یہودی ریاست کا خواب اور اس کی حقیقی تعبیر
محمد عمار خان ناصر
جدید اسرائیل کے قیام کی تاریخ صہیونی تحریک کے بغیر نامکمل ہے اور اس میں صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کی کتاب ’’یہودی ریاست“ (The Jewish State) بنیادی دستاویز ہے جس میں یہودیوں کے سامنے اس تصور کو سیاسی اور تاریخی طور پر ایک قابل فہم اور قابل عمل تصور بنا کر پیش کیا گیا ہے، یعنی ایک باقاعدہ مقدمہ پیش کیا گیا ہے کہ یہودی ریاست کا قیام یہودیوں کی اور خود یورپی اقوام کی ایک ناگزیر تاریخی وسیاسی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں پوری طرح قابل عمل ہے۔
یہودی ریاست کے خواب کو روبہ عمل کرنے کے سلسلے میں ہرزل کے ذہن میں جو منصوبہ تھا، اس کا بنیادی خاکہ یہ تھا کہ یورپی اقوام کی تائید اور سرپرستی سے دنیا کے کسی خطے میں یہودی زمین کا ایک ٹکڑا خرید کر اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں اور دنیا بھر میں جہاں بھی یہودیوں کو نفرت اور جبر کا سامنا ہے، ان کو وہاں سے لا کر اس خطے میں آباد کر دیا جائے اور وہ اپنی محنت اور لیاقت سے خود بھی ترقی کریں اور اس خطے کی ترقی میں بھی مددگار بنیں۔
ہرزل مذکورہ کتاب میں لکھتا ہے:
’’اگر عالمی طاقتیں ایک غیر جانب دار علاقے پر ہماری خود مختاری کے خیال کے ساتھ اتفاق کی خواہش کا اعلان کرتی ہیں تو پھر جیوش سوسائٹی اس سرزمین پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے مذاکرات منعقد کرے گی۔ یہاں دو علاقے زیر غور آتے ہیں: فلسطین اور ارجنٹائن۔ دونوں ملکوں میں نوآبادیات کے حوالے سے اہم تجربے کیے جا چکے ہیں، اگرچہ ایسا یہودیوں کی تدریجی در اندازی کے غلط اصول پر کیا گیا۔ در اندازی کا انجام آخر کار برا ہوتا ہے۔ یہ اس ناگزیر لمحے تک ہی جاری رہ سکتی ہے جب تک مقامی آبادی خود کو خطرے سے دوچار محسوس نہ کرے اور حکومت کو مجبور کر دے کہ وہ یہودیوں کی مزید آمد پر پابندی عائد کرے۔ چنانچہ جب تک ہمیں ہجرت کو جاری رکھنے میں خود مختاری حاصل نہ ہوجائے، یہ عمل نتیجے کے لحاظ سے بے فائدہ ہے۔
اگر یورپی طاقتیں اس منصوبے کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرتی ہیں تو ان کی زیر حفاظت سوسائٹی آف جیوز زمین کے موجودہ مالکوں سے معاملہ کرے گی۔ ہم انہیں بے بہا فائدوں کی پیش کش کر سکتے ہیں، عوامی قرضے کا ایک حصے کی ادائیگی اپنے ذمے لے سکتے ہیں، ٹریفک کے لیے نئی سڑکیں بنا سکتے ہیں جو کہ اس ملک میں ہماری موجودگی کی بنا پر لازمی ہو جائے گا، اور دیگر بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ ہماری ریاست کا قیام پڑوسی ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ زمین کی ایک پٹی کو زرخیز بنانے سے اس کے ارد گرد کے علاقوں کی قدروقیمت میں بھی ان گنت طریقوں سے اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہمیں فلسطین کا انتخاب کرنا چاہیے یا ارجنٹائن کا؟ ہمیں جو علاقہ بھی مل جائے اور یہودی رائے عامہ جس کا بھی انتخاب کرے، ہم اسے لے لیں گے۔ دونوں نکات کا فیصلہ سوسائٹی کرے گی۔
ارجنٹائن دنیا کے زرخیز ترین خطوں میں سے ایک ہے، ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے، بے حد کم آبادی اور معتدل آب وہوا رکھتا ہے۔ جمہوریہ ارجنٹائن اپنے علاقے کا ایک حصہ ہمارے سپرد کر کے معقول فوائد حاصل کر سکتی ہے۔ یہودیوں کی موجودہ در اندازی نے یقینا کچھ بے اطمینانی پیدا کی ہے اور جمہوریہ کو ہماری نئی تحریک کے داخلی فرق کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کرنا ہوگا۔
فلسطین ہمارا ناقابل فراموش تاریخی وطن ہے۔ فلسطین کا نام ہی ہمارے لوگوں کو ایک معجزانہ طاقت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لے گا۔ اگر عزت مآب سلطان ہمیں فلسطین عنایت کر دیں تو ہم بدلے میں ترکی کے تمام مالیاتی امور کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ وہاں ہمیں ایشیا کے مقابلے میں یورپ کے لیے ایک حفاظتی فصیل قائم کرنی ہوگی، جو تہذیب سے نابلد خطے میں گویا ایک دورافتادہ تہذیب کا نمائندہ ہوگا۔ ایک غیر جانب دار ریاست کی حیثیت سے ہمیں سارے یورپ سے تعلقات رکھنا ہوں گے جو ہمارے وجود کی ضمانت دے گا۔“ (باب دوم)
اپنی کتاب کا اختتام ہرزل نے اس پرتیقن امید پر کیا ہے کہ
’’اگر ہم اپنے منصوبے پر عمل کا محض آغاز کر دیں تو سامی مخالف تحریک فوراً ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی کیونکہ امن کا نتیجہ اسی صورت میں نکلا کرتا ہے۔
جیوش کمپنی کے قیام کی خبر ٹیلی گراف کی برق رفتار تاروں کے ذریعے سے زمین کے دور دراز کناروں تک ایک ہی دن میں پہنچ جائے گی اور اس کے بعد فوری طور پر ہمیں سکھ کا سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔……
ہمارے منصوبے کی کام یابی کے لیے ہماری عبادت گاہوں اور گرجوں میں دعائیں کی جائیں گی کیونکہ اس کے نتیجے میں ہم اس پرانے بوجھ سے سبک دوش ہوں گے جس کی تکلیف ہم سب کو اٹھانی پڑی ہے۔لیکن پہلے ہمیں لوگوں کے ذہنوں میں روشن خیالی پیدا کرنا ہوگی۔ اس خیال کا نفوذ ان نہایت دور دراز اور بدحال علاقوں تک ہونا چاہیے جہاں ہمارے لوگ سکونت پذیر ہیں۔ وہ اپنی یاس زدہ گہری سوچوں سے بیدار ہوں گے کیونکہ ان کی زندگیوں میں ایک نئی اہمیت آ جائے گی۔ ہر شخص کو بس اپنی فکر کرنی ہوگی اور یوں تحریک ایک وسیع دھارے کی شکل اختیار کر لے گی۔ اور اس مشن کے لیے بے غرض ہو کر جدوجہد کرنے والوں کے لیے جو شان اور جو مرتبہ منتظر کھڑے ہیں، ان کی عظمت کا اندازہ کون کر سکتا ہے!
اس بنا پر مجھے یقین ہے کہ یہودیوں کی ایک حیران کن نسل وجود میں آ جائے گی۔ مکابی دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے ابتدائی کلمات کو یہاں دوبارہ دہرا سکوں: ”یہودی جو اپنی ریاست کے آرزومند ہیں، اس کو حاصل کر لیں گے۔ آخر کار ہم بھی اپنی سرزمین پر ایک آزاد قوم کی حیثیت سے رہ سکیں گے اور اپنے گھروں میں چین کے ساتھ مر سکیں گے۔“
ہماری آزادی سے دنیا کو آزادی نصیب ہوگی، ہماری دولت سے اس کی ثروت میں اضافہ ہوگا اور ہماری عظمت سے اس کی عظمت میں چار چاند لگ جائیں گے۔ اپنے ملک میں ہم اپنی بہبود کے حصول کے لیے جو بھی کوششیں کریں گے، ان کا اثر انسانیت کی فلاح پر نہایت طاقت ور اور بے حد فائدہ مند ہوگا۔“ (خاتمہ بحث)
یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کے لیے ہرزل نے امکانی طور پر فلسطین اور ارجنٹائن کا ذکر کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق ہرزل نے سلطنت عثمانیہ کا سفر کیا اور خلیفہ عبد الحمید ثانی سے فلسطین کا علاقہ یہودیوں کے سپرد کر دینے کی درخواست کی جسے خلیفہ نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ارجنٹائن کے علاوہ یوگنڈا بھی صہیونی قائدین کے ہاں زیرغور رہا، لیکن ۱۹۰۶ء میں بیسل (سوئٹزر لینڈ) میں منعقدہ ساتویں صہیونی کانگریس نے متفقہ طور پر یہ طے کر لیا کہ یہودی ریاست صرف اور صرف فلسطین میں ہی قائم کی جائے گی۔
یہ منصوبہ سوچتے ہوئے جس سوال کو قطعی طور پر نظر انداز کیا گیا، وہ یہ تھا کہ فلسطین صدیوں پہلے چاہے یہودیوں کا قومی وطن رہا ہو اور یہودیوں نے یہاں واپسی کے خواب کو نسل در نسل زندہ رکھا ہو، بحالت موجودہ یہ پوری دنیا کے یہودیوں کا وطن نہیں تھا ۔ چنانچہ اس منصوبے کو رو بہ عمل کرنا پرامن سیاسی ذرائع سے ممکن نہیں تھا اور اس کے لیے لازم تھا کہ مغربی اقوام کی استعماری پشت پناہی اور تائید حاصل کی جائے۔ خود ہرزل کو بھی پوری طرح اس کا احساس تھا کہ یورپی طاقتوں کی سرپرستی کے بغیر یہاں یہودی ریاست کا قیام بھی ممکن نہیں ہوگا اور یہ ریاست اپنی بقا کے لیے بھی مسلسل اس سرپرستی کی محتاج رہے گی۔
یہودی ریاست کے قیام کی کوششیں جیسے جیسے آگے بڑھتی گئیں، یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی چلی گئی۔ چنانچہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے، جن کو اسرائیل کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بنیادی معمار مانا جاتا ہے، واضح طور پر کہا کہ اسرائیل اگرچہ شرق اوسط میں قائم ہوا ہے، لیکن یہ ایک جغرافیائی حادثہ ہے، کیونکہ ہم بنیادی طور پر یورپی لوگ ہیں۔ بن گوریان نے کہ ’’ہمارا عربوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ ہماری ریاست، ثقافت اور تعلقات اس خطے کے اندر سے نہیں پھوٹے۔ ہمارے درمیان نہ کوئی سیاسی رشتہ ہے اور نہ کوئی بین الاقوامی تعلق۔“ اس پہلو سے بن گوریان نے یہودی ریاست کے تحفظ کی جو حکمت عملی وضع کی اور جو آج تک اسرائیل کی دفاعی پالیسی کا بنیادی پتھر مانی جاتی ہے، وہ یہ تھی کہ امریکا کو یہ باور کرایا جائے کہ اسرائیل اس کے لیے اس خطے میں ایک تزویراتی اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔*
یہودی ریاست کے قیام کا صہیونی منصوبہ چاہے یہودیوں کی کتنی ہی ہمدردی اور خیر خواہی سے سوچا گیا ہو، تاریخی طور پر صہیونی تحریک نے یہودیوں کو جو کچھ دیا ہے، اس کا حاصل یہی ہے کہ یورپی قوموں میں یہودیوں کے لیے پائی جانے والی نفرت کو مسلم دنیا میں منتقل کر دیا جائے جہاں تاریخ میں کبھی بھی مذہبی یا نسلی بنیادوں پر یہودیوں کو نفرت کا سامنا نہیں رہا، بلکہ مسلم علاقے ہمیشہ ان کے لیے بطور اقلیت اور بطور اہل کتاب، پناہ گاہ بنے رہے ہیں۔ صہیونی حلقوں میں تھیوڈور ہرزل کو ’’موسیٰ ثانی“ کا مقام دیا جاتا ہے جس نے دوبارہ یہودیوں کو فلسطین میں جمع کرنے کا عمل شروع کیا۔ آج اس کوشش کے نتائج دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ یہودیوں کے لیے موسیٰ نہیں، بلکہ بخت نصر دوم اور اہل فلسطین کے لیے فرعون ثابت ہوا جس نے لاکھوں یہودیوں کو بھی دنیا بھر سے اکٹھا کر کے اسرائیل کے جہنم میں لا پھینکا اور پورے خطے کو بھی نفرت، دشمنی اور انسانیت سوزی کی آماج گاہ بنا دیا۔ صہیونی منصوبہ ڈھائی ہزار سال سے جاری یہودی قوم کی اس تقدیر کا تسلسل ہے کہ وہ دنیا کی مختلف قوموں کے ہاتھوں ذلت ومسکنت کا عذاب چکھیں اور درمیان میں امن کے جو وقفے ملیں، ان میں بھی کبھی کردہ اور کبھی ناکردہ گناہوں پر اتنی نفرتیں جمع کریں تاکہ جب دوبارہ خدا کا عذاب آئے تو ان کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے والا بھی کوئی نہ ہو۔
* Avi Shlaim, “Israel, the Great Powers, and the Middle East Crisis of 1958”, Journal of Imperial and Commonwealth Hisoty, 12:2, May 1999
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(440) أُوفِی الْکَیْلَ
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّی أُوفِی الْکَیْلَ۔ (یوسف: 59)
”کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں“۔ (احمد رضا خان)
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں سامان کی ناپ تول بھی برابر رکھتا ہوں“۔ (ذیشان جوادی)
”دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں“۔ (سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ درج بالا آیت میں أُوفِی الْکَیْلَ سے ناپ تول میں کمی نہیں کرنا اور پورا ناپ کردینا مراد نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس مرتبہ بھائیوں نے بتایا کہ وہ ایک بھائی کو اپنے باپ کے پاس چھوڑ آئے ہیں، تو ان کے کہنے پر اس بھائی کا حصہ بھی دے دیا۔ یعنی پورا پورا دے دیا۔ البتہ ان سے یہ کہہ دیا کہ اس بار تمہارے کہنے پر اس کاحصہ دے دیا ہے اگلی بار اسے لے کر آنا تاکہ تمھاری بات کی تصدیق ہوجائے، اس کے بعد ہی اگلی بار کا غلہ ملے گا، ورنہ تمہاری بات جھوٹ ثابت ہوگی اور پھر غلہ بھی نہیں ملے گا اور جھوٹ کی پاداش میں قریب بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔
اس رائے سے ایک تو اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ حضرت یوسف نے ایک اور بھائی کو لانے کو کیوں کہا تھا، کیوں کہ ان بھائیوں نے کہا تھا کہ ایک بھائی اور ہے جو باپ کے پاس ہے اس کا حصہ بھی دے دیجیے۔
پھر اس رائے سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ حضرت یوسف نے اگلے سال کے غلے کے لیے اس بھائی کو لانے کی شرط کیوں لگائی تھی، اور نہیں لانے پر اتنی سخت بات کیوں کہی تھی۔
اس طرح أَلَا تَرَوْنَ أَنِّی أُوفِی الْکَیْلَ کا ترجمہ ہوگا: ”کیا تم دیکھتے نہیں میں پورا پورا دے رہا ہوں“۔ یعنی جتنے افراد بتارہے ہو سب کا حصہ دے رہا ہوں۔
(441) ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ
ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ۔ (یوسف: 65)
”اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا“۔ (سید مودودی)
”یہ ناپ تو بہت آسان ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”وہ بھرتی آسان ہے“۔ (شاہ عبدالقادر)
مذکورہ بالا ترجموں کے مقابلے میں درج ذیل ترجمہ زیادہ بہتر ہے۔
”یہ تو تھوڑا سا غلّہ ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)
”یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
دراصل جب حضرت یوسف نے کہہ دیا کہ اگلی بار بھائی کو لے کر آؤ گے تبھی غلہ ملے گا، ورنہ نہیں ملے گا۔ تو انھوں نے اپنے باپ کو قائل کرنے کے لیے کہا کہ یہ غلہ جو ملا ہے یہ تو تھوڑا ہی ہے ختم ہوجائے گا پھر غلے کی ضرورت پڑے گی اور وہ بھائی کو لے جائے بغیر ملے گا نہیں، اس لیے بھائی کو لے جانا ضروری ہوگا۔ اس پورے سیاق کو دیکھیں تو آخری ترجمہ درست معلوم ہوتا ہے۔ البتہ مراد یہ نہیں ہے کہ اس بار کم ملا ہے اگلی بار بھائی والا مل کر زیادہ ہوجائے گا۔ مراد یہ ہے کہ جو ملا ہے وہ اپنے آپ میں تھوڑا ہی ہے اور اگلی بار کا وقت آتے ختم ہوجائے گا اور پھر غلہ لینے کے لیے جانا اور بھائی کو ساتھ لے جانا ضروری ہوگا۔
(442) فَبَدَأَ بِأَوْعِیَتِہِمْ، فاعل کون؟
فَبَدَأَ بِأَوْعِیَتِہِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِیہِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَہَا مِنْ وِعَاءِ أَخِیہِ۔ (یوسف: 76)
”تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی“۔ (سید مودودی)
”تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا“۔ (احمد رضا خان)
”پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی شروع کی، اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان (زنبیل) سے نکالا“۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا تمام ترجموں میں حضرت یوسف علیہ السلام کو سب کے سامان کی تلاشی لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی ہے، حضرت یوسف تو عرش اقتدار پر متمکن تھے، وہ لوگوں کے سامانوں کی تلاشی کیوں لیں گے؟
دراصل جس نے پکار لگائی تھی کہ پیمانہ گم ہوگیا ہے، اسی نے تلاشی لی تھی۔ اس کے مطابق ترجمہ ہوگا:
”تب اس نے اس کے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اس کے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)
(443) کَبِیرُہُمْ کا ترجمہ
سب سے بڑے کے لیے کبیر نہیں اکبر آئے گا۔ کبیر کا مطلب وہ شخص جو کسی گروہ میں منصب کے لحاظ سے بڑا ہو، ان کا لیڈر ہو خواہ وہ عمر میں سب سے بڑا ہو یا نہ ہو۔
قَالَ کَبِیرُہُمْ۔ (یوسف: 80)
”ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا“۔ (سید مودودی)
”سب سے بڑے نے کہا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”ان کے بڑے نے کہا“۔(امین احسن اصلاحی)
آخری ترجمہ درست ہے۔
(444) فَرَّطْتُمْ کا ترجمہ
تفریط کا مطلب کسی کے معاملے میں کوتاہی کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ساتھ زیادتی کرنا۔
وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِی یُوسُفَ۔ (یوسف: 80)
”اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم کوتاہی کر چکے ہو“۔(محمد جوناگڑھی)
”اور اس سے پہلے یوسف کے بارہ میں کس قدر کوتاہی کرہی چکے ہو“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو“۔ (سید مودودی)
پہلے دونوں ترجمے درست ہیں۔
(445) وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حَافِظِینَ
وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حَافِظِینَ۔ (یوسف: 81)
”اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے“۔ (سید مودودی)
”اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے“۔ (احمد رضا خان)
”مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”ہم کچھ غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ہم کو غیب کی خبر یاد نہ تھی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور ہم غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اور ہمیں غیب کی خبر نہ تھی“۔ (احمد علی)
آخری ترجمہ درست ہے۔ یہاں غیب سے باخبر نہ ہونے کی بات ہے۔ غیب کی حفاظت یا غیب کی نگہبانی کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟
(446) تَاللَّہِ تَفْتَأُ تَذْکُرُ
درج ذیل آیت مستقبل کے صیغے میں ہے، لیکن بعض حضرات نے اس کا حال کا ترجمہ کیا ہے:
قَالُوا تَاللَّہِ تَفْتَأُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا أَوْ تَکُونَ مِنَ الْہَالِکِینَ۔ (یوسف: 85)
”بیٹوں نے کہا،خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے“۔ (سید مودودی، تاللہ کا ترجمہ خدارا نہیں ہوگا، یہ قسم کے لیے ہے اس کا ترجمہ خدا کی قسم ہوگا۔)
”بولے خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں“۔ (احمد رضا خان)
”کہنے لگے قسم اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یاد یوسف کی جب تک کہ گل جاوے یا ہوجائے مردہ“۔ (شاہ عبدالقادر)
آخری دونوں ترجمے اس لحاظ سے درست ہیں کہ مستقبل کے صیغے میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
(447) فتحسّسوا کا ترجمہ
تحسس کے معنی خبر لینے کے ہوتے ہیں، لسان العرب میں ہے: وتَحَسَّسَ الْخَبَرَ: تطلَّبہ وتبحَّثہ۔جب یہ کسی راز یا پوشیدہ امر کے بارے میں ہو تو اردو میں ٹوہ لگانا کہیں گے، لیکن اگر کسی گم شدہ چیز کے لیے ہو تو تلاش کرنا اور سراغ لگانا کہیں گے۔ درج ذیل ترجموں میں ٹوہ لگاؤ درست ترجمہ نہیں۔
یَابَنِیَّ اذْہَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَأَخِیہِ۔ (یوسف: 87)
”اے بیٹو جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اس کے بھائی کی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ“۔ (احمد رضا خان)
”بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)
”میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ“۔ (سید مودودی)
”اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخری دونوں ترجموں میں فتحسسوا کے ترجمے کے لیے اردو تعبیر ٹوہ لگاؤ موزوں نہیں ہے۔
(448) لَا تَثْرِیبَ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں تثریب کا مطلب گرفت و سرزنش ہے، نہ کہ الزام، جیسا کہ بہت سے لوگوں نے ترجمہ کیا ہے۔ کیوں کہ الزام تو تھا ہی، الزام کی نفی کیوں کی جائے گی۔ الزام سے آگے بڑھ کر جرم ثابت ہوچکا تھا۔ البتہ جرم ثابت ہونے کے باوجود اس پر سزا نہیں دی جائے گی، اس بات کا اعلان کیا گیا۔ یعنی بے گناہ قرار نہیں دیا گیا، سزا معاف کردی گئی۔
قَالَ لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔ (یوسف: 92)
”کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج“۔ (شاہ عبدالقادر)
”یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نہیں تم پر آج کوئی الزام“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اس نے کہا: اب تم پر کچھ الزام نہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اس نے جواب دیا، آج تم پر کوئی گرفت نہیں“۔ (سید مودودی)
”کہا نہیں سرزنش اوپر تمہارے آج کے دن“۔ (شاہ رفیع الدین)
(449) وَ إِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ کا ترجمہ
وَ إِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ۔ (یوسف: 91)
”اور واقعی ہم خطا کار تھے“۔ (سید مودودی)
”اور یقینا ہم ہی خطاکار تھے“۔ (طاہر القادری)
”اور بے شک ہم ہی غلطی پر تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخری دونوں ترجموں سے یہ بات نکل سکتی ہے کہ لوگ کسی اور کو بھی خطاکار سمجھ رہے تھے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ صرف ان کے خطاکار ہونے اور نہیں ہونے کا سوال تھا، جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا کہ ہم خطاکار تھے۔ اس لحاظ سے پہلا ترجمہ زیادہ درست ہے۔
(450) ادْخُلُوا مِصْرَ کا ترجمہ
یوں تو ادخلوا مصر کا ترجمہ ہونا چاہیے”مصر میں داخل ہوجاؤ“، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ تو حضرت یوسف کے پاس آچکے تھے، پھر مصر میں داخل ہونے کو کیوں کہا جائے گا۔ اس کا ایک جواب یہ دیا گیا کہ حضرت یوسف نے پہلے مصر سے باہر ایک خیمے میں ان کا استقبال کیا، بعد میں مصر میں لے کر آئے۔ لیکن یہ بات تکلف سے بھرپور اور دلیل سے خالی ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہاں ادخلوا قیام کرنے کے مفہوم میں ہے، یہ توجیہ مناسب لگتی ہے۔
وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّہُ آمِنِینَ۔ (یوسف: 99)
”اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو خاطر جمع سے“۔ (شاہ عبدالقادر)
”کہا،چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے“۔ (سید مودودی، مصر غیر منصرف ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شہر کے معنی میں نہیں بلکہ اس جگہ کے معنی میں ہے جس کا نام مصر ہے۔)
”اور کہا مصر میں داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ“۔ (احمد رضا خان)
”اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)
درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:
”اور کہا: مصر میں ان شاء اللہ امن چین سے رہیے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(451) رُؤْیَایَ مِنْ قَبْلُ
یہاں ”پہلے خواب“ ترجمہ کرنے سے بہتر ہے ”وہ خواب جو پہلے دیکھا تھا“، کیوں کہ پہلے خواب سے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس کے بعد بھی خواب دیکھے تھے۔ جب کہ کہنا مقصود یہ ہے کہ وہ خواب جو پہلے زمانے میں دیکھا تھا۔
وَقَالَ یَا أَبَتِ ہَذَا تَأْوِیلُ رُؤْیَایَ مِنْ قَبْلُ۔ (یوسف: 100)
”اور کہا اے باپ یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور اس نے کہا: اے میرے باپ! یہ ہے میرے پہلے خواب کی تعبیر“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے“۔ (احمد رضا خان)
”یوسف نے کہا کہ بابا یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے“۔ (ذیشان جوادی)
”یوسف ؑ نے کہا،ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا“۔ (سید مودودی)
آخری ترجمہ زیادہ مناسب ہے۔
(452) نَزَغَ الشَّیْطَانُ کا ترجمہ
مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی۔ (یوسف: 100)
”بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوادیا تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بعد اس کے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوادیا“۔ (اشرف علی تھانوی)
”اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)
شیطان نے فساد خود ڈالا تھا، کسی سے ڈلوایا نہیں تھا۔ اس لیے پہلے دونوں ترجمے درست نہیں ہیں۔ نزغ کا مطلب بھی خود فساد ڈالنا ہوتا ہے: لسان لعرب میں ہے: نَزَغَ بَیْنَہُمْ یَنْزَغُ ویَنْزِغُ نَزْغاً: أَغْرَی وأَفْسَدَ وَحَمَلَ بعضَہم عَلَی بَعْضٍ۔
(453) من الملک اور من تاویل الاحادیث میں من کیسا ہے؟
من دیکھ کرتبعیض کی طرف ذہن چلا جاتا ہے، لیکن من ہمیشہ تبعیض کے معنی میں نہیں ہوتا۔ قرآن میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ کہیں تبعیض کے بجائے تاکید العموم مقصود ہوتی ہے۔ درج ذیل تینوں مقامات پر مترجمین کا رویہ بہت مختلف قسم کا ہے، ایک ہی مترجم کہیں تبعیض کا ترجمہ کرتا ہے اور کہیں تبعیض کا نہیں کرتا ہے۔ درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں تینوں مقامات پر تبعیض مراد نہیں ہے۔ بلکہ عموم ہی مراد ہے۔
(۱) وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ۔ (یوسف: 6)
”اور سکھلادے گا کلبٹھانی باتوں کی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا“۔ (احمد رضا خان)
”اور تمھیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۲) وَلِنُعَلِّمَہُ مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ۔ (یوسف: 21)
”اور اس واسطے کہ اس کو سکھادیں کچھ کل بٹھانی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور اس کو باتوں کی تعبیر بتائیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں“۔ (احمد رضا خان)
”کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
(۳) رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ۔ (یوسف: 101)
”اے رب تو نے دی مجھ کو کچھ سلطنت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیر“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اے میرے رب! تو نے مجھے اقتدار میں سے بھی حصہ بخشا اور باتوں کی تعبیر کے علم میں سے بھی سکھایا“۔(امین احسن اصلاحی)
”اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا“۔ (احمد رضا خان)
”اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ کیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی“۔ (محمد جوناگڑھی)
اوپر کی تینوں آیتوں کے ترجموں میں ’کچھ‘ یا اس کا ہم معنی لفظ نہیں رہے گا۔
(454) وَہُمْ یَمْکُرُونَ کا ترجمہ
درج ذیل آیت میں وھم یمکرون عربی کے اسلوب کے لحاظ سے جملہ حالیہ ہے، لیکن اس کا ترجمہ عام طور سے جملہ معطوفہ کا کیا گیا ہے۔
وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَہُمْ وَہُمْ یَمْکُرُونَ۔ (یوسف: 102)
”اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب کہ انھوں نے اپنی رائے پختہ کی اور وہ سازش کررہے تھے“۔(امین احسن اصلاحی)
”آپس میں اتفاق کرکے سازش کی تھی“۔ (سید مودودی، جملے کی ترکیب کے لحاظ سے ترجمہ ہونا چاہیے: سازش پر اتفاق کیا تھا۔)
”اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے“۔ (احمد رضا خان)
وھم یمکرون کو جملہ حالیہ بنائیں گے تو ترجمہ ہوگا:
”جب کہ انھوں نے سازش کرتے ہوئے اپنی رائے پختہ کی“۔(امانت اللہ اصلاحی) یعنی سازش پر متفق ہوگئے اور اس کا تہیہ کرلیا۔
رائے پختہ کرنا اور سازش کرنا الگ الگ دو کام نہیں تھے، بلکہ جو سازش وہ کررہے تھے اسے کرتے ہوئے اپنی رائے پختہ کرلی تھی کہ کیا کرنا ہے۔
(جاری)
مطالعہ سنن النسائی (۲)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
(اس سلسلے کا پہلا حصہ اگست ۲۰۲۲ء میں شائع ہوا تھا)
مطیع سید: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے اور ایک اوٹ میں بیٹھ گئے۔بعض مشرکین نے دیکھا تو کہا کہ یہ عورتوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا، اس کو بھی بھلی بات سے روکنے پر عذاب ہوا۔بنی اسرائیل میں اگر بدن پر کہیں پیشاب لگ جاتا تو وہ بدن کا وہ حصہ چھیل دیتے تھے، تو ان کے ساتھی نے ان کو اس سے منع کیا جس پر اسے عذاب دیا گیا1۔ اس حدیث سے یوں لگتا ہے کہ یہ پہلی شریعت کا حکم تھا، لیکن یہ تو کوئی معقول بات نہیں لگتی۔جسم کا کوئی حصہ چھیل دینا، اس طرح کی سختی کیوں تھی؟
عمار ناصر: ایک بات تو یہ ہے کہ حدیث میں نجاست آلود کپڑے کو کاٹنے کا ذکر ہے، جسم کو چھیلنے کا نہیں۔اگر کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تو اس کو دھو کر استعمال کرنے کی اجازت بنی اسرائیل کو نہیں تھی۔بہرحال اس میں بھی ایک سختی نظر آتی ہے۔ایک بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی پابندیاں لگانے کی حکمتیں اللہ تعالی ہی بہتر سمجھتا ہے، لیکن بنی اسرائیل کے باب میں کچھ اسباب نصوص میں ذکر ہوئے ہیں کہ ان پر اتنی سخت پابندیاں کیوں لگائی گئیں۔وہ ایک سرکش قوم تھی اور ان کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے کچھ حلال چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئیں، کچھ پابندیاں لگا دی گئیں۔تو کچھ خاص اسباب ہیں جن کی وجہ سے بنی اسرائیل پر پابندیاں لگائی گئیں۔ان میں سے ایک پابندی یہ بھی ہو سکتی ہے۔جیسے وہ لوگ نماز معبد میں ہی جا کر پڑھ سکتے تھے اور مال غنیمت ان کو جلانا پڑتا تھا، استعمال میں نہیں لا سکتے تھے۔حلال جانوروں کی چربی نہیں کھا سکتے تھے۔
مطیع سید: قرآن مجید میں وضو کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بڑے سادہ انداز میں بیان کر دیا ہے، لیکن جب ہم احادیث میں دیکھتے ہیں تو اس میں بڑی تفصیلات و جزئیات ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ جیسے قرآن مجید بہت باریکیوں میں نہیں جانا چاہتا اور وہ کہتا ہے کہ بس ایسے کر لیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تفصیلات میں جانا چاہتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی تفصیلات میں کیوں جا رہے ہیں؟ آپﷺ سادہ طریقے پر کیوں نہیں رہے؟
عمار ناصر: اس میں ایک تو قرآن مجید کے اسلوب کا معاملہ ہے۔خاص طور پر احکام کے اندر قرآن مجید بہت اجمال کے ساتھ بات بیان کرتا ہے اور بس اس کا ایک ڈھانچہ سا بنا دیتا ہے، تفصیلات میں نہیں جاتا۔یہ قرآن مجید کا اسلوب ہے، اور ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے بھی حکمت ہے۔بعض جگہوں پر تفصیلات میں نہ جانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وسعت رہے، بعض جگہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس طرح کی تفصیلات چاہییں، وہ عمل سے متعلق ہیں تو ان کو بیان کرنا، قرآن کے عمومی اسلوب و مزاج سے مختلف ہے۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید ایک بنیادی بات بیان کرتا ہے اور اس بنیادی بات کے پس منظر میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس پر عمل کر کے دکھانے کے لیے پیغمبر موجود ہے۔تو وضو کا جو اسوہ ہے جس میں طہارت کا احساس پیدا ہو، اس کا مکمل نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا۔آپ دیکھیں کہ یہ جو ساری تفصیلات ہیں، ان کا تعلق عمل سے ہے۔اگر قرآن ان کو بھی الفاظ میں بیان کرنے لگے تو پھر قرآن بھی فقہ کی کتاب بن جائے گی۔
مطیع سید: ہم بعض دفعہ فقہاء پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بہت باریکیوں میں چلے جاتے ہیں اور جزئیات میں چلے جاتے ہیں،اصل مسئلہ بہت سادہ ہوتا ہے۔تو فقہاء کی جو موشگافیاں ہیں، کیا ان کو اس سے جوڑا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ انہوں نے راہنمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لی ہے۔
عمار ناصر: آپ دو طرح کی موشگافیاں کہہ سکتے ہیں۔ایک تو تکلف کا پہلو اس سے پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک عمل آپ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں تو وہ چیز آپ کو فطری لگتی ہے اور اسی چیز کو آپ لفظوں میں بیان کرنا شروع کر دیں اور قاعدوں ضابطوں میں ڈھالنا شروع کر دیں تو وہ غیر فطری لگتی ہے۔ آپ احادیث میں کسی عمل کی تفصیلات کو پڑھیں تو گویا ایک زندہ عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ایک واقعہ بیان ہو رہا ہوتا ہے جو آپ کو عجیب نہیں لگتا۔لیکن اسی کو اگر آپ فقہ میں قانون اور ضابطے کے انداز میں بیان کریں تو وہ ایک مصنوعی سی چیز لگے گی۔تو ایک تو یہ ہوا ہے کہ جو چیزیں فطری ہیں، فقہ میں ان کو قاعدے کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے۔موشگافیوں کا دوسرا دائرہ وہاں شروع ہو جاتا ہے جب فقہاء قیاساً اس میں مزید تحدیدات شامل کرنا شروع کرتے ہیں تو اس سے مزید ایک تکلف کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔
مطیع سید: یہاں ایسے لگتا ہے کہ کچھ مزاج بھی ایسے ہوتے ہیں جن کو تفصیل میں جانے سے روکا نہیں جا سکتا۔مثلاً چہرہ دھونا ہے، اس میں یہ سوال ہوتا ہے کہ کہاں تک دھونا ہے؟ اور پھر اگر کوئی بال خشک رہ گیا تو کیا ہوگا؟ اسی طرح بھنوؤں کے اندر پانی جانا چاہیے کہ نہیں؟ تو کچھ اذہان اس طرح کے ہوتے ہیں جو اس طرح کے سوال پیدا کر دیں گے، تو خود بخود ایسی چیزیں پیدا ہو جائیں گی۔
عمار ناصر: ایسا ہی ہے۔ایک تو فقہ ایسی چیز ہے کہ احکام جہاں پر بھی ہوں، أوامر اور نواہی جہاں بھی ہوں، ان کو آپ جب ایک ضابطے کی شکل دینا شروع کرتے ہیں تو اس کی نیچر ایسی ہے کہ آپ کو اسے لکھنا پڑتا ہے۔پھر کچھ اذہان کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔یعنی کچھ تفصیلات تو اس عمل کا اپنا تقاضا ہوتی ہیں، پھر کچھ اذہان جب اس مزاج کے اس میں آجاتے ہیں تو اس کو وہ مزید سخت بنا دیتے ہیں۔
مطیع سید: شریعت میں جنابت کے بعد جو غسل کا حکم ہے، اس کی حکمت کیا ہو سکتی ہے؟ اگر اس کی حکمت احساسِ طہارت ہے وہ تو ہم وضو سے بھی حاصل کر سکتے ہیں، تو الگ سے ایک مشقت رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟
عمار ناصر: اس میں دراصل درجے کا فرق ہے۔طہارت کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے،اگر آپ اسے شاہ ولی اللہ کے ہاں دیکھیں تو وہ اس کو روحانی پہلو سے بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے پیشاب یا پاخانہ کیا تو روحانی طور پر آپ کے اندر ایک ایسی کیفیت پیدا ہو گئی جس کو دور کرنے کے لیے طہارت کی ضرورت ہے۔ نجاست سے جسم کا تلوث ہوا ہے، نجاست آپ کے جسم سے نکلی ہے،آپ نے اس کو دھویا ہے، تو یہ پورا عمل آپ کے اندر ایک روحانی ناپاکی کا احساس پیدا کرتا ہے۔اس کو پھر طہارت سے دور کیا جاتا ہے۔جنابت میں وہ عمل اس سے ایک مرحلہ آگے ہوتا ہے۔خاص طور پر اگر آپ نے ہم بستری کی ہے تو وہ بالکل ایک حیوانی عمل ہے، اس میں شرم و حیا ایک طرف رہ جاتی ہے۔تو اس میں ناپاکی کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔شریعت کہتی ہے کہ یہ احساس ہونا چاہیے کہ تلوث ہو گیا ہے اور اس معنوی ناپاکی سے نکلنے کے لیے پورے جسم کو طہارت حاصل کرنی چاہیے۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے ہر کام کرنا پسند کرتے تھے جہاں تک ممکن ہوتا تھا2، مثلاً کھانا کھانا اور لباس پہننا وغیرہ۔اس میں کیا حکمت ہے؟
عمار ناصر: بس یہ ایک مابعد الطبیعیاتی نسبت ہے، اس کی کوئی عقلی توجیہ نہیں ہے۔بس یہ ہے کہ اللہ تعالی کو دائیں جانب پسند ہے۔جیسے وتر ہے، اللہ تعالی کو طاق تعداد پسند ہے۔تو چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس نے دائیں جانب نیک لوگوں کے لیے رکھی ہوئی ہے، تو ہم بھی اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مطیع سید: عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔آپ نے فرمایا کہ تو اپنی قوم کا امام ہے، لیکن امامت کرتے ہوئے ایسے شخص کی رعایت کرنا جو سب سے ضعیف اور ناتواں ہے، اور ایسے موذن کو مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے3۔سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو ان چیزوں مثلاً اذان کی اجرت کا تصور بھی پیدا نہیں ہوا ہوگا، یہ چیزیں تو بہت بعد میں آئی ہیں۔
عمار ناصر: آپ کے دور میں یہ تصور تو پیدا نہیں ہوا ہوگا، لیکن اس کا تصور تو کیا جا سکتا تھا۔اذان ایک ذمہ داری اور پابندی ہے۔مدینے میں تو حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم تھے، یہ ان کی ڈیوٹی تھی، اور اس پر ان کے لیے کوئی وظیفہ نہیں تھا۔اس وقت نماز پڑھانے کے لیے بھی وظیفے کا کوئی تصور نہیں تھا۔تو اس وقت ان چیزوں کا رواج اور تصور نہیں تھا، لیکن یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ اگر ان چیزوں پر کسی کو مامور کیا جائے تو اس کے دل میں طلب پیدا ہو سکتی ہے۔جیسے یہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ثقفی ہیں، یہ نو مسلم ہیں، تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ میری یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے تو میرے لیے کچھ وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا۔اصولاً یہی بات بہتر ہے کہ عبادات میں یعنی نماز پڑھانے کے لیے یا اذان دینے کے لیے کسی ایسے آدمی کی ڈیوٹی نہ لگائی جائے جو صرف اس لیے یہ کام کرے کہ اسے اس پر وظیفہ دیا جائے گا۔
مطیع سید: ایسے لگتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض باتوں کو ناپسند فرماتے تھے، لیکن ان کی سوسائٹی بہت سادہ تھی، ابھی معاشرہ بہت پیچیدہ نہیں ہوا تھا، لیکن بعد میں صورتحال بدل گئی۔
عمار ناصر: جی بالکل ایسے ہی ہے،لیکن اس میں ترجیح کا اظہار ہو جاتا ہے کہ دین کی ترجیح کیا ہے۔لیکن جیسا کہ آپ نے کہا، جب سوسائٹی پیچیدہ ہو جاتی ہے تو پھر انتظامی مصلحتوں کو مقدم کرنا پڑتا ہے، اور اس طرح کی لطیف مصلحتیں پیچھے کرنی پڑتی ہیں، ورنہ پھر نظام نہیں چلتا۔
مطیع سید: ایک روایت میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سمرہ کے بیٹے! امارت کی طلب نہ کرنا۔اگر تم نے امارت مانگی اور تمہیں مل گئی تو پھر ساری ذمہ داری تمہارے اوپر ہوگی، اور اگر بن مانگے ملی تو اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔4 اس میں سوال یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھی امارت طلب کی تھی اور ظاہر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس لائق سمجھتے تھے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس پہلو سے اس کو پسند نہیں فرما رہے؟
عمار ناصر: اس کو دو لحاظ سے سمجھ سکتے ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ امارت کی خواہش پیدا ہونا یہ فطری ہے، یعنی اس میں دیانت داری کے ساتھ بھی کوئی انسان سمجھ سکتا ہے کہ مجھے یہ عہدہ ملنا چاہیے۔بعض طبیعتوں کے اندر اختیار رکھنے اور استعمال کرنے کا فطری رجحان ہوتا ہے۔اس پہلو سے حدیثوں میں آتا ہے کہ اس کا پیدا ہونا اور پھر اس کے لیے تگ و دو کرنا، یہ انسان کی روحانی شخصیت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔یہ کوئی قانونی بات نہیں ہو رہی ہے، آپ علیہ السلام ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسے لوگوں کو واپس لوٹا دیا جن کے اندر طلب ہے لیکن وہ ذمہ داری کو صحیح طرح سے ادا نہیں کر سکتے تھے۔آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ جو خود مانگتا ہے، ہم اسے منصب نہیں دیتے۔تو بنیادی بات اس میں یہ ہے کہ اگر انسان کے اندر خواہش ہو تو وہ اس کے لیے خود تگ و دو نہ کرے۔اگر اس شخص کی اہلیت کو دیکھ کر وہ ذمہ داری اس کو دی جائے گی تو اس میں اللہ کی توفیق بھی شامل ہوگی، اس کو لینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا جو معاملہ ہے، وہ تو صورتحال ہی بالکل مختلف ہے۔وہ عام معاملہ نہیں ہے، وہاں تو ایک ایسی صورتحال ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ذریعے ہی آشکارا ہوئی ہے کہ آگے چل کر یہ آفت آنے والی ہے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے ایک خاص سطح کی صلاحیت چاہیے۔اس کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں، اور اس میں یہ بھی بعید نہیں ہے کہ یہ پیغام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہو۔چونکہ ان کو نبوت ملی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ بھی ایک اسکیم بنا رہے تھے کہ ان کے ذریعے سے ان کا سارا خاندان یہاں آ جائے تو اللہ کی راہنمائی بھی یقیناً اس کے اندر شامل ہوگی۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ "وكذلك مكنا ليوسف في الارض" تو ممکن ہے، تکوینی بندوبست کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ان کو ہدایت بھی کی گئی ہو کہ آپ یہ منصب طلب کریں۔
مطیع سید: "ولقد اتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم" اس آیت کے بارے میں ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دیا کہ اس سے مراد سورہ فاتحہ ہے5، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس سے سات بڑی سورتیں مراد لیتے ہیں۔فراہی مکتبہ فکر کی ان دو روایتوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اگر یہ روایت درست ہے تو پھر وہ اس روایت کو کس درجے میں رکھتے ہیں اور کیا توجیہ کرتے ہیں؟
عمار ناصر: مولانا فراہی کی رائے تو مجھے مستحضر نہیں، اس لیے کہ وہ قرآن کی سورتوں کے پانچ گروپ بناتے ہیں۔لیکن مولانا اصلاحی سات گروپوں میں سورتوں کو تقسیم کرتے ہیں، اور انھوں نے ہی اس آیت کا مصداق پورے قرآن کو قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ "سبعا من المثانی" سے مراد پورا قرآن ہے اور "والقرآن العظیم" اس کی تشریح ہے، یعنی میں نے تمہیں سات چیزیں دیں جو جوڑا جوڑا ہیں۔مولانا اصلاحی "المثانی" کا ترجمہ بھی مختلف کرتے ہیں، یعنی جوڑا جوڑا ۔مطلب یہ ہوا کہ ہم نے آپ کو سورتوں کے سات گروپ دیے جن کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں اور یہ سارے گروپ مل کر پورا قرآن عظیم ہے۔وہ اس روایت کو رد نہیں کرتے جس میں اس کا مصداق سورہ فاتحہ کو کہا گیا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ سورہ فاتحہ میں چونکہ پورے قرآن کا جوہر آگیا ہے تو معنوی طور پر اس کو بھی کہہ سکتے ہیں۔
مطیع سید: یعنی ایک بات کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے، اس کے باوجود وہ اس میں دوسری تفسیر کی گنجائش سمجھتے ہیں؟
عمار ناصر: اس کی وجہ یہ ہے کہ "سبعا من المثانی" کو سورہ فاتحہ پر منطبق کرنے میں وہ روایت اتنی واضح نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ حتمی طور پر یہی مراد ہے۔مثال کے طور پر اس میں سات آیتوں کا ذکر ہے، لیکن سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔بسم اللہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ اگر بسم اللہ اس کا حصہ نہیں ہے تو پھر وہ سات آیتیں نہیں بنتیں۔یا پھر یہ کہ "صراط الذين انعمت عليهم" کو پوری آیت کہنا پڑے گا، لیکن جو قرآن میں سجع کا طریقہ ہے، اس کے خلاف ہے۔تو ایک ابہام یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ سات آیتیں ہیں یا نہیں؟ دوسرا یہ کہ مثانی کا جو مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ بار بار دہرائی جانے والی، اس پر مولانا سوال اٹھاتے ہیں کہ مثنیٰ کا مطلب تو دو دو ہوتا ہے، تو مثانی کا مطلب دو دو یعنی جوڑا جوڑا ہونا چاہیے۔بار بار دہرایا جانا، اس کا یہ لغوی معنی اتنا واضح نہیں ہے۔اس طرح کے اشکالات کی وجہ سے دوسری تفسیر کی گنجائش بن جاتی ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ بتا رہے ہیں کہ وہ اس سے مراد سات سورتیں لیتے ہیں۔
مطیع سید: آپ سورتوں کی گروپس میں تقسیم کو کیسے دیکھتے ہیں؟
عمار ناصر: گروپس کی تقسیم تو بالکل استنباطی ہے۔اتنی قطعی نہیں ہے کہ آپ اس سے ہٹ کر تقسیم نہ کر سکیں۔آپ مضمون کے لحاظ سے اور طریقوں سے بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔پھر یہ کہ "سبعا من المثانی" کا مصداق سورتوں کے سات گروپس کو قرار دینا مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کے اصول تفسیر پر پورا نہیں اترتا۔وہ أصول یہ ہے کہ جب قرآن ایک تعبیر استعمال کر رہا ہے تو اس کا مصداق مخاطب کو سمجھ میں آنا چاہیے، وہ بعد کے کسی وقت تک موخر نہیں ہونا چاہیے۔اب یہ تو مکے کی آیت ہے اور شاید ابتدائی دور کی ہے۔اس وقت تو ابھی سورتوں کے یہ جوڑے بنے ہی نہیں تھے تو مکے میں یہ آیت سن کر مخاطبین کیسے اس مصداق کو سمجھ سکتے تھے؟ مولانا نے عام تفسیر پرجو سوالات اٹھائے ہیں وہ بھی اہم ہیں کہ اگر ہم اس کا مصداق سورہ فاتحہ کو قرار دیں تو آپ لغوی طور پر کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، لیکن اس کا جو مصداق مولانا اصلاحیؒ بتا رہے ہیں، اس پر بھی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مولانا فراہی کے اصول پر قرآن ایسی بات نہیں کہتا، جس کا مطلب لوگوں کو سمجھ میں نہ آئے۔یہ بات کہ قرآن قطعی الدلالت ہے اور عربی مبین ہے، اس لحاظ سے بھی ان کی بات محلِ نظر ہے۔
مطیع سید: غامدی صاحب نے بھی البیان میں گروپس کی ایک ترتیب بنائی ہے، اس میں کہیں کہیں ایسا لگتا ہے کہ سورۃ صحیح طرح سے تقسیم میں بیٹھ نہیں رہی۔
عمار ناصر: جی، بعض سورتوں کے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ یہاں پر عام ترتیب سے ہٹ کر کسی خاص حکمت کے تحت استثنائی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
مطیع سید: آپ "سبعا من المثانی" کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے؟
عمار ناصر: میرے ذہن میں تو اس حوالے سے ابھی تک سوال ہی ہے۔قرآن مجید کا اسلوب بتاتا ہے کہ وہ بظاہر ایک ایسی چیز کا ذکر کر رہا ہے جس کے بارے میں مخاطب کو پہلے سے معلوم ہے۔
مطیع سید: اسی لیے اس کے بارے میں باقاعدہ سوال نہیں کیا گیا۔
عمار ناصر: جی بالکل، یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ صحابہ نے بھی اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا کہ اللہ تعالی نے آپ کو "سبعا من المثانی" دی ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔
مطیع سید: ایک روایت آتی ہے، اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت آئی "فاكهة وابّا" تو ان کو ابّا کا مطلب معلوم نہیں تھا۔پھر انھوں نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں، یہ جو چیز بھی ہے، کوئی کھانے کی چیز ہی ہو گی۔کیا صحابہ کا یہ بھی مزاج تھا کہ قرآن مجید کی اگر کوئی جزوی بات واضح نہیں اور پوری طرح سمجھ میں نہیں آرہی تو پھر بھی ٹھیک ہے؟
عمار ناصر: امام شاطبیؒ نے اس پر پوری فصل لکھی ہے کہ صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ قرآن کی آیت یا کسی حصے کا جو مجموعی پیغام ہے، اس کو اہم سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں اس سورت میں پیغام کیا دینا چاہ رہے ہیں۔اگر صحابہ کو کسی سورت کا مجموعی پیغام سمجھ میں آرہا ہے لیکن اس کے کسی جز کا مطلب واضح نہیں ہو رہا تو اس کے بارے میں جاننے کو صحابہ تعمق اور تکلف سمجھتے تھے۔
مطیع سید: مشہور روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی تو آپ علیہ السلام نے اسے بلایا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو۔اس نے دوبارہ نماز پڑھی تو آپ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو۔دو تین دفعہ ایسے ہوا تو اس صحابی نے عرض کیا کہ آپ ہی بتا دیں کہ میں نماز کیسے پڑھوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا6۔اس حدیث کو امام نسائیؒ نے ذکر کیا ہے اور اس کے لیے باب باندھا ہے کہ "باب الرخصة في الترك في الركوع"۔اب حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعدیلِ ارکان کا بتا رہے ہیں کہ آرام سے اور سکون سے نماز پڑھو، لیکن امام نسائی اس سے استدلال یہ کر رہے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے چونکہ انہیں رکوع میں پڑھنے کے لیے کچھ نہیں بتایا، اس لیے رکوع میں کچھ نہ پڑھنے کی بھی رخصت ہے۔
عمار ناصر: اس روایت سے بہت سے محدثین اور بہت سے فقہاء یہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ چیزیں واجب نہیں ہیں جن کا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر نہیں کیا، اور ان کی تعلیم نہیں دی۔ امام نسائیؒ بھی اس کو اسی انداز سے دیکھ رہے ہیں کہ آپ اس صحابی کو نماز کا پورا طریقہ بتا رہے ہیں، لیکن یہ چیز نہیں بتا رہے۔میرا خیال ہے کہ یہ کمزور استدلال ہے۔دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نماز کا مجموعی ڈھانچہ تو بتا رہے ہیں، نماز کا پورا طریقہ یعنی صفۃ الصلوۃ نہیں بتا رہے۔خاص طور پر جس چیز کے متعلق وہ صحابی کوتاہی کر رہے تھے، اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔
مطیع سید: حکیم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں سجدہ نہیں کروں گا مگر کھڑے ہونے کی حالت میں7۔اس روایت کا کیا مطلب ہے؟
عمار ناصر: یہ روایت بھی تعدیل ارکان کے حوالے سے ہے، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ میں رکوع سے ہی سیدھا سجدے میں نہیں گر جاؤں گا، بلکہ میں سیدھا کھڑا ہوں گا، پھر اس کے بعد سجدہ کروں گا۔
مطیع سید: لیکن حدیث میں ہے کہ میں نے بیعت کی۔یہ چیز تو ویسے بھی بیان کی جا سکتی تھی۔
عمار ناصر: یہ تاکید کے لیے ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ ان چیزوں میں لوگ زیادہ بے پروائی کر رہے ہیں تو اس پر آپ نے توجہ دلائی اور خبردار کیا۔اس پر ممکن ہے، صحابی نے عزم کے اظہار کے ساتھ کہا ہوکہ میں آئنده ایسے ہی نماز پڑھوں گا اور اس پر بیعت کر لی ہو۔
مطیع سید: امام نسائی نے باقاعدہ باب باندھا ہے کہ ایک وتر کیسے پڑھیں8۔احناف ایک وتر کو درست نہیں سمجھتے۔وہ کہتے ہیں کہ کم از کم تین وتر ہونے چاہییں، جبکہ روایتوں میں بڑا واضح آتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے ایک رکعت وتر ادا کی۔
عمار ناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل ملتا ہے، اس میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے کسی دن صرف ایک رکعت پڑھی ہو۔آپ تہجد کی نماز کے آخر میں ایک یا تین رکعتیں ملا کر تعداد کو طاق بنا دیتے تھے۔آپ نے صحابہ کو جو اجازت دی، اس میں ایک رکعت کا بھی ذکر ملتا ہے، لیکن آپ علیہ السلام نے خود ایک رکعت نہیں پڑھی۔ابو داؤد کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اجازت دی کہ کوئی چاہے تو سات رکعتیں پڑھ لے، کوئی پانچ پڑھ لے، کوئی تین پڑھ لے اور کوئی چاہے تو ایک پڑھ لے۔صحابہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل منقول ہے، اسی طرح اور صحابہ سے بھی منقول ہے کہ وہ بسا اوقات ایک ہی رکعت پڑھ لیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو دن میں بھی بعض اوقات وقت کی کمی کی وجہ سے صرف ایک رکعت نفل پڑھ لیتے تھے۔ یہ سارے آثار امام ابن ابی شیبہ اور امام عبد الرزاق نے نقل کیے ہیں۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبتی جوتا پہن کر قبرستان میں جانے سے منع قرار دیا ہے9۔یہ کوئی خاص جوتا تھا؟
عمار ناصر: اس کا پس منظر مذکور نہیں ہے کہ یہ خاص چپل پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے سے کیوں منع کیا ہے۔جوتا پہن کر جانے سے منع نہیں کیا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے جوتے بھی یہی ہوتے تھے اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ایسے ہی جوتے پہنتے تھے، لیکن ایسے جوتے پہن کر قبرستان جانے سے کیوں منع کیا؟ اس کا پس منظر بیان نہیں ہوا۔
مطیع سید: دوسری روایت میں امام نسائی نے اخذ کیا ہے کہ دوسرے جوتے پہن کر جانے کی اجازت ہے، اور دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جب مردے کو دفن کر کے لوگ واپس جاتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے10۔
عمار ناصر: جی، امام نسائی بھی یہی بتانا چاہ رہے ہیں کہ قبرستان میں بنیادی طور پر جوتے پہننے کی ممانعت نہیں ہے، اور اگر ان جوتوں سے منع کیا گیا ہے تو اس کی کوئی خاص وجہ ہے۔
مطیع سید: امام نسائی کو کتاب الصیام میں باقاعدہ باب باندھنا پڑا ہے "باب الرخصة في أن يقال لشهر رمضان رمضان11" اس بارے میں رخصت ہے کہ کوئی ماہ رمضان کو صرف رمضان بول دے۔یہ سمجھ میں نہیں آئی۔
عمار ناصر: بعض دفعہ تعبیرات کے حوالے سے لوگوں کے اندر حساسیت پیدا ہو جاتی ہے، جیسے ایک خیال یہ تھا کہ سورتوں کا نام سورۃ کے لفظ کے بغیر نہیں بولنا چاہیے، مثلاً سورۃ البقرہ کو صرف البقرہ نہیں کہنا چاہیے۔شاید امام نسائی کے ماحول میں اسی طرح کی کوئی بحث ہو کہ ماہ رمضان کو صرف رمضان نہیں کہنا چاہیے۔ اس کی وضاحت کر رہے ہیں کہ ایسا کہا جا سکتا ہے۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے12۔ظاہریہ کے نزدیک سفر میں روزہ رکھنا جائز ہی نہیں، بلکہ جو رکھے، اس پر قضا لازم ہو تی ہے۔امام اوزاعیؒ اور اسحاقؒ کے نزدیک روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔یہ مختلف اذہان ہیں، مختلف ذوق و مزاج ہیں جن سے شریعت کی تشریحات ہو رہی ہیں۔لیکن اصل میں شریعت کا مزاج کیا ہے؟ کیا اصل شریعت کا مزاج نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا مزاج ہے؟ ان مسائل میں تو بعد میں فقہاء کا مزاج شامل ہوا، جب ہم دین کا اصل مزاج کہہ رہے ہوتے ہیں تو وہ کیا ہوتا ہے؟
عمار ناصر: دین کا اصل مزاج کیا ہے؟ یہ بھی تو ہم شرعی دلائل پر غور کرنے سے ہی اخذ کریں گے۔اس مضمون کی ساری روایتیں آپ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بندے کو اختیار حاصل ہے۔سفر میں اگر کوئی روزہ رکھنا چاہے تو وہ رکھ سکتا ہے، شریعت نے اس کو ناپسند نہیں کیا۔اس میں اصل اباحت ہے، اور آدمی کو اپنی سہولت دیکھنی چاہیے۔بعض دفعہ روزہ رکھنے میں سہولت ہوتی ہے اور بعض دفعہ روزہ نہ رکھنے میں سہولت ہوتی ہے۔یہ آدمی پر چھوڑا گیا ہے۔جہاں تک اس وعید کا تعلق ہے تو روایات میں مذکور ہے کہ یہ کوئی عمومی بات نہیں ہے۔ایک خاص سفر میں کسی وجہ سے آپ علیہ السلام نے روزہ رکھنے سے منع کیا تھا۔جہاد کے لیے جا رہے تھے تو ایک شخص کو آپ نے دیکھا کہ وہ نقاہت سے بے ہوش ہو رہا ہے، لیکن وہ روزہ نہیں چھوڑ رہا۔ تو جہاں یہ کیفیت ہو جائے، وہاں شریعت یہ بتاتی ہے کہ یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔
مطیع سید: کئی دفعہ غور و فکر کر کے اپنے مزاج کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔تو کیا اس سے شریعت کے مزاج کے اندر خرابی پیدا ہوگی؟ ظاہریہ کی فقہ کو دیکھیں اور حنفی فقہ کو دیکھیں تو ان میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
عمار ناصر: فہم اور مزاج اور ذوق، یہ سب شریعت کی تعبیر میں شامل ہو جاتے ہیں، اس سے ہم نکل نہیں سکتے۔اگر اللہ تعالیٰ نے یہ کام انسانوں کے سپرد کیا ہے تو انسانی کمزوریوں کا لحاظ بھی رکھا ہے۔اس میں اگر آپ کی حسن نیت ہے تو پھر معاملہ ٹھیک ہے، کوئی گھبرانے کی بات نہیں۔
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں کعبے کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بنا دیتا13۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے نئے اقدام کیے جن میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھا گیا اور ان کاموں نے سوسائٹی کے اسٹرکچر کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ لیکن یہاں جب کہ پورا عرب مسلمان ہو گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربان کرنے والے ہزاروں لوگ ہیں، اب آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں کہ اگر میں یہ کام کروں گا تو اس سے نقصان ہوگا۔
عمار ناصر: اس میں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آپ کس چیز کے تقابل میں کسی چیز کو اہمیت دیں گے یا نہیں دیں گے؟ بت گرانا اور شرک کا خاتمہ کرنا تو آپ کا فرض منصبی تھا، اسی کے لیے تو آپ کو بھیجا گیا تھا۔اس کے مقابلے میں تو اس چیز کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی تھی کہ ان لوگوں کے دل ٹوٹیں گے۔لیکن کعبہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنا، یہ ظاہر ہے کہ اس طرح کی چیز نہیں تھی۔کعبہ کی جگہ متعین ہے، اس کو محفوظ رکھنا شریعت کا منشا ہے، لیکن کعبہ کی تعمیر کیسے ہوئی ہے؟ اور تعمیر شدہ عمارت کو منہدم کر کے نئے سرے سے بنانے کو اس موقع پر ترجیح دی جائے یا اس بات کو ترجیح دی جائے کہ یہ جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، ان پر اس چیز کا کوئی منفی اثر نہ پڑے؟ یہاں تقابل ان دو چیزوں میں ہے۔یہاں اہم یہ چیز تھی کہ یہ جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، ان کے دلوں میں قومی رقابت کا کوئی جذبہ یا کوئی منفی تاثر پیدا نہ ہو جائے۔
مطیع سید: اس میں پیغمبر علیہ السلام کے پاس اتھارٹی بھی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ یہ کام نہیں کر رہے۔
عمار ناصر: اصل بات یہ ہے کہ جو ایک روایت چلی آرہی ہو، اس میں اگر تبدیلی بہت زیادہ ضروری نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ اسی کو قائم رکھا جائے۔جیسے حاجیوں کی خدمت اور پانی پلانے کی ذمہ داری، اس حوالے سے جو روایت چلی آرہی تھی، آپ نے اسی کو قائم رکھا، تاکہ ان لوگوں کو جو ذمہ داری ملی ہوئی ہے، نئے دین میں وہ اسی جذبے کے ساتھ اس کو نبھائیں۔اگر آپ اس چیز کو بدل دیتے تو بجائے ایمان میں قوت پیدا کرنے کے، اس چیز سے منفی اثرات پیدا ہو جاتے۔آپ عبداللہ بن ابی کو دیکھیں، اس کی جو شرارتیں تھیں، وہ ایکشن کا تقاضا کرتی تھیں، لیکن آپ نے ان کو گوارا کیا تاکہ پورے قبیلے کے اندر کوئی منفی اثرات پیدا نہ ہوں۔اوس اور خزرج روایتی حریف تھے۔ اگر عبداللہ بن ابی پر ہاتھ ڈالا جاتا تو مخالف قبیلے کے لوگ خوش ہوتے اور طعنہ وغیرہ بھی دے دیتے جیسا کہ بعض مواقع پر ایسا ہوا بھی، تو یہ چیزیں بڑی اہم ہوتی ہیں۔
مطیع سید: یہ عبداللہ بن ابی اوس سے تھا یا خزرج سے؟
عمار ناصر: عبداللہ بن ابی خزرج سے تھا، اسی لیے ایک موقع پر اوس میں سے جب کسی نے بات کی کہ یا رسول اللہ، یہ عبداللہ بن ابی آپ کو ستاتا ہے تو آپ اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔اس موقع پر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے کہ اچھا یہ ہمارے قبیلے کا ہے، اس لیے تمہیں اتنا جوش آگیا؟ تمھارے قبیلے کا ہوتا تو دیکھتا۔
مطیع سید: میرے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو اوس اور خزرج کا باہمی مسئلہ نہیں رہا، جس طرح بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان باقی رہا۔
عمار ناصر: بعد میں تو بالکل صورت حال ہی بدل گئی اور انصار، ایک سیاسی گروپ کے طور پر باقی نہیں رہے۔اقتدار قریش میں آگیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک انصار کے سیاسی گروپ رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی ان میں رنجش موجود تھی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جو باغی مدینے میں آئے تھے، اس میں انصار کی بھی معاونت شامل تھی، ورنہ یہ نہیں ہو سکتا تھا۔لوگ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا کہ کچھ لوگ ادھر ادھر سے آ کر جمع ہو گئے اور انہوں نے مدینے میں خلیفہ پر حملہ کر دیا۔اصل میں جو انصار تھے، جو مقامی آبادی تھی، ان کی سپورٹ انہیں حاصل تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد پھر دارالخلافہ بدل گیا اور صورت حال تبدیل ہو گئی۔پھر یزید کے دور میں حرہ کا واقعہ رونما ہو گیا۔اس کے بعد انصار کی جو پہلی نسل تھی، وہ رخصت ہو گئی تو پھر اس طرح سے ان کی الگ شناخت برقرار نہیں رہی۔
حواشی
- سنن النسائی،کتاب الطہارۃ،باب البول الی السترۃ،رقم: 30
- کتاب الطہارت،باب التیمن فی الطہور،رقم: 463
- کتاب الاذان،باب اتخاذ الموذن الذی لا یاخذ علی اذانہ اجراََ،رقم: 675
- کتاب آداب القضاۃ، باب النہی عن مسالۃ الامارۃ، رقم ۵۳۹۴
- کتاب الافتتاح، باب تاویل قول عزوجل و لقداتیناک سبعامن المثانی، رقم: 916
- کتاب الافتتاح، باب الرخصة في الترك في الركوع،رقم: 1056
- کتاب الافتتاح،باب كيف يخر لسجود،رقم: 1087
- کتاب قیام اللیل،باب کیف الوتر لواحد،رقم: 996
- کتاب الجنائز،باب کراھیۃ المشی بین القبورفی النعال السبتیۃ،رقم: 2052
- کتاب الجنائز، باب التسھیل فی غیر السبتیۃ، رقم: 2053
- کتاب الصیام، باب الرخصة في أن يقال بشهر رمضان رمضان،رقم: 2113
- کتاب الصیام،باب مایکرہ من الصیام فی السفر،رقم: 1192
- کتاب الحج میں باب بناء الکعبہ،رقم: 2906
(جاری)
فلسطین کی موجودہ صورت حال اور ہماری ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جماعت ’’حماس‘‘ کی کارروائی کے بعد غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک مبینہ طور پر ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ غزہ کا بہت بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ خوراک، بجلی، پانی اور طبی سہولیات کا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔
حماس نے ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے عنوان سے ۷۔ اکتوبر کو غزہ سے متصل اسرائیلی علاقوں کو حملے کا نشانہ بنایا تھا جس میں اخباری رپورٹوں کے مطابق چودہ سو سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے اور دو سو سے زائد افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا ہے، اگرچہ اتنی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت والا معاملہ غور طلب ہے کیونکہ حماس سے رہائی پانے والی ایک خاتون نے انٹرویو کے دوران رپورٹروں سے کہا ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔ بہرحال حماس کے اس آپریشن پر ہر طرف سے حیرت کا اظہار کیا گیا ہے، اس پہلو سے بھی کہ اچانک اتنی بڑی کارروائی کیسے منظم کی گئی، اور اس حوالہ سے بھی کہ اس کے مقاصد کیا ہیں اور حماس اس سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
ہمارے خیال میں حماس چونکہ اپنے علاقہ اور وطن کو اسرائیل کے قبضہ سے چھڑانے کی جنگ لڑ رہی ہے جو معروف معنوں میں ’’جنگِ آزادی‘‘ کہلاتی ہے، اس لیے آزادی کی جدوجہد میں اس طرح کے اقدامات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ خود ہمارے ہاں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف دو سو سالہ جنگِ آزادی کے دوران بیسیوں ایسے معرکے بپا ہوئے ہیں جنہیں جذبۂ آزادی سے سرشار مجاہدین کے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ جنگ آزادی کا حصہ تصور ہوتے ہیں بلکہ اس قسم کے معرکوں کا تسلسل ہی بالآخر جنگ آزادی کی کامیابی تک مجاہدین کو لے جاتا ہے۔سلطان ٹیپوؒ، جنرل بخت خانؒ، سردار احمد خان کھرل ؒ، حاجی شریعت اللہؒ، تیتومیرؒ پیر صبغۃ اللہ راشدیؒ، حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ جیسے مجاہدینِ آزادی کے علاوہ تحریک ریشمی رومال اور اس نوعیت کے دیگر معرکوں میں یہی جذبۂ حریت اور شوقِ شہادت کارفرما تھا، اگر انہیں ان پیمانوں سے ماپا جائے جو آج حماس کی اس جرأتِ رندانہ پر سوالیہ نشان کھڑا کر کے کیے جا رہے ہیں تو ان میں سے کوئی معرکہ بھی آج کے ناقدین کے ’’معیار‘‘ پر پورا نہیں اترے گا۔ مگر یہ سب معرکے ہماری جنگ آزادی کا حصہ ہیں جن پر ہمیں آج بھی فخر ہے اور ہم اپنے ان محسنین کے لیےمسلسل دعاگو رہتے ہیں۔ اس لیے حماس کی اس کاروائی کو جذبۂ حریت اور آزادئ وطن سے سرشاری کے حوالے سے ہی دیکھنا ہو گا اور فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کا اہتمام کرنا ہو گا جو ہماری ملی و دینی ذمہ داری بنتی ہے۔
باقی رہا اس کاروائی کے مقاصد اور نتائج کا سوال تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حماس کے اس اقدام سے پہلے عالمی ماحول میں اسرائیل کو بہت سے مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب اور پاکستان سے تسلیم کرانے کا جو ماحول پروان چڑھ رہا تھا اور اس کے لیے بیک ڈور سرگرمیاں دکھائی دے رہی تھیں، انہیں بریک لگ جانا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے آگے بڑھنے والے قدموں کا رک جانا ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ خدا کرے کہ اسرائیل کے مظالم اور ارضِ فلسطین پر اس کے غاصبانہ اور ناجائز قبضہ کو جواز کی سند فراہم کرنے میں مصروف عناصر کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ وہ ایسا کر کے نہ صرف فلسطینی عوام پر ظلم کر رہے ہیں بلکہ انصاف اور اصول کی مسلمہ روایات سے بھی انحراف کے مرتکب ہیں۔
اس صورتحال میں عالم اسلام کے تمام طبقات بالخصوص مسلم حکومتوں سے ہماری گزارش ہے کہ اس معاملہ میں دینی حمیت اور ملی غیرت کے جذبہ و احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا اہتمام کریں، جس کے لیے ضروری ہے کہ
- فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بلا کر فلسطینی عوام کی حمایت و پشت پناہی کے ساتھ ساتھ ان کی امداد کی حکمت عملی طے کی جائے۔
- اقوام متحدہ میں مسلم ممالک خصوصاً پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ عالمی اداروں اور بین الاقوامی رائے عامہ کو اسرائیلی مظالم کے خلاف منظم کرنے کے لیے کردار ادا کریں، اور عالمی ماحول میں بیت المقدس کے تحفظ اور فلسطین کی آزادی کے لیے منظم اور مربوط لائحہ عمل ترتیب دیں۔
- دنیا بھر میں مسلم ادارے، جماعتیں اور طبقات فلسطینیوں کی حمایت میں عوامی اجتماعات اور مظاہروں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں اور مسلم رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی مہم جاری رکھیں۔
- غزہ میں محصور فلسطینی بھائیوں کی ہر ممکن امداد و تعاون کے لیے مخیر شخصیات اور ادارے آگے بڑھیں اور قابل اعتماد ذرائع سے خوراک، علاج اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی بروقت اور مناسب فراہمی کی جدوجہد کریں۔
مصیبت اور تکلیف کے اس سنگین مرحلہ میں ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت اس آزمائش میں انہیں سرخروئی نصیب فرمائیں اور بیت المقدس اور فلسطین کو آزادی سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
یہود اور خدا کا فیصلہ
خورشید احمد ندیم
اسرائیل کا ظلم،اُس خوف کا برہنہ اظہار ہے جو روزِ اوّل سے اس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔بنی اسرائیل کے لیے عالم کے پروردگار کا یہ فیصلہ ہے کہ ذلت ومسکنت تاقیامت ان پر مسلط رہے گی۔
یہود کی تاریخ،خدا کے ساتھ بے وفائی کی ایک طویل داستان ہے۔ان کا آخری بڑا جرم اپنی ہی قوم سے اٹھنے والے اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر رسول سیدنا مسیح ؑ کواپنے تئیں مصلوب کرنا تھا۔یہ الگ بات کہ اللہ نے ان کو محفوظ رکھا۔انہی جرائم کی بنا پر انہیں منصب ِ امامت سے معزول کرتے ہوئے، ذریتِ ابراہیم کی ایک دوسری شاخ بنی اسماعیل کو اس پر فائز کر تے ہوئے،اس کے ایک عالی مرتبت فرزند،سید نامحمد ﷺ کو منصبِ رسالت و امامت عطاکر دیا گیا۔سیدنا عیسیٰ ؑ کے انکار اور ان کو مصلوب کرنے کی ناکام کوشش کے بعد،یہود کے بارے میں یہ طے کر دیا گیا کہ وہ قیامت تک بطور سزا،حضرت مسیح ؑ کے ماننے والوں کے رحم وکرم پر رہیں گے۔(آلِ عمران:55)۔
اسرائیل،امریکہ،برطانیہ اوریورپ کی تائید اور نصرت سے قائم ہے۔یہ سب مسیحی اقوام ہیں۔برطانیہ نے اس کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔امریکہ نے پھراس کوگود لے لیا۔حماس کے حملے کے بعد،اسرائیل نے عام فلسطینیوں کو جس طرح نشانہ بنایا،اس میں اسرائیل کو امریکہ کی مکمل تائید حاصل رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب حماس کے حملے کی مذمت کے ساتھ،اسرائیل کو جنگ بندی کے لیے کہا گیا تاکہ عام متاثرین کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جا سکے تو امریکہ نے اس کو ویٹو کر دیا۔اپناجدید ترین طیارہ بردار جنگی جہاز’جیرالڈ فورڈ‘ کو اسرائیل کی مدد کے لیے سمندر میں اتارا۔اسرائیل کے دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کو مضبوط بنانے کے لیے اسلحے سے لدا ایک اور جہاز بھیجا۔ پہلے وزیر خارجہ اور پھرامریکی صدر، اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے پہنچ گئے۔
امریکہ نے،جس طرح اسرائیل کی مسلسل حمایت کی،اس کی داستان چشم کشاہے۔مارچ میں شائع ہونے والی امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ 1948ء سے آج تک، امریکہ نے اسرائیل کو دو سو ساٹھ ارب ڈالر کی امداد دی،جس میں سے نصف عسکری ہے۔اقوام متحدہ میں امریکہ نے اسی(80) بار ویٹو کا حق استعمال کیا اور یہ حق،کم و بیش چالیس بار، اسرائیل کے دفاع میں کیا گیا۔
کیا امریکہ یہ سب یہودیوں کی محبت میں کر رہا ہے؟کیا اسرائیل کی حمایت اس لیے ہے کہ وہ ایک صیہونی ریاست ہے؟مجھے ان سوالات کے جواب اثبات میں نہیں ملے۔امریکہ کی یہودیوں سے محبت کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔یہودی سیدنا مسیح ؑ کو پیغمبر تو دور کی بات،ایک جائز اولاد نہیں مانتے۔یہ تو قرآن ہے جس نے دنیا کے سامنے سیدہ مریم ؑ کی پاک دامنی کی شہادت دی۔یہ اعلان بھی کیا کہ سیدہ کو دنیا کی تمام عورتوں میں سے منتخب کیاگیااور انہیں سب خواتین پرپرفضیلت دی گئی ہے۔ (آل عمران:42)۔ کوئی ایسا تاریخی سبب بھی موجود نہیں جو اس اتحاد کو سندِ جواز فراہم کر سکے۔
اس کی صرف ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ان قوتوں کا مفاد ہے جن کی سلطنتیں،بیسویں صدی کے اوائل میں ختم ہو رہی تھیں۔اُس دور میں زمانے نے جو کروٹ لی، اس میں استعمار کی پرانی صورتوں کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا جس کا ایک مظہر’سلطنت‘ تھی۔دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں اٹھ رہی تھیں اورقومی ریاستیں وجود میں آ رہی تھیں۔ان اقوام کو اگراب دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنا تھا تو اس کے لیے کوئی نئی صورت تلاش کرنا ضروری تھا۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد عالمی قیادت کی دوڑ میں کچھ نئی قوتیں بھی شریک ہوگئیں جن میں ایک امریکہ بھی تھا۔ان سب نے مل کر دنیا کو’لیگ آف نیشنز‘ کا تصور دیا۔
سیاسی تسلط کو قائم رکھنے کے لیے زمین کے مادی وسائل پر قبضہ لازم تھا۔اُس وقت توانائی کا سب سے اہم ماخذ تیل تھا جس کے سب سے بڑے ذخائر مشرقِ وسطیٰ میں تھے۔ان پرقبضے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر کنٹرول ضروری تھا۔اقوام ِ متحدہ کے قیام کے بعد،دوسرے علاقوں پر طاقت کے زور پر اُس طرح قبضہ ممکن نہیں تھا جس طرح سلطنتوں کے دور میں ہوتا تھا۔ نئی صورت یہ تھی کی ان خطوں کی سیاست کو اپنے ہاتھ میں لیا جا ئے۔
مشرقِ وسطیٰ پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی سب سے اچھی صورت، یہاں ایک ایسی ریاست کاقیام تھا جو ان اقوام کی نمائندگی اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا،اس کو ان اقوام نے جواز بناکر،بظاہر یہودیوں کی دل جوئی کے لیے ان کی ایک ریاست کا تصور پیش کیا۔اس کے لیے یہودیوں کے مذہبی جذبات کواستعمال کیا گیا۔اُن کو بتایا گیا کہ یہ ان کی مذہبی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت ہے اور وہ دوبارہ اپنا مذہبی مرکز حاصل کر سکیں گے۔یہودیت کی ایک سیاسی تعبیر صیہونیت (Zionism) کے نام سے موجود تھی جس نے دنیا بھر کے یہودیوں کو یہاں جمع کردیا۔
یہ ریاست قائم ہوگئی لیکن اس سے یہودیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔وہ آج بھی بقا کے خوف میں مبتلا ہیں۔حماس کے وسائل کا اگر اسرائیل کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ایک اور سو کی نسبت بھی نہیں بنتی۔اسرائیل کے خوف کا مگر یہ عالم ہے کہ حماس کے مقابلے کے لیے بھی اسے امریکی امداد کی ضرورت ہے۔ آج امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک،عربوں کے لیے اسرائیل کو اور اسرائیل کے لیے عربوں کو استعمال کرتے ہیں۔عربوں کا سارا اسلحہ امریکہ کا دیا ہوا ہے اور اسرائیل تو ہے ہی ’میڈ ان امریکہ‘۔
اسرائیل کی کوئی حیثیت اس کے سوا نہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ مفادات کا محافظ ہے۔یہودیوں کے حصے میں کیا آیا؟ایک مسلسل خوف اور امریکہ پر مستقل انحصار۔ ایک طرف انہیں یہ خوف لاحق ہے امریکہ میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہو جائے جو اسرائیل مخالف ہو۔۔اس لیے وہ امریکہ میں اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر تے ہیں۔یہ خوف ایسا بے بنیاد بھی نہیں۔جولائی2022ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق،60 سے 65 سال کے امریکی،اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔18سے9 2 سال میں یہ شرح کم ہو کر41 فیصد رہ گئی ہے۔دوسری طرف یہ احساس کہ وہ چاروں طرف سے عربوں میں گھرے ہیں۔اگر امریکہ نے سرپرستی چھوڑ دی تو وہ جئیں گے کیسے؟
چالیس سال پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ الیگزنڈر ہیگ نے کہا تھا:”اسرائیل امریکہ کا سب سے بڑا طیارہ بردار جنگی جہاز ہے جو ڈوب نہیں سکتا۔اس پر کوئی امریکی سوار نہیں۔یہ ایک ایسے خطے میں موجود ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے“۔ اسرائیل کی سلامتی اگر ہر امریکی انتظامیہ کی ترجیح ہے تو اس کی وجہ یہودی نہیں،امریکہ کے اپنے مفادات ہیں۔
یہ طاقت کا کھیل ہے جس میں یہودی استعمال ہو رہے ہیں۔اس کھیل سے مگر قرآن مجید کی یہ پیش گوئی ایک ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پرثابت ہو رہی ہے کہ بنی اسرائیل،خدا کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑنے کے جرم میں، قیامت تک،حضرت مسیح کے نام لیواؤں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔آج وہ ایک طرف خوف میں مبتلا ہیں اوردوسری طرف ساری دنیا کی ملامت کا ہدف۔ یہی ان کی سزاہے۔صدق اللہ العظیم۔
(بشکریہ روزنامہ دنیا)
فلسطینی ایسا کیا کریں کہ اسرائیل ناراض نہ ہو؟
یاسر پیرزادہ
چلیے آج’ شیطان کے وکیل ‘بن کر کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔
پہلا سوال: حماس نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بمباری کی، نتیجے میں اب تک پانچ ہزار سے زائد فلسطینی عورتیں، بچے اور جوان شہید ہوچکے ہیں، بمباری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ حماس نے حملہ کر کے حماقت کی جس سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچا؟
دوسرا سوال: حماس نے نہتے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے جن میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مغربی میڈیا کے مطابق حماس کے حملوں میں بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں تو کیا ایسے بے رحمانہ اقدامات کی دو ٹوک مذمت نہیں کی جانی چاہیے؟
تیسرا سوال: اگر فلسطینیوں نے اسرائیل سے نمٹنا ہے اور اپنا کھویا ہوا خطہ زمین واپس لینا ہے تو اِس کے لیے ضروری ہے کہ دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی جائے، حماس جیسے گروہ اِس دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اُلٹا فلسطینی ’کاز‘ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کیا یہ بات درست ہے؟
اِن سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اِن میں پوشیدہ مفروضوں کو سامنے لایاجائے۔ مثلاً ہم نے فرض کر لیا ہے کہ حماس کے حملے سے پہلے فلسطینی، گو کہ اسرائیل کے زیرِ تسلط تھے اور اسرائیل اُن کے علاقوں پر قابض تھا، مگر پھر بھی اُن کی زندگیاں جیسے تیسے امن سے گزر رہی تھیں، وہ صبح اُٹھ کر اپنے کاموں پر جاتے تھے، چار پیسے کماتے تھے، شام کو اپنے بچوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، لیکن حماس کے حملے کے بعد تو اُن کے ہاتھ سوائے تباہی کے کچھ نہیں آیا۔ اِس مفروضے کی دھجیاں بسیم یوسف نے اڑا دیں، بسیم ایک مصری ٹی وی اینکر اور سیاسی طنز نگار ہے، گزشتہ دنوں اُس نے برطانوی صحافی پئیرس مورگن کو ایک انٹرویو دیا جسے یوٹیوب پر اب تک 18 ملین لوگ دیکھ چکے ہیں، جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا فلسطین کے خلاف مقدمہ کس قدر کھوکھلا ہے اور وہ اپنے حقِ دفاع کی آڑ میں کس طرح فلسطینیوں کی نسل کُشی کر رہا ہے وہ یہ انٹرویو ضرور دیکھیں۔
بسیم یوسف نے کہا کہ چلیے ایک ایسی دنیا کا تصور کرتے ہیں جہاں حماس نہیں ہے اور اُس دنیا کا نام مغربی کنارہ رکھ دیتے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں حماس کا وجود نہیں، اِس کے باوجود اسرائیل اِس سال وہاں 172 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ حماس کے حملے سے پہلے راوی چین ہی چین لکھتا تھا یا فلسطینی کم از کم اپنے گھروں میں سکون کے ساتھ رہ رہے تھے بالکل حقائق کے منافی بات ہے۔ دوسرا مفروضہ حماس کی دہشت گردی سے جُڑا ہے، مغربی میڈیا کے اینکر فلسطین کے حمایتیوں کو اپنے پروگرام میں مدعو کر کے کہتے ہیں کہ کیا آپ حماس کی دو ٹوک مذمت نہیں کرتے اور اگر نہیں کرتے تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو اسرائیل کی مذمت کا بھی کوئی حق نہیں۔
یہ موازنہ بھی گمراہ کُن ہے کیونکہ اِس موازنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کے اقدامات کو جواز مل جاتا ہے جبکہ فلسطینیوں کا استدلال یہ ہے کہ خطے میں اگر کوئی دہشت گرد ہے تو وہ اسرائیلی فوج ہے جو فلسطین کی زمین پر قابض ہے اور یہ بات بین الاقوامی قانون سے ثابت شدہ ہے۔ ایسے میں جب مغربی میڈیا حماس کو فوکس کرتا ہے تو وہ دراصل اسرائیلی کو ’بلینک چیک‘ دے رہا ہوتا ہے کہ اب اسے فلسطینی بستیوں پر بمباری کا پورا حق ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے حمایتیوں کو مغربی میڈیا کے کسی اینکر نے بلا کر یہ نہیں پوچھا کہ تم لوگ اپنی فوج کی عام شہریوں پر بمباری کی مذمت کیوں نہیں کرتے، اصل میں یہ ہے وہ دہرا معیار جس کی وجہ سے حماس کی مذمت نہیں کی جاتی۔
اب کچھ بات حکمت عملی کی بھی ہو جائے۔ فلسطینی کاز کے حمایتیوں پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ دانشمندانہ حکمت عملی اپناتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ چلیے مان لیا، اب آپ اُن کے لیے کوئی ایسی حکمت عملی بنا کر دکھائیے جس سے اسرائیلی فوج کا قبضہ بھی ختم ہوجائے اور وہ امن اور عزت سے زندہ بھی رہ سکیں! صرف یہ کہنا کہ دنیا میں طاقت ور کا حکم چلتا ہے کوئی ایسی بات نہیں جس سے دانش جھلکتی ہو یا جس میں کوئی گہرا تجزیہ شامل ہو۔ جب آپ کے سامنے ظلم ہو رہا ہو اور آپ کو اچھی طرح علم ہو کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون تو کسی بھی دانشور کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ظالم کی کھُل کر نشاندہی کرے اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرے۔ اگر وہ یہ نہیں کرتا اور دلیل کے طور پر کہتا ہے کہ طاقت ور کے خلاف آواز بلند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو پھر وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہے کیونکہ وہ بالواسطہ طریقے سے ظالم کی حمایت کر رہاہے۔
یہی کام آج امریکی یونیورسٹیوں کے وہ پروفیسر کر رہے ہیں جن کی نوکریاں سپریم کورٹ کے ججز کی طرح محفوظ ہیں لیکن اِس کے باوجود وہ فلسطین کی حمایت میں بولنے سے قاصر ہیں، اِن کا لبرل ازم صرف ایران میں عورتوں کے خلاف بننے والے قوانین تک ہے، بغل میں اسرائیل آ کر اُن کے پر جلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہاورڈ کے جن طلبا نے فلسطین کے حق میں قرارداد پر دستخط کیے تھے اُن کے نام افشا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مہم چلائی جا رہی ہے کہ انہیں مستقبل میں نوکریاں نہ دی جائیں، یہی نہیں بلکہ امریکہ سے یہودی نوجوان ’جہاد‘ کی غرض سے اسرائیل بھی آرہے ہیں۔ سو اُن کا جہاد، جہاد ہے اور ہمارا جہاد دہشت گردی !
حکمت عملی پر واپس آتے ہیں۔ فلسطینیوں کے پاس حکمت عملی کے کیا آپشن ہیں؟ ماضی میں کون سا آپشن کامیاب ہوا اور آئندہ کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟ فلسطینیوں نے پُر امن جدو جہد اور بین الاقوامی قانون کی عملداری کی دہائی دے کر دیکھ لیا ہے، دنیا اُن کی آوا ز پر کان نہیں دھرتی، اسرائیل بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے مگر امریکہ اور مغربی ممالک اُس کے ’حق دفاع‘ کو جواز بنا کر اُس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں پی ایل او نے مسلح جدہ جہد کی، نتیجے میں اوسلو معاہدہ ہوا، امریکہ، اسرائیل اور فلسطینیوں نے دو ریاستوں کے قیام پر اصولی اتفاق کر لیا مگر آج تک اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے لیے راہ ہموار نہیں کی۔ اب بتائیے کہ فلسطینی کیا کریں؟
اسرائیلی حکومت آئے دن فلسطینیوں کا قتل کرتی ہے، اُن کی زمین پر نئی بستیاں تعمیر کرتی ہے، جب چاہے اُن کی بجلی، پانی اور کھانا بند کر دیتی ہے، فلسطینی اپنی ایک ایک ضرورت کے لیے اسرائیل کے محتاج ہیں، اِس کے باوجود قصور فلسطینیوں کا ہے کیونکہ دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس، واہ! اِس اصول کے تحت کسی مزارع کو اُس وقت مزاحمت نہیں کرنی چاہیے جب علاقے کا چوہدری بندوق کے زور پراُس کی بیٹی کو اٹھا کر لے جائے بلکہ اسے کوئی ایسی حکمت عملی بنانی چاہیے کہ چوہدری بھی ناراض نہ ہو اور اُس کی بیٹی بھی واپس آجائے چاہے یہ حکمت عملی بنانے کے دوران مزارع کی بیٹی حاملہ ہی کیوں نہ ہوجائے!
مجھے اندازہ ہے کہ میری کچھ باتیں جذباتی ہیں، لیکن میں گوشت پوشت کا انسان ہوں کوئی مشین نہیں کہ جذبات سے عاری ہو کر بات کروں۔ میں دنیاوی معاملات میں مذہب سے دلیل دینے کا عادی نہیں ہوں لیکن جو دینی اکابرین یہ مقدمہ پیش کر رہے ہیں کہ حماس کے حملے سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچا تو اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا کی ہر بات نفع و نقصان یا سود و زیاں کو ذہن میں رکھ کر نہیں کی جاتی۔ نبوت کے اعلان کے بعد قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ہر وہ پیشکش کی جس میں آپ ﷺ کا دنیاوی فائدہ تھا مگر آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دو تومیں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ حماس کے حملے کے بعد بظاہر یہی لگتا ہے کہ فلسطینیوں کا زیادہ نقصان ہو رہا ہے لیکن اگر آپ کے پاس کوئی حکمت عملی ہے تو بسم اللہ پیش کیجیے، لیکن خیال رہے کہ اسرائیل ناراض نہ ہو، کیونکہ اگر وہ ناراض ہوا، جو کہ وہ بہت معمولی بات پر ہوجاتا ہے، تو غزہ اور مغربی کنارے کو فاسفورس بم مار کر ملیا میٹ کر دے گا۔ اب بتائیے فلسطینی کیا کریں؟
(بشکریہ روزنامہ جنگ)
فلسطینی کیوں لڑتے ہیں؟
ڈاکٹر اختر علی سید
فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوئے کچھ دن گزر چکے ہیں۔ تشدد کے یہ سلسلے فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور اس تنازعے کو دیکھنے والوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ حسبِ سابق بے پناہ جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس دفعہ جانی نقصان میں اسرائیلی اور فلسطینی اموات کا تناسب پہلے سے مختلف ہے۔ ایک چیز جو اس تنازعے کے حوالے سے خاص ہے وہ اس پر کیا جانے والا وہ تبصرہ ہے جو ملکی اور غیر ملکی تجزیہ نگار اس معاملے پر کرتے ہیں۔ پوری دنیا کا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس تنازع پر ایک مرتبہ پھر تجزیوں سے بھر چکا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اس 70 سال سے زائد پرانے تنازع کو ایک مرتبہ پھر کاروباری اور سیاسی وابستگیوں کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سب سے اہم اور قابل مشاہدہ بات یہ ہے کہ اس تنازع پر گفتگو اس کے تاریخی تناظر کو یکسر نظر انداز کر کے کی جاتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے یہ تنازع چند دن قبل حماس کے راکٹ حملوں سے شروع ہوا ہے۔ گنتی کے چند نشریاتی ادارے اس معاملے کو اس کے تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم بالعموم تمام تجزیوں کا نچوڑ یا تو تاریخی ہوتا ہے یا سیاسی اور یا اخلاقی۔ ایک بات جو اب کثرت سے کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ حماس نے ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان حملوں کے نتیجے میں مزید فلسطینی ہلاکتوں کا سامان کیا ہے۔ اسرائیلی جارحیت اور منتقم مزاجی کی تاریخ ذہن میں رکھتے ہوئے اگر حماس کے حملوں کو دیکھا جائے تو یہ خود کشی کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مزید فلسطینی جان سے جائیں گے، مزید فلسطینی علاقے پر قبضہ ہوگا، فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر مزید پابندیاں لگیں گی اور زندگی مزید اجیرن ہوتی چلی جائے گی۔ ان حملوں سے نشانہ بننے والے اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس کے ہمدردوں کے بھی غصے میں اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر ایک جائز سوال کا اٹھنا لازم ہے اور وہ یہ کہ فلسطینی تنظیم نے اپنے سے کہیں بڑی فوجی طاقت کے خلاف حملہ کیوں کیا ہے اور اس طرح کے حملے وہ بار بار کیوں کرتی ہے؟
اس موقع پر یہ بھی جائز طور پر سوچا جا رہا ہے کہ حماس کے ان حملوں کی پشت پناہی کون کون سی بین الاقوامی طاقتیں کر رہی ہیں۔ غزہ کے جغرافیے سے واقف یہ بات سوچ سکتے ہیں کہ حماس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی موجودگی کسی بڑی طاقت کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ ہتھیار تو کوئی اور طاقت فراہم کر سکتی ہے مگر ان ہتھیاروں کو چلانے والے ہاتھ بہر طور فلسطینی ہی تھے۔ لہذا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ان حملوں کی سب سے بڑی ذمہ داری خود فلسطینیوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اس طرح کے حملے فلسطینی بار بار کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ ایک مختلف نوعیت کے خود کش حملے ہیں جس میں صرف حملہ آوروں کی نہیں، بلکہ معصوم شہریوں کی جان کو بھی داو پر لگایا جاتا ہے؟ اگر آپ نے فلسطینی پیراگلائیڈرز کو اسرائیل میں اترتے ہوئے دیکھا ہے تو آپ یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ خود کش حملوں کی ایک مختلف شکل ہے، لیکن ایک فرق بہرحال نمایاں ہے اور وہ یہ کہ یہ حملے بنیادی طور پر مرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی نفسیاتی حیات کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان حملوں میں اور دنیا کے مختلف خطوں میں کیے جانے والے خودکش حملوں میں کئی طرح کے فرق دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ حملے ایک سیاسی جدوجہد کا حصّہ ہیں۔ جیسا کہ حماس نے اپنے 2017 کے چارٹر میں بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق ان کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ ’’صیہونی پروجیکٹ کی مکمل تباہی“ ہے نہ کہ یہودیوں کی۔ دنیا کے دیگر خود کش حملوں کے برعکس فلسطینی حملہ آوروں نے ان حملوں کے مقاصد اور ٹارگٹس کو بہت صاف اور واضح لفظوں میں دنیا کے سامنے بیان کیا ہے۔ انہوں نے خود کش حملوں کے لیے کبھی بھی کم عمر افراد کو استعمال نہیں کیا اور نہ ہی کسی بھی طرح کے نشے کے عادی، ذہنی معذوروں اور ذہنی مریضوں کو اس جدوجہد میں شریک کیا ہے۔ فلسطینیوں اور حزب اللہ کے خودکش حملہ آور دیگر تنظیموں کی نسبت سیاسی طور پر زیادہ باشعور اور تعلیم یافتہ پائے گئے ہیں۔ دیگر تنظیموں کے مقابلے میں فلسطینی تنظیمیں اور حزب اللہ ان حملہ کی خبروں کو بھولتے بھی نہیں ہیں وہ ان کی یاد مناتے ہیں ان کی تصویریں مختلف مقامات پر آویزاں کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کی تفصیلات بھی شائع کرتے ہیں۔ ان حملہ وروں کی سیاسی جدوجہد اور نظریات پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حملوں میں حصہ لینے والے افراد نہ تو کم علم اور بے شعور ہیں اور نہ ذہنی طور پر معذور اور ماؤف ہیں۔
اس وقت اس حالیہ کشمکش پر ہونے والے تجزیے میں ان افراد کی رائے اور نقطہ نظر سِرے سے ناپید ہے۔ یہ سمجھدار، سیاسی طور پر باشعور اور پڑھے لکھے لوگ اس طرح کی جنگ جس میں حتمی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیوں بار بار شرکت کرتے ہیں؟ہمارے تجزیہ نگار ان افراد کو اپنی تباہی پر آمادہ اور کم عقل ثابت کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ یہ تجزیہ نگار دن رات یہ بتلاتے ہیں کہ جب دنیا کے کسی بھی کونے سے کسی بھی اعلانیہ عملی، اقتصادی اور فوجی امداد کے امکانات معدوم ہیں تو پھر فلسطینی ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ان تجزیہ نگاروں کے مسائل ہمہ جہت ہیں۔ مذہبی رجحان رکھنے والوں کے لیے اپنی فرقہ وارانہ وابستگی سے آزاد ہوکر تجزیہ کرنا مشکل ہوگیا اور ان کو حماس کے حملوں میں سعودی عرب کی شکست اور ایران کی فتح دکھائی دینے لگی۔ غیر مذہبی رجحان رکھنے والوں کو ان حملوں میں بیت المقدس ذمہ دار نظر آنے لگا اور انہوں نے آخری نتیجے کے طور مذہب کو اس سارے فساد کی جڑ قرار دے کے اپنے تعصبات ظاہر کیے۔ لیکن حقیقت میں یہ سارے دانشور کسی بھی سیاسی اور فوجی کشمکش کو صرف “فتح و شکست” کے پیمانوں سے ناپتے ہیں چونکہ فلسطینیوں کی موجودہ کشمکش اس پیمانے پر پوری نہیں اترتی اس لیے اسے سمجھنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔
الجزائر کی جنگ آزادی کے نظریہ ساز اور سائکیٹرسٹ فرانز فینون نے تجزیے کی اس مشکل کا ایک حل پیش کیا تھا۔ فینون وہ پہلا شخص تھا جس نے ظالم اور مظلوم کے تشدد میں فرق کو واضح کر کے دکھایا تھا۔ اس نے یہ کہا تھا کہ ظالم صرف ایک زبان بولتا ہے اور وہ ہے تشدد کی زبان۔۔۔ اور وہ صرف ایک زبان سمجھتا ہے اور وہ بھی تشدد کی زبان ہے۔ انسانیت اور دلیل ظالم سے گفتگو کے لیے بے معنی پیمانے ہیں۔ نہ وہ مظلوم کو انسان سمجھتا ہے اور نہ اس کی دلیل اس کی سمجھ میں آتی ہے۔ گو ظالم کے پاس اپنی کارگزاری کے لیے متعدد راستے ہوتے ہیں مگر وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ اس کے برعکس مظلوم کے پاس آپشنز محدود ہوتے ہیں۔ انہیں نہ صرف یہ کہ اپنی جدوجہد میں کامیابی کو اپنے سامنے رکھنا ہوتا ہے بلکہ اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر زندہ رکھنے کے لیے بھی سبیل کرنا پڑتی ہے۔ ہر روز کا تشدد اور توہین مظلوموں کو بالآخر نفسیاتی طور پر مردہ کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ زندہ تو رہتے ہیں مگر انسان کے طور پر اپنی شناخت کو بتدریج کھوتے چلے جاتے ہیں۔ فینون کے مطابق تشدد کے ذریعے مظلوم اپنی تشکیل نو کرتے ہیں۔ ظالم یہ چاہتا ہے کہ مظلوم اپنی کمزوری اور بے بسی پر ایمان لے آئیں اور اس کو اپنی شناخت بنا لیں۔ مظلوموں کا تشدد اس شناخت کو رد کرنے کا ایک عمل ہے۔
ہمارے تجزیہ نگار جس دلیل کا سہارا لے کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دلیل طاقت کے ایوانوں سے آتی ہے اور طاقت ور کو مدد کرنے کے لیے پینترے بدلتی رہتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اسرائیل کا “حق دفاع” ہے۔ مغربی میڈیا کے کسی بھی ٹاک شو میں کوئی یہ سوال نہ اٹھا سکا کہ حق دفاع طاقتور کے لیے ہوتا ہے یا کمزور کے لیے۔ اس لیے کہ دلیل گھڑنے کی فیکٹری بھی اسلحہ ساز فیکٹریوں کی طرح طاقتور کی گرفت میں ہوتی ہے۔ ایسے میں مظلوم کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ نفسیاتی طور پر وہ طاقتور کی ہر دلیل کو رد کردے اور اپنے لیے صحیح اور غلط کا فیصلہ خود کرے۔ یہ حق صرف اور صرف مظلوم کے پاس ہوتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اس نے کس کے ساتھ اشتراک عمل کرنا ہے اور کس کو نظر انداز۔۔ اور یہ آ خری فیصلہ کرنے کا حق بھی مظلوم کے پاس ہوتا ہے کہ وہ بے بسی اور ذلت کی زندگی گزارتا ہے یا ظالم کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیتا ہے۔
7اکتوبر سے پہلے گفتگو یہ تھی کہ اسرائیل نے فلسطینی مسئلے کو کولڈ سٹوریج میں ڈال دیا ہے جہاں سے اس کے باہر نکلنے کے امکانات اب کم سے کم ہو گئے ہیں لیکن فلسطینیوں میں اپنے آپ کو تاریخ کی ڈسٹ بن میں گم ہو جانے سے بچا لیا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ اس طرح مزید فلسطینی جانوں کا نقصان ہوگا۔ لیکن کیا جب وہ خاموش تھے تو ان کی جانیں, اموال اور اسباب محفوظ تھے؟
تجزیہ نگار جو فلسطین سے ہزاروں میل کے فاصلے پر بیٹھے ہیں جنہیں کبھی اس تشدد اور ذلت کا خود سامنا نہیں کرنا پڑا جو فلسطینی روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں اس وقت فلسطینیوں کو دو طرح کی نصیحتوں سے نواز رہے ہیں۔ یا تو فلسطینی ایک خاموش زندگی گزاریں یا پھر جدوجہد صرف اس صورت میں کریں جب کامیابی کے امکانات ان کے لیے بہت روشن ہوں۔ لیکن فلسطینی اس نصیحت کے برعکس کرتے ہیں۔ جب تک یہ تجزیہ نگار فلسطینیوں کی جگہ پر خود کو رکھ کر نہیں سوچیں گے معاملہ نہیں سمجھ پائیں گے۔ جب تک یہ “فتح و شکست” کے گھسے پٹے اصول سے چھٹکارا نہیں پائیں گے فلسطینی جدوجہد ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی. فلسطینی اس وقت جیتنے کے لیے نہیں بلکہ معدوم ہونے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ اس وقت اپنے معاملے میں بنیادی کردار ادا کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں کے فیصلے اسرائیل، مغربی طاقتوں اور ان کے حلقہ بگوشوں کے بجائے اپنے ہاتھ میں رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ آزادی سے زیادہ خود ارادیت کی جنگ ہے۔
یہ سب بہت جائز سوال ہے لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کہ جو اس کشمکش میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں وہ اپنا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں۔ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں کیسا کیسے کرنا چاہتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرنے کا حق بھی بہر حال ان ہی کے پاس ہے۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں وہ اپنے اپ کو وقت کے ساتھ ساتھ دریافت کرتے چلے جائیں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے اس ساری کشمکش کے مرکز میں کیسے رہنا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کا حق اور اختیار ان کے علاوہ اور دیا بھی کس کو جاسکتا ہے۔
(بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام)
۲۰۲۲ء میں امریکہ میں قتلِ عام کا بصری تجزیہ
مراد علی
(زیر نظر رپورٹ مئی 2022ء کو ’الجزیرہ‘ پر شائع ہوئی)
قتلِ عام (Mass Shooting) کی کوئی عمومی تعریف نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی واقعے کے تجزیے کےلیے کون سا ڈیٹا بیس استعمال کیا جاتا ہے۔ بنا بریں رواں برس (2022ء) پورے امریکہ میں 3 سے لے کر 268 قتلِ عام ہوئے ہیں۔
24 مئی کو ایک 18 سالہ بندوق بردار نے ٹیکساس کے شہر یووالڈے میں روب ایلی منٹری اسکول پر دھاوا بول دیا، قبل اس سے کہ پولیس اس کو گولی مار کر ہلاک کردے، اس نے 19 بچوں اور دو اساتذہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بندوق کے تشدد کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
یہ خون ریزی امریکہ میں برسوں پر محیط قتلِ عام کے تسلسل کا تازہ ترین حادثہ ہے۔ ‘‘Gun Violence Archive’’ کے ایک جائزے کے مطابق یہ 2022ء کا اس نوعیت کا 213 واں واقعہ ہے، اسی ایک ہی واقعے میں حملہ آور کے علاوہ چار یا اس سے زیادہ افراد کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔
مندرجہ بالا تعریف کے مطابق ایک ہفتہ قبل ٹیکساس کے ایک اسکول میں فائرنگ کے بعد پورے امریکہ میں کم از کم 17 دیگر قتلِ عام ہو چکے ہیں۔
تاہم چونکہ ’’قتلِ عام‘‘ (Mass Shooting) کی کوئی عمومی تعریف نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی واقعے کے تجزیے کےلیے کون سا ڈیٹا بیس استعمال کیا جاتا ہے ۔اس سال کے آغاز سے امریکہ بھر میں قتلِ عام کی تعداد 3 اور 374 کے درمیان ہے۔
قتلِ عام کی تعریف کیسے کی جاتی ہے؟
اس وقت تقریبا پانچ ایسے ڈیٹا بیس متحرک ہیں، جو پورے امریکہ میں قتلِ عام کے واقعات کا پتا لگاتے ہیں۔ ہر ڈیٹا بیس میں ہلاکتوں کی تعداد، جائے وقوعہ اور حملہ آور کے محرکات کے معیارات مختلف ہیں۔
دی مدر جونز (The Mother Jones) اور دی وائلنس پروجیکٹ (The Violence Project) قتلِ عام کی تعریف بہت محدود دائرے میں کرتے ہیں، ان کے مطابق کم از کم تین یا چار ہلاکتوں والے واقعات اس تعریف کے تحت آتے ہیں، مزید یہ کہ حملہ عوامی جگہ پر ہو اور حملہ آور کا ہدف اپنی میں فطرت اندھا دھند ہو۔
ایوری ٹاؤن فار گن سیفٹی (Everytown for Gun Safety) ڈیٹا بیس کے مطابق قتلِ عام کی تعریف بہت وسیع ہے، جس میں ہلاکتوں کی تعداد چار یا اس سے زائد ہو، جائے وقوعہ میں بشمول نجی بیٹھک کے کوئی بھی جگہ ہوسکتی ہے، جہاں حملہ آور ڈکیتی، جتھے کی صورت میں تشدد کرے یا گھریلو تشدد کے غرض سے حملہ کرے۔
اس کے برعکس گن وائلنس آرکائیو (Gun Violence Archive) اور ماس شوٹنگ ٹریکر (Mass Shooting Tracker) قتلِ عام کی تعریف بہت محدود دائرے تک ہے، جس میں ایسے واقعات شامل ہیں جہاں مقام کے تعین یا حملہ آور کے مقصد سے قطع نظر چار یا اس سے زیادہ لوگوں کو مارنے یا زخمی کرنے کے لیے بندوق کا استعمال کیا جائے۔
ان تعریفات کی روشنی میں2021ءمیں پورے امریکہ میں چھ سے لے کر 818کے درمیان قرل عام کے واقعات پیش آئے ہیں۔
6 جولائی 2022ء تک پورے امریکا میں قتلِ عام کی اعداد و شمار درج ذیل ہے:
مدر جونز: 7 قتلِ عام میں 52 ہلاک، 77 زخمی۔
دی وائلنس پروجیکٹ: 1 قتلِ عام ، 10 ہلاک، 3 زخمی (آخری اپ ڈیٹ 14 مئی 2022ء)۔
ہر ٹاؤن فار گن سیفٹی: 11 قتلِ عام ، 70 ہلاک، 23 زخمی (آخری اپ ڈیٹ 7 جون 2022ء)۔
گن وائلنس آرکائیو: 322 قتلِ عام ، 351 ہلاک، 1425 زخمی۔
ماس شوٹنگ ٹریکر: 374 قتلِ عام ، 430 ہلاک، 1566 زخمی۔
وفاقی سطح پر ’’فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن‘‘(ایف بی آئی) خصوصی طور پر قتل عام کے واقعات کا پتا نہیں لگاتا، بلکہ وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی ’’اجتماعی قتل ‘‘ (mass murder)کو ایک ایسے واقعے کے طور پر بیان کرتی ہے جہاں ایک واقعے میں چار یا زائدافراد کو قتل کیا جائے۔
امریکہ میں قتل کے واقعات میں اضافہ
رینڈ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے قتلِ عام کی تعریف میں تضادات نے مختلف جائزوں کو جنم دیا ہےکہ کتنی کثرت سے قتلِ عام ہوتاہے اور کیا وہ ایک یا دو دہائی قبل کی بہ نسبت اب زیادہ ہے۔
عام طو ر ایف بی آئی اس کےلیے پر ’’ایکٹیو شوٹنگ ایکسیڈنٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے جس کی حکومتی ایجنسیوں کی متفقہ تعریف یہی ہے۔
2014ء کے بعد ایف بی آئی نے قتل کے واقعات پر نظر رکھی ہوئی ہے، جس کی وہ تعریف یہ کرتی ہے کہ ایک فرد جو ایک خاص آبادی والے علاقے میں لوگوں کو قتل کرنے یا قتل کی کوشش میں سرگرم رہتا ہے؛ بیش ترصورتوں میں، حملہ آور آتشیں ہتھیار استعمال کرتے ہیں ، جس میں مقتولین کو نشانہ بنانے کےلیے کوئی خاص طریقہ نہیں ہوتا [بلکہ ان کو اندھا دھند موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے]۔
ایف بی آئی کی 23 مئی کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2021ء میں امریکہ میں اس قسم کےقتل عام کے 61 واقعات پیش آئے ہیں، جس میں 2020ء کی نسبت 52 فیصد اضافہ ہوا ہے ، یہ معلوم ریکارڈ کے مطابق سب سے بڑا اضافہ ہے۔ گزشتہ سال کے حملے 30 ریاستوں تک پھیل چکے تھے، جن میں 103 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے تھے۔ ایف بی آئی نے 2014ءسے 2016ءتک ہر سال 20ایسے واقعات ریکارڈ کیے ہیں، 2017ء میں 31 اور 2018ء اور 2019ء دونوں میں 30 ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
ایف بی آئی نے واضح کیا ہے کہ اس کی ’’فعال شوٹر رپورٹ‘‘ میں گن وائلنس یا ماس شوتنگ شامل نہیں ہیں۔
امریکہ میں سب سے مہلک اجتماعی فائرنگ
امریکی تاریخ میں 10 میں سے 7مہلک ترین اجتماعی فائرنگ کے واقعات صرف گزشتہ 10سالوں میں رونما ہوچکے ہیں، ان میں سے چار صرف ٹیکساس کے ہیں۔
’’دی وائلنس پروجیکٹ‘‘ کے مطابق، جس کو 1966ءکے بعد سے امریکہ میں قتلِ عام کا ریکارڈمحفوظ کرنے کا اعزاز حاصل ہے، امریکہ میں سب سے مہلک اجتماعی فائرنگ کا ریکارڈ درج ذیل ہے:
- لاس ویگاس کنسرٹ، یکم اکتوبر 2017ء: ایک بندوق بردار نے ہوٹل کی 32 ویں منزل سے کنٹری میوزک فیسٹیول پر فائرنگ کی، جس سے 58ا فراد نے جان کی بازی ہار کر ہلاک ہوگئے۔
- اورلینڈو نائٹ کلب ،12جون، 2016ء: ایک بندوق بردار نے ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں 49 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، قبل اس سے کہ پولیس اسے مار دیں۔
- ورجینیا ٹیک، 16 اپریل 2007ء: ورجینیا ٹیک کے ایک 23سالہ طالب علم نے اپنی جان لینے سے پہلے27طلباء اور پانچ پروفیسرز کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
- سینڈی ہک ایلی منٹری، 14دسمبر 2012ء: ایک20سالہ بندوق بردار نے اپنی جان لینے سے پہلے20طلباء اور چھ اورافراد کو قتل کر دیا۔
- سدرلینڈ اسپرنگس چرچ – 5 نومبر، 2017ء: اپنی بیوی اور بچے کو مارنے پر امریکی فضائیہ سے نکالے گئے ایک شخص نے ٹیکساس کے ایک دیہی چرچ میں25افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جہاں اس کے سسرال والوں نے خود کو مارنے سے پہلے عبادت کی۔
- لوبی کی شوٹنگ ، 16 اکتوبر 1991ء: ٹیکساس میں ایک 35 سالہ شخص نے اپنا ٹرک لوبی کے ایک ریستوراں کی سامنے کی کھڑکی سے اندر کیااور پھر اپنی جان لینے سے قبل 23 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
- ایل پاسو والمارٹ ، 3 اگست، 2019ء: ایک شخص نے ایل پاسو، ٹیکساس میں والمارٹ اسٹور میں22 افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ایک بیان، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مشتبہ شخص نے لکھا تھا، اس حملے کو "ٹیکساس پر ہسپانوی حملے کا جواب" قرار دیا۔ بعد میں اس کو گرفتار کر لیا گیا۔
- سان یسیدرو میک ڈونلڈ، 18 جولائی، 1984ء: ایک41سالہ بندوق بردار نے 21 افراد کو گولی مار کر ہلاک اور19کو زخمی کر دیا، بعد میں پولیس اسنائپر نے حملہ آور کو ہلاک کردیا۔
- روب ایلی منٹری اسکول ، 24مئی، 2022ء: ایک 18سالہ بندوق بردار نے یوالڈے، ٹیکساس میں روب ایلی منٹری اسکول پر دھاوا بول دیا، پولیس کی گولی سے ہلاک ہونے سے پہلے19بچوں اور دو اساتذہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
- پارک لینڈ ہائی اسکول، فروری 14، 2018ء: فلوریڈا کے پارک لینڈ میں مارجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول کے ایک سابق طالب علم نے17طلبہ اور اساتذہ کو ہلاک کردیا۔
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۲)
ڈاکٹر شیر علی ترین
اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ
(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا بارہواں باب)
فقہ وتصوف کی دوگانہ تقسیم
فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب نے تخلیقی انداز میں متعدد مصادر علم سے استفادہ کیا ہے۔ ان مصادر میں فقہ، تصوف اور ذاتی تجربہ شامل ہیں۔ یہ کسی صوفی کی جانب سے مصلح فقیہوں کے غیظ وغضب کے خلاف عوامی عرف اور رسوم کا دفاع نہیں، جس طرح فقہ/تصوف کی دوگانہ تقسیم کی طرف سطحی مراجعت فرض کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس متن کا ایک سرسری مطالعہ یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ حاجی صاحب اپنے ارادت مند علما بالخصوص علماے دیوبند کے اس متشددانہ رویے کو ناپسند کرتے تھے، جس سے وہ ہندوستان میں رائج میلاد جیسی رسموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ تاہم اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے وہ اس بابت محتاط تھے کہ فقہی اصول وضوابط کے مطابق استدلال کرکے اپنے موقف کو جواز اور استناد فراہم کریں۔حاجی صاحب نے فقہ یا اس کے تقاضوں کو ترک نہیں کیا بلکہ انھوں نے ایک ایسا تعبیری منہج اپنایا، جس میں فقہ وتصوف دونوں باہم یک جا تھے، اور دونوں مل کر قانونِ الہی اور انسانی تعلقات کے درمیان استحکام کو توازن بخش رہے تھے۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا، حاجی صاحب کے پروجیکٹ کا لبِّ لُباب انسانی رشتوں کا تحفظ واستحکام تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ شدید اختلافات کے درمیان بھی سماجی تعلقات کے ادب آداب اور رسوم کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ وہ علما اور عوام کے درمیان احترام کا رشتہ برقرار رکھنے کے بارے میں بھی بہت حساس تھے۔ مناظروں اور نہ ختم ہونے والے اختلافی جھگڑوں کے ماحول میں ان کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ یہ علما اور عوام کے درمیان احترام واعتماد کے رشتے کو کمزور کرتا ہے۔ یہ بات حتمی ہے کہ چاہے علما کا تعلق جس مسلک سے بھی ہو، ان کے متحارب دھڑوں کے بے لچک رویے ان کی مجموعی ساکھ اور وقعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کیوں کہ جب مختلف دھڑوں کے درمیان مناظرے اور گالم گلوچ کی آگ بھڑکتی ہے، تو مخالف کیمپ کے پیروکار علما پر کیچڑ اچھالنے میں آزادی محسوس کرتے ہیں۔ حاجی صاحب نے اپنے علما مریدوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ اپنے مخالفین سے مناظرہ جیتنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن اس دوران مناظرانہ جدل وجدال کی آگ بے قابو ہو جائے، تو یہ عوام کی نظروں میں ان کی دینی ساکھ کے پورے محل کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔ اس مناظرانہ آگ کے شعلوں کو کم کرنے کے لیے اہل علم اور ان عوام کالانعام کے درمیان روایتی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، جن کی رہ نمائی کا کام علما کا منصب ہے۔
عوام اور علما کے درمیان فرق مراتب، مختلف فیہ اعتقادی مسائل پر حاجی صاحب کے نظریات کی ایک اساس بھی ہے۔ مثلاً خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان (امکانِ کذب) اور نبی ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کے امکان (امکانِ نظیر) پر بحث کرتے ہوئے انھوں نے علما کو نصیحت کی کہ ان حساس موضوعات پر زیادہ قیل وقال میں کمی لائیں۔ اگر وہ بہر صورت علمی طبع آزمائی کا شوق فرماتے ہیں، تو انھیں چاہیے کہ کتابیں اور رسائل چھاپنے کے بجاے ایک دوسرے سے خط وکتابت کے ذریعے تبادلۂ خیال کیا کریں۔ لیکن اگر کتابیں اور رسائل لکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، تو پھر صرف عربی میں لکھا کریں۔ یہ دقیق مسائل عوام کی سمجھ سے بالا ہیں، اور اس وجہ سے ان کے پڑھنے سے وہ خراب ہو سکتے ہیں۔حاجی صاحب نے تاکید سے کہا کہ عوام کو ان مسائل پر بحث ومباحثہ سے باضابطہ طور پر روکا جائے (13)۔
غور کیجیے کہ یہ روک کسی حد تک ان کے اس موقف کے خلاف ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ عوام کو ایسی کسی رسم میں شرکت سے نہ روکا جائے، جو اصلاح وتصحیح کا متقاضی ہو۔ حاجی صاحب اعتقادی مسائل میں لچک دکھانا یا خطرات مول لینا چاہتے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ تمام اعتقادی بارودی سرنگوں سے بچا جائے، تاکہ مُحکم علمی اور سماجی اقدار کو ناقابل تلافی نقصان پہچنے سے بچایا جائے۔
اصولی زاویے سے دیکھا جائے تو فیصلۂ ہفت مسئلہ میں ایک طرف حاجی صاحب نے بنیادی فرائض کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ دوسری طرف انھوں نے رائج الوقت رسمی اعمال کے لیے شرعی گنجائش پیدا کی ہے۔ یہ معتدل موقف پیش کرتے وقت حاجی صاحب نے اپنے آپ کو ایک محتاط اور حقیقت پسند شخص کی روپ میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے ببانگ دہل واضح کیا کہ کسی غیر واجب عمل کو واجب سمجھنا بدعت ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسروں پر غیرواجبات کے سلسلے میں دباو نہ ڈالا جائے۔ یہ احساس نہایت عمدگی سے ان کے اس بیان میں سمویا گیا ہے: "بار بار اور غیر ضروری اصرار سے ایک مستحب عمل بھی گناہ میں بدل جاتا ہے" (5)۔ تاہم ان کے اندر جو حقیقت پسندی تھی، اس نے فوراً ان کو اس اضافے پر آمادہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ نہ ہو، تو کسی عمل کو بدعت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
ان کے موقف میں کلیدی حیثیت فرد کی نیت کو حاصل تھی۔ اگر کسی فرد کی نیت کسی اختیاری شرعی عمل کو اپنے لیے یا دوسروں کے لیے واجب بنانا نہ ہو، تو پھر وہ جائز رہتا ہے۔ تاہم اگر کوئی کسی اختیاری رسم کو ضروری سمجھنے پر اصرار کرے، تو یہ اصرار ناجائز ہے۔ اپنے پیروکاروں کو یہ تنبیہ کرتے ہوئے کہ لوگوں کے ظاہری اعمال کی بنیاد پر ان پر بدعت وگمراہی کے فتوے نہ لگائیں، حاجی صاحب نے لوگوں کی نیتوں کے متعلق جلد بازانہ فیصلوں پر بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ اپنے مریدوں کے لیے ان کا پیغام سادہ اور واضح تھا: دوسروں کی نیتوں کے متعلق مفروضے اخذ نہ کریں۔ آپ کسی کی نیت کو اپنے ظن وتخمین سے معلوم نہیں کر سکتے۔ اپنے دیوبندی مریدوں کے برعکس، جو طویل عرصے سے رائج عادات اور رسوم کی اصلاح یا خاتمہ چاہتے تھے، حاجی صاحب زیادہ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ایسے کسی انقلابی پروجیکٹ کے مشکلات کو سمجھتے تھے۔ ان کا مطمح نظر یہ تھا کہ قانونِ الہی کی تنفیذ وتبلیغ انسانی رشتوں میں دراڑ پیدا کرنے کا سبب نہ بنے ۔
کچھ اس اختلاف کی ذاتی نوعیت ایسی تھی، اور کچھ فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کی تعبیر وتشریح کی ایسی کئی تشریحات وتوجیہات ہو سکتی تھیں، جن کی بنا پر یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کا اصل موقف کیا تھا۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ نے بھی ایک بڑی کش مکش کو جنم دیا۔ دیوبند کے مخالفین نے کہا کہ یہ اپنے ہی شیخ کی جانب سے ان کے مسلک کی واضح تردید ہے۔ جب کہ اکابرین دیوبند نے داخلی اختلافات کے ایسے کسی تاثر کو مسترد کرکے بتایا کہ یہ کتاب سراسر ان کے اصلاحی پروجیکٹ کی تائید میں ہے۔ اس کے باوجود فیصلۂ ہفت مسئلہ نے جو تناو پیدا کیا تھا، وہ واضح ہے۔ دیوبندی اس تناو سے کس طرح نمٹے، یہ شیخ ومرید کے درمیان رشتے کی تفہیم، حفاظت اور حدود کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے فورًا بعد جو ماحول پیدا ہوا، میں اب اس کی چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں۔ ذیل میں، میں جن دیوبندی اختلافات اور تنازعات کی تحقیق پیش کرنے جا رہا ہوں، وہ واضح کرتا ہے کہ کسی شیخ سے بیک وقت اختلاف اور ارادت کو کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اور جیسا کہ میں بتاؤں گا، دیوبندی اکابر نے آخر کار حاجی صاحب کو ایسے رنگ میں ڈھال لیا، جو ان کے اصلاحی لباس سے سب سے زیادہ ہم آہنگ تھا۔
مصنف کون ہے؟
یہ عجیب بات ہے کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے ابتدائی سالوں میں یہ بنیادی اختلاف پیدا ہوا کہ اس کا مصنف کون ہے۔ حتی کہ حاجی صاحب کی زندگی میں ہی شمالی ہندوستان میں بڑے پیمانے پر یہ افواہ پھیل گئی کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ اصلاً ان کے من چلے مرید مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیف ہے، بلکہ کافی عرصے تک یہ رسالہ مولانا تھانوی کی تصنیف کردہ کتابوں کی فہرست میں رہا۔ اس مسئلے کی سنگینی کو ہندوستان میں حاجی صاحب کے ایک مرید حاجی سید نورالحسن کی حکایت سے جانچا سکتا ہے، جس میں وہ حاجی صاحب سے اپنی ملاقات کے احوال بیان کرتے ہیں:
ہندوستان میں (ضلع بلند شہر) کے خورجہ نامی گاؤں میں ایک بار میں اتفاقاً ایک خان صاحب سے گفت وشنید کر رہا تھا۔ جب فیصلۂ ہفت مسئلہ کا ذکر آیا، تو انھوں نے بتایا کہ یہ مضمون حاجی صاحب کا نہیں، بلکہ کسی اور نے لکھ کر بعد میں ان کی طرف منسوب کیا ہے۔ان کی اس بات کی وجہ سے میرے دل میں شک وشبہ پیدا ہوا۔ اس لیے میں حج کے لیے مکہ روانہ ہوا، اور اپنے ساتھ فیصلۂ ہفت مسئلہ کا ایک نسخہ لیا۔ میں نے مصمم ارادہ کیا تھا کہ جب میں حاجی صاحب سے ملوں گا، تو ان کے سامنے اس مضمون کا ایک ایک لفظ سناؤں گا، اور ان سے تصدیق کراؤں گا کہ کیا یہ سب ان کا لکھا ہوا ہے۔ میری روانگی سے قبل میں مولوی محمد سابق سے ملا۔ وہ بھی حج کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف عازم سفر تھے۔ میں نے ان سے اپنے ارادے کا ذکر کیا۔ وہ بھی خوش ہوئے اور ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ حاجی صاحب کی زیارت کے لیے اکٹھے جائیں گے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو حاجی صاحب کے گھر گئے، اور میں اپنے ساتھ یہ مضمون بھی لے گیا۔ جس وقت ہمیں ان کی قدم بوسی کی سعادت حاصل ہوئی، انھوں نے فوراً اپنی نگاہ مولوی محمد سابق پر جمالی اور ان سے کہا: "میاں محمد سابق! ہندوستان کے لوگ عجیب وغریب تنازعات میں پڑ گئے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ بہت سے لوگ فیصلۂ ہفت مسئلہ کے متعلق یہ شبہات اٹھا رہے ہیں کہ یہ فقیر کی تصنیف نہیں۔ لیکن افسوس کہ اس کے مصنف کے متعلق اندازے لگانے کے بجائے وہ اس حقیقت پر کیوں توجہ نہیں کرتے، جو اس میں موجود ہے"1۔
انھوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ اس رسالے کے مصنف وہی ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے فیصلۂ ہفت مسئلہ کے پہلے مسئلے سے لے کر ساتویں مسئلے تک تمام مواد ومضامین کی تفصیلی وضاحت کی۔ نور الحسن کے اپنے الفاظ میں:
"(انھوں نے فیصلۂ ہفت مسئلہ کی) وضاحت ایسے اطمینان بخش اور جامع طریقے سے کی کہ ان کے سامنے رسالے کے لفظ بلفظ پڑھنے کی ضورت ہی ختم ہو گئی۔ حاجی صاحب کی وضاحت سننے کے بعد ہم سکون سے ان کے گھر سے واپس لوٹے، اور میں نے مولوی محمد سابق سے کہا: 'کام ہو گیا۔ ہماری اس قدر تشفی ہو گئی کہ ہمیں سوال پوچھنے کی ضروت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس پر خدا کا شکر ہے"2۔
یہ حکایت فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے بعد اس کی متنازعہ حیثیت کو نمایاں کرتی ہے۔ لیکن مصنف سے زیادہ اس کا متن اور بالخصوص یہ امکان کہ حاجی صاحب نے مختلف شرعی مسائل پر اپنے دیوبندی مریدوں کی مخالفت کی ہے، اس تنازع کا مرکزی نکتہ تھا۔ مولانا تھانوی اور مولانا گنگوہی نے، جن میں سے ایک کم سن اور دوسرے معمر تھے، لیکن دونوں دیوبندی سلسلے کی قد آور شخصیات تھیں، اپنے اور اپنے شیخ کے درمیان تنازع کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس انھوں استدلال کیا (ان کے استدلال کو میں تفصیل سے زیر بحث لاؤں گا) کہ فیصلۂ ہفت مسئلہ نے درحقیقت ان کے موقف کی تصدیق وتائید کی ہے۔لیکن اختلاف کے تمام آثار کو مٹانے کے لیے ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود دوسرے وقتوں میں یہ اختلافات بالکل واضح تھے۔ مثلاً مولانا گنگوہی کے سوانح تذکرۃ الرشید میں مولانا عاشق الہی بتاتے ہیں کہ جس وقت فیصلۂ ہفت مسئلہ سے متعلق شور وغل اپنے عروج پر تھا، مولانا گنگوہی نے رسالے کی شہرت کے حوالے سے اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا: "ہندوستان میں سب کچھ اچھا ہے، اور کسی چیز کے متعلق کوئی پریشانی نہیں ہے"۔ آگے وہ ایک درپردہ طنز کے ساتھ کہتے ہیں: "لیکن آج کل ہمیں عربستان سے طرح طرح کی عجیب وغریب خبریں پہنچ رہی ہیں"3۔
ذیل میں، میں زیادہ گہرائی سے ان مخصوص اختلافی نکات کا تجزیہ کروں گا، جن کا تعلق حاجی صاحب اور ان کے بزرگ دیوبندی مریدوں کے ساتھ ہیں، اور جو فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے فوراً بعد زیر بحث آئے۔ ان کے درمیان یہ اختلافی نکات اور مباحث نہ صرف دیوبند کے ابتدائی سالوں میں شریعت کی حدود پر ان کے مواقف کے دقیق لیکن نمایاں اندرونی تنوع کو بھی ظاہر کرتے ہیں، بلکہ ایک ایسی روایت کو بھی ظاہر کرتے ہیں، جس میں محبت، وفاداری اور ارادت کے ہوتے ہوئے کانٹے دار مسائل پر اختلافات سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور بحث ومباحثے کی ایک حیرت انگیز وسعت تھی۔
شیخ اور مرید کے درمیان اختلاف کی حدود
حاجی صاحب اور ان کے دیوبندی مریدوں کے درمیان تناو کا بہتر اندازہ مکاتیب کے اس سلسلے سے ہوتا ہے، جو فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی اور ایک نامعلوم دیوبندی سائل کے درمیان وقوع پذیر ہوا۔ سائل نے مولانا تھانوی سے ان مخصوص اشکالات اور اعتراضات کے اطمینان بخش جوابات کا مطالبہ کیا جو دیوبندی مسلک کے مخالفین اٹھاتے ہیں، بالخصوص اکابر علماے دیوبند (بشمول مولانا تھانوی) کے ساتھ حاجی صاحب کے تعلق کی نوعیت بھی واضح کی جائے۔ اپنے آپ کو دیوبندی مسلک کا بہی خواہ ثابت کرتے ہوئے اس سائل نے مولانا تھانوی سے ان دلائل کا مطالبہ کیا، جن کے ذریعے حاجی صاحب اور ان کے دیوبندی مریدوں کے درمیان پرخلوص روحانی تعلق کے بارے میں الزامات کا سد باب ہو سکے۔ اس خط وکتابت کے دوران سائل ایک نکتہ چیں کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تمام مخصوص اختلافی نکات کی فہرست اور وضاحت مرتب کرتا ہے جو مولانا تھانوی کو زیر بحث لانے چاہئیں۔
مولانا تھانوی کے نام اپنے پہلے خط میں یہ نامعلوم سائل تین بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔
پہلا اختلافی نکتہ یہ ہے کہ کیا فیصلۂ ہفت مسئلہ میں بیان کیے گئے حاجی صاحب کے بعض عقائد اور خیالات حقیقتاً وہی ہیں، جو ان کا عقیدہ ہے، یا وہ کسی سیاسی مصلحت کی بنیاد پر ہیں، جن کا مقصد مکہ مکرمہ کے سیاسی اشرافیہ اور اکابر کی تشفی ہے؟ اگر ایسا ہو تو یہ تو روافض کی علامت ہے، جو حاجی صاحب کے ظاہری اور باطنی کمالات کے یکسر خلاف ہے۔ اور اگر ان کی تحریر ان کے اعتقاد کے موافق ہے، تو پھر اپنے ان (دیوبندی) مریدوں کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے، جو ان عقائد واعمال کو بدعت اور گمراہی سمجھتے ہیں؟ ان کے بارے میں لوگ کیا سوچیں گے، اگر ان کا اپنا شیخ ان چیزوں کی مخالفت کرے، جن کی وہ تبلیغ کرتے ہیں؟4
دوسرے سوال نے ایک زیادہ عمومی اور وسیع تر سوال کو موضوع بحث بنایا: کیا شیخ ومرید کے درمیان تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ مرید تمام دینی امور میں اپنے شیخ کی اتباع کریں؟ یا ان کے لیے اتنا کافی ہے کہ صرف روحانی اعمال کے دائرے میں اطاعت کا مظاہرہ کریں، مثلاً مراقبہ، ذکر واذکار وغیرہ میں، جبکہ فقہی مسائل میں اپنے علم وفکر پر انحصار کریں؟ سائل نے واضح کیا کہ اس امر کی وضاحت اس لیے ضروری تھی اگر مؤخر الذکر بات درست ہو، اور اس کے باوجود شیخ نے فقہ یا رسمی اعمال کے بارے میں اپنے مرید کی مخالفت کی ہو، تو پھر مرید کے دل میں اپنے شیخ کی عزت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اور نتیجتاً شیخ ومرید کا رشتہ پھلے پھولے گا نہیں۔ دوسری طرف اگر مرید یہ محسوس کرے کہ اس کے شیخ کے عقائد واعمال شریعت اور سنت کے خلاف ہیں، تو پھر وہ اپنے شیخ کے ساتھ محبت کا رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ محبت کا رشتہ تو کیا، ایسے حالات میں شیخ اس بلند منصب پر متمکن ہونے کا اہل بھی نہیں تصور کیا جا سکتا۔
بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیخ اپنے مرید کے ساتھ حق وباطل کے درمیان اور یہ کہ کون سی چیز جائز ہے اور کون سی گمراہی، اس کے مابین فرق پر متفق نہ ہو، تو پھر وہ کس طرح اپنے مرید کو خدا کی طرف لے جانے والے منازل پر چلانے کے قابل بنا سکتا ہے؟ جیسا کہ سائل واضح کرتا ہے: "اگر کوئی یہ تسلیم بھی کرے کہ شرعی احکام سے متعلق اختلاف پرانے زمانے سے واقع ہے، اور طریقت کے معاملات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف کوئی معمولی بات نہیں۔دوسرا یہ کہ اس اختلاف سے چشم پوشی کے نتیجے میں یہ مسلّمہ شرط بے حیثیت ہو جائے گی کہ متلاشیانِ حقیقت ایک ایسے شیخ کو تلاش کریں، جو کامل متبعِ سنت ہو" (99 – 100)۔
اس کے بعد سائل اپنے ان تجریدی سوالات کا اطلاق اکابر دیوبند کے ساتھ مخصوص مسائل میں حاجی صاحب کے واضح اختلافات پر کرتا ہے۔ وہ حیرت کے عالم میں کہتا ہے کہ اگر کوئی اس مقدمے کو تسلیم کرتا ہے کہ شیخ اور مرید مکمل ہم خیال، ہم عقید اور ہم عمل ہونے چاہییں، تو پھر حاجی صاحب اور ان کے مریدوں کے درمیان اختلافات کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ یہ حضرات شیخ ومرید کے درمیان ہم آہنگی کی بنیادی شرط پر پورا نہیں اترتے۔
سائل نے کا اٹھایا ہوا تیسرا اختلافی نکتہ اپنے مریدوں کے ساتھ حاجی صاحب کے تعلق کے اخلاص یا پختگی سے توجہ ہٹا کر اس سوال کی طرف موڑتا ہے کہ حاجی صاحب کے ورثے کے اصلی امین کون ہیں؛ علماے دیوبند جیسے مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھا، یا علماے دیوبند کے مخالفین جیسے مولانا عبد السمیع۔ سائل نے اس مسئلے کو اس طرح سے پیش کیا ہے:
حاجی صاحب کے مریدوں کو دو کیمپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور یہ دونوں کیمپ علما کے ہیں۔ ایک کیمپ میں ہمیں مولوی احمد حسن صاحب کانپوری اور شاہ عبد الحق مہاجر مکی جیسے لوگ نظر آتے ہیں، جن کے عقائد واعمال حاجی صاحب اور چشتی صابریہ وقدسیہ کے دیگر حضرات کی طرح ہیں۔ دوسرا کیمپ علماے دیوبند جیسے مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی اشرف علی تھانوی پر مشتمل ہے، جو پہلے گروہ کے عقائد واعمال کو بدعت اور گمراہی قرار دیتے ہیں، اس حد تک کہ بعض اوقات وہ ان پر کفر وشرک کے فتوے لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں کیمپوں میں سے کون سا کیمپ حاجی صاحب کے ورثے کا حقیقی محافظ ہے؟ اور حاجی صاحب کے اس عمل کی کیا تاویل کی جائے کہ انھوں نے ایسے دو متوازی گروہوں کے لوگوں کو کیوں کر بیعت کرایا، جو اپنے عقائد واعمال میں دوسروں سے اس قدر مختلف تھے؟ (101)
آئیے اب مولانا تھانوی سے ان تیکھے سوالات کے جوابات سنتے ہیں۔
ان تینوں سوالات کے بارے میں مولانا تھانوی کا سارا جواب اس مقدمے پر مبنی ہے کہ علمی اختلافات کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور اضافی۔پہلی قسم میں وہ اختلافات شامل ہیں جو حتمی ہیں، اور ان میں تطبیق نہیں ہو سکتی، جب کہ دوسری قسم کے اختلافات وہ ہیں، جو وقتی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں، جیسے کسی متعلقہ مسئلے پر علم میں عدم مساوات۔ مولانا تھانوی نے واضح کیا کہ اس سیاق میں اختلاف کی نوعیت کو جاننے کے لیے متعلقہ مسائل کی نوعیت کے متعلق بیدار رہنا پڑتا ہے۔ یہاں پر مناقشہ ایسی رسموں کے متعلق ہے، جو اصلاً جائز ہیں، لیکن چند وقتی اور فاسد اثرات کی وجہ سے مکروہ اور ناپسندیدہ بن گئی ہیں۔ مثلاً میلاد اور گیارھویں شریف (صوفی بزرگ کی وفات کے گیارھویں دن ایصالِ ثواب کے لیے تلاوتِ قرآن) جیسے متنازعہ اعمال اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا تھانوی کے نزدیک اس طرح کی رسموں کے بارے میں دو طرح کی آرا ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک شخص اس بات سے انکار کرے کہ ان رسموں میں جو فاسد تخصیصات شامل ہو گئی ہیں، وہ ناجائز نہیں ہیں۔ جو یہ شخص ایسی رائے رکھتا ہے، اس کے بدعتی اور گمراہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مزید برآں اگر یہ حاجی صاحب کی رائے ہوتی، تو پھر علماے دیوبند کے ساتھ ان کا اختلاف حقیقی اور ناقابل مفاہمت ہوتا (102)۔
مولانا تھانوی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں: دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم ان فاسد تخصیصات کو ناپسندیدہ سمجھیں، اور ان سے ملوث اعمال میں دوسرے لوگوں کو شریک ہونے سے منع کریں، لیکن عوام کے ساتھ اس شک کی وجہ سے حسن ظن سے کام لیں کہ کیا حقیقت میں ان کی رسمیں فاسد ہیں، اور اس طرح انھیں ان اعمال میں شریک ہونے کی اجازت دیں۔ بظاہر یہ اجازت ان لوگوں کے موقف کے خلاف معلوم ہوتی ہے، جو ان اعمال کو جائز قرار نہیں دیتے۔ تاہم مولانا تھانوی متنبہ کیا کہ اس دوسری قسم کا اختلاف جوہری یا حقیقی نہیں۔ اس کے بجاے یہ مذکورہ عوام کی زندگیوں کے متعلق تحقیق یا علم کی کمی کے باعث غلطی کی ایک مثال ہے۔ مولانا تھانوی نے واضح کیا کہ ایسی غلطی علما، اولیا اور یہاں تک کہ نبی ﷺ سے بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس قسم کی غلطی سے کسی کی عظمت وشان، کمال اور قربِ الہی میں نقص نہیں واقع ہوتا۔ مولانا تھانوی نے استدلال کیا کہ حاجی صاحب اور ان کے دیوبندی مریدوں کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ اسی نوعیت کا ہے۔ یہ حقیقی یا جوہری نہیں۔ یہ ہندوستان میں عوام کی صورت حال سے حاجی صاحب کی لاعلمی کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے وہ ان کی عبادتی زندگی سے متعلق غیر معمولی حد تک حسن ظن سے کام لیتے ہیں (103- 4)۔
مولانا تھانوی نے اپنے استدلال میں ہندوستان میں حاجی صاحب کی فعلاً عدم موجودگی پر زور دیا۔چونکہ حاجی صاحب مکہ میں رہائش پذیر تھے، اور ہندوستان سے کافی عرصے کے لیے باہر تھے، اس لیے ان کے پاس وہ ضروری معلومات نہیں تھیں، جن کی بنیاد پر وہ عام ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا جائزہ لے سکیں۔ چونکہ ان کے نقطۂ نظر میں غلطی کی وجہ مشاہداتی علم کی کمی ہے، اس لیے اس کی وجہ سے ان کی روحانی حیثیت اور اپنے مریدوں کو قربِ الہی کے منازل طے کرانے کی صلاحیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ انھوں نے اپنے استدلال میں مزید بتایا: حتی کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی تجربی علم نہ ہونے کی وجہ سے غلطی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر "فرض کرو کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں زہر ملائے، اور وہ اسے بے خبری میں کھالے تو یہ غلطی صحابہ کے دلوں میں ان کی عظمت کو نہیں گھٹائے گی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو زہر کھانے کی وجہ سے غلط نہیں کہیں گے۔ اس کے بجاے وہ کہیں گے کہ انھوں نے جو غذا کھائی، اس کا کھانا جائز تھا۔ وہ اسے ہرگز نہیں تناول نہ فرماتے، اگر ان کو پتا ہوتا کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے (105)۔
مولانا تھانوی قیاس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بے توجہی کی کیفیت میں شرعی حکم کی خلاف ورزی صحابۂ کرام کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو کم نہیں کرتی، تو پھر ہندوستانی عوام کے متعلق حاجی صاحب کا غلط تجزیہ بھی بطور ایک شیخ کے مریدوں کے دلوں میں ان کی شان کو نہیں گھٹاتا۔ لیکن اس امر کی کیا تاویل کی جائے کہ حاجی صاحب بذات خود میلاد جیسی رسموں میں شریک ہوتے تھے، جن کے علماے دیوبند سخت مخالف تھے؟ یہاں بھی مولانا تھانوی کا جواب انھی بنیادوں پر استوار ہے۔ مولانا تھانوی دعوی کرتے ہیں کہ حاجی صاحب صرف ان رسموں میں شرکت کرتے تھے، جن میں خرابیاں نہیں ہوتی تھیں۔ مزید برآں مولانا تھانوی نے تجویز کیا کہ حاجی صاحب کا اپنا طرز عمل بہت صاف اور بے داغ تھا، اور اسی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں سے حسن ظن سے کام لیتے تھے۔ ہو سکتا ہے ان کا حسن ظن کسی مقام پر درست ہو، لیکن زیادہ مواقع پر وہ بے جا تھا۔ لیکن حاجی صاحب کا نرم موقف اپنے دیوبندی مریدوں کے سخت گیر موقف سے کیوں متاثر نہیں ہوا، اگر وہ حقیقت میں ان کے اتنے قریب تھے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ اگر اکابر دیوبند ایسے اعمال سے روکتے تھے، جن میں حاجی صاحب شریک ہوتے تھے، تو کیا نتیجتاً یہ ان کی اپنے شیخ پر تنقید کے برابر نہیں؟
ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے (جو سائل نے بھی اٹھائے تھے)، مولانا تھانوی نے دوبارہ ایک اہم فرق وضع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک عمل اصلًا اور بالذات ناجائز ہوتا ہے، اور ایک عمل فاسد تخصیصات کی وجہ سے وقتی طور پر بدعت بن جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ جب علماے دیوبند میلاد کو بدعت کہتے ہیں، تو وہ نفس عمل کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتے، بلکہ ان کی تنقید اس سے جڑی فاسد تخصیصات پر ہوتی ہے۔ مولانا تھانوی نے باصرار بتایا کہ حاجی صاحب ان تخصیصات پر عمل پیرا نہیں تھے، نہ ہی ان کے نزدیک اس کی اجازت یا گنجائش تھی۔اس لیے حاجی صاحب اور ان کے دیوبندی مریدوں کے مواقف میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔
مولانا تھانوی نے اپنے استدلال کو ایک مفید تقابلی بیان کے ساتھ سمیٹا: "حاجی امداد اللہ صاحب کے قول وفعل کا لبِّ لباب یہ ہے کہ رسمی اعمال جائز ہیں، اگر وہ خرابیوں سے خالی ہوں، اور علماے دیوبندی کے شرعی موقف کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ اعمال ناجائز ہیں، اگر یہ فاسد تخصیصات سے خراب ہو جائیں" (104)۔ مولانا تھانوی نے تسلیم کیا کہ "جہاں تک یہ سوال ہے کہ اکثر مثالوں میں یہ خرابیاں حقیقتاً موجود ہوتی ہیں یا نہیں، تو اس صورت میں اختلاف موجود ہے" (104)۔ لیکن مولانا تھانوی نے پرزور انداز میں واضح کیا کہ یہ اختلاف محض مشاہدے کا اختلاف ہے جس کی وجہ سے حاجی صاحب پر کیچڑ اچھالنا جائز نہیں، نہ یہ اکابر دیوبند کا اپنے موقف پر سمجھوتا ہے، اور نہ ہی ان کے اپنے شیخ سے تعلق کی پاکیزگی یا مضبوطی پر کوئی شبہ اٹھاتا ہے۔ مولانا تھانوی کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو ان کے استدلال کا قطعی انداز ہے؛ اگر حاجی صاحب کو زمینی حقائق کا اسی طرح علم ہوتا، جو اکابر دیوبند کو ہے، تو وہ بھی اسی نتیجے تک پہنچتے، جس نتیجے تک علماے دیوبند پہنچے ہیں۔ مزید برآں مولانا تھانوی نے فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کی متعلقہ آرا پر بحث کو جس انداز سے پیش کیا ہے، وہ خاص طور پر بہت اہم ہے۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کے دلائل کی جزئی تفصیلات پر ارتکاز کے بجاے انھوں نے لوگوں کی توجہ ان دلائل کے مشاہداتی بنیادوں کی طرف مبذول کرائی۔ اس طرح سے انھوں نے اس بحث کی شرائط کو ایک اور شکل دی، تاکہ وہ علماے دیوبند کے موقف کے زیادہ موافق بن جائیں۔ کس لیے؟ اس لیے کہ اگر زمینی حقائق کے مطابق شرائط کا مشاہدہ کسی استدلال کا جائزہ لینے کے لیے معیار بن جائے، تو پھر تو اکابر دیوبند کا موقف بآسانی اپنے شیخ کے موقف پر فتح یاب ہو جائے گا، کیوں کہ وہ ہندوستان میں بیٹھے تھے، اور ان کے شیخ یہاں سے بہت دور مکہ میں تھے۔
ایک 'حقیقی' مرید کی علامات
یہ سوال کہ کون حاجی صاحب کے 'حقیقی' ارادت مند ہیں، دیوبندی یا ان کے مریدوں میں سے ان کے مخالفین؟ مولانا تھانوی نے ایک طنزیہ نوٹ سے اس کا جواب شروع کیا: "میں حاجی صاحب کے تمام مریدوں کی اصلاح کا ذمہ دار نہیں ہوں" (106)۔ وہ ایک پرتجسس اور مبہم انداز میں مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "کئی اہل علم" حاجی صاحب کے اعتقادی مسلک کو غلط طرح سے سمجھتے ہیں، یا اس کی غلط توجیہ کرتے ہیں، کیوں کہ وہ ان کی زبان سے غلبۂ حال میں نکلے ہوئے الفاظ کو ہو بہو لے لیتے ہیں۔ مولانا تھانوی کے نزدیک پیچیدہ مسائل کے حوالے سے بیان کی گئی آرا کو، بالخصوص جب وہ غلبۂ حال میں زبان سے نکل جائیں، ان کے لفظی معنوں میں نہیں لینا چاہیے۔ اس کے بجاے ایسی صورتوں میں شارح کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ زیادہ باریکی سے کام لیتے ہوئے بظاہر واضح بیانات کے داخلی پہلوؤں کی تحقیق کرے (107)۔ مولانا تھانوی نے یہ تعیین نہیں کی کہ کیا حاجی صاحب کی آرا غلبۂ حال میں ان سے صادر ہوئی ہیں یا نہیں۔ لیکن اپنے شیخ کے غلبۂ کو موضوع بحث بنا کر انھوں نے ایک تیر سے دو شکار کیے: فیصلۂ ہفت مسئلہ اپنے کسی ناپسندیدہ قول کا غلبۂ حال کا نتیجہ قرار دینا، اور اپنے مخالفین کی تشریحی مہارت اور رویے کی کمزوری جتلانا۔
آخری سوال یہ تھا کہ حاجی صاحب نے مسلکی اعتبار سے اس قدر متضاد اور متحارب گروہوں کو کیوں اپنی ارادت میں لیا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا تھانوی نے وہی مشاہدے والا موقف دوبارہ اختیار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ حاجی صاحب نے علماے دیوبند کے ان مخالفین سے بھی تعلقات استوار کیے، جو مشکوک عقائد واعمال کے حامل ہیں، اس لیے کہ ان کے پاس ان کے بارے میں مطلوبہ مشاہداتی علم نہیں تھا۔ اس غلطی کی وجہ علمی الجھن یا نقص نہیں (107)۔ لیکن مولانا تھانوی نے اس سوال سے کوئی تعرض نہیں کیا کہ علم کی اسی کمی کے باوصف انھوں نے اکابر دیوبند کو کیوں کر اپنی ارادت میں داخل کیا۔
یہ ابہامات ایک طرف لیکن مولانا تھانوی اور دیوبندی سائل کے درمیان یہ تبادلۂ خیال اکابرِ دیوبند کی اس خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حاجی صاحب کے علمی ورثے کو ایک ایسے انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے، جس سے وہ ان کے اصلاحی ایجنڈے سے بالکل ہم آہنگ ہو۔ ان کے تعلق میں دراڑ پیدا کرنے والے کسی بھی شبہے کو زائل کرنے کے لیے مولانا تھانوی کی ان تھک کوششوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حاجی صاحب کے ورثے کو دیوبندی تحریک کے بیانی مفادات کے مطابق ڈھالنے کے لیے کس قدر غیر معمولی فکر مند تھے۔
خوابوں کا سلسلہ
فیصلہ ہفت مسئلہ کے متعلق شاید سب سے زیادہ دلچسپ انداز وہ منامی حکایت ہے، جو علماے دیوبند نے اپنے اصلاحی پروگرام کو اپنے ہی شیخ کے لاحق کردہ ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے بیان کی۔ یہ خواب مولانا رشید احمد گنگوہی کے ایک قریبی معاون مولانا حافظ احمد نے بیان کیا ہے، جو اس رسالے کی اشاعت کے وقت مدرسہ دیوبند کے مہتمم تھے۔ اس خواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلے میں ثالثی کی، اور مولانا گنگوہی اور علماے دیوبند کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ مولانا تھانوی کی تاویلی مشق کے بجائے اس منامی حکایت نے حاجی صاحب کی آرا کو ان کے دیوبندی مریدوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے اس نے اول الذکر کو مؤخر الذکر کے ذریعے منسوخ کیا۔ میں حافظ احمد کے اس یادگار خواب کا خلاصہ پیش کرکے بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مقصد کیسے حاصل کیا گیا۔ حافظ صاحب بیان کرتے ہیں:
میں خواب میں ایک بڑا ہال دیکھ رہا ہوں، جس میں حاجی صاحب تشریف فرما ہیں، اور میں بھی، اور ہم دونوں فیصلۂ ہفت مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں: "علماے دیوبند اس مسئلے میں اس قدر انتہا پر کیوں ہیں؟ اس میں لچک کی گنجائش ہے"۔ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں: "حضرت! اس میں گنجائش نہیں ہو سکتی، اگر ہو تو عقائد کی حدود پامال ہو جائیں گی"۔ وہ جواب میں کہتے ہیں: "یہ صراحتاً عدمِ برداشت ہے"۔ میں نے انتہائی ادب سے عرض کیا: "حضرت! آپ جو فرماتے ہیں، وہ درست ہے لیکن حضرت! فقہا ان (عوام کی فاسد رسموں) کی مخالفت کرتے ہیں"۔ تناو سے بھرپور اس گفتگو کے آخر میں حاجی صاحب نے کہا: "چلیں اس بحث کو سمیٹے ہیں۔ اگر شارع خود اس اس مسئلے میں فیصلہ سنا دیں؟" میں نے کہا: "ٹھیک ہے، ان کے فیصلے کے بعد کس کو اختلاف کی مجال ہے؟" حاجی صاحب نے کہا: "تو اب اسی جگہ شارع بذات خود آکر میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کریں گے"۔ میں نے جب یہ سنا تو بے حد خوش ہوا کہ آج مجھے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی سعادت نصیب ہوگی۔ کچھ دیر بعد حاجی صاحب نے کہا: "تیار ہو جاؤ، حضور ﷺ تشریف لا رہے ہیں"۔ چند منٹوں میں میں نے ایک جم غفیر دیکھا جو ہال کے سامنے جمع ہو گیا۔ جوں ہی مجمع قریب آیا، میں نے حضور ﷺ کو آگے اور ان کے پیچھے سب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا۔ اور اس بھیس میں رسول اللہ ﷺ کا جو شان وشکوہ تھا، وہ بعینہ مولانا رشید احمد گنگوہی کی طرح تھا۔ وہ بغیر کسی بنیان کے ایک لمبی اور بہت باریک قمیص کا کرتا زیب تن کیے ہوئے تھے۔ اور انھوں نے بالکل علماے دیوبند کی طرح پانچ کونوں کی ایک ٹوپی پہنی تھی۔ جب حضور ﷺ ہال میں داخل ہوئے، تو حاجی صاحب ہال کے ایک کونے میں ادب سے کھڑے ہوگئے۔ اور میں بھی اسی طرح ادب سے ان کے مخالف جانب ہال کے ایک کونے میں ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا (91 – 93)۔
رسول اللہ ﷺ سب سے گزر کر میرے بہت قریب آئے، اپنے ہاتھ میرے کاندھے پر رکھے، اور پھر بآواز بلند فرمانے لگے: "یہ لڑکا جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ ٹھیک ہے"۔جب میں نے یہ سنا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ اور اس کے ساتھ حاجی صاحب کا مقام ومرتبہ بھی مجھے سمجھ میں آیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: "خدا نے ہمارے روحانی مشائخ کو کتنے بلند مقام پر سرفراز کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں اس قدر اتفاقاً تشریف لاتے ہیں، اور ان سے بات کرتے ہیں"۔ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کی محبت وشفقت کو دیکھا تو میں نے ان سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کی: "حضور! احادیث میں ہم نے آپ کی ہیئتِ مبارکہ کے بارے میں جو پڑھا ہے، وہ اس سے مختلف جو آپ اب پہنے ہوئے ہیں۔ حضور ﷺ نے جواب دیا: "یہ مولانا گنگوہی کا لباس ہے۔ میرا اصلی لباس وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے، لیکن اس وقت میں نے مولانا گنگوہی کی ہیئت اس لیے اختیار کی ہے، کیوں کہ مجھے پتا ہے کہ آپ کو ان سے کتنی محبت ہے"۔ اس جواب سے مولانا گنگوہی سے میری محبت اور ارادت کئی گنا بڑھ گئی۔ قربِ الہی میں ہمارے مشائخ کا بلند مقام اظہر من الشمس ہو گیا۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ اسی راستے سے واپس چلے گئے، جس سے آئے تھے، اور میں نیند سے جاگ گیا (94)۔
حافظ احمد کے اس خواب میں متعدد نکات قابل توجہ ہیں۔ پہلے لفظ 'شارع' کے استعمال پر غور کریں۔ شریعت تو قانونِ الہی کا نام ہے، لیکن یہاں پر حضور ﷺ کے لیے یہ لفظ مجازاً استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر بھی غور کیجیے کہ اس خواب میں ایک تیر سے دو شکار کیے گئے ہیں: یہ خواب بیک وقت نبی اکرم ﷺ سے حاجی صاحب کے قرب کو تسلیم کرتا ہے، اور اس کے ساتھ فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب کے علمی افکار کو بے اعتبار بھی ثابت کرتا ہے۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حاجی صاحب کے دینی استناد کے ذریعے ہی ان کے استناد کو کمزور کیا گیا ہے۔ زمین پر رسول اللہ ﷺ کا نزول حاجی صاحب کی وجہ سے ممکن ہوا، یا زیادہ معین انداز میں ان کے روحانی مقام ومرتبے کی وجہ سے، جس کے باعث وہ انتہائی اونچے درجے کی دعوت دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لیکن یہ دعوت قبول کرنے اور منظر پر پہنچنے کے بعد نبی اکرم ﷺ حاجی صاحب کے خلاف اور علماے دیوبند کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں۔ گویا حاجی صاحب نے اپنی قبر خود اپنے ہاتھوں سے کھودی۔
یہ بھی اہم ہے کہ رسول اللہ ﷺ تنہا ظاہر نہیں ہوئے۔ ان کی جلو میں ان کے تمام صحابہ کرام بھی تھے، جو سنی تصور جہاں میں شرعی استناد کے ایک مکمل نظام کی تائید پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ جیسا کہ میں نے ساتویں باب میں ذکر کیا ہے، سنتِ نبوی کی روایتی سنی تفہیم میں صحابہ کرام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور ان کی تقلید بھی ایک مرکزی مقام کا حامل ہے۔اس خواب میں رسول اللہ ﷺ کو افادیت پسندانہ انداز میں ہندوستانی لباس میں ڈھالنے پر بھی غور کیجیے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ رسول اللہ ﷺ علماے دیوبند کے قریب ہیں، نہ صرف انھوں نے ان کے موقف کی تائید کی، بلکہ ان کا لباس بھی زیبِ تن کیا۔ قریبی تعلق کا یہ اشارہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دیوبندی تحریک کے مکمل حامی تھے۔ انھوں نے اپنے موقف اور ہیئت دونوں سے دیوبندی موقف کی تائید کی۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ خواب اتباع کے شرعی نظام کو الٹ پلٹ کرتا ہے۔ چاہیے یہ تھا کہ علماے دیوبند رسول اللہ ﷺ کی تقلید کریں، لیکن یہاں رسول اللہ ﷺ علماے دیوبند بلکہ زیادہ تخصیص کے ساتھ مولانا گنگوہی کی تقلید کر رہے ہیں۔
سرد، تاریک، طلسمات سے آزاد دنیا؟
دیوبندی تراث میں اور بھی کئی مثالیں ہیں، جن میں ہمیں ایسے خواب ملتے ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کو ہندوستانی قالب میں دکھایا جاتا ہے، اور ان خوابوں سے رسول اللہ ﷺ کی علماے دیوبند سے محبت کا اثبات کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنی مشہور مناظرانہ کتاب البراہین القاطعہ (جس کے کئی نکات اس کتاب میں زیر بحث لائے گئے ہیں) نامور دیوبندی عالم مولانا خلیل احمد سہارن پوری نے ایک حکایت بیان کی ہے، جس میں ایک دیوبندی عالم (عالم کا نام مذکور نہیں) کو خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوتی ہے، اور آپ ﷺ ان سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ اس بات سے اس عالم پر حیرت طاری ہوتی ہے، اور وہ پوچھتا ہے: "حضرت! میرا خیال تھا کہ آپ عرب ہیں۔ آپ اردو کیسے بول رہے ہیں"5؟ رسول اللہ ﷺ جواب میں فرماتے ہیں: "میں نے یہ زبان علماے دیوبند سے گہرے تعلق کی وجہ سے سیکھی ہے"6۔
ایسی منامی حکایات سے استفادہ ثابت کرتا ہے کہ اگر چہ علماے دیوبند کو عام طور سخت گیرعقلیت پرست اور ظاہریت پسند سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے مباحث وافکار میں خواب اہم مقام رکھتے ہیں۔ پوری اسلامی تاریخ میں دینی دلائل کی ترتیب وتشکیل میں خوابوں نے نمایاں عوامل کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ روحانی بصیرت کے لیے ایک اہم ظرف کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، جو انسانی روح کی سلامتی اور بیماری دونوں پر دلالت کرتے ہیں7۔ خوابوں کی اس طویل المیعاد روایت میں علماے دیوبند نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ انھوں نے منامی تخیلات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مخالفین پر اپنے اعتقادی موقف کی برتری ثابت کی۔ اس مسابقتی عمل اور جدید صورت حال کے باوجود انھیں خوابوں کی اہمیت کے متعلق کسی قسم کے جدید اور عقلیت پسندانہ خدشات لاحق نہ تھے، اور وہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور اس سے دینی استدلال کرنے میں کوئی باک نہیں رکھتے تھے۔
منامی تخیلات کو قبول کرنے کی جو دیوبندی روایت ہے، اس پر مؤرخ فرانسس روبنسن کا یہ دعوی ٹھیک طرح سے نہیں بیٹھتا کہ دیوبند جیسے جدید ہندوستانی مدرسوں نے "پگڑی والے فضلا کا ایک کمزور حلقہ تیار کیا، جو دنیا کو محض وحی کے چشمے سے دیکھنے کے قابل تھا"8۔ روبنسن پوری قطعیت کے ساتھ علماے دیوبند جیسے جدید ہندوستانی مسلمان مصلحین کے بارے میں کہتا ہے: "خالص اسلام کے ان داعیوں نے اولیا اور آباؤ اجداد کے ان عظیم سلاسل کو خیر باد کہنا شروع کیا، جن کے ذریعے وہ کبھی خدا کے قریب آئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان مسلمانوں کو دنیا ایک سرد، تاریک، طلسمات سے آزاد (disenchanted) جگہ نظر آ رہی ہے"9۔ میں جنوبی ایشیائی اسلام کے بارے میں رابنسن کے علم ودانش کا اعتراف کرتا ہوں اور ان سے مستفید بھی ہوتا ہوں۔ تاہم یہاں پر میں احترام بلکہ پوری شدت کے ساتھ ان سے اختلاف کرتا ہوں۔ ان کے یہ بیانات غیرمعمولی حد تک پریشان کن ہیں۔
آئیے ایک لمحے کے لئے دیوبندی 'علماء' کے لئے "پگڑی والے فضلا" (سیکولر یونیورسٹیوں کے بغیر پگڑی والے فضلا کے مقابلے میں پگڑی والے فضلا) کی نامناسب اصطلاح کے انتخاب کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ علمائے دیوبند کے تصورِ جہاں کو "سرد، تاریک اور طلسمات سے آزاد" قرار دینا اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ ان میں سے سخت ترین لوگوں نے بھی معجزات، جنات اور دیگر مافوق الفطرت عناصر کے وجود کو رد نہیں کیا، اور ان کا یہ رویہ طلسمات سے آزاد (disenchanted) تصور جہاں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ طلسمات سے آزاد یا مقید دنیا (disenchanted/enchanted world) کی تقابلی تقسیم (binary) دیوبندیوں بلکہ بریلویوں کی مذہبی اصلاح کے تصورات کی داخلی منطق اور پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے بطور خاص کارآمد نہیں ہے10۔
جیسا کہ میں نے اس پوری کتاب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، جدید جنوبی ایشیا میں مسلم اصلاحی فکر کو خالص اسلام کے داعیوں کے طلسمات سے آزاد دنیا اور صوفیوں کے طلسمات سے مقید دنیا کے مابین روایتی مسابقت کی داستان کے ذریعے پیش کرنا ایک ہی وقت میں غلط اور علمی اعتبار سے پسپا شدہ تصور ہے۔ اکابرینِ دیوبند دنیا کو وحی کی عینک سے آگے دیکھنے اور متعدد علمی مصادر اور روایات سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ نظریہ کہ وحی کسی نہ کسی پہلو سے صوفیا کے سلاسل کے مخالف ہوتی ہے، اس غیر معقول مفروضے پر قائم ہے کہ تصوف اور وحی میں باہمی تضاد ہے۔ یہ تقابل یا تضاد وحی/فقہ اور تصوف کے درمیان نہیں، بلکہ توحید، نبوت، اور رسمی اعمال کے مابین تعلق کی ایسی متحارب تفہیمات میں ہے، جو بریلوی دیوبندی تنازعات جیسے بین المسالک اختلاف میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔مافوق الفطرت عناصر سے آزاد/مافوق الفطرت عناصر میں مقید دنیا کی دوگانہ تقسیم فقہ/تصوف کی دوگانہ تقسیم کی طرح جتنی پرکشش ہے، اتنی یہ ایک پیچیدہ داستان کو آسان بناتی ہے۔ لیکن یہ مسلم علمی روایات اور مباحثوں کے سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر ایک گمراہ کن طریقہ ہے۔
لبرل سیکولر اعتدال پسندی پر سوال
اس باب کے اختتام پر فیصلۂ ہفت مسئلہ کے نتائج واثرات پر مختصر انداز میں غور کرنا مفید ہوگا۔ کیا حاجی صاحب اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو انھوں نے خود متعین کیا تھا؟ یعنی ہندوستان میں 'علماء' کے مختلف طبقات کے درمیان اس تناؤ اور شدت کو کم کرنا، جس کے ساتھ اکابر دیوبند نے مخصوص اعمال کو ممنوع قرار دیا تھا؟ اگرچہ اس سوال کا حتمی طور پر جواب دینا مشکل ہے ، لیکن دستیاب شواہد اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ 1894 میں فیصلۂ ہفت مسئلہ کی اشاعت کے بعد کی دہائیوں میں بریلوی دیوبندی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
اور اکابرینِ دیوبند جیسے مولانا تھانوی اور مولانا گنگوہی اسی جذبے اور شدت کے میلاد جیسے اعمال سے منع کرتے رہے۔ اس لیے ایک خاص معنی میں کوئی فیصلۂ ہفت مسئلہ کو ایک المیہ متن قرار دیا سکتا ہے، جو ان مقاصد کے حصول میں ناکام رہا جن کی اس سے توقع اور امید تھی۔ لیکن جیسا کہ میں نے اس پورے باب میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اس کی المیاتی نوعیت کے باوجود، شاید اس کا سب سے قابل ذکر پہلو وہ انداز ہے جس میں اس نے مفاہمت کے اصول تشکیل دیے، جو بیک وقت فقہ، تصوف اور روزمرہ کے مصالح جیسے متعدد استدلالی نظاموں میں مستفاد تھے۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ سراسر ایک متنوع متن تھا۔
اس کے علاوہ، اور یہ ایک نکتہ ہے جس کو میں تاکیداً واضح کرنا چاہتا ہوں۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ مذہب کو "اعتدال پسند" بنانے کی لبرل سیکولر کارروائی کا حصہ نہیں تھا، تاکہ مذہب زیادہ پرامن یا روادار بن سکے۔ اعتدال پسند مذہب کے مطالبے کو، جو آج اکثر اسلام اور مسلمانوں سے کیا جاتا ہے، لبرل سیکولر گورننس کی اس خواہش سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مذہب کو انتہائی سازگار طریقے سے کنٹرول اور منظم کیا جائے۔ جیسا کہ آنندا ابیسیکارا نے ہمیں عمدگی سے یاد دلایا ہے کہ انگریزی میں 'اعتدال پسندی' کے لیے moderate کا لفظ مستعمل ہے، جو لاطینی لفظ moderare سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے "قابو پانا،" "کنٹرول،" "محدود کرنا،" اور "روکنا"11۔ معتدل مذہب وہی ہے جو کافی حد تک قابو میں لایا گیا اور سدھایا گیا ہو، تاکہ اس سے جدید ریاست (چاہے وہ بالکل مذہبی ہو یا سیکولر) کی خودمختاری کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ اعتدال پسندی کی ضرورت ایک لاینحل تضاد سے پیدا ہوتی ہے، اور یہ تضاد جدید ریاست کی خودمختاری کی بنیادی دلیل کو متاثر کرتا ہے۔ لبرل ریاست کی شناخت کی تشکیل کرنے والے بنیادی عناصر جیسے تنوع اور تکثیریت ہی اس کی شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔تمام شہریوں کی آزادی اور خودمختاری کا وعدہ ایک مرکزی اصول ہے جو لبرل سیکولر ریاست کو استحکام بخشتا ہے۔ تاہم تکثیریت اور اختلاف اسی آزادی کی بقا کے لئے خطرہ ہیں12۔
اس لاینحل تضاد کی وجہ سے مسلسل سر پر منڈلاتے ہوئے بحران کے پیش نظر، مذہب اور مذہبی زندگی کو معتدل بنانا بحران کے حل کی ایک صورت کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ لیکن اس طرح کے بحران کو جدید لبرل ریاست کے جوہری متضاد کردار کی وجہ سے حل نہیں کیا جاسکتا، جس کا کام ہے کہ وہ مذہبی اختلافات اور عدم مساوات (جو تمام شہریوں سے کیے گئے آزادی اور مساوات کے وعدے کو مسلسل خطرے میں ڈالتے ہیں) کا ازالہ کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ مذہب اور مذہبی اختلافات کے متعلق غیر جانب دار بھی رہے۔ جیسا کہ صبا محمود نے سوال اٹھایا ہے: "ایک ایسی ریاست جو مذہبی عدم مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، وہ مذہبی اختلافات کو اپنی سیاسی لغت کا حصہ بنائے بغیر ایسا کیسے کر سکتی ہے؟"13 یہ سوال سیاسی سیکولرازم اور جدید ریاست کی خودمختاری کی غیر معمولی صورتِ حال کو گہری توجہ کا توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ یہ ایک ایسی لاینحل صورت حال ہے، جسے مذہبی اعتدال پسندی، برداشت اور رواداری جیسے اقدامات سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اعتدال پسندی کی لکیر پیٹنا خود مسئلے کی سنگینی کی علامت ہے۔ مذہب کو معتدل بنانے کا مطلق العنان سیکولر مطالبہ سیکولرازم اور جدید خودمختاری کی حدود اور لاینحل تضادات پر دلالت کرتا ہے۔ میں نے ایک اور مقام پر بھی سیکولرازم کے تضادات اور معتدل اسلام کی فکر کے درمیان تعلق کے اس استدلال کو پوری تفصیل سے واضح کیا ہے14۔ یہاں پر میں مذہبی اعتدال پسندی اور رواداری کے لبرل سیکولر ڈسکورسز اور فیصلۂ ہفت مسئلہ میں کارفرما بین المسالک مفاہمت کی منطق کے درمیان ایک اہم تضاد کی نشان دہی کرنے کے لیے اس کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔
حاجی صاحب کی فکر سے جو کچھ ہمیں سمجھ میں آتا ہے، وہ بالکل مختلف ہے۔ انھوں نے انسانی تعلقات کو ہم آہنگ کرنے کی جو کوششیں کیں، ان میں اور ریاست کی مطلق العنان خواہشات اور خدشات میں کوئی نسبت نہیں ہے۔ حاجی صاحب کو سب سے زیادہ جس چیز کی فکر لاحق تھی، وہ اہل علم کی حیثیت ووقار کو پرتشدد تنازعات اور بین العلما عداوت کے خطرے سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس طرح کی بحث جب اپنی حدود سے نکل گئی، تو اس کی وجہ سے نہ صرف علما میں غیر معمولی دھڑے بندی پیدا ہوئی، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عوام کی نظروں میں ان کا وقار بھی مجروح ہوا۔
غور کیجیے کہ حاجی صاحب مذہبی مساوات کے حصول کے لیے اختلافات میں اعتدال پیدا کرکے مذہب کو معتدل بنانے کے لبرل سیکولر ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھا رہے۔اس کے برعکس علما اور ان کے عوام پیروکاروں کے مابین فرق مراتب کو برقرار رکھنے کی ایک غیر لبرل کوشش ان کے مشن میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ دینی استناد کے بارے میں اس طرح کا مراتبی تصور پیش کرتے ہوئے حاجی صاحب نے روایتی فارمولے "عوام مویشیوں کے ریوڑ کی طرح ہیں" (العوام کا الانعام) کے ساتھ اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ مزید برآں ان کی فکر میں دینی استناد کے مراتبی تصور کی بازگشت کا مقصد جدید ریاست کے مفادات اور خودمختاری کے تابع ایک لبرل فرد کی افزائش نہیں تھا15۔ بلکہ علما کے اثر ورسوخ کی حفاظت کا تقاضا ان کی اس حیثیت کے ساتھ منسلک تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے وارث اور احکام شرعیہ کے ترجمان تھے۔
حاجی صاحب کے مذہبی تصور میں "علماء" کے تقدس کی حفاظت نبی ﷺ سے روحانی رشتے کا احترام اور توحید کے تحفظ کے مترادف ہے۔ جس چیز نے حاجی صاحب کی فکر کے لیے راہ ہموار کی، وہ ایک مفروضہ غیر جانب دار ریاست کے لیے مساوی شہریوں کی تشکیل نہیں تھی۔ اس کے بجاے انھوں نے محتاط انداز میں تشکیل دی گئی حدود اور شرعی مصادر کے اصولوں کے مطابق ایک پاکیزہ سماج تشکیل دینے کی کوشش کی۔ بالفاظِ دیگر ان کی یہ لبرل جستجو نہیں تھی کہ ریاست کی خدمت کے واسطے مذہب کو معتدل بنائے۔ اس کے بجائے ان کا مقصد بین المسالک تنازعات کو بہتر بنانا تھا، تاکہ عقیدے پر مبنی اس بیانیے کا استحکام یقینی بنایا جاسکے کہ علم، طاقت اور سماج کے درمیان ہم آہنگی اور ان کا باہمی تعامل کیسے ہونا چاہیے۔
وسیع تر نکتہ یہ ہے کہ حاجی صاحب کے مفاہمتی اصولوں کو برداشت اور مذہبی اعتدال پسندی کی خاطر صوفیانہ رواداری کی کوشش نہیں سمجھا سکتا، جس طرح ایک اچھے مسلمان/برے مسلمان کی تقابلی تقسیم، جو تصوف کو امن، رواداری اور اعتدال پسند اسلام کے برابر سمجھتی ہے، ہمیں عجلت میں یہ ماننے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس یہ وہ تقابل ہے، جو ان کی فکر کی روشنی میں غلط اور قابل اعتراض ہے۔ ایسا نہ صرف اہل علم اور عوام کے مابین شرعی تعلق کے بارے میں ان کی غیر لبرل منطق کی وجہ سے تھا، بلکہ ان متنوع طرز ہاے استدلال کی بنا پر بھی تھا، جن کی روشنی میں ان کے دلائل سامنے آئے۔ فیصلۂ ہفت مسئلہ کسی لبرل روادار صوفی کی کاوش نہیں تھی، جس کا مقصد انتہا پسند فقہی مریدوں کو نصیحت کرنا تھا۔ ہم اساسی طور پر غلط ہوں گے اگر ہم فیصلۂ ہفت میں حاجی صاحب کے اپنے دیوبندی مریدوں سے اختلافات یا مسلکی ہم آہنگی کے لیے ان کی کاوشوں کو فقہ اور تصوف کے درمیان اختلاف سمجھیں۔ یہ نقطۂ نظر ان نزاکتوں، ابہامات اور تعبیری پرتوں اور اس متن میں پنہاں المیے کی غلط تفہیم یا مٹانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اور یہ وہ کچھ عناصر ہیں، جس کو میں نے اس باب کے گزشتہ صفحات میں تفصیل سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
حاجی صاحب اور علماے دیوبند کا تعلق: ایک آخری بات
یہاں پر زیر بحث آنے والے بین الدیوبندی تعلقات کے متعلق ایک آخری بات عرض کرنی ہے۔ جیسا کہ اس باب میں واضح کیا گیا کہ حاجی صاحب اور دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں جیسے مولانا رشید احمد گنگوہی کے درمیان تعلق بسا اوقات کشیدہ اور مبہم رہا۔ تاہم تمام تر اختلافات کے باوجود اس تعلق کی بنیادوں کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا، اور حاجی صاحب دیوبندی تحریک کے اوائل کے لیے ناگزیر رہے۔ مزید یہ کہ بانیان دیوبند اور بعد میں مولانا اشرف علی تھانوی حاجی صاحب کو اپنے کلیدی روحانی شیخ اور اپنی دینی زندگی کا سرچشمہ باور کرتے رہے۔ بلکہ علماے دیوبند کے ساتھ حاجی صاحب کا تعلق شیخ ومرید کے درمیان ایک ایسے تعلق کی بہترین مثال ہے، جس میں اصولی اختلاف سے کوئی دراڑ پیدا نہیں ہوتا۔ مزید برآں حاجی صاحب اور دیوبندی اکابر جیسے مولانا گنگوہی ایک دوسرے سے سو فی صد موافقت کے طالب نہیں تھے۔ عدم موافقت کی قابل برداشت حد ایک ایسی خصوصیت تھی جس نے ہمیشہ ان کے تعلقات میں کار فرما تھی، اور جس پر ان کا باہمی سمجھوتا تھا۔ اور نتیجتاً علماے دیوبند حاجی صاحب کے ساتھ اپنے اختلاف کو اضافی نہ کہ حقیقی سمجھتے تھے۔
حاجی صاحب کی وفات کے بعد ایک شخص نے مولانا تھانوی سے شکایت کے انداز میں پوچھا: "حاجی صاحب بہت لچک دار اور صابر تھے، لیکن آپ بہت سخت ہیں"۔ مولانا تھانوی نے اس کا ایک یادگار جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے اور حاجی صاحب دونوں کا مقصد ایک ہے اور وہ ہے (عوام کی) اصلاح۔ لیکن حاجی صاحب جس قدر بابرکت تھے، میں اتنا نہیں ہوں۔ حرکت اور برکت کے ہم آواز الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے مولانا تھانوی نے استدلال کیا کہ مجھ جیسا شخص، جس میں حاجی صاحب کی طرح برکت نہیں، اصلاح کا کام سخت طرز عمل سے ہی کر سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے الفاظ میں اس بحث کو یوں سمیٹا ہے: "ہم حرکت سے اصلاح کرتے ہیں، اور حضرت برکت سے اصلاح کرتے ہیں"16۔ ایک ہی وار میں مولانا تھانوی نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے شیخ کے روحانی مرتبے کو تسلیم کیا، اس مرتبے کے سامنے اپنی اطاعت ثابت کی، اور اپنے منفرد مزاج اور طریقۂ اصلاح کو جواز بھی فراہم کیا۔
اختتامیہ
اس کتاب میں جو مرکزی نکتہ اٹھایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ بریلوی دیوبندی مناظروں جیسی بین المسلمین رقابتوں کو روایت اور اصلاح کی متحارب تفہیمات کے درمیان اختلاف کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ تفہیمات اساسی طور پر کچھ مخصوص ادوار میں نمایاں ہوئیں، جب سنت وبدعت اور شناخت واختلاف پر نصوص کی روشنی میں بحث مباحثہ شروع تھا۔ اس کتاب کے ہر باب میں ان مناہج کو واضح کیا گیا ہے جن کے ذریعے مستند مذہبی کرداروں نے اپنی حکمتِ عملی سے روایت کی حدود پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انیسویں صدی کے اسلامی ہندوستان میں مسلکی عداوت کے ایک مخصوص سیاق تک محدود رہتے ہوئے میں نے خدائی حاکمیت (توحید)، مقام نبوی اور رسمی اعمال کی حدود کے دو متوازی بیانیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان بیانیوں کے حاملین نے اپنے مذہبی استناد کی تشکیل اس طرح سے کی کہ پہلے اپنی بے چینی کے اسباب کی شناخت کی، اور پھر اس بے چینی پر قابو پانے کے لیے ایک اصلاحی پروگرام تجویز کیا۔
شاہ محمد اسماعیل اور اکابر دیوبند نے عوامی دائرے میں رائج ان رجحانات اور اعمال کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا، جو ان کی نظر میں خدائی حاکمیت (توحید) کے لیے ایک فوری خطرہ تھے۔ اس صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے انھوں نے اس طرح کے تمام اعمال کو ترک کرنے کا ایک اصلاحی پروجیکٹ پیش کیا، تاکہ خالص توحید کو بحال کیا جائے۔ انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے ایک ایسے تصور کی وکالت کی، جس میں ان کی بشریت ہی ان کے شخصی کمال کی علامت تھی۔ اس کے برعکس علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے بعد مولانا احمد رضاخان نے اسی اصلاحی تصور کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے طویل عرصے سے چلے آنے والی ان رسموں اور اعمال کا پرجوش انداز میں دفاع کیا، جو ان کی نظر میں روایت کے لیے ناگزیر تھے۔
علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ شفاعت اور علم غیب جیسی صفات سے رسول اللہ ﷺ کی جس امتیازی حیثیت کی تصدیق ہوتی ہے، اس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل خالص توحید کی بقا صرف اس صورت میں ممکن ہے، جب آنحضرت ﷺ کے امتیازی مقام کو قبول کیا جائے۔ توحید اور شان رسالت باہم لازم وملزوم ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ انیسویں صدی کے مسلم ہندوستان میں روایت واصلاح کے ان حریف بیانیوں کی اساس وہ باہم مخالف سیاسی کلامیات (political theology) ہیں، جن کا تعلق فقہ اور روزمرہ کے شرعی اعمال کی متحارب تفہیمات سے ہے۔ اس استدلال کو پیش کرتے وقت میں نے کوشش کی ہے کہ دیوبندی بریلوی مخاصمت کی ان مشہور تفہیمات پر سوالات اٹھاؤں، جو اس اختلاف کو فقہ اور تصوف، یا 'سخت' اور 'نرم' اسلام کے درمیان تصادم سے تعبیر کرتی ہیں۔ ان مشہور عام تقابلی تقسیمات کے متعلقہ مآخذ ومصادر کی چھان پھٹک کچھ تفصیل سے کی گئی ہے۔
تجزیے کا رخ سیاسی کلامیات کی طرف موڑنے سے میں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بظاہر علما کے درمیان غیر واضح مناقشوں کی بنیاد میں طاقت، اخلاقیات اور سماجی نظام کے کلیدی سوالات کارفرما تھے۔ کیا میت کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ کے دوران کھانے پر ہاتھ اٹھانا جائز ہے؟ کیا میلاد کے موقع پر قیام جائز ہے؟ ہمارے جدید ذہنوں کے لیے سوالات بظاہر اگر معمولی نہیں تو غیرواضح اور خواہ مخواہ کی تکرار ضرور ہیں۔ چند سال پہلے میں نے شمالی ورجینیا میں جنوبی ایشیائی مسلمانوں کے ایک مجمع سے خطاب کیا۔ سوال وجواب کی نشست میں ایک فرد نے حیرت کے انداز میں کہا: "ان (بریلوی اور دیوبندی) علما کے پاس ان جیسے معمولی مسائل پر بحث ومباحثے کے لیے اتنا فارغ وقت کہاں سے تھا؟" مجھے امید نہیں کہ یہ کتاب ایسے افراد کے ان جیسے تشکیکی بیانات کی تشفی کر سکیں گے، تاہم اس نے ان استدلالات، مشارکات اور خدشات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے، جن کی وجہ سے اس تنازع نے جنم لیا، اور اس قدر شدت اختیار کی۔
میں نے اس پوری کتاب میں جو کچھ بتانے کی کوشش کی ہے وہ یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا کے مسلمان علما کے درمیان عقائد، فقہ اور رسموں پر ہونے والی بحث حاکمیت، علم، قانون، زمنیت اور مادی اظہارات پر بڑے سوالات سے متعلق گہری بے چینیوں اور توقعات میں الجھی ہوئی تھی۔ اس میں ماضی کے مستند مذہبی کرداروں سے ایسے سوالات پوچھنا بھی شامل ہیں، جو ان کے زمانے میں ان سے نہیں پوچھے گئے تھے، تاکہ ان کی فکر کو ان بڑے موضوعات سے مربوط کیا جائے، جو شاید ان کے عہد میں اس قدر نمایاں نہ تھے۔ میرا مقصد یہ رہا ہے کہ جانبین کے دینی دلائل کی جزئی تفصیلات پیش کرنے کے ساتھ ان گہرے نظریاتی اور فلسفیانہ مسائل کی نشان دہی بھی کروں، جنھوں نے ان دلائل کی فوری ضرورت کا احساس دلایا، اور ان میں وزن پیدا کیا۔
روایت کے مطالعے سے سیکولرازم پر سوال
بین المسالک روایات کے مذہبی دلائل کی نظریاتی پہلو سے ہم آہنگ تحقیق یہ امکان پیدا کرتی ہے کہ مذہب کو بنے بنائے خانوں میں تقسیم کرنے کے سیکولر مفروضوں پر سوال اٹھایا جائے، اور انھیں کمزور ثابت کیا جائے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں مذہب وسیکولرازم کی تقابلی تقسیم میں خلل کی نشان دہی نے مطالعۂ مذہب کے دائرے میں ایک غالب رجحان کی حیثیت اختیار کی ہے۔ اگر چہ یہ کتاب سیکولر ازم کو براہ راست موضوع بحث نہیں بناتی، لیکن یہاں پر میں بالاختصار ان مناہج کو واضح کرنا چاہتا ہوں، جن کی رو سے یہ کتاب آج کی اصطلاح میں سیکولرازم کے تنقیدی مطالعات (critical secularism studies) کے بعض مسائل پر بحث اٹھاتی ہے۔ مختلف انداز میں ان کاوشوں نے ثابت کیا ہے کہ سیکولر ازم کو مذہب کا مد مقابل سمجھنے کے بجاے ایک ایسی استدلالی اور ادارتی طاقت وحکومت کی حیثیت سے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے، جو مسلسل مذہب کی حدود کی ضابطہ بندی اور تنظیم کی کوشش کرتی ہے۔ زیادہ سادہ لفظوں میں: سیکولر ازم مذہب کی تعریف 'غیر' سے کرکے خود اپنی تعریف وضع کرتی ہے17۔ علاوہ ازیں سیکولر ازم کے ہاتھوں مذہب کی اس طرح سے تشکیل نو کہ اسے بنیادی عقائد اور انفرادی تزکیے تک محدود کیا جائے، مذہب کو اس انداز میں پیش کرنا ہے جو لبرل نظام حکومت کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہو۔
سیکولر طاقت کی ان اساسات کی تحقیقات ماہر بشریات پروفیسر طلال اسد کی کاوشوں سے متاثر ہو کر کی گئی ہیں۔ عہد حاضر میں یہ ایک معروف فکر کی حیثیت اختیار کر گئی ہے، لیکن اصل میں اس کی ترویج واشاعت میں اسد کا کردار ایک پیش رو کا ہے کہ مذہب اور سیکولر ازم زندگی کے متضاد دائروں کی نمائندگی کرنے کے بجاے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ان کا یہ موقف مذہب کے متعلق ولفرڈ کینٹول سمتھ کے نظریات پر ان کی بصیرت افروز تنقید میں سب سے زیادہ واضح انداز میں نظر آتی ہے: "میں یہ عرض کروں گا کہ 'مذہب' ایک جدید تصور ہے، اس اعتبار سے نہیں کہ یہ اب بنا ہے، بلکہ اپنی ہم عمر اصطلاح 'سیکولرازم' کے ساتھ تقابل کے اعتبار سے۔ جدیدیت میں مذہب نے عملاً زمان ومکان، عملی علوم اور طاقتوں، موضوعی رویوں، حساسیتوں، ضروریات اور توقعات کی نئی تشکیل وترتیب اپنا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یہی کام سیکولرازم نے بھی کیا ہے، جس کا کام یہ رہا ہے کہ اس تشکیلِ نو کو راہ راست پر لائے، اور مجموعی اعتبار سے 'مذاہب' کو (غیر عقلی) عقیدے کی ایک قسم قرار دے"18۔
اسد کی نظر میں کسی بھی مذہب کی طرح سیکولرازم بھی ایسی چند مخصوص اقدار، حساسیتوں اور مادی اظہارات (جو مخصوص قسم کے ماتحتوں اور جذباتی نمائندوں کی افزائش کرتے ہیں) کو تقدس فراہم کرکے اپنے آپ کو معمول کے مطابق بناتا ہے۔ اسد کے نزدیک اہم ترین بات یہ ہے کہ سماج میں مذہب کے کردار کے متعلق یہ سیکولر مفروضے کہ مذہب کا تعلق داخلی عقائد اور خاندان کے ایک 'نجی دائرے' سے ہے، اور سیکولرازم پر مبنی سیاسی نظام انھی مفروضوں کو جواز فراہم کرتا ہے، یہ مفروضے سب کچھ ہو سکتے ہیں، لیکن آفاقی نہیں ہیں۔ بلکہ کسی بھی دوسرے نظریاتی تصور کی طرح سیکولرازم بھی مخصوص تاریخی، ادارتی اور استدلالی قوتوں کے توسط سے تشکیل پانی والی عارضی صورتِ حال سے شہہ پاتا ہے19۔ اسد نے پوری گہرائی اور باریکی سے بطور خاص سیاسی سیکولرازم (وہ عقیدہ جو مذہب اور ریاست کے درمیان علاحدگی کو جواز فراہم کرتا ہے)، سیکولر (ایک نظریاتی طاقت جو خوف ناک لیکن غیرمعمولی طاقت دیتا ہے) اور سیکولیرٹی (وہ نظام زندگی، جذبات اور رویے جو سیکولرازم اور سیکولر کے نتیجے سے تشکیل پاتے ہیں) کے درمیان ربط کا جائزہ لیا ہے۔
اسد کا علمی تراث تجویز کرتا ہے کہ ایک مثالی اقداری تصور کی حیثیت سے سیکولرازم کی طاقت اور اثر ونفوذ اس امر پر منحصر ہے کہ سماج کی مختلف سطحوں پر ان تصورات کی مجموعی کارکردگی اور باہمی تعاون کی صورت کیا ہے۔ سیکولرازم کی اساسات کی شجرہ جاتی (genealogical) تحقیق نے سیکولر جدیدیت کے اس خوش نما بیانیے میں کافی خلل پیدا کیا ہے کہ اس نے روایت اور مذہب کا چراغ گل کر دیا ہے۔ ان تحقیقات نے فرد کی حاکمیت، آزادی اور مذہب وسیاست کی علاحدگی کے لبرل فضائل کی عمومی مفروضہ آفاقیت کے تار وپود بھی بکھیر دیے ہیں۔ حالیہ وقتوں میں اسد کے کام کو بنیاد بناتے ہوئے حسین ارگاما اور صبا محمود جیسے اہل علم نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی سیکولر ازم ایک لاینحل تناقض میں قید ہے۔ وہ تناقض یہ ہے کہ سیاسی سیکولرازم ریاست سے کہتی ہے کہ وہ مذہبی عدم مساوات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مذہب اور مذہبی اختلافات کے بارے میں غیر جانب دار بھی رہے۔ اور غیر جانب داریت کے تمام تر دعووں کے باوجود اکثریتی آبادی کے خلاف تعصب جدید سیکولر ریاست کی ساخت اور تنظیمی منطق کے لیے ناگزیر رہا ہے20۔
اس کتاب میں اسد اور ان کے ہم کلاموں سے ایک ایسے طریقے سے استفادہ کیا گیا ہے، جو سیکولر ازم کی شجرہ جاتی (genealogical) تنقید پیش کرنے سے مختلف ہے۔ اس کے بجاے یہاں پر کوشش کی گئی ہے کہ سیکولر استعماری حکومتوں کی 'مذہب سازی' سے توجہ ہٹا کر مذہب کی حدود پر مقامی استنادی مباحثوں اور مناقشوں کی نمایاں عارضی صورتِ احوال کو مبذول کرائی جائے21۔شجرہ جاتی تنقید ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندگی اور تنقید کے متبادل مناہج بھی سیکولرازم کی فکری بالادستی کی آفاقیت کو چیلنج اور اتھل پتھل کرنے کا نتیجہ دے سکتے ہیں۔ چند دینی عداوتوں (جو استعماری جنوبی ایشیا میں ایک مخصوص استدلالی روایت کے وجود میں آنے کی وجہ بنی ہیں) کی موٹی تفصیلات فراہم کرکے یہ کتاب بجنسہ یہی نتیجہ دے رہی ہے۔ ایسا کرنے سے میں نے دینی استدلال کی ایک ایسی روایت کی کچھ تفصیلات بیان کرنے کی کوشش کی ہے، جو بہرصورت لبرل سیکولر سیاسیات کے ضابطہ جات، توقعات اور اقداری خواہشات کے مطابق سرگرم عمل نہیں تھی۔ استعماری طاقت کے سایے میں سرگرم عمل ہونے کے باوجود علما کے وہ مباحث اور مناقشے جو یہاں پر زیر بحث لائے گئے ہیں، اسی طاقت کے تابع نہیں تھے۔ یہاں پر البتہ ایک تنبیہ ضروری ہے۔ اس فکری موقف کا مطلب سیکولر استعماری استدلالی نظام کی طاقت یا اہمیت کو گھٹانا نہیں۔ بلکہ ہندوستان میں استعمار نے ایسی مذہبی اصلاحی تحریکوں، جن میں سے کچھ کا ذکر اس کتاب میں ہوا، کی افزائش کے امکان کے لیے بنیادی صورت حال کا کام سرانجام دیا۔ علم کے متعلق مولانا منظور احمد نعمانی کے نظریات، جنھیں گیارھویں باب میں زیر بحث لایا گیا، یہ ثابت کرتے ہیں کہ علما کے مباحث اور مذہب کے جدید سیکولر تصورات عموماً کسی مقام پر مل جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں میں نے علمی اعتبار سے مشکوک 'متبادل جدیدیت' کی کسی مثال کو نمایاں کرنے کی مشق نہیں کی ہے، نہ ہی میں نے 'مقامی کردار' کو استعماری طاقت کے ملبے تلے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے اہل علم نے اطمینان بخش انداز میں نام نہاد متبادل جدیدیت اور مقامیوں کے کردار کا استعمار سے متاثر ہونے کے استدلال کی فکری تنگنائے کو واضح کیا ہے، جیسا کہ میں نے اس کتاب کے پہلے حصے کے اختتام پر اس کی کچھ تفصیل بھی بیان کی ہے22۔ اس کے بجاے میں نے کوشش کی ہے کہ کسی استدلالی روایت کے ان داخلی پہلوؤں کو واضح کروں جو عموماً سیکولر فکر کے استعماری قواعد کے مطابق وجود میں نہیں آتے۔ اس کتاب میں بیان کیے گئے روایت کے متوازی تصورات کو فقہ/تصوف، معتدل/انتہا پسند، اصلاحی/روایتی، مذہبی/سیکولر، عقیدہ/عمل اور اجتماعی/انفرادی جیسے سیکولر ازم کے بنائے گئے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ باوجود یہ کہ اس روایت کے حاملین استعماری اور سیکولر جدیدیت کی سماجی اور ادارتی صورت احوال میں مقید تھے، تاہم انھوں نے اپنی زندگی ان تقابلی تقسیمات کے مطابق نہیں بسر کی۔ بلکہ ان کی زندگی اور فکر ان تقابلی تقسیمات کی محدودیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ روایت واصلاح کے بارے میں ان کے حریف بیانیے ایسے سوالات، توقعات اور اضطرابات پر مبنی تھے، جو لبرل سیکولر فکر یا حکمرانی کے پیمانے پر آسانی سے پورا نہیں اترتے۔مزید برآں وہ کردار جو ان مناقشوں میں شامل تھے، باوجود اپنے شدید اختلافات کے اس امر پر متفق تھے کہ یہ اعمال، موضوعات اور اعتقادات قابلِ بحث ہیں، اور اس وجہ سے یہ حل کا تقاضا کرتے ہیں۔
یہ کردار کسی مخصوص عمل یا واقعے کی تفہیم پر ایک دوسرے سے پوری بے جگری سے لڑے ہوں گے، لیکن جس چیز پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، وہ اخلاقی فضیلت کے حصول کے لیے اس عمل یا موضوع کی اہمیت وضرورت ہے۔ ان کے اختلافات اور تنازعات کے باوجود ان کے درمیان اس امر پر ایک بالواسطہ اتفاق موجود تھا کہ ان اچھائیوں، نیکیوں اور فضائل کی قدر کی جائے، انھیں تحفظ فراہم کیا جائے، اور انھیں ذہن نشین کیا جائے۔
ماہر بشریات ڈیوڈ سکاٹ نے اسے بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے:
روایت صرف ایک ایسی وراثت کا نام نہیں، جو آپ کو ملتی ہے۔ روایت ماضی اور حال کے درمیان ایک انفعالی اور انجذابی تعلق کا نام بھی نہیں۔ بلکہ روایت ایک فعال تعلق پر دلالت کرتی ہے، جس میں حال ماضی کو پکارتا ہے۔ اس معنی میں روایت سے ہمیشہ اعمال اور اداروں کا ایک ایسا مجموعہ مراد ہوتا ہے، جو براہ راست ان فضائل کو بار بار پیدا کرتا ہے، جو اس روایت میں 'داخلی' سمجھے جاتے ہیں۔ اس معنی میں اصولاً روایت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا۔ یہ ماضی کی تمنا سے زیادہ ماضی کی یاد ہے، یہ بقا اور بصیرت اور کا ایک ذریعہ ہے23۔
اس کتاب نے (اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کی جنوبی ایشیا میں) ایک استدلالی روایت کی زندگی میں ان مخصوص اداوار کو بیان کیا ہے، جن میں وہ متوازی اعمالِ صالحہ اور شرعی تفہیمات میں الجھی ہوئی تھی۔ ایک بین المسالک اختلافات کی ایک جاری بحث میں جان ڈالنے والی متون اور سیاقات کا مطالعہ کرکے اس کتاب نے کوشش کی ہے کہ جنوبی ایشیا کی مسلم علمی روایات کی پیچیدگوں اور حرکیات کو سامنے لائے۔ ایسا کرتے وقت میں نے کوشش کی ہے کہ ان توقعات، بے چینیوں اور ابہامات کو نمایاں کروں جو جدید جنوبی ایشیا کے علما کی دینی فکر کی شناخت ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ان کے اختلافی نکات اور مناہج سے متفق نہ ہو، لیکن ان کے دینی تصورات کی تشکیل کرنے والے استدلالات اور تنازعات کی مختلف پرتیں ان کی فکر کی کافی گہرائی، نزاکت، تضاد اور ابہام کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کتاب نے یہ کوشش کی ہے کہ ان کے استدلالات اور تنازعات کی کچھ تفصیل پیش کرے، اس امید پر کہ انیسویں صدی کے ایک ایسے مناقشے کی وضاحت ہو جائے، جو آج تک جنوبی ایشیا کے اندر اور باہر جنوبی ایشیائی مسلمانوں کی مذہبی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
حواشی
- شیرکوٹی، حیاتِ امداد، 131 – 32۔
- ایضاً۔
- بحوالۂ ایضاً، 133۔
- جمیل تھانوی (مدون)، شرح فیصلۂ ہفت مسئلہ (لاہور: جامعہ ضیاء العلوم، 1971)، 98۔ اس کتاب کے آنے والے تمام حوالہ جات اسی اشاعت سے ہیں، اور متن میں بین القوسین درج ہیں۔
- خلیل احمد سہارن پوری، البراہین القاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعہ (کراچی: دارالاشاعت، 1987)، 30۔
- ایضاً۔
- دیکھیے: امیرہ میٹرمائیر، Dreams That Matter: Egyptian Landscapes of Imagination (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 2010)۔
- فرانسس روبنسن، Islam and Muslim History in South Asia (نیو دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2000)، 125۔
- ایضاً، 127۔
- طلسم سے آزاد (disenchantment) کی اصطلاح، بالخصوص جب یہ جدید مغرب کی ایک اہم کام یابی کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، کی ایک عمدہ تحقیق کے لیے دیکھیے: جیسن جوزیفن سٹورم، The Myth of Disenchantment: Magic, Modernity, and the Birth of the Human Sciences (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2017)۔
- انندا ابیسیکارا، The Im-possibility of Critique: The Future of Religion’s Memory، ریلجن اینڈ کلچر 11، نمبر 3 (2010): 213 – 46۔
- انندا ابیسیکارا، The Political Postsecular Religion: Mourning Secular Futures (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2007)۔
- صبا محمود، Religious Difference in a Secular Age: A Minority Report (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2016)، 74۔
- شیر علی ترین، Islam, Democracy, and the Limits of Secular Conceptuality، جرنل آف لا اینڈ ریلیجن 29، نمبر 1 (2014): 1 – 17۔
- سیما علوی نے فیصلۂ ہفت مسئلہ کے مطالعے سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ کہ حاجی صاحب نے "فرد کی اصلاح پر مرتکز ایک وسعت مشربی" کی تشکیل وتجسیم کی، یا یہ کہ انھوں نے "تمام امت کو متحد کرنے کی خواہش کی اور یورپ کی تہذیبی یلغار کا سامنا کیا (علوی، Muslim Comopolitanism، 248، 251)۔ جیسا کہ میں نے ایک اور مقام پر پوری تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ "فیصلۂ ہفت مسئلہ کا بنیادی استدلال فرد کی مرکزیت یا سماجی ترقی نہیں تھا، بلکہ بالکل اس کے الٹ تھا۔ حاجی صاحب کا بنیادی خداشہ علما اور عوام کے درمیان فرق مراتب کی سالمیت کو برقرار رکھنا تھا۔ انھوں نے یہ رسالہ اس شمالی ہندوستان میں بین العلما مناظروں کی اس آگ کو بجھانے کے لکھا، جو ان کو بے چین کیے رکھتا تھا، کیوں کہ ان کی نظر میں یہ مناظرے عوام کی نظروں میں علما کی عزت وقار کے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں۔۔۔ ان کا پروجیکٹ جہاں ایک طرف مکمل طور پر شمالی ہندوستان میں بریلوی دیوبندی مناظروں کے سیاق سے مربوط تھا، وہیں وہ عوام کے اوپر علما کی برتری اور استناد کو برقرار رکھنے کا بھی شدت سے داعی تھا"۔ شیر علی ترین، سیما علی کتاب Muslim Cosmopolitanism in an Age of Empire پر تبصرہ، انٹرنیشنل جرنل آف ایشین سٹڈیز 15، نمبر 1 (جنوری 2018): 131۔
- 38۔ تھانوی، ارواحِ ثلاثہ، 132۔
- مثال کے طور پر دیکھیے: چارلس ٹیلر، A Secular Age (کیمبرج، ایم اے: ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 2007)؛ اروند منڈیر، Religion and the Specter of the West: Sikhism, India, Postcoloniality and the Politics of Religion (نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2009)؛ رسل میک کوچین، They ‘Licked the Platter Clean’: On the Co-dependency of the Religious and the Secular، میتھڈ اینڈ تھیوری این دی سٹڈی آف ریلجن 19 (2007): 173 – 99؛ جان ماڈرن، Secularism in Antebellum America (شکاگو، یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2011)۔
- طلال اسد، Reading a Modern Classic: W. C. Smith’s The Meaning and End of Religion، ہسٹری آف ریلجنز 40، نمبر 3 (فروری 2001): 205 – 21۔
- حسین اگراما، Questioning Secularism: Islam, Sovereignty, and the Rule of Law in Modern Egypt (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 2012)؛ صبا محمود، Religious Difference in a Secular Age: A Minority Report (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 2016)۔
- طلال اسد، Formations of the Secular: Christianity, Islam, Modernity (سٹینفرڈ، سی اے: سٹینفرڈ یونیورسٹی پریس، 2003)۔
- مذہب سازی پر دیکھیے: مارکوس ڈریسلر اور اروند منڈیر، Secularism and Religion Making (نیو یارک: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2011)۔
- اس استدلال کی سب سے زیادہ اطمینان بخش مثال کے لیے دیکھیے: ڈیوڈ سکاٹ، Conscripts of Modernity: The Tragedy of Colonial Enlightenment (درہم، این سی: ڈیوک یونیورسٹی پریس، 2004)، 98 – 132۔
- ڈیوڈ سکاٹ، Refashioning Futures: Criticism after Postcoloniality (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1999)، 115۔
(مکمل)