قربانی کی عبادت : چند اہم سوالات
محمد عمار خان ناصر
اسلام میں جذبہ عبودیت کے اظہار کے لیے جو مخصوص طریقے اور مراسم مقرر کیے گئے ہیں، ان میں جانوروں کی قربانی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے دور جدید میں پائے جانے والی ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ قربانی صدقہ اور انفاق کی ایک صورت ہے اور جانور قربان کرنے کے بجائے اگر اس رقم کو اہل احتیاج کی عمومی ضروریات پر صرف کیا جائے تو یہ رقم کا بہتر مصرف ہے۔
تاہم شرعی دلائل پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی، صدقہ وانفاق کی ذیلی صورت نہیں، بلکہ ایک مستقل اور بذات خود مطلوب رسم عبادت ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر بیٹے کو قربان کرنے کا فیصلہ کر کے جس جذبہ اطاعت کا اظہار کیا تھا، قربانی اسی کی یادگار اور اس جذبے کا ایک علامتی اظہار ہے۔ قربانی کے گوشت سے فقرا اور محتاجوں کی امداد، اس کا ایک ضمنی اور اضافی پہلو ہے، ورنہ پہلی شریعتوں میں قربانی کی ایک بڑی قسم ”سوختنی قربانی“ ہوتی تھی جس میں جانور کو ذبح کر کے گوشت کو جلا دیا جاتا تھا اور اسے کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس امت پر اللہ نے خاص عنایت کرتے ہوئے قربانی کا گوشت بھی کھانے کی اجازت دی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اس عمل میں اصل چیز جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرنا ہے، جبکہ محتاجوں کی مدد اور اعانت ایک زائد پہلو ہے۔ اس وجہ سے ان مخصوص دنوں میں تقرب الٰہی کے لیے جانور ہی ذبح کرنا شریعت کا مطلوب ہے۔ یہ رقم بطور صدقہ فقرا پر صرف کرنے سے شریعت کا منشا پورا نہیں ہوگا۔
قربانی سے متعلق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ شریعت میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی ، فقہی طور پر کیا درجہ رکھتی ہے؟ کیا اس کا درجہ، وجوب کا ہے اور کیا یہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو ایک مخصوص مالی نصاب کا مالک ہو؟ اس ضمن میں امت کے اہل علم کے مواقف مختلف ہیں۔ جمہور صحابہ وتابعین اور جمہور فقہائے امت کی رائے یہ ہے کہ قربانی ایک مسنون اور مستحب عمل ہے، یعنی واجب نہیں ہے۔ یہ قول صحابہ میں سے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عقبة بن عمرو، ابو مسعود انصاری، شعبی اور بلال رضی اللہ عنہم سے جبکہ تابعین میں سے علقمہ، عطا اور سعید بن المسیب وغیرہ سے منقول ہے (جصاص، احکام القرآن، ۳/۲۴۸۔ مصنف عبد الرزاق، ۸۱۳۴، تا ۸۱۵۶) اور ان میں سے ابو مسعود، عقبہ بن عمرو، اور علقمہ اس امر کی باقاعدہ تصریح کرتے ہیں کہ ان کے قربانی نہ کرنے کا باعث یہ ہے کہ لوگ کہیں اس کو واجب نہ سمجھ لیں۔
اس کے برعکس امام ابوحنیفہ اور ان کی اتباع میں جمہور فقہائے احناف نے استطاعت ہونے کی صورت میں ہر بالغ مسلمان مرد وعورت پر قربانی کو واجب قرار دیا ہے۔ امام قرطبی نے اس ضمن میں مجتہدین کے اختلاف کو یوں بیان کیا ہے کہ
إن الضحية ليست بواجبة ولكنها سنّة ومعروف. وقال عكرمة: كان ٱبن عباس يبعثني يوم الأضحى بدرهمين أشتري له لحماً، ويقول: من لقيتَ فقل هذه أضحية ٱبن عباس. قال أبو عمر: ومحمل هذا وما روي عن أبي بكر وعمر أنهما لا يضحيان عند أهل العلم؛ لئلا يعتقد في المواظبة عليها أنها واجبة فرض، وكانوا أئمة يقتدي بهم من بعدهم ممن ينظر في دينه إليهم؛ لأنهم الواسطة بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين أمته، فساغ لهم من الاجتهاد في ذلك ما لا يسوغ اليوم لغيرهم. وقد حكى الطحاوي في مختصره: وقال أبو حنيفة: الأضحية واجبة على المقيمين الواجدين من أهل الأمصار، ولا تجب على المسافر. قال: ويجب على الرجل من الأضحية على ولده الصغير مثل الذي يجب عليه عن نفسه. وخالفه أبو يوسف ومحمد فقالا: ليست بواجبة ولكنها سنة غير مرخص لمن وجد السبيل إليها في تركها. قال: وبه نأخذ. قال أبو عمر: وهذا قول مالك؛ قال: لا ينبغي لأحد تركها مسافراً كان أو مقيماً، فإن تركها فبئس ما صنع إلا أن يكون له عذر إلا الحاج بمنىً. وقال الإمام الشافعي: هي سنة على جميع الناس وعلى الحاج بمنىً وليست بواجبة. (تفسیر القرطبی، تفسیر سورۃ الصافات، آیت ۱۰۴)
یعنی ایک قول یہ ہے کہ قربانی واجب نہیں، بلکہ سنت ہے۔ چنانچہ ابن عباس عید کے دن عکرمہ سے کہتے تھے کہ دو درہم کا گوشت خرید کر لاو اور جو لوگ ملیں، ان سے کہو کہ یہ ابن عباس کی قربانی ہے۔ اسی طرح ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی قربانی نہیں کرتے تھے جس کا محمل اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ ان حضرات کے پابندی سے قربانی کرنے سے کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ واجب ہے۔دوسرا قول امام ابوحنیفہ کا ہے جو اسے واجب کہتے ہیں، جبکہ امام ابو یوسف اور محمد کے نزدیک اس کا درجہ واجب سے کسی قدر کم یعنی سنت موکدہ ہے جسے ترک کرنا درست نہیں۔ یہی امام مالک کا قول ہے۔امام شافعی قربانی کو صرف سنت قرار دیتے ہیں، واجب نہیں سمجھتے۔
قربانی کے حوالے سے جمہور اہل علم اور احناف کے مابین اختلاف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آیا قربانی ہر شخص پر انفرادی طور پر واجب ہے یا ایک گھرانے میں ایک قربانی کا اہتمام بھی اس مقصد سے کافی ہے؟ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھرانے کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کو کافی قرار دیا۔ چنانچہ مخنف بن سلیم روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ عرفہ میں فرمایا:
علی کل اھل بیت فی کل عام اضحیة وعتیرة (ترمذی، ۱۴۳۸)
”ہر گھر کے رہنے والوں پر ہر سال ایک جانور کی قربانی اور ایک عتیرہ لازم ہے۔“
صحابہ اور تابعین کے ہاں بھی اسی تصور کے شواہد ملتے ہیں۔ حذیفہ بن اسید فرماتے ہیں کہ میں تو سنت کو جانتا ہوں، لیکن میرے گھر والوں نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ہے۔ پہلے ہر گھر والے مجموعی طور پر ایک یا دو بکریوں کی قربانی کو کافی سمجھا کرتے تھے، لیکن اب (اگر ہم ہر فردکی طرف سے الگ قربانی نہ کریں تو) ہمارے پڑوسی ہمیں کنجوس ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ (ابن ماجہ، ۳۱۳۹) سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ ہمارے علم میں قربانی کا تصور یہی تھا کہ ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوتی ہے، یہاں تک کہ اہل عراق نے ہر شخص کی طرف سے علیحدہ قربانی کو ضروری قرار دیا۔ (مصنف عبد الرزاق، ۸۱۵۴)
اس حوالے سے تیسرا اہم فقہی اختلاف یہ ہے کہ آیا قربانی کے جانور کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کرنا بہتر ہے یا اس رقم کو فقرا اور ضرورت مندوں پر صدقہ کر دینا۔ امام قرطبی نے اس ضمن میں فقہاء کے اختلاف کو یوں واضح کیا ہے۔
واختلفوا أيهما أفضل: الأضحية أو الصدقة بثمنها. فقال مالك وأصحابه: الضحية أفضل إلا بمنىً؛ لأنه ليس موضع الأضحية؛ حكاه أبو عمر. وقال ابن المنذر: روينا عن بلال أنه قال: ما أبالي ألا أضحي إلا بديك ولأن أضعه في يتيم قد تَرِب فيه ـ هكذا قال المحدث ـ أحب إليّ من أن أضحي به. وهذا قول الشعبي إن الصدقة أفضل. وبه قال مالك وأبو ثور. وفيه قول ثانٍ: إن الضحية أفضل؛ هذا قول ربيعة وأبي الزناد. وبه قال أصحاب الرأي. زاد أبو عمر وأحمد بن حنبل قالوا: الضحية أفضل من الصدقة؛ لأن الضحية سنة مؤكدة كصلاة العيد. ومعلوم أن صلاة العيد أفضل من سائر النوافل. وكذلك صلوات السنن أفضل من التطوّع كله. (تفسیر القرطبی، تفسیر سورۃ الصافات، آیت ۱۰۴)
یعنی قربانی کرنے یا قیمت کا صدقہ کرنے کی افضلیت کے متعلق امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا موقف یہ ہے کہ قربانی کرنا رقم کا صدقہ کرنے سے افضل ہے، کیونکہ قربانی کرنا عید کی نماز طرح سنت موکدہ ہے جبکہ صدقہ کرنا نفل عبادت ہے، اور معلوم ہے کہ عید کی نماز، باقی نوافل کے مقابلے میں افضل ہے۔
یہ قول سیدنا بلال، امام شعبی، امام مالک اور امام ابو ثور سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے صدقہ کرنے کو افضل قرار دیا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
ما ابالی لو ضحیت بدیک ولان اتصدق بثمنھا علی یتیم او مغبر احب الی من ان اضحی بھا (مصنف عبد الرزاق، ۸۱۵۶)
”مجھے کوئی پروا نہیں اگر میں ایک مرغ کی ہی قربانی کروں۔ قربانی کے جانور کی قیمت کو کسی یتیم یا پراگندہ حال مسکین پر صدقہ کرنا مجھے قربانی کرنے سے زیادہ پسند ہے۔“
قربانی سے متعلق فقہی اختلاف کا ایک اور اہم پہلو فقہ حنفی کے دائرے میں ہے۔ حنفی فقہاء نے عموماً قربانی کے وجوب کا موقف اختیار کیا ہے اور اس کا مدار نصاب زکوٰۃ کو قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاس قربانی کے دنوں میں زکوٰۃ کے نصاب کے بقدر رقم یا سونا چاندی وغیرہ موجود ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔ نصاب زکوٰۃ میں حنفی اہل فتویٰ عموماً چاندی کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں جس کی رو سے بہت معمولی رقم کا مالک ہونے پر بھی آدمی پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔ یہ پیچیدگی اہل افتاء کے مابین کافی عرصے سے زیربحث ہے اور ۲۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو دار العلوم کے دار الإفتاء کی طرف سے جاری کیے گئے ایک فتوے میں اس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ
’’اگر کوئی تنگدست شخص چاندی کے نصاب کے بقدر کرنسی یا مال تجارت کا مالک ہونے کے باوجود قربانی کی وسعت نہ رکھتا ہو اور اس کے اثاثوں کی مالیت نصاب ذہب کو بھی نہ پہنچتی ہو اور قربانی کا جانور خریدنے یا بڑے جانور میں حصہ لینے کی صورت میں اسے ناقابل برداشت حرج پیش آنے کا شدید اندیشہ ہو اور وہ اس بنا پر قربانی نہ کرے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ معذور سمجھا جائے گا۔“
اس فتوے کی رو سے قربانی کے وجوب کے لیے چاندی کے بجائے سونے کے نصاب کا اعتبار کیا جا سکتا ہے اور مالی وسعت نہ رکھنے والے اگر تنگ دستی کی وجہ سے قربانی نہ کرنا چاہیں تو وہ اس میں معذور شمار ہوں گے۔ ہماری رائے میں اس رائے پر بھی مزید غور کی ضرورت ہے اور قربانی کو نصاب زکوٰۃ سے متعلق کرنے کے بجائے احادیث کے متبادر مفہوم کی روشنی میں قربانی کے ایام میں مالی گنجائش اور وسعت سے متعلق قرار دینا چاہیے۔
اہل علم کے مذکورہ اقوال اور آرا کے پس منظر میں شرعی وفقہی دلائل کو مجموعی طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے حسب ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
- ذی الحجہ کے مخصوص دنوں میں تقرب الٰہی کے لیے جانور ذبح کرنا ایک شرعی شعار کا درجہ رکھتا ہے۔ اسلام کی ایک بڑی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ایک شعار ہونے کی حیثیت سے قربانی کے عمل کو اجتماعی طور پر زندہ رکھنا ضروری ہے اور ہر شہر اور علاقے میں لوگوں کو قربانی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- اس عبادت کو انفرادی حیثیت میں صاحب استطاعت لوگوں پر واجب قرار دینے کے بجائے اسے واجب علی الکفایہ کہنا زیادہ درست ہوگا اور اگر ہر علاقے میں صاحب استطاعت گھرانے اس کا اہتمام کریں جس سے بطور ایک شعار کے قربانی کو زندہ رکھنے کا مقصد پورا ہو جائے تو شریعت کی منشا یقیناً پوری ہو جائے گی۔
- قربانی کا تعلق کسی مخصوص مالی نصاب سے نہیں ہے کہ جس کے پاس بھی خاص مقدار میں سونا یا چاندی پڑا ہو، اس کو قربانی دینی چاہیے۔ اس کا تعلق استطاعت سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے دنوں میں اگر کسی کے پاس معمول کی ضروریات سے زائد اتنی رقم موجود ہو کہ وہ قربانی کا جانور خرید سکے تو اس کو قربانی کرنی چاہیے۔
- قربانی اور عمومی صدقہ وخیرات دونوں نیک اور مطلوب اعمال ہیں، اس لیے معاشرے کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آدمی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ ان دنوں میں قربانی کی رسم کی ادائیگی کو ترجیح دے یا صدقہ وخیرات کرنے کو۔ اگر اپنی مالی حیثیت کے لحاظ سے آدمی دونوں کا تحمل کر سکتا ہو تو یہ بہت بہتر ہے، لیکن اگر ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ماحول کی ضروریات کے لحاظ سے جانور قربان کرنے یا اتنی رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(409) وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ
سورۃ الحجر کی درج ذیل آیتوں میں زَیَّنَّاہَا اور حَفِظْنَاہَا دونوں ہی میں مفعول بہ ضمیر ’ھا‘ کی صورت میں ہے۔ نحوی لحاظ سے اس ضمیر کا مرجع السماء بھی ہوسکتا ہے اور بروجاً بھی۔ اول الذکر صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کو مزین کیا اور آسمان کو شیطانوں سے محفوظ کیا، جب کہ ثانی الذکر صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ برجوں کو مزین اور شیطانوں سے محفوظ کیا۔ سورۃ الصافات میں صراحت کردی گئی ہے کہ مزین و محفوظ آسمان کو کیا ہے:
إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِزِینَۃٍ الْکَوَاکِبِ۔ وَحِفْظًا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ مَارِدٍ۔ (الصافات:6-7)
سورۃ الملک میں بھی کہا گیا ہے:
وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ وَجَعَلْنَاہَا رُجُومًا لِلشَّیَاطِینِ۔ (الملک: 5)
غرض ان دونوں مقامات سے یہ متعین ہوجاتا ہے کہ درج ذیل آیتوں میں آسمان کے مزین و محفوظ ہونے کی بات کہی گئی ہے نہ کہ بروج کے۔ اس لیے ضمیر ’ھا‘ کا مرجع السماء کو مان کر ترجمہ کرنا چاہیے۔ بعض لوگوں نے اس حوالے سے غلطی کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ۔ وَحَفِظْنَاہَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ۔ (الحجر: 16-17)
”اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا۔ اور ہر شیطان راندہئ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)
یہ ترجمہ درست ہے، جب کہ درج ذیل دونوں ترجموں میں مذکورہ غلطی پائی جاتی ہے۔
”یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا۔اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا“۔ (سید مودودی)
”اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کے لیے ستاروں سے آراستہ کردیا۔ اور ہر شیطان رجیم سے محفوظ بنادیا“۔ (ذیشان جوادی)
درج ذیل انگریزی ترجمے دیکھیں۔ اس حوالے سے پہلے ترجمہ میں یہ غلطی موجود ہے جب کہ دوسرا صحیح ہے۔
It is We Who have set out the zodiacal signs in the heavens, and made them fair-seeming to (all) beholders; And (moreover) We have guarded them from every cursed devil. (Yusuf Ali)
And verily in the heaven we have set mansions of the stars, and We have beautified it for beholders. And We have guarded it from every outcast devil. (Pickthall)
(410) وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی
درج ذیل آیتوں میں من روحی میں من تبعیض کا نہیں بیان کا ہے۔ نفخ کا معنی ہی پھونکنا ہوتا ہے۔ من روحی یا من روحنا یا من روحہ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ نے پھونکی ہے وہ اللہ کی روح ہے۔ روح میں سے پھونکنا یا روح میں سے کچھ پھونکنا مراد نہیں ہے بلکہ روح پھونکنا مراد ہے۔
(۱) فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ (الحجر: 29)
”تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا“۔ (محمد جوناگڑھی)
”تو جب میں اس کو مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرپڑنا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا“۔ (سید مودودی)
آخری دونوں ترجموں میں مذکورہ خامی پائی جاتی ہے۔
(۲) وَالَّتِی أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیہَا مِنْ رُوحِنَا۔ (الانبیاء: 91)
”اور اس خاتون (کا ذکر کیجئے) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اس (پاک دامن بی بی) پر بھی اپنا فضل کیا جس نے اپنے اندیشہ کی جگہوں کی حفاظت کی۔ تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی ہم نے اُس کے اندر اپنی روح سے پھونکا“۔ (سید مودودی)
آخری ترجمے میں مذکورہ خامی پائی جاتی ہے۔
(۳) وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِی أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیہِ مِنْ رُوحِنَا۔ (التحریم: 12)
”اور عمران کی بیٹی مریمؑ کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی“۔ (سید مودودی)
”اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی“۔ (فتح محمد جالندھری)
اپنی طرف سے روح پھونکنے کے بجائے اپنی روح پھونکنا عبارت کے مطابق ترجمہ ہے۔
(۴) ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیہِ مِنْ رُوحِہِ۔ (السجدۃ: 9)
”پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی“۔ (سید مودودی)
”پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی“۔ (احمد رضا خان)
یہاں بھی اپنی طرف سے روح پھونکنے کے بجائے اپنی روح پھونکنا عبارت کے مطابق ترجمہ ہے۔
(۵) فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی۔ (ص: 72)
”تو جب میں اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں“۔ (امین احسن اصلاحی، درست کردوں اور روح پھونک دوں درست عبارت ہے۔)
”پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں“۔ (احمد رضا خان)
”پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں“۔ (سید مودودی)
یہاں بھی اپنی طرف سے روح پھونکنے کے بجائے اپنی روح پھونکنا عبارت کے مطابق ترجمہ ہے۔
یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اگر کسی مترجم نے ایک جگہ تبعیض والا ترجمہ کیا تو اسی نے دوسری جگہ بیانیہ والا ترجمہ کیا۔
(411) أَبَی أَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ
درج ذیل آیتوں میں دو بار مع الساجدین آیا ہے۔ اس سے مراد سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونا اور ان میں شامل ہونا ہے۔ سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینا اس سے مختلف مفہوم رکھتا ہے اور وہ یہاں مراد نہیں ہے۔ شامل ہونے میں سجدہ کرنے والا بن جانا مراد ہوتا ہے جب کہ ساتھ دینے میں یہ مراد ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے۔
فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ أَبَی أَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ۔ قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ أَلَّا تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ۔ (الحجر:30-32)
”تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے، سوا ابلیس کے، اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا۔ فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا؟“۔ (احمد رضا خان)
”چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا۔ مگر ابلیس کے۔ کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے (صاف) انکار کر دیا۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟“۔ (محمد جوناگڑھی)
”تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا۔ (خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا“۔ (فتح محمد جالندھری)
”چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ رب نے پوچھا:”اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟“۔ (سید مودودی)
آخری ترجمے میں مذکورہ بالا کم زوری پائی جاتی ہے۔
(412) من المنظرین
قرآن مجید میں شیطان کے واقعے میں جب اس کے مہلت مانگنے پر اللہ تعالی نے اسے مہلت دی، تو اس کے لیے إِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِینَ کی تعبیر آئی ہے۔ عربی کے عام اسلوب کے لحاظ سے تو اس کا ترجمہ ہوگا: ”تو ان لوگوں میں سے ہے جنھیں مہلت دی گئی“۔ لیکن اس ترجمے سے یہ بات نکلتی ہے کہ اور بھی لوگوں کو مہلت دی گئی۔ قرآن میں اس کا ذکر کہیں نہیں ہے کہ کسی اورکو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے۔ البتہ عربی کے ایک خاص اسلوب کا لحاظ کیا جائے تو اس کا ترجمہ ہوگا: ”تجھے مہلت دی گئی“، قرآن مجید میں اس اسلوب کی بہت مثالیں ہیں۔
درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ بتاتا ہے کہ مختلف مترجمین نے کبھی اس اسلوب کا لحاظ کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے۔
(۱) قَالَ إِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِینَ۔ (الاعراف: 15)
”فرمایا: تو مہلت دے دیا گیا“۔ (امین احسن اصلاحی، اردو محاورے کے لحاظ سے درست جملہ ہوگا: ”تجھے مہلت دی گئی“)
”فرمایا تجھے مہلت ہے“۔ (احمد رضا خان)
”ارشاد ہوا کہ تو مہلت والوں میں سے ہے“۔ (ذیشان جوادی)
”فرمایا: اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے“۔ (محمد حسین نجفی)
آخری دونوں ترجموں میں مذکورہ بالا کم زوری موجود ہے۔
(۲) قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِینَ۔ إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ۔ (الحجر:37-38)
”فرمایا: اچھا، تجھے مہلت ہے اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے“۔ (سید مودودی)
”فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے۔ وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک“۔ (فتح محمد جالندھری)
”فرمایا تو ان میں سے ہے جن کو اس معلوم وقت کے دن تک مہلت ہے“۔ (احمد رضا خان)
”فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے، روز مقرر کے وقت تک کی“۔ (محمد جوناگڑھی، وقت مقرر کے روز کی جگہ غلطی سے روز مقرر کے وقت ہوگیا ہے۔ آگے سورہ ص کی اسی طرح کی آیت کا درست ترجمہ کیا ہے۔)
”فرمایا: اچھا! روز معین تک مہلت پانے والوں میں سے تو بھی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخری تینوں ترجموں میں مذکورہ کم زوری موجود ہے۔
(۳) قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِینَ۔ إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ۔ (ص:80-81)
”ارشاد ہوا: تجھ کو مہلت دی گئی! وقت معین تک کے لیے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”فرمایا، اچھا، تجھے اُس روز تک کی مہلت ہے، جس کا وقت مجھے معلوم ہے“۔ (سید مودودی)
”فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”فرمایا تو تُو مہلت والوں میں ہے، اس جانے ہوئے وقت کے دن تک“۔ (احمد رضا خان)
”(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے، متعین وقت کے دن تک“۔ (محمد جوناگڑھی)
آخری دونوں ترجموں میں وہ کم زوری موجود ہے۔
(413) مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِینَ
درج ذیل آیت میں اگر مِنَ الْغَاوِینَ کے من کو تبعیض کے لیے مانیں گے تو اس کا ترجمہ ہوگا ”بدراہوں میں سے جس نے تیری پیروی کی“ اور اس سے مفہوم یہ نکلے گا کہ بدراہوں میں سے کچھ شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں اور کچھ بدراہ ایسے بھی ہیں جنھوں نے شیطان کی پیروی نہیں کی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بدراہ ہوتا ہی وہی ہے جو شیطان کی پیروی کرے، اور شیطان کا زور سارے ہی بدراہوں پر چلتا ہے۔ اگر من کو بیانیہ مانیں تو ترجمہ ہوگا: ”تیری پیروی کرنے والے بدراہ“ یعنی جو بد راہ ہیں وہی شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اس مفہوم پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا ہے۔ اس کی روشنی میں درج ذیل ترجمے ملاحظہ ہوں:
إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِینَ۔ (الحجر: 42)
”بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا، تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں“۔ (سید مودودی)
”جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہے علاوہ ان کے جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرنے لگیں“۔ (ذیشان جوادی)
”میرے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، بجز ان کے جو گمراہوں میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)
آخری تینوں ترجموں میں وہ کم زوری موجود ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہاں سلطان کے معنی ’بس‘، ’قدرت‘ یا ’اختیار‘ کے نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ شیطان کو کسی پر اختیار اور قدرت نہیں دی گئی ہے۔ البتہ جیسا کہ آخری ترجمے میں ہے، یہاں سلطان کے لیے ’زور‘ مناسب تعبیر ہے۔
ایک اور بات کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ غاوی کا ترجمہ گم راہ کے بجائے بد راہ زیادہ صحیح ہے۔ ضلال اور غوایة میں یہ فرق ہے کہ ضلال راستہ گم ہوجانے کے لیے آتا ہے اور غوایة بے راہ روی یا بد راہی کے لیے آتا ہے۔ زمخشری کے مطابق: الضلال: نقیض الہدی، والغی نقیض الرشد۔ (تفسیر کشاف)
(414) قَدَّرْنَا إِنَّہَا لَمِنَ الْغَابِرِینَ
درج ذیل آیت میں قَدَّرْنَا کا ترجمہ عام طور سے مقدر کرنا، مقرر کرنا، طے کرنا اور فیصلہ کرنا کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں قَدَّرَ اندازہ کرنے کے معروف معنی میں ہے۔ قالوا کے بعد آخر تک پورا مقولہ فرشتوں کا ہے، جس میں قَدَّرْنَا والا جملہ بھی شامل ہے۔
قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَی قَوْمٍ مُجْرِمِینَ۔ إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوہُمْ أَجْمَعِینَ۔ إِلَّا امْرَأَتَہُ قَدَّرْنَا إِنَّہَا لَمِنَ الْغَابِرِینَ۔ (الحجر: 58 - 61)
”وہ بولے، ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ صرف لوطؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی“۔ (سید مودودی)
”مگر اس کی عورت ہم ٹھہراچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے“۔ (احمد رضا خان)
”البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بجز اس کی بیوی کے۔ اس کو ہم نے تاک رکھا ہے۔ وہ بے شک پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی“۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی توجیہ کے مطابق ترجمہ ہوگا:
”سوائے اُس کی بیوی کے جس کے بارے میں ہمارا اندازہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔“
(415) لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِینَ
توسّم کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز پر غور و فکر کرکے اسے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنا۔ درج ذیل آیت میں متوسّمین کی تشریح کرتے ہوئے زمخشری لکھتے ہیں:
لِلْمُتَوَسِّمِین:َ للمتفرّسین المتأملین۔ وحقیقة المتوسمین النظّار المتثبّتون فی نظرہم حتی یعرفوا حقیقة سمة الشیء۔ (الکشاف)
درج ذیل آیت میں عام طور سے متوسّمین کا درست ترجمہ نہیں کیا گیا:
إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِینَ۔ (الحجر: 75)
”بے شک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)
”بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)
”بیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے“۔ (احمد رضا خان)
”بیشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)
متوسّم کا مطلب بصیرت والا یا فراست والا نہیں ہے۔ توسّم کے اندر غور و فکر کرکے حقیقت جاننے کی کوشش کرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:
”بے شک غور سے نظر ڈالنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں“۔
(جاری)
محدثین اور فقہاء کا دائرہ کار اور منہج عمل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اسے اپنی امت کے ساتھ اجتماعی طور پر الوداعی ملاقات قرار دیتے ہوئے مختلف خطبات میں بہت سی ہدایات دی تھیں اور ان ارشادات و ہدایات کے بارے میں یہ تلقین فرمائی تھی کہ:
فلیبلغ الشاھد الغائب فرب مبلغ اوعٰی لہ من سامع۔
’’جو موجود ہیں، وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ بسا اوقات جس کو بات پہنچائی جائے، وہ سننے اور پہنچانے والے سے زیادہ اس بات کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘
اس حفاظت کرنے میں یاد رکھنا، سمجھنا، اسے اہتمام کے ساتھ آگے پہنچانا اور صحیح طور پر استعمال میں لانا بھی شامل ہے۔ چنانچہ جب تابعین کرامؒ کے دور میں حدیث و سنت کی حفاظت و روایت اور تفقہ و استنباط کا ایک وسیع سلسلہ سامنے آیا تو حضرت محمد بن سیرینؒ اس کا مشاہدہ و تجربہ کرتے ہوئے بے ساختہ پکار اٹھے: ”صدق محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ آج ایک زندہ سچائی کی صورت میں سب کے سامنے جلوہ گر ہے۔
حدیث و سنت کی روایت اور حفاظت و ترویج کا محاذ محدثینِ کرام نے سنبھالا اور درایت و تفقہ کا پرچم فقہائے عظام نے بلند کر دیا، جبکہ ان دونوں کی جڑیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ان علمی کاوشوں میں پیوست تھیں جن کی نمائندگی کرنے والوں میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عثمان، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت ابو ہریرہ، حضرت انس بن مالک، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت ام المومنین عائشہ اور ام المومنین حضرت ام سلمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نمایاں ہیں۔
محدثین اور فقہاء کی یہ محنت و کاوش آگے بڑھی تو دائرۂ کار الگ الگ ہونے کی وجہ سے ذوق اور تفہیم و اظہار کا امتیاز بھی واضح ہونے لگا، اور رفتہ رفتہ یہ دونوں گروہ مستقل طبقوں کی صورت میں نمایاں ہوتے گئے۔ انسانی ذہن و فہم اور استعداد و صلاحیت کا دائرہ اور سطح کبھی ایک نہیں رہے۔ اسی تنوع و اختلاف کے باعث آرا و افکار کا فرق و امتیاز ہمیشہ سے انسانی سوسائٹی میں قائم ہے جو قیامت تک موجود رہے گا۔ اور اگر یہ اپنی حدود میں رہے تو یہی انسانی سوسائٹی کا حسن و امتیاز ہے جو اسے باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ارتفاقات یعنی انسانی سوسائٹی کی معاشرتی بنیادوں اور تقاضوں پر بحث کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ معاشرت اور تمدن کی بنیادی ضروریات پر تو تمام اقوام متفق ہیں، مگر ان کا اظہار ہر طبقہ اپنے اپنے انداز میں کرتا ہے۔ شاہ صاحب کا ارشاد ہے:
والناس بعدھا فی تمھید قواعد الآداب مختلفون فالطبیب یمھدھا علی استحسانات الطب والمنجم علی خواص النجوم والالھی علی الاحسان کما تجد فی کتبھم مفصلا۔
’’اصولوں پر اتفاق کے بعد لوگ آداب و ضوابط کی تشکیل و تعبیر میں مختلف ہو جاتے ہیں۔ طبیب انہیں طب کی اصطلاحات اور فوائد کی زبان میں بیان کرے گا، نجومی انہی باتوں کا ستاروں کے خواص کے پس منظر میں ذکر کرتا ہے، جبکہ صوفی نے اس کی وضاحت سلوک و احسان کے اسلوب میں کرنا ہوتی ہے، جیسا کہ تمھیں ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل ملے گی۔’’
محدثین کرام روایت کی نمائندگی فرماتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان کے ہاں ترجیح کی بنیاد روایت کے اصول اور تقاضے ہوں گے، جبکہ فقہاء کرام درایت و استنباط کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں تو وہ تفقہ و استنباط کی ضروریات کو ترجیح دیں گے۔ اس لیے یہاں یہ فرق صرف ذوق و اسلوب کا نہیں رہتا بلکہ اپنے اپنے کام کی ضروریات بھی اس کا حصہ بن جاتی ہیں، اور یہی بات امت میں محدثین کرام اور فقہاء عظام کے دو مستقل طبقات کے ظہور و ارتقا کا باعث بنی ہے۔
قرونِ اولیٰ میں بہت سے محدثینِ کرام نے حدیث و سنت کی روایت، جمع، حفاظت، رواۃ کی نقد و جرح اور سند و متن کی درجہ بندی کے شعبہ میں خدمات سرانجام دیں، جن میں سے صحاح ستہ کے مصنّفین اور امام مالک و احمد رحمہم اللہ تعالیٰ نمایاں ہو کر سامنے آئے اور تمام محدثین کے سرخیل قرار پائے۔ بالخصوص امام بخاریؒ کو سب محدثین کے سردار کے لقب سے نوازا گیا۔ اسی طرح بیسیوں فقہاء کرام نے اپنے اپنے استنباطات و استدلالات کو جمع کیا، اصول و قواعد وضع کیے، ان کے مطابق مسائل و احکام کا استنباط کیا، اور اپنے اپنے علمی حلقے قائم کیے۔ جن میں سے ائمہ اربعہ نے فقہاء کرام کی سیادت و قیادت کا اعزاز حاصل کیا اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کی امامتِ عظمیٰ کی فوقیت کو سب نے تسلیم کیا۔
اہلِ سنت کے چاروں ائمہ حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل، بلکہ حضرت امام داؤد ظاہری رحمہم اللہ تعالیٰ کی فقہ و درایت سے بھی امت مسلمہ نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے، ان کے مقلدین و متبعین لاکھوں کی تعداد میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور آج بھی کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ امتیاز فقہ حنفی کو حاصل ہوا جس کا اعتراف و احترام اہلِ علم و فضل نے ہمیشہ کیا ہے۔ ہمارے خیال میں اس امتیاز و تفوق کے اسباب یہ ہیں:
- حنفی فقہ شخصی نہیں، شورائی ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ اور ان کے تلامذہ اپنی اپنی آرا علمی مجلس میں پیش کرتے تھے، ان پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ جس بات پر اتفاق ہوتا تھا وہ متفقہ موقف کی صورت میں درج ہوتی تھی۔ مختلف فیہ بات کو اختلاف کے درجہ میں رکھا جاتا تھا، کسی پر جبر نہیں ہوتا تھا۔ اگر مجلس کے کسی شریک کو اجتماعی رائے سے اتفاق نہیں ہوتا تھا تو اس کی رائے الگ درج کی جاتی تھی۔
- شورائیت اور اجتماعیت کی یہ روایت فقہ حنفی کی تشکیل و تدوین کے بعد اس پر بوقتِ ضرورت نظرثانی کے موقع پر بھی قائم رہی۔ چنانچہ مغل دور میں فقہ حنفی کی ازسرِنو ترتیب و تشریح کی ضرورت پیش آئی تو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی سربراہی میں یہ فریضہ سینکڑوں علماء کرام پر مشتمل کونسل نے تفصیلی بحث و مباحثہ کے ذریعے سرانجام دیا۔ جبکہ خلافتِ عثمانیہ کے دور میں فقہ حنفی کی بنیاد پر حالاتِ زمانہ کے مطابق نئی قانون سازی کا مرحلہ پیش آیا تو ’’مجلۃ الاحکام العدلیة‘‘ کی ترتیب و تدوین فقہاء و علماء کی ایک مجلس نے مشاورت و مباحثہ کی صورت میں انجام دی۔
- فقہ حنفی میں روایت و درایت کے درمیان فطری توازن کا پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے، اور عقل و درایت کو نص و روایت پر فوقیت دینے کے بجائے اس کے تابع کیا گیا ہے۔ فقہ حنفی میں نہ تو عقل و درایت کی ضرورت و افادیت سے انکار کیا گیا ہے، نہ اسے نص و روایت پر ترجیح دی گئی ہے، اور نہ ہی نص و روایت کے فہم و استنباط کو عقل و درایت کی خدمت و معاونت سے محروم کیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے قرآن کریم سے استنباط کرتے ہیں، پھر حدیث و سنت سے استفادہ کرتے ہیں، اس کے بعد صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے ہیں اور کسی ایک صحابیؓ کا قول بھی مل جائے تو اسے ترجیح دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ احناف کے ہاں ضعیف حدیث کو بھی قیاس پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احناف عقل و درایت اور قیاس پر صرف نص کو ہی مقدم نہیں سمجھتے، بلکہ نص کے آخری امکان تک کا لحاظ رکھتے ہیں۔
- فقہ حنفی میں عقل و درایت کا اس کے دائرہ میں بھرپور اور فطری استعمال کیا گیا ہے اور اس سے استفادہ میں کوئی کوتاہی روا نہیں رکھی گئی۔ البتہ احناف کے ہاں نظری اور فلسفیانہ عقلیت کے بجائے عملی اور معاشرتی عقل و درایت کو احکام و قوانین کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ عرف و تعامل کا حنفی فقہ میں اس کی جائز حدود کے اندر پورا احترام کیا گیا ہے اور معاشرتی عقل سے بہت سے احکام و مسائل میں استنباط کیا گیا ہے۔
- فقہ حنفی کو طویل عرصہ تک رائج الوقت قانون و نظام کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ خلافتِ عباسیہ، خلافتِ عثمانیہ اور مغل سلطنت میں صدیوں تک عدالتی قانون کے طور پر فقہ حنفی کی عملداری رہی ہے۔ جس کی وجہ سے تجربات و مشاہدات کا جو ذخیرہ اس کے پاس ہے، اور انسانی معاشرہ کی مشکلات کو سمجھنے اور حل کرنے کی جو صلاحیت و تجربہ اس کے دامن میں ہے، وہ (ایک حد تک فقہ مالکی کے سوا) کسی دوسری فقہ کو میسر نہیں آیا۔
فقہ حنفی کے انہی امتیازات و خصوصیات کی وجہ سے بجا طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ عالمِ اسلام میں عدالتی اور انتظامی طور پر شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کے جو امکانات دن بدن واضح ہوتے جا رہے ہیں، ان میں فقہ حنفی ہی نفاذِ اسلام اور تنفیذِ شریعت کی علمی قیادت کی پوزیشن میں ہے۔ اس لیے یہ بات پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ فقہ حنفی کو ماضی کے معاملات و تجربات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے امکانات و ضروریات کے حوالے سے بھی تحقیق و مطالعہ کا موضوع بنایا جائے، اور انسانی سوسائٹی کی ضروریات و مشکلات کے دائرہ میں فقہ حنفی کی افادیت و اہمیت کو علمی اسلوب اور فقہی انداز میں واضح کیا جائے۔
فقہ حنفی کو اس امتیاز و تفوق کے پس منظر میں فطری طور پر کچھ الزامات و اعتراضات کا بھی ہر دور میں سامنا رہا ہے جن میں بعض کا تعلق دائرۂ کار اور ذوق و اسلوب کے فرق و تنوع سے ہے، بعض اعتراضات نے غلط فہمی کے باعث جنم لیا ہے، کچھ الزامات معاصرت کی پیداوار ہیں، اور ان میں ایسے اعتراضات بھی موجود ہیں جو ”حسدًا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق‘‘ کا مصداق قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان الزامات و اعتراضات کا دفاع مختلف ادوار میں اہلِ علم نے کیا ہے اور صرف احناف نے نہیں، بلکہ منصف مزاج غیر حنفی علماء و افاضل اس دفاع میں پیش پیش رہے ہیں جو یقیناً امامِ اعظمؒ کے خلوص و دیانت اور علم و فضل کی ’’خدائی تائید‘‘ ہے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالک۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۵)
ابو الاعلیٰ سید سبحانی
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی خدمات کا ایک بڑا دائرہ اسلامی فکر ہے اور دوسرا بڑا دائرہ اسلامی معاشیات ہے۔ اسلامی معاشیات پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی متعدد کتابیں ہیں، جن میں اہم ترین درج ذیل ہیں:
اسلام کا معاشی نظام
اسلام کا نظریہ ملکیت
غیرسودی بینک کاری
مالیات میں اسلامی ہدایات کی تطبیق
معاش، اسلام اور مسلمان
انشورنس، اسلامی معیشت میں
اسلام کا نظام محاصل، قاضی ابویوسف کی کتاب الخراج کا اردو ترجمہ
اسلام میں عدل اجتماعی، سید قطب شہید کی العدالۃ الاجتماعیۃ کا اردو ترجمہ
آپ نے انگریزی زبان میں بھی اسلامی معاشیات سے متعلق متعدد کتب تصنیف فرمائی ہیں۔اس کے علاوہ انگریزی زبان میں متعدد اہم علمی مقالات اسلامی معاشیات کے حوالے سے قلم بند فرمائے ہیں، جومختلف مین اسٹریم جرنلس میں شائع ہوئے۔ یہ مقالات ڈاکٹر صدیقی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
زیر نظر تحریر میں اسلامی معاشیات کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی کے بعض اُن خیالات اور افکارکو پیش کیا جائے گا جو مرحوم کے مجموعہ خطوط میں ملتے ہیں۔
غیرمعمولی دولت والوں کے ساتھ اسلام کا معاملہ
اسلام میں جائز طریقے سے دولت کمانے کی پوری پوری اجازت دی گئی ہے، انفاق کی بھی خوب خوب ترغیب دی گئی ہے، اس بات کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ دولت چند مال داروں کے درمیان گردش کرتی نہ رہ جائے، لیکن کہیں اس بات کی طرف اشارہ نہیں ملتا کہ غیرمعمولی دولت رکھنے والوں سے ان کی دولت ضبط کرلی جائے، یا اسلامی ریاست کو اس بات کا اختیار ہو کہ وہ ایسے لوگوں کو ان کی اپنی دولت سے بغیر کسی اصول اور ضابطے کے محروم کردے، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم جناب جمیل احمد صاحب (مدراس) کے نام اپنے ایک مکتوب میں اس پر اپنے خیالات کچھ اس طرح رقم کرتے ہیں:
”غیرمعمولی دولت رکھنے والوں کو خرچ میں اعتدال، نمود ونمائش والے خرچوں سے پرہیز، غریبوں کی امداد اور سماجی فلاحی کاموں کی سرپرستی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے، مگر جائز طریقے سے حاصل کردہ دولت کو صرف اس لیے چھین لینا کہ وہ بہت زیادہ ہے، تین خرابیاں پیدا کرسکتا ہے:
(۱) دولت کمانے کی جدوجہد کی ہمت شکنی۔
(۲) ظالموں اور استبداد کرنے والوں کے لیے ظلم کا دروازہ کھولنا۔
(۳) فاضل دولت کو ترغیب کے ذریعہ جن اچھے کاموں کی طرف Direct کیا جاسکتا تھا اس کی جگہ چھینی ہوئی فاضل دولت کا حکومتی استعمال گمان غالب ہے کہ کم اہم کم مفید ثابت ہوگا۔
صرف کثرت کی بنا پر دولت لے لینے کا طریقہ اسلام میں مقبول نہیں، البتہ جب اجتماعی ضرورت کے لیے ٹیکس لگایا جائے تو فاضل مال پر زیادہ لگے گا، واللہ عندہ علم الصواب۔“ (صفحہ:117)
کرنسی کا مسئلہ
کاغذی کرنسی پر اعتراض کرنے والے اس بات کو بہت شدت کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ اسلام کی نگاہ میں کرنسی کی حیثیت صرف اور صرف سونے اور چاندی کو حاصل ہے، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کو اس رائے سے اختلاف تھا، اس حوالے سے ڈاکٹر صدیقی نے کئی مقامات پر بہت زور دے کر لکھا ہے، ایک جگہ لکھتے ہیں:
”سونے چاندی کو شریعت یاوحی نے کوئی درجہ نہیں دیا ہے۔ ابن تیمیہ اور دوسرے اکابر مفکرین اسلام کی رائے میں کسی چیز کو زر Money بنانا ایک انسانی فعل ہے جو سہولت پر مبنی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نیا نقد نہیں چلایا۔ رومی دینار سونے کے اور فارسی درہم چاندی کے بیرون عرب سے ڈھل کر آتے اور مقامی بازاروں میں رائج تھے، جو رواج تھا اسی میں زکوۃ کا نصاب بتادیا۔ اس بات کی قطعی دلیل کہ سونے چاندی کو مقام زر کا وحی الٰہی سے کوئی تعلق نہیں موطأ امام مالک کی وہ روایت ہے جس کے مطابق رائج الوقت سکوں میں کمی محسوس کرتے ہوئے سیدنا عمرؓ نے ارادہ کیا تھا کہ اونٹ کی کھال سے بنے چمڑے کے سکے جاری کریں گرچہ بوجوہ اس اسکیم پر عمل نہ ہوا، مگر ارادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی بھی چیز کو زر بنانے کا انسان کو اختیار ہے۔ آپ کا یہ خیال بھی تاریخی ثبوت کا محتاج ہے کہ عہد رسالت میں سونے چاندی کی قیمت خرید یکساں رہی تھی۔ رہا عہد خلافت راشدہ تو اس میں تو اشیاء کی نرخ میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ سے سیدنا عمرؓ نے دیت کی مقدار میں اضافہ کیا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مزید فتوحات کے بعد عرب میں سونا چاندی باہر سے بہت آگیا، اس کی وجہ سے افراط زر جیسی کیفیت شروع ہوگئی۔ آپ نے کاغذی نوٹ کے خلاف جتنا لکھا ہے اس کے سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ موجودہ دنیا میں زر کی مجموعی رسد کا بیشتر حصہ کاغذی نوٹوں کی شکل میں نہیں مجرد دفتری اندراج کی شکل میں رہتا ہے۔ کاغذی نوٹ مجموعی زر کا چوتھائی سے دسواں حصہ تک ہوتے ہیں اور بس۔ رہا مستقبل تو زیادہ تر لین دین الکٹرانک ٹرانسفر کی شکل میں ہوتا جائے گا۔ کاغذی نوٹوں کا تناسب بہت ہی کم ہوجائے گا۔“ (صفحہ: 138-139، تاریخ: 21ستمبر1996)
کاغذی زر سے متعلق ایک مکتوب کا جواب
امریکہ میں مقیم ڈاکٹر منیر احمد ڈاکٹر صدیقی مرحوم کے نام ایک خط میں کاغذی زر کے حوالے سے 23 فروری 1992 کو ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر کچھ استفسارات پیش فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو (صفحہ:365-366)، اس مکتوب کے جواب میں ڈاکٹر صدیقی نے کاغذی زر کے حوالے سے قدرے تفصیلی جواب دیا ہے، جواب کا یہ حصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
”کاغذی زر کے علاوہ زر کی اور بھی شکلیں ہیں، بینک نہ ہوں تو بھی زر پایا جاسکتا ہے اور پایا ہے اور اس حالت میں بھی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ زر کی قوتِ خرید کو، یعنی محنت، عوامل پیداوار اور اشیاء صرف خریدنے کی قوت کو ایک سطح پر قائم رکھ سکے۔ سونا یا چاندی بھی اس بات کی ضمانت نہ دے سکے نہ دے سکتے ہیں۔ اسباب تفصیل چاہتے ہیں۔
اس تاریخی حقیقت کی طرف بھی توجہ مبذول کرانی ہے کہ ایک بار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اونٹ کے چمڑے کے سکے چلائیں (اس زمانے میں رومی اور فارسی دینار ودرہم اسلامی علاقوں میں بھی چلا کرتے تھے)، مگر صحابہ کے مشورے کے بعد آپ نے ارادہ ترک کردیا۔ یہ روایت موطأ امام مالک میں دیکھی جاسکتی ہے۔ غور فرمائیے کہ کاغذ کے سکے اور چمڑے کے سکے میں کیا جوہری فرق ہے۔ جن ارشادات باری کو آپ زر پر منطبق کررہے ہیں، یا جس وسیع دائرے میں منطبق کرنا چاہتے ہیں، دلیل چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں منطبق کرنے کے لیے ہیں۔ نیز یہ بھی سوچنا چاہیے کہ زر اور تبادلہ اشیاء میں قسط وتوازن کا حصول براہ راست ناممکن ہو تو بالواسطہ اس کے لیے کیسے اہتمام کیا جائے۔“ (صفحہ:367)
بینک کاری تمام تر مغرب کی پیداوار نہیں
موجودہ نظام بینک کاری کے سلسلہ میں ایک بات بڑے شدومد سے کہی جاتی ہے کہ یہ پورا بینک کاری کا نظام مغرب کی پیداوار ہے اور یہ درحقیقت استعماری عزائم کو بروئے کار لانے کے لیے وجود میں لایا گیا تھا، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا موقف اس سلسلہ میں بھی عام رائے سے کچھ ہٹ کر ہے، ڈاکٹر منیر احمد کے مکتوب کے جواب میں اس مسئلہ پر بھی قدرے تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہے، لکھتے ہیں:
”آپ کو یہ غلط فہمی معلوم ہوتی ہے کہ بینک کاری تمام تر مغربی دنیا کی پیداوار ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ کسی مناسب تاریخی ماخذ سے درج ذیل تین الفاظ کی تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلامی تاریخ میں تیسری صدی سے ”تخلیق زر“ کا عمل نمودار ہونے لگا تھا یا کم سے کم جہبذہ (Jahbaza: Credit Creation)، سفتجہ (Suftaja)، اور رقعہ(Ruqa)۔
محنت، عوامل پیداوار، صرف، نیز خون پسینہ بڑے پیمانے پر دولت (ضرورت کی چیزیں، مکان وغیرہ)پیدا کرنے میں بہت پیچھے رہ جائیں، اگر زر یا Creditکا نظام تنگ اور محدود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ Barter کا دور دورہ جب تک رہامعیشت محدود رہی۔ بینک کاری کا پیدا کردہ سرمایہ ضروری نہیں کہ لازماً وہ پھیلاؤ اختیار کرے جو آج دیکھا جارہا ہے، اس کو سماج کی ضرورت اور صلاحیت کے حدود میں رکھنا ممکن ہے۔۔۔
آپ کا یہ تأثر کہ بینک کاری کا نظام ارشادات باری کے خلاف ہے میرے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں ہے۔ یہ نظام سود پر قائم ہے، سود حرام ہے۔ اس پہلو سے آپ کی بات صد فی صد درست ہے۔ مگر سود کی جگہ مضاربت، مشارکت وغیرہ لانے کے بعد، جیسا کہ آپ نے میری کتاب میں دیکھا ہوگا، اب جس چیز کو آپ ارشادات باری کے خلاف بتارہے ہیں اس کی متعین نشاندہی کیجیے، کسی چیز کو حرام کہنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔
البتہ یہ بات سمجھنے میں مجھے دقت نہیں کہ موجودہ نظام بینک کاری کے نتائج آپ کو پسند نہیں۔ مجھے بھی پسند نہیں۔ کوئی ایسا حل ڈھونڈنا ہے جو پسند ہو، مگر بینک کاری کو حرام کہہ دینا حل نہیں ہے۔ آپ بتائیں کہ اس کی جگہ کیا لانا چاہتے ہیں؟“۔ (صفحہ: 367-368)
اس مسئلہ پر مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک خط میں لکھتے ہیں:
”جب تک کسی تدبیر کی مخالفت پر دلیل نہ قائم ہوجائے اس کو مباح سمجھا جائے گا۔ امور دنیا کی تنظیم وتدبیر کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع ووسائل میں سے ہر ایک کی بابت الگ سے سندِ جواز کی ضرورت نہیں۔ ان غیرمنصوص امور میں بالآخر مصالح اور مفاسد کا میزانیہ ہی فیصلہ کن ہوگا“۔ (صفحہ:371)
افراط زر اور سود کے علاوہ بھی مسائل ہیں
موجودہ معاشی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے عموماً اسلامی معاشیات کی وکالت کرنے والے تجزیہ کار یہ بات کہتے ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کا اصل مسئلہ افراط اور سودی لین دین ہے، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا خیال ہے کہ موجودہ معاشی نظام میں تبدیلی کے لیے محض سود اور افراط زر کا مسئلہ حل کردینا کافی نہ ہوگا، بلکہ ایک بھرپور اور ہمہ جہت تبدیلی لانے کے لیے کئی اہم محاذوں پر سنجیدہ علمی وتحقیقی کام کرنا ہوگا، لکھتے ہیں:
”آپ کی یہ رائے کہ تمام مشکلات ومسائل کا سبب افراط زر ہے صحیح نہیں ہوسکتی۔ افراط زر چلا جائے گا پھر بھی بہت سے مسائل ومشکلات کا سامنا ہوگا اور سود ختم کرکے شرکت ومضاربت وغیرہ رائج ہوجائے تو بھی ظلم وبے انصافی کی دوسری شکلیں باقی رہیں گی۔ آپ کا یہ دعوی کہ صرف سود کے خاتمہ اور زکوۃ کے نفاذ سے ہمارے معاشی مسائل حل ہوکر عدل وانصاف ہی نہیں ترقی وخوش حالی کی ضمانت حاصل ہوجائے گی، درست نہیں ہے۔۔۔ موجودہ دنیا کے معاشی اور مالی مسائل بہت پیچیدہ ہیں، ان کا تفصیلی تجزیہ درکار ہے۔ بے شک سود کا خاتمہ اور زکوۃ کا نفاذ ان مسائل کے حل کے لازمی ارکان ہیں، لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اور کیا کرنا ہے“۔ (صفحہ: 139-140، تاریخ: 21ستمبر1996)
دو ملکوں کی کرنسی کے تبادلہ میں نقد کی شرط
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے خطوط میں ایک خط قاضی مجاہدالاسلام قاسمی مرحوم کے نام بھی ہے، قاضی صاحب اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے مؤسسین میں سے تھے اور مولانا علی میاں ندوی مرحوم کی وفات کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ خط کے آخر میں موجود حاشیہ اور دوسرے شواہد بتاتے ہیں کہ قاضی صاحب سے ڈاکٹر صدیقی کی مختلف علمی مسائل پر خط وکتابت ہوتی رہتی تھی، لیکن اتفاق سے مجموعہ خطوط میں ایک ہی خط شامل کیا جاسکا، اس خط میں ڈاکٹر صدیقی نے دو ملکوں کی کرنسی کے تبادلہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ کی طرف قاضی صاحب کو توجہ دلائی ہے، لکھتے ہیں:
”بحث ونظر جنوری تا مارچ 1990 میں صفحہ 12پر یہ لکھا ہے کہ: ”دو ملکوں کی کرنسیاں دو اجناس ہیں، اس لیے ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی سے کمی بیشی کے ساتھ حسب رضائے فریقین جائز ہے“، مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ مذکورہ بالا عبارت کے بعد درج ذیل عبارت لکھنے سے رہ گئی ہے، بہرحال یہ اضافہ ضروری ہے: ”بشرطیکہ یہ تبادلہ نقد (دست بدست) ہو“۔
موجودہ عبارت سے پڑھنے والا یہ سمجھے گا کہ فریقین راضی ہوں تو دو کرنسیوں کے تبادلہ میں نہ صرف کمی بیشی جائز ہے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ ایک فریق نے ایک کرنسی نقد دے دی اور دوسرے فریق نے دوسری کرنسی کچھ عرصہ بعد دینے کا ذمہ لیا۔ مذکورہ عبارت سے پہلے شق (۲) کے آخر میں چونکہ نقد اور ادھار دونوں شکلوں کا صراحتاً ذکر ہے اس لیے اس کے بعد شق (۳) سے پڑھنے والا وہی سمجھے گا جو میں نے بیان کیا۔ دو کرنسیوں کے تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہونے مگر اُدھار ناجائز ہونے کی دلیل ’مسلم، باب الصرف‘ میں عبادہ بن الصامت کی روایت کی ہوئی حدیث ہے جس کے آخر میں تاکید ہے کہ صرف کا عمل دست بدست ہونا ضروری ہے، حدیث کا متن درج ذیل ہے:
الذھب بالذھب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء یدا بید فاذا اختلفت ھذه الأصناف فبیعوا کیف شئتم اذا کان یدا بید۔
اس ممانعت کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر اُدھار کی اجازت ہو تو صرف Money Changing کو سود کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے، مثلاً ایک ایسے وقت میں جب کہ بازار کا نرخ ایک ڈالر برابر بیس روپیہ ہو، اگر ایک آدمی بائیس روپے فی ڈالر کی شرح سے پچاس ڈالر اُدھارخرید رہا ہو تو اس کا قوی امکان ہے کہ وہ دراصل آج ایک ہزار روپے اُدھار لے کر وقت مقررہ پر گیارہ سو روپے ادا کرنے کا ذمہ لے رہا ہو (چونکہ اُدھار لیے ہوئے پچاس ڈالر سے وہ آج ہزار روپے نقد حاصل کرسکتا ہے)۔“ (صفحہ: 284-285)
بینکنگ سسٹم سے متعلق کچھ بنیادی سوالات
16مئی 1984 کو سعودی عرب میں ملازمت کررہے ایک ہندوستانی نوجوان نے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی خدمت میں معاشی معاملات سے متعلق کچھ سوالات ارسال کیے تھے، ڈاکٹر صدیقی کے مجموعہ خطوط میں یہ سوالات اور ان کے جوابات موجود ہیں، ان میں سے کچھ سوالات اور جوابات ذیل میں ذکر کیے جارہے ہیں:
سوال: آج کل بینک کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرنا جائز ہے جو فی نفسہ حرام نہ ہو؟
جواب:جو معاملات فی نفسہ حرمت کے عناصر سے پاک ہیں وہ بینکوں سے کیے جاسکتے ہیں، کیونکہ ضرورت عام ہے، اور سہولتِ متبادل موجود نہیں، مثلاً لاکر لینا، کرنٹ اکاونٹ رکھنا، ڈرافٹ بنوانا وغیرہ۔
سوال: اگر سود کی یہ تعریف صحیح ہے کہ ہر وہ زیادتی جو قرض پر لی جائے تو عام افراد جو بینکوں میں سیونگ اکاونٹ یا فکسڈ ڈپازٹ رکھتے ہیں ان پر اضافہ کس طرح سود کہلائے گا، کیونکہ بہرحال یہ روپیہ قرض نہیں، بلکہ امانت ہے، یہاں یہ بحث غیرمتعلق ہے کہ بینک امانت میں خیانت کرتے ہیں۔
جواب: سیونگ یا فکسڈ ڈپازٹ امانت کی تعریف میں نہیں آتے ہیں، بلکہ بینک کو دیے قرض کی تعریف میں آتے ہیں، متعلقہ بینکنگ لاز اور بعض معاصر فقہاء کی تحریریں ملاحظہ ہوں، ان پر ملنے والا سود حرام ہے۔
سوال: جب تک کسی ایک اسلامی ملک میں پوری طرح غیرسودی نظام نافذ نہیں ہوجاتا اگر سب لوگ بینکوں سے ہر قسم کے لین دین (ملازمت، حسابات رکھنا، L/C کھولنا، Bills وغیرہ)کو حرام سمجھ کر بند کردیں تو ملک میں معاشی اثرات کیا نتیجہ دکھائیں گے؟
جواب: بینکوں سے ناگزیر معاملات کی معاصر معاصر فقہاء اسلام اجازت دیتے ہیں، مگر جہاں متبادل غیرسودی بینک سرگرم عمل ہوں ان کی طرف رجوع اولیٰ ہے۔ ملازمت کا مسئلہ ذاتی ضروریات پر موقوف ہے۔ حرمت اور ترک ملازمت کے وجوب پر اکثر علماء کو اصرار نہیں ہے، متبادل ذریعہ معاش ملے تو بہتر ہے، ملک کے معاشی حالات کی بہتری کی ایک شرط نظام بینک کاری کا سود سے پاک کیا جانا بھی ہے۔
سوال: لاکھوں افراد جو خود کاروبار نہیں کرسکتے اگر اپنی فالتو دولت بینکوں کے ذریعہ ملک کی صنعتوں میں نہیں لگائیں گے تو سرمایہ کاری کس طرح ہوگی؟
جواب: افراد کو اپنی فالتو دولت کی غیرسودی بنیاد پر سرمایہ کاری کرنا چاہیے، جن ملکوں میں ایسے ادارے نہ موجود ہوں مل جل کر ایسے ادارے قائم کرنے چاہئیں جیسا کہ ہندوستان، فلپائن، وغیرہ اقلیتی ممالک میں عملاً ہورہا ہے۔ مسلم اکثریتی ملکوں میں سے زیادہ ممالک میں اسلامی بینک قائم ہوچکے ہیں، ان کے ذریعہ سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔
سوال: اور پھر دولت کا یہ استعمال کہاں تک درست ہے کہ اسے نہ تو خرچ کیا جائے نہ کاروبار میں لگایا جائے، بلکہ اسے روک کر رکھ لیا جائے۔ معاشی لحاظ سے اس پالیسی کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔
جواب:دولت کا یہ استعمال مناسب نہیں کہ اسے نہ خرچ کیا جائے نہ مزید نفع کمانے کے لیے سرمایہ کاری میں لگایا جائے، مگر اگر کسی مخصوص صورت حال میں دولت کو روکے رکھنے کا متبادل صرف یہ رہے کہ اسے سودی طور پر لگایا جائے تو اسے روکے رکھنا حرام سے بچنے کے لیے بہتر ہے۔ اس کے برے معاشی اثرات سے بچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو دولت کو مشغول کرسکیں۔ نہ یہ کہ دولت کے سودی استعمال میں شریک ہوجایا جائے جو ظالمانہ معیشت کو تقویت پہنچائے۔ ملاحظہ ہو میری کتاب ”Issues in Islamic Banking“(مطبوعہ: اسلامک فاؤنڈیشن، لسٹر 1983)
سوال: یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جہاں رسک زیادہ ہوگا وہاں نسبتاً سرمایہ کاری کم ہوگی، مضاربت میں نفع کی گارنٹی تو کجا سرمایے کی سلامتی کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی، چونکہ صاحب ِ مال کا سرمایے پر اختیار نہیں ہوتااس لیے وہ غیریقینی صورت حال میں مضاربت میں روپیہ لگانے سے گریز کرے گا۔ موجودہ نظام میں سرمایے اور نفع کی ضمانت ہوتی ہے اس لیے سرمایہ مختلف صنعتوں میں لگتا رہتا ہے، مگر مضاربت میں ان خدشات کی روشنی میں سرمایہ کاری موجودہ نظام کے مقابلے یقینا بہت ہی کم ہوگی، اور نتیجہ ملک کی معیشت کے لیے تباہ کن۔ ان حالات میں یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مضاربت کا نظام موجودہ نظام سے بہتر ہوگا۔
جواب: مضاربت میں جس خطرہ کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہ شخصی معاملات میں زیادہ پیش ہوتا ہے، مثلاً آپ کسی فرد سے مضاربت کا معاہدہ کریں، جب کسی درمیانی ادارہ مثلاً اسلامی بینک کے توسط سے اس کا انتظام کیا جائے گا تو ایسا خطرہ کم ہوجائے گا، اوّلاً اس لیے کہ یہ ادارہ بہت سے لوگوں کے سرمایہ کو بہت سے کاروبار میں لگائے گا اور ایک ساتھ سب کی طرف سے خسارے کا امکان کم ہے۔ ثانیاً اس لیے کہ یہ ادارہ آپ سے کہیں زیادہ مہارت کے ساتھ کاروباری لوگوں کی اسکیموں کا جائزہ لے کر ایسے فریقوں سے معاہدہ کرے گا جس سے نفع اور کاروبار کی امید ہو۔ ثالثاً اس لیے کہ مضاربت کا معاہدہ اس کاروبار کے حالات کی جانچ اور اس کے کاروباری فیصلوں پر نظر رکھنے کی پوری گنجائش دیتا ہے جس میں مال لگایا گیا ہو اور بینک اپنے اسٹاف کے ذریعہ یہ کام کرے گا۔ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ جب کسی ملک میں پورا نظام مالیات وبینک کاری مضاربت کے اصولوں پر سرمایہ کاری کرنے کے اصول پر قائم ہوگا تو عام ڈپازٹر کو نفع کی شرح کم وبیش ہونے کا خطرہ تو رہے گا مگر خالص نقصان یا جمع کردہ سرمایہ میں کمی کا اندیشہ عملاً نہ رہے گا۔ (صفحہ 308-311)
یہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے کچھ اہم اور قابل ذکر معاشی افکار تھے، جو مجموعہ خطوط کی روشنی میں مرتب کیے گئے، ڈاکٹر صدیقی کے مجموعہ خطوط میں مذکورہ بالا افکار کے علاوہ بھی معاشی امور سے متعلق کئی اہم امور اور مسائل کے سلسلہ میں رہنمائی ملتی ہے۔
مسائل تحسین و تقبیح: معتزلہ، ماتریدیہ و اشاعرہ کے مواقف
ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
مسائل حسن و قبح (خیر و شر) پر مختلف کلامی گروہوں (معتزلہ، ماتریدیہ و اشاعرہ) بعض نتائج میں ہم آہنگ اور بعض میں مختلف فیہ ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اکثر و بیشتر کتب میں اس کی بنیاد پر گفتگو و بحث نہ ہونے کے برابر ہے، اکثر مصنفین نتائج کا فرق بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ معتزلہ فلاں مسئلے میں فلاں بات کہتے ہیں اور ماتریدیہ و اشاعرہ فلاں جن میں سے بعض پر ان کے مابین اتفاق ہوتا ہے اور بعض میں اختلاف۔ مثلاً تکلیف مالا یطاق کے عدم جواز اور اسی طرح عقلی ادراک کی بنیاد پر بعض امور کی تکلیف لازما آنے پر معتزلہ و ماتریدیہ کے ایک گروہ کا اتفاق ہے جبکہ خلق افعال عباد (بندوں کے افعال کی تخلیق ) کے مسئلےپر ان کا اختلاف ہےوغیرہ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اتفاق و اختلاف کس اصول پر متفرع ہے؟ یہاں ہم اختصار کے ساتھ چند نکات کی صورت اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ تحریر کا مقصد یہ تعین کرنا نہیں کہ کس فریق کا موقف درست ہے،نہ ہی ہر فریق کے دلائل پر بحث کی گئی ہے۔ معتزلہ کا موقف
پہلے ہم معتزلہ کا موقف بیان کرتے ہیں۔
1۔ اختلاف کی بنیاد ہر فریق کے نزدیک ذات باری سے متعلق عدل و حکمت کے مفہوم کا فرق ہے۔ معتزلہ و ماتریدیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حسن و قبح افعال و اشیا کے اوصاف ہیں، اس لئے ان کے نظریہ اخلاق کو essentialist or objectivist theory of morality کہا جاسکتا ہے۔ افعال و اشیاء کے یہ اوصاف دراصل اللہ کی صفت حکمت کا مظہر ہیں جس کے بعض تقاضوں کو انسان پہچان سکتا ہے۔
2۔ معتزلہ کے نزدیک حکمت کا مطلب خدا کے فعل میں "اصلح للعباد" کا پہلو پایا جانا ہے۔ ان کے مطابق ہر فاعل کا ارادہ کسی مصلحت پر مبنی ہوتا ہے، یہ مصلحت یا فاعل کی جانب لوٹتی ہے اور یا مفعول کی۔ چونکہ خدا مصلحت و فائدے کے حصول سے ماورا ہے، لہذا ماننا ہوگا کہ اس کے ارادے میں بندوں کی مصلحت پیش نظر ہوتی ہے۔
3۔ چونکہ خدا قادر و جواد ہے، لہذا اس کی بارگاہ سے بندوں سے متعلق ایسے ہی فعل کا صدور ہوتا ہے جس میں بندوں کا امکانی طور پر سب سے زیادہ (optimal or maximum possible) فائدہ ہو، اسے "اصلح للعباد "کہتے ہیں۔ جو فعل انسانوں کی مصلحت کے پہلو کے مطابق ہووہ حسن ، عدل و حکمت ہے، جو اس کے خلاف ہو وہ قبیح و ظلم ہے اور جو اس سے خالی ہو وہ "عبث " ہے جو کہ سفاہت ہے۔ انسان کی مصلحت و فائدے سے مراد وہی عام تصورات ہیں جن سے انسان واقف ہے اور شریعت انہی بنیادوں پر انسان کو خطاب کرتی ہے۔ چنانچہ اخلاقی قضایا (moral judgements) بندے و خدا کے مابین مشترک ہیں اور یہی اشتراک خطاب کی تفہیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر عدل و ظلم اور حکمت پر مبنی یہ قضایا دونوں کے مابین مشترک نہ ہوں تو شارع کے خطاب کا مفہوم سمجھنا ممکن نہ ہوگا۔
4۔ حکمت کے اس تصور کے پیش نظر افعال تین قسم کے ہیں:
(الف) وہ جن کی اچھائی کے پہلو کو انسان اس بنا پر پہچان سکتا ہے کہ ان میں انسان کا یقینا فائدہ و مصلحت ہی ہوگی جیسے کہ ایمان باللہ کا مفید ہونا، شکر منعم (یعنی انعام کرنے والے کا شکر بجا لانا) حسن ہونا وغیرہ،
(ب) وہ جن کے عدم مصلحت کے پہلو کو انسان عقل سے جان سکتا ہے جیسے کفر کا برا ہونا، بلا وجہ جھوٹ بولنا یا بلاوجہ کسی کی جان تلف کرنا وغیرہ،
(ج) وہ جن سے متعلق انسان قطعیت کے ساتھ فیصلہ نہیں کرسکتا اور متذذب ہوتا ہے جیسے کہ پانچ وقت نماز کی ادائیگی یا زنا کی قباحت وغیرہ
5۔ ہر تین صورت میں عقل اور شارع کاحکم یا خطاب افعال میں قدر پیدا نہیں کرتے بلکہ انہیں ظاہر کرتے ہیں، یعنی عقل ذات باری کی صفت حکمت کے بعض پہلووں یا نتائج کو اصلح للعباد کے تناظر میں قطعی طور پر پہچان لیتی ہے اور یہ ادراک خدا کی جانب بندے کی تکلیف کی بنیاد ہے۔ اسی طرح شارع جب نماز کا حکم دیتے ہیں تو یہ حکم نماز میں خیر کا پہلو وضع نہیں کرتا بلکہ اسے ظاہر کرتا ہے۔ افعال کی قدر کی وجودی بنیاد خدا کا حکم نہیں بلکہ اس کی صفت حکمت ہے اور عقل کے ذریعے بعض اخلاقی امور کا یہ ادراک اسی طرح ہے جیسے عقل ذات باری کے وجود اور اس کی بعض صفات کا ادراک کرلیتی ہے کہ مثلا وہ عالم و قادر ہے۔ اسی طرح وہ اس کی صفت حکمت کے مفہوم کے تقاضوں کا بھی ادراک کرسکتی ہے۔
6۔ اس بنا پر معتزلہ کا ماننا تھا کہ:
الف) جن لوگوں تک نبی کی خبر نہیں پہنچی ان پر ان امور کی تکلیف ہے جن کے حسن و قبح کو عقلاً جاننا ممکن ہے اور وہ خدا کی بارگاہ میں ان کے لئے جوابدہ ہیں۔ نبی کو مبعوث کرنا بھی بندوں کی مصلحت سے متعلق ضروری عقلی تقاضا ہے، لہذا یہ بھی ضروری ہے۔
ب) خدا شر کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ بندوں کے افعال تخلیق کرتا ہے بلکہ بندے اپنے افعال کو خدا کی جانب سے دی گئی قدرت و اختیار سے خود خلق کرتے ہیں اور یہی ان کی جوابدہی کی بنیاد ہے۔ اگر خدا برائی کا ارادہ کرے گا یا ان افعال کو خلق کرے گا تو اس پر شریر ہونے کا الزام آئے گا، اور یہ بات محال ہے کہ ایک حکیم ایسے افعال کا ارادہ کرے۔ کسی برے فعل کا ارادہ تبھی ممکن ہے جب فاعل کو اس کی برائی کا علم نہ ہو، یا وہ اس فعل کو کرنے کا محتاج ہو اور یا اسے یہ علم نہ ہو کہ اسے اس کی حاجت نہیں اور خدا ان تینوں باتوں سے ماورا ہے۔ یہ معتزلہ کے نزدیک انسانی افعال سے متعلق "مسئلہ شر " (problem of evil) کا حل ہے۔
ج) اسی طرح بندوں کے افعال سے جو نتائج جنم لیتے ہیں (مثلا پتھر پھینکنے پر وہ لڑھکتا ہوا جاتا ہے، تو پتھر کو پھینکنا فعل جبکہ اس کا لڑھکنا فعل کا نتیجہ ہے) ان کی نسبت بھی بندوں کی جانب ہوگی (انہیں "افعال متولدہ " کہتے ہیں، اس کی نسبت سے متعلق پر حکمائے معتزلہ کی آرا مختلف ہیں)۔
د) یہ جائز نہیں کہ خدا بندوں کو بلا کسی سابقہ گناہ سزا یا تکلیف دے کیونکہ یہ ظلم (اصلح للعباد یعنی بندوں کی مصلحت کے خلاف) ہے۔ رہے وہ اعمال و مظاہر جن میں بظاہر کسی بے گناہ انسان کو تکلیف ہوتی ہے (جیسے حادثہ، طوفان و زلزلہ وغیرہ) تو لطف و عوض کے اصولوں کے تحت ان کا مداوا کیا جانا لازم ہے۔ لطف کا مطلب یہ ہے کہ خدا اس تکلیف کی وجہ سے بندے کو کسی نیک عمل کی توفیق عطا کردیتا یا معصیت سے بچا لیتا ہے، عوض کا مطلب آخرت میں بندوں کی ایسی تکالیف کا ازالہ کردیا جانا ہے جو بلا عذر تھیں۔ یہ معتزلہ کے نظام فکر میں "مسئلہ شر " کے اس پہلو کا حل ہے جو انسانی افعال سے متعلق نہیں۔
ھ) عدل و حکمت (یعنی بندوں کی مصلحت) کے تقاضوں کے تحت یہ جائز نہیں کہ خدا اعمال کی جزا ان کی نوعیت کے مطابق نہ دے، یعنی اچھے عمل کی جزا ثواب اور برے کی عقاب۔
و) بندوں پر ایسے اعمال کی تکلیف ڈالنا جائز نہیں جنہیں ادا کرنے کی ان میں استطاعت نہ ہو (اسے تکلیف مالا یطاق کہتے ہیں)۔ ایسا حکم دینا سفاھت ہے جو خدا کے شایان شان نہیں۔
ذ) خدا از روئے حکمت بندوں کو ایسے افعال کا مکلف نہیں بنا سکتا جو برے ہیں، مثلا وہ کفر کرنے یا جھوٹ بولنے کا حکم نہیں دے سکتا کہ ایسا کرنا سفاہت ہوگی اور خدا اس سے منزہ ہے۔
ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ (الف ) تا (ذ) تمام جزئیات معتزلہ کے نظریہ عدل و حکمت کے ساتھ مربوط ہیں۔
ماتریدیہ کا موقف
اب ہم ماتریدیہ کے موقف کا خلاصہ لکھتے ہیں۔
7۔ ماتریدیہ کے نزدیک حکمت کا مطلب کسی فعل میں "اصلح للعباد" کا پایا جانا نہیں بلکہ "عاقبت حمیدہ" کا پہلو پایا جانا ہے، چاہے اس میں اصلح للعباد کی رعایت ہو یا نہ ہو۔ یعنی حکیم وہ ہے جس کا فعل نتیجے کے اعتبار سے اچھا اور حمد کا کوئی پہلو لئے ہو، بعض معاملات میں وہ پہلو بندوں کی مصلحت بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں۔ ایک عمل اپنے بعض فوری نتائج کے اعتبار سے شر معلوم ہوسکتا ہے، لیکن چونکہ وہ حکیم کا فعل ہے لہذا وسیع تر تناظر میں اس میں کوئی ایسا پہلو موجود ہوتا ہے جو نتیجے کے اعتبار سے اچھا و برتر اور لائق حمد ہوتا ہے۔ مثلاً کسی ڈاکٹر (حکیم) کا مریض کا آپریشن کرنا فوری طور پر تکلیف کا باعث ہوتا ہے، تاہم مریض کے وسیع تر تناظر میں وہ خیر ہوتا ہے۔ اسی طرح خدا کے ہر فعل (یہاں تک کہ شیطان کی تخلیق) میں بھی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
8۔ ماتریدیہ کا تصور حکمت دو اعتبارات سے معتزلہ کے تصور سے مختلف ہے:
الف) معتزلہ کا تصور (اصلح للعباد) بہت حد تک انسان مرکزیت (humancentricism) پر مبنی ہے اور اسی لئے ان کے ہاں اخلاقی قضایا سے متعلق انسانی تصورات و احساسات کو خدا پر لاگو کرنے کا رویہ زیادہ ہے جبکہ ماتریدیہ کے مطابق حکمت کے پہلو خدا کی جانب لوٹتے ہیں۔ چونکہ خدا حکیم ہے لہذا اس کے ہر فعل میں یقیناً کوئی نہ کوئی قابل حمد پہلو ہوتا ہے، چاہے انسان کو سمجھ آئے یا نہ آئے
ب) معتزلہ کا تصور "اصلح للعباد" محدود جبکہ ماتریدیہ کا تصور "عاقبت حمیدہ" وسیع تناظر کا حامل ہے اور اسی بنا پر وہ بعض ایسے افعال کی توجیہہ فراہم کرتا ہے جو معتزلہ کے تصور کے تحت ممکن نہیں جس کی مثالیں آگے آئیں گی۔
9۔ معتزلہ کی طرح ماتریدیہ کے نزدیک بھی عقل نیز خطاب الہی اعمال کی اخلاقی قدر ظاہر کرتے ہیں نہ کہ ان میں قدر وضع کرتے ہیں، اخلاقی قدر کی بنیاد صفت حکمت ہے۔ اسی بنا پر احناف کے ہاں حسن و قبیح لعینہ کی اقسام موجود ہیں۔ ماتریدیہ بھی معتزلہ کی طرح اعمال کو تین اقسام میں رکھتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا ، اس کی بنیاد یہ ہے کہ ان کے مطابق حکمت (عاقبت حمیدہ) کے بعض مثبت و منفی پہلووں کو انسانی عقل جان سکتی ہے۔
10۔ جوابات کی نوعیت کے اعتبار سے ماتریدیہ کی آرا کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: سمرقندی روایت اور بخاری روایت۔ اول الذکر کے بڑے نمائندگان مثلاً خود امام ابو منصور ماتریدی (م 334 ھ) اور امام ابو معین نسفی (م 508 ھ) ہیں جبکہ میسر کتب کی رو سے موخر الذکر کے نمائندگان میں امام ابو الیسر بزدوی (م 493 ھ) اور علامہ کمال ابن الہمام (م 861 ھ ) وغیرہ ہیں۔ ان گروہوں کے مابین تحسین و تقبیح سے متعلق بعض مسائل پر اختلاف ہے، اگرچہ عام طور پر اول الذکر کی آر ا ہی ماتریدیہ کے ہاں عام مقبول ہیں۔
11 ۔ چنانچہ ماتریدیہ کا کہنا ہے کہ:
الف) جس شخص تک نبی کی خبر نہیں پہنچی اس پر توحید کا اقرار اور شرک سے اجتناب عقلاً واجب ہے، یہ اہل سمرقند کا قول ہے اور اس کی حمایت میں امام ابوحنیفہ (م 150ھ) سے دو مشہور اقوال بھی منقول ہیں۔ ان حضرات کے مطابق کفر وشرک کی شناعت اور ایمان باللہ و شکر منعم کا حسن ہونا حکمت کے ایسے لازمی تقاضوں میں سے ہے جن کا ادراک عقل کرسکتی ہے۔ تاہم امام ابوالیسر بزدوی اس تکلیف کے قائل نہیں اور وہ امام ابوحنیفہ کے قول کی توجیہہ کرتے ہیں۔ اہل سمرقند میں بعض کے ہاں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ نبی کو مبعوث کرنا بھی حکمت کے ضروری تقاضوں میں سے ہے۔
ب) خدا تمام افعال کا ارادہ کرنے والا اور انسان کے تمام افعال کا خالق ہے۔ چونکہ خدا کے ہر فعل میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جو اس فعل کو بالآخر حسن بناتی ہے، لہذا خدا کا کوئی بھی ارادہ و فعل شر نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ خیر و شر (problem of evil) کا ماتریدی حل ہے اور اس مسئلے پر اہل سمرقند و بخاری کا اتفاق ہے۔ معتزلہ اصلح للعباد کے اپنے محدود تصور کی بنا پر انسانی ارادے سے ظاہر ہونے والے شر کی نسبت خدا کے ارادے کی جانب کرنے سے قاصر تھے، ماتریدیہ حکمت کے تصور کو پھیلا کر ایسا ممکن بنا دیتے ہیں کہ اگرچہ بندے کا کوئی فعل فوری و محدود تناظر میں شر ہو تاہم وسیع تر تناظرمیں وہ خیر (عاقبت حمیدہ کا پہلو لئے) ہی ہوتا ہے، لہذا خدا کی جانب سے اس کا ارادہ کرنا عدل و حکمت کے خلاف نہیں۔ کیونکہ معتزلہ کے نظرئیے میں شر کی نسبت خدا کی جانب جائز نہیں، لہذا ان کے نزدیک بندے کو عطا کردہ فعل کرنے کی قدرت فعل کرنے کے لمحے سے قبل ہوتی ہے جس میں استقلال پایا جاتا ہے تاکہ اس کے ارادے سے جنم لینے والے شر کی نسبت خدا کی جانب نہ ہو۔ اس کے برعکس ماتریدیہ کے نزدیک یہ قدرت فعل کے ساتھ اور لمحاتی ہوتی ہے اور یہ نتیجہ ان کے تصور حکمت کی بنا پر ممکن ہے۔ تاہم دونوں میں مشترک یہ ہے کہ ہر فریق اپنے اپنے انداز سے شر کی نسبت خدا سے دور کرتا ہے۔
ج) بندوں کے افعال سے جو نتائج ظاہر ہوتے ہیں (یعنی افعال متولدہ)، اسی درج بالا اصول پر خدا ان کا بھی خالق ہے۔
د) عقلاً یہ جائز ہے کہ خدا بندوں کو بلا کسی سابقہ گناہ تکلیف دے اور اس پر عوض دینا واجب نہیں، اس لئے کہ عین ممکن ہے ان مصائب کے پس پشت خدا کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو جس کا ہمیں علم نہیں۔ یہاں پھر غور کیجئے کہ ماتریدیہ کا تصور حکمت کیونکر انہیں معتزلہ کے نتیجے سے الگ کررہا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں یہ نہیں کہا جارہا کہ خدا ناگہانی مصائب کا عوض نہیں دے سکتا یا نہیں دے گا، وحی کی خبر کی بنیاد پر یہ تصور رکھنا جائز ہے۔ تاہم عقل کی رو سے تصور حکمت کے تحت یہ لزوم ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ معتزلہ کا کہنا ہے۔
ھ) عدل و حکمت کے تقاضوں کے تحت یہ جائز نہیں کہ خدا کفر و شرک کرنے والے کو ابدی جنت اور اہل ایمان کو ابدی جہنم عطا کرے۔ اس مسئلے پر اہل سمرقند و بخاری کا اختلاف ہے کہ کیا واقعی عقل کی رو سے یہ حکمت کا کوئی تقاضا ہے؟ علامہ ابن الہمام اس کے قائل نہیں۔ لیکن جو اس کے قائل ہیں ان کے نزدیک ایسا فعل عاقبت حمیدہ کے پہلو سے خالی ہوگا اور نتیجتاً یہ خدا کے شایان شان نہیں۔
و) بندوں کو ایسے اعمال کی تکلیف دینا جائز نہیں جنہیں ادا کرنے کی ان میں استطاعت نہ ہو کیونکہ ایسا حکم دینا انسانوں کو مکلف بنا کر آزمائش میں ڈالنے کی حکمت کے خلاف ہے لہذا یہ سفاھت ہے جو خدا کے شایان شان نہیں۔ اس مسئلے پر بھی اہل سمر قند و اہل بخاری کا اختلاف ہے۔
ذ) خدا از روئے حکمت بندوں کو ایسے افعال کا مکلف نہیں بنا سکتا جو قطعی طور پر برے (قبیح لعینہ) ہیں جیسے کفر کرنے یا جھوٹ بولنے کا حکم دینا کہ ایسا حکم سفاہت ہے۔
12۔ ماتریدیہ کا تصور حکمت وسیع تر تناظر رکھنے کے باوجود چونکہ essentialist اخلاقی تصور ہے جس کے بعض پہلووں کے عقلی ادراک کا امکان بھی موجود ہے، لہذا معتزلہ کے نظرئیے کی طرح بعض مسائل میں وہ بھی قدرت و ارادہ باری تعالی پر چند اخلاقی حدود و قیود عائد کرتا ہے۔ تاہم اس بحث سے واضح ہے کہ ہر گروہ کی جزئیات ان کے اصول سے متفرع ہیں اور محض ان جزئیات کی مطابقت و اختلاف کی بنیاد پر انہیں ایک جیسا یا الگ قرار دینا درست نہیں۔
اشاعرہ کا موقف
اب اشاعرہ کے موقف کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔
13۔ اشاعرہ کے نزدیک حکمت کا معنی نہ اصلح للعباد ہے اور نہ عاقبت حمیدہ، بلکہ اس کا مطلب فعل کا ارادے و مشیت کے مطابق ہونا ہے۔ حکیم وہ ہے جس کے افعال اس کے ارادے کے عین مطابق ہوں اور سفاہت کا مطلب فاعل کے ارادے اور فعل میں عدم مطابقت ہونا ہے، کہ مثلاً فاعل نے خاص طرز کا تالا یا جھولا بنانے کا ارادہ کیا لیکن بعینہ ویسا بنا نہ سکا۔ اس تعریف کے ذریعے اشاعرہ حکمت کو ان تمام اخلاقی تصورات سے جدا کر کے اسے خدا کی قدرت و ارادے کی جانب پھیر دیتے ہیں جو معتزلہ و ماتریدیہ کے اخلاقی نظریات میں پیوست ہیں۔
14۔ اشاعرہ کے نزدیک انسانی سطح پر اخلاقی قضایا کے نام پر افعال کے جو اخلاقی احکام و تصورات پائے جاتے ہیں وہ ان افعال کی خصوصیات نہیں ہیں، بلکہ وہ تصورات افعال اور فاعل کی غرض و مصلحت کے مابین ہم آہنگی یا عدم آہنگی سے جنم لیتے ہیں۔ جو فعل کسی فاعل کی غرض کے مطابق ہو وہ اسے حسن کہتا ہے ، جو اس کی غرض کے خلاف ہو وہ اس کے نزدیک قبیح کہلاتا ہے اور جو نہ اس کی غرض کے حصول میں مفید ہو اور نہ مزاحم اسے عمل عبث (یا سفاہت) کہتے ہیں۔ انسان کی بالاخر غرض و مصلحت جلب منفعت و دفع مضرت ہے اور انسانوں کی سطح پر خیر و شر کے تمام تصورات انہی سے ماخوذ ہیں۔
15۔ چونکہ خدا جلب منفعت و دفع مضرت نیز اغراض و مصلحتوں سے ماورا ہے، لہذا انسانوں کی سطح پر جاری ہونے والے اخلاقی تصورات کو خدا کے افعال کی نوعیت سمجھنے اور ان کی حد بندی کے لئے استعمال کرنے کی بنیاد موجود نہیں۔ اخلاقی قضایا سے متعلق Essentialist نظرئیے کا مفروضہ ہے کہ اخلاقی قضایا کی سچائی فاعل پر مبنی نہیں بلکہ از خود فعل کی نوعیت پر مبنی ہے۔ فاعل چاہے خدا ہو یا بندہ ، فعل کی اخلاقی قدر (moral value) کا اس سے تعلق نہیں۔ اس کے برعکس اشاعرہ کا کہنا ہے کہ فاعل دو طرح کے ہیں، انسان اور خدا۔ چونکہ انسانی سطح پر افعال پر لاگو ہونے والے اخلاقی احکام (moral judgements) اغراض و مصلحتوں سے عبارت ہیں اور خدا ان انسانی اغراض و مصلحتوں سے ماورا (بلکہ ان کا خالق) ہے، لہذا اول الذکر فاعل (یعنی انسان ) کے اخلاقی تصورات کو بنیاد بنا کر موخر الذکر فاعل (یعنی خدا ) کے افعال کی تفہیم ممکن نہیں۔ حسن، قبیح و عبث نیز عدل و ظلم کے جن تصورات سے ہم واقف ہیں وہ خدا کی بارگاہ میں لاگو ہی نہیں ہوتے۔ مثلاً ظلم کا مطلب کسی کی ملکیت میں ایسا تصرف ہےجو جائز نہیں جبکہ خدا کائنات کا تنہا مالک ہے اور اسے حق ہے کہ اپنی مملکت میں جیسے چاہے تصرف کرے، اس کا ہر فعل لازماً حسن و عدل (necessarily good and just) ہے (یعنی جو وہ کرے وہی حسن ہے)، اس کا ہر فعل حکمت والا ہے کیونکہ اس کا ہر فعل اس کے ارادے کے عین مطابق ہوتا ہے۔
16۔ حسن و قبح کے essentialist تصور کی تردید کے بعد اشاعرہ کا کہنا ہے کہ حسن کا ایک معنی کسی شے و فعل کی اغراض کے ساتھ ہم آہنگی ہے، دوسرا معنی کسی فعل کا مطلقا جواز ہونا ہے اور تیسرا مطلب اس پر ثواب و عقاب کے احکام کا مرتب ہونا ہے۔ پہلے معنی بندوں کے مابین معقول ہیں، دوسرے معنی اللہ تعالی سے متعلق ہیں اور تیسرے معنی انسان کی تکلیف کی بنیاد ہیں۔ چونکہ حسن و قبح کے انسانی تصورات (یعنی اغراض کے ساتھ ہم آھنگی و عدم آھنگی) کو بنیاد بنا کر یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ خدا کیسا حکم دے اور کیسا نہ دے، لہذا کس عمل پر ثواب ہوگا اور کس پر عقاب، اس کا عقلی ادراک ممکن نہیں اور یہ نبی کی خبر پر موقوف ہے۔ خدا کو حق ہے کہ جیسا چاہے حکم دے کہ اس کا ہر حکم عدل و حسن ہے۔
17۔ اسی لئے اشاعرہ کے نزدیک خدا کا حکم وخطاب کسی عمل کی قدر ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس میں قدر وضع کرتا ہے اور خدا کے حکم پر کسی اخلاقی تصور کی بنیاد پر کوئی روک نہیں۔ معتزلہ و ماتریدیہ چونکہ essentialist تھیوری کے قائل ہیں، لہذا ان کے نزدیک خدا ایسا ہی حکم دیتا ہے جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہو (وہ تقاضے جو حکم سے الگ مستقل حیثیت رکھتے ہیں)۔ ان تقاضوں میں سے بعض کو چونکہ انسان جان سکتا ہے، لہذا ثواب و عقاب سے متعلق بعض پہلووں کو پہچاننے کی اساس انسانی عقل و فطرت کی گرفت میں ہے اور خدا کا حکم بھی ان کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ اسی اصول کی بنا پر اصول فقہ میں امر کی بحث کی ابتدا کرتے ہوئے احناف کہتے ہیں کہ ہر امر میں لازما کوئی نہ کوئی حسن پہلو ہوتا ہے، اگرچہ وہ ہمیں معلوم نہ ہو۔ حنفی نظام میں اس جملے میں "حسن" سے مراد "عاقبت حمیدہ" ہوتی ہے جبکہ معتزلہ کے ہاں "اصلح للعباد"، تاہم دونوں کے ہاں امر و نہی حکمت الہیہ کے مطابق ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ خدا کے حکم کی عقل سے ماخوذ اخلاقی قضایا کے ساتھ مطابقت کا لزوم اس بنا پر نہیں کہ انسان اپنی عقل سے خدا پر کچھ واجب کررہا ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ یہ خدا کے حکیم ہونے کا تقاضا و مفہوم ہے جسے انسان نے بس پہچان لیا ہے، اسی طرح جیسے انسان نے خدا کے قادر ہونے کو پہچان لیا ہے (اس ادراک کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ "انسان نے خدا کو قادر بنا دیا ہے" بلکہ خدا لازما قادر ہی ہے)۔ معتزلہ و ماتریدیہ دونوں کے ہاں اس لزوم کا یہی مفہوم ہے۔ اشاعرہ چونکہ اس لزوم کو ثابت کرنے والی بنیاد ہی کے قائل نہیں، لہذ ان کے ہاں ایسا کوئی لزوم ثابت نہیں۔
18۔ اس اصول پر ان جزئیات سے متعلق اشاعرہ کے موقف کو سمجھا جا سکتا ہے جن کا ذکر اوپر گزرا:
الف) جس شخص تک نبی کی خبر نہیں پہنچی اس پر کسی شے کی تکلیف لازم نہیں کیونکہ تکلیف کا مطلب اللہ کی جانب سے ثواب و عقاب کے حکم کا جاری ہوکر بندے کو اس کا علم ہونا ہے اور یہ نبی کی خبر پر موقوف ہے۔
ب) خدا بندوں کے تمام افعال کا ارادہ کرنے والا ہے، اس کا ہر ارادہ لازماً حسن ہے۔ وہ جس چیز پر ثواب و عقاب کا ارادہ کرے، بندے کے لئے وہی حسن و قبیح ہے کیونکہ بندے کی غرض منفعت کا حصول اور مضرت کو دفع کرنا ہے ، لہذا ابدی زندگی کے ثواب کا حصول اور عقاب سے بچنے کے جذبات خدا کے حکم کو بندے کے عمل کی بنیاد بناتے ہیں۔ اس کے برعکس معتزلہ و ماتریدیہ کے ہاں اس کی بنیاد اخلاقی قضایا کی فاعل سے علی الرغم معروضی حیثیت ہے (کہ مثلاً شکر منعم چونکہ ہے ہی حسن اور انسان پر اس کی تکلیف عقل کی رو سے لازم ہے، لہذا یہ عقلی ادراک نبی کی بات ماننے کی بنیاد بنتا ہے)۔ چونکہ اشاعرہ کے ہاں حسن کامطلب خدا کی جانب سے ثواب دینے کا ارادہ کرنا اور قبیح کا مطلب عقاب دینے کا ارادہ کرنا ہے، لہذا خدا کا بندوں کےتمام افعال کا ارادہ کرنا عدل و حسن ہے کیونکہ اس پر حسن و قبح کا وہ اصول لاگو ہی نہیں جو بندوں پر لاگو ہے، وہ جو چاہے وہی حسن ہے۔ یہ "مسئلہ شر " (problem of evil) کا اشعری حل ہے۔
یہاں نوٹ کیجئے کہ ماتریدیہ بھی اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ خدا انسان کے سب افعال کا خالق ہے لیکن ان کے استدلال کا اصول مختلف ہے۔ اسی طرح تینوں (معتزلہ، ماتریدیہ و اشاعرہ) کے نزدیک خدا کا ہر فعل حسن ہے اور وہ شر کا ارادہ نہیں کرتا، تاہم توجیہ کا طریقہ الگ اصول پر مبنی ہے۔
ج) اسی اصول پر خدا افعال متولدہ کا بھی خالق ہے۔
د) خدا کے لئے جائز ہے کہ بندوں کو بلا کسی سابقہ گناہ لطف و عوض کے بنا تکلیف دے۔
ھ) خدا کے لئے جائز ہے کہ کافر کو ابدی جنت اور ایمان والے کو ابدی جہنم دے، عقل کی رو سے خدا کے اس فعل میں کوئی ظلم و سفاہت نہیں۔
و) خدا کے لئے جائز ہے کہ بندوں کو ایسا حکم دے جس کی ادائیگی کی استطاعت بندے میں نہ ہو، عقل کی رو سے اس میں کوئی سفاہت نہیں۔
ذ) خدا کی جانب سے کفر و کذب پر ثواب دینے کا ارادہ کرنا عقلاً جائز ہے۔
نوٹ کیجئے کہ (د) تا (ذ) تمام جزئیات کی بنیاد اشاعرہ کے تصور حکمت پر مبنی یہ اصول ہے کہ خدا کا کوئی بھی فعل قبیح، ظلم یا سفاہت نہیں ہوسکتا، حکمت کے وہ تصورات (اصلح للعباد اور عاقبت حمیدہ) جن کی بنیاد پر قبیح لعینہ، ظلم یا سفاہت کے احکام خدا کے افعال پر جاری کئے جاتے ہیں، اشاعرہ اس کی بنیاد ہی کے قائل نہیں۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ اشاعرہ یہ نہیں کہتے کہ خدا کے حکم میں انسان کی کوئی مصلحت ہو ہی نہیں ہوسکتی، نص سے یقینا اس کا علم ہوسکتا ہے۔ درج بالا بحث حکم عقلی کے تناظر میں ہے۔
19۔ مسائل حسن و قبح پر تین گروہوں کے مواقف کا خلاصہ و موازنہ اس گوشوارے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ماتریدیہ کے ہاں دو آراء دکھانے کا مقصد جزئیات میں ماتریدیہ کا معتزلہ و اشاعرہ کے ساتھ امکانی حد تک اتفاق و عدم اتفاق کے پہلووں کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ ماتریدیہ کو عام طور پر تحریروں میں ان دو گروہوں کے مابین رکھ کر بحث کی جاتی ہے، ان جزئیات سے متعلق بعض اختلافات دیگر کلامی مکاتب فکر کے ہاں بھی مل جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جزئیات میں دونوں گروہوں سے اتفاق و عدم اتفاق سے علی الرغم ماتریدیہ کا اصول اور توجیہہ کا طریقہ دونوں سے مختلف ہے۔

خاتمہ بحث
20۔ یہ تحریر چند امور پر روشنی ڈالتی ہے:
الف) "فلاں قدیم عالم کی فلاں رائے ظاہر کرتی ہے کہ ان پر اعتزال کا اثر تھا"، یہ طریقہ بحث ناکافی ہے کیونکہ یہ محض نتائج دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے جبکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ان کا اصول کیا تھا۔ معتزلہ و ماتریدیہ الگ اصول کی بنیاد پر بعض یکساں نتائج تک پہنچتے ہیں۔
ب) معتزلہ و ماتریدیہ ہر ایک کے نزدیک اگرچہ عقل اور وحی خیر و شر کو ظاہر کرتے ہیں نیز عقل سے بعض امور کی تکلیف لازم آتی ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں کے نزدیک وحی کی ضرورت نہیں کیونکہ عقل سے معلوم ہونے والے ایسے معاملات بہت کم ہیں نیز وحی نے انہیں بھی موضوع بنایا ہے۔ چنانچہ حکمت کے پہلو سے ماخوذ قضایا کا زیادہ تر مقصد نص کی شرح کی بعض حدود و قیود متعین کرنا ہے (کہ مثلا چونکہ یہ اصول قطعی ہیں، لہذا نص میں ان امور کے خلاف بات نہیں ہوسکتی اور اگر بظاہر ہو تو ان اصولوں کی روشنی میں ان کی مناسب توجیہہ کی جائے گی)۔
ج) معتزلہ کے موقف سے متعلق یہ غلط فہمی عام رہی ہے کہ ان کے نزدیک عقل موجب (تکلیف شرعی واجب کرنے والی) ہے جبکہ ماتریدیہ کے نزدیک عقل صرف کاشف (اس تکلیف کو ظاہر کرنے والی) ہے، موجب ذات باری ہے۔ تاہم یہ کمزور بات ہے جیسا کہ قاضی عبد الجبار معتزلی (م 415 ھ ) کی کتب نیز متاخرین علمائے کلام کی آرا سے واضح ہے کیونکہ معتزلہ کے نزدیک بھی حسن و قبح کی وجودی بنیاد ذات باری کی صفت حکمت ہے (اگرچہ وہ اس کا الگ مفہوم مراد لیتے ہیں)۔ اس غلط فہمی کی بنا پر معتزلہ کو ان کے مخالفین کی جانب سے عقل سے شریعت سازی کرنے کا الزام دیا جاتا رہا۔
د) معتزلہ کا اصل مقصد شریعت کو معطل کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا اصل زور چار پہلووں پر تھا:
- شر سے خدا کی تنزیہہ و پاکی بیان کرنا،
- انسانی ذمہ داری کے لئے انسان کے اختیار کے پہلو کو اجاگر کرنا،
- یہ واضح کرنا کہ خدا کی جانب سے بندوں کو مکلف بنانا عدل کے انسانی تصورات و تقاضوں کی رو سے عین جائز ہے اور اگر نبی مبعوث نہ ہو تب بھی بندے عقل و فطرت کے تقاضوں کے تحت جوابدہ ہوں گے،
- نیز اثبات نبوت کی دلیل سے متعلق بعض مسائل کا قابل فہم حل نکالنا (اس پہلو پر تحریر میں گفتگو نہیں ہوئی، ماتریدیہ کے بعض مواقف کے پس پشت بھی یہ پہلو موجود ہے)۔
ھ) معتزلہ کے موقف کو عمومی قسم کے بیانات کے ساتھ بیان کرکے اسے معتزلہ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں کیونکہ وہ عمومی بیانات اہل سنت کے موقف پر بھی لاگو ہو جاتے ہیں۔ مثلاً یوں کہنا کہ "معتزلہ کے نزدیک حسن و قبح اعمال کے ذاتی اوصاف ہیں جنہیں عقل سے جانا جاسکنا ممکن ہے اور اس عقلی ادراک سے تکلیف شرعی لازم آتی ہے"۔ ظاہر ہے یہ عمومی بیان اہل سنت میں ماتریدیہ کے ایک گروہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسی لئے خود ماتریدیہ اپنی کتب میں تحسین و تقبیح پر بحث کرتے ہوئے اپنا موقف یوں بیان نہیں کرتے بلکہ وہ اصلح للعباد کے پہلو اور اس کے تقاضوں کی تردید پر زور دیتے ہیں کیونکہ یہ وہ خاص پہلو ہے جو ماتریدیہ کو معتزلہ سے الگ کرتا ہے۔
و) ماتریدیہ کے موقف کو صرف جزئیات پر فوکس کرتے ہوئے معتزلہ و اشاعرہ کے مواقف کے مابین بطور سینڈوچ ("درمیانی" یا "متوسط" رائے) بنا کر پیش کرنا درست طریقہ نہیں، بالخصوص جب اصول بھی واضح نہ کیا جائے۔
ذ) محض جزئیات کے پیش نظر اشاعرہ کے بعض مواقف سے جو توحش محسوس ہوتا ہے(مثلاً یہ کہ خدا کفر کا حکم دے سکتا ہے)، وہ ان کا اصول نہ سمجھنے کی بنا پر ہوتا ہے۔
ح) ماتریدیہ میں بخاری روایت کے حاملین مسائل تحسین و تقبیح میں اگرچہ اکثر و بیشتر اشاعرہ کے ساتھ ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں کے ہاں حکمت کا مفہوم بھی یکساں ہے، اشاعرہ ان نتائج تک حکمت کے اپنے جدا گانہ تصور کی بنا پر پہنچتے ہیں۔ اسی لئےیہ ہر مسئلے پر یکساں رائے نہیں رکھتے۔
ط) اسی طرح مسائل تحسین و تقبیح پر ماضی قریب اور جدید دور کی بعض شخصیات کی آرا کو بھی بعض جزوی مماثلتوں کی بنا پر معتزلہ کی رائے کے ساتھ ملانا درست نہیں کیونکہ اس نوع کی آرا اہل سنت کے ہاں بھی موجود ہیں۔ یہاں بھی ہر کسی کے اصول کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس مختصر تحریر میں مسائل تحسین و تقبیح کے اصولوں اور اکثر جزئیات کا نچوڑ پیش کردیا گیا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ
طہٰ حسین: مغرب پرستی سے اسلام پسندی تک
مولانا ابو الحسین آزاد
بیسویں صدی عیسوی کی اسلامی دنیا نے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو فکری اور تہذیبی ارتداد میں مبتلا ہوتے اور پھر واپس اسلام پسندی کی طرف رجوع کرتے ہوئے دیکھا۔ جن میں ایک بڑا نام طہ حسین کا بھی ہے۔اس عبقری ادیب اور عالمی شہرت کے حامل مفکر کا نام اب اردو دنیا کے لیے اجنبی نہیں رہا۔ ان کی متعدد کتب کے اردو میں تراجم ہو چکے ہیں لیکن عرب دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی ان کے متعلق بہت سے ذہنوں میں مختلف طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد انھیں ملحد، مستشرق، دین دشمن اور متجدد جیسے القابات سے یاد کرتی ہے۔دوسری طرف ان کے پرستار بھی ان کی فکر کے اسی منحرف پہلو ہی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں فریق اس طہ حسین کو فراموش کردیتے ہیں جس نے حدیبیہ کی مٹی کو اٹھا کر زار و قطار روتے ہوئے کہا:مجھے اس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی ہے۔ معروف مصری مفکر، محقق اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عمارہ مرحوم نے 2014ء میں "طه حسين ما بين الانبهار بالمغرب إلى الانتصار للإسلام" کے نام سے کتاب لکھی جس میں انھوں نے افراط و تفریط سے ہٹ کر طہ حسین کے متعلق ایک متوازن رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور شدید قسم کی مغرب زدگی سے لے کر گہری اسلام پسندی تک طہ حسین کے فکری سفر کی داستان خود طہ حسین کی اپنی تحریروں کی روشنی میں بیان کی ۔ ذیل میں ہم ڈاکٹرمحمد عمارہ کی اسی کتاب کی روشنی میں طہ حسین کے اس فکری ارتقا کا جائزہ لیں گے۔
طہ حسین 1989ء میں مصر کی ایک بستی میں پیدا ہوئے۔ تین سال کی عمر میں ایک بیماری سے ان کی بینائی چلی گئی۔انھوں نے اپنی بستی ہی کے مکتب میں قرآن مجید حفظ کیا اور 1902ءمیں جامعۃ الازہر میں داخل ہو گئےجہاں اس وقت مفتی محمد عبدہ اور شیخ محمد بخیت سمیت متعدد بڑے بڑے شیوخ پڑھاتے تھے۔ طہ حسین ایک ذہین لیکن باغی اور سرکش طالب علم تھے۔ جس کی وجہ سےالازہر کے شیوخ نے انھیں عالمیہ کی ڈگری دینے سے انکار کر دیا۔چناں چہ1908ء میں طہ حسین یہاں سے جامعہ مصریہ میں چلے گئے۔ جہاں انھوں نے مستشرقین اساتذہ سے پڑھا۔ انھیں تعلیم کا یہ طریقہ اور مستشرقین کا اسلوب کافی پسند آیا۔اسی دوران انھوں نے فرانسیسی زبان بھی سیکھی۔
ڈاکٹر عمارہ نے طہ حسین کی فکری زندگی کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ 1908ء سے 1914 تک کے دورانیے کو وہ "شیخ طہ حسین کا دور" یا اردو محاورے میں "مولانا طہ حسین کا دور" کہتے ہیں۔ اس عرصے میں طہ حسین ایک مسلمان عالم و مفکر کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔وہ تجدید اور اجتہاد کی بات کرتے ہیں،قرآن مجید کو عبادات، قانون، حکمت اور تشریع کی کتاب بتاتے ہیں، احکام کی علل و مقاصد کا ذکر کرتے ہیں،ایک خاص معنی میں سیکولرازم کو مسترد کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ إننا ملزمون بنشر الإسلام، و محو آثار الشرك ،وہ عورتوں کی ترقی کے معاملے میں کتاب اللہ ہی کو بنیاد مانتے ہیں اور کہتے ہیں:
"إن رقي المسلمين رهين بأن يرجعوا إلى أصول دينهم الذي أهملوه، وكتابهم الذي أغفلوه…وعلى غير ذلك لا تقوم لهم قائمة، ولاتصلح لهم جيل."(ص: ٢٧)
"مسلمانوں کی ترقی کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے دین کے ان اصولوں کی طرف رجوع کریں جنھیں انھوں نے چھوڑ دیا ہے اور اس کتاب کی طرف جسے وہ پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔۔۔ اس کے بغیر ان کی حالت درست ہوسکتی ہے نہ ان کی نسلیں سنور سکتی ہیں۔"
بلکہ سب سے بڑھ کر طہ حسین اہلِ کتاب عورتوں سے مسلمانوں کےنکاح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اورسد ذرائع کے طورپر اسے ممنوع قرار دینے کی بات کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اب ہمارے اخلاق ورجحانات اس قدر بدل چکے ہیں اور ہمارے نفوس اتنے کمزور پڑ چکے ہیں کہ کتابیہ سے نکاح کی حلت کے حکم پر عمل کرنا انتہائی خطرناک ہے:
"لاشک عندي أنه يجب علينا أن نحتاط كل الاحتياط في استعمال هذا الحكم… ولست أرى من بأس إن قلت إنه حرام ممقوت."(ص 28)
"میرے نزدیک اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اس حکم (کتابیہ سے نکاح کا جواز)کے استعمال میں مکمل احتیاط سے کام لینا چاہیے۔۔۔۔اور میرے خیال میں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر میں یہ کہہ دوں کے یہ سخت حرام ہے۔"
لیکن "مولانا" طہ حسین کی اس ابتدائی زندگی میں بھی ایک چیز کافی تشویشناک ہے، جو آگے بہت دورتک ان کے ساتھ چلتی رہے گی اور وہ ان کے سیاسی رجحانات ہیں۔ طہ حسین سیاسی اعتبار سے "حزب الامۃ" نامی شدید سیکولر اور وطن پرست سیاسی جماعت کی لسانِ ناطق بن گئے تھے۔
انھوں نے اس جماعت کے جریدے میں "ملت از وطن است" کے نظریے کا بھرپور پرچار کیا اور کہا کہ دین قومیت کی تشکیل نہیں کرسکتا۔ قومیت کی بنیاد ہمیشہ وطن ہی پر ہوتی ہے۔ حتی کہ انھوں نے خلافتِ راشدہ کی قومیت کی بنیاد بھی اسلامیت کی بجائے عربیت کو قرار دیا۔
1914ء میں طہ حسین کا اعلی تعلیم کے لیے فرانس جانا ان کی زندگی کے دوسرے اور معرکۃ الآراءمرحلے کا مقدمہ تھا۔ مغرب میں جاکر وہ مغربی فلسفے، تہذیب اور افکار و نظریات کی چکا چوند سے صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ بقول ڈاکٹر عمارہ طریقتِ مغربی کے ایک مست حال درویش بن گئے۔ اب ان کی نابینا آنکھوں کو مغربی قمقموں کے علاوہ ہر چراغ کی روشنی ناکارہ محسوس ہونے لگی۔
فرانس میں انھیں سوزان نامی ایک مسیحی لڑکی ملی جو پڑھنے لکھنے سے لے کر چلنے پھرنے تک ہر طرح کے کاموں میں ان کی مدد کرتی تھی۔ طہ حسین نے سوزان کو شادی کی پیش کش کی۔ سوزان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ تم ایک مسلمان، غیر ملکی اور نابینا آدمی ہو۔ لیکن ازاں بعد اپنے پادری چچا کے کہنے پر اس راسخ العقیدہ مسیحی لڑکی نے اس "غیر ملکی، مسلمان اور نابینا" سے شادی کر لی۔ ڈاکٹر عمارہ کے خیال میں سوزان کا پادری چچا اس شادی کے ذریعے طہ حسین کی عالی ذہانتوں اور صلاحیتوں کو مغربی عزائم و مقاصدکے فروغ کے لیے ٹھوس بنیادوں پر وقف کروانا چاہتا تھا۔
1919ء میں طہ حسین فرانس سے ڈاکٹریٹ کر کے واپس آئےتو ان کے دل ودماغ مکمل طور پر مغربیت کے نشے سے چور تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کی اہلیہ نے بقیہ تمام زندگی مصر میں گزارنے کے باوجود اپنےمذہب، اپنی تہذیب وثقافت اور اپنی زبان سے تعصباتی لگاؤ کو ترک نہیں کیا اور عميد الأدب العربي کی اس بیوی نے اپنے اوپر ادنی برابر بھی عربیت کا رنگ نہ چڑھنے دیا۔ وہ طہ حسین کے لیے ہمیشہ مسیحی سیکرٹری رکھتی تھیں۔قرآن سمیت طہ حسین کو سب کتابیں وہی سناتا۔گویا نابینا طہ حسین کی آنکھیں، کان، زبان اور ٹانگیں سب مغربی، فرانسیسی اور مسیحی بن گئے تھے۔ طہ حسین نے بچوں کے نام امینہ اور مؤنس رکھے لیکن سوزان نے انھیں ہمیشہ مارگریٹ (Margaret)اور کلود(Claude) ہی پکارا۔ مؤنس بعد ازاں فرانس جا کر مسیحی ہوگیا۔ سوزان کو طہ حسین سے محبت ضرور تھی۔ اس نے "تمھارے ساتھ" کے نام سے طہ حسین کے بارے میں فرانسیسی میں کتاب بھی لکھی لیکن طہ حسین پر اس کے سلبی اثرات کا یہ عالم تھاکہ وہ جب شاہ مراکش کی دعوت پر مراکش گئے تو انھوں نے اپنے معاون سے کہا: مجھے مسجد القرویین لے چلو، میں وہاں دو رکعتیں ادا کروں گا لیکن یہ بات مادام کو مت بتانا۔طہ حسین کو کتابی عورتوں کےساتھ نکاح کرنےکےنقصانات کے متعلق لکھی ہوئی اپنی بات ہی یاد نہ رہی!
1919ء میں فرانس سے واپسی سے لے کر 1930ء تک کے اس دوسرے مرحلے کو ڈاکٹر عمارہ ، طہ حسین کےشدید ترین مغرب پرستی کے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔اب اسلامی تجدید واجتہاد تو کیا وہ سرے سے اسلام ہی سے بیزار نظر آنےلگے۔انھوں نے فرانسیسی کے علاوہ یونانی اور لاطینی زبان بھی سیکھ لی تھی۔1925ء میں انھوں نے "قادۃ الفکر" کے نام سےیونانی فلسفیوں کے بارے کتاب لکھی۔ جس میں انھوں یونانیوں کی مدح و ثنا میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیے:انسانی فکر کا آغاز یونان سے ہوتا ہے، یونان ہی عقل و شعور اور تہذیب و تمدن کا منبع ہے، یونانی منطق اپنی پائیداری میں دہر سے زیادہ طاقت ور ہے۔افلاطون کی کتابیں آیات ہیں۔ ارسطو کی منطق ابدی و اٹل ہے۔
اس پوری کتاب میں یونانی فلسفے پر طہ حسین نے وہ لازمی نقد وجرح بھی نہیں کی جو تمام مغربی محققین تک کرتے رہےہیں۔حتی کہ انھوں نے اسکندر کو بھی محض ایک حملہ آور اور فاتح کی بجائے عظیم ترین فکری لیڈر قرار دیا۔ان کے بقول اسلام اور مسیحیت ایک درمیانی وقفہ ہیں ورنہ انسانیت کا ماضی ، حال اور مستقبل سب یونانی فکر و تہذیب ہی سے وابستہ ہے۔وہ مصر کی اصل بھی یونانی اور رومی تہذیب کو قرار دینے لگے اور پرجوش انداز میں مغربی فکر و فلسفے اور مناہج و اسالیب کی مکمل اتباع اور کامل پیروی(جس میں خذ ما صفا ودع ما کدر کے فطری اصول کے لیے کوئی جگہ نہ تھی بلکہ صریح لفظوں میں غیر مشروط اور اندھی تقلید) کے داعی بن گئے۔
عثمانی خلافت کے سقوط کے بعد 1925ء میں طہ حسین کے دوست شیخ علی عبد الرزاق کی متنازع کتاب "الإسلام وأصول الحكم" آئی۔ جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام کو ایک سیکولر مذہب کے روپ میں پیش کیا گیا اور یہ دعوی کیا گیا کہ اسلام کی تعلیمات اخلاقی اور ایمانی نوعیت کی ہیں، ان کا حکومت و سیاست سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ کتاب طہ حسین کی نظرِ ثانی کے بعد ہی شائع ہوئی اوربقول ڈاکٹر عمارہ ایک طویل فکری مزاحمت اور معرکے کے بعد علی عبد الرزاق کی اپنی وضاحتوں اور قرائن سے یہی ثابت ہوا کہ اس کتاب کا قابلِ اعتراض اور اسلام کی سیکولرائزیشن کرنے والا حصہ طہ حسین ہی نے لکھا تھا۔
اگلے سال ان کی کتاب "في الشعر الجاهلي" آئی جس میں انھوں نے شک و ارتیاب کے منہج کو اختیار کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ عہد جاہلی کی طرف منسوب تمام شاعری کو اختراعی اور من گھڑت قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ تورات اور قرآن ہمیں ابراہیم اور اسماعیل کے بارے میں بتاتے ہیں لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ واقعتا کوئی تاریخی شخصیات ہوں۔ نیز یہ بھی کہا کہ حضرت ابراہیم کے ہاتھوں کعبہ کی تعمیر کی کہانی دراصل اسلام کے نئے مذہب کو عرب کا قدیم مذہب ثابت کرنے اور اسلام اور یہودیت کے مابین تعلقات استوار کرنے کا ایک حیلہ تھی۔ اسی طرح انھوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےخانوادے اور قبیلے کی عالی نسبی، شرف اور سیادت سے متعلقہ روایات کو بھی تعریضا استہزا کا نشانہ بنایا۔
یہ کتاب اپنے ساتھ ایک بھونچال لے کر آئی۔ اس کے رد میں لکھی جانے والی کتابیں، مقالات اور اس پر کیے جانے والے تبصرے اتنے زیادہ ہیں کہ ان سے ایک الماری بھری جاسکتی ہے۔اس معرکے کی حرارت آج بھی عربی ادب کے طالب علم رافعی اور فرید وجدی وغیرہ کی کتابوں میں محسوس کرتے ہیں۔ طہ حسین کو شدید مخالفت، عوامی وحکومتی مزاحمت اور تفتیش کا سامنا کرنا پڑا اورکتاب مکتبوں سے اٹھا لی گئی۔آخرِ کار طہ حسین نے قابلِ اعتراض عبارتیں حذف کر دیں اور وضاحتی اور معذرتی بیان جاری کردیا۔
بیسوی صدی کی تیسری دہائی طہ حسین نے انہی تنازعات اور معرکہ آرائیوں میں گزاری۔ ایک خاص بات یہ دیکھنے میں آئی کہ ان کی تحریروں سے رسولِ اکرمؐ کے اسمِ گرامی کے ساتھ "صلی اللہ علیہ وسلم" کا لاحقہ لگنا ختم ہوگیا۔"في الشعر الجاهلي" کے بعد طہ حسین نے "في الأدب الجاهلي" بھی لکھی تھی جس پر بھی وہی معرکہ آرائیاں اور رسوائیاں دیکھنے کو ملیں۔طہ حسین کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے اور بہت سے حمایتی بھی ڈھیلے پڑ گئے۔ حتی کہ بقول سوزان وہ اتنا تنگ آئے کہ خود کشی کا بھی سوچنے لگے۔اس سب صورتِ حال نے آخرِ کارطہ حسین کو بہت کچھ سوچنے اور فکری مراجعت کرنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے بعد میں یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کتابوں پر برپا ہونے والی معرکہ آرائی میں معترضین کے خلاف جو توہین آمیز رویہ اورسخت لب ولہجہ انھوں نے اختیار کیا وہ ایک احمقانہ اور شریر حرکت تھی۔یہیں سے ان کی فکری زندگی کا اگلا دور شروع ہوتا ہے۔
طہ حسین کی زندگی کا تیسرا دور 1932ء سے 1952ء تک کے بیس سالوں پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر عمارہ اسے "بتدریج رجوع" سے تعبیر کرتے ہیں۔اس عرصے میں طہ حسین نے پہلی مرتبہ مغرب کی تمجید وتعظیم کے مبالغہ آمیز رویے سے ہٹ کر اسے تنقید کے دائرے میں لانے کی روش اپنائی۔ انھوں نےاعتراف کیا کہ انقلابِ فرانس حریت اور مساوات کی انسانی قدروں کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔نیز وہ نطشے اور شوپن ہار کی بجائے نوجوانوں کو ابو العلا معری کے مطالعے کی طرف راغب کرتے دکھائی دیے۔
بیسیویں صدی کی چوتھی دہائی(1930 - 1940) میں مصری ادب میں ایک غیر معمولی انقلاب آیا۔مصر کے تمام بڑے ادیب اور اعلی تعلیم یافتہ مفکری،ن جن کے دل و دماغ پر مغربی سیکولرازم اور لبرل ازم نے اپنے گہرے جالے بُن رکھے تھے وہ اسلامی موضوعات اور خصوصیت سے اسلامی شخصیات کے متعلق لکھنے لگے۔حسین ہیکل، عقاد اور احمد امین وغیرہ کی مشہور و معروف کتابیں اسی دور میں منظرِ عام پر آئیں۔ یہ محض عوامی رجحانات اور مطالبات کے ساتھ ایک سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل فکری مسافت قطع کرنے کے بعد یہ لوگ اس حقیقت تک پہنچ چکے تھے کہ مغربیت کی بجائے اسلامی فکر و نظر ان کے سیاسی، سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی مسائل کا بہترین اور متوازن حل ہے۔
تدریجی رجوع کے اس دورانیے میں طہ حسین نے "على هامش السيرة" کے عنوان سے سیرت ِ طیبہ کے مختلف واقعات کو مخصوص ادبی پیرائے میں لکھنا شروع کیا۔ اس کتاب میں انھوں نے معجزات اور خرقِ عادت واقعات کو بھی بکثرت ذکر کیا۔ وہی طہ حسین جو کچھ عرصہ پہلے تک یونانی منطق اورکارتیسی تشکیک کی محراب میں کھڑے ہوکراندھی عقل پرستی کےزمزمے گایا کرتےتھے وہ اس کتاب کی پہلی جلد میں عقل کے دائرۂ کار کی محدودیت اور انسانی شعور کے دیگر آفاقی میلانات کی بات کرنے لگتے ہیں۔ دوسری جلد میں یہ رنگ زیادہ تیز ہوجاتا ہے۔ایک راہب کی زبانی طہ حسین لکھتے ہیں:
فإني يابني أرى أن في العقل تمردا وغرورا. قد خضعت له طائفة من الأشياء، وذلت له بعض صور الطبيعة، فظن أن كل شيء يجب أن يخضع له، وأن كل صورة من صور الطبيعة يجب أن تذعن لسلطانه، والحوادث مع ذلك تثبت له من يوم إلى يوم، بل من لحظة إلى لحظة أنه لم يعلم من الأمر إلا أقله، ولم يستذل من صور الطبيعة إلا أيسرها وأهونها شأنا.
وإن غرور العقل يابني قد زين له أن يجعل للطبيعة قوانين، ويفرض عليها قيودا وأغلالا، وألا يؤمن إلا بها ولايرضى عنها إلاإن خضعت لقوانينه، ورسفت في قيوده وأغلاله. ولكن قوانينه لم تحط بكل شيء، ولكن قيوده وأغلاله لم تبلغ كل شيء. ومازالت الطبيعة حرة طليقة، وما زالت أكبر من العقل، وأوسع من سلطانه وأبعد من مرماه…والله يجري هذه المعجزات على أيدي رسله وأنبيائه ليظهر العقل على أنه مازال ضعيفا قاصرا، وعلى أن علمه ما زال بعيدا، وسيظل بعيدا عن أن يحيط بكل شيء. (على هامش السيرة ٢/٢٩٣، ٢٩٤)
"بیٹا! میری رائے یہ ہے کہ عقل میں سرکشی اور خودفریبی ہے۔ بہت سی چیزیں اس کے آگے جھک گئی ہیں اور فطرت کی بعض صورتیں اس کے تابع ہوگئی ہیں تو اب وہ یہ گمان کرنے لگی ہے کہ ہر چیز کو اس کے سامنے جھک جانا چاہیے اور فطرت کی ہر صورت کو اس کی حکمرانی کے سامنے سر تسلیم خم کردینا چاہیے۔ جب کہ حوادث روز بہ روز بلکہ لمحہ بہ لمحہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس (عقل)نے ابھی بہت تھوڑا علم حاصل کیا ہے اور فطرت کی محض سب سے سہل اور ہلکی صورتوں کو اپنے تابع کیا ہے۔
اور بیٹا! عقل کی خود فریبی نے اس کے لیے یہ مزین کردیا ہے کہ وہ فطرت کے لیے قوانین بنائے اور اس پر قیود اور پابندیاں نافذ کرے اور صرف انھیں قوانین ہی پر راضی ہو اور فطرت سے صرف تب خوش ہو جب وہ ان قوانین کے آگے جھک جائےاور اسی کی بیڑیوں اور زنجیروں میں گھسٹتی رہے۔ لیکن عقل کے قوانین نے ہر چیز کا احاطہ نہیں کر رکھا اور اس کی قیود اور بیڑیوں کی رسائی ہر چیز تک نہیں ہے۔ فطرت اب بھی آزاد ہے، وہ اب بھی عقل سے بڑی ہے اور اس کے دائرۂ اختیار اور جولان گاہ سے زیادہ وسیع ہے۔۔۔ اللہ اپنے رسولوں اور انبیاء کے ہاتھ پر معجزات جاری کرتا ہے تا کہ عقل پر ظاہر کر کے کہ وہ ہنوز کمزور اور عاجز ہے، اس کا علم ابھی بھی بہت بعیدہے اور آئندہ بھی ہر چیز کا احاطہ کرنے سے بعید ہی رہے گا۔"
اسی دوران مصر میں مسیحی مشنریوں نے دھونس دھاندلی کے ذریعے مسیحیت کی ترویج شروع کردی۔ جس کے خلاف طہ حسین نے پرزور احتجاجی مضامین لکھے۔ پھر بہائیت اپنے پر پرزے نکالنے لگی تو طہ حسین نے اس پر بھی قلم اٹھایا۔ قرآنی بیانات کی صداقت میں شک کرنے والا طہ حسین ایک مرتبہ پھر سے قرآن کے معجزانہ اسلوب اور اس کے احکام کی ابدیت کے رجز پڑھنے لگا۔ شیخ الازہر نے سود کے معاملے میں نرمی دکھانے کی کوشش کی تو طہ حسین نے کہا: خطیب بغدادی کی کتاب جس میں ابو حنیفہ پر تنقید کی گئی ہے اس پر پابندی لگانے سے زیادہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ حکومت، عوام اور الازہر سود کو روکیں۔
نیز کل تک طہ حسین محمد عبدہ کو بھی کسی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اب وہ ابن تیمیہ اور ابن عبد الوہاب کو بھی سراہنے لگے۔ لکھتے ہیں:
إن مذهب محمد بن عبد الوهاب جديد قديم معا. جديد بالنسبة للمعاصرين، ولكنه قديم في حقيقة الأمر لأنه ليس إلا الدعوة القوية إلى الإسلام الخالص النقي المطهر من كل شوائب الشرك والوثنية، هو الدعوة إلى الإسلام كما جاء به النبي خالصا. (107)
"محمد بن عبد الوہاب کا مسلک بیک وقت جدید اور قدیم ہے۔ معاصرین کے لیے تو وہ جدید ہے لیکن حقیقت الامر میں وہ قدیم ہے کیوں کہ یہ محض شرک و بت پرستی سے پاک صاف اور خالص اسلام کی طاقت ور دعوت ہے۔ یہ اسلام کی طرف دعوت ہے جیسا کہ اسے نبی علیہ السلام خالص شکل میں لے کر آئے تھے۔"
وہ اسلام کے سیاسی نظام اور خلافت کے ایک متوازن دینی و دنیوی نظامِ حکومت ہونے کے قائل ہوگئے۔ اس دورانیے میں حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات سے طہ حسین کا تاثر بڑھتا چلا گیا۔ انھوں نے "المعذبون في الأرض" لکھی جس میں صحابہ کرام کی سیرتوں کی روشنی میں اسلام کے سماجی انصاف کی منظر کشی کی اور سرمایہ دارانہ نظا م پر تنقید کی۔ "الفتنة الكبرى" طہ حسین کی وہ پہلی کتاب جس کا آغاز بسم اللہ اور صلوۃ وسلام سے ہوتا ہے۔
لیکن اس رجوعی دورانیے میں دو چیزیں ایسی تھیں جن پر طہ حسین بدستور برقرار رہے۔ ایک تو وہ اسلام اور عربی زبان کو مصری اور عرب قومیت کا اہم ترین عنصر ماننے کے باجود اسے قومیت کی اساس اور بنیاد قرار دینے کے قائل نہ ہوئے۔ انھوں نےبدستور مصری قومیت کا مرکزی انتساب فرعونیت کی ہی طرف باقی رکھا۔ دوم 1938ء میں ان کی ایک اور متنازعہ کتاب "مستقبل الثقافة في مصر" آئی۔ جس میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر سے مصر کو یونانی، رومی اور جدید مغربی تہذیب کے اتباع کی دعوت دی ۔ اور انھی تہذیبوں کو مصر کا قوامِ عظیم ثابت کیا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام اور مسیحیت مصر کی اصلی تہذیبی شناخت کو نہیں بدل سکے۔ اسلام پسندی کے برعکس طہ حسین کی یہ کتاب ایک یکسر متضاد رجحان ظاہر کرتی ہےجس کے رد میں سید قطب نے بھی قلم اٹھایا۔ مجموعی طور پر 1952ء تک کے اس دورانیے کو ڈاکٹر عمارہ نے زچگی کے مرحلے سے تعبیر کیا جس سے 1952ء کے بعد ایک نئے طہ حسین نے جنم لیا۔
جولائی 1952ء میں مصر میں جمہوری انقلاب نےبادشاہت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ طہ حسین کی زندگی کا بھی ایک انقلاب انگیز مرحلہ تھا۔ انقلاب کے بعد وہ جمہور، عربیت اور اسلام کی لسانِ ناطق بن گئے۔ 1953ء میں دستور سازی کے دوران انھوں نے ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی کی اس رائے کو رد کردیا کہ عورت کو مرد کے مساوی میراث ملے۔ انھوں نے قانون سازی میں اس بات پر زور دیا کہ اگر اسلام ریاست کا مذہب ہے تو پھر قانون سازی قرآن کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسی طرح تدریجا وہ مصری وطن پرستی، فرعونی قومیت اور مغرب پرستی سے بھی کنارہ کش ہوگئے۔ وہ اپنی کتاب "مستقبل الثقافة في مصر"کو دوبارہ شائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی کہ اب یہ کتاب کافی ترمیم واصلاح کی مستحق ہے۔ انھوں نے مغربی استعمار پر تنقید بھی کی اور مصری قومیت کا انتساب اسلام، قرآن اور عربیت کی طرف کرنے لگے۔انھوں نے کہا:
والقومية العربية إذا أردنا أن نعرف متى تكونت بالمعنى الدقيق لكلمة القومية فينبغي أن نرد هذا إلى ظهور الإسلام، فالمكون الحقيقي للوحدة العربية بجميع أنواعها وفروعها: الوحدة السياسية والاقتصادية والاجتماعية واللغوية أيضا، إنما هو النبي ﷺ هو الذي جاء بالقرآن، ودعا إلى الحق. (ص 126)
"اگر ہم قومیت کے لفظ کے دقیق معنی میں جا کر یہ جاننا چاہیں کہ عرب قومیت کب بنی تو ہمیں اسے اسلام کے ظہور سے جوڑنا چاہیے۔ سیاسی، اقتصادی، سماجی حتی کہ لسانی وحدت سمیت عرب وحدت کی تمام انواع کےحقیقی تشکیل دینے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کہ قرآن لے کر آئے اورجنھوں نے حق کی طرف دعوت دی۔"
اس چوتھے مرحلے میں طہ حسین کی زندگی کا سب سے بڑا انقلابی موڑ وہ تھاجب وہ 1955ء میں حجازِ مقدس کی زیارت کے لیے گئے۔ جدہ سے مکہ جاتے ہوئے وہ حدیبیہ سے گزرے تو انھوں نے گاڑی رکوائی اور اتر کر حدیبیہ کی مٹی کو اٹھا کر سونگھا اور کہا کہ مجھے اس سے محمد ؐ کی خوشبو آتی ہے۔ پھروہ یہاں گھنٹہ بھر رک کر مسلسل روتے رہے۔ مسجد الحرام میں پہنچے تو حجرِ اسود کے پاس جاکر اور ستارِ کعبہ سے لپٹ کر زار و قطار روئے۔مدینہ جانے کے لیے زمینی راستے سیلاب کی وجہ سے بند تھے اور ہوائی جہاز کے سفر سے طہ حسین کو سخت تکلیف ہوتی تھی حتی کہ انھوں نے بڑے بڑے دورے اس وجہ سے منسوخ کردیے کہ وہ ہوائی جہاز کے سفر سے عاجز تھے۔ لیکن مدینہ جانے کے لیے انھوں نے ہوائی جہاز کی ہامی بھر لی۔ ان سے کہا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو مدینہ کی زیارت اگلی مرتبہ کے لیے ملتوی کردیں لیکن انھوں نے کہا اگر میں نے ایسا کیا تو میں خود کو مجرم تصور کروں گا۔ میں آیا نہیں ہوں مجھے بلایا گیا ہے۔ روضۂ رسول پر ان کی وارفتگی و بے خودی کاعالم دیدنی تھا۔
ان سے پوچھا گیا کہ آپ حجازِ مقدس آ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا:
"اس مسافر کی طرح جو طویل عرصے کے غیاب و سفر کے بعد اپنی عقل، اپنے دل اور اپنی روح کے وطن میں واپس آیا ہو۔"
ان سے پوچھا گیا کہ یہاں آکر آپ کو کون سے اشعار یاد آئے تو انھوں نے کہا:
"میں اشعار سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں۔"
مصر کی فرعونی قومیت وطنیت کا پرچار کرنے والے اور مغرب کی غیر مشروط تقلید کی دعوت دینے والے طہ حسین نے کہا:
"ہرمسلمان کے دو وطن ہیں: ایک وہ جہاں وہ پیدا ہوتا ہے اور ایک یہ بلدِ مقدس جس نے اس کی امت کو پیدا کیا اور اس کے دل، دماغ، ذوق اور جذبات کو تشکیل دیاہے۔"
مدینہ کے ایئر پورٹ پر صحافی نے ان سے کچھ بولنے کو کہا تو وہ بولے:
"اس ارضِ مقدس کی ہیبت بولنے سے مانع ہے۔ میں اس جگہ کیسے کلام کرسکتا ہوں جب کہ اللہ نے کہا ہے: اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو۔"
حجازِ مقدس سے واپسی کے پانچ سال بعد طہ حسین نے اپنی کتاب "مرآة الإسلام" نشر کی۔ایک نئی روحانی اور ایمانی ولادت کے بعد ان کی یہ کتاب ان کی زندگی کا سب سے بڑا فکری رجوع شمار کی جاسکتی ہے۔ اس کتاب میں تقریبا انھوں نے اپنے تمام سابقہ منحرف نظریات سے رجوع کر لیا۔ انھوں نے ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کے تاریخی وجود کا بصدقِ دل اقرار کیا، قرآن کی وجوہِ اعجاز سے بحث کی، عقل پرستانہ غلو کی مذمت کرتے ہوئے عقل کی حدود کو زیرِ بحث لائے، یونانی فلاسفہ، ان کے مسلم متبعین، اشراقی تصوف ، معتزلہ اور ابو العلا معری وغیرہ کو نقد وجرح کی میزان میں رکھ کر ان کی غلطیوں کو واضح کیا۔ وہی بات جو اس سے پہلے وہ ایک راہب کی زبانی کہلوا چکے تھے اب وہ انھوں نے خود کہہ دی:
"أن العقل الإنساني ملكة من ملكات الإنسان، وأن هذه الملكة كغيرها من ملكات الإنسان محدودة القوة تستطيع أن تعرف أشياء وتقصر عن معرفة أشياء لم تهيأ لمعرفتها… فلقد تجاوزت المعتزلة ما ألف الصالحون من القصد، فأغرقوا في تحكيم العقل فيما لا يستطيع العقل أن يحكم فيه."(مرآة الإسلام، ص: 282)
"عقل بھی انسانی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہے۔ یہ صلاحیت بھی بقیہ انسانی صلاحیتوں کی طرح محدود قوت والی ہے، کچھ اشیاء کی معرفت حاصل کر سکتی ہے جب کہ کچھ اشیاء جن کی معرفت کی اہلیت اسے نہیں ملی، یہ ان کی معرفت سے عاجز ہو جاتی ہے۔۔۔۔ معتزلہ نے صالحین کی میانہ روی والی سے تجاوز کیا اور غلو کرتے ہوئےعقل کو ان معاملات میں بھی فیصل بنانے کی کوشش کی جن کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کی استطاعت اس میں نہیں ہے۔"
وہ علمِ جدید کے زیرِ اثر قرآنی آیات کی بے محل تاویل کے بھی سخت خلاف نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں قرآن کی آیات سے وہی مطلب نکالنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام نے سمجھا۔ وہ معجزات کی تاویلِ کی بھی سخت مخالفت کرتےہیں۔ وہ کہتے ہیں:
"وکذلك الذين يقولون إن السموات السبع التي تذكر في القرآن هي الكواكب السيارة، إنما يرجمون بالغيب ويقولون ما لم يقله النبي وأصحابه، ومصدر هذا أنهم يريدون أن يلائموا بين القرآن ومستكشفات العلم الحديث، فيضطرهم ذلك إلى تكليف النصوص من التأويل ما لاتحتمل. وليس على الدين بأس أن يلائم العلم الحديث أو لا يلائمه، فالدين من علم الله الذي لا حد له، والعلم الحديث كالعلم القديم محدود بطاقة العقل الإنساني، وبهذا العالم الذي يعيش الإنسان فيه."(أيضا)
"اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جن سات آسمانوں کا ذکر آیا ہے وہ سات سیارے ہیں، وہ اٹکل پچو اندازے لگا رہے ہیں اور ایسی بات کہہ رہے ہیں جو آنحضرت اور آپ کے صحابہ نے نہیں کہی۔ ان کی بات کا منبع یہ ہے کہ وہ قرآن اور علمِ جدید کے اکتشافات کے مابین ہم آہنگی قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نصوص کی ایسی تاویلات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جن کا وہ احتمال نہیں رکھتیں۔حالاں کہ دین علمِ جدید کے ہم آہنگ ہو یا نہ ہو اس سے دین پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیوں دین اللہ کے لا محدود علم سے تعلق رکھتا ہے جب کہ علم جدید، قدیم علم کی طرح انسانی عقل کی طاقت اور اس عالم کے ساتھ محدود ہے جس میں انسان رہتا ہے۔"
اسی طرح انھوں نے اجتہاد اور اس کے مصادر کتاب، سنت، اجماع اور اجتہاد پر بھی بات کی اور ان کی ترتیب وار اہمیت کو ذکر کیا۔
اس کتاب کی طباعت کے ایک سال بعد طہ حسین نے اپنے فکر و قلم کاتقریبا آخری گوہر"الشيخان" پیش کیا۔ جس میں انھوں اسلامی قومیت وسیاست کے تصور کا پھر سے اعادہ کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے ساتھ گہری محبت اور عقیدت کا اظہار کیا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کی روشنی میں قرآن ہی کو مسلم ریاست کا آئین اور دستور ثابت کیا۔یوں "في الشعر الجاهلي" سے شروع ہونے والا تشکیک و ارتیاب کا سفر "علی ھامش السیرۃ" سے ہوتا ہوا "مرآۃ الاسلام" تک آیا تو "قادۃ الفکر" کے افلاطون و ارسطو کی جگہ حضراتِ شیخین لے چکے تھے۔
اس کے بعد کی زندگی طہ حسین نے لکھنے سے زیادہ پڑھنے میں ہی گزاری۔ وہ ایک دعا مسنون دعا بکثرت پڑھا کرتے تھے۔عمرہ کے موقع پر بھی یہی دعا ان کے وردِ زبان رہی۔ اس سے پہلے کسی مغربی ملک کے اجلاس میں انھوں نے اس دعا کا فرانسیسی ترجمہ پڑھا تھاتو ایک مسیحی خاتون نے اس سے گہرا تاثر لیا، اس نے یہ دعا طہ حسین سے دوبارہ سن کر لکھی اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے بے حد محبت وعقیدت کا اظہار کیا۔1973ء میں طہ حسین کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر بھی یہ دعا تحریر کی گئی۔ وہ دعا یہ ہے:
اللهم لك الحمد، أنت نور السموات والأرض، لك الحمد، أنت قيوم السموات والأرض، ولك الحمد، أنت رب السموات والأرض ومن فيهن، أنت الحق، ووعدك الحق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت. أنت إلهي لا إله إلا أنت.
"اے اللہ! تیرے لیے ہی ساری تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ تیرےہی لیے ساری تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کو تھامنے والا ہے اور تیرے لیے ہی ساری تعریف ہے تو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے ان کا رب ہے۔ توہی حق ہے اورتیرا وعدہ ہی حق ہے۔جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، انبیاء حق ہیں اور قیامت کی گھڑی حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے سامنےہی سرِ تسلیم خم کیا، تجھی پر ایمان لایا، تجھی پر توکل کیا، تجھ سے ہی لو لگایا ، تیری مدد سے ہی سے نزاع کیا اورتجھی کو فیصل بنایا۔ پس میں نے جوکچھ اعمال آگے بھیجے ہیں، جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، جو چھپایا ہے اور جو علانیہ ظاہر کیا ہے، اس سب کو بخش دے۔ تو میرا معبود ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔"
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۷)
ڈاکٹر شیر علی ترین
اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ
(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا نواں باب)
شرعی حکم اور عرف وعادت کے درمیان امتیاز
بدعت کی حدود پر دیوبندی اور بریلوی مواقف ایک اور دقیق لیکن نمایاں نکتے پر بھی مختلف تھے، یعنی کسی سماج کی شرعی حدود کی تعیین میں عرف وعادت کا کردار۔ جیسا کہ ہم گزشتہ ابواب میں دیکھ چکے ہیں، دیوبند کی اصلاحی پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ایسی رسموں اور عادتوں کا قلع قمع تھا جو شرعی فرائض وواجبات کا روپ دھار چکے تھے۔ علماے دیوبند کی نظر میں اچھے اعمال کو بھی ترک کر دینا چاہے، جب وہ کسی سماج کی زندگی میں اس حد تک دخیل ہو جائیں کہ جو کوئی اپنی مرضی سے انھیں چھوڑنا چاہتا ہے، اسے اجتماعی طور پر ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ اس لیے مسلکِ دیوبند کا سارا زور اس بات پر تھا کہ سماج کی روزمرہ زندگی میں دخیل رسموں کو یک سر بدل کر انھیں قانونِ الٰہی کی حدود کا پابند بنائیں۔
اگر ہم زیادہ باریکی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقطۂ نظر اس مفروضے پر مبنی تھا کہ شرعی احکام اور معمول بہ عادات دونوں باہم جدا ہو سکتے ہیں، اور اس میں مؤخر الذکر کو ہمیشہ اول الذکر کے مقرر کردہ حدود کے اندر رہنا چاہیے۔ اس کے برعکس مولانا احمد رضا خان نے شریعت اور عرف وعادت کے درمیان تعلق کی ایک بہت مختلف تشریح وضع کی۔ خان صاحب نے بتایا کہ سماج کے لیے وضع کردہ قانون کو سماج کی عادات سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ان کی نظر میں ایسی عادات اور رسموں کو باضابطہ بنانے میں کوئی مسئلہ نہیں، جو اپنی اصل میں نیک ہیںِ اور جو کئی نیک مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتی ہیں، باوجودیکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ثابت نہ ہو۔
جیسا کہ میں نے پہلے واضح کیا ہے، خان صاحب کے لیے کسی عمل کے شرعی جواز کے تعین کے لیے فیصلہ کن عامل یہ تھا کہ وہ اپنی اصل کے اعتبار سے نیک ہے یا نہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ کب ایجاد ہوا، اور سماج کی روزمرہ زندگی میں کب متعارف ہوا۔ مزید برآں اگر کوئی سماج کچھ مخصوص اعمال کو باضابطہ بنانے پر متفق ہو، اس انداز سے کہ وہ ان کے مزاج اور عملی ضروریات سے ہم آہنگ ہو، تو بجائے حوصلہ شکنی کے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اکابر دیوبند کے بالکل برعکس خان صاحب کو مختلف رسموں (مثلاً عید میلاد النبی یا اولیا کے عرس وغیرہ) کی ادائیگی کے لیے وقت یا تاریخ کے تعین (توقیت الوقت) سے کوئی مسئلہ نہیں۔ یہاں پر مناسب ہے کہ ہم ان کے استدلال کو ذرا تفصیل سے پیش کریں، کیوں اس سے بطور خاص یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فقہی تصور ان کے دیوبندی مخالفین سے کس طرح مختلف تھا۔
مولانا احمد رضا خان نے واضح کیا کہ رسموں کی ادائیگی کے تعلق سے دو قسم کی زمانی تخصیصات ہیں: پہلی وہ جو شرعاً مطلوب ہیں (توقیتِ شرعی)، دوسری وہ جو شرعاً مطلوب نہیں (توقیتِ عادی)۔ پہلی قسم میں وہ اعمال شامل ہیں جو شریعت کے مطابق صرف مخصوص اوقات میں سرانجام دیے جا سکتے ہیں، مثال کے طور پر پنج وقتہ نماز کو ان کے مخصوص اوقات میں پڑھنا، قربانی عید الاضحی کے تین دنوں (ایام النحر) میں کرنا، اور مناسکِ حج کو اسلامی کلینڈر کے مطابق شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں ادا کرنا۔ اس کے برعکس غیر شرعی زمانی تخصیصات واجب نہیں ہوتیں، اور یہ رسموں کی ادائیگی اور باضابطگی کے لیے صرف ایک وسیلے کا کام سرانجام دیتی ہیں۔ خان صاحب نے بہت سادہ لفظوں میں اسے بیان کیا ہے: "کسی بھی کام کی انجام دہی کے لیے وقت کی تخصیص ضروری ہے"1۔ اس لیے اولیا اور صالحین کا عرس ہر سال یا ہر چھ ماہ بعد منایا جاتا ہے۔ اسی طرح میت کے ایصال ثواب کے لیے تیجے یا چہلم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان رسموں میں اوقات کی تخصیص شرکا کو ان کی ادائیگی کا موقع یاد دلانے کا ذریعہ ہے۔ مولانا احمد رضا واضح کرتے ہیں کہ "جب کسی عمل کے لیے وقت متعین کیا جائے، تو اس کو سرانجام دینا آسان ہو جاتا ہے"2 ۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے وضاحت سےمتنبہ کیا کہ ان رسموں کے وقت کی جو تخصیص کی جاتی ہے، انھیں شرعی طور پر مطلوب تخصیصات (جیسے کہ پنج وقتہ نمازوں کے لیے اوقات کی تخصیص) سے گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں پر وہ اپنے دیوبندی مخالفین سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ تاہم خان صاحب کی نظر میں جب تک لوگ غیر شرعی تحدیدات کو واجب نہیں سمجھتے، تب تک ان میں کوئی حرج نہیںَ۔ بلکہ انھوں نے بتایا کہ تاریخ کا تعین وقت گزرنے کے ساتھ روحانی طور پر مفید اعمال کے تسلسل کے لیے ضروری ہے3۔ خان صاحب نے مزید بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے طرز عمل میں نیک اعمال کے لیے اوقات کی تخصیص کی کافی مثالیں موجود ہیں۔
مثلاً حضور ﷺ ہر سال کے آغاز میں شہدا کی قبروں کی زیارت کرنے جاتے، اور اس عمل کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی جاری رکھا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے قریبی صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (م 650) نے اپنے خطبات کے لیے جمعرات کا دن متعین کیا تھا۔ مولانا احمد رضا خان نے اپنے قارئین سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تخصیصات کو کبھی بھی شرعی واجبات کے درجے تک نہیں پہنچایا گیا۔ یہ بس عرف وعادت کی حد تک رہے۔ ایسا نہیں تھا کہ حضرت ابن مسعود اپنے خطبات کے لیے جمعرات کے علاوہ باقی تمام دنوں کو ناجائز، نامناسب یا کم مناسب سمجھتے تھے۔ خطبات کے لیے جمعرات کے دن کے تعین کے پیچھے ان کا مقصد یہ تھا کہ ایک پسندیدہ عمل کو باضابطہ بنایا جائے۔ دینی اعتبار سے کسی مفید عمل کے لیے تاریخ کا تعین کرکے اسے باضابطہ بنانے میں کوئی نقصان یا حرمت نہیں۔
خان صاحب اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: مزید برآں اگر کسی نیک عمل کے لیے تاریخ کے تعین کا کوئی ظاہری فائدہ یا مقصد نہ ہو، پھر بھی اس تعین کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا ۔ فرد کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہے تو تاریخ کا تعین کرے اور اگر نہ چاہے تو نہ کرے۔ تمام غیر شرعی تخصیصات (تعیناتِ عادیہ) کی تعیین یا عدم تعیین کا مکمل اختیار ہر فرد کو حاصل ہے، اور تعیین یا عدم تعیین کی صورت میں اسے کوئی ثواب یا عذاب نہیں ملتا۔ خان صاب کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کا یہی مفہوم ہے: "روزے کے لیے ہفتے کے دن کے تعین میں نہ آپ کے لیے ثواب ہے نہ عذاب" (صيام السبت لا لك ولا عليك)4۔ اس حدیث نبوی کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کے لیے ہفتے کے دن کی تخصیص ایک مباح عمل ہے، جس پر کوئی مثبت یا منفی شرعی نتائج مرتب نہیں ہوتے۔ علاوہ ازیں روزہ رکھنے کے لیے ہفتے کے دن کی تخصیص یا باضابطگی ہر فرد کا ذاتی استحقاق ہے۔
اس لیے مولانا احمد رضا کے مطابق جائز رسمی اعمال کے لیے تاریخ کے تعین پر ان کے دیوبندی مخالفین جو اعتراض کرتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے طرز عمل کے خلاف ہے۔ اس بابت علماے دیوبند کی غیرمعمولی فکرمندی کہ تاریخ کے تعین سے جائز اعمال دینی واجبات کا روپ دھار لیں گے، ایک ایسا خدشہ ہے جو حضور ﷺ کو لاحق نہیں تھا۔ اس کے برعکس حضور ﷺ نے مذہبی اعمال کی ادائیگی میں عام مسلمانوں کی صلاحیتوں پر غیرمعمولی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ مزید برآں خان صاحب نے نصیحت کی کہ بالفرض عوام میں سے کوئی ان تخصیصات کو شرعی یا واجب سمجھتا ہے، تو ہر صورت کی مناسبت سے اس رویے کی اصلاح کرنی چاہیے۔ کسی جائز عمل کو صرف اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر بالکلیہ ترک نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی اسے واجب سمجھنا شروع کر دے گا۔
خان صاحب کی راے میں دیوبندی بجائے اس کے کہ پاکیزہ رسموں میں در آنے والی خرابیوں کے سد باب کے لیے ایک محتاط طریق کار اختیار کرتے، انھوں نے ان رسموں کو ہی ممنوع قرار دیا۔ نتیجتاً وہ لوگ جن کے عقائد فاسد نہیں ہیں، وہ بھی ان رسموں میں شرکت نہیں کرتے، جو قانونِ الٰہی کی رو سے مفید یا جائز ہیں۔ یہاں پر ہمیں خان صاحب اور علماے دیوبند کے درمیان ایک دقیق لیکن نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
علماے دیوبند مثلاً مولانا اشرف علی تھانوی کے لیے غیرواجب رسوم کے لیے وقت کا تعین ان کو واجب اعمال کا روپ عطا کرتے ہیں، اور اس وجہ سے یہ دینی واجبات کی اولیت کو کم زور کرتا ہے۔ اس لیے اس تعین کی وجہ سے جائز اعمال بدعت بن جاتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس مولانا احمد رضا خان کے نزدیک نیک اعمال کے لیے تاریخ کا تعین انھیں رسم کی شکل دینے کو یقینی بناتا ہے۔ نتیجتاً یہ اس نیکی کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے، جو ان اعمال میں جوہری طور پر موجود ہے۔ خان صاحب کے خیال میں نیکی کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنا کوئی معقول بات نہیں، تاآں کہ ایسا کرنا فوری طور پر ضروری ہو۔
چوں کہ قانون الٰہی ابدی ہے، اس لیے کسی سماج میں اس قانون پر عمل درآمد علما اور فقہا سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ اس پر مسلسل علمیاتی پہرہ (epistemological policing) دیں۔ ایک عالم کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ اس قانون الہٰی کی متوقع خیریت کو ممکن بنائے، جو رسم کی شکل اختیار کرکے سماج کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔خان صاحب کے نزدیک قانون کا اصل کام یہ ہے کہ وہ کسی سماج کی جمالیاتی حساسیت سے ہم آہنگ اور دینی اعتبار سے مفید رسموں کو جاری رکھے، نہ کہ انھیں ممنوع قرار دے۔ انھوں نے بتایا کہ حضور ﷺ کا یہ فرمان: "لوگوں کی نیکیوں میں ان کی موافقت کرو، اور ان کی برائیوں میں ان کی مخالفت کرو" (خالقوا الناس بأخلاقهم وخالفوهم بأعمالهم) اس نقطۂ نظر کو پایۂ ثبوت تک پہنچاتا ہے5۔
مولانا احمد رضا خان نے گیارھویں/بارھویں صدی کے بلند پایہ اور متبحر عالم امام ابوحامد الغزالی (م 1111) کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے استدلال کو سمیٹا۔ وہ اپنی شاہ کار کتاب إحیاء علوم الدین میں لکھتے ہیں: "ہر سماج کی اپنی رسمیں ہوتی ہیں۔ ضروری ہے کہ لوگوں سے معاملہ ان کے نیک کردار کے مطابق کیا جائے (جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا)، بالخصوص ایسے اعمال کے تعلق سے، جو حسن عمل یا تطہیر قلب کو ممکن بناتے ہیں۔ اور جو کوئی ان اعمال کو بدعت کہتا ہے اس وجہ سے کہ صحابہ کرام نے ان کا ارتکاب نہیں کیا، وہ غلطی پر ہے۔ صحابۂ کرام نے تمام جائز اعمال کو بالکلیہ ہم تک منتقل نہیں کیا۔ صرف اس عمل کو بدعت کہا جا سکتا ہے، جو رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام کے اسوۂ حسنہ کے مخالف میں ہو"6۔
'فاتحہ' کے جواز وعدم جواز پر حریف انداز ہاے فکر
میں چاہتا ہوں کہ فقہ اور عادت کے متعلق اس بحث کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان اصولی طریق ہاے کار اور حوالہ جات کی روایت کا ذرا گہرائی کے ساتھ جائزہ پیش کروں جن کے ذریعے دیوبندی اور بریلوی اکابر نے روایت کی حدود پر مناقشہ کیا۔ اس مقصد کے لیے میں مخصوص اختلافی مسائل پر بریلویوں اور دیوبندیوں کے الگ الگ مواقف کی وضاحت کرتا ہوں۔ یہاں پر میں چاہتا ہوں کہ قارئین کو روایت/دین کے ان حریف استدلالات اور تفہیمات کی ایک متعین مثال سے متعارف کراؤں جو مناظرانہ سیاق وسباق کی ایک مخصوص صورتِ حال میں سامنے آئی۔ ذیل میں پیش کی جانے والی بحث کو ایک براہ راست تحریری مناظرے کی جھلکیوں کے طور پر دیکھیے۔ اس مقصد کے لیے میں دوبارہ مولوی عبد السمیع کی کتاب 'انوار ساطعہ' اور مولانا خلیل احمد سہارن پوری کی طرف سے اس کے دندان شکن جواب 'براہین قاطعہ' کی طرف لوٹتا ہوں۔
میت کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ سے متعلق ان کی باہم مخالف آرا کو آمنے سامنے رکھوں گا۔ میں نے ان کی مناظرانہ جھڑپ کی جھلکیاں پیش کرنے کے لیے اس مخصوص مسئلے کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ یہ مؤثر انداز میں ان کی متنوع فکری گتھیوں اور تجزیاتی مسائل کو سامنے لاتی ہے۔ ان میں مادیت اور جذبے کے درمیان تعامل، قانون، رسم اور عادت کے درمیان تعلق اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے، نبی اکرم ﷺ کی شخصیت کا مقام ومرتبہ اور برکت شامل ہے۔
ذیل میں مجھے نہ صرف مولانا عبدالسمیع اور مولانا سہارن پوری کے استدلال کی بنت اور تہوں میں دلچسپی ہے، بلکہ بطور خاص ان تفسیری مناہج میں بھی، جن کے ذریعے انھوں نے مستند دینی مصادر بالخصوص حنفی فقہی روایت سے استفادہ کیا۔ اس تجزیے کے بعد میں واپس مولانا احمد رضا خان کو لوٹوں گا کہ انھوں نے کس طرح دیوبندی مسلک کو اہل سنت سے خارج کیا، اور خود کو سنی مسلک کا نمائندہ ثابت کیا۔ البتہ میں ہندوستان میں رائج فاتحہ کے فوائد اور شرعی حیثیت سے متعلق مولانا عبد السمیع کے جوشیلے دفاع سے شروع کرتا ہوں۔ انوارِ ساطعہ میں دیوبندی تنقید کے حملے سے فاتحہ کا دفاع کرتے ہوئے مولانا عبد السمیع نے بتایا ہے کہ میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا کھلانا یا مٹھائی تقسیم کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں بدنی اور مالی عبادات دونوں ہیں7۔
بدنی عبادت اس طرح سے کہ کھانے پر یا تو سورۂ فاتحہ یا دیگر مسنون دعائیں اس نیت سے پڑھی جاتی ہیں کہ اس کا ثواب ایک فوت شدہ شخص کو بخش دیا جائے۔مولانا عبد السمیع نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رسم میں پائے جانے والے اس عمل کی وجہ سے اسے فاتحہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے جب عوام کہتے ہیں کہ آج فاتحہ ہے تو اس کا مطلب ایصال ثواب کی خاطر فاتحہ کی تلاوت ہوتا ہے۔ مولانا عبد السمیع ایک ایسے مقرر کے انداز میں جو اپنے سامعین کو گرمانا چاہتا ہے، اپنی بات جاری رکھتے ہیں کہ اس رسم میں مالی عبادت بھی ہے کیوں کہ اس میں خوراک یا مٹھائی کے حصول کے لیے مالی وسائل بھی خرچ کیے جاتے ہیں۔ مولانا عبد السمیع نے بتایا کہ ان میں سے ہر جز چاہے مالی ہو یا بدنی شریعت کی رو سے جائز ہے۔ اپنے دعوے کو ترتیب دیتے ہوئے انھوں نے چودھویں صدی کے شش جہت فارسی عالم علامہ سعد الدین التفتازانی کا حوالہ دیا۔ بارھویں صدی کے ایک اور متبحر عالم نجم الدین النسفی (م 1142)8 کی کتاب 'العقائد' پر اپنی شرح میں انھوں نے پوری صراحت سےکہا ہے: "سواے معتزلہ کے اس بات میں اور کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ مُردوں کے لیے دعا کرنے اور ان کی طرف سے صدقہ کرنے سے انھیں ثواب ملتا ہے" (وفي دعاء الأموات وصدقتهم عنهم نفع لهم خلافا للمعتزلة)9۔ اسی طرح وہ اپنے موقف کے اثبات میں سترھویں صدی کے حنفی عالم محمد الہروی (م 1656؛ جو ملا علی قاری کے نام سے مشہور ہیں) سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ امام ابوحنیفہ کی شہرۂ آفاق کتاب الفقه الأكبر پر اپنی عربی شرح میں لکھتے ہیں: "امام ابوحنیفہ اور دیگر جمہور اہل علم کی راے ہے کہ میت کو ثواب پہنچتا ہے" (ذهب أبوحنيفة وجمهور السلف إلى وصولها)10۔
قاضی ثناء اللہ پانی پاتی کا حوالہ بھی دیا۔ وہ اپنی فارسی کتاب تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں: "تمام فقہا نے حکم دیا ہے کہ ہر عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے" (جمیع فقہاء حکم کردہ اند کہ ثوابِ ہر عبادت بمیت می رسد)11۔
مولانا عبد السمیع نے بتایا کہ حنفی مذہب کے ان عظیم اکابر کی راے اس مسئلے میں ایک جیسی ہے۔ چوں کہ بدنی اور مالی عبادت الگ الگ سے جائز ہیں، اس لیے ان کا واضح تقاضا یہ ہے کہ ان دو اجزا سے تشکیل پایا جانے والا عمل بھی مباح ہو۔ بالفاظ دیگر اگر کوئی رسم دو شرعی اجزا سے مل کر بنتی ہے، تو اس صورت میں ان دو اجزا سے مرکب رسم کی شرعی حیثیت پر سوال اٹھانے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ اپنی دلیل کی وضاحت میں مولانا عبد السمیع نے ایک غذائی قیاس پیش کیا، جیسا کہ ان کے پرجوش مدمقابل مولانا سہارن پوری نے پہلی مثال میں پیش کیا تھا، جسے میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ اگر مولانا سہارن پوری کو پلاو قورمہ عزیز تھا، تو ان کے مقابلے میں مولانا عبد السمیع نے بریانی کا انتخاب کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ فاتحہ کو ممنوع قرار دینا اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا کہ بریانی کھانے پر پابندی لگانا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کیا نسبت ہے؟ اس کے جواب میں وہ بتاتے ہیں کہ جس طرح فاتحہ مالی اور بدنی دونوں عبادات سے مرکب ہے، اسی طرح بریانی بھی بشمول چاول، گوشت اور بعض صورتوں میں زعفران جیسے متنوع اجزا سے بن کر تیار ہوتی ہے۔ "اب ایک احمق یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ جی یہ اجزا تو الگ الگ سے جائز ہیں، لیکن مجھے قرآن وحدیث سے کوئی اصل بتاؤ جس میں ان سے بنی بریانی کا جواز بھی معلوم ہوتا ہو"12۔ مولانا عبد السمیع نے ادعا کیا کہ فاتحہ سے روکنے والے علماے دیوبند کی علمی وذہنی سطح کا اندازہ اس مضحکہ خیز استدلال سے لگائیں۔ خلاصہ یہ کہ مولانا عبد السمیع کا استدلال دو جائز عبادتوں سے مرکب پانے والے عمل (جمع بین العبادتین) کے جواز کے اثبات سے عبارت تھا۔
مولانا عبد السمیع نے اپنے استدلال کو وسعت دیتے ہوئے حنفی مذہب کے مصادر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی سیرت وسنت سے بھی ایک مثال دلیل میں پیش کی۔ (630 میں) غزوۂ تبوک کے دوران رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی درخواست پر کھانے دعا پڑھی تھی۔ جیسا کہ ہزاروں لوگوں نے مشاہدہ کیا، رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کی وجہ سے کھانے میں اس قدر برکت ہوئی کہ تمام حاضر لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ یہ حدیث نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شخصیت میں موجود برکت کی دلیل ہے، بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانے پر فاتحہ پڑھنا عملِ عبادت ہے، مولانا عبد السمیع نے خود اعتمادی سے بتایا۔ اگر حضور ﷺ کو کھانے پر دعا کرنے میں کوئی تردد نہیں تھا، تو علماے دیوبند کون ہوتے ہیں جو اس عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اس میں تردد کرتے ہیں؟ مولانا عبد السمیع نے اس خاص مسئلے میں علماے دیوبند پر اپنی تنقید کو اس طنز بھری کہاوت پر ختم کیا: "مجھے تم سے کسی خیر کی توقع نہیں، لیکن کم از کم میرے ساتھ برا نہ کرو (مرا بہ خیر تو امید نیست، بد مہ رسان)13۔
اس تنقید کے جواب میں مولانا سہارن پوری کا جواب اس تنبیہ کے ساتھ شروع ہوتا ہے کہ علماے دیوبند کو صدقات مثلا کھانے کے ذریعے میت کے لیے ایصالِ ثواب پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کا اعتراض اس رسم کی اس مخصوص ہیئت پر ہے جو ہندوستان میں رائج ہے، جس میں دعا کرنے والے کے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے اور وہ اس کے اوپر فاتحہ پڑھتا ہے۔ بالفاظ دیگر علماے دیوبند جس چیز کے خلاف تھے، وہ صرف اس مخصوص انداز میں فاتحہ پڑھنے پر اصرار تھا، اس عقیدے کے ساتھ کہ اس طریقے کے علاوہ اس عمل کا ثواب میت تک نہیں پہنچتا۔ اس رسم کی یہ مخصوص ہیئت اور اس پر اصرار بدعت ہے جس کی کوئی نظیر قرونِ ثلاثہ میں نہیں ہے۔ بلکہ اس میں قباحت کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ اس میں ہندؤوں کے ساتھ مشابہت بھی ہے کیوں کہ وہ بھی دعا کرنے والے کے سامنے کھانا رکھتے ہیں۔ بلکہ ہندؤوں میں رائج اور مقبول ہونے کے باعث یہ ہندوستانی مسلمانوں میں رائج اور جاری وساری ہو گیا ہے14۔
لیکن بریانی کی اشتہا انگیز قیاس کا کیا کیا جائے جو مولانا عبد السمیع نے بڑے غور وفکر کے ساتھ فاتحہ کے جواز میں پیش کیا کہ دو جائز اعمال سے مرکب رسم بھی جائز ہونی چاہیے؟ مولانا سہارن پوری نے اس قیاس کو کیسے غلط ثابت کیا؟ سہارن پوری نے جواب میں کہا کہ اگر چہ ان اجزا کی حلت میں کوئی اشکال نہیں لیکن باورچی پر لازم ہے کہ انھیں استعمال کرنے سے پہلے ان کا اچھی طرح جائزہ لے۔ مثال کے طور پر اگر زعفران میں کوئی زہریلا مادہ موجود ہو، اور اسے بریانی میں ڈالا جائے تو جائز بریانی بھی ناجائز بن جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی جائز رسم ناجائز یا مکروہ اجزا کی وجہ سے فاسد ہو جائے تو پھر وہ جائز نہیں رہتی۔ فاتحہ کی رسم میں ہندؤوں کے ساتھ مشابہت اور ایک ایسے عمل کو ضروری قرار دینے سے، جس کی کوئی نظیر آنحضرت ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے عہد میں نہیں، کراہت اور حرمت پیدا ہو جاتی ہے۔
مولانا سہارن پوری کی فکر میں کار فرما وسیع تر تعبیری اصول یہ تھا: اباحتِ اصلی صرف اس صورت میں برقرار رہتی ہے، جب کوئی ایسی نص موجود نہ ہو، جو اس سے منع کرے۔ لیکن فاتحہ کے سلسلے میں یہ احادیث: "ہر بدعت گم راہی ہے، اور ہر گم راہی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے" اور "جو کوئی دوسرے لوگوں کی مشابہت اختیار کرے، وہ انھی میں سے ہے" ایسی نصوص ہیں۔ سہارن پوری کے مطابق ان احادیث نبویہ نے پوری صراحت کے ساتھ ہندوستانی عوام میں رائج اس رسم کی مخصوص صورت کو ممنوع قرار دیا15۔
لیکن شاید مولانا سہارن پوری اور مولوی عبد السمیع کے درمیان رسا کشی کا سب سے دل چسپ پہلو اس روایت پر مولانا سہارن پوری کی بحث ہے، جس میں غزوۂ تبوک کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے کھانے کے اوپر دعا پڑھی۔ یہاں رسول اللہ ﷺ، خوراک کی مادیت، اور فقہی مسلک اور زمانۂ حال کے درمیان تعلق پر مولانا سہارن پوری کا نقطۂ نظر مولوی عبد السمیع سے واضح طور پر الگ ہے۔ مولانا سہارن پوری کا مولوی عبدالسمیع سے اختلاف اس بات پر نہیں تھا کہ حضور ﷺ کے سامنے غزوۂ تبوک کے موقع پر کھانے پر دعا پڑھی یا نہیں۔ لیکن ان کا مطالبہ یہ تھا کہ سیرت کے کسی واقعے سے استدلال کا اہم پہلو یہ ہے کہ کس تعبیری منہاج کے مطابق اس کی تعبیر وتشریح کی جا رہی ہے۔
اس امر سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھانے کے اوپر قرآن یا کوئی اور دعا پڑھی، کیوں کہ تلاوت اور دعائیں تو آپ کی روزمرہ زندگی کے ہر لمحے کا معمول تھا۔ اس لیے یہ کوئی قابل ذکر امر نہیں16۔ سہارن پوری اپنے قارئین کو یاد دلاتے ہیں کہ دیوبندی یہ نہیں کہتے کہ حضور ﷺ نے کبھی خوراک کے اوپر دعائیں نہیں پڑھیں، بلکہ ہندوستان میں رائج اس عمل کی مخصوص ہیئت اسلام کے قرون ثلاثہ میں موجود نہیں تھی۔
لیکن یہاں جو اہم سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی کے سامنےکھانا رکھ کر اس پر دعا پڑھنا ہندوستانی مسلمانوں کی اس رسم میں بنیادی مسئلہ ہے، تو اگر بعینہ یہی کام حضور ﷺ نے بھی کیا ہے، تو پھر ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ ان بظاہر ایک جیسے اعمال کے حکم میں اس قدر تضاد کیوں ہے؟ اس اساسی سوال کے جواب میں سہارن پوری کا موقف بیک وقت دل چسپ بھی ہے، اور انکشافی بھی۔
انھوں نے بتایا کہ مولوی عبد السمیع نے حوالے کے طور پر غزوۂ تبوک کا جو واقعہ پیش کیا ہے اس سے اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور ﷺ نے طعام میں برکت کی خاطر اس پر دعا پڑھی۔ مزید برآں طعام میں برکت کے لیے دعا کی اس وقت کی فوری ضرورت تھی۔ اگر حضور ﷺ طعام پر دعا نہ پڑھتے، تو اس میں برکت نہ پیدا ہوتی اور نتیجتاً مسلمانوں کی فوج فاقہ کرتی۔ اور چوں کہ اس تناظر میں رسول اللہ کا بنیادی مقصد طعام میں برکت پیدا کرتا تھا، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ اس وجہ سے انھوں نے اپنے سامنے رکھے طعام پر دعا پڑھی17۔
سہارن پوری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے اس واقعے کو ہم ہندوستان میں رائج فاتحہ کے لیے قطعی دلیل کے طور پر پیش کریں۔ مولانا سہارن پوری کے استدلال میں یہ نکتہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے کہ مولوی عبد السمیع کی پیش کردہ مثال میں دعا کا بنیادی مقصد طعام میں برکت ڈالنا تھا، جب کہ فاتحہ کا مقصد یہ نہیں ہوتا، اس لیے یہ قیاس مع الفارق ہے۔ کیوں؟ مولانا سہارن پوری نے بتایا: اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے فعل کا مقصد اصلاح تھا، اس کا مقصد طعام کی کمی کا ازالہ کرنا تھا، تاکہ وہ سب لوگوں کے لیے کافی ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو اولین اور بزرگ مصلح کی روپ میں پیش کرتے ہوئے مولانا سہارن پوری نے استدلال کیا کہ ان کی دعا بہت زیادہ دنیوی اصلاح کے ایک عمل کے مشابہ تھا، جس کا مقصد فساد کا خاتمہ اور ضرر کا ازالہ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی دعا سے طعام کی صورتِ حال کی اصلاح اور تصحیح کی کوشش کی18۔
اس کے بالمقابل فاتحہ ایک ایسا عمل ہے جو طعام کی خرابی کا باعث بنتا ہے، کیوں کہ کھانے کی تیاری کے بعد اس پر تلاوت ودعا پڑھنے کے مرحلے میں وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مجمع اور قاری دونوں کی نظریں کھانے پر جمی ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ عمل کھانے والوں کی نیت اور اخلاص پر فاسد اثر ڈالتا ہے۔مولانا سہارن پوری نے نتیجے کے طور پر کہا: یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طعام میں برکت ڈالنے کے لیے دعا کا جو عمل اختیار کیا تھا، اپنی اصل کے اعتبار سے فاتحہ کے فاسد عمل کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ "فعل مصلِح کو فعلِ مفسد کا مقیس علیہ بنانا مولوی عبد السمیع کا ذاتی فہم ہے۔ کوئی علم والا شخص ایسی فضول بات نہیں کہہ سکتا"19۔
مولوی عبد السمیع سے واضح فرق کے ساتھ مولانا سہارن پوری کے تعبیری منہج نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مصلح اعظم میں کے روپ میں پیش کرکے ان کی ذاتی کرامت کی حیثیت بدل ڈالی۔ مزید برآں انھوں نے طعام جیسی مادی چیز کو رسول اللہ ﷺ کے اصلاحی مشن کے تابع بنایا۔ طعام کا سواے اس کے اور کوئی کردار نہیں کہ وہ نبوی اصلاح کے لیے آلے کا کام سرانجام دے۔ یہ بھی طعام کے کردار اور مقام کے حوالے سے عبد السمیع کے سماجی تصور سے واضح طور پر الگ ہے۔ مولوی عبد السمیع کی نظر میں فاتحہ جیسی اجتماعی رسم تب ممکن ہے، جب خوراک ناگریز طور پر موجود ہے۔ خوراک ہی وہ چیز ہے جو انسانوں کی جانب سے اس رسم کی صورت گری کو ممکن بناتی ہے۔ لیکن مولانا سہارن پوری کا موقف یہ ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر حضور ﷺ نے خوراک پر جو دعا پڑھی تھی، اس میں خوراک بنیادی طور پر امت سے استعارہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا کام ہی اصلاح تھا، اور اس غرض سے انھوں نے خوراک کی اصلاح کی، بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنی امت کی دینی اور اخروی کام یابی کے لیے ان کی اصلاح وتربیت کی کوشش کرتے تھے۔
لیکن ملا علی قاری، سعد الدین التفتازانی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی جیسے اکابر حنفی فقہا کا کیا جائے، جن کی آرا سے مولوی عبد السمیع نے استدلال کیا ہے، اور جو واضح طور پر مولانا سہارن پوری اور دیگر اکابر دیوبند کی راے سے متصادم ہیں؟ اس عدم ہم آہنگی کا جواب دینے کے لیے مولانا سہارن پوری نے جو طرز استدلال اختیار کیا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو مولانا تھانوی کا تھا، جسے گزشتہ باب میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اس میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ علماے دیوبند انیسویں صدی کے اواخر میں شمالی ہندوستان میں رائج رسوم کو اپنی تنقید واصلاح کا ہدف قرار دے رہے ہیں۔ تھانوی نے میلاد کے متعلق جو کچھ کہا تھا وہی مولانا سہارن پوری نے فاتحہ کے متعلق کہا: اگر ان اہل علم کو ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے عائد کردہ ان مخصوص شرائط کا علم ہوتا، تو وہ بھی ان رسموں پر وہی حکم صادر کرتے، جو علماے دیوبند صادر کرتے ہیں۔
اس سے یہ اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیوں کر علما کے دو گروہ، جو ایک ہی طرح کی متون اور شخصیات کو مقدس مانتے اور ان کی پیروی کرتے ہیں، ایسے دو متضاد اصلاحی ایجنڈوں کے قائل ہیں۔ آخر کار اتنا بڑا تضاد کیسے ممکن ہے؟ اس سوال کے جواب میں کلیدی نکتہ یہ ہے کہ بریلویوں اور دیوبندیوں میں سے کسی ایک کے متعلق بھی یہ تجزیہ یا موقف اختیار نہ کیا جائے کہ ان میں سے کون حنفی مسلک کا زیادہ وفادار تھا۔ اس سے کہیں زیادہ مفید یہ ہے کہ ان متنوع اور عام طور پر متضاد تعبیری مناہج پر توجہ دی جائے، جن کے ذریعے انھوں نے ایک مشترکہ علمی سلسلے کو سمجھا اور موضوع بحث بنایا۔ مولوی عبد السمیع اور مولانا احمد رضا خان کی نظر میں متن کی صورت اور رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور مقام ومرتبے میں وحدت ہے، اور ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر علامہ تفتازانی جیسے علما نے کسی مخصوص عقیدے یا روایت پر ایک واضح تحریری موقف کے ذریعے مہر تصدیق ثبت کی ہے، تو پھر اس کو متنازع بنانا یا اس کی متبادل تفہیمات پیش کرنا حد درجے کی زیادتی ہے۔ دین کی سالمیت ایک ایسے تعبیری منہج اور مزاج پر منحصر ہے، جو متن کے استحکام کا تحفظ کرے۔ متن کا استحکام ہی رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور بلند مرتبے کے دیرپا ہونے کو یقینی بناتا ہے۔
اس کے برعکس علماے دیوبند زمانی ومکانی سیاقات کے مطابق متون کی تشریح کے قائل تھے۔ حنفی اکابر کی آرا محترم ہیں، لیکن ان تغیر پذیر زمانوں اور حالات کے مطابق ان کی تطبیق کی جائے گی، جو حال کے اخلاقی (یا دیوبندیوں کے تصور کے مطابق غیر اخلاقی) پس منظر کی تشکیل کرتے ہیں۔ اہم بات یہ کہ اکابر دیوبند مثلا مولانا سہارن پوری اور مولانا تھانوی اس تعبیری منہج کو حنفی یا جمہور امت کے اصولی منہج میں بدعت یا انحراف کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ان کے خیال میں یہ اپنے مقصد، روح اور مطابقت کے اعتبار سے اسی کا جزو لاینفک ہے۔ لیکن باوجود یہ کہ وہ خود کو جیسا سمجھتے اور ظاہر کرتے تھے، مختلف رسموں اور اعتقادی معاملات پر حنفی روایت کے قدیم اور بنیادی مآخذ سے ثابت شدہ مسائل کے ساتھ ان کے مواقف کی عدم ہم آہنگی کی وجہ سے وہ اس الزام کی زد میں رہے کہ وہ مسلکِ اہل سنت پر نہیں ہیں۔ یہی وہ زدپذیری تھی جس کی اساس پر مولانا احمد رضا خان نے انھیں مسلک اہل سنت سے خارج کیا۔ لیکن انھوں نے ایسا کیا کیسے؟ یہ دیوبند کی مسلکی تحریک پر چوٹ لگانے کے لیے ان کی حکمت عملی کا ایک اہم اور مفید پہلو ہے۔ مولانا احمد رضا خان اور ان کی فکر کی طرف واپس لوٹتے ہوئے میں اب اس حکمت عملی کے چند کلیدی نکات کا جائزہ لوں گا۔
اجماع امت کی مخالفت
مولانا احمد رضا خان نے کوشش کی کہ اپنے دیوبندی مخالفین کو ہندوستانی مبتدعین کے ایک گروہ کے روپ میں پیش کریں جن کے نظریات تمام اسلام کے گزشتہ اور موجودہ علما کے خلاف ہیں۔ خان صاحب کی نظر میں اکابر دیوبند اکابر اہل سنت کے اجماع کے مخالف ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ علماے دیوبند ایسی رسموں کو ناجائز کہتے ہیں جنھیں نہ صرف نامور علماے امت نے پسندیدہ اعمال قرار دیے ہیں، بلکہ ان میں بلاجھجھک خود بھی شریک ہوئے ہیں۔ مثلاً دیوبندی موقف کے برعکس مسلمان اہل علم کی غالب اکثریت عید میلاد النبی ﷺ اور قیام (میلاد میں حضور ﷺ کی آمد کے وقت احتراما کھڑے ہونا) کو جائز سمجھتی ہے۔ اپنے دعوے کے ثبوت میں خان صاحب نے متعدد اکابر کے حوالے دیے ہیں۔
مثلاً اٹھارویں صدی میں مدینہ منورہ کے نامور عالم سید جعفر البرزنجی (م 1766) لکھتے ہیں: "تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قیام ایک مستحب عمل ہے۔ جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کی خاطر اس عمل کو سرانجام دیتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر وثواب ملے گا"20۔ انیسویں صدی میں مکہ کے ممتاز شافعی عالم احمد زینی دحلان، جو اعلیٰ حضرت کے اساتذہ میں سے بھی تھے، کی تحریروں میں یہی صدا گونجتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "میلاد النبی کی رات خوشی کا اظہار کرنا، نعتیہ قصائد پڑھنا، شرکاے محفل کو کھانا کھلانا اور اس طرح کی دیگر تمام رسموں کا مطلب رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ہے۔ یہ اعمال نیکی کی مختلف اقسام ہیں۔ متعدد علما نے اپنی کتابوں میں بے شمار شواہد ودلائل کی روشنی میں ان اعمال کا استحباب ثابت کیا ہے۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں"21۔
خان صاحب نے متنوع علمی رجحانات، مختلف علاقائی پس منظر اور تاریخ کے متعدد ادوار سے تعلق رکھنے والے دیگر اہل علم کا بھی حوالہ دیا ہے جنھوں نے پوری وضاحت کے ساتھ میلاد اور قیام کو نیک اعمال قرار دیا ہے۔ ان علما میں علامہ جلال الدین السیوطی، احمد قسطلانی، علی برہان الحلبی (م 1636)، امام تاج الدین السبکی (م 1370)، محمد بن یحییٰ التادفی (م 1556)، یوسف بن یحیی الصرصری (م 1258) اور عبد الوہاب الشعرانی (م 1565) شامل ہیں۔ خان کے نزدیک دیوبندی میلاد جیسے نیک اعمال کی جو مخالفت کرتے ہیں، یہ ان علما کے اجماع کی خلاف ورزی ہے۔ خان نے بتایا کہ اکابر دیوبند رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی حجیت کو چیلنج کرتے ہیں: "میری امت کبھی گم راہی پر جمع نہیں ہو سکتی" (لا تجتمع أمتي على الضلالة)22۔ اگر کوئی دیوبندی مسلک کے اتباع میں ان اعمال کو بدعات قرار دے، تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ تمام علما بدعتی تھے۔ خان صاحب کی نظر میں یہ نتیجہ روز روشن کی طرح صاف ظاہر ہے۔
وہ اپنے قارئین سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: "فیصلہ آپ پر ہے۔ کیا مکہ، مدینہ، شام، مصر، یمن، داغستان، اندلس اور ہندوستان کے اتنے سارے علما کا اجماع ناقابل اعتبار ہے؟ یاہم یہ فرض کر لیں کہ یہ اکابرین امت بدعتی اور غلط عقائد کے حامل تھے جو صدیوں سے اپنے معاشروں کو گم راہ کر رہے تھے، کیوں کہ وہ بدعات کو پاکیزہ اور پسندیدہ اعمال قرار دے رہے تھے؟23 آگے خان نے اپنے قارئین کو ایک دل چسپ فکری مشق کی تجویز کی دی:
چند لمحوں کے لیے اسلامی ہند کے تمام حریف نظریات کی سوچ سے اپنے دل کو پاک کیجیے۔ اختلافی مسائل پر ان کے متضاد مواقف کو بھول جائیں۔ اپنی آنکھیں بند کریں، سر جھکائیں اور تصور کریں۔ سوچیں اگر ماضی وحال کے متعدد ممتاز علما زندہ ہوں، اور ایک عالی شان مکان میں جمع ہو جائیں۔ ان سے میلاد اور قیام کے جواز کے بارے میں پوچھا جائے۔ اور وہ سب بیک آواز کہہ اٹھیںَ: "اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک پسندیدہ عمل ہے۔ کون اسے برا کہتا ہے؟ اگر اس میں جرات ہے تو سامنے آئے"۔
اب ان علما کی شان وشوکت کو دیکھیے اور پھر ان چند ہندوستانی گستاخانِ رسول (دیوبندیوں) کی حیثیت پر غور کریں۔ کیا اس وقت ان میں سے کسی ایک میں بھی یہ جرات ہوگی کہ وہ اس مجلس میں آئے، اور ان نامور اہل علم کے اجتماع کا سامنا کرے؟24۔
خان صاحب نے یہ دل چسپ استدلال کیا کہ اکابر دیوبند پوری آزادی سے اپنی گستاخانہ آرا کی اظہار اس لیے کر رہے ہیں کہ انیسویں صدی کے ہندوستان میں کوئی اسلامی حکومت اور حکمران موجود نہیں۔ دیوبندی اس سیاسی ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جہاں کوئی ایسا مقتدر طاقت نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق ان کے گستاخانہ نظریات پر انھیں سرزنش کرے۔ جہاں کہیں اسلامی حکومت عملا قائم ہو، وہاں کے حکمران پر لازم ہے کہ وہ اجماع امت کی کھلی مخالفت کے باعث ان پر باقاعدہ تعزیر کا اجرا کرے۔
چوں کہ ایسا کوئی حکومتی نظام موجود نہیں جو دینی افکار کی نگرانی کرتا ہو، اس لیے دیوبندیوں کے منہ میں جو آتا ہے، کہہ دیتے ہیں۔ خان صاحب نے بتایا کہ اسلامی حکومت کے ہوتے ہوئے دیوبندیوں کا عقیدہ نہیں پنپ سکتا۔ بالفاظِ دیگر خان صاحب کی نظر میں برطانوی استعمار کی موجودگی نے دیوبندی مسلک کی نمو وافزائش کو ممکن بنایا ہے۔ لیکن خان صاحب نے زور دے کر کہا کہ اگر چہ ان کے دیوبندی مخالفین استعماری حکومت کی وجہ سے دنیا میں عذاب سے بچ گئے ہیں، لیکن آخرت میں وہ یقیناً جہنم کا ایندھن بنیں گے کیوں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے: "سواد اعظم کی اتباع کرو، کیوں کہ جو کوئی سواد اعظم سے جدا ہو جاتا ہے، وہ جہنم میں چلا جاتا ہے" (اتبعوا السواد الأعظم، فإنه من شَذَّ شُذَّ في النار)25۔ المختصر خان صاحب کے نزدیک علماے دیوبند اجماع کی شرعی حجیت کو کم زور کر رہے ہیں، کیوں کہ وہ ایک ایسے اصلاحی ایجنڈے کو پیش کر رہے ہیں جو پوری ڈھٹائی نامور علما کی راے اور عمل کے خلاف ہے۔
خاندان ولی اللہی کی مخالفت
خان صاحب کی نظر میں مختلف رسموں پر تنقید ان نامور اہل علم کی زندگی اور روایت کے بھی خلاف ہے، جنھیں علماے دیوبند اپنا علمی وفکری مقتدا مانتے ہیں۔ خان صاحب نے بتایا کہ دیوبند کی اصلاحی تحریک خاص طور پر اٹھارھویں صدی کے شہرۂ آفاق عالم حضرت شاہ ولی اللہ ان کے دو مشہور صاحب زادوں شاہ عبد العزیز اور شاہ رفیع الدین کے افکار کے سراسر مخالف ہے۔ یہ ایک ایسا معزز علمی خاندان تھا کہ استعماری جنوبی ایشیا کے تمام مسلمان اہل علم اور تحریکیں اس کا بے حد احترام کرتی تھیں۔ اس لیے خان صاحب کو اس نقصان کا پورا پورا اندازہ تھا جو اکابر دیوبند کو ان سے الگ ثابت کرنے میں ان کے اصلاحی ایجنڈے کو پہنچنے والا تھا۔ خان صاحب نے اپنے استدلال میں کہا کہ علماے دیوبند کا اپنا موقف یہ ہے کہ وہ ولی اللہی ورثے کے امین ہیں۔ تاہم تھوڑی سی گہرائی میں جاکر مختلف فیہ رسموں کے جواز پر شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحب زادوں اور علماے دیوبند کے موقف کے درمیان واضح تضاد معلوم ہوتا ہے۔ مثلا خان صاحب نے واضح کیا کہ شاہ ولی اللہ ایصالِ ثواب کے لیے فاتحے کے بغیر کسی ابہام کے اس کے حق میں تھے۔
مولانا احمد رضا خان کے مطابق دیوبندیوں اور شاہ محمد اسماعیل کے برعکس، جو اس رسم کو بدعت قرار دیتے ہیں، ولی اللہ خاندان نے بلا جھجھک اس عمل کو سر انجام دیا، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دی۔ مثلاً شاہ ولی اللہ نے اپنے والد اور حدیث کے مشہور عالم شاہ عبد الرحیم کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ وہ ہر سال نبی اکرم ﷺ کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا تیار کرتے اور لوگوں میں تقسیم کرتے تھے۔ ایک سال معاشی مشکلات کی وجہ سے شاہ عبد الرحیم کے پاس اتنی وسعت نہ تھی کہ وہ باضابطہ کھانا تیار کریں، سواے بھنے ہوئے چنوں کے جو انھوں نے لوگوں میں تقسیم کیے۔ اس رات جب وہ سوئے تو خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے، اور آپ کے ہاتھوں میں چنے تھے26۔
شاہ ولی اللہ نے خود بھی دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ کسی ولی کے ایصالِ ثواب کی خاطر مالیدہ اور کھیر پکانے میں کوئی مضائقہ نہیں (اگر مالیدہ وشیرِ برنج بنا بر فاتحۂ بزرگِ بقصدِ ایصالِ بہ روے احسان پزند وبخورند مضائقہ نیست)27۔ ایک دوسرے موقع پر شاہ ولی اللہ نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کہ : سلسلۂ چشتیہ کے مشائخ کے لیے ایصالِ ثواب کی خاطر ہر روز شیرینی کے اوپر فاتحہ پڑھ کر اسے تقسیم کریں (بر قدرِ شیرینی فاتحہ بنام خواجگانِ چست بہ خوانند وہمیں طور ہر روز می خواندی باشند)28۔
اسی طرح شاہ ولی اللہ کے صاحب زادے شاہ عبد العزیز نے شیعوں کی تاریخ اور افکار پر اپنی مشہور کتاب تحفۂ اثنا عشریہ میں لکھا ہے: "تمام مسلمان حضرت علی اور ان کے بابرکت خاندان کو اپنے پیر و مرشد مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے تکوینی امور وابستہ ہیں۔ ان کے لیے دعا کرنا، ان کی شان میں قصائد پڑھنا، ان کے نام پر صدقہ خیرات کرنا، منت ماننا اور کھانا کھلانا لوگوں کے درمیان رائج ہے، بالکل اس طرح جس طرح تمام دیگر اولیاء اللہ کے سلسلے میں یہ روایات عوام میں موجود ہیں" (حضرتِ امیر وذریتِ طاہرۂ او را تمام امت بر مثال پیران ومرشدین می پرستند، وامور تکوینیہ راوابستہ بایشان می دانند، وفاتحہ وہ درود وصدقات ونذر ومنت بنام ایشان رائج ومعمول گردیدہ، چنانچہ بجمیع اولیاء اللہ ہمیں معاملہ است)29۔
مزید برآں تفسیرِ عزیزی میں شاہ عبد العزیز صاحب نے حال میں وفات پانے والے کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے، جو ڈوب رہا ہو۔ "جس طرح ایک ڈوبنے والا شخص بے چینی سے مدد کے لیے چیخ پکار کرتا ہے، اسی طرح جو شخص ابھی ابھی وفات پاگیا ہو، وہ ان لوگوں کو دعاؤں اور برکتوں کے لیے پکارتا ہے، جو اس نے دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑے ہیں۔ ان اوقات میں عبادات کی تمام صورتیں، صدقہ خیرات اور کھانا کھلانے جیسے اعمال میت کے لیے زیادہ فائدے اور دل جوئی کا سبب بنتے ہیں"۔ وہ وضاحت کرتے ہیں: "یہی وجہ ہے کہ کسی کے مرنے بعد ایک سال تک اور بالخصوص ابتدائی چالیس دنوں لوگ اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہیں کہ نیکی کے ایسے اعمال کی ادائیگی سے میت کی مدد کریں"30۔
شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحب زادوں نے عمومی معنوں نے ایصالِ ثواب کے لیے کھانے کے اوپر فاتحہ پڑھنے کی تائید کی، خان صاحب نے باصرار کہا۔ مزید برآں دیوبندیوں کے برعکس انھیں ان شرائط وحدود سے کوئی سروکار نہیں تھا، جو اس رسم میں شامل ہو گئی تھیں، اور جو شریعت میں موجود نہیں ہیں، لیکن مقامی عرف وعادت سے ہم آہنگ تھیں۔ مثلاً شاہ رفیع الدین (جو شاہ عبد العزیز کے چھوٹے بھائی تھے) نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ وہ خاص انداز، جس کے مطابق کسی رسم کو ادا کیا جاتا ہے، شرکا کے مزاج اور ان کی سہولت پر منحصر ہوتا ہے۔
شاہ رفیع الدین نے کہا کہ ان تخصیصات میں کوئی حرج نہیں، جو لوگوں میں میت کے ایصال ثواب کے لیے کھانے کی تقسیم میں رائج ہوئے ہیں31۔ ان کی نظر میں ہندوستان میں مقبول اس عام رسم میں کوئی حرج مضائقہ نہیں تھا، جس میں میت کے ایصالِ ثواب کے مخصوص کھانے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کے پوتے حضرت حسین رضی کی روح پرفتوح کے لیے ایصال ثواب کی خاطر کھچڑی یا توشہ تقسیم کرنا سولھویں صدی کے معروف عالم شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی کی نظر میں بالکل جائز تھا۔ شاہ رفیع الدین نے بتایا کہ ان تخصیصات کا مکمل اختیار اس طرح کی تقریبات کے منتظمین کے پاس ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے واضح کیا کہ انسانوں کی وضع کردہ یہ تخصیصات ابتداءً کسی معاشرے میں اس مقصد کے لیے ہوتی ہیں کہ وہ مخصوص عملی فوائد کی تکمیل کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ رسم بن کر سماج کی روزمرہ عادات کا حصہ بن جاتی ہیں (ایں تخصیصات از قسمِ عرف وعادت اند کہ بمصالحِ خاصہ ومناسبتِ خفیہ بہ ظہور آمدہ ورفتہ رفتہ شیوع یافت)32۔ اس کے رسم بننے میں کوئی قباحت نہیں، شاہ رفیع الدین نے واضح کیا۔ اس لیے مختلف دینی رسموں میں یہ تخصیصات، جن کی وجہ سے ان رسموں کا باضابطہ ہونا ممکن ہو جاتا ہے، ناجائز یا شریعت کی نظر میں نامناسب نہیں ہیں۔
مولانا احمد رضا خان کی نظر میں دینی رسوم میں تخصیصات کے جواز پر شاہ رفیع الدین کی راے دیوبندیوں اور شاہ محمد اسماعیل کے موقف کے مکمل برعکس ہے۔ اکابر دیوبند کے برعکس غیر واجب اعمال کو واجباتِ دینیہ کے مقام تک پہنچانے میں شاہ صاحب اور ان کے صاحب زادوں کو کوئی شدید بے چینی لاحق نہ تھی۔ بلکہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ شرعی حدود کی تعیین کرتے وقت وہ بھی اپنے دیگر پیش رو سنی علما کی طرح سماج کے جمالیاتی ذوق اور عملی فلاح وبہبود کو جگہ دیں۔ مزید برآں اپنے نام نہاد دیوبندی پیرکاروں کے برعکس وہ ایسے نیک اعمال کو ناجائز نہیں ٹھہراتے، اور نہ عوام کو ایسے اعمال سے روکتے ہیں، جن کا مقصد مقدس دینی شخصیات کی عزت وتوقیر ہو۔
خان صاحب نے مزید بتایا کہ شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحب زادے چوکیدارانہ رویے کے زیر اثر بھی نہیں تھے، جس کا مقصد فساد اور اخلاقی زوال کی علامات کی تلاش میں عوام کی روزمرہ زندگی پر مسلسل پہرہ دینا تھا۔ اس کے بجاے انھوں نے سماج کو اختیار دیا کہ وہ نیک رسوم میں موجود شرعی بھلائی کو اپنے مزاج، کردار اور عملی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر حاصل کریں۔ اس کے برعکس اکابر دیوبند اور شاہ اسماعیل نے ایک ایسے عوامی دائرے کو پروان چڑھایا جس میں ہمیشہ شرعی حدود سے تجاوز کا خوف غالب رہتا ہے۔ مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی عوامی صلاحیت سے چوں کہ دیوبندی حد سے زیادہ یاس انگیز نقطۂ نظر کے حامل ہیں، اس لیے انھوں نے ایسی اچھی رسموں کو بھی جرم قرار دے دیا، جو خود ان کے شجرے سے تعلق رکھنے والے اہل علم نے صراحتاً جائز قرار دی ہیں۔ خان صاحب نے دعوی کیا کہ یہ تضاد اکابر دیوبند کی بے شرمی اور منافقت کی واضح دلیل ہے۔ میلاد یا فاتحہ میں شرکت کرنے والے کسی بھی شخص پر لعنت ملامت کرنے میں دیوبندی ذرہ برابر ہچکچاہٹ سے بھی کام نہیں لیتے۔ تاہم وہ اپنے علمی پیشواؤں پر کوئی اعتراض نہیں کرتے جنھوں نے نہ صرف ان اعمال کو جائز کہا، بلکہ خود میں ان میں شریک ہوئے۔
خان صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں: "دیوبندی عقیدے کے مطابق شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحب زادے بغیر کسی شک وشبہے کے 'دین میں بدعت' کے مجرم اور بے اصل بدعات کے مرتکب ہیں۔ انھوں نے ڈھٹائی سے ایسی رسموں کو ایجاد کیا ہے، جو خیر القرون میں نہیں تھیں۔ لیکن دیوبندی کبھی انھیں گم راہ یا بدعتی نہیں کہیں گے۔بلکہ وہ انھیں معزز علما، دینی اکابر اور خدا رسیدہ صوفی قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب دوسرے لوگ ان رسموں میں شرکت کرتے ہیں، تو انھیں گم راہ بدعتی قرار دے کر ان پر لعنت کرتے ہیں"33۔ خان صاحب طنزیہ پیراے میں اپنی بات جاری رکھتے ہیں: "شاید ان کے علاوہ سب لوگوں کا گناہ یہی ہے کہ وہ ایسے نیک اعمال میں حصہ اس طریقے سے حصہ لیتے ہیں، جو شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔ اس بے جا زبردستی کو آخر کیا نام دیا جائے (این تحکم بے جا را چہ گفتہ آید)34۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خان صاحب کے مطابق علماے دیوبند ایک نئی شریعت ایجاد کر رہے تھے، جو (بشمول ان کے اپنے پیش روؤں کے) دین کے تمام بزرگ ہستیوں کی آرا کی مخالف تھی، اور جو لوگوں کو شریعت کی نظر میں نیک اور جائز اعمال میں شرکت پر سزا دیتی تھی۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ دیوبندی شرک وبدعت کے مقابلے کا دکھاوا کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک نئے اخلاقی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں، جس نے پہلے سے چلے آنے والے تصورِ دین وشریعت کو پلٹ دیا۔
خان صاحب کی نظر میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اکابر دویوبند شرک وبدعت کے نام پر اجماع امت کو الل ٹپ طریقے سے مسترد کرتے ہیں، اور اجماع کے مقابلے میں اپنی ذاتی خواہشات کو مسلط کر تے ہیں۔ قانونِ الٰہی میں تحریف کرکے دیوبندی اس قانون کی ابدیت پر سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ نتیجتاً وہ پوری ڈھٹائی سے شریعت اور اس کی حدود کے مطلق واضع کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو للکار رہے ہیں۔ خان صاحب نے بتایا: یہی وجہ ہے کہ توحید کی احیا کا نام نہاد دیوبندی جذبہ سواے ایک ڈھونگ کے اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ وہ توحید کے تحفظ کے نام پر اس پر اپنا حق جتلاتے ہیں۔ اس عمل میں انھوں نے قانون الہی کی مطلق حاکمیت کی حیثیت کو گھٹایا اور اس کے تقدس کو پاے مال کیا۔ جیسا کہ خان صاحب طنزیہ پیراے میں اپنے دیوبندی مخالفین سے تقاضا کرتے ہیں: "کیا شریعت تمھارا خانگی معاملہ ہے کہ آپ اسے جس طرف موڑنا چاہیں، موڑ دیتے ہیں" (شریعت کارِ خانگئ شما است کہ ہر چوں خواہد پہلو گردانید)35۔
حواشی
1. احمد رضا خان، الحجة الفائحة لطیب التعین والفاتحة، الفتاوی الرضویۃ، 9 : 580۔
2. ایضاً، 582۔
3. ا۔ خان، إقامة القيامة ، 547۔
4. احمد بن حنبل، مسند أحمد بن حنبل، جلد 6 (بیروت: دارالفکر، تاریخ ندارد)، 368۔
5. الحاکم النیشاپوری، المستدرك على الصحيحين في الحديث (بیروت: دار الفکر، تاریخ اشاعت ندارد)، 513۔
6. ابو حامد الغزالی، إحياء علوم الدين،كتاب السماع والوجد (قاہرہ: المشہدی الحسینی، تاریخ ندارد)، 305۔
7. سمیع، انوارِ ساطعہ، 52۔
8. نسفی اور تفتازی دونوں آج کے دور کے وسطی ایشیا کے ملک ازبکستان کے شہر سمرقند کے رہنے والے تھے۔
9. بحوالہ سمیع، انوارِ ساطعہ، 52۔
10. محمد الہروی، شرح كتاب الفقه الأكبر (بیروت: دار الکتب العلمیۃ، 2006)، بحوالہ سمیع، انوار ساطعہ، 52۔
11. بحوالہ ایضاً۔
12. ایضا، 53۔
13. ایضاً۔
14. سہارن پوری، البراہین القاطعۃ، 75۔
15. ایضا، 76۔
16. ایضاً، 78۔
17. ایضاً۔
18. ایضاً، 79۔
19. ایضاً۔
20. سید جعفر البرزنجی، عقد الجواهر في مولد النبي الأزهر (لاہور: جامعہ اسلامیہ، تاریخ ندارد)، 67۔ دحلان، الدرر السنية، 18۔
21. دحلان، الدرر السنية، 18۔
22. النیشاپوری، المستدرك، 1: 116۔
23. ا۔ خان، إقامة القيامة ، 521۔
24. ایضاً۔
25. ۔ ابن ماجہ، سنن ابن ماجه (قاہرہ: دارالحدیث، 1998)، حدیث 3950، بحوالۂ ایضاً، 522۔
26. شاہ ولی اللہ، الدر الثمين في مبشرات النبي الأمين (فیصل آباد: کتب خانہ علویہ رضویہ، تاریخ ندارد)، 40۔
27. بحوالہ ا۔ خان، الحجة الفائحة، 575۔
28. شاہ ولی اللہ، الانتباه في سلاسل أولیاء الله (دلی: برقی پریس، تاریخ ندارد)، 100۔
29. شاہ عبد العزیز، تحفۂ اثنا عشریہ (لاہور: سہیل اکیڈمی، تاریخ اشاعت ندارد)، 214۔ امورِ تکوینیہ سے مراد وہ خدائی اوامر ہیں، جن کی وجہ سے چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جیسی وہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں امور تکلیفیہ کا تصور ہے۔ امور تکلیفیہ کا مطلب کا وہ خدائی اوامر ہیں، جو مکلفین کے لیے شرعی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دیکھیے: مائیکل کودکائیوکز، The Spiritual Writings of Amir ‘Abdul Kader (البانی: سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک پریس، 1995)، 220، اور مائکل سیلز، Mystical Languages of Unsaying (شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، 1994)، 250۔
30. شاہ عبد العزیز، تفسیرِ عزیزی (دلی: لال کواں، تاریخ ندارد)، 206۔
31. شاہ رفیع الدین، فتاوی شاہ رفیع الدین (دلی: مطبع مجتبائی، تاریخ ندارد)، بحوالہ احمد رضا خان، الحجۃ الفائحۃ، 591 – 92۔
32. ایضاً، بحوالۂ احمد رضا خان، الحجة الفائحة، 592۔
33. احمد رضا خان، إقامة القیامة، 584۔
34. ایضاً۔
35. ایضاً۔