ریاستی نظام کی تنقید کے مروجہ رجحانات
محمد عمار خان ناصر
نظام حکمرانی کی تنقید کے حوالے سے ہمارے ہاں مختلف زاویے اور بیانیے موجود ہیں۔ ہمارا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ہمارا، سیاسی تنقید کا غالب پیرایہ زمینی سیاسی حقیقتوں سے قطعی طور پر غیر متعلق ہے اور اس کی وجہ تنقید کے صحیح اور متعلق (relevant) فکری وسائل کی کم یابی یا نایابی ہے۔
اس وقت سیاسی تنقید کے جو اسالیب کسی نہ کسی سطح پر ذرائع ابلاغ میں دستیاب ہیں، انھیں ہم حسب ذیل مختلف درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
۱۔ غالب ترین پیرایہ تنقید شخصی حکمرانی، یعنی بادشاہت یا خلافت کے دور سے چلے آنے والے معیارات پر مبنی ہے۔ اس میں حکمران کے اچھے یا برے ہونے یعنی مختلف طرح کے شخصی اوصاف سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ نظام حکمرانی کیسا ہے یا کیسا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر مذہبی ذہن تو ابھی تک حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کا حوالہ دیتا ہے کہ اگر ان جیسے اوصاف کے حامل حکمران ہمیں مل جائیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اسی انداز فکر کے تحت بہت سے مذہبی سیاسی ’’مفکرین “ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مختلف طریقوں سے اچھے اور نظریاتی لوگ ریاستی نظام کے مختلف مناصب تک پہنچا دیے جائیں تو ملک میں اسلامی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
اب زمینی صورت حال یہ ہے کہ جدید ریاست قطعی طور پر ایک غیر شخصی اور انتہائی پیچیدہ ادارہ ہے۔ اس میں کسی طاقتور سے طاقتور فرد کو اس اختیار کا سوواں حصہ بھی حاصل نہیں جو بادشاہی نظام میں بادشاہ کو حاصل ہوتا ہے۔ (اگرچہ یہ مفروضہ اپنی جگہ قابل اصلاح ہے کہ بادشاہ کے پاس اختیار یا طاقت کی کوئی جادو کی چھڑی ہوتی تھی جس کے آگے کوئی اور قوت مزاحم نہیں ہو سکتی تھی)۔ بہرحال، ہمارا عمومی سیاسی شعور ابھی اسی سطح پر سوچتا ہے۔
۲۔ سیاسی تنقید کا اس سے اگلا درجہ جدید ریاستی نظام میں اداروں کے کردار اور ادارہ جاتی کارکردگی پر ارتکاز کرتا ہے۔ یہ تنقید آپ کو کئی سیاسی راہ نماوں اور اہل صحافت کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ اس سطح پر کم سے کم اتنا ادراک حقیقت ضرور پایا جاتا ہے کہ شخصی حکومت کے معیارات اس نظام پر منطبق نہیں ہوتے اور ادارہ جاتی کارکردگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
۳۔ سیاسی تنقید کی اس سے اگلی سطح یہ ہے کہ ادارہ جاتی نظام کو چلانے والی اصل طاقتوں اور حرکیات کی نشان دہی کی جائے، ان پر نظر رکھی جائے اور دیکھا جائے کہ بظاہر ایک قانونی وآئینی ڈھانچے کے ذریعے سے آگے بڑھنے والا سیاسی عمل حقیقت میں ریاستی ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کر رہا ہے۔ کیا اس بندوبست سے صرف بالادست اور مراعات یافتہ یا حصول مراعات کی مسابقت میں شریک مختلف طبقات کے مفاد کی حفاظت ہو رہی ہے یا معاشرے کے عام طبقوں کے مسائل ومشکلات کو بھی کوئی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ تنقید آپ کو تقریباً نہ ہونے کے برابر ملے گی۔ بہت کم اہل صحافت (مثلاً آصف محمود ایڈووکیٹ) ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔
۴۔ سیاسی تنقید کی اس سے بھی اگلی سطح یہ ہے کہ ہماری ریاست جس بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے، اس کے بھی اپنے خاص مطالبات اور ترجیحات ہیں اور یہ نظام بھی ان گنت طریقوں سے آئینی، قانونی اور جمہوری عمل پر اور حکومتی طبقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایک بڑی سطح پر ہمارے جیسی سیاسی طور پر کمزور اور اسٹریٹجک پہلو سے بہت غیر محفوظ ریاستیں اس عالمی نظام اور اس کے طاقت ور اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھوں میں ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ضروری نہیں کہ اس نظام کی اصل قوتیں عالمی حکومتوں یا اداروں کی صورت میں ہمیشہ نمایاں اور سامنے ہوں۔ عالمی سرمایہ داری نظام کی قوت اور اثر ورسوخ کے بہت سے غیر مرئی اور پس پردہ پہلو بھی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے بھی ایک غیر معمولی ذہنی کاوش اور محنت درکار ہے۔ سیاسی تنقید کا یہ پہلو تو شاید ہمارے ہاں بالکل اجنبی ہے۔ محمد دین جوہر صاحب یا ڈاکٹر اختر علی سید کی بعض تحریروں میں البتہ اس کی طرف ضرور اشارات ملتے ہیں۔
(یہ واضح رہے کہ ہمارے ہاں عام مروج ’’سازشی بیانیے“ کا اس پہلو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بیانیے کے لیے کسی تفہیم یا تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ہر چیز کو ’’سازش “ کا نام دے دینا کافی ہوتا ہے)۔
۵۔ جدید ریاست کی ساخت پر ایک اور تنقید مغربی اہل علم مثلاً مشل فوکو، کارل شمت اور اگیمبن وغیرہ نے پیش کی ہے اور وائل حلاق جیسے اہل علم کی تنقیدات ان کا حوالہ دیتی ہیں۔ یہ تنقید کافی پیچیدہ ہے، بہت تجریدی نوعیت کی ہے اور کافی جاروبی قسم کے بیانات پر مشتمل ہے۔ ہماری ناقص رائے میں کم سے کم موجودہ مرحلے میں ہماری ریاست کے مسائل کو سمجھنے میں یہ تنقید بہت زیادہ مدد نہیں کرتی اور شاید سردست ہم اس سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔
پس یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی صورت حال حقیقت میں کیا ہے، وہ کس سطح کی ذہنی وفکری محنت مانگتی ہے اور ہم نے خود کو سیاسی تنقید کی کس سطح پر الجھا کر رکھا ہوا ہے۔
عمران خان کی سیاسی مقبولیت
عمران خان کی مقبولیت کے اسباب کیا ہیں؟ وہ طبقے جو خود پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے سے اتفاق نہیں رکھتے، ان کی طرف سے اس کے مختلف نفسیاتی وسیاسی تجزیے پیش کیے گئے ہیں اور سب میں جزوی طور پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ
1۔ خاندانی یا موروثی سیاست دان نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ خصوصاً نوجوان اس کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔
2۔ بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور سیاسی قائدین کے ساتھ وابستہ بدعنوانی وغیرہ کے الزامات کی وجہ سے ایک متبادل سیاسی قیادت کی خواہش معاشرے میں موجود ہے جو موجودہ حالات میں عمران خان ہی ہے۔
3۔ پوری دنیا میں پاپولسٹ سیاست دانوں کی مقبولیت کا ایک عمومی چلن ہے۔ حالات کی پیچیدگی، مشکلات اور چیلنجز کے سامنے ایک عام آدمی کو جو حوصلہ، اعتماد اور امید چاہیے ہوتی ہے، وہ ایسے لیڈر فراہم کرتے ہیں اور خود کو حتمی حل کے طور پر اس طرح پیش کرتے ہیں جو عام آدمی کو اپیل کرتا ہے۔
4۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو بیرونی سازش سے جوڑنے اور اس کے قرائن وشواہد اجاگر کرنے کا بیانیہ کامیابی سے تشکیل دیا جس کو پذیرائی ملی اور گویا قومی حمیت کے جذبے کو خان صاحب نے مہارت سے استعمال کر کے سیاسی قوت حاصل کی۔
ان سب تجزیوں میں یقیناً وزن ہے اور یہ سارے پہلو اہمیت رکھتے ہیں۔ البتہ ایک پہلو میرے خیال میں سب سے اہم ہے جس پر عام طور پر تجزیوں میں توجہ نہیں دی گئی۔
یہ پہلو ’’مفاد پرستی کی وجہ سے بے وفائی“ کے احساس کا ہے جس کا رخ مقتدرہ کی طرف ہے۔ یہ ویسے تو واضح ہے، لیکن اس کو درست طور پر سمجھنے کے لیے کچھ تشریح کی ضرورت ہے۔
مقتدرہ کے ساتھ سیاسی قوتوں کی معاملہ بندی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ سیاست کا ایک معمول ہے، لیکن عمران خان کے معاملے میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے جتنی بھی سیاسی قوتوں کے ساتھ معاملہ کیا گیا، وہ خالصتاً اشتراک مفاد کی بنیاد پر یعنی قطعی طور پر سیاسی معاملہ تھا۔ اس میں فریقین پر ابتدا سے یہ واضح تھا کہ یہ ایک لین دین ہے، اس کی بنیاد کسی اخلاقی مقصد پر نہیں ہے۔ عمران خان کے ساتھ معاملہ اس اصول پر نہیں کیا گیا۔ عمران خان کے ساتھ معاملہ مخالف سیاسی قوتوں کے خلاف ایک اخلاقی مقدمے کی بنیاد پر کیا گیا اور نہ صرف عمران خان کو بلکہ ان کے لیے عدلیہ اور میڈیا میں زمین ہموار کرنے والوں کو بھی یہی باور کرایا گیا کہ مقتدرہ اخلاقی بنیادوں پر بدعنوان سیاستدانوں سے نالاں ہے اور قوم کو ان سے چھٹکارا دلانا چاہتی ہے۔
اگر اس زاویے سے دیکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ کیوں سفر کے درمیان میں مقتدرہ کا ان کی حمایت سے اچانک دستکش ہو جانا عمران خان کے لیے قابل فہم نہیں تھا اور کیوں وہ اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے نقطہ نظر سے یہ تعلق کسی مفاد یا باہمی لین دین کے اصول پر قائم ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک اخلاقی معاہدہ تھا جس میں فریقین نے مل کر ہر طرح کا بوجھ اٹھانا اور ہر طرح کے دباو کا سامنا کرنا تھا۔ اگر عمران خان کی فوری کارکردگی متاثر کن نہیں تھا تو معاہدے کی اخلاقیات کی رو سے اس کا جواز نہیں بنتا تھا کہ مقتدرہ اپنے کپڑے جھاڑ کر ایک طرف ہو جائے۔
اس سیاق میں مقتدرہ نے جن اسباب سے بھی اور جس دباو کے تحت بھی حمایت سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہو، عمران خان کے لیے قطعی طور پر ناقابل فہم تھا۔ وہ اس کو سیاسی زاویے سے دیکھ ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ ان کے لیے یہ ایک اخلاقی کمٹمنٹ کو توڑنے کا اور گویا ذاتی نوعیت کی بے وفائی کا معاملہ تھا۔ اسی سے ان کے شدید ردعمل اور مقتدرہ کے خلاف جارحانہ سیاسی بیانیے کی اصل وجہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔
یہی ’’صدمہ “ صحافت میں ان لوگوں کو بھی پہنچا جو مقتدرہ کی اخلاقی کمٹمنٹ کے گواہ تھے اور عمران خان نے جب اس کو سیاسی بیانیے کی شکل دی تو صرف ان کے سابق حمایتیوں کو نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں دوسرے لوگوں کو بھی اس میں مقتدرہ کی مفاد پرستی اور اخلاقی بدعہدی اتنے نمایاں طور پر دکھائی دی کہ ان کے پاس عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونے یا کم سے کم اس کے لیے ہمدردی محسوس کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
غور کیا جائے تو اس معاملے میں مقتدرہ نے وہی حرکت کی جو روس کے خلاف جذبہ جہاد سے تیار کی گئی نسل کے ساتھ کی تھی۔ مقتدرہ کے نقطہ نظر سے یہ ایک اسٹریٹجک معاملہ تھا، لیکن جو نسل تیار کی گئی، اس کو یہ باور کرایا گیا کہ یہاں اسلام کے عالمی غلبے کا لانچنگ پیڈ بنایا جا رہا ہے اور آج روس کے گرنے کے بعد کل ہندوستان اور امریکا کی باری ہوگی۔ یہ قول وقرار کرنے کے بعد جب آپ ایک فون کال پر امریکا کا جنگی حلیف بننے کا فیصلہ کر لیں اور طاقت کے نشے میں جامعہ حفصہ جیسے سانحے کو جنم دے دیں جس سے قطعی طور پر گریز ممکن تھا تو پھر انسانی ردعمل وہی ہو سکتا تھا جو اس کے بعد ہوا۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(398) تنزیلا کا ترجمہ
قرآن مجید میں کتابیں نازل کرنے کے لیے باب تفعیل سے تنزیل اور باب افعال سے انزال، دونوں ہی تعبیریں آئی ہیں۔ کیا ان دونوں میں فرق ہے یا یہ مترادف اور ہم معنی ہیں؟ زمخشری نے ان دونوں کے درمیان فرق یہ کیا ہے کہ تنزیل تھوڑا تھوڑا کرکے قسطوں میں نازل کرنے کے لیے ہے جب کہ انزال یک بارگی نازل کرنے کے لیے ہے۔ درج ذیل دونوں آیتوں کے تحت وہ اس فرق پر زور دیتے ہیں:
نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِیلَ۔ (آل عمران: 3)
”اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی“۔ (فتح محمد جالندھری)
زمخشری لکھتے ہیں کہ یہاں قرآن کے لیے نزّل اور تورات و انجیل کے لیے أنزل اس لیے آیا ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا اور تورات و انجیل کو یک بارگی اتارا گیا: فإن قلت: لم قیل (نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتابَ) (وَأَنْزَلَ التَّوْراةَ وَالْإِنْجِیلَ)؟ قلت: لأن القرآن نزل منجماً، ونزل الکتابان جملة۔ (الکشاف)
یہی بات زمخشری نے درج ذیل آیت میں بھی کہی ہے:
یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی نَزَّلَ عَلَی رَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ۔ (النساء: 136)
”مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ“۔(فتح محمد جالندھری)
زمخشری کہتے ہیں: فإن قلت: لم قیل (نَزَّلَ عَلی رَسُولِہِ) و (أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ)؟ قلت: لأن القرآن نزل مفرّقا منجما فی عشرین سنة، بخلاف الکتب قبلہ۔ (الکشاف)
بعض مفسرین جیسے ابوحیان نے زمخشری کی اس توجیہ کو سختی سے رد کیاہے۔ ابوحیان کا یہ کہنا ہے کہ باب تفعیل میں کثرت اور تکرار یا تنجیم (قسط واریت) کا مفہوم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی متعدی فعل ثلاثی مجرد سے باب تفعیل میں جائے، جیسے کسر، جرح، قطع وغیرہ، لیکن اگر کوئی فعل ثلاثی مجرد لازم ہو اور باب تفعیل میں آئے تو اس میں صرف تعدیہ کا مفہوم ہوتا ہے جیسے فرح اور فرّح۔
ابوحیان کی تنقید کے علاوہ بھی زمخشری کی اس توجیہ پرخود قرآنی استعمالات کی روشنی میں شدید اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ ایک اعتراض تو یہ ہے کہ اگلی ہی آیت میں اور اسی جملے کا حصہ بن کر وَأَنْزَلَ الْفُرْقَان آیا ہے، اگر قرآن اور دیگر کتابوں میں مذکورہ فرق ہے تو فرقان کے ساتھ نزّل آنا چاہیے تھا۔
زمخشری کی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے یہ بات بھی کافی ہے کہ خود تورات کے لیے نزّل آیا ہے، درج ذیل آیت ملاحظہ کریں:
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی إِسْرَائِیلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوہَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ۔ (آل عمران: 93)
”سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو“۔ (احمد رضا خان)
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ چوں کہ تورات یک بارگی نازل ہوئی اس لیے اس کے ساتھ أنزل آیا ہے۔ خود یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ تورات اور انجیل ایک بار میں نازل کی گئی تھیں۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ خود قرآن نے صراحت کے ساتھ ایک بار اتارنے کے لیے نزّل کا استعمال کیا ہے، فرمایا:
وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَۃً۔ (الفرقان: 32)
”اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا“۔ (محمد جوناگڑھی)
دوسرے مقام پر کہا گیا:
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِی قِرْطَاسٍ۔ (الانعام: 7)
”اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے“۔ (فتح محمد جالندھری) یہاں بھی ایک کتاب کی صورت میں اتارنے کے لیے نزّل آیا ہے۔
ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ قرآن میں بعض جگہ نزّل اور أنزل ایک ہی چیز کے لیے آئے ہیں، فرمایا:
وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ۔ (النحل: 44)
”یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور وفکر کریں“۔ (محمد جوناگڑھی) یہاں قرآن کے لیے أنزل اور نزّل دونوں ایک ہی آیت میں آئے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا:
وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْکَمَةٌ وَذُکِرَ فِیہَا الْقِتَالُ رَأَیْتَ الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ یَنْظُرُونَ إِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَأَوْلَی لَہُمْ۔ (محمد: 20)
”اور جو لوگ ایمان لائے وہ کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو، پس بہت بہتر تھا ان کے لیے“۔ (محمد جوناگڑھی) یہاں ایک سورت کے لیے نزّل اور أنزل دونوں آیا ہے۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ قرآن میں کئی جگہ فرد واحد کے لیے نزّل آیا ہے، ظاہر ہے اس سے مراد قسط وار نازل کرنا نہیں لے سکتے، جیسے:
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللَّہِ یُکْفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِہِ إِنَّکُمْ إِذًا مِثْلُہُمْ إِنَّ اللَّہَ جَامِعُ الْمُنَافِقِینَ وَالْکَافِرِینَ فِی جَہَنَّمَ جَمِیعًا۔ (النساء: 140)
”اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
نیز:
قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَائِکَةٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولًا۔ (الإسراء: 95)
”کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے“۔ (جالندھری) پہلی آیت میں ایک حکم نازل کرنے اور دوسری آیت میں ایک فرشتہ نازل کرنے کی بات ہے، لیکن لفظ نزّل استعمال ہوا ہے۔
غرض یہ کہ اگرچہ مفسر زمخشری اور ان کے بعد مفسر رازی نے نزّل کو بتدریج نازل کرنے کے معنی میں لیا ہے، لیکن یہ بات بہت کم زور ہے، قرآن کے استعمالات اس رائے کو مسترد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ دونوں مترادف ہیں اور لفظی تنوع کے لیے دونوں کا استعمال ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن آیتوں میں زمخشری نے زور دے کر کہا ہے کہ یہاں نزّل تدریج کا مفہوم رکھتا ہے، جیسے مذکورہ بالا دونوں آیتیں ہیں، وہاں مترجمین نے ترجمے میں تدریج کا ذکر نہیں کیا، البتہ بعض دوسری آیتوں میں تدریج کا ذکر کیا ہے۔
اس تفصیل کے بعد ہم کچھ آیتوں کے ترجموں کو پیش کرتے ہیں:
(۱) وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلَی مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیلًا۔ (الاسراء: 106)
”قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اس لیے اتارا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے“۔ (سید مودودی)
”اور قرآن ہم نے جدا جدا کرکے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا“۔ (احمد رضا خان)
”اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
آیت کے ترجمے میں تدریج کا اضافہ غیر ضروری ہے۔ فرقناہ (ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا) تو پہلے کہہ ہی دیا گیا، پھر اس مضمون کوآخر کیوں دوہرایا جائے گا؟؟
درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:
”اور قرآن کو تو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اس لیے اتارا ہے کہ تم اس کو لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سناؤ، اور ہم نے اس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(۲) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ تَنْزِیلًا۔ (الانسان: 23)
”ہم نے اتارا تجھ پر قرآن سہج سہج اتارنا“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اے محمد (ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اے نبیؐ، ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے“۔ (سید مودودی)
”بیشک ہم نے تم پر قرآن بتدریج اتارا“۔ (احمد رضا خان)
”بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
یہاں تدریج کا ذکر کرنے کا کوئی محل بھی نہیں ہے۔ قرآن نازل کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:
”ہم ہی نے تم پر قرآن نہایت اہتمام سے اتارا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
(۳) قُلْ نَزَّلَہُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِینَ آمَنُوا وَہُدًی وَبُشْرَی لِلْمُسْلِمِینَ۔ (النحل: 102)
”اِن سے کہو کہ اِسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور اُنہیں فلاح و سعادت کی خوش خبری دے“۔ (سید مودودی)
”کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرئیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لیے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
پہلی بات تو یہی ہے کہ ترجمے میں تدریج کا اضافہ غیر ضروری ہے۔ قرآن نازل کرنے کا ایک مقصد یہ بتایا گیا اس سے اہل ایمان کو ثبات حاصل ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ھدی اور بشری کا عطف لیثبت پر کرنے سے بہتر ہے کہ دونوں کو حال مانا جائے۔ یعنی یہ کتاب سیدھی راہ بتاتی ہے اور اسلام والوں کو بشارت دیتی ہے۔ اس دوسرے پہلو کی آخر الذکر ترجمے میں رعایت کی گئی ہے۔
مذکورہ بالا تینوں آیتوں کے ترجمے کے حوالے سے ایک قابل غور بات یہ ہے کہ جو حضرات نزّل یا تنزیلا کا ترجمہ تدریج کے ساتھ نازل کرنا کرتے ہیں، وہ کچھ آیتوں ہی میں ایسا ترجمہ کرتے ہیں، بقیہ آیتوں میں وہ بھی صرف نازل کرنا ہی ترجمہ کرتے ہیں۔ قرآن میں کئی جگہ تنزیل (حالت رفع میں) کا لفظ آیا ہے، وہاں بھی سب لوگ نازل کرنا ترجمہ کرتے ہیں، تدریج کے ساتھ نازل کرنا نہیں کرتے ہیں۔ مناسب بات یہ ہے کہ سب جگہ نازل کرنا ترجمہ کرنا چاہیے، تدریج کا مفہوم اس لفظ کے اندر شامل ہونے کی کوئی دلیل یا بنیاد نہیں ہے۔
(399) وَعَلَی اللَّہِ قَصْدُ السَّبِیلِ
وَعَلَی اللَّہِ قَصْدُ السَّبِیلِ وَمِنْہَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِینَ۔ (النحل: 9)
”اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا“۔ (سید مودودی)
”اور اللہ پر سیدھی راہ کا بتا دینا ہے اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لگا دیتا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کرنا اللہ کی ذمہ داری ہے اور ان میں کچھ راستے کج بھی ہوتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ (زبردستی) چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا“۔ (محمد حسین نجفی)
”اور اللہ پر پہنچتی ہے سیدھی راہ اور کوئی راہ کج بھی ہے اور وہ چاہے تو راہ دے تم سب کو“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے اور بعض راہیں کج ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر کردیتا“۔ (امین احسن اصلاحی)
قصد السبیل کا مطلب تو سیدھا راستہ ہے، یعنی الطریق القاصد۔ اختلاف اس میں ہے کہ علی اللہ کا کیا مفہوم ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا کہ اللہ کی ذمے داری ہے کہ وہ سیدھا راستہ بتائے۔ لیکن اس صورت میں دو اشکال ہیں، ایک یہ کہ جملے میں بیان کو محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی وعلی اللہ بیان قصد السبیل، دوسرا اشکال یہ ہے کہ اس ترجمے میں ومنھا جائر (کچھ راستے ٹیڑے ہیں) کی پہلے جملے سے مطابقت نہیں ظاہر ہوتی۔ اس توجیہ کے ماننے والوں نے دونوں اشکالات کے جواب دیے ہیں، لیکن اس تکلف کی ضرورت نہیں رہتی ہے اگر جملے کا مطلب یہ لیا جائے کہ سیدھا راستہ اللہ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں کوئی پوچھ سکتا ہے کہ پھر الی آنا چاہیے تھا علی کیوں آیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں علی الی کے مفہوم میں ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا:
قَالَ ہَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ۔ (الحجر: 41)
”ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)، گو کہ بعض مفسرین نے اس آیت کا بھی یہ مفہوم لیا ہے کہ سیدھے راستے کو دکھانا میری ذمے داری ہے، لیکن یہ اور بھی زیادہ پرتکلف توجیہ ہے۔ تکلف سے خالی مفہوم یہی ہے کہ یہ سیدھا راستہ مجھ تک پہنچتا ہے۔ یہ بات کہ سیدھا راستہ اللہ تک پہنچاتا ہے، درج ذیل آیت میں بھی کہی گئی ہے:
إِنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔ (ہود: 56)
”بیشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر ہے“۔(فتح محمد جالندھری)
زیر بحث آیت کا یہ دوسرا مفہوم آیت کے تینوں ٹکڑوں کو عمدہ طریقے سے جوڑتا ہے۔ آیت کا مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ ایک سیدھا راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے، اور کچھ ٹیڑھے راستے ہیں، بہت سے لوگ ٹیڑھے راستوں پر چل رہے ہیں، اگر اللہ چاہتا تو سب کو سیدھے راستے پر چلادیتا۔
(جاری)
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۴)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید: ایک پیشین گوئی ہے کہ اسلام غریب ہو جائے گا اور غریبوں کے لئے خوشخبری ہے۔1 غریبی کا اسلام سے کیا تعلق؟
عمار ناصر: غریب کا لفظ اجنبی کے معنوں میں ہے۔ جو لوگ اپنے ماحول میں صحیح اسلام پر عمل کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں اجنبی بن جائیں اور ماحول کے رنگ میں نہ رنگے جائیں، وہ مراد ہیں۔
مطیع سید: لوگوں سے قتال کروجب تک وہ لا الہ نہ کہہ دیں۔2 یہ کیا کوئی خاص مشرکین کے لیے حکم تھا؟کیونکہ دین میں تو جبر نہیں ہے۔
عمار ناصر: یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اگر کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو اللہ تعالیٰ اسے سزادیتے ہیں۔ یہ جبر ہی ہےکہ اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ ایمان لاو، اگر نہیں لاتے تو سزا ملے گی۔ اسی طریقے پر حضرت موسیؑ کی قوم کو شرک اختیار کرنے پر قتل کی سزا دی گئی۔ تو اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کا مواخذہ کر نا چاہے تو کر لیتا ہے، یعنی اللہ چاہے تو جبرکر سکتاہے۔ ایمان نہ لانے کی آزادی بھی اس نے دی ہے، تو وہ جب چاہے، اپنی حکمت کے تحت یہ آزادی سلب بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ حق انسانوں کو حاصل نہیں ہے، مجھے اور آپ کو اللہ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم لوگوں سے جبراً ایمان کا مطالبہ کریں۔
اسی ضابطے کے مطابق قرآن مجید میں عرب کے مشرکین کو حجۃ الوداع کے موقع پر ایک مہلت دی گئی اور اس سے پہلے بھی اعلان کیا گیا کہ وہ اگر شرک چھوڑ کر ایمان نہیں لاتے تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ یہ حدیث بھی اسی سے متعلق ہے۔ البتہ فقہا کے ہاں اس میں کئی بحثیں ہیں۔ بعض اس حدیث کو اسی آیت کےتحت سمجھتے ہیں اور مشرکین عرب کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عمومی طور پر جہاد اور قتال کا حکم ہے جو کسی کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ مقصود اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔ پھر اس میں بعض گروہوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ گنجائش بھی دے دی کہ وہ اگر جزیہ دے کر اپنے دین پر قائم رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔
مطیع سید: ایک آدمی کو پھوڑا نکلا۔ اس نے اسے پھاڑدیا اور اسی کے باعث مر گیا توآپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہو گئی۔3 آپ ﷺ نے اسے خودکشی کے زمرے میں لیا حالانکہ پھوڑے کو پھاڑنا تو ٹھیک ہی ہوتا ہے؟
عمار ناصر: نہیں، اس میں نیت کو دیکھنا اہم ہے۔ اگر تو اس نے علاج کے لیے پھاڑا ہے یا غلطی سے پھٹ گیا تو وہ اور بات ہے۔ یہ وعید اس وقت صادق ہوگی جب اس نے مرنے یعنی خود کشی کی نیت سے ہی پھاڑا ہو۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے انصار کو فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔4 تو کیا اس بات کو ہم خلافت کی تقسیم کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں؟
عمار ناصر: نہیں، خلافت کے حوالے سے تو آپ ﷺ نے انصار کو واضح طور پر منع کر دیا تھا کہ تم اس کشمکش میں شریک نہ ہونا۔ یہاں قومی خزانے سے دی جانے والی مراعات میں ترجیح کی بات ہو رہی ہے کہ جب خزانے آئیں گے، اموال آئیں گے تو ان کی تقسیم میں تمہیں نظر انداز کیا جا ئے گا اور باقی لوگوں کو دیا جا ئےگا تو تم اس پر صبر کرنا۔
مطیع سید: آپ کہیں مہمان بن کر جائیں اور کوئی آپ کی مہمان نوازی نہ کرےتو اپنی مہمان نوازی کا حق اس سے لے لو۔5 یہ کس تناظرمیں نبی ﷺ نے فرمایا تھا؟
عمار ناصر: یہ آپ ﷺ نے لشکروں سے کہا تھا کہ جب تم کسی علاقے میں جاؤ اور وہ تمہاری مہمان نوازی نہ کریں یعنی قیام وطعام کے ضروری بندوبست میں تعاون نہ کریں تو تم جبراً اپنا حق لے سکتے ہو۔
مطیع سید: اسلامی علاقوں میں یا کسی بھی علاقے میں؟
عمار ناصر: نہیں، کسی بھی علاقے میں۔
مطیع سید: مسافر کی حیثیت سے؟
عمار صاحب: مسافر کی حیثیت سے بھی لے سکتے تھے اور خاص طور پر بہت سے علاقے تھے جیسے نجران وغیرہ جن کے ساتھ باقاعدہ معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ اسلامی لشکر آئیں گے تو تم پابند ہو گے کہ مقامی طور پر ان کی مہمان نوازی کرو۔ اس تناظر میں فرمایا کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو جتنا تمہار ا حق بنتا ہے کہ تم جبراً لے سکتے ہو۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ غلام اپنے مالک کے لیے رب کا لفظ نہ بولے۔6
عمار ناصر: جی، یہ مناسب نہیں ہے۔ رب کے لفظ میں پالنے پوسنے کا مفہوم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے۔
مطیع سید: لیکن نبی ﷺ نے خود بھی قیامت کی پیشین گوئی میں باندی کی مالکہ کے لیے ربتھا کا لفظ بولا۔7 حضرت یوسف بھی قرآن میں ایک جگہ عزیز مصر کو اسی لفظ سے یاد کرتے ہیں۔
عمار ناصر: درست ہے، نبی ﷺ نے بعض جگہ یہ لفظ بولابھی ہے۔ اس میں یوں ہوتا ہے کہ زبان میں اگر ایک لفظ رائج ہے تو عرف کے لحاظ سے آپ اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے، لیکن بعض موقعوں پر آپ محسوس کرتےہیں کہ اس لفظ کے استعمال سے ایک خاص طرح کا رویہ پیداہوتا ہے تو اس تناظر میں آپ کو کچھ تردد بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسی پہلو سے آپ ﷺ بھی اس لفظ سے گریز کی تلقین فرما رہے ہیں۔
مطیع سید: کسی صحابی نے تلاوت فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے مجھے یہ آیات یاد دلادیں، میں ان کو بھول چکا تھا۔8 جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ہم آپ کو پڑھائیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں۔
عمار ناصر: نہیں، وہ سنقرک فلاتنسیٰ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اور مفہوم میں ہے۔ وقتی طور پر بھول جانے کی نفی یہاں مراد نہیں ہے۔ نبی ﷺ اپنی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں کوئی چیز بھول بھی سکتے تھے، قرآن کی کوئی آیت بھی بھول سکتے تھے۔ اس آیت میں دراصل قرآن کے نزول اور حفاظت کے دو مرحلوں کا ذکر ہے۔ ایک جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس میں کمی بیشی اور نسخ کا معاملہ بھی جاری تھا۔ اس مرحلے پر آپ پر نازل کیے جانے والے کئی حصوں کو مستقلاً محفوظ کرنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں تھا۔ اللہ کی حکمت کے تحت یہ حصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یادداشت میں بھی محفوظ نہ رہے ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی حوالے سے اس آیت میں کہا گیا کہ آپ اس کے متعلق فکرمند نہ ہوں، کیونکہ دوبارہ جب ہم آپ کو اس کی قراءت پڑھائیں گے جو حتمی ہوگی تو پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے۔
مطیع سید: یعنی یہ آیات وقتی طور پر آپ کو مستحضر نہیں تھیں؟
عمار ناصر: جی، مستحضر نہیں تھیں۔
مطیع سید: رھط، یہ لفظ آدمی کے معنی بھی آتا ہے؟
عمار ناصر: آدمی کے معنوں میں نہیں، عام طور پر چھوٹی جماعت کے معنوں میں آتا ہے۔
مطیع سید: میں نے کہیں اس کے معنی آدمی کے دیکھے تو مناسب نہیں لگا۔
عمار ناصر: قافلہ، جماعت، چھوٹا گروہ، ان معنوں میں آتا ہے۔ مفردکے لیے استعمال کی کوئی نظیر میری نظر میں نہیں ہے۔ ممکن ہے اصل لغت میں اس کی گنجائش ہو۔
مطیع سید: بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی زمینیں مسلمانوں کو مل گئی تھیں اور ان کی پیداوار سے سال بھر کا خرچ آپ ﷺ کے گھر بھی آجاتا تھا۔ تو یہ جو کہا جاتا تھا کہ دو دو ماہ تک چولہا نہیں جلتا تھا، یہ کس دور کی بات ہے؟
عمار ناصر: روایت میں تو تصریح نہیں ہے کہ یہ کب کی بات ہے۔ دیکھنا پڑے گا کہ پہلے کی بات ہے یا بعد کی۔
مطیع سید: حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پتلی روٹی اور بھنی ہوئی بکری کبھی نہیں کھائی۔9 جبکہ مختلف روایات موجود ہیں کہ آپ ﷺ کو دستی کا گو شت بہت پسند تھا10 اور حضرت انس تو حضور ﷺ کے پاس مسلسل دس سال رہے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتاہے؟ یہ کب کی روایت ہے؟
عمار ناصر: اس طرح کی روایتیں غالباً عموم کے لحاظ سے صورت حال کو بیان کر دیتی ہیں۔ دیگر تفصیلات کو سامنے رکھیں تو صورت حال اس سے تھوڑی مختلف دکھائی دیتی ہے۔
مطیع سید: کیا یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ﷺ کی ازواج میں سے ایک زوجہ محترمہ نے فرمایاکہ میں نے حضور ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا؟11
عمار ناصر: چاشت کی نماز معمولاً پڑھنے کا تو واقعی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ کسی موقع پر آپ ﷺ سفر سے آئے تو دو رکعتیں ادا فرما لیں یا فتح مکہ کے موقع پر آٹھ رکعات ادا کیں۔ عموم میں آپ کا یہ معمول نہیں تھا۔ البتہ آپ کی معیشت سے متعلق اس طرح کی روایتیں محلِ غور ہیں۔ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی صاحب کی ایک اچھی تحقیق مدنی عہدِ میں نبی ﷺ کی معیشت کے موضوع پر انڈیا کے کسی علمی مجلے میں اور یہاں ماہنامہ اشراق میں بھی شائع ہوئی تھی۔ مجھے اس کی تفصیل مستحضر نہیں، لیکن اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے، انہوں نے اس پر کوئی روشنی ڈالی ہو ۔
مطیع سید: عجوہ کھجور کے بارےمیں بخاری کی جو روایت ہے کہ اس کے کھانے سے جادو اثر نہیں کرتا،12 کیا لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ہے؟ کیونکہ یہ تو تجربے سے تعلق رکھنے والی چیزہے۔ کیا کسی نے کہیں اس کاتجربہ لکھا بھی ہے؟
عمار ناصر: ابن قیم نے زاد المعاد میں اس پر بات کی ہے۔ وہ اس میں کئی تحدیدات بیان کرتے ہیں کہ کیا مطلق عجوہ میں شفا ہے یا یہ عجوۃ العالیہ یعنی مدینے کے بالائی حصے میں اگنے والی کھجور کی خاصیت ہے، کیونکہ حدیث میں مدینے کی بالائی بستی کے بار ے میں شفا کا ذکر آیا ہے۔ تو بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ یہ اس کے ساتھ خاص ہے۔
مطیع سید: راویوں کی جانچ پرکھ کے تو بہت سے اصول ہیں۔ اس پر کتابیں بھی ہیں، بہت کام ہواہے۔ کیا متن پر تنقیدکے حوالےسے بھی اتنا کام ہوا ہے؟
عمار ناصر: کچھ نہ کچھ ہواہے۔ درایتاً نقد کرنے کے اصولوں کی مثالیں تو بہت ملتی ہیں لیکن ان کو اصولی قالب میں ڈھالنے کا کام زیادہ نہیں ہوا۔ احناف کے ہاں کچھ تھوڑی سی بحث ملتی ہے، لیکن وہ زیادہ جامع نہیں۔ حنفی اصول ِ فقہ کی کتابوں میں اس بحث کو روایت کے معنوی انقطاع کا عنوان دیتے ہیں۔ اس میں کچھ اصولوں کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر فقہی مسائل سے ہوتا ہے۔ لیکن عمومی طورپر ہر طرح کی روایات کو درایتاً دیکھنے کے اصول کیا ہیں، اس پر یکجا اور مربوط شکل میں کام نہیں ہے، بکھراہو کام ہے۔ تاہم انفرادی مثالیں بہت ملتی ہیں۔
مطیع سید: گھوڑا اور گدھا دیکھنے میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، پھر کس اصول کے تحت گدھا حرام ہے اور گھوڑا حلال ہے؟ درندہ صفت ہونے کی جو علامات ہیں، وہ تو ان دونوں میں نہیں ہیں۔
عمار ناصر: اصل میں یہ تین اصناف بنتی ہیں۔ اصول تو یہ ہے کہ خبائث ممنوع ہیں اور طیبات حلال ہیں۔ خبائث میں ایک کیٹیگری بالکل واضح ہے، جیسے طیبات میں بھی ایک کیٹیگری ہے جو بالکل واضح ہے۔ درمیان میں کچھ اشتباہ والی چیزیں بھی ہیں۔ تو اس میں ہم خود اپنے اصول سے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ کہیں پیغمبر کے ذوق اور پیغمبر کی فطرت سلیمہ نے ایک فیصلہ کیا ہے تو اس کو ہم قبول کر لیں گے۔ یا اگر پیغمبر کی طرف سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی اور وہ چیز اس درمیان کی کیٹیگری میں ہے تو اس میں اجتہادی اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
مطیع سید: تو کیا مذکورہ مسئلے میں کوئی اجتہادی اختلاف نہیں ہے؟
عمار ناصر: گدھے کے بارے میں یہ بحث رہی ہے، لیکن وہ بحث نص سے استدلال پر ہے۔ عبد اللہ بن عباس اور کوئی دوسرے صحابہ کا خیال یہ تھا کہ گدھےاصولاً حرام نہیں ہیں۔ نبی ﷺ نے کسی اور عارضی وجہ سے ان کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے ان کا جو استدلال ہے، وہ نص سے ہے۔ یعنی جو حرام جانور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کر دیے ہیں اور گدھا اس میں شامل نہیں ہے۔
مطیع سید: اور گھوڑے کے بارے میں کیا اختلاف ہے؟
عمار ناصر: گھوڑے کے بارے میں حنفی فقہا کی رائے کراہت کی ہے۔ امام ابو حنیفہ سے منسوب ایک روایت ہے کہ وہ اسے حرام تو نہیں کہتے لیکن ناپسند کرتے ہیں۔
مطیع سید: مزفت ایک برتن ہے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ نے سارے برتنوں میں کھانے پینے کی اجازت دے دی تھی۔13 یہ کس قسم کا برتن تھا؟ کیا خاص وجہ تھی کہ اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی؟
عمار ناصر: اصل میں جن برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا، وہ بنیادی طور پر بنائے ہی اس لیے جاتے تھے کہ ان میں شراب پی جائے یا محفوظ کی جائے۔ ان میں نبیذ وغیرہ ڈال کر رکھنے سے وہ جلدی نشہ آور ہو جاتی تھی۔ مزفت میں شاید یہ تھا کہ باقی برتنوں میں اگر آپ احتیاط سے کام لیں تو تو نشہ آور ہونے سے پہلے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مزفت میں برتن کے مسام وغیرہ اس طرح بند کر دیے جاتے تھے کہ تھوڑی تاخیر سے بھی اس میں نشہ پیدا ہو جاتا تھا۔ تو یہ سدِ ذریعہ کے طور پر ممانعت کی گئی تھی۔
مطیع سید: ہاتھی، زیبرا اور زرافہ جیسے جانوروں کے بارے میں کیا حکم ہے، یہ حلال ہیں یا حرام؟
عمار ناصر: اصل میں حرمت کی واضح علامت تو جانور کا چیر پھاڑ کرناہے۔ قرآن نے جانوروں کی حلت بیا ن کرتے ہوئے بہیمۃٰ الانعام کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس سے حلت کا جو معیار بنتاہے، وہ یہ ہے کہ انعامِ کی نوعیت کے چوپایے ہونے چاہییں، یعنی درندے نہ ہوں۔ ہاتھی کو فقہاء حرام ہی شمار کرتے ہیں، کیونکہ وہ اگرچہ چیر پھاڑ نہیں کرتا اور شکار بھی نہیں کرتا، لیکن اس کے دانتوں کی وجہ سے اس کی ظاہری ہیئت درندے کی سی ہے۔ البتہ زرافے اور زیبرے میں درندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ ان کا گوشت حلال سمجھا جاتا ہے۔
مطیع سید: گھوڑے کے حوالےسے نبی ﷺ نے حرمت کا حکم نہیں فرمایا بلکہ اجازت دی، جبکہ احناف کہتے ہیں کہ ابوداؤد کی روایت میں اس سے منع کیا گیا ہے۔14 آپ کس کو ترجیح دیں گے؟
عمار ناصر: احناف کے اندر بھی کئی رجحانات ہیں۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بس کراہت ہے، ورنہ اصولاً گھوڑا حلال ہے۔ بعض حرام کی طرح کی چیز سمجھتے ہیں اور وہ اسی ابو داؤود والی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ مالکیہ کے ہاں بھی شاید اسی طرح کا رجحان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے اصل میں ان کو کھانے پینے کے جانوروں سے الگ ذکر کیاہے۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اللہ نے تمہارے لیے انعام پیداکیے، اور اس کے بعد کہا ہے کہ اللہ نے گھوڑے گدھے اور خچر بھی سواری کے لیے پیداکیے ہیں۔ یعنی ان کو الگ ذکر کیا ہے۔ اسی طرح خالد بن ولید کی روایت میں بھی ممانعت کا ذکر ہے، لیکن محدثین کہتے ہیں کہ کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ محدثین کے معیار کے مطابق وہ ایک کمزور روایت ہے۔ مستند روایات محدثین کے نزدیک وہی ہیں جس میں گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت ہے۔
مطیع سید: گوہ کے بارے میں ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایاکہ یہ میرے علاقے میں نہیں ہوتی، اس لیے مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔15 لیکن دوسری جگہ پر یہ فرمایاکہ کچھ قوموں کو مسخ کر کے جانور بنا دیا گیا تھا، شاید یہ گوہ انھی کی نسل سے ہو۔16 پھر ایک دوسری حدیث میں بندروں کے بارے میں فرمایا کہ جو قومیں مسخ ہوئیں، ان کی آگے کوئی نسل نہیں چلی۔ لیکن گوہ کے بارے میں آپ ﷺ فرمارہے ہیں کہ قومیں مسخ ہوئیں ہیں۔
عمار ناصر: جی، یہ ایک مسئلے کے بارے میں دو متضاد روایتیں آگئیں جن میں ترجیح قائم کرنی پڑ ے گی۔ احناف حرمت والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں، دوسرے فقہاء کے نزدیک حلت کی روایت کو ترجیح حاصل ہے۔ جہاں تک کسی مسخ شدہ گروہ کی نسل سے ہونے کا تعلق ہے تو محدثین کہتے ہیں کہ شاید آپ نے پہلے اپنے قیاس اور ظن سے یہ بات فرمائی ہوگی، لیکن پھر آپ کو وحی سے بتا دیا گیا ہوگا کہ کسی مسخ شدہ گروہ کی نسل آگے نہیں چلی۔ جیسے دجال کے بارے میں آپ ﷺ کےبعض تبصروں سے لگتاہے کہ پوری طرح تفصیلات آپ ﷺ کو نہیں بتائی گئی تھیں اور آپ کچھ قیاسات سے بھی مدد لیتے تھے۔ ظاہر ہے، یہ کوئی شریعت کا مسئلہ نہیں تھا۔
مطیع سید: آپ ﷺ کو دو پیالےپیش کیے گئے، ایک دودھ کا اوردوسرا شراب کا۔ پھر جب آپ نے دودھ کا پیالہ لے لیا تو کہا گیا کہ اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔17 یہ آپ کی کیسی عجیب آزمائش کی گئی اور آپ کے پیالہ لینے سے آپ کی امت کی ہدایت یا گمراہی کا فیصلہ کیسے ہوا؟
عمار ناصر: یہ تمثیلی نوعیت کی ایک تعلیم تھی۔ مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ جیسے آپ راہ راست پر ہیں اور آپ نے درست انتخاب کیا ہے، اسی طرح آپ کی امت بھی مجموعی طور پر راہ راست پر قائم رہے گی۔
مطیع سید: آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا، لیکن خود کھڑے ہو کر پیا بھی۔18 حضرت علی کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر بھی پیا ہے۔19
عمار ناصر: اس کے متعلق دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ بعض لوگ اس میں بہت شدت کرتے ہیں، لیکن عام فقہا ءکا عمومی رجحان یہ ہے کہ کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی شرعی یا اخلاقی کراہت نہیں۔ ہاں، طبی پہلو سے یہ بہتر ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے احتیاط کی جائے اور بیٹھ کر سکون اور اطمینان سے پیا جائے تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔ اسی طرح استحباب یا ادب کے لحاظ سے بھی یہی مناسب ہے کہ بیٹھ کر پانی پیا جائے۔
مطیع سید: میں نے کئی جگہ یہ محسوس کیاہے کہ جب کوئی حدیث سامنے آتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ احناف نے جو بات پہلے طے کرلی ہے، حدیث سامنے آنے پر بجائے اس کو تسلیم کرنے کے ایسی تاویل کرتے ہیں کہ وہ ان کے موقف کے مطابق ہوجائے۔
عمار ناصر: دیکھیں، سبھی ایسے کرتے ہیں۔ اس میں بعض دفعہ تعصب بھی ہوتا ہے۔ جب کچھ آراء مقبول اور رائج ہوگئی ہوں اور فقہی پہچان بن گئی ہوں تو اس میں تعصب پیدا ہو جانا ایک قابل فہم بات ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ لازماً تعصب ہی وجہ ہو۔ کئی مواقع پر مجموعی دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی روشنی میں کسی ایک حدیث کو ظاہری مفہوم میں لینے کے بجائے یہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ حدیث کو کسی ایسے مفہوم پر محمول کر لیا جائے جو مجموعی دلائل کے مطابق ہو۔
مطیع سید: حدیث کے شارحین میں آپ کی پسندیدہ ترین شخصیت کون سی ہے؟
عمار ناصر: حدیث کے شارحین میں میری پسندیدہ شخصیت علامہ انور شاہ کشمیری ہیں۔
مطیع سید: ان کی فیض الباری کی وجہ سے؟
عمار ناصر: جی، حدیث کی باقی جتنی بھی شروحات ہیں، ان کے اہم مباحث بھی فیض الباری میں آ جاتے ہیں اور ان کا یک بہت اچھا محاکمہ بھی مل جاتا ہے۔ شاہ صاحب کی جو باقی تحریریں ہیں جن میں وہ اصل میں کسی خاص فقہی مسئلے پر کلام کررہے ہوتے ہیں، وہاں تو کچھ ان کا رنگ مختلف ہے۔ لیکن فیض الباری میں یہ ہے کہ متن کے، سند کے بھی، فقہ کے، اصول فقہ اور اصول حدیث کے، ہر طرح کے مباحث آپ کو ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔ اس میں آپ کو ان کے علم کا بہت وسیع کینوس نظر آتاہے۔ حدیث کے فہم میں جو ان کا زاویہ ہے، اس سے آپ صحیح فائدہ تب اٹھاسکتے ہیں یا صحیح قدر وقیمت کااندازہ تب کر سکتے ہیں جب پوری دینی روایت کی نمائندہ چیزیں آپ کے سامنے ہوں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ شاہ صاحب ان بحثوں میں کیا اضافہ کر تے ہیں۔
مطیع سید: فقہا میں آپ کی پسندیدہ شخصیت؟
عمار ناصر: آپ اگر علمی صلاحیت کے لحاظ سے پوچھ رہے ہیں تو کچھ کہنا بہت مشکل ہے اور میری تو بالکل یہ حیثیت نہیں۔ ذہانت وذکاوت یا علمی سطح کے لحاظ سے تو شاید آپ کوئی خاص فرق نہیں کر سکتے۔ البتہ فقہی اپروچ کے متعلق اگر آپ پوچھنا چاہ رہے ہیں تو وہ حضرت عمر ہیں۔ اصل میں فقیہ الامت وہی ہیں۔
مطیع سید: تمام فقہا میں سے آپ کن کو دیکھتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی زیادہ پیروی کی ہو؟
عمار ناصر: مجموعی طور پر کچھ کہنامشکل ہے۔ ان کے ہاں جو اجتہاد کی اسپرٹ ہے، اس کے کچھ نہ کچھ نمونے سبھی فقہا کے ہاں ملتے ہیں۔ اسپرٹ سے مرا د یہ ہے کہ وہ حکم کو بالکل ظاہر پر لینے کی بجائے اس کے مقصد و منشا کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، اس کی روح اور مقصد کو متعین کرنے کے لیے عقل اور قیاس سے اور شریعت کے مقاصد اور پیش نظر مصالح سے مدد لیتے ہیں، اور دیگر تمام نصوص کو بھی سامنے رکھتے ہوئے یہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شارع اصل میں کہنا کیاچاہتاہے۔ اس کے لحاظ سے حکم کی ظاہری شکل کو چھوڑ کر وہ کئی دفعہ ایک دوسری شکل بھی اختیارکر لیتے ہیں۔ یہ ان کے اجتہاد کی سپرٹ ہے۔ اب اس کے نسبتا ً زیادہ نمونے آپ کو مالکیہ اور احناف کے ہاں ملیں گے اور حنابلہ کے ہاں بھی اس کی بہت اچھی مثالیں۔ ایسا نہیں کہ شوافع کے ہاں اس کی مثالیں بالکل نہیں ملتیں، لیکن اطلاقی سطح پر آپ کو اس کے زیادہ نمونے مالکیہ اور احناف کے ہاں اور پھر حنابلہ کے ہاں ملیں گے۔
حواشی
- صحیح مسلم، كتاب الایمان، باب بيان ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا، رقم الحدیث: 145، جلد: 1، ص: 130
- صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فان تابوا واقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم، رقم الحدیث: 25، ص: 76
- صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذكر عن بنی اسرائيل، رقم الحدیث: 3463، ص: 888
- صحیح البخاری، کتاب الشرب والمساقاۃ، باب القطائع، رقم الحدیث: 2376، ص: 612
- صحیح البخاری، کتاب الادب، باب اكرام الضيف وخدمتہ ایاه بنفسہ، رقم الحدیث: 6137، ص: 1523
- صحیح البخاری، کتاب العتق، باب كراہیۃ التطاول على الرقيق، رقم الحدیث: 2552، ص: 655
- صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب ان الله عنده علم الساعۃ ، رقم الحدیث: 4777، ص: 1214
- صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب نسيان القرآن ، رقم الحدیث: 5037، ص: 1301
- صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الخبز المرقق والاكل على الخوان والسفرة ، رقم الحدیث: 5385، ص: 1380
- صحیح البخاری، كتاب الهبۃ وفضلها، باب القليل من الھبۃ، رقم الحدیث: 2568، ص: 661
- صحیح البخاری، ابواب التہجد، باب من لم يصل الضحى ورآه واسعا، رقم الحدیث: 1177، ص: 338
- صحیح البخاری، ابواب الاطعمۃ، باب العجوۃ ، رقم الحدیث: 5445، ص: 1391
- صحیح البخاری، کتاب الاشربۃ، باب ترخيص النبی صلى الله عليہ وسلم فی الاوعيۃ والظروف بعد النہی، رقم الحدیث: 5593، ص: 1411
- سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، باب فی اكل لحوم الخيل، رقم الحدیث: 3790، جلد: 3، ص: 352
- صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان، باب اباحۃ الضب، رقم الحدیث: 1945، جلد: 3، ص: 1543
- صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان، باب اباحۃ الضب، رقم الحدیث: 1949، جلد: 3، ص: 1545
- صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب جواز شرب اللبن، رقم الحدیث: 2009، جلد: 3، ص: 1592
- صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب كراہیۃ الشرب قائما، رقم الحدیث: 2024، جلد: 3، ص: 1600
- صحیح البخاری، ابواب الاشربۃ، باب الشرب قائما، رقم الحدیث: 5615، ص: 1426
(جاری)
صنف وجنس اور اس میں تغیر (۳)
مولانا مشرف بيگ اشرف
خنثی ، خصی خنثی مشکل وغیرہ سے متعلق شرعی احکام
اب تک کی گفتگو سے یہ واضح ہو گیا کہ اسلامی شریعت کا تصور جنس وصنف کیا ہے۔ نیز علم جینیات میں ان تصورات کو کیسے دیکھا جاتا ہے۔ نیز نفسیات کی بنیاد پر اس قضیے کی کیا حیثیت ہے۔
نیز فقہا نے جس علمیت پر جنس کا تصور کھڑا کیا تھا، وہ آج بھی بالکل متعلق اور زندہ ہے۔ جینیات کے علم نے کچھ ایسا ثابت نہیں کیا کہ وہ بدل جائے۔ بس اس نے ظاہری اعضا کے پیچھے جینز کا تصور کھڑا کیا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک بہت بڑی کاوش ہے اور اس سے کئی بیماریوں کے علاج میں مدد ملی۔ لیکن انسان اب بھی وہی ہے۔
اس لیے، ہم اب ہم خنثی سے متعلق شرعی احکام کی طرف لوٹتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ فقہا کے ہاں دو امورمیں واضح فرق دکھائی دیتا ہے:
۱: فقہا "خنثی" کے لیے دو ٹوک معیار مقرر کرتے ہیں۔
۲: تاہم اگر کسی کا "خنثی" ہونا ثابت ہو جائے، تو اس کے بعد، ان کے ہاں بہت گنجائش اور نرمی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان میں اصل یہ ہے کہ وہ مرد ہے یا زن اور اس میں دونوں اعضا نہ ہوں۔اور یہی انسانی تاریخ کا غالب مشاہدہ بھی ہے۔ اس لیے، اس حوالے سےتعین کو مشکوک نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن جب ایک مرتبہ شک کی دراڑ پڑ گئی، تو اس کے بعد، گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔
خنثی: فقہا کے ہاں خنثی وہ ہے جس میں دونوں اعضائے تناسل ہوں۔ اس لیے، فقہا کے ہاں، معیار تولیدی نظام سے وابستہ اعضا ہیں۔ اس سے ہمیں مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے:
۱: جس انسان کا جینیاتی ڈھانچہ اس کے نظام تولید سے ہم آہنگ نہیں لیکن اس میں اعضا صرف ایک ہی جنس کے ہیں، تو وہ خنثی نہیں۔ اگرچہ ہم پیچھے یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ ہم آہنگی صرف ہماری کم علمی ہوتی ہے ورنہ اصل میں ہر ساختیاتی تبدیلی کے پیچھے جینیاتی تفسیر کھڑی ہوتی ہے۔ اس لیے، یہ لوگ خنثی نہیں۔
۲: اگر کسی عورت میں مردانہ ہارمونز زیادہ ہوں جس کی وجہ سے اس کے جسم پر بال آر ہے ہیں تو خنثی نہیں۔ بلکہ وہ "مادہ" ہی ہے۔
۳: "خصی" بھی خنثی نہیں بلکہ نر ہے۔ خصی (eunuch)اسے کہتے ہیں جس کے خصیے وغیرہ کاٹ دیے گئے ہوں۔اس لیے، اس پر "نر" کے احکام لاگو ہوں گے۔
۴: جس پیدائشی نر کو نفسیاتی طور سے یہ لگے کہ وہ عورت ہے، تو وہ مرد ہی ہے اور اسی طرح پیدائشی مادہ۔ بالفاظ دگر، "متبدل صنف" خنثی نہیں، وہ نر یا مادہ ہی ہے۔
۵: جس متبدل جنس نے اپنے اعضا کو تبدیل کر لیا جبکہ اس کے اعضائے تناسل واضح طور سے نر یا مادہ کے تھے، تو وہ بھی خنثی یا خنثی مشکل نہیں۔ بلکہ اس عمل جراحی سے پہلے اس کی جو جنس تھی ، وہی اب بھی ہے۔ جنس ناقابل تغیر ہے۔
تاہم، یہ ہو سکتا ہے کہ کسی انسان کے ظاہری اعضا کسی ایک جنس کے ہوں لیکن اس کے اندر دوسرے جنس کے اعضا ابتدا میں نشو ونما نہ پا سکیں لیکن بعد میں وہ زندگی کے کسی موڑ پر اچانک ظاہر ہو جائیں۔ اگر سکین کے ذریعے وہ اعضا نظر آ جائیں، تو یہ خنثی ہے۔پر یہاں بھی حقیقت میں ظاہری اعضا ہی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
خنثی کا تعین بین الاقوامی عرف میں:
اقوام متحدہ کے اعلی کمیشنر برائے انسانی حقوق نے جولائی ۲۰۱۳ میں جی بی ٹی آئی (LGBTI) کے لیے ایک مہم کا اجرا کیا جس کا عنوان ہے: "اقوام متحدہ: آزاد ویکساں"۔ یہ دراصل حقوق انسانی کے عالمی منشور کی پہلی شق سے مستعار ہے کہ:
"تمام انسان آزاد اور کرامت و حقوق میں یکساں پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں (فطرت نے) عقل وشعور کے تحفے سے نوازا ہے ۔ اس لیے، انہیں چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اخوت اور بھائی چارےسے پیش آئیں۔"
اس مہم نے خنثی کے حقوق کے حوالے سے ایک معلوماتی دستاویز شائع کی جس کے مقدمے میں خنثی کی تعریف ان الفاظ سے کی گئی:
Intersex people are born with sex characteristics (including genitals, gonads and chromosome patterns) that do not fit typical binary notions of male or female bodies. Intersex is an umbrella term used to describe a wide range of natural bodily variations. In some cases, intersex traits are visible at birth while in others, they are not apparent until puberty. Some chromosomal intersex variations may not be physically apparent at all. According to experts, between 0.05% and 1.7% of the population is born with intersex traits – the upper estimate is similar to the number of red haired people. Being intersex relates to biological sex characteristics, and is distinct from a person's sexual orientation or gender identity. An intersex person may be straight, gay, lesbian, bisexual or asexual, and may identify as female, male, both or neither.
مفہوم: خنثی برادری میں دونوں جنس کی خصوصیات ہوتی ہیں جو روایتی دوئی پرمبنی جسمانی تصور نر ومادہ سے ہم آہنگ نہیں۔ (ان خصوصیات میں اعضائے تناسل، تناسلے غدے، کروموسومز کی ہیئت شامل ہے)۔ خنثی کی اصطلاح تلے کئی مختلف جسمانی تنوعات آتے ہیں۔ بعض اوقات، خنثی کی خصوصیات بوقت پیدائش ہی ظاہر ہوجاتی ہیں اور بعض اوقات بلوغ پر ظاہر ہوتی ہیں۔نیز یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض کروموسومز پر مبنی تنوع بالکل جسمانی طور سے ظاہر ہی نہ ہو۔ماہرین کے مطابق 0.05 سے 1.7 فیصد لوگ خنثی ہوتے ہیں جیسا کہ سرخ بالوں والوں کی زیادہ سے زیادہ شرح بھی یہی ہے۔خنثی ہونے کا تعلق انسان کی حیاتیاتی جنسی خصوصیات سے ہے جو جنسی رجحان اور صنفی شناخت سے جداگانہ تصور ہے۔ ایک خنثی کا جنسی رجحان "انسانی نر "کی طرف بھی ہو سکتا ہے، انسانی مادہ کی طرف بھی، دونوں کی طرف بھی اور سرے سے اس رجحان سے عاری بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح، خنثی اپنی شناخت مردانہ، زنانہ یا دونوں قرار دے سکتا ہے یا سرے سے کوئی شناخت قرار ہی نہ دے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس کی تعریف یہ ہے:
intersex, in biology, an organism having physical characteristics intermediate between a true male and a true female of its species. The condition usually results from extra chromosomes or a hormonal abnormality during embryological development.
مفہوم: علم احیا میں، خنثی اس زندہ کائنات کو کہتے ہیں جس کی جسمانی خصوصیات اپنے نوع کے ٹھیٹ نر اور ٹھیٹ مادہ کے بیچ میں ہو۔ یہ صورت حال عام طور سے، اضافی کروموسومز سے جنم لیتی ہے یا رحم ماد میں جنین کی نشو ونما کے وقت ہارمونز میں انحراف سے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ خنثی میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو جنسی ساخت کے حوالے سے بالکل واضح اور دوٹوک ہیں لیکن ان کے کروموسوز کا ڈھانچہ اس سے جوڑ نہیں کھاتا۔ اور ہم واضح کر چکے ہیں کہ شرعی نقطہ نگاہ سے یہ خنثی نہیں، بلکہ نر یا مادہ ہیں اور اسی کے مطابق انہیں حقوق ملیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تناظر میں صرف اتنی بات کافی نہیں کہ طبی دستاویز کی بنیاد پر جنسی اعضا کی عمل جراحی کی اجازت دے کر قانون میں جنس کو بدل دیا جائے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ فقہ دراصل قدر کا سوال ہےاور طب ، سائنس وغیرہ اس سے کوسوں دور ہیں یا ہونا چاہیے اصولی طور سے۔ اب کسی طبیب کی کیا قدر ہے، وہ اس کے مطابق فیصلہ کر ے گا اور عنوان یہ دیا جائے گاکہ "سائنس کی بنیاد پر فیصلہ ہوا" اوراس دھرتی کے لوگ جو سائنس کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار ہیں، اس پر خوشی محسوس کریں گے کہ ہم نے جدید ہونے کا ثبوت دیا جب کہ حقیقت میں ہم نے سائنس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا، بلکہ ایک طبیب کے عقیدے اور اس کی قدر کو مان لیا۔اور اس سے بڑھ کر ہماری تہذیبی اقدار کا اور کیا خون ہو گا۔
اس لیے واضح رہے کہ "کئی ڈاکٹرز اس مسئلے کا حصہ ہیں حل نہیں۔"
ڈاکٹرز اس مسئلے کا حصہ ہیں حل نہیں:
ڈاکٹرز ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ یہ ہمارے بھائی، بہن ، بیٹے بیٹی ہی ہیں اور جس طرح، ہر شعبے میں بھانت بھانت کے افکار رکھنے والے ہیں، اس پیشے میں بھی ہے۔ اور جس طرح، ہر میدان میں اچھے برے ہیں، اس میدان میں بھی ہیں۔ میرا اپنا جتنے اطبا سے واسطہ پڑا، ان میں سے کئی دین کو پسند کرنے والے اور خوب صورت اخلاق کے مالک تھے اور اس شعبے کو واقعی خدمت خلق سمجھ کر نبھانے والے تھے۔
تاہم افسوس کے ساتھ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو انسانوں کی صحت پر اپنی جاگیریں کھڑی کرتے ہیں۔ دواساز ادارےمیڈیکل نمائندوں کے ذریعے سے کئی اطبا کو بڑی بڑی مراعات (فریج، اے سی، بیرون ملک سیر وسیاحت کی سہولت وغیرہ)دے کر اپنی ادویہ دینے پر راضی کرتے ہیں ۔ اب بازار میں ایک بیماری کے لیے سستی دوا موجود ہے لیکن میڈیکل نمائندے نے چونکہ اپنا ہدف(ٹارگٹ) پورا کرنا ہوتا ہے اس لیے ڈاکٹر اسی کمپنی کی دوا لکھ کر دے گا جس کے نمائندے نے اسے مراعات سے نوازا۔ اسی طرح، بعض ڈاکٹرز خاص مختلف عنوان سے ادویہ بناتے ہیں جو صرف ان کی اپنی فارمیسی سے ان کے اپنے نرخ پر ملتی ہیں جبکہ وہی تاثیر رکھنے والی سستی دوا بازار میں موجود ہوتی ہیں اور نسخے پر لکھے ہوئے عنوان کو اس فارمیسی کے علاوہ کوئی دوسری فارمیسی والے پہچانتے بھی نہیں۔
ہمارے زیر بحث مسئلے میں کہ جنس کا پیمانہ کیا اور کسے خنثی مان کر اس عمل جراحی کی اجازت دی جائے، کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ اس حوالے سے دو پہلوؤں کو دیکھنا ہے:
۱: اس وقت جنس وصنف سے متعلق مسائل کے پشت پر ایک مکمل عقیدہ کھڑا ہے جو مابعد جدیدیت اور وجودیت کے نظریات سے متاثر ہے۔ اس کے خیال میں : "وجود ماہیت پر مقد م ہے"۔ انسان کے ساتھ پیدائشی طور سے مختلف ماہتیں اور نسبتیں جڑ جاتی ہیں، وہ اپنے ساتھ نہیں لاتا بلکہ معاشرہ انہیں بچے کو پہناتا ہے۔ اس لیے، وجود ہر ماہیت پر مقدم ہے اور کس انسان نے اپنے لیے کس ماہیت کا لباس اوڑھنا ہے، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔اسی طرح، مرد وعورت ہونا کوئی بچہ اپنے ساتھ نہیں لاتا، بلکہ ڈاکٹر جب پہلی مرتبہ یہ کہتا ہے کہ: "آپ کا بیٹا ہوا"یا "آپ کی بیٹی ہوئی"، تو وہ اپنے انشائی بول (illocutionary speech act) سے "مرد" یا "عورت" کو جنم دیتا ہے، وہ کسی حقیقت کی خبر نہیں دیتا، بلکہ ایک حقیقت کو خود وجود دے رہا ہوتا ہے۔نیز بعض لوگ اس کی تائید اس سے بھی کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹرانس لوگوں کے جینز دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں جو ان کے ذہن کو ان کی جسمانی جنس سے مختلف کر دیتے ہیں۔ اس کا ہمیں خود بھی تجربہ ہے کہ ہمارے ایک عزیز کی بچی اس نفسیاتی الجھ میں ہے اور ایک ڈاکٹر سے رہنمائی لی۔ اس نے کہا کہ یہ فطری ہے کہ بعض لوگوں میں خاص جینز ہوتے ہیں ۔والدین جو پہلے ہی بچی کی صورت حال سے پریشان تھے، ان کے لیے مزید معاملہ گھمبیر ہوگیا۔اور ہم نفسیات کے تحت واضح کر چکے ہیں کہ انسانی نفسیات ودماغ کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
۲ : دوسرا پہلو سرمایہ دارانہ ہے۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ جنس اور باقی اعضا تبدیل کروانا ، جیسے مرد کا عورت جیسا بننے کے لیے اپنی چھاتی بنوانا اور اندام نہانی کی تنصیب وغیرہ، یہ دنیا کی مہنگی ترین سرجری میں آتا ہے۔جب کوئی انسان اپنے اعضا کو بدلواتا ہے تو عام طور سے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جس جنس کا خواہاں ہے، اپنے جسم کو پوری طرح ویسے کروائے اور یہ کاسمیٹک سرجری بہت مال طلب ہے۔اس لیے، اس کے ساتھ بہت سا سرمایہ جڑا ہوا ہے۔پھر ان لوگوں کو مستقل کسی معاینہ کروانا پڑتا ہے۔ اسی طرح، کئی لوگ جو اپنے اعضا بدلوا لیتے ہیں، وہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کر، مستقل کسی ماہر نفسیات کے در پر آج جاتے ہیں۔ اگر ایک سے اطمینان نہ ہوا، تو دوسرے کی طرف۔ اس طرح، ان کے کلینک آباد اور اکاونٹس بھرے ہوئے رہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں خنثی بچوں کی ولادت پر اس کی جراحی کر کے اسے کسی ایک جنس کی پھیر دیا جاتا ہے۔ اب اس پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے مہم چلائی جاتی ہے کہ اس عمل کو روکا جائے ۔ ایسے بچے بڑے ہو کر پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اور نوبت خودکشی تک آجاتی ہے۔
ان وجوہ سے، صرف یہ کافی نہیں کہ ڈاکٹر کی رپٹ پر کسی کے خنثی ہونے کا فیصلہ کر دیا جائے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ دین دار اور اسلامی اقدار کے حوالے سے پختہ اطبا بیٹھ کر ایک معیار طے کریں کہ جو اس پر پورا اترے اسے خنثی قرار دیا جائے اور اس کے بعد، اسے عمل جراحی وغیرہ کی اجازت ہو اور اس کی شناخت کی تعیین کے حوالے سے نادرا سے رجوع کرنے کی اجازت ہو۔ ورنہ، اگر ان اصطلاحات کو جدید طب کی روشنی میں واضح اور ان کے لیے کوئی واضح معیار (بنچ مارک) مقرر نہ کیا گیا، تو وہی نتائج ان اصطلاحات سے ایک ڈاکٹر باآسانی حاصل کر لے گاجس کے خدشے سے اس وقت ساری محنت کی جاری ہے جیسے ایک ماہر قانون ایک قانونی متن کو مختلف طرح سے پڑھ لیتا ہے۔
اس امر کے لیےشرعی اصول، بیمار کے لیے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے کہ اگر طبیب اسے کہے کہ روزہ اس کے لیے نقصان دہ ہے، تو وہ چھوڑ سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ طبیب مسلمان ہو اور اسلامی اقدار کو وہ اہم سمجھتا ہو۔شریعت اس زبان زد عام تصور کو تسلیم نہیں کرتی کہ "بس ماہر کی بات کو تسلیم کیا جائے۔" بلکہ ماہر بھی انسان ہے او ر وہ بھی اپنی مہارت کو غلط استعمال کر سکتا ہے۔ نیز اس کی تحقیق اس کے کسی عقیدے کا اثر بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے، صرف سائنس کا نام سے مرعوب ہونے کے بجائے، شرعی اصولوں پر فیصلہ کرنے والے کو ایک متحرک ناقد کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے خواہ اس پر کتنا ہی استہزا کا سامنا کرنا پڑے کہ اللہ تعالی کے سامنے جواب دہی زیادہ شدید ہے اس استہزا سے۔
خنثی کے دو مختلف حالات:
اوپر یہ قاعدہ گزرا کہ اسلام صرف دو جنسوں کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم چونکہ انسان کا علم ناقص ہے، اس لیے بعض محدود صورتوں میں انسان کے لیے یہ دریافت مشکل ہوجاتی ہے۔
دوسری طرف، انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ، فرشتوں سے سجدہ کروایا اور اس زمین کی خلافت سے نوازا۔ اس شرف وبلندی کا مظہر یا اس کا ایک سبب اس کا اپنے افعال کا ذمے دار ہونا ہے۔اور چونکہ عقل کے قاضی کا فیصلہ ہے کہ بغیر اختیار کے کسی چیز کی ذمے داری غیر حکیمانہ امر ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جس نے یہ عقل اور اس کا ڈھانچہ خود بنایا، انسان کو اختیار دے دیا ۔چناچہ اب اس کا فعل بے زبان چوپایوں اور بے جان در ودیوار کی طرح نہ رہا۔بلکہ اس کا فعل اس کے اختیار سے پھوٹتا ہے اور انسان کی اپنی نفسیاتی حالت اسے یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ اس نے جو فعل کیا وہ اس کا ذمے دار ہے کہ اس کے اپنی اختیار سے بہہ کر آیا ہے۔وہ چاہتے ہوئے بھی اس سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ وہ سائے کی طرف پوری زندگی اس کے ساتھ رہتا ہے۔
تیسری طرف، انسان کے ساتھ ایسے عوارض جڑے ہوئے ہیں، جو اس کے اختیار کو کبھی ماؤُف اور کبھی محدود کر دیتے ہیں۔ ان ہی عوارض میں سے ایک بچپن ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو شاید اسے اپنے وجود ہی کا احساس نہیں ہوتا ۔ اس کی عقل کا بیج اپنی ابتدائی حالت میں ہوتا ہے کہ اگر سازگار حالات رہے تو بلوغ تک وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جائے۔ اوراسی وجہ سے ، اخلاق اور اس پر مرتب ہونے والے قانون میں ،اس بچے کے جان مال کو وہی حرمت ملتی ہے جو ایک باشعور وباعقل انسان کو دی جاتی ہے کہ اس نے اپنے مآل ونتیجے میں ایک ذی شعور وذی عقل مخلوق بننا ہے۔
اسی وجہ سے، فقہ جو مقاصد پر مبنی (Purpose-Driven)انسانی سرگرمی ہے،بچے کے معاملات کو اس کے ارد گرد میں موجود لوگوں کے سپرد کرتی ہے کہ وہ اس بیچ کی نگہداشت وآبیاری کر کے اسے ایک تناور درخت بنائیں۔ اور ان لوگوں میں بچے کے والدین اور پھر دیگر رشتے دار، درجہ بہ درجہ، آتے ہیں جن کی بابت انسانی تاریخ، انسانی فطرت اور ادیان یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اس بچے کے خیر خواہ ترین ہیں۔اور بچے کے جانی ، جسمانی ومالی معاملات کا فیصلہ وہ والدین کرتے ہیں تا کہ وہ بچہ ان کی چھاؤں میں جوان ہو اور ایک صحت مند فرد بنے۔ اس کے بعد، وہ اپنے معاملات کا فیصلہ خود کر سکے۔
ان سب باتوں کے پیش نظر فقہا ، خنثی کے احکام کو دو مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلا مرحلہ پیدائش سے بلوغ سے پہلے کا اوردوسرا مرحلہ بلوغ سے بعد ہے۔
خنثی بچپن میں:
اب چونکہ خنثی ایک انسان ہے جسے وہ تمام حقوق ملیں گے جو ایک انسان کو ملتے ہیں اور انسان "نر" یا "مادہ" ہوتا ہے،اس لیےفقہا کے ہاں بنیادی سوال اس کی جنس کی تعین ہے تاکہ اس کے ساتھ کچھ مقاصد واحکام وابستہ کر سکیں۔ جب تک بچہ بالغ نہیں ہوتا، تو بنیادی ترین حکم میراث کا ہے کہ اگر اس کا مورث مر گیا تو اسے کتنی میراث ملے، نیز اس کے حق پرورش کا ہے کہ اگر ماں باپ میں جدائی ہو گئی، تو اگرچہ اصولی طور سے، حق پرورش نومولود کا ماں کے پاس ہے،تاہم ایک خاص عمر میں پہنچ کر یہ باپ کو منتقل ہوتا ہے: لڑکے میں یہ جلدی ہوجاتا ہے کہ جیسے ہی اسے ہوش آئے اورروزمرہ کی بنیادی ضرورتوں میں وہ خود کفیل ہو توباپ کو حق ملتا ہے کہ اسے مردانہ اخلاق وعادات کا عادی بنائے اور معاشرے میں اپنا کردار (Gender Role)ا دا کرنے کا لیے پوری طرح سے تیار ہو(جی ہاں، شریعت کا مقصود ہے کہ معاشرے لڑکے اورلڑکیوں کو سماجی کردار کے لیے تیار کریں۔) اور لڑکی میں یہ کچھ دیر سےملتا ہے کہ اسے اس کے سماجی کردار کے لیے آمادہ اس کی ماں کر سکتی ہے۔ اس لیے، جب اس کی شادی کی عمر ہو، تو یہ حق باپ کو منتقل کیا جاتا ہے کہ "پدر قوّامی"(واو کی تشدید کے ساتھ)معاشرے میں ، جوعین فطرت ہے،بیٹی کی حفاظت ،اسے معاشرے کے تاریک گوشوں سے بچانے اور عمر کے ساتھ پنپتے ہوئے احساسات وجذبات کی بیل کو منڈھے چڑھانے کی ذمے داری باپ پر ہے۔اور جب وہ بالغ ہوتا ہے تو قانونی وفقہی احکام کا ایک جہاں وا ہو جاتا ہے۔ اس لیے، اس وقت اس کی جنس کا فیصلہ دوبارہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایک بالکل فطری معاملہ ہے کہ بلوغ کے وقت انسان بالکل ایک نیا روپ دھار لیتا ہے۔ اس کی جسمانی و نفسیاتی کایا ہی پلٹ جاتی ہے۔
بہر کیف، بلوغ سے پہلے خنثی کا فیصلہ اس کے پیشاب کی جگہ پر کیا جاتا ہے۔ چناچہ اگر اس کا جسم مردانہ عضو سے ہو کر آتا ہے، تو اسے نرقرار دیا جائے گا او رزنانہ عضو سے کرتا ہے، تو مادہ۔ اور اگر دونوں ہی اعضا استعمال کرتا ہو، تو اب یہ "خنثی مشکل" ہے۔ اس کے جنسی فیصلے کو اس کی جوانی تک روک دیاجائے گا۔ اور میراث وغیرہ کے احکام میں فقہا کچھ فقہی اصولوں کی روشنی میں اس کا حل پیش کرتے ہیں جن کی تفصیل یہاں پیش نظر نہیں۔اوپر جو فقہا کی عبارات دی گئیں ان کے ضمن میں یہ تفصیالات موجود ہیں۔ تاہم علامہ حصکفی کی عبارت ملاحظہ ہو:
«فإن بال من الذكر فغلام، وإن بال من الفرج فأنثى وإن بال منهما فالحكم للأسبق، وإن استويا فمشكل»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 727)
مفہوم: اگر خنثی مردانہ عضو سے پیشاب کرے، تو لڑکا، اور اگر زنانہ سے کرے تو لڑکی اور دونوں سے کرے، تو جس سے آغاز ہوا اس پر فیصلہ ہوگا۔ اور اگر دونوں ہی ہر لحاظ سے برابر ہوں، تو یہ خنثی مشکل ہے۔۱۲
اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں:
«(قوله فالحكم للأسبق) لأنه دليل على أنه هو العضو الأصلي ولأنه كما خرج البول حكم بموجبه لأنه علامة تامة فلا يتغير بعد ذلك بخروج البول من الآلة الأخرى»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 727):
مفہوم: (علامہ حصکفی کا فرمانا کہ جو پہلے ہے اس پر فیصلہ ہو گا) اس لیے کہ وہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اصلی کارآمد عضو ہے، نیز اس لیے کہ جوں ہی وہ پیشاب کرے گا، وہ اس کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا کہ پیشاب کرنا ، جنس کی تعیین میں، ایک مکمل علامت ہے۔ اس کے بعد، دوسرے آلے سے پیشاب خواہ کرے، پر حکم نہیں بدلا جائے گا۔
یہاں یہ بات نوٹ کیجیے کہ فقہا اس حوالے سے کتنی واضح ہے کہ چونکہ جنس ایک امر ربی ہے ، وہ بدلنے سے نہیں بدلتی اور ہمیں اس کا اندازہ علامات سے ہوتا ہے(جیسے نماز کی فرضیت کا اندازہ سورج کے چڑھنے ڈھلنے سے)، اس لیے جب ایک بار حکم ثابت ہو گیا تو اسے وہ بدلنے نہیں دیتے۔ (آگے اس پہلو پر کچھ تفصیل اور تقیید آئے گی۔)
اہم بات یہ ہے کہ فقہا کے نظام میں اس بچے کو عمل جراحی سے گزارنا اور اسے کسی ایک جنس کی طرف موڑ دینا ضروری نہیں۔ بالکل اگر میں یہ کہنے کی جرات کروں کہ ناپسندیدہ ہے، تو بعید نہیں کیونکہ بغیر کسی ضرورت کے اس بچے کا جسم کی ہیئت کا فیصلہ کرنا جو ساری زندگی اس کے ساتھ رہی گی مناسب نہیں۔البتہ اگر بچے کی حالت ایسی ہوئی کہ جان پر بن رہی ،مثلا پیشاب میں دشواری ہو اور اطبا کا خیال ہو کہ عمل جراحی ضروری ہے، تو وہ ایک جائز عمل ہے۔
بس وہ بچہ دوسرے بچوں ہی کی طرح اپنی زندگی گزارے اور جب وہ شعور وبلوغ کی دہلیز پر قدم رکھے، تو اس کا فیصلہ کیا جائے۔
اس وقت بین الاقوامی عرف بھی اس پر زور دے رہا ہے کہ خنثی کو عمل جراحی کے ذریعے کسی ایک جنس کی طرف بچپن ہی میں نہ موڑا جائے، اور یہ بات اسلامی اخلاق سے بھی ہم آہنگ ہے کیونکہ بلوغ کے بعد، خنثی کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے اور اس وقت حتمی رائے سامنے آتی ہے کہ اس کی وہ جنس کیا ہے جس کے ساتھ اس نے زندگی بسر کرنی ہے۔
خنثی کا فیصلہ جوانی میں:
خنثی جب جوان ہوتا ہے، تو وہ ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے جو بچپن سے بہت مختلف ہے۔ اس کی نفسیات واحساسات، ترجیحات ومعیارات، جسم، عقل، شعور، تحت الشعور سب کچھ بدل جاتا ہے۔ اس لیے، بالغ ہونے کے بعد، فقہا خنثی کا فیصلہ دوبارہ کرنے کا کہتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے، میں دوبارہ یاددہانی کرنا چاہوں گا کہ یہاں گفتگو اس کی بابت ہو رہی ہے جس کا "خنثی" ہونا ثابت ہوگیا، فقہا کےطے کیے ہوئے کڑے معیار پر پورا اتر گیا۔
چناچہ فقہا کے کلام میں مندرجہ ذیل پیمانے ملتے ہیں:
حیض آنا، قرار حمل، کسی خنثی کا اس قابل ہونا کہ کوئی مرد اس سے زن وشو کا تعلق قائم کر لے یا کسی خنثی کا کسی عورت سے یہ تعلق باآسانی قائم کر لینا، عورتوں کی طرح چھاتی نکلنا، یا دودھ اترنا وغیرہ۔
حتی کہ اگر کسی خنثی کا کہنا ہے کہ وہ "مرد" کی طرف جنسی جھکاؤ رکھتا ہے، تو وہ عورت شمار ہو گا اور اگر اس کا جنسی جھکاؤ عورت کی طرف ہو، تو وہ مرد شمار ہو گی۔ یہاں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فقہا کے ہاں جنس جنسی رجحان کے ساتھ گتھم گتھا ہے۔
یہاں جو پیمانے دیے گئے ہیں اس میں ایک ایسے قاری کو اشکال ہوسکتا ہے جو فقہی جزئیات پڑھنے سے آشنا نہ ہو۔ مثلا،ہماری گفتگو اس بابت ہے کہ خنثی کو مرد مانا جائے یا عورت تا کہ اسے نکاح، معاشرتی کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کا موقع ملے۔تو یہ کیا بات ہوئی کہ اگر کسی خنثی نے کسی عورت سے تعلق قائم کر لیا، تو سے "نر "اور کسی مرد نے اس سے تعلق قائم کر لیا تو اسے "مادہ" تصور کیا جائے گا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ فقہا یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ ایسا کرے ان کا مقصود یہ ہے کہ اگر ایسا ہوگیا ، تو یہ حکم عائد کیا جائے گا۔اس کی دو صورتیں سمجھیے:
۱: ایک خنثی بالغ ہوا ور اس نے کسی مرد کو برضا ورغبت اپنے پاس آنے دیا۔ عدالت میں زنا کا جرم ثابت ہوا اور انہیں سزا ملے۔ لیکن اس سزا کے ضمن ہی میں یہ فیصلہ بھی ہو جائے گا کہ وہ خنثی "مادہ" ہے اور آئندہ اس پر مادہ ہونے کا حکم عائد ہو گا۔
۲: نیز فقہا جو قانون مرتب کر رہے تھے اس وقت غلام اور باندی سماج کا اٹوٹ انگ تھے۔ چناچہ ایک خنثی کسی مرد کا غلام ہے۔ جب وہ بالغ ہوا، تو اس کے آقا نے اس سے تعلق قائم کر لیا اور اس خنثی میں جسمانی صلاحیت تھی، اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ خنثی عورت تھا۔اور یہ تعلق گناہ اس وجہ سے نہیں شمار ہو گا کہ انسان اپنی جنس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے، اس تعلق سے صرف یہ "تبیین" ہو گئی کہ وہ پہلے ہی سے عورت تھا۔(اسلامی فقہ فیصلے کے ثابت ہونے کے چار طریقوں کو تسلیم کرتی ہے: الانقلاب، والاقتصار، والاستناد، والتبيين۔ اس پر تفصیل کا یہ موقع نہیں)۔
علامہ شامی فرماتے ہیں:
«هذا قبل البلوغ (فإن بلغ وخرجت لحيته أو وصل إلى امرأة أو احتلم) كما يحتلم الرجل (فرجل، وإن ظهر له ثدي أو لبن أو حاض أو حبل أو أمكن وطؤه فامرأة»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 727)
مفہوم: یہ بلوغت سے پہلے ہے۔ (پس اگر وہ بالغ ہو اور باریش ہو جائے یا کسی عورت سے تعلق قائم کر لے یا اسے اس طرح احتلام ہو ) جیسے مرد کو ہوتا ہے (تو وہ مرد ہے۔ اور اگر اس کے پستان ظاہر ہو جائیں یا دودھ اتر آئے یا حیض آ جائے یا قرار حمل ہو یا جنسی تعلق میں فطری طریقے سے اسے مفعول بنانا ممکن ہو تو وہ عورت ہے)۔
«السيد قدس سره ... قال وإذا أخبر الخنثى بحيض أو مني أو ميل إلى الرجال أو النساء يقبل قوله ولا يقبل رجوعه بعد ذلك إلا أن يظهر كذبه يقينا مثل أن يخبر بأنه رجل ثم يلد فإنه يترك العمل بقوله السابق اهـ»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 729)
مفہوم:۔۔۔ سید شریف رحمہ اللہ تعالی ... فرماتے ہیں کہ اگر کوئی خنثی حیض یا منی یا مرد یا زن کی طرف جھکاؤکی خبر دے تو اس کی بات قبول کی جائے گی۔تاہم اگر وہ اس سے پھرے تو اسے اس وقت تک نہیں تسلیم کیا جائے گا جب تک اس کا جھوٹ یقینی طور سے ثابت نہ ہو، مثلا وہ یہ کہے کہ وہ مرد ہے ،پھر اس کے ہاں ولادت ہو جائے، تو اس کے سابقہ قول پر عمل کو چھوڑ دیا جائے۔
اس گفتگو سے بلوغت کے بعد، خنثی کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:
- خنثی کے بالغ ہونے کے بعد، دوبارہ اس کی جنس طے کی جائے گی۔
- اس حوالے سے فقہا نے کوئی ایک پیمانہ مقرر نہیں کیا، بلکہ مختلف علامات دے دی ہیں کہ ان کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
- تاہم کچھ علامات ایسی ہیں کہ وہ فیصلہ کن ہیں جیسے ولادت ہونا کہ وہ صرف مادہ کے ہاں ہو سکتی ہے۔اور سید شریف جرجانی رحمہ اللہ تعالی کی عبارت جو اوپر نقل ہوئی اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ولادت ایسا معاملہ ہے جس کی بنیاد پر سابقہ اقرار کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ اسی طرح، حیض آنابھی کسی کے عورت ہونے کی حتمی فیصلہ ہے۔یہاں یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ تنصیب رحم (Uterus transplantation) سے مستقبل میں امید ہے کہ مرد بھی بچے جننے لگے کیونکہ یہاں گفتگو فطری طور سے ہونے کی ہے۔
- نیز اگرچہ خنثی کے ثبوت کے بعد، فقہا کے ہاں گنجائش ہے لیکن جنس دراصل معاشرے کی رگ جاں ہے۔ اس لیے، اسے کھیل نہیں بنایا جا سکتا کہ خنثی جب چاہے، آکے اس کی تعیین نو کر لے۔ چناچہ اگر کسی بالغ خنثی نے ایک مرتبہ اپنی جنس طے کر لی، تو اب اسے تبدیل کرنا آسان نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اگر یہ ثابت ہو کہ اس نے پہلے جھوٹ بولا، تو اس پر تعزیر بھی ہو سکتی۔
- اس دور میں چونکہ سائنسی آلات نے ترقی نہیں کی تھی، اس لیے فقہا کا کہنا تھا کہ خنثی ہی کے قول پر اعتماد کر لیں کہ مثلا اسے حیض آتا ہے۔اب چونکہ ہمارے پاس آلات ہیں جن سے ان چیزوں کی تحقیق ہو سکتی ہے، اس لیے جن امور کی تحقیق ہو سکتی ہو، ان کی تحقیق کی جائے۔
- فقہا نے جنسی رجحان(Sexual Orientation) کو بھی تسلیم کیا ہے۔ ایک بات یہ واضح رہے کہ یہ ذاتی صنفی شناخت (Gender Identity)نہیں ۔چناچہ اگر خنثی کے ہاں حیض ، ولادت وغیرہ امور نہ پائے جائیں، تو اس کے جنسی رجحان کی بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے اس ہی کی بات پر اعتماد کیا جائے گا۔ اور یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دراصل خنثی کی اپنے رائے پر اعتماد ہے۔ لیکن اس کے پس پشت مفروضہ یہ نہیں کہ وہ اپنی جو صنف چاہے مقرر کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پہلو کو بنیاد بنا رہا ہے جس کی تحقیق اس کی بات کے علاوہ کسی اور طرح نہیں ہو سکتی۔ اس لیے، اسی کے قول پر اعتماد ہو گا۔
جنس کے ناقابل تغیر ہونے کا مطلب:
اب یہ ضروری ہے کہ اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی جائے کہ جنس کے نہ بدلنے سے مقصود کیا ہے؟ جب ہم کہتے ہیں کہ جنس نہیں بدلتی، اور جو بندہ اس کا اقدام کرتا ہے، تو وہ گناہگار ہے، تو فقہ وقانون میں اس سے مقصود کیا ہے؟
کیا اس سے یہ مقصود ہے کہ اگر کسی نےعمل جراحی کے ذریعے اپنے اعضا بدلوا لیے، تو اگرچہ وہ گناہگار ہو گا تاہم اس کی جنس بدل جائے گی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جنس نہیں بدلے سکتی اور فاعل کا یہ عمل شرعی قانون میں کالعدم ہے۔ جو بندہ "خنثی" نہیں یا ایسا "خنثی" ہے کہ حتمی علامات سے اس کی جنس طے ہو جائے، تو اب اگر وہ عمل جراحی کے ذریعے اپنے اعضا بدلواتا ہے، تو اس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔یہ بیع باطل کی طرح ہے کہ جو سودا ہو رہا ہے، وہ بائع سے مشتری کی ملکیت میں منتقل ہی نہیں ہوتا اگرچہ مشتری اس پر قبضہ کر لے۔یہ ایک تین سالہ بچے کے ہبہ (گفٹ) کی طرح ہے کہ اگرچہ بچہ اپنی مرضی سے کسی کو اپنی چیز دے دے (اور قبضہ بھی ہو جائے)، وہ بدستور اس بچے ہی کی ملکیت ہے۔
یہ جمہور کے ہاں ایک مجلس میں تین طلاق کی طرح نہیں کہ اگر کسی نے تین طلاقیں دیں، تو اگرچہ اس نے برا کیا، لیکن اس طلاق کو قانون تسلیم کرتا ہے۔ اعضا کی تبدیلی ایسا معاملہ نہیں ۔ بلکہ اعضا کی تبدیلی سے پہلے جو حالت انسان کی تھی، وہ اس کے بعد ہے۔
۱: چناچہ اگر وہ نر تھا اور اس نے زنانہ اعضا بنوا لیے، تو وہ مرد ہی رہے گا۔
۲: اگر وہ مادہ تھی اور اس نے مردانہ اعضا بنوا لیے، تو وہ عورت ہی رہے گا۔
۳: اگر وہ خنثی تھا لیکن کسی قطعی علامت سے نر یا مادہ ہونے کا فیصلہ ہو چکا، تو جس علامت کی بنیاد پر فیصلہ ہوچکا، وہ خنثی وہی رہے گا۔
۴: اگر وہ خنثی ہےپر کوئی قطعی علامت نہیں، تو چونکہ اس کے جنسی رجحان پر فیصلہ ہو گا، تو اب اگر اس نے کسی جنس کی طرف اپنے آپ کو موڑ دیا اور عمل جراحی کروائے، تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔ تاہم یہاں بھی مفروضہ یہی ہے کہ عمل جراحی سے پہلے اس کی جنس کے جنسی رجحان سے طے ہو گئی اور عمل جراحی سے کچھ بدلا نہیں۔اسی سے واضح ہوا کہ عمل جراحی کروا نے کے بعد وہ خنثی مشکل نہیں رہے گا بلکہ کسی ایک جنس کی طرف پھر جائے گا(آگے یہ بات آنے کو ہے کہ بلوغ کے بعد، عام طور سے اشکال نہیں رہتا۔)
خصی:
«"والخصي في النظر إلى الأجنبية كالفحل" لقول عائشة رضي الله عنها: الخصاء مثلة فلا يبيح ما كان حراما قبله ولأنه فحل يجامع»«الهداية في شرح بداية المبتدي» (4/ 372):
مفہوم: اجنبی عورت کو دیکھنے میں خصی کام مرد کی طرح ہے ۔ ا س کی دلیل بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا فرمان ہے کہ خصی کرنا مثلہ ہے۔ پس جو امر خصی ہونے سے پہلے حرام تھا وہ حرام نہیں ہو گا، نیز اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک کامل مرد ہے جو زن وشو کا تعلق قائم کر سکتا ہے۔۱۲
یہاں واضح رہے کہ فقہا کے ہاں خصی کا اصطلاح صرف اس کے لیے استعمال ہوتی ہے جسے کے خصیے نہ ہوں لیکن آلہ تناسل ہو اور جس کا آلہ تناسل نہ ہو، اسے "مجبوب" کہتے ہیں۔
اس وضاحت کے بعد، یہ غور کیجیے کہ جنسی اعضا میں تبدیلی سے جنس نہیں بدلتی۔ بلکہ وہ مرد ہی ہے اور اسی کے احکام لاگو ہوں گے۔مشہور حنفی فقیہ ومحدث علامہ عینی نے اس پر اس حوالےسے کلام کیا ہے کہ یہ آیا اس اثر سے استدلال درست ہے یا نہیں اور اس مدعی کو ثابت کرتا ہے یا نہیں، لیکن کس مقصد کے لیے ہم نے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ شرعی احکام میں مرد ہی ہے،وہ بہر حال اس سے واضح ہے۔
نیز خصی کرنا اللہ تعالی کی خلقت میں تبدیلی ہے۔صحیح بخاری کی مندجہ ذیل روایت ملاحظہ ہو:
« عبد الله رضي الله عنه، قال: " كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء، فقلنا: ألا نختصي؟ فنهانا عن ذلك»«صحيح البخاري» (6/ 53 ط السلطانية)
مفہوم: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ : ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھی اور گھر والیاں ساتھ نہ تھیں۔ ہم نے عرض کیا کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اللہ کے نبی نے اس سے منع فرمایا۔
اس پر علامہ عینی ہی فرماتے ہیں کہ:
«وفيه تحريم الاختصاء لما فيه من تغيير خلق الله تعالى، ولما فيه من قطع النسل وتعذيب الحيوان»«عمدة القاري شرح صحيح البخاري» (18/ 208)
مفہوم: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خصی ہونا حرام ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی تخلیق کو بدلنا ہے، نیز اس میں نسل کو بڑھنے سے روکنا اور جاندار کو عذاب سے دوچار کرنا ہے۔
اور یہی سے ہماری گفتگو تغییر فی خلق اللہ کی طرف مڑ جاتی ہے۔
عمل جراحی کی اجازت اور تغییر فی خلق اللہ:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مشہور حدیث منقول ہے کہ انہوں نے جسم گدنے (ٹیٹوز بنوانے) پر لعنت کی۔ اسی طرح، دانتوں میں زیب وزینت کے لیے فاصلہ پیدا کرنے پر بھی لعنت کی۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں کہ:
«أما إذا احتيج إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلا بأس به»«عمدة القاري شرح صحيح البخاري» (19/ 225)
مفہوم:اگر علاج معالجے یا دانتوں کی بیماری کی وجہ سے ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔۱۲
اسی طرح، حدیث کے مطابق، اگر کسی کا ناک کٹ گیا اور اس نے چاندی کا ناک لگوا لیا، تو یہ جائز ہے۔ امام محمد کے ہاں سونے اور چاندی دونوں کے ناک کی گنجائش ہے۔اور اسے بھی تغییر فی خلق اللہ میں شمار نہیں کیا گیا۔«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 362)
اس لیے، جسم میں ہر تبدیلی تغییر فی خلق اللہ کے تحت ممنوع نہیں۔بلکہ اگر عام لوگوں میں جو ہیئت فطرت شمار ہوتی ہے اگر کوئی چیز اس سے ہٹی ہوئی ہو، تو اس کی اصلاح درست ہے۔
بالفاظ دگر، شریعت ایک چیز کو معیار تسلیم کرتی ہے اور جو اس سے ہٹی ہوئی ہو، اسے وہ عیب قرار دے کر اس کی اصلاح دیتی ہے۔ اور ہم پھر یاد کروانا چاہیں گے کہ شریعت ایک معیار پر مبنی نظام ہے۔
خنثی کی حالت کو شریعت فطرت صحیحہ سے ہٹا ہوا گردانتی ہے،اس لیے اس کے لیے عمل جراحی درست ہو گی اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان اعضا کو ختم کروائے جو اس کی طے شدہ جنس سے ہم آہنگ نہیں اور یہ اللہ تعالی کی خلقت کو بدلنے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔(یعنی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ مادہ ہو اور اپنے نرینہ اعضا کو برقرار رکھ لے اور یہ کہے کہ اس کا جنسی جھکاو عورتوں کی طرف ہے۔)
مخنث:
ایک اصطلاح مخنث کی بھی ہمارے فقہی ادب میں نظر سے گزرتی ہے۔ یہ محض ایسے مرد کو کہتے ہیں جس کی چال ڈھال، ادا وانداز میں نزاکت،تکسر ہو۔
یہ مرد ہی ہےتمام احکام میں۔ تاہم اگر یہ اس میں فطری ہو، تو گناہ نہیں۔ البتہ اگر جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کرے، تو یہ گناہ ہے۔
خنثی مشکل:
یہاں سرسری طور سے، ہم خنثی مشکل کے تصور اور اسے وابستہ احکام پر بھی نظر ڈال لیں۔
جب تک خنثی کی جنس طے نہیں ہو جاتی، اسے خنثی مشکل کہتے ہیں۔ چونکہ یہ انسان ہے اور اسی طرح کرامت ہے جس طرح دوسرے انسان، اس لیے یہ شرعی احکام کا پابند ہے۔ اس لیے، فقہا خنثی کے باب میں ، نماز جنازہ، نظر، ستر ، باجماعت نماز میں صف بندی وغیرہ کے معاملات میں تجزیہ کرتے ہیں کہ اگر اسے مرد مانا جائے، تو کیا معاملہ ہو گا اور عورت مانا جائے تو کیا۔ اور اس کے موازنے سے فیصلہ کرتے ہیں۔
لیکن سماجی لحاظ سے، سب سے اہم معاملہ نکاح کا ہے۔ خنثی مشکل نکاح نہیں کر سکتا۔ جب تک اس کی جنس کی حتمی فیصلہ نہ ہو، وہ اس انتظار کرے گا۔ اور یہی سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کیوں فقہا اس پر زور دیتے ہیں کہ جلد جلد اس کی جنس کا فیصلہ کیا جائے کہ اس کی کرامت انسانی کے خلاف ہے کہ اسے بیچ میں لٹکایا جائے اور اسے سماجی کردار ادا کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے۔
علامہ شامی خنثی مشکل کے ختنے کے حوالے سے ایک جزئیے کے تحت فرماتے ہیں کہ:
«وقد يجاب بأن كونه موقوفا إنما هو من حيث الظاهر، وإلا فالنكاح في نفس الأمر إما صحيح إن كان ذكرا فيحل النظر وإما باطل إن كان أنثى»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 729)
مفہوم: اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ خنثی مشکل کا (کسی باندی سے) نکاح کا موقف ہونا ظاہر کے لحاظ سے ہے۔ ورنہ اگر وہ مرد ہے تو نکاح درست ہے اور اس کا دیکھنا درست ہے، اور اگر خود عورت ہے تو نکاح کالعدم ہے۔
یہاں سے اس بات کی بھی تائید ہو گئی جو اس سے پہلے ایک آدمی کا اپنے خنثی سے تعلق قائم کرنے کے حوالے سی گزری کہ وہ "تبیین" کے قبیل سے ہے۔ اس لیے، اس کے تعلق سے یہ ثابت ہو گا کہ اس کا خنثی غلام دراصل باندی تھا اور وہ گناہ گار بھی نہیں ہو گا۔
بلوغت کے بعد، عام طور سے اشکال باقی نہیں رہتا:
اس سلسلہ تحریر کے آغاز میں، علامہ جصاص رازی رحمہ اللہ تعالی کا حوالہ گزرا کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے تھے کہ بلوغت کے بعد، عام طور سے اشکال باقی نہیں رہتا۔ علامہ سرخسی اس حوالے سے رقم طراز ہیں:
«قلنا لا يبقى الإشكال فيه بعد البلوغ وإنما يكون ذلك في صغره إذا مات قبل أن يبلغ وقد بينا اختلاف العلماء في ميراثه قبل أن يستبين أمره فيما سبق»«المبسوط للسرخسي» (30/ 105)
مفہوم: ہمارا کہنا ہے کہ بلوغت کے بعد، اشکال باقی نہیں رہتا۔ یہ صرف بچپن میں ہوتا ہے جو وہ بالغ ہونے سے پہلے مر جائے۔ اور نابالغ خنثی مشکل کی میراث کے حوالے سے علما کا اختلاف ہم بیان کر چکے۔
اسی طرح، خنثی مشکل کے حوالے سے علامہ شامی فرماتے ہیں:
والتقييد بالمراهق لكونه بعد البلوغ لا يبقى مشكلا غالبا»«حاشية ابن عابدين ط الحلبي» (6/ 730)
مفہوم: قریب البلوغ ہونے کی قید اس لیے لگائی ہے کہ بلوغ کے بعد عام طور سے، اشکال باقی نہیں رہتا۔
احناف کے ہاں، یہ پہلو بہت واضح طور سے ملتا ہے کہ بالغ ہونے کے بعد، معاشرے میں کسی بھی انسان کی جنسی شناخت کو لٹکایا نہیں جائے گا اور اسے فوری طور سے حل کیا جائے گا تا کہ وہ معاشرے کا ایک موثر فرد بن سکے۔وہ کسی سے نکاح کر کے اپنے وجودی احساسات کی تسکین کر سکے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے باعث سکون ہیں، نیز کوئی اس کے لیے وقار کا لباس بن سکے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کاپیرہن ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی عبرت کا مقام ہے جو اس طرح کے لوگوں کو ایک اچھوت سمجھ کر ان سے معاملہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں انسان بنا کر مکرم ومعظم کیا۔اور ان کی جنس کا مسئلہ اللہ کی تقدیر ہے۔ اس کی بنا پر ان کو حقیر سمجھنا، اللہ کی تقدیر پر اعتراض ہے۔
ٹرانس کے لیے سیرت سے رہنمائی:
نیز ایسے خواجہ سرا لوگوں کے لیے بھی اللہ تعالی کی طرف سے خاص فضیلت کی امید ہے جب معاشرہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتاہے اور وہ صبر کرتے ہیں۔ اور اسلام کی نگاہ میں اصل زندگی آخرت ہی کی ہے: إن الدار الآخرة لهي الحيوان. یہ دنیا کی زندگی چند دنوں کی ہے اور ہمیشہ رہنے والے زندگی ہی اصل ہے اور وہاں کسی کی جنس ، رنگ یا نسل کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اس دن معزز ومکرم وہ ہے جو متقی ہے اور ایک خنثی بھی ایسے ہی متقی ہو سکتا ہے جیسے ایک صحیح الجنس متقی ہوسکتاہے۔
اسی طرح، متبدل صنف (ٹرانس) پر بھی اس وجہ سے کوئی دوش نہیں کہ ان کے اندر یہ احساس جنم لے رہا ہےکہ ان کی صنفی شناخت ان کی جنسی شناخت سے ہم آہنگ نہیں۔ دل میں خیال آنا اور نفس میں خواہش ابھرنا ایمان ودین کے خلاف نہیں جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے۔ ایسے ٹرانس لوگ جو ہمارے بھائی ہیں ان کو میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں جو ان کے لیے ایک روحانی ونفسیاتی سکون واطمینان کا باعث بنے:
عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: «وقد وجدتموه؟» قالوا: نعم، قال: «ذاك صريح الإيمان»«صحيح مسلم» (1/ 119 ت عبد الباقي)
مفہوم: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ کچھ لوگوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ: "ہمارے جی میں ایسی باتیں آتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کا اسے زبان پر لانا بہت شاق ہے۔"اللہ کے نبی نے دوبارہ پوچھا: "کیا واقعی یہ بات تم اپنے اندر پاتے ہو؟"(یعنی شیطان کا وسوسہ ڈالنا اور اسے زبان پر لانے کا شاق ہونا)۔ انہوں کے کہا: جی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "یہ خالص ایمان ہے"
اس لیے، ان لوگوں سے میرے گزارش ہے کہ ان احساسات سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ بس ان احساسات کو یہی سمجھیں کہ یہ صحتمندانہ نہیں۔ اور جب تک وہ یہ سمجھتے رہیں گے، ان کے ایمان کا پیمانہ بلند رہے گا۔ نیز ہمارے ان ساتھیوں کو یہ بھی معلوم ہو کہ ان کی اس طرح کی کیفیت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حل بھی بتایا کہ جب انسان کو ایسے وسوسے آئیں، تو یہ یاد کرے کہ وہ اللہ تعالی پر ایمان لاتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ:
«فمن وجد من ذلك شيئا، فليقل: آمنت بالله»«صحيح مسلم» (1/ 119 ت عبد الباقي)
مفہوم: ۔۔۔ پس جو یہ کیفیت محسوس کرے، تو یہ کہے اور یاد کرے کہ: "میں اللہ تعالی پر ایمان لایا۔"
وہ یا دکرے کہ اس کا خالق ،اس کا مالک اللہ تعالی کی ذات ہے۔ اورنفس وشیطان جو ان خیالات کو لاتے ہیں ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ وہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں۔اور اس کا بھروسا اللہ تعالی پر ہے جو نفس وشیطان کا بھی خالق ومالک ہے۔وہ اپنے اس گہرے ایمان کو یاد کرےاور اپنے رب سے لو لگائے تا کہ یہ خیالات ختم ہو جائیں یا وہ اتنی شدت نہ اختیار کریں کہ انسان ان کے تقاضے پر عمل کرنے لگے۔
ٹرانس کے حوالے سے مسلمان سماج کی ذمے داری:
اس حوالے سے، میں اپنے آپ کو سب سے پہلے اورباقی سماج کو اس کے بعد، یہ کہوں گا کہ ایسے لوگ ہمارے ارد گرد ہیں۔ یہ ہمارے رشتے داروں میں ہو سکتے ہیں اور دوستوں میں بھی۔ٹرانس کسی کا بیٹا ہے کسی کی بیٹی، کسی کا بھائی، کسی کی بہن۔ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دنیاوی اغراض کے لیے ایسا کریں بلکہ واقعی یہ لوگ نفسیاتی طور سے، اس مشکل سے گزرتے ہیں۔ اس لیے، ان کی بات سننے کی ضرورت ہے،اور کسی بدگمانی کے بغیر ان سے مکالمہ ہونا چاہیے۔ اللہ سے امید ہے کہ ایسا انسان اس مشکل سے نکل آئے اور اس کا ساتھ دینے والا اپنی دنیا وآخرت سدھار جائے!
ٹرانس کے حوالے سے تبلیغی جماعت کا کردار بہت اچھا ہے کہ وہ ان لوگوں کو ساتھ ملاتے اور معاشرے کا ایک صحت مند فرد بنانے کی تگ ودو کرتے ہیں۔ کئی لوگ اس مخمصے سے نکلے اور ایک صحتمندانہ زندگی گزارنے لگے۔
ہماری تہذیب کا ایک اہم ترین ادارہ تصوف ہے جس کے بغیر دین محض ایک قانونی ڈھانچہ ہے جو انسان کے عمیق ایمان سے نہیں ابھرتا۔ صوفیہ کا وجود معاشرے میں پھیلی ہوئی نفسیاتی الجھنوں کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک نعمت رہا ہے اور وہ اس کا علاج کرتے رہے ہیں۔ اس وقت ماہر نفسیات کے کلینکس کھلے ہوئے ہیں جو اچھی خاصی اجرت پر کچھ لمحات عنایت کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے صوفیہ ایسے لوگوں کو بغیر کسی معاوضے کے گلے سے لگاتے، ان کے درد کا درماں کرتے رہے ہیں۔ اب بھی یہ جاری ہے۔ لیکن یہ ادارہ کمزور پڑ گیا ہے۔ اس میں موجود خرابیوں کی اصلاح ہونی چاہیے لیکن ان خرابیوں کی وجہ سے بالکل ہی اسے لپیٹنا سماجی خودکشی ہے۔ اسے نام تصوف کا دیں یا نہ دیں، لیکن اس کے بنا ہمارے سماج میں آنے والا نفسیاتی کہرام، صرف قانون میں تبدیلی کر لینے سے حل نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ قانون صرف یہ خبر دیتا ہے کہ معاشرے میں یہ نفسیاتی الجھنیں کتنی شدت اختیار کر چکی ہیں اور کتنی گہری ہیں۔ اگر اصلاحی سماجی اداروں نے جن میں صوفیہ، مدارس، مساجد کے منبر سر فہرست ہیں، عوامی سطح پر، انفرادی سطح پر، اس کا حل نہ کیا، تو ہماری اگلی نسل اس جنسی انقلاب کی زد میں پوری طرح سے آ جائے گی اور شاید آنا شروع ہو چکی ہے۔ ایک عالم دین، ایک امام مسجد کی اولاد بھی اب عصری اداروں میں پڑھتی ہے اور اس کی ذہن سازی وہیں ہوتی ہے۔ اس کے بچوں کے ذہنوں میں، کیا نظریات پکے ہو چکے ہیں، وہ شاید بچپن میں معلوم نہ ہو کہ اسے مخالفت کا ڈر ہو، لیکن بڑے ہو کر وہ بھرپور طریقے سے اس پر عمل کرے گا اور اپنی نسل کی بھی اسی پر تربیت کرے گا۔ اس لیے، ہم کم از کم، یہ کر سکتے ہیں کہ ان مسائل پر زجر، تجہیل وتضحیح کا رویہ نہ اپنائیں جو سیاسی حلقوں میں تو ہے ہی، لیکن ہمارے دینی حلقے میں بھی دینی اختلافات کے معاملے میں دوسروں سے کم نہیں اور اس وقت بھی ٹرانس پر گفتگو میں یہ رویہ بھی نمایاں رہا ہے۔
بلکہ ان سے مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے، ان کے سوالات کو سمجھنے اور صبر سے جوابات سوچنے اور دینے کی حاجت ہے۔ اگر کسی میں اس کی سکت نہ ہو، تو کم از کم، وہ نئی نسل کو متنفر کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کرے کہ یہ آخری درجہ ہے۔
كُفَّ أَذَاكَ عَنِ الناس فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بها عن نَفْسِكَ (مسند أحمد)
(مکمل)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کفار کے ساتھ معاشرتی رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(اکتوبر ۲۰۱۶ء کے دوران مجلسِ احرارِ اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں ایک تربیتی نشست سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے اس پہلو پر آج کی محفل میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپؐ نے کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کیا معاملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ زندگی کیسے گزاری ہے؟ اس حوالے سے جناب سرور کائناتؐ کی حیاتِ مبارکہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا حصہ اس چالیس سالہ دور کا ہے جو نبوت سے پہلے مکہ مکرمہ میں گزرا۔ نبی اکرمؐ چونکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اس لیے کفر و شرک، بت پرستی اور جاہلانہ رسوم سے آپؐ کی نفرت طبعی تھی۔ حضورؐ ان امور میں معاشرے کے ساتھ شریک نہیں تھے اور ایسی تمام باتوں سے الگ تھلگ رہتے تھے، لیکن عمومی معاشرت میں باقی لوگوں کے ساتھ آپؐ بھی اسی معاشرے کا حصہ تھے، سوسائٹی کے معاملات میں شریک ہوتے تھے، رشتہ داریاں قائم تھیں اور لین دین کے معاملات بھی جاری رہتے تھے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کا دوسرا حصہ نبوت ملنے کے بعد کا ہے۔ جب نبوت ملی اور آنحضرتؐ نے توحید کی دعوت کا آغاز کیا تو صورتحال مختلف ہو گئی۔ اس سے قبل اخلاقِ حسنہ اور خدمتِ خلق کے باعث آپؐ کو سوسائٹی کی پسندیدہ ترین شخصیت کی حیثیت حاصل تھی، صادق و امین کے لقب سے پکارا جاتا تھا اور مختلف امور میں آپ سے راہنمائی لی جاتی تھی۔ لیکن توحید کے اعلان اور عام محفلوں میں قرآن کریم کی تلاوت کو ناپسند کیا گیا اور مخالفت کا دور شروع ہو گیا جو تیرہ سال جاری رہا۔ یہ تیرہ سالہ دور مخالفت کا دور تھا، آزمائش و ابتلا کا دور تھا اور اذیت و تکلیف کا دور تھا۔ اس دور میں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا، اپنی جماعت کی توسیع کی محنت کرتے رہے، ساتھ دینے والے حضرات کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور صبر و حوصلہ کے ساتھ اپنے مشن کو مسلسل آگے بڑھاتے رہے، وہاں مکہ مکرمہ کی عمومی معاشرت کا حصہ رہے اور معاشرتی معاملات میں برابر شریک ہوتے رہے۔ حتٰی کہ ایک موقع پر قریش کے مختلف خاندانوں نے اجتماعی فیصلہ کر کے آنحضرتؐ اور ان کے ساتھیوں کا معاشرتی بائیکاٹ کر دیا جو تین سال جاری رہا۔ اس دوران شعبِ ابی طالب میں انہیں محصور کر دیا گیا اور بائیکاٹ کی نگرانی کے لیے ناکہ بندی کا اہتمام بھی کیا گیا لیکن یہ بائیکاٹ یکطرفہ تھا۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور میں بھی دعوت و تبلیغ کے تقاضوں کی تکمیل کی اور بائیکاٹ کی پروا نہ کرتے ہوئے تعلقات اور دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دور میں کافروں کا غلبہ تھا اور مسلمان اقلیت میں تھے بلکہ وہ اکثریت کے مظالم اور اذیتوں کا نشانہ تھے، لیکن آنحضرتؐ نے مزاحمت کا راستہ اختیار نہ کیا، نہ اجتماعی مزاحمت کی اور نہ ہی انفرادی طور پر کسی ساتھی کو اس کی اجازت دی، بلکہ حوصلہ اور صبر کے ساتھ مظالم برداشت کرتے ہوئے دعوتِ تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ قائم رکھا۔ البتہ اس دوران مکہ مکرمہ کی آبادی سے ہٹ کر مختلف اطراف سے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ کافر قبائل میں اپنی حمایت و حفاظت کے مواقع بھی تلاش کرتے رہے۔
طائف کا سفر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے کیا تھا کہ بنو ثقیف کے سرداروں کو قریش کے مظالم کے خلاف اپنی حمایت کے لیے آمادہ کر سکیں۔ حبشہ کی طرف صحابہ کرامؓ کی ہجرت کا بھی ایک اہم مقصد مسلمانوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ مہیا کرنا تھا جو حاصل ہو گئی۔ جبکہ حج کے لیے یثرب (مدینہ) سے آنے والے قافلوں کے خیموں میں حضورؐ کا بار بار جانا اور انہیں دعوت دینا بھی اسی لیے تھا کہ وہ مسلمان ہو کر مکہ مکرمہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھی بنیں اور انہیں محفوظ ٹھکانہ مہیا کریں جیسا کہ عملاً ہو بھی گیا۔ یثرب سے آنے والے لوگوں کے ساتھ بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد نبی اکرمؐ کی ہجرت کی راہ ہموار ہوئی اور اس ہجرت پر مکہ مکرمہ کے تیرہ سالہ مظلومانہ دور کا اختتام ہوا۔
اس کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کا تیسرا دور شروع ہوا جو دس سال جاری رہا اور یہ سب سے زیادہ ہنگامہ خیز دور تھا۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق آنحضرت کی ہجرت سے پہلے یثرب اور اردگرد کے قبائل ایک علاقائی حکومت کے قیام پر متفق ہو چکے تھے اور بادشاہ کے طور پر عبد اللہ بن اُبی کے نام کا فیصلہ بھی ہو گیا تھا، صرف تاج پوشی کی رسم باقی تھی کہ حضورؐ کی تشریف آوری سے ساری صورتحال بدل گئی۔ وہ حکومت جو عبد اللہ بن اُبی کی سربراہی میں قائم ہونا تھی وہ آپؐ کی قیادت میں تشکیل پا گئی۔ میری طالب علمانہ رائے میں اس ریاست و حکومت کے خدوخال طے کرنے کے لیے قبائل کے درمیان جو مذاکرات ہو چکے تھے وہی ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کا ہوم ورک اور اساس بنے جس میں حضورؐ نے بنیادی تبدیلی یہ کی کہ اسے ایک نظریاتی ریاست کی شکل دے دی جو آگے چل کر خلافتِ راشدہ اور عالمی اسلامی خلافت کی صورت میں دنیا میں پھیلتی چلی گئی۔
ابتدا میں اس حکومت و ریاست میں مسلمان بھی شامل تھے، یہودی قبائل بھی اس کا حصہ تھے، اور اردگرد کے دیگر قبائل بھی اس میں شریک تھے۔ جبکہ اس نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکمِ اعلیٰ جبکہ ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کو دستور کی حیثیت حاصل تھی۔ بعد میں یہودی قبائل میثاق کی خلاف ورزی کے باعث یکے بعد دیگرے مدینہ منورہ سے جلاوطن ہوتے گئے اور بنو قریظہ کی جلاوطنی کے بعد مدینہ منورہ مسلمانوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہودیوں کو مدینہ منورہ سے نکالنے میں مسلمانوں نے پہل نہیں کی تھی بلکہ خود یہودیوں نے اپنی فطرت کے مطابق مسلسل بدعہدی کے ذریعے یہ ماحول پیدا کر لیا تھا اور ان کی جلاوطنی کے فیصلے اس وقت کے عام عرف کے مطابق جرگوں اور ثالثوں کے ذریعے ہوئے اور یہودیوں نے ان فیصلوں کو تسلیم کیا۔
مدینہ منورہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور طبقہ سے بھی سابقہ درپیش رہا جس کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ وہ ایمان کا دعوٰی تو کرتے ہیں مگر ’’وما ھم بمومنین‘‘ وہ مومن نہیں ہیں۔ یہ منافقین تھے جن کی قیادت عبد اللہ بن اُبی کر رہا تھا۔ میری طالب علمانہ رائے میں عبد اللہ بن اُبی کو حکومت کا چانس ختم ہو جانے پر جو غصہ تھا وہ باقی ساری زندگی اس کا بدلہ ہی لیتا رہا۔ اس نے مدینہ منورہ میں بڑے بڑے فتنے کھڑے کیے اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ احد کی جنگ میں وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر میدان سے نکل گیا، اس وقت جنگ کے لیے احد تک جانے والے لشکر کی تعداد ایک ہزار تھی جن میں سے تین سو افراد عبد اللہ بن اُبی کی قیادت میں میدان چھوڑ کر واپس آ گئے تھے۔ اس سے ان کا تناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کم و بیش تیس فیصد تھے۔
غزوہ احد کے بعد مسلمانوں میں ان منافقین کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ بعض کی رائے تھی کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے جبکہ دوسرے حضرات کا خیال تھا کہ انہیں اسی طرح ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس کا ذکر قرآن کریم نے ’’فما لکم فی المنافقین فئتین۔۔‘‘ کی آیتِ کریمہ میں کیا ہے۔ ان منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جھوٹی تہمت کا بازار گرم کیا، انہوں نے مدینہ منورہ سے مہاجرین کو نکال دینے کی سازش بھی کی جس کا تذکرہ قرآن کریم کی سورۃ المنافقون میں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود حضورؐ نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ وہ معاشرتی زندگی حتٰی کہ مذہبی معاملات میں بھی مسلمانوں کے ساتھ مسلسل شریک رہے۔ ان کے خلاف نہ کوئی احتجاجی کاروائی ہوئی اور نہ ہی انفرادی طور پر ان میں سے کسی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کسی کو اجازت ملی۔ عبد اللہ بن اُبی کو قتل کرنے کی اجازت حضرت عمرؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے علاوہ حضرت سعد بن معاذؓ نے بھی مانگی تھی مگر آپؐ نے کسی کو اجازت نہیں دی اور یہ فرمایا کہ اس سے دنیا کے دوسرے لوگوں کو یہ تاثر ملے گا کہ حضرت محمدؐ تو اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں۔
یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال حکمتِ عملی تھی کہ ان منافقین کی الگ گروہی شناخت قائم نہ ہونے دی جائے اور انہیں مدینہ منورہ کے اندر کوئی داخلی محاذ بنانے کا موقع نہ دیا جائے۔ حتٰی کہ جن چودہ منافقین نے نبی اکرمؐ کو راستے میں گھیر کر قتل کرنے کی ناکام کاروائی کی تھی، آپؐ نے ان کے نام تک حضرت حذیفہؓ کے علاوہ کسی کو نہیں بتائے اور انہیں بھی سختی کے ساتھ تاکید کی کہ ان میں سے کسی کا نام ظاہر نہ ہونے پائے۔ اور یہ بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا کہ انہیں مسجد کے نام پر الگ مرکز بنانے کی اجازت نہ دی گئی بلکہ ان کی بنائی ہوئی مسجد کو ’’مسجدِ ضرار‘‘ قرار دے کر منہدم کرا دیا گیا۔ ان منافقین کے بارے میں جنہیں قرآن کریم نے ’’وما ھم بمومنین‘‘ کہہ کر کافر قرار دینے کا اعلان کر دیا تھا، آنحضرتؐ کی حکمتِ عملی یہ سمجھ میں آتی ہے کہ انہیں معاشرتی طور پر الگ کر کے اپنا تشخص قائم کرنے کا موقع نہ دیا جائے، اور داخلی طور پر اپنے لیے کوئی محاذ کھڑا نہ ہونے دیا جائے، اس کامیاب حکمتِ عملی کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ وہ لوگ جو غزوۂ احد کے وقت کم و بیش تیس فیصد دکھائی دے رہے تھے، حضرت حذیفہؓ والے واقعہ تک ان کی تعداد درجن بھر رہ گئی تھی اور اس کے بعد تاریخ میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ وہ کدھر گئے۔ ظاہر بات ہے کہ سارے مر کھپ تو نہیں گئے تھے بلکہ آہستہ آہستہ توبہ تائب ہو کر مسلمانوں کے عمومی معاشرے میں تحلیل ہو کر رہ گئے تھے جو جناب رسول اللہ کی کمال حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا۔
اس دس سالہ مدنی دور میں کفار کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں جہاں کافر قوموں کے ساتھ دو درجن سے زیادہ جنگیں موجود ہیں وہاں معاہدات بھی تاریخ کا حصہ ہیں، مل جل کر رہنے کی روایت بھی میثاقِ مدینہ کی صورت میں واضح دکھائی دیتی ہے، اور داخلی دشمنوں کو صف آرائی کا موقع نہ دیتے ہوئے آہستہ آہستہ انہیں بے اثر کر دینے کی کامیاب حکمتِ عملی کے ثمرات بھی نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۳)
ابو الاعلیٰ سید سبحانی
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے فکر کی ایک امتیازی خصوصیت فکری گہرائی اور فکری وسعت کے ساتھ ساتھ فکر میں موجود کلیئرٹی، وضاحت اور عصری معنویت ہے۔ ڈاکٹر صدیقی زمینی حقائق پر نصوص کی روشنی میں آزادانہ غوروفکر کرتے تھے اور آزادانہ رائے قائم کرتے تھے۔ وہ تحریک اسلامی کے ایک قدآور فکری رہنما تھے لیکن انہوں نے مولانا مودودی یا ابتدائی تحریکی مفکرین کی کھینچی ہوئی لائن کا خود کو کبھی اسیر نہیں بنایا، اس سلسلہ میں ان کے اندر زبردست خوداعتمادی اور جرأت مندی دیکھنے کو ملتی ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کا رخ اور مستقبل
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا احساس تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کا سیاسی محاذ پر غیرضروری جھکاؤ تحریک کے مستقبل اور تحریک کے بنیادی مشن اور بنیادی فکر کو متأثر کردے گا، چنانچہ مولانا مودودی کے نام شکاگو سے لکھے گئے اپنے ایک خط میں ڈاکٹر صدیقی نے جماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ صورتحال کا بہت ہی بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور کچھ عملی قسم کے مشورے دیے ہیں، یہ خط اکتوبر 1972 کا ہے، اس کے درج ذیل اقتباسات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:
”دوسرا مسئلہ آپ کے ملک میں تحریک اسلامی سے متعلق ہے۔ روزمرہ سیاست سے تعلق اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ عام خاص سب کی نظر میں وہ طویل المیعاد اصولی حیثیت باقی نہیں رہی جو تحریک کا مابہ الامتیاز بھی تھی اور جس سے اونچے نتائج کی توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔ جو بنیادی کام صبر کے ساتھ مسلسل کیے چلے جانا چاہیے تھا ان پر بھی اتنی متلاطم سیاست میں الجھنے سے اثر پڑنا لازم ہے۔ گزشتہ دو سال کے واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوام ابھی بہت بنیادی قسم کی اصلاح وتربیت کے محتاج ہیں۔ عام افراد معاشرہ کو تقلید جامداور لیڈروں کے اندھے اتباع سے نکال کر خود سوچنے سمجھنے پر آمادہ کرنے اور جذباتی رسمی اسلام کی جگہ شعوری اسلام سے آراستہ کیے بغیرہم ان کی طرف سے اس سے مختلف رویے کی توقع نہیں کرسکتے جو انتخابات اور پھر حالیہ بحران میں سامنے آیا۔ اسلامی صفات حسنہ سے پہلے اور ان کی ضروری بنیادکے طور پر خود انسانی صفات پر زور دینے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ یہ کام تعلیم، حفظان صحت، اور معاش سے متعلق دوسرے ضروری کاموں کے ساتھ اگر گاؤں اور محلہ کی سطح پر آپ کے کارکنوں کے ذریعہ انجام پائے تب شائد وہ ٹھوس عوامی base بن سکتا ہے جو کسی بڑی اور گہری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے۔“
آگے جماعت اسلامی پاکستان کی صورتحال اور اس کے تبدیل ہوتے رخ پر اپنا احساس درج کراتے ہوئے دنیا بھر کی اسلامی تحریکات پر ایک مختصر لیکن بہت ہی گہرا اور معنی خیز تبصرہ کرتے ہیں، اور پھر فکری محاذ پر توجہ دینے کا مشورہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مجھے یہاں (شکاگو) پاکستان کی تحریک سے وابستہ دوستوں کی اکثریت پر اب بھی سیاست ہی غالب نظر آئی، اس سے اور زیادہ توجہ اس بات کی طرف ہوئی کہ اپنی اسٹریٹجی میں بنیادی ترمیم کی ضرورت ہے، مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں پوری اسلامی دنیا میں اب کسی مشاہد کو تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارے میں وہ امنگیں نہیں محسوس ہوتیں جو پندرہ برس پہلے تھیں۔ اپنے معاشرے کی کمزوریوں کا نئے سرے سے جائزہ لے کر مرض کی دوبارہ تشخیص کرنے اور علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے چند ماہ ہوئے ایک علمی ضرورت کے تحت آپ کی بعض بنیادی تصانیف بالخصوص سیاسی کشمکش حصہ سوم، تجدید واحیائے دین، اور تعلیمات وغیرہ کا مطالعہ پھر سے کیا تھا، میرا خیال ہے کہ وہ تجزیہ بڑی حد تک صحیح سمت میں تھا اور اسی سے میں یہ رائے اخذ کرتا ہوں کہ آج پاکستان میں تحریک کو یک گونہ کم سیاسی بناکر زیادہ مفید کام ہوسکتا ہے“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 54)
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسین کے نام
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے مجموعہ خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1987کے آس پا س کے زمانے میں جدہ قیام کے دوران آپ کی سید منور حسین صاحب سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سے متعدد ملاقاتیں اور گفتگوئیں رہیں، ایک ملاقات میں ہوئی گفتگو کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی منور حسین صاحب کے نام اپنے مکتوب میں اسلامی انقلاب کے لیے سیاسی محاذ پر تبدیلی کی ضرورت سے متعلق ان کے موقف پر اپنے کچھ سوالات پیش کرتے ہیں، اس مکتوب سے جہاں منور حسین صاحب اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی رجحان اور اپروچ کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ڈاکٹر صدیقی کی فکری اپروچ اور ان کے رجحان کا بھی پتہ چلتا ہے، لکھتے ہیں:
”آپ کی بعض باتوں نے سوچنے کی راہیں کھولی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مراسلت کے ذریعہ تبادلہ خیال جاری رہے، جیسا کہ عرض کیا تھا کہ ہماری سوچ یہ رہی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے دو محاذوں پر گہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے، فکری (ملاحظہ ہو تنقیحات کا مضمون نشان راہ اور رسالہ تعلیمات) اور اخلاقی (ملاحظہ ہو تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں نیز بناؤ بگاڑ)، آپ کی بات نے مجھے اس طرف متوجہ کیا کہ ایک محاذ سیاسی بھی ہے۔ دو سوال پیدا ہوتے ہیں، سیاسی محاذ سے ہمارا مفہوم کیا ہے، اور یہ کہ اس محاذ کی اہمیت مذکورہ بالا دو محاذوں کی نسبت سے کیا ہے۔ یہ کس درجہ پر ہے۔ ان دونوں کے ہم پلہ ہے یا ان کے مقابلے میں ثانوی، دوسرے درجہ کا محاذ۔ان سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ انبیاء کے طریقہ انقلاب میں سیاست یا سیاسی محاذ پر کام کو کوئی مقام حاصل رہا ہے تو وہ کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اس کے نظائر کیا ہیں وغیرہ۔
ہماری آپ کی گفتگو تو کراچی کے فسادات یا پاکستان کے حالیہ واقعات کے محدود سیاق میں ہوئی تھی، لیکن مذکورہ بالا سوال ایک اور وجہ سے اہم ہوگیا ہے۔ اسلامی تحریکوں کی صفوں میں ایرانی انقلاب کے بعد مولانا مودودی کے فکر (بالخصوص طریقہ انقلاب کی نسبت سے) پر تنقیدیں بھی کی گئی ہیں اور اسے غیرحقیقت پسندانہ، غیرتاریخی اور خیالی قرار دیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں اس بحث میں بھی مدد ملے گی، اگرچہ اصلاً اس کے اٹھانے والوں کا منشا اسلامی طریقہ انقلاب میں طاقت کے استعمال کا مقام متعین کرنا ہے۔ عام طور پر سیاسی عمل حصول اقتدار کی کوشش pursuit of power ہے۔ اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے اوپر کے سوالات کا جواب ضروری دیں۔ مولانا مودودی نے پاکستان آکر جو طریقے اختیار کیے یا جو ان کی مرضی سے جماعت اسلامی نے اختیار کیے، اسے اسلامی حکمت عملی کا نام دیا گیا، جو یقینا فکری اور اخلاقی محاذوں پر ایک اضافہ ہے۔ ہماری آپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ سیاسی محاذ یا سیاسی عمل اور اس حکمت عملی میں اگر فرق ہو تو واضح کریں، نہ ہو تو دونوں کو ایک قرار دینے کی دلیل دیں۔“(حوالہ سابق، صفحہ: 215-216)
مسلم تاریخ کا مطالعہ اور اسلامی موقف کی تعیین
عموماً اسلامیات اور مسلم تاریخ کا مطالعہ کرنے والے یا اس پر لکھنے والے مصنفین مسلم تاریخ اور اسلامی موقف کے درمیان فرق نہیں کرپاتے، چنانچہ تاریخی غلطیوں کی تاویل کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے اور اسے اسلامی موقف ثابت کرنے یا کم از کم اسلامی موقف سے غیرمتصادم ثابت کرنے پر سارا زور لگادیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس سلسلہ میں بہت ہی واضح موقف رکھتے تھے، وہ اسلامی موقف کی تعیین یا اسلام کے فہم کے سلسلہ میں تاریخ کو حوالہ بنانے کے بالکل بھی روادار نہ تھے، چنانچہ ابونصر محمد خالدی کے ایک خط کے جواب میں بہت صاف طور پر لکھتے ہیں:
”آپ کے یہاں ایک خاص بات نظرآتی ہے جس سے اتفاق مشکل ہے، مسلمانوں کی تاریخ کو اسلام کے فہم کا ذریعہ بنانا، بلکہ اس پر قاضی اور حاکم بنانا، کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔ ملوکی ہو یا جمہوری، آمری ہو یا متغلبانہ، ہر حکومت مرضی ئ الٰہی کے مطابق ہرگز نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وہ حکومت مرضی ئ الٰہی کے مطابق ہے جو (۱) امرہم شوری بینہم (۲)اذا تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ ورسولہ (۳) ما آتاکم منہ فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا، نیز ماکان لمومن ولا لمومنة اذا قضی اللہ ورسولہ امرا أن یکون لہم الخیرۃ من أمرہم، کے مطابق قائم ہو، اور اس کے مطابق حکمرانی کرے۔ خلافت کا انعقاد بھی شورائی ہو اور وہ چلے بھی انہی بنیادوں پر۔ اللہ کی کتاب اور رسول خدا کی سنت تاریخ پر قاضی ہے۔ اسی کی روشنی میں مسلمانوں کی تاریخ کو evaluate کرنا اور اس میں اسلامی اور غیراسلامی رجحانات واعمال اور اداروں کی نشاندہی کی جانی چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس۔ میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ تاریخ کے مطالعہ کا ایک بڑا حاصل حقیقت پسندی realismکا پیدا ہونا ہے، جو idealism میں اعتدال پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھنے کو قرآن وسنت سے کوئی ”سلطان“ نہیں حاصل ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 82)
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ابونصر محمد خالدی کے نام ایک دوسرے مکتوب میں مطالعہ تاریخ سے متعلق اپنا ذاتی موقف کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
”تاریخ اسلام سے میری دلچسپی سراسر حال کے لیے سبق حاصل کرنے اور درپیش مسائل میں رہنمائی حاصل کرنے کی حد تک ہے، علمی اور اکیڈمک دلچسپی بالکل نہیں ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 93)
اجتہاد اور ازسرنو غوروفکر کی ضرورت
اسلامی تاریخ کے مطالعہ پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں بنیادی اور کلی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے دورجدید کے پیداکردہ مسائل پر ازسرنو غوروفکر کے عمل کو آگے بڑھانا ہے، قانون کے میدان میں کام کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے بھی اجتہاد اور مختلف علوم اور مختلف مسائل پر ازسرنو غوروفکر کی طرف توجہ دلاتے ہیں، میکانکل ریسرچ یا محض تشریح، تفسیر اور تہذیب وتنقیح کے کام کے بجائے بامقصد ریسرچ پر زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر موجودہ حالات کے تناظر میں ڈاکٹر صدیقی کے اس موقف کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جبکہ ہماری یونیورسٹیز میں میکانکل ریسرچ کا رواج بڑھتا جارہا ہے، ڈاکٹر صدیقی کا ذیل کا اقتباس پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
”اسلامی تاریخ کا ان شاء اللہ تفصیلی مطالعہ ہوگا، اور واقعہ یہ ہے کہ جاری ہے۔ معاشی امور اور عام اجتماعی مسائل کے سلسلہ میں خاص توجہ رہے گی، لیکن دور جدید نے ہمارے لیے جو مسائل پیدا کردیے ہیں ان کے ضمن میں مجھے اس طرف سے بہت زیادہ رہنمائی یا inspiration کی امید نہیں ہے۔ حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ بنیادی اور کلی ہدایات کو سامنے رکھ کر ایک دم نئے سرے سے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ مجھے قانون کے میدان میں کام کی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات وسیع معنی میں کہہ رہا ہوں، جس کے تحت معاشی وسیاسی زندگی کے مروجہ اداروں اور ہیئتوں کی اسلامی تشکیل نو کا کام آجاتا ہے۔ جن لوگوں کو ہم متجددین یا اسلام کو حالات کے مطابق ڈھالنے والے کہہ کر رد کردیتے ہیں وہ دراصل ایک حقیقی دباؤ اور ایک واقعی challengeکا جواب ہیں۔ ان کو رد کرکے ہم اس دباؤ اور چیلنج کو نہیں دفن کرسکتے۔ وہ اپنی جگہ پر ہے۔ اس کا ہماری طرف سے صحیح اقدام اور جواب کی شکل میں ردعمل نہ ہوا تو نتائج اسلام کے لیے بہت تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے میں mechanical research، اپنے مآخذ کی تشریح وتفسیر اور تہذیب وتنقیح سے زیادہ اہم، ہر اس کام کو سمجھتا ہوں جس کا اس اجتہاد سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہو، جس کے ذریعہ ہی اس وقت اسلام کا واقعی احیاء ونفاذ ممکن ہے، البتہ یہ کام بھی جاری رہنے چاہئیں“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 83)
انتہاپسندانہ رجحانات اور اسلامی تحریکات
جدید دور کی اسلامی تحریکات کے سامنے ایک بڑا چیلنج انتہاپسندانہ رجحانات کا بھی ہے، یہ رجحانات کس طرح فروغ پاتے ہیں، ان کا پس منظر کیا ہے اور ان کی بنیاد کیا ہوتی ہے، اسلامی تحریکات کا عموماً ان کے تعلق سے کیا رویہ ہوتا ہے، اور نئے عالمی نظام میں ان رجحانات کے لیے عملاً کہاں تک گنجائش موجود ہے، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اس پر بہت ہی مختصر لیکن فکرانگیز گفتگو کی ہے۔
ڈاکٹر احمد اللہ صدیقی امریکہ میں مقیم ایک بڑے اسلامی اسکالر ہیں، اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے تاسیسی صدر رہے، لیکن 1981میں امریکہ منتقل ہونے کے بعد ان کا اس تنظیم سے کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا۔ آپ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے بھتیجے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی مرحوم احمداللہ صاحب کے نام اپنے خط مورخہ 12 اپریل 1995 میں لکھتے ہیں:
”بہت سی باتیں سوچنے کی ہیں۔ اس وقت دو اشوز پر loud thinking کرنا چاہتا ہوں۔ اسلامک موومنٹس جو1930سے 1940 میں شروع ہوئیں (اخوان، جماعت اور ان جیسی دوسری تحریکیں جو بالآخر اقتدار اسلامیین کے ہاتھوں میں لانے کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھتے تھے) ایک ایسے حال میں ہیں کہ کسی progress کی امید نہیں رہی۔ اس کی تفصیل بعد میں۔ دوسری بات یہ کہ ان کے بطن سے بعض ایسے گروہ پیدا ہوگئے جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے liability بن چکے ہیں۔ یہ کھل کر ان کو condemnنہیں کرتے، بلکہ ان کے فالوورس میں ان گروہوں کے لیے کافی ہمدردی پائی جاتی ہے۔ یہ گروہ طاقت کے استعمال کے ذریعہ مقاصد حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ دوسروں کے لیے ان میں کوئی tolerance نہیں۔ زیادہ تر ہر مسئلہ میں شدت والی راہ اختیار کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے صدی کی ابتدا میں اٹھنے والی تحریکیں اس مفروضے پر چلی تھیں کہ اپنے ملک کی غالب اکثریت کو ساتھ لے لیا جائے تو مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ گلوبلائزیشن نے اس مفروضے کو ختم کردیا، جب تک world opinion کو ساتھ نہ لیا جاسکے کسی جگہ مقصد نہیں حاصل ہوسکتا۔ خاص کر dependent ملکوں میں کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بناسکتا، نہ economically نہ culturally۔ اپنے مقاصد کے ایسے interpretationکی ضرورت ہے جو اتصالات اور معلومات میں انقلاب کو اور انسانوں کے بدلے ہوئے حوصلوں کو سمجھ کر کیا گیا ہو۔ possiblities کی طرف سے غافل ہوکر priorities مقرر کرنا لاحاصل ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 289)
جہاد وقتال سے متعلق غیرمعتدل رویوں کی نشاندہی
برصغیر کی تحریکات اسلامی میں جہاد سے متعلق عموماً تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں، ایک مولانا مودودی کا، دوسرا ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی کا اور تیسرا مولانا عبدالعلیم اصلاحی کا۔
ڈاکٹر صدیقی مولانا مودودی علیہ الرحمہ اور مولانا عبدالعلیم اصلاحی علیہ الرحمہ کی تعبیراتِ جہاد سے بالکل بھی متفق نہ تھے۔ ڈاکٹرصدیقی کا موقف تقریباً وہی تھا جو ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی کی ”جہاد اور روح جہاد“ اور ”جہاد اور آیات جہاد“ میں بیان کیا گیا ہے، اور علامہ یوسف القرضاوی نے بہت ہی تفسیل کے ساتھ ”فقہ الجہاد“ میں پیش کیا ہے، چنانچہ آپ اس موضوع پر ڈاکٹر سبحانی اور علامہ قرضاوی کی کتابوں کوبہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
مولانا عبدالعلیم اصلاحی صاحب مرحوم ایک عرصہ تک جماعت اسلامی ہند کے رکن اور جماعت کی مرکزی مجلس نمائندگان کے ممبر رہے، مولانا اصلاحی جہاد کے سلسلہ میں بہت سخت موقف رکھتے تھے، اور کئی پہلووں سے جہاد پر آپ کا موقف مولانا مودودی کے موقف کے مقابلے میں بہت سخت اور آگے کا تھا، آپ نے اس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں جو طلبہ اور نوجوانوں کے ایک مخصوص گروہ کے درمیان ایک زمانے میں کافی مقبول بھی ہوئیں، ڈاکٹر صدیقی اپنے ایک مکتوب میں مولانا عبدالعلیم اصلاحی مرحوم کی جہاد سے متعلق کتاب کے سلسلہ میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:
”مولانا عبدالعلیم اصلاحی نے اپنی ایک تازہ کتاب بھجوائی ہے، جہاد پر۔ پوری دنیا میں کسی کافر حکومت کا وجود برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان پر حملہ کرکے ان کو ہٹانا ہے۔ جہاد کے لیے امیرالمومنین کا ہونا ضروری نہیں کہ اسٹیٹ ہی فیصلہ کرے، چھوٹے مسلمان گروہ ایسے حالات میں جیسے کہ آج کل ہیں، اپنے کو جہاد کے لیے آرگنائز کرسکتے ہیں، بلکہ واجب ہے کہ کریں۔ مکی دور اب irrelivant ہے۔“
آگے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”سوچنے کی دوباتیں ہیں: (۱) جدید دنیا میں طاقت کے استعمال کی جو limitationsہیں، خاص طور پر چھوٹے گروہوں کے لیے، اور اس پروسیس کو خفیہ طور پر ملکی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرنے کے جو implications ہیں ان سے ہمارے یہ لکھنے والے کیوں اتنے غافل ہیں۔ (۲) دین کے تقاضوں، واجبات کو کتابوں اور زیادہ تر individual historical precedents کی اپنی مخصوص تعبیر کی بنیاد پر متعین کرنا، اس کے علی الرغم کہ اس کے عملی زندگی میں کیا نتائج مرتب ہوں گے، یہ طریقہ فکر ہمیں کہاں لے جارہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان باتوں سے چشم پوشی کرتے رہنے نے ہمیں brinkپر پہنچا دیا ہے، we must do something۔“ (حوالہ سابق، صفحہ 290)
ڈاکٹر احمد اللہ صدیقی کے نام ایک اور خط میں اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ بات کہ اس وقت تک جہاد، قتال کرنا ہے جب تک کافر حکومت کہیں بھی ہو اور اسے نص قرآنی ”حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ“سے مستنبط کرنا غور طلب ہے۔ جن ملکوں میں ڈیموکریسی اور آزادیئ مذہب ہے (پوری مغربی دنیا) ان پر منطبق کیجیے، تو ہماری اب تک کی تعبیر absurdمعلوم ہوتی ہے۔ یہاں کوئی بادشاہ یا سردار قبیلہ نہیں، جو انکار کردے تو اس کو لڑکر ہٹادینا عام لوگوں کو دعوت یا ان کو قبول دعوت کا موقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ عوام کو دعوت کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ عوام دعوت قبول کرلیں تو حکومت بدلنے کا راستہ کھلا ہوا ہے، پھر لڑائی کیوں اور کس سے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری حکومتیں، ہماری زندگیاں اور ہمارے بہت سے interpretationلوگوں کے قبول اسلام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ رہی یہ بات کہ اگر عوام کسی ملک کے دعوت نہ قبول کریں تو پھر لڑ کر وہاں اسلامی حکومت قائم کرنی ضروری ہے، تو یہ بھی صحیح نہیں ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 290-291)
عصر حاضر میں دین کی دعوت
جدید دنیا میں دعوت دین کا طریقہ کار اور منہاج کیا ہوگا، اور اس سلسلہ میں کون کون سے اسلوب اختیار کیے جاسکتے ہیں، یہ ایک تفصیلی بحث ہے، جس پر مختلف مصنفین اور داعیوں نے اپنے اپنے تجربات، مطالعات اور مشاہدات کی روشنی میں مختلف پہلووں سے گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے جماعت اسلامی کیرلا کے سابق امیرمرحوم کے سی عبداللہ صاحب کے ایک مقالہ بعنوان ”غیرمسلموں میں براہ راست دعوت“ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں دونکات پیش کیے ہیں، پہلا نکتہ اسلوب دعوت سے متعلق ہے اور دوسرا نکتہ دعوت اوراس کے ردعمل میں ممکنہ آزمائشوں سے متعلق ہے، اسلوب دعوت سے متعلق لکھتے ہیں:
”عصر حاضر کے مزاج کو سمجھ کر ہم نے دنیوی مسائل کے حل کو بھی آخرت کی طرف توجہ دلانے کا ذریعہ بنایا اور اس میں کوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی۔ ظاہر ہے کہ ”میری اطاعت کرو“ صرف نبی مرسل کی دعوت کی شان ہوتی ہے، ہم اس کی نقل نہیں کرسکتے۔ اس ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ’دعوت کیسے دی جائے‘ کے جواب صرف کتابوں میں تلاش کرنے کے بجائے مخاطب فرد اور قوم اور دنیا کو دیکھ سمجھ کر طے کرنا چاہیے اور ماضی کے دعوتی تجربوں سے بھی سیکھنا چاہیے۔“
آگے دعوت دین اور اس کے ردعمل میں ممکنہ آزمائشوں کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
”واقعہ یہ ہے کہ نہ تو مخالفت کی شدت اس بات کی دلیل ہے کہ دعوت ٹھیک طرح دی جارہی ہے، نہ مخالفت نہ ہونے سے لازماً یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دعوت ٹھیک طرح نہیں دی جارہی ہے۔ حق وباطل اور حکمت اور خلاف حکمت انداز کے معیار قرآن وسنت، تاریخ اور آج کے عملی تجربے سے اخذ کیے جانے چاہئیں۔ میرے خیال میں ان میں سے کوئی بات شدت مخالفت کو معیار حق اور حکمت دعوت کی کسوٹی بنانے کی تائید نہیں کرتی“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 286-287)
حقیقت پسندی کی طرف دعوت
ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی مرحوم ڈاکٹر صدیقی کے دیرینہ رفیق تھے، آپ ثانوی درسگاہ رام پور کے مایہ ناز فارغین میں شمار ہوتے تھے،آپ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوری کے ایک مؤثر رکن تھے، ڈاکٹر فریدی ایک عرصے تک ماہنامہ زندگی نو کے مدیر رہے، اس دوران ڈاکٹر صدیقی سے وہ مختلف فکری اور نظریاتی امور ومسائل پر رائے مشورہ لیتے رہا کرتے تھے۔
ڈاکٹرفریدی مرحوم کے نام ایک خط میں بدلتے ملکی وعالمی منظرنامے کے تناظر میں جماعت اسلامی ہند کی پالیسی وپروگرام میں ترجیحات کے تعین کے مسئلہ پر دوٹوک الفاظ میں لکھتے ہیں:
”میں سمجھتا ہوں کہ حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ اگر تحریک نے بھی اپنے اولویات (priorities) درست نہ کیں اور اہم تر کاموں کو مرکز توجہ نہ بنایا تو بالکل ناقابل اعتناء اور Irrelevent ہوکر رہ جائے گی“۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم جذباتی اپروچ اور جذباتی اپیل والے اسلوب کے سخت ناقد تھے، چنانچہ ڈاکٹر فریدی کے نام ایک خط میں جذباتی اپیل کے بعض مروجہ طریقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حقیقت پسندی اور موجود کے سچے اعتراف والی اپروچ اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”بعض جذباتی اپیل کے طریقے اس صدی کے شروع سے ایسے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جن کا شروع میں فائدہ تھا، مگر اب منفی اثر ہوتا ہے، وہ آپ کی تحریر میں اب بھی پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں اپنی بڑائی اور بہتری دوسروں سے زیادہ صالح، لائق، ہوش مند، دردمند ہونے کا احساس، اس کی توثیق اور اس احساس برتری کو مزید راسخ کرکے اس کی بنیاد پر اپیل، لہٰذا تم ہی انسانیت کو بربادی سے بچاسکتے ہو، مہربانی کرکے آگے بڑھو۔ عملاً اس طرح سے آگے تو کوئی نہیں بڑھتا، البتہ نفس موٹا ہوتا ہے، احساس برتری کی افیون عملی دنیا کی ذلت، کمزوری، لاچاری، خودکردار کی کمزوری اور اخلاقی زوال سے چشم پوشی میں مددگار ہوتی ہے اور بس۔
اس کے بجائے حقیقت واقع کی بنیاد پر مسلمانوں کو ان کی موجودہ صورتحال، مادی اور اخلاقی پستی کا خطرناک سطح تک پہنچ جانا، دکھلانے کی ضرورت ہے، اور یہ سمجھانے کی کہ اسلام کی دعوت اور خود اسلامی زندگی گزارنے والوں کے لیے اس حالت کو بدلنا ضروری ہے۔
دوسروں کی مظلومیت، کرپشن، اخلاقی زوال وغیرہ پر بھی بعض اوقات تبصرہ اس طرح آتا ہے کہ پڑھنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ اپنوں میں بھی یہ مرض عام ہے، اس سے بھی بالواسطہ صرف مسلمانوں کی اَنا کی تشفی ہوتی ہے، قوت عمل میں اضافہ نہیں ہوتا۔“ (حوالہ سابق، صفحہ: 278-279)
علم وتحقیق کے کام میں معروضیت
علمی اور تحقیقی کاموں میں بھی ڈاکٹر صدیقی معروضیت، حقیقت پسندی اور موجود کے صحیح صحیح اعتراف پر زور دیا کرتے تھے، ڈاکٹر طاہر بیگ صاحب سابق اسسٹنٹ پروفیسر ملیشیا یونیورسٹی نے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی خدمت میں مسلمان ملکوں کے درمیان تجارتی تعاون کے موضوع پر ایک مقالہ بغرض اصلاح ارسال کیا تھا، ڈاکٹر صدیقی اس مقالے پر قدرے تفصیلی نوٹس چڑھانے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:
”آخر میں میرا اجمالی تأثر یہ ہے کہ یہ پورا مقالہ ایک ایسے جذباتی ریسرچ کی عکاسی کرتا ہے (اور اس موضوع پر شائع شدہ دوسرے مقالے اور کتابیں بھی اس میں شریک ہیں) جو انیسویں صدی کے آخر، بیسیوں صدی کے ابتدائی نصف کی اسلامی اور Pan Islamic تحریکوں کی پیداوار تھا، جس کے قدم حقائق وواقعات میں کم، خواہشات اور تمناؤں میں زیادہ راسخ تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں نہ صرف دنیا کی بلکہ اسلامی حلقوں کی حالت کافی بدل چکی ہے، اور گزشتہ رجحانات وخیالات پر نظرثانی کی ضرورت ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 241-242)
ہندوستانی مصنف حفظ الرب صاحب کی کتاب ”نظام سرمایہ داری اور اسلامی معاشیات“ کے حوالے سے مصنف کے نام ڈاکٹر صدیقی کے مکتوب میں بھی یہ اپروچ بہت واضح طور پر نظر آتی ہے، کئی پہلووں پر توجہ دلانے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:
”آپ کا یہ دعوی کہ صرف سود کے خاتمہ اور زکوۃ کے نفاذ سے ہمارے معاشی مسائل حل ہوکر عدل وانصاف ہی نہیں ترقی وخوش حالی کی ضمانت حاصل ہوجائے گی، درست نہیں ہے۔ افسوس کہ آپ نے دورجدید میں ان مسائل پر اسلامی معاشیات دانوں کی تحریریں بھی نہیں دیکھی ہیں کہ معتدل رائے قائم کرسکیں۔ موجودہ دنیا کے معاشی اور مالی مسائل بہت پیچیدہ ہیں، ان کا تفصیلی تجزیہ درکار ہے۔ بے شک سود کا خاتمہ اور زکوۃ کا نفاذ ان مسائل کے حل کے لازمی ارکان ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اور کیا کرنا ہے۔ رہے ہندوستانی مسلمان، اور مسلمان ممالک کے مسلمان تو ان کا اصل مسئلہ پسماندگی ہے۔ ان کے کرنے کا پہلا کام ہنر سیکھنا، محنت کرنا، ایجاد واختراع، ترقی اور معاشی قوت کا حصول، اور بالآخر دنیا میں اپنی موجودہ کمزوری، لاچاری اور کسمپرسی کی حالت جو ان کو بھیک مانگنے اور دوسروں کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور کرتی رہتی ہے، سے نکل کر عزت نفس کے ساتھ خودکفیل بلکہ دوسروں کو دینے والے بننے کی کوشش کرنا ہے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 139-140)
خواتین سے متعلق صحیح علمی اپروچ
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے خطوط میں ایک خط مولانا سلطان احمد اصلاحی مرحوم کے نام بھی ملتا ہے۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ایک عرصے تک ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ سے وابستہ رہے، ’اسلام کا نظریہ جنس‘ سلطان اصلاحی مرحوم کی معروف تصنیف ہے۔ مولانا سلطان اصلاحی کے نام اپنے ایک مکتوب میں ڈاکٹر صدیقی مرحوم اس کتاب پر اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے متعدد اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہیں، جس میں ایک اہم مسئلہ خواتین سے متعلق موقف اور اپروچ کا بھی ہے، لکھتے ہیں:
”کتاب کا لہجہ بدلنا ضروری ہے۔ ہمارے مصنفین نے ابھی تک جو ادب اسلام اور عورت کے عنوان سے پیش کیا ہے اس سے پڑھنے والا یہ تأثر قائم کرتا ہے کہ خدائے تعالی نے دنیا مردوں کے لیے بنائی ہے۔ رہیں عورتیں تو وہ بھی مردوں کے لیے بنائی گئی ہیں۔ مگر کتاب اللہ صاف کہتی ہے کہ تکلیف شرعی مرد کی طرح عورت کے لیے بھی ہے۔ قیامت میں وہ اکیلی مستقل بالذات جواب دہ ہوگی اور وہ خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیکم أحسن عملاً میں مرد کی طرح برابر کی مخاطب ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آپ کی تحریر اس تأثر کو کم نہیں کرتی بلکہ اسی مزاج میں بہتی نظر آتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب مرد ہیں۔ رہی مسلمان عورت تو اس کا ذکر اس طور پر تو آتا ہے کہ اس سے کس طرح مسلمان مرد لطف اندوز ہو مگر اس کے آگے اس سے تخاطب مفقود ہے، کیوں؟ اللہ تعالی نے تو ”وانتم لباس لہن“ کہہ کر بات پوری کی ہے۔
صفحہ 74 پر ایک آدھ جگہ انسان کا لفظ استعمال ہوا، مگر یہاں بھی سیاق سے انسان کے معنی مرد ہی کے بنتے ہیں۔ ضرورت اس کی تھی کہ آپ مسلمان عورت سے مخاطب ہوتے اور بتاتے کہ وہ اس مودۃ اور رحمۃ کو کیسے حاصل کرسکتی ہے اور کیسے دے سکتی ہے، جس کا قرآن سورہ 30 آیت 21 میں ذکر ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ پچھلی صدی یا اس صدی کے شروع تک مسلما ن علماء جب کتاب لکھتے تھے تو غیرشعوری مفروضہ یہ ہوتا تھا کہ اسے پڑھنے والے صرف مرد ہوں گے۔ مسلمان عورتیں یا تو ناخواندہ ہوتی تھیں یا علمی کتب ان کی دسترس سے باہر تھیں۔ بیسویں صدی کے آخر میں یہ صورتحال نہیں رہی۔ مزیدبرآں اب آپ کی کتاب مغرب کی وہ خواتین بھی پڑھیں گی جن کو اپنی اس رائے کے حق میں دلیل چاہیے کہ اسلام عورت کو برابر کے انسان کا درجہ نہیں دیتا“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 157-158)
مغربی معاشرت پر تنقید میں توازن
امریکہ، یوروپ اور مغربی تہذیب ومعاشرت پر تنقید اردو مصنفین کا پسندیدہ موضوع رہا ہے، اس موضوع پر قلم اٹھانے والے اکثر افراد یا تو ثانوی حوالوں پر اعتماد کرتے ہیں یا پھر سنی سنائی باتوں کو اپنی تحریروں کا حصہ بنالیتے ہیں، چنانچہ یہ تنقیدیں اپنے اندر کئی قسم کی کمزوریاں رکھتی ہیں، ان تحریروں میں حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوتا، معروضیت نہیں پائی جاتی، اکیڈمک معیارات پر پوری نہیں اترتیں اور پھر ان سے ایک قسم کا منفی رجحان پروان چڑھتا ہے جو بہرحال کسی بھی طور پر مناسب نہیں ہوتا۔ مولانا سلطان اصلاحی مرحوم کے نام مذکور بالا مکتوب کے آخر میں ڈاکٹر صدیقی امریکہ اور مغربی دنیا کے طرز معاشرت پر تنقید کے سلسلہ میں توازن اور معروضیت اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:
”آپ کا پورا باب اوّل غیرمتوازن ہے۔ اس باب کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات متعلقہ جنس کے بیان کے لیے مغرب اور امریکہ کی بے راہ روی سے آغاز کیوں ضروری ہے؟ جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا اس سے امریکہ کی زندگی کا یک طرفہ غیرمتوازن نقشہ سامنے آتا ہے جس سے ان لوگوں کی نظر میں تحریر کا وقار گرتا ہے جو توازن کے ساتھ رائے قائم کرتے ہیں۔ اس طرح کی تحریروں کا گزشتہ دنوں زوال کے شکار مسلمانوں کی اَنا کی تسکین مقصد رہا ہے۔ اس سے وہ اپنی خرابیاں اور کمزوریاں بھول جاتے ہیں اور جن کے قدموں کے نیچے پامال ہورہے ہیں ان کو گمراہ اور تباہی کے گڈھے کی طرف تیزی سے بڑھنے والا یقین کرکے تھوڑی تسلی ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی تحریروں کا کوئی ایجابی عمل موضوع زیربحث میں سمجھ میں نہیں آتا“۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 159)
(جاری)
مولانا گیلانی اور شیخ اکبر ابن عربی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی
مولانا کے بقول شیخ نے اپنی کتابوں میں جن کلی امور پرسیر حاصل بحثیں فرمائی ہیں، ان میں علم کا مسئلہ بھی ہے، جس کی تعبیر موجودہ اصطلاح میں تھیوری آف نالج (Theory of Knowledge) کے الفاظ سے کی جاتی ہے، یعنی دین سے بغاوت کا وہ حصہ جو علم کے جھوٹے دعویٰ پر مبنی ہے، شیخ لوگوں کو یہ بتاناچاہتے ہیں کہ خود اس علم اور دانش کی کیاحقیقت ہے، ہم یہ جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں، اور اپنے اسی جاننے کی بنیاد پر نہ سوچنے والوں کے قلوب میں دین کا جو احتقار پیدا ہوتا ہے، شیخ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم نے کبھی اس پر بھی غور کیا کہ خود یہ جاننا کیا چیز ہے، اور تمہارے اس جاننے کی رسائی کا آخری نقطہ کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ آدمی پر جب’’ اپنی دانش‘‘کی اصلی حقیقت کھل جاتی ہے تو وہ سارا نشہ کرکرا ہو جاتا ہے، جس کے شکار عموماً وہی لوگ ہو جاتے ہیں، جو تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کے بعد ہر چیز کی تنقید اپنے علم کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں، لیکن علم و جہل کے سلسلہ میں آدمی کا جو صحیح مقام ہے، جب وہ اس پر واضح ہو جاتا ہے، تب سمجھ میں آتا ہے کہ:
معلومم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد
اس مسئلہ کو شیخ نے فتوحات مکیہ وفصوص الحکم وغیرہ میں مختلف اسالیب میں ادا کیا ہے، سب کو اگر جمع کیا جائے، تو محض اس ایک مسئلہ کے متعلق ان کے خیالات و نظریات ہزار ڈیڑھ ہزار صفحات کی گنجائش سے کم میں نہ آئیں گے، ’’ خصوصاً شیخ کا ایک خاص طریقہ ہے، وہ اپنے مسودہ پر نظر ثانی نہیں کرتے، اور قلم اٹھا کر لکھتے چلے جاتے ہیں، اس لئے کہیں کہیں اس کا شبہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے کلام میں تضاد ہے ‘‘، ضرورت ہے کہ تسلسل کے ساتھ ان کے کلام کے مختلف اجزاء کو ایک خاص ترتیب کی شکل میں ترتیب دیا جائے، مولانا اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ ’’اس تدبیر سے ان کے کلام میں بہ ظاہر جوتضاد محسوس ہوتا ہےعموماً وہ دور ہوجاتا ہے‘‘۔ 1
انہوں نے شیخ کےکلام کی تفہیم کے اور بھی طریقے بتا ئے ہیں، اور پھر فصوص الحکم کی عبارات واقتباسات کی روشنی میں شیخ کے اس نظریہ پر روشنی ڈالی ہے۔ اور اخیر میں ثابت کیا ہے کہ عام طور پر اہل مغرب نے حواس ہی کو ذریعۂ علم تسلیم کیا ہے، لیکن شیخ نے وضاحت کی ہے کہ ان حواس کے علاوہ بھی وحی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعہ علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شیخ کا خیال ہے کہ ان صفات کے پیچھے محض حواس اور عقل کے زور سے کسی ذات کا ثابت کرنا قطعاً نا ممکن ہے، وہ مدعی ہیں کہ مادہ ہی نہیں، بلکہ ان صفات کے پیچھے جن کا مشاہدہ ہمارے حواس اس عالم کی شکل میں کر رہے ہیں، کسی خدا کی ذات کو بھی محض حواس و عقل کے زور سے ثابت کرنے کی کوشش ایک ایسی کوشش ہے جو کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی، ان کا مشہور فقرہ ہے کہ: ’’ خدا کو عقل یعنی فکر ونظر کی راہ سے جس نے ڈھونڈھا وہ سر گشتہ اور سر ا سیمہ ہو کر رہ گیا‘‘۔ دوسرے الفاظ میں اسی خیال کو یوں ادا کرتے ہیں: ’’عقل اس حیثیت سے کہ وہ نظر و فکر، بحث و تلاش کا کام کرتی ہے، خدا کو جان نہیں سکتی‘‘۔ 2 انہوں نے اخیر میں اپنی کتاب الدین القیم کا حوالہ دیا ہے، الدین القیم میں انہوں اس کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اور ابن عربی کے حوالہ سے تفصیل سے لکھا ہے۔
انہوں نے ایسے وقت میں ابن عربی پر کام کا آغاز کیا جب وہ ضعیفی کے مرحلہ میں پہنچ کر اپنے وطن میں گوشہ گیر ہوچکے تھے، اس کا ایک حصہ لکھنے کے دوران ہی بیماری نے طول پکڑا، انہوں نے ابن عربی کے علمی پس منظر کے طور پر ان کے مولد ومنشا اندلس کے حالات تفصیل سے لکھے، دارالمصنفین سے ان انہوں نے اس کے لئے کتابیں بھی منگوائی تھیں جو افسوس کہ رکھی رہ گئیں، اورسید صباح الدین عبدالرحمن صاحب کے ہاتھ واپس کردی گئیں، صباح الدین صاحب نے لکھا ہےکہ جب مولانانے ریٹائر ہوکر گیلا نی میں آ کر قیام فرمایا تو ان کا قلم اور بھی جوان ہو گیاتھا، وہ حضرت شیخ محی الدین بن عربی سے بہت متاثر تھے اور ان کے کارناموں کو تفصیل کے ساتھ لکھنا چاہتے تھے۔ مولانا نے لکھاہے:
’’سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے کلام کے سمجھنے اور اس سے استفادہ کے لیے ایمان قوی اور نظر سلیم کے ساتھ ضرورت ہے کہ علم میں وسعت ہو، محدود معلومات والے تنگ نظر لوگوں کے لیے بسا اوقات ان کی باتیں نقصان رساں ہو جاتی ہیں لیکن یہ ان کے کلام کا نہیں بلکہ پڑھنے والوں کا نقصان ہے‘‘۔ 3
ان میں یہ تمام شرائط موجود تھے، اس لیے شیخ اکبر کو ان سے بہتراور کون سمجھ سکتا تھا، لیکن اس کام کو شروع کرنے سے پہلے وہ دوسرے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ 4
صباح الدین صاحب نے لکھا ہے کہ ایک بار وطن گیا تو ان کے یہاں جاکر ملاقات کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ ان کا خط ملا:
’’عزیر محترم..................5 السلام علیکم ورحمة الله و برکاتہ، اتنے طویل المدت مریض کے متعلق یہ واقعہ ہے کہ مر جانے یا تندرست ہوجانے کا فیصلہ قدرتی ہے، لیکن کیا کیجئے، آپ کا یہ درویش اسمی بہ مناظر احسن گیلانی نہ اب تک مرا ہے اور نہ اچھے ہونے کی بشارت سنا سکتا ہے، اسی حال میں مگن ہے جس میں رکھا گیا ہے، کل شاہ صاحب6 قبلہ کا نوازش نامہ ملا، جس میں آپ کے دیسنہ پہنچنے کی خبر درج تھی، دارالمصنفین کی جو امانت ہمارے پاس محفوظ ہے اس کو آپ کے حوالہ کردینا چاہتا ہوں، کیونکہ اب شیخ ابن عربی پر کچھ لکھوں تو ضرورت ہے کہ دوسری دفعہ پیدا کیا جاؤں، اب فرمایئے کہ اس کے لیے کیا کروں؟ کیا دیسنہ ان کتابوں کو کسی کی معرفت بھیج دوں مگر آپ کی ملاقات سے محروی معمولی محرومی نہ ہوگی، بہر حال جورائے عالی7 ہو، اس سے مطلع فرمائیں، ڈاک سے اس لیے بھیج رہا ہوں کہ زمینداری ختم ہونے کے بعداب چھٹی چپاتی کی کوئی راه ڈاک کے سوا باقی نہیں رہتی ............ ‘‘۔ 8
مولانا نے کتاب کا آغاز جس مضمون سے کیا وہ شیخ اکبر کے وطن اندلس کے بارے میں تھا، تین قسطوں میں معارف میں ان کا یہ مضمون ’’مسلمانوں کا اندلس خود ان کی نگاہ میں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ 9 اس کی تمہید میں وہ لکھتے ہیں:
’’مشہور اندلسی کہئے یایورپین صوفی شیخ محی الدین عربی پڑھے لکھے مسلمانوں میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں، کافی سر گرانیوں کے باوجود ان کے مخالفین بھی شیخ کی علمی وسعت، نظر کی دقت کے بہر حال معترف ہیں۔ ہمارے مخدوم و محترم مولانا شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی ناظم علمی دار المصنفین(اعظم گڑھ) و مدیر معارف کا اصرار ہے کہ شیخ ابن عربی کے متعلق معارف میں مقالات کا سلسلہ خاکسار شروع کرے، اپنے اصرار کو تیز سے تیز تر کرتے ہوئے آخر میں تو شاہ صاحب نے یہاں تک ارقام فرمادیا کہ تونے لکھا تو لکھا، ورنہ پھر کوئی دوسرا اس موضوع پر لکھنے والا نظر نہیں آتا، 10 ایک حوصلہ افزا حسن ظن کے سوا ظاہر ہے کہ اس کو اور کیا قرار دیا جا سکتا ہے، فوق کل ذی علمٍ علیم کی قرآنی حقیقت کا اقتضا بھی یہی ہے، اور سچی بات بھی یہی ہے کہ لکھنا چاہیں تو اب بھی اس فقیر سے کہیں بہتر طریقہ سے اس مضمون کو مرتب کر کے پیش کرنے والے پیش کر سکتے ہیں۔ مگر ایک’’صابری چشتی‘‘ فقیر کے لئے یہ بھی تو آسان نہ تھا کہ اپنے مخدوم ہی نہیں، بلکہ جو جانتے ہیں کہ ہندوستا ن کے طریقۂ چشتیہ صابریہ کے ایک رکن رکین صاحب ردولی شریف سیّدنا شیخ احمد عبد الحق قدس اللہ سرّہ العزیز بھی ہیں، اور ہمارے شاہ معین الدین صاحب کو اسی آستانہ ردولی شریف کی صاحبزادہ گی کا بجا فخر حاصل ہے، اس لحاظ سے مخدوم ہونے کے ساتھ ہی وہ ہمارے مخدوم زادے بھی تو ہیں، اپنے مخدوم زادے کے حکم سے سرتابی کی کوئی شکل نظر نہ آئی، اللہ کے نام سے قلم کو ہاتھ میں لیتا ہوں، شاید بزرگوں کی روحانیت سے تائید کی راہ میری یہی نیت مجھ پر کھول دے، واللہ وَلی الامر والتوفیق۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کچھ عرض کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوا کہ ان کے مولد و منشا اندلس کی تاریخ کا وہ رُخ پیش کر دیا جائے، جس سے میرا خیال یہی ہے کہ شیخ اور شیخ کے خصوصیات کے سمجھنے میں کافی مدد پڑھنے والوں کو ان شاءاللہ ملے گی، اسی لیے پہلا مقاملہ ’’اندلس‘‘ پر لکھ کر حاضر کیا جاتا ہے، والامر بیدہ سبحانہ تعالی۔ ‘‘
مولانا کایہ مضمون کئی زاویے سے قابل اشکال بھی ہے، اور قابل غور بھی، انہوں نے اندلس کا تذکرہ اس لئے کیا تھا کہ ابن عربی کے ماحول کو سمجھنے میں مدد ملے گی لیکن انہوں نے اس کا آغاز اس بحث سے کیا ہے کہ مسلمانوں کو آخر اندلس کی بربادی کی داستان باربار کیوں سنائی جاتی ہے، وہی یورپ جو اپنے ہر ظلم پر پردہ ڈالتا ہے وہی یورپ اندلس میں اپنے مظالم کو اس قدر علانیہ کیوں بیان کرتا ہے۔ مولانا نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا ہے، ممکن ہے وہ مزید کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتے ہوں جس کا موقع انہیں نہیں مل سکا۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا ہے کہ ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی، پھر بنوامیہ کے مظالم اور بے اعتدالی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور بہت تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے۔ اس میں زیادہ تر انہوں نے کامل ابن الاثیر اور تاریخ ابن خلدون پر اعتماد کیا ہے، یہ حصہ مزید نقد ونظر کا محتاج ہے، مولانا شروع سے بنو امیہ کے سخت ناقد تھے، ’’امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی‘‘ میں بھی انہوں نے یہی موقف اختیار کیا ہے، اور بنوامیہ پر سخت تنقید کی ہے، مولانا اس سلسلہ میں عام طور پر کمزور واقعات پر بھی اعتماد کرلیتے ہیں۔ پھر اخیر میں مولانا نے یہ لکھا ہے کہ مجھے ایسے واقعات تاریخ میں نظر سے گذرے جن کو پڑھ کر میں مزید پر امید ہوگیا ہوں۔ شاید پہلے سوال کے جواب میں ان واقعات کے ذریعہ وہ اس کی طرف اشارہ کرنا چاہ رہے ہوں کہ اہل یورپ مسلمانوں کے سامنے اپنی کمزوریوں کو چھپا نا چاہتے ہیں۔
مولانا کے بقول
’’اس زمانہ مین اندلس کے لفظ کو خوف و ہراس، دہشت و وحشت کے بھیانک خطرات کا جو مجسمہ مسلمانان عالم کے لئے بنا دیا گیا تھا، بالکل اس کے برعکس اندلس کا یہی لفظ مجھے تو رجائیت اور امید کا مطلع نظر آتا ہے اور اندلس کی تاریخ کے اس رخ کو مسلمانوں میں مردنی اور افسردگی پیدا کرنے کے بجائے امید و شگفتگی اور زندگی پیدا کرنا چاہیے‘‘۔ 11
بنوامیہ پر انہوں نے تنقید کی اس کے بعد خود ہی اخیر میں ان کے ایک مثبت پہلو کو بھی پیش کیاہے، اس کے ذریعہ اس سے متعلق خود مولانا کے دو متضاد نظریات سامنے آتے ہیں، گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں، جس کی صراحت نہیں کرتے کہ، بنو امیہ نے عصبیت عربیہ کو فروغ دیا، دین کی دعوت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اور وہاں کی آبادی کو لوٹا جس کا یہ انجام انہیں دیکھنا پڑا، لیکن انہوں نے شیخ ابن عربی کے معاصر حالات بالکل نہیں ذکر کئے، اس وقت تک تو بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا، شاید اشارہ میں وہ یہ بتانا چاہتے ہوں کہ بعد میں جو کچھ ہوتا رہا اس کی بنیاد بنوامیہ ہی نے رکھی تھی، پھر شیخ ابن عربی کے متعلق صراحت سے کچھ نہیں لکھتے، ممکن ہے اگلی قسط میں وہ اس پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتے ہوں جس کا موقع نہیں مل سکا۔ ویسے موجودہ مواد سے جو کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ شاید ان حالات نے شیخ ابن عربی کو کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہو، وہ وہاں کی آبادی کو قانع ومطمئن کرنا چاہتے ہوں، اورعربوں کے تئیں حکومت کے رویہ سے ان میں جو نفرت پیدا ہوگئی تھی اپنے ان افکار کے ذریعہ ان کو دور کرنا چاہتے ہوں۔ مولانا نے اپنے عربی مضمون میں جس پس منظر کی طرف اشارہ کیا ہے، اس میں فقہی ومسلکی اور عربی تعصب اور فلسفہ مشائیہ اور اس کے ذریعہ ثنویت کی تقدیس کو خاص طور سے بیان کیا ہے جس کی وجہ سے شیخ کو ظاہریت اور وحدت قیومیت کا نظریہ اختیار کرنا پڑا، اور انہوں نے وحدت الوجود کی رائے پیش کی۔
خوش قسمتی سے فتوحات مکیہ کے اس نسخہ کا بھی سراغ مل گیا ہے جو مولانا کے مطالعہ میں تھا اور وہ گویا وہ اس کی تلاوت کیا کرتےتھے، اس کے حواشی پر جابجا پنسل سے بعض الفاظ کے اردو ترجمے اورکہیں کہیں مختصر توضیح ہے لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ہے، البتہ آگے پیچھے کے سادہ اوراق ان کی تحریروں سے بھرے ہوئے ہیں، اگرچہ ان میں بیشتر یادداشتیں ہیں، اور اہم قابل ذکر مباحث کے صفحات نمبر درج کرکے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ ضخیم جلد کا قدیم مصری ایڈیشن ہے۔ مولانا کی بعض توضیحات جو اہم ہیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔
ص ۳۵۵پر بعض الفاظ کے ترجمے بھی ہیں، اور دو جگہ حسب ذیل توضیحات بھی۔
’’فان السراب لم یکن عین ذلک المحل الذی جاء الیہ محل السراب‘‘۔ اس پر مولانا حاشیہ میں لکھتے ہیں: ’’بل کان محله فی عین الرائی‘‘۔ اسی کی دو سطر کے بعد فھو المعبر عنه بالماء ہے۔ اس پر مولانا کا نوٹ ہے، ’’اطفا اللہ حرارۃ العطش باذنه تعالیٰ‘‘۔ ص۳۳۷ پر ایک شعر میں سورۃ القلب لکھا ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئےمولانا نے لکھا ہے ’’ اي سورۃ یسین‘‘۔
شروع کے اوراق میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ما معنی الاسباب والاعتماد علیھا، جاء ھھنا بیان کاف استنبطه من الآیة الکریمة ونبّه علی معنی الرجولیة، ویمکن ان ینتقد علی الشیخ قوله فی تفسیر خائنة الاعین فانه رضی اللہ عنه قد بعد، والظاهر أنه كان مأموناً عند نفسه فالإشارة ردّها بالعين كأنه كانت خيانة‘‘.
ایک جگہ لکھتے ہیں
’’تمام اجسام میں بلوریت کی پیدائش کا امکان۔ ۔ ص ۲۹۵۔ ۔ شیخ نے اسی پرمکاشفہ، اور طی الارض اور عذاب قبر کی تصحیح کی ہے‘‘۔
ص ۲۹۵ کے آغاز میں ایک عبارت ہے:
’’وكان الإمام عبدالقادر على انتقل إلينا من أحواله حال الصدق لا مقامه، وصاحب الحال له الشطح، وكذلك كان رضي الله عنه، وكان للإمام أبي السعود بن الشبلي تلميذ عبدالقادرمقام الصدق‘‘۔
اس پر مولانا نوٹ لکھتے ہیں، ’’وجہ یہ ہے کہ ان سے تبلیغ احکام متعلق نہیں تھی، اور حضرت سے تبلیغ متعلق تھی، اس لئے حال صدق دیا گیا اور ان کے شاگرد کو مقام صدق دیا گیا‘‘۔
صفحہ ۲۳۳ پر عبارت ہے: مضاف إليها مشيئته
مولانا اس کے متعلق حاشیہ میں لکھتے ہیں: مثلاً لو شاء الله لهداكم
اس کے نیچے ہے: فإذا علمت هذا أقمت عذر العالم عندالله.
اس پر مولانا کا حاشیہ ہے ’’كما قال الله تعالى فالعذر يمكن بأن يقول لا تهدينا‘‘۔ یہ تشریح اپنی معنویت میں بہت اہم ہے کیوں کہ اسی طرح کے جملے سے شیخ سے لوگ زیادہ متنفر ہوتے ہیں۔
صفحہ ۳۷۵ پر ایک عبارت ہے فيسلب هذا العالم المستحق دارالشفاعة علمه حتى كأنه ما علمه أو لم يعلم شيئاً فيتعذب بجهله۔ اس پر مولانا لکھتے ہیں ’’کیوں کہ جہنم میں کوئی کار خیر نہیں ہوتا، اور علم کار خیر ہے۔ ‘‘
اسی صفحہ پر ایک عبارت ہے: لأن الواحد شيخ فخاطبه باللطف.
اس کی توضیح میں مولانا لکھتے ہیں، ’’یعنی نوح علیہ السلام‘‘۔
اس کے بعدہے: والآخر شابّ فخاطبه بالشدة.
مولانا لکھتے ہیں’’یعنی سرور عالم ﷺ جوان تھے‘‘۔
ص ۳۲۴ پر عبارت ہے:
’’وهم فيه أي في العذاب مبلسون أي مبعدون من السعادة العرضية لأن السعادة الدائمة من حيث الوجود موجودة ولكنّ السعادة العرضية غير موجودة. ‘‘
یہ تشریحات کہیں باریک سیاہ روشنائی سے ہیں، کہیں پنسل سے ہیں، بہت سی جگہوں پر صرف اشارات ہیں۔ بہرحال جہاں تک ممکن ہوسکا اہم توضیحات کو اخذ کرکے یہاں درج کردیا گیا ہے، ممکن ہے کچھ چھوٹ گئی ہوں، جس ایڈیشن پر یہ حواشی ونوٹس وہ استنول کا شائع شدہ قدیم ایڈیشن ہے، اور دارالعلوم وقف دیوبند کے کتب خانہ میں حضرت قاری طیب صاحب کے ذخیرہ میں محفوظ ہے۔
حضرت قاری صاحب حضرت گیلانی کی عمر کے آخری دور میں وفات سے کچھ ماہ یا ایک دو سال قبل ان کی عیادت کے لئےمولانا کے وطن تشریف لے گئے تھے، اس وقت سوانح قاسمی کی ترتیب کا بھی ذکر آیا تھا اور اسی موقع پر مولانا قاری صاحب کو اپنی کتابوں کا جو ذخیرہ عنایت کیا تھا اس میں یہ نسخہ بھی تھا، جس کی وہ گویا تلاوت کیا کرتے تھے، اور ابن عربی پر اپنی مجوزہ تصنیف کے لئے بھی اس میں انہوں نے جا بجا نوٹس تحریر فرمائے تھے، حضرت گیلانی کی تحریر جس نے دیکھی ہے اور ان کے زیر مطالعہ کتابوں پر ان کے حواشی وتعلیقات جس کی نظر سے گذرے ہیں اسے ان عبارتوں کو حضرت گیلانی کی تحریر تسلیم کرنے میں شبہ نہیں ہوسکتا۔
ایک دوسرا حسن اتفا ق یہ بھی ہے کہ مولانا کی وہ بیاض بھی شائع ہوگئی ہے جو خدا بخش لائبریری میں محفوظ تھی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہو ر سے جناب عثمان احمد صاحب کی تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع ہوئی ہے، اس میں بھی ابن عربی کے اقتباسات اور جابجا اشارات موجود ہیں جو مولانا کے ان سے شدت تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ اقتباسات ان زیر تجویز تصنیفی کتاب کے لئے قلمبند کیے گئے ہوں۔ ایک جگہ صرف عنوان لکھا ہے، لقاء الشیخ الاکبر۔
ایک جگہ ’’حیوانی شکل کے دیوتا ‘‘ کا عنوان قائم کرکےمولانا اشعار اور ایک روایت کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اقوام قدیم میں بت پرستی اس خیال پر مبنی ہے کہ ملائکہ کے چہرے حیوانوں کی مانند ہیں، پھر روایت کے بعد شیخ اکبر کا اقتباس نقل کیا ہے، قال الشیخ الاکبر فی فتوحاتہ، الواحد من حملة العرش علی صورۃ الانسان والثانی علی صورۃ الاسد فتخیل انہ الہ موسیٰ فصنع لقولہ العجل وقال هذا إلهكم وإله موسى...القصة
117 صفحہ پر فتوحات مکیہ سے حضرت رابعہ بصریہ کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔
اس کے بعد صفحہ ۱۲۱ پر ’’وصیہ اکبریہ‘‘ کے عنوان سے حسب ذیل عبارت ہے:
فليجتهدأن يكون عند الموت عبداً مخلصاً ليس فيه شيئ من السيادة على أحد من المخلوقين ويرى نفسه فقيرة إلى كلّ شيئ من العالم من حيث أنه عين الحق من خلف حجاب الاسم الذي قال الله فيه.ص540 ت 32
پھر صفحہ ۱۲۷ پر ایک مسئلہ ہے جس کا عنوان ہے:
’’ تمام ارواح طیبہ وملائکہ وانبیاء ورسل سے حصول دعا کا طریقہ ‘‘۔
اس کے نیچے حسب ذیل عربی عبارت ہے:
قال شيخ الأكبر[كذا] في فتوحاته منسوباً إلى بعض أولياء الله أنه قال له، إذا قلت "السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين"أو قلت "السلام عليكم" إذا سلمت في طريقك على أحد فأحضر قلبك كلّ صالح لله من عباده في الأرض والسماء وميّت حيّ، فإنه من ذلك المقام يرد عليك فلا يبقى ملك مقرب ولا روح مطهر يبلغه سلامك إلاّ ويرد عليك وهو دعاء مستجاب فيستجاب فيك فتفلح، ومن لم يبلغه سلامك من عباد الله المهيمين في جلاله المشتغلين به المستفرغين فيه، وأنت قد سلمت عليهم بهذا الشمول فإن الله ينوب عنهم في الردّ عليك.
اس کے بعد لکھتے ہیں:
’’در اصل درود شریف کی ایک شرح فقیر یہ کرتا ہے، اور اسی کو مسلمانوں کے رواج فاتحہ کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اسی کی یہ تائید ہے، فللہ الحمد۔ ‘‘
صفحہ نمبر ۱۴۰پر لکھتے ہیں:
نکتہ عملیہ
الإنسان لا يخلو عن طلب نفساواحداً يقوم به الأمر ما. یعنی آدمی کسی نہ کسی قسم کی طلب اپنے اندر رکھتا ہے، چاہے اس طلب کو مجہول بنالے۔ إلا من جهة واحدة وهو أن يكون متعلق طلبه ما يحدثه الله في العالم في نفسه أو في غيره، فما وقعت عليه عينه أو تعلق به سمعه أو وجده في نفسه أو عامله به أحد فليكن ذلك عين مطلوبه المجهول، قد عيّنه له الوقوع فيكون قدوفى حقيقة كونه طالباً وتحصل له اللذة بكلّ واقع منه أو فيه أو من غيره أو في غيره. کبھی کبھی حس وحرکت پیدا نہ ہوگی فإن اقتضى ذلك الواقع التغيير له تغير لطلب الحق منه التغير وهو طالب الواقع، والتغير هو الواقع، وليس بمقهور فيه، بل هو ملتذ ّ في تغييره كما هو ملتذ في الموت للتغير وما ثمّ طريق إلى تحصيل هذا المقام إلاّ ما ذكرناه فلا تقل كما قال من جهل الأمر فطلب المحال فقال أريدفقال أريد أن لا أريد، وإنما الطلب الذي تعطيه حقيقة الإنسان لا أن يقول أريد ما تريد.
اس کے بعد کے صفحات میں ابن عربی کے متعدد اشعار بھی نقل کئےگئے ہیں۔
صفحہ ۱۵۷ پر ابن عربی کا قول نقل کرتے ہیں:
’’وعظ سے اگر کسی کو فائدہ نہ ہو فعلیہ ان یتہم نفسہ فان اللہ تعالیٰ قال وامر فذکر فان الذکریٰ تنفع المومنین‘‘۔
مفصل عبارت یہ ہے:
فإن كنت مومنا فإن الذكرى تنفع المؤمنين، فإني قد امتثلت أمر الله بما ذكر تك به وانتفاعك بالذكرى شاهد لك بالإيمان بالله، قال الله عزوجلّ في حقي، وفي حقك، وذكّر فإن الذكرى تنفع المومنين، فإن لم تنفعك الذكرى فإتهم نفسك في إيمانك فإن الله صادق، وقد أخبربأن الذكرى تنفع المومنين.
مولانا کی مندرجہ بالا تحریروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت گیلانی شیخ ابن عربی کے علوم پر کیسی نظر رکھتے تھے، اور ان سے انہیں کیسا والہانہ عشق تھا، اور کس طرح وہ ان کے افکار کی شرح وتوضیح کے سب سے زیادہ حق دار تھے، ؛لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
حواشی
- معارف، فروری، ۱۹۴۵ء
- حوالہ سابق، مارچ ۱۹۴۵ء
- یہ عبارت ان کے مضمون شیخ اکبر کا نظریہ علم کی ہے۔
- حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی، [کتابچہ]، از سید صباح الدین عبدالرحمن، مطبوعہ استھاواں، بہارشریف، ۲۰۱۶ء۔ ص۲۸
- مولانا اپنے اخلاص و شفقت میں چھوڑوں کے لیے بھی ایسے القاب لکھ دیتے جن کے وہ مستحق نہ ہوتے، اس لیے کچھ الفاظ حذف کردئے گئے۔ (اصل)
- جناب شاہ معین الدین احمد صاحب ندوی مراد ہیں۔ (اصل)
- یہ الفاظ ان کےظرف عالی کا ثبوت ہیں۔ (اصل)
- سید صباح الدین عبدالرحمن، حوالہ سابق، ص۴۷
- یہ مضمون ماہنامہ معارف اعظم گڑھ کے نومبر، دسمبر ۱۹۵۳ ور جنوری ۱۹۵۴ میں تین قسطوں میں شائع ہوا۔
- مولانا کی یہ پیشین گوئی درست نکلی، اس کے بعد معارف جومسلمانوں کی علمی تاریخ وشخصیات کاا نسائیکلوپیڈیا کہاجاسکتا ہے اس میں ابن عربی پر کوئی قابل ذکر مضمون نہیں ملتا، ضمنی طور پرکچھ بحثیں ہوں تو الگ بات ہے۔ (طلحہ)
- معارف، جنوری ۱۹۵۴۔