اکتوبر ۲۰۲۳ء

اخروی نجات اور مواخذہ کے ضابطےمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ذوقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مذہبی انقلابی جماعتوں کی سماجیات اور نفسیاتپروفیسر راؤ شاہد رشید 
عصرِ حاضر کے فساد کی فکری بنیادیںمولانا محمد بھٹی 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۱)ڈاکٹر شیر علی ترین 

اخروی نجات اور مواخذہ کے ضابطے

محمد عمار خان ناصر

سورہ مائدہ کی آیت ۱۹ میں اہل کتاب سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

یَـٰأَهلَ ٱلكِتَـٰبِ قَد جَاءَكُم رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَكُم عَلَىٰ فَترَة مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِیر وَلَا نَذِیر فَقَد جَاءَكُم بَشِیر وَنَذِیر وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَیء قَدِیر (المائدہ، آیت ۱۹)

’’اے اہل کتاب، تحقیق تمھارے پاس ہمارا رسول آیا جو تمھارے سامنے حق کو واضح کرتا ہے، رسولوں کے آنے میں ایک انقطاع (یا ایک طویل وقفے) کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس تو کوئی خوشخبری دینے اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو اب تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آ چکا ہے اور اللہ ہر چیزپر قدرت رکھنے والا ہے۔“

اس آیت سے متکلمین اسلام نے زمانہ فترت کی اصطلاح اخذ کی ہے۔ فترت کا لفظی مطلب ہے کسی چیز کے تسلسل میں انقطاع اور وقفہ پیدا ہو جانا۔ علم کلام میں اس سے مراد وہ زمانہ لیا جاتا ہے جب کسی قوم یا علاقے میں پیغمبر کی بعثت کے بعد طویل عرصہ گزر چکا ہو اور مرور زمانہ سے اس کی صحیح تعلیم ضائع یا لوگوں کے ذہن اور عمل سے محو یا باطل کے ساتھ خلط ملط ہو چکی ہو۔

آیت سے معلوم ہوتا ہےکہ   اہل کتاب ، کتاب الٰہی  کا حامل ہونےکے باوجود   مذہبی روایت میں پیدا ہو جانے والے اختلافات کی وجہ سے   اس کے محتاج تھے کہ حق وباطل کے فیصلے کے لیے اللہ کی طرف سے کسی نبی کو بھیجا جائے اور  نبی کی بعثت سے پہلے  وہ یہ عذر بھی پیش کر سکتے تھے کہ  چونکہ ان کے پاس نبی نہیں آیا، اس لیے  حق وباطل کے باب میں  ان کا مواخذہ نہ کیا جائے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت سے پہلے دور جاہلیت میں وفات پانے والے مختلف لوگوں کے متعلق سوال کیے جانے پر فرمایا کہ وہ شرک کرنے کی وجہ سے جہنم میں ہیں۔

قاضی ابن عطیہ الاندلسیؒ نے تفسیر المحرر الوجیز میں  سورۃ الانعام، آیت ٩٠ کے تحت اس سوال پر کلام کیا ہے کہ جب قرآن مجید کی رو سے رسولوں کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب نہیں دیتے اور متکلمین (یعنی اشاعرہ) کا یہ کہنا ہے کہ محض عقل سے انسان پر کوئی چیز واجب نہیں ہوتی، یعنی نبی کی دعوت کے بغیر انسان محض عقلی استدلال کی بنیاد پر توحید پر ایمان رکھنے کے بھی مکلف نہیں تو پھر دور جاہلیت میں  مرنے والے لوگ کیونکر عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

ابن عطیہ نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ دراصل توحید کی دعوت حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ہی پوری دنیا میں عام رہی ہے، اس لیے انبیاء کے لائے ہوئے شرائع اور احکام پر عمل کے تو لوگ مکلف نہیں ہیں، لیکن توحید کے متعلق انسان مکلف ہیں کہ شریعت کے اس حکم کو بجا لاتے ہوئے (جس کا علم ان تک انبیاء کی عمومی دعوت کے ذریعے سے پہنچ چکا ہے) دلائل توحید پر غور کریں اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھیں۔ ہاں، اگر کسی تک شریعت کا یہ حکم نہ پہنچا ہو کہ وہ ایمان باللہ کا مکلف ہے اور پھر اس نے خدا پر ایمان سے ایک طرح کی علیحدگی سی اختیار کر لی ہو، لیکن کفر نہ کیا ہو اور نہ شرک میں مبتلا ہوا ہو، تو ان کے متعلق اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ اہل فترت ہیں اور ان کا حکم پاگلوں اور نابالغ بچوں کا ہے، اور وہ جنت میں داخلے کے حقدار ہوں گے۔ تاہم جنھوں نے غور وفکر میں کوتاہی کرتے ہوئے بت پرستی اختیار کر لی تو وہ قابل مواخذہ اور عذاب کے مستحق ہیں۔ دور جاہلیت میں وفات پانے والے مشرکین بھی چونکہ اسی زمرے میں آتے ہیں، اس لیے ان کے متعلق احادیث میں بیان کیا گیا حکم اصول شرع کی رو سے درست ہے۔

ابن عطیہؒ کی اس توجیہ کا ایک جزو درست لیکن دوسرا جزو محل نظر معلوم ہوتا ہے۔ اگر انسانوں کے کسی گروہ تک توحید کا پیغام انبیاء کی نسبت سے پہنچا ہو، یعنی فی الجملہ ایسے قرائن واسباب موجود ہوں جو ان کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہوں اور اس کے باوجود وہ تعصب یا تقلید کی وجہ سے اس کو نظر انداز کر دیں تو اس صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے بے پروائی یا کوتاہی سے کام لیا ہے اور اس پر ان کا مواخذہ ہوگا۔ دور جاہلیت کے اہل عرب کی صورت حال ایسی ہی تھی۔ ان کے ہاں مشرکانہ تصورات ورسوم بعثت نبوی سے کوئی تین صدیاں قبل رائج ہوئے تھے، لیکن توحید کا تصور بالکل مٹ نہیں گیا تھا۔ یہ بھی ان پر واضح تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جو دین دیا، وہ بت پرستی کا دین نہیں تھا۔ اس کے علاوہ وہ ارد گرد کی اقوام میں سے اہل کتاب سے اور ان کے دین سے بھی واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی اتاری ہوئی کتابیں موجود ہیں۔ اسی پس منظر میں  ’’حنیفیت“ کا ایک پورا رجحان عرب میں موجود تھا اور بہت سے سوچنے سمجھنے والے لوگ بت پرستی اور شرک سے بیزار ہو کر ہدایت کی تلاش میں سرگرم تھے۔

تاہم توحید سے واقفیت کی یہی صورت حال دنیا کے تمام مشرک معاشروں میں پائی جاتی تھی، یہ دعویٰ بہت مشکل ہے اور عمومی تاریخی معلومات اس کی تصدیق نہیں کرتیں۔ اگر کسی معاشرے تک ابراہیمی مذاہب کے توسط سے یہ تعلیم پہنچ کر اسے متوجہ کر چکی ہو اور غور وفکر کے دواعی پائے جانے کے باجود لوگ توجہ نہ دیں یا تعصب کی وجہ سے انکار کریں تو یقیناً‌ وہاں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مشرکین سے متعلق مجدد الف ثانیؒ وغیرہ کا رجحان یہی ہے کہ ان تک توحید کی عمومی دعوت پہنچ چکی ہے جس کے بعد یہ غور وفکر کرنے اور توحید پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ دنیا کے باقی معاشروں کا اصولی حکم بھی اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔


یہ سوال عموماً‌  ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ جو حالت کفر میں دنیا سے چلے گئے اور بظاہر ان کے بعض اعذار سمجھ میں آتے ہیں، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت میں کیسے معاملہ فرمائیں گے؟ متعدد  احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے لوگ قیامت کو اپنا عذر پیش کر سکیں گے اور ان کے عذر کو قبول کرتے ہوئے  ان کو ایمان کی آزمائش کا موقع دوبارہ دیا جائے گا۔  چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يؤتى بأربعة يوم القيامة بالمولود والمعتوه، ومن مات في الفترة وبالشيخ الفاني كلهم يتكلم بحجته فيقول الله تبارك وتعالى لعنق من جهنم أحسبه قال: ابرزي فيقول لهم: إني كنت أبعث إلى عبادي رسلا من أنفسهم وإني رسول نفسي إليكم ادخلوا هذه فيقول من كتب عليه الشقاء: يا رب أتدخلناها ومنها كنا نفرق؟ ومن كتبت له السعادة فيمضي فيقتحم فيها مسرعا قال: فيقول الله: قد عصيتموني وأنتم لرسلي أشد تكذيبا ومعصية قال: فيدخل هؤلاء الجنة ويدخل هؤلاء النار. (مسند البزار، رقم ۶۹۵۵)

’’قیامت کے دن نابالغ بچے اور پاگل اور زمانہ فترت  میں مر جانے والے اور  انتہائی ضعیف العمر کو لایا جائے گا اور یہ سب اپنا اپنا عذر پیش کریں گے۔  اللہ تعالیٰ جہنم کی ایک گردن سے کہیں گے کہ ان کے سامنے نمودار ہو جا۔ پھر ان لوگوں سے فرمائے گا کہ میں نے اپنے بندوں کی طرف تو انھی میں سے اپنے رسول بھیجے تھے، لیکن  تمھیں میں براہ راست حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں داخل ہو جاو۔  اس پر ان میں سے جن کی قسمت میں  بدنصیب ہونا لکھا ہوگا، وہ کہیں گے کہ اے پروردگار، کیا تو ہمیں اس میں  ڈالنا چاہتا ہے جبکہ ہم اسی سے تو ڈر رہے تھے۔  اور جن کی قسمت میں  خوش بختی لکھی ہوگی،  وہ (حکم کی تعمیل کرتے ہوئے) آگے بڑھیں گے اور تیزی سے  آگ میں داخل ہو جائیں گے۔  چنانچہ اللہ تعالیٰ   انکار کرنے والوں سے فرمائیں گے کہ تم نے میری نافرمانی کی ہے   تو میرے رسولوں کی اس سے بڑھ کر تکذیب اور نافرمانی کرنے والے ہوتے۔  چنانچہ  حکم ماننے والے جنت میں اور  نافرمانی کرنے والے آگ میں داخل ہو جائیں گے۔“

یہی مضمون کچھ فرق کے ساتھ متعدد دیگر صحابہ مثلاً‌ اسود بن سریع،  معاذ بن جبل، ابو سعید خدری ، ثوبان اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی   مروی ہے۔  (مسند احمد، رقم  ۱۶۰۵۵،  المعجم الاوسط للطبرانی، رقم  ۸۱۸۴،  مسند البزار، رقم ۳۵۴۱، تفسیر الطبری  ج ۱۷، ص ۴۰۲)

ان روایات  میں وضاحت کی گئی ہے کہ  جو لوگ اللہ کے حکم پر اس آگ میں داخل  ہوں گے، وہ ان پر  ٹھندک اور سلامتی بن جائے گی۔ اسی طرح  ان  لوگوں کے عذر کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے جو وہ پیش کریں گے۔ مثلاً‌  بہرا کہے گا کہ میں تو سن ہی نہیں سکتا تھا۔   (روایت میں بہرے کا ذکر ہے، جبکہ اسی پر دیگر معذوروں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے جن کے ظاہری حواس کا نقص بلوغ دعوت میں مانع ہو۔) کم عقل لوگ جنھیں چیزوں کی سمجھ نہ ہو،  کہیں گے کہ ہمیں تو سمجھ ہی نہیں تھی اور بچے ہماری بے عقلی کی وجہ سے مینگنیاں اٹھا اٹھا کر ہم پر پھینکتے تھے۔ انتہائی ضعیف العمر لوگ کہیں گے کہ ہمیں ایسی حالت میں دعوت پہنچی  کہ ہم اس وقت  قوت فیصلہ ہی کھو چکے تھے۔ جبکہ ایسے لوگ جو دور فترت میں مرے، یعنی جب انبیاء کی دعوت مرور زمانہ سے مٹ چکی تھی اور کسی قابل اعتماد اور واضح صورت میں موجود نہیں تھی، وہ کہیں گے کہ ہم تک تو اللہ کا کوئی نبی  پیغام لے کر آیا ہی نہیں۔ 

اس اصول کو توسیع دیتے ہوئے امام غزالیؒ  فرماتے ہیں کہ جن لوگوں تک اسلام یا پیغمبر اسلام کا تعارف ایسی صورت میں پہنچا ہو کہ بجائے متوجہ کرنے کے انھیں متنفر کرنے کا باعث بنے، وہ بھی اسی زمرے میں شمار ہوتے  ہیں۔ گویا ایسے لوگ بھی اصحاب فترت میں شمار ہوتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

ان اکثر نصاری الروم والترک فی هذا الزمان تشملهم الرحمة ان شاء اللہ تعالیٰ اعنی الذین هم فی اقاصی الروم والترک ولم تبلغهم الدعوۃ فانهم ثلاثة اصناف صنف لم یبلغهم اسم محمد صلی اللہ علیه وسلم اصلا فهم معذورون وصنف بلغهم اسمه ونعته وما ظهر علیه من المعجزات وهم المجاورون لبلاد الاسلام والمخالطون لهم وهم الکفار الملحدون وصنف ثالث بین الدرجتین بلغهم اسم محمد صلی اللہ علیه وسلم ولم یبلغهم نعته وصفته بل سمعوا ایضا منذ الصبا ان کذابا ملبسا اسمه محمد ادعی النبوۃ کما سمع صبیاننا ان کذابا یقال له المقفع بعثه اللہ تحدی بالنبوۃ کاذبا فهولاء عندی فی اوصافه فی معنی الصنف الاول فانهم مع انهم لم یسمعوا اسمه سمعوا ضد اوصافه وهذا لا یحرک داعیة النظر فی الطلب.(فیصل التفرقۃ، مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، ۳/۹۶)

  ”اس زمانے میں روم کے مسیحیوں اور ترکوں کی اکثریت ان شاء اللہ، اللہ کی رحمت کے دائرے میں شامل ہوں گے۔ میری مراد وہ لوگ ہیں جو سلطنت روم اور ترکوں کے دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور ان تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی۔ یہ تین قسم کے لوگ  ہیں۔ ایک وہ جنھوں نے سرے سے کبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی نہیں سنا۔ یہ تو معذور ہیں۔ دوسرے وہ جن تک آپ کا نام اور اوصاف اور آپ کے حق میں ظاہر ہونے والے اوصاف پہنچے ہیں اور وہ اسلامی ممالک کے پڑوس میں رہتے ہیں اور مسلمانوں سے ان کا میل ملاپ رہتا ہے۔ یہ لوگ کافر اور بے دین ہیں۔ تیسرا گروہ ان دونوں کے درمیان ہے۔ ان تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو پہنچا ہے، لیکن آپ کے حالات و اوصاف نہیں پہنچے، بلکہ انھوں نے بچپن سے یہ سن رکھا ہے کہ (نعوذ باللہ) محمد نام کے ایک جھوٹے اور فریبی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، ایسے ہی جیسے ہمارے بچوں نے سن رکھا ہے کہ مقفع نامی ایک کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ یہ گروہ میرے نزدیک اپنے حالات کے لحاظ سے پہلے گروہ کے حکم میں ہے، کیونکہ ان تک نہ صرف یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تعارف نہیں پہنچا بلکہ انھوں نے اس کے الٹ سن رکھاہے اور یہ چیز (ان میں اسلام کے بارے میں) تلاش اور جستجو کا داعیہ پیدا نہیں کرتی۔“

احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ  جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب ہوتا جائے گا،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے سے  بھیجی گئی ہدایت کے أجزاء بھی ایک ایک کر کے ضائع ہوتے چلے جائیں گے، تاآنکہ مسلمانوں میں بھی  صرف خدا کی توحید کو  جاننے والے باقی رہ جائیں گے۔   چنانچہ حذیفہ بن الیمانؓ روایت کرتے ہیں:

يدرس الإسلام كما يدرس وشي الثوب ، حتى لا يدرى ما صيام ولا صلاة ولا نسك ولا صدقة، وليسرى على كتاب الله عز وجل في ليلة، فلا يبقى في الأرض منه آية، وتبقى طوائف من الناس الشيخ الكبير والعجوز، يقولون : أدركنا آباءنا على هذه الكلمة: لا إله إلا الله، فنحن نقولها، فقال له صلة : ما تغني عنهم : لا إله إلا الله ، وهم لا يدرون ما صلاة ولا صيام ولا نسك ولا صدقة؟ فأعرض عنه حذيفة، ثم ردها عليه ثلاثا، كل ذلك يعرض عنه حذيفة ، ثم أقبل عليه في الثالثة ، فقال : يَا صِلَةُ، تُنْجِيهِمْ مِنَ النَّارِ ثَلَاثًا (سنن ابن ماجہ رقم ۴۰۸۱)

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اس طرح مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش ونگار مٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ لوگوں کو نہ روزے کا پتہ ہوگا نہ نماز کا، نہ حج کا اور نہ صدقے کا۔ اللہ کی کتاب ایک ہی رات میں اٹھا لی جائے گی اور زمین پر اس کی ایک بھی آیت باقی نہیں رہے گی۔ لوگوں میں کچھ بڈھے اور بڈھیاں رہ جائیں گی۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے آباواجداد کو یہ کلمہ پڑھتے ہوئے سنا کہ لا الہ الا اللہ، تو ہم بھی یہی کلمہ پڑھتے ہیں۔  یہ روایت سن کر ایک شاگرد نے حضرت حذیفہ سے کہا کہ لا الہ الا اللہ ان کے کس کام آئے گا، جبکہ انھیں نہ نماز کا پتہ ہوگا نہ روزے کا، نہ حج کا اور نہ صدقے کا؟ حذیفہ نے جواب دینے سے گریز کیا، لیکن پھر تیسری دفعہ سوال دہرائے جانے پر تین دفعہ تکرار کے ساتھ کہا کہ یہ ایک کلمہ ہی انھیں آگ سے نجات دلا دے گا۔“

سیدنا حذیفہ کے ارشاد سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ دور فترت میں لوگوں کو ہدایت الٰہی تک جتنی رسائی حاصل ہوگی، ان کا مواخذہ بھی اسی کے مطابق ہوگا۔


قرآن وحدیث کے حوالے سے جب اہل ایمان کے لیے مختلف نیک اعمال کا اجر بیان کیا جاتا ہے تو ایک سوال جو عمومی طور پر جدید ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات مذہب سے نفور طبقے کی طرف سے بھی اٹھایا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اہل کفر بھی دنیا میں نیکی کے بہت سے کام کرتے ہیں تو ان کے لیے اللہ نے کیا اجر رکھا ہے؟ اور اگر نہیں رکھا تو کیا یہ ناانصافی نہیں ہے؟

قرآن مجید اور احادیث سے اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں جو کام نیکی کے کام شمار ہوتے ہیں، ان کا صلہ انسان کو ضرور دیا جاتا ہے، البتہ اللہ نے اس کا ضابطہ یہ بنایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یا اللہ کے رسولوں کی دعوت پر کسی تعصب یا عناد کی وجہ سے توجہ نہیں دیتے، ان کے اعمال آخرت کے اجر کے حوالے سے ضائع کر دیے جاتے ہیں، اور جو کچھ بھی اس کا صلہ بنتا ہے، وہ اس دنیا میں ہی مختلف صورتوں میں ان کو دے دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی چند روزہ زندگی کو ترجیح دے کر گویا خود اس کا انتخاب کر لیتے ہیں کہ ان کے اچھے اعمال کا حساب دنیا میں ہی صاف کر دیا جائے اور جب آخرت میں وہ پہنچیں تو ان کے نامہ اعمال میں سزا بھگتنے کے لیے صرف ان کا کفر اور انکار موجود ہو۔

ارشاد باری ہے:

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿ہود، آیت ۱۵، ۱۶﴾

’’جو دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتے ہیں، ہم اُن کے اعمال کا بدلہ اُن کو یہیں چکا دیتے ہیں اور اُس میں اُن کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دنیا میں جو کچھ اُنھوں نے بنایا، وہ سب ملیامیٹ ہوا اور اُن کا کیا دھرا اب باطل ہے۔“

سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہے:

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ وَمَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَمَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿آیت ۲۰﴾

’’جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اُس کی کھیتی میں اُس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں اور دنیا میں بھی اُس کا حصہ اُسے دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے، اُس کو ہم اُس میں سے (جتنا چاہتے ہیں)، دے دیتے ہیں، مگر (اِس کے بعد پھر) آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“

یہ اللہ کا مقرر کیا ہوا ضابطہ ہے جو عقلاً‌ بھی بالکل واضح ہے۔ جو شخص آخرت پر اور آخرت کی جزا وسزا پر ہی یقین نہیں رکھتا اور اللہ کے رسولوں کی مسلسل تعلیم وتذکیر کو اپنی غفلت یا تکبر کی نذر کر دیتا ہے، وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے پر آخر کس منہ سے یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس نے دنیا میں کئی نیک اعمال کیے تھے، اب اسے ان کا بدلہ دیا جائے؟

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۴۳۱) شَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا

شھد شاھد کا ترجمہ کچھ لوگوں نے فیصلہ کرنا اور زیادہ تر لوگوں نے گواہی دینا کیا ہے۔

وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا۔ (یوسف: 26)

”اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی“۔ (سید مودودی)

”اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی“۔ (احمد رضا خان)

”اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی“۔ (محمد جوناگڑھی)

شھد کے معنی فیصلہ کرنے کے نہیں آتے، گواہی دینے کے آتے ہیں لیکن اس شخص نے مشاہدہ نہیں کیا تھا کہ گواہی دیتا۔ اس شخص نے نہ تو فیصلہ کیا اور نہ ہی گواہی دی، اس نے تو اپنی بات رکھی تھی، اس لیے شاھد کا ترجمہ گواہ کرنا درست نہیں ہوگا، وہ شخص گواہ تھا بھی نہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے اور یہ اللہ کی طرف سے حضرت یوسف کے حق میں خاص انتظام ہی تھا   کہ وہ اس خاص اس موقع پر کہیں سے وہاں آ گیا تھا اور اسی لیے اسے اپنی بات رکھنے کا موقع مل گیا تھا۔ تو شھد شاھد کا ترجمہ ہوگا ایک شخص جو وہاں آگیا تھا۔  شھد کا معنی موجود ہونا ہوتا بھی ہے۔ اور چوں کہ اس کا قول موجود ہے اس لیے قال وہاں مقدر ہوگا۔ ترجمہ ہوگا:

”اس عورت کے کنبے میں سے ایک موجود شخص نے جو وہاں آگیا تھا، کہا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴۳۲) قَالَ إِنَّہُ مِنْ کَیْدِکُنَّ

درج ذیل آیت میں زیادہ تر لوگوں نے رأی اور قال کا فاعل عورت کے شوہر کو بناکر ترجمہ کیا ہے۔ جب کہ ضمائر میں تبدیلی کا کوئی سبب نہیں ہو تو تبدیلی نہیں کی جاتی ہے۔ شھد شاھد کے بعد آنے والے ضمائر کو شاھد کی طرف لوٹانا چاہیے۔ بعض لوگوں نے کید کا ترجمہ چالاکی کیا ہے، جب کہ یہاں چالاکی کا محل نہیں ہے اور کید کا معنی چالاکی ہوتا بھی نہیں ہے۔

فَلَمَّا رَأَی قَمِیصَہُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّہُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ۔(یوسف: 28)

”سو جب (عزیزنے) ان کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو (عورت سے) کہنے لگا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکی ہے، بے شک تمہاری چالاکیاں بھی غضب ہی کی ہوتی ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی، یہاں کید کا ترجمہ چالاکی کیا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔)

”جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا،یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں“۔ (سید مودودی، یہاں چالاکیاں نہیں، بلکہ چالبازیاں ترجمہ ہوگا۔)

”خاوند نے جو دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیٹھ کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں ضمیر کا ترجمہ شوہر یا عزیز سے نہیں کیا ہے اور یہی درست طریقہ ہے۔

(۴۳۳) مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ

یہاں یدعون مذکر ضمیر استعمال ہوئی ہے لیکن مراد تو زنانِ مصر ہی ہیں۔ اس لیے اردو میں ترجمہ مونث کا کیا جائے گا۔ ’جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں‘ کی بجائے ’جو یہ عورتیں مجھ سے چاہتی ہیں‘۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ۔  (یوسف: 33)

”یوسفؑ نے کہا،اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں“۔ (سید مودودی، لوگ نہیں بلکہ عورتیں)

”یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”یوسف نے کہا کہ پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہی ہیں“۔ (ذیشان جوادی، لوگ نہیں بلکہ عورتیں۔)

”یوسف نے کہا اے میرے رب میرے لیے قید حانہ بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف مجھے بلا رہی ہیں“۔ (احمد علی، بہتر نہیں بلکہ زیادہ پسند۔)

”یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے“۔ (محمد جوناگڑھی، ”بہت پسند ہے“ نہیں کہا ہے، ”اس عمل سے زیادہ پسند ہے“ کہا ہے۔)

(۴۳۴)  فَتَیَانِ کا ترجمہ

وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَانِ۔ (یوسف: 36)

”اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ (یعنی اسی زمانہ میں) اور بھی دو غلام (بادشاہ کے) جیل خانہ میں داخل ہوئے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”قید خانہ میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے“۔ (سید مودودی)

مولانا تھانوی کی طرح مولانا مودودی نے فَتَیَانِ کا ترجمہ دو غلام کیا اور اس کے بعد تفسیر میں اسی بنیاد پر استدلال کی ایک عمارت بھی کھڑی کی ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہاں فتیان کا ترجمہ دو غلام نہیں بلکہ دو جوان ہوگا۔ فتی کا لفظ جب کسی شخص کی طرف مضاف ہو تو اس میں غلام کا مفہوم پیدا ہوسکتا ہے، ورنہ اس کا اصل مطلب غلام نہیں بلکہ نوجوان ہی ہے۔ لگتا ہے انھیں زمخشری کی عبارت سے غلط فہمی ہوگئی، زمخشری نے لکھا ہے: فَتَیانِ عبدان للملک ”دو جوان جو بادشاہ کے غلام تھے“، یہ زمخشری کی طرف سے تفسیری اضافہ ہے، لفظ فَتَیَانِ کا یہ معنی نہیں ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے: غُلَامَانِ لِلْمَلِکِ، لیکن عربی میں غلام کا مطلب اردو کا غلام نہیں بلکہ نوجوان ہی ہوتا ہے۔

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے“۔ (محمد جوناگڑھی)

(۴۳۵) إِنِّی أَرَانِی کا ترجمہ

أَرَانِی فعل مضارع ہے نہ کہ فعل ماضی، اس کا ترجمہ حال والا کیا جائے گا نہ کہ ماضی والا۔ حال والے ترجمے سے ایک تو یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جلد ہی یہ خواب دیکھا ہے، مزید یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ وہ خواب کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ بہرحال قرآن نے جو اسلوب اختیار کیا ہے، ترجمے میں اس کی رعایت ہونی چاہیے۔

(۱) قَالَ أَحَدُہُمَا إِنِّی أَرَانِی أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی أَرَانِی أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِی خُبْزًا تَأْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہُ۔ (یوسف: 36)

”ان میں ایک بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا: میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں“۔ (سید مودودی)

یہ ماضی کا ترجمہ ہے جو عربی عبارت کے مطابق نہیں ہے۔

”ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس ترجمے میں جتنے قوسین ہیں ان کے مشمولات غیر ضروری ہیں۔

”کہنے لگا ان میں سے ایک کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اٹھارہا ہوں اپنے سر پر روٹی کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے“۔ (شاہ عبدالقادر)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں الطیر کا ترجمہ جانور کیا ہے جو درست نہیں ہے۔ الطیر کا ترجمہ پرندے ہونا چاہیے۔ شاہ رفیع الدین نے بھی الطیر کا ترجمہ جانور کیا ہے۔ فرہنگ آصفیہ میں جانور کا ایک معنی پرندہ بھی دیا ہے۔ ممکن ہے پہلے یہ استعمال رائج رہا ہو۔

(۲) وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی أَرَی سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ۔ (یوسف: 43)

”بادشاہ نے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

آخری ترجمہ آیت کے اسلوب کے مطابق ہے یعنی حال کے صیغے میں ہے۔

(۴۳۶)  قُضِیَ الْأَمْرُ الَّذِی فِیہِ تَسْتَفْتِیَانِ

قُضِیَ الْأَمْرُ الَّذِی فِیہِ تَسْتَفْتِیَانِ۔ (یوسف: 41)

”فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے“۔ (سید مودودی)

”حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے“۔ (احمد رضا خان)

”جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کردیا گیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا ترجموں میں تستفتیان کا ترجمہ ماضی سے کیا گیا ہے، جب کہ وہ حال کی بات ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”فیصلہ ہوچکا اس بات کے بارے میں جو تم پوچھ رہے ہو“۔

(۴۳۷) فَأَرْسِلُونِ کا ترجمہ

ارسال کا ایک مطلب تو بھیجنا ہوتا ہے اور ایک مطلب جانے دینا ہوتا ہے۔ موقع و محل کی مناسبت سے مفہوم متعین ہوتا ہے۔ درج ذیل آیت میں بھیجنے کے مقابلے میں جانے دینے کا مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے:

أَنَا أُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیلِہِ فَأَرْسِلُونِ۔  (یوسف: 45)

”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسفؑ کے پاس) بھیج دیجیے“۔ (سید مودودی)

”میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو“۔ (احمد رضا خان)

”میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے“۔ (محمد جوناگڑھی)

بھیجنے اور اجازت دینے سے زیادہ بہتر’جانے دینا‘ ہے۔

”مجھے جانے دیجیے“۔

(۴۳۸) لعلّ کا ترجمہ

لعلّ کا ترجمہ ہمیشہ شاید نہیں ہوتا ہے، درج ذیل آیت میں شاید کا استعمال جملے کے مفہوم کو عجیب سا بنادیتا ہے۔

لَعَلِّی أَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَعْلَمُونَ۔ (یوسف: 46)

”شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں“۔ (سید مودودی)

”شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں“۔ (احمد رضا خان)

”شاید میں لوگوں کے پاس باخبر واپس جاؤں تو شاید انہیں بھی علم ہوجائے“۔ (ذیشان جوادی)

”تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں کہ وہ سب جان لیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری ترجمہ درست ہے۔

(۴۳۹) بِأَخٍ لَکُمْ مِنْ أَبِیکُمْ

درج ذیل آیت میں سوتیلا بھائی مناسب تعبیر نہیں ہے، باپ کی طرف سے ایک بھائی کی تعبیر بہتر ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے میں یہاں مراد یہ ہے کہ وہ بھائی جو تمہارے باپ کے پاس ہے، جس کے نام سے تم نے غلہ مانگا ہے اسے لے کر آنا۔

ائْتُونِی بِأَخٍ لَکُمْ مِنْ أَبِیکُمْ۔ (یوسف: 59)

”اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا“۔ (سید مودودی)

”اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ“۔(احمد رضا خان)

”جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی لانا جو تمہارے باپ سے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تم اپنے باپ کے پاس سے اپنے بھائی کو لے آنا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(جاری)

حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ذوق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(یکم ربیع الاول کو الشریعہ اکادمی، کوروٹانہ، گوجرانوالہ میں ہفتہ وار نقشبندی محفل سے خطاب)


بعد الحمد والصلوۃ۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ایمان کا معیار ہی حبِ رسول ؐہے۔ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ جیسی محبت ہوگی ویسا ہی ایمان ہو گا۔ محبت ایمان کی علامت ہے اور تذکرہ محبت کا تقاضا ہے۔ ’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘ فطری بات ہے کہ جس کو جس سے محبت زیادہ ہوتی ہے اس کا تذکرہ بھی زیادہ کرتا ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں پورا سال کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں لاکھوں کروڑوں مرتبہ حضور نبی کریمؐ کا ذکر مبارک نہ ہو رہا ہو۔ ماہِ ربیع الاول میں آپؐ کا تذکرہ باقی دنوں سے زیادہ ہوتا ہے لیکن پورا سال آپ کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے، یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی علامت ہے۔ تاہم تذکرے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہ جیسے محبت کے ذوق مختلف ہیں اور تذکرے کے بھی مختلف ذوق ہوتے ہیں، ہر کوئی اپنے طریقے سے تذکرہ اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔

حضور نبی کریم ؐ کے ساتھ سب سے زیادہ محبت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تھی۔ امت میں کوئی شخص صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر حضورؐ کے ساتھ محبت کا سوچ بھی نہیں سکتا، دعویٰ تو بعد کی بات ہے۔ لیکن حضرات صحابہ کرامؓ کے آپؐ کے ساتھ محبت کے ذوق اور انداز مختلف تھے۔ میں چند ایک کا ذکر کرنا چاہتا ہوں:

حضرت صدیق اکبرؓ اپنا ذوق ذکر فرماتے ہیں ’’حبب الی من الدنیا ثلاث‘‘ کہ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ تین چیزیں پسند ہیں۔ (۱) ’’النظر الی وجہ رسول اللہ‘‘۔ پہلی چیز یہ پسند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہو اور میری آنکھیں ہوں، میں حضور نبی کریمؐ کو نظر جما کر دیکھتا رہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبرؓ کو اس کا موقع بھی زیادہ دیا۔ (۲) حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا مجھے دوسری چیز یہ پسند ہے ’’انفاق مالی علی رسول اللہ‘‘ کہ کماؤں میں اور خرچ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں۔ میری کمائی حضور نبی کریمؐ پر خرچ ہو، یہ میری تمنا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کا بھی حضرت صدیق اکبرؓ کو سب سے زیادہ موقع دیا۔ (۳) ’’ان تکون ابنتی تحت رسول اللہ‘‘ حضرت صدیق اکبرؓ نے تیسری خواہش یہ بیان کی کہ مجھے یہ چیز پسند ہے کہ بیٹی میری ہو اور حضور نبی کریمؐ کی زوجہ ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا موقع بھی دیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا مجھے دنیا میں سے تین چیزیں پسند ہیں: حضور نبی کریم ؐ چہرے کو تکتے رہنا، اپنا مال حضورؐ پر خرچ کرنا ، اور میری بیٹی کا زوجہ رسول ہونا۔

دوسری طرف حضرت عمر و بن العاصؓ جو کہ اکابر صحابہؓ میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان سے کسی نے پوچھا کہ حضور اکرمؐ کے چہرہ انور کی کیفیت بیان فرمائیں کہ آپؐ کا چہرہ کیسا تھا؟ حضرت عمرو بن العاص ؓنے فرمایا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ کبھی مجھے آنکھ بھر کر حضورؐ کے چہرہ انور کو دیکھنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوا۔ جب میں نبی اکرمؐ کا دشمن تھا تو دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تھا، اور جب آپ کے قدموں میں آیا تو آپؐ کے چہرے کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا۔ یہ بھی محبت کا انداز ہے کہ کبھی آنکھ اٹھا کر غور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چہرے کو نہیں دیکھا، کبھی اس کا حوصلہ ہی نہیں ہوا، ایمان اور محبت کا اتنا رعب تھا۔ یہ بھی محبت کا ایک ذوق ہے۔ حضور نبی کریمؐ کے چہرے کو دیکھتے رہنا یہ بھی محبت کا انداز ہے، اور نہ دیکھ سکنا بھی محبت ہی کا اظہار ہے۔

محبت رسولؐ کا ایک اور انداز ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک انصاری صحابی جو کہ یہودیوں کے محلے میں رہتے تھے، ایک دفعہ سخت بیمار ہو گئے، انہوں نے سمجھا کہ میں اسی مرض میں انتقال کر جاؤں گا تو گھر والوں کو وصیت کی کہ اگر رات کو میرا جنازہ پڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے جنازے کی اطلاع نہ کرنا۔ ایک مسلمان یہ کہہ رہا ہے کہ حضورؐ کو میرے جنازے کا نہ بتانا۔ اس پر کتنی باتیں ہوئی ہوں گی اور کیا کچھ نہیں کہا گیا ہو گا۔ چنانچہ ان کا رات کو جنازہ ہو ا اور آپؐ کو اطلاع نہیں دی گئی۔ اگلے دن گھر والوں نے بتایا کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ اگر رات کو میرا جنازہ ہوا تو حضور ؐکو نہ بتانا کیونکہ دشمنوں کا محلہ ہے،ایسا نہ ہو کہ آپؐ تشریف لائیں اور آپؐ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ یہ بھی محبت کا انداز ہے۔ میرا جنازہ رسول اکرمؐ پڑھائیں، یہ بھی محبت ہے۔ اور میرے جنازے کی اطلاع رسول اکرمؐ کو نہ کرنا کہ میری وجہ سے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، یہ بھی محبت ہے۔

حضرت حمزہؓ کے قاتل حضرت وحشی بن حربؓ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے پہچانا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا، ہاں پہچان لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیا میرا ایمان قبول ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں قبول ہے، ایمان لانے کی وجہ سے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، یہ وعدہ ہے۔ چنانچہ وہ ایمان لے آئے ، لیکن حضرت وحشیؓ سے حضور نبی کریمؐ نے فرمایا کہ وحشی! میں تجھے دیکھوں گا تو اپنے چچا حضرت حمزہؓ کی کٹی پھٹی لاش یاد آئے گی، سینہ چاک، کلیجہ نکالا ہوا۔ اس پر حضرت وحشیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آج کے بعد آپ مجھے نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ حضرت وحشی بن حرب ؓنے مکہ مکرمہ چھوڑا اور شام چلے گئے کہ مجھے دیکھنے سے حضور نبی کریمؐ کو تکلیف کا ایک موقع یاد آتا ہے۔ یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے۔

شمائل ترمذی کی روایت ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے تو ہمارا بہت جی چاہتا تھا کہ آپ کے ادب و احترام میں کھڑے ہوں۔ ادب کا تقاضا ہوتا ہے کہ بڑوں کے آنے پر احترام میں کھڑا ہوا جائے۔ جناب نبی اکرمؐ نے بھی فرمایا ہے کہ کوئی بزرگ آ جائے تو اس کے اکرام میں کھڑا ہوا کرو۔ لیکن آپؐ خود اپنے لیے یہ پسند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو ہمارا جی چاہتا تھا کہ ہم آپ کے احترام کھڑے ہوں لیکن ہم کھڑے نہیں ہوتے تھے ’’لمکان کراہتہ‘‘ اس لیے کہ آپؐ کو یہ پسند نہیں تھا۔ یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے۔

میں نے گزارش کی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ایمان کی بنیاد اور علامت ہے جبکہ آپؐ کا تذکرہ آپؐ کے ساتھ محبت کا تقاضا ہے۔ مگر محبت کا اپنا اپنا ذوق ہے اور محبت کے اظہار کے طریقے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نہ کوئی طریقہ اور ذوق نصیب فرما دیں، آمین یا رب العالمین۔


مذہبی انقلابی جماعتوں کی سماجیات اور نفسیات

پروفیسر راؤ شاہد رشید

'مذہبی انقلابی جماعتوں کی سماجیات اور نفسیات'  یہ کسی نہایت سنجیدہ اور وقیع علمی مقالے کا عنوان لگتا ہے۔ لیکن مجھے اب یہ لگنے لگا ہے کہ بہت مربوط اور منظم تحقیقی اور تجزیاتی مضامین سچائیوں کے کسی رخ کو اگر بے نقاب کرتے بھی ہیں تو کچھ اور، شاید زیادہ اہم، پہلوؤں کو چھپا بھی لیتے ہیں۔ چونکہ انسان اور انسانی صورت حال منطق اور تجزیے سے ورا ہے۔ منطق اور تجزیہ خود انسانی ذہن ہی کی product ہے۔ لیکن انسان صرف ذہن نہیں ہے۔

اسی لیے تجزیاتی مقالات کی بجائے بعض اوقات داستان گو، کہانی نویس اور شاعر، فطرتِ انسانی کے کسی سربستہ راز سے اچانک پردہ اٹھا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوتی ہے کہ تجزیہ نگار صرف اپنے ذہن سے تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں جبکہ داستان گو اور شاعر اپنے پورے وجود کو خرچ کر دیتے ہیں، بلکہ قربان کر دیتے ہیں۔ شاید کوئی عظیم اصول اس کائنات میں کارفرما ہے کہ بقا کا ہر چشمہ، فنا کی زمین سے پھوٹتا ہے۔

میں اس تحریر میں ایک بیچ کی راہ اپنانا چاہتا ہوں۔ میں صرف ذہنی تجزیہ نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے پورے وجود کو بروئے کار لاؤں اور اپنی واردات بیان کروں۔ کبھی کبھی موضوع سے بھٹک بھی جاؤں۔ کچھ غیر اہم باتیں بھی کروں۔ ایسی غیر اہم باتیں جو بڑے عجیب طریقے سے اہم ہو جاتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بیان کروں جو بڑی بڑی باتوں سے آگے نکل جاتی ہیں۔ یہ دیکھنے کی کوشش کروں کہ چھوٹا اور بڑا، اہم اور معمولی کس طرح باہم جڑ جاتے ہیں اور ایک بے رنگ کُل میں بدل جاتے ہیں۔ اس لیے ایک منظم و مربوط بیان کی بجائے، آپ اس تحریر میں منتشر تاثرات پائیں گے۔

مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، انقلابی جماعتیں ان بچوں کی طرح ہوتی ہیں جو بڑا ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ بڑے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وزن اور جسامت میں بڑا ہوا جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مقاصد کا از سر نو جائزہ لے، خود پر ہنسنا سیکھے، اونچی آواز میں بات کرنے کی بجائے دھیمی آوازوں کو سننے کی کوشش کرے۔ ذہنی تناؤ کو کم کرے اور اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں کھول دے۔

لیکن ایسا سب کچھ انقلابی جماعت کے لیے موت ہو گا۔ لہذا ان جماعتوں میں بیک وقت بڑا ہونے اور چھوٹا رہنے کی متضاد قوتیں جاری ہو جاتی ہیں جس سے اکثر جماعتیں ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔ انقلابی جماعتوں کی یہ ٹوٹ پھوٹ جماعتوں کے لیے شاید نقصان دہ ہوتی ہو لیکن خود انقلابیوں کے لیے رحمت کا باعث ہو سکتی ہے، ایسی رحمت جس سے اکثر وہ خود بھی لا علم ہوتے ہیں اور جو ان کے وجود کی نشوونما کا سندیسہ لاتی ہے۔

لیکن نشوونما کے ان مراحل سے گزرنے کے لیے گزشتہ انقلابیوں کو ذہنی و نفسیاتی تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی انقلابی تو بے چارے شکوہ و شکایت اور الزام تراشیوں و دشنام طرازیوں کے گڑھوں میں ہی گر جاتے ہیں۔ ردعمل کی نفسیات میں رک جاتے ہیں اور 'اینٹی-انقلابی جماعت' بن جاتے ہیں۔ بعض زندگی کی بنیادی اقدار اور دین ہی کا انکار کر بیٹھتے ہیں لیکن بعض اپنی تپسیا کو جاری رکھتے ہیں۔ اپنے اندر بھی سفر کرتے ہیں اور باہر بھی۔ نئی درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور زندگی کے دیگر زاویوں کو تلاشتے ہیں۔

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

یہ بھی دلچسپ ہے کہ کس طرح ان گزشتہ انقلابیوں کے حالات و واقعات دیکھ کر موجودہ انقلابی ان کا بچوں کی طرح مذاق اڑاتے ہیں۔ سنیئر انقلابی جونئیر انقلابیوں کو درس دیتے ہیں، "دیکھا ہم نے نہ کہا تھا۔۔۔" " دیکھا جماعت اور نظریے سے الگ ہونے کا انجام"۔ یہ سب نہایت دلچسپ ہے۔ یہ سب نہایت ٹریجک ہے۔

پرانے پرندے تنکا تنکا جوڑ کر آشیانہ بناتے ہیں۔ بعد میں آنے والے پرندوں کو بنا بنایا گھونسلہ مل جاتا ہے، ایک سوچ اور شناخت مل جاتی ہے۔ ایک انقلابی جماعت میں موجود مختلف جنریشنز کا اگر باہم مقابلہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی دور کے لوگ زیادہ تخلیقی اور mature ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ تقلیدی رجحان بڑھتا جاتا ہے۔

انقلابی جماعت کے بانی راہنماوں پر رنگ رنگ کے اثرات ہوتے ہیں جبکہ دوسری اور تیسری جنریشن مکمل طور پر صرف اپنی ہی جماعت کے لیڈرز کے زیر اثر ہوتی ہے۔ اس میں "تنظیمیت" بڑھ جاتی ہے لیکن سوچ ماند پڑ جاتی ہے۔ فکر کی جگہ ڈسپلن اور Quality کی جگہ Quantity لے لیتی ہے۔ انقلابی جماعت کا یک رخا پن اور گہرا ہو جاتا ہے۔

انقلابی جماعت کی پہلی جنریشن نے اپنے عہد کے مختلف جماعتوں کی لیڈرشپ سے interact کیا ہوتا ہے ان کا ایکسپوژر بڑا ہوتا ہے جبکہ انقلابی جماعت کی دوسری جنریشن نے صرف اپنے بانی لیڈر اور اپنی ہی جماعت کے پہلے کیڈر پر انحصار کیا ہوتا ہے۔ پہلی جنریشن نے بہت محنت سے لٹریچر تیار کیا ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسری اور تیسری جنریشن کے انقلابیوں کا مطالعہ صرف جماعتی لٹریچر تک محدود ہو جاتا ہے۔ یوں جماعت میں تنگ نظری اور تعصب بڑھتا جاتا ہے۔

انقلابی جماعتوں کی بنیاد رکھنے والے اکثر رہنما وہ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے عہد شباب بی سے اپنے آپ کو کسی کاز کے لیے وقف کر دیا ہوتا ہے۔ وہ قربانی اور جانفشانی سے جماعت کا پہلا کیڈر تیار کرتے ہیں۔ چونکہ اس سلسلے میں ان کا انٹریکشن دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے ہوتا ہے اس لیے ان کا ذہن نسبتاً‌ pragmatic اور لچکدار ہوتا ہے۔ انقلابیوں کی یہ پہلی جنریشن بہت سی عملی مشکلات کا سامنا کرتی ہے اس لیے اپنے ظرف اور ذہنی اپروچ میں پریکٹیکل اور flexible ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے جماعت میں نئے لوگوں کی امد ہوتی ہے اور انقلابیوں کی دوسری جنریشن تیار ہونے لگتی ہے تو وہ ابتدائی پریگمٹزم اور فلیکسیبلٹی بھی دھیرے دھیرے رخصت ہونے لگتی ہے۔ اب جماعت بڑی ہونے لگتی ہے اور اور یہ انقلابیوں کا احساس برتری مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایسے نظریاتی امور جو انقلابی جماعت اور دوسری جماعتوں میں مشترک ہوتے ہیں، ان پر بات کم ہوتی ہے اور جماعت کے مخصوص نظریات پر بات زیادہ ہونے لگتی ہے۔ اعتدال پسند عناصر کم ہونے لگتے ہیں اور انتہائی سوچ رکھنے والے عناصر بڑھنے لگتے ہیں۔ دھیرے دھیرے انقلابی جماعتوں میں فاشسٹ رویے بڑھ جاتے ہیں۔

ہر انقلابی جماعت اور اس کے ہر رکن کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ وہ طبعاً اس ایجنڈے کا ایسا پابند ہو جاتا ہے کہ اسے کبھی بھی suspend نہیں کر سکتا۔ اس کا مزاج کچھ ایسا ڈھل جاتا ہے کہ وہ ہر social interaction اور ہر social situation کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا سامان بنانا چاہتا ہے۔ وہ جب کسی نئے شخص سے ملتا ہے تو اس زاویے سے اس کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ کس حد تک اس کی جماعت میں ضم ہو سکتا ہے۔ وہ جب کسی سینئر اور با اثر شخص سے ملتا ہے تو اس لیے کہ اس کی تائید اور تصدیق سے راۓ عامہ ہموار کرنے کا کام لے سکے۔ جب وہ مطالعہ کرتا ہے تو اس لیے کہ اپنے انقلابی نظریات کے لیے معلومات فراہم کر سکے۔ جب وہ لکھتا ہے تو اپنے نظریات کے پرچار کے لیے۔  ہر صورتحال اس کے لیے ایک opportunity ہوتی ہے، ایک خام مال۔

انقلابی شخص چونکہ واضح مقصد رکھتا ہے اور اس کی سوچ میں ایک میکانکی ربط اور تنظیم ہوتی ہے۔اور ایک مشن کا حامل ہونے کی وجہ سے وہ فطری طور پر پر جوش بھی ہوتا ہے۔ اور پے در پے دلائل دینے کا فن سیکھ جکا ہوتا ہے اس لیے اس کی گفتگو بہت گہری اور علم و حکمت سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔

وہ جب محقق ہوتا ہے تو چھوٹی سے چھوٹی اور شاذ بات کو بھی اپنے استدلال کی بنیاد بناتا ہے اور اس سے ملتے جلتے دیگر شواہد نظر انداز کر دیتا ہے جو اس کے نظریاتی فریم ورک کی تائید نہیں کرتے۔ اس کی Rationality،  Instrumental Rationality  ہوتی ہے نہ کہ Substantive Rationality۔  Instrumental Rationality  مقاصد پر زیادہ سوال نہیں اٹھاتی بلکہ اس پر غور و فکر کرتی ہے کہ کس طرح ذرائع کو efficiently manipulate کرے اور مقاصد کی تکمیل کرے۔

اپنے مقصد کے حصول کے لیے سرگرم رہنا بہت اچھا ہے اگر انسان بنیادی انسانی سچائیوں اور اعلیٰ اخلاقی حس کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے اور کسی بھی صورتحال کو genuinely appreciate کرنے کے قابل رہے اور اس پر اپنا ایجنڈا impose نہ کرے۔ لیکن اگر اس کا ایجنڈا ہر وقت اس کے ساتھ چپکا رہے تو وہ نیک اور انقلابی ہونے کے ساتھ ساتھ، آہستہ آہستہ نظریاتی اور سماجی طور پر ایک چالاک اور ہوشیار شخص میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا شکاری جو ہر وقت گھات میں رہتا ہے۔وہ آپ کا جائزہ لیتا ہے، سونگھتا ہے، ٹٹولتا ہے، آپ کو categorize کرتا ہے اور پھر آپ کو label کرتا ہے کہ اس کے سسٹم میں آپ کیا حیثیت رکھتے ہیں: دوست، دشمن، بے ضرر، مفید یا کچھ اور ۔کوئی بھی شخص اور سچائی اس کے لیے بجائے خود مقصد نہیں رہتی بلکہ ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ اس کا نفس اس کے لیے یہ بات خوشنما بنا دیتا ہے کہ

Ends justify means.

انتہائی صورت میں وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی سے بھی ذرائع اختیار کر سکتا ہے۔

انقلابی جماعتیں عام طور پر خود کو ایسی پوزیشن پر رکھتی ہیں جہاں سے سب پر فائرنگ ہو سکے لیکن کوئی ان پر فائر نہ کر سکے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوتا ہے کیونکہ وہ معاشرے میں جاری و ساری سماجی و سیاسی عمل سے کٹ کر اس کا مشاہدہ و مطالعہ تو کرتے ہیں، اس میں active agent کے طور پر شریک نہیں ہوتے۔ یوں تجزیہ و تنقید ہی ان کا بنیادی وظیفہ بن جاتا ہے۔ ہر دوسری جماعت اور شخصیت اب ان کے تجزیے کی زد پر ہوتی ہے۔

انقلابی جماعتوں کے یہاں اصحابِ علم کی تین فہرستیں ہوتی ہیں۔ ایک محبوب علماء کی، دوسرے ان علماء کی جنہیں کبھی کبھی گوارا کیا جا سکتا ہے، اور تیسرے ان علماء کی جو مردود اور قابلِ ملامت ہوتے ہیں۔ ان کیمپوں میں تمیز بہت کڑی اور تیکھی ہوتی ہے۔

ان کیمپوں کے بیچ میں لائن آف کنٹرول بہت واضح ہوتی ہے۔ اگر دوسرے کیمپ سے کوئی اچھی اور معقول بات بھی کرے تو اسے سراہا نہیں جاتا مبادا مکتبِ انقلاب میں زیرِ تربیت نو خیز انقلابی مخالف کیمپ کی کسی شخصیت سے متاثر ہو جائیں۔ اگر دوسرے یا تیسرے کیمپ کے کسی عالم یا دانشور کی بات زیادہ ہی پسند آۓ تو بہترین حکمتِ عملی یہ سمجھی جاتی ہے کہ کتاب اور مصنف کا حوالے دیے بغیر بات کو خود اپنے ہی منہ سے مناسب انداز میں بیان کر دیا جائے۔

ہاں اگر اپنے اکابر کی شان میں کوئی قول وغیرہ فریق مخالف کے کیمپ سے دستیاب ہو تو اس کا فوری تذکرہ پورے حوالے اور شرح و بسط کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ بڑے بھی بس بچے ہی ہیں، بظاہر چالاک اور ہوشیار مگر در اصل معصوم!

انقلابی جماعتوں کے کارکن عام طور پر یک رخے پن اور نرگسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان جماعتوں کا نظامِ تعلیم و تربیت کارکنوں کو یک رخا (One-Dimensional) بنا دیتا ہے۔ ایک یک رخا شخص ایک ہی دِشا میں دیکھنے کے قابل رہتا ہے۔ اور اس دِشا کا تعین اس کی آیڈیالوجی کرتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ دوسری سمتوں کے وجود سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ لہذا یہ جماعتیں ایک خاص حد تک کارکنوں کے دانش اور شعور میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن جب کوئی "ضرورت سے زیادہ" مطالعہ اور تحقیق شروع کر دے تو اسے رفتہ رفتہ ناپسندیدہ بنا دیا جاتا ہے

جماعتوں اور تنظیموں کے مطالعہ میں یہ بات دلچسپ اور دانش افروز ہوتی ہے کہ اس کے لیڈر اور کارکن اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایسی جماعتیں جو کسی ایک ہی مفکر کے افکار و نظریات پر قائم ہوتی ہیں، اکثر نرگسیت کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر اس نرگسیت کے لیے دلائل بھی فراہم کر لیتی ہیں۔ جماعت کے راہنما اور کارکن اپنے ہی حسن پر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ پر ہی فدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس نرگسیت کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔

ہمارا نظریہ سب سے عالی اور بلند ہے۔

ہم انسانی سماج کے مسائل کی جڑ کو پہچانتے ہیں۔

ہمارے پاس انسانیت کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

ہم دین اسلام کی حقیقی روح کا کامل شعور رکھتے ہیں۔

جو لوگ ہمارے مخالفین ہیں وہ بے شعور ہیں یا سرمایہ دارانہ نظام اور سامراج کے آلہ کار ہیں۔

دھیرے دھیرے یہ mindset کارکنوں کے وجود میں خون کی طرح دوڑنے لگتا ہے۔ یہ ان کی ہر تعبیر ، تجزیے اور تشریح کے اصول موضوعہ بن جاتے ہیں۔

جماعتوں میں جو نظام تربیت تشکیل دیا جاتا ہے اس کا مقصد کارکنوں کی شعوری اور وجودی نشوونما نہیں بلکہ ان کے ذہن کی مخصوص نظریات کے مطابق پروگرامنگ ہوتی ہے۔ان کا ذہن ایک سافٹ ویئر کے تابع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے کسی بھی تجزیے اور تنقید میں ان حدود سے باہر نہیں جاتا جو اس سافٹ ویئر نے طے کر رکھی ہوں۔ وہ ہر بات پر سوال اٹھائے گا، تنقید کرے گا سوائے اس سافٹ ویئر کے۔ چونکہ self-critique اس سافٹ ویئر کا حصہ ہی نہیں ہے۔

ایک انسان کیسے اپنے وجود کو ایک جماعت کے سپرد کر دیتا ہے؟

ایک تو یہ کہ کالجوں اور مدارس کے نوجوان جب ایک منظم جماعت کے مختلف لوگوں سے، جو عمر، تجربے اور معلومات میں ان سے بڑے ہوں، ایک ہی بات کو بار بار سنتے ہیں تو اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ انفس و آفاق کی ابدی سچائیوں کی مختلف پیرایوں میں تکرار انسانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ لیکن ایک مخصوص انسانی تعبیر اور تشریح کی تکرار ذہن کے گہرے ساگر کو ایک جوہڑ میں بدل سکتی ہے۔ انسان کسی contingent truth کو بار بار سن کر اور بار بار بیان کر کے اسے absolute truth کا درجہ دے دیتا ہے۔ اس سے، زیادہ سے زیادہ، ایک mediocre ذہن تشکیل پاتا ہے۔ ایک ایسا ذہن جسے استعمال کیا جا سکے، جس کا استحصال کیا جا سکے۔۔۔کسی جماعت کے کارکن کا ذہن۔ یہ ذہن چند برس ایک جماعت میں گزارنے کے بعد اس قابل نہیں رہتا کہ کسی اور رخ پر سوچ سکے۔ اس کی سوچ اور تخیل کا سفینہ جماعتی ساحل پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس لیے حالات حاضرہ کے تجزیے کو بار بار سن کر انسانی ذہن پستی کی طرف جاتا ہے، جبکہ کلاسیکی ادب کا مطالعہ اس کے شعور کو رفعت عطا کرتا ہے۔

جماعت میں ایک یا زیادہ لوگوں کی Charismatic Personality بھی کارکنوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ جب کوئی لیڈر لوگوں کا محبوب ہو جائے اور لوگوں کو اس کی شخصیت Charismatic لگنی لگے تو وہ مخصوص سافٹ ویئر بہت جلد تیار ہو جاتا ہے۔ اور یوں بھی ہوتا ہے کہ شروع میں کوئی بات ، گیت سنگیت کی طرح، دل کو نہیں چھوتی لیکن جب اس راگ کو بار بار سنا جائے تو آخرکار من کو بھا جاتا ہے۔ اور پھر تو یہ حال بھی ہو جاتا ہے اس راگ کو سنے بنا دل ایک پل بھی چین نہیں پاتا۔

اکثر قائدین کی تقریروں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پہلے پہل نامانوس لگتی ہیں اور بعد میں یہ حال ہو جاتا ہے کہ جی ان کی ہر دلیل کی تصدیق اور ہر لہجے کی تائید کرنے لگتا ہے۔ اور حیران ہوتا ہے ان لوگوں پر جنہیں "سامنے کی یہ بات" بھی سمجھ نہیں آتی۔

انقلابی جماعتوں کی فکر کا مرکزی نقطہ ایک مثالی اور آدرش سماج کا قیام ہے۔ یہ شاید ایک فطری انسانی آرزو ہے۔ لیکن جدیدیت (modernity) نے انسان کی اس فطری آرزو کو ایک metanarrative بنا دیا۔ ہماری مذہبی انقلابی جماعتیں جدیدیت کے اسی metanarrative کے زیرِ اثر پروان چڑھی ہیں۔

ایک آئیڈیل معاشرے کا قیام انسان کا دیرینہ خواب ہے۔ تاریخ میں ایسے دور بھی آتے رہے جب اخلاقی اقدار مظبوط تھیں، معاشرے میں عدل، سکھ اور شانتی تھی اور ایسے کلجگ بھی آتے رہے جہاں بدامنی، ظلم اور دکھ تھا۔ سوال یہ ہے کہ انسانی سماج میں عدل اور شانتی مستقل قرار کیوں نہیں پاتے؟ عدل کے بعد ظلم اور روشنی کے بعد اندھیرا کیوں انسان کا مقدر ہے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔

تاریخِ انسانی میں اندھیرے اجالے کا یہ کھیل ابھی بھی سماجیات اور نفسیات کے علماء کے لیے ایک معمہ ہے۔ کیا اندھیرے اجالے کا یہ کھیل در اصل انسان کے باطن میں ہے اور خارج میں اس کی صرف پروجیکشن ہوتی ہے؟ یا تاریخ اور سماجی ڈھانچہ اصل ہے اور وہ انسانی باطن کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے؟  باطن پہلے ہے، خارج بعد میں یا خارج پہلے ہے اور باطن بعد میں؟ اس سوال کے جواب میں پنہاں ہے آپ کا تصور سماج اور تصورِ انسان جن پر مبنی ہیں اصلاح اور انقلاب کے تمام نظریات۔

سماج کیا ہے؟ یہ عمرانیات کا آسان سا سوال دکھائی دیتا ہے۔ عمرانیات کے پہلے سمسٹر کے طلباء ہمیں بتائیں گے کہ معاشرہ افراد کا ایک ایسا گروہ ہے جو ایک جغرافیائی خطے میں رہتا ہے اور ایک مخصوص ثقافت کا حامل ہے۔ کاش انسانی صورتِ حال نفسیات و عمرانیات کی کتابوں کے مطابق ہوتی۔

جدید مغربی عمرانیات کے بانی جن میں آگسٹ کونت (August Comte)، ہربرٹ اسپنسر (Herbert Spencer)، اور ایمیل درخایم(Emile Durkheim) شامل ہیں، سماج کو فرد سے بالکل الگ ایک مستقل بالذات حقیقت کہتے ہیں۔ درخایم کہتا ہے

Society is sui generis.

یعنی انسانی معاشرہ افراد کا محض مجموعہ نہیں ہے بلکہ اپنی نوع میں ایک جدا گانہ وجود رکھتا ہے۔

معاشرے کے عام تصور کی ایک ریاضیاتی مساوات (mathematical equation). کی سادہ شکل کچھ یوں ہو گی:

Society = Individual 1+ Individual 2+... Individual n
where n is a positive integer, n>0

لیکن انیسویں صدی کے مغربی علماء عمرانیات کے نزدیک یہ مساوات غلط ہے۔ ان کے نزدیک معاشرہ افراد کے مجموعے کے "برابر" نہیں ہوتا بلکہ اس سے بڑا ہوتا ہے۔ یعنی

Society > Ind 1+Ind 2+...Ind n
n>0

یہ مانا گیا کہ معاشرہ فرد سے باہر خارج میں نہ صرف موجود ہے بلکہ فرد پر حاکم ہے۔ گویا افراد مل کر معاشرہ نہیں بناتے بلکہ معاشرہ افراد کی تخلیق و تشکیل کر رہا ہے۔

اس تصورِ سماج کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سماجی ڈھانچہ ہی انسانی صورت حال کی کلید ہے۔ آپ انسانوں کو بدلنا چاہتے ہیں تو سماجی ڈھانچہ بدل دیجیے۔

نیا سماجی ڈھانچہ = نیا انسان

لہٰذا

انقلاب زندہ باد!

ہماری انقلابی جماعتوں کی بنیاد انیسویں صدی کے اسی تصور سماج پر ہے۔

جدید عمرانیات کے اس ابتدائی دبستان کے بعد دیگر مکاتب بھی ابھرے۔ کچھ ماہرینِ عمرانیات نے سماج کو یوں دیکھا کہ وہ کوئی macro خارجی ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ micro level پر افراد ہی کے باہمی interaction کا نام سماج ہے۔

پھر منظر پر کچھ اور sociological perspectives آتے ہیں جو نہایت دلچسپ اور اہم ہیں یعنی phenomenology اور ethnomethodology. ان کے نزدیک سماجی ڈھانچہ خارج میں حقیقی معنوں میں وجود نہیں رکھتا بلکہ ہمیں صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی خارجی وجود ہے۔ ان کے نزدیک سماجیات کی اصل سمت یہی ہونی چاہیے کہ اس احساس کا کھوج لگاۓ کہ ہمیں یہ دھوکا کیونکر ہوتا ہے۔ نہ کہ سماجی ڈھانچے کو پہلے ہی سے قائم بالذات مان لیا جائے۔ ان کے نزدیک معاشرے اور سماجی ڈھانچے کا تصور ایک سراب ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک convenient fiction۔  ایک میٹرکس (matrix) یا مایا جال۔

اگر آپ کو یہ ساری بات عجیب و غریب لگ رہی ہے تو واقعتاً انسانی صورتِ حال عجیب و غریب ہی ہے۔ انسان کا باطن کائنات کی سب سے بڑی mystery ہے۔

دینی روایت کے مطابق ایک روشن دل ہی دوسرے دل کو اجیار سکتا ہے، ایک بیدار روح ہی دوسری روح کو جگا سکتی ہے۔ تاریخ اور سماج کا نظام اس میں معاون یا مخالف ہو سکتے ہیں لیکن کوئی حتمی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ بہترین انسان اور اخلاق و حکمت کے معلم اکثر بدترین سیاسی و سماجی حالات میں پیدا ہوئے ہیں جو ممکن نہیں ہے اگر انسان محض ایک Social Product ہے اور فقط اپنے زمانے کے سماج کی پیداوار ہے۔

(یہ وہ مقام ہے جہاں انقلابی جماعتوں کے لوگ مجھ سے مایوس ہوں گے اور میرا مذاق اڑائیں گے، مایوسی میں تو نہیں البتہ اپنا مذاق اڑانے میں، میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوں گا۔)

جدیدیت کے مطابق دل، روح اور باطن محض چند لفظ ہیں جنہیں سائنس ثابت نہیں کر سکتی۔ یہ انسان کی توہم پرستی کے زمانے کی یادگار ہیں۔ اصل چیز خارجی ہے اور مادی ہے۔ انسانی سماج کے خارجی مادی حقائق انسان کی عقل اور شعور میں رنگ بھرتے ہیں۔ لہٰذا معاشرہ اور اس کا نظام پہلے ہے اور فرد بعد میں اور قلب اور روح کی تو سرے سے گنجائش ہی نہیں۔

لہٰذا کارل مارکس اعلان کرتا ہے کہ وہ انسانی الجبرے کی equation میں Independent variable کی value معلوم کر چکا ہے اور نیوٹن کے قوانینِ حرکت کی طرح انسانی سماج اور اس کی حرکت کے قوانین دریافت کر چکا ہے، اور یہ کہ کسی عہد کے انسانی سماج کا شعور اس کے مادی یعنی معاشی نظام ہی کا پرتو ہوتا ہے، اور یہ کی انسانی تاریخ دراصل معاشی طبقات کی باہمی آویزش سے ہی حرکت پذیر ہوتی ہے، اور تاریخ کی یہ حرکت جاری رہے گی تاآنکہ ایک ہمہ گیر انقلاب ان تضادات کو ختم نہ کر دے جو معاشی طبقات کی بنیاد ہیں۔

ایک ایسے انسان کے لیے جس کا خدا پر سے اعتبار اٹھ چکا ہو، روح اور قلب جس کے لیے توہم پرستی ہوں، جو ہر انسانی جذبے کی اساس بائیو کیمسٹری میں تلاش کرتا ہو، کارل مارکس کے فلسفہ تاریخ میں بہت اپیل تھی۔

مارکس کا فلسفہ یورپ کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوا۔ اس کی بڑی وجہ یہ نہ تھی کہ یہ فلسفہ فی نفسہ بہت منطقی تھا۔ اکثر مارکسسٹ انقلابی تو سرے سے فلسفے میں دلچسپی بھی نہ رکھتے تھے۔

بڑی وجہ یہ تھی کہ مارکسیت نے اس خالی پن کو بھرا تھا جو مذہب کے رخصت ہونے سے پیدا ہوا تھا۔ مارکسزم میں ایک اخلاقی بلکہ روحانی اپیل بھی تھی۔ انسانی دکھوں کے علاج کا دعویٰ بھی تھا اور دوسری طرف سائنس ہونے کا بھی دعویٰ تھا۔ سائنس کی دیوی سے لوگ پہلے ہی مسحور ہو چکے تھے۔

مذہب سے خلاصی، سائنس کی کشش، انسانیت کا درد، ایک بامقصد مشن کی فراہمی اور ایک ایسا فکری بیان جو ہر چھوٹے بڑے واقعے کی توجیہ کر سکے۔۔۔یہ سارے مصالحے الگ الگ تو دوسری دکانوں پر بھی دستیاب تھے لیکن اکٹھے صرف مارکسیت میں ملتے تھے اور یہی بنیادی سبب تھا مارکسزم کی اپیل کا۔

شعور اور لاشعور دونوں سطحوں پر جدیدیت کے ان سماجی تصوّرات اور فکری و سیاسی تحریکوں نے ہماری دینی روایت پر اثر ڈالا۔ خصوصاً‌ انیسویں صدی کے مغربی تصور سماج ، مارکسزم اور روس کے انقلاب نے ہماری مذہبی انقلابی جماعتوں کی فکر پر گہرا اثر ڈالا ۔ حتیٰ کہ وہ جماعتیں جو بظاہر مغربی تہذیب اور مارکسزم کو رد کرتی ہیں اپنے فکری اور تنظیمی ڈھانچے اور اپنی سیاسی حکمت عملی میں مارکسی تحریکات ہی سے متاثر نظر آتی ہیں۔

لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جدیدیت کے ان سیاسی رجحانات کے زیر اثر ہماری مذہبی انقلابی جماعتوں نے دین کا مزاج ہی بدل ڈالا۔ ایک سیدھا سادہ نیک انسان جو اللّہ کو یاد کرتا ہے، آخرت کی فکر کرتا ہے، خدا سے ڈرتا ہے ان کے نزدیک غیر اہم ہے۔ ایک شخص جو اپنی گلی یا محلے میں لوگوں کی بھلائی کا کوئی نیک کام رہا ہے، غیر اہم ہے۔ انفرادی نیکی کی ان کے نزدیک اہمیت ہی نہیں۔ لہذا انفرادی اصلاح کی دعوت پر مبنی تمام جماعتیں ان کے نزدیک اکثر شعوری یا لا شعوری طور پر سامراجی ایجنڈے پر گامزن ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں اہمیت ہے تو صرف انقلاب لانے کے لیے ان کی جماعت میں شمولیت کی۔ قرآن کی ساری تفسیر ، سیرت نبوی کی ساری تشریح ، فکر اسلامی کی ساری تعبیر اور تاریخ کا سارا تجزیہ انقلاب کے اسی نقطے کو بنیاد مان کر کیا جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ انقلابی جماعت کے کارکن نیک نہیں ہوتے اور نماز اور تلاوت کا اہتمام نہیں کرتے۔ وہ سب کچھ کرتے ہیں لیکن ان کی توجہ کا قبلہ ذرا بدل جاتا ہے۔ رب کریم کی محبت و معرفت کا حصول ان کا مقصود نہیں رہتا۔ ان کا دھیان بٹ جاتا ہے، یکسوئی کا قبلہ سرک جاتا ہے۔ ان کے احوال کی کیمسٹری بدل جاتی ہے۔ ان کے زبان و قلم تو ہوشیار ہوتے ہیں مگر ہر وقت کی سیاسی گفتگو، دوسروں پر تنقید اور انقلابی جماعت کی مینجمنٹ ان میں آخرت کا ذوق و شوق ماند کر دیتی ہے، ان کے ultimate concerns انقلاب پر ختم ہوتے ہیں نہ کہ رب کی رضا و محبت پر، گو جماعتی لٹریچر میں تحریر یہی ہوتا ہے کہ یہ ساری تگ و تاز خدا کے لیے ہے۔ یہ ساری تبدیلی بڑے دبے پاؤں آتی ہے۔ یہ جماعتی لٹریچر میں کہیں لکھی نہیں ہوتی۔ یہ لکھنے پڑھنے میں کہیں بھی نہیں ہوتی۔ بس جماعت کے مجموعی ماحول میں موجود ہوتی ہے اور بہت باریکی سے قلوب میں داخل ہو جاتی ہے۔

باریکی اور لطافت سے داخل ہونے والے یہ سگنلز سب سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور یہی دل کے حال کو متعین کرتے ہیں۔ لہذا خدا کی محبت حسی اور قلبی تجربہ نہیں بن پاتی۔ واردات نہیں بن پاتی۔ زیادہ سے زیادہ ذہن میں محفوظ ایک بات ہوتی ہے۔ تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب بجائے خود مقصد نہیں رہتے بلکہ ذریعہ بن جاتے ہیں ایک انقلابی میں روحانی قوت پیدا کرنے کا، تاکہ وہ اصل مقصد حاصل کر سکے یعنی انقلاب لا سکے۔ قرآن کتابِ انقلاب ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبرِ انقلاب ہیں، صحابہ رہبرِ انقلاب ہیں۔ غرض بندگی کے تمام اقوال، افعال اور احوال انقلاب کے نعروں تلے دب جاتے ہیں اور نظریۂ انقلاب چپکے سے ایمان کی جگہ لے لیتا ہے۔

عصرِ حاضر کے فساد کی فکری بنیادیں

مولانا محمد بھٹی

گزشتہ  پون صدی سے مسلم دنیا  دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ تخریب کاری  کا یہ جدید مظہر اپنی سنگینی،آشوب ناکی اور حشر سامانی میں ماضی کے تمام مظاہر کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ خوارج اور باطنی اپنی تمام تر فساد مآبی کے ساتھ اس نوخارجیت کے آگے ہیچ نظر آتے ہیں۔اس عفریت سے عملی سطح پر دو دو ہاتھ کرنے کے ساتھ ساتھ فکری سطح پر نمٹنا بھی ازحد ضروری ہے۔مگر صد حیف کہ اس ضمن میں ہمارا طرزِ فکر اتھلے پن کا منتہائی اظہار بن کر رہ گیا ہے اور اس کی وجہ ہمارے کارِ علمی کی عمومی صورت حال ہے۔ ہمارے  ہاں عمومی رجحان یہی ہے کہ اشیا کو کما ھی دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی اور مسئلے کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کی بجائے اس کی شاخیں وغیرہ چھانگنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ یوں فتنے کا درخت کچھ عرصہ  ٹنڈ منڈ رہ کرپھر سے برگ و بار لانے لگتا ہے۔کسی بھی مسئلے کو لے کر ہماری دادِ تحقیق کا محور اس کے ظاہری خدو خال ہوتے ہیں، پس پردہ کارفرما اصولوں کی پڑتال کا کشٹ نہیں اٹھایا جاتا۔ہماری  تمام تر علمی ترک تازیاں اور فکری چاند ماریاں تعمق کے وصف سے بالعموم محروم ہیں۔

تاہم اس سے  یہ مطلب اخذ نہ کیاجائے کہ ہم ان اربابِ فکر و نظرکو کم آنکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو افلاسِ علم کی اس  تیرہ شبی میں گہری بصیرت کی جوت جگائے ہوئے ہیں۔ حاشا و کلا ہمارا مطمح نظر قطعا یہ نہیں، بہ ایں ہمہ یہ کہنے میں بھی ہمیں کوئی باک نہیں کہ ایسے صاحبانِ فکر و نظر معدودے چند ہیں اور بالعموم ہمارا علمی منظر نامہ سطحیت کی دھول سے اٹا ہوا ہے۔ یعنی فکر و نظر  کا کال نہ بھی پڑا ہو تو کال کی سی صورتِ حال ضرور ہے۔ اسی باعث ہنوز ہم اس دبدھا میں ہیں کہ حمایتِ اسلام کا دم بھرتے ان جتھوں کی برق بے چارے مسلمانوں پر ہی کیوں گرتی ہے۔ یہ کیسی جہادی تلوار ہے جو خونِ مسلم بہانے سے بھی نہیں چوکتی اور’’خلافت“  کی یہ کون سی قسم ہے کہ جسے دیکھ کر طوائف الملوکی بھی شرما جائے۔اس مخمصے کا ازالہ  گہرے تجزیاتی تفکر سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں ہمارے یہاں  فکر اور تجزیے کے نام پر صحافیانہ انٹ شنٹ تو بہتیرے مارے گئے مگر شومئِ قسمت سے تاحال کوئی ثقہ علمی تجزیہ سامنے نہیں آ سکا جو مسئلے کے سرے کی درست نشاندہی کر سکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عمومی روش سے ہٹ کر، یعنی صحافیانہ رپورٹنگ کی سطح سے اوپر اٹھ کر اس مسئلے کی تہوں کو کھنگالا جائے اور تہذیبی تناظر میں اس کا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ مایۂ فساد کو متعین کیے بغیر فساد کا قلع قمع نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ ایک عرصے سے سامنے آنے والے شواہد سے اس امر کا اندازہ تو بخوبی ہو جاتا ہے کہ طرح طرح کے ناموں سے موسوم یہ گروہ مسلمانوں کے حق میں خاصے مسموم ہیں لیکن  یہ سوال  ابھی تک تشنۂ جواب ہے کہ آخر ان کو فکری بھوجن کہاں سے بہم ہوتا ہے۔ مدارس اور روایتی سنی اسلام سہل اہداف ہیں سو  ہم انہی کے سر الزام منڈھ کر اپنے تئیں ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہتے ہیں۔ جدید اسلام کہ جس کا یہ  سب برگ و بار ہے ہماری تنقیدی چھلنی سے صرف اس لیے محفوظ رہتا ہے کہ وہ ’’جدید“ ہے اور ’’جدید“ تو سراسر ’’تعمیر و تہذیب“ہے،تخریب کا اس سے بھلا کیا ناتا۔  گزارش ہے کہ ’’جدید عالمی جہاد“ کی پھریرا بردار  یہ ناشدنی  تکفیری تحریکیں، جماعتیں،تنظیمیں، جنود اور لشکر دراصل جدید استعماری اسلام کے دو بڑے دھاروں وہابیت اور سیاسی اسلام کے باہمی ملاپ کا نتیجہ ہیں۔اس اجمال کی تفصیل کے لیے تخریب کار گروہوں کے مابین پائے جانے والے مشترکات یا ان کے تشکیلی اجزا کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جو حسبِ ذیل ہیں:

    1. توحید کی  سیاسی نظریہ سازی

    2. تخلیص پسندی

    3. نفاذ اسلام بذریعہ ریاست

    4. تنوع پسند سنی روایت سے بیزاری

    5. حرفیت پرست دینی تعبیر اور اس کی قطعیت پر اصرار

    6. قرآن و سنت کو براہ راست صورت حال سے نتھی کر نا

    7. تکفیرِ مسلم

    8. انقلابی رومانیت

    9. نابودیت

نوخارجی گروہوں کے مندرجہ بالا عناصرِ ترکیبی باہمدگر  گندھے ہوئے ہیں۔ توحید کو سیاسی نظریے کے طور پر متشکل کر دیا جائے تو دین و شریعت محض ریاستی نفاذ کی شے بن جاتے ہیں، یعنی انہیں محض ریاستی قانون کے درجے پر فائز کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سیاسی نظریے اور سیاسی طاقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور سیاسی طاقت قانون کے بغیر اپاہج ہوتی ہے۔ مزید براں، ضابطہ بندی جدید ریاستی قانون کا امتیازی وصف ہے؛ جس کا حصول سنی روایت میں پائے جانے والے تہذیبی و فقہی تنوع کو ٹھکانے لگائے بغیر ممکن نہیں۔ چنانچہ اس رنگا رنگی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ظاہر پر اصرار کیا جائے اور اس ضمن میں اپنے ’’فہم“ ہی کو حرف آخر قرار دیا جائے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ سیاسی  ڈھانچے ’’کنٹرول“اور ’’ڈسپلن“ کے اصول پر استوار ہوتے ہیں اور تنوع اور رنگارنگی کے روادار نہیں ہوتے۔  یہی یکسانیت پسندانہ فطرت (Homogeneous nature) جدیدیت اور اس کے زائیدہ طاقتی ڈھانچوں کو Exclusive   بناتی ہے۔ وہابیت بھی چونکہ ایک جدید مظہر ہے  جو طاقت سے سازباز بھی رکھتا ہے لہذا یہ بھی اپنی جبلت میں Exclusive ہے۔اس Exclusivity کو رو بہ عمل لانے کے لیے تکفیر  وہابیت کا انتہائی کارگر ہتھیار ہے۔ بہرحال یہ سارا گھناؤنا کھیل توحید کی نظریہ سازی اور روایتی علوم و اوضاعِ تہذیب سے بیزاری کا شاخسانہ ہے۔

خشتِ اول چوں نہد معمار کج

نظریۂ توحید وہابیت اور سیاسی اسلام کا محوری نقطہ ہے۔ یہی وہ خشتِ اول ہے جس پہ خارجیتِ جدیدہ کی عمارت کھڑی ہے۔اس ضمن میں سطحِ ذہن پر پہلا سوال یہ ابھرتا ہے کہ توحید کو سیاسی نظریہ (Ideology) بنانے سے کیا مراد ہے۔ عرض ہے کہ عقیدۂ توحید خدا کی وحدانیت کے اقرار اور خدائی میں اس کے شریک و سہیم کی نفی سے عبارت ہے۔ توحید کو نظریہ بنانے کا مطلب ہے اس کو حصول طاقت کے لیے بروئے کار لائے جانے والے سیاسی عمل کا لائحۂ عمل بنا دینا۔سیاسی نظریہ ایک لائحہ عمل ہوتا ہے جو کسی گروہ کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کی تفہیم کر کے  ان کا سیاسی حل تجویز کرتا ہے اور  اسی کے ضمن میں عملی تگ و تاز کا خاکہ  بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ نظریہ سازی سر تا پا ایک عقلی سرگرمی ہوتی ہے۔ عقیدے کی نظریہ سازی سے عقیدہ، جوعلم کا مرکز ہوتا ہے خود ’’علم“ بنا دیا جاتا ہے۔  توحید کو نظریہ و علم  بنا دیا جائے تو وہ غیبی وحی نہیں رہتی بلکہ انسانی تشکیل بن جاتی ہے۔ مزید براں،  بندے و خدا کے  مابین باہمی تعلق کی بنیاد بننے کی بجائے سیاسی و معاشی مسائل کی تفہیم اور ان کے سیاسی حل کے لیے حصول طاقت کی اسکیم میں کھپنے لگتی ہے۔ سیاسی اسلام کی زائیدہ ’’توحید فی الحاکمیت“ ایسا ہی ایک نظریہ ہے جو حصولِ طاقت کے لیے گھڑا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہاں محلِ نظر حصول طاقت نہیں توحید کی نظریہ سازی ہے۔ عقیدے کو نظریہ بنا دیا جائے تو دین سارے کا سارا سیاسی نظر آنے لگتا ہے۔ نماز، روزہ وغیرہ جملہ عبادات سیاسی عمل کا دیباچہ قرار پاتی ہیں۔ سیاسی انقلاب تعلق باللہ کا منتہا ٹھہرتا ہے۔ اس پر مستزاد  یہ کہ خدا بھی مرتبۂ تنزیہہ سے نزول کر کے ایک سیاسی حاکم اعلی  بن جاتا ہے۔ خدا کو مقنن یا  سیاسی حاکم اعلی کے سنگھاسن پر براجمان کرنا تشبیہ ہی کی ایک جدید صورت ہے۔ توحید کی  ایسی تشبیہی(Anthropomorphic (  نظریہ سازی عقیدے کی ایجاب کاری(positivisation  (  پر مبنی وسیع تر مہم ہی کا جزو ہے؛ جس کی تفصیل کا یہ محل نہیں۔ نظریۂ توحید اور اس مضمرات کے بیان کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہمارے چودہ سو سالہ تاریخی سفر میں سیاسی عمل، عقیدہ، شریعت  اور قانون و اقدار کی باہمی نسبتیں کیا تھیں۔ ہماری تہذیبی تاریخ میں سیاسی عمل اوج  پر رہا ہے، کیا اس دوران تاریخ کے کسی موڑ پر عقیدے کی نظریہ سازی یا دین کو سیاسیانے  کی نوبت درپیش آئی؟ اس ضمن میں ہمارے تہذیبی و روایتی موقف اور سیاسی اسلام و وہابیت کے موقف کے مابین مابہ الامتیاز کیا ہے؟

اس  حوالے سے گزارش ہے کہ ہماری تہذیب میں سیاسی عمل کی راہنمائی کا کام شریعت اور عقل سے لیا جاتا تھا۔ عقل صورت حال کو سمجھنے جب کہ شریعت تہذیبی علوم کی وساطت سے اظہار پا کر سیاسی عمل کی رہبری کرتی تھی۔ سیاسی عمل کہ جس کی غایتِ اولیٰ معاشی عدل کا قیام ہے شریعت کے فراہم کردہ لائحہ عمل پر گامزن ہوتا تھا۔اس کے علی الرغم سیاسی اسلام یہ دونوں کام عقیدے کو سونپ دیتا ہے اور شریعت کو محض عقوبات  تک محدود کر دیتا ہے۔  بارِ دگر عرض ہے کہ ہماری معروضات کا مقصد حصولِ طاقت یا سیاسی عمل کی نفی نہیں، کہ طاقت  دین کی تلوار بھی ہے اور سپر بھی۔  نہ ہی سیاست کو دین کے تابع رکھنے کی نفی  ہمارامطمحِ نگاہ ہے کیوں کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“۔ مگر سیاست کو دین کے تابع رکھنے اور دین کو ہی سیاست بنا دینے کے مابین خط امتیاز کھینچنا ضروری ہے۔ سیاست کا دین کے زیرِ اثر ہونا دین کی قوت کا باعث ہوتا ہے جبکہ دین کو سیاسی بنا دینا اس کی موت کا پروانہ ہے۔اس حوالے سے گزارش ہے کہ دینی ہدایت جن احکام کا مجموعہ ہے ان میں سے بعض کا تعلق نج سے ہے، بعض کا معاشرت سے اور کچھ اجتماع سے متعلق ہیں۔ سیاست کی تہہ میں مذہبی ورلڈ ویو کارفرما ہو تو یہ سبھی دوائر اپنی اپنی شرائط کے مطابق  دین سے نتھی رہتے ہیں۔

ہمارے تہذیبی سفر میں خلوت و نج کو عقائد و عبادات اجالتے تھے،  معاشرت کو اخلاق اور نظم اجتماعی کو قانون نَک سِک سے درست رکھتا تھا تا کہ اس کے زیرِ سایہ دینی معاشرت پروان چڑھے اور پھولے پھلے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ صحت مند معاشرت کے قیام اور بقا کی اولین شرط افرادِ معاشرہ کے مابین  باہمی محبت و یگانگت کا پایا جانا ہے۔جس کا فروغ معاشی عدل کے بنا ممکن نہیں۔ ہیئتِ حاکمہ کا اولین فرض معاشی عدل کا قیام ہے۔ ہماری تہذیب میں یہ قیام نظمِ اجتماعی کی درستی سے ہوتا تھا۔ بالفاظ دیگر نظم اجتماعی کی درستی اور معاشی عدل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔جیسا کہ پیش ازیں معروض ہوا معاشی عدل کا قیام سیاسی عمل کا اولین مقصد اور ہیئت حاکمہ کا اولین فریضہ ہے۔ اقامتِ عدل کے لیےبروئے کار لائے جانے والے سیاسی عمل کے لیے شریعت نہ صرف لائحہ عمل پیش کرتی تھی بلکہ اجتماع درستی کو برقرار رکھنے کے لیے قوانین بھی سامنے لاتی تھی۔  قانون اجتماع  کی درستی میں آڑے آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بروئے کار آتا تھا۔ سود، سٹہ،استحصال، لوٹ کھسوٹ، شہوات کی خارجی ترغیبات کا پھیلاؤ وہ اڑچنیں ہیں جو نظمِ اجتماعی میں خلل پیدا کرتی ہیں۔

نظم اجتماعی کا یہی بگاڑ دھیرے دھیرے معاشرت اور فرد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا خاتمہ بذریعہ حدود و تعزیرات ہوتا تھا۔ یوں نظمِ اجتماعی درست رہتا تھا اور عدل فروغ پاتا تھا، نتیجتاً‌ افراد کا باہمی تعلق مودت و یگانگت پر استوار رہنے کے کارن دینی معاشرت پروان چڑھتی تھی۔  یعنی  حاکم براہ راست مداخلت کر کے معاشرت کو دینی نہیں بناتا تھا بلکہ دینی معاشرت کے پنپنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا تھا۔ اس کے برعکس مذہب کو سیاسی بنا دیا جائے تو نج اور معاشرت براہ راست ریاست کی دست برد میں آ جاتے ہیں اور ان سے متعلقہ احکام بھی ریاستی قانون بن کر بزور نافذ ہونے لگتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ موجودہ ریاستی قانون توسع اور تنوع سے عاری اور ضابطہ بندی سے متصف ہوتا ہے۔ نتیجتاً‌ چیرہ دستی پروان چڑھتی ہے اور عوام دین و مذہب سے بدکتے ہیں۔ سعودیہ اور ایران کی نابودی حالت اسی امر  کی غمازی کرتی ہے۔ عوامی بے قراری  کی کھولتی دیگ جو ابل پڑنے کو تیار ہے، اسی نظریۂِ توحید کی آنچ پر تیار ہوئی ہے۔ جدید  نراجیت پسند نوخارجیوں کی فکری جڑیں بھی اسی نظریۂ توحید میں پیوست ہیں اور اسی کے نفاذ کے لیے  وہ تیغ بدست ہیں۔

جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے، مٹا دو

خارجیتِ نوی کا ایک اور نمایاں وصف تخلیص پسندی1 (Puritanism) ہے۔ تخلیص پسندی  جدیدیت کی پروردہ ذہنیت ہے جو مذہبی روایت کو ’’خالص دین“ میں ایک آمیزش سمجھتی ہے۔ تخلیص پسند ان بعد کی ’’آمیزشوں یا بدعات“ سے  دین کی تطہیر کو اپنا فرض منصبی جانتا ہے۔ معلوم ہوا تخلیص پسندی دین کو روایت سے جدا کر دینے کا نام ہے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہنا ضروری ہے کہ تخلیص کا تجدید سے کوئی تعلق نہیں۔عموماً‌ ان کو باہم گڈمڈ کر دیا جاتا ہے حالانکہ دونوں میں بعد المشرقین ہے۔ تجدید روایت کے اندر رہتے ہوئے اس میں در آنے والے جزوی انحرافات کو زائل کرتی ہے جبکہ تخلیص سرے سے روایت ہی  کو منہدم کر دینے کا نام ہے۔ تجدید روایت کی خود تنقیدی کا ثمر ہوتی ہےجس سے مآل  کار روایت ہی مزید قوی اور مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس تخلیص روایت کی جڑیں کاٹنے سے عبارت ہے۔غور کیا جائے تو تعبیر دین کے نوع بہ نوع راگ دراصل تخلیص کی سرگم میں ہی الاپے گئے ہیں۔ روایت باقی نہ رہے تو مذہب بازیچۂِ تعبیر بن جاتا ہے۔ تعبیری عقل حَکَم بنتی ہےاور دین کو من چاہے معانی پہنائے جانے لگتے ہیں۔ تخلیص کی وبا مغرب میں پھیلی تو مذہب کو نگل گئی؛ مشرق میں بھی عزائم کچھ ایسے ہی ہیں2۔

ذہن نشیں رہے کہ دین ہم تک روایت کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ روایت دین کی سند بھی ہے اور سائبان بھی۔ اسے روایت سے تہی کر دینا دراصل استعماری جدیدیت کی ترجیحات پر دین کی تشکیل ہے؛ باقی سب ملمع کاری ہے۔وہابیت أصلاً‌ شریعت و عقیدہ کے جدید استعماری تصور پر استوار ہے؛ اسی اعتبار سے اسے ’’تخلیص پسندی“ خوش آئی ہے۔علاوہ ازیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں مرقوم ہوا، وہابیت اور سیاسی اسلام کا جدیدیت کی  پیداکردہ اوضاعِ طاقت کے ساتھ گہرا سمبندھ ہے چنانچہ؛ طاقت کی گرفت (Control (کو قائم رکھنا بھی اس امر کا مقتضی ہے کہ تنوع پسند سنی  روایت کی ڈھال ہٹا کر مذہب کو نہتا کر دیا جائے۔ اسی نہتے اور بے سند دین کا نام ’’دینِ خالص“ ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اسلامی تہذیب وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کے اصول پر استوار رہی ہے؛ چنانچہ ہماری سنی روایت ازحد تنوع پسند (Heterogeneous )اور رنگا رنگی سے بھرپور ہے۔ اس کے برعکس جدیدیت اور اس کے ڈھانچے یکسانیت اور یک رنگی کے رسیا ہیں۔  تنوع جدیدیت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا کیونکہ یہ اس کی گرفت کو ڈھیلا کرتا ہے؛  چنانچہ وہ  شریعت کو ضابطہ بندی (Codification )  کے شکنجے میں کستی اور دین و شریعت کے کس بَل نکال کر اسے قانونی نوعیت کا ’’ضابطۂ حیات“ بنا ڈالتی ہے۔ وہابیت بھی  تنوع سے خار کھاتی ہے اور  خودساختہ تعبیرِ دین پر اصرار کرتی ہے۔  فقہی و تفسیری رنگا رنگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے ضروری تھا کہ فقہ و تفسیر کی غیر معمولی طور پر متمول  سنی روایت کو خیرباد کہہ کر حرفیت پرستی کا ڈول ڈالا جائے۔

چنانچہ یہی ہوا اور اب اپنی اسی حرفیت پر مبنی تعبیر کو قطعی اور حتمی3 باور کروایا جاتا ہے اور اسی سے وہ ضابطہ بند دین و شریعت اخذ کیے جاتے ہیں جو ’’نفاذ“ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور اسی سے وہ فتوے کشید کیے جاتے ہیں جو تکفیرِ مسلم کا ہتھیار ہیں۔ تکفیری نوخارجی گروہوں کا ’’نفاذ شریعت“ دراصل اسی ٹنڈ منڈ شریعت کا نفاذ ہے جس میں شریعت بس نام کو ہے کیونکہ  زندہ حقیقت کے طور پر شریعت دراصل فقہ ہی کا دوسرا نام ہے جس سے یہ لوگ نفور ہیں۔ شیخ عبدالقادر الصوفی4 نے درست نشاندہی فرمائی ہے:

What was abolished by the Wahhabis was the FIQH which, in reality IS the Shari’at. For the Shari’at is not a module of hadd punishments for crimes, that is only a near peripheral aspect of it. The Shari’at as a living reality is the practice of FIQH. That is the ‘Amal of the Muslim society.5

’’وہابیت نے جس شے پر خطِ تنسیخ پھیرا وہ فقہ ہے جبکہ فقہ ہی درحقیقت شریعت ہے۔ کیونکہ شریعت محض جرائم پر حد لگانے کا کوئی نظام نہیں۔  یہ اس کا ایک مضافاتی پہلو ضرور ہے تاہم ایک زندہ حقیقت کے طور پر  شریعت فقہ ہی  کی عملی تجسیم  کا نام ہے۔ یعنی مسلمانوں کا تعامل۔“6

خارجیتِ جدیدہ  کا ایک اور خاصہ قرآن و سنت کو براہ راست صورت حال سے نتھی کرنا ہے جو دین کو نظری علم کی سطح پر اتار لانے کے مترادف ہے۔یہ وصف بھی انہیں جینیاتی طور پر وہابیت سے دان ہوا ہے اور تخلیص پسندی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ہماری سنی روایت میں صورت حال سے تعامل کے لیے حق کا مؤید علم سامنے لایا جاتا تھا مگر عملِ انسانی کے انکار اور عقل دشمنی کی بدولت وہابیت چونکہ دینی و تہذیبی علوم سے گریز پا رہتی ہے لہذا صورت حال سے تعامل درپیش ہو تو  قرآن و سنت کو براہ راست اس کے رو بہ رو کر  کے انہیں vulnerable  بنا دیتی ہے۔ گزارش ہے کہ صورت حال سے تعامل کے لیے  ایسا نظری علم اور نظریہ ناگزیر  ہوتا ہے جو دین کا جنبہ دار اور معروف علمی شرائط کا پاسدار ہو۔ دین کو ہی نظریہ بنا دیا جائے تو  دین اور عقل دونوں اضمحلال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دریں صورت، دین کی حیثیت یکسر بدل جاتی ہے اور وہ انسانی ساختہ  علم بن جاتا ہے۔ مزید براں، تہذیبی علوم کی ڈھال میں محفوظ و مامون رہنے کی بجائے وہ  براہ راست انکاری علوم  کی تاخت کی زد میں آ جاتا ہے۔ یہ امر غور طلب ہے کہ وہابیت دین کے تائید کنندہ تہذیبی  علوم  کو تو اس بنیاد پر رد کرتی ہے کہ ان میں انسانی عمل کی آمیزش ہے مگر دین کو انسانی تشکیل کی پست سطح پر اتار لانے میں اسے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ دینی و تہذیبی علوم سے نفرت ہی کا ثمرہ ہے کہ وہابیت کسی بھی قسم کی تہذیبی اور سیاسی بصیرت سے کلیتا محروم ہے۔ حرمِ مکی پر وہابی شورہ پشتوں کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ عبدالقادر الصوفی فرماتے ہیں:

The attack on the Haram in Makkah was a devastating exposure of a movement that had NO, simply NO, political understanding. Why? Because they had abolished the Fiqh.7

“حرمِ مکی پر حملہ  دراصل اس تحریک (وہابی تحریک) کا تباہ کن اظہار ہے جو شمہ بھر سیاسی بصیرت سے بھی عاری ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے فقہ کا خون کر دیاہے۔”

ٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سرنوشت کو

غور کیا جائے تو وہابیت کے تمام تر  ذیلی نظریات میں عملِ انسانی کا انکار سرایت کیے ہوئے ہے۔ تخلیص پسندی کو ہی لے لیجئے۔ روایت کو اس بنا پر ٹھکرا دیا جاتا ہے کہ اس میں فقہا کی آرا کا دخل ہے۔علاوہ ازیں، شریعت کو قانونِ ریاست بنا کر عملِ انسانی کو میکانکی بنانا ہو یا تنوع سے بیزار ہو کر فقہی روایت کا استرداد، عقیدے کو نظریہ بنا کر عقیدے اور عمل کی مغایرت کا انکار ہو یا اہل سنت کے ثقافتی معمولات سے ابا کرنا؛ ہر موقف کی تہہ میں  انسانی عمل بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ انسان کا انکار پنہاں ہے۔ تکفیرِ مسلم، نراجیت، دہشت گردی و تخریب کاری غرض ہر گھناؤنا مظہر وہابیت کی انسان دشمنی کا پرتوہے۔ ہر بھیانکتا میں یہی زہر گھُلا ہوا ہے۔وہابی تعمیر میں مضمر یہی خرابی اس کے تمام تر  ذیلی نظریات کی جان ہے۔ عرض ہے کہ  مسلم تہذیب کی علمی،فقہی  اور ثقافتی أوضاع و اعمال کا انکار دراصل اسلام کی قوتِ تہذیب سازی کا انکار ہے؛ اور  یہ انکار  بھی عملِ انسانی کے انکار ہی کی فرع ہے کیونکہ تہذیب انسانی عمل کا ہی ثمر ہوتی ہے۔

اجمالاً‌ عرض ہے کہ تصورِ حق اور اس سے نتھی اقدار جب انسانی منشور (prism) سے گزرتے ہیں تو معروض میں تہذیب برپا ہوتی ہے ۔ معلوم ہوا کہ تہذیب تصورِ حق اور اقدار  کے معروض میں ظہور  کا نام ہے اور انسانی عمل کی شمولیت اس ظہور کی لازمی شرط ہے۔اس حوالے سے ہمارے ہاں دو قسم کے گمراہ کن رویے ظاہر ہوئے ہیں۔ ایک وہ جو مظاہرِ تہذیب کو ہی اصل جان کر  انہیں حق و ہدایت سے کاٹ دیتا ہے  اور دوسرا وہ جو ظہورِ حق کے انسانی لازمےکو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔  یہ دونوں رویے مذہب و حق دشمن ہیں مگر بدقسمتی سے دوسرا مذہب ہی کے غلاف میں ملفوف ہے۔ یہی دوسرا رویہ وہابیت کے عنوان سے معنون ہے۔ حق اور اقدار کو مظاہر سے عاری باور کروانا ان کی تہذیبی، سماجی، اخلاقی اور جمالیاتی تاثیر کا انکار ہے۔ یوں نہ تو حق کی بنیاد پر تہذیب سازی ممکن رہتی ہے نہ اقدار کی بنیاد پر مردم سازی کا کوئی امکان بچتا ہے۔حق اور اقدار جو آفاقی، ابدی، لازمانی اور ماورائی ہوتے ہیں اپنی تنزیہہ برقرار رکھتے ہوئے زمان و مکان اور تاریخ میں ہی اپنا اظہار کرتے ہیں۔ زمانی و مکانی مظاہر سے تہی کر دیا جائے تو وہ  محض ایک مجرد تصور بن جاتے ہیں اور عملا معدوم ہونے لگتے ہیں۔ یہی صورت حال تہذیبی انقطاع سے عبارت ہے۔ وہابیت نہ تو تاریخ اور زمانے کا کوئی شعور رکھتی ہے نہ ہی لازمان و ابدیت سے بہرہ ور ہے چہ جائیکہ ان دونوں کے باہمی ربط سے آگاہ ہو۔ اسی باعث وہ حق کے تاریخی مظاہر کا تو انکار کرتی ہے مگر خود حق کی نظریہ سازی کر کے اسے مکمل طور پر تاریخی و زمانی بنانے سے نہیں چوکتی۔

تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت

 مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی اسلام  اور وہابیت کے تصورِ دین و شریعت  کی کچھ مزید پرتیں کھولی جائیں تا کہ نوخارجی جتھوں کے ’’نفاذ شریعت“ کی بلی بتمامہ تھیلے سے باہر آ جائے۔ نظریۂ توحید اور طاقت کے ساتھ اس کی گرویدگی نے یہاں بھی اپنا رنگ دکھایا ہے۔ اس نظریے کی وساطت سے دین جب سارا کا سارا سیاسی ہوا تو شریعت بھی محض ’’قانونی نفاذ“ کی شے بن کر رہ گئی۔ اس مقصد کی برآری کے لیے پہلے شریعت کو روایت سے تہی کیا گیا پھر اس کی ضابطہ بندی بروئے کار آئی۔ یوں اس عملِ قطع و برید سے گزار کر شریعت کے نفاذ کا نعرہ بلند کیا گیا۔ غور کیا جائے تو’’نفاذِ شریعت“ کا نعرہ جدید سیاسی طاقت کی ہوسِ دسترس ہی کی صدائے بازگشت ہے۔

جیسا کہ پیش ازیں مذکور ہوا، اسلام انسانی معاشرت اور نج کو قانون کی براہ راست دست رس سے آزاد رکھتا ہے اور ان کی تقویم بذریعہ اقدار کرتا ہے۔  اس کے برعکس جدید طاقتی ساخت معاشرت اور نج کو بھی ’’قانونی نفاذ“ کے دائرۂ اثر میں لانا چاہتی ہے، یعنی براہ  راست اپنی دست رس اور جکڑ میں رکھنا چاہتی ہے۔  جدید ہیئتِ طاقت کا أصول گرفت اور جکڑ بندی  ہے، اسی لیے یہ اپنی نہاد میں لا اخلاقی ہے۔ گرفت اور جکڑ بندی کی ہوس کا محرک یہ  خواہش ہے کہ انسان اور انسانی معاشروں کی آزادانہ حیثیت، خود مکتفیت اورخودمختاری کا گلا گھونٹ کر انہیں سرمایہ داریت پر استوار عالمگیر سسٹم میں پرو دیا جائے۔ سرمایہ داریت اور جدید ہیئتِ طاقت کی یہ خواہش بڑی حد تک پوری ہو چکی ہے اور آزاد ارادے سے عاری ایسے میکانکی انسانوں کی کھیپ ہمارے گرد و پیش میں موجود ہے جوسسٹم کے کارآمد  کل پرزے (Human Resource) ہیں۔ یہ  لا اخلاقی انسان جدید ریاست کے  بے تحاشا نفاذِ قانون ہی کی ثمر آوری ہے۔وہابیت اور سیاسی اسلام از آغاز تا امروز اس کارِ شر میں جدیدیت کے معاون ہیں۔

گزارش ہے کہ  اکثر و بیشترانسانی افعال  اخلاق و قدر أساس ہوتے ہیں مگر  جدید ہیئتِ طاقت اپنی لا اخلاقی  (Amoral)   نہاد  کی بنا پر انہیں  قانون أساس بنانے میں جتی ہوئی ہے۔ سیاسی اسلام  جب اسلام کے نفاذ کی بات کرتا ہے تو درحقیقت وہ بھی  دین کو مجموعۂِ اقدار کی بجائے ایک ایسا ریاستی قانون بنا دینے کے لیے سلسلہ جُنباں ہوتاہے جو ارادی فعل کے بجائے میکانکی فعل میں ظہور کرے۔ واضح رہے کہ مبنی بر قانون افعال میکانکی ہوتے ہیں جبکہ مبنی بر قدر فعل انسانی ارادے  کی آزادانہ فعلیت سے پھوٹتا ہے۔ اسلام کو محض قانونی نفاذ کی شے سمجھنا دراصل انسان کو آزاد ارادے سے عاری ایک مشینی وجود، انسانی عمل کو میکانکی اور شریعت کو مشین چلانے کا ایک مینول یا کوڈ و ضابطہ بنا دینے کے مترادف ہے۔مزید براں، شریعت کو ریاستی قانون بنا کر بالجبر نافذ کرنا اس کے قدری پہلو کو  بھی گہنا دیتا ہے۔ قدر اور قانون کے مابین ایک اور ما بہ الامتیاز  یہ ہے کہ قدر ایک گونہ جمالیاتی اساس بھی رکھتی ہے جبکہ قانون سر تا پا جبر ہی جبر ہے۔ جمالیات حق کو ایسا حضور عطا کرتی ہے کہ بندگی وجودی حال بن جاتی ہے۔ یوں دین پر عمل مجبوری کے بجائے ایک خوشگوار تجربہ بن جاتا ہے۔حکمِ شرع کی بجا آوری جبر کے تحت نہیں ہوتی، اس میں لبھاؤ  پیدا ہو جاتا ہے۔جمالیاتی شعور انفس میں حق کی دروں کاری کرتاہے اور اخلاقی و قدری فعل اسی دروں کاری کا خارجی اظہار ہوتا ہے۔

اس کے برعکس قانون و ضابطہ چونکہ کسی بھی قسم کی جمالیاتی اساس سے عاری ہوتا ہے لہذا انفس میں حق کا حضور نہیں ہونے پاتا۔ یوں  نہ تو بندگی وجودی حال بن پاتی ہے نہ ہی اخلاقی فعل وجود میں آتا ہے بلکہ ’’ضابطے“ کا ایک فعل ہوتا ہے جسے’’بیرونی“ دباؤ کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہوتا ہے۔ شریعت کو ضابطہ و قانون بنا کر قدری جہت سے محروم کر دینا اسے بے رس اور غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔ اسلام کو ’’ضابطۂ حیات“  قرار دینے کی معنویت  شریعت اور عملِ انسانی کی اسی قلبِ ماہیت میں پوشیدہ ہے۔ جدید خارجی جتھوں کا نفاذ شریعت بھی دراصل اسی ’’ضابطہ بند قانونی شریعت“ کا نفاذ ہے۔  یہیں سے اس چیرہ دستی کی بھی ابتدا ہوتی ہے جو عوام کو دین و شریعت سے برگشتہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔

سیاسی اسلام کا جدید ریاست سے نفاذ شریعت کا مطالبہ دراصل اس ناسمجھی سے پھوٹا ہے کہ  جملہ شرعی احکام بزورِ طاقت “نافذ“ ہونے کی شے ہیں۔نفاذ کی دیر ہے کہ سارے دلِدَّر مٹ جائیں گے اور خلیل خاں پھر سے فاختہ اڑاتے پھریں گے۔ شریعت کا یہ غلط تصور استعماری جدیدیت سے مستعار ہے۔ اس کے علی الرغم ما قبل جدید دور میں  حکمِ شرع کی بجا آوری بزورِ طاقت نہیں،نفسی اور سماجی عوامل کی کارفرمائی سے ہوتی تھی۔ اقدار کی بنیاد پر قائم سماجی ڈھانچا،اس کے تسلیم کردہ معیاراتِ  تحسین و تقبیح اور ان کی بنیاد پر برپا ہونے والا باہمی معاشرتی تفاعل تھا جو شریعت کو معاشرے کی زندہ حقیقت بناتا تھا۔ اقدار پر استوار اخلاقی ماحول  (Milieu) میں فرد کی پرداخت و تکییف عمل میں آتی تھی اور یہی افراد اس اخلاقی ماحول اور سماجی ڈھانچے کی صورت گری کرتے تھے۔

فرد اور سماج کا  یہ دو طرفہ تعلق ہی تھا  جو شریعت کو جیتا جاگتا وجود بنا دیتا تھا۔ یوں انفس و آفاق دونوں قدر سے معمور رہتے تھے۔اس ماحول  کا قیام  بڑی حد تک تصوف کے ادارے کا رہینِ منت تھا جو سماج سے منفک نہیں بلکہ اسی کا حصہ تھا۔ سماج سے منفک اور قدری لبھاؤ سے عاری ’’ریاستی قانون“  قطعا اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ گزارش ہے کہ’’نفاذ شریعت“ کے تصور ساز ریاست کے بارے میں بھی چند در چند غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ سیاسی اسلام کے متوالے شریعت کو ریاست کی تحویل میں دینے کے لیے بے کل  ہیں حالانکہ ہماری تہذیب میں فرماں روا شریعت کے رو بہ رو سرنگوں ہوتا تھا۔ بہر کیف دور جدید کے ان  فساد پرور نوخارجی جتھوں کو جہاں بھی سُلطہ و اقتدار حاصل ہوا انہوں نے شریعت کو بطور ریاستی قانون ہی نافذ کرنے کی سعی کی ہے اور نتیجتاً‌ اسے بھیانک بنا کر پیش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

کرتے ہیں شب و روز مسلمانوں کی تکفیر

شریعت کی گھناؤنی تصویر کشی میں تکفیرِ ناحق کا بھی بے پایاں کردار رہا ہے۔ تکفیرِ ناحق اہلِ بدعت  بالخصوص خوارج کا شیوہ رہا ہے جو عموماً‌ عقیدے اور عمل کے امتیاز کو ختم کر کے عمل کو عقیدے میں مدغم کر دینے سے جنم لیتا ہے۔ یعنی یہ ناسور بھی عملِ انسانی کے انکار کا آفریدہ ہے۔ اہلِ سنت نے تکفیر کا دروازہ  کلیتا مسدودنہیں کیا مگر اسےاپنا شعار بھی نہیں بنایا۔نوخارجیت کی کشتِ سرشت میں تکفیر ناحق کا تخم بونے میں ان کے مخصوص تصورِ توحید کا بھی اہم کردار ہے۔ یعنی اس پردۂ زنگاری میں بھی وہی معشوق چھپی بیٹھی ہے۔گزارش ہے کہ عقیدہ مرکزِ علم ہوتا ہے جبکہ نظریہ لائحۂ عمل ہوتا ہے۔ عقیدہ اقلیم شعور کی تنظیم کرتا ہے جبکہ نظریہ اقلیم عمل کا ناظم ہوتا ہے۔ عقیدے کو نظریہ بنا دیا جائے تو وہ براہ راست عمل سے متعلق ہو جاتا ہے۔یوں عملِ انسانی کی جداگانہ حیثیت فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے اور وہ عقیدے میں ہی منضم ہو جاتا ہے۔نتیجتاً‌ تکفیر جو عقیدہ أساس ہوتی ہے اعمال کو بھی شامل ہو جاتی ہے۔گزارش ہے کہ وہابیت روزِ اول سے ہی اپنی فتنہ سامانیوں اور مفسدہ پردازیوں سمیت ایک دروں بیں  (Introverted)تحریک رہی ہے؛ چنانچہ یہ مسلمانوں کے اندر ہی ایک ’’غیر“ (other) تخلیق کر کے اس سے نبرد آزما رہتی ہے۔ تخلیقِ غیر کا یہ عمل بذریعہ تکفیر انجام پاتا ہے۔

 وہابیت کی دروں بینی بھی دراصل نظریۂ توحید کی وساطت سے طاقت  کے جدید ڈھانچوں کے ساتھ اس کے گہرے تال میل کی بدولت ہے۔ جیسا کہ پیش ازیں مرقوم ہوا جدیدیت اور اس کی کوکھ کے جنم لینے والی  ہیئتِ طاقت کی طرح وہابیت بھی اپنی نہاد میں یکسانیت پسند ہے، مذہبی و تہذیبی تنوع اسے کَھلتا ہے لہذا یہ بھی ازحد Exclusive  ہے، اور اس کے ہاں یہ Exclusivity   تکفیر کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت ہو یا سرحدی مسلمانوں سے پنجہ آزمائی ہر دو مواقع پر وہابیت کے ہاتھ میں تکفیر کی تیغ بے نیام رہی ہے۔ آج بھی مسلمان اس خوں آشام شمشیرِ تکفیر کی زد میں ہیں۔اپنے جنم دن سے ہی وہابیت مسلمانوں سے برسرپیکار رہی ہے۔استعمار  کے قدوم میمنت لزوم کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کا جنم ہوا اور  یہ جہالت کی دیدہ دلیری سے’’اصلاح“ اور ’’جہاد “ کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں سے مصروفِ پیکار ہو گئی۔ یعنی جہاد جو اصلاً‌ باطل سے نبرد آزمائی کا نام ہے، مسلمانوں کے خلاف بروئے کار آنے لگا۔

معلوم ہوتا ہے کہ وہابیت کا تاریخی اعتبار سے بھی استعماری جدیدیت سے دیرینہ تعلق ہے8۔اس کا تکفیری رویہ استعمار کی جانب سے مقامی باشندوں کی بابت  اپنائے گئے تحقیر آمیز  رویے کا تسلسل ہے۔ استعمار ہمیں غیر مہذب جتا کر ’’مہذب“ بنانے کے جتن کرتا تھا اور وہابیت مشرک بتا کر ّّموحد“ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ  عام مسلمان کو نفرت و حقارت کے عدسے سے دیکھتے ہیں اور اسے نَکُّو بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ سیاسی اسلام سے باقاعدہ ملاپ کے بعد وہابیت کی تکفیری حدت حد سے سوا ہو گئی ہے۔  یہی فزوں تر حدت ان نوخارجی دہشت گرد مظاہر میں ظاہر ہوئی ہے جنہیں ہم داعش اور القاعدہ وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں۔ عمل کو تو پہلے ہی عقیدے کی طرح کفر و اسلام کی تقسیم میں دائر کیا جا چکا تھا مگر اب اس کا دائرہ مزید وسعت پذیر ہے۔ پہلے پہل صرف اولیا کرام سے توسل وغیرہ کو شرک باور کروایا جاتا تھا پر اب نوبت بایں جا رسید کہ بیلٹ بکس میں ووٹ کی پرچی ڈالنا بھی ”شرکیہ فعل“ شمار ہوتا ہے۔

تا ثریا می رود دیوار کج

 یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تخریب کاروں کو مسلم نوجوانوں میں، معمولی ہی سہی مگرمقبولیت  حاصل ضرور ہوئی ہے۔ استعمار کے ہاتھوں سیاسی شکست سے پیدا شدہ لاچارگی، بے بسی اور احساسِ محرومی اس پذیرائی کے جملہ اسباب میں سے ایک ہے۔ یہی احساس محرومی جھنجھلاہٹ میں ڈھلااور بعد ازاں ردعمل کی نفسیات پر منتج ہوا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مظہر استعمار  کو کماھی پہچاننے  اور اس کے بالمقابل مزاحمت کھڑی کرنے کے لیے اپنا نظری علم وجود میں لایا جاتالیکن ترکِ جدیدیت ، تحصیل جدیدیت اور ردعمل کے مظاہر پنپنے لگے۔ اول الذکر مکمل راہبانہ جبکہ دوسرے دونوں انفعالی ہونے  کی بنا پر کلیتا استعماری ترجیحات پر ڈھلے ہوئے ہیں۔ ردعمل نام کو جدیدت کے خلاف ہے مگر حقیقتا' اپنی ہی روایتی علمی و سماجی اوضاع کے خلاف بروئے کار آیا ہے۔  یہی ردِ عمل پر مبنی شکست خوردہ ذہنیت تھی جو بڑی تعداد میں حشر ساماں نراجی تحریکوں کا ایندھن بنی۔ احساسِ شکست کو مٹانے بلکہ جھٹلانے کی بے تابی ہمیں ہر اس نظریے پہ لپکنے کو مجبور کر دیتی ہے جو اس تکلیف دہ احساس سے خلاصی دلانے کا دعوی رکھتا ہو۔ اس صورت حال میں ’’خالص اسلام“ اور ’’سیاسی اسلام“ سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی نظریہ پر کشش ہو سکتا ہے؟ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں!

غور کیا جائے توتخریب کاروں اور نراجیوں کے بہکاوے میں آنے والے نوجوان ایک عجب سی رومانیت کا شکار ہیں۔ سیاسی اسلام کی طرف نوجوانوں کے میلان کا ایک بڑا راز یہی رومان پرستی ہے۔ جس کا حقیقت سے تعلق تو منقطع ہے ہی، دین سے بھی اسے کچھ سروکار نہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیر رک کر سیاسی اسلام کی رومان پرور فطرت کا جائزہ لیا جائے۔ گزارش ہے کہ  تاریخی طور پر جدیدیت  نے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی پھیلاؤ کے لیے دو قسم کے طرزِ عمل اختیار کیے ہیں: اصلاحی طرزِ عمل اور انقلابی طرزِ عمل۔ اصلاحی طرزِ عمل بتدریج تبدیلی کی راہ ہموار کرتا ہے جب کہ انقلاب یہی تبدیلی یکمشت حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ وہابیت بھی عملی میدان میں انہی دو طریق ہائے عمل کو بروئے کار لاتی رہی ہے۔ اول اول اس نے  ’’تحریکِ اصلاح“ کا علم بلند کیا مگر جب   بیل منڈھے چڑھتی نظر نہ آئی تو وہی تحریکِ اصلاح ’’تحریکِ جہاد“ میں منقلب ہو گئی، جس میں جہاد کی معنویت وہی ہے جو انقلاب کی ہوتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ  جہاد خارج بینی پر مبنی ہوتا ہے؛ یعنی باطل کے خلاف عمل میں آتا ہے جب کہ انقلاب دروں بینی کا نتیجہ ہوتا ہے؛ یعنی اپنے ہی روایتی سماجی، سیاسی و معاشی  ڈھانچوں کو تلپٹ کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ تحریکِ جہاد اصلاً‌ تحریکِ انقلاب تھی۔

انقلاب کی نسبت یہ امر پیشِ نگاہ رہنا ضروری  ہے کہ اس کی آبیاری رومانیت سے ہوتی ہے۔ مغرب میں رومانیت عقل کی خود سری کا ردعمل تھا جبکہ وہابی سیاسی اسلام کے ہاں عقیدے کو نظریہ اور  مذہب کو سیاسی بنا دینے کا نتیجہ ہے۔ مذہب سیاست اور نظریے کی بھینٹ چڑھ جائے تو اس کی فراہم کردہ تہذیبی اقدار9 کی معنوی جہتوں کا کام رومانوی آدرشوں سے نکالا جاتا ہے۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اقدار کی مذہبی اور  تہذیبی  معنویت فنا کر کے انہیں رومانوی آدرشوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ، سیاسی اسلام میں جہاد، خلافت وغیرہ کا تصور مذہب کی فراہم کردہ تہذیبی قدر کے طور پر نہیں بلکہ ایک غیر حقیقی رومانوی آدرش کی حیثیت سے ہے۔ رومانوی مثال پرستی کے معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث ہی سیاسی اسلام کے تصور سازوں کو اسلامی تاریخ کے اموی، عباسی اور عثمانی ادوار خلافت و سلطنت محض ’’غیر اسلامی ملوکیت“ نظر آتے ہیں۔ اس میں اچنبھے کی بات نہیں، اقدار کی تہذیبی اور مذہبی معنویت عنقا ہو جائے تو مسلم تہذیب و تاریخ ’’غیر اسلامی“ ہی نظر آتے ہیں۔ ’’خالص اسلام“ کے تصور کو زیرِ غور لایا جائے تو اس کا سوتا بھی دراصل رومانوی مثالیت پسندی سے  ہی پھوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اسلام کے تناظر میں بذریعہ روایت منتقل ہونے والا اسلام ’’غیر اسلامی“ نظر آنے لگتا ہے۔ خیال نشیں رہے کہ رومانیت محض ایک فریبِ خیال ہے۔ اس کا زائیدہ ’’خالص اسلام“ فقط ایک طلسم ِ دین رباہے اور اس کا آفریدہ تصورِخلافت محض ایک  یوٹوپیائی سراب ہے۔  جبھی تو یہ دونوں آج تک خارج میں متحقق نہیں ہو پائے۔ جو ہوا وہ دین خالص اور خلافت نہیں انتشارِ خالص اور نراجِ محض ہے، یعنی ہر کہ و مہ کی اپنی اپنی تعبیرِ دین اور ہر ہما شما کی اپنی اپنی خلافت۔

 گزارش ہے کہ رومانیت کی تان نابودیت پر ٹوٹتی ہے۔رومان کا فسوں ٹوٹتے ہی رومان پرست نابودیت کی تحویل میں چلا جاتا ہے۔  بالفاظ دیگر، رومانیت کی طلسم شکنی (Disenchantment) نابودیت کا باعث بنتی ہے۔  نابودیت کے حوالے سے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نابودیت مذہب کی نظریہ کاری کا منطقی نتیجہ ہے۔ گو استعمار کے ہاتھوں ہزیمت سے پیدا ہونے والی یاس آمیز کیفیت بھی  نابودیت کے پنپنے میں معاون ہوئی ہے؛ تاہم اس حوالے سے اصل الاصول یہی ہے کہ  مذہب کو نظریہ بنا دیا جائے یا نظریے کو مذہب، بہر تقدیر نابودیت کا ظہور لازم ہے؛ کیونکہ بہرصورت مذہب کا خون ہوتا ہے۔ مذہب معنی اور امید کا سرچشمہ ہے اور انہیں دو کے خاتمے کا نام نابودیت ہے۔ مغرب نے نظریے کو مذہب کی جگہ پر متمکن کیا تو خود کو ہمہ جہتی نابودیت میں گھرا ہوا پایا۔وہابیت نے مذہب کو نظریے کی پست سطح پر لا پھینکا تو اسی شامت سے دوچار ہوئی۔دریں اثنا دونوں نے مسمار ہوتے معنی اور امید کو رومانیت کے پائے چوبیں سے سہارا دینا چاہا مگر بے سود۔مختصر یہ کہ مذہب کو سیاسیا کر نفسی اور سماجی دوائر میں اس کے کردار کو منہا کر  دیا جائے تو  وہ مرنے مارنے کا ہتھیار بن جاتا ہے۔

گزارش ہے کہ نابودیت دہشت گردی، نراجیت اور تخریب کاری کی ماں ہے اورخودکش حملے اس  کا منتہائی اظہار ہیں۔ گھر،  کنبہ، خاندان، برادری،  دوستی، معاشرت اور رشتہ داری سب اخلاقی اقدار پر استوار ہوتے ہیں اور  مذہب سے معنویت کشید کرتے ہیں۔ جب مذہب سیاست کی بلی چڑھ جائے اورسماجی جہت سے محروم کر دیا جائے تو سماج قدری بحران (Anomie (کا شکار ہو جاتا ہے اور سبھی اوضاعِ تعلق بے معنی نظر آنے لگتے ہیں۔ایسی  کٹھن صورت حال میں رومان پرست نوجوان کے لیے کنجِ نابودیت ہی بچتا ہے کہ جس میں وہ پناہ لے اور  مرنے  مارنے کا استعارہ بن جائے۔’’مارو یا مر جاؤ“ کی ہیجانی کیفیت جب عَبائے مذہب اوڑھتی ہے تو ’’شریعت یا شہادت“ کا روپ دھارتی ہے۔ یوں بھی مذہب  کا روغن چپڑا ہو تو کڑوی گولی نگلنا سہل ہو جاتا ہے۔ شیخ عبدالقادر الصوفی یوں کشفِ حقیقت کرتے ہیں:

The ethos of suicide-bombing – its leaders, its military wing, its helpless victim youths – it is all an antithesis of Islam, an anti-Islam. Full of hate. Full of fear. Full of menace and threats. Devoid of hope. Devoid of Tawakkul. Devoid of Iman. Devoid of ‘Ibada. Devoid of men. No Jama’at. No Amir. Nothing! Nihilism – the bastard child of capitalism.10

’’خودکش حملہ آوری  کا مزاج – اس کے  حامل  قائدین، عسکری وِنگ، اس  مزاج کے صیدِ زبوں بنتے نوجوان – سبھی اسلام کی ضد  ہیں، نقیضِ اسلام ہیں۔ نفرت سے لبالب، خوف سے مملو، تخویف اور دہشت  سے بھرے ہوئے۔ امید سے خالی، توکل سے عاری، ایمان سے کورے، عبودیت سے محروم، رجال سے تہی داماں۔ نہ کوئی جماعت ہے نہ امیر۔ کچھ بھی نہیں! بس نابودیت – سرمایہ داریت کا ناجائز بچہ۔“

نابودیت کو جنم دینے میں سرمایہ داریت کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ داریت جدیدیت کے پھیلاؤ کی معاشی قوت ہے۔ روایتی سماجی ڈھانچے جو اقدار پر بنا کرتے تھے، ان کی کایا کلپ کرنے میں سرمایہ داریت کے معاشی مؤثرات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔  ان کے زیرِ اثر اقدار کے بندھن میں بندھے سماجی تعلقات یکا یک معاشی مفاد اور ضرورت پر منتقل ہونے لگے اور بذریعہ قانون regulate ہونے لگے۔ نتیجتاً‌ معاشرے  قدری خلا سے دوچار ہوتے چلے گئے اور انسان بے معنویت اور نابودیت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔  اس تحول سے صرف مغربی معاشرے ہی نہیں مسلم معاشرے بھی دوچار ہوئے ہیں اور کچھ ہنوز عبوری مرحلے میں ہیں۔ مسلم دنیا میں برپا ہونے والے اس اقدار کش طرزِ عمل میں  وہابیانہ تصورِ دین جدیدیت اور سرمایہ داری کا ہمنوا رہا ہے۔ سرمایہ داری کے پہلو بہ پہلو تہذیبِ مغرب کی دیگر اوضاع نے بھی نابودی رویے کی آبیاری میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

اس سلسلے میں جدید تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ  یہ امر  کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گرد جتھوں کا ایندھن بننے والوں میں بڑی تعداد جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔اس کی وجہ بھی جدید تعلیم سے نمو پانے والے  قدری بحران  Anomie) (اور اس سے پھوٹنے والی نابودیت ہے۔جدید تعلیم اپنی ساخت اور محتویٰ ہر دو اعتبار سے سماجی و اخلاقی اقدارکے  اضمحلال کا باعث ہوتی ہے۔یہی اضمحلال قدری بحران  پرمنتج ہو کر نابودیت میں ڈھلتا ہے۔قدری بحران کے نخچیروں میں ’’مذہبی“اور غیرمذہبی کی کوئی تفریق نہیں، کیونکہ انفس سےقدر عنقا ہو جاتی ہےاور مذہب محض ’’ضابطے“ کا رہ جاتا ہے۔قدری بحران کا شکار (Anomic (نوجوان جب معاشرے میں کسی بھی طرح موزوں نہیں ہو پاتا تو نابودیت کی اور لپکتا ہے۔  شیخ عبدالقادر الصوفی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

Terrorists are a mixed bunch of social misfits and outcasts, adhering to a philosophy of nihilism. For this reason, neither the lives of their victims or themselves really matter, and the only transcendence is in the nihilistic act of annihilation.11

’’ دہشت گرد دراصل سماج کے دھتکارے ہوئے اور معاشرے کے نااہل افراد کا مجموعہ ہیں جو فلسفۂ نابودیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر میں نہ اپنی زندگیوں کی کوئی قدر ہے نہ ان کا نشانہ بننے والوں کی زندگی ان کے ہاں کوئی قیمت رکھتی ہے۔  اس صورت حال سے چھٹکارا وہ نابودیت پر مبنی تباہ کن فعل میں دیکھتے ہیں۔“

ماحصل یہ کہ وہابیت اور سیاسی اسلام نے نظریۂ توحید اور اس میں مضمر انکارِ عملِ  کا جو درخت بویا تھا تخریب کار نابودیت اسی کا زہریلا پھل ہے۔ خشت اول میں کجی ہو تو اس پر اٹھائی گئی عمارت کیونکر سیدھی ہو گی۔اور جب عمارت میں ٹیڑھ ہو تو پھر  بھلے وہ کتنی ہی فلک بوس کیوں نہ ہو، مآل کار زمین بوس ہو کے رہتی ہے۔ تعمیر میں کجی نابودیت کو مستلزم ہے۔

ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

بات کو سمیٹتے ہوئے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ تحریر ہذا وطنِ عزیز میں جاری  فرقہ وارانہ کفش آزمائی کا تسلسل نہیں ہے۔ اس کا تناظر قطعاً‌ فرقہ پرستانہ نہیں، نہ ہی کسی طبقے کی ابلیس کاری (Demonisation )  مقصودہے۔  فقط عالمِ اسلام کو درپیش  تباہ کن صورت حال کا تجزیہ و تحلیل مطمح نظر ہے۔اور دیانت دارانہ تجزیے میں مغالطہ آفریں خوش اندیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ نیز صورت حال کی سنگینی بھی مقتضی ہے کہ تجزیے کو بے لاگ رکھا جائے۔گو کہ پاکستان کی حد تک عملی سطح پر ہمارے دفاعی اداروں نے اپنی بے پناہ قابلیت کی بدولت اس گھمبیر صورت حال پر خاصی حد تک قابو پا لیا ہے جو بلاشبہ لائقِ تحسین ہے تاہم اس کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے فکری میدان میں بھی اس آشوب ناک مظہر کو دھول چٹوانا ضروری ہے۔ تحریرِ ہذا اسی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بروئے کار لائی گئی ایک ادنی سی کاوش ہے۔ یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ یہ تحریر اس قدر مبسوط نہیں ہے کہ موضوع کی کفایت کر پائے، بلکہ سچ پوچھیں تو شاید اس کے استقصا کے لیے کتاب بھی ناکافی ہو۔بنا بریں، ممکن ہےکچھ رخنے رہ گئے ہوں۔ لامحالہ اس کا ایک سبب عجزِ اظہار اور موضوع کی پیچیدگی بھی ہے۔ قارئین سے امید ہے کہ درگزر فرمائیں گے۔

یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ یہ تحریر کسی نئے گفتمان کو تشکیل نہیں دیتی بلکہ  جدیدیت اور  استعمار  سے نبرد آزما پہلے سے موجود گفتمان ہی کی توسیع ہے۔ ایسے گفتمان کا پنپنا ہمارے سماج کے لیے ازبس ضروری ہے جو محض دہشت گردی کے رد پر اکتفا نہ کرے بلکہ ام الخبائث استعماری جدیدیت کے فکری و ذہنی تسلط کے خلاف مزاحمت کی راہ بھی ہموار کرے۔ کیوں کہ ہمارے سیاسی، سماجی  اور معاشی پس منظر میں کرنے کا کام استعماریت و جدیدیت سے  ثقہ نظری بنیادوں پر نبردآزمائی ہی ہے، باقی سب اسی کے ذیلی شعبے ہیں۔ اس ضمن میں پہلا کام یہ ہے کہ اہل سنت کی کلامی اور فقہی روایت سے کسبِ فیض اور اخذِ بصیرت کرتے ہوئے اسی کی طرز پر ثقہ علم کی بنیاد رکھی جائے جو جدیدیت و استعماریت سے فراست پر مبنی مزاحمانہ تعامل کے لیے خطوط وضع کرے۔ اس مزاحمانہ تعامل یا نبرد آزمائی کا مبنیٰ رومانیت کی بجائے قابلِ عمل لائحۂ عمل کو بنایا جائے۔

گزارش ہے کہ جدیدیت سے تعامل کی ضرورت مسلم ہے، مزاحمت سے مراد  تیاگ،تخریب یا اسلام کی پیوندکاری نہیں بلکہ جدید استعماری اوضاع کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے جدیدیت کی ضرر رسانیوں کی راہ میں مزاحم ہونا، یعنی ان  اوضاع کے دینی و تہذیبی اعتبار سے مضر اثرات کو resist کرنا اور  پہلو بہ پہلو ان کی قلبِ ماہیت کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔ مزاحمت کے  اول الذکر پہلو کی برآری کے لیے عملِ صالح کی قوت جبکہ مؤخر الذکر کے لیے اعلی سطحی ذہانت اور گہری بصیرت درکار ہے۔ بیک جنش ایک ہی ہلے میں سب کچھ تلپٹ کر دینے کی رومانوی اپروچ اور جدید اوضاع کی تہہ میں کارفرما تصورِ حقیقت سے کو کھرچے بغیر، ان کی وجودیات کی تقلیب کیے بغیر محض پیوند کاری سے کام نکالنے کی ہزیمانہ سوچ سے الگ رہ کر استعماریت اور جدیدیت کو  یوں کھرچنا مقصود ہے کہ مسلم طاقت کے مراکز بھی کسی داخلی انتشار کا شکار نہ ہوں اور استعماری اوضاع کی  استعماریت بھی  erode  ہوتی جائے۔ یعنی سانپ بھی مرے اور لاٹھی نہ ٹوٹے۔

سنی فقہی روایت کی ایک نمایاں خصوصیت  اس کا حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر  (Pragmatic Approach) ہے۔ صورت حال کا گہرا ادراک کرتے ہوئے زمانی معروض کو لازمانی قدر سے ہم آہنگ بنائے رکھنا اس کا امتیازی وصف ہے۔ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ نظر آتی ہے کہ زمانے کی رَو لازمان سےگہرا ربط رکھتی ہے اور اس باہمی ربط میں مرکزیت اور غلبہ لامحالہ لازمان و ماورا کو حاصل ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو تو بحرانات کی آماج گاہ بن جانا دنیا کی تقدیر ٹھہرتا ہے۔زمان و لازمان، ماورا و تاریخ، ابدیت و تغیر کے اس باہمی ربط کو برقرار رکھنا اور اسی ارتباط سے زمانی معروض کو تہذیبی معنویت بہم کرتے رہنا فقہِ اسلامی کی شان رہی ہے۔جذباتی ردعمل، آدرش پرستی، رومان پروری یا  تیاگ   پر مبنی رویے فقہی بصیرت سے قطعاً‌ لگا نہیں کھاتے۔ آدرش پرستی اور معروض پرستی کی دو انتہاؤں کے بیچ آدرش و معروض کا سنگم بنے رہنا سنی فقہی روایت  کی نمایاں پہچان ہے۔ یہی وہ توازن و اعتدال ہے جو اہل سنت کی علمی روایت کے ماتھے کا جھومر ہے۔

دستیاب معروضی حالات میں  دینی آدرشوں اور لازمانی و ماورائی اقدار  کے لیے  نہ صرف گنجائش بنائے رکھنا بلکہ انہیں غالب رکھتے ہوئے  تاریخی معروض کو ان کے سانچے میں ڈھالتے رہنا اور تہذیب کو مرکزِ تہذیب (ذاتِ رسالت مآب ﷺ  اور آپ کے زمانِ خیریت نشان)  سے  مربوط رکھنا سنی فقہی روایت کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ وہ معروض کو ماورائی حق و قدر سے ایسے جوڑے رکھتی ہے کہ وہ تاریخی و ارضی معروض من وجہ لازمان و ماورا کا آئینہ دار بن جاتا ہے۔نہ تو رومانوی ردعمل کو سندِ جواز دے کر بے دھیانی میں دشمن کی آلہ کار بنتی ہے  اور نہ ہی حاضر و موجود سے ساز باز کر کے اس پر ’’اسلامی “ کا ٹھپا لگاتی ہے۔ قدر اور معروض کے ارتباط پر مبنی فقہی روایت کے اسی طرزِ عمل کے باعث  قدر  تاریخ اورمعاشرے کی زندہ حقیقت بنتی ہے۔ اسی روشِ کار کو حکیم الامت علامہ  محمداقبال اسلام کی خصوصیت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

With Islam the ideal and the real are not two opposing forces which cannot be reconciled…… The life of the ideal consists, not in a total breach with the real…….but in the perpetual perpetual endeavour of the ideal to appropriate the real with a view eventually to absorb it, to convert it into itself.12

’’اسلام میں  آدرش اور معروض دو متحارب قوتیں نہیں ہیں کہ جن میں مفاہمت ممکن نہ ہو۔۔۔۔ آدرش کا زندہ رہنا معروض سے کلی انفصال پر منحصر نہیں ہے۔۔۔۔ بلکہ معروضی دنیا کو اس مطمح نظر کے ساتھ مسخر کر لینے کی مسلسل کاوش پر منحصر ہے کہ مآل کار وہ  آدرش اس دنیا کو خود میں سمو لے، اسے اپنے سانچے ڈھال لے۔“

یہی وہ مزاحمت یا نبرد آزمائی پر مبنی تعامل ہے جو جدیدیت اوراستعمار کی تشکیل کردہ دنیا کے رو بہ رو اپنانا ناگزیر ہے۔ اس مزاحمانہ طرزِ عمل کے اولین نقوش  جیسا کہ بیان ہوا  فقہی روایت سے حاصل ہوتے ہیں۔البتہ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ فقہ و شریعت قضا کے ادارے کے بغیر نہ صرف بے اثر  ہوتی ہے، بسا اوقات آلاتی بھی بن جاتی ہے۔ بنا بریں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ صورت حال سے نمٹنے کا اولین تقاضا نظامِ  قضا  کی بحالی ہے۔  قضا کی  بحالی شریعت کی بالادستی کی ضمانت ہے13۔اس سے نہ صرف ’’فتوی“ مؤثر،معقول اور آزاد14  ہو گا بلکہ جدید ریاست کی وجودیات کی  تقلیب بھی ہو جائے گی۔  ریاستی بند و بست کی یہی قلبِ ماہیت دینی اقدار کے لیے  سکڑتی ہوئی گنجائش کو پھر سے کشادہ کر دینے کی نوید ثابت ہو گی۔ اسی سےنظم اجتماعی میں پائے جانے والے بگاڑ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدام کیا جا سکے گا۔جدید دہشت گردانہ ذہنیت کی بیخ کنی  بھی قضا کی بحالی سے ہی مشروط ہے کیوں کہ  تاریخی طور پر اس ذہنیت کے فروغ کا ایک بڑا محرک قضا کے ادارے کی عدم موجودگی بھی ہے15۔

دوسرا نکتہ جو اس ضمن میں نہایت اہم ہے قضا کی بحالی کے پہلو بہ پہلو تصوف کے ادارے کی فعالیت ہے۔گزارش ہے کہ قدر کی جمالیاتی جہت تصوف پر ہی استوار ہے۔ اسی سے قلب میں حق مستحضر رہتا ہے، نفسِ انسانی دین و شریعت پر ریجھتا ہے اور بندگی وجودی حال بن جاتی ہے۔ جدیدیت کے رو بہ رو مزاحمت کی دو شروط میں سے ایک عملِ صالح کی قوت بھی تصوف کے اسی عملِ مردم سازی پر موقوف ہے۔ مزید براں، انفکاکیت، بے گانگی اور نابودیت جیسے نفسی و وجودی احوال، جو دہشت گردی یا الحاد کی اور لپکنے کا باعث ہوتے ہیں، دراصل قدری بحران کے غماز ہیں۔ تصوف کے روایتی کردار کا احیا ہی اس بحران کا مداوا ہے۔   خیال رہے کہ ضابطہ نما شریعت کے استعماری تصور پر قائم  منفک از سماج جدید اصلاحی تحریکیں اور جماعتیں تصوف کی قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ تصوف اور ان تحریکوں کے مابین چھتیس کا آنکڑہ ہے۔ تصوف ایک سماجی ادارہ ہےجو داخلِ فرد میں حق اور قدر کی دروں کاری کر کے شریعت و فقہ کے سماجی پہلو کو  زندہ رکھتا ہے۔مزید براں، یہ انسانی عمل کو میکانکی بنائے بغیر، ارادے کی آزادانہ فعلیت کو برقرار رکھتے ہوئے انفس میں قدر کو رچاتا اور انہیں شریعت کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ یوں  نہالِ قدر شاداب رہتاہے اور نتیجتاً‌ انسان اپنی آدمیت سے سرشار رہتا ہے۔

اس کے برعکس، جدید اصلاحی تحریکیں سماج سے منقطع وجود کی حامل ہیں۔ جمالیات سے عاری ضابطہ بند شریعت کی مبلغ ہیں۔ باطن سے پہلو تہی کر کے ظاہر پر زور آزماتی ہیں۔ چنانچہ نہ تو حق کی دروں کاری ہوتی ہے نہ ہی اس کا خارجی نتیجہ (مبنی بر قدر معاشرت) سامنے آتا ہے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ فی زمانہ تصوف کے ادارے میں بہت سی خامیاں نہ صرف راہ پا گئی ہیں بلکہ جڑ پکڑ چکی ہیں۔ اور جو ان خامیوں سے مامون ہیں وہ اپنے عصر کے اخلاقی امراض اور نفسی احوال کےراست ادراک سے  ہی قاصر ہیں، الا ما شاء اللہ۔ بہرحال ان سب امور کو نگاہ میں رکھتے ہوئے تصوف کو پھر سے فعال کرنے کی ضرورت ہے تا کہ  ایمان و شریعت سیاسی نظریے اور استعماری ضابطے کی بجائے انفس کا حال بنیں،شریعت کی سماجی و اخلاقی جہت بحال ہو اور میکانکیت اور دہشت گرد نابودیت سے خلاصی کا سامان ہو۔ واللہ المستعان۔


حواشی

  1. تخلیص پسندی وہابیت اور تجدد کا نقطۂِ اتصال ہے۔ ہمارے  ہاں وہابیت اور تجدد کو ایک دوسرے کی نقیض باور کروایا جاتا ہے  حالانکہ یہ دونوں اصولی سطح پر ایک ہیں۔ دونوں ہی دین کو روایتی علوم سے ’’پاک“ کر کے ’’خالص“ بنانا چاہتے ہیں۔ سرسید بجا طور پر اپنے آپ کو نیم چڑھا وہابی کہا کرتے تھے۔
  2.  گو کہ تہذیبی اثرات غیر محسوس طور پر منتقل ہوتے ہیں تاہم اس امر کی تصدیق تاریخی قرائن سے بھی ہوتی ہے کہ وہابیت کا تخلیص پسندانہ رویہ مغرب کی پروٹسٹنٹ/ لوتھرن تحریک سے مستعار ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی وہابی تحریک کو اسلام کا پروٹسٹنٹ فرقہ  قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’شیخ عبدالوہاب نجدی کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ ایک زمانے تک ان کا قیام مشرق و مغرب کی کڑی ملانے والی مشہور تاریخی بندرگاہ بصرہ میں رہا ہے اور بقول ان کے ایک عقیدت مند کے:  بصرہ میں یہ جذبہ (جذبۂ وہابیت) اور تیز ہو گیا“۔ علاوہ ازیں ، پاک و ہند کے تناظر میں، آپ نے ماثر الامراء کے حوالے سے  شاہ جہاں کے دربار میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی سے مناظرے کرنے والے ایک عالم دانشمند خاں سے متعلق آپ نے ماثر الامراء کے حوالے سے درج ذیل حالات نقل کیے ہیں: ’’کہتے ہیں کہ خان صاحب موصوف یعنی دانشمند خاں آخر عمر میں اہل فرنگ کے علم کی طرف مائل ہو گئے تھے اور اہلِ فرنگ کی تحریفات کو دہراتے رہتے تھے۔“ (تذکرۂ شاہ ولی اللہ (مکتبۃ الحسن: لاہور، ۲۰۱۱ء) ص ۱۳، ۱۷)
  3. یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وہابیت نے سنی روایت سے بغاوت کا صور تو اس کے تنوع سے بیزار ہو کر پھونکا تھا لیکن اب خود انتشارِ محض کا عنوان بن گئی ہے۔ ہر محقق کے اپنے اپنے کئی عدد “قطعی” اور “حتمی” مواقف ہیں۔ تنوع اصول پر مبنی ہوتا ہے جبکہ انتشار اصول کے خاتمے سے عبارت ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس سے انکارِ مذہب کے بعد مغرب دوچار ہے۔  عمل میں بھی وہابیت اور مغرب دونوں نراجیت کا شکار ہیں جیسا کہ آئندہ سطور میں اس کا ذکر آئے گا۔  بہرکیف اس مقدمے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مذہب کی حیثیت بدل دی جائے تو فکر وعمل میں انتشار مقدر ہو جاتا ہے۔
  4. شیخ عبدالقادر الصوفی سلسلہ شاذلیہ قادریہ سے منسلک  صاحبِ ارشاد بزرگ  تھے۔ نسلاً یوروپی تھے، سن ۱۹۶۷ء میں مراکش کے شہر فاس میں مشرف با اسلام ہوئے۔ عقیدۃً سنی اور مذہبا مالکی تھے۔ آپ مغربی تہذیب  بالخصوص اس کی معاشی قوت سرمایہ داری کے زبردست ناقد تھے۔ سنی المذہب ہونے اور جدیدیت کے ناقد ہونے کی بنا پر وہابی دہشت گرد گروہ بھی آپ کی تنقیدی تلوار کی زد پر رہتے تھے۔ آپ جدیدیت کے پیدا کردہ تہذیبی ڈھانچوں کے بالمقابل مسلم اوضاعِ تہذیب کے احیا کے لیے سرگرم رہے۔اس حوالے سے آپ نے  اسلام کے معاشی، سیاسی اور سماجی  پہلوؤں پر بہت سی کتب تصنیف کیں، مقالہ جات لکھے اور محاضرات دیے ہیں۔  یکم اگست ۲۰۲۱ء کو جنوبی افریقہ کے شہر رأس امید میں وفات پائی۔ طاب اللہ ثراہ و جعل الجنۃ مثواہ۔
  5. Shaykh Dr. Abdalqadir as-Sufi, The Salafi Anomaly : https://shaykhabdalqadir.com/the-salafi-anomaly
  6. امام العصر علامہ أنور شاہ صاحب کشمیری کا ارشاد فیض بنیاد ہے: “التوارث والتعامل ھو معظم الدین. وقد أری کثیرا منھم یتعبون الأسانید، ویتغافلون عن التعامل.” (الفوائد المنتقاة من أمالي الإمام العصر محمد أنور شاہ، ص ۱۳۱) ترجمہ: توارث و تعامل دین کی چوٹی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ اسناد کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں اور تعامل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
  7. Shaykh Dr. Abdalqadir as-Sufi, The Salafi Anomaly :  https://shaykhabdalqadir.com/the-salafi-anomaly
  8. وہابیت کی استعماری جدیدیت سے فکری نسبتیں تو متن میں بیان کر دی گئی ہیں، رہ گیا تاریخی ناتا تو گزارش ہے کہ ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں کہ جن سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ برصغیر کی تحریک وہابیت کی اٹھان استعماری سرپرستی یا کم ازکم استعماری معاونت کی رہینِ منت تھی۔استعمار وہابیت کے فروغ میں اپنے اقتدار کا دوام دیکھتا تھا۔ استعمار اور وہابیت کے باہمی ربط ضبط کے حوالے سے ایک دلچسپ تاریخی شہادت مولانا جعفر تھانیسری صاحب کی ’’سوانح احمدی“ سے یہ فراہم ہوتی ہے کہ ’’مولانا محمد اسحاق نے دہلی کے کسی مہاجن کی ہنڈوی  مجاہدین کو بھیجی تھی۔ پنجاب میں اس کا روپیہ وصول نہ ہوا تو مولانا صاحب نے انگریزی عدالت میں مہاجن پر دعوی دائر کیا اور ڈکری حاصل کی۔ آگرہ کی عدالتِ بالا سے بھی مہاجن کا مرافعہ خارج ہوا اور اسے ڈکری کی رقم ادا کرنی پڑی“۔  (بحوالہ: سید ہاشمی فرید آبادی، تاریخِ مسلمانانِ پاکستان و بھارت (کراچی: انجمن ترقی اردو، ۲۰۰۳ء) جلد دوم، ص ۳۱۲)
  9. تہذیبی اقدار سے مراد ایسی اقدار ہیں جو معروض میں ظہور پا کر تہذیب کی مقوم و محافظ بنیں؛ جیسے خلافت اور جہاد۔ خلافت کے ادارے کی تہذیبی معنویت یہ ہے کہ یہ دیگر تہذیبی اوضاع کا قِوام ہے اور جہاد کی تہذیبی معنویت اس امر میں مضمر ہے کہ تہذیب کے بقا اور پھیلاؤ میں اس کا مرکزی کردار ہے۔وہابیت تہذیبی اقدار کو رومانوی بنا دیتی ہے جبکہ اخلاقی و سماجی اقدار کو قانون میں ڈھال دیتی ہے۔ اس حوالے سے بھی جدیدیت اور وہابیت ایک صفحے پر ہیں۔
  10.  Shaykh Abdalqadir as-Sufi, Risala to a young man on the edge : https://shaykhabdalqadir.com/risala-to-a-young-man-on-the-edge/
  11.  Shaykh Abdalqadir as-Sufi, On terrorism : https://shaykhabdalqadir.com/on-terrorism/
  12.  Allama Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam (ILQA publications: Lahore, 2019), pg. 12.
  13.   بالا دستی اور نفاذ کا فرق ملحوظ خاطر رہے۔ شریعت کا نفاذ شریعت کو  جدید ریاست کا قانونی آلہ بنا دینے کے مترادف ہے جبکہ شریعت کی بالادستی کا مطلب ہے شریعت کا ہر شے پر حکم ہونا حتی کہ مرکزِ طاقت پر بھی۔
  14.  قضا کا سائبان نہ رہے تو فتوی آزاد نہیں رہتا، ہاں بے لگام ضرور ہو جاتا ہے!
  15.  برصغیر میں استعمار کے ہاتھوں سنی حنفی نظامِ قضا کے تعطل کے جہاں اور بہت سے نتائجِ بد برآمد ہوئے، وہیں اس کا ایک شاخسانہ تکفیر کی بے لگامی بھی ہے۔ قاضیوں کو برخاست کرنے والے استعماری فرنگی اس بات سے پوری طرح آگاہ تھے کہ اس کے کیسے کیسے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تاہم جیسا کہ پیش ازیں بیان ہوا ان کی  اپنی مصلحت اسی میں تھی اور اسی فتنہ پردازی میں وہ اپنے اقتدار کا دوام دیکھتے تھے۔ ایک انگریزاستعماری افسر تحریر کرتا ہے کہ قاضیوں کی برخاستگی کا دو طرح سے اثر مرتب ہوا ہے، اولاً‌ یہ کہ اس سے پرجوش نیم ملاؤں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ثانیاً‌ یہ کہ مسلمانوں کی زندگی کا اور ان کے مذہب کا قائم رہنا دشوار ہو چلا ہے۔  مراجعت فرمائیے: سید طفیل احمد صاحب منگلوری، مسلمانوں کا روشن مستقبل (دارالکتب: لاہور،۲۰۱۶ء) ص ۱۴۰ ۔

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۱)

"Defending Muhammad in Modernity"

ڈاکٹر شیر علی ترین

ترجمہ : محمد جان اخونزادہ

بارہواں باب: بین الدیوبندی تنازعات

ایک بار مولانا رشید احمد گنگوہی مکہ مکرمہ میں اپنے شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر کی زیارت کرنے گئے۔ حسن اتفاق سے اس وقت حاجی صاحب کے پڑوس میں محفل میلاد جاری تھی۔ حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی سے محفل میلاد میں شرکت کی درخواست کی۔ مولانا گنگوہی نے درخواست سنتے ہی اسے پرزور انداز میں رد کیا اور کہا: "حاجی صاحب! میں میلاد میں کیسے شریک ہو سکتا ہوں، جب کہ میں ہندوستان میں دوسرے لوگوں کو اس بری محفل میں شرکت سے روکتا ہوں"۔ یہ جواب سنتے ہی حاجی صاحب مسکرائے اور مولانا گنگوہی سے کہنے لگے: "اللہ آپ کو جزاے خیر دے۔ میں میلاد میں آپ کی شرکت سے اتنا خوش نہ ہوتا، جتنا آپ کے اس انکار سے خوش ہوا، کیوں کہ جس چیز کو آپ حق سمجھتے ہیں، اس پر آپ مضبوطی سے قائم ہیں"۔ بعد میں اسی دن جب حاجی صاحب محفل میلاد میں شرکت کرنے گئے، تو مولانا گنگوہی کے ایک شاگرد جو اس ملاقات میں ان کے ساتھ تھے، بھی اپنے شیخ کو بتائے بغیر حاجی صاحب کے ساتھ چلے گئے۔ جب محفل ختم ہوئی، تو مولانا گنگوہی کے شاگرد نے کہا: "اگر میرے شیخ مولانا رشید احمد گنگوہی اس محفل میلاد میں شرکت کرتے، تو وہ بھی اسے مسترد نہ کرتے، کیوں یہ تمام قسم کی خرابیوں اور ناجائز اعمال سے پاک تھی"1۔

یہ واقعہ اکابرینِ دیوبند کے درمیان متنازعہ رسمی اعمال میں باریک تغیرات اور مذاق ومزاج کے اختلاف کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اس واقعے میں جس اختلاف کا ذکر ہے، اسے فقہ/تصوف کے تقابلی خانے میں نہیں بٹھایا جا سکتا، نہ ہی یہ ایک حقیقی یا واضح اختلاف کی صورت ہے۔ اس کے بجاے یہ ایک ایسے اختلاف کی مثال ہے، جو محبت اور اطاعت کے آداب سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ میلاد کے متعلق حاجی صاحب اور مولانا گنگوہی کا موقف ایک دوسرے سے یک سر مختلف تھا، لیکن انھوں نے اس اختلاف کا اظہار ایک ایسے انداز میں کیا، جس سے مرید اور شیخ کے درمیان تعلق کو کوئی گزند نہیں پہنچا، نہ ہی اس کا تقدس پامال ہوا۔اس اختلاف کا عمل اور اس کے متعدد پہلو اس باب کا موضوع ہیں۔

بلکہ زیادہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ باب متنازعہ اعمال سے متعلق اختلافی سوالات پر دیوبندی مسلک کے اکابرین کے درمیان داخلی اختلافات کا جائزہ لیتا ہے۔ مزید برآں یہ ان مناہج کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جن کے ذریعے انھوں نے یکساں مسلکی فکر کے اندر ان اختلافات کا اظہار کیا۔ محبت اور اطاعت کا تعلق نباہنے کے باوجود اکابر دیوبند نے ایک دوسرے سے دقیق تاہم واضح انداز میں اختلاف کیا۔ بلکہ یہ باب بطور خاص دیوبندی بریلوی قضیے میں حاجی صاحب کے کردار کو بھی موضوعِ بحث بناتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حاجی صاحب کی ایک اہم رسالے کو زیربحث لایا جائے گا، جو انھوں نے انیسویں صدی کے اواخر میں ہندوستانی علما کے مناظرانہ جوش وجذبے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے لکھی تھی۔ یہ رسالہ اردو میں لکھا گیا تھا، اور اس کا نام 'فیصلۂ ہفت مسئلہ' تھا۔ اس رسالے میں حاجی صاحب نے ایک ایسا طرز استدلال اختیار کیا ہے، جس میں بیک وقت شرعی حدود سے ایک گہری وابستگی بھی ہے، اور بین المسلمین ہم آہنگی اور یک جہتی کے حصول کی کوشش بھی۔

رسالہ حاجی صاحب نے 1894 میں اپنی وفات سے پانچ سال پہلے لکھا تھا۔ یہ تقریباً چھ صفحات کا ایک مختصر رسالہ ہے، جس میں حاجی صاحب نے سات متناعہ رسمی اعمال اور اعتقادی مسائل پر بحث کی ہے: (1) عید میلاد النبی، (2) مُروَّجہ فاتحہ، (3) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنا (نداے غیر اللہ)، (4) مسجد کے اندر دوسری جماعت پڑھنا (جماعتِ ثانیہ)، (6) خدا کے جھوٹ بولنا کا امکان (امکانِ کذب)، (7) خدا کا حضرت محمد ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کا امکان (امکانِ نظیر)۔ چوں کہ ہندوستان میں میلاد کا مسئلہ سب سے زیادہ اختلافی اور بحث ومباحثہ کا موضوع تھا، اس لیے فیصلۂ ہفت مسئلہ میں سب سے زیادہ طویل بحث اس پر ہے۔ میلاد کے مسئلے پر حاجی صاحب نے ان بنیادی اصولوں اور حکمت ہاے عملی کا اطلاق بھی کیا، جو ان کی نظر میں ایسے متنازع مسائل میں بروے کار لانے چاہییں۔

فیصلۂ ہفت مسئلہ ان پہلی کاوشوں میں سے ہے، جس نے بریلوی دیوبندی اختلاف کو ہوا دینے والے متنازعہ اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ حاجی صاحب کو اس تنازع کے حل میں ذاتی دل چسپی تھی، کیوں بریلوی اور دیوبندی مسالک دونوں میں ان کے مریدین تھے، اگر چہ وہ بانیانِ دیوبند کے صوفی شیخ ہونے کے حوالے سے زیادہ مشہور ہیں۔ اگر چہ حاجی صاحب اپنے دیوبندی مریدوں کی طرح باضابطہ عالم نہ تھے، تاہم اسلام میں بدعت کی حدود کے پُرپیچ قانونی مسائل کی تشریح کے بارے میں ان کا یہ رسالہ ایک صوفی عالم کی ایک شاہ کار تحریر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حاجی صاحب نے کوشش کی کہ دیوبندیوں اور بریلویوں کی نظریاتی آرا میں مشترکات تلاش کرکے انھیں باہم قریب لائے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کے رسالے کی اشاعت کے بعد ان کی مبنی برمفاہمت تشریح کا الٹا اثر ہوا کہ ہر دو فریق نے اسے اپنے اصلاحی پروگرام کی تائید سمجھا۔

حاجی صاحب کی فکر میں موجود ابہام نے دیوبندی حلقوں کے درمیان بھی کافی ہلچل پیدا کی، جس کی وجہ سے ان کے دیوبندی مرید مجبور ہوئے کہ شیخ ومرید کے درمیان اختلاف کی حدود میں رہتے ہوئے متعلقہ مسائل کو موضوع بحث بنائیں، اور حاجی کی فکر کے ان پہلوؤں کی وضاحت کریں، جو بظاہر ان کی اصلاحی تحریک کے مخالف تھے۔ آخر کار 'فیصلۂ ہفت مسئلہ' سے متعلق ایک نامور دیوبندی عالم کے ایک خواب کے ذریعے (جس کا ذکر بعد میں اس باب میں کیا جائے گا)، جس میں رسول اللہ ﷺ خود نمودار ہوئے، اور علماے دیوبند کے حق میں فیصلہ کیا، اس رسالے میں موجود تعبیری تکثیریت کے کسی امکان کو دفنا دیا گیا۔

اس خواب کو انھوں نے جس طرح پیش کیا ہے، وہ اس اہم ابہام کو واضح کرتا ہے کہ اکابرین دیوبند نے حاجی صاحب کے ساتھ اپنے علمی موقف کا اظہار کس طرح کیا۔ جس وقت وہ اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان کا حاجی صاحب کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، بعینہ اسی وقت انھوں نے اپنے موقف کو برتر ثابت کرنے کے لیے خواب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہ ابہامات اور تضادات ہیں، جس کو یہ باب زیر بحث لاتا ہے۔ تاہم میں حاجی صاحب کے تعارف اور ان کی علمی زندگی سے شروع کرتا ہوں۔ میں یہ بھی واضح کروں گا کہ دیوبندی شجرے میں بالخصوص اور جنوبی ایشیا کی مسلم علمی روایات میں بالعموم ان کا کردار اور مقام کیا تھا۔

حاجی امداد اللہ: ایک جلا وطن روایتی صوفی

حاجی صاحب 1814 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک دل چسپ شخصیت تھے، جو متعدد علمی وفکری اور مختلف النوع زبانی اور مکانی مراکز سے فیض یاب ہوئے تھے۔ وہ کم وبیش پوری انیسویں صدی میں حیات رہے (انھوں نے 1899 میں وفات پائی)، اور جس دور میں وہ جیے، اس دور کا مجسم عبوری کردار تھے۔جیسا کہ حال ہی میں سیما علوی نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ حاجی امداد اللہ انیسویں صدی کی جنوبی ایشیا کے ان متعدد علما میں سے تھے، جنھوں نے نہ صرف ماوراے قومیت (transnational) متنوع سلاسل سے استفادہ کیا، بلکہ ایسے سلاسل کی تشکیل بھی دیے2۔

پیدائش کے وقت حاجی صاحب کا اصلی نام امداد حسین تھا، لیکن بعد میں اپنے ابتدائی مربی شاہ محمد اسحاق نے انھیں امداد اللہ کے لقب سے سرفراز کیا۔ بیسویں صدی کے سوانح نگار مولانا محمد انوار الحسن شیر کوٹی نے اس کی ایک مسلک پرستانہ توجیہ یہ پیش کی ہے: "شاید ان کو امداد حسین کا نام پسند نہ آیا کہ اس میں شرک کی بو آتی ہے" (یعنی اس وجہ سے کہ حسین نام کی نسبت شیعیت سے ہے)3۔ حاجی صاحب کی عمر صرف سات سال تھی کہ ان کی والدہ بی بی حسینی (م 1824) وفات پاگئیں۔ وہ نانوتہ کی رہنے والی تھیں۔ ان کے والد محمد امین ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ اپنی وفات سے پہلے بی بی حسینی نے وصیت کی تھی کہ ان کے تیسرے صاحب زادے امداد اللہ کو حصول علم میں جسمانی سزا نہ دی جائے، نہ ہی انھیں جھڑکا جائے4۔ گویا کہ وہ اپنے بستر مرگ پر اسی چیز کی تربیت چاہتی تھی جو بعد میں اس کے بیٹے کے منفرد اور صلح جو مزاج کا حصہ بن گیا۔

حاجی صاحب نے سات سال کی عمر میں حفظ قرآن شروع کیا، لیکن انھوں نے اس کی تکمیل بہت بعد میں کی جب وہ مکہ ہجرت کر گئے۔

ان کی علمی زندگی کا ایک فیصلہ کن مرحلہ وہ تھا، جب وہ سولہ سال کی عمر میں مولانا مملوک علی (م 1851) کے ساتھ دلی عازم سفر ہوئے۔ مولانا مملوک علی دلی عربک کالج میں شعبۂ مطالعاتِ شرقیہ کے سربراہ تھے۔ دلی کالج میں ہی حاجی صاحب نے اپنی فارسی اور عربی تعلیم کا ابتدائی مرحلہ مکمل کیا۔ حاجی صاحب کو جس گونج دار شخصیت نے تمام صوفی سلسلوں میں کی تعلیم وتربیت دی، وہ اترپردیش میں مظفر گڑھ کے گاؤں جھنجھانہ سے تعلق رکھنے والے میاں نور محمد جھنجھانوی (م 1843) تھے5۔ شیخ طریقت بننے سے قبل میاں صاحب لوہاری گاؤں (آج کے ہریانہ) میں، جو جھنجھانہ سے تقریباً 53 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، بچوں کو قرآن کریم اور فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ ان کا قیام وطعام کے اخراجات اور دو روپے کی ماہانہ تنخواہ علاقے کی ایک مال دار خاتون اقبال بیگم ادا کرتی تھیں۔ وہ ہر ہفتے جمعے کو چھٹی کرکے جھنجھانہ میں اپنے گھر چلے جاتے۔ میاں صاحب نے بعد میں مشہور عالم شاہ عبد الرحیم فاطمی ولایتی (م 1831) سے چشتی سلسلے میں تربیت حاصل کی۔ جھنجانوی کی ارادت میں حاجی صاحب نے چشتی صابری سلسلے میں کمال حاصل کیا6۔ کہا جاتا ہے کہ جب 1848 میں جھنجھانوی صاحب وفات پاگئے، تو حاجی صاحب پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ کھانا پینا چھوڑ کر کئی دنوں تک پنجاب میں آوارہ پھرتے رہے۔ ان حالات میں انھیں خواب میں ماضی کے عظیم صوفیا بشمول شاہ معین الدین چشتی، جنھوں نے حاجی صاحب پر سلسلۂ چشتیہ کے اسرار منکشف کیے، کی زیارات ہونے لگیں۔ حاجی صاحب جب تک ہندوستان میں رہے، اپنے آبائی گاؤں تھانہ بھون میں خانقاہ امدادیہ کے نام سے ایک خانقاہ چلاتے رہے۔ اس خانقاہ کو 1857 کی جنگ آزادی کے دوران نذر آتش کیا گیا7۔

اسی طرح حاجی صاحب کی تعلیم وتربیت جدید جنوبی ایشیا کے سب سے بااثر علما نے کی۔ آپ کی تحریریں صوفیانہ مراقبے، فکر اور روایت کے مختلف پہلؤوں سے متعلق ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب ضیاء القلوب ہے، جس کا ایک عمدہ تجزیہ سکاٹ کگل (Scott Kugle) نے کیا ہے8۔ انھوں نے فارسی اور عربی میں کافی شاعری کی، جن میں 'جہاد اکبر' اور 'گلزار معرفت' جیسی مشہور نظمیں شامل ہیں۔ حاجی صاحب چشتی سلسلے اور دارالعلوم دیوبند کے شجرے میں ایک بلند وبالا مقام پر فائز ہیں9۔ عہد حاضر میں وہ مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور پھر بعد میں مولانا اشرف علی تھانوی جیسے دیوبندی اکابر کے صوفی شیخ کی حیثیت سے زیادہ معروف ہیں۔ جیسا کہ اس باب میں بتایا جائے گا، حاجی صاحب کی شخصیت کی کلیدی خصوصیت باہمی افہام وتفہیم سے محبت اور مناظرانہ معرکہ آرائیوں، تعصب اور اختلاف سے نفرت تھی۔ تاہم ان کی مصالحت پسند طبیعت اور عمومی نرم مزاجی ان کی استعمار مخالف مزاحمت میں نمایاں اور بسا اوقات براہ راست عسکری کردار ادا کرنے میں حائل نہیں ہوئی۔

حاجی صاحب پر اس وجہ سے بغاوت کا الزام لگا کہ انھوں نے 1857 نے کی جنگ آزادی میں گوروں کے خلاف مبینہ طور پر فوجی کارروائی کی تھی۔ اس جنگ میں ان کی شمولیت کی حیثیت اور کردار کا حتمی تعین مشکل ہے۔ البتہ سوانحی مآخذ پورے اعتماد سے حاجی صاحب کو اس جنگ کے ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو اس معرکے کی تنظیم اور اس میں براہ راست شرکت میں پیش پیش تھے10۔ اس جنگ میں اپنے قریبی متعلقین بشمول مولانا نانوتوی، مولانا گنگوہی اور ان کے بے تکلف دوست حافظ محمد ضامن (م 1857) کی مدد سے انھوں نے کامیابی سے انگریزوں کے ایک ٹینک پر حملے کی منصوبہ بندی کی، جو ضلع سہارن پور کے ایک قصبے شاملی سے گزر رہا تھا۔ بدقسمتی سے حافظ ضامن کو جنگ کے دوران گولی لگی اور وہ شہید ہو گئے۔ اس واقعے کو  دیوبندی تذکروں میں آج تک شدت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ جنگ شاملی کے بعد برطانیہ نے حاجی صاحب کو گرفتار کرنے کی ٹھان لی۔ لیکن وہ معجزانہ طور پر ان تمام کوششوں سے بچنے میں کام یاب ہو گئے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ یادگار اور بار بار سنائی جانے والی حکایت یہ ہے کہ ایک بار جب حاجی صاحب برطانوی پولیس کے تعاقب سے بچ نکلنے کی کوشش میں وہ اترپردیش کے ضلع انبالہ میں گھوڑوں کے ایک اصطبل میں چھپ گئے۔ یہ اصطبل ان کے وفاداروں میں سے ایک شخص راو عبد اللہ کا تھا۔ جب ضلع کا برطانوی کلکٹر (جس کے پاس ضلع کا عمومی انتظام ہوتا ہے) کو حاجی صاحب کے خفیہ ٹھکانے کا علم ہوا، تو وہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے عبداللہ کے ہاں آ گیا، اور اس بہانے سے اصطبل کی تلاشی شروع کی کہ وہ کچھ نئے گھوڑے دیکھنا چاہتا ہے۔ عبد اللہ اور ان کے رفقا اور کچھ نہیں کر سکتے تھے، سواے اس کے حاجی صاحب کی گرفتاری کا بے بسی سے انتظار کریں۔ لیکن جب کلکٹر نے اصطبل کے دروازے کو دھکا دیا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ حاجی صاحب معجزانہ طور پر غائب تھے۔ ان کا بستر، جاے نماز اور وضو کے لیے پانی کا لوٹا سب کچھ موجود تھا۔ حتی کہ زمین ان کے وضو کے پانی سے تر تھی۔ لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اور جوں ہی انگریز کلکٹر چلا گیا، حاجی صاحب دوبارہ اپنی جاے نماز پر بیٹھے نظر آنے لگے۔ یہ ان کی کرامت تھی11۔ اس کے فوراً‌ بعد وہ پنجاب گئے، اور پاک پتن پر مشہور صوفی بزرگ خواجہ فرید الدین گنج شکر (م 1265) کے مزار کی زیارت کی، اور وہاں سے کراچی کے بندر گاہ چلے گئے۔ 1859 میں وہاں سے وہ ایک بحری جہاز میں سوار ہو کر مکہ چلے گئے، اور پھر زندگی بھر ہندوستان واپس نہیں لوٹے12۔ اپنی زندگی کی آخری چار دہائیاں جلا وطنی میں گزارنے کی وجہ سے ان کے متعلقین نے انھیں 'مہاجر مکی' کا لقب دیا۔

ہندوستان میں رہائش پذیر نہ ہونے کے باوجود حاجی صاحب نے یہاں کے مسلم علمی حلقوں سے انتہائی قریب تعلق استوار رکھا۔ اپنی جلاوطنی کے دوران انھوں نے متعدد مریدوں کی اصلاح وتربیت کی، جن میں سے بعض بعد میں جنوبی ایشیا کے نامور مسلمان اہل علم بن گئے۔ ان کے مریدوں میں نہ صرف علماے دیوبند بلکہ ان کے بہت سے مخالفین بھی شامل تھے۔ بلکہ مولوی عبد السمیع بھی، جو علماے دیوبند کے قدآور حریف اور ان کے خلاف 'انوار ساطعہ' جیسی کاٹ دار تنقید کے مصنف تھے، حاجی صاحب کے قریبی مریدوں میں سے تھے۔ ہندوستان میں مولوی سمیع کو اپنی بیعت میں لینے کے بعد حاجی صاحب نے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران بھی ان سے فعال رابطہ برقرار رکھا، بلکہ تب بھی جب اکابرین دیوبند سے ان کا بحث ومباحثہ زوروں پر تھا۔ حاجی صاحب کے متنوع اور بسا اوقات تنک مزاج پیروکار ہی 'فیصلۂ ہفت مسئلہ' اور اس کے بعد رونما ہونے والے تنازع کے بنیادی کردار ہیں۔

حاجی صاحب کو اپنے مریدین کے تنوع کا بخوبی علم تھا، اور یہ بھی کہ وہ سب ان کے فکری ورثے کے امین ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ بلکہ اس امر پر اختلاف کہ کون حاجی امداد اللہ کا صحیح فکری جانشین ہے، ایک ایسا اختلاف جو اس باب کے نصف آخر کے اکثر حصے میں زیر بحث آیا ہے، ایک عالم کی حیثیت سے ان کے شعور ذات کا ایک اہم پہلو ہے۔ ایک بار اس الجھن کو سراہنے کے انداز میں انھوں نے خود کہا: "ہر کوئی مجھے اپنے رنگ میں دیکھنا چاہتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی میرا رنگ نہیں۔ میں پانی کی طرح ہوں۔ جب آپ ایک بوتل میں پانی ڈالتے ہیں، تو یہ اس بوتل کے رنگ کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے"13۔

حاجی صاحب کو معلوم تھا کہ ان کی وسیع المشربی اس فضا کے یکسر خلاف ہے، جس میں ہر وقت شدید مناظرانہ جھڑپیں جاری رہتی ہیں، اور جس نے انیسویں صدی کے اواخر کے مسلمان اہل علم کو جھکڑ رکھا ہے۔ انھیں شدت سے احساس تھا کہ ان کا مزاج اس نئے ماحول سے ہم آہنگ نہیں، اور انھوں نے بار بار اس پر اپنے غم اور افسوس کا اظہار کیا۔ مثلاً انوار ساطعہ کی اشاعت کے بعد جولائی 1887 میں اپنے ایک (فارسی) خط میں حاجی صاحب نے مولوی عبد السمیع کی 'تیز قلمی' اور 'غیظ نفسانی' پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ حاجی صاحب انھیں لکھتے ہیں: "یہ علما اور اہل علم کا انداز نہیں ہے"۔ حاجی صاحب نے مولوی سمیع سے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کی کسی بھی تردید کا جواب دینے سے باز رہے۔ "تمھارا مقصد حق کا اظہار تھا، وہ ہو گیا۔ اب بس کرو" (قصدِ شما اظہارِ حق بود ظاہر شد، بس!)14۔

چند ماہ بعد مولوی سمیع کے نام اپنے ایک اور خط میں حاجی صاحب اسلامی ہند میں مناظروں کے بھڑکتے شعلوں پر نسبتاً زیادہ جذباتی انداز میں نوحہ کناں ہیں: "(ہندوستان میں) اپنے صوفی بھائیوں کے درمیان اختلافات کا سن کر رونا آتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اتفاق رہے، برے جذبات سے دور رہا جائے، اور محبت کا رشتہ استوار کیا جائے۔ یہ طبقۂ علما کی ذمہ داری ہے" (موجبِ از دیارِ معارف است)15۔ جیسا کہ مجھے یاد دہانی کا موقع ملے گا، اتحاد بین العلما کے پیچھے حاجی صاحب کا اصل مقصد یہ تھا کہ عوام کی نظروں میں اہل علم کی حیثیت ووقار اور کشش کا تحفظ کریں۔ دراصل ان کا پروجیکٹ مکمل طور پر ایک ایسے نظام مراتب کی حمایت تھا، جو علما اور سماج کے درمیان اس امتیاز کا تحفظ کرے، جس کی وجہ سے عوام علما سے متاثر اور ان کی قدر کرتے ہیں۔ مناظرانہ بکھیڑے اور جھڑپیں اس نظامِ مراتب کی سالمیت کو کمزور کرتی ہیں۔ اور یہی وہ بنیادی خطرہ تھا، جس سے نمٹنے اور اس کے سدباب کی انھوں نے کوشش کی۔

حاجی صاحب باضابطہ عالم نہ تھے، اگر چہ انھوں نے فقہ اور حدیث کی ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔ ان کے دیوبندی مریدین فقہی علوم میں ان کی مہارت نہ ہونے کی تاویل کچھ یوں کرتے کہ وہ خدا کی طرف سے عطا کردہ علم (علم لدنی) کے ماہر ہیں، جس کی وجہ سے انھیں علومِ ظاہرہ وباطنہ دونوں میں کمال حاصل ہو گیا ہے۔اس منطق کے رو سے حاجی صاحب نے اللہ تعالیٰ سے براہ راست علم حاصل کیا ہے، اور اس وجہ سے کسی خاص علمی روایت کی باضابطہ تعلیم ان کے لیے غیر ضروری تھی۔ مثال کے طور پر مولانا قاسم نانوتوی کا جواب ملاحظہ کیجیے جب ایک بار ان سے پوچھا گیا: "کیا حاجی صاحب حقیقی عالم ہیں"؟ مولانا نانوتوی نے الزامی جواب دیا: "یہاں پر عالم کے عمومی معنی غیرمتعلق ہے، کیوں کہ حقیقی عالم ہونا صرف خدا کی خصوصیت ہے"16۔ ایک اور موقع پر جب کسی نے حاجی صاحب کے عالم ہونے پر کچھ شک کا اظہار کیا، تو مولانا نانوتوی آب دیدہ ہوئے، اور کہنے لگے: "عالم ہونا کیا بات ہے، وہ تو علما کے بنانے والے (عالم گر) ہیں"17۔

مولانا تھانوی نے بھی حاجی صاحب کے علم لدنی کے حوالے سے اسی طرح کا استدلال پیش کیا ہے: "اگر چہ حاجی صاحب شریعت کے نامور علما میں سے نہ تھے، لیکن وہ سراپا روحانی علوم کے نور سے منور تھے"18۔ ایک بار کسی نے مولانا تھانوی سے پوچھا: "حاجی صاحب میں آخر کیا بات ہے کہ اتنے لوگ علما کو چھوڑ کر ان کے ارد گرد جمع ہو گئے ہیں"؟ مولانا تھانوی نے اختصار کے ساتھ جواب دیا: "ہمارے پاس الفاظ ہیں، اور وہاں معنی"19۔ ایک اور موقع پر مولانا تھانوی نے اپنا علمی کمال جتلانے کے ساتھ ساتھ اپنے شیخ کی روحانی برتری کے لیے ایک دل چسپ انداز میں کہا: "حاجی صاحب نے صرف کافیہ (درس نظامی میں علم النحو کی ایک اہم کتاب) تک پڑھا تھا، اور ہم نے اتنا پڑھا ہے کہ ایک اور کافیہ لکھ سکیں۔ لیکن حضرت کا علم اس درجے کا تھا کہ ان کے مقابلے میں علماے شریعت کے علم کی کوئی حقیقت نہیں تھی20۔

ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکابرین دیوبند نے متفقہ طور پر شرعی علوم میں حاجی صاحب کی عدم مہارت کی ایسی تاویل کی، جس سے ان کے دینی استناد کو تقویت پہنچی۔ لیکن علوم دینیہ میں باضابطہ مہارت نہ ہونے کے باوجود فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب نے عمدہ انداز میں فقہی اور کلامی دلائل ترتیب دیے۔ بلکہ جیسا کہ میں ذیل میں بتاؤں گا کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کے طرز استدلال سے کوئی ان پر واضح مسلکی لیبل نہیں لگا سکتا۔  انھوں نے بہت تخلیقی انداز میں متعدد طریق ہاے استدلال اور مصادر علم بشمول فقہ، تصوف اور روزمرہ کے تجربات سے استفادہ کرکے باہمی افہام وتفہیم پر مبنی ایک ایسا اصول تعبیر پیش کیا، جس میں مکمل تنوع تھا۔ اس اصول تعبیر پر فقہ/تصوف، روادارانہ/غیر روادارنہ اور معتدل/انتہاپسندانہ جیسے سطحی تقابلات کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ میں اب اس اصول تعبیر کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہوں۔

باہمی افہام وتفہیم کے اصول: فیصلۂ ہفت مسئلہ کی ساخت

کس چیز نے حاجی صاحب کو فیصلۂ ہفت مسئلہ لکھنے پر آمادہ کیا؟ آخر وہ کون سی مجبوری تھی جس کی وجہ سے انھوں نے جنوبی ایشیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے حصول کا بیڑا اٹھایا؟ انھوں نے آغاز ہی میں ان سوالات کو موضوع بحث بنایا ہے:

یہ امر مسلمات میں سے ہے کہ باہمی اتفاق دنیوی ودینی برکات کا باعث ہے، اور نا اتفاقی دنیوی اور دینی نقصانات کی وجہ ہے۔ آج کل بعض فروعی مسائل میں اس قدر اختلاف واقع ہوا ہے، جس کی وجہ سے طرح طرح کی لڑائیاں اور مشکلات جنم لے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام اور خواص اہل علم کا وقت برباد ہو رہا ہے۔ حال آں کہ ان میں سے اکثر امور میں اختلاف لفظی نزاع ہے، اور دونوں مخالف فریقوں کا مقصد ایک ہوتا ہے۔ عموماً مسلمانوں اور خصوصاً اپنے متعلقین کی یہ حالت دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے۔ اس لیے فقیر کے دل میں آیا کہ مذکورہ مسائل کے متعلق ایک مختصر سا مضمون قلم بند کرکے شائع کیا جائے۔ قوی امید ہے کہ اس سے یہ اختلافات اور کش مکش ختم ہو جائے گی21۔

انھوں نے اس رسالے میں جن مسائل کو موضوع بحث بنایا ہے، اس کی علت بھی وہ بیان کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ میں نے ان مسائل کا انتخاب اس لیے کیا کہ میرے مریدوں کے درمیان جو اختلافات ہیں، وہ گنے چنے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان سے امید ہے کہ وہ میری بات مانیں گے۔  باقی لوگوں سے یہ توقع نہیں۔ مسائل کی ترتیب کی بابت وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے ان مسائل کو بیان کیا ہے، جس میں زیادہ اختلاف ہے، اس کے بعد ان کو، جن میں اختلاف نسبتاً کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میلاد کو سب سے پہلے زیر بحث لایا گیا ہے۔ حاجی صاحب اپنے تعارف کا خاتمہ ایک سخت تنبیہ سے کرتے ہیں: "اگر کوئی شخص اس تحریر کو قبول کرکے اس سے فائدہ اٹھا لے، تو مجھے اپنی دعا میں یاد فرما لے۔ لیکن کوئی بھی اس کے جواب کی فکر نہ کرے، کیوں کہ میرا مقصد ہرگز مناظرہ کرنا نہیں"(3)۔

حاجی صاحب کے موقف میں بہت کچھ ایسا تھا جسے دیوبندی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قبول کرسکتے تھے۔ مثلاً اپنے دیوبندی مریدوں کی طرح حاجی صاحب نے باصرار کہا: میلاد میں شامل کردہ تخصیصات کو واجب سمجھنا بدعت (ان کے اپنے الفاظ میں 'غیر دین کو دین میں داخل کر لیا جاوے') ہے، مثلاً رسول اللہ ﷺ کے احترام میں کھڑے ہونے (قیام) کو(4)۔

حاجی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ بدعت اور جواز کی درمیان حد اس وقت پامال ہو جاتی ہے، جب ایک شخص میلاد کی تخصیصات کو نماز اور روزے جیسے فرائض سے گڈ مڈ کرنے لگے۔ اس اصول کی وضاحت وہ اپنے انداز میں یوں کرتے ہیں:

"کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اگر متعین تاریخ پر میلاد نہیں پڑھا گیا، یا قیام نہ ہوا، یا خوش بو اور شیرینی کا بندوبست نہیں ہوا تو ثواب نہیں ملے گا، تو بے شک یہ اعتقاد مذموم ہے۔ کیوں کہ یہ حدود شرعیہ سے تجاوز ہے۔ اسی طرح مباح عمل کو حرام اور گمراہی سمجھنا بھی مذموم ہے۔ الغرض ان دونوں صورتوں میں حدود سے تجاوز (تعدی حدود) پایا جاتا ہے (4)۔

یہ ایک صوفی شیخ کی جانب سے باریک فروق اور حدود پر مبنی فقہی استدلال پیش کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ لیکن حاجی صاحب اور ان کے دیوبندی مریدوں کے درمیان جہاں فقہی زاویۂ نظر میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، وہیں علماے دیوبند کے برعکس حاجی صاحب اس نیت کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، جس کے ساتھ کوئی عمل سرانجام دیا جاتا ہے۔ حاجی صاحب نے یہ دل چسپ استدلال کیا کہ اگر کوئی مولد کی تخصیصات (جیسے قیام، شیرینی کی تقسیم یا وقت کی تعیین) کو اس نیت کے ساتھ ضروری سمجھے کہ یہ کوئی شرعی تقاضا نہیں بلکہ ان کی وجہ سے چند برکات کا حصول ہوتا ہے، تو اس صورت میں یہ مذموم نہیں۔  اس نکتے کی وضاحت کے لیے ان کے اپنے الفاظ پر غور زیادہ مفید رہے گا:

بعض اعمال سرانجام دیتے وقت کچھ تخصیصات کی ضرورت ہوتی ہیں، کیوں کہ اگر ان تخصیصات کی رعایت نہ کی جائے، تو ان اعمال کا خاص اثر مرتب نہیں ہوتا۔ مثلاً بعض اعمال کھڑے ہو کر پڑھے جاتے ہیں۔ اگر بیٹھ کر پڑھے جائیں، تو خاص اثر نہ ہوگا۔ اس پہلو سے اگر کوئی شخص میلاد کے دوران قیام کو ضروری سمجھتا ہے، اور جن لوگوں نے اس تخصیص کو ایجاد کیا ہے، ان کو تجربے، کشف یا الہام کے ذریعے اسے اس کی افادیت معلوم ہو جائے، تو پھر یہ بدعت نہیں ہے (4 - 5)۔

شرعی حدود سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے بعد حاجی صاحب نے علم کے کچھ ایسے ممکنہ ذرائع بھی پیش کیے، جو شریعت اور اس کی حدود سے ماورا ہیں، یعنی وہ علم جو تجربے یا کشف والہام سے حاصل ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ حاجی صاحب کا مختلف النوع منہج فقہ/تصوف کے تقابل کو تسلیم نہیں کرتا، نہ ہی اس پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس حاجی صاحب اولیا کے تجربات، کشف یا الہام کو اس صورت میں حجت مانتے ہیں، جب اس کی وجہ سے شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ اگر کوئی میلاد کو شریعت وتصوف کی رو سے جائز طور پر منانا چاہے، تو اس میں موجود تخصیصات کے لیے کشف والہام سے پہلے اسے شرعی حدود کی پاس داری کرنی ہوگی۔

حاجی صاحب کے اصول تعبیر میں ایک کلیدی حیثیت مصلحت کی اصطلاح کو بھی حاصل ہے، جس کا ترجمہ عام طور پر عوامی مفاد یا فلاح وبہبود کیا جاتا ہے۔ تاہم حاجی صاحب کے ہاں یہ عوامی فلاح وبہبود کی بہ نسبت سہولت وآسانی کے معنی میں زیادہ مستعمل ہے۔ اگر میلاد جیسی کسی رسم کی مخصوص صورتیں یا تخصیصات اس وجہ سے کی گئی ہوں کہ ان میں کوئی مصلحت ہے، تو پھر ان صورتوں اور تخصیصات کو بدعت نہیں قرار دیا جا سکتا۔

مثلاً اگر کوئی شخص میلاد کے لیے ایک مخصوص تاریخ مثلا بارہ ربیع الاول کی تعیین کرتا ہے، کیوں کہ اس طرح سے یہ معمول بن جائے گا، اور ہر سال اسی تاریخ آنے پر اس کا کرنا آسان ہوجائے گا، تو یہ تخصیص بدعت نہیں ہوگی۔ قیام کے متعلق بھی حاجی صاحب نے بعینہ یہی استدلال کیا کہ "اگر کوئی شخص میلاد میں قیام کو شرعاً واجب نہیں سمجھتا، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کو مقصودی عبادت جانتا ہے، اور اس مصلحت کے لیے اس نے میلاد میں قیام کی تخصیص کی ہے، تو یہ بدعت نہیں ہے"(5)۔ وہ مزید کہتے ہیں: "مصالح کی تفصیل کافی طویل ہے، اور ہر مقام پر الگ الگ مصلحت ہوتی ہے۔ میلاد سے متعلق لکھے گئے رسائل میں بعض مصالح مذکور بھی ہیں" (5)۔

حاجی صاحب نے جس طرح سے رسوم میں موجود تخصیصات اور تعینات کے لیے مصلحت کو جواز کا شرعی پیمانہ بنا دیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سماج کے اجماع سکوتی پر یقین رکھتے تھے۔ اگر کوئی سماج کسی رسم کی ایک مخصوص صورت پر راضی ہو جائے، اور اسے معمول بنا لے، اس بنیاد پر کہ اس کی وجہ سے انھیں متعدد مصالح حاصل ہوتے ہیں، تو پھر حاجی صاحب کی نظر میں انھیں ناجائز قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حتی کہ اگر کسی رسم میں ان تخصیصات کا جواز شرعی مصادر سے معلوم بھی نہ ہوتا ہو، جب تک وہ سماج میں جڑ پکڑ چکے ہوں، انھیں ناجائز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ حاجی صاحب کے لیے کسی سماج کی رسموں کو ان کے مخصوص حالات اور ان کی اپنی آسانی اور سہولت سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ حاجی صاحب نے بڑی دانش مندی سے ایک طرف سہولت اور مصلحت اور دوسری طرف تجرباتی تقاضوں کی اساس پر ہندوستان میں رائج میلاد اور اس میں موجود تخصیصات کے لیے شرعی گنجائش پیدا کی۔

زمان، مصلحت اور سماج

حاجی صاحب کی تفہیمِ مصلحت کی بنیاد وہ انداز بھی تھا، جس میں وہ کسی سماج کی رسمی زندگی اور زمان کے درمیان تعلق کو دیکھتے تھے۔ انھوں نے اس تعلق کو زیادہ وضاحت کے ساتھ ایصال ثواب کی بحث کے ذیل میں بیان کیا۔ یہ ان کی نظر میں میلاد کے بعد دوسرا شدید متنازعہ مسئلہ تھا۔ حاجی صاحب نے اس رسم کی پوری تاریخ بیان کی ہے، تاکہ وہ اس استدلال اور عمل کو واضح کرے، جس کے ذریعے اس رسم کی مخصوص شکلیں اور عناصر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں رائج ہو گئیں۔ ذیل میں، میں اس تاریخی خاکے کی کچھ جھلکیاں پیش کرتا ہوں۔ یہ بطور خاص اس بات کی ایک اچھی مثال ہے کہ حاجی صاحب نے کس طرح زمان، رسم اور سماجی اقدار کے باہمی ربط کو اس غرض کے لیے پیش کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک رسم سے جڑی نئی شکلوں اور تخصیصات کو جواز دیا جائے۔ انھوں نے یہ کہانی کچھ اس طرح بیان کی ہے:

تامل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلف میں یہ تو یہ عادت تھی کہ وہ کھانا پکا کر مسکین کو دے دیتے تھے، اور دل سے ایصال ثواب کی نیت کر لیتے تھے۔ متاخرین میں سے کسی کو یہ خیال ہوا کہ جیسے نماز میں صرف دل سے نیت کافی ہے، لیکن عوام کے لیے دل سے موافقت میں زبان سے کہنا بھی مستحسن ہے،اسی طرح اگر ایصالِ ثواب میں بھی زبان سے کہہ دیا جائے کہ یا اللہ اس کھانے کا ثواب فلاں شخص کو پہنچ جائے، تو بہتر ہے۔ پھر کسی کو خیال ہوا کہ اس لفظ سے جس چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے یعنی کھانا، اگر وہ بھی سامنے موجود ہو، تو اس سے قلبی استحضار زیادہ ہو۔ اور اسی وجہ سے کھانا سامنے رکھا جانے لگا۔ پھر کسی کو یہ خیال ہوا کہ یہ تو محض دعا ہے، اگر اس کے ساتھ کچھ کلامِ الہی بھی پڑھا جائے تو قبولیتِ دعا کی بھی امید ہے، اور اس کلام کا ثواب بھی پہنچ جائے گا۔ کسی نے سوچا کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا سنت ہے، تو ہاتھ اٹھانا بھی شروع ہو گیا (7 – 8)۔

حاجی صاحب نے بتایا کہ یہ نئے اضافے قابل اعتراض نہیں ہیں۔ اس لیے کہ یہ اضافہ جات اور ایجادات سماج کے طویل اجتماعی فہم اور تجربات کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔ حاجی صاحب کے تصور مصلحت کی تشکیل میں جس چیز نے بنیادی کردار ادا کیا وہ عوامی منطق تھی، اور اس کے ساتھ سماج کی مصلحت اور ان کی طرف سے خاموش رضامندی کو بھی بنیادی حیuثت حاصل تھی۔ انھوں نے نرمی سے اپنے قارئین کو ذہن نشین کرایا کہ جب ایک رسم طویل زمانے کا طے سفر کرتی ہے، وہ سماج کے مذاق ومزاج، حساسیتوں اور جمالیات کے مطابق نئی شکلیں اور تخصیصات قبول کر لیتی ہے۔ ایسی شکلیں اور تخصیصات جب تک شرعی حدود سے متجاوز نہ ہوں، انھیں بدعت نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اس رسم کی تفہیم وتاریخ کے بارے میں حاجی صاحب اور شاہ محمد اسماعیل و مولانا اشرف علی تھانوی کے منہج (جس پر ساتویں باب میں بحث گزر چکی ہے) کے درمیان واضح فرق ملاحظہ کریں۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی نے اس بات کا نوحہ کیا ہے کہ یہ رسم جس مقصد (یعنی صدقے کے ذریعے میت کے لیے ایصالِ ثواب) کے لیے تھا، لوگ اس اصل مقصد کو بھلا بیٹھے ہیں۔ وہ سراپا احتجاج ہیں کہ لوگوں نے اس رسم میں کچھ ایسی قیودات اور تخصیصات شامل کی ہیں، جس کی وجہ سے اس کا اصل مدعا ومقصود فوت ہو گیا ہے۔ اور ان قیودات وتخصیصات کی اندھی تقلید نے ریاکاری اور نام ونمود کی ایک عمومی ثقافت تشکیل دی ہے۔ اس رسم سے متعلق شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی کی فکر کا خلاصہ یہی ہے۔

حاجی صاحب بھی شہرت اور نام ونمود کی خاطر اس رسم کی ادائیگی کو مذموم سمجھتے ہیں، لیکن انھوں نے زمان، رسم اور سماج کے درمیان  تعامل کا ایک بالکل الگ تصور تشکیل دیا ہے۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی کے برعکس حاجی صاحب کو اس رسم کے اصل مقصد کی عدم موجودگی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ حاجی صاحب کے نزدیک رسم اور اس کی تخصیصات ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ رسم کا وجود معمول کے مرہونِ منت ہے، جو نتیجتاً اجتماعی تجربات اور غور وفکر سے متاثر ہوتا ہے۔ ایک سماج کی رسمی زندگی کی تشکیل میں زمان اور تاریخ کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ حاجی صاحب اور شاہ اسماعیل ومولانا تھانوی کے رویے میں بنیادی فرق کی وجہ اس مسئلے کے متعلق ان کا الگ مختلف زاویہ نظر ہے۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی کے نزدیک زمان اور تاریخ رسمی زندگی پر فاسد اثرات مرتب کرتے ہیں، کیوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسی رسم میں نئی ہیئآت اور تخصیصات آ ملتی ہیں، جن کی وجہ سے اس کا اصل مقصد اور مفہوم دفن ہو جاتا ہے۔ لیکن حاجی صاحب تاریخ اور زمان کے ارتقا کو اس طرح نامبارک تصور نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مقصد اور ہیئت دونوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہتے ہیں۔ مقصد ہیئت سے علuحدہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کسی رسم کی نئی ہیئآت اور تخصیصات میں ہی، جو سماج نے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے تجربات اور ترجیحات کی روشنی میں شامل کی ہوتی ہیں، رسم کا اصل مقصد شامل ہوتا ہے۔ رسم کا مقصد، سماج کا تجربہ اور تاریخ ایک تکون کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اس لیے عوام کو نئی ہیئآت اور تخصیصات کو خیر باد کہنے پر تنبیہ کرنے اور انھیں چھوڑنے کی ترغیب دینے کے بجاے حاجی صاحب نے تصوّرِ مصلحت کی رو سے ان کے لیے گنجائش پیدا کی۔

حاجی صاحب نے اس اصول کا اطلاق اولیا کے عرس منانے پر بھی کیا۔ عرس کا لفظی معنی شادی ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے رائج رسم ہے، جو ہر سال کسی صوفی بزرگ کے یوم وفات یا وصالِ محبوب حقیقی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس رسم کے جواز میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے: "دولہوں کی طرح آرام کرو" (نم كنومة العروس)۔ یہ حدیث موت اور عشق الہی کے درمیان ایک جاذب اور عاشقانہ انداز میں ربط پیدا کرتی ہے۔ جس طرح شادی میں شب زفاف کو میاں بیوی یک جا ہو جاتے ہیں، اسی طرح موت خدا اور بندے کے درمیان یک جائی کا ذریعہ ہے۔ عرس میں متن، مکان اور رسم سب یکجا ہوتے ہیں۔ مدحیہ قصائد میں صوفی بزرگ کی زندگی اور افکار کو بیان کیا جاتا ہے، مراقبے کیے جاتے ہیں، اور بزرگ کے ایصالِ ثواب کی خاطر کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بزرگ کی یاد اور احترام میں اور بھی اعمال سرانجام دیے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ سرگرمیاں صوفیا کے مزارات یا قبروں پر سرانجام دی جاتی ہیں، اور اس طرح سے ان کی قبروں اور مزارات (جو وصالِ الٰہی کی علامات ہیں) کا ان کی فکر اور جسمانی برکت سے تعلق جڑ جاتا ہے22۔

اس رسم میں ایک متنازع عمل 'سماع' کا ہے۔ سماع ایک ایسا عمل ہے، جو پوری اسلامی تاریخ میں شدید مختلف فیہ رہا ہے۔  اور جس طرح میلاد کے متعلق تنازع ہے، اسی طرح عرس کی تقریبات میں جو تہوار یا میلے جیسا ماحول پایا جاتا ہے، اس پر بھی کافی اختلاف ہے۔ اس اختلاف کا ماخذ یہ حدیث ہے: "تم میری قبر کو میلا نہ بناؤ" (لا تتخذوا قبري عيدًا

حاجی صاحب نے عرس پر بدعت کے الزام کو مسترد کیا۔ انھوں نے وہ مختلف زاویے نمایاں کیے، جن کی رو سے یہ سماج کے متعدد دینی مصالح اور ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اول یہ کہ عرس اولیاے کرام کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے پاکیزہ مقصد کی تکمیل کرتا ہے۔ دوم یہ کہ عرس کے موقع پر سلسلے کے اکثر لوگ جمع ہو کر ملاقات کرتے ہیں، جس سے ان کے درمیان محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے موقع پر متعدد مشائخ موجود ہوتے ہیں، اگر کوئی ان میں سے کسی سے بیعت ہونا چاہے، تو اس کو زیادہ تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا (9)۔

لیکن رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی قبر پر میلے ٹیلے سے منع کیا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟ حاجی صاحب بتاتے ہیں کہ یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ خاص ہے، جب وہاں میلہ لگایا جائے، خوشیاں منائی جائیں، اور زینت وآراستگی اور دھوم دھام کا اہتمام کیا جائے، کیوں کہ زیارت قبور کا بنیادی مقصد آخرت کا تذکرہ اور حصولِ عبرت ہے نہ کہ غفلت وزینت۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قبر پر جمع ہونا بالکل منع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مدینہ منورہ میں رسول اللہ کے روضۂ اقدس کے لیے جانے والے قافلے بھی ممنوع قرار پاتے (9)۔ میلاد اور ایصالِ ثواب کے متعلق آپ کا جو منہج تھا، بعینہ اسی اصولی منہج کا اطلاق آپ نے عرس کی تخصیصات کو جواز دینے کے لیے کیا ہے، جس میں سماج کے تجربات اور مصالح بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم یہ واضح رہے کہ ان کی نظر میں یہ مصلحت اور تجربہ اسی صورت میں قابل قبول ہے، جب وہ اسی فقہی شرط کے مطابق ہو کہ غیر واجب عمل کو واجب عمل نہ سمجھا جائے۔ حاجی صاحب بیک وقت فقہ اور اس کی حدود سے بھی اپنی وفاداری استوار رکھتے ہیں، اور علم وتجربے کے ایسے دیگر زاویے بھی سامنے لاتے ہیں، جو فقہ سے ہٹ کر ہیں۔ تاہم یہ کہنا زیادہ قرین قیاس ہوگا کہ (علماے دیوبند کی طرح) ان کا زور اس بات پر نہیں تھا کہ واجبات کو غیر واجبات سے خلط نہ کیا جائے۔ اس کے بجاے وہ میلاد وغیرہ جیسی رسموں کے لیے ایسے انداز میں گنجائش پیدا کرنا چاہتے تھے، جس میں شریعت کی حدود پا مال نہ ہوں۔انھوں نے جو درمیانی راہ اختیار کی اس کی بہتر تصویر کشی ان کے اپنے اس بیان سے ہوتی ہے، جس کا حوالہ میں نے پہلے بھی دیا ہے: "جس طرح کسی مباح عمل کو حرام اور ضلالت کہنا مذموم ہے، اسی طرح ایک مباح عمل کو واجب میں بدلنا بھی مذموم ہے" (4)۔

دعوت و اصلاح کے آداب

اب میں واپس میلاد کی طرف لوٹتا ہوں۔ حاجی صاحب بڑے محتاط انداز میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو علما ان رسموں کو عوام کے تجاوزات کی وجہ سے منع کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اس بابت پوری حزم واحتیاط سے کام لیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ وہ کسی رسم سے علی الاطلاق منع نہ کریں، جب تک وہ شرکا کے مقاصد اور ان مخصوص حالات کی پوری چھان پھٹک نہ کریں، جن میں یہ عمل سرانجام دیا جا رہا ہے۔ حاجی صاحب کے نزدیک بدعت کا فتوی صرف ان خاص صورتوں میں لگانا چاہیے، جن میں بڑے اعتقادی فسادات جیسے قیام کو واجب سمجھنا بغیر کسی شک وشبہے کے ثابت ہو۔ بصورتِ دیگر کسی خاص رسم جیسے میلاد پر بدعت کا عمومی حکم لگانا نامناسب ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: "بعض اہل علم صرف جاہلوں کی بعض زیادتیاں دیکھ کر جیسے موضوع روایات پڑھنا، گانا وغیرہ وغیرہ، جیسا کہ جہلا کی مجلسوں میں ہوتا ہے، عموماً ہر میلاد پر یہی حکم لگا لیتے ہیں۔ یہ بھی انصاف کے خلاف ہے" (5)۔

اگر اس طرح کی سختی کو مانا جائے، تو پھر تو مجالسِ وعظ کو بھی ممنوع قرار دیا جانا چاہیے، کیوں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان مجالس میں مرد وزن کے اختلاط کی وجہ سے فتنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اخلاقی خطرے اور فساد کے محض امکان کے سدباب کے لیے کسی بھی رسم اور پاکیزہ عمل کو پیشگی بند نہیں کیا جا سکتا۔ "ایک پسو کے لیے پورا قالین کیوں جلاتے ہو" (بہر کیکے تو گلیمے را مسوز) (6)۔

حاجی صاحب نے یہ اصول بھی پیش کیا: "جب کوئی شخص کسی رسم کی ادائیگی میں کوئی قابل اعتراض امر کا ارتکاب کر رہا ہو، تو ایک عالم کو چاہیے کہ اسے سمجھائے، اور اس کے عمل کی اصلاح کرے، نہ کہ سرے سے اس رسم کو ممنوع قرار دے" (10)۔ حاجی صاحب زور دے کر بتایا کہ ممانعت سے صرف مسائل ہی پیدا ہوں گے۔ غالب امکان یہ ہے کہ وہ شخص کسی بھی صورت اس رسم کو نہیں چھوڑے گا، اس لیے اس پر اس حوالے سے زور کرنا معاملے کو اور بگاڑے گا۔

حاجی صاحب نے صرف علما سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اس بابت ایک مثبت ومحتاط رویہ اختیار کریں۔ بلکہ انھوں نے ایک دل چسپ انداز میں عوام سے یہ بھی اپیل کی کہ جب کوئی عالم اپنے سماج میں کسی پر ملامت کرتا ہے، تو عوام کو چاہیے کہ اس کے پیچھے عالم کی جو وجہ ہے، اس کے متعلق حتمی نتائج اخذ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بالفاظ دیگر اگر وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک عالم کسی شخص پر ملامت کر رہا ہے، تو اس سے وہ ملامت زدہ شخص کو فاسد العقیدہ یا اخروی اعتبار سے نامراد فرض نہ کریں۔ کیوں کہ ملامت کی بہت سی وجہیں ہوتی ہیں (5)۔

اس امر کی وضاحت میں حاجی صاحب کئی مثالیں پیش کرتے ہیں، جب کسی عمل پر کوئی عالم کسی شرعی سقم کی بنیاد پر اعتراض نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ایک بزرگ ایک مجلس میں تشریف لائے اور سب لوگ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جائیں، صرف ایک شخص بیٹھا رہے، تو اس پر اس وجہ سے کوئی ملامت نہیں کرتا کہ اس نے کسی شرعی حکم کو ترک کیا ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے آداب مجلس کی رعایت نہیں کی۔ اسی طرح تراویح میں ختم قرآن مجید کے بعد شیرینی تقسیم کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص شیرینی تقسیم نہ کرے، تو اس پر ملامت کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے ایک نیک رسم کو ترک کیا (5)۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حاجی صاحب اہل علم کی اصلاحی فکر کو فقہ کے زور دار ہتھوڑے سے بچانا چاہتے تھے۔ عوام کی روزمرہ زندگی کی اصلاح اور تحفظ کے لیے علما کی مصلحانہ کوششوں کو مسلکی اور فقہی تصورات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حاجی صاحب نے ان غیر فقہی عوامل کو نمایاں کرکے اس کی مسلکی اور اعتقادی اہمیت کو گھٹا دیا۔حاجی صاحب نے تجویز دی کہ جب ایک عالم کسی شخص کو ملامت کرے تو  سماج کے افراد کو چاہیے کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے کہ اس نے خدائی قانون کو توڑنے کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، ان حالات میں ایک زیادہ نرم اور کم ملامتی رویہ اپنائیں۔ حاجی صاحب اپنے اسی وسیع اور لچکدار اصول تعبیر، جس میں سنگین الزامات کے بجاے متعدد امکانات کے لیے گنجائش تھی، سے یہ بہترین موقع فراہم کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان بحث ومباحثے کے درجۂ حرارت میں کمی آئے۔ تاہم حاجی صاحب کے لیے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے کانٹے دار مسئلے کو حل کرے۔ اب میں اسی مسئلے کی طرف توجہ کرتا ہوں۔

تنوع

رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے مسئلے سے نمٹتے ہوئے حاجی صاحب نے حیرت انگیز طور پر ایک ایسا باریک موقف پیش کیا، جسے بیک وقت دونوں فریق اپنے موقف کے مخالف اور موافق سمجھ سکتے تھے۔ حاجی صاحب نے صراحتاً اس امر کا اقرار کیا کہ رسول اللہ ﷺ میلاد کے دوران متعدد مقامات میں حاضر ہونے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ اسے یوں بیان کرتے ہیں:

رہا یہ اعتقاد رکھنا کہ میلاد کی مجلس میں رسول اللہ ﷺ رونق افروز ہوتے ہیں، اس اعتقاد کو کفر وشرک کہنا حد سے تجاوز ہے۔ اس لیے کہ یہ امر عقلاً ونقلاً ممکن ہے، بلکہ بعض مقامات پر اس کا وقوع بھی ہوا ہے۔ رہا یہ شبہ کہ آپ ﷺ کو ہر جگہ حاضر ہونے کا علم کیسے حاصل ہوا، یا وہ بیک وقت کئی مقامات میں کس طرح تشریف فرما ہوتے ہیں، تو یہ کمزور شبہ ہے۔ دلائل نقلیہ اور کشفیہ سے آپ ﷺ کے علم وروحانیت کی جو وسعت ثابت ہے، اس کے مقابلے میں یہ ایک ادنی سی بات ہے (6)۔

رسول اللہ ﷺ کی وسعتِ علم کے متعلق بیان دینے کے متصل حاجی صاحب یہ اضافہ کرتے ہیں: "لیکن اس سے آپ ﷺ کے بارے میں علم غیب کا اعتقاد لازم نہیں آتا۔ کیوں کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے خصائص میں سے ہے" (6)۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ: "علم غیب اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے۔ اور جو علم اللہ تعالی اپنی طرف سے عطا کرتا ہے، وہ ذاتی نہیں بلکہ بالواسطہ ہے۔ ایسا علم مخلوق کے حق میں ممکن بلکہ واقع ہے۔ اور امر ممکن کا اعتقاد شرک وکفر کیسے ہو سکتا ہے" (6)۔

حاجی صاحب کے اصول وضع کرنے کی مشق صرف اس پر بس نہیں۔ انھوں نے ایک اور تنبیہ بھی کی: رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کا امکان ضروری نہیں کہ واقع بھی ہو۔ ان کے اپنے الفاظ میں: "البتہ ہر ممکن کے لیے وقوع ضروری نہیں"۔ ایسا اعتقاد رکھنا دلیل کا محتاج ہے۔ اگر کسی کو دلیل مل جائے، مثلاً اسے کشف ہو جائے، یا کوئی صاحبِ کشف اسے بتا دے، تو پھر یہ اعتقاد رکھنا جائز ہے۔ ورنہ دلیل کی عدم میں موجودگی یہ ایک غلط خیال ہے۔ اور ایسے شخص کے لیے رجوع کرنا ضروری ہے(6)۔ حاجی صاحب نے اس مسئلے کا تجزیہ اپنے اس نتیجے پر ختم کیا: "لیکن یہ (رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کا اعتقاد) کسی طرح بھی کفر وشرک نہیں ہو سکتا" (6)۔ 

حاجی صاحب نے ایک مخصوص انداز میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، تاکہ ایک درمیانی راہ تلاش سکیں، اور ہر مخالف موقف کی تہہ میں کارفرما حساسیتوں اور مفروضوں کو جواز فراہم کر سکیں۔ ان کے کلام کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا علم غیب ممکن ہے، لیکن ضروری نہیں، اور ہر چند کہ اس طرح کا علم صرف ذات خداوندی کے ساتھ خاص ہے، تاہم وہ اسے اپنی مخلوقات بشمول نبی اکرم ﷺ کو عطا کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے علم غیب میں اعتقاد رکھتا ہے، تو اسے کافر یا مشرک نہیں سمجھنا چاہیے۔

جس انداز میں انھوں نے اپنے موقف کی ترتیب اور پیش کش کی، وہ بھی بہت اہم اور مفید ہے۔ بالخصوص ان کے اور گزشتہ ابواب میں بیان کیے گئے بریلوی اور دیوبندی اکابر کے استدلالی مزاج کے درمیان فرق ملاحظہ کیجیے۔ حاجی صاحب کی یہ کوشش نہیں تھی کہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں اپنے موقف کو حتمی طور پر ثابت کریں۔ اس کے بجاے وہ مخصوص اعتقادی مسائل میں کئی طرح کی توجیہات اور ابہامات کے امکان کو واضح کر رہے تھے۔ انھوں نے ان مناہج کا تنوع دکھانے کی کوشش کی، جن کے ذریعے کسی ایک مسئلے کو زیر بحث لایا جاتا ہے، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی ایک موقف کو حتمی نہ سمجھا جائے۔ ایک اعتقادی دعوے کو مدلل انداز میں ثابت کرنے کے بجاے انھوں نے ایک ایسا اصول تعبیر اختیار کیا، جو تنوع کا ساعی وداعی تھا، اور اسے اچھا سمجھتا تھا۔

تاہم یہ ابہام ایسا نہ تھا جو معنی سے خالی تھا، اور جس کی بے لگام تشریحات کی جا سکتی تھیں۔اس کے برعکس جہاں ایک طرف حاجی صاحب نے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ وہ شد ومد سے شرعی حدود کی پاس داری کرتے ہیں، وہاں انھوں نے ان شرعی حدود کے اندر موجود نزاکتوں اور ابہامات کو بھی ظاہر کیا۔ ابہامات کو نمایاں کرنے سے انھوں نے ایک ایسا اصول تعبیر دیا، جس کا اساسی ہدف انسانی تعلقات کی حفاظت اور استحکام تھا۔ دراصل حاجی صاحب تعبیر وتشریح سے ایک قدم آگے گئے، اور انھوں نے علما اور اہل علم کو اپنے اختلافات کو موضوع بحث بنانے اور حل کرنے کے لیے ایک حد تک تفصیلی خاکہ دیا۔ اس پروگرام کے حصے کے طور پر انھوں نے مخصوص رویوں اور حساسیتوں کو تجویز کیا۔ ان کی نظر میں ان رویوں کے اپنانے سے فتنہ وفساد اور تعصب کے پھیلاو کو روکا جا سکتا ہے۔ حاجی صاحب کی پیش کردہ تجاویز ایک ایسے ضابطۂ اخلاق کی ممتاز مثال ہے، جسے ایک صوفی بزرگ نے اس غرض کے لیے تشکیل دیا ہے کہ اپنے باہم دست وگریباں مریدوں کے درمیان ہم آہنگی اور افہام وتفہیم کی فضا کو قائم کرے۔

آدابِ اختلاف

حاجی امداد اللہ صاحب نے اہل علم کو ترغیب دی کہ وہ اپنے اختلافات سے اس انداز میں نمٹیں جس کی وجہ سے ان کے مخالفین کی نظر میں ان کی حیثیت مجروح نہ ہو، یا جس کی وجہ سے مختلف جماعتوں کے درمیان سماجی تعلقات میں رخنہ نہ پڑے۔ وہ کچھ اس انداز میں نصیحت کرتے ہیں: "انھیں (علما) کو چاہیے کہ فریقِ مخالف سے بغض وکینہ نہ رکھیں۔ نہ انھیں نفرت وتحقیر کی نگاہ سے دیکھیں۔ نہ ان کی تفسیق وتضلیل کریں۔۔۔۔۔ اور باہم ملاقات، خط وکتابت، سلام دعا اور موافقت ومحبت کی رسموں کو جاری رکھیں" (6)۔ اس کے ساتھ وہ اپنے مریدوں کو تلقین کرتے ہیں کہ تردیدات اور جوابی تردیدات سے پرہیز کریں۔ ان کے اپنے الفاظ میں "بلکہ ایسے مسائل میں فتوے نہ لکھا کریں، نہ ان پر مہر ودست خط کریں کہ یہ ایک فضول کام ہے" (6)۔ انھوں نے اپنے باہم دست وگریباں مریدوں کے درمیان صلح وآشتی کو فروغ دینے کے لیے جو انداز اختیار کیا، اس کی سب سے دل چسپ مثال ان کا وہ مشورہ ہے، جو انھوں نے قیام کے شدید متنازعہ عمل کے بارے میں دیا ہے۔

حاجی صاحب کے موقف کا لب لباب یہ کہ اس رسم کے بارے میں ہر گروہ فریقِ مخالف سے حسن ظن رکھے، اور ان متنازعہ مسائل پر محدود اور نرم انداز میں اپنی آرا پیش کرے۔ علاوہ ازیں انھوں نے تجویز کیا کہ ان اختلافی مسائل میں ہر دو فریق ایک دوسرے کی رعایت رکھیں۔ مثلاً جو لوگ قیام کے مخالف ہیں، اگر وہ قیام کے قائلین کی محفل میں شامل ہوں، تو بہتر یہ ہے کہ قائلین اس محفل میں قیام نہ کریں، تاکہ فتنہ واقع نہ ہو۔ اور اگر قیام واقعی ہو، تو پھر مخالفینِ قیام کو بھی اس قیام میں شرکت کرنی چاہیے۔ اور عوام نے جو غلو اور زیادتیاں کر لی ہیں، ان کو نرمی سے منع کریں۔ اور ان کا اس طرح سے منع کرنا ان کی اصلاح کے لیے زیادہ مفید ہوگا (6)۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ حاجی صاحب کا نکتہ یہ نہیں کہ اختلاف کرنے والے گروہ اپنے موقف سے بالکلیہ دست بردار ہو جائیں۔ اس کے بجاے وہ اپنی آرا کا اظہار واشاعت اس انداز میں کریں جس میں ان کے مخالفین کے ساتھ حسن ظن سے کام لیا گیا ہو۔ اس طرح سے امید ہے کہ فتنہ وفساد کا سد باب ہو سکے گا۔

اس معتدل رویے کی صورت کیا ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں حاجی صاحب نے ٹھوس تجاویز دی ہیں۔ جہاں تک اہل علم کی بات ہے، تو ان کو یہ نصیحت کی ہے کہ میلاد کے قائلین مخالفین کے طرز عمل کی یہ تاویل کریں کہ یا تو ان کی تحقیق یہی ہو گی، یا وہ انتظامی اعتبار سے منع کرتے ہوں گے، کیوں کہ بعض اوقات جب تک اصل عمل کو منع نہ کیا جائے، تب تک قابل اعتراض اعمال سے نہیں بچا جا سکتا۔ دوسری طرف حاجی صاحب نے یہ بھی بتایا: "میلاد کے مخالفین قائلین کے عمل کی یہ تاویل کریں کہ ان کی دیانت دارانہ رائے یہی ہوگی، یا وہ نبی اکرم ﷺ سے غلبۂ محبت میں یہ کام کرتے ہیں" (7)۔

عوام کو حاجی صاحب نے جو نصیحت کی ہے ان کے اپنے الفاظ میں وہ کچھ یوں ہے: "اور عوام کو چاہیے کہ جس عالم کو متدین اور محقق سمجھیں، اس کی تحقیق پر عمل کریں اور فریق مخالف کے لوگوں سے تعرض نہ کریں۔ خصوصاً دوسرے فریق کے علما کی شان میں گستاخی چھوٹی منہ اور بڑی بات کا مصداق ہے۔ غیبت اور حسد سے نیک اعمال ضائع ہوتے ہیں" (7)۔ وہ مزید نصیحت کرتے ہیں: "اور ایسے (اختلافی) مضامین کی کتابیں اور رسائل مطالعہ نہ کیا کریں۔ یہ کام علما کا ہے" (7)۔ حاجی صاحب نے مختصر لیکن پر اثر انداز میں میلاد کے حوالے سے اپنے طرز عمل کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ بذاتِ خود میلاد میں شریک ہوتے ہیں۔بلکہ وہ ایک قدم آگے بڑھ کر ببانگ دہل کہتے ہیں: "اور فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل میلاد میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر منعقد کرتا ہوں، اور میں قیام میں لطف ولذت محسوس کرتا ہوں" (7)۔ لیکن فاتحہ کے حوالے سے حاجی صاحب نے اپنا طرز عمل جس طرح بیان کیا ہے، وہ ان کی سوچ وفکر کی بہتر عکاسی کرتا ہے: " فقیر کا مشرب یہ ہے کہ وہ کسی مخصوص ہیئت کا پابند نہیں، لیکن وہ دوسروں پر اس بابت تنقید بھی نہیں کرتا"(9)۔

حاجی صاحب نے اپنے رسالے کے آخر میں ایک وصیت بھی کی ہے، جس میں انھوں نے اپنے مرید اور دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے ایک مولانا رشید احمد گنگوہی کی مدح سرائی کرکے دیوبندی تحریک سے اپنی وفاداری کی تصدیق ایک دل چسپ انداز میں کی۔ پس نوشت کی صورت میں انھوں نے اس وصیت میں دیوبند اور مولانا گنگوہی کے مخالفین اور موافقین دونوں کو مخاطب کیا ہے۔ انھوں نے علماے دیوبند کے مخالفین کو وصیت کی کہ وہ ہندوستان میں مولانا گنگوہی کے بابرکت وجود کو غنیمت سمجھیں، اور ان سے فیوض وبرکات کا حصول کریں۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ مولانا گنگوہی وہ شخصیت ہیں، جو کمالاتِ ظاہری وباطنی دونوں کے جامع ہیں، اور ان کی تحقیقات محض اللہ کی خاطر ہیں۔ ان میں نفسانی خواہشات کا کوئی شبہ نہیں۔ گویا کہ وہ اپنے مرید کو مناظرانہ گولہ باری سے بچانا چاہتے تھے، اس لیے انھوں دیوبند کے پیروکاروں اور حامیوں سے بھی گزارش کی کہ مولانا گنگوہی کی مجلس میں ایسے تنازعات کا تذکرہ نہ کریں (13 - 14)۔ "انھیں اپنے جھگڑوں میں شریک نہ کیا کریں" (14)۔ آخری جملہ جس قدر سادہ اور جامع ہے، اسی قدر مؤثر اور بامعنی ہے: "سب پر لازم ہے کہ مفت کی بحث وتکرار میں عمر عزیز کو ضائع نہ کیا کریں کہ یہ محبوب حقیقی (اللہ تعالی) سے حجاب ہے" (14)۔

حواشی

  1. محمد اقبال قریشی، معارفِ گنگوہی (لاہور: ادارۂ اسلامیات، 1976)، 67۔
  2. سیما علوی، Muslim Cosmopolitanism in the Age of Empire (کیمبرج، ایم اے: ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 2015)۔ تاہم حاجی صاحب کی فکر کو انھوں نے جس طرح سے سمجھا ہے، اس کے کئی پہلؤوں سے میں اختلاف کرتا ہوں۔ جیسا کہ میرے اور ان کے متنی تجزیے کے تقابل سے بالکل واضح ہو جائے گا۔
  3. محمد شیر کوٹی، حیاتِ امداد (کراچی: مدرسہ عربیہ اسلامیہ، 1965)، 53۔
  4. نثار احمد فاروقی، نوادرِ امدادیہ (گلبرگہ، کرناٹکہ: سید گیسو دراز تحقیقی اکیڈمی، 1996)، 26۔
  5. شیرکوٹی، حیاتِ امداد، 58۔
  6. نوادرِ امدادیہ، 28 – 30۔
  7. شیرکوٹی، حیاتِ امداد، 83۔
  8. سکاٹ کگل، Sufis and Saints’ Bodies: Mysticism, Corporeality, and Sacred Power in Islam (چیپل ہل: یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا پریس، 2007)۔
  9. سلسلۂ چشتیہ میں حاجی امداد اللہ صاحب کے مقام اور کردار کے لیے مزید دیکھیے: کارل ڈبلیو ارنسٹ اور بروث بی لارنس، Sufi Martyrs of Love: The Chishti Order in South Asia and Beyond (نیو یارک: پالگریو میکملن، 2002)، 105 – 26۔
  10. سید نظر زیدی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سیرت وسوانح (گجرات: مکتبۂ ظفر، 1978)، 43۔
  11. شیر کوٹی، حیاتِ امداد، 59۔
  12. فاروقی، نوادرِ امدادیہ، 36۔
  13. اشرف علی تھانوی، قصص الاکابر لحصص الاصاغر (ملتان: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، 2006)، 84۔
  14. فاروقی، نوادرِ امدادیہ، 72۔
  15. ایضاً، 74۔ حاجی صاحب ڈاک یا ہندوستان سے مکہ مکرمہ آنے جانے والے مختلف واقف کاروں کے ذریعے خطوط بھیجا کرتے تھے۔ وہ اپنے خط کو اس پورے سلسلۂ سند کے ساتھ شروع کرتے، جس کے ذریعے خط متعلقہ شخص تک پہنچتا۔ ان خطوط کے مضامین روزمرہ کے معمولی معاملات، جیسے مکہ میں منی آرڈر کی سہولت کی عدم دست یابی کی شکایات، یا الدر المختار پر احمد طحطاوی کے حاشیے کی بے تحاشا قیمت کی شکایت اور اس کے ساتھ یہ درخواست کہ اس کے چند نسخے ہندوستان سے بھیجے جائیں، سے لے کر شرعی اعمال وعقائد کے پیچیدہ مسائل پر مشتمل ہوتے تھے۔
  16. اشرف علی تھانوی، امداد المشتاق الی اشرف الاخلاق (کراچی: دارالاشاعت، 1976)، 14۔
  17. فاروقی، نوادرِ امدادیہ، 27۔
  18. ایضاً، 15۔
  19. فاروقی، نوادرِ امدادیہ، 27۔
  20. اشرف علی تھانوی، ارواحِ ثلاثہ (کراچی: دارالاشاعت، 2001)، 138۔
  21. حاجی امداد اللہ، فیصلۂ ہفت مسئلہ (کراچی: ایم ایچ سعید، تاریخ ندارد)، 3۔ یہاں پر تمام حوالہ جات اسی اشاعت سے دیے گئے ہیں، اور متن میں بین القوسین درج ہیں۔
  22. نائل گرین، Making Space: Sufis and Settlers in Early Modern India (نیو دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2012)، 13 – 64۔

(جاری)