فروری ۲۰۲۳ء

ٹی ٹی پی کا بیانیہ اور افغان حکومت کی سرپرستیمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۳)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
صنف وجنس اور اس میں تغیر (۲)مولانا مشرف بيگ اشرف 
پیغامِ پاکستان اور میثاقِ وحدتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا گیلانی اور شیخ اکبر ابن عربی (۱)مولانا طلحہ نعمت ندوی 
صاحبِ تعبیر کے تصور ِدین میں تذبذبحسنین خالد 
انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۴)ڈاکٹر شیر علی ترین 

ٹی ٹی پی کا بیانیہ اور افغان حکومت کی سرپرستی

محمد عمار خان ناصر

گذشتہ دنوں پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء نے ’’پیغام پاکستان’’ کے عنوان سے  تحریک طالبان پاکستان کے   ریاست مخالف موقف کو رد کرتے ہوئے  ایک متفقہ  اعلامیہ جاری کیا۔ اسی موقع پر ممتاز  عالم دین مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے   طالبان کے راہنما مفتی نور ولی صاحب کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کی تفصیلات بھی   بیان کیں اور  واضح کیا کہ    انھوں نے  افغانستان میں  امریکا کے خلاف جنگ  کے شرعی جواز کا جو فتویٰ دیا تھا، اس سے پاکستان میں  نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھانے کا جواز  کیوں  اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی حملے کی مزاحمت کے لیے جناب مولانا تقی عثمانی صاحب اور دیگر دیوبندی علماء نے پاکستانی قبائلی علاقوں کی مختلف تنظیموں کی "جہاد" میں شرکت کو صرف جائز نہیں کہا بلکہ اس کی ترغیب دی تھی۔ اس فتوے سے کئی  قانونی، فقہی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوئی تھیں اور  اسی سے تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی ریاست کے خلاف جہاد کا جواز بھی اخذ کیا تھا۔  اس سارے معاملے  پر ہم نے اس دور میں تفصیلی اظہار خیال کیا تھا۔  بہرحال موجودہ تناظر میں، ٹی ٹی پی کو "مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کا ساتھ دینے" کی بنیاد پر پاکستانی ریاست اور امریکا کا حکم ایک قرار دینے کا استدلال دستیاب نہیں ہے اور وہ دراصل فاٹا میں اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں جو ریاست پاکستان کے تابع نہ ہو۔ اس کے لیے وہ دوبارہ اسلام اور جمہوریت اور شریعت وغیرہ کا حوالہ دے کر پاکستانی مذہبی طبقات کی ہمدردی لینا چاہتے ہیں۔ اس سیاق میں تمام مکاتب فکر کے علماء کا ایک واضح اور دوٹوک موقف پیش کرنا اور مفتی صاحب کا نور ولی صاحب کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ پر لے آنا انتہائی قابل تحسین ہے۔ اس کی مکمل تائید کرنی چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ  ہمیں اس سوال پر بھی معروضی انداز میں  غور کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان حکومت، تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کیوں کر رہی ہے؟ اس پر مختلف تجزیے پیش کیے گئے ہیں۔ مثلا" یہ کہ دونوں کا نظریہ مشترک ہے، دونوں نے امریکا کے خلاف جنگ اکٹھے لڑی ہے، تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں کافی منظم ہے، اور اس وقت أفغانستان کی حکومت داخلی طور پر زیادہ مستحکم نہیں ہے ۔ یہ سب تجزیے جزوی طور پر درست  اور  قابل فہم ہیں، لیکن اس کا ایک اور پہلو سب سے اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان دو، قومی ریاستیں ہیں جن کے مابین، دنیا کی بیشتر قومی ریاستوں کی طرح، تاریخی طور پر کئی حوالوں سے کشمکش موجود ہے۔ ایسی صورت حال میں ہر ریاست کا دوسری ریاست میں اپنے مفاد کے مطابق مختلف سیاسی یا غیر سیاسی عناصر کو تقویت پہنچانا یا ان کی سرپرستی کرنا ایک واضح سی بات ہے۔ چنانچہ جیسے پاکستانی ریاست کی یا یہاں کے مختلف طبقات کی خواہش اور کوشش رہی ہے اور اب بھی ہے کہ افغانستان میں طالبان یا ان کی مخالف سیاسی قوتیں غالب ہوں، اسی طرح طالبان کی بھی فطری طور پر خواہش ہوگی کہ افغانستان سے متصل علاقوں میں ان کے ہم نظریہ عناصر طاقت میں ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک وقتی مسئلہ نہیں ہے جس کو کسی فوری نوعیت کی حسن تدبیر سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مستقل مسئلہ ہے جو موجود رہے گا اور اس کو اسی طرح طویل مدتی پالیسی کا موضوع بنانا پڑے گا جیسے پاک بھارت تعلقات کو بنایا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے ایک تاریخی مسئلے کے سلجھ جانے کی جو خوش فہمی ہمارے قائدین کو تھی، اس کو تو اب واضح کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ افغانستان کا مسئلہ بھی اپنی نوعیت میں ویسا ہی ہے، بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ مثلا" بھارت کے ساتھ ہمدردانہ رشتہ رکھنے والے عناصر پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن افغانستان کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کے علاوہ بھی جو پیچیدگیاں ہیں، ان کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔

ہمارے جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز ہیں، افسوس کہ سیاسی فہم اور دیرپا نبردآزمائی کی صلاحیت اس سے بہت ہی کم ہے اور اس فاصلے  میں مسلسل قومی حماقتوں کی وجہ سے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(391) استمع بہ

استمع کا معنی کان لگا کر غور سے سننا ہے۔یہ عام طور سے کسی صلے کے بغیر راست مفعول بہ کے ساتھ آتاہے۔ جیسے: یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ (الاحقاف: 29)یا پھر کبھی لام آتا ہے، جیسے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ (الاعراف: 204) یہ لام تاکید کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں یستمعون کے ساتھ بہ آیا ہے۔ اس لیے یہاں سننے کی غرض مراد ہے۔ معنوی لحاظ سے بھی یہ بات تو قابل ذکر نہیں ہے کہ وہ کیا سنتے ہیں، ظاہر ہے جو کلام سنایا جارہا ہے وہی سنتے ہیں، اس لیے بھی کہ وہ خود کان لگاکر توجہ سے سنتے ہیں۔ قابل ذکر بات دراصل یہ ہے کہ وہ کس غرض سے سنتے ہیں۔  بتایا جارہا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی خفیہ غرض اللہ کے علم میں نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ غرض اللہ کے علم میں  اچھی طرح سے ہے۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِہِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ۔ (الاسراء: 47)

”ہم خوب جانتے ہیں جیسا وہ سنتے ہیں جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ غور سے کیا سنتے ہیں؟ جب یہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں“۔ (محمد حسین نجفی)

”ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا سنتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

مذکورہ بالا ترجموں میں (ب) کا حق ادا نہیں کیا گیا، جب کہ درج ذیل ترجموں میں کیا گیا ہے:

”ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جس غرض سے وہ لوگ اسے سنتے ہیں ان (کی نیتوں) سے ہم خوب آگاہ ہیں، جب یہ آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(392) مُبْصِرَۃً

مبصرۃ کا مطلب روشن اور واضح ہے۔ درج ذیل آیت میں عام طور سے یہی ترجمہ کیا گیا ہے:

وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَةَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَةَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً۔ (الاسراء: 12)

”دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بے نور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی تو دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا“۔ (امین احسن اصلاحی، دھندلی کے بجائے بے نور ہونا چاہیے۔)

درج ذیل آیت میں بھی مبصرۃ کا ترجمہ کھلی ہوئی نشانی یا روشن نشانی کرنا مناسب تھا، لیکن بہت سے مترجمین نے اس سے مختلف اور پرتکلف راہیں اختیار کیں۔

وَآتَیْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوا بِہَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلَّا تَخْوِیفًا۔ (الاسراء: 59)

”ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اس پر ظلم کیا، ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں“۔ (سید مودودی، مبصرۃ کا مطلب علانیہ نہیں ہوتا ہے)

”اور ہم نے ثمود کو ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم ایسی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کو“۔ (احمد رضا خان، یہ بھی پرتکلف مفہوم ہے۔)

”ہم نے ثمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی، اونٹنی کا بطور بصیرت ہونا پرتکلف بات ہے)

”اور ہم نے قوم ثمود کو ان کی خواہش کے مطابق اونٹنی دے دی جو ہماری قدرت کو روشن کرنے والی تھی لیکن ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم تو نشانیوں کو صرف ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی، قدرت کو روشن کرنے کی بات بھی پرتکلف ہے۔)

”اور ہم نے قومِ ثمود کو ایک (خاص) اونٹنی دی جوکہ روشن نشانی تھی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں صرف ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں“۔ (محمد حسین نجفی، یہ ترجمہ موزوں ہے۔)

(393) صدق جب اضافت کے ساتھ ہو

صدق، کذب کی ضد ہے اور اس کا معنی سچ ہے۔ صدق، سوء کی ضد بھی ہے یعنی اچھائی کے معنی میں۔ کہا جاتا ہے، رجل صدق ورجل سوء۔ اسی طرح صدق خوبی اور کمال کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ خاص طور سے لفظ صدق جب اضافت کے ساتھ آتا ہے تو اس موقع پر اس چیز کی خوبی بیان کرنا عام طور سے مقصود ہوتا ہے۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ ہر اچھے کام کو خواہ وہ خوبی ظاہری ہو یا باطنی، صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ویعبر عن کل فعل فاضل ظاہرا وباطنا بالصدق۔ (المفردات)

طاہر بن عاشور لکھتے ہیں: ویضاف شیء إلی (صدق) بمعنی مصادفتہ للمأمول منہ المرضی وأنہ لا یخیب ظن آمل۔کسی چیز کی اضافت صدق کی طرف کی جاتی ہے، یہ بتانے کے لیے کہ وہ خواہش و امید کے عین مطابق ہے، وہ امید پر پانی پھیرنے والی نہیں ہے۔ (التحریر والتنویر)

زبیدی نے صدق کی بہت اچھی وضاحت کی ہے کہ ہر وہ چیز جس کی نسبت صلاح اور خیر کی طرف ہو اس کی اضافت صدق کی طرف کی جاسکتی ہے۔

وَمن الْمجَاز: الصِّدقُ، بالکَسْر: الشِّدّۃ۔ وَفِی العُباب: کُلُّ مَا نُسِبَ الی الصّلاح والخَیْر أُضیف الی الصِّدْق۔ فَقیل: هوَ رَجُلُ صِدْقٍ، وصَدیقُ صِدْق، مُضافَیْن، ومَعْناہ: نِعْمَ الرّجُلُ هُوَ، وَکَذَا امرأۃُ صِدْقٍ فَإِن جعلتہ نَعْتاً قلت: الرجل الصَّدْق بفَتْح الصّاد وَہِی صَدْقة کَمَا سَیَأْتِی، وَکَذَلِکَ ثوبٌ صَدْقٌ۔ وخِمارُ صِدْق حَکَاہُ سیبَوَیْہ۔ (تاج العروس)

اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل آیتوں میں صدق کا ترجمہ خوبی اور کمال سے کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا، اور اگر وہاں سچ اور راستی کا محل نہ ہو سچ اور راستی سے ترجمہ کرنا پرتکلف معلوم ہوتا ہے۔

(394)  مبوأ صدق کا ترجمہ

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِی إِسْرَاءِیلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ۔ (یونس: 93)

”اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو پوری جگہ دینا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا“۔ (سید مودودی)

”اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی“۔ (احمد رضا خان)

اس آیت میں عام طور سے لوگوں نے اچھا ٹھکانا اور عزت کی جگہ جیسا ترجمہ کیا ہے۔ یہی اس تعبیر کا حق ہے۔

بہت کم لوگوں نے یہاں صدق کا ترجمہ سچ یا راستی کیا ہے، جیسے:

”اور البتہ تحقیق جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو جگہ دینا راستی کا“۔ (شاہ رفیع الدین)

البتہ قرآن کے دیگر مقامات پر بہت سے مترجمین سے اس کی رعایت نہیں ہوسکی اور انھوں نے سچ اور راستی ترجمہ کیا۔

(395) قدم صدق کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں قدم صدق سے مراد اچھا اور انچا مقام و مرتبہ ہے۔

وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا أَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْ۔ (یونس: 2)

”اور اہل ایمان کو بشارت پہنچادو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو۔ کہ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں اچھا مقام و مرتبہ ہے“۔ (محمد حسین نجفی)

مذکورہ بالا ترجمے بہتر ہیں۔ جب کہ درج ذیل ترجموں میں صدق کا ترجمہ سچ کیا گیا ہے، جس سے مفہوم واضح نہیں ہوپاتا ہے اور پر تکلف تاویل کی ضرورت پڑتی ہے۔

”اور خوش خبری سنادے جو کوئی یقین لاوے کہ ان کو ہے پایہ سچا اپنے رب کے یہاں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟“۔ (سید مودودی، سچی کی ضرورت نہیں، عزت و سرفرازی سے پورا مفہوم ادا ہورہا ہے۔)

زمخشری لکھتے ہیں: وإضافتہ إلی صدق دلالة علی زیادۃ فضل، وأنه من السوابق العظیمة۔

(396) مدخل صدق اور مخرج صدق کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں مدخل صدق اور مخرج صدق سے مراد خوش اسلوبی سے داخل ہونا اور خوش اسلوبی سے نکلنا مراد ہے۔

وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ۔ (الاسراء: 80)

”اور کہو کہ اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال“۔ (محمد جوناگڑھی)

بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور سچائی کے ساتھ نکالنا ترجمہ کیا ہے، جو زیادہ موزوں نہیں ہے:

 ”اور کہہ اے رب پیٹہا مجھ کو سچا پیٹہانا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال“۔ (سید مودودی)

”اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا“۔ (احمد رضا خان)

”اور کہیے اے میرے پروردگار! مجھے (ہر جگہ) سچائی کے ساتھ داخل کر اور نکال بھی سچائی کے ساتھ“۔ (محمد حسین نجفی)

(396) مقعد صدق کا ترجمہ

إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَنَہَرٍ.  فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ۔ (القمر: 54، 55)

”نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا ً باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب“۔ (سید مودودی)

”سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور“۔ (احمد رضا خان)

”(یعنی) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”راستی اور عزت کی بیٹھک میں قدرت والے بادشاہ کے پاس“۔ (محمد جوناگڑھی)

”صداقت و سچائی کے محل میں بڑی عظیم قدرت والے بادشاہ (خدا) کے حضور میں (مقرب ہوں گے)“۔ (محمد حسین نجفی)

”سچی بیٹھک میں نزدیک پادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ“۔ (شاہ عبدالقادر)

درج ذیل ترجمہ زیادہ مناسب ہے:

”ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے پاس“۔ (اشرف علی تھانوی)

تفسیر بیضاوی میں ہے: فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ: فی مکان مرضی۔

طاہر بن عاشور لکھتے ہیں: فمقعد صدق، أی مقعد کامل فی جنسہ مرضی للمستقر فیہ فلا یکون فیہ استفزاز ولا زوال. (التحریر والتنویر)

(397) لسان صدق کا ترجمہ

وَجَعَلْنَا لَہُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۔ (مریم: 50)

”اور ان کو سچی ناموری عطا کی“۔ (سید مودودی)

”اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی“۔ (احمد رضا خان)

یہاں سچی نام وری سے زیادہ مناسب ذکر جمیل ہے، جیسا کہ درج ذیل ترجموں میں ہے:

 ”اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

طاہر بن عاشور لکھتے ہیں: الصدق: بلوغ کمال نوعہ، کما تقدم آنفا، فلسان الصدق ثناء الخیر والتبجیل۔ (التحریر والتنویر)

وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ۔ (الشعراء: 84)

”اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر“۔ (سید مودودی)

”اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں“۔ (احمد رضا خان)

”اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر“۔ (فتح محمد جالندھری)

تفسیر جلالین میں ہے: (وَاجْعَلْ لِی لِسَان صِدْق) ثَنَاء حَسَنًا۔

(جاری)


مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۳)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: ایک روایت میں آیا ہے کہ کھیتی کا آلہ دیکھ کر آپﷺ نے فرمایاکہ جس گھر میں یہ آجائے، وہ ذلیل ہو جاتاہے۔1

عمارناصر: اس کا ایک خاص تناظر ہے جو بعض دوسری روایتوں میں زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ صحابہ کی جماعت پر جو جہاد کی ایک ذمہ داری ڈالی گئی تھی، اس میں یہ کھیتی باڑی سے اشتغال خاص طورپر رکاوٹ بن سکتا تھا۔ تبوک میں آپ نے دیکھا کہ نکلنا کتنا دشوار تھا اور منافقین نے تو حیلے بہانے سے جان ہی چھڑا لی۔ اس تناظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آپﷺ نے یہ کہا کہ میرے بعد جب تک تم جہاد کرتے رہوگے، غلبہ پاؤ گے اور جب تم گایوں کی دم پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاو گے یعنی جہاد ترک کر دو گے تو عزت اور سرفرازی سے محروم ہو جاو گے۔ تو یہ اس کا اصل تناظر ہے، ایسا نہیں کہ اس میں فی نفسہ کاشت کاری کی کوئی مذمت کی گئی ہے۔

مطیع سید: مزارعت کے بارے میں صحیح بخاری میں دونوں طرح کی روایات ہیں 2۔ 3یہ دونوں باہم مخالف ہونے کے باوجود کیسے صحیح ہو سکتی ہیں؟

عمار ناصر: صحیح ہونے کا مطلب تو محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ سند کے اعتبار سے دونوں ثابت ہیں۔ جہاں تک مضمون میں کسی ظاہری ٹکراو کا تعلق ہے تو اس سے روایت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ وہ سوال پھر روایت کی تشریح اور تطبیق سے متعلق ہو جاتا ہے۔ جمہور اہل علم کا کہنا ہے کہ مزارعت میں فی نفسہ قباحت نہیں ہے۔ ممانعت یا تو بعض خاص شکلوں کی، کی گئی تھی جن میں خرابی پائی جاتی تھی۔ مثلاً‌ یا تو آپﷺ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس طرح کے معاملوں پر بعد میں جھگڑا ہو جاتاہے، اس پہلو سے ممانعت فرمائی، یا یہ کہ آپﷺ نے اس بات کو زیادہ ترجیح دی کہ مالک اگر خود زمین کو کاشت نہیں کرناچاہ رہا تو پھر اپنے کسی بھائی کو دےدے تاکہ وہ کاشت کر لے اور پھر اس سے فصل میں حصہ وصول نہ کرے۔ یہ دو تین توجیہات ہیں۔ البتہ اس میں امام ابو حنیفہ کی رائے مختلف ہے، وہ اس کو فی نفسہ درست نہیں سمجھتے۔

مطیع سید: امام صاحب کس بنیاد پر اس کو فی نفسہ درست نہیں سمجھتے؟

عمار ناصر: ان کا استدلال یہ ہے کہ اس میں چونکہ زمین کی فصل کا ہی ایک حصہ بطور کرایہ طے کیا جاتا ہے اور اس کی مقدار معلوم نہیں تو اس طرح ایک طرح کا غرر کا پہلو آ جاتا ہے۔ بعض روایات میں اس طرح کے معاملے کے لیے ربا کی تعبیر بھی آئی ہے۔

مطیع سید: زمین کرایے پر دینے پر اختلاف ہے۔ صحابی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور امیر معاویہ کے دور تک ہم کرایے پر دیتے رہے ہیں۔ جب حضرت معاویہ نے منع کر دیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے اعتراض کیا کہ اگر چہ وہ اس بات کا برامانیں لیکن یہ ایسا ہی ہے کہ ہم کرایے پر دیتے آئے ہیں۔4 اس کی ممانعت کیا کسی انتظامی بنیادپر کی گئی؟

عمارناصر: شاید وہ روایتیں جن میں مزارعت سے منع کیا گیاہے، ان کے سامنے وہ ہوں گی۔

مطیع سید: زمین کرایے پر نہیں دی جاسکتی، لیکن سونے چاندی کے عوض دی جاسکتی ہے۔ بات تو ایک ہی بن جاتی ہے۔

عمارناصر: نہیں، کرایے میں تھوڑی سی نوعیت بدل جاتی ہے۔ آ پ زمین کسی کو دیں دیں اور اس کی فصل ہی کا ایک حصہ بطور کرایہ لیں تو اس کو مزارعت کہتے ہیں۔ آپ فصل نہ لیں، بلکہ الگ سے سونا یا چاندی کی صورت میں کرایہ وصول کر لیں تو یہ مزارعت نہیں ہے۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ پہلی صورت میں تو آپ کو پتہ نہیں کہ آپ نے کتنا کرایہ وصول کرنا ہے، یعنی فصل کی مقدار معلوم نہیں جو آپ کو کرایے کے طور پر ملے گی۔ جو فصل ہوگی، اسی میں آپ تناسب طے کر سکتے ہیں۔ جبکہ سونے چاندی کی صورت میں آپ کو ملنے والی رقم پہلے سے متعین ہوتی ہے۔

مطیع سید: جیسے ہمارے ہاں ایک ایکڑ چالیس پچاس ہزار سالانہ کرایے پر دیتے ہیں۔

عمارناصر: جی، اس کے جواز کے سب قائل ہیں۔

مطیع سید: حمیٰ کون سا علاقہ ہےجسے کہا گیاکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے؟5

عمارناصر: حمیٰ کا مطلب ممنوعہ علاقہ ہو تا ہے، یعنی جس کو کسی مقصد کے لیے مخصوص کر لیا جائے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی علاقے کو اس طرح کسی شخص یا کسی مقصد کے لیے مخصوص قرار دینے کا اختیار صرف اللہ اور رسول کو ہے، لوگ اپنے طور پر یہ تخصیص نہیں کر سکتے۔ عرب میں یہ ہوتاتھا کہ یہ حق سر دار کو دیاجاتا تھا کہ وہ کسی خاص جگہ کے متعلق کہہ دیتا تھا کہ یہ میری ہے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوگا۔ جب ریاست بن گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ اب یہ حق صرف ریاست کے پاس ہوگا۔ یعنی مقامی سرداروں کو جو حق تھا، وہ اب ریاست کو منتقل ہو گیا ہے۔

مطیع سید: اسے وقف کہہ سکتے ہیں؟

عمارناصر: نہیں، یہ وقف نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے انتظامی طور پر کسی مقصد کے لیے علاقے کو خاص کر دینا۔ اس کو بعد میں بدلا بھی جا سکتا ہے۔ وقف کی نوعیت مستقل ہوتی ہے، اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

مطیع سید: خیاِرِ بیع میں حدیث تو اختیار دیتی ہے کہ جب تک مجلس بر خاست نہیں ہوجاتی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے یہ سودا منظور نہیں ہے۔6 لیکن احناف کہتے ہیں کہ جب عقد ہو گیا اور آپ نے کہہ دیا کہ میں نے یہ چیز لے لی توپھر آپ کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

عمارناصر: بعض احناف تو اس اختیار کو بالکل رد کر دیتے ہیں لیکن امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ یہ اصل میں قانون کا بیان نہیں ہے۔ یہ اچھے برتاؤ کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر چہ عقد ہو چکا ہے، لیکن شریعت آپ کو ترغیب دیتی ہے کہ اسی مجلس میں اگر دونوں میں کوئی فرق چاہے تو معاملے کو ختم کر سکتا ہے۔

مطیع سید: انہی پہلوؤں سے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات حدیث کے ظاہرپر عمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن فقہا خوامخواہ اس کی گہرائی میں جاکر بات کو الجھا دیتے ہیں۔

عمارناصر: جی، بعض جگہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔

مطیع سید: آپﷺ نے تر اور خشک کھجور کا آپس میں تبادلہ کرنے سے منع فرمایا اور صرف عرایا میں اس کی اجازت دی۔7 یہ عرایا کیا چیز ہے؟

عمارناصر: عرایا کی تشریح میں فقہا کی مختلف تشریحات ہیں۔ امام مالک اس صورت یہ متعین کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے باغ کا کوئی درخت کسی شخص کو بیچا ہو، لیکن پھر اس کے وقت بے وقت باغ میں آ کر پھل اتارنے سے دقت محسوس کرے اور اس سے بچنے کے لیے اسے پیش کش کرے کہ پھل کٹنے تک درخت پر جتنا پھل لگے گا، اس کا اندازہ کر کے تم مجھ سے وصول کر لو اور باغ میں نہ آیا کرو۔ امام مالک کے نزدیک ایسا کرنا درست ہے اور وہ حدیث میں بیان ہونے والی رخصت کو عام قانون سے ایک استثنا قرار دیتے ہیں۔ احناف کی تشریح اس سے کچھ مختلف ہے۔

مطیع سید: احناف کی کیا تشریح ہے؟

عمارناصر: وہ یہ ہے کہ باغ کا مالک اپنے باغ کے کچھ درخت کسی غریب خاندان کو دے دیتا تھا کہ یہ تمھارے استعمال کے لیے ہیں۔ اب پھل تو درخت پر لگا ہوا ہے، اس لیے وہ اپنی ضرورت کے تحت کبھی دن کو کبھی شام کو کھجور اتارنے کے لیے آ جاتے ہیں جس سے مالک کو تنگی ہوتی ہے۔ اس میں آپﷺ نے رخصت دی کہ اگر درخت کا مالک درخت پر لگے ہوئے پھل کے بدلے میں انھیں اندازے سے اتاری ہوئی کھجوریں دے دے تاکہ وہ بار بار نہ آئیں تو یہ درست ہے۔ اس میں چونکہ کوئی کاروباری لین دین نہیں ہو رہا جس میں مقدار کی کمی بیشی سے کسی کا حق مارا جائے، اس لیے اس کا جواز ہے۔

مطیع سید: اگر کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور بائع اس کے پاس اپنا مال دیکھے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔8 یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

عمارناصر: اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی ہے، اس کے ذمے لوگوں کے بہت سے واجبات ہیں، لیکن وہ دیوالیہ ہوگیا۔ اس کا سامان تجارت ڈوب گیا یا بر باد ہوگیا اور وہ دیوالیہ ہوگیا۔ اب حق دار آئیں گے اور جو کچھ بھی اس کے پاس پڑا ہوا ہے، اس میں سے اپنا حق وصول کریں گے۔ ان حق داروں میں سے وہ ایک دکاندار بھی ہے جس نے اس کوکوئی چیز بیچی تھی، لیکن ابھی رقم وصول نہیں کی تھی۔ اگر اس کی و ہ چیز بعینہ ویسے ہی موجود ہے تو حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس پر بیچنے والے کا پہلا حق ہے، وہ اپنی چیز واپس لے سکتا ہے۔ اس چیز کو سارے حق داروں میں مشترک نہیں سمجھا جائے گا۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے پچھنے لگانے والی کی کمائی کو برا کہا، لیکن خود لگوائے تو اس کی اجرت بھی ادا کی بلکہ جو طے ہوئی تھی اس سے زیادہ دی۔9 اس کا کیا مطلب ہے؟

عمارناصر: اصل میں پچھنے لگاتے ہوئے منہ سے خون چوسنے کا جو کام کرنا پڑتاتھا، اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ اس کو آپﷺ نے طبعاً‌ ناپسند فرمایا کہ یہ کام کرکے کوئی پیسے کمائے، لیکن بہرحال ایک پیشےکے طور پر یہ جائز تو ہے اور اگر آپ نے کسی سے پچھنے لگوائے ہیں تو اس کی اجرت تو دینی ہے۔

مطیع سید: بلی کی تجا رت آپﷺ نے کیوں منع فرمائی؟10 اسی طرح ایک موقع پر کتوں کو مارنے کا حکم بھی دیا۔11 صحابہ نے کہا کہ پھر ہم نے کوئی کتا نہیں چھوڑا سوائے چند ایک کے۔

عمارناصر: پیغمبر کی جو نفیس طبیعت ہوتی ہے، اس کے لحاظ سے کچھ چیزیں اس کو ناگوار گزرتی ہیں۔ اس پہلو سے بعض اوقات وہ لوگوں سے بھی کہہ دیتا ہے کہ ایسا نہ کرو، لیکن اس کو شریعت کا عام حکم نہیں بنا یاجاسکتا۔

مطیع سید: لیکن جو کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا، اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا ان کے کلچر میں یہ با ت عام ہو گئی تھی کہ وہ کتوں کو بہت زیادہ پسند کر نے لگے تھےجیسے آج کل یورپ میں ہے؟

عمارناصر: اس کے تو مختلف پس منظر قیاس کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ اصولی بات یہ ہے کہ یہ حکم کوئی عمومی حکم نہیں ہے کہ آپ ہر جگہ اس کو لاگو کر دیں۔ یعنی انسانوں کے ماحول میں کتے نہ ہوں اور آپ کو نظر نہ آئیں، یہ شریعت کا منشا نہیں ہے۔ کوئی خاص وجہ تھی جس کے تحت آپﷺ نے کتے رکھنے سے منع کیا اور عبوری طور پر ان کو مار دینے کا بھی حکم دیا، پھر اس میں آہستہ آہستہ تخفیف کردی۔ اب وہ وجہ کیاتھی، یہ ہمارے قیاسات ہیں۔ بعض شارحین کہتے ہیں کہ کتے تعداد میں بہت زیادہ ہوگئے تھے۔ تو ایسی صورت میں ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ جب آوارہ کتے زیادہ ہوجاتے ہیں تو ان کو مار دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ جانور کسی وبا کو پھیلانے کا سبب بن جاتے ہیں، جیسے چوہوں سے طاعون پھیل جاتا تھا۔ ممکن ہے، ایسی کوئی بات ہو۔ تو مختلف قیاسات ہو سکتے ہیں۔

مطیع سید: سیاہ کتے کے بارےمیں نبیﷺ نے خصوصی تاکید فرمائی کہ اس کو ضرور قتل کرو، یہ شیطان ہے۔12 سیاہ رنگ کے کتے سے شیطان کا کیا تعلق ہے؟

عمارناصر: بعض جانوروں کے ساتھ جنات اور شیاطین کی خاص مناسبت بھی ہوتی ہے۔ تو اگرا س طرح کا ماحول ہے کہ کتے گھر کے اندر اور باہر ہر جگہ آجا رہے ہیں تو اس تناظر میں آپﷺ نے اگر یہ فرمایا کہ ان کے ساتھ شیاطین کا بھی آنا جانا ہے، اس لیے ان کو خاص طور پر مار دو تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔

مطیع سید: حضرت جابر فرماتےہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے واپس آ رہا تھا۔ میرا اونٹ تیز نہیں چل رہاتھا۔ آپﷺ نے وہ اونٹ مجھ سے خرید لیا، لیکن مدینہ پہنچ کر وہ مجھے واپس دےد یا اور اس کی قیمت کے پیسے بھی دے دیے، بلکہ کچھ رقم عطا فرمائی جو میں نے برکت اور نشانی کے طور پر سنبھال کر رکھ لی۔ پھر وہ رقم واقعہ حرۃ میں کوئی چھین کر لے گیا۔13 اس سے تو لگتا ہے کہ واقعہ حرہ میں نہ صرف مدینے میں قتل وغارت ہوئی بلکہ لوٹ مار بھی خوب ہوئی کہ عموماً‌ َایسی قیمتی چیزوں کو گھر کےاندر ہی کہیں چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

عمارناصر: جی، ایسا ہی ہوا۔ چونکہ مدینہ کے لوگوں نے یزید کی بیعت توڑ دی تھی، اس لیے ان کو باغی قرار دیا گیا۔ پھر فوج آکر باغیوں کی جان ومال کو بھی مباح کر لیتی ہے اور سب کچھ تہس نہس کر دیتی ہے۔ اسی طرح اس موقع پر بھی ہوا۔ نمازیں بھی لوگ کئی دن تک چھپ کر اور انفرادی طور پر پڑھتے رہے۔

مطیع سید؛ جانور ادھار لے کر اس کے بدلے میں بعد میں دوسرا جانور دے دیا جائے، اس کا حدیث میں جواز آتا ہے14 لیکن احناف اسے جائزقرا ر نہیں دیتے۔

عمارناصر: اس مضمون کی بعض احادیث بھی ہیں جن کی صحت مختلف فیہ ہے۔ احناف ان پر بنیاد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ احناف یہ نکتہ بھی پیش کر سکتے ہیں کہ جو آپ نے جانور لیا ہے، اس کے بدلے میں بعد میں جو جانور واپس کریں گے، وہ ظاہر ہے مقدار میں بعینہ ویسا تو نہیں ہوگا۔ اس لیے اس میں ربا کا شبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

مطیع سید: جو عصر کے بعد کوئی چیز بیچے یا جھوٹی قسم کھائے، اس کے لیے وعید وارد ہوئی ہے۔15 جھوٹی قسم تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن یہ عصر کے بعد قسم کھانے کا کیا مطلب ہے؟

عمارناصر: بعض دفعہ عملی صورت حال کوسامنے رکھتے ہوئے کوئی بات کہہ دی جاتی ہے، یہ کوئی قید نہیں ہوتی۔ عام طورپر عصرکے بعد لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کام سمیٹیں اور نمٹا کر گھر نکلیں۔ تو دن کے وقت ایمانداری سے کام کر لیا، لیکن عصرکے وقت سامان وغیرہ سمیٹنا ہے تو کچھ غلط بیانی سے کام لے کر یا قسم وغیرہ کھا کر سامان بیچنے کا داعیہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال کو سامنے رکھ کر حدیث میں وعید بیان کی گئی ہے۔


حواشی

  1. صحیح البخاری، کتاب الحرث و المزارعۃ، باب من ما یحذر من عواقب الاشتغال بآلۃ الزرع او مجاوزۃ الحد الذی امر بہ، رقم الحدیث: 2321، ص: 599
  2. صحیح البخاری، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب فضل الزرع والغرس اذا اكل منہ، رقم الحدیث: 2320، ص: 599
  3.  صحیح البخاری، کتاب الحرث و المزارعۃ، باب من ما یحذر من عواقب الاشتغال بآلۃ الزرع او مجاوزۃ الحد الذی امر بہ، رقم الحدیث: 2321، ص: 599
  4. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب الحرث والمزارعۃ، باب ما كان من اصحاب النبی صلى الله عليہ وسلم يواسی بعضہم بعضا فی الزراعۃ والثمرة، رقم الحدیث: 2343، ص: 604
  5. صحیح البخاری، کتاب الشرب والمساقاۃ، ‌‌باب لا حمى الا لله ولرسولہ صلى الله عليہ وسلم، رقم الحدیث: 2370، ص: 611
  6. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب البیوع، باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، رقم الحدیث: 2111، ص: 550
  7. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب البیوع، باب تفسير العرايا، رقم الحدیث: 2192، ص: 565
  8. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب فی الاستقراض، باب اذا وجد مالہ عند مفلس، رقم الحدیث: 2402، ص: 618# صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب فی الاستقراض، باب من اجرى امر الامصار على ما يتعارفون بینہم فی البيوع والاجارة، رقم الحدیث: 2210، ص: 568

  9. صحیح مسلم، كتاب المساقاۃ، باب تحريم ثمن الكلب وحلوان الكاہن ومہر البغی والنہی عن بيع السنور، رقم الحدیث: 1569، جلد: 3، ص: 1199
  10. صحیح البخاری، ‌‌‌‌كتاب بدء الخلق، ‌‌باب اذا وقع الذباب فی شراب احدكم فليغمسہ، رقم الحدیث: 3323، ص: 845
  11. صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الصلاۃ، باب قدر ما يستر المصلی، رقم الحدیث: 510، جلد: 1، ص: 365
  12. صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب المساقاۃ، باب بيع البعير واستثناء ركوبہ، رقم الحدیث: 1599، جلد: 3، ص: 1222
  13. صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب المساقاۃ، باب من استلف شيئا فقضى خيرا منہ، رقم الحدیث: 1600، جلد: 3، ص: 1224
  14. صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب الشرب والمساقاۃ، ‌‌باب من رأى ان صاحب الحوض والقربۃ احق بمائہ، رقم الحدیث: 2369، ص: 610


(جاری)


صنف وجنس اور اس میں تغیر (۲)

مولانا مشرف بيگ اشرف

جنس کی تعیین کا پیمانہ: علم جینیات کی روشنی میں

ہماری موجود ہ گفتگو میں کلیدی کردار اس بحث کا ہے کہ کسی جنس کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ظاہر ہے کہ ہم یہاں شرعی نقطہ نگاہ سے بات کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں کتاب وسنت اور فقہا کے اجتہاد کی روشنی میں چیزوں کو دیکھنا ہے۔ تاہم اس سارے عمل میں موجودہ انسانی علم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنس کے تعین کے حوالے سےچار  امکانات ہیں:

۱: جنسی اعضا ووظائف،

۲: کروموسومز اور

۳: ہارمونز

۴: نفسیاتی کیفیت

یہاں پہلے تینوں امور کا تعلق انسان کی عضویاتی ووظائفی جہت (فیزیولوجی اورآنٹولوجی)سے ہے اور آخری کا تعلق نفسیاتی جہت سے۔

سر دست ہم پہلے تین امور پر غور کریں گے!

اس وقت انسان کی جنس وظاہری اعضا سے متعلق معیاری علم جینیات کا ہے۔ اس علم کے مطابق انسان خلیوں سے بنا ہوا ہے اور ہر خلیے میں کروموسومز ہیں جو کسی بھی انسان کے جسمانی خصائص کی ہدایات کے حامل ہیں۔

ہر انسانی خلیے میں کروموسومز کے تئیس جوڑے ہوتے ہیں، یعنی چھیالیس کروموسومز۔ ان میں سے  پہلے بائیس جوڑے عضوی غیر جنسی کروموسومز کہلاتے ہیں. انہیں ایک سے بائیس تک نمبر دیے جاتے ہیں۔ جبکہ تئیسواں جوڑا انسانی جنس سے متعلق ہدایت کا حامل ہے ۔ عام طور سے، عورت  میں یہ جوڑا ایکس ایکس (XX) سے مل کر بنتا ہے جبکہ مرد میں ایکس وائے (XY) سے۔ عورت کے بیضے سے ہمیشہ ایکس آتا ہے جبکہ مرد کی منی سے ایکس بھی آ سکتا ہے اور وائے بھی۔ اس لیے، کہا جاتا ہے کہ جنسی ساخت  کا تعین باپ کی طرف سے ہوتا ہے۔

 یہ کروموسومز دراصل ایک دھاگے کی ہیئت میں ہوتے ہیں جن میں  انسان کا ڈی این اےگندھا ہوا ہوتا ہے  ۔ جینز پر مبنی نظریے کے مطابق انسان کے جسمانی اعضا دراصل اسی "ڈی این کے "کے مطابق تشکیل پاتے اور وظائف ادا کرتے  ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے دو اصطلاحات پر غور کرتے ہیں:

جینوٹائپ(Genotype): جینز کا یہ سارا مجموعہ جو انسان کی ساخت سے متعلق ہدایات کا حامل ہے، اسے جینوٹائپ یا جینوم کہتے ہیں۔

فینوٹائپ(Phenotype): اس کے برعکس وہ ساخت واعضا جو اس جینوم سے وجود میں آتی ہے اسے فینوٹائپ کہتے ہیں۔یہاں لفظ "فینو" دراصل یونانی لفظ ہے جس کا مطلب چمکنا، آشکار ہونا، ظاہر ہونا ہے۔اور اسی لیے جینز کے نتیجے میں جس طرح انسان کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے اور اس کے اعضا نمو دار ہوتے ہیں اور عمل کرتے ہیں، اسے فینوٹائپ کہتے ہیں۔چناچہ کسی انسان کی آنکھ کا رنگ جو ہمیں نظر آتا ہے وہ حقیقت میں فینوٹائپ ہے جبکہ اس کے متوازی ہدایت جو انسان کے جینز میں موجود ہے وہ جینوٹائپ ہے۔یہ انسانوں کا معاملہ ہے جبکہ تتلی وغیرہ بعض پرندو ں میں  اور چھپکلی (ریپٹائل)کی نسل سے وابستہ بعض اقسام میں معاملہ برعکس ہے۔ نر میں یکساں جنسی کروموسومز ہوتے ہیں جنہیں زیڈ زیڈ (ZZ) سے ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ مادہ میں مختلف ہوتے ہیں جنہیں زیڈ ڈبلیو (ZW) سے ظاہر کیا جاتاہے۔

یونانی زبان میں گٹھلی،خلیے کو  کیرنیو (karyon ) کہتے ہیں۔ وہی سے انسان کے کروموسومز کی مکمل تصویر سازی کو Karyotype کہا جاتا ہے۔

بہر حال، اس نظریے کے مطابق انسان کے فینوٹائپ  اور جینوٹائپ میں باہمی رشتہ ہے (وہ سببیت کا ہے یا محض زمانی ہم آہنگی  کا یہ فلسفہ سائنس کا موضوع ہے)۔ اس لیے، انسان کی عضویاتی تشکیل، اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی یا بعض لوگوں میں پائے جانے والی استثنائی حالتوں (سنڈروم) کی تفسیر جینوٹائپ سے ہو گی۔اور خاص طور پر، جنسی کروموسوم سے انسانی اعضا میں  تفاوت رونما ہوتا ہے(Sex-linked)

جنیز کے علم میں جنس (سیکس) دراصل جنسی  فینوٹائپ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ چناچہ مشہورجینیات کے استاد " بینجمن اے پیئرس "  اپنے کتاب  " Genetics: A Conceptual Approach"میں رقم طراز ہیں:

The term sex refers to sexual phenotype. Most organisms have two sexual phenotypes: male and female. The fundamental difference between males and females is gamete size: males produce small gametes, and females produce relatively large gametes Sex: Sexual phenotype: male or female.
….
We define the sex of an individual organism in reference to its phenotype

مفہوم: جنس   کی اصطلاح جنسی  جسمانی خصائص  اور ان کے وظائف کے  لیے برتی جاتی ہے۔ اکثر زندہ کائنات میں دو  طرح کے خصائص ہوتے ہیں: نر ومادہ۔ نرومادہ میں بنیادی فرق جرثومی خلیے کے حجم کا ہے: نر میں یہ چھوٹے ہوتے ہیں جب کہ  مادہ میں قدرے بڑے۔

جنس =جنسی ظاہری ساخت  ووظیفہ(فینو ٹائپ) = نر + مادہ

ہم(علم جینیات میں) کسی جاندار کی جنس اس کے ظاہری ساخت واعضا ووظائف سےطے کرتے ہیں۔

بینجمن مزید واضح کرتے ہیں کہ جنس کی اصطلاح اس فن میں انسانی ساخت (Anatomy) کے لیے کہی جاتی ہے۔ چناچہ عام طور سے، مردانہ ساخت کے پیچھے ایکس وائے(XY) ہوتے ہیں اور زنانہ ساخت کے پس پشت ایکس ایکس(XX)۔ لیکن بعض شاذ ونادر حالات میں مردانہ ساخت کے پس پشت ایکس ایکس ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے، ایسا جاندار جینیاتی طور پر اگرچہ "مادہ "ہے لیکن ساخت کے لحاظ سے "نر" ۔تاہم ان شاذ ونادر حالات میں بھی (ایکس ایکس نر)وائے کروموسومز کا ایک ذرہ کسی دوسرے کروموسومز سے نتھی ہوتا ہے۔بینجمن کی سنیں:

For instance, the cells of human females normally have two X chromosomes, and the cells of males have one X chromosome and one Y chromosome. A few rare individuals have male anatomy although their cells each contain two X chromosomes. Even though these people are genetically female, we refer to them as male because their sexual phenotype is male. (As we see later in the chapter, these XX males usually have a small piece of the Y chromosome that is attached to another chromosome.)

مفہوم: مثلا انسانی مادہ کے خلیے میں عام طور سے دو ایکس کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ نر میں ایک ایکس اور ایک وائے۔ کچھ شاذ ونادر صورتوں میں انسان کی ساخت نر کی ہوتی ہے لیکن اس کے خلیوں میں دونوں کروموسومز ایکس ہی ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ جینیاتی طور سے مادہ ہیں، لیکن ہم انہیں نر ہی شمار کرتے ہیں کیونکہ ان کی جنسی ساخت واعضا ووظائف  نر کے ہیں۔(آگے اسی باب میں ہم دیکھیں گے  کہ ان "ایکس ایکس" نر میں عام طور سے وائے کروموسومز کا ایک ٹکڑا کسی دوسرے کروموسوم سےلٹکا ہوا ہوتا ہے)۔

نیز  مصنف کے مطابق  ایسا بہر کیف ہوتا ہے کہ انسانی جینیاتی کروموسومز میں وائے نہ ہو، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس میں ایکس نہ ہو۔ اور ان کا کہنا ہے کہ غالبا اس طرح کے جنین گر جاتے ہیں۔

اس کے بعد، مصنف جنس اور صنف کا فرق واضح کرتے ہیں کہ جنس دراصل کسی شخص  کی ساختیاتی وعضویاتی   ووظائفی جہت ہے جبکہ صنف کسی انسان کی سماجی جہت کی عکاس ہے۔  مثلا ایک انسان ساختیاتی وعضویاتی طور سے مرد ہے لیکن وہ ساڑھی پہننا ، مہندی لگانا، سینڈل پہننا پسند کرتا ہے۔ان کی دوبارہ سنتے ہیں:

Gender is not the same as sex. Biological sex refers to the anatomical and physiological phenotype of an individual. Gender is a category assigned by the individual or others based on behavior and cultural practices. One’s gender need not coincide with one’s biological sex.

مفہوم: صنف جنس سے الگ ہے۔ حیاتیاتی جنس کسی جاندار فرد کی ساختیاتی ووظائفی جہت کی طرف اشارہ ہے۔ کسی فرد ووغیرہ کی طرف سے رویے اور سماجی مظاہر  کی بنیاد پر جو عنوان اختیار کیا جاتا ہے، اسے صنف کہتے ہیں۔ ایک جاندار کی صنف کا اس کی حیاتیاتی جنس سے ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں۔

اگرچہ یہ بات درست ہے کہ جنسی کروموسومز انسانی جنس کی تشکیل کے ذمے دار ہیں تاہم غیر جنسی کروموسومز بھی اس میں ذیلی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح، انسان میں جنس کی تشکیل کے لیے جو جین ذمے دار ہے اسے "ایس آر وائے"(SRY) کہا جاتا ہے جو عام طور سے، وائے کروموسوم پر پایا جاتا ہے۔اسی لیے، انسانی جنس کی تشکیل میں وائے کروموسوم کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور جینیاتی استثنائی مظاہر(سنڈرومز) سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ہم ذیل میں ان مظاہر کو سرسری طور سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ ساری تفصیل بینجمن سے لی گئی ہے:

ٹرنر استثنائی مظہر (Turner Syndrome):

بعض اوقات زنانہ ساخت واعضا کے حامل انسان  میں (جسے ہم مادہ یا عورت کہتے ہیں) صرف ایک ایکس ہوتا ہے جبکہ دوسرا ایکس غیر موجود ہوتا ہے۔ اسے، "ایکس او"(XO)سے ظاہر کیا جاتا ہے۔نیز مندرجہ ذیل مخفف بھی اس کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

45, X

45, XO

 "او" سے مقصود صرف کروموسوم کی عدم موجودگی کا اظہار ہے۔اس کا نام ڈاکٹر ہنری ٹرنر کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے ۱۹۳۸ ءمیں پہلی مرتبہ طبی ادب میں اس کا تذکرہ کیا۔یہ مظہر تین ہزار میں سے ایک انسانی مادہ میں پایا جاتا ہے۔(واضح رہے کہ یہ مقدار دراصل ان لوگوں کے لحاظ سے ہے جن کا ریکارڈ محفوظ ہوا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ہر بندے کی یہ تفصیل محفوظ ہونا ضروری نہیں)۔ان کا قد عام طور سے، میانہ،بال پیشانی کی طرف معمول سے زیادہ بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ عام طور سے بانجھ ہوتی ہیں تاہم عقلی صلاحیتیں ان میں معمول کے مطابق ہوتی ہیں۔اسی مظہر کے تحت، بعض حالات ایسے بھی پائے گئے ہیں جن میں انسانی مادہ کے "کچھ "خلیے معمول کے مطابق ایکس ایکس کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال، جہاں مختلف خلیوں کے جنسی کروموسومز میں  اختلاف ہو"جینیاتی پچی کاری" (Genetic mosaicism)کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔

کلائن فیلٹر  استثنائی مظہر:

بعض اوقات مردانہ ساخت واعضا کے حامل انسان  میں (جسے ہم نر یا مرد کہتے ہیں) ایک سے زیادہ ایکس کروموسوم ہوتا ہے۔ ہزار لڑکوں میں سے ایک میں یہ مظہر پایا جاتاہے۔ اس کا نام مشہور امریکی ماہر ہارمونیات پر ہے جنہوں نے ۱۹۴۰ء کی دہائی میں اسے دریافت کیا۔ اسے (XXY 47)سے ظاہر کیا جاتا ہے۔تاہم یہ اس کی ایک مشہور صورت ہے۔ ورنہ  بعض حالات میں تین بلکہ چار تک ایکس بھی ہوتی ہیں۔ نیز بعض اوقات دو وائے بھی پائے جاتے ہیں۔ انہیں ذیل میں ظاہر کیا جا رہا ہے:

XXXY, XXXXY, XXYY

یہ عام طورسے بانجھ ، لمبوتڑے ، ان کے خصیے چھوٹے  جبکہ چہرے اور زیر ناف بال  کم ہوتے ہیں۔ان کی عقلی صلاحیتیں معمول کے مطابق ہوتی ہیں۔

تین ایکس  یا متعدد ایکس استثنائی مظہر:

بعض اوقات زنانہ ساخت واعضا کے حامل انسان  میں (جسے ہم مادہ یا عورت کہتے ہیں)  تین ایکس کروموسومز ہوتے ہیں۔اس کے لیے کوڈ  " 47XXX" استعمال ہوتا ہے۔  ان میں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا۔بس یہ ذرا چھریرے بدن کی حامل ہوتی ہیں۔ ان میں کچھ بانجھ بھی ہوتی ہیں لیکن اکثر کو حیض معمول سے آتا ہے۔اسی طرح، ذہنی صلاحیتیں بھی معمول کے مطابق ہوتی ہیں۔ تاہم انتہائی شاذ ونادر حالات میں بعض خواتین میں تین سے بھی زیادہ ایکس ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے "متعدد ایکس" کے نام سے بھی یاد کیا جاتاہے۔ایسی عورتیں ذہنی طور سے معذور اور ان میں دیگر مسائل بھی ہوتے ہیں۔ ایکس جوں جوں تین سے زیادہ ہوتے ہیں، ذہنی وجسمانی مسائل ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں۔

ایکس وائے وائے نر:

بعض اوقات مردانہ ساخت واعضا کے حامل انسان  میں (جسے ہم نر یا مرد کہتے ہیں) ایک اضافی وائے کروموسوم ہوتا ہے۔یہ ہزار میں سے ایک مرد میں ہوتا ہے۔ان کا قد قدرے لمبا ہوتا ہے۔ تاہم ان میں کوئی اور مسئلہ نہیں۔ بعض تحقیقات کا اس طرف اشارہ ہے کہ ان میں سیکھنے کی صلاحیت   ذرا کمزور ہوتی ہے۔

ایکس ایکس نر:

طبی تاریخ میں ایک دلچسپ صورت حال یہ پیش آئی کہ ایک مردانہ ساخت واعضا کے حامل انسان میں ایکس ایکس کروموسومز ہیں۔ یہ ماہرین کے لیے ایک معمہ بنا رہا۔کئی عرصے کی تحقیق کے بعد، یہ آشکار ہوا کہ ان لوگوں میں وائے کروموسومز کا ذرہ ایک دوسرے کروموسوم سے ٹنگا ہوا ہوتاہے۔اور اسی تحقیق سے جینز سے متعلق ہمارا تصور مزید نکھارا کہ "نر" ہونے میں بنیادی کردار پورے وائے کروموسوم کا نہیں بلکہ اس کروموسوم میں ایک "جین "کا  ہے جو اگر مثلا وائے کروموسوم میں بھی پائی جائے، تو ایک "نر" کو جنم دیتی ہے۔

جنسی کروموسومز کی فعالیت وکردار:

اس ساری گفتگو سے ہمیں ،مندرجہ ذیل امور کا علم ہوتا ہے:

۱: انسانی نشو ونما کے لیے ایک ایکس ضروری ہے۔ اس لیے، یہ مرد وزن دونوں کا مشترک اثاثہ ہے۔

۲: وہ جین جو مرد کو تشکیل دیتا ہے اس کاٹھکانا وائے کروموسوم ہے۔

۳: اگر ایک بھی وائے (Y)ہو، تو اس سے ایک انسانی نر کی ساخت واعضا وجود میں آتے ہیں۔

۴: وائے (Y)کی عدم موجودگی، انسانی مادی کی ساخت واعضا کو ظہور پذیر کرتی ہے۔

۵: انسان کے تناسل کی صلاحیت سے متعلق جینز  ایکس اور وائے دونوں پر پائی جاتی ہیں۔ مادہ کو عام طور سے، دو ایکس کروموسومز درکار ہیں قرار حمل کے لیے۔

۵: ایکس کروموسومز جوں جوں بڑھتے ہیں، ذہنی  اور جسمانی نقائص پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔

قرار حمل سے "جنس" بننے تک:

قرار حمل کے بعد، انسانی جنین میں جب تناسلی غدے بنتے ہیں، وہ نر یا مادہ کے ساتھ خاص نہیں ہوتے اور ان میں دونوں میں سے کسی ایک کی طرف جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اس طرح، اس میں نر ومادہ دنوں کی نالیاں وجود میں آتی ہیں۔تقریبا چھ ماہ کے بعد، وائے کروموسوم میں سویا ہوا ایک "جین" جاگتا ہے اور ان غدوں کو خصیوں میں بدلنے کا عمل شروع کرتا ہے۔اور ان خصیوں سے دو قسم کے ہارمونز نکلتے ہیں  جو مادہ  والی نالی کو ختم کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ  جنین "نر" بننا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر یہ "جین" موجود ہی نہ ہو، تو پھر مادہ وجود میں آتی ہے۔اسی اہم ترین جین کو "ایس آر وائے جین" (SRY) کہتے ہیں جیسا کہ  اس  کی طرف اشارہ کلام کے آغاز میں ہوا۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسانی جنس کے تعین میں اس کے علاوہ کوئی دوسری جین کردار ادا نہیں کرتی۔

اس پوری گفتگو سے جو بات واضح ہوئی ہے وہ یہ   کہ:

۱:جینیاتی علم میں انسانی جنس کے تعین میں اس کی ساخت واعضا  ووظائف (Phenotypical Aspects) بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔

۲: نیز  انسانی فینوٹائپ ان کے جینو ٹائپ پرفیصل وحکم ہے۔

۳: تاہم اگرچہ ایک عام مرد میں ایکس وائے اور ایک عام عورت میں ایکس ایکس جنسی کروموسومز ہوتے ہیں، لیکن بعض حالات میں اس کے برعکس بھی ہوتا ہے جیساکہ ہم نے جینیاتی استثنائی مظاہر (سینڈرومز) میں ملاحظہ کیا۔ ہم نے دیکھا کہ نر یا مادہ ہونے کا فیصلہ ظاہری اعضا نے کیا ۔  "ایکس ایکس نر" کی صورت میں ہم نے دیکھا کہ بعض اوقات ظاہری خصائص (فینوٹائپ) اگرچہ جینوٹائپ سے ہم آہنگ نہیں دکھتے، مگر جینوم میں کچھ ایسا موجود ہوتا ہے جو اس عضو کی تشکیل کی تفسیر کرتا ہے اگرچہ ماہرین کو اس کی دریافت میں وقت لگے۔ اس لیے، صرف جینیاتی ڈھانچہ دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی نر ہے یا مادہ۔ بلکہ اصل فیصلہ اعضائے تناسل سے کیا جائے گا۔اور یہی وہی امر ہےجس کی بنیاد پر صدیوں سے لوگ نومولود کی جنس کا فیصلہ کرتے آئے ہیں اور آج بھی اس کا فیصلہ اسی پرہوتا ہے کیونکہ انسان وہی ہے، اس کی ساخت وہی ہے۔ اس میں کوئی ارتقا، کم از کم، معلوم تاریخ میں نہیں ہوا۔

اس آخری نقطے کے لیے ہم  دومثالیں پیش کر کے بات ختم کریں گے۔

۱: انڈیپنڈنٹ میں ایک خبر چھپی جس کی سرخی تھی: "جینیاتی طور سے پچانوے فیصد مرد، عورت نے جڑواں بچوں کو جنم دیا۔"

ان خاتون کی صورت حال یہ تھی کہ ان میں پچانوے فیصد مردانہ کروموسومز تھے۔لیکن ان کی ساخت واعضا بالکل زنانہ تھے۔ خاتون نے ایک مرد سے شادی بھی کی۔ان میں بیضہ دان(ovary) تھا، نہ کبھی حیض آیا۔

اطبا نےاس کے رحم کا علاج معالجہ کر کے  کسی دوسری عوت کا بیضۃ  ان میں رکھا۔ خاتوں کے ہاں، جڑواں پیدا ہوئے۔اور اطبا کو عمل جراحی کرنا پڑا۔

۲: اسی طرح، سپین کی ایک خاتون ماہر ریاضیات جو اولمپکس میں بھی شریک رہیں، اپنے آپ کو عورت سمجھتی تھیں، ساخت واعضا سب کچھ زنانہ ۔ لیکن ایک مرتبہ ایک کھیل میں شرکت کے لیے جب ان کی جانچ ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان میں ایکس وائے کروموسومز ہیں۔اس پر انہیں نا اہل کر دیا گیا کہ  عورت نہیں ہیں ۔اس پر معاشرے میں انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا کہ ایک مرد عورت کا روپ دھار کر اس کھیل میں شریک ہوا۔ تاہم خاتون نے مقدمہ کیا کہ صرف کروموسومز سے جنس کا تعین نہیں ہوتا اور وہ مقدمہ جیت گئیں۔ یہ مثال، بعض نسوی تحریک  والے جنس کی تعیین  کے لیے کوئی واقعی پیمانہ نہ ہونے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ سٹینفرڈ کے انسائیکلوپیڈا میں، "جنس وصنف سے متعلق نسوی تحریک کے نقطہ نظر" پر  موجود مقالے میں اس  پر موجود تبصرہ ملاحظہ کیجیے:

To illustrate further the idea-construction of sex, consider the case of the athlete Maria Patiño. Patiño has female genitalia, has always considered herself to be female and was considered so by others. However, she was discovered to have XY chromosomes and was barred from competing in women's sports (Fausto-Sterling 2000b, 1–3). Patiño's genitalia were at odds with her chromosomes and the latter were taken to determine her sex. Patiño successfully fought to be recognised as a female athlete arguing that her chromosomes alone were not sufficient to not make her female.

مفہوم: جنس کی تصور سازی کیسے ہوتی ہے، اس کی مزید وضاحت کے لیے ماریہ  کی صورت حال ملاحظہ کیجیے جو ایک ایتھلیٹ تھی۔ ماریہ کے اعضائے تناسل زنانہ تھے، اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو مادہ سمجھا۔ اسی طرح دوسروں نے بھی۔تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ اس  کے خلیوں میں ایکس وائے کروموسومز ہیں اور اسے زنانہ کھیلوں میں شرکت سے روک دیا گیا۔ماریہ کے کروموسومز اس کے اعضائے تناسل سے ہم آہنگ نہ تھے اور بنیاد کروموسومز کو بنایا گیا۔پر ماریہ نے اس پابندی کے خلاف مقدمہ اس بنیاد پر جیتا کہ کروموسومز اسے "مادہ" بنانے کے لیے کافی نہیں۔

"سویر ا استثنائی مظہر" (Swyer syndrome):

اسے دراصل " سویر ااستثنائی مظہر "کہتے ہیں۔ابھی ہم نے اوپر دیکھا کہ وائے کروموسومز میں "ایس  آر وائے"جین" موجود ہے جس کا ہونا یا نہ ہونا مرد یا زن ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔چناچہ اس طرح کی صورتوں کا ماہرین نے تجزیہ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ پندرہ فیصد لوگوں میں وہ جین موجود تھا تاہم ان کا وائے کروموسوم بالکل ناکارہ تھا جس کہ وجہ سے صرف "ایکس" نے اپنا کام کیا ، وائے نے اپنا کردار ادا  نہیں کیا اور اس طرح، جنین "مادہ" بن گیا۔تاہم یہ بات اوپر گزری کہ اگرچہ جین میں "ایس آر وائے" کا مرکزی کردار ہے لیکن اس میں دوسرے جینز کا بھی حصہ ہے۔ اس لیے، اس مادہ میں نقائص رہ جاتے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جینز پر مبنی نظریے کی روشنی میں ، یہاں بھی فیصلہ ظاہری اعضا پر ہوا اور تحقیق سے اندازہ ہوا کہ اگرچہ مردانہ کروموسومز موجود ہیں لیکن کالعدم ہیں۔ اور ویسے بھی جب نظریے نے یہ تسلیم کر لیا کہ ظاہری ساخت واعضا  ووظائف (فینو ٹائپ) دراصل جینوٹائپ کے مظاہر ہیں، تو اس کے بعد، اگر کوئی ایسی صورت آتی ہے جس میں یہ ہم آہنگی محسوس نہ ہو، تو آیا نظریہ بدلے گا یا اس کی تفسیر اس چوکھٹے میں ہوگی اور یہ علم ومنہج کے بنیادی مسلمات میں سے ہے۔

اس ساری گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ جینیاتی طور سے بھی اصل بنیاد انسان کے اعضائے تناسل ہیں اور جنس کا فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہو گا۔ اور اگر کسی صورت میں ایک انسان کے جینوم کا ڈھانچہ ایسا آتا ہے جو اس کے ظاہری اعضا وساخت سے بے جوڑ ہو،  تو فیصلہ کن کردار ظاہری اعضا وساخت ہی  ادا کریں گے اور بچے کو نر، مادہ یا خنثی اسی کی بنیاد پرقرار دیا جائے گا۔

اب ہم ، تعیین جنس کے پہلے تین امکانات کی طرف آتے ہیں۔

۱: ظاہری اعضا اور کروموسومز: اس پوری گفتگو میں واضح ہوا کہ انسانی ساخت واعضا ووظائف(فینوٹائپ) اور جینوٹائپ دراصل ایک تصویر کے دو  رخ ہیں۔اسی لیے، ہم نے انہیں اکھٹا ایک عنوان کے تحت کر دیا۔ جینیاتی نظریے کے مطابق ، ہر ظاہری خصوصیت کسی جینیاتی  ہدایت کی عکاس ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ کسی خاص حالت میں  ہم اسے دریافت نہ کر سکیں۔ تاہم کسی انسان میں صرف نر یا صرف مادے کے اعضائے تناسل کا وجود میں آجانا ہی اس بات کی کافی علامت ہے کہ وہ نریا مادہ ہے اگرچہ ہمیں اس کے جینوم میں کوئی استثنائی کیفیت نظر آئے۔اور اگر کسی میں دونوں اعضا کی افرائش ہو  یا ابہام ہو، تو وہ خنثی ہے۔

۲: ہارمونز: اسی گفتگو سے، یہ بھی واضح ہو گیا کہ ہارمونز خود ایک ثانوی امر ہے۔ جینوٹائپ سے فینوٹائپ کی تشکیل میں یہ ایک کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

اس لیے، جینیات کی روشنی میں بھی انسان کی جنس کا تعین اور اس کے خنثی ہونے یا نہ ہونے کی فیصلہ اس کے ظاہری جنسی اعضا اور ان کے وظائف سے وابستہ ہے۔اور اس فن کی علمیت نے بھی کچھ ایسا فراہم نہیں کیا جس کی بنیاد پر جنس کی تعیین کا روایتی پیمانہ متاثر ہو۔بس اس نے انسان  کے ظاہری اعضا ووظائف کے لیے ایک جدید تفسیر فراہم کی۔

اس کے بعد، ہم نفسیات کی بنیاد پر جنس وصنف  کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

 جنس کی تعیین : انسانی نفسیات کی روشنی میں

دراصل یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہمارے اس ماحول میں بحث ہو رہی ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انسانی جنس ، صنف ، جنسی رجحان اور سماجی مظاہر، وسماجی کردار کی، جنہیں روایتی تہذیب نے ایک  ڈور سے باندھ دیا ہے ، گرہ کھول دی جائے۔اس لیے، ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ  جینز، ظاہری اعضا وغیرہ میں سے  ہر ایک پر کچھ سوال اٹھا کر انہیں غیر معتبر شمار کیا جائے اور اس حوالے سے وہ مختلف شاذ واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔ اب جب ان سے یہ سوال ہوتا کہ یہ سب معیارات کالعد م ٹھہرے ،تو جنس آخر طے کیسے ہو گی؟

ان کا دو ٹوک جواب یہ ہوتا ہے کہ جنس  کے طے کرنے سے مقصود جنسی رجحان (Sexual Orientation)، سماجی مظاہر  (Gender Expression)اور سماجی کردار (Gender Role)کو طے کرنا ہے کہ مثلا ایک مرد اپنا جنسی تعلق کس سے قائم کرنا پسند کرتا ہے(جنسی رجحان)، ایک مرد اپنے لیے زنانہ نام پسند کرتا ہے یا مردانہ (سماجی مظہر)، ایک عورت گھر یلو خاتون بننا پسند کرتی ہیں یا  کسی ادارے میں نوکری(سماجی کردار)۔ ان سب امور میں اصل انسان کا اپنا رجحان ہے۔ وہ جس طرف جانا چاہے جائے۔ اس کے بعد، تم کسی کی جنس کو جو بھی سمجھو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔اور یہی اندر کے احساس پر مبنی تصور ہے جسے "صنفی شناخت" (Gender Identity)  کہا جاتاہے۔اسی سے "متبدل صنف " کا تصور وابستہ ہے  جسے ٹرانس جینڈر کہا جاتا ہے (Transgender)۔ یعنی ایک انسان کے ساتھ اس کی پیدائش سے جو صنف جوڑ دی گئی، وہ اس سے مطئمن نہیں، بلکہ اپنے آپ کو دوسری صنف سے وابستہ سمجھتا ہے۔

متبدل صنف (ٹرانس جینڈر) اور "شناخت":

لگے ہاتھ، ہم صنفی شناخت پر بھی تفصیل سے گفتگو کر لیں۔

شناخت دراصل انسان  کا اپنی ذات کے بارے میں تصورو خیال ہے کہ اس کا کس صنف سے تعلق ہے، وہ مرد ہے یا عورت، قطع نظر اس سے کہ وہ اپنے اعضا کے لحاظ سے نر ہے یا مادہ۔جدید مغربی ادییات  میں شناخت کا جنسی رجحان یا سماجی مظاہر سے کوئی لازمی تعلق نہیں ۔ یہ بس کسی انسان کے احساس کا نام ہے۔اس لیے،عمرانیات میں شناخت کو باقی دو سے الگ رکھا جاتا ہے۔

یہی سے علم عمرانیات کے شعبہ جنسیات وصنفیات میں  "متبدل صنف " کا تصور ہے جسے Transgender کہا جاتا ہے۔ یہاں تبدیلی سے مقصود صرف یہ ہے کہ کسی انسان کو بوقت پیدائش میں جو صنف دی گئی، وہ اس سے مطئمن نہیں ۔ لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وہ  اپنے جنسی رجحانات بھی بدل دے۔ اسی طرح، یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ سماجی مظاہر کو بدلے۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ ایسا انسان اپنا لباس تبدیل کر لے۔ مثلا مرد زنانہ لباس پہننے لگے۔ (لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری  ہے ہر لباس تبدیل کرنے والا “متغیر صنف” نہیں ہوتا۔ ایک مرد اپنے آپ کو مرد سمجھتے ہوئے بھی زنانہ لباس اختیارکر سکتا ہے۔  بس اہم بات اس  "دستور "میں  یہ ہے کہ کسی  کے جنسی رجحان  اور صنفی شناخت کے حوالے سے کوئی مفروضہ نہیں قائم کیا جا سکتا ۔ یہ ہر انسان کا ذاتی حق ہے اور وہ اسے کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔)

 چنانچہ   مندرجہ ذیل مثال پر غور کیجیے:

۱: ٹونی پیدائشی طور سے نر ہے۔ لیکن جب وہ بالغ ہوا تو اسے یہ احساس دامن گیر ہوا کہ وہ عورت ہے۔ لیکن اس کا جنسی جھکاو  بھی عورتوں ہی کی طرف ہے۔ اسی طرح، وہ اپنا نام بھی نہیں بدلتا، یہ مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ گفتگو میں اس کے لیے تانیث کی ضمائر برتی جائیں وغیرہ۔ بس اس کے اندر کا احساس ہے۔

۲: نومی پیدائشی طور سے مرد ہے۔ اسے بھی یہ احساس دامن گیر ہوا کہ وہ  عورت ہے۔ اس کا بھی جنسی جھکاو عورتوں ہی کی طرف رہتا ہے۔ تاہم  وہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ سماجی مظاہر میں اس کے ساتھ عورتوں کا سلوک کیا جائے۔ وہ اپنا نام نومی سے عینی کردیتا ہے۔ اپنے لیے، مونث کی ضمائر استعمال کروانا پسند کرتا ہے۔اب روایتی نقطہ نظر سے یہ مخالف جنس رجحان کا حامل ہے (Heterosexual)  لیکن اپنے احساس کے تحت وہ موافق جنس رجحان (Homosexual) والا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ خنثی (Intersex)اور متغیر جنس (Transgender) متبادل اصطلاحات نہیں۔

خنثی اور متغیر صنف میں فرق:

خنثی سے مقصودطبی اصطلاح میں  وہ لوگ ہیں جن کے جنسی خصائص، نظام تولید، ہورمونز، یا کروموسومز نہ خالص مردانہ ہوتے ہیں نہ خالص زنانہ، روایتی تناظر میں۔[روایتی تناظر اس وجہ سے کہا کہ ٹرانس سے متعلقات تحریکات اسے ہی ختم کرنا چاہتی ہیں کہ کسی کو معیار بنا کر دوسرے کو اس پر پرکھا جائے۔]

چنانچہ کئی متغیر جنس لوگ ایسے ہیں جو خنثی نہیں ہوتے۔ اور کئی خنثی اپنے آپ کو  متغیر جنس (Transgender)شمار نہیں کرتے۔اسی طرح، اسی حوالے سے بھی اختلاف ہے کہ آیا خنثی کو ایل جی بی ٹی (LGBT)  میں شمولیت کرنی چاہیے یا نہیں۔چناچہ عمرانیات کی ایک مشہور نصابی کتاب میں آتا ہے جسے  اوپن سٹیک نے متعدد اساتذہ  فن کے اشتراک سے شائع کیا:

Intersex and transgender are not interchangeable terms; many transgender people have no intersex traits, and many intersex people do not consider themselves transgender. Some intersex people believe that intersex people should be included within the LGBTQ community, while others do not.

ترجمہ:خنثی اور متبدل صنف دو الگ الگ اصطلاحات ہیں، ہر موقع پر ، ایک دوسرے کی جگی نہیں لے سکتی۔ کئی ٹرانس لوگوں میں خنثی کی خصوصیات نہیں ہوتیں اور کئی خنثی اپنے آپ کو ٹرانس نہیں گردانتے۔ نیز خنثی برادری کے کچھ لوگوں کاخیا ل ہے کہ انہیں   ایل جی بی ٹی کیو(LGBTQ) میں شامل کیا جانا چاہیے جبکہ دوسرے ایسا نہیں سمجھتے۔۱۲

ایل جی بی ٹی کیو دراصل جنسی رجحانات (Sexual Orientation)کے حوالے سے استعمال کیا جانے والا مخفف ہے جو مخصوص جنسی رجحانات کے حامل لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے استعمال کرتے ہیں:

۱: ایل(L): وہ عورت  جو عورت کی طرف جنسی جھکاو رکھے۔

۲: جی(G): وہ مرد جو مرد کی طرف جنسی جھکاو رکھے۔

۳: بی (B): وہ انسان جو دونوں جنسوں کی طرف جھکاو رکھے

۴: ٹی(T): متبدل صنف یعنی ٹرانس جینڈر

۵: کیو (Q): یہ ایک عام لفظ ہے جس سے مقصود "سماج کے مارےہوئے "  ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے  جو روایتی صنفی وجنسی رجحانات سے ہم آہنگ نہیں تاہم وہ اوپر کے چاروں میں بھی نہیں سماتے۔ اس لیے، اس سے اشارہ عجیب وغریب (Queer)کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور "پوچھنے" (Questioning) کی طرف بھی کہ خود سے کچھ فرض کرنے کے بجائے پوچھ لیا جائے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں جنسی شناخت کے حوالے سے آتا ہے:

gender identity, an individual’s self-conception as a man or woman or as a boy or girl or as some combination of man/boy and woman/girl or as someone fluctuating between man/boy and woman/girl or as someone outside those categories altogether. It is distinguished from actual biological sex—i.e., male or female. For most persons, gender identity and biological sex correspond in the conventional way. Some individuals, however, experience little or no connection between sex and gender; among transgender persons, for example, biological sexual characteristics are distinct and unambiguous, but the affected person identifies with the gender conventionally associated with the opposite sex.

ترجمہ:صنفی شناخت ایک انسان کا اپنے حوالےسے ذاتی تصور ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ، مرد ہے یا عورت، یا انکے بیچ میں کہیں یا وہ بالکل ان تصورات میں آتا ہی نہیں۔ صنفی شناخت حیاتیاتی جنس  نر ومادہ سےجداگانہ تصور ہے۔ عام طور سے، صنفی شناخت اور جنس  ہم آہنگ ہوتے ہیں۔تاہم کچھ افراد کو اپنی صنفی شناخت اور جنسی شناخت    کے درمیان  تعلق بالکل یا بڑی حد تک اپرا اور اجنبی لگتا ہے۔مثلا ٹرانس اشخاص میں حیاتیاتی جنسی خصائص بالکل واضح اور غیر مبہم ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود متاثرہ شخص اپنے آپ کو جنس مخالف سے وابستہ صنف سے وابستہ کرتا ہے۔

بریٹینکا کا یہ اقتباس بہت حد تک واضح کر دیتا ہے کہ کیسے صنف کو جدید ادبیات میں ایک مسلسل اور مائل بہ سیلان (Fluid)  تصور ہے۔ اور اسی طرح، جنس کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے، اس سلسلہ تحریر کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ جنس وصنف کا روایتی تصور دوٹوک دوئی پر مبنی ہے۔

متغیر صنف کے آثار:

تاہم "متغیر صنف" کے لیے اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی جنس،  سماجی مظاہر میں تبدیلی کروائے کہ یہ محض ایک احساس کا نام ہے، لیکن ان میں کئی ایسے ہیں جو یہ تبدیلی کرواتے ہیں۔اور ان تبدیلیوں کو تین  حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے:

۱: طبی: اس میں ظاہری اعضا کی تبدیلی، اسی طرح جنسی خصائص کی تبدیلی شامل ہے۔ مثلا بعض مرد اپنا عضو تناسل کٹوا کر اندام نہانی بنوا لیتے ہیں۔(Neovagina Creation)

۲: قانونی تبدیلی۔

۳: سماجی:اس میں نام، ضمائر کا استعمال ،رشتے خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ رشتے  سے مقصود یہ ہے کہ ایک شادی شدہ مرد کو  یہ احساس دامن گیر ہوا کہ وہ عورت ہے اور اس نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر کے خود کسی دوسرے کی بیوی بننا پسند کیا۔

چونکہ یہاں بنیاد انسانی احساس وشعور ہے، اس لیے یہ بحث "علم نفسیات" سے جڑتی ہے جو سماجی علوم کی ایک شاخ ہے۔ سماجی علوم میں منہج کے حوالے سے بحث  معروف ہے کہ کیا انسان کے مطالعے کے لیے وہی منہج برتا جا سکتا ہے جو ارادے سے عاری مادے کے مطالعے کے لیے برتا جاتا ہے ؟ تاہم اس وقت جن تحقیقات پر پیسہ صرف ہوتا ہے و ہ اسی منہج کو استعمال کرتی ہیں۔

متغیر صنف کے احساس کی سماجی وقانونی معنویت:

ہم بات آگے بڑھانے سے پہلے، ایک مرتبہ پھر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان کی "جنس یا صنف" کا تعین، ایک معاشرے کا یا قانون کا ایسا کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

ظاہر ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے اندر کوئی احساس رکھتا ہے، تو دوسرا انسان، سماج یا قانون اسےکچھ نہیں کہتا؟ یہ اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے۔ اسی وجہ سے اب تک ہم جنس، صنف، جنسی رجحان، سماجی مظاہر اور سماجی کردار کی بات کرتے آئے ہیں لیکن "صنفی شناخت " کو اس فہرست میں نہیں لائے کیونکہ انسان میں ابھرنے والا نرا احساس ایسا نہیں کہ اس پر شریعت کوئی حکم لگائے جب کہ انسان خود اس کی آبیاری نہ کر رہا ہو۔اسی طرح، جہاں انسان کسی احساس کو پکا رہا ہے، وہاں بھی فرد  کی ذات سے متعلق یہ سوال  کسی دوسرے کے لیے اس  وقت معنی خیز ہوتا ہے جب وہ سماجی مظہر بنتا ہے، اس کا ظہور کسی عمل  سے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے، ایک انسان کی جنس وصنف کا سوال  غیر کے لیے ، مندرجہ ذیل وجوہ سے اہمیت اختیار کرتا ہے: جنسی تعلق قائم کرنا، شادی بیاہ میں بندھنا، معاشرتی کردار ادا کرنا، معاشرتی مظاہر وغیرہ۔اور سوال کچھ یوں بنتا ہے کہ کیا انسانی جذبات واحساسات اور اس کے جبلی رجحانات ان افعال کو جواز بخشنے کے لیے کافی ہیں؟ کیا کسی مرد کا مرد کی طرف رجحان یا زن کا زن کی طرف صرف اس وجہ سے سند جواز یافتہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایسے کیمیائی تفاعلات جنم لے رہے ہیں، جو اسے ان چیزوں پر ابھار رہے ہیں؟

انسانی نفسیات اور اخلاقی ذمے داری:

 اس کے لیے، آپ اس پر غور کیجیے کہ بچے سے زیادتی کرنے کا عادی اور سلسلاتی قاتل (سیریل کلر) کی ذہنی حالت ایسی ہوتی ہے کہ اگر پہلا کسی سے بھی جنسی تعلق قائم کر لیے اسے قرار نہیں آتا جب تک کسی بچے کا شکار نہ کرے اوردوسراجسے بھی قتل کر لے جب تک وہ اپنے طے کیے ہوئے پیمانے کے مطابق قتل نہیں کرتا، تو بے چین رہتا ہے۔ اب طبی آلات کی ترقی کے بعد، ہم کسی بھی انسان کی ایم آر آئی(MRI)  کر کے اس کے ذہن کی ساخت کی تصویر کشی کر سکتے ہیں اور "ایف ایم آر آئی "(FMRI) کے ذریعے  سے، اس کے ذہن کے مختلف حصوں میں جاری  کیمیائی تفاعلات اور توانائی بننے کا عمل (میٹابولزم) دیکھا جا سکتاہے۔ بلاشبہ، اگر ان دونوں کے دماغوں کی تصویریں لی جائیں، تو وہ ایک نامرد سے اور اس مسکین سے جس کے دل  میں مرغی کو ذبح کرنے کے تصور سے ہول اٹھتے ہیں، بہت مختلف ہوگا۔ اور سائنسی مجلا ت میں اس طرح کی مختلف تحقیقات چھپتی رہتی ہیں.مثلا "سائنٹفک امریکا"  میں ایک مضمون اس  موضوع پر چھپا کہ  آیا "ایم آر ائی "کے ذریعے سے کسی انسان کی بابت یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر (دو سے دس سال تک کے )بچوں کی طرف جنسی رجحان ہے تا کہ بچوں کو اس کی پہنچ سے دور رکھاجا سکے؟  یہ ایک بالکل ابتدائی  ناپختہ تحقیق ہے اور اس پر اخلاقی وقانونی سوالات بھی ہیں۔ تاہم یہاں اس کا حوالہ دینے کی وجہ مضمون نگارکا، جس کی تحقیق کا میدان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے  ہیں، مندرجہ ذیل تبصرہ ہے:

Despite the fact that sexual interest in children was once believed to be the result of sexual abuse in childhood, current research suggests that pedophilia is biological as opposed to learned, and apparently immutable due to associated differences in brain structure and function. Furthermore, a recent fMRI study showed that non-offending pedophiles have greater inhibitory control than pedophiles who have offended, which likely explains why some are more successful in avoiding abusing a child.

ترجمہ:اگرچہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ بچوں کی طرف  جنسی رجحان رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے رجحان کے حامل  انسان کے ساتھ خود بچپن میں یہ سانحہ پیش آیا،  تاہم جدید تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان رجحانات  کی بنیاد حیاتیاتی وعضویاتی ہے، نہ کہ تجربہ جس سے وہ گزرتا ہے۔ نیز  ذہنی ساخت اور اس کے عمل میں جو فرق ہے ان کی وجہ سے، بظاہر یہ میلان بدلا نہیں جا سکتا ۔مزید بر آں، ایک قریب کی "ایف ایم آر ائی "پر مبنی تحقیق سے یہ سامنے آیا کہ ان جذبات کے حامل غیر جارحانہ   لوگوں کو اپنے آپ پر قابو ان سے زیادہ ہوتا ہے جن کی طبیعت میں جارحیت ہو، اور غالبا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیوں بعض ایسے رجحان مند لوگ (اس کے تقاضے پر عمل کر کے) بچے سے زیادتی سے باز رہتے ہیں۔

اسی طرح، علم اعصاب وعلم جرمیات کے امتزاج سے  پھوٹنے والی شاخ "عصبی جرمیات" (نیوروکرائمولوجی) میں جرم اور مجرم کی ذہنی ساخت پر بہت تحقیق ہو رہی ہے۔نیز ان تحقیقات کی بنیاد پر عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو رہی ہے، عدالتوں پر دباو  پڑ رہا ہے۔ ہم اس کی مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ مقصود صرف اشارہ ہے۔

ا ب سوال یہ ہے کہ کیا انسانی ذہن اور اس میں جاری کیمیائی عمل  کسی فعل  کے جواز کے لیے کافی ہے؟

یہاں واضح رہے کہ ہمارا مقصود یہ نہیں کہ انسان کی "اہلیت ادا "کا فقہی وقانونی فیصلے پر اثر نہیں پڑتا۔ بلاشبہ پڑتا ہے۔ چنانچہ مجنوں کے فعل کے احکام الگ ہیں۔ اسی طرح، اگر کسی نے اتنے شدید غصے میں طلاق دی کہ اس حالت کے ڈانڈے جنون سے جا ملتے ہوں، تو اس طلاق کا حکم الگ ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہ ثابت ہوجانا کہ بعض لوگوں کے دماغ  کا کسی فعل سے ہم آہنگ ہے اور ان کا رجحان اس طرف پایا جاتا ہے، اس فعل کو "جرم" کی فہرست ہی سے نکال دے گا؟ظاہر ہے شاید ہی کوئی اس کا جواب اثبات میں دے۔ اب اس پر سوال یہ اٹھے گا کہ پھر کس "فعل "  کو جرم مانا جائے اور کسے نہیں؟ ہمارا جواب واضح ہے کہ یہ "تہذیبی قدر " کا سوال ہے۔یہ سائنس کا سوال ہی نہیں جس کا دعوی ہے کہ وہ صرف بیان پر اکتفا کرتی ہے، معیار ی حکم نہیں لگاتی۔

انسانی نفسیات اور انسانی ارادہ:

یہاں پڑھنے والوں کو اندازہ ہوگیا ہو گا کہ یہ بحث دراصل "انسانی ارادے" سے جا ملتی ہے کہ کیا واقعی انسان میں کوئی ارادہ بھی ہے یا نہیں۔ اور پھر اخلاق وقانون کے وجود ہی پر سوال اٹھے گا۔ اس حوالے سے، سماجی علوم میں تحقیق جاری ہے اور جرگہ ابھی بھی بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ یہ علوم کچھ بھی ثابت کر دیں اور خواہ کتنے ہی تجرباتی ثبوت لے آئیں، جب وہ "چاہیے" کا جملہ تشکیل دیں گے اور "قدر" کا سوال اٹھائیں گے، تو اس وقت وہ کچھ بھی کر رہے ہوں، پر "سائنس " کی حدود سے نکل چکے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نوم چومسکی نے ، اپنے مخصوص  انداز میں، اس طرح کی تحقیقات پر بڑا دلچسپ تبصرہ کیا  جب ان سے کسی نے یہی سوال پوچھا کہ جدید اعصاب وغیرہ کی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے ذہن میں اس کا عمل غیر شعوری طور سے طے ہوچکا ہوتا ہے۔ اس کا یہ سوچنا کہ وہ باارادہ ہے ایک دھوکا ہے۔ چومسکی کا کہنا تھا کہ یہ سب تحقیقات بہت اچھی ہے لیکن یہ ہمیں اس موضوع سے متعلق کچھ نہیں بتاتیں۔ ہم میں ارادہ ہے اور ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ لیکن اسے ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں۔چومسکی نے ولیم جیمز کی طرف سے نقل کیا کہ جو لوگ انسانی ارادے کو مانتے ہی نہیں، تو یہ دلائل کیوں دے رہے ہیں؟! ان کے نظریے کے مطابق ماننے والے ماننے پر مجبور ہیں۔ ان کے مخالفین بھی نہ ماننے پر مجبور ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ وہ بیٹھ کر کوئی تفریحی پروگرام دیکھ لیں۔ (یہ محض ایک مزاح تھا۔ جس میں اصل بنیاد یہ تھی کہ اگر واقعی انسان میں اپنا ارادہ نہیں، تو کسی انسان کو دلائل کی بنیاد پر قائل کرنا ایک بے معنی عمل ہے کیونکہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو قائل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسرے کو ذی ارادہ مانتے ہیں)

یہاں پھر واضح کرتا چلوں کہ مقصود یہ نہیں کہ ارادہ ہے یا نہیں۔ مقصود یہ ہے کہ جب انسانی ارادے کا فیصلہ یہ فنون نہیں کر سکتے اور ہم کسی بنیاد پر اسے مانتے ہیں، تو ان علوم سے جو بھی تحقیقات یا ، صحیح الفاظ میں  ، تخمینیں سامنے آتے ہیں، وہ ہماری اقدار کے حوالے سے کوئی خاص رہنمائی نہیں کر سکتے۔

اس لیے، جرگہ اگرچہ بیٹھا ہوا ہے، لیکن کیا اسے حق سماعت بھی ہے؟! ہمارا جواب نفی میں ہے۔ انسانی صنف اور سماجی کردار کا فیصلہ نفسیات اور ذاتی رجحان پر نہیں چھوڑا جا سکتا!

(جاری)


پیغامِ پاکستان اور میثاقِ وحدت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ روز ادارہ تحقیقاتِ اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیراہتمام ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے حوالے سے منعقد ہونے والے قومی سیمینار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور مختلف مکاتبِ فکر کے بزرگوں اور دوستوں کے ساتھ ملاقات کے علاوہ ایک قومی فریضہ کی ادائیگی میں شریک ہونے کا موقع بھی مل گیا، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔

قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کا اس پر اجماع چلا آ رہا ہے کہ پاکستان میں اس کے مقصدِ قیام کے مطابق شریعتِ اسلامیہ کا مکمل اور عملی نفاذ ناگزیر مِلّی تقاضہ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جس کی دستورِ پاکستان میں بھی صراحت موجود ہے، مگر اس کے لیے کسی مسلح جدوجہد کی بجائے پُرامن سیاسی جدوجہد اور جمہوری عمل ہی واحد راستہ ہے جس پر اب تک مجموعی طور پر عمل ہو رہا ہے۔ جہادِ افغانستان کے نتیجے میں افغانستان سے سوویت یونین کی پسپائی کے بعد پاکستان کے کچھ حلقوں میں یہ تصور ابھرا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے بھی مسلح راستہ اختیار کرنا چاہیے مگر ملک کے جمہور علماء نے اسے قبول نہیں کیا اور اس عمل کو خروج اور بغاوت قرار دیتے ہوئے ایسا کرنے والوں سے دوٹوک طور پر کہا کہ نفاذِ شریعت کے لیے ان کا جذبہ، قربانی اور محنت قابلِ قدر ہے مگر مسلح جدوجہد کا طریق کار قطعی طور پر غلط اور غیر شرعی ہے، جس کا اظہار چند سال قبل ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک متفقہ قومی دستاویز کی صورت میں کر دیا گیا۔ مگر اس کے بعد بھی مختلف اطراف سے اس کے بارے میں شکوک و شبہات اور تحفظات ابھی تک سامنے لائے جا رہے ہیں اس لیے اس امر کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ اس ’’قومی موقف‘‘ کا ایک بار پھر اظہار کیا جائے۔ چنانچہ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی نے ۲۳ جنوری کو فیصل مسجد اسلام آباد کے علامہ اقبال آڈیٹوریم میں اس کا اہتمام کیا جس کی کاروائی اور تفصیلات مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آ چکی ہیں۔ اس بروقت اقدام پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بالخصوص ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اور اس کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء الحق شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں۔

کانفرنس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کا خطاب اس اجتماع کا حاصل اور علماء پاکستان کے دوٹوک موقف کا اظہار تھا، جبکہ اس کے ساتھ مولانا مفتی منیب الرحمٰن، مولانا مفتی عبد الرحیم، مولانا پروفیسر ساجد میر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، اور مولانا قاضی نیاز حسین نقوی کے خطابات اس مسئلہ پر امت کی وحدت او رہم آہنگی کی واضح علامت تھے۔ راقم الحروف نے بھی چند گزارشات پیش کیں اور آج کے اہم ترین قومی و مِلی تقاضے کی بروقت تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اس موقع پر اس موقف کے بارے میں تحفظات و اشکالات کا اظہار کرنے والے دوستوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ موقف آج کا نہیں بلکہ یہ ہمارے ماضی اور دینی جدوجہد کے تسلسل کا ایک اہم باب ہے جس کے لیے اس تاریخی حقیقت کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ مسلم حکمرانوں سے مختلف ادوار میں علماء امت کو شکایات رہی ہیں جن کا کھلم کھلا اظہار کیا گیا ہے، احتجاج و اضطراب کی مختلف صورتیں اختیار کی گئی ہیں، اور مسلم حکمرانوں کو اپنے غلط فیصلوں اور طرزِ عمل سے رجوع بھی کرنا پڑا ہے، مگر ہمارے اسلاف و اکابر نے یہ سارے کام ہتھیار اٹھائے بغیر کیے ہیں اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے منکرات و فواحش کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ اکبر بادشاہ کے نام نہاد دینِ الٰہی اور شریعت میں اس کی تحریفات سے بڑے ’’منکر‘‘ کا سامنا شاید کسی اور دور میں امت کو نہ کرنا پڑا ہو، اس کا مقابلہ علماء امت نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں پوری جرات کے ساتھ کیا اور مغل بادشاہت کو بالآخر اس نام نہاد ’’دینِ الٰہی‘‘ سے دستبرداری اختیار کرنا پڑی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اس دور میں شریعت کی عملداری کو وقت کی سب سے بڑی دینی ضرورت قرار دیا اور اسے سب سے بڑی عبادت بتایا مگر ہتھیار اٹھائے بغیر اس مہم کو سر کیا اور اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔

ہمارے اکابر نے جہاد اور بغاوت کا فتوٰی ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط کے بعد غیر ملکی حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دیا تھا جیسا کہ افغانستان میں روسی فوجوں کے تسلط اور پھر امریکی فوجوں کی یلغار کے موقع پر علماء افغانستان نے جہاد کا فتوٰی دیا اور مسلح جنگ لڑی جو بلاشبہ جہاد تھی۔ پاکستان کے علماء کرام نے بھی اس کی تائید کی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح ہزاروں پاکستانیوں نے عملاً اس جہاد میں شریک ہو کر یہ مقدس فریضہ سرانجام دیا۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کروں گا کہ میں نے خود اس جہاد میں مختلف حوالوں سے شرکت کی ہے اور جہادی مراکز کے علاوہ مورچوں میں بھی وقت گزارا ہے جسے اپنے لیے باعثِ نجات سمجھتا ہوں، مگر غیرملکی قوتوں کے خلاف جہاد پر کسی مسلم ریاست کے اندر مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو قیاس نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ ہمارے اکابر و اسلاف کی روایت رہی ہے۔

اس لیے تمام متعلقہ دوستوں سے ایک بار پھر گزارش ہے کہ وہ اپنے موقف اور طرزعمل پر نظرثانی کریں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’علماء پاکستان‘‘ کے اس اجماع و اتفاق کا احترام کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو دستورِ پاکستان کے دائرے میں لے آئیں، یہی آج کے دور کا شرعی اور دینی تقاضہ ہے جو پاکستان کے تمام اہلِ دین کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وحدت، سلامتی، استحکام، اسلامی تشخص، اور شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ و ترویج کے لیے صحیح رخ پر محنت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

پیغامِ پاکستان میثاقِ وحدت

آج کے اس اجتماع میں پاکستان بھر سے ان جید اور مستند علماء کرام اور مشائخ عظام نے شرکت کی جن کی اکثریت نے ”پیغام پاکستان“ کے قومی بیانیے کو جاری کیا تھا۔ دینی قیادت کے اس اجتماع نے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے، قومی وحدت اور وطن عزیز کی سالمیت کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت انگیزی جیسے چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے، 16 جنوری،2018ء کو جاری کردہ قومی بیانیہ اور فتوی ”پیغام پاکستان“ کے تسلسل میں حسب ذیل اعلامیہ جاری کیا۔

  1. پاکستان بھر کے تمام مسالک کے نمائندہ علماء و مشائخ کا یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ ”پیغام پاکستان“ جو کہ 16جنوری،2018ء کو ایوان صدر سے جو قومی بیانیہ جاری ہو ا تھا وہ قرآن و سنت، دستور پاکستان اور پاکستان قوم کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، یہ بیانیہ ہمارے مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسا عملی لائحہ عمل پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے نہ صرف قیام پاکستان کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں بلکہ پاکستان میں ایک ایسا مضبوط، متحد اسلامی اور جمہوری معاشرہ قیام کیا جاسکتا ہے جو اسلامی تہذیب و تمدن کی روحانیت، عدل و انصاف، مساوات، اخوت، باہمی رواداری و برداشت اور حقوق و فرائض میں توازن جیسی خصوصیت سے ہی مزین ہو۔ اس بیانیہ پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس کروایاجائے اور پورے ملک میں بطور پالیسی نافذ کیا جائے۔
  2. علماء کا یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ کسی بھی نام نہاد دلیل کی بنا پر اسلامی جمہوری پاکستان کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار درست نہیں۔ لہذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت، فوج یا دوسری سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی شریعت و قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم قرار پاتا ہے۔
  3. علماء کرام اور مشائخ عظام کا یہ نمائندہ اجتماع سمجھتا ہے کہ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنارہاہے،قطعی حرام ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔یہ ریاست ملک و قوم اور وطن عزیز کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لیے جو آپریشن کیے تھے اورقومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا تھا وہ درست ہے اور اس پر عمل درآمد جاری رکھنا چاہیے، مزید یہ کہ اگر دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مزید اس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہو تو وہ بھی کیے جائیں۔
  4. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کرام اور مشائخ عظام سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست، مسلح افواج، پولیس، امن و امان قائم کرنے والے تمام اداروں اور عوام الناس کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم قومی بقاء کی اس جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستان کے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
  5. یہ اجتماع پیغام پاکستان کی تجدید کرتے ہوئے یہ عہد دہراتا ہے کہ لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی شناختوں کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروف عمل ہیں، یہ سب شرعی احکامات کی مخالفت کر رہےہیں ، لہذار یاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام گروہوں کے خلاف ایسی بھرپور کارروائی کی جائےجس کے بعد یہ لوگ پھر سے سر نہ اٹھا سکیں، نیز ان گروہوں کے سدباب کے لیے فوری، دیرپا،پائیدار اور سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہییں۔
  6. علماء کرام اور مشائخ عظام کا یہ نمائندہ اجتماع یہ سمجھتا ہے کہ طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالفت اور فساد فی الارض ہے، نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک سنگین جرم ہے لہذا اس قسم کے رویوں کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جانا چاہیے اور ان کا سد باب کرنے کے لیے تزویراتی، اقدامی، دفاعی، سماجی اور اقتصادی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
  7. علمائے مشائخ کا یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ دہشت گرد اور فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے نام نہاد جہاد کےنام پر بھتہ خوری شریعت و قانون کی شدید خلاف ورزی اور سنگین جرم ہے جس سے ہمارے معاشرے میں کاروباری سرگرمی متاثر ہو رہی ہیں، اس لیے امن و امان قائم کرنے والے اداروں کو ان جرائم کے خلاف سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
  8. وطن عزیز میں قائم تمام درسگاہوں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے۔ ملک کی تمام سرکاری ونجی درسگاہوں کا کسی نوعیت کی عسکریت (militancy)، نفرت انگیزی (hatred)، انتہا پسند کی (extremism)، تشدد پسندی (violence) اور علاقائیت پرستی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ پیغام پاکستان جاری کرنے کے بعد اس ضمن میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب تعلیمی اداروں میں نسبتاً امن و امان کی صورت حال بہتر ہے۔ یہ اجتماع سفارش کرتا ہے کہ اس قسم کے مضر اثرات سے نوجوانوں کو بچانے کے لیے پیغام پاکستان کی روشنی میں بھر پور کوششیں جاری رکھی جانی چاہییں۔
  9. دہشت گردی اور نفرت انگیزی کا فکری رحجان(Mindset)ہماری معاشرتی امن کا دشمن ہے۔ اس رجحان کے خلاف فکری جد وجہد تمام اداروں اور افراد کی قومی ذمہ داری ہے۔
  10. اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارے کے خلاف اہانت ، نفرت انگیزی اور اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر غیر اسلامی اور غیر قانونی عمل ہے اس جرم کے ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرناضروری ہے۔
  11. مسلمانوں میں مسالک و مکاتب فکر قرون اولی سے چلے آرہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گے ،یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں ان کو عوام الناس میں انتشار اور تفرقہ بازی کے لیے استعمال کرنادینی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
  12. پاکستان علماء و مشائخ کا یہ اجتماع محسوس کرتا ہے کہ دوسرے ممالک میں موجود کچھ نام نہاد علماء کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف سرگرم عمل دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے اور اقدامات کی حمایت میں اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے خلاف ایسے بیانات دیے گئے ہیں جو شرعی احکام اور بین الا قوامی قانون کے صریحاً خلاف ورزی ہیں، چنانچہ پاکستانی علماء و مشائخ کا یہ نمائندہ اجتماع اس غیر ذمہ دارانہ عمل کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس قسم کے غیر شرعی اور غیر قانونی عمل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
  13. چند روز قبل سویڈن میں ایک انتہا پسند کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے اور شرمناک فعل سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، جس کی مذمت کے لیےالفاظ ناکافی ہیں۔ آزادی اظہار کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی آزادی نہیں دی جاسکتی۔ حکومت پاکستان اور انسانی حقوق کے علمبردار ایسے نفرت انگیز عمل کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔
  14. سوشل میڈیا کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی استعمال کی وجہ سے ہماری سماجی اقدار کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا کو وطن دشمنی، فرقہ پرستی، تشدد، نفرت انگیزی اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جانے چاہیے۔ پیغام پاکستان سے متعلقہ سر گرمیوں کے ذریعے عوام الناس خاص طور پر نوجوانوں کی ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت کی جانی چاہیے۔

(مؤرخہ 23 جنوری، 2023ء، ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، فیصل مسجد، اسلام آباد)

مولانا گیلانی اور شیخ اکبر ابن عربی (۱)

مولانا طلحہ نعمت ندوی

یہ عنوان مختصر ہے لیکن تہ دار اور وسیع المعانی، ایک طرف شیخ اکبر ابن عربی کی جامع ومعرکہ آرا شخصیت، ایک طرف بر صغیر کے نامور عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی، جنہیں خود ان کے رفیق دیرینہ مولانا عبدالباری ندوی نے وقت کاابن عربی قرار دیا تھا، وہ ابن عربی کے عاشق تھے بلکہ عاشق زار، ان کے ذکر پر بے اختیار ہوجاتے، جب جب نام سنتے یا ان کے انتساب سے کسی کا نام ان کے کانوں میں پڑتا تو پھڑک اٹھتے، کاش کہ ان کے سدا بہار وپرفیض قلم سے ابن عربی کے احوال وافکار اور ان کے خیالات وآراء کی توضیح مرتب شکل میں ہوگئی ہوتی، ابن عربی پر اس دور میں برصغیر میں جیسا مطالعہ مولانا کا تھا شاید ہی کسی کا رہا ہوگا۔

اگرچہ ابن عربی کے حوالہ سے ہندوستان بالکل تہی مایہ نہیں رہا ہے، ان کے ابتدائی دور ہی سے ان کے افکارکی خوشبو اس ملک میں آنے لگی تھی، چشتیہ اور قادریہ سلاسل کے اولین بزرگوں میں تو نہیں لیکن اس کے معاً بعد آٹھویں، نویں صدی ہجری میں ان کے افکار یہاں کے صوفیہ کا موضوع بحث بننے لگے تھے، حضرت سید علی ہمدانی اور مخدوم جہانگیر اشرف سمنانی، شیخ ابوالمحاسن شرف الدین دہلوی اور سید محمد گیسو دراز نے ان کو باضابطہ یہاں متعارف کرایا، ان کے آراحضرت مخدوم الملک شرف الدین احمد بن یحییٰ منیری کے یہاں تو ان کا ذکر نہیں ملتا لیکن ان کے سلسلہ کے تیسرے بزرگ اور خلیفۃ الخلیفہ حضرت حسین بن معز بلخی معروف بہ حسین نوشہ توحید نے اپنی تحریروں میں جو کچھ لکھا ہے وہ گرچہ نام نہیں لیتے لیکن ان کے افکار حضرت ابن عربی ہی کے خیالات کا عکس نظر آتے ہیں، بالخصوص جو کچھ انہوں نے اپنی کتاب حضرات خمس میں لکھا ہے، وہ اس باب میں قابل ذکرہے۔ البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے شیخ حضرت مظفر شمس بلخی کے ساتھ حجاز میں بھی ایک عرصہ گذارا تھا، لیکن ان کی تحریروں میں ابن عربی کا نام کہیں نظر نہیں آتا۔1

ان کے بعد شیخ محب اللہ الہ آبادی اس ملک میں ابن عربی کے سب سے بڑے ترجمان تھے، پھر تو ایک بڑی تعداد نظرآتی ہے جس نے فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کی شرح وتوضیح میں اپنا زور قلم اور قوت ذہن صرف کی ہے۔2

مولانا گیلانی کو ابن عربی سے ان کے دور آغاز ہی سے دلچسپی ہوگئی تھی اور وہ ان کی کتابوں اور تحریروں کا مطالعہ کرنے لگے تھے، اس مطالعہ کا محرک کیا ہوا، اس کا پتہ تو نہیں چلتا نہ مولانا کی کسی تحریرمیں اس کا اشارہ ملتا ہے، ا لبتہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے محبوب استاد علامہ انور شاہ کشمیری جن کی نظر دیگر مصنفین اسلام کے ساتھ ابن عربی پر بھی بہت گہری تھی، ان کی صحبت اور علمی استفادہ اور ابن عربی کے تذکرہ نے ان میں یہ ذوق پیدا کیا ہو، مولانا لکھتے ہیں:

’’بہ ظاہر تصوف اور صوفیا کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ اس طبقہ اوران کے علوم ومعارف سے شاہ صاحب کو شاید چنداں دلچسپی نہیں، لیکن وہی بھولے بسرے خیالات جو دماغ میں رہ گئے ہیں ان ہی میں سےدو باتیں میرے اندراس طرح جاگزیں ہوگئی ہیں، کہ تصوف کے نظری وعملی دونوں حصوں کے متعلق بعد کو جو کچھ بھی اس فقیر نے سوچا یا سمجھا زیادہ تر ان ہی دونوں کی روشنی میں سمجھا اور سوچا‘‘۔

پھر وحدت الوجود کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

’’حادث (یعنی کائنات ومخلوقات ) کا قدیم (یعنی خالق جل مجدہ )سے کیا تعلق ہے، شاہ صاحب کے الفاظ میں ربط الحادث بالقدیم، یہی عنوان قائم کرکے اس سلسلہ میں کچھ فرماتے تھے، یہی تصوف کے نظری حصہ کا بنیادی واساسی مسئلہ تھا، پہلی دفعہ شاہ صاحب نے اس مغالطہ کا ازالہ فرمایا کہ عوام الناس خالق ومخلوق کے تعلقات کو صانع ومصنوع یا معمار ومکان کی مثال سے سمجھنا چاہتے ہیں، مصنوع اپنے باقی رہنے میں چوں کہ صانع کا محتاج نہیں رہتا، یعنی مکان کو مثلا بن جانے کے بعد معمار کی ضرورت باقی نہیں رہتی، عوام کی سمجھ میں صحیح طور پر اس لئے نہیں آتا کہ پیدائش میں تو عالم خدا کا محتاج ہےلیکن پیدا ہوجانے کے بعد عالم کو اپنی بقا میں خدا کی کیا ضرورت ہے، صوفیہ اسی وسوسہ کا ازالہ اپنے اس نظریہ سے کرتے ہیں، جو وحدت الوجود وغیرہ ناموں سے مشہور ہے، اور نہ جاننے والوں نے مشہور کررکھا ہے کہ صوفیہ وحدت الوجود کے جو قائل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان وحدت الوجود پر ہے، یعنی سارے موجودات ایک ہیں، حالاں کہ’’الوجود ‘‘ کی وحدت کو ’’الموجود‘‘ کی وحدت سےکیا تعلق؟

خاکسار نے اپنی کتاب الدین القیم میں اس وحدت الوجود کے مسئلہ کی جو تشریح وتفصیل کی ہے، سچی بات یہ ہے کہ بنیادی امور اس کے شاہ صاحب کی تقریر ہی سے ماخوذ ہیں‘‘۔3

نیز تصوف کا ذوق جو ان کے خمیر میں ابتدا ہی سےودیعت کردیا گیا تھا، اس نے بھی شیخ کی ذات وافکار سے انہیں قریب کیا تھا، بقول مولانا غلام محمد شاگرد حضرت گیلانی حضرت والا جذب کی دولت اپنے ساتھ ہی لیتے آئے تھے، اوروہ ’’مجذوب سالک‘‘ تھے۔4 ٹونک کے دور قیام میں ہی ان کو صوفیا کی کتابوں سے دلچسپی ہوگئی تھی، بالخصوص امام غزالی کی احیاء العلوم کے مطالعہ کا آغاز ہوگیا تھا جیسا مولانا کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے لیکن ابن عربی سے اس دور میں ہی انہیں دلچسپی ہوگئی ہو اس کا کوئی ذکر نہ ان کی تحریر میں کہیں ملتا ہے نہ کسی اور تحریر سے اس کا علم ہوسکا۔

چنانچہ انہوں نے جب دارالعلوم دیوبند سے تکمیل تعلیم کے بعد وہاں کے ترجمان القاسم کی ادارت سنبھالی تو اس وقت اس میں انہوں نے ابن عربی پر کئی مضامین لکھے تھے، اور ان کی شخصیت سے اردو کے علمی حلقوں کو متعارف کرایاتھا۔5

القاسم میں اس سلسلہ سب سے پہلا مضمون اتحاد وحلول کی تشریح میں ملتاہے، جس کی تمہید میں علامہ شعرانی اور دیگر بزرگوں کے حوالہ سے ابن عربی کی کتابوں میں الحاقات کے اجمالی تذکرہ کے بعد ان کے نظریہ ٔ حلول اور وحدت وجود کی تشریح کی گئی ہے، اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے قول کا مطلب بس اتنا ہے کہ ہے جس طرح روح کے بارے میں علماء امت کا یہ اختلاف رہا ہے کہ روح جسم میں ہے یا جسم سے باہر ہی رہ کر جسم کو کنٹرول کرتی ہے، شیخ ابن عربی کے بقول ’’روح کو جو تعلق عالم اصغر کے ساتھ وہی تعلق عالم اکبر کے ساتھ خدا کو ہے‘‘۔6

ان کے بقول عام متکلمین روح کے حلول وتجسم کے قائل ہیں لیکن شیخ ابن عربی روح کے تجرد کے قائل ہیں، اسی بنیاد پر انہوں نے خدا کی بھی مثال دی تھی کہ جس طرح روح کا تعلق جسم کے ساتھ ہے اسی طرح خدا کا تعلق اس عالم یعنی عالم اکبر کے ساتھ ہے۔ مولانا نے بھی بتایا ہے کہ روح کے جسم کے تعلق وتجرد پر مسلم ویونانی اور ایرانی فلاسفہ کے سیکڑوں مذاہب ہیں، ’’اور فلاسفہ مغرب نے اپنے اضافوں سے اسے دو چند بنا دیا ہے، افلاطون، ارسطاطالیس، امام غزالی، رازی وغیرہ روح کے تجرد کے قائل ہیں‘‘۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم وغیرہ روح کے تجسم کے قائل ہیں۔7

مولانا مزیدلکھتے ہیں:

’’مسئلہ وحدت الوجود میں جو آئے دن غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں، وہ زیادہ تر اسی قسم کی دجالانہ ریشہ دوانیوں، حاسدانہ عدواتوں کے نتائج ہیں۔ وحدت الوجود ایک صحیح مسئلہ تھا، عہد تصوف کی ابتدا سے اس کی بنا پڑ گئی تھی، لیکن چرچا اس قدر نہیں ہوا تھا، شیخ محی الدین عربیؒ آئے تو انہوں نے نہایت شاندار، پُر شوکت بیانوں میں اس پر روشنی ڈالی، اپنی مؤلفات کا بیشتر حصہ اسی مسئلے کی نذر کردیا۔ کائنات کے تمام اصول، قوانین کو زیادہ تر اسی پر مبنی کرنے لگے، الغرض مدارج سلوک کے اعتبار سے صوفیا پر جو احوال طاری ہوتے ہیں، شیخ نے بھی اپنی مختلف حالتوں میں اس مسئلہ کی مختلف حیثیتوں سے شرح کی، اور چونکہ اپنے زمانے میں اور بعد میں بھی عام اہل ملت پر پورا اثر تھا، ان کے اعتراف ولایت سے اکثروں کے دل لبریز تھے، ان کے ہر قول و فعل نے وہ رتبہ حاصل کیا تھا کہ بڑے بڑے اکابر علماء بھی بجز تسلیم کے اور کوئی چارہ نہیں پاتے تھے، یہی وہ موقعہ تھا کہ جہاں ان دجالوں کو کھیل کھیلنے کی گنجائش مل گئی۔ وحدت الوجود کا مسئلہ، صوفی کا کلام، ولایت کی دھاک، یہ تین چیزیں ایسی جمع ہو گئیں کہ ان متمردوں سے جو کچھ بھی ہو سکا کر گذرے، حتی کہ آج سمجھا جاتا ہے کہ اتحاد و حلول، وحدت الوجود دونوں ایک چیز ہے، اور یہ بالکل صحیح ہے کہ شیخ قدس سرہ کے بعض کلمات سے اس کا وسوسہ پیدا ضرور ہوتا ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں کبھی ایسے الفاظ بھی ملتے ہیں جو ایک حد تک اتحاد و حلول پر المطابقہ دال ہیں‘‘۔8

مولانا نے ثابت کیا ہے کہ شیخ خود حلول کے سخت منکر ہیں اور ایسا کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں اور اخیر میں علامہ شعرانی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حلول کے قائل تو بہت سے مشرکین بھی نہیں چہ جائے کہ شیخ اکبر۔ ان کی طرف اس طرح کی باتیں غلط منسوب کی گئی ہیں۔

انہوں نے القاسم والرشید ہی میں ابن عربی کے بعض نصائح کے ترجمےبھی شائع کیے تھے۔9

کرامت اولیاء کے سلسلہ میں بھی شیخ ابن عربی کے کلام کی تشریح کی ہے، اور اس سے قبل چند سوالات قائم کرکے لکھا ہے کہ معاصر دور کے ان کلامی سوالات کے جوابات شیخ کی اس تحریر میں مل سکتے ہیں۔10

شیخ کے نزدیک کرامت کی دو قسمیں ہیں کرامت حسیہ اور کرامت معنویہ۔ انہوں نے اس کے بعد بتایا ہے کہ شیخ کے نزدیک کرامت معنویہ اصل ہیں، کرامت حسیہ کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے۔

یہ تمام مضامیں مولانا کے بالکل ابتدائی دور کے ہیں، اس کے بعد چالیس کی دہائی میں انہوں نے ابن عربی پر اپنے معمول کے خلاف عربی میں تقریباً‌ چالیس صفحات کا مفصل مضمون لکھا اور اس میں شیخ کے منہج اور ان کے طریقۂ کار کو پورے تاریخی پس منظر کی تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی، اس میں انہوں نے اپنے اب تک کے مطالعہ کا نچوڑ پیش کردیا ہے، اس کی تفصیل آگے ذکر کی جارہی ہے۔

سوانح اویس قرنی جو ان کی بالکل ابتدائی دور کی کتابوں میں ہے، اور فراغت کے چند سال بعد ہی لکھی گئی ہے، اور القاسم ہی میں شائع ہوئی تھی، اس میں بھی ابن عربی کی فتوحات کے حوالےا وراقتباسات ملتے ہیں، نیز مولانا کی اکثر کتابوں میں کہیں نہ کہیں ابن عربی کا ذکر عام طور پرملتا ہے، مقدمہ تدوین فقہ ہو یا الدین القیم ان سب میں اس کے حوالے موجود ہیں۔

الدین القیم کے بارے میں علامہ سیدسلیمان ندوی علیہ الرحمۃ کے ایک تبصرے پر ان کو ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:

’’الدین القیم پر جناب والا کی رائے معارف والی پڑھی، ‘‘صوفیانہ علم کلام’’نام آپ نے خوب رکھا، مجھے اس کا خوف ہے کہ اپنے فطری اسہالی رنگ کے خوف سے پنسل برداشتہ والے اس مسودہ کو اسی اجمال واختصار کی حالت میں شائع کرنا پڑا، اہل بصیرت تو اندازہ کرلیتے ہیں، لیکن عوام بیچارہ کو اس کا صحیح اندازہ لگانا کہ کن کن مسائل میں نئی راہیں اختیار کی گئی ہیں ذرا مشکل ہے، گو بعضوں نے اعتراف کیا ہے کہ تقریبا کتاب کے دو ثلث مسائل ایسے ہیں جن کے دعاوی تو ٹھیٹ قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں۔ لیکن استدلال میں کسی کی تقلید نہیں کی گئی ہے۔ لیکن یہ بات آپ نے صحیح لکھی کہ متکلمین سے ہٹ کر در حقیقت حضرات صوفیہ کی زلہ ربائی کا یہ نتیجہ ہے، میرے پیش رو اس راہ میں شیخ اکبر اور مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ ہیں‘‘۔11

لیکن اس ذوق کو جلا اس وقت ملی اور یہ دوآتشہ بن گیا جب مولانا حیدرآباد پہنچے اور وہاں مولانا انوار اللہ خاں صاحب کےدرس میں شریک ہوئے اور ان سے استفادہ کیا، مولانا خود لکھتے ہیں:

’’مولانا انواراللہ خاں مرحوم کے یہاں رات کو فتوحات مکیہ کا سبق ہوتا تھا، حیدر آباد کےمشاہیر علماء اصحاب جبہ وعمامہ بڑ ی بڑی داڑھیوں کے ساتھ اس حلقۂ درس میں شریک ہوتے تھے، فقیر تو اسی مکان میں رہتا تھا، حلقہ درس کا ایک رکن میں بھی بن گیا ‘‘۔12

اور پھر بعد میں شیخ ابن عربی کے حالاً وقالاً ترجمان شیخ محمد حسین کی صحبتوں میں مستقل حاضرہوکر استفادہ کرنے لگے یہاں تک کہ ان کے خلیفہ مجاز ہوئے، مولانا منت اللہ صاحب رحمانی نےمکاتیب گیلانی میں ایک جگہ ان کاتعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:

’’حضرت مولانا محمد حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ حیدرآباد کے ایک بڑے صاحب حال وقال بزرگ تھے، دوام حضور کا حال مقام بن گیا تھا، حیدرآباد میں گمراہ کن وجودیت کا بہت دور دورہ تھا، لیکن حضرت ممدوح کو جس سلسلہ سے تعلق تھا اس نے اس کی ایک خاص تعبیر وتعلیم اختیار کرکے گمراہیوں کی بڑی اصلاح کردی تھی، اسی کی تعبیر وتعلیم حضرت کا دن رات کاقال ہی نہیں حال تھا، اس کی دوسروں کو تفہیم وتلقین فرماتے رہتے ہیں، اور طریق صوفیا کی عام اذکاری واشغالی تعلیمات کو اس اطلاقی طریقہ کے مقابلہ میں اشغالی عقیدہ فرماتے اور اہل علم کے لئے خصوصاً پسند نہ فرماتے، در اصل یہ حضرت ابن عربی کے خاص فلسفیانہ تصوف وتوحید کا مسلک تھا، اور حضرت گیلانی کوحضرت شیخ سے اتنی خلقی وفطری مناسبت تھی کہ حضرت مولانا عبدالباری صاحب ندوی تو انہیں وقت کا ابن عربی ہی کہا کرتے تھے، یہاں تک کہ تحریری رنگ میں بھی مولانا کو فتوحات کی جھلک دکھائی دیتی تھی‘‘۔13

مولانا عبدالباری ہی کے نام ایک مکتوب میں مولانا گیلانی کے ذوق وجودیت کا اظہار بھی ہوا ہے، لکھتے ہیں:

’’آج کل نہ معلوم کیوں رب العالمین اور ربی الاعلیٰ پر دماغ متوجہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت، نیچر، فطرت، مادہ یہ شیر کے منہ کے پتھر تھے، ان کو حذف کردینے کے بعد رب اور مربوب میں کیا پردہ رہ جاتا ہے، اورمربوب سے رب کیا جدا ہوسکتا ہے، کیا درخت سے اس کی طبیعت، اس کا مزاج، اس کی صورت نوعیہ جدا ہوسکتی ہے، پرو رش کرنے والی قوت کو جب ’’ربی الاعلیٰ‘‘ کی تعبیر واضافت کےساتھ سونچتا ہوں توپستی میں بڑی بلندی محسوس ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب میں صرف اپنی قوت کا پرستار ہوں، عجب حال ہے اس خودپرستی کا، مربوب اسی قوت مربیہ کا اثر معلوم ہوتا ہے ‘‘۔14

اس پر مولانا عبدالباری صاحب نے حاشیہ میں لکھا ہے ’’مولانا کے خاص مذاق توحیدی کے اشارات‘‘۔

ابن عربی سے ان کی عقیدت کا جو عالم تھا اس کا تذکرہ ان کے شاگرد مولانا غلام محمد نے ان الفاظ میں کیا ہے۔

’’قادری چشتی ہونے کی وجہ سے اپنے اکابر سلسلہ سے حضرت گیلانی کو جو تعلق تھا وہ تو تھا ہی، مگر شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے تو وہ بالکل شیدائی تھے، حالت یہ تھی کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کا سفرنامہ مشرق وسطی جب جریدۂ صدق (لکھنؤ )میں چھپا مگر شہر دمشق کے تذکرہ میں شیخ اکبر ؒ کا کوئی ذکر نہ تھا، اس پر حضرت گیلانی نےفوراًایک خط میں بڑے سوز وحسرت سے اس مفہوم کا جملہ فرمایا تھا کہ، ’’یہ بھی تو مولانا نے لکھا ہوتا کہ ہمارے شیخ اکبر کےنام لیوابھی ابھی وہاں کچھ باقی ہیں یا نہیں‘‘۔15

مولانا کو ابن عربی سے جس قدر دلچسپی تھی اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انہیں اپنے مشہور ہم وطن بزرگ مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین احمد بن یحییٰ منیری کی ذات سے بھی عقیدت تھی، اور ان کے علوم پر عالمانہ نظر بھی، انہوں نے اس علاقہ سے نکلنے والے ایک ماہنامہ رسالہ فطرت (راجگیر، بہارشریف )کے پہلے شمارہ کے لئے مدیر مجلہ کی طلب پر فتوحات مکیہ کی طرح ’’فتوحات مخدومیہ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم مضمون لکھا جو اس کے پہلے اور دوسرے شمارہ میں شائع ہوا، پہلاشمارہ جو ۱۹۳۳ء کے کسی مہینہ میں شائع ہوا تھا مجھے نہیں مل سکا، اس میں مولانا نے اپنے نام کی صراحت کے بجائے رمز استعمال کیا تھا، لیکن اس مضمون کی دوسری قسط راقم کی نظر سے گذری ہے، وہ حضرت مخدوم کے ایک اہم مجموعۂ ملفوظات’’معدن المعانی‘‘ کے اہم مباحث کی تشریح پر مشتمل ہے۔

تصوف واحسان کے مباحث پر مولانا کی معرکہ آرا کتاب’’مقالات احسانی‘‘ جس میں وہ صوفیہ کے زبردست وکیل نظر آتے ہیں، اس کا بیشتر حصہ بھی ابن عربی ہی کے افکار وعلوم کی شرح وتوضیح پر مشتمل ہے۔ وہ ابن عربی پر ایک مستقل تصنیف کا عزم کرچکے تھے، اور ان کی بڑی تمنا تھی کے ان کے حالات وافکار کی تشریح کرتے، لیکن افسوس کہ یہ ارادہ پورا نہ ہوسکا، ایک جگہ بہت حسرت سے لکھتے ہیں:

’’بجائے خود یہ ایک مستقل مضمون ہے، تفصیلات کے لئے دعا فرمائیے کہ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کے علوم اور ان کے حالات پر عنفوان شباب سے ایک کتاب ہی کے لکھنے کی نیت کرچکا ہوں، لیکن خدا ہی جانتا ہے، اس پرانی آرزو کی تکمیل کا موقع ملتا بھی ہے یا نہیں۔ شیخ اکبر رضی اللہ عنہ جیسا کہ معلوم ہے، خاص اندلس (یورپ )سے وطنی تعلق رکھتے تھے، اندلس کے مشرقی ساحل پر اب بھی مرسیہ نامی شہر پایا جاتا ہے، جو خاص مسلمانوں کا آباد کیا ہوا شہر ہے، عربوں نے صحرائے عرب کی مشہور راجدھانی تدمیر کے پر اس یورپین شہر کانام بھی تدمیر ہی رکھا تھا، لیکن چلا نہیں، مرسیہ ہی کے نام سے مشہور ہوا، یہ علاقہ اندلس کا باغ سمجھا جاتا تھا، شیخ رحمۃ اللہ علیہ جس زمانہ میں پیدا ہوئے یہی وہ وقت ہے جب مسلمانوں کی سیاسی قوت کا یہ انتشار عیسائیوں کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا، بے حمیت امراء اندلس کی عیسائی حکومتوں سالانہ خراج ادا کرتے تھے، ان ہی میں مرسیہ کا نواب مرونیش بھی تھا، شیخ اسی خاندان کے عہد حکومت میں مرسیہ کے ایک علمی گھرانے میں رورنق افروز ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد اشبیلیہ اندلس کے مغربی علاقے میں چلے گئے، وہاں کے تعلیمی مرکزوں سے مستفید ہوتے رہے، اندلس سے مسلمان اس زمانے میں مسلسل ہجرت کرکر کے افریقہ اور ایشیا یعنی مشرقی ممالک کی اسلامی حکومتوں میں پناہ لے رہے تھے، بارادۂ حج اندلس کو خیر باد کیا، اور مشرقی ممالک ہی میں گھومتے رہے، تاایں کہ دمشق میں وفات ہوئی‘‘۔16

افسوس کہ ان کے قلم سے اس کی شرح وتوضیح نہیں ہوسکی جس کا آغاز باضابطہ انہوں نے کردیا تھا۔ لیکن اس سے قبل بھی وہ بہت سے مضامین ابن عربی پر لکھ چکے تھےجن میں سے کچھ کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا کی کوئی تحریر عربی میں سوائے ابن عربی کے خیالات وافکار کی تشریح وترجمانی کے نہیں ملتی، اسی سے ان کی عربی انشانگاری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، تقریباً‌ چالیس صفحات کا یہ مفصل مضمون بجائےخود ایک رسالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں پورے پس منظر کا جائزہ لینے کےبعد مولانا نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ایسی صورت میں شیخ کے لئے اس کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں تھی کہ وہ ظاہریت اختیار کریں اور ساتھ ہی وحدت قیومیت کی صدا لگائیں، شیخ نے اپنی تحریروں میں جو کچھ لکھا ہے وہ اس پورے ماحول کو سامنے رکھ کر اور اسلام کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی خاطر لکھا ہے، انہوں نے بتایا ہے کہ ابن رشد کی وجہ سے اس ثنوی فکر کی ترویج ہورہی تھی، جو مسلمانوں کے درمیان رائج ہونے والے مشائی فلسفہ کی بنیاد تھی، اس لئے ضرورت تھی کہ وحدت قیومیت کی با ت کی جائے۔ یہ شیخ کا اساسی منہج ہے جو ان کی کتابوں میں نظر آتا ہے۔

مولانا نے شیخ کی پوری فکر کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

  1. پہلا مسئلہ جو شیخ اپنی تصانیف میں با بار ذکر کرتے ہیں، اور اس کی توضیح کرتے ہیں، وہ عقل فکری کی انتہاء اور نظر انسانی کی حد پروازسے متعلق ہے۔
  2. دوسرا مسئلہ رد ثنویت و بت پرستی سےمتعلق ہے، یہی مسئلہ لوگوں کے درمیان وحدت الوجود کے نام سے مشہور ہو گیا ہے۔
  3. تیسرا مسئلہ قرآنی جنت و آخرت کی وہ تصویر کشی ہے جیسی قرآن و حدیث میں موجود ہے۔
  4. چوتھا مسئلہ اسرار تقدیر سے متعلق ہے، بالفاظ دیگر جسے مسئلہ خیر و شر سے تعبیر کیاجاتا ہے۔
  5. پانچواں مسئلہ ذات و صفات کے سلسلہ میں وارد نصوص کو تشبیہ و تنزیہ کے درمیان کی راہ متعین کرنے سے متعلق ہے، اور اس سلسلہ میں فرق ضالہ نے جو دسیسہ کاریاں کی ہیں ان کا ازالہ ہے۔

مولانا کے بقول ’’جاننے والے جانتے ہیں کہ ان میں اکثر مسائل کی اصل مشائی فلسفہ اور اس کے شکوک و شبہات کے دین پر غلط زہریلے اثرات اور باطل نتائج سے بچانے اور اس سےاٹھنے والے فتنہ کو ختم کرنا ہے ‘‘۔17

پھر اس کی توضیح کی ہے، کاش وہ اس پر مزید لکھتے اورانہیں پوری کتاب لکھ کر اس پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کا موقع ملتا۔18

انہوں نے اس میں ایک اہم بات کا انکشاف کیا ہے وہ یہ کہ کا نٹ کا فلسفہ حضرت شیخ اکبر ہی سے ماخوذ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جس چیز کو دیکھ کرحیرت ہوتی ہے، اورآدمی مبہوت ہو کر رہ جاتاہے، وہ یہ ہے کہ یورپ والےاورجوان یورپ والوں کےطفیلی یاان کی ہاں میں ہاںملانےوالےہیں، ان سبھوں نےاس مسئلہ کی ایجادوتنقیح کاسہراجرمنی کےحکیم کانٹ کےسرباندھتے ہیں، اپنی قوم کےلئےاس چیزکویہ مایۂ فخروفضل بنائےہوئےہیں، لیکن جو لوگ دونوں سے واقف ہیں، اور دونوں پران کی نظر ہے، انہیں یہ کہنے میں تردد نہیں ہوگا، کہ جرمن فلسفی نے اس سلسلہ میں جو حقائق و نکات ذکر کئے ہیں، وہ شیخ کے لطائف و دلچسپ مباحث و نکات کے سامنے ایک سمندرکے قطرہ سے زیادہ نہیں معلوم ہوتے۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ امام غزالی کی کتابیں اور شیخ ابن عربی کی تصانیف ہی ہیں جنہوں نے اہل یورپ کی اس طرف رہنمائی کی، جس کو انہوں نے معاصر اسلوب اور عصر ی قالب میں ڈھال کر پیش کر دیا۔ اس طرح کے مسائل میں انہوں نے کتنا سرقہ کیا ہے، اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، اگر موقع ملا تو اصل کتاب میں اس کی تفصیل و توضیح ذکر کی جائے گی، اور ان کا جائزہ لیا جائے گا، ان شاء اللہ‘‘۔19

جب مولانا کا یہ مقالہ شائع ہوا تو ان سے اس موضوع پر مزید روشنی ڈالنے کی گذارش کی گئی، چنانچہ انہوں نے اردو میں اس پر تفصیل سے لکھا’’شیخ اکبر ابن عربی کا نظریۂ علم‘‘ کے عنوان سے معارف کی دو قسطوں میں شائع ہوا۔ اس میں مولانا نے شیخ کے اقتباسات کے ذریعہ عقل انسانی کی حد پرواز اور دیگر مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔

(جاری)

حواشی

  1. از افادات مولانا شاہ شمیم الدین احمد منعمی عظیم آبادی۔
  2. مولانا سید عبدالحي حسنی نے تاریخ الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند میں فصوص الحکم کی شروح کا ذکر کیا ہے، جو حسب ذیل ہیں، شرح الفصوص شیخ علی ہمدانی کشمیری، فارسی، شرح حضرت گیسو دراز، مشروع الخصوص شرح الفصوص، شخ علی مہائمی، عین الفصوص شیخ شرف الدین دہلوی، عربی، نقش الفصوص شیخ شمس الدین دہلوی، شرح الفصوص حضرت جہانگیر اشرف کچھوچھوی، شرح الفصوص شیخ عبدالنبی شطاری، شرح ترجمۃ الفصوص شیخ عبدالنبی مذکور، شرح الفصوص شیخ محب اللہ الہ آبادی، عربی، انہیں کی دوسری فارسی شرح، شرح عبدالکریم سلطان پوری، شرح شیخ عبدالنبی نقشبندی سیام چوراسی، شخوص الحکم شیخ غلام مصطفیٰ تھانیسری دہلوی فارسی، شرح الفصوص علی وفق النصوص شیخ محمد افضل الہ آبادی، الطریق الامم شرح فصوص الحکم شیخ نورالدین گجراتی، شرح الفصوص شیخ علی اصغر قنوجی صدیقی، شرح شیخ طاہر بن یحییٰ عباسی الہ آبادی، تاویل المحکم شیخ محمد حسن امروہوی، شرح شیخ جمال الدین گجراتی، تایید الہمم فی شرح اربع کلما ت من فصوص الحکم شیخ محمد افضل الہ آبادی۔ (الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند، ص۱۶۸، موسسۃ ہنداوی مصر ۲۰۱۲)، ان کے علاوہ شرح شیخ عبدالقدوس گنگوہی، سید عبدالاول دولت آبادی کی شرح، ملا عبدالعلی بحرالعلوم کی شرح، ان کے علاوہ شیخ عبدالکریم لاہوری اور مولانا احمد حسن کانپوری کی فارسی شرحیں قابل ذکر ہیں، اردو میں سب سے پہلے اس موضوع پر کس نے کام کیا اس کا صحیح علم نہیں، مولوی عبدالغفور دوستی بہاری، مولوی سید مبارک علی اور مولوی عبدالقدیر حیدرآبادی کے فصوص الحکم کے اردو ترجمےاس سلسلہ کی اولین کوشش کہے جاسکتے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے خلیق احمد نظامی کا مضمون ابن عربی اور ہندوستان، شائع شدہ ماہنامہ برہان دہلی جنوری ۱۹۵۰ء۔ موصوف نے اس میں مذکورہ بالا شرحوں میں سے اکثر کا ذکر کیا ہے، اور شیخ علی ہمدانی کشمیری کی کوشش کو اس سلسلہ کی اولین کوشش قرار دیا ہے، گرچہ ان کے بقول ان سے قبل شیخ شمس الدین عارف کے یہاں سب سے پہلے شیخ ابن عربی کی تصانیف کا حوالہ ملتا جو حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کے متوسلین میں تھے۔ مولانا عبدالحی کی ذکر کردہ شروح کے علاوہ جو نام ہیں وہ اسی مذکورہ بالا مضمون سے ماخوذ ہیں۔ مزید جن کتابوں کا علم ہوا ان میں حاشیہ فصوص الحکم از شاہ عاشق علی عظیم آبادی، فارسی میں ہے، اور خانقاہ شاہ ارزاں میں موجود ہے۔ (نعمت ارزاں مقدمہ از شاہ حسین احمد، مطبوعہ خانقاہ شاہ ارزانی پٹنہ ۲۰۲۱ء)۔ شرح فصوص عربی از علیم اللہ بدایونی خلیفہ مولانا محمد اسلم جعفری کاکوی، دست خاص کا نسخہ کتب خانہ خانقاہ مجیبیہ پٹنہ میں موجود ہے۔ ان کاموں کے علاوہ ابن عربی کے فلسفہ بالخصوص فلسفہ وحدت الوجود پر یہاں بہت کام ہوا ہے۔ اس کے لئے خلیق احمد نظامی کامحولہ بالا مضمون ملاحظہ فرمائیے۔ خانقاہ مجیبیہ پٹنہ کے بزرگوں میں اس موضوع پر دو کام قابل ذکر ہیں ایک مواطن التنزیل از مولانا عبدالغنی منعمی اور ملا امر اللہ جعفری کی تحلیل المعضلات لابن عربی۔ الفیض التقی فی حل مشکلات ابن عربی، شاہ انور قلندر کاکوروی، فارسی مطبوعہ مطبع سرکاری رامپور ۱۹۱۲ء۔ اس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر مسعود انور علوی کاکوروی کے قلم سے ۱۹۹۹ میں شائع ہوا۔ چودہویں صدی کے مشہور بزرگ شاہ پیر مہر علی گرلڑوی نے بھی فصوص الحکم کی شرح لکھی تھی۔
  3. احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے چند دن، ص ۹۳ مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان، ۱۴۱۸ھ۔
  4. مقالات احسانی، ص، ۱۷، مکتبہ الحق بمبئی ۲۰۰۶ء
  5. ابن عربی پر سب سے پہلے اردو میں کب لکھا گیا اس سلسلہ میں کچھ کہنا مشکل ہے، تمام قدیم مجلات ورسائل کی مراجعت کے بعد ہی کوئی بات کہی جاسکتی ہے، جو آسان نہیں، البتہ دستیاب شواہد کے مطابق انیسویں صدی کے وسط سے اردو میں ابن عربی کے تعارف وتوضیح کا علم ہوتا ہے۔ البتہ جو قدیم تحریریں ملتی ہیں ان میں حسب ذیل قابل ذکر ہیں ۱۸۵۰ میں حیدر آباددکن کے مطبع محبوب شاہی سے شائع شدہ ترجمہ فصوص الحکم از ابن اولاد علی۔ سوانح حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، مطبع کلاں ساڈھورہ پنجاب، ترجمہ فصوص الحکم محمد برکت اللہ لکھنوی مطبع مجتبائی، لکھنؤ، ٍ۱۹۰۹ء، ترجمہ فصوص الحکم از عبدالغفور دوستی بہار۔ فلسفہ ا بن عربی عبداللہ عمادی، تقریبا بیس صفحا ت کا رسالہ، تقریبا بیسویں صدی کے اوائل میں شائع ہوا۔ ترجمہ فتوحات مکیہ شائع از راولپنڈی، راجہ غلام قادر وفضل خاں، اسٹیم پریس لاہور سے ۱۹۲۷ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد تو مختلف کتابیں، تراجم اور فلسفہ وحدت الوجود پر مضامین شائع ہوئے، جن کا استقصاء دشوار ہے۔
  6. مسئلہ اتحاد وحلول اور ابن عربی، ماہنامہ القاسم دیوبند، ذی الحجہ، ۱۳۳۴ھ ومحرم ۱۳۳۵ھ۔
  7. حوالہ سابق۔ محرم ۱۳۳۵ھ
  8. حوالہ سابق۔
  9. دیکھئے ماہنامہ القاسم دیوبند، ذی القعدہ وذی الحجہ ۱۳۳۴ھ۔
  10. یہ مضمون ماہنامہ الرشید ردیوبند کے شمارہ بیع الثانی ۱۳۳۵ھ میں شائع ہوا ہے۔
  11. مکاتیب گیلانی، مرتبہ مولانا منت اللہ رحمانی، مطبوعہ خانقاہ رحمانی مونگیر۔ ۱۹۷۲ء۔ ص۳۶۲
  12. احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے چند دن۔ ص۲۴۹۔ مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان، ۱۴۱۸ھ۔
  13. مکاتیب گیلانی، محولہ بالا، ص ۱۲۵
  14. حوالہ سابق، ص ۲۱۳
  15. مقالات احسانی، ص ۱۹، مکتبہ الحق بمبئی ۲۰۰۶ء۔ ۔ یہ خط پرانے چراغ میں موجود ہے، (ص۷۹)، مطبوعہ لکھنؤ، ۲۰۱۰ء
  16. مقالات احسانی، ص ۲۹۷
  17. الشیخ الاکبر وطریقتہ مندرجہ المقالات السنیہ مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن، ۱۹۳۱ء۔
  18. راقم نے اس عربی مضمون کا اردوترجمہ کیا ہے، اور مولاناکی کسی تحریر کے اردو کا ترجمہ کا یہ پہلا اتفاق ہے جس میں ان کےب اسلوب کو اپنانے کی کوشش کی گئی ہے، نہیں معلوم کس حد تک کامیابی ہوسکی۔ اس مضمون میں جابجا انہوں نے اپنی مجوزہ تصنیف کا حوالہ دے کر بحث کو نامکمل چھوڑ دیا ہے، جیسے وہ اس کا پختہ عزم کرچکے تھے، لیکن لگتا ہے کہ مولانا کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ کام مکمل نہیں ہوسکے گا۔ ان شاء اللہ یہ مضمون اور ابن عربی پر ان کے سارے مضامین جلد ہی ایک مجموعہ کی شکل میں شائع ہوں گے۔
  19. مقالہ الشیخ الاکبر، محولہ بالا۔ ص ۳۱


صاحبِ تعبیر کے تصور ِدین میں تذبذب

حسنین خالد

مولانا مودودیؒ نے اپنے زمانے کے اسلوب میں جدید دور کے اذہان کے سامنے اسلام کی حقیقی روح اور اس کے مطالبات کو رکھا جس کے نتیجے میں عالم اسلام کی اکثریت نے ان کی اذان پر لبیک کہہ کر کام کا آغاز کیا۔ یہ کوئی قومیت یا مخلوقی کبریائی کی طرف اذان نہیں تھی، بلکہ توحید کامل کی صدا تھی، جس کو پہلے سے لوگ محسوس تو کر رہے تھے لیکن واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کرنے سے قاصرتھے۔ مسلمانوں کے لئے درپیش چیلنج یہ تھا کہ وہ دور جدید سے جنم شدہ مسائل اور سوالات کا اسلام کی روشنی میں جواب تلاش کرسکیں۔ لیکن گلوبلائزیشن کے دور میں اس کی تشریح اور اس کا دفاع ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ بظاہر لوگ مخلوق کی خدائی میں خدائے واحد کی بندگی سے محروم تو نہیں تھے، لیکن صرف خدائے واحد کی جزی، کلی اور "الا لہ الخلق و الأمر" والی بندگی سے محروم ضرور تھے۔ اسی اثنا میں تنقید و تائید سے ماوراء مولانا مودودی ؒ صحابہ کرام والے بیانیہ کو لےکر  آئے تاکہ "لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ رب العباد" بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف لا سکیں۔

ملوکیت سے لے کر دور ِجدید تک دینِ اسلام کا تصور دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک تصور بادشاہ کا اور دوسرا مذہب کا۔ ان دو خود ساختہ تصوروں نے وقت گزرنے کےساتھ ایسا رنگ پکڑا کہ کئی صدیوں تک یہ دین کا رنگ اختیار کر گئے تھے۔ دین اسلام کے حقیقی تصور کو دوبارہ سامنے لانے کے لیے ائمہ اربعہ اور محدثین کے ساتھ دیگر علماء نے بھی کوششیں کیں، جن میں نمایاں طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒوغیرہ نے اپنے حصے کی شمع جلائی۔ انہی حضرات کے بعد مولانا مودودیؒ جدید دور میں عالم کفر کے فتنہ انگیز زہریلے تیروں کے سامنے جواب کی صلاحیت کے ساتھ سینہ تان کر دین کی خدمت کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے وہ فریضہ انجام دیا جو وقت کی شدید ضرورت تھا۔ اُس وقت ملوکی تصور ِدین کے غلبے میں جو تصور دین مولانا مودودی ؒنے پیش کیا، وہ وہی چودہ سو سال قبل اسلام کا حقیقی تصور تھا جس کے سامنے اور جس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے عالم کفر اس وقت بھی کھڑا تھا اور آج بھی۔ اس تصور کو ہم زیادہ زیر ِبحث نہیں لاتے، اس لیے کہ اس کی توضیح و تشریح مولانا مودودی کی کتابوں اور لٹریچر میں شرح موجود ہے۔ ہم یہاں مولانا مودودیؒ کے تصور دین پر تنقید کے نتیجے میں قائم ہونے والے تصورات اور اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اعتراضات کے جائزے سے پہلے مولانا مودودیؒ کے تصور دین کے بارے میں چند سطریں ملاحظہ کیجئے، تاکہ وہ بنیادی بات جس پر بحث ہو گی سامنے موجود ہو۔ لکھتے ہیں:

" حقیقت میں دین وہ ہے جو زندگی کا ایک جز نہیں بلکہ تمام زندگی ہو، زندگی کی روح اور اس کی قوت محرکہ ہو، فہم و شعور اور فکر و نظر ہو، صحیح و غلط میں امتیاز کرنے والی کسوٹی ہو، زندگی کے ہر میدان میں ہر ہر قدم پر راہ راست وراہ حق اور راہ کج کے درمیان فرق کر کے دکھائے، اور راہ کج سے بچائے، راہ راست پر استقامت اور پیش قدمی کی طاقت بخشے، اور زندگی کے اس لامتناہی سفر میں جو دنیا سے لے کر آخرت تک مسلسل چلا جا رہا ہے، انسان کو ہر مرحلے سے کامیابی و سعادت کے ساتھ گزارے۔ " (1)

دین کے اسی مذکورہ جامع تصور کو پھر مولانا مودودی نے قرآن کی عملی تفسیر (یعنی اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ) سے پیش کیا اور اسی دین کے قیام کے لیے اپنے بیشتر لٹریچر کے ساتھ، خاص طور پر سورہ شوریٰ کی آیت ٣٣ سے اپنی تفسیر میں استدلال کیا۔ (2)

مولانا مودودیؒ کے تصور دین پر معترض حضرات میں مولانا وحید الدین خان ؒ، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور جاوید احمد غامدی شامل ہیں۔

خان صاحبؒ مولانا مودودیؒ کے تصور دین کے دس سال حامی اور مبلغ رہنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ مولانا مودودیؒ کا تصور دین صحیح نہیں تھا۔ دین کی اقامت، دین کا غلبہ یہ سب مولانا مودودیؒ کے اپنی طرف سے خود ساختہ تصورات ہیں۔ اس کے مقابل انہوں نے "تعبیر کی غلطی" لکھی، جس میں انہوں نے خود کو ایک کامل اور آخری سطح پر فائز سمجھ کر اسے اسلاف کا دفاع قرار دیا ہے۔ اس کتاب میں مولانا وحید الدین خان نے مولانا مودودیؒ کی فکر پر تنقید کرنے کے بعد ایک عنوان "صحیح تصور دین" لکھا ہے  جس میں انہوں نے اسلام کو جزوی طور پر سمجھنے کی سعی کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ یہ مولانا مودودی ؒکے تصور دین کے مقابلے میں درست تصور دین ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:

"دین کی آخری حقیقت ایک باطنی ادراک ہے۔ دنیا کی زندگی میں ہمیں بس آخری مقام تک پہنچناہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم خداکو اپنے حقیقی الہ و معبود کی حیثیت سے پالیں۔ ہم اس سے حیاتی طور پر جڑ گئے ہوں، نہ کہ ہم کوئی سماجی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں یا اس کو کھڑا کرنے کے لئے ہم نے جدوجہد کرڈالی ہو۔ اگر چہ حالات کا تقاضا ہو تو یہ کام بھی لازماً اہل ایمان کو کرنے ہوتے ہیں۔ مگر اس کی حیثیت اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ "(3)

مولانا وحید الدین خان صاحب ؒ جاوید احمد غامدی صاحب کو اپنا استاد مانتے تھے۔ کہتے ہیں " اگر چہ یہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں لیکن علم میں مجھ سے بڑےہیں"۔ (4) خان صاحب نے جاوید احمد غامدی صاحب کے علاوہ عصر حاضر کے علماء کے ساتھ ساتھ اسلاف میں سے  بھی کسی پر نقد نہیں چھوڑا، جس پر ہم " علماء پر تنقیدی جائزہ" انشاءاللہ جلد ہی پیش کریں گے۔ خان صاحب کا تصور دین صحیح تھا یا نہیں، اس پر بات کرنے سے پہلے ہم آپ کے سامنے وہ واقعہ پیش کریں گے جومحمد احسن تہامی دار التذكير لاہور (5) نے خان صاحب کی وفات پر ایک مضمون میں، جو الرسالہ خصوصی شمارہ داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صاحب اگست، ستمبر ٢٠٢١ءمیں شائع ہوا، زیر بحث لایا ہے۔ اس میں انہوں نے خان صاحب کے پاکستانی سفر کی ایک تاریخی روداد کوحصۂ تاریخ بنا دیا ہے۔ جس کے بعد وہ خان صاحب سے اور بھی متاثر ہوئے تھے۔ لکھتے ہیں:

"١٩٩١ء میں جناب نعیم بلوچ اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر مولانا محترم کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ مولانا ایک ہفتے کے لیے تشریف لائے۔ ان کی رہائش کا بندوبست گارڈن ٹاون، لاہور میں جناب کرامت شیخ کے ہاں کیا گیا۔ یہاں فجر کی نماز کے بعد مولانا محترم سے استاد گرامی جاوید احمد غامدی کی معیت میں خصوصی نشستیں ہوئیں۔ ان مجلسوں میں استاد نے مولانا کے تصور دین پر چند سوالات اٹھائے۔ ان مجالس کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر منیر احمد، طالب محسن، رفیع مفتی اور نعیم بلوچ شمال ہیں۔ میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے وقت مولانا نے غامدی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ میری فکر پر پہلی مرتبہ آپ نے سنجیدہ علمی تنقید کی ہے۔ آپ کے نقد کی روشنی میں اپنی فکر کا اب مجھے از سر نو مطالعہ کر کے جائزہ لینا پڑے گا۔ مگر افسوس کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ "(6)

مذکورہ واقعہ اس نکتے کی نشان دہی کر رہا ہے کہ خان صاحب جس تصور دین کو درست سمجھتے تھے، اس کو انہوں نے غامدی صاحب کے نقد پر تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی، مگر تبدیل کیوں نہیں کیا؟ اس کو خان صاحب نے عمر کی طوالت کا تقاضا بتایا ہے۔ اب یہ بات ثابت ہوئی کہ خان صاحب کے تصور دین کو مولانا مودودیؒ کے بیان کردہ تصور دین کے مقابلے میں پیش کرنا ذہنی طفولیت کے جذبات ہی شمار کیا جائے گا۔ مولانا مودودیؒ پر دو ٹکوں کے مصنفین کی تنقیدی بارش ابھی تک برس رہی ہے، لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس تنقید سے ان کے احباب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تصور دین کے حوالے سے مولانا کا جو موقف ہے وہ دو جمع دو مساوی چار کی طرح واضح ہے۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی تنقیدی کتاب "عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح" پر مولانا مودودی ؒنے اپنے خط میں کچھ یوں لکھا تھا کہ:

" عنایت نامہ مؤرخہ ٥ / صفر ٩٩ ھ ملا، اور اس کے ساتھ آپ کی تازہ کتاب "عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح " کا ایک نسخہ بھی موصول ہوا۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ میری جس چیز کو آپ نے خدشات کا موجب سمجھا اس پر تنقید فرمائی۔ مزید میری جن چیزوں کو آپ دین اور اہلِ دین کے لیے مضرت رساں یا موجبِ خطر سمجھتے ہوں ان پر بھی آپ بلا تکلف تنقید فرمائیں۔ میں نے کبھی اپنے کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا، نہ میں اس پر بُرا مانتا ہوں۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ میں ہر تنقید کو برحق مان لوں، اور ناقدین کے بیان کردہ خدشات اور اندیشوں کو صحیح تسلیم کرلوں۔ " (7)

مولانا مودودی ؒپر تنقیدی کتاب میں اگر چہ انھوں نے خود کو تنقید سے مبرا نہیں سمجھا ہے لیکن اپنے تصور دین، اپنی فکر اور اپنی تحریک کے حوالے سے ان کے یہ دو ٹوک الفاظ کافی ہیں کہ: "البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ میں ہر تنقید کو برحق مان لوں، اور ناقدین کے بیان کردہ خدشات اور اندیشوں کو صحیح تسلیم کرلوں۔ "

مولانا مودودیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے موقف کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ کسی پر تنقید اور کسی کی تائید سے بالاتر ہو کر دنیا سے مخاطب ہوئے۔ جس کو خان صاحب ؒاور غامدی صاحب تعبیر کہتے ہیں اور اس کے مقابل میں بغیر کسی قوی برہان کے تنقیدی اسلوب میں اپنے موقف کو پیش کرنے کی کوشش کی۔

خان صاحب کی کتاب "تعبیر کی غلطی" پر مولانا مودودی کا آخری کمنٹ یہ تھا، جو کہ ہر ایک ذو علم قاری کو ان کی کتاب پڑھنے کے بعد نظر آتا ہے کہ:

"میرا خیال یہ ہے کہ آپ کا مطالعہ نہایت ناقص ہے، آپ نے غلط نتائج نکالے ہیں اور میرے مسلک کو بھی آپ پوری طرح نہیں سمجھے ہیں، بلکہ اس کی ایک غلط تعبیر آ پ نے کرلی ہے۔ لیکن غضب یہ ہے کہ اس مضمون میں آپ اپنے آپ کو ایک بہت اونچے مقام پر فائز بیٹھ کر کلام فرمارہے ہیں اور آپ کا انداز ِکلام یہ ہے کہ جو شخص بھی آپ کے نقطہ نظر کوقبول نہیں کرتا وہ جاہل و نادان بھی ہے اور ضال ومضل بھی۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ علم کی کمی کے ساتھ جو اس طرح کے زعم میں مبتلا ہو اس سے مخاطب ہونے کی مجھے عادت نہیں ہے۔ "(8)

اس کے بعد تو کوئی بات نہیں بنتی جس پر کوئی بحث کریں۔ اس لیے کہ مولانا مودودی ؒنے انہیں دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے" آپ نے غلط نتائج نکالے ہیں اور میرے مسلک کو بھی آپ پوری طرح نہیں سمجھے ہیں بلکہ اس کی ایک غلط تعبیر آ پ نے کرلی ہے" یعنی جو بات خان صاحب بتا رہے ہیں یہ سرے سے مولانا مودودی کی تصور کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتی، جس پر عامر عثمانی صاحب نے خان صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:

"مولانا مودودی کا یہ (مذکورہ) ریمارک پڑھ کر ہمیں ان پر غصہ آیا تھا، ہم واقعی اس کتاب کو پڑھنے سے قبل خان صاحب کی استعداد کے بارے میں کافی حسن ظن رکھتے تھے، کم سے کم انہیں عربی کا فارغ التحصیل تو سمجھتے ہی تھے۔ لیکن جوں جوں کتاب کو پڑھا، حسن ظن کے شیش محل کی ایک ایک دیوار پاش پاش ہوتی چلی گئی اور ماننا پڑا کہ مولانا مودودی کا بحث سے اجتناب غلط نہیں تھا۔ آخر ایسے شخص سے کوئی سنجیدہ اور علمی انسان مباحثے میں وقت کیوں برباد کرے گا جو  چند سال ریل کی ڈرائیووری کر لینے کے بعد، اس نے سمجھا کہ اب وہ پیچیدہ سے پیچیدہ مشین کے میکنزم اور تکنیک کا  ماہرانہ کام کر سکتا ہے۔" (9)

میں حیران ہوں کہ اگر مولانا مودودیؒ کا تصور دین درست نہ ہوتا تو مدرسۃ الاصلاح، مدرسہ دیوبند، مولانا مودودی کے معاصرین وغیرہ میں اتنا کوئی رجل رشید نہیں تھا کہ مولانا مودودی ؒکے تصور دین پر تنقید کر کے بتا دیتا کہ یہ تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اور ان کے معاصر مدرسہ دیوبند کے اکابر مولانا اشرف علی تھانویؒ کو جب مولانا منظور نعمانیؒ نے جماعت اسلامی کا دستور بھیج کر اس پر کمنٹ چاہا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ یہ خلافِ اسلام نہیں ہے لیکن بس میرا دل اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ (10)

کیا صاحبِ تدبر قرآن امین احسن اصلاحیؒ کوئی طفل مکتب میں سے تھے کہ دار الاصلاح چھوڑ کر مولانا مودودی کی رفاقت میں ایک غلط تصور دین کے تحت دارالاسلام میں شامل ہوئے تھے۔ جو جاوید احمد غامدی اور خان صاحب دونوں کے استاد تھے۔ اگر مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے مولانا مودودی ؒکے تصور دین پر تنقیدی قلم نہیں اٹھایا، جس نے اپنے عمر کا کم و بیشتر سارا حصہ قرآن مجید کے سوچ و تدبر میں گزارا تھا تو ان کے شاگردوں کی بے جا کنفیوژن پیدا کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مولانا مودودیؒ نے اپنا تصور دین "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" میں خالص قرآنی آیات اور عربی لغت کے مصادر سے پیش کیا ہے۔ اب اگر کوئی ان کے سامنے اس تصور دین کے خلاف علمی میدان میں کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھی قرآن ہی کو برہان بنا کر لے آئے، نہ کہ زَمن ملوکی سے مغلوب و متاثر علماء کے اقوال و آراء کو۔ اس لیے کہ مولانا مودودی ؒکا تصور دین رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کے دور ہی کا اول ایڈیشن ہے جس میں زَمن ملوکی کے درباری علماء کے اقوال و آثار کی امیزش شامل نہیں ہے۔


حوالہ جات

  1.  (اسلامی ریاست مولانا مودودی، صفحہ 32، اسلامک پبلیکیشنز لاہور، اشاعت 2018ء)
  2.  (تفہیم القرآن: جلد 4 صفحہ، 486، 87، 88، 89 ا، دارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور؛ اشاعت ستمبر 2011ء)
  3.  (تعبیر کی غلطی ص: 301 گڈ ورڈ بک انڈیا )
  4.  لنک https: //youtu.be/aCrzV21qQ2Y
  5.  (محمد احسن تہامی صاحب، خان صاحب کا الرسالہ کے پاکستانی ایڈیشن شائع کرنے والے CPS کے اولین ارکان میں سے تھے۔ پاکستان سے دار التذكير کے نام سے خان صاحب کی کتب کی اشاعت بھی انہوں نے شروع کی تھیں)
  6.  (الرسالہ خاص شمارہ اگست ستمبر 2021ء، صفحہ 91، گڈ ورڈ بک انڈیا )
  7.  (پرانے چراغ حصہ دوم ص: 279، 280، مکتبہ شباب العلمیہ، ندوہ روڈ لکھنؤ اشاعت شسشم 2010ء۔ (اسی طرح اس کا ذکر "عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح" میں بھی موجود ہے۔ صفحہ)
  8.  (تعبیر کی غلطی: صفحہ 118، گڈ ورڈ بک انڈیا )
  9.  ( ماہنامہ تجلی دیوبند، تنقید نمبر، فروری مارچ 1965ء)
  10.  (مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف، صفحہ: 138، مجلس نشریات اسلام کراچی، اشاعت مارچ 1980ء بار اول)

دل کا قبول نہ کرنا کسی شے کے غلط ہونے کا دلیل نہیں بن سکتا۔ ویسے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب اپنے عمر کے آخری مرحلے میں تھے۔ 1941ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی اور 1943ء میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب فوت ہوئے تھے۔ عمر کے اس حصے میں ان کا کیسے اپنے طرز پر کام کرنے کے بجائے ایک نئے طرز کے ساتھ اتفاق پیدا ہو جاتا؟


انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۴)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Modernity کا ساتواں باب)



ایجاد کب بدعت بن جاتی ہے؟ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول

شاہ محمد اسماعیل اور دیوبند کے پیش روؤں کے لیے نہ صرف نبی اکرم ﷺ کا عمل اور عہد مقدس ہے، بلکہ اس کے ساتھ سلف صالحین، یعنی تمام صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین واجب الاتباع اور تنقید سے ماورا ہیں1۔ اگر چہ سنت کا معنی رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے، لیکن جب اسے بدعت کے مقابلے میں استعمال کیا جائے تو اس کا حقیقی معنی وہ تمام اعمال واقدار ہیں جو اسلام کی ابتدائی تین نسلوں (قرونِ ثلاثہ) کی پیدا کردہ اور منظور کردہ ہیں۔ دیوبند کے پیش روؤں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ، ان کے صحابہ کرام، ان کے تابعین اور تبع تابعین کا تعلق ایک ہی زمانی عمارت سے ہے۔ 

ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی بھی عمل یا رواج جو عہد صحابہ یا تابعین وتبع تابعین کے دور میں رائج اور عام تھا، یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے پیچھے رسول اللہ ﷺ کے قول، فعل اور تقریر کی صراحت یا استدلال نہ ہو2۔ اس لیے عربی زبان کے قواعد اور لغت کی تدوین، قرآن کریم کے اعجاز کا اثبات، اصول فقہ اور قواعد فقہیہ کی تشکیل؛ بظاہر یہ تمام وہ نئی چیزیں ہیں جن کا اضافہ رسول اللہ ﷺ کی دنیا سے رحلت فرمانے کے بعد دین میں کیا گیا، لیکن سنت کی مخالفت کرنے کے بجاے ان مابعد کی ایجادات نے درحقیقت اس کی شرعی قدر وقیمت میں اضافہ کیا، یا اس کی تشریح وتوضیح کی، اس لیے انھیں بدعات نہیں کہا جا سکتا۔

دیوبند کے پیش روؤں نے بتایا کہ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کی اصطلاحوں کے درمیان عام طور پر جو فرق کیا جاتا ہے، وہ غیرضروری ہے۔ ان کی نظر میں بدعت ہمیشہ سے ان ناجائز اعمال پر دلالت کرتی آئی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مد مقابل ہیں۔انھوں نے کہا کہ غلط طور پر موسوم کی گئی بدعتِ حسنہ کے لیے سنت کا الحاق (ملحق بالسنۃ) کی اصطلاح دی استعمال کرنی چاہیے۔ ایسا اس لیے ہونا چاہیے کہ یہ اضافہ جات کوئی نئی شرعی نظیر قائم نہیں کرتے، بلکہ پہلے سے موجود ایک نظیر کی تشریح وتوضیح کرتے ہیں3۔ آئیے، اس نکتے کو  مزید واضح کرتے ہیں۔

علماے دیوبند کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ان عقائد واعمال اور عادات واطوار سے عبارت تھا جو اسلام کی پہلی تین صدیوں میں بغیر کسی اختلاف کے رائج (شائع بلا نکیر) تھے۔ ایسا نہیں کہ تاریخ کے اس مثالی دور میں برے اعمال سرے سے موجود نہیں تھے۔ اس دور میں لوگ جھوٹ بولتے، دھوکا دیتے اور تمام قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ تاہم ان گناہوں کا دائرہ محدود تھا اور ان پر تنقید کی جاتی تھی۔ دیوبندیوں کے فقہی تخیل میں اس لیے بدعت کا تصور ہر اس نئی چیز پر دلالت نہیں کرتا جو مادی طور پر ابتدائی تین صدیوں میں موجود تھی۔ اس کے بجاے اس کا مطلب ان سنتوں کی روح سے انحراف یا مخالفت ہے جو اس بابرکت دور میں رائج تھیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے بہت عمدہ طریقے سے اس اصول کی وضاحت بیان کی ہے۔

تھانوی کی نظر میں اسلام کی ابتدائی تین صدیوں کے بعد دو قسم کی نئی چیزیں سامنے آئیں4۔ پہلی قسم کی نئی چیزیں وہ تھیں جو اپنی شکل وصورت اور اپنے وجود کے بنیادی مقصد (سببِ داعی) دونوں کے اعتبار سے نئی تھیں۔ مزید برآں یہ نئی چیزیں واجب دینی اعمال کی تکمیل کے لیے ضروری تھیں۔ مثلاً‌ دینی کتابوں کی لکھائی اور ان کی فہرست سازی، دینی مدارس اور خانقاہوں کی تعمیر اور عربی قواعد کی تشکیل وہ تمام نئی چیزیں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں موجود نہیں تھیں، اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ ان کی موجودگی کی ضرورت بھی اس دور میں نہ تھی۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ نئی چیزیں دینی فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری بن گئیں۔ کیوں؟ اس بنیادی سوال کا جواب دینے کے لیے تھانوی نے ایک کہانی بیان کی کہ کس طرح دین کی ترویج وحفاظت کے لیے انسانی صلاحیتوں میں عمومی زوال پیدا ہوا، جس کی وجہ سے دین اپنے ابتدائی دور کی شکل سے زیادہ دور چلا گیا، اور جس نے ایسے آلات اور ایجادات کی پیداوار کی ضرورت پیدا کی جو اس عمل میں معاونت فراہم کر سکیں۔ مولانا تھانوی نے بتایا کہ اسلام کی پہلی تین صدیوں میں ابتدائی معاشرہ دین کو تمام نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے میں اتنا آگے اور ماہر تھا کہ اس کام میں انھیں کسی بیرونی وسیلے یا طریق کار کی ضرورت ہی نہ تھی۔ مثلاً اس زمانے کے لوگوں کا حافظہ غلطی سے پاک تھا۔ وہ ہر وہ چیز یاد کر لیتے تھے جو وہ سن لیتے۔ وہ مذہب اور اس کی باریکیوں کو اس قدر گہرائی سے سمجھتے تھے کہ انھیں ایسے نکات سمجھانے یا سکھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح احادیث نبویہ اور علوم سیرت کے حفظ وتدوین کا ایک پورا ماحول عروج پر تھا5۔

مولانا تھانوی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تین نسلوں تک اغلاط سے مبرا یہ ابتدائی عہد باقی رہنے کے بعد ایک دوسرا مرحلہ شروع ہوا جس میں کئی محاذوں پر تدریجی لیکن گہرے زوال کا مشاہدہ ہونے لگا۔ لوگ دین کی حفاظت میں اس طرح پرجوش نہیں رہے جس طرح وہ پہلے تھے۔ ایک عمومی بےپروائی روزمرہ کا معمول بن گئی۔ اہل بدعت اور ایسے لوگوں کے پاس طاقت واقتدار آگیا جو عقل کو دینی حقائق پر ترجیح دیتے تھے6۔ اس موقع پر مسلمان علما نے یہ جان لیا کہ ان کا دین خطرے کی زد میں ہے، اور اگر وہ اس کا فوری علاج نہ کر سکے تو دین آہستہ آہستہ فنا ہو جائے گا۔ اس لیے انھوں نے ایک شدید بحران کے دور میں دین کی حفاظت کے لیے مخصوص آلات اور طریق ہاے کار ایجاد کیے۔  ان ایجادات میں دینی کتابوں کی اشاعت، علم فقہ، اصول فقہ اور حدیث (جس کی سند اور متن کی کتابی تدوین حضور ﷺ کی وفات کے کافی عرصے بعد کی گئی)  جیسے علوم کی باضابطہ تدوین عمل میں لائی گئی۔ ممتاز اہل علم نے دینی مدارس تعمیر کیے جہاں ان نئے مضامین کی تعلیم وتبلیغ کی جانے لگی۔ اسی طرح اس زمانے کے نامور صوفیا نے خانقاہیں اور تربیتی مراکز بنائے، تاکہ دینی علوم اور استناد کے تسلسل کو قائم رکھ سکیں۔

مولانا تھانوی نے زور دے کر کہا کہ ان پیش رفتوں اور سرگرمیوں کے پیچھے جو بنیادی محرک کار فرما تھا، وہ رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین کے دور میں موجود نہیں تھا۔ یہ تمام نئی پیش رفتیں بظاہر بدعات دکھائی دیتی ہیں، تاہم حقیقت میں یہ وہ ضروری آلات ووسائل ہیں، جو واجبات دین کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تھانوی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس لیے  فقہی قاعدے کی رو سے کہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے (مقدمة الواجب واجبة)، ان ایجادات کو بھی واجب سمجھنا چاہیے۔

علم کے ان نئے اعمال اور طور طریقوں نے دین کے تسلسل میں کوئی خلل پیدا نہیں کیا۔ اس کے بجاے وہ دین کی بقا کے لیے ناگزیر تھے۔ بالفاظ دیگر یہ بظاہر نئی ایجادات سنت نبوی کے اندر مضمر تھیں جن کا ظہور بعد کے دور میں ہوا۔ اگر چہ وہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے نئی تھیں، لیکن اپنے اصلی جوہر کے اعتبار سے وہ براہ راست سنتِ نبوی کی روح سے جڑی ہوئی تھیں۔ یہ ایجادات وہ بنیادی وسائل ہیں جو ایک ایسی دنیا میں جہاں سنت نبوی پر عمل زوال پذیر ہو، اسی سنت کے اندر مضمر  امکانات کو مادی صورت عطا کرتے ہیں7۔

ایجادات کی دوسری قسم وہ ہے جو ان اعمال پر مشتمل ہے جو اپنی صورت میں تو نئی ہیں، لیکن اپنی ابتدا میں کار فرما "بنیادی محرک" کے اعتبار سے نئی نہیں ہوتیں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کے یومِ ولادت کو منانے کا "بنیادی مُحَرِّک" آپ کے یومِ پیدائش پر خوشی ومسرت کا اظہار ہے۔ یہ بنیادی محرک رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کے عہد میں موجود رہا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی حضور ﷺ کے یوم پیدائش کو منا سکتے تھے۔ مولانا تھانوی نے زور دے کر کہا  کہ ایسا نہیں تھا کہ اس رسم کا آغاز رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے لیے ناقابلِ تصور تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے نہ کوئی ایسی محفل منعقد کی نہ اس میں شریک ہوئے۔

مولانا تھانوی کی نظر میں اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں کسی عمل کی غیر موجودگی، باوجود یکہ اس کا محرک اور مُقتَضِی اس دور میں موجود ہو، اس بات کی واضح علامت ہے کہ سنتِ نبوی کی رو سے اس کی اجازت نہیں۔ زیادہ آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ کسی عمل کو ایجاد نہ کریں، باوجود یکہ اس کی ایجاد کی وجہ ان کے پاس ہو تو یہ واضح ہے کہ ان کے طرزِ عمل کی رو سے اس عمل کی تائید نہیں ہو سکتی۔ مولانا تھانوی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، اس لیے مؤخر الذکر ایجادات بدعت ہیں، کیونکہ یہ دین میں ایک ایسی نئی چیز کو شامل کرتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ نے شامل نہیں کی، باوجود یکہ وہ ایسا کر سکتے تھے۔ تھانوی نے نتیجہ نکالتے ہوئے ہوئے کہا کہ ایسی ایجادات نہ صرف یہ کہ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ اپنے اصلی جوہر کے اعتبار سے نئی ہیں۔ سنت نبوی سے یہ جوہری علیحدگی سنت کی کاملیت اور حتمیت میں شبہ میں پیدا کرتی ہے۔ یہ سنتِ نبوی کی کاملیت اور حتمیت پر سوال اٹھا کر اس کا حریف بنتی ہے8۔

مولانا تھانوی کے لیے اسلام میں بدعت کی حدود پر اس سارے مناقشے میں اساسی موضوع سنتِ نبوی اور اس کی توسیع کے طور پر قانونِ الہی کی مطلق حاکمیت ہے۔ وہ بتاتے ہیں: "بدعت کا مرتکب درپردہ مدعیِ نبوت ہے"۔ شریعت میں کسی نئی چیز کو شامل کرکے ایسا شخص بالواسطہ شریعت کو ناقص اور نامکمل ہونے کا دوش دیتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ بالواسطہ اس بات پر اتراتا ہے کہ وہ نئی چیزوں کا اضافہ کرکے شریعت کے نقائص کو دور کرنے کے لیے حاکمیتِ مطلقہ رکھتا ہے"9۔ مولانا تھانوی نے جو اگلا قیاس پیش کیا ہے، وہ اس نکتے کو زیادہ صراحت کے ساتھ واضح کرتا ہے۔ "مثلاً کسی شخص نے گورنمنٹ (تھانوی نے یہاں انگریزی زبان کا لفظ استعمال کیا ہے) کے آئین کی نقل شائع کی، اور اس دستاویز کے آخر  میں اپنی طرف سے کسی شق کا اضافہ کیا۔ اگر چہ یہ اضافی شق ملک اور حکومت کے لیے کتنی مفید کیوں نہ ہو، لیکن آئین پر ایسی غیر منظور شدہ دست درازی جرم کہلائے گی، اور اس کے مرتکب کو سخت سزا دی جائے گی"۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: "اس لیے اس دنیا کے قانون میں ایک غیر منظور شدہ شق کو شامل کرنا جرم ہے، تو قانون الہی میں اس طرح کے اضافے سے کیسے چشم پوشی کی جا سکتی ہے؟"10

مولانا تھانوی نے مزید وضاحت کی کہ ایجادات کی ان دونوں قسموں میں بنیادی فرق  زیادہ صراحت کے ساتھ اس ارشاد نبوی سے سمجھ میں آتا ہے: "جو ہمارے اس امر میں کوئی ایسی ایجاد کرتا ہے، جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مسترد ہے" (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردٌّ)11۔ بدعات کی پہلی قسم جو فرائض دینیہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں، ان کا تعلق حدیث کے اس حصے سے ہے جو دین میں شامل (منه) ہے۔ اس کے برعکس ایجادات کی دوسری قسم وہ ہے جو نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کی سنتوں کے مخالف ہے، تو ان کا تعلق حدیث کی رو سے اس حصے سے ہے جو دین میں شامل نہیں (ما ليس منه) ہے۔

مولانا تھانوی نے تجویز کیا کہ اس فرق کو یاد رکھنے کے لیے دین کے لیے ایجاد (احداث للدین) اور دین میں ایجاد (احداث فی الدین) کو یاد رکھیں12۔ احداث فی الدین بظاہر ایجاد ہو جاتی ہے لیکن معنی کے اعتبار سے وہ سنت نبوی ہی کی اتباع ہے۔ اس کے برعکس احداث فی الدین نہ صرف یہ کہ اپنی ظاہری ہیئت میں ایجاد ہوتی ہے، بلکہ وہ رسول اللہ کے اسوۂ حسنہ کے بنیادی مقصد میں تغیر پیدا کرتی ہے۔ نتیجتاً جہاں احداث للدین  شریعت کے بنیادی ماخذ اور اسوۂ کاملہ کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کے مقام ومرتبے کو مزید مضبوطی عطا کرتی ہے، وہیں احداث فی الدین اخروی نجات کے پروگرام کی کاملیت اور حتمیت کو للکار کر نبی اکرم ﷺ کے شرعی مقام کو گھٹاتی ہے۔

بدعت بحیثیت تجاوز اور بدنظمی

مولانا اشرف علی تھانوی کے نزدیک بدعت بدنظمی کا دوسرا نام تھا۔ انھوں نے بدنظمی کا مطلب ضابطے کی خلاف ورزی لیا۔ انھوں نے اس کو ایک مثال سے واضح کیا ہے: فرض کرو ایک شخص ظہر کی فرض نماز چار رکعات کے بجاے پانچ رکعات پڑھے۔ اس صورت میں چونکہ اس نے ایک عبادتی سرگرمی کے پہلے سے چلے والے نظم میں اضافہ اور اس طرح سے اس نظم میں خلل پیدا کیا، اس لیے اس کی پوری نماز فاسد ہوئی؛ اور اسے اپنی پہلی چار رکعتوں پر بھی کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔ اب ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص کو اس تجاوز میں کسی قسم کی بدعت نظر نہ آئے؛ کیونکہ وہ  کہہ سکتا ہے کہ نماز جیسی پاکیزہ عبادت میں تجاوز کا اظہار کیسے غلط ہو سکتا ہے؟ مولانا تھانوی نے بتایا کہ اس سلسلے میں جس بنیادی گناہ کا ارتکاب کیا گیا، وہ پہلے سے شریعت کے ایک قائم نظم کی خلاف ورزی ہے۔ تھانوی نے نظم اور تجاوز کے درمیان فطری تضاد کو واضح کرنے کے لیے ایک دقیق قیاس کیا جو ایک بار پھر جدید استعمار کے ٹیکنالوجیکل تناظر کی اساس پر تھا: "اگر کوئی شخص کسی ایسے لفافے پر ایک روپے کی ٹکٹ لگائے جس کےلیے 80 پیسے کی ٹکٹ درکار ہے (سو پیسے = ایک روپے)، تو ڈاک والے اس لفافےکو آگے نہیں بھیجیں گے۔ ایسا اس لیے ہے کہ بھیجنے والے نے غلط ٹکٹ چسپاں کرکے  ضابطے کی خلاف ورزی کی"13۔

مولانا تھانوی کے نزدیک روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے نظم برقرار رکھنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے، حتی کہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع میں بھی یہ ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی زندگی کی تمام تفصیلات پر عمل کرنا بھی اس وقت تک قابل تعریف ہے، جب تک یہ فرائض دینیہ کی تکمیل میں نہ خلل پیدا نہ کرے اور  نہ انھیں کمزور کرے۔ انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے دو پہلو ہیں: فعلی اور قولی۔ فعلی پہلو آپ کی روزمرہ زندگی کی مخصوص عادات سے عبارت ہے۔ مثلاً آپ کیا کھاتے تھے، پگڑی کیسے باندھتے تھے، چھڑی کیسے پکڑتے تھے، اپنا گھر کیسے رکھتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ بالفاظِ دیگر یہ پہلو ذاتی عادات پر مشتمل ہے۔ مولانا تھانوی نے بتایا کہ آپ کے بعد مسلمانوں پر یہ فرض نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تمام عادات کو جزئیات سمیت اپنی زندگی میں روبعمل کریں۔ دوسری طرف ان کے اسوہ کے قولی پہلو میں وہ اعمال شامل ہیں جو واضح طور پر اہم عبادات ہیں۔ ان کے اسوۂ حسنہ کے فعلی پہلو کے برعکس، ان احکام پر عمل لازمی ہے جو آپ کے اقوال کی رو سے لازم قرار دیے گئے ہیں، اگر چہ انسانوں کو ایک قابل ذکر حد تک آزادی دی گئی ہے کہ وہ ان حدود کے اندر اپنے مزاج کے مطابق انتخاب کریں۔

مولانا تھانوی نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے عُشّاق قرار دیا جو باوجود لازم نہ ہونے کے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے ہر لمحے کی پیروی کی دوہری مشقت اٹھاتے ہیں۔ تھانوی کے نزدیک عام لوگ ایسے عشاق کی راہ پر نہیں چل سکتے۔ جیسا کہ ان کا کہنا ہے: "رسول اللہ ﷺ کے ہر عمل کی اتباع کا منشا محبت ہے۔ان عشاق میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر تشکیل دیتے ہیں؛ وہ ٹھیک اسی طریقے سے کھاتے، پیتے اور پہنتے ہیں، جس طریقے سے رسول اللہ ﷺ نے یہ اعمال کیے۔ لیکن ہم جیسے عام لوگوں کے لیے یہ پابندیاں لازمی نہیں، تاکہ ہم نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی عمومی قولی حدود کے اندر رہیں"14۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: "تمام معاملات میں پوری  چابک دستی سے شریعت کی حدود کی پاس داری کرنی چاہیے۔ ہر شے کو اپنی حد پر رہنا چاہیے"15۔

مولانا تھانوی نے متنبہ کیا کہ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی عادات کی اتباع میں اس قدر غلو نہ کرے جس سے فرائضِ دینیہ پر کوئی سمجھوتا ہوتا ہو۔ بلکہ ایسی اتباع کو مسترد کرنا چاہیے جو کسی فرض عمل کی تکمیل کے رستے میں کاوٹ بن جائے۔ مثال کے طور پر تھانوی نے واضح کیا کہ  رسول اللہ ﷺ ہر رات تہجد کی آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ اس غیر واجب عمل کی اتباع قابل تعریف ہے، اگر کسی شخص میں اس کے لیے مطلوبہ استعداد اور شوق ہو۔ لیکن ایک ایسی صورت فرض کریں جس میں ایک شخص ساری رات تہجد کے نوافل پڑھے، اور نتیجتاً فجر کے وقت فرض نماز کے لیے اٹھنے سے قاصر ہو جائے تو یہ غلط ہوگا۔ ایسی صورت میں اس شخص پر لازم تھا کہ وہ تہجد کی نماز کو ایک طرف رکھ دے، بروقت سوئے، اور فجر کی فرض نماز کی ادائیگی کے لیے صبح بروقت جاگ جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے ہر ہر لمحے کی اتباع صرف اس صورت میں قابل تعریف ہے جب وہ فرض عبادات کی اولیت کے لیے خطرہ نہ بنے۔ جب دینی جذبہ فرائض کے لیے خطرہ بن جائے تو  پھر اس جذبے کو اعتدال میں لانا چاہیے یا اسے فنا کرنا چاہیے۔ مولانا تھانوی امت کے بعض افراد میں پائے جانے والے غلبۂ عشق کو تسلیم کرتے ہیں، اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کے اظہار میں  ایسے عاشقانہ تجاوز کو جو نظم کی کمزوری کا سبب بنے، ناقابل برداشت سمجھتے ہیں۔

فرائض کے تقدس کا تحفظ

مولانا تھانوی کے تعبیری منہج کی بنیاد وہ فقہی اصول ہے جو غیر واجب اعمال کو واجب میں بدلنے کو حرام قرار دیتا ہے۔ تھانوی کے نزدیک مباحات بھی ناجائز قرار پاتے ہیں، اگر عوام ان اعمال کو واجباتِ دین فرض کرنے لگیں، بلکہ اگر کسی مستحب عمل کو واجب کا درجہ دیا جائے تو اس کا چھوڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ تھانوی نے بتایا کہ یہ فقہ حنفی کا معیاری اصول ہے۔

اس بحث میں مولانا تھانوی نے بہ تکرار انیسویں صدی کے بااثر حنفی عالم محمد امین ابن عابدین شامی (م 1836) کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے وسیع پیمانے پر اپنی مقبولِ عام کتاب 'رد المحتار' میں علی الترتیب غیر واجب اعمال کو واجب اعمال کا رتبہ دینے کے خلاف تنبیہات کی ہیں۔ مثلاً ابن عابدین نے واضح کیا کہ وترکی نماز میں تین قرآنی سورتوں یعنی سورۃ الاعلی، سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص کا پڑھنا رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں قرآن کی دیگر سورتوں کو چھوڑ کر صرف ان تین سورتوں کے پڑھنے پر اصرار کرے تو یہ اصرار اس مستحب عمل کو ناجائز عمل میں بدل دے گا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس طرح کی تخصیص کسی غیر واجب عمل کو واجب عمل کی حیثیت دے دیتا ہے۔ اس لیے ابن عابدین کے نزدیک کسی کو نمازوں کے دوران رکعتوں میں سورتوں کے انتخاب کے لیے کسی قسم کے تعین سے گریز کرنا چاہیے16۔

اسی طرح تھانوی کی نظر میں صحابہ کرام نے بالتصریح مباح اور مستحب اعمال  کو اس اہتمام سے ادا کرنے پر تنبیہ کی ہے جس سے ان اعمال کا واجب ہونا ظاہر ہو۔ اس سلسلے میں مولانا تھانوی نے بطور خاص رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک بیان نقل کیا ہے: "نماز ختم کرنے کے بعد دائیں طرف مُڑنے کو ضروری جان کر اپنی نماز کا ایک حصہ شیطان کو مت دو، کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بائیں طرف بھی پھر جایا کرتے تھے"17۔ اس سنتِ نبوی کے مطابق نماز کے بعد دائیں طرف مڑنا ایک مستحب امر تھا۔ تاہم جب لوگوں نے اس عمل کو واجب سمجھنا شروع کیا تو حضرت ابن مسعود نے اس پر روک ٹوک کی اور انھیں یاد دلایا کہ بائیں جانب مڑنے میں کوئی خرابی نہیں۔ دراصل انھوں نے دائیں جانب مڑنے پر اصرار کو "نماز کا ایک حصہ شیطان کو دینا" قرار دیا۔ اس روایت کی شرح کرتے ہوئے علوم حدیث اور فقہ شافعی کے نامور عالم علامہ ابن حجر عسقلانی (م 1448) نے واضح کیا: "مستحب اعمال مکروہ بن جاتے ہیں، اگر انھیں ان کے متعین درجے سے اوپر اٹھایا جائے"18۔

ان مثالوں میں کار فرما بنیادی منطق یہ تھی کہ غیر واجب اعمال، باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اجازت بھی دی  ہو، انھیں کبھی بھی واجب اعمال کی حیثیت نہیں دینی چاہیے۔ تھانوی نے باصرار بتایا کہ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کا لوگ خیال نہیں رکھتے اور الٹا  دیوبندی علما پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مباح اعمال سے منع کرتے ہیں۔ انھوں  نے پرزور اصرار کرتے ہوئے کہا کہ دیوبندی علما کے خلاف یہ الزام بے انصافی پر مبنی ہے۔ وہ صرف ان اعمال سے منع کرتے ہیں جو ناجائز اعمال کا مقدمہ بنتے ہیں۔ جس طرح واجب کا مقدمہ واجب ہوتا ہے، اسی طرح حرام کا مقدمہ بھی حرام ہوتا ہے (مقدمة الحرام حرام)۔ تھانوی نے تاکید کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں جو اہم نکتہ یاد رہنا چاہیے، وہ یہ تھا کہ جب ایک معروف مباح عمل حرام کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن جائے تو ایک مباح عمل کی حیثیت سے اس کی رکنیت معطل ہو جاتی ہے، اور یہ بذات خود ایک ناجائز عمل بن جاتا ہے19۔

مولانا تھانوی کے مطابق کسی مخصوص عمل کی اخلاقی اور دینی قدر وقیمت کا انحصار ان حالات پر ہے جن میں یہ عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔حتی کہ  نیکی کا ایک عمل غیر مطلوب بن جاتا ہے، اگر اسے درست شرائط کے ساتھ سرانجام نہ دیا جائے۔ تھانوی نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر،  نماز پڑھنا ایک ایسا عمل ہے جس کی اچھائی پر سب لوگ متفق ہیں۔ تاہم اگر پاخانہ کا تقاضا ہو تو اس وقت نماز مکروہ ہو جاتی ہے20۔ یہی وہ 'راز' ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات مباح اعمال بھی حرام ٹھہرتے ہیں۔ لیکن، انھوں نے دل گرفتگی سے کہا کہ، یہ نکتہ عوام کو سمجھ نہیں آتا۔ تھانوی نے  مزاح آمیز نصیحت میں واضح کیا:

جب کبھی میں ان (عوام) کو عید میلاد النبی جیسی رسموں سے روکتا ہوں تو وہ شکایت کرتے ہیں کہ میں انھیں نیکی کے کاموں میں شرکت سے روک رہا ہوں۔ مجھے اس سے اتفاق ہے کہ یہ کام بلا شبہ نیکی کے ہیں۔ اپنے اصل جوہر کے اعتبار سے ان میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم جس امر کی وجہ سے یہ بدعت کے زمرے میں شامل ہو جاتے ہیں، وہ اجر وثواب کے حصول کے لیے مخصوص پابندیوں کو ضروری جاننا ہے۔ ایسی پابندیوں کو لازمی سمجھنے کی کوئی گنجائش شریعت میں نہیں۔ لیکن اس باریک دلیل کو عوام کیوں کر سمجھیں؟ اس لیے جب میں ان سے بات کرتا ہوں تو میں اپنے دلیل کی تفصیلات بیان نہیں کرتا، بلکہ سیدھا سادہ سختی سے انھیں ان کاموں سے روک لیتا ہوں، جو انھیں نہیں کرنے چاہییں۔ مثلاً‌ ایک بار ایک دیہاتی نے احتجاج کیا: "جمعے کی نماز دیہاتوں میں کیوں نہیں پڑھی جاتی؟" میں نے اسے یہ جواب دے کر خاموش کیا: "پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ حج بمبئ میں کیوں نہیں ادا کیا جاتا؟21"

برائی کے سد باب کے لیے اچھائی کی ممانعت: کس کا اختیار ہے اور کیسے؟

مولانا تھانوی نے تاکید سے بتایا کہ ایک مباح عمل کو اس بنیاد پر حرام قرار دینے کا فیصلہ کہ وہ فساد کا سبب بنتا ہے، ہر کسی کا کام نہیں۔ یہ ماہر علما کا کام ہے جن میں یہ جاننے کی صلاحیت ہوتی ہے کہ کیا کسی مباح عمل میں کسی خاص قسم کا فساد اس حد تک سنگین ہو گیا ہے، جو اس عمل کی حرمت کا تقاضا کرتا ہے؟22 لیکن یہ فیصلہ ہوگا کیسے؟ وہ معیار کیا ہے جس کی اساس پر کسی مباح عمل کو احتیاطی بنیادوں پر حرام قرار دیا جائے؟ ان اہم سوالات کو موضوع بحث بناتے ہوئے مولانا تھانوی نے اپنے قارئین کے سامنے غور وفکر کے لیے ایک دلچسپ صورتِ حال رکھ دی ہے۔ انھوں نے درج ذیل فکری تجربہ تجویز کیا ہے۔

 فرض کرو ایک عمل بالذات اچھا اور نیک ہے، لیکن عوام اسے مکروہ اور قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ جو کوئی بھی اس عمل کا ارتکاب کرے گا، اسے سماج کی طرف سے لعنت ملامت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایسی صورت میں اس عمل کے متعلق کون سا حکم ہونا چاہیے؟ کیا فقیہ اس عمل کو مباح قرار دے، اور اس تنازع سے صرف نظر کرے، جو اس عمل کے ارتکاب کی وجہ سے پیدا ہوسکتا ہے؟ یا وہ اس عمل کے ترک کرنے کی دعوت دے، تاکہ سماجی سطح پر اس کے ممکنہ نقصان دہ نتائج کا تدارک ہو سکے؟23

مولانا تھانوی نے بتایا کہ اس قسم کے عمل کو نہ تو مطلقاً حرام قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی علی الاطلاق مباح۔ یہ  سوال ایک سیدھے سادے جواب کے بجاے شریعت کے مصادر کی روشنی میں ایک پیچیدہ حل کا تقاضا کرتا ہے جو ان فقہا کا کام ہے جو یہ فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں۔ تھانوی نے اپنے استدلال کو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دو واقعات پر بحث کے دوران واضح کیا جو ان کی راے میں ایسی صورتِ حال میں کسی فقیہ کے لیے دست یاب متعدد امکانات کو بہترین انداز میں بیان کرتا ہے۔ ان دونوں واقعات میں اس مباح عمل کا حکم بھی زیر بحث لایا گیا ہے، جو سماج کی طرف سے شدید تنقید کا سبب بنتا ہے۔ ان صورتوں میں سے ایک صورت میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عمل کو چھوڑ دیا تاکہ یہ سماجی تشویش کا سبب نہ بنے۔ تاہم دوسری صورت میں انھوں نے باوجود ممکنہ خطرات کے ایک عمل کا ارتکاب کیا۔ یہی نظریاتی صورت دو مختلف نتائج فراہم کرتی ہے24۔

پہلا واقعہ حطیم کی دیوار کا مشہور مقدمہ ہے  جو مکہ میں خانہ کعبہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ جب مسلمانوں نے 628 عیسوی میں مکہ کو فتح کیا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک عمدہ موقع ملا کہ آپ اس دیوار کو خانہ کعبہ کی حدود میں شامل کر دیں۔اس وقت تک یہ دیوار کعبہ کی حدود سے باہر تھی۔ لیکن اس کام میں تعمیرِ نو سے پہلے خانہ کعبہ کو گرانا ضروری تھا۔ باوجود یہ کہ یہ عمل بظاہر اچھا تھا، لیکن نبی اکرم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ تعمیرِ نو کے منصوبے کو ملتوی کر دیں۔ انھوں نے دلیل میں فرمایا کہ کعبہ کو گرانا مکہ مکرمہ کے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو برہم کر سکتا ہے، جن کے لیے کعبہ بہت محترم ہے۔ بالفاظِ دیگر نبی اکرم ﷺ کو احساس تھا کہ اس مقام پر اسلام کی نوزائیدگی اور کمزوری کے باعث ممکنہ طور پر ایسے اشتعال انگیز عمل کو شروع کرنا حکمت کا تقاضا نہیں۔ اس لیے اگر چہ کعبے کی تعمیر نو اور اس کے اندر حطیم کی شمولیت درست اور جائز تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس منصوبے کو ترک کرنا پسند کیا، کیوں کہ اس سے دشمنی اور افراتفری پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔

نبوی فیصلے اور خواہشات: اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری

دوسرا واقعہ حضور ﷺ کے حضرت زینب بنت جحش (م 633) سے نکاح کا ہے جنھیں رسول اللہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور اولین دور میں اسلام قبول کرنے والے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (م 629)  نے طلاق دی تھی25۔ یہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ایک انتہائی قابل ذکر واقعہ ہے جو بیک وقت نبوت اور انسانی رشتوں کی قربت کے ایک باریک جال میں الجھا میں ہوا ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ایک سابقہ غلام ( جسے بعد میں آپ نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا) کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی ایک کہانی ہے۔  اس واقعے  کے دوران ان کے منہ بولا بیٹا ہونے کی نفی کی گئی اور وہ بیٹے سے ایک عام صحابی میں تبدیل ہوگئے (باوجود یہ کہ وہ  رسول اللہ ﷺ کے مقربین میں رہے)۔ جیسا کہ ڈیوڈ پاورز نے بتایا ہے کہ یہ کہانی اسلام میں نبوت کے تصور کے لیے گہرے مضمرات رکھتی ہے، اس لیے کہ اگر محمد (ﷺ) نے زید کے منہ بولے بیٹے ہونے کی نفی نہ کی ہوتی اور زید آپ ﷺ کے بعد زندہ رہتے تو اس کے نتیجےمیں خاندانِ نبوت کےاندر نبوت  جاری رہنے کا امکان ہوتا26۔ مولانا تھانوی نے حضرت محمد ﷺ، حضرت زینب اور حضرت زید رضی اللہ عنہما کے واقعے کو جس طرح دیکھا ہے، میں پہلے اس کی طرف توجہ کرتا ہوں، اور پھر کہانی کے ان پہلوؤں کو سامنے لاؤں گا جو انھوں نے چھوڑ دیے ہیں، تاکہ اس کے تعبیری منہج میں موجود کچھ ممکنہ ابہامات کو نمایاں کر سکوں۔

مولانا تھانوی نے اپنی بحث کو اس نکتے پر مرکوز رکھا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ سے طلاق ملنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے زینب سے شادی کی (تھانوی ان وجوہات کے بارے میں  بات نہیں کرتے  جو اس طلاق کا سبب بنیں)۔ یہ عمل بدنامی کے اسباب سے بھرپور تھا کیونکہ اس دور کے 'جاہل عوام' اسے یوں خیال کر سکتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بہو کے ساتھ نکاح کرنے جا رہے ہیں۔ایک بار پھر رسول اللہ ﷺ کو ایک ایسی صورت حال کا سامنا تھا جس میں ایک جائز عمل عوامی تنقید اور تشویش کا سبب بن رہا تھا۔ تاہم حطیم کے واقعے کے برعکس اس صورت میں اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ کو ہدایت کی کہ اس عمل کو سرانجام دیں، باوجودیکہ اس کے غیر یقینی نتائج ہو سکتے تھے27۔ اس لیے آپ ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے ایک جائز لیکن ممکنہ طور پر متنازع فعل کو انجام دیا۔

مولانا تھانوی واضح کرتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں کی حرکیات تقریباً‌ یکساں ہیں ۔ دونوں صورتوں میں ایک جائز عمل کی وجہ سے سماج کی طرف سے لعنت وملامت کا امکان تھا۔ تاہم ان دونوں صورتوں میں جو فیصلے تھے، وہ یکسر مختلف تھے۔ ایک صورت میں ایک عمل کے انجام دینے پر تنازع کا امکان اس قدر قوی سمجھا گیا کہ اس کی وجہ سے اس عمل کو بالکل ترک کر دیا گیا، جب کہ دوسری صورت میں عمل کو انجام دے دیا گیا۔ مولانا تھانوی نے بتایا کہ یہاں جو اہم نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کسی جائز عمل کو صرف اس امکان کی بنیاد پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ سماج میں تشویش اور بے چینی کا سبب بنے گا، صرف ممتاز اہل علم کا کام ہے۔ بالفاظِ دیگر ایسے عمل سے جڑے ظاہری مصالح کے حصول سے پہلے ممکنہ طور پر کسی سماج میں اس سے پیدا ہونے والے انتشار پر غور وفکر کا سوال ایسا ہے جس کا جواب صرف اور صرف کامل ترین علما دے سکتے ہیں28۔ ایسا اس لیے ہے کہ ان معاملات میں حتمی یا تخمینی رائے موجود نہیں ہوتی، جیسا کہ اپنی اصل میں ان ایک جیسے معاملات میں رسول اللہ ﷺ کے مختلف فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے۔

تاہم مولانا تھانوی نے صرف اس تشریح پر اکتفا نہیں کی۔  اپنے منفرد تحقیقی اسلوب میں وہ ایک قدم آگے بڑھ کر یہ قیاس آرائی کرتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کا حکم دیا، جب کہ انھیں کعبہ کے اندر حطیم شامل کرنے سے منع کر دیا۔ دیکھا جائے تو یہ دونوں ایک جیسے جائز اعمال ہیں جن پر سماج کی طرف سے ناراضگی اور دشمنی کا خطرہ ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے مولانا تھانوی نے خود کو مبارک باد دی کہ اس نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے۔ انھوں نے لکھا "الحمد للہ ان دونوں صورتوں کے درمیان فرق میرے سامنے واضح ہو گیا ہے"29۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ یہاں یہ سوال پوچھنا بے حد اہم ہے کہ کسی جائز عمل کو اس بنیاد پر ممنوع قرار دینے کا فیصلہ کہ وہ بدنامی اور لعن وطعن کا سبب بن جائے گا، اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کیا وہ واجبات یا ضروریاتِ دین میں کسی شے کی تکمیل میں معاونت فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ اگر  کرتا ہے تو پھر ان سے جڑے منفی نتائج کی پروا کیے بغیر انھیں ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر کوئی عمل واجب نہیں، نہ ہی وہ دین کے ضروری واجبات کو پورا کرنے کا وسیلہ ہے، تو پھر سماج کی طرف سے طنز وتنقید کی روک تھام کو ترجیح ملنی چاہیے اور اس عمل کو ترک کر دینا چاہیے۔

مولانا تھانوی نے واضح کیا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کا نکاح دینی اصلاح کا ایک اہم عمل تھا، جبکہ حطیم کو کعبہ میں شامل کرنا ایسا عمل نہ تھا۔ انھوں نے تاریخیت پر مبنی موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں  کسی کا اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا ناجائز اور حرام سمجھا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بد رسم اس قدر عام اور پختہ تھی جس کی بیخ کنی محض زبانی تنبیہ سے ممکن نہ تھی۔ اس کے لیے عملی اقدام ضروری تھا۔ اصلاحی مقاصد کے حصول کے لیے محض یہ کافی نہ تھا کہ نبی ﷺ زبانی اپنے پیغام کی تبلیغ کریں؛ انھیں اپنی تبلیغ کا عملی نمونہ بھی دکھانے کی ضرورت تھی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی شادی اسی طرح کا ایک اقدام ہے۔

 اس نکاح کی وجہ سے ایک فاسد رسم کی اصلاح کے لیے عملی نمونہ پیش کرنے سے دین کا ایک بنیادی مقصد پورا ہوا۔ اس لیے تھانوی کی نظر میں نبی ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کی بنیاد پر ممکنہ تنقید کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اس عمل سے جڑا اصلاح کا امکان تنقید کے پنہاں خطرے پر بھاری تھا۔ مولانا تھانوی نے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حطیم کو کعبہ میں شامل کرنے سے دین کا کوئی بنیادی مقصد پورا نہیں ہوتا تھا۔ اگرچہ یہ ایک جائز عمل تھا لیکن دین کے تحفظ یا اصلاح کے لیے یہ کسی بھی صورت میں اساسی نہ تھا۔ اس لیے اس صورت میں ایسے اقدام سے اشتعال پیدا ہونے کا جو شدید اندیشہ تھا، وہ اندیشہ ممکنہ فوائد کی بہ نسبت بڑھا ہوا تھا، اور اسی وجہ سے اس عمل کا ترک یا التوا جائز ٹھہرا30۔

مولانا تھانوی نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی ایسے کئی دیگر واقعات پیش کیے ہیں جن میں آپ نے کسی عمل کو اس لیے ترک نہیں کیا کہ اس پر سماج کی طرف سے دباو کا سامنا ہو سکتا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے جوہری مثال توحید کی طرف رسول اللہ ﷺ کی دعوت تھی۔ آپ کی برادری نے توحید خالص کے پیغام کا جواب شدید اور بے لاگ تردید کے ساتھ دیا، لیکن اس کی وجہ سے آپ نے اپنا پیغام نہیں چھوڑا۔ اسی طرح جب نبی اکرم ﷺ معراج سے واپس آئے تو آپ کی چچا زاد بہن ام ہانی نے، جن کے گھر سے آپ اس سفر پر روانہ ہوئے تھے، آپ سے تقاضا کیا کہ آپ اس واقعے کو اپنی قوم کے سامنے بیان نہ کریں، وگرنہ وہ آپ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کے مشورے کو قبول کرنے سے انکار کیا، کیونکہ پیغام نبوت کی تبلیغ کے لیے واقعۂ معراج کی اشاعت ضروری تھی۔ اس لیے جھوٹ کی تہمت اور الزامات کے باوجود، جو اس واقعے کو عوام میں بیان کرنے سے آپ پر لگنے تھے، آپ نے یہ واقعہ بیان کیا، کیونکہ اس سے دین کے ضروری مقاصد کی تکمیل ہوتی تھی اور اس وجہ سے اسے ترک نہیں کیا جا سکتا تھا31۔


حواشی

  1. اسماعیل، ایضاح الحق، 5 – 35۔
  2. خلیل احمد سہارن پوری، البراہین القاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعۃ (کراچی: دار الاشاعت، 1987)، 30 – 170۔
  3. اسماعیل، ایضاح الحق، 5 – 35۔
  4. محمد زید ندوی، فقہ حنفی کے اصول وضوابط (کراچی: زم زم، 2003)، 125 – 26۔
  5. ایضاً۔
  6. یہاں پر تھانوی کا اشارہ معتزلہ کی طرف ہے۔
  7. ندوی، فقہ حنفی کے اصول، 125 – 26۔
  8. ایضاً۔
  9. اشرف علی تھانوی، بدعت کی حقیقت اور اس کے احکام ومسائل (لاہور: ادارۂ اسلامیات، 2001)، 62 – 63۔
  10. ایضاً، 43۔
  11. النووی، الاربعین، 5 – 7۔
  12.  اشرف علی تھانوی، بدعت کی حقیقت، 43۔
  13. اشرف علی تھانوی، مقالاتِ حکمت (لاہور: ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ، 1977)، 136۔
  14. ندوی، فقہ حنفی کے اصول، 135۔
  15. اشرف علی تھانوی، الافاضات الیومیۃ، 9 : 98۔
  16. محمد بن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، باب الوتر والنوافل (بیروت: دار الکتب العلمیۃ، 1994)، 6۔
  17. احمد بن علی بن حجر العسقلانی، فتح الباري شرح صحیح البخاري (بیروت: دار الکتب العلمیۃ، 2003)، 2 : 437۔
  18. ایضاً۔
  19. اشرف علی تھانوی، التبلیغ (دیوبند: ادارۂ تالیفاتِ اولیا، 1901)، 23۔
  20. ایضاً۔
  21. تھانوی، بدعت کی حقیقت، 62۔
  22. التبلیغ، 11 – 15۔
  23. الافاضات الیومیۃ، 9 : 48۔
  24. ایضاً۔
  25. زید کی زندگی اور رسول اللہ ﷺ سے ان کے تعلق کے بارے میں مسلمانوں کے بدلتے روایتی اظہارات کے ایک دلچسپ مطالعے کے لیے دیکھیے: ڈیوڈ پاورز، Zayd: The Little-Known Story of Muhammad’s Adopted Son (فلاڈلفیا: یونیورسٹی آف پینسلوینیا پریس، 2014)۔
  26. ایضاً، 95 – 123۔
  27. یہ قرآن کی آیت 33 : 37 کی طرف اشارہ ہے (سورۃ الاحزاب میں)، جس کے متعلقہ حصے کا ترجمہ کچھ یوں ہے: "پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس (زینب) کا نکاح کر دیا، تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو، جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر لیں"۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حضرت زینب سے شادی کا اشارہ دے دیا ہے، اور یہ آیت ان نایاب مواقع میں سے ہے، جہاں مسلمانوں کے ابتدائی معاشرے کے ایک فرد یعنی حضرت زید رضی اللہ عنہ کو نام سے یاد کیا گیا۔
  28. تھانوی، الافاضات الیومیۃ، 48۔
  29. ایضاً۔
  30. ایضاً۔
  31. ایضاً۔