جنوری ۲۰۲۳ء

’’فرد “ اور ’’حق “ کے سیاسی تصور کا تجزیہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
صنف و جنس اور اس میں تغیر (۱)مولانا مشرف بيگ اشرف 
سودی نظام کے خاتمے کی جدوجہدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۲)ابو الاعلیٰ سید سبحانی 
علامہ یوسف قرضاویؒ کا سانحہ وفاتمفتی حبیب حسین 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۳)ڈاکٹر شیر علی ترین 

’’فرد “ اور ’’حق “ کے سیاسی تصور کا تجزیہ

محمد عمار خان ناصر

جدید دانش نے غالب تہذیب کی جارحیت کو اخلاقی اور فکری جواز دینے کے لیے ایک فریب کاری یہ اختیار کی ہے کہ ’’فرد “ اور ’’حق “ کے ایک خاص تصور کو آفاقی تصورات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ مقدمہ یہ ہے کہ فرد، اجتماع سے مقدم ہے اور اس کے کچھ ’’حقوق’’ ہیں جو فرد کی حیثیت سے اس کو معاشرے سے پہلے حاصل ہیں۔ چنانچہ معاشرہ اور اجتماع پابند ہے کہ ’’فرد “ کے ان ’’حقوق “ کو لازمی طور پر تسلیم کرے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

یہ فلسفہ تاریخی اور منطقی، دونوں اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ تاریخی اعتبار سے تو واضح ہے کہ تاریخ کا کوئی ایسا مرحلہ ہمارے علم یا تخیل کی رسائی میں نہیں جب انسان الگ الگ، افراد کے طور پر رہ رہے ہوں اور ہمیں معلوم ہو کہ اس وقت ان کو فلاں اور فلاں ’’حقوق “ حاصل تھے۔ پھر اس کے بعد وہ مل جل کر رہنے لگے جس سے اجتماع وجود میں آیا۔ یوں اجتماع چونکہ فرد سے موخر تھا، اس لیے اجتماع سے پہلے ہی فرد اور اس کے حقوق کا کوئی تصور تاریخی طور پر پایا جاتا تھا۔

منطقی طور پر اس لیے کہ ’’فرد’’ یا ’’حق “ کی کوئی تعریف یا تصور ہی اجتماع سے الگ کر کے اور اس کا حوالہ دیے بغیر ممکن نہیں۔ کسی انسان کو فرد کہنا تبھی بامعنی ہے جب وہ دوسرے افراد کے تقابل میں ہو۔ فرض کریں، مختلف انسان دور دراز فاصلوں پر بالکل الگ الگ رہ رہے ہوں اور ان کا آپس میں کسی قسم کا کوئی تعلق یا رابطہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ان میں سے ہر ایک کو ’’فرد “ کے طور پر متصور کرنا لایعنی بات ہوگی۔ فرد وہی ہوتا ہے جو دوسرے افراد کے ساتھ تعلق میں ہو اور امور زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہو۔

یہی صورت حال ’’حق “ کی ہے۔ ایک دوسرے سے مکمل انقطاع میں رہنے والے انسانوں کے لیے ’’حق “ کا تصور ہی قابل تشکیل نہیں۔ ایک انسان جو اکیلا کسی جنگل میں رہ رہا ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن یا ذمہ داری نہیں ہے، آپ ذرا اس کے حوالے سے ’’حق “ کے تصور کو ذہن میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ بے معنی بات ہوگی۔ ’’حق “ تبھی قابل تصور ہے جب ایک سے زیادہ انسان باہمی تعلق میں آئیں اور ایک دوسرے کی نسبت سے کسی ذمہ داری یا قدغن کا تعین کرنے کی ضرورت محسوس کریں۔

ان دونوں پیمانوں پر فرد یا حق کا کوئی تصور، اجتماع سے الگ کر کے یا اس سے پہلے قائم کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ کہنا کہ یہاں فرد کا یا حق کا کوئی آفاقی تصور پایا جاتا ہے جس کو تسلیم کرنا، فلسفیانہ سطح پر، ہر انسانی اجتماع پر لازم قرار دیا جا سکتا ہے، ایک لایعنی  بات ہے۔ فرد اور حق کے تصورات اجتماع کے وضع کردہ ہیں اور اجتماع کی ضرورتوں اور ترجیحات کے لحاظ سے ہی ان کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں ہر اجتماع اپنے تمدنی وتاریخی احوال کے لحاظ سے یہ طے کرتا رہا ہے کہ معاشرے کا اپنے افراد کے ساتھ کیا تعلق ہے اور کون سے حقوق ہیں جو معاشرہ، افراد کے لیے تسلیم کرتا ہے۔ یہ حقوق اجتماع کے ’’وضع کردہ“ اور اس کے ’’دیے ہوئے“ ہوتے ہیں، اجتماع ان کو خود سے پہلے موجود متصور کر کے ان کی پابندی قبول نہیں کرتا۔

موجودہ غالب تہذیب میں بھی ’’فرد “ اور ’’حق “ کا تصور تاریخ کے ایک خاص مرحلے پر ایک خاص سماجی سیاق میں وضع کیا گیا ہے جبکہ پوری انسانی تاریخ اور دنیا کے دوسرے معاشرے اس تصور سے ناواقف رہے ہیں۔ البتہ اس میں فریب کاری یہ کی گئی ہے کہ مغربی اجتماع نے فرد اور اس کے حقوق کا جو تصور خود وضع کیا ہے، اس کو دنیا کے باقی اجتماعوں پر مسلط کرنے کے لیے یہ فلسفہ گھڑ لیا گیا ہے کہ یہ کوئی آفاقی تصور ہے جس کی پابندی کسی خاص اجتماع یا تہذیب پر نہیں، بلکہ تمام انسانی معاشروں پر لازم ہے۔

--------------------

امریکا میں ٹرانس جینڈرز کے "حقوق" کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے ایک قانونی، سیاسی اور سماجی بحث جاری ہے۔  یہ اس سوال کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے مددگار ہے۔

ایک معاشرے میں کسی فرد کا "حق" کیا ہے اور یہ کیسے طے ہوتا ہے؟ یہ عرض کیا گیا کہ اس کا تعین معاشرہ ہی کرتا ہے اور معاشرہ مجموعی طور پر جن اقدار اور اخلاقی تصورات کو تسلیم کرتا ہے، انھی کے تحت فرد کے حقوق کا بھی تعین کرتا ہے۔ معاشرے میں ایک یا دوسرے مجموعہ اقدار کے مابین کشمکش بھی ہو سکتی ہے اور اسی کے نتیجے میں معاشروں میں تبدیلی آتی رہتی ہے، لیکن کوئی بھی نئی قدر اسی وقت حقوق یا فرائض کی بنیاد بن سکتی ہے جب اسے معاشرے میں ایک عمومی قبولیت حاصل ہو جائے۔

مروج یا غالب اقدار میں تبدیلی کو قابل قبول بنانے کے لیے فکری وسائل عموما" معاشرے میں موجود مختلف روایتوں سے ہی اخذ کیے جاتے ہیں اور انھی کی ایک نئی تشکیل کی گنجائش یا ضرورت واضح کرتے ہوئے تبدیلی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پیچیدہ عمل سے صرف نظر کرتے ہوئے محض اس بنیاد پر فرد کے حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے کہ وہ اصل ہے اور معاشرہ بس اس کے فائدے کے تحفظ کے لیے قائم ہوا ہے۔ یہ قطعی طور پر لایعنی بات ہے۔

اس بحث سے سیکولر ریاست کی غیر جانب داری کے مفروضے کی سادگی بھی نمایاں ہوتی ہے۔ اس پر اب کئی پہلوؤں سے بحثیں موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ بالفعل ریاست کلی طور پر غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتی۔ ایک سطح پر اسے لازما" کسی ایک یا دوسری تہذیبی قدر کو اختیار کرنا اور سیاسی طاقت سے اس کو نافذ کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ بہت سے شہریوں کے مذہبی واخلاقی تصورات کے خلاف ہو۔

ٹرانس جینڈرز کے قضیے  میں، امریکی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جو افراد اپنی جنس تبدیل کرنا چاہیں، یہ ان کا غیر مشروط حق ہے، اس لیے امریکی اسپتالوں میں وہ بے شمار ڈاکٹر جو مسیحی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور تبدیلی جنس کا آپریشن کرنا ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہے، وہ اپنے عقیدے کو ایک طرف رکھتے ہوئے آپریشن کرنے کے پابند ہیں، کیونکہ وہ ٹرانس جینڈرز کے ایک "حق" کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور اس پر انھیں ملازمت سے ہاتھ بھی دھونے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی کے اصول کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا اور یوں مسیحی اقدار کو ماننے والوں کے مذہبی حق کا تحفظ کیا۔

اب دیکھ لیجیے، یہاں نہ تو فرد کے حق کا تعین اور اس کی تنفیذ معاشرے میں موجود اور مسلم معیارات سے ماورا ہو کر ممکن ہے اور نہ ریاست اس معاملے میں کوئی ایسی نیوٹرل پوزیشن لے سکتی ہے جو سب کے سب شہریوں کے لیے قابل قبول ہو۔ ٹرانس جینڈرز کے نزدیک ڈاکٹرز کو پابند ہونا چاہیے کہ وہ ان کا آپریشن کریں چاہے یہ ان کے ذاتی عقیدے کو خلاف ہو، جبکہ مسیحی اقدار کے ماننے والوں کے نزدیک ان کا مذہبی عقیدہ ان کے لیے مقدم ہونا چاہیے اور انھیں اس کے خلاف کسی کام پر ریاست مجبور نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بائیڈن انتظامیہ نے اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کر کے کم سے کم اس مرحلے پر اس موقف کو تسلیم کر لیا ہے۔

اس مثال سے ان دونوں مفروضوں یعنی فرد کے ازخود کوئی معیار ہونے اور ریاست کے، کلی طور پر غیر جانب دار ہونے کی سادگی کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(383) لیل اور لیلة میں فرق

لیلة ایک رات کے لیے جب کہ لیل رات کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لَیْلًا ہے جس کا ترجمہ ایک رات نہیں بلکہ راتوں رات کیا جائے گا۔

سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ۔ (الاسراء: 1)

”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے“۔ (سید مودودی)

”وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندے کو راتی رات ادب والی مسجد سے پرلی مسجد تک جس میں ہم نے خوبیاں رکھیں ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی“۔ (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجموں میں لیلًا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ سبحان پاکی بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، لیکن اصل میں عظمت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ پاکی عظمت کا لازمہ ہے۔ بطور خاص اس آیت میں تو عظمت کا محل معلوم ہوتا ہے۔ ترجمہ کریں گے: ’باعظمت ہے وہ ذات‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں لیلا کا ترجمہ تقریبا سبھی نے راتوں رات کیا ہے۔  غالبا اس لیے کہ إِنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ کہنے کی وجہ سے ایک رات کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ بہرحال لیلا کا دونوں جگہ یہی ترجمہ ہونا چاہیے۔

فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلًا إِنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ۔ (الدخان: 23)

”(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

”(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ“۔(فتح محمد جالندھری)

”(حکم ہوا کہ) میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ“۔(امین احسن اصلاحی)

(384)  وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ

درج ذیل جملے میں خود جھکنے کی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ خاکساری کے بازو جھکانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ بہت خوب صورت تعبیر ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ والدین کے ساتھ کمال درجے کی خاکساری کے ساتھ پیش آؤ۔ پر بچھانے اور جھک جانے میں فرق ہے۔ من الرحمۃ  کا مطلب ہے کہ یہ خاکساری رحمت کے جذبے کے ساتھ ہو۔ یعنی رحم دلی اور ہم دردی کے سارے تقاضے پورے کرو۔

وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔ (الاسراء: 24)

”اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو“۔ (سید مودودی)

”اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا“۔ (اشرف علی تھانوی)

مذکورہ بالا یہ تینوں ترجمے درست نہیں ہیں، کیوں ان کے سامنے جھکنے کا حکم نہیں دیا جارہا ہے۔

”اور ان کے لیے رحم دلانہ اطاعت کے بازو جھکائے رکھو“۔ (امین احسن اصلاحی، الذل کا مطلب اطاعت نہیں ہوتا، پھر رحم دلانہ اطاعت بھی معنوی لحاظ سے مضبوط بات نہیں لگتی۔)

”اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا“۔ (محمد جوناگڑھی، یہاں من الرحمۃ کا ترجمہ درست نہیں ہوسکا۔ رحمۃ کا مطلب عاجزی اور محبت نہیں ہوتا ہے)

”اور بچھا واسطے ان دونوں کے بازو ذلت کا مہربانی سے“۔(شاہ رفیع الدین، یہاں ذل کا ترجمہ تواضع و خاکساری ہوگا، ذلت نہیں)

”اور جھکا ان کے آگے کندھے عاجزی کرکر نیاز سے“۔ (شاہ عبدالقادر، جناح کا مطلب کندھے نہیں ہوتا، بازو ہوتا ہے۔اور رحمۃ کا مطلب نیاز نہیں ہوتا)

درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے“۔ (احمد رضا خان)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”اور ان کے لیے رحمت کے جذبے سے خاکسارانہ بازو جھکائے رکھو“۔

(385) نہر کا مطلب

نھر کا معنی جھڑکنا ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ جھڑک کر جواب دیا جائے، ابتدا سے جھڑکنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس لحاظ سے ذیل کے ترجموں میں دوسرا ترجمہ درست ہے۔

وَلَا تَنْہَرْہُمَا۔ (الاسراء: 23)

”نہ انہیں جھڑک کر جواب دو“۔ (سید مودودی)

”اور نہ ان کو جھڑکو“۔ (امین احسن اصلاحی)

(386)  ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوہَا

درج ذیل آیت کے ترجموں پر غور کریں:

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوہَا فَقُلْ لَہُمْ قَوْلًا مَیْسُورًا۔ (الاسراء: 28)

”اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو“۔ (سید مودودی)

”اور اگر تمھیں اپنے رب کے فضل کے انتظار میں، جس کے تم متوقع ہو، ان سے اعراض کرنا پڑجائے تو تم ان سے نرمی کی بات کہہ دو“۔ (امین احسن اصلاحی)   

”اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ“۔ (احمد رضا خان)

ان ترجموں سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ کہ انسان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے اس لیے وہ حاجت مندوں سے کترا رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کترانے والے کو اللہ کی طرف سے دولت آنے کا انتظار، توقع یا امید بھی ہے۔

لیکن اشکال یہ ہے کہ جب انسان کے پاس کچھ ہے نہیں تو اسے کترانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ صاف صاف کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ دوسرا اشکال یہ ہے کہ کیا ضروری ہے کہ تنگ حالی میں آدمی خوش حالی کا انتظار کرے۔ پھر خوش حالی کا انتظار صرف وہی کیوں کرے، حاجت مند بھی کیوں نہ کریں۔ غرض یہ کہ تعبیر کی معنویت واضح نہیں ہوپاتی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتغاء کا مطلب انتظار یا تلاش نہیں ہوتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ آیت اس کیفیت کو بتارہی ہے کہ آدمی کے پاس مال ہے، لیکن وہ اسے ان حاجت مندوں کو دینے کے بجائے کسی ایسی جگہ دینا چاہتا ہے جہاں اسے اللہ کی رحمت کی خاص امید ہے۔ یعنی موقع اللہ کے دین کی نصرت کے لیے خرچ کرنے کا ہو، اور اسی لیے مذکورہ حاجت مندوں سے اعراض کرکے وہ ان سے زیادہ اہم مد یعنی نصرتِ دین کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہو اور اسے امید ہو کہ اس راہ میں خرچ کرکے وہ اللہ کی خاص رحمت کا سزاوار ہوگا۔ وہ ترجمہ کرتے ہیں:  

”اگر تم ان سے اعراض کرو اپنے رب کی رحمت کی طلب میں جس کی تم توقع رکھتے ہو۔“

(387)  نفور کا مطلب

عربی میں نفور کا اصل مطلب بدکنا ہے۔ اور اس کا اصل استعمال جانوروں کے لیے ہوتا ہے۔

فیروزآبادی لکھتے ہیں: نَفَرَتِ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ وتَنْفُرُ نُفوراً ونِفاراً، فہی نافِرٌ ونَفورٌ: جَزِعَتْ، وتَباعَدَتْ، والظَّبْیُ نَفْراً ونَفَراناً، محرکةً: شَرَدَ،کاسْتَنْفَرَ.

اس کا اردو ترجمہ نفرت نہیں ہے۔ نفرت کے لیے عربی میں بغض آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں بہت سے مترجمین نے نفور کا ترجمہ نفرت کیا ہے، جب کہ بیزار ہونا اور بدکنا درست ترجمہ ہے۔

(۱) وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہُ وَلَّوْا عَلَی أَدْبَارِہِمْ نُفُورًا۔  (الاسراء: 46)

”اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیرلیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، تنہا پہلے لانے سے شبہہ ہوتا ہے کہ رسول کا تنہائی میں ذکر کرنا مراد ہے، اس لیے تنہا کو بعد میں ذکر کرنا بہتر ہے، اپنے رب کا تن تنہا)

”اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۲)  وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ہَذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُہُمْ إِلَّا نُفُورًا۔ (الاسراء: 41)

”اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا کہ وہ سمجھیں اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت“۔ (احمد رضا خان)

”ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری دونوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۳) وَإِذَا قِیلَ لَہُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُورًا۔  (الفرقان: 60)

”اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ”رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟“ یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اس (تبلیغ) نے ان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھاتی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اس سے بدکتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اس حکم نے انہیں اور بدکنا بڑھایا“۔ (احمد رضا خان)

آخری دونوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۴)  وَأَقْسَمُوا بِاللَّہِ جَہْدَ أَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَاءَہُمْ نَذِیرٌ لَیَکُونُنَّ أَہْدَی مِنْ إِحْدَی الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَہُمْ نَذِیرٌ مَا زَادَہُمْ إِلَّا نُفُورًا۔  (فاطر: 42)

”اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا تو اس نے انہیں نہ بڑھایا مگر نفرت کرنا“۔ (احمد رضا خان)

”مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا“۔ (سید مودودی)

آخری ترجمے میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(۵)  أَمَّنْ ہَذَا الَّذِی یَرْزُقُکُمْ إِنْ أَمْسَکَ رِزْقَہُ بَلْ لَجُّوا فِی عُتُوٍّ وَنُفُورٍ۔ (الملک: 21)

”بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بلکہ وہ سرکشی اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”بلکہ یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں“۔ (سید مودودی)

”بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری تینوں ترجموں میں نفورا کا درست ترجمہ کیا گیا ہے۔

(388)  حجابا مستورا

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ حِجَابًا مَسْتُورًا۔  وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ أَکِنَّةً أَنْ یَفْقَہُوہُ وَفِی آذَانِہِمْ وَقْرًا۔ (الاسراء: 45، 46)

”اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری، حجاب پر حجاب نہیں بلکہ نظر نہ آنے والا حجاب، حجاب ایک ہی ہے مگر وہ پوشیدہ ہے)

”جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور جب تم قرآن سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں، اور ان کے دلوں پر حجاب اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ صرف حجابا نہیں کہا گیا ہے بلکہ حجابا مستورا کہا گیا ہے۔ اس لیے ترجمے میں صرف حجاب یا پردہ کہنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ پوشیدہ پردہ یا مخفی حجاب کہنے سے پورا مفہوم ادا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ پچھلی آیت کے جواب شرط یعنی جعلنا پر عطف نہیں ہے، بلکہ مستقل جملہ ہے۔ یعنی پہلی آیت میں تو یہ کہا گیا کہ جب نبی ان کو قرآن سناتے ہیں تو پوشیدہ پردہ حائل کردیا جاتا ہے، جب کہ دوسری آیت میں بتایا گیا کہ مستقل طور پر ان کے دلوں میں حجاب اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا گیا ہے۔ چوں کہ ان کی مستقل کیفیت یہ ہے، اس لیے جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو ایک پوشیدہ پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے دوسری آیت کا ترجمہ ماضی سے کیا جائے گا۔ ’پردے ڈال دیتے ہیں‘کی بجائے ’پردے ڈال دیے ہیں‘۔ اس سے پردے ڈالنے والی بات کی تکرار نہیں رہے گی اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ پردہ صرف اس خاص وقت میں نہیں ڈالا جاتا ہے بلکہ ان کے دلوں پر تو مستقل پردہ پڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ نبی کی بات بھی نہیں سنتے۔

مذکورہ بالا دونوں پہلوؤں سے درج ذیل ترجمہ درست ہے۔

”تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ“۔ (محمد جوناگڑھی)

(389) تحویلا کا مطلب

قرآن کی درج ذیل آیت میں تبدیل اور تحویل دونوں تعبیریں ایک ساتھ آئی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اس فرق کو علامہ طاہر بن عاشور اس طرح بیان کرتے ہیں کہ تبدیل کا مطلب ہے کسی چیز کو بدل دینا اور تحویل کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردینا۔

والتبدیل: تغییر شیء... والتحویل: نقل الشیء من مکان إلی غیرہ، وکأنہ مشتق من الحول وہو الجانب. والمعنی: أنہ لا تقع الکرامة فی موقع العقاب، ولا یترک عقاب الجانی. وفی ہذا المعنی قول الحکماء: ما بالطبع لا یتخلف ولا یختلف. (التحریر والتنویر)

درج ذیل آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے کچھ مترجمین نے یہ فرق ملحوظ رکھا ہے کہ تبدیلا کا ترجمہ تو تبدیلی کیا ہے اور تحویلا کا ترجمہ ٹلنا کیا ہے۔

(۱) فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَبْدِیلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہِ تَحْوِیلًا۔ (فاطر: 43)

”تو تم سنت الٰہی میں نہ کوئی تبدیلی پاؤ گے اور تم سنت الٰہی کو ٹلتے ہوئے ہی پاؤ گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”سو تو نہ پاوے گا اللہ کا دستور بدلنا اور نہ پاوے گا اللہ کا دستور ٹلنا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے“۔ (محمد جوناگڑھی، اردو محاورے کے لحاظ سے ’منتقل ہوتا ہوا‘ کے بجائے ’ٹلتا ہوا‘ کہنا چاہیے۔)

”یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے“۔(سید مودودی، ”کوئی طاقت پھیر سکتی ہے“ کہنے کا محل نہیں ہے، کہنا تو یہ ہے کہ خود اللہ کی طرف سے نہ کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ اسے ٹالا جائے گا۔)

”سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری ترجمے میں تبدیل اور تحویل دونوں کا ایک ہی ترجمہ کردیا گیا۔

(۲)  قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِہِ فَلَا یَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلَا تَحْوِیلًا۔ (الاسراء: 56)

”کہہ دو کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اس کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے، نہ وہ تم سے کسی مصیبت کو دفع ہی کر سکیں گے نہ اس کو ٹال ہی سکیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

آخری تینوں ترجموں میں تحویلا کا ترجمہ بدلنا کیا ہے، حالاں کہ ٹالنا ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے پہلا ترجمہ بہتر ہے۔

(۳)  سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا۔ (الإسراء: 77)

”یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے“۔ (سید مودودی)

”جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے، ان کے باب میں ہماری سنت کو یاد رکھو۔ اور تم ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں عام طور سے تحویلا کا ترجمہ تبدیلی کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”ہم نے تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے، ان کے باب میں یہ رویہ رہا ہے، اور تم یہ نہیں پاؤ گے کہ ہماری سنت ٹل جائے۔“

(390) فَاسْأَلْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ إِذْ جَاءَہُمْ

وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ إِذْ جَاءَہُمْ فَقَالَ لَہُ فِرْعَوْنُ إِنِّی لَأَظُنُّکَ یَامُوسَی مَسْحُورًا۔ (الاسراء: 101)

”ہم نے موسیٰؑ کو تو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ ”اے موسیٰؑ، میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے“۔ (سید مودودی)

یہاں لگتا ہے مترجم سے سہو ہوگیا ہے اور جاء ھم کا فاعل آیات یعنی نشانیوں کو مان لیا ہے، اگر نشانیوں کے آنے کی بات ہوتی تو جاء تھم ہوتا۔ ظاہر ہے کہ جب جاء ھم مذکر کا صیغہ ہے تو فاعل نشانیاں نہیں بلکہ خود موسی علیہ السلام ہیں۔ درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(جاری)


صنف و جنس اور اس میں تغیر (۱)

مولانا مشرف بيگ اشرف


بسم الله الرحمن الرحيم!  یَآ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفس وَٰحِدَة وَخَلَقَ مِنهَا زَوجَهَا وَبَثَّ مِنهُمَا رِجَالاً‌ كَثِيرً‌ا وَنِسَآءً‌ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلأَرحَامَ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيكُم رَقِيبا [النساء: 1]

مفہوم: اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو (اور اس کا خیال اپنے دل میں رکھو) جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس ایک جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں (یعنی جوڑے ) سے کئی مرد وزن پھیلا دیے!

آپ فیروز اللغات کھول کے"جنس" کے مادے کے تحت دیے گئے معانی شمار کیجیے تو اس میں آپ کو یہ الفاظ ملیں گے: "ذات، نوع، صنف، جماعت" اور اگر آپ صفحے پلٹاتے ہوئے "صنف" کے مادے کے تحت مذکور الفاظ  تک پہنچیں تو آپ کو یہ الفاظ ملیں گے: "نوع، جنس، قسم"۔

جنس، نوع وصنف یہ سب الفاظ ہماری زبان میں ایک ہی معنے کے لیے برتے گئے ہیں۔ اس میں آپ کو کوئی ایسا فرق نہیں ملے گا کہ ان میں سے ایک انسانی کی جسمانی  خصائص کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا اس کے سماجی مظاہر کی طرف۔

اسی طرح، انگریزی زبان میں gender and sex دو نوں کلمات کو  ۱۹۵۰ تک ایک ہی شمار کیا جاتاتھا۔ لیکن اسی صدی میں جنسی انقلا ب آیا اور اس  کے جلو میں، ان دونوں میں فرق ہونا شروع ہوا۔اس فرق میں بنیادی عنصر یہ تھا کہ "جنس" انسان کے جسمانی خصائص سے وابستہ ہے جو  مختلف معاشروں کے لحاظ سے بدلتے نہیں جب کہ "صنف" اس جنس سے وابستہ سماجی رویوں، مفروضوں  واعراف سے عبارت ہے جو  مختلف سماجوں میں جدا جدا ہو سکتے ہیں۔ اس میں لباس، زبان کا استعمال، پیشوں کی تقسیم (کہ کون سے پیشے سے مرد وابستہ ہوتے ہیں اور کون سے پیشے زنانہ شمار ہوتے ہیں) وغیرہ شامل ہیں۔

ذیل میں ہم اس جاری بحث کو شریعت اسلامی کے قواعد ، کتاب، سنت ،عمل صحابہ اور امت کے اہل اجتہاد  کے تناظرمیں پیش کریں گے۔اور جنس وصنف کے حوالے سے شرعی قواعد واضح کیے جائیں گے۔ساتھ ساتھ ، علم جینیات ونفسیات میں موجود ان تصورات  کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا۔

اس گفتگو میں مندرجہ ذیل سوالات زیر بحث ہوں گے:

۱: اسلام کا تصور  جنس کیا ہے؟ نیز اسلامی شریعت میں اس کی تعیین کا معیار کیا ہے؟

۲:اسلام اشیا اور کائناتی مظاہر سے معنویت کیسے وابستہ کرتا ہے؟ نیز کیا اشیا کی تعیین شریعت کا موضوع ہے؟

۳: خنثی  کسے کہتے ہیں؟نیز خنثی مرد ہے یا زن یا تیسری جنس؟خنثی اور Intersex میں کیا تعلق ہے؟

۴:  علم جینیات جنس  کو کیسے دیکھتا ہے؟

۵: نفسیات  کی بنیاد پر انسانی جنس ونوع کے تعلق کو کیسے دیکھا جاتا ہے؟نیز کیا انسانی نفسیات فقہ وقانون کی بنیاد بننے کے لیے کافی ہے؟

۶: خنثی کے تفصیلی احکام کیا ہے؟

۶: خنثی مشکل کسے کہتے ہیں؟ اور اس کے کیا احکام ہیں؟

۷: تبدیلی جنس کا کیا حکم ہے؟ کیا اعضا کی تبدیلی، یا شعور کے بدلنے یا ہارمونز کے تغیر سے جنس بدل جاتی ہے؟ کسی انسان کے مرد یا زن ثابت ہوجانے کے بعد، اس طرح کی تبدیلی کا کیا حکم ہے؟ نیز اس طرح کے اقدام کا شرعی حکم کیا ہے؟

۸: کیا جنس کے اصول کا اطلاق غیر مسلم اور ذمی پر بھی ہوگا؟

۹: ٹرانس جینڈرز کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ سیرت طیبہ میں مسلمان ٹرانس جینڈرز کے لیے کیا رہنمائی موجود ہے؟

صنف وجنس  شرعی نقطہ نگاہ سے

قاعدہ : جنس دو ہی ہیں اور باہمی جدا جدا ہیں:

جنس سے متعلق اسلام جو پہلا قاعدہ طے کرتا ہے وہ یہ کہ جنس دو ہی ہیں اور یہ ایک دوئی پر مبنی تصور ہے جسے Sex/Gender Binary سے تعبیر کیا جاتاہے۔ یہ کوئی رنگوں کی طرح نہیں کہ ایک رنگ کا جھکاؤ دوسری طرف ہو سکتا ہے۔ جیسے عنابی یعنی سیاہی مائل سرخ رنگ کہ نہ اسے پورے طرح سیاہ کہہ سکتے ہیں نہ سرخ۔ اس لیے، اسلامی شریعت کے ہاں جنس (اورصنف )دو ٹوک انداز سے دو ہی ہیں ، نیز ان میں نوع کا فرق ہے، درجات کا نہیں۔ اس امر پر امت کے علما کا اجماع ہے۔

قرآن مجید کی متفرق آیات میں اس امر کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو "نر ومادہ" (الذكر والأنثى) میں تقسیم کیا ہے۔ اس کی ایک مثال سورة النجم کی ہے۔ آیت پر غور کیجیے:

وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوجَينِ ٱلذَّكَرَ وَٱلأُنثَىٰ مِن نُّطفَةٍ إِذَا تُمنَىٰ [النجم: 45-46]

ترجمہ: (کیا انہیں موسی وابراہیم کے صحیفوں میں موجود باتوں کی خبر نہیں کہ جس میں سے یہ بھی ہے) کہ اس نے مرد وزن کو نطفے سے پیدا کیا جب وہ ٹپکتا ہے۔۱۲

مشہور حنفی مجتہد علامہ جصاص رازی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

۱: اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ جنس دو ہی ہیں: نر ومادہ اور کوئی بھی انسان نر ہے یا مادہ۔

۲: جہاں تک خنثی مشکل کا تعلق ہے، اس کا معاملہ اگرچہ ہمارے اوپر واضح نہیں۔ تاہم وہ بھی ان دو میں سے ایک ہے۔

یہاں "خنثی مشکل" کی اصطلاح استعمال ہوئی اس سے مراد وہ خنثی (Intersex) ہے جس میں اعضائے تناسل دونوں ہوں اور اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے۔اس سے واضح ہوا کہ خنثی بھی شریعت کی نگاہ میں مرد ہے یا عورت۔ (اس پر مزید تفصیل آگے آئے گی)

۳: نیز احناف نے خاص طو ر سے، اس طرف اشارہ کیا ہے کہ کسی کی جنس میں اشتباہ اس کے بچپن تک ہی رہتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد یہ دور ہو جاتا ہے۔ یہ خنثی برادری سےمتعلق ایک اہم اصول ہے۔ جس کی طرف اس گفتگو کے اخیر میں آئیں گے۔

علامہ فرماتے ہیں:

«لما كان قوله: {الذكر والأنثى} اسما للجنسين استوعب الجميع، وهذا يدل على أنه لا يخلو من أن يكون ذكرا أو أنثى، وأن ‌الخنثى وإن اشتبه علينا أمره لا يخلو من أحدهما; وقد قال محمد بن الحسن: إن ‌الخنثى المشكل إنما يكون ما دام صغيرا فإذا بلغ فلا بد من أن تظهر فيه علامة ذكر أو أنثى. وهذه الآية تدل على صحة قوله»«أحكام القرآن للجصاص ط العلمية» (3/ 551)

مفہوم: چونکہ اللہ تعالی کا فرمان: "نر ومادہ" دو جنسوں کے لیے ہے، اس لیے اس میں سب کے سب انسانی افراد آ گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان نر یامادہ ، نیز خنثی کا معاملہ اگرچہ ہم پر واضح نہیں، تاہم وہ بھی نر یامادہ ہی ہے۔امام محمد کا کہنا ہے کہ خنثی مشکل صرف بچپن تک ہے۔ جو خنثی بالغ ہو جائے، تو نر یامادے کی کوئی نہ کوئی ایسی علامت ضرور نمودار ہوتی ہے(جس کی بنا پر فیصلہ ہو جاتا ہے)۔ یہ آیت ان کی اس رائے کی تائید کرتی ہے۔۱۲

اسی طرح، سورة النساء کی پہلی آیت بھی اس شرعی قاعدے کو واضح کرتی ہےجسے ہمارے ہاں نکاح خواں نکاح کے خطبے میں عام طور سے پڑھتے ہیں اور اس حقیقت کا اعلان ہر نکاح کے ساتھ کیا جاتا ہے:

یَآ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفس وَٰحِدَة وَخَلَقَ مِنهَا زَوجَهَا وَبَثَّ مِنهُمَا رِجَالاً‌ كَثِيرً‌ا وَنِسَآءً‌ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلأَرحَامَ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيكُم رَقِيبا [النساء: 1]

ترجمہ: اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو (اور اس کا خیال اپنے دل میں رکھو) جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس ایک جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں (یعنی جوڑے ) سے کئی مرد وزن پھیلا دیے! ۱۲

مشہور مالکی مجتہد ومفسر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان جنس دو ہی ہیں۔ نیز "خنثی" کوئی جداگاہ جنس نہیں۔ بلکہ چونکہ وہ انسان ہے، اس لیے اسے مرد وزن میں سے کسی ایک ہی طرف لوٹایا جائے گا۔اور کسی ایک جنس سے جوڑنے میں اعضا کا اعتبار کیا جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں:

حصر ذريتهما في نوعين، فاقتضى أن ‌الخنثى ليس بنوع، لكن له حقيقة ترده إلى هذين النوعين وهي الآدمية فيلحق بأحدهما«تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» (5/ 2)

ترجمہ: اس آیت میں اللہ تعالی نے انسانی جنس کو دو میں بند کر دیا۔ پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ خنثی کوئی مستقل نوع نہیں۔ بلکہ اس میں حقیقت آدمیت پائی جاتی ہے جو اسے کسی ایک جنس کی طرف پھیر دیتی ہے اور اس طرح، اس کا الحاق کسی ایک سے کیا جائے گا۔۱۲

ان آیات میں یہ قاعدہ کس طرح گندھا ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور حنفی فقیہ علامہ ابن عابدین شامی اس پر نقل کرتے ہیں :

«أن الله تعالى خلق بني آدم ذكورا وإناثا ... وقد بين حكم كل واحد منهما ولم يبين حكم من هو ذكر وأنثى، فدل على أنه لا يجتمع الوصفان في شخص واحد، وكيف وبينهما مضادة »«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 727)

مفہوم: اللہ تعالی نے بنی انسان کو نر ومادہ پیدا کیا ہے ... اور ہر ایک کے حکم جداگانہ بیان کیے لیکن اس کا حکم نہیں بیا ن کیا جو نر ومادہ ہو۔ پس یہ دلیل ہے کہ کوئی ایک انسان ایک وقت میں نر ومادہ نہیں ہو سکتا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ ان کے بیچ میں تضاد ہے۔

خنثی وجودی سطح پر مرد یا عورت ہی ہے تاہم ہمارا علم اس کی دریافت سے ، وقتی طور سے، قاصر رہتا ہے۔ اور ایسا ہونا بھی دراصل اللہ تعالی کی قدرت کا اظہار ہے۔ انسان کو اللہ تعالی نے بہت محدود علم دیا جس سے وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے مرد وزن میں فرق کر لیتا ہے۔ تاہم چونکہ علم محدود ہے، اس لیے انسان کے سامنے چیلنجز آتے رہتے ہیں جہاں اس کا علم بے بسی محسوس کرتا ہےاور اگر اس کا عقیدہ درست ہو، تو وہ اللہ تعالی کے اس فرمان کی معنویت محسوس کرتا ہے جو اس موقع پر کہا گیا جب روح سے متعلق سوال ہوا:

وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلعِلمِ إِلَّا قَلِيلاً‌ [الإسراء: 85]

ترجمہ: تمہیں انتہائی کم علم دیا گیا ہے!

اس اصول سے ہمیں مزید دو قواعد ملے جن کا تذکرہ مناسب ہے۔

علامہ قرطبی نے فرمایا کہ انسان میں "آدمیت" کی وجہ سے وہ کسی ایک جنس ہی پر ہو گا۔اس سےیہ اندازہ ہوا کہ انسان جس طرح جانداروں میں اپنی نوع (Species)لے کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ "انسان" ہے، "چڑیا " نہیں۔ اسی طرح، وہ اپنی "جنس" بھی لے کر اس دنیا میں آتا ہے اور "جنس" کوئی ایسا تصور نہیں جسے انسان اپنی خوائش اور اندرونی احساس کی بنا پر بدل ڈالے۔اگر کوئی انسان یہ کہے کہ وہ "انسان" نہیں بلکہ گھوڑا ہے یا اس کا "خاندان سگان" سے تعلق ہے، تو ظاہر ہے کہ معاشرہ اس پر سے انسان کے قانون کا اطلاق چھوڑ نہیں دے گا۔

اس سے ہمیں یہ قاعدہ ملا: قاعدہ: انسانی جنس ناقابل تغیر ہے۔اسے دریافت کرنے میں اشکال ہو سکتا ہےلیکن اسے دریافت کر کے بدلا نہیں جا سکتا۔

چونکہ مذکورہ بالا قاعدہ قانون شرعیت میں ایک "تسلیم شدہ حقیقت وامر واقعہ" ہے، اس لیے یہ اصول مسلمان معاشروں میں رہنے والے ذمیوں پر بھی ایسے ہی عائد ہو گا جیسے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔ بلکہ میں آگے بڑھ کر یہ کہوں گا کہ جنگ کے دوران میں جن امور کا تعلق انسانی جنس کے ساتھ ہے اس کا فیصلہ بھی اسی اصول پر ہو گا۔ جیسے ان عورتوں کو قتل نہیں کیا جائے گا جو جنگجو نہیں۔ چناچہ مثلا اگر کوئی عیسائی مرد اپنے آپ کو عورت قرار دے، تو ایک مسلمان معاشرے کے لیے وہ مرد ہی رہے گا (قطع نظر اس بات سے کہ وہ اپنے ذاتی دینی معاملات میں کیا کرتا ہے)۔

قاعدہ: جنس کا قانون جس طرح مسلمان پر لاگو ہوتا ہے اسی طرح ذمی پر لاگو ہو تا ہے۔

اشیا اور ان میں قدر اسلامی شریعت کی روشنی میں

فقہا کے ہاں  جنس کا تعین انسان کی ظاہری ساخت واعضا اور زیادہ صحیح الفاظ میں، نظام تولید سے وابستہ اعضا سے کیا جاتا ہے۔اور اس پر اور خنثی پر ہم ایک ہی عنوان کے تحت گفتگو کریں گے۔لیکن اس سے پہلے اس امر پر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ شریعت  ایک قدر پر مبنی نظام ہے جبکہ سائنس اور طبعی علوم، قدر سے عاری، کم از کم، اپنےاعلان میں۔اس لیے، جنس کی تعیین   پر گفتگو سے پہلے شریعت کے اس پہلو گفتگو ضروری ہے۔

شریعت کا اشیا او روقائع کی حدبندی کرنا:

فقہ ایک مقاصد پر مبنی (Purpose Drive)انسانی سرگرمی ہے۔ وہ کچھ امور کو ایک واقع (فیکٹ)کے طور پر لیتی ہے اور اس پر حکم عائد کرتی ہے  اور وہی "حکم شرعی " ہی اصل میں "قانون" ہے۔

اس لیے، اسلامی شریعت  پہلے یہ طے کرتی ہے کہ "واقع"  کیا ہے اور پھر اس کا "حکم/قانون"۔ مثلا  یہ جملہ دیکھیے:

"عاقل بالغ پر نماز فرض ہے"۔

واقع: عاقل بالغ ہونا

حکم/قانون: نماز کی فرضیت

شریعت کا کام صرف یہ بتانا نہیں کہ نماز فرض ہے، بلکہ شریعت یہ بھی طے کرتی ہے کہ "عاقل بالغ" کون ہے۔اسے ہمیشہ انسانی اجتہاد پر نہیں چھوڑتی۔اسے ایک مثال سے سمجھیے:

 شریعت کے ہاں بلوغت کے کچھ معیار ہیں جنہیں ذیل میں دیا جاتا ہے:

۱: شریعت نے ایک کم از  کم عمر مقرر کی ہے کہ اس سے پہلے انسان کو بالغ تصور نہیں کیا جا سکتا۔(فقہ حنفی میں، لڑکے کے لیے بارہ اور لڑکی کے لیے نو سال ہے۔)

۲: شریعت نے زیادہ سے زیادہ عمر مقرر کی ہے کہ اس کے بعد، انسان کو نابالغ نہیں تصور کیا جا سکتا۔(جیسےحنفی فقہ میں امام ابو یوسف کے مطابق یہ عمر  مرد وعورت دونوں  میں پندرہ سال  ہے اور اس پرفتوی دیا جاتا ہے۔)

۳: ان دو حدود کے درمیان  میں، شریعت نے کچھ امور طے کیے ہیں کہ اگر وہ پائے جائیں تو انسان بالغ شمار ہو گا:

    1. احتلام ہونا،

    2. جاگتے میں انزال ہوجانا۔

    3. حیض آجانا(لڑکی کو)

    4. قرار حمل (فرض کریں کہ لڑکی کے ساتھ کسی نے تعلق قائم کیا، قطع نظر اس بات سے کہ وہ درست تھا یا نہیں، اور وہ امید سے ہوگئی، تو اس بندے کو سزا دیں یا نہ دیں، لیکن وہ بالغ شمار ہو گی۔)

    5. لڑکے کا کسی کو حامل کر دینا۔(احناف کے ہاں تفصیلات کے لیے دیکھیے، شرح الوقاية، كتاب الحجر، لصدر الشرعية الثاني)

واضح رہے کہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ کوئی رائے غلط ہو یا درست ہو کیونکہ یہ اجتہادی معاملات ہے اور ان میں ایک سے زیادہ رائے کا امکان ہے۔ مقصود یہ ہے کہ فقہا کی نگاہ میں شریعت یہ امور بھی طے کرتی ہے، ہمیشہ اسے لوگوں پر نہیں چھوڑ دیتی۔

اسی طرح، شریعت کے ہاں اسباب کی بحث دیکھ لیجیے۔مثلا:

"بیت اللہ کا حج مسلمان پر فرض ہے"

سبب: بیت اللہ

حکم/قانون: فرضیت

کعبہ شریف حج کی فرضیت کا سبب ہے۔ اور چونکہ وہ ایک ہی ہے اس لیے انسان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہوتاہے۔ لیکن اگر کوئی بندہ مثلا پاکستان میں کعبہ بنا لے اور فرض کریں کہ جم غفیر اسے کعبہ تسلیم کرنے لگے، تو یہ نہیں کہا جائے گاکہ شریعت کا اصل مقصود "حکم وقانون" بنانا ہے اور "سبب ومحل" وغیرہ میں اس نے معاملات کو لوگوں کے عرف پر چھوڑ دیا ہے، اس لیے اب لوگوں پر دو حج فرض ہوں گے یا انسان کو اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے جس پر بھی قادر ہو اس کا حج  کرے (اس توجیہ کے ساتھ کہ اصلی کعبہ اور بعد والا کعبہ علی سبیل البدلیت سبب بن رہے ہیں جیسے اگر طواف میں کوئی جنایت ہو تواس پر اس کا اعادہ ہے۔تاہم اگر وہ دم دے دے، تو اعادہ نہیں کرنا پڑتا کہ دم اس کا بدل ہے)۔

اسی طرح، نماز کے لیے سورج کا ڈھلنا چڑھنا وغیرہ۔ اگر کسی علاقے میں لوگ چاند کو سورج ماننے لگیں اور سورج کو چاند ، تو یہ نہیں ہو گا کہ روزہ دن کے بجائے رات کو فرض ہو جائے گاکہ چلو لوگوں کے لیے بھی آسانی ہے کہ رات میں آرام سے روزہ رکھ کر سو جائیں۔دن کو اپنے کاروبار زندگی میں پوری طاقت سے مگن رہیں۔

آخری مثال، انسان کی خود ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو اس کائنات میں  اپنے تشریعی ارادے کی تنفیذ کے لیے بھیجا ہے۔ اسے باکرامت بنایا (وہ اس وقت بھی باکرامت ہے جب وہ خنثی ہے)۔مسجود ملائک بنایا۔ ابلیس نے جب سجدے سے انکار کیا، تو اسے مردود ٹھہرایا۔اوران شرعی احکام کا "مخاطب" انسان ہے (اور جنات بھی)۔ سوال یہ ہے کہ کیا "انسان" کی ماہیت طے کرنا شریعت کا موضوع ہے یا نہیں؟ فرض کر لیں کہ اگر کسی عرف میں پہاڑوں کو انسانوں کی طرح  تصور کیا جائےیا دریا کو، تو کیا اس علاقے کا فقیہ یہ کہے گا کہ چونکہ اس کے عرف میں"انسان" کی تعریف میں  پربت بھی شامل  ہیں اس لیے،  وہ بھی انسان ہے۔ (کسی خاص معاملے میں کسی کو کسی کے "حکم" میں کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔ جیسے مرض الموت میں واقع زندہ شخص کو بعض تصرفات میں "مردے" کے حکم میں کیا جاتا ہے۔لیکن تحقیق مناط میں  اسے بالکل "مردہ" کی کیٹیگری میں شامل کرنا درست نہیں۔)

اسی طرح، "جنس" کا معاملہ ہے۔ شریعت نے اس حوالے سے انسانوں کو ان کے عرف ورواج پر نہیں چھوڑ دیا۔ ہم اس معاملے کا  تجزیہ کرتے ہیں۔ذیل میں دیے گئے شرعی قضایا (Propositions) پر غور کیجیے:

۱: انسانی نر کے لیے انسانی مادہ سے جنسی تعلق قائم کرنا ، رشتہ ازدواج  یا ملکیت میں، جائز ہے۔

۲: انسانی نر کے لیے انسانی نر سے جنسی تعلق قائم کرنا ناجائز ہے۔

۳: انسانی مادہ کے لیے وہ لباس پہننا جو اس کے سماج میں انسانی مادہ پہنتی ہو، ناجائز ہے۔

۴: انسانی نر کے لیے کسی ایسی انسانی مادہ کے ساتھ تنہا ہونا جو نہ کے ساتھ نسبی رشتہ رکھتی ہو، نہ رضاعی نہ  مصاہرتی نہ ازدواجی، ناجائز ہے۔

وغیرہ وغیرہ۔

ان سب قضایا میں شریعت نے ایک حکم یا قانون عائد کیا ہےاور ایک "محکوم علیہ "پر عائد ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جس طرح اوپر کی مثالوں میں شریعت نے   محکوم علیہ یا اسباب کی خود حد بندی کی ہے، اسی طرح شریعت نے یہاں بھی اس کی حد بندی کی ہے یا نہیں؟ ہمارے فقہا کے اس حوالے سے نقطہ نگاہ کیا تھا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ فقہا نے اس حوالے سے حد بندی کی ہے اورہم نے آغاز میں جو کہا کہ فقہا اس حوالے سےانسان کے تولیدی نظام سے وابستہ اعضا کو بنیاد بناتے ہیں، وہ ان کے نزدیک ایک ایسا معاملہ ہے جو زمانے کے لحاظ سے، عرف کے لحاظ سے بدلتا نہیں۔چونکہ اس حوالے سے گفتگو خنثی کے تحت ہوتی ہے، اس لیے ہم اس پر گفتگو کریں گے۔

اشیا ووقائع میں معنویت مقاصد سے آتی ہے:

اگلے بات یہ دیکھیے کہ سورج، چاند،مرد ہونا یا عورت ہونا یہ صرف اللہ تعالی کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ سورج چڑھتا ہے، ڈھلتا ہے۔ اور یہ سب اللہ تعالی کے تکوینی ارادے کا مظاہر ہیں۔ تاہم اسلامی شریعت میں اس کی معنویت یہ ہے کہ ان دونوں کائناتی مظاہر کے ساتھ مجھے اپنے رب کے تشریعی ارادہے کا علم ہوتا ہے کہ میں دنیا کے سارے مشاغل پس پشت ڈال کر اس کے سامنے سربسجود ہوں اور نماز پڑھوں۔ اسی طرح،ماہ وسال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اور اپنے رب کے تکوینی ارادے کو نبھا جاتے ہیں۔ لیکن رمضان کے مہینے کی معنویت یہ ہے کہ یہ مجھے اپنے پروردگار کے تشریعی ارادے کا علم دیتا ہے کہ میں روزہ رکھو۔

اسی طرح، کسی کا "انسانی نر "  کے اعضا کا حامل ہونا یا "انسانی مادہ" کے اعضا کا اللہ تعالی کا ایک تکوینی فیصلہ ہے جو نہ اس نر کے ہاتھ میں ہے نہ مادہ کے ہاتھ میں۔لیکن اس تکوینی ارادے کے ساتھ اللہ تعالی کا تشریعی ارادہ جڑا ہوا ہےجو اس زنانہ ومردانہ مظہر کو معنویت دیتا ہے  کہ "نر" سے خاص مقاصد جڑے ہوئے ہیں اور "مادہ" سے مخصوص۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سائنس کا یہ طے کرلینا کہ وہ کسے "نر" اور کسی "مادہ" کہتی ہے یا علم نفسیات کا طے کرلینا کہ وہ کسے "زن" اور کسی "مرد" کہتا ہے، فقہی نقطہ نظر سے اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک وثوق سے ثابت نہ ہوکہ شریعت نے اس معاملے کو انسانوں کے اپنے معیار پر چھوڑ دیا ہے۔ جیسے مثلا  بیع کے قانون میں ، عقد کے تقاضے کے خلاف شرط کو فاسد قرار دینے کو شریعت  نے عرف پر چھوڑ ہے کہ جو شرط اتنی عام ہو جائے کہ اس سے نزاع نہ رہے تو اس سے سودا فاسد نہیں ہوگا ورنہ فاسد ہو گا۔اس پیمانے کا تعلق انسان کے اپنے تجربے سے ہے۔اور یہاں بھی آپ غور کریں تو دراصل "نزاع کا ظن غالب" وہ علت وسبب ہے جو شرعیت نے طے کر دیا ہے۔ تاہم یہ تصور ایسا ہے کہ زماں ومکا ں سے بدلتا رہتا  ہے، اس لیے اس کی حد بندی ہو ہی نہیں سکتی اور شریعت نے انسان کے  دست تجربہ میں اسے دے دیا ہے۔

جنس ومقاصد:

اب ہم مزید اس پر روشی ڈالتے ہیں کہ فقہا "نر ومادہ" دونوں جنسوں کو کیسے دیکھتے ہیں اور ان کے ہاں "جنس" کی تعریف کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ علم منطق کے جلو میں "جنس" ، "نوع" اور "فصل" وغیرہ اصطلاحات اسلامی علوم میں در آئیں اور ان کے تناظر میں مختلف علوم   میں گفتگو ہونے لگی۔ تاہم  شرعی علوم کے ماہرین یہاں محض خاموش تماشائی نہیں تھے بلکہ متحرک ناقد تھے اور انہوں نے ا  ن اصطلاحات کو اسلامی بنایا اور اسلامی علمیت واصول معرفت (اپسٹیم) سے ہم آہنگ بنایا اور یہی ہر دور کے ماہرین کا کام ہے۔ چناچہ علم منطق میں چیزوں کی ماہیت وحقیقت اور جس طرح  کہ "وہ ہیں"(الشيء كما هو) اس پر گفتگو ہوتی ہے۔ بالفاظ دگر، وہ وجودی سطح(آنٹولوجی) کا سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن فقہا نے جب یہ اصطلاح برتی تو اس کی کایا پلٹ دی۔ چناچہ فقہا نے یہاں ماہیت کے بجائے مقاصد کو بنیاد بنایا جو قدر کا سوال ہے اور جنس کی تعریف یہ کی  اس کے تحت آنے والے افراد وہ ہیں جن کے اغراض ومقاصد جدا جدا ہوں۔ چناچہ انسان جنس ہے کہ اس کے تحت مرد وعورت ہیں اور شریعت کی نگاہ میں دونوں مختلف ہیں۔مرد کے مقاصد کچھ اور عورت کے مقاصد کچھ ہیں۔

اسی حقیقت کے حوالے سے، مشہور علمی شخصیت محمد بن علی صابر فاروقی تھانوی فرماتے ہیں:

«وعند الفقهاء والأصوليين عبارة عن كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض دون الحقائق كما ذهب إليه المنطقيون، كالإنسان فإنه مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض، فإن تحته رجلا وامرأة، والغرض من خلقة الرجل هو كونه نبيا وإماما وشاهدا في الحدود والقصاص ومقيما للجمع والأعياد ونحوه. والغرض من خلقة المرأة كونها مستفرشة آتية بالولد مدبرة لأمور البيت وغير ذلك. والرجل والمرأة عندهم من الأنواع، فإن النوع عندهم كلي مقول على كثيرين متفقين بالأغراض دون الحقائق كما هو رأي المنطقيين. »«كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم» (1/ 594 - 595)

ترجمہ: فقہا واصولی حضرات کے ہاں جنس اس کلی (کیٹیگری)کو کہتے ہیں جس کا اطلاق ایسے افراد پر ہو جن کے (شرعی)اغراض ومقاصد جدا ہوتے ہیں،  نہ کہ  ان کی ماہیت جیسا کہ علم منطق کے ماہرین کے ہاں ہوتا ہے۔اس کی مثال انسان  کی کلی ہے جو مختلف اغراض  کے حامل افراد پر منطبق ہوتی ہے کہ اس کے  تحت زن ومرد ہیں اور مرد کی تخلیق سے مقصود نبوت، امامت، حدود وقصاص میں گواہی، جمعہ وعیدین کی نمازوں میں امامت وغیرہ ہے اور عورت کی تخلیق سے مقصود   جنم دینا، رشتہ ازدواج میں بندھ کر کسی ایک ہی مرد کی اولاد کو جنم دینا اور اس اولاد کا اس کی طرف منسوب ہونا  (عورت کے فراش ہونے کا فقہی تصور)، گھر گھرستی وغیرہ ہے۔اور مرد وزن فقہا کے ہاں انواع ہیں کہ نوع ان کے ہاں اس کلی سے عبارت ہے جو ہم غرض افراد پر لاگو ہو نہ کہ ہم ماہیت  پرجیسا کہ علم منطق کے ماہرین کے ہاں ہوتا ہے۔

یہاں مندرجہ ذیل امور پر غور کیجیے:

۱: فقہا مرد وزن اور نر ومادہ کو ہم معنی برتتے ہیں۔

۲: فقہا کے ہاں  کسی انسان کا مادہ کے نظام تولید کا حامل ہونا  مادہ کے اغراض میں شامل ہے۔اسی وجہ سے، فقہی نقطہ نظر سے، کسی "مادہ"  کی تحدید دراصل اس کے نظام تولید سے ہوتی ہے۔ اور منطقی طور سے، اس کے برعکس نظام تولید کا حامل "نر" ہے۔(اس پرتفصیل بعد میں آئے گی)

۳: اسی طرح، عورت کا ایک وقت میں ایک ہی مرد سے وابستہ ہونا اس کے اغراض میں سے ہے۔

[نوٹ: اصول فقہ کی کتابوں میں "خاص" کی اقسام ، خاص الفرد، خاص النوع وخاص الجنس، کے تحت یہ بحث مل جاتی ہے۔ منار کی شرح نور الانوار میں بھی اس پر تفصیل سے گفتگو موجود ہے۔]

فقہا کے ہاں جنس وصنف میں فرق:

چونکہ یہاں جنس وصنف  کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے۔ اس لیے اس پر لگے ہاتھ کچھ گفتگو کر لینا مناسب ہے۔

آغاز میں یہ بات گزری کہ بیسوی صدی کے جنسی انقلاب کے بعد، جنم لینے والی علمیت  کے مطابق جنس وصنف کے مابین فرق  کی بنیاد یہ  ہے کہ تولیدی نظام سے جنس طے ہوتی ہے اور صنف اس کے سماجی مظاہر سے عبارت ہے۔ نیز یہ علمیت مندرجہ ذیل امور کے مابین ڈور کاٹ دیتی ہے:

۱:جنس (Sex) ،

۲: جنسی رجحان(Sexual Orientation)،

۳: سماجی کردار (Gender Role)،

۴: اور سماجی مظاہر(Gender Expression)۔

چنانچہ ایسا نہیں کہ اگر آپ "جنس" کا جواب دے دیں تو باقی امور خود بخود طے ہو گئے۔

یہاں ہم نے دیکھا  کہ  فقہا   کے ہاں یہ تمام امور آپس میں اس طرح  ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں  کہ اگر پہلے کا جواب دیں تو  دوسرے کا جواب خود بخود آئے گا۔

تاہم، یہ واضح رہے کہ بعض سماجی مظاہر اور سماجی کردار ایسے ہیں جو عرف کی وجہ سے ہیں۔ اس لیے، یہ ضروری نہیں کہ ایک عرف میں اگر کسی مظہر کو مرد وزن کے ساتھ خاص کیا گیا تو وہ ہر زماں ومکاں میں ایسا ہے۔ تاہم   یہاں بھی فقہا عرف کے احترام کی تلقین ، مقاصد شریعت کی حدود میں، کرتے ہیں۔

اس پوری گفتگو سے ہمیں مندرجہ ذیل قواعد حاصل ہوئے:

قاعدہ: شریعت ایک قدر پر مبنی نظام ہے جو اشیا کو اللہ تعالی کے ارادے کے تحت معنویت بخشتا ہے۔

قاعدہ: شریعت اشیا کی قدر طے کرتے ہوئے، اشیا کی تعیین وتحدید بھی کرتی ہے۔ تاہم جو امور زماں ومکاں کے لحاظ سے بدلیں، وہاں شریعت انسانی تجربے پر معاملے کو چھوڑ دیتی ہے۔

قاعدہ: جنس کی تعیین وتحدید شریعت کا موضوع ہے  اور یہ زماں ومکاں کے لحاظ سے بدلتی نہیں۔

اسلام میں جنس کا معیار اور خنثی

یہاں تک  یہ طے ہو گیا کہ اسلامی نقطہ نظر سے جنس دو ہی ہیں  اور وہ دونوں جداگانہ ہیں اور انسان اپنے پیدائش کے ساتھ  جس طرح اپنی نوعی شناخت ( Identity of being a specific species)لاتا ہے اسی طرح اپنی صنفی شناخت بھی لے کر آتا ہے۔ یہ ناقابل تغیر عنصر ہے۔نیز جنس وصنف فقہا کے ہاں ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ تاہم بعض اوقات کسی انسان کی جنس کی دریافت میں الجھن پیدا ہو جاتی ہے اور اسے "خنثی" کہا  جاتا ہے۔اب شریعت کے نقطہ نگاہ سے، یہاں بنیادی سوال خنثی کی تعریف ہے اور اسی کے تحت اسلام میں جنس کا معیار طے ہوگا۔

خنثی کی تعریف:

"خنثی " دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنے ایسے انسان کے ہیں جس میں مرد وزن دونوں کے اعضائے تناسل پائے جائیں۔

فقہا کے ہاں اس کی علمی تعریف بھی یہی ہے۔ البتہ وہ اس میں ایک مزید عنصر کا اضافہ کرتے ہیں۔وہ یہ کہ اگر کسی انسان کے دونوں اعضا سرے سے  نہ ہوں ، تو اس پر بھی "خنثی" ہی کا قانون نافذ ہو گا۔چناچہ مشہور حنفی فقیہ علامہ حصکفی فرماتے ہیں:

«وهو ذو فرج وذكر أو من عرى عن الاثنين جميعا»«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 727)

[خنثی وہ ہے جس  میں مرد وزن دونوں کے آلہ تناسل ہوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو۔]

خنثی مرد ہے یا عورت ہے:

فقہا کے ہاں ، فنی نقطہ نگاہ سے، خنثی کوئی تیسری باقاعدہ جنس نہیں، بلکہ خنثی مرد ہے یا عورت۔اور اس کا فیصلہ صحابہ کے دور سے فقہا کے ہاں اس کے  اعضائے تناسل سے کیا جاتاہے۔

اس حوالے سے ابن عدی کے ایک روایت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے منسوب ہے لیکن اسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چناچہ مشہور حنفی فقیہ ومحدث علامہ جمال الدین زیلعی نے ہدایہ کی تخریج میں  بھی اسے ضعیف گردانا ہے۔ تاہم اس حکم کا دارومدار اس پر نہیں ہے۔ بلکہ اس حوالے سے صحابہ سے روایا ت منقول ہیں۔

حضرت علی سے منقول ہےکہ:

«عن علي أنه ورث خنثى ذكرا من حيث يبول»«مصنف عبد الرزاق» (8/ 389 ط التأصيل الثانية)

مفہوم:حضرت علی سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک مرد خنثی کو اس کی جائے پیشاب کی بنیاد پر وراثت دی۔

دیگر صحابہ سے منقول ہے:

عن جابر بن زيد، والحسن، في الخنثى قالا: «يورث من مباله»، قال قتادة: فكتب في ذلك لسعيد بن المسيب فقال: نعم، وإن بال منهما جميعا فمن أيهما سبق«مصنف ابن أبي شيبة» (6/ 277 ت الحوت)

مفہوم:حضرت جابر وحسن رضی اللہ تعالی عنہما سے  منقول ہے کہ خنثی کو اس  کی جائے پیشاب کی بنیاد پر میراث دی جائے گی۔ قتادہ کہتے ہیں کہ  انہوں نے اس حوالے سے سعید بن المسیب کو خط لکھا۔ انہوں نے بھی اس کی تائید کی۔ نیز فرمایا کہ اگر دونوں اعضا سے پیشاب کرے، تو جہاں سے پہلے شروع کیا ہو (اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔)

عن الشعبي، في مولود ولد ليس له ما للذكر ولا ما للأنثى، يبول من سرته، قال: «له نصف حظ الأنثى ونصف حظ الذكر»

علامہ زیلعی نے یہ روایات نقل کی ہیں بغیر کسی تنقید ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ان کے ہاں قابل حجت ہیں۔

نیز یہاں  اصل استدلال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث  نہیں جو کمزور ہے۔اور فقہی کتابوں میں منقول ہر حدیث یا ہر استدلال کا معتبر ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ فقہا کی عادت ہے کہ وہ ایک مسئلے پر کئی استدلالات اکھٹے کر دیتے ہیں جن میں سے بعض کمزور بھی ہوتے ہیں اور ہر فقہی مذہب کے ماہرین وقت کے ساتھ ساتھ اسے نکھارتے آئے ہیں۔  بلکہ بنیادی استدلال تین ہیں:

۱: شریعت کی طرف سے تقریر:

زمانہ جاہلیت میں بھی  یہ معاملہ رائج تھا  کہ ایسی صورتوں میں لوگ عضو تناسل کی بنیاد پر فیصلہ کرتے تھے۔شریعت آئی اور اس نے اس حوالے سے کوئی  تبدیلی نہیں کی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت اسے برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی یوں سمجھیے کہ "استصناع" کو (فنی باریکی برطرف، استصناع  آرڈر پر چیز بنوانے  سے عبارت ہے جب کہ میٹیریل بنانے والے کا ہو) احناف درست کہتے ہیں اور دوسرے فقہا نادرست کہ اس میں ایسی چیز کا سودا ہے جو موجود نہیں اور یہ "سلم" میں بھی شامل نہیں۔ احناف کے استدلالات میں سے ایک بنیادی استدلال یہ ہے کہ یہ معاملات رائج تھے۔ اس لیے، اگر ان میں تبدیلی مقصود ہوتی تو شریعت اس حوالے سے باقاعدہ رہنمائی فرماتی۔ اسی طرح، صحابہ  وتابعین کے دور میں یہ رائج  رہا پر اس پر نکیر نہ ہوئی۔پس ایسے امور میں ، شریعت کی یہ خاموشی اس کی طرف سے قانونی سازی  و"تقریر"ہے کہ یہ جائز ہے۔  یہی بات فقہا جنس  اور اس سے وابستہ احکام کے  حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ "حکم جاہلی "تھا اور شریعت نے اسے برقرار رکھا۔ اور صحابہ کا فیصلہ اس کی مزید توثیق ہوا۔اسے مختلف حنفی وغیر حنفی فقہا نے رقم کیا ہے۔ ہم علامہ سرخسی کی سنتے ہیں:

«وهذا حكم كان عليه العرب في الجاهلية على ما يحكى أن قاضيا فيهم رفعت إليه هذه الحادثة فجعل يقول هو رجل وامرأة فاستبعد قومه ذلك فتحير ودخل بيته في الاستراحة فجعل يتقلب على فراشه ولا يأخذه النوم لتحيره في هذه الحالة وكانت له بنية فغمزت رجليه فسألته عن تفكره فأخبرها بذلك وقالت دع الحال وابتغ المبال فخرج إلى قومه وحكم بذلك فاستحسنوا ذلك منه فعرفنا أن حكمه كان في الجاهلية قرره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وسيجيء من المعنى ما يدل عليه»«المبسوط للسرخسي» (30/ 103)

مفہوم: یہ معاملہ زمانہ جاہلیت میں بھی تھا جیسا کہ منقول ہے کہ ان کے ایک قاضی کے پاس یہ (خنثی کا )معاملہ لایا گیا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ مرد وزن دونوں ہے۔ لوگوں  اس بات سے مطمئن نہ ہوئے۔ قاضی صاحب کشمکش کا شکار ہوگئے۔ وہ اپنے گھر آرام گاہ میں گئے۔ لیکن اس مسئلے کے ساتھ انہیں ایک پل چین نہ آئے،نیند نہ آئے۔اس کی ایک بٹیا تھی۔اس نے (جب با پ کر پریشان دیکھاتو)اس کے پاوں کو دبایا اور پریشانی کی وجہ جاننا چاہی۔ اس نے ماجرا کہہ ڈالا۔ بیٹی نے کہا کہ:"اس بات کو چھوڑیے اور پیشاب گاہ کو بنیاد بنائیے"۔ قاضی صاحب نے لوگوں میں جاکر اسی کے مطابق فیصلہ کیا، تو انہیں یہ پسند آئی۔ (اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ کہتے ہیں )اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ خنثی کا حکم زمانہ جاہلیت میں تھا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے برقرار رکھا۔ نیز آگے اس  حکم کی علت سے بھی اس کی مزید تائید ہوگی۔

۲: فقہا کا اجماع:

دوسرا یہ کہ اس معاملے پر فقہا کا اجماع ہے جو خود ایک مستقل دلیل ہے۔ اس حوالے سے ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ تعالی  نے بھی واضح فرمایا ہے کہ خنثی کا دارومدار پیشاب گاہ پر ہونا فقہا کے مابین ایک اتفاقی معاملہ ہے۔اور ابن المنذر سے انہوں نے اس پر فقہا کا اجماع نقل کر کےصحابہ کے آثار اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب  احادیث پیش کی ہیں۔ اس لیے، واضح رہے کہ یہاں مسئلے کی بنیادنبی   صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب خبر واحد پر نہیں۔ اور بلاشبہ، اس جیسے مسئلے کی بنا ایسے چیز پر نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ   رفع یدین جیسے مسئلے کی طرح اجتہادی مسئلہ بن جائے اور ساری بات زیادہ سے زیادہ "خلاف اولی" پر آجائے۔فقہا کے ہاں یہ ایک اتفاقی معاملہ ہے۔اور صحابہ کے دور سے فقہا نے اس کے حکم کی بنا اس زمانے کے عرف پر نہیں، بلکہ انسان کے ظاہری عضویاتی فطری پر رکھی ہے اور وہ معلوم تاریخ کے مطابق ابھی تک ارتقا کر کے  بدلی نہیں۔ نیز جینیاتی علم نے آ کر اسے بدلا نہیں بلکہ محض اس کی تفسیر کی ہے جیسا کہ تفصیل سے آگے آئے گا۔ انسانی فطرت وہیں کی وہیں ہے۔

اور یہی سے ہمیں واضح ہوتا ہے کہ ایک فقہا نے ضعیف روایت اس لیے نقل فرمائی کہ وہ مسئلے کی بنا نہیں  بلکہ حکم اور دلائل سے ثابت ہے۔اس لیے، اگر یہ روایت نہ ہو، تب بھی یہ حکم ثابت ہے۔

بہر کیف، علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ تعالی کی عبارت ملاحظہ ہو:

«الخنثى هو الذي له ذكر وفرج امرأة، أو ثقب في مكان الفرج يخرج منه البول ويعتبر بمباله في قول من بلغنا قوله من أهل العلم. قال ابن المنذر: أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على أن الخنثى يورث من حيث يبول، إن بال من حيث يبول الرجل، فهو رجل، وإن بال من حيث تبول المرأة، فهو امرأة. وممن روى عنه ذلك؛ على، ومعاوية، وسعيد بن المسيب، وجابر بن زيد، وأهل الكوفة، وسائر أهل العلم. »«المغني» لابن قدامة (9/ 108 ت التركي)

مفہوم: خنثی وہ ہے اس میں مرد وزن دونوں کی شرم گاہ ہو یا شرمگاہ کی جگہ پر سوراخ ہو جس سے پیشاب نکلے۔ ہم تک جن اہل علم کی رائے بھی پہنچی ہے ان کے مطابق اس کی جائے پیشاب کا اعتبار کیا جائے گا۔ابن المنذر کہتے ہیں کہ جن اہل علم سے ہم نے علم نقل کیا ان سب کا اتفاق ہے کہ خنثی کو میراث جائے پیشاب کی بنیاد پر دی جائے گی۔ اگر وہاں سے کرے جہاں سے مرد کرتے ہیں، تو  وہ مرد ہے  اور اگر وہاں سے کرے جہاں سے عورت کرتی ہے، تو وہ عورت ہے۔ جن جن سے یہ بات منقول ہے ان میں حضرت علی، معاویہ، سعید بن المسیب، جابر بن زید  شامل ہیں۔ نیز اہل کوفہ اور باقی حضرات سے بھی یہی منقول ہے۔۱۲

مشہور مالکی فقیہ علامہ قرطبی نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خنثی میں اس کے اعضائے تناسل کا اعتبار ہے۔

أجمع العلماء على أنه يورث من حيث يبول، إن بال من حيث يبول الرجل ورث ميراث رجل، وإن بال من حيث تبول المرأة ورث ميراث المرأة. «تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» (5/ 65)

مفہوم:علما کا اتفاق ہے کہ خنثی کو اس کی جائےپیشاب کی بنیادپر میراث د ی جائے گی: اب  وہ ضرورت وہاں سے پوری کرے جہاں سے مرد کرتے ہیں، تو اسے مرد کی میراث ملے گی اور اگر وہاں سے ضرورت پوری کرے جہاں سے عورت کرتی ہے، تو عورت کی میراث۔ ۱۲

۳: قول صحابی:

نیز جو فقہا قول صحابی کو حجت تسلیم کرتے ہیں ان کے ہاں صحابہ سے منقول اقوال بھی ایک مستقل دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور احناف کے ہاں بھی قول صحابی حجت ہے۔

واضح رہے کہ اگر ہم جنس کے معاملے کو عرف  یا طب پر چھوڑ دیں، تو ہمارے پاس اس کی کوئی اصولی بنیاد نہیں رہے گی کہ ہم محض نفسیات واحساسات کو غیر معتبر ٹھہرائیں۔اور اس کے بعد، ہمارا یہ کہنا کہ "متبدل صنف" (ٹرانس جینڈر)کا اعتبار نہیں  ،بے بنیاد ہو جائے گا۔

یہاں قاری اس الجھن کا شکار نہ ہو کہ "جنس وصنف " میں فرق ہے۔ ہم واضح کر چکے کہ شریعت کے ہاں یہ دونوں آپس میں گتھم گتھا ہیں اور "جنس" کو طے کرنا دراصل "صنف" (شریعت کے مختلف احکام)کے لیے ہے۔ ورنہ شریعت کو اس سے  کوئی سروکار نہیں کہ کسی چیز کی ماہیت کیا ہے۔ مثلا ماربل کی ماہیت کیا ہے، اینٹ کی کیا ہے؟

اس لیے، واضح رہے کہ اس ساری بحث میں کلیدی کردار اس بات ہے کہ "خنثی " کی تعریف کیا ہے۔ہم یہ طے کر آئے ہیں کہ شریعت   کے ہاں جنس غیر متبدل ہے اور یہ اللہ تعالی کی اٹل تقدیر ہے۔

پس شریعت کی نگاہ میں خنثی وہ ہے جس کے نظام تولید سے وابستہ اعضا  دونوں ہوں یا ان میں ابہام ہو۔اس کے علاوہ ،ثانوی جسمانی خصائص جیسےچہرے پر بال یا ہونا یا نہ ہونا،چھاتی کا ہونا نہ ہونا(جنہیں طب میں ثانوی خصائص Secondary Traits کہا جاتا ہے ) خنثی کی تعیین میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ اور نفسیات کا تو کیا ہی کہنا کہ اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں ہوتا۔

اسی طرح، واضح رہے کہ کسی مرد یا عورت کا آپریشن کروا لینا اسے خنثی یا خنثی مشکل نہیں بناتا۔ جنس صرف اعضا ئے تناسل کا نام نہیں۔ بلکہ کسی بچے کا مخصوص اعضائے تناسل کے ساتھ پیدا ہونا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر ازلی میں وہ نر ہے یا مادہ۔ اس لیے، اگر کوئی مرد اپنے اعضا بدلوا لے، تو وہ خنثی نہیں ہو گا بلکہ وہ  بدستور مرد ہی رہے گا۔

تاہم جب کسی کا خنثی ہونا ثابت ہو جائے، تو اس کے بعد، فقہا کے ہاں بہت گنجائش  ہے۔ لیکن اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم علم جینیات اور انسانی نفسیات کے پہلو سے اس موضوع پرغور کریں تا کہ ہمیں اندازہ ہو سکے کہ ہمارے فقہا کے علمیات ان کے لحاظ سے کہاں ہے۔

(جاری)


سودی نظام کے خاتمے کی جدوجہد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(کراچی میں مرکز الاقتصاد الاسلامی اور وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان کے زیراہتمام قومی حرمتِ سود سیمینار سے خطاب)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں۔

میں دو تین باتیں سودی نظام کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا:

پہلی بات یہ کہ سودی نظام سے نجات پوری نسلِ انسانی کی ضرورت ہے، سودی نظام نے دنیا میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ آج کے ماہرینِ معیشت خود کہہ رہے ہیں کہ سود نے انسانی معیشت کو نقصان دیا ہے اور اس کا مجموعی ماحول ’’اثمہما اکبر من نفعہما‘‘ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔ پھر یہ نظام اکیلا ہی دنیا پر اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہے اور کوئی متبادل نظام میدانِ عمل میں نہیں ہے۔ جبکہ اصول یہ ہے کہ کوئی متبادل نظام سامنے ہو تاکہ دنیا دونوں کو دیکھ کر فیصلہ کر سکے کہ کون سا نظام اختیار کرنا ہے کیونکہ مقابلہ سے ہی کسی نظام کے بہتر ہونے کا علم ہو سکتا ہے۔

دوسرا دائرہ ہمارا قومی ہے جو اس حوالہ سے ہے کہ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے اور قرآن و سنت کا صریح حکم ہے اور ہماری شرعی ذمہ داری ہے۔

اور اس حوالہ سے بھی کہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد میں کہا تھا کہ ہم ملک میں مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام چاہتے ہیں۔

پھر یہ پہلو بھی اہم ہے کہ دستورِ پاکستان میں صرف یہ وعدہ نہیں بلکہ ضمانت دی گئی ہے کہ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اس لیے یہ دستوری تقاضا بھی ہے کہ سودی نظام سے ملک کو جلد از جلد نجات دلائی جائے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری معاشی مشکلات اور بحران کی سب سے بڑی وجہ سودی نظام ہے۔ ہم معاشی بحران کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور بیرونی قرضوں نے ہمیں جکڑ رکھا ہے جس سے ہماری قومی خود مختاری سوالیہ نشان بن گئی ہے اور ہم بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ بھی ہماری قومی ضرورت ہے کہ قومی خود مختاری، معاشی استحکام اور ملکی استحکام کے لیے سودی نظام کی لعنت سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کریں۔

ہمیں خوشی ہے کہ تمام دینی مکاتبِ فکر کی قیادتیں اور بزنس کمیونٹی کے قائدین آج سودی نظام سے نجات کے عزم کے ساتھ ایک فورم پر جمع ہیں۔ اس موضوع پر ملک کے مختلف حصوں میں متعدد فورم کام کر رہے ہیں اور میں بھی تحریکِ انسدادِ سود پاکستان کے نام سے ایک فورم کی نمائندگی کر رہا ہوں جو تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل ہے۔ اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس عنوان سے کام کرنے والے تمام حلقے اور فورم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن، حضرت مولانا پروفیسر ساجد میر، محترم جناب سراج الحق، اور دیگر قیادتیں آج جو فیصلہ بھی کریں گے، ہم سب ان کے ساتھ ہیں اور جو لائحہ عمل طے ہو گا اس پر عملدرآمد کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔


ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ: زندگی کے کچھ اہم گوشے (۲)

ابو الاعلیٰ سید سبحانی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے علمی دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور اجتماعی زندگی بھی گزاری اور خاص طور پر ہندوستان کی اسلامی تحریک میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔  ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی کے سلسلہ میں نہ صرف فکرمند رہا کرتے تھے بلکہ ملت کو درپیش اہم مسائل اور چیلنجز پر بہت ہی واضح اور جرأتمندانہ موقف بھی رکھتے تھے۔  ڈاکٹر صدیقی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی سے متعلق ایک واضح پروگرام اور نقشہ کار رکھتے تھے، اور اس کا اظہار مختلف مواقع پر بہت ہی شدومد کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صدیقی کا مزاج شروع سے علمی اور فکری محاذ پر کام کرنے کی طرف مائل رہا، اور علمی وفکری محاذ پر وہ بہت ہی ڈائنامک انداز میں کام کرتے رہے، البتہ عملی قیادت اور نظم وانتظام کا کام ان کے مزاج سے بہت زیادہ ہم آہنگ نہیں تھا، چنانچہ وہ تحریک اسلامی میں بھی اور دوسرے ملی پلیٹ فارمس پر بھی زمینی قیادت کا حصہ کبھی نہیں بن سکے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی اپروچ عام تحریکی مفکرین اور مصنفین سے کافی مختلف ہوا کرتی تھی، عملی زندگی میں بھی وہ بہت کشادہ اور وسیع الظرف واقع ہوئے تھے اور فکری وعلمی محاذ پر بھی، اس کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے والد محترم بہت علم دوست بھی تھے اور بہت کشادہ ظرف بھی۔ ان کے یہاں ابوالکلام آزاد کے”البلاغ“اور”الہلال“بھی آتے تھے، اور مولانا اشرف علی تھانوی کا”التبلیغ“بھی آتا تھا، اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا”ترجمان القرآن“بھی آتا تھا۔ اس زمانے میں سیرت کمیٹی لاہور کا ترجمان”ایمان“کافی مقبول تھا، یہ مجلہ آپ کے یہاں بڑی تعداد میں آتا تھا اور شہر بھر میں تقسیم کیا جاتا تھا۔

ڈاکٹر صدیقی نے بہت کم عمری سے مختلف مکاتب فکر سے استفادہ کا جو مزاج پایا تھا وہ آخری عمر تک باقی رہا۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں اور خاص طور پر خطوط کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے نہ صرف استفادہ کرتے تھے بلکہ ان سے ایک گہرا تعلق بھی رکھتے تھے۔

جماعت اسلامی سے وابستگی سے قبل آپ کچھ دن مسلم لیگ کی طلبہ تنظیم”مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن“سے بھی وابستہ رہے اور کچھ دن علامہ عنایت اللہ مشرقی کی خاکسار تحریک کی طرف بھی میلان رہا۔

والد محترم کی ذاتی لائبریری میں ماہنامہ ترجمان القرآن سے مستقل استفادہ کے نتیجے میں مولانا مودودی کی تحریروں سے آپ پہلے سے واقف تھے اور ان سے مستقل استفادہ بھی جاری تھا، البتہ 1946 کے آس پاس آپ کچھ مقامی افراد کی کوششوں سے جماعت اسلامی کی مقامی یونٹ گورکھپور سے جڑ گئے اور پھر جماعت اسلامی کی فکر اور تحریک کے لیے مکمل طور پر یکسو ہوگئے۔ چند سال بعد 1950 میں رکن ہوئے، اور پھر تادم زیست جماعت اسلامی سے وابستہ رہے، البتہ عمر کے آخری مرحلہ میں امریکی شہریت کا حامل ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی ہند میں ان کی رکنیت برقرار نہ رہ سکی، جس کا انہیں آخر تک شدید صدمہ تھا۔

مولانا مودودی کے ساتھ خط وکتابت:

مولانا مودودی علیہ الرحمہ سے آپ کی خط وکتابت کا آغاز 1944 کے اواخر یا 1945 کی ابتدائی تاریخوں میں ہوا، اور مولانا مودودی کی وفات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ موجود ریکارڈ کے مطابق آپ کے نام مولانا مودودی کا پہلا خط 28جنوری 1945 کا ہے، اور آخری خط 6 مئی 1979 کا ہے۔ ان خطوط سے مولانا مودودی علیہ الرحمہ اور ڈاکٹر صدیقی علیہ الرحمہ کی قربت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا مودودی ڈاکٹر صدیقی کی بات کو کس قدر سنجیدگی سے سنتے تھے۔ ان خطوط میں فکر اسلامی اور تحریک اسلامی سے متعلق بہت سی اہم اور منفرد باتوں کی وضاحت ہے۔ مثلاً 4 جولائی 1962 کو ایک خط کے جواب میں مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں:

”آپ کے نقطہ نظر کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں اور جس حد تک اپنی اخروی ذمہ داری کو ملحوظ رکھتے ہوئے لبرلزم برت سکتا ہوں برتتا بھی ہوں۔ لیکن پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ حالات کو جس رخ پر جاتے دیکھ رہا ہوں اس کی بنا پر کوئی ایسی بات کرتے ہوئے میری روح کانپ جاتی ہے جو بے لگام اجتہادات کا دروازہ کھولنے کی ذمہ داری میں مجھے شریک کردے۔ میرا خیال یہ ہے کہ میری اس احتیاط کی روِش سے جو نقصان ہوسکتا ہے اس سے بہت زیادہ نقصان یہ احتیاط ملحوظ نہ رکھنے سے ہو جائے گا۔ گاڑی بہت گہرے نشیب کی طرف جار ہی ہے۔ بر یک ڈھیلا کرتے ہی سیدھی کھڈ میں جاگرے گی۔“(اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 29)

مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی کئی کتابوں کو اشاعت سے قبل دیکھنے کے بعد ان پر تفصیلی نوٹس دیے اور بعض کے سلسلہ میں اصولی رہنمائی فرمائی، خطوط کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ”غیرسودی بینک کاری“،”شرکت ومضاربت کے شرعی اصول“اور”معاصر اسلامی فکر“مولانا مودودی نے اشاعت سے قبل دیکھی تھیں، اور ان کے تعلق سے کسی نہ کسی صورت میں اپنی رائے کا اظہار بھی کیا تھا۔”شرکت ومضاربت کے شرعی اصول“نامی کتاب کے تعلق سے مولانا مودودی نے جو اصولی رائے دی تھی، وہ کچھ اس طرح تھی:

”اس مسئلہ میں قانون کا ڈھانچہ تو حنفی ہی رہنا چاہیے۔ البتہ جہاں حنفی مسلک سے کام نہ چلتا ہو وہاں ائمہ اربعہ میں سے کسی کے مسلک کو اختیار کرلیا جائے اور اسے اختیار کرنے کے حق میں مضبوط دلائل دے دیے جائیں۔ اگر چاروں مذاہب سے بھی کام نہ چلے تو پھر بدرجہ آخر دوسرے ائمہ مجتہدین کے جو اقوال کتابوں میں ملتے ہیں ان میں سے کسی کو اختیار کر لیا جائے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 45)

جمال عبدالناصر نے اخوان المسلمون پر آزمائشوں کے سخت پہاڑ توڑے تھے، اخوان پر پابندی، سید قطب اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی اور نہ جانے کتنے دل دوز واقعات اس کے عہد حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں، جمال عبدالناصر کا انتقال ہوا تو اُس وقت بعض سیاسی مجبوریوں کے تحت مولانا مودودی نے بھی ایک تعزیتی پیغام جاری کردیا تھا، اس تعزیت کے سلسلہ میں فطری طور پر تحریک سے متعلق دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صدیقی کو بھی سخت اعتراض ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر صدیقی کے ایک خط کے جواب میں 10 اکتوبر 1970 کو مولانا مودودی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یہاں کے حالات اس کے مقتضی تھے کہ چند محتاط الفاظ میں صدر ناصر کی وفات پر تعزیت کا تار دے دیا جائے۔ یہاں جن گروہوں سے ہمیں سابقہ درپیش ہے وہ میری خاموشی کو ایک نئے مخالفانہ پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 48)

1972 میں ڈاکٹر صدیقی ایک پروگرام کے تحت امریکہ گئے، وہاں سے بھی مولانا مودودی کے ساتھ آپ کی ایک اہم خط وکتابت ہوئی، اس دوران مولانا مودودی نے ڈاکٹر صدیقی کے نام اپنے خط میں مغربی ممالک کے تناظر میں تحریک اسلامی کی کچھ اہم ضرورتوں اور وہاں موجود مسلمانوں سے متعلق کچھ اہم پہلووں کی نشاندہی کی، اورڈاکٹر صدیقی سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں موجود مسلم طلبہ ونوجوانوں کی اس سلسلہ میں ذہن سازی کی کوشش کریں، لکھتے ہیں:

”امر یکہ اور کینیڈا میں مسلمان نوجوانوں کی ایک بہت اچھی اور کارآمد طاقت جمع ہے۔ان لوگوں سے مل کر انہیں اس بات پر آمادہ کیجیے کہ ہندوستان وپاکستان اور فلسطین کے مسائل پر محض غم و غصے سے کام نہیں چل سکتا۔ اور نہ ہی ساری قوتیں اور وسائل انہی مسائل پر صرف کردینا مناسب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی قوتوں اور وسائل کو جمع کر کے ایک ایسا نظام بنائیں جو ایک طرف تحقیقی مواد (اسلام کے متعلق بھی اور مسلمان ملکوں کے مسائل کے متعلق بھی) مر تب کرے۔اور دوسری طرف ان چیزوں کی اشاعت کا بھی انتظام کرے۔جب تک خود اپنا کوئی دارالاشاعت نہ بنالیا جائے کام نہیں چل سکے گا۔ کیونکہ امریکہ اور کینیڈا کے اشاعتی وسائل ہمارے ساتھ تعاون تو در کنار تجارتی بنیاد پر بھی معاملہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو سکیں گے۔ یہی حال یورپ کا بھی ہے، لندن میں ایک مستقل مرکز تحقیق و اشاعت قائم ہونا چاہیے جو یورپ میں اس کام کو انجام دے“۔(حوالہ سابق، صفحہ 50)

نئے ہندوستان میں نیا رخ اور نیا طریقہ کار:

تقسیم ہند کے بعد 1948 میں ہندوستان میں جماعت اسلامی ہند کے نام سے جماعت اسلامی کی تشکیل نو تو ہوگئی، نئی قیادت اور نیا سسٹم بھی وجود میں آگیا، لیکن ذہن وہی رہا جو تقسیم سے پہلے کے ماحول میں تیار ہوا تھا، اور لٹریچر بھی وہی رہا جو تقسیم سے پہلے وجود میں آیا تھا۔ یہ لٹریچر ایک قسم کی منفی ذہنیت اور موجود نظام حکومت کے بائیکاٹ کا مزاج فروغ دے رہا تھا، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تحریروں میں اس لٹریچر اور اس مزاج کو شدید انداز میں رد کرنے اور ہندوستان کے تناظر میں ازسرنو اپنی پوزیشن طے کرنے پر خاصا زور دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جہاں انہوں نے دیگر علماء اور مفکرین کے نام خطوط لکھے، ان کے ساتھ مختلف مواقع پر مباحثے کیے، وہیں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک بہت دوٹوک خط مولانا مودودی کے نام بھی لکھا تھا، یہ خط قدرے طویل ہے، البتہ اس کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ڈاکٹر صدیقی 14اکتوبر 1972 کو مولانا مودودی کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں:

”اپنے ملک کی نسبت سے تحریک اسلامی کے مفادات ومصالح ملک کے موجودہ نظام سے کنارہ کشی یا بے تعلقی کی بجائے ایک ایجابی رویہ اور شرکت کے متقاضی نظر آتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارا اصل کام دعوت کا کام ہے اور اس کی خاطر مسلمانوں کی اصلاح و تربیت مطلوب ہے۔ تحریک اسلامی کی علمبر دار مسلم اقلیت کاRole یہی ہو سکتا ہے کہ وہ برادران وطن کو اسلام سے روشناس کرائے۔ اپنے حسن عمل سے اسلام کی خوبیوں پر گواہ بن کر رہے اور ساتھ ہی ملک کی معاشرت، معیشت، سیاست سب کی تشکیل میں اسلامی قدروں کے قبول اور فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ یہ کام شرکت اور فعال طریقہ سے موجودہ نظام کو اپنے لیے قوت اور سماجی اثر حاصل کرنے کا ذریعہ بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ کنارہ کشی سے ربط عام اور موثر طریقہ پر ربط کے مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ ظاہر ہے کہ سارے مسلمان اجتناب وبے تعلقی کے طریقہ پر عمل کر ہی نہیں سکتے، چنانچہ تحریک کااس موقف پر اصرار مسلمانوں سے بھی علیحدگی کا سبب بنتا ہے۔ جس زمانہ میں ہمارے لٹریچر میں اس موقف کے حق میں لکھا گیا تھا اس وقت متحدہ ہندوستان کا سیاسی مستقبل زیر بحث تھا۔ اس بحث میں اسلامی نقطہ نظر کی ترجمانی اور اس سیاق میں اس وقت کے نظام کے سلسلہ میں رویہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اب وہ سیاسی مسئلہ ایک خاص طور پر طے پاچکا اور ہم تاریخ کے ایک مختلف مرحلہ میں داخل ہو چکے۔ اس مرحلہ میں دعوت اسلامی اور اس کے تقاضوں کو ہی نظام وقت کی طرف سے ہمارے رویہ کی تشکیل کرنا چاہیے نہ کہ ہمارے سابق موقف کو۔ میں اس مسئلہ میں آپ کی رائے اس لیے جاننا چاہتا ہوں کہ سابق موقف آپ ہی کا بیان کیا ہوا ہے۔ اور اکثر سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کیا آپ اس پوری بات کو ہر ملک ہر زمانہ ہر حالت کے لیے کی گئی بات کا درجہ دیتے ہیں یا نئے حالات میں از سر نو سو چنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ چونکہ دنیا کے بہت سے ان ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں تحریک اسلامی کی داغ بیل پڑ رہی ہے اس لیے اس مسئلہ پر رائے قائم کرنے کی ایک اصولی اہمیت بھی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ہر جگہ ہمارے کارکن نظام وقت سے اجتناب کو اس معنی میں ضروری سمجھتے رہے جیسا کہ ہم نے ہندوستان میں سمجھا تو وہ وسائل سے محروم، بے اثر اور عام زندگی سے کٹ کر رہ جائیں گے“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 51-52)

اس خط کے جواب میں مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے جہاں کئی اہم اصولی باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، وہیں ایک اہم اور اصولی بات یہ بھی کہی کہ

”ان تمام مختلف حالات میں چند بنیادی اصول تو یکساں رہیں گے لیکن ہر جگہ کے حالات کے لحاظ سے عملی طریقوں میں فرق کرنا پڑے گا۔ میں نے جو کچھ بھی لکھ دیا ہے اس کو تمام حالات کے لحاظ سے اگر حرف آخر سمجھ لیا گیا تو بے شمار مشکلات پیدا ہوں گی“۔ (حوالہ سابق، صفحہ 55)

اسلامک ریسرچ سرکل اور اسلامک تھاٹ کا آغاز:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم ثانوی درسگاہ سے فارغ ہوئے تو ثانوی درسگاہ کے اپنے ساتھیوں اور کچھ دوسرے تحریکی  رفقاء کے ساتھ مل کر”اسلامک ریسرچ سرکل“کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے ڈائرکٹر مولانا صدر الدین اصلاحی مرحوم بنائے گئے اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہوئے۔ اس ادارے کا ایک اہم مجلہ”اسلامک تھاٹ“کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے ایڈیٹر سید زین العابدین صاحب تھے اور معاونین میں ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم، ڈاکٹر عرفان احمد خان مرحوم (شکاگو) اور ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی مرحوم تھے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم اس ادارے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

”ہمارا مقصد تحریک اسلامی ہند کے لیے افکار تازہ کی تلاش وجستجو تھا، ہم نے نئے انداز پر سوچنے کی دعوت دی، اور الحمدللہ یہ رسالہ کافی مقبول ہوا“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، نومبر 2012)

تقریباً پندرہ سال کی اشاعت کے بعد یہ رسالہ بھی بند ہوگیا اور یہ ادارہ بھی نہیں چل سکا۔ ڈاکٹر صدیقی کہتے تھے کہ اس کے بند ہونے کی وجہ ہم ساتھیوں کا یکے بعد دیگرے مختلف ممالک کی طرف منتقل ہوجانا تھا۔

اسلامک تھاٹ کی فائیلیں آج بھی بعض جگہوں پر موجود ہیں، ان کا اس پہلو سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس زمانے میں تحریک کے ان تازہ دم نوجوانوں نے فکر اسلامی کے کن نئے پہلووں کو موضوع گفتگو بنایا تھا اور وہ کس قدر تحریک اسلامی ہند پر اثرانداز ہوسکے تھے۔

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری میں:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم 1964 میں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے اور تقریباً 1980 تک یعنی سعودی عرب منتقل ہونے کے دوسال بعد تک رکن شوری رہے۔

شوری میں ڈاکٹر صدیقی کا انداز فکر بہت ہی جداگانہ تھا، وہ کہتے تھے کہ مولانا مودودی نے انگریزوں کے زیر تسلط غیرمنقسم ہندوستان میں جو انداز فکر دیا تھا تقسیم کے بعد ہمارے ملک کی نوعیت، یہاں پر ہماری پوزیشن اور عالمی سطح پر تبدیل ہوتے حالات میں اس کو من وعن تسلیم کرلینا کسی طور پر مناسب نہ ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوری میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے رول اور کردار پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”تصنیفات کے ساتھ ساتھ، اس محاذ پر ان کا بڑا کنٹری بیوشن وہ کردار ہے جو وہ جماعت کی فیصلہ ساز مجالس میں ادا کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم اُس دستور ساز مجلس نمائندگان کے رکن تھے جس نے ملک کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی ہند کے پہلے دستور کو منظوری دی تھی۔ غالباً 1965سے بیرون ملک منتقلی تک وہ مسلسل مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ بیرون ملک منتقلی کے بعد بھی جماعت کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں وہ ممکنہ حد تک کنٹری بیوٹ کرتے رہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی نشستوں میں ان کی شرکت بھرپور تیاری کے ساتھ ہوتی تھی۔ شوریٰ کی رودادوں میں ان کے جو مقالات اور تجویزیں ملتی ہیں ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تجاویز اور مباحث کبھی بھی برجستہ یا محض ذاتی وجدان اور تجربے کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ وہ موضوع سے متعلق سنجیدہ تحقیق اور گہرے مطالعے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرتے۔ ان کی تقاریر بھی اور شوریٰ ودیگر مشاورتی محفلوں کی پیشکش بھی، ہمیشہ مکمل تحریری صورت میں ہوتی۔ تربیتی پروگراموں میں بھی ان کی تقریروں کا ڈرافٹ مکمل طور پر لکھا ہوا اور محنت سے تیار کیا ہوا ہوتا۔قرآن وسنت اور اسلام کی اساسیات کے ساتھ ساتھ، تحریک کی پالیسی سازی کے لیے انہوں نے معاصر علوم، سماجیات، سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے بھرپور استفادہ کیا۔ معاشیات تو ان کا اصل میدان تھا ہی۔ ان سنجیدہ کوششوں سے ہندوستان کی اسلامی تحریک کے لیے بدلے ہوئے حالات میں قابل عمل اور مفید لائحہ عمل کی تشکیل میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔“

ڈاکٹر حسن رضا جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری کے رکن ہیں، اور اسلامی اکیڈمی نئی دہلی کے چیئرمین ہیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ان سے میری پہلی تفصیلی ملاقات آج سے 45 برس پہلے بھوپال کے خصوصی اجتماع مئی1977 میں ہوئی تھی، جب انہوں نے اپنا قیمتی مقالہ”ہندوستان میں اقامت دین کی راہ“پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے پہلی دفعہ اقامت دین کی تشریح و تعبیر میں معاشرے کی تعمیر کی اہم کڑیوں سے سرسری گزر کر ریاست کی تشکیل کو اقامت دین کا مصداق سمجھ لیا جاتا ہے اس پر نقد کیا تھا، نیز سماجی قوت اور سیاسی قوت میں کیا رشتہ ہے، اخلاقی قوت اور سماجی قوت میں کیا تعلق ہے، نظریاتی انقلاب اور سیاسی انقلاب کا سفر کیسے طے پاتا ہے، قوت کے ذیلی مراکز پر اثرانداز ہونے کی کیا تدبیریں ہیں۔ان سب پر سیر حاصل بحث کی تھی۔اس وقت یہ باتیں جماعت اسلامی کے داخلی حلقوں میں تازہ افکار کا ایک خوشگوار جھو نکا معلوم نہیں ہوتی تھیں بلکہ بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے تحریک اسلامی کی آئیڈیالوجیکل بحث کی نشوونما میں کلیدی رول ادا کیا۔ مرکزی شوری کے اجلاس میں بھر پور تیاری سے وہ شریک ہوتے تھے۔ مولانا سید حامد علی مرحوم نے مجھ سے ایک دفعہ کہا تھا کہ ارکان شوری میں سب سے زیادہ مطالعہ اور ایجنڈے کے مطابق علمی تیاری کرکے نجات اللہ صدیقی آتے ہیں“۔

1977 میں ارکان جماعت سے ایک فکرانگیز خطاب:

1977 میں جماعت اسلامی ہند کے ارکان کے لیے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ایک بہت ہی فکرانگیز مقالہ لکھا تھا، یہ مقالہ پہلی بار عوامی استفادہ کے لیے ماہنامہ زندگی نو دسمبر 2022 کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مقالہ کا عنوان ہے”ملک کا موجودہ نظام اور تحریک اقامت دین“، اس مقالہ میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں اقامت دین کی راہ میں درپیش تین رکاٹوں کو بیان کرنے کے بعد اس تناظر میں تین نکاتی دعوتی پروگرام پیش کرتے ہیں، اور پھر”موجودہ نظام کے سلسلہ میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟“اس پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ اس مضمون کا آخری حصہ گرچہ کچھ طویل ہے، لیکن اس پوری بحث کا ایک اچھا خلاصہ کہا جاسکتا ہے، لکھتے ہیں:

”آخری بات یہ ہے کہ یہ محض خوش فہمی ہے کہ موجودہ نظام کے سلسلہ میں ہمارا رویہ آج بھی وہی ہے جو 1941 میں تاسیس جماعت کے وقت سوچا گیا تھا۔ حالات کے دباؤ، تحریک کے مصالح کے تقاضوں اور جزئی وقتی اجتہادات کے تحت لاتعداد جزئیات میں ہمارا رویہ بدل چکا ہے، جس سے اپنوں اور دوسروں کی نظر میں اب ہماری تصویر وہ نہیں رہ گئی ہے جو 1941 اور مابعد کے قریبی زمانہ میں تھی۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ صرف چند یہ ہیں:

ملازمت، جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا، عدالتی چارہ جوئی، حکومت کے انتظامیہ سے اپنے کاموں میں مدد چاہنا، حکومت کے انتظامیہ کو اپنا تعاون پیش کرنا، بنکوں میں حساب رکھنا یا ارکان حکومت اور ممبران مجالس قانون ساز سے ربط رکھنا، انتخابات میں رائے دہی کی مخالفت نہ کرنا۔ یہ آٹھوں مثالیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت بننے کے بعد ابتدائی چند برسوں تک ہمارا رویہ انتہائی شدید تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ مجھے اطمینان ہے کہ ایسا کسی کم زوری یا مداہنت کی علامت نہیں بلکہ ٹھیک ہوا۔ یہ ہماری مخصوص نفسیات ہے کہ ہم جزئی اجتہاد کر گزرتے ہیں مگر کلی اجتہاد اور رویہ کی تبدیلی سے، جس کے حالات متقاضی ہیں جھجکتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ جھجک خوف خدا کی وجہ سے کم ہے انسانوں کے خوف اور لومۃ لائم کے اندیشہ سے زیادہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مذکورہ بالا جزئی تبدیلیوں نے ہماری جماعت کو بھی اور عامۃ المسلمین کو بھی اس کے لیے پوری طرح تیار کر دیا ہے کہ ہم موجودہ نظام کے سلسلے میں اپنا رویہ بدل دیں اور وہ رویہ اختیار کرلیں جو میں نے تجویز کیا ہے۔ اگر مناسب افہام وتفہیم کے ساتھ ایسا کیا جائے تو نہ اس سے جماعتی صفوں میں کسی انتشار کا اندیشہ ہے نہ دوسرے مسلمان طبقوں کی طرف سے کسی دیر پا ناخوش گوار رد عمل کا“۔

انتخابات میں شرکت منصوص علیہ مسئلہ ہے یا مجتہد فیہ:

جماعت اسلامی ہند کی تاریخ میں جو مسئلہ سب سے زیادہ زیر بحث رہا وہ انتخابات میں شرکت کا مسئلہ تھا، اس مسئلہ پر بہت سی بزرگ اور قدآور شخصیات نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس مسئلہ پر جماعت میں کھل کر گفتگو کرانا چاہتے تھے کہ اس مسئلہ کی نوعیت کو طے کرلیا جائے کہ یہ مسئلہ منصوص علیہ ہے یا مجتہد فیہ ہے۔ اپریل 1986 میں مولانا ابواللیث اصلاحی صاحب ایک بار پھر امیر جماعت منتخب ہوئے، اس موقع پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے جدہ سعودی عرب سے مولانا ابواللیث صاحب کے نام ایک خط لکھا تھا، اس خط میں اس بات پر پورا زور دیا ہے کہ اس مسئلہ پر بحث ومباحثے کے بعد ایک نتیجہ تک پہنچنا اب بہت ضروری ہوگیا ہے، لکھتے ہیں:

”نئی میقات میں جماعت اسلامی ہند کی امارت کے لیے آپ کے ازسرنو انتخاب سے اطمینان ہوا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کی سر پرستی اور رہنمائی میں جماعت کو متحد رکھے اور باوجود صحت کی کمزوری کے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں آپ نے جس ذمہ داری کو قبول کیا ہے اس کی ادائیگی کی قوت و توفیق دے، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب اور مولانا یوسف صاحب کے آپ کے نام خطوط اور رودادِ شوری 1984-85 مجھے حال ہی میں ملے۔ان کے مطالعہ کے بعد مجھے اپنی اس سابقہ رائے اور تجویز کو دوبارہ آپ کے سامنے دوہرانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ کو ’رسالہ زندگی‘ میں کھل کر زیر بحث آنے کی نہ صرف اجازت دیجئے بلکہ اہتمام کیجئے۔ کیوں کہ مسئلہ کا ایک پہلو جو کسی وقت بھی جماعت کے اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے جوڑے رکھنے کے لیے آپ جیسی شخصیت نہ موجود رہ جائے، یہ ہے کہ بعض لوگوں کو فیصلہ کے مقررہ طریقوں پر اعتماد باقی نہیں رہ گیا ہے۔ بلکہ وہ اس کو اس طریقہ سے فیصلہ کیے جانے سے بالا وبرتر منصوص کا درجہ دیتے ہیں۔ جو پہلو ’زندگی‘ میں تحریروں کے ذریعہ منقح ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ منصوص علیہ ہے یا مجہتد فیہ۔ میں سمجھتاہوں کہ اگر مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب، مولانا عروج قادری صاحب وغیرہ کھل کر اس بحث میں حصہ لیں تو شاید یہ مسئلہ صاف ہو جائے اور اگر سب کو بشمول ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب، مولانا یوسف صاحب اور بعض ارکان جماعت اترپردیش، مسئلہ کی اجتہادی نوعیت پر اطمینان ہوجائے تو پھر ان کو اور سب کو اس اصل پر متحد رکھا جاسکتا ہے کہ وحی ورسالت کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد ہم انسان یہی کر سکتے ہیں، کہ فیصلہ کرنے کے شرعی طریقوں کا جنھیں ہم نے اپنے دستور میں درج کر رکھا ہے التزام کرتے ہوئے جب جو فیصلہ ہو جائے اس کے تحت جماعت کو چلائیں اور اس سے وابستہ رہیں“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 80)

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی انتخابات میں شرکت کے مسئلہ کو ایک اجتہادی مسئلہ قرار دیتے تھے، اور وہ کہتے تھے کہ اس مسئلہ کی نوعیت کا تعین بہت سے اختلافات کو ازخود ختم کردے گا۔

صحیح بات یہ ہے کہ بہت سی باتوں کو منصوص سمجھ کر لوگ ان سے اس طرح چمٹ جاتے ہیں کہ ان میں ذرا سی بھی تبدیلی گوارا نہیں کرتے۔ جماعت اسلامی کے نصب العین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حکومت الہیہ کے الفاظ کو تبدیل کرتے ہوئے اقامت دین کے الفاظ کو اختیار کیا گیا تو اس پر نہ جانے کتنے تنقیدی مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور یہ باور کرایا گیا کہ جماعت اپنے نصب العین سے انحراف کررہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک اسلامی اور سید مودودی کے یہاں اصل تصور دین ہے جو منصوص ہے۔ حکومت الہیہ یا اقامت دین کا لفظ اختیار کرنا ایک اجتہادی عمل ہے جو بہرحال تبدیلی کے امکانات رکھتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی اور رخ:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی تحریک اسلامی ہند کے پالیسی وپروگرام، رخ، طریقہ کار اور مستقبل کے سلسلہ میں ہمیشہ فکرمند رہا کرتے تھے، مولانا سراج الحسن صاحب اپریل 1999 میں تیسری بار امیر جماعت منتخب ہوئے، اس وقت ڈاکٹر صدیقی جدہ سعودی عرب میں مقیم تھے، وہاں سے آپ نے مولانا سراج الحسن صاحب کو ایک بہت ہی فکرانگیز خط لکھا، اس خط کا درج ذیل حصہ تحریک اسلامی ہند سے متعلق ڈاکٹر صدیقی کی پوری فکر کو بیان کردیتا ہے، لکھتے ہیں:

”آپ نے گزشتہ آٹھ سالوں میں تحریک کو جو نیار خ دیا ہے اس میں زیادہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے مسائل اور خیالات میں الجھنے اور ڈوبے رہنے کی بجائے پورے ملک کے لیے سوچنے اور کچھ کرنے کی جو رسم آپ نے ڈالی ہے اس میں مزید وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اصلا تو سب میں خدا کی پہچان پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن اکثر اوقات ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جن افراد سے ہم مخاطب ہیں ان کو غربت و افلاس، مرض اور جہالت نے ایسا توڑ دیا ہے کہ سر اٹھانے، بات سننے اور سوچنے کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ ایسی صورت میں ان کو صرف خطبے سنانا، اگر وہ پڑھ سکتے ہوں تو کتابیں دینا کارگر نہ ہوگا، ان کو حفظان صحت کی باتیں بتانا، علم سکھانا اور کوئی ہنر سکھا کر روزی کمانے کا راستہ دکھانا، دعوت کے تقاضوں میں سمجھا جانا چاہیے۔

میرا تاثر یہ ہے کہ جماعت کے بہت سے لوگ یہ بات سمجھتے تو ہیں مگر اس کو زبان پر لانا اپنی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں، بہرحال اس پر بات چیت ہونی چاہیے تا کہ عقل کی رہنمائی روایات کی پابندی کے مقابلہ میں اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے۔“(اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 332)

 کل ہند طلبہ تنظیم سے متعلق واضح موقف:

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی جماعت اسلامی ہند کی دستوری سرپرستی میں کل ہند طلبہ تنظیم کے قیام کے حق میں نہیں تھے۔ ڈاکٹر صدیقی کہا کرتے تھے کہ

”سیمی کی سرپرستی چھوڑدینے کا نتیجہ اچھا نہیں رہا، وہ لوگ دوسروں کے بہکاوے میں آکر بھٹک گئے“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر 2011)

مرکزی مجلس شوری کی جانب سے جب ایس آئی او آف انڈیا کی تاسیس کا فیصلہ ہوگیا، اس وقت 18 اپریل 1982 کو نجات صاحب نے جدہ سعودی عرب سے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کے نام ایک طویل خط لکھا، جس میں اس فیصلے سے متعلق اپنے تحفظات کو تفصیل سے مدلل طور پر بیان کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:

”مذکورہ بالا عرضداشت کی روشنی میں میری تجویز ہے کہ مجوزہ تنظیم کے دستور میں جماعت کی سرپرستی کی وضاحت اور تعیین نہ کی جائے اور کسی لفظ سے بھی اس تنظیم کا رسمی طور پر جماعت سے منسلک ہونا نہ ظاہر ہو“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 76)

مسلم پرسنل لا کا مسئلہ

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ سے متعلق بہت ہی عملی اور حقیقت پسندانہ رائے رکھتے تھے، ڈاکٹر صدیقی کا ماننا تھا کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلووں کی اصلاح کا کام ملت کو خود بڑھ کر کرلینا چاہیے، اس سلسلہ میں متعدد اہم نکات کی طرف”معاصر اسلامی فکر“میں بھی اشارے موجود ہیں۔ 1985 میں شاہ بانو کیس کے بعد جس وقت ملک بھر میں مسلم پرسنل لا کو لے کر تحریک چل رہی تھی، اسی دوران 8 اگست 1985 کو ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کو ایک طویل خط لکھا تھا، جس میں واضح طور پر اپنے موقف کو پیش کیا تھا، لکھتے ہیں:

”اس وقت آئین کی دفعہ 44 اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلہ میں جو احتجاج کیا گیا اس سے اختلاف نہیں، مگر۔۔۔ ہر مسئلہ میں ہمیشہ صرف احتجاج سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ طویل المیعاد طور پر مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی موثر شکل یہی ہے کہ اس کے جن کمزور پہلووں کا ہمیں اعتراف ہے ان کمزوریوں کو دور کرلیا جائے“۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 78)

1972 میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اس وقت ڈاکٹر صدیقی جماعت کی مرکزی مجلس شوری کے رکن تھے، لیکن اتفاق سے جس مجلس شوری میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اس میں آپ موجود نہیں تھے، غالبا اس وقت آپ امریکہ کے سفر پر تھے۔ اس موقع پر جماعت کی مرکزی مجلس شوری نے آپ کا نام مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ممبر کے طور پر تجویز کیا تھا، تاہم ڈاکٹر صدیقی نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی ممبرشپ لینے سے صاف انکار کردیا تھا، انہیں مسلم پرسنل لا کے مسئلہ اور اس کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے مسلم پرسنل لا بورڈ نامی ادارے سے بنیادی نوعیت کا اختلاف تھا۔ ڈاکٹر صدیقی اس قسم کی کسی بھی کوشش کو ملت کے حق میں ایک منفی اقدام تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بہت صاف طور پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ

”میں بورڈ کے حق میں نہ تھا، نہ ہوں اور نہ رہوں گا۔ ہم نے علی گڑھ میں پرسنل لا پر ایک بہت بڑا جلسہ کرایا تھا، اس میں مولانا علی میاں ندوی بھی شریک ہونے والے تھے، لیکن نہیں آ سکے، البتہ مولا نا منت اللہ رحمانی صاحب جو پرسنل لا کے روح رواں تھے، وہ آئے تھے۔ اس جلسہ میں ہم نے کہا تھا کہ ہم حکومت کو پرسنل لا میں دخل اندازی سے روک رہے ہیں، یہ ٹھیک ہے۔ تاہم بورڈ کی جانب سے اس سلسلہ میں ایسا قدم اٹھانا چاہیے کہ مسلم پرسنل لا آج کے مسلم معاشرہ کے لیے بامعنی بن جائے، لیکن ایک کام نہیں کیا گیا۔ جب جب حکومت کی جانب سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے، اس وقت یہ لوگ نیند سے بیدار ہوتے ہیں، اور شور مچانے لگتے ہیں کہ تم کون ہو مسلم پرسنل لا میں مداخلت کر نے والے۔ ظاہر ہے یہ انداز دنیا میں آگے بڑھنے کا نہیں ہے“۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر2011)

مسلم پرسنل لا بورڈ نے اوّل روز سے خود کو احتجاج اور مظاہروں تک محدود رکھا، اور پھر 2014 میں ہندوستان کے سیاسی حالات تبدیل ہونے کے بعد رہی سہی آواز بھی دب کر رہ گئی، تین طلاق کے خلاف ایک جارحانہ قانون نافذ کیا گیا، کامن سول کوڈ پر پہلے ملک کی مختلف ریاستوں میں اور اب مرکزی سطح پر قانون سازی کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم جماعتیں اور ادارے اب اس پوزیشن میں بالکل بھی نہیں رہے کہ کوئی ملک گیر مہم چلاسکیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلووں کی اصلاح کا کام کرنے کی ضرورت جتنی پہلے تھی،اتنی ہی یا اس سے کہیں زیادہ، آج بھی ہے۔

مسلم مجلس مشاورت کی گولڈن جبلی

مسلم مجلس مشاورت کی تاسیس 8اگست 1964 میں ہوئی تھی، اس کے تاسیسی ممبران میں مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا منظور نعمانی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا محمد مسلم، وغیرہ ملک کی نمائندہ شخصیات شامل تھیں، ایک زمانے میں یہ ادارہ ملت اسلامیہ ہند کا ایک نمائندہ ادارہ مانا جاتا تھا، ملک کی تقریبا تمام ہی تنظیمیں اور جماعتیں اس فیڈریشن کا حصہ تھیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم مسلم مجلس مشاورت کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔31 اگست 2015 میں مسلم مجلس مشاورت کا گولڈن جوبلی پروگرام رکھا گیا تھا، جس کا افتتاح نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری صاحب نے کیا تھا، اس پروگرام میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ”حاصل زندگی“ کے نام سے ایک پیغام پیش کیا تھا، اس پیغام کے کچھ خاص نکات درج ذیل تھے:

٭    ہم سب بڑے چیلنجز سے دو چار ہیں۔ ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے ماضی کی طرف لوٹنا چاہیے،سوچتے ہیں کاش! ہم اپنا شاندار ماضی پھر سے واپس لاسکتے!مگر میں اس سوچ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ وجہ یہ ہے کہ آج ہم جس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں وہ ان مسائل سے بالکل مختلف ہیں جن سے ماضی میں سابقہ پیش آیا تھا۔نئے انداز سے سوچنا ضروری ہے۔

٭    تعجب اس بات پر ہے کہ اِس فضا میں بھی کچھ لوگ ساری دنیا کو اسلام کی طرف بلانے اور دعوتی کام کو اپنا مشن بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا ردِّعمل کیا ہوتا ہے کہ آپ جس چیز کو اپنی مخصوص شناخت بنائے ہوئے ہیں اسی کی طرف ساری دنیا کو لانے پر مصر ہوں۔ مجھے تو یہ طریقہ موجودہ فضا میں اس حکمت کے خلاف معلوم ہوتا ہے جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔۔۔ خاکساری اور تواضع کے ساتھ ہم ان مشکلات کو دور کرنے میں انسانوں کا ہاتھ بٹائیں جن سے آج ہر کس و نا کس پریشان ہے۔ مسائل تو اَن گنت ہیں مگر میں خاص طور پر تین طرح کے مسائل کا ذکر کروں گا:(۱)بدلتی آب وہوااور ماحولیاتی عدم توازن(۲) نظامِ زر، بینک کاری اور فنانس (۳)خاندان اور سماجی رشتے۔زندگی کے ان دائروں میں تباہی اور انحطا ط کی رفتار اتنی تیز ہے، اتنی گہرائی تک جاپہنچی ہے اور ساری دنیا پر اس طرح چھا گئی ہے کہ جو بھی ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے آگے بڑھے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ میرے خیال میں پرانے انداز کی جگہ خدمتِ انسانیت کے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی روِش اختیار کرنا چاہیے۔ اسلام کی ان تعلیمات کا چرچا کرنے کی ضرورت ہے جو اختیار کی جائیں تو مشکل حل ہو سکتی ہے۔ ان قدروں اور رویوں کی بات ہونی چاہیے جو اپنائی جائیں تو ایسے سماجی ادارے جنم لے سکتے ہیں جو انسانوں کو اس مخمصے سے نجات دلا سکیں۔

٭    حالات آپ کی پیش قدمی کے منتظر ہیں بشرطیکہ آپ ہمت دکھائیں۔احتجاج،مطالبے،شکایتیں، سب کا اپنا وقت تھا جو گزر گیا۔ نصف صدی قبل ہمارے بزرگوں نے مسلم مجلسِ مشاورت خیر سگالی کی مہم چلانے کے لیے قائم کی تھی،سارے ملک میں وفود بھیجے تھے۔پھر وقت آگیاہے کہ ہم خدمتِ انسانیت اور تعمیرعالم میں شریک کار بن کر سامنے آئیں۔

(جاری)

علامہ یوسف قرضاویؒ کا سانحہ وفات

مفتی حبیب حسین

حقیقت یہ ہے کہ اس ناکارہ کا فکری ہیکل جن شخصیات کی کتب کے زیر اثر رہ کر پروان چڑھا ، اورجن کے علمی افکار، فقہی اتجاہات اور سماجی وادبی آراء ونزاعات نے اس کے دل ودماغ پر بے پناہ اثر ڈالا، ان میں علامہ یوسف القرضاویؒ نمایاں ہیں۔

سن 1997ء میں ان کی کتاب "فقه الزکاۃ" مطالعہ میں آئی تو عربی زبان وادب کے اس مبتدی طالب علم کو ان کی قوت استدلال، اسلوب استنتاج اور طرز تحریر نے اپنے سحر میں اس طرح جکڑے رکھا کہ اسباق کے رسمی دوانیے کے کئی دن اس کی ورق گردانی کی نذر ہوگئے۔اس کتاب کا ہر مبحث قاری کو فکر ونظر کی نئی جہات سے روشناس  کراتا ہے اور اسے یہ محسوس ہوتا ہےکہ اس کا مصنف گویادقت نظر اور حیرت انگیز اجتہادی بصیرت میں قرون اولی کے مجتہدین فقہ کے قافلے کا  پچھڑا ہوافرد ہو ۔اس بے مثال علمی وفقہی کتا ب کے بارے  میں ان کے بعض معاصرین نے کہا ہے کہ اگر علامہ قرضاوی اور کوئی بھی کاوش نہ کرتےتو ان کی علمی جلالت شان کے لئے یہی کارنامہ کافی تھا۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی ۹ ستمبر ۱۹۲۶ میں مصرکے ایک گاوں صف تراب میں پیدا ہوئے اور ۲۶ ستمبر ۲۰۲۲ کو زندگی کی ۹۶ بہاریں دیکھ کر قطر میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس  دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے۔ان کی جائے پیدائش صف تراب میں رسول اللہ ﷺکے  اصحاب میں سب سے آخر میں  انتقال کرنے والے صحابی  عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی  مدفون ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایام شباب میں یہ شاعری کیا کرتے تھے اور یہی ان کی شخصیت کی شناخت تھی۔مگر دست قدرت  نے انہیں فقہ وحدیث کی خدمت اور دعوت دین کے نبوی مشن پر لگادیا۔ان کا ایک پیشہ ور شاعر سے فقیہ وداعی دین بننے تک کا سفر بھی دلچسپ ہے۔ یہ قید وبند کی عقوبتوں اور ہجر کی قہرماں آزمائشوں سے بھی گزرے۔ 1954ء میں جب انہیں قیدخانے میں ڈالا گیا تو انہوں نے شہرہ آفاق قصیدہ "الملحمة النونية" لکھا۔ اس کے چنداشعار ملاحظہ کیجئے:

يا سائلي عن قصتي اسمع
أمسك بقلبك أن يطير مفزعًا
فالهول عاتٍ والحقائق مرةٌ
والخطب ليس بخطب مصر وحدها
في كل شبر للعذاب مناظرٌ
فترى العساكر والكلاب معدة
هذي تعض بنابها وزميلها
ومضت علي دقائق وكأنها
يا ليت شعري ما دهانِ؟ وما جرى؟
عجبًا أسجن ذاك أم هو غابةٌ
أأرى بناء أم أرى شقي رحى
واهًا أفي حلم أنا أم يقظةً
لا لا أشك هي الحقيقة حية
هذي مقدمة الكتاب فكيف ما
إنها قصص من الأهوال ذات شجون
وتولّ عن دنياك حتى حين
تسمو على التصوير والتبيين
بل خطب هذا المشرق المسكين
يندى لها -والله - كل جبين
لنهش طوع القائد المفتون
يعدو عليك بسوطه المسنون
مما لقيت بهن بضع سنين
لا زلت حيًا أم لقيت منوني؟!
برزت كواسرها جياع بطون؟!
جبارة للمؤمنين طحونِ؟!
أم تلك دار خيالة وفتون؟!
أأشك في ذاتي وعين يقيني؟!
تحوي الفصول السود من مضمون؟
فقہ الزکاۃ کی طرح ان کی دوسری مقبول ترین کتاب "الحلال والحرام فی الاسلام "ہے۔عالم عرب میں اس سے زیادہ مقبولیت شاید کسی کتاب کوملی ہو۔مصطفی زرقاءکہا کرتے تھے کہ ہر مسلم گھرانے پر اس سے استفادہ کرنا واجب ہے۔مشہور ادیب علی طنطاوی مکہ مکرمہ میں کلیۃ التربیۃکے طلبہ کو یہ کتاب درسا اور سبقا پڑھایا کرتے تھے۔علامہ ناصر الدین البانی نے اس کی حدیثوں کی تخریج کی  جس سے اس کتاب کی وقعت اور قدر وقیمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

 ان کی کتاب "دور القيم والأخلاق في الاقتصاد الاسلامي" بھی اپنے موضوع پر ایک منفرد اور البیلی کاوش ہے ۔ اقتصادیات کے طالب علم اس سے فکر ونظر کی نئی راہیں تلاش کرسکتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد کو اس کا اردو ترجمہ اپنے سرہانے رکھ کر روز کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنا چاہئے۔ دگنی قیمت پر اشیا فروخت کرنا ایک گھناونا اخلاقی جرم ہے۔ احادیث، آثار صحابہ اور سلف کے اقوال میں اس طرح کے سفاکانہ کاروباری رویوں پر شدید نکیریں کی گئی ہیں۔ اس پہلو پر اس کتاب کے ایک مستقل باب میں علامہ قرضاوی ؒنے  تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کی مطالعاتی زندگی امام غزالیؒ کی کتاب "إحیاء علوم الدین" سے ہوئی،جو انہوں نے اپنے پڑوسی سے عاریتا لے کر مطالعہ کی۔کہتے تھے: "میرے علمی وفکری اعتدال کی وجہ یہی کتاب ہے۔میں نے ابن تیمیہؒ کو پڑھا مگر غزالی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ "

ان کی تحریر میں علمی وادبی پختگی، گہرائی اور گیرائی تھی۔سلاست اور روانی تھی۔ موضوع کے تمام اطراف وجوانب کا احاطہ کرتے۔ حیرت انگیز حسن ترتیب سے مختلف ابواب اور فصول میں اس کی تقطیع کرتے۔ دلائل کا محاکمہ کرتے۔ کھل کر اپنی رائے دیتے۔ جو دلیل روایت ودرایت کی رو سے انہیں مطمئن کرتی، اس پر فتوی دیتے۔ کسی ایک امام کے مقلد نہ تھے۔ ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر ائمہ مجتہدین کی آراء پر عوام کی سہولت کی خاطر انہوں نے فتوی دیا۔ ان کی فقہی آرا   پر تیسیری پہلو غالب ہے۔  مشہور عربی اینکر احمد منصور نے الجزیرہ پر ان سے انٹریو لیا۔اس میں شیخ قرضاوی نےاپنے تیسیری مزاج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے رُخَص اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شدائد معروف ہیں۔میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف زیادہ مائل ہوں۔ان کے الفاظ تھے"أنا أقرب إلي ابن عباس إلي من ابن عمر"۔کہا کرتے تھے افتاء میں تشدید اور تعسیر کے مقابلہ میں تیسیر اور تخفیف پر عمل کرنااولی اور افضل ہے۔ اپنی اس رائے کی تائید میں وہ قرآن کی آیات یُرِیدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلیُسرَ وَلَا یُرِیدُ بِكُمُ ٱلعُسرَ (البقرۃ ۱۸۵)، یُرِیدُ ٱللَّهُ أَن یُخَفِّفَ عَنكُم (النساء ۲۸ٔ)، مَا یُرِیدُ ٱللَّهُ لِیَجعَلَ عَلَیكُم مِّن حَرَج (المائدہ ۶) سے اور حدیثی روایات میں "خَيرُ دينِكم أَيْسرُه"  (رواه أحمد فی مسندہ، والبخاري في الأدب المفرد، والطبراني في الأوسط) "أحب الأديان إلى الله الحنيفية السَّمْحة"، "ما خُيِّرَ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين أمرين؛ إلاَّ أَخَذ أيسرهما ما لم يكن إثمًا، فإذا كان إثمًا كان أبعد الناس عنه" اور "إن الله يُحبُّ أن تُؤتَى رُخَصُه، كما يَكره أن تُؤْتَى معصيته" (رواه أحمد وابن حبان والبيهقي في الشعب، صحيح الجامع الصغير:  1886) سے استدلال کیا کرتے تھے۔ان کے پاس دنیا بھر سے ہزاروں استفتاء آتے تھے۔ان کے فتاوی کا مجموعہ "فتاوی معاصرہ" کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔اس کی پہلی جلد کے مقدمےمیں انہوں نے اپنے منہج افتاء پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

  تحریر اور تصنیف وتالیف میں وہ کبھی جادہ اعتدال سے نہیں ہٹے۔مگر زبانی  گفتگو میں کبھی توازن برقرار نہ رکھ پاتے۔ غیرت وحمیت اور جہادی سپرٹ ان میں تھی، جس کے زیر اثر وہ معاصر حکمرانوں پر شدید تنقید کرتے۔اس رد عمل نے انہیں کرب آسا اذیتوں  سے گزارا۔

عصر حاضر کے مقتضیات وتحدیات پر ان کی گہری نظر تھی۔ جدید وسائلِ اعلام کی اہمیت وافادیت کے قائل تھے۔ جس زمانے میں عرب کے علمی حلقوں میں ٹی وی نشریات اور ویڈیو کے جواز وعدم جواز کی بحثیں گرم تھیں، قرضاوی نے اس دورانیے میں الیکٹرانک میڈیا کو دعوت وتبلیغ دین اور اپنی فکر کے ابلاغ کے لئے استعمال کیا۔

دوہزاریے(2000ء) کے آغاز میں الجزیرہ ٹیلویزن چینل کے پروگرام "الشريعة والحياة" میں انہوں نے مختلف علمی وفکری اور سماجی موضوعات پر اپنے طویل علمی مطالعے اور تجربے کی روشنی میں گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔  اس پروگرام کو شرق اوسط اور اس سے باہر کی دنیا میں بے پناہ مقبولیت ملی۔

ان کی پوری زندگی تصنیف وتالیف اور دعوت دین  میں گذری۔درجنوں کتابیں تالیف کیں۔بےشمار مقالے لکھے۔زندگی کا کوئی لمحہ بے کار نہیں گذرا۔ فضائی اسفارمیں بھی مطالعہ وتحریر کا سلسلہ نہیں ٹوٹا۔ زندگی کا آخری دورکلام اللہ کے زیر سایہ رہا کہ  ان ایام میں شیخ نےاپنی ساری توانائیاں تفسیر قرآن کی تکمیل پر مرکوز کی تھیں۔اتحاد بین المسلین کے عظیم داعی تھے۔دنیا بھر میں مسلم اقلیات کا دفاع کیا۔ حق بات کہتے اور لایخاف لومۃ لائم والی صفت سے معمور تھے۔مختلف مواقع پر انہوں نے وزرا و ملوک کے روبرو جرات سے کلمہ حق بلند کیااور انہیں مداہنت پر ٹوکا۔ایک سیمنار  میں فرمایا " ماضی میں ایسے بیسیوں مجتہدین ہو گذرے ہیں جو عوام یا سلاطین وقت کی خوشنودی کے لئے فتوے تراشاکرتےتھے،مگر الحمدللہ میرا مقصد عوام کی خوشنودی رہی، نہ سلاطین وقت کے تقرب کی خواہش، کسی کی پرواہ نہیں کی، دائم اللہ کی رضا مطمح نظر رہی"۔پھرفرمایا: ”اس باب میں صالحین کے ہاں متنبی کے یہ اشعار معمول  بہارہے ہیں ،جو اس نے سیف الدولہ کی مدح میں کہے تھے:

فليتك تحلو والحياة مريرة
وليتك ترضى والأنام غضاب
وليت الذي بيني وبينك عامر
وبيني وبين العالمين خراب
إذا صح منك الود فالكل هين
وكل الذي فوق التراب تراب

صلحاء کی نظر صرف اللہ کی  رضاجوئی پر رہی“۔ رجّاع الی الحق تھے، غلطی پر متنبہ کئے جاتے تو فورا رجوع کرتے ۔اپنے مکتب میں ہر طرح کے لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتے۔کسی ایک مذہب کے متقید نہ تھے۔ مجدد فی الفقہ والملۃ تھے۔ معاندین وحاسدین نے ان پربے جاتنقیدیں کیں۔ مگر وہ جواب نہ دیتے  ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک۔ایک مرتبہ کسی نے عرض کیا آپ انہیں جوا ب کیوں نہیں دیتے؟ زیر لب مسکراتے ہوئے  کہا :

لو كلُّ كلبٍ عوى ألقمتُه حجرًا
لأصبح الصخرُ مثقالاً بدينارِ

(یعنی ہر بھونکتے کتے کو پتھر مارنا شروع کروں تو اس سے پتھر کی قیمت مثقال سے بڑھ کرایک دینار ہوجائے گی،اور تو کوئی فائدہ نہیں۔)

-------------------

عالم عرب اور یورپ ومغرب  میں شیخ یوسف قرضاوی کی علمی و فقہی آراء سے خوب استفادہ کیا گیا۔مگربرصغیر ہند وپاک میں ان کی علمی خدمات اور فقہی وحدیثی آراء کوخاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی ۔ یہاں بعض حلقے ان پر بے جا تساہل اور تجددپسندی کا الزام بھی عائد کرتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی تصنیفات سے استفادے کا دائرہ وسیع نہیں ہوسکا۔ ہمارے ہاں ایک سکہ بند طبقہ علماء کی اجارہ داری ہے۔ جب تک نوجوان طبقہ اس کے دائرہ اثر سے نکل کر عالم عربی کے معاصرعلماء ومشائخ کے علمی تراث سے  استفادہ نہیں کرےگا تب تک وہ ان علمی وفکری آفاق سے روشناس نہیں ہوپائے گا  جن سے آگاہ ہونا داعیان دین کے لئے ضروری ہے۔بعض مورخین نےاساطین اہل علم  کی اس طرح قدرناشناسی پر امام رازی کا واقعہ  لکھا ہے۔ ابو عبد الله الحسين الواسطی کہتے ہیں کہ میں نے امام فخرالدین رازی کو ہرات کی ایک جامع مسجد کے منبر پر مقامی لوگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے اوریہ شعر کہتے سنا:

المرءُ ما دام حيًّا يُستهان به
ويعظم الرُّزءُ فيه حين يُفتقَدُ

(یعنی آدمی جب بقید حیات ہوتواس کی کوئی قدر نہیں کی جاتی۔اسے کھوجانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کی موت کتنا بڑا سانحہ ہے۔)

حقیقت یہ ہے کہ ایسے نوابغ اور بواقع صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہوسکتا۔ان کی قدآور شخصیت کی بوقلموں علمی وفکری جہات پر بہت کچھ لکھا جائے گا۔ انہوں نے تقریبا سو کے لگ بھگ کتابوں کا جو متاع گراں مایہ چھوڑا ہے وہ ہمیشہ علم و تحقیق اور دعوت دین کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ رہے گا۔ان کی دلاویز شخصیت سے عجب انس رہا۔ آج ۲۶ ستمبر۲۰۲۲کوجب ان کی رحلت کی دلفگار خبر پڑھی تو دل بیٹھ سا گیا۔ بخدا ایسا محسوس ہوا جیسے سر سے ایک سائبان چھن گیا ہو۔

و ما كان قيس هلكه هلك واحد
و لكنه بنيان قوم تهدّما

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۳)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا ساتواں باب)


اب میں بدعت اور اس کی حدود کی تعیین کے لیے چند کلیدی تعبیری پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، لیکن جنوبی ایشیا کی طرف جانے سے پہلےمیں کچھ لمحات کے لیے الشاطبی کے ساتھ رکوں گا۔

بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: بدعت بطور تقلیدی / جعلی مذہب

بدعت کی تعریف میں بنیادی نکتہ انسانی فرد کے لیے یہ گنجائش ماننا ہے کہ ایک حاکمِ مطلق ذات کی حیثیت سے اس کے الٰہی اقتدار کے مقابلے میں شریعت کے ایک متوازی نظام کو بڑھاوا دیا جائے۔دراصل  اختیار کا یہی وہ اساسی گناہ ہے جو بدعت کو وجود میں لاتا ہے: انسانی ارادے کو دین کی ایک جعلی عمارت کھڑی کرنے کے لیے استعمال کرنا ہی اسلام میں تکفیر وتضلیل کے شدید اشتعال انگیز مباحث میں سے ایک مبحث کی حیثیت سے بدعت کو علامتی شہرت عطا کرتا ہے۔

زیادہ واضح انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بدعت کی اصطلاح فقہ اور عقیدے کے سنگم پر متحرک رہتی ہے؛ سنتِ نبوی کی موجودگی میں کسی نئی چیز کے ایجاد کی ممانعت کی بنیاد ایک ایسے وسیع تر اعتقادی تصور میں پیوست ہے جس کا مقصد خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی حفاظت ہے۔ مثلاً الشاطبی نے الاعتصام میں بدعت کی تعریف کچھ یوں کی ہے: "دین میں ایک ایسے عمل کو شامل کرنا جو شریعت کی طرح ہو" (طريقة في الدين مختارة تضاهي الشريعة) (23)۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں: "شریعت کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت میں ایسا (شریعت جیسا) نہ ہو" (تشابه الشريعة من غير أن تكون في الحقيقة كذلك) (25)۔

شرعی نظام کی مماثلت کی خواہش میں کار فرما گہری حرکیات کو سامنے لانے کے لیے الشاطبی نے بدعتی کی نفسیات کا ایک دل چسپ مطالعہ پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بدعتی سرتوڑ کوشش کرتا ہے کہ اپنی بدعات کو ثابت سنتوں کی طرح بنا کر پیش کرے، تاکہ بدعت اور سنت کے درمیان التباس پیدا ہو جائے (تلتبس عليه بالسنة)۔ یہ اس کی سب سے عمدہ کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس فکری الجھن میں مبتلا کرے کہ اس کی بدعتیں اصل میں سنتیں ہیں – یہ ایک ضروری کام ہوتا ہے، کیوں کہ کوئی شخص کسی عمل کی اتباع اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ سنت نبوی کی روشنی میں جائز قرار نہ پائے" (25)۔ بالفاظ دیگر الشاطبی کے بیان کی تشریح کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ لوگوں کو اپنا پیروکار بنانے کے لیے انھیں اپنے دام میں لانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے پیش کردہ خیالات کو سنت کی شکل میں پیش کرنا ہوگا۔ جعل سازی کی یہی وہ طاقت اور دھوکے کا یہی امکان ہی وہ وصف ہے جو بدعتی اور بدعات کو بہت خطرناک بناتے ہیں۔

اس لیے الشاطبی اور دیگر متعدد علما کے نزدیک مماثلت کی یہ صفت اسلام میں ایک ایسے فکری خط فاصل کی حیثیت سے بدعت کے فعال کردار کی اہمیت واضح کرتا ہے جو عمل کے مسنون اور بدعتی طُرُق کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ سنت کی حدود اس وقت پامال ہو جاتی ہیں، جب کوئی شخص ایسے عمل کی بنیاد رکھتا ہے جسے 'جعلی مسنون' کہا جا سکتا ہے، ایک غیر منظور شدہ عمل کو پابندی سے کرنا، ایسے جوش وجذبے اور اہتمام کے ساتھ جو کسی شرعی عمل کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ایک غیر مسنون عمل کے ساتھ اس قدر مذہبی وابستگی اس عمل کو تقدس فراہم کرتا ہے، جو خدا کی طرف سے منظور شدہ نہیں ہے۔

اس وجہ سے میں نے بدعت کا ترجمہ عام طور پر رائج innovation (ایجاد) کے بجاے heretical innovation  (مبنی بر انحراف ایجاد) سے کیا ہے۔بدعت کا ترجمہ صرف innovation  (ایجاد) سے کرنا قابلِ اشکال ہے، کیوں کہ یہ اس لگے بندھے مفروضے کو جنم دیتا ہے کہ قانون اور اصول قانون کے دائرے میں اسلام بحیثیتِ مذہب ایجاد اور تخلیقی سوچ کی تمام صورتوں کا مخالف ہے۔ بدعت کی اصطلاح سے متعلق فقہی مباحث اور سماجی تعاملات ناگزیر طور پر انسانوں کے ایجاد کردہ اور خدا کے منظور کردہ شریعت کے نظاموں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی مخاصمت کی نفسیات کے ساتھ ناگریز طور پر بندھے ہوئے ہیں۔

یہ ایک اچھا موقع ہے کہ میں نے بدعت کا جو ترجمہ  heretical innovation (مبنی بر انحراف ایجاد) سے کیا ہے، اس کی مزید تشریح وتوضیح کروں۔ 'مبنی برانحراف ایجاد' میں 'انحراف' کا لفظ مذہب سے یا اہل ایمان سے اخراج کے مترادف نہیں۔ بدعت اور کفر یا ارتداد ایک جیسے نہیں۔ خدا کی حاکمیت سے انکار یا کفر کا قریبی تعلق خدائی حاکمیت کو چیلنج کرنے سے ہے جو بدعت کے تصور کو تقویت پہنچاتا ہے۔ لیکن اخروی نتیجے کے اعتبار سے بدعت کا وہ مقام نہیں جو کفر کا ہے۔ تاہم میں نے تسلسل کے ساتھ بدعت کا ترجمہ 'قابل تنقید ایجاد' یا 'قابلِ مذمت' الزام کے بجاے مبنی بر انحراف ایجاد کیا ہے، کیوں کہ مخالفت یا انتخاب کو بدعت کے فکری قالب سے جدا کرنا ناممکن ہے۔

بدعت کی مذمت اس بنا پر کی جاتی ہے کہ یہ وہ انسانی کوشش ہے جو ایک ایسے نظامِ حیات کے انتخاب کے لیے کیا جاتا ہے جسے خدا کی منظوری حاصل نہیں ہوتی، اور اس لیے وہ خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کو چیلنج کرتی ہے۔ شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ یہ ایک ایسے منڈلاتے خطرے کی پیش بینی ہے جو کفر کی سرحد پر سرگرم رہتا ہے، اور ہمیشہ اس سرحد کو پار کرنے کی دھمکی دیتا ہے، لیکن اسے کھل کر پار نہیں کرتا۔ اس میں کفر کا امکان ہوتا ہے، اور یہی امکان اسے اعتقادیات اور سماجیات کی رو سے تخریبی بناتا ہے۔ بدعت میں موجود تجاوز کی آفت  اس نقالانہ سرکشی پر منحصر ہوتی ہے جو انسانی ارادے کو خدا کے حاکمانہ ارادے کی مماثلت پر آمادہ کرتی ہے۔ بغاوت یا خود ساختہ مسنون طریقے کا انتخاب ہی وہ گناہ ہے جو اعتقادی اور فرقہ وارانہ اعتبارات سے بدعت کو اس کا نامبارک کردار عطا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے میں بدعت کا ترجمہ 'مبنی بر انحراف ایجاد'  کرتا ہوں۔

انیسویں صدی میں شمالی ہندوستان کی مسلم اصلاحی فکر میں بدعت کے مباحث اپنی ذہنیت کے اعتبار سے بعینہ انسانی اور خدائی طور طریقوں کے درمیان ایک کش مکش کی طرح تھے۔ مثال کے طور بدعت پر اپنی بنیادی کتابوں میں شاہ محمد اسماعیل اور مولانا اشرف علی تھانوی نے بتایا کہ ہر وہ رسم بدعت ہے جو خدا کی قانون سازی کے اختیار مطلق کو للکار کر شروع ہوتی ہے، اور اسے اس طرح سے بیان کرنا گویا کہ وہ سنتِ نبوی ہے، جب اسے اس جذبے، اہتمام اور نظم سے ادا کیا جائے، جو صرف اور صرف شرعی اعمال جیسے نماز، روزہ سے مختص ہے، اور جس کا شریعت اہل ایمان سے مطالبہ کرتا ہے، اور جو خدا سے تقرب کا ذریعہ ہیں1۔

رسم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی نقشہ بنانا، اثر چھوڑنا، خاکہ بنانا ہے۔ بدعت پر ہندوستانی مسلمانوں کی فکر میں یہ ایک اہم اصطلاح ہے۔ اپنے اردو قالب میں رسم کا سب سے اچھا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ وہ عادات واطوار جو بار بار عمل میں لائے جانے اور دہرائے جانے کی وجہ سے کسی سماج کی بنیادی عادات کا جزو لاینفک بن جائے۔ بالفاظ دیگر رسم ایک اجماعی (doxic) صورت کی طرح ہو سکتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک بدیہی اور مانی جانی حقیقت بن جاتی ہے، بجاے اس کے کہ وہ کئی متبادل اور ایک جیسے آزاد امکانات میں سے کوئی ایک ہو۔

رسوم: فکری تسلسلات اور تغیرات

اٹھارویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے اوائل اور اواخر تک جنوبی ایشیا کی مسلم فکر میں 'رسم' کی اصطلاح کا علمی مفہوم باریک لیکن نمایاں تبدیلیوں سے گزرا۔ اس تبدیلی  کو صحیح انداز میں تب سمجھا جا سکتا ہے، جب اس اصطلاح سے متعلق اٹھارویں صدی کے نامور عالم شاہ ولی اللہ کی عظیم شاہ کار حجة الله البالغة میں رسوم کی بحث پر کی جانے والی گفتگو کو مد نظر رکھا جائے۔  حجة الله البالغة ایک تہہ در تہہ، دقیق  اور پیچیدہ متن ہے۔ ان کے کلام کا اگر خلاصہ کیا جائے تو رسوم پر ان کی گفتگو کو ایک پاک اور اخلاقی طور پر مضبوط سیاسی نظام کی کونیاتی بنیادوں کے طور پر بیان کر سکتا ہے۔ اس کتاب کو تشکیل دینے والی ایک بنیادی اصطلاح وہ ہے جسے شاہ صاحب نے 'ارتفاقات'2 (اخلاقی اصلاح کے آلات وذرائع) کا نام دیا ہے، یا عام طور پر جس کا ترجمہ تہذیبی آسائشوں سے کیا جاتا ہے۔ اپنے فکری مواد کے اعتبار سے حجة الله البالغة بیسوی صدی کے جرمن ماہر سماجیات نوربرٹ ایلیاس (Norbert Elias) کی انتہائی مؤثر کتاب The Civilizing Process سے قریب تر ہے3۔ حیرت انگیز طور پر دونوں کتابوں کا موضوع تہذیب کا فروغ ہے، تاہم شاہ ولی اللہ کی کتاب منظم زندگی کے بارے میں ایک حریف تصور پیش کرکے ایلیاس کے یورپ مرکز (Eurocentric) بیانیے  کے لیے ایک تصحیح کنندہ کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔

حجة الله البالغة کے ایک باب میں، جس کا عنوان 'لوگوں میں رائج رسوم' (الرسوم السائرة في الناس) ہے، شاہ صاحب بتاتے ہیں: "رسوم ارتفاقات (یعنی تہذیبی ترقی) کے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو حیثیت دل انسان کے بدن کے لیے رکھتا ہے۔ شریعت کا بنیادی اور ذاتی موضوع ومقصد ہی یہی رسوم ہیں" (الرسوم من الارتفاقات هي بمنزلة القلب من جسد الإنسان، وإياها قصدت الشريعة أولاً وبالذات)4۔ رسوم کے تصور کا شجرہ بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب نے ایسے متعدد ماخذات کی نشان دہی کی ہے، جو کسی سماج کی روزمرہ زندگی میں ان رسوم کے رائج ہونے کے لیے سبب بنتے ہیں۔ انبیا، اولیا اور بادشاہوں کے زور دینے کے ساتھ ساتھ رسوم وعادات وجدانی طور پر لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے ہیں۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ جب رائج رسوم سچائی سے ماخوذ ہوتے ہیں تو وہ سماج کی اخلاقی تشکیل کا تحفظ کرتے ہیں، اور لوگوں کو علمی اور عملی کمالات سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ وہ آگے بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ اقدار نہ ہوں تو لوگ جانوروں کے مانند بن جائیں (لولاها لالتحق الناس بالبهائم)۔ شاہ صاحب نے ایک دل چسپ استدلال یہ کیا کہ بہت سارے لوگوں کے لیے یہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی تربیت کے لیے منظم سرگرمیوں میں شرکت کے محرکات کی توضیح وتشریح کر سکیں۔ شاہ صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں:

غور کرو کتنے آدمی یہ کہتے ہیں کہ شادی کرو اور اسی طرح کے دیگر عمومی اور اقدار کو سدھارنے والے اعمال میں شرکت کرو۔ اگر تم کسی ایسے شخص سے پوچھو کہ ان جھمیلوں میں کیوں پڑ رہے ہو؟ تو اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں ہوگا کہ میں لوگوں کی موافقت میں ایسا کر رہا ہوں (لم يَجِدْ جَواباً إلا موافقة القوم)۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے پاس اپنے اعمال کے پیچھے محرکات کا ایک اجمالی علم ہے، اگر چہ اس درجے کی بات کو بھی وہ بیان کرنے سے قاصر ہوگا چہ جائیکہ وہ اپنے اعمال کو اخلاقی ترقی کی تمہید قرار دے (100)۔

بالفاظ دیگر شاہ صاحب کے نزدیک ایک منظم زندگی گزارنے کے محرکات پہلے سے بنے بنائے اور واضح نہیں ہوتے۔ جیسا کہ طلال اسد کہتے ہیں کہ زندگی 'بالذات ضروری' ہے5۔ مزید برآں شاہ صاحب کی اس بحث میں جو چیز سب سے زیادہ میری دل چسپی کی ہے وہ عوام کے افعال کو سنت کے ماخذ کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔

انیسویں صدی کے پیش روؤں کے ساتھ ایک گہرے تقابل میں شاہ صاحب ایک پاک باز زندگی گزارنے کے لیے عوام کی وجدانی صلاحیتوں کے اعتراف میں زیادہ خود اعتماد نظر آتے ہیں۔  تاہم یہ کہنا مغالطہ آمیز ہوگا کہ وہ اپنے آس پاس رائج متعدد رسوم اور اعمال کے ناقد نہ تھے۔ وہ ایسی تعبیری وسعت کے قائلین سے بہت دور تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کسی سمائج میں رائج رسوم میں ہمیشہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس فساد کی سب سے بنیادی وجہ اخلاقی طور پر ایسے کمزور لوگوں کا حکومت کے منصب پر سرفراز ہونا ہے، جو کلی مصالح کو سمجھنے سے قاصر ہوں (100)۔ شاہ اسماعیل اور ان کے دیوبندی پیش روؤں کی طرح شاہ صاحب بھی بالخصوص روزمرہ زندگی کے دائرے میں شاہانہ رسوم وعادات کے شدید ناقد تھے۔  ان میں لباس اور خوراک کی مسرفانہ عادتیں، فضول تفریحات جیسے شطرنج، شکار، کبوتر بازی اور موسیقی میں حد سے زیادہ وقت گزارنا وغیرہ شامل ہیں۔  ایسے رسوم کے لیے نہ صرف یہ کہ بے تحاشا دولت چاہیے ہوتی ہے (التعمُّقُ البالغُ في الأَكْسابِ)، بلکہ ان کی وجہ سے آدمی دنیا وآخرت کے معاملات سے غافل ہو جاتا ہے (إهمال أمر المعاش والمعاد) (101 – 102)۔ وہ اپنا بیانیہ جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ان فاسد رسوم کے حامل لوگ طاقت واقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں تو عوام، جن کے لیے ارباب حکومت کی مخالفت ناممکن ہوتی ہے، ان کی پست تقلید شروع کرنے لگتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ پاک بازوں یا پاکیزہ اعمال کی طرف عوام اپنے قوی رجحان کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ وہ بس سیدھا انھی اعمال پر کاربند ہوتے ہیں جنھیں وہ اربابِ اقتدار کے درمیان رائج پاتے ہیں (101)۔ اور وہ لوگ جو ان کے اخلاقی معیارات کو قبول کرنے سے انکار کرکے پاک بازی پر ڈٹ جاتے ہیں، وہ ارباب اقتدار اور ان کے آس پاس کے لوگوں سے دوری اختیار کرکے ناراضگی سے کنارہ کش اور خاموش رہنے لگتے ہیں (ويبقىٰ قومٌ فطرتُـهم سويًّا في أُخْرَيات القوم لا يُخَالِطونهم ويسْكُتون على الغيظ) (101)۔ اس خاموشی کے ذریعے وہ اپنے اردگر اکثر لوگوں سے ناراضگی اور قطع تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح ایک بری عادت رائج اور پختہ ہو جاتی ہے (فتنعقدُ سنةٌ سيِّئةٌ وتَتأَكَّدُ) (101)۔ شاہ صاحب ایسے وسیع علم کے حامل اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انھیں لاتعلقی اور ناامیدی پر مبنی ایسا رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے۔ "انھیں چاہیے کہ سچائی کو پھیلائیں اور سماج میں اسے رائج کریں۔ انھیں چاہیے کہ وہ برائی کے سامنے ڈٹ جائیں اور اس کے خلاف حکمتِ عملی اپنائیں۔ اس میں سخت لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی آ سکتی ہے (مـُخاصَماتٌ ومقاتَلاتٌ) (101)۔

اس گفتگو سے یہ واضح ہے کہ چند دہائیاں بعد پیدا ہونے والے اپنے پوتے شاہ اسماعیل کی طرح شاہ صاحب نے ایک واضح اصلاحی ایجنڈا اپنایا جو ان عادات اور رسوم کا شدید ناقد تھا، جو مغل اشرافیے میں رائج تھیں۔تاہم شاہ صاحب کی فکر میں رسوم کی  علمی حیثیت شاہ اسماعیل کے اصلاحی ایجنڈے سے کئی حوالوں سے مختلف تھی۔ رسوم میں فساد پیدا ہونے کا اندیشہ تھا، ایسا فساد جو کسی سماج کو چلانے والے سیاسی نظام اور قیادت میں پائی جانی والی اخلاقی دراڑوں سے پیدا ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کی فکر کونیات، سیاسیات اور روزمرہ زندگی کی اخلاقی تشکیل کے تعامل پر مرتکز تھی۔ وہ نسبتاً اس بات سے لا تعلق تھے کہ عوام اپنی رسمی زندگی گزارنے کے دوران واجب اور غیر واجب اعمال کے درمیان فرق کر سکتے ہیں یا نہیں، یا یہ کہ وہ ان دونوں کو خلط کرتے ہیں یا نہیں۔

تاہم جیسا کہ میں اس حصے میں دکھاؤں گا، بدعت سے متعلق یہ فکر اور بے چینی شاہ اسماعیل اور ان کے دیوبندی پیش رؤوں کے مباحثوں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، بلکہ پوری انیسویں صدی میں رسوم کی اصطلاح بتدریج بدعت کے مترادف بنتی چلی گئی۔ اٹھارویں سے لے کر انیسویں صدی اور اس کے مابعد تک جنوبی ایشیا کی مسلم اصلاحی فکر میں رسوم کی اصطلاح کے استعمال سے متعلق یہ بنیادی فکری تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک رسوم عارضی دنیا کے معاملات پر کونیاتی سانچے کا ٹھپہ لگاتے ہیں۔ اچھے رسوم وعادات کونیاتی دائرے میں ملا اعلی کے برکات وفیوضات کو سمیٹنے اور حظیرۃ القدس کے اطمینان کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے برعکس فاسد رسوم وعادات ان کی مخالفت اور ناراضگی کو دعوت دیتے ہیں (101)6۔

اب اگر چہ انیسویں صدی کے مصلحین جیسے شاہ اسماعیل اور ان کے دیوبندی ہم نوا اپنے اصلاحی تصورات میں کار فرما وسیع تر کونیات پر  سوچتے تھے۔ تاہم ان کی فکر میں رسوم اور بدعت کے درمیان نسبتاً‌ زیادہ یک جائی پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ رسوم اور رسمی اعمال کے درمیان نسبتاً ایک زیادہ باریک فرق قائم کیا گیا ہے۔ میں اس فرق کو مزید سادگی اور وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ شاہ صاحب کے برعکس، جن کے رسوم کی تفہیم کونیات پر مبنی تھی، انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا کی مسلم اصلاحی فکر  میں رسوم نے بتدریج ایک منفی مفہوم اختیار کیا، اور سنتِ نبوی کے بالمقابل بدعات پر اس کا اطلاق ہونے لگا۔ بالفاظِ دیگر مسنون اعمال کی تحدید بدعات کی توسیع کا سبب بنی۔ روزمرہ کی رسوم و روایات کی ایک غیر معمولی تعداد کی شرعی حیثیت مشکوک اور نقد ونظر کا موضوع بن جاتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ باریک لیکن گہری تبدیلی نہ صرف یہ کہ رسم/رسوم کی اصطلاح میں پیدا ہوئی، بلکہ زیادہ وسیع تناظر میں اٹھارویں سے انیسویں صدی تک جنوبی ایشیا کے مسلم مفکرین کی علمی اور سماجی زندگی میں بھی پیدا ہوئی۔

اس تبدیلی کی ایک عمدہ مثال حجة الله البالغة کے ترجمے اور شرح میں ، جس کا نام رحمۃ اللہ الواسعۃ ہے، پائی جاتی ہے، جسے معاصر دیوبندی عالم مولانا سعید احمد پالن پوری نے تصنیف کیا ہے7۔ کتاب میں اس باب کی شرح لکھتے ہوئے، جسے میں نے ابھی موضوع بحث بنایا، مولانا پالن پوری نے 'رسوم اور بدعات' کو مرکبِ عطفی کے طور پر استعمال کیا ہے، گویا یہ دونوں ہم معنی ہیں۔

مثال کے طور پر شاہ صاحب کی درج ذیل عبارت لیجیے جس کے کچھ اقتباسات پر میں نے پہلے بحث کی ہے: "وسیع علم کے حامل اہل علم کو چاہیے کہ سچائی کو پھیلائیں اور اسے سماج میں رائج کریں، اور برائی کے سامنے ڈٹ کر اس کا رستہ روکیں۔ اس میں مخالفت اور جنگ وجدال تک نوبت جا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ نیکی کے بہترین اعمال شمار کیے جائیں گے" (101)۔ اب اس بیان کا تقابل مولانا پالن پوری کے ترجمے اور تشریح سے کیجیے:"رسوم وبدعات کی اصلاح کرنا بہترین عمل ہے۔۔۔۔ بدعات ورسوم جب کسی قوم میں جڑ پکڑ لیتی ہیں تو ان کو اکھاڑنا سخت دشوار ہوتا ہے"8۔ پالن پوری خود اعتمادی سے اپنی پوری شرح میں بدعت کے لیے 'بدعات ورسوم' کی ترکیب استعمال کرتے ہیں، حالانکہ شاہ صاحب نے اس باب میں بدعت کا لفظ نہ تو آزادانہ طور پر اور نہ رسوم وعادات کی اصطلاح کے تعلق سے استعمال کیا ہے۔ اس کے باوجود بیسویں صدی میں پالن پوری جیسا عالم ان دونوں اصطلاحات کے ترادف کو تقریباً طے شدہ سمجھتا ہے۔ بدعات اور رسوم کے درمیان اس مفروضہ ترادف میں انیسویں صدی کے جنوبی ایشیا کے نامور مصلحین جیسے شاہ محمد اسماعیل اور مولانا اشرف علی تھانوی کے علمی وفکری اثرات کا نمایاں کردار ہے۔ اب میں بطور ایک نظریے اور تصور کے بدعت کی فکری عمارت کی تعمیر میں ان کے مباحثوں اور کردار کا تفصیلی جائزہ لیتا ہوں۔

بدعت کی تعریف

جنوبی ایشیائی اسلام میں بدعت کی حدود کے اردگرد کش مکش میں یہ سوال بنیادی نوعیت کا حامل ہے: کن حالات کے تحت رسوم شریعت، بالخصوص شرعی اعمال کے دائرے میں سنتِ نبوی کے پورے ڈھانچے، کی حاکمیت کے حریف یا ان کے لیے خطرہ بننے لگتے ہیں؟بالفاظِ دیگر ممکنہ طور پر وہ کون سا مقام ہے جس میں انسانوں کی ایجاد کردہ اقدار خدا کی منظور کردہ اقدار کی برتری کو للکارنے لگتی ہیں؟

مختلف علما نے اپنے مسلکی مزاج کے اعتبار سے اس مرکزی سوال کا جواب متعدد طریقوں سے دیا ہے۔ مزید برآں اس سوال کے جواب میں ایک مزید بڑے سوال کے لیے کلید بھی مل جاتی ہے کہ مذہبی اشرافیہ کے نمائندے کی حیثیت سے، جن کا کام مذہب کی شرعی حدود کو تحفظ فراہم کرنا ہے، وہ اپنے کردار کو کیسے خیال کرتے تھے۔

شاہ اسماعیل اور دیوبندی علما جیسے مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے پیروکار ایسے رسمی اعمال کے بارے میں شدید شک اور احتیاط میں مبتلا تھے جو آگے جا کر جعلی شریعت (یعنی شریعت کا ایسا مد مقابل جو خدائی حکم کے بجاے انسانی خواہش کا عکاس ہو-) میں بدل جائے۔ ان علما نے بتایا کہ مذہب کے معاملات میں عوام پر کوئی بھروسا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان کی سرگرمیوں پر ایک مضبوط پہرہ نہ بٹھایا جائے تو وہ غیر شرعی رسوم پر کار بند ہو کر شریعت کی اولیت کو یقینی طور پر تج دیں گے۔

دیوبند کے اصلاحی پروجیکٹ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ بظاہر نیک اور روحانی اجر وثواب کے رسوم کے خلاف، جو باوجود یکہ مباح تھے لیکن واجب نہیں تھے، دینی واجبات وفرائض کی اولیت کا تحفظ کریں۔ دیوبند کے پیش روؤں کو یہ اندیشہ تھا کہ عوام بآسانی نیکی کے مباح/مستحب اعمال کو واجب اعمال کے ساتھ بدل دیں گے۔ مثال کے طور پر مولانا تھانوی نے مباح رسوم کو ایسے مٹھائیوں سے تشبیہ دی ہے، جسے کھانے سے چھوٹے بچوں کی رال بہنے لگتی ہے۔ اگر چہ کھانے کے دوران یہ متاثر کن طور پر فرحت بخش ہیں، تاہم بعد میں یہ نوجوانوں اور بچوں کی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مولانا تھانوی والدین اور علماے دین کے درمیان ایک موازنہ کرکے اپنا قیاس جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے  بچوں کی تربیت کریں اور انھیں ایسی خوش ذائقہ لیکن نقصان دہ مٹھائیوں کی بری لت سے بچائیں۔ اسی طرح مسلمان علما کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوام کی دینی تربیت کریں، تاکہ وہ ایسے خوش کن رسوم سے بچاو حاصل کر سکیں، جو اس دنیا میں اگر چہ شدید اطمینان فراہم کرتے ہیں، لیکن آخرت میں صرف تکلیف اور عذاب کا سبب نتے ہیں۔ اس تشریح کے مطابق بدعت ایک ایسا ممنوع عمل ہے جس کا ارتکاب دوسروں کو غلط کام کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ فرائیڈ نے اپنے مشکل لیکن معنی خیز کلاسیک Totem and Taboo میں، جو حیران کن طور پر مولانا تھانوی کے افکار کی بازگشت ہے، لکھا ہے: "ایک فرد جو کسی ممنوع عمل کا ارتکاب کرتا ہے، وہ خود ممنوع (taboo) بن جاتا ہے، کیوں کہ اس میں یہ ترغیبی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے دوسرے اس کی مثال پر عمل کرسکیں۔ اس لیے وہ واقعی 'متعدی' (contagious) ہے، کیوں کہ ہر مثال تقلید پر ابھارتا ہے، اس لیے اس سے احتراز برتنا چاہیے"9۔ بدعت کی بنیاد رکھنے والا یا مبتدع اسی طرح خطرناک ہے، کیوں کہ وہ تقلید پر ابھارنے کے ذریعے ترغیب کی وبا کا اور ممنوع عمل کو باضابطہ بنانے کے خطرے کا حامل ہے۔ ایسے وبائی عامل کو نہ صرف علمی اعتبار سے مغلوب کرنا چاہیے بلکہ اس سے سماجی فاصلہ بھی رکھنا چاہیے۔

مولانا تھانوی کی نظر میں بدعت دیگر گناہوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ بدعت مذہب کا روپ دھار سکتی ہے۔ مولانا تھانوی نے دعوی کیا کہ بدعات کے مرتکبین ایسا اس مفروضے کی اساس پر کرتے ہیں کہ انھیں لگتا ہے گویا وہ پاکیزہ عبادات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو بدعت کو دیگر گناہوں سے ممتاز کرتا ہے۔ دیگر بہت سے گناہوں میں گناہ گار کو کم از کم یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی خطا کا ارتکاب کر رہا ہے، جس سے وہ کبھی تو توبہ کر لے گا۔ تھانوی نوحہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے برعکس بدعت کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے مرتکبین کو کبھی توبہ کی توفیق نہیں ہوتی، کیوں کہ وہ اپنی بدعات کو دینی عمل سمجھتے ہیں10۔ علاوہ ازیں چوں کہ یہ اعمال مذہب کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، اس لیے جو شخص ان میں شریک ہوتا ہے، لوگ اس کی تقوی وپارسائی کی تعریف کرتے ہیں، اور جو کوئی ان اعمال میں سے خود باز رکھتا ہے، سب لوگ اس پر لعنت ملامت کرتے ہیں، اور اسے گمراہ سمجھتے ہیں۔

دراصل بدعت یا جعلی مذہبی رسم کی سب سے بنیادی خاصیت یہی ہے۔ ایسے کسی عمل میں شرکت پر معاشرے کا اصرار اور ہم جولیوں کا دباو اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اگر کوئی رضاکارانہ طور پر اس میں شریک نہیں ہوتا تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسی رسوم میں شرکت کی وجہ سماجی اخلاق واقدار کا غیر مرئی دباو ہوتا ہے، نہ کہ خدائی قانون کے تقاضوں کی اتباع۔ شاہ محمد اسماعیل نے بدعت کی جو تعریف کی ہے، اس سے یہ نکتہ بخوبی واضح ہوتا ہے۔ وہ رسم کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں: "ایک غیر واجب عمل جو کسی معاشرے میں اس گہرائی سے جڑ پکڑ لے کہ جو کوئی بھی اسے ترک کرتا ہے، اسے معاشرے کی طرف سے لعنت وملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں آبا واجداد کے روایات کی تقلید یا دوستوں، عزیزوں اور معاشرے کے دیگر افراد کا اس مقبولیت میں اساسی کردار ہے، جو یہ رسوم حاصل کر لیتے ہیں"11۔اس لیے غیر واجب یا سیدھا سادہ مباح عمل اس جذبے اور پابندی سے انجام پانا شروع ہو جاتا ہے، گویا یہ واجب ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہوتا ہے؟ وہ کون سا عمل طریقہ ہے جس کے ذریعے رسوم اس قدر جڑ پکڑ لیتے ہیں؟ کس طرح انفرادی اعمال کسی سماج کی زندگی میں اس قدر پختہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا چھوڑنا پھر ناقابل تصور بن جاتا ہے؟

قانون، تاریخ اور شریعت

اپنی ایک نسبتاً کم معروف لیکن دل چسپ اور عمدہ کتاب 'ایضاح الحق' میں، جو تقریباً پوری کی پوری بدعت کے موضوع کے لیے وقف ہے، شاہ محمد اسماعیل ان سوالات میں سے کچھ کو دل آویز تفصیلات کے ساتھ زیر بحث لائے ہیں12۔ غیر شرعی اعمال کا شرعی اعمال کا روپ دھار لینے کے متعلق ان کے بیانیے میں مرکزی سوال شریعت، سماج اور تاریخ کے درمیان تعلق کا تھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سماج کی زندگی میں تمام رسمیں مخصوص مصالح کے حصول کے لیے داخل ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں کسی سماج کا علمی اشرافیہ ان رسموں کو مخصوص صورت دے دیتا ہے، تاکہ ان سے جڑے مصالح زیادہ ہو جائیں، اور حتی الامکان بآسانی قابل حصول بن جائیں۔ رفتہ رفتہ یہ مخصوص صورتیں عوام کے درمیان رائج اور غالب ہو جاتی ہیں۔ تاہم جیسے یہ صورتیں کسی سماج کی روزمرہ زندگی کا جزو لاینفک بن جاتی ہیں، تو اصلاً جن بنیادی مقاصد ومصالح کے لیے انھیں تشکیل دیا گیا تھا، انھیں بھلا دیا جاتا ہے۔

 لوگوں کی نظر میں ان مخصوص رسموں میں کار فرما اصلی استدلال کھو جاتا ہے، جب ان رسموں کی مُروَّجہ صورت زیادہ شدت سے رائج ہو جاتی ہے13۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورت اور مقصد میں مکمل تفریق واقع ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر عوام کا سارا جوش وخروش ان رسموں کی ظاہری صورتوں کو تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہو جاتی ہے، اگر چہ یہ صورتیں اب ان مصالح کو نہ بھی پورا  کرتی ہوں، جن کے لیے اصلاً‌ انھیں نافذ کیا گیا تھا۔ اس لیے اگر چہ رسم کا مقصد دوسرے ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہو، لیکن اس کی موجودہ صورت کو ترک نہیں کیا جاتا۔ اور جو بھی شخص موجودہ صورت پر اس کی جزئیات سمیت کاربند نہیں ہوتا، وہ سماج کے غیظ وغضب کا نشانہ بن جاتا ہے۔

شاہ اسماعیل نے میت کے 'ایصالِ ثواب' کے لیے خاندان اور معاشرے کے دیگر افراد کے درمیان طعام کی تقسیم کی مثال دی ہے۔ آج کے جنوبی ایشیا میں تقریباً متفقہ طور پر رائج اس رسم کو 'فاتحہ' کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس میں عزیز واقارب، دوست، مشہور اولیا اور علما کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانے پر قرآن مجید کی پہلی سورت الفاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ عام طور پر فاتحہ کسی میت کی وفات کے تیسرے یا چالیسویں دن پڑھی جاتی ہے۔ ان تقریبات کو آج کل علی الترتیب سوم یا چالیسواں کہتے ہیں۔ مشہور اولیا اور علما کے ایصال ثواب کی صورت میں فاتحہ کا انعقاد عام طور پر ان کے یوم پیدائش کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا حجم اور کردار پڑوس کے چند خاندانوں کو جمع کرنے سے لے کر  بھاری بھر کم عوامی اجتماعات تک ہے جو  پورے کے پورے گاؤں اور قصبوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ فاتحہ کی عوامی مقبولیت کے باوجود شاہ اسماعیل اس عمل کو ایک ایسی بدعت سمجھتے ہیں کہ یہ جس طریقے اور مقصد کے لیے ادا کیا جاتا تھا، اس میں انتہائی بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اصل میں اس رسم کا بنیادی مقصد میت کے یتیم ورثا کو صدقے کے طور پر کھانا کھلانا تھا۔ اس صدقے کے ثواب کو میت کی روح کو بخش دیا جاتا تھا۔ چونکہ اسلام میں یتیم ورثا ہی ہر قسم کے صدقات وخیرات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں، اس لیے اس موقع پر انھیں خوراک کے سب سے زیادہ مستحق کی حیثیت سے ترجیح دی جاتی تھی۔

شاہ  اسماعیل نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دور کے ہندوستانی مسلمان اس رسم کی ایک مخصوص طرز کی ادائیگی سے ایسی شدت کے ساتھ چمٹ گئے ہیں کہ اس کا اصل مقصد اور فائدہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ انھوں نے بتایا  کہ یہی وجہ ہے کہ اب جب میت کے عزیز واقارب کو خوراک دی جاتی ہے، تو کوئی بھی صراحتاً یہ نہیں کہتا: "یہ خوراک میت کے لیے صدقہ ہے" یا "یہ یتیموں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے"۔ اسماعیل نے پیشین گوئی کی  کہ اگر اس عمل کے اصل مقصد کو بیان کرنے کے لیے کوئی ایسی بات کی جائے  تو بہت سے رشتہ دار اور عزیز واقارب اس خوراک کو قبول بھی نہیں کریں گے،14 بلکہ سچ یہ ہے کہ وہ اسے ایک توہین سمجھیں گے۔

 مزید برآں اس رسم کے مجوزہ مقصد یعنی میت کے ایصالِ ثواب کی تکمیل کے لیے کسی دوسرے ذریعے کو مکمل ناقابل برداشت سمجھنا اس بات کو یقینی طور پر ثابت کرتا ہے کہ وہ اس مخصوص صورت کو واجب سمجھتے ہیں۔ شاہ اسماعیل نے بتایا کہ اگر کوئی میت کی خاطر ہر قسم کا صدقہ وخیرات کرے تو  سماج اسے تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ لوگ اس امر پر اصرار کرنے لگے ہیں کہ کھانا بعینہ رسم کے مطابق تقسیم ہونا چاہیے۔ اگر کھانا اس انداز میں تقسیم نہ کیا جائے تو رسم پورا کرنے والا شخص گالم گلوچ اور لعنت ملامت کا نشانہ بن جاتا ہے۔ تاہم اگر یہی شخص میت کی خاطر صدقے میں کچھ بھی خرچ نہ کرے، اور صرف رائج رسم کے مطابق کھانا تقسیم کرے تو اسے کسی قسم کی تنقید یا نفسیاتی دباو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔شاہ اسماعیل نے نتیجہ نکالتے ہوئے کہا کہ اس لیے میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا تقسیم کرنا اب عبادت کی سرگرمی نہیں رہی۔ اس کے بجاے اب یہ ایک رسم بن گئی ہے، جو اپنے اصل غرض اور مقصد سے ہٹ گئی ہے15۔

یہاں پر شاہ اسماعیل کے بیانیے میں شریعت کی تشکیل میں تاریخ کے کلیدی کردار کو نوٹ کرنا اہم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تاریخ رسموں کو اس انداز میں جواز دیتی ہے کہ پھر ان کو ناجائز ٹھہرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایصالِ ثواب کے طور پر کھانا دینے کا بنیادی مقصد زمان اور تاریخ میں دفن ہو گیا، بلکہ تاریخ نے رسم کو سنت بنا دیا، سماج کا ایک ایسا ناقابلِ اعتراض عمل، جس کے کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاتا۔

شاہ اسماعیل کے نزدیک اس رسم کا اصل مقصد اب غیر مرئی ہے جو تاریخ/زمان کی گرد میں دب گیا ہے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقصد کچھ وقت کے لیے موجود تھا۔ لیکن شاہ اسماعیل نے ہندوستان میں رائج اس رسم کا عدم جواز کیسے بتایا؟ ایسا انھوں نے تاریخ ہی کی طرف رجوع کرکے کیا۔ شاہ اسماعیل نے اپنے استدلال کی نیو اس بات پر اٹھائی کہ اس رسم کو "تاریخ میں لانے" کا ایک خاص مقصد تھا جو اب باقی نہیں رہا۔  تاریخیت (historicity) پر مبنی  اپنے انداز سے انھوں نے یہ کوشش کی کہ اس رسم کے وقتی جواز کو واضح کریں، تاکہ اس کی ناقابل اعتراض ضرورت کو تہہ وبالا کر سکیں۔ اس عمل میں لاینحل تضاد یہ تھا: تاریخ ہی کے ذریعے شاہ اسماعیل نے وہ ظاہر کیا جسے تاریخ نے اپنی گرد میں چھپا دیا تھا۔ تاریخ کی وجہ سے جائز بننے والے عمل کی طاقت سے نمٹنے کی کوشش میں شاہ اسماعیل نے مزید تاریخ سے کام لیا۔ شریعت اور تاریخ کی یک جائی کے خلاف احتجاج کے باوجود وہ تاریخ سے آگے نہ دیکھ سکے۔

شاہ  اسماعیل کی نظر میں اصلاحی کوشش کا تقاضا ہے کہ حال کے باسیوں کو ان کی ماضی کی ذمہ داری کی یاد دہانی کرائی جائے۔ تاہم انھوں نے اس امر کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا کہ حال پر کوئی دعویٰ جتانے کے لیے ماضی دست یاب نہیں ہوتا اور زمنیت اس قدر غیر یقینی ہے کہ وہ زندگی کو ایک ایسے مسلسل اور بے جوڑ دھاگے کی شکل میں  جو ماضی، حال اور مستقبل کو جوڑتا ہو، تاریخ  میں تحقق  (historcizing) کے امکان کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ تاریخ کی شہہ پر عملی زندگی میں انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنے اصلاحی پروگرام میں جو نکتہ شاہ اسماعیل کی نظر سے اوجھل رہا وہ یہ تھا، جیسا کہ زاں  لوک نانسی (Jean-Luc Nancy) نے استنباط کیا ہے، کہ تاریخ مابعد الطبیعات کے بجاے سماج یا عوام کا نام ہے۔ نانسی نے یادگار انداز میں لکھا کہ " اگر ہم تاریخ کے  لفظ کو اس کی مابعد الطبیعاتی ، اور اس بنا پر تاریخی مفہوم سے الگ کر سکیں  تو تاریخ بنیادی طور پر نہ تو زمان کے ساتھ ہے، نہ ہی تسلسل اور علیت (causality) کے ساتھ، بلکہ سماج یا  اجتماعی وجود  (being-in-common) ہے16۔

نانسی کی تنبیہ کا مقصد تاریخ کو تاریخیت سے الگ کرنا (dehistoricizing) ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کسی سماج کا اخلاقی حال (present) اس کے بیان کی جانے والی ماضی سے مربوط نہیں۔ بالفاظ دیگر کسی سماج کا ماضی سیدھے سادے انداز میں حال میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ تاہم شاہ اسماعیل کے تاریخی تخیل میں ماضی ایک مطلق اہم اور سیدھا سادہ زمرہ ہے۔ ان کے تصور کی رو سے شریعت اور تاریخ کے درمیان تعلق میں کسی سماج کی اخلاقی زندگی اس کی ماضی کی تجربی تاریخ سے ماخوذ ہونی چاہیے۔ شاہ اسماعیل اس جستجو میں تھے کہ سماج کی ایک معروضی تاریخ کی تشکیل کریں اور پھر اسے بیان کریں۔ اس ماڈل کی بنیاد پر وہ سماج کی اصلاح کے خواہاں تھے۔

 لیکن اس عمل کے تسلسل میں انھوں نے سماج کو نظریاتی طور پر خود آگاہ کرداروں کے ایک گروہ کی صورت میں معروضی بنایا، جو پہلے عملی اعمال کے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ سماج کی مثالی تاریخ سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کریں۔ آج جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں ان رسموں کی مسلسل موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ سماج اور تاریخ کے درمیان تعلق کا یہ تصور نامعقول ہے، کیونکہ زندگی کو تاریخ سے متعلق اپنی ذمہ داری یاد دلانے سے عملی زندگی میں یکسر تبدیلی کبھی ممکن نہ ہو سکی۔ یہ توقع کبھی پوری نہیں ہو سکتی، اور ایک نامعلوم مستقبل تک ناقابل تکمیل رہےگی17۔

عملی زندگی کو یکسر تبدیل کرنے کی کم وبیش یہی توقع بدعت پر مولانا اشرف علی تھانوی کی فکر کی اساس بنی۔ ہندوستانی مسلمان جن اخلاقی امراض میں مبتلا تھے، ان پر مولانا تھانوی شاہ اسماعیل کے تجزیے اور ان بیماریوں کے علاج کی حکمتِ عملی سے مکمل متفق تھے۔ شاہ اسماعیل کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ عوام میں رائج رسمیں، جو بظاہر عباداتی مقاصد کے لیے ہیں، درحقیقت اپنے مال ودولت کی نمائش اور سماج کے دباو کی وجہ سے ادا کی جاتی ہیں۔ اس استدلال کی وضاحت میں انھوں نے میت کے چالیسویں کی مثال دی ہے۔ اگر چہ بظاہر اس کا مقصد میت کی روح کے لیے ایصالِ ثواب ہے، تاہم اس تقریب پر خرچ کی جانے والی رقم، اساسی طور پر کھانا تیار کرنے اور تقسیم کرنے، کا بنیادی مقصد مال ودولت اور سماجی حیثیت کی عوامی نمائش ہے18۔ اس رسم کے انعقاد کے پیچھے منتظمین کا اصلی مقصد معلوم کرنے کے لیے مولانا تھانوی نے ایک دلچسپ طریقہ تجویز کیا۔

انھوں نے تجویز کیا کہ اس تقریب کے منتظمین کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی برادری کے افراد کو برسر عام کھانا کھلانے کے بجاے اسے خفیہ طور پر  یتیموں کو دے دیں یا یہ رقم کسی مسجد یا مدرسے کو صدقہ کر دیں۔ کیونکہ یہ واضح ہے کہ صدقہ جس قدر ضرورت مند اور غریب لوگوں کو دیا جائے گا، اسی قدر وہ میت کے لیے زیادہ اجر وثواب کا موجب ہوگا۔ مولانا تھانوی نے پیش بینی کی کہ اگر یہ تجویز پیش کی جائے تو منتظمین جھٹ سے کہہ دیں گے: سبحان اللہ! کیا آپ ہم سے توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنا پیسہ خرچ کریں اور کسی کو پتا بھی نہ چلے؟ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟19 تھانوی کے نزدیک ریا اور سماج کی طرف سے شرم دلانے کا خوف ہی ان تمام اجتماعات کے پیچھے بنیادی محرکات ہیں۔ ایصال ثواب کے لیے اس طریقے کو رد کرنا جس میں مال ودولت کی عوامی نمائش نہ ہو، اس امر کی تائید کرتا ہے۔

مولانا تھانوی کی نظر میں اس صورتِ حال نے میت کے ایصالِ ثواب کی اصل روح کو مار دیا ہے۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس طریقے کا بنیادی مطمح نظر یہ تھا کہ چند زندہ لوگ صحیح نیت کے ساتھ نیک اعمال کرکے اجر وثواب حاصل  کریں  اور پھر اس حاصل کردہ اجر وثواب کو میت کی روح کو بخش دیں۔ لیکن موجودہ صورت میں ان رسموں میں کار فرما بنیادی نیت خراب ہو گئی ہے، اور اس کا مقصد دکھاوا بن گیا ہے۔ اس لیے زندہ لوگ کوئی اجر وثواب کما ہی نہیں رہے کہ اسے آگے میت کو بخش سکیں۔ انھوں نے طنزیہ پیرایے میں اسے یوں بیان کیا ہے: "جب یہاں ہی صفر ہے تو وہاں کیا بخشو گے؟"20۔

یہاں ایک اہم وضاحت کا اندراج ضروری ہے۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی میت کے ایصال ثواب جیسی رسموں کے علی الاطلاق مخالف نہیں تھے۔ اس کے برعکس ان کی نظر میں یہ پاکیزہ اعمال تھے جو اپنی اصل میں قابلِ تعریف تھے۔ لیکن انھیں ان نیتوں پر تحفظات تھے جن سے عوام ان رسموں کو ادا کرتے ہیں۔ خراب رویوں کے شامل ہو جانے  کی وجہ سے یہ جائز اعمال ناجائز بن گئے۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی کے استدلال میں سماج کی شرعی حدود کی تشکیل میں تاریخ کے کردار کو بھی ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

 ان علما کی نظر میں اخلاقی بگاڑ نے ان پاکیزہ اعمال پر ایک ایسی تہہ چڑھا دی ہے جسے عوام دیکھ نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام بنا سوچے سمجھے اس حد تک ان رسموں کی ان صورتوں سے جڑ گئے ہیں جو تاریخ کی پیداوار ہیں کہ وہ ان صورتوں کے اصلی مقاصد ان کے ذہن سے بالکل فراموش ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً نیک اعمال کے ارتکاب کی روپ میں وہ ایک ایسی عوامی فضا تشکیل دے رہے ہیں جو اخلاقی بگاڑ کی کُشتہ ہے۔ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی کی نظر میں اصلاحی کاوشوں کا بنیادی مقصد عوام کو مذہب کی منظور کردہ شرعی حدود اور ان رائج رسموں کے درمیان، جو روزمرہ زندگی کی عادات سے پیدا ہوئے ہیں، بے جوڑ پن دکھا کر انھیں بیدار کرنا ہے۔ذرا  مختلف الفاظ  میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ شاہ اسماعیل اور مولانا تھانوی اپنے کردار کو اس طرح دیکھ رہے تھے کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرکے اس کے دھارے کو بدل دیں۔ وہ ان رائج عادات کو روایت کی حدود سے تجاوز ثابت کرکے انھیں یکسر بدلنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ کون سا فقہی تصور اور تعبیر وتشریح کا منہج تھا جس نے سماجی اور مذہبی اصلاح کے اس پروگرام کو سہارا فراہم کیا، اور اس کی رہ نمائی کی؟


حواشی

  1.  دیکھیے: اشرف علی تھانوی، اصلاح الرسوم (لاہور: ادارۂ اشرفیہ، 1958) اور شاہ محمد اسماعیل، ایضاح الحق (کراچی: قدیمی کتب خانہ، 1976)۔
  2.  میں نے ارتفاقات کا ترجمہ "تہذیب کو سہارا فراہم کرنے والے" کے بجاے "اخلاقی اصلاح کے ذرائع" کا زیادہ بامحاورہ ترجمہ کیا، تاکہ شاہ ولی اللہ کی فکر کو مغرب کی نوآبادیاتی تواریخ اور ان کی تہذیب کی اصطلاح سے الگ کروں۔ دیکھیے: طلال اسد، Conscripts of Western Civillization?، مدون سی گیلے، Dialectical Anthropology: Essays in Honor of Stanley Diamond، جلد 1 (گینس ویلے: یونیورسٹی پریسز آف فلوریڈا، 1992)، 333 – 5۔ علاوہ ازیں میرے خیال میں اس کتاب میں شاہ صاحب کے مقاصد کے اعتبار سے اخلاقی اصلاح کے لیے کونیاتی، رسمیاتی، سماجی اور معاشی عمل مرکزی حیثیت رکھتا ہے، بالخصوص جس انداز میں وہ ارتفاقات کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر چہ اس بحث میں، میں نے حجۃ اللہ البالغہ کے تراجم خود کیے ہیں، اور اگر چہ مجھے ارتفاقات کی اصطلاح کے ترجمے پر مارسیا ہرمینسن کے ساتھ معمولی اختلاف بھی ہے، تاہم میں اس کتاب کے عمدہ انگریزی ترجمے کے لیے ان کا مرہونِ منت ہوں۔ دیکھیے: مارسیا ہرمانسن، The Conclusive Argument from God: Shah Wali Allah of Delhi’s Hujjat Allah Al-Balighah (لائیڈن: ای جے برِل، 1996)۔
  3.  نوربرٹ ایلیاس، The Civilizing Process: Sociogenetic and Psychogenetic Investigations (کیمبرج: ویلے بلیک ویل، 2000)۔
  4.  شاہ ولی اللہ، حجة الله البالغة، جلد 1 (بیروت: دار الجیل، 2005)، 100۔ آنے والے حوالے بھی اس اشاعت سے ہیں، جو متن میں بین القوسین دیے گئے ہیں۔
  5.  طلال اسد، Genealogies of Religion: Discipline and Reasons of Power in Christianity and Islam (بالٹی مور: جونز ہاپکنز یونیورسٹی پریس، 1993)، 290۔ جیسا کہ اسد نے یادگار انداز میں لکھا: "میرا بنیادی اشکال یہ ہے کہ سماجی زندگی آرٹ کی کسی کاوش کے مانند نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ سماجی زندگی اپنی مجموعی حیثیت میں پہلے سے موجود مادے سے باہر تشکیل نہیں دی جا سکتی، جس طرح کہ آرٹ کے کام تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ زندگی ضروری بالذات ہے۔ صرف اس کا وہ جز جسے بیانیے میں بدل دیا گیا، اس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اسے ایک آرٹسٹ کی کہانی کی طرح 'بنایا' جا سکتا ہے"۔
  6.  ملاے اعلیٰ یا خدا کے مقرب ترین فرشتوں کی مجلس، حظیرۃ القدس یا وہ مقدس مقام جہاں فرشتوں کی مجلس میں سب سے بلند مقام والے فرشتے اور انفرادی ارواح روح اعظم (highest spirit) سے ملتے ہیں، ایسی اصطلاحات ہیں جنھیں شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب میں بار بار استعمال کیا ہے۔ یہ اصطلاحات خدا کے تشریعی نظام اور انسانوں کی اخروی نجات سے متعلق تدبیر کے کونیاتی امور پر دلالت کرتی ہیں۔ ان اصطلاحات کی مزید وضاحت کے لیے دیکھیے: ہرمانسن، Conclusive Argument from God، 46 – 47۔
  7.  سعید احمد پالن پوری، رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغہ، ج 1 (دیوبند، مکتبۂ حجاز، 2000)۔
  8.  ایضاً، 509۔
  9.  سگمنڈ فرائڈ، Totem and Taboo: Resemblances between the Psychic Lives of Savages and Neurotics (نیو یارک: بارنس اینڈ نوبل، 2005)، 32۔
  10.  اشرف علی تھانوی، الافاضات الیومیۃ، ج 9 (ملتان: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، 1984)، 149۔
  11.   اسماعیل، ایضاح الحق، 94۔
  12.  یہ کتاب اصلاً فارسی زبان میں لکھی گئی ہے، اور غالباً شاہ اسماعیل نے اپنی زندگی کے آخری دور میں لکھی ہے، کیونکہ یہ نامکمل رہ گئی ہے۔ بعد میں اسے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ مجھے اصل فارسی نسخے کا سراغ نہیں مل سکا اور اس لیے میں نے معراج محمد بارق کے اردو ترجمے پر انحصار کیا ہے۔
  13.  اسماعیل، ایضاح الحق، 93 – 95۔
  14.   ایضاً۔
  15.  ایضاً۔
  16.  جین-لوک نانسی، Finite History، مُدَوِّن: ڈیوڈ کیرول، The States of “Theory: History, Art, and Critical Discourse (نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 1990)، 149۔
  17.  یہاں پر میرا تجزیہ انندا ابیسیکارا سے متاثر اور اس کی فکر کے مرہونِ منت ہے۔ دیکھیے: انندا ابیسیکارا، The Politics of Postsecular Religions: Mourning Secular Futures (نیو یارک: کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2008، 33 – 83۔
  18.  اشرف علی تھانوی، وعظُ الدین الخالص (لاہور: ادارۂ اسلامیات، 2001)، 25۔
  19.   ایضاً۔
  20.  ایضاً۔