دینی روایت کی موجودہ صورت حال
محمد عمار خان ناصر
روایتی مذہبی طبقہ ہمارے معاشرے کا ایک بہت اہم عنصر ہے اور اس کی کارکردگی اور کردار پر مختلف زاویوں سے بات ہوتی ہی رہتی ہے۔ کسی بھی شخص یا طبقے کے کردار اور اس کی کارکردگی میں Self-image بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو فرد یا طبقہ اپنی صلاحیتوں اور محدودیتوں اور دائرۂ عمل کا زیادہ درست اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کر لیتا ہے، وہ زیادہ با معنی اور موثر طریقے سے معاشرے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ جدید معاشرے میں روایتی مذہبی طبقہ اس وقت جو کردار ادا کر رہا ہے، ا س کی بنیاد اس سیلف امیج پر ہے جو اس وقت اس کے ذہن میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مختلف کسی کردار کی توقع اس سے کی جائے گی تو وہ صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ اس لیے اس طبقے کی ترجیحات میں اصلاح یا کسی مختلف کردار کی گفتگو سے پہلے اس پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ سیلف امیج کیا ہے اور اس میں کون سی چیزیں دوبارہ غور کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
ذیل کی سطور میں اس حوالے سے چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔
دینی طبقے کے سماجی کردار کا ایک بنیادی اور اہم پہلو یہ ہے کہ عام مسلمان دینی زندگی گزارنے کے لیے کچھ نفسیاتی اور معاشرتی سہاروں کا محتاج ہوتا ہے اور مختلف دینی گروہ اور ادارے اس کو یہ سہارا فراہم کر دیتے ہیں۔ یہ جدید معاشرے میں دینی طبقوں کی ایک بڑی خدمت ہے۔ اگرچہ دینی طبقے اس کی قیمت وہ معاشرے سے فرقہ بندی کی صورت میں وصول کرتے ہیں، تاہم اس قیمت کے ساتھ بھی عام مسلمان کو دین سے ظاہری وابستگی میں کافی سہارا مل جاتا ہے جس کی قدر کرنی چاہیے۔
سماج سے اور خصوصاً سماج کے کمزور اور غریب طبقوں سے، جڑا ہوا ہونا مذہبی تنظیموں اور دینی مدارس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اسی لیے ان کی خدمات کا دائرہ بھی بیشتر سماج کی یہی سطح ہوتی ہے۔ اس تعلق کی بدولت یہ طبقے ایک بہت بنیادی سطح پر معاشرے کو مذہبی شناخت اور رفاہی خدمات فراہم کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے ہنگامی حالات میں سب سے پہلے وہی اپنے وسائل اور خدمات لے کر لوگوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ شہری ماحول میں مذہبی مراکز ایک بڑا اہم ذریعہ ہیں جو شہری طبقے کے وسائل کو مختلف صورتوں میں پس ماندہ علاقوں کے لوگوں تک پہنچانے کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اس سے مذہبی طبقوں کو ایک طاقت بھی ملتی ہے جو کئی جگہوں پر غلط بھی استعمال ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ تعلق معاشرے کے لیے بلاشبہ ایک اثاثہ ہے۔
علمی سطح پر دیکھا جائے تو جدید تعلیم یافتہ طبقے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ مذہبی روایت نئے دور کے مسائل اور سوالات سے ہمیشہ پیچھے ہوتی ہے۔ یہ تاثر کم سے کم فقہی اجتہاد کے دائرے میں درست نہیں۔ جدید فقہی اجتہادات سے اختلاف یا ان پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ جدید دور کا کوئی اہم سوال جو کسی فقہی جواب کا تقاضا کرتا ہے، اسے عالم اسلام میں مذہبی روایت کی نمائندگی کرنے والے بڑے اہل علم یا اداروں نے توجہ نہیں دی، اور اس ضمن میں کوئی بڑا خلا پایا جاتا ہے۔ ان مسائل پر عالمی فقہی ادارے بہت عرصے سے تفصیلی غور وخوض کر رہے ہیں اور سامنے آنے والے تمام اہم سوالات پر باقاعدہ فتاوی بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
یہ غلط تاثر اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ جو بات ٹی وی یا سوشل میڈیا پر زیر بحث نہیں آتی یا عوامی علماء کے ہاں موضوع نہیں بنتی، یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اعلی سطح کے علماء یا علمی ادارے بھی ان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ مذہبی روایت کے اور بہت سے مسائل ہیں، لیکن فقہی مسائل ان کا کمزور پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کئی اہم اور ضروری مباحث سے صرف نظر کرنے کے باوجود علماء اور علمی اداروں کی حیثیت اور احترام تازہ ترین فقہی سوالات کو تسلسل کے ساتھ ایڈریس کرتے رہنے ہی کی بدولت قائم ہے۔
مذکورہ تمام مثبت اور قابل قدر پہلووں کے ساتھ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کسی بڑے تہذیبی سوال کو ایڈریس کرنے کے حوالے سے موجودہ دینی روایت کی علمی اہلیت اور قابلیت کا معاملہ توجہ کا مستحق ہے۔ اس کی ناگفتہ بہ صورت حال ویسے تو کم وبیش ہر بڑے سوال کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے، لیکن مثال کے طور پر اس ایک بڑے اور بنیادی سوال کے حوالے سے اس کو دیکھ لیجیے کہ کسی گروہ کو دائرہ اسلام میں شامل سمجھنے یا نہ سمجھنے کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟ یہاں تکفیر کے نظری اصولوں کی بات نہیں ہو رہی کہ اس پر تو دفتروں کے دفتر علمی روایت میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عملاً کسی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہو تو اس کا معیار اور طریقہ کیا ہوگا؟
ماضی میں اس حوالے سے حتمی اتھارٹی مذہبی علماء کے پاس تھی۔ فتوی اور قضاء کے منصب سے وہ جس فرد یا گروہ کے متعلق تکفیر کا فیصلہ کر دیتے، اس پر احکام نافذ ہو جاتے تھے۔ جدید دور میں دینی روایت کو پہلی دفعہ اس صورت حال سے سابقہ پیش آیا کہ انھیں کسی گروہ کی تکفیر اپنے علاوہ کسی دوسری اتھارٹی یعنی جدید ریاست اور قانون کے سامنے جسٹیفائی کرنی ہے۔ مسئلہ قادیانیوں کے حوالے سے اٹھا تھا اور مذہبی روایت کے نمائندوں کے سامنے سب سے مشکل سوال یہ تھا کہ تکفیر کے فتوے تو ہر معروف مذہبی گروہ نے ایک دوسرے کے متعلق دیے ہوئے ہیں تو قادیانیوں کے متعلق علماء کے فتوے کو کیسے عام تکفیری فتووں سے الگ سمجھا جائے اور سنجیدگی سے لیا جائے؟ اور اگر حقیقی تکفیر صرف قادیانیوں کی ہے تو مختلف گروہوں کی باہمی تکفیر کی حقیقت اور جواز کیا ہے؟
مقدمہ بہاولپور سے لے کر جسٹس منیر انکوائری کمیشن اور قومی اسمبلی کی کارروائی تک ساری بحث کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ اس بنیادی سوال کا کوئی تشفی بخش جواب دینی روایت کے پاس نہیں ہے۔ دیوبندی وسلفی موحدین، بریلویوں کی تکفیر کرتے ہیں، بریلوی حضرات وہابی گستاخوں کو خارج از اسلام قرار دیتے ہیں، سنیوں کے نزدیک شیعہ کافر ہیں، لیکن پھر یہ سارے کافر مل کر قادیانیوں کی تکفیر کرنا چاہتے ہیں۔ جب ریاست اور قانون کے سامنے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو یہ کہہ کر خلاصی حاصل کر لی جاتی ہے کہ یہ فتوے متفقہ نہیں ہیں اور ان کی ذمہ داری پورا طبقہ نہیں اٹھاتا۔ گویا تکفیر کی عملی بنیاد یہ ہوئی کہ چونکہ ایک دوسرے کو کافر کہنے میں یہ سارے متفق نہیں، لیکن قادیانیوں کی تکفیر پر سب متفق ہیں، اس لیے ان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے۔ قومی اسمبلی میں تو اس سے بھی کمزور بنیاد پر معاملہ طے کیا گیا جو یہ تھا کہ چونکہ قادیانی عام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، اس لیے عام مسلمان بھی ان کی تکفیر کا حق رکھتے ہیں (جبکہ خوارج کے باب میں یہ اصول نہیں مانا گیا تھا)۔ پھر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود ان کو باقی اقلیتوں جیسے حقوق اور آزادیاں دینے کے حوالے سے مذہبی موقف کے تضادات اپنی جگہ لاینحل اور قانونی وفقہی دانش کا منہ چڑاتے رہتے ہیں۔
یہ ایک بڑے تہذیبی سوال یعنی امت کی بنیادی شناخت (عقیدہ ختم نبوت) کے تحفظ کے ضمن میں موجودہ دینی روایت کی اہلیت اور علمی قابلیت کی صورت حال ہے۔ اس پر آپ دوسرے بڑے سوالات کو بھی قیاس کر سکتے ہیں ۔
دینی روایت کا ایک اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ مدارس کے تعلیمی نظام کا مجموعی مطمح نظر اسلاف کے علمی ورثے کی حفاظت اور اس کے ساتھ علمی واقفیت کے تسلسل کو برقرار رکھنا نہیں رہا۔ یہ سارا نظام معاصر فکری اور سیاسی کشمکش کے تناظر میں پوری طرح حزبیت کا شکار ہو چکا ہے اور سلف کے ذخیرے کی صرف وہ باتیں اس کے لیے قابل قبول ہیں جو موجودہ فکری کشمکش کے تناظر میں ایک خاص پوزیشن کی تائید کرتی ہوں۔ اس ضمن میں مستند دینی روایت کے بہت سے حصوں کی تنسیخ یا کتمان کو موجودہ دینی ماحول میں ایک دینی تقاضے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر امام محمدؒ نے عورت کے چہرے کے پردے کے حوالے سے اپنا اور امام ابوحنیفہ کا نقطہ نظر بڑی صراحت سے یوں بیان کیا ہے :
’’أما المرأة الحرة التي لا نكاح بينه وبينها ، ولا حرمة ، ممن يحل له نكاحها : فليس ينبغي له أن ينظر إلى شيء منها مكشوفا ؛ إلا الوجه والكف ، ولا بأس أن ينظر إلى وجهها وإلى كفها ، ولا ينظر إلى شيء غير ذلك منها .وهذا قول أبي حنيفة.
وقال الله تبارك وتعالى { وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } ، ففسر المفسرون أن ما ظهر منها : الكحل والخاتم ، والكحل زينة الوجه ، والخاتم زينة الكف ، فرخص في هاتين الزينتين .ولا بأس بأن ينظر إلى وجهها وكفها ؛ إلا أن يكون إنما ينظر إلى ذلك اشتهاء منه لها. فإن كان ذلك ، فليس ينبغي له أن ينظر إليه‘‘ (كتاب الأصل ٢/ ٢٣٥-٢٣٦)
اس اقتباس کا خلاصہ یہ ہے کہ آزاد اور غیر محرم عورت کے جسم کے کسی حصے کی طرف دیکھنا مرد کے لیے جائز نہیں، البتہ چہرے اور ہاتھ کی طرف دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ چہرے اور ہاتھ کی طرف دیکھنا بالکل جائز ہے، الا یہ کہ دیکھنے والا شہوت کی نظر سے دیکھے۔ ایسی صورت میں یہ جائز نہیں ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ اصل حکم یہ نہیں کہ چہرہ چھپانا لازم ہے اور چہرہ دکھانا استثنائی ضرورت کے تحت جائز ہے۔ اس کے برعکس اصل حکم یہ ہے کہ عورت کا چہرہ اور ہاتھ حجاب کا حصہ نہیں اور ان کو دیکھنا مباح ہے۔ ہاں، استثنائی صورت جس میں دیکھنا ممنوع ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی بد نیتی سے اور شہوت کی حالت میں دیکھے۔ یہی تصریح فقہ حنفی کی تمام امہات کتب میں تفصیل سے ملتی ہے۔ تاہم موجودہ تناظر میں اگر یہ موقف بیان کیا جائے تو خود حنفی علماء کا ایک بڑا طبقہ اس پر چیں بجبیں ہوتا ہے اور ایسی باتوں کے ذکر کو فتنہ انگیزی سے کم نہیں سمجھتا۔
اسی طرح موسیقی سے متعلق مالکیہ کا موقف اہل مدینہ کے تعامل کی روشنی میں، حرمت کے عمومی موقف سے مختلف اور کافی توسع اور اعتدال پر مبنی ہے ۔ قاضی ابوبکر ابن العربیؒ نے جامع ترمذی کی شرح ’’عارضۃ الاحوذی‘‘ میں غنا اور آلات موسیقی کی حرمت کے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سورہ لقمان کی آیت میں ’’لھو الحدیث‘‘ کا مصداق موسیقی کو قرار دینا ضعیف قول ہے اور آیت کی مراد یہ نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث میں ’’گانے والی باندی‘‘ کی خرید وفروخت کی ممانعت کی وجہ بھی غناء کا حرام ہونا نہیں، بلکہ ایسی باندی کو اپنی ملکیت میں لانے سے جو دوسرے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان سے گریز کرنا ہے۔ غنا اور موسیقی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بھی سنی ہے اور گھر سے باہر بھی، اس لیے وہ حرام نہیں ہو سکتی۔
ابن العربی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس اباحت کو دف وغیرہ تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی بھی آلہ موسیقی ہو تو وہ اس اباحت میں داخل ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیقی سے انسان کے دل پر سے بوجھ کم ہوتا ہے اور نفس اس میں راحت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کسی آلہ موسیقی سے اگر کچھ لوگوں کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے تو شریعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس نوعیت کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن میں موجودہ دینی ماحول ماضی کی مستند علمی روایت کو نظرانداز کرنے بلکہ اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے کا عمومی رجحان رکھتا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ایک دلچسپ تبصرہ یہ کیا ہے کہ ’’لعمری انھم لیسوون القواعد للنقیضین‘‘، یعنی علماء اپنی سہولت کے مطابق دو متضاد پوزیشنوں کو جواز دینے کے لیے قواعد بنا لیتے ہیں۔ موجودہ دینی ماحول میں اس رویے کا مظہر یہ ہے کہ اگر کسی طبقے کا موقف کچھ نصوص سے بظاہر ٹکرا رہا ہو لیکن کچھ دلائل اس کی تائید میں بھی ہوں تو یہ قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ اجتہادی اختلاف میں قطعی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، ظنی دلائل ہی کافی ہوتے ہیں یا یہ کہ کسی مسئلے میں معتبر علماء کا اختلاف خود اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ وہ اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس میں شدت سے کام نہیں لینا چاہیے۔ لیکن ، اگر کسی مسئلے میں مخالف کو گنجائش نہ دینی ہو، لیکن مسئلہ اختلافی ہو تو یوں کہا جائے گا کہ نص صریح کے مقابلے میں کسی اجتہاد کا اعتبار نہیں، یعنی پھر نص کے صریح ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس سے بالا ہی بالا نص، صریح اور قطعی ہو جاتی ہے۔
اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ ابنائے مدارس کے لیے جدید علوم سے ناواقفیت کا چیلنج ثانوی ہے۔ اصل چیلنج دینی روایت سے کماحقہ واقفیت نہ ہونا بلکہ ایسی واقفیت پیدا نہ ہونے دینے کا شعوری فیصلہ ہے۔ اس کا باعث یہ ہے کہ مدارس جدید تناظر میں روایتی مدرسے کا تسلسل نہیں ہیں جو مسلم سیاسی طاقت کی چھتری کے نیچے ایک تہذیبی عمل کو آگے بڑھا رہے تھے۔ جدید مدارس، سیاسی طاقت کے زوال سے پیدا ہونے والے تہذیبی خطرے کے عہد میں مختلف قسم کی مذہبی شناختیں قائم کرنے اور ان کو تحفظ دینے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ علمی روایت کے ساتھ تعلق اور تسلسل ان میں مطلوب ہے، لیکن ثانوی حیثیت میں اور اس شرط پر کہ وہ خاص گروہی شناخت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس کے نتیجے میں دینی مدارس کا مجموعی ماحول فرقہ وارانہ ہو گیا ہے، اگرچہ انفرادی اور جزوی استثناءات بھی موجود ہیں۔
دینی اختلافات کی تحقیق میں دور اول کی طرف واپس جانا اس لیے ہمیشہ مفید ہوتا ہے کہ وہاں ابھی "آرتھوڈوکسی" وجود میں نہیں آئی ہوتی اور اختلافات کی صحیح نوعیت سے متعلق اہل علم کے فطری احساسات سامنے آ جاتے ہیں۔ بعد کے ادوار میں جب کوئی ایک یا زیادہ مواقف مقبول ہو جاتے ہیں تو ایک تعصب بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ہمارے دور میں جب مذہبی علماء کو کئی اسباب سے اپنی اتھارٹی خطرے میں نظر آتی ہے تو سب سے بڑا استدلال یہ بن جاتا ہے کہ طے شدہ مسئلے میں اختلاف کر کے انتشار کیوں پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس سے ان کی مراد امت کے مختلف گروہوں میں بٹنے پر فکرمندی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے تو وہ خود حصہ دار ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسی بات جو اس وقت علماء کے طبقے میں نہیں کہی جا رہی، وہ اگر کوئی کہے گا تو انتشار پیدا ہوگا، یعنی علماء کی اتھارٹی مزید کمزور ہوگی۔
پس مذہبی طبقوں کی سیاسی ضروریات جو بھی ہوں، علم دین کے طلبہ اور محققین کے لیے درست راستہ یہی ہے کہ وہ متاخرین "اکابر" کے ہاں طے شدہ سمجھے جانے والے موقف کو بنیاد بنانے کے بجائے ہمیشہ واپس ابتدائی دور میں جائیں اور دیکھیں کہ اہل علم چیزوں کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض اہم فقہی اختلافات کے حوالے سے امام شافعی ؒ کا یہ تبصرہ ملاحظہ ہو:
والمستحل لنکاح المتعة والمفتی بها والعامل بها ممن لا ترد شهادته وکذلک لو کان موسرا فنکح امة مستحلا لنکاحها مسلمة او مشرکة لانا نجد من مفتی الناس واعلامهم من یستحل هذا وهکذا المستحل الدینار بالدینارین والدرهم بالدرهمین یدا بید والعامل به لانا نجد من اعلام الناس من یفتی به ویعمل به ویرویه وکذلک المستحل لاتیان النساء فی ادبارهن فهذا کله عندنا مکروہ محرم وان خالفنا الناس فیه فرغبنا عن قولهم ولم یدعنا هذا الی ان نجرحہم ونقول لهم انکم حللتم ما حرم اللہ واخطاتم لانہم یدعون علینا الخطا کما ندعیه علیهم وینسبون من قال قولنا الی انه حرم ما احل اللہ عز وجل (الام کتاب الاقضیۃ، شہادۃ اہل الاشربۃ ۶/۲۰۶)
’’جو شخص نکاح متعہ کو حلال سمجھتا ہو، ا س کے جواز کا فتویٰ دیتا ہو اور اس پر عمل کرتا ہو، اس کی گواہی کو رد نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم اس شخص کا ہے جو (مالی طور پر) صاحب حیثیت ہو، لیکن کسی مسلمان یا مشرک لونڈی سے نکاح کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے نکاح کر لے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو فتویٰ دینے والے بعض معروف اور ممتاز اہل علم اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص نقد تبادلے میں ایک دینار کے بدلے میں دو دینار اور ایک درہم کے بدلے میں دو درہم لینے کو حلال سمجھتا ہو (اس کی بھی گواہی قبول کی جائے گی) کیونکہ ہم بعض ممتاز اہل علم کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس کا فتویٰ دیتے، اس پر عمل کرتے اور اس مسلک کو (سلف سے) روایت کرتے ہیں۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو بیویوں سے دبر میں جماع کو حلال سمجھتے ہیں۔ یہ سب کام ہمارے نزدیک ناپسندیدہ اور حرام ہیں۔ اگرچہ اس میں ہم ان لوگوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور ان کی بات کو قبول نہیں کرتے، لیکن یہ چیز ہمارے لیے اس بات کا باعث نہیں بنتی کہ ہم ان کی ذات پر جرح کریں اور ان سے کہیں کہ تم لوگوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر دیا ہے اور خطا کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ جس طرح ہم ان کے خطا میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے متعلق خطا میں مبتلا ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ہماری رائے کو اختیار کرنے والوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے۔‘‘
یعنی امام شافعی یہ فرما رہے ہیں کہ آپ متعہ اور بیوی کے ساتھ وطی فی الدبر جیسے امور کے جواز کے قائلین پر بھی تنقید کر رہے ہیں تو انھیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تم ’’حرام ‘‘ کو ’’حلال ‘‘ کر رہے ہو۔ کیونکہ ہمارے فہم کے مطابق اگرچہ یہ امور ازروئے دلائل حرام ہیں، لیکن اجتہادی معاملات میں ایسی زبان استعمال نہیں کی جاتی۔
روایتی دینی طبقہ، اپنی داخلی تقسیم سے قطع نظر، اس وقت ایک مشترک چیلنج کے روبرو ہے۔ توسعاً ہم اس میں جماعت اسلامی کو بھی شمار کر سکتے ہیں، اگرچہ سکہ بند روایتی طبقوں کی نظر میں وہ کلی طور پر اس دائرے میں شامل نہیں سمجھی جاتی۔ دیوبندی طبقے کی صورت حال ہم براہ راست جانتے ہیں، جبکہ اہل حدیث، بریلوی اور جماعت اسلامی کے حلقوں کے متعلق بھی کافی معلومات ہمارے سامنے ہیں۔
چیلنج ایک ہی ہے جو یہ ہے کہ ان میں سے ہر طبقے نے دین کے فہم اور عمل کا اپنے تئیں جو ایک معیاری فریم ورک وضع کیا ہے، ہر طبقے کی نئی نسل میں ان کے اپنے تربیت یافتہ متعلقین کی ایک بڑی تعداد اس سے ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہے اور طبقاتی دائرے سے باہر مسائل وامور کی متبادل تفہیم کی تلاش میں ہے، بلکہ بہت سے متعلقین کشمکش کے ذہنی مرحلے سے آگے بڑھ کر مختلف متبادل تعبیرات کے متعلق ہمدردانہ زاویہ نظر رکھتے ہیں، جبکہ بہت سے اپنے طبقے سے فکری عدم تعلق کے مرحلے تک جا چکے ہیں۔
ان تمام طبقوں کا چونکہ بنیادی بیانیہ "تحفظاتی" ہے جس میں اپنے متعلقین کو بیرونی دنیا سے ایک فاصلے پر رکھ کر ان کی دینی حفاظت کا انتظام بنیادی ترجیح ہے، اس لیے اس چیلنج پر کھلے ماحول میں غور وفکر یا تجزیہ اور تبادلہ خیال کا اہتمام نہیں ہو سکتا، بلکہ کسی نمائندہ فورم پر ایسی کوئی گفتگو چھیڑی بھی جائے تو اسے روک دیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے داخلی کمزوری یا عدم تحفظ کا پیغام ملتا ہے جو تحفظاتی ماحول میں اضطراب کا موجب ہوتا ہے۔
البتہ بہت سے اہل قلم اپنی انفرادی حیثیت میں اس پر وقتاًفوقتاً اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ چیزوں کو قالین کے نیچے چھپانے سے ان کا وجود ختم نہیں ہو جاتا۔ تاہم ابھی تک جو تجزیے دیکھنے میں آ رہے ہیں، ان کا رخ زیادہ تر اپنے "منحرفین" پر مختلف قسم کے اخلاقی حکم لگانے یعنی انھیں ڈس کریڈٹ کرنے کی طرف ہے، مثلاً یہ کہ ان کا علم ناپختہ ہے، انھوں نے اساتذہ سے صحیح طرح سے فیض نہیں پایا، وہ ماحول سے باہر جا کر دنیا کی چکاچوند سے متاثر ہو گئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ طبقے کے سرکاری بیانیے میں کچھ مسائل ہیں یا ہو سکتے ہیں، اس کو فکری سطح پر تسلیم کرنے کی جرات فی الحال ان تجزیوں میں دکھائی نہیں دیتی۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۴۰۵) طیِّب کا ترجمہ
طیب اور خبیث ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ طیب کے معنی پاک کے بھی ہیں اور عمدہ و خوش گوار کے بھی ہیں۔ اہل لغت طاب کا معنی لذّوز کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی لذیذ اور پاکیزہ۔ اس لفظ میں وسعت پائی جاتی ہے۔
ابن منظور رقم طراز ہیں:
أَرضٌ طَیِّبة اس زمین کو کہتے ہیں جو زراعت کے لیے سازگار ہو۔ رِیحٌ طَیِّبَةٌ اس ہوا کو کہتے ہیں جو نرم ہو شدید نہ ہو۔ طُعْمة طَیِّبة حلال لقمے کو کہتے ہیں۔ امرأَةٌ طَیِّبة عفیف وپاک دامن خاتون کو کہتے ہیں۔ کلمةٌ طَیِّبة ایسی بات کو کہتے ہیں جس میں کوئی ناپسندیدہ امر نہ ہو۔ بَلْدَة طَیِّبة اس بستی کو کہتے ہیں جو خوش حال اور پر امن ہو۔ حِنْطة طَیِّبة اوسط درجے کے عمدہ گیہوں کو کہتے ہیں۔ تُرْبة طَیِّبة پاک مٹی کو کہتے ہیں۔ زَبُونٌ طَیِّبٌ اس گراہک کو کہتے ہیں جس سے خرید و فروخت کرنا آسان ہو۔ طعامٌ طَیِّب اس کھانے کو کہتے ہیں جس سے لذت حاصل ہو۔ وغیرہ۔ (لسان العرب)
درج ذیل آیت میں طیبات کا مطلب عمدہ چیزیں اور خبیث کا مطلب خراب چیز ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیہِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِیہِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ حَمِیدٌ۔ (البقرۃ: 267)
قرآن مجید میں مختلف مقامات پریہ لفظ آیا ہے۔ بیشتر مقامات پر پاک یا پاکیزہ سے اس کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے، لیکن عمدہ و خوش گوار جیسی تعبیرات مفہوم کو پورے طور پر ادا کرتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ عمدہ میں پاکیزہ کا مفہوم بھی شامل ہوتا ہے۔
درج ذیل مقامات پر اس پہلو سے غور کیا جاسکتا ہے:
(۱) مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً۔ (النحل: 97)
”جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے“۔ (سید مودودی)
”جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، اور وہ ایمان پر ہے، تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)
آخری دو ترجمے زیادہ مناسب ہیں۔یہاں عمدہ و خوش گوار زندگی سے حَیَاةً طَیِّبَةً کی بہتر ترجمانی ہوتی ہے۔
(۲) وَعَدَ اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ۔ (التوبۃ: 72)
”ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی“۔ (سید مودودی)
”پاکیزہ مکانوں“۔ (احمد رضا خان)
”صاف ستھرے پاکیزہ محلات“۔ (محمد جوناگڑھی)
”پاکیزہ مکانوں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”نفیس مکانات“۔ (فتح محمد جالندھری)
عمدہ و نفیس مکانات کہنے سے اس وعدے کی معنوی قوت بڑھ جاتی ہے۔ پاکیزہ کا مفہوم اس میں شامل ہوتا ہے۔
(۳) حَتَّی إِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیحٍ طَیِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِہَا۔ (یونس: 22)
”جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو“۔ (سید مودودی)
”یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے“۔ (احمد رضا خان)
”یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
یہاں پاکیزہ ہوا کا محل نہیں ہے بلکہ موافق و سازگار ہوا کا محل ہے۔
(۴) أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ۔ (ابراہیم: 24)
”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں“۔ (سید مودودی)
”پاکیزہ درخت“۔ (احمد رضا خان)
”پاکیزہ درخت“۔ (فتح محمد جالندھری)
”پاکیزہ درخت“۔ (محمد جوناگڑھی)
مضبوط جڑ اور آسمان میں پھیلی شاخیں عمدہ قسم کے درخت کی صفات ہیں۔ یہاں پاکیزہ کہنے کا کوئی محل نہیں ہے۔
(۵) لَقَدْ کَانَ لِسَبَإٍ فِی مَسْکَنِہِمْ آیَةٌ جَنَّتَانِ عَنْ یَمِینٍ وَشِمَالٍ کُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوا لَہُ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ۔ (سبا: 15)
”سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں، کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا“۔ (سید مودودی)
”پاکیزہ شہر“۔ (احمد رضا خان)
”پاکیزہ شہر ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”یہ عمدہ شہر“۔ (محمد جوناگڑھی)
”زمین شاداب و زرخیز“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخر کے دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں۔
(۶) وَیُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ۔ (الصف: 12)
”اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا“۔ (سید مودودی)
”عمدہ مکانوں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”صاف ستھرے گھروں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”پاکیزہ محلوں“۔ (احمد رضا خان)
”پاکیزہ مکانات“۔ (فتح محمد جالندھری)
یہاں بھی پاکیزہ محلوں کی بات نہیں بلکہ عمدہ و شان دار محلوں کی بات زیادہ موزوں ہے۔
(۷) وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِی خَبُثَ لَا یَخْرُجُ إِلَّا نَکِدًا۔ (الاعراف: 58)
”اور زرخیز زمین کی پیداوار تو خوب اپجتی ہے اس کے رب کے حکم سے، پر جو زمین ناقص ہوتی ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے ا س سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا“۔ (سید مودودی)
”اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا“۔ (احمد رضاخان)
”جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
آخر کے دونوں ترجمے موزوں نہیں ہیں۔ یہاں بات اچھی زمین اور خراب زمین کی ہے۔
(۴۰۶) جُعِلَ السَّبْتُ کا مطلب
إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیہِ۔ (النحل: 124)
”رہا سبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلط کیا تھا جنہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا“۔ (سید مودودی)
درج بالا ترجمہ اس مفروضے پر کیا گیا ہے کہ سبت عذاب کی نوعیت کی ایک پابندی تھی۔ درحقیقت سبت بنی اسرائیل کی شریعت کا ایک فریضہ تھا۔ وہ کوئی عذاب نہیں تھا۔
درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:
”ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
یہ وہ فریضہ تھا جس کی انجام دہی کرنے والے سچے مومن قرار پاتے اور اس میں کوتاہی کرنے والے فاسق شمار ہوتے۔
(۴۰۷) وَالَّذِینَ ہُمْ بِہِ مُشْرِکُونَ
إِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الَّذِینَ یَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِینَ ہُمْ بِہِ مُشْرِکُونَ۔ (النحل: 100)
اس آیت میں وَالَّذِینَ ہُمْ بِہِ مُشْرِکُونَ کا تین طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے:
ایک میں باء کو سببیہ مانا گیا ہے۔ یعنی شیطان کے سبب سے شرک کرتے ہیں۔ سبب کی تشریح وسوسے اور بہکاوے سے کی گئی۔ یہ پرتکلف تاویل ہے۔
دوسرے ترجمے میں بِہِ مُشْرِکُونَ کی ھاء ضمیر مجرور کا مرجع شیطان کو مانا گیا ہے۔ اس بنا پر ترجمہ کیا گیا: شیطان کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ ترجمہ لغت کے قاعدے کی رو سے غلط ہے۔ کیوں کہ فعل أشرک میں جسے شریک کیا جاتا ہے وہ راست مفعول ہوتا ہے اور جس کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اس پر باء داخل ہوتی ہے۔ اس ترجمے میں بات الٹ جاتی ہے۔ جس کو شریک کیا گیا اس پر باء کا داخل ہونا لازم آتا ہے۔
تیسرے ترجمے میں بِہِ مُشْرِکُونَ کی ھاء ضمیر مجرور کا مرجع اللہ کو مانا گیا ہے۔ اس بنا پر ترجمہ کیا گیا ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اس میں کوئی سقم نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ ضمیر کا مرجع اس آیت میں مذکور نہیں ہے۔ لیکن یہ کوئی سقم نہیں ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ اگر قاری کے سامنے مرجع اچھی طرح واضح ہو تو اس کے ذکر کے بغیر بھی اس کی ضمیر ذکر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پورے قرآن میں ہر جگہ أشرک بہ سے مراد اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا مراد ہے، تو یہاں بھی ذہن فورًا ادھر ہی جائے گا خواہ آیت میں وہ مذکور ہو یا نہ ہو۔
ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
”اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں“۔ (سید مودودی)
ان دونوں ترجموں میں باء کو سببیہ مانا گیا ہے۔ اس توجیہ میں تکلف معلوم ہوتا ہے۔
”اس کا زور انھیں پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک ٹھہراتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)
”ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا تینوں ترجموں میں وہ غلطی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
”اس کا زور بس انھی پر چلتا ہے جو اسے دوست رکھتے ہیں اور جو اللہ کے شریک ٹھہرانے والے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بس اس کا قابو تو صرف ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر جو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)
یہ آخری دونوں ترجمے درست ہیں۔
(۴۰۸) مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ کا مفہوم
قوت کا مطلب مضبوطی ہوتا ہے محنت نہیں ہوتا ہے۔ درج ذیل آیت کی تفسیر میں علامہ ابن عاشور لکھتے ہیں:
والقوۃ: إحکام الغزل۔ (التحریر والتنویر) یہاں قوت سے مراد مضبوطی سے کاتا ہوا ہے۔
بعض لوگوں نے قوۃ کا ترجمہ محنت کیا ہے، جو لغت کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔
وَلَا تَکُونُوا کَالَّتِی نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ أَنْکَاثًا۔ (النحل: 92)
”تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا“۔ (سید مودودی)
”اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور نہ ہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا محنت کیے پیچھے ٹکڑے ٹکڑے“۔ (شاہ عبدالقادر)
درج ذیل ترجمے درست ہیں:
”اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا“۔ (احمد رضا خان)
”اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا“۔ (محمد جوناگڑھی)
(جاری)
عمومِ بلوٰی کی شرعی حیثیت، شرائط اور وضاحتی مثالیں
مفتی سید انور شاہ
اسلام ایسا دینِ فطرت اور ضابطہ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوں پر حاوی ہے۔اس میں انسانی مزاج، خواہشات،ضرورت و حاجت،عذر ،کمزوریوں اور مشقتوں کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔حرج،تنگی،مشقت،پریشانی اور معتبر عذر کے وقت اجازت،سہولت،وسعت،گنجائش اور لچک سے کام لیا گیاہے۔تاکہ انسان اس کی روشنی میں اپنی زندگی اعتدال کے ساتھ خوشگواری کی حالت میں گزار سکے،اور شریعت پر عمل کرنےمیں کوئی دشواری،تنگی اور مشقت محسوس نہ کرے۔
فقہاء کرامؒ نےقرآن و سنت کی روشنی میں تخفیف و رخصت کے بنیادی طور پہ سات اسباب بیان فرمائے ہیں، جبکہ ماضی قریب کے بعض علماء نے مزید تفصیل و تشقیق سے کام لیتے ہوئے چودہ اسباب بیان فرمائے ہیں۔ان اسبابِ تخفیف میں ایک اہم سبب عموم بلوٰی ہے۔
عمومِ بلوٰی
عمومِ بلوٰی دو لفظوں سے مرکب ہے۔(۱)عموم اور(۲)بلوٰی۔
لفطِ عموم باب نصر ینصر کا مصدر ہے اس کا لغوی معنی ہے:عام ہونا،پھیل جانا۔(مختار الصحاح:۴۶۷/بیروت)
( لسان العرب لابن منظور/مادۃ عم/۱۰/۲۸۷)
اور لفظِ بلوٰی بھی باب نصر ینصر کامصدر ہے،جس کا لغوی معنی :آزمائش ،امتحان اور مشقت کے ہیں۔
(لسان العرب:۱۴/۱۰۳/فصل فی الباء الموحدۃ)(مختار الصحاح:۷۳)
عمومِ بلوٰی کی اصطلاحی تعریف
عمومِ بلوٰی سے مراد یہ ہے کہ کوئی ممنوع چیز اتنی عام اور اس قدر پھیل جائے کہ عام آدمی کے لیے اس سے بچنا واقعتًامشکل اور دشوار کن ہو جائے۔
ڈاکٹر شیخ عبد الکریم زیدان عمومِ بلوٰی کی تعریف کے متعلق لکھتے ہیں:
شیوع ما یتعرض لہ الانسان بحیث یصعب لہ التخلص منہ۔ (الوجیز فی شرح القواعدا لفقہیۃ،۶۱/بیروت)
ترجمہ: عمومِ بلوٰی کا مطلب ہے کسی چیزکا اس طور پر پھیل جانا کہ جس سے بچنا انسان کے لیے مشکل ترہو جائے۔
ملک شام کے مشہور عالمِ دین شیخ ڈاکٹروھبہ زحیلی صاحبؒ نے عمومِ بلوٰی کی تعریف یوں بیان کی ہے:
شیوع البلاء بحیث یصعب علی المرء التخلص او الابتعاد منہ۔ (نظریۃ الضروریۃ الشرعیۃ:۱۲۳،بیروت)
ترجمہ:یعنی مصیبت کا اس قدر عام ہونا کہ آدمی کیلئے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا اور بچنا دشوارہو جائے۔
معجم الفقہاء میں اس کی تعریف یوں بیان ہوئی ہے:عموم البلوٰی:شیوع المحظور شیوعًا یعسر علی المکلّف معہ تحاشیہ۔یعنی کسی ممنوع چیز کا اس قدر پھیل جانا کہ آدمی کیلئےاس سے دوررہنا مشکل ہو جائے۔ (معجم لغۃ الفقہاء:۳۲۲)
عمومِ بلوٰی کاحکم
عمومِ بلوٰی کاحکم یہ ہے کہ جن امور میں نص قطعی اور نص صریح موجود نہ ہو وہاں عمومِ بلوٰی کی وجہ سے عدمِ جواز کا حکم ساقط ہوجاتا ہےیا مکروہات میں تخفیف آجاتی ہے۔جیساکہ ایک حدیث میں بلی کو درندہ قرار دیا گیا ہے،یعنی بلی کا حکم وہی ہے جو درندہ کا ہے،اور درندے کا گوشت،لعاب اور جھوٹا ناپاک و نجس اور حرام ہے،لہذا قیاس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ بلی کا جھوٹا بھی ناپاک ہو،مگر چونکہ بلی کےجھوٹے سے عام طور پر بچنا دشوار ہوتا ہے،اس لیے ابتلاء عام کی وجہ سے بلی کے جھوٹےکی نجاست ساقط ہوگئی ہے،البتہ کراہت باقی ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ:وہ خود ایک مرتبہ نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے گھر میں ہریسہ(ایک خاص قسم کا کھانا جو گوشت اور گندم سے تیار کیا جاتا تھا)ایک پیالے میں رکھا ہوا تھا۔اس دوران بلی آکر اس سے کھا گئی،جب حضرت عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے پڑوس کی خواتین کو اپنے گھر بلایا،تاکہ وہ ان کے ساتھ اس خاص کھانے میں شریک ہو جائیں، چنانچہ جب وہ خواتین کھانا کھانے کیلئےبیٹھ گئیں تو اس جگہ سے پرہیز کرنے لگیں جہاں بلی نے منہ مارا تھا،حضرت عائشہ ؓ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسی جگہ سے تناول فرمایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا،اور فرمایا کہ میں نے جناب نبی کریم ﷺسے سنا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے،کیونکہ وہ تمہارے گھر میں کثرت سے آتی رہتی ہے۔ (ابو داود:باب سورا لھرۃ)
بہر حال حاصل یہ ہے کہ قیاس کا تقاضہ تو یہی ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک ہو مگراس حدیث کی وجہ سے اس کی نجاست ساقط ہوگئی ہے،البتہ کراہت باقی ہے۔
علامہ ابن ہمامؒ فرماتے ہیں کہ:بلی کا جھوٹا اپنی اصل کے اعتبار سے نجس ہے،لیکن عمومِ بلوٰی کی وجہ سے اس کی اجازت دی گئی ہے،حدیث میں ذکر کردہ علتِ طواف خود کراہتِ تنزیہی پر دلالت کرتی ہے۔ (فتح القدیر: ۱/۱۱۶،DKI،بیروت)
لیکن جس چیزمیں ابتلاء عام نہ ہو اس کے متعلق کراہت میں تخفیف نہیں آئیگی،بلکہ اس کی ممانعت بحالہ باقی رہے گی۔جیسے گدھے کا گوشت کہ اس میں عمومِ بلو ی نہیں ہے اس لیے اس کی ممانعت اپنی جگہ بعینہ باقی رہے گی۔علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
إن کان الأصل فیہ الحرمة ،فإن سقطت لعموم البلوٰی فتنزیہ کسؤر الھرة وإلا فتحریم کلحم الحمار۔(رد المحتار:۹/۵۵/کتاب الحظر والاباحۃ/رشیدیہ)
یعنی اگر اصل کے اعتبا رسے اس میں حرمت موجود ہو لیکن عمومِ بلوٰی کی وجہ سےوہ حرمت ساقط ہوچکی ہوتوپھر کراہت ِ تنزیہی کے درجہ میں آجاتی ہے۔(یعنی عمومِ بلوٰی کی وجہ سےوہ چیز مکروہِ تحریمی کے بجائےمکروہ تنزیہی شمار ہوگی)۔اور اگر عموم بلوٰی نہ ہو تو مکروہ تحریمی اپنی حالت پر باقی رہے گی،جیسا کہ گدھے کا گوشت۔مبسوط میں ہے: فللبلوٰی تأثیر فی تخفیف حکم النجاسة۔ (۲۱/۲۳)
ترجمہ:عمومِ بلوی کی وجہ سے نجاست کے حکم میں تخفیف ہوجاتی ہے۔
عمومِ بلوٰی کی حجیت قرآن کی روشنی میں
عمومِ بلوٰی کی مشروعیت اور جواز قرآن و سنت دونوں سے ثابت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
یا أیُّھا الّذین اٰمنوا لیستأذنکم الذین ملکت أیمانکم والذین لم یبلغوا الحُلُمَ منکم ثلاٰث مرّاتط من قبل صلاۃ ا لفجر وحین تضَعُوْن ثیابکم من الظھیرۃ ومن بعد صلاۃ العشاءط ثلاث عورات لکم طلیس علیکم ولا علیھم جناح بعدھنططوافون علیکم بعضکم علی بعضطکذلک یبین اللہ لکم الایاتطواللہ علیم حکیم۔(سورۃ النور:۵۸)
اس آیتِ کریمہ میں نابالغ بچوں ،غلاموں اور خدام کے خلوت گاہ میں داخل ہوتے وقت اجازت کے احکام موجود ہیں۔چونکہ نابالغ بچےاور خدام وغیرہ عمومًا ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں۔ہر وقت ان کا آنا جانا رہتا ہے۔ان سے عورتوں کا پردہ بھی نہیں ہوتا،اس لیے ان کے لیے حکم یہ ہے کہ تین اوقات میں ان کو بھی کمرہ میں داخل ہوتے وقت اجازت لینی چاہیے۔وہ تین اوقات یہ ہیں فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کوآرام کرتے وقت اور عشاء کی نماز کے بعد۔ان اوقات میں اقارب، محارم یہاں تک کہ نا بالغ بچوں اور غلام کو بھی اجازت کا پابند کیا گیا ہےکہ ان تین اوقات میں کوئی بھی کسی کی خلوت گاہ میں بغیر اجازت کے نہ جائے،کیونکہ یہ اوقات خلوت اور استراحت کے ہیں۔ البتہ باقی اوقات میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے،وجہ اس کی یہ ہے کہ بچوں اور خدام وغیرہ کابکثرت آنا جانا اور میل جول ہوتاہے اب اگر ہر وقت ان پر اجازت لینے کی پابندی لگائی جائے تو اس سے دشواری اور تنگی پیدا ہوگی۔آیتِ کریمہ میں لفظِ ’’طوّافون‘‘ سے اسی طرف اشارہ ہے ۔اس لیے ابتلاء عام کی وجہ سے تنگی اور دشواری کو ختم کرتے ہوئے دیگر اوقات میں اجازت لینے کے حکم کو ساقط کردیا گیا ہے۔اسی کو فقہ اسلامی کی زبان میں عمومِ بلوٰی کہتے ہیں کہ ابتلاء عام کے وقت لوگوں کی مشکلات کو سامنے رکھ کر شرعی حدود میں رہتےہوئے آسانی کا جائز راستہ تلاش کیا جائے۔
(۲) یرید اللہ أن یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفًا۔ (سورۃا لنساء:۲۸)
ترجمہ: اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کامعاملہ کرے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
یعنی اللہ تعالی نےانسان کی ضروریات اور مشکلات کا لحاظ کر کے آسان اور ہلکے احکام نازل فرمائے ہیں تاکہ ان آسان اور نرم احکام پر سب بآسانی عمل پیرا ہوسکیں۔
(۳) وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔(سورۃالحج:۷۸)
ترجمہ:اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔
حضراتِ مفسرین نے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ شریعت نے انسانوں پر ایسے معتدل اور مناسب احکام لازم کیے ہیں،جن پر عام حالات میں عمل کرنے سے بہت زیادہ مشقت،تنگی اور پریشانی لاحق نہیں ہوتی،بلکہ شریعت میں کوئی ایساحکم نہیں ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔دوسری طرف شریعت نے غیرمعمولی اور ہنگامی صورتِ حال یعنی ضرورت و حاجت اور ابتلاء عام کے وقت لچک،وسعت،گنجائش،سہولت اور آسانیاں فراہم کی ہیں، جیسے سفر میں نماز کاقصر،بیماری میں تیمم وغیرہ۔
فقہاء کرامؒ نے اسی آیتِ کریمہ سے مندرجہ ذیل فقہی قواعد کا استنباط کیا ہے،مثلاً: ’’أنّ المشقة تجلب التیسیر‘‘ و ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ و ’’أن الضرر یزال‘‘ وغیرہ۔
وفی تفسیر السعدی: وما جعل علیکم فی الدین من حرج :أی مشقة وعسر، بل یسرہ غایة التیسیر، وسھلہ بغایة السھولة، فأولا ما امرو ألزم إلا بما ھو سھل علی النفوس، لا یثقلھا ولا یؤودھا، ثم إذ اعرض بعض الأسباب الموجبة للتخفیف، خفف ما اٰمر بہ، إما بإسقاطہ أو اسقاط بعضہ، ویؤخذ من ھذہ الاٰیة: قاعدۃ شرعیة وھی ’’أن المشقة تجلب التیسیر‘‘ و’’الضرورات تبیح المحضورات‘‘فیدخل فی ذالک من الأحکام الفرعیة شیءکثیر معروف فی کتب الحکام۔(تفسیر السعدی:سورۃ الحج:۷۸)
وفی تفسیر الوسیط الطنطاوی: ومن مظاھر رحمتہ بکم أیّھا المؤمنون أنہ سبحانہ لم یشرع فی ھذا الدین الذی یدینون بہ ما فیہ مشقة بکم، أو ضیق علیکم وِإنما جعل أمر ھذا الدین مبنی علی الیسر والتخفیف ورفع الحرج، ومن قواعدہ التی تدل علی ذلک: ’’أن الضرر یزال‘‘و’’أن المشقة تجلب التیسیر‘‘و’’أن الیقین لا یزول بالشک‘‘(تفسیر الوجیز لطنطاوی، سورۃالحج:۷۸)
(۴) یرید اللہ بکم الیسر ولا ترید بکم العسر۔(سورۃا لبقرۃ:۱۸۵)
ترجمہ:اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتاہے اور تمہیں مشکل میں اور تنگی میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔
عمومِ بلوٰی احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
احادیث طیبہ کے عظیم ذخیرہ میں بہت سی احادیث سے بھی یہ بات واضح طور پر ثابت ہےکہ جناب نبی کریمﷺ نے مشقتِ شدیدہ ،تنگی اور ابتلاء عام کے وقت تخفیف،وسعت اور آسانی کا حکم فرمایا ہے۔ذیل میں صرف چند احادیث پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
(۱) یسّروا ولا تعسّروا وبشروا ولا تنفروا۔ (بخاری:کتاب العلم/باب ما کان النبی ﷺ ینخو لھم بالموعظۃ)
ترجمہ:لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کیا کرو،انہیں تنگی اور مشقت میں نہ ڈالو،لوگوں کو خوشخبری سناؤ،انہیں نفرت نہ دلاؤ۔
(۲) إنما بعثتم میسّرین ولم تبعثوا معسّرین۔ (بخاری/کتاب الوضوء/باب صب الماء علی البول)
ترجمہ:تمہیں اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ تم آسانی اور سہولت کا معاملہ کرو نہ کہ تنگی اور پریشانی کا۔
(۳)بنو اشھل کی ایک خاتون حضوراقدسﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:یا رسول اللہ!ہمارے گھروں سے مسجد کی طرف جو راستہ نکلا ہوا ہے اس میں اکثر گندگی رہتی ہے خاص کر جب بارش ہوجائے تو گندگی پانی کے ساتھ مل جاتی ہےاور پھر اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ:اس کے بعد صاف راستہ شروع نہیں ہوتا؟،انہوں نے فرمایا :جی ہاں اس کے بعد صاف راستہ آتا ہے،آپ نے فرمایا:یہ صاف راستہ اس گندگی کوصاف کردے گا،یعنی صاف جگہ کے رگڑنے سے وہ گندگی صاف ہوجائے گی۔(سنن ابی داؤد:کتاب الطھارۃ،باب فی الأذی،۱/۹)
اس حدیث سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوئی کہ جس چیز سے بچنا مشکل ہو وہاں تخفیف اور آسانی آجاتی ہے۔
قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات کریمہ اور احادیثِ طیبہ سےمعلوم ہوا کہ اسلام نے انسانوں کے مفادات و مصالح، تنگی وحرج،ضرورت و حاجت ، کمزوریوں اورمشقتوں کا پورا پورا لحاظ و پاس رکھاہے۔اس لیے مقاصد شریعت میں رفع ِحرج و تنگی ،دفع ضرر ومشقت اور ابتلاء عام کے معتبر ہونے کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
عمومِ بلوٰی کے معتبر ہونے کی شرائط و حدود
واضح رہے کہ ان آیات واحادیث کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ عمومِ بلوٰی یعنی ابتلاءِ عام کے وقت وسعت وگنجائش اور سہولت و لچک کیلئے ہر انسان کو آزاد چھوڑ دیا جائےیا اس کی حدود کی تعیین کے لیے ہر ایک شخص کو ترازو ہاتھ میں دیدیا جائے کہ وہ اپنی نفسانیت اور خواہش کے مطابق اس کو تولتا رہےکہ ایسا کرنا اباحیت کے دروازے کو کھولنے کے مترادف ہوگا۔اس لیے فقہاء کرام ؒنے عمومِ بلوٰی کے معتبر ہونے کیلئے چند شرائط مقررکی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
(۱) عمومِ بلوٰی کسی نص قطعی اورنص صریح سےمعارض نہ ہو:-
جن مسائل کےمتعلق قرآن کریم یا سنت ِنبوی میں نص قطعی یا نص صریح موجود ہو ان میں کسی قسم کا اجتہاد نہیں ہوسکتا۔اس لیے ایسے معاملات میں عمومِ بلوٰی کی کوئی گنجائش نہیں۔عمومِ بلوٰی کا اعتبار وہیں ہوتا ہے جہاں کوئی نص قطعی موجود نہ ہو ۔مثلاً سود کاحرام ہونا قرآن کریم کی واضح نصوص سے ثابت ہے۔کسی بھی طرح کے سود کو حلال بنانے کیلئے اجتہاد کرنا یا عمومِ بلوٰی یا ابتلاء عام کو سند بنانا شریعت سے انحراف کے مترادف ہے۔لہذا اگر کسی ملک یا ساری دنیا میں سودی کاروبار اور شراب نوشی عام ہوجائے ،اسی طرح سٹہ بازی یا ایسا کاروبار جو اس کی تعریف میں آتا ہو رواج پذیر ہوجائے،یا عورتیں پردہ بالکل ترک کردیں تو ان امور میں عمومِ بلوٰی کا اعتبار بالکل نہیں کیاجائے گا،کیونکہ نص قطعی کے مقابلے میں عمومِ بلوٰی کا اعتبار نہیں ہوتا ۔
عمومِ بلوٰی نص ظنی کے معارض ہو:-
اگر عمومِ بلوٰی نص ظنی کے معارض ہو تو ایسی صورت میں عمومِ بلوٰی پر عمل کیا جائے گا ؟ یا خبر واحد پر؟ چنانچہ اس سلسلے میں فقہاء کرام ؒکا اختلاف ہے۔امام سرخسیؒ اور علامہ ابن نجیمؒ کا مذہب یہ ہے کہ اگر نص ظنی اور عموم بلوٰی میں تعارض ہوجائے تو ایسی صورت میں نص ظنی (خبر واحد) پر عمل کیا جائے گا۔
امام سرخسیؒ فرماتے ہیں:
وإِنما تعتبر البلوٰی فیما لیس فیہ نص بخلافہ فأما مع وجود النص لا معتبر بہ. (المبسوط:۴/۱۰، تبیین الحقائق:۲/۸۰)
ترجمہ:عمومِ بلوٰی کا اعتبار وہاں کیا جائے گا جہاں اس کے خلاف کوئی نص موجود نہ ہو۔جہاں نص موجود ہو وہاں عمومِ بلوٰی کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
وقال ابن نجیمؒ: ولا اعتبار عندہ بالبلوٰی فی موضع النص، وقال الحمویؒ: المشقة والحرج إنما یعتبران فی موضع لا نص فیہ، وأما مع النص بخلافہ فلا.(غمز عیون الأبصار شرح کتاب الأشباہ والنظائر،۱/۲۷۴/تحت القاعدۃ الرابعۃ:المشقۃ تجلب التیسیر/بیروت)
جبکہ علامہ ابن ہمام ؒاور بعض دیگر فقہاء کرامؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر عمومِ بلوٰی اور نص ظنی میں ٹکراؤ آجائے تو خبرِ واحد کو چھوڑ کر عمومِ بلوٰی پر عمل کیا جائے گا۔
علامہ ابن ہمامؒ فتح القدیر میں لکھتے ہیں:
وما قیل إن البلوٰی لاتعتبر فی موضع النص عنہ ،کبول الانسان ممنوع، بل تعتبر إذا تحققت، بالنص النافی للحرج وھو لیس معارضة للنص بالرأی۔(فتح القدیر:۱/۱۸۹)
یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ عمومِ بلوٰی اس مسئلے میں معتبر نہیں ہے جس میں نص موجود ہو،یہ بات ناقابل تسلیم ہے۔نص کی موجودگی میں بھی عموم کا اعتبار کیا جائیگابشرطیکہ عمومِ بلوٰی متحقق ہو،اس نص کی بناء پر جو حرج کی نفی کرتی ہے،اور یہ رائے کے ذریعے نص کا معارضہ نہیں ہے۔
اس مسئلے کے متعلق امام سرخسی ؒ اور علامہ ابن نجیم ؒ کا قول راجح معلوم ہوتا ہے۔لیکن مجھے دیگر فقہی عبارات اور جزئیات کی روشنی میں یہ بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کہ عمومِ بلوٰی کی وجہ سے حدیث (خبرِ واحد) کو بالکلیۃ چھوڑنا تو درست نہیں ہے البتہ حدیث میں تخصیص کرکے یوں کہا جاسکتا ہے کہ جس صورت کے متعلق حدیث وارد ہوئی ہے وہ تو ناجائز ہے لیکن دیگر صورتیں عمومِ بلوٰی کی وجہ سے جائز ہیں۔جیسا کہ بلخ کے فقہاء کرامؒ نے قفیز الطحان سے ملتی جلتی صورتوں کو تعامل کی بنیاد پر اس لیے جائز کہا ہے کہ عرف و تعامل کی وجہ سے اگرچہ حدیث کو منسوخ تو نہیں کیا جاسکتا،البتہ اس میں تخصیص کی جاسکتی ہے۔علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
لو دفع إلی حائک غزلاً لینسجه بالثلث فمشایخ بلخ کنصیر بن یحیی ومحمد بن سلمة وغیرھما کانوا یجیزون ھذہ الإجارۃ فی الثیاب لتعامل أھل بلدھم فی الثیاب، والتعامل حجة یترک بہ القیاس ویخص بہ الأثر وتجوز ھذہ الإجارۃ فی الثیاب للتعامل بمعنی تخصیص النص الذی ورد فی قفیز الطحان، لأن النص ورد فی قفیز الطحان لا فی الحایک إلا أن الحایک نظیرہ فیکون واردًا فیہ دلالة فمتی ترکناالعمل بدلالة ھذا النص فی الحایک عملنا بالنص فی قفیز الطحان کان تخصیصًا لا ترکًا اصلاً وتخصیص النص بالتعامل جائز.(شرح عقود رسم المفتی:۱۴)
ترجمہ: اگر کسی نے کپڑا بننے والے کو کپڑا اس شرط پر دے دیا کہ اس کپڑے کی ایک تہائی مقدار کے بدلے میں اسے کپڑا بن دے گا تو بلخ کے مشائخ جیسے نظیر بن محمد یحییٰ،محمد بن سلمہ وغیرہ نے اس صورت کو جائز قرار دیا ہےکیونکہ ان کے شہر میں اس طرح معاملہ کرنے کا عام رواج تھااور تعامل ایک ایسی دلیل ہے جس کی وجہ سے قیاس کو ترک کیا جا سکتا ہے اور حدیث میں تخصیص کی جاسکتی ہے،لہذا تعامل کی وجہ سے کپڑوں کے اجارہ میں اس صورت کو جائز قرار دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ قفیز الطحان سے متعلق وارد حدیث کے اندر تخصیص کردی گئی ہے کیونکہ حدیث قفیز الطحان سے متعلق ہے،کپڑے بننے سے متعلق نہیں،البتہ کپڑابننے کی صورت اس کی نظیرہے،اس لیے وہ حدیث دلالۃً اس کے بارے میں بھی ہوگی،لہذا ہم نے تعامل کی وجہ سے کپڑا بننے کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل نہیں کیا اور قفیز الطحان کے سلسلے میں اس حدیث پر عمل کیا تو یہ حدیث میں تخصیص ہوئی،حدیث کوبالکلیہ ترک کرنا نہ ہوا اور تعامل کی وجہ سےحدیث میں تخصیص کی جا سکتی ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اگر قفیز الطحان کا رواج ہوجائے تو تعامل کی وجہ سے اس کوجائز نہیں قرار دیا جاسکتا کہ اس سے حدیث کو بالکلیہ چھوڑنا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں ہے،البتہ اس سے ملتی جلتی صورتوں کا تعامل ہوجائے تو تعامل کی وجہ سے حدیث میں تخصیص کرکےان کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔
(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ عموم بلوٰی کی وجہ سے واقعۃً مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت متحقق ہو ،محض وہم اور تن آسانی کی بنیادپر عموم بلوٰی کا فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
(۳) عموم بلوٰی پر مبنی احکام کی سہولت ابتلائےعام کےوقت تک محدود ہوگی۔ابتلائے عام ختم ہوتی ہی سہولت وتخفیف کا حکم ختم ہوجائے گا۔یہ شرط فقہ کے اس مشہور قاعدہ سےماخوذہے (ما جاز لعذرٍ بطل بزوالہ) جو چیز کسی عذر کی بناءپر جائز قراردیا گیا ہو تو عذر ختم ہوتے ہی جواز کا حکم بھی ختم ہوجاتاہے۔
(۴) عموم بلوٰی بالفعل موجود ہو،آئندہ اس کی وقوع کا اندیشہ معتبر نہیں۔
(۵)عموم بلوٰی کے تحقق کا فیصلہ ارباب اہل علم واہل فتوی حضرات کے رائے پر موقوف ہوگا۔عوام کا فیصلہ اس سلسلے میں معتبر نہیں ہوگا۔نیز اس سلسلے میں مناسب یہ ہے کہ کوئی ایک مفتی خود رائی کے ساتھ فیصلہ نہ کرےبلکہ دیگر اہل فتوی حضرات سے مشورہ کرے اگر وہ بھی متفق ہوں تواتفاق رائے کے ساتھ ایسا فتوی دیاجائے۔
عموم بلوٰی کی وضاحتی مثالیں
جن مسائل میں فقہاءکرام ؒنے عموم بلوٰی کو بنیاد بناکر سہولت ،وسعت اور گنجائش کا حکم لگایا ہےان کی تعداد تو فقہی کتب میں کافی زیادہ ہے جس کا احاطہ اس مختصر مضمون میں مشکل ہے اس لیے ذیل میں عموم بلوٰی کو مزید واضح کرنے کے لیے صرف پانچ مثالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
(۱) پیشاب کی باریک چھینٹیں
پیشاب کا ایک قطرہ قطرہ نجس و ناپاک ہے،لیکن پیشاب کرتے وقت بدن اور کپڑے پرسوئی کی نوک کے برابر باریک چھینٹیں پڑ ہی جاتی ہیں۔عام طور پراس سے بچنا مشکل ہوتاہے،اس لیے شریعت نے عام لوگوں کے ابتلاء کی وجہ سے اس کو معاف قراردیاہے،لہذا پیشاب کے ایسی باریک چھینٹیں جوسوئی کی نوک کے برابر ہوں معاف ہے۔ان سے کپڑا اور بدن ناپاک نہیں ہوگا۔
وفی التنویر مع شرحہ: وبول انتضح کرأس إبرٍ، وفی الشامیة تحتہ: والحاصل أنّ فی المسألة قولین مبنیین علی الإختلاف فی المراد من قول محمّدؒ کرؤس الإبر، أحدھما:أنّہ قیّد بہ عن رأسھا من الجانب الآخر وعن رأوس المال...وثانیھما:أنّہ غیر قید وإنّما ھو تمثیل للتقلیل، فیعفی عنہ سواءً کان مقدار رأسھا من جانب الخرز أو من جانب الثقب، ومثلہ ما کان کرأس المسئلة، وعلمت أنّہ فی الکافی اختار القول الثانی ولکن ظاھر المتون والشروح اختار الأول لأنّ العلة الضرورۃ قیاساًعلی ما عمّت بہ البلوٰیٰ ممّا علی أرجل الذناب فإنّہ یقع علی النجاسة ثمّ یقع علی الثباب، قال فی النھایة ولا یستطاع الإحتراز عنہ۔ (۱/۳۲۳/باب الأنجاس)
(۲) بارش میں کیچڑ اور پانی کے چھینٹوں کا مسئلہ
بارش کی موسم میں راستوں پر موجودکیچڑ اور پانی کے چھینٹے اگر کپڑوں یا بدن پر لگ جائیں تو عموم بلوٰی کی وجہ سے فقہاء کرامؒ نے فرمایا ہے کہ ان چھینٹوں سے کپڑا اور بدن ناپاک نہیں ہوگا بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر محسوس نہ ہو۔
وفی ردالمحتار:طین الشوارع عفو وإن ملأ الثوب للضرورۃ ولو مختلطاً بالعذرات وتجوز الصلاۃ معہ۔۔۔ والحاصل أن الذی ینبغی أنّہ حیث کان العفو للضرورۃ۔۔۔ وإلّا فلا ضرورۃ۔ (۱/۳۲۴/باب الأنجاس وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی: ۱/۱۶۱/باب الأنجاس)
(۳) تر نجاست سے جوتے کی پاکی کا مسئلہ
جوتے اور چمڑے کے موزے پراگر تر نجاست لگ جائے جیسے گوبر،پاخانہ اور خون وغیرہ اور خشک ہونے سے پہلے جوتے اورموزے کو زمین پر رگڑا جائے تو جمہور کے نزدیک محض زمین پر رگڑنے سے جوتا اور موزہ پاک نہیں ہوگا،کیونکہ تر نجاست زمین پر رگڑنے سے اور زیادی پھیل جاتی ہے،ظاہرہے کہ اس سے جوتا اور موزہ مزید ملوث ہوگا نہ کہ پاک۔ لیکن امام ابویوسفؒ کے نزدیک اس صورت میں اگر جوتے اور موزے کو اچھی طرح رگڑ دیا جائے یہاں تک کہ نجا ست کا اثر ختم ہوجائے تو عموم بلوٰی کی وجہ سے جوتا اور موزہ وغیرہ پاک ہوجائے گا، دھونے کی ضرورت نہیں ۔
صاحب ہدایہ، علامہ ابن ہمامؒ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ نے عموم بلوٰی یعنی ابتلائےعام کی وجہ سے حضرت امام ابویوسفؒ کے قول کو راجح قرار دیاہے۔
وفی الرطب لایجوز حتّی یغسلہ، لأنّ المسح بالأرض یکثرہ ولایطھرہ، وعن ابی یوسفؒ أنّہ إذا مسحه بالأرض حتّی لم یبق اثرا لنجاسة یطھرلعموم البلوٰیٰ۔(فتح القدیر،کتاب الطھارۃ،۱/۹۴)
وفی ردّالمحتار:وعلی قول أبی یوسفؒ أکثر المشائخ وھو الأصح، المختار وعلیہ الفتوی لعموم البلوٰیٰ۔ (۱/۳۱۰)
(۴) نماز میں قرأت کے دوران ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنے کا مسئلہ
نماز میں قرأت کے دوران اگر ایک حرف دوسرے حرف سے بدل جائے تو نماز کے فساد اور عدم فساد کےمتعلق متقدمین فقہاءکرامؒ کےنزدیک تفصیل یہ ہےکہ اگران دوحرفوں کامخرج ایک یامتقارب ہو،اور ایک حر ف کا دوسرےسےبدل لینا بقواعد عربیت جائزبھی ہو،یعنی بدلنے سےمعنیٰ مراد میں زیادہ تغیرفاحش نہ پیدا ہوتا ہو تو ان کے باہمی تبدیلی سے نمازفاسد نہ ہوگی،خواہ کوئی بھی حرف ہواور کسی طرح بھی بدلا جائے،مثلاً:قاف اور کاف، سین اور صاد وغیرہ اور جہاں یہ صورت نہ ہو،بلکہ اس کے تبدیل سے معنی میں تغیر فاحش پیدا ہوجائے وہاں نماز فاسد ہو جائےگی۔
چنانچہ متقدمین کے قول کے موافق جب کوئی شخص ضاد کو ظا خالص سےبدل دے،یا دال پڑھے،دونوں صورتوں میں معنی پر غور کیا جائےگا،اگر تغیر فاحش پیداہوگیا کہ مراد قرآن بالکل بدل گئی تو فساد نماز کا حکم کیا جائے گا ورنہ نہیں۔
’’شرح منیہ‘‘ میں ہے:
أمّا إذا قرأ مکان الذال المعجمة ظاءً معجمةً او قرأ الظاء المعجمة مکان الضاد المعجمة أو علی القلب۔۔۔فتفسد صلاتہ وعلیه اکثر الأئمة للغیر الفاحش البعید ومنھا خضرا بالدال المھملة مکان الضاد المعجمة تفسد للبعد الفاحش۔(کبیری شرح منیہ،۱/۴۴۸)
متاخرین فقہاء کرام نے جب اس مسئلےمیں عموم بلوٰیٰ کا مشاہدہ کیا کہ اول تو عرب میں بھی بوجہ اختلاط عجم اب ان چیزوں کی رعایت کما حقہ نہیں رہی،پھر عجم تو اس سے عمومًا ناواقف ہیں۔اس لیے متقدمین کے مذہب کے مطابق تو شائد صرف خاص خاص قراء حضرات کی نماز صحیح رہےگی۔اس لیے متاخرین فقہاء نے عموم بلوٰیٰ کی وجہ سے یہ فتوی دیا کہ حروف کی باہمی تبدیلی مطلقاً مفسد نماز نہیں،خواہ اتحاد وقرب مخرج ہو یا نہ ہو اور معنی میں تغیرفاحش ہو یا نہ ہو۔
الخطا إذا دخل فی الحروف لاتفسد لأنّ فیہ بلوٰی عامة الناس لأنھم لا یقیمون الحروف إلّا بمشقّةٍ وفیھا إذا لم یکن بین الحروفین اتحاد المخرج ولا قربة إلّا فیہ بلوٰی العامة کالذال مع الضاد او الزاء المخلص مکان الذال والظاء مکان الضاد لاتفسد عند بعض المشائخ۔(شامیہ:۱/۵۹۲،با ب زلۃ القاری)
البتہ چونکہ متأخرین کے قول کے موافق عوام میں زیادہ بے پروائی ہونے کا احتمال تھا۔اس لیے بعض محققین متأخرین نے ایک بین بین اور درمیانی صورت اختیار فرمائی جس میں عوام پر تنگی بھی نہیں اور اصل حکم سے زیادہ بُعدبھی نہیں۔وہ یہ ہے کہ عوام جو مخارج اور صفات سے واقف نہیں،بوجہ عذر ناواقفیت یا عدم التمیزکے اگر ان کی زبان سے ایک حرف کے جگہ دوسرا حرف نکل جائے اور وہ سمجھے کہ میں نے وہی حرف نکالاہے جو قرآن مجید میں مذکور ہےتو عموم بلوٰی کی وجہ سےاس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔اور جو شخص واقف ہےاورصحیح حرف نکالنے پر قادر ہے اور پھر بھی جان بوجھ کریا بے پروائی سے غلط حرف نکا لتا ہے تو جس جگہ معنی میں تغیر فاحش پیدا ہوجائے گا،تو متقدمین کے قول کے موافق اس کی نماز فاسد قرار دی جائے گی۔
حاصل یہ ہے کہ عوام کے حق میں عموم بلوٰی کی وجہ سے متاخرین کے قول پر فتوی ہے،جبکہ مجودین علماء اور مشاق قراء کے حق میں متقدمین کے قول پر فتوی ہے۔
کما فی الشامیة: والقاعدۃ عند المتقدمین أن ما غیر المعنی تغییرا فاحشاً یکون اعتقادہ کفراً یفسد فی جمیع ذلک۔۔۔فإن لم یکن مثله فی القرآن والمعنی بعید متغیر تغیراً فاحشاً یفسد۔۔۔وقال بعض المشائخ:لاتفسد لعموم البلوٰیٰ، وأمّاالمتأخرون ۔۔۔۔ فاتفقوا علی أنّ الخطأ فی الإعراب لایفسد مطلقاً ولو كان اعتقادہ کفراً لأنّ أکثر الناس لایمیّزون بین وجوہ الإعراب۔قال قاضی خاں:وما قال المتأخرون أوسع، وما قال المتقدمون أحوط، وإن کان الخطأ بابدال حرف بحرف، فإن أمکن الفصل بینھما بلا کلفةٍ کالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مکان الصالحات فاتفقوا علی أنّہ مفسد، وإن یمکن إلّا بمشقّة کا لظاء مع الضاد والصاد مع السین فأکثرھم علی عدم الفساد لعموم البلوٰیٰ (۱/۵۹۰، باب زلۃ القاری)
وفی شرح المنیة: أنّہ یفتی فی حقّ الفقہاء بإعادۃ الصلاۃ وفی حقّ العوام بالجواز۔ (کبیری:۱/۴۴۸، وکذا فی جواھر الفقہ،۳/۳۴)
(۵) درخت پر پھل چھوڑنے کی شرط لگانے کا مسئلہ
درخت پر موجود پھل اس شرط کے ساتھ خریدناکہ پھل کچھ مدت تک درخت پرلگا رہےگا تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔البتہ امام محمدؒکے نزدیک اگر پھل پک چکا ہوتو درختوں پر چھوڑنےکی شرط لگانا اگر چہ مقتضائےکے خلاف ہےمگر عموم بلوٰیٰ کی وجہ سے یہ شرط لگانا جائزہے۔
وفی الدرالمختار: وإن شرط ترکھا علی الأشجار فسد وقیل قائله محمدؒ لایفسد إذا تناھت الثمرۃ لتعارف وبه یفتی، وفی ردّالمحتار:قوله وبه یفتی، ویجوز عند محمدؒاستحساناً وھو قول الأئمة الثلاثة، واختارہ الطحاوی لعموم البلویٰ۔ (۴/۵۵۴/کتاب البیوع،مطلب فی بیع الثمر والشجر)
عموم بلویٰ کی وجہ سے مذہب غیر پر فتوی دینا
جس مسئلے میں واقعتا ابتلاءِ عام کی وجہ سے اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنے میں شدید دشواری ہو ،تو ایسی صورت میں فقہاء کرامؒ نے مذہبِ غیر پر فتوی دینے کو جائز قرار دیا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں خاص طور پر دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔
پہلی بات یہ ہے: کہ کوئی ایک مفتی خود رائی کے ساتھ فیصلہ نہ کرے بلکہ اس سلسلے میں دوسرے اہلِ فتوی سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ دوسری بات یہ ہے: کہ ائمہ اربعہ سے خروج نہ کیا جائے ۔
چنانچہ فقہاء ِاحنافؒ نے ضرورت وحاجت اور ابتلاءِ عام کی وجہ سے کئی مسائل میں دوسرے مذہب پر فتوٰی دیا ہے۔ مثلا:اگر کسی کا مال دوسرے شخص کے ذمہ لازم ہو اور وہ نہ دے رہاہو ،پھر مدیون کا کوئی مال جو مالِ واجب کی جنس سے نہ ہو اور دائن کے پاس کسی طریقے سے آجائے ،تو اصل حنفی مسلک کے مطابق دائن کےلئے اس مال کو بیچ کر اپنا حق وصول کرنا جائز نہیں ہے ۔لیکن متاخرین حنفیہؒ نے اس سلسلے میں امامِ شافعیؒ کے قول پر فتوٰی دیا ہے ۔ چنانچہ در مختار میں ہے :
لیس لذی الحق أن یأخذ غیر جنس حقہ وجوّزہ الشافعیؒ وھو الأوسع۔
اس کے تحت علامہ شامیؒ لکھتےہیں:
قولہ:(وجوّزہ الشافعیؒ) قدمنا فی کتاب الحجر أن عدم الجواز کان فی زمانھم ۔أمّاالیوم فالفتوٰی علی الجواز ۔ قولہ:(وھو الأوسع) لتعینہ طریقا لإستیفاء حقہ فینقل حقہ من الصورۃ إلی المالیة ۔ (رد المحتار ،۶/۱۵۱،کتاب الحظر والإباحۃ ) ۔
اس سلسلے میں استاد محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:
’’چونکہ چاروں مذاہب بلاشبہ برحق ہیں اورہر ایک کے پاس دلائل موجود ہیں اس لئے اگر مسلمانوں کی کوئی شدید اجتماعی ضرورت داعی ہو ،تو اس موقع پر کسی دوسرے مجتہد کے مسلک پر فتوی دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ،حضرت والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت گنگوہی قدس سرہ نے حضرت تھانویؒ کو یہ وصیت کی تھی اور حضرت تھانویؒ نے ہم سے فرمایا کہ آجکل معاملات پیچیدہ ہوگئے ہیں اور اس کی وجہ سے دیندار مسلمان تنگی کا شکار ہیں ؛اس لئےخاص طور سے بیع وشرء اورشرکت وغیرہ کے معاملات میں جہاں عام ہو وہاں ائمہ اربعہ میں سے جس امام کے مذہب میں عام لوگوں کے لئے گنجائش کا پہلو ہو اُس کو فتوی کے لئے اختیار کرلیا جائے ۔لیکن حضرت والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ کسی دوسرے امام کا قول اختیار کرنے کے لئے چند باتوں کا اطمینان کرلینا ضروری ہے ۔سب سے پہلے تو یہ کہ واقعۃً مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت متحقق ہے یا نہیں،ایسا نہ ہو کہ محض تن آسانی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرلیا جائے اور حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس اطمینان کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی ایک مفتی خود رائی کے ساتھ یہ فیصلہ نہ کرے ،بلکہ دوسرے اہل فتوی حضرات سے مشورہ کرے ،اگر وہ بھی متفق ہوں تو اتفاق رائے کیساتھ ایسا فتوی دیا جائے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جس مام کا قول اختیار کیا جارہا ہے اس کی پوری تفصیلات براہ راست اس مذہب کے اہل فتوی علماء سے معلوم کی جائیں ،محض کتابوں میں دیکھنے پر اکتفاء نہ کیا جائے ؛کیونکہ بسا اوقات اس قول کی بعض ضروری تفصیلات عام کتابوں میں مذکور نہیں ہوتیں اور ان کے نظر انداز کردینے سے تلفیق کا اندیشہ رہتا ہے۔‘‘
تیسری بات یہ ہے: کہ ائمہ اربعہ سے خروج نہ کیا جائے ؛کیونکہ ان حضرات کے علاوہ کسی بھی مجتہد کا مذہب مدوّن شکل میں ہم تک نہیں پہنچا اور نہ ان کے متعین اتنے ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی قول استفاضہ یا تواتر کی حد تک پہنچ جائے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نےعقد المجید میں ائمہ اربعہ سے باہر جانے کے مفاسد تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔
چنانچہ بعض مصیبت زدہ خواتین کے لئے حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے مالکی مذہب پر فتوی دینے کا ارادہ کیا تو ان تمام باتوں کو پوری احتیاط کے ساتھ مدِّنظر رکھا اور براہ راست مالکی علماء سے خط و کتابت کے ذریعے مذہب کی تمام تفصیلات معلوم کیں اور تمام علمائے ہندسےاستصواب کے بعد فتوی شائع فرمایا ۔(مفتی اعظم نمبر ۱/۳۸۱)۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امداد الفتاویٰ کے اندر متعدد مسائل میں عموم بلوٰیٰ کے خاطرمذہب غیر پر فتوی دیا۔مثلاً:بیع سلم میں احناف کے نزدیک شرط یہ ہے کہ مسلم فیہ وقت میعاد تک بازارمیں موجود رہے ، لیکن حضرتؒ نے اس معاملے میں عموم بلوٰی کی وجہ سےامام شافعیؒ کے قول پر عمل کی گنجائش دیتے ہوئےفرمایا ہے کہ:مبیع کا وقت میعاد تک پایا جانا حنفیہ کے نزدیک شرط ہے،لیکن امام شافعیؒ کے نزدیک صرف وقت میعاد پر پایا جاناکافی ہے،کذا فی الھدایۃ،تو اگر ضرورت میں اس قول پرعمل کرلیا جاوے تو کچھ ملامت نہیں ،رخصت ہے۔(امداد الفتاوی:۳/۱۰۴)
اسی طرح احناف کے نزدیک بیع سلم میں ایک مہینے کی مدت شرط ہے،لیکن حضرتؒ فرماتے ہیں:
’’اور امام شافعیؒ کے نزدیک چونکہ اجل شرط نہیں ،اس لیے سلم میں داخل ہوسکتاہے،چونکہ ابتلاء عام ہے،لہذا امام شافعیؒ کے قول پر عمل کی گنجائش ہے۔‘‘ (امداد الفتاویٰ:۳/۲۱)
حضرت مولانا ظفراحمد عثمانی صاحبؒ امداد الأحکام میں لکھتے ہیں:
’’عموم بلوٰی کی وجہ سے کہ خاص وعام ایک ناجائز کام میں مبتلا ہوں،ہر ناجائز کام جائز نہیں ہوتا،بلکہ جس میں بوجہ اختلاف ائمہ کے کسی درجہ میں جواز کی گنجائش ہو وہاں عموم بلوٰیٰ کی وجہ سے کسی دوسرے امام کے قول کو اختیار کرلیاجاتاہے۔‘‘ (امداد لاحکام،۱/۲۱۳/کتاب العلم)
محدث العصر حضرت مولاناسید محمد یوسف بنوری صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’اگرمسئلہ مطلوبہ سب فقہاء کے ہاں ملتا ہے،لیکن حنفی مذہب میں دشواری ہے اور بقیہ مذاہب میں نسبتاً سہولت ہے اور عوام کا عام ابتلاء ہے تو اخلاص کے ساتھ جماعت اہل علم غور کرے،اگر ان کویقین ہوجائے کہ عموم بلوٰی کے پیش نظر عصر حاضر میں دینی تقاضا سہولت وآسانی کا مقتضی ہے تو پھر مذہب مالک،مذہب شافعی،مذہب احمدابن حنبل کوعلی الترتیب اختیار کرکے اور اس پر فتوی دیکر فیصلہ کیا جائے۔‘‘ (بصائر وعبر:۱/۲۵۴،جدید فقہی مسائل اور چند رہنما اصول)
ایک اور موقع پر حضرت ؒنے فرمایا:
’’اگر مذہب حنفی میں واقعی دشواری ہے او رامت محمدیہ واقعی تیسیروتسہیل کی محتاج ہے،اور اعذار بھی صحیح واقعی ہیں،محض وہمی و خیالی نہیں ہیں تو دوسرے مذہب پر عمل کرنے اورفتوی دینے کی گنجائش ہوگی، اور ضرورت کس درجہ میں ہے اور ہے بھی یا نہیں؟ یہ صرف علماء اور فقہاء کی جماعت طے کرے گی۔‘‘ (بصائروعبر:۱/۴۷۹،عصر حاضر کے جدید مسائل اور ان کا حل)
فتاوی قاسمیہ میں ہے:
’’جس طرح ضرورت عامہ کی وجہ سےعدول عن المذہب جائز ہے،اسی طرح عموم بلوٰی کی وجہ سے بھی عدول عن المذہب جائزہے۔‘‘ (فتاوی قاسمیہ:۱/۲۷۳)
عموم بلوٰی اور حرج میں فرق
عموم بلوٰی اور حرج میں فرق یہ ہے کہ حرج عام ہےاور عموم بلوٰی اس کے مقابلے میں خاص ہے،جہاں عموم بلوٰی ہوگا وہاں حرج بھی ہوگا لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جہاں حرج ہو وہاں عموم بلوٰی بھی پایا جائے۔
عرف اور عموم بلوٰی میں فرق
بعض حضرات نے عرف اور عموم بلوٰی میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ اسباب غیر اختیاری کے تحت جو حاجت عامہ واقع ہوتی ہے اس کو عموم بلوٰی کہتے ہیں اور اسباب اختیاری کے تحت جب حاجت عامہ کا وقوع ہوتا ہے تو اس کو عادۃ الناس تعامل اور عرف سے موسوم کیا جاتاہے۔استقراء سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ عام طور پر طہارت وعبادات میں ابتلائے عام از قسم عموم بلوٰی ہوتاہے اور معاملات میں ابتلائے عام کو عرف وتعامل کہتےہیں۔ (ضرورت وحاجت کا احکام شرعیہ میں اعتبار،۴۳)
اس سلسلے میں عمدہ اورمناسب بات وہی ہے جو حضرت مولانا مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب نے فتاوی قاسمیہ میں بیان فرمائی ہے :چنانچہ مفتی شبیر احمدقاسمی صاحب لکھتے ہیں:
’’عرف الگ چیز ہے اور عموم بلوٰی الگ سے دوسری چیزہے،کیونکہ بہت سے امورایسے ہیں جو عموم بلوٰی کے دائرہ میں تو آتےہیں،مگر عرف کے دائرہ میں نہیں،مثلاً:طین شارع کا مسئلہ،گوبر کی راکھ کا مسئلہ،غسالہ میت کا مسئلہ اور اس نوعیت کی بعض دیگر مسائل کا تعلق عموم بلوٰی سے تو ہے مگر عرف سے نہیں۔اور بعض جزئیات ایسے بھی ہیں جن کا تعلق کبھی عموم بلوٰی اور عرف دونوں سے ہوجاتا ہے،مگر قلیل درجہ میں ہے،مثال کے طور پربیع الوفاء کا مسئلہ ہے کہ اس کا تعلق عرف سے بھی ہے اور عموم بلوٰی سے بھی ،اسی طریقہ سے نسج الحائک کی اجرت ،یہ مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق عرف اور عموم بلوٰی دونوں سے ہو سکتا ہے۔‘‘ (فتاوی قاسمیہ:۱/۲۶۴)
عموم بلوٰی سے متعلق چند اہم قواعدِ فقہیہ
(۱) المشقة تجلب التیسیر۔ (الأشباہ النظائر:الفن الأول،۷۷)
مشقت آسانی کو لیکر آتی ہے۔
(۲) الأمر إذا ضاق إتسع ۔ (الأشباہ النظائر:الفن الأول،۸۵)
جب کسی کام میں تنگی پیدا ہو جائے تو وہاں وسعت دی جائیگی۔
(۳)الضرر یزال۔(مجلۃ الاحکام العدلیہ)
ضرر کا ازالہ کیا جائے گا۔
(۴) الضرورات تبیح المحظورات،(الأشباہ النظائر۱/۸۸)
شدید حاجات،ممنوع چیزوں کو مباح کردیتی ہیں۔
(۵) ما لا یمکن التحرز منہ یکون عفواً۔ (بدائع الصنائع،۱/۲۲۹)
جس چیز سے بچنا ممکن نہ ہو وہ قابل عفو ہے۔
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
یکم مئی کو عام طور پر دنیا بھر میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں کے حقوق کے لیے جانوں کی قربانی دینے والے مزدوروں کی یاد میں ہوتا ہے، اس میں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق و مفادات کی بات ہوتی ہے اور محنت کشوں کی تنظیموں کے علاوہ دیگر طبقات بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
محنت اور مزدوری انسانی معاشرہ کی ضروریات میں سے ہیں اور زندگی کے اسباب مہیا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بلکہ انسانی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش یہی ہے کہ وہ معاوضہ پر دوسرے انسانوں کے کام کرتے ہیں اور وہ معاوضہ ان کا ذریعہ معاش ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی محنت مزدوری کا کام کیا، بلکہ خود نبی اکرمؐ نے ایک دور میں مکہ مکرمہ کے بعض خاندانوں کی بکریاں معاوضہ پر چرائی تھیں۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت کا مشغلہ یہی تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے غسل کو فرض اور بعد میں سنت قرار دیے جانے کی حکمت یہ بیان فرماتی ہیں کہ لوگ محنت مزدوری کیا کرتے تھے، لباس کے لیے ایک ہی جوڑا بلکہ بعض کے پاس صرف ایک چادر ہوتی تھی، محنت مزدوری میں پسینہ کی وجہ سے لباس اور جسم سے بدبو اٹھتی تھی، کام کرتے کرتے مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے آجایا کرتے تھے، مسجد چھوٹی اور چھت نیچی تھی، اس میں دوپہر کے وقت ہجوم سے بدبو کا عام ماحول بن جاتا تھا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نمازِ جمعہ کے لیے غسل کر کے آیا کرو اور اگر میسر ہو تو دھلا ہوا لباس پہن کر آؤ تاکہ بدبو کا ماحول نہ بنے۔ بعد میں کچھ سہولت ہوئی، لباس کی متبادل چادریں میسر ہوئیں اور خود کام کرنے کی بجائے دوسروں سے معاوضہ پر کام لینے کی آسانی ہوئی تو ماحول میں فرق پیدا ہوا تو نمازِ جمعہ کے لیے غسل فرض کی بجائے سنت کا درجہ اختیار کر گیا۔
مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عمومی زندگی تنگ دستی اور فقر و فاقہ کی تھی۔ آہستہ آہستہ حالات بہتر ہونا شروع ہوئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے وہ وقت بھی دکھایا کہ حضرت ابو مسعود انصاریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ جب اجتماعی کاموں کے لیے چندہ دینے کی بات فرمایا کرتے تھے تو ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، ہم بازار جا کر لوگوں کی مزدوری کر کے تھوڑی بہت کمائی کرتے تھے، اس میں سے کچھ اپنے خرچہ کے لیے رکھ لیتے تھے اور باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ یہ بتا کر حضرت ابو مسعود انصاریؓ فرماتے ہیں کہ اب تو ہمارے پاس لاکھوں درہم موجود رہتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ کا بنیادی ذوق بلکہ مشغلہ بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا، باتیں سننا، یاد رکھنا اور لوگوں تک پہنچانا تھا۔ گزر اوقات کے لیے ہفتہ میں ایک دو روز محنت مزدوری کر کے باقی ہفتہ اسی سے گزارتے تھے۔ جنگل سے لکڑیاں لا کر بازار میں بیچتے تھے۔ جن دنوں حضرت مروان بن الحکمؒ مدینہ منورہ کے گورنر تھے، حضرت ابو ہریرہؓ ان کے دوست تھے اور معاون بھی تھے۔ گورنر صاحب جب کہیں باہر دورے پر جاتے تو حضرت ابو ہریرہؓ کو قائم مقام گورنر بنا جاتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ بہت خوش مزاج بزرگ تھے، ہلکی پھلکی دل لگی اور ہنسی مذاق ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ قائم مقام گورنر ہوتے ہوئے ایک روز جنگل میں اپنے کام کے لیے گئے، لکڑیاں جمع کر کے ان کا گٹھڑ سر پر اٹھا کر بازار میں آگئے اور آواز لگانا شروع کر دی ’’جاء الامیر، جاء الامیر‘‘ کہ لوگو! راستہ دو تمہارا امیر آ رہا ہے۔ یعنی خود ہی اپنی پروٹوکول ڈیوٹی دے رہے ہیں جو کہ ان کی خوش مزاجی کا اظہار تھا۔
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ محنت مزدوری کوئی عیب یا توہین کی بات نہیں، اپنی محنت کو ذریعہ معاش بنانا حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشغلہ رہا ہے بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی محنت سے حاصل ہونے والی کمائی کو بہترین کمائی قرار دیا ہے۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور ملک کا بادشاہ ہونے کے باوجود ہاتھ کی کمائی سے اپنا وقت چلاتے تھے۔
مگر مزدور اور محنت کش اس فضیلت اور عظمت کے باوجود ہمیشہ سے معاشرتی زیادتیوں کا شکار چلے آ رہے ہیں، ان کی حق تلفی ہر دور میں کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتی ہے، انہیں محنت کا معاوضہ کم ملتا ہے اور انہیں وہ معاشرتی عزت و وقار میسر نہیں ہوتا جو اُن کا حق ہے۔ آج بھی دنیا کے حالات کافی بدل جانے کے باوجود اس صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہے، جبکہ اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں اس کا احساس دوچند ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں گزارش کرنا اس موقع پر ضروری محسوس ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اپنا کام بازار میں پھیری لگا کر کپڑے بیچنا تھا، جو انہیں خلافت کی ذمہ داریوں میں مسلسل مصروفیت کے باعث ترک کرنا پڑا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مشورہ سے اصحابِ شورٰی نے خلیفہ کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس کا معیار یہ مقرر کیا کہ اتنا وظیفہ دیا جائے جس سے وہ ایک عام شہری کے معیار پر باوقار زندگی بسر کر سکیں اور اپنا اور زیرکفالت افراد کا خرچہ چلا سکیں۔ اس سے فقہاء کرامؒ نے یہ اصول قائم کیا کہ جو شخص دوسروں کے کام کی وجہ سے اپنا کام نہ کر سکے اس کا گھر کا باوقار خرچہ کام لینے والوں کے ذمہ ہے جو اس دور کے ماحول کے مطابق ہونا چاہیے۔
دوسری بات حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے اس ارشاد کے حوالہ سے عرض کروں گا کہ ’’لا رضاء مع الاضطرار‘‘ یعنی مجبوری کی رضا کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اس کا مطلب فقہاء کرامؒ یہ بیان فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی مجبوری یا لاچاری کی وجہ سے اپنے جائز حق سے کم پر راضی ہو گیا ہے تو اس کی اس رضا کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اسے وہی کچھ ملنا چاہیے جو اس کا حق بنتا ہے۔
میری طالبعلمانہ رائے میں آج کے دور میں محنت اور ملازمت دونوں دائروں میں اس اصول کو اختیار کرنا ضروری ہے کہ کسی مزدور، کسان یا ملازم کو اس کے کام کا اتنا معاوضہ ملنا ضروری ہے جو اس کے اپنے اور زیر کفالت افراد کی باوقار گزربسر کے لیے کافی ہو۔ اور اگر کوئی شخص مجبوری کی وجہ سے اپنے اس حق سے کم پر راضی ہو گیا ہے تو اس کی رضا کو کافی سمجھنے کی بجائے اس کے جائز حق کی ادائیگی معاشرہ اور قانون کی ذمہ داری بنتی ہے جسے ریاست اور نظام کو ادا کرنا چاہیے۔
شاہ ولی اللہ کے کلامی تفردات: ایک تجزیاتی مطالعہ (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری
قدم عالم کا قول
شاہ صاحب کا قدم عالم کا تصور بھی ان کے تفردات میں شما رہوتا ہے۔التفہیمات الالہیۃ میں لکھتے ہیں:
(العماء) لیست عین الذات من کل وجه ولا غیرھا من کل وجه وانھا قدیمة بالزمان حادثة بالذات من جھة انھا موجودة بالذات الالھیة
’’عما ء نہ تومن کل وجہ عین ذات (قدیم) ہے اور نہ اس کا غیر ہے۔وہ زمان کے لحاظ سے قدیم اور ذات کے لحاظ سے حادث ہے۔ایک حیثیت سے وہ ذات الہیہ کے ساتھ (دائمی طورپر) موجود ہے‘‘۔ (۳۵ الف)
اپنے اس خیال کوشاہ صاحب نے’’ الخیرالکثیر‘‘ میں بھی موکد کرنے کی کوشش کی ہے۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شاہ صاحب نے یہ تصورپوری طرح غوروفکر کے بعد ہی قبول کیا ہے۔ (۳۵ ب) زاہد الکوثری نے اس خیال کو ایک شر عظیم (داھیۃ الدواھی) قرار دیا ہے۔ (۳۶) شاہ صاحب نے ترمذی کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ سے ایک صحابی نے سوال کیا کہ : اے اللہ کے رسول! ہمارا رب اپنی مخلوقات کوپیدا کرنے سے قبل کہاں تھا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ:’’عماء‘‘ میں تھا۔نہ اس کے اوپرہوا تھی اور نہ اس کے نیچے ہواتھی اور اس نے اپناعرش پانی پر بنایا۔ (۳۷) شاہ صاحب ’’عماء‘‘ کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ وہ ایک ہیولانی مزاج رکھنے والی چیز ہےجوتمام روحانی اور جسمانی صورتوں کوقبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس کا قیوم رحموت ہے جواس کے وجود کی شرط ہے۔ (وھو طبیعة ھیولانیة قابلة لجمیع الصور الروحانیة والجسمانیة وقیومھا الرحموت) (۳۸) لیکن انورشاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے استدلال صحیح نہیں ہے کیوں کہ سائل کا سوال مطلق عالم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس عالم کے بارے میں ہے جسے وہ دیکھ اورمحسوس کررہا ہے۔ظاہرہے سوال کرنے والا ’’عماء‘‘ کی حقیقت کا کوئ علم نہیں رکھتا۔کیوں کہ اس کاعلم شریعت سے حاصل ہوا ہے۔ چناں چہ اگرسائل کا سوال یہ ہوتا کہ خدا عما سے قبل کہاں تھا تواس کا جواب یہ ہوتا کہ خدا موجود تھا اور اس کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ (۳۹)
قدم عالم کامسئلہ فلاسفہ ومتکلمین کے درمیان ایک معرکۃ الآرا مسئلہ رہا ہے۔متکلمین اس بات کے قائل رہے ہیں کہ عالم من جملہ اپنی تمام ترجزئیات وحیثیات کے ساتھ حادث ہے اورکلی طورپر کتم عدم سے وجود میں آیا ہے۔جب کہ فلاسفہ کا مذہب اس کے برعکس یہ ہے کہ قدیم حادث کی علت نہیں ہوسکتا کیوں کہ علت ومعلول کا وجود ایک ساتھ ہوتا ہے۔اس لیے علت کے قدیم ہونے کی صورت میں معلول بھی لازما قدیم ہوگا۔اس لحاظ سے وہ عالم کے قدم زمانی کے قائل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ عالم کے وجود وخلق کوجس کی حیثیت ایک مظروف کی ہے ظرف زمانی کے بغیرفرض نہیں کیا جاسکتا۔ارسطوکے نزدیک زمان ماضی غیر متناہی ہے۔ (افلاطون کے برعکس جواسے متناہی تصورکرتا ہے) خلیق کا عمل حرکت سے عبارت ہے اورزمانہ دراصل حرکت ہی کی ایک مقدار کا نام ہے۔’’ فصل المقال‘‘ میں ابن رشد نے اس پرتفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اوراس پر اپنے دلائل پیش کیے ہیں اور اس کا خلاصہ چند جملوں میں کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم یعنی خدا اور حادث یعنی کائنات یہ دونوں طرفین بالکل واضح اور متکلمین اورفلاسفہ دونوں کے نزدیک مسلم ہیں۔ البتہ فلاسفہ کے نزدیک ان دونوں کے وسط میں ایک اوروجود ہے جس میں طرفین میں سے ہرایک کی ایک گونہ شباہت پائی جاتی ہے۔اس لیےجس کی نظر میں قدیم کا پہلوغالب ہے اس نے اسے قدیم اورجس کی نظر میں حادث کا پہلوغالب ہے اس نے اسے حادث قراردیا۔حالاں کہ حقیقت میں نہ وہ حقیقی معنوں میں حادث ہے اورنہ قدیم۔ (فمن غلب علیه ما فیه من شبه القدیم علی ما فیه من شبه (المحدث) سماہ قدیما، ومن غلب علیه ما فیه من شبه المحدث سماہ محدثا۔وھوفی الحقیقة لیس محدثا حقیقیا ولا قدیما حقیقیا۔) (۴۰) شاہ صاحب فلاسفہ کے مسلک پراسی کے قائل ہوئے ہیں- تاہم اسی کے ساتھ اس میں ابن عربی کے وجودی فلسفے کی جھلک بھی موجود ہے۔جس کے مطابق کائنات اعیان ثابتہ کی شکل میں ابتدا سے ہی ذات واحدکا حصہ تھی۔البتہ اس نے جب تعینات کی شکل اختیارکی تواس میں حدوث کی صفت پید ا ہوگئی۔ شاہ صاحب واضح طورپر اس مسئلے میں فلاسفہ کے مسلک پرگامزن نظرآتے ہیں۔
انورشاہ کشمیری نے’ مرقاۃ الطارم لحدوث العالم‘میں اس مسئلےسے تفصیلی بحث کی ہے اور فلاسفہ کے اس قدم زمانی کے مفروضے کوغلط ٹھہرایا ہے۔علامہ کشمیری کا خیال ہے کہ شاہ صاحب کو اس تعلق سے ابن تیمیہ کے موقف سے شہہ ملی ہے جوقدم عرش اور حوادث لا اول لھا کے قائل ہیں۔ (۴۱) حوادث لا اول لہا کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حوادث (جمع حادث) پائے جاتے ہیں جن کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔گویا بالفاظ دیگروہ ایک حیثیت سےقدیم ہیں۔اس معنی میں وہ کائنات کے قدم نوعی کے قائل ہیں۔ ابن حجر نے ’’فتح الباری ‘‘ میں اورمتعدد دوسرے علما نے نے ابن تیمیہ سے منسوب اس نظریے کاشدت کے ساتھ رد کیا ہے۔جن میں ایک اہم نام بہا الدین الاخمیمی الشافعی (م، ۱۳۶۳ء) کا ہے، جنہوں نے اس موضوع پر کتاب: رسالة فی الرد علی ابن تیمیة فی مسألة حوادث لا اول لھا لکھی ہے۔ (۴۲)
اہم بات یہ ہےکہ علامہ کشمیری نے فلاسفہ کے اس نقطہ نظرکا رد کیا ہے لیکن وہ اسے خالص علمی مسئلہ تصور کرتے ہیں اور اس معنی میں ان کا اسلوب غزالی کے مقابلے میں ابن رشد سے زیادہ قریب ہے۔یعنی وہ اسے حق وباطل کے بجائے خالص علمی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے انہوں نے کہیں بھی باضابطہ طورپرشاہ صاحب پرنکیر نہیں کی ہے بلکہ ان کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے مسئلے کی وضاحت کی ہے۔
واقعاتِ انبیا کی شاذ تاویلات اور دیگر تفردات
شاہ صاحب کے تفردات کا ایک پہلوواقعات انبیا کی تاویل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس موضوع پر ان کی کتاب’’تاویل الاحادیث‘‘ بہت اہم ہے جس میں انہوں نے قرآن وحدیث میں مذکور انبیا سے متعلق خوارق عادت واقعات کی عقلی تفہیم کی کوشش کی ہے۔ چناں چہ وہ حضرت آدم کے جنت میں سکونت اختیار کرنے اورپھروہاں سے اخراج کے واقعے کوعالم مثال کا واقعہ قراردیتے ہیں، جس کی کیفیت شاہ صاحب کی نظر میں محض خواب (رؤیا) کی تھی۔ (۴۳) عالم مثال کی اس جنت میں اپنے ارضی جسم کے ساتھ اقامت اختیارکرنا ان کے لیے بایں معنی ممکن ہوسکا کہ اپنےکمال ذاتی وروحانی کی وجہ سے انہوں نے اخروی بدن حاصل کرلیا تھا۔ جن فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ صرف زمینی فرشتے (الملأ السافل) تھے نہ کہ فلکی (الملأ الاعلی)۔ حوا کی تخلیق آدم کے تخیل کا کرشمہ تھی۔ آدم کو جنسی رغبت محسوس ہوئی تو جنس لطیف کا خیال ان کے ذہن میں پیدا ہوا جس کے نتیجے میں حوا وجود میں آئیں۔ (۴۴)
حضرت موسی نے وادی ایمن میں جس آگ کا مشاہدہ کیا تھا وہ عالم مثال کی تھی۔ عصا کے سانپ بن جانے اور ید بیضا کی تاویل وہ اس طرح کرتے ہیں کہ کبھی کبھی عالم مثال کا جسم طبعی میں ظہور ہو جاتا ہے۔ (۴۵) حضرت عیسی علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اس معنی میں نہیں تھا کہ ان کی روح ان کو لوٹا دی جاتی تھی بلکہ مردہ جسم کے ساتھ زندگی کاقائم ہونے والا یہ تعلق روح کے بجائے’ وہم‘ کا ہوتا تھا، (فالنفس المتعلقة بالجسد تعلق الوهم لا تعلق الحیاة) چنانچہ جیسے ہی حضرت عیسی اس مقام سے رخصت ہوتے تھے، زندہ ہونے والے شخص کوفی الفوردوبارہ موت آجاتی تھی۔ (۴۶) حضرت عیسی کازہد اوردنیا اوردنیاوی حکومت وریاست سے بے رغبتی اختیارکرنا اورحضرت یحی کا عورت سے کنارہ کش رہنے کی وجہ یہ تھی کہ ان دونوں شخصیات کی ولادت عام طبعی قوانین سے ہٹ کرہوئی تھی اور ہروہ چیز جوزمینی اسباب کے بغیروجود میں آئےاس کی حیوانی طبیعت میں کمزوری رہ جاتی ہے۔ (۴۷)
یہ اوراس نوع کے دیگر واقعات کی تفہیم کے حوالے سے شاہ صاحب نے جواسلوب اورموقف اختیارکیا ہے، اس کے پس پشت واضح طورپر شاہ صاحب کایہ نقطہ نظر کارفرما نظرآتا ہے کہ بظاہر مافوق الفطری نظرآنے والے ان واقعات کی عقل اور اسباب و قوانین فطرت کے تناظر میں تشریح کرنے کی کوشش کی جائے، خواہ وہ اسبا ب کتنے ہی ضعیف کیوں نہ ہوں۔ چناں چہ لکھتے ہیں:
واعلم ان اللہ تعالی اذا یظھر خارق عادة لتدبیر فانه انما یظھر فی ضمن عادة ما ولو ضعیفة کالرجل یمرض مرضا ضعیفا اذا رآہ الحکیم الطبیعی لم یکترث به ولم یظن انه یموت ولکن یظھرقضاء اللہ فی ضمن ذلک المرض فیموت۔ فللخوارق اسباب ضعیفة کأنھا وجدت مشایعة لنفاذ قضاء اللہ تعالی وعنایته بالاسباب الارضیة لئلا یتخرق (کذا) العادۃ من کل وجه۔
’’جاننا چاہیے کہ اللہ تعالی جب کسی خارق عادت کوظہور میں لاتا ہے تووہ کسی معمول اورعادت کے ہی ضمن میں ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو۔اس کی مثال ایسے مریض کی سی ہے جسے معمولی قسم کا مرض لاحق ہوا ہو۔طبیب اسے دیکھ کراس کے مرض کوسنجیدگی سے نہیں لیتا اور یہ گمان نہیں کرتا کہ اس مرض سے اس کی موت ہوجائے گی۔لیکن پھر اللہ تعالی کا قضا اسی مرض کے تحت اس کی زندگی چھین لیتا ہے۔اس لیے خوارق کے کمزوراسباب ہوتے ہیں جو گویا اللہ تعالی کے فیصلے کونافذکرنے اورزمینی اسباب سے بے اعتنا نہ ہوجانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ وجود میں آتے ہیں۔تاکہ ہرطرف عادت اورمعمول کا قاعدہ ٹوٹ نہ جائے‘‘۔ (۴۸)
ان تفردات کے علاوہ شاہ صاحب کے چند مزید تفردات بھی ہیں۔ ان میں سے تین کا ذکر انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ میں کیا ہے جن کا حوالہ اس سے منقولہ عبارت میں اوپر آ چکا ہے یعنی آخرت میں اللہ تعالی کی تجلی کا ظہور مختلف شکلوں میں ہونا، انسان کے اعمال کے بجائے اس کی نفسیاتی کیفیت کا جزا و سزا کا سبب ہونا اور تقدیر کو صرف تقدیر مبرم میں محصور کرنا۔شاہ صاحب نے اپنی مختلف کتابوں میں اپنے ان تفردات کی توجیہ کی ہے۔ مثلا آخرت میں خدا کا مختلف صورتوں میں تجلی کرنے کے موقف کی تائید میں انہوں نے ابن ماجشون مالکی کا نقطہ نظر اختیار کیا ہے جس کا حوالہ اوپرآیا۔ تقدیر مبرم (القدر الملزم) کی تشریح مولانا سندھی کے لفظوں میں یہ ہے کہ:’’ تمام عالم مادی و غیر مادی ایک خاص نظام میں بندھا ہوا ہے اور ایک خاص تدبیر اس کے اندر کام کر رہی ہے۔ اس کا کوئی ذرہ اس نظام کے قانونوں سے باہر نہیں ہے۔ اس مسئلے کا نام شاہ صاحب کی اصطلاح میں قدر ملزم ہے‘‘۔ (۴۹) کیفیات قلبی کے مجازات کا سبب ہونے کا مطلب مولانا سندھی کی نگاہ میں یہ ہے کہ انسان جو بھی اعمال انجام دیتا ہے اس کا نتیجہ اور جوہر انسان کے نفس کے اندر ایک خاص کیفیت کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہی نفسیاتی کیفیت (نہ کہ نفس اعمال) جزا و سزا کا سبب بنتی ہے۔ چاہے اس سزا اور جزا کا تعلق اس زندگی سے ہو یا اخروی زندگی سے۔ (۵۰) شاہ صاحب کے کلامی تفردات کی ان کی جزئیات کے ساتھ ایک لمبی فہرست بنائی جاسکتی ہے لیکن ان تمام کا اس مقالے میں ذکر کرنا اوران کا جائزہ لینا مقصود نہیں ہے۔
قرآن میں مذکورانبیا وصالحین کے خوارق عادت واقعات کی تاویل کا جواندازواسلوب شاہ صاحب نے اختیارکیا ہے اس میں اشراقیت کا رنگ نمایاں ہے۔قرین قیاس یہ نظرآتا ہے کہ شاہ صاحب نے بجائے سہروردی مقتول کے، صدرالدین شیرازی (ملا صدرا) کے توسط سے یہ رنگ قبول کیا۔
شاہ ولی اللہ کے کلامی تفردات کے اثرات
شاہ صاحب کے کلامی تفردات پربحث کے ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علمی حلقوں پران کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ برصغیر کی اسلامی فکری روایت پرولی اللہی فکر کے جواثرات مرتب ہوئے ہیں، ان کوپیش نظررکھتے ہوئے اس سے انکار ممکن نہیں کہ ان کے متفردانہ اقوال وآرا نے اصحاب علم ودانش کے ایک طبقے کووادی فکر ونظر کی نئی راہوں سے روشناس کیا اور اس نے اس جہت سے اپنی فکر کوپروان چڑھانے میں خصوصی دل چسپی دکھائی۔اس حوالے سے سب سے اہم نام سرسید احمد خاں کا ہے۔ سرسید نے تحریر فی اصول التفسیر کے نام سے جوتفسیری اصول مرتب کیے اور ا ن کی روشنی میں ’’تفسیر القرٓن‘‘ کی تحریر کی، ان میں سے اکثراصول شاہ صاحب کی فکرسے ماخوذ ہیں۔خاص طور پرمعجزات اور اس حوالے سے اسباب ومسببات کی بحث میں اورواقعات انبیا کی تاویل کے حوالے سے شاہ صاحب کے کلامی موقف کے واضح اثرات سرسید کی فکرپرمحسوس کیے جاسکتے ہیں۔سرسید نے بجائے خود جا بجا اس کا اعتراف واظہارکیا ہے۔بعض اصحاب نے مافوق الفطری مظاہر اورخوارق عادت کے حوالے سے فراہی مکتب فکرپرسرسیدی فکرکے اثرات کا ذکرکیا ہے۔ (۵۱) لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ بالواسطہ یا بلا واسطہ خود شاہ صاحب کی فکرکے اثرات ہیں۔شاہ صاحب کے کلامی فکری پروجیکٹ کاسب سے اہم پہلویہی ہے کہ مافوق الفطری مظاہر و واقعات کی قوانین فطرت کے سیاق میں توضیح کی کوشش کی جائے۔
اس تعلق سے دوسرا اہم نام شبلی نعمانی کا ہے۔’’ الکلام‘‘ میں خاص طورپرخرق عادت کے حوالے سے ان کا موقف عین شاہ صاحب کے مطابق ہے کہ جوچیز بظاہر خرق عادت نظر آتی ہے’’وہ اصول قدرت (فطرت) کے خلاف نہیں ہوتی‘‘۔عالم مثال کے حوالے سے بھی وہ شاہ صاحب کی تشریحات سے متاثرنظرآتے ہیں۔ (۵۲) علمائے دیوبند میں مولانا عبید اللہ سندھی ولی اللہی علوم کے سب سے بڑے شارح تصورکیے جاتے ہیں۔صرف سیاست ومعیشت اورسماجیات ہی نہیں بلکہ وہ اسلامی مابعد الطبیعات کی ولی اللہی تشریحات کوبھی بعینہ قبول کرتے نظرآتے ہیں۔ (۵۳) علمائے دیوبند میں شاہ صاحب کے علوم ومعارف پرسب سے گہری اوروسیع نگاہ علامہ انورشاہ کشمیری کی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، وہ شاہ صاحب کے قدم عالم کے تصورکے ناقد ہیں لیکن دوسرے معاملات میں وہ بالکل خاموش نظر آتے ہیں۔عالم مثال کے تصور میں وہ شاہ صاحب سےبالخصوص متاثر نظر آتے ہیں۔ (۵۴)
چند ملاحظات
شاہ صاحب کے مشہور تفردات کے حوالے سے مندرجہ بالا سطور میں جو گفتگو کی گئی، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے اکثرتفردات میں شاہ صاحب منفرد نہیں ہیں۔ یا تو علمائے اسلاف واخلاف میں ایک طبقہ ان کا براہ راست یا بعض پہلوؤں سے قائل رہا ہے۔ یا پھر اہل سنت کے متعین دائرے سے باہر بعض اسلامی فرقے یا ان سے وابستہ اصحاب علم ان کے قائل رہے ہیں۔اگر شاہ صاحب کے اس موقف کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو اس میں کوئی حیرت کا پہلو باقی نہیں رہتا کہ شاہ صاحب نے جمہور اہل سنت سے اختلاف رائے رکھتے ہوئے دوسرا موقف کیوں اختیار کیا؟ شاہ صاحب کا موقف یہ ہے کہ علم کلام میں اہل سنت کا اطلاق کسی متعین مکتب فکر پر نہیں ہوتا کہ اس کے مخصوص عقائد و افکار کے حاملین کو اہل سنت شمار کیا جائے اور باقی کو اہل بدعت، بلکہ اس کا تعلق مسائل سے ہے۔ منصوص مسائل کو بلا تاویل قبول کرنا ضروری ہے ۔ (۵۵) شاہ صاحب کے اس موقف کو غزالی کے اس موقف کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جو انہوں نے فلاسفہ کی تکفیر کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔۔ (۵۶) لیکن غیر منصوص مسائل جن میں صحابہ کرام سے کچھ بھی مروی نہیں ہے، ان میں کوئی نیا موقف اختیار کرنا اہل سنت کے منہج سے انحراف کے ہم معنیٰ نہیں ہے۔ تاہم ان کے بقول ان کے تفردات عام معنی میں تفرد بھی نہیں کیوں کہ علم لدنی کے حاملین بعض اہل سنت ان کے قائل رہے ہیں۔ (۵۷)
میرے خیال میں شاہ صاحب کا صرف ایک تفرد ایسا ہے جس کی بظاہر کوئی بھی قابل ذکر شخصیت قائل نہیں رہی ہے۔شاہ صاحب نے التفہیمات الالہیہ میں اس خیال کا ذکر کیا ہے کہ قرآن کے الفاظ خود رسول اللہ کے تخیل کانتیجہ ہیں۔ صرف معانی کا القا یا فیضان غیب سے ہوا ہے۔ (الفاظ القرآن انما ھی من اللغة العربیة التی یعرفھا نبینامحمدﷺ والمعانی فائضة من الغیب۔۔) (۵۸) شاہ صاحب کے اس موقف پر سرسید جیسی آزاد خیال شخصیت نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ (۵۹) البتہ شاہ صاحب کی متعلقہ عبارت میں کچھ ابہام سانظرآتا ہے۔مزید یہ کہ شاہ صاحب کے اس نقطہ نظر کی کوئی توجیہ وتشریح یا اس پرکوئی تنقید مجھے کہیں نظرنہیں آئی۔
شاہ صاحب کے تفردات پر غور کرتے ہوئے یہ نکتہ نگاہ میں رہنا ضروری ہے کہ غزالی اور بعض دیگر اکابرین امت کی طرح شاہ صاحب کی بعض تحریریں صرف اصحاب علم وذوق کے ایک مخصوص طبقہ کے لیے ہیں۔غزالی نے ’’جواہر القرآن ‘‘ اوربعض دوسری کتابوں میں اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ ان کی بعض کتابیں صرف خواص کے لیے ہیں۔ شاہ صاحب کا کوئی ایسا بیان میری نگاہ سے نہیں گزرا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہ صاحب کے بعض فرمودات کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے کوئی رائے قائم کرنی چاہیے۔ظاہر ہے شاہ صاحب کے بعض ’قابل اعتراض مواقف ‘کے حوالے سے یہ تو جیہ کافی نہیں ہے۔تاہم اس سے شاہ صاحب کی ذہنی وفکری ساخت کو پڑھا جا سکتا ہے۔
ابوالحسن علی ندوی کا خیال ہے کہ ’’تفہیمات‘‘ کی حیثیت ایک ذاتی بیاض کی سی ہےجس کی اشاعت ممکن ہےشاہ صاحب کوپسند نہ ہو۔ (۶۰) لیکن یہ خیال صحیح محسوس نہیں ہوتا۔کیوں کہ’تفہیمات‘‘ کی نوعیت کے مضامین اورفکری تفردات دوسری متعدد کتابوں ’’ تاویل الاحادیث‘‘، ’’الخیر الکثیر‘‘ وغیرہ میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شاہ صاحب کلام میں’ اجتہاد ی‘ فکر کے دائرے کو وسیع تر رکھنے کے قائل تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے بھی اس حوالے سے اپنی فکر ونظر کی جولانیوں پر کوئی بندش قائم نہیں کی۔ علم کلام کے حوالے سے شاہ صاحب کی آزاد طبیعت کا ایک پہلو یہ ہے، جیسا کہ اوپر اس کا ذکرآیا، کہ انہوں نے غزالی کی ہی طرح تمام اسلامی اور نیم اسلامی فرقوں کے فلسفیانہ و کلامی افکار سے وسعت کے ساتھ استفادہ کیا، جس کے واضح اثرات ان کی کلامی فکر پر مرتب ہوئے۔ غزالی کی طرح وہ اپنی اسلامی ما بعد الطبیعاتی فکر کو ان فرقوں کی ایجاد کردہ اصطلاحات اور اختیار کردہ فکری اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور گویا اسلامی فکر کا معیاری عقلی قالب تشکیل دینے کے لیے اسے وہ ضروری تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ ابو علی سینا اور اخوان الصفا کی مشائی اور شہاب الدین سہروردی (مقتول) کی اشراقی فکر کی جھلکیاں شاہ صاحب کی فکر میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ شاہ صاحب کی کلامی فکر نے ان تمام رجحانات سے عطر کشید کیا لیکن اپنی فکر کو اس میں مدغم نہیں ہونے دیا۔ تاہم کہنے والے کو پھر بھی ایک حد تک یہ کہنے کا حق حاصل ہے، جیسا کہ غزالی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: انہ دخل فی بطون الفلاسفة ثم اراد ان یخرج فما قدر۔ ( غزالی فلاسفہ کے پیٹ کے اندرون میں داخل ہوگئے لیکن جب اس سے نکلناچاہا تونہ نکل سکے۔ (۶۱)
خلاصۂ کلام
شاہ صاحب کے فقہی مسلک اورنظریات اور مسلک پراصحاب علم نے کافی لکھا ہے۔لیکن ان کے کلامی نظریات کوعام طورپرعلمی حلقوں میں بحث کا موضوع نہیں بنایا جاسکا۔حالاں کہ، جیساکہ اوپرکی بحث سے اندازہ کیا جاسکتا ہے، شاہ صاحب کی کلامی فکر اور اس کے مختلف پہلو اہل علم کے مطالعے اورغوروفکرکے متقاضی ہیں۔زیر نظرمقالے میں شاہ صاحب کی کلامی فکرکے صرف ایک زاویے کوموضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ان شا اللہ اس سلسلے کی بعض دوسری تحریروں میں شاہ صاحب کلامی نکات فکر کے بعض دوسرے پہلووں سے بحث کی جائے گی۔
حواشی و تعلیقات
(۳۵ الف) التفھیمات الالھیۃ، ج، ۱، ص، ۱۵۸۔
(۳۵ب) الخیر الکثیر، گجرات: المجلس العلمی، ۱۳۵۲ص، ۴۱)
(۳۶) حسن التقاضی، ص، ۹۸علامہ کشمیری نے بھی اس پر اپنی حیرت کا اظہارکیا ہے۔ملفوظات محدث کشمیری، (مرتب:احمد رضا بجنوری) دیوبند: بیت الحکمت، سال اشاعت غیرمذکور، ص، ۲۳۶
(۳۷) ترمذی، حدیث نمبر، ۳۱۰۹
(۳۸) ) التفھیمات الالھیۃ، ص، ۱۸۵
(۳۹) حاشیہ فیض الباری، ج، ۴ص، ۲۹۹۔۳۰۰
(۴۰) ابن رشد، فصل المقال فی تقریرما بین الشریعۃ والحکمۃ من الاتصال، (مع مدخل ومقدمہ الدکتور محمد عابد الجابری) بیروت:مرکز دراسات الوحدۃ العربیۃ، ص، ۱۰۴۔۱۰۵
(۴۱) انورشاہ کشمیری، مرقاۃ الطارم لحدوث العالم، مشمولہ’’مجموعہ رسائل الکشمیری، دیوبند:دارالعلم، ۲۰۱۵ص، ۶۱، علامہ کشمیری کے اس قول کے لیے کہ شاہ صاحب نے ابن تیمیہ کا اثرقبول کیا ہے دیکھیے: ملفوظات محدث کشمیری، ص، ۲۳۷
(۴۲) انور شاہ کشمیری بلاتاویل اس بات کوقبول کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ عرش کے قدم نوعی کے قائل ہیں کیوں کہ وہ استوا کے معنی جلوس کے لیتے ہیں جس کا لازمی تقاضا عرش کی قدامت کا قائل ہونا ہے۔فیض الباری، ج، ۶ص، ۵۶۳
(۴۳) تاویل الاحادیث، ص، ۶
(۴۴) ایضا، ص، ۱۲۔۱۳
(۴۵) ایضا، ص، ۴۵
(۴۶) ایضا، ص، ۷۵
(۴۷) ایضا، ص، ۷۲۔۷۲
(۴۸) ۔تاویل الاحادیث، ص، ۸۔۹
(۴۹) عبید اللہ سندھی، اردو شرح حجۃ اللہ البالغۃ، کراچی: حکمت انسٹی ٹیوٹ، ۲۰۱۰ ص، ۵۵
(۵۰) ایضا
(۵۱) یسین مظہر صدیقی کا مقالہ بعنوان، ’’سرسید کے تفسیری اصول‘‘ مشمولہ، ماہنامہ تہذیب الاخلاق، اکتوبر، ۱۹۹۵، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ، ص، ۱۸
(۵۲) پہلی مثال کے لیے : الکلام ص، ۲۴۸، ( اعظم گڑھ:دار المصنفین، ۱۳۴۱ھ) دوسری مثال کے لیے :علم الکلام (اعظم گڑھ:دار المصنفین، ۱۹۹۳) ، ۱۰۹۔۱۱۰
(۵۳) ( مختلف تحریروں کے علاوہ حجۃ اللہ البالغہ کی ان کی شرح اور الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر میں شامل ان کے مقالے’’ امام ولی اللہ کی حکمت کا اجمالی تعارف‘‘ سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
(۵۴) کشمیری مختلف مقامات پرعالم مثال کی تشریح شاہ صاحب کی تشریحات کے مطابق کرتے نظرآتے ہیں۔مثلا دیکھیے:فیض الباری، ص، ۲۶۶۔۲۶۷
(۵۵) حجۃ اللہ البالغۃ، ص، ۵۸۔۵۹
(۵۶) غزالی نے بیس مسائل میں سے تین : عالم قدیم ہے، خدا کو جزئیات کا علم نہیں اور حشر جسمانی نہیں ہوگا؛ میں فلاسفہ کی تکفیر جبکہ باقی میں تبدیع کی ہے دیکھیے الغزالی، تھافت الفلاسفۃ، (تحقیق وتقدیم الدکتورسلیمان الدنیا) القاہرۃ:دار المعارف، ط، ۸، سن غیرمذکور، ص، ۳۰۷۔۳۰۸
(۵۷) حجۃ اللہ البالغۃ، ص، ۵۸
(۵۸) التفہیمات الالھیۃ، ج، ۱، ص، ۱۸۵
(۵۹) سرسید احمد خاں، تفسیر القرآن وھو الہدی والفرقان، لاہور: رفاہ عام پریس، ص، ۱۹۔۲۰
(۶۰) دیکھیے: ابوالحسن علی ندوی، تاریخ دعوت وعزیمت، ج، ۵، لکھنؤ: مجلس تحقیقت ونشریات اسلام، ۲۰۱۰ص، ۴۰۲
(۶۱) یہ قول ابن عربی مالکی کا ہے جوغزالی کے شاگرد ہیں۔
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۶)
"Defending Muhammad in Modernity"
ڈاکٹر شیر علی ترین
ترجمہ : محمد جان اخونزادہ
نواں باب:
مذہبی اصلاح کے دیوبندی تصور پر بریلوی علماء کی تنقید
جنوری 1906 میں جب مولانا احمد رضا خان اپنے دوسرے حج کے سفر پر تھے، انھوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تیس نامور فقہا کی خدمت میں اپنا ایک فتوی پیش کیا۔ اس فتوے میں خان صاحب نے چند نامور ہندوستانی علما کی تکفیر کی تھی۔ خان صاحب نے علماے حرمین سے تقاضا کیا کہ وہ ان کے فتواے تکفیر کی تائید کریں1۔ وہ ایک اشتعال انگیز مخبر کا کردار ادا کرتے ہوئے حرمین کے علما کو 'گمراہوں' اور 'کافروں' کی نئی قسموں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے تھے جو اس وقت ہندوستان میں افزائش پا رہے تھے۔ اپنے عرب مخاطبین سے ہم کلام ہوتے ہوئے خان صاحب نے لکھا: "مجھے واضح انداز میں بتائیں کیا آپ ان ائمۂ ضلال کے بارے میں میرے موقف سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا آپ میرے فتواے تکفیر سے متفق ہیں؟ یا ہم انھیں صرف اس بنا پر کافر نہ کہیں کہ نام نہاد علما اور مولوی ہیں، اگر چہ وہ وہابی ہیں، اور خدا اور رسول کی توہین کرتے ہیں؟ کیا ہمیں عوام کو ان لوگوں سے نہیں بچانا چاہیے جو ضروریات دین سے انکار کرتے ہیں، اور جو علی الاعلان اپنے گستاخانہ افکار کی نشر واشاعت کرتے ہیں؟2"
احمدی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد کے ساتھ ساتھ ان 'ائمۂ ضلال' (مولانا احمد رضا خان کے الفاظ میں) میں اکابر دیوبند بشمول مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی اور ان کے براہ راست جانشین مولانا خلیل احمد سہارن پوری اور مولانا اشرف علی تھانوی شامل تھے۔ یہ فتوی جو عربی زبان میں لکھا گیا تھا، بعد میں 'حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین' کے عنوان کے تحت کتابی صورت میں چھپا3۔ مولانا احمد رضا خان حرمین میں اپنے معاصر علما کی تائید حاصل کرنے میں کام یاب ہو گئے۔ ان کی رائے میں یہ تائیدات سنی اسلام کے مرکز سے تعلق رکھنے والے علما کی ہیں، اور ان کی وجہ سے ان کے دیوبندی مخالفین کو شکست فاش ہوگئی۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ دیوبندی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ مسلم جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔
ہندوستانی علما کے درمیان جارحانہ مناظروں اور مباحثوں کا میدان کارزار گرم ہونا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ تاہم اپنے معاصر نامور حنفی علما کو کافر قرار دینے سے خان صاحب نے ایک نئی مثال قائم کی۔ دیوبندی علما پر خان صاحب کی طرف سے کفر کا فتوی ان دو مکاتبِ فکر کے اکابرین کے درمیان دو دہائیوں پر محیط مناظرانہ سرگرمیوں کا نقطۂ عروج تھا۔ اس جلتی پر تیل چھڑکنے میں ایک ایسے نئے استعماری عوامی فضا نے بھی کردار ادا کیا جس میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث تحریری مواد کی نشر واشاعت پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی۔
دیوبندی اور بریلوی علما دونوں ایک دوسرے کے خلاف کاٹ دار تنقیدوں اور جوابی تنقیدوں کے گھونسے رسید کرتے تھے۔ اس اختلاف کی معیاری مثالوں میں 'انوارِ ساطعہ در بیانِ مولود وفاتحہ' اور 'براہینِ قاطعہ علی ظلام الانوار الساطعہ' کے عناوین سے یہ دو کتابیں بہت اہم ہیں4۔ مولانا عبد السمیع نے انوار ساطعہ 1885 میں لکھی (1890 میں یہ دوسری بار چھپی)۔ انھوں نے یہ کتاب شمالی ہندوستان میں رائج میلاد اور فاتحہ کی رسم کی تردید میں لکھے جانے والے دو مختصر فتووں کے جواب میں لکھی۔ مطبع ہاشمی سے 1885 کے اوائل میں چھپے ان فتووں کے دست خط کنندگان میں مولانا رشید احمد گنگوہی سرفہرست تھے۔ 'انوار ساطعہ' میں مولانا عبد السمیع نے عقیدے اور رسمی اعمال کے متعدد مسائل کے حوالے سے دیوبندی آرا پر زبردست تنقید کی۔ اس تنقید میں ان کی توجہ زیادہ تر علمِ نبوی، عید میلاد النبی اور مردوں کے لیے ایصال ثواب جیسے مسائل پر مرکوز رہی، اس لیے تکنیکی طور پر انھیں 'بریلوی عالم' کہنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم عقیدے اور رسوم کے بنیادی متنازع مسائل، جو دیوبندیوں اور بریلویوں کے درمیان تقسیم کا سبب بنے، تقریباً وہی تھے جن پر مولانا احمد رضا خان نے بھی علماے دیوبند سے اختلاف کیا تھا۔
مولانا عبد السمیع ہندوستان کے شہر رام پور (اسی وجہ سے وہ عبد السمیع رام پوری کے نام سے بھی معروف ہے) کے ایک معروف سنی حنفی عالم تھے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مولانا رحمت اللہ کیرانوی (م 1891) سے حاصل کی جو انیسویں صدی کے ایک ممتاز عالم اور تقابل ادیان کے مشہور مناظر تھے۔ یہ مدرسہ مولانا کیرانوی نے اپنے علاقے کیرانہ میں قائم کیا تھا5۔ 1847 میں مولانا عبد السمیع دہلی وارد ہوئے جہاں انھوں نے نامور علما اور شعرا بشمول مفتی صدر الدین الدین آزردہ (م 1854) اور اردو کے معروف شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب (م 1869) کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا۔ ان کا شاعرانہ تخلُّص بے دل تھا، اور اسی وجہ وہ عوام میں عبد السمیع بے دل سے بھی جانے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ غزل اور اردو شاعری کی دیگر اصناف میں طبع آزمائی کرنے کے بعد وہ پوری یکسوئی کے ساتھ دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری بیالیس سال میرٹ کے لال کرتی بازار میں گزارے جہاں وہ ایک معروف امیر شخصیت شیخ الہی بخش (م 1883) کے بنگلے سے ملحق ایک جامع مسجد کے پاس رہائش پذیر رہے۔ شیخ الہی بخش کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ انھوں نے مولانا بے دل کو اپنے بھتیجوں کا اتالیق مقرر کیا۔ ان کی وفات کے بعد انھیں شیخ صاحب کے بھتیجوں میں سب سے زیادہ معروف شخصیت خان بہادر (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوئی) کے خاندانی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ دلچسپ یہ کہ دیوبند کے اکابر علما بشمول دیوبندی مکتب کے بانیوں کے، جن میں مولانا قاسم نانوتوی، اکابر دیوبند کے صوفی شیخ حاجی امداد اللہ اور حدیث کے نامور عالم مولانا خلیل احمد سہارن پوری (م 1880) شامل ہیں، ان کے ابتدائی اساتذہ میں سے تھے۔ بلکہ وہ حاجی امداد اللہ کے ان خاص مریدوں میں تھے جو حاجی صاحب کے مجاز بیعت بھی تھے6۔ مولانا بے دل کے علمی شجرے پر اہم دیوبندی علما کے اثرات کے باوجود وہ دیوبندی مسلک کے ایک شدید اور بے لچک ناقد کی حیثیت سے سامنے آئے7۔
دیوبندی علما میں سے مولانا خلیل احمد سہارن پوری نے، جو مولانا رشید احمد گنگوہی کے جلیل القدر شاگردوں میں تھے، مولانا عبد السمیع کی 'انوار ساطعہ' کا ایک دندان شکن جواب تحریر کیا۔ مولانا سہارن پوری کئی سال تک دیوبند کی سرپرستی میں قائم شمالی ہندوستان کے شہر سہارنپور کے مدرسے مظاہر العلوم کے مہتمم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دیوبندی مکتب فکر اور تبلیغی جماعت کے درمیان ایک بنیادی رابطے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اصلاً علوم حدیث کے ماہر تھے۔ ان کی مشہور ترین کتابوں میں 'بذل المجہود فی سنن ابی داؤد' ہے جو امام ابوداؤد کی مرتب کردہ 'السُنَن' کی ایک تفصیلی شرح ہے۔
نامور محدث ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا سہارن پوری نے بریلوی دیوبندی کش مکش میں مرکزی کردار ادا کیا۔ 1887 میں اپنے شیخ مولانا گنگوہی کے حکم پر مولانا سہارن پوری نے مولوی عبد السمیع کی 'انوار ساطعہ' کی نکتہ بہ نکتہ تردید لکھی جسے انھوں نے بجا طور پر 'براہین قاطعہ لظلام الانوار الساطعۃ' کا عنوان دیا۔ یہ کتاب پہلی بار 276 صفحات میں سادھورا (آج کے ہریانہ) میں بلالی سٹیم پریس سے چھپی8۔ آج کل بہت سی طباعتوں میں یہ دونوں کتابیں ایک ساتھ چھپی ہوتی ہیں، جس میں اوپر 'انوار ساطعہ' کا اور نیچے 'براہینِ قاطعہ' کا متن دیا گیا ہوتا ہے، جس میں مؤخر الذکر کتاب اول الذکر کتاب کے مضامین کی مسلسل تردید پر مشتمل ہوتی ہے۔ مولانا عبد السمیع اور مولانا سہارن پوری فارسی اور عربی زبان میں مرتب کردہ فقہی روایت (بالخصوص حنفی فقہی روایت) کی متقابل اور عموماً دقیق اور پیچیدہ تفہیمات سامنے لاکر اور اس کش مکش سے ایک دوسرے کو غیر معتبر ٹھہرا کر شریعت کی حدود کو کنٹرول کرنے کے لیے جد وجہد کر رہے تھے۔
مولانا احمد رضا خان بھی مناظروں کی اس ترقی پذیر صنعت میں بھرپور طریقے سے اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔ مزید برآں وہ دوسروں کو تحقیر آمیز القابات دینے میں کسی سے پیچھے نہ تھے، بلکہ مولانا احمد رضا نے علماے دیوبند اور شاہ محمد اسماعیل کے خلاف اپنی مناظرانہ کتابوں کے لیے جو عنوانات چنے ہیں، ان سے ان کی نفرت کا کچھ اندازا ہوتا ہے: مسلمانوں کی قبروں کی توہین پر وہابیوں کی سرکوبی (اہلاک الوہابیین علی توہین قبور المسلمین)، وہابیوں کے باپ کی کفریات کے بارے میں ایک چمکتا ستارہ (الکوکبۃ الوہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ)، نجدی پیشواؤں کی کفریات پر لٹکتی ہندوستانی تلواریں (سل السیوف الہندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ)، کافروں کے کفر پر قہار کے تیروں کی برسات (رماح القہار علی کفر الکفار)9۔
جیسا کہ ان عنوانات اور محولہ بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے، مولانا احمد رضا خان نے یہ حکمت عملی اس لیے اختیار کی کہ اپنے دیوبندی مخالفین کو 'ہندوستانی وہابی' قرار دے کر بد نام کریں۔ خان صاحب نے بتایا کہ علمائے دیوبند اگر چہ بظاہر حنفی مسلک سے منسوب ہیں، لیکن درحقیقت وہ بعینہ اٹھارویں صدی کے عرب مصلح محمد بن عبد الوہاب کی طرح ان شرعی اعمال وعقائد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حنفی مسلک میں مسلمہ ہیں۔
مزید برآں علماے دیوبند ہندوستان میں غیر مقلد اہل حدیث مکتب فکر کے شدید مخالف تھے، جو اپنی فکر کے اعتبار سے وہابیوں کے سب سے زیادہ قریب تھے، بلکہ دیوبندی بریلویوں سے کہیں زیادہ غیر مقلدین کے ساتھ مخالفت اور دشمنی رکھتے ہیں۔
دیوبندی فکر کے مطابق بریلوی اگر چہ بدعات ورسومات کا ذوق رکھتے ہیں، اور حضور ﷺ کو خدا کے درجے پر فائز رکھنے کا رجحان رکھتے ہیں، تاہم پھر بھی ان کا تعلق حنفی مسلک کی علمی روایت سے ہے۔ کم از کم وہ ان مصادر اور شخصیات کو حجت تسلیم کرتے ہیں جنھیں دیوبندی بھی مانتے ہیں۔ لیکن اہل حدیثوں کا مسلک اس سے مختلف ہے۔ وہ تو سنی فقہ کے چاروں مسالک کی تقلید سے انکار کرتے ہیں، اور اس بنیادی منہج کو مسترد کرتے ہیں جسے بریلوی اور دیوبندی دونوں مانتے ہیں۔
مولانا تھانوی دیوبندی نقطۂ نظر سے بریلویوں اور اہل حدیث میں فرق کا خلاصہ چند واضح موازنوں کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: "بریلوی اپنے ہی گھر کے افراد ہیں، جو گمراہ ہو گئے۔ جب کہ اس کے بالمقابل اہل حدیث اور غیر مقلدین اس گھر کے افراد ہیں ہی نہیں۔ بریلوی بے دین لیکن باادب ہیں۔ اس کے برعکس اہل حدیث بادین لیکن بے ادب ہیں"10۔
جدید جنوبی ایشیا کی مذہبی تحریکوں کے وسیع تر تناظر کو واضح کرنے کے لیے مولانا تھانوی اپنا قیاس جاری رکھتے ہوئے ہندوستانی حنفیوں اور غیرمقلدین کے درمیان ٹکراو کو ہندوستان میں آریا سماج اور سناتن دھرمیوں کے درمیان اختلاف سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بظاہر آریا موحد نظر آتے ہیں، جب کہ سناتن دھرمی غیر موحد۔ تاہم مولانا تھانوی دعوی کرتے ہیں کہ زیادہ چھان بین سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سناتن دھرمیوں نے ہندو مذہب کے مسلمات کی تقدیس میں آریا سماج سے زیادہ احترام کا اظہار کیا ہے۔ وہ آگے بتاتے ہیں: "بلکہ آریا کا دعواے توحید بھی محل نظر ہے۔ وہ تین چیزوں -مادہ، روح اور پرمیشور- کو قدیم بالذات مانتے ہیں۔ اس میں توحید کہاں سے آگئی؟11"
بہرصورت مولانا احمد رضا خان نے اپنے دیوبندی مخالفین پر 'وہابیت' کا لیبل چسپاں کرنے پر اصرار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کے اوائل میں، ہندوستان اور عالم عرب دونوں میں یہ اصطلاح بڑی خوف ناک سمجھی جاتی تھی۔ اٹھارویں صدی کے اواخر کے حجاز میں علمائے احناف اور ان کے غیر مقلد حریفوں کے درمیان نظریاتی جنگیں زوروں پر تھیں12۔ ان جنگوں نے خان صاحب کو ایک سنہرا موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے مسلکی ایجنڈے کو کافی واضح انداز میں استناد فراہم کریں۔ دراصل یہی وہ وقت تھا جب مخصوص ادارتی، سیاسی اور مادی حالات نے مل کر مولانا احمد رضا کو سامنے کے محاذ پر آنے اور 'حسام الحرمین' میں علماے دیوبند کی تکفیر کا موقع فراہم کیا۔ 1933ء میں سعودی بادشاہت کے قیام کے بعد خان کی دینی تفہیم اور اختلاف کی تائید میں کوئی فتوی سامنے نہیں آیا۔
مولانا احمد رضا خان نے اکابر دیوبند پر کفر کا فتوی کیوں صادر کیا؟ ان کے نزدیک اس عداوت کی بنیاد کیا تھی؟ علماے دیوبند نے خان صاحب کے تکفیری الزامات کے مقابلے میں اپنا دفاع کس طرح کیا؟ اور سب سے بنیادی بات یہ کہ وہ کون سے اساسی علمی اختلافات ہیں جن کی وجہ سے روایت اور اس کی حدود کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی مسالک میں علیحدگی ہوئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جنھیں میں زیر نظر اور آئندہ ابواب میں زیر بحث لاؤں گا۔ میں دو بنیادی مقاصد پر اپنی توجہ مرکوز کرکے ان سوالات کو موضوعِ بحث بناؤں گا: (1) ان بنیادی طریقہ ہائے استدلال وضاحت جن سے خان صاحب نے دیوبندی مخالفین کے مقابلے میں اپنے تصورِ بدعت کو پیش کیا، اور (2) علم، حاکمیتِ اعلیٰ اور نبوی تصرفات پر ان کے مقابل آرا کی پیش کش۔
میں گیارھویں باب میں حضور ﷺ کے علم غیب کے مسئلے کا، جو اکابر دیوبند کے خلاف خان صاحب کے فتواے تکفیر کا براہ راست سبب ہے، ایک گہرا جائزہ لینے کے ساتھ اس دوسرے ہدف کی تکمیل کروں گا۔ چلیے، مولانا احمد رضا خان اور ان کی علمی شخصیت کے ایک مختصر تعارف سے آغاز کرتے ہیں۔
مولانا احمد رضا خان: عہد جدید میں روایت کے زبردست مُدافع
شمالی ہندوستان کے شہر بریلی میں 1856ء میں، برطانوی سامراج کے خلاف جنگ آزادی سے ایک سال پہلے، پیدا ہونے والے مولانا احمد رضا خان اپنے عہد کے ایک کثیر التصانیف، کرشماتی اور متنازع علما میں سے تھے۔ ایک متصلب حنفی فقیہ ہونے کے ساتھ وہ سلسلۂ قادریہ کے ایک صوفی شیخ کی تمام اسناد سے بہرہ ور تھے۔ خان صاحب جنوبی ایشیا میں بریلوی مسلک کے بانی مبانی تھے۔ ان کے پیروکار انھیں جدید جنوبی ایشیا میں اسلام کے ایک مجدد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خان کا تعلق سترھویں اور اٹھارویں صدی میں شمالی ہندوستان (روہیل کھنڈ کے خطے میں) کی طرف ہجرت کرنے والے ایک افغان خاندان سے تھا۔ ان کے براہ راست آبا واجداد مغلیہ سلطنت کی افسر شاہی میں سپاہیوں یا منتظم سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے13۔
دراصل خان صاحب کے جد امجد حافظ کاظم علی خان اودھ لکھنو کے نواب بھی رہے، اگر چہ ان کے خاندان کے بیش تر افراد کا تعلق مقامی جاگیردار اشرافیہ سے تھا، جنھیں ان کی فوجی خدمات کے عوض میں مغلیہ سلطنت نے جاگیریں دی تھی14۔ انیسویں صدی کے وسط میں ان کے دادا رضا علی خان (م 1866) نے فوجی خدمات فراہم کرنے کی خاندانی روایت ختم کی، اور وہ ایک مفتی اور قادری سلسلے کے صوفی بن گئے۔ انیسویں صدی کے دوران میں مسلمان جاگیر دار اشرافیہ کی طاقت کے تدریجی خاتمے نے اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی مسلمان فوجیوں کی بے روزگاری نے اس تغیر کے لیے راہ ہموار کی۔
علم فقہ میں کمال اور علوم حدیث میں مہارتِ تامہ کے ساتھ ساتھ مولانا احمد رضا خان منطق، فلسفہ، لسانیات اور فصاحت وبلاغت جیسے مضامین میں بھی خاصی دست گاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر بھی مرتب کیا۔ خان صاحب نے فتاوی کی تربیت درس نظامی کی تعلیم کے دوران ہی اپنے والد مولانا نقی علی خان (م 1880) سے حاصل کی جو خود بھی ایک طبقۂ علما میں ایک نامور عالم کی حیثیت سے مشہور تھے۔ مولانا نقی علی خان بھی شاہ محمد اسماعیل کے شدید مخالفین میں سے تھے۔ وہ ان کئی علما میں سے تھے جنھوں نے شاہ اسماعیل کی وفات کے بعد تقویۃ الایمان کی تردید میں کتابیں لکھیں15۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے شہ پاکر اور ان کے زیر اثر شاہ اسماعیل اور وہابی فکر سے مولانا احمد رضا خان کی دشمنی میں شدت آئی۔
خان صاحب نے درس نظامی کی تعلیم 13 سال کی قلیل عمر میں مکمل کی۔ اس کے بعد وہ مدرسہ مصباح العلوم میں، جنھیں ان کے والد نے 1872ء میں بریلی میں قائم کیا تھا، منصب افتاء پر متمکن ہو گئے16۔ اپنے گہرے فقہی فتاوی کی وجہ سے بہت وہ بہت جلد معروف ومقبول ہوئے۔ 1880ء تک انھوں نے خود کو ہندوستان کے ایک نامور فقیہ اور مفتی کی حیثیت سے تسلیم کرا لیا تھا۔ ہر روز ان کی میز پر ہندوستان بھر سے بلکہ حجاز، چین، وسطی ایشیا، افریقہ اور حتی کہ امریکا سے پانچ سو سے زیادہ سوالات موصول ہوتے تھے17۔ خان صاحب اپنے مدرسے منظر اسلام میں، جسے انھوں نے 1904 میں قائم کیا تھا، مسلسل فتاویٰ لکھنے کی مشق کرتے رہے۔
اپنے والد کے علاوہ مولانا احمد رضاخان کی علمی زندگی پر اثر انداز ہونے والے دوسرے فرد ان کے پیر ومرشد شاہ علی رسول (م 1879) تھے، جو شمالی ہندوستان کے شہر مارہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک کرشماتی بزرگ تھے۔ علی رسول صوفی مشائخ کے ایک انتہائی قابل احترام خاندان برکاتیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سادات کا خاندان تھا۔ 1878 میں پہلے حج پر جانے سے پہلے مولانا احمدرضا خان علی رسول کے مرید بن گئے، اور اس کے ایک سال بعد ہی علی رسول وفات پاگئے۔ لیکن نسبتاً تھوڑے عرصے کے لیے علی رسول کی ارادت میں رہنے کے باوجود انھوں نے تصوف اور نبوت پر مولانا احمد رضا خان کے نقطۂ نظر کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔
1878 اور 1905 میں حج کے لیے حجاز مقدس کے دو اسفار خان صاحب کی علمی زندگی کے تشکیلی ادوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان اسفار کے دوران میں انھوں نے حجاز کے نامور علما سے قریبی تعلقات استوار کیے۔ ان میں سے کچھ ان کے اساتذہ بھی رہے۔ مثلاً مشہور شافعی عالم احمد زینی دحلان مکی (م 1886) کا خان صاحب کی شخصیت پر گہرا اثر ہوا۔ خان صاحب نے 1878 میں اپنے پہلے حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا۔ خان صاحب کے والد کی طرح وہ بھی وہابی فکر کے پرجوش مخالفین میں سے تھے، اور محمد بن عبد الوہاب کی فکر کی تردید میں انھوں نے کئی رسالے لکھے تھے18۔ جیسا کہ میں اس باب میں بتاؤں گا، خان صاحب نے شاہ محمد اسماعیل اور اکابر دیوبند پر تنقید کے لیے بار بار زینی دحلان کے افکار کا حوالہ دیا۔
عالم عرب میں خان صاحب کے ایک اور اہم مربی شیخ عبد الرحمان سراج مکی (م 1883) تھے، جو ایک معروف حنفی عالم اور انیسویں صدی کے اواخر میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مفتی اعظم تھے۔ شیخ دحلان کی طرح، جن سے ان کا قریبی تعلق تھا، شیخ سراج مکی بھی اس وہابیت مخالف مہم میں براہ راست شریک رہے جس میں اس دور میں حجاز کے متعدد حنفی علما سرگرم رہے۔ ان عرب علما سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب نے ان پر بھی اپنی علمی لیاقت کی دھاک بٹھا دی تھی۔
مثلاً نبی اکرم ﷺ کے علم غیب کے حوالے سے مکہ کے نامور حنفی عالم شیخ صالح کمال کی درخواست پر ہی خان صاحب نے اپنی معروف کتاب الدولة المکية بالمادة الغیبية سپرد قلم کی جس پر ہم آگے گیارھویں باب میں بحث کریں گے19۔ فروری 1906 میں وہابی علما کی طرف سے ایک جارحانہ پمفلٹ شائع ہوا، جس میں نبی اکرم ﷺ کے علم غیب کے حوالے سے حنفی علما کے سامنے پانچ سوالات رکھے گئے تھے، اور انھیں چیلنج دیا گیا تھا کہ ان کے جوابات دیں۔ شیخ کمال نے اس سلسلے میں مولانا احمد رضا خان سے تعاون طلب کیا۔ آپ نے ان کی درخواست قبول کی اور چند دنوں کے اندر الدولية المکية تحریر کی۔ علماے حجاز نے نبی اکرم ﷺ کے علم کے بارے میں وہابی آرا کی فیصلہ کن تردید کی حیثیت سے اس کتاب کو شان دار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اس کتاب کو اس وقت کے شریفِ مکہ علی پاشا بن عبد اللہ (م 1932) کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس کے دربار میں بآواز بلند پڑھا گیا۔ کتاب کے مضامین سن کر شریفِ مکہ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "خدا (نبی ﷺ کو علم غیب کی نعمت) عطا کرتا ہے، اور یہ (وہابی) اسے منع کرتے ہیں (الله يُـعطِي وهم يـمنعون)20۔
خان صاحب کی تحریریں متعدداہم علوم اور مضامین کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان میں تفسیرِ قرآن، نقد رجال، فقہ، علم الکلام، فلسفہ اور منطق شامل ہیں۔ تقریباً آپ کی تمام تحریریں 2006 میں 32 جلدوں میں الفتاوی الرضویۃ کے نام سے ہندوستان کے شہر گجرات کے بریلوی پریس مرکز اہل سنت سے شائع ہوئیں۔ ان میں سے ہر جلد پانچ سو سے لے کر سات سو صفحات پر اور 10 سے 15 رسائل پر مشتمل ہے۔ اگر چہ خان صاحب بنیادی طور پر اردو میں لکھتے تھے، لیکن انھوں نے عربی اور فارسی میں بھی متعدد کتابیں لکھیں۔
عہد حاضر میں خان صاحب کے دینی استناد کو کیسے یاد اور تصور کیا جاتا ہے، اس کی عمدہ عکاسی فتاوی رضویہ کے ہر جلد کے سرورق پر موجود تصویری خاکے سے ہوتی ہے جسے 9.1 نمبر تصویر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر ایک جھلک فراہم کرتی ہے کہ بریلوی اعلیٰ حضرت کی کرشماتی شخصیت پر استوار اپنی روایت کو خود کیسے تصور کرتے ہیں۔
تصویر 9.1: بریلوی مسلک کی بنیادیں۔ مولانا احمد رضا خان کے فتاویٰ کی 32 جلدیں کو مختلف مستند مصادر سے ماخوذ دکھایا گیا۔ یہ مصادر حدیث سے مستنبط ہیں، اور حدیث قرآن کریم پر انحصار کرتی ہے۔ تصویر کے اندر مختلف اندراجات میں نے اپنی طرف سے کی ہیں۔
پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے روایت کے تصور کے بارے میں کیا عمدہ بات کہی ہے:
روایت بیک وقت ایک وضعی تصور اور عہد/میثاق ہے۔ روایت کے ساتھ علمی اور روحانی قربت رکھنے والوں سے تعامل کے لیے باریک قواعد وضوابط ہی وہ شے ہے، جسے میں 'وضعی تصور' کہتا ہوں۔ ماہرین بشریات اور سیاحوں کے برعکس وہ لوگ جو روایت کو اپنی شناخت بتاتے ہیں، فیلڈ ورک نہیں کرتے، نہ ہی وہ ماضی کے اندر سفر کرتے ہیں۔ روایت سے جڑے لوگ وجودیات (ontology) پر بحث کا دعوی کرتے ہیں، یعنی وجود (being) کی حیثیت/سرشت پر تحقیق۔ لیکن اس تحقیق سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اس وجود (being) کے سلسلے سے کیسا تعلق رکھتے ہیں۔ میثاق یا معاہدہ 'کیسے' کو سادہ بناتا ہے: عقائد واعمال کی مخصوص شکلیں زندگی کی خاص صورتوں سے جڑنے کی علامات ہیں21۔
تصویر 9.1 روایت کے بارے میں پروفیسر موسی کے بیان کی وضاحت ہے۔ یہ تصویر ہمیں ان مصادر اور درجات کے بارے میں بتاتی ہے جنھوں نے ایک سنی حنفی عالم کی حیثیت سے مولانا احمد رضا خان کے دینی استناد کو ممکن بنایا۔ اس نظام میں یقیناً سب سے اونچا درجہ قرآن کا ہے (اور یہی وجہ ہے کہ تصویر میں قرآن کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے، اور اس کے نیچے سنیوں کے ہاں مستند صحاحِ ستہ کی تصویر رکھی گئی ہے)۔ اس کے بعد ہمیں روایتی مصادر نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل اس تعبیری منہج کی نمائندگی کرتے ہیں جو مستند انداز میں عہد نبوی کو زمانۂ حال سے جوڑتے ہیں۔ یہ مختلف ادوار، علوم اور علاقوں میں لکھے جانے والے مستند مصادر ہیں جن میں امام غزالی کی الـمُستصفیٰ، علامہ تفتازانی کی شرح المقاصد، امام مرغینانی کی الهداية، شیخ جامی کی نفحات الانس اور فضل امام خیر آبادی کی المرقاۃ شامل ہیںَ۔ یہ سب مصادر مل کر 'مسلکِ اعلیٰ حضرت' (جسے تصویر میں اینٹوں کے اندر کندہ کیا گیا ہے) کی تشکیل کرتے ہیں۔
انھی مصادر سے 32 جلدوں پر مشتمل ان کے فتاویٰ ایک ایسے علم کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے جو ماضی کو حال سے جوڑتا ہے، اور شریعت سے ثابت شدہ "وجودیاتی لوازم/اثاثوں (ontological belongings) کے سلسلے" کو استحکام بخشتا ہے۔ درحقیقت خان صاحب کی کسی بھی تحریر کے مطالعے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ روایت کی پرشکوہ عمارت میں محو سفر ہیں۔ مولانا احمد رضا خان تھوک کے حساب سے حوالہ جات پیش کرنے کے بے تاج بادشاہ تھے۔ تقریباً وہ اپنی ہر تحریر میں اپنے دعوی کو تقویت فراہم کرنے کے لیے مختلف زمان ومکان اور شعبہ ہاے علم میں لکھے گئے متعدد مآخذ ومصادر سے حوالہ جات کی بھرمار کر دیتے ہیں جس سے قارئین مبہوت ہو جاتے ہیں۔
خان صاحب کے تصور روایت کی بنیادی خاصیت تمام مخلوقات میں سب سے برتر ہستی کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ہے۔ خان صاحب کا نبی کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کے تقدس کی حفاظت کا جذبہ ایک بے لچک نظام مراتب (hierarchy) پر مبنی تصورِ جہاں سے ماخوذ تھا اور یہ نظام ایک وسیع تر سیاسی تصور سے گہرے انداز میں مربوط تھا بلکہ سماجی اور مذہبی نظام کا مراتبی (hierarchial) تصور خان صاحب کے نظریۂ روایت کے امتیازات میں سے ہے22۔ انبیا و اولیا کے توسل سے ہی خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو استحکام مل سکتا ہے۔ مزید برآں اخروی سرگرمی کے نظام میں ہر شخص کا اپنا ایک مرتبہ ہے۔ خان صاحب کے اعتقادی تصور نے ان کے سماجی تصور کو بھی متاثر کیا۔
سماجی دائرے میں خان صاحب نے سادات اور دیگر 'شریف اقوام' جیسے مغلوں، پٹھانوں، انصاریوں، صدیقیوں، فاروقیوں کو دیگر ہندوستانی مسلمانوں پر برتری اور فوقیت دی23۔ لیکن یہ واضح رہے کہ خان صاحب اشراف کو کسی بھی دینی فریضے سے مستثنی نہیں سمجھتے تھے، اور نہ ہی فقہ وقضا کے دائرے میں ان کے لیے کسی مخصوص رعایت کے قائل تھے24۔ تاہم خان صاحب کے نزدیک شریف لوگ اور نسبی شرافت کسی سماج کی تشکیل اور روزمرہ کی عادات واطوار کی حد بندی کے لیے اہم عناصر ہیں۔ مثلاً سلام دعا، عوامی مجالس میں اٹھک بیٹھک، بازار اور عوامی میل ملاپ کے دیگر مقامات کے آداب میں یہ ضروری ہے کہ ایک ایسا جمالیاتی ذوق یا اخلاقی حس پروان چڑھایا جائے جو ایک ایسے معاشرتی تصور پر مبنی ہو، جس میں چند مخصوص حدود، اعزازات اور مراتب کو برقرار رکھا جاتا ہو۔
اس کے ساتھ خان صاحب نے بتایا کہ شرفا کی خواتین کے لیے خاص طور پر ضروری ہے کہ وہ کسی کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے نسبی برابری اور ہم آہنگی (کفاءت) کو یقینی بنائیں۔ مثلاً اپنی ایک کتاب إراءة الأدب لفاضل النسب میں، جو بطورِ خاص نسبی شرافت کی شرعی حیثیت کے موضوع پر ہے، خان صاحب نے واضح کیا: "ایک مغلانی یا پٹھانی لڑکی کے لیے، جو ابھی شادی کی عمر کو نہیں پہنچی، جائز نہیں کہ وہ ایک مسلمان جولاہے سے شادی کرے25"۔ یہاں کوئی شخص اس بات پر زور دے سکتا ہے کہ خان صاحب شریف النسب لوگوں میں بے دینی یا اخلاقی بے راہ روی کے بالکل روادار نہیں تھے۔ تاہم انھوں واضح کیا کہ نسبی شرافت نیک اعمال کی جگہ نہیں لے سکتی۔ مزید برآں وہ ان لوگوں کے شدید ناقد تھے جو اپنے نام ونسب یا قبائلی نسبت پر فخر کرتے ہیں۔ خان صاحب نے بتایا کہ ان لوگوں کا یہ رویہ رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کے اسوۂ حسنہ سے مکمل جہالت کا غماز ہے۔
ایسے ہی کسی موقع پر خان صاحب سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا حکم ہے جو کسی کے خاندانی پیشے کی بنیاد پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جو اس وقت شمالی ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت عام تھا۔ سائل کچھ اس طرح پوچھتا ہے: "کیا فرماتے ہیں علما اس بارے میں کہ کسی شخص کی توہین کے واسطے اسے اس کے آبائی پیشے، جیسے جولاہا، کاشت کار، ماہی فروش، نور باف سے پکارا جائے، جس سے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے، اور اس کی دل شکنی ہو؟26" خان نے پوری قطعیت سے جواب دیا: "ان ناموں سے پکار کر کسی کی دل شکنی کرنا نہ صرف مسلمانوں کے حق میں بلکہ مسلمانوں کے ساتھ رہنے والے ذمیوں کے حق میں بھی حرام ہے، اگر چہ ان ناموں کے مصداق بھی درست ہوں۔ کیوں کہ ہر درست بات سچ ہوتی ہے، لیکن ہر سچی بات درست نہیں ہوتی (فإن كل حق صدق وليس كل صدق حق)"27۔
ایک اور موقع پر ایک سائل نے خان صاحب سے پوچھا: "ہمارا امام حافظِ قرآن ہے، اور وہ پورے اہتمام سے پنج وقتہ نماز کی امامت کراتا ہے۔ تاہم وہ پیشے کے لحاظ سے قصائی ہے۔ کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟" خان نے جواب میں کہا: "ہاں جب تک وہ وہابی، دیوبندی یا کوئی ایسا شخص نہ ہو جو اس طرح کے فاسد عقائد کا حامل ہو، اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیںَ۔ قصائی ہونا کسی کو امامت کے لیے نااہل نہیں قرار دیتا۔ سلف صالحین میں متعدد حضرات اس پیشے سے وابستہ تھے"28۔
جیسا کہ ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے، خان صاحب کسی طرح بھی نسب کی بنیاد پر اخلاقی برتری کے قائل نہیں تھے۔ تاہم وہ اپنے اس دعوے پر قائم تھے کہ تفاضلِ انساب سماجی رکھ رکھاو کے لیے ناگزیر ہے۔ انھوں نے بھرپور انداز میں اس جدید تصور کو رد کیا کہ سلسلہ ہائے نسب اور ان پر مبنی سماجی امتیازات غیر ضروری یا فضول ہیں۔ خان صاحب نے بتایا: "نسب کو مطلقاً محض بے قدر برباد جاننا مردود و باطل ہے"29۔ یہاں پر نہایت قابل توجہ بات یہ ہے کہ خان صاحب کے نزدیک نبوی تصرف کی وسعت اور سماج میں عمومی انسانی تعلقات کے لیے مثالی اقدار کے درمیان کافی قربت ہے۔ اُخروی نجات اور سماجی دائرے دونوں میں طاقت کے ایک نظام مراتب (hierarchial) کا بندوبست ضروری ہے۔ مزید برآں ایک عظیم ترین کونی اور وجودی حقیقت کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کی تعظیم وتقدیس اس طرح کی مبنی بر مراتب سیاسی الہیات کے لیے حتمی قالب ہے۔ اور سیاست کا بعینہ یہی وہ پہلو ہے جو علماے دیوبند کے ساتھ خان صاحب کی مخاصمت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
شریعت میں تحریف: دیوبندی تصور بدعت کی تردید
مولانا احمد رضا خان نے رسمی اعمال کے حوالے سے علمائے دیوبند اور شاہ محمد اسماعیل کے تصور بدعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسلام میں بدعت کے تصور پر ان کی سب سے زیادہ تفصیلی بحث ان کی کتاب إقامة القيامة على طاعن القيام لنبي تهامة میں ہے30۔ اس کتاب میں خان صاحب نے عید میلاد النبی کے موقع پر آنحضور ﷺ کے احترام میں قیام کی شرعی حیثیت پر بحث کی۔ خان صاحب نے اپنی نظر میں اپنے مخالفین کے مغالطہ آمیز تصورِ بدعت پر مفصل تنقید کی۔ آنے والی بحث میں، میں اس تنقید کے چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالوں گا۔
خان صاحب کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات پر تھی کہ ان کے مخالفین ایسی رسموں مثلاً عید میلاد النبی کو کیوں ناجائز قرار دے رہے ہیں، جو رسول اللہ ﷺ کی سنت وسیرت کو یاد کرنے اور منانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ خان صاحب نے ایک ایسے عوامی ماحول کو پروان چڑھانے کی وجہ سے ان پر طنز وتشنیع کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کی تعظیم وتقدیس کو تقریباً جرم قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے اصول کے طور پر اپنے استدلال میں بتایا کہ کوئی عمل اس وقت ناجائز یا حرام ہو سکتا ہے جب اس کی حرمت یا عدم جواز پر کوئی قطعی نص موجود ہو۔
ہر ایسا عمل جسے شریعت نے صراحتاً حرام قرار نہ دیا ہو، اصلاً مباح ہے۔ اس اصول کی وضاحت میں خان صاحب نے سولھویں صدی کے ایک فقیہ محمد القسطلانی کا حوالہ دیا جو اپنی معروف کتاب المواهب اللدنية میں واضح کرتے ہیں: "(رسول اللہ ﷺ کی سنت میں موجود) کوئی عمل اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے، لیکن کسی عمل کی عدم موجودگی اس کی حرمت/ممانعت پر دلالت نہیں کرتی (الفعل يدل على عدم الجواز وعدم الفعل لايدل على المنع)31۔ یہ اصول کہ وہ تمام اعمال جو ناجائز قرار نہیں دیے گئے ہیں، اصلاً جائز ہیں، خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں بیان کیا ہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: "حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، حرام وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں سکوت اختیار فرمایا ہے، اس سے عفو ودرگزر فرمایا ہے" (الحلال ما أحلَّ الله في كتابه، والحرامُ ما حرَّم اللهُ في كتابه، وما سكت عنه فهو مـمّا عُفي عنه)32۔ فقہی اصطلاح میں اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ شریعت جب تک کسی عمل کو صراحتاً ممنوع قرار نہ دے، وہ جائز رہتا ہے۔
خان صاحب نے اپنے دیوبندی مخالفین کو الزام دیا کہ وہ اصلاً مباح اعمال کو ناجائز قرار دے کر شریعتِ الہی میں تحریف کے مرتکب ہو رہے ہیںَ۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ شریعت ابدی ہے۔ اس لیے جب کوئی عمل اپنے اصل کے اعتبار سے مباح ہو، تو اسے ناجائز کہنا ایک نئے اور خود ساختہ شرعی حکم کی ایجاد ہے۔ خان صاحب کے نزدیک شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حکم میں تغیر وتبدل شریعت کی حیثیت کو کمزور کرتی ہے۔
ان کی نظر میں علماے دیوبند اور شاہ اسماعیل کا ناقابل معافی جرم مباح اعمال کو بے باکی سے ناجائز قرار دینا تھا، جس سے شریعت کے بنیادی اصول میں بدل گئے33۔ خان صاحب اپنے دیوبندی مخالفین (جیسے مولانا تھانوی) سے شاید اس بات پر اتفاق کرتے کہ مفسدات کے شامل ہونے کی وجہ سے مباح اعمال بھی بدعت بن جاتے ہیں۔ تاہم ان کے درمیان جس مقام پر واضح علیحدگی ہوتی ہے، وہ حال اور اس کی اخلاقی حالت کے حوالے سے ان کا تجزیہ ہے۔ خان صاحب کی نظر میں ایسی کوئی ہنگامی ضرورت یا اخلاقی انتشار نہیں جو لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کی تعظیم وتقدیس کی خاطر کی جانے والی رسوم سے باز رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بلکہ وہ بتاتے ہیں کہ جب تک خدائی حاکمیت/توحید کے لیے خطرہ نہ ہو، تو کسی بھی ایسے عمل کو بدعت قرار دے کر منع کر دینا، جو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے ہے، بذات خود بدعت ہے۔ خان صاحب کے نزدیک میلاد منانا اور آپ ﷺ کے احترام میں کھڑا ہونا (قیام) کوئی معمولی عمل نہیں جسے اپنی مرضی سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ چونکہ اس رسم کا مقصد نبی اکرم ﷺکا ذکر اور ان کی تکریم ہے، اس لیے یہ دین کے لیے ناگزیر ہے34۔
زمان اور روایت کے حریف تصورات
نظریاتی طور پر خان صاحب کی بنیادی شکایت دین اور زمان کے درمیان تعامل کی اس تفہیم سے تھی جس کے حامل ان کے مخالفین تھے۔ خان صاحب کے نزدیک علماے دیوبند خیر القرون کے بارے میں ایک بہت محدود اور غلط نظریے کے قائل تھے۔ جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں: "یہ سب زمان کو حاکمِ شرعی بنانے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف اسی بات سے سروکار رکھتے ہیں کہ کوئی عمل تاریخ کے ایک مخصوص دور (نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کے زمانے) میں موجود تھا یا نہیں۔ اگر کوئی عمل اس دور میں موجود تھا تو وہ اسے جائز کہتے ہیں، بصورت دیگر وہ اسے ناجائز قرار دیتے ہیں"35۔
زمان پر مبنی تعبیری منہاج کے مخالف نقطۂ نظر کے طور پر خان صاحب نے بتایا کہ کسی عمل کا شرعی جواز اس میں خیر کی موجودگی یا عدم موجودگی پر منحصر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ وہ تاریخ کے کس دور میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ ایک اچھا عمل اچھا ہوتا ہے، جس وقت بھی اسے سرانجام دیا جائے۔ اسی طرح ایک برا عمل برا رہتا ہے، چاہے وہ جب بھی وقوع پذیر ہو۔ خان صاحب شکوہ کناں ہیں کہ ان کے مخالفین کسی عمل کی اصلی حیثیت جانچنے کے بجاے اس بات میں پوری دلچسپی رکھتے ہیں کہ کیا وہ اسلام کی ابتدائی تین صدیوں (قرونِ ثلاثہ) میں وقوع پذیر ہوا ہے یا نہیں۔
خان صاحب نے بتایا کہ تعبیر کا ایسا منہج جو چند صدیوں کو مقدس مانتا ہو، لازماً دین کی ایک بڑی سطحی تفہیم کو پروان چڑھائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ، صحابہ کرام اور تابعین سب سے زیادہ مثالی اور مقدس ہستیاں تھیں۔ لیکن، اور یہ سب سے اہم نکتہ ہے، خیر القرون کے تقدس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی ادوار- یعنی ماقبل اسلام، زمانۂ حال اور مستقبل- کے بارے میں یہ طے شدہ ہے کہ وہ اخلاقی زوال میں ڈوبے رہیں گے۔ خیر کسی بھی مخصوص دور کو محدود نہیں، یہاں تک کہ خیر القرون کو بھی نہیں۔ یہاں پر خان صاحب ایک حدیث کا برمحل حوالہ دیتے ہیں: "میری امت کی مثال بارش کی سی ہے، کسی کو پتہ نہیں کہ بارش کی ابتدا میں خیر ہوگا یا اس کے آخر میں (مثل أمتي مثل المطر لا يُدرى أولُه خيرٌ أم آخرُه)36۔
خان صاحب کی نظر میں اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خیر کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں۔ عہد نبوی کے مثالی دور کی یاد ممکنہ طور پر ان لوگوں کی اخلاقی صلاحیت کو تحریک دے گی جو زمانۂ حال میں رہ رہے ہیں، نہ کہ انھیں ایک ناقابل واپسی ماضی کے سائے میں رہنے کے اضطراب سے اپاہج کرے گی۔ خان صاحب کے نزدیک اصلاح میں قوت تب آتی ہے جب آنے والے ہر نئے عہد میں رسمی اعمال کے اندر متشکّل مستقل خیر کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ وہ لوگ جو ان اعمال کو بدعت کہتے ہیں، ایسے اعمال کو روکنے کی وجہ سے بذات خود بدعت کے مرتکب ہو رہے ہیںِ جنھیں موقر علما اور اکابرین امت کئی صدیوں تک جائز قرار دیتے آئے ہیں۔
اس پہلو سے خان صاحب کا تصورِ اصلاح علما دیوبند کے تصور اصلاح سے یک سر مختلف ہے۔ جیسا کہ میں نے سابقہ ابواب میں بتایا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی جیسے دیوبندی اہل علم کا اصلاحی پروجیکٹ مسلسل اخلاقی زوال کے ایک ایسے بیانیے میں ملفوف تھا، جو علماے کرام سے ایک انتہائی اقدام کا تقاضا کر رہا تھا۔ اس صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بعض نیک اعمال جیسے عید میلاد النبی کو ممنوع قرار دیا گیا۔ زمانۂ حال جس اخلاقی بحران سے دو چار تھا، اس نے ایسے متعدد رسمی اعمال کو جڑ سے اکھاڑنے کے شعوری فیصلے کا تقاضا کیا، جو اگر چہ ماضی میں پھلے پھولے تھے، لیکن اب وہ حتمی طور پر فاسد ہو گئے ہیں۔
زمان، خیر، عملی زندگی
چونکہ یہ نکتہ بہت اہم ہے- یعنی زمان اور شریعت کے درمیان تعامل کے دیوبندی اور بریلوی تصورات کا موازنہ- اس لیے میں اپنے تجزیے کی مزید تشریح وتوضیح کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے میں خان صاحب کی فکر کو چھوڑ کر زمنیت کے بارے میں دیوبندی موقف کی مزید وضاحت کرتا ہوں، تاکہ بریلوی موقف کے ساتھ اس کا دقیق موازنہ ہو۔ اس مقصد کے لیے میں دیوبندی عالم مولانا خلیل احمد سہارن پوری کی مناظرانہ کتاب براہین قاطعہ میں ان کے بھرپور مباحث کو زیر غور لاؤں گا۔ (ذہن میں رہے کہ یہ مناظرانہ کتاب دیوبندیوں کے نقطۂ نظر کے خلاف مولانا عبد السمیع کی لکھی ہوئی کتاب انوارِ ساطعہ کی تردید ہے)۔
مولانا عبد السمیع نے اپنے استدلال میں خان صاحب کی پیروی کرتے ہوئے ایک مقام پر اکابر دیوبند کے خلاف یہ الزام لگایا کہ وہ خیر القرون کو غلط طور پر رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی ابتدائی تین صدیوں کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ انھوں نے شکایت کی کہ یہ نقطۂ نظر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں سے یہ امکان چھین لیتا ہے کہ وہ خیریت کا عملی نمونہ بن سکیں، یا اس تک رسائی پالیں۔
اپنے جواب میں مولانا سہارن پوری نے مولوی عبد السمیع پر یہ تنقید کی کہ انھوں نے خیریت کے تصور کو عام بنا دیا ہے۔ کیسے؟ اس طرح کہ وہ ابتدائی تین صدیوں کی کلی فضیلت (فضل کلی) اور بعد کی صدیوں کی جزئی فضیلت (فضل جزئی) کے درمیان امتیاز نہیں کرتے۔ ابتدائی تین صدیوں کے اہل ایمان خدا اور عہدِ نبوت سے قربت کی وجہ سے کلی فضیلت سے سرفراز تھے۔ اس کے برعکس وہ پاکیزہ لوگ جو اس دور کے بعد آئے، رسول اللہ ﷺ پر اپنے ایمان بالغیب کی بدولت جزئی فضیلت کے حامل ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ خیریت یا فضیلت کی یہ دو قسمیں دو مراتب ہیں نہ کہ یہ باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں37۔
اس نکتے کو آشکارا کرنے کے لیے سہارن پوری اپنے قارئین کی ضیافت ایک دلچسپ غذائی قیاس سے کرتے ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ جزئی فضیلت پر کلی کی برتری ایسے ہے جیسے خوش ذائقہ قورمہ پلاو کی فضیلت پاخانے پر ہے38۔ صاف ظاہر ہے کہ قورمہ پلاو میں کھاد کے فوائد نہیں، نہ ہی وہ کھاد کا کام سرانجام دے سکتا ہے۔ تاہم کھاد پلاو میں موجود کلی فضیلت کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ابتدائی تین صدیوں کی خیریت کو آنے والی تمام نسلوں کی خیریت کے برابر قرار دینا، جیسا کہ مولانا عبد السمیع نے کیا ہے، ایسا ہی ہے جیسے پلاو اور پاخانے کو مساوی بتایا جائے۔ "مؤلف کو فضل کلی اور جزئی کے درمیان فرق معلوم ہی نہیں، اور اسی وجہ سے وہ کمزور توجیہات کرتا ہے۔ اگر اس کو اس بابت کچھ بھی معلوم ہوتا تو وہ ایسی لایعنی بات نہ لکھتا"، مولانا سہارن پوری نے اپنی تنقید کا ترکش خالی کرتے ہوئے کہا39۔
چلیے کچھ لمحوں کے لیے مولانا سہارن پوری کے قیاس کو ایک طرف رکھ دیجیے۔ ان کے استدلال کا ایک نازک پہلو بھی ہے، جسے یہاں ضرور زیر بحث لانا چاہیے۔ خیر القرون کو دیگر زمانوں سے جو چیز ممتاز کرتی ہے، وہ نہ صرف ان کے دور کی خیریت وبرکت ہے، بلکہ جس خیر کے وہ حامل تھے، اس کی اقسام میں فرق بھی اس دور کو امتیازی حیثیت عطا کرتا ہے۔ خیر القرون کے نیک اعمال میں جو خیریت پنہاں تھی، وہ آنے والی تمام نسلوں کے لیے فقہی احکام اور رسمی اعمال کے جواز کی بنیاد تھی۔ بالفاظ دیگر یہ خیریت ایک 'حکمِ اتباع' سے مربوط تھی۔ اس نے آنے والی نسلوں کو وہ شرعی قالب فراہم کیا جس میں وہ ڈھلیں اور اس کی اتباع کریں۔ اس کے برعکس قرون ثلاثہ کے بعد کیے جانے والے نیک اعمال کی خیریت میں یہ طاقت اور حجت نہیں۔ اس لیے ایسے اعمال جیسے اپنی بیوی سے حسن سلوک کرنا یا ایک سماج کا دوسرے سماج کو فائدہ پہنچانا اگر قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوں تو وہ فقہی وشرعی احکام کے لیے بنیاد کا کام نہیں دے سکتے۔
ان اعمال کی خیریت، قرونِ ثلاثہ کے نیک اعمال کے برعکس 'حکم اتباع' سے مربوط نہیں، وہ مستقل نہیں تھے40۔ جیسا کہ میں نے ساتویں باب میں واضح کیا ہے دیوبندی موقف یہ نہیں کہ قرون ثلاثہ میں واقع ہونے والا ہر عمل اچھا ہے، اور اس کے بعد ہونے والا ہر عمل برا ہے، اگر چہ ان کے مخالفین جیسے مولانا احمد رضا خان اور مولوی عبد السمیع بعض اوقات ان کے موقف کو انھی معنوں میں لیتے ہیں۔ تاہم خان صاحب نے واضح کیا کہ دیوبندی فکر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسلام کے قرونِ ثلاثہ کے بعد انسانیت کو زوال ہوا ہے، جیسا کہ مولانا سہارن پوری کی فکر سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔
اب میں خان صاحب کی طرف لوٹتا ہوں۔ ان کا تصور زمان اس کے بالکل برعکس تھا۔ فلسفے کی اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ انھوں تاریخ کو مسلسل زوال پذیر لمحات کی حیثیت سے دیکھنے پر تنقید کی۔ اس یاس نے ایک جامد تصورِ زمان کو جنم دیا، جس کی روسے تاریخ ایک اصلی مقدس زمان اور اس کے بعد آنے والے تدریجاً ناپاک زمان میں منقسم ہے۔ یہ ثنویت خود رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اسوۂ حسنہ سے میل نہیں کھاتی۔ انھوں نے زور دے کر بتایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم زمان کے متحرک تصور کے قائل تھے41۔
وہ کسی نئے عمل کے شرعی حکم کا جائزہ لیتے وقت اس کی ذاتی خصوصیات پر توجہ مرکوز رکھتے تھے، نہ کہ اس زمان پر جس میں وہ عمل واقع ہوا۔ مولانا احمد رضا نے مثال کے طور پر متن قرآن کی تدوین پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان ہونے والی ایک بحث کی روایت نقل کی۔ 632ء میں جنگ یمامہ کے دوران کئی حفاظ صحابۂ کرام شہید ہوئے۔ اس واقعے کے بعد حضرت عمر کو فکر لاحق ہوئی کہ جس تیزی سے حفاظ قرآن جنگوں میں شہید ہو رہے ہیں، خطرہ ہے کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو جائے۔
انھوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تقاضا کیا کہ قرآن کریم حفاظت وتدوین کا فوری بندوبست کیا جائے۔ ابتدا میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تردد ہوا۔ انھوں نے استفسار کیا: "ہم ایسا کام کیوں کریں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟" حضرت عمر رضی اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا: "اللہ کی قسم اس کام میں خیر ہی خیر ہے" (هو والله خير)۔ بہرحال کچھ بحث ومباحثے کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی تجویز مان لی۔ آخر کار وہ قائل ہوگئے کہ یہ ایک ضروری امر ہے جو فوری توجہ کا طالب ہے۔ اس کے بعد جلد ہی قرآن کریم کی تدوین کا منصوبہ شروع ہو گیا42۔
خان صاحب کے نزدیک اس روایت کا سب سے قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ جب ایک نئے کام میں، جو رسول اللہ ﷺ کی سنت میں موجود نہ تھا، حضرت ابوبکر کو ابتدا میں تردد ہوا تو ان کے جواب میں حضرت عمر نے صحابۂ کرام کو غلطی سے تحفظ فراہم کرنے والے کسی مخصوص زمانے کی تقدیس بیان نہیں کی۔ مثلاً انھوں نے یہ نہیں کہا کہ حضور ﷺ کی طرف سے کسی نئے کام (بدعت) کی ممانعت تھی، لیکن قرون اولیٰ کے صحابۂ کرام ان قدغنوں سے مستثنی ہیں۔ اس کے بجاے وہ جس بات کے قائل تھے، انھوں نے اس عمل کی ذاتی اچھائی کی بنیاد پر حضرت ابوبکر کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عمر نے اپنے استدلال میں کسی عمل کے ایک مخصوص زمانے میں موجودگی یا عدم موجودگی سے قطع نظر کرکے اس کی ذاتی خصوصیت پر بات کی۔
بالفاظِ دیگر، مولانا احمد رضا نے زور دے کر کہا، شریعت اور اس کی حدود کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تصور ایسے کسی مخصوص تحکمانہ زمان میں جکڑا ہوا نہیں تھا جو آنے والی تمام نسلوں کے دینی رجحانات پر حاوی رہے گا۔ اس کے برعکس وہ دیگر تمام صحابہ کرام کی طرح دین کو ایک مسلسل پھلنے پھولنے والے باغ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے جو ایک ارتقا پذیر اخلاقی پروجیکٹ کے طور پر مضبوطی سے اپنی مقدس جڑوں میں پیوست ہے۔ خان صاحب نے زمنیت اور دین کے درمیان تعلق کی واضح تصویر کشی کے لیے باغ کی تشبیہ استعمال کی ہے۔
ان کے قیاس میں اسلام حضرت محمد ﷺ کا باغ ہے، ایک ایسا باغ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شان وشوکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس باغ کے اولین رکھوالوں نے ابتدا میں اس کے لیے زمین تیار کی، جس نے شروع کے چند سالوں میں اس کی بقا کی صلاحیت کو یقینی بنایا۔ تاہم ان کے پاس وقت یا موقع نہ تھا کہ اس کو مزید بڑھاوا دے سکیں۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ باغ پھل پھول رہا تھا۔ حتی کہ یہ سرسبز وشاداب ہو گیا، اور اس میں رنگ برنگے پھول اور پتے کھلنے اور چشمے ابلنے لگے، کیونکہ علما اور اولیا کی ہر نئی آنے والی نسل نے جس طرح اسے اپنے اسلاف سے وراثت میں حاصل کیا تھا، اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کیا۔
اعلیٰ حضرت نے بتایا کہ دین ایک کھلتے ہوئے باغ کی طرح مختلف زمنیتوں (temporalities) اور متنوع مناہج فکر کی آماج گاہ ہے جسے اخلاقی خیر کا ایک مشترکہ بیانیہ جوڑے رکھتا ہے۔ مزید برآں جس طرح ایک باغ میں نئے پھولوں کی کئی انواع واقسام اپنے اصل پودوں سے کھلتی ہیں، اسی طرح نئے اعمال جو اپنی اصل میں خیر/نیک ہیں، وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی سنت سے لازمی طور پر مربوط ہیں۔ جو کوئی کسی نیک عمل پر صرف اس لیے تنقید کرتا ہے کہ یہ اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں موجود نہیں تھا، اس احمق کی طرح ہے جو باغ میں کھلنے والے نئے پھولوں کی خوب صورتی سے انکار کرتا ہے۔ خان صاحب نے کہا: "نتیجتاً ایسا احمق باغ کے پھلوں اور پھولوں سے محروم رہے گا"43۔
خان صاحب کے نزدیک رسمی اعمال اپنی شکل وصورت کے اعتبار سے نئے ہیں، لیکن اپنے جوہر کے لحاظ سے باغ کے پھولوں کے مشابہ ہیں۔ ان کے جواز کو متنازعہ بنانا حماقت ہے۔ مزید برآں ان رسوم میں سب سے زیادہ مقدس وہ ہیں، جو حضور ﷺ کے مقام ومرتبے کو بڑھاتے ہیں جیسا کہ عید میلاد النبی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کوئی ایسا نیا عمل جو حضور ﷺ کے مرتبے کو بڑھاتا ہے، وہ اصلاً مستحب اور اس وقت تک تنقید سے بالاتر ہے جب تک وہ خدائی حاکمیت (توحید) کے منافی نہ ہو۔ اپنے اس موقف کو استناد فراہم کرنے کے لیے خان صاحب نے سولھویں صدی کے شافعی عالم حافظ ابن حجر الہیتمی (م 1667) کا حوالہ دیا۔ وہ لکھتے ہیں: "نبی کریم ﷺ کی تعظیم کے وہ تمام ذرائع جن میں باری تعالیٰ کی الوہیت میں شرک کا خطرہ نہ ہو، ایک قابل تعریف امر ہے" (تعظيم النبي بجميع أنواع التعظيم التي ليس فيها مشاركة الله تعالى في الألوهية أمر مستحسن)44۔
خان صاحب نے واضح کیا ہے کہ حافظ ہیتمی نے جو شرط عائد کی ہے، اس سے مراد وہ افعال ہیں جو صراحتاً اور قطعاً مشرکانہ ہیں، جیسے رسول اللہ ﷺ کو سجدہ کرنا، یا ذبیحہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بجائے نبی ﷺ کا نام لینا وغیرہ۔ تاہم ان کے علاوہ تمام ایسے اعمال جن کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ہے، جیسے ان کے احترام میں کھڑا ہونا، بلند مرتبت پاکیزہ اعمال ہیں۔ خان صاحب نے اپنے مخالفین کو للکارا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے کی جانے والی ان رسوم کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے قرآن وسنت سے کوئی صریح دلیل پیش کریں۔ ایسی کسی دلیل کی عدم موجودگی میں اپنی اصل کے اعتبار سے کسی نیک عمل کو ناجائز قرار دینا، جو شریعت کی نظر میں جائز ہے، شریعت کی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔ اس لیے وہ علما، بشمول ان کے دیوبندی مخالفین کے، جو عید میلاد النبی منانے کی مخالفت کرتے ہیں، شریعتِ الٰہی سے کھلواڑ کر رہے ہیں45۔ وہ ایسی رسموں کو ناجائز قرار دے رہے ہیں جنھیں خدا نے ناجائز نہیں قرار دیا۔ توحید کا تحفظ کرنے کے بجاے شریعت الہی میں یہ الٹ پھیر اسے مزید کمزور کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں یہ علما ایسی رسموں کو جو رسول اللہ ﷺ اور دیگر مقدس دینی شخصیات کی یاد کے لیے ہیں، بدعت کہنے سے ایک نئی شریعت ایجاد کر رہے ہیں جو ادب واحترام کے گزشتہ معیارات کی ضد میں ہے۔ خان صاحب کی نظر میں یہ بحث جتنی شریعت سے متعلق تھی، ادب واحترام کا موضوع بھی اس میں اس قدر اہم تھا۔
علماے دیوبند نے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے رائج رسموں کو جس جوش وجذبے سے ممنوع قرار دیا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کا ادب واحترام نہیں کرتے۔ مولانا احمد رضا کہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شاہ محمد اسماعیل اور ان کے دیوبندی پیروکار عوام کو بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اسی انداز میں مخاطب کریں جس میں وہ ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کو اپنا بھائی پکارنے سے نہ ہچکچائیں۔ وہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو اپنے بچوں کا نام نبی بخش (نبی ﷺ کی طرف سے تحفہ) رکھتے ہیں۔
ان عجیب وغریب اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امتیازی حیثیت کا احترام نہیں کرتے۔ وہ نبی ﷺ کو صرف ایک عام آدمی کی روپ میں پیش کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مقام ومرتبے کے حوالے سے یہ رویہ سلف صالحین کے طرز عمل سے قطعاً مختلف ہے۔ صحابۂ کرام نے کبھی رسول اللہ ﷺ کے مقام ومرتبے کو نہیں گھٹایا۔ بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اپنی پوری زندگی اس رنگ میں رنگ دی جس سے رسول اللہ ﷺ سے عشق ومحبت کا اظہار ہو۔
مولانا احمد رضا خان نے آٹھویں صدی عیسوی کے شہرۂ آفاق عالم اور فقہ مالکی کے بانی امام مالک بن انس (م 795) کی مثال کو بطور حوالہ پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب امام مالک کے پاس طلبہ پڑھنے کی نیت سے آتے تو ان کی ایک باندی ان کا استقبال کرتی، اور ان سے پوچھتی: "شیخ پوچھتے ہیں آپ کیا پڑھنا چاہتے ہیں: فقہی مسائل یا حدیث؟ اگر وہ جواب میں 'فقہ' کہتے تو امام مالک فورًا باہر آجاتے اور درس شروع کرتے۔ تاہم اگر ان کا جواب 'حدیث' ہوتا تو امام مالک اس کی تیاری میں وقت لیتے۔ وہ وضو کرتے، نیا لباس زیب تن کرتے، خوش بو لگاتے، اور پگڑی پہنتے۔ پھر ان کے لیے ایک مخصوص نشست لائی جاتی جس پر وہ رونق افروز ہوتے۔ تب درس کا آغاز ہوتا۔ اگر کوئی ان سے اس اہتمام کے بارے میں استفسار کرتا تو وہ جواب میں فرماتے: "میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کی تعظیم کو پسند کرتا ہوں۔ اس لیے میں یہ الفاظ اس وقت تک اپنی زبان پر نہیں لاتا جب تک میں مکمل طہارت اور جسمانی نشاط میں نہیں ہوتا"46۔
رسول اللہ ﷺ کی تعظیم میں سلف صالحین کی روش یہی تھی جو ان علما میں یکسر ناپید ہے جو عید میلاد النبی کو ناجائز کہتے ہیں، خان صاحب نے دعویٰ کیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خان صاحب کی نظر میں دیوبندیوں کی اصلاحی تحریک نہ صرف یہ کہ فقہی اعتبار سے غلط تھی، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ یہ ادب واحترام کے قدیم متوارث معیارات کے بھی خلاف تھی۔
حواشی
- مسلمانوں کی علمی فکر اور تاریخ میں جس طرح تکفیر کا تصور اور استعمال اور اس پر پائے جانے والے اختلافات کے لیے دیکھیے: کاملہ اڈنگ، حسن انصاری اور ماریبل فیرو (مدونین)، Accusations of Unbelief in Islam: A Diachronic Perspective on Takfir (لائیڈن: بریل، 2016)
- احمد رضا خان، حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین (لاہور: مکتبۂ نبویہ، 1975)، 11۔
- یہاں پر حرمین سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہیں، جو دین اسلام میں سب سے زیادہ مقدس شہر ہیں۔
- عبد السمیع، انوار ساطعہ در بیانِ مولود والفاتحہ، اعلیٰ حضرت نیٹ ورک، تاریخ اشاعت ندارد، رسائی بتاریخ 16 فروری، 2018،www.alahazratnetwork.org، خلیل احمد سہارن پوری، البراہین القاطعہ علی ظلام الانوار الساطعہ (کراچی: دارالاشاعت، 1987)۔
- مولانا کیرانوی اپنے مناظروں اور عیسائی مشنریوں کے خلاف چھ جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب إظهار الحق کے لیے مشہور ہیں۔ 1857 کے ہنگامے کے بعد علامہ کیرانوی مکہ مکرمہ چلے گئے، جہاں انھوں نے اپنی زندگی کا نصف آخر گزار دیا۔ ان کی حیات، فکر اور سرگرمیوں کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے دیکھیے: ارول پاول، Muslims and Missionaries in Pre-Mutiny India (ریکمونڈ، سرے: کرزن پریس، 1993)، اور سیما علوی،Muslim Cosmopoltanism in the Age of Empire (کیمبرج، ایم اے: ہاورڈ یونیورسٹی پریس، 2015)۔
- عبد السمیع، انوار ساطعہ در بیان مولد والفاتحہ میں محمد چریاکوٹی کا مضمون "صاحب انوارِ ساطعہ" (چریاکوٹی: ادارۂ فروغ اسلام، 2010)، 11 – 13۔
- اس کا مطلب یہ نہیں کہ مولوی سمیع ایک برے یا باغی طالب علم تھے، بلکہ دیوبندی آرا پر ان کی تنقید اس امر کا عکاس ہے کہ (i) جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے تمام نظریاتی اختلافات کے باوجود علمی سلسلوں میں توسع تھا، اور (ii) یہ کہ دیوبندی مکتبِ فکر کے اندر اندرونی اختلافات اور مزاج ومذاق کا تنوع موجود تھا (جس پر میں بارھویں باب میں تفصیل سے بحث کروں گا)۔ مولوی سمیع اپنے آپ کو مولانا گنگوہی اور مولانا سہارن پوری جیسے سخت گیر دیوبندی اکابر کی بنسبت مولانا قاسم نانوتوی اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے قریب سمجھتے تھے۔
- یہ وہی پریس تھا جس نے پھر 1905 میں مولانا اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور کو شائع کیا۔
- احمد رضا خان، الفتاوی الرضویۃ (گجرات: مرکز اہل سنت، 2006) جلد 15۔
- اشرف علی تھانوی، الافاضات الیومیۃ (ملتان: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، تاریخ اشاعت ندارد) 4: 58-59۔
- ایضاً، 6: 83۔ آریہ سماج کے بانی دیانندا سرسوتی (م 1883) اور اکابرِ دیوبند کے درمیان مناقشوں کے لیے میرا مضمون دیکھیے: Polemic of Shahjahnpur: Religion, Miracles, History، اسلامک سٹڈیز 51، نمبر 1 (2012): 49 – 67۔ نیز دیکھیے: فواد نعیم، Interreligious Debates, Rational Theology and the ‘Ulama in Public Sphere: Muhammad Qasim Nanutvi and the Making of Modern Islam in South Asia (پی ایچ ڈی مقالہ، جارج ٹاون یونیورسٹی، 2015)۔ نوآبادیاتی ہندوستان میں آریا کے بین المسالک اور بین المذاہب مناظروں کے لیے ملاحظہ کیجیے: کینتھ جونز، Arya Dharm: Hindu Consiousness in 19th-Century Punjab (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1976)۔
- دیکھیے: نتانا ڈی لانگ باس، Wahhabi Islam: From Revival and Reform to Global Jihad (نیویارک: آکسفرڈ یونیورسٹی، 2004)؛ ڈیوڈ کامنز، The Wahhabi Mission and Saudi Arabia (لندن: آئی بی ٹورس، 2006)؛ اور سمیرا حاج، Reconfiguring Islamic Trdition: Reform, Rationality and Modernity (سٹینفرڈ، سی اے: سٹینفرڈ یونیورسٹی پریس، 2009)۔
- اوشا سانیال، Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barelwi and His Movement, 1870 – 1920 (دلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 1996)، 49 – 68۔
- محمد مسعود احمد، حیاتِ مولانا احمد رضا خان بریلوی (سیالکوٹ: اسلامی کتب خانہ، 1981)، 83- 97۔
- ایضاً، 51۔
- اس مدرسے کا اصل نام مصباح التہذیب تھا۔
- محمد احمد، حیاتِ مولانا، 122۔
- دیکھیے: احمد زینی دحلان، الدرر السنية على الوهابية (استانبول: دار الشفقہ، تاریخ اشاعت)۔
- احمد رضا خان، الدولة المکية بالمادة الغیبية (لاہور: نذیر سنز، 2000)۔
- نسیم بستوی اور محمد صابر، اعلی حضرت بریلوی: حالاتِ مجدد (لاہور: مکتبۂ نبویہ، 1976)، 47 – 51۔
- ابراہیم موسیٰ، The Deoband Madrasa کا تعارف، مدون: ابراہیم موسی، خاص نمبر، مسلم ورلڈ جرنل 99، شمارہ نمبر 3 (جولائی 2009): 427۔
- مسلمانوں کی فکر اور سماجی تاریخ میں طبقاتی مسلکی تصورات کے ظہور وافزائش کے لیے دیکھیے: لوئس مارلو، Hierarchy and Egalitarianism in Islamic Thought (کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2002)۔
- جنوبی ایشیا کے تناظر میں شریف (جمع شرفا) کی اصطلاح کا واضح اسلامی مفہوم 'سادات' ہے، یا اس کا سیدھا سادہ مطلب وہ قبائل ہیں، جو زمین دار اشرافیہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیا کرتے۔ استعماری اور مابعد استعماری دور کی سیاست میں ان کے کردار کے لیے دیکھیے: ڈیوڈ گلمارٹن، Empire and Islam: Punjab and the Making of Pakistan (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1988)۔
- احمد رضا خان، إراءة الادب في فاضل النسب، الفتاوی الرضویہ، 9 : 201 – 77۔
- ایضا، 206۔
- ایضا، 202۔
- ایضاً، 204۔
- ایضا، 255۔
- ایضاً، 253۔
- احمد رضا خان، إقامة القيامة على طاعن القيام لنبي تهامة ، الفتاوی الرضویۃ میں، جلد 26۔
- محمد القسطلانی، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية (بیروت: المکتب الاسلامی، 1991)، بحوالہ احمد رضا خان، اقامۃ القیامۃ۔
- ابو عیسی الترمذی، جامع الترمذي، جلد 1 (دلہی: امین، اشاعت ندارد)، 206۔
- احمد رضا خان، إقامة القيامة ، 525 – 31۔
- ایضا، 546 – 50۔
- ایضاً، 532۔
- ایضاً، 537۔
- سہارن پوری، البراہین القاطعہ، 39۔
- پاخانہ عام طور پربیت الخلا کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات بول وبراز پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بظاہر یہاں مولانا سہارن پوری اسے مؤخر الذکر معنی میں لے رہے ہیں۔ اس جملے کا ممکنہ طور پر دوسرا مطلب : 'جانوروں کا گوبر جسے بیت الخلا میں رکھا جاتا ہے' زیادہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا، کیوں کہ یہاں پر مولانا سہارن پوری کو زیادہ دل چسپی اس میں موجود کھاد کے فائدے یا خیر میں ہے، نہ کہ اس کے ثانوی فوائد میں۔
- سہارن پوری، البراہین القاطعہ، 39۔
- ایضاً۔
- احمد رضا خان، إقامة القيامة ، 539 – 43۔
- ایضاً، 540 – 42۔
- ایضاً، 544 – 44۔
- ابن حجر الہیتمی، الجوهر المنظم مقدمة في أدب السفر (لاہور: المکتبۃ القادریۃ، فی الجامعۃ النظامیۃ)، 12، بحوالہ ایضا، 531۔
- احمد رضا خان، إقامة القيامة ، 504 – 34۔
- ایضاً، 547۔
(جاری)