہتے ہو، تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام انسانوں کو کھانا کھلاتا کرتا ہے، یا اس وجہ سے کہ وہ کچھ انسانوں کو کھلاتا ہے؟ پہلا مفروضہ تو قطعاً غلط ہے، اس لیے کہ یہ معلوم ہے کہ بادشاہ تمام انسانوں کو کھانا نہیں کھلا رہا۔ اور اگر بادشاہ کو اس بنیاد پر رازق قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ صرف چند لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے، تو اس میں بادشاہ کی کیا خصوصیت ہے۔ کسی ملک کے مزدور بھی اپنے بچوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ انسانوں کو جانے دیں، پرندے بھی اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص آپ کی دلیل کو مانیں، تو اسے چاہیے کہ ہر مزدور اور پرندے کو رازق قرار دے (196)۔

مولانا نعمانی نے زور دے کر کہا کہ مذکورہ بالا قیاس میں جو اہم ترین نکتہ ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں پر عمرو کے بیان کو یہ معنی نہیں پہنائے جا سکتے کہ وہ شریف النفس بادشاہ اور ہر مزدور یا پرندے کو مقام ومرتبے یا انسانی ہمدردی کے اعتبار سے برابر نہیں قرار دے رہا۔ مولانا تھانوی نے رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کہنے کی تردید کی، اس کی توجیہ بعینہ یہی ہے۔ ان کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا موازنہ چوپایوں، پاگلوں اور جانوروں سے کریں، چہ جائیکہ انھیں ان کے برابر قرار دیں۔ 

مولانا تھانوی کے استدلال میں کار فرما بنیادی اصول کا خلاصہ مولانا نعمانی نے کچھ یوں کیا: (1) علم غیب کلی صرف خدا کے پاس ہے اور (2) رسول اللہ ﷺ کے پاس جو علم غیب جزئی ہے، اس میں کوئی خصوصیت نہیں۔یہ کہنا کہ مولانا تھانوی نے چوپایوں اور پاگلوں کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ علم والا قرار دیا ہے، محض مولانا احمد رضا خان کے ذہن کی کارستانی ہے۔ مولانا نعمانی اس پر ہنس کر کہتے ہیں: "مولانا تھانوی کی صاف اور بے غبار عبارت کی جو سنسنی خیز تشریح خان صاحب نے کی ہے، اگر شیطان بھی اسے سن لے، تو وہ کفر سے پناہ مانگنے کے لیے دوڑے" (188)۔

وکیلِ استغاثہ کی طرح جج کے سامنے عائد کردہ فرد جرم کے حق میں شہادتیں لہراتے ہوئے مولانا نعمانی نے مولانا احمد رضا خان کی اپنی تحریروں سے متعدد مثالیں پیش کیں، جن میں انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے علاوہ دیگر شخصیات کے لیے علم غیب کا اثبات کیا ہے۔ مثلاً‌ اپنے ملفوظات کے ایک مجموعے میں خان صاحب نے اپنے والد کی ایک پیش گوئی کے ذیل میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بعض علوم غیبیہ سے نوازا تھا (193)۔ بلکہ خان صاحب بتاتے ہیں کہ تمام کائنات کی ہر چیز حتیٰ کہ درختوں کے پتے اور ریگستانوں کے ذرے بھی توحید ورسالت پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ وہ خدا کی تسبیح کرتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت ورسالت کی شہادت دیتے ہیں9۔

خان صاحب کے ان بیانات کی روشنی میں علم غیب کے متعلق ان کے اور مولانا تھانوی کے موقف میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جہاں علم غیب کلی صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، علم غیب جزئی تمام انسانوں بلکہ غیر انسانوں کو بھی حاصل ہے۔ مولانا نعمانی نے نتیجہ نکالتے ہوئے کہا کہ خان صاحب مولانا تھانوی کے خلاف جو شدید اختلاف برپا کیے ہوئے ہیں، حقیقت میں وہ موجود ہی نہیں۔  

علم اور مذہب کی تعریف: مولانا سہارن پوری کا دفاع

مولانا نعمانی نے خان صاحب پر یہ الزام لگایا کہ وہ دانستہ مولانا سہارن پوری کی عبارت کو سیاق وسباق سے کاٹ رہے ہیں، تاکہ اسے گستاخانہ ثابت کر سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ خان صاحب اپنے اس تجزیے میں سراسر غلطی پر ہیں کہ مولانا سہارن پوری نے شیطان کو حضور اکرم ﷺ سے زیادہ علم والا کہا ہے۔ مولانا نعمانی نے وضاحت کی کہ اصلاً مولانا سہارن پوری، مولوی عبد السمع کے اس قیاس کی تردید کر رہے ہیں کہ جب شیطان کے پاس روے زمین کا کافی علم ہے، تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اتنا علم نہ ہو10۔ مولانا نعمانی نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا سہارن پوری اس قیاس کی اصلیت سے پردہ اٹھانا چاہ رہے تھے۔ انھوں نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ رسول اللہ ﷺ کا رتبہ شیطان سے برتر ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا علم بھی لازمی طور پر دوسروں سے زیادہ ہو۔ نعمانی نے بتایا کہ یہاں پر مولانا سہارن پوری کی فکر میں زیر بحث جو علم تھا، اس سے مراد علمِ کلی یا اخروی نجات اور کمالاتِ انسانی سے متعلق علم نہ تھا۔ بلکہ مولانا سہارن پوری صرف اس دنیوی علم کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جس کا مذہب یا اخروی نجات سے کوئی تعلق نہیں (151)۔

اس نکتے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا نعمانی نے علم اور معلومات کے درمیان ایک اہم فرق قائم کیا۔ انھوں نے بتایا کہ علم کی تعریف یہ ہے جو بندے کو اخروی نجات اور خدا سے قریب کرتا ہے۔ علم کا براہ راست تعلق دینی معاملات سے ہے۔ اس کے برعکس معلومات کا اخروی نجات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں تو وہ لوگوں کی اخروی نجات کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ مولانا نعمانی نے زور دے کر بتایا کہ سب سے اہم بات یہ ہے جب ایک شخص کو دوسرے کے مقابلے میں بڑا عالم کہا جاتا ہے، تو یہ صرف اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس کو دینی یا اخروی اعتبار سے مفید علم میں برتری حاصل ہے۔  

علم کی دیگر تمام اقسام کا حصول، جن کا تعلق دین سے نہیں، کسی شخص کو اعلم (دوسروں سے زیادہ علم والا) نہیں بناتا۔  یہی وجہ ہے کہ اگر معمولی اور ثانوی درجے کی چیزوں سے متعلق ایک ناخواندہ شخص کی معلومات مثلاً‌ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ہوں، تو اسے اس بنیاد پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ علم والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا نعمانی نے علم اور معلومات کے درمیان فرق کی وضاحت کے لیے کئی موازنے کیے، جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ علم اور مذہب کی حدود کے حوالے سے ان کا تصور کیا تھا۔

انھوں نے لکھا:

مثلاً آج کی مادی ایجادات اور صنعتی اختراعات کے متعلق جو معلومات یورپ کے ایک ملحد کو حاصل ہیں، یقیناً وہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک کو حاصل نہ تھے۔ گرامو فون بنانے کا علم جو اس کے غیر مسلم موجد کو تھا، وہ یقیناً حضرت غوثِ پاک کو نہ تھا۔ لیکن کون احمق ہے جو ان مادی اور دنیوی علوم کی وجہ سے یورپ کے ان ملحدین کو حضرت امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شیخ عبد القادر جیلانی سے اعلم (زیادہ علم والا) کہنے کی جرات کرے۔ سینما اور تھیٹر کے متعلق جو معلومات ایک فاسق وفاجر بلکہ ایک کافر ومشرک تماش بین کو ہیں، وہ یقیناً ایک بڑے متقی عالم کو نہیں۔ تو کیا کوئی تاریک دماغ ہر تماش بین کو اس عالم سے اعلم کہہ سکتا ہے (185)۔

درج بالا اقتباس مولانا نعمانی کے سماجی تصور کے بارے میں اہم سراغوں کا پتا دیتا ہے۔ مولانا نعمانی نے سینما کے فاسق وفاجر تماش بینوں کی جو مثال پیش کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے اخلاقی نظام سے غیر مطمئن تھے۔ ان کی نظر میں ہندوستانی مسلمان حقیر اور نقصان دہ 'غیر دینی' سرگرمیوں میں اس قدر منہمک ہو گئے ہیں کہ اسلام اور اس کے علمی ورثے سے ان کا تعلق ختم ہو گیا ہے۔ مولانا نعمانی کی فکر میں دینی اور غیر دینی دنیاؤں میں واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ دینی دنیا میں دینی لوگ مثلاً نامور علماے دین بستے ہیں۔ غیر دینی دنیا جدید پیش رفتوں جیسے یورپی ایجادات، غیر اسلامی زبانوں جیسے انگریزی اور سنسکرت کے علم اور عوامی تھیٹر اور سینماؤں کی کثرت سے آلودہ ہے۔ مولانا نعمانی کے سماجی تصور میں علم اور معلومات کے درمیان فرق فکر وعمل اور عوامی زندگی کے دینی اور اخروی دائروں کے ساتھ متعلق ہے۔ 

سب سے اہم بات یہ کہ دینی اور غیر دینی دنیاؤں کے درمیان مولانا نعمانی کے قائم کردہ فرق کا گہرا تعلق ان کے اس استدلال سے تھا کہ خارجی دنیا کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے علم کی کمی ان کے مقام ومرتبے کو گھٹاتا نہیں۔ انسانِ کامل کی حیثیت سے آپ ﷺ کے مقام ومرتبے کا دار مدار دینی واخروی علوم کی وسعت پر ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے مقام ومرتبے کا انحصار ان غیر دینی علوم پر بالکل بھی نہیں، جن میں قابل اعتراض اخلاقی کردار کے حامل لوگ دل چسپی لیتے ہیں۔

مولانا نعمانی کی نظر میں رسول اللہ ﷺ کا امتیازی مقام اس علم پر منحصر ہے، جس کا تعلق انسانی اور دینی کمالات سے ہے۔ اس لیے کسی مخصوص دنیوی معاملے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی ناواقفیت ان کی کامل شخصیت اور رتبے کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ مولانا نعمانی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی سیرت سے زیادہ بہتر اس بات کی وضاحت کسی اور چیز سے نہیں ہو سکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کو واشگاف انداز میں بتایا: "تم اپنی دنیا کے امور (مجھ سے) بہتر جانتے ہوں" (أنتم أعلم بأمور دنياكم

علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں انھیں اپنے آس پاس کئی واقعات کے بارے میں علم نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً مدینہ میں آپ نے کئی منافقین کو غلط فہمی سے اہل ایمان سمجھ لیا۔ صرف وحی کے ذریعے آپ کو ان منافقین کے اصلی کرتوتوں کا علم ہوا (40)11۔ اسی طرح مولانا نعمانی نے قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کیا: "اور ہم نے انھیں (نبی اکرم ﷺ) کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کے لیے مناسب ہے"12۔ مولانا نعمانی نے بتایا کہ اس آیت سے یہ واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو شاعری کا علم حاصل نہیں تھا، باوجود یکہ بہت سے 'فاسقوں' اور کافروں کو فن شاعری میں کمال حاصل تھا۔ لیکن صرف فن شعر میں مہارت کی وجہ سے وہ اعلم نہیں قرار دیے جا سکتے۔ اس سے ان کی معلومات میں ایک حقیر سا اضافہ ہوا۔ مولانا نعمانی کے الفاظ میں: "امرؤ القیس (جاہلی شاعر، م 575) بدترین کافر تھا، اور ساتھ ہی اعلیٰ درجہ کا شاعر بھی تھا۔ فردوسی (م 1020) فاسد العقیدہ شیعہ تھا، اور فارسی کا بہترین شاعر بھی۔ پس جب کہ فاسقوں اور کافروں تک کو یہ فن حاصل ہے، تو رسولِ خدا ﷺ کو، جو افضل المرسلین سید الاولین والآخرین ہیں، ضرور حاصل ہوگا۔ بلکہ اگر شاعری کا علم کسی طرح بھی مقام ومرتبے اور دینی برتری کی علامت ہوتی، تو پھر تو ہر نیک مسلمان کو امرؤ القیس اور فردوسی سے بہتر شاعر ہونا چاہیے (153)۔

دینی علم اور غیر دینی معلومات کے درمیان یہ تفریق اس حوالے سے بھی اہم تھا کہ اس کے ذریعے مولانا نعمانی نے مولانا سہارن پوری کے اس اعتراض کا جواب دیا کہ وہ شیطان کو رسول اللہ ﷺ سے اعلم سمجھتے ہیں۔ مولانا نعمانی نے دعوی کیا کہ مولانا سہارن پوری کا استدلال اس اعتراض کے بالکل الٹ ہے۔ مولانا نعمانی کے نزدیک سہارن پوری نے اصل میں یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے برتر دینی علم اور شیطان کے غیر دینی اور دنیوی معلومات کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔

جیسا کہ مولانا نعمانی نے واضح کیا ہے:

درحقیقت خدا نے شیطان کو ہر قسم کی وہ معلومات عطا کی ہیں، جن سے وہ انسانوں کو گمراہ کر سکے، اور اس کا مقصد انسانوں کے ایمان کا امتحان ہے۔ مثلاً‌ شیطان کو انسانی خواہشات اور مزاج کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے تاکہ وہ انھیں دھوکا دے سکے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ فلاں فلاں مقام پر بے حیائی اور ناچ گانے کی محفل منعقد ہو رہی ہے، تاکہ وہ بھولے بھالے لوگوں وہاں جانے کے لیے بھٹکائے، اور فسق وفجور میں شرکت کرے۔ شیطان کو معمولی دنیوی معاملات کے بارے میں وسیع معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے شیطانی مقاصد کی تکمیل کر سکے۔ لیکن انبیا اور اللہ تعالیٰ کی دیگر مقرب ہستیوں کو ان معمولی اور فحش معمولات سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کا کام گمراہی نہیں بلکہ ہدایت اور دینی رہ نمائی ہے۔ اس لیے خدا نے اس مقصد کے لیے انھیں وسیع اور لامحدود علم عطا کیا ہے (159)۔

یہاں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مولانا نعمانی نے مولانا سہارن پوری کے دفاع کے لیے دینی علم اور غیردینی معلومات کے درمیان ایک واضح فرق وضع کیا ہے۔ مولانا نعمانی کے نزدیک جب مولانا سہارن پوری یہ کہتے ہیں کہ شیطان کے خارجی دنیا کا علم نبی اکرم ﷺ سے زیادہ ہے، تو اس سے مراد غیر اخروی اور دنیوی معلومات ہوتی ہیں، جن کے ساتھ اہل دین کا کوئی سروکار نہیں۔ بلکہ اہل دین خاص طور پر انبیاء اس قسم کی معلومات اور ان معلومات کے حاملین سے دور رہتے ہیں۔ اس لیے خان کے اعتراض کے برعکس کہ مولانا سہارن پوری نے شیطان کو رسول اللہ ﷺ سے اعلم کہہ کر آپ ﷺ کی گستاخی کی ہے، مولانا سہارن پوری نے شیطان کی غیر مذہبی معلومات پر رسول اللہ ﷺ کے دینی واخروی علم کی قطعی برتری کا اثبات کیا ہے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ مولانا نعمانی کا استدلال اس دعوے پر مبنی ہے کہ ان معاملات کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا علم جو اخروی نجات اور کمالات انسانی کے فروغ کے لیے نہ ہو، ایک غیر نبی، ایک کافر اور حتی کے شیطان سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ تاہم دنیوی معاملات اور حوادث میں رسول اللہ ﷺ کے علم کی  کمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ سب سے بڑے عالم نہیں ہیں۔ مولانا نعمانی نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: مولانا سہارن پوری پر الزام لگانے سے پہلے خان نے اس بنیادی اصول پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

یہاں پر مولانا نعمانی کے استدلال میں مجھے جس چیز سے سب سے زیادہ دل چسپی ہے، وہ ان کا تشکیل دیا ہوا تصورِ علم اور دین اور ان کے ماخذات ہیں۔ مولانا نعمانی کے نزدیک علم کا تصور صرف مذہبی علم تک محدود ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں مذہبی علم ہی وہ علم ہے، جو خدا کی نظر میں اخروی نجات کے لیے ضروری ہے۔ ان علوم میں قرآن وحدیث اور شریعت شامل ہیں، اگر چہ انھوں نے ان علوم کی کوئی فہرست مہیا نہیں کی، جو ان کی نظر میں دینی تھے۔ مولانا نعمانی نے علم کی شعوری تعریف کی جو کوشش کی، اس سے ان کی نظر میں مذہب کی حدود کی تحدید بھی ہوتی ہے۔

کس چیز کو علم کہا جائے گا، اس بارے میں ان کے اجتہاد سے یہ بھی متعین ہو گیا کہ کس چیز کو مذہب سمجھا جائے گا اور کس کو نہیں۔ مزید برآں علم اور مذہب کی حدود طے کرنے کے عمل نے ان دونوں کا نمایاں طور پر ایک محدود تصور پیدا کیا۔ مثلاً‌ مولانا نعمانی نے جس انداز میں ماقبل جدید ممتاز مسلمان علماے دین اور مجتہدین کے علم کا موازنہ دیگر روایتی علوم کے حامل اہل علم سے کیا ہے، وہ کافی قابل غور ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:

امام ابوحنیفہ کو شریعت کے لاکھوں کروڑوں مسائل کا علم تھا، اور ابن رشد کو بھی علوم شرعیہ میں خاصی دست گاہ حاصل تھی، لیکن ان کا علم امام ابوحنیفہ کے علم کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔ لیکن فلسفۂ یونان کے متعلق جو 'معلومات' ابن رشد کو حاصل تھے، وہ یقیناً حضرت امام ابوحنیفہ کو حاصل نہ تھے۔ کیوں کہ ان کے زمانے میں فلسفۂ یونان عربی زبان میں ترجمہ ہو کر آیا ہی نہ تھا، لیکن اس کی بنیاد پر ابن رشد کو امام ابوحنیفہ سے اعلم نہیں کہا جا سکتا۔ علی ہذا القیاس حضرت امام شافعی، امام احمد، امام بخاری اور امام مسلم کو کتاب وسنت کا بیش بہا علم حاصل تھا، مگر تاریخ وسیر میں جو معلومات ابن خلدون اور ابن خلِّکان کے تھے، وہ بحیثیتِ مجموعی ان حضرات کو یقیناً حاصل نہ تھے، کیوں کہ ابن خلکان کے علم میں تو بہت سے وہ تاریخی واقعات بھی تھے، جو ان حضرات ائمہ کی وفات کے بعد پیش آئے۔ لیکن اس کی وجہ سے ابن خلدون اور ابن خلکان کو یا آج کل کے کسی مؤرخ کو ان ائمۂ دین سے اعلم نہیں کہا جا سکتا (150)۔

مولانا نعمانی نے علم کو معلومات پر جو فوقیت دی ہے، اسے ایک ایسے استدلالی پروگرام نے استناد بخشا جو 'مذہبی' سمجھے جانے والے علم کی حدود کو کنٹرول کر رہا تھا۔ انھوں نے 'مذہبی علم' کی تعریف سے تاریخ، فلسفے، شاعری اور متعدد دیگر علوم خارج کر دیا۔ مولانا نعمانی کے نزدیک یہ تمام علوم محض معلومات تھے۔ فرد کی اخروی زندگی کے لیے اگر یہ مضر نہیں، تو کم از کم اسے فائدہ بھی نہیں پہنچاتے۔ مولانا نعمانی کی فکر میں علم اور مذہب کی حدود باہم بلکہ بیک وقت متصور ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کو اس فیصلے کے قابل بناتا ہے کہ کس چیز کو علم اور مذہب سمجھا جائے۔ اہم ترین بات یہ کہ علم اور مذہب دونوں کی تقسیم، تعریف، نمائندگی (representation) اور انتقال (translation)بآسانی ممکن تھا۔

انسانی زندگی میں مذہب کو غیر مذہب سے اور علم کو معلومات سے اجتہادی انداز میں جدا کرنا بآسانی ممکن تھا۔ آخر کار مولانا نعمانی ہی وہ شخصیت تھی، جنھوں نے مجتہدِ مطلق کی طرح علم کی تعریف کا تعین کیا، اور اس تعریف کو توسیع دے کر مذہب کا بھی۔ ابھی جو اقتباس پیش کیا گیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اس مجتہدانہ موقف نے مذہب کے ایک محدود تصور کو جنم دیا، ایک ایسا تصور جو صرف قانون تک محدود تھا۔ علوم میں قانون سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں تھا۔ اس کے علاوہ باقی سب غیر مذہبی، غیر اخروی اور ممکنہ طور پر غیر دینی معلومات تھے۔

مولانا نعمانی کی فکر کے ایک مفید تناظر پر مارگریٹ پرناو (Margrit Pernau) کا یہ دقیق نکتہ بہت اہم ہے، جو انھوں نے انیسویں صدی کے اواسط کے متعلق پیش کیا ہے: "علما کا تصور صرف ان اہل علم کا مفہوم اختیار کر گیا، جو علوم دینیہ میں اختصاص رکھتے ہیں"13۔ اس کے بالمقابل انیسویں صدی کے اوائل اور اٹھارویں صدی میں "دینی اور غیر دینی علوم میں اختصاص رکھنے والوں میں کوئی خاص امتیاز نہیں تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی اور مفتی صدر الدین آزردہ جیسے علما کی علمیت انھیں استعماری انتظامیہ میں کسی عہدے، کسی نواب کے دربار میں کسی منصب اور یا کسی مدرسے میں تدریس کی اسامی کے لیے برابر اہل بناتے تھے"14۔ علم اور مذہب کے بارے میں مولانا نعمانی کی محدود فکر سے پرناؤ کے تجزیے کی تصدیق ہوتی ہے۔ جس قدر علما کی طاقت اور مہارت مذہبی علم تک محدود ہوتی چلی گئی، اسی قدر مذہب اور علم دونوں کا تصور بھی محدود ہوتا چلا گیا۔

   مولانا نعمانی کا استدلالی منہج کئی پہلوؤں سے متناقض تھا۔ اگر چہ انھوں نے 'خالص مذہبی' علم کے تحفظ کی کوشش کی، تاہم ان کے پروجیکٹ کے پیچھے یہ جدید مفروضہ کار فرما تھا کہ انسانی زندگی کو مذہبی/غیر مذہبی اور علم/معلومات کے بنے بنائے خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تصور کے مطابق فرد زندگی کے حدود کے اندر نہیں جیتا، بلکہ وہ اپنی اجتہادی صلاحیت کے بل بوتے پر خود اپنے لیے زندگی کی حدود متعین کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ان حدود کا مسئلہ، جو مذہب کو غیر مذہب سے اور علم کو معلومات سے جدا کرتا ہے، اب غیر یقینی یا مشکوک نہ رہا۔ بلکہ ان حدود کا انتقال، نمائندگی اور تعیین بآسانی ممکن تھا۔

ظاہراً‌ تو مولانا نعمانی کا مناقشہ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کی حیثیت اور حدود تک محدود نظر آتا ہے،لیکن فی الواقع یہ بحث ایک بہت زیادہ بنیادی مسئلے کے متعلق تھا اور وہ یہ اجتہادی فیصلہ تھا کہ کون سی چیز مذہب ہے، اور کون سی نہیں۔ وہ مقام علم تھا، جس کے متعلق انھوں نے اپنا یہ فیصلہ صادر کیا۔ علم کی حدود متناسب انداز میں مذہب کی حدود سے ملتی ہیں۔ جس دم وہ علم اور معلومات میں تفریق کر رہے تھے، اس دم وہ مذہب کے مقام کی تحدید بھی کر رہے تھے۔

المختصر علم اور مقام نبوی کے درمیان تعلق پر مولانا نعمانی کی فکر کو ایسی 'مذہب سازی' کی سیاسیات سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا، جس کا مقصد مذہب کی اعتقادی حدود کی تحدید تھی۔ علاوہ ازیں جس طرح مولانا نعمانی نے مذہب کی حدود کو ایک قابل تحدید وتعیین چیز بنایا، اسی طرح انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے علم کو بھی قابل تحدید وتعیین بنایا، اور اس کے نتیجے میں نبی کے تصور کو شرعی رہ نمائی کے ایک سرچشمے کی حیثیت سے پیش کیا۔ مذہب  کی تحدید وتعیین کے ذریعے سے مولانا نعمانی نے نبی کے علم کی بھی تحدید وتعیین کر دی۔15۔

روایت و اصلاح کے متحارب تصوّرات

رسول اللہ ﷺ کے علم کے متعلق مولانا تھانوی اور مولانا سہارن پوری کی عبارات سے جس تنازعے نے جنم لیا تھا، اس سے واضح طور پر ان متضاد نکات اور استدلالات کا علم ہوتا ہے، جو روایت کی دیوبندی اور بریلوی تفہیمات کی تشکیل کرتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خان کی نظر میں اکابر دیوبند اپنے مبہم اور بھونڈے دلائل سے رسول اللہ ﷺ کی شان کو گھٹا رہے ہیں۔ انھوں نے آخری اقدام کے طور پر ان کی تکفیر کی کہ ان کی نظر میں رسول اللہ ﷺ کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے وہ ضروریاتِ دین کو پامال کرنے کے مرتکب ہو گئے ہیں۔ اس کے جواب میں متقدمین ومتاخرین علماے دیوبند مثلاً‌ مولانا منظور نعمانی نے خان صاحب پر یہ الزام لگایا کہ وہ علماے دیوبند کی عبارات کو قصداً مسخ کرکے ان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔

اس سے بڑی بات یہ کہ انھوں نے خان صاحب پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تقدیس کی آڑ میں خدا کی حاکمیتِ اعلی (توحید) کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جیسا کہ ایک بار مولانا رشید احمد گنگوہی نے کہا تھا: "حق تعالیٰ کا شان گھٹاتے ہیں، اوراس  کا نام حبِّ رسول رکھتے ہیں"16۔ مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی حریفوں کے لیے علم اور حاکمیت ایک دوسرے کے ساتھ گہرے انداز میں مربوط تھے۔ تاہم جس انداز میں انھوں نے اس تعلق کو سمجھا اور اپنے اصلاحی پروگراموں میں اسے برتا، وہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھا۔

گزشتہ صفحات میں اس مناظرے کا جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی حریف کئی پہلوؤں سے ایک ہی طرح کے مسائل پر متضاد مواقف رکھتے تھے۔ ان کے اختلافات کے باوجود کافی حد تک ان کے اعتقادی تصورات کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ علم غیب کلی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ وہ اس بات پر بھی متفق تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ دیگر مخلوقات بشمول نبی اکرم ﷺ کو علم عطا کیا ہے۔ علاوہ ازیں نظری اعتبار سے مولانا احمد رضا خان کو مولانا تھانوی کی اس بات سے اتفاق ہوگا کہ اگر 'عالم الغیب' کا مطلب علم غیب کلی کا حامل ہونا ہے، تو اس کا اطلاق رسول اللہ ﷺ پر نہیں ہو سکتا۔

ان واضح نکاتِ اتفاق کی روشنی میں یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے، اور جیسا کہ میں نے اس پوری کتاب میں کیا بھی ہے کہ یہ تنازع بڑی حد تک رسول اللہ ﷺ سے متعلق گفتگو کے آداب اور آپ کی حیثیت کے متوازی تصورات کے بارے میں ہیں۔ خان صاحب کے نزدیک جس انداز میں علماے دیوبند رسول اللہ ﷺ کے متعلق بات کرتے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر اشتعال انگیز اور صراحتاً گستاخانہ ہے۔ عقلی اعتبار سے ان کے دلائل درست بھی ہوں، تو بھی جس انداز سے وہ اپنے دلائل پیش کرتے ہیں، وہ قابل مذمت ہے۔ خان کی نظر میں انھوں نے جس ڈھٹائی سے رسول اللہ ﷺ کا موازنہ شیطان، پاگلوں اور چوپایوں کے ساتھ کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دین کی شکل بگاڑ رہے ہیں۔ خان صاحب سمجھتے تھے کہ یہ موازنے اور فرضی مثالیں روایت کے لیے ایک فوری خطرہ ہیں، کیونکہ یہ خوف ناک حد تک تصور کی حدود کو وسعت دیتی ہیں۔ دیوبندی فکر سے خان صاحب کو جو شدید مسئلہ تھا، اس میں آداب گفتگو کی اہمیت الدولة المکية میں ان کی اس عبارت سے معلوم ہوتی ہیں: "ہم یہ اقرار بھی کرتے ہیں کہ خدا نے رسول اللہ ﷺ کو صرف بعض علم عطا کیا۔ لیکن ان کے 'بعض' اور ہمارے 'بعض' میں اتنا فرق ہے، جتنا دن اور رات میں۔ وہابیوں کا 'بعض' نفرت اور توہین کا  ہے، اور ہمارا 'بعض' عزت واحترام کا ہے"(فبعض الوهابية بعض بغض وتوهين وبعضنا بعض عز وتمكين)17۔ جیسا کہ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ خان صاحب نے دیوبندی اور بریلوی مواقف کے درمیان کافی ہم آہنگی کو تسلیم کیا، لیکن وہ جس بات سے سراسیمہ ہیں، ان کی نظر میں وہ دیوبندی فکر کا گستاخانہ رویہ ہے۔ اس کے برعکس اکابر دیوبند جہاں خان نے ان کی جو تصویر کشی کی ہے، اس سے اختلاف کرتے ہیں، وہیں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ توحید کے تحفظ کے لیے چند استدلالی خطرات مول لینا مناسب ہے۔ صورتِ حال کی نزاکت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کسی قدر استدلالی بے باکی سے کام لیا جائے۔

 نتیجتاً جو مناظرانہ دور پچھلے ابواب میں ذکر ہوا، وہ ان اخلاقی بھلائیوں کے دو بنیادی متوازی تصورات کو سامنے لاتا ہے، جو روایت کی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ مزید برآں یہ حریفانہ کش مکش کی وہ ہنگامی صورتِ حال تھی جس کے اندر مولانا احمد رضا خان اور اکابرِ دیوبند نے روایت کی حدود پر اپنے متخالف نظریات پر بحث ومباحثہ کیا، اور اس طرح سے انھیں بنیادی طور پر نمایاں کیا۔ یہی مخالف استدلال وہ چیز تھا، جس کے ذریعے ان دو مکاتبِ فکر کی شناختوں نے ایک استدلالی فکر صورت اختیار کی۔ ان کے مناظروں میں شناخت اور اختلاف ایک دوسرے کی تشکیل کر رہے تھے۔ اس لیے اسلام کے متعلق پہلے سے قائم کردہ تصورات کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس مناظرے میں داخل نہیں ہوا جا سکتا۔بلکہ اسلام کی حدود سے متعلق مخصوص سوالات اور ان کے جوابات اسی مناقشے کی مخاصمانہ فضا میں پیدا ہوئے۔ بریلوی اور دیوبندی مسلک کے اکابر نے اپنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق روایت واصلاح کے مربوط اور مستند حریف تصورات تشکیل دیے۔ روایت کے متعلق ان کے حریف بیانیوں کو فقہ/تصوف، اصلاحی/غیر اصلاحی، یا روایتی/جدت پسند جیسے تقابلات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ تقابلات روایت واصلاح کی سرحدوں پر واقع شرعی افکار سے متعلق نظریاتی دائرے تشکیل دیتے ہیں، اس سے پہلے کہ ان مناقشوں کی ہنگامی صورتِ حال کو زیر غور لائیں، جن میں یہ حدود بنیادی طور پر نمایاں ہوئیں۔ اس کے بجاے بریلوی دیوبندی مناقشہ ایک ایسے تجزیاتی طریق کار کا تقاضا کرتا ہے، جو اس مفروضے پر مبنی نہ ہو کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ وہ اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہو کہ وہ کون سی فکری یا غیر فکری نسبتیں تھیں، جن کے ذریعے روایت کی وسعت اور حدود تشکیل دی گئیں، پھر ان کو سامنے لایا گیا، اور اس پر بحث ومباحثہ کیا گیا18۔

حواشی

  1. مولانا رشید احمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ (کراچی: محمد کارخانۂ تجارت اسلامی کتب، 1987)، 234 – 38۔
  2. ایضاً، 454۔
  3. ایضاً۔
  4. ایضاً، 453۔
  5. اوشا سانیال، Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barelwi and His Movement, 1870 – 1920 (دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 1996)، 233۔
  6. مہند عربی زبان کا لفظ ہے،جس کا معنی ہے ہندوستانی لوہے کی بنی تلوار۔ اور یوں یہ ایک ہندوستانی عالم کی جانب سے ہندوستانی علما کے دفاع میں لکھی گئی کتاب کا کوئی اتفاقی نام نہیں۔
  7. خلیل احمد سہارن پوری، المهند على المفند(لاہور: المیزان، 2005)، 22 – 73۔
  8. منظور نعمانی، فیصلہ کن مناظرہ (کراچی: دارالاشاعت، تاریخ ندارد)، 61 – 95۔ آنے والے تمام حوالہ جات اسی اشاعت سے لیے گئے ہیں،اور متن میں بین القوسین درج کیے گئے ہیں۔
  9. مولانا نعمانی نے یہ عبارت علم غیب سے متعلق خان کی مشہور کتاب الدولة المكية سےمستعار لی ہے۔ بحوالہ نعمانی، فیصلہ کن مناظرہ، 194۔
  10. یاد کریں کہ یہ مسئلہ اس محفل میلاد کے دوران متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی سے شروع ہوا تھا۔
  11. مولانا نعمانی نے قرآنی آیت کا حوالہ دیا: "تمھارے ارد گرد جو اعراب کے لوگ ہیں، وہ منافق ہیں، اور مدینے کے کچھ باسی تو اور تمھارے گردونواح کے بعض دیہاتی بھی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انھیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں (قرآن 9: 101)۔
  12. قرآن 36 : 69۔
  13. مارگریٹ پرناو، Ashraf into Middle Classes: Muslims in Nineteenth-Century Delhi(نیو دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2013)، 271۔
  14. ایضاً۔
  15. مولانا نعمانی کا منہج یہاں پر عبد القادر طیب کی عالمانہ تحقیق بعنوان Religion in Modern Islamic Discourse (نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)مین کیے گئے دعوے کو پھیلاتی ہے، اور اس کی ایک اہم وضاحت پیش کرتی ہے کہ انیسویں صدی کے بعد "وقتا فوقتاً دین اور دینی کلیدی اصطلاحا ت بن گئے، جن کے ارد گرد اسلام کے نئی معانی کی بنیاد اور تشکیل کی گئی(16)۔  اگر چہ طیب نے اپنے تجزیے میں بڑی حد تک جدیدیت پسند، اسلام پسند اور تانیثیت پسند علما پرانحصار کیا ہے، تاہم مولانا نعمانی اور مولانا تھانوی کی مثالیں بھی  (جیسا کہ ساتویں باب میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی شادی کے فیصلے کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے)وہ تخلیقی پہلو سامنے لاتی ہیں، جہاں روایتی مسلمان اہل علم نےزندگی کے ایک ممتاز دائرے کی حیثیت سے  مذہب کی جدید فکری تشکیلات میں اپنا کردار کیا۔
  16. رشید احمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ (لاہور: مکتبۂ رحمانیہ، تاریخ ندارد)، 225۔
  17. ا۔ خان، الدولة المكية، 277۔
  18. یہاں پر میرا نظری موقف انندا ابیسیکارا کے مرہونِ منت ہے۔Identity for and against Itself: Religion, Criticism, and Pluralization، جرنل آف دی امیریکن اکیڈمی آف ریلجن 72، نمبر 4 (2004): 973 – 1001۔

(جاری)

"امام و صحیح بخاری کے مآخذ: ناقدانہ جائزہ"

وقار اکبر چیمہ

عنوانِ کتاب:  امام و صحیح بخاری کے مآخذ: ناقدانہ جائزہ

تحقیق و تصنیف:  ڈاکٹر محمد فؤاد سزگین

ترجمہ و تعلیق:  ڈاکٹر خالد ظفر الله

ناشر:  مکتبہ اسلامیہ لاہور/ فیصل آباد

سنہ اشاعت:  ۲۰۲۲

عربی کے بعد علوم اسلامیہ پر سب سے زیادہ کام اردو میں ہوا ہے۔ پچھلے دو سو  برس سے مستقل تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی سے تراث کی اہم ترین کتب اور انگریزی میں اسلام اور مسلم تہذیب سے متعلق تحقیقی کام کو اردو قالب میں ڈھالنے کا جو سلسلہ جاری ہے، اس کی بدولت بلا شبہ اب اردو علوم اسلامیہ کے حوالے سے عربی کے بعد اہم ترین زبان بن چکی ہے۔ اسی سلسلہ میں ایک تازہ اضافہ ترکیہ کے فاضل محقق مرحوم ڈاکٹر محمد فؤاد سزگین صاحب کے پی ایچ ڈی مقالے کا براہ راست ترکی زبان سے اردو ترجمہ ہے۔ یہ کارنامہ سمندری فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر خالد ظفر الله صاحب نے سر انجام دیا ہے۔ یہ اس نادر تحقیق کا کسی بھی زبان میں پہلا ترجمہ ہے اور اس باب میں اردو کو عربی پر بھی سبقت حاصل ہو گئی ہے۔ اس کاوش کا عنوان "امام و صحیح بخاری کے مآخذ: ناقدانہ جائزہ" رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر سزگین کے مقالے کا عنوان "بخاری کے مآخذ کی تحقیق" ہے جس کی تکمیل پر انہوں نے ۱۹۵۴ میں استنبول یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انقرہ یونیورسٹی میں استاد کے طور پر تعیناتی کے دوران ۱۹۵۶ میں اسے انقرہ یونیورسٹی سے ہی شائع کروایا۔ اس اولین طبع کی پی ڈی ایف کاپی انقرہ یونیورسٹی کی ویبسائٹ سے بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن مقالہ ترکی زبان میں ہونے کی وجہ سے کماحقہ استفادہ نہیں ہو سکا۔

ابتداء میں فاضل مترجم و ناقد ڈاکٹر خالد ظفر الله صاحب نے اس کام کے حوالے سے تین دہائیوں پر مشتمل اپنی سرگزشت بیان کی ہے۔ کہ کیسے ترکیہ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم کے طور پر ان کے ایک ہم سبق کی دی ہوئی فوٹو کاپی سے اس علمی سفر کا آغاز ہوا اور پھر یہ دل چسپی کبھی کم نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی مترجم نے اپنے کام کی کامل نوعیت واضح کی ہے۔ کہ انہوں نے ترجمہ سے بڑھ کر سزگین صاحب کی تحقیق کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا ہے اور جہاں تحقیق میں کچھ سقم معلوم ہوا اسے بھی رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ تسامحات کر رفع کرنے اور خصوصا ضمیمہ جات میں موجود قیمتی معلومات کی تکمیل و تصحیح میں جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے ان کا تعارف اور اس کام کے حوالے سے ان کے کارآمد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ یوں دیگر کئی علمی کاموں کا مختصر احوال بھی شاملِ کتاب ہے۔

فاضل مترجم (اگرچہ یہ کام ترجمہ سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن سہولت کیلیے ہم ڈاکٹر خالد صاحب کیلئے مترجم کا ہی لفظ استعمال کریں گے) نے ڈاکٹر سزگین کا مختصر شخصی تعارف پیش کیا ہے جس میں ان کی ابتدائی زندگی اور علمی سفر و کارناموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ڈاکٹر سزگین صاحب کی ذات اور کام کے حوالے سے کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر سِزگین کو غیر مسلم مستشرق سمجھے جانے کی افسوسناک غلطی کے بیان کے ساتھ ان کے نام کے صحیح تلفظ کی وضاحت ہے ۔ اسی طرح صحیح بخاری کے مآخذ کے حوالے سے ان کی کتاب کے بارے میں غلط فہمیوں کو بھی دور کیا گیا ہے مثلاً یہ کہ مقالہ اصلاً انگریزی میں ہے یا جرمنی میں قیام کے دوران لکھا گیا یا یہ کہ اس کا عربی ترجمہ ہو چکا ہے۔

اس کے بعد فاضل مصنف (ڈاکٹر سزگین) کا مقدمہ ہے جس میں کتاب کے محتویات کا مختصر بیان ہے۔ ڈاکٹر سزگین کی فرمائش پر ان کے ایک دوست مارٹن ڈِکسن نے ان کے مقدمے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا ۔ یہ انگریزی ترجمہ زیرِ نظر کام میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

کتاب کا بنیادی متن تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حدیث کے ابتدائی تحریری مآخذ کا ذکر ہے۔ اس تناظر میں تحملِ حدیث کے صیغوں (یعنی حدثنا، اخبرنا، وغیرہ جیسے الفاظ) کا تعارف اور استعمال کا محل اور مصنف کے اس دعوی کہ امام بخاری نے اپنے سے پہلے کے تحریری مجموعہ ہاۓ حدیث سے استفادہ کیا ہے کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فاضل مصنف نے تحملِ حدیث سے متعلق مستعمل الفاظ بارے متقدمین کے طرزِ عمل کو اس طرح واضح کیا ہے کہ روایتِ حدیث کے الفاظ کی موجودگی اور تحریری مآخذ سے استفادہ کے دعوی میں تعارض ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً وہ متقدمین سے منقول اقوال کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں کہ روایت میں "اخبرنا" وغیرہ کا استعمال مناولہ یا مکاتبت کی صورت میں بھی روا رکھا جاتا رہا (ص ۱۰۱) اور کئی متقدمین ان صیغوں میں وہ فرق نہیں کرتے تھے جو متاخرین نے ان کے حوالے سے عمومی طور پر بیان کیا ہے (ص ۹۳، ۱۰۱)۔ اس اصولی قضیہ کو حل کرتے ہوۓ وہ صحیح بخاری میں قدیم تر کتب سے اخذ کو شارحین کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ مثلاً کتاب العِلم میں امام بخاری کے استاد حُمیدی کی کتاب النوادر سے استفادہ کرنا حافظ ابن حجر کر حوالے سے ذکر کرتے ہیں (ص ۹۶-۹۳، ۱۵۵) اور لکھتے ہیں کہ امام بخاری کا محمد بن بشار سے بطریق مکاتبت روایت کرنا (حدیث ۶۶۳۳) بھی تسلیم کیا گیا ہے (ص ۹۸، ۹۹)۔ اسی طرح ابن حجر ہی کے حوالے سے مسند اسحاق بن راہویہ سے روایت کی مثال بھی پیش کرتے ہیں (ص ۱۲۹)۔ امام بخاری کے اہلِ شام کی کتابوں پر اعتماد کرنے کی وجہ سے حرفِ تنقید بنائے جانے کی روایت کو فاضل ڈاکٹر سزگین نے ان کے تحریری مآخذ سے استفادہ کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے (ص ۱۳۰)، جو ان کی دقّتِ نظری اور قوتِ استدلال کا مظہر ہے۔ اسی طرح صحیح بخاری کی ایک روایت میں امام بخاری ایک شیخ کی کتاب میں بیاض (خالی جگہ) کا ذکر کرتے ہیں (حدیث ۵۹۹۰) جس کی مصنِّف نے خوب نشاندہی کی ہے (ص ۱۳۱، ۱۳۲)۔ اسی طرح وہ امام بخاری کے موطأ کی روایت التنیسی سے اخذ و نقل کو امام زُرقانی کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں (ص ۱۳۲)۔ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ امام بخاری کی امام مالک سے ایک معلّق روایت ابن عبد البر نے ابن وھب کی روایت موطأ کے نسخہ سے نقل کی ہے (ص ۱۳۲)۔ البتہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں صحیح بخاری میں امام مالک سے مروی تمام روایات کا موطأ سے نقل ہونے کے مقابلے میں بعض اوقات موطأ سے براہ راست نقل اور زیادہ تر موطأ سے استفادہ کی بنیاد پر لکھی جانے والی دیگر شیوخ کی کتب سے مراجعت کا احتمال زیادہ مناسب ہے (ص ۱۴۰)۔ تحریری مآخذ سے نقل کرنے کے باب میں امام بخاری کے منفرد ہونے کے تاثر کو زائل کرنے کیلیے مصنف اسی سیاق میں امام مسلم کا اپنی صحیح میں تحریری مآخذ سے استفادہ کرنے کو بھی بیان کرتے ہیں (ص۱۲۹، ۱۳۲)۔ اور یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ امام ابو داود اور ان سے قبل امام شافعی کا تحریری مآخذ سے نقل کرنا تو مستشرقین نے بھی تسلیم کیا ہے (ص ۱۲۲)۔

 کتاب کا دوسرا باب "صحیح بخاری میں تفسیر ِقرآن کے مآخذ" کے عنوان سے ہے۔ اس میں صحیح بخاری میں مختلف مقامات پر مذکور تفسیری اقوال کی اصل کے بارے میں تحقیق پیش کی گئی ہے۔ فاضل مصنف نے صراحت کی ہے کہ اگرچہ یہ مواد صحیح بخاری میں جابجا موجود ہے لیکن ان کی تحقیق کا محور کتاب التفسیر میں منقول اقوال ہی ہوں گے (ص ۱۹۵) ۔ باب کے شروع میں مصنف نے صحیح بخاری کے پہلے سے موجود تحریری ذخیرہ ہاۓ علم کا خلاصہ ہونے  کا نظریہ دہرایا ہے۔ اور تمہیداً یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ امام بخاری سے پہلے کے مؤلفین کتبِ سُنن نے اپنی کتب میں تفسیر کا باب قائم نہیں کیا (ص ۱۹۵) اور اس حوالے سے بخاری اپنے متقدمین سے ایک امتیازی وصف رکھتے ہیں بلکہ اپنی تالیف میں موجود تفسیری و لغوی مواد کی کیفیت و ماہیت کے اعتبار سے بعد کے کاموں سے بھی صحیح بخاری مختلف ہے۔ صحابہ، تابعین اور بعد کے لوگوں سے منسوب تفسیری اقوال کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے اور اس اہم امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان اقوال کیلیے امام بخاری نے کوئی سند ذکر نہیں کی اگرچہ ان میں بہت سے اقوال کو آپ سے پہلے امام عبدالرزاق صنعانی اور آپ کے بعد امام  طبری اور ابن ابی حاتم نے انہی حضرات سے با سند روایت کیا ہے۔ بلکہ ان اقوال کو مسند نقل کرنے والے بعض ذرائع تک امام بخاری کی رسائی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ لہذا مصنف کا خیال ہے کہ امام موصوف نے ایسا قصداً  کیا ہے (ص ۱۹۶-۲۰۱) ۔

اس باب میں ابو عبیدہ اور فراء کے تفسیری اور لغوی اقوال کو الگ الگ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اول تو یہ بتایا گیا ہے کہ ابو عبیدہ جن کا اصل نام مَعمر تھا ان کو صحیح بخاری میں صرف معمر کہہ کر ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی درست شناخت ایک عرصہ تک معروف طور پر متعین ہی نہیں کی جا سکی۔ ابن حجر لکھتے ہیں کہ ابو عبیدہ کا کام دیکھنے سے قبل وہ یہی سمجھتے تھے کہ معمر سے مراد معمر بن راشد ہیں۔ اگرچہ بعد میں ان کو اس حوالے سے ابن التین اور نووی کی شہادتیں بھی میسر آ گئیں (ص ۲۱۴-۲۱۶)۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ابو عبیدہ کی مجاز القرآن سے نقل میں کوئی خاص ترتیب معلوم نہیں ہوتی۔ کئی مقامات پر غیر ضروری اور غیر متعلقہ اقباسات نقل کر دے گۓ ہیں (ص ۲۱۹-۲۲۱)۔ کہیں بلا ضرورت اقتباسات کی تکرار بھی ہے اور تفسیر قرآن سے متعلقہ کچھ حصّے تو مصحف کی ترتیب کے مطابق بھی نہیں (ص ۲۲۲-۲۲۳)۔ اس صورتِ حال نے بعض شارحین کو پریشان بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی وہ اس بے ترتیبی پر شارحین کے مختلف رویّوں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ ابن حجر کہیں تو اس کی توجیہ کرتے نظر آتے ہیں اور کہیں اس کی ذمہ داری ناسخین پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قسطلانی بھی عقیدت میں اسے عمیق امر جانتے ہیں البتہ کرمانی اس کو لا یعنی کہنے کی جرأت رکھتے ہیں۔ عینی کی بھی ایسی ہی راۓ ہے گو وہ ان کی افادیت کے منکر نہیں (ص ۲۲۲-۲۲۵، ۲۴۱)۔ بعض مقامات پر ابن حجر بھی اقتباسات کی مناسبت کی بابت کسی تاویل و توجیہ سے عاجز دکھتے ہیں تو مصنف اس سے اپنے موقف کو تقویت پاتا محسوس کرتے ہیں کہ یہ سب امام بخاری نے دیگر کتب کے اسلوب سے متاثر ہو کر کیا ہے اور اس حوالے سے متاخرین کی بیان کردہ شرائط محض خیالی ہیں (ص ۲۲۲)۔

فراء کی شناخت بھی ان کا نام صرف یحییٰ لکھے جانے کی وجہ سے مستور ہی رہی، اور شروع کے شارحین جیسے خطابی وغیرہ نے اس سے تعرض ہی نہیں کیا۔ یہاں بھی ابن حجر نے ہی ان کا فراء ہونا واضح کیا۔ کرمانی، یحییٰ کے نام سے منقول اقوال کو یحییٰ بن سعید سے منسوب کرتے رہے۔ علامہ عینی نے بھی ان کا فراء ہونا دیر سے ہی قبول کیا (ص ۲۳۳-۲۳۸)۔ اس کے بعد مصنف نے فراء کے اقوال کی مناسبتوں پر بات کی ہے۔ یوں اس باب میں صحیح بخاری میں منتشر ان اقتباسات کے امام بخاری سے قبل کے دو تحریری مآخذ کی نشاندہی شارحین کے اقوال کے حوالے سے ثابت کی گئی ہے۔ ان اقباسات کی نشاندہی ضمیمہ سوم و چہارم میں کی گئی ہے (ص ۳۰۹-۳۳۲)۔

کتاب کا تیسرے باب کا عنوان ہے "الجامع الصحیح کی روایات۔"  اس باب میں فاضل مصنف نے صحیح بخاری کی مختلف روایات کی تاریخ، ان کے باہم تقابل اور اس سے متعلقہ امور پر بحث کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک ہزار راویوں میں سے صرف پانچ کے نام محفوظ ہیں اور ان میں سے بھی دو کی روایت کا متداول ہونا تاریخی طور پر ثابت ہے۔ یہ فِرَبری اور نَسَفی کی روایات ہیں۔ چھٹی صدی ہجری کے بعد سے البتہ صرف فربری کی روایت ہی معروف رہی ہے (ص ۲۵۱) ۔ نسفی کی روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام بخاری کے بعد دو صدیوں تک تو معروف رہی اور امام خطابی نے اپنی شرح بھی اسی روایت کے متن کو سامنے رکھ کر لکھی لیکن بعد میں پس منظر میں چلی گئی ۔فربری کی روایت کو نسفی پر ترجیح حاصل ہونے کے کچھ ممکنہ اسباب کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ صحیح بخاری کے آخر سے کچھ حصہ کا براہ ِراست امام بخاری سے سماع کا موقع نسفی صاحب کو غالبا نہیں مل سکا، دوسری وجہ راویوں کی تعداد کا فرق رہی کہ فربری کی روایت کو نو (۹) راوی ملے اور نسفی کی روایت کو صرف دو (۲)۔ پھر نسفی کی روایت میں کچھ غیر محفوظ اضافوں کا اندیشہ بھی شاید اس کی وجہ بنا (ص ۲۵۸-۲۵۹)۔ لیکن بعض پہلو ایسے بھی تھے جن میں نسفی کی روایت فربری سے بہتر سمجھی گئی جیسے متن کی اہم تفصیلات کا مکمل طور پر محفوظ ہونا۔ اسی طرح کچھ لغوی مواد کا صرف روایت نسفی میں ہی پایا جانا اور اس میں تکرار کا نہ ہونا بھی روایت نسفی کے اوصاف میں شمار کیا گیا ہے (ص ۲۵۹-۲۶۲)۔ ان امور اور فربری کی بعض ذیلی روایات کا تذکرہ کرنے کے بعد مصنف فرماتے ہیں کہ مِن جملہ نسفی کی روایت فربری کی روایت سے بہتر گردانی گئی ہے (ص ۲۳۵)۔ اس کا بعد فاضل مصنف نے صحیح بخاری میں کاتبین کے تصرف پر بات کی ہے کہ ایسا ہو بھی تو زیادہ اہم نہیں ہے جیسے کسی کا مبہم نام "محمد" کی جگہ (التباس کو رفع کرنے کی نیت سے) "نفیلی" لکھ دینا (ص ۲۳۳)۔ شروطِ بخاری کے حوالے سے کتب کا ذکر کرتے ہیں اور مثال سے واضح کرتے ہیں کہ اس باب میں بعض غیر حقیقی باتیں بھی کی گئی ہیں جن کی غلطی ابن حجر و دیگر شارحین نے بیان کی ہے۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ چونکہ صحیح بخاری اور دیگر کتب کا باقاعدہ مقدمہ وغیرہ نہیں ہے لہذا اس باب میں جو کہا گیا ہے وہ ان ائمہ سے منقول نہیں۔ امام مسلم کی کتاب کا مقدمہ ہے لیکن اس میں بھی ان امور کی وضاحت نہیں (ص ۲۸۰-۲۸۱)۔  آخر میں صحیح بخاری پر ہونے والی تنقیدات ذکر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ صحیح بخاری کو جو مقام حاصل ہے یہ صدیوں کے نقد اور بحث و تمحیص کا نتیجہ ہے اور امت کے اجماع نے صحیح بخاری کو بلند مقام پر فائز کیا ہے (ص ۲۸۵-۲۸۸)۔

ڈاکٹر سزگین کے کام کا معرکہ آرا ہونا ان تین ابواب میں محقَّق نظریات سے ظاہر ہے تو چوتھے باب میں دیے گئے ضمیمہ جات میں دی گئی معلومات سے اظہر ہے۔ پہلے ضمیمے میں شیوخ بخاری اور شیوخِ شیوخ بخاری کے بارے میں انتہائی اہم تفصیلات نقشوں کی صورت میں دی گئی ہیں۔ کمپیوٹر اور فہارس کے دور سے قبل اس کام کے سرانجام دینے میں جو محنت اور ہمّت درکار تھی وہ فاضل مصنف کے عمیق مطالعہ صحیح بخاری پر شاہد ہے۔

دوسرے ضمیمے میں مصنف نے صحیح بخاری میں امام مالک کی مرویات کی موطأ میں نشاندہی کی ہے۔ یقیناً یہ بھی ایک دلچسپ اور اہم موازنہ ہے اور پہلے باب میں درج مصنف کے نظریے کا گویا بین ثبوت ہے۔ تیسرا اور چوتھا ضمیمہ صحیح بخاری میں بالترتیب ابو عبیدہ کی مجاز القرآن اور فراء کی معانی القرآن کے اقتباسات کی نشاندہی کیلیے مختص ہیں۔ یہ دوسرے باب کے تکملہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر سزگین کا یہ کہنا درست ہے کہ ان کی تحقیق میں عام خیال سے بہت ہٹ کر نتائج سامنے آئے ہیں اور تین صدیوں تک محض زبانی روایت کے تصور کی قلعی کھل گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے فاضل مصنف نے اس امر کو ثابت کرنے کیلئے روایت سے ہی شواہد اس طرح اکھٹے کر دیے ہیں کہ امام بخاری کا ماقبل کے تحریری مآخذ سے استفادے کا مطلقاً انکار ممکن نہیں رہا۔ البتہ فاضل مصنف کا یہ دعوی کہ "ابتدا سے انتہا تک" صحیح بخاری تحریری مجموعہ ہائے حدیث سے ہی مرتب کی گئی تھی (ص ۱۲۱) نہ صرف یہ کہ ابھی تشنہ تحقیق ہے بلکہ کافی حد تک مستعبد بھی ہے۔ اس درجہ عمومیت اور قطعیت کے ساتھ اس نظریہ کا ثابت ہونا شاید ممکن ہی نہیں۔ مصنف کا فرمانا کہ مثلاً امام مالک کی مرویات کے سلسلے میں امام بخاری نے ہمیشہ موطأ سے براہ راست استفادہ نہیں کیا ہو گا بلکہ یہ روایات انہوں نے اپنے اساتذہ/شیوخ کے تحریری مجموعوں سے لی ہوں گی کچھ مبنی بر تَحکم محسوس ہوتا ہے۔ ایسے تمام غیر معروف تحریری مجموعات کا تاریخی ثبوت سامنے آنا بظاہر ممکن نہیں اور نہ ہی امام بخاری کا ایسا کوئی قول ذکر کیا گیا ہے اس لیے زیادہ مناسب احتمال یہی معلوم ہوتا ہے کہ زبانی روایت کے ساتھ ساتھ اصولِ روایت کے تحت موطأ امام مالک سمیت تحریری مآخذ سے استفادہ کیا گیا۔ بہر صورت فاضل مصنف کی تحقیق مستشرقین اور منکرین و مشککینِ حدیث کے مزعومات کا رد کرتی ہے۔

ترجمہ کا کام ہی کچھ کم نہ تھا کہ ڈاکٹر خالد ظفر نے اس پر تحقیق و تعلیق سے امّت کی طرف سے ڈاکٹر سزگین کی تحقیق سے دہائیوں تک عدم اعتناء کا گویا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ فاضل مصنف کی ذکر کردہ روایات اوردیگر حوالہ جات کی تحقیق اور محولہ کتب سے اصل اقتباسات کو نقل کرنا ازسرنو تحقیق سے کم نہیں۔ مزید یہ کہ فاضل مترجم نے صرف ترجمہ اور اقتباسات کے نقل سے بڑھ کر نقد و نظر کا فریضہ بھی سر انجام دیا ہے۔ جہاں کہیں انہیں محسوس ہوا کہ اصل اقتباس اور فاضل مصنف کے بیان میں کچھ فرق ہے آپ نے اس کی بلا تردد نشاندہی کی ہے (مثلاً ص ۹۳، ۲۰۰)۔

اسی طرح متن کی بعض اغلاط کی بھی فاضل مترجم نے نشاندہی کی ہے (مثلاً ص ۹۱ حاشیہ ۱، ص ۱۵۴، ص ۱۹۹، ص ۲۱۳ حاشیہ ۴، ص ۲۱۶-۲۱۳ حاشیہ ۶، ص ۲۲۱ حاشیہ ۳) متعدد مقامات پر مترجم نے اہم امور کی وضاحت اور معلومات کا خود سے بھی حاشیہ میں اضافہ کیا ہے البتہ رموز کی مدد سے ان اضافوں کو مصنف کے حواشی سے ممیز رکھا گیا ہے (ص ۸۲-۸۳، ۹۰، ۱۰۶، ۱۲۱، ۱۴۶-۱۴۳، ۱۴۹، ۱۳۵) ۔

تاہم بعض مقامات پر مصنف پر مترجم کا تعاقب محل نظر بھی ہے۔ مقدمے اور پہلے باب کے آخر میں امام بخاری کے اسناد وروایت کی اہمیت کو کم کرنے کے حوالے سے مصنف کے قول کو سمجھنے میں مزید تأمل کیا جانا چاہیے تھا (ص ۳۶-۳۳ و ۱۹۱) باب اول کے جمیع مشمولات کو سامنے رکھا جائے تو مذکورہ مقامات پر مصنّف کے الفاظ سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تحریری استفادہ کو شامل طریقہ ہائے تحملِ روایت کو بَرت کر امام بخاری نے محض زبانی روایت کی اہمیت کو کلّی انحصار کے اعتبار سے کم کر دیا تھا۔ اور آپ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام کرنے والے پہلی شخصیت تھے۔ اس امر کے محقق ہونے پر تو دو رائے ہو سکتی ہیں لیکن یہ کہنا کہ مصنف کی مراد مطلقا روایت واسناد کی اہمیت کو کم کرنا تھا درست نہیں۔

تدوین حدیث سے متعلق امام زہری  کے مساعی کے ذکر میں متن کا ترجمہ یہ تاثر دیتا ہے کہ مصنف کے خیال میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان کو خلافت سے متعلق احادیث جمع کرنے کا کہا تھا۔ چنانچہ مترجم اس پر معترض ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا مقصود عموما احادیث کی تدوین تھا نہ کہ خاص خلافت سے متعلقہ روایات کو جمع کرنا (ص ۸۳-۸۴)۔ البتہ اصل ترکی عبارت میں مصنف کا کہنا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز جس دور میں ہوا اس وقت عمر بن عبد العزیز خلافت کے منصب پر فائز تھے۔ لہذا مترجم کا اعتراض درست نہیں اور مصنف کی اصل عبارت کا ترجمہ دُرستی چاہتا ہے۔ ایک مقام پر فتح الباری سے منقول ایک عبارت میں ترکیب "شقيق الراوي" سے مراد راوی حدیث شقیق (بن سلمہ) ہیں۔ مصنف نے ترکی ترجمہ میں بھی اس کو ایسے ہی لکھا ہے لیکن مترجم اس کو "راوی کا بھائی" سمجھے ہیں (ص ۱۲۹)۔ ڈاکٹر سزگین صاحب کے مقدمے کا انگریزی ترجمہ شامل کتاب تو کیا گیا ہے (ص ۳۹-۴۵)  لیکن محض نقل کے اس کام میں بھی کمپوزنگ کی بہت زیادہ غلطیاں ہو گئی ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کمپوزر اور ناشر نے اس کو ایک نظر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔  مصنف نے مقدمے میں صحیح بخاری کے روایتِ فربری اور روایتِ نسفی کے تقابل میں جو لکھا ہے اس کا اردو اور انگریزی ترجمہ بالکل مختلف  ہے. اردو ترجمہ کے مطابق فربری کی روایت کو روایتِ نسفی پر تاریخی ترجیح کے متعدد اسباب تھے (ص ۳۳) جبکہ انگریزی ترجمہ کی رو سے نسفی کی روایت کے مقابلے میں روایتِ فربری کی ترجیح نا مناسب (ill-chosen) تھی۔ کتاب کے تیسرے باب میں درج تفصیلات کی روشنی میں انگریزی ترجمہ مصنف کے حاصلِ تحقیق سے زیادہ ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔

ترجمہ ایک مشکل فن ہے اور ترجمہ کی عبارت میں کچھ مشکل کا آنا گویا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس کتاب میں بھی کچھ عبارات نظرِ ثانی کی متقاضی ہیں۔ اصل زبان میں ترکیب کا اسلوب کچھ بھی ہو "عادت کے مالک" (ص ۸۱) کی جگہ "عادی" کا استعمال زیادہ مناسب تھا۔ ص ۱۰۹ پر ابو سلمہ التبودکی اور ابن معین کے حوالے سے عبارت غیر واضح ہے۔ بعض جگہ املاء کی معمولی غلطیاں ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ طباعت میں ان کو درست کر لیا جائے گا۔

پہلے ضمیمے میں شیوخِ بخاری سے متعلق معلومات انتہائی اہم ہیں۔ مترجم نے مصنف کی تحقیق میں واقع متعدد تسامحات کی اصلاح کی ہے جو اس باب میں ان نے کی محنت اور تحقیق پر دلالت کرتا ہے۔ مقدمہ میں مترجم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ شیوخ بخاری پر مستقل کام بھی کر رہے ہیں (ص ۱۳)۔ دعا ہے کہ اللہ ان کو اس کام کی جلد تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔

مجموعی طور پر طبع وجلد معیاری ہے۔ ضخامت کے اعتبار سے قیمت بھی زیادہ نہیں۔ کاغذ درمیانہ ہے۔ اس سے بہتر ہوتا تو قیمت بہت گراں ہو سکتی تھی۔ صفحہ نمبر ۱۰۱ اور ۱۰۲ کی ترتیب الٹ گئی ہے۔ صفحہ ۱۳۶-۱۳۳ پر دیے گئے اسناد کے نقشے ایک ہی صفحہ پر ہوتے تو سمجھنے میں آسانی رہتی ۔

ہر بشری کاوش میں بہتری کی گنجائش تو رہتی ہی ہے لیکن اس کتاب کی اشاعت یقیناً لائقِ ستائش ہے۔ کتبِ حدیث اور علومِ حدیث پر اردو زبان میں کام کرنے والوں کو اس کتاب کے مصنف ومترجم کی اپنے موضوع سے لگن سے راہ لینی چاہیے۔ اور سب سے اہم یہ ہے صحیح بخاری کے تحریری مآخذ اور ان سے متعلق دیگر امور کے حوالے سے مصنف کے نظریات پر تحقیق کو آگے بڑھایا جائے۔ روایتی اور عصری جامعات کے دینی علوم سے وابستہ اہلِ علم کو مترجم کی کوشش سے استفادہ کرتے ہوئے فاضل مصنف کی تحقیق کا تنقیدی نظر سے جائزہ لینا چاہیے۔ اس ضمن میں امام بخاری کے اسلوبِ تالیف وتصنیف اور ان کے شیوخ کے حالات اور ان کے تحریری مجموعات کی موجودگی کے ثبوت یا عدم ثبوت، تحملِ حدیث کے حوالے سے ان کی آراء پر دستیاب معلومات، معلَّق روایات اور تراجمِ ابواب کے تحت درج لغوی مواد کی اپنے مقامات سے مناسبت اور اس حوالے سے صحیح بخاری کی مختلف روایات میں فرق اور ان کی معنویت کو تحقیق کو میدان کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے مترجم کی یہ کوشش امت مسلمہ کے سرمایہ افتخار علم حدیث کی اہم ترین کتاب صحیح بخاری پر نئے زاویہ ہائے نگاہ سے تحقیقات کا سبب بنے۔