دسمبر ۲۰۲۳ء

امریکا کا حالیہ سفر: احوال وتاثراتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مطالعہ سنن النسائی (۳)ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن 
حلال وحرام سے آگاہی اور علماء کرام کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
درسِ نظامی کی بعض کتب کے ناموں اور نسبتوں کی تحقیقمولانا احمد شہزاد قصوری 
امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں مظاہرےمراد علی 

امریکا کا حالیہ سفر: احوال وتاثرات

محمد عمار خان ناصر

برادرم حسن الیاس (ڈائریکٹر غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ، ڈیلس، امریکا) کا کافی عرصے سے حکم تھا کہ کچھ دن کے لیے ڈیلس میں غامدی سنٹر کا مہمان بنا جائے۔  احادیث نبویہ کی شرح ووضاحت پر مبنی ایک مجموعے   کی تیاری میں مشاورت کے حوالے سے  نومبر کے دوسرے ہفتے میں اس سفر کی ترتیب بن گئی اور  میں اس وقت تقریباً‌  تین ہفتے سے ڈیلس میں ہوں۔

۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۹ء کے عرصے میں، جب میں المورد کے ساتھ بطور   تحقیق کار وابستہ تھا اور ہفتہ وار علمی نشستوں میں غامدی صاحب کی کتاب میزان اور تفسیر البیان زیر مطالعہ رہتی تھی،  تو حدیث کی شرح وتحقیق کا کام بنیادی طور پر المورد کے مختلف اسکالرز کے سپرد تھا۔ طالب محسن صاحب، رفیع مفتی صاحب اور معز امجد صاحب مختلف شکلوں میں احادیث کی شرح ووضاحت کا کام کر رہے تھے۔ غامدی صاحب کی اصولی راہنمائی ان سب اہل علم کو حاصل تھی، لیکن وہ بذات خود میزان اور البیان کی تکمیل میں مصروف تھے۔ میزان تو اسی عرصے میں مکمل ہو چکی تھی، جبکہ البیان کی تکمیل ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۹ء کے عرصے میں ہوئی جب وہ ملائشیا میں مقیم تھے۔ البتہ ان کا یہ ارادہ ضرور تھا کہ البیان مکمل ہونے کے بعد وہ حدیث کی شرح ووضاحت پر بھی خود کام کریں گے۔

اسی دورانیے میں برادرم حسن الیاس ان کے پاس ملائشیا چلے گئے تھے اور وہاں انھوں نے اور مولانا ڈاکٹر عامر گزدر (فاضل جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون) نے ۲۰۱۷ء میں غامدی صاحب کی نگرانی میں حدیث پراجیکٹ کی باقاعدہ ابتدا کی۔ اس میں احادیث کے متن کی تحقیق وتخریج اور متن کا ترجمہ وحواشی لکھنے کا کام یہ دونوں فاضلین کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کی نظرثانی کے بعد جب روایت کا بہترین نمائندہ متن منتخب کر لیا جاتا ہے تو پھر اس کے اہم پہلووں پر غامدی صاحب خود اپنے قلم سے تشریحی حواشی لکھتے ہیں۔

اس تحقیقی کام کا پہلا مجموعہ ’’علم النبی“ کے عنوان سے اشاعت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ میں اس کے متفرق اجزا تو اشراق میں دیکھتا رہا، تاہم کچھ ماہ قبل حسن الیاس صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی کی یہ تجویز مجھ تک پہنچائی کہ شائع ہونے سے قبل اگر ایک دفعہ میں بھی اس پورے مواد کو دیکھ کر اپنی تجاویز اور مشورے عرض کر دوں تو مناسب ہوگا۔ میں نے تعمیل ارشاد میں کچھ منتخب حصوں سے متعلق اپنی بساط اور سمجھ کے مطابق تجاویز یا ترامیم پیش کر دیں۔ بہت سے سوالات بھی سامنے آتے رہے جن پر غامدی صاحب سے براہ راست استفادہ کی ضرورت تھی۔ یوں موجودہ سفر کا ایک تقاضا بنتا چلا گیا جس کا خاص مقصد اسی مجموعے کی نظرثانی اور بہتری کے عمل میں شریک ہونا اور اہم سوالات سے متعلق غامدی صاحب سے استفادہ کرنا ہے۔


ٹیکساس کی طرف پہلی دفعہ آنا ہوا۔ اس سے پہلے تین اسفار میں زیادہ تر نیو یارک، واشنگٹن، ورجینیا اور نارتھ کیرولائنا کی طرف رخ رہا۔ گزشتہ سفر میں انڈیانا اور شکاگو کے علاقے دیکھے تھے۔ اس سفر میں زیادہ تر قیام ڈیلس میں رہا جو ٹیکساس کے بڑے اور متمول شہروں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔ سابق امریکی صدور جارج بش سینئر وجونیئر کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔ بتایا گیا کہ یہاں معاشرتی طور پر مذہبی رجحان بہت نمایاں ہے جس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ڈیلس میں گھومتے ہوئے ہر روڈ پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چرچ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا تعلق مختلف مسیحی فرقوں سے ہے اور یہ آباد چرچ ہیں۔

مسلمان، خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی مسلمان بھی یہاں کافی تعداد میں ہیں اور اکثریت پروفیشنل طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ غامدی سنٹر میں ہفتہ وار آن لائن درس قرآن میں جو پندرہ بیس حاضرین وحاضرات جسمانی طور پر موجود تھے، ان میں سے زیادہ تر ڈاکٹر تھے۔ پتہ چلا کہ امریکا کے کئی نمایاں مسلم اہل علم ومبلغین مثلاً‌ شیخ یاسر قاضی، عمر سلیمان اور نعمان علی خان بھی اسی علاقے میں ہیں۔ یہاں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا مرکز منہاج القرآن سنٹر بھی ہے اور غامدی صاحب نے بتایا کہ وہ نماز جمعہ معمولاً‌ وہیں ادا کرتے ہیں۔ قلم کے نام سے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے بعض دیوبندی فضلا نے یہاں ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا ہے جہاں درس نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے۔  اس سارے تنوع میں اب غامدی سنٹر کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

جنوبی ایشیا کی بعد از استعمار سیاسی تاریخ اور مذہبی فکر کے ایک طالب علم کے طور پر یہ سوال غور وفکر اور تجزیے کا موضوع رہتا ہے کہ بدلے ہوئے تاریخی حالات میں ہمارے اہل فکر اور سیاسی اشرافیہ کے ہاں مسلم معاشرے کی تعمیرنو کے خطوط کیا رہے ہیں اور اس حوالے سے کون سی قابل توجہ کوششیں اب تک سامنے آئی ہیں۔ اس ضمن میں اگر بڑی سطح کی، جامعیت رکھنے والی اور عملاً‌ قابل لحاظ اثرات مرتب کرنے والی کوششیں شمار کی جائیں تو وہ ہمارے خیال میں اب تک تین ہی بنتی ہیں:

۱۔ سرسید احمد خانؒ کی دینی وسیاسی فکر

۲۔ دیوبندی تحریک ، اور

۳۔ مولانا مودودیؒ کی فکر۔

ان تینوں نے پچھلی ڈیڑھ صدی میں ہماری تاریخ اور معاشرے پر خاص اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن تاریخ کے عام اصول کے مطابق ہر فکری تحریک کی کچھ محدودیتیں ہوتی ہیں جن سے تاریخ پر اثراندازی کا ایک saturation point وجود میں آتا ہے۔ یہ تینوں فکری دھارے اس نقطے تک پہنچ کر داخلی اضمحلال اور انتشار کا شکار ہیں جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کوئی نیا فکری دھارا جو مسلم معاشرے اور اس کے مسائل کو بحیثیت کل کے موضوع بناتا ہو، اپنا کردار ادا کرے اور متقدم فکری دھارے، اپنے تاریخی بوجھ اور محدودیت کی وجہ سے، جس تاریخی صورت حال کو سمجھنے، اس پر توجہ دینے اور اس کو ایڈریس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس پر ایک بیانیہ پیش کرے۔

میری طالب علمانہ رائے میں جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر، گزشتہ تین دہائیوں کے نضج اور ارتقاء کے بعد، اب ان ضروری شرائط کو پورا کرتی ہے جو کسی فکر کو یہ کردار سونپے جانے کے قابل بناتی ہیں۔ تاہم میرا یہ بھی احساس ہے کہ ان کو اس وقت جو ایک وسیع پذیرائی اور عصبیت میسر ہے، شاید اس پر بھی اس فکر کا یہ potential اتنا واضح نہیں۔ اس تناظر میں، دینی فکر کی تاریخ کے ایک طالب علم اور غامدی صاحب کی فکر کی ایک ہمدردانہ تفہیم رکھنے والے مبصر کے طور پر یہ ارادہ ہے کہ اس حوالے سے کچھ اہم معروضات، دینی امانت سمجھ کر، وقتاً‌ فوقتاً‌ اس حلقے کی خدمت میں پیش کی جائیں۔


غامدی سنٹر میں  ہفتہ اور اتوار کو  آن لائن درس قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں کچھ حضرات وخواتین بالمشافہہ بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ درس کے بعد غیر رسمی نشست میں حاضرین عمومی موضوعات پر تبادلہ خیال یا سوال وجواب کرتے ہیں۔  ایسی ہی ایک نشست میں حاضرین کے مابین فلسطین کے مسئلے پر گرما گرم بحث سننے کو ملی  جس میں دونوں انتہاؤں کی نمائندگی ہو رہی تھی۔ ایک نقطہ نظر یہ تھا کہ سارے اسرائیلی شہری مقاتل ہیں اور ان کو نشانہ بنانا جائز ہے۔ دوسرا یہ تھا کہ غزہ کے لوگ حماس کے حامی اور موید ہونے کی وجہ سے خود موجودہ صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ غامدی صاحب بیچ بیچ میں کوشش کر رہے تھے کہ اعتدال کا نقطہ واضح ہو۔

ایک اہم بات انھوں نے یہ کہی جو گزشتہ دنوں میں نے بھی عرض کی تھی کہ صہیونی تحریک نے حقیقت میں یہودیوں کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ ان کی مصیبت کو بڑھا دیا ہے۔ غامدی صاحب نے اس کا یہ پہلو واضح کیا کہ دراصل صہیونی قائدین نے تاریخ میں رونما ہونے والی تبدیلی کو نہیں سمجھا اور اس کے علی الرغم ایک اقدام کر ڈالا۔ یورپ میں تاریخ اس سمت میں بڑھ رہی تھی کہ وطنی قومیت کی بنیاد پر ریاستیں بنیں جن میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں، لیکن صہیونیوں نے وطنی قومیت کے عہد میں ایک نسلی ریاست قائم کر ڈالی۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکا کی تمام قومی ریاستوں میں یہودی بالکل محفوظ ہیں اور یہودی مسئلہ ختم ہو چکا ہے (بلکہ اتنا تحفظ حاصل ہے کہ ہولوکاسٹ کا انکار ایک جرم سمجھا جاتا ہے) جبکہ خود نسلی یہودی ریاست میں ان کو بعینہ اس صورتحال کا سامنا ہے جس سے نجات پانے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا تھا۔ یوں صہیونیت نے، ظاہری اسباب کے دائرے میں، یہودی مسئلے کو حل کرنے میں نہیں بلکہ اس کو مزید طول دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

میرے خیال میں اسی وجہ سے یورپ اور امریکا میں خود یہودیوں میں بھی اسرائیل کی مخالفت کرنے والا ایک بڑا طبقہ پایا جاتا ہے۔ جو کچھ صہیونی کر رہے ہیں، اس پر مجموعی حیثیت میں سارے یہودیوں کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ صہیونی نظریہ اگرچہ بظاہر ایک سیکولر نظریہ تھا، لیکن اس نے مسئلے کے حل کے لیے یہودیوں کے مذہبی تصورات کو بنیاد بنایا اور آج اسرائیل میں متشدد مذہبی وسیاسی بیانیے غالب ہو چکے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر بقا کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ عالمی سیاست کی سطح پر اسرائیل خالصتا" استعماری کردار ہے جس کی خطے کے ساتھ کوئی فطری اور مثبت نسبت نہیں پائی جاتی۔ یہ پہلو عالمی سیاسی ڈسکورس میں نمایاں کرنے کی ضرورت ہے اور امریکا میں موجود اہل قلم واہل دانش اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔


مدرسہ ڈسکورسز پراجیکٹ کے بانی پروفیسر ابراہیم موسی صاحب کو میری آمد کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے امریکن اکیڈمی آف ریلیجن کے سالانہ اجتماع میں شرکت کا انتظام کر لیا جو اتفاق سے نومبر میں سین اینٹونیو، ٹیکساس میں ہی منعقد ہو رہا تھا۔  امیرکن اکیڈمی آف ریلیجن امریکا میں مذہبی مطالعات سے وابستہ اسکالرز کی ایک بڑی تنظیم ہے جو دیگر سرگرمیوں کے علاوہ محققین کے ایک سالانہ اجتماع کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سال یہ اجتماع سین اینٹونیو، ٹیکساس میں منعقد ہوا جس میں پورے امریکا سے دس ہزار کے لگ بھگ اسکالرز شریک ہوئے۔ بتایا گیا کہ کووڈ کی وباسے پہلے یہ تعداد بیس سے پچیس ہزار تک ہوا کرتی تھی جس میں  اب کافی تخفیف ہو گئی ہے۔

یہ اجتماع ۱۷ سے ۲۱ نومبر تک جاری رہا۔ صبح سات  سے رات نو  بجے تک درجنوں موضوعات پر اسکالرز، مختلف سیسشنز میں باہمی افادہ واستفادہ میں مصروف رہے۔ اجتماع کا انتظام ایک بڑے کنونشن سنٹر میں کیا گیا تھا جس کے مختلف ہالز میں مقررہ اوقات میں سیشنز جاری رہے۔ یہ ایک بہت بڑا اور اہم علمی اجتماع سمجھا جاتا ہے جس میں مذہبی مطالعات کے اسکالرز شرکت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ اس کے تمام سیشنز کے موضوعات اور وقت ومقام انعقاد کی تفصیل کے لیے سوا چار سو صفحات کی ایک کتاب شائع کی گئی ہے اور ایک ایپ بھی اسی مقصد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

اجتماع میں جن مختلف سیشنز میں شرکت ہوئی، ان میں سے ایک پروفیسر جوناتھن لارنس کی کتاب Coping with Defeat پر ایک مذاکرہ تھا جس میں مصنف کے علاوہ، پروفیسر ابراہیم موسیٰ سمیت دوسرے اسکالرز بھی تبصرے کے لیے موجود ہیں۔

اسی طرح اسلامی معاشیات اور امریکہ میں مسلمانوں کی خیراتی تنظیموں سے متعلق ایک پینل ڈسکشن میں بطور سامع شرکت ہوئی جس میں ڈاکٹر صہیب خان بھی ایک پینلسٹ تھے۔ ڈاکٹر صہیب خان کی فراغت جامعہ اشرفیہ لاہور سے ہے اور اسلامی بینکنگ میں اختصاص حاصل کرنے کے بعد اب یہیں امریکا میں تدریسی وتحقیقی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ اسلامی بینکنگ کے مروجہ ڈھانچے اور اس کے نظری و عملی مسائل پر ان سے وقتاً فوقتاً سیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ایک خاص نکتہ انھوں نے یہ بیان کیا کہ اسلامی بینکنگ کے مروج بیانیے نے کیپٹلزم کی تنقید کے اس بیانیے کو کافی حد تک دبا دیا ہے جو ابتدا میں اسلامی معاشیات کا ایک بنیادی موضوع تھا۔

ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر شیر علی ترین نے حال ہی میں   برطانوی عہد میں ہندو مسلم تعلقات کے حوالے سے اہم مذہبی بحثوں پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ ایک سیشن اس کتاب پر بھی تھا جس میں مختلف اسکالرز نے  ڈاکٹر ترین کے نتائج بحث پر سوالات اٹھائے اور ڈاکٹر ترین نے  ان کے حوالے سے اپنی معروضات  پیش کیں۔

ایک شام کو مولانا امین بھٹی صاحب ملاقات کے لیے تشریف لائے اور عشائیہ کے لیے ایک ریستوران میں لے گئے۔ وہ جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے فاضل اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے علوم حدیث کے متخصص ہیں۔ انھوں نے مولانا معین الدین لکھوی ؒاور مولانا قاضی اسلم سیف ؒکے حوالے سے اپنی یادیں بیان کیں اور غامدی صاحب کے ساتھ تعارف اور تاثر کی داستان بھی سنائی۔ سین اینٹونیو میں ایک اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں اور خطبہ جمعہ بھی دیتے ہیں۔

اور بھی کئی اسکالرز سے ملاقات ہوئی۔ برطانیہ سے مولانا ہارون سیدات پہلے دن سے ہمارے ساتھ تھے۔ انھوں نے برطانیہ کے علاوہ دیوبند، ندوہ اور سہارنپور میں دینی تعلیم مکمل کی ہے اور یورپ میں دینی مدارس کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے۔ پاکستان سے ڈاکٹر نعمان فیضی بھی یہاں موجود تھے جو LUMS میں پڑھاتے ہیں اور ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ علامہ اقبال کی ری کنسٹرکشن پر ہے۔

ڈاکٹر علی الطاف میاں بھی پاکستان سے ہیں اور انھوں نے پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی نگرانی میں مولانا اشرف علی تھانوی[  کی دینی فکر پر کام کیا ہے۔ آج کل یونیورسٹی آف فلوریڈا میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر علی میاں نے مذکورہ سب احباب کو عشائیے پر جمع کیا اور مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

ایک اور سیشن جس میں شرکت ہوئی، اس کا عنوان Constructive Muslim Theology تھا جس میں پروفیسر ابراہیم موسی بھی پینلسٹ تھے۔  غیر متوقع طور پر یہاں ڈاکٹر شعیب ملک سے ملاقات ہو گئی جو ان دنوں امریکا میں ہیں اور اسلام اور سائنس کے موضوع پر مسلمان نوجوانوں کے ساتھ اہم سوالات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سات امریکی ریاستوں میں انھوں نے اجتماعات کیے ہیں اور اس موضوع پر نوجوانوں میں کافی علمی طلب پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شعیب ملک نے اسلام اور نظریہ ارتقا پر اپنی کتاب کا اردو ترجمہ مکمل ہونے کی بھی اطلاع دی جو پاکستان میں مولانا یونس قاسمی کے ادارہ، افکار کے زیر اہتمام شائع ہوگی۔


۲۴ نومبر کو  غامدی صاحب اور برادرم حسن الیاس کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مقامی منہاج القرآن سنٹر  جانا ہوا۔ غامدی صاحب اصولاً حنفی فقہاء کے قدیم موقف کو درست سمجھتے ہیں جن کے نزدیک، عہد نبوی وعہد صحابہ کے تعامل کی روشنی میں، نماز جمعہ کی امامت حکمران یا اس کے مقرر کردہ عمال کا حق ہے۔ علماء ازخود کہیں بھی جمعہ کی امامت نہیں کر سکتے۔

احناف اس کی دلیل اجتماعی مصلحت سے بھی دیتے ہیں کہ جمعے کا منبر اسلامی ریاست کا ایک اجتماعی اور پبلک پلیٹ فارم ہے اور اس کو انفرادی صوابدید کے سپرد کرنے سے منافست اور مقابلہ بازی پیدا ہوگی جس سے معاشرے میں انتشار پھیلے گا۔ یہ اسلامی اجتماعیت کے حوالے سے بہت اہم بات تھی جس کا ثبوت آج ہمارے سامنے یوں ہے کہ خود علماء کے لیے بھی اس کا راستہ کھول دینے کے بعد اب منبر ومحراب کو اصول وآداب کا پابند رکھنا اور غیر ذمہ دار عناصر کا محاسبہ ومواخذہ ناممکن ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس جن مسلم ممالک میں جمعہ کی امامت نظم اجتماعی کے اختیار میں ہے، وہاں آج بھی مذہبی اجتماعیت کی صورت حال بہت بہتر ہے۔

خیر، یہ غامدی صاحب کا نظری اور اصولی موقف ہے۔ عملاً وہ پاکستان میں بھی مسلمانوں کے عام معمول کے مطابق نماز جمعہ ادا کرتے تھے اور یہاں امریکا میں بھی یہی معمول ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ کسی اجتماعی معاملے میں مسلمان جو فیصلہ کر لیں، اس سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی عملاً اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں غیر مسلم ممالک کا حکم اصولاً بھی مختلف ہونا چاہیے، کیونکہ جمعہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا بھی ایک اظہار ہے جس کی ضرورت غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو زیادہ ہے اور ظاہر ہے، یہاں کوئی مسلمان حکمران نہیں ہے جس کے لیے امامت کا استحقاق مانا جائے۔

قلم کے نام سے ایک دینی ادارے کا ذکر ہوا تھا جو جامعہ بنوریہ عالمیہ کے فارغ التحصیل مولانا شیخ ناصر جھانگڑا کے زیر انتظام ڈیلس میں کام کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ آج کل عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ یہ بھی علم میں آیا کہ اس ادارے کا الحاق بھی جامعہ بنوریہ عالمیہ سے ہی ہے اور اسی کی سرپرستی میں کام کی ترتیب بنائی گئی ہے۔

 یہاں متعدد دفعہ  نماز مغرب ادا کرنے کے لیے جانا ہوا۔  ایک بات تو فوراً‌ یہ نوٹس  میں آتی ہے  کہ مسجد کے بڑے ہال کا پچھلا حصہ خواتین کے لیے مخصوص ہے اور درمیان میں کوئی آڑ یا پردہ وغیرہ نہیں ہے۔ خواتین کو نماز ادا کرتے، قرآن پڑھتے اور حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جیسا کہ عہد نبوی میں مسجد نبوی کا منظر ہوتا تھا۔ خواتین کے سر ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن نقاب کی پابندی نظر نہیں آتی۔ مغرب کی نماز میں بھی کافی خواتین تھیں اور معلوم ہوا کہ یہاں عموماً‌ بھی ان کا ادارے کی طرف کافی رجوع ہے۔

ایک دوسرے موقع پر  نماز مغرب کے لیے گئے تو ایک اور چیز دیکھی۔ نماز کی امامت کے لیے ایک ایسے دوست کھڑے ہوئے جو غالباً عرب تھے اور ڈاڑھی قبضے سے بہت کم کتری ہوئی تھی۔ انھوں نے خوب صورت قراءت کے ساتھ نماز پڑھائی۔ پھر دیکھا کہ کچھ دوست جو جماعت میں شامل نہیں ہو سکے تھے، بعد میں ایک چھوٹی سی الگ جماعت کرنے لگے اور ان کے امام بھی ایک مقطوع اللحیہ نوجوان تھے۔

ایک دیوبندی ادارے میں یہ ساری چیزیں بظاہر عام معروف سے ہٹ کر ہیں، لیکن معروف کا تعلق ماحول اور کلچر سے ہوتا ہے۔ فقہی مسائل اس میں ضمنی کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین کے، مردوں کے ساتھ ایک ہی ہال میں اکٹھے نماز ادا کرنے اور قبضے سے کم ڈاڑھی والے کی امامت کی دینی وفقہی گنجائش ہر جگہ ایک جیسی ہی ہے۔ اس میں حنفی فقہ انڈیا اور پاکستان اور امریکا کے لیے مختلف نہیں ہے۔ لیکن کلچر اور دینی راہ نماؤں کا ذہنی رویہ مختلف ہے۔ غیر مسلم ممالک میں دینی راہ نماؤں پر دعوتی انداز نظر غالب ہوتا ہے اور کمیونٹی کو، خصوصاً نوجوان نسل کو جوڑنا مقصود ہوتا ہے۔ اس لیے فقہی ترجیحات ثانوی ہو جاتی ہیں اور دعوتی مصلحت اور شرعی وسعت اصل اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔

اس کے برخلاف  اکثریتی مسلم معاشروں میں دعوتی سے زیادہ ثقافتی اور مسلکی شناخت اہم مانی جاتی ہے اور ائمہ وخطبا اور مفتیان کرام کو عموماً اپنی دینی اتھارٹی کو منوانے سے زیادہ سروکار ہوتا ہے۔ بہرحال، آنے والے وقتوں میں جو دینی حلقے نوجوان نسل کے ساتھ اسی طرح کا تعامل سیکھ لیں گے جیسا اقلیتی مسلم معاشروں میں ہوتا ہے، وہی دین اور معاشرے کے ربط باہمی میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکیں گے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(455) کفرہ اور کفر بہ میں فرق

قرآن مجید میں کفر بہ تو کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اکثر جگہوں پر انکار کے معنی میں اور کہیں کہیں ناشکری کے معنی میں۔ جب کہ کفرہ چند مقامات پر آیا ہے۔ دونوں کے درمیان فرق کا ذکر ہمیں عام طور سے نہیں ملتا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کفرہ اور کفر بہ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کفر کے بعد اگر باء نہ ہو تو کفر انکار کا معنی نہیں بلکہ ناشکری کا معنی دیتا ہے۔ حدیث میں لتکفرن العشیر ناشکری کے معنی میں آیا ہے۔ قرآن کی درج ذیل آیت میں عام طور سے کفر کا ترجمہ ناشکری کیا گیا ہے، کیوں کہ واضح طور پر شکر کے سیاق میں بات ہورہی ہے:

(۱) فَاذْکُرُونِی أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوا لِی وَلَا تَکْفُرُونِ۔ (البقرۃ: 152)

”سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اس لیے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو“۔(شاہ عبدالقادر)

البتہ ذیل کے ترجمے میں کفر کا ترجمہ کفر کیا گیا ہے جو درست نہیں ہے:

”پس یاد کرو تم مجکو یاد کروں گا تم کو اور شکر کرو واسطے میرے اور کفر نہ کرو مجھ سے“۔ (شاہ رفیع الدین)

(۲) وَمَا یَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُکْفَرُوہُ۔ (آل عمران: 115)

اس آیت میں کفر دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ اس وجہ سے بعض نے اس کا ترجمہ محروم کرنا کیا ہے، کچھ لوگوں نے لفظ کفر کو دیکھ کر انکار کرنا کیا ہے۔ لیکن مناسب ترین ترجمہ ناقدری کرنا ہے۔ یہ دراصل فَأُولَءِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَشْکُورًا (الاسراء: 19) کے ہم معنی تعبیر ہے۔ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ قدر کی جائے گی دوسری جگہ کہا گیا کہ ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اب ذیل کے ترجمے ملاحظہ ہوں: 

”اور جو بھی نیکی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کیے جائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا“۔ (احمد رضا خان)

”یہ جو بھی خیر کریں گے اس کا انکار نہ کیا جائے گا“۔ (ذیشان جوادی)

”اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس سے محروم نہ کیے جاویں گے“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اور جو کریں گے نیک کام سو ناقبول نہ ہوگا“۔ (شاہ عبدالقادر)

”یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں ان کی ناقدری نہ کی جائے گی“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری دونوں ترجمے مناسب اور واضح ہیں۔

البتہ درج ذیل دونوں آیتوں میں کفر کا ترجمہ عام طور سے کفر و انکار کیا گیا ہے، اگر  کفرہ اور کفر بہ میں مذکورہ بالا فرق کا لحاظ کیا جائے تو دونوں جگہ ناشکری کرنا ترجمہ ہونا چاہیے۔

(۳) أَلَا إِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّہُمْ۔ (ہود: 60)

”دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا“۔ (سید مودودی)

”سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا“۔ (محمد جونا گڑھی)

”سنو عاد نے اپنے رب کی ناشکری کی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴)  أَلَا إِنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّہُمْ۔ (ہود: 68)

”سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا“۔ (سید مودودی)

”سن لو! بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آگاہ رہو کہ قوم ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”سنو ثمود نے اپنے رب کی ناشکری کی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(456)  مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ

درج ذیل آیت میں مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ کا تعلق سابقہ مذکور باتوں میں کس سے ہے؟

کِتَابٌ أُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ۔ (ہود: 1)

اس بارے میں تین رائے ہوسکتی ہیں۔ صرف فصلت سے، یعنی آیتوں کی تفصیل اللہ کی طرف سے ہے۔ أُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ سے، یعنی آیات کا محکم اور مفصل ہونا اللہ کی طرف سے ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اسے خبر مانا جائے، اور کتاب کو مبتدا یا مبتدا  محذوف کی خبر اوّل مانا جائے۔ یعنی یہ کتاب ہے جو حکیم و خبیر کی طرف سے ہے۔ دوسری صورت میں پہلی صورت بھی شامل ہوجاتی ہے اور تیسری صورت میں پہلی اور دوسری صورت بھی شامل ہوجاتی ہے۔ یعنی جب کتاب اللہ کی طرف سے ہے تو اس کا محکم و مفصل ہونا بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ اس لحاظ سے تیسری صورت بہتر ہے۔   

کِتَابٌ أُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ۔

”یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر تفصیل کی گئیں حکمت والے خبردار کی طرف سے“۔ (احمد رضا خان)

”یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں اور ایک صاحبِ علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

”یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں میں من لدن حکیم خبیر کو صرف فصلت سے متعلق مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔

”فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے“۔ (سید مودودی، اس ترجمہ میں ثم کی رعایت بھی نہیں ہے۔ رعایت کی صورت میں ترجمہ ہوگا: ”جس کی آیتیں پختہ ہیں پھر ان کی تفصیل کی گئی ہے“۔) اس ترجمہ میں لگتا ہے کہ أحکمت اور فصلت دونوں سے متعلق مانا گیا ہے۔

”یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم اور مضبوط بنائی گئی ہیں اور پھر تفصیل کے ساتھ کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں یہ اس کی طرف سے ہے جو بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے“۔(محمد حسین نجفی)

یہ آخری ترجمہ بہتر ہے۔ اس ترجمہ میں من لدن حکیم خبیر کو خبر مانا گیا ہے۔

(457) بَادِیَ الرَّأْیِ کا ترجمہ

وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلَّا الَّذِینَ ہُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأْیِ۔ (ہود: 27)

”اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے“۔ (احمد رضا خان)

”اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ہم (تمہاری پیروی کرنے والوں میں) انھی کو پاتے ہیں جو ہمارے اندر کے ذلیل لوگ بے سمجھے بوجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں میں بادی الرّأی کا ترجمہ بے سوچے سمجھے کیا گیا ہے۔ عربی تفاسیر کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہی مفہوم عام طور سے لیا گیا ہے۔ اگر بادئ  ہوتا (ہمزہ کے ساتھ)  تو یہ مفہوم لینا درست ہوتا۔ یعنی زیادہ سوچا نہیں جو رائے شروع میں بن گئی اسے پکڑلیا۔ لیکن یہاں بادی ہے بدا یبدو سے، جس کا مطلب ظاہر و واضح ہونا ہوتا ہے۔ بادی الرأی کی ترکیب دراصل موصوف صفت کی اضافت کی ہے۔ یعنی اصل میں وہ الرأی البادی ہے، یعنی واضح بات۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی بادی الرّأی کا ترجمہ کرتے ہیں: واضح طور سے۔ 

”اور ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے تمہاری پیروی اختیار کی ہے“۔

امام لغت الفراء نے یہ بات بخوبی واضح کی ہے:

(بادِیَ الرَّأْیِ) لا تَہمز (بادِیَ) لأن المعنی فیما یظہرُ لنا و یبدو. ولو قرأت (بادیء الرأی) فہمزت ترید أوّل الرأی لکان صوابًا. (معانی القرآن)

(458) وَلَا أَعْلَمُ الْغَیْبَ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں وَلَا أَعْلَمُ الْغَیْبَ آیا ہے۔ جب کہ باقی تین باتوں کے ساتھ لا أقول آیا ہے۔ بعض لوگوں نے ترجمہ اس طرح کیا کہ جیسے أَعْلَمُ الْغَیْبَ کے ساتھ   بھی لا أقول  ہو۔

وَلَا أَقُولُ لَکُمْ عِنْدِی خَزَاءِنُ اللَّہِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی أَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَہُمُ اللَّہُ خَیْرًا۔ (ہود: 31)

”اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا“۔ (سید مودودی،لَنْ یُؤْتِیَہُمُ کا ترجمہ ماضی نہیں مستقبل کا ہوگا: اللہ انھیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا)

”اور میں تمہارے سامنے یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا اور نہ یہ دعوی کرتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں جن کو تمہاری نگاہیں حقیر دیکھتی ہیں، یہ کہہ سکتا کہ خدا ان کو کوئی خیر دے ہی نہیں سکتا“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں کہہ سکتا اور دے ہی نہیں سکتا کی تعبیریں موزوں نہیں ہیں، موزوں تعبیر ہے: یہ کہتا کہ خدا ان کو کوئی خیر نہیں دے گا۔ یہاں استطاعت کی بات نہیں ہے۔)

”اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جاتا ہوں“۔ (احمد رضا خان، اور ”نہ یہ کہ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی لا اقول ہے۔ درست ترجمہ ہے: اور نہ میں غیب جانتا ہوں۔)

”میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری، درست ترجمہ: اور نہ میں غیب جانتا ہوں)

”اور میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا ہوں کہ میرے پاس تمام خدائی خزانے موجود ہیں اور نہ ہر غیب کے جاننے کا دعوی کرتا ہوں“۔ (ذیشان جوادی، دعوی کرنے کی بات نہیں ہے۔)

مذکورہ بالا تمام ترجموں میں یہ تسامح ہوا ہے کہ انھوں نے لا أعلم الغیب میں بھی لا أقول کا مفہوم شامل کردیا ہے۔ جب کہ درج ذیل ترجمہ اس غلطی سے خالی ہے۔

”میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا“۔ (محمد جوناگڑھی)

یہ بات کہ اس  لا أقول أعلم الغیب کیوں نہیں کہا گیا؟  غور طلب بات ہے۔ اس کی ضرور کوئی حکمت ہوگی۔ لیکن ترجمہ کرتے ہوئے قرآن نے جو فرق قائم کیا ہے اسے بہرحال  ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ لا أعلم الغیب میں علم غیب کی نفی پر جو زور اور قطعیت ہے وہ  لا أقول أعلم الغیب میں نہیں ہے۔

(459)  وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ

وراء کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’پیچھے‘کیا ہے بعض نے’بعد‘ کیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی دونوں میں ایک لطیف فرق بتاتے ہیں۔ ’پیچھے‘  میں یہ اشارہ ہے کہ یعقوب کی پیدائش جلد ہوگی اور حضرت ابراہیم اور ان کی بیوی اپنی زندگی میں ہی یعقوب کی پیدائش بھی دیکھ لیں گے۔’بعد‘ میں یہ اشارہ نہیں ہے۔ اس لحاظ سے وراء کا ترجمہ’پیچھے‘ کرنا زیادہ مناسب ہے۔

وَامْرَأَتُہُ قَائِمَةٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاہَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ۔ (ہود: 71)

”اور اس کی بی بی کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی“۔ (احمد رضا خان)

”اس کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی، تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی“۔ (سید مودودی)

”اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اس کی بیوی پاس کھڑی تھی۔ وہ ہنسی، پس ہم نے اس کو اسحاق کی خوش خبری دی اور اسحاق کے آگے یعقوب کی“۔ (امین احسن اصلاحی، ’آگے‘ تو غلط ترجمہ ہے، اس سے تو یہ مفہوم نکلے گا کہ یعقوب کی پیدائش پہلے ہوگی۔ یہ تسامح معلوم ہوتا ہے۔)

”پھر ہم نے خوش خبری دی اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی“۔ (شاہ عبدالقادر)

یہاں یہ بات سامنے رہے کہ ایک ہی بار میں دونوں خوش خبریاں دی گئیں، نہ یہ کہ پہلے ایک خوش خبری اور پھر دوسری خوش خبری جیسا کہ بعض لوگوں نے تفسیر میں لکھا ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی بیوی کو کس بات پر ہنسی آئی تھی؟ بعض نے لکھا کہ بیٹے کی بشارت پر، لیکن قرآن میں ہنسی کا ذکر بشارت سے پہلے ہے۔ بعض نے لکھا کہ قوم لوط کے عذاب کی خبر سن کر، لیکن وہ کوئی ہنسنے والی بات نہیں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ انھیں ہنسی اس بات پر آئی کہ یہ تو فرشتے ہیں اور ہم ان کے سامنے اتنے اہتمام سے کھانا بناکر پیش کررہے ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے یہ سنا کہ یہ میہمان  جن کے لیے دسترخوان سجایا گیا ہے انسان نہیں فرشتے ہیں انھیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔

(460)  عَذَاب یَوْمٍ أَلِیمٍ کا ترجمہ

یہاں الیم، عذاب کی صفت نہیں بلکہ یوم کی صفت ہے۔ بعض لوگوں سے اس کا لحاظ کرنے میں تساہل ہوگیاہے۔

(۱)  إِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ أَلِیمٍ۔ (ہود: 26)

”مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”میں تم پر ایک دردناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری ترجمہ درست ہے۔ مذکورہ بالا آیت کے پہلے دونوں ترجموں میں الیم کو عذاب کی صفت جن حضرات نے بنایا ہے، درج ذیل آیت میں انھی نے درست طور سے اسے یوم کی صفت بنایا ہے۔ حالاں کہ مذکورہ بالا آیت میں عذاب منصوب ہے اور اس غلطی کا امکان کم ہے جب کہ درج ذیل آیت میں عذاب مجرور ہے اور اس غلطی کا امکان زیادہ ہے۔

(۲)  فَوَیْلٌ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ أَلِیمٍ۔ (الزخرف: 65)

”پس ہلاکی ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کا ارتکاب کیا ایک دردناک دن کے عذاب کی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(461) وَعَلَی أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ

حضرت نوح کے ساتھ گنتی کے کچھ لوگ تھے (وَمَا آمَنَ مَعَہُ إِلَّا قَلِیلٌ۔ ہود: 40) اقوام کا مجموعہ تو تھا نہیں کہ کہا جائے کہ سوار ہونے والی اقوام میں سے کچھ قومیں برکت کی مستحق ہوئیں اور کچھ قومیں عذاب کی۔ لیکن زیادہ تر ترجموں میں یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وَعَلَی أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ میں من کو بیانیہ مان لیا گیا ہے (وہ قومیں جو آپ کے ساتھ ہیں)۔ لیکن اگر من کو ابتدا کے لیے مانیں یعنی جو افراد آپ کے ساتھ ہیں ان سے وجود میں آنے والی قومیں، تو مذکورہ اشکال دور ہوجائے گا اور یہ مفہوم واضح ہوجائے گا کہ حضرت نوح کے ساتھ مجموعہ اقوام نہیں تھا بلکہ قلیل افراد تھے جن سے وجود میں آنے والی کچھ اقوام برکتوں کی مستحق ہوئیں اور کچھ عذاب کی۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

قِیلَ یَانُوحُ اہْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلَی أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمْ ثُمَّ یَمَسُّہُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِیمٌ۔ (ہود: 48)

”حکم ہوا،اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا“۔ (سید مودودی)

”فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کیساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا“۔ (احمد رضا خان)

”حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وہ امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائدہ تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

آخری کے دونوں ترجموں میں، وأمم سے مستقبل کی قومیں مراد لی گئی ہیں لیکن أمم ممن معک سے اس وقت کشتی میں ساتھ رہنے والی اقوام کو مراد لیا ہے۔

درج ذیل ترجمہ اس پہلو سے درست ہے:

”ارشاد ہوا اے نوح اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ، اپنے اوپر بھی اور ان امتوں پر بھی جو ان سے ظہور میں آئیں جو تمھارے ساتھ ہیں، اور ایسی امتیں بھی اٹھیں گی جن کو ہم بہرہ مند کریں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک عذابِ دردناک پکڑے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)   

(462) أُشْہِدُ اللَّہَ کا ترجمہ

قَالَ إِنِّی أُشْہِدُ اللَّہ۔َ (ہود: 54)

”ہودؑ نے کہا،میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اس نے کہا: میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

دوسرا ترجمہ مناسب اور پہلا نامناسب ہے۔ أشھدہ کا مطلب کسی کو گواہ بنانا ہوتا ہے نہ کہ اس کی گواہی پیش کرنا۔

(463) سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ کا ترجمہ

منضود کا مطلب تہہ بہ تہہ ہوتا ہے۔ (وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ اور تہہ بہ تہہ کیلے۔ الواقعۃ: 29) درج ذیل آیت میں سجیل منضود کا مطلب کیا ہوگا؟ بعض لوگوں نے اس سے  لگاتار، پے در پے اور تابڑ توڑ کا مفہوم لیا ہے، شاید اس لیے کہ تہہ بہ تہہ پتھر برسانے کا لفظی مطلب تصورمیں نہیں آتا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک منضود دراصل برسنے کے بعد کی حالت کو بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اتنے زیادہ پتھر برسائے گئے کہ وہ برسنے کے بعد تہہ بہ تہہ جم گئے۔ ترجمے ملاحظہ ہوں:

 وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ۔ (ہود: 82)

”اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے“۔ (سید مودودی)

”اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پے درپے) کنکریاں برسائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور برسائیں اس پر پتھریاں کھنگر کی تہ بہ تہ“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے جو تہہ بہ تہہ جم گئے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(463) وَلَا تَطْغَوْا کا ترجمہ

طغی کا ترجمہ کج ہونا نہیں ہے۔ حد سے تجاوز کرنا اس فعل کی شدت کو بیان نہیں کرتا۔ سرکشی کرنا اس لفظ کی صحیح اردو تعبیر ہے۔ 

وَلَا تَطْغَوْا۔ (ہود: 112)

”اور کج نہ ہونا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور حد سے تجاوز نہ کرنا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو“۔ (احمد رضا خان)

(جاری)


مطالعہ سنن النسائی (۳)

سوالات : ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

جوابات : ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مطیع سید: زبیر بن عدی سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے چومنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کو چومتے اور چھوتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر لوگ مجھ پر ہجوم کریں اور میں مغلوب ہو جاؤں تو پھر بھی ضرور اس کو چوموں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ اگر مگر تم یمن میں رکھ کر آؤ1۔ سوال یہ ہے کہ پوچھنے والے کی بات تو معقول تھی کہ اگر بہت زیادہ رش ہو تو میں کیا کروں؟ اور دوسری بات یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل موجود ہے جو دور سے استلام کر لیتے تھے۔

عمار ناصر: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا ایک خاص مزاج تھا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی چیزوں میں بھی اتباع کرتے تھے، اور یہ تو حج کے مناسک میں سے ایک ہے۔ تو اس موقع پر جو کسی کا ذوق ہے، وہ نمایاں ہوتا ہے۔ دور سے استلام کرنا تو رخصت ہے، لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حج تو مشقت ہی کا نام ہے تو مشقت میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ کام کرو۔ اگر ہجوم ہے تو بھی یہ کام کرو، کیونکہ جو باقی لوگ ہجوم میں موجود ہیں، وہ بھی تو اسی مشقت سے گزر کر یہ کام کر رہے ہیں۔

مطیع سید: مجھے لگتا ہے کہ ہم لوگ بسا اوقات اہل حدیث کے منہج کو عجیب سا محسوس کرتے ہیں اور ایک الجھن سی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن کئی صحابہ کے مزاج اس طرح کے نظر آتے ہیں کہ وہ ظاہر پر عمل کرتے ہیں۔

عمار ناصر: ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ ظاہر میں آپ کو دونوں ایک لگتے ہیں لیکن ان میں بہت فرق ہے۔ صحابہ کے ہاں وہ چیز ایک دینی مزاج اور دینی ذوق سے پیدا ہوئی ہے، یہاں وہ چیز حرفیت پسندی Literal Understanding سے پیدا ہوئی ہے۔ صحابہ کے ہاں یہ Literalismنہیں تھا، وہ ان کے اندر سے پیدا ہوئی ایک چیز ہے جو بری نہیں لگتی۔ اس کی ایک اساس موجود ہے اور ایک ذوق اس میں جھلکتا ہے ، اور آپ دیکھیں گے کہ صحابہ کی پوری شخصیت میں وہ مزاج اور ذوق نظر آئے گا۔ خدا خوفی، لوگوں کے ساتھ معاملات، حسن سلوک، تقویٰ ان کی پوری شخصیت کا حصہ نظر آتا ہے۔ یہ جو Literal Understanding ہے، اس میں آپ کو نظر آئے گا کہ باقی چیزوں میں تو کوئی دینی ذوق دکھائی نہیں دیتا، لیکن یہ بات بہت اہم بن جاتی ہے کہ حدیث میں اگر کوئی بات آگئی ہے تو اس پر لفظ بلفظ عمل کیا جائے۔ تو یہ بالکل الگ چیز ہے۔

مطیع سید: وہ جو مشہور روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عصر کی نماز بنو قریظہ جا کر پڑھنا، اس میں بھی یہی چیز ہے؟

عمار ناصر: وہاں ذوق کا اتنا مسئلہ نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کیا ہے، اس کو سمجھنے کا مسئلہ ہے۔ کچھ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ منشا نہیں ہے کہ ہم نماز قضا کردیں، مقصد یہ ہے کہ جلدی پہنچیں، لیکن اگر نہیں پہنچ سکے تو نماز تو وقت پر پڑھنی ہے۔ جو دوسرے تھے، انہوں نے یہ سمجھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے، اسی کو پورا کرنا ہے۔ اگر نماز قضا بھی ہو رہی ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہی ہو رہی ہے۔

مطیع سید: کیا یہ بات کہیں آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پسند کیا جنہوں نے نماز پڑھ لی تھی؟

عمار ناصر: میرے ذہن میں نہیں ہے۔ بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی پر بھی تنقید نہیں کی۔

مطیع سید: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ تم امیر ہو کر آئے ہو یا کوئی پیغام لے کر آئے ہو2؟ میرا سوال یہ ہے کہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان براءت کے لیے خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا اس لیے بھیجا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات کو لوگ اہمیت نہیں دیں گے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کو میری قربت کی وجہ سے اہمیت دیں گے؟جبکہ خلافت جو اس سے بڑی ذمہ داری تھی، اس کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟

عمار ناصر: اس میں یہ وجہ نہیں تھی کہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات کو نہیں مانیں گے یا ان کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ان کو امیر بنا کر بھیجا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ لوگ ان کی بات مانیں گے۔ یہ اصل میں معاہدے توڑنے کا اعلان کرنا تھا، اس کی خاص حساسیت اور نوعیت ہے۔ مشرکین سے آپ نے معاہدے کیے تھے اور اللہ کے پیغمبر کے طور پر کیے تھے، اب ان معاہدوں کو توڑنا ہے تو یہ ایک بڑا حساس کام تھا۔ اس موقع پر جو عربوں کے ہاں حساسیت تھی، اس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لحاظ کیا کہ میری طرف سے معاہدے ٹوٹنے ہیں تو میرے اپنے خاندان کا اور میرے اپنے گھر کا کوئی فرد جا کر اعلان کرے تاکہ وہ میری طرف سے ہی سمجھا جائے۔ تو یہ حساسیت پیش نظر تھی، یہ مسئلہ نہیں تھا کہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بات پر اعتماد نہیں کریں گے یا نہیں مانیں گے۔ معاملے کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو بھیجا کہ جس کو آپ کا ذاتی نمائندہ سمجھا جائے۔

مطیع سید: ایک سوال یہ ذہن میں آرہا تھا کہ اگر احادیث، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا تاریخی ریکارڈ ہے تو اس کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو امام احمد بن حنبل نے اپنایا کہ صحابہ کی ترتیب سے روایتیں اکٹھی کی جائیں۔ جب محدثین نے فقہی ابواب کے تحت احادیث اکٹھی کر دی تو میرے خیال میں اس سے پیغمبر کی شخصیت کا قانونی پہلو ہی نمایاں رہ گیا ہے، اورجو بہت سی لطیف چیزیں تھیں اور قانون سے ہٹ کر جو قیمتی باتیں تھیں، ان کو اس ابواب بندی سے نقصان پہنچا ہے۔ آپ اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟

عمار ناصر: محدثین جو کام کر رہے تھے، بنیادی طور پر ان کے پیش نظر یہ نہیں تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو کسی خاص انداز سے پیش کریں۔ وہ کسی دعوتی پہلو سے یا نبی علیہ السلام کی شخصیت کو خاص انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے پہلو سے تو کام کر ہی نہیں رہے تھے۔ ان کا کام تو بالکل علمی کام ہے کہ جو مواد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں موجود ہے، اس میں ضروری چھان پھٹک کے بعد اسے محفوظ کرنا ہے۔ اسے محفوظ کرنے کے جو مختلف انداز ہیں، ان کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ کسی ایک صحابی کی مرویات کیا ہیں؟ اس کی اپنی ایک افادیت ہے، اور جو فقہی ترتیب سے مرتب کر رہے ہیں، وہ دراصل علماء اور اسکالرز کی سہولت کے لیے کر رہے ہیں۔ وہ عام لوگوں کو بتا ہی نہیں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ایسے دیکھو۔ وہ تو اہل علم کے لیے سہولت پیدا کر رہے ہیں کہ ان کو جب ضرورت پڑے تو وہ اس کی طرف رجوع کریں اور دیکھ لیں۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی شخصیت کے متعلق معلومات سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل منتقل ہوئی ہیں؟

عمار ناصر: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو کیسے دیکھیں اور آپ کی شخصیت کیسی تھی؟ یہ چیز آپ کو شمائل کی کتابوں میں ملے گی۔ جب صحابہ زندہ تھے تو لوگ ان کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں سنتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو انھوں نے کیسے دیکھا اور فلاں موقع پر کیا کیا، فلاں موقع پر کیا ہوا۔ پھر جب صحابہ گزر گئے تو بعد والے لوگ ان معلومات کو آگے بیان کرتے تھے۔ لوگوں نے اسے محفوظ کرنا شروع کر دیا اور سیرت نگاروں نے سیرت لکھنا شروع کر دی۔

مطیع سید: آپ نے اپنی کتاب جہاد میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے اقتدار کا وعدہ متعین جغرافیائی حدود کے اندر تھا، اور یہی وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے بھی تھا۔ ترکوں اور اہل حبشہ کے ساتھ جنگ نہ کرنے کی روایت بھی امام نسائی نے نقل کی ہے3 لیکن اس کے ساتھ غزوہ ہند کی روایت بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک متعین حدود میں اقدامات کی ہدایت فرمائی تھی، لیکن پھر آپ ﷺہند کی طرف بھی اشارہ فرما رہے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایک طرف غزوہ ہند کی روایت ہے اور دوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہند کی طرف پیش قدمی پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ تو کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے غزوہ ہند کی روایت نہیں تھی؟ اگر تھی تو وہ اس کو کس طرح دیکھتے تھے؟

عمار ناصر: جو جغرافیائی تعین کی بات ہے، وہ بشارت کے حوالے سے ہے کہ یہ سرزمین تو میری امت کو اللہ نے دے دی ہے۔ یہ اصل میں فتح کی بشارت ہے کہ یہ امت کو مل جائیں گی۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کے بھی علاوہ جنگیں، لڑائیاں اور حملے ہوئے، یہ واقعات تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ بشارت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کوئی جنگیں نہیں ہوں گی یا کسی اور طرف ان کو جانے کی اجازت نہیں۔ آپ نے قسطنطنیہ کا ذکر کیا تو آپ دیکھیں کہ اس کا ذکر ان فتوحات کے سیاق میں نہیں کیا جو آپ کی امت آپ کے فوراً‌ بعد حاصل ہونی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس پر بھی میری امت حملہ کرے گی اور کسی وقت میں یہ شہر فتح بھی ہو جائے گا۔ اسی طریقے سے ہند پر حملے کا بھی ذکر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ قریب کے علاقوں پر حملہ کرنے سے آپ صحابہ کو کسی مصلحت کے تحت منع بھی کر رہے ہیں۔ تو یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق امت کو کون کون سے علاقے مل جائیں گے۔ اور دوسری یہ کہ لڑائی کی ضرورت اور جگہوں پر بھی پیش آئے گی، اور مقامات پر بھی جنگیں ہوں گی۔ کچھ جگہ پر کامیابی ملے گی،کچھ جگہ پر نہیں ملے گی۔ کچھ علاقوں کی طرف ان کو بڑھنا چاہیے، کچھ کی طرف نہیں بڑھنا چاہیے۔ تو یہ ایک دوسرا معاملہ ہے۔

مطیع سید: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس فرق کواچھے طریقے سے سمجھ گئے تھے؟

عمار ناصر: حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو فارس کو بھی مکمل فتح نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ دونوں باتوں کا فرق سمجھ رہے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ہمیں بشارت تو ہے، لیکن ہمیں کب آگے بڑھنا ہے، اس کا فیصلہ ہمیں اپنی تدبیر کے لحاظ سے کرنا ہے۔ ہمارے لیے کب آگے بڑھنا مناسب ہے اور کب نہیں، یہ ہمارے کرنے کا فیصلہ ہے۔

مطیع سید: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حسب نسب والی عورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوگی۔ آپ نے اس کے ساتھ نکاح سے منع فرما دیا۔ وہ پھر آیا اور آپ نے پھر منع فرما دیا۔ پھر تیسری بار منع فرمانے کے بعد فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کرو جس کی اولاد ہو، میں اپنی امت کی تعداد دوسری امتوں سے زیادہ دیکھنا چاہتا ہوں4۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا شادی کی غرض صرف اولاد ہے؟ کیا اور اغراض نہیں ہیں؟

عمار ناصر: اس حدیث میں یہ مسئلہ اصولی سطح پر زیربحث نہیں کہ کس عورت سے نکاح کرنا چاہیے اور کس سے نہیں کرنا چاہیے ۔ ایک آدمی آپ سے ذاتی مشورہ لینے آیا ہے اور آپ اس کو مشورہ دے رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ ﷺنے نکاح کے مقاصد میں سے ایک بڑا بنیادی مقصد بھی نمایاں کیا ہے کہ نکاح کرو تو اس میں ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے، اس کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو بانجھ عورتیں ہیں ان سے نکاح ہی کوئی نہ کرے، ظاہر ہے کہ یہ مقصود نہیں ہے۔ ان کے ساتھ بھی کوئی نکاح کر لے گا، لیکن اگر کسی نے ایک ہی نکاح کرنا ہے اور وہ کسی بانجھ عورت سے اس کے حسن یا حسب نسب کی وجہ سے کرنا چاہتا ہے تو آپﷺ نے اس کو اس سے گریز کا مشورہ دیا۔ آپ اس میں یہ بات مضمر سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ایک ہی سے کرنا ہے تو کسی بچے جننے والی عورت سے کرو۔

مطیع سید: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ میری ایک عورت ہے ، مجھے اس سے بہت محبت ہے، لیکن اس میں ایک عیب ہے کہ اگر اس کو کوئی ہاتھ لگائے تو وہ اس کو منع نہیں کرتی۔آپ نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ نے فرمایا کہ پھر اپنا کام نکال لیا کرو5۔ پیغمبر علیہ السلام کا یہ مشورہ مجھے بڑا عجیب سا لگا، کیونکہ ہاتھ لگانے سے مقصد صرف ہاتھ لگانا نہیں ہے اور امام نسائی نے جو باب باندھا ہے، اس سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے، لیکن آپ اسے مشورہ دے رہے ہیں کہ اپنا کام نکال لو۔ وہ شخص اپنی بیوی کے بارے میں آ کر بتا رہا ہے کہ وہ اس طرح کے کام میں ملوث ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لعان وغیرہ کی طرف کیوں نہیں لے کر گئے؟ بلکہ فرمایا کہ اپنا کام نکال لیا کرو، اس کی کیا وجہ ہے؟

عمار ناصر: اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ حدیث میں جو الفاظ آتے ہیں "لا ترد يد لامس" وہ کسی چھونے والے کا ہاتھ پیچھے نہیں ہٹاتی، امام نسائی نے اس کو زنا سے کنایہ سمجھا ہے۔ کچھ دیگر شارحین نے بھی اس کو زنا سے کنایہ سمجھا ہے، لیکن بعض دوسرے شارحین نے یہ مطلب سمجھا ہے کہ کوئی اس سے چھیڑ چھاڑ کرے تو وہ اس سے منع نہیں کرتی۔ تو یہ باقاعدہ کوئی زنا کا صریح الزام نہیں ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ چھیڑ چھاڑ کرنے کا یہ مطلب بھی درست نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اگر آ کر اس کے گھر سے کوئی چیز اٹھا لیں تو وہ چیزیں سنبھالتی نہیں ، بلکہ جو کوئی مانگے اسے دے دیتی ہے، یعنی گھر کے اسباب کی حفاظت نہیں کرتی۔ تو امام احمد اس کو اس طرح دیکھتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر شارحین یہ معنی لیتے ہیں کہ جو ایک ذمہ دار اور محتاط خاتون ہوتی ہے، اس طرح وہ نہیں ہے اور لوگ آ کر چھیڑ چھاڑ کر لیں تو وہ روکتی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ چھوڑ دو، تو اس شخص نے کہا کہ نہیں پھر میرا دل اس کے پیچھے جائے گا، میں اس کے بغیر رہ نہیں سکوں گا، تو آپ نے فرمایا کہ پھر اس کو رکھو۔ اس مشورے میں یہ بات اہم ہے کہ ہر معاملہ فقہی اور قانونی نہیں ہوتا۔ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ بندے میں خود کتنی غیرت ہے، اور بات بتاتے ہوئے اور مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ جس کو بات بتائی جا رہی ہے، خود اس کے اندر کتنی غیرت موجود ہے۔ دراصل وہ بندہ بھی تسلی لینے کے لیے ہی آیا تھا کہ اگر میں کام چلاتا رہوں تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ ورنہ تو وہ خود ہی اسے چھوڑ دیتا۔ وہ اپنے لیے گنجائش ہی معلوم کرنے آیا تھا۔

مطیع سید: یہ روایت ہے کہ "من بدل دينه فاقتلوه6" جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو۔ کیا یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عام مسلم کمیونٹی کے تناظر میں تھی؟ کیونکہ کمیونٹی بہت تھوڑی ہے اور اگر دین کو چھوڑ کر واپس جانے کا دروازہ کھول دیا جائے ، تو اس سے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو سکتاتھا ۔ تو کیا یہ حدیث اس تناظر میں ہے؟ یا یہ عمومی طور پر بیان کی گئی ہے؟

عمار ناصر: اصل میں اس میں بہت سے احتمالات ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں اس کا کوئی دائرہ یا پس منظر تو بیان نہیں ہوا، بس حکم بیان ہوا ہے۔ اب اس کو کس اصول کے تحت سمجھا جائے یا اس کے پیچھے کیا مقصد پیش نظر تھا؟ یہ ایک استنباطی چیز ہے۔ فقہاء یہی مختلف امکانات بیان کرتے ہیں۔ اس میں بنیادی دو تین رجحانات ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب میں بھی بیان کیا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد نظر یہ ہے کہ جو لوگ مجھے خوب پرکھ کر اور میری جانچ پڑتال کر کے مجھ پر ایمان لائے ہیں، اور اس کے بعد اپنا دین بدل رہے ہیں تو یہ ناقابل معافی ہے۔ اس کو فقہاء یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ اصل میں اتمام حجت کے بعد ، یعنی حق واضح ہو جانے کے بعد دین تبدیل کرنے کی سزا ہے۔ کچھ دوسرے فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ارتداد کا راستہ روکنے کے لیے ہے کہ اگر یہ دروازہ کھول دیا جائے تو فتنے تو ہر وقت رہتے ہی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر آسانی سے یہ داعیہ پیدا نہ ہو کہ وہ دین کو بدل دیں، اور جب جس کا جی چاہے دن چھوڑ کر چلا جائے۔ اس زاویے سے بھی فقہا دیکھتے ہیں۔

مطیع سید: روایت ہے کہ مسلمان سے لڑنا کفر ہے7۔ دوسری روایت میں ہے کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو8۔تو صحابہ کے ہاں جو لڑائیاں ہوئی ہیں، ان میں بڑے لوگ قتل ہوئے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے لڑنا تو کفر ہے۔ اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

عمار ناصر: اس حدیث کا سیاق تو یہ ہے کہ انفرادی سطح پر مسلمانوں کے درمیان جو کھٹ پٹ ہوتی ہے، یہ کھٹ پٹ اس سطح پر نہیں پہنچنی چاہیے کہ آپس میں لوگ لڑنے لگیں۔ یعنی معاشرتی اخلاقیات کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، کوئی عام سماجی جھگڑا ہے اور اس وجہ سے ایک مسلمان دوسرے سے لڑ پڑا ہے تو اس صورت حال میں گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے کی شناعت بیان کی جا رہی ہے۔ اگر کسی نے واقعتاً زیادتی کی ہے اور دوسرا اس کا دفاع کر رہا ہے تو یہ صورت حال، ظاہر ہے کہ یہاں زیر بحث نہیں ہے۔اسی طرح مسلمانوں کے مابین اگر سیاسی جھگڑے اور جنگیں ہوں تو ان کے پیچھے بھی ایک تاویل ہوتی ہے، وہ ایک اختلاف ہوتا ہے، اس میں حق اور باطل پر بھی لوگ ہو سکتے ہیں، بعض دفعہ اجتہادی خطا بھی ہو سکتی ہے، بعض دفعہ اور اسباب ہو سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پسندیدہ صورت تو یہ بھی نہیں ہے، لیکن قتال المومن کفر کی حدیث دراصل سماجی اخلاقیات کے حوالے سے ہے اور حدیث کا دوسرا ٹکڑا "سبابہ فسوق" بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

مطیع سید: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ نے غزوہ حنین کا مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں بنو ہاشم کی فضیلت کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ ﷺنے بنو مطلب کو دیا جو ہمارے بھائی ہیں لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا، حالانکہ ہم بھی آپ سے وہی قرابت رکھتے ہیں جو وہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ بنوہاشم اوربنو مطلب تو ایک ہی ہیں اور جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔9 یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کس طرف اشارہ ہے؟

عمار ناصر: یہ دونوں قریبی خاندان تھے اور نبوت کے بعد ان دونوں کی نصرت وتائید آپﷺ کو حاصل رہی ہے۔ بنو مطلب چاہے ایمان بعد میں لائے ہوں، لیکن آپﷺ کی تائید میں وہ ہمیشہ کھڑے رہے ہیں۔ آپﷺ یہاں یہی بات بیان فرما رہے ہیں۔

مطیع سید: ایک بیع کے اندر دوسری بیع کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے10۔ کیا ہمارے ہاں جو قسطوں پر چیز فروخت کی جاتی ہے، کیا وہ اس کے تحت آتی ہے؟ مثلاً‌ ایک شخص کہتا ہے کہ یہ چیز میں تمہارے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، اگر تم نقد دو گے تو ایک سوروپے کی ہے اور اگر تم ادھار کرو گے تو دو سوروپے کی ہے۔

عمار ناصر: اس حدیث میں ممانعت اس چیز کی نہیں ہے کہ قسطوں پر کوئی چیز نہیں بیچنی۔ اصل ممانعت اس چیز کی ہے کہ معاملے کی جو صورت ہے، اس کو متعین کیے بغیر مبہم چھوڑ دیا جائے کہ اگر یوں کر لیا تو یوں ہو جائے گا اور یوں کر لیا تو یوں ہو جائے گا، لیکن اس کو طے نہ کیا جائے۔ اس طرح صفقة فی صفقتین کی اور بھی شکلیں آتی ہیں۔ کیونکہ ایک معاملہ ایک نوعیت کا ہوتا ہے، اس کی شرائط کچھ اور ہوتی ہیں، اور ایک دوسرا معاملہ دوسری نوعیت کا ہوتا ہے تو اس کی شرائط کچھ اور ہوتی ہیں، تو آپ اگر ان دونوں کو گڈمڈ کر دیں تو اس سے ابہام بھی پیدا ہو جاتا ہے اور آگے چل کر وہ معاملہ پیچیدہ ہو جائے گا یا جھگڑے تک پہنچے گا۔تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک معاملے کے اندر دونوں آپشنز اس طرح کھلے رکھنا کہ کل کو ایک فریق کہے کہ میری انڈرسٹینڈنگ تو یہ تھی اور دوسرا کہے کہ میں تو یہ سمجھ رہا تھا، یہ درست نہیں تاکہ اس صورت میں نزاع پیدا نہ ہو اور آگے چل کر ابہام کی صورت نہ بنے۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اگر نوعیت معاملہ کو طے کر لیا جائے، مثلاً‌ خریدار کہے کہ میں ادھار لوں گا اور اتنی رقم اتنی مدت میں دے دوں گا، تو اب اس معاملے میں ابہام باقی نہیں رہا، اس لیے یہ بیعة فی بیعتین کے تحت نہیں رہتی۔ البتہ کسی دوسری أصول پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ درست نہیں۔ مثلاً‌ بعض اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ اس میں قسطوں کی وجہ سے جو رقم زائد وصول کی جاتی ہے، وہ ربا کا مصداق ہے۔

مطیع سید: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور شیطان کے درمیان انگور کے درخت پر جھگڑا ہوا، وہ کہنے لگا کہ یہ میرا ہے۔ آخر میں صلح اس بات پر ہوئی کہ دو حصے شیطان کے اور ایک حصہ نوح علیہ السلام کا ہے11۔

عمار ناصر: یہ ایک تمثیل ہے کہ دنیا میں جتنا انگور ہے، اس کے دو تہائی کی شراب بنے گی اور ایک تہائی کا سرکہ بن جائے گا۔ جو مذہبی کلام اور انبیاء کا کلام ہے، تمثیل اس کا باقاعدہ حصہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاں تو تمثیلیں بہت ہیں، اور خاص طور پر جو غیبی حقائق ہیں جن کی کیفیت اور دنیا بالکل اور ہے اور وہ ہماری گرفت میں نہیں آ سکتے، ان کو سمجھانے کے لیے حسی دنیا سے کوئی مثال بیان کرنا، یہ تو معروف ہے اور احادیث میں بہت عام ہے۔ جیسے سورج کے بارے میں ہے کہ جب ڈوبتا ہے تو عرش کے نیچے جا کر اجازت مانگتا ہے، پھر جب اس کو اجازت ملتی ہے تو اگلے دن نکلتا ہے، اصل میں یہ بتانے کے لیے ایک تمثیل ہے کہ سورج کی جو ایک ایک حرکت ہے، وہ اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ جب اللہ کہے گا تو وہ پلٹ کر واپس آ جائے گا۔ تو بات کو سمجھانے کے لیے یہ ایک اچھی تمثیل ہے۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس دور میں ہیں، اس دور میں بہت سی اساطیر بھی عام تھیں اور آج بھی ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات سمجھانے کے لیے ان اساطیر کا بھی حوالہ دے دیں؟

عمار ناصر: شاہ ولی اللہؒ کا کہنا ہےکہ احادیث میں بعض دفعہ ایسے واقعات یا کہانیوں کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے جو عام لوگوں میں معروف تھیں۔ شاہ صاحب کے خیال میں ام زرع والی روایت جس میں گیارہ عورتیں اپنے اپنے شوہروں کا أحوال سناتی ہیں اور خرافۃ کا واقعہ جس میں خرافہ نام کے شخص کو جنات اٹھا کر لے جاتے ہیں، اسی نوعیت کے ہیں۔ تو یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کون سی بات آپ نے بطور تمثیل کہی ہے اور کہاں کسی معروف داستان کا ذکر کر دیا ہے۔

مطیع سید: اس حدیث میں ایک خاص پیغمبر کا نام لیا گیا ہے اور پورا ایک مکالمہ نقل کیا گیا ہے، اس سے کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ شاید یہ واقعہ حقیقت میں ہوا ہو۔

عمار ناصر: ممکن ہے کہ شیطان سے اس نوعیت کی بحث ہوئی ہو، جیسے حضرت آدم اور ابلیس کی ہوئی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ طوفان کے بعد جب حضرت نوح علیہ السلام نے دوبارہ اپنی أولاد کو آباد کیا ہو اور انگور کی بیلیں چڑھائی ہوں تو حسی طور پر شیطان ان کے پاس آگیا ہو۔ انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ بھی شیطان کا مکالمہ منقول ہے اور روایات میں سیدنا اسماعیل کی قربانی کے موقع پر بھی حضرت ابراہیم کے ساتھ شیطان کا مباحثہ نقل ہوا ہے۔



حواشی

  1. کتاب الحج،باب العلۃ التی من اجلھاسعی النبیﷺ بالبیت،رقم:2951
  2. کتاب الحج، باب الخطبۃ قبل الترویۃ،رقم:2998
  3. کتاب الجہاد، باب غزوۃ الہند +باب غزوۃ ترک و حبشۃ۔ رقم:3178
  4. کتاب النکاح،باب کراھیۃ تزویج العقیم،رقم:3232
  5. کتاب النکاح ، باب تزويج الزانيۃ،رقم:3233
  6. کتاب المحاربۃ ،باب الحکم فی المرتد،رقم:4071
  7. کتاب المحاربۃ، باب قتال المسلم،رقم:4110
  8. کتاب المحاربۃ، باب تحریم القتل،رقم:4137
  9. کتاب كسب الفیئ ،رقم:4142
  10. کتاب البیوع، رقم:4638
  11. کتاب الاشربۃ،باب مایجوز شربہ من الطلاء وما لایجوز، رقم:5732
(مکمل)

حلال وحرام سے آگاہی اور علماء کرام کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۲ نومبر کو جامعہ اشرف  المدارس کراچی میں’’حلال آگاہی کونسل پاکستان ‘‘ کے زیر اہتمام علماء کرام کی نشست سے خطاب)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حلال آگہی کونسل پاکستان اور محترم جناب آفاق شمسی کا شکرگزار ہوں کہ میری کراچی حاضری کے موقع پر حضرات علماء کرام کے ساتھ علمی، تعلیمی اور روحانی مرکز جامعہ اشرف المدارس میں ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ میری حضرت حکیم محمد اختر ؒ کے ساتھ نیاز مندی تھی، ان کی خدمت میں حاضری ہوتی رہتی تھی اور بعض بیرونی اسفار میں ان کے ساتھ شرکت رہی ، حکیم محمد مظہر صاحب کے ساتھ بھی نیاز مندی کا تعلق ہے، یہاں حاضری میرے لیے ویسے بھی سعادت کی بات ہے لیکن ایک کارِ خیر اور دینی و علمی کام کے لیے حاضری دوہری خوشی اور سعادت کا باعث ہے۔ حلال آگہی کونسل ایک عرصے سے پہلے کراچی اور اب پورے پاکستان میں ایک اہم دینی ، ملی اور قومی ضرورت پر کام کر رہی ہے۔ حلال و حرام کا فرق کرنا ہمارے دین کا تقاضہ ہے، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، اور ہماری اخروی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیوی ضرورت بھی ہے۔

حلال و حرام سے آگاہی ہماری اجتماعی معاشرتی ضرورت ہے جس پر عموماً عقیدہ اور تعلیم کے دائرے میں بات کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں حلال و حرام سے متعلق سینکڑوں آیات ہیں اور جناب نبی کریمؐ کی ہزاروں احادیث ہوں گی جن میں حلال و حرام کی بات کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں دینی تعلیم اور خطبات کے دائرے میں اس موضوع پر بات ہوتی ہے لیکن معاشرے کی عملی صورتحال کے ساتھ اس کی تطبیق کا ماحول نہیں ہے۔ لوگوں تک بات پہنچانا کہ معاملہ اس طریقے سے ہوگا تو حلال ہوگا اور یوں ہوگا تو حرام ہوگا، متعلقہ اداروں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والوں کو سمجھانا اور عوام کو آگاہ کرنا علماء کرام کی ذمہ داری ہے، اور لوگوں پر یہ واضح کرنا بھی علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ فلاں معاملہ میں فلاں طریقہ اختیار کریں گے تو حرام سے بچ جائیں گے، اور ایسے طریقے بیان کرنا سنتِ نبویؐ ہے، اس پر بہت سی مثالیں ہیں، میں ایک مثال عرض کروں گا۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آئے ۔جناب نبی کریمؐ نے دریافت فرمایا کہ بلال! پہلے تو عام قسم کی کھجوریں آیا کرتی تھیں، یہ اچھی قسم کی کھجوریں کہاں سے لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے ان کا تبادلہ کر لیا ہے، دو صاع عام کھجوریں دے کر ایک صاع اچھی کھجوریں لے لی ہیں۔ اس پر حضور نبی کریمؐ نے فرمایا کہ یہ تو عین سود ہے۔ جنس کا جنس سے تبادلہ اور تفاضل سود ہے، یہ تم نے کیا کیا؟ حضرت بلالؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! اچھی کھجوریں اور عام کھجوریں برابر میں تو کوئی تبدیل نہیں کرتا، تو میں اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ پہلے دراہم کے بدلے اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر ان درہموں سے اچھی کھجوریں خرید لو ۔ ایک کی بجائے دو سودے کر لو تو جائز ہو جائے گا۔ اس کو فقہی اصطلاح میں حیلہ کہا جاتا ہے جو خود جناب نبی کریمؐ نے حضرت بلالؓ کو سکھا یا۔

جناب نبی کریمؐ کے گھر کے معاملات کے انچارج حضرت بلالؓ تھے ،جسے امورِ امور خانہ داری کہتے ہیں کہ چیزیں خریدنا، بیچنا، مہمانوں کو سنبھالنا، گھر کا خرچہ چلانا وغیرہ۔ حضرت بلالؓ کے پاس خرچہ موجود ہوتا تو کرتے رہتے، ورنہ قرضہ لے کر ضرورت پوری کرتے، بعد میں حضورؐ کے پاس کوئی رقم آتی تو اس سے قرضہ ادا ہو جاتا تھا۔ حضرت بلالؓ اور جناب نبی کریمؐ کا آپس میں یہ معاملہ چلتا رہتا۔ مدینہ منورہ کا ایک یہودی تھا جس سے حضرت بلالؓ اکثر قرضہ لیتے تھے۔ ابوداؤد شریف میں ان کے قرضہ سے متعلق یہ واقعہ مذکور ہے کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت بلالؓ اس یہودی سے قرضہ لیتے رہے جو بڑھتے بڑھتے خاصا بڑھ گیا۔ اس یہودی نے حضرت بلالؓ سے مطالبہ کیا کہ قرضہ واپس کرو۔ ان کے پاس گنجائش نہیں تھی تو ٹال مٹول کرتے رہے۔ بالآخر قرض خواہ یہودی نے ایک دن دھمکی دے دی کہ تین دن کے اندر اندر میرا قرضہ واپس کر دو ورنہ تمہارے گلے میں رسی ڈال دوں گا۔ اس زمانے میں گلے میں رسی ڈالنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمہیں غلام بنا کر بیچ دوں گا اور اپنا قرض پورا کروں گا۔ حضرت بلالؓ بہت پریشان ہوئے اور حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس قرض خواہ نے دھمکی دے دی ہے لہٰذا آپ کچھ کریں۔ آپؐ نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔

اسی اثنا میں مہلت کا وقت گزر گیا، تیسرے دن اس یہودی نے حضرت بلالؓ سے کہا کہ اگر آج رات تک میرا قرضہ واپس نہ کیا تو میں تمہارے گلے میں رسی ڈال دوں گا۔ اب پھر حضرت بلالؓ حضورؐ کی خدمت میں آئے کہ آج قرضہ ادا نہ ہوا تو میرے گلے میں رسی پڑ جائے گی، میں ایک دفعہ غلامی بھگت چکا ہوں دوسری دفعہ غلام بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یارسول اللہ! کوئی راستہ نکالیے۔ آپؐ کے پاس کوئی گنجائش نہیں تھی، کیا کرتے۔ تو حضرت بلالؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر انتظام آپ کے پاس بھی نہیں ہے اور میرے پاس بھی نہیں ہے اور اس نے کل صبح مجھے غلام بنا لینا ہے اور بازار میں لے جا کر بیچ دینا ہے تو مجھے ایک بات کی اجازت دیجیے کہ میں چپکے سے رات کہیں کھسک جاؤں، جب کہیں سے گنجائش ہو جائے گی تو آجاؤں گا، حضورؐ نے اجازت عطا فرما دی۔ حضرت بلالؓ کہتے ہیں کہ رات میں نے سونے سے پہلے سواری تیار کی، سفر کا سامان تیار کیا اور عشاء کے بعد تیاری کر کے لیٹ گیا۔ پروگرام یہ تھا کہ آدھی رات کے بعد اٹھوں گا اور سفر شروع کر دوں گا، صبح ہوتے ہی میں دور کہیں پہنچ جاؤں گا ۔

حضرت بلالؓ کہتے ہیں کہ میں سارا بندوبست کر کے ابھی لیٹا ہی تھا کہ کسی نے آواز دی بلال! رسول اللہ بلا رہے ہیں۔ میں اٹھا اور حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپؐ مسجد کے باہر تشریف فرما تھے اور آپ کے سامنے چار اونٹ سازوسامان سمیت کھڑے تھے۔ سازوسامان میں غلہ، کپڑے اور دیگر ضروریات کی چیزیں ہوتی تھیں۔ حضورؐ نے فرمایا بلال! دیکھو اس سے قرضہ پورا ہو جائے گا؟ میں نے اندازہ کیا اور کہا یارسول اللہ! قرضہ بھی ادا ہو جائے گا اور کچھ بچ بھی جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا، یہ فلاں قبیلے کے سردار نے مجھے ہدیہ بھیجے ہیں، ان سے قرضہ ادا کر دو، اگر ان میں سے کچھ بچ گیا تو وہ میرے گھر نہیں لانا بلکہ صدقہ کر دینا۔

میں یہ بات کر رہا ہوں کہ حلال و حرام کا فرق واضح کرنا اور حلال کا طریقہ بتانا سنتِ نبویؐ ہے ۔ علماء کرام دراصل انبیاء کرام کی نمائندگی کرتے ہیں ’’العلماء ورثة الانبیاء‘‘ تو علماء کرام کی ذمہ داری یہ ہے کہ حلال و حرام کا فرق لوگوں کو بتائیں، صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر متعلقہ لوگوں تک رسائی حاصل کریں اور ان کو حلال و حرام کا فرق عملاً بتائیں ۔ میں اس پر اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا کرتا ہوں۔

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے مجھے مرغی کا گوشت لینا تھا تو میں اپنے محلے کی ایک دکان پر گیا، دکاندار میرے سامنے مرغیاں ذبح کر رہا تھا، اس کے ساتھ ڈرم پڑا تھا، وہ مرغیوں پر چھری پھیر کر اس ڈرم میں پھینکتا جا رہا تھا۔ اس نے میرے سامنے دو منٹ میں دس گیارہ مرغیاں ذبح کر کے ڈرم میں پھینکیں۔ میں نے دیکھا کہ ذبح کرتے ہوئے اس دکاندار کا منہ بند تھا۔ میں تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا اور بالآخر اس سے پوچھ لیا کہ آپ ذبح کرتے ہوئے کچھ پڑھتے بھی ہیں یا نہیں؟ وہ کہنے لگا کہ استاد جی! صبح ایک دفعہ بسم اللہ پڑھ لی تھی۔ یہ سن کر میں سناٹے میں آگیا کہ یہ میرا مقتدی ہے، نمازیں اور جمعہ میرے پیچھے پڑھتا ہے، اس کا یہ حال ہے تو باقی شہر کا کیا حال ہوگا؟ میں نے اسے ذبح کے دو چار مسائل سمجھائے ۔ لوگوں کو ان مسائل کا علم نہیں ہوتا اور ہماری اس طرف توجہ نہیں ہوتی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مسئلہ بیان کر دیا تو ہمارا فرض ادا ہو گیا، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کے کام پر نظر رکھنا اور جہاں خرابی نظر آئے اس کی اصلاح کرنا محلے کے امام صاحب کی ذمہ داری ہے۔

اسی حوالے سے ایک اور واقعہ عرض کر دیتا ہوں۔ ایک دفعہ میں لندن میں ایک جگہ ٹھہرا ہوا تھا، ہمارے ایک دوست وہاں خطیب تھے ۔ ایک دن انہوں نے کہا کہ چلیں مارکیٹ کا چکر لگاتے ہیں، انہوں نے گوشت خریدنا تھا تو ہم ایک دکان پر گئے۔ وہاں جا کر میں نے محسوس کیا کہ دکاندار نے انہیں آنکھ سے کوئی اشارہ کیا۔ آنکھوں کا اشارہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے خطرناک قرار دیا ہے ’’یعلم خائنة الاعین وما تخفی الصدور‘‘ جب دکاندار نے اشارہ کیا تو مولانا نے مجھے کہا کہ واپس چلیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ تو گوشت خریدنے آئے تھے تو بغیر خریدے واپس کیوں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ دکاندار نے مجھے اشارہ کر کے بتایا ہے کہ آج آپ والا گوشت نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ سمجھ کر مطمئن ہیں کہ میں تو حرام سے بچ گیا ہوں، مگر باقی عوام کا کیا بنے گا؟ آپ کے مقتدیوں میں سے کتنے لوگوں نے وہ گوشت خریدا ہوگا، ان کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اور دکاندار بھی صرف آپ کو اشارہ کر کے مطمئن ہو گیا کہ میں نے مولانا صاحب کو بتا دیا ہے۔ اتفاق سے اس دن جمعہ تھا، میں وہاں مہمان تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ جمعہ پڑھائیں، چنانچہ میں نے اسی موضوع پر گفتگو کی۔

حلال و حرام کا فرق ہماری دینی ضرورت تو ہے ہی، ہماری دنیوی ضرورت بھی ہے، اس پر بھی ایک حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ عشرہ مبشرہ اور اکابر صحابہ میں سے ہیں، ان کے بارے میں ایک بات مشہور ہو گئی تھی جس کا مشاہدہ بھی تھا کہ آپؓ مستجاب الدعوات ہیں۔ اس طرح کی خصوصی فضیلت اللہ تعالیٰ کسی کو عطا فرما دیتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے ’’لو اقسم علی اللہ لابرہ‘‘ جناب نبی کریم ؐنے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دیکھنے میں کچھ بھی نہیں لگتے لیکن اگر وہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات کہہ دیں تو اللہ ان کی لاج رکھ لیتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں بھی یہ شہرت ہو گئی تھی کہ جو بات زبان سے کہہ دیتے وہ پوری ہو جاتی ۔ ایک آدمی نے حضرت سعدؓ سے پوچھا کہ حضرت! آپ کی شہرت بھی ہے اور مشاہدہ اور تجربہ بھی کہ آپ مستجاب الدعوات ہیں، اس کی وجہ کیا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی کوئی بات رد نہیں کرتے؟

آدمی کو کوئی اعزاز اور کمال ملتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت بلال ؓ سے خود جناب نبی کریمؐ نے پوچھ لیا تھا کہ بلال !جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ سنی ہے، تم کون سا عمل کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو باقی مسلمان کرتے ہیں میں بھی وہی کچھ کرتا ہوں، ہاں ایک بات ہے کہ میں تحیۃ الوضو کا ناغہ نہیں کرتا۔ آپؐ نے فرمایا اسی وجہ سے تمہیں یہ اعزاز ملا ہے۔ تو ہر اعزاز اور کمال کے پیچھے کوئی عمل ہوتا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے ان کے مستجاب الدعوات ہونے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں اور تو کوئی خاص کام نہیں کرتا، جو باقی لوگ کرتے ہیں وہی کچھ کرتا ہوں، ہاں یہ بات ہے کہ میں نے جب سے کلمہ پڑھا ہے اس وقت سے لے کر آج تک میرے حلق سے کوئی ایک لقمہ بھی ایسا نہیں اترا جس کے بارے میں تسلی نہ ہو کہ یہ کہاں سے آیا اور کیسے آیا ہے۔ یہ حضرت عمر ؓکے زمانہ تھا جب حضرت سعدؓ میں یہ بات بتا رہے تھے۔ اتنے عرصے کے متعلق اتنے یقین سے حضرت سعدؓ ہی بات کہہ سکتے ہیں ،ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہی لقمۂ حلال ان کے مستجاب الدعوات ہونے کی وجہ تھی کیونکہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے نبی کریم ؐ سے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے مستجاب الدعوات بننے کی دعا فرما دیں تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اے سعد! اپنا کھانا پاکیزہ اور حلال رکھو، تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، جو آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس دن تک اس کے اعمال قبول نہیں ہوتے، جس بندے کی نشوونما حرام اور سود کے مال سے ہوئی ہو، تو جہنم کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے۔

جبکہ حرام کھانے کی وجہ سے دعا کی قبولیت میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، چنانچہ ایک دوسری حدیث مبارکہ میں، جو حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، جناب نبی کریم ؐ نے مالِ حرام کی قباحت و شناعت کو اس انداز میں ذکر فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاکیزہ مال ہی قبول فرماتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جس کا حکم اپنے پیغمبروں کو دیا۔ پھر آپؐ نے قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت فرمائیں ’’یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا‘‘ اے رسولو! پاکیزہ اور حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ ’’یا ایھا الذین امنوا کلوا من الطیبات ما رزقناکم‘‘ اے اہل ایمان! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے ایک ایسے آدمی کا تذکرہ فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے، آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! اور حال یہ ہے ’’مطعمہ حرام مشربہ حرام ملبسہ حرام فانی یستجاب لہ‘‘ کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے، اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے، تو اس کی دعا کیونکر قبول ہو سکتی ہے۔ یہ آج ہمارا بڑا معاشرتی اور ملی مسئلہ ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ’’مطعمنا حرام، مشربنا حرام، ملبسنا حرام، فانی یستجاب لنا‘‘ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ہمارا کھانا پینا حلال ہے یا حرام ہے تو دعائیں کہاں سے قبول ہوں گی۔ اس لیے حلال و حرام کا فرق ہماری دنیوی ضرورت بھی ہے۔

ہمارے ہاں ذبیحہ کو حلال و حرام کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے کہ ذبیحہ حلال ہے اور میتہ حرام ہے۔ حلال جانور اگر ذبح نہیں ہوا تو وہ حرام ہے۔ جانور میں سے خون بہتا ہوا نکل جائے تو وہ حلال ہوتا ہے، لیکن اگر دمِ مسفوح نہ نکلا ہو اور اندر ہی جذب ہو جائے تو جانور حرام ہوتا ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جانور کے جسم سے دمِ مسفوح نکل جائے تو باقی گوشت صاف ہو جاتا ہے اور اگر خون اندر جذب ہو جائے تو اس کا زہر گوشت میں سرایت کر جاتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ امریکہ ، یورپ اور فارایسٹ میں حلال میٹ کے نام سے ذبیحہ کی طلب بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ذبیحہ کا گوشت صاف ہو جاتا ہے اور جو غیر ذبیح ہو وہ جسم میں خرابی پیدا کرتا ہے۔ فطری طور پر ان کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ حلال طریقے سے ذبح کیا ہوا ذبیحہ اور حلال اشیا جسم کے لیے مفید ہیں۔ یہ ماحول بن گیا ہے اور اس پس منظر میں اب وہ حلال مانگتے ہیں۔

جب انٹرنیشنل مارکیٹ میں حلال میٹ کی طلب بڑھے گی تو گارنٹی کی ضرورت ہوگی کہ یہ ذبیحہ ہے یا نہیں، اور گارنٹی کے لیے سٹیمپ درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی مارکیٹ کے ہم سے تقاضے ہیں کہ حلال میٹ کی کوئی سٹیمپ متعارف کرواؤ تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ یہ گارنٹیڈ ہے۔ اب انٹرنیشنل مارکیٹ میں کوئی چیز لے جانے کی گارنٹی تو ریاست ہی دے سکتی ہے، عام آدمی نہیں دے سکتا۔ یہودیوں کی اپنی مہر ہے جس سے ان کے ہاں حلال ہونے کی تسلی ہو جاتی ہے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی سطح پر حلال فوڈز سٹیمپ اور حلال فوڈز اتھارٹی نہیں ہے۔ مختلف ممالک میں اپنی اپنی ہیں جیسے ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور ہائی لینڈ وغیرہ میں مسلمانوں نے اپنی حلال فوڈز اتھارٹیز بنائی ہوئی ہیں، جو علاقائی سطح پر کام کرتی ہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر حلال فوڈز اتھارٹی اور حلال فوڈز سٹیمپ نہیں ہے اور اس کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستان دنیا میں مانا ہوا مسلم ملک ہے اور ہمارے اندر کا حال جو بھی ہے مگر دنیا ہمیں اسلام کا نمائندہ سمجھتی ہے۔ غیر مسلم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اور دنیا کے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب ہے کہ پاکستان میں حلال فوڈز اتھارٹی بنے اور پاکستان کی سٹیمپ بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری ہو۔ چونکہ یہ تقاضہ ہے تو اس پر گورنمنٹ نے ایک اتھارٹی پنجاب حلال فوڈز اتھارٹی کے نام سے بنائی ہے۔ شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس جناب خلیل الرحمٰن خان اس کے چیئرمین رہے ہیں اور اس پر کام کرتے رہے ، لیکن ابھی تک پاکستان میں ایسی سٹیمپ نہیں ہے جو دنیا میں متعارف ہو سکے۔

حلال فوڈز سٹیمپ اور حلال فوڈز اتھارٹی ایک بڑا مسئلہ ہے، میں اس پر ایک واقعہ عرض کر دیتا ہوں۔ آج سے دس بارہ سال پہلے حلال فوڈز کے مسئلے پر لاہور پی سی میں ایک دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جس میں بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، انڈیا، ملائشیا، جنوبی افریقہ، لندن اور پاکستان سمیت آٹھ دس ملکوں کے حلال فوڈز پر کام کرنے والے حضرات شریک تھے۔ مفتیان کرام اور دیگر ماہرین بھی تھے۔ مجھے بھی اس میں دعوت دی گئی تھی اور تقریباً بیس منٹ گفتگو کا موقع ملا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس نشست میں مجھے گفتگو کی دعوت دی گئی اس کی صدارت اس وقت پاکستان میں جو انڈونیشیا کے سفیر محترم تھے وہ کر رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ بہت اچھی بات ہے کہ دنیا میں حلال فوڈ متعارف ہو رہا ہے، اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، بین الاقوامی مارکیٹ حلال میٹ کی گارنٹی اور سٹیمپ مانگ رہی ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ رب العزت نے جو احکامات دیے ہیں وہ سائنٹیفک بنیادوں پر بھی درست ہیں، اور یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ جس میتہ کو قرآن مجید نے حرام قرار دیا تھا اس کو آج کی میڈیکل سائنس بھی نقصان دہ قرار دے رہی ہے۔ لیکن علماء کرام کے لیے یہ بات قابلِ غور ہے کہ حلال و حرام کا فرق کرتے ہوئے اور حلال فوڈز اتھارٹی قائم کرتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم آپس کے اختلافی معاملات کے لیے کوئی فارمولہ طے کریں۔ کیونکہ حلال و حرام کا ایک دائرہ اجتہادی اور استنباطی ہے جس میں احناف اور شوافع کا اختلاف ہے۔

میں نے کہا کہ اس نشست کے صدر محترم انڈونیشیا کے سفیر محترم شافعی ہیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں اکثریت شوافع کی ہے، بمبئی سے آگے بنگلہ دیش کو چھوڑ کر فار ایسٹ سب شوافع ہی شوافع ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ سی فوڈ کا زمانہ ہے، شوافع کے ہاں پانی کی ہر چیز حلال ہے، جبکہ احناف کے نزدیک اگر مچھلی کی جنس سے کوئی جانور ہے تو حلال ہے ورنہ نہیں ۔ دنیا کو گارنٹی فراہم کرنے سے پہلے ہمیں حلال و حرام کا آپس میں کوئی فارمولہ طے کر لینا چاہیے تاکہ دنیا کی مارکیٹ میں یہ تماشہ نہ لگ جائے کہ یہ انڈونیشیا کا حلال ہے اور یہ پاکستان کا حلال ہے۔ اس لیے حلال و حرام کا آپس میں کوئی ضابطہ طے کر کے پھر دنیا کے سامنے بات کریں ۔ صدر محترم میری اردو تقریر کا ترجمہ اپنی زبان سن رہے تھے۔ جب میں نے یہ بات کی کہ ان کا حلال اور ہے اور ہمارا حلال اور ہے تو وہ مسکرائے۔ بعد میں اپنی صدارتی تقریر میں انہوں نے میری تائید کی کہ یہ مولانا ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ پہلے آپس میں حلال و حرام کا فارمولہ طے ہونا چاہیے۔ یہ میں نے اس پر حوالہ دیا کہ آج کل کے حلال و حرام کے مسائل کیا ہیں۔

میں آپ حضرات کی جدوجہد کے حوالے سے عرض کر رہا ہوں کہ یہ بات بہت خوشی اور اطمینان کی ہے کہ کچھ حضرات اس کام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مجھے فرداً‌ فرداً‌ اطلاعات ملتی رہتی تھیں مگر جب محترم آفاق شمسی صاحب نے ساری صورتحال بتائی اور اپنی جدوجہد سے آگاہ کیا تو بہت خوشی ہوئی کہ کراچی کے سرکردہ حضرات جن میں علماء کرام بھی شامل ہیں حلال اور حرام سے آگاہی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ یہ آگاہی علماء کرام کی ذمہ داری ہے اور صرف خود بچنا کافی نہیں ہے بلکہ اپنے ماحول میں دوسرے لوگوں کو بچانا بھی ضروری ہے۔ آج کل جوں جوں حلال کی طلب بڑھتی جا رہی ہے تو کنفیوژن بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں تقریباً پچیس تیس سال بیرون ملک بہت جاتا رہا ہوں، ایک زمانہ تھا کہ حلال میٹ یعنی ذبیحہ تلاش کرنا مسئلہ ہوتا تھا، ہم کئی کئی دن گوشت نہیں کھاتے تھے کیونکہ شک ہوتا تھا کہ یہ ذبیحہ ہے یا نہیں۔

اللہ تعالیٰ محترم آفاق شمسی صاحب اور ان کے رفقاء کو جزائے خیر عطا فرمائیں کہ جنہوں نے علماء کرام کی سرپرستی میں ، دار العلوم، جامعہ فاروقیہ اور بنوری ٹاؤن کے مفتیان کرام کی نگرانی میں کراچی میں اس حوالے سے محنت کا ماحول بنایا ہے اور فقہی طور پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے انہوں نے یہ کام سنبھالا ہے۔ میں ان کے ساتھ پشاور بھی گیا ہوں، وہاں الحمد للہ بہت منظم کام دیکھا ہے، اسلام آباد اور لاہور میں بھی منظم کام ہو رہا ہے۔ اور یہ ذمہ داری علماء کرام ہی کی ہے کہ وہ حلال و حرام کا ماحول قائم رکھیں، اس پر ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دوں گا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید پر عمل کا معیار اور علامت یہ قرار دی ’’من تعلم القرآن و حفظہ و عمل بہ‘‘ کہ جس نے قرآن مجید یاد کیا، یاد رکھا ، اس پر عمل کیا ’’فاحل حلالہ وحرم حرامہ‘‘ اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھا۔ حضور ؐ نے قرآن مجید پر عمل کی ظاہری علامت یہ قرار دی ہے کہ وہ حلال و حرام کا فرق کرتا ہو۔ اس لیے حلال و حرام سے آگاہی کا ماحول اور اس پر عملی مسائل کو فیس کرنے کے حوالے سے جو کمپین چل رہی ہے یہ خوش آئند ہے ۔جیسا کہ شمسی صاحب نے ایک مجلس میں بیان کیا کہ ہم اپنے محلے میں چیک کریں کہ جو لوگ مرغیاں بیچ رہے ہیں کیا وہ صحیح طریقے سے ذبح کرتے ہیں۔ یہ جو عملی صورتیں ہیں ان پر علماء کرام کو سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے ،عوام کو آگاہ رکھنا، بیدار کرنا اور حلال اختیار کرنے اور حرام سے بچنے کے عملی طریقے بتانا علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہے، ہمیں اس کام میں اپنی حیثیت کے مطابق شریک ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے آپ کا کام پہلے بھی میرے علم میں تھا، لیکن شمسی صاحب نے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ شریک ہوں تو میں نے عرض کیا کہ میں کوشش تو یہی کر رہا ہوں کہ کسی کام سے پیچھے نہ رہوں لیکن میں کون کون سے کام میں شریک ہو سکوں گا؟ میں ایک شرط کے ساتھ ان سے وعدہ کرتا ہوں جس کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہے کہ جب ایک صحابیؓ نے حضور نبی کریمؐ سے بیعت کی تو عرض کیا یا رسول اللہ! جو آپ فرمائیں گے میں کروں گا۔ اس پر جناب نبی کریمؐ نے فرمایا ’’فیما استطعت‘‘ بھی کہو کہ جو میرے بس میں ہوگا میں وہ کروں گا۔ میں نے بھی ان سے یہی وعدہ کیا کہ جہاں تک میرے بس میں ہوگا اس کام میں شریک رہوں گا۔ آپ حضرات سے بھی یہ گزارش ہے کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرنا چاہیے، اس پر ثواب و اجر بھی ملے گا، اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت بھی ہوگی اور ہمارا ایک فریضہ بھی ادا ہوگا۔ اللہ رب العزت اس کار خیر میں برکات نصیب فرمائیں اور ہمیں اپنا اپنا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔



درسِ نظامی کی بعض کتب کے ناموں اور نسبتوں کی تحقیق

مولانا احمد شہزاد قصوری

بحیثیتِ فن کسی بھی کتاب کے مطالعہ سے پہلے اُس کا درست اور مکمل نام معلوم ہونا ضروری ہے کہ اس سے ایک تو مؤلف کے وضع کردہ اصل نام کا پتا چل جاتا ہے اور دوسرا یہ چیز اُس کتاب کے ا بتدائی تعارُف،کتاب کے مو ضوع اورمنہجِ مؤلف کو سمجھنے میں ممد ومُعاوِن ثابت ہوتی ہے۔ درسِ نظامی کی کتب میں سے بخاری، مسلم، ترمذی،شمائلِ ترمذی، نَسائی، طحاوی،بیضاوی،سِراجی،حُسامی،قُطبی اورقدوری وغیرہ کے اصل اور درست ناموں سے متعلق  ذیل میں بعض تفصیلات  ذکر کی جاتی ہیں۔

 صحیح بخاری:

یہ امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری(متوفی ۶۵۲ھ) رحمہ اللہ کی مایہ نازتصنیف ہے،جس کااصل نام ”الجامعُ المُسنَدُ الصحیحُ المختصَرُ من أُمُور رسول اللہ ﷺ وسُننِہ وأیَّامِہ“ہے، جیساکہ ابن خیرالاِشبیلی (متوفی۵۷۵ھ)رحمہ اللہ، حافظ ابن الصلاح(متوفی۳۴۶ھ)رحمہ اللہ،امام نووی(متوفی۶۷۶ھ)رحمہ اللہ اورعلامہ بدر الدین عینی(متوفی ۵۵۸ھ)رحمہ اللہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ ”فِہرِسَۃُ ابن خیر الإشبیلی“ میں ہے:

”مُصنَّفُ الإمامِ أبی عبد اللہ محمد بن إسماعیل البُخاریِّ، وہو: ”الجامعُ المسنَدُ الصحیحُ المُخْتصَرُ من أُمورِ رسولِ اللہ ﷺ وسُنَنِہ وأیامہ“(۱).

اسی طرح حافظ ابن الصلاح(متوفی۳۴۶ھ)رحمہ اللہ اپنی کتاب”معرفۃُ أنواعِ علم الحدیث“میں تحریر فرماتے ہیں:

”کتاب البخاریِّ....اسمُہ الذی سمَّاہ بہ، وہو: ”الجامعُ المُسنَدُ الصحیحُ المُختصَرُ من أمور رسول اللہ ﷺ وسننہ وأیامہ“(۲).

اسی طرح امام نووی(متوفی۶۷۶ھ)رحمہ اللہ اپنی کتاب ”تہذیب الأسماء واللغات“میں رقم فرماتے ہیں:

”أما اسمُہ: سمَّاہ مؤَلِّفُہ البخاریُّ رحمہ اللہ، وہو:”الجامعُ المسندُ الصحیحُ المُختصَرُ من أمور رسولِ اللہ ﷺ وسننِہ وأیامہ“(۳).

اسی طرح علامہ عینی(متوفی۵۵۸ھ)رحمہ اللہ ”عُمدۃ القاری بشرح صحیح البخاری“میں رقم طراز ہیں:

”سمَّی البخاریُّ رحمہ اللہ  کتابَہ ب”الجامع المسنَد الصحیح المُختصَر من أمورِ رسولِ اللہ ﷺ وسننِہ وأیامہ“(۴).

صحیح بخاری کے اس مکمل نام میں گویا چار قیود ات آئی ہیں:  (۱) ”الجامعُ“.  (۲) ”المُسنَدُ“. (۳) ”الصحیحُ“.   (۴) ”المُختصَرُ من أمورِ رسولِ اللہ ﷺ وسننِہ وأیامہ“.

یہ تمام قیودات کتاب کے مضمون اوراس کے مو ادکی نوعیت کی نشان دہی کررہی ہیں،اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ''صحیح بخاری''کی شرائط ومنہج کوپرکھنے میں حضراتِ محدثین کے ہا ں اس کے مکمل نام کو بہت بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

صحیح مسلم:

یہ امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قُشیری(متوفی ۱۶۲ھ)رحمہ اللہ کی مایہ ناز کتاب ہے،جس کا اصل نام”المُسنَدُ الصحیحُ المُختصَرُ من السُّننِ بِنَقْلِ العَدْل عن العدْل عن رسولِ اللہﷺ“ ہے، چنانچہ ابن خیرالاِشبیلی (متوفی۵۷۵ھ)رحمہ اللہ اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

”مُصَنَّف الإمام أبی الحسین مُسلم بن الحجَّاج بن مُسلم القُشیرِیِّ النَّیْسَابوریِّ، وہو: ”المسندُ الصَّحیحُ المُخْتَصرُ من السّنَن بِنَقْل العدْل عن العدْل عن رسولِ اللہ ﷺ“ (۵).

اسی طرح قاضی عیاض(متوفی۴۴۵ھ)رحمہ اللہ اوردیگرعلماء ِکرام نے بھی''صحیح مسلم''کے اصل اورمکمل نام کی تصریح فرمائی ہے، البتہ! قاضی عیاض رحمہ اللہ نے''صحیح مسلم'' کااصل نام ذکر کرتے ہوئے ”المُخْتَصر“ کے بعد”من السُّنَن“کے الفاظ ذکرنہیں فرمائے،جبکہ وہ اس کا لازمی حصہ ہیں، زمانہ قریب کے مشہورمحقِّق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ (متوفی۷۱۴۱ھ)رحمہ اللہ نے ا پنی کتاب”تحقیقُ اسمَیِ الصحِیحَین واسمِ جامع التِّرمَذی“ میں قاضی عیاض رحمہ اللہ کے اس صنیع پرتبصرہ کرتے ہوئے فرمایاہے کہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کی عبارت میں اختصارہے اوراصل نام میں ”من السّنَن“ کے الفاظ موجود ہیں،چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:

”وسمَّی الإمامُ القاضی عیاض رحمہ اللہ ”صحیح مسلم“  فی کتابِہ ”مشارق الأنوار علی صِحاح الآثار“، و”الغُنیَۃ“: ”المسندُ الصَّحیحُ المُخْتَصرُ بِنَقْل العدْل عن العدْل عن رسولِ اللہ ﷺ“، وفی ہذا العُنوان اختصارٌ أیضًا، وہو لفظُ”من السنن“(۶).

شیخ عبدالفتاح ابو غُدہ رحمہ اللہ کی تاکید:

شیخ عبدالفتاح ابوغُدہ(متوفی۷۱۴۱ھ)رحمہ اللہ نے”تحقیقُ اسمَیِ الصحِیحَین“میں مزیدتحریرفرمایا ہے کہ ''صحیح بخاری''اور''جامع ترمذی''کی طرح''صحیح مسلم''کی طبعات بھی اصل نام سے خالی ہیں،جبکہ یہ بہت بڑا عیب اور نقص ہے ا وریہ بات کتاب کی حقیقت کوسمجھنے میں ایک بڑی رُکاوٹ ہوتی ہے،لہذااس کی کمی کاازالہ ہوجاناچاہیے اور آئندہ کی طبعات میں کتاب کااصل اوردرست نام ٹائیٹل پرچسپاں کرنا چاہیے،چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”تعدَّدتْ طبعاتُ ”صحیح مُسلم“ تعدُّدًا کثیرًا فی بِلاد مصرَ، والشّام، والہند، وترکیا، والمغرب وغیرِها، ولم یُثبَتْ علی طبعةٍ منہا اسمُہ العَلَمِیُّ، الذی سمَّاہ بہ مؤلِّفُہ الإمامُ مسلمُ بنُ حجاج القُشَیریُّ النَّیسابُوریُّ شأنَ ”صحیح البخاری“، وشأنَ”جامع التِّرمَذی“.
”وہذا خلَلٌ شدیدٌ ونقْصٌ ظاہرٌ فی تشْخِیصِ الکتاب، والتعریف بمضْمُونہ وما بُنِی علیہ، فیَنبغِی تدارُکُہ فی طبعاتہ اللاحقة“(۷).

 جامع ترمذی:

یہ امام ابوعیسی محمد بن عیسی ترمذی(متوفی۹۷۲ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف کردہ احکامِ فقہیہ پرمشتمل بہت ہی اہم کتاب ہے،جس کااصل نام ”الجامعُ المختصَرُ من السننِ عن رسول اللہ ﷺ، ومعرفةُ الصحیحِ والمَعلُولِ، وما علیہ العمَل“ ہے، جوکہ کتاب کے مضمون کی بخوبی وضاحت کررہا ہے، چنانچہ ابن خیر الاِشبیلی(متوفی۷۵۷ھ)رحمہ اللہ اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

”مُصنَّفُ الإمامِ أبی عیسی محمد بن عیسی بن سَورۃ التِّرمذیِّ الحافظ، وہو: ”الجامعُ المُختصَرُ مِن السُّنن عن رسولِ اللہ ﷺ، ومعرفةُ الصحیح، والمعلول، وما علیہ العمل“(۸).

اب دیکھیے''صحیح بخاری'' کی طرح ''صحیح مسلم''اور''جامع ترمذی'' کا اصل نام بھی کتاب کے مضمون اور مواد کی نوعیت کی بھر پور وضاحت کر رہا ہے، جس سے اس اصل نام سے واقفیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

جامع ترمذی کے اصل نام سے واقفیت کی اہمیت وضرورت:

شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ ”تحقیقُ اسمَیِ الصحِیحَین“میں ''جامع ترمذی'' کااصل نام ذکر کرنے بعدکے خاص اس کے متعلق تحریرفرماتے ہیں کہ''جامع ترمذی'' کااصل نام اس کے ٹائیٹل پر درج کرنا''صحیح بخاری'' اور''صحیح مسلم''کے اصل ناموں کی بنسبت زیادہ ضروری ہے؛کیونکہ ''صحیحین''تو احادیثِ صحیحہ پرہی مشتمل ہیں،جبکہ ''جامع ترمذی''میں صحیح ومعلول ہرطرح کی احادیث درج ہیں،جس کی صراحت کتاب کے نام میں موجود ہے، اس لیے ''صحیحین''کے اصل ناموں کو کتاب کے ٹائیٹل پر ذکر نہ کرنا اتنا خطرناک نہیں ہے،جتنا''جامع ترمذی''کے اصل نام کو ترک کرنانقصان دہ ہے(۹)۔

پھر فرماتے ہیں:  ہمارے یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سے کبارمشایخ اورمحققین حضرات نے''جامع ترمذی''پرخدمات سرانجام دی ہیں، لیکن افسوس کہ ان حضرات میں سے کسی نے بھی''جامع ترمذی'' کادرست اور اصل نام ذکر نہیں کیا،گویا ان حضرات نے اصل نام کی تصحیح کی طرف توجہ ہی نہیں کی، حالانکہ کتاب کے نام کی تصحیح تو سب سے مقدم چیز ہے(۱۰)۔

شمائلِ محمدیہ:

ہمارے ہا ں شمائلِ ترمذی کے نا م سے جو کتاب مشہورہے،اس میں امام ترمذ ی رحمہ اللہ کے شمائل نہیں،بلکہ حضورِ اقدس  ﷺکے اوصاف وشمائل مذکور ہیں اوراس مشہورترکیب میں لفظِ”شمائل“کی ”ترمذی“کی طرف نسبت ہی خلافِ ظاہرہے،یہ کتاب بھی امام ابوعیسی محمدبن عیسیٰ ترمذی(متوفی ۹۷۲ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف ہے،اس کا اصل اوردرست نام”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّةُ والخصائلُ المُصْطَفَوِیةَّ“ہے،جیساکہ مشہورمُفہرِس حاجی خلیفہ(متوفی ۷۶۰۱ھ)رحمہ اللہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے،چنانچہ وہ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب”کشْف الظُّنُون عن أسامی الکتُب والفُنون“میں تحریرفرماتے ہیں:

”شَمائلُ النبی ﷺ: ”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّةُ والخَصائلُ المُصْطَفَوِیَّة“ لأبی عیسی محمد بن سَورۃ، الإمام، التِّرمَذیِّ“(۱۱).

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی(متوفی۱۱۹ھ)رحمہ اللہ نے اپنی کتاب”زہْرُ الخَمائل علی الشَّمائل“میں اس کے اصل نام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

”أما الأصل فہو ”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّةُ“ للإمام أبی عیسیٰ محمد بن سَورۃ التِّرمَذیِّ“(۱۲).

اسی طرح معاصرمحقِّق سیدابنِ عباس جلیمی نے''شمائل محمدیہ''کے مقدمہ تحقیق میں آپ  ﷺکی سیرت وصفات کے مصادرکا ذکر کرتے ہو ئے اس کے اصل نام کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”المُؤلَّفات فی الشَّمائل: لقد أُلِّف، وصُنِّف فی ہذا البابِ العدیدُ من الکُتُب ما بینَ مَطبُوعٍ، ومَخْطُوطٍ، ومفْقُودٍ، نذْکُرمنہا: ”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّةُ والخَصائلُ المُصْطَفَوِیَّة“، وہو المعروفُ ب”شمائل التِّرمذی“(۱۳).

اسی طرح معاصرمحقق شیخ محمدعجاج الخطیب نے اپنی کتاب”لمحات فی المکتبۃِ والبحْثِ والمصادر“میں اس کے اصل نام کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّةُ والخصائلُ المُصْطَفَوِیَّة“ لأبی عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سَورۃ التِّرمذیِّ مِن أجمَعِ ما صُنِّفَ فی صِفاتِہ ﷺ، وہَدْیِہ“(۱۴).

سننِ نَسائی:

یہ امام ابو عبدالرحمن احمد بن شُعیب نَسائی(متوفی ۳۰۳ھ)رحمہ اللہ کی کتاب ہے،جس کااصل نام”المُجْتبی“ ہے،اس کو ”السُّنن الصُغریٰ“ بھی کہا جاتا ہے، جوکہ دراصل مؤ لف رحمہ اللہ کی دوسری کتاب ”السنن الکبریٰ“کا اختصارہے،اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ امام نَسائی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”السنن الکبریٰ“تصنیف فرمائی اوراسے امیررملہ کے سامنے پیش کیا،توامیررملہ نے پوچھاکہ کیا اس میں موجودتمام احادیث صحیح ہیں؟،امام نَسائی رحمہ اللہ نے جو اب میں فرمایا کہ''نہیں ''،تواس پرامیررملہ نے ”السنن الکبریٰ“کے اختصارکامطالبہ کیا،چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ”السنن الکبریٰ“ کااختصار کرکے صرف صحیح احادیث کوباقی رکھا اوراپنی اس مختصرکتاب کا نام انہوں نے ”المُجْتبیٰ“ تجویزفرمایا،گویا اپنی معنویت کے اعتبارسے یہ”المُجْتبی“ من ”السُّنن الکُبریٰ“ہے،چنانچہ اس کے متعلق ”فِہرِسَۃُ ابن خیر الإشبیلی“ میں درج ہے:

”المجتبیٰ...فی السنن المسندۃ لأبی عبد الرحمن النَسائی، اختَصَرَہ من کتابہ الکبیر المصنف، وذلک أن بعضَ الأُمَراء سألہ عن کتابہ فی السنن، أکُلُّہ صحیحٌ؟ فقال: لا، قال: فاکْتُب لنا الصحیحَ منہ مجرَّدًا، فصَنَعَ ”المجتبی“(۱۵).

اسی طرح حافظ ابن الاثیر جزری(متوفی ۶۰۶ھ)رحمہ اللہ”جامع الأصول فی أحادیث الرسولﷺ“کے مقدمہ میں اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

”وسأل بعضُ الأمراء أبا عبد الرحمن عن کتابہ ”السُّنن“، أکُلُّہ صحیحٌ؟ فقال: لا، قال: فَاکْتُب لنا الصَّحیحَ منہ مُجرَّدًا، فصَنَعَ ”المُجْتَبیٰ“، فہو: ”المُجتبیٰ من السنن“، ترَک کلَّ حدیثٍ أوردہ فی ”السنن“ مِمَّا تُکُلِّم فی إسنادہ بالتعلیل“(۱۶).

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی(متوفی۱۱۹ھ)رحمہ اللہ نے''سننِ نسائی'' کی شرح”زہْرُ الرُّبی علی المُجتبیٰ“کے مقدمہ میں اس حوالے سے تحریر فرمایاہے:

”قال محمدُ بنُ معاویةَ الأحمر الراوی عن النَّسائی، قال النَّسائیُّ: کتابُ ”السُّنن“ کلُّہ صحیحٌ، وبعضُہ معلُولٌ إلا أنہ لمْ یُبیِّن عِلّتَہ، والمُنتخَب المُسَمَّی ب”المُجْتَبیٰ“ صَحیحٌ کلُّہ“.
وذکَر بعضُہم: أن النَّسائیَّ لما صَنَّف  ”السنن الکُبریٰ“، أہداہ إلی أمیر الرملة، فقال لہ الأمیرُ: أَکُلُّ ما فی ہذا صحیحٌ؟، قال: لا، قال: فجَرِّد الصحیحَ منہ، فصَنَّف ”المُجْتبیٰ“(۱۷).

نوٹ:  راوی کتاب کی طرف نسبت کرتے ہوئے''سنن کبریٰ'' کو ''روایتِ ابن الاحمر'' اور''سنن صغریٰ'' (یعنی ”المُجْتبیٰ“)کو ''روایتِ ابنُ السُنی'' بھی کہاجاتاہے،” سننِ نَسائی“ کے مشہور شارح شیخ محمد بن علی بن آدم الاِثیوبی (متوفی۲۴۴۱ھ)رحمہ اللہ نے”ذخِیرۃالعُقبیٰ فی شرح المُجتبیٰ“   کے مقدمہ میں تاج الدین سُبکی(متوفی۱۷۷ھ)رحمہ اللہ کا یہ قول نقل فرمایاہے کہ ان دونوں میں سے کتبِ ستہ میں ”سنن نَسائی صُغریٰ“ (یعنی ”المُجْتبیٰ“) د اخل ہے، نہ کہ” سننِ نسائی کُبریٰ“، چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”وقال القاضی تاج الدین السُبْکی: ”سُنن النَّسائی“ التی هی إحْدَی الکتب الستة، هی ”الصُغْریٰ“، لا ”الکُبْریٰ“(۱۸).

حضراتِ محدثین جب مطلقًا ''سُننِ نَسائی'' کہتے ہیں،تواس سے”المُجتبیٰ“ اور ”السُّنن الصُّغْریٰ“ہی مراد ہوتی ہے،جوکہ ہمارے ہاں مشہور  ومعروف ہے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں داخل  ہے۔

شرح معانی الٓاثار:

یہ امام ابو جعفراحمدبن محمدبن سلامہ الطحاوی(متوفی۱۲۳ھ)رحمہ اللہ کی کتاب ہے،جوکہ احکامِ فقہ سے متعلق متعارض احادیث کے حل پرمشتمل ہے،اس کامکمل نام”شرْح معانی الآثار المُختلفةِ المرویةِ عن رسول اللہ ﷺ فی الأحکام“ہے اوریہ اصل نام کتاب کے مضمون اورمندرجات کی طرف مشعرہے،یہ مکمل نام خود مصنفِ کتاب رحمہ اللہ کی عبارت میں بھی موجود ہے،چنانچہ وہ”شرح معانی الآثار“میں ”کتاب الحجۃ فی فتح رسول اللہ ﷺ مکۃَ عَنْوۃً“کے تحت تحریرفرماتے ہیں:

”وقد ذکرْنا فی ہذا الباب الآثارَ التی رواہا کلُّ فریقٍ مِمَّن ذہَب إلی ما ذہَبَ إلیہ أبو حنیفةَ، وأبو یوسفَ رحمہما اللہ فی کتاب البیوع من”شرْح معانی الآثار المُخْتلِفَة المرْوِیة عن رسولِ اللہ ﷺ فی الأحکام“(۱۹).

شیخ عبدالفتاح ابوغُدہ(متوفی۷۱۴۱ھ)رحمہ اللہ نے”ظفَر الأمانی“کے حاشیہ میں ”شرح معانی الآثار“کے اصل نام کے حوا لے سے مفصل کلام فرمایا ہے اوراس بات کی پُرزورتاکیدکی ہے کہ جدیدطباعت میں مکمل نام ٹائیٹل پر چسپاں کرنا چاہیے،چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:

”ہکذا شاع اسمُ ہذا الکتاب للإمام الطحاویِّ رحمہ اللہ ”شرح معانی الآثار“، وہو الاسمُ المُثبَتُ علی النُّسْخةِ المطبوعةِ بالہِندِ، ثم بمِصرَ عنہا، وفیہ اختصارٌ غَیَّبَ ذکْرَ مزیَّةِ ہذا الکتابِ فی مضمُونہ، ومُحتواہ، وقد رأیتُ اسمَہ تامًّا مشکولًا ہکذا:”شرْحُ معانی الآثار المُخْتلِفَةِ المأثُورۃِ“،رأیتُہ عامَ ۳۸۳۱ھ فی الجزء الثانی من النسخة ذات الجزأین، المحفوظة فی المکتبة المحمودیة بالمدینة المنورۃ، ورَقْمُہا فیہا۳۱۴۱... والنسخةُ المَخطوطةُ المذکورۃُ قرَأَہا طائفةٌ من العُلماء الأجِلَّة، مِنہم: أبو حامد أحمد بن الضیاء الحنَفِیُّ المکِّیُّ...
وہی نُسْخةٌ نظِیفةُ الخَطِّ، واضِحةُ الضَّبْطِ لَعلَّہا کُتِبتْ فی القرْن السادِسِ أو قبْلَہ.وقد أفادَت فائدۃً جُلیَّ، وہی تحْدیدُ مَوضوعِ ہذا الکتاب من اسمِہِ وعُنوانِہ، فإنَّ اسمَہ المُثبَتَ علی طبعة الہِند، وما بعدَہا من الطبعات لا یُشَخِّصُ مضمُونَہ، ولا یَدُّل علی مزِیَّتِہ الغالیَةِ، أمَّا الاسمُ المذکورُ فہو کاشِفٌ لِما أُلِّف الکتابُ من أجلِہ، فیُستفادُ ذلک ویُنشَر، وجاء اسمُ الکتابِ فی داخلِہ... فی ”کتاب الحجة فی فتح رسول اللہ ﷺ مکةَ عَنوۃً“: ہکذا من کلامِ مُؤلِّفِہ: ”شرحُ معانی الآثار المُختَلِفِةِ المَروِیَّة عن رسول اللہ ﷺ فی الأحکام“، وہو أتمُّ، ففیہ زیادۃٌ ”فی الأحکام“ فیَنبَغِی إثباتُہ علی وجْہِ الکتاب عند طبْعِہ مِن جدید“(۲۱).

واضح رہے کہ مختصرنام کے طور پران کتب کو صحیح بخاری،صحیح مسلم،سننِ نَسائی،جامع ترمذی،شمائلِ محمدیہ اور شرح معانی الآثار،یا شرح طحاوی کہنا چاہیے اوران کو بغیر تاویل کے بخاری،مسلم،نَسائی،ترمذی اورطحاوی وغیرہ کہناایسے ہے،جیسے کوئی ملتان میں رہنے والاشخص کتاب تصنیف کرے اوراس کی کتاب کو ملتانی کہا جانے لگے،جبکہ ملتانی شخص (مؤلفِ کتاب) کی نسبت ہے، کتاب کا نام نہیں ہے۔

اسی طرح ہمارے ہاں درسِ نظامی کے عُرف میں بیضاوی،جلالین، سِراجی،حُسامی،قُطبی،جامی،شاشی اورقدوری وغیرہ کے عُنوان سے بھی کتابیں مشہور ہیں، جبکہ یہ مؤلفین کی نسبتیں ہیں،کتابوں کے نام نہیں۔

 تفسیر بیضاوی:

اس کااصل نام”أنوار التنزیل وأسرار التأویل“ہے(۲۲)،جوکہ علامہ ناصرالدین ابوسعید عبداللہ بن عمر البَیضاوی(متوفی۵۸۶ھ) رحمہ اللہ کی تصنیف ہے،مصنف رحمہ اللہ کی نسبت(البَیضاوی) کی وجہ سے کسی نے اسے''بیضاوی'' کہہ دیا،تویہ مشہور ہوگیا،جوکہ اپنی اصل کے اعتبار سے بغیر تاویل کے درست نہیں،مختصر نام کے طور پر اسے''تفسیرِ بَیضاوی'' کہنا چاہیے، نہ کہ صرف''بیضاوی''،جوکہ ملکِ فارس کے شہر''بَیضاء'' کی طرف مؤلف  رحمہ اللہ کی نسبت ہے، کتاب کا نام نہیں۔

جلالین کی درست تعبیر:

اسی طرح درجہ سادسہ میں تفسیر کے موضوع پر داخلِ نصاب کتاب کو ''تفسیرِجلالَین'' کہنا چاہیے، نہ کہ صرف ''جلالَین''، جو کہ اس کے دو مصنفین (جلال الدین محلی متوفی۴۶۸ھ رحمہ اللہ اور جلال الدین سیوطی متوفی ۱۱۹ھ رحمہ اللہ) کے لقب (جلال الدین) کا مُخفف اور اختصار ہے،کتاب کا نام نہیں۔

سِراجی:

درسِ نظامی میں میراث کے موضوع پرداخلِ  نصاب کتاب کا درست نام”المُخْتصَر فی الفرائض“ہے(۲۳)، جوکہ سراج الدین محمدبن عبدالرشید السجاوندی(متوفی۰۰۶ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف ہے،مصنف رحمہ اللہ کے لقب(سراج الدین)کی وجہ سے کسی نے اسے''سراجی'' کہہ دیا، تویہ روایت چل پڑی،حتی کہ طابعین نے بھی اس کے اصل نام کی تحقیق کی زحمت نہیں اٹھائی اور اسے ”السراجی فی المیراث“ کے نام سے شائع کرنا شروع کردیا، جبکہ تحقیق کی رُو سے یہ درست نہیں ہے،بلکہ اسے اصل نام سے ہی شائع کرنا چاہیے۔

حُسامی:

اس کادرست نام”المُنتَخَب فی أُصول المَذہب“ہے(۲۴)،یہ حسام الدین محمد بن محمد بن عمر الاخسیکثی (متوفی۴۴۶ھ) رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، اسے بھی کسی نے مصنف رحمہ اللہ کے لقب(حسام الدین) کی وجہ سے''حسامی''کہہ دیا،تو یہ روایت چل پڑی، جبکہ اس کادرست نام یہ نہیں ہے،بلکہ اس کادرست نام وہی ہے، جو اوپرذکر کیا گیا ہے۔

 قُطبی:

یہ علمِ منطق کی مشہورکتاب”الرسالۃ الشمسیۃ“کی شرح ہے اوراس کا اصل نام ”تحْریرُ القواعد المَنطقِیَّة فی شرح الرسالة الشمسیة“، جیسا کہ خود مصنفِ کتاب شیخ قُطب الدین محمود بن محمد الرازی (متوفی۶۷۵ھ)رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں اس کی تصریح فرمائی ہے(۲۵)۔

اس کتاب کوبھی مصنف رحمہ اللہ کے لقب(قطب الدین) کی وجہ سے کسی نے''قطبی''کہہ دیا،تو یہ مشہور ہوگیا،جبکہ یہ اس کااصل نام نہیں ہے۔

شرح مُلاجامی:

اس کادرست نام”الفوائدُ الضِّیائِیةُ علی متن الکافیة“ہے(۲۶)،جوکہ مشہورنحوی ابن الحاجب (متوفی۶۴۶ھ)رحمہ اللہ کی کتاب ”الکافیۃ“کی شرح ہے اوریہ شرح مُلا نورالدین عبدالرحمن بن احمدالجامی(متوفی ۸۹۸ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف کردہ ہے، اس کتاب کومصنف رحمہ اللہ کی نسبت (الجامی) کی وجہ سے''جامی'' کہہ دیا جاتا ہے،مگر یہ درست نہیں ہے،البتہ! اس کتاب کو مختصر نام کے طورپر''شرح مُلا جامی'' کہا جا سکتا ہے۔

اصولِ شاشی:

اس کااصل نام”الخمْسین فی أصول الفقہ“ہے(۲۷) اور یہ نظام الدین الشاشی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جوکہ غالب رجحان کے مطابق چھٹی یا  ساتویں صدی ہجری کے علماء میں سے تھے، بالتعیین ان کی تاریخِ وفات معلوم نہیں ہوسکی، باقی ان کی وفات کے بارے میں ۳۴۴ھ کا مشہور قول اس وجہ سے درست نہیں ہے کہ اس کتاب میں ایسے علماء کے حوالہ جات موجود ہیں کہ جو ۳۴۴ھ سے بعد کے ہیں اوراس کتاب کے مذکورہ نام رکھنے کی وجہ یہ بتلائی جاتی ہے کہ مصنف رحمہ اللہ نے اس میں پچاس اُصولِ فقْہ درج فرمائے ہیں،یا مصنف رحمہ اللہ نے پچاس سال کی عمر میں یہ کتاب تصنیف فرمائی تھی،اسے مختصر نام کے طور پر''اُصولِ شاشی''کہنا چاہیے،اسے ''شاشی'' کہنا درست نہیں۔

مختصرالقدوری:

یہ ابوالحسین احمدبن محمدالقدوری(متوفی۴۲۸ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف ہے،مشہورمفہرس حاجی خلیفہ(متوفی ۱۰۶۷)رحمہ اللہ نے اپنی کتاب”کشْف الظُّنُون عن أسامی الکتُب والفُنون“ میں اس کا نام”المُختصر فی فروع الحنفیة“لکھا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

”المُختصر فی فروع الحنفیة“ للإمام أبی الحسین أحمد بن محمد القدوری، البغدادی، الحنفی“(۲۸).

شیخ علاء الدین محمدبن احمدسمرقندی(متوفی۵۴۰ھ)رحمہ اللہ نے اپنی کتاب”تحفۃ الفقہاء“میں اورشیخ برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی(متوفی ۳۹۵ھ)رحمہ اللہ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ”الہِدایۃ فی شرح بِدایۃ المُبتدی“ میں اس کا نام صرف”المُختصر“ذکر فرمایا ہے(۲۹)۔

نیزامام قدوری رحمہ اللہ کی”المُختصر“چونکہ اُمہات المسائل پرمشتمل ہے،اس وجہ سے یہ اہلِ علم کے ہاں ”الکتاب“کے نام سے بھی مشہور ہے، چنانچہ شیخ ابوسعدالیزدی(متوفی۵۹۱ھ)رحمہ اللہ اورشیخ عبدالغنی المیدانی(متوفی ۱۲۹۸ھ)رحمہ اللہ نے اسی اعتبار سے''مختصر القدوری''پراپنی شرح کا نام ”اللُّبَاب فی شرْحِ الکتاب“ رکھاہے اور بعض مرتبہ اسے”المُختصَر فی الفقہ الحنفی“ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔

مختصر نام کے طور پراسے''مختصر القدوری''کہنا چاہیے، نہ کہ صرف''قدوری''کہ اس سے مؤلف کی ذات مراد ہے۔

اسی طرح درسِ نظامی کی بعض کتب کی نسبت میں بھی تسامح پایاجاتا ہے کہ ان کے متعلق طلبہ درسِ نظامی کے عمومی حلقوں میں حقیقت سے ہٹ کرتاثر قائم ہے، چنانچہ:

     ۱)    درجہ سابعہ کی نصابی کتب کے حوالے سے یہ بات تواتر کی حد تک مشہور ہے کہ اس کلاس میں اُصولِ حدیث کے مو ضوع پر”نُخْبَۃ الفِکَر“داخلِ نصاب ہے،حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ درجہ سابعہ میں اُصولِ حدیث کو موضوع پر داخلِ نصاب کتاب کا نام”نُزْہَۃ النَّظَر“ہے،جوکہ”نُخْبَۃ الفِکَر“کی شرح ہے ا ور”نُخْبَۃ الفِکَر“خودتو دو تین اوراق پر مشتمل ایک مختصر سا متن ہے۔

درجہ سابعہ میں داخلِ نصاب اس کتاب کا پورا نام ”نُزْہَۃ النَّظَرِ فی تَوضِیحِ نُخْبَۃ الفِکَر فی مُصْطلَحِ أہْل الأثَر“ہے،اسے''نخبۃُ الفکر'' یا ''نخبہ'' کہنا درست نہیں ہے، ہاں البتہ!   مختصر نام کے طور پر اگراسے ”شرْحُ النُّخبۃ“  کہاجائے،تو یہ کسی حد تک درست ہے۔

     ۲)    اسی طرح درجہ سادسہ میں حدیث کے موضوع پر داخلِ نصاب کتاب ''مسندِ امام اعظم ''کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ اسے امام اعظم ابوحنیفہ (متوفی ۱۵۰ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف سمجھا جاتا ہے،جبکہ یہ تاثر درست نہیں؛ اس لیے کہ''مسندِ امامِ اعظم ''نہ توخودامامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اپنی تصنیف نہیں ہے اور نہ ہی بطورِ روایت آپ کے کسی شاگرد کی مرتب کردہ کتاب ہے،بلکہ یہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی وفات سے بہت بعد میں حافظ عبداللہ حارثی (متوفی۳۴۰ھ)رحمہ اللہ کی تصنیف کردہ''مسندِ اَبی حنیفہ''کے اختصار کی فقہی تبویب ہے کہ حافظ عبداللہ حارثی رحمہ اللہ کی ''مسندِاَبی حنیفہ'' کا قاضی صدرالدین حصکفی (متوفی۶۵۰ھ)رحمہ اللہ نے تقریبًاایک ثلث حَجْم میں اختصارلکھا،جسے تیرھویں صدی ہجری کے مشہورمحدث اورحنفی فقیہ مُلامحمدعابدسندھی (متوفی۱۲۵۷ھ) رحمہ اللہ نے فقہی ابواب پرمرتب کیاتھا اورآج یہی فقہی تبویب''درسِ نظامی'' میں داخلِ نصاب ہے اور ہمارے ہاں تمام مدارسِ دینیہ میں پڑھائی جاتی ہے۔

    ۳)    اسی طرح اُصول فقْہ کے موضوع پرمنتہی در جے کی کتاب''توضیح تلویح''ہے کہ اس نام کے مشہور سیاق سے تاثر ملتاہے کہ شاید یہ کتاب ''تلویح'' کی توضیح اور اس کی شرح ہے اور''تلویح'' اس کا متن ہے، حالانکہ ایسا نہیں اور کتاب کی تسمیہ کا یہ سیاق اپنی اصل کے اعتبار سے درست نہیں ہے۔

اس کی درست تسمیہ کا قصہ یہ ہے کہ مشہورحنفی فقیہ صدرالشریعہ الاَصغر(متوفی۷۴۷ھ)رحمہ اللہ نے اولًا ”تَنْقِیحُ الأصول“(۰۳)نامی کتاب تصنیف فرمائی،جس کی پھر خود ہی انہوں نے ”التَّوضِیحُ فی حلِّ غوامِض التَّنْقِیح“(۳۱)کے نا م سے شرح لکھی،پھراس شرح پرعلامہ سعدالدین تفتازانی (متوفی۷۹۳ھ)رحمہ اللہ نے”التَّلْوِیحُ إلی کَشْفِ حَقائقِ التنقیح“(۳۲)کے نام سے حاشیہ لکھااورمقاصدِ کتاب کوخوب منقح کرکے پیش کیا۔

اسے مختصر نام کے طور پر''التلویح علی التوضیح'' یا حرفِ جار کو حذف کر کے''تلویح توضیح'' کہا جاسکتاہے.......واللہ تعالی أعلم بالصواب



حوالہ جات

(۱) ”الفِہرِسَۃُ“ لأبی بکر محمد بن خیر الإشبیلی، ص: ۲۸، ت: محمد فؤاد منصور، ط:دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۲) ”معرفۃُ أنواع علم الحدیث“، معرفۃُ الصحیح من الحدیث، ص: ۴۹، ت: ماہر یاسین الفحل، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۳) ”تہذیب الأسماء واللغات“ للنَّوَوِیِّ: ۱/۳۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۴) ”عمدۃ القاری بشرح صحیح البخاری“ لبدر الدین العَینِیِّ: ۱/۵، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان.

(۵) ”فِہرِسَۃُ ابن خیر الإشبیلی“، ص: ۵۸، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۶) ”تحقیقُ اسمَیِ الصحِیحَین واسمِ جامع التِّرمَذی“ للشیخ عبد الفتاح أبو غدۃ، ص: ۸۳، ط: مَکتب المطبوعات الإسلامیۃ، حلب، شام.

(۷)  ”تحقیقُ اسمَیِ الصحِیحَین واسمِ جامع التِّرمَذی“ للشیخ عبد الفتاح أبو غدۃ، ص: ۳۳، ط: مَکتب المطبوعات الإسلامیۃ، حلب.

(۸) ”فِہرِسَۃُ ابن خیر الإشبیلی“، ص: ۸۹، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۹) دیکھیے: ”تحقیق اسمَیِ الصحِیحَین واسمِ جامع التِّرمَذی“، ص:۳۵، ط: مَکتب المطبوعات الإسلامیۃ، حلب، شام.

(۱۰) دیکھیے: ”تحقیق اسمَیِ الصحِیحَین واسمِ جامع التِّرمَذی“، ص: ۸۵، ط: مَکتب المطبوعات الإسلامیۃ، حلب.

(۱۱) ”کشْف الظُّنون عن أسامی الکتُب والفُنون“ لحاجی خلیفۃ: ۲/۹۶۰۱، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان.

(۱۲) ”زہْرُ الخَمائل علی الشمائل“ لجلال الدین السُّیُوطیِّ، ص:4، ط: مکتبۃ القرآن، بیروت، لبنان.

(۱۳) ”الشَّمائلُ النَّبَوِیَّۃُ والخَصائلُ المُصْطَفَوِیَّۃ“، مقدمۃ التحقیق لابن عباس الجلیمی، ص: ۹، ط: مکتبۃ التجاریۃ، مکۃ المکرمۃ.

(۱۴) ”لمحات فی المکتبۃ والبحث والمصادر“ للدکتور محمد عجّاج الخطیب، ص: ۹۲۲، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان.

(۱۵) ”فِہرِسَۃُ ابن خیر الإشبیلی“، ص:۷۹، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان.

(۱۶) ”جامع الأصول فی أحادیث الرسولﷺ“ لابن الأثیر الجزری: ۱/۷۹۱، ت: عبد القادر الأرنؤوط، ط: دار الفکر، بیروت، لبنان.

(۱۷) ”زہْرُ الربی علی المجتبی“ للسیوطی: ۱/۵، ط: دار الفکر، بیروت، لبنان.

(۱۸) ”ذخِیرۃ العُقبیٰ فی شرْح المُجتبیٰ“ لمحمد بن آدم الإثیوبی: ۱/۷۲، ط: دار المعراج الدولیۃ للنشر، الریاض، السعودیۃ.

(۱۹) ”شرح معانی الآثار المُختلِفۃ المرویۃ عن رسول اللہ ﷺ فی الأحکام“ للطحاوی: ۳/۸۱۳، ت: یوسف المرعشلی، ط: عالم الکتب.

(۲۰) ”ظفر الأمانی بشرح مختصَر السید الشریف الجُرجانی“ للکنوی، ص: ۵۲، ت: عبد الفتاح أبو غدۃ، ط: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

(۲۱) خُطبۃ المؤلِّف: ۱/۶، ت: محمد صحیی حسن حلَّاق، ط: دار الرشید، بیروت، و”کشْف الظُّنون عن أسامی الکتُب والفُنون“ لحاجی خلیفۃ: ۱/۱۶۸، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان.

(۲۲) ”الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیۃ“ لمحیی الدین عبد القادر القرشی: ۲/۹۱۱، ط: میر محمد کتب خانہ، کراتشی، و”طبقات الحنفیۃ“ لعلی الحنائی، ص: ۶۶۱، ط: مرکز العلماء للدراسات وتقنیۃ المعلومات.

(۲۳) ”مُعجَم المؤلفین“ لعمر رضا کَحالۃ الدِمَشقی: ۴/۸۲، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، و”المدخل إلی الفقہ الإسلامی وأصولہ“ للدکتور صلاح محمد أبو الحاج، ص: ۵۷۳، ط: جامعۃ آل البیت.

(۲۴) ”تحْریرُ القواعِدِ المَنطقِیَّۃِ فی شرح الرسالۃ الشمسیۃ“ لقطب الدین الرازی، ص: ۱۲، ط: البشری، کراتشی.

(۲۵) ”کشْف الظُّنون عن أسامی الکتُب والفُنون“ لحاجی خلیفۃ: ۲/۰۷۳۱، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان.

(۲۶) ”المدخل إلی دراسۃ المذاہب الفقہیۃ“ لعلی جعمۃ محمد عبد الوہاب، ص: ۴۱۱، ط: دار السلام، القاہرۃ.

(۲۷) ”کشْف الظُّنون عن أسامی الکتُب والفُنون“ لحاجی خلیفۃ: ۲/۱۳۶۱ ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان.

(۲۸) ”تحفۃ الفقہاء“ للسمرقندی: ۱/۵، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، و”الہِدایۃ فی شرح البدایۃ“ للمرغینانی: ۱/۵۵، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت.

(۲۹) ”التوضیح مع التلویح“، ص: ۶، ط: قدیمی کتب خانہ، کراتشی، باکستان.

(۳۰) ”التوضیح مع التلویح“، ص: ۸، ط: قدیمی کتب خانہ، کراتشی، باکستان.

(۳۱) ”التوضیح مع التلویح“، ص: ۳۱، ط: قدیمی کتب خانہ، کراتشی، باکستان.


امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں مظاہرے

مراد علی

فلسطین اور اسرائیل کی حالیہ جنگ میں اس بحث نے ایک بار پھر سر اٹھایا کہ  'یہوددشمنی'  (anti-Semitism) اور 'صہیونیت کی مخالفت' (anti-Zionism) ایک ہی چیز ہے یا دونوں میں فرق ہے؟  یہ بحث کافی عرصے سے چلی آرہی ہے۔

تاہم صہیونی ریاست کے ناقدین کا ماننا ہے کہ'صہیونیت کی مخالفت'اور  'یہود دشمنی' میں واضح فرق ہے۔ کم و بیش یہ پوزیشن حماس کی بھی ہے، مثال کے طور پر 2 مئی 2017ء کو حماس نے ایک دستاویز جاری کیا، جس میں اصل بحث 'دو ریاستی حل' پر تھی مگر ذیل میں اس قسم کی باتوں کی وضاحت بھی کی گئی تھی کہ

"حماس کی لڑائی 'صہیونی منصوبے' سے ہے، یہودی مذہب سے نہیں۔ دستاویز میں واضح کیا گیا: "ہم یہودیت پر یقین رکھنے والوں اور "فلسطینی سر زمین پر قابض صہیونیوں" کے درمیان فرق کرتے ہیں۔"

اس کے برعکس صیہونی ریاست کے حامی دونوں کو مساوی، بلکہ بعض اوقات 'صہیونیت کی مخالفت' کو زیادہ سنگین سمجھتے ہیں۔ اقوامِ متحد نے 1975ء کو' Elimination of Racism and Racial Discrimination 'کے عنوان سے ایک قرار داد منظور کی، جس میں صہیونیت کو نسل پرستی اور نسلی امتیاز کی ایک قسم قرار دیا گیا۔ کئی ریاستوں نے اس قرارداد کی شدید مذمت کی۔ نتیجتاً مخالفت کرنے والی ریاستوں نے اقوام متحدہ کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیے۔ بالآخر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991ء میں قرارداد 46/86 کے ذریعے 1975ء کی قراداد کو منسوخ کر دیا۔ یاد رہے امریکا اس  قرار داد کی مخالفت میں بہت پیش پیش رہا۔

تاہم 1975ء کی قرار داد پر ابھی جنرل اسمبلی میں بحث جاری تھی، اسی دوران سابق اسرائیلی وزیر خارجہ آبا اِبن نے نیو یارک ٹائمز میں کالم لکھا، جس کے آغاز ہی میں انھوں نے اقوام متحدہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا:

"اقوام متحدہ  نازی مخالف اتحاد کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ تیس برس بعد یہ یہود دشمنی کا عالمی مرکز بنتی جا رہی ہے۔"

 ماضی قریب میں اسرائیلی ریاست پر تنقید کی زد میں بھی کئی لوگ آچکے ہیں۔ مثال کے طور پر 23 مارچ 2016ء کو برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بریڈ فورڈ کے ایک سابق لارڈ میئر خادم حسین کی رکنیت'یہود دشمنی'پر مبنی بیان کی وجہ سے معطل کردی تھی۔ خادم حسین نے فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ:

" لاکھوں افریقیوں کا قتل عام سکولوں میں نہیں پڑھایا جاتا، یہاں کے تعلیمی نظام صرف این فرینک اور ساٹھ لاکھ صیہونیوں کے بارے میں بتاتا ہے جو ہٹلر کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔"

 اسرائیلی ریاست کا بیانیہ یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو مغربی دنیا میں 'یہود دشمنی' کے نام سے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔

غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف اولین احجاج امریکی یونی ورسٹیوں میں 8 اکتوبر کو ہاورڈ یونی ورسٹی کے طلبہ کی ایک دستختی مہم سے ہوا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ:

"ان پر تشدد واقعات کی مکمل ذمہ داری اسرائیلی ریاست پر عائد ہوتی ہے جو کہ ایک نسل پرست ریاست ہے۔"

اسرائیل کی حمایت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس بیان میں اسرائیل کی مذمت کی گئی اور دوسری جانب حماس کی نہیں، اس لیے یہ 'یہود دشمنی' پر مبنی ہے۔  اس کے نتیجے میں ہاورڈ کے کئی سابق طلبہ نے احتیاج بھی ریکارڈ کرایا اور ان میں ایسے بھی تھے جو ہاروڈ یونی ورسٹی کے بڑے ڈونرز تھے، وہ یونی ورسٹی کی  مالی معاونٹ سے بھی دستبردار ہوگئے۔

اکتوبر کو نیو یارک ٹائمز نے خبر لگائی کہ وال سٹریٹ کے ارب پتیوں کی جانب سے یونی ورسٹیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کیمپسوں کے اندر اسرائیل کے خلاف ہونے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کے ساتھ ایسے تمام عناصر کو لگام دیں اور حماس کی مذمت بھی کریں۔ اسی دن یونی ورسٹی آف پنسلوینیا نے ایک بیان کے ذریعے حماس کے حملے کو دہشت گردی قرار دیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ہاورڈ یونی ورسٹی کے ایک بڑے ڈونر سیٹاڈِل کمپنی کے سی ای او کینتھ گرفن، جو خود ہاورڈ گریجویٹ ہے، نے ابھی تک ہاورڈ کو نصف بلین سے زائد رقم ڈونیشن دی ہے اور رواں سال 300 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جب یونی ورسٹی میں اسرائیلی حملے کی خلاف مہم چلی تو اس نے یونی ورسٹی بورڈ کے سربراہ کوٹ کال کرکے اسرائیل کے حق میں بیان جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی طرح طلبہ کے اس احتجاجی مہم کے نتیجے میں کوانٹم پیسیفک گروپ کے مالک اسرائیلی ارب پتی ایڈان اوفر اور اس کی اہلیہ بٹیا ہاورڈ کے کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کے ایگزیکٹو بورڈ میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے ملٹی ملین ڈالر کی ڈونیشن بھی واپس لے لی۔

اسی دوران بعض لوگوں کی طرف سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے کہ اس مہم کا حصہ بننے والوں کو کہیں بھی ملازمت نہیں ملنی چاہیے۔ مثال کے طور پر ہیج فنڈ کے مینیجر بل اک مین نے ہاورڈ یونی ورسٹی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مہم میں شریک ہونے والے طلبہ کے نام کی فہرست جاری کرے تاکہ کمپنیاں کہیں'نادانستہ ' انہیں نوکری نہ دیں۔ بل اک مین نے کہا کہ اگر یہ فہرست جاری ہوگئی تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ ان طلبہ کو یقینی طور پر کہیں بھی نوکری نہیں ملے گی۔

برا ازاں 11 اکتوبر کو ہاورڈ کے کیمپس سے ایک ٹرک گزرا،  جس میں ایک ڈیجیٹل بل بورڈ پر اس مہم میں شریک ہونے والے طلبہ کے نام اور تصویریں ظاہر کرنے کا دعویٰ کیا گیا، سکرین پر ان طلبہ کی تصویر نام کے ساتھ شو ہو رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور ویب سائٹ نے بھی ان طلبہ کی نشان دہی کا دعویٰ کرکے فہرستیں جاری کیں۔

اس کے نتیجے میں ڈیوس پولک اینڈ وارڈ ویل نامی لا فرم نے 17 اکتوبر کو Insider  کو خبر دی کہ اس نے کولمبیا اور ہاورڈ یونی ورسٹی کے تین طلبہ کو اس مہم میں ملوث ہونے کی وجہ سے ملازمت کی پیشکش منسوخ کردی۔

اسی طرح بین الاقوامی قانون کے ایک فرم، ونسٹن اینڈ سٹران، نے نیو یارک لا سکول کے ایک طالب علم کی ملازمت کی پیشکش اس وجہ سے منسوخ کردی کہ اس نے سٹوڈنٹ بار ایسوسی ایشن کے نیوز لیٹر میں فلسطین کے حق اور اسرائیل کے خلاف ایک 'اشتعال انگیز' تبصرہ شائع کیا تھا۔

26 اکتوبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کے ریبلیکن گورنر کی انتظامیہ نے پوری ریاست کی یونی ورسٹیوں  میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگانے کا حکم دیا، اس جنگ کے دوران یہ پہلی امریکی ریاست تھی جس نے ریاستی سطح پر یونی ورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی لگائی۔

تاہم ابھی بھی کئی یونی ورسٹیوں میں سخت پابندیوں کے باوجود احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔  یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے جسٹس فار پلسٹائن چیپٹر کے درجنوں طلبہ نے جمعرات کو فلسطین کے حق میں ریلی نکالی، ان ہی طلبہ کو کئی دنوں سے ہراساں کیا گیا اور ان پر حملوں کی کوششیں کی گئیں۔

ان احتجاجی مظاہروں میں کولمبیا یونی ورسٹی بھی پیش پیش ہے۔ کولمبیا یونی ورسٹی کے طلبہ نے مختلف میڈیا فورم کو بتایا ہے کہ ان کے احتجاج کے نتیجے میں یونی ورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے سخت رد عمل کا سامنا ہے اور انھیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

کئی یونی ورسٹیوں کو صرف اس وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے کہ ان کے ڈونرز کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے کی 'خاطر خواہ' مذمت نہیں کی گئی۔ اس میں یونیورسٹی آف پنسلوینیا  بھی شامل ہے، جس کے کئی صف اول کے ڈونزر مالی مدد سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

سٹینفورڈ یونی ورسٹی میں جنگ کے ابتدائی دنوں سے طلبہ مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان ہی دنوں یونی ورسٹی میں ایک عرب طالب علم کو ایک کار نے ٹکر ماری جس  سے وہ جان سے بھی جان سکتا تھا۔ ایک اور طالب علم نے میڈل ایسٹ آئیز کو بتایا کہ اس کو قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں ۔

ڈونرر کے دباؤ کے علاوہ بائڈن انتظامیہ اور امریکی سینیٹ خود ان مظاہروں کو روکنے کےلیے متحرک ہیں۔ 30  اکتوبر کو بائڈن انتظامیہ نے امریکی یونی ورسٹیوں میں 'یہود دشمنی' سے نمٹنے کےلیے محکمہ انصاف، محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی، اور محکمہ تعلیم کو تحقیقات کے لیے کیمپس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معاونت کرنے کی ہدایت کی۔

امریکی سینیٹ نے 26 اکتوبر کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں متعدد یونی ورسٹیوں کے نام لے کر بتایا گیا کہ وہ 'یہود دشمنی'کا ارتکاب کر رہی ہیں اور   یہودیوں کی نسل کشی اسرائیلی ریاست کے خلاف تشدد کو پروان چھڑا رہی ہیں، جس سے امریکی یہودیوں کو کئی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ سینیٹ نے 'یہود دشمنی' پر مبنی ان مظاہروں کی سخت مذمت بھی کی۔

فلسطین کے حق میں ہونے والے ان مظاہروں سے طلبہ کو کئی خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے۔ یونی ورسٹیوں کے اندر انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کے کیرئیر کو ابھی سے خطرے میں ڈالا  جا رہا ہے۔ انھیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ابھی دن 26 نومبر کو امریکی ریاست ورمونٹ میں تین فلسطینی طلبہ کو گولیاں ماریں گئیں، ان کی حالت بہت تشویش ناک ہے۔ ان سب مشکلات اور پابندیوں کے باوجود فلسطین کے حق میں یونی ورسٹی طلبہ کی ایکٹیو ازم میں کمی نہیں بلکہ دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ اسی وجہ سے اب طلبہ کو اسرائیل کے حق میں بولنے کےلیے طرح طرح کی پیشکشیں کی جارہی ہیں کہ جو اسرائیل کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شریک ہوگا، اسے ایک احتجاج کے بدلے میں اتنے ڈالر ملیں گے۔ مختلف سکالر شپس آفر ہورہے ہیں تاکہ فلسطین کےلیے ہونے والے مظاہروں کا حجم کیا جاسکے۔