مغربی فکر میں ایمان اور الحاد کی بحث
محمد عمار خان ناصر
جدیدیت کے پس منظر میں مغربی فکر کے ارتقا کی تفہیم کے کئی مختلف زاویے موجود ہیں۔ یہ سبھی زاویے کسی نہ کسی خاص پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں اور بحیثیت مجموعی بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک زاویہ میخائیل ایلن نے اپنی کتاب ’’جدیدیت کی الہیاتی اساسات“ (The Theological Origins of Modernity) میں پیش کیا ہے۔
مصنف نے اس سوال کو موضوع بنایا ہے کہ جدیدیت بطور ایک ورلڈویو (نظام فکر) کیسے اور کس سوال کے جواب میں سامنے آئی ہے۔ مصنف کے نقطہ نظر کے مطابق مسیحی الہیات میں خدا، کائنات، انسان اور عقل کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے ایک کشمکش موجود تھی، اور اسی کشمکش کے تناظر میں جدیدیت نے بطور ایک ورلڈویو کے تشکیل پائی ہے۔
مصنف نے اس فکری سفر کے حسب ذیل مراحل متعین کیے ہیں:
۱۔ قرون وسطی کے اواخر میں تھامس اکوائنس وغیرہ کے ہاتھوں مسیحی متکلمانہ روایت جس کو Scholasticism کا عنوان دیا جاتا ہے، تکمیل کو پہنچ چکی تھی۔ اس روایت میں یونانی فلسفے کے طبیعی کائنات اور فطری اخلاقیات کے تصورات کے ساتھ مسیحی عقیدہ خدا کو ملا کر ایک الہیاتی ورلڈویو تشکیل دیا گیا جس کا جوہر یہ ہے کہ خدا ایک ’’ریزن’’ رکھنے والی ہستی ہے جس کی ریزن کا ظہور کائنات میں ہوا ہے۔ چونکہ انسان کو خدا کی صورت پر پیدا کیا گیا اور اسے عقل دی گئی ہے، اس لیے انسان کائنات کے مشاہدے اور غور وفکر سے خدا کے ذہن کو سمجھ سکتا ہے اور کائنات میں موجودہ ’’غائیت’’ کو دریافت کر سکتا ہے۔
۲۔ اسکولیسٹسزم کے جواب میں اسمیت (nominalism) کے فلسفے کا ظہور ہوا جس نے بہت طاقتور استدلالات سے اس تصور کی نفی کی کہ کائنات خدا کے ذہن یا علم میں موجود کچھ خاص ماہیات (essences) کی جزئیات کا نام ہے جن کو انسانی عقل جزئیات کے مشاہدے اور مطالعے سے سمجھ سکتی ہے۔ اسمیت کے حامی مسیحی مفکرین نے کہا کہ کائنات کی ہر چیز انفرادی نوعیت رکھتی ہے اور کسی بھی کلی ماہیت کا جزوی نمونہ نہیں ہے۔ اس لیے کائنات اور اس کی اشیاء کی غرض یا معنویت خود کائنات کے مطالعے سے معلوم نہیں ہو سکتی، اس کا ذریعہ صرف بائبل میں درج الہام یا انسان کا روحانی تجربہ ہو سکتا ہے۔
۳۔ اسمیت کے پیدا کردہ چیلنج نے خدا، کائنات اور انسان کے باہمی تعلق کو نئے سرے سے متعین کرنے اور ایک نیا ورلڈویو تشکیل دینے کی کوششوں کو تحریک دی۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ اس نئے ورلڈویو میں مرکزی مقام کس کا ہو؟ خدا کا، فطرت یعنی کائنات کا یا انسان کا؟ یہ تینوں آپشن مغربی فکر میں مختلف مکاتب فکر نے اختیار کیے۔
۴۔ اصلاح مذہب کے قائدین یعنی پروٹسٹنٹ ماہرین الہیات نے خدا کو مرکزی مقام دیتے ہوئے انسان کے مقام اور انسانی عقل کی اہمیت کو محدود تر کرنے کی کوشش کی۔ ہیومنسٹ مفکرین نے اس کے برعکس (خدا کی نفی کیے بغیر) اپنے ورلڈویو میں انسان کے مقام کو مرکزیت دی اور انسان کے زاویہ نظر سے خدا اور کائنات کی نوعیت اور اہمیت متعین کرنے کی کوشش کی۔ (اس کشمکش اور مجادلے کے نمونے ہم مارٹن لوتھر اور اس کے ہم عصر ہیومنسٹ دانش ور اراسمس کے مباحثوں میں دیکھ سکتے ہیں جن میں لوتھر انسان کے جبر اور بے اختیاری کو موکد کرتا جبکہ اراسمس انسانی اختیار اور آزادی کا اثبات کرتا دکھائی دیتا ہے)۔
۵۔ اسی سوال کے جواب میں تیسرا آپشن یہ تھا کہ ان تینوں میں سے فطرت یعنی کائنات اور اس کے طبیعی قوانین کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے ان کے تحت خدا اور انسان کو سمجھا اور ان کا مقام متعین کیا جائے۔ اس انتخاب سے جو ورلڈویو تشکیل پاتا ہے، بنیادی طور پر اس کو ہم ’’جدیدیت’’ سے تعبیر کرتے ہیں۔
۶۔ لیکن فطرت کو مرکزی مقام دے کر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا، جب تک کہ خدا اور انسان کی (یعنی خدا اور انسان کے ایسے تصور کی جو نیچرلسٹک نہ ہو) نفی نہ کر دی جائے۔ اس میں مشکل یہ ہے کہ خدا کی نفی کا نتیجہ انسان کو کلیتاً ایک حیوان قرار دینے کی صورت میں نکلتا ہے، جبکہ انسان کی نفی مذہبی جنونیت پر منتج ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ جدیدیت دراصل مسیحی فکر میں ایک الہیاتی سوال (خدا، کائنات اور انسان کے مابین تعلق کس نوعیت کا ہے) کا متبادل جواب تلاش کرنے کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئی جس کی فکری مشکلات اور چیلنجز سے مغربی فکر ابھی تک نبردآزما ہے۔
ایک اور معاصر مصنف چارلس ٹیلر نے اپنی کتاب ’’عہد بے خدا “ (A Secular Age) میں ٹیلر نے پچھلی پانچ صدیوں میں ایمان والحاد کے سفر کے تین بنیادی مراحل واضح کیے ہیں۔
پہلا مرحلہ سولہویں سے اٹھارہویں صدی تک پھیلا ہوا ہے۔ ان تین سو سالوں میں مسیحی ایمان کے متبادل کے طور پر خالص انسان پرستی (exclusive humanism) یعنی الحاد ایک فکری انتخاب کے طور پر سامنے آیا جو ماورائی حقائق کی نفی اور عقلی انداز فکر کا اثبات کرتا ہے اور باہمی افادہ (mutual benefit) کو انسانی معاشرے کی تنظیم کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
دوسرا مرحلہ اٹھارہویں صدی کے اواخر سے شروع ہو کر بیسویں صدی کے وسط تک آتا ہے۔ اس مرحلے کا بنیادی عنوان ’’نووا ایفکٹ’’ (nova effect) ہے، یعنی مسیحی ایمان، ڈی ازم (کائنات سے غیر متعلق خدا کا تصور) اور الحاد کی باہمی تنقید اور جدال کے نتیجے میں متنوع اور رنگارنگ آپشنز کا ظہور پذیر ہونا۔ ان آپشنز میں ایسے تصورات بھی شامل ہیں جن میں سے بعض عقلیت پسندی کو اور بعض انسانی مساوات کی تنویری فکر کو رد کرتے ہیں، جیسے رومانویت اور نیٹشے کا فلسفہ۔
تیسرا مرحلہ بیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوتا ہے، تاہم یہ ایک لحاظ سے دوسرے مرحلے کا تسلسل بھی ہے۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں الحاد سمیت جو مختلف آپشنز معاشرے کے بارسوخ طبقات (elite classes) کے لیے دستیاب ہوئے تھے، تیسرے مرحلے میں ان کا دائرہ عام آدمی تک وسیع ہو گیا ہے اور اس کے علاوہ کئی نئے آپشنز بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس مرحلے میں سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے زیر اثر انفرادیت اور شخصی پسند وناپسند نے ایک قدر کی حیثیت اختیار کی ہے جس کی جڑیں تو رومانوی تحریک میں ہیں، تاہم اس نے بیسویں صدی کے نصف آخر میں عام ثقافت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
مذہبی شناخت پر اس تیسرے مرحلے کا اثر یہ ہے کہ اس سے پہلے مذہبی وروحانی زندگی جو کسی نہ کسی اجتماعی شناخت (مثلاً ریاست، کلیسا یا کوئی مذہبی فرقہ) کے ساتھ جڑی ہوتی تھی، انفرادیت پسندی کے اس عہد میں یہ تعلق مزید کمزور ہو گیا ہے۔ (ص ۲۹۹، ۳۰۰)
--------------
مذکورہ کتاب کے اختتامی باب کے آخر میں ٹیلر نے الحاد کے مستقبل کے متعلق ایک (غیر حتمی) اندازہ بیان کیا ہے۔ ٹیلر کا کہنا ہے کہ جن مغربی معاشروں میں عموماً الحادی طرز فکر کو قبول کر لیا گیا ہے اور کسی شخص کے خدا پر یقین رکھنے کو اچنبھے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہاں آئندہ نسلوں میں کئی وجوہ سے اس سے بے اطمینانی پیدا ہوگی اور سیکولرائزیشن کے رائج الوقت نظریے کی قوت یا تاثیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔
اس کا ایک سبب تو یہ ہوگا کہ جب دوسرے مغربی (اور غیر مغربی) معاشروں میں الحاد کی قبولیت عامہ پیدا نہیں ہوگی تو اس نظریے کی توقعات پر زد پڑے گی جو یہ قرار دیتا ہے کہ مذہب کا خاتمہ انسانی معاشروں کی ایک آفاقی منزل ہے اور جلد یا بدیر سب معاشروں کو اسی منزل پر پہنچنا ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہوگی کہ معاشرے کی جن قباحتوں اور خرابیوں کا ذمہ دار مذہب کو ٹھہرایا جاتا ہے، وہ ویسے ہی موجود رہیں گی۔ اس بیانیے کو استحکام دینے کے لیے مذہبی معاشروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہ جدید اقدار کے لیے سازگار نہیں ہیں، جیسا کہ امریکی معاشرے پر اور اسی طرح مسلمان معاشروں پر یہ تنقید موجود ہے۔ تاہم سیکولرائزیشن کے نظریے کو اس طرح تقویت پہنچانے کا أسلوب زیادہ دیر تک کارگر نہیں ہوگا اور جلد یا بدیر غیر موثر ہو جائے گا۔
ایک تیسری وجہ یہ ہوگی کہ ماورائی حقائق سے انسان کو قطعی طور پر غیر متعلق کر دینے کے نتیجے میں زندگی کی بے معنویت کا إحساس گہرا ہوگا اور آئندہ نسلیں خود کو ایک waste land (بے مقصد دنیا) میں محسوس کریں گی۔ یوں نوجوان نسلیں مادیت کے محدود دائروں سے باہر معنویت کی تلاش کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں گی۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۲)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(416) بلاء کا ترجمہ
قرآن مجید میں ب ل و کے مادے سے مشتق ہونے والے بہت سے صیغے آئے ہیں، یہاں خاص لفظ بلاء کے مفہوم پر گفتگو مقصود ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جہاں بھی آیا ہے وہاں انعامات کا تذکرہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں آزمائش کا بھی ذکر ہے، لیکن اصل سیاق آزمائشوں کے بیان کا نہیں بلکہ آزمائشوں کے حوالے سے انعامات کے بیان کا ہے۔ زیادہ تر یہ لفظ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچانے کے حوالے سے آیا ہے۔ایسی ہر جگہ ظلم کو فرعون کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بلاء کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اس لیے یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے کہ فرعون کے ظلم کو اللہ کی طرف سے آزمائش قرار دیا جائے جب کہ یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے ظلم سے نجات کو اللہ کی طرف سے انعام قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ کے اسلوب پر غور کریں تو امتحان کے مقابلے میں احسان کا پہلو بہت زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔
غور طلب بات ہے کہ اگر کسی نے ایک شخص کو مصیبت میں ڈالا اور پھر خود ہی مصیبت سے باہر نکالا تو اسے وہ احسان کے طور پر کیسے پیش کرے گا؟ اس کا احسان تو اس وقت ہوگا جب کوئی اپنی شامت اعمال یا کسی دوسرے کے ظلم و زیادتی کا شکار ہو اور اسے وہ بچالے۔ قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ زیر نظر مقامات پر اللہ نے بلاء عظیم، بلاء مبین اور بلاءً حسنًا کہہ کر کے اپنے بڑے، خوب اور نمایاں احسانات کا ذکر کیا ہے۔
جہاں تک عربی لغات کی بات ہے، علمائے لغت صاف لکھتے ہیں کہ بلاء کا استعمال مصیبت و آزمائش کے لیے بھی ہوتا ہے اور احسان و انعام کے لیے بھی ہوتا ہے۔
لسان العرب میں ہے: قَالَ ابْنُ بَرِّیٍّ: والبَلاء الإِنعام؛ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی: وَآتَیْناہُمْ مِنَ الْآیاتِ مَا فِیہِ بَلَاء مُبِینٌ؛ أَی إِنْعَامٌ بَیِّن. وَفِی الْحَدِیثِ: مَنْ أُبْلِیَ فَذَکَرَ فَقَد شَکَرَ۔
القاموس المحیط میں ہے: والبَلاءُ یکونُ مِنْحَةً، ویکونُ مِحْنَةً۔
جاہلی دور کے مشہور شاعر زہیر کا یہ شعر بلاء کے انعام کے معنی میں استعمال ہونے کی واضح دلیل ہے:
رأی اللہُ، بالإحسانِ، ما فعلا بکمُ
فأبْلاہُما خَیرَ البَلاءِ الذی یَبْلُو
درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ بتاتا ہے کہ بعض مترجمین نے زیادہ تر مقامات پر بلاء کا ترجمہ آزمائش و امتحان کیا اور کہیں کہیں انعام کیا، جب کہ بعض نے زیادہ ترمقامات پر بلاء کا ترجمہ انعام کیا اور کہیں آزمائش بھی کردیا۔ بعض مترجمین نے سب جگہ آزمائش ترجمہ کیا ہے، تاہم صحیح بات یہ لگتی ہے کہ ان تمام ہی مقامات پر انعام یا اس مفہوم کے کسی لفظ سے ترجمہ کیا جائے۔
(۱) وَإِذْ نَجَّیْنَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ۔ (البقرۃ: 49)
”اور (یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی کہ وہ تم پر برا عذاب کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام)“۔(احمد رضا خان)
”اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی بڑی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی“۔ (سید مودودی)
”اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”(اس واقعہ میں)ایک امتحان تھا تمہارے رب کی جانب سے بڑا بھاری“۔ (اشرف علی تھانوی)
(۲) وَإِذْ أَنْجَیْنَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ۔ (الاعراف: 141)
”اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے، تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا“۔ (احمد رضا خان)
”اور اس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی“۔ (سید مودودی)
”اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی“۔ (محمد جوناگڑھی، بالکل اسی مفہوم کی درج بالا آیت میں مہربانی ترجمہ کیا ہے۔)
”اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور اس (واقعہ) میں بڑی بھاری آزمائش تھی“۔ (اشرف علی تھانوی)
(۳) فَلَمْ تَقْتُلُوہُمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ قَتَلَہُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللَّہَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْہُ بَلَاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ۔ (الانفال: 17)
”تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے“۔ (احمد رضا خان)
”اور کیا چاہتا تھا ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)
”(اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے“۔ (سید مودودی)
”بلکہ اللہ نے پھینکی کہ (اللہ اپنی شانیں دکھائے) اور اپنی طرف سے اہل ایمان کے جوہر نمایاں کرے“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے“۔(اشرف علی تھانوی)
(۴) وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ أَنْجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاءَکُمْ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ۔ (ابراہیم: 6)
”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا“۔ (احمد رضا خان)
”اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی بڑی“۔ (شاہ عبدالقادر)
”اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی“۔ (سید مودودی)
”اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور بے شک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑا امتحان تھا“۔(اشرف علی تھانوی)
(۵) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِینِ۔ وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَاإِبْرَاہِیمُ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ۔ إِنَّ هَذَا لَہُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِینُ۔ (الصافات: 103 - 106)
”جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا۔ تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم۔ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”بے شک یہی ہے صریح جانچنا“۔(شاہ عبدالقادر، سب جگہ انعام اور مدد وغیرہ ترجمہ کیا مگر یہاں جانچنا یعنی آزمائش ترجمہ کردیا)
”یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی“۔ (سید مودودی)
”بیشک یہ روشن جانچ تھی“۔ (احمد رضا خان)
”درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا“۔ (حمد جوناگڑھی)
”بے شک یہ کھلا ہوا امتحان تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”حقیقت میں یہ تھا بڑا امتحان“۔ (اشرف علی تھانوی)
(۶) وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إِسْرَاءِیلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِینِ۔ مِنْ فِرْعَوْنَ إِنَّہُ کَانَ عَالِیًا مِنَ الْمُسْرِفِینَ۔ وَلَقَدِ اخْتَرْنَاہُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعَالَمِینَ۔ وَآتَیْنَاہُمْ مِنَ الْآیَاتِ مَا فِیهِ بَلَاءٌ مُبِینٌ۔ (الدخان: 30 - 33)
”اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔ (یعنی) فرعون سے۔ بیشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)
”اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی“۔ (سید مودودی)
”ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا“۔ (احمد رضا خان)
”اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی“۔ (محمد جوناگڑھی)
”اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)
”اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا“۔(اشرف علی تھانوی، اکثر جگہ آزمائش ترجمہ کیا، مگر یہاں انعام ترجمہ کردیا)
(417) لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ کا ترجمہ
وَجَعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ۔ (ابراہیم: 30)
”اور اللہ کے کچھ ہم سر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں“۔ (سید مودودی)
اس ترجمہ میں کم زوری ہے۔ یہ مفہوم درست نہیں لگتا ہے کہ مشرکین ہم سر تجویز کریں اور وہ تجویز کیے ہوئے ہم سر ان تجویز کرنے والے مشرکوں کو بہکائیں۔ مفہوم بالکل واضح ہے کہ شرک کے پیشوا اللہ کے ہم سر تجویز کرتے ہیں اور اس طرح وہ پیشوا عام لوگوں کو گم راہ کرنا چاہتے ہیں۔ درج ذیل ترجمہ درست ہے:
”انہوں نے اللہ کے ہم سر بنالیے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“۔(محمد جوناگڑھی)
(جاری)
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۵)
سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن
جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مطیع سید:ایک عورت آئی اور مرگی کی تکلیف کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے شفا یابی کی دعا فرمائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ مرگی پر صبر کرے تو اس پر اسے جنت ملے گی۔1 کیا اس وقت مرگی کا کوئی علاج نہیں تھا؟
عمار ناصر:علاج کا تو علم نہیں، لیکن وہ خاتون تو دعا کے لیے آئی تھی۔
مطیع سید :آپ ﷺ نے اسے علاج کروانے کا نہیں فرمایا؟
عمار ناصر:ہر موقع ہر طرح کی بات کہنے کا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے، وہ علاج کروا رہی ہو یا ہو سکتا ہے، کوئی طبیب میسر نہ ہو۔ آپﷺ کے پاس وہ جس مقصد کے لیے آئی، اس میں آپ ﷺ اس کو ایک پہلو کی طرف راہنمائی فرمارہے ہیں کہ اگر وہ تکلیف پر صبر کرے تو اس کا اجر ملے گا۔ اس طرح کی تجویز مخاطب کے احوال کے لحاظ سے دی جاتی ہے۔ شاید کوئی اور ہوتا اور آپ یہ محسوس فرماتے کہ اس کے لیے تکلیف برداشت کرنا مشکل ہے تو اس کے لیے دعا فرما دیتے۔ اس خاتون میں آپ نے ایمان اور صبر کی ایسی حالت محسوس فرمائی کہ اسے بیماری کو برداشت کرنے کا مشورہ دینا زیادہ مناسب سمجھا۔
مطیع سید:بری نظر لگنے کی کیا حقیقت ہے؟2 کچھ لوگ نظر لگنے کی بات کو توہم سمجھتے ہیں۔
عمار ناصر:اس کا مطلب ہے، نظر میں ایسی تاثیر جس سے دوسرے انسان کو کوئی جسمانی نقصان پہنچے۔ عام طور پر تو اس کی تاثیر مانی ہی جاتی ہے۔ معتزلہ کے متعلق عموماً گمان کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی چیزوں پر سوال اٹھاتے ہوں گے، لیکن جاحظ نے کتاب الحیوان میں نظر لگنے کا واضح دفاع کیا ہے۔
مطیع سید: آپﷺ نے فرمایاکہ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔3 کیا اس دو ر میں ایسی کوئی بیماری نہیں تھی؟
عمار ناصر:اس موضوع سے متعلق دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ایک روایت میں ہے،لاعدوی ولا طیرۃ۔ لا طیرۃ تو واضح ہے کہ بدشگونی کوئی چیز نہیں ہوتی۔لا عدوی کے بارے میں شارحین کہتے ہیں کہ متعدی مرض کے بارے میں لوگوں میں جوتصور رائج تھا،اس نے توہم کی شکل اختیار کرلی تھی۔ حدیث میں اس کی نفی مقصود ہے، مطلقاً بیماری کے متعدی ہونے کی نفی مقصود نہیں۔بہرحال روایتیں بظاہر متعارض ہیں۔بعض میں لگتا ہے کہ آپﷺ واقعتاً نفی کررہے ہیں،لیکن دوسری روایات میں اس کا اثبات ہے۔ بعض محدثین اس میں ترجیح کا اصول استعمال کرتے ہیں، بعض تطبیق کی کوشش کرتےہیں۔ اس میں دو تین توجیہیں ہیں۔ شرح نخبۃ الفکر میں ابن حجر نے یہی احادیث تعارض کی مثال کے طور پر بیان کی ہیں۔
مطیع سید: ایک حدیث میں ہے کہ مکھی اگر کسی مشروب میں جا گرے تو اسے پورا ڈبو کر باہر نکالا جائے، کیونکہ اس کے ایک پر میں اگر بیماری ہوتی ہے تو دوسرے پر میں اس کی شفا ہوتی ہے۔4 یہ کوئی اس دور کی خاص مکھی تھی یا ایک کلی حکم ہے؟
عمار ناصر: جی، یہ حدیث معترضین کی طرف سے کافی محل اعتراض رہی ہے۔ بہرحال جدید سائنس میں اس نوعیت کی کچھ تحقیقات کا ذکر تو ملتا ہے کہ کیا مکھی کے پروں کو مائیکروب کشی کے قدرتی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ممکن ہے، ان سے زیربحث حدیث کا مفہوم واضح کرنے میں کچھ مدد ملتی ہو۔ البتہ اصولی بات یہ ہے کہ اس طرح کی کسی بات کو ہم کلیت پر محمول نہیں کر سکتے۔ یعنی اس سے یہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ دنیاکی ہر مکھی میں یہی صفت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ عجوہ والی روایت میں ہم نے دیکھا کہ مدینہ کی خاص عجوہ کھجوروں کے متعلق بات کہی گئی ہے۔ اس طرح کی کسی چیز کو کلی کہنا بڑا مشکل ہے۔
مطیع سید:کلالہ کے بارے میں حضرت عمر کیا فیصلہ کرنا چاہتے تھے؟5 وہ اس مسئلے کو کیوں اتنی اہمیت دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں اس پر اتنا اصرار کرتے تھے؟
عمار ناصر: حضرت عمر ایک منتظم کا مزاج رکھتے تھے جس کی حدیث میں بھی تعریف آئی ہے کہ عمر کے دور حکومت میں مسلمانوں کے معاملات کا جتنا بہترین انتظام ہوگا، دوسرے کسی دور میں نہیں ہوگا۔ اسی پہلو سے حضرت عمر کے ہاں ایک نمایاں رجحان یہ بھی تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ سارے اہم مسائل کے بارے میں شریعت میں واضح اور حتمی فیصلہ کر دیا جائے تاکہ بعد میں لو گ اس معاملے میں الجھن اور اختلاف میں نہ پڑیں۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ کئی اجتہادی مسائل میں بھی انھوں نے اپنے عہد حکومت میں کوشش کی کہ صحابہ کے مابین جو اختلاف ہے، اس کو اتفاق میں تبدیل کر دیں۔ مثلاً جنازے کی تکبیرات اور بغیر انزال کے غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں، ان مسائل میں انھوں نے صحابہ کے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
اس روایت میں کلالہ سے متعلق بھی وہ اپنے اسی رجحان کا ذکر کر رہے ہیں کہ میری خواہش اور کوشش تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وراثت میں کلالہ رشتہ داروں کے حصے بھی واضح فرما دیں اور سود کی جو بعض مشتبہ شکلیں ہیں، ان کا حکم بھی بیان فرما دیں۔ قرآن مجید نے کلالہ رشتہ داروں میں سے بہن بھائیوں کے حصے تو بیان فرمائے ہیں، لیکن ان کے علاوہ بھی کلالہ رشتے دار ہو سکتے ہیں۔ حضرت عمر چاہتے تھے کہ ان کے متعلق بھی واضح ہدایات دے دی جائیں، لیکن نبی ﷺ نے اس سے گریز کیا اور فرمایا کہ آیۃ الصیف یعنی سورہ مائدہ کی آخری آیت کافی ہے جس میں بہن بھائیوں کے حصے بتائے گئے ہیں۔ آپ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن رشتہ داروں کے حصے بیان فرمائے ہیں، انھی پر اکتفا کی جائے۔
مطیع سید: کلالہ کے علاوہ دادا کے حصے اور سود کے بارے میں بھی حضرت عمر یہی بات فرماتے تھے۔6
عمار ناصر: جی، یہ بھی اسی نوعیت کے مسائل تھے۔ اگر باپ موجود ہے تو ظاہر ہے، دادا کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ لیکن اگر باپ نہیں ہے اور دادا زندہ ہے تواس کا حصہ کیا ہوگا؟ کیا وہ باپ کا قائم مقام ہے؟یا وہ وراثت میں حصہ دار نہیں ہوگا؟ یا اس کو شریک کرنے کا کوئی اور اصول ہوگا؟ تو یہ کچھ تفصیلی شکلیں ہیں جو حضرت عمر کے ذہن میں تھیں اور وہ ان کا فیصلہ چاہتے تھے۔سود کا بھی یہی معاملہ تھا۔سود کی کچھ شکلیں توبہت واضح ہیں،کچھ ایسی ہیں جن میں ایک پہلو سے سود کے ساتھ اشتباہ پایا جاتا ہے اور ایک لحاظ سے نہیں پایا جاتا۔ تو حضرت عمر چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کا بھی واضح حکم بیان فرما دیں۔
مطیع سید: ایک روایت ہے کہ جو شخص مال چھوڑے گا، وہ تو اس کے ورثا کا ہے لیکن اگر قرض چھوڑ کر جائے تو وہ ہ ہمارے ذمے ہے۔7
عمار ناصر: یہ بات نبیﷺ نے بطور صاحبِ امر کے بیان فرمائی ہے کہ ایسے شخص کے قرض کی ادائیگی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
مطیع سید: اصول تو یہ ہے کہ جو شخص مال چھوڑکر جا تا ہے، سب سے پہلے اس کا قرض اتار ا جا تا ہے۔ پھر جو بچ جائے، وہ ورثا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔لیکن یہاں ایسے لگ رہا ہے کہ قرض کی ساری ذمہ داری ریاست لے رہی ہے۔
عمار ناصر:اگر مرنے والا ما ل چھوڑ کر گیا ہے اور اس کے ذمے کوئی قرض ہے تو اس میں ریاست نہیں آئے گی۔لیکن اگر وہ مر گیا اور کچھ بھی نہیں چھوڑ کر گیا اور اس پر قرض ہے تو تب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس میں یہ مضمر ہے کہ اس کے وارث بھی اس قرض کو اتارنے کے متحمل نہیں ہیں یا وارثوں میں کوئی ہے ہی نہیں جو اس ذمہ داری کو اٹھا ئے۔یہ ساری قیود اس کے اند رشامل ہیں۔
مطیع سید: ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ کوئی شخص تین راتیں ایسی نہ گزارے کہ وہ مال کے بار ےمیں جو وصیت کر نا چاہتا ہے، اس کو لکھوا نہ دیا ہو۔8 کیا یہ روایت وراثت کے حصے متعین ہونے سے پہلے کی ہے؟
عمار ناصر: نہیں،اس تخصیص کی ضرورت نہیں۔ ایک دائرے میں وصیت کا حق اب بھی ہے جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی تک وصیت کرنی چاہیے۔اگر آدمی کے ذہن میں کچھ چیزیں ہیں جن کی وہ وصیت کرنا چاہتا ہے تو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لکھوا دینی چاہیے۔ موت کا چونکہ کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے تین دن سے زیادہ وصیت لکھوانے میں سستی نہیں ہونی چاہیے۔
مطیع سید:ایصالِ ثواب کے مسئلے میں احادیث میں تو صدقہ کا ذکر آیا ہے9 لیکن قرآن ِ مجید پڑھنا یا دوسرے اعمال کا ثواب پہنچانا،کیا اس کو صدقے سے ہی اخذ کیا گیا ہے؟
عمار ناصر: جی، باقی اعمال کو صدقے پر ہی قیاس کیا جاتا ہے۔اس میں فقہا کا کچھ اختلاف بھی ہے۔ شوافع کے نزدیک قرآن کی تلاوت کا ایصال ثواب نہیں کیا جا سکتا، صرف انھی اعمال کا کیا جا سکتا ہے جن کا حدیث سے ثبوت ملتا ہے، مثلاً صدقہ اور نفلی حج وغیرہ۔ دیگر فقہاء اس میں قیاس کے قائل ہیں اور تمام اعمال خیر کے ایصال ثواب کو درست مانتے ہیں۔
مطیع سید: واقعہ قرطاس10 کے حوالےسے عام طو رپر یہ تاویل کی جاتی ہے کہ آپﷺ دین کی ہی کچھ اہم باتیں بیان فرما نا چاہ رہے تھے۔مجھے یہ تاویل اطمینا ن بخش نہیں لگتی۔
عمار ناصر: واقعے کا سیاق تو واضح ہے کہ آپﷺ چاہتے بھی یہ تھے اور آپ نے بعض ایسے اقدامات بھی کیے اور آپ کو عمومی اعتما د بھی تھا کہ میرےبعد مسلمان ابو بکر ہی کو چنیں گے۔ تو عموماً آپ یہی چاہ رہے تھے کہ اس معاملے میں کوئی حکم نہ دیں، بلکہ مسلمانوں پر ہی اس کو چھوڑ دیں۔لیکن کسی وقت آپﷺ کے دل میں یہ خواہش بھی پیداہوتی تھی کہ میں اس کو لکھوا دوں تاکہ کوئی نزاع نہ پیداہو۔یہ بعض اوقات میں ایک وقتی کیفیت ہوتی تھی جس پر آپ نے عمل نہیں فرمایا۔
مطیع سید: اس کے بعد بھی نبیﷺ زندہ رہے ہیں لیکن آپ نے کچھ نہیں لکھوایا۔ حضرت عباس بڑا افسوس کر تے تھے کہ کا ش آپﷺ لکھوا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
عمار ناصر: دیکھیں، دونوں ہی پہلو تھے۔حضرت عمر کے سامنے ایک پہلوتھا۔ اگر جانشینی کی وصیت لکھوائی جاتی تو اس فیصلے کے بہت سے مضمرات ہوتے۔اگر آپﷺ کسی کو نامزد کر کے جاتے،تو اس سے آگے جو روایت بنتی اور جو تصورات پیداہوتے،وہ اور طرح کے ہوتے۔ آپﷺ اس کو امت پر چھوڑ کرچلے گئے تو ظاہر ہے کہ اس کے مضمرات دوسرے تھے۔دونوں ہی پہلو تھے۔ حضرت عمر کےسامنے ایک پہلو تھا، حضرت عباس دوسرے پہلو کو دیکھ رہے تھے۔
مطیع سید:آپﷺ بیمار تھے اور حضرت عائشہ کے پاس تھے۔آپ نے فرمایاکہ ابوبکر کے پاس کسی کو بھیجو تاکہ میں ان کو وصیت کر دوں۔ کیا یہ وصیت خلافت کے حوالے سے تھی؟
عمار صاحب: تعیین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ ممکن ہے، خلافت کا مسئلہ ذہن میں ہو۔ ممکن ہے، کچھ اور اہم امور کے حوالے سے وصیت فرمانا چاہتے ہوں۔
مطیع سید: آپﷺ نے فرمایا کہ نذر ماننےسے کوئی چیز نہیں ٹلتی۔11 نذر ماننا تو صدیوں سے چلاآرہا ہے اور کتب ِ حدیث میں نذر کے باقاعدہ ابواب ہیں،تو کیا اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا؟
عمار ناصر: دو پہلو ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ کسی کام کی منت مانیں تو کیا اس کی روشنی میں اللہ تعالیٰ اپنے تقدیری فیصلوں کو تبدیل کر دیتے ہیں؟ ایک یہ پہلو ہے۔دوسرایہ کہ منت ماننا اور اس کے مطابق کوئی مقصد پورا ہو جائے تو منت کو پوراکرنا، کیا یہ شریعت میں غیر مستحسن چیز ہے؟ تو حدیث میں یہ دوسری بات مرا د نہیں ہے۔قرآن بھی کہتا ہے کہ یوفون بالنذر، یعنی اہل ایمان جو منت مانتے ہیں، ا س کو پورا کرتے ہیں۔اس طرح کی حدیثوں میں یہ بھی مسئلہ ہوتا ہےکہ بعض دفعہ تبصرہ بڑا عمومی سا لگ رہا ہوتا ہے لیکن اصل میں وہ کسی خاص واقعے پر ہوتا ہے۔اس لیے حدیثوں میں تعبیر وتشریح کی بڑی گنجائش رہتی ہے کہ آپ ﷺ عمومی طور پر منت ماننے کے عمل کے بارے میں فرما رہے تھے یاکسی واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے،کسی خاص سیاق میں یہ بات کہہ رہے تھے جس کی کوئی خاص وجہ تھی۔
مطیع سید:حالت ِ کفر میں اگر کوئی نذر مانی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ پوری کی جائے۔12
عمار ناصر: جی، اگر وہ پوری کرے گا تو اسے ثواب مل جائے گا۔
مطیع سید: میرے خیال میں احناف اس کے قائل نہیں ہیں۔
عمار ناصر:نہیں وہ اور بحث ہے۔وہ بحث یہ ہے کہ کیا کفر کی حالت میں جو منت مانی تھی،اسلام لانے کے بعد اس کو پورا کرنا آدمی کے ذمے قانوناً لازم ہے؟ احناف کہتے ہیں کہ وہ لازم نہیں ہے۔ اس میں احناف کے موقف میں ایک وزن ہے، لیکن وہ ایک فقہی بحث ہے۔یہاں جو مسئلہ حدیث میں بیان ہوا ہے، اس میں آپﷺ فقہی وجوب بیان نہیں فرما رہے۔آپ فرما رہے ہیں کہ جو منت مانی تھی، وہ کوئی غلط کام تو نہیں ہے،اس لیے اس کو پورا کرو گے تو اللہ اجر دے گا۔
مطیع سید: حضرت موسی ؑ موت کے فرشتے کو مکا مار دیتے ہیں۔13 اس کی عام توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ جلالی مزاج رکھتے تھے، لیکن پھر بھی یہ ہضم نہیں ہوتا کہ فرشتے کو مکا ہی مار دیا۔ اس سے حضرت موسی جیسے جلیل القدر پیغمبر کی شخصیت کی کیا تصویر بنتی ہے؟
عمار ناصر: اس واقعے کی ٹھیک ٹھیک صورت کیا تھی، اس کے متعلق یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ واقعے کے مطابق بظاہر حضرت موسیٰ نے فرشتے کے اچانک آ جانے کی وجہ سے اس کو مکا نہیں مارا، بلکہ وہ آپ کی روح قبض کرنا چاہتا تھا، اس پر اسے مکا مارا۔ فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے جا کر شکایت کی کہ حضرت موسیٰ اس وقت وفات کے لیے آمادہ نہیں، بلکہ دنیا میں مزید رہنا چاہتے ہیں۔ اشکال یہ بنتا ہے کہ روایت کے ظاہر کے مطابق آپ موت کے لیے تیار نہیں تھے اور پھر جب ان کو بتایا گیا کہ یہ کام آج ہو یا کئی ہزار سال کے بعد ہو، آخر مرناتو ہوگا تو انھوں نے اسی وقت رخصت ہونا قبول فرمایا۔ یہ کافی عجیب سی بات لگتی ہے۔ بظاہر یہ سنداً درست ہے اور امام بخاری نے اسے نقل کیا ہے، لیکن اس طرح کی بعض دیگر روایات کے متعلق جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں، بعض اکابر محدثین نے کہا ہے کہ چونکہ وہ اسرائیلی روایات بھی بیان کرتے تھے، اس لیے غالباً ایسی کوئی روایت ان کے شاگردوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی ہے۔
مطیع سید: حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں واقعہ آتا ہے کہ انہو ں نے فرمایا کہ میں آج کی رات ۱۰۰ عورتوں کے پاس جاؤں گا اور ان سب کے پیٹ سے اللہ کی راہ کے مجاہد پیدا ہوں گے۔14 اس کے بارے میں آپ کے خیال میں کون سی توجیہ بہتر ہے؟
عمار ناصر: یہ روایت بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔اس پر بعض اشکا ل ایسے ہیں جو حل نہیں ہوتے۔
مطیع سید: بعض لوگ اسے معجزے کے پہلو سے دیکھتے ہیں، لیکن معجزہ تو عموما َ کسی دینی یا دعوتی ضرورت کے تحت رونما ہوتا ہے،یعنی قوم پر اتمام ِ ججت کے لیے ہوتا ہے۔اگر یہ کوئی معجزہ تھا تو اس کا حضرت سلیمان علیہ السلام کی نبوت سے کیا تعلق تھا؟
عمار ناصر:یہ تو معجزے کا ایک عام مفہوم ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی انبیا ؑ کے لیے اگر اللہ تعالیٰ کچھ غیر معمولی واقعات ظاہر فرما دیں تو ان کو بھی دینی اصطلاح میں معجزہ کہہ سکتے ہیں۔اس کا اُس دینی مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہے،لیکن اپنے پیغمبر کی تکریم وتشریف کے لیے بھی اللہ تعالیٰ معجزہ رونما کر سکتے ہیں۔ مثلا َ حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے غیر معمولی مردانہ طاقت دے دی ہو جیسے ان کو حکومت واقتدار کی بعض صورتیں اور شکوہ وجلال کے بعض پہلو ان کی خواہش پر دیے گئے،تو اس طر ح کی کوئی چیز دے دی ہو تو یہ کوئی بعید بات نہیں ہے۔ اگر حضرت سلیمان ؑ نے کسی موقع پر اس طاقت کا اظہار کرنا چاہا ہو تو اس واقعے کا ایک تناظر بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ سوالات پھر بھی باقی رہتے ہیں۔
مطیع سید:قرآن مجید میں ایک جسم کا ذکر ہے جسے حضرت سلیمان کی کرسی پر ڈال دیا گیا۔ مفسرین عموما َاسی ضمن میں یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں ناقص الخلقت بچے کی پیدائش ہوئی۔ کیا وہ اسی واقعے سے متعلق ہے؟
عمار ناصر: نہیں، قرآن کا سیاق تو اس واقعے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔لیکن اس میں کس واقعے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیلات کیا تھیں،ہم حتمی طورپر کچھ نہیں کہہ سکتے۔
مطیع سید:تو پھر اس کی وضاحت کیا کی جائے؟ وہ کیسا جسم تھا جو ان کی کرسی پر ڈال دیا گیا؟
عمار ناصر: یہ قرآن کے ان مقامات میں سے ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے واقعے کا جو پس منظر ہے، اس کا ذکر کیے بغیر بس ایک اشارہ سا کردیا ہے۔ایسے تمام مقامات پر ظاہر ہے، قرآن اولین مخاطبین کے پاس جو واقعے کا عمومی علم موجود ہے، اس پر ا نحصار کر رہا ہوتا ہے۔جیسے حضرت ایوب کے واقعہ میں کہا گیا کہ ایک جھاڑولیں اور بیوی کو مار دیں تاکہ قسم پوری ہو جائے۔ اب اس کا پس منظر کیا ہے،وہ قرآن نے نہیں بتایا۔
مطیع سید: اس کی تفصیل نبیﷺ نے حدیث میں بیان فرمائی ہے یا اسرائیلیات سے اس کی وضاحت کی جاتی ہے؟
عمار ناصر : مجھے جہاں تک مستحضر ہے، اس واقعے سے متعلق کوئی مستند حدیثیں موجود نہیں ہیں۔
مطیع سید: آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط ؑ پر رحم کر ے، ان کو تو ایک مضبوط سہارا حاصل تھا۔15 یہ نبی ﷺ نے ان کے بارے میں منفی مفہوم میں فرمایا یا مثبت مفہوم میں؟
عمار ناصر:بظاہر منفی تبصرہ لگتا ہے۔مطلب یہ کہ مشکل صورت حال میں انہیں اس طرف توجہ نہیں رہی کہ مجھے تو اللہ کا سہارا حاصل ہے اور ان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی ظاہری سہارا مثلاً کسی مضبوط جتھے یا کنبے کی حمایت انھیں حاصل ہوتی تو قوم انھیں اذیت نہ پہنچا سکتی۔
مطیع سید: آپ ﷺ کو بیماری کی حالت میں گھر سے مسجد تک لے جایا گیا۔ آپ کو سہارا دینے والے ایک حضرت عباس تھے اور دوسری طرف حضرت علی تھے۔ حضر ت عائشہ نے روایت بیان کرتے ہوئے حضرت عباس کا نا م لیا، لیکن حضرت علی کا نا م نہیں لیا۔16 ان کا نام نہ لینے کی کیا وجہ تھی؟ کیا شروع سے ہی ان کا آپس میں کچھ اختلاف تھا؟
عمار ناصر: شارحین بعض روایات کی روشنی میں قیاس کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ پر واقعہ افک میں جو الزام لگایا گیا تھا، اس موقع پر حضرت علی سے جب حضور ﷺ نے ان کی رائے پوچھی تو انھوں نے کہا کہ اللہ نے آپ کے لیے اور بڑی عورتیں رکھی ہیں۔ اشارہ یہ تھا کہ ایک مشکوک معاملے میں اگر آپ علیحدگی اختیار کر لیں تو بہتر ہے۔ شاید اس وجہ سے حضرت عائشہ کے دل میں ایک رنجش ہو۔ ظاہرہے، وہ فطری طور پر حساس تھیں کہ اس موقع پر کس نے ان کے متعلق کیا کہا۔
مطیع سید: ایک موقع پر نبی ﷺ نے اپنی ازواج کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ تم انھی عورتوں جیسی ہو جن سے حضرت یوسف کو واسطہ پڑا تھا۔17 یہ کس حوالے سے نبی ﷺ نے تشبیہ دی؟
عمار ناصر: مراد یہ تھی کہ جیسے ان عورتوں نے مکر کیا یا تدبیر کی، اسی طرح تم بھی میری بات نہیں مان رہی اور دوسری طرف بات کو لے کر جارہی ہو۔مبالغے میں آپ ڈانٹ رہے ہوں تو اس میں تشبیہ اتنی مقصود نہیں ہوتی جتنا غصے کا اظہار ہو تا ہے۔
مطیع سید: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے آپ کو بہت سی چیزیں بتائیں کہ میرے قبیلے کے لوگ توہم بھی کرتےہیں،کہانت بھی کرتے ہیں اور کچھ لکیریں بھی کھینچتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں، اللہ کے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھےتو جس کی لکیر ان کے موافق ہو، وہ ٹھیک ہے۔18 یہ کون ساعلم تھا؟
عمار ناصر:اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بظاہر رمل اور جفر یا کوئی زائچے بنانے جیسا علم لگتا ہے۔
مطیع سید: یہ اب موجود نہیں؟
عمار ناصر: کچھ نہیں کہا جاسکتا۔اس وقت بھی حضورﷺ نے کہا کہ اس علم کی اصل تو ہے۔ لیکن یہ اب لوگوں کے پاس کتنا اس اصل کے مطابق ہےاور کتنا اس کے خلاف ہے، اس کی تصدیق کسی مستند ذریعے سے نہیں کی جا سکتی۔
مطیع سید: آج ہم زائچے کی مدد سے کسی کے مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ ایک نبی کو اس کی کیا ضرورت ہو سکتی تھی؟ وحی کا سلسلہ موجود تھا۔وہ اللہ تعالیٰ سے براہ ِ راست پو چھ سکتے تھے؟
عمار ناصر: ایسا تو نہیں ہے کہ نبی کو کسبی چیزوں سے دلچسپی نہیں ہوسکتی یا اسے سب کچھ جو بھی بتایا جاتا ہے، وہ وحی سے ہی بتایا جاتا ہے۔انبیا کی کسبی چیزیں بھی ہو سکتی ہے۔بہت سی چیزیں وہ تجربات سے اور اس طرح کے ذرائع سے بھی سیکھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وحی کا موضوع اس طرح کی چیزیں نہیں ہوتیں۔وحی تو اللہ تعالیٰ اور مقصد کے لیے نازل فرماتے ہیں۔
حواشی
- صحیح البخاری، کتاب المرضی، باب فضل من يصرع من الريح، رقم الحدیث : 5652، ص :1433
- صحیح البخاری، کتاب الطب، باب العین حق، رقم الحدیث : 5740، ص :1451
- صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الجذام، رقم الحدیث : 5707، ص :1445
- صحیح البخاری، کتاب الطب، باب اذا وقع الذباب فی الاناء، رقم الحدیث : 5782، ص :1459
- صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب نہی من اكل ثوم او بصلا او كراثا او نحوها، رقم الحدیث : 567، جلد:1،ص :396
- صحیح مسلم، كتاب التفسیر، باب فی نزول تحريم الخمر، رقم الحدیث : 3032، جلد:4،ص :2322
- صحیح مسلم، كتاب الفرائض، باب من ترك مالا فلورثتہ، رقم الحدیث : 1619، جلد:3،ص :1237
- صحیح مسلم، كتاب الوصیۃ، رقم الحدیث : 1627، جلد:3،ص :1250
- صحیح مسلم، كتاب الوصیۃ، باب وصول ثواب الصدقات الى الميت، رقم الحدیث : 1630، جلد:3،ص :1254
- صحیح مسلم، كتاب الوصیۃ، باب ترك الوصيۃ لمن ليس لہ شيء يوصی فيہ، رقم الحدیث : 1637، جلد:3،ص :1259
- صحیح مسلم، كتاب النذر، باب النہی عن النذر وانہ لا يرد شيئا، رقم الحدیث : 1639، جلد:3،ص :1260
- صحیح مسلم، كتاب الایمان، باب نذر الكافروما يفعل فيہ اذا اسلم، رقم الحدیث : 1656، جلد:3،ص :1277
- صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب من احب الدفن فی الارض المقدسۃ او نحوہا، رقم الحدیث : 1339، ص : 375
- صحیح مسلم، كتاب الایمان، باب الاستثناء، رقم الحدیث : 1654، جلد:3،ص :1275
- صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول الله تعالى لقد كان فی يوسف واخوتہ آيات للسائلين، رقم الحدیث : 3387، ص :866
- صحیح البخاری، كتاب الہبۃ وفضلها، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ، رقم الحدیث : 2588، ص :666
- صحیح البخاری، كتاب الاذان، باب حد المريض ان يشهد الجماعۃ، رقم الحدیث : 664، ص :226
- صحیح مسلم،كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحريم الكلام فی الصلاةونسخ ما كان من اباحۃ، رقم الحدیث : 537، جلد:1،ص :381
(جاری)
دعوت وارشاد کے دائرے اور عصری تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۳۱ مئی ۲۰۲۳ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ’’التخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کی افتتاحی کلاس سے گفتگو)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دعوت سے مراد دعوتِ دین اور ارشاد کا معنیٰ ہے رہنمائی۔ دعوت کا دائرہ پوری انسانیت ہے اور ارشاد کا دائرہ امتِ مسلمہ ہے۔ ایک ہے غیر مسلموں کو دین میں داخل ہونے کی دعوت دینا، اور ایک ہے مسلمانوں کو دین کی طرف واپس آنے کی دعوت دینا۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہماری تبلیغی جماعت مسلمانوں کو دین کی طرف واپس آنے کی دعوت دینے کا عمل کر رہی ہے۔ حضرت مولانا محمد الیاسؒ پر اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، وہ اس شعبے کے مجدد تھے، انہوں نے یہ طریقہ ایجاد کیا۔ تبلیغی جماعت کا سارا عمل امت کو دین کی طرف واپسی کی دعوت دینا ہے۔ مسلمان عموماً نماز بھی پڑھتے ہیں، روزہ بھی رکھتے ہیں، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امت بحیثیت امت دین پر قائم ہے، نہ عمل کے اعتبار سے، نہ تہذیب، ماحول اور طرز عمل کے لحاظ سے۔ چنانچہ تبلیغی جماعت کی دعوت امت کو دین کے ماحول کی طرف واپس لانے کی دعوت ہے۔
دعوت کا ایک دائرہ غیر مسلموں کو دین میں داخل ہونے کی دعوت دینے کا ہے، اس کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ مثال کے طور پر عرض کروں گا کہ قرآن مجید کا دائرہ خطاب ’’ھدًی للناس‘‘ ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’’یا ایہا الناس‘‘ کہہ کر خطاب کیا تھا۔ قرآن مجید نے نبی کریمؐ کے بارے میں واضح الفاظ میں فرمایا اور پوری صراحت کے ساتھ آپؐ سے کہلوایا ’’قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘ کہ میں پوری نسل انسانی کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ نسلِ انسانی کی موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو اس وقت دنیا کی آبادی آٹھ ارب کے قریب ہے۔ ان میں سے کلمہ پڑھنے والے کم و بیش دو ارب ہیں اور کلمہ نہ پڑھنے والے چھ ارب ہیں۔ ان چھ ارب انسانوں کو اللہ اور رسول سے متعارف کرانا، انہیں اسلام کی دعوت دینا، انہیں کلمہ اور دین سکھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ فرشتوں کا کام تو نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا فریضہ ہے۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جسے ہماری اصطلاح میں فرضِ کفایہ کہتے ہیں کہ کوئی ادا کر لے تو سب کی طرف سے ہو گیا، لیکن کوئی بھی نہ ادا کرے تو سب گنہگار قرار پاتے ہیں۔
میں اس حوالے سے عرض کیا کرتا ہوں کہ دنیا میں نسلِ انسانی کو دین کی دعوت دینے کا نظم ہمارے ہاں اجتماعی طور پر کہیں نہیں ہے۔ ہمارا سب سے بڑا نیٹ ورک تبلیغی جماعت کا ہے جو امت کو دین کی طرف واپسی کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا کام بہت اچھا اور بہت ضروری ہے لیکن ان کا دائرہ کار غیر مسلموں کو باقاعدہ اہتمام کر کے دین کی دعوت دینا نہیں ہے۔ میں اس کی مثال دوں گا۔ اس وقت دنیا میں نسلِ انسانی کا مذہب اسلام ہے۔ ہمارے علاوہ ایک اور مذہب پوری نسلِ انسانی کا دعویدار ہے اور وہ ہے عیسائیت۔ یہودیت نسلی دین ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے ہٹ کر بات نہیں کرتے، ہندو وطنی دین ہے اور وہ ہندوستان سے باہر کی بات نہیں کرتے۔ بدھ مت بھی وطنیت کے دائرے میں ہے۔ کوئی اور آدمی اپنے طور پر ہندو یا بدھ ہو جائے تو الگ بات ہے لیکن وہ دوسروں کو ہندو اور بدھ ہونے کی دعوت نہیں دیتے۔ یہودیوں کے ہاں یہودی ہونے کی دعوت کا کوئی نظام نہیں ہے۔ نسلِ انسانی کے حوالے سے یا مسلمان بات کرتے ہیں، یا عیسائی بات کرتے ہیں۔ دنیا میں دعوت کا نظم ہمارا یا عیسائیوں کا ہے۔ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ بنی اسرائیل کے نبی تھے، لیکن عیسائی کہتے ہیں کہ وہ نسلِ انسانی کے پیغمبر تھے۔ اس پر ہمارا مستقل مکالمہ رہتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں آپ کو عیسائیوں کے مشنری ادارے ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے۔ وہ ایشین، آسٹریلین، ہر ایک کو اپنا کلمہ پڑھاتے ہیں، بپتسمہ دیتے ہیں اور عیسائی بناتے ہیں۔
عیسائیوں کا مشن اور جدوجہد
چنانچہ یہ دعوٰی کہ ہم نے نسل انسانی کو اپنے مذہب میں لانا ہے، یہ ہمارا اور عیسائیوں دونوں کا ہے۔ جبکہ اجتماعی اور منظم محنت صرف عیسائیوں کی ہے، ہماری محنت اس سطح کی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں گروپوں میں دعوت ہے، عیسائیوں کے ہاں دعوت کا اجتماعی نظم ہے۔ ان کی مشنریاں پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، نائیجیریا ہر علاقے میں ہیں۔
- میں ان کی محنت کی ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ سوڈان افریقہ میں رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے۔ جنوبی سوڈان بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ آج سے پون صدی پہلے عیسائی مشنریوں نے جنوبی سوڈان کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ وہ ان بت پرستوں کو چالیس پچاس سال میں عیسائی بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ علاقے کی ایک بڑی تعداد عیسائی ہو گئی ہے تو بین الاقوامی ماحول کے مطابق اقوام متحدہ میں گئے، ریفرنڈم کروایا اور جنوبی سوڈان کو الگ کروا لیا۔ جنوبی سوڈان اس بنیاد پر شمالی سوڈان سے الگ ہوا ہے کہ یہ آبادی علیحدگی چاہتی ہے کیونکہ وہ عیسائی ہیں۔ سوڈان کی تقسیم ہمارے سامنے ہوئی ہے۔ جنوبی سوڈان میں پادریوں نے کیسے تبلیغ کی؟ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ انہوں نے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ یورپ، فرانس اور جرمنی کے پادریوں نے اپنے دین کے پھیلاؤ کے لیے وہاں سالہا سال سال محنت کی اور بالآخر جنوبی سوڈان کو سوڈان سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ میں نے ایک مثال دی ہے۔
- اس کی دوسری مثال انڈونیشیا کا جزیرہ تیمور ہے۔ اس کے ایک حصے کو بھی عیسائیوں نے ہدف بنایا، وہاں محنت کر کے عیسائی اکثریت پیدا کی، اور پھر ریفرنڈم کروا کے مشرقی تیمور کو مغربی تیمور سے علیحدہ کروا لیا جو کہ عیسائی ریاست ہے۔ یہ ہمارے سامنے کے حقائق ہیں پرانی باتیں نہیں ہیں۔
- پاکستان میں بھی جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرز کی عیسائی ریاست بنانے کا پروگرام آج سے تیس سال پہلے سامنے آیا تھا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے، ہم نے بھی ماہنامہ الشریعہ میں اسے شائع کیا تھا۔ ۱۹۹۵ء کے لگ بھگ ایسی رپورٹیں آئیں کہ پاکستان کے ایک حصے کو عیسائی ریاست بنانا ہے۔ پلاننگ کے مطابق ۲۰۲۵ء ٹارگٹ تھا۔ اس ریاست کا دائرہ بھی انہوں نے متعین کیا تھا۔ خانیوال سے سیالکوٹ تک کا سرحدی علاقہ ان کا ہدف تھا۔ جس کا دارالحکومت گوجرانوالہ ہونا تھا۔ انہوں نے جو ٹارگٹ طے کیے تھے، ان میں ایک یہ تھا کہ اس خطے میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آئیں گی، بگ فارمنگ کے نام سے یہاں کی زمینیں خریدیں گی کہ چھوٹے زمیندار مشینری استعمال نہیں کر سکتے، دو تین ہزار ایکڑ کا بڑا فارم ہو تو زراعت میں ترقی ہوگی۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زمین خریدیں گی جیسے یہودیوں نے فلسطین میں خریدی تھیں۔
ان کا دوسرا ٹارگٹ یہ تھا کہ اس خطے میں دو سو خالص مسیحی کالونیاں بنائی جائیں گی جہاں پر صرف مسیحی رہیں گے۔ چنانچہ اس کے مطابق کام شروع ہوا، مسیحی بستیاں بننی شروع ہوئیں۔ فرانسیس آباد، مریم آباد وغیرہ دو تین تو ہمارے گوجرانوالہ میں ہیں۔ کالونیاں بننا بھی شروع ہوگئیں اور زمینوں کے خریداری بھی شروع ہو گئی۔ رائیونڈ کے علاقے کی زمینوں کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ ایک دفعہ میرے پاس ایک شاگرد آیا اور کہنے لگا کہ استاذ جی ہماری لاٹری نکل آئی ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں آئی ہیں وہ زمین کی کئی گنا قیمت دے رہے ہیں۔ میں نے کہا بیڑا غرق ہونا شروع ہو گیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں تھا۔ زمینوں کا نظم چلانے والے ریونیو بورڈ کا ایک ممبر سپریم کورٹ میں چلا گیا اور درخواست دائر کی کہ ملک کی زمین غیر ملکیوں پر بیچنا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ نے سٹے لیا جس کی بنیاد پر آج تک رکاوٹ موجود ہے ۔ سپریم کورٹ کے بعض سٹے ایسے ہیں جن پر ہمیں بہت غصہ آتا ہے لیکن بعض سٹے ہمارے فائدے کے بھی ہیں۔ کام کرنے والے کام کرتے ہیں، ہماری طرح نہیں کرتے کہ نعرے لگائے اور گھر میں جا کر سو گئے۔ جب سپریم کورٹ نے سٹے دیا تو نئی سمری آئی کہ زمینیں نہ بیچو بلکہ سو سال کے لیے ٹھیکے پر دے دو۔ یعنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مالک نہ بناؤ لیکن لمبے عرصے کے لیے ان کو ٹھیکے پر زمینیں دے دو۔ لیکن اس میں عملی طور پر کیا فرق ہے؟ اس کی سمری بھی میز پر پڑی ہوئی ہے، ان شاء اللہ کوئی اچھا نتیجہ ہی سامنے آئے گا۔
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ جیسے عیسائی اپنے دین کی محنت کرتے ہیں، اس طرز کی ہماری کوئی محنت نہیں ہے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے گروپ محنت کر رہے ہیں۔ میں بعض گروپوں کو جانتا ہوں۔ ایک دفعہ شکاگو گیا، وہاں انڈیا کے ہمارے دوست سید امیر علی اور پاکستان کے ریاض وڑائچ تھے، انہوں نے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا گروپ بنایا ہوا تھا۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں نوے کی دہائی میں وہاں بہت دفعہ گیا، ان کے پروگرام اٹینڈ کیے۔ میں یہ بتا رہا ہوں کہ دعوت کے محاذ پر اس وقت ہمارا عالمی مقابلہ عیسائیوں سے ہے اور میں نے ان کی محنت کا انداز بھی بتایا ہے، جبکہ ہمارا حال کیا ہے وہ بھی عرض کیا ہے۔
آج کا اسلوب اور تقاضے
ایک دائرہ یہ ہے کہ آج کے دور میں دعوت و ارشاد کے تقاضے کیا ہیں؟ آج آپ کس زبان، کس اسلوب اور کس دائرے میں بات کریں گے؟ آج کی نفسیات کیا ہیں؟ آج کی ذہنی سطح کیا ہے؟ آج کی دنیا کو سمجھانے کے ہتھیار کیا ہیں؟ یہ کام ہمارے کرنے کا ہے اور ہم نہیں کر رہے، اب آہستہ آہستہ آہستہ احساس شروع ہوا ہے۔ ایک زمانہ مشاہدات کا تھا، پھر معقولات اور فلسفے کا زمانہ تھا۔ اب سائنس اور سماجیات کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا میں جب تک آپ لوگوں کے سماجی نفع کی بات نہیں کریں گے کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔ اس کو سوشیالوجی، سماجیات، ہیومینیٹی، ہیومن ازم کا دور کہتے ہیں۔ آج کی زبان اور اسلوب مختلف ہے۔ آج مشاہدات، تجربات، نفع، نقصان سماجیات کی زبان ہے۔ اس ماحول میں نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں، اشکالات جنم لے رہے ہیں۔ میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ آج کا نوجوان لڑکا یا لڑکی جو کالج کی حد تک پہنچ گیا ہے اور اس کے پاس دینی معلومات نہیں ہے تو اسے گمراہ سمجھ کر بات نہ کریں بلکہ نومسلم سمجھ کر بات کریں۔ ہم اس سے گفتگو کا آغاز ہی گمراہی کے فتوے سے کرتے ہیں، ہمیں بات کرنے سے پہلے نفسیات کو سمجھنا چاہیے۔ میں اس پر ایک حوالہ دوں گا۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دین کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ، رسالت اور قیامت کی بات کی، اس پر ملنے والے ثمرات کا تذکرہ کیا۔ لیکن جب ابوجہل نے آپؐ سے آپؐ کی دعوت کے بارے میں پوچھا کہ تو حضورؐ نے اسے جواب دیا کہ میں تمہیں ایسا کلمہ پیش کر رہا ہوں اگر اسے اپنا لو گے ’’تملک بہا العرب‘‘ تو عربوں کے بادشاہ بن جاؤ گے اور عجم تمہارے تابع ہوگا۔ اس پر میں کہا کرتا ہوں کہ حضورؐ نے ایک چودھری سے چودھریوں والی بات کی۔ اسی کلمے کی بنیاد پر مسلمان عرب کے بادشاہ بنے اور عجم ان کے تابع ہوا۔ لیکن یہ بات ابوجہل سے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے اس لہجے میں اس لیے بات کی کیونکہ وہ یہی زبان سمجھتا تھا۔ اس لیے ہمیں مخاطب کی زبان، اس کی ذہنی سطح اور نفسیات سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ آج کا ماحول کیا ہے، کون سی زبان اور اسلوب چلتا ہے، ہمیں اس کا ادراک ہونا چاہیے۔
شکوک و شبہات ہر زمانے میں رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے شبہات تھے مثلاً قرآن کریم کے بارے میں کہ ’’ان ہذا الا اساطیر الاولین‘‘ یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ’’ان ھذا الا اختلاق‘‘ یہ گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ ’’ھل انتم الا بشر مثلکم‘‘ تم ہمارے جیسے انسان ہو۔ یہ اعتراضات اس زمانے کی زبان میں ہیں۔ آج بھی آپ کو اعتراضات کی بھرمار اور شکوک و شبہات کا جنگل ملے گا۔ فرق یہ ہے کہ آج تکنیکی اور منظم کام ہے۔ آج کا گمراہ کرنے والا سمجھتا ہے کہ دس سال کے بچے کے ذہن میں کیا سوال ڈالنا ہے اور اَسی سال کے بوڑھے کے ذہن میں کیا اشکال ڈالنا ہے۔ کالج کے پروفیسر کے ذہن میں کیا سوال ڈالنا ہے اور بھٹی کے مزدور کے ذہن میں کیا سوال ڈالنا ہے۔ آپ کو جن شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہیں کس طرح ڈیل کریں گے؟ اگر آپ صفائی نہیں دیں گے تو کیا کریں گے؟ شکوک و شبہات کو دور کرنے کا ہمارا انداز کیا ہے؟ اگر ایک نوجوان کے ذہن میں شکوک و شبہات ہیں تو اگر میں فتوے سے کام شروع کروں تو اس کے اشکال کو دور کروں گا یا اسے مزید پکا کروں گا؟ اس کے ذہن میں جو شک ہے میں نے اس کی تیاری نہیں کی ہوئی تو اگر میں گول مول بات کروں گا تو اس کے شک کو اور پکا کر دوں گا۔ اس لیے اشکالات پہلے میرے علم میں ہونے چاہئیں، شکوک و شبہات پر خود تیاری کرنی چاہیے، پھر دوسرے سے بات کرنی چاہیے۔ یہ میں نے مختلف زاویے عرض کی ہیں کہ دعوت و ارشاد کے آج کے تقاضے کیا ہیں، دائرہ کار کیا ہے۔
میں ایک اور دائرہ عرض کر دیتا ہوں۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ فلاں کام بھی ہونا چاہیے، فلاں کام بھی ہونا چاہیے، اور پھر ہم سب کام کرنے لگ پڑتے ہیں۔ میں علماء کرام سے عرض کیا کرتا ہوں کہ ایک دائرہ یہ ہے کہ فلاں کام ہونا چاہیے، ٹھیک ہے اس کی ضرورت ہو گی، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس میں سے کتنا کام ہو سکتا ہے؟ ہمارا دھیان ’’ہونا چاہیے‘‘ پر ہوتا ہے، اس پر نہیں ہوتا کہ ’’کتنا ہو سکتا ہے‘‘۔ سو فیصد کے چکر میں ہم اس ستر فیصد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو کہ ہو سکتا ہے۔ پھر اس سے اگلا مرحلہ یہ دیکھنے کا ہے میں خود اس میں سے کتنا کام کر سکتا ہوں۔ اگر ہم کچھ منصوبہ بندی کر لیں کہ ایک کام کتنا ہو سکتا ہے اور میں اس میں کتنا حصہ ڈال سکتا ہوں، تو کام بہتر انداز سے ہو سکتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کی حجۃ اللہ البالغہ سے رہنمائی
آج کے دور میں دعوت و ارشاد کے حوالے سے یہ سب باتیں ہمارے دائرہ کار کی ہیں۔ دعوت و ارشاد کے دائرے میں ہم روایتی ماحول سے ہٹ کر بات کریں گے۔ سب سے پہلے ہماری بنیاد یہ ہوگی کہ آج کی سوشیالوجی کی زبان کیا ہے، سماجیات کی بنیاد کیا ہے، اور قرآن مجید کے احکام و قوانین کی سماجی تشریح کیا ہے؟ اس کے بعد نظام اور معاشرت کے حوالے سے ہماری بنیاد تو قرآن مجید، سنتِ رسول اور تعاملِ صحابہؓ بالخصوص خلافت راشدہ کا دور ہے۔ انہی میں قیامت تک کے لیے ہماری رہنمائی موجود ہے۔ لیکن آج کی زبان میں اس کی تعبیر و تشریح اور وضاحت میں ہمارے پاس کلاسیکل کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ ہے، ہم اس سے رہنمائی لینے کی کوشش کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’الفوز الکبیر‘‘ میں لکھا ہے کہ مخاطب کی ذہنی سطح پر بات کرنی چاہیے۔ مخاطبین کی ذہنی سطحیں مختلف ہوتی ہیں۔ آپؒ نے اس کی مثال یہ دی کہ اللہ تعالیٰ نے عام آدمی سے عام آدمی کی سطح پر بات کی ہے۔ قرآن مجید میں مکڑی، مکھی اور مچھر کی مثالیں دیں۔ زمین، آسمان، پہاڑ، اونٹ کو دیکھ کر ان میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی۔ یہ گراس لیول ہے۔ اگر اللہ تعالی اپنے لیول پر بات کرتے تو کسی کے پلے کچھ پڑتا؟ لیکن شاہ صاحبؒ نے ہمیں تو یہ سبق دیا ہے کہ مخاطب کی ذہنی سطح کو دیکھو جبکہ خود شاہ صاحبؒ چوتھے آسمان سے نیچے نہیں اترتے، ان کی اپنی زبان اور اصطلاحات کیا ہیں؟ بہرحال ہمارے پاس چونکہ سب سے بہتر اثاثہ وہی ہے اس لیے ہماری کوشش ہو گی کہ حجۃ اللہ البالغہ کے جتنے مباحث دعوت و ارشاد کے حوالے سے اور دین کی سماجی تعبیر و تشریح کے حوالے سے میسر ہیں، ان کا خلاصہ آسان لہجے میں پیش کر دیں۔
حسن و قبح کی کلامی جدلیات اور امام رازیؒ (۱)
مولانا محمد بھٹی
بیشتر انسانی افعال اخلاقی اقدار سے استناد کرتے ہیں لیکن یہ اقدار کس پہ تکیہ کرتی ہیں؟ اس سوال کو جواب آشنا کرنے کے لیے کی گئیں کاوشوں نے کئی ایک دبستانِ علم اور مکاتبِ فکر کو جنم دیا ہے۔ ہماری علمی روایت کی بیشتر مذہبی و علمی جدلیات کا محور و مدار بنا رہنے والا حسن و قبح کا مسئلہ بھی اسی سوال کے جواب کی ایک کوشش تھی۔یہ مسئلہ ان چند کلامی مسائل میں سے ایک ہے جن کی صراحی آج بھی معنویت سے لبالب ہے کیونکہ انسان کو ہر آن اقدار کا مسئلہ درپیش ہے۔جب تک انسان 'زندہ' ہے اقدار یا حسن و قبح کا سوال بھی زندہ ہے کیونکہ فطرتِ انسانی کے کلبلاتے اقتضاءات ہی اسے جانبر رکھے ہوئے ہیں۔ضرورتِ اقدار کی وساطت سے مسئلہ حسن و قبح کی انسان کے ساتھ پیہم چسپیدگی نے اس کی معنویت کو گویا جاوداں کر دیا ہے۔
کلامی روایت میں حسن و قبح کی بابت غیر معمولی موقف کے حامل اشعری دبستانِ علم کے نمائندہ علماء میں سے ایک بڑا نام ابو عبداللہ امام محمد بن عمر فخر الدین رازیؒ ہے۔ امام رازی کا شمار اشاعرہ کے چیدہ و چنیدہ جہابذۂِ علم میں ہوتا ہے۔آپ نے سن ۵۴۴ھ میں خطۂِ خراسان کے شہر "رے" کے ایک علمی خانوادے میں آنکھ کھولی اور ابتدائی تعلیم والد صاحب کے ہی سایۂ عاطفت میں حاصل کی۔تصنیف و تالیف کے میدان میں اترے تو قلم حق رقم کی علمی تابانی سے بڑے بڑے صاحبان علم و فضل کی آنکھوں کو چندھیا دیا۔امام صاحب کی قوتِ استدلال نے لوحِ علم پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔علوم اسلامیہ کو اصولی بنیادیں فراہم کرنے میں آپ کی کاوشیں بے مثل ہیں۔آپ نے جہاں اشعری علمِ کلام کو منضبط اور منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا وہیں قرآنِ حکیم کی مایہ ناز کلامی "تفسیر کبیر" سپرد قرطاس کر کے نصوص سے اس کی گہری وابستگی کو بھی معرض ظہور فراہم کیا۔اگر آپ کو مسلم علمی روایت کا دُرِّ فرید قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔کلام،تفسیر،فقہ،اصول فقہ،فلسفہ اور منطق،الغرض ہر مہم شعبۂِ علم آپ کی شمع فروزاں سے تابش حاصل کرتا ہے ۔آپ کے آثارِ خامہ سے ہلکا سا مس رکھنے والا بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ عبقریت آپ کے در کی دریوزہ گر اور ذہانت آپ کی باندی ہے ۔۶۰۶ھ میں آپ واصل بحق ہوئے اور اپنے ترکے میں علم و عرفان کی بے بہا دولت چھوڑ گئے جس سے آج بھی تشنگانِ علم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔حسن و قبح سے متعلق آپ کے حاصلاتِ فکر کی طرف پیش قدمی سے پیشتر بہتر ہوگا کہ بہ طورِ پس منظر،اخلاقی حسن و قبح کی بابت تینوں کلامی مکاتبِ فکر(معتزلی،اشعری اور ماتریدی) کے مواقف کو اختصاراً سپردِ قلم کر دیا جائے۔
پس منظر
دریں باب معتزلہ و ماتریدیہ کا موقف خاصی حد تک ملتا جلتاہے۔معتزلہ کا ماننا ہے کہ افعال کا حسن و قبح شرعی نہیں بلکہ ذاتی و عقلی ہے۔ذاتی بایں معنی کہ کسی فعل کے اچھا یا برا ہونے میں حکم شرعی کی کوئی اثر آفرینی نہیں ہے بلکہ کوئی بھی فعل حکم الہی کے نزول سے پیشتر اپنی ذات ہی میں برا یا بھلا ہوتا ہے۔اور عقلی بایں معنی کہ نزولِ شرع سے پیشتر ہی بذریعہ عقل ان افعال کے حسن و قبح کو حیطۂ ادراک میں لایا جا سکتا ہے۔گویا حکم شرعی کا وظیفہ پہلے سے موجود اور بذریعہ عقل معلوم حسن و قبح پر محض مہر تصدیق ثبت کرنا ہے،بہ الفاظِ دیگر،حسن و قبح حکمِ شرعی کا موجَب نہیں، مدلول ہے۔ہاں بعض افعال ایسے بھی ممکن ہیں کہ جن کا حسن و قبح تو اگرچہ نزولِ شرع سے پیشتر ہی ان کی ذات میں پیوست ہوتا ہے لیکن اس کا قطعی علم بذریعہ عقل ممکن نہیں ہوتا سو حکم شرعی اس پیشگی موجود مگر مخفی حسن و قبح سے پردہ اٹھاتا ہے۔
گزارش ہے کہ معتزلہ کا موقف دو گونہ جہات کا حامل ہے۔پہلی جہت وجودی(Ontological ) ہے اور وہ یہ کہ افعال کا حسن و قبح ذاتی،واقعی اور خانہ زاد ہے،جو اپنے 'ہونے' میں کسی خارجی عامل سے تاثر پذیر نہیں ہے۔بعد ازاں اس وجودی موقف کی تفصیل میں پیرایۂِ اظہار کا خفیف سا اختلاف پایا جاتا ہے۔قدماءِ معتزلہ کا ماننا ہے کہ یہ ذاتی حسن و قبح ان افعال کی ذات کا براہِ راست وصف ہے جبکہ قاضی عبدالجبار معتزلی(م:٤١٥ھ) اور ان کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ اچھائی یا برائی کسی صفت یا وجہِ عائد کی بنا پر ان افعال کی ذات میں پیوست ہوتی ہے۔عموماً اس کو معتزلہ کی دو الگ الگ وجودی حیثیات خیال کر لیا جاتا ہے،مگر ادنی تامل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس اختلاف کی نوعیت محض نزاعِ لفظی کی سی ہے، جوہری موقف ایک ہی ہے۔متقدمینِ معتزلہ جب یہ کہتے ہیں کہ حسن و قبح، افعال کا براہ راست وصف ہے تو وہ دراصل جنسِ فعل اور 'وجہِ عائد'(مثلاً کذب) میں تفریق کیے بنا وصف یا وجہ(کذب یا ظلم) کو ہی فعل گمان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قبح مثلاً 'فعلِ کذب' کا براہ راست وصف ہے،جبکہ متاخرین معتزلہ کا شیوۂِ بیان اس امتیاز پر استوار ہے کہ صدق و کذب اور ظلم و احسان وغیرہ ازخود فعل نہیں بلکہ جنسِ فعل کے 'اوصاف عائدہ' ہیں، تاہم فعل کو اکثر اوقات انہی اوصاف سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ان کے نزدیک حسن و قبح اولاً ان اوصاف یا وجوہ عائدہ کے ذاتی وصف بنتے ہیں، بعد ازاں ان کے توسط سے وہ فعل کا وصف قرار پاتے ہیں۔اسی موقف کو قاضی عبدالجبار معتزلی نے یوں قلمبند کیا ہے:
"اعلم ان الظلم لو قبح لجنسه لوجب أن يقبح كل ضرر و ألم، وفي علمنا بأن فيه ما يحسن دلالة علي فساد هذا القول۔"1
"جان لیجئے کہ اگر ظلم اپنی جنس کی وجہ سے برا ٹھہرے تو یہ لازم آئے گا کہ ہر ضرر اور الم برا ہے،حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض ضرر و الم اچھے بھی ہوتے ہیں۔ہماری یہ جانکاری اس قول کے فساد پر دلالت کناں ہے۔"
گزارش ہے کہ قدماءِ معتزلہ دراصل جنس فعل(مثلاً کلام) اور وصف عائد(مثلاً کذب) کو ایک ہی مالا میں پرو کر دونوں کو ایک اکائی خیال کرتے ہیں جبکہ متاخرین اس مالا کو توڑ کر ہر دو میں دوئی کا قول اختیار کرتے ہیں۔متاخرین کا ماننا ہے کہ کلام اور ضرر وغیرہ جنس فعل ہیں جو کسی صفتِ عائد کی وجہ سے اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی مثلاً ضرر اگر برحق ہو اور اس سے عدل کے تقاضے پورے ہوتے ہوں تو وہ اچھا ہے اور اگر ناحق یا بطور ظلم ہو تو برا ہے۔فعل اور وجہ عائد کا یہ فرق قاضی عبدالجبار کی اس عبارت سے بھی عیاں ہے جس میں وہ کلام کو بطور جنس فعل لیتے ہوئے عبث و کذب کو فعل کا وصف عائد ٹھہراتے ہیں:
"الکلام قد یقبح لانه عبث، وقد یقبح لانه امر بقبيح، ولانه نهي عن حسن، ولانه كذب ... الي آخرہ۔"2
"کلام کبھی تو عبث ہونے کی وجہ سے قبیح ٹھہرتا ہے،کبھی (ارتکابِ)قبیح کا حکم ہونے کی وجہ سے،کبھی فعلِ حسن سے روکنے کی وجہ سے اور کبھی کذب ہونے کی بنا پر ۔۔۔الخ۔"
وجودی موقف کے بنیادی اتفاق کے بعد اس سوال کے جواب میں معتزلہ دونیم ہو جاتے ہیں کہ آیا کسی امر مانع کی بنا پر فعلِ قبیح سے قبح کا تخلف جائز ہے یا نہیں؟ پہلا گروہ اخلاقی مطلقیت کو اختیار کرتے ہوئے اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ امر مانع کی وجہ سے فعلِ قبیح سے قبح کا حکم اٹھایا جا سکتا ہے۔قاضی عبدالجبار معتزلی نے "المغنی فی ابواب التوحید و العدل" میں یہی رائے اختیار کی ہے۔آپ کے مطابق اگر مثلاً دروغ گوئی یا ظلم رانی سے کسی ایسے نفع کا حصول یا ضرر کا دفعیہ مقصود ہو جو دروغ یا ظلم کے ضرر سے بڑا ہو تو ان افعال سے قبح کا حکم اٹھا لیا جائے گا۔3
موقفِ اعتزال کی دوسری جہت علمیاتی (epistemological ) ہے اور وہ یہ کہ اس ذاتی حسن و قبح کا عرفان بذریعہ عقل ہوتا ہے۔ پھر یہ عرفانِ عقلی یا تو علم ضروری کے طور پر ہوگا یا پھر اس کی نوعیت کسبی و استدلالی ہوگی۔ ہاں کچھ افعال و اشیاء ایسے بھی ممکن ہیں کہ جن کے حسن و قبح کے حضور عقل کی باریابی نہیں ہو پاتی سو شرع ان کا پردہ چاک کرتی ہے۔4مختصر یہ کہ معتزلہ حسن و قبح بابت معروضیت کے دعویدار اور اصولیاتی(Deontological) اخلاقیات کے قائل ہیں،بایں معنی کہ حسن و قبح اپنے وجود اور تعین میں نہ تو کسی خارجی قوت کے دست نگر ہیں اور نہ ہی کسی غایت و مآل سے انہیں کوئی سروکار ہے۔ نیز ظلم،احسان اور عدل جیسے 'اخلاقی' الفاظ افعال کی ذاتی و حقیقی خصوصیات کی طرف مشیر ہوتے ہیں۔مزید براں معتزلہ اپنے تصورِ حسن و قبح میں آفاقیت کی ایک لہر دوڑا کر اس کو انسان اور خدا ہر دو کے افعال پر حاکم بنا دیتے ہیں اور انسانی افعال کی طرح الہی افعال کو بھی اسی عدسے سے تاکتے اور اسی پیمانے سے ماپتے ہیں۔اسی تصور کا افعالِ الہیہ پر اطلاق کرتے ہوئے انہوں نے خدا کو مخصوص قسم کے 'عدل' اور 'اصلح للعباد' کا پابند ٹھہرایا اور قعرِ ضلالت میں جا گرے۔حسن و قبح کے اسی اصول کی رو سے قدرت و ارادہ الہیہ پر یوں حملہ آور ہوئے کہ خدا تعالی کے جو أفعال ان کے خودساختہ نظریۂِ 'عدل' اور 'اصلح للعباد' کے معیار پر پورے اترتے دکھائی نہیں دیتے، نہ صرف ان کو خدائی فعل ماننے سے انکار کر دیا بلکہ انہیں خدا کے ارادے اور قدرت سے ہی خارج قرار دے دیا۔اس تصور حسن و قبح سے معتزلہ نے دوسرا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ بغیر حکم ربی کے محض عقل سے معلوم شدہ حسن و قبح بھی مدار تکلیف ہے اور وجوہ حسن و قبح بذاتِ خود علتِ موجبہ ہیں۔یعنی عقل جن افعال کو اچھا یا برا گردانے،مدارجِ حسن و قبح کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی انجام دہی واجب،مباح اور حرام ٹھہرتی ہے5۔اس نتیجے کے لزوم میں تمام ائمہ اعتزال متفق نظر آتے ہیں۔وجوہ حسن و قبح کو یوں تکلیف و تشریع کا منبع بنا دینا معتزلہ کو دائرۂِ سنیت سے خارج کر دیتا ہے۔
ماتریدیہ وجودی اور علمیاتی سطح پر معتزلہ ہی کے ہم نوا ہیں۔وہ بھی افعال کے حسن و قبح کو ذاتی،واقعی و خانہ زاد گردانتے ہیں۔ان کے نزدیک بھی حسن و قبح اپنے 'ہونے' میں کسی خارجی حکم کا محتاج نہیں ہے،یعنی حسن و قبح حکمِ شرعی کا مدلول تو ہے لیکن موجَب نہیں۔اسی طرح علمیاتی سطح پر بھی ماتریدیہ کا وہی موقف ہے جو معتزلہ کا تھا کہ عقل بھی عرفانِ حسن و قبح کا ایک ذریعہ ہے۔امام الہدى ابو منصور ماتریدیؒ(م:٣٣٣ھ) "کتاب التوحید" میں کذب و جور پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
"قبح ذلك في العقول بالبديهة والفكر جميعا حتی لایزداد عند التامل والبحث عنه الا قبحا۔"6
"بداہت اور فکر و نظر ہر دو ان افعال کے قبح کی گواہی دیتے ہیں، حتی کہ ان کے بارے میں جس قدر سوچ بچار کیا جائے ان کا قبح ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔"
البتہ کچھ افعال کے حسن و قبح میں چونکہ عقل نارسا رہتی ہے لہذا ان کی پہچان صرف شرع کے ذریعے ہی ممکن ہے-اس اصولی موافقت کے باوجود ماتریدیہ نے معتزلہ کے برعکس اس اصول کے گمراہانہ اطلاقات سے اپنا دامن یوں سمیٹ لیا کہ نہ تو خدا پر 'عدل' اور 'اصلح للعباد' کو واجب قرار دے کر قدرت و ارادہ الہیہ پر ضرب لگائی اور نہ ہی وجوہِ حسن و قبح کو علت موجبہ قرار دیتے ہوئے انہیں تکلیف و تشریع کا مستقل منبع قرار دیا۔ یعنی ماتریدیہ نے حسن و قبح کے تکوینی پہلو میں تو معتزلہ کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی اور حسن و قبح کو اشیاء کا نفس الامری خاصہ قرار دیا لیکن تشریعی پہلو کو یہ کہہ کر تج دیا کہ تشریع و تکلیف میں بلا حکم ربی،ذاتی حسن و قبح کو کوئی دخل نہیں ہے۔معتزلہ و ماتریدیہ کے ذیلی مواقف کی تفصیل اپنے اپنے مواقع پر آ رہی ہے۔
گزارش ہے کہ موقفِ اعتزال کے محتویات،یعنی معتزلی نظریہ کے اطلاقات پر طائرانہ نگاہ دوڑائی جائے تو جہاں جنابِ باری تعالی میں معتزلہ کی بے جا جرات آزمائی آشکار ہوتی ہے وہیں یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ یہ موقف عقل کو جانِ متن بنا دینے اور شریعت کو حاشیہ نشیں کر دینے کا پیش خیمہ ہے۔اشاعرہ نے انہی صریح جسارت آمیزیوں کو بھانپتے ہوئے ماتریدیہ کے برعکس حسن و قبح کی نسبت معتزلی موقف کو کلیتاً مسترد کیا ہے۔اشاعرہ کا کہنا ہے کہ حسن و قبح عقلی نہیں، مذہبی مسئلہ ہے۔اس کی اساس خردِ نارسا نہیں،ہدایتِ ماورا ہے۔ بقول اقبال
خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے
اشاعرہ نے معتزلی موقف کے وجودی پہلو پر ایسا ہلہ بولا کہ علمیاتی پہلو بھی اسی کی زد میں آ کر فنا کے گھاٹ اتر گیا۔بجائے اس کے کہ مبحث کو 'عقل کے ذریعہ عرفان ہونے یا نہ ہونے' کے سوال پر دائر کیا جاتا، انہوں نے حسن و قبح کے ذاتی و نفس الامری ہونے کو ہی ہدفِ سوال بنا دیا۔ان کے مطابق اشیاء و افعال کا حسن و قبح ذاتی و واقعی نہیں بلکہ شرعی ہے،یعنی نہ تو کوئی فعل ازخود بھلا ہے اور نہ ہی ازخود برا ہے۔شریعت جس کو اوجِ حسن پر براجمان کرے وہی حسَن ہے اور شریعت جس کو پاتالِ قبح میں دھکیل دے وہی قبیح ہے،گویا شریعت سے ماقبل کوئی اچھائی ہے،نہ برائی۔اشاعرہ کے ہاں حسن و قبح مدلولِ شرع نہیں موجَب شرع ہے،بایں معنی کہ حکم شرعی کی حیثیت حسن و قبح پر محض ایک دلالت کنندہ کی نہیں بلکہ مثبت و موجِب کی ہے۔اشاعرہ کے اس دوٹوک وجودی موقف کے رو بہ رو 'عقل کے وسیلۂِ عرفان ہونے،نہ ہونے' کا لحیم شحیم علمیاتی سوال بھی چِتا میں بدل جاتا ہے کیونکہ جب حسن و قبح ذاتی نہیں،شرعی ہے، تو پھر عقل کی کیا مجال کہ وہ اس میدان میں اچھل کود کرتی پھرے۔
یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اشاعرہ کی جانب سے اخلاقی اقدار کی معروضیت کے معتزلی دعوی کا رد اخلاقی موضوعیت کے اثبات کو مستلزم نہیں ہے۔ بعض لوگ اس واہمہ میں مبتلا ہیں کہ اشاعرہ شاید اقداری موضوعیت کا دم بھرتے ہیں۔گزارش ہے کہ حسن و قبح کو عقلی معروض و موضوع کے مابین محصور کرنا کوتاہ نظری کا شاخسانہ ہے۔عقلی معروض ہو یا موضوع،دونوں زمان و مکان کی اسیر عقل سے نتھی اور انسان سے متعلق ہیں۔اشاعرہ جب حسن و قبح کے عقلی ہونے کو ٹھکراتے ہیں تو وہ معروض و موضوع، ہر دو پر بہ یک آن خطِ تنسیخ پھیر دیتے ہیں۔ان کے نزدیک اخلاق و اقدار کا واحد منبع و سرچشمہ ماوراء ہے۔
حسن و قبح کے اطلاقات
زیر بحث موضوع کا پہلا اور کلیدی سوال یہ ہے کہ آخر حسن و قبح سے مراد کیا ہے؟امام رازیؒ اسی سوال سے اعتناء کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"الحسن والقبح قد يعنى بهما كون الشيء ملائما للطبع أو منافرا، وبهذا التفسير لا نزاع في كونهما عقليين، وقد يراد بهما كون الشيء صفة كمال أو صفة نقص كقولنا العلم حسن و الجهل قبيح؛ ولا نزاع ايضا فی كونهما عقليين بهذا التفسير وانما النزاع في كون الفعل متعلق الذم عاجلا والعقاب آجلا؛ فعندنا أن ذلك لا يثبت الا بالشرع۔"7
"حسن و قبح سے کبھی تو شے کا طبیعت کے مناسب یا مخالف ہونا مراد لیا جاتا ہے،اور اس مراد کے مطابق ہر دو کے عقلی ہونے میں کوئی جھگڑا نہیں۔(البتہ ان کے معروضی یا موضوعی ہونے میں اختلاف ہے جو کہ آئندہ سطور میں کلامِ امام کی روشنی میں پیش کیا جائے گا)۔اور کبھی کسی شے کے صفت کمال یا نقصان سے متصف ہونے پر حسن و قبح کا اطلاق کیا جاتا ہے۔اس مراد کے مطابق بھی حسن و قبح کے عقلی ہونے کی نسبت کوئی کشاکشی نہیں۔نزاع دراصل فعل کے اس دنیا میں مستحقِ ذم(یا مدح) اور آخرت میں باعثِ سزا(یا جزا) ہونے کی بابت ہے(آیا اس اطلاق میں حسن و قبح ذاتی و عقلی ہے یا شرعی)،سو ہمارے نزدیک تو یہ امر صرف شرع سے ہی ثابت ہوتا ہے۔"
امام صاحب کا کلام جہاں لسانیاتی دائرے میں التباس کی گرد سے ڈھکےحسن و قبح کے مختلف اطلاقات و مرادات کو نکھار کر سامنے لے آتا ہے، وہیں ان متنوع تناظرات کو بھی کہ جن میں حسن و قبح بامعنی ہوتا ہے منصۂ شہود فراہم کر دیتا ہے۔گزارش ہے کہ لفظِ حسن و قبح،گاہ جمالیاتی تناظر میں بولا جاتا ہے، گاہ نفسی تناظر میں اور بسا اوقات اخلاقی تناظر اس کو معنی سے ہمکنار کرتا ہے۔کمال پر فریفتہ ہو کر اسے حسن کا عنوان دے دینا اور نقص سے متلاتے ہوئے اسے قبیح ٹھہرا دینا جمالیاتی شعور کی ترجمانی ہے،نیز طبیعت کی رغبت و نفرت کی بنیاد پر کسی شے کو حسن و قبح کا محمل بنا دینا نفسی موضوعیت کا مظہر ہے۔جمالیاتی ذوق کی پرداخت اور طبعی شوق کی آبیاری میں مذہب یا انسان کے تصورِ حقیقت کا کلیدی کردار ضرور ہوتا ہے تاہم یہ 'صرف' مذہب سے ماخوذ نہیں ہوتے۔تیسرا تناظر جس میں حسن و قبح اخذِ معنی کرتے ہیں، اقداری اخلاقی اور قانونی ہے۔
ممکن ہے کہ 'قانونی حسن و قبح' کی ترکیب بعضے احباب کے لیے اچنبھے کا باعث ہو۔عرض ہے کہ اسلامی روایت میں 'اخلاقی' اور 'قانونی' کے درمیان کوئی واضح خطِ امتیاز نہیں کھینچی گئی اور اگر قانون سے نظامِ سزا و جزا کے ضوابط مراد لیے جائیں تو بھی روایتِ اسلامی میں قانون اقدار سے غیر متعلق،طاقت کا زائدہ اور سرمائے کا پروردہ نہیں بلکہ اجتماعی اقدار کا دید بان اور انفرادی اقدار کا سائبان ہے۔ سو ضروری ہے کہ وہ بھی ایسے ہی تصورِ حسن و قبح پر استوار ہو جس پر اقدار اپنی بِنا کرتی ہیں۔اقدار،اخلاقیات اور جمالیات کی واحد اساس ہیں اور قانون اقدار کا محافظ ہے۔امام صاحب کے بیان کردہ موقف سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ اخلاقی اقدار تو محض ماورائی ہیں البتہ کچھ جمالیاتی قدریں ضرور مشترک انسانی سطح پر موجود ہوتی ہیں۔تاہم اس سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ انسان کی جمالیاتی تشنگی مذہب سے لاتعلق رہ کر بھی بجھائی جا سکتی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ سطور میں ان سہ گانہ تناظرات کی روشنی میں امام صاحب کے کلام ہدایت التیام کی مزید تفہیم کی جائے۔
مراداتِ حسن و قبح بیان کرنے کے بعد امام صاحب وضاحت فرماتے ہیں کہ ما بہ النزاع جمالیاتی یا نفسی نہیں بلکہ اخلاقی و قانونی نوعیت کا حسن و قبح ہے،یعنی ایسا حسن و قبح جو دنیا میں مدح و ذم اور آخرت میں جزا و سزا کا سزاوار بنائے۔حسن و قبح کی زمرہ بندی اور محلِ نزاع کی تعیین،دورانِ بحث امتیازِ موضوع کو برقرار رکھنے اور التباسِ بحث سے دامن بچانے کے لئے ازحد ضروری ہے تا کہ جمالیاتی و نفسی حسن و قبح کو اخلاقی و قانونی حسن و قبح پر وارد کرنے سے گریز کیا جا سکے۔گزارش ہے کہ مذکورہ عبارت میں امام صاحب نے جہاں محلِ نزاع کو متعین کر کے خلطِ مبحث کے امکان کو معدوم کیا ہے وہیں حسن و قبح کو ماورائیت کے پہلو بہ پہلو ایک گونہ غایاتی (Teleological) جہت بھی مہیا کر دی ہے،یعنی بھلائی وہی ہے جس کی غایت مدح و ثواب ہے اور برائی وہی ہے جس کا مآل ذم و عقاب ہے۔غور کیا جائے تو فریقِ مخالف کے اس غایاتی تعریف کو تسلیم کر لینے کے ساتھ ہی نصف بحث انتاج پذیر ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب مدح و ثواب،مدارِ حسن اور ذم و عقاب،محور قبح ٹھہراجو کہ سراسر شرعی ہے،اور جس کا اثبات شرع ہی کے ذریعے ممکن ہے تو پھر حسن و قبح کو معلومیت کے حصار میں لانے کے لئے عقل سے داد طلبی چہ معنی دارد؟
اخلاقی اقدار اور نفسی حسن و قبح
حسن و قبح کے نفسی تناظر کا راست فہم معتزلی و اشاعری جدلیات کی صائب جانکاری سے مشروط ہے۔امام صاحب معتزلی معروضیت کے انتقاد میں حسن و قبح کے اسی تناظر کو بروئے کار لائے ہیں۔لہذا مناسب ہو گا کہ معروضیتِ اخلاق کی بابت معتزلہ کی دلیل اور امام رازیؒ کی تردید قارئین کے پیشِ خدمت کر دی جائے۔معتزلہ نے اپنے وجودی موقف،معروضیتِ حسن و قبح کی تائید میں کوئی قابلِ ذکر نظری دلیل پیش کرنے کے بجائے اپنا تمام تر مقدمہ بداہتِ عقل کے ادعاء پر استوار کیا ہے اور پھر بہ طور 'تنبیہ' چند ایک امثلہ کے ذریعے اس مزعومہ بداہت کا اثبات چاہا ہے۔وہ اپنی وجودی عمارت کو پختہ کرنے کے لئے اس پر علمیاتی ردا چڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض افعال و اشیاء کا برا یا بھلا ہونا بداہتِ عقل سے ثابت ہے،جس سے کوئی بھی ذی شعور مجالِ انکار نہیں پاتا۔ظلم کا برا اور احسان کا اچھا ہونا ایسی شے ہے کہ جس کے لئے کسی استدلالی و اکتسابی دلیل کی حاجت نہیں بلکہ ہر ایک شخص کی عقل غور و فکر کا کشٹ اٹھائے بنا بدیہی طور پہ ان افعال کی اچھائی و برائی سے پوری طرح واقف ہے۔غور کیا جائے تو معتزلہ کا یہ علمیاتی موقف سر تا پا التباس میں لتھڑا ہوا ہے۔اسی التباس کو زائل کرنے کے لئے امام صاحب نفسی حسن و قبح کے تصور کو کام میں لائے ہیں۔امام صاحب اس شبہ نما دلیل کی چولیں ہلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہاری یہ بات تو درست ہے کہ یہ حسن و قبح 'عقل' سے معلوم ہے لیکن نہ تو یہ وہ اخلاقی حسن و قبح ہے جس کی معروضیت کے تم داعی ہو اور نہ ہی یہ وہ 'معروضی و بدیہی عقل' ہے جس کا تم دم بھرتے ہو بلکہ :
"ان ھذا الحسن و القبح عبارتان عن رغبة الطبع و نفرته۔"8
"یہ حسن و قبح،طبیعت کی رغبت و نفرت سے عبارت ہے۔"
یعنی اس حسن و قبح کا تناظر اقداری نہیں،نفسی ہے،جس کا نفس و طبیعت کی پالی پوسی عقل سے معلوم ہونا سرے سے محلِ نزاع ہی نہیں۔امام صاحب نے اس عبارت میں معروضی اور اصولیاتی(Deontological) اخلاقیات کے امکان کو بہ یک وقت مسترد کیا ہے۔گویا امام صاحب کے مطابق اگر حسن و قبح کی بنا عقل پر استوار کی جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ غایتیت (Teleology) یا نفسی موضوعیت کی صورت میں برآمد ہو گا۔دونوں صورتوں میں اخلاقی اقدار کا دھڑن تختہ اور التباس کا چوپٹ راج ہو گا۔"المطالب العالیہ" میں آپ رقم طراز ہیں:
"ان الذی عقلناه من معنى الحسن ما يكون نفعا او موديا الیه، والذي عقلناه من معنى القبح ما يكون ضررا او موديا اليه۔"9
"(بدونِ شریعت) ہم منفعت کو یا وسیلۂِ منفعت کو ہی بھلا سمجھتے ہیں اور مضرت یا ذریعۂ مضرت کو ہی برا جانتے ہیں۔"
گویا امام صاحب کے نزدیک عقلی بنیادوں پر،اصولیت یا معروضیتِ اخلاق بالکلیہ خارج از امکان ہے۔آپ کے مطابق دریں باب عقلی حسن و قبح سراسر موضوعی،نفسی،غایاتی اور اضافی ہوتا ہے۔عموماً کسی فعل کی بابت عقلی بنیادوں پر کیا جانے والا حسن و قبح کا فیصلہ کسی نہ کسی ذاتی غرض یا فعل کے مآل کو پیش نگاہ رکھ کر کیا جاتا ہے۔اگر فیصلہ کرنے والے شخص کے لئے کسی فعل کی غایت منفعت کی صورت میں نمودار ہو اور اس بنا پر اس کی طبیعت اس فعل کی طرف رغبت پائے تو وہ اس فعل کو اچھا گردانتا ہے اور اگر اس کے لئے کسی فعل کا مآل سراپا ضرر ہے تو وہ اسے برا گردانتا ہے۔گویا بظاہر عقلی اساس پر کیا جانے والا حسن و قبح کا فیصلہ دراصل نفسی مالوفات کا پروردہ ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ ایک ہی فعل مختلف اشخاص کے ہاں ان کی شخصی افتاد طبع اور فعل کی ظاہری فوری یا دنیوی غایت و مآل کی بنا پر بہ یک وقت خوب بھی قرار پائے اور زشت بھی ٹھہرایا جائے۔ماحصل یہ کہ عقلی حسن و قبح در اصل فرد کی ذاتی منفعت و مضرت کا نام ہے۔بھلا کون ذی شعور اس موضوعیت کو معروضیت کا عنوان دے سکتا ہے۔
منفعت و مضرت کی مرادات
امام صاحب کی تردیدی سرگرمی میں دو تصورات: منفعت اور مضرت نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔منفعت،جس کی طرف انسانی طبائع اور نفوس رغبت رکھتے ہیں اور مضرت،جس سے انسانی طبائع اور نفوس نفور ہوتے ہیں،سے کیا مراد ہے؟امام صاحب اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
"ان المنفعة المطلوبة بالذات اما اللذة او السرور وان المضرة المکروهة بالذات اما الألم او الغم۔"10
"بذاتہ مطلوب منفعت یا تو لذت ہے یا پھر مسرت اور بذاتہ ناپسند کی جانے والی مضرت یا تو الم ہے یا پھر غم۔"
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک طبعیت یا نفس انسانی،منفعت کی طرف مائل ہوتے اور مضرت سے رم کھاتے ہیں۔عقل اسی طبعی رجحان و توحش سے تحریک پا کر اس منفعت و مضرت پر حسن و قبح کا حکم کرتی ہے۔منفعت و مضرت کی مرادات بابت اپنے کلام کو مفصل و مدلل کرتے ہوئے امام صاحب کا فرمانا ہے کہ جب طبع کا کسی شے کی طرف مائل ہونا اور کسی سے رم کھانا طے ہو چکا،تو اب اگر یہ کہا جائے کہ اس شے کی طرف میلان و توحش کسی دوسری شے کی وجہ سے ہے تو اس سے یا تو تسلسل لازم آئے گا یا دور کا پہیہ گھومے گا۔لہذا تسلسل و دور سے دامن کشی کے لیے لازم ہے کہ کوئی شے مطلوب بذاتہ اور کوئی مکروہ بذاتہ ہو۔اگر ہم اپنے آپ میں جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مطلوب لذاتہ یا تو لذت ہے یا پھر سرور اور مکروہ لذاتہ یا تو الم ہے یا پھر غم، پس انہی کا عنوان منفعت و مضرت ہے۔11 گویا انسانی عقل، فعل کی کسی ذاتی خصوصیت کی بنا پر اسے حسن و قبح کا تمغہ عطا نہیں کرتی بلکہ جس فعل سے طبعِ انسانی مسرت و لذت کشید کرتی ہے،وہ بارگاہِ عقل سے انعامِ حسن وصول کرتا ہے اور جس فعل سے غم و الم کو انگیخت ملتی ہے،عقل اس پر قبح کی چھاپ لگا کر راندۂِ درگاہ بنا دیتی ہے۔مزید براں، یہ لذت و سرور اور غم و الم بھی کسی فعل کا ذاتی و جوہری خاصہ نہیں بلکہ انسان کا موضوعی احساس اور نفسی جذبہ ہی فعل کو لذت انگیز و مسرت ناک یا غم خیز و الم ناک ٹھہراتا ہے۔
یہیں سے ظلم و احسان کے حسن و قبح بابت معتزلہ کے دعوائے بداہت کی بھی نفی ہو جاتی ہے کیونکہ ظلم بھی انسان کو تبھی گھناؤنا لگتا ہے جب وہ اسے غمگیں کرتا ہے اور احسان اس کو تبھی بھاتا ہے جب وہ اسے شادماں کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سماج میں رونما ہونے والے ایک ہی فعل پر بعض طبقات داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہ فعل ان کے نفسی مالوفات،یعنی لذت و مسرت کی تسکین برآری کا وسیلہ بنتا ہے اور بعض طبقات اسی فعل کو پھٹکار و نفرین کا ہدف بناتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے نفسی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہوتی ہے۔غرض یہ کہ بذریعہ عقل، حسن و قبح کے تمام فیصلے متبدل جذبات کی تسکین کے تابع ہوتے ہیں۔بہ ظاہر عقل سے معلوم ہونے والا خوب و زشت دراصل فرد تا فرد متلون اور درونِ فرد متحول نفسی رجحان اور طبعی میلان کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ایسے مرنجاں مرنج اور بوقلموں رجحانات و میلانات کو اخلاقیات کا حتمی پیمانہ قرار دے کر کوئی اخلاقی قدر اخذ نہیں کی جا سکتی۔
معتزلہ کی واماندگیاں:
معروضیتِ حسن و قبح کا سارا مدعا بداہت کے اثبات پر تمکنت پذیر تھا،اور بداہت کا دعوی اشاعرہ کی علمی ضربوں کی تاب نہ لا سکا۔یعنی جس بنیاد پر ساری معروضیت کی عمارت استوار تھی وہی ڈھے گئی۔
پر وہی گر گیا کبوتر کا
جس میں نامہ بندھا تھا دلبر کا
معتزلہ نے اپنے اس اکھڑتے دعوائے بداہت میں جان ڈالنے کے لیے قریب قریب ایک ہی نوعیت کی متعدد توجیہات اور تمثیلات کی صورت میں بہتیرے پاپڑ بیلے ہیں۔گو کہ ان توجیہات کی حیثیت ٹھنڈی راکھ دھونکنے جیسی ہے تاہم امام صاحب نے بہرِ اتمامِ حجت اپنی مختلف تصانیف میں ان دلائل و توجیہات کو نقل کر کے ان کے تشفی بخش جوابات عنایت فرمائے ہیں۔ معتزلہ کی طرف سے قدرے بہتر اور نسبتاً معقول توجیہ یہ پیش کی گئی کہ ظالم یا اس کے ہمنوا جب کسی ظالمانہ فعل کی تحسین کرتے ہیں تو وہ اس فعل کو 'ظلم' سمجھتے ہوئے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے تئیں وہ اس ظلم کو عدل وغیرہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔جب ان پر یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ فعل ظالمانہ ہے تو وہ کسی ذاتی مفاد کی بنا پر گو اس ظلم سے دست کش نہ بھی ہوں تب بھی اس فعل کی تحسین نہیں کرتے اور بلا تامل اسے برا ہی جانتے ہیں۔بنا بریں یہ معلوم ہوا کہ 'ظلم' کا قبح اس کے 'ظلم' ہونے کی وجہ سے ہی ہے یعنی اس کی ذات یا صفت لازم ہی میں پنہاں ہے اور یہ بات سراسر بدیہی ہے۔
اس دفاعی توجیہ کی بے مائیگی آشکار کرتے ہوئے امام صاحب کا کہنا ہے کہ تمہاری یہ بات تسلیم ہے کہ عموماً ظالم یا اس کے ہمنوا اپنے فعل کے مبنی بر ظلم ہونے سے غفلت برتتے ہوئے اس کی تحسین کرتے ہیں اور اگر ان پر اس فعل کا ظلم ہونا آشکار ہو جائے تو وہ اس کو برا ہی قرار دیں لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ظلم کا قبیح ہونا محض اس کے ظلم ہونے کی وجہ سے ہے۔دراصل امام صاحب نے معتزلی جواب میں موجود علمیاتی اور وجودی دلیل کے مابین پائے جانے والے التباس کو عیاں کیا ہے۔آپ رقم طراز ہیں:
"قولہ:《العلم بالقبح دائر مع العلم بکونه ظلما، وجودا وعدما》قلنا: لم قلت:إن الدوران العقلي دليل العلية عليه؟وما الدليل عليه!؟"
"(جہاں تک بات ہے)خصم کے اس قول کی کہ قبح کا علم،فعل کے ظلم ہونے کی آگہی پر وجودا اور عدما دائر ہے،تو ہم کہتے ہیں کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ یہ 'دوران عقلی' علیت کی بھی دلیل ہے؟اس (دعوی پر آپ کے پاس) کیا دلیل ہے!؟"12
یعنی اگر بہ پاسِ خاطر یہ بات مان بھی لی جائے کہ 'قبح کی جانکاری،فعل کے ظلم ہونے کے علم پر دائر ہے' تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس فعل کا ظلم ہونا اس کے قبیح ہونے کی علت بھی ہے؟یہ بھی تو ممکن ہے کہ ظالم یا اس کے حمایتی ظلم کو کسی اور علت کی وجہ سے قبیح جانتے ہوں اور جب وہ اپنے اس فعل کے ظالمانہ ہونے سے آگاہ ہوں تو وہ اس کو بھی قبیح جاننے لگیں۔ اسی نوعیت کے دیگر معتزلی دلائل پر امام صاحب کی تنقید پر نگاہ اعتناء دوڑائی جائے تو زیر بحث قضیہ کی مزید تنقیح کچھ یوں ہوتی ہے کہ ظالم جب اپنے ظلم کو قبیح جانتا ہے تو یہ تو ممکن ہے کہ اس 'قبیح جاننے' کا مدار اس فعل کے ظالمانہ ہونے کا 'علم' ہو لیکن وجودی سطح پر اس کے نزدیک ظلم کے قبیح ہونے کی علت محض ظلم ہونا نہیں بلکہ اس کا نفسی و موضوعی احساس ہے۔وہ یوں،کہ جب وہ خود کو کسی ظلم کا ہدف بنتے ہوئے تصور کرتا ہے تو اس تصور سے وہ خود کو غم و الم میں گھرا ہوا پاتا ہے،اب اس کا ظلم کی تحسین کرنا یقینا خود پر بھی کسی پیش آمدہ ظلم کو جائز ٹھہرانے کے مترادف ہو گا۔ بنا بریں وہ 'ظلم' کو برا قرار دیتا ہے پھر جب اس بات سے آگاہ ہو جاتا ہے کہ خود اس کا فعل بھی از قبیلِ ظلم ہے تو وہ اس 'آگاہی' کی بنا پر اپنے فعل کی تحسین سے ہچکچاتا ہے۔عرض ہے کہ تردیدِ بداہت پر مبنی امام صاحب کے اس جواب پر معمولی غور اور ادنی تامل سے ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دریں صورت بھی حسن و قبح کا عقلی فیصلہ معروضیت و اصولیت سے خالی اور موضوعیت اور غایتیت سے مملو ہے۔نیز یہ بھی ممکن ہے کہ ظالم ظلم کو شرعاً قبیح سمجھتے ہوں اور اپنی اسی آگہی کی بنا پر اپنی ستم گری کو بھی قبیح جاننے لگیں۔ دریں صورت ظلم کا قبح شرع پر اور ظالمانہ فعل کو قبیح سمجھنا شرع کی جانکاری پر موقوف ہے۔
اثباتِ بداہت و معروضیت کے لیے معتزلہ ایک ایسے شخص کی مثال بھی پیش کرتے ہیں کہ جس کے حق میں صدق و کذب پر کسی بھی منفعت و مضرت یا مسرت و الم کو اٹھا لیا جائے یا مساوی کر دیا جائے اور پھر اس سے کوئی سوال کیا جائے تو جواب میں وہ سچ کو ہی ترجیح دیتا ہے۔معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حسن و قبح افعال کا ذاتی خاصہ ہیں اور انسانی عقل ان کو بداہتا پہچانتی ہے۔امام صاحب اپنی یگانہ آفاق تصنیف "نہایۃ العقول فی درایۃ الاصول" میں ،اس معتزلی دلیل کا بودا پن عیاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس مثال میں صدق و کذب کے حسن و قبح کو ذاتی و بدیہی قرار دیتے ہوئے معتزلہ نے اس حقیقت سے پہلو تہی کی ہے کہ جو انسانی عقل حسن و قبح پر فیصل بن رہی ہے وہ یا تو خود ہدایتِ ربانی کی ضیاء پاشیوں سے پیہم مستفیض ہوتی رہی ہے یا پھر ایسی اقوام سے اس کا مسلسل اختلاط رہا ہے جو ان افعال کو اچھا یا برا قرار دیتے آئے ہیں۔نتیجتاً یہ تصور اس میں یوں گھر کر گیا کہ وہ بلاجھجک بعض افعال کو بعض پر راجح ٹھہرانے لگی۔اگر ہم خود کو ایک ایسے انسان کے طور پر متصور کریں جو ابھی،اسی لمحہ تخلیق کیا گیا ہو،جس کا نا تو کسی مذہب سے پالا پڑا ہو اور نہ ہی وہ کسی قوم میں گھُلا ملا ہو،تو کیا وہ بھی اس جزم و اتقان کے ساتھ ان افعال کے حسن و قبح کا فیصلہ صادر کر سکتا ہے؟امام صاحب کی عبارت حسبِ ذیل ہے:
"فاما اذا قدر الانسان نفسه کانه خلق فی ھذہ الساعة و قدر انه لم يالف مذهبا ولا خالط قوما ولا سمع مقالة ولم يلتفت ذهنه إلى اختيار المصالح واختيار المفاسد، ثم عرض على عقله أن الصدق هل هو حسن والكذب قبيح على الوجه الذي لخصناه؟ فانا لا نسلم أنه -في هذه الحالة- يقطع بذلك."13
گزارش ہے کہ امام صاحب کا یہ جواب صرف ایک دلیل کی تردید نہیں بلکہ معتزلی نظامِ اخلاقیات میں پائے جانے والے بنیادی سقم کی تشخیص ہے۔یہ وہ شہ کلید ہے جس سے معتزلی تصورِ حسن و قبح کی ناتوانی بیچ چوراہے طشت از بام ہو جاتی ہے۔ دراصل معتزلہ ایک ایسی عقل کے شانے پر حسن و قبح کا بوجھ لادتے اور پھر اس کے 'منزلِ مقصود' کو پا لینے پر شادیانے پیٹتے ہیں،جس نے خارجی ہدایت سے فیض یاب ماحول میں لمسِ شباب محسوس کیا ہے،جو از آدم تا ایں دم مذہبی آدرشوں کو بہ گوشِ ہوش سنتی اور بہ چشمِ وا دیکھتی آئی ہے۔اگر اس عقل کو اس ماحول سے منقطع کر کے اس سے اخلاقیات یا حسن و قبح کا سوال پوچھا جائے تو وہ جذبات کے ہرکارے کے طور پر کچھ نہ کچھ ظنی اظہار تو شاید کر دے لیکن اس سے کوئی ایسا قطعی جواب بن پڑنا خارج از امکان ہےکہ جسے اخلاقیات کے لیے کسوٹی قرار دے دیا جائے۔
حسن و قبح بابت اشاعرہ کا وجودی موقف معتزلہ کی وجودی بیخ و بن کو اکھاڑ دینے سے ازخود استحکام پا لیتا ہے۔امام صاحب نے معتزلی موقف کے بخیے ادھیڑنے کے لیے دو ڈھب اختیار کیے ہیں۔اولاً،آپ نے یہ واضح کیا کہ معتزلہ جس حسن و قبح کو اخلاقی باور کروا کر اس کی معروضیت،اصولیت اور بداہت کی مالا جھپتے ہیں وہ سراسر رجحانِ نفس اور ميلانِ طبع سے عبارت ہے۔ثانیاً آپ نے تجربی امثلہ سے موید اور الزامی آہنگ سے ممیز دلائل کو بروئے کار لا کر معروضیتِ اخلاقیات کے معتزلی پھریرے کو سرنگوں کیا ہے۔بہتر ہو گا کہ چند دلائل قارئین کی نذر کر دیے جائیں۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مثلاً جھوٹ، محض دجھوٹ ہونے کی بنا پر قبیح ہے تو اس سے اُس جھوٹ کا بھی قبیح ہونا لازم آتا ہے جو مثلاً کفار کی ایذاء رسانیوں سے انبیاء کرام کو رستگاری دلانے کی خاطر بولا جائے۔حالانکہ معتزلہ بھی اس کو قبیح نہیں گردانتے۔لہذا معلوم ہوا کہ کذب و دروغ محض کذب و دروغ ہونے کی بنا پر قبیح نہیں بلکہ شرع جس جھوٹ کو قبیح کہے وہی حکمِ قبح کا سزاوار ہے۔
اس دلیل کے جواب میں متاخرین معتزلہ نے یہ شبہ نما موقف اختیار کیا کہ جھوٹ کا قبیح ہونا تو اس کے جھوٹ ہونے کی بنا پر ہی ہے البتہ بعض مواقع پر موانع و مزاحم(جلب منفعت یا دفع مضرت) کے پائے جانے کی بنا پر 'علت(کذب) سے حکم(قبح) کا تخلف ممکن ہے'۔امام صاحب اس شبہ کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی مانع کی بنا پر کذب سے قبح کے تخلف کو جائز ٹھہرایا جائے تو معتزلہ کا بنیادی موقف مزید ڈگمگاہٹ اور ناپائیداری کا شکار ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ مانع(جلب نفع یا دفع ضرر) کوئی قابلِ انضباط یا معروضی شے نہیں ہے کہ جسے معیار بنایا جا سکے۔یوں تو پھر ہر دروغ گوئی کے بارے میں تردد کی فضاء قائم کی جا سکتی کہ شاید یہاں کسی مانعِ قبح کی وجہ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔اس صورت میں کسی بھی جھوٹ پر قطعیت کے ساتھ قبح کا حکم کرنا خارج از امکان ٹھہرے گا۔
سلسلہ دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے امام صاحب ایک ایسے ظالم کی مثال پیش فرماتے ہیں جو کسی شخص کو دھمکی آمیز خبر دیتا ہے کہ "کل میں تجھے قتل کر دوں گا"۔آپ فرماتے ہیں کہ اب اس بیداد گر کے لیے یا تو قتل کر دینا حسن ہو گا۔یا پھر قتل سے دست کش ہو جانا حسن ہو گا۔بہر تقدیر معتزلی موقف کا خون ہونا یقینی ہے۔کیونکہ اگر وہ اسے قتل کر دے تو یہ قطعی طور پر ناروا ہے اور اگر نہ کرے تو اس کا یہ کہنا کہ "میں تجھے قتل کر دوں گا"،جھوٹ ٹھہرے گا۔اب اگر جھوٹ کو ذاتاً یا جھوٹ ہونے کی بنا پر قبیح شمار کیا جائےہے تو ترکِ قتل کی صورت میں یہ قبح لازم آ رہا ہے لہذا قتل سے اس کی دست کشی بھی قبیح ٹھہرے گی،حالانکہ یہ باطل ہے۔سو معلوم ہوا کہ کذب و دروغ کو مطلقاً،بلا حکمِ شرع قبیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔14 ممکن ہے اس مثال سے نمٹنے کے لئے بھی اسی توجیہ کو بروئے کار لایا جائے کہ یہاں جھوٹ کے مقابل قتل کی مضرت بدرجہا زیادہ ہے اور مضرت کا دفع کرنا جھوٹ پر حکم قبح لگانے سے مانع ہے۔لیکن پھر وہی سوال عود کر آئے گا کہ موانع اور شروط کی تحدیدات کیا ہیں؟یوں تو کوئی بھی شخص فرضی مانع کی آڑ میں مطلب براری کرتا پھرےگا۔اگر اس کی کوئی تحدید نہیں ہے تو پھر کسی بھی جھوٹ پر بالجزم حکمِ قبح کیسے کیا جا سکتا ہے؟
حسن و قبح کا جمالیاتی تناظر
حسبِ وعدہ اب ہم قلم کو مبحث کے جمالیاتی پہلو،یعنی کمال و نقص کے حسن و قبح کی طرف پھیرتے ہیں۔آغازِ کلام سے پیشتر مناسب ہوگا کہ امام صاحب کے کلام سے کمال و نقص کا معنی معلوم کر لیا جائے۔امام فخرالدین رازیؒ 'کمال' کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"نعني بالکمال: وجود شیئ لشیئ من شانه ان يكون له اما بجنسه او بنوعه او بعينه"
"کمال سے ہماری مراد کسی چیز کا ایسی شے کے ہاں پایا جانا ہے کہ اس شے کی حیثیتِ رتبی اپنی جنس،نوع یا ذات کے لحاظ سے اس چیز کا تقاضا کرتی ہو"15
بالفاظِ دیگر کمال اسے کہا جاتا ہے جو کسی شے کے وجود کی تکمیل کرے،اس شے کا 'ہونا' اس کمال کا تقاضا کرے اور اس کے بغیر اس کا 'ہونا' نامکمل و ناقص ہو۔امام صاحب نے اپنی متعدد کتب میں کمال و نقص پر گفتگو فرمائی ہے۔"کتاب النفس و الروح" میں آپ فرماتے ہیں کہ کمال اپنی ذات ہی میں ہر شخص کو 'پسند' ہوتا ہے اور نقص سے ہر شخص کا جی متلاتا ہے۔مزید فرماتے ہیں کہ لذت و کمال اور الم و نقص تمام ہی لذاتہ مطلوب و مکروہ ہوتے ہیں،البتہ لذت و الم کا تعلق جسم سے جبکہ کمال و نقص روحِ انسانی کے محبوب ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امام صاحب لذت و الم کے برعکس کمال و نقص کو اشیاء کا ذاتی خاصہ قرار دیتے ہیں،یعنی کمال و نقص لذت و الم کی طرح کوئی موضوعی احساس نہیں بلکہ مختلف اشیاء میں معروضی وجود کے حامل ہیں،جیسا کہ محولہ بالا تعریف سے معلوم ہوا۔اسی طرح امام صاحب لذت کے علی الرغم،کمال کے لیے مطلوب بذاتہ کی بجائے محبوب بذاتہ کی اصطلاح بروئے کار لائے ہیں، کیونکہ بعض کمالات ناممکن الحصول ہوتے ہیں جیسے واجب الوجود ہونا انسان کے لیے ناممکن ہے لہذا اس کی طلب کا کوئی معنی نہیں البتہ اس کے تصور سے جی بہلایا جا سکتا ہے۔ وجوبِ وجود انسان کو محبوب ہے، مطلوب نہیں۔ وجوبِ وجود سے انسان کی محبت ہی ہے جو اللہ تعالی کو اس کا محبوب بنا دیتی ہے۔غور کیا جائے تو کمال و نقص کے مبحث میں امام صاحب متکلم سے زیادہ ایک صوفی کے روپ میں نظر آتے ہیں۔16
مدارجِ کمال اور عشقِ الہی:
امام صاحب کمال کو ذاتی و صفاتی میں تقسیم کرتے ہوئے ذاتی کمال کی تعریف یوں فرماتے ہیں:
"اما الکمال فی الذات فهو ان يكون واجبا لذاته من حيث غير قابل للعدم والفناء بوجه البتة"
"ذات میں کمال یہ ہے کہ ذات (کا ہونا) اپنی ذات کی وجہ سے ہی اس طرح واجب(ضروری) ہو کہ کسی طور بھی اس پر فناء اور عدم طاری نہ ہو۔17
امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کمال خدا تعالی کا خاصہ ہے۔اس کے برعکس انسان ممکن الوجود ہے جس کا وجود خدا کے وجود سے قائم ہے۔وجوبِ وجود کی وجہ سے جس طرح انسان خدا کو محبوب رکھتا ہے ایسے ہی خدا بھی اس کمال کی وجہ سے خود سے محبت کرتا ہے۔مزید براں،چونکہ ممکنات کا وجود ذات واجب تعالی کا ہی فیضان اور ان کی ایجاد اسی موجود حقیقی کا فعل ہے لہذا وہ انسانوں سے بھی محبت کرتا ہے۔گویا انسان سے خدا کی محبت دراصل اپنے افعال،جو کہ لازمِ ذات ہیں،سے ہی محبت ہے۔18
کمالِ صفاتی پر گفتگو کرتے ہوئے امام صاحب فرماتے ہیں کہ صفات میں کمال صرف علم و قدرت میں محصور ہے اور یہ بھی بتمامہ خدا تعالی کا خاصہ ہے۔19 گزارش ہے کہ امام صاحب کی یہ تعریفات درحقیقت کمالات کی درجہ بندی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔تصوف کے رمز شناس بخوبی جانتے ہیں کہ دریں مقام، امام صاحب کمال سے کمالِ حقیقی مراد لے رہے ہیں اور انسانی کمالات کو آپ نشیبِ مجاز میں اتار لائے ہیں۔"شرح عیون الحکمۃ" کی درجِ ذیل عبارت نہ صرف ہماری اس بات کی توثیق کرتی ہے بلکہ امام صاحب کے صوفیانہ ذوق کو بھی مزید عیاں کرتی ہے۔آپ رقم فرماتے ہیں:
"الاستقراء دل على ان الكمال محبوب لذاته، واذا كان كذلك لزم ان يقال ان الشيء كل ما كان أشد كمالا كان اولى بالمحبوبية. واكمل الاشياء هو الحق-سبحانه-فكان هو أولى بالمحبوبية"
"استقراء دلالت کرتا ہے کہ کمال،لذاتہ محبوب ہوتا ہے۔بنابریں یہ کہنا ضروری ٹھہرتا ہے کہ جب بھی کوئی شے کامل تر ہو تو وہ سب بڑھ کرلائقِ محبت ہوتی ہے اور چونکہ سب سے کامل و اکمل شے حق تعالی کی ذات ہے لہذا وہ سب سے بڑھ کر اس بات کی سزاوار ہے کہ اسے محبوب بنایا جائے۔"20
کمالاتِ انسانی:
امام صاحب کمالاتِ انسانی پر چھائے کہر کو صاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان کا کمال عرفانِ حق و خیر میں مضمر ہے۔عرفانِ حق اعتقاد کی راست سمتی کا ضامن جبکہ عرفانِ خیر عمل کا راہ نما ہے۔مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عرفانِ حق یہ ہے کہ انسان کی نظری قوت ایسی کامل ہو جائے کہ اس پر اشیاء کی صورت و حقیقت جلوہ گر ہونے لگے،یہ تجلی ایسی صیقل و شفاف اور ایسی کامل و تام ہو کہ عرفانِ شے کی راہ میں کسی بھی خطا و چوک کا گزر نہ ہونے پائے۔عرفانِ خیر یہ ہے کہ انسان کی عملی قوت یوں کامل ہو جائے کہ اسے اعمالِ صالحہ کا ملکہ دان ہو جائے اور اعمال صالحہ کا یہ ملکہ ایسا ہو جو انسان کو جسمانی لذات سے بے نیاز کر کے روحانی اور اخروی سعادت کے طرف کشاں کشاں لے جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ کمال بتمامہ صرف انبیاء و اولیاء کے نصیب میں ہے نیز اولیاء پر بھی اس کا فیضان انبیاء کا رہین منت ہے۔21 امام صاحب کمال و نقص کی ان مرادات کو اثبات نبوت کے لئے بطور دلیل بروئے کار لائے ہیں جس پر بشرطِ توفیق آئندہ سطور میں کلام کیا جائے گا۔
آمدم برسر مطلب! گزارش ہے کہ کمال و نقص پر حسن و قبح کے اطلاق کی کوئی اخلاقی معنویت نہیں ہے۔حسن و قبح کا یہ اطلاقی اظہار سراسر جمالیاتی تناظر میں کشیدِ معنی کرتا ہے۔امام صاحب اور دیگر متکلمین کا کلام اس بات کا غماز ہے کہ انہوں نے کمال و نقص کی اصطلاح کو غیر اخلاقی حقائق کی توضیح میں برتا ہے۔عموماً خدائی صفات کی تشریح اسی تناظر میں کی جاتی ہے۔عرض ہے کہ کمال و نقص کا ہونا ایک وجودی قضیہ ہے لیکن ان پر حسن و قبح کا اطلاق ایک جمالیاتی بیان ہے۔جب کمال و نقص پر لفظِ حسن و قبح بولا جائے تو اس سے اخلاقی اچھائی اور برائی نہیں،سُندرتا اور بھداپن مراد ہوتے ہیں۔کسی بھی شے کا ایسی صفت سے متصف ہونا جو اس کے وجودی معنی کو لازم ہے اسے جمیل(سُندر) بنا دیتا ہے۔ بصورت دیگر وہ شے بھدی نظر آتی ہے۔حدیث ’’ان اللہ جمیل‘‘ کا یہی معنی ہے کہ اللہ تعالی تمام صفات کمالیہ سے بتمامہ متصف ہے۔مختصر یہ کہ جمال دراصل کمال کی پھبن کا نام ہے۔کمال شے کی ذات کو مکمل کرتا ہے اور جمال اسی مکمل و اکمل شے میں جلوہ فگن ہوتا ہے۔کمال و جمال کے اسی گہرے ارتباط کو حجۃ الاسلام امام غزالیؒ (م:٥٠٥) نے اپنی مایہ ناز تصنیف "احیاء علوم الدین" میں یوں بیان فرمایا ہے:
"کل شیئ فجماله و حسنه فى أن يحضر كماله اللائق به الممكن له، فاذا كان جميع كمالاته الممكنة حاضرة فهو في غاية الجمال"
"کسی بھی شے کا حسن و جمال یہ ہے کہ اس میں اس کی (ذات،جنس،نوع) کے مناسب ممکنہ22 کمال پایا جائے،پھر اگر اس میں تمام ممکنہ کمالات پائے جائیں تو وہ تو جمال کی انتہاء کو چھو رہا ہے"23
گزارش ہے کہ امام رازیؒ نے جمالیاتی طلب کی آسودگی کو کمال سے نتھی کر کے کمالِ مطلق کو خدا میں محصور اور کمالِ انسانی کو نبوت سے مشروط کر کے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مذہب کے بغیر جمالیاتی شعور کی آبیاری ممکن نہیں ہے۔
حواشی
- قاضی عبدالجبار اسد آبادی،المغنی فی ابواب التوحید والعدل،ج6-1،ص88 - https://archive.org/details/almoghny-kady-abdelgabar/11 27-10-2020
- ايضا،ج6-1،ص61
- ايضا،ج٦-١،ص٨١
- ايضا،ج٦-١،ص٦٤
- ايضا،ج٦-١،ص٦٥
- امام ابو منصور ماتريدى،كتاب التوحيد(لاہور: مكتبہ دارالاسلام،۲۰۱۴)، ۲۹۸ ۔
- امام فخر الدين محمد بن عمر رازى،المحصول فى علم اصول الفقه(موسسة الرساله،بيروت،١٩٩٢)،ج١،ص١٢٣،١٢٤
- امام فخر الدين رازى،الاربعين فى اصول الدين(بیروت: دارالکتب العلميه،بیروت،۲۰۰۹)، ۲۔
- امام فخرالدین رازی،المطالب العاليه من العلم الإلهي (دارالکتب العلمیہ،بیروت،١٩٩٩)، ج۳، ص ۱۸۰۔
- ایضا،ج٣،ص١٤
- ایضا،ج٣،ص٢١٦
- امام فخر الدين محمد بن عمر رازى،المحصول فى علم اصول الفقه(موسسة الرساله،بيروت،١٩٩٢)،ج١،ص١٣٢
- امام فخرالدین محمد بن عمر رازی،نہایة العقول فی درایة الاصول(دارالذخائر،بیروت،٢٠١٥)،ج٣،ص٢٨٥
- امام فخر الدين رازى،الاربعين فى اصول الدين(دارالکتب العلمیہ،بیروت،٢٠٠٩)ص٢٤٣،٢٤٤
- امام فخرالدين محمد بن عمر رازى،الاشارة فى علم الكلام(المكتبة الازهرية للتراث،مصر،٢٠٠٩)،ص٢٢٦
- امام فخرالدين محمد بن عمر رازى،كتاب النفس والروح و شرح قواھما(معہد الابحاث الاسلامیہ،اسلام آباد)،ص٢٠،٢١
- ايضا،ص٢١
- ایضا،ص٢١،٢٢
- ایضا ص٢٢
- امام فخرالدین رازی،شرح عیون الحکمة(موسسة الصادق للنشر والطباعة،طهران،ايران،١٣٧٣ھ)ج٣،ص١٦٧-١٢٨
- امام فخرالدين رازى،المطالب العالية من العلم الالهى(مكتبة علمية ،ببروت،١٩٩٩)ج٨،ص٦١
- امکانِ عام مراد ہے۔
- امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی،احیاء علوم الدین(دارالحدیث،قاہرہ،٢٠٠٤)ج٤،ص٣٧٢
(جاری)
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۸)
ڈاکٹر شیر علی ترین
اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ
(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب Defending Muhammad in Modernity کا دسواں باب)
دسواں باب: مشترکات
اب تک میں نے کوشش کی ہے کہ مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی مخالفین کے درمیان بنیادی اختلافات کو نمایاں کروں، اور یہ کہ ان کی بدعت کی تعریف کیا ہے، اور وہ اس کے خطرے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اس باب میں، میں بتاؤں گا کہ علما کے ان دو مخالف کیمپوں کے درمیان کیا کیا مشترکات ہیں۔ یہاں میں جن بنیادی سوالات کا جواب دوں گا، وہ یہ ہیں:
- مولانا احمد رضا خان کا تصورِ بدعت کیا تھا؟
- ان کی نظر میں شرعی حدود سے تجاوز کا مطلب کیا تھا؟
- ان کا تصوّرِ اصلاح کیا تھا؟
- عوام کی روزمرہ مذہبی زندگی میں کون سے امور قابلِ اعتراض ہیں، اور کیوں؟
چلیں میں مختصراً واضح کرتا ہوں کہ میری اس کد وکاوش کا مقصد کیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں میں نے بڑی حد تک مختلف رسوم وعادات پر علماے دیوبند کی تنقید اور ان اعمال کے شرعی جواز کے حق میں مولانا احمد رضا خان کے دفاع کو پیش کیا ہے۔ لیکن یہ تصویر ادھوری اور ٹیڑھی رہے گی، اگر ہم دیوبندیوں کو استعماری جنوبی ایشیا میں رائج رسموں کے محض معترضین اور بریلویوں کو ان کے مدافعین سمجھنے لگ جائیں۔
مولانا احمد رضا خان کی فکر کے ایک دقیق جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں وہ علماے دیوبند کے ناقد تھے، وہیں وہ پوری گہرائی کے ساتھ بلکہ بعض اوقات تو ان سے بھی زیادہ اس طریق کار کے ناقد تھے، جس کے مطابق عوام رسوم ورواجات میں شریک ہوتے ہیں۔ دیوبندیوں سے ان کے اختلاف کی اصل وجہ جائز اعمال کو ناجائز قرار دینے کا اصولی اختلاف تھا، بالخصوص وہ اعمال جن سے رسول اللہ ﷺ کی توقیر ہوتی ہو۔ ان کے اور دیوبندیوں کے درمیان روایت اور زمنیت کے تعامل پر بھی شدید اختلاف تھا، جسے میں نے گزشتہ باب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ تاہم ان فکری اختلافات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مولانا احمد رضا خان عوام کے روزمرہ چال چلن سے دیوبندیوں کے بنسبت کچھ کم غیر مطمئن تھے۔ خان کوئی آزاد خیال بزرگ نہیں تھے۔ نہ وہ ایسے روادار صوفی تھے، جن کا موازنہ دیوبندیوں کی نام نہاد خشک فقہیت سے کیا جا سکتا ہو۔ اس کے برعکس خان کو ان چیزوں کے مقابلے میں ہندوستانی مسلمانوں کی ایک متصور شناخت کی نگرانی اور تحفظ کا فوری خدشہ لاحق تھا، جنھیں وہ داخلی اور خارجی غیر سمجھتے تھے۔ انھیں ہندوستانی مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں رائج عادات واطوار کے بارے میں شدید بے چینی تھی۔ مزید برآں بالکل اپنے دیوبندی مخالفین کی طرح عوام کی روزمرہ زندگی کو باضابطہ بنانے کے لیے ان کی کاوشیں بیک وقت شرعی حدود کو پائمال نہ کرنے کی عوامی صلاحیت کے متعلق وہ کچھ زیادہ خوش گمان نہ تھے۔ میں اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔
موت، خوراک، میزبانی
درج ذیل سوال پر غور کریں جو مولانا احمد رضا خان سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو فوتگی کے فوراً بعد تعزیت کے لیے میت کے گھر میں جمع ہوتی ہیں:
ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں مرحوم کے دوستوں اور رشتہ داروں کی خواتین میں یہ رائج ہے کہ فوتگی کے دن ہی مرحوم کے گھر آجاتی ہیں۔ عام طور پر وہ تین، دس حتی کہ چالیس دن میت کے گھر میں گزارتی ہیں۔ وہ مرحوم کے گھر کو خوشی کی ایک تقریب کے مقام میں بدل دیتی ہیں، گویا وہ کسی شادی میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔ اس طویل اقامت کے دوران مرحوم کا خاندان بغیر کسی پس وپیش کے ان مہمانوں کو اپنے ہاں ٹھہراتا ہے، ان کے کھانے پینے اور پان چالیا تک کے اخراجات اٹھاتا ہے۔ ان اخراجات کو اٹھانے میں بسا اوقات انھیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ بعض اوقات انھیں سود پر قرضہ لینا بھی پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ اچھی طرح سے مہمانوں کی خاطر تواضع نہ کریں، تو مہمان انھیں طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ شرعاً جائز ہے1؟
اس سوال کے جواب میں خان برہمی کے اظہار کے ساتھ سائل پر طنز کے تیر ونشتر چلاتے ہوئے کہتے ہیں: "سبحان اللہ، اے مسلمان! تم پوچھتے ہو کہ کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اس کے بجاے آپ کو پوچھنا چاہیے تھا کہ اس غلیظ رسم میں کون کون سی گھناونی اور قبیح صفات یک جا ہو گئی ہیں2؟"
سب کچھ ایک طرف رکھ دیجیے، مرحوم کے گھر کو ایک بڑی سماجی تقریب میں بدل دینا بذات خود حرام ہے، خان نے سختی سے کہا۔ میت کے خاندان پر ضیافت کا بوجھ بالکل بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔ اپنے مقدمے کے اثبات میں خان نے پندرھویں صدی کے مصری حنفی فقیہ علامہ ابن الہُمام (م 1457) کی شرح فتح القدیر (جو فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ کی شرح ہے) کا حوالہ دیا: "میت کے گھر والوں سے ضیافت کھانا مکروہ ہے، کیوں کہ ضیافت خوشی کے لمحات میں جائز ہے، نہ غمی کی صورت میں۔ (غمی کی صورت میں ضیافت) ایک قبیح بدعت ہے"3 (يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت، لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعةٌ مستقبحة)۔ سب سے مناسب اور شرعاً مطلوب عمل یہ ہے کہ میت کی تعزیت میں شریک خاندان کے افراد کو پڑوسی اور رشتہ دار کھانا کھلائیں، تاکہ اس صدمے کے دوران انھیں کچھ راحت نصیب ہو۔ خان نوحہ کناں ہیں کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔
مصیبت زدہ خاندان سے تعاون کرنے اور انھیں راحت پہنچانے کے بجاے ان پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی کرنے اور انھیں کھانا کھلانے اور اخراجات اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حتی کہ انھیں اس مقصد کے لیے ادھار لینے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو اس رسم کی ہول ناکی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ لیکن خان کو سب سے زیادہ جس چیز سے پریشانی ہے، وہ ایسے مواقع پر خواتین کا طرز عمل ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: "یہ خواتین میت کے گھر میں جمع ہوتی ہیں، اور ہمہ اقسام کے قابل اعتراض امور کا ارتکاب کرتی ہیں۔ وہ دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں، پاگلوں کی طرح چیختی ہیں، اپنے سینوں کو زد وکوب کرتی ہیں، اور اپنے چہرے کو دکھاوے کی خاطر ڈھانپ کر رکھتی ہیں، تاکہ وہ غمگین نظر آئیں"4۔
یہ تمام حرکات نوحے کے زمرے میں آتی ہیں، اور نوحہ حرام ہے۔ جہاں پر ایسی عورتیں جمع ہوں، میت کے دوستوں اور رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہاں پر کھانا بھی نہ بھیجیں، کیوں کہ یہ گناہ میں تعاون کرنے کے مترادف ہوگا5۔ مولانا اشرف علی تھانوی اور خان کے دیگر دیوبندی حریف معمولی پس وپیش کے ساتھ ان جذبات کی تائید کریں گے۔ رسم ورواج پر بریلویوں اور دیوبندیوں دونوں کی تنقیدات ایک بھاری خدشے میں ملفوف ہیں۔ یہ خدشہ اخلاقی نظام اور استحکام کے لیے عورت کا وبائی خطرہ ہے، جسے دبانا ضروری ہے۔ استعماری جنوبی ایشیا میں مسلم مصلحین کی فکر پر خواتین کا بھاری بھر کم بوجھ سوار ہے، جیسا کہ فیصل دیوجی نے اس مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "ہر ایک مصلح عورت کو، مثال کے طور پر، ایک منحوس اور مہلک خرابی کے کردار کے طور پر دیکھتا ہے۔۔۔ مغلوب نسوانیت کے مقابلے میں مردانہ زدپذیری (vulnerability) کا یہ احساس صرف اس صورت میں ابھر سکتا ہے، جب بذات خود ان مردوں کو استعمار نے مغلوب کر دیا ہو"6۔
خان کی طرف واپس آتے ہیں۔ ان کا اساسی نکتہ یہی تھا کہ اگر چہ ایصالِ ثواب کے لیے کھانا کھلانا جائز ہے، لیکن (کسی شخص کی فوتگی کے موقع پر) ضیافت کے طور پر کھانا پیش کرنا ناجائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے فوتگی خوشی کی ایک تقریب میں بدل جاتی ہے، اور فوتگی کا غم اور اہمیت زائل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص مرتا ہے، تو لوگ اس کی موت پر خفا ہونے کے بجاے کھانے کے مشتاق نظر آتے ہیں۔ اس نکتے پر زور دینے کے لیے مولانا احمد رضا خان نے عربی کے ایک مقولے کی من پسند تشریح پیش کی۔ مقولہ کچھ یوں ہے: فوتگی کے موقع پر کھانا کھانا دل کو مردہ کر دیتا ہے (طعام الميّت يُميتُ القلبَ)۔ خان نے بتایا کہ اس مقولے میں ان لوگوں کی حالت کا بیان ہے جو اپنے معاشرے میں کسی کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں، تاکہ وہ اس کے مرنے کے بعد اس کے کھانے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ایسے لوگوں کے دل مردہ ہیں، کیوں کہ وہ کھاتے وقت موت سے غافل اور کھانے کی لذت میں شاغل ہوتے ہیں۔ خان نے تنبیہ کی کہ یہ فوتگی کو بڑی تقریبات اور کھانے پینے میں بدلنے کا افسوس ناک نتیجہ ہے۔
مولانا احمد رضا خان کے مطابق (فوتگی کے دن) میت کے خاندان کو کھانا کھلانے کے ساتھ واحد جائز عمل یہ ہے کہ غربا میں کھانا تقسیم کیا جائے۔ معاشرے کے دیگر افراد کو بلانے اور ان میں کھانا تقسیم کرنے کا کوئی مقصد نہیں۔ اور مال داروں کو بطور خاص ایسا کھانا کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر انھیں یہ کھانا بھیج بھی دیا جائے، تو انھیں چاہیے کہ اسے غربا کو دے دیں۔ ان آرا سے بھی علماے دیوبند کے لیے اختلاف کی گنجائش کم ہے۔ لیکن ان مشترکات کے باوجود اس کلیدی سوال پر خان صاحب کا موقف اپنے دیوبندی مخالفین سے الگ تھا: ایصالِ ثواب کی خاطر کھانا تقسیم کرنے کے لیے دن کی تخصیص۔ علماے دیوبند کے برعکس خان کو مثلا مروّجہ تیجے، دسویں یا چہلم کی تخصیص سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ خان صاحب نے بتایا کہ کسی دن کی تخصیص مصالح عرفیہ کے حصول کے لیے ہے، اور اس وجہ سے جائز ہے7۔
مشروط نجات
لیکن جہاں چند مسائل کے حوالے سے خان کے رویے میں لچک تھی، مثلاً کھانے کی تقسیم کے لیے دن کا تعین، وہیں ان لوگوں کی مذہبی وابستگی کے بارے میں بالکل بے لچک تھے، جن میں یہ خوراک تقسیم کیا جاتا، یا جن کی ارواح کو اس کا ثواب بخش دیا جانا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ صرف ایسے مسلمان کی روح کو فقرا میں کھانے کی تقسیم سے حاصل ہونے والی برکات حاصل ہو سکتی تھیں جو ضروریات دین کا منکر نہ ہو ۔ اور صرف ایسے بے داغ کردار کے حامل شخص کے لیے یہ کھانا لینا اور کھانا جائز ہے۔ تمام غیر مسلم، چاہے وہ مشرکین ہوں یا غیر مشرکین، وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ اسی طرح ان اسلامی فرقوں کو بھی ایصال ثواب کا کھانا دینا یا کھلانا جائز نہیں، جو ضروریاتِ دین کے منکر ہوں، جیسے شیعہ (رافضی/تبرّائی) جو اولین دو خلفا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کو مسترد کرتے ہیں، یا ان کی توہین کرتے ہیں8۔
اس بابت خان صاحب کا رویہ نیچ ذات کے چماروں کے بارے میں بے انتہا متشددانہ ہے۔ ایصالِ ثواب کے موضوع سے ذرا ہٹ کر اس پر بات کرتے ہیں۔ ایک بار خان صاحب سے ان ہندوؤں کے مقام کے بارے میں پوچھا گیا جنھوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان سے بطور خاص پوچھا گیا کہ قبول اسلام کے بعد ان کے لیے جائز ہے کہ اپنی اس ذات یا برادری سے منسوب رہیں، جس سے وہ اسلام لانے سے پہلے منسوب تھے؟ اپنے جواب میں خان صاحب نے واضح کیا کہ چوں کہ دینی شناخت کا تعلق کسی مخصوص گروہ یا قبیلے سے نہیں، اس لیے قبول اسلام کے بعد اپنی ذات یا برادری سے منسوب رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں یہ ایک عام رواج تھا۔ خان صاحب نے واضح کیا کہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں، اور اس وجہ سے اس کے مقابلے میں برادری اور ذات پات کی تمام نسبتیں بے حد معمولی بن جاتے ہیں9۔
تاہم اس کے باوجود ماقبل اسلام کی سماجی حیثیت مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہو جاتی۔ بلکہ روایات میں آیا ہے کہ جب کسی قوم کا معزز شخص تمھارے پاس آئے، تو تم ان کی عزت کرو (إذا أتاكم كريمُ قومٍ فأكرِموه)۔ اس حدیث کو ہندوستانی سیاق میں پیش کرتے ہوئے خان کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہندو ٹھاکر یا راجپوت کسی مسلمان کے پاس آتا ہے، تو چاہیے کہ وہ اسے عزت دے۔ اس لیے کہ ٹھاکر/راجپوت ہندوستانی سماج میں معزز سمجھے جاتے تھے۔
قبولِ اسلام یا خان کی تعبیر کے مطابق "بالکل ٹوٹ کر ہم میں آ ملنے" سے سماجی مقام میں ہزار گنا اضافہ ہو جاتا ہے، خان صاحب نے واضح کیا۔ حتی کہ جب کوئی چمار مسلمان بن جاتا ہے، تو اسے کم تر جاننا قطعاً حرام ہے، کیوں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں وہ دین میں ہمارا بھائی بن جاتا ہے"10۔
بالفاظ دیگر خان کی نظر میں قبول اسلام ان نیچ ذات کے لوگوں کو بھی یہ موقع دیتا ہے کہ وہ تمام سماجی داغ دھبوں سے پاک ہو کر از سرِنو زندگی کا آغاز کریں۔ اور جو پہلے سے کسی معزز مقام ومرتبے کے حامل ہیں، اسلام قبول کرنے سے ان کے رتبے میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے- ہزار گنا زیادہ۔
تاہم یہ رعایت صرف انھیں حاصل ہے جنھوں نے قبول اسلام کے سنگ میل کو عبور کیا ہو۔ ایک اور موقعے پر خان سے پوچھا گیا کہ غیرمسلم نادار چماروں میں ایصالِ ثواب کے کھانے کی تقسیم کا حکم کیا ہے؟ سائل کچھ اس انداز سے پوچھتا ہے: "میت کے تیجے کے موقع پر لوگ چنوں کے اوپر فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اس کا کچھ حصہ مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور بقیہ مشرک چماروں کو دے دیا جاتا ہے۔ کیا جن چنوں پر قرآن پڑھا گیا ہے، انھیں (ہندو) چماروں کو کھلانا جائز ہے"11؟ "یہ کھانا مشرک کو یا (غیر مسلم) چمار کو دینا گناہ ہے، گناہ ہے، گناہ ہے"12۔ خان کی نظر میں چمار کو کھانا کھلانے میں ثواب تب ہے جب وہ مسلمان ہو۔ چمار کی سماجی حیثیت اور دینی احترام اس امر پر منحصر ہے کہ وہ باضابطہ طور پر اسلام قبول کر لے۔ ایک بار وہ اسلام قبول کرلے، تو پھر وہ مسلمانوں کی رسمی تقریبات کا حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ اس کے لیے اس وقت تک بند ہے جب تک وہ "ٹوٹ کر ہم سے نہ آ ملے"۔ صرف صحیح مذہب قبول کرنے کے بعد ہی موت سے پہلے یا موت کے بعد چمار کی کچھ میزبانی کی جا سکتی ہے۔
شعائر اللہ کا تحفظ
مولانا احمد رضا خان عوامی دائرے میں مسلمانوں کی امتیازی علامات کے تحفظ کے بھرپور داعی تھے۔ غیر مسلموں (بالخصوص ہندؤوں) کی نقالی یا ان کی تہواروں میں شرکت پر ان کی تنقید کی کاٹ دیوبندی مخالفین اور شاہ محمد اسماعیل کے برابر یا شاید ان سے بھی زیادہ تھی۔ مثلاً ایک بار خان سے پوچھا گیا کہ کہ مسلمانوں کے لیے ہندو تہواروں جیسے رام لیلا (رام چندر جی کی فتح یابی کی ڈرامائی نقل) اور دوسہرہ (راون پر رام کی فتح کی یاد میں میلا) میں جانے کی بارے میں آپ کی راے کیا ہے۔ بلکہ ان سے پوچھا گیا کہ ان مقامات میں وقت گزارنے پر کیا شرعی نتائج مرتب ہوتے ہیں، جہاں کفریہ اور شرکیہ کلمات اور نعرے پوری آزادی سے لگائے جاتے ہوں۔ کیا یہ کسی مسلمان کے ایمان کو ضرر پہنچاتا ہے13؟ خان صاحب نے اس کا جو جواب دیا، اس میں تہوار میں شرکت کی نوعیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی کہ وہاں جانے کا مقصد کیا تھا؟ اس شخص نے وہاں پر کیا کیا؟ اور سب سے اہم یہ کہ جب وہ وہاں پر تھا تو اس کے ساتھ کیا حالات پیش آئے؟
خان صاحب کی راے میں اگر یہ تہوار مذہبی ہو تو پھر تو بہر صورت اس میں شرکت حرام ہے، کیوں کہ اس تقریب میں ضرور کچھ ایسی باتیں اور سرگرمیاں ہوں گی، جو بنیادی اسلامی عقائد کے خلاف ہوں گی۔ تاہم حرام ہونے کے باوجود صرف اس تہوار میں شرکت کرنا کفر نہیں ہوگا۔ البتہ وہاں جو کچھ ہوا، اس کو مثبت انداز سے دیکھنا اخروی اعتبار سے خطرناک نتائج کا حامل ہے۔ خان صاحب نے بتایا کہ مثال کے طور پر اگر ایک مسلمان ہندؤوں کے بھجن اور رسموں، جو شرک کی تبلیغ اور توحید کی تردید کرتی ہیں، کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھنے لگ جائے تو خطرہ ہے کہ وہ کہیں کافر نہ بن جائے۔ اس شخص کے لیے اور بھی بڑا خطرہ ہے جو ان بھجنوں اور رسموں کو ہلکا لیتا ہے، اور اس میں شرکت کے جرم کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ایسے لوگ نہ صرف دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، بلکہ نتیجتاً ان کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے14۔ کسی تہوار میں شرکت کی یہ بڑی بھاری قیمت ہے!
اگر یہ کوئی مذہبی تہوار نہ ہوتا، بلکہ بنیادی طور غیر مذہبی میلہ ہوتا، تو بھی افضل یہی ہے کہ ایسی جگہوں میں جانے سے اجتناب کیا جائے، جہاں ہندؤوں کی اکثریت ہو، خان صاحب نے نصیحت کی۔ "یہ ممکن نہیں کہ ایسی تقریبات میں قابل اعتراض یا مکروہ اعمال نہ ہوں"15۔ لیکن ان مسلمان دکان داروں اور تاجروں کا کیا حکم ہے، جو ایسے مقامات پر صرف اپنی تجارت یا کمائی کی خاطر جاتے ہیں؟ خان صاحب نے کہا کہ انھیں اس کی اجازت ہے بشرط یہ کہ وہاں پر کفر وشرک کی کوئی علامت نہ ہو، اور نہ وہ کسی ناگوار عمل کو دیکھیں، اور نہ اس میں بذاتِ خود شریک ہوں۔ پھر بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ایسے مقامات میں جانے سے مکمل گریز کریں۔
مولانا احمد رضا خان کے مطابق صرف ایک صورت ہے، جس میں ہندؤوں کی تہواروں، چاہے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، میں نہ صرف یہ کہ شرکت جائز بلکہ درحقیقت مستحب اور قابل تعریف ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان عالم وہاں پر لوگوں کو اسلام کی تعلیم وتبلیغ کے لیے جائے۔ انھوں نے واضح کیا کہ غیر مسلموں کو دعوت دینے کی غرض سے رسول اللہ ﷺ بذاتِ خود بار بار ایسے مقامات پر جاتے۔ یہاں پر ان کا مقصد یہ تھا کہ اس عمومی قاعدے سے ایک استثنا قائم کریں16۔ تو خان صاحب کے نزدیک صرف ایک مسلمان عالم، جس کے پاس تعلیم وتبلیغ کی مناسب مہارت ہو، ہندو تہواروں میں بار بار جا سکتا ہے۔ صرف ایک ایسا مسلمان عالم جو لوگوں کو راغب کر سکتا ہو، ان کی رہ نمائی اور آخرت میں ناکامی سے حفاظت کر سکتا ہو،وہ منحرف کفری مقامات، افکار اور تہواروں کے خطرے سے محفوظ ہوتا ہے۔ ایسا عالم کفر وشرک کے علاقے میں داخل ہو سکتا ہے، جو مطلوبہ علمی اسلحے اور ساز ومان سے لیس ہو۔ جہاں تک عام لوگوں کی بات ہے، ان کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ ان خطرات سے خود کو دور رکھیں، ایسا نہ ہو کہ ان کی آخرت قبل از وقت برباد ہو جائے۔
جیسا کہ میں نے کہیں اور بھی بتایا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کی اصالت کو برقرار رکھنے کی جو کوشش مولانا احمد رضا خان کر رہے تھے، وہ ایک سلطانی سیاستِ شرعیہ کے بیانیے میں ملفوف تھی، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دیگر مذہبی معاشروں پر مسلمانوں کے غلبے اور برتری کو برقرار رکھا جائے17۔ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کی عدم موجودگی میں ایسی کوششوں کا رخ مکمل طور پر روزمرہ کی رسموں اور اعمال کی طرف پھر گیا۔ مثال کے طور پر خان صاحب بیسویں صدی کے اوائل میں برپا ہونے والی تحریک خلافت کے قائدین (ایک استعمار مخالف تحریک جس کا مقصد خلافتِ عثمانیہ کی بحالی تھی) پر شدید تنقید کرتے تھے؛ کیوں کہ انھوں نے گاندھی سے قربت واتحاد اختیار کیا تھا۔ خان کو اس اتحاد کے سیاسی فوائد کی بجاے عوامی دائرے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان قربت سے زیادہ بے چینی تھی۔ اپنے دیوبندی حریفوں کی طرح ان کے لیے بھی سب سے اہم شعائرِ اسلام کا تحفظ تھا۔ اگر ہندؤوں سے موالات کی حمایت کی جائے، جو ان کی نظر میں تحریک خلافت کے قائدین کر رہے ہیں، تو شعائرِ اسلام اور اس کے نتیجے میں ناگریز طور پر مسلمانوں کی اخلاقی برتری مٹ جائے گی۔ ان کی مذہبی افکار میں اس شدید بے چینی کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں18۔
تاہم خان صاحب کوئی بے لچک اور انتہا پسند تکفیری نہ تھے؛ وہ بھی عملی سیاست میں کافی دل چسپی رکھتے تھے۔ مثلاً تحریک خلافت کے دوران انھوں نے تحریک سے جڑے ان علما، جیسے مولانا ابو الکلام آزاد (م 1958) کی یہ دعوت پوری شدت سے مسترد کر دی کہ برطانیہ کے خلاف جہاد کیا جائے۔ ایک طاقتور سامراجی طاقت کے خلاف یہ دعوت نری حماقت ہے، خان صاحب نے واضح کیا۔ علاوہ ازیں انھوں نے برطانوی استعمار سے ترکِ موالات کی تحریک کو بھی مسترد کر دیا، جس کا تحریکِ خلافت نے (گاندھی کے عدم تعاون کی تحریک سے موافقت میں) مطالبہ کیا تھا۔ خان صاحب نے بتایا کہ استعمار کے خلاف ایسی تحریک سے صرف ہندوستانی مسلمانوں کو سماجی اور معاشی طور پر نقصان ہوگا، جب کہ برطانوی حکومت کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔ بلکہ انھیں یقین تھا کہ برطانیہ کے خلاف یہ نام نہاد بائیکاٹ گاندھی کی ایک چال ہے، تاکہ وہ مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حیثیت کو کم زور کرے۔ ان کی نظر میں یہ ایک سازش تھی، اور تحریکِ خلافت کے قائدین/علما دانستہ یا نادانستہ طور پر اس سازش کا حصہ بن گئے تھے۔
برطانیہ کے خلاف جہاد برپا کرنے کے انتہائی مخالف استعمار اقدام کو مسترد کرکے خان صاحب نے ایک عملی موقف اختیار کیا، اور وہ یہ تھا کہ باوجود یہ کہ برطانوی غیر مسلم ہیں، لیکن ان سے مالی عقود اور تعلقات قائم کرنے چاہییں۔ ان کے استدلال کی بنیاد حقیقی دوستی (جو غیرمسلموں کے ساتھ ناجائز ہیں) اور محض تجارتی تعلقات (جو جائز ہیں) میں تفریق تھی۔ بلکہ انھوں نے مسلمانوں کو یہاں تک اجازت دی کہ اگر ضرورت ہو، تو انھیں برطانویوں کی طاقت واقتدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے دوستی کا دکھاوا کرنا چاہیے19۔
ان سب باتوں کا مقصد اس امر کی وضاحت ہے کہ بیرونی 'غیر' سے متعلق خان کی آرا تہہ در تہہ پیچیدگیوں کی حامل ہیں، اور اس وجہ سے ان کی تصویر کشی روادار/تکفیری، پرامن/متشدد اور اصلاحی/غیر اصلاحی جیسے تقابلات سے نہیں کی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنا ایک اصلاحی ایجنڈا پیش کیا، جس میں جہاں مکمل اخلاقی پاکیزگی کے حصول کی خواہش تھی، وہیں برطانوی استعمار کی موجودگی میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کے عدم امکان کا حقیقت پسندانہ اعتراف بھی تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی سیاسی حقیقت پسندی کو روزمرہ زندگی کے دائرے میں ان کی مثالیت پسندی کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے، کیوں کہ انھوں نے ان تھک کوشش کی کہ عوامی دائرے میں شعائر اسلام کی برتری اور اصالت کو قائم کرے۔
روزمرہ زندگی کی اصلاح
خان صاحب اور ان کے دیوبندی مخالفین کے نزدیک قانون کی حدود محض ایک نظری معاملہ نہیں۔ قانونی حدود کی تشکیل اور تنفیذ صرف اس صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے، جب دین دار عوام ان حدود کے مطابق خود کو ڈھالیں، اور پوری باریک بینی سے مرتب کی گئی سماجی اقدار اور ترجیحات کو معمول بنائیں۔ مثال کے طور پر شمالی ہندوستان میں وسیع پیمانے پر رائج تفریحی سرگرمیوں (جو آج تک جنوبی ایشیا میں جاری ہیں)، جیسے پتنگ بازی، تاش اور شطرنج، بٹیروں اور مرغوں کی لڑائی کے مقابلے اور جانوروں کے شکار سے متعلق ان کی بحث کو ملاحظہ کیجیے۔ ان اعمال کو ممنوع قرار دینے کے ساتھ ساتھ مولانا احمد رضا خان ایک قدم آگے بڑھ گئے۔ انھوں نے جزئی تفصیلات کے ساتھ بتایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، جو ان جیسے اعمال میں شرکت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خان صاحب نے ہدایت کی کہ اگر کسی ایسے شخص سے آمنا سامنا ہو، جو مرغوں کی لڑائی کے مقابلے منعقد کرتا ہے، یا کبوتر بازی میں گھنٹے صرف کرتا ہے، تو افضل یہی ہے کہ اسے سلام نہ کیا جائے۔ اور اگر وہ سلام کرے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کے سلام کا جواب دیا جائے۔ خان صاحب کے تصورِ شریعت میں یہ کافی نہیں تھا کہ کسی عمل کو صرف شرعاً ناجائز قرار دیا جائے۔ شرعی ممانعت کے ساتھ ساتھ عوامی دائرے میں اس عمل سے براءت کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔ شرعی حدود سے تجاوز کے مرتکبین کی نہ صرف یہ کہ علمی تردید کی جائے، بلکہ سماجی طور پر بھی ان سے براءت اور اگر ضروری ہو تو قطع تعلق بھی کرنا چاہیے20۔
تفریح کے لیے جانوروں کے شکار کی ممانعت کے متعلق خان صاحب کے استدلال سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ عوام کو ایک مخصوص معنوں میں دین دار دیکھنا چاہتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شکار بالکل جائز ہے اگر اس سے کسی مفید مقصد کی تکمیل ہوتی ہو۔ مثال کے طور پر خوراک یا دوائی یا کسی اور مفید مقصد کی غرض سے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ مچھلی پکڑنا یا شکار کرنا اس صورت میں ناجائز ہے، جب اس کا مقصد کھیل کود یا تفریح ہو۔ لیکن یہ پتا کیسے چلے گا کہ شکار کا مقصد تفریح ہے، یا کوئی جائز مقصد جیسے خوراک کا حصول؟ تفریح اور ضرورت/مقصد کے درمیان تفریق کے لیے بنیادی پیمانہ کیا ہے؟ یہاں پر خان صاحب کا جواب بہت دل چسپ ہے، کیوں یہ پوری وضاحت کے ساتھ ان کی تنقید کی افادی بنیادوں کو سامنے لاتا ہے۔
مولانا احمد رضا خان نے بتایا کہ ہمارے عہد کے متمول اشراف کے مسرفانہ اور لایعنی طرز عمل کو جاننے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ذرہ برابر جسمانی مشقت کے روادار نہیں۔ جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں: "یہ مال دار شکاری اس قدر خود پسند ہیں کہ طعام ولباس کی بنیادی ضروریات کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں۔ یہ اس قدر آرام طلب ہیں کہ نماز پڑھنے کے لیے دھوپ میں دس قدم تک چلنے سے گریز کرتے ہیں"21۔
خان صاحب طنز وتضحیک کے پیراے میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں: "یہ سوچنا لغو ہے کہ ایسے لوگ طعام کے حصول کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑیں گے، اور تپتے صحراؤں کی چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں پیدل چلیں گے اور رکیں گے، جہاں انھیں ہر طرف سے گرم ہوا کے تھپیڑے پڑتے ہیں"22۔ اپنے قارئین کو ایک بدیہی بات سمجھاتے ہوئے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ شکار سے کئی گنا آسان طریقے سے مثلا مقامی بازار سے مچھلی خرید کر وہ طعام کا حصول کر سکتے ہیں۔ لیکن شکار کے لیے جانے پر اصرار، باوجود یہ کہ اس سے زیادہ آسان طریقے سے طعام کا حصول ممکن ہو، حتمی پیمانہ ہے کہ ان مہمات کا اصل مقصد خوراک یا کسی اور فائدے کے بجائے تفریح اور عیاشی ہے۔ بلکہ اکثر شکار کیے جانے والوں جانوروں کو عام لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور شکار کرنے والے شاذ نادر اسے پکاتے اور کھاتے ہیں۔ ان تمام امور یہ بات یقینی ہو گئی کہ یہ شکار محض ایک کھیل کود ہے، اور لوگ جو یہ کھیل کھیلتے ہیں، انھیں اپنے بھوک کو مٹانے یا کسی اور ٹھوس مقصد کو پورا کرنے میں بمشکل کوئی دل چسپی ہوتی ہے۔
ان چیزوں کو ناجائز قرار دینے کے پیچھے خان کا بنیادی مقصد ایک ایسے اخلاقی نظام کی تشکیل تھا، جو فضول مشاغل، اسراف اور زندگی وفطرت کو کھیل کود اور تفریح جیسے غیرضروی مقاصد کا ذریعہ بنانے کی حوصلہ شکنی کرتا ہو۔ ایک اور بات یہ، اگر چہ خان صاحب نے اسے اس انداز میں بیان نہیں کیا، لیکن انھوں نے 'بامقصد' شکار پر جو زور دیا، اس سے جانوروں کی حفاظت اور تقدس اور غیر ضروری انسانی تسکین کے لیے اس کی پاے مالی ناجائز قرار پائی۔ اگرچہ یہ کسی طرح سے جانوروں کے ایک حقوق کے کارکن کا موقف نہیں، تاہم یہ نوٹ کرنا دل چسپ ہوگا کہ خان صاحب کے اختیار کردہ ایک ٹھیٹھ روایتی فریم ورک میں اس طرح کے موقف کے لیے کچھ گنجائش نکل آتی ہے۔
شادی بیاہ کی رسومات پر تنقید
شادی بیاہ کی رسموں پر بے رحم تنقید کے حوالے سے مولانا احمد رضا خان اپنے سب سے بڑے حریف مولانا اشرف علی تھانوی سے انتہائی مشابہت رکھتے ہیں۔ مولانا تھانوی کی طرح (آٹھویں باب کا آخری حصہ دیکھیے) خان صاحب کے نزدیک بھی ہندوستانی شادیاں تمام مکروہ اعمال کی گڑھ تھیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات کسی بھی رسم سے زیادہ عوام میں رائج تمام اخلاقی وباؤں کو ایک ساتھ جمع کرتی ہیں۔ ان میں فضول خرچی، مرد وزن کا آزادانہ اختلاط، جھوٹی شان وشوکت، معاشی دیوالیہ پن اور بعض اوقات قابل اعتراض رسمیں، اور غیرمسلموں (بالخصوص ہندؤوں) کے تہواروں کی تقلید شامل ہیں۔ یہ سب مفسدات عوام کے تقوی اور آخرت کو برباد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی حیثیت اور طاقت کو بھی گھٹاتے ہیں23۔
شادی بیاہ کی جس سرگرمی پر خان سب سے زیادہ برافروختہ ہیں، وہ گانا بجانا اور موسیقی کی محفلیں ہیں، جن میں عام طور پر عورتیں شرکت کرتی ہیں۔ ان تقریبات میں جو گانے گائے جاتے ہیں، وہ عام طور پر فحش اور بازاری جملوں پر مشتمل ہوتے ہیں، اور اس میں غیر شرعی جنسی رویوں کا بار بار ذکر آتا ہے۔ بجاے شرمندہ یا نادم ہونے کے وہاں پر جمع عورتیں بمشکل اپنے زوردار قہقہوں کو روک پاتی ہیں۔ جوان اور غیر شادی شدہ لڑکیاں یہ بے ہودہ تماشے اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہیں، اور اس سے اثر لیتی ہیں، جب کہ "بے شرم، بے پروا، بے دماغ اور نکمے مرد" ان کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتے، اور بغیر کسی رکاوٹ کے ان سب کو چلنے دیتے ہیں24۔ مولانا احمد رضا کے تجزیے کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں نے یہ قابل اعتراض عادتیں ہندؤوں سے سیکھی ہیں۔ "یہ ناپاک اور ملعون رسمیں بے تمیز گدھوں اور احمق جاہلوں نے ملعون ہندو شیطانوں سے سیکھی ہیں"25۔ اس عبارت میں خان صاحب کے الفاظ سے واضح ہے کہ انھیں ان رسموں سے کس قدر شدید نفرت تھی۔
ایک بار پھر ان کے احتجاج میں مرکزی نکتہ 'غیروں' کی اندھی نقالی ہے۔ میری پیش کردہ سابقہ مثالوں کی طرح بعینہ یہاں بھی خان صاحب کو جو اصل خدشہ لاحق ہے، وہ روزمرہ معاشرت کے اقدار کی تشکیل ہے۔ اس خدشے کی واضح نشانی یہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف ان 'مفسد اعمال' کی نشان دہی کی، جو ان کی نظر میں ہندوستانی شادیوں میں سرایت کر چکے تھے، بلکہ انھوں نے واضح ہدایات بھی دیں کہ اگر کوئی شادی بیاہ میں شرکت کرتے وقت ان اعمال کو دیکھے، تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ جوں ہی مہمانوں کو شادی میں شرکت کے دوران بداخلاقی کے مظاہر جیسے فحش گانوں کے بارے میں پتا چلے، انھیں چاہیے کہ فوراً اٹھ کھڑے ہو جائیں، اور وہاں سے باہر چلے جائیں۔ انھوں نے پرزور انداز میں کہا: "اپنی بیویوں، بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کو ایسی فحش تقریبات میں شرکت پر مجبور نہ کریں"26۔ بلکہ اصل تو یہ ہے کہ لوگ ایسی شادیوں میں سرے سے شرکت نہ کریں۔
لوگ انھیں اپنی خوشیوں کا دشمن نہ سمجھ بیٹھیں، اس لیے انھوں نے واضح کیا کہ وہ شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشی منانے کی تمام صورتوں کے مخالف نہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں، جب تک شریعت کی حدود پائمال نہ کی جائیں۔ تو شرعاً جائز شادی کی صورت کیا ہوگی؟ شریعت کی نظر میں قابل قبول شادی بیاہ کی تقریب کے لیے نمونہ پیش کرتے ہوئے خان صاحب رسول اللہ ﷺ کے دور میں رائج رسموں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ شادی کی خوشیاں منانے کے لیے دف بجانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی یہ رائج تھا۔ یا مثلاً مدینہ میں عام رواج تھا کہ دولہن کے گھر میں پہنچنے پر سادہ اشعار کہے جاتے تھے جیسے: "ہم آپ کے ہاں آئے ہیں، ہم آپ کے ہاں آئے ہیں، اللہ ہمیں بھی زندگی دے، اور تمھیں بھی" (أتيناكم أتيناكم فحَيَّانا فحيَّاكم)27۔ خان صاحب کے نزدیک ان مناسب کلام میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن جلد ہی وہ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اس قدر آزادی بھی مناسب نہیں۔ کیوں؟ اس لیے اگر ہندوستانی عورتوں کو اس کی اجازت دی جائے، تو کوئی امید نہیں کہ وہ ان کے لیے مقررہ حدود کی پابندی کریں گی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ شادی بیاہ کے دوران اس قسم کے کسی بھی عمل پر مکمل پابندی عائد کی جائے، تاکہ "سرے سے فتنے کا دروازہ ہی بند کیا جائے"28۔
شادیوں سے "بازاری اور فاحشہ فاجرہ" عورتوں جیسے رنڈیوں اور ڈومنیوں(نیچ ذات کی گانا گانے والی لڑکیاں) کے نکال باہر کرنے کے سلسلے میں مولانا احمد رضا خان بطورِ خاص بے لچک تھے29۔ اس بابت ان کے استدلال سے ان کے نازک طبقاتی شعور کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔ ایسی خواتین سے نہ صرف اس وجہ سے دور رہنا چاہیے کہ ان کے لیے شرعی حدود کی پاس داری ناممکن ہے، بلکہ اس سے زیادہ اہم تر یہ ہے کہ وہ دیگر 'شریف زادیوں' کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ خان صاحب کے اپنے الفاظ میں: "اخلاقی طور پر کم زور اور خراب خواتین کو شریف زادیوں سے دور رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ (ان خواتین کی) صحبتِ بد زہرِ قاتل ہے"۔30 وہ اپنی بات کو اس ادعا پر ختم کرتے ہیں، جس سے ان کے تصوّرِ صنف کی واضح تصویر سامنے آتی ہیں: "خواتین شیشے کی طرح ہیں، اگر وہ ٹوٹ جائیں، تو تباہ ہو جاتی ہیں"31۔ خان صاحب کی واعظانہ بے چینی طبقے اور صنف کو یک جا کرکے واضح انداز میں سامنے لاتی ہے۔ اگر چہ تمام عورتوں کی یہ صلاحیت مشکوک ہے کہ وہ شریعت کی حدود کی پاس داری کر سکیں، تاہم نیچ طبقات اور ذاتوں کی عورتوں میں یہ امکان بھی ہے کہ وہ دیگر عورتوں کو خراب کریں۔ وہ اخلاقی اور سماجی نظام کے استحکام کے لیے اساسی خطرہ ہیں، ایک ایسا نظام جو عورت کے جسم کی پاکیزگی میں جھلکتا، اور اسی پاکیزگی سے اسے استحکام ملتا ہے، ایک ایسا جسم جو شیشے کی طرح نازک ہے، جو ہمیشہ موت اور بربادی کو قبول کرتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے اقدار وضع کرنے میں مولانا احمد رضا خان نے کوشش کی کہ اس بھورے آدمی کا کردار ادا کرے، جو بھوری عورت کو دوسری بھوری عورت سے بچاتا ہے۔
اور شادی بیاہ کی رسموں پر خان صاحب کی تنقید کے حوالے سے آخری بات: ہندوستانی مسلمانوں کی شادی بیاہ پر ان کی تنقید کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کا ایک گہرا ربط سماجی اور معاشی زوال سے بھی تھا۔ انھوں نے بتایا کہ شادی بیاہ کے رسم ورواج پر لوگوں کا شدید اصرار معاشی بدحالی پر منتج ہوا ہے۔
اخلاقی اور سماجی ومعاشی زوال کے درمیان موازنے کی بہترین عکاسی مولانا احمد رضا خان کے ان الفاظ میں ہوئی ہے: "کچھ لوگ شادی بیاہ کی رسموں پر ایسے فریفتہ ہو گئے ہیں کہ اگر انھیں پورا کرنے کے لیے انھیں گناہ کرنا پڑے، تو بھی وہ دریغ نہیں کرتے، لیکن رسم کو بہرصورت نہیں چھوڑیں گے۔ وہ بھاری شرح سود پر قرضے لیتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں اپنی جاے داد اور گھروں تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں"۔ یہی وہ فضول خرچیاں ہیں جس نے (ہندوستانی) مسلمانوں کی جاے دادوں اور اثاثوں کو برباد کر ڈالا ہے"32۔ جیسا کہ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے دیوبندی حریفوں کی طرح اخلاقی اور معاشی نظام ناقابل علیحدگی ہیں۔ مزید برآں جس قدر کوئی شخص خدائی قانون کو پائمال کرکے اخروی زوال کا شکار ہوتا ہے، اسی قدر اس کی دنیوی طاقت اور فلاح وبہبود کو بھی زوال ہوتا ہے۔
گزشتہ صفحات میں میرا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کافی شواہد جمع کرکے (اس کے علاوہ مزید بہت سے شواہد ہیں) اس تصور کو رد کروں کہ مولانا احمد رضا خان کے پاس دینی یا اخلاقی اصلاح کا کوئی معقول پروگرام نہیں تھا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ دیوبندی بریلوی اختلاف کو اصلاح پسندوں یا مخالفینِ اصلاح کے درمیان بحث ومباحثے سے تعبیر کرنا فکری اور تجربی دونوں اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ خان صاحب اور ان کے دیوبندی حریفوں میں شدید اختلاف کے باوجود یہ امر مشترک تھا کہ وہ عوام کی اصلاح کو ایک فوری نوعیت کا تقاضا سمجھتے تھے۔ مزید برآں نہ صرف یہ کہ ان کی تنقید کا موضوع ایک جیسا تھا (جیسا کہ شادی بیاہ کی صورت میں)، بلکہ صنف، طبقے اور شریعت کے محافظین کی حیثیت سے اپنے کردار کے بارے میں ان کا تصور بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ اگر چہ دیوبندیوں کی طرف بعض رسموں جیسے مولد کی مخالفت کو خان صاحب نے پرزور انداز میں رد کیا، لیکن وہ خود بھی عوامی رسموں اور روزمرہ کی عادات کی تردید میں بعض اوقات ان سے بھی زیادہ کرخت تھے۔ وہ کوئی آزاد منش صوفی نہ تھے۔
اس کے برعکس شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی عوامی صلاحیت کے بارے میں ان کی راے بھی زیادہ خوش گمانی پر مبنی نہ تھی، اور یہ ان کے مذہبی تصور میں مرکزی نکتہ تھا۔ اگر ان کے دیوبندی مخالفین سے ان کا موازنہ کیا جائے، تو وہ بھی ہندوستان کے عام مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کی کارکردگی سے اگر ان سے زیادہ نہیں تو ان سے کم بھی غیرمطمئن نہ تھے۔ اور جیسا کہ میں نے دکھایا ہے انھوں نے اس عدم اطمینان کا برملا اظہار کیا ہے، اور پورے لگن اور جذبے سے اصلاح کی ایک ایسی حکمت عملی وضع کی ہے، جو ان ان مسائل کو حل کرے۔
مذہبی تشکیل کے سیاسی تصورات پر ایک نظر
لیکن مولانا احمد رضا خان اور علماے دیوبند کے بعض پروگراموں اور مفروضوں کے درمیان مشترکات سے ہمیں ان کے درمیان موجودہ اختلافات کی شدت اور حیثیت کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ اگر چہ یہ دونوں گروہ مثلاً شادی کے عوامی رسموں کے ایک جیسے ناقدین ہو سکتے ہیں، لیکن فقہ، عقائد اور رسمی اعمال کے باہمی تعامل کے حوالے سے ان کی تفہیمات ایک دوسرے کے یک سر مخالف تھیں۔ اس اختلاف میں سب سے بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ کسی سماج کی اخلاقی بھلائی کے تصور کے ساتھ قانون الٰہی کے تعامل کی شکل کیا ہو؟ خان صاحب کے نزدیک کسی سماج کی اخلاقی بھلائی کا تصور بڑی حد تک خدائی منشا کی عکاس ہے۔ خان صاحب نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث: جو مسلمانوں کو بھلا لگے، وہ اللہ کے ہاں بھی بھلا ہے (ما رآه المسلمون حسناّ فهو عند الله حسنٌ)33 کا مفہوم یہی ہے۔ منشاے الٰہی اورسماج کی عملی زندگی میں اکثر وبیش تر ہم آہنگی ہوتی ہیں، اگر چہ بعض اوقات ان میں عدم مطابقت کا پہلو بھی ہوتا ہے، جو فوری توجہ اور اصلاح کا طالب ہوتا ہے۔ اس لیے جب کسی سماج کا عرف وعادت صراحتاً شریعت کے مخالف نہ ہو (یہ بہت اہم شرط ہے)، اس وقت تک اسے علما کی مکمل نظرثانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ علما کا کام یہ ہے کہ وہ قانونِ الہی کی مقررکردہ مستقل اقدار کی ابدیت کا تحفظ کریں، بجاے اس کے کہ وہ ان اقدار کو پائ مال کریں، اور ان کی نظر میں دیوبندی اس جرم کے مرتکب ہیں۔ خان صاحب نے اس اصولی موقف پر زور دیا، بالخصوص ایسی رسموں کے معاملے، جن سے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ہوتی ہو مثلاً عید میلاد النبی۔
لیکن میں نے اس باب کے گزشتہ حصے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رائج اقدار کے تسلسل پر زور دینے کا مطلب عوام کو کھلی چھوٹ دینا نہیں تھا کہ وہ جو چاہیں کریں۔ یہاں پر اہم نکتہ ان کا یہ اصولی استدلال ہے کہ سماج کے دینی اعمال اور رسموں میں شریعتِ الہی کی مقرر کردہ اقدار کا تسلسل ضروری ہے۔ اور یہ استدلال ایک مراتبی کونیات (hierarchical cosmology) پر مبنی تھا، جو تمام مخلوقات میں سب سے برتر ہستی کی حیثیت سے رسول اکرم ﷺ کے مقام ومرتبے کا دفاع کرنے کے لیے پرجوش انداز میں متحرک تھا۔ یہ استدلال عوام کے لیے نرمی یا لچک کی بنیاد پر نہیں تھا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ آخری تین ابواب میں روایت واصلاح کے دو متوازی تصورات کا بنیادی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ خان صاحب اور بریلوی مسلک کے برعکس اکابر دیوبند کے اصلاحی ایجنڈے کا زور تسلسل کے بجاے مکمل تبدیلی پر تھا۔ ان کی نظر میں اصلاح کا مطلب کسی سماج کی عادات کی مکمل تبدیلی اور اس کے تسلسل کو روکنا ہے۔ شاہ محمد اسماعیل اور علماے دیوبند نے ماضی کی ان عادتوں اور رسموں کو ترک کرنے کی دعوت دی، جو ان کی نظر میں خدائی حاکمیت (توحید) کی مکمل انفرادیت کے لیے خطرہ تھیں۔
مولانا احمد رضا خان نے روایت اور اصلاح کا ایک متوازی تصور پیش کیا۔ ان کے نزدیک اصلاح کا بنیادی مقصد مستند روایات کا تحفظ ہے، نہ کہ ان کی از سرِ نو ایجاد۔ انھوں نے بتایا کہ عملی زندگی کو مکمل تبدیل کرنے کا دیوبندی جذبہ بے جا اور غیرمعتدل ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنے دیوبندی حریفوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ان رائج رسوم وروایات کو سبوتاژ کر رہے ہیں، جو سماج کو اخلاقی رہ نمائی فراہم کرتے ہیں، اور حضور ﷺ اور دیگر مثالی دینی شخصیات کی تقدیس کرتی ہیں۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ رسوم کو بہت سی خرابیوں سے پاک کرنے کے بہانے شاہ محمد اسماعیل اور علماے دیوبند نے عوام پر جائز نیک اعمال کا دروازہ بند کیا۔ ایسا کرنے سے وہ قانونِ الہی میں تحریف کے مرتکب بھی ہوئے، کیوں کہ انھوں نے ایسے اعمال سے روکا جس سے خدا نہیں روکا ہے، اور جنھیں صدیوں سے واجب الاحترام مسلمان علما جائز کہتے آئے ہیں۔ اس لیے خان صاحب کی نظر میں علماے دیوبند نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی تعظیم پر مشتمل رسموں کو ناجائز قرار دیا، بلکہ انھوں نے موقر علما کے فیصلوں کی حجیت پر سوال اٹھا کر ان کے استناد کو بھی چیلنج کیا۔ المختصر انھوں نے اپنے دیوبندی مخالفین پر الزام لگایا کہ وہ شریعت میں اس طرح سے تحریف کر رہے ہیں، جس سے اس کا تسلسل مجروح ہوتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی امتیازی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
بلکہ میرے پیش کردہ تجزیے سے مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی مخالفین کے درمیان میں جو بنیادی اختلاف راے سامنے آتا ہے اس کا ماحصل اس باریک نکتے پر اختلاف ہے کہ اس صورت میں کیا لائحۂ عمل اختیار کیا جائے جب رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے کیے جانے والے جائز اعمال میں فساد واقع ہو جائے؛ اس طریقے میں یا اس نیت میں، جس کے ذریعے عوام ان (جائز اعمال) میں شرکت کرتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خان کی نظر میں ایسی صورتِ حال میں ان اعمال کو بالکلیہ مسترد کرنے کے بجاے علماے دین کو چاہیے کہ ان میں پیدا ہونے والے فساد کی اصلاح اور تصحیح کریں۔ دوسرے لفظوں میں خان صاحب کے نزدیک ایسے اعمال کو ناجائز نہیں ٹھہرانا چاہیے جو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور اس طرح کے دیگر پاکیزہ مقاصد کے حصول کے لیے ہوں۔ اس کے برعکس علماے دیوبند کی نظر میں خدائی حاکمیت (توحید) کے لیے ممکنہ خطرے کا ازالہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم یا نیکی کی کسی بھی دوسرے غیر واجب عمل پر فوقیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک عوام کے طرز عمل کی خرابی اس قدر مہلک ہے کہ اس کی بحالی یا اصلاح کا کوئی امکان نہیں، اس لیے ان اعمال کو ناجائز قرار دینا ہی واحد مناسب حل ہے۔ اس باریک اصولی اختلاف کو فقہ اور تصوف کے درمیان بنیادی اختلاف کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، نہ سخت گیر/لچک دار، اصلاح پسند/مخالفِ اصلاح اور جدت پسند/قدامت پسند جیسےسطحی تقابلات سے اسے سمجھا جا سکتا ہے، جو اگر چہ سمجھنے میں آسان ہیں، لیکن نتیجتاً انتہائی گمراہ کن ہیں ۔
اس نکتے کو مزید پھیلاتے ہوئے میں مذہبی تشکیل کے سیاسی نظام(political theology) کے اس تصور کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، جو اس کتاب کے اکثر حصے میں کار فرما ہے۔ بریلوی اور دیوبندی اکابر کی برپا کردہ متحارب تحریکوں کی اساس سیاسی استدلالات اور مفروضات تھے۔ اگر چہ یہ استدلالات اور مفروضات پوری وضاحت کے ساتھ مُرتَّب نہیں کی گئی ہیں۔ سیاست سے میری مراد ریاست یا انتخابی سیاست کے بارے میں ان کے تصورات نہیں بلکہ فرد، سماجی نظام اور فرد اور معاشرے کے محافظین کی حیثیت سے ان کے مذہبی استناد کے درمیان تعامل کو وہ کیسے سمجھتے تھے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ دیوبندی بریلوی کش مکش سماج کے ساتھ فرد کے تعلق کے تصورات میں کار فرما اختلافات کو سامنے لائی۔ دیوبندی تصوراتِ اصلاح میں فرد کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ میں روزمرہ کی صورتِ احوال اور سماجی دباو کو رد کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ فرد معاشرے سے فاصلہ رکھتے ہوئے اسے مکمل تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔
توحید کی تقویت اور تحفظ اور حال کو عہدِ نبوی کے مطابق ڈھالنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ فرد کے اندر آئے روز کے فسادات سے آلودہ سماجی نظام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کی جائے۔ نتیجتاً اس امر کی ضرورت ہے کہ ایسے دین دار افراد پیدا کیے جائیں، جو شریعتِ الہیہ سے واقف ہوں، اور فاسد سماجی نظام کی اصلاح کریں۔ فرد ایک واسطہ ہے، جو ایک ایسی دنیا پر اثرانداز ہوگا، جس سے وہ فاصلے پر رہے گا، اور جو بیمار اور فاسد دنیا کا علاج شریعتِ الٰہیہ کی جراثیم کش دوا سے کرے گا۔ ایسے تصورِ جہاں میں مذہب کی حدود سماج کے تغیر پذیر حالات سے باہر خارج میں وجود رکھتی ہیں۔ مذہبی احکام ایک قادرِ مطلق ذات کی طرف سے آتے ہیں، جو تاریخ کی افراتفری سے ماورا ہے۔ مذہب ایک ایسی خدائی طاقت اور عہد نبوی کی نمائندگی کرتا ہے، جو دین دار افراد کے توسط سے خارجی دنیا سے متصادم ہے۔
اور بدعت مذہب کے اسی تصور کو خارجی دنیا سے آنے والے دباو اور نظاموں سے گڈ مڈ کرنا ہے، ایسی منہیات، عادات اور دباو جن کا سرچشمہ سماج ہے، اور جسے دیوبندی خود ساختہ شریعت کہتے ہیں۔ لیکن یہ تصور تضادات سے بھرپور ہے۔ اکابر دیوبند ایک طرف فرد کو یہ ذمہ داری سونپتے ہیں کہ وہ سماج سے فاصلے پر رہ کر سماج کی بنائی رسم ورواج کو رد کرے، اور دوسری طرف وہ عوام کو مال مویشی قرار دیتے ہیں، جنھیں علما کی قیادت اور رہ نمائی پر انحصار کرنا چاہیے۔ دین دار فرد کے لیے اس وقت خارجی دنیا میں خدائی شریعت کی تنفیذ ممکن ہے، جب وہ ایک عالم کے مذہبی استناد کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ یہ امکان علما کی مداخلت اور رہ نمائی کے بغیر ناممکن ہے۔
مولانا احمد رضا خان اور ان کے بریلوی پیروکار اس تصورِ جہاں کے بہت سے پہلوؤں سے متفق ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ وہ بھی دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کی عوامی صلاحیت سے خاصے غیر مطمئن تھے۔ تاہم ان کی فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرد اور سماج کے درمیان علیحدگی کے اس حد تک قائل نہ تھے۔سب سے اہم بات یہ کہ سماج میں تمام تر خرابیوں کے باوجود سماجی رسوم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہیں جو مثلاً عید میلاد النبی ﷺ جیسی رسموں کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی یاد کو زندہ وتابندہ رکھتی ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سماج سے گہرا ربط رکھتے ہیں، جس کی بہترین عکاسی میلاد کے وقت ان کی موجودگی سے ہوتی ہے۔ میلاد کے دوران جب نبی اکرم ﷺ کی شان میں مدحیہ قصائد پڑھے جاتے ہیں، تو وہ وہیں موجود ہوتے ہیں۔ دین دار فرد کو چاہیے کہ وہ عالم کی رہ نمائی سے روزمرہ زندگی کے نشیب وفراز کی اصلاح ونظرثانی کرے۔ لیکن یہ اصلاح سماج میں رائج دینی فوائد کے حامل رسموں کی بیخ کنی کا ذریعہ نہ ہو، اور اس عمل میں بالخصوص رسول اللہ ﷺ کی تقدیس پر مشتمل امور کو بند نہ کیا جائے۔ سماج کے ساتھ انسانی تعامل ہی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی برتر ی دین کی امتیازی علامت کی حیثیت سے قائم، نافذ اور جاری ہے۔
علما کا مذہبی استناد ایک ایسی سماجی ساخت کے تحفظ سے مربوط ہے، جس کا کام جذباتی اور بیانی انداز میں رسول اللہ ﷺ کے وجودی امتیاز کو برقرار رکھنا ہے۔ اور یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب فرد کا رخ سماج کی طرف ہو: فرد اگر چہ سماج کے کاموں پر غیر مطمئن ہو، تاہم اس سے جڑا ہوا ہو۔ اسی طرح قانون، زمنیت اور تاریخ کی متوازی تفہیمات جنھوں نے بریلوی دیوبندی مخاصمت کی تشکیل کی، وہ ایک اخلاقی نظامِ سیاست کے متوازی تصورات پر مبنی تھیں۔ بدعت کے معنی اور حدود پر ان کے اختلاف کی تہہ میں کارفرما ایسے سیاسی نظریات تھے، جو فرد اور سماج کے درمیان تعلق اور اس تعلق کو متوازن رکھنے کے لیے علما کے مقام کو واضح کرتے تھے34۔
بدعت کی حدود پر خان صاحب اور علماے دیوبند کے درمیان سنجیدہ اختلافات کے باوجود خان نے ان کی تکفیر اس بنیاد پر نہیں کی۔ اس فتوے کی ایک خاص وجہ تھی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب سے متعلق علماے دیوبند کی متعدد متنازعہ عبارات تھیں۔ یہ بحث علم، حاکمیت اور نبوی اقتدار کے درمیان تعلق پر متوازی نظریات سے وجود میں آئی۔ اس بحث کا ایک گہرا تجزیہ ان مسلکی حساسیتوں کی تفہیم کو مزید بہتر کرے گا، جنھوں نے روایت کے دیوبندی اور بریلوی تصورات کو تقسیم کیا۔ اگلے باب میں یہی موضوع زیر بحث رہے گی۔
حواشی
- یاسین اختر مصباحی، امام احمد رضا: ردِّ بدعات ومنکرات (کراچی: ادارۂ تصنیفاتِ امام احمد رضا، 1985)، 529۔
- ایضاً۔
- ابن الہمام، شرح فتح القدیر (بیروت: دارالفکر، 1900)، بحوالہ الفتاوی الرضویہ (گجرات: مرکزِ اہل سنت، 2006) میں إقامة القيامة على طاعن القيامة لنبي تهامة، 26: 530۔
- احمد رضا خان، إقامة القيامة، 531۔
- فیصل دیوجی، Gender and the Politics of Space: The Movement for Women’s Reform in Muslim India, 1857 – 1900، ساوتھ ایشیا: جرنل آف ساؤتھ ایشین سٹڈیز 14، نمبر 1 (1991): 150۔
- ا۔ خان، إقامة القيامة، 536۔
- ایضاً، 534۔
- ایضاً، 536۔
- ایضاً، 467 – 68۔
- ایضاً، 468۔
- ایضاً، 534 – 35۔
- ایضاً، 535۔
- ایضاً، 459۔
- ایضاً، 459 – 60۔
- ایضاً، 460۔
- ایضاً۔
- شیر علی ترین، Contesting Friendship in Colonial Muslim India، ساؤتھ ایشیا: جرنل آف ساوتھ ایشین سٹڈیز 38، نمبر 3 (اگست 2015): 419 – 34۔
- دیکھیے ایضاً۔
- ایضاً، 426 – 32۔
- مصباحی، امام احمد رضا، 540۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 543 – 49۔
- ایضاً، 544۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 545۔
- ایضاً۔
- ایضاً، 546۔
- ایضاً؛ یہ بات دل چسپی سے خالی نہ ہوگی کہ انیسویں صدی کے اوخر میں رنڈی کی اصطلاح ناچنے والی لڑکی کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور آج کل یہ قحبہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- ایضاً۔
- الحاکم النیشاپوری، المستدرك على الصحيحين في الحديث (بیروت: دارالفکر، تاریخ اشاعت ندارد)، 3 : 78، بحوالہ: ا۔ خان، إقامة القيامة، 513۔
- میں ڈیوڈ گلمارٹن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے مجھے اس تصور کے امکان کی تجویز دی۔